غیبت امام عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)

مؤلف: مولانا سید بہادر علی زیدی قمی
امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے البتہ اس میں موجود مطالب کی یا دیگر غلطیوں کے ذمہ دار ادارہ نہیں ہے


نام کتاب : غیبت امام عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)

(قرآن و سنت کی روشنی اور شیعہ سنی تناظر میں)

تحقیق و تالیف:مولانا سید بہادر علی زیدی قمی

تصحیح و نظر ثانی: حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر سید نسیم حیدر زیدی

کمپوزنگ: مبارک حسنین زیدی


(یہ کتاب ایسے صاحبان تقویٰ کے لےں ہدایت ہے جو غبا پر ایمان رکھتے ہںس )(القرآن)

نام کتاب : غیبت امام عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)

(قرآن و سنت کی روشنی اور شیعہ سنی تناظر میں)

تحقیق و تالیف:مولانا سید بہادر علی زیدی قمی

تصحیح و نظر ثانی: حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر سید نسیم حیدر زیدی

کمپوزنگ: مبارک حسنین زیدی

سرورق: سید عظیم عباس زیدی

طبع اول: ۱۸ ذی الحجہ ۱۴۳۳ ھ نومبر ۲۰۱۲

تعداد: ۱۰۰۰

ناشر: انوار القرآن اکیڈمی (پاکستان)


تقدیم

مںد اپنی اس مختصر سی کوشش اور سعی ناچزر کو قطب عالم امکان، محور دائرۂ عالم وجود، مصلح جہان، منجی عالم بشریت، حضرت بقیۃ اللہ الاعظم ارواحنا لتراب مقدمہ الفداء اور اس آفتاب ولایت کے ظہور کے حقیت منتطرین، اور اس امام عصر (عج) کی غبتا کے زمانے مںد ایمان و عمل صالح پر قائم و دائم مومننی کی مقدس بارگاہ مںر تقدیم کرتا ہوں۔


عرض ناشر

ہر دور میں علماء حقہ، دین و شریعتِ اسلام کا قرآن کریم و سنت کی روشنی میں دفاع کرتے رہے ہیں اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے.

انوار القرآن اکیڈمی پاکستان بھی عصری تقاضوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے اس عزم و ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ قرآن کریم و سنت نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی روشنی میں دشمنان دین خدا کی جانب سے ہونے والے اعتراضات یا مذہب حقّہ شیعہ اثنا عشری کے مخالفین کے بہترین ، مسکت اورمناسب جواب دے سکے، نیز اپنی قوم و ملت کو قرآنی معلومات، تفسیراور معارف قرآنی سے متعلق خاطر خواہ معلومات فراہم کرسکے.

ادارہ اس ہدف کے پیشِ نظر مولانا سید بہادر علی زیدی قمی کی تالیف کردہ کتاب “غیبت امام (عجل اللہ فرجہ الشریف (قرآن و سنت کی روشنی اور شیعہ سنی تناظر میں)” پیش کررہا ہے

ادارہ محترم مؤلف اور ان تمام حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اس کتاب کو آپ کے ہاتھوں میں پہنچانے کیلئے کسی بھی قسم کا تعاون فرمایا ہے.

آخر میں خداوند متعال سے دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں قرآن کریم کی صحیح معرفت سے بہرہ مند فرمائے تاکہ ہم بہتر سے بہتر انداز میں اس کی تعلیمات پر عمل کرسکیں اور اس کی خدمت میں دن و رات کوشاں رہیں. آمین

مسٔول انوارالقرآن اکیڈمی


تقریظ

حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر سید نسیم حیدر زیدی دامت برکاتہ

مدیر انوار القرآن اکیڈمی، قم، ایران

بسمہ ٖ تعالیٰ

حضرت امام عصر (عج) کی غیبت کے موضوع پر نہایت محنت اور جانفشانی سے لکھی جانے والی یہ کتاب ایک علی اور استدلالی شہ پارہ ہے جو برادرِ عزیز مولانا سید بہادر علی زیدی کی لائق تحسین کوششوں میں سے ایک ہے میری نظر میں یہ کتاب صاحبان علم و تحقیق کے لیے رہ گشاہے ہے۔ پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعاگو ہوں کہ وہ فاضل مؤلف کی توفقیات میں مزید اضافہ فرمائے۔ اور اس سعی جمیل کو ان کی آخرت کا ذخیرہ قرار دے۔ آمین یا ربّ العالمین

نسیم حیدر زیدی

۱۱ ذیقعدۃ الحرام،قم المقدسہ ۱۴۳۳ ھ


گفتار مقدم

بسمہ تعالیٰ

بیشک معرفتِ خداوند عالم سے بڑھ کر کوئی شیٔ نہیں ہے "اول العلم معرفةالجبّار "، "اول العبادةالله معرفته "کیونکہ رمز آفرینش ہستی، خدا وند عالم کی معرفت ہی ہے۔

نیز آیت "( وما خلقت الجن و الانس الّا لیعبدون ) "میں "الّا لیعبدون " کی "الّا لیعرفون " تفسیر کی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ معرفت کس طرح حاصل کی جائے؟ اس تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے؟ اور کس طرح اس تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے؟

جس طرح روایات کی روشنی میں پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عترت و اہل بیتؑ واسطۂ فیض الہی و سرچشمۂ خیر کثیر ہیں، معرفۃاللہ کا مستحکم ذریعہ بھی ہیں۔

جب حضرت امام حسینؑ سے خداوند عالم کی معرفت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؑ نے فرمایا: "معرفۃاہل کلّ زمان امامہم الّذی یجب علیہم طاعتہ"، معرفت خداوند درحقیقت ہر زمانے کے لوگوں کے لئے اپنے امام کی معرفت حاصل کرنا ہے کہ جس کی اطاعت ان پر واجب قرار دی گئی ہے۔

لہذا آج حجت خدا ہونے کے عنوان سے امام غائب کی معرفت کا حصول، خدا شناسی کا عظیم ذریعہ ہے۔

آخرالزمان میں آنے والے مصلح عالم پر اعتقاد (مہدویت) صرف پیروان اہل بیتؑ ہی سے مختص نہیں بلکہ دیگر ارباب مذاہب و ادیان بھی اس اصل پر یقین رکھتے ہوئے اسے ایک مشترک عقیدہ کے عنوان سے دیکھتے ہیں۔

لیکن شیعہ اعتقاد (کہ جو پیغمبر اکرمؐ و اہل بیتؑ سے منقول صحیح و معتبر روایات سے ماخوذ ہے) کےمطابق یہ مصلح موعود صدیوں سے پردۂ غیبت میں حکمِ الہی کا انتظار فرمارہے ہیں۔

لہذا بدیہی ہے زندہ امام غائب پر ان خصوصیات کے ساتھ اعتقاد، معاندین کی جانب سے شبہات وارد کرنے، جبکہ دوستدارانِ اہل بیتؑ کے لئے تحقیقات و محققانہ تالیفات کرنے کا ذریعہ قرار پائے گا۔

آج دشمنان اسلام اس اعتقاد کے مثبت و گرانقدر علمی آثار (جو کہ ان کے نامشروع منافع کے خلاف ہیں) کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاکہ اس امیدبخش و تعمیری عقیدہ کو کھوکھلا کرکے آج کے خستہ و سرگرداں انسان کو اس کے حیات آفرین آثار سے محروم کردیں۔

یہ لوگ حضرت مہدیؑ کی طول عمر، غیبت کے علل و اسباب، امام غائب کے وجود کے فوائد اور ظہور کے علامات وغیرہ کے بارے میں مختلف وسائل کے ذریعے عوام، خصوصاً نوجوانوں کے اذہان میں مختلف شبہات و اشکالات منتقل کرکے ان میں یاس و نا اُمیدی پیدا کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔

پس ایسے ماحول میں فرض شناس و آگاہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ اس مقدس وعظیم اور تعمیری عقیدے کے تحفظ کے لئے مؤثر اقدامات کریں اور ان شبہات کے علمی و مُسکِت جواب پیش کریں۔

قیمتی و ارزشمند کتاب حاضر جسے محترم دانشمند حجۃ الاسلام و المسلمین آقائے سید بہادر علی زیدی نے تالیف کیا ہے، لائق تحسین و شائستہ تقدیر کوشش ہے، جس میں اس موضوع کو علمی و منطقی اصولوں کے مطابق بیان کرتے ہوئے اشکالات و ابہامات کا بخوبی مستند اور مدلّل جواب دیا گیا ہے۔

یہ گرانقدر تحقیق اس سلسلہ میں مزید تلاش و جستجو کرنے والوں کے لئے مفید اور پیش خیمہ قرار پائے گی کیونکہ اصلِ مہدویت بہرحال تمام اعصار و انسانوں سے مربوط ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ محترم قارئیں اس کے مطالعہ کے سبب مسئلہ مہدویت سے پہلے سے بہتر واقف ہوں گے اور اس کتاب کا مطالعہ قارئین کے لیے مسئلہ مہدویت کو مزید روشن اور واضح کرنے کا قرار پائے گا اور وہ اس کے ذریعہ اس عقیدے کے اسرار و رموز نیز اس کے وحیانی و قرآنی ہونے کو محسوس کریں گے۔

آخر میں خداوند منان سے محترم مؤلف کی روز افزوں توفیقات میں اضافہ کا خواہاں ہوں۔

ڈاکٹرمہدی رستم نژاد

۱۴ ذیقعدۃ الحرام ۱۴۳۳ ھ


مقدمہ کتاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس مختصر اثر میں امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں شیعہ و سنی علمی نظریات کی تحقیق اور جانچ پڑتال کی گئی ہے اور حتی الامکان معتبر شیعہ و سنی منابع سے استفادہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے مطالب کی ترتیب کچھ یوں ہے۔

پہلے باب میں غیبت کی مفہوم شناسی کی گئی ہے۔ آغاز کلام میں لغوی معنی اور اہل لغت کے نظریات کو پیش کیا ہے پھر غیبت کے اصطلاحی معنی و مفہوم کو بیان کیا ہے۔ شیعہ و سنی مکتب فکر میں "امام عصر (عج) کی غیبت پر ایمان کی اہمیت" ایک اہم موضوع ہے جس کی مناسب تحلیل کرتے ہوئے امام زمانہ (عج) کی ولادت کے بارے میں شیعہ سنی علماء کے اقوال پیش کئے گئے ہیں اور پھر غیبت امام عصر (عج) کے بارے میں علمائے اسلام کے کلی نظریات بیان کئے ہیں اور آخر میں ان نظریات کے نتائج کو بیان کیا گیا ہے۔

دوسرے بابمیں امام عصر (عج) کی غیبت کو ثابت کیا گیا ہے۔ پہلی فصل امکان اصل غیبت اور دوسری فصل اثبات غیبت امام عصر (عج) کے بارے میں ہے۔ امکان اصل غیبت کے سلسلہ میں ہم نے آیات قرآن کریم اور روایات معصومین علیہم السلام کے ذریعے استدلال کیا ہے؛

نیز فصل دوم میں دو قسم کی آیت کریمہ و روایات شریفہ کے ذریعہ استناد کیا گیا ہے: پہلی قسم میں وہ آیات پیش کی گئی ہیں جو وجود امام عصر (عج) پر دلالت کرتی ہیں، جبکہ دوسری قسم میں وہ آیات بیان کی گئی ہے جو غیبت امام عصر (عج) کی تاویل یا تفسیر میں پیش کی گئی ہیں۔ اسی طرح روایات کو دو قسم کی احادیث عام و خاص میں تقسیم کیا گیا ہے اور پھر ان کی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔ آخر میں غیبت امام عصر (عج) کے بارے میں علماء اہل سنت کے اقرار و اعتراف کو بیان کرکے نتیجہ کو بیان کیا گیا ہے۔

تیسرا باب غیبت کی انواع اور حکمتوں کے بارے میں ہے۔ اس باب میں ایک اہم سوال کا جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امام عصر ؑ کیوں غائب ہوئے ہیں اور اُن حضرت کی غیبت میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ اس سوال کے جواب میں معصومین و ائمہ ہدی (علیہم السلام) کی روایات میں بیان کردہ حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔

چوتھا بابفوائد غیبت امام عصر (عج) سے مختص ہے۔ اس باب میں دو اہم بحثیں کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ ہم نے آیات و روایات سے استفادہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ غیبت پر ایمان بے فائدہ نہیں ہے بلکہ اس کے فوائد موجود ہیں جو آئندہ بیان کئے جائیں گے۔ دوم یہ کہ غیبت امام عصر (عج) کے فوائد ذکر کئے گئے ہیں؛ ابتداء میں عمومی فوائد بیان کئے ہیں جو تمام موجودات عالم چاہے جاندار ہوں یا غیر جاندار سب کو پہنچ رہے ہیں اور پھر خصوصی فوائد بیان کئے ہیں جن کا تعلق صرف شیعوں سے ہے۔

پانچواں بابمہدویت کے بارے میں شبہات و سوالات سے مختص کیا گیاہے۔ یہاں شبہات کو تین قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے: پہلی قسم عقیدہ مہدویت اور آپ ؑ کی غیبت سے مربوط ہے، دوسری قسم مصداق مہدی اور تیسری قسم آپؑ کی طولِ عمر سے مربوط ہے۔

اس کے بعد عصر غیبت میں امام زمانہ (عج) سے ارتباط کی کیفیت بیان کی گئی ہے اور آخر میں تمام مطالب کی جمع بندی اور نتیجہ گیری کی گئی ہے۔

شیعہ نکتہ نظر کے مطابق غیبت امام عصر (عج) بے پناہ توجہ اور خاص اہمیت کی حامل ہے۔ یہ موضوع صرف شیعہ مکتب فکر ہی میں محدود نہیں ہے بلکہ اہل سنت کے یہاں بھی اصل مہدویت اور اس کی بہت سی فروعات پر بحث و گفتگو کی گئی ہے اور اس پر بے شمار تحقیقات انجام دی گئی ہیں۔ در دست تحقیق میں اس موضوع کے بارے میں شیعہ وسنی نقطہ نظر کی جانچ پڑتال کی گئی ہے اور درج ذیل سوالات کا مدلّل جواب دیا گیا ہے۔

سوالات

۱ ۔ غیبت امام عصر (عج) کے بارے میں شیعہ و سنی کا کیا نظریہ ہے؟

۲ ۔ کیا قرآن و سنت سے اصل غیبت کا اثبات ممکن ہے؟

۳ ۔ کیا قرآن و سنت کی روشنی میں غیبت امام عصر (عج) قابل اثبات ہے؟

۴ ۔ امام عصر کی غیبت کی علت و حکمت کیا ہے؟

۵ ۔ امام غائب کا کیا فائدہ ہے؟

۶ ۔ عقیدہ غیبت کے ہم پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟

اہمیت و ضرورت تحقیق

امام عصر (عج) کی غیبت کے بارے میں پیدا ہونے والے بے شمار شبہات نے دنیا کے مختلف علاقوں اور اسی طرح ہمارے پیارے وطن پاکستان کے گوشہ و کنار میں بسنے والے شیعہ وغیر شیعہ خصوصاً نسل جوان کے اذہان کو مشوش کردیا ہے۔ اسی نکتہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں ان سوالات و شبہات کی جانچ پڑتال اور جوابات دینے کے لئے ایک جامع تحقیق کا انجام دینا ضروری امر تھا۔

جدّت تحقیق

مباحث مہدویت میں پیدا ہونے والے نئے سوالات اور شبہات ایک خاص اور جدید تحقیق کا تقاضہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے مخصوص حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جدید انداز سے اس مسئلہ کی تحقیق انجام دی گئی ہے اور یہی چیز اس کے مشابہ تحقیقات سے تمایز کا سبب ہے۔

تاریخچہ

(الف) تاریخچۂ موضوع

اسلام کے نکتۂ نظر سے امام عصر ؑ کی غیبت کا موضو ع اتنا اہم ہے کہ حضور سرور کائناتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلام کی ابتداء ہی میں لوگوں کو اس موضوع کی طرف متوجہ فرما دیا تھا۔ غیبت امام عصر(ع) کے بارے میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل ہونے والی روایات ہمارے اس دعوے کی روشن دلیل ہیں۔ اسی طرح آنحضرت(ص) کے بعد ائمہ معصومین علیہم السلام، حاکمان وقت اور دیگر مسلمانوں نے اسے خاص اہمیت دی ہے۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کی کتب فریقین میں موجود روایات و وقائع تاریخی بھی اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں۔ ہم یہاں پر بطور نمونہ دونوں فرقوں سے ایک ایک روایت نقل کر رہے ہیں:

شیعہ:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: "القائم من ولدی اسمُه اسمی و کنیتُهُ کنیتی و شمائلُهُ شمائلی و سنّتُهُ سنتی یقیم الناس علی ملتی و شریعتی و یدعوهم الیٰ کتاب الله عزوجل من أطاعه أطاعنی و من عصاه عصانی ومن انکره فی غیبته فقد أنکرنی و من کذّبه فقد کذّبنی و من صدّقه فقد صدقنی اِلی الله اشکو المکذبین لی فی أمره و الجاهدین لقولی فی شأنه و المُضلّین لأمتی عن طریقته ( وسیعلم الذین ظلموا ایّ منقلب ینقلبون (۱) ) (۲) ؛

قائم میرے فرزندوں میں سے ہیں ، ان کا نام میرا نام اور ان کی کنیت میری کنیت ہے۔ وہ رفتار و گفتار اور سیرت میں میری طرح ہیں لوگوں کو میرے آئین و شریعت اور کتاب خدا کی طرف دعوت دیں گے، جس نے ان کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اورجس نے ان کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ جس نے زمانہ غیبت میں ان کا انکار کیا اس نے میرا انکار کیا اور جس نے انکی تکذیب کی اس نے میری تکذیب کی اور جس نے انکی تصدیق کی اس نے میری تصدیق کی۔ جس نے انھیں جھٹلایا اور میری اس بات کا انکار کیا اور میری امت کو گمراہ کیا، تو خدا کی بارگاہ میں ، میں اس کی شکایت کروں گا۔ اور ظالم و ستمکار عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام دیکھ لیں گے۔"

اہل سنت:

جس طرح شیعہ معتبر منابع میں یہ روایت موجود ہے اسی طرح یہ روایت مذکورہ اہل سنت منابع میں بھی موجود ہے حتی کہ بعض کتب صحاح ستہ میں بھی موجود ہے اگرچہ جملہ "تکون له غیبهٌ و حیرةٌ یضل فیها الاُمم " صحیح بخاری و مسلم اور مسند احمد نے نقل نہیں کیا ہے لیکن فرائد السمطین میں بالکل شیعہ منابع جیسی روایت کو عیناً نقل کیا ہے۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: "المهدی من ولدی اسمه اسمی و کنیته کنیتی أشبه الناس بی خلقاً و خُلُقاً، تکون غیبةٌ و حیرةٌ یضلّ فیها الامم ثم یقبل کاالشهاب الثّاقب یملؤها عدلاً و قسطاً کما ملئت جوراً و ظلماً ؛(۳) مہدی میرے فرزندوں میں سے ہیں انکا نام میرا نام اور انکی کنیت میری کنیت ہے وہ لوگوں میں سب سے زیادہ خلق و خلق میں مجھ سے مشابہ ہوں گے ان کے لئے ایسی غیبت و حیرت ہے جس میں لوگ گمراہ ہوجائیں گے، پھر وہ شہاب ثاقب کی طرح آئیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔

تاریخچۂ تحقیق و آثار موجود:

تاریخ تشیع میں موضوع غیبت کی اہمیت کے پیش نظر بیش بہا اور متعدد کتابی ں لکھی گئی ہیں۔ شیعہ و سنی تاریخ حدیث میں اس موضوع کے تحت کتب روائی خاص اور کتب روائی عام تحریر کی گئی ہیں۔ ہم یہاں موضوع غیبت کو بیان کرنے والی چند کتب کا تذکرہ کر رہے ہیں:

۱ ۔ شیعہ مکتب فکر

جب ہم غیبت کے موضوع پر لکھی جانے والی کتب کا تاریخ کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں تو ہم انہیں تین گروہ میں تقسیم کرتے ہیں:

اول، امام حسن عسکری تک ائمہ معصومین کے پاکیزہ دورۂ حیات میں لکھی جانے والی کتابی ں (یعنی ۲۶۰ ھ ق تک لکھی جانے والی کتب)۔

دوئم، غیب صغریٰ میں لکھی جانے والی کتب ( ۲۶۰ ۔ ۳۲۹ ھ ق)۔

سوئم، آغاز غیبت کبریٰ سے عصر حاضر تک ( ۳۲۰ ھ ق کے بعد) لکھی جانے والی کتب۔

۱ ۔ ۲۶۰ ھ ق سے قبل موضوع غیبت بیان کرنے والی کتب۔

اَئمہ معصومین علیہم السلام کے اصحاب اور شاگردوں نے گیارہ معصومین ؑ کے دورۂ حیات میں تقریباً ۴۰۰ کتابی ں رشتہ تحریر سے منسلک کی تھیں جو "اصول اربعمائہ" کے نام سے مشہور ہیں۔ یہی کتب جنہیں اصول کہا جاتا ہے چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں لکھی جانے والی شیعہ جوامع روائی کی اصل اساس قرار پائی ہیں۔ انہی آثار میں سے بعض میں غیبت امام عصر کے بارے میں حضور سرور کائنات اور ائمہ ہدی علیہم السلام سے روایات نقل کی گئی ہیں۔ لہذا کتب امامیہ میں سے بطور نمونہ امام محمد تقی و امام علی نقی علیہما السلام کے وکیل علی بن مھزیار(۴) کی دو کتب "الملاحم" اور "القائم" ، "المشیخہ" تالیف حسن بن محبوب(۵) ( ۲۲۴ ھ ق)، "کتاب الغیبۃ" اثر ابو الفضل ناشری اسدی(متوفی تقریبا ۲۲۰ ھ ق)، کتاب "الغیبۃ" اثر فضل ابن شاذان نیشاپوری، کتاب "الغیبۃ" اثر علی بن عمران رباح قلانی (راوی امام صادق ؑ) کے نام لئے جاسکتے ہیں اور نجاشی نے ان تمام کا تذکرہ کیا ہے۔

نیز نہج المقال میں ایک کتاب بنام "الغیبۃ" کی علی بن فضال کی طرف نسبت دی گئی ہے، علی بن فضال اپنے والد کے واسطہ سے حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت نقل کرتے تھے۔(۶)

۲ ۔ غیبت صغری ( ۲۶۰ ۔ ۳۲۹ ھ ق) میں موضوع غیبت پر لکھی جانے والی کتب

اس عرصے میں ضبط تحریر میں لائی جانے والی کتب عموماً ما قبل یعنی ۲۶۰ ھ ق سے پہلے لکھی جانے والی کتب و آثار پر اعتماد و انحصار کرکے لکھی گئی ہیں۔ ان آثار کے مؤلفین وہ فقہاء و مبلغین تھے جو خود امام عصر کی رہبری و سرپرستی میں مرکز وکالت کے زیر تحت مخفی طور پر سرگرم عمل تھے۔ لہذا ان کی ثبت کردہ اہم اطلاعات کو اس دور میں لکھی جانے والی تاریخی کتب میں نہیں دیکھا جاسکتا۔

پس بطورہ نمونہ کتاب "الغیبۃ"تالیف ابراہیم بن اسحاق نہاوندی ، کتاب "الغیبۃ و الحیرۃ" از عبد اللہ ابن جعفر حمیری متوفی بعد از ۲۹۳ ھ ق اور "امامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ" اثر ابن بابویہ، (متوفی ۳۲۹ ھ ق) کے نام لئے جاسکتے ہیں۔

عظیم عالم یعقوب کلینی ( ۳۲۹ ھ ق) نے بھی اصول کافی میں "الحجۃ" عنوان کے تحت غیبت کے موضوع پر بحث کی ہے۔ انہوں نے امام زمانہ (عج) کے بارے میں ائمہ معصومین علیہم السلام سے منسوب احادیث کو ثبت کیا ہے ۔ انہوں نے واقفیہ و امامیہ کے قدیم اہل قلم حضرات مثلاً حسن بن محبوب ( ۲۲۴ ق) وغیرہ سے روایات نقل کی ہیں۔ علاوہ بر ایں امامیہ کی اطلاعات اور مخفی فعالیت کا اصلی ماخذ امام زمانہ (عج) کے وکلاء تھے(۷) ۔

نجاشی اپنی معرکۃ الآراء کتاب رجال میں رقمطراز ہیں:

"شیخ کلینی نے اپنی عظیم اور قابل قدر کتاب کافی بیس سال کے عرصہ میں تدوین کی ہے اور انہوں نے ۳۲۹ ھ ق میں بغداد میں دارِ فانی کو الوداع کہا ہے۔"(۸)

البتہ نجاشی نے یہ بیان نہیں کیا ہے کہ شیخ کلینی نے جس بیس سال کے عرصہ میں کتاب کافی تدوین کی ہے وہ عرصہ کب شروع ہوا اور کب اختتام ہوا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کافی کی تدوین کا زمانہ ۳۰۰ ھ ق تا ۳۲۰ ھ ق یعنی غیبت صغریٰ کے آغاز سے تقریباً چالیس سال قبل ہے۔

شیخ کلینی نے اپنی اس کتاب میں آٹھ ابواب امام عصر (عج) سے مختص کئے ہیں جن میں سے دو ابواب آنجناب ؑ کی غیبت کے بارے میں ہیں، پہلا باب تین اخبار اور دوسرا باب تیس ۳۰ روایات پر مشتمل ہے۔

۳ ۔ ۳۲۹ ھ ق کے بعد یعنی غیبت کبریٰ میں غیبت کے موضوع پر لکھی جانے والی کتب:

۳۲۹ ھ ق میں غیبت کبریٰ کے واقعہ نے تاریخ امامیہ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ غیبت امام عصر (عج) ایک طرف طولانی ہونی کی وجہ سے اور دوسری طرف جدید شبہات کی جواب دہی کی وجہ سے مزید آثار و تالیفات کا تقاضہ کر رہی تھی بنابریں فقہاء و علمائے حقہ نے اس اہم ضرورت کے پیش نظر کمر ہمت باندھ کر اس اہم کام کا بیڑا اٹھایا اور وقت کے ساتھ ساتھ بہترین و برترین آثار بطور یادگار چھوڑے ہیں؛ اس دور میں تدوین و ترتیب دیئے جانے والے آثار، بعد میں غیبت کے موضوع میں عقائدِ امامیہ کی اساس تصور کئے جاتے ہیں(۹) ۔ اس دور کے پانچ مشہور آثار مندرجہ ذیل ہیں:

٭ ۱ ۔ غیبت نعمانی؛ اس کتاب کے مؤلف ابوعبداللہ محمدبن ابراہیم ہیں آپ غیبت کبریٰ میں غیبت کے موضوع پر کتاب تالیف کرنے والے پہلے مؤلف ہیں۔

غیبت صغریٰ کے اوائل میں شہر نعمانیہ میں ابراہیم بن جعفر کے یہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام انہوں نے محمد رکھا۔

ابو عبد اللہ محمد بن ابراہیم نعمانی کسب فیض اور طلب علم کے لئے بغداد میں شیخ کلینی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ شیخ کی کتاب کافی کا املا لکھا کرتے تھے۔(۱۰)

جناب شیخ نعمانی نے ۳۴۲ ھ؁ق کے اواخر میں اپنے کاتب محمد بن ابو الحسن شجاعی کو کتاب "الغیبۃ" املاء لکھوائی(۱۱) اور اس کتاب کی تالیف کے سبب کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ:

"میں نے ایسے افراد سے ملاقات کی جو اپنے کو شیعہ مذہب سے منسوب کر رہے تھے، پیغمبر گرامی قدر سے وابستگی کا اظہار بھی کر رہےتھے اور امامت کے بھی قائل تھے لیکن وہ تفرقہ و اختلاف کا شکار ہوکر واجبات الٰہی میں سستی کر رہے تھے اور محرمات الٰہی کو سبک شمار کر رہے تھے۔ کچھ لوگ اہل بیت کے حق میں غلو کر رہے تھے اور کچھ ان کے حق میں کوتاہی کر رہے تھے۔

بجز چند افراد کے، اکثر امام عصر و الزمان کے بارے میں شک و شبہات میں مبتلا ہوگئے تھے۔ لہذا ایسے میں میں نے غیبت امام عصر کے بارے میں معصوم و صادق ائمہ اطہار علیہم السلام کے اقوال و فرمودات کے نقل کے ذریعے بارگاہ خداوندی میں تقرب حاصل کرنا چاہا۔"(۱۲)

شیخ نعمانی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا ان کی نظر میں اس جماعت کے کثیر شبہات کو دور کرنے کے لئے شیخ کلینی کی نقل کردہ اخبار و روایات ناکافی تھیں۔ لہذا شیخ نعمانی نے اپنے پاس موجود بزرگوں کی ائمہ معصومین علیہم السلام سے نقل کردہ احادیث و روایات کو جمع کرکے غیبت کے موضوع پر ایک مستقل اور جامع کتاب تالیف فرمائی۔

٭ ۲ ۔ کمال الدین و تمام النعمۃ؛ اس کتاب کے مؤلف شیخ صدوق ہیں آپ غیبت کبریٰ میں غیبت کے موضوع پر تالیف ہونے والی دوسری کتاب کے مؤلف ہیں۔

شیخ صدوق ۳۰۷ ھ ق میں پیدا ہوئے۔ شیخ نجم الدین قمی نے ان سے غیبت کے موضوع پر ایک کتاب تالیف کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو آپ نے ان کی اس خواہش کو قبول کرتے ہوئے ایران کے شہر "رے" میں اثبات غیبت کے سلسلہ میں کتاب کمال الدین و تمام النعمۃ لکھنا شروع کی(۱۳) ، اور آج اس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے جسے الکساء پبلشرز کراچی نے اگست ۱۹۹۹ ء میں شایع کیا ہے۔

٭ ۳ ۔ الفصول العشرۃفی الغیبۃ؛ یہ کتاب شیخ مفید علیہ الرحمہ نے تالیف فرمائی، البتہ اس سے قبل آپ نے اپنی مشہور و معروف کتاب الارشاد میں"بارہویں امام کی امامت کے بارے میں روایات و نصوص" کے عنوان سے ایک باب تشکیل دیا ۔

آپ نے ۲۷۳ ؁ ہجری قمری میں اپنے مناظرات کو جمع کرکے ایک کتاب کی شکل میں ترتیب دیا ہے(۱۴) ۔ البتہ صرف کتاب الفصول المختارہ ہی ہم تک پہنچی ہے۔ اس کتاب کی دو فصلیں غیبت امام عصر (عج) کے بارے میں مناظرات سے مختص ہیں۔(۱۵)

انہوں نے اس کے بعد الفصول العشرۃ فی الغیبۃ تحریر فرمائی تھی۔

٭ ۴ ۔ الذخیرۃ ؛ یہ کتاب سید مرتضیٰ علم الہدیٰ کی تالیفات میں سے ایک ہے جو آپ نے اپنی معروف کتاب "العیون و المحاسن" سے چند فصلیں اختیار کرکے تحریر فرمائی۔

٭ ۵ ۔ الغیبۃ؛ اس کتاب کے مؤلف جناب شیخ طوسی ہیں۔ یہ کتاب آپ نے ۴۴۷ ؁ ہجری قمری میں تحریر فرمائی۔ آپ اس کتاب کا آغاز اس عنوان سے کرتے ہیں: (فصل فی الکلام فی الغیبۃ)(۱۶) ۔اس کے علاوہ اس سے قبل ۴۳۲ ؁ ھ ق میں ۴۷ سال کی عمر میں کتاب "الشافی فی الامامۃ" کا خلاصہ کیا اور انہوں نے سید مرتضی کی کتاب "الذخیرۃ" سے غیبت کے بارے میں چند سوالات و اشکالات کا تذکرہ کرکے ان کے جوابات بھی دیئے ۔

شیعہ علماء و افاضل نے امام عصر (عج) کے بارے میں کثرت سے کتابی ں تالیف کی ہیں ان میں سے بہت سی کتابوں میں امام زمانہ کے وجود اور آپ کی غیبت کے بارے میں ثبوت و دلائل پیش کئے گئے ہیں۔

حجۃ الاسلام جناب مستطاب فقیہ ایمانی نے اپنی کتاب "مہدی منتظر را بشناسید" میں ۳۶۷ کتب کا تذکرہ کیا ہے جن میں تقریباً ۲۳ کتابی ں کتاب الغیبۃ کے عنوان سے موجود ہیں۔

۲ ۔ مکتب اہل سنت:

استاد محمد دخیل اپنی معروف کتاب "الامام المہدی" میں بزرگان اہل سنت کی تالیف کردہ ۲۰۵ کتابوں کے نام بیان کرتے ہیں، جن میں سے ۳۰ افراد نے مستقل طور پر حضرت ولی عصر (عج) کے بارے میں کتابی ں لکھی ہیں، ۳۰ افراد نے اپنی کتب میں آنجناب کے بارے میں وارد ہونے والی روایات پر مشتمل فصل ترتیب دی ہے جبکہ باقی حضرات نے مختلف مناسبت سے حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں نقل ہونے والی روایات کو اپنی اپنی کتب میں ثبت کیا ہے۔

جناب حجۃ الاسلام ہادی عامر ی صاحب نے اپنی کتاب "مہدی آل محمدؐ در کتب اہل سنت" میں امام زمانہ کے بارے میں لکھی جانے والی ۴۰ خصوصی اور ۱۱۵ عمومی کتابوں کے اسماء کا تذکرہ کیا ہے جن میں اہل سنت کے عظیم محدثین و علماء نے حضرت مہدی موعود کے بارے میں روایات کو نقل کیا ہے۔

ہم اس مقام پر پہلے ان منابع اور کتابوں کا ذکر کریں گے جن میں بطور عموم امام عصر (عج) یعنی حضرت مہدی (عج) کے بارے میں روایات نقل کی گئی ہیں اس کے بعد ہم ان کتابوں کا تذکرہ کریں گے جن میں آنجناب کے (وجود ، غیبت، ظہور اور قیام کے بارے میں بطورِ خاص مطالب ذکر کئے گئے ہیں۔

عام کتب ومنابع

علمائے اہل سنت نے حضرت مہدی موعود (عج) کے بارے میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جن کثیر تعداد روایات کو بزرگ صحابہ سے نقل کیا ہے وہ صحیح نسائی(۱۷) کے علاوہ صحاح ستہ جیسی اہل سنت کی معتبر ترین منابع و مآخذ میں زمانہ قدیم سے موجود ہیں۔

مسند احمد بن حنبل:

احمد بن حنبل (متوفی ۲۴۱ ہجری)( حنبلی فرقۂ اہل سنت کے پیشوا) نویں اور دسویں امام یعنی امام محمد تقی و امام علی نقی علیہما السلام کے ہم عصر تھے۔ انکی قلمبند کردہ کتاب مسند اہل سنت کی قدیم ترین و معتبر ترین مدرک اور منبع حدیث ہے جس میں احادیث مہدی علیہ السلام کو ثبت و ضبط کیا گیا ہے۔

صحیح بخاری

محمد بن اسماعیل بخاری (متوفی ۲۵۶ ہجری) اہل سنت کے نامی ترین محدث اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے ہم عصر تھے، یہ عین امام زمانہ (عج) کی ولادت کے سال دنیا سے رخصت ہوئے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں احادیث خلفاء اثنا عشر نقل کی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ پیغمبر گرامی قدر کے بعد بارہ خلفاء ہوں گے، جو سب کے سب قریش سے ہوں گے، اسلام کی عزت اور وقار ان کے وجود سے وابستہ ہوگا۔ نیز باب "نزول عیسیٰ ابن مریم" میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امام مہدی (عج) کی مدد و نصرت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

صحیح مسلم

تقریباً اسی زمانے میں مسلم بن حجاج نیشاپوری اپنی مشہور و معروف کتاب صحیح جو کہ صحاح ستہ کی دوسری عظیم کتاب شمار کی جاتی ہے اگرچہ وہ اپنی اس کتاب میں بخاری کی طرح امام مہدی (عج) کا نام استعمال نہ کرنے پر مُصِرّ ہیں لیکن اس کے باجود انہوں نے باب نزول عیسیٰ بن مریم میں "الفتن و اشراط الساعۃ "عنوان کے تحت ان سے کچھ احادیث نقل کی ہیں۔

سنن ابن ماجہ

مسلم کے بعد ابن ماجہ قزوینی (متوفی ۲۷۳ ہجری) اپنی مشہور کتاب سنن میں جو کہ صحاح ستہ میں شامل ہے، ایک مخصوص باب "باب خروج المہدی" میں احادیث مہدی رقم کرتے ہیں۔

سنن ابو داؤد

نیز اسی عصر میں ابو داؤد سیستانی (متوفی ۲۷۵ ہجری) اپنی کتاب سنن میں "کتاب المہدی" کے عنوان سے موعود اسلام کے بارے میں وارد ہونے والی روایات کو ثبت کرتے ہیں۔

سنن ترمذی

نیز اسی عرصہ میں ترمذی (متوفی ۲۷۹ ہجری) اپنی کتاب سنن میں باب "ما جاء فی المہدی (رضی اللہ عنہ)" میں حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں رویات نقل کرتے ہیں۔

اہل سنت کے یہ بزرگ محدثین ششگانہ یعنی احمد بن حنبل، بخاری، مسلم، ابن ماجہ، ابو داؤد اور ترمذی جو کہ محدثین کی سربرآوردہ شخصیات شمار کئے جاتے ہیں انھوں نے حضرت مہدی (عج) کے بارے میں یہ کثیر تعداد روایات حضرت عمر بن خطاب، عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، ثوبان غلام عمر، جابر بن عبد اللہ انصاری، جابر بن سمرہ، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن عمرو بن عاص، انس بن مالک، ابو سعید خدری، ام سلمہ (ام المومنین) وغیرہ سے نقل کی ہیں۔

علمائے متاخرین اور احادیث مہدی (عج)

ان محدثین ششگانہ کے بعد اہل سنت کے دیگر علماء و دانشمندوں نے اپنے سابقہ اساتذہ کی پیروی کرتے ہوئے اختصار و تفصیل کے ساتھ احادیث مہدی علیہ السلام کو اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اس فراوان و کثیر تعداد سے ہم یہاں اختصار کا لحاظ کرتے ہوئے صرف چند کتب احادیث کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:

۱. غریب الحدیث تالیف ابن قتیبہ دینوری (متوفی ۲۷۶ ہجری) ؛

۲. ملاحم تالیف حافظ ابو الحسن مناوی (متوفی ۳۳۶ ہجری)؛

۳. معجم صغیر، معجم اوسط اور معجم کبیر تالیفات حافظ طبرانی (متوفی ۳۶۰ ہجری)؛

۴. مسند علی، مسند فاطمہ اور جرح و تعدیل تالیفات حافظ دارقطنی (متوفی ۳۸۵ ھ)؛

۵. مستدرک الصحیحین تالیف حاکم نیشاپوری (متوفی ۴۰۵ ہجری)؛

۶. اربعین، فوائد اورعوالی تالیفات حافظ ابو نعیم اصفہانی (متوفی ۴۳۰ ہجری)؛

۷. تفسیر کبیر، عرائس اور قصص الانبیاء تالیفات ابو اسحاق ثعلبی (متوفی ۴۳۷ ہجری)؛

۸. استیعاب تالیف ابن عبد ریہ اندلسی (متوفی ۴۶۳ ہجری)؛

۹. تاریخ بغداد تالیف ابوبکر خطیب (متوفی ۴۶۳ ہجری)؛

۱۰. الجمع بین الصحیحین تالیف حمید قرطبی (متوفی ۴۸۸ ہجری)؛

۱۱. مصابی ح السنۃ تالیف حسین ابن مسعود فراء؛

۱۲. تاریخ مدینہ دمشق تالیف حافظ ابن عساکر (متوفی ۵۲۷ ہجری)؛

۱۳. تفسیر کشاف تالیف محمود بن عمر زمخشری (متوفی ۵۳۸ ہجری)؛

۱۴. تاریخ موالید و وفیات الائمۃ تالیف ابن خشاب بغدادی (متوفی ۵۶۷ ہجری)(۱۸) ۔

یہ مختصر سی تعداد جسے ہم نے یہاں اہل مطالعہ کی اطلاع اور انکے اذہان کو مہمیز کرنے کے لئے بیان کی ہے اور ان تمام کتب کو رقم کرنے والے حضرات اہل سنت کے نامی گرامی علماء اور بزرگ حفاظ ہیں، جناب حجۃ الاسلام علی دوانی مدظلہ العالی نے اپنی کتاب میں نقل کی ہے؛ جبکہ جناب ہادی عامر ی صاحب نے اپنی کتاب "مہدی آل محمد در کتب اہل سنت" میں تیسری صدی ہجری سے آج تک کے محدثین اہل سنت اور روایات مہدی موعود کو نقل کرنے والوں میں سے ۱۶۰ افراد کے اسماء کا ذکرکیا ہے۔(۱۹)

خاص کتب و منابع

تاریخ کے صفحات پر بہت سے اہل سنت دانشمندوں اور علماء کے نام نظر آتے ہیں جنہوں نے حضرت مہدی موعود (عج) کے بارے میں مستقل کتابی ں تالیف کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علمائے متاخرین اپنے پر ارزش اور قیمتی و قدیمی منابع میں مہدی آل محمدؐ کے بارے میں فراوانی اور کثرت سے موجود اخبار و روایات سے اتنا زیادہ متاثر ہوئے کہ وہ حضرت مہدی موعود کے بارے میں جداگانہ اور مستقل علمی شاہکار ترتیب دینے پر مجبور ہوگئے اور نہایت عرق ریزی و جانفشانی کے ساتھ کتابی ں تحریر کی ہیں۔ انھوں نے اپنے ان علمی آثار میں حضرت مہدی موعود کے وجود، غیبت، ظہور، قیام اور حکومت کے بارے میں بحث و بررسی کی ہے۔ ہم اہل مطالعہ حضرات کی اطلاع کے لئے ان میں سے فقط چند منابع کی طرف ا شارہ کر رہے ہیں:

۱ ۔ المہدی تالیف ابو داؤد (صاحب سنن) (متوفی ۲۷۵ ہجری)؛

۲ ۔ صاحب الزمان تالیف ابو العنس محمد بن اسحاق بن ابراہیم کوفی، قاضی صمیرہ (متوفی ۲۷۵ ہجری)؛

۳ ۔ اربعین حدیث فی المہدی تالیف ابو نعیم اصفہانی (متوفی ۴۳۰ ہجری)؛

۴ ۔ البیان فی اخبار صاحب الزمان تالیف یوسف گنجی شافعی (متوفی ۶۵۷ ہجری)؛

۵ ۔ عقد الدرر فی اخبار المہدی المنتظر تالیف یوسف بن یحیی دمشقی شافعی (متوفی ۶۵۸ ہجری)؛

۶ ۔ احوال صاحب الزمان تالیف سعد الدین حموی (متوفی ۷۲۲ ہجری)؛

۷ ۔ العرف الوردی فی اخبار المہدی تالیف جلال الدین سیوطی (متوفی ۹۱۰ ہجری) ؛

۸ ۔ رسالۃ فی المہدی تالیف ابن حجر مکی (متوفی ۹۷۳ ہجری) ؛

۹ ۔ البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان تالیف متقی ہندی (متوفی ۹۷۵ ہجری) ؛

۱۰ ۔ الردّ علی من حکم و قضیٰ ان المہدی جاء و مضیٰ تالیف ملا علی قاری ہروی (متوفی ۱۰۱۴ ہجری)؛

۱۱ ۔ابراز الوہم ا لمکنون من کلام ابن خلدون تالیف احمد بن محمد صدیق بخاری (متوفی ۱۲۴۸ ہجری)(۲۰) ۔

کتاب الفتن و الملاحم، حضرت مہدی موعود کے بارے میں ہم تک پہنچنے والی اہل سنت کی قدیم ترین کتاب ہے جسے حافظ نعیم بن حماد مروزی (متوفی ۲۲۷ ہجری) نے تالیف کیا ہے انکا شمار صحاح ستہ کے مؤلفین کے اساتذہ میں ہوتا۔ آج بھی اس کتاب کے نسخے دنیا کے مشہور و معروف کتب خانوں مثلاً کتابخانہ دائرۃ المعارف عثمانی حیدر آباد ہند، کتابخانہ ظاہریہ دمشق اور انگلستان کے میوزم میں موجود کتابخانہ وغیرہ میں موجود ہیں(۲۱) ۔

تحقیق کی حدود

یہ تحقیق کسی خاص عصر یا علاقے سے مخصوص نہیں ہےگرچہ اس میں پاکستان کے اندر موجود مسائل و شبہات پر خاص توجہ دی گئی ہے۔

اس تحقیق کا خاص موضوع غیبت امام عصر ہے اوراس میں غیبت سے متعلق مسائل و سوالات وغیرہ پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ لہذا ہم اس میں امام مہدی (عج) کی امامت و عصمت پر تبصرہ نہیں کریں گے، اور چونکہ اس میں قرآن و سنت کی روشنی میں بحث کی گئی ہے لہذا عقلی و تاریخی ابحاث سے گریز کیا گیا ہے بلکہ شیعہ و اہل سنت حضرات نے قرآن و سنت کی روشنی میں جو کچھ بھی غیبت امام عصر کے بارے میں بحث و گفتگو کی ہے ہم نے اسے یہاں تحقیق کے میزان میں جانچنے کی کوشش کی ہے۔

مشکلات تحقیق

۱ ۔ اکثر ابتدائی اور اولیہ منابع ناپید ہوگئے ہیں جبکہ موجودہ منابع میں سے اکثر تیسری صدی ہجری کے بعد کے منابع ہیں۔

۲ ۔ تحقیق کا موضوع تطبیقی ہونے کی وجہ سے نہایت احتیاط و دقت اور توجہ کا طالب ہے۔

____________________

۱ ۔سورہ شعراء (۲۶) آیت ۲۲۷۔

۲ ۔کمال الدین، ج۱، ص ۲۰؛ شیخ طوسی، در ابواب مختلف بحار الانوار، ج۵۱، ص ۷۳؛ اثبات الھداۃ، ج۶، ص ۲۲۹۔

۳ ۔فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۳۵۔

۴ ۔رجال نجاشی، ص ۱۹۱؛ الفہرست، شیخ طوسی، ص ۲۲۶۔

۵ ۔ تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدھم، ڈاکٹر جاسم حسین، ص ۲۳۔

۶ ۔ مہدی منتظر را بشناسید، مہدی فقیہ ایمانی، ص ۵۰۔

۷ ۔دکتر جاسم حسین، تاریخ سیاسی امام دوازدھم، ص ۲۳؛ مسعود پور سید آقائی، تاریخ عصر غیبت، ص ۲۵۔

۸ ۔رجال نجاشی، ص ۳۷۷، ش ۱۰۲۷۔

۹ ۔ دکتر جاسم حسین، تاریخ سیاسی امام دوازدھم، ص ۲۳۔

۱۰ ۔عین الغزالہ، ص ۱۲، ؛ مرآۃ العقول، ج۱، ص ۳۹۶۔

۱۱ ۔نعمانی، الغیبۃ، ص۹۔

۱۲ ۔ایضاً، ص ۱۱۔ ۱۳۔

۱۳ ۔کمال الدین، ص ۳۔ ۲۔

۱۴ ۔الفصول المختارۃ، ص ۳۲۱۔

۱۵ ۔ایضاً، ص ۱۱۱۔ ۱۱۸ و ۳۲۷ ۔ ۳۳۱۔

۱۶ ۔شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۱، ۲ و ۳۹۔

۱۷۔ کیونکہ اس میں احکام دینی و فقہ اسلامی کو بیان کیا گیا ہے

۱۸ ۔ علی دوانی، دانشمندان عامہ و مہدی موعود، ۱۶۔

۱۹ ۔ہادی عامری، مہدی آل محمد در کتب اہل سنت، ص ۳۰۔

۲۰ ۔محمد امین گلستانی، سیمای جہان در عصر امام زمان ، ج۱، ص ۵۶۔

۲۱ ۔علی کورانی، عصر ظہور، ص ۳۷۰۔ (بر بنائے نقل ہادی عامری، مہدی آل محمد در کتب اہل سنت، ص۳۸)۔


پہلا باب: مفہوم غیبت

پہلی فصل: غیبت کی تعریف

غیبت کی لغوی تعریف

لفظ "غیبت" ، مادۂ "غیب" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی پوشیدہ ہونا، غائب ہونا ہے۔ مشہورومعروف لُغَوی راغب اصفہانی کا کہنا ہے:

"الغيب مصدر غابت الشمس وغيرها اذا استترت عن العين ؛ "غیب" مصدر ہے۔ سورج وغیرہ غائب ہوگیا، یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب یہ نگاہوں سے پوشیدہ اور غائب ہوجائیں۔ غابَ عنِّی کذا؛ میری نگاہوں سے پوشیدہ ہوگیا۔ قرآن کریم میں آیا ہے:( اَم کان من الغایبین ) ؛ کیا وہ غائب ہوگیا ہے؟(۱) ؛ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہُد ہُد کے نہ دیکھنے پر کہا تھا"(۲) ۔

نیز راغب سے پہلے کہ بزرگ لُغَویّین جیسے ابن فارس (متوفی ۳۹۵ ہجری) اور بعد میں آنے والے جیسے ابن منظور (متوفی ۷۱۱ ہجری) اور فیومی (متوفی ۷۷۰ ہجری) وغیرہ کا کہنا ہے: "الغیب کُلّ ما غاب عنک "۔غیب یعنی ہر وہ چیز جو تم سے غائب ہو۔

پس غیب کے معنی پنہان و پوشیدہ اور ہر وہ چیز جو نگاہ یا علم سے مخفی و پوشیدہ ہو۔

صاحب مجمع البحرین رقمطراز ہیں:

"قوله تعالي :( وَأَلْقُوهُ فِي غَيابَة الْجُبِّ ) ،بفتح الغين، ‏ای فی قعره. سمی به لغيبوبته عن أعين الناظرين، ‏وکلّ شیء غيب عنک فهو غيابة ...، ‏وما من غائبة أی ما من شیء شديد الغيبوبة و الخفاء . ..."(۳)

اور صاحب لسان العرب تحریر کرتے ہیں:

"والغيب أيضاً ما غاب عن العيون وإن کان محصّلاً فی القلوب، ‏ويقال سمعت صوتاً من وراء الغيب أی من موضع لا أراه...، ‏وقد تکرر فی الحديث ذکر الغيب وهو کلّ ما غاب عن العيون "(۴)

غیبت کی اصطلاحی تعریف

غیبت کی اصطلاحی معنی کے سلسلہ میں چند صورتیں متصور ہیں:

۱ ۔ امام علیہ السلام ایام غیبت میں ایک مخصوص جگہ پر ماسوا سے کنارہ کشی کرکے گوشہ نشین ہوگئے ہیں۔

۲ ۔ امام علیہ السلام ہر جگہ موجود ہیں لوگوں کے اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں البتہ لوگوں کی نگاہوں سے غائب و پوشیدہ ہیں۔

۳ ۔ انھوں نے لوگوں سے رابطہ منقطع کرلیا ہے البتہ صرف ضروری موقع پر ارتباط قائم کرتے ہیں۔

حضرت سے مربوط روایات میں تین قسم کے الفاظ "ظہور" ، "خروج" اور "قیام" کثرت سے استعمال ہوئے ہیں۔ اس بات کی طرف متوجہ رہنا چاہیے کہ ظہور اور حضور میں فرق پایا جاتا ہے؛ ظہور یعنی اس طرح آشکار و ظاہر ہونا کہ دیکھا جاسکے جبکہ حضور اس سے اعم ہے، یعنی حاضر ہونا چاہے دکھائی دے یا دکھائی نہ دے۔ جب یوں کہا جاتا ہے کہ حضرت غائب ہیں، ظاہر نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انکا فزیکل ظہور نہیں ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ حاضر بھی نہیں ہیں۔ بنابریں حضرت کو غائب اسی لئے کہا جاتا ہے کہ آپؑ ظاہر نہیں ہیں نہ یہ کہ حاضر بھی نہیں ہیں۔

بالفاظ دیگر حضرت کی غیبت کا مطلب انکا نامر ئی ہونا نہیں ہے اور نہ ہی یہ خیال کرنا چاہیے کہ وہ عرصۂ غیبت کے دوران ظہور ہونے تک ایک وجود نامر ئی ہیں، لوگوں سے مکمل طورپر دور گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے ہیں اور معاشرے سے بالکل الگ تھلگ ہوگئے ہیں؛ بلکہ روایات سے یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ امام علیہ السلام کوچہ و بازار میں آمد و رفت کرتے ہیں، لوگوں کی محافل میں شرکت کرتے ہیں لیکن پہچانے نہیں جاتے۔(۵)

پس اصطلاحی طور پر غیبت ظہور کے مدّ مقابل ہے، جس کے معنی نگاہوں سے مخفی او رپوشیدہ ہونا ہے، غیبت بمعنی عدم حضور نہیں ہے۔ یہ معنی لغوی معنی سے بھی سازگار ہیں اور روایات سے بھی انہی معنی کی تائید ہوتی ہے بطور نمونہ ہم یہاں دو مثالیں پیش کر رہے ہیں:

علی بن محمد سمری کے پاس آنے والی توقیع شریف میں وارد ہوا ہے:

"... فقد وقعت الغيبة التامّة ، ‏فلا ظهور إلّا بعد إذن الله تعالي... ألا فمن ادّعی المشاهدة قبل خروج السفيانی والصيحة فهو کذّاب مفتر "(۶)

میری غیبت تامہ واقع ہوچکی ہے۔ اور جب اللہ کا حکم ہوگا اسی وقت ظہور ہوگا ۔۔۔ مگر جو خروج سفیانی اور صدائے آسمانی کے پیدا ہونے سے پہلے مجھے دیکھنے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے۔"

صادق آل محمد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عبید بن زرارہ نے روایت نقل کی ہے: "يفقد الناس إمامهم فيشهدهم الموسم، ‏فيراهم ولا يرونه "(۷)

"لوگ اپنے امام کو گم کردیں گے (امام غائب ہوجائیں گے) لیکن موسم حج میں وہ حاضر ہوں گے البتہ وہ لوگوں کو دیکھیں گے مگر لوگ انھیں نہیں دیکھیں گے"۔

ان روایات میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ امام عصر علیہ السلام ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے کہ وہ حاضر بھی نہیں ہیں۔

پس احادیث مہدویت پر غور و فکر اور جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان روایات میں غیبت کے دو معنی ہیں۔

اول یہ کہ وہ ہمارے انسانی اجتماعات سے دو ر زندگی بسر کر رہے ہیں اور لوگوں کی دسترس سے اس طرح دور ہیں کہ لوگ ان کے دیدار یا ملاقات کے لئے ان کے پاس حاضر نہیں ہوسکتے۔ گویا جس طرح ایک عام آدمی کو دیکھا جاسکتا ہے ، کوئی اپنا ہو یا غیر، کوئی بھی انہیں نہیں دیکھ سکتا۔

دوئم یہ کہ آنجناب اپنی چاہت کے مطابق عام لوگوں سے مخفی ہیں، ان کی نگاہیں انھیں دیکھنے سے عاجز ہیں اور سوائے چند پرہیز گار و وارستہ انسانوں کے کوئی بھی انھیں دیکھنے پر قادر نہیں ہے۔ جس طرح ارواح، ملائکہ اور جن انسانی اجتماعات میں موجود ضرور ہیں لیکن سوائے چند مخصوص افراد کے کوئی بھی انھیں دیکھنے پر قادر نہیں ہے؛ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملائکہ انبیاء کے علاوہ دیگر افراد کے لئے بھی ظاہر ہوئے ہیں اور انھیں بعض لوگوں نے اپنی نگاہوں سے دیکھا ہے جیسا کہ تاریخ کے صفحات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ جناب سارا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ جناب مریم کی مثال رقم ہے۔

حضور سرور کائنات جناب رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی نامی ایک صحابی کی شکل و صورت میں ظاہر ہوتے تھے جبکہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ دحیّہ ہیں۔ اسی طرح جنگ بدر کے موقع پر بھی مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے سامنے فرشتے ظاہر ہوئے تھے۔(۸)

دوسری فصل: غیبت امام عصر (عج) پر ایمان کی اہمیت

حقیقت یہ ہے کہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم ارواحنا لہ الفداء کی غیبت و ظہور کا مسئلہ صرف شیعہ اثنا عشری مذہب سے مختص نہیں ہے بلکہ ایک منجی عالم کی آمد فریقین کی کتب میں موجود قطعی دلائل سے قابل اثبات ہے۔ منجی عالم کے وجود کے معتقدین خصوصاً مسلمانوں میں شیعہ مذہب نے اس مسئلہ کو خاص اہمیت دی ہے۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق منجی عالم، حضور سرور کائنات پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پاک و پاکیزہ آل سے ہیں، کیونکہ یہ دنیا کبھی بھی ایک سچے اور برحق امام سے خالی نہیں ہوسکتی اور یہ بات بالکل روز روش کی طرح واضح ہے کہ ان صفات کا حامل امام صرف ائمہ شیعہ ہی میں ہے جن کا سلسلہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے شروع ہوا ہے اور حضرت مہدی موعود (عج) پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

اسلام میں حضرت کے وجود و غیبت پر ایمان کو خاص اہمیت حاصل ہے اور فریقین کی روایات کے مطابق غیبت امام عصر پر ایمان کو غیبت پر ایمان کے مصادیق میں سے شمار کیا گیا ہے۔

قرآن کریم غیب پر ایمان کو متقین کی صفات میں شمار کرتے ہوئے فرماتا ہے:

( الم ٭ذَلِكَ الْكِتَابُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ٭الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ) (۹) ؛

"الم، یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ، یہ ایسے صاحب ایمان اور پرہیزگاروں کے لئے مجسم ہدایت ہے، جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں"۔

قرآن کریم کے بعد اب اس سلسلہ میں فریقین کی روایات پیش خدمت ہیں:

شیعہ نقطہ نظر

غیبت امام عصر پر ایمان کے سلسلہ میں شیعہ کتب میں کثرت سے ایسی روایات موجود ہیں جو اس مسئلہ پر نہایت تاکید کر رہی ہیں اور اس پر ایمان کی اہمیت کو بیان کر رہی ہیں جیسا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

"القائم من ولدی اسمُه اسمی و کنیتُهُ کنیتی و شمائلُهُ شمائلی و سنّتُهُ سنتی یقیم الناس علی ملتی و شریعتی و یدعوهم الیٰ کتاب الله عزوجل من أطاعه أطاعنی و من عصاه عصانی ومن انکره فی غیبته فقد أنکرنی و من کذّبه فقد کذّبنی و من صدّقه فقد صدقنی اِلی الله اشکو المکذبین لی فی أمره و الجاهدین لقولی فی شأنه و المُضلّین لأمتی عن طریقته ( وسیعلم الذین ظلموا ایّ منقلب ینقلبون ) "(۱۰)

"قائم میری اولاد میں سے ہوگا، جس کا نام میرا نام، جس کی کنیت میری کنیت، جس کے شمائل میرے شمائل، جس کی سنت میری سنت ہوگی۔ جو لوگوں میں میرے طریقے اور شریعت کو قائم کرے گا، لوگوں کو کتاب الٰہی کی طرف دعوت دے گا، جس نے اس کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی، جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔

جس نے اس کی غیبت کا انکار کیا اس نے میرا انکار کیا، جس نے اسے جھٹلایا اس نے مجھے جھٹلایا، جس نے اس کی تصدیق کی اس نے میری تصدیق کی۔ میں اللہ سے ان لوگوں کی شکایت کروں گا جنہوں نے اس امر میں مجھے جھٹلایا اور اس کے بارے میں میرے قول کا انکار کیا اور اس کے راستے میں میری امت کو گمراہ کیا۔( وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا اَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ ) (۱۱) اور جنہوں نے ظلم کیا عنقریب وہ جان لیں گے کہ کس کروٹ پلٹتے ہیں"۔

اہل سنت کا نقطۂ نظر

عقیدۂ مہدی علیہ السلام خود پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پیش کیا اور لوگوں کو اسکی تعلیم دی ہے۔ علمائے اہل سنت کی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کردہ روایات و احادیث کے مضمون کے مطابق یہ عقیدہ ضروریات دین اسلام میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کا انکار کرنے والے دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں۔ اس قول کی وضاحت اور تائید میں ذیل میں چند روایات بطور مثال پیش کی جا رہی ہیں:

۔ "من کذّب بالمهدیّ فقد کفر "(۱۲) جس نے مہدی علیہ السلام کو جھٹلایا وہ کافر ہوگیا۔

۔ "من أنکر خروج المهدیّ فقد کفر "(۱۳) جس نے خروج مہدی کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔

۔"من أنکر خروج المهدیّ فقد کفر بما أنزل علی محمّد ومن أنکر نزول عيسي ‏فقد کفر ومن أنکر خروج الدجّال فقد ک فر "(۱۴) جس نے خروج مہدی کا انکار کیا اس نے (حضرت) محمدؐ پر نازل ہونے والی تمام چیزوں کا انکار کیا، جس نے نزول عیسیٰ کا انکار کیا وہ کافر ہوا اور جس نے خروج الدجال کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔

اس قسم کی روایات کی بنا پر بعض علمائے اہل سنت خروج مہدی علیہ السلام پر ایمان کو واجب اور بعض اس کے منکرین کو کافر سمجھتے ہیں۔

احمد بن محمد بن صدیق کا کہنا ہے:"حضرت مہدی علیہ السلام کے خروج پر ایمان رکھنا واجب ہے اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی وجہ سے ان کے ظہور پر اعتقاد حتمی او رثابت ہے ۔۔"(۱۵)

سفارینی حنبلی(۱۶) ، ناصر الدین البانی(۱۷) اور عبد الحسین بن حمد العباد(۱۸) سے بھی یہ تعبیرات نقل کی گئی ہیں۔

فقیہ شافعی، ابن حجر تصریح کرتے ہیں: "اگر انکار مہدی اصل و اساس سنت کے انکار کا سبب ہو تو کفر ہے اوراس کا مرتکب واجب القتل ہے اور اگر صرف ائمہ اسلام سے عناد و دشمنی کی وجہ سے انکار کرے تو علی الاعلان اس کی توہین کی جائے اور سزا دی جائے تاکہ وہ اس عمل سے رُک جائے ۔۔۔"(۱۹)

احمد بن محمد بن صدیق غماری ازھری احادیث مہدی ؑ کے بارے میں کہتے ہیں: "یہ احادیث متواتر ہیں اور انکا منکر بدعت گزار اور گمراہ ہے"۔(۲۰)

آئندہ فصل میں ہم بعض ایسے علمائے اہل سنت کا تذکرہ کریں گے جو امام عصر (عج) کی غیبت کے قائل ہوئے ہیں۔ بنابریں جس مہدی علیہ السلام کی تکذیب اور انکار پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تکذیب اور کفر کا سبب ہے وہ حضرت مہدی حجت بن الحسن العسکری علیہ السلام ہی ہیں۔

تیسری فصل: ولادت امام عصر (عج) کے بارے میں اقوال علمائے اسلام

اگرچہ یہ بحث ہمارے رسالہ کے موضوع سے براہ راسست مرتبط نہیں ہے لیکن کیونکہ بعض محققین و صاحبان نظر یہ کہہ کر غیبت امام عصر (عج) کا انکار کردیتے ہیں کہ اصلاً ابھی تو انکی ولادت بھی نہیں ہوئی ہے اور جب ولادت ہی نہیں ہوئی تو پھر غیبت کا کیا سوال ۔ لہذا اس نقطۂ نظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے بطور مختصر اس موضوع کو بیان کردینا مناسب ہے۔

شیعہ علماء کا نقطہ نظر

شیعہ حضرات امام زمانہ (عج) کی ولادت کے بالکل اسی طرح معتقد ہیں جس طرح پیغمبر اکرمؐ کی ولادت باسعادت پر اعتقاد و ایمان رکھتے ہیں۔

شیعہ عقیدہ کے مطابق امام عصر حضرت حجت بن الحسن العسکری شب نیمہ شعبان ۲۵۵ ؁ ہجری کو دنیا میں تشریف لائے(۲۱) اور آج تک بحکم خداوند عالم حضرت عیسیٰ کی طرح زندہ ہیں۔ شیعہ احادیث و تالیفات حضرت مہدی (عج) کی ولادت کو ایسے امور ثابت و مسلم میں شمار کرتی ہیں جس میں کسی قسم کی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے(۲۲) ۔ شیعہ حضرات اسی مناسبت سے طول تاریخ میں آج تک پندرھویں شعبان کی شب میں مساجد، امام بارگاہوں اور مقدس مقامات کے علاوہ اپنے گھروں پر جشن ولادت با سعادت امام مہدی علیہ السلام مناتے ہیں اور جگہ جگہ محافل و میلاد کا انعقاد کرتے ہیں۔

علمائے اہل سنت کا نقطۂ نظر

بعض علمائے اہل سنت کے نزدیک ولادت و غیبت امام زمانہ حضرت مہدی (عج) اثبات شدہ ہے، لیکن بعض کا خیال ہے کہ ابھی آپ کی ولادت ہی نہیں ہوئی ہے کہ غائب ہوں بلکہ آخری زمانے میں متولد ہوں گے۔

حضرت کی ولادت کا انکار کرنے والوں کی دلیل یہ ہے کہ اگر امام حسن عسکری ؑ کے یہاں مہدی نامی فرزند موجود ہوتا تو علمائے اہل سنت بھی اپنی کتابوں اور تحریروں میں اسکا ذکر کرتے،لیکن کیونکہ اہل سنت علماء نے اپنی تالیفات میں اس قسم کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسن عسکری ؑ کے اس قسم کا کوئی بیٹا موجود نہ تھا۔ لہذا اہل سنت حضرت مہدی (عج) کو امام حسن عسکری ؑ کا فرزند تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آنجناب آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے۔

اس گروہ ثانی کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ حضرت مہدی (عج) کی ولادت کے مخفی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کی ولادت سے کوئی بھی شخص مطلع ہی نہیں ہے اور یہ امر ثابت نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ امر شیعہ مکتب فکر کے مطابق امر مسلم و اثبات شدہ ہے۔ نیز اہل سنت کے علماء و مؤلفین کی ایک بڑی تعداد نے اپنی اپنی کتابوں میں ۲۵۵ ہجری میں امام مہدی (عج) کی تاریخ ولادت ثبت کرتے ہوئے آپ کو امام حسن عسکری ؑ کا بلا واسطہ فرزند قرار دیا ہے۔

اس سلسلہ میں انجام شدہ تحقیق و جانچ پڑتال کے مطابق یہ موضوع سب سے پہلے اہل سنت کے قابل قدر دانشمند اور عالم دین شیخ سلیمان حنفی قندوزی بلخی مقیم قسطنطنیہ (متوفی ۱۲۹۴ ہجری) نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب ینابی ع المودۃ میں بیان کیا ہے۔

تقریباً اسی دوران شیعہ نابغۂ زمان سید میر حامد حسین ہندی (متوفی ۱۳۰۶ ہجری) نے اپنی کتاب الاستقصاء الافحام میں ۔۔۔ ینابی ع المودہ میں ذکر شدہ افراد اور علماء کے اسماء میں ہندوستان وغیرہ کے دیگر بزرگ اہل سنت علماء (جنکی کتابوں کا انھوں نے مطالعہ کیا تھا) کے اسماء کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں انکے اقوال بھی ثبت کئے ہیں۔

عالی مقام محدث حاج میرزا حسین نوری (متوفی ۱۳۲۰ ہجری) نے اثبات غیبت امام عصر کے سلسلہ میں "کشف الاستار" نامی کتاب تالیف فرمائی جس میں آپ نے ان دو کتابوں (ینابی ع المودۃ اور استقصاء الافحام) سے استفادہ کرتے ہوئے چند دیگر افراد کے اسماء کا اضافہ کرتے ہوئے اہل سنت کے تقریباً چالیس ایسے علماء کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے اس موضوع پر خاص مطالب بیان کئے ہیں۔ امام زمانہ (عج) کے وجود مقدس کے بارے میں محدث اپنی دوسری ارزشمند کتاب نجم الثاقب میں ان میں سے بیس علماء کا تذکرہ کرتے ہیں۔

عصر گزشتہ کے بزرگ عالم مرحوم سید محسن امین عاملی مؤلف کتاب اعیان الشیعہ اپنی کتاب البرہان علی وجود صاحب الزمان، مرحوم شیخ علی یزدی اپنی کتاب الزام الناصب اور ان کے علاوہ کتاب الامام الثانی عشر، منتخب الاثر، ذرایع البیان اور الامام المہدی وغیرہ کے مؤلفین نے مذکورہ کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی کتب میں دیگر افراد کے اسماء کا اضافہ کیا ہے اور کم و بیش اجمال و تفصیل کے ساتھ ان دانشمندوں اور علماء کے نام بیان کئے ہیں۔ ان میں سے کتاب منتخب الاثر کے مؤلف آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی نے مجموعاً ۶۵ افراد کے اسماء بیان کئے ہیں۔(۲۳)

دانشمند معاصر حجۃ الاسلام جناب علی دوانی صاحب نے اس موضوع پر مستقل ایک کتاب تالیف کی ہے جس کا نام دانشمندان عامہ ومہدی موعود ہے۔ انھوں نے اپنی اس کتاب میں تمام ان افراد کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید پچاس افراد کا اضافہ کیا ہے اور مجموعی طور پر ۱۲۰ افراد و علمائے اہل سنت کا تذکرہ کیا ہے۔

اس تعداد میں سے اکثر علماء نے متفقہ اور واضح طور پر کہا ہے کہ ابو القاسم محمد بن الحسن العسکری ؑ متولد سامر ا ۲۵۵ ؁ ہجری یا سنوات دیگر وہی مہدی موعود ہیں جن کا تذکرہ اہل سنت کی معتبر اور صحیح السند روایات میں آیا ہے اور ان کے علاوہ یہ کوئی اور دوسرا شخص نہیں ہوسکتا۔

مذکورہ تعداد ۱۲۰ افراد میں سے کچھ ایسے علماء ہیں جنہوں نے صرف امام حسن عسکری ؑ کے فرزند کا نام بیان کیا ہے یا فقط انکی ولادت کا تو ذکر کیا ہے لیکن یہ نہیں بیان کیا کہ یہی وہ مہدی موعود ہیں۔ لیکن انھیں مہدی موعود تسلیم کرنے کے لئے انکا فرزند امام حسن عسکری قبول کرلینا ہی کافی۔ بعض علماء مثلاً علاء الدولہ سمنانی، حافظ ذہبی اور ابن حجر مکی نے کہا ہے کہ ولادت کے بعد انکا انتقال ہوگیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود انکا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جو حضرت مہدی (عج) کو امام حسن عسکری کا فرزند تسلیم کرتے ہیں کیونکہ جن لوگوں نے ولادت محمد بن الحسن ؑ کی خبر نقل کی ہے انھوں نے انکی شرح زندگانی اور سرنوشت بیان نہیں کی کہ وہ کہاں چلے گئے لہذا یہ چند افراد افکار شیعہ کو منحرف کرنے کے لئے کہنے لگے کہ حضرت مہدی (عج) کا انتقال ہوگیا ہے تاکہ شیعہ وغیرہ ان کے انتظار میں زندگی بسر نہ کریں۔(۲۴)

ہم یہاں اہل تحقیق اور مطالعہ سے شغف رکھنے والے حضرات کی اطلاع کے لئے بعض ایسے علمائے اہل سنت کا ذکر کر رہے ہیں جو امام عصر (عج) کی ولادت کے بھی قائل ہوئے ہیں اور انھوں نے حضرت کو حضرت امام حسن عسکری ؑ کا فرزند بھی تسلیم کیا ہے:

۱ ۔ علی بن حسین مسعودی (متوفی ۳۴۶ ہجری)

انھوں نے رحلت امام حسن عسکری ؑ کو ۲۶۰ ہجری کے حوادث میں قرار دیتے ہوئے امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کی تصریح کی ہے:"ابو محمد حسن عسکری بن علی نے ۲۶۰ ھ؁ میں وفات پائی اور یہ مہدی منتطر امام شیعوں کے بارہویں امام ؑ کے والد بزرگوار ہیں۔"(۲۵)

۲ ۔ عز الدین ابن اثیر (متوفی ۶۳۹ ہجری)

یہ اہل سنت کے بزرگترین مؤرخ ہیں۔ اپنی معروف کتاب "الکامل" میں ۲۶۰ ہجری کے حوادث میں تحریر کرتے ہیں:"اس سال میں ابو محمد عسکری نے وفات پائی، وہ شیعہ مکتب کے مطابق ائمہ اثنا عشر میں سے ایک ہیں، ان کی ولات ۲۳۲ ہجری میں ہوئی اور یہی محمد ؑ کے والد ہیں جنہیں شیعہ، منتظر کہتے ہیں۔"(۲۶)

۳ ۔ سبط ابن جوزی (متوی ۶۵۴ ہجری)

یعنی اہل سنت کے مشہور و معروف فقیہ و واعظ شمس الدین ابو المظفر یوسف بن قزاوغلی بن عبد اللہ بغدادی حنفی امام حسن عسکری ؑ کے بیان احوال کے بعد رقمطراز ہیں: " انکے فرزند کا نام محمد، کنیت ابو عبد اللہ اور ابو القاسم ہے۔ یہی حجت ،صاحب الزمان، قائم اور منتظر ہیں اور یہی ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے آخری امام ہیں۔"(۲۷)

۴ ۔ محمد بن یوسف شافعی گنجی (متوفی ۶۵۸ ہجری)

اہل سنت کے یہ مشہور عالم امام حسن عسکری ؑ کی وفات کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "انکے صرف ایک ہی فرزند محمد تھے اوریہی امام منتظر ہیں۔"(۲۸)

۵ ۔ ابن خلکان اشعری شافعی (متوفی ۶۸۱ ہجری)

انکے قلم نے تحریر کیاہے: "ابو القاسم محمد بن الحسن العسکریؑ شیعوں کے بارہویں امام ہیں۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ وہ منتظر وقائم ہیں ۔۔۔ ان کی ولادت جمعہ کے دن نیمہ شعبان ۲۵۵ ہجری میں ہوئی اور والد کے انتقال کے وقت انکی عمر پانچ سال تھی۔"(۲۹)

۶ ۔ ابو الفداء عماد الدین اسماعیل (متوفی ۷۳۴ ہجری)

یہ تحریر کرتے ہیں: "حسن عسکری ، قائم و منتظر اور صاحب سرداب کے والد ہیں اور یہ محمد منتظر شیعہ عقیدے کے مطابق بارہویں امام ہیں انھیں قائم و مہدی اور حجت بھی کہتے ہیں انکی ولادت ۲۵۵ ہجری میں ہوئی ہے۔"(۳۰)

۷ ۔ خواجہ محمد پارسا (متوفی ۷۲۲ ہجری)

یہ اپنی کتاب فصل الخطاب میں رقمطراز ہیں: "محمد فرزند حسن عسکری ؑ نیمہ شعبان ۲۵۵ ھ؁ میں پیدا ہوئے۔ انکی والدہ کا نام نرجس تھا۔ جب انکی عمر پانچ سال تھی اس وقت ان کے والد کا انتقال ہوا اور یہ اس وقت سے آج تک غائب ہیں، یہی شیعوں کے امام منتطر ہیں ان کا وجود خواص اصحاب ثقہ افراد کے نزدیک ثابت شدہ ہے۔ خداوند عالم نے انھیں خضر و الیاس کی طرح طول عمر عطا فرمائی ہے۔ "(۳۱)

۸ ۔ ابن صباغ مالکی (متوفی ۸۵۵ ہجری)

اپنی کتاب الفصول المھمہ میں امام حسن عسکریؑ سے متعلق فصل کے آخر میں تحریر کرتے ہیں: "ابو محمد کے صرف ایک فرزند ہے وہ ہی حجت و قائم ہے اور سب لوگ اسی کی برحق حکومت کے ظہور کا انتظار کر رہے ہیں۔ خلیفہ وقت کے خوف، حالات کی تنگی و دشواریوں اور شیعوں کی قید و بند، اسیری سختیوں کی وجہ سے انکی ولادت مخفی اور ماجرا پوشیدہ رہا ہے۔(۳۲)

۹ ۔ میر خواند (متوفی ۹۰۳ ہجری)

یہ عالم اہل سنت اپنی کتاب روضۃ الصفاء میں یوں رقمطراز ہیں: "محمد ، حسن کے فرزند تھے۔ انکی کنیت ابو القاسم ہے۔ امامیہ والے انھیں حجت اور قائم مہدی سمجھتے ہیں۔ حضرت امام مہدی (رضی اللہ عنہ) کہ جنکا نام اور کنیت رسول گرامی کے نام اور کنیت پر ہے (عراق کے شہر) سُرَّمن رای (سامر ا) میں نیمہ شعبان ۲۵۵ ہجری میں پیدا ہوئے اور والد بزرگوار کے انتقال کے وقت انکی عمر پانچ سال تھی۔ خداوند نےانھیں سن طفولیت میں اسی طرح حکمت عطا فرمائی جس طرح حضرت یحیٰ ؑ نبی کو عطا فرمائی تھی اور انھیں بچپن میں اسی طرح امام قرار دیا ہے جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو بچپن میں نبی مرسل قرار دیا تھا۔"(۳۳)

۱۰ ۔ ابن حجر ہیثمی مکی (متوفی ۹۷۳ ہجری)

یہ اپنے زمانے کے بزرگترین عالم اہل سنت شمار ہوتے تھے۔ یہ نہایت متعصب عالم دین ہیں انھوں نے شیعہ اعتقادات کی ردّ میں مشہور کتاب "الصواعق المحرقہ" بھی تالیف کی ہے۔ وہ اپنی اس کتاب کے آغاز میں لکھتے ہیں: "میں نے دیکھا کہ اس سال بہت کثرت سے رافضی (شیعہ) حج کے لئے مکہ آئے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ انکی کثرت سے آمد اہل سنت کے عقائد کو متزلزل کردے لہذا میں یہ کتاب لکھنے پر مجبور ہوگیا۔"

اگرچہ وہ حضرت مہدی منتظر اور انکی غیبت کے بارے میں شیعہ عقائد کو اپنی پوری سعی و کوشش کے ساتھ خطا اور غلط قرار دینا چاہتے ہیں لیکن جب ایک دوسرے مقام پر ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے اسماء کا ذکر کرتے ہیں تو حق و حقیقت انکے قلم پر جاری ہوجاتی ہے اور امام حسن عسکری ؑ کی شرح حال تحریر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "انکے بعد انکا صرف ایک بیٹا تھا جس کا نام ابو القاسم محمد الحجۃ ہے۔ باپ کی وفات کے وقت انکی عمر پانچ سال تھی اور پروردگار عالم نے انھیں اسی عمر میں حکمت عطا فرمائی ۔ انھیں قائم منتظر کہا جاتا ہے۔"(۳۴)

۱۱ ۔ محی الدین ابن عربی (متوفی ۶۳۸ ہجری)

یہ اپنی کتاب فتوحیات مکیہ میں لکھتےہیں: "جب زمین ظلم و جور سے بھر جائےگی اس وقت مہدی خروج فرمائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ آنجناب اولادِ رسول خدا اور نسل فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے ہیں۔ ان کے جد حسین ؑ ہیں اور والد گرامی حسن عسکری ؑ فرزند امام علی نقی ۔۔۔ فرزند حسین بن علی بن ابی طالب ہیں۔ انکا نام رسول اللہؐ کے نام سے قرین ہے اور مسلمان رکن و مقام کے مابی ن انکی بیعت کریں گے۔"(۳۵)

شعرانی نے بھی اپنی کتاب الیواقیت الجواہر میں ابن عربی کے اسی قول کو نقل کیا ہے۔(۳۶)

۱۲ ۔ شیخ عبد اللہ بن محمد شبروای شافعی ( متوفی ۱۱۷۲ ہجری)

اپنی کتاب "الاتحاف فی حب الاشراف میں لکھتے ہیں: "بارہویں امام، محمد حجت ہیں۔کہا جاتا ہے کہ وہی مہدی منتظر ہیں۔ امام محمد حجت پسر امام حسن عسکری ؑ نیمہ شعبان ۲۵۵ ہجری کو متولد ہوئے۔"(۳۷)

۱۳ ۔ محمد امین سویدی بغدادی (متوفی ۱۲۴۶ ہجری)

یہ اپنی کتاب سبائک الذہب فی معرفۃ قبائل العرب میں امام حسن عسکری ؑ و دیگر ائمہ علیہم السلام کے اسماء کا ذکر کرنے کے بعد امام حسن عسکری کے خط شجرہ میں تحریر کرتےہیں: "محمد المہدی کی عمر اپنے والد گرامی کی رحلت کے وقت پانچ سال تھی۔ وہ متوسط القامہ (میانہ قد) تھے خوبصورت، خوبصورت بال ، ابھری ہوئی ناک اور روشن رخساوں کے مالک تھے۔"(۳۸)

۱۴ ۔ خیر الدین زرکلی (متوفی ۱۳۹۶ ہجری)

حضرت مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں یہ عالم اہل سنت تحریر کرتے ہیں: محمد بن الحسن العسکری بن علی الہادی ابو القاسم و صاحب الزمان و منتطر و حجت اور صاحب سرداب ہیں۔ یہ سامر ا میں پیدا ہوئے اور جب انکے والد کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر پانچ سال تھی۔"(۳۹)

چوتھی فصل: غیبت امام عصر (عج) کے بارے میں علمائے اسلام کا کلی نظریہ

شیعت کا نقطۂ نظر

شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق حضرت محمد بن حسن عسکری مہدی موعود پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارہویں جانشین ہیں جنکی ولادت نیمہ شعبان ۲۵۵ ہجری میں ہوچکی ہے۔ شہادت امام حسن عسکری ؑ کے بعد وہ غائب ہوگئے تھے اورآج تک پردۂ غیبت میں بحکم خدا زندگی بسر کر رہے ہیں۔

شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ زمین خدا کبھی بھی حجت الٰہی سے خالی نہیں ہوسکتی؛ کیونکہ اگر زمین ایک لحظہ کے لئے بھی حجت خدا سے خالی ہوجائے تو اپنی تمام آبادیوںٰ کے ساتھ تباہ و برباد ہوجائے گی۔ اس سلسلہ میں صادق آل محمد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: "لَو بَقِيت الارضُ بِغَيرِ حُجَّة ٍ لَساخَت بِاهلِها "(۴۰) ۔

بنابریں شیعوں کا عقیدہ مہدویت ایک مسلم امر ہے کیونکہ تمام فرقِ اسلامی میں شیعوں کے اصول و امتیازات میں سے ایک یہ ہے کہ شیعہ حضرت مہدی موعود پر نام و نشان کے ساتھ عقیدہ و معرفت رکھتے ہیں۔ جبکہ اہل سنت اگرچہ اصل مہدویت پر اعتقاد و وایمان رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ عام طور پر حضرت مہدی ؑ کو امام حسن ؑ کا فرزند تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

شیعوں نے ائمہ علیہم السلام کے زمانے میں ان سے ظہور کی کیفیت، زمانۂ قیام اور امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے بارے میں بہت سے سوالات کئے اور بے شمار احادیث و روایات نقل کی ہیں۔ انکے یہ سوال و جواب ، ائمہ معصومین ؑ کے دور میں انکے عقیدہ مہدویت پر بہترین دلیل ہیں۔

بیشک پیغمبر گرامی قدر اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے اس مہر تابان یعنی حضرت مہدی ؑ کے بارے میں فراوانی کے ساتھ صحیح السند روایات نقل کی گئی ہیں اور آنجناب کے بارے میں یہاں تک کہ آپ کی ولادت سے ماقبل بھی آپ کی ولادت کی کیفیت، غیبت اور قیام کے بارے میں بے شمار کتابی ں رشتہ تحریر سے منسلک کی گئیں اور علماء و افاضل نے نہایت محنت اور مشقت اور عرق ریزی کے بعد اس سلسلہ میں اپنے علمی شاہکار بطور یادگار چھوڑے ہیں، اور اسی اہتمام کے ذریعے شیعوں کے نزدیک اس موضوع کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک روایت کے مطابق ارشاد فرماتے ہیں: "تکون له غيبة و حيرة تضل فيها الامم‏ (۴۱) ؛ ان (قائم) کے لئے غیبت و حیرت ہے جس میں بہت سے لوگ گمراہ ہوجائیں گے۔"

اہل سنت کا نقطۂ نظر

اصل ظہور حضرت مہدی علیہ السلام اسلام میں ثابت اور تمام فرق اسلامی میں مشترک امر ہے۔ اہل سنت کے یہاں بھی آنجناب کے بارے میں کثرت سے متواتر احادیث و ارد ہوئی ہیں۔ ایسے موضوعات بہت کم ہیں جنکے بارے میں اتنی کثیر تعداد میں احادیث نبوی وارد ہوئی ہوں۔ طرق اہل سنت اور انکے منابع و مآخذ میں یہ حقیقت اتنی زیادہ واضح و چشم گیر ہے کہ جس کی بنا پر بہت سے علمائے حدیث مثلاً حافظ ابو عبد اللہ گنجی شافعی (ساتویں صدی ہجری) اپنی کتاب البیان میں، ابن حجر عسقلانی شافعی (نویں صدی ہجری) اپنی کتاب فتوح البلدان میں، ابن حجر ہیثمی کتاب الصواعق المحرقہ میں، شبلنجی کتاب نور الابصار میں، ابن صباغ کتاب الفصول المھمۃ، محمد الصبان کتاب اسعاف الراغبین میں، شیخ منصور علی کتابغایة المأمول میں انکے علاوہ دیگر علماء حضرت مہدی ؑ کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث کے متواتر ہونے کی تصریح کرتے ہیں یا انھوں نے دوسرے علماء سے انکےتواتر کو نقل کیا ہے۔

حضرت مہدی (عج) کی خصوصیات ، شمائل، نسب ، کیفیت ظہور اور انکے اقتدا میں حضرت عیسی بن مریم کے نماز پڑھنے کے بارے میں پیغمبر گرامی قدر اور صحابہ کرام مثلاً حذیفہ، عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن عمرو بن العاص، ابو سعید خدری، ابو امامہ باھلی، انس بن مالک اور ابو ہریرہ وغیرہ سے کثرت سے اخبار و روایات نقل کی گئی ہیں، اور حضور سرور کائنات ؐو صحابہ کرام ہمیشہ لوگوں کو انکے ظہور کا مژدہ سناتے رہتے تھے۔

شیعوں کی طرح بہت سے بزرگان اہل سنت نے بھی حضرت مہدی موعودؑ کی تمام خصوصیات کا اعتراف کیا ہے جن میں مندرجہ ذیل علماء کے اسماء سرفہرست بیان کئے جاسکتے ہیں: کمال الدین محمد بن طلحہ نے اپنی مشہور کتب مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول میں، سبط ابن جوزی نے کتاب تذکرۃ الائمہ میں اور شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے اپنی معروف کتاب ینابی ع المودۃ میں ان خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔

انکے علاوہ اور بہت سے علماء نے حضرت امام زمانہ (عج) کے بارے میں احادیث کو جمع کیا ہے اور اس سلسلہ میں مخصوص کتابی ں تالیف کی ہیں مثلاً محمد بن یوسف گنجی نے کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان تحریر کی ہے، حافظ ابو نعیم نے چہل حدیث ترتیب دی ہے۔ جبکہ ینابی ع المودۃ میں بہت سے بزرگان اہل سنت کے اعتراف کا ذکر کیا گیا ہے۔

رواجنی جو کہ مشہور علماء و محدثین اہل سنت مثلاً بخاری، ترمذی، ابن ماجہ، ابو حاتم اور بزاز وغیرہ کے مشائخ میں سے ہیں اور ان سب نے ان سے روایت نقل کی ہے اور انکی وثاقت و صداقت پر تاکید کی ہے۔ رواجنی کے حالات زندگی میں لکھتے ہیں: وہ امام زمانہ ؑ سے اتنا والہانہ عشق رکھتے تھے کہ اپنے سرپر تلوار لٹکائے پھرتے تھے تاکہ جیسے ہی حضرت ظہور فرمائیں تو وہ فوراً انکی خدمت میں پہنچ کر انکی رکاب میں جنگ کریں اور انکی مدد کریں(۴۲) ۔

اہل سنت کے بزرگ علماء خصوصاً ائمہ اربعہ نے بھی حضرت مہدی موعود (عج) کے بارے میں روایات کو قبول کیا ہے۔ متقی ہندی (متوفی ۹۷۵ ہجری) اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: "چاروں مذاہب کے علماء شافعی ، حنفی، مالکی اور حنبلی حضرت مہدی ؑ کے بارے میں منقول احادیث کی صورت پر ا تفاق نظر رکھتے ہیں اور اس بات کے معتقد ہیں کہ اس موضوع پر ایمان رکھنا تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔"(۴۳)

اہل سنت کے مشہور و معروف مؤرخ قاضی بہلول بہجت افندی (متوفی ۱۳۵۰ ہجری ) بھی اس سلسلہ میں رقمطراز ہیں: "ظہور مہدی قائم آل محمد ؐ امت اسلامی کا متفق علیہ مسئلہ ہے جس میں کسی قسم کی تشریح و محاکمہ کی ضرورت نہیں؛ کیونکہ حدیث "من مات ولم يعرف إمام زمانه فقد مات ميتة الجاهلية " علمائے عامہ و خاص کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ بنابریں مسلمانوں کے درمیان کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو حضرت صاحب العصر و الزمان کا اقرار نہ کرتا ہو۔"(۴۴)

بنابریں تمام فرق اسلامی حضرت مہدی (عج) کے وجود پر ایمان رکھتےہیں اور اس بات پر متفق ہیں یہ دنیا اور لوگوں پر تکلیف اس وقت تک اختتام پذیر نہیں ہوسکتی جب تک کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور نہ ہوجائے۔ ابن ابی الحدید معتزلی اس سلسلہ میں تحریر کرتے ہیں:"قد وقع إتّفاق الفرق من مسلمين علي أنّ الدنيا و التکليف لا ينقضی إلّا عليه ؛ تمام فرق اسلامی اس بات پر متفق ہیں کہ ظہور تک یہ دنیا اور تکلیف اختتام پذیر نہیں ہوسکتی۔"(۴۵)

وہابی ت کا نقطۂ نظر

مسئلہ مہدویت اسلام کا اتنا واضح و روشن مسئلہ ہے کہ جسے یہاں تک کہ وہابی وں نے بھی قبول کیا ہے۔ اس مکتب فکر کی بنیاد رکھنے والے ابن تیمیہ (متوفی ۷۲۸ ہجری) اپنی کتاب منھاج السنۃ النبویہ میں رقمطراز ہیں: "احادیث حضرت مہدی مشہور ہیں اور انھیں امام احمد بن حنبل، ابو داؤد اور ترمذی وغیرہ نے نقل کیا ہے۔"

سعودی عرب میں وہابی ت کے سب سے اہم مرکز مؤسسہ رابطۃ العالم الاسلامی کے ڈائریکٹر محمد علی کنانی نے ۱۹۷۶ ؁ عیسویمیں اس مرکز وہابی ت سے امام زمانہ کے بارے میں کینیا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص محمد صالح القزاز کے پیش کردہ سوالات کے جواب میں نہایت اہم مطالب بیان کئے تھے، مثلاً انھوں نے جواب میں لکھا: جب دنیا ظلم و فساد سے بھر جائے گی تو خداوند عالم حضرت مہدی کے وسیلہ سے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ اور یہی پیغمبر اسلام کے آخری خلیفہ و جانشین ہیں جن کے بارے میں خود رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خبر دی تھی اور صحابہ کرام سے روایت کردہ بہت سی احادیث و روایات ا س کی تصدیق کر رہی ہیں۔

پھر وہ بطور دلیل بیس اصحاب کے نام تحریر کرتے ہیں اور بالآخر اپنے کلام کو اس جملہ کے ذریعہ ختم کرتے ہیں:

"إنّ الإعتقاد بخروج المهدی واجب و إنّه من عقائد السنة والجماعة ولا ينکره إلّا جاهل بالسنة ومبتدع فی العقيدة والله يهدی إلی الحقّ ويهدی السبيل (۴۶) ؛ ہمارے عقیدے کے مطابق قیام مہدی پر ایمان رکھنا (ہر مسلمان پر) واجب ہے اور یہ اہل سنت و الجماعت کے عقائد کا جزء ہے، سوائے نادان (جاہل) و بدعت گزار کے کوئی اس کا انکار نہیں کرتا، خداوند سب کی حق اور سیدھی راہ کی طرف ہدایت کرے۔"

۱۳۸۸ ہجری میں سعودی عرب میں دانشگاہ مدینہ میں ہونے والی کنفرانس میں وہابی وں کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن باز (متوفی ۱۴۲۰ ہجری) نے انکے قول کی تائید کرتے ہوئے مزید کہا تھا: "مسئلہ مہدویت آشکار و روشن ہے اور اس کے بارے میں فراوان احادیث ہیں بلکہ یہ احادیث متواتر و مستحکم ہیں اور بہت سے اہل علم حضرات نے انکے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے، یہ امام جو کہ اس امت پر الطاف الٰہی ہے آخری زمانے میں ظہور کرے گا، حق و عدالت برپا کرے گا، ظلم و جور کا خاتمہ کردے گا اور خداوند عالم عدالت و ہدایت اور لوگوں کی راہنمائی کے لئے لوائے حق اس امت پر سایہ فگن کردے گا۔(۴۷) "

امام مہدی ؑ کے منکرین کا نقطۂ نظر

اگرچہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل شدہ نصوص و روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام اور انکی غیبت پر اعتقاد رکھنا ضروریات دین اسلام میں سے ہے اور اقوال ِ علمائے اسلام میں بھی اس کی تصریح موجود ہے لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ اہل سنت کی ایک قلیل تعداد شیعہ و سنی کتابوں میں درج ہونے والی ان تمام معتبر روایات سے چشم پوشی کرتے ہوئے حضرت مہدی اور انکی غیبت کے عقیدے کو شیعہ اثنا عشری کے مختصات میں سے سمجھتی ہے:

احمد امین کتاب المہدی و المہدیہ فی الاسلام(۴۸) ، سعد محمد حسن کتاب المہدیہ فی الاسلام(۴۹) ، محمد فرید وجدی اپنی دائرۃ المعارف(۵۰) میں لفظ "سلم" کے تحت، طنطاوی اپنی تفسیر الجواہر میں اور محمد عبد اللہ عنان کتاب مواقف حماسہ میں اور انکے علاوہ بعض دیگر علماء بھی اس حقیقت کو چودہ صدیاں گزرنے کے بعد اپنی کتابوں میں موجود تمام مطالب کو نادیدہ لیتے ہیں اور مسئلہ مہدی کو فقط ایک ایسا افسانہ خیال کرتے ہیں جس کے صرف شیعہ معتقد ہیں۔(۵۱)

اس راہ میں سب سے پہلے پیش قدمی کرنے والے صاحب، ابن حزم اندلسی (متوفی ۴۵۶ ہجری) ہیں۔

ابن حزم کے بارے میں ابن حجر عسقلانی اپنی مشہور کتاب لسان المیزان میں نام "ابن حزم" کے ذیل میں تحریر کرتے ہیں: "ابن حزم کے دور کے تمام علمائے عامہ نے ان کی تکفیر کی تھی۔"

ابن حزم اپنے ہم مذہب علماء کے رویہ کے باوجود اپنی کتاب جمھرۃ انساب القریش، ص ۶۱ پر گستاخی کے ساتھ لکھتے ہیں: "حسن عسکری ؑ رافضیوں کے آخری امام ہیں ! ان کے کوئی اولاد نہیں تھی!! رافضی اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ صیقل نامی انکی ایک کنیز تھی جس نے انکی وفات کے بعد ایک بیٹے کو جنم دیا، لیکن یہ جھوٹ ہے!"(۵۲)

صاحب تفسیر المنار، محمد رشید رضا اپنی تفسیر میں آیت( لِيُظْهِرَهُ عَلَي الدِّينِ كُلِّهِ ) کے ذیل میں حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں نقل شدہ روایات پر تبصرہ کرتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ عقیدہ مہدی صرف شیعوں سے مربوط ہے یا ان لوگوں سے مربوط ہے جو شیعوں کی طرف تمایل رکھتے ہیں، وہ یہ سمجھ کر کلی طور پر احادیث مہدی ؑ کا انکار کرتے ہیں اور انھیں متضاد و غیر قابل قبول سمجھتے ہیں بلکہ اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ عقیدہ مہدی کو مسلمانوں کے جمود اور پس ماندگی کاسبب قرار دیتے ہیں۔(۵۳)

کتاب المہدیہ فی الاسلام کےمؤلف لکھتےہیں: "ابن خلدون نے ان احادیث (حضرت مہدی سے مربوط احادیث) کو ضعیف و ناقابل قبول قرار دیا ہے۔"(۵۴)

مذکورہ نظریات کے نتائج

اہل سنت کی اکثریت ان اخبار و احادیث کی منکر نہیں ہے کیونکہ یہ روایات انکی معتبر کتب میں ثبت شدہ ہونے کے علاوہ کثرت تعداد کی وجہ سے بھی ناقابل انکار ہیں۔ بنابریں کوئی بھی آخری زمانے میں انکے ظہور، قیام، تمام ادیان پر انکے غلبہ اور روئے زمین پر انکے تسلط کا انکار نہیں کرتا ہے۔

ایک تقسیم بندی کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مہدی ؑ پر عقیدے کے سلسلہ میں اہل سنت تین دستوں میں تقسیم ہیں:

۱ ۔ پہلے دستے کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت کی ولادت ہوچکی ہے لیکن جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی اس وقت آپ ظہور فرمائیں گے۔ یہ گروہ تمام اعتقادات میں شیعوں سے موافق ہیں۔

۲ ۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو حضرت کو نسل علی و فاطمہ و امام حسین علیہم السلام سے تو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان پر حضرت کی ولادت کا امر مخفی ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں کہ آنجناب کی ابھی ولادت نہیں ہوئی ہے بلکہ جب قیام کا زمانہ قریب ہوگا وہ اس وقت متولد ہوں گے۔ یہ گروہ بقیہ خصوصیات، علائم اورکیفیات ظہور میں جیسا کہ روایات میں دیکھتے ہیں گروہ اول کی طرح ہیں۔

۳ ۔ تیسرے گروہ کا نظریہ ہے کہ حضرت مہدی ؑ سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں جو آسمان سے نازل ہوں گے۔ یہ لوگ روایات میں بیان کردہ خصوصیات کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر منطبق کرتے ہیں۔ اس گروہ کا عقیدہ تمام مسلمانوں کے نزدیک مردود و ناقابل قبول ہے۔ اور شاید آج اس دور میں کوئی بھی اس عقیدہ کا قائل نہیں ہے؛ کیونکہ یہ نظریہ اس نظریہ کے بالکل بر خلاف ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہونے کے بعد حضرت مہدی ؑ کے پیچھے نماز ادا کریں گے(۵۵) اور اس حقیقت کو شیعہ و سنی دونوں نے نص پیغمبر اکرمؐ سے نقل کیا ہے۔

____________________

۱ ۔سورہ نمل (۲۷)، آیت ۲۰۔

۲ ۔راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن۔

۳ ۔احمد بن فارس، معجم مقاییس اللغۃ، ج۴، ص ۴۰۳؛ ابن منظور، لسان العرب؛ احمد بن محمد بن علی المقری الفیومی، مصباح المنیر، ج۱؛ سید اکبر قریشی، قاموس القرآن، ج۵، ص ۶ و۷؛ مجمع البحرین ، ص۱۳۰۔

۴ ۔لسان العرب، ج۱، ص ۶۵۴؛ ابن اثیر، نہایہ، ج۳، ص ۳۹۹؛ تاج العروس، ج۱، ص ۴۱۶۔

۵ ۔"بنفسی انت من مغیب لم یخل مِنَّا بنفسی من نارُحٍ ما نزح عنّا ؛ میری جان آپ پر قربان کہ آپ ہم سے بے خبر (اور دور)نہیں ہیں۔ اس کوچ کرنے والے پر میری جان فدا (جو ہم سے دور ہو کر بھی) ہم سے دور نہیں ہے۔" (مفاتیح الجنان،دعا ندبہ)۔

۶ ۔کمال الدین، ص ۵۱۶؛ بحار الانوار، ج۵۲، باب ۲۳، ص ۱۵۱، ح۱، کمال الدین اردو ترجمہ، ص ۴۸۹، توقیع ۴۴۔

۷ ۔ نعمانی، الغیبۃ، باب ۱۰، فصل ۴، ح ۱۳ و ۱۴؛ الکافی، ج۲، ص ۱۲۳، ح ۶ و ص ۱۲۷؛ ح ۱۲، کمال الدین، ص ۳۴۶، ح ۳۳ و ص ۳۵۱ ح ۴۹ و ص ۴۴۰، ح ۷؛ دلائل الامامۃ، ص ۲۰۹ و ۲۹۰؛ اثبات الھداۃ، ج۳، ص ۴۴۳، ح ۱۹ و ص ۴۴۴، ح ۲۵ و ص ۴۸۵، ح ۲۰۵۔

۸ ۔اصول کافی، ج۲، ص ۵۸۷، ح ۲۵؛ شیخ صدوق، امالی، ص ۳۴۵، ح ۳۔

۹ ۔سورہ بقرہ (۲)، آیت ۱۔ ۳۔

۱۰ ۔کما الدین، ج۲، باب ۳۹، ح ۶، بحار الانوار، ج۵۱، ص ۷۳۔

۱۱ ۔سورہ شعراء (۲۶)، آیت ۲۲۷۔

۱۲ ۔عقد الدرر، ص ۱۵۷۔

۱۳ ۔فرائد السمطین، ج۲، ص ۵۹۔

۱۴ ۔القول المختصرفی علامات المہدی المنتظر، ص ۵۹۔

۱۵ ۔ابراز الوہم المکنون، ص ۴۳۳۔

۱۶ ۔الاذاعہ، ص ۱۲۶۔

۱۷ ۔مجلۃ التمدن الاسلامی،ش ۲۲، ص ۶۴۳۔

۱۸ ۔مجلۃ الجماعۃ الاسلامیۃ، ش۳۔

۱۹ ۔البرہان، ص ۱۷۸۔

۲۰ ۔المہدی المنتظر، ص ۵۔

۲۱ ۔شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۲۳۷۔

۲۲ ۔سید محمد کاظم قزوینی، الامام المہدی، ص ۱۱۱۔

۲۳ ۔علی دوانی، دانشمندان عامہ و مہدی موعود، ص ۴۔ ۲۔

۲۴ ۔ایضاً، ص ۴۱۔

۲۵ ۔مروج الذھب، ج۲، ص ۴۴۱۔

۲۶ ۔الکامل فی التاریخ، ج۵، ص ۳۷۳۔

۲۷ ۔تذکرۃ الخواص الامۃ، ص ۲۰۴۔

۲۸ ۔کفایۃ الطالب، ص ۳۱۲۔

۲۹ ۔وفیات الاعیان، ج۱، باب المیم، ص ۳۱۶، ش ۵۳۴۔

۳۰ ۔المختصر فی اخبار البشر (معروف بتاریخ ابو الفداء)، ج۲، ص ۵۸۔ ۴۵۔

۳۱ ۔فصل الخطاب (بر بنائے نقل ینابیع المودۃ، باب ۷۹، ص ۴۵۱)۔

۳۲ ۔ابن صباغ مالکی، الفصول المھمۃ، ص ۲۲۷۔

۳۳ ۔روضۃ الصفاء، ج۳، ص ۵۹۔ ۶۲۔

۳۴ ۔الصواعق المحرقہ، ص ۲۰۶۔

۳۵ ۔ابن عربی، فتوحات مکیہ، باب ۳۶۶۔

۳۶ ۔عبد الوہاب شعرانی، الیواقیت و الجواہر، ج۲، ص ۱۴۳۔

۳۷ ۔الاتحاف بحب الاشراف، باب پنجم، ص ۱۷۹۔

۳۸ ۔سوید بغدادی، سبائک الذھب فی معرفۃ قبائل العرب، باب۶، ص ۱۷۷۔

۳۹ ۔زرکلی، قاموس الاعلام، ج۶، ص ۸۰، لفظ محمد۔

۴۰ ۔الکافی، ج۱، کتاب الحجۃ، باب ان الارض لا تخلوا من حجۃ، ج۱۰۔

۴۱ ۔کمال الدین، ص ۲۸۷۔

۴۲ ۔میزان الاعتدال، ج۲، ص ۳۷۹۔

۴۳ ۔البرہان فی علامات المہدی آخر الزمان، باب ۱۳، ص ۱۷۷۔

۴۴ ۔تشریح و محاکمہ در تاریخ آل محمدؐ، ص ۱۳۹ و ۱۴۱۔

۴۵ ۔شرح نہج البلاغہ، ج۱۰، ص ۹۶۔

۴۶ ۔گنجی شافعی، البیان فی الاخبار صاحب الزمان، ج۲، ص ۱۳۳۔

۴۷ ۔نشریۃ الجامعۃ الاسلامیہ، ش۳، سال اول، ذی العقدہ ۱۳۸۸ ، ص ۱۴۶۔

۴۸ ۔المہدی و المہدویہ، ص ۱۰۸۔

۴۹ ۔المہدیہ فی الاسلام، ص ۶۹۔

۵۰ ۔دائرۃ المعارف قرن عشرین، ج۱۰، ص ۴۸۱۔

۵۱ ۔علی دوانی، دانشمندان عامہ و مہدی موعود، ص ۳۱۔

۵۲ ۔ایضاً۔

۵۳ ۔محمد رشید رضا، تفسیر المنار، ج۱۰، ص ۳۴۹۔

۵۴ ۔سعد محمد حسن، المہدیہ فی الاسلام، ص ۶۹؛ مقدمہ ابن خلدون، ص ۱۹۹۔

۵۵ ۔معجم الاحادیث المہدی، ج۱، ص ۵۴۳، ح ۳۶۴ و ص ۵۳۵، ح ۳۶۵ و ص ۵۳۷، ح ۳۶۶ و ص ۵۳۹ ، ح ۳۶۷۔


دوسرا باب

دلائل غیبت امام عصر ؑ

ہم اپنی تحریر کے اس دوسرے باب میں دو محور پر گفتگو کریں گے اوراسی بنیاد پر ہم نے اسے دو فصلوں میں تقسیم کیا ۔ اول یہ کہ کیا قرآن و سنت نبی کریم کے ذریعہ اصل غیبت کو ثابت کیا جاسکتا ہے؟ دوم یہ کہ قرآن و سنت میں امام عصر (عج) کی غیبت پر کیا دلائل موجود ہیں؟

پہلی فصل:اثبات اصل غیبت

اس فصل میں ہم پہلے اثبات اصل غیبت کے سلسلہ میں ایسی آیات پیش کریں گے جن کے ذریعہ یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ تاریخ بشریت بلکہ عالم امکان میں بھی غیبت ممکن ہے یہ کوئی نئی اورانوکھی چیز نہیں ہے ۔ پھر اس کے بعد ہم اس سلسلہ میں روایات پیش کریں گے ۔

(الف) آیات

۱ ۔ امکان غیبت پر دلالت کرنے والی آیات

پروردگار عالم نے قرآن کریم میں ہدایت بشریت کے لئے تمام ۱ ہم مسائل یاواضح طور پر بیان کردئے ہیں یا انکی طرف اشارہ کرکے نبی کریم کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیدیاہے اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی ہدایت ونجات کے اسباب یا قرآن کریم میں تلاش کریں یا پیغمبر اسلام کے فرمودات میں ۔ امکان غیبت کو ثابت کرنے کے لئے ہم پہلے قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہیں قرآن کریم کی آیات کا بغور مطالعہ ان کےشان نزول وغیرہ پرنظر ڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ قرآن کریم نے اس اہم موضوع کی جستجو کرنے والوں کو تشنہ نہیں چھوڑا ہے اور اس میں ایسی آیات کریمہ موجود ہیں جو کسی چیز کے آنکھوں سے قلیل یا طویل مدت کے لئے پوشیدہ اور مخفی ہونے کے امکان پر دلالت کررہی ہیں ۔مثلا ً:

پہلی آیت

( وَجَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لا يُبْصِرُونَ ) ( ۱ ) ؛ اور ہم نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوارن ان کے پیچھے بنادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے کہ وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے۔

مفسرین ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ قریش جب حضور سرورکائنات کو ختم کرنے کے ارادے سے درخانہ رسالت پر جمع ہوئے آنحضرت جس وقت اپنے گھر سے باہر آئے تو آپ نے ان کی طرف خاک پھینک دی جس کی وجہ سے وہ لوگ سرکار انبیاء کو دیکھ نہ سکے ۔( ۲ )

ابن عباس کہتے ہیں :

قریش نے جمع ہوکرکہا : جیسے ہی محمد نظر آئیں گے سب ملکر ایک دم ان کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے ۔ جب رسول گرامی قدر باہر نکلے تو اس وقت پروردگار عالم نے ان لوگوں کے آگے پیچھے ایسی دیواریں کھڑی کردیں جن کی وجہ سے وہ آنحضرت کودیکھ نہ سکے ۔ آنحضرت نماز پڑھ کر ان کی طرف چلے اورآپ نے کچھ خاک اٹھا کر ان کے سروں پر پھینک دی تو وہ حضور کو دیکھ نہیں پارہے تھے ۔ جب حضور گذر گئے تو قریش نے اڑتی ہوئی مٹی کو دیکھ کر کہا : " یہ وہ چیز ہے کہ فرزند ابی کبشہ ( یعنی رسول خدا ) نے جس کے ذریعے ہم پر جادو کردیاہے ۔( ۳ )

طبری شافعی اس آیت کریمہ کی تفسیر میں عکرمہ سے اس طرح نقل کرتے ہیں :

ابوجھل نے کہا: " جب محمد کو دیکھیں گے تو ایسا ویسا کردیں گے " تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی :

( إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلالاً فَهِيَ إِلَى الأذْقَانِ فَهُمْ مُقْمَحُونَ وَجَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لا يُبْصِرُونَ ) ( ۴ ) ؛ ہم نے ان کی گردن میں طوق ڈال دیئے ہیں جو ان کی ٹھڈیوں تک پہنچے ہوئے ہیں اور وہ سر اٹھائے ہوئے ہیں۔ اور ہم نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوار ان کے پیچھے بنا دی ہے اور پھر انھیں عذاب سے ڈھانک دیا ہے کہ وہ کچھ دیکھنے کے قابل نہیں رہ گئے ہیں۔

وہ لوگ کہہ رہے تھے : " یہ محمد ہیں جبکہ ابوجہل کہہ رہاتھا : کہاں ہیں ؟ کہاں ہیں ؟ ۔۔۔ اور وہ حضور سرورکائنات کو نہیں دیکھ پا رہاتھا ۔( ۵ )

دوسری آیت

( وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا ) ( ۶ ) ؛ جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ایک پوشیدہ پردہ حائل کردیتے ہیں ۔

تفاسیر کی کتب میں مرقوم ہے کہ( الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ ) سے مراد ابو سفیان ، نضر بن حارث ، ابوجہل اور ام جمیل ( ابو لھب کی بیوی) ہیں کہ خداوند عالم نے اپنے پیغمبر کو قرآن پڑھتے وقت ان لوگوں سے پوشیدہ کردیاتھا ۔ یہ لوگ آنحضرت کے قریب آتے ، ارد گرد سے گذر جاتے تھے لیکن انھیں دیکھ نہیں پاتے تھے ۔( ۷ )

اس آیت کریمہ میں عبارت "حجابا مستوراً" قابل غور وفکرہے ۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص لوگوں سےچھپنےکے لئے کسی پردے کے پیچھے چھپ جائے اورلوگ صرف اس پردے کو دیکھ سکیں لیکن اس آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ جس پردے نے حضور سرور کائنات کو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھا وہ خود بھی انکی نگاہوں سے مخفی ہے ۔ علاوہ برین دونوں آیات میں موجود عبارت "وجعلنا " کاملا قدرت الہی پر دلالت کررہی ہے ۔

تیسری آیت

( قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي ) ( ۸ )

اس نے کہا : میں نے وہ دیکھا جوان لوگوں نے نہیں دیکھا ( جبرئیل گھوڑے پر سوار تھے ) تومیں نے جبرئیل فرشتے ( کے گھوڑے ) کے نشان قدم کی ایک مٹھی ( خاک کی ) اٹھا لی ۔ پھر میں نے( بچھڑے کے قالب میں ) ڈالدی ( تو وہ بولنے لگا ) اور اس وقت میرے نفس نے مجھے یہی سمجھا یاتھا ۔

یہ آیت کریمہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور گوسالہ بنانے والے سامر ی جادو گر کے مابی ن ہونے والی گفتگو کی عکاسی کررہی ہے :( فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلا جَسَدًا لَهُ خُوَارٌ فَقَالُوا هَذَا إِلَهُكُمْ وَإِلَهُ مُوسَى فَنَسِيَ ) ( ۹ ) پھر سامر ی نے ان لوگوں کے لئے (اسی زیور سے) ایک بچھڑنے کی صورت بنائی جس کی آواز بھی بچھڑے کی سی تھی اس پر بعض لوگ کہنے لگے یہی تمہارا بھی معبود ہے اورموسیٰ کا بھی جس سے وہ غافل ہوکر اسے طور پر ڈھونڈنے چلے گئے ۔

حضرت موسیٰ نے اس کے اس عمل پر سوال کیا( فما خطبک یا سامری ؟) اے سامر ی تو نے یہ کیونکر انجام دیا ؟

اس نے جواب دیا :( قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي ) ( ۱۰ ) اس نے کہا میں نے وہ دیکھا ہے جوان لوگوں نے نہیں دیکھا (جبرئیل گھوڑے پر سوار جارہے تھے ) تومیں نے جبرئیل فرشتے (کے گھوڑے) کے نشان قدم کی ایک مٹھی (خاک کی ) اٹھالی ۔ پھر میں نے (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دی (تو وہ بولنے لگا) اور اس وقت میرے نفس نے مجھے یہی سمجھایا تھا۔

مفسرین کاکہنا ہے کہ جب حضرت جبرئیل ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس نازل ہوئے تو سامر ی نے جبرئیل کوشکل بشر میں دیکھا یا یوں کہتے ہیں کہ : جبرئیل ایک اسب پر سوار بہشت سے زمین پر تشریف لائے ۔ پس سامر ی نے انکے یا انکے گھوڑے کے سموں کے نیچے کی ایک مٹھی خاک اٹھا لی اور اسے گوسالہ کے مجسمہ پر چھڑک دیا تو اس کے اس عمل سے گوسالہ میں جان پڑگئی۔

مقصد یہ ہے کہ سامر ی نے جبرئیل امین کو اس وقت دیکھا تھا جبکہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص نے بھی اسے نہیں دیکھا اور ہم نے اس آیت کریمہ کو بطور استدلال اس لئے پیش کیا ہے کہ اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی کے لئے بعض آنکھوں سے پوشیدہ رہنا ممکن ہے جبکہ اسی وقت بعض آنکھیں اسے دیکھ رہی ہوتی ہیں ۔( ۱۱ )

نتیجہ

مذکورہ ٓایات سے مندرجہ ذیل نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں

۱ ۔ قرآن کریم کی روسے اصل امکان غیبت ،قابل اثبات ہے

۲ ۔ غیبت بمعنی عدم حضور نہیں بلکہ بمعنی عدم ظھورہے کیونکہ اگر غیبت بمعنی عدم حضور ہوتو پھر ایسی صورت میں کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا ، جبکہ آیہ اول ودوم کی بنیاد پر دیگر افراد پیغمبر گرامی قدر کودیکھ رہے تھے لیکن ابوجہل وغیرہ نہیں دیکھ پارہے تھے نیز تیسری آیت کی روشنی میں سامر ی تو حضرت جبرئیل کودیکھ رہاتھا لیکن دوسرے لوگ انھیں دیکھنے سے عاجز تھے۔

۲ ۔ اولیاء واوصیاء کی غیبت پر دلالت کرنے والی آیات کریمہ

حضرت خضر علیہ السلام

اکثر مسلمانوں کے عقیدے اورمورخین کی تحریروں کے مطابق حضرت خضر علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے لیکر آج تک زندہ ہیں لیکن نہ کسی کو ان کے محل زندگی کے بارے میں علم ہے اورنہ ہی کسی کو ان کے اصحاب کے بارے میں کوئی خبر ہے( ۱۲ ) ۔ صرف ہم ان کے بارے میں اتنا جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ انکا تذکرہ آیاہے ۔( ۱۳ )

حضرت موسی علیہ السلام

حضرت موسی ٰ علیہ السلام کی غیبت کی داستان موجود ہے کہ آپ فرعون اور اپنی قوم سے دور چلے گئے اور غائب ہوگئے تھے اورجسے قرآن کریم نے اپنے دامن میں سمویا ہے ۔ اس دوران کسی کو ان کے بارے میں اطلاع نہیں تھی اورکوئی حضرت موسیٰ کو نہیں پہچانتا تھا اورجب تک خداوند عالم نے انھیں مبعوث نہیں کیا اور لوگوں کو خد ا کی طرف دعوت دینے کا حکم نہیں دیا یہی کیفیت اور صورت حال جاری رہی ۔ اوریوں بعد از بعثت دوست ودشمن نے آپ کوپہچان لیا ۔( ۱۴ )

حضرت یوسف علیہ السلام

حضرت یوسف ابن یعقوب پیغمبر علیہ السلام کی داستان معروف ہے نیز قرآ ن کریم نے ایک سورہ مبارکہ میں ان کے والد سے دوری اور غیبت کا تذکرہ کیاہے ۔

اگرچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نبی خدا بھی تھے اور ان پر وحی نازل ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود وہ غیبت یوسف سے باخبر نہیں تھے ۔ یہ ماجرا ان کے فرزندوں سے بھی پوشیدہ تھا بلکہ حضرت یعقوب کے فرزندان تو فلسطین سے مصر بھی آئے حضرت یوسف سے ملاقات بھی کی اورانکے ساتھ انہوں نے معاملہ بھی انجام دیا لیکن اس کے باوجود وہ لوگ حضرت یوسف کو پہچان نہیں سکے حضرت یوسف کی غیبت کے کئی برس بعد خداوند عالم نے انھیں حقیقت حال سے مطلع کردیا اورحضرت یوسف کے زندہ ہونے کی اطلاع عام ہوگئی اورپھر جناب یوسف اپنے والد اوربھائیوں کے ساتھ مل گئے ۔( ۱۵ )

حضرت یونس علیہ السلام

داستان حضرت یونس پسرمتی علیہ السلام قرآن کریم میں مذکور ہے ۔ جب حضرت یونس کی قوم نے انکی سخت مخالفت اور سرزنش کی تو آپ ان سے دور چلے گئے اور سب کی نگاہوں سے اس طرح پوشیدہ ہوگئے کہ کسی کو ان کی جائے قرار کے بارے میں علم نہیں تھا ۔ خداوند عالم نے انھیں مچھلی کے شکم میں پوشیدہ رکھا اوراپنی مصلحت ومشیت کی بنا پر انھیں زندہ رکھا پھر انھیں صحیح وسالم مچھلی کے پیٹ سے نکال کر قوم کی طرف واپس بھیج دیا یہ واقعہ بھی ہماری آج کی عادت وعرف سے عاری ہے ۔( ۱۶ )

اصحاب کہف

اصحاب کہف وہ حضرات ہیں جو اپنے دین کی حفاظت کی خاطر اپنی قوم سے فرار ہوئے تھے اگر ا ن کی داستان قرآن مجید میں مذکور نہ ہوتی تو امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا انکار کرنے والے انکی غیبت کا بھی انکار کردیتے لیکن قرآن کریم نے ان کے بارے میں خبردی ہے کہ اصحاب کہف تین سونو ( ۳۰۹ سال اپنی قوم سے غائب رہے اورخوف کی حالت میں غار میں رہے یہاں تک کہ خداوند عالم نے انھیں زندہ کرکے اپنی قوم کی طرف واپس پلٹایا ۔( ۱۷ )

(ب) روایات

روایات کی کتابوں میں کثرت سے ایسی احادیث موجود ہیں جو انبیاء واولیاء گذشتہ کی غیبت پر دلالت کررہی ہیں شیخ صدو ق نے اپنی کتا ب کمال الدین میں غیبت انبیاء کے بارے میں ایسے ابواب ترتیب دیئے ہیں جن میں ایسی ہی روایات معصومین کو جمع کیاہے ان احادیث میں مندرجہ ذیل انبیاء کی غیبت کا تذکرہ موجود ہے ۔

۱ ۔ حضرت ادریس؛

۲ ۔ حضرت نوح ؛

۳ ۔حضرت صالح ؛

۴ ۔ حضرت ابراہیم ؛

۵ ۔ حضرت یوسف ؛

۶ ۔ حضرت موسیٰ ؛

۷ ۔ حضرت عیسیٰ ۔( ۱۸ )

بطور نمونہ ان میں سے فقط چند کی طرف اشارہ کررہے ہیں :

غیبت حضرت صالح علیہ السلام

شیخ صدوق اپنی اسناد کے مطابق زید شحّام سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:"اِنّ صالِحاً غابَ عن قومہ زماناً ؛ صالح پیغمبر ایک عرصہ تک اپنی قوم سے غائب رہے۔

پھر فرماتے ہیں : جس دن وہ ان سے غائب ہوئے اس دن وہ ادھیڑ عمر کے کشادہ پیٹ والے ، خوبصورت بدن والے ، گھنی داڑھی والے، نازک عارض ( رخسار) والے ،اور درمیانہ قد کے مالک تھے جب آپ اپنی قوم میں واپس آگئے تو قوم نے انھیں چہرے سے نہیں پہچانا ۔ اورآپ نے انھیں تین گروہوں میں منقسم پایا ۔ ایک گروہ منکر بن چکاتھا ، جواپنے انکار سے واپس لوٹنے کے لئے تیار نہیں تھا اور ایک گروہ آپ کے بارے میں شک کرنے والوں کا تھا اور تیسرا گروہ اپنے ایمان پر باقی تھا ۔ یعنی انھیں یقین تھا کہ وہ صالح پیغمبر ہیں پس آپ نے شک کرنے والے گروہ کی طرف رجوع کیا اور ان سے فرمایا:" میں صالح ہوں" تو انہوں نے آپکو جھٹلایا اوربرابھلا کہا اورجھڑک دیا اورکہنے لگے : ہم تم سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ،صالح پیغمبر شکل و صورت میں تم سے مختلف تھے ۔

پھر آپ منکرین کے پاس آئے تو انہوں نے آپکی کوئی بات نہیں سنی اورآپ سے سخت نفر ت کااظہار کیا پھر آ پ تیسرے گروہ کے پاس گئے اوروہ صاحبان یقین کا گروہ تھا آپ نے ان سے فرمایا " میں صالح ہو ں" انہوں نے کہا ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس کی وجہ سے ہم آپ کے بارے میں کہ آپ صالح ہیں کوئی شک نہ کریں ، ہم اس بات میں کوئی بحث یا شک نہیں کرتے کہ بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ جو خالق ہے وہ کسی کوکسی بھی شکل وصورت میں تبدیل کرسکتاہے ۔ ہمیں بتایا گیا اورہم نے قائم کے ظہور کے بارے میں علامات اورنشانیوں کے بارے میں جستجو اور تحقیق کی ہے اور یہ اس وقت صحیح ہوگا جب وہ خبرآسمان سے لیکر آئے ، صالح نے ان سے فرمایا وہی صالح ہوں جو معجز کے ذریعے اونٹنی لایا ۔ انہوں نے کہا آپ نے سچ کہا، یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں ہم بحث کرتے تھے لیکن بتائیے اس کی علامت اورنشانی کیاتھی ؟

آپ نے فرمایا: اس اونٹنی کے لئے نہر سے پینے کا ایک دن اورتمہائے لئے پینے کا ایک دن معین اورمعلوم تھا ۔

( قَالَ هَذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ ) ( ۱۹ ) ؛ صالح نے کہا کہ یہ ایک اونٹنی ہے ایک دن کا پانی اس کے لئے ہے اور ایک مقرر دن کا پانی تمہارے لئے ہے ۔

پس انہوں نے کہا: ہم اللہ پر ایمان لائے اورجو کچھ آپ لیکر آئے ہیں ہم اس پر بھی ایمان لائے ۔

اس وقت خدائے تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:( أَنَّ صَالِحًا مُرْسَلٌ مِنْ رَبِّهِ ) ؛ بیشک صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجا گیا ہے ۔ پس اہل یقین نے کہا :( إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ ) ؛ بیشک ہمیں انکے پیغام کا ایمان اور ایقان حاصل ہے ۔

( قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا بِالَّذِي آمَنْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ ) ؛ لیکن مستکبرین (یعنی شک کرنے والے اورمنکرین کے گروہ)نے کہا ہم اس چیز کے منکرہیں جس پر تم ایمان لے آئے ہو۔( ۲۰ )

زید شحام نے پوچھا : " کیا اس دن ایسا شخص بھی تھا جو ان کو جانتا تھا اور اہل علم میں سے تھا ؟ امام نے فرمایا: خداوند عالم کا عدل اس سے زیادہ ہے کہ زمین کو کسی ایسے عالم کے بغیر چھوڑ دے جو اللہ تعالیٰ کی طرف راہنمائی کرتاہو اس قوم نے صالح کے خروج اور ظہور کے بعد سات دن تک اس حالت میں گذارے کہ وہ اپنے لئے کوئی پیشوا اورامام کی معرفت نہیں رکھتے تھے ، مگر اس کے باوجود جو کچھ دین خدا میں سے ان کے ہاتھوں میں تھا اس پر قائم رہے ، ان کے عقائد ایک تھے اورجب حضرت صالح علیہ السلام نے ظہور فرمایا تو ان کے ارد گرد جمع ہوگئے اور اس میں شک نہیں کہ حضرت قائم ( آل محمد ) علیہ السلام کی مثال صالح کی طرح ہے ۔( ۲۱ )

غیبت حضرت یوسف

شیخ صدوق کتا ب اکمال الدین اورعلل الشرائع میں سدیر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سناہے ، آپ نے فرمایا:"ہمارے قائم میں ایک سنت حضرت یوسف کی بھی ہے " میں نے عرض کیا : شاید آپ ان کے بارے میں یا انکی غیبت کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں ؟ " فرمایا : اس امت کے صرف خنزیر صفت افراد ہی اس امر کو جھوٹ سمجھیں گے۔

یوسف کے بھائی تو اولاد انبیاء میں سے تھے لیکن انہوں نے یوسف کو بیچ ڈالا حالانکہ وہ سب ان کے بھائی تھے اوروہ بھی ان کے بھائی تھے پھر بھی جب ملاقات ہوئی تووہ انھیں پہچان نہ سکے ۔ یہاں تک کہ خود انہوں نے اپنے آپ کو پہچنوایا اورفرمایا : میں یوسف ہوں اوریہ میرا بھائی ہے،، پس یہ امت کس طرح انکار کرتی ہے اگر اللہ تعالیٰ ایک زمانے میں اپنی حجت ان سےمخفی رکھنا چاہتاہے اوریوسف ایک دن اسی مصر کے بادشاہ بن گئے اور ان کے اور انکے والدکے درمیان فاصلہ اٹھارہ دن سفرکاتھا ۔ اوراگر خداوند عالم چاہتا توحضرت یوسف کی جائے قرار بتادیتا۔

لیکن جب اللہ نے چاہا کہ انکی قدر ومنزلت کو پہچنوائے تو خدا کی قسم ان کے گھر والوں نے اسی فاصلے کو بشارت اورخوشخبری ملنے کے بعد نو دن میں طے کیا ۔ پس یہ امت کس طرح انکار کرسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حجت کے ساتھ ایساہی سلوک کرے جیسا کہ اس نے یوسف کے ساتھ کیاتھا کہ اس کی حجت ان کے درمیان چلے پھر ،بازاروں میں ان کے درمیان سے گذرے اور ان کے درمیان بیٹھے لیکن وہ اسے نہ پہچان سکیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ یہ اجازت دے کہ حجت خدا اپنے آپ کوپہچنوائے جیساکہ اس نے یوسف علیہ السلام کو اجازت دی تھی جب انہوں نے یہ کہا :( قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَا فَعَلْتُمْ بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُونَ قَالُوا أَئِنَّكَ لأنْتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَهَذَا أَخِي ) ( ۲۲ ) کیا تم نہیں جانتے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا جب تم جاہل اورنادانی کی حالت میں تھے ؟ انہوں نے کہا: کیا آپ یوسف ہیں ؟ فرمایا : ہاں میں یوسف ہوں اوریہ میرا بھائی ہے ۔"( ۲۳ )

ابوبصیر نے حضرت مام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:"فی القائم شبہٌ من یوسف؛ قائم میں یوسف کی ایک شباہت ہے ۔،، میں نے عرض کیا : "وماهو ؟" وہ شباہت کیاہے ؟ حضرت نے فرمایا : "الحیرة والغیبة ، وہ شباہت حیرت وغیبت ہے ۔"( ۲۴ )

غیبت حضرت موسیٰ

شیخ صدوق نے کمال الدین میں عبداللہ بن سنان سے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سنا ہے آپ نے فرمایا : "فی القائم سنة من موسیٰ بن عمران ؛ قائم میں موسیٰ بن عمران کی ایک علامت پائی جاتی ہے۔" میں نے عرض کیا : "وَمَا سنّتهُ من موسیٰ بن عمران ؟ وہ علامت کیاہے ؟ حضرت نے فرمایا: "خفاء مولده و غیبة عن قومه ؛ انکی ولادت وپیدائش کا مخفی رہنا اوراپنی قوم سے غائب رہنا " میں نے پوچھا :"و کم غاب موسیٰ عن اهله و قومه؟؛ موسیٰ اپنی قوم سے کتنا عرصہ غائب رہے ؟ فرمایا: "ثمانی و عشرین سنۃ؛ اٹھائیس سال !"۔( ۲۵ )

دوسری فصل : اثبات غیبت امام عصر

ہم اس فصل میں قرآن وسنت اور اقوال علماء اہل سنت کی روشنی میں غور وفکر کرتے ہوئے غیبت امام عصر علیہ السلام کو ثابت کریں گے ۔

(الف) دلائل قرآنی

اس سلسلہ میں آیات پیش کرنے سے پہلے ہم اس اہم نکتہ کی طرف اشارہ کردینا مناسبت سمجھتے ہیں کہ تاویل وتفسیر ، علوم قرآن کی اہم مباحث میں سے ہیں ، علماء اور دانشوروں نے انکی مختلف تعاریف اور تحلیل پیش کی ہیں ۔ لھذا موضوع کی مناسبت سے ہم انکی تعریف وتحلیل پیش کررہے ہیں ۔

" التفسیرکشف القناع عن المشکل؛ تفسیر مشکل الفاظ کے چہرے سے نقاب اٹھانے کانام ہے ۔"

بنابر یں تفسیر ، ظاہر قرآن سے مربوط ہوتی ہے ، اورحضور سرور کائنات کا فرمان مبارک ہے : "مامن القرآن آیۃ الا ولھا ظھر وبطن؛ قرآن کریم کی کوئی آیت نہیں ہے جسکا ظاہر وباطن نہ ہو۔"( ۲۶ )

بنا برایں تاویل بمعناے بطن قرآن کے ہے جو قرآن کی اندرونی دلالت کو بیان کرتی ہے اوریہ قرآن کی ظاہری وبیرونی دلالت کے مد مقابل ہے کہ جسےظھر قرآن سے تعبیر کیاجاتاہے لذ ا اس بنیاد پر قرآن کریم کی تمام آیات کا بطن پایاجاتاہے ایسا ہرگز نہیں ہے کہ بطن فقط چند آیات متشابہ سے مخصوص ہو ۔( ۲۷ )

قرآن کریم کی نورانی آیات کی صحیح تفیسر ، حقیقی معنی کو درک کرنے ، عمیق مضامین ومفاہیم آیات الھی کو سمجھنے اور ان کے بہترین وارزشمند معارف سے بہرہ مند ہونے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تفسیر سے مراد مطالب کا حصول ہے جو الفاظ وظواھر کلام الھی میں غور وفکر کرنے سے حاصل ہوتے ہیں اوریہی آیات قرآن کی ظاہری مراد ہوتے ہیں ۔

لیکن کبھی آیات قرآن کے الفاظ وظواھر کے ماوراء ایسے حقایق پائے جاتے ہیں جوابتدائی مطالعہ سے حاصل نہیں ہو پاتے اورنہ ہی انسان کا تدبر اور غور وفکر ہی اس میں کارساز ہوتاہے ، بلکہ ایسی صورت میں صرف معصومین علیہم السلام کی روایات واقوال ہی ان کے اوپر سے پردہ اٹھاتی اور ان کے اسرار کو آشکار کرتی ہیں ۔ فہم قرآن کے اس مرحلے کو جو باطن قرآن سے وابستہ ہے ، تاویل کہا جاتاہے بنابریں قرآن کریم سے بھر پور فیضیاب ہونے اورمکمل طور پر بہرہ مند ہونے کے لئے قرآن کے ظاہر وتفسیر پر بھی توجہ رکھنی چاہیے اور باطن وتاویل پر بھی مکمل نظر رکھنی چاہیے ۔

اس مقدمے کے بیان کرنے کے بعد اب ہم ایسی آیات پیش کریں گے جن سے وجود امام عصر(عج) ثابت کیاجاسکتاہے ان آیات کو دوقسموں میں تقسیم کیاجا سکتاہے :

۱ ۔ وجود امام عصر (عج) کو بیان کرنے والی آیات

۱ ۔ آیات قدر

( إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ) ( ۲۸ )

بیشک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے اورآپ کیا جانیں یہ شب قدر کیا چیز ہے شب قدر ہزار مہینوں سے بہترہے اس میں ملائکہ اور روح القدس اذن خداکے ساتھ تمام امور کو لے کر نازل ہوتے ہیں یہ رات طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے ۔

اس سورہ مبارکہ کی آیات واضح طور پر اس بات کی نشان دہی کررہی ہیں کہ ملائکہ ہرسال شب قدر میں تمام امور کے ہمراہ زمین پر نازل ہوتے ہیں اسی طرح سورہ دخان میں بھی اس موضوع کی طرف اشارہ کیا گیاہے ،

ارشاد رب العزت ہوتاہے :

( حم وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا اَنزَلْنَاهُ فِى لَيْلَة مُّبَارَكَة إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيمٍ ) ؛روشن کتاب کی قسم ، ہم نے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں نازل کیاہے ہم بیشک عذاب سے ڈرانے والے تھے اس رات میں تمام حکمت و مصلحت کے امور کا فیصلہ کیا جاتاہے ۔( ۲۹ )

رمضان المبارک قیامت تک آتارہے گا لہذا لیلۃ القدر بھی قیامت تک آتی رہے گی پس ملائکہ اور روح القدس کے نزول کا سلسلہ بھی جاری وساری رہے گا اب یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ یہ ملائکہ اور روح القدس جو ہرسال شب قدر میں زمین پرنازل ہوتے ہیں رسول اکرم کے دنیاسے چلے جانے کے بعد کس کے پاس آتے رہے ہیں ؟

مسلمانوں میں سے کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ ملائکہ خلفاء کے پاس نازل ہوتے تھے ،بلکہ خود انہوں نے بھی کبھی اس قسم کا کوئی دعویٰ نہیں کیا ، پس غور وفکر اوربھر پور تدبر کے بعد معلوم ہوتاہے کہ ہرزمانے میں ایک کامل ومعصوم امام کا ہونا ضروری ہے جو ملائکہ اور روح القدس کا محل نزول قرار پائے ۔ اس سلسلہ میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:

"يا معشر الشيعة ! خاصموا بسورة إنّا أنزلناه تفلجوا، ‏فَوَالله أنّها لحجّة الله تبارک و تعالی علی الخلق بعد رسول‌الله و أنّها لسيّدة دينکم و أنّها لغاية علمنا. يا معشر الشيعة ! خاصموا بِحم والکتاب المبين فإنّها لِولاة الأمرخاصّة بعد رسول‌الله ..."( ۳۰ )

اے شیعو !اپنے مخالفین سے سورہ انا انزلناہ کے ذریعہ حتجاج کرو تاکہ کامیاب ہو سکو خداوند عالم کی قسم یہ سورہ مبارکہ رسول اللہ حجت خدا کے بارے میں یہ سورہ تمہارے دین کی دلیل اورہمارے علم کی انتہا ہے ۔ اے شیعو! آیت حم والکتاب المبین ۔۔۔ کے ذریعے بحث کرو کیونکہ یہ آیات رسول گرامی قدر کے بعد والیان امر سے مخصوص ہیں ۔۔۔ "

نیز امام علیہ السلام فرماتے ہیں :

"وأيم الله إنّ من صدّق بليلة القدر، ‏ليعلم أنّها لنا خاصّة ( ۳۱ ) ...؛ بیشک جو شخص لیلۃ القدر کی تصدیق کرے گا اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ ہم سے مخصوص ہے۔۔۔"امیر المومنین حضرت علی علیہ لسلام نے ابن عباس سے فرمایا:

إنّ لیلة القدر فی کلّ سنة ، ‏وانّه ینزل فی تلک اللیلة أمر السنة وإنّ لذلک الأمر ولاة بعد رسول‌الله فقلت: من هم؟ فقال أنا وأحدعشر من صلبی أئمة محدّثون ...( ۳۲ ) ؛بیشک لیلۃ القدر ہرسال ہے ، اس رات میں ایک سال کے امور نازل ہوتے ہیں جو رسول اللہ کے بعد والیان امر کے لئے ہیں َ۔ ابن عباس کہتے ہیں : جب میں نے عرض کیا: یہ کون حضرات ہیں ؟ حضرت نے فرمایا : میں اورمیرے صلب سے گیارہ افراد ہیں جو سب کے امام ومحد ث ہیں۔"

رسول گرامی قدر نے اپنے اصحاب سے فرمایا :

آمنوا بليلة القدر، إنّها تکون لعلیّ بن أبی‌طالب و لولده الأحدعشر من بعده ( ۳۳ ) ؛لیلۃالقدر پر ایمان لاؤ ، بیشک یہ رات علی اوراس کے بعد اس کے گیارہ فرزند وں کے لئے۔"

۲ ۔ آیت امامت

خداوند عالم ، سورہ اسراء کی ۷۱ ویں آیت کریمہ میں ارشاد فرماتاہے :

( يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلا يُظْلَمُونَ فَتِيلا ) ( ۳۴ ) قیامت کا دن وہ دن ہوگا جب ہم ہرگروہ انسانی کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے اور اس کے بعد جس کانامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اپنے صحیفہ کو پڑھیں گے اور ان پر ریہد برابر ظلم نہیں ہوگا۔( ۳۵ )

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن ہرشخص سے امام حق کے بارے میں سوال کیاجائے گا اگر وہ اس امام حق کا معترف ومعتقد ہوگا توکامیاب وکامر ان ا وررستگار ہوگا اور اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ لہذ ہردور میں ایک واجب الاطاعت امام کا ہونا ضروری ہے ، ایساامام جس کی معرفت واطاعت کے بغیر قیامت میں کوئی انسان فلاح ورستگاری حاصل نہیں کرسکتا بنا بر ۱ یں ہم روایات میں پڑھتے ہیں کہ حضور سرور کائنات نے فرمایا:

"من مات ولا يعرف إمامه مات ميتة جاهليّة ؛( ۳۶ ) جوشخص اپنے امام کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جاھلیت وگمراہی کی موت مراہے۔"

یہی مطلب فریقین کی کتب احادیث میں مختلف عبارات کی صورت میں نقل ہواہے کہ جن میں سے بطورنمونہ چند احادیث پیش کی جارہی ہیں :

۱ ۔ کتاب محاسن برقی میں پیغمبر اسلام سے روایت نقل کی گئی ہے کہ آنحضرت فرماتے ہیں : "من مات وهو لايعرف إمامه مات ميتة جاهليّة ؛( ۳۷ ) جوشخص اپنے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مرجائے وہ جاہلیت وگمراہی کی موت مراہے ۔"

۲ ۔ عمار سا باطی نے حضرت ابا عبداللہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے آنجناب نے فرمایا:

"لا تترک الأرض بغير إمام يحلّ حلال الله، ‏ويحرّم حرامه، ‏وهو قول الله :( يوم ندعو کلّ أناس بإمامهم ) ثمّ قال: قال رسول‌الله: من مات بغير إمام مات ميتة جاهليّة ؛( ۳۸ )

خداوند عالم نے ہرگز زمین کو ایسے امام سے خالی نہیں چھوڑا ہے جو حلال الٰہی کو حلال اور حرام الٰہی کو حرام قرار دے اور اس کا یہ فرمان ہے کہ- ہم ہر شخص کو قیامت کے دن اس کے امام کے ساتھ بلائیں- پھر فرمایا کہ رسول اللہ نے فرمایا: جو شخص بغیر امام کے مر جائے، اس کی موت جہالت کی موت ہے۔

۳ ۔عیون اخبار الرضا میں حضرت علی بن ابی طالب سے روایت منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: "من مات وليس له إمام من ولدی مات ميتة جاهليّة ؛( ۳۹ ) جوشخص مرجائے اور میری اولاد میں سے اس کا کوئی امام نہ ہو تو وہ جہالت وگمراہی کی موت مراہے ۔"

۴ ۔ کمال الدین میں پیغمبر گرامی قدر سے اس طرح روایت نقل کی گئی ہے :

"من أنکر القائم من ولدی فی زمان غيبته ‏فمات ميتة جاهليّة . ؛( ۴۰ ) جس نے زمانہ غیبت میں میرے فرزند قائم کا انکار کیا اور وہ مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے ۔"

اہل سنت نے بھی اپنی کتب روائی میں اس سلسلہ میں کثرت سے روایات نقل کی ہیں مثلاً: صحیح ابن حبّان میں معاویہ نے پیغمبر گرامی قدر سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:

"من مات وليس له إمام مات ميتة جاهليّة ؛ جوشخص امام کی معرفت کے بغیر مرجائے تو اسکی موت جہالت کی موت ہے ۔"( ۴۱ )

طبقات ابن سعد میں حضور سرورکائنات سے اس طرح روایت کی گئی ہے :

"من مات ولا بيعة عليه مات ميتة جاهليّة ؛ جو شخص مرجائے اور اس کے ذمہ بیعت نہ ہو تو وہ جہالت کی موت مراہے ۔"( ۴۲ )

مسند الطیالسی میں ابن عمر نے پیغمبر گرامی قدر سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:

"من مات بغير إمامٍ مات ميتة ، ‏ومن نزع يداً مِن طاعة جاء يومُ القيامة لا حجّة له "( ۴۳ )

نیز تاریخ بخاری میں عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے اپنے والد کے توسط سے پیغمبر اکرم سے اس طرح روایت نقل کی ہے :

"من مات ولا طاعة عليه مات ميتة جاهليّة ؛جوشخص مرجائے اور اس کے ذمے کوئی اطاعت نہ ہو تو وہ جہالت کی موت مراہے ۔"( ۴۴ )

ممکن ہے کوئی شخص مذکورہ آیت کریمہ اور روایات کو دیکھ کر یہ کہنے لگے آیت اور روایات صرف اس بات پر دلالت کررہی ہیں کہ امام عصر کی معرفت لازم وضروری امر ہے اور یہ بات تو حاکمان وقت کی شناخت واطاعت سے بالکل ہم آھنگ اور سازگارہے کیونکہ یہ لوگ بھی امام ورھبرہوتے ہیں اور آیت میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ ہر شخص اپنے امام کے ساتھ محشور ہوگا۔

یہ وہی چیزہے اصحاب وتابعین جس پر ہمیشہ عمل کرتے تھے ۔ بیان کیا جاتاہے کہ عبداللہ ابن عمر کہ جس نے امیر المومنین کے زمانے میں آنجناب کی بیعت سے گریز کیا اور عبدالملک بن مروان کے زمانہ میں رات کے وقت حجاج بن یوسف کے گھر گئے تاکہ ا س کےذریعے عبدالملک بن مروان کی بیعت کریں کہ مباد ایک رات بغیر امام کے گذرجائے ۔

معتزلی اہل سنت دانشور ابن ابی الحدید رقمطراز ہیں :" حجاج بن یوسف کے گھر میں عبداللہ بن عمر کی اس قدر تحقیر وتذلیل کی گئی کہ جب انہوں نے بیعت کے لئے حجاج بن یوسف کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا یا تو اس نے ہاتھ بڑھانے کے بجائے ان کی طرف اپنا پیر بڑھا دیا ۔( ۴۵ ) "

اس خیال خام کے جواب میں یہی کہا جاسکتاہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ قیامت میں ہرشخص اپنے امام کے ساتھ محشور ہوگا اوریہ روایات بھی اسی مطلب پردلالت کررہی ہیں کہ ہردور میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے تاکہ لوگ جہالت کی صورت سے بچتے رہیں ، لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ امام دوطرح کے ہوتے ہیں ، ایک وہ امام ہے جولوگوں کو خداوند عالم کی طرف ہدایت ودعوت کرتاہے اور دوسرا وہ ہے جو بندگان الھی کو شیطان وطاغوت کی طرف کھینچ لے جاتاہے ۔

سیوطی نے ابن عباس سے نقل کیاہے کہ آیت کریمہ میں دونوں طرح کے امام یعنی امام ہدایت اور امام ضلالت مراد ہیں ۔

پس جو شخص نجات اخروی کا خواہاں ہے اورچاہتاہے کہ اس کی موت ، جہالت کی موت قرار نہ پائے تو اسے ایسے امام کی اطاعت کرنا چاہئے جو اہل بیت وفرزندان رسول اکرم میں سے اورقرشی ہو ۔

بر بنائے حدیث "الائمة من قریش "( ۴۶ ) امام کے قریشی ہونے کے بارے میں ہم یہاں فریقین کی چند احادیث کی طرف اشارہ کررہے ہیں:

کمال الدین میں ہے کہ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

"يکون من بعدي إثنی عشر‏. يعنی أميراً ؛ میرے بعد بارہ ہونگے یعنی امیر ، پھر فرمایا :"کلُّهم من قريش ؛( ۴۷ )

کفایۃ الاثر میں سلمان فارسی نے پیغمبر اکرم سے اس طرح روایت نقل کی ہے :

"الائمة بعدی اثنا عشر." ثمّ قال: "کلّهم من قريش، ‏ثمّ يخرج قائمنا فيشفی صدور قومٍ مؤمنين ."( ۴۸ )

میرے بعد بارہ امام ہوں گے، پھر فرمایا: وہ سب کے سب قریش ہوں گے پھر ان میں سے ہمارا قائم خروج کرے گا جو مومنین کی تشفی کا باعث ہوگا۔

جناب یعقوب کلینی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

"لمّا نزلت هذه الآية :( يوم ندعوا کلّ أناس بإمامهم ) قال المسلمون: يا رسول‌الله! ألست إمام الناس کلّهم أجمعين؟ قال: فقال رسول‌الله: أنا رسول‌الله إلی الناس أجمعین ولکن سيکون من بعدی أئمّة علی الناس من الله من أهل بيتي، ‏يقومون فی الناس فيکذّبون ؛( ۴۹ ) جب آیہ( يوم ندعوا کلّ أناس بإمامهم ) نازل ہوئی تو مسلمانوں نے سوال کیا : یارسول اللہ کیا آپ تمام لوگوں کے امام نہیں ہیں ؟ آنحضرت نے فرمایا : میں سب پر خد ا کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں لیکن عنقریب میرے بعد میرے اہل بیت میں سے امام آئیں گے وہ لوگوں میں قیام کریں گے لیکن لوگ ان کی تکذیب کریں گے ۔۔۔"

نیز اہل سنت کی روایات کی کتب میں بھی امام کے قریشی ہونے کی تصریح کی گئی ہے ؛ مسند الطیالسی میں یہ روایت نقل کی گئی ہے :

جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر گرامی قدر سے سناہے کہ آپ نےفرمایا:

"إنّ الإسلام لايزالُ عزيزاً إلی إثنی عشر خليفة " اسلام بارہ خلفاء تک عزیز وبا قی رہے گا ۔

پھر کہتے ہیں میں اس وقت ایک لفظ سمجھ نہ سکا لہذا میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ پیغمبراکرم نے کیا فرما یا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ حضور نے فرمایا : "کلهم من قریش "( ۵۰ ) وہ سب قریشی ہونگے ۔

مسند احمد بن حنبل میں وارد ہواہے کہ جابر بن سمرہ نے رسول اکرم سے روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا :

"لايزال الدين قائماً حتی يکون اثنا عشر خليفة من قريش ؛( ۵۱ ) دین اس وقت تک قائم ودائم رہے گا یہاں تک کہ قریش سے بارہ خلیفہ آجائیں ۔"

بعض صحیح السند احادیث کی بنیاد پر خلافت،قریش سے باہر نہیں جاسکتی ، اگر روئے زمین پر صرف دو افراد ہی باقی کیوں نہ رہ جائیں ۔

"لايزال هذا الأمر فی قريش ما بقی من الناس إثنان ؛( ۵۲ ) یہ امر خلافت قریش ہی میں باقی رہے گا اگرچہ روئے زمین پر دو افراد ہی باقی رہ جائیں" اس حدیث کا مفہوم ومطلب یہ ہے کہ اگر روئے زمین پر صرف دو افراد باقی بچیں تو ان میں سے ایک قریشی خلیفہ ہوگا ۔ بر بنائے نقل ابن بطّال ابوبکر وعمر نے سقیفہ کے دن ایسی ہی احادیث کے ذریعے روسائے انصار پر دلیل وحجت قائم کی تھی ۔( ۵۳ )

نتیجہ

فریقین کی روایات سے ثابت ہوتاہے کہ وہ امام جو نجات دھندہ بشریت ہے اور جس کی معرفت تمام امت اسلامی پر لازم وضروری ہے وہ پیغمبر اسلام کی عترت واہل بیت سے اورقریشی ہے کہ جس کی عدم معرفت گویا جہالت کی موت ہے( ۵۴ ) ۔ پس کسی جاھل وفاسق ، جابر اور غیر قریشی پر یہ شرایط صادق نہیں آسکتیں ۔

لذیا ہردور میں پیغمبر گرامی قدر کی اولاد میں سے امام عصر کی حیثیت سے کسی ایک فرد کا موجود ہونا ضروری ہے جس میں روایات میں ذکر شدہ تمام خصوصیات موجود ہوں تاکہ لوگ اس کی معرفت حاصل کرکے اس کی اطاعت کریں ، ورنہ پیغمبر اسلام کے قول کی تکذیب ہوجائے گی ۔ ان روایات سے یہ بات بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ موجود ہ دور میں حضرت مہدی عج کے سواکوئی امام عصر نہیں ہے جو پردہ غیبت میں موجود ہیں ، کیونکہ ان روایات میں آیاہے کہ حضور سرورکائنات نے فرمایا : " جو شخص زمانہ غیبت میں میری اولاد میں سے قائم کا انکار کرے ، اس کی موت جہالت کی موت ہے ۔"

۳ ۔ آیہ"اُولی الأمر "

خداوند متعال سورہ نساء کی آیت نمبر ۵۹ میں ارشاد فرماتاہے :

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ ) ( ۵۵ ) اے ایمان والو: اللہ کی اطاعت کرو رسول اورصاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمہیں میں سے ہیں ۔

تبصرہ : خداورسول کی اطاعت کے واجب ہونے پر تمام فرق اسلام کا اتفاق نظر ہے ،لیکن یہ کہ اولی الامر سے کیامر اد ہے ؟ اوریہ کون حضرات ہیں ؟ مفسرین سلام میں اس مسئلہ میں کافی اختلاف نظر دیکھنےمیں آتاہے ۔ ہم یہاں بطور خلاصہ اولی الامر کے معنی اور مصادیق کے بارے میں پہلے علماء ومختلف مفسرین کے اقوال بیان کریں گے اورپھر اس کے بعد ان کے اقوال کا تجزیہ پیش کریں گے :

۱ ۔ اہل سنت کے کچھ مفسرین کا نظریہ ہے کہ اولی الامر سے مرادہرزمانے اورہر ماحول سے تعلق رکھنے والے بادشاہ اورصاحبا ن اقتدار ہیں ۔ وہ اس میں کسی استثناء کے قائل نہیں ہیں ۔ اس نظریے کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ہرحکومت کی چاہے وہ کسی شکل میں کیوں نہ ہو پیروی کریں چاہے وہ تاتاریوں کی حکومت کیوں نہ ہو ۔

۲ ۔ بعض دوسرے مفسرین مثلاً صاحب تفسیر المنار وصاحب تفسیر فی ظلال القرآن وغیرہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اولی الامر سے مرادعام طبقات کے نمائندے ، سر براہ حکام اورزندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تمام عہد یدار ہیں لیکن مطلق طور پر نہیں اورکسی شرط ، قید اور پابندی کے بغیر نہیں بلکہ ان کی اطاعت کے لئے یہ پابندی اورشرط ہے کہ ان کے احکام، اسلام کے مقرر کردہ احکام کے خلاف نہ ہوں ۔

۳ ۔ بعض دوسرے مفسرین کا اعتقاد ہے کہ اولی الامر سے مراد وہ معنوی وفکری رہنما یعنی علماء ہیں جو عادل ہوں اورکتاب وسنت سے مکمل ٓاگاہی رکھتے ہوں ۔

۴ ۔بعض اہل سنت کے مفسرین کا یہ نظریہ ہے کہ اس لفظ سے مراد پہلے چار خلفا ہیں اوریہ لفظ انہی تک محدود ہے اس وجہ سے دوسرے زمانوں میں اولو الامر نہ ہوگا ۔

۵ ۔ بعض مفسرین اولوالامر سےمراد اصحاب پیغمبر لیتے ہیں ۔

۶ ۔ اولوالامر کی تفیسر میں ایک اور احتمال یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ اس سے مراد اسلامی لشکر وں کے سپہ سالار ہیں ۔

۷ ۔ تمام شیعہ مفسرین اس سلسلہ میں ایک متفق نظریہ رکھتے ہیں کہ اولولامر سے مراد ائمہ معصومیں ہیں ۔ جن کو تمام امور زندگی میں اسلامی معاشرے کی مادی اورروحانی رہنمائی خد ااور پیغمبر کی طرف سے سپرد کی گئی ہے ۔ ان کے علاوہ یہ لفظ کسی پر صاد ق نہیں آتا ۔ البتہ ایسے لوگ جو ان کی طرف سے کسی مرتبے یاعہدے کے لئے مقرر کئے جائیں اوراسلامی معاشرے کے کسی عہدے پر فائز ہوں تو معینہ شرائط کے ساتھ ان کی اطاعت بھی ضروری ہے لیکن یہ اس لحاظ سے نہیں کہ وہ اولوالامر ہیں بلکہ اس وجہ سے کہ وہ اولوالامر کے نمائندے ہیں ۔( ۵۶ )

اب مندرجہ بالاتفاسیر کی تحقیق ومطالعہ کے لئے پوری تن دہی سے توجہ دیتے ہیں ۔

اس میں شک نہیں کہ پہلی تفسیر کسی بھی طرح مفہوم آیت اورتعلیمات اسلام کی روح سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ ممکن نہیں ہے کہ ہرحکومت کی اطاعت وپیروی کسی قید وشرط کے بغیر خدا ورسول کی اطاعت کے ساتھ ملادی جائے ۔ اسی بنا پر شیعہ مفسرین کے علاوہ اہل سنت کے بڑے بڑے مفسرین نے بھی اس کی نفی کی ہے ۔

دوسری تفسیر بھی آیت کے معانی ومفہوم کے ساتھ سازگار نہیں کیونکہ آیت اولوالامر کی اطاعت کو بغیر کسی قید وشرط کے لازم اورواجب قرار دیتی ہے ۔

تیسر ی تفسیر یعنی اولوالامر کی تفسیر کتاب وسنت سے آگاہ علماء عادل کے ساتھ کرنا بھی آیت کے مطابق نہیں ہے کیونکہ علماء کی اطاعت بھی کچھ شرائط سے مشروط ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی بات کتاب وسنت کے خلاف نہ ہو اس وجہ سے اگر وہ اشتباہ میں پڑ جائیں ( چونکہ وہ معصوم نہیں ہیں اس لئے ان سے اشتباہ ہوسکتاہے ) یا اور کسی وجہ سے حق سے منہ موڑ لیں تو اس صورت میں ان کی اطاعت ضروری نہیں ہوگی جبکہ آیت اولوالامر کی اطاعت مطلق اطاعت پیغمبر کی طرح لازم قرار دے رہی ہے علاوہ ازیں علماء کی اطاعت تو ان احکام میں ہے جن کاوہ کتاب وسنت سے استفادہ کرتے ہیں اس بنا پر ان کی اطاعت خدا تعالیٰ اورپیغمبر کی اطاعت کے علاوہ اورکچھ نہیں اس لئےاس کاذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی ۔

چوتھی تفسیر کہ اولی الامر کو پہلے چار خلفاء سے محدود کردینا ،تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ آج دنیائے اسلام میں لفظ اولوالامر کاکوئی مصداق نہیں ہے علاوہ ازیں اس تخصیص کے بارے میں کوئی دلیل بھی نہیں ہے ۔

پانچویں اورچھٹی تفسیر میں اس کو صحابہ یا افسران لشکرکے ساتھ مخصوص کرنا ، اس پر بھی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔

اہل سنت کے بعض مفسرین جیسے مصر کے مشہورعالم محمد عبدہ اورمعروف مفسر فخرالدین رازی کی بعض باتوں کے مطابق اولولامر کے معنی وہ ہیں جنہیں دوسرے نمبر پر بیان کیاگیا ہے ان کی نظر میں اس کے مجموعی مفہوم میں اسلامی معاشرے کے مختلف طبقوں کے نمائندے وہ عالم ہوں یاحاکم اوردوسرے طبقوں کے نمائندے شامل ہیں وہ انھیں کچھ شرطوں اورپابندیوں کے ساتھ اولوالامر مانتے ہیں ۔ اور ان شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مسلمان ہوں ، جیسا کہ منکم سے معلوم ہوتاہے، ان کاحکم کتاب وسنت کے خلاف نہ ہو وہ اپنے اختیار سے حکم دیں نہ کہ مجبوری سے وہ مسلمانوں کے مصالح کے مطابق حکم دیں اورصرف انہی مسائل کاحکم دے سکتے ہیں جن میں دخالت کا انھیں حق ہے نہ عبادات اور ان چیزوں کاجو کہ اسلام نے مقرر اورمعین کردی ہیں وہ اس مسئلہ کاحکم دینے کا حق رکھتے ہیں جس کے بارے میں نص شرعی موجود نہ ہو ان سب چیزوں کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سب متفقہ طورپر اپنا نظریہ پیش کریں ۔

انکا خیال یہ ہے کہ تمام امت یا ان کے سب نمائندے مل کرغلطی نہیں کرسکتے دوسرے لفظوں میں یہ کہ امت اجتماعی طورپر معصوم ہے ۔ ان شرطوں کانتیجہ یہ ہوگا اس قسم کے حکم کی اطاعت مطلق طورپر ہرقسم کی پابندی کے بغیر رسول اکرم کی اطاعت کی طرح واجب ہوگی ( اس گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ اجماع امت حجت ہے ) لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتاہے کہ اس تفسیر میں بھی کئی اشکالات ہیں کیونکہ :

پہلی بات یہ ہے کہ اجمایعی مسائل میں فکر ونظر کا اتفاق بہت ہی کم مواقع پر واقع ہوتاہے ، اس لئے مسلمانوں کے زیادہ ترحالات وواقعات میں ہمیشہ بے چینی وبے اطمینانی رہے گی ، اگر وہ اکثریت کے نظریے کو قبول بھی کرنا چاہیں تو پھر یہ اشکال سامنے آئے گا کہ اکثریت کبھی معصوم نہیں ہوتی ۔ اس لئے ان کی اطاعت مطلق ہونے کی حیثیت سے لازمی نہ ہوگی ۔

دوسری بات یہ ہے کہ علم اصول میں یہ امر ثابت ہوچکاہے کہ امام معصوم کو نکال کرتمام امت کے معصوم ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔

ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اس تفیسر کے طرفداروں نے ایک شرط کا ذکر کیاہے جو یہ ہے کہ ان کاحکم کتاب وسنت کے خلاف نہ ہو ، تو اب دیکھنایہ ہے کہ اس بات کی تشخیص کہ یہ حکم کتاب وسنت کے خلاف ہے کہ مطابق ، کون کرے گا یقینا مجتہدین وکتاب وسنت سے آگاہ علماء ہی اس کے ذمہ دار ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مجتہدین اورعلماء کی اجازت کے بغیر اولوالامر کی اطاعت جائز نہیں کیونکہ اہل علم کی اطاعت تواولوالامر کی اطاعت سے کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر ہے اوریہ مفہوم ظاہر بظاہر آیت شریفہ کے مطابق نہیں ہے ۔

یہ صحیح ہے کہ انہوں نے علماء کوبھی اولوالامر کا جزو قرار دیاہے لیکن حقیقت میں اس تفسیر کے مطابق اہل علم باقی طبقاتی نمائندوں کی نسبت مرجع عالی تر اور ناظر کی حیثیت رکھتے ہیں نہ دوسرے کیونکہ علماء اوردانشمند دوسروں کی نسبت یہ بہتر جانتے ہیں کہ کوئی چیز کتاب وسنت کی نظر سے درست ہے یانہیں اس بنا پر وہ مرجع اعلیٰ ہونگے اوریہ مندرجہ بالاتفیسر کے ساتھ موافق نہیں ہے اس بنا پر مذکورہ تفسیر کو کئی پہلوؤں سے اشکالات کا سامناہے ۔

واحد تفسیر جو مذکورہ اعتراضات کی زد میں نہیں آسکتی وہ ساتوٰیں تفسیر ہی ہے یعنی اولو الامر سے مراد معصوم رہبر اور آئمہ ہیں کیونکہ یہ تفسیر اس وجوب اطاعت کے اطلاق کے ساتھ ہے جس کا مندرجہ بالا آیت سے پتہ چلتاہے اور یہ اس کے ساتھ سوفیصد موافقت رکھتی ہے کیونہہ مقام "عصمت" ایسے امام کے ہرخطا گناہ اوراشتباہ سے محفوظ ہونے کی گواہی دیتاہے اس لئے اس کا ہرحکم فرمان پیغمبر کی طرح کسی قیدوشرط کے بغیر واجب الاطاعت ہے اوریہ اس امر کی استعداد رکھتاہے کہ رسول کی اطاعت کا ہم ردیف اورہم پلہ قرار پائے ، یہاں تک کہ "اطیعو ا" کی تکرار کے بغیر اس کا عطف رسول پر ہو ۔

ایک قابل توجہ بات

بعض مشہور علمائے اہل سنت بھی جن میں مشہور ومعروف مفسر فخرالدین رازی بھی ہیں اس آیت کے بارے میں اپنی تحریر کے شروع میں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"خداوند عالم جس شخص کی اطاعت کو قطعی طورپر بے چون وچرالازم قرار دے یقیناً اسے معصوم ہوناچاہیے کیونکہ اگروہ معصوم عن الخطا نہ ہوگا توخطا کرے گا اورخداتعالیٰ نے اس کی اطاعت لازم قرار دی ہے اور اس کی پیروی خطا کے باوجود ضروری سمجھی ہے تو اس سے خود حکم خداوند عالم میں تضاد پید اہوتاہے کیونکہ ایک طرف تو اس عمل کا کرنا حرام ہے اوردوسری طرف اولوالامر کی اطاعت واجب ہے اس طرح یہ حکم خدا امر ونہی کے اجتماع کاسبب بن جاتا ہے۔"

فخرالدین رازی اپنی گفتگو کوجاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں :

"یہ معصوم یاتوتمام امت ہے یا اس میں سے چند لوگ ۔ یہ دوسرے معنی قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ ضروری ہے کہ ہم ان چند لوگوں کو پہچانیں اور ان تک پہنچ سکتے ہوں جبکہ ایسا نہیں ہے جب یہ احتمال یا شک دور ہوجاتاہے تو پہلا احتمال باقی رہ جاتاہے کہ تمام امت معصوم ہے اوریہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اجماع واتفاق امت حجت اورقابل قبول ہے اوریہ معتبر اورقابل اعتماد دلائل میں شمار کیاجاتاہے ۔( ۵۷ ) "

ہم دیکھ رہے ہیں کہ باوجود اس کے کہ فخررازی علمی مسائل میں اشکال تراشی کے سلسلہ مشہورہیں لیکن انہوں نے اس آیت کی اس دلالت کو کہ امام معصوم ہونا چاہیے بسروچشم قبول کیاہے اس موقع پر زیادہ سے زیادہ یہی کہاجا سکتاہے کہ چونکہ وہ مکتب اہل بیت اور اس کے معصوم اماموں اوررہبروں کو قبول نہیں کرتے تھے اس لئے انہوں نے اس بات کو قبول نہیں کیا کہ اولوالامر خد ا کے معین کئے ہوئے افراد ہونے چاہیں بلکہ وہ مجبور ہوگئے کہ اولوالامر تمام امت یا مسلمانوں کے تمام طبقات کے نمائندوں کو قراردیں حالانکہ یہ معنی کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ۔ جیساکہ ہم تحریر کرچکے ہیں کہ اولوالامر تووہ ہوگا جواسلامی معاشرے کارہبر ہو تاکہ ا سلامی حکومت اورمسلمانوں کی گونا گوں مشکلات اس کے ناخن تدبیر سے حل ہوتی رہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمام آراء، حکومت یہاں تک کہ اس کے نمائندون کا بھی عملی طورپر اتفاق نہیں ہوسکتا کیونکہ مختلف اجتماعی ، سیاسی ، ثقافتی اخلاقی ،اور اقتصادی مسائل جن سے مسلمانوں کوسابقہ پڑتاہے ان میں اکثر اوقات تمام امت کا یا ان کے نمائندوں کے اتفاق رائے کا حصول ممکن نہیں ہے اور اکثریت کی پیروی اولوالامر کی پیروی نہیں سمجھی جاسکتی اس بنا پرفخر رازی اورہمارے معاصر علماء جو اس عقیدے کے پیرو ہیں ان کی گفتگو کا عملی مقصد یہ ہے کہ اولوالامر کی اطاعت عملا معطل رہے یا ایک استثنائی حیثیت باقی رہے ۔

ہم مندرجہ بالا تمام بیانات سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ صرف اورصرف معصوم پیشواؤں کی رہبری ثابت کرتی ہے جو امت کی چندخاص ہستوں پر مشتمل ہیں ۔

چند سوالات کے جواب

اس موقع پر مندرجہ بالا تفسیر پر کچھ اعتراض ہوئے ہیں ۔ بحث میں غیر جانبداری کا خیال رکھتے ہوئے انھیں بیان کرکے انکے جوابات پیش کئے جارہے ہیں :

۱ ۔ اگر اولوالامر سے مراد معصوم امام ہیں تو یہ مفہوم لفظ "اولیٰ" کے ساتھ جو جمع ہے کوئی مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ اس مفہوم کی صورت ہرزمانے میں ایک سے زیادہ معصوم امام نہ ہوگا۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر چہ ہر زمانے میں ایک سے زیادہ امام معصوم نہیں ہوتا لیکن ظاہر یہ ہےکہ یہ آیت کریمہ ایک زمانے کی ذمہ داری کا تعین نہیں کررہی ہے ۔

۲ ۔ اولوالامر اس معنی کے مطابق توپیغمبر کے زمانے میں موجودنہیں تھا تو اس صورت میں اس کی اطاعت کاحکم کس طرح دیاگیا ہے ؟

اس کا جواب بھی گذشتہ جواب سے واضح ہوجاتاہے کیونکہ آیت کسی معین زمانے کے لئے محدود نہیں ہے بلکہ وہ تمام مسلمانوں کے فرائض کو ہرزمانے کے لئے واضح کررہی ہے دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ عہد رسالت میں حضور خود اولوالامر تھے کیونکہ حضرت رسول اکرم دو منصب رکھتے تھے ایک منصب رسالت اور تبلیغ احکام جو آیت میں "اطیعوا الرسول" کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے اور دوسرا منصب امت اسلامی کی رہبری اورسربراہی جس کا ذکر قرآن کریم نے اولو الامر کے نام سے کیاہے اس لئے پیغمبر اکرم کے زمانے میں خود پیغمبر معصوم رہبر وپیشوا تھے اور شاید لفظ "اطیعوا" کا عدم تکرار رسول اور اولو الامر کے درمیان اسی معنی کی طرف اشارے سے خالی نہ ہو ۔

دوسرے لفظوں میں منصب رسالت اورمنصب اولوالامر دومختلف منصب ہیں جو حضرت رسول اکرم کے وجود میں ایک جگہ جمع ہیں لیکن یہ امام میں جاکر الگ الگ ہوجاتے ہیں ۔ اور امام صرف دوسرا ( اولوالامر کا ) منصب رکھتے ہیں ۔

۳ ۔اگر واقعی اولوالامر سے مراد معصوم امام اور رہبر ہیں تو پھر کیوں مسلمانوں کے اختلاف اورجھگڑے کو بیان کرتے ہوئے کہتاہے :

( فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِى شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَي اللهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذ لِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيلاً ) ؛ اگر کسی چیز میں اختلاف پڑ جائے تو اسے خدا ورسول کی طرف پلٹادو ۔ اگرتم خدا اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہو تویہ تمہارے لئے بہترہے اور اس کا انجام بھی بہت ہی اچھاہے ۔

ظاہرہے کہ یہاں اولوالامر کا ذکر نہیں ہے اوراختلاف کودور کرنے کا جو طریقہ بتایا گیاہے وہ خد اکی کتاب اورحضرت رسول اکرم کی سنت ہے ۔

جواب : اس سوال کاجواب یہ ہے کہ یہ اعتراض صرف شیعہ علماء کی تفیسر پر نہیں ہے بلکہ تھوڑے سےغورو فکر کے بعد معلوم ہوتاہے کہ دوسری تفاسیر پر بھی اعتراض کا سایہ پڑتاہے یعنی یہ اعتراض اہل سنت کی تفاسیر پر بھی وارد ہوتاہے دوسرے یہ کہ اس میں شک نہیں کہ مندرجہ بالا جملہ میں اختلاف وتنازع سے مراد احکام میں اختلاف ہے ، نہ کہ ان مسائل میں جن کا تعلق حکومت اوررہبری کی جزئیات سے ہے کیونکہ ان مسائل میں تو لازما اولوالامر کی اطاعت کرناہوگی جیسا کہ آیت کے پہلے جملہ میں وضاحت ہوچکی ہے اس بناپر اس اختلاف سے مراد اسلام کے احکام اورقوانین کلی کا اختلاف ہے جنکی تشریع خد ا اور پیغمبر سے متعلق ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امام تو احکام جاری کرنے والے ہیں نہ کہ قانون وضع کرنے اورمنسوخ کرنےوالے ۔ امام توہمیشہ خداکے احکام اورسنت رسول کے اجرا کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں اسی لئے احادیث اہل بیت میں ہے کہ اگر ہم سے کوئی شخص کوئی بات کتاب خدا ور حدیث پیغمبر کے خلاف نقل کرے تو اسے ہرگز قبول نہ کرو کیونکہ یہ ناممکن اور محال ہے کہ ہم کتاب خد ا اورسنت پیغمبرکے خلاف کچھ کہیں اسی لئے احکام وقوانین اسلامی میں لوگوں کے اختلاف دور کرنے کا پہلا مرجع خدا اور حضرت رسول اکرم ہیں جن پر وحی خدا نازل ہوتی ہے اب اگر ائمہ معصومین احکام بیان کرتے ہیں تو وہ خود ان کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ وہ کتاب خدا یا اس علم سے ہیں جو حضرت رسالت مآب کی طرف سے ا ن تک پہنچاہے یہی وجہ ہے کہ اولوالامر کالفظ اختلافی احکام ومسائل کے حل کرنے والوں میں شامل نہیں ہے ۔( ۵۸ )

احادیث کی گواہی

اسلامی کتب ومصاد ر میں کچھ احادیث موجود ہیں جواس تفسیر کی تائید کرتی ہیں کہ لفظ اولوالامر سے مراد ائمہ اہل بیت ہی ہیں ان میں سے شیعہ وسنی کتب میں وارد ہونے والی احادیث کے چند نمونے درج ذیل ہیں :

۱ ۔اہل سنت کے مشہور ومعروف مفسر ابو حیان اندلسی مغربی ( متوفی ۷۵۶ ھ) تفیسر بحرالمحیط میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ حضرت علی اورائمہ اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔( ۵۹ )

۲ ۔ عالم اہل سنت ابوبکر بن مومن شیرازی رسالہ اعتقاد میں ( مناقب کاشی کے مطابق ) ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا آیت حضرت علی کی شان میں اس وقت نازل ہوئی جب پیغمبر اسلام نے انھیں جنگ تبوک کے موقع پر اپنی جگہ مدینہ منورہ میں چھوڑا تھا اور حضرت علی نے عرض کیاتھا کہ آپ مجھے عورتوں اوربچوں کی طرح شہرمیں چھوڑ ے جاتے ہیں تو پیغمبر اکرم نے فرمایاتھا :

"أما تَرضی أن تکونَ منّی بمنزلة هارون من موسی حين قال اخلفنی فی قومی و أصلح فقال عزوجل ( و اُولی الأمر منکم ) ؛ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون (برادر موسیٰ ) کو موسیٰ سے تھی جبکہ موسیٰ نے ان سے کہا تھا کہ تم بنی اسرائیل میں میرے جانشین بن جاؤ اور ان کی اصلاح کرو۔ اس کے بعد خداوند عالم نے فرمایا:و اُولی الأمر منکم ( ۶۰ ) ۔

۳ ۔ شیخ سلیمان حنفی قندوزی جو اہل سنت کے مشہور عالم ہیں ، ینابی ع المودۃ میں کتاب مناقب میں سلیم بن قیس ہلالی سے نقل کرتے ہیں :

"ایک دن ایک شخص حضرت علی کی خدمت میں حاضرہوا ۔ اس نے پوچھا : کم ازکم وہ کونسی چیزہے جس کے ذریعے انسان مومنین کی صف میں شامل ہوسکتاہے اور کم ازکم وہ کونسی چیزہے جس سے انسان کافروں یاگمراہ لوگوں میں شمار ہوجاتاہے حضرت امیر المومنین نے فرمایا : کم از کم وہ چیز انسان جس کی وجہ سے گمراہوں میں شامل ہوجاتاہے یہ ہے کہ وہ خداکی حجت اورنمائندے اور اس کے شاہد وگواہ کو جس کی اطاعت وولایت ضروری ہے نہ پہچانے ، اس شخص نے کہا :اے امیر المومنین مجھے ان کا تعارف کرائیے ، حضرت علی نے فرمایا: وہ وہی ہیں جنہیں خدانے اپنے پیغمبر کے بر ابر قراردیا ہے اورفرمایا:

( يا أيّها الذين آمنوا أطيعوا الله و أطيعوا الرسول و أولی الأمر منکم )

اس شخص نے عرض کیا : میں آپ پر قربان جاؤں ، مزید وضاحت فرمائیے ، امیر المومنین نے ارشاد فرمایا: جن کا رسول اللہ نے مختلف موقعوں پر اور اپنی زندگی کے آخری دن کے خطبہ میں تذکرہ کیا اورفرمایا:

"إنِّی ترکت فيکم أمرينِ لن تضلُّوا بعدی إِن تمسَّکتم بهما کتاب الله و عترتی أهل بيتي ؛میں تمہارے درمیان دوچیزیں بطور یاد گارچھوڑ رہاہوں اگرتم ان سے تمسک کروگے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ،خد اکی کتاب اورمیری عترت جو میرے اہل بیت ہیں ۔( ۶۱ )

۴ ۔ نیز یہی عالم ، کتاب"ینابی ع المودۃ" میں لکھتے ہیں کہ صاحب کتاب مناقب نے تفسیر مجاہد سے نقل کیاہے کہ یہ آیت حضرت علی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔( ۶۲ )

شیعہ کتب کی متعدد روایات جو اصول کافی ، تفسیر عیاشی اور کتب صدوق وغیرہ میں منقول ہیں ، سب کی سب یہ گواہی دے رہی ہیں کہ اولوالامر سے مراد ائمہ معصومیں ہیں ۔ یہا ں تک کہ بعض میں تو ہر ایک امام کا نام صراحت کے ساتھ مذکورہے ۔( ۶۳ )

جابر بن یزید جعفی نے بیان کیا کہ میں نے سنا کہ جابر بن عبداللہ انصاری فرماتے ہیں کہ جب حضور اکرم پر یہ آیہ کریمہ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ ) (سورہ نساء، آیت نمبر ۵۹) ؛اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو۔ رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی نازل ہوئی تومیں نے عرض کیا : یارسول اللہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو پہچان لیاہے ۔ یہ اولوالامر کون ہیں ؟ جنکی اطاعت آپکی اطاعت قرار پائی ہے ۔حضور اکرم نے فرمایا : اے جابر وہ میرے خلفاء اورمیرے بعد مسلمانوں کے امام ہیں ۔ ان میں پہلے علی ابن ابی طالب ہیں پھر حسن پھر حسین پھر علی بن حسین ، پھر محمد بن علی ، پھر جعفر بن محمد ، پھر موسیٰ بن جعفر ، پھر علی بن موسیٰ ،پھر محمد بن علی ، پھر علی بن محمد ، پھر حسن بن علی علیہم السلام ، پھر وہ فردہوگا جس کی کنیت اورنام میراہوگا وہ زمین پر اللہ کی حجت ہوگا ، اس کے ہاتھوں پر اللہ مشرق و مغرب کی فتح عطاکرے گا ۔ وہ ایک عرصہ تک اپنے شیعوں اوراپنے چاہنے والو ں سے غائب رہے گا ۔ اور اس کی امامت پر صرف وہی ٹھہرا رہے گا جس کے قلب کا اللہ نے امتحان لے لیاہوگا۔( ۶۴ ) "

پس روایات سے ثابت ہوتاہے کہ اس زمانے میں بھی ایک معصوم کاہونا ضروری ہے تاکہ قرآن کریم کے فرمان کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے ۔تمام شیعوں اور بعض اہل سنت کی نظر کے مطابق حضرت صاحب الزمان (عج) آج بھی بند گان خدا پر حجت الہی کی حیثیت سے زندہ وموجود ہیں البتہ لوگوں کی نگاہوں سے غائب ہیں ۔

۴ ۔ آیہ انذار

خداوند عالم سورہ رعد کی آیت نمبر ۷ میں ارشاد فرماتاہے :

( إِنَّمَا اَنتَ مُنذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَاد ) ( ۶۵ ) ؛"(اے پیغمبر ) آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہرقوم کے لئے ایک ہادی اور رہبر ہے۔"

تبصرہ:

مذکورہ بالا آیت کریمہ سے ظاہر ہوتاہے کہ ہر دور اورہر زمانے میں ہر قوم وملت کے درمیان ایک ایسا شخص موجود رہاہے جولوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتاہے اورحق وحقیقت کی جانب ہدایت کرتا رہاہے اوریہی امر پروردگار عالم کے ذوق ربوبیت کے عین مطابق ہے نیز آیہ کریمہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کررہی ہے کہ زمین کبھی بھی ہادی برحق سے خالی نہیں ہوسکتی چاہے ہادی نبی کی صورت میں ہو یاغیر نبی کی صورت میں ، کیونکہ آیت کا اطلاق اس بات کی نفی کررہاہے کہ ہادی صر ف وصرف نبی ہی ہوسکتاہے جیسا کہ زمخشری نے اس آیہ شریفہ کے ذیل میں اشارہ کیاہے( ۶۶ ) ۔ ورنہ اگرہادی کوصرف انبیاء کے دائرئے میں منحصر کردیا جائے تو ایسی صور ت میں جس زمانے میں نبی موجود نہیں ہوگا تو اس زمانہ کاحجت خدا اورہادی برحق سے خالی ہونا لازم آجائے گا ۔

بعض افراد کا خیال ہے کہ یہ دونوں صفات "منذر" اور"ھادی" پیغمبرؐ کی صفات ہیں اور درحقیقت آیت اسی طرح تھی :( أنتَ منذر و هادٍ لِکُل قوم ) تم ہی ہرقوم کو ڈرانے والے اور ہدایت کرنے والے ہو۔"

لیکن یہ تفسیر مذکورہ بالا آیت کے مفہوم کے برخلاف ہے کیونکہ آیت میں موجود "واو" جملہ "لکل قوم هاد " کو جملہ "انّما انت منذر " سے جدا کررہاہے ، اگر کلمہ "ھاد"، "لکل قوم" سے پہلے ہوتا توبیان کردہ معنی کا ملا قابل قبول تھے لیکن ایسا نہیں ہے علاوہ بریں یہاں حق کی جانب دو قسم کے دعوت دینے والے افراد کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے ، اول ایسے دعوت دینے والے افراد جنکا کام انذار ہے اور دوسرے وہ دعوت دینے والے افراد جنکا وظیفہ ہدایت ہے ۔

انذار کا مقصد گمراہوں کوراہ حق وصراط مستقیم پر لاناہے جبکہ ہدایت راہ حق پر آنے کے بعد انھیں صراط مستقیم پر گامزن رکھنے کے لئے ہے ۔

درحقیقت منذر علت محدثہ وایجاد کنندہ کی مانند ہے جبکہ ہادی علت مبقیہ ورشد یہ کی مانند ہے ، یہی وہ چیزہے جسے ہم رسول اورامام سے تعبیر کرتے ہیں ۔ رسول شریعت کی بنیاد رکھتاہے جبکہ امام اس شریعت کا محافظ ونگھبان ہوتاہے ۔( بیشک دیگر موار د میں پیغمبر اکرم پر بھی ہدایت کا اطلاق کیاگیاہے لیکن آیت میں موجود لفظ منذر کی وجہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہاں ہادی سے مراد وہ شخص ہے جو پیغمبر کی راہ کو جاری رکھے اور اس کی شریعت کا محافظ ونگھبان ہے )۔( ۶۷ )

فریقین کی کتب میں پیغمبر گرامی قدر سے متعدد ایسی روایات منقول ہوئی ہیں جن میں آنحضرت نے فرمایا ہے : میں منذر اور علی ھادی ہے ۔

علماءاہل سنت میں سے فخررازی نے تفسیر کبیر میں معروف عالم اہل سنت علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں علامہ ابن صبا غ مالکی نے کتاب فصول المہمہ میں گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں ابو حیان اندلسی نے اپنی کتاب تفسیر بحرالمحیط میں معروف عالم اہل سنت جناب حموینی نےاپنی کتاب فرائد السمطین میں میر غیاث الدین نے اپنی کتاب حبیب السیر کی دوسری جلد میں آلو سی نے روح المعانی میں شبلنجی نے نور الابصار میں اور شیخ سلیمان قندوزی نے ینابی ع المودہ میں اس حدیث کو اسی عبارت یااس سے مثابہ عبارت کے ساتھ نقل کیاہے۔

اگرچہ اکثر طرق سند میں اس حدیث کے روای ابن عباس ہیں لیکن ابو ھریرہ (حموینی کے نقل کے مطابق ) اور خود حضرت علی ؑ (ثعلبی کے نقل کے مطابق ) سےبھی روایت کی گئی ہے۔

طبری شافعی اپنی تفسیر جامع البیان فی تفسیر القرآن میں مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں صیحر السند کے مطابق ابن عباس سے نقل کرتے ہیں :" لمّا نزلت( إِنَّمَا اَنتَ مُنذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَاد ) وضع يده علی صدره، ‏فقال: أنا المنذر و لکلّ قوم هاد، ‏و أومأ بيده إلی منکب علي، ‏فقال: أنت الهادی يا علي، ‏بک يهتدی المهتدون بعدي ؛( ۶۸ ) جس وقت آیہ( إِنَّمَا اَنتَ مُنذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَاد ) نازل ہوئی تو حضور سرور کائنات نے اپنا دست مبارک سینہ پر رکھتے ہوئے فرمایا میں منذر ڈرانے والا ہوں اور ہر قوم کیلئے ایک ھادی ہے یہ کہہ کر آپؐ نے علیؑ کے شانہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اے علی ؑ تم ھادی ہو اور میرے بعد لوگ صرف تمارے ذریعہ ہی ہدایت حاصل کر سکیں گے۔"

حاکم نیشابوری نے صیح السند کےمطابق مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں حضرت علی سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا : "رسول الله المنذر و أنا الهادی ( ۶۹ ) ؛ رسول خدا منذر اور میں ہادی ہوں ۔"

شیعہ علماء سے جناب کلینی نے صحیح السند کے مطابق آیہ کریمہ کے ذیل میں امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : "رسول الله المنذر ولکل زمان هاد یهدیهم الی ماجاءبه نبی الله ؛( ۷۰ ) رسول خدا منذر ہیں اورہرزمانہ کے لئے ایک امام وہادی ہوتاہے جو لوگوں کو پیغمبر کی لائی ہوئی چیزوں کی طرف دعوت دیتاہے ۔"

نیز امام باقر علیہ السلام ہی سے نقل کرتے ہیں کہ آنجناب نے مذکورہ بالا آیت کے ذیل میں فرمایا:"رسول‌الله المنذر و علیّ الهادی، ‏أما والله ما ذهبت منّا و ما زالت فينا إلی الساعة ؛( ۷۱ ) رسول خدا منذر اورعلی ہادی ہیں ۔ یاد رکھو آیات کریمہ کا مصداق ہم سے باہرنہیں جاسکتا اور قیامت تک اس کے مصداق ہم ہی رہیں گے ۔"

فریقین کی روایات پر نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت علی ہادی ہیں اور ہر زمانہ میں ایک ہادی کا ہونا ضروری ہے اورقیامت تک یہ ہادی کا سلسلہ جاری وساری رہے گا ۔

پس بنا بریں موجودہ زمانہ میں بھی ائمہ معصومیں میں سے ایک ہادی کا ہونا ضروری ہے تاکہ آیت وروایات کا مصداق ہر دور میں موجود ہو ورنہ زمانہ ہادی سے خالی ہوجائے گا اوریہ بات قرآن وروایات کے مفہوم کے برخلاف ہے ۔

۵ ۔ آیات شہادت

قرآن کریم کی بعض آیات میں اس امر کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ خداوند عالم نے ہرامت پر ایک شخص کو بطور شاھد قرار دیاہے تاکہ قیامت کے دن وہ لوگوں پر اس کے ذریعہ احتجاج کرسکے ۔ ذیل میں بعض ایس ہی آیات پیش کی جارہی ہیں :

( فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا ) ( ۷۲ ) اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہرامت کواس کے گواہ کے ساتھ بلائیں گے اورپیغمبر آپکو ان سب کا گواہ بنا کربلائیں گے ۔

( وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَلا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ) ( ۷۳ ) اور قیامت کے دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں اوراس کے بعد کافروں کو کسی طرح کی اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان کا عذر ہی سنا جائے گا ۔

( وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَؤُلاءِ ) ( ۷۴ ) اور قیامت کے دن ہم ہر گروہ کے خلاف انھیں میں کا ایک گواہ اٹھائیں گے اورپیغمبر آپ کو ان سب کا گواہ بنا کر لے آئیں گے ۔

ان آیات سے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ خداوند عالم نے ہردور میں لوگوں پر خطاء واشتباہ سے معصوم افراد کو معین کیاہے تاکہ وہ قیامت میں ان کے اعمال کی گواہی دے سکیں ۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جوشخص اعمال امت پر شاھد وگواہ ہے اسے ایسا ہوناچاہیے کہ وہ اپنی گواہی میں اشتباہ نہ کرے نیز امت کے تمام اعمال پر احاطہ علمی بھی رکھتاہو ۔ یہی وہ افراد ہیں جو خداوند عالم کی جانب سے روئے زمین پر لوگوں کے اوپر حجت خدا ہیں ۔

قرآن کریم کی آیات سے استفادہ ہوتاہے کہ امت پر شاھد اورحجت معصوم میں مندرجہ ذیل صفات پائی جاتی ہیں :

۱ ۔ نوع بشر سے ہوناچاہیے :"شهیداً من أنفُسِهِم

۲ ۔ ہر زمانہ میں ایک کا ہونا ضروری ہے کیونکہ آیت میں صیغہ مفرد "شھیدا" استعمال ہوا ہے؛

۳ ۔ مکمل احاطہ علمی رکھتاہو ؛

۴ ۔ کتا ب کا علم ہو :( وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلا قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ ) ( ۷۵ ) اوریہ کافر کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں تو کہہ دیجئے کہ ہمارے اورتمہارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خدا کافی ہے اوروہ شخص کافی ہےجس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے ۔

بعض شیعہ وسنی مفسرین نے آیہ کریمہ کوہردور میں ایک عادل گواہ وحجت خدا کے وجود پر دلیل کے طورپر تسلیم کیاہے ۔

اہل سنت کے مشہور ومعروف مفسر فخررازی اس آیت کریمہ( وَنَزَعْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ) ( ۷۶ ) ؛ "اورہم ہر قوم میں سے ایک گواہ نکا ل کرلائیں گے "؛ کے ذیل میں کہتے ہیں :"یہ وہ شاھد ین ہیں جو ہرزمانہ میں لوگوں پر گواہ ہیں اورانہیں شاھدین میں سے انبیائے الھی بھی ہیں ۔"( ۷۷ )

نیز آیت کریمہ( يَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ) ؛"اورقیامت کے دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے " ؛ کے ذیل میں کہتے ہیں روئے زمین پر وجود میں آنے والے ہرگواہ پر ایک گواہ کا ہوناضروری ہے ۔ اورقرآن کریم کی اس آیت( وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ) ( ۷۸ ) ؛اور تحویل قبلہ کی طرح ہم نے تم کو درمیانی امت قرار دیا ہے تاکہ تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو اورپیغمبر تمہارے اعمال کے گواہ رہیں ، کی روشنی میں حضور سرور کائنات کے دور میں خود آنحضرت امت پر شاھد تھے ۔

اسی طرح ضروری ہے کہ عصر رسول کے بعد بھی امت کے اعمال پر ایک شاھد کا ہوناضروری ہے لذرا اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امت پر گواہ وشاھد سے کوئی زمانہ خالی نہیں ہوسکتا اس شاھد کا خطا وغلطی سے معصوم ہونابھی ضروری ہے ورنہ بصورت دیگر دوسرے گواہ کی ضرورت پڑ جائے گی اور اگر یہ بھی غیر معصوم ہوگاتو پھر نئے گواہ کی ضرور ت پڑے گی اوراس طرح یہ سلسلہ لا متناھی ہوجائے گا جو کہ باطل ہے ۔"

فخر رازی یہاں تک شیعہ عقیدہ کے موافق اورساتھ ساتھ چلے ہیں لیکن اس کے بعد کہتے ہیں: "نتیجتاً ہر دور اور ہر عصر میں ایک ایسی جماعت کا ہونا ضروری ہے جنکا قول حجت ہو اور اسکی تنا ایک یہی راہ ہے کہ ہم اجماع امت کو حجت قرار دیں ،یعنی کسی بھی زمانہ میں امت مجموعی طور پر راہ خدا کو ترک نہیں کرسکتی۔( ۷۹ ) "

اگر فخر رازی اپنے عقائد کو بالائے طاق رکھ کر آیت پر غور وفکر کرتے تویہ تعصب آمیز بیان جاری نہ کرتے کیونکہ قرآن کریم تو یہ فرما رہاہے کہ ہم نے ہر امت کے لئے ایک گواہ انہی کی جنس سے قرار دیاہے نہ کہ مجموع امت کو فرد فردکے لئے حجت وگواہ قرار دیاہے ۔( ۸۰ )

شیعہ مفسرین نے بھی سورہ نساء کی اکتالیسویں آیت( فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا ) ؛کی تفسیر میں حضرت امام جعفر صادق سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:"نزلت فی امّة محمد خاصّة، فی کلّ قرنٍ منهم اِمام مِنَّا شاهد علیهم و محمد شاهد علینا ؛( ۸۱ ) یہ آیت کریمہ خصوصیت سے امت محمد کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ہر دور میں ان میں ہم میں سے ایک گواہ موجود رہے گا جو انکے اعمال پر گواہ ہوگا اورمحمد (مصطفیٰ) ہم پر گواہ ہیں ۔"

ابو سعید خدری کہتے ہیں : "میں نےحضور سرور کائنات سے اس آیت کریمہ کے بارے میں سوال کیا کہ اس سے کیامر اد ہے ؟ تو آنحضرت نے فرمایا : اس سے مراد میرے بھائی علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔( ۸۲ ) "

نتیجہ : فریقین کی روایات پر نرں کرنے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ہرزمانہ میں امت کے اعمال پر ایک ایسے شاھد وگواہ کا ہونا ضروری ہے جو خطا اورغلطی سے محفوظ ہو ، ورنہ بصورت دیگر ایک دوسرے کے گواہ کی ضرورت پڑے گی ۔ لذرا اس شاھد کے مصداق کامل فقط اہل بیت ہی ہیں کیونکہ یہی حضرات آیت کریمہ میں ذکر شدہ صفات کے حامل ہیں۔

۶ ۔ آیہ ٔ صادقین

خداوند متعال سورہ توبہ کی ۱۱۹ آیت میں ارشاد فرماتا ہے:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ) ( ۸۳ ) ؛ "اے ایمان لانے والو! تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔"

آیت کریمہ میں صادقین سے مراد تمام مومنین نہیں ہیں بلکہ بعض مومنین ہیں۔ اب یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بعض مومنین کی خصوصیات کیاہیں جن کی ہمراہی و معیت کا حکم دیا جا رہا ہے؟

خود آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صادقین سے مراد صادقین علی الاطلاق ہیں اسی لئے انکی علی الاطلاق اطاعت کا حکم دیا گیا ہے تاکہ مطیع و فرمانبردار لوگ انکی ہدایت کے ذریعہ حق و حقیقت اور سعادت حاصل کرسکیں۔ پس اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہاں صادقین سے مراد وہی حاملان وحی و خلفائے رسول، امینان شریعت و حامیان دین، ائمہ ہدایت اور چراغ ہدایت ہیں؛ یہ وہ افراد ہیں خداوند عالم نے جن سے رجس و پلیدی کو دور رکھا ہے اور انھیں ہر عیب و نقص سے پاک رکھا ہے، اور یہ افراد پیغمبر ؐ گرامی قدر کے اہل بیت عصمت و طہارت کے علاوہ اور کوئی نہیں ہیں کہ جن میں پہلے علی ابن طالب اور آخری حضرت مہدی موعود علیہما السلام ہیں۔

جناب یعقوبی کلینی، برید بن معاویہ عجلی کے توسط سے حضرت امام محمد باقر سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام علیہ السلام سے آیت کریمہ( اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ) کے بارے میں سوال کیا تو حضرت نے فرمایا: ایّانا عنّی؛ اس میں ہمارا قصد کیا گیا ہے۔( ۸۴ ) "

نیز حضرت امام رضا علیہ السلام سے اسی آیت کریمہ کے ذیل میں نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "الصادقون ہم الائمہ؛ صادقین سے مراد ائمہ ہی ہیں۔( ۸۵ ) "

اہل سنت علماء و مفسرین نے بھی اس آیت شریفہ کے ذیل میں روایات نقل کی ہیں مثلاً حاکم جسکانی حنفی نے اپنی اسناد کے مطابق عبد اللہ بن عمر سے روایت نقل کی ہے اس آیت میں صادقین سے مراد محمدؐ و اہل بیت محمد علیہم السلام ہیں۔( ۸۶ )

سبط ابن جوزی نے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں علماء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہاں آیت کا مقصد یہ ہے کہ علی اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ ہوجاؤ۔( ۸۷ )

فخر رازی اس آیت کی روشنی میں عصمت کے قائل ہوئے ہیں اور کہتے ہیں: "اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور اور ہر زمانہ میں معصوم صادقین کا ہونا ضروری ہے۔"( ۸۸ )

نتیجہ:

شیعہ و سنی احادیث و تفسیر کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں عترت اہل بیت علیہم السلام میں سے ایک معصوم شخص کا ہونا ضروری ہے جو "صادقین" کا کامل مصداق ہو۔ لہذا آج کے دور میں شیعہ و سنی روایات کی روشنی میں وہ معصوم اور مصداق صادقین حضرت مہدی موعود کے سوا کوئی نہیں ہے جو کہ تمام شیعیان حیدر کرار کی اتفاق نظر اور بعض اہل سنت کے عقیدے کے مطابق پردہ غیبت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

۷ ۔ آیۂ ہدایت

خداوند عالم سورہ اعراف کی آیت نمبر ۱۸۱ میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ ) ( ۸۹ ) ؛ "اور ہماری ہی مخلوقات میں سے وہ قوم بھی ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتی ہے اور حق کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔"

علمائے اہل سنت میں سے مشہور عالم فخر رازی نے جبائی سے روایت نقل کی ہے کہ : "یہ آیت اس بات کی عکاسی کر رہی ہے کہ کوئی دور ایسے فرد سے خالی نہیں ہوسکتا جو حق کے ساتھ قیام و عمل انجام دے اور لوگوں کی ہدایت کا فریضہ انجام دے۔( ۹۰ ) "

جبکہ شیعہ علمائے میں سے میرزا محمد مشہدی اپنی تفسیر کنز الدقائق میں کہتے ہیں: "آیت اس امر پر دلالت کر رہی ہے کہ ہر دور میں ایک معصوم فرد کا ہونا ضروری ہے کیونکہ آیت اس بات کو بیان کر رہی ہے کہ ہادی و عادل افراد بعض مخلوقات ہیں نہ کہ تمام مخلوقات اور جو شخص معصوم نہیں ہے وہ مکمل طور پر ہادی و عادل نہیں ہوتا۔( ۹۱ ) "

عبد اللہ بن سنان کہتے ہیں: میں نے حضرت صادق آل محمدؐ امام جعفر صادق ؑ سے اس آیت کریمہ( وممّن خلقنا أمّة ...) کے بارے میں سوال کیا تو آنجناب نے فرمایا: "ہم الائمۃ؛ آیت سے مراد ائمہ علیہم السلام ہیں۔( ۹۲ ) "

نتیجہ: مفسرین کے اقوال کی روشنی میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر دور میں ایک ہادی برحق و عادل کا ہونا ضروری ہے اور بر بنائے تصریح روایات شیعہ یہ ہادی و عادل صرف و صرف ائمہ اہل بیت علیہم السلام ہی ہیں۔

۸ ۔ آیہ ٔ نذیر

خداوند متعال سورہ فاطر کی آیت نمبر ۲۴ میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَإِن مِّنْ اُمَّة إِلاَّ خلاَ فِيهَا نَذِيرٌ ) ؛( ۹۳ ) " کوئی قوم ایسی نہیں ہے جسے کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو۔"

تبصرہ:

مندرجہ بالا آیت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں حجت خدا ہادی علی الاطلاق کا ہونا ضروری ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: "اے شیعو! خداوند تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:( وَإِن مِّنْ اُمَّة إِلاَّ خلاَ فِيهَا نَذِيرٌ ) عرض کیا گیا:"اے ابا جعفر! لیکن کیا پیغمبر ؐ گرامی قدر اس امت کے نذیر نہیں ہیں؟ "فرمایا: "...صدقت فهل کان نذير و هو حیّ ‏من البعثة فی أقطار الأرض ... ؛ ہاں تم ٹھیک کہتے ہو ، کیا محمد مصطفی اپنے زمانہ حیات میں تمام روئے زمین کے لئے اپنے بعثت کے وقت سے منذر اور ڈرانے والے نہ تھے؟ ۔۔۔ محمد مصطفی اس وقت تک دنیا سے نہیں گئے جب تک کہ آنحضرت نے اپنی جانب سے منذر کو معین نہیں کردیا۔ اگر تم کہتے ہو کہ انھوں نے کسی کو معین نہیں کیا تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آنے والی نسلوں کو ایسے ہی چھوڑ دیا!؟

کسی نے سوال کیا: "کیا امت کی ہدایت و ارشاد کے لئےقرآن کریم کافی نہیں تھا؟" آنجناب نے جواب میں فرمایا: "کیوں نہیں! یقیناً کافی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس کے مفسر و شارح سے متمسک رہیں۔" اس شخص نے عرض کیا: "لیکن کیا خود حضور سرور کائنات نے اس کی شرح و تفسیر بیان نہیں فرمائی تھی؟" حضرت نے فرمایا: "کیوں نہیں! حضور نے ایک فرد واحد کو پورے قرآن کریم کی شرح و تفسیر بیان کردی اوراس کا مقام بھی لوگوں کے سامنے بیان کردیا ہے اور وہ فرد علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ذات ہے۔( ۹۴ ) "

مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں آیا :"لکلّ زمانٍ امامٌ؛ ہر زمانے کے لئے ایک امام ہوتا ہے۔( ۹۵ ) "

نتیجہ:

روایات اہل بیت علیہم السلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے جو منذر اور ڈرانے والا ہو اور یہ انذار کنندہ منصوص من اللہ اور اعلانِ پیغمبر کے ذریعے معین ہونا چاہیے۔ ورنہ زمانہ منذر سے خالی ہوجائے گا اور یہ بات حکمت الٰہی و روایات اہل بیت علیہم السلام کے برخلاف اور شیعہ عقیدہ کے منافی ہے۔

۲ ۔غیبت ا مام عصر (عج) کی تاویل یا تفسیر بیان کرنے والی آیات

اول: سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۳

( الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاة وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ) ؛ جو لوگ غیبت پر ایمان رکھتے ہیں پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں۔"

تبصرہ:

لغوی اعتبار سے لفظِ "غیب" مصدر ہے جس کے معنی پنہان و مخفی ہونا ہے ۔ مشہور و معروف زبان شناس و لغوی راغب اصفہانی کا کہنا ہے: "الغيب: مصدر، ‏غابت الشمس و غيرها، إذا استترت عن العين ؛( ۹۶ ) لفظ "غیب" مصدر ہے جیسے خورشید وغیرہ کا غائب ہوجانا جب وہ نگاہوں سے پوشیدہ ہوجائے۔

اور اصطلاح میں غیب سے مراد وہ امر ہے جسے حواس سے درک نہیں کیا جاسکتا ۔ کتاب مفرادت راغب میں بیان کیا ہے: "( یؤمنون بالغيب ) ،ما لا يقع تحت الحواس ولا تقتضيه بدائة العقول و إنّما يعلم بخبر الأنبياء ؛( ۹۷ ) آیت میں غیب سے مراد وہ شئ ہے جس کو حواس سے محسوس نہیں کیا جاسکتا ، (یعنی ماورائے حواس ہے) اور انسانی عقل صرف انبیاء کی خبر رسانی ہی کے ذریعہ اُس کا علم پیدا کرسکتی ہے۔"

آیت کریمہ میں غیب سے مراد

آیت کریمہ میں غیب سے مراد کے بارے میں متعدد اقوال ذکر کئے گئے ہیں جن میں سے ہم یہاں چند مہم ترین اقوال کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:

الف: اہل سنت مفسرین کے اقوال

۱ ۔ اللہ عزوجل؛ یعنی ذات پروردگار پر ایمان رکھنا( ۹۸ ) ۔

۲ ۔ الوحی؛ یعنی وحی پر ایمان( ۹۹ ) ۔

۳ ۔القرآن وما نزل فيه من الغيوب ؛ قرآن اور اس میں نازل ہونے والے غیبی ا مور( ۱۰۰ ) ۔

۴ ۔ما غاب من العباد من أمر الجنة و النّار و نحو ذلک ؛ وہ چیزیں جو بندگانِ خدا سے غائب و پنہان ہیں مثلاً جنت و دوزخ وغیرہ( ۱۰۱ ) ۔

۵ ۔الغيب کلّ ما أخبر به الرسول مما لا تهتدی إليه العقول من اشراط الساعة و عذاب القبر و ...؛ غیبت سے مراد ہر وہ غائب چیز ہے جس کے بارے میں رسولِ خدا نے خبر دی ہے اور خود عقل انھیں درک نہیں کرسکتی مثلاً قیامت کی علامات اور عذابِ قبر وغیرہ( ۱۰۲ ) ۔

اہل سنت کے معروف مفسر قرطبی ، ابن عطیہ سے نقل کرتے ہیں کہ ان تمام اقوال میں کوئی باہمی تعارض نہیں ہے بلکہ ان تمام پر غیب کا اطلاق ہوتا ہے( ۱۰۳ ) ۔ پس غیب کا مصداق عام ہے۔

ب: شیعہ مفسرین کے اقوال

۱ ۔ غیبت پر ایمان سے مراد، ذاتِ خداوند پر ایمان ہے( ۱۰۴ ) ۔

۲ ۔ اس سے عام مراد ہے اور تمام غیبی امور مثلاً جنت، جہنم، وعد اور وعید وغیرہ سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ روایات اہل بیت علیہم السلام کے مطابق غیبت امام زمانہ علیہ السلام بھی اس کا ایک مصداق ہے کہ پیغمبر گرامی قدر نے جس کی خبر دی تھی۔( ۱۰۵ )

اقوال پر نقد و تبصرہ

شیعہ و اہل سنت مفسرین کے اقوال کی روشنی میں جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں غیب پر ایمان سے مراد ایک عام و وسیع مفہوم ہے اور تمام مذکورہ امور اس میں شامل ہیں کیونکہ آیت کی تفسیر مطلق ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی قید ذکر نہیں کی گئی ہے کہ جو اس کے معنی کو کسی ایک خاص مصداق میں محدود کردے۔

فخر رازی کا کہنا ہے: "شیعوں کا عقیدہ ہے کہ غیب سے مراد مہدی متظر ہیں کہ قرآن میں سورہ نور کی آیت نمبر ۵۵ میں جنکے آنے کی خبر دی گئی ہے، نیز روایات میں بھی پیغمبر گرامی قدر کے فرمودات میں جن کی آمد کی اطلاع دی گئی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "لو لم يبق من الدنيا إلّا يوم لطوّل الله ذالک اليوم حتّی يخرج رجل من أهل بيتی إسمه إسمی و کنيته کنيتی يملأ الأرض عدلاً و قسطاً کما ملئت جوراً و ظلماً ۔"

فخر رازی اس کے بعد کہتے ہیں: "واعلم أنّ تخصيص المطلق من غير الدليل باطل ؛( ۱۰۶ ) بغیر دلیل کے مطلق کو خاص کرنا جائز نہیں ہے۔"

ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ آیت مطلق ہے اور اس کے متعدد مصادیق ہیں اور انہی میں سے ایک مصداق حضرت مہدی موعود علیہ السلام ہیں۔

روائی بحث

روایات اہل سنت

مفسرین اہل سنت نے مذکورہ آیت کے ذیل میں دو قسم کی روایات نقل کی ہیں:

روایات کی پہلی قسم: اس قسم کی روایات میں ایک عام مصداق کو بیان کیا گیا ہے۔

ابو العالیہ اس آیت کریمہ( الذين يؤمنون بالغيب ) کے بارے میں کہتے ہیں:"بالله وملائکته ورسله واليوم الآخر وجنّته وناره ولقائه والحياة بعد الموت ؛( ۱۰۷ ) یہاں غیب سے مراد اللہ تعالیٰ، ملائکہ، رسولوں، روز آخرت، جنت و جہنم اور موت کے بعد زندگی پر ایمان ہے۔"

اس روایت کے علاوہ بھی دیگر ایسی روایات موجود ہیں جن میں کم و بیش غیب کے مصادیق بیان کئے گئے ہیں۔( ۱۰۸ )

روایات کی دوسری قسم: اس قسم کی روایات میں ایک مخصوص مصداق کو بیان کیا گیا ہے۔

انس بن مالک نے حضور سرور کائنات جناب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے کہ ایک دن آنحضرت نے اپنے اصحاب سے خطاب کے دوران فرمایا: "أیّ الخلق أعجب إيمانا؟" ‏قالوا: "الملائکة." "... ولکنّ أعجب الناس إيماناً، ‏قوم يجيئون من بعدکم فيجدون کتاباً من الوحي، ‏فيؤمنون به ويتبعونه فهولاء أعجب الناس إيماناً "( ۱۰۹ ) ؛ ایمان کے اعتبار سے کون سی مخلوق عجیب ترین ہے؟" کہا: "ملائکہ"۔ (فرمایا: نہیں) بلکہ ایمان کے اعتبار سے عجیب ترین لوگ وہ ہیں جو تمہارے بعد آنے والے ہے، وہ قرآن و وحی کو پائیں گے اس پر ایمان رکھیں گے اور اس کی پیروی کرتے ہوں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان کے اعتبار سے عجیب ترین مخلوق ہیں۔"

قندوزی حنفی اپنی کتاب ینابی ع المودہ میں جابربن عبد اللہ انصاری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن جندل بن جنادۃ بن جبیر یہودی پیغمبر گرامی قدر کی زیارت سے مشرف ہوا اور عرض کی: "یا رسول! اپنے بعد آنے والے اوصیاء کا مجھے تعارف کرا دیجئے تاکہ میں ان کی طرف مائل اور ان سے متمسک رہوں۔" آنحضرت نے فرمایا: میرے بارہ اوصیاء ہوں گے، ان میں پہلے سید الاوصیاء، اور ابو الائمۃ الاطہار ہیں ۔۔۔ پھر ان کے بعد ان کے فرزند محمد ؑ ہیں جنہیں مہدی، قائم و حجت کہا جائے گا اور وہ لوگوں کی نگاہوں سے غائب ہوجائیں گے اور جب ظاہر ہوں گے تو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے پُر کردیں گے جس طرح زمین ظلم و جور سے بھری ہوگی، خوشبحال ہوں زمانہ غیبت میں صبر کرنے والے اور خوشبحال ہے وہ شخص جو انھیں محبوب رکھتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں خداوند عالم نے اپنی مقدس کتاب میں یہ وصف بیان بیان کی ہے:( هدی للمتقين الذين یومنون ...) ۔۔۔( ۱۱۰ ) "

شیعہ روایات

شیعہ منابع میں بھی مذکورہ آیت کے ذیل میں دو قسم کی روایات پائی جاتی ہیں:

روایات کی پہلی قسم: اس قسم کی روایات میں ایک عام مصداق بیان کیا گیا ہے۔

ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "يصدّقون بالبعث والنشور والوعد والوعيد ؛( ۱۱۱ ) ایسے بھی افراد ہیں جو قبروں سے اٹھائے جانے، روز حشر اور خدائی وعد و وعید کی تصدیق کرتے ہیں۔"

اس جیسی دیگر روایات بھی موجود ہیں جن میں ایسے مصادیق کا تذکرہ کیا گیا ہے جو ان آنکھوں سے مشاہدہ نہیں کئےجاسکتے بلکہ صرف عقلی دلائل کے ذریعہ قابل شناخت ہیں جیسے جنت و جہنم وغیرہ( ۱۱۲ ) ۔

روایات کی دوسری قسم: اس قسم کی روایات میں ایک خاص مصداق کو بیان کیا گیا ہے۔

یحیی بن ابو القاسم کہتے ہیں: میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں سوال کیا:( الم... الذين يؤمنون بالغيب ) تو حضرت ؑ نے فرمایا:""المتقون" شيعة علیّ و "الغائب" فهو الحجّة الغائب ؛( ۱۱۳ ) متقین سے مراد شیعیان علی ؑ اور غیب پر ایمان سےمراد حضرت بقیۃ اللہ الاعظم ہیں جو غائب ہوجائیں گے۔"

نتیجہ گیری

فریقین کی روایات میں کسی قسم کا کوئی تضاد موجود نہیں ہے بلکہ روایات کی پہلی قسم عام مصداق کو بیان کر رہی ہیں جبکہ دوسری قسم خاص مصداق کو بیان کر رہی ہیں۔ لیکن چونکہ مہدویت کے سلسلہ میں فریقین کی روایات میں ذکر ہوا ہے کہ حضور سرور کائنات نے حضرت مہدی (عج) کی آمد کی بشارت دی ہے لہذا اس سے مہدی موعود کو غیب کا ایک مصداق قرار دیا جاسکتا ہے۔ نیز قندوزی نے پیغمبر گرامی سے ایسی ہی ایک روایت نقل کی ہے جو شیعہ دعویٰ کو ثابت کرتی ہے۔

دوئم: سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۲۸

( لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ اَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذ لِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللهِ فِى شَيْءٍ إِلاَّ اَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاة وَيُحَذِّرُكُمُ اللّهُ نَفْسَهُ وَإِلَي اللهِ الْمَصِيرُ ) ؛ خبر دار! صاحبان ایمان، مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا ولی و سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔"

اس آیت کریمہ کے ذیل میں عمار ساباطی سے ایک مفصل روایت نقل کی گئی ہے جس میں عصر غیبت میں تقیّہ کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے:

عمار ساباطی کہتے ہیں: میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت اقدس میں عرض کیا: "أيّما أفضل العبادة فی السِرّ مع الإمام منکم ‏المستتر فی دولة الباطل أو العبادة فی ظهور الحقِّ ودولتِه مع الإمام الظاهر؟ ؛ ان دونوں میں کون سی عبارت بہتر ہے حکومتِ باطل کے زمانہ میں آپؑ اہل بیت میں سے امام غائب کے ساتھ پوشیدہ عبادت یا حکومت حق میں امام ظاہر کے ساتھ آشکار عبادت؟"

حضرت نے فرمایا: اے عمار"الصّدَقة فی السرِّ والله أفضلُ من الصدقة فی علانية وکذالک والله عبادتُکم فی السرّ مع إمامکم المستتر فی دولة الباطل ...؛( ۱۱۴ ) خدا کی قسم پوشیدہ صدقہ، آشکار صدقہ سے بہتر ہے، اسی طرح بخدا باطل حکومت کے دور میں غائب امام کے ساتھ تمہاری پوشیدہ عبادت اس سے افضل و بہتر ہے جو برحق حکومت کے زمانہ میں ظاہر و آشکار برحق امام کے ساتھ آشکار طور پر انجام دی جائے، باطل حکومت میں خوف کے عالم میں عبادت برحق حکومت میں آسائش کے ساتھ عبادت کے برابر نہیں۔"

یہ روایت غیبت امام عصر (عج) پر دلالت کر رہی ہے کیونکہ اس میں عصر غیبت میں تقیہ اور صدقہ دینے کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔

سوئم: سورہ لقمان ( ۳۱) آیت نمبر ۲۰

( اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَة وَبَاطِنَة وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِى اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلاَ هُدًى وَلاَ كِتَابٍ مُّنِيرٍ ) ؛ کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے اور تمہارے لئے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کو مکمل کردیا ہے اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو علم و ہدایت اور روشن کتاب کے بغیر بھی خدا کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔

تبصرہ

مندرجہ بالا آیت کریمہ میں خالق کائنات لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی بے شمار نعمتوں کی طرف متوجہ کر رہا ہے کہ کیا تم لوگ زمین و آسمان اور کائنات کے حیرت انگیز نظام کو نہیں دیکھتے کہ خداوند عالم نے کس طرح اس نظام کائنات کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ تم لوگ اس نظام تخلیق سے بہرہ مند ہو کر اور اس کی نعمتوں سے استفادہ کرکے حد کمال تک پہنچ سکو؟ خداوند عالم نے اس معاملہ میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی یا کمی نہیں کی ہے، اس نے تمہیں تمام ظاہری و باطنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ نعمت کا اطلاق اس چیز پر ہوتا ہے جو انسان کی طبع و وجود کے ساتھ سازگار ہو۔ خدا کی طرف سے عطا ہونے والی نعمتیں ظاہری بھی ہیں جنہیں انسان بآسانی محسوس کرسکتا ہے، مثلاً نعمتوں سے نوازا ہے۔ مثلاً اعضائے بدن، سلامتی و رزق پاک و طیب، اور اس نے انسان کو باطنی شعور، ارادہ اورعقل جیسی باطنی نعمتوں سے بھی نوازا ہے۔ ہر چند لطف الٰہی نہایت روشن و غیر قابل انکار ہے لیکن اس کے باوجود بعض لوگ ناحق ، حق کے مدّ مقابل محاذ آرای شروع کردیتےہیں اور بغیر علم و دانش حقائق کا انکار کردیتے ہیں۔ یہ لوگ علم و عقل، حقائق، الہامات الٰہی اور کتب آسمانی پر تکیہ کئے بغیر ناقابل اعتماد دلائل کا سہارا لیکر حقیقت و واقعیت کا انکار کردیتے ہیں!

روایات اہل بیت علیہم السلام میں نعمت ظاہر و با طن کے مصادیق میں سے ایک مصداق امام ظاہر و امام غائب کو بیان کیا گیا ہے۔ محمد بن زیاد ازدی کہتےہیں: میں نے حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہما السلام سے اس کلام خدا( و أسبغ علیکم ) کے بارے میں دریافت کیا تو آنجناب ؑ نے فرمایا: "ظاہری نعمت سے مراد امام ظاہر اور باطنی نعمت سے مراد امام غائب ہیں۔" میں نے عرض کیا: "مولا! کیا ائمہ معصومین ؑ میں سے کوئی امام غیبت اختیار کرے گا؟" آپ ؑ نے فرمایا: "ہاں وہ خود لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگا مگر اس کا ذکر مومنین کے قلوب میں رہے گا۔ وہ ہم میں سے بارہویں امام ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لئے ہر مشکل کو آسان اور ہر سختی کو سہل کردے گا۔ ان کے لئے زمین کے خزانے آشکار ہوں گے، ہر فاصلہ قربت میں تبدیل ہوجائے گا۔ ہر جابر ان کے ہاتھوں ہلاک ہوجائے گا اور تمام شیاطین ان کے ہاتھوں ہلاک ہوجائیں گے۔"( ۱۱۵ )

مذکورہ آیت کریمہ سے مختلف نکات اخذ کئے جاسکتے ہیں جن میں سے ہم ذیل میں سے بعض نکات بیان کر رہے ہیں:

۱ ۔ نعمت وہ چیز ہے جو انسان کی سرشت کے موافق ہو اور کمال تک پہنچنے میں اس کی مدد گار ہو۔ امام غائب کو نعمت باطن سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ انکی غیبت کی وجہ سے لوگوں کو بعض مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس کے باوجود انسان کے کمال میں خاص طور پر اثر انداز ہے کہ جس سے انسانوں کو غافل نہیں رہنا چاہیے؛ مثلاً خاص امتحان اور فراواں اجرو پاداش وغیرہ۔

۲ ۔ خداوند عالم نے بہترین نظام تخلیق کیا ہے او رانسانوں پر نعمت امامت کو تمام کیا ہے، لیکن اس عظیم نعمت سے استفادہ خود انسان کی اپنی صواب دید پر ہے، وہ اس نعمت سے بہرہ مند ہونے پر مجبور نہ ہو بلکہ خود مختار ہونا چاہیے۔

۳ ۔ امام غائب نعمت ہے؛ لہذا اس سے بہرہ مند ہونا ممکن ہونا چاہیے، البتہ مومن کے لئے غیبت امام کا مطلب دل سے غائب ہونا نہیں ہے بلکہ فقط نگاہوں سے غائب ہونا ہے لہذا ہر وقت مومن کے دل میں امام کی یاد زندہ و تابندہ رہتی ہے اور یہی امر اس کی بالیدگی اور رشد و کمال کا سبب بنتا ہے۔

۴ ۔ امام ، خدائے متعال کی کامل نعمت ہے؛ پس اس کا ظہور و غیبت لوگوں کی مدد کرنے اور بہرہ مند ہونے میں کوئی خاص اہمیت کا حامل نہیں، اسی لئے پیغمبر گرامی قدر اور ائمہ اطہار حتیٰ کہ خود امام زمانہ ؑ نے امام غائب کو پس ابر سورج سے تشبیہ دی ہے۔

چہارم: سورہ ملک ( ۶۷) آیت نمبر ۳۰

( قُلْ اَرَاَيْتُمْ إِنْ اَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْراً فَمَن يَاْتِيكُم بِمَاء مَّعِينٍ ) ؛ "کہہ دیجئے کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارا سارا پانی زمین کے اندر جذب ہوجائے تو تمہارے لئے چشمہ کا پانی بہا کر کون لائے گا؟"

تبصرہ

آیت کریمہ میں موجود لفظ "أَرَأَیتُم"،همزهٔ استفهام اور فعل "رَأَیتُم " سے مرکب ہے جو "أخبرونی " (مجھے خبر دو) کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور قرآن کریم میں تیس سے زائد بار یہ ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ یہ ترکیب ایسے موارد میں استعمال ہوئی ہے جہاں نہایت غور وفکر اور مخاطبین کی توجہ کو ابھارا گیا ہے۔

لفظ "معین" ، "معن" (بروزن طعن) کے مادے سے جاری پانی کے معنی میں ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ "عین" سے لیا گیا ہے اور اس کی میم زائدہ ہے جس کے معنی ظاہر و نمایاں کے ہیں اس لیئے بعض مفسرین نے معین کو اس پانی کے معنی میں لیا ہے جو آنکھ سے دیکھا جاسکے اگرچہ وہ جاری نہ ہو۔

زمین دو قسم کے مختلف قشروں سے بنی ہوئی ہے: "نفوذ پذیر قشر" جو پانی کو اپنے اندر لے جاتا ہے اور اس کے نیچے "نفوذ ناپذیر" قشر ہے جو پانی کو وہیں محفوظ رکھتا ہے، تمام چشمے، کنوئیں، ندی، نالے اسی خاص ترکیب کی برکت سے وجود میں آئے ہیں ۔ کیونکہ اگر تمام روئے زمین زیادہ گہرائیوں تک نفوذ پذیر قشر ہوتی تو پانی اتنا نیچے چلا جاتا کہ ہرگز اس تک کسی کی رسائی نہ ہوتی۔ اگر وہ ساری کی ساری نفوذ ناپذیر ہوتی تو روئے زمین کے تمام پانی اس کے اوپر ہی کھڑے رہتے اور دلدل اور کیچڑ میں تبدیل ہوجاتے یا جلدی سمندروں میں جا پڑتے اور اس طرح سے پانی کے زیر زمین ذخیرے ہاتھ سے نکل جاتے۔

یہ خداوند عالم کی عام رحمت کا ایک چھوٹا سانمونہ ہے کہ جس سے انسان کی موت و حیات شدت کے ساتھ وابستہ ہے۔( ۱۱۶ )

بنابرین ، گرچہ آیت کریمہ ظاہری طور پر انسانی زندگی میں جاری پانی کی اہمیت ہی سے مربوط ہے لیکن اہل بیت ؑ سے ہم تک پہنچنے والی متعدد روایات میں وجود حضرت مہدی (عج) کو جاری پانی کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔

معتبر روائی منابع میں حضرت امام محمد باقر و دیگر ائمہ طاہرین سے روایت کی گئی ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت امام عصر (عج) کے بارے میں ہے:

"هذِه نَزَلَت فی القائم يقول: إن أصبح إمامکم غائباً عنکم لا تدرون أين هو فمن يأتيکم بإمامٍ ظاهرٍ يأتيکم بأخبار السماء والأرض وحلال الله جلّ‌وعزّ وحرامه. ثمّ قال والله ما جاء تأويل الآية ولابُدّ أن يجيئ تأويلها ؛( ۱۱۷ ) یہ آیت امام قائم کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اگر تمہارا امام تمہاری نظروں سے غائب ہوجائے اور تم کو معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں چلے گئے توکون تمہارے لئے امام ظاہر کو بھیجے گا جو آسمانوں اور زمین کی خر یں اور خدا کے حلال و حرام کو تمہارے لئے بیان کرے، اس کے بعد فرمایا: خدا کی قسم اس کی تاویل ابھی تک نہیں آئی اور بالآخر یہ آکر رہے گی۔"

تھوڑے تدبر سے ہم اس بات کو محسوس کرسکتے ہیں کہ "ماء" یعنی پانی کو جو کہ انسان کی مادی زندگی کا سرچشمہ ہے وجود امام زمانہ (عج) سے جو کہ انسانی معاشرے کی حیات معنوی کا سبب ہے، تفسیر کرنا ایک بالکل مناسب، قابل فہم اور قابل قبول امر ہے۔ انسانی معاشرے میں امام کے وجود کی مثال پانی جیسی ہے، البتہ ان دونوں کے درمیان اور بھی مختلف شباہتیں پائی جاتی ہیں:

۱ ۔ قرآن کریم میں پانی کو تمام زندہ موجودات کاسرچشمہ قرار دیا گیا ہے:( وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ اَفَلاَ يُؤْمِنُونَ ) ؛( ۱۱۸ ) " اور ہم ہی نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے، تو کیا اس پر بھی یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے؟( ۱۱۹ ) "

امامت حضرت مہدی (عج) بھی انسان کی فکری ومعنوی زندگی کا سرچشمہ ہے جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

"إذا قام قائمُنا وضع الله يده علی رؤوس العباد فجمع بها عقولهم و کملت بها أحلامهم ؛( ۱۲۰ ) جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو اللہ اپنے بندوں پر اپنا دست کرم قرار دے گا اور اس طرح وہ انکی عقلوں کو یکجا کرے گا اور انکے فہم و فراست کو کمال عطا کرے گا۔"

۲ ۔ جس طرح پانی کا نزول ، عالم بالا سے ہوتا ہے، اسی طرح موضوع امامت حضرت مہدی اور ان کا ظہور بھی ایک آسمانی امر ہے۔ قرآن کریم نے نزول آب کے بارے میں فرمایا ہے:( و أنزل من السماء ماءً ) ( ۱۲۱ ) ؛ "اور اللہ نے پانی آسمان سے نازل کیا ہے۔" اور امامت کے بارے میں فرمایا ہے:( ولا ينال عهدی الظالمين ) ( ۱۲۲ ) ؛ میری طرف کا یہ عہدہ( ۱۲۳ ) ظالموں تک نہیں پہنچے گا (ترجمہ: علی نقی نقوی)۔

۳ ۔ پانی پاکیزگی و رفع آلودگی کا سبب ہے، اسی طرح حکومت حضرت مہدی (عج) بھی دلوں کی طہارت و پاکیزگی کا سرچشمہ ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "لو قد قام قائمنا... لذهبت الشحناء من قلوب العباد ( ۱۲۴ ) ؛ اگر ہمارے قائم کا قیام ہوجائے ۔۔۔ تو بندوں کے دلوں سے کینہ و دشمنی نابود ہوجائے۔"

بس یاد رہے کہ جس طرح اگر پانی زمین کی نہایت تہہ میں چلا جائے تو کوئی بھی اسے زمین کی تہہ سے نہیں نکال سکتا اور انسان اپنی تمام تر توانائیوں کےباوجود اس تک دسترسی پیدا نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر امام وقت ارادۂ پروردگار سے پس پردہ غیبت چلا جائے تو لوگ اپنے درمیان سے امام کا انتخاب نہیں کرسکتے بلکہ وہ ہمیشہ امام و پیشوا آسمانی ہی کے محتاج رہیں گے۔ لہذا بندوں کو اسی کا خواہاں ہونا چاہیے اور خداوند عالم سے اس کے ظہور کی دعا کرنی چاہیے کہ جس طرح پانی کے عدم وجود کے موقع پر خداوند قدوس سے دعا کرتے ہیں کہ ان کے چشموں کو جاری کردے۔

سلسلۂ امامت کی ساتویں کڑی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اپنے بھائی علی بن جعفر سے اس آیت کی تاویل کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ "إذا فقدتم إمامکم فلم تروه فماذا تصنعون ؛( ۱۲۵ ) جب تمہارے امام تم سے غائب ہوجائیں اور تم انہیں دیکھ نہ سکو گے تو کیا کرو گے؟!"

پس ہمارے اس بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آیت کا مضمون امام زمانہ (عج) کے عصر غیبت سے متعلق ہوسکتا ہے، جیسا کہ سرور کائنات نے جب اپنے بعد آنے والے ائمہ اثناءعشر سے باخبر فرمایا تو عمار یاسر نے حضرت مہدی (عج) کے بارے میں سوال کیا۔ آنحضرت نے اس موقع پر فرمایا: "اے عمار! خداوند عالم نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ نسل حسین علیہ السلام سے نو امام قرار دے گا جن میں سے نواں امام غائب ہوجائے گا اور یہ وہ فرمان خداوندی ہے کہ جس میں وہ فرماتا ہے:( قُلْ اَرَاَيْتُمْ إِنْ اَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْراً فَمَن يَاْتِيكُم بِمَاء مَّعِينٍ ) اس (مہدی) کی غیبت اتنی طولانی ہوگی کہ جس میں بہت سے لوگ اس کی امامت سے منحرف ہوجائیں گے جبکہ دوسرا گروہ اس کی امامت پر ثابت قدم رہے گا، وہ آخر الزمان میں قیام کرے گا اور دنیا کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ اس سے قبل ظلم و جور سے بھری ہوگی۔( ۱۲۶ ) "

پنجم :سورہ تکویر ( ۸۱) آیت نمبر ۱۵ اور ۱۶

( فَلاَ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ )

کتاب غیبت نعمانی میں مرقوم ہے کہ اس آیت کریمہ کے بارے میں امّ ہانی کے سوال کے جواب میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:"إمامٌ يخنس نفسه حتّی ينقطع عن الناس علمه، ‏سنة ستّين و مأتين، ‏ثمّ يبدو کالشهاب الواقد فی الليلة الظلماء فإن أدرکت ذالک الزمان، ‏قرّت عينک ( ۱۲۷ ) ؛ اے امّ ہانی اس سے مراد وہ امام ؑ ہیں جو لوگوں سے ۲۶۰ ھ میں اس طرح دور چلیں جائیں گے کہ انکے بارے میں لوگوں کی معلومات منقطع ہوجائیں گی اور پھر (وقت ظہور) اس طرح ظاہر ہوں گے جس طرح تاریک رات میں روشن ستارے ظاہر ہوتے ہیں اگر تم اس زمانے کو پاؤ تو تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہوگا۔"

یہی روایت جناب شیخ صدوق نے کتاب کمال الدین( ۱۲۸ ) اور شیخ طوسی نے کتاب الغیبۃ( ۱۲۹ ) میں اس آیت کریمہ کے ذیل میں نقل کی ہے۔ نیز تفسیر نور الثقلین( ۱۳۰ ) میں بھی اسی آیت شریفہ کے ذیل میں نقل کی گئی ہے۔

ششم: سورہ نمل ( ۲۷) آیت نمبر ۶۲

( اَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاء الاَرْضِ اَإِلَهٌ مَّعَ اللهِ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ ) ؛ "وہ بھلا کون ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم لوگوں کو زمین کا وارث بناتا ہے۔ کیا خدا کے ساتھ کوئی اور خدا ہے، نہیں بلکہ یہ لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں۔"

کتاب غیبت نعمانی میں اسماعیل بن جابر نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "اس صاحب امر کے لئے یہاں ایک وادی میں غیبت ہوگی اور یہ کہہ کر آپ نے مکہ کے اطراف میں واقع ذی طوی نامی پہاڑ کی طرف اشارہ فرمایا۔"

پھر آنجناب ؑ نے فرمایا: "بخدا وہ وہی مضطر ہے کہ جس کے بارے میں یہ فرمان خداوندی:( أمّن يجيب المضطرّ إذا دعاه ...) نازل ہوا ہے۔( ۱۳۱ ) "

ہفتم: سورہ مدثر ( ۷۴) آیت نمبر ۸

( فَإِذَا نُقِرَ فِى النَّاقُورِ ) ؛ " پھر جب صور پھونکا جائے گا۔"

مفضل ابن عمر سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے جب اس فرمان الٰہی( فَإِذَا نُقِرَ فِى النَّاقُورِ ) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آنجناب نے فرمایا:"إنّ منّا إماماً مستتراً فإذا أراد الله عزّوجلّ ذکره إظهار أمره نکت فی قلبه نکتة فظهر فقام بأمر الله عزّوجلّ ( ۱۳۲ ) ؛ ہم اہل بیت علیہم السلام میں سے ایک امام ہوگا جو پوشیدہ ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ وہ ظاہر ہو تو اس کے دل میں ایک نکتہ پیدا کر دے گا پس وہ ظاہر ہوجائے گا اور حکم خدا نافذ کرے گا۔"

ہشتم: سورہ حدید ( ۵۷) آیت نمبر ۱۶

( وَلاَ یَكُونُوا كَالَّذِينَ اُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ) ؛ اور ان اہل کتاب کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں کتاب دی گئی تو ایک عرصہ گزرنے کے بعد ان کے دل سخت ہوگئے اور ان کی اکثریت بدکار ہوگئی۔"

عالم بزرگوار جناب شیخ نعمانی( ۱۳۳ ) کہتے ہیں: محمد بن ہمام نے اپنی اسناد سے مجھ سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ روایت بیان کی کہ آنجناب ؑ نے فرمایا: یہ آیت کریمہ( ولا يکونوا کالذين ...) زمانہ غیبت کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔"

آیت میں موجود لفظ "أمَد " یعنی مدت کے طولانی ہونے سے مراد حضرت قائم کی مدت غیبت کا طولانی ہونا ہے ۔ بنابریں اس آیت کی تاویل عصر غیبت سے قبل کے لوگوں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ زمانہ غیبت کے لوگوں کے بارے میں ہے۔ خداوند عالم چاہتا ہے کہ وہ اپنی حجت کے بارے میں شیعوں کو شک سے نجات دے یا یہ کہ شیعوں کو معلوم ہوجائے کہ خداوند عالم زمین کو ایک لحظہ کے لئے بھی حتج سے خالی نہیں چھوڑتا ۔

جیسا کہ حضرت امیر المومنین ؑ نے کمیل بن زیاد سے فرمایا: "پروردگار! اپنی زمین کو حجت آشکار و شناختہ شدہ یا ہراسان وغائب سے خالی نہ چھوڑنا۔"

شیخ نعمانی اوائل عصر غیبت کے بزرگ عالم دین ہیں اور یہ نواب اربعہ کے ہم عصر تھے، یہ اپنی کتاب غیبت کے آغاز میں تحریر فرماتے ہیں:"ہم لوگوں میں ایسے افراد دیکھ رہے ہیں جو اپنے آپ کو شیعہ کہتے ہیں لیکن وہ لوگ غیبت امام زمانہ کے بارے میں حیران و پریشان اور پراکندہ ہوگئے ہیں اور صرف تھوڑے سے افراد اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہے ہیں! حالانکہ امام زمانہ کی غیبت ایک ایسا امتحان ہے کہ جس کے بارے میں پہلے ہی پیغمبر گرامی قدر، امیر المومنین و دیگر ائمہ طاہرین اس کے بارے میں باخبر کرچکے ہیں اور مسلمانوں کو اشتباہ و گمراہی میں پڑنے سے خبر دار فرمایا تھا اورواضح طور پر فرمایا تھا کہ یہ غیبت خداوند عالم کی جانب سے ایک امتحان ہے جس کے ذریعہ پروردگار اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا تاکہ نیک لوگ، بدکاروں سے ممتاز ہوجائیں۔

اسی لئے بہت سے لوگ شک و تردید اور حیرانی و سرگردانی کا شکارہوگئے اور وادی ضلالت و گمراہی میں جا پڑے ہیں! اور یہ صرف روایات کے بارے میں کم علمی اورعدمِ درایت و فہم کی بناء پر ہے۔ یہ لوگ روایات کو ان کے اصلی مآخذ و معادن سے حاصل کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ (یعنی پیغمبر گرامی قدر و ائمہ اطہار سے نقل شدہ صحیح السند احادیث)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "یاد رکھو! ہمارے نزدیک ہمارے شیعوں کا مقام و مرتبہ اسی قدر ہے کہ جتنا انہوں نے ہماری احادیث کو اخذ و حفظ کیا ہے اورحقائق دین کو حاصل کیا ہے؛ کیونکہ روایت میں درایت و فہم بہت ضروری ہے اور یاد رکھو! کہ ایک روایت کے معنی کو سمجھنا سو ایسی روایات نقل کرنے سے بہتر ہے جن کے معنی نہ سمجھتے ہوں۔( ۱۳۴ ) "

غیبت امام زمانہ سے منحرف ہونے والے اکثر افراد کا یہی حال ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ از روئے نادانی، بہت سے دنیا پرستی، بعض ضعیف ایمان کی وجہ سے حق سے منحرف ہوکر مخالفین سے جاملے ہیں۔

پھر آنجناب ؑ نے راوی سے فرمایا: "کیا تم نے بعد والی آیت کو ملاحظہ کیا جس میں خداوند عالم فرماتا ہے:( إعْلَمُوا اَنَّ اللهَ يُحْيِى الاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ) ، خداوند عالم ظہور کے بعد عدالت قائم کے ذریعہ ظالمین کے ظلم و بربریت کی وجہ سے مردہ ہوجانے والی زمین کو دوبارہ زندہ کرے گا۔۔۔( ۱۳۵ ) "

(ب) دلائل روائی

غیبت امام عصر پر دلالت کرنے والی احادیث کو دو دستوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

دستہ اول: عام روایات

ہم یہاں پہلے مسئلہ امامت کو بیان کرنے والی چند روایات پیش کریں گے جن کے ذریعہ حضرت امام مہدی (عج) کی امامت کو ثابت کیا جائے گا اس کے بعد انہی روایات کے مفہوم کے ذریعے غیبت امام عصر (عج) کو ثابت کریں گے۔

اول: حدیث ثقلین

تقریباً ۳۴ اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ مسلم، ترمذی اور احمد بن حنبل جیسے اہل سنت کے ۲۸۷ بزرگ علماء نے اپنی اپنی کتب میں نقل کیا ہے اور اس بات کی تصریح کی ہے کہ پیغمبر گرامی قدر نے یہ حدیث مختلف مقامات و مواقع پر بیان فرمائی ہے۔( ۱۳۶ )

مسلم( ۱۳۷ ) و ترمذی( ۱۳۸ ) جو کہ صحاح و سنن کے مؤلفین میں سے ہیں، ان دونوں نے لفظ "اہل بیت" پر تاکید کی ہے۔

ان کے علاوہ نیشابوری اپنی کتاب "مستدرک" میں، ابن حجر کتاب "صواعق" میں، سیوطی کتاب "جامع الصغیر" میں اور ملک العلماء کتاب "ہدایۃ السعداء" میں اُس حدیث کے مقابلے میں کہ جس میں لفظ "اہل بیتی" کے بجائے لفظ "سنتی" آیا ہے اس حدیث کے صحیح السند ہونے پر تاکید کر رہے ہیں۔ جبکہ لفظ "سنتی" بیان کرنے والی حدیث مجہول ہے کہ جس میں ضعف سند کے علاوہ اس کے جعلی ہونے کا احتمال بھی پایا جاتا ہے۔( ۱۳۹ )

اہل بیت در حدیث ثقلین

لفظ "اہل بیت ؑ" کوئی نیا ایجاد کردہ لفظ نہیں ہے بلکہ خود قرآن کریم میں موجود ہے، خداوند عالم کا ارشاد پاک ہے:

( إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً) ( ۱۴۰ )

سنن ترمذی، مسلم، مسند احمد اور عبد بن حمید میں انس ابن مالک سے نقل کیا گیا ہے: "إنّ رسول‌الله کان يمرّ بباب فاطمة ستة أشهر إذا خرج إلی صلاة الفجر يقول: الصلاة يا أهل البيت إنّما يريد الله ليذهب. .. ؛ حضور سرور کائنات اہل بیت کے معنی سمجھانے کے لئے چھ ماہ تک روزانہ نماز صبح کے وقت در خانۂ حضرت زہرا کے سامنے سے گزرتے ہوئے فرماتے: اے اہل بیت! بتحقیق خداوند عالم کا ارادہ یہ ہے کہ ۔۔۔"

اہل بیت وہی افراد ہیں جو مباہلہ میں موجود تھے۔ مسلم نیشابوری نے سعد بن وقاص سے نقل کیا ہے کہ جب (آیہ مباہلہ)( نَدْعُ اَبْنَاءنَا وَاَبْنَاءكُمْ ) ( ۱۴۱ ) نازل ہوئی تو رسول خداؐ نے علی ؑ اور فاطمہ و حسن و حسین علیہم السلام کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: "اللّهمّ هٰؤلاءِ أهلي ؛ اے اللہ ؛ یہی میرے اہل بیت ہیں۔( ۱۴۲ ) "

اہل بیت وہی حضرات ہیں جنکے بارے میں حدیث کساء بیان ہوئی ہے۔( ۱۴۳ )

بعض اسناد کے مطابق حدیث ثقلین میں لفظ "اہل بیت" کے بجائے یا اس کے ساتھ لفظ "عترت" بھی استعمال ہوا ہے۔ زید بن ثابت کہتے ہیں: "قال رسول‌الله إنّی تارک فيکم الثقلين خلفی کتاب الله و عترتی فإنّهما لن يفترقا حتّی يردا علیّ الحوض ؛ ھربی محمد بن اسحاق سے نقل کرتے ہیں کہ : "ہذا حدیث صحیح"( ۱۴۴ ) ۔

حدیث ثقلین کے انداز سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی عترت کو قرآن کے ہمراہ قرار دیا ہے۔ عترت سے کون لوگ مراد ہیں؟ اور پیغمبر اسلام ؐ نے اپنی عترت کے کن افراد کو قرآن کے مرادف اور ثقل اصغر قرار دیا ہے؟

ابن اثیر (متوفی ۶۰۶ ہجری قمری) کہتے ہیں: "عترت، انسان کے خاص ترین او ر نزدیک ترین رشتہ داروں کو کہا جاتا ہے اور عترت رسول اللہ، فرزندان فاطمہ زہرا ہیں۔"

ابن اثیر کا بھی یہی قول ہے۔( ۱۴۵ )

پس یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ حدیث ثقلین میں عترت و اہل بیت ؑ سے مراد محدود افراد ہیں اور تمام پیغمبر اکرم سے منسوب ہونے والے افراد اس میں شامل نہیں ہیں بلکہ قرآن کریم کے ہمسر ہونے کی وجہ سے صرف وہی افراد ہیں جن میں خاص امتیازات پائے جاتے ہیں۔ یہ حضرات قرآن کے ہمسر ہیں اور اسی کی طرح اہمیت کے حامل ہیں اور ان سے تمسک لغزش و انحراف سے مانع ہے۔ جیسا کہ علامہ مناوی کہتے ہیں: "والمراد بعترته هنا العلماء العاملون إذ هم الذين لا يفارقون القرآن ( ۱۴۶ ) ؛ عترت پیغمبر اسلامؐ سے مراد انکے خاندان کے صرف باعمل علماء ہی ہیں؛ کیونکہ یہ حضرات کبھی بھی قرآن سے جدا نہیں ہوتے۔"

چند نکات

اس حدیث شریف کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ حضور ؐ سرور کائنات نے دو گرانقدر چیزوں کو اپنی رسالت کا ما حصل قرار دیا ہے۔ ایک کتاب خدا اور دوسری آنحضرت کی وہ پاکیزہ عترت ہے جو قیامت تک قرآن سے جدائی ناپذیر اور لوگوں کی ہدایت و نجات کا ذریعہ ہے۔ ان دونوں کا ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم سمجھنا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے، لہذا یہ حدیث مختلف جہات سے نہایت قابل قدر و ارزشمند ہے:

اول: جس طرح تا قیام قیامت کتاب خدا جاوید رہے گی، اسی طرح ہمیشہ اس کے ہمراہ اہل بیت میں سے ایک فرد کا ہونا ضروی ہے، اور یہ بات حدیث میں موجود لفظ "لن یفترقا" سے بخوبی روشن ہوجاتی ہے۔ ابن حجر اپنی معروف کتاب صواعق میں کہتے ہیں:

" اہل بیت ؑ سے متمسک رہنے کی تاکید کرنے والی احادیث اس امر کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ کتاب خدا کی طرح اہل بیت ؑ میں سے قیامت تک ایک لائقِ تمسک فرد کا موجود ہونا ضروری ہے ۔ لہذا یہی حضرات اہل زمین کے لئے وجہ حفظ و بقاء ہیں، اور ان میں تمسک کے لئے سزاوار ترین فرد، امام و عالم حضرت علی ابن ابی طالب ہیں جو فراوان علم و دقیق استنباط سے سرشار ہیں۔ اسی لئے ابوبکر کہتے ہیں: "علی عترت رسول خداؐ ہیں"یعنی یہ انہی افراد میں سے ہیں رسول خدا ؐ نے جن سے متمسک رہنے کا حکم دیا ہے"۔( ۱۴۷ )

دوم:جس طرح قرآن حجت ہے اور سب پر اس کی پیروی کرنا واجب ہے، اہل بیت کی بھی اطاعت و پیروی واجب ہے۔ بنابریں صرف اہل بیت علیہم السلام ہی کو لوگوں کی رہبری و سرپرستی کا حق حاصل ہے۔ ثقل اکبر و ثقل اصغر کے بھی یہی معنی ہیں۔

سوئم: قرآن کریم ہر قسم کے خطا و اشتباہ سے محفوظ ہے اور قرآن کے حقیقی پیروکار کبھی بھی اشتباہ و ضلالت و گمراہی کا شکار نہیں ہوسکتے، پیغمبر گرامی قدر نے اہل بیت ؑ کو قرآن کے ساتھ قرار دیتے ہوئے فرمایا:"اگر ان دونوں سے وابستہ رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت بھی ہر گز خطا سے دچار نہ ہوں گے (یعنی یہ صاحبان عصمت اور معصوم ہیں)؛ کیونکہ اگر یہ خطا سے دوچار ہوجائیں تو پھر لوگوں کو ضلالت و گمراہی سے نجات نہیں دلاسکتے۔

چہارم: اس ہمسری و ہمراہی کا ایک اور نتیجہ یہ بھی ہے کہ صرف اہل بیت ؑ ہی وہ حضرات ہیں جو مکمل طور پر آیات کے صحیح مفہوم اور عمیق و دقیق لطائف لوگوں کو بیان کرسکتے ہیں۔ لہذا قرآن کریم سے صحیح استفادہ کرنے کے لئے ان ذوات مقدس کی رہنمائی و ہدایات سے بہرہ مند ہونا چاہیے۔

پنجم: قرآن علوم و معارف کا بحر بیکراں ہے اور قرآن سے اہل بیت ؑ کا اتصال ان کے عمیق علم و معرفت کی علامت ہے۔

حدیث ثقلین سے اثبات وجود و غیبت امام عصر (عج)

گذشتہ مطالب کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ حدیث ثقلین کی بنا پر ہمیشہ قرآن کے ساتھ اہل بیت ؑ میں سے ایک فرد کا موجود ہونا ضروری ہے۔ احادیث کی روشنی میں عصر حاضر میں حضرت مہدی (عج) ہی حضور سرور کائنات کی اولاد اور انکی عترت و اہل بیت کے فرد فرید ہیں اور ان دو گرانقدر چیزوں میں سے ہیں جن کے بارے میں پیغمبر گرامی قدر نے تاکید فرمائی ہے۔

اب ہم ذیل میں ایسی بعض روایات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:

۱ ۔ مہدی (عج) اہل بیت ؑ میں سے ہیں

"قال رسول‌الله لا تنقضی الأيّام ولا يذهب الدهر حتّی يملک العرب رجل من أهل‌بيتی إسمه يواطی إسمي ( ۱۴۸ ) ؛ رسول خداؐ نے فرمایا: یہ گردش ایام اس وقت تک ختم نہ ہوگی اور دنیا اس وقت تک نابود نہ ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت ؑ میں سے ایک شخص عرب پر حاکم نہ ہوجائے جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا۔"

ابو الحسن محمد بن حسین بن ابراہیم بن عاجم سجزی کہتے ہیں: حضرت مہدی (عج) کی آمد اور یہ کہ وہ پیغمبر گرامی قدر کے اہل بیت ؑ کے ایک فرد ہوں گے، اس سلسلہ میں متواتر و مستفیض روایات و اخبار وارد ہوئی ہیں اور یہ ایک حتمی وعدہ ہے جس کے بارے میں ان اخبار میں اطلاع دی گئی ہے) کہ: حضرت مہدی زمین کو عدل و انصاف سے پُر کردیں گے اور انکا ظہور حضرت عیسیٰ کے ظہور کے ساتھ ساتھ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ دجال کو قتل کرنے میں حضرت مہدی کی مدد کریں گے۔ مہدی اس امت کی پیشوائی و امامت فرمائیں گے جبکہ عیسیٰ انکی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔( ۱۴۹ ) "

۲ ۔ مہدی عترت میں سے ہیں

یوسف بن یحیی مقدسی سلمی اپنی معروف کتاب عقد الدرر کے پہلے باب میں حصہ اول کا یہ عنوان قرار دیتے ہیں: "فی بیان انّه (المهدی) من ذریّة رسول الله و عترته ؛ حضرت مہدی (عج) کے ذریت و عترت پیغمبر ؐ سے ہونے کے بیان میں"۔ اس کے بعد وہ اس سلسلہ میں ۳۴ احادیث نقل کرتے ہیں جن میں سے بعض المعجم الکبیر، سنن ابی داؤد ، سنن ابن ماجہ، مسند احمد اور مستدرک الصحیحین میں نقل ہوئی ہیں۔

بطور نمونہ اس روایت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: "المهدیّ من عترتی من وُلد فاطمة ؛( ۱۵۰ ) مہدی میری عترت و فاطمہ کی اولاد میں سے ہیں۔"

ینابی ع المودۃ میں صاحب جواہر العقدین کے حوالے سے عائشہ کے توسط سے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت نقل کی گئی ہے کہ : "المهدی رجل من عترتی يقاتل علی سنّتی کما قاتلت أنا علی الوحي ؛( ۱۵۱ ) مہدی میری عترت سے ہیں وہ میری سنت کے خاطر اسی طرح جنگ کریں گے جس طرح میں نے وحی کی خاطر جنگ کی ہے۔"

۳ ۔ مہدی ؑ اولاد فاطمہ سے ہیں

بعض اخبار و روایات میں حضور سرو ر کائنات نے حضرت مہدی ؑ کا تعارف یہ کہہ کر کروایا ہے کہ آپؑ فرزندان فاطمہ میں سے ہیں:

قال رسول اللہ: "المهدی هو من وُلد فاطمة ؛( ۱۵۲ ) مہدی اولاد فاطمہ میں سے ہیں۔"

ایک روایت میں جناب امّ سلمہ نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے کہ : "المهدی من عترتی من وُلد فاطمة ؛ مہدی میری عترت و اولاد فاطمہ سے ہیں۔( ۱۵۳ ) "

حافظ ابو القاسم عبد الرحمن نخعی سہیلی کتاب شرح سیرہ رسول اللہ میں عالمین کی خواتین پر حضرت فاطمہ ؑ زہرا کی فضیلت و برتری کے بارے میں رقمطراز ہیں: "حضرت فاطمہ ؑ زہرا کی برتری و فضیلت کے دلائل میں سے ایک بہترین دلیل یہ ہے کہ آخر الزمان میں جس مہدی (عج) کے ظہور کی اطلاع دی گئی ہے وہ انہی کی ذریت سے ہے۔ پس یہ شرف و فضیلت فقط حضرت فاطمہ ؑ زہرا ہی کو حاصل ہے۔ "( ۱۵۴ )

۴ ۔ مہدی اولاد پیغمبر سے ہیں

حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بعض روایات میں حضرت مہدی ؑ کو اپنی اولاد میں سے قرار دیاہے:

قال رسول اللہ: "المهدی مِنّی ...؛( ۱۵۵ ) مہدی مجھ سے ہیں۔"

قال ر سول اللہ : "المهدیّ رجل من وُلدي ...؛( ۱۵۶ ) مہدی میری اولاد سے ہیں۔"

نتیجہ

گزشتہ عرائض کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امام مہدی ؑ، فرزندانِ پیغمبر اور انکی عترت اہل بیت میں سے ہیں جو حدیث ثقلین کا ایک یقینی مصداق ہیں۔ یہ کبھی قرآن سےجدا نہ ہوں گے اور ان کی سیرت و سنت، قرآن کریم پر مبنی ہے۔ نیز عصر حاضر میں انسان قرآن سے تمسک اور انکے فرمودات کی اتباع کے بغیر ہرگز سرچشمہ ہدایت سے سیراب نہیں ہوسکتا۔

دوئم : حدیث "من مات ۔۔۔"

اگرچہ ہم اس سلسلہ میں( يوم ندعو کلّ أناس بإمامهم ) آیت کے ذیل میں کسی حد تک تفصیلات بیان کرچکے ہیں لیکن مزید چند نکات پیش کر رہے ہیں:

حضور سرور کائنات کا ارشاد پاک ہے: "من مات ولم يعرف إمام زمانه مات ميتة جاهليّة ؛ جو شخص اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے اس کی موت جہالت و گمراہ کی موت ہے۔( ۱۵۷ ) "

اہل سنت میں سے صحاح ستہ کے مؤلفین نے صحابہ کرام میں سے سات افراد سے یہ حدیث نقل کی ہے: ۱ ۔ زید بن ارقم؛ ۲ ۔ عامر بن ربیعہ غنری؛ ۳ ۔ عبد اللہ بن عباس؛ ۴ ۔ عبد اللہ بن عمر؛ ۵ ۔ ابو الدرداء؛ ۶ ۔ معاذ بن جبل؛ ۷ ۔ معاویہ بن ابی سفیان۔

مذکورہ سات اصحاب کے علاوہ نیز اس سے مشابہ احادیث ابوہریرہ اور انس بن مالک سے نقل کی گئی ہیں۔ شیعہ علماء میں سے بزرگوار شخصیت جناب علامہ مجلسی نے اس حدیث شریف کو چالیس اسناد سے خاص شیعہ طرق سے اپنی معرکۃ الآراء کتاب بحار الانوار میں نقل کیا ہے۔( ۱۵۸ )

علمائے اہل سنت نے منابع حدیث میں سے ستر سے زائد کتب میں اس حدیث شریف کو نقل کیا ہے جن میں سے بعض ذیل میں ذکر کی جا رہی ہیں: سنن ابی داؤد؛ مصنف حافظ عبد الرزاق بن ہمام صنعانی؛ سنن سعید بن منصور خراسانی؛ طبقات الکبریٰ محمد بن سعد کاتب واقدی؛ مسند حافظ ابو الحسن علی بن جعد جوہری؛ مصنف ابن شیبہ؛ صحیح بخاری؛ صحیح مسلم و ۔۔۔( ۱۵۹ )

یہ حدیث شریف فراوانی متون اور بعض کلمات کے اختلاف کے ساتھ وارد ہوئی ہے، زیادہ تر عبارت "مات میتۃ جاہلیۃ" کبھی عبارت " مات یھودیاً و نصرانیاً" اور کبھی ایسی عبارت کے ساتھ مرقوم ہوئی ہے جو ایسے شخص کی سوءِ عاقبت کی نشاندہی کر رہی ہے۔

ان احادیث کا آغاز عبارت " من مات" سے ہو رہا ہے جو جہالت و گمراہی کی موت کو امام زمانہ کی عدم معرفت کا نتیجہ قرار دے رہی ہے یا پھر " من خرج" جیسے الفاظ سے ان کی ابتداء ہو رہی ہے جو امام کی نافرمانی میں آنے والی موت کو جہالت و گمراہی کی موت قرار دے رہی ہیں۔ بیشک جس امام کی عدم معرفت جہالت کی موت ہے اور جس کےدستورات سے سرپیچی جہنم کا سبب ہے، وہ امام واجد شرائط اور داعی اِلی اللہ ہونا چاہیے نہ کہ امام کفر اورآتش جہنم کی طرف دعوت دینے والا اور انواع و اقسام کے فسق و فجور میں آلودہ شخص۔

بنابریں ایسے امام میں ہر چیز سے پہلے مندرجہ ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے:

۱ ۔ بلند ترین علمی مقام و مرتبہ کا حامل ہو اور ہر اعتبار سے لائق و فائق ہو جس میں وسیع و عریض سلطنت اسلامی کی امامت و رہبری کی مکمل صلاحیت موجود ہو تاکہ مسلمان اس کی معرفت اور اس کے دستورات پر عمل پیرا ہوکر جہالت کی موت سے نجات حاصل کرسکیں۔

۲ ۔ ہر اعتبار سے پاک و پاکیزہ اور ہوائےنفس و خطا سے محفوظ ہو تاکہ نہ صرف یہ کہ وہ خود بھی عقیدتی، علمی اورعملی کج روی کا شکار نہ ہو بلکہ لوگوں کو بھی حق کی جانب ہدایت کرسکے۔ کیونکہ اس امام کی معرفت یا عدم معرفت سے انسان کی تقدیر وابستہ ہے اور یہی انسان کی جنت و جہنم کا سبب بنتی ہے۔

مؤرخین کے تحریروں سے واضح ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےامر نبوت کے آغاز اور بعثت کے ابتدائی دور ہی میں لوگوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کردیا تھا کہ انکے بعد خلیفہ معین کرنے میں کوئی شخص یا جماعت حتیٰ کہ خود بھی مستقل نہیں ہیں بلکہ اس کا اختیار و انتخاب فقط دست خداوندی میں ہے۔

بطور نمونہ اس واقعہ پر غور فرمائیے کہ قبیلہ بن عامر بن صعصعہ نے آنحضرتؐ سے کہا: "اگر ہم آپ کی مدد کر یں اور آپؐ اپنے مخالفین پر کامیاب ہوجائیں توکیا آپؐ اپنے بعد زمام امور ہمارے سپرد کر دیں گے؟" رسول خداؐ نےفرمایا: "زمام امور خدا کے ہاتھوں میں ہے اور وہ جو چاہے گا، کرے گا۔"( ۱۶۰ )

پس اس واقعہ سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ بعد از پیغمبر امامت و خلافت لوگوں کے ذمے چھوڑ کر جانے والی چیزنہیں ہے۔ جبکہ اہل سنت کےعقیدے "یہ کام امت کے سپرد کیا گیا ہے" کے مطابق پیغمبرؐ گرامی قدر کا لوگوں کو معرفت امام کی ترغیب دلانا تاکہ لوگ جہالت کی موت سے بچ جائیں اور انکی زندگی کا خاتمہ آتش جہنم پر نہ ہو، یہ سب بے معنی ہوکر رہ جائے گا کیونکہ امام کو خود انہوں نے ہی انتخاب کیا ہے۔

حدیث "من مات ۔۔۔" اور گذشتہ عرائض کی روشنی میں مندرجہ ذیل نکات حاصل ہوتےہیں:

۱ ۔ اسلام کے عقیدتی نظام میں واجد شرائط امامت و رہبری کی ضرروت؛

۲ ۔ استمرار امامت اور ہر دور میں ایک امام کا ہونا ضروری ہے؛

۳ ۔ تعداد امام ممالک و اقوام کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ بحسب زمانہ ہے؛

۴ ۔ ہر زمانہ میں امام کی عدم معرفت انسان کی جہالت کی موت کا سبب ہے؛

۵ ۔ امام کا اعلم و متقی ہوناو ضروری ہے؛

۶ ۔ متصدّیین و مدّعیین خلافت کی امامت کی نفی: (کیونکہ نہ انکی راہ و رسم ہی امام زمانہ سے ملتی ہے اور نہ ہی کسی نے انکی عدم معرفت کو جہالت کی موت قرار دیا ہے۔)؛

۷ ۔ امام زمانہ کی پہچان کا رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یا گزشتہ امام کی جانب سے تعارف یا اظہار معجزہ پر مبنی ہونا؛

۸ ۔ جس شخص کے پاس امام زمانہ کے بارے میں کوئی جواب نہ ہو کہ اس کا امام کون ہے اور وہ اسی حالت پر مر جائے تو اس کی موت جہالت کی موت ہے؛

۹ ۔ حدیث "من مات" کو پیش نظر رکھتے ہوئے صرف شیعہ اثاو عشری ہی ائمہ اثنا عشر پر یقین رکھتے ہیں کہ جن میں آخری حضرت مہدی و امام عصر (عج) ہیں اور اس حدیث شریف کے واحد مصداق ہیں۔ (کیونکہ امام ؑ میں پائی جانے والی تمام لازمی شرائط صرف شیعوں کے ائمہ اثنا عشر ہی میں پائی جاتی ہیں)

۱۰ ۔ اس حدیث اور پیغمبر اسلام کے خلفاء کی تعداد اور ائمہ اثنا عشر کے بارے میں دیگر احادیث کی روشنی میں بارہویں امام اور خلیفہ رسولؐ خدا، حضرت مہدی موعود (عج) ہی ہیں۔

سوئم: حدیث "خلفائے اثنا عشر"

جابر بن سمرہ کا کہنا ہے: "سمعت رسول‌الله يقول: لا يزال الإسلام عزيزاً إلی اثناعشر خليفة. ثمّ قال کلمة لم أسمعها فقلت لأبی ما قال؟ فقال کلّهم من قريش ( ۱۶۱ ) ؛ میں نے پیغمبر اسلام سے سنا کہ آپؐ نے فرمایا: اسلام ہمیشہ میرے بارہ خلفاء کے سائے میں عزیز و غالب رہے گا۔ پھر حضور نے ایک لفظ اور بیان فرمایا تھا جسے میں سن نہیں سکا تھا، پس میں نے اپنے والد سے دریافت کیا کہ حضور نے کیا فرمایا ہے؟ والد نے بتایا کہ حضورؐ نے فرمایا ہے کہ سب قریش سے ہوں گے۔"

یہ حدیث شریف فریقین( ۱۶۲ ) (شیعہ و سنی) نے اپنی کتب حدیث میں درج کی ہے اور سب نے پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس کے صدور کو قبول کیا ہے ۔ لہذا اہم بات یہ ہے کہ ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ آخر پیغمبر اسلام کے وہ بارہ خلیفہ کون ہیں۔ ہم دو طریقوں سے آنحضرتؐ کی مراد پہنچ سکتےہیں۔ ایک یہ کہ ہم روایت کو ملاحہل کریں دوسرے یہ کہ ہم تاریخ کا جائزہ لیں۔

روایات پر نظر:

کسی بھی شخص کے کلام کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے اس کے کلام میں موجود قرائن پر توجہ رکھنی چاہیے اور مجمل امور کو سمجھنے اور روشن کرنے کے لئے دیگر کلمات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ احادیث نبوی ؐ کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ آنحضرتؐ نے بارہا اپنے بارہ خلفاء کی وضاحت بیان فرمائی ہے۔ مثلاً

۱ ۔ محمد بن ابراہیم حموئی شافعی، عبد اللہ بن عباس سے نقل کرتے ہیں: "قال رسول‌الله إنّ خلفائی وأوصيائی وحجج الله علی الخلق بعدی إثناعشر، أوّلهم أخی وآخرهم وَلَدي. قيل: يا رسول‌الله! ومن أخوک؟ قال: علی بن ابی‌طالب. ‏قيل: ومن ولَدُک؟ قال: المهدیّ الذی يملأ الأرض قسطاً وعدلاً کما ملئت جوراً وظلماً ؛( ۱۶۳ ) رسول اکرم ؐ نے فرمایا: میرے بعد میرے خلفاء و اوصیاء اور مخلوق پر حجت الٰہی بارہ افراد ہیں۔ جن میں پہلا میرا بھائی اور آخری میرا بیٹا ہوگا۔ کسی نے سوال کیا: یا رسول اللہؐ! آپ کا بھائی کون ہے؟ فرمایا: علی بن ابی طالب ۔ پھر سوال ہوا: یا رسول اللہ ! آپ کا بیٹا کون ہے؟ فرمایا: مہدی، وہ وہی ہے جو ظلم و جور سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔"

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بارہ خلفاء کے بارےمیں خبر دیتے ہوئے پہلے اور بارہویں امام کے تعارف پر اکتفا کیا ہے؛جبکہ دیگر احادیث میں تمام بارہ خلفاء کے اسمائے مبارکہ حتیٰ کہ ان کے والد کے نام بھی بیان فرمائے ہیں۔

۲ ۔ ایک اور حدیث کے مطابق پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:"إنّ وصیّي وخليفة من بعدی علی بن ابی‌طالب وبعده سبطای الحسن ثمّ الحسين يتلوه تسعة من صلب الحسين أئمّة أبرار. قال (نعثل): يا محمّد! فسمّهم لی قال: نعم إذا مضی الحسين فابنُه علیّ فإذا مضی علیّ فابنه محمّد فإذا مضی محمّد فابنه جعفر فإذا مضی جعفر فابنه موسی فإذا مضی موسی فابنه علیّ فإذا مضی علیّ فابنه محمّد ثمّ ابنه علیّ ثمّ ابنه حسن ثمّ ابنه الحجّة بن الحسن فهذه إثناعشر أئمّة عدد نقباء بنی‌إسرائيل ؛( ۱۶۴ ) میرے بعد جانشین و خلیفہ علی بن ابی طالب ہیں، انکے بعد میرے دونوں نواسے پہلے حسن پھر حسین اور انکے بعد حسین ؑ کے نو بیٹے یکی پس از دیگری امام ہوں گے۔ (نعثل) نے کہا: اے محمدؐ! ان نو ائمہ کے مجھے نام بتا دیئے۔ پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا: حسین کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد انکے بیٹے علی امام ہوں گے، انکے دنیا سے چلے جانے کے بعد انکے بیٹے محمد امام ہوں گے، انکے دنیا سے چلے جانے کے بعد انکے بیٹے جعفر امام ہوں گے، انکے دنیا سے چلے جان کے بعد انکے بیٹے موسیٰ امام ہوں گے، انکے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد انکے فرزند علی امام ہوں گے، علی کے دنیا سے چلے جانے کے بعد انکے فرزند محمد امام ہوں گے، پھر انکے بیٹے علی، پھر انکے بیٹے حسن پھر انکے بیٹے حجت ابن الحسن امام ہوں گے یہ بارہ امام ، نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے برابر ہیں۔"

ان روایات اور دیگر شیعہ و سنی احادیث کی روشنی میں یہ بات و اضح ہوجاتی ہے کہ بارہ خلفاء سے پیغمبر گرامی قدرکی مراد یہی بارہ امام ہیں۔

تاریخ پر نظر:

تاریخ اسلام میں ایسے خلفائے اثنا عشر جو عزت اسلام کے محافظ و نگہبان ہوں صرف شیعہ اثنا عشری ہی کے ائمہ طاہرین ہیں ورنہ کسی اور فرقے میں ایسے بارہ خلیفہ نہیں دیکھے جاسکتے کیونکہ یہ ائمہ اثنا عشر پیغمبر اسلام کے بعد بلا فصل آنحضرت کے خلیفہ کی حیثیت سے متعارف ہوئے ہیں۔

نیز یہی ائمہ علیہم السلام اسلام کے لئے مایۂ عزت و افتخار رہے ہیں اور اسلام کبھی بھی انکے وجود سے خالی نہیں رہا، جیسا کہ حدیث میں موجود لفظ "لایزال" اسی امر کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ پس کوئی دور اور زمانہ ایسانہیں جس میں پیغمبر اسلام کا کوئی ایک خلیفہ موجود نہ ہو۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بارہ خلیفہ کون ہیں؟ اموی و عباسی خلفاء کی تاریخ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ یہ کسی صورت اسلام کے لئے مایہ عزت و افتخار نہ تھے، جبکہ تمام شیعہ ائمہ اثنا عشر اپنے اپنے دور حیات میں تقوی و پرہیزگاری کے مظہر اور سنت رسولؐ خدا کے محافظ و نگہبان تھے، ہمیشہ صحابہ و تابعین اور نسلاً بعد نسل امت اسلامی کی توجہ کا مرکز رہے او ر علم و وثاقت میں مشہور و معروف اور فرد فرید تھے۔

علاوہ بریں، شیعوں کے علاوہ کسی نے ایسے خلفائے اثنا عشر کا دعویٰ نہیں کیا ہے جنکا سلسلہ رحلت پیغمبر اسلام کے وقت سے آخر دنیا تک جاری و ساری رہے اور اگر حدیث "اثنا عشر خلیفہ" کے مصداق کو قبول کر لیا جائے تو تاریخ اسلامی کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گیارہ ائمہ علیہم السلام آچکے اور شہید ہوچکے ہیں اور عصر حاضر بارہویں امام یعنی حضرت مہدی (عج) کی امامت و خلافت کا زمانہ ہے۔

خلاصہ:

وہ اخبار و روایات جن میں عبارت " اثنا عشر خلیفہ" یا اس سے مشابہ تعابی رات وارد ہوئی ہیں، ان سے مندرجہ ذیل نکات حاصل ہوئے ہیں:

۱ ۔ ائمہ ، صرف بارہ افراد ہ ہیں، نہ کم نہ زیادہ؛

۲ ۔ ائمہ اثنا عشر کی امامت کا سلسلہ دنیا کے اختتام تک جاری و ساری رہے گا، کیونکہ روایات میں جملہ "لایزال الاسلام و لا ینقضی" موجود ہے؛

۳ ۔ یہ تمام ائمہ قریشی ہیں؛

۴ ۔ شیعوں کے علاوہ کسی کا ایسا دعویٰ نہیں ہے؛

۵ ۔ حضرت مہدی علیہ السلام بارہویں امام ہیں جو ۲۶۰ ہجری میں ظاہری منصب امامت پر فائز ہوئے ہیں۔

پس وہ ثقل و ہمسر قرآن جس سے متمسک رہنا ضروری ہے، وہ خلیفہ جس کی امامت کے سائے میں اسلام عزیز و سربلند رہے گا اور جس کے عدم معرفت اسلام سے خروج کا سبب ہے، حضرت مہدی (عج) ہی ہیں جو اس وقت پردہ غیبت میں زندہ موجود ہیں۔

دستہ دوئم: خاص روایات

غیبت امام عصر (عج) پر دلالت کرنے والی احادیث کےدوسرے دستے میں خاص روایت پائی جاتی ہیں یعنی کچھ مخصوص روایات وہ ہیں جن میں حضرت مہدی موعود اور آپ ؑ کی غیبت کے بارے میں مطالب بیان ہوئے ہیں۔ البتہ آنجناب ؑ کی غیبت کے بارے میں اکثر شیعہ حضرات نے روایات نقل کی ہیں جبکہ اہل سنت نے اس سلسلہ میں بہت کم روایات نقل کی ہیں۔

روایات کا جائزہ لینے سے مندرجہ ذیل طبقہ بندی حاصل ہوتی ہے:

۱ ۔ بعض روایات میں اصل غیبت بیان ہوئی ہے؛

۲ ۔ بعض روایات میں حضرت کی غیبت کے طولانی ہونے کو بیان کیا گیا ہے؛

۳ ۔ بعض روایات میں آنجناب ؑ کی دو غیبتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے؛

۴ ۔ بعض روایات میں آنحضرت کی غیبت کے فوائد کا تذکرہ کیا گیا ہے؛

۵ ۔ بعض روایات میں غیبت کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں؛

۶ ۔ بعض روایات ایسی ہیں جن میں بیان کیا گیا ہے کہ قائم آل محمد ؑمیں سنن انبیاء پائی جاتی ہیں اور سنن انبیاء میں سے ایک سنت غیبت ہے؛

۷ ۔ بعض روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ولی عصر (عج) امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں جو آج تک زندہ و پائندہ ہیں۔

اول: اصل "غیبت" بیان کرنے والی روایات

شیعہ:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے: "إنّ لصاحب هذا الأمر غيبة ؛ اس صاحب امر کے لئے غیبت واقع ہوگی۔( ۱۶۵ ) "

جابر بن عبد اللہ انصاری نے حضور سرور کائنات سے سوال کیا : "و للقائم من ولدک غيبة؟ قال: إی وربّی ( وَلِيُمَحِّصَ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ ) ؛ یا رسول اللہ ! کیا آپ کے فرزند قائم (آل محمد علیہ السلام) کے لئے غیبت واقع ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ خدا کی قسم، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مومنین کوسرفراز کرے گا اور کافرین کو نیست و نابود اور ہلاک کردے گا۔"( ۱۶۶ )

اہل سنت:

سعید بن جبیر نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

"والذی بعثنی بالحقّ بشيراً ونذيراً إنّ الثابتين علی القول بإمامته فی زمان غيبته لأعزّ من الکبريت الأحمر فقام إليه جابر بن عبدالله فقال: يا رسول‌الله وللقائم من ولدک غيبة؟ قال إی وربّی ( وَلِيُمَحِّصَ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ ) ( ۱۶۷ ) ثمّ قال يا جابر! إنّ هذا أمرٌ مِن أمر الله وسرٌّ من سرِّ الله فإيّاک والشکّ فيه فإنّ الشکّ فی أمر الله عزّوجلّ کفرٌ ( ۱۶۸ ) ؛ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ جو لوگ اس کے زمانہ غیبت میں اپنے قول اور عقیدہ امامت پر قائم رہیں گے وہ کبریت احمر( ۱۶۹ ) سے زیادہ قابل قدر ہوں گے۔

جابر بن عبد اللہ نے اپنی جگہ کھڑے ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے فرزند قائم آل محمدؐ کے لئے غیبت واقع ہوگی؟ فرمایا: ہاں۔ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مومینا کو سرفراز کرے گا اور کافرین کو نیست و نابود کردے گا۔ پھر فرمایا: اےجابر! یہ اللہ کے امر میں سے ایک امر ہے اور راز ہائے پروردگار میں سے ایک راز ہے اور یہ اسرارِ الٰہی میں سے ہے، پس اس میں ہرگز شک مت کرنا کیونکہ امر الٰہی میں شک کرنا کفر ہے۔"

حسن بن خالد کہتے ہیں کہ حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے فرمایا: "...إنّ الرّابع من وُلدی ابن سَيِّدَة الاِماءِ يُطَهِّرُ اللهُ به الأرضَ مِن کلِّ جور وظلمٍ وهو الذی يشُکّ الناسُ فی وِلادَتِه، ‏وهو صاحبُ الغيبة ؛( ۱۷۰ ) ۔۔۔ یاد رکھو! میری نسل میں سے میرا چوتھا فرزند، سیدۃ الاماء کا لال ہے، خداوند عالم جس کےذریعے روئے زمین کو ہر قسم کے ظلم و جور سے پاک کردے گا۔ لوگ اس کی ولادت میں شک میں پڑ جائیں گے اس کے لئے ایک طویل غیبت واقع ہوگی۔"

جابر بن عبد اللہ انصاری نے پیغمبر ؐ گرامی قدر سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

"...فبعده إبنه محمّد يدعی بالمهدیّ والقائم والحجة فيغيب ثمّ يخرج ( ۱۷۱ ) ؛ میرے بارہ اوصیاء ہوں گے جن میں اول سیدہ الاوصیاء و ابو الائمہ الاطہار ہیں اور پھر ۔۔۔ انکے بیٹے محمد ہوں گے جنہیں مہدی، قائم اور حجت کہا جاتا ہے اور انہی کے لئے غیبت واقع ہوگی۔"

متقی ہندی اپنی کتاب البرہان میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

ابو جعفر محمد بن علی علیہ السلام قال:"يکون لصاحب هذا الأمر غيبة فی بعض هذه الشهاب وأومأ بيده إلی ناحية ذی‌طوی ؛ ( ۱۷۲ ) اس صاحب امر کے لئے ان وادیوں میں سے ایک وادی میں غیبت واقع ہوگی اور پھر آپؑ نے مکہ کے اطراف میں واقع ذی طویٰ نامی پہاڑ کی طرف اشارہ فرمایا۔"

دوئم: غیبت کے طولانی ہونے کے بارے میں روایات

اس سلسلہ میں تقریباً ۹۱ روایات نقل کی گئی ہیں۔( ۱۷۳ )

شیعہ:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "إنّ للقائم منّا غيبة يطول أمَدُها ( ۱۷۴ ) ؛ ہمارے قائم کی غیبت طولانی ہوگی۔"

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: "للقائم منّا غيبة أمَدُها طویل ( ۱۷۵ ) ؛ ہمارے قائم کی غیبت کا وقت طولانی ہوگا۔"

اہل سنت:

شیخ سلیمان بلخی نے روایت نقل کی ہے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں:قالَ رسول اللہ: "المهدی من وُلدی إسمُه إسمی کنيته کنيتی أشبه الناسِ بی خلقاً و خُلقا، ‏تکون له غيبة وحيرة، ‏تضلّ فيها الأمَمُ ثمّ يقبلُ کالشهاب الثاقب يملأ الأرضَ عدلاً وقسطاً کما مُلِئَت جورا ًوظلماً ( ۱۷۶ ) ؛ مہدی میری اولاد سے ہے۔ اس کا نام میرا نام ہے اس کی کنیت میری کنیت ہوگی وہ لوگوں میں خَلق و خلق کے اعتبار سے سب سے زیادہ مجھ سے مشابہ ہوگا۔ اس کے لئے غیبت واقع ہوگی جس میں بہت سے لوگ گمراہ ہوجائیں گے کہ پھر وہ شہاب ثاقب کی طرح نمودار ہوگا اور ظلم و جور سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔"

سوئم: دو غیبت بیان کرنے والی روایات

اس موضوع کے بارے میں تقریباً دس روایات نقل کی گئی ہیں، جن میں بیان کیا گیا ہے کہ ہمارے قائم کے لئےدو غیبتیں واقع ہوں گی؛ ایک غیبت صغریٰ اوردوسری غیبت کبریٰ:

شیعہ:

صادق آل محمدؐ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے: "للقائم غيبتان إحديهما طويلة والأخری قصيرة ( ۱۷۷ ) ؛ قائم علیہ السلام کے لئے دو غیبتیں واقع ہوں گی ایک طویل اور دوسری مختصر ہوگی۔"

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: "إنّ لصاحب هذا الأمر غيبتين ؛ اس صاحب امر کے لئے دو غیبتیں واقع ہوں گی۔( ۱۷۸ ) "

اہل سنت:

کتاب ینابی ع المودۃ میں حضرت علی علیہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے کہ : "إنّ للقائم منّا غيبتين إحديهما أطول من الأخري ( ۱۷۹ ) ؛ ہمارے قائم کے لئے دو غیبتیں واقع ہوں گی، ایک طولانی تر ہوگی جبکہ دوسری مختصر ہوگی۔"

اس قسم کی روایات صرف شیخ سلیمان نے ینابی ع المودہ ہی میں نقل نہیں کی ہیں بلکہ حموئی اور متقی ہندی اپنی کتاب البرہان میں حضرت امام حسین ؑ سے اس طرح روایت نقل کرتے ہیں: "لصاحب هذا الأمر يعنی المهدیّ غيبتان إحديهما تطول حتّی يقول بعضهم مات و بعضهم ذهب، ‏ولا يطّلع علی موضعه أحدٌ من ولیّ ولا غير إلّا المولی الذی يلی أمره ( ۱۸۰ ) ؛ اس صاحب امر یعنی مہدی موعود ؑ کے لئے دو غیبتیں واقع ہوں گی ان میں سے ایک اتنی طولانی ہوگی کہ بعض لوگ یہ کہنے لگیں کہ وہ دنیا سے جاچکے اور بعض کہیں گے ان کا انتقال ہوگیا۔ سوائے انکے خاص چاہنے والوں کے جو انکے امور سنبھالنے والے ہوں گے ، اپنے پرائے کوئی انکی قرار گاہ سے واقف نہ ہوگا۔"

چہارم: حضرت مہدی (عج) کے فرزند امام حسن عسکری ؑ ہونے کے بارے میں روایات

شیعہ:

حضرت امام جعفرصادق ؑ فرماتے ہیں:"الإمام من بعدی موسی و الخلف المنتظر م ح م د بن الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی ؛( ۱۸۱ ) اے مفضل! میرے بعد میرا بیٹا موسیٰ امام ہوگا اور آخری امام منتظر "م ح م د" بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسیٰ علیہم السلام ہے۔"

اہل سنت:

جابر بن عبد اللہ انصاری سے نقل کیا گیا ہے کہ جس وقت جندل بن جنادہ یہودی مسلمان ہوا اور اس نے حضور سرور کائنات سے انکے جانشین کے بارے میں سوال کیا تو آنحضرت ؐ نے فرمایا: "میرا پہلا جانشین سید الاوصیاء و ابو الائمہ علی ابن طالب ؑ ہے پھر ۔۔۔ پھر نقی کے بعد انکے بیٹے حسن ہیں جنہیں عسکری کہتے ہیں پھر عسکری کے بعد انکے بیٹے "م ح م د" امام ہیں جنہیں مہدی، قائم اور حجت کہا جاتا ہے، وہ غائب ہوجائیں گے پھر خروج کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے ۔۔۔( ۱۸۲ ) "

پنجم: بعد از پیغمبر ؐ بارہ ائمہ کے بیان میں وار د ہونے والی احادیث

پیغمبر گرامی قدر نے فرمایا: "إنّ خلفائی وأوصيائی وحجج الله علی الخلق بعدی الإثنا عشر أوّلهم علیّ و آخرهم المهديّ ( ۱۸۳ ) ؛میرے بعد میرےجانشین و اوصیاء اور خلق خدا پر حجت الٰہی بارہ افراد ہوں گے ، جن میں پہلے علی اور آخری مہدی ہوں گے۔"

ششم : امام مہدی ؑ، نسل حسین ؑ کے نویں فرزند ہوں گے

جناب سلمان فارسی کہتے ہیں:میں حضور سرور کائنات کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ امام حسین آنحضرت کی آغوش مبارک میں تشریف فرما ہیں اور حضور انکی آنکھوں اور لبوں کا بوسہ لے رہے ہیں اور پھر فرمایا:"أنت سيّد بن سيّد، أخو سيّد، أنت إمام بن إمام، أخو إمام، أنت حجّة، أخو حجّة، ‏و أنت أبو حجج تسعة، ‏تاسعهم قائم ؛( ۱۸۴ ) تم سید بن سید او ربرادر سید ہو، تم امام ابن امام اور امام کے بھائی ہو، تم حجت خدا ہو، حجت خدا کے بھائی ہو اور نو حجتوں کے باپ ہو اور ان میں نویں امام قائم ہوں گے۔"

ہفتم: غیبت سنن انبیاء میں سے ہے

قرآن و احادیث اور تاریخ کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ صرف حضرت امام مہدی ؑ ہی کے لئے غیبت رونما نہیں ہوئی ہے بلکہ حضرات ادریس، صالح، موسی اور ابراہیم علیہم السلام جیسے بہت سے انبیاء کرام کو بھی ہجرت و غیبت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خداوند عالم نے چاہا ہے کہ آنجناب ؑ میں بھی اس سنت انبیاء کو جاری کیا جائے۔ اس سلسلہ میں دو طرح کی روایات دیکھنے میں آتی ہیں۔

الف) وہ روایات جو کہتی ہیں کہ غیبت سنت انبیاء ہے:

جلیل القدر عالم دین جناب شیخ صدوق اپنی معروف کتاب علل الشرایع میں سدیر سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا: "إنّ للقائم منّا غيبة يطول أمدها فقلت له ولِمَ ذاک يابن رسول‌الله؟ قال: إنّ الله عزّوجلّ أبی إلّا أن يجری فيه سنن الأنبياء فی غيباتهم وأنّه لابدّ له يا سدير من أسفياء مدد غيباتهم قال عزّوجلّ ( لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبَقٍ ) ( ۱۸۵ ) أی سنناً علی سنن من کان قبلکم ( ۱۸۶ ) ؛ ہمارے قائم کے لئے طولانی غیبت واقع ہوگی۔ میں نے عرض کیا: یابن رسول اللہ! وہ کیوں غائب ہوجائیں گے؟فرمایا: خداوند عالم ان میں انبیاء کی سنت غیبت کو جاری کرنا چاہتا ہے۔ اے سدیر! قائم کی غیبت تمام انبیاء کی مدت غیبت کے برابر ہوگی۔ جیسا کہ خداوند عالم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:( لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبَقٍ ) یعنی تم سے قبل امتوں میں موجود سنت اس امت میں بھی جاری ہوگی۔

امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: "إنّ ابنی هو القائم من بعدی وهو الذی يجری فيه سنن الأنبياء ...( ۱۸۷ ) ؛ میرے بعد میرا بیٹا قائم ہوگا ۔ جس کی طویل عمر اور غیبت کے ذریعے سنن انبیاء علیہم السلام جاری ہوں گی۔"

ب) وہ روایات جو کہتی ہیں کہ غیبت سنن انبیاء میں سے ایک ہے

کتاب کمال الدین میں مرقوم ہے کہ ابو بصیر کہتےہیں: میں نے سنا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: "فی صاحب هذا الأمر أربع سنن من أربعة أنبياء، ‏سنّة من موسی و سنّة من عيسی و سنّة من يوسف و سنّة من محمّد صلوات الله عليهم أجمعين، ‏فأمّا من موسی فخائف يترقّب، ‏وأمّا من يوسف فالسجن، ‏وأمّا من عيسی ‏فيقال له: إنّه مات ولم يمت وأمّا من محمّد فاليسف ( ۱۸۸ ) ؛ امام قائم ؑ کے لئے چار انبیاء علیہم السلام کی چار سنتیں ہوں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عسیٰ علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سنت خوف( ۱۸۹ ) ، حضرت یوسف علیہ السلام کی قید، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت یہ کہ کچھ ان کے بارے میں کہیں گے مر گئے کچھ کہیں گے نہیں مرے اور محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خصوصیت تلوار (یعنی قیام)۔" کتاب (غیبت طوسی میں یہ عبارت نقل ہوئی ہے "اما سنۃ من یوسف فالغیبۃ: یعنی سنت یوسف غیبت ہے)۔

کتاب کمال الدین میں سعید بن جبیر سے ر وایت نقل کی گئی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے سنا، آپ ؑ نے فرمایا: "ہمارے قائم کے لئے انبیاء کی سنتوں میں سے حضرت آدم ؑ کے سنت، حضرت نوح ؑ کی سنت، حضرت موسیٰ کی سنت، حضرت عیسیٰ کی سنت ، حضرت ایوب کی سنت اور حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت ہے۔ حضرت آدم ؑ اور حضرت نوح ؑ کی سنت طویل عمر ہے، حضرت ابراہیم کی سنت ولادت کا مخفی اور پوشیدہ ہونا اور خدا کے دین کی حمایت میں لوگوں سے الگ تھلگ رہنا، حضرت موسیٰ کی سنت خوف اور غیبت، حضرت عیسیٰ کی سنت یہ کہ لوگوں نے ان کے بارے میں اختلاف کیا، حضرت ایوب کی سنت یہ کہ بلاؤں اور مصیبتوں کے بعد کشائش و کشادگی نصیب ہوئی اور حضرت محمد ؐ کی سنت خروج بالسیف ہے۔"( ۱۹۰ )

کتاب کمال الدین میں محمد بن مسلم سے روایت نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حضرت ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا کہ قائم آل محمدؐ کے بارے میں آنجناب سے کچھ دریافت کروں، لیکن انھوں نے میرے سوال سے پہلے ہی فرمایا: "اے محمد بن مسلم قائم آل محمدؐ کو پانچ رسولوں سے پانچ خصوصیات میں شباہت حاصل ہے۔ حضرت یونس بن متی، حضرت یوسف بن یعقوب ، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی صلوات اللہ علیہم۔

حضرت یونس بن متی علیہ السلام سے انکی غیبت میں اس طرح شباہت رکھتے ہیں کہ حضرت یونس اپنی قوم سے ایک طویل عرصہ تک غیبت میں رہنے کے بعدجب ظاہر ہوئے تو اس وقت بھی وہ جوان تھے۔ جناب یوسف بن یعقوب علیہما السلام سے شباہت اس طرح ہے کہ آپ خاص و عام کی نظروں سے غائب رہے یہاں تک کہ اپنے والد اور اپنے اہل خانہ اور اپنے دوستوں سے بھی مخفی رہے حالانکہ آپ ؑ ان سے قریبی مسافت پر تھے، حضرت موسیٰ فرعون کے خوف سے غائب رہے اور طویل غیبت واقع ہوئی اور آپ کی ولادت مخفی رہی، اور حضرت موسیٰ کے بعد ان کی قوم پر انتہائی مصائب و آلام ڈھائے گئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے حضرت موسیٰ ظاہر ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان دشمنوں پر ان کی مدد و نصرت فرمائی، حضرت عیسیٰ سے یہ شبہات ہے کہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں لوگوں نے اختلاف کیا، ایک گروہ نے کہا وہ پیدا ہی نہیں ہوئے، دوسرے نے کہا وہ مرگئے، تیسرے گروہ نے کہا وہ قتل ہوگئے اور صلیب پر چڑھا دیئے گئے( ۱۹۱ ) اور ان کے بعد حضور سرور کائنات سے یہ مشابہت ہے کہ آپ خروج بالسیف کریں گے اور اللہ و رسولؐ کے دشمنوں ، جباروں اور طاغوتوں کو قتل کریں گے۔ آپ کی نصرت تلوار اور رعب سے کی جائے گی اور آپ کا پرچم سرنگوں نہ ہوگا۔( ۱۹۲ ) "

شیخ صدوق نے کتاب کمال الدین میں سدیر صیرفی سے یہ روایت نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، مفضل ابن عمر، ابو بصیر اور ابان بن تغلب اپنے آقا حضرت امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ آپ خاک پر تشریف فرما ہیں، بالوں والی خیبری چادراوڑھے ہوئے، گریبان بستہ اور کوتاہ آستین، اور آپ اس طرح گریہ فرما رہے تھے گویا ایک اکلوتے بیٹے کی ماں اپنے لخت جگر کی لاش پر رو رہی ہو، غم و اندوہ کے آثار آپ کے چہرہ مبارک سے عیاں ہو رہے تھے اور اس کے اثرات آپ کے رخساروں پر چھائے ہوئے تھے، آنسوؤں نے آپ کی آنکھوں کے حلقوں کو تر کیا ہوا تھا اور آپ فرما رہے تھے:

"اے میرے آقا! آپ کی غیبت نے میری نیند حرام کردی ہے، مجھ پر زمین تنگ کردی ہے، مجھ سے قرار دل چھین لیا ہے اور میرے غم و اندوہ کو ابدی بنا دیا ہے، ایک کے بعد دوسرے کا فقدان ہماری جمعیت اور تعداد کو کم کر رہا ہے۔ پس کوئی ایسے آنسو نہیں جو میری آنکھوں سے ٹپکیں یا آہ و فریاد میرے سینے سے بلند ہو مگر یہ کہ اس کے اسباب سے زیادہ سخت مصائب اور سختیاں جھیلنی پڑتی ہیں اور یہ کہ میری آنکھوں کے سامنے وہ مستقبل اور آنے والا دور ہے جس میں تم ان تمام مظالم کا انتقام لوگے اور دشمنوں پر تمہارے غضب کی تلواریں چلیں گی۔

سدیر کہتے ہیں کہ امام کی یہ حالت دیکھ کر ہم پریشان ہوگئے اور آپ کے بین سن کر ہمارے دل پگھلنے لگے اور ہم سمجھےسمجھا کہ شاید آپ ؑ کے ساتھ کوئی دلخراش واقعہ پیش آیا ہے یا زمانے کے کسی ناگوار حادثے نے آپؑ کو پریشان کردیا ہے۔ ہم نے عرض کیا: اے بہترین مخلوق کے فرزند! خدا آپ کو کبھی نہ رلائے، کس حادثے کی وجہ سے آپ ؑ کے آنسو ٹپک رہے ہیں اور آپ شدید گریہ فرما رہے ہیں اور کس وجہ سے آپ ؑ یوں غمزدہ ہیں؟

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک آہِ سر بھری اور فرمایا: تمہیں کیا معلوم، آج میں نے کتاب جعفر کا مطالعہ کیا ہے، یہ وہ کتاب ہے جو موت، مصیبت اور آزمائش پر مشتمل ہے، اس میں قیامت تک کے ہونے والے تمام حالات کا تذکرہ ہے جو اللہ نے محمد مصطفی ؐ اور ان کے بعد آنے والے ائمہ سے مخصوص کئے ہیں۔ اس میں، میں نے ان حالات کا مطالعہ کیا ہے جو ہمارے قائم کے سلسلے میں وقوع پذیر ہوں گے اور جو انکی غیبت اور ان کی طویل عمر میں وقوع پذیر ہوں گے، اور اس زمانے میں مومنین پر مصائب نازل ہوں گے اور لوگوں کے دلوں میں غیبت کے طویل ہونے کی بنا پر شکوک پیداہوں گے، یہاں تک کہ اکثر لوگ اپنے دین سے منحرف ہوجائیں گے اور اسلام یعنی ولایت کے طوق کو اپنے گلے سے اتار دیں گے۔ جس کو اللہ نے یہ کہہ کر واجب کیا( وَكُلَّ إِنْسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ) ( ۱۹۳ ) ؛ ہر انسان کا عمل ہم نے اس کے گلے کا ہار بنا دیا ہے۔ پس اس بات نے مجھے مضمحل کردیا۔ ہم نے کہا: فرزند رسولؐ آپ ؑ نے جو کچھ مطالعہ فرمایا اس میں سے کچھ ہمیں بھی عطا فرمائیں۔

آپؑ نے فرمایا: "خداوند متعال نے ہمارے قائم کے لئے اپنے تین انبیاء کی خصوصیات عطا کی ہیں۔ اس کی ولادت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت جیسی۔ اس کی غیبت حضرت عیسیٰ کی غیبت جیسی۔ اس کے ظہور میں تاخیر حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان کی تاخیر جیسی۔۔۔"

پھر آنجناب ؑ نے تینوں امور کی وضاحت فرمائی لیکن ہم حدیث شریف کے طولانی ہونے کی وجہ سے صرف غیبت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بیان کردہ توضیح پیش کر رہے ہیں۔

"غیبت عیسیٰ علیہ السلام سے شبیہ اس طرح ہے کہ یہود و نصاریٰ کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کر دیئے گئے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید ان الفاط میں کی( وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ) ( ۱۹۴ ) ؛ اور انہوں نے انھیں نہ قتل کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا بلکہ ایک شخص ان کی صورت بنا دیا گیا۔ اسی طرح ہمارے قائم کی غیبت واقع ہوگی، کچھ لوگ طویل غیبت کی وجہ سے ان کے وجود ہی کا انکار کردیں گے اور جو قائل ہوں گے وہ کہیں گے وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے اور کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ امامت تیرہ یا اس سے زیادہ تک جائے گی اور کچھ لوگ یہ کہہ کر اللہ کے گناہ گار ہوں گے کہ امام عصر (عج) کی روح کسی اور کے بدن میں حلول کرکے گفتگو کرے گی۔( ۱۹۵ ) "

پس آیات و روایات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ کوئی بھی زمانہ حجت الٰہی سے خالی نہیں ہوسکتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنی ایک حجت کو لوگوں کی ہدایت اور زمین و زمان کی بقاء کے لئے رکھا ہے اور آج ہمارے زمانہ میں روایات کی روشنی میں نسل پیغمبر ؐ سے امام حسن عسکری ؑ کے فرزند حضرت مہدی موعود (عج) زندہ موجود ہیں اور اس پر تمام شیعہ علماء کا اجماع و اتفاق ہے بلکہ بہت سے منصف مزاج سنی علماء نے بھی آپ کے زندہ موجود ہونے کو تسلیم کرتے ہوئے اس تذکرے سے اپنی تالیفات کو مزین کیا ہے۔ ہم یہاں اختصار کا لحاظ کرتے ہوئے صرف ۱۴ سنی بزرگ علماء کا تذکرہ کر رہےہیں کیونکہ ۱۴ کا عدد متبرک ہے ورنہ ایسے علماء کی تعداد بہت زیادہ ہے جنھوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کے ایک فرزند کے موجود ہونے کےبارے میں لکھا ہے جیسا کہ جناب حجۃ الاسلام علی دوانی دامت برکاتہ نے اس موضوع پر مستقل ایک کتاب بنام "دانشمندان عامہ و مہدی موعود" تالیف کی ہے جس میں ۱۲۰ علماء کا تذکرہ کیا ہے۔

(ج) غیبت امام عصر (عج) پر علمائے اہل سنت کا اقرار

۱ ۔ عباسی خلیفہ الناصر الدین اللہ احمد بن المستضئ بنور اللہ (متوفی ۶۲۲ ھ)

احمد بن مستضی نے ۶۰۶ ہجری قمری میں حکم دیا کہ اس سرداب کو تعمیر کیا جائے جس میں امام زمانہ (عج) غائب ہوئے تھے اور پہلے وہ ان کے والد امام حسن ؑ عسکری کا مکان تھا اور کہا کہ صفہ و سرداب کے مابی ن ساج کی لکڑی سے تیار کردہ بہترین اور خوبصورت دروازہ لگایاجائے۔

اس دروازے پر سامنے کی طرف یہ عبارت تحریر ہے:"( بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيهِ أَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى وَمَن يقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ ) ( ۱۹۶ ) هذا ما أمره بعمله سيّدنا ومولانا الإمام المفترض الطاعة علی جميع الأنام أبوالعباس أحمد بن الناصر لدين الله أميرالمؤمنين وخليفة ربّ العالمين الذی طبق البلاد إحسانه وعدله... وحسبنا الله ونعم الوکيل وصلّی الله علی سيّدنا خاتم النبيّين وعلی آله الطاهرين وعترته وسلم ."؛ (بسم اللہ الرحمن الرحیم اے حبیب! کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو اور جو شخص بھی کوئی نیکی حاصل کرے گا تو ہم اس کی نیکی میں اضافہ کردیں گے کہ بیشک اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور قدر داں ہے) یہ کام ہمارے سید و سردار آقا و مولیٰ وہ امام کہ جن کی اطاعت تمام مخلوقات عالم پر واجب ہے یعنی ابو العباس احمد بن ناص لدین اللہ امیر المومنین اور خلیفہ رب العالمین کے حکم سے انجام پایا ہے۔

اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارسازہے اور درود و سلام ہو ہمارے سید و سردار خاتم النبیین اور ان کی پاکیزہ آل اور عترت طاہرہ پر۔

جبکہ دروازے کی پشت پر یہ عبارت تحریر ہے:"بسم الله الرحمن الرحيم محمّد رسول‌الله أميرالمؤمنين علیّ ولیّ الله، ‏فاطمة، ‏الحسن بن علیّ، ‏الحسين بن علیّ، ‏محمّد بن علیّ، ‏جعفر بن محمّد، ‏موسی بن جعفر، ‏علیّ بن موسی، ‏محمّد بن علیّ، ‏علیّ بن محمّد، ‏الحسن بن علیّ و محمّد بن الحسن القائم بالحقّ "

محدث نوری کتاب "کشف الاستار" میں رقمطراز ہیں : "اگر ناصرالدین کا اس بات پر عقیدہ نہ ہوتا کہ مذکورہ سرداب حضرت مہدی (عج) سے منسوب ہے اور یہ مکان ان کی جائےولادت ہے یا آنجناب کی غیبت یا ظہور کرامات سے وابستہ ہے، تو وہ ہرگز اس کی تعمیر نو کا حکم صادر نہ کرتا اور نہ ہی اس کی زیب و زینت پر خطیر رقم خرچ کرتا۔"( ۱۹۷ )

علاوہ از این اگر اس دور کے علماء اس بات پر متفق نہ ہوتے کہ یہ گھر امام کی جائے ولادت ہے، یا یہ کہ وہ امام مہدی علیہ السلام کی حیات کے قائل نہ ہوتے تو یقیناً ناصر لدین اللہ کا یہ تعمیری اقدام مشکل بلکہ محال ہوجاتا، لہذا ماننا پڑے گا کہ اس دور کے علماء و محدثین امام مہدی ؑ کی حیات طیبہ کے بارے میں ناصر لدین اللہ کے ہم عقیدہ و ہم خیال تھے۔

اس کے بعد محدث نوری کہتے ہیں: "ہم نے ناصر لدین اللہ کو حیات امام کے قائل سنی علماء کی فہرست میں ان کے فضل و کمال علم کی بنیاد پر اور ان کے محدثین کے زمرہ میں شامل ہونے کی وجہ سے کیا ہے، ان کے راوی حدیث ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان سے ابن سکینہ اور ابن خضر و ابن نجار و ابن دامغانی جیسے لوگوں نے روایت نقل کی ہے( ۱۹۸ ) ۔

۲ ۔ حافظ ابو نعیم محمد بن ابراہیم بن ہاشم طوسی بلاذری (متوفی ۳۳۹ ھ)

علامہ سمعانی اپنی کتاب "انسان کبیر" میں لکھتے ہیں : علامہ بلاذری، حافظ، فہیم، عارف بالحدیث تھے، انھوں نے طوس میں ابراہیم بن اسماعیل عنبری تلیم بن محمد طوسی سے علم حاصل کیا اور آپ سے حافظ ابو عبد اللہ حاکم (صاحب کتاب مستدرک علی الصحیحین ) نے کسب فیض کیا۔

حافظ حاکم نے لکھا ہے: بلاذری طوس کے ایک شہر طابران میں ۳۳۹ ھ میں شہید کر دیئے گے۔ یہ بلاذری بھی حیات امام کے قائل ہیں جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث کی کتاب (النوادر من حدیث الاوائل و الاواخر) سے ظاہر ہوتا ہے۔( ۱۹۹ )

شیخ عبد العزیر دہلوی متوفی ۱۲۳۹ ھ ، شیعیت کی ردّ میں لکھی جانے والی کتاب "تحفہ اثنا عشریہ" کے مؤلف اپنی کتاب النزھۃ میں اپنے والد شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتاب "الفضل المبین" سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں جسے انھوں نے شیخ محمد بن عقلہ کی کتاب "مسلسلات" سے نقل کیاہے، بلاذری کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا (م ح م د) بن الحسن بن علی المحجوب امام عصر نے، ان سے انکے والد، ان سے انکے والد علی بن موسیٰ علیہم السلام ۔۔۔ ان سے علی بن ابی طالب ؑ سید الاوصیاء نے فرمایا کہ مجھ سے سید الانبیاء نے فرمایا، ان سے جبرئیل سید الملائکہ نے بیان کیا: خداوند فرماتا ہے:"اِنّی انا الله لا اله الا انا، من اقرّ بالتوحید دخل حصنی و من دخل حصنی امن مِن عذابی "

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ بلاذری جو کہ بزرگان اہل سنت میں سے ہیں صاحب تحفہ اثنا عشریہ کے نقل کے مطابق ا س حدیث مسلسل میں تصریح کر رہے ہیں کہ انھوں نے خود امام زمانہ علیہ السلام کو دیکھا ہے اور ان سے حدیث نقل کی ہے!

علماء اہل سنت میں سے ۱۵ بزرگ علماء نے بلازری سے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور انکی علمی شخصیت کو بھی قبول کیا ہے۔( ۲۰۰ )

۳ ۔ ابو عبد اللہ محمد بن یوسف بن محمد گنجی شافعی (متوفی ۶۵۸ ھ)

جناب شافعی گنجی کا شمار اہل سنت کے مشہور ومعروف علماء اور بزرگ محدثین میں ہوتا ہے۔

اگرچہ ابن صلاح دمشقی، فقیہ شامی، ابو البرکات ہمدانی یمنی، محمد بن ابو الفضل مرسی مغربی، یوسف بن خلیل دمشقی، ابن جوزی بغدادی، محمد بن طلحہ شافعی قاضی حلب، صقر بن یحیی شافعی، ابن نجار، محمد بن عبد اللہ مادرائی، ابو اسحاق ابراہیم بن حاجب کاشغری و۔۔۔ جیسے انکے تمام اساتذہ معروف سنی علماء تھے لیکن اس کے باوجود شافعی گنجی ایک حقیقت پسند و منصف مزاج شخصیت کے حامل تھے۔ ابن صباغ مالکی نے اپنی کتاب "الفصول المہمہ" میں انکی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: "علامہ گنجی شافعی امام اور حافظ تھے، جبکہ علامہ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب "فتح الباری فی شرح البخاری" میں آپ کی نقل کردہ روایات کے ذریعہ استدلال کیا ہے۔

آپ نے کفایۃ الطالب فی مناقب امیر المومنین علی بن ابی طالب اور البیان فی اخبار صاحب الزمان جیسی بہترین کتاب تالیف کی ہیں جن میں آپ نے اپنے سلسلۂ سند کے مطابق تمام روایات اہل سنت کی معتبر کتب سے نقل کی ہیں اور اس طرح اہل بیت عصمت و طہارت سے اپنی محبت و الفت اور عقیدت کا اظہار کیا ہے۔

کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان ۲۵ ابواب پرمشتمل ہے اور یہ آپ کی مشہور و معروف کتاب کفایۃ الطالب سے ملحق چھپی ہے، علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں کفایۃ الطالب کا تذکرہ کیا ہے۔ شافعی صاحب نے حضرت مہدی (عج) سے مربوط پچیس باب میں امام زمانہ علیہ السلام کے وجود و غیبت کو قرآن و سنت سے ثابت کیا ہے جس کا ایک حصہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں:

محترم مؤلف آغاز کلام میں رقمطراز ہیں: "حضرت مہدی ؑ کے غیبت سے لیکر آج تک زندہ و باقی رہنے میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ قرآن و سنت کی روشنی میں حضرت عیسیٰ، حضرت خضر، حضرت الیاس جیسے اولیائے الٰہی کے با حیات ہونے اور دجال و شیطان جیسے دشمنان خدا کے زندہ ہونے کے شواہد بھی تو پائے جاتے ہیں۔

اہل حدیث ان سب کے زندہ ہونے پر ا تفاق نظر رکھتے ہیں لیکن حضرت مہدی ؑ کے وجود کا انکار کرتے ہیں! انھوں نے دو وجوہات کی بنا پر حضرت مہدی کے وجود کا انکار کیا ہے: اول زمانۂ غیبت میں انکی طول عمر اور دوم یہ کہ وہ آج تک سرداب میں بغیر کچھ کھائے پیئے کس طرح رہ سکتےہیں جبکہ یہ بات عام طور پر محال ہے۔"

اتنا تحریر کرنے کے بعد جناب گنجی شافعی ان اشکالات کا اس انداز سے جواب دیتے ہیں:

ہم پروردگار کی مدد سے اس مشکل کو حل کرنے کے لئے کہتےہیں:

حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ ہونے کی دلیل:

قرآن:

ارشاد رب العزت ہوتا ہے( وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ) ( ۲۰۱ ) ؛ اور (جب عیسیٰؑ، مہدی موعود کے وقت آسمان سے اتریں گےتو) اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جو اپنی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور عیسیٰ ؑ قیامت کے دن ان کے گواہ ہوں گے( ۲۰۲ ) ۔ جبکہ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اس آیت کے نزول سے لیکر ابھی تک اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان نہیں لائے ہیں پس یقیناً ایسا آخر الزمان میں ہی ہوگا۔

سنت:

صحیح مسلم میں ایک مفصل حدیث کے ضمن میں خروج دجال کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:پس عیسیٰ دمشق کے مشرق میں اس حالت میں آسمان سے نازل ہوں گے کہ وہ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوں گے "؛

نیز ابو ہریرہ سے نقل کرتےہیں کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:"کَیفَ اَنتُم اِذَا اَنزلَ اِبنُ مَریَمَ فِیکُم وَ اِمَامُکم مِنکُم ؛ اس وقت تم کیسا محسوس کرو گے جب عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارے امام تم میں سے ہوں گے"( ۲۰۳ ) ۔

اور حضرت خضر و الیاس کے بارے میں محمد بن جریر سے نقل کرتے ہیں کہ یہ روئے زمین پر گردش کر رہے ہیں۔

دجال کے زندہ ہونے پر دلیل:

دجال کے زندہ ہونے کو ثابت کرنے کے لئے تمیم داری کی اس روایت کو نقل کرتے ہیں جسے حدیث حسن و صحیح کے طور پر تسلیم کر تے ہیں ، اس روایت کو مسلم نے بھی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ روایت دجال کے زندہ ہونے پر صراحت کر رہی ہے۔

شیطان کے وجود پر دلیل:

آیات قرآن، شیطان کے وجود پر بہترین گواہ ہیں مثلا ً اس آیت کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے:( قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ) ( ۲۰۴ ) ؛ اس نے کہا کہ مالک مجھے روز حشر تک کی مہلت دیدے، جواب ملا کہ تجھے مہلت دیدی گئی ہے، ایک معلوم اور معین وقت کے لئے۔

حضرت مہدی موعود (عج) کے زندہ ہونے پر دلیل:

ارشاد رب العزت ہوتا ہے:( لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ) ( ۲۰۵ ) ؛ "تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے یہ بات مشرکین کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ اس آیہ شریفہ کے ذیل میں سعید بن جبیر نے روایت کی ہے کہ اس سے مراد مہدی ہیں جو عترت فاطمہ سے ہیں۔

پھر انھوں نے حضرت امام زمانہ (عج) کے وجود مبارک اور غیبت پر اس سے استدلال کیا ہے:

گذشتہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر الزمان تک تین افراد موجود ہوں گے جن میں سے کوئی بھی امام مہدی ؑ نہیں ہے؛ کیونکہ حضرت مہدی ؑ موعود لوگوں کے امام ہیں جبکہ حضرت عیسیٰ ان کےپیچھے نماز ادا کریں گے اور دجال بھی موجود ہے جس کے وجود پر شیعہ و سنی اہل حدیث حضرات کا اتفاق ہے۔

اس موقع پر ہم کہیں گے کہ اس طولانی مدت میں انکا وجود دو حالتوں سے خارج نہیں ہے یعنی انکا وجود یا تو خداوند عالم کے دست اختیار میں ہے یا محال ہے، محال ہونا باطل اور ناممکن ہے؛ کیونکہ وہ خدائے قادر مطلق جو مخلوقات کو عدم سے معرض وجود میں لاسکتا ہے ، اس کے بعد انھیں فنا بھی کرسکتا ہے اور پھر انھیں دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے وہ انھیں طولانی عمر عطا کرنے پر بھی مکمل طور پر قادر ہے۔

پس انکا موجود ہونا دست خدا سے باہر نہیں ہے، یہ امر مقدور خداوند ہے البتہ یہ امر بھی دو حالتوں سے خارج نہیں ہے۔ یا ان کوباقی رکھنے میں خداوند خود مختار ہے یا لوگوں کی مرضی کے مطابق ہے۔ ظاہر ہے اس میں عوام کی مرضی کا دخل نہیں ہے؛ کیونکہ اگر یہ کام ہمارے دست اختیار میں ہوتا تو سب سے پہلے ہم اپنے آپ کو یا اپنی آل و اولاد کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے۔

پس اس بات کا اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس طولانی مدت میں انکا وجود ذات مقدس الٰہی کے مکمل اختیار سے ہے۔ نیز انکا وجود دو حال سے خارج نہیں یعنی یا ان کے موجود ہونے کی کوئی نہ کوئی علت ضرور ہے یا بغیر کسی علت کے باقی ہیں۔ اگر ان کے وجود کی کوئی علت نہ ہو تو انکا وجود بے حکمت ہوجائے گا اور ہم جانتے ہیں کہ خدائے حکیم بغیر حکمت کے کوئی فعل انجام نہیں دیتا۔ پس ان کے موجود رہنے میں ایک ایسی علت و سبب ہونا چاہیے جو حکمت الٰہی کے عین مطابق ہو۔ حضرت عیسیٰ کے باقی رہنے کی علت و وجہ اس آیت( واِن من اهل الکتاب ) کی تفسیر سے واضح ہے۔ دجال لعین کے باقی رہےا کے بارے میں ہم یہی کہیں گے کہ پیغمبر گرامی قدر نے اسکی علامات کے بارے میں فرمایا ہے: "وہ ایک ایسا مرد ہے جسکی ایک آنکھ ہے، غذا کا پہاڑ ہر جگہ اس کے ہمراہ ہے" وہ بھی ابھی تک نہیں آیاپس وہ آخر الزمان ہی میں آئے گا۔

اور امام عصر علیہ السلام کے زندہ ہونے کے بارے میں ہم یہ بات بطور دلیل پیش کریں گے: جب سے آنجناب غائب ہوئے ہیں اس وقت سے آج تک جیسا کہ اخبار و روایات سے ظاہر ہوتاہے کہ زمین عدل و انصاف سے پُر نہیں ہوئی ہے بنابریں یہ علائم آخر الزمان میں ظاہر ہوں گی۔ یہی حضرت مہدی و عیسیٰ علیہما السلام اور دجال علیہ اللعنۃ کی بقاء کا سبب ہے۔ پس جب عیسیٰ و دجال زندہ رہ سکتے ہیں اور محدثین اہل سنت انھیں قبول کرتے ہیں تو حضرت ختمی مرتبت کی یادگار امام مہدی کے وجود کو قبول کرنے میں کیا چیز مانع ہے جبکہ امام مہدی پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے برحق نمائندہ بھی ہیں اور اختیار و قدرت الٰہی سے زندہ و جاوید ہیں۔ پس انکا وجود تو انکے وجود سے بھی زیادہ اولیٰ ہے؛ کیونکہ ممکن ہے حضرت مہدی ؑ آخر الزمان جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے انکی بقاء میں مکلفین کے لئے مصلحت مضمر ہو اور بندوں پر اللہ کی جانب سے لطف و کرم ہو۔

ہر چند دجال کا وجود و خروج لوگوں کے عقیدہ میں فساد کا باعث ہے لیکن خود اس کا وجود لوگوں کا امتحان ہے جس کے ذریعے نیک و بد الگ الگ ہوجائیں گے۔

اسی طرح آج تک حضرت عیسیٰ کا باقی رہنا اور آخر الزمان میں انکا نزول ہونا اہل کتاب کے ایمان لانے اور پیغمبر گرامی قدر کی خاتمیت کی تصدیق کاباعث ہے۔ عیسیٰ مومنین کے ایمان کو مستحکم اور منکرین کے مقابلے میں امام زمانہ کی امامت کی تصدیق کریں گے، آپ کے پیچھے نماز پڑھیں گے، آپ کی مدد کریں گے اور لوگوں کو دین اسلام کی طرف دعوت دیں گے۔ پس بقائے حضرت مہدی اصل اور آمد حضرت عیسیٰ و خروج دجال فرع ہے۔

جو لوگ آنجناب کے سرداب میں غائب ہونے کی وجہ سے ان کے وجود کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے ہمارا جواب یہ ہے کہ محدثین کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ نیز آسمان پر موجود ہیں جبکہ کوئی روایت اس امر پر دلالت نہیں کر رہی ہے کہ وہاں کوئی انھیں آب و غذا فراہم کر رہا ہے حالانکہ وہ بھی حضرت مہدی کی طرح ایک بشر ہیں۔ جب منکرین کے نزدیک حضرت عیسیٰ کا اس انداز سے ہونا مسلم اور ثابت ہے تو پھر سرداب میں حضرت مہدی کے ہونے پر بھی انھیں اشکال نہیں ہونا چاہیے!

اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ کو خداوند عالم اپنے خزانہ غیب سے غذا عطا کرتا ہے؛ تو ہم کہیں گے کہ حضرت مہدی کو بھی اگر وہ اپنے خزانہ غیب سے رزق عطا کر دے گا تو اس کا خزانہ ختم نہ ہوجائے گا۔

اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ (عروجِ آسمانی کی وجہ سے) طبیعت بشری سے خارج ہوگئے ہیں (اور انھیں اب غذا کی ضرورت نہیں) اور انکا معاملہ حضرت مہدی کے معاملے سے بالکل مختلف ہے؛ تو ہم کہیں گے کہ یہ بات درست نہیں ہے؛ کیونکہ خداوند عالم اشرف المخلوقات کے بارے میں فرماتا ہے:( قُلْ إِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَي إِلَيَّ ) ( ۲۰۶ ) ؛ "پیغمبر ! کہہ دیجئے کہ میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں بس اتنا فرق ہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔"

اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ نے یہ طبیعت ثانوی، عالم بالا میں حاصل کی ہے؛ تو ہم یہ کہیں گے کہ آپ کا یہ دعویٰ ثابت شدہ نہیں اور نہ ہی اس کے اثبات پر کوئی دلیل موجود ہے۔

۴ ۔ حمد اللہ مستوفی قزوینی ( متوفی ۷۳۰ ھ)

معروف عالم اہل سنت مؤلف نزھۃ المجالس اپنی فارسی میں تالیف کردہ کتاب منتخب جغرافی و منتخب تاریخ خصوصاً منتخب تاریخ میں ائمہ اطہار کی سوانح حیات کے ضمن میں بارہویں امام علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں:

"المہدی محمد بن حسن العسکری بن ۔۔۔ علی المرتضیٰ بارہویں امام اور خاتم معصومین ؑ تھے جنکی عمر ساڑھے چار سال تھی، ان کی ولادت جمعرات کی شب پندرہ شعبان ۲۵۵ ہجری کو شہر سامر ہ میں ہوئی۔ جب آپ کی عمر ۹ سال ہوئی تو ۲۶۴ ہجری میں غائب ہوگئے ۔"

صحیح و مشہور یہ ہے کہ آنجناب نیمہ شعبان کو متولد ہوئے اور ۲۶۰ ہجری میں جب آپ کے والد بزرگوار کی رحلت ہوئی تو غائب ہوگئے۔ مؤلف کی عبارت سے واضح ہے کہ یہ بھی غیبت امام ِ عصر علیہ السلام کے قائل تھے۔

۵ ۔ شیخ علاء الدین سمنانی (متوفی ۷۳۶ ھ)

معروف عارف شخصیت ہیں، یہ عبد الرحمن جامی کی کتاب شواہد النبوۃ کے مطابق عرفاء و صوفیوں کے اقطاب و ابدال کے نظریے کے ضمن میں لکھتے ہیں:

"مرتبہ قطیب پر پہنچنے والوں میں سے ایک ائمہ اہل بیت اطہار میں سے محمد بن الحسن العسکری رضی اللہ عنہ و عن آبائہ الکرام ہیں۔ جب وہ غائب ہوئے تو دائرۃ ابدال میں داخل ہوگئے۔"

البتہ شیعوں کا اقطاب و ابدل پر کوئی عقیدہ نہیں ہے بلکہ شیعہ معتقد ہیں کہ امام زمانہ محمد بن الحسن العسکری علیہما السلام پیدا ہوچکے ہیں اور آج تک بحکم خدا زندہ ہیں۔ بہر کیف وہ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ امام ؑ زمان غائب ہوگئے ہیں لیکن غیبت کے بعد وہ اقطاب میں داخل ہوئے یا نہیں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس کے بارے میں خود اہل سنت نے بھی تصریح اور استدلال کیا ہے کہ آنجناب غیبت کے بعد بھی آج تک زندہ ہیں( ۲۰۷ ) ۔

۶ ۔ خواجہ محمد پارسا بخاری حنفی (متوفی ۸۲۲ ھ)

یہ مشہور و معروف عالم اہل سنت اپنی کتاب فصل الخطاب میں تحریر کرتے ہیں:

"محمد ؑ فرزند حسن عسکری ؑ نیمہ شعبان ۲۵۵ ھ میں پیدا ہوئے۔ جب آپ کی عمر پانچ سال ہوئی تو آپ کے والد محترم وفات پا گئے اور آپ اس وقت سے آج تک غائب ہیں۔ ہر زمانہ میں موجود نگاہوں سے غائب صاحب الزمان حضرت مہدی کے بے شمار مناقب ہیں۔ اس سلسلہ میں کثرت سے روایات موجود ہیں کہ وہ ظہور فرمائیں گے اور انکے نور وجود سے پوری دنیا میں روشنی پھیل جائے گی اور وہ دین اسلام کو نئی زندگی عنایت کریں گے اور اپنے دور میں راہ خدا میں اس انداز سے جہاد کریں گے کہ پوری دنیا کو آلودگیوں سے پاک کردیں گے۔ خلافت و امامت انہی پر ختم ہوجائے گی۔ وہ اپنے والد بزرگوار کی وفات سے لیکر تا روز قیامت امام ہیں۔ عیسیٰ انکے پیچھے نماز ادا کریں گے اور ان کی امامت کی تصدیق کریں گے۔( ۲۰۸ ) "

۷ ۔ شیخ حسن عراقی (متوفی ۹۲۵ ھ)

عبد الوہاب شعرانی، کتاب "الواقح الانوار فی طبقات الاخیار" میں تحریر کرتے ہیں:

"شیخ صاحب ایک صالح، عابد اور زاہد مرد تھے، وہ صاحب کشف صحیح اور عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ میں اپنے استاد ابو العباس حریثی کے ہمراہ انکے پاس جاتا رہتا تھا۔ ایک دن انھوں نے کہا: کیونکہ تم بچپن سے مجھے جانتے پہچانتے ہو اس لئے میں تمہیں آغاز کار سے لیکر آج تک کی داستان سنانا چاہتا ہوں۔ میں نے عرض کیا : فرمائیے: میں دمشق میں صنعت گر تھا اور جمعہ کا دن عشرت و شراب خوری میں گزارتا تھا۔

ایک دن متوجہ ہوا اور اپنے دل میں سوچنے لگا کہ کیا میں ان کاموں کے لئے پیدا ہوا ہوں؟ یہ سوچ کر میں اپنے دوستوں سے علیحدہ ہوگیا انھوں نے میرا پیچھا بھی کیا لیکن وہ مجھ تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ اسی اثناء میں ، میں مسجد اموی میں داخل ہوا، میں نے دیکھا کہ ایک شخص کرسی پر بیٹھا حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں اتنی خوبصورت گفتگو کر رہا تھا کہ میرے دل میں انکا شوق دیدار پیدا ہوگیا۔ اس وقت کے بعد سے میں نے کوئی سجدہ نہیں کیا مگر یہ کہ خداوند عالم سے دعا کی کہ مجھے ان کی زیارت و ملاقات کا شرف نصیب ہوجائے۔

ایک رات جب میں نماز مغرب کے بعد مستحب نماز میں مشغول تھا، میں نے محسوس کیا کہ میرے پیچھے کوئی آکر بیٹھا ہے اور اس نے اپنا ہاتھ میرے دوش پر رکھ دیا اور کہنے لگا: بیٹا! خداوند عالم نے تمہاری دعا مستجاب فرمائی ہے۔ اب تم کس بات کے منتظر ہو؟ میں مہدی ہوں۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ میرے گھر تشریف لے چلیں گے؟ فرمایا: کیوں نہیں! پھر وہ میرے ساتھ میرے گھر تشریف لے آئے اور فرمایا: میرے لئے ایک جائے خلوت مہیا کردو میں کچھ تنہائی چاہتا ہوں پس آنجناب ایک ہفتہ ہمارے پاس رہے۔( ۲۰۹ ) "

۸ ۔ شیخ علی خواص (متوفی ۹۳۹ ھ)

شعرانی ، کتاب یواقیت و جواہر کے باب نمبر ۶۵ میں امام زمانہ علیہ السلام سے شیخ حسن عراقی کی ملاقات کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں: میرے استاد و سرور اور مربی جناب علی خواص، امام زمانہ علیہ السلام سے شیخ حسن عراقی کی داستان ملاقات کی تصدیق فرماتے تھے۔"( ۲۱۰ )

۹ ۔ عبد الوہاب شعرانی (متوفی ۹۷۳ ھ)

یہ اہل سنت کے معروف عالم اور بزرگ عارف شخصیت ہیں۔ انکی مشہور و معروف کتاب الیواقیت و الجواہر کے مقدمہ میں شیخ الاسلام فتوحی رضی اللہ نے اس کتاب کے بارے میں لکھا ہے:

"کوئی بد اندیش یا جھوٹے منکر کے سوا اس کتاب کے معانی کی تکذیب نہیں کرسکتا؛ جیسا کہ کوئی مؤلف اس کو خطا کار نہیں کہہ سکتا مگر یہ کہ وہ قرآن اور اس کی تعلیمات سے بے بہرہ ہو اور اس نے راہِ راست سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہو۔ جس طرح سوائے حاسد و کینہ پرور یا نادان بدخواہ، کجرو و مخالف سنت، بے دین اور اسلامی معاشرے سے منحرف شخص بھی اس کتاب کے مؤلف کے فضل وبزرگواری کا انکار نہیں کرتا۔"

شعرانی رقمطراز ہیں: مہدی ؑ امام حسن عسکری علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ ان کی ولادت شب نیمہ شعبان ۲۵۵ ھ میں ہوئی ، وہ ابھی تک زندہ ہیں یہاں تک کہ عیسیٰ ابن مریم ان کے پاس آجائیں گے۔"

مزید لکھتے ہیں:

اگر آپ یہ سوال کریں کہ مہدی ظہور کے بعد کس طرح حکم خدا کو جاری کریں گے؟ کیا وہ نصوص یا اجتہاد یا دونوں کی مدد سے فیصلہ کریں گے؟ تو ہم کہتےہیں: جیسا کہ شیخ محی الدین کا کہنا ہے کہ خدا انھیں جو الہام کرے گا وہ اسی کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔کیونکہ خداوند عالم شریعت محمدی انھیں الہام کردے گا اور وہ اسی کے مطابق فیصلے کریں گے جیسا کہ حدیث "يقفوا أثری ولا يخطئ " اسی مطلب کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

پس پیغمبر الاسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمیں یہ بات سمجھا دی ہے کہ مہدی پیرو ہیں نہ بدعت گزار، اور یہ کہ وہ فیصلہ کرنے میں بالکل معصوم ہیں کیونکہ حکم میں معصوم کے معنی یہ ہیں کہ وہ اشتباہ نہیں کرتا، اور حکم پیغمبر ؐ بھی خطا سے محفوظ ہے۔( وما ينطق عن الهوی إن هو إلّا وحی يوحي ) بنابریں انھیں پیغمبرؐ کی مانند سمجھتے ہیں۔

۱۰ ۔ سید جمال الدین عطاء اللہ شیرازی (متوفی ۱۰۰۰ ھ)

سید عطاء اللہ کتاب روضۃ الاحباب میں رقمطراز ہیں:

"ہماری یہ گفتگو بارہویں امام مؤتمن محمد بن الحسن کے بارے میں ہے ان کی ولادت باسعادت اکثر اہل روایت کے قول کے مطابق نیمہ شعبان ۲۵۵ ہجری کو شہر سامر ہ میں ہوئی ہے۔ ان امام ذوِ الاحترام کا نام و کنیت ،حضرت خیر الانام علیہ والہ تحف الصلاۃ و السلام سے موافقت رکھتا ہے اور مہدی، منتظر ، الخلف الصالح اور صاحب الزمان ان کے القابات ہیں۔

وہ اپنے والد گرامی کی وفات کے وقت پانچ سال کے تھے، پروردگار صاحب العطایا نے اس شگوفۂ گلزار کو حضرت یحیی ابن ذکریا علیہ السلام کی طرح بچپن میں حکمت عطا فرمائی تھی۔

اور یہ صاحب الزمان یعنی مہدی دوراں معتمد عباسی خلیفہ کے زمانے میں ۲۶۵ یا ۲۶۶ ہجری میں فِرَقِ برایا کی نگاہوں سے غائب ہوگئے۔( ۲۱۱ ) "

۱۱ ۔ محمد بن ابراہیم جوینی شافعی (متوفی ۱۱۷۶ ہجری)

یہ اپنی معروف کتاب "فرائد السمطین" میں دعبل خزاعی کی امام رضا علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں کہ امام ؑ نے فرمایا: میرے بعد امام جواد تقی علیہ السلام انکے بعد انکے فرزند علی الہادی نقی علیہ السلام ، انکے بعد انکے فرزند حسن عسکری پھر ان کے فرزند محمد الحجۃ المہدی (عج) ہیں کہ انکی غیبت کے زمانے میں ان کا منتظر رہنا چاہئے اور ظہور کے بعد انکی اطاعت کی جائے گی۔( ۲۱۲ ) "

۱۲ ۔ شیخ محمد بن صبان مصری (متوفی ۱۲۰۶ ہجری)

یہ معروف عالم اہل سنت اپنے کتاب اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفی و فضائل اہل البیت الطاہرین کہ جسے انھوں نے ۱۱۸۵ ہجری میں تالیف کیا ہے اور یہ کتاب، مشہور صاحب قلم جناب شبلنجی کی کتاب نور الابصار کے حاشیہ پر مصر میں چھپی ہے، وہ اس میں کتاب یواقیت میں سخن شعرانی نیز گفتار شیخ حسن عراقی اور شعرانی کےا ستاد شیخ علی خواص کی تصدیق کا تذکرہ کرتے ہیں، اس کے علاوہ شعرانی کے نقل کردہ شیخ محی الدین عربی کے کلام کا حوالہ دیتے ہوئے بارہ ائمہ اطہار کے اسماء کا بھی ذکر کیا ہے، نیز خود بھی حضرت محمد بن الحسن العسکری کے نام مبارک کا ذکر کرتے ہیں۔

بنابریں بغیر کسی نقد و تنقید کے یہ نقل کرنا خود غیبت امام علیہ السلام کو قبول کرنے کی دلیل ہے؛ کیونکہ اگر ابن صبان غیبت امام عصر (عج) کو قبول نہ کرتے تو یا وہ ان اقوال کو نقل ہی نہ کرتے یا ان پر نقد و تنقید کرتے۔( ۲۱۳ )

۱۳ ۔ قاضی جواد ساباط بصری حنفی (متوفی ۱۲۵۰ ھ)

انکا تعلق بحرین سے ہے لیکن بصرہ میں آکر آباد ہوگئے تھے، یہ عیسائی تھے پھر سنی مسلمان ہوگئے۔

اسماعیل پاشا بغدادی کتاب ہدیۃ العارفین فی اسماء المؤلفین وآثار المصنفین (جو کہ کشف الظنون کے ذیل میں ہے) لکھتے ۃیں: "جواد ساباط ۱۲۲۸ ھ میں کتاب "البراهین الساباطیه فیما یستقیم به دعائم الملة المهدیه و تنهدم به اساطین الشریعة المنسوخة العیسویه " کی تالیف سےفارغ ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ جناب ساباط کی مختلف علوم میں تالیف کردہ بارہ دیگر کتب کا تذکرہ کرتے ہیں۔( ۲۱۴ )

قاضی جواد ساباطی صاحب نے اپنی یہ کتاب اپنے گذشتہ مذہب کی ردّ میں لکھی ہے جس میں انھوں نے دین مبین اسلام کی حقانیت کو ثابت کرتے ہوئے مدلل جوابات دیئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

" مسلمانوں میں حضرت مہدی کے وجود کے بارے میں اختلاف نظر ہے۔ ہم اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ آنجناب ؑ حضرت فاطمہ زہرا کی اولاد سے ہیں۔ ان کا نام محمد، ان کے والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ ہے۔

امامیہ کا نظریہ یہ ہے کہ وہ محمد بن الحسن العسکری ؑ ہیں جو ۲۵۵ ہجری میں ایک نرجس نامی کنیز کے بطن مبارک سے معتمد عباسی خلیفہ کے دور حکومت میں شہر سامر ہ میں پیدا ہوئے تھے پھر اس کے بعد غائب ہوگئے پھر آشکار ہوئے اور پھر دوبارہ غائب ہوگئے، یہی غیبت کبریٰ ہے اور جب خدا چاہے گا ظہور فرمائیں گے۔

البتہ چونکہ شیعہ امامیہ کا نقطۂ نظر پیغمبر گرامی قدر کی نص صریح سے مطابقت کرتا ہے اور میرا مقصد بھی بغیر کسی تعصب کے امت محمدی کا دفاع کرنا ہے اس لئے میں نے محترم قارئین کے لئے اس بات کو نقل کر دیا ہے تاکہ آپ کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ مہدی کے بارے میں شیعوں کا نظریہ، پیغمبر گرامی قدر کے فرمان کے مطابق ہے۔"( ۲۱۵ )

۱۴ ۔ قاضی بہلول بہجت افندی (متوفی ۱۳۵۰ ہجری)

"کیونکہ حدیث "من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتۃ الجاہلیۃ" پر تمام علمائے اسلام متفق ہیں اس لئے عالم اسلام میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو صاحب العصر و الزمان (عج) کے وجود کا اقرار نہ کرتا ہو۔ ہمارے عقیدے کے مطابق امام مہدی صاحب العصر و الزمان شہر سامر ہ میں پیدا ہوئے ہیں اور انھیں وراثت نبوت و وصایت امامت نصیب ہوئی۔ حکمت الٰہی کے مطابق امامت کا سلسلہ تا قیام قیامت محفوظ و جاری رہے گا۔ پیغمبر اکرم کے بعد ائمہ معصومین کی تعداد محصور و معلوم یعنی بارہ افراد پر مشتمل ہے کیونکہ صحیح بخاری و مسلم میں پیغمبر گرامی قدر سے با سند معتبر روایت نقل کی گئی ہے کہ میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے اور وہ سب کے سب بنی ہاشم سے ہوں گے۔"( ۲۱۶ )

اس کے علاوہ وہ اپنی کتاب محاکمہ در تاریخ آل محمد میں رقمطراز ہیں : "امام تا بحال زندہ ہیں اور جب خداوند عالم انھیں اجازت دے گا ظہور فرمائیں گے اور روئے زمین کو عدل و انصاف سے مالا مال کردیں گے۔"( ۲۱۷ )

____________________

۱ ۔سورہ یس، (۳۶) آیت ۹۔

۲ ۔مجمع البیان، ج۸، مذکورہ آیت کریمہ۔

۳ ۔مجمع البیان میں ہے کہ مشرکین آنحضرت کو ابی کبشہ سے منسوب کرتے تھے اور انھیں ابن ابی کبشہ کہا کرتے تھے۔ ابو کبشہ درحقیقت قبیلۂ خزاعہ کا ایک شخص تھا جو بتوں کی پرستش کی وجہ سے قریش کی مخالت کرتا تھا اور قبیلہ کے دیگر افراد کی طرح بتوں کی عبادت نہیں کرتا تھا۔ لہذا حضور ؐ بھی بتوں کی پرستش کی وجہ سے قریش کی مخالفت کرتے تھے اسی لئے انھوں نے انھیں ابی کبشہ سے تشبیہ دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ابو کبشہ ماں کی طرف سے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اجداد میں سے تھے۔

۴ ۔سورہ یس، (۳۶) آیت ۹۔ ۸۔

۵ ۔محمد بن جریر طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، ج۲۲، ص ۹۹، طبع ۱۳۲۸ ھ ۔

۶ ۔سورہ اسراء (۱۷) آیت ۴۵۔

۷ ۔مجمع البیان، ج۶، ص ۴۱۸، طبع لبنان ۱۳۷۹ ھ۔

۸ ۔ سورہ طہ (۲۰) آیت ۹۶۔

۹ ۔سورہ طہ (۲۰) آیت ۸۸۔

۱۰ ۔سورہ طہ (۲۰) آیت ۹۶۔

۱۱ ۔الامام المہدی من المہد اِلی الظہور، ص ۱۸۲، تفسیر نمونہ ذیل آیۂ کریمہ۔

۱۲ ۔بحار الانوار، ج۵۱، ص ۲۰۳۔

۱۳ ۔سورہ کہف (۱۸) آیت ۸۲۔ ۵۹۔

۱۴ ۔سورہ قصص (۲۸) آیت ۱۸ و ۲۱، سورہ شعراء (۲۶) آیت ۲۱؛ بحار ، ج۵۱، ص ۲۰۴۔

۱۵ ۔بحار الانوار، ج۵۱، ص ۲۰۴۔

۱۶ ۔بحار، ج۵۱، ص ۲۰۴۔

۱۷ ۔بحار الانوار، ج۵۱، ص ۲۰۴۔

۱۸ ۔کمال الدین، ج۱، ص ۱۲۷۔ ۱۶۱۔

۱۹ ۔سورہ شعراء (۲۶) آیت ۱۵۵۔

۲۰ ۔سورہ اعراف (۷) آیت ۷۵۔ ۷۶۔

۲۱ ۔کمال الدین، ج۱، باب ذکر غیبۃ صالح، ص ۱۳۶، ح ۶؛ بحار الانوار، ج۵۱، باب ۱۳، ص ۲۱۶، ح۱۔

۲۲ ۔سورہ یوسف (۱۲) آیت ۹۰۔ ۸۹۔

۲۳ ۔علل الشرائع، باب ۱۷۹، ص ۲۴۴، ح۳؛ کمال الدین، ج۱، باب فی غیبۃ یوسف، ص ۱۴۴، ح ۱۱؛ بحار الانوار، ج۵۱، باب۶، ص ۱۴۲ ح ۱۔

۲۴ ۔شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۱۶۳۔

۲۵ ۔کمال الدین، ج۱، ص ۱۵۲، ح ۱۴؛ بحار الانوار، ج۵۱، ص ۲۱۶، ح۲۔

۲۶ ۔شیخ حر عاملی ، وسائل الشیعہ، ج۲۷، ص ۱۹۶، ح ۳۳۵۸۰۔

۲۷ ۔مہدی یوسفیان، امام مہدی در قرآن، ص۱۵۔

۲۸ ۔سورہ قدر (۹۷) آیت ۵۔ ۱۔

۲۹ ۔سورہ دخان (۴۴) آیت ۴۔ ۱۔

۳۰ ۔الکافی، ج۱، باب ۴۱،ص ۲۴۹، ح۶۔

۳۱ ۔ایضاً، ص ۳۱۱، ح ۹۔

۳۲ ۔ایضاً، ص ۳۰۶، ح ۲۔

۳۳ ۔کمال الدین، ج۱، ص ۲۸۰۔ ۲۸۱، ح ۳۰۔

۳۴ ۔سورہ اسراء (۱۷) آیت ۷۱۔

۳۵ ۔ترجمہ علامہ ذیشان حیدر جوادی۔

۳۶ ۔الکافی، ج۲، ص ۴۳۸، باب ۸۷؛ مسند احمد ابن حنبل، ج۴، ص ۹۶۔

۳۷ ۔کتاب المحاسن، ج۱، باب ۲۲، ص ۱۵۳ ح ۷۸۔

۳۸ ۔تفسیر عیاشی، ج۲، ص ۳۰۳، ح ۱۱۹۔

۳۹ ۔شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ج۲، باب ۳۱، ص ۶۳، ح ۲۱۴۔

۴۰ ۔کمال الدین، ج۲، ص ۳۸۰، باب ۳۹، ح ۱۲۔

۴۱ ۔صحیح ابن حبان، ج۷، ص ۴۹، ح ۴۵۵۴۔

۴۲ ۔الطبقات الکبریٰ، ج۵، ص ۱۴۴؛ کنز العمال، ج۱، ص ۱۰۳۔

۴۳ ۔مسند ابی داؤد، ص ۱۲۵۹، ح ۱۹۱۳۔

۴۴ ۔مسند احمد بن حنبل، ج۳، ص ۴۴۶؛ امام بخاری، تاریخ کبیر، ج۶، ص ۴۴۵، ح ۲۹۴۳؛ المصنف، ج۱۵، ص ۳۸، ح ۱۹۰۴۷۔

۴۵ ۔ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۳، ص ۲۴۲۔

۴۶ ۔المستدرک ، ج۴، ص ۷۶؛ الفرق بین الفرق، ص ۳۰۸۔

۴۷ ۔کمال الدین، ج۱، ص ۲۵۸، ح ۱۹۔ ۲۱۔

۴۸ ۔قمی رازی، کفایۃ الاثر، ص ۴۴۔

۴۹ ۔الکافی، ج۱، ص ۲۱۵۔

۵۰ ۔مسند ابی داؤد، ص ۲۷۸، ح ۷۶۷۔

۵۱ ۔مسند احمد بن حنبل، ج۵، ص ۸۶۔ ۸۸۔

۵۲ ۔تحفۃ الاشراف، ج۶، ص ۳۹؛ صحیح مسلم، ج۱۲، ص ۴۴۳، فیض القدیر، ج۲، ص ۵۸۲۔

۵۳ ۔شرح صحیح بخای، ج۸، ص ۲۱۱۔

۵۴ ۔صحیح بن حبان، ج۷، ص ۴۹، ح ۵۴۔

۵۵ ۔سورہ نساء: (۴) آیت ۵۹۔

۵۶ ۔تفسیر نمونہ، ج۴، ص ۴۸۱۔ ۴۹۰۔

۵۷ ۔فخر رازی، تفسیر کبیر، ج۱۰، ص ۱۴۴، طبع مصر ۱۳۵۷ھ۔

۵۸ ۔تفسیر نمونہ، ج۳، ذیل آیت ۵۹ سورہ نساء۔

۵۹ ۔محمد بن یوسف ابو حیان اندلسی، بحر المحیط، ج۳، ص ۲۷۸، طبع مصر۔

۶۰ ۔احقاق الحق، ج۳، ص ۴۲۵۔

۶۱ ۔ینابیع المودۃ، ص ۱۱۶، طبع استنبول۔

۶۲ ۔ینابیع المودۃ، ص ۱۱۴، طبع استنبول۔

۶۳ ۔تفسیر برہان، ج۱، آیہ مذکورہ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔

۶۴ ۔کمال الدین، ج۱، باب ۲۳، ح ۳۔

۶۵ ۔سورہ رعد (۱۳) آیت ۷۔

۶۶ ۔تفسیر کشاف، ج۲، ذیل آیت مذکور۔

۶۷ ۔تفسیر نمونہ، ج۱۰، ذیل آیت۔

۶۸ ۔جامع البیان، ج۱۳، ص ۱۴۲۔

۶۹ ۔حاکم نیشاپوری، مستدرک، ج۳، ص ۱۲۹۔

۷۰ ۔الکافی، ج۱، ص ۱۹۱۔

۷۱ ۔ایضاً۔

۷۲ ۔سورہ نساء (۴) آیت ۴۱۔

۷۳ ۔سورہ نحل(۱۶) آیت ۸۴۔

۷۴ ۔سورہ نحل (۱۶) آیت ۸۹۔

۷۵ ۔سورہ رعد (۱۳)، آیت ۴۳۔

۷۶ ۔سورہ قصص (۲۸)، آیت ۷۵۔

۷۷ ۔تفسیر فخر رازی، ج۲۵، ص ۱۲۔ ۱۳۔

۷۸ ۔سورہ بقرہ (۲) آیت ۱۴۳۔

۷۹ ۔تفسیر فخر رازی، ج۲۰ ص ۹۸۔

۸۰ ۔تفسیر نمونہ، ج۱۱، ص ۳۶۰۔

۸۱ ۔الکافی، ج۱، کتاب الحجۃ، باب ۹، ح۱۔

۸۲ ۔المیزان، ج۱۱، ص ۳۸۸۔

۸۳ ۔سورہ توبہ (۹) آیت ۱۱۹۔

۸۴ ۔الکافی، ج۱، ص ۲۰۸۔

۸۵ ۔ایضاً۔

۸۶ ۔شواہد التنزیل، ج۱، ص ۲۶۰، ش ۲۵۳۔

۸۷ ۔تذکرۃ الخواص، ص ۱۶۔

۸۸ ۔تفسیر فخر رازی، ج۱۶، ص ۲۲۰۔

۸۹ ۔سورہ اعراف (۷) آیت ۱۸۱۔

۹۰ ۔تفسیر فخری رازی، ج۱۵، ص ۷۲۔

۹۱ ۔تفسیر کنز الدقائق، ج۳، ص ۶۵۷۔

۹۲ ۔الکافی، ج۱، باب ۱۰۸، ص ۴۱۴، ح ۱۳۔

۹۳ ۔سورہ فاطر (۳۵) آیت ۲۴۔

۹۴ ۔الکافی، ج۱، کتاب الحجۃ، باب انا انزلنا، ص ۲۴۹، ح ۴؛ بحار الانوار، ج۲۵، باب ۳، ص ۷۱، ح ۶۲۔

۹۵ ۔تفسیر علی بن ابراہیم قمی، ج۲، ص ۲۰۹۔

۹۶ ۔راغب اصفہانی، مفردات قرآن، مادہ غیب۔

۹۷ ۔ایضاً۔

۹۸ ۔تفسیر قرطبی، ج۱، ص ۱۶۳؛ تفسیر زاد المسیر، ج۱، ص ۲۱۔

۹۹ ۔ایضاً۔

۱۰۰ ۔تفسیر قرطبی، ج۱، ص ۱۶۳؛ تفسیر الماوردی، ج۱، ص ۶۹۔

۱۰۱ ۔تفسیر جامع البیان، ج۱، ص ۱۶۳؛ تفسیر دُر المنثور، ج۱، ص ۶۴، تفسیر زاد المسیر، ج۱، ص ۲۱۔

۱۰۲ ۔تفسیر قرطبی، ج۱، ص ۱۶۳۔

۱۰۳ ۔ایضاً۔

۱۰۴ ۔تفسیر المیزان، ج۱، ص ۵۵۔

۱۰۵ ۔تفسیر مجمع البیان، ج۱، ص ۱۲۱؛ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص ۳۱؛ تفسیر نمونہ، ج۷، ص ۷۲۔

۱۰۶ ۔فخر رازی، تفسیر کبیر، ج۲، ص ۲۸۔

۱۰۷ ۔سیوطی، تفسیر در المنثور، ج۱، ص ۶۴؛ تفسیر جامع البیان، ج۱، ص ۱۰۱۔

۱۰۸ ۔ایضاً؛ تفسیر قرطبی؛ جامع الاحکام، ج۱، ص ۱۶۳؛ تفسیر زاد المسیر، ج۱، ص ۲۱۔

۱۰۹ ۔سیوطی، در المنثور، ج۱، ص ۶۵۔

۱۱۰ ۔ینابیع المودہ، ج۲، ص ۷۶۔

۱۱۱ ۔تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص ۳۱۔

۱۱۲ ۔ تفسیر البرہان، ج۱، ص ۱۳۲۔

۱۱۳ ۔کمال الدین، ج۲، باب ۳۳، ح ۱۹؛ تفسیر البرہان، ج۱، ص ۱۲۵؛ نور الثقلین، ج۱، ص ۳۱؛ المحجۃ، ص ۱۶۔

۱۱۴ ۔ الکافی، ج۱، ص ۳۳۴، ح ۲؛ کمال الدین، ج۲، ص ۵۴۸، ح۷۔

۱۱۵ ۔ کمال الدین ، ج۲، باب ۳۴، ح ۶۔

۱۱۶ ۔ تفسیر نمونہ، ج۲۴، ص ۳۵۸۔

۱۱۷ ۔کمال الدین، ج۱، باب ۳۲، ص ۳۲۵، ح ۳؛ الکافی، کتاب الحجۃ، باب در امر غیبت، ح ۱۴؛ نعمانی، الغیبۃ، باب ۱۰، ح ۱۷؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۱۵۸، ۱۱۵؛ تفسیر علی بن ابراہیم، ج۲، ص ۳۷۹؛ تفسیر نور الثقلین، ج۵، ۳۸۷۔

۱۱۸ ۔سورہ انبیاء (۲۱) آیت ۳۰۔

۱۱۹ ۔ترجمہ مولانا فرمان(اعلیٰ اللہ مقامہ)۔

۱۲۰ ۔الکافی، ج۱، کتاب العقل و الجھل، ح ۲۵۔

۱۲۱ ۔سورہ بقرہ (۲) آیت ۲۲۔

۱۲۲ ۔سورہ بقرہ (۲) آیت ۱۲۴۔

۱۲۳ ۔یہاں عہد الٰہی سے مراد امامت ہے (رجوع فرمائیں تفسیر مجمع البیان و تفسیر المیزان ذیل آیت)۔

۱۲۴ ۔شیخ صدوق، الخصال، ج۲، ص ۶۲۶۔

۱۲۵ ۔شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۱۶۰، ح ۱۱۷؛ کمال الدین، ج۲،باب ۳۴، ح ۳۔

۱۲۶ ۔سید ہاشم بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ج۸، ص ۷۹، ح ۱؛ بحار الانوار، ۳۳/ ۱۸، باب ۱۳، باب شہادت عمار؛ بحار الانوار، ۳۶/ ۳۲۶، باب ۴۱، باب نصوص الرسول؛ کفایۃ الاثر، ص ۱۲۰، باب ما جاء عن عمار بن یاسر۔

۱۲۷ ۔نعمانی، الغیبۃ، باب ۱۰، ح ۶ و ۷۔

۱۲۸ ۔کمال الدین، ج۱، ص ۳۲۴، باب ۳۲، ح ۱، و ۱۴۔

۱۲۹ ۔شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۱۵۹، ح ۱۱۶۔

۱۳۰ ۔تفسیر نور الثقلین، ج۵، ص ۵۱۷، ح ۱۸، ۱۹ و ۲۰۔

۱۳۱ ۔نعمانی، الغیبۃ، باب ۱۰، ح ۳۰۔

۱۳۲ ۔نعمانی، الغیبۃ، باب ۱۰، ح ۴۰؛ نور الثقلین، ج۵، ص ۴۵۴، ح ۳؛ کمال الدین، ج۲، باب ۳۳ باب ما اخبر بہ الصادق من وقوع الغیبۃ، ح ۴۲؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، باب ما ورد عن الائمہ فی غیبتہ، ح ۱۲۶۔

۱۳۳ ۔نعمانی، الغیبۃ، ص ۲۴۔

۱۳۴ ۔علی دوانی، موعودی کہ جہان در انتظار ا وست، ص ۲۴۰۔

۱۳۵ ۔نعمانی، الغیبۃ، ص ۲۴۔

۱۳۶ ۔عبقات الانوار، ج۱ و ۲ ص ۸۲۵۔ ۸۲۴ (بربنائے نقل مہدی یوسفیان، امام مہدی در احادیث شیعہ و سنی، ص ۳۹)۔

۱۳۷ ۔صحیح مسلم، ج۴، ص ۱۸۰۳۔

۱۳۸ ۔سنن ترمذی، ج۵، ص ۶۶۳، ش ۳۷۸۸۔

۱۳۹ ۔امام مہدی در حدیث ثقلین۔

۱۴۰ ۔سورہ احزاب (۳۳) آیت ۳۳۔

۱۴۱ ۔سورہ آل عمران (۳) آیت ۶۱۔

۱۴۲ ۔صواعق محرقہ، باب۹، ص ۱۲۱۔

۱۴۳ ۔صحیح مسلم، ج۷، ص ۱۳۰؛ صواعق محرقہ، باب ۱۱، فصل ۱۱، ص ۱۴۳۔

۱۴۴ ۔لسان العرب، ج۵، ص ۵۳۸۔

۱۴۵ ۔ابن اثیر، نھایہ، ج۳، ص ۸۶۹ مادہ عتر۔

۱۴۶ ۔فیض القدیر، ج۳، ص ۱۵۔

۱۴۷ ۔الصواعق المحرقہ، ص ۹۰ (بر بنائے نقل مہدی یوسفی، امام مہدی در احادیث شیعہ و سنی، ص ۴۵)۔

۱۴۸ ۔مسند احمد بن حنبل، ج۱، ص ۳۷۶؛ سنن ابی داؤد، کتاب المہدی، ص ۱۰۷؛ صحیح ترمذی، ج۲، ص ۴۶۔

۱۴۹ ۔الحاوی للفتاوی، ج۲، ص ۸۶۔ ۸۵۔

۱۵۰ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، ص ۳۵۔

۱۵۱ ۔ ینابیع المودۃ، باب ۷۳، ص ۴۳۳۔

۱۵۲ ۔حاکم نیشابوری، مستدرک، ج۴، ص ۵۵۷۔

۱۵۳ ۔سنن ابی داؤد ، ج۴،کتاب المہدی، ص ۱۰۷، ح ۴۲۸۴؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۱۸۵، ح ۱۴۵۔

۱۵۴ ۔عقد الدرر، ص ۲۰۵۔

۱۵۵ ۔سنن أبی داؤد ، ج۴، ص ۱۰۷، ح ۴۲۸۵۔

۱۵۶ ۔کمال الدین، ج۱، باب ۲۵، ص ۲۸۷ ح۵؛ فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۳۵، ح ۵۸۷۔

۱۵۷ ۔شرح المقاصد، ج۵، ص ۲۳۹؛ تشریح و محاکمہ تاریخ آل محمد، ص ۱۶۶؛ ینابیع المودۃ، ص ۴۸۳؛ المسند الامام احمد، ج۱۳، ص ۱۸۸۔

۱۵۸ ۔بحار الانوار، ج۲۳، ص ۹۵۔ ۷۶۔

۱۵۹ ۔فقیہ ایمانی، شناخت امام مہدی، ص ۳۰ و ۴۰۔

۱۶۰ ۔سیرہ ابن ہشام، ج۲، ص ۶۶و ۴۲۴۔

۱۶۱ ۔صحیح مسلم، ج۶، ص ۱۰۲ و ج ۱۲، ص ۴۴۳۔

۱۶۲ ۔صحیح بخاری،کتاب الاحکام، باب الأمراء من قریش، ح ۷۱۳۹؛ شرح صحیح مسلم، ج۱۲، ص ۴۴۳؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۸۸؛ نعمانی ، الغیبۃ، ص ۷۵۔

۱۶۳ ۔فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۱۲، ح ۵۶۲۔

۱۶۴ ۔فرائد السمطین، ج۲، ص ۱۳۳؛ ذیل حدیث ۴۳۱؛ ینابیع المودۃ، باب ۷۶، ص ۴۴۱۔

۱۶۵ ۔کمال الدین، ج۲، ص ۳۴۳، باب ما اخبر بہ الصادق، ح ۲۵۔

۱۶۶ ۔سورہ آل عمران، آیت ۱۴۱؛ کمال الدین ، ج۱، ص ۲۸۷، باب ۲۵، ح ۷۔

۱۶۷ ۔سورہ آل عمران، آیت ۱۴۱۔

۱۶۸ ۔فرائد السمطین، ج۲، ۳۳۶؛ ینابیع المودۃ، ج۳،ص ۳۹۷؛ احقاق الحق، ج۱۳، ص ۱۵۶؛ کمال الدین، ج۱، ص ۲۸۷، باب ۲۵، ح ۷۔

۱۶۹ ۔سُرخ یاقوت۔

۱۷۰ ۔ینابیع المودۃ، ج۳، ص ۲۹۶؛ فرائد السمطین، ۳۳۶۔

۱۷۱ ۔ینابیع المودۃ، ج۲، باب ۷۶، ص ۳۸۸۔

۱۷۲ ۔متقی ہندی، البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان، باب ۱۲، ح ۳۔

۱۷۳ ۔منتخب الاثر، ۳۱۶۔

۱۷۴ ۔کمال الدین، ج۲، باب ۴۴، ص ۴۸۰، ح ۶؛ بحار الانوار، ج۵۱، باب ۶، ص ۱۴۲، ح ۲۔

۱۷۵ ۔کمال الدین، ج۱، ص ۳۰۳، باب ۲۶،ح ۱۴۔

۱۷۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۹۴، ص ۴۹۳۔

۱۷۷ ۔نعمانی، الغیبۃ، باب ۱۰، ص ۱۷۰، ح۱۔

۱۷۸ ۔ایضاً، ح ۳؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۴۲۳، ح ۴۰۷۔

۱۷۹ ۔ینابیع المودۃ، ص ۴۲۷۔

۱۸۰ ۔متقی ہندی، البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان، باب ۱۲، ح ۴؛ عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب۵، ص ۱۷۸۔

۱۸۱ ۔کمال الدین، ج۲، باب ۳۳، ح۴۔

۱۸۲ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۶، ص ۴۴۲۔

۱۸۳ ۔ینابیع المودۃ، ج۳، ص ۱۰۸؛ فرائد السمطین، ج۲،ص ۳۱۳، ح ۵۶۲۔

۱۸۴ ۔ینابیع المودۃ، ج۳، باب ۹۴، ص ۱۶۷۔

۱۸۵ ۔سورہ انشقاق (۸۴) آیت ۱۹۔

۱۸۶ ۔علل الشرائع ، ص ۲۴۵، باب ۱۷۹، ح ۷؛ بحار الانوار، ج۵۱، باب ۶، ص ۱۴۲، ح ۲۔

۱۸۷ ۔کمال الدین، ج۲، باب ۴۶، ص ۵۲۴، ح ۴۔

۱۸۸ ۔کمال الدین، ج۱، باب ۳۲، ح ۶؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۴۲۴، رقم ۴۰۸؛ بحار الانوار ، ج۵، ص ۲۱۶، ح۳۔

۱۸۹ ۔آیہ شریفہ( فخرج منها خائفاً یترقب ) کی طرف اشارہ ہے کہ موسیٰ بحالت خوف و ترس قوم سے دور چلے گئے اور سالھا سال امرِ الٰہی کا انتظار کرتے رہے کہ وہ کب انھیں فرعونیوں سے بنی اسرائیل کو نجات دلانے کی اجات دیتا ہے۔ ۔

۱۹۰ ۔کمال الدین، ج۱، ص ۳۲۱، باب ۳۱، ح ۳؛ بحار الانوار، ج۵۱، باب ۱۳، ص ۲۱۷، ح۴۔

۱۹۱ ۔قرآن کریم نے ان تینوں عقیدوں کو رد کردیا۔ سورہ مریم (۱۹) کی آیت نمبر ۱۶ تا ۳۷ میں حضرت عیسیٰ کی ولادت کا تفصیل سے ذکر موجود ہے جبکہ سورہ نساء (۴) کی آیت نمبر ۵ اور ۱۵۸ میں فرماتا ہے:وما قتلوه ۔۔۔یعنی نہ انھیں قتل کیا ہے اور نہ ہی انھیں سولی پر چڑھایا گیا ہے بلکہ یہ امر ان پر مشتبہ ہوگیا، یقیناً وہ قتل نہیں ہوئے بلکہ خدا نے انھیں اوپر اٹھالیا ہے۔

۱۹۲ ۔کمال الدین، ج۱، باب ۳۲، ص ۳۲۷، ح۷۔

۱۹۳ ۔سورہ بنی اسرائیل (۱۷) آیت ۱۳۔

۱۹۴ ۔سورہ نساء (۴) آیت ۱۵۷۔

۱۹۵ ۔کمال الدین، ج۲، باب ۳۳، ص ۳۵۲ و ۳۵۷، ح ۵۱۔

۱۹۶ ۔سورہ شوریٰ (۴۲) آیت ۲۳۔

۱۹۷ ۔شیعوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ امام عصر (عج) سرداب میں غائب ہوئے ہیں یا سرداب سے ان کا کوئی ربط ہے۔ سامرا میں موجود سرداب کا ماجرا کچھ اسی طرح ہے کہ مرور ایام کے بعد بھی حضرت امام حسن عسکری ؑ کے اس مکان کا ایک حصہ باقی بچ گیا تھا جس میں لوگوں نے آنجناب ؑ کے پانچ سالہ فرزند ارجمند کو دیکھا تھا اور پھر آپؑ کی رحلت کے بعد اس مکان کو منہدم کر دیا گیا تھا۔ جب ناصر الدین عباسی نے اسے بطور یادگار (امام حسن عسکری ؑ) تعمیر کروایا تو اسے لوگوں میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہوگیا!

موجودہ سرداب در حقیقت امام حسن عسکری ؑ کا مکان ہے جس میں سے امام زمانہ (عج) غائب ہوئے تھے ورنہ خود سرداب کی شیعوں کے نزدیک کوئی نہ خصوصیت ہے اور نہ ہی شیعہ اس بات کے قائل ہیں کہ امام زمانہ سرداب میں غائب ہوئے ہیں؛ (علی دوانی، دانشمندان عامہ و مہدی موعود، ص ۵۹)۔

۱۹۸ ۔کشف الاستار، ص ۴۳۔ کتاب کامل ابن اثیر وغیرہ کے مطابق ناصر لدین اللہ عباسی خلفاء میں سے ایک بہترین و دانا ترین خلیفہ تھا۔

۱۹۹ ۔کشف الاستار، ص ۶۵۔

۲۰۰ ۔علی دوانی، دانشمندان عامہ و مہدی موعود، ص ۴۴۔ یہ بلاذری، احمد ابن یحیی بلاذری (متوفی ۲۷۹ ھ) مؤلف فتوح البلدان کے علاوہ ہیں۔

۲۰۱ ۔سورہ نساء (۴) آیت ۱۵۹۔

۲۰۲ ۔ترجمہ مولانا ذیشان حیدر جوادی (اعلی اللہ مقامہ)، جب حضرت عیسیٰ آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے اور حضرت مہدیؑ کے پیچھے نماز پڑھیں گے تو سارے اہل کتاب ان کی حقیقت پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی باتوں کو تسلیم کرلیں گے جن میں سے ایک حضرت مہدی (عج) کی امامت بھی ہے۔

۲۰۳ ۔مسلم کے علاوہ یہ روایت بخاری نے ج۲ کتاب بدء الخلق فی باب نزول عیسیٰ بن مریم میں؛ مومن شبلنجی نے نور الابصار ، باب ۲، ص ۱۵۴ میں؛ شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب ۷۲، ص ۴۳۲، طبع ہشتم، دار الکتب العراقیہ سال ۱۳۸۵ ھ۔ ق اور محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السؤل باب ۱۲ میں قاضی ابو محمد حسین بغوی کی کتاب شر ح السنۃ سے نقل کی ہے۔

۲۰۴ ۔سورہ حجر (۱۵) آیت ۳۸۔ ۳۶۔

۲۰۵ ۔سورہ صف (۶۱) آیت ۹۔

۲۰۶ ۔سورہ کہف (۱۸)، آیت ۱۱۰۔

۲۰۷ ۔عبد الرحمن جامی، شواہد النبوۃ۔

۲۰۸ ۔کشف الاستار، ص ۲۶۔

۲۰۹ ۔الواقح الانوار، ج۲، ص ۱۳۹۔

۲۱۰ ۔شعرانی، کتاب لواقح ج۲، ص ۵۰پر خاص تعریف کرتے ہیں ۔

۲۱۱ ۔علی دوانی، دانشمندان عامہ و مہدی موعود، ص ۱۲۸۔

۲۱۲ ۔ینابیع المودۃ، ص ۴۷۱۔

۲۱۳ ۔اسعاف الراغبین در حاشیہ نور الابصار ، ص ۱۵۳۔

۲۱۴ ۔اسماعیل پاشا بغدادی، ھدیۃ العارفین، ج۱، ص ۲۵۸۔

۲۱۵ ۔کشف الاستار، کتاب البراہین الساباطیہ، ص ۵۲۔

۲۱۶ ۔تاریخ آل محمد، ص ۱۹۷۔

۲۱۷ ۔محاکمہ در تاریخ آل محمد، ص ۱۳۹۔


تیسرا باب: غیبت کے اقسام، علل و آثار

پہلی فصل: اقسام غیبت

کتب احادیث میں ثبت شدہ روایات اور کتب تاریخ جس حقیقت کی گواہی دے رہی ہیں وہ یہ ہے کہ حضرت صاحب العصر والزمان (عج) کی غیبت کی دو قسمیں ہیں:

ایک مختصر جسے غیبت صغری جبکہ دوسری طولانی جیسے غیبت کبریٰ کہتے ہیں۔

غیبت صغریٰ

حضرت امام عصر علیہ السلام کی غیبت صغریٰ کی مدت تقریباً ستر سال بیان کی جاتی ہے۔ غیبت کے اس مختصر عرصہ میں امام زمانہ علیہ السلام مکمل طور پر لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھے کیونکہ اس دوران خاص افراد امام عصر علیہ السلام سے مسلسل رابطے میں تھے جو امام کے خاص نائب کی حیثیت سے مشہور و معروف تھے ۔ لوگ اپنے امور کے سلسلہ میں انہی نوّاب خاص سے رجوع کرتے تھے، انہی کے ذریعہ اپنے خطوط امام زمانہ علیہ السلام کے حضور بھیجا کرتے اور جوابات موصول کرتے تھے اور کبھی انہی حضرات کے توسط سے بعض لوگ امام زمانہ علیہ السلام کی بارگاہ سے بھی شرفیاب ہوتے تھے۔

اگر اس غیبت صغریٰ کے آغاز کو آنجناب کی ولادت یعنی ۲۵۵ ہجری کے وقت سے غیبت کبریٰ یعنی ۳۲۹ ہجری تک شمار کیا جائے تو یہ غیبت صغریٰ ۷۴ سال پر مشتمل ہوگی،(۱) لیکن اگر اس مدت کو آپ کے والد گرامی حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت یعنی ۲۶۰ ہجری سے شمار کریں تو یہ غیبت صغریٰ ۶۹ سال پر مشتمل بنتی ہے۔

غیبت کبریٰ

غیبت کبریٰ کا آغاز ۳۲۹ ہجری قمری سے شروع ہوا ہے اور اس کا سلسلہ آنحضرتؑ کے ظہور تک جاری و ساری رہے گا۔ غیبت کے اس عرصے میں نواب خاص کی نیابت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ یہی وہ غیبت ہے جس میں عوام الناس کی سخت آزمائش کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام نے متعدد روایات کے ذریعہ ان دونوں غیبتوں کی ہمیں خبردی ہے ۔ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

"للقائم غيبتان إحداهما طويلة والأخری قصيرة، ‏فالأولی يعلم بمکانه فيها خاصّة من شيعته، ‏والأخری لا يعلم بمکانه فيها إلّا خاصّة مواليه فی دينه ؛(۲) امام قائم کے لیے دو طرح کی غیبت واقع ہوگی جس میں سے ایک طولانی جبکہ دوسری مختصر ہوگی، پہلی غیبت میں ان کے صرف خاص شیعہ ان کے مکان سے آشنا ہوں گے جبکہ دوسری غیبت کے دوران ان کے خاص دوستدارن دینی ہی ان کی جائے قرار سے واقف ہوں گے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

"اِنّ لِصَاحِبِ هذا الأمر غیبتین: احداهما تَطُولُ حتَّی یقولُ بَعضُهُم: ماتَ، وَ یَقُولُ بَعضُهُم: قُتِلَ، وَیَقُولُ بَعضُهُم: ذَهَبَ حَتَّی لَا یبقیٰ علیٰ أمرِه مِن أَصحابِهِ اِلَّا نَفَرٌ یَسِیرٌ لَا یَطَّلِعُ عَلیٰ مَوضِعِهِ اَحَدٌ مِن وُلدِهِ غَیرِهِ اِلَّا المَولی الَّذِی یَلِی أَمرَهُ "(۳)

"حضرت صاحب الامر کے لیے دو غیبتیں واقع ہوں گی جن میں سے ایک اتنی طولانی ہوگی کہ بعض لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ وہ مرگئے ، بعض کہیں گے کہ وہ قتل ہوگئے بعض کہیں گے وہ آکر چلے گئے ہیں،یہاں تک کہ ان کے اصحاب میں سے بہت ہی کم افراد باقی بچیں گے، اس دور میں سوائے ان کے مخصوص خدمت گزاروں کے کوئی ان کی قرار گاہ سے واقف نہیں ہوگا۔"

اگرچہ اس سلسلہ میں کافی روایات وارد ہوئی ہیں جنہیں ہم یہاں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔(۴) بنابریں روایات اہل بیت علیہم السلام میں دونوں غیبتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

جس طرح غیبت صغری کا ایک خاص وقت معین تھا اسی طرح غیبت کبریٰ کا بھی ایک خاص وقت یقیناً معین ہے لیکن اس غیبت کا سلسلہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور تک جاری رہے گا اس لیے اس کا وقت اور مدت بیان نہیں کی جا سکتی ہے جب امر الٰہی ہوگا یہ غیبت کبریٰ کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور امام عصر علیہ السلام کا ظہور ہوجائے گا۔ البتہ احادیث میں اس غیبت کی مدت طولانی کے بارےمیں اتنا ضرور ہے کہ لوگ اس دوران شکوک و شبہات کا شکار ہو جائیں گے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے مرقوم ہے:"ان کی غیبت اتنی طولانی ہوجائے گی کہ جاہل شخص یہ کہنے لگے گا: خدا کو اہل بیت علیہم السلام سے کوئی سروکار نہیں ہے۔"(۵) اور اس ضمن میں امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:"نوح نبی علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ایک قائم علیہ السلام سے وقوع پذیر ہوگی اور وہ خصوصیت ان کی عمر طولانی ہے۔"(۶)

دوسری فصل : علل و آثار غیبت

شیعہ نقطہ نظر

لوگ حضرت امام منتظر علیہ السلام کی غیبت کے علل و اسباب اور اس کی حکمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آنجنابؑ زمانہ غیبت کبریٰ میں شیعہ و دیگر افراد سے ملاقات کیوں نہیں فرماتے اور دنیا کے مختلف مثبت مسائل میں شرکت کیوں نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ؟

ظاہراً خداوند عالم نے اپنی حکمت و مصلحت کی بنا پر غیبت کی حکمت واقعی و سر اصلی کو اپنے بندوں سے پوشیدہ رکھا ہے جیسا کہ اس نے بہت سے امور اپنے بندوں سے مخفی رکھے ہیں۔ مثلاً شب قدر، روز قیامت، جمعہ کے دن جس ساعت میں دعا مستجاب ہوتی ہے، روح کی ماہیت اور حقیقت اور اسی طرح جیسا کہ اس نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جائے ولادت کو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھا تھا۔

یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ انسان اپنے محدود فہم و ادراک کی بنا پر خالق کائنات کے امور کی حکمت و فلسفہ کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ خداوند عالم نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے، اسی نے اس کی تدبیر و گردش کے لیے مخصوص قوانین ابداع کئے ہیں جن میں حکمت بالغہ اور مصلحت واقعی پوشیدہ ہے۔ انسان اپنے محدود ادراک کے ذریعے اس کی نہایت مختصر سِرّ و فلسفہ ہی کو محسوس کرتا ہے جبکہ اکثر اوقات وہ انہیں سمجھنے سے عاجز و ناتوان رہتا ہے۔

بنابریں علت و اصلی حکمت وہی ارادہ و مشیت الٰہی ہے جس کا اعلان اس نے ان کے وجود سے پہلے کر دیا تھا، جیسا کہ اس نے ہر پیغمبر اور ہر وصی پیغمبر کی ولادت، دوران زندگی اور ان کی طرز زندگی میں خاص ارادہ و مشیت قرار دی تھی، مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ایک مخصوص انداز، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا ایک علیحدہ انداز، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے الگ طریقہ کار اور پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لیے دوسرا انداز اختیار کیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں قرآن کریم ارشاد فرما رہا ہے:

( وَيَفْعَلُ اللّهُ مَا يَشَاء ) (۷)

"اور خداوند جو چاہتا ہے انجام دیتا ہے۔"

( لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ) (۸)

"اس سے بازپرس کرنے والا کوئی نہیں ہے اور وہ ہر ایک کا حساب لینے والا ہے۔"

( وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ ) (۹)

"اللہ تو کسی کو غیبت پر مطلع بھی نہیں کرنا چاہتا۔"

غیبت امام عصر علیہ السلام کی علت و سبب فقط تقیہ و خوف ہی پر منحصر نہیں ہے کہ کسی کے ذہن میں کوئی اشکال یا اعتراض پیش آئے بلکہ اس کے کچھ ظاہری اسباب و علل بھی ہیں۔

البتہ روایات و اخبار میں بیان شدہ علل و اسباب میں سے خوف ایک ہے جسے مخالف نے اپنے خیال ناقص میں ایک بڑے اعتراض کی حیثیت سے اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس کے باوجود اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ علت غیبت اسی خوف پر منحصر ہے تب بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ بات صرف امور الٰہیہ میں تدبر اور غور و فکر کرنے کی ہے۔

اہل سنت کا نقطہ نظر

کتب اہل سنت میں تلاش و جستجو کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ علمائے اہل سنت نے حضرت مہدی موعود علیہ السلام کی ولادت، قیام اور ان کے ظہور کے بارے میں اپنی اپنی کتب میں متعدد روایات نقل کی ہے لیکن علل و فوائد غیبت کے بارے میں شاذ و نادر ہی کوئی روایت بیان کی ہے یا مجھ بندہ حقیر کی دسترسی نہیں ہوسکی ہے۔

غیبت صغریٰ کی حکمت

ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ جب امام عصر علیہ السلام کو غائب ہونا ہی ہے اور ان کے لیے غیبت کو لکھ دیا گیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ امر غیبت ایک ہی دفعہ میں انجام کیوں نہیں پایا، یہ دو غیبتوں کا سلسلہ کیوں رکھا گیا، غیبت کبرا سے قبل غیبت صغریٰ کی کیا ضرورت تھی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر براہ راست اچانک غیبت کبریٰ کا آغاز ہو جاتا تو ممکن تھا کہ اذہان اسے فورا قبول کرنے سے قاصر رہتے اور فکروں کے منحرف ہونے کا قوی امکان تھا۔ اسی لیے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ ہدی علیہم السلام نے مسلسل اپنے بیانات میں آنجناب کی غیبت کی خبر دی ہے اور لوگوں کو اس کے خطرات سے آگاہ بھی کیا ہے اور لوگوں کے لئے آنجناب کی غیبت قبول کرنے کے لیے معصومین علیہم السلام کی جانب سے یہ پہلا قدم تھا۔

اس کے علاوہ امام زمانہ علیہ السلام سے قبل بعض ائمہ خصوصاً امام علی نقی و امام حسن عسکری علیہما السلام لوگوں میں کمتر ظاہر ہوتے تھے جس کے ذریعے وہ گویا لوگوں کو امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کی آہستہ آہستہ تعلیم دے رہے تھے۔ مسعودی کتاب "اثبات الوصیۃ" میں رقمطراز ہیں:

"امام ہادی علیہ السلام بہت کمی کے ساتھ لوگوں سے معاشرت کرتے تھے، سوائے اپنے خاص اصحاب کے کسی سے ملاقات نہیں کرتے تھے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام اکثر اوقات لوگوں سے پس پردہ سے گفتگو کرتے تھے تاکہ شیعہ اپنے آپ کو غیبت امام عصر علیہ السلام کے لیے تیار کرلیں۔"(۱۰)

بات یہ ہے کہ اگر امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد بطور کامل غیبت کا سلسلہ شروع ہوجاتا تو ممکن تھا کہ لوگ اصلاً امام زمانہ علیہ السلام کے وجود مبارک سے غافل ہو جاتے اور آہستہ آہستہ انہیں فراموش کردیتے لیکن غیبت صغریٰ میں نواب اربعہ کے ذریعہ امام و عوام میں ارتباط یہاں تک کہ بعض لوگوں اور شیعوں کا آپ کی زیارت سے شرفیاب ہونا مفید ثابت ہوا ہے اور اس طرح عوام خاطر خواہ آپ کی ولادت و حیات سے آگاہ ہوئے ہیں۔

جبکہ اگر غیبت کبریٰ ان مقدمات کے بغیر شروع ہو جاتی تو شاید یہ مسائل زیادہ روشن نہ ہو پاتے اور لوگوں کے شک و تردید میں پڑھنے کا زیادہ امکان تھا، لیکن غیبت صغریٰ کی وجہ سے غیبت کبریٰ کے لیے کافی حدتک ماحول سازگار بنا ہے۔

علل و آثار غیبت بیان کرنے والی روایات کا جائزہ

۱ ۔ حفظ جان

اس سلسلہ میں ظاہراً ۲۶ روایات وارد ہوئی ہیں جن میں سے ۱۹ روایات زرارہؒ نے نقل کی ہیں: (بارہ احادیث امام صادق علیہ السلام سے اور سات احادیث امام باقر علیہ السلام سے) ابو بصیر و عبدالملک بن اعین نے امام باقر علیہ السلام سے ، ابو اسحاق و کمیل نے امیر المومنین علیہ السلام اور ابان نے امام صادق سے روایات نقل کی ہیں۔

زرارہ نے جو روایات حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل کی ہیں ان میں سے ۶ روایات کافی میں، تین روایات غیبت نعمانی، چار روایات کمال الدین اور ایک روایت غیبت شیخ طوسیؒ میں مرقوم ہوئی ہیں۔ جبکہ امام باقر علیہ السلام سے نقل کردہ روایات میں سے تین غیبت نعمانی، تین روایات کمال الدین اور ایک روایت علل الشرائع میں آئی ہے۔

ان تمام روایات میں مندرجہ ذیل عبارات وارد ہوئی ہیں:

عبارت"یخاف و أومأ بیده اِلیٰ بطنه ؛ یعنی انھیں خوف ہوگا یہ کہہ کر امام نے اپنے شکم کی طرف اشارہ کیا، یعنی قتل کی طرف اشارہ تھا" پندرہ روایات میں آئی ہے۔

عبارت "یخاف علیٰ نفسه و اَومأ بیده اِلیٰ بطنه ؛ انھیں اپنی جان کا خوف ہوگا یہ کہہ کر اپنے شکم کی طرف اشارہ فرمایا" دو روایات میں آئی ہے۔

عبارت"یخاف علی نفسه الذبح ؛ یعنی انھیں ذبح ہونے کا خوف ہوگا" ایک روایت میں وارد ہوئی ہے۔

عبارت "یخاف و اشار بیده الی بطنه و عنقه " ایک روایت میں وارد ہوئی ہے۔

کتاب علل الشرائع میں ابان کے توسط سے امام صادق علیہ السلام کی ایک روایت اس عبارت "یخاف القتل" کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔

غیبت نعمانی میں عبد الملک بن اعین کے توسط سے امام باقر علیہ السلام سے ایک روایت اس عبارت"یخاف و اوما بیدہ الی بطنہ" کے ساتھ جبکہ ایک روایت ابو بصیر کے توسط سے حضرت امام باقر علیہ السلام سے اس عبارت "خائف یترقب" کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔

ابو اسحاق نے امیر المومنین علیہ السلام کے ایک صحابی کے توسط سے آنجنابؑ سے تین روایات نقل کی ہیں جن میں سے دو روایات کافی میں جبکہ ایک روایت غیبت نعمانی میں اس عبارت "خائف مغمور" کے ساتھ نقل کی گئی ہیں۔

نیز کمال الدین میں شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے کمیل بن زیاد کے حوالے سے ایک روایت امیر المومنین علیہ السلام سے اس عبارت "خائف یترتب" کے ساتھ نقل کی ہے۔

۲ ۔ ظالموں کی بیعت سے دوری

اس سلسلہ میں اٹھارہ روایات وارد ہوئی ہیں۔ جن میں ظاہراً بعض تکرار ہیں۔ مثلاً ہشام بن سالم امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں: "قَالَ يَقُومُ الْقَائِمُ وَ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِي عُنُقِهِ عَهْدٌ وَ لَا عَقْدٌ وَ لَا بَيْعَة ؛جب قائم قیام کریں گے تو نہ ان پر کسی کا کوئی عقد و عہد ہوگا اور نہ ہی ان کی گردن پر کسی کی بیعت ہوگی"۔یہ روایت کافی،(۱۱) کمال الدین(۱۲) اور دوبارہ غیبت نعمانی(۱۳) (ص ۱۷۱ و ۱۹۱) میں نقل کی گئی ہے۔

حضرت شاہ عبد العظیم حسنی امام محمد نقی علیہ السلام سے اس طرح روایت نقل کرتے ہیں:

"إن القائم منا إذا قام لم يكن لأحد في عنقه بيعة "یہ روایت بھی اعلام الوری(۱۴) اور کمال الدین(۱۵) میں وارد ہوئی ہے۔

ابو سعید عقیصا نے حضرت امام حسن علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ"أما علمتم أنه ما منا أحد إلا و يقع في عنقه بيعة لطاغية زمانه إلا القائم؛ کیا تمہیں علم ہے کہ اہم اہل بیت علیہم السلام میں سے ہر ایک کی گردن میں اپنے زمانے کے طاغوت کے ساتھ مصلحت کا طوق ہوگا سوائے ہمارے قائم کے"۔ یہ روایت بھی اعلام الوریٰ اور کمال الدین میں نقل کی گئی ہے۔(۱۶)

توقیع امام عصر علیہ السلام توسط محمد بن عثمان عمری مندرجہ ذیل عبارت کے مطابق کتاب کمال الدین، اعلام الوری اور غیبت طوسی میں بھی نقل ہوئی ہے:"إنه لم يكن أحد من آبائي إلا وقعت في عنقه بيعة لطاغية زمانه و إني أخرج حين أخرج و لا بيعة لأحد من الطواغيت في عنقي ؛میرے باپ دادا میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے گلے میں اپنے زمانے کے طاغوت کی بیعت کا طوق نہ رہا لیکن جب میں خروج کروں گا تو میری گردن میں کسی کی بیعت کا طوق نہ ہوگا"۔

شیخ نعمانی نے ابراہیم بن عمر الیمانی کے حوالے سے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے درجہ ذیل روایت نقل کی ہے:"لا يقوم القائم و لأحد في عنقه بيعة؛ قائم اس حال میں قیام نہ کریں گے کہ ان کی گردن میں کسی کی بیعت کا طوق ہو" اور اسی طرح امام صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی ہے:"يقوم القائم و ليس في عنقه بيعة لأحد "جب قائم قیام کریں گے تو ان کی گردن میں کسی کی بیعت کا طوق نہ رہے گا۔

علاوہ بر یں کتاب کمال الدین میں مختلف راویوں کے حوالے سے مندرجہ ذیل روایات نقل کی گئی ہیں:"صاحب هذا الأمر تعمى ولادته على هذا الخلق لئلا يكون لأحد في عنقه بيعة إذا خرج "و " صاحب هذا الأمر تغيب ولادته عن هذا الخلق كي لا يكون لأحد في عنقه بيعة إذا خرج و يصلح الله عز و جل أمره في ليلة واحدة "یہ دونوں روایات ابو بصیر کے توسط سے حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل کی گئی ہیں۔

"حين يخرج و ليس لأحد في عنقه بيعة "سعیدابن جبیر کے توسط سے امام سجاد علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے۔

"يبعث القائم و ليس في عنقه بيعة لأحد "جمیل ابن صالح کے ذریعے امام صادق علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے۔

"لئلا يكون لأحد في عنقه بيعة إذا قام بالسيف "علی بن فضال نے اپنے والد کے ذریعے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے۔

یہ تمام روایات سات ائمہ طاہرین (امام حسنؑ، امام سجادؑ، امام باقرؑ، امام صادقؑ، امام رضاؑ، امام محمدتقیؑ اور امام عصرؑ) سے نقل کی گئی ہیں جن میں سے ایک روایت کتاب اصول کافی، چار روایات شیخ نعمانی کی کتاب "الغیبۃ"، نو روایات شیخ صدوقؒ کی کتاب "کمال الدین" تین روایات کتاب اعلام الوری اور ایک روایت شیخ طوسی کی کتاب "الغیبۃ" میں نقل کی گئی ہے۔

۳ ۔ لوگوں کی کوتاہی و عدم نصرت امام ؑ

متعدد روایات میں مختلف عناوین کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں لوگوں کی کوتاہی اور ان کی جانب سے امام کی عدم نصرت کو پیش کیا ہے مثلاً امام ظالموں کی ہمراہی سے دور رہیں گے۔

۴ ۔ سنن الٰہی کا اجرا

اس سلسلہ میں ظاہراً دس روایات وارد ہوئی ہیں جو چارائمہ طاہرین (امام سجاد، امام باقر، امام صادق اور امام حسن عسکری علیہم السلام) سے منقول ہیں۔

ان مذکورہ روایات میں سے چھ ابو بصیر نے نقل کی ہیں جن میں سے انہوں نے پانچ روایات امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کی ہیں جن میں سے دو روایات غیبت طوسی، ایک روایت غیبت نعمانی اور دو روایات کتاب کمال الدین میں اس عبارت "فی صاحب هذا الامر اربع سنن من اربعه انبیاء " کے ساتھ نقل ہوئی ہے جبکہ ایک روایت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کتاب کمال الدین میں اس عبارت "انّ فی صاحب هذا الامر سنن من الانبیاء " کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔

دو روایات سدیر کے حوالے سے امام صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوئی ہیں:"یجری فیه سنن الانبیاء فی غیباتهم " ان میں سے ایک روایت علل الشرائع اور ایک کمال الدین میں وارد ہوئی ہے۔

ایک روایت سعید بن جبیر کے توسط سے امام سجاد علیہ السلام سے کمال الدین نے اس طرح نقل کی ہے: "فی القائم منّا سنن من الانبیاء "

نیز ایک روایت کتاب کمال الدین میں حسن بن محمد بن صالح البزاز کے حوالے سے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے اس طرح نقل کی گئی ہے : "یجری فیه سنن الانبیاء بالتعمیر و الغیبه "

۵ ۔ امتحان

جن روایا ت میں مادہ "امتحان" استعمال ہوا ہے ظاہراً تیرہ روایات ہیں جو تین معصومین(پیغمبر اسلام، امام صادق اور امام کاظم علیہم السلام) سے نقل کی گئی ہیں۔

ان میں سے زرارہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے تین مضامین پر مشتمل چھ روایات نقل کی ہیں:

"أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَمْتَحِنَ الشِّيعَةَ " یہ روایت چار کتب کافی، کمال الدین، اعلام الوری اور غیبت طوسی میں آئی ہیں۔

"أن الله يحب أن يمتحن قلوب الشيعة " یہ روایت غیبت نعمانی میں آئی ہے۔

"لأن الله عز و جل يحب أن يمتحن خلقه " یہ روایت کمال الدین میں وارد ہوئی ہے۔

نیز چھ روایات علی بن جعفر علیہ السلام کے حوالے سے دو مضامین کے تحت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے نقل کی گئی ہیں:

"إنما هي محنة من الله يمتحن الله بها خلقه " یہ روایت فقط غیبت نعمانی میں نقل کی گئی ہیں۔

"إِنَّمَا هِيَ مِحْنَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ امْتَحَنَ بِهَا خَلْقَهُ " یہ روایت چار کتب کافی، علل الشرائع، کمال الدین اور غیبت طوسی میں دوبار نقل ہوئی ہیں۔

جبکہ کتاب کمال الدین میں ایک روایت زرارہ کے حوالے سے پیغمبر گرامی قدر سے بھی نقل کی گئی ہے۔

۶ ۔ تمییز و تمحیص

وہ روایات جن میں مادہ "امتحان" استعمال ہوا ہے ان کے علاوہ کچھ روایات ایسی بھی ہیں جن میں تمییز و تمحیص کے عنوان کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جنہیں امتحان ہی کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

شیخ نعمانی نے اپنی تالیف کردہ کتاب "الغیبۃ" کے بارہویں باب میں اس سلسلہ میں متعدد روایات کو جمع کیا ہے اور اس باب کا یہ عنوان قرار دیا ہے: "باب ما يلحق الشيعة من التمحيص و التفرق و التشتت عند الغيبة حتى لا يبقى على حقيقة الأمر إلا الأقل الذي وصفه الأئمة ؛یعنی اس بیان میں کہ زمانہ غیبت میں شیعوں کو شدید آزمائش و پراکندگی اور اختلاف کا سامنا ہوگا یہاں تک کہ ان کی قلیل تعداد جن کی ائمہ نے توصیف کی ہے وہ ہی حق پر باقی رہ جائیں گے۔"

انہوں نے یہ روایات پانچ ائمہ معصومین (امام علی، امام حسین ، امام باقر، امام صادق اور امام رضا علیہم السلام) سے مندرجہ ذیل مختلف عبارات کے تحت نقل کی ہیں:

۱ ۔ امام علی علیہ السلام

مالک بن ضمرہ: "يا مالك بن ضمرة كيف أنت إذا اختلفت الشيعة هكذا "

اصبغ بن نباتہ: "كذلك أنتم تميزون حتى لا يبقى منكم إلا عصابة "

۲ ۔ امام حسین علیہ السلام:

عمیرہ بنت نفیل:"لا يكون الأمر الذي تنتظرونه حتى يبرأ بعضكم من بعض و يتفل بعضكم في وجوه بعض و يشهد بعضكم على بعض بالكفر و يلعن بعضكم بعضا فقلت له ما في ذلك الزمان من خير فقال الحسين ع الخير كله في ذلك الزمان يقوم قائمنا و يدفع ذلك كله "

۳ ۔ امام باقر علیہ السلام :

سلیمان بن صالح: مرفوعاً نقل کرتے ہیں : "إنه لا بد من أن تكون فتنة يسقط فيها كل بطانة و وليجة حتى يسقط فيها من يشق الشعرة بشعرتين حتى لا يبقى إلانحن و شيعتنا "

ابوبصیر: انہوں نے درجہ ذیل دو روایات نقل کی ہیں:

"و الله لتميزن و الله لتمحصن و الله لتغربلن كما يغربل الزؤان من القمح "

"كذلك شيعتنا يميزون و يمحصون حتى تبقى منهم عصابة لا تضرها الفتنة "

ابراہیم بن عمیر الیمانی ایک شخص سے نقل کرتے ہیں: "لتمحصن يا شيعة آل محمد تمحيص الكحل في العين "

منصور الصیقل:"لا يكون الذي تمدون إليه أعناقكم حتى تمحصوا هيهات و لا يكون الذي تمدون إليه أعناقكم حتى تميزوا و لا يكون الذي تمدون إليه أعناقكم حتى تغربلوا و لا يكون الذي تمدون إليه أعناقكم إلا بعد إياس و لا يكون الذي تمدون إليه أعناقكم حتى يشقى من شقي و يسعد من سعد ."

فصل بن ابی قرہ التفلیسی: " المؤمنون يبتلون ثم يميزهم الله عنده "

۴ ۔ امام صادق علیہ السلام:

علی بن رباب: "و الذي‏بعثه بالحق لتبلبلن بلبلة و لتغربلن غربلة حتى يعود أسفلكم أعلاكم و أعلاكم أسفلكم "

عبد اللہ ابن حماد انصاری، ایک شخص سے نقل کرتے ہیں:"فكيف أصنع بهذه الشيعة المختلفة الذين يقولون إنهم يتشيعون فقال فيهم التمييز و فيهم التمحيص و فيهم التبديل يأتي عليهم سنون تفنيهم و سيف يقتلهم و اختلاف يبددهم "

مہزم بن ابی بردہ اسدی: انہوں نے دو روایات نقل کی ہیں:

"فقلت فكيف أصنع بهذه الشيعة المختلفة الذين يقولون إنهم يتشيعون فقال فيهم التمييز و فيهم التمحيص و فيهم التبديل ."

"و الله لتغربلن و و الله لتميزن و و الله لتمحصن حتى لا يبقى منكم إلا الأقل و صعر كفه ."

ابوبصیر: "لا بد للناس من أن يمحصوا و يميزوا و يغربلوا و سيخرج من الغربال خلق كثير ."

عبد اللہ ابن یعفور:"لا بد للناس من أن يمحصوا و يميزوا و يغربلوا و يخرج من الغربال خلق كثیر."

عبد اللہ بن جبلہ: بعض افراد سے نقل کرتے ہیں: "لا يكون ذلك الأمر حتى يتفل بعضكم في وجوه بعض و حتى يلعن بعضكم بعضا و حتى يسمي بعضكم بعضا كذابين ."

علی بن حمزہ: "لو قد قام القائم ع لأنكره الناس لأنه يرجع إليهم شابا موفقا لا يثبت عليه إلا مؤمن قد أخذ الله ميثاقه في الذر الأول ."

۵ ۔ امام رضا علیہ السلام:

معمر بن خلاد: "يفتنون كما يفتن الذهب ثم قال يخلصون كما يخلص الذهب "

ابراہیم بن ہلال:" أما و الله يا أبا إسحاق ما يكون ذلك حتى تميزوا و تمحصوا و حتى لا يبقى منكم إلا الأقل ثم صعر كفه "

صفوان بن یحیی: "و الله لا يكون ما تمدون إليه أعينكم حتى تمحصوا و تميزوا و حتى لا يبقى منكم إلا الأندر فالأندر "

نیز اصول کافی میں علی بن جعفر کے توسط سے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے یہ روایت نقل ہوئی ہے: "لَا بُدَّ لِصَاحِبِ هَذَا الْأَمْرِ مِنْ غَيْبَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ مَنْ كَانَ يَقُولُ بِه ."

مفضل بن عمر کے توسط سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے وارد ہوئی ہے:"أَمَا وَ اللَّهِ لَيَغِيبَنَّ إِمَامُكُمْ سِنِيناً مِنْ دَهْرِكُمْ وَ لَتُمَحَّصُنَّ حَتَّى يُقَالَ مَاتَ قُتِلَ هَلَك. "

محمد بن ابی عمیر نے ایک شخص کے توسط سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی ہے: "كذلك القائم ع لن يظهر أبدا حتى تخرج ودائع الله تعالى فإذا خرجت ظهر على من ظهر من أعداء الله فقتلهم "یہ روایت ابراہیم کرخی کے وسیلہ سے علل الشرائع اور کمال الدین میں بھی نقل ہوئی ہے۔

کتاب اعلام الوری میں جابر بن عبد اللہ انصاری کے ذریعہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ روایت نقل ہوئی ہے:"يمحص الله الذين آمنوا و يمحق الكافرين ."

۷ ۔ سر الٰہی

اس سلسلہ میں مجموعی طور پر پانچ روایات نقل کی گئی ہیں جن میں سے دو روایات کتاب علل الشرائع اور کمال الدین میں مشترک ہیں لہذا یہ صرف چار روایات ہیں۔

ان روایات میں سے جابر بن عبد اللہ انصاری و ابن عباس کے توسط سے پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کردہ روایت میں علت غیبت کی طرف اشارہ نہیں ہے ملاحظہ فرمائےم:"هذا من مكنون سر الله و مخزون علمه فاكتمه إلا عن أهله "یہ اسرار الٰہی میں سے ہے، کسی کو اس کے بارے میں خبر نہ دینا۔۔۔"

نیز احمد بن اسحاق کی امام حسن عسکری علیہ السلام سے نقل کردہ روایت جس میں آپ نے یہ فرمایا: "سر من سراللہ"اس میں علت غیبت کے بارے میں اشارہ نہیں ہے بلکہ یہ روایت اصل غیبت اور اس کے طولانی ہونے کی خبر دے رہی ہے۔

فقط فضل ہاشمی کی روایت میں علتِ غیبت کی تصریح کی گئی ہے کہ جسے بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

عبد اللہ بن فضل ہاشمی کہتے ہیں: "میں نے حضرت صادق علیہ السلام سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: صاحب الامر کے لیے یقیناً غیبت واقع ہوگی اور ان کے زمانہ غیبت میں ہر اہل باطل شک و تردید میں گرفتار ہو جائے گا۔ میں نے عرض کیا: میری جان آپ پر قربان ہوجائے۔ مولا! آخر وہ اس طرح کیوں غائب ہو جائیں گے؟

فرمایا: ان کی غیبت میں بھی وہی حکمت مضمر ہے جو ان سے قبل حجج الٰہی کی غیبتوں میں تھی۔ ان کی غیبت کی حکمت ان کے ظہور کے بعد ظاہر ہوگی جس حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حضرت خضر علیہ السلام کے انجام دادہ امور یعنی کشتی میں سوراخ کرنے اور لڑکے کو مارنے کی حکمت تا وقت مفارقت ظاہر نہ ہوئی۔

اے پسر فضل یہ اللہ کے معاملوں میں سے ایک معاملہ ہے، اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے اور اللہ کے غیب میں سے ایک غیب ہے اور جب ہم لوگوں نے یہ جان لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے تو اس کا بھی یقین کرلیا ہے کہ اس کے تمام افعال سراسر حکمت ہیں اگرچہ اس کی وجہ ہم لوگوں پر منکشف نہ ہوئی ہو۔(۱۷)

تذکر:

مذکورہ روایات میں سے صرف فضل ہاشمی کی روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ ہمیں علت غیبت بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لہذا اس روایت کی رجالی جانچ پڑتال کرنا مناسب ہے۔

رجالی جانچ پڑتال

اس روایت کے سلسلہ رجال میں موجود افراد کی فرداً فرداً جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوتا ہے(۱۸) کہ عبد الواحدبن محمد بن عبدوس مجہول الحال(۱۹) ہے، علی بن قتیبہ(۲۰) کی توثیق نہیں کی گئی ہے، حمدان بن سلیمان(۲۱) ثقہ ہے، احمدبن عبد اللہ مہمل(۲۲) اور عبد اللہ بن فضل ہاشمی ثقہ ہیں۔(۲۳)

پس اولاً اس روایت کی سند مخدوش ہے ؛ ثانیاً اس میں چند احتمال پائے جاتے ہیں:

۱ ۔ گذشتہ روایات میں بیان کردہ علل وہی ہیں جن کو بیان کرنے کی فضل ہاشمی کو ممانعت کی ہے، بنابریں اس روایت اور گذشتہ روایات میں آپس میں کوئی تعارض نہیں ہے۔

۲ ۔ اگر احتمال اول کو قبول نہ کیا جائے تو ہم یہ کہیں گے کہ روایت فضل ہاشمی تنہا ایک روایت ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں متعدد روایات ہیں لہذا انہیں تعارض کی بنا پر روایت فضل ہاشمی سے دستبردار ہوتے ہوئے اس کے علم کو اس کے اہل علم پر چھوڑ دیں گے۔

۳ ۔ اگر فضل ہاشمی کے فضل و ثقہ ہونے کی بنا پر ان کی روایت کو معتبر تسلیم کرلیا جائے تو کہا جائے گا کہ اصل علت پوشیدہ ہے جو ظہور امام کے بعد ظاہر ہوگی اور دیگر روایات میں بیان کردہ وجوہات یا علتِ ناقصہ ہیں یا حکمت ہیں۔

علل و آثار غیبت

جیسا کہ امام زمانہ علیہ السلام کا وجود مبارک علت و آثار سے خالی نہیں ہے۔ ان کی غیبت اور اس مدت کا طولانی ہونا بھی علت سے خالی نہیں ہے۔

معصومین علیہم السلام سے منقولہ روایات کے جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں غیبت کے متعدد آثار و علل بیان کئے گئے ہیں جنہیں ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔

بعض روایات میں غیبت کی علتوں کے علاوہ کچھ آثار بھی بیان کئے گئے ہیں لہذا ممکن ہے کوئی علت و آثار میں خلط کرتے ہوئے اشتباہ سے دوچار ہو جائے اور تمام امور کو علت یا آثار شمار کرنے لگے۔ بنابریں علت و اثر میں فرق بیان کرنے کے بعد غیبت کی علتیں اور آثار بیان کریں گے۔

علت و اثر میں فرق

معمولاً علت اسی چیز کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ دوسری چیز وجود میں آتی ہے اور یہ اپنے معمول سے مقدم بھی ہوتی ہے جبکہ آثار اس شئ کے وجود میں آنے کے بعد مترتب ہوتے ہیں ۔

امر غیبت بھی ظاہراً اس صورت حال سے خالی نہیں ہے؛ بعض ایسے امور ہیں جو غیبت سے پہلے بھی موجود تھے اور یہی امور باعث بنے ہیں اور جب غیبت واقع ہوگئی تو اس کے کچھ آثار مترتب ہوئے ہیں۔

(الف) علل غیبت

۱ ۔ خوف قتل(حفظ جان)

کتب احادیث میں موجود روایات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام سے متعدد منقول روایات اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ امام عصر علیہ السلام کی غیبت کی وجہ یہ ہے کہ انہیں مسلسل قتل ہوجانے کا خطرہ لاحق تھا؛ کیونکہ بنی عباس کے ظالم و ستمگر حکمرانوں نے انہیں قتل کرنے اور نابود کرنے کےلیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی، خصوصاً جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ یہی وہ حضرت ہیں جو ظالم حکمرانوں کے تخت و تاج کو روند ڈالیں گے اور ظالموں کو نابود کر کے خدا کے بندوں کو ان کے خونی پنجوں سے نجات دیں گے۔

جب ہم ائمہ اطہار علیہم السلام کے تاریخ حیات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اپنی طبیعی موت اس دنیا سے رخصت نہیں ہوا ہے بلکہ اس امت کے طاغوتوں نے انہیں شہید کیا ہے، جبکہ ان حضرات کے بارے میں ایسی روایات بھی وارد نہیں ہوئی تھیں جیسی حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ مثلاً ان میں کسی بھی ایک کے بارے میں یہاں تک کہ ایک حدیث بھی ایسی وارد نہیں ہوئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ فلاں امام زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، پوری دنیا پر حکومت الٰہیہ نافذ کردے گا اور کامیابی و کامر انی کے تمام وسائل اس کے لیے فراہم ہو جائیں گے ۔جبکہ حضرت مہدی علیہ السلام کے لیے یہ تمام پیش گوئیاں موجود ہیں۔ لہذا ان تمام خصوصیات کے بعد ظالم و جابر حکومتوں کے لیے جو شخصیت سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے آنے والی تھی اس کے لیے ان حکومتوں کی اس کے علاوہ اور کیا کوششیں ہو سکتی ہیں کہ وہ ہر لمحہ اسے نابود کرنے کی فکر کرتی رہیں۔(۲۴)

شیخ طوسیؒ اپنی کتاب "الغیبۃ" میں فقط خوف قتل کو آنجناب کی غیبت کی علت شمار کرتے ہیں۔

روایات:

۱ ۔ زرارہ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

"إنّ للقائم غيبة قبل أن يقومَ أنّه يخاف و أومأ بيده إلی بطنه يعنی القتل "(۲۵)

یاد رکھو! قائم کے قیام سے قبل ان کے لیے غیبت واقع ہوگی کیونکہ انہیں خوف ہوگا۔ یہ کہہ کر آنجنابؑ نے اپنا ہاتھ اپنے بطن مبارک پر پھیرا یعنی وہ قتل کی طرف اشارہ فرمارہے تھے۔

۲ ۔ کتاب غیبت طوسیؒ میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے:

"إنّ للقائم غيبة قبل ظهوره قلتُ لمَ؟ قال: يخافُ القتل "(۲۶)

قائم کے لیے ظہور سے قبل غیبت واقع ہوگی ۔ میں نے عرض کیا: کیوں مولیٰ؟ فرمایا: قتل کے خوف سے۔

۳ ۔ حضور سرورکائناتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:"لابدّ للغلام من غيبة. فقيل له: ولم يا رسول‏الله؟ قال: يخاف القتل ؛(۲۷) اس فرزند کے لیے غیبت یقینی ہے ، عرض کیا گیا : کیوں یارسول اللہ؟فرمایا: خوف قتل کی وجہ سے۔

۴ ۔ ایک اور حدیث شریف میں زرارہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے:"إِنَّ لِلْغُلَامِ غَيْبَةً قَبْلَ أَنْ يَقُومَ قَالَ قُلْتُ وَ لِمَ قَالَ يَخَافُ وَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى بَطْنِهِ ثُمَّ قَالَ يَا زُرَارَةُ وَ هُوَ الْمُنْتَظَرُ وَ هُوَ الَّذِي يُشَكُّ فِي وِلَادَتِهِ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَاتَ أَبُوهُ بِلَا خَلَفٍ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ حَمْلٌ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ إِنَّهُ وُلِدَ قَبْلَ مَوْتِ أَبِيهِ بِسَنَتَيْنِ وَ هُوَ الْمُنْتَظَرُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَمْتَحِنَ الشِّيعَةَ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَرْتَابُ الْمُبْطِلُون "(۲۸) اس فرزند کے لیے اس کے قیام سے قبل غیبت واقع ہوگی۔ میں نے عرض کیا: کیوں مولیٰ؟ فرمایا: اسے خوف ہوگا ، یہ کہہ کر آنجناب نے شکم مبارک کی طرف اشارہ کیا: پھر فرمایا: اے زرارہ! وہی منتظر ہے، وہ وہی ہے جس کی ولادت میں لوگ شک کریں گے۔ کچھ کہیں گے کہ ان کے والد ناخلف دنیا سے چلے گئے، بعض کہیں گے جب وہ اپنی والدہ کے شکم میں تھے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔ بعض کہیں گے کہ وہ اپنے والد کے انتقال سے دو سال قبل پیدا ہوگئے تھے۔ پس خداوند عالم اس طرح شیعوں کا امتحان لینا چاہتا ہے پس یہی وہ زمانہ ہوگا جس میں اہل باطل کے شکوک و شبہات سراٹھائیں گے۔

۵ ۔اصول کافی میں امیر المومنین علیہ السلام کے ایک خطبہ کے ضمن میں یہ عبارت مرقوم ہے:"اور اے پروردگار تو زمین کو کبھی بھی اپنی حجت سے خالی نہیں چھوڑتا ، چاہے وہ ظاہر اور اس کی اطاعت کی جائے، چاہے وہ حجت گمنام و ترساں ہو۔ تاکہ تیری حجت باطل نہ ہونے پائے اور اہل ایمان ہدایت کے بعد گمراہ نہ ہونے پائیں۔"(۲۹)

۶ ۔ شیخ صدوق علیہ الرحمۃ نقل کرتے ہیں:حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے سوال کیا گیا: "يا ابن رسول الله أنت القائم بالحق فقال أنا القائم بالحق و لكن القائم الذي يطهر الأرض من أعداء الله عز و جل و يملؤها عدلا كما ملئت جورا و ظلما هو الخامس من ولدي له غيبة يطول أمدها خوفا على نفسه "(۳۰) اے فرزند رسول! کیا آپ ہی قائم بالحق ہیں؟ آپ نےفرمایا: میں ضرور قائم بالحق ہوں لیکن وہ قائم جو زمین کو خدا کے دشمنوں سےپاک کرے گا اور عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ وہ میری اولاد میں سے پانچواں ہے ا س کے لیے طویل غیبت ہے کیونکہ اسے اپنی جان کا خوف ہے۔ اس عرصے میں قومیں مرتد ہو جائیں گی اور کچھ لوگ دین پر ثابت قدم رہیں گے۔

۷ ۔ کتاب کمال الدین میں حضرت امام سجاد علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی ہے:"في القائم منا سنن من الأنبياء سنة من أبينا آدم ع و سنة من نوح و سنة من إبراهيم و سنة من موسى و سنة من عيسى و سنة من أيوب و سنة من محمد ص فأما من آدم و نوح فطول العمر و أما من إبراهيم فخفاء الولادة و اعتزال الناس و أما من موسى فالخوف و الغيبة و أما من عيسى فاختلاف الناس فيه و أما من أيوب فالفرج بعد البلوى و أما من محمد ص فالخروج بالسيف "(۳۱) ہمارے قائم کے لیے انبیاء علیہم السلام کی سنتوں میں سے حضرت آدم علیہ السلام کی سنت، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت ایوب علیہ السلام اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت پائی جاتی ہے۔ حضرت آدم و نوح علیہما السلام کی سنت طویل عمر، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ولادت کا مخفی اور پوشیدہ ہونا، خدا کے دین کی حمایت میں لوگوں سے الگ تھلگ رہنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سنت خوف اور غیبت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سنت یہ کہ لوگوں نے ان کے بارے میں اختلاف کیا، حضرت ایوب علیہ السلام کی سنت یہ کہ بلاؤں اور مصیبتوں کے بعد کشادگی نصیب ہوئی اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت خروج بالسیف ہے۔"

چند شبہات کے جوابات

اگرچہ متعدد روایات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ امام عصر علیہ السلام کی غیبت کی ایک اہم علت جانی خوف اور قتل ہوجانے کا خطرہ ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں کے ذہنوں میں اس سلسلہ میں مختلف سوالات سراٹھاتے ہیں اور مغرض دشمن موقع سے فائدہ اٹھا کر سادہ لوح افراد کے سامنے بے بنیاد شبہات ایجاد کر کے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لہذا اسی نکتہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہاں چند شبہات اور ان کے جوابات پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ ذہن دشمنوں کے پروپگنڈہ کی وجہ سے منحرف نہ ہونے پائیں۔

پہلا شبہ:

اگر حضرت مہدی علیہ السلام کی غیبت کا سبب دشمنوں سے خوف ہے تو اس بات کو نہ عقل قبول کر سکتی ہے اور نہ ہی کتب و روایات اس کی وضاحت کرتی ہیں؛ کیونکہ آنجنابؑ جانتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے تک زندہ سلامت رہیں گے اور کوئی انہیں قتل نہ کرسکے گا۔ اسی طرح انہیں اس بات کا بھی علم و یقین ہے کہ وہ زمین کے حاکم و مالک بن جائیں گےاور اسے عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ بنابریں بھلا وہ دشمنوں سے کیسے ڈر سکتے ہیں اور ڈر بھی اتنا جو انہیں غیبت پر مجبور کر دے؟!

جواب:

اس شبہ کے جواب میں ہم یہاں نقضی جواب پیش کر رہے ہیں اور وہ یہی ہے کہ جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ جانتے تھے کہ خداوند عالم سارے ادیان پر ان کے دین کو غلبہ عطا کرے گا تو وہ مشرکین سے کیوں خائف تھے؟ اور مدینہ ہجرت کے دوران انہوں شارع عام کو چھوڑ کر غیر معمولی راستہ کیوں اختیار کیا؟ اس کے علاوہ پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ما قبل انبیاءِ علیہم السلام گذشتہ میں بھی یہ دشمن سے خوف دیکھنے میں آتا ہے ۔ قرآن کریم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

( فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا ) (۳۲) اور موسیٰ جب صبح کے وقت شہر میں داخل ہوئے تو خوف کی حالت میں داخل ہوئے۔

( فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ) (۳۳) تو موسیٰ شہر سے باہر نکلے خوفزدہ اور دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اور کہا کہ پروردگار مجھے ظالم قوم سے محفوظ رکھنا۔

اورسورہ شعراء میں ارشاد فرماتا ہے:

( فَفَررتُ مِنکم لَمَّا خِفتُکُم ) ؛پھر میں نے تم لوگوں کے خوف سے گریز اختیار کیا(۳۴) "

یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا کہ جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ بنی اسرائیل کی فرعون و آل فرعون کے ظلم سے نجات پانے تک زندہ و پائندہ رہیں گے اور یہ بھی جانتے تھے کہ وہ بہت جلد فراعنہ کے تخت و تاج کا خاتمہ کردیں گے۔

پس حضرت موسیٰ علیہ السلام اور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشرکین سے خوف کے بارے میں آپ کا جو بھی جواب ہوگا حضرت مہدی علیہ السلام کی غیبت کی علت کے بارے میں ہمارا وہی جواب ہوگا۔

دوسرا شبہ:

اگر حضرت مہدی علیہ السلام قتل اور دشمنوں کی جانب سے ایذار سانی کے خوف کی وجہ سے غیبت پر مجبور ہوئے ہیں تو پھر ایسی صورت میں انہیں شجاع تسلیم کرنا صحیح نہیں ہے اور عدم شجاعت ان کے لیے ایک عیب و نقص ہے۔ جبکہ امام معاشرے کا شجاع ترین فرد ہوتا ہے لہذا انہیں خائف ہونے کے بجائے طاغوتی طاقتوں کو ان سے خوفزدہ ہونا چاہئے۔

اس سے قطع نظر قتل ہوجانے کا ڈر خوف اس بات کا سبب نہیں بن سکتا کہ آنجنابؑ قیام نہ کریں۔ ایک اہم واجب شرعی کو ادا کرنے کے لیے اذیتیں اور سختیاں برداشت نہ کریں، اور نجات بشریت کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کریں۔

جواب:

اس شبہہ کے دو جواب دئیے جا سکتے ہیں:

۱ ۔ نقضی جواب:

پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جس وقت مدینہ ہجرت فرمارہے تھے اور غار میں پناہ لی تھی کیا اس وقت (نعوذ باللہ) پیغمبر ڈر رہے تھے؟

جس وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تین سال تک شعب ابو طالب ؑ میں نہایت سختیوں کا سامنا کر رہے تھے اور انہیں وہاں سخت دباؤ، بھوک و خوف کا سامنا تھا، کیا اس وقت آنحضرت فضلیت شجاعت سے عاری تھے؟!

جس وقت حضور سرور کائنات لوگوں کو مخفیانہ خداوند عالم کی طرف دعوت دے رہے تھے اور زید ابن ارقم کے گھر میں خود اور آنحضرت کے ساتھی چھپ کر عبادت خدا انجام دے رہے تھے یہاں تک کہ خداوند عالم کی طرف سے علی الاعلان تبلیغ کا حکم صادر ہو گیا۔ ان تمام حالات کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

ان سوالات کے بارے میں جو بھی آپ کا جواب ہے وہ ہی اس شبہہ کے بارے میں ہمارے بھی جوابات ہوں گے۔

۲ ۔ جواب حَلّی:

بعض انبیاء علیہم السلام کے بارے میں آیات قرآن کریم نے جو کچھ بیان کیا ہے مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعونیوں کے خوف سے فرار کرنا یا پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا غار ثور میں چھپنا اور شعب ابی طالب ؑ میں تین سال تک پنہاں و مخفی رہنا، یہ ان کے ضعف کی علامت نہیں ہے اور نہ ہی یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں تبلیغ رسالت کی صلاحیت و لیاقت نہیں پائی جاتی تھی بلکہ حقیقت امر یہ ہے کہ دستورات آسمانی اور مشیت الٰہی اس بات کا اقتضاء کررہی تھی کہ قیام و خروج کے لیے ماحول سازگار ہونے تک اپنے آپ کو خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ و مخفی زندگی گزاری جائے۔

تیسرا شبہ:

جب حضرت مہدی علیہ السلام حکم خداوندعالم سے مخفی ہوئے ہیں اور اسی کے حکم سے ظہور فرمائیں گے تو کیا یہ اتنی طولانی غیبت اس بات کی علامت نہیں ہے کہ خداوندعالم ان کی مدد و نصرت کرنے سے عاجز ہے؟

جواب:

اس شبہہ کے جواب میں ہم قرآن کریم کی وہ آیات پیش کریں گے جن میں انبیاء علیہم السلام کے قتل ہوجانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کیا خداوند عالم دشمنوں کے مقالبے میں اپنے ان انبیاء علیہم السلام کی مدد کرنے سے عاجز و ناتواں تھا؟ مثلاً

۱ ۔( قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنبِيَاء اللّهِ مِن قَبْلُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ) (۳۵) آپ ان سے کہیے کہ اگر تم مومن ہو تو اس سے پہلے انبیاء خدا کو قتل کیوں کرتے تھے۔

۲ ۔( بِأَنَّهُمْ كَانُواْ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ) (۳۶) یہ سب اس لیے ہوا کہ یہ لوگ آیات الٰہی کا انکار کرتے تھے اور ناحق انبیاء خدا علیہم السلام کو قتل کر دیا کرتے تھے۔

۳ ۔( سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الأَنبِيَاء بِغَيْرِ حَقٍّ ) (۳۷) ہم ان کی اس مہمل بات کو اور ان کے انبیاء کے ناحق قتل کرنے کو لکھ رہے ہیں۔

۴ ۔( ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُواْ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللّهِ وَيَقْتُلُونَ الأَنبِيَاء بِغَيْرِ حَقٍّ ) (۳۸) یہ اس لیے کہ یہ آیات الٰہی کا انکار کرتے تھے اور ناحق انبیاء کا قتل کرتے تھے۔

۵ ۔( وَاَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ رُسُلاً كُلَّمَا جَاءهُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَهْوَي اَنْفُسُهُمْ فَرِيقاً كَذَّبُواْ وَفَرِيقاً يَقْتُلُونَ ) (۳۹) "اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ہیں لیکن جب ان کے پاس کوئی رسول ان کی خواہش کے برخلاف حکم لے کر آیا تو انہوں نے ایک جماعت کی تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کر دیتے ہیں۔"

۶ ۔( فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بَآيَاتِ اللهِ وَقَتْلِهِمُ الاَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقًّ ) (۴۰) "پس ان کے عہد کو توڑ دینے ، آیات خدا کے انکار کرنے اور انبیاء کو ناحق قتل کر دینے اور یہ کہنے کی بنا پر کہ ہمارے دلوں پر فطرتاً غلاف چڑھے ہوئے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ خدا نے ان کے کفر کی بنا پر ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے"

۷ ۔( قُلْ قَدْ جَاءكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِى بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِى قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ) (۴۱) "تو ان سے کہہ دیجئے کہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول معجزات اور تمہاری فرمائش کے مطابق صداقت کی نشانی لے آئے۔ پھر تم نے انہیں کیوں قتل کر دیا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو۔"

امام حسین علیہ السلام نے عبد اللہ بن عمر سے فرمایا:

اے ابو عبد الرحمن! کیا خدا کے نزدیک دنیا کے بے ارزش ہونے کی علامات میں سے ایک یہ نہیں ہے کہ نبی یحیی بن زکریا کے سر کو بنی اسرائیل کی ایک بدکارہ کو ہدیہ کے طور پر پیش کر دیا گیا؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ بنی اسرائیل نے طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ستر انبیاء خدا کو قتل کر دیا تھا؟ اور پھر اس کے باوجود وہ خرید و فروش میں اس طرح مشغول ہوگئےجیسے انہوں نے کوئی عمل ہی انجام نہ دیا ہو!!(۴۲)

ان تمام حالات کے بعد کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خداوند عالم اپنے انبیاء علیہم السلام کی مدد سے عاجز و ناتواں تھا؟ پروردگار عالم نے اپنے جن انبیاء علیہم السلام کو امتوں کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا وہ یقیناً خدا کے نزدیک بہترین خلائق تھے۔ جب ایسا ہے تو خدائے قادر و مختار نے ان کی مدد کیوں نہیں کی؟ کیا وہ ان کی مدد پر قادر نہیں تھا۔(۴۳)

آپ اس سلسلہ میں جو بھی جواب دینا چاہیں گے ہمارا بھی اس شبہہ کے سلسلہ میں وہی جواب ہوگا۔

چوتھا شبہ:

اگر حضرت مہدی علیہ السلام دشمنوں کے خوف کی وجہ سے غائب ہوئے تو غیبت دشمنوں سے نجات کا تنہا ایک ہی راستہ تو نہیں ہے، یہ بھی تو ممکن تھا کہ آنجنابؑ پردہ غیبت میں نہ جاتے بلکہ ظاہر رہتے اور طاغوت کے خلاف قیام نہ کرتے اور دوسرے ائمہ طاہرین علیہم السلام کی طرح لوگوں کی ہدایت کا فریضہ انجام دیتے رہتے اور اگر وہ اسی روش پر عمل کرتے تو انہیں غائب ہونے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی۔

جواب:

اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ:

اولاً؛ غیبت کی علت فقط خوف پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس کی چند دیگر وجوہات بھی ہیں جن کی بنا پر غیبت ہی کو ترجیح دی جاسکتی تھی نہ کہ سکوت کو ۔

ثانیاً؛ غیبت، ترس و خوف سے نجات کا ایک ذریعہ ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام(۴۴) نے بھی اسی راہ کا انتخاب فرمایا تھا۔ ایسا ہرگز نہیں کہ تقیہ و حفظ جان کے لیے غیبت کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔

اس اشکال کا مطلب یہ ہے کہ گویا یوں کہا جائے: حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی جان کے تحفظ کے لیے اپنے شہر بلکہ ملک فرعون ہی سے کیوں فرار ہوگئے جبکہ وہ اسی شہر میں کسی بھی ایک بنی اسرائیل کے گھر میں مخفی ہوجاتے۔

ثالثاً؛ حضرت مہدی علیہ السلام کی کیفیت بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی جیسی ہے یعنی اگر وہ ساکت و وصامت بھی رہتے جب بھی فرعون اور اس کے ساتھی ان سے دستبردار نہ ہوتے کیونکہ جس شخص سے وہ لوگ برسوں سے خوفزدہ تھے کہ وہ ان کے تخت و تاج اور حکومت کا خاتمہ کر دے گا وہ موسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔ لہذا وہ ان کا تعقب کرتے رہتے اور کسی نہ کسی حیلہ و مکر کے ذریعہ انہیں قتل کر دیتے اور خدائے تعالٰ انہیں قتل ہونے سے بچائے بھی رکھتا تو کم از کم انہیں شدید اذیتیں پہنچاتے اور مسلسل شکنجہ کرتے رہتے۔

حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سے انتی کثرت سے روایات وارد ہوئی ہیں کہ جو لوگ ان کی خصوصیات سے جاہل تھے مسلسل قائم آل محمد علیہم السلام کاانتظار کر رہے تھے، اور ائمہ میں سے ہر ایک سے یہ سوال کرتے رہتے تھے کہ کیا قائم آل محمد علیہم السلام آپ ہی ہیں؟

بنی عباس خاص طور پر آنجناب کی خصوصیات سے باخبر تھے جیسا کہ خلیفہ عباسی منصور کا یہ جملہ نقل ہوا ہے : یقیناً آل ابو طالب میں سے ایک شخص کو آسمان سے ندا دی جائے گی اور جب وہ ظہور کر ے تو ہماری آرزو یہ ہے کہ ہم اس کی آواز پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے قرار پائیں۔(۴۵)

اس نے لوگوں پر اس امر کو مشتبہ کر نے کے لیے اپنے بیٹے کا نام مہدی رکھا تھا اور کہتا تھا: "میں نے اس کا نام مہدی رکھا ہے اور امید رکھتا ہوں کہ یہی مہدی آل محمد قرار پائے۔"ہارون نے ایک دن کہا: "کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے ہو کہ میرا باپ مہدی ہے؟! ہرگز ایسا نہیں ہے۔"

پس اکثر لوگ آنجناب کے نام و نسب اور خصوصیات سے آگاہ تھے کہ وہ ہی تمام باطل حکومتوں کا خاتمہ کر دیں گے اور سب ان کے ظہور کے منتظرتھے۔ اسی لیے دشمن انہیں نابود کرنے اور اپنے راستے سے ہٹا نے کی فکر میں لگے ہوئے تھے۔

امام کا راستہ روکنے کے لیے جو اعمال انجام دئے گئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کو مدینہ سے سامر ہ منتقل کر دیا گیا تاکہ ان پر سخت نگرانی اور اولاد پر کڑی نظر رکھی جاسکے۔

نیز حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور آنجناب ؑ کی زوجہ مطہرہ پر سخت نظر رکھی گئی اور جب حیات امام میں خلیفہ اور اس کے ساتھی امام ؑکے فرزند کی ولادت سے آگاہ نہ ہو سکے اور یہ سمجھے کہ امام بے اولاد دنیا سے چلے گئے تو انہیں سکون کا سانس نصیب ہوا۔

لیکن جب بعد میں وہ آنجنابؑ کے وجود مبارک سے مطلع ہوئے اور لوگوں میں آپ ؑ کا نام منتشر ہوا تو پھر تعقب میں لگ گئے۔ معتمد عباسی نے آنجنابؑ کو گرفتار کرنے کے لیے امام حسن عسکری علیہ السلام کے گھر اپنی سپاہ بھیجا۔ سپاہی گھر میں داخل ہوئے اور مکان کی تلاشی کے دوران انہیں سرداب میں پایا لیکن وہاں عجیب منظر یہ تھا کہ سرداب پانی سے پر تھا اور آنجنابؑ سطح آب پر ایک چٹائی پر ایک گوشہ میں موجود تھے۔ ایک سپاہی نے ان کی طرف بڑھنے کی کوشش کی بھی لیکن جیسے ذرا آگے بڑھا، اس کا پاؤ پھسل کر پانی میں پہنچ گیا قریب تھا کہ غرق ہو جائے اس کے ساتھیوں نے جلدی سے اسے واپس اپنی طرف کھینچ لیا اور آنجنابؑ سے عذر خواہی کرنے لگے۔ حضرتؑ نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ کی اور پھر غائب ہوگئے اور یہ سپاہی انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہے۔(۴۶)

اس واقعہ کے بعد ان لوگوں نے ہر چند کوششیں جاری رکھیں اور ان کی گرفتاری کے لیے بھر پور جاسوس معین کئے گئے لیکن وہ انہیں پانے میں کامیاب نہ ہوئے اور نہ ہی انہیں ان کے مکان و جائے قرار کا کوئی سراغ ہی ملا، اور جب یہ لوگ سمجھ گئے کہ وہ غائب ہوگئے ہیں اور کسی کو ان کے بارے میں کوئی خبر و اطلاع نہیں ہے تو مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔

یہ تو بنی عباس کا حال تھا لیکن صرف بنی عباس ہی ان کو قتل کرنے کی فکر نہیں کر رہے تھے بلکہ روایت میں ہے کہ ابو خالد نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا: "مجھے قائم کا نام بتادیجئے تاکہ میں انہیں پہنچان سکوں۔ فرمایا: اے ابو خالد! تم نے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ اگر بنی فاطمہ انہیں پہچان لیں تو انہیں پارہ پارہ کرنے کی کوشش کریں گے۔(۴۷)

رابعاً؛ اگر آنجنابؑ ساکت بھی رہیں تب بھی لوگ ان کا پیچھا نہ چھوڑیں گے، کیونکہ عوام ضعیف الایمان و کم حوصلہ ہیں لہذا ان کی طرح ساکت وصامت نہیں رہ سکتے، آہستہ آہستہ ان کے پاس آمد و رفت کا سلسلہ شروع کردیں گے اور جب یہ سلسلہ بڑھنے گلے گا جس کی وجہ سے مخالف حکومت میں بدگمانی پیدا ہونے لگے گی جس کی وجہ سے حکومت ان کے چاہنے والوں کو تشدد کا نشانہ بناتی رہتی۔ پس اس ظاہری سکوت سے غیبت بہتر تھی کیونکہ اس طرح خود بھی محفوظ ہیں اور شیعہ بھی محفوظ ہیں۔

اس موقع پر ممکن ہے ذہنوں میں یہ سوال آئے کہ دشمنوں کے خوف سے غیبت سمجھ میں آتی ہے لیکن اپنے چاہنے والوں سے کیوں غائب ہیں؟!

اگر اس سوال کا مقصد یہ ہے کہ اپنے خاص دوستوں پر ظاہر ہونا چاہئے تو یہ بات آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایسا بھی نہیں ہے؟ بلکہ زمانہ غیبت کے حالات میں متعدد واقعات پائے جاتے ہیں جن میں آپ کے خاص شیعوں نے آپ کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے۔

اور اگر اس سوال کا مقصد یہ ہے کہ اپنے تمام یا بعض چاہنے والوں کے لیے اس طرح ظاہر ہوں کہ ہمیشہ ان کے پاس آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہے تو اولاً؛ یہ بات مختلف پہلوؤں سے صحیح نہیں جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں ثانیاً غیبت کی علت فقط تقیہ اور دشمن کا خوف نہیں ہے بلکہ دوستوں کا امتحان بھی مقصود ہے۔

ممکن ہے کسی کے ذہن میں ایک یہ شبہہ بھی سراٹھائے کہ اگر غیبت کی علت تقیہ ہے، تو جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھتا جائے گا تقیہ میں شدت پیدا ہوتی جائے گی۔کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ حکومتیں مضبوط اور ان کے اسلحے طاقتور ہوتے جائیں گے؟

اس کا جواب یہ ہے :

اولاً؛ خوف و تقیہ مطلق نہیں ہے بلکہ محدود ہے یعنی یہ اسی وقت تک ہے کہ جب تک اذن ظہور نہیں ہےلیکن جب خداوند عالم کی طرف سے انہیں ظہور کا حکم ملے گا اور بارگاہ الٰہی سے اذن قیام صادر ہو جائے گا تو ان کا خوف و تقیہ ختم ہوجائے گا اور اس وقت ان کا حامی و محافظ خدا ہی ہوگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ پر غور کیجئے وہاں بھی یہی صورت حال نظر آتی ہے کہ جب فرعون کی مہلت ختم ہوگئی تو خداوند عالم نے موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا اور فرمایا:( لَا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى ) (۴۸)

تم ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سن بھی رہا ہوں اور دیکھ بھی رہا ہوں۔

ثانیاً؛ جب آنجنابؑ ظہورفرمائیں گے تو اس وقت امداد غیبی بھی ان کے ساتھ ہوگی، ان کے اعوان و انصار بھی کثرت سے ہوں گے اور ان کے اسلحے باطل حکومتوں کے اسلحوں سے زیادہ طاقتور ہوں گے۔(۴۹)

جب ۲۰۰۳ میں امر یکہ اور اس کے اتحادی فوجوں نے عراق پر لشکر کشی کرکے قبضہ کر لیااور حکومت پر مسلط کئے ہوئے اپنے ہی ایجنٹ صدام تکریتی(۵۰) کو حکومت سے بے دخل کر دیا اور مختلف شہروں پر چڑھائی کے سلسلہ کو جاری رکھا تو عراق میں موجود مختلف گروہوں سے مسلحانہ جھڑپوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جن میں سے ایک کسوت روحانیت میں ملبوس مقتد اصدر نے بغداد کے نزدیک محلہ صدر میں امر یکیوں کے خلاف محاذ قائم کر دیا جس کے جواب میں امر یکیوں نے اس علاقہ کا محاصرہ کر کے اسے خاک و خون میں غلطان کر دیا نتیجتاً جنگ نجف وغیرہ جیسے مقدس مقامات تک پھیل گئی اور انہوں نے سینکڑوں بے گناہ شہریوں کو جام شہادت نوش کرنے پر مجبور کر دیا۔

حوزہ علمیہ قم میں چھپنے والے ایک مجلہ میں یہ خبر نشرہوتی ہے:"ایک امر یکی فوجی افسر سے سوال کیا جاتاہے۔ آخر اتیا شدید خونریزی کی کیا وجہ ہے(کہ جس سے تم لوگ دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہو) تو جواب دیتا ہے: ہم مہدی موعود کو تلاش کر رہے ہیں۔(۵۱)

پس کثرت سے روایات میں حضر ت مہدی موعود علیہ السلام کو نابود کرنے کے جس خوف کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ اب بھی موجود ہے اور یہاں تک کہ باطل طاقتوں کو نابود کرنے والے عالمی مصلح کے وجود کے امر یکی بھی قائل ہیں۔(۵۲)

۲ ۔ ظالموں کی بیعت سے دوری

دنیا کے ظالم و جابر اور ستمگر حضرت امام مہدی علیہ السلام سے بیعت کے خواہاں ہیں اور وہ کسی بھی طاغوتی طاقت کی بیعت نہیں کرسکتے تاکہ جب ظہور و قیام فرمائیں تو کسی کی بیعت شکنی کا آپ پر الزام عائد نہ ہوسکے۔ اسی لیے روایات میں ظالموں کی بیعت سے دوری کو غیبت کی علتوں میں سے ایک شمار کیا گیا ہے۔

حسن بن فضال اپنے والد کے توسط سے امام رضا علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا:

"کأنّی بالشيعة عند فقدهم الثالث من ولدی کالنعم يطلبون المرعی فلا يجدونه قلت و لمَ ذالک يابن رسول‌الله؟ قال لاَنّ امامهم يغيب عنهم فقلت: و لِمَ؟ قال: لئلّا يکون فی عنقه لاَحدٍ بيعة اِذا قام بالسيف "(۵۳) میرے تیسرے فرزند کے اٹھ (غائب ہو) جانے کے بعد شیعہ اپنا ملجاء و ماویٰ تلاش کرتے پھریں گے اور انہیں ملجاء و ماویٰ نہ ملے گا۔ میں نے عرض کیا: فرزند رسول! ایسا کیوں ہوگا؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ ان کا امام ان سے غائب ہوگا۔ عرض کیا: کیوں یابن رسول اللہ؟ آپؑ نے فرمایا: اس لیے کہ جب وہ تلوار لے کر قیام کرے گا تو اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہ ہو۔

اسحاق بن یعقوب کے سوالات کے جواب میں ناحیہ مقدسہ (امام عصر ؑ) کی جانب سے جو مندرجہ ذیل توقیع صادر ہوئی ہے اس میں بھی اس مطلب کی طرف اشارہ موجود ہے، آپؑ فرماتے ہیں:

"...انه لَم يکُن أحدٌ مِن آبائی و قَد وَقَعَت فی عُنقِه بيعة لِطاغِيَة زَمانِه و اِنّی أَخرُجُ حين اخرج ولا بَيعَة لِأحدٍ مِن الطَّوا غِيتِ فی عُنقه "(۵۴) میرے باپ دادا میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے گلے میں اپنے زمانے کے طاغوت کی بیعت کا طوق نہ رہا ہو لیکن جب میں خروج کروں گا تو میرے گلے میں کسی کی بیعت کا طوق نہ ہوگا۔

ابراہیم بن عمر الکناسی کہتے ہیں کہ میں سنا: حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

"لایقوم القائم ولِاَحد فی عنقه بیعة ؛(۵۵) قائم جب قیام کریں گے تو ان کی گردن پر کسی کی بیعت نہ ہوگی۔

یاد رہے کہ ان روایات میں ظاہری بیعت مراد ہے ورنہ حقیقی بیعت تو امام علیہ السلام کی سب کی گردن پر ہے اور کسی کو امام علیہ السلام سے بیعت لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

نیز حضرت امام حسنؑ نے جب معاویہ بن ابی سفیان سے صلح کی تو لوگ آپؑ کے پاس آئے اور اس صلح پر آپؑ سے ناراضگی کا اظہار کرنے لگے۔ پس آپ ؑ نے فرمایا: افسوس ہے تم پر تم نہیں جانتے کہ میں نے کیا کیا۔ اللہ کی قسم میں نے جو کچھ کیا میرے شیعوں کے لیے وہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں تمہارا امام ہوں جس کی اطاعت تم پر فرض ہے اور میں فرمان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مطابق جوانان جنت کے سرداروں میں سے ایک ہوں۔ سب نے کہا: بے شک ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب حضرت خضرؑ نے کشتی میں سوراخ کیا، دیوار کوتعمیر کیا اور ایک بچہ کو قتل کیا تو یہ تمام باتیں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو ناگوار گذریں کیونکہ وہ ان امور کی حکمت سے ناواقف تھے جبکہ وہ کام اللہ کی حکمتوں کے عین مطابق تھے۔

پھر آپ نے فرمایا:"أَ مَا عَلِمْتُمْ أَنَّهُ مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَ يَقَعُ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ لِطَاغِيَةِ زَمَانِهِ إِلَّا الْقَائِمُ الَّذِي يُصَلِّي خَلْفَهُ رُوحُ اللَّهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ع فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يُخْفِي وِلَادَتَهُ وَ يُغَيِّبُ شَخْصَهُ لِئَلَّا يَكُونَ لِأَحَدٍ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ إِذَا خَرَجَ ذَاكَ التَّاسِعُ مِنْ وُلْدِ أَخِي الْحُسَيْنِ ابْنِ سَيِّدَةِ الْإِمَاءِ يُطِيلُ اللَّهُ عُمُرَهُ فِي غَيْبَتِهِ ثُمَّ يُظْهِرُهُ بِقُدْرَتِهِ فِي صُورَةِ شَابٍّ ابْنِ دُونِ الْأَرْبَعِينَ سَنَةً ذَلِكَ لِيُعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِير "(۵۶)

کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہم اہل بیت علیہم السلام میں سے ہر ایک کی گردن میں اپنے زمانے کے طاغوت کے ساتھ مصلحت کا طوق ہوگا مگر سوائے ہمارے قائم کے جو روح اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو نماز پڑھائے گا اللہ تعالیٰ اس کی ولادت کو مخفی رکھے گا اور اس پر غیبت کا پردہ ڈال دے گا تاکہ جب خروج کرے تو اس کی گردن پر کسی کی بیعت(کا طوق) نہ ہو۔ وہ میرے بھائی حسینؑ، جناب سیدہ ؑ کے فرزند کی اولاد میں سے نواں امام ہوگا۔ خدا انھیں زمانۂ غیبت میں طول عمر عطا کرے گا پھر خداوند عالم اپنی قدرت سے انھیں چالیس سالہ جوان کی صورت میں ظاہر کرے گا، یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہر شئ پر قادر ہے۔

نیز اس سلسلہ میں حضرت امیر المومنین ؑ، امام محمد باقرؑ،(۵۷) امام جعفر صادقؑ(۵۸) اور دیگر ائمہ علیہم السلام(۵۹) سےمزید روایات وارد ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ اسحاق بن یعقوب کے سوالات کے جواب میں خود امام عصر علیہ السلام توقیع شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:

اور علت غیبت کے بارے میں تم نے سوال کیا ہے، یادرکھو! میرے آباء میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا کہ جس کی گردن میں ان کے زمانے کے طاغوت کی بیعت کا طوق نہ رہا ہو لیکن جب میں قیام کروں گا تو کسی کی بیعت کا طوق میری گردن پر نہ ہوگا۔(۶۰)

اس سے یہ نکتہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر حضرت غائب ہوں گے تو ان کی گردن پر کسی کا کوئی حق نہ رہے گا کہ جس کا لحاظ کرتے ہوئے اخلاقاً اس کے احکام کی رعایت کریں ورنہ بصورت دیگر مورد طعن قرار پائیں۔ جیسا کہ فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام پر احسان جتاتا تھا:

( أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ ) (۶۱)

اور اس (فرعون) نے کہا کیا ہم نے تمہیں بچپنے میں پالا نہیں ہے، اور کیا تم نے ہمارے درمیان اپنی عمر کے کئی سال نہیں گذارے ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:

( وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ ) (۶۲)

یہ احسان جو تربیت کے سلسلہ میں توجتا رہا ہے تو تو نے بڑا غضب کیا تھا کہ بنی اسرائیل کو غلام بنالیا تھا۔

اب اگر آنجناب غائب ہوں اور یکبارگی ظاہر ہو جائیں تو یہ سب باتیں نہ سننے پائیں گی اور وہ سب کو حق کی نگاہ سے دیکھیں گے اور تمام روئے زمین کو باطل قوتوں سے پاک کردیں گے۔

اس موقع پر ایک اہم سوال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ آج جبکہ خلافت و بیعت کی روش صدر اسلام سے بالکل مختلف ہے تو پھر آج امام ظاہر ہو کر لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کیوں نہیں کررہے ہیں تاکہ اپنی امامت کے فرائض انجام دے سکیں؟!

اس کے جواب میں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ اگرچہ یہ ٹھیک ہے کہ خلافت کا قدیم اسلوب و طریقہ کار ختم ہو چکا ہے لیکن ریاست و سلطنت اور فرمانروائی کا سلسلہ تو آج بھی قائم ہے ۔ بنابریں اس لئے اگر امام اس دور میں جس مملکت میں بھی ظاہری زندگی بسر کریں گے اس مملکت کے سربراہ کی تبعیت پر مجبور ہوں گے اور اس ملک کے قوانین کا احترام کرنا ضروری ہوگا، کیونکہ امام ایسی شخصت نہیں ہیں کہ ناشناس رہیں اور اگر کسی ملک میں رہتے ہوئے اس کے قوانین پر عمل نہ کریں گے تو اپنے آباءواجداد کی طرح قتل کردئے جائیں گے اور سلسلہ امامت کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔

اس موقع پر دوسرا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ جس زمانہ میں حضرت قائم آل محمد تمام روئے زمین پر حکومت الٰہیہ کا قیام کریں گے انہیں اسی دور میں پیدا ہونا چاہئے، یہ قبل از قیام، ولادت کی حکمت کیا ہے اگر اسی دور میں پیدا ہوں گے تو اتنی بحث و گفتگو کی گنجائش ہی پیدا نہیں ہوگی؟!

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قبل از قیام وحکومت آنجناب کا وجود بے فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ زمانہ غیبت میں بھی عالم کون و مکان انہی کے سر صدقہ سے چل رہا ہے وہ پس ابر خورشید کی مانند اپنے وظائف انجام دے رہے ہیں۔ لیکن علم خداوند عالم میں یہ امر بالکل طے شدہ اور مسلم ہے کہ وہ کسی دور میں روئے زمین پر حکومت الٰہی قائم کریں گے ۔ وہ اپنی حکمتوں سے واقف ہے لیکن ہمیں اس کی حکمتیں نہیں معلوم اور نہ ہم ان کے ظہور کے وقت سے آگاہ ہیں۔ ممکن ہے کل ہی یا صدیوں بعد ان کا ظہور واقع ہو ۔

علاوہ بر ایں کے ہمارے معتقدات دینی میں سے ایک امر کثیر التعداد روایات(۶۳) بھی جس پر دلالت کررہی ہیں ، یہ بھی ہے کہ زمین ایک دن بھی بغیر حجت و امام کے باقی نہیں رہ سکتی۔ تمام فرق اسلامی کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر روئے زمین پر دو افراد بھی باقی بچ جائیں گے تو ان میں سے ایک حجت خدا ہوگا، اور اگر دنیا کی عمر صرف ایک دن کے برابر باقی رہ جائے گی تو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذریت میں سے ایک شخص زمام حکومت اپنے ہاتھ میں سنبھال لے گا۔

پس اگر یہ طے ہو جائے کہ حضرت مہدی علیہ السلام اپنے قیام و ظہور کے وقت پیدا ہوں گے تو اس دوران زمین کس طرح بغیر حجت و امام کے باقی رہ سکتی ہے؟

۳ ۔ لوگوں کی کوتاہی و عدم نصرت امام ؑ

تاریخ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ لوگوں نے مختلف زمانوں میں انبیاء علیہم السلام کی اتباع و پیروی نہیں کی۔ جس وقت پیغمبر گرامی قدر حدیبیہ کے موقع پر اسلام کی مصلحت صلح میں دیکھ رہے تھے اور آپؐ نے اس وقت مکمل طور پر صلح کا عزم و ارادہ کر لیا تھا تو وہ لوگ جو جنگ و جدال کے خوگر بن چکے تھے تفاخر عرب جن کے پورے وجود میں سرایت کر چکا تھا حضور سرورکائنات کی مخالفت کرتے ہوئے کہنے لگے: "ہم جنگ کرنا چاہتے ہیں، ہ ہرگز صلح کی ذلت و خواری کو قبول نہ کریں گے!"

قرآن کریم نے اسی صلح کو فتح مبین سے تعبیر کیا ہے، ارشاد ہوتا ہے:( إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ) (۶۴)

اسی طرح اس وقت جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی پاکیزہ زندگی کے آخری ایام میں مسلمانوں کو لشکر اسامہ میں شرکت کا حکم دیا اور بار بار فرمار ہے تھے: "لعن اللہ من تخلف عن جیش اسامہ" جو لوگ حکم رسول خدا کو حکم خدا نہ سمجھتے تھے اور جن کے دل بعد از رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسئلہ خلافت میں پڑے ہوئے تھے وہ یہ بہانہ بنانے لگے: "ہم ایک نوجوان کی سپہ سالاری کو کیسے قبول کر سکتے ہیں۔"

یا اس وقت جبکہ آنحضرتؐ نے بستر بیماری پر فرمایا:"مجھے قلم و دوات لادو تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ پھر گمراہ نہ ہونے پاؤ" اس وقت "حسبنا کتاب الله "کا نعرہ بلند کر دیا۔"(۶۵)

جب ہم ان حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گویا اس معاشرے میں غائب ہیں ۔ ایسی غیبت کہ سقیفہ میں واقعی طور پر جس کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے جہاں رسول کی وصیت اور قول و گفتار کے علاوہ ہر طرح کی بات ہوتی ہے!

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کاندھوں پر ایک اہم ذمہ داری یہ بھی تھی کہ اپنے بعد دین کی حفاظت و بقاء کا انتظام کرکے جائیں اس اہمیت اور انتظام کے پیش نظر اپنے آخری ایام میں حجۃ الوداع کے موقع پر مسلمانوں کے جم غفیر میں "من کنت مولاه فهذا علی مولاه " کی ندا بلند کی اور اس اہم ذمہ داری سے عہدہ براء ہوئے اور اسی طرح مسلمانوں پر حجت قائم کردی۔ لیکن حضور سرور کائناتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے فوراً بعد ہی مسلمانوں کے عمل نے یہ ثابت کردیا گویا جیسے غدیر کا واقعہ رونما ہی نہیں ہوا اور انہوں نے پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اتنے بڑے اجتماع میں منبر پر کچھ فرماتے ہوئے سنا ہی نہ تھا!

جی ہاں! وحی سے وابستہ اور خداوندعالم کی جانب سے معین شدہ نبی ان کے درمیان گویا غائب ہے اور جو شخص اکثر مسلمانوں کی نگاہ میں ظہور پذیر ہے وہ ان کا اپنا منتخب کر دہ حاکم ہے!

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت کے معاشرے نے نبی کریم کو جیسا پہنچاننے اور ان کی معرفت حاصل کرنے کا حق تھا ، نہ پہنچانا اور اسی عدم معرفت کی وجہ سے ان کی اطاعت نہ کی اور اطاعت نہ کرنے کی وجہ سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے۔

جب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ مہاجرین و انصار کے دروازوں پر گئے اور ان سے حق امامت کے دفاع کا مطالبہ کیا تو کسی نے ان کی آواز پر لبیک نہ کہا: وہ امام جو معاشرہ کی تعمیر و تشکیل کے لیے آیاتھا پچیس سال تک مدینہ کے اطراف میں خرمے کے درخت کاشت کرنے اور کنویں وغیرہ کھودنے پر مجبور رہا! گویا اس وقت کا معاشرہ اپنے امام کے ساتھ انکے غائب ہونے کاسا رویہ انجام دے رہا تھا!

جب لوگ اپنے خود ساختہ خلفاء کے ظلم و تبعیض سے تنگ آگئے تو در امام ؑ پر آکر دھاوا بول دیااور ان کی بیعت کرنے لگے لیکن جب انہیں حکومت و ولایت کی طرف سے اپنے مقاصد پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آئے تو اسی امامؑ بر حق کے خلاف تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور یوں جنگ جمل کے اسباب مہیاکر دئے اور جب معاویہ نے جنگ صفین میں نیزوں پر قرآن بلند کروادیئے تو اس وقت بھی قرآن ناطق کی نصتب پر کوئی کان نہ دھرا اور کہنے لگے: "اے علی! مالک اشتر کو واپس پلٹنے کا حکم دیدیجئےورنہ ہم آپ سے جنگ کرنے لگیں گے۔"

امام جنگ صفین میں اپنے بعض ایسے ساتھیوں کے مدمقابل تلوار رکھنے پر مجبور ہوگئے جو معاویہ کے لشکر والوں سے مختلف نہ تھے!اور حکمیت کے نتیجہ کے بعد انہوں نے اپنے شیطانی اہداف میں قرآنی آہنگ کو شامل کر کے اپنے امام بر حق کے خلاف جنگ نہروان کے اسباب فراہم کردیئے۔

امام علیہ السلام نے جنگ نہروان کی کامیابی کے بعد ان سے فرمایا: کہ اب معاویہ سے جنگ کرنے میں میری مدد کرو لیکن انہوں نے پھر بہانے بنانا شروع کر دیئے تو اس وقت امام یہ کہنے پر مجبور ہوگئے:

"لَوَدَدتُ اَنّی لَم أرَکُم وَ لَم اَعرِفکم ؛(۶۶) کاش میں تمہیں نہ دیکھتا اور تمہیں نہ پہچانتا!پروردگارا! تو مجھے ان سے دور کر دے ، مجھے ان کے بدلے اچھے لوگ عطا کر اور میرے بدلے انہیں کوئی اور برا حاکم دیدے۔(۶۷)

نیز عصر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام میں یہی سپاہی لشکر امام ؑ میں تھے جو معاویہ کے مال و دولت کا شکار ہوئے اور امام ؑ کو تنہا چھوڑ کر میدان جنگ سے غائب ہوگئے۔ یہاں تک کہ امام ؑ اسلام و مسلمین کی جان و مال کی حفاظت اور معاویہ کے گھناؤنےچہرے سے نقاب اٹھانے کا تنہا راستہ صلح میں دیکھ رہے تھے اور آپ اس طرح صلح پر مجبور ہوگئے اگرچہ بہت سے قریبی ساتھی بھی اس صلح میں پوشیدہ کامیابی کو محسوس نہ کر سکے اور امام ؑ کو یہ کہہ کر خطاب کر رہے تھے:"السلام علیک یَا مُذِلَّ المومنین "!

جب امام حسین علیہ السلام کا زمانہ آیا تو اس وقت جبکہ لشکر شام کا ایک سپاہی بھی کربلا میں نہ آیا تھا امام مسلمین ان لوگوں کے مد مقابل تھے جنہوں نے خود خطوط لکھ لکھ کر انہیں دعوت دی تھی۔

نیز امام زین العابدین علیہ السلام دین کے عظیم اور اعلیٰ و ارفع معارف و مفاہیم دعاؤں کے قالب میں ڈھال کر بیان کرنے پر مجبور تھے کیونکہ اس وقت کا معاشرہ یہ معارف سننے کے لیے تیار نہ تھا۔

امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں اگرچہ حالات کچھ سازگار ہوئے اور لوگ ان سے علمی اعتبار سے بہر مند ہو رہے تھے لیکن اس کے باوجود امام کی محفل میں موجود لوگوں کی بڑی تعداد ان افراد پر مشتمل تھی جو انس بن مالک کے نشتوں میں بھی شریک ہورہے تھے اور امامؑ کی بزم سے بھی استفادہ کر رہے تھے لیکن ان دونوں میں کسی قسم کے فرق و امتیار کے قائل نہ تھے! یہاں تک امامؑ کی محفل میں بیٹھے والوں ہی نے ان کے مقابلے پر اپنا الگ الگ مکتب فکری قائم کر لیا۔

امام رضا علیہ السلام نے شہر نیشاپور میں دین کی مکمل حقیقت صرف ایک جملہ میں بیان فرما دی اور وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا:

"کلمة لا اله الا الله حصنی فمن دخل حصنی أمن من عذابي، ‏لکن بشرطها و شروطها و أنا من شروطها ."(۶۸)

اگر لو گ امام کے اس خوبصورت انداز بیان کو سمجھ لیتے تو یقیناً ہدایت یافتہ ہوجاتے۔ امام محمد تقی علیہ السلام سے لے کر امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور تک تو یہ عدم توجہ اور عدم معرفت سابقہ زمانوں سے بھی زیادہ شدید نظر آتی ہے۔ تاریخ میں ان بزرگواروں کے زیادہ حالات زندگی نقل نہ ہونا خود ہمارے دعوے کی دلیل ہے کہ ان کے ساتھ غیبت کا سلوک روا رکھتے تھے اور انہیں اپنی زندگی کے معاملات سے دور رکھتے تھے!

مذکورہ مثالوں سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ جب تک لوگ امام ؑ کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے تو وہ امامؑ کی ضرورت کو محسوس نہ کرسکے اگرچہ جب بھی انہیں کوئی مشکل پیش آتی چاہے خلیفہ ہو یا عوام سب انہی حضرت سے رجوع کرلیتے تھے، لیکن ان کا یہ رجوع کرنا معرفت کی بنیاد پر نہیں تھا کیونکہ وہ امام ؑ کی طرف صرف اس لیے رجوع نہیں کرتے تھے کہ فقط امام ؑ ہی راہ ہدایت و نجات ہیں۔

ایک روایت کے مطابق حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

"اللّهم... انّک لا تخلی أرضک من حجة لک علی خلقک ظاهرٍ ليس بالمطاع أو خائفٍ مغمور ...؛(۶۹) اے اللہ! بے شک تو اپنی زمین کو حجت سے خالی نہیں چھوڑے گا چاہے وہ ظاہر وآشکار ہو اور لوگ اس کی اطاعت کریں یا نہ کریں۔ چاہے وہ خائف اور ناشناختہ ہی کیوں نہ ہو۔

بنابرایں غیبت بمعنی عدم معرفت امام ؑ کی تاریخ نشاندہی کر رہی ہے ۔ اسی لیے جب لوگ امامؑ سے منحرف ہوگئے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کے لیے تیار نہ ہوئے تو اب مشیت پروردگار نے چاہا کہ اس مرتبہ امام ؑ کو معاشرے کی نگاہوں سے غائب کر دیا جائے تاکہ لوگ اچھی طرح امامؑ کی ضرورت و احتیاج کو محسوس کر لیں۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

"اِذا غضب الله تبارک و تعالی علی خلقه نحّانا عن جوارهم ؛(۷۰) جب خداوندعالم اپنی مخلوق پر غضبناک ہوتا ہے تو ہم (اہل بیت علیہم السلام) کو ان سے دور کر دیتا ہے۔

اولیائے الٰہی کے نزدیک یہ خود ایک پسندیدہ و مرغوب امر ہے، کیونکہ جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اب ان کی دعوت بے اثر ہے اور لوگوں کے ناشائستہ اعمال کی وجہ سے انہیں صرف رنج و ملال کا سامنا ہے تو وہ خود ہجرت و غیبت پر متمایل نظر آتے ہیں خصوصاً جبکہ وہ سکوت و ترک دعوت پر بھی مامور ہوں جیسے حضرت صاحب الامر علیہ السلام کے لیے تاوقت قیام سکوت کا حکم تھا۔

حضرت نوح علیہ السلام نے جب دیکھا کہ اب ان کی تبلیغ و دعوت بے اثر ہوگی ہے تو کہنے لگے:( فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِي وَمَن مَّعِي مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ) (۷۱) ؛ اےمیرے اللہ! میرے اور ان کے درمیان کھلا فیصلہ فرما دے اور مجھے اورمیرے صاحبان ایمان ساتھیوں کو نجات دیدے۔

نیز حضرت ابراہیم نے آواز دی:( وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَى أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاء رَبِّي شَقِيًّا ) (۷۲) اور آپ کو آپ کے معبود سمیت چھوڑ کر الگ ہو جاؤں گا اور اپنے رب کو آواز دوں گا کہ اس طرح میں اپنے پروردگار کی عبادت سے محروم نہ رہوں گا۔

نیز فرمایا:( إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ ) (۷۳) میں اپنے پروردگار کی طرف جارہا ہوں کہ وہ میری ہدایت کرے گا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا:( رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ) (۷۴) پروردگار مجھے ظالم قوم سے محفوظ رکھنا۔

حضرت لوط علیہ السلام سے لوگوں نے کہا:"اگر تم اپنی بات پر اٹے رہے تو ہم تمہیں قریہ سے باہر نکال دیں گے۔

حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا:( إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ الْقَالِينَ ٭ رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ ) (۷۵) انہوں نے کہا بہر حال میں تمہارے عمل سے بیزار ہوں، پروردگارا! مجھے اور میرے اہل کو ان کے اعمال کی سزا سے محفوظ رکھنا۔

نیز اصحاب کہف اپنی بت پرست قوم کی ایذارسانیوں کے سبب شہر سے نکل کر غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔(۷۶)

پس گوشۂ عزلت و ہجرت ایک پسندیدہ و مرغوب امر ہے اور خداوندعالم نے ان کے حق میں یہ لطف کرتے ہوئے انہیں اس آلودہ معاشرے سے دور کر دیا۔

خود آنجناب، علی بن مہریار سے ملاقات کے وقت فرماتے ہیں:

"ابی ابو محمد عهد الیّ اَن لا اجاورَ قوماً غَضِبَ الله علیهم ولهم الخزی فی الدنیا و الآخرة و لهم عذاب الیم "؛میرے والدنے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس قوم پر لعنت کی ہے ہرگز ان کی مجاورت اختیار نہ کروں وہ دنیا میں ذلیل ہوں گے اور آخرت میں ان پر دردناک عذاب ہوگا۔(۷۷)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :"خداوند عالم ہمارے لیے جس قوم کی مجاورت پسند نہیں کرتا ہمیں ان سے دور کر دیتا ہے۔"

اسی طرح ایک دوسری حدیث شریف میں فرماتے ہیں:"جب خداوند عالم کسی قوم پر غضبناک ہوتا ہے تو ہمیں ان سے دور کردیتا ہے۔"(۷۸)

اس موقع پر اگر کوئی یہ سوال کرے گا کہ پروردگار عالم نے یہ ہجران و غیبت دیگر ائمہ کے حق میں کیوں قرار نہیں دی اور ان پر اپنا یہ لطف کیوں نہیں؟

ہم جواب میں کہیں گے:اولاً؛ ان کے انزجار کی مدت قلیل تھی ، ثانیاً؛ لوگوں کی ہدایت و تبلیغ کے لیے ان کا حاضر ہونا ہی ضروری تھا تاکہ ایک اندازے کے مطابق تبلیغ کا سلسلہ جاری رہے، ان پر اتمام حجت ہوجائے تاکہ لوگوں کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے اور اس طرح اہمال لازم نہ آنے پائے۔ پس جب انہوں نے اتمام حجت کی حد تک تبلیغ کا فریضہ انجام دیدیا ہے تو اب اس امام کے حق میں لطف خداوند عالم کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔

بالفاظ دیگر خداوند عالم نے اتمام حجت کے اعتبار سے دیگر ائمہ علیہم السلام کے حق میں نوعی لطف جاری کیا ہے جبکہ اس امام کے حق میں شخصی لطف جاری کیا ہے اور اس کی ذات کو بچانا مقصود ہے۔(۷۹)

پس غیبت در حقیقت لوگوں کے عمل اور ان کے رویے کا نتیجہ تھی اور انہی اعمال کی اصلاح ظہور کا مہمترین عامل ہوسکتا ہے۔ بالفاظ دیگر ان کا ظہور مسلسل موجودہ جاری فکر و عملی تبدیلی ہی کی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے؛ کیونکہ :( إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ ) (۸۰) خدا کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کرلے۔

لوگوں کو چاہئے تھا کہ وہ ائمہ علیہم السلام کی حمایت و حفاظت کرتے انہیں قتل نہ ہونے دیتے، ہر لمحہ ان کا دفاع کرتے لیکن لوگوں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اسی لیے بعض روایات میں یہ وارد ہوا ہے کہ لوگوں کے ظلم و ستم کی وجہ سے غیبت رونما ہوئی ہے۔ سیعمی خلقہ عنہا ظلہم و جورہم۔

۴ ۔ سنن الٰہی کا اجراء

جب خداوند عالم لوگوں کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو لوگوں کا فریضہ ہے کہ اس نعمت کی قدر دانی کریں اور اس نعمت کے سلسلہ میں اپنے وظیفہ اور ذمہ داری کو پورا کریں ورنہ خداوند عالم کی یہ سنت ہے کہ وہ لوگوں سے وہ نعمت چھین لیتا ہے، اسی لیے بعض روایات میں سنت الٰہی کے اجراء کو بھی غیبت کی ایک علت قرار دیا گیا ہے۔ بنابرایں غیبت کو سنن انبیاء علیہم السلام سے شباہت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

ہجرت و غیبت دو ایسی چیزیں ہیں جو مسئلہ نبوت میں نہایت روشن و واضح اور مشہور ہیں۔

انبیاء علیہم السلام کی کثیر تعداد میں ہجرت کا مشاہدہ کرکے یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ہجرت سنن انبیاء علیہم السلام میں سے ایک سنت رہی ہے، بطور مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت پیش کی جاسکتی ہے۔

اسی طرح انبیاء علیہم السلام ماسلف میں غیبت بھی کثرت سے دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلاتاریخ کے صفحات پر حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت صالح علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی غیبتوں کا ذکر دیکھا جاسکتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی غیبت کا مقصد اور اس کا لازمہ لوگوں کا امتحان اور ان کی شناخت تھی اسی لیےغیبت سنن انبیاء علیہم السلام میں سے قرار دی گئی ہے۔

پس چونکہ ہجرت وغیبت سنن انبیاء علیہم السلام میں سے ہے اور خداوند عالم حضرت مہدی علیہ السلام کے حق میں بھی سنن انبیاء علیہم السلام جاری کرنا چاہتا ہے اس لیے اس نے ان کے حق میں غیبت جاری کرنے کا ارادہ کیا ہے۔(۸۲)

اس سلسلہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت مرقوم ہے کہ آپؑ نے فرمایا:

"اِنَّ للقائم مِنّا غيبة يَطُولُ أَمَدُها فقلت له: و لم ذاک يابن رسول‏الله؟ قال اِنّ الله عزّوجلّ أبی الّا أن يجری فيه سنن الأنبياء عليهم السلام فی غيباتهم و أنّه لا بدّ له يا سدير من استيفاء مدد غيباتهم قال الله عزوجل :( لترکبنَّ طبقاً عن طبق ) علی سنن من کان قبلکم "(۸۳) ہم لوگوں میں سے جو امام قائم ہوگا اس کے لیے غیبت ہے اور یہ غیبت بہت طولانی ہوگی۔ میں نے عرض کیا: یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہی فیصلہ کر رکھا ہے کہ انبیاء علیہم السلام میں جو غیبت کا دستور جاری تھا وہی دستور ان میں بھی جاری کرے اور اے سدیر! یہ لازمی ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام نے جس جس مدت کے لیے غیبت اختیار کی ان کی مجموعی مدت تک یہ بھی غیبت میں رہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:( لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ ) (۸۴) کہ تم یونہی ایک ایک منزل طے کرو گے۔ یعنی بے شک جو لوگ تم سے پہلے گذر چکے ہیں تمہیں بھی ان کی طرح منزلیں طے کرنا پڑیں گی۔

(ب) آثار غیبت

بعض روایات میں علل غیبت سے قطع نظر کچھ آثار غیبت بھی بیان کئے گئے ہیں جنہیں ہم یہاں جداگانہ پیش کر رہے ہیں:

۱ ۔ آزمائش و امتحان

روایات کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض روایات میں لوگوں کی آزمائش و امتحان کو آثار غیبت میں شمار کیا گیا ہے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

"وذالک بعد غیبة طویلة لِيعلمَ الله مَن يُطِيعُه بالغيب و يُؤمِنُ بِه "(۸۵)

یہ سب کچھ ایک طویل غیبت کے بعد ہوگا، تاکہ اس بات کا فیصلہ ہوجائے کہ کون زمانہ غیبت میں اللہ کا فرمانبردار ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

"وہ منتظر ہیں جس کی ولادت کے بارے میں لوگ شک کریں گے۔ بعض لوگ کہیں گے ان کے والد بے اولاد دنیا سے گئے ہیں، بعض کہنے لگیں گے وہ مرگئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ شیعوں کا امتحان لینا چاہتا ہے۔"(۸۶)

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:

"اس صاحب امر علیہ السلام کے لیے غیبت ضروری ہےیہاں تک کہ عقیدت مند افراد بھی اس سے پلٹ جائیں گے ۔"إنّّما هی محنة من الله عزّوجلّ إمتحن بها خلقه ؛یہ خدا کی طرف سے ایک آزمائش ہے، اس نے اپنے بندوں کا امتحان لیا ہے۔(۸۷)

امتحان کی کیفیت

یہاں امتحان کی دو صورتیں بیان کی جاتی ہیں:

اول: اس اعتبار سے کہ غیبت کے زمانہ میں لوگوں کا خود امامؑ کے بارے میں کیا خیال ہے اور اس عرصہ میں ان کا رویہ کیا رہتا ہے؟ کیا عصر غیبت میں لوگ ان پر ایمان لاتے ہیں یا نہیں؟ جس طرح گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے دور میں بھی لوگوں کا مختلف انداز سے امتحان لیا گیا اور انبیاء علیہم السلام ما سلف میں خداوندعالم نے کسی کو بیماری میں مبتلاء کیاجیسے حضرت ایوبؑ، کسی کو نابی نا کر دیا جیسے حضرت یعقوبؑ وغیرہ تاکہ اس طرح لوگوں کا امتحان لیا جاسکے کہ کون ہے جو اس صورت میں ان پر ایمان لا کر مومن رہے اور کون ہے جو ان سے منحرف ہو کر دین کے دائرہ سے خارج ہو جائے؟

دوئم: یہ کہ لوگ زمانہ غیبت میں کسی حد تک اپنے فرائض و وظائف پر عمل پیرا رہتے ہیں، وہ امامؑ کے زمانہ حضور کی طرح زمانہ غیبت میں بھی اپنے اس سابقہ ایمان پر باقی رہتے ہیں یا نہیں؟ پس اس طرح ان کا امتحان لیا جائے گا تاکہ معلوم ہو جائےکہ کون ہے جو عصر حضور و غیبت دونوں میں ثابت قدم رہتا ہے اور کون ہے جو عصر حضور کو انجام تکالیف کا سبب اور عصر غیبت کو ترک تکالیف کا سبب سمجھتا ہے اور اس امتحان کے ذریعے لوگوں کے ایمان و بندگی کے مراتب کی طبقہ بندی ہوجائے گی۔

۲ ۔ تمحیص و تمییز

تمحیص سے مراد پاک کا ناپاک سے، مومن کا غیر مومن سے اور اہل دنیا کا اہل خدا سے جدا ہونا ہے، یہ ایسا امر ہے کہ مشیت الٰہی جس سے دائمی طور پر وابستہ ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

( وَلِيُمَحِّصَ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ ) (۸۸)

اورخداوند عالم مومنین کو چھانٹ کر الگ کر دینا چاہتا ہے اور کافروں کو مٹا دینا چاہتا ہے۔

( مَّا كَانَ اللّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىَ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ) (۸۹)

خداوند عالم ، صاحبان ایمان کو انہیں حالات پر نہیں چھوڑ سکتا جب تک کہ خبیث اور طیب کو الگ الگ نہ کردے۔

البتہ یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ یہ جدائی و علیحدگی اور پاکیزگی ایک ظاہری سبب کے بغیر انجام پذیر نہیں ہوسکتی۔ پس لوگوں کے درمیان ایک ایسے امر کا ہونا ضروری ہے جس کے ذریعے انہیں آزمایا جائے اور وہ اس آزمائش و امتحان کے نتیجہ میں ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے جائیں۔

غیبت حضرت صاحب الزمان علیہ السلام بھی انہی اسباب میں سے ایک ہے، جس طرح دیگر ائمہ علیہم السلام کا مقہوریت و ملوببیت کے ساتھ حضور لوگوں کے لیے ایک آزمائش تھا اسی طرح غیبت امام عصر علیہ السلام بھی سبب آزمائش ہے۔

نیز روایات میں غیبت کی حکمتوں میں سے تمحیص و تمییز کو بھی بیان کیا گیا ہے، مثلاً:

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے:"لا بد لصاحب ھذا الامر من غیبۃ حتی یرجع عن ھذا الامر مَن کان یقول بہ؛(۹۰) اس صاحب الامر کے لیے غیبت ضروری ہے یہاں تک کہ وہ لوگ بھی ان سے پلٹ جائیں گے جو ان کے قائل ہوں گے۔

نیز حضرت صادق آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی مختلف روایات میں ا س امر کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔ جب حضرت مہدی علیہ السلام قیام فرمائیں گے تو ان کا قیام، قیام بالسیف ہوگا جس کے نتیجہ میں کافر مارے جائیں گے اور ممکن ہے اس وقت کسی کافر کے صلب سے کوئی مؤمن بچہ آنے والا ہو لہذا اگر وہ کافر قتل ہوگیا تو وہ مومن جو اس کے صلب سے آنے والا ہے گویا وہ بھی مارا جائے گا۔ حالانکہ قتل مومن صحیح نہیں ہے اور کبھی صورت حال اس کے برعکس ہوگی یعنی کتنے ہی ایسے مومن ہو سکتے ہیں جن کےصلب سے کافر پیدا ہونے والے ہوں گے لہذا وہ تمام کافر بھی اپنے اصلاب کی پُشتوں سے خارج ہوجائیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں،لہذا جب تمام مومن و کافر اپنے اصلاب کی پشتوں سے باہر آجائیں گے تو ظہور و قیام امام مہدی علیہ السلام ہو جائے گا اور سورہ روم کی آیت ۱۹ کی تفسیر(۹۱) بھی انہی معنی کی نشاندہی کر رہی ہے۔ارشاد ہوتا ہے:

( يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ) (۹۲)

امام زمانہ اس وقت قیام کریں گے کہ (خداوند عالم زندہ(مومن) کو مردہ(کافر) سے باہر نکالے گا اور مردہ (کافر) کو زندہ(مومن) سے باہر نکالےگا۔ اور چونکہ امام عصر علیہ السلام قیام بالسیف کریں کے اور کافر و فاجر کا قلع قمع کردیں گے اس لیے غیبت ضروری ہے اور یہ غیبت اتنی طولانی ہوگی تا قیام قیامت جو جو مومن بھی کافر و فاجر کے صلب میں ہوگا، باہر آجائے گا۔

اسی سلسلہ میں جب حضرت صادق آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا گیا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے ابتداء ہی میں اپنے مخالفین سے جنگ کیوں نہیں کی؟

حضرت نے فرمایا: قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ انہیں اس کام سے رک رہی تھی۔

عرض کیا گیا: وہ کون سی آیت کریمہ ہے یابن رسول اللہ؟ حضرت نے فرمایا:( لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ) (۹۳)

اگر یہ لوگ (مومن و کافر) ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے تو ہم کفار کو دردناک عذاب میں مبتلا کردیتے ۔

عرض کیا گیا اس "تَزَیَّلُ" یعنی جدائی سے کیا مراد ہے؟

حضرت نے فرمایا: اس سے مراد مومن امانتیں ہیں جو کافروں کے اصلاب میں ہیں اور قائم علیہ السلام کا اس وقت تک ظہور نہ ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ کی امانتیں پیدا نہ ہو جائیں اور جب وہ امانتیں پیدا ہو جائیں گی تو وہ دشمنان خدا پر ظاہرہوجائیں گے پھر انہیں قتل کریں گے۔(۹۴)

____________________

۱ ۔سید محسن امین نے کتاب "اعیان الشیعہ" میں غیبت صغریٰ کو زمانہ ولادت ہی سے شمار کیا ہے لہذا انہوں نے اس غیبت کی مدت ۷۴ سال ہی بیان کی ہے۔

۲ ۔ نعمانی، الغیبۃ، باب ۱۰، ص ۱۷۰، ح۱و۲؛ بحار الانوار، ج ۵۲، ب۲۳، ص ۱۵۵، ج ۱۰ و۱۱۔

۳ ۔ نعمانی، الغیبۃ، ص ۱۷۱، ح۵؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۱۶۱، رقم ۱۲۰؛ اثباۃ الہداۃ، ج ۳، ص ۵۰۰، ح ۲۸۰؛ بحار الانوار، ج ۵۲، ص ۱۵۳، ح ۵؛ منتخب الاثر، باب ۲۶، ص ۳۱۵، ح ۹؛ متقی ہندی، البرہان، ص ۱۷۱، ح ۴۔

۴ ۔ نعمانی، الغیبۃ؛ منتخب الاثر، باب ۲۶؛ بحار الانوار، ج ۵۲، باب ۲۳۔

۵ ۔ اثبات الہداۃ، ج ۶، ص ۳۹۳۔

۶ ۔ کمال الدین، ج ۱، ص ۳۲۲، باب ۳۱، ح ۴؛ بحار الانوار، ج ۵۱، باب ۱۳، ص ۲۱۷، ح ۵۔

۷ ۔ سورہ ابراہیم(۱۴)آیت۲۷۔

۸ ۔ سورہ انبیاء(۲۱)آیت۲۳۔

۹ ۔ سورہ آل عمران(۳)آیت ۱۷۹۔

۱۰ ۔ مسعودی، اثبات الوصیۃ، ص ۲۰۶۔

۱۱ ۔ کافی، ج ۱، ص ۳۴۲، باب فی الغیبۃ(ص ۳۳۵)

۱۲ ۔ کمال الدین، ج ۲، ص ۴۸۰، باب ۴۴ علۃ الغیبۃ(۴۷۹)، ح ۳۔

۱۳ ۔ غیبت نعمانی، ص ۱۷۱ (ص ۱۷۰) ح ۴۔

۱۴ ۔ اعلام الوریٰ، ص ۴۲۶، الفصل الثانی (ص ۴۲۴)

۱۵۔ کمال الدین، ج ۱، ص ۳۰۳ باب ۲۶ باب ما اخبر بہ امیر المومنینؑ۔

۱۶ ۔ اعلام الوریٰ، ص ۴۲۶، الفصل الثانی، (ص ۴۲۴)؛ کمال الدین، ج ۱، ص ۳۱۵ باب ۲۹، ح ۲۔

۱۷۔ معجم احادیث الامام المہدی، ج ۳، ص ۳۵۸، ج۹۰۶؛ اثباۃ الہداۃ، ج ۳، ص ۴۸۸، باب ۳۳، ح ۲۱۸؛بحار الانوار، ج ۵۲، ص۹۱، باب ۲۰، ح ۴؛ کمال الدین، ج ۲، ص ۴۸۲، ح ۱۱؛ منتخب الاثر، ص ۲۶۶-۲۶۷۔

۱۸ بررسی رجالی:۱. عبدالواحد بن محمد بن عبدوس: العطار النيسابوري: من مشايخ الصدوق ذكره في المشيخة، ما هذا نصه: و حديث عبد الواحد بن محمد بن عبدوس رضي الله عنه عندي أصح و لا قوة إلا بالله. أقول: كلام الصدوق - قدس سره - لا يدل على توثيق عبد الواحد بل و لا على حسنه فإن تصحيح الصدوق خبره غايته أنه يدل على حجيته عنده لأصالة العدالة التي بنى عليها غير واحد و أما التوثيق أو المدح فلا يستفاد من كلامه. و من ذلك يظهر أن تصحيح العلامة في التحرير رواية عبد الواحد بن محمد بن عبدوس الواردة في لزوم كفارة الجمع على من أفطر في شهر رمضان على حرام لا يترتب عليه أثر فالرجل مجهول الحال و الله العالم.

۲. علي بن محمد بن قتيبة النيشابوري: أقول: وقع الخلاف في اعتبار علي بن محمد القتيبي و عدمه، فقيل باعتباره و استدل على ذلك بوجوه. الأول: اعتماد الكشي عليه حيث إنه يروي عنه كثيرا و يرد عليه ما يأتي عن النجاشي في ترجمته من أنه يروي عن الضعفاء كثيرا. الثاني: حكم العلامة بصحة روايته و جوابه: أن ذلك منه مبني على أصالة العدالة التي لا نقول بها و مر ذلك مرارا. الثالث: حكم الشيخ عليه بأنه فاضل فهو مدح يدخل الرجل به في الحسان، الجواب: أن الفضل لا يعد مدحا في الراوي بما هو راو و إنما هو مدح للرجل في نفسه باعتبار اتصافه بالكمالات و العلوم، فما عن المدارك من أن علي بن محمد بن قتيبة غير موثق و لا ممدوح مدحا يعتد به، هو الصحيح و الله العالم.

۳. حمدان بن سليمان أبوسعيد :قال النجاشي: حمدان بن سليمان أبو سعيد النيشابوري، ثقة من وجوه أصحابنا

۴. احمدبن عبداللہ بن جعفرالمدائنی:کتب رجالی میں اِس کا تذکرہ نہیں ہے.

۵. عبدالله بن الفضل الهاشمي: من أصحاب الصادق، رجال الشيخ.

و المتحصل مما ذكرناه أن عبدالله بن الفضل الهاشمي ثقة لاتحاده مع عبدالله بن الفضل النوفلي

۱۹۔ معجم رجال الحدیث، ج ۱۱، ص ۳۷، ش ۷۳۵۷۔

۲۰۔ ایضاً، ج ۱۱۔

۲۱۔ ایضاً، ج ۶، ص ۲۴۹، ۴۰۰۲۔

۲۲۔ مہمل (یعنی ان کا ذکر کتب رجال میں نہیں آیا ہے)۔

۲۳۔ ایضاً، ج ۱۰، ص ۲۸۷، ش ۷۰۵۶۔

۲۴۔ سید محمد کاظم قزوینی، الامام المہدی من المہد الی الظہور، ص ۱۵۷۔

۲۵۔ الکافی، ص ۳۳۵؛ بحار الانوار، ج ۵۲، باب ۲۰، ص ۹۸ و باب ۲۲ص ۱۴۶؛ اعلام الوری، ص ۴۳۱؛ علل الشرائع، ج ۱، ص ۲۴۳-۲۴۶؛ شیخ طوسیؒ، الغیبۃ، ص ۳۳۲، ح ۲۷۴؛ کمال الدین، ج ۲، ص ۳۴۲-۳۳۳ و ص ۴۸۱- ۴۴۴۔

۲۶۔ معجم احادیث الامام المہدی، ج ۳، ص ۲۳۲، ح ۷۵۸؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۳۳۲، ح ۲۷۴۔

۲۷۔ معجم احادیث الامام المہدی، ج ۱، ص ۲۶۳، ح ۱۶۴؛ بحار الانوار، ج ۵۲، باب ۲۰، ص ۹۰، ح ۱؛ علل الشرائع، باب ۱۷۹، ص ۲۴۳، ح۱۔

۲۸۔الکافی، ج ۱، باب فی الغیبۃ، ص ۳۳۷؛ بحارالانوار، ج ۵۳، ص ۱۸۷۔

۲۹۔ الکافی، ج ۱، ص ۳۳۹۔

۳۰۔ کمال الدین، ج ۲، باب ۳۴، ج ۵، ص ۳۶۱؛ الزام الناصب، ص ۶۸۔

۳۱ ۔ کمال الدین ، ج ۱، باب ۳۱، ص ۳۲۲، ح۳۔

۳۲۔ سورہ قصص(۲۸) آیت: ۱۸۔

۳۳۔ سورہ قصص(۲۸) آیت:۲۱۔

۳۴۔ سورہ شعراء (۲۶) آیت: ۲۱۔

۳۵۔ سورہ بقرہ(۲) آیت :۹۱۔

۳۶۔ سورہ بقرہ(۲) آیت: ۶۱۔

۳۷۔ سورہ آل عمران(۳) آیت: ۱۸۸۔

۳۸۔ سورہ آل عمران(۳) آیت: ۱۱۲۔

۳۹ ۔ سورہ مائدہ (۵) آیت ۷۰۔

۴۰۔ سورہ نساء (۴) آیت ۱۵۵۔

۴۱۔سورہ آل عمران (۳) آیت ۱۸۳۔

۴۲۔ بحار الانوار، ج ۴۴، ص ۳۶۵؛ سید ابن طاوؤس، حصہ اول، ص ۴۸۔

۴۳۔ سید کاظم قزوینی، الامام المہدی من المہد الی الظہور، ص ۱۵۸۔

۴۴۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا:ففررت منکم لما خفتکم ؛ میں نے تم سے خوفزدہ ہو کر فرار اختیار کر لی۔(سورہ شعراء (۲۶) آیت: ۲۱۔) کمال الدین میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السالم سے روایت ہے کہ آپ کے والد نے فرمایا: جب قائم قیام کریں گے تو کہیں گے:ففررت منکم لما خفتکم فوجب لی ربی حکما و جعلنا من المرسلین پس میں نے تم سے خوفزدہ ہو کر راہ فرار اختیار کی پس خدا نے مجھے حکمت عطا کی ہے اور مجھے اپنا فرستادہ قرار دیا ہے۔ کمال الدین، ج ۱، ص ۳۲۸۔

۴۵۔ معجم احادیث الامام المہدی، ج ۳، ص ۲۷۹، ح ۸۱۳؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۴۳۳، ح ۴۲۳؛ عقد الدرر، باب ۴، ص ۱۱۰، ح ۳؛ بحار الانوار، ج ۵۲، ص ۲۸۸، باب ۲۶، ح ۲۵۔

۴۶۔ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۲۴۸، ح ۲۱۸؛ حدیقہ الشیعۃ، ص ۷۴۱؛ بحار الانوار، ج ۵۲، باب ۱۸، ص ۵۱، ح ۳۶۔

۴۷۔ معجم احادیث الامام المہدی، ج ۳، ص ۲۲۹، ح ۷۵۲؛ بحار الانوار، ج ۵۱، ص ۳۱، ح ۱ وج ۵۲، ص ۹۸، باب ۲۰، ح ۲۱؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۲۰۲؛ الزام الناصب، ص ۱۲۷؛ تحف العقول، ص ۲۲۹؛ یوم الخلاص، ص ۹۳۔

۴۸۔ سورہ طہ (۲۰)آیت: ۴۶۔

۴۹۔ محمد جواد خراسانی، مہدی منتظر، ص ۸۴۔

۵۰ ۔ "تکریت" عراق کے ایک علاقے کا نام ہے۔

۵۱۔ نشریہ برگذیدہ اخبار، سال ۷، ۲۶/۱۲/۱۳۸۲ش۲۲(۱۶ مارچ ۲۰۰۴)۔

۵۲۔ سیمای جہان در عصر امام زمان، ج ۱، ص ۱۹۱۔

۵۳۔ کمال الدین، ص ۴۸؛ بحار الانوار، ج۵۱، ص ۱۵۲؛ الزام الناصب، ص ۸۲، یوم الخلاص، ص ۹۷۔

۵۴۔ علی الیزدی الحائری، الزام الناصب، ص ۱۳۰؛ بحار الانوار، ج ۵۲، ص ۹۲، ح و ج ۵۳، ص ۱۸۲- ۱۸۱؛ کمال الدین، ج ۲، باب ۴۵، ح ۳؛ منتخب الاثر، ص ۲۶۷؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۱۷۷؛ اعلام الوریٰ، ص ۴۲۴؛ کشف الغمہ، ج ۳، ص ۳۲۲؛ طبرسی، احتجاج، ص ۲۶۳۔

۵۵۔ نعمانی، الغیبۃ، ص ۱۷۱، ح ۳؛ بحار الانوار، ج ۵۲، ص ۱۵۵، باب ۲۳، ح ۱۲۔

۵۶۔ کمال الدین، ج ۱، باب ۲۹، ح ۲، ص ۳۱۵؛ کفایۃ الاثر، باب ۳۰، ص ۲۳۴، ح ۴، معجم احادیث الامام المہدی، ج ۳، ص ۱۶۵، ح ۶۹۱۔

۵۷۔معجم احادیث الامام المہدی، ج ۳، ص ۲۳۳، ح ۷۵۹، نعمانی، الغیبۃ، ص ۱۱۳، بحار الانوار، ج ۵۲، باب ۳۳، ص ۱۵۵، ح ۱۲۔

۵۸۔معجم احادیث الامام المہدی، ج ۳، ص ۳۷۲، ح ۹۲۴- ۹۲۳؛ الکافی، ج ۱، ص ۳۸۴، ح ۹۰۹، بحار الانوار، ج ۵۲، باب ۲۰، ۹۵، ح ۱۲- ۱۱، نعمانی، الغیبۃ، ص ۱۱۴۔

۵۹۔کمال الدین، ج ۱، باب ۳۱، ص ۳۲۳، ح ۶؛ بحار الانوار، ج ۵۱، باب ۴، ص ۱۳۵، ح ۲؛ علل الشرائع، ج ۱، باب ۱۷۹، ص ۲۴۵، ح ۶۔

۶۰۔ معجم احادیث المہدی، ج ۴، ص ۲۹۴، ح ۱۳۱۸؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۲۹۲، ح ۴۲۷۔

۶۱۔سورہ شعراء(۲۶)آیت: ۱۸۔

۶۲۔ سورہ شعراء(۲۶) آیت: ۲۲۔

۶۳۔ بحار الانوار، ج ۳۷، ص ۵۱ - ۵۶۔

۶۴۔ سورہ فتح (۴۸) آیت: ۱۔

۶۵۔ البدایۃ وا لنہایۃ، ج ۵، ص ۲۲۷۔

۶۶۔ نہج البلاغہ، خ ۲۷۔

۶۷۔ نہج البلاغہ، خ ۲۵۔

۶۸۔ شیخ صدوق، امالی، ص ۲۳۵، المجلس ۴۱، ثواب الاعمال، ص ۶، ثواب من قال لا الہ الا اللہ بشروطہا۔

۶۹۔ الکافی، کتاب الحجۃ، باب النادر فی حال الغیبۃ، ح ۳۔

۷۰۔ ایضاً، ح ۳۱۔

۷۱۔ سورہ شعراء(۲۶) آیت: ۱۱۸۔

۷۲۔ سورہ مریم(۱۹)آیت ۴۸۔

۷۳۔ سورہ صافات(۳۷)آیت: ۹۹۔

۷۴۔ سورہ قصص(۲۸) آیت: ۲۱۔

۷۵۔ سورہ شعراء(۲۶)آیت: ۱۶۸- ۱۶۹۔

۷۶۔ سورہ کہف(۱۸) آیت: ۱۶ کی طرف اشارہ ہے۔

۷۷۔ کمال الدین، ج ۲، ص ۴۴۷، باب ۴۳، ح ۱۹وص ۴۶۵، ح ۲۳؛ غیبت طوسیؒ فصل ۳، ص ۲۶۶(ص۲۵۳)؛ بحار الانوار، ج ۵۲، ص ۱۲، باب ۱۸، ح ۶۔

۷۸۔ الکافی، ج ۱، ص ۳۸۵، ح ۹۱۳۔

۷۹۔ محمد جواد خراسانی، مہدی منتظر، ص ۷۸۔

۸۰۔ سورہ رعد(۱۳) آیت: ۱۱۔

۸۱۔ معجم احادیث الامام المہدی، ج ۳، ص ۱۹۲، ح ۷۱۴ و ص ۲۴۰، ح ۷۷۰ - ۷۶۹ و ص ۳۹۳، ح ۹۵۱ - ۹۴۸ و ص ۱۶۵، ح ۱۲۲۵۔

۸۲۔ کمال الدین، ج ۲، باب ۴۴، ح ۲؛ علل الشرائع، ج ۱، ص ۲۴۵، باب ۱۷۹، ح ۷؛ بحار الانوار، ج ۵۱، ص ۱۴۲، ح ۲ و ج ۵۲، ص ۹۰، ح ۳، معجم احادیث المہدی، ج ۵، ص ۴۸۸، ح ۱۹۲۱۔

۸۳۔ سورہ انشقاق(۸۴)آیت: ۱۹۔

۸۴۔ کمال الدین، ج ۱، ص ۲۳۱، باب ۳۲، ح ۱۶؛ بحارالانوار، ج ۵۲، ص ۱۹۱، باب ۲۵، ح ۲۴۔

۸۵۔ کمال الدین، ج ۲، باب ۳۳، ص ۳۴۲، ح ۲۴ و ص ۳۴۶، ح ۳۲؛ الکافی، ج ۱، ص ۳۸۴، ح ۹۱۱؛ بحار الانوار، ج ۵۲، باب ۲۰، ص ۹۵، ح۱۰، باب ۲۲، ۱۴۶، ح ۷۰؛ معجم احادیث الامام المہدی، ج ۳، ص ۴۴۶، ح ۱۰۰۲۔

۸۶۔ علل الشرائع باب ۱۷۹، ص ۲۴۴، ح ۴؛ کمال الدین، ج ۲، باب ۳۴، ص ۳۵۹، ح ۱؛ بحار الانوار، ج ۵۱، باب ۷، ص ۱۵۰، ح ۱، ج ۵۲، باب ۲۱، ص ۱۱۳، ح ۲۶۔

۸۷۔ سورہ آل عمران(۳) آیت: ۱۴۱۔

۸۸۔ سورہ آل عمران(۳) آیت: ۱۷۹۔

۸۹۔ الکافی، ج ۱، ص ۳۳۶، باب فی الغیبۃ، کمال الدین، ج ۲، باب ۳۴، ح ۱۔

۹۰۔ تفسیر المیزان، تفسیر مجمع البیان، تفسیر احسن الحدیث اور تفسیر اطیب البیان وغیرہ ذیل آیہ شریفہ۔

۹۱۔ سورہ روم(۳۰) آیت: ۱۹۔

۹۲۔ سورہ فتح (۴۸) آیت: ۲۵۔

۹۳۔ علل الشرائع، ج ۱، ص ۱۴۷، ۱۲۲؛ کمال الدین، ج ۲، باب ۵۴، ص ۶۴۰۔


چوتھا باب: فوائد غیبت

ہر گزایسا نہیں ہے کہ غیبت امام عصر علیہ السلام ایک مہمل، بے معنی شئ ہو اور لوگوں کے لیے اس میں کوئی فائدہ موجود نہ ہو، اگر ایک عام سے عام آدمی جو صاحب عقل و شعور ہو کسی عمل کو بغیر کسی مقصد اور ہدف کے انجام نہیں دیتا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ غیبت امامؑ جو کہ پروردگار عالم کے حکم سے واقع ہوئی ہے ، بےفائدہ ہے۔

آیات وروایات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں غیبت کے کچھ فوائد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔لہذا ہم تحریر کے اس حصہ میں دو اصلی محور پر گفتگو کریں گے:

الف) غیبت امام عصر پر ایمان و اعتقاد کا کیا فائدہ ہے؟

ب) امام غائب کے وجود کا فائدہ کیا ہے؟

پہلی فصل: امام غائب پر ایمان و اعتقاد کا فائدہ

اس فصل کا آغاز اس سوال سے کیا جا رہا ہے کہ وہ وجود غائب جس کے وجود کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ عدم کے مساوی ہوتا ہے یعنی اس کا ہونا، نہ ہونا برابر ہوتا ہے پس اسی طرح امام غائب پر ایمان و اعتقاد کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب کے لیے ہم یہاں ابتداءً چند مقدمات بیان کر رہے ہیں اور پھر اس سوال کا جواب پیش کریں گے:

الف) امام علیہ السلام پر اعتقاد، ایمان کے اہم ارکان میں شمار ہوتا ہے۔ پیغمبر گرامی قدر فرماتے ہیں:"من مات و لم یعرف امام زمانه مات میتة جاهلیة "(۱) جو شخص امام وقتؑ کی معرفت کے بغیر مر جائے وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔

یہ حدیث فریقین کے منابع حدیثی میں مختلف عبارت کے ساتھ کثرت سے نقل ہوئی ہے۔

ب) خدا کے نزدیک غیب پر ایمان اہم امورمیں سے ہے اور یہ ایمان و اخلاص پر خاص تاثیر رکھتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:( الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ) (۲)

ج) ثواب و عقاب، جنت، دوزخ، سوال قبر اور جو کچھ قیامت کے بارے میں ہے ان سب چیزوں پر اعتقاد ایمان بالغیب ہی سے وابستہ ہے اور یہی ایمان بالغیب انسان کے ثبات قدم، استقامت، حدود سے خارج نہ ہونے اور حکم خداوندی سے سرپیچی نہ کرنے میں بہت اثر انداز ہوتا ہے۔

پس ان مقدمات کی روشنی میں وجود امام عصر علیہ السلام پر اعتقاد کے چند فوائد بیان کر رہے ہیں :

۱ ۔ جس مسلمان کو یہ علم ہو کہ اس کا امام حاضر ہے اور اس کے اعمال دیکھ رہا ہے تو اس کے رفتار و عمل میں اور جس کا یہ عقیدہ نہیں ہے اس کے عمل میں بہت فرق پایا جاتا ہے، جیسا کہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ جو لوگ وجود امام غائبؑ کے معتقد ہیں اور انہیں اپنے کردار پر ناظر سمجھتے ہیں وہ لوگ ساکت، منکسر اور متواضع ہوتے ہیں، کسی کو اذیت نہیں دیتے اور گناہ و معصیت سے دور رہتے ہیں۔

۲ ۔ حضرت کے حاضر و ناظر ہونے کا اعتقاد لوگوں میں مصائب و آلام اور آزمائشات وحوادث کے مقابلے میں ان کی ہمت و حوصلہ افزائی اور دل گرمی کا سبب بنتا ہے ۔ جیسا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو معلوم ہوا کہ ان کا نبی زندہ ہے تو انہیں ان کے وجود سے ہمت و حوصلہ ملا۔ ان کے دلوں کو تسکین ملی اور وہ مطمئن ہوگئے۔

۳ ۔ ان کے ظہور کے انتظار سے بھی لوگوں کو اطمینان و حوصلہ ملتا ہے، کیونکہ جب مسلمان ظلم و بربریت اور عدل و انصاف کو پامال ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کے ظہور کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور پریشانیوں میں ان سے توسل کرتے ہیں۔

۴ ۔ برسوں کی غیبت اور چشم انتظار کے بعد ان کا ظہور بیشتر لوگوں کی رغبت کا سبب قرار پائے گا نتیجتاً بآسانی ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی نصرت پر آمادہ اور باقی رہیں گے۔

دوسری فصل: امام غائب کے وجود کا فائدہ

ممکن ہے کسی کے دل میں یہ شبہہ یا سوال سر اٹھائے کہ امام غائب کے وجود کا فائدہ کیا ہے؟

اگر امام لوگوں کا پیشوا اور رہبر ہوتا ہے تو اسے ظاہر ہونا چاہئے۔ ایسا امام جو صدیوں سے غائب ہو، نہ دین کی ترویج کرے، نہ معاشرے میں پیدا ہونے والی مشکلات کو حل کرے، نہ مخالفین کو کوئی جواب دے، نہ امر بہ معروف و نہی از منکر کرے، نہ مظلومین کی حمایت کرے، نہ حدود و احکام اسلامی کو جاری کرے، نہ لوگوں کے حلال و حرام کے مسائل کی وضاحت کرے، بھلا ایسے امام کے وجود کا کیا فائدہ ہے؟

ہم اس شبہہ یا سوال کے جواب میں اتنا کہنا چاہیں گے کہ زمانہ غیبت میں لوگ اگرچہ خود اپنی غلطیوں اور اپنے اعمال کی وجہ سے امام ؑ کے زمانہ حضور کے فوائد سے محروم ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے وجود کے فوائد صرف انہی پر منحصر نہیں ہیں بلکہ کچھ ایسے فوائد بھی ہیں جو زمانہ غیبت میں بھی مترتب ہوتے ہیں۔ ان فوائد کو دو حصوں عمومی و خصوصی میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

فوائد عمومی

حجت خدا کا وجود، واسط فیض الٰہی اور استقرار زمین کا سبب ہے۔

فریقین کی روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حجت خدا کا وجود زمین کے استقرار کا سبب ہے، اگر امام و حجت خدا زمین پر موجود نہ ہو تو زمین میں استقرار قائم نہیں رہ سکتا۔ بنابریں اگرچہ آنجنابؑ لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں لیکن ان کا وجود اہل زمین کے لیے باعث امان ہے۔ اس سلسلہ میں کثرت سے ایسی روایات وارد ہوئی ہیں جو اس کی تصریح کر رہی ہیں:

حضور سرورکائنات نے فرمایا:

"النُّجُوم امانٌ لأهلِ السَّماء، ‏اِذا ذَهَبَتِ النُّجُومُ ذَهَبَ اَهلُ السَّماء. ‏وَ أهلُ بَیتی اَمانٌ لأهلِ الأرض فاذا ذَهَبَ اهلُ بَیتی ذَهَبَ أهلُ الأرض "(۳)

ستارے اہل آسمان کے لیے باعث آرام و امان ہیں پس اگر ستارے ہٹ جائیں تو اہل آسمان مٹ جائیں اسی طرح میرے اہل بیت اہل زمین کے لیے امان ہیں اگر یہ درمیان سے ہٹ جائیں تو اہل زمین نابود ہو جائیں گے۔

مرحوم خواجہ نصیر الدین طوسیؒ کتاب تجرید الکلام میں امام زمانہ (عج) کے وجود کو لطف سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں:"وجودہ لطفٌ و تصرّفہ آخر و عدمہ منّا؛ امام کا وجود لطف الٰہی ہے، اور ان کا تصرف کرنا(یعنی وظائف امامت پر عمل کرنا) یہ ایک اور لطف الٰہی ہے جبکہ ان کی غیبت ہمارے اعمال بدل کی وجہ سے ہے۔

یعنی امت اسلامی نے جو ان کے لیے فضا بنائی ہے حضرت اسی کی وجہ سے غیبت پر مجبور ہوئے ہیں۔

امامت کے سلسلہ میں وارد ہونے والی احادیث کے مطابق امام غائب کا وجود مقدس، انسان کی کامل نوع و فرد اور عالم مادی و عالم ربوبی کے درمیان مکمل رابطہ ہے، اگر زمین پر امام و حجت خدا نہ ہو تو نسل انسانی منقرض ہوجائے گی اور دنیا کا بیٹرا غرق ہو کر رہا جائےگا۔ اگرامام نہ ہو تو خدا مکمل طور پر پہچانا نہیں جا سکتا، اس کی عبادت ممکن نہیں ہوسکتی۔ انہی کے ذریعے خدا پہنچانا جاتا ہے اور لوگ اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اگر امام نہ ہوتو خالق و مخلوق کا رابطہ منقطع ہوجائے گا۔

کیونکہ انسان میں فیاض علی الاطلاق سے فیضیاب ہونے کی توانائی نہیں(۴) ہے لہذا اشرافات و افاضات عالم غیب پہلے امامؑ کے پاک و پاکیزہ آئینہ قلب پر نازل ہوتے ہیں پھر ان کے ذریعے لوگوں تک منتقل ہوتے ہیں۔

امام، قلب عالم وجود اور رہبر و مربی نوع انسان ہوتا ہے۔ اسی کے ذریعے فیوضات الٰہی جہان آفرینش تک پہنچتے ہیں۔ قانون لطف اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خداوند عالم کے کچھ لائق و فائق اور شائستہ افراد اس اہم ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے چاہییں۔ عظیم الشان پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے برحق جانشینوں نے اس اہم ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے وادی ضلالت میں بھٹکنے والوں کو شاہراہ سعادت پر گامزن کرنے کے لیے مشعل راہ بن گئے ہیں ۔ لہذا ان آثار کے مترتب ہونے میں امام زمانہ (عج) کے حضور و غیبت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ائمہ علیہم السلام چاہے حاضر ہوں یا غائب، وہ ہر صورت میں واسطہ فیض الٰہی ہیں، ان کی غیبت میں بھی وہی منافع موجود ہیں جو ان کے حضور میں پائے جاتے ہیں۔(۵)

اس اشکال کا منشا و اساس کہ امام غائب سے کس طرح نفع حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ در حقیقت اس کی بنیاد امام کی عدم معرفت اور معنائے ولایت کی حقیقت کو نہ سمجھنا ہے۔ امام قطب عالم امکان ہے۔ تمام موجود چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے سب وجود امام کے محتاج ہیں۔ امام، منبع فیض الٰہی سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ امام معصوم ؑ کی امامت وولایت عالم تکوین و عالم تشریع اور اسی طرح ظاہر و باطن میں جاری و ساری ہے۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام زیارت جامعہ کبیرہ میں ارشاد فرماتے ہیں:

"بِکم یُنزِلُ الغیث و بکم یمسک السماء أن تقع علی الارض الّا باذنه ؛(۶) آپ (ائمہؑ) ہی کے وجود کی وجہ سے بارش نازل ہوتی ہے اور آپ حضرات ہی کی وجہ سے آسمان زمین پر نہیں گررہا ہے۔

یاد رہے کہ کاروان حیات آگے بڑھانے میں امام کے مقدس وجود کا محتاج ہے ۔ چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

"ارادہ الٰہی اس امر پر مبتنی ہے کہ ہر سال ایک ایسی رات قرار دے جس میں فرشتے تنظیم امور کے لیے زمین پر نازل ہوں اور خداوند اس سے بزرگ و برتر ہے کہ روح اور فرشتوں کو کافر یا فاسق کے پاس نازل کرے۔"(۷)

نتیجتاً تمام مخلوقات عالم کی حیات و زندگی امامؑ کے وجود سے وابستہ ہے۔ دعائے عدیلہ میں آیا ہے کہ :

"بیمنه رزق الوری و بوجوده ثبتت الارض و السماء "(۸) اِنھیں کے صدقے میں سب رزق پا رہے ہیں اور انھیں کے وجود سے زمین و آسمان قائم ہیں۔

نیز اسی سلسلہ میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:"لو بقیت الارض یوما بلا امام منّا لساخت الارض بأهلها ؛(۹) اگر ہم میں سے ایک دن کے لیے بھی روئے زمین پر امام موجود نہ ہوتو زمین اپنے تمام اہالی کے ساتھ تباہ ہوجائے گی۔

زمانہ غیبت میں وجود امام عصر(عج) کے فوائد کے بارے میں دینی پیشواؤں اور ہادیان برحق کی جانب سے کثرت سے روایات وارد ہوئی ہیں مثلاً ختمی مرتبت حضرت محمدمصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ارشاد پاک ہے:

"وَالذی بَعَثَنیِ بِلْحَقِّ نَبِیّا إِنَهُم یَستَضِیئُونَ بِنُورِه و یَنتفعون بولایته فی غیبته کانتفاع الناس بالشمس اذا سترها سحاب یا جابر! هذا من مکنونِ سرالله و مخزونِ علمه، ‏فَاۡکتُمه الاّعن أهله ؛(۱۰) اس خدا ئے پاک کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ معبوث کیا ہے، یہ لوگ ان کی غیبت کے زمانے میں ان کے نور ولایت سے اسی طرح فیضیاب ہوں گے جس طرح لوگ بادلوں کے پیچھے سورج کے چھپ جانے کے بعد اس سے بہرہ مند ہوتے رہتے ہیں ۔ اے جابر! یہ اللہ کے پوشیدہ اسرار اور پنہان علوم میں سے ہے اور تم بھی اسے نااہل لوگوں سے مخفی رکھنا۔

نیز ائمہ معصومین علیہم السلام سے مزید کئی ایسی احادیث وارد ہوئی ہیں جن کا مضمون ایک ہی ہے اور ان تمام احادیث میں زمانہ غیبت میں امام کے وجود کو پس ابر سورج سے تشبیہ دی گئی ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے جد بزرگوار حضرت امام سجاد علیہ السلام سے روایت نقل فرمائی ہے کہ آپ نے فرمایا:

"ہم مسلمانوں کے پیشوا، اہل عالم پر حجت، سادات مومنین، نیکو کاروں کے رہبر اور امور مسلمین کے صاحب اختیار ہیں۔ جس طرح ستارے اہل آسمان کے لیے امان ہیں اسی طرح ہم اہل زمین کے لیے امان ہیں۔ ہماری ہی وجہ سے آسمان زمین کے اوپر نہیں گررہا ہے، مگر جب خدا چاہے۔ باران رحمت حق ہماری وجہ سے نازل ہوتی ہے اور زمین سے برکات نکلتی ہیں۔ اگر روئے زمین پر ہمارا وجود نہ ہوتا تو زمین اپنے ساکنان کو اپنے اندر سمیٹ لیتی، پھر فرمایا: خدا وند عالم نے جب سے آدم ؑ کو خلق فرمایا ہے اس سے آج تک کبھی بھی زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہی؛ لیکن وہ حجت خدا کبھی ظاہر و مشہود اور کبھی غائب و مستور ہوتی ہے اور اسی طرح تاقیام قیامت زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہ رہے گی۔ اگر امام نہ ہوتو خدا کی پرستش نہیں ہو سکتی، سلیمان کہتے ہیں۔

میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا: "لوگ کس طرح امام غائب کے وجود سے بہرہ مند ہوں گے؟ فرمایا: جس طرح پس ابر سورج کے وجود سے فیضیاب ہوتے ہیں۔"(۱۱)

اس روایت اور چند دیگر روایات میں حضرت صاحب الامر کے مقدس وجود اور آپ سے فیضیاب ہونے کو پس ابر سورج سے تشبیہ دی گئی ہے؛ یعنی اگرچہ بادلوں کی وجہ سے زمین تک سورج کی روشنی نہیں پہنچتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے فیضان کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا اور اہل زمین اس کے وجود سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔

اس تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ علم طبعیات و فلکیات میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سورج منظومہ شمسی کا محور ومرکز ہے۔ اسی کی قوت جاذبہ زمین و دیگر سیارات کی محافظ ہے اور انہیں درہم و برہم ہونے سے بچاتی ہے۔ سورج زمین کو اپنے گرد محور پر گھماتا رہتا ہے، دن رات اور موسم ایجاد کرتا ہے، اس کی حرارت ہی نباتات ، حیوانات اور انسانوں کی زندگی کا سبب ہے، اس کا نور زمین کو روشنی عطا کرتا ہے۔ سورج کے یہ فوائد ہمیشہ باقی رہتے ہیں چاہے وہ بادلوں کے پیچھے موجود ہو یا بالکل ظاہرو عیاں ہو، چاہے دن ہو چاہے رات۔

پس امام علیہ السلام کہ جن کا وجود مبارک قلب عالم اِمکان کی طرح مربی اور ہادی تکوینی ہے آپ کے مقدس وجود کو سورج سے تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ ان آثار کے مترتب ہونے میں آپ ؑکے حضور و غیبت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پس جس طرح خورشید عالم تاب کچھ وقت کے لیے پس ابر چلے جانے کے بعد بھی حافظ جہان ہوتا ہے اور اس کے قوت جاذبہ کے سائے میں کائنات اپنی زندگی کو رواں دواں رکھتی ہے اور تباہی سے محفوظ رہتی ہے، اسی طرح اگرچہ لوگوں کی ان تک دسترسی نہیں ہے لیکن ان کے عظیم فیوضات ہمیشہ اہل کائنات کے شامل حال رہتے ہیں، کائنات اپنی بقاء کی راہ کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہے، آسمان زمین پر نہیں گررہاہے اور زمین اپنے ساکنون کو نہیں نگل رہی ہے۔

علامہ مجلسیؒ نے اس حدیث شریف کی درجہ ذیل مفید توضیحات پیش کی ہیں:

۱ ۔ مخلوقات عالم کو نور وجود و علم و ہدایت انہی کے واسطہ سے عطا ہوتاہے ، کیونک مستضیفہ روایات کے ذریعے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حضرات کائنات کے وجود کی علت غائی ہیں۔ پس اگر ان کا وجود نہ ہوتا تو کائنات نور ہستی سے محروم رہتی بلکہ انہی کی برکت اور توسل کے سبب علوم و معارف مخلوقات پر آشکار ہوتے ہیں اور ان سے بلائیں دور ہوتی ہیں۔ بنابریں اگر ان کا دخل نہ ہوتا تو لوگ اپنے برے اعمال کی وجہ سے مختلف قسم کے عذاب میں گرفتار ہو جاتے، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد پاک ہے:( ما کان الله لِیُعَذِّبَهم و انت فیهم ) ۔

تجربہ بتاتا ہے کہ جب مشکلات نے ہر طرف سے گھیر لیا، معاملات الجھ کر رہ گئے اور خداوند تعالیٰ سے دور گئے اور ہمارے اعمال کی وجہ سے ہم پر رحمت کے دروازے بند ہوگئے۔تو ہم نے انہیں بارگاہ خداوندی میں اپنا شفیع قرار دیا اور ان کے نور مقدس سے متوسل ہوگئے تو معاملات کی گتھی سلجھ گئی اور خداوندعالم نے جس کے قلب کو نور ایمان سے منور کر دیا ہے وہی اپنی آنکھوں سے اس حقیقت کو دیکھتا ہے ، جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔

۲ ۔ جس طرح لوگ بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے استفادہ کرتے ہیں اور بادلوں کے ہٹ جانے کا انتظارکرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سورج سے فیضیاب ہو سکیں، اسی طرح حقیقی منتظرین اور ان کے مخلص شیعہ آپ کی غیبت کے زمانے میں انتظار کرتے ہیں تاکہ جیسے ہی آنجناب ظہور فرمائیں تو وہ زیادہ سے زیادہ آپ کے مقدس وجود سے بہرہ مند ہوسکیں۔

۳ ۔ جو شخص زمانہ غیبت میں آنجنابؑ کا انکار کرے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو پس ابر موجود سورج کا انکار کرے۔

۴ ۔ جس طرح بادلوں کے پیچھے سورج کا چھپنا بھی لوگوں کے لیے مفید ہوتا ہے اسی طرح کبھی آپؑ کے ظہور کی نسبت آپ کی غیبت لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

۵ ۔جس طرح جب سورج کے سامنے بادل نہ ہوں تو براہ راست اس کی طرف نگاہ کرنا ممکن نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات نابی نا ہونے کا سبب بھی ہوسکتا ہے، اسی طرح دیکھنے والے کی عدم قابلیت کی وجہ سے وہ آنجنابؑ کے خورشید وجود کے حق کی نسبت نابی نا ہوجائے۔

۶ ۔ کبھی سورج پس ابر سے نمایا ہوتا ہے تو بعض لوگ اسے دیکھتے ہیں اسی طرح بعض افراد زمانہ غیبت میں بھی انہیں دیکھتے ہیں اور ان کی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں۔

۷ ۔ یہ حضرات خورشید کی مانند سب کو فائدہ پہنچاتے ہیں پس جو شخص نابی نا ہے وہی ان سے بہرہ مند ہونے سے عاجز ہے۔ خداوند متعال کا ارشاد پاک ہے:( وَمَن كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلاً ) (۱۲) اور جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ قیامت میں بھی اندھا اور بھٹکا ہوا رہے گا۔

۸ ۔ جس طرح سورج کی کرنیں مکان میں موجود کھڑکیوں کی تعداد و مقدار کے حساب سے داخل ہو کر اسے نور اور انرجی فراہم کرتی ہیں اسی طرح لوگوں کا خانہ دل جتنا زیادہ خواہشات نفسانی و جسمانی کے حجاب سے دور ہوگا اور جتنے زیادہ معرفت الٰہی کی جانب کھڑکیاں اور دریچے کھلے ہوں گے انسان اتنا ہی زیادہ ان حضرات کے نور ہدایت سے بہرہ مند ہوگا لہذا اگر انسان معرفت میں حائل حجابات و موانع کو دور کردے تو اس معنوی بہشت کے آٹھ دروازے اس پر کھل جائیں گے اور وہ براہ راست ان کی ولایت و ہدایت کی تمام شعاعوں سے بہرہ مند ہوسکے گا۔(۱۳)

پس بنابریں پروردگارعالم حضرت حجتؑ کے سبب انسانوں پر اپنے فیوضات کے سلسلہ کو منقطع نہیں کرتا۔ لہذا یہی وہ مقام ہے کہ جہاں آنجنابؑ کی سورج سے تشبیہ کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ پیشوایان دین کی وہ تعبیر بھی اسی حقیقت کو بیان کر رہی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:

"لو لاالجة لساخت الأرض بأهلها ؛اگر ایک لحظہ بھی روئے زمین پر حجت خدا نہ ہوتو زمین اپنے اہالی کے ساتھ برباد ہوجائے۔

یہ حقیقت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہونے والی ان کثیر روایات میں بیان کی گئی ہے جن میں انہوں نے نظام ہستی کی بقا میں حجج الٰہی کا کردار بیان کیا ہے۔

رسول گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

"انّی وَأحَد عشر من ولدی وانت یا علی! زرّالارض اعنی اوتادها وجبالها، ‏بنا اوتدالله ان تسیخ بأهلها فاذا ذهب الاثنا عشر من ولدی ساخت الارض بأهلها ولم یُنَظروا ؛(۱۴) اے علی میں، میرے گیارہ فرزند اور تم زمین کے لنگر ہو خداوند عالم نے ہمارے ہی سبب زمین کو استوار کیا ہے کہ اپنے ساکنان کو نگل نہ جائے، جب میرے بارہ فرزند زمین سے رخصت ہوجائیں گے تو زمین اپنے ساکنان کو سمیٹ لے گی اور پھر انہیں مہلت نہ دی جائے گی۔

اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں پیش کردہ خطبہ میں فرماتے ہیں:

"معاشرالناس! کأنّی ادعی فأجیب و اِنّی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی اهل بیتی ما ان تمسکم بهما لن تضلّوا فَتَعلّموا منهم و لاتُعِلّموهم فانّهم اعلم منکم لا تخلوا الارض منهم ولو خلت اذاً لساخت الارض بأهلها ؛(۱۵) اے لوگو! گویا مجھے عنقریب پروردگار کی طرف سے دعوت دی جائے گی اور میں اس دعوت حق پر لبیک کہہ دوں ۔ میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ، ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میری عترت و اہل بیت ، اگر تم لوگ ان سے متمسک رہو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے۔ دیکھو! ان سے سیکھتے رہنا اور انہیں سکھانے کی کوشش مت کرنا کیونکہ یہ تم سے زیادہ عالم و دانا ہیں۔ روئے زمین کبھی ان سے خالی نہیں رہے گی اور اگر خالی ہوگئی تو اپنے تمام ساکنان کو نگل جائے گی۔

حضرت صادق آل محمد امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:" ان الارض لا تخلوا ساعة من الحجة ؛ زمین حتی ایک گھنٹہ بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی۔"(۱۶)

امام ؑ غائب کے خصوصی فوائد

پس جس طرح یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ امام غائب کے وجود کے کچھ ایسے عمومی فوائد ہیں جن سے کل ہستی بہرہ مند ہو رہی ہے اسی طرح ہم آنجنابؑ کے وجود کے کچھ ایسے خصوصی فوائد بھی بیان کریں گے جو صرف بعض افراد کے شامل حال ہوتے ہیں اور ان کے ان فوائد سے ہر کس و ناکس بہرہ مند نہیں ہوسکتا۔ فوائد خصوصی کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ قسم ہے جن سے لوگوں کی ایک خاص نوع مستفید ہوتی ہے اور دوسری قسم وہ ہے جن سے صرف مخصوص لوگ ہی فیضیاب ہوتے ہیں:

امام غائب کے حضور و وجود کا نوعی فائدہ یہ ہے کہ شیعوں پر آپ کی مکمل نظررہتی ہے ، امام غائب مخفیانہ طور پر ان کی حمایت کرتے ہیں، انہیں شر اشرار و کید کفار و فجار سے محفوظ رکھتے ہیں۔ سری اور غیر مستقیم طور پر ظالموں کی منصوبہ بندی و پلاننگ کو ناکام اور خائین کے مکاریوں کو درہم برہم کردیتے ہیں۔

شیخ مفید ؒ کے لیے صادر کردہ توقیع شریف میں خود آنجناب نے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے:

"اگرچہ ہم اپنے اور اپنے شیعوں کے بارے میں خدائے تعالیٰ کی صلاح دید کی پابندی کی وجہ سے اس وقت تک ایسے مقام پر رہنے پر مجبور ہیں جو ظالمین کی دسترسی سے دور ہے، جب تک حکومت دنیا فاسقین کے لیے ہے لیکن اس کے باوجود ہم تمہارے حالات سے واقف ہیں اور تمہاری کوئی بات ہم سے پوشیدہ نہیں ہے ہم نہ تم سے غافل ہیں اور نہ تمہیں فراموش کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو مصائب و آلام کے پہاڑ تم پر ٹوٹ پڑتے اور دشمن تمہیں تارتار کر کے نابود کر دیتے ۔ پس تقویٰ اختیار کرو اور اپنی نجات کے لیے ہماری مدد کرو۔(۱۷)

جبکہ وہ فوائدخصوصی جو صرف بعض افراد کو حاصل ہوتے ہیں یا کوئی شخص توسل کے ذریعے ان سے بہرہ مند ہوجاتا ہے یا کسی شخص پر آنجنابؑ کی خاص عنایت کی وجہ سے وہ ان فوائد سے بہرہ مند ہوجائے جیسے بینوا لوگوں کی فریاد رسی، بھٹکے ہوئے کی راہنمائی، غرق ہونے والوں کو نجات، اذن خدا سے بیماروں کو شفادنیا، مقروض قرض کی ادائیگی، اسیروں کی زندان و قیدخانوں سے نجات اور دشمنوں کے شر سے نجات دلانا۔

یہ ایسے امور ہیں جنہیں کبھی آنجناب خود بنفس نفیس انجام دیتے ہیں اور کبھی اپنے اعوان و انصار کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔ جن موارد میں آپؑ خود وظیفہ انجام دیتے ہین۔ وہاں غالباً مخفی طور پر انجام دیتے ہیں اور اگر عیاں اور ظاہر ہوتے ہیں تو ناشناس صورت میں انجام دیتے ہیں کہ وہ شخص بعد میں متوجہ ہوتا ہے کہ اس کی مدد کرنے والے آپؑ تھے۔ ممکن ہے کہ کبھی یہ امور آپؑ بربنائے مصلحت دشمنوں کے لیے بھی انجام دے دیں مثلا ان کی ہدایت کے اسباب کے طور پر یا اپنے چاہنے والوں پر ظالمین کے ظلم و ستم میں کمی اور تخفیف کے لیے انجام دیتے ہیں۔

بہرحال زمانہ غیبت میں امام عصر(عج) کے حضور مشرف ہونے والوں کی تعداد کم نہیں ہے اور ان کے حالات زندگی مختلف کتابوں میں ثبت شدہ ہیں۔

____________________

۱۔ شرح مقاصد، ج۵، ص ۲۳۹؛ تشریح و محاکمہ در تاریخ آل محمدؑ، ص ۱۶۶، ینابیع المودۃ، ص ۴۸۳؛ المسند للامام احمد، ج ۱۳، ص ۸۸؛ الکافی، ج ۱، ص ۴۲۵، ح ۹۷۰۔

۲۔ سورہ بقرہ(۲) آیت: ۳۔

۳۔ ابو عبداللہ احمد بن محمد بن حنبل، فضائل الصحابہ، ج ۲، ص ۶۷۱، ح ۱۱۴۵؛ فرائد المسطین، ج ۲، ص ۲۵۲ - ۲۵۳، ح ۵۲۲؛ طبری، ذخائر العقبی، ص ۴۹، ج ۶، ص ۱۱۶۔

۴۔ ابراہیم امینی، دادگسترجہان، ص ۵۵۔

۵۔ سید رحمت اللہ موسوی، منجی حقیقی، ص ۱۶۹۔

۶۔ مفاتیح الجنان، زیارت جامعہ۔

۷۔ الکافی، ج ۱، ص ۲۵۳۔

۸۔ مفاتیح الجنان، دعائے عدیلہ۔

۹۔ کمال الدین، ج ۱، باب ۲۱، ح ۱۴؛ بحارالانوار، ج ۲۳، ص ۳۷۔

۱۰۔ ینابیع المودۃ، ص ۴۲۲؛ کمال الدین، ج ۱، ص ۳۵۳؛ بحار الانوار، ج ۵۲، ص ۹۲۔

۱۱۔ ینابیع المودہ، ج ۲، ص ۲۱۷؛ فرائد المسطین، ج ۱، ص ۴۵؛ احتجاج طبرسی، ج ۲، ص ۳۱۷؛ بحارلانوار، ج ۲۳، ص ۵۔

۱۲۔ سورہ اسراء(۱۷) آیت: ۷۲۔

۱۳۔ بحار الانوار، ج ۵۲، ص ۹۳۔

۱۴۔ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۱۳۹، ح ۱۰۲۔

۱۵۔کفایۃ الاثر، ص ۱۶۳؛ ینابیع المودہ، ج ۱، ص ۷۵ و ج ۳، ص ۳۶۰۔

۱۶۔ کمال الدین، ج ۱، باب ۲۱، ح ۷؛ بحارالانوار، ج ۲۳، ص ۳۴۔

۱۷۔ الاحتجاج طبرسی۔


پانچواں باب:

بعض شبہات و سوالات کے جوابات

آغاز کلام

جس سوال کو ہم اس فصل کا آغاز کلام قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ تاریخ اسلام میں عقیدہ مہدویت میں سب سے پہلے شک و شبہہ ایجاد کرنے اور اس کا انکار کرنے والا کون ہے؟

تاریخ و کتب احادیث کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان کو پہلا وہ شخص قرار دیا جاسکتا ہے جس نے عقیدہ مہدویت میں شک اور اس کا انکار کیا ہے۔ تاریخی منابع میں وارد ہوا ہے کہ معاویہ نے ایک دن بنی ہاشم کی ایک جماعت سے مخاطب ہو کر کہا:

"تمہارا یہ گمان ہے کہ بادشاہ ہاشمی و مہدی قائم تم میں سے ہے بالکل باطل ہے، بلکہ مہدی و ہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہے۔ یاد رکھو! امر خلافت ہمارے ہاتھوں میں رہے گایہاں تک ہم اسے یہ امر سپرد کریں گے۔"(۱)

اس موقع پر ابن عباس بھی وہاں موجود تھے، وہ اس تاریخی تحریف اور اسلامی عقیدہ کے ساتھ کھیل کرنے پر سخت آشفتہ ہوئے اور معاویہ سے کہنے لگے:

"اے معاویہ !تو یہ کہتا ہے کہ یہ ہمارا وہم و گمان ہے کہ ہمارے لیے حکومت ہے کہ مہدی جس کے حاکم ہوں گے ۔ تو سن گمان شرک ہے جیسا کہ خداوند متعال کا فرمان ہے:( زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا ) (۲) ؛ان کفار کا گمان یہ ہے کہ انہیں دوبارہ اٹھایا نہیں جائے گا، حالانکہ سب ہی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ بہرحال ہمارے لیے ملک و حکومت ہے۔ اگر عمر دنیا میں سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تب بھی خداوند عالم، ہم میں سے ایک شخص کو بھیجے گا تاکہ وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔

اور تیرا یہ کہنا کہ مہدی ، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں؛ تو سن عیسیٰؑ، دجال سے مقابلہ کے لیے بھیجے جائیں گے اور جب دجال کا ان سے سامنا ہوگا تو وہ نابود ہوجائےگا۔ لیکن ہم میں سے امام وہ شخص ہے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جس کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے"(۳)

ہم اس حصہ میں پہلے مہدویت اور غیبت امام عصر علیہ السلام کے بارے میں وارد کئے جانے والے چند شبہات اور پھر کچھ سوالات اور اُن کے جوابات پیش کریں گے۔

پہلی فصل: شبہات

اس فصل میں ہم چند ایسے شبہات پیش کررہے ہیں جو مسلمانوں اور غیر مسلمانوں نے وارد کئے ہیں، ہم نے انہیں تین قسموں میں تقسیم کرکے انہیں نقد کیا ہے۔ بعض شبہات کا تعلق عقیدہ مہدویت و غیبت سے ہے؛ بعض مصداق و اسم حضرت مہدیؑ سے معلق ہیں اور بعض آنجنابؑ کے طول عمر سے مربوط ہیں۔ اسی لیے ہم نے انہیں تین مراحل میں بیان کیا ہے:

شبہات کی پہلی قسم: عقیدہ مہدویت کا سرچشمہ او رتاریخچہ

۱ ۔ شبہ خرافات

مغرب سے تعلق رکھنے والے بعض مستشرقین اور مشرق سے تعلق رکھنے والے ان کی افکار کے مقلدین کے کثیر التعداد آثار میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ مستقبل میں قیام موعود اور ان کے انتطار کو خرافات اور کہانی قصوں کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ تصور بھی الف لیلہ کی طرح لوگوں کے ذوق خیال کا نتیجہ ہے یا جس طرح عدد تیرہ ۱۳ کی نحوست مشہور ہے اسی طرح یہ بھی لوگوں کے توہمات و شایعات کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے ، پھر آہستہ آہستہ کوچہ و بازار میں لوگوں کی زبان زد ہو کر سینہ بہ سینہ ایک دوسرے سے نقل ہوتا رہا ہے اور یوں یہ قوموں کے درمیان مضبوط ہوگیا ہے۔ ورنہ اس عقیدہ کی کوئی حیثیت و حقیقت نہیں ہے۔

اگر ان مغربی و مشرق اہل قلم کے اس عقیدہ کے سلسلہ میں کچھ تھوڑا بہت ارفاق و ملائمت سے کام لیا بھی ہے تو اس کے بارے میں اتنا کہا ہے کہ یہ عقیدہ ظلم و استبداد کی وجہ سے مظلوم و پسی ہوئی قوم نے اپنے دل کو آرام بخشنے کے لیے ایجاد کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے عقیدہ مہدویت کے الٰہی و آسمانی ہونے کا یکسر انکار کیا ہے، یہ لوگ اسے بشری ساخت و پرداخت ہی قرار دیتے ہیں۔

ہم یہاں ذیل میں بطور نمونہ چند مشہور ترین مستشرقین کی شبہہ آمیز و اشکال انگیز عبارات پیش کر رہے ہیں:

۱ ۔ جیمز ڈارمسٹیٹر James Darmsteter ( ۱۸۴۹ – ۱۸۹۴)

"نہایت کم وقت میں آدھے ایرانیوں نے اپنے مذہب شاقہ اور سخت قوانین سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اسلام قبول کر لیا، لیکن انہوں نے اپنے اساطیر ایرانی کو اسلام میں ضم کر دیا

یہ پہلا واقعہ تھا کہ جس کی بدولت ایک مشہور افسانہ جو علم اساطیر میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے اسلام میں داخل ہوگیا اور وہ افسانہ یہ ہے کہ وہ لوگ ایک قہرمان کے مرنے کے بعد یہ خیال کرنے لگے کہ وہ منتظر ہے یہاں تک کہ اس کے ظہور کا وقت آپہنچے۔ یہ داستان آریا قوم مخصوصاً ایرانیوں کا پسندیدہ افسانہ ہے

فرانسویوں کی قدیم انقلابی فکر اور مسلمانوں کے درمیان فکر مہدویت ان دونوں کا ایک ہی منشا و منبع ہے، البتہ ہمارے یہاں اسے عرف عام کی حیثیت حاصل ہے جبکہ اسلام میں شرعی حیثیت کا حامل ہے یہ دونوں گروہ حقیقت امر سے غافل ہیں اور دونوں غیر طبیعی امیدوں سے لو لگائے بیٹھے ہیں۔"(۴)

۲ ۔ فین فلوٹن ( ۱۸۶۶- ۱۹۰۳)

بنی عباس کا ظلم و ستم ان کے ابتدائی قیام ہی سے بنوامیہ کے آشفتہ نظام سے کمتر نہ تھا، اس لیے لوگ ظہور مہدی کے عقیدے سے متمسک ہونے لگے اور اس طرح وہ اس نئے نظام کے ظلم و ستم سے نجات کے خاطر ان کے ظہور کے مشتاق ہوگئے۔"(۵)

۳ ۔ ایگناز گلدزیر Ignaz Goldziher ( ۱۸۵۰ - ۱۹۲۱)

پرہیزگار مسلمانوں کے درمیان یہ عقیدہ (مہدویت) اور اس میں پوشیدہ ارمان و آرزوئیں ، صمیم قلب سے اٹھنے والی اس آہ سوزاں کی مانند ہے جس کی علت شدت غم و اندوہ اور انتظار کی کیفیت ہے اور یہ غم و اندوہ انتظار اور اس میں جوش و خروش سیاسی و اجتماعی حالات کی سختیوں کی وجہ سے رونما ہوئے

علاوہ بر ایں یہ لوگ معاشرے کی حقیقت ( Realogy ) کو اپنے ایمان و تقویٰ کے تصور( Idealogy ) میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں لہذا ن کے اس تصور و امید میں ظہور مہدی کے خیال نے خاطر خواہ مدد کی ہے

پس قیام مہدی کے تصور میں رفتہ رفتہ اس طرح تبدیلیاں واقع ہوئیں کہ عقیدہ مہدویت گویا امید آباد میں تبدیل ہوگیا اور صاحبان ایمان کو دور و دشوار مستقبل کی طرف دھکیل دیا گیا اس طرح اس میں ہمیشہ تعجب آور خرافات و افسانوں کی آمیزش ہوتی رہی "(۶)

۴ ۔ ڈوایٹ دونالڈسن

"سر زمین اسلامی میں مساوات اور عدل کے قیام میں اموی حکومت کی واضح ناکامی کو قطعی طور پر عقیدہ مہدویت کی پیدائش کا ایک اہم سبب قرار دیا جاسکتا ہے۔"(۷)

مسلمان مستشرقین میں بھی بعض ایسے اہل قلم دیکھے جاسکتے ہیں جو مغربی مستشرقین کی افکار سے متاثر نظر آتے ہیں یا انہوں نے اپنے خاص اہداف کے حصول کے لیے ان کے نظریات کو وسیلہ قرار دیا ہے۔

ذیل میں چند مسلم مستشرقین کے نظریات پیش کئے جار ہے ہیں:

۱ ۔ احمد کسروی ( ۱۹۴۵)

"عقیدہ مہدویت ایک افسانہ ہے کہا جاتا ہے کہ دیگر ادیا ن میں بھی ایک منجی کے منتظر پائے جاتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ وہ بھی افسانہ ہے۔"(۸)

۲ ۔ احمد امین مصری ( ۱۹۵۴)

"داستان مہدی ایک خرافاتی افسانہ ہے کہ جس نے لوگوں کی فکروں کو ایک قصہ کے ساتھ مدغم کر دیا ہے اور جس کی وجہ سے بہت روایات تیار کر لی گئی ہیں اس کے علاوہ اس عقیدے نے لوگوں کی گمراہی اور اوہام پذیری میں بہت سے غلط اثرات مرتب کئے ہیں مثلاً تاریخ اسلام میں بہت سے پئے در پئے انقلابات اسی عقیدے کی دین ہیں کہ جسے عقیدہ مہدی کہا جاتا ہے۔"(۹)

علاوہ بریں سعد محمد حسن اپنی کتاب"المہدیۃ فی الاسلام"(۱۰) عبداللہ بن زید آل محمود اپنی کتاب "لامهدی ینتظر بعد الرسول خیر البشر "(۱۱) میں اور بہت سے دیگر افراد نے بھی یہی نظریہ پیش کیا ہے۔

رفع شبہ:

ہم اس قسم کے شبہات کے جوابات دینے سے قبل مسلمانوں کے اذہان میں ایسے شبہات ڈالنے والے محققین کے اسباب و اہداف پر مختصر روشنی ڈالنا مناسب سمجھتے ہیں۔

شبہ کے علل و اسباب

اگرچہ مستشرقین کے آثار و افکار میں بعض جدید نکات پائے جاتے ہیں ، لیکن ان کے یہ آثار کجی روی، کمی کاستی اور نادرستی مطالب کا شکار ہیں اور اس کی وجہ ذیل میں ذکر شدہ علل و عوامل کو قرار دیا جاسکتا ہے:

الف) اسلام کی نسبت ان کے فکر و ذہن کی تیرگی و آشفتگی، ان محققین نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں، جن گھروں میں ان کی پرورش کی گئی ان کے اسکول و مدارس کا ماحول، خصوصاً اردگرد کے ماحول اور کینہ وکلیسا وغیرہ کے ذریعے ان کے ذہنوں کی تربیت کی گئی ہے اس کی وجہ سے اسلام کے بارے میں ان کی فکر و نظر مثبت نہیں ہے۔

ب) مغربی استعماری حکومتوں کی جانب سے رسمی طور پر بعض افراد کی ماموریت و تعیناتی یا کم از کم ان کی مالی و معاشرتی مشکلات کو حل کرکے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ تحقیقات انجام پاتی ہیں۔

ج) اصیل و معتبر منابع خصوصاً شیعہ منابع کی طرف رجوع نہ کرنا، نیز ضعیف و صحیح اقوال اور غیر مستند و مستند اخبار و روایات میں خلط کرنا۔

د) تعابی ر و اصطلاحات نصوص اور مصادر اسلامی کے فہم و فراست میں ضعف و ناتوانی اور اشتباہات ، خصوصاً ایسے موارد میں جبکہ وہی الفاظ یا ان جیسے الفاظ مغربی تہذیب و فلسفہ یا مسیحی کلام و عرفان میں دوسرے معنی و مفہوم میں استعمال ہوئے ہوں۔

ہ) ان صاحبان قلم کا اپنی جیسی تالیفات پر اعتماد اور ان سے نسخہ برداری کرنا، جس کی بنا پر ایک شخص کی عمداً یا سہواً غلطی کے برسہا برس تکرار ہونے کا سبب مہیا ہوا ہے۔

عقیدہ مہدویت کے عوامل

عقیدہ مہدویت فطری و طبیعی ہے

مستشرقین کی جانب سے پیدا کئے گئے شبہات کے عوامل و اسباب جاننے کے بعد ہم ان کے اولین شبہہ کے جواب میں یہ کہنا چاہیں گے کہ یہ عقیدہ مہدویت افسانہ اور خرافات کا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک فطری و طبیعی عقیدہ ہے۔

انسان عام طور پر اپنی عمیق فطرت و طبیعت کی بنا پر ایک عادل اور منصف رہبر چاہتا ہے اور عدالت پر مبنی حکومت کا خواہاں ہے تاکہ اس کے ذریعہ رخسار زمین سے تیرگی کا خاتمہ کرکے لوگوں کو وحدت وکمال تک پہنچا دے۔ صاحبان عقل و شعور کے وجود اور عمق روح میں موجود یہ عظیم چاہت ان لوگوں کے باطل تصور پر مہر ابطال ہے جو عقیدہ مہدویت کو خیالات وتوہمات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

انسان فطری طور پر چند چیزوں کا خواہش مند ہے:

الف) کمال پرستی

مشاہدہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ برکات طبیعی ، نعمات زندگی اور کمالات وجودی سے افراد بشر یکساں طور پر بہرہ مند نہیں ہیں لیکن ان میں سے ہر شخص جس حد تک بھی دانائی و دارائی، بینائی و گویائی، زیبائی و توانائی اور نیک بختی و تندرستی حاصل کر لیتا ہے اس کے بعد بھی ہل من مزید کہتا ہوا نظر آتا ہے اور اس سے زیادہ اور بالاتر کی جستجو کرتا رہتا ہے۔

یہ حالت و کیفیت انسان کے اندر موجود ایک اہم بعد کی نشاندہی کرتی ہے کہ جسے کمال پرستی و تکامل طلبی کہا جاتا ہے۔ رفعت و ثروت، قدرت و شہرت، بصیرت و معرفت اور سلامتی و سعادت حاصل کرنے کے لیے انسان کی یہ تمام ترتلاش و کوشش اسی تغییر ناپذیر فطرت کی وجہ سے ہے۔

عصر حاضر کے مشہور فلسفی و تمدن شناس ویل ڈورنیٹ کا کہنا ہے:

"مدینہ فاضلہ وکمال مطلوب کی جانب کشش ہمارے خون میں شامل ہے اور یہ ہمیں خاموش نہیں بیٹھنے دے گی مگر یہ کہ رشد و حرکت سے قطع نظر کر لیں۔"(۱۲)

ب) عدالت خواہی

انسان کی فطرت متین و طبیعت راستین ہمیشہ ایسے وقت و حالات کی خواہاں ہے جس میں حق وعدالت حاکم اور ظلم وجور محکوم ہو۔ انسان کے اندر موجود اس عمومی آرزو کو آپ مندرجہ ذیل عبارت میں بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

روس کے معروف اہل قلم اور ۱۹۸۷ میں ادبیات کے موضوع کے تحت نوبل انعام یافتہ یوزف برودسکی موجودہ صدی کے آخری عشرے کے بارے میں اپنے مقالہ میں لکھتے ہیں:

"انسانی فکر غیر معین عالم یا رائج اصطلاح کے مطابق "مدینہ فاضلہ" کی طرف مائل ہونے کی طرف نشاندہی کر رہی ہے ظاہراً آئندہ دس سالوں میں ایسا معاشرہ وجود میں آجائے گا جس میں آج کی نسبت عدل و انصاف زیادہ ہوگا۔"(۱۳)

ج) نیاز امنیت:

روئے زمین پر انسان کی زندگی ابتدائے زمانہ ہی سے انواع و اقسام کے خطرات و صدمات سے دچار رہی ہے۔ انسان نے اپنی ہم نوع کے متعددحملات کی وجہ سے اپنی زندگی کے عزیز و لذیذ اور حسین ترین لمحات خوف و ہراس کے عالم میں گذارے ہیں۔ اس لیے اس نے ان خطرات سے نمٹنے اور اپنی حفاظت کے لیے بہت سے محل، قلعے اور برج تعمیر کئے اور متعدد محافظ و نگہبان تعینات کئے۔ عصر حاضر کے معروف ماہر حیاتیات ڈاکٹر الکیس کارل جیسے دنیا کے مشہور دانشمند بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پرامن و اطمینان بخش زندگی تمام زندہ موجودات خصوصاً انسان کی زندگی کی فطری حاجت بلکہ طبیعی حقوق کا حصہ ہے۔(۱۴)

گذشتہ امتوں اور اقوام کی بشارتوں میں وارد ہوا ہے کہ موعود آخر الزمان کے زمانہ ظہور میں ہر طرف امن و امان ہوگا کیونکہ چور و راہزنوں کا خاتمہ ہوجائے گا، جنگ و جدال ختم ہوجائیں گے، زمین اپنی برکتیں باہر نکالے گی، آسمان سے نعمتوں کا نزول ہوگا، درندوں کو چرندوں سے کوئی سروکار نہ رہے گا، حکومت اپنی قوم و ملت اور رعیت کے ساتھ رفیق شفیق اور طبیب لبیب کا برتاؤ کرے گی۔ پس جو شخص بھی عقل و شعور اور خرد و وجدان کی بنیاد پر غور وفکر کرے یقیناً دل و جان سے اس زمانہ کی آرزو کرے گا۔

مذکورہ ارکان کے علاوہ بھی عقیدہ مہدویت کے اور بہت سے فطری ارکان پائے جاتے ہیں لیکن صاحبان فہم و اہل تحقیق حضرات پر انہی مطالب کے بیان سے یہ بات روشن و مبرہن ہوجاتی ہے کہ یہ عقیدہ شروع ہی سے انسان کی عمیق فطرت میں زندہ و جاوید رہا ہے، اسی لیے اس زمانہ کا انتظار ہر دور اور ہر جگہ پر پایا جاتا ہے۔

اس فطری کشش اور غریزی رجحان کا تذکرہ شیعہ اور اہل سنت کے مصادر روائی میں بھی پایا جاتا ہے بطور نمونہ یہاں صرف دو روایات پیش کی جارہی ہیں۔

ابو سعید خدری نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے:

"یأوی إِلی المهدی اُمَّتُه کما یَأوِی النَّحلُ إلی یَعسوِبها یملأُ الأرضَ عدلاً ...؛(۱۵) حضرت مہدی ؑ کے پیروکار اس طرح ان کے سائے میں پناہ حاصل کریں گے اور ان سے ملحق ہوجائیں گے جس طرح شہد کی مکھیاں اپنی ملکہ کے سائے میں پناہ حاصل کر لیتی ہیں، وہ زمین کو عدل و انصاف سے پر کردیں گے"

ابراہیم بن مہریار اہوازی نے حضرت ولی عصر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آنجنابؑ نے فرمایا کہ میرے والد نے فرمایا:

"یا بنی ‏اِنّ قلوبَ اهلِ الطاعة و الإخلاص نُزَّعٌ الیک مِثلَ الطیر الی اَوکارِها ...؛(۱۶) اے میرے لعل یہ بھی یقین کر لو کہ اہل خلوص و عقیدت کے قلوب تمہارے دیدار کے ایسے مشتاق ہیں جیسے طائر اپنے آشیانے کے شائق ہوتے ہیں۔"

متون اسلامی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ظہور مہدوی موعود علیہ السلام کے بعد روئے زمین وحدت، عدالت ، امن و امان اور باکمال زندگی کا گہوارہ بن جائے گی، جو قوم و ملت اور مذہب ومکتب بھی اپنی اس روح نواز سرشت حقیقی کی آواز سنے گا اس پر لبیک کہنے اور اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائے گا۔ لہذا بغیر کسی دلیل و برہان کے عقیدہ مہدویت کو فقط بین الاقوامی ہونے کے جرم میں عامیانہ خرافات وعوامانہ خیالات کا حصہ قرار دنیا بالکل غیر مناسب ہے۔

۲ ۔ شبہ اقتباس

منکرین و مخالفین عقیدہ مہدویت کی جانب سے وارد کئے گئے شبہات میں سے ایک شبہہ اقتباس ہے۔

اس غلط تصور کا کہنا یہ ہے کہ مسلمانوں بلکہ ان کے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جس طرح اپنے دین کے دیگر ارکان مثلاً نماز اور خواتین کے مَہر وغیرہ دوسرے ادیان کی تعلیمات سے اخذ کئے ہیں اورانہیں بڑی ہوشیاری کے ساتھ معارف اسلامی کا حصہ بنا یا ہے اسی طرح انہوں نے برترین روزگار میں ایک منجی عالم کے ظہور کے عقیدہ کو دوسرے ادیان سے حاصل کر کے اپنے دین کا حصہ بنالیا ہے۔ بنابر ایں یہ شبہہ پیدا کرنے والوں کے گمان باطل کے مطابق ان کے اس اعتقاد کی کوئی حیثیت واہمیت نہیں ہے بلکہ کشف حقیقت کے لیے اسلامی متون کی چھان بین کرنے کے بجائے قدیمی و اصیل منابع کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔

اس دستاویز کے اکثر مبتکر و مخترع مستشرقین و غیر مسلم اسلام شناس ہیں، اور ان کے علاوہ جن بعض مسلمانوں کے قلمی آثار میں یہ اشکال دیکھنے میں آتا ہے وہ در حقیقت آنکھ کان بند کر کے ان کی فکر و نظر کے مروج و مقلد ہیں۔

غربیوں کی جانب سے شبہہ اقتباس ایجاد کرنے کا مقصد مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل اور اپنے پسندیدہ سیاسی و غیر سیاسی مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔ اس شبہہ کے بارے میں دو مغربی اہل قلم کے ترشحات کا اقتباس پیش کر رہے ہیں:

۱ ۔ جیمز ڈارمسٹیٹر( ۱۸۴۹ - ۱۸۹۴)

اسلام میں یہودیت و عیسائیت کے اصول دین کے آثار و اساطیر دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان تینوں ادیان میں ایک مشترک نکتہ یہ پایا جاتا ہے کہ آخر الزمان میں ایک ایسا فوق الطبع شخصیت کا حامل ظہور کرے گا جو روئے زمین سے ناپید عدل و انصاف کو واپس پلٹا دے گایہ در حقیقت ایرانی اساطیر کے اثرات ہیں مسلمانوں نے خصوصاً منجی عالم کے ظہور کے عقیدہ عیسائیوں سے حاصل کیا ہے۔(۱۷)

۲ ۔ ایگنازگلدزیہر Ignaz Goldziher ( ۱۹۲۱)

"منجی غائب کی) بازگشت و رجعت کا عقیدہ شیعوں کا ساختہ یا ان کے خصوصی عقائد کا حصہ نہیں ہے بلکہ احتمال پایا جاتا ہے کہ یہودیت و عیسائیت سے متاثر ہو کر اسلام میں وارد کیا گیا ہے۔

یہود و انصار کا عقیدہ ہے کہ ایلیا پیغمبر کو آسمان کی طرف اٹھالیا گیا ہے اور آخر الزمان میں روئے زمین پر حق وعدالت قائم کرنے کے لیے یہ پیغمبر واپس آئیں گےبے شک یہ عقیدہ مہدویت کہ جس کی جڑیں اور اصل یہودیت و عیسائیت میں پائی جاتی ہیں، آئیں زردشتی میں موجود سوشیانت کی خصوصیات سے بھی متاثر ہوا ہے۔(۱۸)

بعض مسلمان اہل قلم جو مغربی افکار سے متاثر نظر آتے ہیں اور انہوں نے مراکز دانشگاہی میں مستشرقین کی شاگردی اختیار کی یا تحقیق کے موقع پر ان کے آثار سے استفادہ کیا ہے، جن میں انہوں نے حضرت مہدیؑ کے انتظار کے عقیدے کو دوسرے ادیان سے "اقتباس" قرار دیا ہے، ان مسلمان اہل قلم نے ان کے اقوال کو پسند کرتے ہوئے قبول کیا اور طوطے کی طرح اپنے قلمی آثار میں انہیں دہرا دیا ہے۔ یہ لوگ شیعہ و اہل سنت کی تمام مہم کتب میں نقل شدہ روایات سے چشم پوشی کرتے ہیں اور شیعہ کے مذہب کی طرف نارونسبت دیتے ہیں۔

ذیل میں ایسے ہی بعض افراد کے نام ذکر کئے جا رہے ہیں:

۱ ۔ شیخ محمد رشید رضا، تفسیر المنار میں؛

۲ ۔ احمد کسروی، ایرانی تاریخ نویس ایک کتابچہ بنام "بامئی گری"؛

۳ ۔ سعد محمد حسن مصری، کتاب "المهدیة فی الاسلام " میں؛

۴ ۔ ڈاکٹر کامل مصطفی الشیبی، کتاب "الصلة بین التصوف والتشیع " میں؛

۵ ۔ ڈاکٹر محسن عبد الحمید، کتاب "حقیقة البابیه و البهائیه

ان افراد کے علاوہ ڈاکٹر ناصر الدین قفاری کتاب "اصول مذہب الشیعہ" میں حضرت مہدی ؑ اور ان کی غیبت کے عقیدہ کو شیعہ مذہب سے مختص قرار دیتے ہوئے یہودیت کو اس کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔ اختصار کا لحاظ رکھتے ہوئے یہاں فقط ناصر الدین قفاری کی عبارت ذیل میں پیش کی جارہی ہے:

"یمیل بعض المستشرقین أنها ذات اصل یهودی لأن الیهود یعتقدون بأن «ایلیاء» رفع الی السماء و سیعود فی آخرالزمان، ‏ولذالک فان الیهود – حسب رأیهم – النموذج الاول لأئمه الشیعه المختفین الغائبین ؛بعض مستشرقین کے مطابق مہدی و منجی کے انتظار کا نظریہ یہودیت سے اخذ شدہ ہے کیونکہ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ایلیاء آسمان پر چلے گئے ہیں اور اب آخر الزمان میں واپس پلٹ کر آئیں گے۔ پس مستشرقین کی رائے کے مطابق شیعوں کا یہ عقیدہ یہودیت سے ماخوذ ہے۔"

یہ شخص عقیدہ مہدویت کا انکار کرتے ہوئے یہودی اخبار کو اس کا سر چشمہ قرار دیتا ہے۔ وہ اس سلسلہ میں دو قول نقل کرکے درج ذیل قول کو قول برتر قرار دیتا ہے:

"وأرجح فی هذه المسئله أن عقیدة الاثنی عشریه فی المهدی والغیبه ترجع الی اصول مجوسیه، ‏فالشیعه اکثرهم من الفرس والفرس من ادیانهم المجوسیه، ‏والمجوس تدعی أن لهم منتظراً حیاً باقیاً مهدیاً مِن ولد بشتاسف ابن بهراسف ویقال له أبشاوثن، ‏و أنه فی حصن عظیم من خراسان والصین. ‏و هذا مطابق لجوهر المذهب الاثنی عشری ؛

حضرت مہدی اور ان کی غیبت کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ درحقیقت مجوسی اعتقادات سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اکثر شیعہ اہل فارس ہیں اور فارس والے مجوسی تھے اور مجوسیوں کا دعویٰ ہے کہ ہم ایک منتظر کا انتظار کر رہے ہیں جو زندہ اور مہدی ہے وہ بشتاسف بن بہر اسیف کی اولاد سے ہے اور وہ خراسان و صِین (چین) کے عظیم حصار میں محفوظ ہے اور یہ عقیدہ اثناعشری مذہب کی اصل و اساس کے عین مطابق ہے۔"

رفع شبہ

پہلا نکتہ

ہم اس قسم کے افراد کے جواب میں اتنا کہنا چاہیں گے کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل شدہ نصوص و روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مہدی ؑ اور ان کی غیبت کے مسئلہ میں تمام شیعوں اور بعض اہل سنت کا اتفاق پایا جاتا ہے، کیونکہ خود حضرت ختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی نے اس مسئلہ کو بیان فرمایا تھا۔ اگر جناب قفاری صرف اہل سنت کی صحا ح ستہ ہی کی طرف رجوع کرنے کی زحمت گوارا کرلیتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ اس عقیدہ کا سرچشمہ مجوس و یہود نہیں ہیں بلکہ عظیم الشان پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بیانات اور قرآن کریم ہیں۔

شیعہ و سنی روایات اس مسئلہ کی تصریح کر رہی ہیں کہ حضرت مہدی ؑ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نسل اور اولا علی بن ابی طالب علیہما السلام سے ہیں ۔ ان کا نام و کنیت حضور سرور کائنات کے نام و کنیت سے مماثل ہے وہ ظلم و جور سے بھر ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور ان کے لیے طولانی غیبت واقع ہوگی ۔

یہ نصوص دو قسموں پر مشتمل ہیں، پہلی قسم ائمہ اطہار علیہم السلام کے توسط و طریق سے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل ہوئی ہے جبکہ دوسری قسم صحابہ کے توسط سے آنحضرتؐ سے حکایت کی گئی ہے۔ ان دونوں قسموں کے مضمون و منطوق میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ دونوں قسموں کی روایات میں اتفاق برقرار ہے اور یہ ایک دوسرے کی تائید کررہی ہیں ۔ یہ روایات و نصوص تواتر کا حکم رکھتی ہیں اور تواتر قطع و یقین کا فائدہ پہنچاتا ہے۔

ہم یہاں اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا مناسب سمجھتے ہیں کہ شیعہ اثنا عشری مذہب کا سرچشمہ زمانہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی میں خود صحابہ کرام تھے اور تمام ائمہ شیعہ عرب اور بنی ہاشم ہیں ۔ جبکہ اکثر ائمہ اہل سنت اور تمام صاحبان صحاح ستہ ایرانی ہیں اور ان کی اصل مجوسیت ہے ۔ آج بھی تمام شیعہ اہل فارس و ایرانی نہیں ہیں تقریباً دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں۔

بہر کیف مناسب تو یہ تھا کہ جناب قفاری شیعوں کی طرف ناروا نسبت دینے کی بجائے فریقین کے منابع کی طرف رجوع کرتے اور پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل شدہ روایات ملاحظہ کرتے۔

مرحوم شیخ حرم عاملی نے حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے وجود مقدس کے بارے میں اہل سنت کی کتب سے دو سو روایات نقل کی ہیں۔

موضوع مہدویت و حضرت مہدیؑ ان مسائل میں سے ہے جو علمائے خاصہ و عامہ کے نزدیک ہمیشہ ہی سے خاص اہمیت کے حامل رہے ہیں یہاں تک کہ تمام غیر اسلامی فرق و مذاہب بھی اس پر خاصی توجہ دیتے رہے ہیں۔ اسی لیے امام زمانہؑ کے بارے میں دنیا کے مختلف مذاہب میں مختلف زبانوں مثلاً عربی، فارسی اور اردو وغیرہ میں دو ہزار سے زائد کتب رقم کی گئی ہیں۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ ان میں سے بعض کتب ایسی بھی ہیں جو حضرت مہدی علیہ السلام کی ولادت سے قبل لکھی گئی ہیں۔ آنجناب ؑ کی ولادت سے قبل اصحاب ائمہ میں سے بیس افراد نے ان کے بارے میں کتابی ں رقم ہیں۔ شیعوں کی جانب سے امام زمانہؑ کے بارے میں لکھی جانے والی پہلی کتاب "السقیفہ" ہےجسے امیر المومنین علیہ السلام کے باوفا صحابی سلیم بن قیس ہلالی نے مرتب کیا تھا۔ علمائے علم رجال نے بھی سلیم کی توثیق بیان کی ہے۔ انہوں نے امام زمانہ ؑ کی ولادت سے ۱۶۵ سال قبل ان کے بارے میں یہ کتاب لکھی ہے اور اس میں ان کے بارے میں نقل شدہ روایات ثبت کی ہیں۔

ابان بن ابی عیاش کہتے ہیں:"میں نے امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں اس کتاب کو مکمل پڑھ کر سنایا تو حضرت ؑ نے بھی اس کے تمام مطالب کی تائید فرمائی۔"(۱۹)

شیعہ علماء کے علاوہ علمائے اہل سنت نے بھی تقریباً ۱۵۰۰ کتابی ں مستقل طور پر امام زمانہ ؑ کے بارے میں قلمبند کی ہیں۔ جبکہ وہ کتب جن میں امام زمانہؑ کی مناسبت سے گفتگو کی گئی ہے ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔(۲۰)

ابو نعیم اصفہانی(متوفی ۴۳۰ ہجری) جو اہل سنت کے بزرگ عالم دین ہیں انہوں نے مستقل طور پر امام زمانہ ؑ کے بارے میں بالترتیب پانچ کتابی ں: مناقب المہدی، نعمت المہدی، صفۃ المہدی، اخبار المہدی اور اربعون حدیثا رشتہ تحریر سے منسلک کی ہیں۔

حضرت صاحب العصر و الزمان ؑ کے بارے میں لکھی گئی کتب میں ، کتاب اخبار المہدی تالیف عباد بن یعقوب رواجنی(متوفی ۲۵۰ ہجری، قدیم ترین کتاب ہے(۲۱) ۔ اس عالم اہل سنت نے امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت سے قبل آنجناب کے بارے میں یہ کتاب تالیف کی ہے۔

اس تمام تر صورت حال کے پیش نظر جائے تعجب ہے کہ اس صاحب قلم (جناب ناصر الدین قفاری)نے ظاہراً ایک مرتبہ بھی اپنی مورد قبول کتابوں کو دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی، کیونکہ اگر وہ اپنی ہی کتب کی طرف رجوع فرما لیتے تو ہر گز شیعہ مذہب حق کے بارے میں یہ افترا پردازی نہ کرتے۔

فریقین سے نقل شدہ ادلہ و برہان کی بنا پر مسئلہ مہدویت کے ضروریات اسلام میں ہونے کے بارے میں کسی قسم کی تردید یا شک و شبہہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور یہ کہ اصل اعتقاد و مہدویت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود صاحب کتاب "اصول مذہب شیعہ لامامیۃ الاثنی عشریہ" موہوم ادلہ اور شیعوں پر لگائی گئی تہمتوں کی بنیاد پر اصل وجود امام زمانہ علیہ السلام ہی کا انکار کردیتے ہیں اور کہتے ہیں:

وجود امام مہدی ہی کے بارے میں فرق اسلامی ، شیعہ امامیہ کے مخالف ہیں چہ جائیکہ بلوغ ، رشد، امامت یا ان کی عصمت کے سلسلہ میں متفق ہوں اور شیعہ ان مذکورہ امور میں سے کسی ایک کو بھی برہان اور روشن دلیل کے ذریعے ثابت نہیں کرسکتے۔ اہل سنت نے نصوص شرعی و حقائق اور عقلی دلیلوں کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ غیبت مہدیؑ کے بارے میں شیعہ امامیہ کا عقیدہ ، وہم و گمان کے سوا کچھ نہیں ہے؛ کیونکہ نہ ان کا کوئی اثر ہی موجود ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی خبر حسن آئی ہے۔ ان پر اعتقاد کا نہ دنیا میں کوئی فائدہ ہے نہ ہی آخرت میں بلکہ ان پر اعتقاد سے ایسا شر و فساد پیدا ہوتا ہے جس کا سوائے خدا کے کوئی حساب نہیں لگا سکتا اور علمائے انساب کا کہنا ہے کہ حسن بن علی العسکری کی نسل کا کوئی فرد باقی نہیں بچا ہے۔"(۲۲)

ہم اس سے قبل بزرگان اہل سنت کے اقوال پیش کر چکے ہیں اور بالاتفاق ان سب کا نظریہ یہ ہے کہ وجود حضرت مہدیؑ ، آخر الزمان میں ان کا ظہور اور یہ کہ وہ نسل پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ہوں گے، متواترات میں سے ہے اور مذاہب اسلامی میں سے کسی نے بھی آج تک ان کا انکار نہیں کیا ہے۔ پس یہ صاحب ، حضور سرور کائنات سے کثیر التعداد نقل شدہ روایات کے باوجود کیونکر انکار کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور شیعوں کی دلائل و براہین سے چشم پوشی کرکے یہ کہہ رہے ہیں کہ امام زمانہ ؑ کے وجود پر کوئی روشن دلیل نہیں ہے۔

دوسرا نکتہ

یہودیت ، مسیحیت ، مجوسیت اور اسلام میں اس عقیدہ کے مشترک ہونے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں نے یہ عقیدہ دیگر ادیان سے حاصل کیا ہے بلکہ یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ منجی حقیقی کے انتظار کا موضوع ، انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ۔ اس لیے ہر دین و آئین میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

کیا ،قدیم ایرانیوں کے یزدان پر عقیدہ اور صداقت کو اخلاق نیک میں شمار کرنے کی وجہ سے یہ کہنا صحیح ہے کہ پس خدا پرستی ایک افسانہ ہے اور صداقت کو اخلاق نیک میں شمار نہیں کرنا چاہئے؟! لہذا کیونکہ دیگر قومیں بھی ایک مصلح و غیبی نجات دہندہ کا انتظار کر رہی ہیں، اس بات کو ہرگز دلیل بطلان و سند جرم قرار نہیں دیا جاسکتا البتہ یاد رہے کہ یہ امر دلیل صحت بھی نہیں بن سکتی۔

تیسرا نکتہ

اگر مستشرقین اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کے اس موضوع پر قلمی آثار کا باہمی موازنہ کیا جائے تو آپ کو ان کے بیانات میں کافی اختلاف نظر آئے گا کیونکہ ان کی تحلیل و توجیہ منطقی نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنے نظریات کی بنیاد گمان و احتمال پر رکھی ہے اور خداوندعالم نے اس سلسلہ میں کیا خوب فرمایا ہے:( إَنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (۲۳) ) ؛ گمان حق کے مقابلہ میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔

۳ ۔ شبہ سکوت

شبہہ سکوت دو طرح پیش کیا جاتا ہے۔

الف) سکوت قرآن

اس شبہہ کا لب لباب یہ ہے کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حضرت مہدی ؑ کا وجود اور ان پر عقیدہ رکھنا اتنا ضروری و اہم تھا تو پھر قرآن کریم میں ان کا نام کیوں نہیں بیان کیا اور ان کے حالات و کارنامے ثبت کیوں نہیں کئے؟ جبکہ یہ کتاب اپنے لیے بغیر کسی قید و شرط کے "تبیاناً لکل شئ " کا دعویٰ کرتی ہے۔ پس بنابرایں عقیدہ مہدی کی اساس قرآنی نہیں ہے نتیجتاً اس کی بنیاد اسلامی بھی قرارنہیں دی جاسکتی۔

ذیل میں بطور نمونہ ، چند مغربی اہل قلم کے بیانات نقل کئے جا رہے ہیں جن میں اس شبہہ کی عکاسی نظر آتی ہے۔

۱ ۔ جیمز ڈار مسٹیٹر(معروف فرانسوی زبان شناس و مستشرق)

"قرآن نے مہدیؑ کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے بلکہ پیغمبر اسلام نے ان کے آنے کی خبر دی ہے۔"(۲۴)

۲ ۔ امر یکی مستشرق، اسٹووارد

"آغاز اسلام میں مہدویت کا اس طرح چرچا نہیں تھا اور نہ ہی قرآن میں ان کے بارے میں کوئی خبر موجود تھی بلکہ ان کے بارے میں روایات نقل ہوئی ہیں۔"(۲۵)

یہ دونوں مستشرق صفحہ کے ذیلی حاشیے پر رقمطراز ہیں کہ احادیث مہدویت اور اس سلسلہ میں اقوال کے انکار کا بہترین منبع "مقدمہ ابن خلدون" ہے۔

۳ ۔مونٹگمری واٹ Montgomery Watt (برطانون اسلام شناس)

"مہدی کا ذکر قرآن میں نہیں ہےاحتمال پایا جاتا ہے کہ یہ سب سے پہلے شیعوں میں پیدا ہوا ہے اور پھر اس کے بعد اس میں وسعت پیدا ہوگئی ہے۔"(۲۶)

ان کے علاوہ فین فلوٹن، اگنیذ گلدزیہر، ڈوایٹ ڈونالدسن وغیرہ نے بھی کم و پیش یہی نظریات پیش کئے ہیں۔

عصر حاضر کے بعض مسلمان اہل قلم خصوصاً وہ افراد جنہوں نے دیار غرب میں تحصیل علم کے لیے اپنا وقت صرف کیا ہے اور وہ اپنے آپ کو روشن فکر و جدت پسند خیال کرتے ہیں ، انہوں نے بھی اپنے مستشرق اساتذہ سے متاثر ہو کر متون و منابع مہدویت کو ضعیف قرار دینے کی بھر پور کوشش کی ہے ان قلمکاروں؛ جن کی اکثریت اہل سنت ہیں، نے بھی اپنے اساتذہ کی طرح ابن خلدون کی تحریر کو اپنے بیانات کی اساس قرار دیا ہے۔

جواب

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن کریم و حکیم نے کلیات بیان کئے ہیں اور جزئیات بیان کرنے کی ذمہ داری حضورسرور کائنات کو سپر د کی گئی ہے۔ مثلاً نماز، روزہ اور حج وغیرہ کے کلی احکام قرآن نے ذکر کئے ہیں لیکن ان کی جزئیات کو پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بیان کیا ہے۔ پس حقائق و دقائق آیات کی وضاحت کے لیے ، کتاب خدا میں موجود اجمالی و کلی احکام صاحبان ایمان کو سنت پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف دعوت دے رہے ہیں اور یہ قرآن کریم کی ایک خاص خصوصیت ہے تاکہ لوگ ہمیشہ سنت نبوی سے وابستہ رہیں ۔ قرآن کریم میں ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

۱ ۔( وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ ) (۲۷) اورآپ کی طرف بھی ذکر(قرآن) کو نازل کیا ہے تاکہ ان کے لیے ان احکام کو واضح کردیں جو ان کی طرف نازل کئے گئے ہیں۔

۲ ۔( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ) (۲۸) بے شک تمہارے لیے رسول ؐ کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے۔

۳ ۔( وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ) (۲۹) اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے۔

۴ ۔( ...أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ...) (۳۰) اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کرو۔

۵ ۔( ...وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ...) (۳۱) اور جو کچھ رسول تمہیں دیدے اسے لے لو اورجس چیز سے منع کر دے اس سے رک جاؤ

پس معارف و تعلیمات دینی کے بارے میں کتاب خدا کی روش کلی مسائل بیان کرنا اور موضوع کی طرف اجمالی اشارہ کردینا ہے اور اس نے اکثر موارد میں بسط و تفصیل کے لیے صاحبان ایمان کو آستانہ خاتم المرسلین کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔ لہذا اگر بالریض قرآن کریم میں حضرت مہدی ؑ اور ان کے شکوہ مندقیام و انقلاب کا کوئی تذکرہ نہیں آیا ہے، لیکن پھر بھی ا س عقیدہ پر حملہ آور نہیں ہونا چاہئے کہ صرف حدیث و سنت ہی میں اس کا مژدہ کیوں سنایا گیا ہے؟ کتاب "الاحکام لاصول الاحکام" تالیف ابو محمد ابن حزم اندلسی (متوفی ۴۵۶ ھ) کی درجہ ذیل عبارت، شبہہ سکوت قرآن کے مدافعین کے لیے واضح طور پر تنبیہ اور بیدارباش ہے:

"اگر کوئی شخص اس بات کا پابند ہوجائے کہ قرآن کریم میں موجود حقائق دین قبول کریں گے اس کے علاوہ کوئی چیز قابل قبول نہیں ہے ، تو ایسا شخص اجماع امت کے مطابق کافر شمار کیا جائے گا۔

ہم دوبارہ اصل شبہہ کی طرف پلٹتے ہیں کہ قرآن کریم حضرت مہدیؑ کے بارے میں خاموش کیوں ہے؟

اس شبہہ کے جواب میں یہ کہنا چاہیں گے کہ اس قسم کا دعویٰ کرنا تہمت اور بالکل غیر مناسب بات ہے، کیونکہ کتاب الٰہی حضرت مہدیؑ کے بارے میں پیام و کلام سے ہرگز خالی نہیں ہے۔ قرآن کریم نے کلی اور اجمالی طور پر انسان کو مستقبل میں نجات کی بشارت دی ہے اور اس زمانہ ظہور کی بعض خصوصیات و علائم بھی اجمالی طور پر بیان کی ہیں اور حضرت مہدی کے حسب و نسب، اندام ورخسار اور غیبت کی جزئیات کے بیان کو حضور سرورکائناتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سپرد کر دیا ہے۔

جیسا کہ ہم اس تحریر کے دوسرے حصہ میں بیان کر چکے ہیں کہ قرآن کریم میں بہت سی ایسی آیات موجود ہیں، غیبت کے بارے میں جن کی تاویل و تفسیر بیان کی گئی ہے۔

ب) سکوت صحیحین:

بعض اہل سنت کی جانب سے مسئلہ مہدویت کے بارے میں کئے گئے اشکالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بخاری و مسلم نے احادیث مہدویت ثبت نہیں کی ہیں لہذا ان دو اہم منابع حدیثی میں احادیث مہدویت کے ثبت نہ کرنے کی وجہ سے ان کے ضعیف ہونے کا گمان پیدا ہوتا ہے ۔ احمد امین مصری کا کہنا ہے:

"صحیح بخاری و مسلم کے افتخارات میں سے ایک یہ ہے ان میں اس قسم کی احادیث نقل نہیں کی گئی ہیں۔ اگرچہ دیگر کتب میں ان احادیث کو جگہ دی گئی ہے۔"(۳۲)

یہی اشکال بعض غرب زدہ مفکرین اہل سنت مثلاً شیخ محمد ابو زہرہ،(۳۳) سعد محمد حسن،(۳۴) حسین سائح لیبائی مغربی،(۳۵) سید محمد رشید رضا(۳۶) اور شیخ ابن محمود(۳۷) کی جانب سے بھی وارد کیا گیا ہے۔

جواب:

بعض مذکورہ افراد کی جانب سے یہ بے بنیاد و غیر علمی و غیر منطقی اشکال پیش کیا گیا تو خود اہل سنت ہی کی اکثریت اس سے مقابلہ کے لیے میدان میں اتر پڑے۔ ڈاکٹر بستوی کہتے ہیں:

"ان لوگوں کا گمان یہ ہے کہ بخاری و مسلم نے اسناد میں ضعف کی وجہ سے احادیث مہدویت کو نقل نہیں کیا ہے۔ حالانکہ ہرگز ایسا نہیں ہے اور ان کا یہ گمان بالکل باطل ہے؛ کیونکہ ان دونوں کا تمام صحیح احادیث پر احاطہ نہیں تھا اور انہوں نے تمام صحیح احادیث کے نقل کرنے کا دعویٰ بھی نہیں کیا ہے۔"(۳۸)

بخاری کا کہنا ہے:

"میں نے جو کچھ اپنی کتاب "الجامع الصحیح" میں نقل کیا ہے، صحیح ہے۔ بہت سی صحیح السند احادیث کو طولانی ہونے کی وجہ سے میں نے نقل نہیں کیا ہے۔"(۳۹)

مسلم بن حجاج قشیری کا کہنا ہے:"میں نے اس کتاب"صحیح" میں اپنے پاس موجود تمام صحیح احادیث نقل نہیں کی ہیں۔ میں نے اس میں صرف وہ احادیث ثبت کی ہیں جن پر اجماع کا اتفاق ہے۔"(۴۰)

حاکم نیشاپوری کا کہنا ہے:"بخاری و مسلم نے اپنی دو کتابوں (صحیح مسلم و صحیح بخاری) کے علاوہ دیگر کتب احادیث میں نقل شدہ احادیث پر عدم صحت کا حکم نہیں لگایا ہے۔"(۴۱)

ابن قیم جوزیہ کہتے ہیں:"کیا بخاری نے یہ بات کہی ہے کہ جو حدیث بھی میں نے اپنی کتاب میں نقل نہیں کی ہے وہ باطل، غیر حجت اور ضعیف ہے؟ بہت سی احادیث ایسی ہیں جنہیں بخاری نے "الجامع الصحیح"میں نقل نہیں کیا ہے لیکن ان کے ذریعے احتجاج کیا ہے، اور کتنی ہی احادیث ایسی ہیں جنہیں انہوں نے صحیح قرار دیا ہے لیکن اس کتاب میں نقل نہیں کیا ہے۔"(۴۲)

دار قطنی کہتے ہیں:"کتنی ہی ایسی احادیث موجود ہیں جنہیں بخاری و مسلم نے اپنی صحاح میں نقل نہیں کیا ہے حالانکہ ان احادیث کی سند یں ان کی صحاح میں نقل شدہ احادیث جیسی ہیں۔"

بیہقی رقمطراز ہیں:"بخاری و مسلم کا مقصد تمام احادیث کا احاطہ کرنا نہیں تھا جس کی دلیل یہ ہے کہ جو احادیث صحیح بخاری میں موجود ہیں ان میں سے بعض صحیح مسلم میں نقل نہیں ہوئی ہیں اور اسی طرح بالعکس یعنی جو احادیث صحیح مسلم میں ہیں بخاری نے نقل نہیں کی ہیں۔"(۴۳)

اس کے باوجود صحیح بخاری و مسلم کہ جن کی صحت میں اہل سنت کو کسی قسم کا شک و شبہہ نہیں ہے یہ دونوں کتابی ں بھی حضرت مہدیؑ کے بارے میں احادیث سے خالی نہیں ہیں ، اگرچہ ان میں لفظ مہدیؑ استعمال نہیں ہوا ہے۔ ذیل میں بطور نمونہ چند احادیث کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے:

الف) احادیث نزول عیسیٰ بن مریم

بخاری میں ابوہریرہ کے توسط سے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حدیث نقل کی گئی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

"کیف انتم اذ نزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم "(۴۴) تم اس وقت کیسا محسوس کرو گے جب عیسیٰ بن مریم نزول کریں گے جبکہ تمہارے امام تم ہی میں سے ہوں گے۔

مسلم نے بھی یہی مضمون نقل کیا ہے۔(۴۵)

ان روایات میں امام سے مراد حضرت مہدیؑ کے سوا کوئی نہیں ہے اسی لیے تمام شارحین صحیح بخاری ، متفق القول ہیں کہ ان روایات میں امام سے مراد حضرت مہدیؑ ہیں۔

ب) احادیث بخشش مال

مسلم نے جابر بن عبد اللہ انصاری کے حوالے سے روایت نقل کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

"یکون فی آخر امتی خلیفة یحثی المال حثیاً لا یعدّه عدداً ؛(۴۶) "میری امت کے آخری زمانہ میں ایک خلیفہ آنے والا ہے جو لوگوں کو کثیر مال سے نوازے گا۔"

دیگر روایات کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ یہ خلیفہ وہی حضرت مہدیؑ ہیں۔

ابن ابی شیبہ نے اپنی اسناد کے مطابق رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت نقل کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

"یخرج رجل من اهل بیتی عند انقطاع من الزمان وظهور من الفتن یکون عطاؤه حثیاً ؛(۴۷)

زمانہ میں وقفہ آنے کے بعد جبکہ فتنے سر اٹھا چکے ہوں گے اس وقت میرے اہل بیت علیہم السلام سے ایک شخص خروج کرے گا جو کثیر العطاء ہوگا۔

ج) احادیث خسف بیداء

مسلم نے پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت نقل کی ہے:

"یعوذ عائذ بالبیت فیبعث إلیه بعث فاذا کانوا ببیداء من الارض خسف بهم ؛(۴۸) ایک شخص خانہ خدا میں پناہ حاصل کرے گا۔ اس کے پیچھے لشکر بھیجا جائے گا، جب وہ لشکر سر زمین بیداء پر پہنچے گا تو وہاں زمین میں دھنس جائے گا۔"

روایات کی روشنی میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سرزمین بیداء کا دھنسا حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کی علامات میں سے ہے۔(۴۹)

۴ ۔ شبہ جعل وضعف

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مختلف علل و عوامل کی وجہ سے داستان مہدی علیہ السلام کا اعتقاد پیدا کرنے کے بعد متعصب شیعوں نے اپنے اس عقیدہ کی تائید میں احادیث گھڑ لی ہیں اور پھر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ان کی نسبت دے دی۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ یہ احادیث صرف شیعوں کی کتب میں موجود ہیں لیکن ہماری کتب صحاح میں نہ یہ درج ہیں اور نہ ہی ان میں ان کا کوئی نام و نشان ہی موجود ہے۔ سعد محمد حسن جو شیوخ الازہر مصرمیں سے ہیں انہوں نے شیعوں کی طرف یہ ناروا نسبت دی ہے۔(۵۰)

جواب شبہ

اگرچہ بنوامیہ اور بنوعباس کے دور اقتدار میں سیاسی و سماجی حالات اور مقتدر طبقہ اپنے شدید تعصب کی بنیاد پر ولایت و امامت کے بارے میں روایات نقل کرنے اور کتب میں ثبت کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے لیکن اس کے باوجود اہل سنت کی روائی کتب ، حضرت مہدی علیہ السلام سے مربوط روایات سے خالی نہیں ہیں۔ کتب صحاح ستہ وغیرہ ۔ میں مختلف ابواب کے دوران اس سلسلہ میں پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اصحاب سے کثرت سے روایات نقل کی ہیں۔ کتاب "المہدیہ فی الاسلام" کے مؤلف رقمطراز ہیں:

"محمد بن اسماعیل بخاری اور مسلم بن حجاج نیشاپوری نے اپنی صحاح میں نقل نہیں کی ہیں ، یہ دونوں صحاح معتبر ترین کتب ہیں اور ان میں نہایت احتیاط سے احادیث ثبت کی گئی ہیں، جبکہ یہ احادیث دیگر کتب مثلاً سنن ابی داؤو، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور مسند احمد کہ جن میں خاص توجہ اور احتیاط کے ساتھ روایات نقل نہیں کی گئی ہیں، ان میں موجود ہیں اور علمائے حدیث جیسے ابن خلدون نے ان احادیث کو ضعیف و مردود قرار دیا ہے۔"(۵۲)

ابن خلدون کا کہنا ہے:

تمام مسلمانوں کے درمیان یہ بات مشہور تھی اور آج تک معروف ہے کہ اہل بیت پیغمبر علیہم السلام میں سے ایک شخص آخر الزمان میں ظہور کرے گا جو دین کی تائید و عدل و انصاف قائم کرے گا اور تمام ممالک اسلامی پر مسلط ہوجائے گا۔ ان کا مدرک و منبع وہ احادیث ہیں جنہیں بعض علماء مثلاً ترمذی، ابو داؤود، ابن ماجہ، حاکم، طبرانی اور ابو یعلی موصلی وغیرہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ لیکن وجود مہدیؑ کے منکرین، ان احادیث کی صحت میں شک کرتے ہیں۔ پس ہمیں حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لیے مہدی فاطمی کے بارے میں نقل شدہ احادیث اور منکرین کے اشکالات و مطاعن ذکر کرنے چاہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بات ذہن میں محفوظ رہنی چاہئے کہ اگر ان احادیث کے راوی جرح و قدح کا شکار ہوں گے تو اس حدیث سے استناد مشکل ہوجائے گا اگرچہ اس راوی کی تعدیل و توثیق ہی کیوں نہ کی گئی ہو؛ کیونکہ یہ بات معروف ہے کہ تضعیف و برائی، تعدیل و توثیق پر مقدم ہے۔ اگر کوئی شخص ہم پر یہ اشکال کرے کہ یہ بات تو صحیح بخاری و مسلم کے بعض رجال الحدیث میں بھی پائی جاتی ہے، کیونکہ وہ بھی طعن و تضعیف سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔ تو ا سکے جواب میں ہم کہیں گے کہ ان دو کتابوں میں ثبت شدہ احادیث پر علماء کا اتفاق و اجماع ہے اور ان کی مقبولیت نے ان کے ضعف کا ازالہ کر دیا ہے۔ لیکن دیگر کتب کو یہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہو سکا ہے۔"(۵۳)

ہم ابن خلدون کے جواب میں کہیں گے :

اولاً؛ بہت سے علمائے اہل سنت نے حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں نقل شدہ روایات و احادیث کو یا خود متواتر تسلیم کیا ہے ، یا انہوں نے بغیر کسی اعتراض کے دوسروں سے ان کے تواتر کو نقل کیا ہے۔ مثلاً ابن حجر ہیثمی نے کتاب الصواعق المحرقہ میں، شبلنجی نے نور الابصار میں، ابن صباغ نے الفصول المہمۃ میں ، محمد بن صبان نے اسعاف الراغبین میں، گنجی شافعی نے البیان میں ، شیخ منصور علی نے غایۃ المامول میں اور سوید نے سبائک المذہب میں اور اسی طرح دیگر بہت سے علماء نے نقل کیا ہے۔ پس یہی تواتر بعض احادیث کی سند میں موجود ضعف کا ازالہ کردیتا ہے۔ علامہ حجر ابن عسقلانی لکھتے ہیں: متواتر خبر، یقین کا فائدہ پہنچاتی ہے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے لیے کسی بحث اور تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔(۵۴)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کثیر التعداد ، بزرگ صحابہ نے بھی احادیث مہدی نقل کی ہیں مثلا عبد الرحمن بن عوف، ابو سعید خدری، قیس بن جابر، ابن عباس، جابر، ابن مسعود، حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام، ابو ہریرہ ، ثوبان، سلمان فارسی، ابو امامہ، حذیفہ، انس ابن مالک اور ام سلمہ وغیرہ۔

یہ احادیث بہت سے علماء و محدثین اہل سنت نے اپنی کتب میں نقل کی ہیں جن میں سے ذیل میں بعض علما کے اسامی ذکر کئے جارہے ہیں مثلاً ابو داؤو، احمد، ترمذی، ابن ماجہ، حاکم، نسائی، طبرانی، رویانی، ابو نعیم اصفہانی، دیلمی، بیہقی، ثعلبی، حموینی، مناوی، ابن مغازلی، ابن جوزی، محمد بن الصبان، ماوردی، گنجی شافعی، سمعانی، خوارزمی، شعرانی، دار قطنی ابن صباغ مالکی، شبلنجی، محب الدین طبری، ابن حجر ہیثمی، شیخ منصور علی ناصف، محمد بن طلحہ، جلال الدین سیوطی، شیخ سلیمان حنفی، قرطبی اور بغوی وغیرہ۔

حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں احادیث نقل کرنے والے یہ ان علمائے اہل سنت کے اسامی ہیں جن کا تذکرہ آیت اللہ ابراہیم نے اپنی کتاب"دادگسترجہان" میں کیا ہے۔(۵۵)

حضرت مہدی کے بارے میں احادیث پر تنقید کرتے وقت ابن خلدون صرف بعض ضعیف روایات کا حوالہ دیتے ہیں ، حالانکہ ان روایات کے مقابلے میں بہت سی ایسی روایات موجود ہیں جو سند کے اعتبار سے بالکل صحیح ہیں۔ لہذا ڈاکٹر بستوی نے اپنی کتاب میں حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں ۴۶ صحیح یا حسن روایات نقل کی ہیں۔(۵۶)

شیخ عبد المحسن بن حمد العباد کہتے ہیں:"ابن خلدون ایک عالم علم رجال نہیں ہیں بلکہ وہ ایک مورخ ہیں لہذا ان کی جانب سے احادیث کی تضعیف کی کوئی اہمیت نہیں ہے"(۵۷)

ابن خلدون نے تضعیف کو تعدیل پر مقدم قرار دیا ہے حالانکہ تضعیف ہمیشہ تعدیل پر مقدمہ نہیں ہوتی، کیونکہ ممکن ہے جو صفت کسی کے نزدیک اسباب ضعف میں سے ہو، وہ دوسروں کے نزدیک اسباب ضعف میں سے نہ ہو۔ پس اس صورت میں تضعیف کنندہ کے قول پر توجہ دی جاسکتی ہے جبکہ وہ تضعیف کی علت بیان کرے۔(۵۸)

جو علمائے اہل سنت اس قاعدہ یعنی تضعیف ، تعدیل پر مقدم ہے) کو قبول نہیں کرتے ان میں احمد بن علی بن حجر عسقلانی، سبکی، خطیب بغدادی، نووی، سخاوی، سیوطی اور سندی مشہور ہیں۔(۵۹)

ڈاکٹر عبد الحکیم بستوی کہتے ہیں:

"اگر کسی راوی کے بارے میں جرح ثابت بھی ہوجائے تب بھی ہر جرح روایت کے اعتبار کو ساقط نہیں کرتا، بلکہ شدید جرح روایت کے اعتبار کو ساقط کرتا ہے۔ جب جرح سے متصف راوی کی اپنے سے معتبر دیگر افراد کی جانب سے تقویت کی جائے تو اس کی روایت قابل احتجاج ہوتی ہے۔"(۶۰)

پس بطور مطلق ہر موقع پر تضعیف کو تعدیل پر مقدم قرار دینا صحیح نہیں ہے اور تمام تضعیفات کو قابل عمل قرار دیا جائے تو پھر اس صورت میں بہت کم احادیث ہی طعن و قدح سے محفوظ رہیں گی، بلکہ حقیقت امر کی وضاحت کے لیے ان موارد میں نہایت غور و فکر اور اجتہاد سے کام لینا چاہئے۔

۵ ۔ شبہ تعارض

سید رشید رضا اور استاد سائح مغربی نے احادیث مہدویت میں تشکیک و تضعیف کے لیے ان احادیث میں باہمی تعارض کا دعویٰ کیا ہے۔ سید رشید رضا کہتے ہیں:"احادیث مہدی میں باہمی تعارض اتنا اقوا اور اظہر ہے کہ ان میں ارتباط قائم کرنا دشوار ہے۔" پھر بطور مثال اپنی بات کے ثبوت میں ان کے نام اور حسب و نسب میں اختلاف کہ حسن ہے یا حسینی، عباسی ہے یا علوی وغیرہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔(۶۱)

جواب شبہ

اولاً: حالات و واقعات کی تفصیلات میں اختلاف مقتضی طبیعت ہوتا ہے لہذا کسی واقعہ کی تفصیلات میں اختلاف کے ذریعے اس کے عدم ثبوت پر استدلال کرنا، صرف مغالطہ ہے۔ ورنہ کوئی بھی اعتقادی مسئلہ ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ تمام مسائل میں اختلاف کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

ثانیاً؛ تمام مورد اختلاف میں سے ہر ایک میں برحق قول ثابت ہوچکا ہے ۔ لہذا کسی میں کوئی تردید موجود نہیں ہے۔

شبہات کی دوسری قسم: مصداق مہدیؑ ؟

اگرچہ روایات میں حضرت مہدی علیہ السلام کے تمام مشخصات نام ونبی، خصوصیات و صفات اور شمائل بیان کردیئے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود بعض لوگوں نے اپنے مخصوص اہداف کی بنا پر حضرت مہدی ؑ کی شخصیت و مصداق میں شبہہ ایجاد کرنے کی کوششیں کی ہیں۔لہذا ذیل میں ایسے ہی چند شبہات اور ان کے جوابات پیش کئے جار ہے ہیں۔

۱ ۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی مہدی ہیں؟

ابن خلدون جیسے بعض علمائے اہل سنت نے ایک حدیث سے استناد کرتے ہوئے احادیث مہدویت پر شبہہ وارد کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اس کے ذریعے وہ حضرت مہدی علیہ السلام کے مبارک وجود کو غیر حقیقی وغیر واقعی قرار دے سکیں۔ یہ روایت صرف ابن ماجہ نے اپنی کتاب سنن میں نقل کی ہے جبکہ دیگر آئمہ صحاح نے اسے اپنی کتب صحاح میں جگہ دینے سے گریز کیا ہے اور وہ روایت یہ ہے کہ:

"ہم سے نونس بن عبد الاعلی نے حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں: ہم سے محمد بن ادریس نے حدیث بیان کی ہے وہ کہتے ہیں: ہم سے محمد بن خالد الجندی نے، انہوں نے زیان بن ابا ن بن صالح سے ، انہوں نے حسن سے انہوں نے انس ابن مالک سے حدیث روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: امور بہت سخت ہوجائیں گے لوگ حریص ہوجائیں اور قیامت صرف بدکاروں کے لیے برپاہوگی اور مہدی عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔"(۶۲)

جواب شبہ

یہ روایت علماء کی نظر میں کسی بھی صورت قابل اعتبار نہیں ہوسکتی، بلکہ یہ جعلی روایات کا حصہ ہے۔کیونکہ یہ روایت صرف مسلمات فریقین کے برخلاف ہی نہیں ہے بلکہ یہ صحیح و معتبر احادیث سے بھی معارض ہے۔ خود علمائے اہل سنت نے بھی شدت سے اس روایت کی نفی کی ہے اور اسے باطل قرار دیا ہے، بنابر ایں یہ روایت چند دلائل کی بنیاد پر باطل اور بے اساس ہے:

۱ ۔ عدم اعتبار سند

منصور علی ناصف کہتے ہیں:"حدیث"لامہدی الا عیسیٰ بن مریم"معتبر نہیں ہے بلکہ یہ روایت ضعیف ہے ۔ جیسا کہ حاکم و ہیثمی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔"(۶۳)

احمد بن اسماعیل حلوانی کہتے ہیں:"یہ حدیث خالد الجندی نے نقل کی ہے اور یہ مجہول الحال راوی ہے لہذا اس کی روایت قابل اعتماد نہیں ہوسکتی۔"(۶۴)

ابو البرکات آلوسی نے کتاب"غالیت المواعظ" میں اس حدیث کو مجعول قرا ردیا ہے۔(۶۵)

حافظ مزی نے کتاب "تہذیب الکمال" میں محمد بن خالد الجندی کی شرح حال میں اسے مجہول الحال اور غیر قابل استناد قرار دیا ہے۔(۶۶)

عظیم آبادی کہتے ہیں: "ابن خلدون نے احادیث مہدویت کو ضعیف شمار کرنے میں خطا کی ہے۔"(۶۷)

ابن حجر نے "تہذیب التہذیب" میں اس روایت کو بے بنیاد و جعلی اور خالد کو مجہول الحال اور ضعیف قرار دیا ہے۔"(۶۸)

مندرجہ بالابی انات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اس روایت کی سند مخدوش ہے اور اس کا راوی علمائے علم رجال و حدیث کی نگاہ میں غیر قابل قبول ہے لہذا یہ روایت سند کے اعتبار سے قابل قبول نہیں ہے۔

۲ ۔ صحیحہ و کثیرہ احادیث سے تعارض

ابن قیم کا کہنا ہے:"حدیث"لامہدی الا عیسیٰ بن مریم" معتبر نہیں ہے اور اس میں احادیث صحیحہ و معتبر کے مقابلہ میں قدرت مقاومت نہیں پائی جاتی۔"(۶۹)

حضرت مہدیؑ کے بارے میں بہت سے ائمہ حدیث مثلاً ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ، بزاز، حاکم ، طبرانی اور ابو یعلی موصلی نے اپنی اپنی کتاب میں کثرت سے احادیث نقل کی ہیں اور ان کی بہت سے بزرگ صحابہ مثلاً حضرت علی علیہ السلام، ابن عباس، ابن عمر، طلحہ، عبد اللہ ابن مسعود، ابو ہریرہ، انس، ابو سعید خدری، ام حبیبہ، ام سلمہ، ثوبان، قرۃ ابن ایاس، علی الہلالی اور عبد اللہ بن حارث بن جزء کی طرف نسبت دی ہے۔(۷۰)

ابن حجر کہتے ہیں:"احادیث مہدویت، صحیح اور معتبر ہیں اور ان سے متعارض روایات کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔"(۷۱)

حلوانی کہتے ہیں:"حدیث"لامہدی الا عیسیٰ ابن مریم" نہایت ضعیف ہے، کیونکہ کثرت سے روایات موجود ہیں جو بیان کر رہی ہیں کہ مہدی، عترت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے ہوں گے اور عیسیٰ عترت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہیں ہیں۔"(۷۲)

صحیح و معتبر روایات موجود ہیں کہ اصحاب نے جب پیغمبر گرامی قدر سے دریافت کیا کہ مہدیؑ آپ میں سے ہیں یا غیروں میں سے؟ تو حضور نے فرمایا کہ مہدی ہم میں سے ہیں ۔ اسی طرح صحیح روایات موجود ہیں جو اس امر کی عکاسی کررہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد آسمان سے نزول فرمائیں گے اور ان کی اقتداء میں نما زادا کریں گے۔

ان دونوں قسموں کی روایات کی سند عالی ہے جو تمام اہل فن اور ائمہ حدیث کے نزدیک قابل قبول ہیں۔ خصوصاً وہ روایت جس میں بیان ہوا ہے کہ مہدی ؑ امام اور عیسیٰؑ کے ماموم ہوں گے ۔ متواتر روایات کا حصہ ہے اور اس کی سند اور دلالت پر علماء کا اتفاق نظر ہے۔

ان روایات کے مدمقابل یہ حدیث"لامہدی الا عیسیٰ بن مریم" ہے کہ جس کے راوی حدیث کے نقل کرنے میں تساہل و سستی میں مشہور ہیں، یہاں تک کہ ان میں بعض افراد کو کذاب و جاعل بھی قرار دیا گیا ہے۔ لہذا یہ روایت علمائے حدیث کی نگاہ میں مردوداور ناقابل قبول جبکہ روایات مہدی مورد اتفاق اور قابل قبول ہیں۔(۷۳)

پہلی روایت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصحاب کو اس بات کا علم تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مہدی نہیں ہیں۔ صرف وہ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ مہدیؑ ، اہل بیت علیہم السلام میں سے ہوں گے یا غیروں میں سے ۔ اگر عیسیٰ ہی مہدی ہیں تو پھر اصحاب کے سوال کرنے کا کیا مطلب تھا؟ اور پیغمبر گرامی قدر نے بھی جواب میں یہ نہیں فرمایا کہ عیسیٰ ہی مہدی ہیں بلکہ فرمایا: "مہدی منا اہل البیت" مہدی ہم اہل بیت علیہم السلام میں سے ہوں گے۔ اور یہ بات سب پر عیاں ہے کہ حضرت عیسیٰ، رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت علیہم السلام میں سے نہیں ہیں۔

مختصر یہ کہ حدیث"لامہدی الا عیسیٰ بن مریم"فریقین کی فراوان و معتبر روایات سے معارض ہے کیونکہ بعض احادیث میں آیا ہے کہ مہدی، اہل بیت وعترت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے ہیں، بعض روایات میں ہے کہ وہ اولاد فاطمہ سلام اللہ علیہا میں سے ہوں گے ، بعض روایات میں ہے کہ نسل امام حسین علیہ السلام میں سے ہوں گے اور بعض روایات بیان کر رہی ہیں کہ وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہوں گے۔ یعنی روایات میں حضرت مہدی علیہ السلام کا تمام حسب و نسب بیان کر دیا گیا ہے ۔ پس فریقین کے یہاں اتنی کثیر روایات کی موجودگی کے بعد ایک ضعیف السند روایت سے تمسک کرنا صحیح نہیں ہے۔

۲ ۔ کیا حضرت مہدی علیہ السلام کا نام پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے والد کے نام سے مشابہ ہے؟

حدیث "یواطی اسمہ اسمی و اسم ابی ہ اسم ابی " کی روشنی میں بعض علمائے اہل سنت کا کہنا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا نام محمد بن عبد اللہ ہوگا اور یہ فرمان رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شیعوں کے اس عقیدے کو واضح طور پر رد کرتا ہے کہ مہدی موعود وہی القائم المنتظر ہیں کہ جن کا اسم گرامی محمد بن حسن العسکری علیہ السلام ہے۔(۷۴)

ابن کثیر نے اس حدیث مذکور کی تفسیر میں کہا ہے کہ روایات میں بیان شدہ حضرت مہدی وہ امام منتظر نہیں ہے کہ جس کے بارے میں شیعہ گمان کرتے ہیں کہ وہ موجود ہیں اور سامر ہ کے سرداب سے ظہور فرمائیں گے، ان کے اس عقیدے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان کا کوئی وجود نہیں ہے اور یہ عقیدہ صرف ایک باطل ہوس کا نام ہے ؛ کیونکہ حضرت مہدیؑ کے والد کا نام عبد اللہ ہے۔(۷۵)

نیز ابن المناری بھی کہتے ہیں کہ ابن عباس کی روایت کے مطابق حضرت مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہے۔(۷۶)

جس روایت میں حضرت مہدی علیہ السلام کے والد کا نام عبد اللہ بیان کیا گیا ہے ، اسے صرف ابو داود نے اپنی کتاب سنن میں نقل کیاہے جبکہ ان کے علاوہ صحاح میں سے کسی ایک میں بھی یہ روایت نقل نہیں کی گئی ہے اور وہ روایت مندرجہ ذیل ہے۔

"لولم یبق من الدنیا الایوم لطول الله ذالک الیوم ثم اتفقوا حتی یبعث فیه رجلا منی اومن اهل بیتی یواطی اسمه اسمی و اسم ابیه اسم ابی یملأ الأرض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما وجورا ؛(۷۷) اگر دنیا ایک دن سے زیادہ باقی نہ رہے خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کردے گا یہاں تک کہ خداوند عالم مجھ سے یا میرے اہل بیت علیہم السلام سے ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے جس کا نام میرا نام اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام سے مشابہ ہوگا اور وہ ظلم وجور سے بھر ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔

یہی وہ روایت ہے جس کی بنیاد پر بعض اہل سنت یہ گمان کر بیٹھے ہیں کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے والد کا نام، پیغمبر گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے والد کے نام سے ہم آہنگ ہے۔

جواب

حضرت صاحب العصر والزمان امام مہدی علیہ السلام کے والد بزرگوار کے نام اور پیغمبر ختمی مرتبت کے والد بزرگوار کے نا م میں ہم آہنگی اور مطابقت بیان کرنے والی روایت چند زاویوں سے قابل ملاحظہ ہے:

۱ ۔ جملہ "اسم ابی ہ اسم ابی "اصل روایت میں اضافہ ہوا ہے:

یہ صرف ہمارا ہی دعویٰ نہیں ہے بلکہ خود بعض اہل سنت کے بزرگ علما بھی کہتے ہیں کہ جملہ "اسم ابی ہ اسم ابی " صرف ابو داؤد نے نقل کیا ہے جبکہ ترمذی وغیرہ نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔ حفاظ و ثقات کی نقل کردہ اکثر روایات میں جملہ "اسم ابی ہ اسم ابی " نقل نہیں ہوا ہے بلکہ فقط "اسمہ اسمی"آیا ہےپس "اسم ابی ہ اسم ابی "زائد ہے اور اصل روایت میں اضافہ ہوا ہے، ائمہ حدیث میں سے کسی نے بھی اس جملہ کو نقل نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے صرف"اسمہ اسمی" نقل کیا ہے۔(۷۸)

حافظ ابن عربی کہتے ہیں:"جملہ اسمہ اسمی ہی صحیح ہے اور باقی اضافہ ہے۔"(۷۹)

۲ ۔ ضبط حدیث میں راوی کی تساہلی و عدم توجہ

بعض علماء و محققین احتمال دیتے ہیں کہ یہاں راوی نے تساہلی اور عدم توجہ کی وجہ سے اشتباہاً جملہ "اسم ابی ہ اسم ابی " کو نقل کر دیا ہے جبکہ اصل خبر اس طرح تھی:

"اسمہ اسمی واسم ابی " یعنی "ان کا نام میرے نام اور میرے والد کے نام کے عین مطابق ہوگا" کیونکہ بعض روایات میں حضرت مہدی علیہ السلام کے تین اسماء ذکر کئے گئے ہیں: جن میں سے ایک نام ، رسول اللہ کے والد کے نام کے مطابق ہے۔

بعض روایات میں "اسمہ اسم ابی " آیا ہے، جبکہ "اسم ابی ہ" راوی کی جانب سے اضافہ ہوا ہے ، کیونکہ راوی تفسیر حدیث سے لابلد تھا اور اسے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے تین نام ہیں، لہذا اس نے روایت کی اصلاح کرنے کے لیے جملہ "اسم ابی ہ اسم ابی " کا اضافہ کر دیا۔ اگر اسے یہ بات معلوم ہوتی کہ آنجنابؑ کے تین نام ہیں جن میں سے ایک عبد اللہ ہے تو ممکن ہے وہ یہ اشتباہ نہ کرتا۔

نیز یہ بھی ممکن ہے کہ روایت اس انداز سے ہو:"اسمہ اسمی و اسم ابنہ اسم ابی "یعنی ان کا نام میرے نام اور ان کے بیٹے کا نام میرے والد کے نام کے مطابق ہوگا" کیونکہ بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عبد اللہ، حضرت مہدی علیہ السلام کے فرزندوں میں سے ہیں۔"(۸۰)

ایک اور احتمال کے مطابق ممکن ہے کہ روایت اس طرح ہو: "اسم ابی ہ اسم ابنی" یعنی ان کے والد کانام میرے بیٹے کے نام کے مطابق ہوگا۔ کیونکہ رسول اللہ کے نواسے امام حسنؑ ہیں اور آنحضرتؑ یعنی امام مہدی علیہ السلام کے والد کا نام بھی حسن ہے اور راوی نے جملہ "اسم ابی ہ اسم ابنی" کے بجائے جملہ"اسم ابی ہ اسم ابی " نقل کردیا ہے اور لفظ ابنی و ابی جا بجا ہوگئے ہیں۔ احمد بن حنبل نے متعدد مقامات پر فقط "اسمہ و اسمی" نقل کیا ہے اور بقیہ اضافات مثلاً"اسم ابی ہ اسم ابی " وغیرہ کو اپنی روایات میں نقل نہیں کیا ہے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ اضافہ یا راوی کی جانب سے ہوا ہے، یا ضبط تحریر میں اشتباہ ہوا ہے یا دیگر علتوں کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔(۸۱)

۳ ۔ مستشکل کا دعویٰ باطل ہے:

بر فرض اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ جملہ "اسم ابی ہ اسم ابی " صحیح ہے پھر بھی مستشکل کا دعویٰ باطل ہے، کیونکہ یہ حدیث قابل توجیہ ہے اور علمائے فریقین نے اس سلسلہ میں مختلف توجیہات پیش کی ہیں، ان میں سے بعض توجیہات یہاں پیش کی جارہی ہیں:

توجیہ اول:

فاضل متتبع مولا محمد رضا الامامی کا کہنا ہے کہ کتاب "جنات الخلود" میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے دو نام حسن اور عبد اللہ ذکر کئے گئے ہیں، اور یہ بات شیعوں میں سے صاحب کفایت الموحدین اور اہل سنت میں سے ملک العلماء قاضی شہاب الدین الدولہ آبادی صاحب تفسیر مناقب السادات و ہدایت السعداء وغیرہ نے نقل فرمائی ہے۔(۸۲)

اب جبکہ امام حسن عسکری کا نام مبارک عبد اللہ بھی ثابت شدہ ہے تو جملہ"اسم ابی ہ اسم ابی " شیعہ عقیدہ کے عین مطابق ہے اور اس طرح مستشکل کے لیے کوئی جائے اشکال باقی نہیں رہتی۔

توجیہ دوئم:

کتاب بحار الانوار میں علامہ مجلسی کے بعض ہم عصر علماء سے نقل ہوا ہے کہ امام حسن عسکری کی کنیت ابو محمد ہے۔ حضرت عبد اللہ بھی کیونکہ رسول گرامی قدرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے والد بزرگوار ہیں لہذا ابو محمد کہلائیں گے۔

پس ان دونوں کنیتوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، حضرت مہدی ؑ کے والد کی کنیت بھی ابو محمد ہے اسی طرح رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے والد بزرگوار کی کنیت بھی ابو محمد ہے ۔ لہذا حدیث "اسم ابی ہ اسم ابی " اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کیونکہ کلام عرب میں اسم کی جگہ کنیت بھی استعمال کی جاتی ہے۔(۸۳)

۴ ۔ بعض روایات کی تصریح کہ حضرت مہدی (عج) کے والد امام حسن عسکری ؑ ہیں:

بعض روایات و کلام علمائے اہل سنت میں اس امر کی تصریح موجود ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے والد، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ہیں ، ان روایات کی روشنی میں آنجناب کانام نامی محمد بن الحسن العسکری ہے۔

سلیمان قندوزی کہتے ہیں: شیخ الجلیل العالم الکامل با اسرار الحروف، کمال الدین ابو سالم محمد بن طلہ بن محمد بن الحسن الحلبی الشافعی(قدس سرہ) اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام ، امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں۔

نیز شیخ الکبیر الکامل با اسرار الحروف صلاح الدین الصفری، شرح دائرہ میں کہتے ہیں کہ مہدی وہی امام ثانی عشر فرزند حسن عسکری علیہ السلام ہیں۔

اسی طرح شیخ الاسلام احمد الجامی، شیخ عطار نیشاپوری، شمس الدین تبریزی، جلال الدین، مولانا رومی، سید نعمت اللہ الولی، سید النسیمی وغیرہ نے اہل بیت علیہم السلام کی مدح میں جو اشعار کہے ہیں ان میں حضرت مہدی علیہ السلام کو گیارہویں امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرزند تسلیم کیاہے۔(۸۴)

ان کے علاوہ بھی بہت سے بزرگان اہل سنت نے اپنی اپنی مختلف کتب میں ایسی ہی روایات نقل کی ہیں جن میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام، امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں(۸۵) ۔

۳ ۔ حضرت مہدی (عج)، امام حسن ؑ کی نسل سے ہیں یا امام حسین ؑ کی نسل سے ہیں؟

بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ حضرت مہدی (عج)، امام حسن ؑ کی نسل سے ہیں ۔ اس عقیدے یا شبہ کا سبب جو روایت ہے جسے فقط ابو داؤد سجستانی نے اپنی کتاب سنن میں نقل کیا ہے۔ وہ روایت ذیل میں ذکر کی جا رہی ہے:

"قال علی و نظر إلی ابنه الحسن فقال ان ابنی هذا سید کما سماه النبی و سیخرج من سلبه رجل یُسَمَّی باسم نبیکم یشبه فی الخُلُقِ و لا یشبه فی الخَلقِ ثم قصّة یملا الارض عدلا (۸۶) ؛ (حضرت) علی ؑ نے اپنے فرزند (امام) حسن ؑ کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: میرا یہ بیٹا سید و سردار ہے جیسا کہ رسول اکرم نے اسے اس نام سے نوازا ہے۔ اس کی نسل سے میرا ایک فرزند ظہور کرے گا جو تمہارے نبیؐ کا ہمنام ہوگا جو شکل و صورت میں تو ان سے مشابہ نہیں ہے لیکن خُلق و خو میں ان سے مشابہ ہوگا، پھر اس کے بعد انھوں نے ان کے زمین کو عدل و انصاف سے پُر کرنے کی داستان بیان فرمائی۔"

ابو داؤد سجستانی کی اس روایت کا سہارا لیکر بعض اہل سنت نے اس امر کا اظہار خیال کیا ہے کہ مہدی آخر الزمان، امام حسن ؑ کی اولاد میں سے ہوں گے نہ کہ امام حسین ؑ کی اولاد میں سے۔

عظیم آبادی کہتے ہیں: "حدیث ابو اسحاق میں وارد ہوا ہے کہ علی ؑ نے اپنے فرزند حسن ؑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مہدی میرے اسی فرزند سے ہوں گے۔ یہ اختصاص اسی لیے تھا تاکہ کل کسی کو یہ گمان نہ ہوجائے کہ انکا مقصد امام حسین ؑ تھے۔ اسی لئے حضرت نے اشارہ کرکے مشخص و معین فرما دیا۔

یہ حدیث صراحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے کہ حضرت مہدی ؑ، امام حسن ؑ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ البتہ دونوں روایات میں یکسانیت و ہم آہنگی قائم کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ ماں کی طرف سے حسینی ہوں گے؛ کیونکہ حضرت مہدی ؑ کی والدہ صلب امام حسین ؑ سے ہیں پس یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ باپ کی طرف سے حسنی اور ماں کی طرف سے حسینی ہوں گے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم کے دونوں بیٹوں حضرات اسماعیل و اسحاق کے مابی ن واقعہ پیش آیا ہے یعنی جیسا کہ تمام انبیائے بنی اسرائیل حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں جبکہ حضرت اسماعیل ؑ سے فقط خاتم الانبیاء تشریف لائے ہیں اور قائم مقام کل و نعم العوض اور خاتم الانبیاء قرار پائے؛ اسی طرح اکثر ائمہ و اکابر امت امام حسین ؑ کی اولاد سے ہیں پس بہتر یہی ہے کہ خاتم الاوصیاء حضرت مہدی (عج) امام حسن ؑ کی نسل سے آئیں جو تمام اوصیائے الٰہی کے قائم مقام قرار پائیں۔(۸۷) "

نیز ابن عربی کہتے ہیں کہ حضرت امام حسن بن علی بن ابی طالب، حضرت مہدی ؑ کے جدِ بزرگوار ہیں(۸۸) ۔

جواب

مختلف وجوہات کی بنا پر یہ شبہ یا نظریہ کہ حضرت مہدی ، امام حسن ؑ کی اولاد میں سے ہوں گے؛ قابل نقد ہے۔ ذیل میں چند وجوہات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے:

۱ ۔ نقل حدیث میں اختلاف:

جذری شافعی نے ابو داؤد سے اپنی اسناد کے مطابق اس حدیث کو نقل کیا ہے لیکن اس حدیث میں امام حسن ؑ کے نام کے بجائے امام حسین ؑ کا نام بیان کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں : "صحیح بات یہ ہے کہ ہمارے شیخ الاجازہ کے حوالے سے عمر بن حسن الرفی سے جو خبر ہم تک پہنچی ہے اس میں موجود حضرت امیر المومنین علی ؑ کی تصریح کے مطابق حضرت مہدی، حسین بن علی ؑ کی نسل سے ہوں گے؛ کیونکہ حضرت علی ؑ نے اپنے فرزند امام حسین ؑ کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: ۔۔۔؛ ابو داؤد نے اپنی کتاب سنن میں حدیث اس طرح نقل کی ہے اور اس کے بعد سکوت اختیار کیا ہے۔(۸۹) "

مقدسی شافعی نے اپنی کتاب عقد الدرر میں بھی اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس میں امام حسن ؑ کا نام ہی ذکر کیا ہے لیکن محقق کتاب نے کتاب کے ذیلی حاشیہ میں اس حدیث کے نسخہ بدل کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جس میں امام حسین ؑ کا نام بیان کیا گیا ہے۔(۹۰)

نقل روایت میں یہ اختلاف،

اگر ان دونوں اسماء میں سے کسی کو ایک ترجیح دینے اور اختیار کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی اس پر مستحکم دلیل موجود نہ ہو تو روایت میں یہ نقل اختلاف، کسی ایک نام کے انتخاب کو بے اساس و بے بنیاد بنا دیتا ہے اور کیونکہ امام حسن ؑ کے بارے میں دلیل خارجی مفقود ہے پس امام حسین ؑ کے نام کو ترجیح حاصل ہے۔

۲ ۔ حدیث مقطوع ہے:

جانچ پڑتال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کی سند مقطوع ہے؛ کیونکہ جس شخص (یعنی ابو اسحاق) نے اس حدیث کو حضرت علی ؑ سے نقل کیا ہے اس کا نام اسحاق سبیعی ہے لیکن جیسا کہ منذری نے اس حدیث کی شرح بیان کی ہے اس میں اظہار کیا ہے(۹۱) کہ اس شخص نے حتیٰ کہ ایک حدیث بھی امام علی ؑ سے نقل نہیں کی ہے؛ کیونکہ آ نجناب کی شہادت کے وقت اس کی عمر صرف چھ یا سات سال تھی۔ بقول ابن حجر(۹۲) وہ خلافت عثمانی کے خاتمہ سے ۲ سال قبل جبکہ ابن خلقان(۹۳) کے بقول ۳ سال قبل پیدا ہوا تھا۔ اسی لئے مزی نے ان کے قول کو اس طرح نقل کیا ہے کہ اس شخص نے امام کو دیکھا تو ہے لیکن اس نے حضرت سے کوئی حدیث استماع نہیں کی ہے۔(۹۴)

۳ ۔ حدیث، مجہول السند ہے:

اس حدیث کی سند مجہول ہے؛ کیونکہ ابو داؤد نے اس حدیث کو اس طرح نقل کیا ہے: "مجھے ہارون بن مغیرہ کے حوالے سے خبر پہنچی ہے۔۔۔" سلسلہ سند میں مغیرہ سے قبل کے راوی نامعلوم ہیں۔ پس نامعلوم ہونے کی وجہ سے اس حدیث کے راوی مجہول کہلائیں گے اور یہ حدیث مجہلو السند کہلائے گی؛ اور تمام علمائے کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ اس قسم کی حدیث کو قابل اعتماد قرار نہیں دیا جاتا ہے۔

۴ ۔ اہل سنت میں اس حدیث کی معارض روایات:

طرق اہل سنت سے بہت سی ا یسی روایات نقل ہوئی ہیں جن میں اس امر کی تصریح موجود ہے کہ حضرت مہدی ؑ ، امام حسین ؑ کی نسل سے ہوں گے؛ لہذا ٰ یہ حدیث، اس قسم کی متعدد روایات سے معارض ومخالف ہے۔

قندوزی نے اپنی کتاب ینابی ع المودۃ(۹۵) ، جوینی نے کتاب فرائد السمطین(۹۶) ، آلوسی نے کتاب غالیۃ المواعظ(۹۷) ، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ(۹۸) ، عدوی نے کتاب مشارق الانوار(۹۹) اور طبری نے ذخائر العقبی(۱۰۰) میں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے کہ مہدی اولاد امام حسین ؑ میں سے ہوں گے۔

اسی طرح عمری نے کتاب ذخیرۃ العجائب(۱۰۱) ، شعرانی نے المواقیت(۱۰۲) ، کنجی نے البیان(۱۰۳) ، ابن قتیبہ نے غریب الحدیث(۱۰۴) ، ذہبی نے میزان الاعتدال(۱۰۵) اور ابن حجر نے کتاب لسان المیزان(۱۰۶) میں روایات نقل کرنے کے بعد صراحتاً کہا ہے کہ مہدی آخر الزمان، امام حسین ؑ کی ذریت میں سے ہوں گے۔

برہان الدین اپنی کتاب سیرۃ الحلبیہ میں ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان کہتے ہیں:

"رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمارے سامنے ایک خطبہ دیا جس میں آپؐ نے آئندہ زمانے میں پیش آنے والے حوادث زمانہ کے بارے میں خبردار کیا اور فرمایا: اگر اس دنیا کی عمر ایک دن سے زیادہ باقی نہ بچے خداوند عالم تب بھی ا س دن کو اتنا طولانی کردے گا یہاں تک کہ میری نسل سے ایک مرد قیام کرے گا جو میرا ہم نام ہوگا۔ اس موقع پر سلمان اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! وہ شخص آپ کے کس فرزند کی اولاد میں سے ہوگا؟ آپؐ نے امام حسین ؑ کی پشت مبارک پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا: وہ شخص میرے اس فرزند کی اولاد میں سے ہوگا۔(۱۰۷) "

۵ ۔ مذکورہ حدیث کا "جعلی" ہونا:

مذکورہ حدیث کے "جعلی" ہونے کا احتمال بھی بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ جس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ حسنیوں اور ان کے چاہنے والوں کا یہ خیال تھا کہ محمد بن عبد اللہ بن حسن بن امام حسن ؑ مجتبیٰ المعروف بہ حسن مثنی ہی مہدی ؑ ہیں جو ۱۴۵ ھ میں منصور عباسی کے دورِ اقتدار میں قتل کر دیئے گئے تھے۔ جبکہ عباسیوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ محمد بن عبد اللہ عباسی ملقب بہ مہدی ہی مہدی موعود ہے جس کا مقصد اپنے عظیم سیاسی مقاصد کا حصول تھا کیونکہ وہ اس دعوے کے بغیر اپنے سیاسی مقاصد کا حصول ناممکن سمجھ رہے تھے۔

۶ ۔ مذکورہ حدیث اور مہدی کے ابن الحسین بیان کرنے والی روایات میں عدم تعارض:

ان تمام تر بیان کردہ مشکلات کے باوجود اگر اس حدیث کو صحیح مان بھی لیا جائے تب بھی یہ بات قابل توجہ اور شایان بیان ہے کہ اس حدیث اور حضرت مہدی ؑ کے ابن الحسین پر دلالت کرنے والی متواتر روایات میں کوئی تعارض نہیں ہو پائے گا اور ان میں کوئی باہمی مشکل پیش نہیں آسکتی جس کی وجہ یہ ہے کہ آپ دونوں طرح کی روایات کو اس طرح ہم آہنگ کرسکتے ہیں کہ حضرت امام مہدی ؑ حسینی الاب و حسنی الاُمّ ہیں؛ کیونکہ امام سجاد ؑ کی زوجہ یعنی امام محمد ؑ باقر کی والدہ جامدہ فاطمہ بنت الحسن یعنی امام حسن ؑ کی دختر نیک اختر ہیں۔ بنابر اس کے امام باقر ؑ حسینی الاب اور حسنی الام ہیں اور اسی طرح انکے فرزندان بھی ذریت سبطین قرار پائیں گے۔

پس اگر ابو داؤد کی نقل کردہ حدیث کو صحیح فرض کرلیا جائے تو فقط ایک یہی مناسب توجیہ پیش کی جاسکتی ہے ورنہ بصورت دیگر ابو داؤد کی حدیث کی صحت کو ثابت کرنا نہایت مشکل ہے۔

۷ ۔ روایات شیعہ:

اہل سنت کی نقل کردہ روایات کے علاوہ شیعہ منابع میں کثرت سے روایات موجود ہیں جو بیان کر رہی ہیں کہ حضرت مہدی ؑ ، نسل امام حسین ؑ سے ہوں گے۔

جن میں بعض روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مہدی ؑ امام حسین ؑ کی نسل میں نویں فرزند ہوں گے، بعض میں وارد ہوا ہے کہ حضرت مہدی (عج) ، نسل حسین سے ہیں۔ یہ روایات عظیم عالم دین شیخ کلینی نے کتاب کافی، شیخ نعمانی نے کتاب "الغیبۃ" میں اور شیخ صدوق نے کتاب "کمال الدین" میں نقل فرمائی ہیں۔

المختصر:

پس فریقین کی نقل کردہ روایات کی سند و متن ، علماء و افاضل کے اقوال اور ائمہ حدیث کی روایات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ مہدی موعود ہرگز حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہیں لہذا اس سلسلہ میں منکرین مہدویت کا دعویٰ بالکل غلط ہے اور حدیث "لا مہدی اِلّا عیسیٰ بن مریم" غیر معتبر اور بے اہمیت ہے۔

اسی طرح فریقین کی روایات اور علمائے اہل سنت کے اقوال کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حضرت مہدی ؑ کے والد بزرگوار امام حسن ؑ عسکری ہی ہیں اور روایتِ "اسم ابی ہ اسم ابی " مختلف دلائل کی بنا پر غیر معتبر ہے، اور بر فرض صحت، قابل توجیہ ہے یعنی اس حدیث اور اُس روایت میں تعارض نہیں ہے جس میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ہی کو حضرت مہدی (عج) کا والد ماجد بیان کیا گیا ہے۔

نیز روایات کی جانچ پڑتال اور آرائے فریقین کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ مہدی آخر الزمان حضرت امام حسین ؑ کی ذریت سے ہیں اور جس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ امام حسن ؑ کی اولاد سے ہوں گے وہ مختلف جہات سے قابل نقد ، غیر معتبر اور ناقابل صحت ہے۔

شبہات کی تیسری قسم: شبہ طول عمر

حقیت امر یہ ہے کہ صاحب العصر و الزمان حضرت مہدی ؑ کی طول عمر کے بارے میں بحث و جدال کرنا ایک بے معنی امر ہے اور یہ شبہ ایجاد کرنے کی وجہ خاندان پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بغض و عناد اور کینہ و حسد ہے یا اس امر کو پروردگار عالم کی قدرت مطلقہ سے باہر سمجھنا ہے! اور واقعی امر کے مقابلہ میں اس خام خیالی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

صاحب العصر علیہ السلام کی طول عمر ایک ایسی مسلم حقیقت ہے کہ جس سے انکار یا اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے لہذا اس سلسلہ میں تمام ایجاد کئے گئے شبہات کی کوئی حیثیت نہیں ہے؛ کیونکہ اس مسئلہ میں شک کرنا، حرارت آتش اور روز روشن میں نور خورشید کے وجود اور دیگر مسلم الثبوت امور اور واضح حقائق میں شک کرنے کے مترادف ہے۔

لیکن بہر کیف ہم یہاں بطور مختصر قرآن کریم اور اعتقادی اعتبار سے آنجناب کی طول عمر کے بارے میں چند شواہد پیش کر رہے ہیں:

قرآن کریم کی روشنی میں طول عمر:

جب ہم قرآن کریم میں طول عمر کے مسئلہ کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اس کتاب عظیم میں متعدد ایسے موارد نظر آتے ہیں کہ جنہیں خداوند عالم نے طول عمر سے نوازا ہے ۔ لہذا ایسے موارد کی روشنی میں تو امام عصر کی عمر طولانی ایک عام سی بات قرار پائے گی۔ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

( وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ ) (۱۰۸) ؛ "اور ہم نے نوح کو انکی قوم کی طرف بھیجا ہے اور وہ انکے درمیان پچاس سالم کم ایک ہزار سال رہے پھر قوم کو طوفان نے اپنی گرفت میں لے لیا کہ وہ لوگ ظالم تھے۔"

یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کے درمیان ۹۵۰ سال تبلیغ فرمائی تھی لیکن جب وہ مبعوث ہوئے تو ان کی عمر کتنی تھی اور طوفان کے بعد کتنا عرصہ زندہ رہے؟ اس سلسلہ میں حضرت امام جعفر صادق سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا:

"نوح ؑ کی عمر شریف ۲۳۰۰ سال تھی۔ ۸۵۰ سال بعثت سے قبل، ۹۵۰ سال قوم کو تبلیغ کرتے رہے اور ۵۰۰ سال طوفان کے بعد زندہ رہے ۔ پھر انھوں نے شہروں کو تعمیر کیا اور انکی آل و اولاد شہروں میں آباد ہوگئی۔(۱۰۹) "

جبکہ دوسری روایت میں ۲۵۰۰ سال عمر بیان کی گئی ہے۔

بہرحال یہ بات بالکل واضح اور روشن ہے کہ حضرت نوح ؑ قدرت الٰہی سے متعدد صدیاں زندہ رہے۔ حضرت امام زین العابدین سے روایت نقل کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: "قائم میں نوح ؑ کی ایک سنت ہے اور وہ سنت طول عمر ہے۔(۱۱۰) "

نیز حضرت یونس ؑ کے قصہ میں نظام طبیعت کے فرمانبردار ہونے اور مشیت و ارادہ الٰہی کے متحقق ہونے میں اس کی قدرت تجلی کرتی ہوئی نظر آتی ہے:

( فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ فَلَوْلا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ) (۱۱۱) ؛ "پھر انھیں مچھلی نے نگل لیا جبکہ وہ خود اپنے نفس کی ملامت کر رہے تھے، پھر ا گر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو روز قیامت تک اسی کے شکم میں رہ جاتے۔"

اس آیت کریمہ کا ظاہر بیان کر رہا ہے کہ اگر حضرت یونس ؑ شکم ماہی میں تسبیح خدا نہ کرتے تو پروردگار عالم قیامت تک انھیں اسی کے پیٹ میں زندہ رکھتا۔

لہذا بعض مفسرین کا یہ کہنا : "اگر حضرت یونس کا انتقال ہوجاتا تو مچھلی کا پیٹ ہی انکی قبر بن جاتا اور قیامت تک انکا بدن اس میں محفوظ رہتا" ظاہر آیت کے برخلاف ہے۔

زمخشری ، تفسیر کشاف میں کہتے ہیں: "خداوند تعالیٰ کے اس فرمان: "للبث فی بطنہ" سے مراد یہ ہے کہ وہ مچھلی کی پیٹ میں قیامت تک زندہ رہتے۔"

نیز تفسیر بیضاوی میں بھی یہی کچھ بیان کیا گیا ہے۔

اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خداوند عالم اس کام پر مکمل طور پر قدرت رکھتا ہے کہ کسی انسان کو ایسی جگہ جہاں نہ ہواہو، نہ غذا اور نہ ہی کوئی اسباب زندگی موجود ہوں، زندہ و سلامت رکھ سکتا ہے بلکہ اسے شکم ماہی میں ہضم ہوکر اس کے بدن کا حصہ بھی نہیں بننے دیتا اور پھر لاکھوں کروڑوں سال زندہ رکھ سکتا ہے۔

تو سوچنے کی بات ہے کہ کیا وہ خدائے بزرگ و برتر اپنے ولی برحق کو زندہ نہیں رکھ سکتا اور اسے طولانی عمر عطا نہیں کرسکتا؟!

اعتقاد کی روشنی میں طول عمر

اگر اعتقادی اعتبار سے حضرت مہدی (عج) کی طول عمر کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک عام اور معمولی امر معلوم ہوتا ہے کیونکہ جو شخص خداوند عالم پر اعتقاد رکھتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ زندگی کا کاروبار اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی خداوند عالم نے تمام زندہ موجودات کی موت و حیات کو خود معین کیا ہے۔ جس طرح اس نے ہر ایک کی موت کا وقت مقرر کیا ہے وہ اسے آگے بڑھا سکتا ہے۔ پس اگر وہ اپنے بندوں میں سے کسی کو طولانی عمر عطا کرے گا تو اس کی اس طولا نی عمر کے اسباب بھی مہیا کرے گا چاہے اس کے لئے اسباب طبیعی ہوں یا غیر طبیعی۔ اور اس امر کے ذریعہ قانونِ طبیعت بھی نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس کے لئے تمام عوامل یکساں ہیں۔

عام طور پر مرنے کے بعد انسان کا بدن متعفّن و متلاشی ہونے لگتا ہے اور اس کا بدن متفرق ہوکر جراثیم میں تبدیل ہوجاتا ہے، یہ ایک بالکل طبیعی مسئلہ ہے لیکن شہر قاہرہ میں آج ہزاروں سال فراعنہ کے زمانہ کے کتنے ہی مومیائی بدن ملاحظہ کئے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک انکے بدن متفرق و متلاشی نہیں ہوئے ۔ انکے بارے میں کوئی یہ کہتا ہوا نظر نہیں آتا کہ خلاف عادت ہے بلکہ کہتے ہیں کہ ایک طبیعی قانون نے دوسرے طبیعی قانون کو نقض کیا ہے؛ یعنی بدن کا مومیائی ہونا اس کے متعفن و متلاشی ہونے میں مانع رہا ہے۔

مومیائی اجسام سے قطع نظر، آپ کو اس سے بھی زیادہ قابل تعجب مناظر دیکھنے میں آئیں گے مثلاً جب خدا کے بعض صالح بندوں کی قبریں منہدم ہوگئیں تو انکی قبروں میں انکے بدن بالکل صحیح و سالم دیکھے گئے جنہیں ذرّہ برابر گزند نہ پہنچا۔ جیسے شیخ صدوق کا بدن انکی وفات کے ۹۰۰ سال بعد بھی تازہ موجود تھا۔ اور یہ صرف حکم الٰہی ہی سے ممکن ہے۔

پس بنابر اس کے طبیعت یقینا ایک شئی ہے لیکن ارادۂ الٰہی طبیعت سے بالاتر ہے اور اس کی مشیت ،مادہ و مادیات سے بلند تر ہے؛ کیونکہ خداوند مادہ و طبیعت کا خالق و قادر ہے اور اسے اس میں ہر طرح کے مکمل تصرف کا اختیار حاصل ہے اور اسی نے تمام اشیاء کو مختلف خصوصیات مرحمت کی ہیں۔ تاریخ بشریت میں بہت سے ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو صدیوں زندہ رہے ہیں اور انھوں نے طولانی عمریں پائی ہیں۔ بعض صاحبان قلم نے اپنی اپنی کتب میں اس موضوع پر مستقل فصل قائم کی ہیں اور ثابت کیا ہے طولانی عمر کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہے بلکہ بعض ادوار میں یہ ایک بالکل عام اور طبیعی مسئلہ رہا ہے۔ ذیل میں چند طولانی عمر پانے والی شخصیات کے نام ذکر کئے جا رہے ہیں:

۱. حضرت آدم ع؛ ۹۳۰ سال

۲. حضرت سلیمان بن داؤد؛ ۷۱۲ سال

۳. حکیم لقمان ۴۰۰۰ یا ۴۰۰ سال

۴. ربیع بن ضبع فزاری؛ ۳۸۰ سال

۵. شداد بن عامر ؛ ۹۰۰ سال

۶. عمر بن عامر ؛ ۸۰۰ سال

۷. قس بن ساعدہ ایادی؛ ۶۰۰ سال

۸. عزیز مصر؛ ۷۰۰ سال

۹. ریان پدر عزیز مصر؛ ۱۷۰۰ سال

۱۰. لقمان عادی؛ ۵۶۰ سال(۱۱۲)

دوسری فصل: چند سوالات اور ان کے جوابات

۱ ۔ کیا عصر غیبت میں امام عصر (عج) سے ارتباط ممکن ہے؟

جواب: امام زمانہ و حجت حق کے وجود پر ایمان و اعتقاد شیعہ مذہب کی ضروریات میں سے ہے۔ روایات و ادلہ کی روشنی میں ہر زمانہ میں ایک امام برحق کا وجود ضروری ہے۔ اسی طرح یہاں تک کہ بعض علمائے اہل سنت کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتی۔ آج اس زمانہ میں جبکہ حجت الٰہی پردہ غیبت میں موجود ہے تو ذہنوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا غیبت کے زمانہ میں امام زمانہ ؑ سے ارتباط ممکن ہے؟ اور اگر ممکن ہے تو اس کی کیا صورت ہے؟

غیبت صغریٰ میں تو کسی ایک شیعہ عالم نے بھی نواب اربعہ اور امام عصر (عج) کے باہمی ارتباط و دیدار کا انکار نہیں کیا ہے لیکن غیبت کبریٰ میں دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ البتہ یہ نظریات پیش کرنے سے قبل بطور مقدمہ، ارتباط و رؤیت کےمراتب پیش کر رہے ہیں:

مراتب ارتباط:

۱ ۔ شناخت کے بغیر دیدار، اس کی دو صورتیں ہیں:

الف) کبھی کبھی حضرت بعض شیعوں کے درمیان حاضر ہوتے ہیں اور لوگ انھیں دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ وہ حضرت حجت ہیں اور بعد میں بھی اس موضوع سے بے خبر رہتے ہیں۔

ب) جس سے حضرت کی ملاقات ہوتی ہے وہ بوقت مشاہدہ متوجہ نہیں ہوتا لیکن بعد میں متوجہ ہو جاتا ہے کہ جس شخص سے ملاقات کر رہا تھا وہ حضرت حجت (عج) تھے۔ شیخ طوسی نے اس سلسلے میں اپنی تالیف کردہ کتاب "الغیبۃ" میں اس موضوع کو خاص طور پر ذکر کیا ہے(۱۱۳) ۔

۲ ۔ شناخت کے ساتھ دیدار؛ یعنی جو شخص امام زمانہ (عج) سے ملاقات کرے یا انکا دیدار کرے اسے معلوم ہو کہ جس شخصیت سے وہ مل رہا ہے یا دیدار کر رہا ہے وہ امام عصر (عج) کی ذات ہے۔

۴ ۔ فیضیاب ہونا؛ یعنی حضرت کی معرفت و شناخت اور سوال و جواب کے ساتھ دیدار۔ اس مرحلہ میں شخص نے حضرت کو فقط دیکھا اور پہچانا ہی نہیں ہے بلکہ ان سے سوال اور گفتگو بھی کی ہے۔ یہ مرحلہ سب سے بالاتر اور اہم ہے۔

البتہ حضرت سے ارتباط صرف ان مذکورہ تین مراحل پر منحصر نہیں ہے بلکہ توسل اور آنجناب کی آواز سننا بھی ارتباط کا حصہ شمار کیا جاتا ہے۔

حضرت سے ارتباط کے بارے میں نظریات:

اس سلسلہ میں دو نظریات پائے جاتے ہیں:

۱ ۔ غیبت کبریٰ میں ارتباط و مشاہدہ ممکن نہیں؛

۲ ۔ اولیائے الٰہی کے لئے ارتباط و استفادہ ممکن ہے۔

نظریہ عدم امکان ارتباط:

بعض بزرگ شیعہ علماء کا یہ نظریہ ہے کہ غیبت کبریٰ کے زمانے میں امام زمانہ (عج) سے شیعوں کا ارتباط ممکن نہیں ہے اور اگر اس عرصہ میں کوئی شخص دیدار کا دعویٰ کرے گا تو آنجناب کے فرمان کے مطابق اس کی تکذیب کردی جائے گی اور اس کی بات قابل قبول نہ ہوگی۔ چوتھی صدی ہجری کے بزرگ عالم محمد بن ابراہیم معروف بہ شیخ نعمانی صاحب کتاب "الغیبۃ"(۱۱۴) ؛ ملا محسن فیض کاشانی صاحب کتاب "الوافی(۱۱۵) ؛ کاشف الغطاء صاحب رسالہ حق المبین(۱۱۶) اور شیخ مفید، یہ وہ علمائے کرام ہیں جنہوں نے صراحت کے ساتھ اس نظریے کو قبول کیا ہے اور یہ حضرات غیبت کبریٰ کے زمانہ میں حضرت ولی عصر (عج) کے مخصوص خادموں کے لئے دیدار کو ممکن سمجھتے ہیں(۱۱۷) ۔

دلائل عدم امکان ارتباط:

۱ ۔ علی بن محمد سمری کے نام حضرت کی توقیع:

"بسم الله الرحمن الرحیم یا علی بن محمد سمری ۔۔۔؛(۱۱۸)

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اے علی محمد بن سمری ! اللہ تمہاری وفات پر تمہارے بھائیوں کو صبر کرنے پر اجر عظیم عطا کرے۔ اب سے چھ دن بعد تمہارا انتقال ہوجائے گا۔ لہذا اپنے امور کو منظم کرلو اور آئندہ کے لئے اپنا وصی کسی کو مقرر نہ کرنا جو تمہاری وفات کے بعد تمہارا قائم مقام ہو، ا س لئے کہ میری غیبت عامہ واقع ہوچکی ہے، اور جب اللہ کا حکم ہوگا اسی قت ظہور ہوگا اور یہ ایک طویل مدت کے بعد ہوگا۔ اس عرصے میں لوگوں کے دل سخت ہوجائیں گے، زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی۔ ہمارے شیعوں میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو مجھے دیکھنے کا دعویٰ کریں گے۔ مگر جو خروج سفیانی اور صدائے آسمانی کے پیدا ہونے سے قبل مجھے دیکھنے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور مفتری ہے۔ اور ہر قسم کی قوت و طاقت ذات الٰہی سے مخصوص ہے۔

۲ ۔ حضرت کی عدم شناخت پر دلالت کرنے والی روایات:

حضرت امام جعفر صادق ؑ نے امیر المومنین حضرت علی ؑ سے نقل فرمایا ہے:

"ولو خلت الارض ساعة واحدة من حجة الله لساخت باهلها و لکن الحجة یعرف الناس ولا یعرفونه کما کان یوسف یعرف الناس وهم له منکرون (۱۱۹) ؛ اگر زمین ایک لحظہ کے لئے بھی حجت خدا سے خالی ہوجائے تو اپنےساکنوں سمیت تہس نہس ہوجائے، جو حجت خدا ہے وہ لوگوں کو جانتا ہے لیکن لوگ اسے نہیں پہچانتے ہیں، جس طرح یوسف لوگوں کو پہچانتے تھے لیکن لوگ انھیں نہیں پہچانتے تھے۔"

۳ ۔ موسم حج میں امام ؑ کے عدم دیدار پر دلالت کرنے والی روایات۔ حضرت امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں:

"یفقد الناس امامهم فیشهد الموسم فیراهم ولا یرونه (۱۲۰) ؛ لوگ اپنے امام ؑ کو کھو بیٹھیں گے۔ وہ حج کے موقع پر وہاں ہوتے ہیں ، وہ لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ انھیں نہیں دیکھ پاتے۔"

۴ ۔ عصر غیبت میں شیعوں کے امتحان پر دلالت کرنے والی روایات۔ امیر المومنین حضرت علی ؑ فرماتے ہیں: "ولکن بعد غیبة و حیرة فلا یثبت فیها علی دینه الّا المخلصون المباشرون لروح الیقین (۱۲۱) ؛ وہ غیبت و حیرت کے بعد قیام کریں گے صرف یقین کامل کی منزل پر فائز مخلصین ہی انکے دین پر باقی رہ جائیں گے۔"

پس ان روایات کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ غیبت کے زمانہ میں آنجناب سے ارتباط ممکن نہیں ہے۔

نظریہ امکان ارتباط:

عام طور پر قدماء و متاخرین علمائے شیعہ غیبت کبریٰ کے زمانے میں حضرت کے دیدار و شرفِ ملاقات کو ممکن سمجھتے ہیں۔ بظاہر یہ نظریہ سید مرتضیٰ سے شروع ہوتا ہے اور انکے بعد تمام علماء میں مشہور ہو جاتا ہے، محدث نوری ، کراچکی اور شیخ طوسی وغیرہ نے خصوصیت کے ساتھ اس نظریہ کو پیش کیا ہے۔

سید مرتضیٰ کہتے ہیں:

"ہم قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ نہ کوئی امام ؑ کی خدمت میں پہنچتا ہے اور نہ کوئی ان سے ملاقات کرسکتا ہے۔(۱۲۲) "

نیز لکھتے ہیں: "ہم قطعا نہیں کہہ سکتے کہ امام ؑ اپنے بعض شیعہ و اولیاء کے لئے ظاہر نہ ہوتے ہوں، بلکہ یہ ایک جائز منطقی امر ہے(۱۲۳) "

شیخ طوسی رقمطراز ہیں:

"ہم قطعا نہیں کہہ سکتے کہ امام ؑ اپنے تمام اولیاء سے پوشیدہ ہوں بلکہ اکثر اولیاء کے لئے ظاہر ہونا ایک جائز امر ہے۔(۱۲۴) "

دلائل عدم ارتباط پر تنقیدی نظر:

پہلی دلیل پر نقد:

بعض حضرات نے زمانہ غیبت میں حضرت امام زمانہ (عج) سے عدم امکان ارتباط پر استدلال کرتے ہوئے حضرت صاحب العصر والزمان کی علی بن محمد سمری کے نام جس توقیع مبارک سے تمسک کیا ہے، اس میں مندرجہ ذیل نکات قابل ملاحظہ ہیں:

۱ ۔ کسی نے روایات کے اس اطلاق کو قبول نہیں کیا ہے اسی لئے بہت سے علماء و صلحا نے اپنے شرف ملاقات کے واقعات کو نقل کیا ہے۔

۲ ۔ توقیع شریف میں مشاہدہ کے دعویٰ کی تکذیب کی گئی ہے اور مشاہدہ شناخت کے ساتھ دیکھنے کو کہا جاتا ہے(۱۲۵) ۔ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اکثر دیدار ابتدائی طور پر شناخت کے ساتھ واقع نہیں ہوتا ہے۔

۳ ۔ ممکن ہے کہ توقیع شریف میں مشاہدہ کا دعویٰ کرنے والی کی تکذیب کرنے سے مراد یہ ہو کہ اگرکوئی شخص اس دعویٰ کے ذریعہ اپنی نیابت خاص کا دعویٰ کرنا چاہے تو اس کی تکذیب کردی جائے کیونکہ عصر غیبت میں امام ؑ نے خصوصیت کے ساتھ نیابت خاص کی نفی فرمائی ہے کیونکہ توقیع شریف میں یہ فقرہ موجود ہے: "شیعوں میں سے ایسے ہوں گے جو مشاہدہ کا دعویٰ کریں گے "

۴ ۔ شیخ طوسی نے اس توقیع شریف کو نقل کرنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا اور امت کے صالح افراد کے لئے امکان رؤیت کا نظریہ پیش کیا ہے۔

۵ ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ توقیع میں مشاہدہ سے مراد، اختیاری مشاہدہ ہو؛ یعنی غیبت کبریٰ میں رؤیت و دیدار خود ہمارے اختیار میں نہیں ہے بلکہ وہ جسے چاہیں گے اس شرف سے نوازیں گے۔

الحاصل یہ توقیع شریف دیدار و مشاہدہ کی نفی نہیں کر رہی ہے بلکہ جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ صیحہ ء آسمانی و خروج سفیانی سے قبل یہ امر ظاہر نہیں ہوگا، نہ یہ کہ امکان رؤیت بھی نہ ہوگا۔ اسی لئے فرمایا ہے: "جو شخص ان دو علامات کے ظاہر ہونے سے پہلے مشاہدہ کا دعویٰ کرے تو وہ شخص جھوٹا ہے۔" یعنی ظہور کے مشاہدہ کا دعویٰ کرے۔

حضرت امام جعفر صادق ؑ نے مفضل سے فرمایا:

"لا تراه عینٌ ظهوره الّا رأته کلُّ عین، ‏فمن قال لکم غیر هذا فکذبوه (۱۲۶) ؛ بوقت ظہور کوئی ایک آنکھ انھیں نہیں دیکھے گی بلکہ تمام آنکھیں انھیں دیکھیں گی۔ پس اگر اس سے سواکوئی شخص تم سے کچھ کہے تو اس کی تکذیب کر دو۔"

پس بنا بر اس کے یہ توقیع شریف امکان رؤیت کی نفی نہیں کر رہی ہے۔ علاوہ بریں دلیل قطعی بھی امکان رؤیت پر دلالت کر رہی ہے اور وہ دلیل قطعی تواتر اجمالی ہے یعنی تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ کثیر التعداد صالح و نیک افراد نے انکی زیارت و دیدار کا واقعہ نقل کیا ہے لہذا انکا یہ دعویٰ قطع و یقین کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انکا دعویٰ حدیث کی مانند ہے کیونکہ ان میں اکثر اہل تقویٰ و ورع اور صاحبان وثاقت و اطمینان ہیں جو راویان حدیث سے کم نہیں، پس انکی یہ اخبار بھی حدیث ہی ہیں جو اُس حدیث کے معارض ہیں۔

پس اگر مفاد حدیث یہی نہ ہو جو بیان کیا گیا ہے اور رؤیت کی نفی کو تسلیم کیا جائے تو پھر نفی رؤیت سے مراد وہی معنی ہوں گے جو ہم نے بیان کئے ہیں۔(۱۲۷)

دوسری اور تیسری دلیل پرنقد:

بعض حضرات نے غیبت کے زمانہ میں حضرت صاحب الزمان کے عدم امکان رؤیت پر مخصوص روایات سے تمسک کرکے استدلال قائم کیا ہے، ان کے جواب میں ہم کہیں گے:

۱ ۔ ان روایات میں عام لوگوں کے لئے دیدار کی نفی کی گئی ہے اور یہ بعض صاحبان معرفت اور ممتاز شخصیات کے لئے دیدار کے منافی نہیں ہے۔

۲ ۔ دوسری روایت خاص موسم حج میں عدم رؤیت کے بارے میں وارد ہوئی ہے۔ لہذا دوسرے مواقع کو شامل نہیں کرسکتی۔

۳ ۔ پہلی روایت میں موجود قرینہ "لا یعرفونه " کی بنا پر دوسری روایت میں عدم رؤیت سے مراد، عدم شناخت ہے۔ خصوصاً یہ کہ روایت میں حضرت مہدی (عج) کو حضرت یوسف ؑ سے تشبیہ دی گئی ہے کہ لوگ انھیں دیکھتے تھے لیکن پہچانتے نہیں تھے۔

چوتھی دلیل پر نقد

بعض حضرات کا کہنا ہے کہ کیونکہ عصر غیبت میں عدم رؤیت کے ذریعے شیعوں کا امتحان لیا جائے گا لہذا یہ امر ملاقات کے دعوے کے منافی ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ امتحان شیعہ معاشرے کے عام افراد (عوام) کے لحاظ سے ہے لہذا یہ بات خاص مصالح کی بنا پر بعض بزرگ اور صاحبان تقویٰ سے ملاقات کے منافی نہیں ہے۔

۲ ۔ کیا عصر غیبت میں ملاقات، حکمتِ غیبت کے منافی نہیں ہے؟

بعض حضرات کا یہ خیال ہے کہ عصر غیبت میں ملاقات، حکمت غیبت کے برخلاف ہے کیونکہ غیبت کا مقصد یہ ہے کہ حضرت، تمام لوگوں سے غائب رہیں اور کسی کو انکے بارے میں اطلاع نہیں ہونی چاہیے۔

جواب: حکمت و مقتضی غیبت تمام افراد کے لئے؛ یعنی تمام افراد حضرت کی خدمت میں نہیں پہنچ سکتے اور اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ بعض افراد بھی خاص مصالح و مقاصد کے تحت انکی خدمت میں نہیں پہنچ سکتے۔

۳ ۔ غیبت کبریٰ میں امکان رؤیت کی صورت میں اس غیبت اور غیبت صغریٰ میں کیا فرق ہے؟

جواب: غیبت صغریٰ میں امام زمانہ (عج) بطور کامل لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ تھے بلکہ اپنے وکلاء و خاص سفیروں سے رابطہ میں تھے اور یہ سفراء کبھی کبھی آنجناب سے بعض افراد کی ملاقات کا لائحہ عمل ترتیب دیتے تھے(۱۲۸) ۔ لیکن غیبت کبریٰ میں ملاقات کے اس انداز سے سلسلہ کا خاتمہ ہوچکا ہے بلکہ بوقت ضرورت حضرت خود بعض افراد کے دیدار کے لئے تشریف لاتے ہیں اور لوگ اس طرح انکے وجود سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔

۴ ۔ کیا عصر غیبت میں امکان ملاقات کو قبول کرنے کی وجہ سے جھوٹے اور فریب کاروں کو فروغ نہ ملے گا؟

جواب: اگر دلیل قطعی کی بنا پر کوئی موضوع ثابت شدہ ہو تو پیش آنے والی بعض مشکلات کی وجہ سے مسلم الثبوت حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ اس موقع پر لوگوں کی ہدایت کرنا اور انھیں حیلہ گر اور فریب کاروں سے ہوشیار کرنا علمائے کرام کی ذمہ داری ہے۔ کیا نبوت کا جھوٹا دعوے کرنے والے بعض لوگوں کی وجہ سے خود نبوت کا انکار کیا جاسکتا ہے؟

۵ ۔ کیا قاعدہ سدّ ذرائع کی بنیاد پر حضرت سے ملاقات کے دعوے کو جھوٹ قرار دیا جاسکتا ہے؟

اہل سنت کے عقیدے کے مطابق مقدمۂ حرام ، بطور مطلق حرام ہے۔ یعنی ہر وہ چیز جو حرام کا سبب بنتی ہے، حرام ہے۔ لہذا انکے مطابق حرام کا سبب بننے والی تمام راہوں کو مسدود کردینا چاہیے۔

جواب: یہ بات اپنے مقام پر ثابت کی جا چکی ہے کہ ہمیشہ حرام کا مقدمہ، حرام نہیں ہوا کرتا بلکہ اس شخص کے لئے اور اس موقع پر حرام ہے جبکہ وہ قطعی و حتمی طور پر حرام کا سبب قرار پائے۔

اگر دعوائے ملاقات کسی کے انحراف کا سبب قرار پائے تو اس کا نقل کرنا حرام ہے لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہے بلکہ انکے نقل کرنے سے حضرت پر لوگوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض ہوا و ہوس کے شکار اس سے سوءِ استفادہ کریں لیکن یہاں علماء کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو انکے مکر و فریب سے آگاہ کریں اور دین کا تحفظ کریں۔

خلاصہ کلام و نتیجہ گیری:

ان دونوں نظریات کی جانچ پڑتا اور عدم امکان ارتباط کے دلائل پر غور وفکر کرنے کے بعد یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے:

۱. عصرغیبت میں رؤیت و دیدار امکان پذیر ہے؛

۲. حضرت کی توقیع شریف، صیحۂ آسمانی و خروج سفیانی سے قبل مشاہدہ عدم ظہور پر دلالت کر رہی ہے، نہ مشاہدۂ رویت پر؛

۳. روایات حضرت کی عدم شناخت پر دلالت کر رہی ہیں، نہ عدم دیدار پر؛

۴. مشاہدہ و رؤیت نیابت خاص کے عنوان سے ممنوع ہے اور اس کے مدعی کی تکذیب کی جائے گی؛

۵. عصر غیبت میں ملاقات ہمارے دست اختیار میں نہیں ہے بلکہ یہ آنجناب کی جانب سے ہے؛

۶. توسل کے ذریعے بھی آنجناب سے ارتباط قائم کیا جاسکتا ہے، کیونکہ توسل بھی ارتباط کی ایک قسم ہے؛

۷. کثیر التعداد علماء کو حضرت کی ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔

تتمہ:

ذیل میں اس کتاب و رسالہ سے حاصل شدہ نتائج کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے:

۱ ۔ غیبت امام عصر کا موضو ع خود پیغمبر گرامی قدر نے پیش کیا پھر ائمہ ہدی علیہم السلام اور رسول خدا کے بزرگ صحابہ نے پیش کیا تھا۔

۲ ۔ غیبت، ظہور کے مقابلے میں ہے جس کے معنی آنکھوں سے پوشیدہ ہونا ہے، اس کے معنی عدم حضور نہیں ہیں اور یہی معنی احادیث شریفہ اور لغت سے بھی ہم آہنگ ہیں۔

۳ ۔ اسلام میں آنجناب کے وجود غیبت پر ایمان خاص اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن کریم نے غیبت پر ایمان کو صفت متقین میں شمار کیا ہے۔

۴ ۔ شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق حضرت کی ولادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھ میں واقع ہوئی ہے اور آج تک آنجناب بحکم خدا زندہ اور پردۂ غیبت میں موجود ہیں۔

جبکہ اس سلسلہ میں اہل سنت کے بیانات مختلف ہیں بعض حضرات بالکل شیعوں کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ آپ پیدا ہوچکے ہیں اور ابھی تک غیبت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اہل سنت کی اکثریت کا کہنا ہے کہ آپؑ آخر الزمان میں پیدا ہوں گے۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ پیدا تو ہوئے تھے لیکن دنیا سے جاچکے ہیں۔ جبکہ نہایت قلیل تعداد نے انکا بالکل انکار کر دیا ہے۔

۵ ۔ آیات و روایات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ مسئلہ غیبت صرف انہی کے لئے پیش نہیں آیا ہے بلکہ ان سے قبل بعض انبیاء و اولیاء نے بھی غیبت اختیار کی تھی۔ لہذا اصل غیبت امکان پذیر ہے۔

۶ ۔ آیات و روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کوئی زمانہ حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتا، ہر دور میں زمین پر ایک نہ ایک حجت خدا باقی رہتا ہے، بنابر اس کے عصر حاضر بھی حتل خدا سے خالی نہیں ہوسکتا۔

۷ ۔ حضرت کی غیبت بغیر علت و حکمت نہیں ہے۔ اس کی اصل علت و حکمت وہی ارادہ و مشیت الٰہی ہے، اگر چہ روایات میں بعض علل و آثار ضرور بیان کئے گئے ہیں۔

۸ ۔ آنجناب کی غیبت پر ایمان رکھنے والے اوراس ایمان سے عاری شخص کا عمل یکساں نہیں ہوتا۔ آنجناب کی غیبت پر ایمان انسان کی رفتار میں بہت زیادہ اثر انداز ہے۔

۹ ۔ آنجناب کے وجود کا فائدہ تمام زندہ وغیر زندہ موجودات عالم کے لئے میسر ہے کیونکہ حضرت واسطۂ فیض الٰہی ہیں۔ البتہ شیعوں کے لئے ان کے علاوہ بھی دیگر فوائد موجود ہیں۔

۱۰ ۔ فریقین کی روایات اور اقوال علماء کی روشنی میں مہدی آخر الزمان، وہی حضرت حجۃ بن الحسن العسکری ؑ ہی ہیں۔

۱۱ ۔ عصر غیبت میں رؤیت و دیدار ممکن ہے البتہ جس چیز کی توقیع شریف میں نفی کی گئی ہے وہ صیحہ آسمانی و خروج سفیانی سے قبل مشاہدہ ظہور یا نیابت خاص کا دعویٰ ہے۔

خدایا ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھ حقیر نے تیری توفیقات اور اہل بیت علیہم السلام سے استمداد کے ذریعے اس ناچیز اثر کو مکمل کیا ہے تو اسے اپنی بارگاہ اقدس میں درجہ قبولیت اور خوشنودی محمد و آل ؑ محمدؐ عطا فرما اور اسے میرے لئے اور میرے شفیق والدین و شریک حیات کے لئے ذریعہ نجات قرار دے۔بحقِ زهرا و ابیها و بعلها و بنیها ۔

ضمیمہ:غیبت امام ؑ میں شیعوں کی ذمہ داریاں

یوسف دوراں حضرت امام زمانہ (عج) کے عصر غیبت میں منتظرین امام زمانہ (عج) اور شیعوں کی اہم ترین ذمہ داریاں اور فرائض کو جنہیں مختلف احادیث سے جمع کیا گیا ہے۔ مرحوم حاج میرزا محمد تقی موسوی اصفہانی رحمۃ اللہ کی عظیم الشان کتاب "مکیال المکارم" سے نقل کر رہے ہیں ۔ خداوند متعال سے اُمید ہے کہ وہ امام عصر (عج) کی نسبت ان کے دوستوں اور چاہنے والوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمائے نیز ہم سب کی مدد فرمائے اور امام کے حقیقی منتظرین اور شیعوں میں سے قرار دے۔

۱ ۔ امام (عج) کی شناخت: اس میں امام (ع) کی صفات، انداز ، خصوصیات اور ظہور کی حتمی نشانیوں اور علامتوں کی شناخت شامل ہے۔

۲ ۔ جب اُنہیں اُن کے بابرکت نام سے یاد کیا جائے تو اُن کی نسبت ادب کا لحاظ رکھنا۔

۳ ۔ آنحضرت سے خاص محبت کرنا۔

۴ ۔ لوگوں میں سب سے زیادہ امام زمانہ (عج) کو پسند کرنا۔

۵ ۔ اُس عظیم ہستی کے ظہور اور فرج کے لیے انتظار کی گھڑیاں کاٹنا۔

۶ ۔ آنحضرت کے رُخ زیبا کی زیارت کے لیے شوق و دلچسپی کا اظہار کرنا۔

۷ ۔ امام زمانہ (عج) کے فضائل اور مناقب کا ذکر کرنا۔

۸ ۔ امام عصر (عج) کی جدائی اور دوری کی وجہ سے غمگین اور پریشان رہنا۔

۹ ۔ ایسی مجالس میں شرکت کرنا جن میں حضرت (عج) کے فضائل و مناقب بیان ہوں۔

۱۰ ۔ امام زمانہ (عج) کے نام پر مجالس کا انعقاد کرنا۔

۱۱ و ۱۲ ۔ اُن کے فضائل و مناقب میں شعر پڑھنا ۔

۱۳ ۔ اُن کے بابرکت نام یا القاب کو لیتے وقت کھڑے ہونا۔

۱۴ و ۱۵ و ۱۶ ۔ امام زمانہ (عج) کی دوری میں رونا ، رلانا اور خود کو رونے پر مجبورکرنا۔

۱۷ ۔ خداوند عزوجل کی بارگاہ میں امام عصر (عج) کی معرفت و شناخت کے لیے دعا کرنا۔

۱۸ ۔ حضرت حجت (عج) کی شناخت کی توفیق کے لیے مسلسل یہ دعا پڑھنا:

"اَللّٰهُمَّ عَرِّفنی نَفسَک فَاِنَّکَ اِنۡ لَمۡ تُعَرِّفۡنی نَفسَک لَمۡ اَعۡرِف نَبِیَّکَ، اَللّٰهُمَّ عَرِّفنی رَسُولَکَ، فَاِنَّکَ اِنۡ لَمۡ تُعَرِّفنی رَسولَکَ لَم اَعۡرِف حُجَّتَک، اَللّٰهُمَّ عَرِّفنی حُجَّتَکَ فَاِنَّکَ اِنۡ لَمۡ تُعَرِّفۡنی حُجَّتَکَ ضَلَلۡتُ عَنۡ دینی "

"بار الٰہا! تو خود مجھے اپنی پہچان کرادے اگر تو خود کو نہ پہچنوائے گا تو میں تیرے پیغمبر کو نہیں پہچان پاؤں گا، پروردگارا! تو مجھے اپنے رسول کی پہچان کرادے اگر تو نےمجھے اپنے رسول کی پہچان نہ کروائی، تو میں تیرے ولی اور حجت کو پہچان نہ پاؤں گا، پروردگارا! تو مجھے اپنی حجت کی پہچان کرادے اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی پہچان نہ کروائی، تو میں اپنے دین سے گمراہ ہوجاؤں گا۔"

۱۹ ۔ مندرجہ ذیل دعائے غریق کو مستقل پڑھنا:

"یا اَللهُ یا رَحمانُ یارَحیمُ یا مُقَلِّبَ القُلُوبُ ثَبِّت قَلبی عَلی دینِک "

" اے میرے اللہ! اے سب پر رحم کرنے والے! اے مسلسل مہربانی سے پیش آنے والے! اے دلوں کو پلٹانے والے! مجھے اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔"

۲۰ ۔ زمانہ غیبت حضرت ولی عصر (عج) میں مستقل دعا کرنا خاص طور پر یہ دعا پڑھنا جو مرحوم ابن طاووس سے نقل ہوئی ہے:

"اَللّهُمَّ اَنتَ عَرَّفتَنی نَفسَک وَ عَرَّفتَنی رَسُولَکَ وَ عَرَّفتَنی مَلائِکتَک وَ عَرَّفتَنی وُلاةَ اَمرِک، اَللّهُمَّ لا آخُذُ اِلّا ما اَعطَیتَ وَ لا اَقی اِلّا ما وَقَیتَ اَللّهُمَّ لا تُغَیَّبَنی عَن مَنازِلَ اُولِیائِک وَ لا تُزِغ قَلبی بَعدِ اِذ هَدَیتَنی اَللَّهُمَّ اهدِنی لِوِلایَةِ مَن اِفتَرَضتَ طاعَتَه ۔۔۔ "

"اے اللہ ! تو نے مجھے اپنی اور اپنے رسول ، فرشتوں اور اپنے اُمور کے صاحبان امر کی پہچان کرادی۔

اے اللہ! میں تیری عطا کے علاوہ کچھ اور نہ لوں اور تیرے علاوہ کوئی میرا خیال رکھنے والا نہیں۔

اے اللہ !مجھے اپنے اولیاؤں کے آستانے سے دور نہ کر اور میرے دل میں ہدایت کے نور کو گمراہی سے گل نہ کر۔

اے اللہ! جس کی اطاعت مجھ پر واجب کی ہے مجھے اُس کی ولایت کی طرف ہدایت کر ۔"

۲۱ ۔ آنحضرت ؑ کے ظہور کی علامات کی پہچان۔

۲۲ ۔ غیبت و ظہور کے مسئلہ میں امر الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور ہر طرح کی جلد بازی اور اضطراب سے پرہیز کرنا۔

۲۳ ۔ امام زمانہ (عج) کی نیابت میں صدقہ دینا۔

۲۴ ۔ امام زمانہ (عج) کی سلامتی کے لیے صدقہ دینا۔

۲۵ و ۲۶ ۔ امام زمانہ (عج) کی نیابت میں حج کرنا اور دوسرے افراد کو امامؑ کی نیابت میں حج کے لیے بھیجنا۔

۲۷ و ۲۸ ۔ امام عصر (عج) کی نیابت میں خانہ کعبہ کا طواف کرنا اور اُن کی طرف سے کسی نائب کو طواف کے لیے بھیجنا۔

۲۹ ۔ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی زیارات سے شرفیاب ہونا۔

۳۰ ۔ امام زمانہ (عج) کی نیابت میں دوسرے افراد کو اِن مقامات کی زیارت کے لیے بھیجنا۔

۳۱ ۔ آنحضرت ؑ کی خدمت کرنے کے لیے کوشش کرنا۔

۳۲ ۔ جتنا بھی ممکن ہو امام زمانہ (عج) کی مدد کے لیے کوشش کریں اور اُس کا اہتمام کریں۔

۳۳ ۔ آنحضرت ؑ کے حضور اور ظہور کے وقت اُن کی مدد کرنے کا پختہ ارادہ کرنا۔

۳۴ ۔ ہر روز کے واجبات اور جمعہ کی خاص دعاؤں کے ذریعے آنحضرت سے تجدید بیعت کرنا۔

۳۵ ۔ اپنے مال کو ایسی راہ میں خرچ کرنا جس سے امام زمانہ (عج) راضی ہوں۔

۳۶ ۔ امام زمانہ (عج) کے دوستوں اور شیعوں سے رابطہ رکھنا اور اُن کی مالی مدد کرنا۔

۳۷ ۔ امام زمانہ (عج) کے دوستوں، شیعوں اور مومنین کو خوش کرنا۔

۳۸ ۔ خداوند متعال سے آنحضرت ؑ کے لیے طلب خیر کرنا۔

۳۹ ۔ کسی بھی جگہ کسی بھی وقت امام زمانہ (عج) کو سلام کرنا اور اُن کی زیارت کرنا۔

۴۰ ۔ آنحضرت ؑ کے خالص و صالح شیعوں اور مومنین سے ملاقات کرنا ، امام ؑ کی زیارت کےقصد سے اُنہیں سلام کرنا۔

۴۱ ۔ امام ؑ پر درود و سلام بھیجنا۔

۴۲ ۔ نماز کے ثواب کو امام ؑ کے لیے ہدیہ کرنا۔

۴۳ ۔ ائمہ معصومین علیہم السلام اور امام زمانہ (عج) کی خاص نماز ان کے لیے ہدیہ کرنا۔

۴۴ ۔ مخصوص اور معین وقت پر امام زمانہ (عج) کے لیے نماز ہدیہ کرنا۔

۴۵ ۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور اُس کا ثواب امام زمانہ (عج) کو ہدیہ کرنا۔

۴۶ ۔ آنحضرتؑ کے ذریعے خداوند متعال سے توسل اور شفاعت طلب کرنا۔

۴۷ ۔ امام ؑ کے سامنے اپنی ضرورتوں اور حاجات کو پیش کرنا۔

۴۸ ۔ لوگوں کی امام (عج) کی طرف رہنمائی کرنا۔

۴۹ ۔ امام عصر (عج) کےحقوق کی رعایت اور پابندی کرنا اور اپنے وظائف کو انجام دینا ۔

۵۰ ۔ اُس عظیم ہستی کو یاد کرتے وقت دل کا خاشع ہونا۔

۵۱ ۔ بدعتوں کے ظاہر ہونے پر عقلمندی سے کام لینا۔

۵۲ ۔ دشمنوں کے سامنے تقیہ کرنا اور اُن سے رازوں کو پوشیدہ رکھنا۔

۵۳ ۔ دوسروں کے جھٹلانے اور مشکلات میں صبر و تحمل سے کام لینا۔

۵۴ ۔ غیبت امام زمانہ (عج) میں خداوند متعال سے صبر کی درخواست کرنا۔

۵۵ ۔ اُن کی غیبت میں ساتھیوں اور ایک دوسروں کو صبر کی تلقین کرنا۔

۵۶ ۔ ایسی مجالس اور پروگرام میں شرکت نہ کرنا جہاں امام عصر (عج) کے نام کا مذاق اُڑایا جائے۔

۵۷ ۔ ظالم اور باطل افراد کے ساتھ گزارا کرنا اور احتیاط سے پیش آنا۔

۵۸ ۔ گمنام رہنا اور شہرت سے دوری اختیار کرنا۔

۵۹ ۔ تہذیب نفس، خود سازی اور بری صفات کو دور کرنا۔

۶۰ ۔ امام زمانہ (عج) کی نصرت کے لیے متحدو یکجا ہونا۔

۶۱ ۔ سچی توبہ کرنا اور دوسروں کے حقوق اُن کو واپس کرنا۔

۶۲ ۔ ہمیشہ امام زمانہ (عج) کی یاد میں رہنا۔

۶۳ ۔ آنحضرت ؑ کے آداب کا ہمیشہ لحاظ رکھنا۔

۶۴ ۔ ہر وقت خداوند متعال سے امام زمانہ (عج) کی نصرت کے لیے درخواست کرنا اور اُنہیں فراموش نہ کرنا۔

۶۵ ۔ امام عصر (عج) کی یاد کے وقت خشوع و خضوع کا خیال رکھنا۔

۶۶ ۔ امام زمانہ (عج) کی چاہت کو اپنی چاہت پر مقدم رکھنا۔

۶۷ ۔ آنحضرت ؑ کے قریبی اور اُن سے نسبت رکھنے والوں کا احترام کرنا۔

۶۸ ۔ آنحضرت سے منسوب مقامات کا احترام کرنا جیسے: قم میں مسجد مقدس جمکران، کوفہ میں مسجد سہلہ، شہر سامر ا میں سرداب مقدس صاحب الزمان اور مسجد کوفہ وغیرہ کہ یہ جگہیں آنحضرت کے قدم ہائے مبارک سے مزین ہیں۔

۶۹ و ۷۰ ۔ ظہور کا وقت معین نہ کرنا اور وقت معین کرنے والے کو جھٹلانا۔

۷۱ ۔ غیبت کبریٰ میں امام ؑ کے خاص نائب ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو جھٹلانا۔

۷۲ ۔ ایمان و سلامتی کے ساتھ آنحضرت ؑکی زیارت کی درخواست کرنا ۔

۷۳ ۔ آنحضرت کے اعمال و اخلاق کی پیروی و اطاعت کرنا۔

۷۴ ۔ زبان کو خدا کے علاوہ کسی اور کی یاد سے محفوظ رکھنا اور با فضیلت خاموشی اختیار کرنا۔

۷۵ ۔ نماز حجت(ع) کو بجا لانا۔

۷۶ ۔ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر رونا۔

۷۷ ۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنا۔

۷۸ ۔ بنی امیہ پر ظاہری اور باطنی طور پر لعنت بھیجنا۔

۷۹ ۔ امام زمانہ (عج) کی نصرت کے سلسلے میں دینی بھائیوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوشش و اہتمام کرنا۔

۸۰ ۔ آنحضرت ؑ کی نصرت کی نیت سے ظہور کے انتظار میں اسلحہ اور گھوڑے کو فراہم کرنا۔

____________________

۱۔ بحارالانوار، ج ۳۳، ص ۲۵۶۔

۲۔ سورہ تغابن(۶۴) آیت: ۷۔

۳۔ بحار الانوار، ج ۳۳، ص ۲۵۷۔

۴۔ جیمز ڈارمسٹیٹر، مہدی از صدر اسلام تا قرن سیزدہم ہجری، ص ۱۳- ۱۸، ۲۱- ۲۵ و ۷۸۔

۵۔ فین فلوٹن، تاریخ شیعہ و علل سقوط بنی امیہ، ص ۱۶۳۔

۶۔ ایگناز گلدزیہر، العقیدہ و الشریعۃ فی الاسلام، ص ۲۱۷- ۲۱۸۔

۷۔ ڈوایٹ دونالڈسن، عقیدہ الشیعہ، ص ۲۳۱۔

۸۔ احمد کسروی، شیعی گری، ص ۳۰۔

۹۔ احمد امین مصری، ضحی الاسلام، ج ۳، ص ۲۴۳- ۲۴۴۔

۱۰۔ سعد محمد حسن، المہدیہ فی الاسلام، ص ۴۳ - ۴۴۔

۱۱۔ عبد ابن زید آل محمود، لامہدی ینتظر بعد الرسول خیر البشر، ص ۳۱، ۵۸ و ۸۵۔

۱۲۔ ویل ڈورینٹ، لذات فلسفہ، ص ۳۵۹۔

۱۳۔ ازدیدگاہ چرخ فلک، نشریہ پیام یونیسکو، ش ۲۴۱، ص ۲۳ - ۲۸۔

۱۴۔ ڈاکٹر الکسین کارل، راہ و رسم زندگی، ص ۴۴۔

۱۵۔ متقی ہندی، البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان، ج ۲، ص ۵۳۲۔

۱۶۔ کمال الدین، ج ۲، باب ۴۳، ح ۱۹؛ بحار الانوار، ج۵۲، ص ۳۵۔

۱۷۔ جیمز ڈار مسٹیٹر، مہدی از صدر اسلام تا قرن سیزدہم ہجری، ص ۵ - ۷۔

۱۸۔ العقیدہ والشریعۃ فی الاسلام، ص ۲۱۵ و ۲۱۸۔

۱۹۔ بحار الانوار، ج۵۱، ص ۷۸۔

۲۰۔ سید رحمت اللہ موسوی، منجی حقیقی ، ص ۷۸۔

۲۱۔ امام بخاری، التاریخ الکبیر، ج ۶، ص ۴۴۔

۲۲۔ اصول مذہب الشیعہ، ج ۲، ص ۸۳۲۔

۲۳۔ سورہ یونس(۱۰) آیت ۳۶ و سورہ نجم (۵۳) آیت: ۲۸۔

۲۴۔ مہدی از صدر اسلام تا قرن سیزدہم ہجری، ص ۹۔

۲۵۔ لوٹروپ اسٹودار، حاضر العالم الاسلامی، ج ۱، ص ۲۹۳۔

۲۶۔ Encyclopedia Americana, Volume ۱۸, Page: ۱۱۷

۲۷۔سورہ نحل(۱۶) آیت: ۴۴۔

۲۸۔ سورہ احزاب(۳۳) آیت:۲۱۔

۲۹۔ سورہ نجم(۵۳) آیت: ۳ - ۴۔

۳۰۔ سورہ نور(۲۴) آیت: ۵۴۔

۳۱۔ سورہ حشر(۵۹) آیت: ۷۔

۳۲۔ المہدی والمہدویہ، ص ۴۱، ضحی الاسلام، ج ۳، ص ۲۷۷۔

۳۳۔ الامام الصادقؑ، ص ۲۳۸وص ۲۳۹۔

۳۴۔ سعد محمد حسن، المہدیہ فی الاسلام، ص ۶۹۔

۳۵۔ تراثناو موازین النقد، ص ۱۸۵ - ۱۸۷۔

۳۶۔ تفسیر المنار، ج ۹، ص ۴۹۹۔

۳۷۔ لامہدی ینتظر بعد الرسولؐ، ص ۶۔

۳۸۔ المہدی المنتظر فی الاحادیث الصحیحۃ۔

۳۹۔ مقدمہ ابن صلاح، ص ۲۱ و ۲۲۔

۴۰۔ المہدی المنتظر فی الاحادیث الصحیحۃ۔

۴۱۔ مستدرک حاکم، ج ۱، ص ۲۔

۴۲۔ زاد المعاد۔

۴۳۔ صحیح مسلم، ج ۱، ص ۲۴۔

۴۴۔ صحیح بخاری، ج ۴، ص ۱۴۳۔

۴۵۔ صحیح مسلم، باب نزول عیسیٰ۔

۴۶۔ صحیح مسلم، ج ۸، ص ۱۸۵۔

۴۷۔ ابن ابی شیبہ، المصنف، ج ۸، ص ۶۷۸۔

۴۸۔ صحیح مسلم، ج ۸، ص ۱۶۷۔

۴۹۔ مستدرک حاکم، ج ۴، ص ۵۲۰۔

۵۰۔ سعد محمدحسن، المہدیہ فی الاسلام، ص ۶۹، مقدمہ ابن خلدون، ص ۱۹۹۔

۵۱۔ المہدیہ فی الاسلام، ص ۶۹۔

۵۲۔ مقدمہ ابن خلدون، ص ۳۱۱۔

۵۳۔ احمد بن حجر عسقلانی، نزہۃ النظر، ص ۱۲۔

۵۴۔ ابراہیم امینی، دادگسترجہان، ص ۲۱۔(اس کتاب کا اردو زبان میں بھی "آفتاب عدالت" کے نام سے ترجمہ ہو چکا ہے۔

۵۵۔ المہدی المنتظر فی الاحادیث الصحیحہ۔

۵۶۔ عقیدہ اہل السنۃ والاثر فی المہدی المنتظر، ص ۱۲۸۔

۵۷۔ابن حجر عسقلانی، لسان المیزان، ج ۱، ص ۲۵۔

۵۸۔ ایضاً، ص ۱۵۔

۵۹۔ المہدی المنتظر فی الاحادیث الصحیحہ، ص ۳۶۴ - ۳۶۵۔

۶۰۔ المنار، ص ۴۹۹ - ۵۰۱۔

۶۱۔ سنن ابن ماجہ، ج ۲، ص ۱۳۴۱، ح ۴۰۳۹۔

۶۲۔ التاج لجامع الاصول فی احادیث الرسول، ص ۳۴۱۔

۶۳۔ احمد بن اسماعیل حلوانی، العطر الوردی بشرح القطر الشہدی، ص ۴۵۔

۶۴۔ نعمان بن محمودبن عبد اللہ ابو البرکات آلوسی، غالیت الموعظ، ج ۱، ص ۷۶۔

۶۵۔ یوسف المزی، تہذیب الکمال، ج ۲۵، ص ۱۴۶۔

۶۶۔ محمد شرف الدین الصدیق العظیم آبادی، عون المعبود(شرح سنن ابی داود)، ج ۱۱، کتاب ۳۵، ص ۲۱۳۔

۶۷۔ احمد بن علی بن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج ۹، ص ۱۲۱، رقم ۶۰۹۹۔

۶۸۔ابن قیم جوزیہ حنبلی دمشقی، المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف، فصل پنجم، ص ۱۴۱ و۱۴۲۔

۶۹۔ عظیم آبادی، عون المعبود(شرح سنن ابی داود)، ج ۱۱، کتاب ۳۵، ص ۲۱۳۔

۷۰۔ احمد بن حجر ہیثمی المکی، الصواعق المحرقہ، ص ۹۹۔

۷۱۔ احمد بن اسماعیل حلوانی، العطر الوردی، بشرح القطر الشہدی، ص ۴۵۔

۷۲۔ محمد بن یوسف بن محمد النوفلی، القرشی الکجنی شافعی، البیان فی اخبار صاحب الزمان، باب ۱۱، ص ۱۲۵ و ۱۲۶۔

۷۳۔ عظیم آبادی ، عون المعبود(شرح سنن ابن داود)، ج ۱۱، کتاب ۳۵، ص ۲۱۸۔

۷۴۔ ایضاً، ص ۲۱۶۔

۷۵۔ احمد بن حجر عسقلانی، فتح الباری فی شرح البخاری، ج ۱۳، ص ۲۶۴۔

۷۶۔ سلیمان بن اشعث سجستانی، سنن ابی داؤد، ج ۲، ص ۳۰۹، ح ۴۲۸۲۔

۷۷۔ گنجی الشافعی، البیان فی اخبار صاحب الزمان، باب اول فی ذکر خروجہ، ص ۹۴۔

۷۸۔الحافظ ابن عربی، عارضہ الاہوری (شرح صحیح الترمذی)، ج ۹، باب ۴۵، ص ۷۸۔

۷۹۔ منتخب الاثر، ص ۲۹۴ - ۲۹۵۔

۸۰۔ شافعی گنجی، البیان فی اخبار صاحب الزمان، باب الاول، ص ۹۴۔

۸۱۔ منتخب الاثر، ص ۲۹۵ - ۲۹۶۔

۸۲۔ منتخب الاثر، ص ۲۹۴ - ۲۹۵۔

۸۳۔ شیخ سلیمان قندوزی، ینابیع المودۃ، ج ۳، باب ۸۶، ص ۵۳۔

۸۴۔ ابو العباس بن یوسف بن احمد القرمانی الدمشقی، اخبار الدول وآثار الاول، الفصل الحادی عشر، ص ۲۱۲؛ ابن صباغ مالکی، فصول المہمہ فی معرفۃ الائمۃ، ص ۳۱۲؛ عبد الوہاب شعرانی، المواقیت الجواہر، ج ۲، ص ۴۱۱؛ شیخ حسن العدوی الحرازی، مشارق الانوار فی فوز اہل الاعتبار، ص ۱۱۳؛ سبط ابن جوزی، تذکرہ الخواص، فصل فی ذکر الحجۃ، ص ۳۲۵۔

۸۵۔ سلیمان بن اشعث سجستانی، سنن ابی داؤد، ج۴،کتاب المہدی، ح ۴۲۹۰۔

۸۶۔ عظیم آبادی، عون المعوید (شرح سنن ابی داؤد)، ج۱۱، کتاب ۳۵، ص ۲۱۸۔

۸۷۔ابن عربی، الفتوحات المکیہ، ص ۳۶۰۔

۸۸۔ محمد بن الجذری الدمشقی الشافعی، اسمی المناقب فی تہذیب اسنی المطالب، ص ۱۶۵ و ۱۶۸۔

۸۹۔المقدسی الشافعی، عقدر الدرر فی اخبار المنتظر، ص ۴۵۔

۹۰۔الحافظ المنذری الشافعی، مختصر سنن ابن داؤد، ج۶، ص ۱۶۲ و ح ۴۱۲۱۔

۹۱۔ ابن الحجر العسقلانی، تہذیب التہذیب، ج۸، ص ۵۶، ش ۱۰۰۔

۹۲۔ابن خلکان، وفیات الاعیان، ج۳۷، ص ۴۵۹، ش ۵۰۲۔

۹۳۔یوسف مزی، تہذیب الکمال، ج۲۳، ص ۱۰۶۔

۹۴۔شیخ سلیمان بن ابراہیم قندوزی حنفی، ینابیع المودہ، ج۳، باب ۷۷، ص ۵۰۳۔

۹۵۔ابوبکر ابراہیم بن محمد الجوینی الخراسانی، فرائد السمطین، ج۲، باب ۶۱، ص ۵۰۳۔

۹۶۔ابو البرکات آلوسی، غالیت المواعظ، ص ۷۷۔

۹۷۔ابن ابی الحدید معتزلی، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابو الفضل ابراہیم، ج۱، ص ۱۲۸۔

۹۸۔شیخ حسن العدوی الحرازی، مشارق الانوار فی فوز اہل الاعتبار، ص ۱۱۳۔

۹۹۔محمد بن عبد اللہ طبری، ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذی القربیٰ، ص ۲۱۰۔

۱۰۰۔ابن العدوی، ذخیرۃ العجائب و فریدۃ الغرائب، ص ۱۹۷۔

۱۰۱۔عبد الوہاب شعرانی، المواقیت و الجواہر، ج۲، ص ۴۱۱۔

۱۰۲۔شافعی کنجی، البیان فی اخبار صاحب الزمان، باب ۹، ص ۱۲۰۔

۱۰۳۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص ۳۸۱۔

۱۰۴۔شمس الدین ذہبی، میزان الاعتدال، ج، ص ۳۸۲۔

۱۰۵۔ابن حجر عسقلانی، لسان المیزان، جلد ۳، ص ۳۰۰۔

۱۰۶۔علی بن برہان الدین شافعی، سیرۃ الحلبیہ، ج۱، ص ۹۲۔

۱۰۷۔سورہ عنکبوت (۳۹) آیت ۱۴۔

۱۰۸۔تفسیر برہان ذیل آیہ یاد شدہ (بہ نقل از: کمال الدین، ج۲، ص ۵۲۳)۔

۱۰۹۔کمال الدین ج۱، ص ۳۲۲ و ۵۲۴۔

۱۱۰۔سورہ صافات (۳۷)، آیت ۱۴۲ تا ۱۴۴۔

۱۱۱۔کاظم قزوینی، الامام المہدی من المہد الی الظہور، فصل ۱۳؛ مزید تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں: کمال الدین، ج۲، ص ۵۲۳؛ بحار الانوار، ج۵۱، ص ۲۲۵۔

۱۱۲۔شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۲۵۳۔

۱۱۳۔نعمانی، الغیبۃ، ص ۱۶۰۔

۱۱۴۔الوافی، ج۲، ص ۴۱۶۔ ۴۱۴۔

۱۱۵۔حق المبین، ص ۸۷۔

۱۱۶۔شیخ مفید، المسائل العشرۃ فی الغیبۃ، ص ۸۲؛ شیخ مفید، الرسالۃ الاول فی الغیبۃ، ص ۱۲؛ شیخ مفید، مصنفات ، ج۷۔

۱۱۷۔کمال الدین، ص ۵۱۶، توقیع ۴۴۔

۱۱۸۔نعمانی، الغیبۃ، ص ۱۴۔

۱۱۹۔الکافی، ج۱، ص ۳۳۷؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۲۵۱؛ کمال الدین، ص ۴۴۰؛ الوافی، ج۲، ص ۴۱۳۔

۱۲۰۔کمال الدین، ص ۳۰۳؛ فیض کاشانی، نوادر الاخبار، ص ۲۲۷۔

۱۲۱۔سید مرتضیٰ تنزیہ الانبیاء، ص ۱۸۲۔

۱۲۲۔سید مرتضیٰ الشافعی فی الامامۃ۔

۱۲۳۔شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۹۹۔

۱۲۴۔مفردات راغب، ذیل کلمہ۔

۱۲۵۔بحار الانوار، ج۵۳، ص ۶، باب ۲۸۔

۱۲۶۔جواد خراسانی، مہدی منتظر، ص ۹۳۔

۱۲۷۔شیخ طوسی، الغیبۃ، ص ۲۱۶۔


فہرست منابع

قرآن کریم.

نهج البلاغه.

منابع اهل‏سنت

۱. الاتحاف بحب الاشراف، ‏ محمد شبراوی، چاپ قاهره‏.

۲. اثبات الوصیّة، علی بن حسین بن علی المسعودی، انتشارات دارالاضواء، بیروت ۱۴۰۹قمري.

۳. اخبار الدول و آثار الاول، ابوالعباس بن یوسف بن احمد القرمانی الدمشقی، ‏بغداد ‏‏۱۳۸۲قمري.‏

۴. اروا الغلیل (فی تخریج احادیث منار السبیل)، محمد ناصرالدین البانی، انتشارات المکتب الاسلامی، ‏بیروت ۱۹۸۸ميلادي.

۵. اسعاف الراغبین (در حاشیه نور الابصار شبلنجی)، ابن‌صبان شافعی، چاپ مصر و چاپ بیروت. ‏

۶. اسمی المناقب فی تهذیب اسنی المطالب، ‏ محمد بن الجذری الدمشقی الشافعی، تحقیق محمدباقر محمودی، ‏‏۱۴۰۳ قمري.

۷. اشراط الساعة، انتشارات ‏مکتب ابن‌الجوزی، یوسف بن عبدالله الوابل، عربستان سعودی ‏۱۴۰۹ قمري.

۸. البرهان فی علامات المهدی آخرالزمان، علاءالدین بن علی بن حسام‌الدین (متقی هندی)، تحقیق و تعلیق علی‌اکبر غفاری، انتشارات شرک الرضوان، تهران ۱۳۹۹قمري.

۹. البیان فی اخبار صاحب‌الزمان، محمد بن یوسف الشافعی الگنجی، انتشارات ‏مؤسسه الهادی، ‏قم ‏۱۳۹۹قمري.

۱۰. ‏التفسیر الکبیر، امام فخر رازی، انتشارات دارالفکر، ‏بیروت ۱۴۰۵ قمري.

۱۱. التاج لجامع الاصول فی احادیث الرسول، منصور علی ناصف، انتشارات ‏دارالاحیاء التراث العربی، ‏‏مصر. ‏

۱۲. التاریخ الکبری، امام بخاری، انتشارات دار الکتب العلمیه، چاپ بیروت. ‏

۱۳. تحفة الاشراف بمعرفة الطراف، (‏۱۴جلدی)، جمال‌الدین ابی‌یوسف بن عبد‌الرحمن، انتشارات ‏دارالکتب العلمیه، ‏بیروت ۱۹۹۹ميلادي.

۱۴. تذکر الخواص الامة سبط، ابن‌جوزی، انتشارات مؤسسه اهل‌البیت، ‏بیروت ۱۴۰۱قمري.

۱۵. تشریح و محاکمه در تاریخ آل‌محمد، قاضی بهلول بهجت افندی، ترجمه میرزا مهدی ادیب، چاپ سوم: انتشارات ‏چاپ‌خانه توحید، تهران ‏۱۳۷۹شمسي.

۱۶. تفسیر الماوردی، ابی‌الحسن علی بن محمد بن حبیب ماوردی بصری، انتشارات دارالکتب العلمیه، ‏بیروت، ]بی تا[. ‏

۱۷. تفسیر قرطبی (الجامع الاحکام القرآن)، ابی‌عبدالله محمد بن احمد انصاری قرطبی، انتشارات دارالاحیاء التراث العربی، بیروت ‏۱۴۰۵قمري.

۱۸. تفسیر کشاف، امام محمود بن عمر زمخشری، انتشارات دارالکتاب العربی. ‏

۱۹. تهذیب التهذیب،‏ احمد بن علی بن حجر عسقلانی، انتشارات دارالفکر، بیروت ‏۱۴۱۵قمري.

۲۰. تهذیب الکمال، ‏ یوسف المزی، انتشارات دارالفکر، بیروت ‏۱۴۱۴قمري.‏

۲۱. جامع البیان في تفسیر القرآن، (۱۵جلدی)، محمد جریر طبری، انتشارات دارالفکر، بیروت ‏۱۳۲۸ قمري.

۲۲. الجامع الصحیح (سنن ترمذی)، ابی‌عیسی محمد بن سوره، چاپ دهلي، ۱۳۴۲قمري و چاپ بیروت انتشارات دارالاحیاء التراث العربی.

۲۳. حاضر العلم الاسلامی، ‏ عجاج نویهض، تعليقه امیر شکیب ارسلان، (‏۴جلدي)، ‏ انتشارات دارالاحیاء الکتب العربیه، قاهره ‏۱۳۵۲ميلادي‏.

۲۴. الحاوی للفتاوی، جلال‌الدین سیوطی، انتشارات دارالکتب العلمیه، بیروت ‏۱۴۰۳قمري.

۲۵. الدر المنثور، جلال‌الدین سیوطی، انتشارات دارالفکر، ‏بیروت ۱۴۱۴قمري. ‏

۲۶. ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی، محمد بن عبدالله الطبری، چاپ بیروت. ‏

۲۷. روضة الصفا، ‏ محمد بن خاوند شاه بلخی، تهذیب و تلخیص عباس زریاب، چاپ دوم: انتشارات علمي، تهران ۱۳۷۵شمسي.

۲۸. زاد المسیر فی علم التفسیر، ابی‌الفرج بن‌ جوزی، چاپ دوم: انتشارات دارالکتب العلمیه، ‏بیروت ۱۴۲۲قمري.

۲۹. سنن ابن‌ماجه، حافظ ابی‌عبدالله محمد بن یزید قزوینی، انتشارات دارالفکر، ‏بیروت ۱۴۱۵قمري.

۳۰. سنن ابی‌داود، الامام الحافظ ابی‌داود سلیمان بن اشعث السجستانی الازدی، انتشارات دارالاحیاء التراث العربی، بیروت.

۳۱. سیر الحلبیة، علی بن برهان‌الدین شافعی، انتشارات ‏مکتب الاسلامیه، ‏بیروت. ‏

۳۲. سیره ابن‌هشام، ابن‌هشام، انتشارات ‏دارالاحیاء التراث العربي، بیروت ۱۹۸۵ميلادي.

۳۳. شرح صحیح بخاری، ابن‌بطال بن الحسن علی بن خلف بن عبدالملک، چاپ اول: انتشارات مکتبة الرشد، ریاض ‏‏۱۴۲۰قمري.

۳۴. شرح صحیح مسلم، محی‌الدین ابی‌ذکریا یحیی بن شرف النووی الشافعی، چاپ اول: انتشارات دارالقلم، بیروت ۱۴۰۷قمري.

۳۵. شرح مقاصد، سعدالدین تفتازانی، چاپ اول: انتشارات الشریف الرضی، ‏قم.

۳۶. شرح نهج البلاغه، ابن ابی‌الحدید معتزلی، چاپ دوم:‏ انتشارات دارالاحیاء التراث العربی، ‏بیروت ۱۳۸۶قمري.

۳۷. شواهد التنزیل، حاکم جسکانی نیشاپوری، تحقیق محمدباقر حمودی، چاپ اول: انتشارات مؤسسه الاعلمی للمطبوعات، بیروت ‏ ۱۳۹۳قمري.

۳۸. شواهد النبوة، نورالدین عبدالرحمن جامی، مصحح و تعلیقه پروفسور سیدحسن امین، چاپ اول: انتشارات میرکسری، تهران ۱۳۷۹شمسي.

۳۹. شیعی‌گری، احمد کسروی، انتشارات آزادگان، تهران ‏۱۳۲۴شمسي.

۴۰. صحیح ابن‌حبان، چاپ اول: انتشارات دارالکتب العلمیه، ‏بیروت ۱۴۰۷قمري.

۴۱. صحیح بخاری، انتشارات دارالکتب العلمیه، ‏بیروت. ‏

۴۲. صحیح مسلم، مسلم بن حجاج نیشابوری، ‏چاپ مصر انتشارات عبدالباقی و ‏بیروت انتشارات دارالاحیاء التراث العربی. ‏

۴۳. الصواعق المحرقة، ابن‌حجر هیثمی مکی، انتشارات ‏مکتب القاهره، قاهره ۱۳۸۵قمري.‏

۴۴. ضحی الاسلام، احمد امین مصری، انتشارات ‏مکتب النهضة المصریه، ‏قاهره ۱۹۵۳ميلادي. ‏

۴۵. الطبقات الکبری، (۸جلدی)، ابوعبدالله بن سعد بن منیع البصری الزهری، ‏انتشارات دار صادر، بیروت.

۴۶. عارضة الاحوزی (شرح صحیح الترمذی)، الحافظ ابن‌عربی، چاپ اول: انتشارات دارالاحیاء التراث العربی، ‏بیروت ‏‏۱۴۱۵قمري.

۴۷. العطر الوردی بشرح القطر الشهدی، احمد بن اسماعیل حلوانی، انتشارات الامیریه، مصر ‏۱۳۰۸قمري.‏

۴۸. عقد الدرر فی اخبار المنتظر، یوسف بن یحیی بن علی بن عبدالعزیز مقدسی شافعی سلمی، تحقیق عبدالفتاح محمد الحلو، انتشارات ‏مکتبة عالم الفکر، قاهره ‏۱۳۹۹قمري.

۴۹. عون المعبود (شرح سنن ابی‌داود)، محمد شرح‌الدین الصدیقی العظیم‌آبادی، انتشارات ‏دارالاحیاء التراث العربی، بیروت ۱۴۲۱قمري.

۵۰. غالیت المواعظ، نعمان بن محمود بن عبدالله ابوالبرکات آلوسی بیولاق، انتشارات الامیریه، مصر ‏۱۳۰۱قمري. ‏

۵۱. فتح الباری (شرح صحیح البخاری)، (۱۵جلدی)، امام الحافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی، انتشارات دارالکتب العلمیه، بیروت ۱۹۹۷ميلادي.

۵۲. الفتوحات المکیة، ‏ ابن‌العربی، انتشارات دار صادر، ‏بیروت. ‏

۵۳. فرائد السمطین، ابراهیم بن محمد بن مؤید جوینی، بیروت ‏۱۳۹۸قمري. ‏

۵۴. الفرق بین الفرق، عبدالقاهر بن طاهر بن محمد بغدادی، انتشارات ‏دارالمعرفه، بیروت ۱۹۹۴ميلادي.

۵۵. الفصول المهمة، ابن‌صباغ مالکی، انتشارات دارالکتب التجاریه، نجف.

۵۶. فضائل الصحابة، ابوعبدالله احمد بن محمد بن حنبل، چاپ اول:‏ انتشارات مؤسسة الرساله، ‏بیروت ‏۱۴۰۳قمري.‏

۵۷. فیض القدیر (شرح الجامع الصغیر)، (۶جلدی)، محمد عبدالرؤوف منادی، ‏ انتشارات دارالکتب العلمیه، ‏بیروت ۱۹۹۴ميلادي.

۵۸. قاموس الاعلام، خیرالدین زرکلی، بیروت ‏۱۹۸۰ميلادي. ‏

۵۹. الکامل فی التاریخ، ابن‌اثیر، انتشارات دارالکتب العلمیه، بیروت.

۶۰. کفایة الطالب، محمد بن یوسف شافعی گنجی، ترجمه محمد هادی الامینی، چاپ سوم: انتشارات ‏دارالاحیاء لتراث اهل‌البیت، تهران ۱۴۱۴ قمري. ‏، کنز العمال، علاء‌الدین متقی هندی، انتشارات مؤسسة الرساله، بیروت ۱۴۰۹قمري.‏

۶۱. لسان المیزان، ابن‌حجر عسقلانی، ‏چاپ اول: ‏بیروت. ‏

۶۲. اللواقح الانوار فی طبقات الاخیار، عبدالوهاب شعرانی، چاپ مصر. ‏

۶۳. مختصر سنن ابی‌داود، الحافظ المنذری الشافعی، ‏ انتشارات دارالمعرفه، ‏بیروت.

۶۴. المختصر فی اخبار البشر، ‏ ابوالفداء عمادالدین، انتشارات دارالکتب اللبنانی، بیروت ‏۱۴۷۵قمري.‏

۶۵. مروج الذهب، علی بن حسین مسعودی، انتشارات دار احیاء التراث العربی،‏ بیروت.

۶۶. المستدرک علی الصحیحین، امام حافظ ابی‌عبدالله الحاکم نیشابوری، انتشارات دارالمعرف، ‏بیروت.

۶۷. مسند ابی‌داود الطیالسی، (تک جلدی)، سلیمان بن داود بن الجارود الفارسی البصری، انتشارات دارالمعرفه، بیروت.

۶۸. مسند، (۶جلدی)، الامام احمد بن حنبل، انتشارات دارالفکر، بیروت.

۶۹. مشارق الانوار فی فوز اهل الاعتبار،‏ شیخ حسن العدوی الحرازی، انتشارات العثمانیه، مصر ‏۱۳۰۷قمري.

۷۰. المصنف، ‏(۱۵جلدی)، ابن ابی‌شیبه، انتشارات دارالسلفیه، بمبئی هند.

۷۱. مقدمه، ابن‌خلدون، مصر، انتشارات مصطفی محمد و بيروت، انتشارات دارالاحیاء التراث العربی.

۷۲. المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف، ابن‌قیم جوزیه حنبلی دمشقی، انتشارات ‏مکتب المطبوعات الاسلامیه، حلب ‏۱۳۹۱قمري.

۷۳. المهدی ینتظر بعد الرسول خیر البشر، الشیخ عبدالله بن زید آل محمود، انتشارات علی بن علی، ‏دوحه، ]بی تا[. ‏

۷۴. المهدیّة فی الاسلام، سعد محمد حسن، تحقیق عبدالحمید العبادی و عبدالحلیم النجار، انتشارات دارالکتب العربی، ‏مصر۱۹۵۳ميلادي. ‏

۷۵. میزان الاعتدال، الذهبی، ‏تحقیق علی محمد البجاوی، ‏چاپ اول: انتشارات دارالمعرفه، بیروت ۱۳۸۲قمري.‏

۷۶. نزهة النظر، ‏ احمد بن حجر عسقلانی، چاپ کراچی. ‏

۷۷. نظریة الامامیه، احمد محمود صبحی، ‏ انتشارات سازمان تبلیغات اسلامی، تهران ۱۴۱۱قمري. ‏

۷۸. نظم المتناثر فی الحدیث المتواتر، انتشارات دارالکتب السلفیه، ‏مصر، ]بی تا[.

۷۹. النهایة فی غریب الحدیث و الاثر، امام مجدالدین ابی‌السعادات المبارک بن محمد الشیبانی الجزری ابن‌الاثیر، مصحح و منقح محمد ابوفضل عاشور، انتشارات دارالاحیاء التراث العربی، ‏بیروت ۱۴۲۲قمري.

۸۰. هدیة العارفین فی اسماء المؤلفین و آثار المصنفین من کشف الظنون، اسماعیل پاشا بغدادی، انتشارات دارالکتب العلمیه، بیروت ‏۱۴۱۳قمري.

۸۱. وفیات الاعیان، ابن‌خلکان اشعری، انتشارات دار صدر، بیروت.

۸۲. ینابیع المودة، شیخ سلیمان قندوزی، چاپ هشتم: انتشارات دارالکتب العراقیه، ۱۳۸۵ قمري.‏

۸۳. الیواقیت و الجواهر، عبدالوهاب شعرانی، انتشارات دارالمعرفه بیروت و چاپ مصر،‏ مصر ۱۳۰۵قمري.


منابع شیعہ

۱. اثباة الهدی بالنصوص و المعجزات، محمد بن حسن حر عاملی، انتشارات علمیه، ‏‏ قم.

۲. الاحتجاج، ابومنصور احمد بن علی طبرسی، انتشارات موسسة الاعلمی، ‏بیروت ‏۱۴۰۱قمري.

۳. احقاق الحق و ازهاق الباطل، قاضی سید نورالله شوشتری، انتشارات مکتب آیت‌الله مرعشی نجفی، قم ۱۴۰۴ قمري.

۴. اصول کافی، ابوجعفر محمد بن یعقوب کلینی، ‏چاپ اول: انتشارات دارالاضواء، ‏بیروت ‏۱۴۱۳قمري.‏

۵. اعلام الوری باعلام الهدی، ابوعلی فضل بن حسن طبرسی، انتشارات المکتبة العلمیة الاسلامیة، ‏تهران ۱۳۷۹قمري.

۶. اعیان الشیعة، سیدمحسن امین حسینی عاملی، چاپ دوم: انتشارات کرم، بیروت ۱۹۵۴ميلادي.

۷. الامام المهدی من المهدی الی الظهور، سیدمحمدکاظم قزوینی، چاپ اول: ‏انتشارات محلاتی، قم ‏۱۴۲۲ قمري. ‏

۸. امام مهدی(عج) در احادیث شیعه و سنی، مهدی یوسفی، انتشارات بنیاد فرهنگی حضرت مهدی(عج)، ‏تهران.

۹. امام مهدی(عج) در قرآن، مهدی یوسفیان، ‏چاپ اول: ‏انتشارات بنیاد فرهنگی حضرت مهدی موعود(عج)، تهران ‏۱۳۸۴شمسي.

۱۰. بحار الانوار، علامه مجلسی، چاپ دوم: انتشارات موسسة الوفاء، ‏بیروت ‏۱۴۰۳قمري.

۱۱. البرهان فی تفسیر القرآن، علامه محدث سیدهاشم بحرانی، چاپ اول: انتشارات موسسة الاعلمی للمطبوعات، ‏ ۱۴۱۹ قمري.

۱۲. تحف العقول، ابومحمد حسن بن علی بن حسین بن شعبه حرانی، ‏‏انتشارات علمیه اسلامیه، تهران.

۱۳. التفسیر المیزان، علامه محمدحسین طباطبائی، انتشارات موسسة الاعلمی للمطبوعات، ‏بیروت ۱۳۹۱قمري.

۱۴. تفسیر عیاشی، محمد بن مسعود بن عیاش سمرقندی، انتشارات مکتبة العلمیة الاسلامیة، تهران. ‏

۱۵. تفسیر قمی، علی بن ابراهیم قمی، چاپ اول: انتشارات مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، بیروت ‏۱۴۱۲قمري.

۱۶. تفسیر نمونه، آیت‌الله مکارم شیرازی، چاپ هفدهم: انتشارات دارالکتب الاسلامیه، تهران ۱۳۹۱قمري.

۱۷. حدائق الشیعة، مقدس اردبیلی، انتشارات انصاریان، قم ۱۴۱۹قمري. ‏

۱۸. حیات الامام المهدی(عج)، ‏باقر شریف القریشی، چاپ اول: انتشارات ابن‌الملف، ۱۴۱۷ قمري. ‏

۱۹. الخصال، شیخ صدوق، انتشارات اسلاميه وابسته جامعه مدرسین حوزه علميه قم، ‏‏۱۴۰۳قمري.‏

۲۰. دادگستر جهان، آیت‌الله ابراهیم امینی، انتشارات ‏دارالفکر، قم ۱۳۴۶شمسي.

۲۱. دانشمندان عامه و مهدی موعود(عج)، علی دوانی، ‏چاپ سوم: انتشارات دارالکتب الاسلامیه، ‏‏۱۳۶۱شمسي.

۲۲. رجال نجاشی، ابوالعباسی احمد بن علی بن احمد بن العباس النجاشی الاسدی الکوفی، چاپ هشتم: انتشارات مؤسسه نشر الاسلامی، قم ۱۴۲۷قمري.‏

۲۳. الزام الناصب فی اثبات الحجة الغائب، شیخ علی یزدی حائری، انتشارات رضی، ‏‏قم ۱۳۶۲شمسي. ‏

۲۴. سؤال از امام مهدی  در روایات، سیدفخرالدین موسوی، ‏چاپ اول: انتشارات محدث، قم ۱۳۸۳شمسي. ‏

۲۵. سیمای آفتاب (سیری در زندگانی حضرت مهدی  )، حبیب‌الله طاهری، چاپ اول: انتشارات زائر، ‏ قم ۱۳۸۰شمسي. ‏

۲۶. سیمای جهان در عصر امام زمان  ، محمدامین گلستانی، چاپ اول: انتشارات مسجد مقدس جمکران، ‏۱۳۸۵شمسي. ‏ ‏

۲۷. علل الشرائع، شیخ صدوق، انتشارات مکتبه الداوری، قم.

۲۸. عیون اخبار الرضا  ، شیخ صدوق، چاپ اول: انتشارات مکتبة الحیدریة، قم ‏۱۴۲۵قمري. ‏

۲۹. الغیبة، شیخ طوسی، چاپ اول: انتشارات مؤسسة المعارف الاسلامیة، قم ۱۴۱۱قمري.

۳۰. الغیبة، ‏محمد بن ابراهيم نعمانی، انتشارات ‏مؤسسة الاعلمی، بيروت ۱۴۰۳قمري. ‏

۳۱. کشف الغمة، شیخ علی بن عیسی اربلی، انتشارات علمیه، قم ۱۳۸۱قمري.‏

۳۲. کفایة الاثر، ابوالقاسم علی بن محمد بن علی الحزاز قمی رازی، انتشارات بیدار، ‏ ۱۴۰۱قمري.‏

۳۳. کمال الدین و تمام النعمة، شیخ صدوق، ‏ چاپ دوم: انتشارات دارالکتب الاسلامیه، ‏تهران ‏۱۳۹۵قمري.

۳۴. کنز الدقائق، میرزا محمد مشهدی، انتشارات موسسة الطبع و النشر (زیر نظر وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، ۱۴۱۱قمري.

۳۵. مجمع البیان، علامه طبرسی، انتشارات موسسة الاعلمی للمطبوعات، ‏بیروت، ‏۱۴۱۵قمري.

۳۶. المحاسن، ابی‌جعفر احمد بن محمد بن خالد البرقی، انتشارات دارالکتب الاسلامیه، قم.‏

۳۷. معجم احادیث الامام المهدی  ، انتشارات مؤسسة المعارف الاسلامیه، ‏قم ۱۴۱۱قمري. ‏

۳۸. مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی، ‏قم. ‏

۳۹. منتخب الاثر، لطف‌الله صافی گلپایگانی، انتشارات مؤسسة المعصومية، قم ۱۴۱۹قمري. ‏

۴۰. منجی حقیقی (اعتقاد به مصلح آخرالزمان از دیدگاه ادیان و مذاهب)، ‏سیدرحمت‌الله موسوی، ‏چاپ اول: انتشارات دار التفسیر، ‏قم ۱۳۸۵شمسي.

۴۱. مهدی آل محمد در کتب اهل‌سنت، هادی عامری، چاپ اول: انتشارات پیام حجت، ‏ قم ۱۳۸۶شمسي. ‏

۴۲. مهدی منتظر را بشناسید، مهدی فقیه ایمانی، انتشارات ربانی،‏ ۱۳۸۴شمسي. ‏

۴۳. مهدی منتظر، آیت‌الله شیخ جواد خراسانی، چاپ دوم: انتشارات بنیاد پژوهش‌های علمی و فرهنگی نورالاصفیاء، ‏ قم ۱۳۸۰شمسي. ‏

۴۴. موعودی که جهان در انتظار اوست، علی دوانی، انتشارات دارالعلم، ‏قم ۱۳۴۹قمري.

۴۵. نور الثقلین، علامه حویزی، چاپ چهارم: ‏انتشارات مؤسسه مطبوعاتی اسماعیلیان، قم ‏۱۴۱۵ قمري.

۴۶. وسائل الشیعة، شیخ حر عاملی، چاپ دوم: انتشارات مؤسسه آل‌البیت، ‏۱۴۱۴ قمري. ‏

۴۷. یاد مهدی  ، محمد خادمی شیرازی،‏ چاپ اول: انتشارات ‏مؤسسه نشر و تبلیغ، تهران ‏۱۴۰۵قمري.‏

۴۸. یوم الخلاص، کامل سلیمان، چاپ اول: انتشارات نگین، ‏‏۱۳۸۲قمري. ‏

دیگر منابع

۱. تاج العروس، محب‌الدین ابی‌فیض السید محمد مرتضی الحسینی الواسطی الزبیدی الحنفی، انتشارات دارالفکر، بیروت ‏۱۴۱۴قمري.

۲. تاریخ شیعه و علل سقوط بنی‌امیه، فان فلونن، ترجمه مرتضی هاشمی حائری، ‏انتشارات اقبال، تهران ‏۱۳۲۵شمسي.

۳. راه و رسم زندگی، الکسیس کارل، ترجمه دکتر پرویز دبیری، ‏انتشارات تائید، ‏اصفهان ۱۳۴۴شمسي. ‏

۴. عقیدة الشیعة، دوایت دونالد سن، ‏ترجمه علی‌نقی منزوی، ‏ انتشارات مؤسسة المفید، ‏بیروت،‏۱۹۹۰ميلادي.

۵. العقیدة و الشریعة فی الاسلام، ایگناز گلدزیهر، ترجمه محمد یوسف موسی، علی حسن عبدالقادر و عبدالعزیز عبدالحق، ‏انتشارات دار الکتب الحدیثه، ‏مصر ۱۹۵۹ميلادي.

۶. قاموس القرآن، سیداکبر قریشی، چاپ سیزدهم: انتشارات دارالکتب الاسلامیه، تهران ‏ ‏۱۳۷۳شمسي. ‏

۷. لذات فلسفه، ویل دورانت، ترجمه عباس زریاب، ‏انتشارات علمی و فرهنگی، ‏تهران ‏۱۳۷۳شمسي. ‏

۸. لسان العرب، ابن‌منظور، ‏چاپ اول: انتشارات دارالاحیاء التراث العربی، بیروت ‏۱۴۰۸قمري.‏

۹. مجمع البحرین، فخرالدین الطریحی، انتشارات دارالاحیاء التراث العربی، بیروت ۱۴۰۳قمري.

۱۰. مصباح المنیر، احمد بن محمد علی المقری الفیومی، چاپ دوم: انتشارات هجرت، قم ‏۱۴۱۴قمري. ‏

۱۱. معجم مقاییس اللغة، احمد بن فارس، ‏تحقیق و ضبط عبدالسلام محمد هارون، انتشارات مرکز النشر مکتب الاعلام الاسلامی، ‏۱۴۰۴ قمري.

۱۲. مفردات الفاظ القرآن، الراغب الاصفهانی، تحقیق صفوان عدنان داودی، دمشق، انتشارات دارالقمر، ‏ بیروت، انتشارات ‏الدار الشامیه، ‏۱۴۱۶ قمري.‏

۱۳. المنجد (عربی فارسی)، ‏ترجمه محمد بندریگی، ‏ چاپ دوم: انتشارات ایران، ‏‏تهران.

۱۴. مهدی از صدر اسلام تا قرن سیزدهم، جیمز دار مستتر، ترجمه محسن جهان‌سوز، ‏ انتشارات ادب، ‏تهران ‏۱۳۱۷شمسي.

نشریات

۱. فصل‌نامه علمی تخصصی انتظار، سال سوم، ‏ بهار ۱۳۸۲ شمسي، ش ۷.

۲. نشريه برگزیده اخبار، سال هفتم، ش ۲۲ ، ۲۶/ ‏۱۲/‏۱۳۸۲. ‏

۳. نشريه پیام یونیسکو، نشر ‏کمیسیون ملی یونسکو در ‏تهران ۱۳۷۳ شمسي، ش‏ ۲۴۱.

نشريه الجامعة الاسلامیة، ‏سال اول، ذی القعده ۱۳۸۸ قمري، ‏ ش ۳.


فہرست

تقدیم ۵

عرض ناشر ۶

تقریظ ۷

گفتار مقدم ۸

مقدمہ کتاب ۱۰

سوالات ۱۱

اہمیت و ضرورت تحقیق ۱۲

جدّت تحقیق ۱۲

تاریخچہ ۱۲

(الف) تاریخچۂ موضوع ۱۲

شیعہ: ۱۲

اہل سنت: ۱۳

تاریخچۂ تحقیق و آثار موجود: ۱۳

۱ ۔ شیعہ مکتب فکر ۱۴

۱ ۔ ۲۶۰ ھ ق سے قبل موضوع غیبت بیان کرنے والی کتب۔ ۱۴

۲ ۔ غیبت صغری ( ۲۶۰ ۔ ۳۲۹ ھ ق) میں موضوع غیبت پر لکھی جانے والی کتب ۱۴

۳ ۔ ۳۲۹ ھ ق کے بعد یعنی غیبت کبریٰ میں غیبت کے موضوع پر لکھی جانے والی کتب: ۱۵

۲ ۔ مکتب اہل سنت: ۱۷

عام کتب ومنابع ۱۸

مسند احمد بن حنبل: ۱۸


صحیح بخاری ۱۸

صحیح مسلم ۱۹

سنن ابن ماجہ ۱۹

سنن ابو داؤد ۱۹

سنن ترمذی ۱۹

علمائے متاخرین اور احادیث مہدی (عج) ۲۰

خاص کتب و منابع ۲۱

تحقیق کی حدود ۲۲

مشکلات تحقیق ۲۲

پہلا باب: مفہوم غیبت ۲۴

پہلی فصل: غیبت کی تعریف ۲۴

غیبت کی لغوی تعریف ۲۴

غیبت کی اصطلاحی تعریف ۲۴

دوسری فصل: غیبت امام عصر (عج) پر ایمان کی اہمیت ۲۶

شیعہ نقطہ نظر ۲۷

اہل سنت کا نقطۂ نظر ۲۸

تیسری فصل: ولادت امام عصر (عج) کے بارے میں اقوال علمائے اسلام ۲۹

شیعہ علماء کا نقطہ نظر ۲۹

علمائے اہل سنت کا نقطۂ نظر ۳۰

۱ ۔ علی بن حسین مسعودی (متوفی ۳۴۶ ہجری) ۳۱

۲ ۔ عز الدین ابن اثیر (متوفی ۶۳۹ ہجری) ۳۲


۳ ۔ سبط ابن جوزی (متوی ۶۵۴ ہجری) ۳۲

۴ ۔ محمد بن یوسف شافعی گنجی (متوفی ۶۵۸ ہجری) ۳۲

۵ ۔ ابن خلکان اشعری شافعی (متوفی ۶۸۱ ہجری) ۳۲

۶ ۔ ابو الفداء عماد الدین اسماعیل (متوفی ۷۳۴ ہجری) ۳۲

۷ ۔ خواجہ محمد پارسا (متوفی ۷۲۲ ہجری) ۳۳

۸ ۔ ابن صباغ مالکی (متوفی ۸۵۵ ہجری) ۳۳

۹ ۔ میر خواند (متوفی ۹۰۳ ہجری) ۳۳

۱۰ ۔ ابن حجر ہیثمی مکی (متوفی ۹۷۳ ہجری) ۳۳

۱۱ ۔ محی الدین ابن عربی (متوفی ۶۳۸ ہجری) ۳۴

۱۲ ۔ شیخ عبد اللہ بن محمد شبروای شافعی ( متوفی ۱۱۷۲ ہجری) ۳۴

۱۳ ۔ محمد امین سویدی بغدادی (متوفی ۱۲۴۶ ہجری) ۳۴

۱۴ ۔ خیر الدین زرکلی (متوفی ۱۳۹۶ ہجری) ۳۴

چوتھی فصل: غیبت امام عصر (عج) کے بارے میں علمائے اسلام کا کلی نظریہ ۳۵

شیعت کا نقطۂ نظر ۳۵

اہل سنت کا نقطۂ نظر ۳۶

وہابی ت کا نقطۂ نظر ۳۷

امام مہدی ؑ کے منکرین کا نقطۂ نظر ۳۸

مذکورہ نظریات کے نتائج ۴۰

دوسرا باب ۴۴

دلائل غیبت امام عصر ؑ ۴۴

پہلی فصل:اثبات اصل غیبت ۴۴


(الف) آیات ۴۴

۱ ۔ امکان غیبت پر دلالت کرنے والی آیات ۴۴

پہلی آیت ۴۴

دوسری آیت ۴۵

تیسری آیت ۴۶

نتیجہ ۴۷

۲ ۔ اولیاء واوصیاء کی غیبت پر دلالت کرنے والی آیات کریمہ ۴۷

حضرت خضر علیہ السلام ۴۷

حضرت موسی علیہ السلام ۴۷

حضرت یوسف علیہ السلام ۴۸

حضرت یونس علیہ السلام ۴۸

اصحاب کہف ۴۸

(ب) روایات ۴۹

غیبت حضرت صالح علیہ السلام ۴۹

غیبت حضرت یوسف ۵۱

غیبت حضرت موسیٰ ۵۲

دوسری فصل : اثبات غیبت امام عصر ۵۲

(الف) دلائل قرآنی ۵۲

۱ ۔ وجود امام عصر (عج) کو بیان کرنے والی آیات ۵۳

۱ ۔ آیات قدر ۵۳

۲ ۔ آیت امامت ۵۵


نتیجہ ۵۹

۳ ۔ آیہ" اُولی الأمر " ۵۹

ایک قابل توجہ بات ۶۳

چند سوالات کے جواب ۶۴

احادیث کی گواہی ۶۶

۴ ۔ آیہ انذار ۶۸

تبصرہ: ۶۸

۵ ۔ آیات شہادت ۷۰

۶ ۔ آیہ ٔ صادقین ۷۳

نتیجہ: ۷۴

۷ ۔ آیۂ ہدایت ۷۴

۸ ۔ آیہ ٔ نذیر ۷۵

تبصرہ: ۷۵

نتیجہ: ۷۶

۲ ۔غیبت ا مام عصر (عج) کی تاویل یا تفسیر بیان کرنے والی آیات ۷۶

اول: سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۳ ۷۶

تبصرہ: ۷۶

آیت کریمہ میں غیب سے مراد ۷۷

الف: اہل سنت مفسرین کے اقوال ۷۷

ب: شیعہ مفسرین کے اقوال ۷۷

اقوال پر نقد و تبصرہ ۷۷


روائی بحث ۷۸

روایات اہل سنت ۷۸

شیعہ روایات ۷۹

نتیجہ گیری ۸۰

دوئم: سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۲۸ ۸۰

سوئم: سورہ لقمان ( ۳۱) آیت نمبر ۲۰ ۸۱

تبصرہ ۸۱

چہارم: سورہ ملک ( ۶۷) آیت نمبر ۳۰ ۸۳

تبصرہ ۸۳

پنجم :سورہ تکویر ( ۸۱) آیت نمبر ۱۵ اور ۱۶ ۸۵

ششم: سورہ نمل ( ۲۷) آیت نمبر ۶۲ ۸۶

ہفتم: سورہ مدثر ( ۷۴) آیت نمبر ۸ ۸۶

ہشتم: سورہ حدید ( ۵۷) آیت نمبر ۱۶ ۸۷

(ب) دلائل روائی ۸۸

دستہ اول: عام روایات ۸۸

اول: حدیث ثقلین ۸۹

اہل بیت در حدیث ثقلین ۸۹

چند نکات ۹۰

حدیث ثقلین سے اثبات وجود و غیبت امام عصر (عج) ۹۱

۱ ۔ مہدی (عج) اہل بیت ؑ میں سے ہیں ۹۱

۲ ۔ مہدی عترت میں سے ہیں ۹۲


۳ ۔ مہدی ؑ اولاد فاطمہ سے ہیں ۹۲

۴ ۔ مہدی اولاد پیغمبر سے ہیں ۹۳

نتیجہ ۹۳

دوئم : حدیث "من مات ۔۔۔" ۹۳

سوئم: حدیث "خلفائے اثنا عشر" ۹۶

روایات پر نظر: ۹۶

تاریخ پر نظر: ۹۸

خلاصہ: ۹۸

دستہ دوئم: خاص روایات ۹۹

اول: اصل "غیبت" بیان کرنے والی روایات ۱۰۰

شیعہ: ۱۰۰

اہل سنت: ۱۰۰

دوئم: غیبت کے طولانی ہونے کے بارے میں روایات ۱۰۱

شیعہ: ۱۰۱

اہل سنت: ۱۰۱

سوئم: دو غیبت بیان کرنے والی روایات ۱۰۲

شیعہ: ۱۰۲

اہل سنت: ۱۰۲

چہارم: حضرت مہدی (عج) کے فرزند امام حسن عسکری ؑ ہونے کے بارے میں روایات ۱۰۳

شیعہ: ۱۰۳

اہل سنت: ۱۰۳


پنجم: بعد از پیغمبر ؐ بارہ ائمہ کے بیان میں وار د ہونے والی احادیث ۱۰۳

ششم : امام مہدی ؑ، نسل حسین ؑ کے نویں فرزند ہوں گے ۱۰۳

ہفتم: غیبت سنن انبیاء میں سے ہے ۱۰۴

الف) وہ روایات جو کہتی ہیں کہ غیبت سنت انبیاء ہے: ۱۰۴

ب) وہ روایات جو کہتی ہیں کہ غیبت سنن انبیاء میں سے ایک ہے ۱۰۵

(ج) غیبت امام عصر (عج) پر علمائے اہل سنت کا اقرار ۱۰۸

۱ ۔ عباسی خلیفہ الناصر الدین اللہ احمد بن المستضئ بنور اللہ (متوفی ۶۲۲ ھ) ۱۰۸

۲ ۔ حافظ ابو نعیم محمد بن ابراہیم بن ہاشم طوسی بلاذری (متوفی ۳۳۹ ھ) ۱۰۹

۳ ۔ ابو عبد اللہ محمد بن یوسف بن محمد گنجی شافعی (متوفی ۶۵۸ ھ) ۱۱۰

حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ ہونے کی دلیل: ۱۱۱

قرآن: ۱۱۱

سنت: ۱۱۱

دجال کے زندہ ہونے پر دلیل: ۱۱۲

شیطان کے وجود پر دلیل: ۱۱۲

حضرت مہدی موعود (عج) کے زندہ ہونے پر دلیل: ۱۱۲

۴ ۔ حمد اللہ مستوفی قزوینی ( متوفی ۷۳۰ ھ) ۱۱۵

۵ ۔ شیخ علاء الدین سمنانی (متوفی ۷۳۶ ھ) ۱۱۵

۶ ۔ خواجہ محمد پارسا بخاری حنفی (متوفی ۸۲۲ ھ) ۱۱۵

۷ ۔ شیخ حسن عراقی (متوفی ۹۲۵ ھ) ۱۱۶

۸ ۔ شیخ علی خواص (متوفی ۹۳۹ ھ) ۱۱۶

۹ ۔ عبد الوہاب شعرانی (متوفی ۹۷۳ ھ) ۱۱۷


۱۰ ۔ سید جمال الدین عطاء اللہ شیرازی (متوفی ۱۰۰۰ ھ) ۱۱۸

۱۱ ۔ محمد بن ابراہیم جوینی شافعی (متوفی ۱۱۷۶ ہجری) ۱۱۸

۱۲ ۔ شیخ محمد بن صبان مصری (متوفی ۱۲۰۶ ہجری) ۱۱۸

۱۳ ۔ قاضی جواد ساباط بصری حنفی (متوفی ۱۲۵۰ ھ) ۱۱۹

۱۴ ۔ قاضی بہلول بہجت افندی (متوفی ۱۳۵۰ ہجری) ۱۱۹

تیسرا باب: غیبت کے اقسام، علل و آثار ۱۳۳

پہلی فصل: اقسام غیبت ۱۳۳

غیبت صغریٰ ۱۳۳

غیبت کبریٰ ۱۳۳

دوسری فصل : علل و آثار غیبت ۱۳۵

شیعہ نقطہ نظر ۱۳۵

اہل سنت کا نقطہ نظر ۱۳۶

غیبت صغریٰ کی حکمت ۱۳۶

علل و آثار غیبت بیان کرنے والی روایات کا جائزہ ۱۳۷

۱ ۔ حفظ جان ۱۳۷

۲ ۔ ظالموں کی بیعت سے دوری ۱۳۸

۳ ۔ لوگوں کی کوتاہی و عدم نصرت امام ؑ ۱۴۰

۴ ۔ سنن الٰہی کا اجرا ۱۴۰

۵ ۔ امتحان ۱۴۰

۶ ۔ تمییز و تمحیص ۱۴۱

۱ ۔ امام علی علیہ السلام ۱۴۲


۲ ۔ امام حسین علیہ السلام: ۱۴۲

۳ ۔ امام باقر علیہ السلام : ۱۴۲

۴ ۔ امام صادق علیہ السلام: ۱۴۳

۵ ۔ امام رضا علیہ السلام: ۱۴۳

۷ ۔ سر الٰہی ۱۴۴

تذکر: ۱۴۵

رجالی جانچ پڑتال ۱۴۵

علل و آثار غیبت ۱۴۶

علت و اثر میں فرق ۱۴۶

(الف) علل غیبت ۱۴۶

۱ ۔ خوف قتل(حفظ جان) ۱۴۶

روایات: ۱۴۷

چند شبہات کے جوابات ۱۴۹

پہلا شبہ: ۱۴۹

جواب: ۱۵۰

دوسرا شبہ: ۱۵۰

جواب: ۱۵۱

۱ ۔ نقضی جواب: ۱۵۱

۲ ۔ جواب حَلّی: ۱۵۱

تیسرا شبہ: ۱۵۱

جواب: ۱۵۲


چوتھا شبہ: ۱۵۳

جواب: ۱۵۳

۲ ۔ ظالموں کی بیعت سے دوری ۱۵۷

۳ ۔ لوگوں کی کوتاہی و عدم نصرت امام ؑ ۱۶۰

۴ ۔ سنن الٰہی کا اجراء ۱۶۶

(ب) آثار غیبت ۱۶۷

۱ ۔ آزمائش و امتحان ۱۶۷

امتحان کی کیفیت ۱۶۸

۲ ۔ تمحیص و تمییز ۱۶۸

چوتھا باب: فوائد غیبت ۱۷۷

پہلی فصل: امام غائب پر ایمان و اعتقاد کا فائدہ ۱۷۷

دوسری فصل: امام غائب کے وجود کا فائدہ ۱۷۸

فوائد عمومی ۱۷۹

امام ؑ غائب کے خصوصی فوائد ۱۸۴

پانچواں باب: ۱۸۸

بعض شبہات و سوالات کے جوابات ۱۸۸

آغاز کلام ۱۸۸

پہلی فصل: شبہات ۱۸۹

شبہات کی پہلی قسم: عقیدہ مہدویت کا سرچشمہ او رتاریخچہ ۱۸۹

۱ ۔ شبہ خرافات ۱۸۹

۱ ۔ جیمز ڈارمسٹیٹر James Darmsteter ( ۱۸۴۹ – ۱۸۹۴) ۱۹۰


۲ ۔ فین فلوٹن ( ۱۸۶۶- ۱۹۰۳) ۱۹۰

۳ ۔ ایگناز گلدزیر Ignaz Goldziher ( ۱۸۵۰ - ۱۹۲۱) ۱۹۰

۴ ۔ ڈوایٹ دونالڈسن ۱۹۱

۱ ۔ احمد کسروی ( ۱۹۴۵) ۱۹۱

۲ ۔ احمد امین مصری ( ۱۹۵۴) ۱۹۱

رفع شبہ: ۱۹۱

شبہ کے علل و اسباب ۱۹۱

عقیدہ مہدویت کے عوامل ۱۹۲

عقیدہ مہدویت فطری و طبیعی ہے ۱۹۲

الف) کمال پرستی ۱۹۳

ب) عدالت خواہی ۱۹۳

ج) نیاز امنیت: ۱۹۳

۲ ۔ شبہ اقتباس ۱۹۵

۱ ۔ جیمز ڈارمسٹیٹر( ۱۸۴۹ - ۱۸۹۴) ۱۹۵

۲ ۔ ایگنازگلدزیہر Ignaz Goldziher ( ۱۹۲۱) ۱۹۵

رفع شبہ ۱۹۷

پہلا نکتہ ۱۹۷

دوسرا نکتہ ۲۰۰

تیسرا نکتہ ۲۰۰

۳ ۔ شبہ سکوت ۲۰۰

الف) سکوت قرآن ۲۰۰


۱ ۔ جیمز ڈار مسٹیٹر(معروف فرانسوی زبان شناس و مستشرق) ۲۰۱

۲ ۔ امر یکی مستشرق، اسٹووارد ۲۰۱

۳ ۔مونٹگمری واٹ Montgomery Watt (برطانون اسلام شناس) ۲۰۱

جواب ۲۰۲

ب) سکوت صحیحین: ۲۰۳

جواب: ۲۰۳

الف) احادیث نزول عیسیٰ بن مریم ۲۰۴

ب) احادیث بخشش مال ۲۰۵

ج) احادیث خسف بیداء ۲۰۵

۴ ۔ شبہ جعل وضعف ۲۰۶

جواب شبہ ۲۰۶

۵ ۔ شبہ تعارض ۲۰۸

جواب شبہ ۲۰۹

شبہات کی دوسری قسم: مصداق مہدیؑ ؟ ۲۰۹

۱ ۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی مہدی ہیں؟ ۲۰۹

جواب شبہ ۲۱۰

۱ ۔ عدم اعتبار سند ۲۱۰

۲ ۔ صحیحہ و کثیرہ احادیث سے تعارض ۲۱۰

جواب ۲۱۳

۱ ۔ جملہ "اسم ابی ہ اسم ابی "اصل روایت میں اضافہ ہوا ہے: ۲۱۳

۲ ۔ ضبط حدیث میں راوی کی تساہلی و عدم توجہ ۲۱۳


۳ ۔ مستشکل کا دعویٰ باطل ہے: ۲۱۴

توجیہ اول: ۲۱۴

توجیہ دوئم: ۲۱۵

۴ ۔ بعض روایات کی تصریح کہ حضرت مہدی (عج) کے والد امام حسن عسکری ؑ ہیں: ۲۱۵

۳ ۔ حضرت مہدی (عج)، امام حسن ؑ کی نسل سے ہیں یا امام حسین ؑ کی نسل سے ہیں؟ ۲۱۵

جواب ۲۱۶

۱ ۔ نقل حدیث میں اختلاف: ۲۱۷

نقل روایت میں یہ اختلاف، ۲۱۷

۲ ۔ حدیث مقطوع ہے: ۲۱۷

۳ ۔ حدیث، مجہول السند ہے: ۲۱۸

۴ ۔ اہل سنت میں اس حدیث کی معارض روایات: ۲۱۸

۵ ۔ مذکورہ حدیث کا "جعلی" ہونا: ۲۱۸

۶ ۔ مذکورہ حدیث اور مہدی کے ابن الحسین بیان کرنے والی روایات میں عدم تعارض: ۲۱۹

۷ ۔ روایات شیعہ: ۲۱۹

المختصر: ۲۲۰

شبہات کی تیسری قسم: شبہ طول عمر ۲۲۰

قرآن کریم کی روشنی میں طول عمر: ۲۲۰

اعتقاد کی روشنی میں طول عمر ۲۲۲

دوسری فصل: چند سوالات اور ان کے جوابات ۲۲۳

۱ ۔ کیا عصر غیبت میں امام عصر (عج) سے ارتباط ممکن ہے؟ ۲۲۴

مراتب ارتباط: ۲۲۴


۱ ۔ شناخت کے بغیر دیدار، اس کی دو صورتیں ہیں: ۲۲۴

حضرت سے ارتباط کے بارے میں نظریات: ۲۲۵

نظریہ عدم امکان ارتباط: ۲۲۵

دلائل عدم امکان ارتباط: ۲۲۵

۱ ۔ علی بن محمد سمری کے نام حضرت کی توقیع: ۲۲۵

۲ ۔ حضرت کی عدم شناخت پر دلالت کرنے والی روایات: ۲۲۶

نظریہ امکان ارتباط: ۲۲۶

دلائل عدم ارتباط پر تنقیدی نظر: ۲۲۷

پہلی دلیل پر نقد: ۲۲۷

دوسری اور تیسری دلیل پرنقد: ۲۲۸

چوتھی دلیل پر نقد ۲۲۹

۲ ۔ کیا عصر غیبت میں ملاقات، حکمتِ غیبت کے منافی نہیں ہے؟ ۲۲۹

۳ ۔ غیبت کبریٰ میں امکان رؤیت کی صورت میں اس غیبت اور غیبت صغریٰ میں کیا فرق ہے؟ ۲۲۹

۴ ۔ کیا عصر غیبت میں امکان ملاقات کو قبول کرنے کی وجہ سے جھوٹے اور فریب کاروں کو فروغ نہ ملے گا؟ ۲۲۹

۵ ۔ کیا قاعدہ سدّ ذرائع کی بنیاد پر حضرت سے ملاقات کے دعوے کو جھوٹ قرار دیا جاسکتا ہے؟ ۲۲۹

خلاصہ کلام و نتیجہ گیری: ۲۳۰

تتمہ: ۲۳۰

ضمیمہ:غیبت امام ؑ میں شیعوں کی ذمہ داریاں ۲۳۲

فہرست منابع ۲۴۴

منابع شیعہ ۲۴۹

نشریات ۲۵۲

غیبت امام عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)

غیبت امام عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)

مؤلف: مولانا سید بہادر علی زیدی قمی
قسم: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 31