معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد 1

اصلاح کتب

مؤلف: سیدنسیم حیدر زیدی
متفرق کتب

معارف اسلامی کورس

( عقائد، احکام،اخلاق )

( 1 )

ترتیب و تدوین

سیّد نسیم حیدر زیدی


فہرست

پیشگفتار 5

حصہ اوّل 8

( عقائد ) 8

درس نمبر1 9

( خدا کی پہچان ) 9

درس نمبر 2 12

( خدا کے صفات ) 12

درس نمبر 3 16

( صفات سلبیہ ) 16

درس نمبر4 20

( توحید ) 20

درس نمبر 5 24

( عدل ) 24

دوسری دلیل : 25

درس نمبر6 27

( نبوت ) 27

درس نمبر 7 31

( نبی کے شرائط ) 31

درس نمبر8 35

( آخری نبی ) 35


درس نمبر9 38

( امامت ) 38

درس نمبر10 42

( قیامت ) 42

( حصہ دوم ) 45

( احکام ) 45

درس نمبر11 46

( تقلید ) 46

درس نمبر 12 49

( نجاسات ) 49

( مطہرات ) 49

درس نمبر 13 51

( وضو ) 51

( غسل ) 51

( تیمم کا طریقہ ) 53

درس نمبر 14 55

( نماز ) 55

درس نمبر51 59

( نماز پڑھنے کا طریقہ ) 59

درس نمبر 16 64

( نماز کے ارکان ) 64


درس نمبر 17 67

( روزہ ) 67

درس نمبر18 70

( زکوٰة ) 70

( خمس ) 71

درس نمبر 19 73

( حج ) 73

( جہاد ) 74

درس نمبر 20 76

( امر بالمعروف و نہی عن المنکر ) 76

حصہ سوم 79

( اخلاق ) 79

درس نمبر 21 80

( اخلاق ) 80

درس نمبر22 83

( ایمان اور عمل میں اخلاص ) 83

درس نمبر 23 87

( ماہ رمضان اور روزہ ) 87

درس نمبر 24 90

( انفاق اور صدقہ ) 90

درس نمبر25 99

( امانت اور امانت داری ) 99


پیشگفتار

انسان کی عقل ہمیشہ اور ہر وقت کچھ سوالات کے جواب کی تلاش میں رہتی ہے،اگر یہ سوالات واضح اور حل ہوجائیں تو اس کے ضمن میں سیکڑوں سوالات سے خود بخود نجات مل جائے گی ، انسان کی عقل اچھے اور برے ، غلط اور صحیح ، حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے پر قادر ہے اور جب تک ان سوالات کو حل نہ کرلے ،اس وقت تک اپنی جگہ پر آرام و اطمینان سے نہیں بیٹھ سکتی، لہٰذا ان کا حل دل و دماغ کے لئے سکون کا باعث ہے ۔ ان سوالات میں سے کچھ کا تعلق ''اصول دین ''سے ہوتا ہے ،کچھ کا تعلق ''فروع دین ''سے اور کچھ کا تعلق'' اخلاق '' سے ہوتا ہے

لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں صحیح تعلیم و تربیت کے فقدان کے سبب نوجوان ''معارف اسلامی ''سے نا آگاہ ہیں جسکی وجہ سے بعض ایسے خرافاتی اور بے بنیاد مسائل کو دین اسلام کا جز اور عقائدکا حصہ سمجھتے ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا اور پھر وہ ان ہی باطل عقیدوں کے ساتھ پرائمری ،پھر ہائی اسکول اور انٹر کالج اور اس کے بعد یونیورسٹی میں تعلیم کے لئے چلے جاتے ہیں اور یہاں پروہ مختلف افراد، متفرق عقائد کے لوگوں سے سروکار رکھتے ہیں ، چونکہ ان کے عقیدہ کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی اور خرافاتی چیزوں کو مذہب کا رکن سمجھتے ہیں اس لئے مختصر سے ہی اعتراضات اور شبہات میں پریشان و متحیر ہوجاتے ہیں ، علمی معیار و عقائدی معلومات کی کمی کی وجہ سے حق و باطل، اچھے اور برے ، غلط و صحیح میں تمیز نہیں دے پاتے جس کے نتیجہ میں اصل دین اور روح اسلام سے بد ظن ہو جاتے ہیں، حیران و سرگردان زندگی


بسر کرتے ہیں ، یا کلی طور پر اسلام سے منھ موڑ لیتے ہیں ، یا کم از کم ان کے اخلاق و رفتار اور اعمال پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے کہ اب ان کے اعمال کی پہلی کیفیت باقی نہیں رہتی ہے اور احکام و عقائد سے لاپروا ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح کی غلط تربیت اور اس کے اثر کو آپ معاشرے میں بخوبی مشاہدہ کر سکتے ہیں اور کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو ان بے چاروں کو ذلت و گمراہی کے اندھیرے سے نکالنے کی فکر کرے ۔

ہمیں چاہیے کہ ایک منظم اور صحیح پروگرام کے تحت نوجوانوں کو صحیح معارف اسلامی سے آگاہ کریں اور بے بنیاد، غلط ماحول اور رسم و رسومات کے خرافاتی عقائد کی بیخ کنی اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں ، ان کے لئے آسان اور علمی کتابیں فراہم کریں ، لائبریری بنائیں اور کم قیمت یا بغیر قیمت کے کتابیں ان کے اختیار میں قرار دیں ، ہر ممکن طریقہ سے پڑھنے لکھنے کی طرف شوق و رغبت دلائیں ۔

سر دست یہ کتاب معارف اسلامی کورس کے عنوان سے دو جلدوں میں دو مختلف سطحوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی دینی معلومات میں اضافہ کیلئے ترتیب دی گئی ہے ، اور اس کے لکھنے میں مندرجہ ذیل نکات کی طرف بھرپور توجہ رکھی گئی ہے ۔

1۔ کتاب کے مطالب دلیل و برہان کی روشنی میں نہایت سادہ اور آسان انداز میں بیان کئے گئے ہیں اور اختصار کے سبب صرف ضروری حوالوں پر اکتفا ء کیا گیا ہے ۔

2۔حتیٰ الامکان لکھنے میں علمی اصطلاحوں سے گریز کیا گیا ہے تاکہ کتاب کا مطالعہ لوگوں کے لئے تھکاو ٹ کا سبب نہ بنے ۔

4۔ مشکوک و مخدوش ، بے فائدہ اور ضعیف مطالب سے اجتناب کیا گیا ہے ۔ 5۔ اس کتاب میں ان مہم مطالب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا جاننا ہر مسلمان پر


واجب ہے ، تاکہ قارئین دلچسپی کے ساتھ پڑھیں اور پھر تفصیلی کتابوں کی طرف مائل ہوں۔

قارئین کرام اس مختصر سی کتاب میں عقائد ،احکام اور اخلاق کے تمام مسائل کو بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ اختصارکے پیش نظر صرف چیدہ چیدہ مطالب کو بیان کیا گیا ہے ۔تاکہ قارئین دلچسپی کے ساتھ پڑھیں اور پھر تفصیلی کتابوں کی طرف مائل ہوں۔

آخر میں ہم بارگاہ خداوندی میں دست بدعا ہیں کہ وہ اس ناچیزکوشش کو قبول فرمائے۔ اور تمام ان حضرات کو اجر عظیم عطا فرمائے جھنوں نے اس کوشش میں کسی بھی قسم کا تعاون فرمایا۔ طالب دعا

سید نسیم حیدر زیدی


حصہ اوّل

( عقائد )


درس نمبر1

( خدا کی پہچان )

خدا وند عالم نے دنیا کو پیدا کیا اور اسے منظم طریقہ سے چلا رہا ہے ، کوئی بھی چیز بغیر سبب کے وجود میں نہیں آتی ہے مثال کے طور پر اگر ہم کسی نئے گھر کو دیکھیں تو ہمیں اس بات کا یقین ہوتا ہے ۔ کہ اس کا بنانے والا ، کوئی ضرور ہوگا ، کسی کے خیال میں بھی یہ نہیں آتا کہ یہ خودبخود تیار ہو گیا ہوگا ۔

اگر ہم میز پر قلم اور سفید کاغذ رکھ کر چلے جائیں اور واپسی پر دیکھیں کہ کاغذ پر کچھ لکھا ہوا ہے تویہ دیکھ کر ہمیں اطمینان سا ہوجاتاہے کہ ہماری غیر موجودگی میں کوئی آیا تھا ، اور اس پر اپنے آثار چھوڑ گیا ہے اگر کوئی کہے جناب آپ کی غیر موجودگی میں یہ قلم خود ہی اس پر رواں ہو گیا اوراس نے یہ تمام چیزیں لکھ دی ہیں تو ہم اس کی باتوں پر تعجب کریں گے اور اس کی بات کوغیر معقول قرار دینگے ۔آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز کا وجود بغیر علت کے نہیں ہوتا ہے ، اور اس کی تلاش ہر شخص کو ہوتی ہے ، اب میں آپ سے سوال کروں کہ کیا یہ اتنی بڑی طویل و عریض دنیا بغیر کسی پیدا (بنانے والے) کرنے والے کے پیدا ہوگئی ہے ؟ ہرگز ایسا نہیں ہے ، اتنی بڑی اور منظم دنیا رواں دریا ، چمکتے ہوئے ستارے اور دمکتا ہوا سورج یہ رات دن کا آنا جانا ، فصلوں کی تبدیلی ، درختوں کے شباب ، گلوں کے نکھار بغیر کسی بنانے والے کے نہیں ہو سکتا ۔


دنیا میں نظم و ترتیب :

اگر ہم ایک ایسی عمارت دیکھیں جو نہایت منظم اور با ترتیب بنی ہوئی ہو اوراس میںرہنے والوںکیلئے تمام ممکن ضروریات کی چیزیںبھی باقاعدہ اپنی اپنی جگہ پرفراہم ہوں تو ہماری عقل فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ یہ ہر لحاظ سے منظم عمارت خود بخود وجود میں نہیں آئی ہو گی ۔ بلکہ اس کابنانے اور سنوارنے والا کوئی با ہوش مدبر ہے ،جس نے اسے نہایت ظرافت سے نقشہ کے مطابق بنایا ہے ۔

اگر ہم اپنے بدن کی ساخت پر نظر ڈالیں اور اعضائے بدن کے اندر جو دقیق و عمیق ریزہ کاری اور باریک بینی کا مظاہرہ کیا گیا ہے غور و فکر کریں تو تعجب کی انتہا باقی نہ رہے گی کہ اس بدن کے اجزا اور دنیاوی چیزوں کے درمیان کیسا گہرا تعلق اور رابطہ پایا جاتا ہے جس سے ہمارے لئے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ انسان اور دوسری تمام چیزیں، خود بخود وجود میں نہیں آئی ہیں ۔

بلکہ پیدا کرنے والے نے بہت ہی تدبیر اور ذرہ بینی اور تمام ضروریات کو مد نظر رکھنے کے بعد خلق فرمایا ہے ، کیا خدا کے علاوہ کوئی ہو سکتا ہے جو انسان اور دنیا کے درمیان اتنا گہرا رابطہ پیدا کر سکے ؟ کیا طبیعت جس میں کوئی شعور نہیں ہے انسان کے ہاتھوں کو اس طرح موزوں اورمناسب خلق کر سکتی ہے ؟ کیا طبیعت کے بس میں ہے جو انسان کے منھ میں ایسے غدود رکھے جس سے انسان کا منھ ہمیشہ تروتازہ بنا رہے؟ کیا چھوٹی زبان (کوا) جو سانس اور ناک کے مقام کو ہر لقمہ اور ہر قطرہ پانی سے محفوظ رکھتی ہے خود بخود بن جائے گی ؟ کیا یہ معدہ کے غدود جو غذا کے لئے ہاضم بنتے ہیں خود بخود خلق ہوئے ہیں ؟وہ کونسی چیز ہے جو بڑے غدود(لوزالمعدہ) کو حکم دیتی ہے کہ وہ سیّال اور


غلیظ پانی کا غذا پر چھڑکائو کرے ؟ کیا انسان کے اعضاء پنے فائدہ کا خود خیال رکھتے ہیں ؟وہ کیا چیز ہے جو دل کو مجبور کرتی ہے کہ وہ رات ودن اپنے وظائف کو انجام دے اور پروٹین ( Protein ) حیاتی ذرّات کو بدن کے تمام حصوں میں پہنچائے ؟ ہاں، خداوند عالم کی ذات ہے جو انسان کے عضلاتی مجموعے کو صحیح طریقہ اور اصول پر منظم رکھے ہوئے ہے ۔

سوالات:

1۔خدا کو پہچاننے کا طریقہ بیان کریں ؟

2۔ اگر ہم کسی نئے گھر کو دیکھیں تو ہمیں کس بات کا یقین ہوتا ہے ؟

3۔اگر ہم ایک ایسی عمارت دیکھیں جو نہایت منظم اور با ترتیب بنی ہوئی ہو تو ہماری عقل کیا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو تی ہے؟


درس نمبر 2

( خدا کے صفات )

خدا کے صفات : اللہ کے صفات کو کلی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے

( 1 ) صفات ثبوتیہ یا جمالیہ

( 2 ) صفات سلبیہ یا جلالیہ ۔

صفات ثبوتیہ :

ہر وہ صفت جو اصل وجود کے کمال اور اس کی اہمیت میں اضافہ اور اس کی ذات کے کامل ہونے کو بیان کرنے کے لئے لائی جائے اس شرط کے ساتھ کہ موصوف اور ذات میں کوئی تغیر و تبدیلی لازم نہ آئے ، ان صفات کو جمالیہ یا صفات ثبوتیہ کہتے ہیں جیسے علم و قدرت حیات و تکلم وغیرہ

ان صفات کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے آسان سی مثال دیتے ہیں ،اگر ہم دو آدمیوں میں علم و جہل کے عنوان سے تقابل کریں تو اس مطلب کو بخوبی درک کر سکتے ہیں کہ جاہل کے مقابلے میں عالم پُر اہمیت اور فائدہ بخش ہے ، لہٰذا یہ عالم ،جاہل کے مقابلے میں برتری و فضیلت کا پہلو رکھتا ہے لہذا ہم فیصلہ کریں گے کہ کمالات کے صفات میں ایک علم بھی ہے ، اور ایسے ہی دوسری صفتوں کو مقایسہ کرنے پرصفات جمالیہ کی حقیقت و برتری کھل کر روشن ہوجائیگی اور یہ تمام صفا ت خدا کے لئے ثابت ہیں، اس مطلب کو مزید واضح کرنے کے لئے ایک سادہ سی دلیل پر اکتفا کرتے ہیں ۔


خداوند عالم نے تمام کمالات ،خیر و خوبی اور اچھائیوں کو لوگوں کے لئے پیدا کیا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ کمالات خوداس کے پاس موجود نہ ہو اگر اس کے پاس نہ ہوںتو دوسروں کو کیسے دے سکتا ہے ( فاقد الشیء لا یعطی الشی ئ) لہذا ماننا پڑے گا کہ خدا کے پاس تمام کمالات و خوبیاں موجود ہیں ، اور اسی نے لوگوں کے لئے ان صفات کو قرار دیا ہے، جب تک چراغ روشن نہ ہو ، دوسروں کو روشن نہیں کر سکتا جب تک پانی خود تر نہ ہو دوسری چیزوں کو تر نہیں کر سکتا ہے ۔

صفات ثبوتیہ : خداوند عالم میں پائی جانے والی صفتیں یہ ہیں :

1۔ قدرت : خدا قادر ہے یعنی جس کام کو انجام دینا چاہے انجام دیتا ہے کسی کام کے کرنے پر مجبور اور عاجز نہیں ہے ا

2۔ علم : خدا عالم ہے یعنی تمام چیزوں کو جاننے والا اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے یہاں تک کہ بندوں کے افکار و خیالات سے بھی واقف ہے ۔

3۔ حیات : خدا زندہ وحی ہے اور اپنی حیات میں کسی چیز کا محتاج نہیں ہے ۔

4۔ ارادہ : خدا مرید ہے یعنی اپنے کاموں کو خود اپنے قصد و ارادہ سے انجام دیتا ہے 5۔ بصیر ہے: خداوند عالم دیکھنے والا ہے تما م پیدا ہونے والی چیزوں کو دیکھنے والا ہے کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔

6۔ سمیع ہے : خدا سننے والا ہے تمام سننے والی چیزوں کو سنتا ہے کسی چیز سے غافل نہیں ہے۔

7۔ قدیم و ابدی ہے : قدیم یعنی ہمیشہ سے ہے اس کی کوئی ابتدا نہیں ہے ابدی یعنی

ہمیشہ رہے گا اس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔


8۔ متکلم ہے : حقیقت کو دوسروں کے لئے اظہار اور اپنے مقصد کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔

ان صفات کو صفات ثبوتیہ یا جمالیہ کہتے ہیں جو خداوند عالم میں موجود اور اس کی عین ذات ہیں ۔

یاد دہانی :

چونکہ ہم ناقص ہیںاس لئے ہم اپنے کام کو بغیر کسی آلات، کے انجام نہیں دے سکتے قدرت و طاقت کے باوجود بھی اپنے اعضا و جوارح کے محتاج ہیں سننے کی طاقت کے باوجود کان کے ضرورت مند ہیں دیکھنے کی طاقت کے ہوتے ہوئے آنکھ کے محتاج ہیں، چلنے کی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی پائوں کے نیازمند ہیں ۔ خداوند عالم کی ذات جو کمال مطلق کی حامل ہے وہ کسی کام میں دوسروں کی محتاج نہیں ہے ، خداوند عالم قادر مطلق ہے ،بغیر آنکھ کے دیکھتا ہے ، بغیر کان کے سنتا ہے ، بغیر اعضا وجوارح ( جسم و جسمانیت سے خالی ) کے تمام کام کو انجام دیتا ہے ۔

صفات ثبوتیہ کی دو قسمیں ہیں : (1) صفات ذاتیہ (2) صفات فعلیہ

صفات ذاتیہ : ان صفات کو کہا جاتا ہے جو ہمیشہ خدا کی ذات کے لئے ثابت ہیں اور اس کی ذات کے علاوہ کسی چیز پر موقوف نہیں ہے ، ان کو صفات ذاتیہ کہتے ہیں جسے علم و قدرت وغیرہ ۔

خدا کی ذات عالم تھی دنیا کو خلق کرنے سے پہلے ،قادر ہے چاہے کسی چیز کو نہ پیدا کرے ، ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گا موجودات رہیں یا نہ رہیں ، اس کا علم و قدرت و حیات وغیرہ سب عینِ ذات ہیں ، کبھی بھی اس کی ذات ان صفات کمالیہ سے خالی نہیں


ہو سکتی ہے ،اس لئے کہ وہ عین ذات ہے، ورنہ خدا کی ذات کا محدود و ناقص اور محتاج ہونا لازم آئے گا جو خدا کی ذات سے بعید ہے ۔

صفات فعلیہ :ان صفات کو کہتے ہیںجو خداوند عالم کے بعض کاموں سے اخذ کی جاتی ہیں جیسے رازق و خالق اور جواد وغیرہ ، جب اس نے موجودات کو خلق کیا تو خالق پکارا گیا ، جب مخلوقات کو رزق عطا کیا تو رازق کہا گیا ، جب بخشش و کرم کا عمل انجام دیا تو جواد ہوا ، جب بندوں کے گناہوں اور عیبوں کو پوشیدہ اور معاف کیا تو غفور کہلایا،اس طرح کے صفات خدا اور بندوں کے درمیان ایک خاص قسم کے رابطہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

سوالات:

1۔صفات ثبوتیہ کن صفات کو کہتے ہیں ؟

2۔صفات ثبوتیہ کی کتنی قسمیں ہیں ہرایک کی وضاحت کیجئے ؟

3۔ آنے والی صفات میں سے صفات ثبوتیہ فعلیہ جدا کیجئے ،عالم ،خالق ،ستّار ،غفّار ،کریم ،حی ،قادر


درس نمبر 3

( صفات سلبیہ )

ہر وہ صفات جو یہ بیان کرے کہ اس کی ذات نقص و عیب سے پاک و مبرا ہے اسے صفات سلبیہ کہتے ہیں ،خداوند عالم کی ذات کامل اور اس میں کوئی عیب و نقص نہیں پایا جاتا ہے ، لہذا ہر وہ صفت جو خدا کے نقص یا عیب پر دلالت کرے اسے خدا سے دور رکھنا ضروری ہے

صفات سلبیہ یا جلالیہ یہ ہیں :

( 1 ) خدا مرکب نہیں ہے :ہر وہ چیز جود و جز یا اس سے زائد اجزا سے مل کر بنے اسے مرکب کہتے ہیں، اور خدا مرکب نہیں ہے اور نہ اس میں اجزا کا تصور پایا جاتا ہے ، کیونکہ ہر مرکب اپنے اجزا کا محتاج ہے اور بغیر اس اجزا کے اس کا وجود میں آنا محال ہے ، اگر اللہ کی ذات بھی مرکب ہو تو، مجبوراً اس کی ذات ان اجزا کی ضرورتمند ہوگی، اور ہر وہ ذات جو محتاج، ناقص اور بہت سے اجزا کا مجموعہ ہو، وہ واجب الوجودا ورخدا نہیں ہو سکتی

( 2 ) خدا جسم نہیں رکھتا : اجزا سے مرکب چیز کو جسم کہتے ہیں ، اور اوپر بیان ہوا کہ خدا مرکب نہیں ہے ، لہذا وہ جسم بھی نہیں رکھتا ہے ۔اوردوسرے یہ کہ ہر جسم کے لئے ایک جگہ و مکان کا ہونا ضروری ہے ، اور بغیر مکان کے جسم نہیں رہ سکتا، جب کہ خداوند عالم خود مکان کو پیدا کرنے والا ہے اس کا ضرورتمند و محتاج نہیں ہے اگر خدا جسم رکھے اور مکان کا محتاج ہو تو وہ خدا واجب الوجود نہیں ہو سکتا ہے ۔


( 3 ) خدا مرئی نہیں : خدا دکھائی نہیں دے سکتا ہے ، یعنی اس کو آنکھ کے ذریعہ کوئی دیکھنا چاہے تو ممکن نہیں، اس لئے کہ دکھائی وہ چیز دیتی ہے جو جسم رکھے اور خدا جسم نہیں رکھتا ہے لہذا اس کو نہیں دیکھا جا سکتا ۔

( 4 ) خدا جاہل نہیں ہے : جیسا کہ صفات ثبوتیہ میں بیان ہوا ، خدا ہر چیز کا عالم ہے ، اور اس کے علم کے لئے کسی طرح کی قید و شرط و حد بندی نہیں ہے ، اور جہالت و نادانی عیب و نقص ہے اور خداوند عالم ہرعیب و نقص سے پاک ہے۔

( 5 ) خدا عاجز و مجبور نہیں : پہلے بھی صفات ثبوتیہ میں گذر چکا ہے کہ خدا ہر کام کے کرنے پر قادر اور کسی بھی ممکن کام پر مجبور و عاجز نہیں ہے اور اس کی قدرت کے لئے کسی طرح کی کوئی مجبوری نہیں ہے اسلئے کہ عاجزی و مجبوری نقص ہے اور خدا کی ذات تمام نقائص سے مبراو منزہ ہے۔

( 6 ) خدا محل حوادث نہیں : خداوند عالم کی ذات میں کسی طرح کی تبدیلی و تغییر ممکن نہیں ہے جیسے کمزوری ، پیری ،جوانی اس میں نہیں پائی جاتی ہے ، اس کو بھوک ،پیاس، غفلت اور نیند نیزتھکاوٹ وغیرہ کا احساس نہیں ہوتا ، اسلئے یہ تمام چیزیں جسم و مادہ کے لئے ضروری ہیں اور پہلے گذر چکا ہے کہ خدا جسم و جسمانیات سے پاک ہے لہٰذا خدا کی ذات محل حوادث یعنی تغیر و تبدیلی کی حامل نہیں ہے ۔

( 7 ) خدا کا شریک نہیں : اس مطلب کی دلیلیں توحید کی بحث میں ذکر کی جائیں گی ۔

( 8 ) خدا مکان نہیں رکھتا : خدا وند عالم کسی جگہ پر مستقر نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ ہی آسمان میں کیونکہ وہ جسم نہیں رکھتا، اس لئے مکان کا محتاج نہیں ہے ۔

٭سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر دعا کے وقت ہاتھوں کو کیوں آسمان کی طرف اٹھاتے


ہیں ؟ آسمان کی طرف ہاتھوں کے اٹھانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خداوند عالم کی ذات والا صفات آسمان پر ہے ، بلکہ ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرنے سے مراد درگاہ خدا میں فروتنی و انکساری و عاجزی و پریشانی کے ساتھ سوال کرنا ہے ۔

٭مسجد اور خانہ کعبہ کو خدا کا گھر کیوں کہتے ہیں ؟ اس لئے کہ وہاں پر خدا کی عبادت ہوتی ہے ، اور خدا نے اس مقام کو اور زمینوں سے بلند و برتر و مقدس بنایا ہے جیسے خداوند عالم نے مومن کے دل (قلب) کو اپنا گھر کہا ہے ورنہ خدا ہر جگہ و ہر طرف موجود ہے ،( فَاَینَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجهُ اللّٰهِ) (1) پس تم جس جگہ بھی اپنا رخ کر لو توسمجھوکہ وہیں خدا موجود ہے۔

( 9 ) خدا محتاج نہیں : خداوند عالم کسی شی کا محتاج نہیں ہے ، اس لئے کہ اس کی ذات ہر ارعتبار سے کامل و تام ہے اس میں نقص اور کمی موجود نہیں ہے جو کسی چیز کا محتاج ہو اور اگر محتاج ہے تو پھر واجب الوجود خدا نہیں ہو سکتا ہے ۔

٭کیا خدا ہماری عبادتوںکا محتاج ہے جو ہم سے چاہتا ہے کہ اسکی عبادت کریں ؟

جئسا کہ عرض کیا ہے کہ خدا کی ذات ناقص نہیں ہے جو وہ ان عبادتوں کے ذریعہ اپنی کمی کو پورا کرنا چاہتا ہے ، بلکہ خدا کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ انسان عبادت کرے اور اپنے نفس کو نورانی اور کامل کرکے اس کی ہمیشہ آباد رہنے والی جنت کے لائق ہو جائے ۔

( 10 ) خدا ظالم نہیں : اس کی دلیل عدل کی بحث میں ذکر کی جائیگی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ بقرہ آیت 115۔


سوالات:

1۔صفات سلبیہ کی تعریف کیجئے ؟

2۔کوئی بھی پانچ صفات سلبیہ بیان کیجئے ؟

3۔اگر خدا مکان نہیں رکھتا تو پھر دعا کے وقت ہاتھوں کوآسمان کی طرف کیوںاٹھاتے ہیں ؟

4۔کیا خدا ہماری عبادتوںکا محتاج ہے جو ہم سے چاہتا ہے کہ اسکی عبادت کریں ؟


درس نمبر4

( توحید )

ا ﷲتبارک و تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اس نے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے ، اس کے علاوہ کوئی خالق اور پیدا کرنے والا نہیں اور نہ ہی اس نے کسی کی مدد سے خلق کیا ہے اس لیے کہ اگر دو خدا ( یا اس سے زیادہ ) ہوتے تو چند حالتیں ممکن ہیں ۔

پہلی حالت یہ کہ دونوں نے (دنیا) موجودات کو مستقل علیحدہ علیحدہ خلق کیا ہے ، دوسری حالت یہ کہ ایک دوسرے کی مدد سے دنیا کو خلق کیا ہے ، تیسری حالت یہ کہ دونوں نے دنیا کو دو حصوں میں خلق کیا ہے لیکن ایک دوسرے کی خدائی میں دخالت کرتے ہیں ۔

پہلی حالت : دونوں نے دنیا کو مستقل علیحدہ علیحدہ خلق کیا ہے ( یعنی ہر چیز دو دفعہ خلق ہوئی ہے ) اس کا باطل ہونا واضح ہے ۔ چونکہ ہر ایک شخص میں ایک وجود سے زیادہ وجود نہیں پایا جاتا ہے اس لئے ایک سے زیادہ خدا کا تصور نہیں ہے ۔

دوسری حالت : ان دونوں خدا نے ایک دوسرے کی مدد ( شرکت) سے موجودات کو خلق کیا ہے ، یعنی ہر موجود دو خدا کی مخلوق ہو اور دونوں آدھے آدھے برابر کے شریک ہوں یہ احتمال بھی باطل ہے ۔

کیونکہ یا توتنہا موجودات کو خلق کرنے سے عاجز و مجبور تھے تو یہ بحث پہلے گذرچکی ہے کہ خدا عاجز و محتاج نہیں ہوتا ۔یا یہ کہ دونوں خلق پر قادر ہیں لیکن پھر بھی دونوں


شریک ہو کر موجودات کو وجود میں لاتے ہیں یہ بھی باطل ہے کیونکہ دو فاعل کسی کام پر قادر ہوتے ہوئے پھر بھی تنہا کسی کام کو انجام نہ دیں اس میں چند صورتیں ممکن ہیں :

الف: یا دونوں بخل کر رہے ہیں کہ آدھہ آدھہ کام کررہے ہیں یعنی چاہتے ہیں کہ زیادہ خرچ نہ ہو ۔ توبخل و کنجوسی خدا کی ذات کے لئے مناسب نہیں ہے۔

ب: یا دونوں آپس میں ڈرتے ہیں اور اس ڈر کی بنا پر کم خرچ کر رہے ہیں۔ تو یہ ، شانِ خدا کے بر خلاف ہے کیونکہ جو خدا ہوتا ہے وہ متأثر و عاجز نہیں ہو سکتا ہے ۔

ج: یا دونوں مجبوراً آپس میں شریک ہیں ۔

اسکا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں کہ جو مجبور ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا

دوسری دلیل :

اگر خدا کسی موجود کو پیدا کرے اور دوسرا اس موجود کو تباہ کرنے کا ارادہ کرے تو کیا پہلا خدا اپنی خلق کی ہوئی چیز کا دفاع کر سکتا ہے ؟ اور دوسرے کے شر سے اس کو محفوظ رکھ سکتا ہے ؟ اگر پہلا اپنی موجودہ چیز کی حفاظت نہیں کر سکتا تو عاجز ہے اور عاجز خدا نہیں ہو سکتا، اور اگر یہ دفاع کر سکتا ہے تو دوسرا خدا نہیں ہو سکتا اس لئے کہ عاجز ہے اور عاجز خدا نہیں ہو سکتا ہے ۔

نتیجہ :

ہم خدا کو ایک اور لا شریک موجودات کو خلق کرنے والا جانتے ہیں اور اس کے علاوہ جو بھی ہو اس کو ناتوان ، مجبور و عاجز اور مخلوق شمار کرتے ہیں ، ہم فقط اللہ تبارک و تعالیٰ کو لائق عبادت جانتے ہیں کسی دوسرے کے لئے سجدہ نہیں کرتے اور نہ ہی کسی اور کے لئے جھکتے ہیں ہم آزاد ہیں اپنی آزادی کو کسی کے حوالے نہیں کرتے اور کسی کی بے حد و


انتہا تعریف نہیں کرتے اور چاپلوسی کو عیب جانتے ہیں ۔

ہم انبیاء اور ائمہ کا احترام اور ان کے بیان کئے گئے احکام کی پیروی اس لئے کرتے ہیں کہ خدا نے ان کو واجب الاحترام اور واجب الاطاعت قرار دیا ہے ، یعنی ان کے احترام و اتباع کو واجب قرار دیا ہے ، ان کے احکام و قوانین ہمیشہ خدا کے احکام کی روشنی میں رہے ہیں اور ان لوگوں نے کبھی بھی زیادتی اور اپنے حدود سے تجاوز نہیں کیا ہے ، ہم انبیاء و ائمہ کے مرقد پر جاتے ہیں اور ان کے مزار و روضہ کا احترام کرتے ہیں ،لیکن یہ پرستش اور ان کی بندگی کے عنوان سے نہیں بلکہ خدا کی بارگاہ میں بلند مقام اور پاکیزگی و بزرگی کا خیال رکھکران کی تکریم کرتے ہیں اور ان کے روضہ کی تعمیر اور ان کی فداکاری و جانثاری و قربانیوں کی قدر دانی کرتے ہیں ،اور دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زحمت و مشقت کو برداشت کرے اور اس کے احکام و پیغام و ارشاد کو لوگوں تک پہنچائے، تو نہ اس دنیا میں بھلایا جائے گا اور نہ آخرت میں ، ہم ان مقدس اللہ کے بندوں،پاک سیرت نمائندوں اور اس کے خاص چاہنے والوں کے حرم میں خداوند ذوالجلال کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی بخشش اور اپنی حاجت کی قبولیت اور رازونیاز کرتے ہیں ، اور اپنی دعا و مناجات میں ان مقدس بزرگوں کی ارواح طیباہ کو خدا کے حضور میں واسطہ و وسیلہ قرار دیتے ہیں ۔


سوالات:

1۔ توحید کے کیا معنی ٰ ہیں ؟

2۔خدا کی توحید پر کوئی ایک دلیل پیش کریں ؟

3۔ہم انبیاء اور ائمہ کا احترام اور ان کے بیان کئے گئے احکام کی پیروی کیوںکرتے ہیں ؟


درس نمبر 5

( عدل )

خداوند عالم عادل ہے یعنی کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس سے کوئی بُرا کام صادر نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے تمام کاموںمیں حکمت اور مصلحت پائی جاتی ہے اچھے کام کرنے والوں کو بہترین جزا دے گا کسی چیز میں جھوٹ اور وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے ، کسی کو بے گناہ اور بے قصور جہنم میں نہیں ڈالے گا ، اس مطلب پر دو دلیلیں پیش خدمت ہیں پہلی دلیل :

جو شخص ظلم کرتا ہے یا برے کام کو انجام دیتا ہے اس کی صرف تین صورتیںہوسکتی ہیں

(1) یا وہ اس کام کی اچھائی اور برائی سے واقف نہیں ہے اس وجہ سے ظلم و زیادتی انجام دیتا ہے۔

( 2 ) یاوہ اس کام کی اچھائی اور برائی سے واقف و آگاہ ہے لیکن جو چیزیں دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھتا ہے چونکہ اس کے پاس وہ نہیں ہوتی اس لئے اان کو لینے کے لئے ان پر ظلم کرتا ہے تا کہ ان کے اموال کو لے کر فائدہ اٹھائے اوراپنے عیب و نقص (کمی) کو پورا کرے اس طرح وہ ان کے حقوق کو ضائع و برباد کرتا ہے اور چونکہ خود قوی ہے اس لئے کمزوروں اور مجبوروں پر ظلم کرتا ہے ۔

( 3 ) یا ظلم و زیادتی سے آگاہی رکھتا ہے اس کو ان چیزوں کی ضرورت بھی نہیں ہے ، بلکہ انتقام اور بدلہ یا لہو و لعب کے لئے ایسا کام انجام دیتا ہے۔


عموما ًہر ظلم و ستم کرنے والے انھیں اسباب کی وجہ سے ان کاموں کے مرتکب ہوتے ہیں ، لیکن خداوند عالم کی ذات ان تمام امور سے منزہ اور پاکیزہ ہے ، وہ ظلم و ستم نہیں کرتا اس لئے کہ جہالت و نادانی اس کے لئے قابل تصور نہیں ہے، اور وہ تمام چیزوں کی اچھائی اور برائی کی مصلحتوں سے خوب واقف ہے وہ ہر چیز سے مطلقا بے نیاز ہے ، اس کو کسی کام اور کسی چیز کی ضرورت و حاجت نہیں ہے ، اس سے لغو و بیہودہ کام بھی صادر نہیںہوتے اس لئے کہ وہ حکیم ہے ،اس کے پاس صرف عدالت ہی عدالت موجود ہے ظلم و ستم کا شائبہ بھی نہیں پایا جاتا ہے ۔

دوسری دلیل :

ہماری عقل، ظلم و ستم کو ناپسند اور برا کہتی ہے اور تمام صاحبان عقل کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ خداوند عالم نے اپنے بھیجے ہوئے انبیاء کو بھی لوگوں پر ظلم و ستم نیز برے کاموں کے انجام دینے سے منع فرمایا ہے ، اس بنا پر کیسے ہو سکتا ہے کہ جس چیز کو تمام صاحبان عقل براسمجھیں اور ناپسند کریں اور خدا اپنے بھیجے ہوئے خاص بندوں کو ان کاموں سے منع کرے وہ خود ان غلط کاموں کو انجام دے ؟ !

البتہ سماج اور معاشرے میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ تمام لوگ ہر جہت سے برابر نہیں ہیں، بلکہ بعض ان میں فقیر اور بعض غنی ، بد صورت و خوبصورت ، خوش فہم و نا فہم ، صحت مندو بیمار وغیرہ ان کے درمیان فرق پایا جاتا ہے ۔

بعض اشخاص پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں یہ تمام کی تمام چیزیں بعض اسباب اور علتوں کی بنا پر انسان کے اوپر عارض ہوتی ہیں ، کبھی یہ اسباب طبعی علتوں کی بنیاد پر اور کبھی خود انسان ان میں دخالت رکھتا ہے لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود خدا کے فیض کا


دروازہ کھلا ہوا ہے اور ہر شخص اپنی استعداد و استطاعت کے مطابق اس سے فیض حاصل کرتا ہے خداوند عالم کسی بھی شخص کو اس کی قدرت و طاقت سے زیادہ تکلیف و ذمہ داری نہیں دیتا ، انسان کی کوشش اور محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی ، ہر فرد کی ترقی کے لئے تمام حالات و شرائط میں راستے کھلے ہوئے ہیں ۔

سوالات:

1۔عدل کی تعریف کیجئے ؟

2۔خدا کے عادل ہونے پر کوئی دلیل پیش کیجئے ؟

3۔اگر خدا عادل ہے تو تمام لوگ ہر جہت سے برابرکیوں نہیں ہیں؟


درس نمبر6

( نبوت )

خداوند عالم کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے احکام کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کرے اس مطلب پر تین دلائل پیش کررہے ہیں ۔

پہلی دلیل : اس لئے کہ انسان کی پیدائش کا ہدف یہ نہیں ہے کہ ایک مدت تک اس دنیا میں رہے، اور اللہ کی نعمتوں کو استعمال کرے اور ہر طرح کی عیش و عشرت یا دنیاوی ہزاروں دکھ درد اور پریشانیوں کے داغ کو اپنے سینہ پر برداشت کرکے رخت سفر باندھ کر فنا کے گھاٹ اتر جائے، اگر ایسا ہے تو انسان کی خلقت عبث و بے فائدہ ہوگی !(1) جب کہ خدائے تبارک و تعالیٰ کی ذات ایسے کاموں سے پاک اور مبرّا ہے۔

انسان ، خداوند عالم کی بہترین و افضل ترین مخلوق ہے اور اس کو پیدا کرنے کا مقصد یہ

ہے کہ انسان اپنے اعمال کے ذریعہ کمالات و فضائل کے اعلیٰ مرتبہ پر پہونچ جائے تاکہ قیامت کے دن بہترین ثواب و جزا کا مستحق قرار پائے۔

لہٰذا پروردگار عالم کی ذات نے انسان کو نظم و قانون کا محتاج پایا تو ان کے لئے انبیاء

کیساتھ دستور العمل بھی بھیجا تاکہ انسان کو تعلیم دیں اور انسان کو ضلالت و گمراہی کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورہ مؤمنون (23) آیت 115( اَفَحَسِبتُم اَنَّمَا خَلَقنَاکُم عَبَثًا وَ اَنکُّم اِلَینَا لَا تُرجَعُونَ ) کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے کار پیدا کیا ہے اور تم ہمارے حضور میں لوٹا کر نہیں لائے جائوگے ۔


تاریکی سے نکالیں ، یہ وہی احکام ہیں انسان کی زندگی اور آخرت دونوں کو سدھارتے ہیں، لوگوں کو زیادتی اور زور و زبردستی سے روکتے ہیں اور انسان کی آزادی کے حقوق کے محافظ ہیں نیز انسان کو کمال و صراط مستقیم اور اللہ تک پہونچاتے ہیں ۔ کیا انسان کی ناقص عقل ایسا جامع دستور العمل اور منظم پروگرام لوگوں کے حوالے کر سکتی ہے ؟ ہر گز ممکن نہیں ، اس لئے کہ انسان کی عقل اور اس کی معلومات ناقص و محدود ہے،لوگوں کی عقل اچھے، برے جلوت و خلوت انفرادیت و اجتماعیت کے حالات کے بارے میں کافی اور کامل معلومات نہیں رکھتی ہے ۔

اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے ابتدائے خلقت سے لیکر آج تک ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور بے حد دولتوں کا سیلاب بہاد یا کہ محکم و کامل اور جامع انسانیت کے لئے قانون بنائے لیکن ابھی تک نہ بنا سکا ، قانون تو بے شمار بنتے رہتے ہیں، لیکن کچھ ہی دنوں میں اس کی خامیاں اور غلطیاں کھل کر سامنے آجاتی ہیں لہذا یا تو لوگ اس کو پورے طور پر ختم کر دیتے ہیں یا اس میں تبدیلی اور نظر ثانی کے در پے ہو جاتے ہیں ۔

دوسری دلیل : خود انسان کی طبیعت میں خود خواہی اور خود غرضی کے میلان پائے جاتے ہیں لہذا وہ ہر طرح کے فوائد کو اپنے اور اپنے اقارب کے لئے سب سے زیادہ پسند کرنے لگتا ہے لہذا نتیجتاً یہ عادت و فطرت مساوات کا قانون بنانے سے مانع ہوتی ہے ۔

اگر چہ بعض اوقات ا نسان یہ ارادہ کرتا ہے کہ کوئی ایسا قانون بنائے جس میں ہوائے نفس اور خود خواہی نیز خود پسندی کا کوئی دخل نہ ہو، اپنے اور پرائے ایک صف میں کھڑے ہوں اور ہر ایک کو ایک نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو لیکن کہیں نہ کہیں طبیعت اور


خواہش نفسانی تو غلبہ کر ہی لیتی ہے لہذا عدل و انصاف پر مبنی قانون کا سد باب ہو جاتا ہے ۔

تیسری دلیل : قانون بنانے والے حضرات انسان کے فضائل اور روحانی کمالات کا علم نہیں رکھتے اور اس کی معنوی زندگی سے بے خبر ہیں وہ انسان کی فلاح اور بہبود، مادیات کے زرق و برق اور دنیا کی رنگینیوں میں تلاش کرتے ہیں جب کی انسان کی روحانی اور دنیاوی زندگی کے درمیان ایک خاص اور محکم رابطہ پایا جاتا ہے فقط خداوند عالم کی ذات والا صفات ہے جو اس دنیا اور اس میں موجود تمام اشیاء کا پیدا کرنے والا ہے اور انسان کی اچھائی و برائی سے خوب واقف اور با خبر ہے،نیز تمام موجودات پر احاطہ کئے ہوئے ہے کوئی بھی چیز اس کے دست قدرت سے باہر نہیں، وہی ہے جو بلندی کی راہ اور ہلاکت کے اجتناب سے بخوبی واقف ہے لہذا اپنے قانون و احکام بلکہ انسانیت کی باگ ڈور ایسے حضرات کے حوالے کرتا ہے جو لوگوں کے لئے نمونہ عمل ہوں اوران کی زندگی آنے والوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہو ۔

اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں خداوند عالم حکیم ہے کبھی بھی انسان کو حیرانی اور جہالت و گمراہی کے سمندر میں نہیں چھوڑ سکتا بلکہ اس کی مصلحت و لطف کا تقاضا یہ ہے کہ انبیاء کو قواعد و قانون کے ساتھ لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کرے ۔

انبیا ،اللہ کے خاص بندے اور بساط بشر کے ممتاز فرد ہوتے ہیں جو خدا سے جس وقت چاہیں رابطہ پیدا کر سکتے ہیں اور جس چیز کی حقیقت معلوم کرنا چاہیں اسے معلوم کر کے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں اس طرح کے رابطے کو ''وحی'' کہتے ہیں وحی یعنی اللہ اور اس کے خاص بندے کے درمیان رابطے کو کہتے ہیں ، انبیاء اپنی باطنی بصیرت سے دنیا کی


حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں اور دل کے کانوں سے غیبی باتیں سنتے اور لوگوں تک پہنچاتے ہیں ۔

سوالات:

1۔نبوت سے کیا مراد ہے ؟

2۔انبیاء کے مبعوث کرنے پر کوئی ایک دلیل پیش کریں ؟

3۔وحی کی تعریف کیجئے ؟


درس نمبر 7

( نبی کے شرائط )

1۔عصمت :

نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے یعنی نبی کے پاس ایسی قدرت و طاقت موجود ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے گناہ کے ارتکاب اور ہر طرح کی خطا و غلطی اور نسیان سے محفوظ رہ سکیں تاکہ خداوند عالم کے احکام جو انسان کی ہدایت کے لئے بنائے گئے ہیں بغیر کسی کمی اور زیادتی کے لوگوں تک پہونچا سکیں ۔

اگرنبی خود گناہ کا مرتکب ہو جائے اور اپنے قول کے برخلاف عمل کرنے لگے تو اس کی بات اپنے اعتبار و اعتماد سے گر جائے گی یعنی وہ اپنے اس فعل سے اپنی ہی باتوں کا قلع قمع اور اپنے عمل کے ذریعہ لوگوں کو برائی اور خدا کی نافرمانی کی طرف راہنمائی کر نے لگے گا ، جب کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عملی تبلیغ زبان کی تبلیغ سے زیادہ مؤثر ہے اگر نبی غلطی و نسیان سے محفوظ نہ رہ سکے تو لوگوں کے دلوں سے اسکی محبوبیت اور اس کا بھروسہ ختم ہوجائے گا اور اس کی باتوں کی معاشرے کے سامنے کوئی اہمیت و عزت نہ رہیگی ۔

2۔علم :

نبی کے لئے ضروری ہے کہ ہر وہ قوانین جو انسان کی سعادت اور نیک بختی کے لئے لازم و ضروری ہیں اس سے خوب واقف ہو ، اور ہر وہ مطالب و موضوع جو راہنمائی و تبلیغ کے لئے کارساز ہیں اس کا کماحقہ علم رکھتا ہو تاکہ انسان کی فلاح اور بلندی کے


حصول کے لئے خاص پروگرام لوگوں کے اختیار میں دے سکے اور راہ مستقیم (سیدھا راستہ) جو فقط ایک راستہ ہے اور اس کے سوا کوئی راستہ نہیں، اس راہ کے عظیم اجزا کو باہم اور دقیق ملاکر لوگوں کے سامنے پیش کرے ۔

3۔ معجزہ :

یعنی نبی کا اپنے دعویٰ نبوت کے اثبات میں ایسے کام کا انجام دینا جس سے تمام لوگ عاجز ہوں چونکہ نبی عادت کے خلاف کسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے اور نظروں سے اوجھل دنیا اور اللہ کی ذات سے رابطہ رکھتا ہے اور معارف و علوم کو اسی سے حاصل کرتا ہے اور تمام احکام کو اسی کی طرف نسبت دیتا ہے تو ضروری ہے کہ نبی ایسے کام کو اپنے مدعیٰ کے لئے انجام دے جس سے اس زمانے کے تمام افراد عاجز ہوں اور دعویٰ چونکہ غیبی ہے لہذا معجزہ بھی عادت کے بر خلاف ہونا چاہیے تاکہ اس امر غیبی کو ثابت کر سکے ایسے کام کو معجزہ کہتے ہیں۔

خلاصہ چونکہ نبی خدا سے رابطے کا دعویٰ کرتا ہے تو ضروری ہے کہ خدا کے ہم مثل کام کو انجام دے تاکہ لوگ اس کی بات پر یقین کریں مخفی نہ رہے کہ انبیاء کے تمام پروگرام اسباب و علل کے دائرے ہی میں انجام پاتے ہیں، مگر بعض مقامات پر جہاں وہ اس کی ضرورت سمجھتے ہیں ، معجزہ سے کام لیتے ہیں ۔

نبی کو پہچاننے کا طریقہ :

پہلا راستہ :

ایک نبی دوسرے (آنے والے) نبی کی خبر دے یا اس کی تصدیق کرے یا اس کے علائم اور قرائن کو بیان کرے ۔


دوسرا راستہ :

وہ اپنے دعوے کی صداقت اور حق گوئی کے لئے معجزہ پیش کرے ۔

قرآن مجید نے انبیاء کے لئے مختلف معجزات کو بیان کیا ہے جو شخص قرآن کے آسمانی اور خدا کی کتاب ہونے کا اعتقاد رکھتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ انبیاء کے معجزات پر بھی یقین رکھے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا اژدہا ہونااور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردے کو زندہ کرنا وغیرہ کسی کے لئے قابل انکار نہیں ہے، انبیاء کی تعداد :

حدیثوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ انبیاء کی تعدادایک لاکھ چوبیس ہزار ہے جو لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں جس میں سب سے پہلے حضرت آدم اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ابن عبد اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں(1)

انبیاء کے اقسام :بعض انبیاء اپنے فرائض کو وحی کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں لیکن تبلیغ پر مامور نہیں ہوتے ۔بعض تبلیغ پر بھی مامور تھے ۔بعض صاحب دین اور شریعت تھے ۔ بعض انبیاء مخصوص شریعت لے کر نہیں آئے تھے ، بلکہ دوسرے نبی کی شریعت کی تبلیغ و ترویج کرتے تھے اور ایسا بھی ہوا ہے کہ متعدد انبیاء مختلف شہروں میں تبلیغ و ہدایت کے لئے مامور کئے گئے ہیں ۔

اولو العزم انبیاء : حضرت نوحعلیہ السلام ، حضرت ابراہیمعلیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، یہ صاحب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) بحار الانوار، ج11، ص 30 ۔


شریعت تھے اور تمام انبیاء میں سب سے افضل ہیں، ان کو اولو العزم پیغمبر بھی کہا جاتا ہے۔

بعض انبیاء صاحب کتاب تھے : حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ،حضرت

موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت محمد (ص) ، اور باقی انبیاء صاحب کتاب نہیں تھے بعض انبیاء تمام لوگوں کیلئے مبعو ث کئے گئے تھے اور بعض مخصوص جمعیت و گروہ کیلئے مبعوث کئے گئے تھے ۔(1)

سوالات:

1۔نبی کے شرائط بیان کیجئے ؟

2۔نبی کو پہچاننے کا طریقہ بیان کیجئے ؟

3۔انبیاء کی تعداد بیان کیجئے ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) بحار الانوار، ج1 ص61 ۔


درس نمبر8

( آخری نبی )

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ (ص) اللہ کے آخری نبی ہیں آپ کی امت مسلمان کہلاتی ہے۔ آپکے آخری نبی ہونے کا اعتقاد رکھنا، دین کی ضروریات میں سے ہے اور اس سے انکار کرنے والا مسلمان نہیں ہے ۔قرآن مجید نے آپ کو خاتم النبیین سے تعبیر کیا ہے(1)

آنحضرت(ص) اس وقت مبعوث برسالت ہوئے جب گذشتہ انبیاء کی کوششیں اور ان کی قربانیاں اور طولانی زحمات اپنا ثمرہ دکھا رہی تھیں، لوگوں کی دینی سوجھ بوجھ اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ چاہتے تو بہترین اور کامل ترین قوانین کو اخذ کرتے اور بلند ترین معارف کو سمجھتے نیز گذشتہ انبیاء کے علمی آثار کو ہمیشہ باقی رکھ سکتے تھے، اس وقت حضرت محمد مصطفی (ص) اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے، اور لوگوں کے اختیار میں ایک جامع اور مکمل دستور العمل قرار دیا ۔جو قرآن کی صورت میں آج ہمارے پاس موجود ہے ۔

قرآن مجید پہلی آسمانی کتاب ہے جس میں کسی طرح کی کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے ۔ وہ بغیر کسی کمی اور زیادتی کے لوگوں کے سامنے موجود ہے ۔

حالاتِ زندگی:آپ (ص) کے والد عبد اللہ اور ماں کا نام آمنہ تھا سترہ ربیع الاول سن ایک

عام الفیل کو مکہ معظمہ میں آپ کی ولادت با سعادت ہوئی ، آنحضرت (ص) بچپنے سے ہی با

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) احزاب (33) آیت 40 ۔


ادب سچے اور امانتدار تھے اسی وجہ سے لوگ آپ کو محمد امین (ص) کہتے تھے ، اخلاقی لحاظ سے نیک، اپنے زمانہ کے لئے نمونہ عمل تھے کبھی آپ (ص) سے جھوٹ اور خیانت دیکھی نہیں گئی کسی پر ظلم و ستم نہیں کرتے اور برے کاموں سے دوری،لوگوں کا احترام، خوش اخلاق و متواضع و بردبار تھے مجبور و بے سہاروں کے ساتھ احسان و مہربانی سے پیش آتے آپ جو کہتے اس پر عمل کرتے تھے اسی پسندیدہ اخلاق کا نتیجہ تھا کہ لوگ ہر طرف سے اسلام کے گرویدہ ہونے لگے قرآن مجید نے آپکے اخلاق کی ان الفاظ میں ستائش کی ہے ۔(انک لعلی ٰ خلق عظیم ) ''آپ اخلاق کے اعلی ٰ درجے پر فائز ہیں ''

ستائیس رجب المرجب کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث برسالت ہوئے ، تیرہ سال مکہ میں ر ہ کر لوگوں کو پوشیدہ اور ظاہری طور پر اسلام کی دعوت دیتے رہے اسی مدت میں ایک گروہ مسلمان ہوا اور آپ پر ایمان لے آیا۔ لیکن کفار اور بت پرست افراد ہر طرف سے اسلام کی تبلیغ کے لئے موانع اور رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے اور آنحضرت کو اذیت اورمسلمانوں پر سختی و عذاب سے کوئی لمحہ فرو گذاشت نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ آنحضرت (ص) کی جان ایک دن خطرے میںآ گئی لہٰذا مجبور ہو کر مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور آہستہ آہستہ مسلمان بھی آپ سے آملے اور مدینہ شہر سب سے پہلے اسلامی حکومت کا پائے تخت اور فوجی اڈا بن گیا ۔ آنحضرت (ص) اس مقدس شہر میں دس سال تک احکام کی تبلیغ لوگوں کی راہنمائی اور اجتماعی امور کے سنبھالنے میں مشغول رہے اور آخر کارہمارے نبی (ص) ترسٹھ سال اس دار فانی میں رہ کر اٹھائیس صفر ہجرت کے گیارہویں سال دار بقا کی طرف رحلت فرماگئے اور اسی شہر مقدس (یثرب) مدینہ میں مدفون ہوئے ۔ آپ (ص) نے اپنے بعد اللہ کے حکم سے مسلمانوں کی ہدایت کے لیے دو


گرانبہا چیزوں کو چھوڑا ،ارشاد فرمایا : ''انّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی ما ان تمسکتم بھما لن تضّلوا بعدی ولن یفترقا حتیٰ یردا علیّ الحوض'' میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک اللہ کی کتاب دوسری میری عترت جو میرے اھل بیت ہیں جب تک ان سے وابستہ رہو گے گمراہ نہیں ہونگے اوور یہ دونوں(قرآن اور میری عترت )ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں ''

سوالات:

1۔کیا آپ (ص)کے آخری نبی ہونے کا اعتقاد رکھناضروری ہے ؟

2۔آخری نبی کے مختصر حالات زندگی بیان کیجئے ؟

3۔قرآن نے آپکے اخلاق کے بارے میں میں کیا ارشاد فرمایا ہے ؟

4۔آپ (ص) نے اپنے بعد لوگوں کی ھدایت کے لیے کیا ارشاد فرمایا ؟


درس نمبر9

( امامت )

جیسا کہ گزشتہ درس میں یہ بیان ہوا ہے کہ خداوند عالم پر انبیاء کا لوگوں کی سعادت و نیک بختی کے لئے قانون کے ساتھ بھیجنا ضروری ہے، ایسے ہی رسول کے بعد ایسے شخص کا ہونا ضروری ہے جو رسول کے لائے ہوئے دستوالعمل کو بغیر کمی و زیادتی کے لوگوں تک پہنچائے ، یعنی دین کی حفاظت اور لوگوں کے دینی و دنیاوی امور کو انجام دے تاکہ انسان کے لئے کمال و سعادت کی راہیںہمیشہ ہموار رہیں، اوراللہ اور اس کے بندوںکے درمیان ایک لمحہ کے لئے بھی فاصلہ و جدائی نہ ہو سکے ایسے شخص کو امام اور خلیفۂ رسول(ص) کہتے ہیں۔

تمام ائمہ اطہار نبی کے علوم کے محافظ اور انسان کی کامل ترین فرد اور نمونہ عمل اور اسلام کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں خود کامل اور سعادت کی راہوں میں سیر کرتے ہوئے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں ۔

امام کے صفات :

1عصمت :

نبی کی طرح امام کا بھی احکام دین اور اس کی تبلیغ و ترویج میں خطا و غلطی، سہو و نسیان سے منزہ ہونا ضروری ہے ، تاکہ دینی احکام کسی کمی اور زیادتی کے بغیر کامل طور پر اس کے پاس موجود رہیں اور لوگوں کو سیدھے راستے پر چلنے اور حق تک پہنچنے کا جو فقط ایک


راستہ ہے اس کو مخدوش نہ ہونے دے ، پس امام کا گناہوں سے محفوظ رہنا اور جو کچھ کہے اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے تاکہ اس کے قول کی اہمیت اور ، بات کا بھرم باقی رہے اور لوگوں کا اعتماد اس سے زائل نہ ہو مختصر یہ کہ امام کا معصوم ہونا ضروری ہے

2علم :

امام کا دین کے تمام احکام سے واقفیت اور ہر وہ مطالب جو لوگوں کی راہنمائی اور رہبری کے لئے سزاوار ہیں اس کا جاننا ضروری ہے تاکہ انسان کے لئے سعادت و ہدایت کی شاہ راہ ہمیشہ کھلی رہے ۔ اس لئے کہ ناواقف انسان لوگوں کی رہنمائی نہیں کرسکتا ۔

امام کی پہچان :

امام کو دو راستوں سے پہچانا جا سکتا ہے :

پہلا راستہ : نبی یا امام خود اپنے بعد آنے والے امام کی پہچان بیان کرے اور لوگوں کے درمیان اپنے جانشین کے عنوان سے مشخص کرے ، جیسا کہ پیغمبراسلام (ص) نے اپنے بعد مقام غدیر اور کئی دوسرے مقامات پر حضرت علی (ع) کی امامت کا اعلان کیا ،اگر خود امام یا نبی اس فریضہ کو انجام نہ دیں تو لوگ امام کو معین نہیں کر سکتے اس لئے کہ عصمت اور اعلمیت کے مصداق کو فقط خدا یا اس کے نمائندے ہی جانتے ہیں اور دوسروں کو اس کی خبر نہیں دی گئی ہے ۔

دوسرا راستہ : (معجزہ) اگر امام اپنی امامت کو ثابت کرنے کے لئے معجزہ اور (خارق عادت) چیزوں کی نشان دہی کرے تو اس کی امامت ثابت ہو جائے گی کیونکہ اگر وہ اپنے امامت کے دعوے میں جھوٹا ہے تو سوال یہ ہے کہ خدا نے معجزہ سے اس کی مدد کیوں فرمائی ؟


امام اور نبی میں فرق :

امام اور نبی میں چند جہات سے فرق پایا جاتا ہے ۔

پہلا : نبی دین اور اس کے احکام کو لانے والے ہوتے ہیں ، لیکن امام اس کا محافظ اور معاشرے میں اس کو اجرا کرنے والا ہوتا ہے ۔

دوسرا : نبی یا پیغمبر (ص) شریعت،اور احکام کو وحی کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں نیز نبی کا رابطہ خدا سے براہ راست ہوتا ہے ، لیکن امام چونکہ شریعت لانے والے نہیںہوتے اس لئے احکام ان کے لئے وحی کی صورت میں نہیں آتے،بلکہ وہ احکام کو نبی سے دریافت کرتے ہیں اور نبی کے علم میں ہدایت و راہنمائی کے عنوان سے دخالت رکھتے ہیں ۔

اماموں کی تعداد :

ہم گزشتہ بحث میں یہ ثابتکر چکے ہیں کہ رسول(ص) کے لئے امام کا معین کرنا نہایت ضروری ہے اس لئے کہ خدا اور رسول(ص) کے علاوہ عصمتِ باطنی سے کوئی واقفیت نہیں رکھتا ہے اگررسول یہ کام انجام نہ دے تو اسکا مطلب یہ کہ وہ دین کو ناقص چھوڑ کر جارہا ہے ، ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول خدا (ص) نے مسلمانوں کے لئے اپنا جانشین معین فرمایا ہے ، حضرت نے نہ صرف اپنے بعد خلیفۂ بلا فصل کو معین کیا ہے بلکہ اماموں کی تعداد( بارہ ہوں گی) اور بعض روایات میں ان کے اسمائے گرامی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے ۔

حضور اکرم (ص) کا ارشاد گرامی ہے : میرے بعد قریش سے بارہ خلیفہ ہونگے ان کا پہلا شخص علی اور آخری مہدی موعود ہوگا ،


سوالات:

1۔امام کسے کہتے ہیں ؟

2۔امام کی صفات بیان کریں ؟

3۔امام کو کیسے پہچانا جاتا ہے ؟

4۔امام اور نبی کا فرق بیان کیجئے ؟

5۔امام کتنے ہیں کوئی حدیث بیان کیجئے َ؟


درس نمبر10

( قیامت )

انبیاء و اولیاء اور تمام آسمانی کتابوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انسان کی زندگی فقط مرنے سے ختم نہیں ہوتی بلکہ اس دنیا کے بعد بھی دنیا پائی جاتی ہے جہاں پر انسان کو اپنے کئے (اعمال و کردار ) کا بدلہ ملے گا ۔

اچھے لوگ وہاں پر تمام نعمتوں کے ساتھ خوشی خوشی زندگی بسر کریں گے اور بدکردار اور خطاکار افراد سخت دردناک عذاب میں گرفتار رہیں گے قیامت آسمانی تمام ادیان کی ضروریات میں سے ہے اور اصل قیامت مرنے کے بعد کی دنیا کو کہا جاتا ہے جو شخص بھی انبیاء کو مانتا اور ان کی بتائی ہوئی چیزوں پر ایمان رکھتا ہے اس کامعاد پر یقین و اعتقاد رکھنا ضروری ہے ،۔

قرآن مجید میں قیامت کے سلسلہ میں سیکڑوں آیات بیان ہوئی ہیں، ان کے علاوہ قیامت کے بارے میں بہت سی عقلی دلیلیں بھی موجود ہیں ہم ان میں سے صرف ایک کو خلاصہ کے طور پر بیان کررہے ہیں :

برہانِ حکمت: اگر قیامت کے بغیر اس زندگی کا تصور کریں تو بے معنی اور فضول دکھائی دیتی ہے، بالکل اسی طرح کہ شکم مادر میں بچہ کو اس دنیاوی زندگی کے بغیر تصور کریں۔

اگر قانون خلقت یہ ہوتا کہ بچہ شکم مادر میں پیدا ہوتے ہی مرجایا کرتا تو پھر تصور کریں کہ کسی ماں کاحاملہ ہونا کتنا بے مفہوم تھا؟ اسی طرح اگر قیامت کے بغیر اس دنیا کا تصور


کریں تو یہی پریشانی دکھائی دے گی۔

کیونکہ کیا ضرورت ہے کہ ہم کم و بیش 70 سال تک اس دنیا کی سختیوں کو برداشت کریں؟ اور ایک مدت تک بے تجربہ رہیں، اور جب تجربات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو عمر تمام ہوجائے ؟ اور اسی طرح سونا اور بیدار ہونا، دسیوں سال تک ہر روز یہی تھکادینے والے کام انجام دینا ان سب چیزوں کی کیا ضرورت تھی ؟ !

یہ عظیم الشان آسمان، وسیع و عریض زمین، اور ان میں پائی جانے والی تمام چیزیں، یہ اساتید، مربیّ، یہ بڑے بڑے کتب خانے اور ہماری اور دوسری موجودات کی خلقت میں یہ باریک بینی، اورظرافت کیا واقعاً یہ سب کچھ کھانے پینے، پہننے اور مادی زندگی بسر کرنے کے لئے ہیں؟

اس سوال کی بنا پر معاد اور قیامت کا انکار کرنے والے اس زندگی کے عبث ہونے کا اقرار کرتے ہیں، اور ان میں سے بعض لوگ اس بے معنی زندگی سے نجات پانے کے لئے خود کشی کو اپنے لئے افتخار سمجھتے ہیں !

کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص خداوندعالم اور اس کی بے نہایت حکمت پر ایمان رکھتا ہولیکن اس دنیا کو عالم آخرت کے لئے مقدمہ شمار نہ کرے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( َفَحَسِبْتُمْ َنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وََنَّکُمْ ِلَیْنَا لاَتُرْجَعُونَ ) (1) ''کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹا کر نہیں لائے جائو گے''۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورۂ مؤمنون ، آیت 115.


اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر عالم آخرت نہ ہو تو اس دنیا کا خلق کرنا فضول ہے ۔

جی ہاں! یہ دنیوی زندگی اسی صورت میں با معنی اور حکمت خداوندی سے ہم آہنگ ہوتی ہے کہ جب اس دنیا کو عالم آخرت کی کھیتی قرار دیں''الدُّنْیَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ'' ،یا اس کوعالم ِآخرت کے لئے پل قراردیں'' الدنیاقنطرة'' یا اس عالم کے لئے یونیورسٹی اور تجارت خانہ تصور کریں ، جیسا کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے عظیم کلام میں فرماتے ہیں: ''یاد رکھو کہ دنیا یقین کرنے والے کے لئے سچائی کا گھر ہے، سمجھ دار کے لئے امن و عافیت کی منزل ہے، اور نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے نصیحت کا مقام ہے، یہ دوستان خدا کے سجود کی منزل اور آسمان کے فرشتوں کا مصلیٰ ہے، یہیںوحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور یہیں اولیاء خدا آخرت کا سودا کرتے ہیں، اوررحمت الٰہی حاصل کرلیتے ہیں اور جنت کے مستحق قرار پاتے ہیں''۔(1)

خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ اس جہان کے حالات کا مطالعہ اور تحقیق کے بعدیہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد ایک دوسراجہان بھی موجود ہے

سوالات :

1۔قیامت کے بارے میں کوئی دلیل پیش کریں ؟

2۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے عظیم کلام میں دنیا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

الدُّنْیَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ'' سے کیا مراد ہے ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) نہج البلاغہ ،کلمات قصار کلمہ 131.


( حصہ دوم )

( احکام)


درس نمبر11

( تقلید )

تقلید کے معنی پیروی کرنا اور نقش قدم پر چلنا ہے ،یہاں تقلید کے معنی ''فقیہ'' کی پیروی کرنا ہے یعنی اپنے کاموں کو مجتہد کے فتویٰ کے مطابق انجام دینا۔

u ۔ جوشخص خود مجتہد نہیں اوراحکام ودستورات الٰہی کو حاصل بھی نہیں کرسکتا تواُسے مجتہد کی تقلید کرنا چاہئے ۔

u ۔ جس مجتہد کی تقلید کی جاتی ہے اسے ''مرجع تقلید'' کہتے ہیں۔

u ۔ جس مجتہد کی انسان تقلید کرے، اس میں مندرجہ ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے :

٭ مرد ہو۔ ٭ بالغ ہو

٭ عاقل ہو ٭ عادل ہو

٭ حلال زادہ ہو ٭ شیعہ اثنا عشری ہو ۔

٭ احتیاط واجب کی بناپرزندہ ،اعلم ہو اور دنیا طلب نہ ہو۔

u ۔ مجتہد اوراعلم کو پہچاننے کے طریقے :

الف: انسان خود اہل علم ہواور مجتہد اعلم کی شناخت کرسکتا ہو ۔یا ایسی شہرت ہو جس سے انسان کو اطمینان ہو جائے ۔

ب: دو عالم وعادل افراد جو مجتہد واعلم کی تشخیص کرسکیں، کسی کے مجتہدیا اعلم ہونے


کی تصدیق کردیں

ج: اہل علم کی ایک جماعت، جو مجتہد واعلم کی تشخیص دے سکتی ہو اور ان کے کہنے پر اطمینان پیدا ہوسکتا ہو، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کرے۔

u ۔ مجتہد کے فتویٰ کو حاصل کرنے کے طریقے :

٭ خود مجتہد سے سننا۔

٭ دویا ایک عادل شخص سے سننا۔

٭ ایک سچے اور قابل وثوق انسان سے سننا۔

٭مجتہد کے رسالہ عملیہ (توضیح المسائل )میں دیکھنا جبکہ ہر طرح کی غلطی اور اشتباہ سے مبرّاہو۔

u ۔ اگر مجتہد اعلم نے کسی مسئلہ میں فتویٰ نہ دیا ہو، تو اس کا مقلد دوسرے مجتہد کی طرف

اس مسئلہ میں رجوع کرسکتا ہے، بشرطیکہ دوسرے مجتہد کا اس مسئلہ میں فتویٰ پایا جاتا ہو، اور احتیاط واجب کی بناء پر جس کی طرف رجوع کیا جارہا ہے وہ مجتہد دوسرے مجتہدوں سے اعلم ہو۔

u ۔ اگر مجتہد کافتویٰ بدل جائے،تو مقلد کا اس کے نئے فتویٰ پر عمل کرنا چاہئے اور اس کے پہلے فتویٰ پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔

u روز مرہ پیش آنے والے مسائل کا یاد کرنا واجب ہے۔

مکلف کون ہے؟

عاقل ،بالغ اور وہ افرادجواحکام کو بجالانے کی قدرت رکھتے ہوں،مکلف ہیں، یعنی احکام کو انجام دینا ان پر واجب ہے، لہٰذا (نابالغ) بچے ،دیوانے (غیر عاقل) اور


وہافراد جو احکام کو بجالانے کی قدرت نہیں رکھتے ،مکلف نہیں ہیں

بلوغ :

بلوغ کا مطلب ہے درج ذیل شرائط میں سے کسی ایک کا پایا جانا۔

1۔شکم کے نیچے اور اورشرمگاہ کے اوپر سخت بالوں کا نکل آنا

2۔احتلام (منی کا خارج ہونا )

3۔لڑکوں میں پندرہ سال اور لڑکیوں میں 9 سا ل قمری کے پورے ہونا

لڑکا یا لڑکی جب سن بلوغ کو پہنچ جائیں تو انھیں تمام شرعی فرائض کو انجام دینا چاہئے ، اگر اس سن سے کمتر بچے بھی نیک کام، جیسے نماز کو صحیح طریقے پر انجام دیں، تو ثواب پائیں گے ۔ توجہ رہے کہ سن بلوغ قمری سال سے حساب ہوتا ہے، چونکہ قمری سال 4 5 3 دن اور 6 گھنٹے کا ہوتا ہے اس لئے شمسی سال سے دس دن اور 18 گھنٹے کم ہوتا ہے ، اس طرح 9سال شمسی سے 96 دن اور 18 گھنٹے کم کرنے پر 9 سال قمری بن جاتے ہیں اور 15 سال شمسی سے 61 1 دن اور 6 گھنٹے کم کرنے پر 15 سال قمری بن جاتے ہیں ۔

سوالات :

1۔تقلید کے کیا معنیٰ ہیں ؟

2۔مرجع تقلید کے شرائط کیا ہیں؟

3۔مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کے طریقے بیان کیجئے؟

4۔مجتہد کے فتوے کو حاصل کرنے کے طریقے کیا ہیں ؟

5۔مکلف کون ہے؟


درس نمبر 12

( نجاسات )

اسلام کچھ چیزوں کو نجس جانتا ہے ، اور مسلمانوں کو ان سے اجتناب کا حکم دیتا ہے :

1۔2۔ پیشاب و پاخانہ : خواہ انسان کا ہو یا ہر اس حرام گوشت حیوان کا جو خون جہندہ رکھتا ہو یعنی اگر اس کی رگ کو کاٹ دیں تو خون اچھل کر نکلتا ہے۔

3۔منی :اہر انسان اور خون جہندہ رکھنے والے حیوان کی منی نجس ہے ۔

4۔ مردار :انسان اور ہر خون جہندہ رکھنے والے حیوان کا مردہ نجس ہے ۔

5۔خون : انسان اور ہرخون جہندہ رکھنے والے حیوان کا خون نجس ہے ۔

6۔ خشکی کا کتا۔

7۔ خشکی کاسور۔

8۔ کافر جو خدا و رسول(ص) کا منکر ہے ۔

9۔ شراب ۔

10۔ فقاع (بیئر) جو، جو سے بنائی جاتی ہے ۔

( مطہرات )

1۔ پانی : مطلق اور پاک پانی ،ہر چیز کی نجاست کو پاک کر تا ہے ۔

2۔ زمین: اگر زمین پاک اور خشک ہے تو انسان کے پیر ، جوتے کے تلے اور ، گاڑی


کے پہیہ وغیرہ کو پاک کردیتی ہے شرط یہ ہے کہ چلنے کی وجہ سے ان چیزوں کی نجاست زائل ہو گئی ہو ۔

3۔ آفتاب : سورج ،زمین ،چھت ، دیوار ، دروازہ ، کھڑکی اور درخت وغیرہ کو پاک کرتا ہے شرط یہ ہے کہ عین نجاست بر طرف ہوگئی ہو اور نجاست کی تری آفتاب کی گرمی سے خشک ہو جائے ۔

4۔ عین نجاست کا دور ہونا : اگر حیوان کا بدن نجس ہوجائے تو عین نجاست کے دور ہوتے ہی اس کا بدن پاک ہوجاتا ہے ، اور پانی سے دھونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

5۔ استحالہ : اگر عین نجس اس طرح متغیر ہوجائے کہ اس پر اس کے سابقہ نام کا اطلاق نہ ہو بلکہ اسے کچھ اور کہا جانے لگے تو وہ نجاست پاک ہوجاتی ہے، جیسے کتا نمک کی کان میں گر کر نمک بن جائے تو پاک ہو جائے گا یا نجس لکڑی کو آگ جلا کر خاکستر کر دے تووہ خاکستر پاک ہوجائیگی۔

سوالات :

1۔ کوئی بھی پانچ نجاسات بیان کیجئے ؟

2۔ کیا سانپ کا خون نجس ہے ؟

3۔ زمین کن چیزوں کو پاک کرتی ہے ؟

4۔ استحالہ سے کیا مراد ہے ؟


درس نمبر 13

( وضو )

وضو کا طریقہ :

پہلے نیت کرے کہ خدا کی خوشنودی کے لئے وضو انجام دیتا ہوں ''قربةً الی اللہ ''

پھرچہرے پر بال اگنے کی جگہ سے ٹھڈی کے آخری حصے تک دھوئے ،چہرہ دھونے کے بعد داہنے ہاتھ کو کہنی سے لے کر انگلیوں کے آخری سرے تک ( یعنی اوپر سے نیچے کی طرف) دھوئے اور پھر بائیں ہاتھ کو کہنی سے لے کر انگلیوں کے آخری سرے تک یعنی اوپر سے نیچے کی طرف دھوئے اس کے بعد داہنے ہاتھ کی تری سے سر کے اگلے حصہ پر اوپر سے نیچے کی طرف مسح کرے ۔ پھر داہنے ہاتھ کی بچی ہوئی تری سے داہنے پیر کی انگلیوں سے لے کر پیر کے ابھار تک مسح کرے ۔اسکے بعد بائیں ہاتھ سے بائیں پیر کی انگلیوں سے لے کر پیر کے ابھار کی جگہ تکمسح کرے ۔

( غسل )

چھ غسل واجب ہیں :

( 1 ) غسل جنابت (2)غسل میت (3) غسل مس میت (4) غسل حیض(5) غسل نفاس (6) غسل استحاضہ

( 1 ) غسل جنابت: اگر انسان جماع کرے ،یا اس سے منی نکل آئے تو اسے غسل


جنابت کرنا چاہیے ۔

( 2 ) غسل میت: ہر مسلمان کو مرنے کے بعد اور دفن کرنے سے پہلے غسل دینا واجب ہے اسے غسل میّت کہتے ہیں ۔

( 3 ) غسل مس میت: اگر کوئی شخص کسی میت کو سرد ہونے کے بعد اور غسل میت سے پہلے مس کرلے تو اس پر غسل مس میت واجب ہوجاتا ہے ۔

( 4،5،6 ) غسل حیض،غسل نفاس،غسل استحاضہ،یہ تین غسل خواتین کے ساتھ مخصوص ہیں جنکی تفصیل کے لیے ہماری کتاب ''خواتین کے اہم مسائل '' کی طرف رجوع فرمائیں ۔

غسل کا طریقہ :

غسل میں چند چیزیں واجب ہیں :

1۔ نیت : غسل کو خدا کے لئے بجالائے اور معلوم ہونا چاہیے کہ کون سا غسل انجام دے رہا ہے ( یا دے رہی ہے )

2۔ نیت کے بعد پورے سر و گردن کو دھوئے اس طریقے سے کہ ایک ذرہ کہیں چھوٹنے نہ پائے ۔

3۔ سر و گردن کے بعد داہنے طرف کے پورے بدن کو دھوئے ۔

4۔ اس کے بعد بائیں طرف کے پورے بدن کو دھوئے ۔

مجنب پر چند چیزیں حرام ہیں :

1۔ خط قرآن ، اسم خدا ، اور اسماء انبیاء ، اسماء ائمہ طاہرین کو بدن کے کسی حصہ سے مس کرنا ۔

2۔ مساجد اور ائمہ علیہم السلام کے حرم میں ٹھہرنا ۔

3۔ کسی چیز کو رکھنے کے لئے مسجد میں داخل ہونا ۔

4۔ وہ سورہ جن میں سجدہ واجب ہے ان کی سجدہ والی آیت کا پڑھنا ۔

5۔ مسجد الحرام اور مسجد النبوی میں جانا ۔


( تیمم کا طریقہ )

تیمم میں پانچ چیزیں واجب ہیں :

1۔ نیت ۔

2۔ دونوں ہاتھوں کو ملا کر ہتھیلیوں کو زمین پر مارے ۔

3۔ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کوپوری پیشانی اور اس کے دونوں طرف جہاں سے سر کے بال اُگتے ہیں ابرو ئوں تک اور ناک کے اوپر تک کھینچے

4۔ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو داہنے ہاتھ کی پوری پشت پر پھیرے ۔

5۔ داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پوری پشت پر پھیرے ۔

نکتہ 1: جب انسان کے لئے پانی ضرر رکھتا ہو یا پانی تک رسائی ممکن نہ ہو یا نماز کا وقت تنگ ہو تو چاہیے کہ نماز کے لئے تیمم کرے ۔

نکتہ 2: مٹی ، کنکر ، ریت ، ڈھیلہ ، پتھر ، پر تیمم کرنا صحیح ہے ۔


سوالات :

1۔ وضو کا طریقہ بیان کیجئے ؟

2۔غسل کا طریقہ بیان کیجئے ؟

3۔کتنے غسل واجب ہیں ؟

4۔ تیمم کا طریقہ بیان کیجئے ؟

5۔ تیمم کن چیزوں پر جائز ہے ؟


درس نمبر 14

( نماز )

نماز دین کا ستون ہے، آنحضرت (ص) نے فرمایا : خدا کی قسم نماز کو حقیر سمجھنے والے اور ترک کرنے والے کومیری شفاعت نصیب نہیں گی۔(1)

٭واجب نمازیں چھ ہیں :

1۔ نماز پنجگانہ ۔

2۔ نماز آیات (سورج گہن و چاند گہن )

3۔ نماز میت۔

4۔ نماز طواف۔

5۔ نمازقسم و نذر وغیرہ

6۔ نماز قضاء والدین

تمام مسلمانوں کو پانچ وقت کی نماز پڑھنا واجب ہے ، صبح کی دورکعت ، ظہر کی چار رکعت ، عصر کی چار رکعت ، مغرب کی تین رکعت ، اور عشا کی چار رکعت ۔

٭اوقات نماز :

نماز صبح کا وقت ،صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے کے وقت تک ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وافی ۔ج2 ، جزء پنجم، ص 13 ۔


نمازظہر و عصر کا وقت سورج کے زوال سے لے کر غروب آفتاب تک ہے۔نماز مغرب و عشا سورج ڈوبنے (مغرب ) سے لے کر آدھی رات تک ہے

( اذان )

نماز سے پہلے اذان کہنا مستحب ہے ، اس کی ترتیب یہ ہے :

اَللّٰهُ اَکبَرُ ''اللہ سب سے بڑا ہے '' 4 مرتبہاَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُُ ''میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔'' 2مرتبہ

اَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰهِ ''میں گواہی دیتا ہوں کی محمد(ص) بن عبد اللہ ، اللہ کے رسول ہیں'' 2 مرتبہ

اَشهَدُ اَنَّ عَلِیّاً ولی الله (1) '' میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی تمام لوگوں پر اللہ کے ولی ہیں'' 2 مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ الصَّلٰوةِ ''نماز کے لئے جلدی کرو '' 2مرتبہحَیَّ عَلیٰ الفَلَاحِ ''کامیابی کے لئے جلدی کرو '' 2 مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ خَیرِ العَمَلِ ''بہترین عمل کے لئے جلدی کر و '' 2 مرتبہ

اَللّٰهُ اَکبَرُ ''اللہ سب سے بڑا ہے '' 2مرتبہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔مراجع تقلید کے مطابق'' اَشهَدُ اَنَّ عَلِیّاً وَلِیُ اللّٰهِ '' ( میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی تمام لوگوں پر اللہ کے ولی ہیں) اذان و اقامت کا (جز) حصہ نہیں ہے ، لیکن'' اَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰهِ '' کے بعد'' اَشهَدُ اَنَّ عَلِیاً وَلِیُّ اﷲِ '' بقصد تبرک و تیمن کہنا بہتر ہے ۔


لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ''خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے '' 2مرتبہ

( اقامت )

نماز کے لئے اذان کے بعداقامت کہنا مستحب ہے،اس کی ترتیب یہ ہے :

اَللّٰهُ اَکبَرُ ''اللہ سب سے بڑا ہے '' 2 مرتبہاَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُُ ''میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔'' 2مرتبہ

اَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰهِ ''میں گواہی دیتا ہوں کی محمد(ص) بن عبد اللہ ، اللہ کے رسول ہیں'' 2 مرتبہ

اَشهَدُ اَنَّ عَلِیّاً ولی الله (1) '' میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی تمام لوگوں پر اللہ کے ولی ہیں'' 2 مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ الصَّلٰوةِ ''نماز کے لئے جلدی کرو '' 2مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ الفَلَاحِ ''کامیابی کے لئے جلدی کرو '' 2 مرتبہ

حَیَّ عَلیٰ خَیرِ العَمَلِ ''بہترین عمل کے لئے جلدی کر و '' 2 مرتبہ

قَد قَا مَتِ الصَّلَوٰةُ '' نماز قائم ہوگئی '' 2مرتبہ

لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ '' خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے '' 1 مرتبہ


سوالات:

1۔واجب نمازوں کے کے نام بتائیں ؟

2 ۔اذان کی ترتیب بیان کیجئے ؟

3۔اذان اور اقامت کا فرق بیان کیجئے ؟

4۔مراجع تقلیداذان و اقامت میں'' اَشهَدُ اَنَّ عَلِیّاً وَلِیُ اللّٰهِ '' کے بارے میں کیا فرماتے ہیں


درس نمبر51

( نماز پڑھنے کا طریقہ )

نماز میں چند چیزوں کا انجام دینا ضروری ہے :

1۔ نیت : قبلہ رخ کھڑے ہونے کے بعد نیت کرے کہ میں دو رکعت نماز صبح پڑھتا ہوں(یا پڑھتی ہوں ) واجب قربة ً الی اللہ ۔

2۔تکبیرة الاحرام : نیت کے بعد ہاتھوں کو کان کی لو تک لیجا کر کہے'' اللہ اکبر'' پھر ہاتھوں کو نیچے لائے۔

3۔ قرائت : تکبیرة الاحرام کے بعد سورہ حمد کی تلاوت کرے۔ :

بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ

اَلحَمدُ لِلّٰهِ رَبِّ العٰالَمِینَ- الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ - مَالِکِ یَومِ الدِّینِ- اِیَّاکَ نَعبُدُ وَاِیَّاکَ نَستَعِینُ- اِهدِنَاالصِّرَاطَ المُستَقِیمَ - صِرَاطَ الَّذِینَ اَنعَمتَ عَلَیهِم غَیرِ المَغضُوبِ عَلَیهِم وَلَا الضَّالِّینَ -

ترجمہ :

خداوند رحمن و رحیم کے نام سے (شروع کرتا ہوں )

ساری تعریفیں اس خدا کے لئے مخصوص ہیں جو جہانوں کا پالنے والا ہے ، جوبڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے جوجزا کے دن کا مالک ہے ، (پروردگار)ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں ، اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں، ہم کو صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ ،


ایسے لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اپنی نعمتیں نازل کی ہیں ، ان لوگوں کا راستہ نہیں ، جن پر تو نے غصب نازل کیا ہے اور گمراہوں کا راستہ ۔

٭سورہ حمد پڑھنے کے بعد قرآن مجید سے کوئی ایک سورہ پڑھے مثلا سورہ توحید اس طرح :

بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ

قُل هُوَ اللّٰهُ اَحَد - اَللّٰهُ الصَّمَدُ - لَم یَلِد وَلَم یُولَد - وَلَم یَکُن لَّه کُفُواً اَحَد-

ترجمہ :

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن و رحیم ہے۔

اے پیغمبر ! کہہ دیجئے وہ خدا یکتا ہے ، وہ خدا سب سے بے نیاز ہے،اس سے، کوئی پیدا نہیںہواہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے اور کوئی اس کا مثل و نظیر نہیں ہے ۔

٭مردوں پر واجب ہے کہ نماز صبح و مغرب و عشا میں سورہ حمد اور دوسرا سورہ بلند آواز سے پڑھیں ۔

٭ تکبیرة الاحرام(الله اکبر) کہتے وقت ہاتھوں کا کان کی لو تک اٹھانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے ۔

4۔ رکوع : سورہ حمد اور دوسرے سورہ کے بعد رکوع میں جائے یعنی اس انداز میں جھکے کہ ہاتھ دونوں گھٹنوں تک پہنچ جائیں اور پھر پڑھے ،

'' سُبحَانَ رَبِّیَ العَظِیمِ وَ بِحَمدِه ''

یا تین مرتبہ کہے''سُبحَانَ اللّٰه''ِ یعنی میرا عظیم پروردگار ہر عیب و نقص سے پاک و


منزہ ہے ،اور میں اس کی حمد و ثنا، کرتا ہوں ،رکوع کے بعد سیدھاکھڑاہوجائے اور کھڑے ہو کر کہے:''سَمِعَ اللّٰهُ لِمَن حَمِدَه ' یعنی خدا وند عالم اپنے بندے کی حمد وثنا قبول کرنے والا ہے،یہ پڑھنا مستحب ہے ۔

5۔ سجدہ : رکوع کے بعد سجدہ میں جائے یعنی پیشانی کو زمین پر یا جو چیز اس سے اگتی ہے (لیکن کھانے اور پہننے والی نہ ہو )اس پر رکھے اور حالت سجدہ میں پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی اور دونوں گھٹنے دونوں انگوٹھے کے سرے کو زمین پر رکھے پھر پڑھے:'' سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلَیٰ وَبِحَمدِه ''یا تین مرتبه '' ُسبحَانَ اللّٰه ِ '' (میرا پروردگار ہر ایک سے بالا وبرتر ہے اور ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اور میں اس کی حمد کرتا ہوں ) پڑھے ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور تھوڑا ٹھہر کر پھر دوبارہ سجدہ میں جائے اور سجدۂ دوم سے سر اٹھا کر تھوڑی دیر بیٹھے اور دوسری رکعت کے لئے کھڑاہو جائے اور کھڑے ہوتے وقت پڑھے'' بِحَولِ للّٰهِ وَقُوَّتِه اَقُومُ وَاَقعُدُ'' (میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت و مدد سے کھڑا ہوتا اور بیٹھتا ہوں )یہ کہنا مستحب ہے جب سیدھے کھڑا ہو جائے تو پھرالحمد اور دوسرا سورہ پہلی رکعت کی طرح پڑھے ۔

٭ قنوت : سورہ حمد اور دوسرے سورہ سے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرے کے سامنے لا کر قنوت (دعا) پڑھے:''رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَةً وَفِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ'' ( اے پروردگار! دنیا اور آخرت میں ہم کو حسنہ مرحمت فرما اور جہنم کے عذاب سے بچا ) دونوں ہاتھوں کو نیچے لائے اوپہل کی طرح رکوع کرے۔

٭ قنوت پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب اور فضیلت و ثواب کا باعث ہے ۔


6۔ تشہد : تمام نمازوں میں دوسری رکعت کے کامل کرنے کے بعد دوسرے سجدہ سے سر اٹھا کر بیٹھ جائے اور اس طریقے سے تشہد پڑھے :'' ِ اَشهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحدَه لَا شَرِیکَ لَه وَاَشهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبدُه وَرَسُولُه، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ '' میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں خداوند ا ! محمد(ص) اور ان کی آل پر درود بھیج ۔

٭نماز مغرب میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ کھڑے ہوجائے اور کھڑے ہوکر اطمینان کی حالت میں تیسری رکعت کو شروع کرے پھر رکوع و سجود و تشہد کے بعد سلام پڑھے ،اور نماز ظہر و عصر و عشا میں پہلے تشہد کے بعد سلام نہ پڑھے بلکہ کھڑے ہو کر تیسری اور چوتھی رکعت کے بعد بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے۔

7۔ سلام : نماز صبح میں تشہد کے بعد سلام اس طرح سے پڑھے :

'' اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

اے نبی(ص) !آپ پر سلام اور خدا کی رحمت و برکت ہو

'' اَلسَّلَامُ عَلَینَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِینَ ''

ہم پر اور خدا کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو،

'' اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه ''

تم پر سلام ہو اور خدا کی رحمت و برکتیں ہوں ۔

8۔ترتیب : بیان شدہ ترتیب کے مطابق انجام دے

9۔ موالات : تمام اعمال کو پے در پے انجام دے


٭۔ تسبیحات اربعہ : نماز مغرب کی تیسری اور نماز عشا ،ظہر و عصر کی تیسری و چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بجائے تسبیحات اربعہ پڑھے :

'' سُبحَانَ اللّٰهِ وَالحَمدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکبَرُ '' خداوند عالم پاک ومنزہ ہے حمد و ثنا اس کے لئے مخصوص ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں خدا اس سے کہیں بزرگ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ۔

٭نماز پڑھنے والے کا جسم ،لباس اور مکان پاک ہونا چاہیے اور لباس ومکان پاک ہونے کے ساتھ مباح بھی ہوں اوعر لباس حرام گوشت جانور یا مردار کی جلد اور کھال سے بنا ہوا نہیں ہونا چاہیے ۔

٭نماز پڑھنے والی عورت ، جنابت و حیض و استحاضہ و نفاس سے اور مرد جنابت سے پاک ہو ۔

سوالات:

1۔نماز کی ترکیب بتائیے ؟

2۔کیا تکبیرة الاحرام کہتے وقت ہاتھوں کاکانوں کی لو تک لیجا نا واجب ہے ؟

3۔قنوت کونسی رکعت میں پڑھتے ہیں ،اور کیا اس کا پڑھنا واجب ہے ؟

4۔اگر کوئی شخص نجس لباس میں نماز پڑھ لے تو کیا اس کی نماز صحیح ہے ؟

5۔اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی جگہ پر نمازپڑھے جس کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ راضی نہیں ہے تو کیا اس جگہ پر نمازپڑھنا صحیح ہے ۔؟


درس نمبر 16

( نماز کے ارکان )

نماز کے پانچ ارکان واجب ہیں :

1۔ نیت۔

2 ۔تکبیرة الاحرام۔

3۔ قیام ، تکبیرة الاحرام کہتے وقت اور رکوع میں جانے سے پہلے جس کو قیام متصل بہ رکوع کہا جاتا ہے یعنی رکوع سے پہلے کھڑے ہونا ۔

4۔رکوع۔

5۔ دونوں سجدے

عمداً و سہواً یا ان ارکان کو کم یا زیادہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔

نماز کو باطل کرنے والی چیزیں

مبطلات نماز :

ان کاموں کو انجام دینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے :

1۔وضو کے ٹوٹ جانے سے نماز باطل ہوجاتی ہے ، چاہے عمداً ہو یا سہواً ۔

2۔ جان بوجھ کر دنیا کے متعلق گریہ کرنا ۔

3۔ عمداً قہقہ کے ساتھ ہنسنا ۔

4۔ جان بوجھ کر کھانا اور پینا ۔


5۔ بھول کر یا جان بوجھ کر کسی رکن کو کم یا زیادہ کردینا ۔

6۔ حمد کے بعد آمین کہنا ۔

7۔ سہواً یا عمداً قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا ۔

8۔ بات کرنا ۔

9۔ ایسا کام کرنا جس سے نماز کی صورت ختم ہو جائے جیسے تالی بجانا اوراچھلنا ،کودنا وغیرہ۔

10۔ پیٹ پر ہاتھ باندھنا ( اہل سنت کی طرح ) ۔

11۔ دو رکعتی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں شک کرنا ۔

مسافر کی نماز :

درج ذیل شرائط کے ساتھ مسافر کو چاہیے کہ چار رکعتی نماز کو دو رکعت پڑھے :

1۔ سفرآٹھ فرسخ سے کم نہ ہو(43 کلو میٹر) جسکی آمدورفت آٹھ فرسخ ہو جاتی ہے وہ نماز کو قصر پڑھے ۔

2۔ابتداء سے آٹھ فرسخ کی نیت ہو

3۔راستے میں اپنا ارادہ نہ بدل دے

4۔منزل تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے نہ گزرے اور اثنائے راہ میں دس دن یا زیادہ دن قیام نہ کرے

5۔ اس کا سفر کسی حرام کام کے لئے نہ ہو ، جیسے سفر کرے چوری یا مومن کے قتل کرنے کے لئے اسی طرح عورت بغیر شوہر کی اجازت کے گھر سے باہر نکلے ۔

6۔صحراء نشین خانہ بدوش نہ ہو ۔


7۔اس کا مشغلہ اور کام مسافرت نہ ہو ۔

8 ۔ حد ترخّص تک پہنچ جائے ۔یعنی وطن یا اپنے ٹھہرنے کی جگہ سے اتنا دور ہوجائے کہ شہر کی اذان کی آواز کو نہ سنے اور شہر کے لوگ اس کو نہ دیکھ سکیں

٭جو مسافر سفر میں ایک جگہ دس دن رہنے کا ارادہ رکھے تو جب تک وہاں پر قیام ہے نماز پوری پڑھے اور وہ مسافر جو تیس دن تک متردد حالت میں رہ رہا ہو تیسویں دن کے بعداسے چاہیے کہ نماز کو پوری پڑھے ۔

سوالات:

1۔نمازکے ارکان سے کیا مراد ہے ؟

2۔ نمازکے ارکان بیان کیجئے ؟

3۔مبطلات نماز کیا ہیں ؟

4۔ کن شرائط کے ساتھ نماز قصر ہوجاتی ہے ؟

5۔ حد ترخّص سے کیا مراد ہے؟


درس نمبر 17

( روزہ )

اسلام کے اہم واجبات میں سے روزہ ہے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی (ص) نے فرمایا : روزہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔(1)

تمام مسلمانوں پر رمضان کے مہینے کا روزہ کھنا واجب ہے ، یعنی صبح صادق سے لے کر مغرب تک تمام وہ کام جو روزہ کو باطل کر تے ہیں ان سے اجتناب و پرہیز کرے ۔

مبطلات روزہ: روزہ کو باطل کرنے والے امور درج ذیل ہیں :

1۔ کھانا اور پینا۔

2۔ غلیظ گردوغبار کا حلق تک پہنچانا ۔

3۔ قے کرنا۔

4۔ جماع کرنا

5۔ حقنہ کرنا۔

6۔ پانی میں سر ڈبونا۔

7۔ اللہ اور اس کے رسول(ص) پر جھوٹا الزام لگانا۔

8۔ استمناء (منی نکالنا )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وافی ،ج2، جز 7، ص5 ۔


( 9 ) صبح کی اذان تک جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنا ۔

٭اگر یہ روزہ توڑنے والی چیزیں عمداً واقع ہو تو روزہ باطل ہوجاتا ہے

لیکن اگر بھول چوک یا غفلت کے سبب واقع ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا ہے سوائے جنابت و حیض و نفاس پر باقی رہنے کے ، کہ اگر سہواً اور غفلت کی وجہ سے بھی ہو، تو بھی روزہ باطل ہے ۔

وہ افراد جو روزہ کو توڑ سکتے ہیں

1۔ بیمار :جس پر روزہ رکھنا ضرر کا باعث ہو ۔

2۔ مسافر، انھیں شرائط کے ساتھ جو مسافر کی نماز کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔

3۔ وہ عورت جو ماہواری (حیض کی حالت میں ) یا نفاس میں ہو ۔

٭ان تینوں قسم کے افراد کو چاہیے کہ اپنے روزہ کو توڑدیں اور عذر کو بر طرف ہونے کے بعد روزہ کی قضا کریں ۔

4۔ حاملہ عورت جس کا وضع حمل قریب ہو اور روزہ خود اس کے لئے یا اس کے بچے کے لئے ضرر کا باعث ہو ۔

5۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورت جبکہ روزہ رکھنے سے دودھ میں کمی آتی ہو اور بچہ کی تکلیف کا سبب ہو۔

6۔ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں جن پر روزہ رکھنا سخت اور دشوار ہے ۔

٭مندرجہ بالا خواتین عذر کے زائل ہونے کے بعد اپنے روزے کی قضا اور تین پائو گیہوں فقیر کو دیں گی ۔

٭اگر یہ لوگ رمضان کے بعد بآسانی روزہ رکھ سکتے ہوں تو قضا کریں ، لیکن اگر ان


پر روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو تو قضا واجب نہیں ہے ، لیکن ہر روزہ کے بدلے تین پائو گیہوں فقیر کو دیں۔

٭جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزے نہ رکھے یا توڑ دے تو اسے چاہیے کہ اس کی قضا کرے اور ہر روزہ کے بدلے ساٹھ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلائے ۔

سوالات:

1۔مبطلات روزہ بیان کیجئے ؟

2۔ اگر کسی شخص کو قے آجائے تو کیا اسکا روزہ باطل ہے ؟

3۔ کونسے افراد روزہ توڑ سکتے ہیں ؟

4۔ جو شخص عذر شرعی کے بغیر ماہ رمضان کے روزہ ے نہ رکھے یا توڑ دے اسکا کیا حکم ہے ؟


درس نمبر18

( زکوٰة )

اسلام کی واجب چیزوں میں سے ایک زکواة ہے ، حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص اپنے مال کی زکواة نہ دے وہ نہ مومن ہے اور نہ ہی مسلمان ہے(1)

زکوٰةنو (9) چیزوں پر واجب ہے :

( 1 ) گیہوں (2) جو (3) کھجور (4) کشمش (5) گائے بھینس (6) بھیڑ بکری ( 7) اونٹ(8) سونا ( 9) چاندی ۔

دین اسلام نے ان چیزوں کے لئے ایک حد و مقدار بیان فرمائی ہے اگر اس حد تک پہنچ جائے تو اس میں زکوٰة دینا واجب ہوگی اگر اس مقدار تک نہ پہونچے تو اس پر زکوٰة واجب نہ ہوگی اس حد کو نصاب کہتے ہیں ۔

گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش : ان چار چیزوں کا نصاب 847کلو گرام ہے اگر اس مقدار سے کم ہوتو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہے ، زکوٰة نکالتے وقت یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ جو زراعت پر اخراجات ہوئے ہیں ان سب کو نکال کر اگر نصاب کی حد تک پہنچے تو زکوٰة واجب ہو گی ،باقی چیزوں کے نصاب کی مقدار جاننے کے لئے مفصل کتب کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ا)۔ وافی، ج2 ،ص5 ، جز 6 ۔


( خمس )

اسلام کے مالی حقوق میں سے ایک خمس ہے جو تمام مسلمانوں پر فرض ہے ۔

سات چیزوں پر خمس دینا واجب ہے :

1۔ کاروبار کے منافع ، انسان کو زراعت و صنعت و تجارت مختلف اداروں میں ملازمت کاریگری وغیرہ سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے (مثلاً کھانا ،پینا، لباس ، گھر کا ساز وسامان ، گھر کی خریداری ، شادی ، مہمان نوازی ، مسافرت کے خرچ وغیرہ کے بعد ) سالانہ خرچ سے جو بچ جائے اس بچت کا پانچواں حصہ بعنوان خمس ادا کرے ۔

2۔ کان سے جو سونا ،چاندی ،لوہا ، تانبہ ، پیتل ، تیل ، نمک ، کوئلہ ، گندھک معدنی چیز برآمد ہوتی ہے اور جو دھاتیں ملتی ہیں، ان سب پر خمس واجب ہے ۔

3۔ خزانے ۔

4۔ جنگ کی حالت میں مال غنیمت ۔

5۔ دریا میں غوطہ خوری کے ذریعہ حاصل ہونے والے جواہرات ۔

6۔جو زمین مسلمان سے کافر ذمی خرید ے اس کو چاہیے کہ پانچواں حصہ اس کا یا اس کی قیمت کا بعنوان خمس ادا کرے ۔

7۔ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہوجائے اس طرح کہ حرام کی مقدار معلوم نہ ہو اور نہ ہی اس مال کو پہچانتا ہو، تو اسے چاہیے ان تمام مال کا پانچواں حصہ خمس دے تاکہ باقی مال حلال ہوجائے ۔

٭جو شخص خمس کے مال کا مقروض ہے اس کو چاہیے کہ مجتہد جامع الشرائط یا اس کے


کسی وکیل کو دے تاکہ وہ عظمت اور ترویج اسلام اور غریب سادات کے مخارج کو اس سے پورا کرے۔

٭خمس و زکوٰة کی رقوم اسلامی مالیات کا سنگین اور قابل توجہ بجٹ ہے۔

اگر صحیح طریقہ سے اس کی وصولی کی جائے اور حاکم شرع کے پاس جمع ہوتو اسے مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کو بطور احسن انجام دیا جا سکتا ہے ، یا فقیری و بیکاری اور جہالت کا ڈٹ کر مقابلہ اور اس سے لاچار و فقیر لوگوں کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے اور لوگوں کے ضروری امور کہ جس کا فائدہ عمومی ہوتا ہے اس کے ذریعہ کرائے جا سکتے ہیں مثلاًہسپتال ، مدرسہ ، مسجد ، راستہ ، پل اور عمومی حمام وغیرہ کی تعمیرکا کام ۔

سوالات:

1۔ حضرت امام صادق نے زکات کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟

2۔ زکات کن چیزوں پر واجب ہے ؟

3۔گیہوں ، جو ، کھجور اور کشمش کی کتنی مقدار پر زکوٰة واجب ہوتی ہے ؟

4۔خمس کتنی چیزوں پر واجب ہے ؟

5۔ خمس کی رقم کسے ادا کرنی چاہیے ؟


درس نمبر 19

( حج )

جو شخص جسمانی اور مالی قدرت رکھتا ہو توااس پر پوری عمر میں ایک مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے جانا واجب ہے ۔ یعنی اس کے پاس اتنا مال موجود ہو کہ اگر وہ اپنے مال سے حج کے اخراجات نکال لے تو واپس آنے پر بیچارہ حیران و سرگرداں نہ پھرے بلکہ مثل سابق اپنی زندگی اور کام وغیرہ کو ویسے ہی انجام دے سکے ۔

حضرت امام صادق نے فرمایا : جو شخص مر جائے اس حال میں کہ عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے تو ایسا شخص دنیا سے مسلمان نہیں جاتا بلکہ وہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ محشور ہوگا ۔

حج اسلام کی بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے ،دنیا کے تمام مسلمان ایک جگہ اور ایک مقام پر جمع اور ایک دوسرے کے رسوم و عادات سے آشنا ہوتے ہیں اور ہر ملک کے عمومی حالات کے تبادلۂ خیالات کے نتیجہ میں علمی سطح میں اضافہ ہوتا ہے،اس کے علاوہ مسلمان اسلام کی مشکلات اور مہم خطرات سے با خبر ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اقتصادی اور سیاسی و فرہنگی پروگراموں کے سلسلہ میں باز پرس کرتے ہیں نیز عمومی مصالح و فوائد پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں جس سے اتحاد ، ہم فکری اور آپسی دوستی کے روابط مستحکم ہوتے ہیں۔


( جہاد )

اسلام کا ایک مہم دستور جہاد ہے ۔ خدا پرستی کی ترویج و احکام اسلام کے نفوذ ، کفر و بے دینی اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کو جہاد کہتے ہیں اور جہاد تمام مسلمانوں پر واجب ہے، اس ضمن میں قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے :( اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِه صَفًّا کَاَنَّهُم بُنیَان مَرصُوص) خدا تو ان لوگوں سے الفت رکھتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں(1)

اور دوسرے مقام پر اس طرح ارشاد ہوتاہے( وَقَاتِلُ المُشرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُم کَافَّةً ) اور مشرکین جس طرح تم سے سب کے سب لڑتے ہیں تم بھی اسی طرح سب کے سب مل کر ان سے لڑو۔(2) حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں :''جہاد جنت کے دروازے میں سے ایک دروازہ ہے جو شخص جہاد سے انکار کرے خدا اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ''اسلام نے جہاد کو اسلامی ملکوں کی حفاظت کے لئے تمام مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مجاہد اور اسلامی ملک کو مجاہدوں کی جگہ قرار دی ہے ، مجاہدین اسلام کو چاہیے ہمیشہ کفر و الحاد کے مقابلہ میں مسلح اور صف بصف آمادہ رہیں تاکہ دشمن اسلام قدرت و شوکت اور اتحاد مسلمین سے خوف کھائے

اور اس کے ذہن سے اسلامی ملکوں پر زیادتی اور تجاوز کے خیالات دورہوجائیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورہ صف(61) آیت 4 ۔ (2)۔ سورہ توبہ (9 )آیت 36 ۔


اگرکفار کی فوج اسلام کے کسی علاقہ پر حملہ آور ہو جائے تو تمام مسلمانوں پر اپنے استقلال کے لئے اس کا دفاع کرنا واجب ہے اور تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ سب

کے سب دشمنوں کے مقابلہ میں صف بستہ کھڑے ہوں اور ایک ہی حملہ میں مخالف کی فوج کو تہس نہس اور تباہ و برباد کر کے اپنی جگہ پر بٹھادیں تاکہ دوبارہ وہ اس کی جرأت و ہمت نہ کر سکیں ۔

٭جہاد کے لئے مخصوص شرائط ہیں جس کی بابت چاہیے کہ فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے ۔

سوالات:

1۔ حج کس پر اور زندگی میں کتنی مرتبہ واجب ہے ؟

2۔حضرت امام صادق نیاس شخص کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے جو عذر شرعی کے بغیر اپنے واجبی حج کو ترک کردے ؟

3۔ حج کے کیا فوائد ہیں ؟

4۔ جہاد کی تعریف کیجئے ؟

5۔ جہا د کے بارے میاں کوئی آیت پیش کیجئے ؟


درس نمبر 20

( امر بالمعروف و نہی عن المنکر )

اسلام کے واجبات میں سے ایک امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے ، ترویج اسلام و تبلیغ احکام میں کوشش کرنا لوگوں کو دینی ذمہ داریوں اور اچھے کاموں سے آشنائی کرانا تمام مسلمانوں پر واجب ہے اگر کسی کو دیکھے کہ اپنے وظیفہ پر عمل پیرا نہیں ہے تو اس کو انجام دینے کے لئے آمادہ کرے اس کام کو امر بالمعروف کہتے ہیں ۔

منکرات (خدا کی منع کردہ چیزیں ) سے لوگوں کو منع کرنا بھی اسلام کے واجبات میں سے ہے ، اور واجب ہے کہ مسلمان فساد ، ظلم و ستم کے خلاف جنگ کرے اور برے و گندے کاموں سے روکے اگر کسی کو دیکھے کہ اسلام نے جن کاموں سے منع کیا ہے یہ ان کاموں (منکرات) کو انجام دے رہا ہے تو اس کام کے برے ہونے کی طرف اس کی توجہ دلائے ، جس حد تک ممکن ہوسکے اس کو برے کاموں سے روکے اس کام کو نہی از منکر کہتے ہیں۔

لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے اگر اس وظیفہ پر عمل ہونا شروع جائے تو اسلام کا کوئی بھی قانون بلا عمل باقی نہ رہے، تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں نیز دین اسلام کے قوانین کا ہر طرح سے دفاع اور اس کی حفاظت اور رائج کرنے میں کوشش کریں ، تاکہ اس کے فائدے سے تمام افراد بہرہ مند ہوسکیں ، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ خود نیک کام کو انجام دے اور لوگوں کو بھی نیک کام پر آمادہ کرے ، خود بھی برے اور گندے


کاموں سے دوری کرے اور دوسروں کو بھی محرّمات الٰہی سے روکے ۔ ارشاد ہوتا ہے :(کُنتُم خَیرَ اُمَّةٍ اُخرِجَت لِلنَّاسِ تَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ وَتُؤمِنُونَ بِاللّٰهِ) تم کیا اچھے گروہ ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے واسطے پیدا کئے گئے تم لوگوں کو اچھے کام کا حکم کرتے اور برے کاموں سے روکتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو(1)

اور ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:( وَلتَکُن مِنکُم اُمَّة یَدعُونَ اِلَی الخَیرِ وَیَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَیَنهَونَ عَنِ المُنکَرِ ) اور تم میں سے ایک گروہ(ایسے لوگوں کا بھی ) تو ہونا چاہیے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کا حکم اور برے کاموں سے روکے۔(2)

حضرت امام علی رضا فرماتے ہیں : امر بالمعروف نہی از منکر کرو اگر تم نے اس فرض پر عمل نہیں کیا تو اشرار تم پر مسلط ہوجائیں گے اس وقت اچھے لوگ جس قدر بھی دعائیں کریں اور ان کے ظلم و ستم پر گریہ کریں توبھی ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی ۔(3)

امر بالمعروف اور نہی از منکر کے چند مراحل ہیں :

پہلا مرحلہ : زبان سے نرمی کے ساتھ اس کام کی اچھائی یا برائی اس شخص کے لئے ثابت کی جائے اور نصیحت و موعظہ کی صورت میں اس سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس کام کو نہ کرے یا برے کام کو چھوڑ دے ۔

دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1)۔ آل عمران (3) آیت 110 ۔ (2)۔ آل عمران (3 )آیت 104 ۔

(3)۔ وسائل الشیعہ ،ج11، ص 394


دوسرا مرحلہ : اگر زبان سے موعظہ و نصیحت اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے تو سختی اور غصہ سے، برے کام سے روکا جائے ۔

تیسرا مرحلہ : سختی و غصہ کی وجہ سے بھی اگر اس پر اثر نہ ہو تو جس حد تک ، قدرت رکھتا ہو یا جس وسیلہ و طریقہ سے ممکن ہو اسے برے کام سے منع کرے ۔

چوتھا مرحلہ : اگر اس کے باوجود بھی اس کو گناہ سے نہ روک سکے تو تمام لوگوں کو چاہیے اس سے اس طرح اظہار نفرت کریں کہ اس کو احساس ہوجائے کہ تمام لوگ اس کے مخالف اور اس سے متنفر ہیں ۔

سوالات:

1۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے کیا مراد ہے ؟

2۔ امر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق قرآن کی کوئی آیت پیش کریں ؟

3۔ حضرت امام علی رضاامر با لمعروف و نہی از منکر سے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟

4۔مر با لمعروف و نہی از منکر کے مراحل بیان کیجئے ؟


حصہ سوم

( اخلاق )


درس نمبر 21

( اخلاق )

پروردگار عالم اور اس کے رسول کی محبت کے حصول کا بہترین ذریعہ اخلاق حسنہ کو اپنانا ہے ۔ چونکہ خدا کے نزدیک اس کا محبوب بندہ و ہ ہے کہ جس کا اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہو ، اخلاق ، انسان کا اصلی جوہر اور حیوان اور انسان میں وجہ امتیاز ہے ، دنیا اور آخرت میں انسان کی کامیابی کا کسی حد تک دارومدار اخلاق حسنہ پر ہی ہے انسان اپنی انفرادی یا اجتماعی حیثیت میں اس کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ انسانی زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں بنیادی اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو ، کوئی بھی مذہب ، تہذیب اور معاشرہ ایسا نہیں جسے اپنے وجود میں اخلاقیات کی ضرورت نہ ہو۔ایک مسلمان کی حیثیت سے دیکھیں تو اخلاق کی پستی کے ساتھ ہم سرے سے اسلامی زندگی کا تصور نہیں کرسکتے ، مسلمان تو بنایا ہی اسی لئے گیاہے کہ اس کی ذات سے دنیا میں اخلاق کا چراغ روشن رہے ۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام نے ہمیں ہر مقام پر اخلاق کے دامن کو پکڑے رہنے کا طریقہ سکھایاہے ،دراصل اچھے اور برے صفات کو اخلاق کہتے ہیں :

اچھے صفات : ان صفات کو کہا جاتا ہے جو انسان کی افضلیت و کمال کا باعث بنیں ، جیسے عدالت ، تواضع ، خدا پر بھروسہ ، برد باری ، لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ، سچ بولنا ، امانتداری ،خدا کی مرضی پر راضی رہنا ، خدا کا شکر ، قناعت ، سخاوت ، بہادری ، دین میں غیرت ، ناموس میں غیرت ، صلۂ رحم ، والدین کے ساتھ احسان ، پڑوسیوں سے اچھا


برتائو ، لوگوں کے ساتھ میل محبت ، اللہ سے محبت رکھنا ، ان تمام صفات کاحصول ہر مسلمان پر واجب ہے ۔

برے صفات : ان صفات کو کہتے ہیں جو انسان کی پستی اور ذلت کا سبب واقع ہوتے ہیں جیسے تکبر ( اپنے کو بڑا سمجھنا ) خود پسندی ، ظلم و ستم ، اللہ پر بھروسہ نہ رکھنا ، لوگوں کو پست شمار کرنا ، لوگوںکا برا چاہنا ، خدا سے راضی نہ رہنا ، کینہ و حسد، ناشکری ، چغلخوری ، غصب کرنا ، غصہ کرنا ، لالچ ، جس چیز کا مستحق نہیں اس کی خواہش کرنا ، طمع ، کنجوسی ، دیکھاوے کے لئے کام کرنا ، منافقت ، دوسرے کے مال میں خیانت ، فضول خرچی کرنا ، دین اور ناموس میں بے حیائی ، بے غیرتی ، صلۂ رحم کا ترک کرنا ، والدین کو اذیت و رنج پہنچانا ، پڑوسیوں کو تنگ کرنا ، لوگوں کے ساتھ برا سلوک ،بد گوئی ، چاپلوسی ، منصب کی خواہش ، عیب تلاش کرنا ، لمبی خواہش وغیرہ

ہر مسلمان کیلئے بری خصلتوںسے پرہیز کرنا ضروری ہے

اخلاقیات ، دین اسلام کا ایک اہم جز ہے اور اسلام نے اخلاقی مسائل پر بہت توجہ دی ہے ، حضرت رسول(ص) خدا نے نفس کے ساتھ جہاد (جنگ) کرنے کو سب سے بڑا جہاد کہا ہے(1) آنحضرت (ص) نے فرمایا : میں مبعوث برسالت ہوا ہوں تاکہ اچھے اخلاق کی تکمیل کروں(2) کیونکہ انسان کے تمام کام خود اس کے نفس ہی سے صادر ہوتے ہیں اس لئے سب سے پہلے اس کی اصلاح اوراسے پاک کرنے کی کوشش کرے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وسائل الشیعہ، کتاب الجہاد، ص 122 ۔ (2)۔ المحجة البیضائ، فیض کاشانی، ج2،ص 312 ۔


سوالات:

1۔ اخلاق کی تعریف کیجئے ؟

2۔ اچھے صفات کسے کہتے ہیں ؟

3۔ برے صفات کی تعریف کیجئے ؟


درس نمبر22

( ایمان اور عمل میں اخلاص )

اخلاص سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے ہر کام کو چاہے وہ عبادی ہو یا عملی ،ظاہری ہو یا باطنی،روحانی ہو یا مادی،دینی ہو یا دنیاوی سب کے سب صرف خدا کے لئے انجام دے ۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان نفسانی خواہشات ،مال و دولت کے حصول،شہرت و عزت،لالچ وحرص کے لئے کوئی کام نہیں کرتا۔ اخلاص تلوار کے مانند ہے کہ جو بھی رکاوٹ اس کے سامنے آتی ہے وہ اس کو کاٹ کر پھینک دیتی ہے۔قرآن میںلفظ اخلاص کا استعمال تو نہیں ہوا ہے لیکن اس کے مشتقات قرآن میںبار بار استعمال ہوئے ہیں جو اخلاص کی اہمیت کو بتانے کے لئے کافی ہیں۔ارشاد رب العزت ہے ۔( وَمَآ اُمِرُوْآ اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ- حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوالزَّکٰوةَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَة) (1)

'' اور انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ خدا کی عبادت کریں اور اس عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھیں اور نماز قائم کریں اور زکا ادا کریں اور یہی سچا اور مستحکم دین ہے۔ ''

ایک اور مقام پر ارشاد ہوا :(وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ٭اِلَّاعِبَادَاللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ٭) (2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ بینہ ،آیت 5 (2)سور ہ صافات ،آیت 39،40


'' اور تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق ہی بدلہ دیا جائے گاعلاوہ اللہ کے مخلص بندوں کے کہ ان کے لئے معین رزق ہے۔ ''

اسی طرح سے قرآن نے ریا اور شرک کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اورشرک کو گناہ عظیم قرار دیا ہے پس ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ اخلاص کا نہ ہونا بھی ایک طرح کا شرک شمار ہوتا ہے اور ایسا نہ ہو کہ ہم دکھاوے کے لئے عمل کرتے رہیں اور شرک کے مرتکب ہوتے رہیں ۔اگر ہم نماز کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کریں کہ لوگ ہمیں دیکھیں اور بہت نمازی سمجھیں یا نماز اول وقت پڑھیں تاکہ لوگ ہماری طرف متوجہ ہوں یا نماز کو لوگوں کو سنانے کے لئے بہت ہی بنا کر اور اس انداز میں پڑھیں کہ ہم بہت بڑے قاری ہیں تو یہ سب عمل ریا کاری شمار ہوتے ہیں اور نماز کے بطلان کے ساتھ ساتھ گناہ کا بھی باعث ہوتے ہیں۔یہی باتیں ساری عبادات پرلاگو ہوتی ہیں یعنی ہر وہ عمل جو غیر خدا کو متوجہ کرنے کے لئے کیا جائے وہ باطل ہے اور گناہ کا باعث ہے۔

ارشاد ہوتا ہے :( وَالَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآئَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطٰنُ لَه' قَرِیْنًا فَسَآئَ قَرِیْنًا) (1)

'' اور جو لوگ اپنے اموال کو لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جس کا شیطان ساتھی ہو جائے وہ بدترین ساتھی ہے۔ ''

اگر قرآن ریا اور دکھاوے کی سخت الفاظ میں مذمت کر رہا ہے تو دوسری طرف اخلاص کے ساتھ راہ خدا میں خرچ کرنے والوں کو بھی بشارت دے رہا ہے کہ انہوںنے جو بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورہ نسا،آیت 38


راہ خدا میں خرچ کیا ہے خداوند انکو اس کا دگنا اجر عطا کرے گا۔ارشاد ہوتا ہے :

( مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فَیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ کَمَثَلِ حَبَّةٍ امنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنمبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ- وَاللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ- وَاللّٰهُ وَاسِع عَلِیْم )(1)

'' جو لوگ راہ خدا میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ان کے عمل کی مثال اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور پھر ہر بالی میں سوسو دانے ہوں اور خدا جس کو چاہتا ہے اضافہ بھی کر دیتا ہے ۔ ''

اگر ہم خداوند عالم کے علم و قدرت کی طرف متوجہ رہیں اور یہ جان لیں کہ ساری عزت اور قدرت ،مال و دولت ، رزق و روزی خداوند عالم کے ہاتھ میں ہے تو ہم ہرگز عزت و قدرت اور مال و دولت کے حاصل کرنے کے لئے غیر کے سامنے سرنگوں نہیں ہو نگے،اور ہم اس طرف بھی متوجہ رہیں کہ ہر چیز اسی کے حکم سے خلق ہو تی ہے اور اسی کے حکم سے فنا ہوتی ہے،حضرت مریم کے لئے سوکھے پیڑ سے کھجور پیدا کرنے والا وہی ہے اور حضرت ابراہیم کے لئے آگ کو گلزار کرنے والا بھی وہی ہے تو ہم کسی دوسرے کے سامنے ہاتھ نہیں پھلائیں گے ۔ لیکن افسوص یہ ہے کہ ہم زبان سے تو اس کے خالق و قادر، عالم و رازق ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن عمل میں اس سے کوسوں دور ہیں ۔

روایات میں بھی اخلاص کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔

حضرت امام علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ:افضل ترین عمل وہ ہے جو صرف خدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ بقرہ ،آیت 261


کے لئے انجام دیا جائے ۔(1)

امام باقر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ:اگر کوئی چالیس دن تک اپنے عمل میں اخلاص قائم رکھے تواس کے قلب و زبان سے حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔(2)

نیز حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے : اگر مومن اپنے کو صرف خدا کے لئے مخصوص کر لے تو خداونداس کو ایسی قدرت عطا کرتا ہے کہ جس کے ذریعہ سے اس کی ہیبت سبھی پر طاری ہو جاتی ہے حتی کہ حشرات اور درندے بھی اس سے ڈرتے ہیں اور کوئی بھی اس کو نقصان پہنچانے کی جرئت نہیں کرتاہے۔(3)

سوالات:

1۔ اخلاص سے کیا مراد ہے؟

2۔اخلاص کے بارے میں قرآن کی کوئی آیت بیان کیجئے ؟

3۔ریا کاری سے کیا مراد ہے اور قرآن نے اس کی کس طرح مذمت کی ہے ؟

4۔ اخلاص کے بارے میں امام باقر علیہ السلام کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) غرر الحکم (2) الکافی (3) کنز العمال


درس نمبر 23

( ماہ رمضان اور روزہ )

ماہ رمضان المبارک رحمت و فضیلت کا مہینہ ہے رمضان المبارک کی خاص فضیلت یہ ہے کہ اس میں عظیم ترین آسمانی کتاب قرآن کریم کا نزول ہواہے اورصرف اسی مہینہ کا نام قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے یہ وہ با برکت مہینہ ہے جس میں مسلمان خود کو معبود برحق کی بارگاہ میں پاتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق روزہ کے ذریعہ سے اپنے اندر تقوی اور پرہیزگاری کی راہ ہموار کر تے ہیں ۔روزہ کی اہمیت خداوند عالم کے نزدیک اتنی زیادہ ہے کہ خداوند عالم حدیث قدسی میں ارشاد فرما رہا ہے:روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کا اجر دوں گا۔یعنی خداوند متعال اس کے ثواب کو براہ راست عطاکرتا ہے۔(1)

قرآن کی نظر میں روزہ :

(یٰآَیُّهَآ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن) ''ا ے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے شاید تم اسی طرح متقی بن جا۔''(2)

پھر ارشاد ہوتا ہے :

( اَیَّامًا مَعْدُوْدٰتٍ- فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْعَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّة مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وسائل الشیعہ ،(2)سورہ بقرہ آیت183


( اَیَّامًا مَعْدُوْدٰتٍ- فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْعَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّة مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ- وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَه'فِدْیَة طَعَامُ مِسْکِيْنٍ- فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْر لَّه'- وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرلَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ)(1)

'' یہ روزے صرف چند دن کے ہیں لیکن اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص مریض ہے یا سفر میں ہے تو اتنے ہی دن دوسرے زمانے میں (روزے) رکھ لے گا اور جو لوگ صرف شدت اور مشقت کی بنا پر روزے نہیں رکھ سکتے ہیں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں اور اگر اپنی طرف سے زیادہ نیکی کر دیں تو اور بہتر ہے ،لیکن روزہ رکھنا بہر حال تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم صاحبان علم و خبر ہو۔ ''

روزہ روایات کی نظر میں :

٭حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے :یہ وہ مہینہ ہے جو خدا وند عالم کی نظر میں دیگر تمام مہینوں سے افضل ہے ،نگاہ الہی میں اس مہینہ کی تمام راتوں کو بہترین رات ،تمام دنوں کو بہترین دن اور تمام لمحات کو بہترین لمحوں کی حیثیت حاصل ہے جس میں تمہیں لطف کرامت خداوندی سے مالا مال کیا گیا ہے ۔ اس مہینہ میں تمہاری ہر سانس تسبیح و ذکر الہی کا ثواب رکھتی ہے اور تمہاری نیند کو بھی عبادت و بندگئی معبود کا اجر حاصل ہے ۔(2)

٭حضرت امام علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے: ماہ مبارک رمضان میں روزہ عذاب الہی سے نجات کا باعث ہوتا ہے۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورہ بقرہ آیت 184(2)(فضائل الاشہر الثلاثہ ،شیخ صدوق ،(3)نہج البلاغہ


٭حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا ہے: کہ روزہ کی تکمیل زکو فطرہ کی ادائیگی سے ہوتی ہے جس طرح کہ نماز کی تکمیل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر درود سلام بھیجنے سے ہوتی ہے۔

روزہ وہ بہترین عبادت ہے جسے پرور دگار نے استعانت کا ذریعہ قرار دیا ہے اور آل محمد نے مشکلات میں اسی زریعہ سے کام لیا ہے ،یہ روزہ ہی کی برکت تھی کہ جب بیماری کے موقع پر آل محمد علیہم السلام نے روزہ کی نذر کر لی اور وفائے نذر میں روزے رکھ لئے تو پرور دگار نے پورا سورہ دہر نازل کر دیا۔آل محمدکو ماننے والے کسی حال میں روزہ سے غافل نہیں ہو سکتے ،اور صرف ماہ رمضان میں ہی نہیں بلکہ جملہ مشکلات میں روزہ کو سہارا بنائیں گے۔

آخر میں ہم بارگاہ معبود میں دعا گو ہیں کہ ہمیں اس با برکت مہینہ کی نعمتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،ہمارے دلوں کو اس کے لئے آمادہ کردے کہ ہم حقیقی معنوں میں اس کی بندگی کر سکیں اور اپنے قلوب کو گناہ و معاصیت سے دور رکھ سکیں الہی اس با برکت مہینہ کو ہماری مغفرت کاوسیلہ قرار دے ۔ آمین یا رب العالمین۔

سوالات:

1۔روزہ کے بارے میں قرآن سے کوئی آیت بیان کیجئے ؟

2۔حضرت رسول اکرم (ص)نے ماہ رمضان کی فضیل کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے؟ 3۔حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی نظر میں روزہ کی تکمیل کس چیز سے ہوتی ہے ۔؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وسائل الشیعہ (2)تفسیر قرآن علامہ جوادی


درس نمبر 24

( انفاق اور صدقہ )

راہ خدا میں خرچ کرنا

احکامات اسلامی میں سے ایک حکم کہ جس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے وہ انفاق ،صدقہ دینا یعنی راہ خدا میں خرچ کرنا ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ قرآن مجیدنے بہت سی آیتوں میں اس امر کی جانب اشارہ کیاہے اور اس امر کے انجام دینے کی تاکید فرمائی ہے جیسا کہ قرآن مجید کی ابتدائی آیات ہی میں خداوند عالم پرہیز گاروں کی ایک صفت" انفاق" کو قرار دے رہا ہے ارشاد الہی ہوتا ہے"اس کتاب میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے یہ پرہیزگاروں کے لئے راہنما ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں(1)

روایات میں بھی صدقہ دینے اور راہ خدا میں خرچ کرنے کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے اور اس کے بہت زیادہ فائدے بیان کئے گئے ہیں۔پیغمبر اکرم کاارشادہے :صدقہ شیطان کی کمر کو توڑ دیتا ہے۔(2)

حضرت امام جعفر صادق(ع) نے ارشاد فرمایا:پیغمبر اکرم نے ارشاد فرمایا:لوگ تین گروہ میں تقسیم ہو گئے ہیں کچھ لوگ محتاج ہیں ،کچھ لوگ انفاق کرتے ہیں اور راہ خدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سورہ بقرہ آیت 2۔3 (2)سفینة البحار


میں خرچ کرتے ہیں ،اور کچھ لوگ راہ خدا میں خرچ کرنے سے خودداری کرتے ہیں ،انمیں سے بہترین وہ ہیں جو انفاق کرتے ہیں ۔

صدقہ و خیرات دینے کے آداب :

٭ جب بھی آپ کے ذہن میں راہ خدا میں خرچ کرنے اور صدقہ دینے کا خیال آئے تو آپ جلد سے جلد اس کام کو انجام دیں کیونکہ شیطان آپ کو بہکا سکتا ہے۔جبکہ صدقہ شیطان کو آپ سے دور کرتا ہے ۔

٭فضیلت والے دنوں مانند روز جمعہ،روز عید غدیر،ایام ولادت ائمہ معصومین ،ماہ ذی الحجہ،ماہ رمضان میں صدقہ دینا چاہئے۔جیسا کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : میرے والد ہمیشہ روز جمعہ صدقہ دیتے تھے اور فرماتے تھے روز جمعہ صدقہ دینے کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ روز جمعہ دوسرے ایام پر برتری رکھتا ہے۔(1)

٭ جو کچھ بھی انفاق کریں یا صدقہ دیں وہ بہترین مال یا بہترین چیزوں میں سے ہو ۔جیسا کہ خداوند عالم کا ارشاد ہے"اے ایمان والو اپنی پاک کمائی اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے پیدا کی ہیں خداکی راہ میں خرچ کرو اور برے مال کو خدا کی راہ میںدینے کا قصد بھی نہ کرو(2)

٭صدقہ دینے کے بعد کسی پر احسان نہیں جتا نا چاہیے ورنہ ہم کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گاجیسا کہ ارشاد الہی ہو رہا ہے"اے صاحبان ایمان اپنی خیرات کو احسان جتانے اور سائل کو ایذا دینے کی وجہ سے اس شخص کی طرح اکارت مت کرو جو اپنا مال محض

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) بحارالانوار(2) سورہ بقرہ


لوگوں کے دکھانے کے واسطے خرچ کرتا ہے اور خدا و روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتا،تو اس کی خیرات کی مثل اس چکنی چٹان کی سی ہے جس پر کچھ خاک پڑی ہوئی ہو پھر اس پر زورو شور کا پانی برسے اور اس مٹی کوبہا کر چکناچپڑا چھوڑ جائے اسی طرح ریا کار افراداپنی اس خیرات یا اسکے ثواب میں سے جو انہوںنے کی ہے کسی چیز پر قبضہ نہیں پائیں گے۔۔۔"(1)

اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:"جو شخص اپنے مومن بھائی کے ساتھ نیکی کرتا ہے اور پھر اس پر احسان جتاتا ہے تو خداوند اس کے اس عمل کو ساقط کر دیتا ہے" یعنی قبول نہیں کرتا ہے۔

٭مستحق کی مددکرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ آ پ کے اس عمل سے اس کی ذلت نہ ہو ،جو کچھ بھی دیں اس طرح دیں کہ جیسے آپ کسی کو ہدیہ دے رہے ہیں ۔ کوشش کریں کہ سائل کو آپ کے دروازے پر آنا نہ پڑے بلکہ آپ خود اس کے دروازے پر جا کر اس کی مدد کریں۔"اسحاق بن عمار کا بیان ہے : امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے سوال کیا اے اسحاق!اپنی زکوہ کے مال کو کس طرح ادا کرتے ہو ؟اسحاق نے کہا :لوگ میرے گھر پر آتے ہیں اور زکوہ کا مال لے جاتے ہیں ۔ حضرت نے فرمایا اے اسحاق میری نظر میں تم نے ان کو ذلیل و رسوا کیا ہے ۔۔۔"(2)

٭جو کچھ بھی راہ خدا میں خرچ کرے اس کو اہمیت نہ دے اور یہ نہ سوچے کے اس نے اس عمل سے خدا کو راضی کر لیا ہے کیونکہ یہ امر باعث غرور ہوگا اور غرور اجر کو ضائع کر دیتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ بقرہ ،(2)وسائل الشیعہ


٭ اگر قدرت رکھتا ہے تو اس قدر فقیر کو عطا کرے کہ اس کی مشکل حل ہو جائے اور اس کو در در بھٹکنا نہ پڑے۔

٭ یہ کہ انفاق و صدقہ دیتے وقت تواضع اور انکساری سے پیش آئیں اور فقیر کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں ۔امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: سائل کو حقارت اور خفت کے ساتھ نہ پکارو اور اس کوبہترین طریقہ سے پکارو

٭سائل کو اس کے سوال کرنے سے پہلے عطا کرنا چاہئے ۔کیونکہ سوال کرنے کے بعد جو عطا کیا جاتا ہے وہ سائل کی عزت و آبرو کی قیمت کے مانند ہے۔(1)

٭جب بھی آپ فقیر کو کچھ عطا کریں اس سے طلب دعا کریں کیونکہ فقیر کی دعا اس کے حق میں مستجاب ہوتی ہے۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :"جب کس فقیر کی مدد کرو تو اس سے طلب دعا کرو کیونکہ اس کی دعا تمہارے حق میں مستجاب ہوتی ہے"(2)

صدقہ و خیرات لینے کے آداب :

٭جس چیز کی ضرورت نہیں ہے اس کا سوال نہ کرے اور جو کچھ بھی لے اس میں اسراف نہ کرے اور اپنی ضرورت کے مطابق ہی لے۔

٭جب بھی کچھ ملے تو خدا کا شکر ادا کرے اور خیرات کرنے والے کا حق پہچانے اور اس کے لئے دعا کرے۔

٭جتنی مقدار میں بھی اس کو دیا جائے اس کو کم شمار نہ کرے اور دینے والے کی مذمت نہ کرے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وسائل الشیعہ،(2)فروع کافی


٭جو لوگ حرام و حلال کا پاس نہیں کرتے ان سے کچھ نہ لے۔

٭سب کے سامنے سوال کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

٭جو کچھ بھی ملے اس کا اظہار نہ کرے تاکہ اس کی آبرو باقی رہے مگر یہ کہ اظہار کی غرض شکر گزاری ہو۔

صدقہ دینے کے فائدے :

٭ غضب خداوندی کوخاموش کرتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ :صدقہ دینے سے غضب خداوندی سے نجات ملتی ہے۔(1)

٭مریض کی شفاکا باعث ہوتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ :اپنے مریضو ںکاعلاج صدقہ کے ذریعہ سے کرو۔

ایک شخص امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی پریشانیوں کو بیان کیا کہ میر خاندان میں دس افرد ہیں اور وہ سب کے سب مریض ہو گئے ہیں ،آپ نے فرمایا ان کا علاج صدقہ دینے سے کروکیونکہ کو ئی چیز صدقہ سے زیادہ فائدہ نہیں پہنچاتی میرے نزدیک مریض کے لئے صدقہ سے زیادہ فائدہ مند کوئی چیز نہیں ہے۔

٭روزی حاصل ہوتی ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے کہ :صدقہ کے ذریعہ اپنی روزی حاصل کرو۔

٭فقر کو برطرف کرتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے فرزند محمدسے سوال کیا کہ نان و نفقہ میں سے کتنا اضافی مال تمہارے پاس ہے فرمایا 40 دینار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)معراج السعادہ،


امام(ع) نے فرمایا اس کو صدقہ میں دے دو محمد نے فرمایا ان کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں ہے ،امام (ع) نے فرمایا:کیا تم نے نہیں سنا ہے کہ ہر چیز کے لئے ایک کنجی ہے اور روزی کی کنجی صدقہ ہے۔

حضرت امام محمدباقر علیہ السلام فرماتے ہیں: نیکی کرنے اور صدقہ دینے سے فقر دور ہوتا ہے۔

٭طول عمر کا باعث ہوتا ہے:-حضرت امام محمدباقر علیہ السلام فرماتے ہیں: صدقہ عمر کے طولانی ہونے کا باعث ہوتا ہے۔

٭ بری اور ناگہانی موت سے بچاتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاارشادہے : صدقہ بری اور ناگہانی موت سے مانع ہوتا ہے۔

٭گناہوں کو ختم کرتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے :کہ رات میں صدقہ دینا غضب الہی سے نجات کا باعث ہوتا ہے اور گناہانان کبیرہ کو بھی ختم کرتا ہے۔

٭ قیامت کے حساب و کتاب کو آسان بناتا ہے:-حضرت ابو عبداللہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے :کہ صدقہ دینے سے روز قیامت کے حساب و کتاب میں آسانی ہوجاتی ہے۔

٭ ایام کی نحوست کو برطرف کرتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے :کہ ہر وہ شخص جو کہ صدقہ کے ساتھ دن کی شروعات کرے گا تو خداوند عالم اس دن کی نحوست اور برائیوں کو اس سے دور کر دیگا۔(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)بحار الانوار،


٭شہروںکو آباد کرتاہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایاہے : صدقہ دینے اور صلہ رحم سے شہر آباد ہوتے ہیں۔

٭ صدقہ بغیر واسطہ کے خداوند عالم تک پہنچتا ہے:حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:ہر چیز کے حصول کے لئے خداوند عالم نے ملک کو قراردیاہے مگر صدقہ سیدھے خداوند کے ہاتھوں میں جاتاہے۔ بحار الانوار،

٭ شر و بدی کے ستر دروںکو بند کرتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاارشاد ہے: کہ صدقہ دینے سے شر و بدی کے ستر باب بند ہوجاتے ہیں۔یعنی صدقہ انسان کی حفاظت کرتا ہے۔

٭ قرض کی ادائیگی کا باعث ہوتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:صدقہ انسان کے قرض کو ادا کرتاہے ۔

٭قضاالہی کو برطرف کرتا ہے:-حضرت اما م علی علیہ السلام نے فرمایا: صدقہ قضاآسمانی کو برطرف کرتا ہے

٭ مشکلات کو حل کرتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا:اگر تمہارے لئے کوئی مشکل پیش آئے تو کوئی چیز صدقہ کے عنوان سے جو پہلافقیر تم کو ملے اسے دے دو خداوندعالم تم سے اس مشکل کو دور فرمادیگا۔

٭پاداش اخروی کا باعث ہوتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جو بھی صدقہ دیتا ہے تو خداوندعالم ہر درہم کے مقابلہ میں کو ہ احد کے برابر جنت میں اس کو اجر عطا کرے گا۔(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)بحار الانوار


٭شیطان کی کمر کو شکستہ کرتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: کہ صدقہ شیطان کی کمر کو توڑ دیتا ہے یعنی شیطان کو بے بس کر دیتا ہے(1)

٭ موت کی تا خیر کا باعث ہوتا ہے:-حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:اے'' میسر''کئی بار تمہاری موت کا وقت قریب آیا لیکن خداوند عالم نے صدقہ کی بنا پر اس کو تم سے دور کردیا ۔

٭قیامت کی گرمی میں سائبان ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کی زمین آفتاب کی تپش سے جل رہی ہوگی لیکن مومن کے اوپر سائبان ہوگا کیونکہ اس نے جو صدقہ دنیا مین دیا ہو گا وہ سائبان کی شکل میںگرمی سے اس کی حفاظت کر ے گا۔

٭ زیادتی مال کا باعث ہوتا ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاارشاد ہے : کہ صدقہ دو کیونکہ صدقہ دینے سے مال میں اضافہ ہوتا ہے۔(2)

٭ جزام اور برص کے مرض سے انسان کو نجات دیتاہے:-صدقہ سترطرح کی بلاں سے انسان کو نجات بخشتا ہے جن میں سے جذام اور برص قابل ذکر ہیں(3)

٭بہترین ذخیرہ ہے:-حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے : صدقہ

تمہارے لئے بھترین مال اور بھترین ذخیرہ ہے۔

٭جہنم کی آگ کے لئے سپر ہے:-حضرت اما م علی علیہ السلام نے فرمایا: صدقہ انسان کو جھنم کی آگ سے بچاتا ہے۔(4)

٭محافظ ایمان ہے:-حضرت اما م علی علیہ السلام نے فرمایا:اپنے ایمان کی حفاظت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) سفینةالبحار(2) بحار الانوار (3) کنز العمال (4)وسائل الشیعہ


صدقہ کے ذریعہ کرو۔(1) صدقہ دینے کے بہت سے فائدے روایات میں ذکر ہوئے ہیںجن کا شماراختصار کی بنا پر نہیں کیا گیاہے،بعض فوائد یہ ہیں: حیوانات اور درندوں کے شر سے بچاتاہے،انسان کی دولت کی حفاظت کرتا ہے،دس راتوں کی مستحب نمازوں سے افضل ہے،فایدہ مند تجارت ہے،خداوند اس کا بدلہ ضرور دیتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔

سوالات:

1۔صدقہ کی اہمیت کے بارے میں کوئی دو روایات بیان کیجئے ؟

2۔ صدقہ و خیرات دینے کے آداب میں سے کوئی پانچ آداب ذکر کیجئے ؟

3۔ صدقہ و خیرا ت لینے کے آداب میں سے کوئی پانچ آداب ذکر کیجئے ؟

4۔صدقہ دینے کے کوئی پانچ فائدے بیان کیجئے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ،حکمت


درس نمبر25

( امانت اور امانت داری )

احکام اسلامی میں سے ایک حکم امانت داری ہے ۔کیونکہ ایک مضبوط و سالم معاشرہ کے لئے بنیادی طور پر باہمی اعتماد کا ہونا لازم و ضروری ہے۔اسی لئے صرف اسی معاشرے کو خوشبخت و سعادت مند سمجھنا چاہئے جس کے افراد کے درمیان مکمل رشتہ اتحاد و اطمینان پایا جاتا ہو ،لیکن اگر معاشرے کے افراد اپنے عمومی فرائض کی سرحدوں کو پار کر لیںاور دوسروں کے حقوق کے ساتھ خیانت کرنے لگیں تو وہیں سے معاشرے کے زوال کی ابتدا ہونے لگتی ہے۔اسی لئے قرآن و حدیث میںامانتداری کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ارشاد باری تعالی ہے:''اے ایمان والو! خدا اور رسول اور اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو جبکہ تم جانتے بھی ہو۔(1)

قرآن مومنین کے صفات میں سے ایک صفت "امانت داری "کو قرار دیتے ہوئے فرما تاہے: "اور جو مومنین اپنی امانتوں اور وعدوں کا لحاظ رکھنے والے ہیں ۔۔۔ درحقیقت یہی وارثان جنت ہیں(2)

دوسری جگہ ارشاد الہی ہو رہا ہے:"بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پہنچا دو ''(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ انفال (2)سورہ مومنون (3)سورہ نسا،


آیت اللہ جوادی آملی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :"لفظ امانت عام ہے وہ مال ہو یا علم یاراز یا احکام دین یا کوئی اورشے جس کو خدا نے بندے کے پاس رکھوادیا ہے اس کا اہل تک پہچانا ضروری ہے اور خیانت کرنا حرام ہے۔ اسی لئے رسول امین ،خدا سے قرآن و اہلبیت(ع)لائے اورامت کے حوالے کر گئے، اپنے ساتھ واپس لے کر نہیں گئے ۔ "

لیکن افسوس یہ کہ امت نے اس امانت کا پاس نہیں کیابلکہ آپ اور اسلام کی تمام نصیحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپ کے بعداہلبیت(ع) کے ساتھ ایسا برتا کیا کہ قلم بھی اس کی عکاسی کرنے سے قاصر نظر آتا ہے ۔ لعن اللہ علی الظالمین۔

روایات میں امانت اور امانت داری کی بہت تاکید کی گئی ہے اور خیانت کرنے والے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:جو بھی امانت میں خیانت کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(1)

دوسری جگہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے: "جو شخص بھی امانت کا پاس و لحاظ نہیں رکھتا ہے و ہ دین بھی نہیں رکھتا ہے۔

حضرت امام علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:"جو شخص امانت دار نہیں ہے اس کا کوئی دین نہیں ہے۔(2)

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ: " فقط لوگوں کے طولانی رکوع اور سجود پر نگاہ نہ کرو کیونکہ ممکن ہے یہ کام و ہ عادتا کرنے لگے ہوں اور اگر ترک کریں گے تو انکے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)مشکو الانوار،(2)بحار الانوار


لئے باعث ناراحتی ہوگا بلکہ لوگوں کی صداقت اور امانت داری پر نگاہ کرو۔(1)

چونکہ اسلام میں امانتداری کی بہت زیادہ اہمیت ہے اسی لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس پر خاص توجہ تھی اور آپ نے عملا اس کا مظاہرہ اس طرح سے فرمایا کہ آپ کا لقب ہی "امین" پڑ گیا حتی کہ مشرکین و کفار بھی آپ پر اعتماد کرتے تھے اور آپ کو امین جانتے تھے۔جس کے بہت سے نمونے ہمیں تاریخ میں ملتے ہیں ،سات ہجری میں جب پیغمبر (ص) جانثاروں کے ساتھ خیبر کو فتح کرنے کے لئے روانہ ہوئے توآپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہت ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے ایک غذا کی شدّدت سے کمی تھی اسی دوران ایک یھودی چرواہا جو کہ یہودیوں کی بھیڑوںکو چراتا تھا پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا اس کے ہمراہ بہت سی بھیڑیںبھی تھیں جنکو اس نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں پیش کیا لیکن پیغمبر اکرم نے اس مشکل وقت میں کہ جس میں غذا کی شدید کمی تھی کمال صراحت سے انکار کردیا اور اس سے فرمایا کہ یہ بھیڑیںتمہارے پاس دوسروں کی امانت ہیں اور میرے دین میں امانت میں خیانت جائز نہیں ہے تمہارے لئے ضروری ہے کہ ان گوسفندوں کو ان کے مالکان تک پلٹا ؤ تواس نے ایسا ہی کیا ۔

پیغمبر اکرم کے اس عمل سے یہ صاف ظاہر ہے کہ انسان چاہے جتنی ہی مشکل میں کیوں نہ ہو اسے امانت میں خیانت کا حق حاصل نہیں ہے چاہے وہ مال جو اس کے نزدیک ہے وہ کسی غیر مسلم ہی کا کیوں نہ ہو۔جیساکہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایاہے:تین چیزیں ایسی ہیں کہ خداوند عالم نے کسی کو بھی ان سے مخالفت کی اجازت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)اصول کافی ،


نہیں دی ہے ۔

( 1 ) ادائے امانت :

ہر شخص کے بارے میں چاہے وہ نیکو کار ہو یا بدکار۔

( 2 ) عھد وپیمان کی وفا :

چاہے وہ بدکار ہو یا نیکو کار۔

( 3 ) والدین کے ساتھ نیکی :

چاہے وہ کافرہوں یا مسلم ،نیکوکار ہوں یا بدکار۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے آج کے معاشرہ میں جو فساد و انحراف پایا جاتا ہے اس کی مختلف علتیں ہیں ۔لیکن جب ہم ان علل و اسباب کو تلاش کرتے ہیں جن کی وجہ سے یہ معنوی افلاس ،اخلاق کی پستی،اورروحانی کمزوری ،ہمارے معاشرے میں پیدا ہوئی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس درماندگی اور بدبختی کی سب سے بڑی علت لوگوں کے افکار و عقول اور تمام شعبہ ہای حیات پر خیانت کا غالب ہو جانا ہے ۔یہ بات بدیہی ہے کہ عمومی رفاہت اور فکری سکون صرف امن عامہ ہی سے حاصل ہو سکتا ہے اور آجکل لوگوں کے اندر جو اضطراب اور فقدان امن عامہ کا عمومی وجود ہے اس کی علت صرف معاشرہ میں خیانت کا پھوٹ پڑنا ہے۔

البتہ امانت کی مختلف قسمیں ہیں ایک امانت مادی ،کہ جواس مضمون میںہمارا مقصود ہے دوسری امانت، ظاہر ی ہے جیسے انسان کے اعضائے جسمی ،آنکھ،کان ،ہاتھ ،پیر،اولاد وغیرہ کہ یہ بھی انسان کے پاس خدا کی امانت ہیں اس لئے ہمیں اس بات کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)بحارالانوار


خیال کرنا چاہئے کہ ہم ان کے ذریعہ سے حرام کام نہ کریں اور انکی حفاظت کریں تاکہ یہ گناہ سے دور رہ سکیں یا امانات باطنی و معنوی مانند نعمت عقل ،نعمت قرآن ،دین و رہبران دین وغیرہ کہ ہم ان کا حق پایمال نہ کریں اسی طرح سے ہماری عقل کہ جس کو اسلام اور مسلمین کے خلاف استعمال نہ کریں ہم اپنی برائی پر پردہ ڈالنے کے لئے قرآن و حدیث کا غلط استعمال نہ کریں ہم اپنی غلط بات کو ثابت کرنے کے لئے غلط طریقہ سے قرآن و حدیث سے اپنے مقصد کا حکم استخراج کر کے اسلام کو بدنام نہ کریں کیونکہ یہ سب چیزیں امانت میں خیانت شمار ہوتی ہیں اور اسلام نے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

آخر میں ہم بار گاہ خدا وندی میں اہلبیت علیہم السلام کے وسیلہ سے دعا گو ہیں کہ ہمیں امانت داری کی صفت سے آراستہ کرتے ہوئے امانت داروں میں شمار کرے۔ آمین یا رب العالمین۔

سوالات:

1۔امانت کے بارے میں قرآن کا کیا فرمان ہے ؟

2۔ حضرت امام صادق علیہ السلام کی روایت کے مطاببق وہ تین چیزیں کونسی ہیں جنکی خداوند عالم نے کسی کو بھی مخالفت کی اجازت نہیں دی ؟

3۔امانت کی کتنی قسمیں ہیں ؟



معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق ) جلد ١

معارف اسلامی کورس (عقائد، احکام،اخلاق )

اصلاح کتب

مؤلف: سیدنسیم حیدر زیدی
قسم: متفرق کتب
صفحے: 104