شخصیت امیرالمومنین حضرت امام علی علیہ السلام

اصلاح کتب

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
امیر المومنین(علیہ السلام)


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


کتاب:- شخصیت امیرالمومنین حضرت امام علی علیہ السلام

مصنف:- سید علی حسینی خامنہ ای

ماخذ:- shiastudes.com


مقدمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

چاروں طرف گردوغبار پھیلا ہوا تھا۔کچھ دیر بعد جب غبار چھٹا تو دیکھا کہ علی علیہ السلام کے ہاتھ میں عمرو بن عبدود کا سر ہے صرف یہی نہیں بلکہ اگر تاریخ کے کچھ اوراق پلٹائیں گے تو پھر علی علیہ السلام کے ہاتھ میںکبھی مرحب کااور کبھی عنتر کا اور کبھی کسی اور کا سر نظر آئے گا۔

کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ جو اتنا بہادر اور نڈر سپاہی ہوگا وہ تاریخ کے کچھ اوراق پلٹنے کے بعد ساری ساری رات عبادت اور نماز میں کھڑا ہوا نظر آئے گا۔یہی شخص جب منبر رسول(ص) پر بیٹھ کر ظاہری طور پر حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو انصاف اور عدالت کی وہ مثال قائم کرتا ہے کہ جس پر ہر نبی اور دنیا کا ہر بادشاہ آج تک انگشت بدنداں ہے۔

اگر بات صرف یہاں تک محدود ہوتی تو شاید میں چپ رہتا لیکن جب علی علیہ السلام حاکم اسلامی ہونے کے باوجودراتوں کو یتیموں کی خدمت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو یہ دنیا کی پہلی اور آخری مثال ہے۔

یہی مر د میدان جب جملصفین اور نہروان کے میدان میں دشمنوں کے سامنے آتا ہے تو جیتنے کے بعد اس کے چہرے پر فتح کی لالی نہیں بلکہ مسلمانوں کا خون بہنے کا افسوس ہے۔

علمی میدان میں جہاں تک نظر دوڑائیں گے علی علیہ السلام ہی علی علیہ السلام نظر آئے گا۔چاہے علم نحو ہوچاہے علم تفسیرہوچاہے علم فقہ ہوچاہے علم فلسفہ ۔جس طرف بھی جائیں گے جائے پناہ سوائے علی کے اور کوئی نہیں پائیں گے۔ علی علیہ السلام جس جگہ پیدا ہوئے وہ خانہ کعبہ ہے اور جس جگہ اس دنیا کو فزت و رب الکعبہ کہہ کر ظاہری طور پر آنکھ بند کی وہ مسجد کوفہ ۔کعبے سے زیادہ مقدس جگہ کا مجھے نہیں پتہ اور مسجد کی محراب میں شہادت سے بڑے رتبے کا بھی مجھے علم نہیں ہے۔

میںبہت زیادہ لکھ گیا۔اگر ایک مفکر کا قول نقل کر دیتا تو بات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی۔ندائے عدالت اسلامی کا مصنف مسلمان نہ ہوتے ہوئے بھی لکھتا ہے کہ ’’میں چالیس سال صرف اس کوشش میں رہا کہ کسی بھی کتاب سے علی علیہ السلام کی ایک غلطی یا ایک خامی تلاش کرلوں۔لیکن چالیس سال کی تحقیق اور مطالعے کے بعد بھی میں وہیں کھڑا ہوں جہاں چالیس سال پہلے تھا‘‘

یہ کتاب جو آپ کے ہاتھوں میں ہے کسی پیشاور مصنف کی لکھی ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسے شخص کے خطبات کا گلدستہ ہے جو نام کا بھی علی ہے ، اورکام و پیروی میں بھی علی کا صحیح جانشین ہے جی ہاں آپ نے صحیح پہچانا نائب بر حق امام زماں(عج) حضرت آیت العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای دامت برکاتہ۔یہ آپ کے ان خطبوں کے چند ٹکڑے ہیں کہ جن کی للکار سن کر امریکہ کے وہائٹ ہاؤس سے لیکر اسرائیل کے ایوانوں تک سب پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔

اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ علی علیہ السلام کی زندگی کے اُن پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ جن پر بہت کم کام ہوا ہے اور اتفاقاً آج کل کے معاشرے میں اس کی بہت ضرورت ہے۔انتہائی مشکل سیاسی مسائل کو تحلیل کر کے نہایت سادہ زبان میں بیان کیا گیا ہے۔جو آج کل کے تمام سیاستدانوں بلکہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے انسان کے لیے مشعل راہ ہے۔یہ کتاب تولیٰ، تبریٰ،عبادت اور تبلیغ دین کا چھوٹا سا مجموعہ ہے۔

آخر میں مرکز حفظ و نشر آثار ولایت کے صدر حجۃ الاسلا م والمسلمین مولانا سید باقر مہدی رضوی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے یہ کتا ب ترجمہ کرواکے آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے حوالے کی۔اور حجۃ الا سلام والمسلمین مولانا عمران رضا انصاری صاحب نے اس کتاب کو چھاپنے کی ذمہ داری کو قبول فرمایا۔خدا ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔اور ہم سب کو علی علیہ السلام کی طرح زندگی گزارنے کی اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

سید بلال حیدر کاظمی

مصادف با ۱۳۔رجب المرجب۔۱۴۲۶ھ

معارف علوم اسلامی۔شعبہ حوزہ علمیہ قم


علی علیہ السلام کی متوازی شخصیت:

امیر المومنین علی علیہ السلام کی ذات ایک بہت بڑے اوقیانوس کے چھپے ہوئے کنارے کی طرح ہے کہ ایک انسان کے لئے جسکا پوری طرح سے احاطہ کرنا ناممکن ہے آپ جس طرف سے بھی فضیلت کے اس سمندر میں وارد ہونے کی کوشش کریں گے آپ عظمت کی ایک کائنات کا بچشم خود مشاہدہ کریں گے،عجائبات کی ایک دنیا مختلف ند یاں، گہرائیاں ،قسم قسم کے دریائی حیوانات اس طرف کو چھوڑ کر ایک دوسرے کنارے سے وارد ہوں تو پھر بھی یہی منظر دکھائی دے گا۔ اگر اس اقیانوس کے تیسرے چوتھے یا دسویں حصے کی طرف جائیں یا جس طرف سے بھی اسکے اندر داخل ہوں اسی طرح کے عجائب و غرائب انسان کو حیرت میں ڈالتے رہیں گے ذات امیرالمومنین علیہ السلامبھی کچھ اسی طرح ہے اور اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں ہے انکی ہمہ گیر و آفاقی شخصیت کے لئے یہ مثال بھی نارسا دکھائی دیتی ہے انکی ذات واقعاً عجائب و غرائب کا ایک شگفتہ انگیز مجموعہ ہے۔ یہ اظہارات ایک انسان کے عجز و ناتوانی کو بتا رہے ہیں جس نے خود ایک مدّت تک آپکی شخصیت کو زیر مطالعہ رکھا ہے اور پھر یہ محسوس کیا کہ اس فضیلت مآب ذات علی علیہ السلام کو ایک معمولی ذہن اپنی اس عقل و فہم کے ذریعہ سمجھنے سے قاصر ہے اس لئے کہ انکی ذات ہر طرف سے شگفت آور نظر آتی ہے ۔

علی علیہ السلام پیغمبر اکرم (ص) کی ہو بہو ا یک مثال:

اگرچہ امیرالمومنین علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شاگرد خاص اور انکی ہو بہو تصویر ہیں مگر یہی عظیم المرتبت شخصیت جو ہماری نظروں کے سامنے ہے، خود کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابل ناچیز سمجھتے اور آنحضرت کی شاگردی پر فخر کرتے ہیں مگر جب ہم انہیں بحیثیت ایک بشر دیکھتے ہیں تو وہ ایک انسان سے بالاتر نظر آتے ہیں، کیونکہ ہم اس جیسی عظمتوں کی حامل ذات کا تصور ہی نہیں کر سکتے انسان کے ذرائع معلومات یعنی عقل و ادراک وفہم (البتہ میں ٹیلیویژن و کیمرہ کی بات نہیں کرتا جو کہ انسانی ذہن سے بھی حقیر تر ہیں اور ذہن انسانی ہر مادی اسباب سے بلند و برتر ہے) اس سے کہیں نا چیز و کمتر ہیں کہ وہ امیرالمومنین علیہ السلام کی شخصیت کو ایسے لوگوں کے سامنے پوری طرح پیش کر سکے جو تہذیب نفس اور روحانی کشف و شہود کی منزل تک پہنچ ہی نہیں سکے ہیں۔

البتہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ ایسے عرفائ بھی ہیں جو روحانی پاکیزگی اور تہذیب نفس کی وجہ سے کشف و شہود کی منزل پرپہنچ کر ممکن ہے آپکی شخصیت کے کچھ پہلوؤں کو درک کر سکیں لیکن ہم جیسے لوگ ان تک رسائی نہیں رکھتے۔ میں آپکے سامنے امیرالمومنین علیہ السلام کی ایک خصوصیت بیان کرنا چاہتا ہوں کہ جس خصوصیت کو میں امیرالمومنین علیہ السلام کی ذات میں توازن سے تعبیر کرتا ہوں جو آپکی زندگی میں ایک عجیب و غریب توازن ہے یعنی بظاہر کچھ صفات آپکی ذات میںاس طرح خوبصورتی سے یکجا ہیں کہ جو خود اپنی جگہ حسن کا ایک مرقع بن گئی ہیں جبکہ ایک انسان کے اندر یہ صفات اکھٹی ہوتی دکھائی نہیں آتیں باہم نہیں دکھائی پڑتیں،اور علی علیہ السلام کے وجودمیں ایسی متضادصفات ایک دو نہیں بلکہ بے نہایت جمع ہو گئیں ہیں۔

میں یہاں اسمیں سے چند صفتوں کو آپکے سامنے بیان کرتا ہوں۔

آپکے اٹل فیصلے اور رحم دلی:

مثال کے طور پر بیک وقت ایک انسان کسی کے ساتھ رحم دلی بھی کرے اور وہیں اور وہیں پراپنافیصلہ بھی اٹل رکھے اور قطعاً کسی کوبے جا حق دینے پر راضی نہ ہو یعنی رحم دلی اور قاطعیت آپس میں دو ایسی متضاد صفتیں ہیں جو ایک شخص کے اندر جمع نہیں ہو سکتیں!لیکن حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے اندر رحم دلی، عطوفت و محبت اپنی حد کمال کو پہنچی ہوئی ہے جو ایک عام انسان کے اندر بہت کم نظر آتی ہے مثال کے طور پر فقیروں کو مدد کرنے والے پسماندہ لوگوں کی مشکلات حل کرنے والے آپکو بہت ملیں گے۔ مگر ایک ایسا شخص جو نمبر ۱ ۔اس کام کو اپنی حکومت کے دوران انجام دے ، نمبر۲ ۔اسکا یہ عمل ایک دو دن نہیں ہمیشہ کا ہو،نمبر۳۔تنہا ماّدی مدد تک ہی اسکا یہ عمل محدود نہ رہے بلکہ وہ بنفس نفیس ایسے لوگوں کے گھر جائے،اس بوڑھے کی دلداری کرے، اس نابینا کو دلاسا دے ، ان بچوں کے ساتھ بچوں کی طرح کھیلے اسکا دل بہلائے اور اسی کے ساتھ ساتھ انکی مالی مدد بھی کرے پھر ان سے رخصت ہو یہ فقط امیر المومنین علیہ السلام ہی کی ذات ہے اب ذرا بتائیے آپ دنیا کے رحم دل انسانوں میں اس جیسا کتنوں کو پیش کر سکتے ہیں!؟ حضرت علیہ السلام مہر ومحبت عطوفت اور رحم دلی میں اسطرح سے دیکھائی دیتے ہیں۔کہ ایک بیوہ جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اسکے گھر جاتے ہیں ، تنور روشن کرتے ہیں انکے لئے روٹیاں سینکتے ہیں انکے لئے کھاناپکاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے ان یتیم بچوں کو کھانا کھلاتے ہیں یہی نہیں بلکہ اسلئے کہ ان بچوں کے لبوں پربھی دیگر بچوں کی طرح مسکراہٹ آئے اور وہ بھی کچھ دیر کے لئے غم و اندوہ سے باہر نکل سکیں انکے ساتھ بچوں کی طرح کھیلتے بھی ہیں انہیں اپنی پشت پر سوار کرتے ہیں انکے لئے ناقہ(اونٹ) بنتے ہیں اس جھونپڑی میں انہیں مختلف طریقوں سے سرگرم رکھتے ہیں تا کہ وہ بھی مسکرا سکیں یہ ہے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی رحم دلی اور محبت و عطوفت کی ایک مثال یہاںتک کہ محبت کا یہ برتاؤ دیکھ کر اس زمانے کے ایک بزرگ کہتے ہیں اس قدر امیرالمومنین یتیموں اور بے سہارا بچوں سے محبت سے پیش آتے اور انکے منہ میں شہد ڈالتے اور انہیں پیار کرتے تھے کہ خود میں تمنا کرنے لگا ’موددتُ ان اکون یتیماً ‘کاش میں بھی یتیم ہوتاتاکہ مجھے بھی علی علیہ السلام اسی طرح پیار کرتے! یہ آپکی محبت ہے۔

اوریہی علی علیہ السلامجنگ نہروان میں بھی ہیں جب کچھ کج فکر اور متعصب لوگ بے بنیاد بہانوں سے آپکی حکومت کو ختم کر دینا چاہتے ہیں پہلے آپ انہیں نصیحت کرتے ہیں کہ وہ جسکا مطلقاً اثر نہیں لیتے ، احتجاج کرتے ہیں مگر اسکا بھی کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔کسی تیسرے آدمی کو صلح و مصالحت کے لئے واسطہ بناتے ہیں انکی مالی امداد کرتے ہیں ساتھ ساتھ رہنے کا وعدہ دیتے ہیں مگر ان سب سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور آخر کار وہ لوگ لڑنے پر تل جاتے ہیں پھر بھی آپ انہیں نصیحت کرتے ہیں مگر آپکی یہ نصیحت انکے لئے بے فائدہ ثابت ہوتی ہے اسوقت پورے شد و مد کے ساتھ پوری قطعیت سے پرچم زمین پر گاڑ کر فرماتے ہیں ! تم میں سے کل تک جو بھی اس پرچم تلے آجائیگا وہ امان میں رہے گااور جو نہیں آیا اس سے میں جنگ کروں گا۔ ان بارہ ہزار۱۲۰۰۰ افراد میں سے ۸۰۰۰آٹھ ہزار افراد پرچم کے نیچے آگئے اور باوجودیکہ ان لوگوں نے آپ سے دشمنی کی ہے، لڑنے میں بر ابھلا کہا ہے پھر بھی فرماتے ہیں جاؤ تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ و ہ لوگ چلے گئے اور پھر حضرت نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی اور انہیں معاف کر دیا، جو دوسرے ۴۰۰۰چار ہزار بچے،فرمایا! اگر تم لڑنے پر تلے ہوتو آؤ پھر جنگ کرو، آپ نے دیکھا وہ لڑنے مرنے پر تیار ہیں فرمایا ! یاد رکھو تم چار ہزار میں سے دس افراد کے علاوہ کوئی باقی نہیں بچے گا ۔جنگ شروع ہوگئی اس ۴۰۰۰ چار ہزار میں ۱۰ لوگ زندہ بچے بقیہ سب کے سب ہلاک ہوگئے، یہ وہی علی علیہ السلام ہیں جب دیکھا مقابلہ میں بدسرشت و خبیث النفس انسان ہیں تو پھر پوری صلاحیت کے ساتھ ان سے جنگ لڑتے ہیں اور انکا دندان شکن جواب دیتے ہیں۔

خوارج کو ٹھیک سے پہچانیں:

’’خوارج‘‘ کا صحیح ترجمہ نہیں ہوا ہے مجھے افسوس ہے کہ مقرّرین ،اسلامی شعرائ فلموں میں کام کرنے والے فنکار وغیرہ خوارج کو ’’خشک مقدس‘‘ سے تعبیر کرتے ہیںجبکہ یہ سراسر غلط ہے، ’’خشک مقدس‘‘ کا کیا مطلب؟ ! حضرت امیر علیہ السلام کے زمانے میں بہت سے لوگ ایسے تھے جو اپنی ذات کے لئے کام رہے تھے اگر آپ خوارج کو پہچاننا چاہتے ہیں تو میںاپنے ہی زمانے میں انکی مثالیں پیش کر سکتا ہوں۔

آپ نے (ابتدائے انقلاب اسلامی ایران) کے گروہ منافقین کو ابھی بھلایا نہ ہوگا؟ وہ لوگ تلاوت کرتے تھے، نہج البلاغہ کے خطبے پڑھتے تھے، دینداری کا دعویٰ کرتے تھے اورا پنے آپ کو سارے مسلمانوں سے مسلمان تر اور سارے انقلابیوں سے زیادہ انقلابی سمجھتے تھے اور وہی لوگ مملکت جمہوری اسلامی ایران میں بم دھماکہ بھی کرتے تھے اور گھروں کے گھر ویران کردیتے تھے بوڑھے جوان عورت مرد بچوں تک کو ماہ رمضان المبارک میں بوقت افطار قتل کردیتے تھے ! آخر کیوں؟کیا اسلئے کہ یہ لوگ واقعی امام خمینی ۲ اور انقلاب کے طرفدار تھے؟! جو ناگہانی طور پر بم دھماکے کرتے اور مثلاًایک بے گناہ قوم شہر کے فلاں میدان میں خاک و خون میں غلطاں ہو جاتی تھی؟ یہی لوگ ۸۰ سالہ شہید محراب ایک مقدس مجاہد راہ خدا ،عالم ربانی کو اسی بم سے اڑا دیتے ہیں ان لوگوں نے چار پانچ بزرگ نورانی علمائ اور کئی مومنوں اور مجاہدوںکو اسی طرح شہید کر دیا،عموماً انکی سیاہ اعمالی یہ تھی اسی طرح سے خوارج اور انکے ناپسند افعال بھی تھے جو عبداللہ بن خبّاب کو قتل کر دیتے ہیں اسکے بعد انکی حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کر کے جنین(بچے) کو باہر نکال لیتے ہیں اوربے رحمی سے اسکے سر کو کچل کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔آخر ایسا کیوں؟ اسلئے کہ یہ علی ابن ابی طالبعلیہ السلام کے چاہنے والے ہیں لہذا وہ اس جرم میں قتل کر دئے گئے ہیں۔یہ ہیں خوارج ،یہ ہے انکی صحیح صورت ! اسلئے خوارج کو صحیح طور سے پہچانیے۔

جو تنہا ظاہری طور پر دین کا ڈھونگ کرنے والے قرآنی آیات کاحفظ کر کے نہج البلاغہ کو رٹ کراگرچہ اس زمانے میں نہج البلاغہ نہیں تھی لیکن اس قسم کی فکر رکھنے والے آئندہ اپنے مفاد و مصلحت کے تحت دین قرآن، نہج البلاغہ کو ایک وسیلہ قرار دیں گے کہ بعض دینی عقائد کے پاپند تھے لیکن روح دین کے مخالف تھے اور انہیں شدید تعصب تھا، ویسے تو وہ خدا خدا کرتے تھے مگر وہ شیطان کے حلقہ بگوش تھے کیا آپ نے اپنی مملکت میں نہیں دیکھا تھا کہ یہی منافقین جو اپنے آپ کوسب سے بڑا انقلابی سمجھتے تھے وقت پڑنے پر حکومت اسلامی،امام خمینی ۲ اور ساری انقلابی قدروں سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہوگے اور امریکہ یہودیوں اور صدام کے ساتھ ہاتھ بٹانے پر پوری طرح راضی ہوگئے اور انکی غلامی کرنے لگے!

خوارج اس قسم کے افراد تھے جواُسوقت امیرالمومنین علیہ السلام سیسہ پلائی ہوئے دیوار بن کے انکے مقابل ڈٹ گئے کہ قرآن کہتا ہے (اشدّا ئ علی الکفار ئ رحمائ بینھم) یہ وہی علی ہیںذرا غور تو کریں یہ دو(۲) خصوصیتیں کسطرح خوبصورتی اور زیبائی خلق کرتی ہیں،ایک ایساانسان جو رحم و محبت کا مجسمہ ہے اور ایک یتیم کو غم زدہ رہنا تک گوارہ نہیں کرتا اپنے دل میں کہتا ہے جب تک اس بچہ کو ہنسانہ دونگا اپنی جگہ سے ہٹ بھی نہیں سکتا، جبکہ ان الٹی فکروں اور غلط فکرکے لوگوں (جو بچھو کی طرح ہر بے گناہ کو ڈنک مارنے پر تلے ہیں )کے مقابلہ میں یہی با فضیلت انسان ڈ ٹ کر مقابلہ کرتا ہے اور چار ہزار افراد کو ایک دن یا چند گھنٹوں میں موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے ۔ ’’ من یفلت منھم عشرۃ ‘‘کہ ظاہراً اس جنگ میں خود آپکے پانچ یا چھ اصحاب شہید ہوئے مگر ان چار ہزار میں سے دس افراد سے کم یعنی نو ۹لوگ باقی بچتے ہیں متوازی شخصیت کا مطلب یہ ہے یعنی رحم دلی کے ساتھ ساتھ اپنے ارادوں میںمحکم بھی ہے

پرہیز گاری اور حکومت امیرالمومنین علیہ السلام :

ایک دوسری مثال اور آپ کی متضاد صفات کا نمونہ حکومت کے ساتھ ساتھ تقویٰ و پارسائی ہے یہ ایک عجیب چیز ہے؟ ورع و تقویٰ کا کیا مطلب ہے؟ یعنی انسان ہر وہ چیز جس سے دین خدا کی مخالفت کی بو آتی ہو اس سے پرہیز کرے اور اسکے قریب نہ جائے۔پھر ادھر حکومت کا کیا ہو گا؟ آخر ممکن ہے کہ حکومت رکھتے ہوئے کوئی پارسا بھی ہو آج جب ہمارے کاندھوں پر اہم ذمہ داریاں ہیں ہمیں زیادہ احساس ہے کہ اگر یہ خصوصیات کسی کے اندر موجود ہوں تو وہ کسقدر اہمیت کا حامل ہو گا، حکومت میں رہتے ہوئے صرف اسے کلی قوانین سے سروکار ہوتا ہے اور قانون کا نفاذ اپنی جگہ بہت سے فوائد لئے ہوتا ہے اگرچہ عین ممکن ہے اسی قانون کی وجہ سے مملکت کے کسی گوشہ میں کسی شخص پر ظلم و ستم بھی ہواور ممکن ہے حکومت کے ذمہ دار کی طرف سے خلاف ورزیاں بھی ہوں اور پھر نا محدود جزئیات کے ہوتے ہوئے کیسے ممکن ہے کہ وہ (حاکم)ہر شعبہ میں زہد و پارسائی کا بھی لحاظ رکھ سکے؟ اسلئے بظاہر لگتا ہے کہ تقویٰ حکومت کے ساتھ اکٹھا ہونا نا ممکن سی بات ہے لیکن قربان جائیں امیرا لمومنین علیہ السلام کی ذات پر کہ اپنے وقت کی بااقتدار حکومت کے ساتھ بھی پارسائی و تقویٰ کو یکجا کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں جوایک حیرت انگیز بات نظر آتی ہے۔

وہ اس معاملہ میں کسی کا پاس و لحاظ نہیں کرتے تھے کہ اگر انکی نگاہ میں کوئی کسی منصب کا اہل نہیں ہے تو اسے منصب دے کر بھی بلاتکلف اس عہدے کو واپس لے لیتے ہیں ۔محمد بن ابی بکر کو حضرت امیرعلیہ السلام اپنے بیٹے کی طرح سمجھتے تھے اور وہ حضرت علی علیہ السلام کو اپنے مہربان باپ کی حیثیت سے جانتے تھے (آپ ابوبکر کے چھوٹے صاحب زادہ اور علی علیہ السلام کے مخلص شاگرد ہیں آپکے دامن پر مہر و محبت میں پروان چڑھے ہیں ) مگر مصر کی ولایت دینے کے بعد امیر المومنین علیہ السلام نے ایک خط میں آپکو لکھا میں تم کو مصر کی حکومت کے لائق نہیں سمجھتا اسلئے مالک اشتر کو تمہاری جگہ بھیج رہا ہوں۔اور آپنے انکو معزول کر دیا اگرچہ انسان ہونے کے ناطے محمد بن ابی بکر کویہ بات بری بھی لگی مگر حضرت نے اس معاملہ میں کسی بھی چیز کالحاظ نہیں کیا یہ ہے آپکی پارسائی ایسی پارسائی جسکی ضرورت ایک حکومت اور حاکم کو پڑتی ہے و ہ ذات علی علیہ السلام میں اپنے نقطہ کمال پر نظر آتی ہے۔

آپکے زمانے میں نجاشی نامی ایک شاعر تھا جو امیرا لمومنین علیہ السلام کا مداح اور آپکے دشمنوں کے خلاف اشعار کہتا تھا۔ماہ رمضان میں ایک دن کسی گلی سے گذر رہا تھا کہ ایک برے انسان نے اسکو ورغلایا وہ کہتا ہے کہ آؤ آج ہمارے ساتھ میں کچھ وقت گذارو مثلاً اس شاعر نے کہا نہیں میں مسجد جا رہا ہوں قرآن پڑھنے یا نماز پڑھنے بہرحال زبردستی اس شاعر کو اپنے گھر میں بلا لیا! آخر یہ بھی ایک شاعر ہی تو تھا اسکے فریب میں آگیا اور اسکے دسترخوان پر روزہ خوری کے بعد شراب بھی پی جاتی تھی اور لوگوں کو اس بات کا پتہ چلا تو امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: اس پر حد جاری کرواور اس کو اسی۸۰ تازیانے شراب نوشی کی وجہ سے اور دس۱۰ یا بیس۲۰تازیانے دن میں حرام چیز سے روزہ توڑنے کی بنائ پر ۔ نجاشی نے کہا میں آپکا اور آپکی حکومت کا مداح ہوں اپنے اشعار سے آپکے دشمنوں کو جواب دیتا ہوں اور آپ مجھے تازیانے مارنے کا حکم دے رہے ہیں؟فرمایا، کہ یہ ساری باتیں اپنی جگہ قابل قبول اور قابل تحسین ہیں مگر میں حکم خدا کو اپنی ذات کی خاطر معطل نہیں کر سکتا ،ہر چند انکے قوم و قبیلہ والوں نے اصرار کیا یا امیرالمومنین علیہ السلام اسطرح ہماری عزت چلی جائیگی پھر ہم معاشرے میں سر اٹھانے کے قابل نہیں رہیں گے آپ معاف کر دیجئے مگر حضرت نے فرمایا نہیں ممکن نہیں کہ میں حد خدا جاری نہ کروں ۔ اس شخص کو لٹایا گیا، اور اسے کوڑے مارے گئے اور وہ راتوں رات آپکی حکومت سے یہ کہتے ہوئے فرار کر گیا کہ جب آپ کو میری قدر نہیں معلوم اور آپکی حکومت میں روشن خیالوں اور شاعروں کے ساتھ یہ برتاؤ ہے تو میں وہاں جاؤنگا جہاں ہماری قدر کو پہچانتے ہوں ! اور معاویہ کے دربار میں اس خیال سے چلا گیا کہ وہ اسکی قدر کو جانتا ہے ! خیرجسے اپنی خواہشات پر اتنا قابو نہیں کہ وہ علی علیہ السلام کی تابندگی کو اپنی خواہشات کے طوفان میں جھانک کر دیکھ سکے تو اسکی سزا بھی یہی ہے کہ وہ علی علیہ السلام کو چھوڑ کر معاویہ کے پاس چلا جائے حضرت علی علیہ السلام حضرت جانتے تھے کہ یہ شخص ایک نہ ایک دن ان سے جدا ہو جائے گا آج بھی شعرائ اور فنکاروں کی اپنی جگہ اہمیت ہے لیکن اس زمانہ میں ایک شاعر اسلئے زیادہ اہمیت رکھتا تھا کہ وہ افکار و خیالات اور حکومت کی سیاست و حکمت عملی کو اپنے شعروں میں لوگوں تک پہنچاتا تھا کیونکہ اس زمانے میں آج کی طرح ٹیلویژن اور ریڈیو نہیں تھے بلکہ یہ شعرائ کا کام ہو ا کرتا تھایہاں ملاحظہ کیجیے کس طرح امیرالمومنین علیہ السلام کی پارسائی انکی بااقتدار حکومت کے ساتھ ساتھ ہے ذرا دیکھیں توسہی کیا خوبصورتی و زیبائی سامنے نکھرکر آتی ہے ۔ہم دنیا اور تاریخ عالم میں اس قسم کی مثال نہیں تلاش کر سکتے ۔پیش رو خلفائ میںبھی بہت سی جگہوںپر صلاحیت نظر آتی ہے لیکن کہاں حضرت امیرعلیہ السلام کہاں دیگر لوگ جو کچھ آپ سے پہلے اور آپکے بعد اور آج نظر آرہا ہے گذِشتہ اور آج میں ایک عجیب و غریب فاصلہ نظر آتا ہے اصلاً امیرالمومنین علیہ السلام کی صلاحیت و قابلیت ناقابل توصیف ہے۔

قدرت اور حضرت علی علیہ السلام کی مظلومیت:

ایک دوسرا نمونہ جو آپکی زندگی میں ملتا ہے وہ ہے آپکی قدرت و شجاعت اور مظلومیت ۔آپکے زمانے میں آپ سے زیادہ شجاع و بہادر کون ہو سکتا ہے؟ امیرالمومنین علیہ السلام کی آخری زندگی کے آخری لمحات تک کسی شخص کی بھی جرآت نہ ہو سکی کہ آپکی شجاعت و قدرت کے سامنے اپنی بہادری کا دعو یٰ کرسکے اس کے باوجود آپکی ذات گرامی اپنے زمانے کی مظلوم ترین شخصیت ہے۔ کسی کہنے والے نے کتنی سچی بات کہی ہے کہ شاید تاریخ اسلام کی شخصیتوں میں مظلوم ترین شخصیت آپ کی ذات ہے قدرت اور مظلومیت آپس میں دو متضادصفات ہیں جو جمع نہیں ہوتیں،عموماً طاقتور مظلوم نہیں مگر امیر المومنین علیہ السلام قوت وطاقت کے مالک ہو کر بھی مظلوم واقع ہوئے ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام کی سادگی اور زھد:

سادگی اور دنیا سے بے توجہی امیرالمومنین علیہ السلام کی حیات بابرکت میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے، نہج البلاغہ کے موضوعات میں سے ایک اہم موضوع زہد ہے یہی امیرالمومنین علیہ السلام وفات پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سے اپنے زمانہ حکومت تک ۲۵ سالہ خانہ نشینی کے دوران اقتصادی آباد سازی کے کام کرتے رہے، باغ لگاتے ، کنویں کھودتے، پانی کی نہریں اور کھتی باڑی کرتے تھے اور تعجب اس بات پر ہے کہ یہ ساری محنتیں راہ الہیمیںہوتیں اور ان سب چیزوں کو راہ خدا وقف کر دیتے تھے۔

شاید آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ خود امیرالمومنین علیہ السلام اپنے وقت کے مالدار لوگوں میں سے تھے کہ آپ نے فرمایا! اگر میرے مال سے نکلی ہوئی خیرات پورے قبیلہ بنی ہاشم پر تقسیم کر دی جائے تو سب کے لئے کافی ہوگی ’’ انّ صدقتی لووزّع علیٰ بنی ہاشم لوسعھم‘‘ تو حضرت کی درآمدکم نہیں تھی مگر وقت کا یہ دولت مند انسان فقیرانہ زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے زور بازو سے کمائی ہوئی دولت راہ خدا میںخرچ کر دیتے ہیں، اپنے ہاتھوں کنواں کھود رہے ہیں راوی کہتا ہے میں نے دیکھا فوارے کی طرح زمین سے پانی ابل رہاتھا حضرت مٹی اور کیچڑ میں لتھ پتھ کنویں سے باہر تشریف لائے کنویں کے دہانے پر بیٹھ گئے ایک کاغذ منگوایا اور اس پر اسطرح لکھا: یہ کنواں فلاں قبیلہ کے لوگوں کے لیے میں وقف کرتا ہوں،آپ جو کچھ بھی امیرالمومنین علیہ السلام کی خلافت کے دوران آپکے کاموں کو ملاحظہ کرتے ہیں وہ سب آپکی انفرادی زندگی کے کارنامہ ہیں جسکی برکتیں آپکے دوران حکومت میں بھی عیاں رہیں دنیا سے بے توجہی اوردنیا کو آباد کرنے (کہ خدا نے تمام انسانوں کا یہ ایک فریضہ قرار دیا ہے) میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا یعنی دنیا کو تعمیر کریں زمین آباد کریں ثروت و دولت کے اسباب وسائل تلاش کریں مگر ان سب سے دل نہ لگائیں اسکے اسیر و غلام نہ ہوں تا کہ با سکون ہو کر اسے راہ خدا میں خرچ کر سکیں اسلامی اعتدال اور توازن کا یہ مطلب ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی (اور دیگر آئمہ کی زندگیوں میں)اس قسم کے بہت سے نمونہ ہیں جسکے بیان کرنے کے لئے وقت درکار ہے۔

عدالت امیرالمومنین علیہ السلام :

عدل!علی علیہ السلام کی زندگی میںایک اہم صفت کی حیثیت رکھتا ہے، جب ہم عدل علی علیہ السلام کی بات کرتے ہیں تو اسکا ایک مطلب وہی ہے جسے ہر انسان اپنی جگہ درک کرتا ہے یعنی وہ معاشرہ میں،اجتماعی عدل و مساوات بر قرار کرنے والے حاکم ہیں۔یہ ہے ابتدائی عدل لیکن بالاترین عدل یہی اعتدال و توازن ہے ’’بالعدل قامت السموات والارض‘‘ زمین اور آسمانوں کی استقامت و استواری عدل کی بنائ پر ہے یعنی ایک توازن ہے خلقت و فطرت میں کہ یہی بات حق بجانب بھی ہے اورآ خری معنی کے لحاظ سے درحقیقت عدل و حق ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی کا امتیاز ہی یہ ہے کہ وہ اعتدال و توازن کا مظہر نظر آتی ہے اور سارے محاسن و محامد(اچھائیاں) اپنی اپنی جگہ نقطہ کمال پر پہنچے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

علی علیہ السلام کی دعا اور توجہ و استغفار:

امیرالمومنین علیہ السلام کی خصوصیات میں سے آپکی ایک خصوصیت بارگاہ خداوندی میں خود انکا استغفار کرنا اور طلب مغفرت ہے کہ اس خطبہ کے آخری حصہ میں آپکی اسی خصوصیت کے بارے میں چند جملے بیان کرنا چاہتا ہوں۔

آپکی زندگی میں توبہ و استغفار نہایت اہمیت رکھتا ہے آپ ذرا تصور کریں ایک ایسی ذات جو میدان جنگ کے بے مثل بہادرہیں جنگ کے میدان میں صف آرائی کرتے ہیں (اگر آج کے زمانے میں امیرالمومنین علیہ السلام کی حکومت پرنظر دوڑائیں تو اس زمانے میں آپکی حکومت تقریباً دس۱۰ ممالک کو اپنے حدود اربعہ میں سمیٹے ہوئے نظر آئے گی) اور اس جیسے وسیع و عریض مملکت کے حاکم ہوتے ہوئے ان ساری فعالیتوں اور تلاش کو شش کے باوجود ایک منجھے ہوئے ماہر سیاست دان ہیں وہ انکی ماہرانہ سیاست، میدان جنگ کی ، معاشرے کے نظم و نسق کی ذمہ داری مسند قضاوت پر آکر لوگوں کے حقوق کی بازدہی اور انسانی حقوق کی حفاظت جیسے عظیم اور بزرگ امور انسان کی مصروفیات بڑھا دینے کے علاوہ ہر کام اپنے لیے خصوصی انتظام چاہتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں ایسے لوگ جو فقط ایک زاویہ سے نگاہ کرتے ہیں اپنی انہیں مصروفیات کو دعا و عبادت کہہ کر ، دعا و عبادت سے دور ہو جاتے ہیں اسلئے کہ انکے خیال میں یہ سب راہ خدا میں کام ہی تو ہے مگر امیرالمومنین علیہ السلام اسطرح نہیں فرماتے بلکہ حکومتی اصرار اپنی جگہ اور عبادت وبندگی اپنی جگہ اسی طرح سے جاری رہتے ہیں، بعض روایات میں ہے۔البتہ ذاتی طور پر خود میں نے اس روایت کی چھان بین نہیں کی ہے کہ آپ روز و شب میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔

حضرت دوران جوانی سے ہی اسی طرح تھے یہ جو دعائیں آپ دیکھتے ہیں یہ آپکا روزانہ کا وتیرہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی آپ ایک انقلابی جوان کی حیثیت سے ہر میدان میں پیش پیش تھے کبھی آپ بیکار نہیں بیٹھے اور آپکے پاس کبھی خالی وقت نہیں تھا۔

لیکن اسی دوران جب اصحاب میں گفتگو چلی اور آپس میں پوچھا کہ سب سے زیادہ عبادت کس کی ہے تو ’’ابو دردائ‘‘نے علی علیہ السلام کا نام لیا سوال کیا کس طرح؟ تو انہوں نے دوران جوانی اور اسکے بعد پھر خلافت کے زمانے کی مثال پیش کر کے سب کو قانع کر دیا مختلف واقعات ہیںجیسے نوف بکائی کا واقعہ۔آپکی عبادت کے سلسلے میں نقل ہوئے ہیں یہ صحیفہ علویہ جسے بزرگوں نے جمع کیا ہے وہی امیرالمومنین علیہ السلام سے ماخوذدعاؤں کا مجموعہ ہے اور دعائے کمیل اسکا ایک نمونہ ہے جسے آپ ہر شب جمعہ پڑھتے ہیں، ایک مرتبہ میں نے امام خمینی ۲ سے سوال کیاکہ آپ موجودہ دعاؤں میں سے کس دعا کو سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں اور باعظمت سمجھتے ہیں تو انھوں نے تھوڑا سا سوچنے کے بعد فرمایادو۲ دعائیں ہیں ایک دعائے کمیل جسے میں زیادہ پسند کرتا ہوں اور با عظمت سمجھتا ہوں ،دوسری مناجات شعبانیہ، میرا قوی گمان ہے کہ مناجات شعبانیہ بھی امیرالمومنین علیہ السلام ہی سے ماخوذ ہے کیونکہ روایت میں آیا ہے کہ تمام آئمہ اس مناجات سے مانوس تھے اور اسکے مضامین بھی دعائے کمیل کے مضمون سے ملتے جلتے ہیں۔

دعائے کمیل بھی کیا عجیب دعا ہے، آغاز سخن استغفار سے ہے کہ خدا کو دس۱۰ چیزوں کی قسم دی ہے ’’اللھم انی اسئلک برحمتک التی وسعت کل شئی‘‘ خدا کو اسکی رحمت قدرت اور صفت ،جبروتیت کی قسم دی ہے یہاں تک کہ پروردگار کوانہی عظیم صفات کی قسم دیکر فرماتے ہیں ’’اللھم اغفرلی الذن التی تھتک العصم ، اللھم اغفرلی الذنوب التی تنزل النعم،اللھم اغفرلی الذنوب التی تحبس الدعائ‘‘یہاں پر حضرت پانچ قسم کے گناہوں کو بارگاہ خداوندی میں شمار کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ۔ایک وہ گناہ جو دعاوں کو باب اجابت تک پہونچنے سے روک دیتے ہیں دوسرے وہ گناہ جو نزول عذاب کا سبب بنتے ہیں وغیرہ یعنی ان میں دعاؤں کی ابتدائ استغفارسے ہے اور اس دعا کا اکثر وبیشتر مضمون طلب مغفرت ہی ہے ۔بارگاہ رب العزت میں بخشش و طلب مغفرت کے لئے دل میں آگ لگا دینے والی سوزوگذار سے بھری ہوئی ایک مناجات ہے یہ ہیں امیرالمومنین علیہ السلام اور یہ ہے انکی مناجات اور راہ خدا میں استغفار...

میرے عزیزوں : ایک کامل اور عالی مرتبت انسان وہی ہے جو خواہشات و ہویٰ نفس سے اپنے آپ کو خالص کر کے راہ خدا میں چلنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے معبود کی خوشنودی کے لئے قدم بڑھاتا ہے، وہ شخص جو اپنی خواہشات کا غلام ہے جو اپنے غیض و غضب او ر شہوت ہی سے نہ نکل سکے وہ ظاہری طور پر چاہے کس قدر عظیم کیوں نہ ہو جائے لیکن درحقیقت ایک پست و حقیر انسان ہے۔

دنیا کے بڑے بڑے وزرائے اعظم ،صدرہای جمہوریہ جو دنیا کی بڑی بڑی ثروتوں پرقبضہ جمائے ہوئے ہیں وہ کب اپنی خواہشات اورہویٰ نفسانی سے جدا ہو سکتے ہیں اور وہ کب اسکی اسارت و غلامی سے نجات پا سکتے ہیں؟وہ تو اپنی خواہشات کے اسیر ہیں اور حقیر و پست انسان ہیں۔

لیکن ایک وہ فقیر و غریب جو اپنی خواہشات پر قابو رکھ سکتا ہے اور اپنے نفس کو اپنے اختیار میں کر سکتا ہے اور صحیح راستے پر راہ کمال انسانی اور راہ خدا میں چل سکتا ہے اپنی جگہ ایک بزرگ وعظیم انسان ہے۔

استغفار کا اثر:

استغفار اور طلب مغفرت انسان کو حقارت و پستی سے نجات دلاتا ہے خدا سے استغفار ہمیں اور آپکو ساری نفسانی و شہوانی زنجیروں سے رہائی عطا کرتا ہے استغفار دل کی وہ نورانیت ہے جسے خدا نے آپکو عطا کیا ہے۔

دل یعنی جان، روح،یعنی وہی حقیقت انسان ، یہ ایک نہایت نورانی شی ہے ہر انسان اپنی اپنی جگہ نورانی وجود کا حامل ہے چاہے خدا سے اسکا تعلق بھی نہ ہو اور وہ اسکی معرفت بھی نہ رکھتا ہو۔

البتہ لوگ اپنی شہوت پرستی،خواہش نفس کی پیروی اور عدم شناخت کی وجہ سے اپنے قلب کو زنگ آلودکر لیتے ہیں اور استغفار اس زنگ کو مٹا کر اسے پھر سے نورانی کر دیتا ہے۔

ماہ رمضان دعا و استغفار کا ایک بہترین موقع ہے ۔ انیسویں اور اکیسویں کی راتیں کہ جسکے شب قدر ہونے کا احتمال پایا جاتا ہے گذر چکی ہے مگر ابھی تیسویں کی شب باقی ہے اسکی قدر کریں غروب کے بعد تیسویں شب کے آغاز ہی سے سلام الہی’’ سلام ھی حتیٰ مطلع الفجر‘‘کا آنا شروع ہو جاتا ہے یہاںتک کہ صبح کی اذان کا آغاز ہو جاتا ہے درمیان کی یہ گھڑیاں سلامتی و امن الہیکی برکتیں لیکر ساری مخلوقات کو رحمت کے سایہ میں لے لیتیںہیں۔یہ ایک عجیب و غریب شب ہے،ہزار ماہ سے بہتر ’’خیر من الف شھر‘‘ہزار ماہ سے بہتر، برابر نہیں انسان کی ہزار مہینہ کی زندگی کس قدر بابرکت ثابت ہو سکتی ہے کس قدرانسان رحمت و برکت الہیکو اپنی ذات کے لئے مخصوص کر سکتا ہے اسلئے یہ شب بہت اہمیت رکھتی ہے اسکی قدر و منزلت کو پہچانیں اور دعاو مناجات ، میں سرگرم عمل رہیں خلقت اور آیات الہیمیں تفکر و تعقل کریں انسان کی سرنوشت اور جو کچھ خدا نے اس سے چاہا ہے اسکے بارے میں غور و خوض کریں یاد رکھیں یہ سب مادی اسباب وسائل زندگی سب کے سب اس عالم ملکوت کے لئے دریچہ کی حیثیت رکھتے ہیں جومرنے کے فوراً بعد انسان پر کھل جائیں گے اور یاد رکھیں دنیا کو کوئی ثبات و دوام حاصل نہیں ہے۔

معزز حاضرین !جان کنی کے وقت ہم لوگ ایک دوسری دنیا میں پہنچ جاتے ہیں اس دن کے لئے پہلے سے ہی ہمیں اور آپکو تیار رہنا چاہئے یہ ساری کائنات،یہ دولت و ثروت ،یہ قوت و طاقت جسے خدا نے ہمارے وجود میں حرکت و تحریک عمل پیدا کرنے کیلئے ودیعت فرمایا ہے اور وہ تمام چیزیں جس کا خدا نے ہم سے مطالبہ کیا ہے ۔ جیسے عدل و انصاف کی حکومت اچھی زندگی وغیرہ۔سب کے سب صرف اس لئے ہیں تا کہ انسان اس دنیا میں جانے کے لئے پوری طرح تیار ہو سکے، لہذا خود کوآمادہ کیجئے، خدا سے مانوس ہوجائیے ، خدا سے مناجات کیجئے،ذکر و درود کیجئے توبہ و استغفار کیجئے۔

ایسے لوگ جو اپنے کو خدا سے نزدیک کرتے ہیں، اپنے قلب کو پاک وپاکیزہ رکھتے ہیں گناہوں سے دوری کرتے ہیں اعمال خیر انجام دینے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں وہی دنیا کے عظیم انسان ہیں۔ جو دینوی مشکلات کے مقابلے کا حوصلہ رکھتے ہیں جسکا ایک نمونہ قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی ۲ ہیںاور ہمارے اس معاشرے کے مومنین بھی ہیں، وہ مومن و مخلص انتھک جوان، یہ عورتیں اور مرد ،وہ حضرات جو شہید ہوگئے، جو زخمی ہوئے اورغازیِ میدان کہلائے ،جنہوں نے دشمن کے شکنجے برداشت کیے اور قید و بند کی مصیبتیں جھیلیں،میدان جنگ کی سختیاں برداشت کیں، یہ سب اسی کا ایک دوسرا نمونہ ہیں۔آج آپ انہیں شہدامیں سے ایک ہزار شہیدوں کو سپرد خاک کر رہے ہیں اسمیں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ ایک عالی رتبہ، اورنمونے کی حیثیت رکھتا ہے ا ور کتنا اچھا ہوتا کہ ہر قوم وملت میں ایک دو نمونے دیکھنے کو ملتے،مناسب ہے کہ آپکی تجلیل اور احترام کیا جائے اور انہیں اسوہ نمونہ کے طور پر پیش کیا جائے۔( ۱ )

مختلف حالات و شرائط کا سامنا:

شاید دنیا کے مشہور و معروف لوگوں خاص طور پر اسلامی شخصیتوں کے درمیان امیرالمومنین علیہ السلام کے علاوہ (یہاں تک کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ایسا کوئی اور نظر نہیں آتا جو مختلف دین و مذہب کے ماننے والوں اور مختلف قوم و ملت میں زیادہ محبوبیت رکھتا ہو، جب آپ انکی شخصیت پر نظر ڈالیں گے تو آپکو معلوم ہوگا کہ اگرچہ آپکے زمانے میں کچھ سرکش اور خود غرض لوگ آپکی شمشیر عدالت اور شدّت عدل و انصاف کی وجہ سے آپ سے بیزار نظر آتے ہیںاورآپکے بدترین دشمن ہیں مگر وہی لوگ جب اپنے دل کی گہرائیوں میں جھانک کر دیکھتے ہیں تو علی علیہ السلام کی نسبت اپنے دل میں تعظیم و تکریم اور محبت کا احساس بھی کرتے ہیں اور یہی صفت بعد کے زمانے میں بھی دیکھائی دیتی ہے جہاں علی علیہ السلام کے دشمن بہت ہیں وہیں آپکے مداح بھی بکثرت موجود ہیں حتی وہ لوگ بھی آپکے مداح ہیں جو آپکے مذہب و مسلک پر اعتقاد بھی نہیں رکھتے۔

پہلی صدی ہجری میں زبیر کا خاندان بنی ہاشم خصوصاً آل علی سے بغض و عداوت کے لئے مشہور رہا ہے اور یہ عداوت زیادہ تر عبداللہ بن زبیر کی وجہ سے تھی، ایک دن زبیر کے پوتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے دریافت کیا

کہ آخر کیوں دشمن کے پروپگنڈے کے باوجود روز بروز علی کا خاندان اور انکا نام لوگوں میں زیادہ محترم ہوتا جا رہا ہے اور انکے خلاف پروپگنڈے کا کوئی اثر نہیں ہوتا؟ اسکے باپ نے تقریباً اس طرح سے جواب دیا: ان لوگوں نے خدا کے لئے حق کی طرف لوگوں کو دعوت دی یہی وجہ ہے اوران کے دشمنوں نے لوگوں کو باطل کی طرف بلایاکہ آج تک کوئی اس شرف و فضیلت کو چھپانے کی کوششوں کے باوجود بھی نہیں چھپا سکا۔

طول تاریخ میں یہی دیکھا گیا آپ دنیا کے بڑے بڑے متفکرین ، (چاہے وہ مسلمان ہوں یاغیر مسلمان) کو دیکھیں وہ لوگ امیرالمومنین علیہ السلام کی نسبت اظہار محبت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں دنیا کے وہ بزرگ جنہوں نے اپنی قوم و ملت کے حق کو حاصل کرنے کے لئے پرچمِ بغاوت بلند کیا ان سب کی نگاہوں میں امیرالمومنین علیہ السلام معزّزہیں،شعرا ئ ادیبوں،فنکاروںاور بشر دوست حضرات کو دیکھیں تو وہ بھی آپکا کلمہ پڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔المختصر وہ جوان ہو یا بوڑھا عالم ہو یا جاہل اگر تاریخ اسلام سے آشنا ہے یا امیرالمومنین علیہ السلام کا نام اسکے کانوں سے ٹکرایا ہے اُنکے حالات زندگی سے واقفیت رکھتا ہے تو وہ آپ سے محبت و مودّت کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔

خود ہمارے زمانے میں کئی مصنفین اور مصری ادیبوںکے ذریعہ کئی کتابیں امیر المومنین علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں منظر عام پر آئی ہیں۔کہ اسمیں سے دو۲یا اس سے زیادہ کتابیں عیسائی مذہب رکھنے والے مصنفین کی لکھی ہوئی ہیں جو اسلام کو تو قبول نہیں رکھتے مگر وہ علی علیہ السلام کو مانتے ہیں۔

____________________

۱۔ ۲۱ رمضان ۱۴۱۷ھ میں تہران کے خطبہ نماز جمعہ میں رہبر انقلاب اسلامی کا ایک بیان۔


علی علیہ السلام کی زندگی کے مختلف دور:

مختلف اسلامی شخصیتوں کے مابین تنہا یہ امیرالمومنین علیہ السلام کی ہی خصوصیت ہے جو اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف حالات و شرائط میں رہ کر اپنے بلند و عالی اہداف کے تحت جہاں کہیں بھی رہے اپنے پورے وجود کو صرف کر دیتے ہیں

آپ امیرالمومنین علیہ السلام کو مکہ میں ایک سولہ ۱۶ سالہ یا انیس۱۹ سالہ جوان کی حیثیت سے فرض کریں یا مدینہ میں وارد ہوتے وقت کہ (جب بھی آپ تقریباً ایک ۲۰ بیس سالہ جوان ہی ہیں) فرض کریں و ملاحظہ کریں گے کہ حقیقتا ایک جوان ہونے کی حیثیت سے آپ ہر زمانے کے جوانوں کے لئے بہترین نمونہ ہیں،جوانی کی تمام خواہشات اور دینوی لذتوں سے دور ہیں ۔یہاں تک کہ وہ زیبائی و خوبصورتی جو اس دوران ایک جوان کی نظر میں اہمیت رکھتی ہے اس سے بھی لا تعلق ہیں اور بعثت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو عالی و بلند مرتبہ مقصد تھا وہی آپکا بھی ہدف ہے اس راستے میں خود کو فدا کر دینے پر تلے ہوئے ہیں آپکی نگاہ میں دنیا کی بقیہ چیزیں دوسرے درجہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔یہ ایک جوان کے لئے نہایت اہمیت رکھتی ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں ، شیرینیوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا اور اپنی ساری خوشیاں راہ خدا میں قربان کر دیتا ہے کیا اس سے بھی بلند کوئی شئی ہو سکتی ہے ؟

اس زمانے کونظر میں رکھیں جبکہ آپ ایک پختہ کار کی حیثیت سے اپنے معاشرے کا ایک فرد شمار ہوتے ہیں اور آپکا اچھا خاصاسن ہے شاید ہزاروں لوگوں نے خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے آپکی تعریف و تمجید سنی ہوگی میرا خیال ہے کہ کوئی بھی مسلمان محدّث ایسا نہیں ہوگا جس نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی امیرالمومنین علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کی اسقدر مدح و ستائش سنی ہو البتہ دیگر صحابہ کے بھی فضائل نقل ہوئے ہیں مگر کمیت و کیفیت کے لحاظ سے جو فضائل و مناقب امیرالمومنین علیہ السلام کے لئے تمام فرق اسلامی کے محدثین نے آنحضرت سے نقل کئے ہیں میرے خیال میںکسی اور کے بارے میں نقل نہیں کئے ہیں۔مگر اسکے باوجود نہ تو آپ اس تعریف کی وجہ سے مغرور ہوتے ہیں نہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں لغزش کا شکار ہوتے ہیں جبکہ ایسی جگہ ایک انسان کے لئے مغرور ہونا یا خطا کرنا فطری امر ہے۔

تمام صحابہ نے آپکے بارے میں سینکڑوں تعریفیں سنیں گویا امتحان دینے کا وقت آن پہنچا اور خلافت کا مسئلہ پیش آیا جو مسلمہ حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ علی علیہ السلام مدعی خلافت تھے (فی الحال مجھے حق و باطل یا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت وغیرہ سے یہاں کچھ لینا دینا نہیں )لیکن جب آپ نے دیکھا کہ خلافت سے کنارہ کشی ہی اسلامی مصالح کے لئے ضروری ہے تو خود کو میدان خلافت سے دور کر لیا یعنی امیرالمومنین علیہ السلام حق بجانب ہوتے ہوئے بھی امت اسلامی کی مصلحت کے پیش نظر وقتی طوراپنی ساری خوبیوں پر اپنے سارے محامد و محاسن کے باوجود خلافت سے کنارہ کش ہوگئے اور فرمایا’’ جب میں نے دیکھا حالات بدتر ہو گئے ہیں اور دین اسلام کو خطرہ لاحق ہے تومیں خلافت سے کنارہ کش ہو گیا‘‘

ایک مخلص سیاستداں، ایک عظیم انسان جو کہ اپنی خواہشات کے مطابق نہیں چاہتا کہ عمل کرے، اسکے لئے اس سے بڑھ کر واضح ،گویا اور حیرت انگیز انداز میں اپنے نفس پر کنڑول اور کسطرح ہو سکتا ہے!؟ یہی شخصیت ایک دن حاکم اسلام ہو جاتی ہے لوگ چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ریاست اسلامی کے لئے انتخاب کرتے ہیں دوست ،دشمن،رقیب،حبیب یا آپکے ہاتھوں پر بیعت کرتا ہے یا پھر اپنی مخالفت کا اظہار کرتا ہے (پانچ ، چھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے آپکے ہاتھ پر بیعت نہیں کی اور اعلان کیا کہ ہم آپکی مخالفت بھی نہیں کریں گے) بقیہ سب نے آپکے دست مبارک پر بیعت کی اور آپ ساری دنیائے اسلام کے حاکم و مولا ہو گئے، آپ تصور کر سکتے ہیں اس زمانے کی اسلامی دنیا کے کیا معنی ہیں؟ یعنی ہندوستان کی سرحدوں سے دریائے بحر احمر تک جس میں عراق ،مصر ،شام، فلسطین اور ایران سب کے سب شامل ہیں شاید اس زمانے میں آباد دنیا کا آدھا حصہ آپکی زیر سلطنت ہے۔

اس وقت آپکی سادہ زیستی ،زہد و پارسائی جسکے بارے میں آپ سنتے رہتے ہیں وہ اسی دوران حکومت سے تعلق رکھتی ہے یعنی یہ زندگی کی لذتیں،عیش و عشرت، اور آسایش و آرام جو کسی بھی بڑے سے بڑے انسان کو اپنی طرف کھینچ کر فرائض سے دور کر دیتا ہے اسمیں سے کوئی بھی شئی لمحہ بھر کے لئے بھی امیرالمومنین علیہ السلام کے دل میں شک و تردید نہیں پیدا کر پائی ، نہ ہی اُنکے راستے سے انہیں ہٹا پاتی ہے۔

انہوں نے ثابت کر دیا کہ سارے گمراہی کے اسباب و وسائل ایک طرف اور انکی قوت ارادی اور اقتدار نفس ایک طرف۔عظمت و بزرگی اسے کہتے ہیں، یہ ہیں وہ چیزیں جو نسلوںکو انسانی اجتماع اور پوری تاریخ بشریت کو اپنے مقابل خضوع و خشوع پر مجبور کرتی ہیں،اگر کوئی انصاف پسندی سے کام لے تو وہ اس جیسی شخصیت کے مدمقابل سر کشی نہیں کر سکتابلکہ سب کے قلوب خودبخود اسکے سامنے جھک جائیں گے۔

اگر کسی کے یہاں امیرالمومنین علیہ السلام کے اندر موجود صفات کا ایک کر شمہ بھی پایا جاتا ہو تو وہ اپنے نفس اور خواہشات پر غلبہ حاصل کر سکتا ہے۔حضرت امام خمینی ۲ ہمارے زمانے کی عظیم شخصیت جسے آپ نے دیکھا ہے دنیا کی بڑی اور عظیم شخصیتیں انکے سامنے اپنی پستی کا احساس کرتی تھیں۔انکے نمائندگان چونکہ آپکے نام اور آپکی یاد لیکر جاتے تھے دنیا میں کہیں بھی گئے دنیا کے بااقتدار سرکش حاکموں کو اپنے سامنے خضوع پر مجبور کر دیتے تھے اسلئے کہ حضرت امام خمینی ۲ نے امیرالمومنین علیہ السلام کی خوبصورت اور زیباصفات والی ذات کا کچھ گوشہ اپنی زندگی میں عملی کر لیا تھا۔

البتہ ان تجلیات کے بارے میں جو کچھ ہم یہاں بیان کر رہے ہیں اپنی جگہ عظیم ہیں مگر امیرالمومنین علیہ السلام کی لا متناہی ذات کے مد مقابل ایک قطرے کی طرح بہت کم اورحقیر ہے لیکن خود آپکی شخصیت بہت عظیم ہے۔

امیرالمومنین علیہ السلام کی بزرگی و عظمت:

میرے عزیزو:امیرالمومنین علیہ السلام کو اسطرح نہیں پہچانا جا سکتا کہ وہ کیا تھے انکی بلند و بالا شخصیت ان ناقص معیاروں کی بنیاد پرآخر کس طرح سمجھی جا سکتی ہے؟ایک دن ایک صحابی امام سجاد علیہ السلام کی عبادتوں،ریاضتوں اور زہدو پارسائی کو دیکھ کر حیرت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ علیہ السلام اتنی زحمت برداشت نہ کریں! تھوڑا سا اپنے اوپر رحم کریں ، امام سجادعلیہ السلام گریہ فرماتے ہوئے اس سے خطاب کرکے کہتے ہیں تم مجھے نہ دیکھو، ذرا امیرالمومنین علیہ السلام سے میری ان عبادتوں کا موازنہ کرو تو تم کو معلوم ہوگا، کہ کہاں وہ ؟ اور کہاں میں؟ ذرا دیکھیں تو سہی یہ امام سجادعلیہ السلام ہیں خود آپکی شخصیت ایسی ہے کہ آپ تک لوگوں کی رسائی ناممکن ہے ،میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ کوئی عمل میں آپ تک نہیں پہنچ سکتا ،نہیں بلکہ وہم و خیال تک آپکی عظمت و بزرگی کو چھونے سے عاجز ہیں۔آپکی ذات اس سورج کی مانند ہے کہ جسکی کرنوں کو ہم دور سے چمکتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں مگر خود خورشید تک نہیں پہنچ سکتے کچھ اسطرح سے امام سجادعلیہ السلام کی شخصیت ہے مگر آپ جب حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی شخصیت کو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بچہ کسی بزرگ کو دیکھ رہا ہے یہ ہیں امیرالمومنین علیہ السلام اوریہ ہے انکی عظمت و بزرگی۔

حضرت کے ہمرزم ہوئے:

میرے عزیزو! ایک نکتہ جسکا رابط ہم سب سے ہے ہم اسکی طرف توجہ کریں:آپکی پیروی اور اتباع تنہا زبان سے تو ہو نہیں سکتی ۔مثلاً آپ میدان جنگ میں اتر کر رٹ لگائیں کہ فلاں ہمارے سپہ سالار ہیں میں ان سے محبت کرتا ہوں انہیں پسند کرتا ہوں اور وہی سپہ سالار آپکو فوجی ٹریننگ کے لئے بلائے اور آپ اپنی جگہ سے نہ ہلیں وہ آپکو دشمن پر حملہ کے لئے حکم دے مگر آپ اس سے رخ موڑ لیں.جبکہ انسان اپنے دشمن اور جسے وہ نا پسند کرتا ہے اس سے یہ رویہ اختیار کرتا ہے، امیرالمومنین علیہ السلام ہمارے مولا ہیں امام ہیں آقا و سردار ہیں ہم شیعوں کو انکی محبت پر ناز ہے اگر ہم لوگوں کے سامنے کوئی علی علیہ السلام کو انکی عظمت و بزرگی سے گھٹاتا ہے تو ہم اس سے بھی بغض و نفرت کرتے ہیں اسے ناپسند کرتے ہیں تو پھر انکی ولایت کا کچھ نہ کچھ اثر ہماری عملی زندگی میں بھی نظر آنا چاہئیے۔

میں آپ سے یہ نہیں کہتا کہ آپ امیرالمومنین علیہ السلام جیسے بنیئے خود حضرت امام سجادعلیہ السلام بھی اس بات کے قائل ہیں کہ وہ امیرالمومنین علیہ السلام کی طرح عمل نہیں کرسکتے خود حضرت علیہ السلام نے عثمان بن حنیف سے فرمایا: ’’ الا و انکم لا تعدون علی ذالک‘‘تم میری طرح نہیں ہو سکتے یہ تو بالکل واضح ہے لیکن تم سے یہ توقع ضرور ہے کہ ہمارے ہمرزم بنو ہمارے پائے رکاب میں قدم رکھو اور ہمارے پیچھے پیچھے چلو اگر آپ امیرالمومنین علیہ السلام کی آواز سے آواز ملانا چاہتے ہیں تو ہمیں انکے زمانہ حکومت کی دو۲خصوصیتوں کو اپنانا پڑیگا۔کہ جسکا تعلق ہمارے اور آپکے زمانے سے ہے اور ہم سے اور آپ سے اسکا ربط پایا جاتا ہے۔اور وہ ہے نمبر۱۔اجتماعی عدالت و مساوات، نمبر۲۔دنیا کی نسبت بے توجہی اور اس سے دل نہ لگانا۔

امیرالمومنین علیہ السلام کی اجتماعی عدالت:

عزیزان گرامی: ان دونوں خصوصیتوں کو پرچم کی طرح اپنے ہاتھوں میں لیکر معاشرے میں عملی کرنے کی کوشش کریں عدالت اجتماعی کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کا قانون یکساں طور پر معاشرے کے ایک ایک فرد کو زیر نظر رکھے کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کرے، انسان ایک دوسرے سے مختلف قسم کا رابطہ رکھتا ہے جسکی بنائ پرآپس کے برتاؤ میں بھی فرق آجاتا ہے اسلئے کہ کوئی کسی کا رشتہ دار ہے تو کوئی دوست ہے کسی سے جان پہچان ہے تو کسی سے نہیں ہے البتہ جو شخص بھی کسی بھی مقام یا منصب کا مالک ہے ، یہاں میری مراد یہ ہے کہ قانون اسکے ہاتھ میں ہے اس لئے کسی تفریق کے بغیر، سب کو ایک نگاہ سے دیکھنا ضروری ہے۔ خصوصاً ایک اسلامی نظام حکومت میں ہر ایک فرد کو یہ اطیمنان اور احساس ہونا چا ہیے کہ اسکے ساتھ قانون کی نگاہ نہیں بدلے گی، جو جسقدر زحمت ومشقت اٹھائے گا اسی لحاظ سے بہرہ مند بھی ہو گا، اگرچہ کچھ لوگ کاہل اور سست اور کام چور ہوتے ہیں جو کام چوری کرتے ہیں وہ اپنے نفس پر خود ظلم کرتے ہیں، کام کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں لہذا ان کا دوسرے لوگوں سے مسئلہ ہی یہاں جدا ہے یہاں عدالت اجتماعی کے معنی یہ ہیں کہ بغیر دلیل کسی کو کسی پر ترجیح حاصل نہ ہو سب کے لئے ایک قانون ہو اور امیرالمومنین علیہ السلام نے یہ کام اپنی حکومت میں انجام دیا اور اسی کو عدالت اجتماعی کہتے ہیں۔

علی علیہ السلام سے دشمنی کی بنیاد یہی تھی، وہ نجاشی شاعر، جس نے امیرالمومنین علیہ السلام کے لئے اشعار کہے تھے، آپکے دشمنوں سے ٹکر لی تھی آپ کا محب تھا، دشمنوں کے مقابلے پر بھی علی علیہ السلام کا دامن نہیں چھوڑا ، لیکن جب وہی حرمت الہیکو توڑتا ہے، ماہ مبارک رمضان میں شراب پیتا ہے تو لوگوں کے اصرار کے باوجود،آپ فرماتے ہیں سب کچھ اپنی جگہ درست، اسکی محبت قابل قدر اسکی دوستی اپنے مقام پر لیکن چونکہ اس نے حرمت الہیکو توڑا ہے اسلئے اس پر حد خدا جاری ہوگی وہ بھی ناراض ہو کر آپ کو چھوڑ کر معاویہ کی طرف چلا گیا یعنی امیرالمومنین علیہ السلام حدود خداوندی کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں کہ گویااُنکی نگاہ میں اہمیت صرف اور صرف قوانینِ الہیہے اور خدا سے ہٹ کر کوئی شئی ارزش و اہمیت نہیں رکھتی۔

یہی امیرالمومنین علیہ السلام ہیں کہ جب ایک شخص چوری کرتاہے اور وہ آپکے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں تم کو قرآن کتنا یاد ہے اس نے سنا دیا تو فرمایا! ’’قد وھمیت یدک لسورۃ البقرۃ،، تمہارے عمل کی بنیاد پر تو تمہارا ہاتھ کاٹ دینا چاہئے تھا مگر اس سورہ مبارکہ بقرہ کی وجہ سے تیرے ہاتھ کو بخش دیا جاو پھر ایسی حرکت نہ کرنا۔

یہ کوئی بیجا امتیاز نہیں ہے بلکہ قرآن کی وجہ سے آپ نے اسکے ساتھ یہ برتاو کیا۔امیرالمومنین علیہ السلام اقتدار اسلامی اور اصول وقوانین دینی کے سامنے کسی کا کوئی لحاظ نہیں کرتے تھے وہاں محب ہونے کے باوجود اسکے فسق و فجور کی بنیاد پر حدجاری کرتے ہیں اور یہاں قرآن کی بنیاد پر اس چور کو معاف کر دیتے ہیں یہ ہیں امیرالمومنین علیہ السلام جو صد در صد الہیمعیار کی بنیاد پر عمل کرتے ہیں یہ ہے آپکی عدالت، جس کسی نے بھی یہ کہا ہو مجھے یقینی طور پر معلوم نہیں یہ کس کا قول ہے ’’ قتل فی محراب عبادتہ لشدّۃ عدلہ‘‘علی علیہ السلام محراب عبادت میں اپنی انصاف پسندی کی شدّت کی وجہ سے قتل کر دئے گئے ۔

مگر کہنے والے نے درست کہا ہے یعنی عدالت امیرالمومنین علیہ السلام اثر ورسوخ رکھنے والوںاور صاحبان نفوذ کے لئے ناقابل برداشت تھی یہاں تک کہ اسی وجہ سے وہ لوگ انکے قتل کے درپے ہوگئے۔

اب ذرا ملاحظہ کریں آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جناب آپ کس طرح اس اسلامی معاشرے میں اسی عدالت کو برقرار کر سکتے ہیں جسکی وجہ سے علی آخر تک حکومت نہیں کر سکے! میں کہتا ہوں جس قدر اسے عملی کرنا ممکن ہے ہمارا فرض ہے کہ اس اندازہ کے مطابق معاشرہ میں اسے عملی کریں ہم کب کہتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ با لکل عدل امیرالمومنین علیہ السلام کی طرح ہم عدل جاری کرنا چاہتے ہیں۔ہمارا تو یہ کہنا ہے کہ جس قدر بھی ایک مومن اس پر عمل کر سکتا ہے ، انجام دے کم از کم جتنا ہو سکتا ہے اسے تو ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔

اگر یہی عدالت فرھنگ و تمدن (کلچر)کی صورت اختیار کرے اور عوام اُس کو سمجھ جائیں تولوگ خود بخود اسکو برداشت کریں گے۔ عدالت امیرالمومنین علیہ السلام سے عوام الناس خوشحال تھے محض صاحبان نفوذ کو برُا لگتا تھا وہ اس سے ناراض تھے اور امیرالمومنین علیہ السلام کو ان لوگوں نے یہ خود شکست دی اور معرکہ صفین پیش آیا ۔کہ جس میں حضرت علیہ السلام کو خون دل پینا پڑا اور اسکے بعد آپکو شہید کر دیا گیا ان سب کی وجہ یہ تھی کہ عام لوگ اسوقت مسائل کو صحیح طور پر سمجھنے سے عاجز تھے اور اسکا صحیح تجزئیہ انکے بس سے باہر تھا۔

صاحبان نفوذ ومطلب پرست عام لوگوں کے ذہنوں پر غلبہ رکھتے تھے انہیں سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتے تھے اسلئے ،درک و فھم پیدا کرنا چاہئیے لوگوں کی سیاسی بصیرت میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ ایک دن عدالت اجتماعی کو پورے معاشرے میں جاری کیا جاسکے ۔

پارسائی و زہد امیرالمومنین علیہ السلام:

ایک دوسرا مسئلہ امیرالمومنین علیہ السلام کا زھد ہے جو نہج البلاغہ کا ایک نمایاں پہلو ہے ، جس وقت امیرالمومنین علیہ السلام نے اس زھد و پارسائی کو لوگوں کے سامنے بیان کیا تھا اسے اسلامی معاشرے کی بنیاد ی بیماری کے علاج کے طور پر پیش فرمایا تھا اور میں نے بارھا یہ بات کہی ہے کہ آج ہمیں انہیں مسائل پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے، امیرالمومنین علیہ السلام جب یہ فرمارہے تھے کہ دنیا کی لذتوں اور اسکے زرق برق میں مبتلا نہ ہوں توکچھ لوگ ایسے بھی تھے جنکے ہاتھ وہاں تک پہنچے ہوئے تھے آپکا خطاب ان سے تھا ’’ان لوگوں سے نہیں جو فقیر تھے کہ جنکی اسوقت اکثریت تھی‘‘امیر المومنین علیہ السلام ان سے خطاب کر رہے تھے جو فتوحات اسلامی کی وجہ سے دولت و ثروت کی بہتات اور مملکت اسلامی کے پھیلنے کے نتیجہ میں دنیا اور اسکی لذات میں غرق ہوتے جا رہے تھے۔آج جب ہم بھی اس صفت کے بارے میں دو۲ باتیں کہنا چاہتے ہیں تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جناب آپ کیسی باتیں کرتے ہیں لوگوں کی اکثریت ایسی ہے جنکے پاس وہ مادی اسباب ووسائل نہیں ہیں، جی ہاں ہمارا خطاب بھی ان سے نہیں ہے بلکہ ان لوگوں سے ہے جو ان اسباب و وسائل کے مالک ہیں ان لوگوں کے لئے ہے جو صاحب ثروت و دولت ہیں۔

جو لوگ حرام طریقوں سے دنیا کی لذتوں کو حاصل کر سکتے ہیں ہمارا خطاب بھی ان سے ہے البتہ ان لوگوں کے علاوہ وہ حضرات بھی توجہ رکھیں جو حلال راستوں سے دنیا کی شیرینیاں اکٹھا کر سکتے ہیں ان سے بھی ہماری یہی گذارش ہے کہ وہ زہد اختیار کریں اور لذائذ دنیا میں غوطہ زن نہ ہو جائیں۔

نظام اسلامی کے عہدیداران امام علی علیہ السلام کے اصلی مخاطبین:

زہد و پارسائی کا بلند و عالی مرتبہ اور واجب ترین مرحلہ یہ ہے کہ انسان حرام چیزوں سے پرہیز کرے اور اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے دے ،لیکن جہاں حرام چیزوں سے پرہیز کرنا زہد کا بلند درجہ ہے، وہیں بقدر ضرورت حلال چیزوں سے استفادہ کرنا اور زہد و پارسائی برتنا بھی بلند درجہ کی حیثیت رکھتا ہے اگرچہ ممکن ہے بہت ہی تھوڑے لوگ زہد حلال کے مخاطب قرار پائیں وہی لوگ کہ جن کے ہاتھ وہاں تک پہنچ سکتے ہیں ، جو لذّت و نعمات خداوندی سے حلال طریقہ سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں اور اس زمانہ میں ہر ایک اپنی پوسٹ کے لحاظ سے زہد امیرالمومنین علیہ السلام کا مخاطب ہے لہذا انہیں زہد امیرالمومنین علیہ السلام یاد رکھنا چاہئے جنکے پاس کوئی حکومتی عہدہ و منصب ہے انکی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے اور جن لوگوں کے پاس کوئی حکومتی عہدہ و ذمہ داری نہیں ہے اُن پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں زہد اپنائیں البتہ حکومت کی ذمہ داریوںکے مقابلے میں انکی ذمہ داری اتنی نہیں ہے جتنی کہ مسؤلین کی ذمہ داری بنتی ہے۔

انہیں چاہیے کہ اسے ایک فرھنگ (کلچر)کی حیثیت سے زندگی کا جز بنائیں اسطرح نظام اسلامی پر منڈلاتے ہوئے خطرات کم سے کم ہو جائیں گے اور عدالت و زہد کی بنائ پر نظام اسلامی قوی سے قوی تر ہو جائیگا پھر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔جن لوگوں کو دنیا کی لذتیں، خواہشات نفس، فریب و دھوکہ نہ دے سکیں اور انکے ارادے میں تزلزل ایجاد نہ کر سکیں وہی لوگ تمام دشمنوں کے مقابلے میںڈٹ سکتے ہیں وہی خطرے کے وقت اسلامی حکومت کو نجات دلا سکتے ہیں ، آج جو حکومت اسلامی پر ہر چار جانب سے یلغار ہو رہی ہے ایسے نازک موقع پر ہماری سب سے زیادہ ذمہ داری یہ بنتی ہے خصوصاً جوانوں ذمہ داران حکومت بالاخص علمائ حضرات وقوم و ملت کے مختلف افراد، اور وہ لوگ جنہیں لوگ اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں ان سب کی ذمہ داری ہے کہ ان دو ۲ صفات کو (عدالت و زہد) کو اپنائیں امیرالمومنین علیہ السلام نے تاریخ میں یہ دو مشعلیں روشن کیں ہیں تاکہ پوری تاریخ روشن رہے اگر اس سے کوئی شخص منہ موڑے گا تو خود اسکا نقصان ہوگا لیکن علی علیہ السلام کا نام ان کی یا د اور انکے دئیے ہوئے سبق، تاریخ کچھ نہیں بھلا سکتی یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کے دامن میں محفوظ رہیں گے۔(۱)

علی علیہ السلام کی تہہ در تہہ شخصیت درس جاویدانی ہے:

امیرالمومنین علیہ السلام کی ذات گرامی، مختلف زمانوں میں مختلف حیثیت سے تمام کاروان بشر کے لئے ایک نہ بھلایا جانے والا سبق اور درس جاودانگی ہے چاہے وہ انکا انفرادی عمل ہو یا محراب عبادت میں انکی بندگی، انکی مناجات ہو یا انکا زہدوہ یاد خدا میں غرق ہوں یا اپنے نفس اور شیطان کے مقابل انکا جہاد ہر میدان میں انکی زندگی ہمیں درس عمل سکھاتی ہے آج بھی عالم کی فضامیں انکا یہ جملہ گونج رہا ہے ’’دنیا دنیا غرّی غیری ‘‘(۲) (ای دنیا کی لذتوں، ای جاذب نظر پرفریب ماّدی زرق و برق دنیا قوت و طاقت رکھنے والے انسانوں کو اپنے دام پرخطر میں پھانسنے والی جا علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کو فریب دے علی علیہ السلام تیرے دھوکہ میںآنے والا نہیں )اس بنیاد پر ہر بیدار ذہن امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی کے ایک ایک لمحات میں خدا سے ارتباط اور معنویت و روحانیت کے لئے نابھلایا جانے والا درس حاصل کرتا ہے۔

____________________

۱۔ ولادت امیرالمومنین علیہ السلام کی مناسبت سے معاشرے کے مختلف لوگوں سے قائد انقلاب اسلامی کاایک خطاب۔

۲۔ نہج البلاغہ کلمات قصار، متن


امیرالمومنین علیہ السلام کا جہاد :

حق و عدالت کے قیام کے لئے جہاد کرنا آپکی زندگی کا ایک دوسرا پہلو ہے نبی پیغمبر اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس روز سے رسالت کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھایا اسی وقت سے آپکے ساتھ ایک مومن و مخلص مجاہد (جو کہ ابھی جوان تھا) آپکے شانہ بشانہ موجود رہا اوروہ مومن مخلص جوان مجاہد علی علیہ السلام کے سوائ اورکوئی نہیں تھا۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بابرکت زندگی کے آخری لمحات تک امیرالمومنین علیہ السلام اسلام کی حفاظت وبقاکے لئے لمحہ بھر کے لئے بھی غافل نہیں ہوئے اپنی اس راہ میں ۔کس قدر زحمتیں اٹھائیں،کس قدر اپنی جان کے لئے خطرات مول لئے اور حق و عدل کے قیام کے لیے جدوجہد کی اور اسمیں غرق رہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے سب جانتے ہیں کہ جب کوئی میدان میں نہیں ٹکتا تھا

تب وہ میدان میں ثابت قدم ہو جاتے تھے، جب لوگ میدان میں اترنے سے کتراتے تھے اسوقت آپ میدان میں ڈٹ جاتے جب لوگ سختیوں سے فرار کرتے تو اسوقت آپ اپنے پورے وجود کے ساتھ سختیوں کا مقابلہ کرتے اور مجاہدین اسلام کو تسلی دیتے آپکے لئے زندگی کا معنی و مفہوم یہی تھا کہ خدا نے جو قوت و طاقت جو صلاحتیں آپکو عطا کیں سب کو حفاظت دین اور اسلام کی بقائ کے لئے صرف کر دیں ۔جی ہاں: علی علیہ السلام کے قوت بازو اور انکے فولادی ارادے کی برکت سے آج حق زندہ ہے۔

اگر آج دنیا کے انسانوں کے لئے حق و عدل اہمیت رکھتے ہیں اور یہ مفاہیم دنیا میں پائے جاتے ہیں اور روز بروز انکو تقویت ملتی جا رہی ہے تو یہ صرف اور صرف آپ ہی کی فداکاریوں کا نتیجہ ہے۔اگر علی ابن ابیطالب جیسی شخصیت نہ ہوتی تو آج انسانی قدروں کا بھی کوئی نام لیوا نہ ہوتا انسان کے پاس تمدن(کلچر)،بلند اہداف اور کوئی اعلیٰ مقصد بھی نہ ہوتا اور انسانیت ایک جنگلی حیوان و درندگی کی شکل میں تبدیل ہو چکی ہوتی ، بشریت بلند و عالی مقاصد کی حفاظت کے لئے آج امیرالمومنین علیہ السلام کی زحمتوں اور مشقتوں کی مرہون منت ہے اور یہ سب آپ کے جہاد کا اثر ہے۔

حکومت کے معنی میں تبدیلی:

حکومت کے میدان میں آپکا ایک انوکھا انداز آپکی شخصیت کا ایک منفرد پہلو ہے۔جو اپنے وقت پر عظیم حکومت و قدرت اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اور ایک تھوڑی سی مدت حکومت میں وہ کارہای نمایاں وہ دیرپا اثر چھوڑتا ہے کہ لکھنے والے، لکھتے رہیں ،اسکی تصویر کشی کرنے والے تصویر کشی کرتے رہیں اور مورخین قلم چلاتے رہیں پھر بھی جو کچھ لکھا جائے، کہا جائے یا اسکی تصویر کشی کی جائے کم ہے۔دوران حکومت آپکا طرز حیات خودکسی قیامت سے کم نہیں ہے اصلاً علی علیہ السلام نے حکومت کے معنی ہی بدل کر رکھ دیے وہ مظہر حکومت الہی مسلمانوں کے درمیان مجسم آیات قرآنی،سراپا’’اشداء علی الکفار و رحماء بینهم ‘‘(۱) اور مجسمہ عدل مطلق تھے وہ فقیروں کو اپنے قریب رکھتے تھے ’ ’کان یقرب المساکین ‘‘(۲) معاشرے کے پسماندہ اور دبے کچلے افراد کا خاص لحاظ رکھتے تھے اور جو لوگ

مال و ثروت کی وجہ سے خود کو ناحق بڑا اور بزرگ بنائے ہوئے تھے آپ انہیں خاک و مٹی کے برابر سمجھتے تھے آپکی نظر میں جو شیئ قیمتی اور ارزشمند تھی وہ ایمان، تقوی،اخلاص و جہاد اورانسانیت تھی آپ نے اس حکومتی طرز تفکر کیساتھ پانچ۵ سال سے بھی کم حکومت کی، صدیاں گذر رہی ہیں اور لکھنے والے امیرالمومنین علیہ السلام کی خوبیاں پیش کر رہے ہیں لکھنے والے لکھ رہے ہیں مگر پھر بھی ابھی تک بہت کم لکھا گیا ، اور اچھے اچھے اپنی عاجزی ، ناتوانی کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ولایت علی علیہ السلام سے تمسک:

دنیا ہمیں علی علیہ السلام کا چاہنے والا سمجھتی ہے’’معروفین بتصدیقنا ایاّکم ‘‘(۲) اور دنیائے اسلام بھی ہمیں ان لوگوں میں شمار کرتی ہے جو علی بن ابی طالب علیہ السلام کی نسبت شدید محبت و موّدت اور انکی غلامی کا دم بھرتے ہیں اور تمام دنیا والے بھی ہمارے بارے میں یہی خیال رکھتے ہیں۔لہذا ہم پر فرض ہے کہ انکے اس خیال کو یقین میں تبدیل کر دیں۔

ایک زمانہ تھا کہ جب اسی ملک میں اگر کوئی اپنی زبان سے یہ کلمات جاری کرتاتھا’’الحمد الله الذی جعلنا من المتمّسکین بولایة امیرالمومنین و اولاده المعصومین‘‘ (۴) ( ترجمہ:اس خدا کی حمد جس نے ہمیں امیرالمومنین علی علیہ السلام اور انکی اولاد کی ولایت رکھنے والوں میں سے قرار دینا)‘‘تو بہت سے لوگ شک و تردید کی نگاہ سے اسکو دیکھنے لگتے تھے، کہتے تھے کہ کیا ہم اس پر خدا کی حمد کریں کہ علی کے موالی ہیں ؟ کیا واقعاً یہ کلمات برحق ہیں؟البتہ انہیں شک کرنے کا حق بھی تھا، اسلئے کہ اسوقت اس ملک میں امریکہ ، یہودیوںا ور دشمنان خدا کی ولایت و حکومت تھی لہذا ہمیں کیاحق تھا جو کہتے ’’الحمد اللہ الذی جعلنا من المتمّسکین بولایۃ امیرالمومنین و اولادہ المعصومین‘‘ اور اپنی جگہ یہ بات بھی ہے کہ لوگوں کی اکثریت اپنے دل میں انہیں کی محبت چھپائے ہوئے تھی اور انکی ولایت کے معتقد تھے۔

مگر یاد رکھیئے ولایت اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر معنی و مفہوم رکھتی ہے البتہ آج مملکت ایران کے لوگ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت سے تمسک پر خدا کی حمد و ستائش کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارا انقلاب، ہمارا پیغام سب کچھ راہ ولایت علی علیہ السلام ہی کا صدقہ ہے۔

____________________

۱۔فتح ۲۹۔

۲۔شرح ابن ابی الحدید،ح ۱۸،باب۷۵،ص ۲۲۶۔

۳۔زیارت جامعہ کبیرہ مفاتیح الجنان

۴۔اقبال ۔ص ۴۶۴۔


علوی معاشرہ:

ہماری خواہش ہے کہ ہماری زندگی، ہماری حکومت امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی اور انکی حکومت کے مطابق ہو جائے ہم چاہتے ہیں ہماری حکومت میں مکمل طور پر اسلامی عدالت کا نفاذ ہو جائے جو شخص بھی اس حکومت میں زندگی بسر کر رہا ہے اسکا فریضہ ہے کہ وہ اس مقصد تک پہنچنے کے لئے تلاش و کوشش کرے ۔

ہمارا فریضہ ہے کہ کوئی ایسا طریقہئ کار اپنائیں کہ ہمارا معاشرہ ہمارا نظام حکومت سب کا سب علوی معاشرے اور علوی حکومت کی طرح ہو جائے تنہا اسلام اسلام کرنا اور ولایت کا دم بھرتے رہنا ہی کافی نہیں ہے خصوصاً جن لوگوں کے کاندھوں پر کوئی حکومتی منصب ہے۔ وہ عدلیہ ہو، یا مجلس شورای اسلامی ہو (پارلیمنٹ) یا پھر مقام صدارت و ریاست بھی اجرائ قوانین کی منزل یا پھر دوسرے حکومتی ادارہ جات اوردیگر مراکز وغیرہ...زبان و عمل میں سب طریقہ کار بالکل امیرالمومنین علیہ السلام جیسا ہونا چاہیے۔

مقصد محرومین اور عوام کی خدمت ہو:

امیرالمومنین علیہ السلام خدا کے لئے اوراسکی راہ میں کام کرتے تھے، لوگوں کے ہمدم اور ہمدرد تھے ان سے لگاو تھا اور عوام کی خدمت کو اپنا فریضہ سمجھتے تھے اس کے باوجودکہ آپکی حکومت کا مقصد پسماندہ لوگوں کی امداد تھا پھر بھی راتوں کو تن تنہا ایک ایک پسماندہ اور معاشرے کے دبے کچلے لوگوں کے پاس جاتے تھے اورانکی مدد کرتے تھے۔یہ امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی تھی،ہمارا راستہ بھی وہی ہے کہ طاغوتی حکومتوں نے جس لحاظ سے بھی لوگوں کومحروم و پسماندہ کر دیا ہے ہم انکی مدد کے لئے دوڑیں یہی امیرالمومنین علیہ السلام کا راستہ تھا یہی درس ہے جسے رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی ۲ نے علی علیہ السلام سے سیکھا تھا اور ہمارے سامنے اسے پیش کیا ہمیں اسی راستے میں چلنا چاہیے۔

ظلم کے خلاف جنگ:

علی علیہ السلام ہر منزل پر ہر جگہ پر چاہے جس نام سے یاد کئے گئے ہوں ظلم کے خلاف ایک مسلسل جنگ کرنے والے مجاہد تھے۔ذرا آپ امیرالمومنین علیہ السلام کی دشوار گذار زندگی کے مراحل پر ایک نظردوڑائیں،دیکھیں تو سہی انہوں نے کن لوگوں سے جنگیں لڑی ہیں،کسی صلاحیت و شہامت کا مظاہرہ کیا ہے، مدمقابل کون لوگ تھے کیسے پرفریب ناموں کے زیرسایہ علی علیہ السلام سے مقابلہ کرنے آئے تھے،مگر پھر بھی آپ جنگ کو ٹالتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب آپکے لئے عیاں ہوجاتا کہ یہ ظلم ہے یہ باطل ہے تو پھر کوئی رعایت نہیں کرتے تھے، یہی ہمارا بھی راستہ ہے، ایک دشوار گذار راستہ کہ جسے بہرحال ہمیں طے کرنا ہے اور یہی ان تمام پیروان امیرالمومنین علیہ السلام کا راستہ ہے جو آپکی محبت و غلامی کا دم بھرتے ہیں یعنی ظلم و ظالم سے لڑائی چاہے وہ کسی بھی صورت میں نہ ہو جس سطح پر ہو اور چاہے جس انداز سے بھی لڑنا پڑے۔

اخلاص حضرت علی علیہ السلام :

علی ابن ابی طالب (علیہ الصلوۃ والسلام) کے سلسلہ میں جو کچھ بھی کہا جائے کم ہے اسلئے کہ آپکی آفاقی شخصیت ذہن میں سمانے اور بیان کے دائرے سے خارج ہے مجھ جیسے لوگ آپ کی تہہ در تہہ شخصیت کے بارے میں کسی ایک پہلو کو بھی بیان کرنے سے عاجز ہے مگر چونکہ آپ نمونہ عمل ہیں اسلئے ہمیں آپکو اپنی بساط و توانائی کے اعتبار سے پہچاننا بھی ضروری ہے۔

ممکن نہیں کوئی علی علیہ السلام کی سدرہ نشین شخصیت تک اپنی کمتر فکر ڈال سکے اسلئے کہ یہ بات ہمارے دیگر بزرگ آئمہ علیھم السلام نے ہم سے کہی ہے ایک روایت جس میں امام باقرعلیہ السلام امیرالمومنین علیہ السلام کے زھد و عبادت اور دیگر خصوصیات کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:’’وما اطاق عمله منّا احد ‘‘(۱)

ہم میں سے کوئی بھی آپ جیسے عمل کو انجام دینے کی طاقت نہیں رکھتا یعنی :حتی خود امام صادق ، امام باقر علیہ السلام اور ائمہ ہدی بھی جہاں امیرالمومنین علیہ السلام پہنچے ہوئے ہیں نہیں پہنچ سکتے ۔اس روایت کے مطابق امام نے آگے فرمایا: ’’وان کان علی بن الحسین علیه السلام لینظر فی کتاب من کتب علی علیه السلام (۲) ایک دن آپکے والد حضرت علی بن الحسین امیرالمومنین علیہ السلام کی کسی کتاب کو دیکھ رہے تھے۔ یقینا یہ کتاب آپکی زندگی کا دستورالعمل تھا جس کے مطابق آپنے اپنی زندگی گذاری تھی۔

کہ ایک مرتبہ پڑھتے پڑھتے ’’فیضرب به الارض ‘‘(۳) اسے زمین پر رکھ دیا اور پھرفرمایا’’و یقول من یطیق هذا؟‘‘( ۴) کون ہے جو اسقدر عمل انجام دے سکتا ہو؟ یعنی امام سجاد علیہ السلام جو کہ سید العابدین اور زین العابدین ہیں امیرالمومنین علیہ السلام کی عبادتوں اور زہد و پارسائی کے مقابلے میں خود کو عاجز سمجھتے ہیں ،خود امیرالمومنین علیہ السلام نے عثمان بن حنیف کو اس خط میںلکها’’الا وانّکم لا تقدرون علی ذالک ‘‘(۵) جسطرح میں عمل کر رہا ہوں تم اسطرح نہیں کر سکتے واقعیت بھی یہی ہے جو کچھ تاریخ نے امیرالمومنین علیہ السلام کے بارے میں ہم تک عبادت و ریاضت کے بارے میں نقل کیا ہے آدمی جب اسپر نظر ڈالتا ہے تو پھر انسان کو اپنی ناتوانی کااحساس ہونے لگتا ہے۔

اس بنیاد پر موضوع سخن یہ نہیں کہ ہمارا معاشرہ مثل علی علیہ السلام ہو جائے بلکہ موضوع گفتگو یہ ہے کہ معاشرے کے افراد کو کس راستے کی طرف لے جایا جائے مخصوصاً ایک اسلامی حکومت کے سربراہوں کو کون سا راستہ اپنانا ہوگا اور زندگی کس نمونے کے مطابق گذارنا ہوگی یہ ہے گفتگو کا مقصد اور یہ ہے راستہ....

علی علیہ السلام بام عروج پر:

ذات علی(علیہ السلام) کچھ ایسے عناصر کا مجموعہ ہے کہ اگر ایک بلند مرتبہ انسان وہاں تک پہنچنا بھی چاہے تو نہیں پہنچ سکتا اور انکی عظمتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔دنیاسے لاتعلقی ،خواہشات ولذائذ سے بے پروائی اور دنیا کی زرق برق چیزوں سے دوری جہاں ایک عنصر ہے، آپکا پیکراں علم جسکے بارے میں بہت سے مسلمان دانشمنداور تمام بزرگان شیعہ اس پر متفق ہیں کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد علم و دانش میں علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے یہ آپ کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو ہے اور مختلف میدانوں میں آپ کی فداکاری اور جانثاری کا انوکھا انداز بھی انہیں عناصر کا ایک جز ہے ۔

وہ چاہے میدان سیاست ہو یا میدان سیر وسلوک یا کوئی اور میدان ۔آپکی عبادتوں کا طریقہ اپنی جگہ پر ایک جداگانہ عنصر ہے ، عدل و مساوات کی جو مثال آپ نے قائم کی ہے وہ خود عدالت اسلامی کی مکمل تفسیر ومجسم کی حیثیت سے آپکے تہہ در تہہ وجود کا ایک اور عنصر ہے۔معاشرے کے مختلف طبقات جیسے فقیر،غلام وکنیز،بچے عورتیں وغیرہ کے ساتھ آپکا نرمی سے پیش آنا ان سے محبت ،اور پسماندہ ،دبے کچلے لوگوں کے ساتھ بھی محبت کا برتاوآپکی زندگی کا ایک اور نمایاں پہلو ہے۔

ہروہ ترقی جو آپکی زندگی کے مختلف مراحل میں نظر آتی ہے وہ بھی انہیں عناصر کا ایک جز ہے فصاحت و بلاغت حکمت و دانائی یہ سب کے سب اپنی اپنی جگہ آپکے مجموعہ عناصر کے اجزائ میںسے ہیں جن کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ چھٹی صدی ہجری کے ہمارے ایک بزرگ عالم جناب قطب راوندی آپکے زہد کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: جس وقت کوئی شخص علی علیہ السلام کی ان باتوں کو جو انہوں نے زہد کے بارے میں ارشاد فرمائی ہیں دیکھتا ہے اور وہ یہ نہیں جانتا کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے (یعنی ایک ایسا انسان جو اپنے زمانے میں دنیاکے ایک بڑے حصے پر حکمرانی کر رہا تھا)توا سے شک و شبہ بھی نہیں ہوتا کہ یہ کلام ایک ایسے شخص کا ہے جسکا کام ہی فقط عبادت وبندگی تھا’’لایشک انّه کلام من لا شغل له بغیر العبادة ‘‘’’ولا حظّ له فی غیرالزّهادة ‘‘ اور بجز زہد و پارسائی انکا کوئی اور شیوہ ہی نہیں تھا ’’وهذا من مناقبه العجیبة التی جمع جهاتین الاضداد ‘‘ اور یہ ہیں آپ کے وہ حیرت انگیز مناقب جو آپکی شخصیت میں متضاد صفتوں کو یکجا کرتے ہیں۔

اخلاص اور جوہر عمل :

میں آج جس نکتہ کی طرف آپکی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ ہے امیرالمومنین علیہ السلام کا اخلاص عمل:ہم کو چاہئیے کہ اس صفت کو اپنے روزمرہ کے کاموں کا جوہر قرار دیں جیسا کہ یہی صفت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی زندگی کی روح رہی ہے یعنی آپ اپنے کاموں کو فقط اور فقط خدا کی خوشنودی کے لئے انجام دیتے تھے اور آپ اپنے کسی بھی عمل سے سوائے قربۃالی ا? اور خدائی فرض کے اور کوئی مقصد نہیں رکھتے تھے۔

میرے خیال میں علی علیہ السلام کی ذات میں یہ ایک حقیقت ایسی ہے جو اپنی جگہ پر بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے بچپنے سے اپنی جوانی کی عمر تک آغوش نبیصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب کہ آپ نے اسلام کو تمام سختیوں اور مشقتوں کے بدلے اپنی جان کے بدلے خریدا تھا جگہ جگہ پر اس خلوص کا ثبوت دیا۔

انہوں نے ایک محترمانہ آسایش و آرام اور اشرافیت کو کہ جو کسی قرشی زادہ کی عیش و عشرت کے لئے میسرتھی صرف خداکے لئے نظرانداز کر دیا اور تیرہ سال کی مدّت حیات میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شانہ بشانہ کفر کے خلاف جنگ کرتے رہے اور اسکے بعد شب ہجرت حضرت علیہ السلام کے بستر پر سوئے کہ اگر کوئی آپکے اس کا رنامہ پر غور و فکر کرے تو اسے پتہ چلے گا کہ آپ نے اس ایک عظیم فداکاری کا ثبوت دیا ہے کہ جسے ایک انسان پیش کر سکتا ہے یعنی یقینی اور حتمی طور پر موت کے مقابل تسلیم ہوجانا ۔اور موقع پر صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اتنا ہی پوچھا کہ کیا میرے سونے سے آپ بچ جائیں گے تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ہاں میں بچ جاؤں گا تو آپ نے عرض کی، تو میرا سونا حتمی ہے ۔

اس جگہ پر وہ عیسائی مصنف کہ جنکی نگاہ اسلامی اور شیعی بھی نہیں ہے اور ہمارے دین سے بھی خارج ہیں امیرالمومنین علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں ’’امیرالمومنین علیہ السلام کا یہ عمل تنہا سقراط کے اس عمل سے ہی قابل موازنہ ہے جو معاشرے کی مصلحت کے لئے خود اپنے ہاتھوںسے زہر کا پیالہ پی لیتا ہے‘‘ یعنی اس شب میں مسلم جانثاری عمل اور اخلاص تھا۔نہ جانے کتنے حکمراںہیںجو ایسے موقع پر فائدہ اٹھانے کی فکر کرتے ہیں اپنے لئے سوچتے ہیںلیکن آپ ایسے موقع پر خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان بچانے کی فکر میں ہیں۔

فقط رضائے الہی

غزوات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھئے جنگ احدمیں کہ جب چند انگشت شمار لوگوں کے علاوہ بقیہ سبھی فرار کر گئے تو اسوقت امیرالمومنین علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دفاع کیا۔جنگ خندق پر نظر ڈالئے جہاں سارے مجاہدین عمروبن عبدود کے مقابلے سے ہٹ گئے اور آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باربار اس سے مقابلہ کے لئے اجازت طلب کرتے ہیں اسی طرح جنگ خیبر ہو یا آیہ برآت کی تبلیغ،رحلت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سقیفہ نبی ساعدہ میں جانشینی کا مسئلہ ہو یا پھر خلیفہ دوم کی وفات کے بعد شوری کی تشکیل کا مرحلہ ہر ہر جگہ پر امیرالمومنین علیہ السلام نے فقط خوشنودی خداکو پیش نظر رکھا اور اسلام اور مسلمانوں کے حق میں الہی چیز کا انتخاب فرمایا جو انکے لئے مفید تھی اور رضائے الٰہی کا سبب تھی اور کہیں بھی آپ نے اپنی ’’انا‘‘ کو درمیان میں نہیں آنے دیا۔آپکی خلافت ظاہری کا زمانہ ہو یا ۲۵ سال تک آپکی خانہ نشینی ، خلفائ کی امداد کے لئے آپکا جانا ہو یا پھر اپنی خلافت ظاہری کے دوران مختلف احزاب کے مقابل اپنے موقف کا اظہار یا اس جیسے دیگر اور مقامات، پر وہی علی ہیں جسے خدا پسند کرتا ہے، اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسکا انتخاب کرتا ہے، خدا کا ایک خالص اور مخلص بندہ، اور یہی وہ خصوصیت ہے کہ جسکا ایک ذرہ ہی سہی مگر ہم اپنی زندگی اور عمل میںاسکو جگہ دیں اور ہم یہ صفت علی علیہ السلام سے سیکھ لیں اسلئے کہ اسوقت یہی خصوصیت اسلام کی ترقی کا سبب بنی تھی اور آج اگر اسی صفت کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی کسی انسان میںپیدا ہو جائے تو وہ اسلام اور مسلمین کے لئے ایک مفید عنصر بن سکتا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام سے اخلاص آموزی:

ہم لوگوں نے عظیم انقلاب اسلامی کے دوران اپنی آنکھوں سے لوگوں کی زندگی میں اس خلوص نیت کا مشاہدہ کیا ہے اور جو کچھ کارنامے ہونا تھے وہ ہوئے ،قائد انقلاب اسلامی امام خمینی ۲ اس اخلاص عمل کا مظہر تھے اور انکے ہاتھوں جو کچھ ہونا تھا وہ ہوا انہوں نے اسلام کے مقابلہ میں ساری دنیا کو جھکا دیا اور دشمنان دین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا آج بھی ایران کی قوم و ملت اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ چاہے وہ مر د ہوں یا عورت سب کے سب خصوصاً ہم سب ذمہ داران حکومت جس قدر جس کی ذمہ داریاں بڑھتی جائیں گی۔اسی خلوص نیت کے محتاج ہوجائیںگے یہاں تک کہ اسی اخلاص کی مدد سے اس بوجھ کو منزل مقصود تک پہنچا دیں۔ امیر المومنین علیہ السلام نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں :’’ولقد کنّا مع رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم نقتل اباتنا وانباتنا و اخواننا واعمامنا لا یزیدنا ذالک الاّ ایمانا و تسلیما ومضیا ولی اللقم و صبرا وعلی مضض الالم ‘‘(۶) ۔ہم لوگ خلوص نیت کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پائے رکاب میں اپنے خاندان و گھرانے والوں سے لڑ رہے ہوتے تھے،’’فلمّا رآی الله صدقنا انزل بعد وّنا الکبت وانزل علیناٰ النّصر‘‘ (۷)

تو جس وقت خدا نے ہمارے اس مخلصانہ عمل کو دیکھا ہمارے دشمن کو سرکوب کر دیا اور ہمیں فتح و ظفر سے سرفراز فرمایا: پھر آپ ارشاد فرماتے ہیںکہ اگر ہمارا یہ عمل نہ ہوتا اور ہم لوگ اس طرح اخلاص نہ رکھتے ہوتے ’’ماقام للدّین عمود ولا اخضرَّ للایمان عود‘‘ ایمان کی ایک ٹہنی بھی سر سبز و شاداب نہ ہوتی اور آج دین کا کوئی ستون بھی اپنی جگہ محکم و استوار نہ دکھائی دیتا یہ انہیں مسلمانوں کے خلوص دل اور انکی صداقت کی ہی برکتیں تھیں کہ روح زمین پر آج ایک اسلامی معاشرہ پھلتا پھولتا نظرآ رہا ہے اور یہ ترقیاں انھیں کی زحمات کا نیتجہ ہیں یہ اسلامی تمدّن اور یہ عظیم تاریخی تحریک بھی آج اسی کا نتیجہ ہے، ہماری قوم دنیا کے سارے مسلمانوں عراق کی عوام انکے سربراہوں اور ان تمام لوگوں کو جو دنیا کے کسی بھی گوشہ و کنا میں اسلام کی باتیں کرتے ہیں ان سب کو علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے ہی اخلاص کا سبق حاصل کرنا ہوگا ۔

حضرت علیہ السلام کی شہادت کی وجہ سے ستون ہدایت منہدم ہو گیا:

آج انیسویں ماہ رمضان ہے حضرت علیہ السلام کے سر اقدس پر ضربت لگنے سے اہل کوفہ کا کیا حال ہوا، خدا ہی جانے وہ آپکا لوگوں کے درمیان محبوب چہرہ، وہ بزرگ انسان، وہ عدل مجسم،وہ آپکی ولولہ انگیز صدا وہ آپکا ضعفائ اور دبے کچلے لوگوں پر شفقت کرنے والا مہربان ہاتھ،اشقیائ کے مد مقابل غیض و غضب کرنے والا انسان ، اس پانچ سال کی مدت میں اہل کوفہ و اہل عراق اور جو لوگ مدینہ سے ہجرت کر کے حضرت کے پاس آئے تھے، خود کو کوفہ میں یا کوفہ سے باہر دیگر میدانوں میں ان لوگوں نے علی علیہ السلام کو کچھ اسی طرح پایا تھا اور ان سے مانوس ہو چکے تھے اسلئے نہیں کہا جا سکتا کہ جب ان لوگوں نے یہ سنا کہ امیرالمومنین علیہ السلام کے سر مبارک پر ضربت لگی ہے تو انکا کیا حال ہو ا؟ پس میں قائد انقلاب اسلامی امام خمینی ۲ کی وفات سے قبل آپکی بیماری کی کیفیت کو ذرا سا اس وقت کی کیفیت سے تشبیہ کر رہا ہوں آپ جانتے ہیں کہ جس وقت حضرت امام خمینی ۲ کی بیماری کی خبر ایران میں پھیلی تو لوگوں کا کیا جوش و ولولہ اور کیا غوغہ تھا بس ایک قیامت ایک حشر بپا تھا لوگ ہر طرف دعائیں کر رہے تھے ، آنکھیں رو رہی تھیں۔لگتا ہے آج کوفہ کی بھی ایسی حالت تھی(۸)

____________________

(۱،۲،۳،۴)۔بحارالانوار ج ، ۴،ص ۳۴۔

۵ ۔ نہج البلاغہ نامہ ۴۵۔

۶۔۷۔نہج البلاغہ خطبہ ۵۶۔

۸۔حدیث ولایت ،ج ۷، ص۱۵۔۱۰


حکومت علوی کی خصوصیات:

امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی زندگی پر توجہ کرنا حقیقتاً اس مہینہ کی اہم برکتوں میں سے ایک بہت با اہمیت برکت ہے لوگوں کو کبھی یہ توفیق حاصل نہیں ہو پاتی کہ مختلف زاویہ سے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی زندگی کا جائزہ لے سکیں اور انکی زندگی کا مطالعہ کر سکیں، چاہے وہ کوئی عام آدمی ہو یا پھر خطبائ واعظین ہو، خصوصاً اسلامی مملکت کے ذمہ داران تو آج سب سے زیادہ آپکو پہچانتے اور آپکی معرفت کے نیازمند ہیں اور یہ موقع دیگر مہینوں میں بہت کم ہی نصیب ہوتا ہے، جس کی جو بھی ذمہ داری ہو۔اوپر سے نیچے تک تمام عہد داران مملکت اسلامی آج ہر زاویہ اور ہر پہلو سے علی علیہ السلام کی زندگی اور انکی شخصیت کو پہچاننے کیلئے سراپا محتاج ہیں۔

مختلف روایات کے مطابق آنجناب کی عمر شریف،۵۸ سال سے لیکر،۶۰ ۶۳ اور ۶۵ سال تک ذکر ہوئی ہے لیکن ۶۳ سال مشہور ہے (یعنی وہی نبی گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکا سن و سال) مگر اکثر و بیشتر اسلامی معارف جو آپکی زبان مبارک سے صادر ہوئے ہیں انکا تعلق آپکی چار سال اور نو ۹ماہ یا دس۱۰ ماہ کی ظاہری خلافت میں سے ہے کہ یہ خود اپنی جگہ ایک حیرت و استعجاب کا مقام ہے ، جسقدر انسان باریک بینی سے کام لیتا ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی دیومالائی داستان پیش ہو رہی ہو۔آپکی زندگی کے مختلف پہلو کہ جس کا تعلق آپ کی پانچ سالہ ظاہری حکومت سے ہے اس کی تصویر کشی ایک عام ذہن کے لئے نا ممکن ہے ۔

ذرا آپ طول تاریخ میں نظر اٹھا کر دیکھیں ایک حکومت اور حاکم کا کیا کردار رہا ہے اور لوگوں کا اس کے بارے میں کیا تصور ہے؟ ایک حاکم کے لیے مطلق العنانی، شمشیر بدست ہونا ،من مانی کرنا اور جو بھی دنیا کی لذّات ہیں اس سے استفادہ کرنا اسکا ایک حق سمجھا جاتا رہا ہے مصلحت اندیش، سیاست بازی، اور غیر واقع عمل کا لوگ اس سے انتظار رکھتے ہیں اور اگر وہ اسکے برخلاف کوئی عمل انجام دے تو لوگوں کو تعجب ہوتا رہے کیونکہ حکومتیں اسی طرح سے عمل کرتی رہی ہیں اور اسکے بارے میں ایک غلط تصور قائم ہو چکا ہے۔مگر امیرالمومنین علیہ السلام کی حکومت وہ حکومت ہے جو ان ساری باتوں کو یکسر غلط ثابت کر دیتی ہے اور حکومت کے ان سارے باطل تصورات کو منسوخ کر دیتی ہے ۔

البتہ مکرر آپ نے یہ اظہار فرمایا ہے کہ میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کا ادنیٰ سا حصہ ہے، امیرالمومنین علیہ السلام کے زہد کے بارے میں وہ راوی یوں کہتا ہے ، کہ میں نے دیکھا وہ بزرگوار خشک روٹی اپنے گھٹنوں سے توڑ کر تناول فرما رہے ہیں، عرض کیا یا امیرالمومنین علیہ السلام ! آپ اپنے آپ کو کیوں اسقدر زحمت میں ڈالتے ہیں؟تو آپ نے بحالت گریہ ارشاد فرمایا: میرے والد قربان جائیں اس ذات والی صفات پر جس نے ساری عمر دوران حکومت اپنے شکم کو گہیوں کی روٹی سے پر نہیں کیا اور مراد ذات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھی۔یہ ہے امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی اور نبی گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے آپ کی شاگردی کی منزل بہرصورت آپ کی حکومت کے سلسلہ سے جو کچھ بھی تاریخ میں ہے وہ ایک حیرت انگیز شئی ہے۔اور اگر ان چند سالوں میں آپ کی زندگی کچھ زیادہ نمایاں ہوئی ہے تو اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ دشمنوں نے آپ کے بارے میں جان بوجھ کر عیب جوئی اور تہمت و الزام تراشی سے کام لیا ہے اور انھیں عیوب والزامات میں سے آپکے فضائل نکل کر سامنے آگئے ہیں اور بہت سے حقائق آشکار ہوئے ہیں۔میں آج چند جملے ان بزّرگوار کی حیات طیبہ کے بارے میں بحیثیت ایک حاکم کے پیش کرنا چاہتا ہوں، البتہ سب سے پہلے مجھے خود آپ کی زندگی سے سبق لینا چاہیے اور اسکے بعد سارے عہدے داران مملکت کو اس سے سبق لینے کی ضرورت ہے اور دیگر حضرات اور ایک عام انسان کو بھی بہت کچھ سیکھنے اور سبق لینے کی ضرورت ہے۔

آپکی حکومت کی پہلی خصوصیت:

اگر ہم امیرالمومنین علیہ السلام کی حکومتی زندگی کی خصوصیات ’’یعنی علی علیہ السلام بحیثیت ایک حاکم‘‘ پیش نظر رکھیں تو چند اہم خصوصیتیں آپ کی اس زندگی میں نظر آتی ہیں۔

نمبر ۱۔حق کی راہ میں اٹل ہو جانا۔ اگر اس خصوصیت کو سب سے اہم نہ بھی مانیں پھر بھی آپکی حیات میں کم از کم ایک نمایاں خصوصیت ضرور ہے آپکی حکومت مین پہلی چیز جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ حق کو پہچاننے اور اسکے تعین کے بعد، کوئی چیز بھی حق پر عمل کرنے سے آپ کے راستے میںرکاوٹ نہیں بن سکتی ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے آپ کے بارے میں فرمایا تھا:’’ردخشن فی ذات الله ‘‘(۱) یعنی آپ کی ذات ایسی ہے کہ راہ حق میں آپ کے لئے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی،جس جگہ حق کا تعین ہو گیا کسی کی پرواہ کئے بغیر اسپر عمل کرتے ہیں ۔

آپ امیرالمومنین علیہ السلام کی ساری زندگی اٹھا کے دیکھیں گے تویہی ایک صفت ہر جگہ کارفرما دیکھائی دیگی،حق کے لئے اٹل ہو جانا، مسند خلافت پر بیٹھتے ہی آپکی یہی صفت دکھائی دیگی یعنی جب حکومت بنام خدا، برائے خدا اور احکام الہیجاری کرنے کے لئے قائم ہوئی تو پھر اس راستے میں کسی مصلحت و مفاد کے بغیر کام کرنا ہے یہ وہ منطق اور اصول ہے کہ جس کو امیرالمومنین علیہ السلام اپنی حکومت میں حتی الامکان رائج کرتے ہیں۔ آپ اگر دشمنان علی بن ابی طالب علیہ السلام کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہوگا آپ کی یہ صلاحیت اور حق پر اٹل ہو جانا کس قدراہم ہے۔

حضرت کا تین طرح کے لوگوں سے مقابلہ:

امیرالمومنین علیہ السلام نے تین قسم کے لوگوں سے مقابلے کئے نمبر۱ ۔مارقین یعنی( دین سے نکل جانے والے)نمبر۲۔ ناکثین یعنی (بیعت کر کے توڑ دینے والے)۳۔قاسطین یعنی(ظلم کرنے والے) اسمیں سے ایک گروہ اہل شام سے تھا یعنی اصحاب معاویہ و عمر بن عاص وغیرہ کہ جس میں کچھ تو وہ تھے جو نسبتاً مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایک طولانی مدت بھی گذار چکے تھے اور کچھ جدید الاسلام تھے، نو مسلم تھے یعنی زمانہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو۲ یا تین۳ سال گذار ے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات کازیادہ حصہ نہیں دیکھا بلکہ زیادہ تر آپ کے بعد زندگی کے حصے گذارے، اور کچھ ایسے بھی تھے جو گروہ شام ہی میں رہ کر بھی اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شمار ہونے لگے تھے اور یہ سیاسی، مالی، اور امکانات و وسائل کے اعتبار سے کچھ قوی اور با حیثیت لوگ تھے اور حضرت کے مد مقابل میں تھے لیکن حضرت نے اس سب کے باوجود ان کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کیا تھا۔

البتہ ایسا بھی نہیں تھا کہ حضرت تنہا حاکم شام کو ہی فاسق سمجھتے تھے اور اس سے جنگ کرنے کے لئے تیار تھے نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بہت سے ایسے حکام اور بھی تھے جو ایمان کے لحاظ سے ضعیف تھے اور آپ کی حکومت سے قبل کہیں نہ کہیں کے حاکم تھے امیرالمومنین علیہ السلام کے زمانے میں بھی وہ اپنے منصب پر باقی رہے جیسے زیادبن ربیہ ظاھراً یہ شخص امیرالمومنین علیہ السلام کی حاکمیت سے قبل اسی فارس اور کرمان میں حاکم تھا اور حضرت کے زمانے میں بھی حاکم رہا تھا اور جب امام حسن علیہ السلام حاکم وقت ہوئے اسوقت بھی یہ اپنی جگہ برقرار رہا اور بعد میں جا کر معاویہ سے مل گیا لہذا آپ کے لیے اصل مسئلہ ظلم و جور تھا اور مسلمانوں کی روشِ زندگی میں تبدیلی ایجاد کرنا تھا اور اسلامی خدوخال کو معین کر کے نئی اور بھلی شکل دینے کا مسئلہ تھا اسلئے امیرالمومنین علیہ السلام ظلم و ستم کے مقابل ڈٹ گئے اور آپ اس راستے میں کسی بھی مقام ومنصب والے سے متاثر نہیں ہوئے آپ کے سامنے اس سے بھی بڑی ایک مشکل، اصحاب جمل تھے کہ جس میں ایک فرد مسلمانوں کے نزدیک محترم المقام ام المومنین عائشہ بھی شامل ہیں اور قدیم مسلمانوں میں سے پیغمبر کے دو بزرگ صحابہ طلحہ و زبیر جو پہلے امیرالمومنین علیہ السلام کے دوستوں میںشمار ہوتے تھے۔اور ان میں سے بعض رشتہ دار بھی تھے جیسے زبیر جو امیرالمومنین علیہ السلام اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکا پھوپھی زاد بھائی بھی ہے آپ کے مدمقابل جنگ کیلئے کھڑے تھے اور دوسری جانب امیرالمومنین علیہ السلام تھے مگر یہاں پر بھی آپ نے اپنے شرعی فر یضے پر عمل کیا اور اسی راہ میں اقدام فرمایا۔ جب میں اپنے زمانے میں اسی میزان کو سامنے رکھ کر امام خمینی ۲ کی زندگی کا مطالعہ کرتا ہوں تو پھر مجھے آپکی زندگی بھی انھیں بزرگوں کی زندگی کا عکس نظر آتی ہے، طریقہ وہی روش وہی کسی کو نظر میں رکھے بغیر عمل کرنا امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی کے مطابق آپ کی بھی زندگی تھی۔ علی علیہ السلام کوئی سنگدل انسان نہیں تھے ان سے زیادہ رحم دل، ان سے زیادہ دقیق القلب، گریہ و زاری کرنے والا مگر انکے لئے جو معاشرے میں پسماندہ تھے جن کا حق مارا گیا تھا)اور کون ہو سکتا ہے۔ مگر جہاں پرحق کوچیلنج کیا جارہا ہو، امیرالمومنین علیہ السلام وہاں اٹل ہو جاتے ہیں جس کی تاریخ میں نظیر تلاش کرنا ناممکن ہے۔

مسئلہ ولایت میں گمراہ گروہ:

حقیقتاً امیرالمومنین علیہ السلام ایک بڑی مشکل سے دوچار تھے اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جنگ میں دشمن کے مقابلے میں صف آرائیاں احزاب گروہ وغیرہ بالکل واضح تھے ایک طرف کفر تو دوسری طرف ایمان، ایک طرف مشرک تو دوسری طرف توحید والے تھے ،شرک بالکل واضح تھا اگر کچھ منافقین تھے بھی تو وہ جانے پہچانے تھے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلماپنے عصر کے منافقین کو پہچانتے تھے ، جو منافقین مدینہ میں تھے، جو مدینہ سے بھاگ کر مکہ چلے گئے ’’فمالکم فی المنافقین فئیتن واللہ ارکسھم بما کسبوا۔ نسائ۸۸‘‘ مختلف رنگ و روپ کے منافقین حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکے زمانے میں بھی تھے لیکن ایک چھوٹی سی بھی غلطی کرتے تو اسکے بارے میں آیت اتر کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتی تھی اور حقائق کھل کر سامنے آجاتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمبیان کرتے اور لوگ غلطی کو سمجھ جاتے تھے مگر امیرالمومنین علیہ السلام کے زمانے میں ایک بڑی مشکل ایسے لوگوں کا مد مقابل آجانا ہے جو علی الظاہر مسلمان ہیں، اسلامی بھیس میں ہیں مگر دین کے بنیادی ترین مسئلے میں گمراہی کا شکار ہیں یعنی خود یہی لوگ جو امیرالمومنین علیہ السلام کے مد مقابل جنگ و جدال کے لئے آتے ہیں

ولایت دین کا بنیادی ترین مسئلہ:

دین کا بنیادی ترین مسئلہ،ولایت ہے کیونکہ ولایت توحید کی نشانی اور اسی کا پرتو ہے ، ولایت یعنی حکومت؛ اسلامی معاشرے میں حکومت ؛اصل میں خدا کا حق ہے جسے وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کرتا ہے اور پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ولّی مومنین تک پہنچاتا ہے اور وہ لوگ اس نکتے میں شک و تردید کا شکار تھے ان کے افکار میں انحراف و کجی پائی جاتی تھی، اگرچہ وہ لوگ لمبے لمبے سجدے بھی کرتے تھے! مگر حقیقت کونہیں سمجھتے تھے وہی لوگ جو ولایت امیرالمومنین علیہ السلام کو نہیں سمجھ رہے تھے جنگ صفین میں امیرالمومنین علیہ السلام سے روگرداں ہو کر خراسان اور دیگر علاقوں میں بحیثیت نگہبان و پاسبان وطن ہو گئے اور جنگ سے کنارہ کشی اختیار کر لی یہ لوگ پوری پوری رات سجدے کیا کرتے یا کئی گھنٹے سجدہ ریز رہتے تھے مگر اسکا فائدہ کیا تھا جب وہ امیرالمومنین علیہ السلام(حاکم وقت) کو نہ پہچان سکے، صحیح راہ یعنی توحید و ولایت کا راستہ‘‘ نہ سمجھے اور سب کچھ چھوڑ کر سجد وںمیں لگ جائے! ایسے سجدہ کی کیا قیمت ہوگی۔

ولایت کے باب میں جو روایات وارد ہوئیں ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے، ایسے لوگ جو ساری عمر عبادتیں کرتے ہیں مگر ولی خدا کو نہیں پہچانتے اور اپنی زندگی اس کی انگلی کے اشارے پر نہیں چلاتے اس کے فرمان کے مطابق نہیں عمل کرتے تو تمام عبادتیںبے فائدہ اور بے ارزش ہے! ’’ولم یعرف ولایة ولّی الله فیوالیه ویکون جمیع اعماله برلالله ‘‘(۱) آخر یہ کیسی عبادت ہے؟ امیرالمومنین علیہ السلام کا کچھ اس طرح کے لوگوں سے سروکار تھا۔

جس ہاتھ کو کاٹ دینا چاہیے:

امیرا لمومنین علیہ السلام نے یہ عجیب و غریب جملہ ارشاد فرمایاہے ’’ایهاالنّاس ان احقّ الناس بهذا الآمراقواهم علیه واعلمهم بامرالله فیه فان شغب شاغب استعب ‘‘(۲) جس راستے کو میں نے اختیار کیا ہے اگر کوئی شخص اس سے منحرف ہو جائے اورفتنہ و فساد برپا کرے تو میں پہلے اسے نصیحت کروں گا تا کہ اپنے اس عمل سے رک جائے،لیکن اگر اس نے اس سے انکار کیا تو پھر اس کا فیصلہ میری تلوار کریگی ’’فان ابی قوتل ‘‘(۳)

اسی خطبہ میں فرماتے ہیں ،’’الا وانی اقاتل رجلین ‘‘(۴) آگاہ ہو جاو میں دو قسم کے لوگوں سے جنگ کروںگا ایک تو وہ شخص جو کسی چیز جیسے (مال) حق،مقام وغیرہ،کا حق دار نہیں ہے مگر اسے ہتھیانا چاہتا ہے دوسرے وہ آدمی کہ جو اپنی ذمہ داری کو نبھانے میں ٹال مٹول کرتا ہے مثلاً جہاد کرنا اس کا فرض ہے مگر وہ نہیں کرتا یا کسی کو کسی کا حق یا مال ادا کرنا چاہیے اور وہ ادا نہیں کرتا یا مسلمانوں کے ایسے اجتماعی امور جن میں شریک ہونا چاہیے اور وہ شریک نہیں ہوتا ’’اجلاّ ادعی مالیس له و اخر منع الذی علیه ‘‘(۵) آپ پوری قوت سے فرما رہے تھے ’’وقد فتح یاب الحرب بینکم و بین اهل القبلة ولا یحمل هذا العلم الا اهل البصر و البصّر ‘‘(۶) یاد رکھو تمہارے اور اھل قبلہ کے درمیان جنگ کا دروازہ کھل گیا ہے۔

پیغمبر(ص) کے زمانے میں کب یہ موقع پیش آیا تھا؟

عمار یاسر جنگ صفین میں ایک دفعہ متوجہ ہوئے کہ جیسے لشکر میں کچھ سرگوشیاں ہو رہی ہے جلدی سے خود کو وہاں پہنچا یا معلوم ہواکہ کسی نے آکر سپاہیوں کے درمیان یہ وسوسہ کر دیا ہے کہ تم لوگ کن لوگوں کے مقابلہ کے لئے آئے ہو جو نماز پڑھتے ہیں ان کے مقابلے کے لیے، جو خود مسلمانوںہیں ان سے لڑنے آئے ہو! آپ کو یاد ہوگاایران عراق جنگ میں بھی ایسے نمونے دیکھنے کو ملے ہیں جس وقت ہمارے سپاہی دشمن پر حملہ کر کے انہیں اسیر کرکے لاتے تھے تو ان کی جیبوں میں تسبیح و سجدہ گاہ ہوتی تھی، اس لئے کہ یہ لوگ شیعہ تھے کہ جن کو طاغوت صدام نے اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا تھا۔ یاد رکھیں یہ مسلمان اس وقت تک قیمت رکھتا ہے جب تک خدا کے ارادہ سے اسی کے راستہ میں قدم اٹھائے اگر یہی ہاتھ شیطان کے ارادے سے آگے بڑھے تو پھر اسے کاٹ دینا چاہیے ، اور امیرالمومنین علیہ السلام نے اس چیز کو بہت اچھی طرح تشخیص دیا تھا۔

عمار یاسر فتنوں کو برملہ کرنے والے:

بہرحال معرکہ صفین میں کئی بار سپاہیوں کے درمیان یہی وسوسہ پیدا کیا گیا اور میرے خیال میں عمار یاسر تھے جنہوں نے ہر بار اس فتنہ کو برملہ کیا اورعمار کہہ رہے تھے اسطرح خطاب کر کے کہ جھگڑا نہ کرو بلکہ حقیقت کو پہچانو یہ پرچم جو تمہارے سامنے نظر آرہا ہے میں نے دیکھا ہے یہی پرچم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلہ میں آیا تھا اور جو لوگ اس پرچم تلے اس وقت نظر آرہے ہیں اس وقت بھی یہی لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی جنگ کرنے آئے تھے اور پھر ’’امیرالمومنین علیہ السلام کے پرچم کی طرف‘‘ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا میںنے ایک اور علم بھی دیکھا ہے جو اس پرچم کے مدمقابل تھا اور اسی کے نیچے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور وہ شخص یعنی امیرالمومنین علیہ السلام کھڑے ہوئے تھے ، تو آخر کیوں پہچاننے میں غلطی کر رہے ہو؟ کیوں حقیقت کو پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے ؟

اس خطاب سے عماّر کی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے، بصیرت ایک نہایت اہم شئی ہے،میں نے تاریخ کو کھنگالالیکن یہ کردار مجھے فقط عمار ہی کا دکھائی دیا ، عمار جن جن مواقع پر حقائق سے پردہ اٹھانے کے لئے پہنچے ہیں میں نے اسے کہیں لکھاہے جو اس وقت میرے ہاتھ میں نہیں کہ میں آپکے سامنے پیش کر سکوں۔خداوند کریم نے اس مرد کو زمان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمسے امیرالمومنین علیہ السلام کے دور کے لئے ذخیرہ کر کے رکھا تھا کہ وہ اس دوران حقائق کو سب کے سامنے آشکار کریں اور ظلمت کا پردہ چاک کر کے نور کی طرف لوگوں کی رہنمائی کریں۔

خوارج کون تھے؟

میں خوارج کے سلسلہ سے بہت زیادہ حساس ہوں،ماضی میں ان کے بارے میں کافی مطالعہ بھی کیا ہے انھیں خشک مقدس سے تعبیر کیا جاتا ہے۔لیکن تعبیر غلط ہے خوارج اس قسم کے لوگ نہیں ہیں اس لئے کہ جو خشک و مقدس مآب ہو گا وہ گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرے گا اسے کسی سے کیا لینا دینا، کہاں یہ اور کہاں خوارج؟ خوارج تو فسادی تھے، قتل و غارت کرتے تھے، شکم پارہ پارہ کرتے تھے اور چوری چکاری بھی ان کا ایک معمول کاکام تھا، آخر ان کے بارے میں یہ کیسے مشہور کر دیا ہے کہ خشک مقدس مآب تھے۔اگر وہ گوشہ نشین بھی ہوتے تو پھر امیرالمومنین علیہ السلام کو ان سے کیا مطلب ہوتا وہ تو انھیں ہاتھ بھی نہ لگاتے؟خوارج سے جنگ کے دوران میں عبداللہ بن مسعود کے ساتھیوں نے امیرالمومنین علیہ السلام سے کہا ’’لا لک ولا علیک‘‘ نہ تو اس جنگ میں آپکے ساتھ ہیں نہ آپکے خلاف،اب خدا جانے کہ خود عبداللہ بن مسعود بھی انہیں کہنے والوں میں سے ہیں یا نہیں مجھے کچھ ایسا ہی لگتا ہے کہ وہ خود بھی اس قول میں شریک تھے اور امیرالمومنین علیہ السلام سے کہا اگر آپ کفار و اھل روم وغیرہ سے جنگ کرنے جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ ہیں لیکن اگر آپ مسلمانوں ’’اھل بصرہ و اھل شام‘‘ سے لڑنے کے لیے جائیں گے تو پھر نہ ہم آپ کے ساتھ لڑیںگے نہ آپ کے خلاف جنگ کریں گے۔اب ذرا بتائیں امیرالمومنین علیہ السلام ان لوگوں کے ساتھ کیا سلوک انجام دیں؟

کیا امیرالمومنین علیہ السلام نے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا؟ ھر گزنہیں، حتیٰ آپ ان کے ساتھ بد اخلاقی سے بھی پیش نہیں آئے۔ خود ان لوگوں نے آپ کے سامنے پیشکش کی کہ ہمیں سرحدوں کی پاسبانی کے لیے بھیج دیں،امیرالمومنین علیہ السلام نے قبول کر لیا اور ان کو سرحدوں کی نگہبانی پر لگا دیا، بعض کو خراسان کی طرف بھیج دیا یہی ربیع بن خثیم ،جو مشہد میں خواجہ ربیع سے شہرت رکھتے ہیں ،جیسا کہ نقل کرتے ہیں انھیں افراد میں سے ایک ہیں ۔امیرالمومنین علیہ السلام نے ان مقدس مآب لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ۔ یہ دراصل جھل مرکب کا شکار تھے یعنی ایک غلط دید کی بنائ پر دائرہ دین کو نہایت تنگ سمجھتے تھے اور پھر اس تنگ نظری کے ساتھ عمل بھی کرتے تھے اس راہ میں چوری بھی کرتے تھے قتل و غارت سے بھی انھیں دریغ نہیں تھا اور جنگ و جدال بھی کرتے تھے: البتہ جو ان کے سردار اور رئیس تھے وہ اپنے آپ کو پیچھے رکھتے تھے، اشعث بن قیس اور محمد بن اشعث جیسے لوگ ہمیشہ مورچے کے پیچھے پیچھے دکھائی دیتے تھے اور ان کے آگے آگے کچھ جاھل نادان ، ظاھر بین تھے جن کے ذہن غلط باتوں سے پرُ ہیں اور ان کے ہاتھ میں تلوار بھی تھی انھیں آگے آگے بڑھا دیا گیااور یہ لوگ آگے بڑھ بھی گئے وہ تلوار چلاتے تھے ، قتل کرتے تھے مارے بھی جاتے تھے ابن ملجم کے بارے میں کوئی خیال نہ کرے کہ یہ کوئی عقلمند آدمی تھا بلکہ یہ ایک احمق آدمی تھا جس کا ذہن امیرالمومنین علیہ السلام کے خلاف بھر دیا گیا تھا وہ کافر ہو گیا تھا اسے علی علیہ السلام کے قتل کے لیے کوفہ بھیجا گیا، اتفاقاً اس ماموریت کے ساتھ ایک عشقیہ حادثہ بھی پیش آگیا اور وہ اپنے اس ناپاک ارادے میں اور مصمّم ہو گیا یہاں تک کہ وہ خیانت انجام دی ۔ تو خوارج اس قسم کے لوگ تھے جو بعد میں بھی اسی طرح سے رہے۔

خوارج کے ایک فرد سے حجاج بن یوسف کا مناظرہ:

آپ جانتے ہیں کہ حجاج بن یوسف ایک نہایت سفاک، اور قسی القلب خونخوار حاکم تھا جس کے ظلم اور بربریت کی مثال نہیں ملتی شاید صدام حاکم عراق(جو اب معزول کر دیا گیا ہے) کی طرح تھا اتفاقاً وہ بھی عراق پر حکومت کر رہا تھا ! البتہ صدام کی ظالمانہ روش ترقی یافتہ ہے! اس کے پاس قتل و شکنجے کے جدید اسباب وسائل ہیں اور اس کے پاس نیزہ ، شمشیر تیغ و تیر جیسی چیزیں نہیں ،حجاج بن یوسف کے اندر کچھ خصوصیتیں بھی تھیں مثلاً اس کا شمارفصحائ و بلغائ میں ہوتا تھا کہ الحمداللہ موجودہ حکّام ان کمالات سے بھی عاری ہیں!۔

اُس نے منبر سے جو خطبے پڑھے ہیں جاحظ نے ’’البیان والتبین‘‘ میں اسے نقل کیا ہے، وہ حافظ قرآن تھا مگر ایک خبیث النفس انسان بھی تھا عدل و انصاف اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اھل بیت علیھم السلام کا دشمن بھی تھا ایک عجیب آدمی! انھی خوارج میں سے کسی ایک کو حجاج کے پاس لیکر آئے حجاج اس کے بارے میں پہلے سے جانتا تھا کہ وہ حافظ قرآن ہے لہذا اس سے سوال کیا:’’آجمعت القرآن‘‘ قرآن کو جمع کر رکھا ہے؟ اس کی مراد تھی کہ کیا قرآن کو اپنے ذھن میں یونہی جمع کر رکھا ہے، اگر آپ اس کے تیز و تند جوابات پر توجہ کریں تو آپ لوگوں کو اس کی طبیعت اور مزاج کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اس نے جواب دیا؛ ’’آصفرقاً کان فاجمعہ‘‘مگر قرآن پھیلاتھاکہ میں اسے جمع کرتا؟ جب کہ وہ (خارجی) اس کے مقصد سے واقف تھا مگر اسے جواب نہیں دینا چاہتا تھا۔

حجاج اپنی تمام شدّت و قساوت کے باوجود اسے برداشت کر رہا تھا اور پھر کہا’’ آفتحفظہ‘‘ کیا قرآن حفظ کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا ’’آخثیتُ فرارہ کا حفظہ‘‘ کیا اس بات کا خوف تھا کہ وہ کہیں فرار نہ کر جائے جو اسے محفوظ کر لیتا؟ ایک اورجواب اسنے سنا! اسنے پوچھا’’ما تقول فی امیرالمومنین عبدالمالک‘‘ عبدالمالک بن مروان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے عبدالمالک بن مروان خبیث جو اموی خلیفہ تھا، اس خارجی نے کہا ’’لعنہ اللہ ولعنک معہ‘‘ خدا اس کے ساتھ تم پر بھی لعنت کرے! ذرا دیکھیں یہ وہ لوگ تھے جو بغیر کسی تکلف، بالکل صراحت کے ساتھ،شدت پسندی سے گفتگو کرتے تھے، حجاج غصہ دباکرکہتا ہے تو مارا جاے گا لہذا یہ بتاو کہ تم خدا سے کس حالت میں ملاقات کرو گے؟اس نے جواب دیا’’القيٰ الله بعملی و تلقاه انت بدمن ‘‘ میں خدا سے اپنے اعمال کے ساتھ ملوںگا اور تو میرے خون کے ساتھ خدا سے ملاقات کرے گا ! آپ ذرا ملاحظہ تو کریں ، اس جیسے افراد کا مقابلہ کوئی آسان کام نہیں ہے اگر ایک عام آدمی انھیں دیکھے گا تو ان کا گرویدہ ہو جائیگا، ایک بے بصیرت اگر ان کے اعمال و افعال کو دیکھے تو پھر انھی کا ہو جائے گا، جیسا کہ خود حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے زمانے میں بھی ایسے اتفاقات ہوئے۔

جنگ نہروان:

ایک روایت کے مطابق، جنگ نہروان کے زمانے میں ایک دن امیرالمومنین علیہ السلام اپنے ایک صحابی کے ساتھ چہل قدمی کر رہے تھے، وہیں کہیں نہروان کے قریب، نیمہ شب میں تلاوت قرآن کی آواز سنائی دی، کوئی ایک درد ناک، آواز میں خوبصورت انداز سے قرآن پڑھ رہا تھا، جوصحابی امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ تھا کہنے لگا کاش میں اس کے بدن کا ایک بال ہوتا، کیونکہ سوائے بہشت کے اس شخص کا کوئی ٹھکانا ہو ہی نہیں سکتا، حضرت نے تقریباً اس جیسا جملہ ارشاد فرمایا تھوڑا صبر کرو اس قدر جلدی فیصلہ نہ کرو،اور یہ واقعہ گزر گیا یہاں تک کہ نہروان کی جنگ چھڑ گئی۔اس جنگ میں یہی، شدت پسند، بد زبان ،متعصب غصہ ور خارجی، ہاتھ میں تلوار لیے مسلح ہو کر امیرالمومنین علیہ السلام کے مقابلے میں آگیا،حضرت علیہ السلام نے فرمایا جو میدان سے چلا جائے یا اس علم کے نیچے پناہ لے لے گا میں اس سے جنگ نہیں کروںگا اور آپ کے اس اعلان پر کچھ آئے بھی لیکن تقریباً چار ہزار ۴۰۰۰ لوگ رہ گئے پھر آپ علیہ السلام نے اس جنگ میں ان تمام لوگوں کو تہہ تیغ کر دیا اور لشکرکے دس ۱۰ لوگ ہی زندہ بچے بقیہ سب کے سب قتل ہو گئے، اس جنگ میں امیرالمومنین علیہ السلام فاتح قرار پائے جب کہ اس میں بہت سے مقتولین اہل کوفہ تھے یا کوفہ کے قرب وجوار کے رہنے والے تھے۔ وہی لوگ جو صفین و جمل میں حضرت کے ساتھ ہم رزم رہ چکے تھے اور اس کے بعد ان کے ذہن بھٹک گئے تھے زمین پر ان کے لاشے یونہی بکھرے ہوئے تھے اور حضرت ایک خاص کیفیت کے ساتھ ان کے درمیان میں قدم زنی فرما رہے تھے ، اس کے باوجودکہ وہ سب مر چکے تھے مگر حضرت ان سے،حکمت کی ایک تہہ اپنے اندر سموئے ہوئے گفتگو فرمارہے تھے اس کے بعد ایک مقتول کے قریب پہنچے اور فرمایا اسے ذرا پلٹو: آپ نے اسپر ایک نگاہ ڈالی اور اس صحابی سے کہ جو ایک شب ان کے ساتھ چہل قدمی کر رہا تھا خطاب کر کے فرمایا! کیا تم اس مقتول کو پہچانتے ہو؟ اسنے کہا نہیں یا امیرالمومنین علیہ السلام !فرمایا! یہ وہی شخص ہے اس رات کو اسطرح دردناک انداز میں تلاوت قرآن کر رہا تھا اور تم تمنّا کر رہے تھے کہ کاش تم اس کے جسم کا ایک بال ہوتے ! وہ اس طرح سوزو گداز سے تلاوت قرآن کر رہاتھا مگر قرآن مجسم( علی علیہ السلام ) سے لڑنے کیلئے آیا تھا علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے ایسے لوگوں سے جنگ کی اور انہیں قلع قمع کیا،البتہ خوارج مکمل طور پر قلع قمع نہیں ہوئے ۔اور ہمیشہ ایک محکوم اقلیت کی حیثیت سے باقی رہے۔وہ معاشرہ پر تو مسلط نہیں ہو سکے مگر ان کا مقصد اس سے کہیں زیادہ وسیع اور آگے کا تھا جو پورا نہیں ہو سکا۔

استقامت کے لیے بصیرت لازمی ہے:

میںہمیشہ سے تکرار کرتا رہا ہوں کہ اگر کوئی قوم حالات کا تجزئیہ و تحلیل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تو وہ شکست کھا جائیگی، اصحاب امام حسن علیہ السلام تجزئیے کی صلاحیت سے محروم تھے وہ یہ نہیں سمجھ سکے تھے کہ ماجرا کیا ہے اور ان کے ساتھ کیا چال چلی جا رہی ہے، (اسی طرح) اصحاب امیرالمومنین علیہ السلام بھی حالات کو نہیں سمجھتے تھے کہ جنہوں نے آپ کو خون دل پینے پر مجبور کیا ،وہ سب کے سب آپ کے دشمن نہیں تھے، لیکن اس میں سے بہت سے ایسے تھے جیسے خوارج، جو پوری طرح واقعات کو سمجھنے سے قاصر تھے ان کے اندر تجزیہ و تحلیل کی قوت مفقودتھی ایک بد جنس ایک ناکارہ شخص ادھر ادھر نکل آتا تھا اور لوگوں کو ایک طرف کھیچ لیتا تھا، سنگ میل کو کھو بیٹھتے تھے اور راستے سے بھٹک جاتے تھے، راستہ چلتے وقت ہمیشہ سنگ میل پر نظر رکھنی چاہیے اگر سنگ میل نظروں سے اوجھل ہو گیا تو یاد رکھیئے بہت جلد راستے سے بھی بھٹک جائیں گے۔

امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے تھے ’’ولا یحمل هذا العلم الا اهل البصر و الصبره ‘‘(۷) سب سے پہلے بصیرت، ہوشمندی، ہوشیاری ، تجزئیہ وتحلیل اور فھم و درک کی صلاحیت حاصل کرنا پھر اس کے بعد صبرو استقامت سے کام لینا چاہیے جو واقعات پیش آرہے ہیں اس سے بہت جلد دل برداشتہ نہ ہو، حق کا راستہ بہت دشوار گذار راستہ ہے۔

دنیا کے سارے ظالمین اور طاقتور آئے اور کچھ نہ کچھ باطل کے لشکر میں انہوں نے اور اضافہ ہی کیا طول تاریخ اور ہمارے زمانے میں بھی سارے شیطان صفت انسان آئے اور اس باطل کے بند کو (جو امیرالمومنین علیہ السلام اور بندگان خدا کے راستہ میں حائل تھا)کواور قوت بخشی جب کہ حق انسانوں کے راستے میں حائل اس بند اور اس ٹیلے کو ہٹا دینا چاہتا ہے جو خود اپنی جگہ کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ ایک مشکل امر ہے جو صبر و تحمل کے ساتھ ساتھ سعہ صدر اور اپنی روحانی قوت کی طرف رجوع کرنے کے علاوہ اپنے اندرونی چشمے کے ابلنے کا مطالبہ کرتا ہے، تاکہ انسان حق کی ڈگر پر چل سکے،البتہ راہ حق پر چلنے کی کوشش زندگی کو لذیذ بنا دیتی ہے، ایک ایسی زندگی جس میں ظلم و زیادتی، زور و زبردستی نہ ہو، کوئی چیز الگ سے اس پر تھوپی نہ جائے ایک ایسی زندگی جس میں انسان کے اعمال پر شیطان کا بسیرا نہ ہو، بلکہ اس کی زندگی روحانیت اورمعنویت سے لبریز ہو۔

____________________

۱۔الاصول من الکافی ،ج ۲،ص ۱۹۔

۲،۳،۴،۵،۶، نہج البلاغہ خطبہ ۳

۷۔ نہج البلاغہ،خطبہ ۱۷۳


حکومتِ امیرالمومنین علیہ السلام کی دوسری خصوصیت:

آپ کی زندگی کا ایک دوسرا پہلو زہد و پارسائی ہے جس کے لئے خود ایک مفصل گفتگو کی ضرورت ہے، واقعاً امیرالمومنین علیہ السلام کا زہد عجیب و غریب ہے البتہ میں نہیں بلکہ خود امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہم جیسے معمولی لوگوں سے اس قسم کے زہد و پارسائی کی توقع نہیں کی جاسکتی ، خود آنجناب تک نے یہ بات فرمائی ہے۔

اپنے(عہدہ صدارت) سے چند سال قبل میں نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ہم لوگوں سے اس زہد کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے کیونکہ ہم اس پر قدرت بھی نہیں رکھتے اس کے بعد ایک شخص نے مجھے خط لکھا کہ چونکہ آپ یہ صفت نہیں اپنانا چاہتے ہیں اس لئے کہتے ہیں کہ ہم لوگوں سے اس ( زہد علوی )کا تقاضا نہیں کیا گیا ہے! نہیں حقیقت میں موضوع یہ نہیں کہ میں چاہوں یا میں کہوں بلکہ ہم جیسے لوگ اس سے کہیں حقیر و کوچک ہیں کہ ان بلند مرتبہ صفات و محاسن علوی کو اپناسکیں ۔انسان تو بہت ضعیف و ناتواں ہے خود امیرالمومنین علیہ السلام نے بھی کبھی اپنے اھل وعیال پر اسے نہیں تھوپا، تنہا علی علیہ السلام تھے جو اس صفت کے حامل تھے حتی خود امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام اپنے والد بزرگوار کی اس صفت میں ان کے مانند نہیں تھے اور نہ ہی آپ کی ازواج میں کسی کو یہ رتبہ حاصل ہو سکا،تاریخ میں کہیں نہیں ملتا کہ آپ اپنے گھر میں اس طرح سے زندگی گذارتے تھے یہ تو بس امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی کا خاصہ تھا۔اس طرح کہ حضرت کی غذا ایک تھیلی میں مھر زدہ ہوتی تھی اور اسے آپ دسترخوان پر لا کر رکھتے اس میں سے کچھ تناول فرماتے پھر اسی طرح سیل کر کے کسی محفوظ جگہ پر رکھ دیتے تھے گھر کے اندر آپ کی ایک عام زندگی تھی، آپ کی شخصیت حقیقتاً عام انسانوں کی سطح سے بلند و بالا ہے، کس کے اندر اتنی قوت ہے جو آپ کی طرح زندگی گزار سکے؟ آپ کی زندگی میں عجیب و غریب درس پوشیدہ ہے اور یہ اس لئے ہے تا کہ ہم لوگ زندگی گزارنے کے لیے صحیح سمت کو اپنے لیے معین کر سکیں ۔

میں نے خود مرحوم علامہ طباطبائی ۲ سے سنا ہے ۔مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے اسے کہیں لکھا بھی ہے یا نہیں ۔ آپ فرماتے ہیں امام جب کسی کو اپنی طرف بلا رہے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ جیسے کوئی پہاڑ کی چوٹی پرکھڑا ہو کر پہاڑی کے دامن میں موجود لوگوں کو اپنی طرف بلارہا ہو اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ لوگ پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ سکتے ہیں بلکہ بلانے والے کا مقصد یہ ہے کہ راستہ ادھر سے ہے، کوئی نشیب اور درے میں نہ گر جائے ۔یعنی اگر کوئی چلنا چاہتا ہے تو وہ ٹھیک راستے پر چلے، راستہ یہ ہے۔

زھد کی طرف قدم بڑھائیے:

برادران ایمانی ! امیرالمومنین علیہ السلام کا فرمان ہے کہ کاروان سفر کو زہد کی طرف چلنا چاہیے۔اگر آج اسلامی جمہوریہ ایران میں کہیں ہم یہ احساس کریں کہ زندگی کا رخ اشرافیت کی طرف ہے تو زندگی میں یہ ایک انحراف ہے ، پھر اس سے راہ فرار نہیں ہے لہذا ہمیں زہد اپنانا چاہیے میرا مطلب یہ نہیں کی عالی ترین مرتبہ زہد کو ہم حاصل کر لیں جو اولیائ الہیکا خاصہ رہا ہے، نہیں میں یہ نہیں کہنا چاہتا، درجہ اول کے حکومتی عھدہ داران ،درجہ دو ۲ کے صاحبان منصب اور اس کے بعد والے سارے ذمہ داران و عہدہ داران مملکت اپنی حدوتوانائی کے لحاظ سے زہد و پارسائی اختیار کریں یہاں تک کہ عوام الناس بھی اشرافیت کی طرف نہ جائیں وہ بھی پارسائی اختیار کریں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف ذمہ داران مملکت کو ہی زاہد و پارسا ہونا چاہیے ۔

میں نہیں کہتا کہ حرام ہے مگر یہ حق مھر کی لمبی لمبی رقوم جو لڑکیوں کے عقد نکاح میں قرار دی جا رہی ہیں، سراسر غلط اور ایک اسلامی معاشرے کے لیے بری ہیں کیونکہ انسانی اقدار کو سونے چاندی اور سکوں کے زیر سایہ لے آتی ہیں اس طرح انسانی قدریں پامال ہو کر رہ جاتی ہیں۔جس کی ایک اسلامی معاشرے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حلال کیا ہے آپ اسے حرام قرار دے رہے ہیں تو آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم بھی اسے حرام قرار نہیں دیتے ذرا ملاحظہ تو کیجیے ! کہ خودپیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس حلال کو انجام نہیں دیا ہے، دوسری جانب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے محدود بھی نہیں کر نا چاہا اور اسے محدود بھی نہیں قرار دیا اگر آپ کا جی چاہتا ہے تو جائیے ساری کمائی جہیز اور مہر پر خرچ کر دیجئے مگر بحث تو اس جگہ ہے کہ اخر یہ عمل عاقلانہ بھی ہے یا نہیں آپ کا یہ عمل اسلامی قوانین کے مطابق بھی ہے یا نہیں؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ زھرا علیہ السلام کو؛امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنی دو ۲ بیٹیوں کو اسی طرح خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادیوں کو ۲۵ اوقیہ یعنی چاندی کی ایک مقدار جو اس زمانے میں رائج تھی، پر ان کے شوہروں کے گھر رخصت کیا ہے، کہ دو ، تین سال قبل میں نے آج کے لحاظ سے اس کا حساب کیا تھا تو یہ مقدار تقریباً ۱۲ ہزار تومان(ایک ہزار روپے) کے معادل تھی ۔

اس طرح ذاتی زندگی میں اشرافیت کا رواج ظواہرپرستی اور نمائش ایک غلط چیز ہے کبھی کبھی ممکن ہے لازم ہو کہ ایک عمومی جگہ کو اچھی طرح سجایا جائے ایک میدان کو بہترین انداز سے خوبصورت رنگ و روپ دیا جائے تو ضرورت کے تحت یہ بات بری نہیں ہے مگر موضوع بحث ہماری اور آپ کی زندگی ہے اس میں یہ چیز غلط ہے۔

حکمرانوں کو زہد کا سبق:

یہ امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی ہے کہ جس کی آپ لوگوں کو تعلیم بھی دیتے تھے ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ آپ کسی کوحاکم بنا کر کہیں بھیجنا چاہتے تھے تو اس سے خطاب کر کے فرمایا: کل نماز ظہر کے بعد تم میرے پاس آو تم سے کچھ کہنا ہے، یہ آج بھی رائج ہے کہ اگرکسی کو حاکم بنا کر کہیں بھیجنا ہوتا ہے تو اسے بلا کر جو کچھ ضروری نصیحت وغیرہ کرنا ہوتی ہے اس سے وہ نصیحت کرتے ہیں۔ اس شخص کا بیان ہے کہ میں دوسرے دن اسی چبوترے پر جسے امیرالمومنین علیہ السلام نے کوفے میں قضاوت وغیرہ کے لئے انتخاب کیا تھا پہنچا،تو میں نے دیکھا کہ حضرت کے سامنے ایک خالی پیالہ اور ایک کوزہ آب رکھا ہوا ہے تھوڑا وقت جب گذرا آپ نے اپنے خادم کو بلایا اور اس سے کہا کہ جا کر آپ کا تھیلا اٹھا لائے،میں نے دیکھا تھوڑی دیر بعد وہ ایک سیل بندتھیلی ہاتھ میں حضرت کے پاس لے کر آیا، سوچا چونکہ حضرت نے مجھے امانت دار سمجھا ہے اس لیے وہ مجھے کوئی گرانقدر قیمت گوہر دکھاناچاہتے ہیںیا یہ کہ کوئی امانت میرے حوالے کریں گے یا اس کے بارے میں کوئی حکم فرمائیں گے۔وہ کہتا ہے حضرت نے اس کی سیل توڑی اور اس تھیلی کو اپنے سامنے رکھا میں نے دیکھاا س میں کچھ مقدار میں ’’ ستو‘‘ ہیں، آپ نے اپنے ہاتھ سے اس ستو کو پانی میں ڈالا اور اسے تیار کیا اور دوپہر کا کھانا اسی سے تناول فرمایا مجھ سے بھی کھانے کے لیے کہا وہ کہتا ہے مجھے حیرت ہوئی عرض کی یا امیرالمومنین علیہ السلام ! آپ آخر اتنی بڑی حکومت رکھتے ہوئے ایسا کیوں کرتے ہیں؟ گندم و جو اور دنیا کی نعمتیں آپ کی سلطنت عراق میں کم نہیں ہیں پھر آپ ایسا کرتے ہیں؟ کیوں آپ نے اس تھیلی کو اس طرح سیل بند کیا تھا؟ ! حضرت علیہ السلام نے فرمایا’’والله ما اختم علیه بخلاب ہ‘‘(۱) قسم بخدا میں نے اس تھیلی کو بخل کی وجہ سے سیل بند نہیں کیا ہے تا کہ کوئی اس سے نہ کھاسک’’ولکنّی اتباع قدئ مایکفینی ‘‘(۲) فقط میں اپنی ضرورت پر اس سے استفادہ کرتا ہوں،’’لافاخاف ان نیقص فیوضع فیه من غیره ‘‘(۳) مجھے اس بات کا خوف تھا کہ کہیں کوئی اس میں میرے خریدے ہوئے ستو کے علاوہ کچھ ملا نہ دے ’’و انااکره ان ادخل بطنی الّا طیبا ‘‘(۴) اور مجھے یہ بات پسند نہیں کہ طیب و طاھر غذا کے علاوہ کوئی اور شی میرے شکم میں داخل ہو۔ میں پاک و پاکیزہ غذا کھانا چاہتا ہوں ، جسے خود اپنے زورِ بازو سے اوراپنی کمائی سے حاصل کیا ہے کہ جس میں کسی اور کا پیسہ نہ لگا ہو۔

حضرت علیہ السلام اپنے اس عمل سے اس ہونے والے حاکم کو سبق سکھاناچاہتے ہیں ۔ ذرا غور تو کیجئے آپ اس سے یہی بات مسجد میں بھی کہہ سکتے تھے مگرنہیں، آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اسے خود وہاں تک کھینچ لائے تاکہ یہ منظر بچشم خود دیکھ لے تاکہ اسے سمجھائیں کہ دیکھو تم کہیں کے حاکم بن کر جا رہے ہو کچھ لوگ تمہارے زیر قدرت ہوں گے ان کے اموال ان کی جان ناموس کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے کہیں تم اپنے آپ کو مطلق العنان حاکم نہ سمجھ بیٹھنا، توجہ رکھو، اس کے بعد فرمایا:’’فایان و تناول ما لم تعلم حلّة ‘‘(۵) مبادا جس چیز کے حلال ہونے کا تم کو علم نہیں ہے اسے کھانے لگو یا اُسے لے لواس لئے کہ تناول تنہا کھانے پینے ہی کو نہیں کہتے ، اس لیے جب تک تمہیں کسی چیز کے حلال ہونے کا پورا یقین نہ ہو جائے اسے قطعاً اپنے اختیار میں نہ لو اور اسے ہرگز استعمال نہ کرو۔یہ ہے امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی کی کیفیت اور یہ ہے ان کا زہد اور ان کے زہد سے درس عمل ، ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے (کسی جنگ یا کسی سفر میں ) دیکھا حضرت استراحت کر رہے ہیں اور ایک نازک سی چادر ان کے جسم کے اوپر ہے جبکہ ٹھنڈک کی وجہ سے ان کا جسم کانپ رہا ہے، میں نے کہا یا امیرالمومنین علیہ السلام آپ کیوں کانپ رہے ہیں؟ ہوا سرد ہے جسم پر کچھ اور ڈال لیجئے ۔ فرمایا میں تمہارے اموال سے کچھ لینا پسند نہیں کرتا یہی چادر جو مدینہ سے لے کر آیا ہوں میرے لیے کافی ہے!! یہ ہیں امیرالمومنین علیہ السلام کی حیات کے کچھ جھروکے ، وہ گویا پہاڑ کی چوٹی پر ہیں اور ہم جیسے لوگ بالکل نشیب میں کھڑے ہیں لہذا اسی سمت میں چلیں جہاں وہ ہمیں بلا رہے ہیں،یہ ہے امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی سے سبق کا مطلب المختصر جس قدر بھی ہم آپ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں،ہمارے لیے وہ سب کچھ سبق آموز ہے۔(۶)

غدیر یعنی اثبات فضائل و کمالات وحکومت و ولایت حضرت علی علیہ السلام :

احادیث متواترہ کے مطابق غدیر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے جو عظیم مظاہرہ ہوا اُس کے مختلف پہلو تھے، ہر چند امیرالمومنین علیہ السلام کی فضیلت و بزرگی اس کا ایک پہلو ہے لوگ بھی آپ کے ان فضائل و کمالات کو جانتے تھے اور نزدیک سے آپ کے وجود میں اس کا مشاہدہ کرتے رہے تھے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور در حقیقت مشیت الہیبھی انھیں کمالات کو معتبر سمجھ رہی تھی لہذا انھیں اقدار کی بنیاد پر نبی گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ولایت و حکومت کی داغ بیل ڈالی گئی اور لوگوں کو یہ پتہ چل گیا کہ نبی کے بعد کی قیادت اور اسلامی حکومت بھی وہی اپنے ہاتھوں میں لے سکتا ہے کہ جس کے اندر یہ سارے اقدار موجود ہوں اس لیے اس دن پیغمبر کو علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی لوگ پہلے سے آپ کے فضائل و کمالات سے باخبر تھے ’’ابن ابی الحدید‘‘ کہتے ہیں:لوگوں کے لیے علی علیہ السلام کے فضائل اس قدر واضح تھے کہ مہاجرین و انصار میں سے کسی کو اس بات میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں تھا کہ علی علیہ السلام ہی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیجانشین ہوں گے یعنی لوگوں کے لیے خلافت و نیابت علی علیہ السلام ایک مسلّمہ حقیقت تھی، اور دوسری جگہوں پر خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی امیرالمومنین علیہ السلام کے بارے میں بہت کچھ ارشاد فرمایا تھا اس سلسلے میں جوروایات ہم شیعوں کے اور اھل سنت کے توسط سے وارد ہوئیں ہیں وہ سب متواتر ہیں۔آپ کے فضائل شیعہ و سنّی دونوں نے تواتر سے نقل کئے ہیں اور یہ بات تنہا شیعوں سے مخصوص نہیںہے، یہاںتک کہ قدیم مورخین میں سے ایک مشہور مورخ ابن اسحاق (مشہور و معروف کتابِ سیرۃ کے مصنّف)نقل کرتے ہیں کہ ؛ایک دن پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمومنین علیہ السلام سے خطاب کر کے فرمایا: اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے بارے میں وہی کچھ کہیں جو عیسی ابن مریم علیہ السلام کے ماننے والے ان کے بارے میں کہہ رہے تھے تو تمہارے بارے ایسی باتیں میں بیان کرتا کہ تم جہاں جہاں سے گذرتے لوگ تمہارے قدم کی خاک کو تبرک سمجھ کر اٹھاتے میں نے تو نہیں دیکھا ہے البتہ ممکن ہے یہ روایت شیعوں سے بھی نقل ہوئی ہو اور کس قدر توجہ کے قابل ہے کہ خود ’’ابن ابی الحدید‘‘ ’’ابن اسحاق‘‘ سے یہ بات نقل کرتے ہیں یعنی آج وہ لوگ جو پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوںامیرالمومنین علیہ السلام کے بحیثیت خلیفہ منصوب ہونے کے بھی قائل نہیں ہیں وہ لوگ آپ کے یہ فضائل نقل کر رہے ہیں۔

یہ خود غدیر کی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے یعنی ان فضائل و کمالات کا اثبات اور یہ کہ یہی فضائل و کمالات ایک اسلامی معاشرے میں حکومت کے لیے اقدار کی حیثیت رکھتے ہیں۔خود غدیر کا یہ پہلو بہت اہمیت کا حامل ہے اس لیے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ازنظر وحی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیحکومت ایک ایسی حقیقت ہے جو اقدار کی تابعدار ہے کسی دوسری چیز کی تابع نہیں ہے جو اپنی جگہ پر خود ایک اسلامی قانون اور (اصل) کی حیثیت رکھتا ہے۔

غدیر کا دوسرا پہلو:

حدیث غدیر اور واقعہ غدیر کا ایک دوسرا پہلو خود ولایت کا مسئلہ ہے یعنی (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے)’’من کنت مولاه فهذا علی مولاه ‘‘(۷) کے اعلان کے ذریعے حکومت کی ایک دوسری تعبیر ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حق حاکمیت کو ایک فرد معین سے مخصوص کرتے ہیں تو اس کے لیے مولا کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور اس ولایت کو اپنی ولایت کے مساوی قرار دیتے ہیں اور خود یہی مفہوم جو ولایت کے اندر پایا جاتا ہے اپنی جگہ نہایت اہمیت رکھتا ہے یعنی اسلام، ولایت کے اس مفہوم سے ہٹ کر( جو کہ ایک جمہوری مفہوم کے ساتھ تمام انسانوں کے حقوق کی رعایت کا ذمہ دار ہے)لوگوں کے لیے کسی اور حکومت کا قائل نہیںہے۔جو لوگوں کا حاکم اور ولی ہے ، وہ بحیثیت سلطان ایک مطلق العنان صاحب قدرت و حکومت کے عنوان سے نہیں پیش ہو ا ہے کہ وہ حاکم ہونے کی حیثیت سے جو چاہے کرے بلکہ اس کو اس حیثیت سے پیش کیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کا سرپرست اور ولی امر مسلمین ہے اور اس کو یہ حق اس لحاظ سے دیا گیا ہے ، لہذا اسلام میں حکومت ایک ایسی چیز ہے جس کا بادشاہت اور سلطنت سے ہر گز کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے‘‘

جمہوری ترین حکومت:

اگر ولایت کا یہ مفہوم اور سرپرست اور والی اسلام کے لیے اسلام نے جو فرائض منصب کی شرائط رکھی ہیں اسے شگافتہ کریں۔تو اس باب میں معصومین کے ارشادات وفرمود ات میں بہت سے سبق ہیں اور امیرالمومنین علیہ السلام کے اس خط میں جسے آپ نے مالک اشتر کے نام لکھا تھا بہت سی نصیحتیں اور اہم مضامین پائے جاتے ہیں ۔ اور ان سب کے مطالعے کے بعد ہمیں یہ اندازہ ہوگا کہ جمہوری ترین حکومت اسی کو کہتے ہیں کہ جسے ہم آئمہ ہدی علیہم السلام اور امیرالمومنین علیہ السلام کے ارشادات و فرمودات اور ان کی سیرت میں دیکھ رہے ہیں انسانی تمدن و ثقافت میں یعنی طول تاریخ میں سارے آزادی طلب انسانوں کی فرھنگ و ثقافت میں کوئی ایسی چیز جو حکومت میں بری سمجھی جاتی ہو۔ ولایت کے اس مفہوم میں کہیں بھی نہیں پائی جاتی ۔

ولایت اسلامی، استبداد، خودسری، لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے اقدام کرنا یا اپنی من مانی کرنا وغیرہ وغیرہ جیسے معنی سے کوسوں دور ہے البتہ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیںہے کہ کوئی شخص ولایت اسلامی کے نام سے ایسا کچھ نہیں کر سکتا ، ہر گز نہیں بلکہ منظور یہ ہے کہ جو اس راستے پر چلے گا اور اسلامی تعلیم و تربیت کو حاصل کرے گا وہ ایسا نہیں کر سکتا وگرنہ نہ جانے کتنے ایسے لوگ ہیں جو اچھے اچھے ناموں کا لیبل لگا کر دنیا کے ہر برے کام کا ارتکاب کرتے رہے ہیں، البتہ اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ممکن ہے کوئی مغرب زدہ، اسلام سے بیگانہ شخص اسلام کی طرف کچھ ایسی نسبتیں دینے سے تکلف نہ کرے کہ جس کا اسلام سے کوئی بھی تعلق نہ ہو اور یہ فقط اس لیے کہ اس نے صحیح طور پر ولایت کا مفہوم نہ جانا ہے اور نہ اسے صحیح طور پر سمجھ سکا ہے۔

____________________

۱،۲،۳،۴،۵۔بحارالانوار ج ۴۰ ،ص ۳۳۵

۶۔حدیث ولایت ۔ج،۷، ص ۵۵

۷۔بحارالانوار۔ج ۳۵،ص ۲۸۲


اقدار، ولایتِ اسلامی کا سرچشمہ:

اسلام میں ولایت کاسرچشمہ ارزش اور قدریں(ثقافت و روایات) ہیں، ایسی قدریں کہ جن کا وجود خود اس منصب کو اور عام لوگوں کو آفات و خطرات سے محفوظ رکھتی ہیں مثال کے طور پر عدالت اپنے معنی خاص کے لحاظ سے (یعنی ایک ملکہ نفسانی کی حیثیت) ازجملہ ولایت کی شرائط میں شمار ہوتی ہے، اگر یہ شرط موجود ہے تو ولایت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا کیونکہ جیسے ہی حاکم سے کوئی ایسا عمل سرزد ہوا کہ جس کا اسلام سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور وہ اسلام کے اوامر و نواہی کے خلاف ہے تو خود بخود شرط عدالت اس سے ختم ہو جائیگی ، ایک چھوٹا سا ظلم، کج رفتاری جو شریعت کے خلاف ہے عدالت کو سلب کر لیتا ہے فرائض انجام دینے میں کوتاہی ، لوگوں میں عدم مساوات بھی حاکم سے سلب عدالت کے لیے کافی ہے اور جیسے ہی عدالت سلب ہوحاکم خود بخود اس منصب سے معزول ہو جاتا ہے جس کی بنیاد پر اس کے حاکم رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی تو پھر ذرا بتایئے دنیا کے کس نظام حکومت میں ایسا کوئی قانون پایا جاتا ہے؟

کس ’’سسٹم اور جمہوری حکومت میں اس جیسا کوئی طریقہ موجود ہے کہ جس میں، معاشرے اور انسانیت کی خیر و صلاح کے ساتھ اقدار کی ، نمائندگی ‘‘ ہوتی ہو؟

البتہ ان بتائے گئے معیارات کی خلاف ورزی تمام صورتوں میں ممکن ہے، آپ یہاں فرض کیجئے کہ سارے معیار اپنی جگہ محفوظ ہیں پھر بتائیے کہ ایسی متن و شکل و صورت اسلام کے علاوہ اور کسی نظام یا مکتب و مذھب میں دکھائی دیتی ہے ؟

مسلمانوں کے ذریعے ولایت کا تجربہ:

ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ولایت کا تجربہ کریں، طول تاریخ میں کچھ ایسے لوگ رہے ہیں جنہوں نے اس کا تجربہ نہیں ہونے دیا، آخر یہ کون لوگ تھے؟ وہی لوگ جو نظام ولایت کو اپنی حکومت و اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتے تھے جب کہ اس میں خود لوگوں کا فائدہ ہے، ایسے کون سے ممالک ہوں گے ؟جن کو یہ بات پسند نہ ہو کہ ان کا حاکم بجائے یہ کہ شہرت پرست ، شرابخور، دنیا دار اور ثروت کی پوجا کرنے والا ہو ایک متقی،پرہیز گار،حکم خدا کی رعایت کرنے والا اورنیکیوں پر عملدرآمد کرنے والا انسان ہو؟ کوئی ملت و مذہب نہیںجو ایسے حاکم کو پسند نہ کرتی ہو ۔ولایت اسلامی یعنی مومن و متقی کی حکومت ایسے انسان کی حکومت جو اپنی خواہشات سے دور نیک اور عمل صالح بجا لاتا ہے، ایسی کونسی قوم اور کونسا ملک ہے جو اپنے نفع کو نہ چاہتے ہوں اور ایسا حاکم پسند نہ کرتے ہوں کہ جس کے تصور کے ساتھ ہی اس کی تصدیق بھی خود بخود ہو جاتی ہے؟آخر وہ کون لوگ ہیں جو اس روشن اور نظام حکومت کی مخالفت کرنے پر تلے ہیں؟ یہ تو معلوم ہے کہ وہی صاحبان اقتدار جو کہ خود اپنے اندر پارسائی اور مخالفت نفس کی سکت نہیں پاتے اور اپنی خواہشات کے مقابل میں سر تسلیم خم کئے ہوئے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

موجودہ زمامداران حکومت میں سے وہ کون سے حکاّم ہیں جو اسلامی معیار کے مطابق حکومت کرنے کو پسند کرتے ہیں؟

ہم لوگوں نے ہمیشہ یہ بات دہرائی ہے اور یہ ہمارے انقلاب کا حصہ ہے کہ انقلاب اور نظام جمہوری اسلامی ، آج کی غیر اسلامی او رضد اسلامی سلطنتوں اور عالمی حکومتوں کے خلاف ایک چیلنج ہے یہی وجہ ہے کہ دنیاکی حکومتیں اس انقلاب اور اسلام،اور اس حکومت کی مخالف ہیں،کیونکہ دنیا کی آمرانہ اور جارحانہ، حکومتوں پر اس انقلاب نے سوالیہ نشان لگا دیا ہے!۔

جیسا کہ آپ حکومتوں کے مابین سیاسی ارتباطات اور لوگوں کے درمیان حکومتوں کے رابطے کی حالت و کیفیت کو خود ملاحظہ کر رہے ہیں ہمارا تمدّن اور ہماری ثقافت دنیا کی مسلط شدہ ثقافت و تمدّن سے بالکل الگ تھلگ ایک مستقل تمدّن ہے ۔

ولایت اسلامی، اقوام عالم کے لئے سعادت کا راستہ:

جو چیزیں اصل ولایت اسلام سے حاصل ہوتی ہیں، کس قدر انسانوں کے لیے مفید ہیں اور کتنی خوبصورت، پر جاذب اور پرکشش ہیں۔ دنیا کا کوئی شخص بھی ہمارے ملک کو جس زاویے سے بھی دیکھنا چاہے دیکھے وہی ساری چیزیں جو حضرت امام خمینی ۲ کی زندگی میں موجود تھیں اور وہی ساری باتیں جس سے یہ قوم دس۱۰، بارہ ۱۲ سال کی مدت میں مانوس رہی ہے، دکھائی دیں گی، یہ ہے ولایت کا معنی، میرے عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر اقوام عالم ان ادیان و مذاہب کہ جس کے زیر سایہ زندگی بسر کر رہے ہیں اس سے ہٹ کر سعادت و خوش بختی کی راہ تلاش کرنا چاہتے ہیں تو انھیں ولایت اسلامی کی طرف پلٹنا ہوگا۔البتہ یہ مکمل اسلامی ولایت محض ایک اسلامی معاشرے ہی میں عملی ہو سکتی ہے اس لیے کہ اسلامی قدروں کی بنیاد پر ولایت ، عدالت اسلامی ، علم اسلامی اور دین اسلامی کو ہی کہتے ہیں جو نامکمل اور ناقص انداز میں سارے معاشروں اور اقوام و ملل کے یہاں قابل تصور ہے۔ لیکن اگر کسی کو حقیقی رہبر اور حاکم بنانا چاہتے ہیں تو پھر ان لوگوں کے پیچھے بھٹکنے کی ضرورت نہیں ہے کہ جن کا سرمایہ دار حضرات بحیثیت لیڈر تعارف کراتے پھرتے ہیں بلکہ کسی پارسا، متقی، اور دنیا سے بے رغبت ترین انسان کی تلاش کرنی ہوگی ،جو اقتدار اور حکومت کو اپنے ذاتی مفاد سے الگ ہو کر عوام الناس اور معاشرے کی فلاح و بہبود اورا س کی اصلاح کی خاطر چاہتا ہے یہ ہے ایک اسلامی ولایت کا خاکہ کہ جس سے دنیا کی نام نہاد جمہوری حکومتیں بے بہرہ ہیں، یہ توصرف اسلام کی برکتوں کا ثمر ہے۔

اسی لیے ابتدائے انقلاب سے یہی عنوانِ ولایت ، اور ولایت فقیہ آپس میں دو ۲ جداگانہ مفہوم ہیں ایک خود مفہوم ولایت، دوسرے یہ کہ یہ ولایت ایک فقیہ اور دین شناس اور عالم دین سے مختص ہے۔ایسے افراد کی جانب سے شدّت سے بڑھ رہی ہے جو اسلامی قدروں کی بنائ پر ایک کامل حاکمیت کو برداشت کرنے کی قوت و طاقت نہیں رکھتے تھے اگرچہ آج بھی یہی صورتحال ہے یہ تو امیرالمومنین علیہ السلام کی پاکیزہ زندگی اور ان کی مختصر سی خلافت و حکومت اور غدیر و اسلام کی برکتوں کا نتیجہ ہے جو آج الحمدللہ(ہمارے ملک کے)لوگ اس راستے کو پہچانتے ہیں۔(۱)

شجاعت حضرت علی علیہ السلام :

تقریباً چودہ سو سال ہو رہے ہیں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے بارے میں بولنے والے لکھنے والے، متفکرین ،شعرائ مرثیہ سرا ، نوحہ خواں اور قصیدہ گو حضرات وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ، شیعہ ہوں یا غیر شیعہ کچھ نہ کچھ کہتے اور لکھتے

رہے ہیں اور اسی طرح تا ابد آپ کے سلسلے میں یہ لوگ لکھتے اور بولتے رہیں گے۔

مگر اس قدر آپ کے فضائل و مناقب کے باب گستردہ اور وسیع ہیں کہ آپ کے جس پہلو کو بھی بیاں کیا جائے آخر کار انسان کو احساس ہونے لگتا ہے کہ پھر بھی ابھی بھی آپ کے وسیع وجود مبارک کے سلسلہ میں بہت کچھ رہ گیا ہے...!

آج میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر میں فضائل و مناقب امیرالمومنین علیہ السلام کو نسبتاً جامع طور پر پیش کرنے کی کوشش کروں تو مجھے کہاں سے آغاز سخن کرنا ہوگا، البتہ آپ کے جوہر ملکوتی اور وجود حقیقی کہ جو آپ کا الہیوجود ہے۔میں اس کے بارے میں نہیں عرض کر رہا ہوں کہ جس تک ہم جیسے لوگوں کی رسائی بھی نہیں ہے بلکہ میری مراد آپ کے وسیع وجود کا وہ حصہ ہے کہ جس تک پہنچنا ممکن ہے اور اس کے بارے میں غور و فکر کیا جا سکتا ہے بلکہ آپ کو زندگی کے لیے نمونہ بنایا جا سکتا ہے۔پھر مجھے احساس ہو ا کہ یہ بھی، ایک خطبہ یا ایک گھنٹہ میں ممکن نہیں اس لیے کہ آپ کی شخصیت کے تہہ در تہہ پہلو ہیں،’’لا هوا سجر من ای النواحی اتیتهه ‘‘(۲) جس طرف سے بھی وارد ہوئے فضائل و مناقب کا ایک سمندر ہے اس لیے کوئی مختصر جامع تصور مخاطب کے حوالے نہیں کیا جاسکتا کہ کہا جائے: یہ ہیں امیرالمومنین علیہ السلام ۔

البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ کے مختلف پہلوؤں کو اپنی فکر و ہمت کے مطابق پیش کر سکوں اور میں نے جب اس لحاظ سے تھوڑاسوچا تو دیکھا شاید آپ کی ذات میں ۱۰۰ سو صفات ۔کہ یہی سو ۱۰۰ کی تعبیر روایات میں بھی وارد ہوئی ہیں ۔اور سو ۱۰۰ خصوصیات کو تلاش کیا جا سکتا ہے وہ چاہے آپ کی روحانی ومعنوی خصوصیات ہوں جیسے آپ کا علم، تقوی زہد حلم و صبر کہ یہ سب کے سب انسان کے نفسانی اور معنوی خصال وجمال میں سے ہیں یا رفتار و عمل جیسے امیرالمومنین علیہ السلام بحیثیت باپ، بحیثیت شوہر یا بحیثیت ایک باشندہ، سپاہی و مجاہد ، سپہ سالار جنگ، حاکم اسلامی و بحیثیت خلیفہ وقت یا پھر لوگوں کے ساتھ تواضع و انکساری کے ساتھ پیش آنا، آپ کا بعنوان ایک ماضی ، عادل اور مدبر کہ شاید اس طرح حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی سو ۱۰۰ خصوصیات کو شمار کیا جا سکتا ہے اور اگر کوئی انہیں صفات کو لے کر گویا اور رسا انداز میں ایک جامع بیان پیش کر سکے تو گویا اس نے حضرت امیرالمومنین کا ایک مکمل مگراجمالی خاکہ لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے، مگر ان صفات کا دائرہ اس قدر وسیع اور دامن گستردہ ہے کہ ہر ایک صفت کے لیے کم از کم ایک کتاب درکار ہے۔

مثال کے طور پر حضرت علی علیہ السلام کے ایمان کو پورا مدنظر رکھیں؟۔ البتہ میں جس خصوصیت کو یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ ایمان کے علاوہ ایک دوسری خصوصیت ہے جس کو میں بعد میں بیان کروں گا۔

بہرحال آپ ایک مومن کامل تھے یعنی ایک فکر، ایک عقیدہ اور ایک ایمان یہ آپکے وجود مبارک میں راسخ تھا ذرا آپ اب خود ہی بتائیے کہ آخر کس کے ایمان سے حضرت علیہ السلام کے ایمان کا موازنہ کیا جائے کہ عظمت ایمان امیرالمومنین علیہ السلام کا اندازہ لگایا جا سکے، خود وہ فرماتے ہین ’’لو کشف الغطائ ما ازددتُ یقینا ‘‘(۳) یعنی اگر غیب کے سارے پردے ہٹا دیے جائیں مراد ذات مقدس خداوند، فرشتگان الہی جہنم اور وہ تمام باتیں جیسے دین لانے والے بعنوان غیب بیان کر چکے ہیں۔ اور میں اپنی انہی آنکھوں سے ان سب کا مطالعہ کروں تو میرے یقین میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا!

گویا آپ کا یقین اس کے یقین کے مانند ہے کہ جس نے ان ساری چیزوں کو اپنی ظاہر ی آنکھوں سے دیکھا ہے! یہ ہے آپ کا ایمان اور اس کا رُتبہ ومقام کہ ایک عرب شاعر کہتا ہے ’’اگر ساری مخلوقات کے ایمان کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور ایمان علی علیہ السلام کوترازو کے دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو پھر بھی علی علیہ السلام کے ایمان کو تولنا ممکن نہیں ہے!یا آپ کے سابق الاسلام ہونے کو ہی لے لیجئے کہ نوجوانی اور کمسنی ہی سے خدا پر ایمان لائے اورا س راستہ کو دل و جان سے قبول کر لیا اور آخر عمر تک اس پر ثابت قدم رہے ، جو ایک عظیم اور وسیع پہلووں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے کہ جسے ایک کلمہ میں نہیں بیان کیا جاسکتا!۔

ہم لوگوں نے بہت سے بزرگوں کو دیکھا ہے یا آپ کے بارے میں کتابوں میں پڑھا ہے کہ انسان جب امیر المومنین علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں تصور کرتا ہے تو خود کو ان کے مقابل حقیر و ذلیل پاتا ہے۔

جیسے کہ کوئی آسمان میں،چاند،ستارہ، زہرہ ،مشتری،زحل یا مریخ کو دیکھے مگر اسکے باوجود اندربہت نورانیت اور چمک پائی جاتی ہے وہ اپنی جگہ بہت بڑے ہیں مگر اس کے باوجود ہماری نزدیک دیکھنے والی آنکھیں،اپنی کمزوری و ضعف کی وجہ سے یہ اندازہ نہیںلگا سکتیں کہ مثلاً ستارہ ،مشتری، یا زھرہ میں کیا فرق ہے ، یا وہ ستارہ جن کو ٹیلی اسکوپ کی مدد سے دیکھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کے اندرکئی ملین نوری سالوں کا ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ پایا جاتا ہے، ہم نہیں دیکھ سکتے جب کہ دونوں ستاروں میں اور ہماری آنکھیں آسمان میں ان دونوں کو تاحد نظر دیکھتیں ہیں،مگر یہ کہاں اور وہ کہاں! اور اسی طرح چونکہ ہم لوگ عظمتوں سے کوسوں دور ہیں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اور دیگر تاریخ بشریت یا تاریخ اسلام کے اکابرین، بزرگان اعظم کے درمیان تاریخ بشریت یا تاریخ اسلام کہ جن کا کتابوں اور دنیائے علم یا دیگر میدانوں میں سراغ ملتا ہے صحیح طریقہ سے موازنہ کرنے پر قدرت و طاقت نہیں رکھتے حقیقتاً،ذات امیرالمومنین علیہ السلام ایک حیرت انگیز شخصیت ہے!

مشکل تویہاں پیش آتی ہے،کہ ہم اور آپ شیعہ علی ابن ابی طالب ہونے کی حیثیت سے انکے پیروکہے جاتے ہیں؛اور اگر ہم آپ کی ذات گرامی کے مختلف پہلوؤں سے واقف نہ ہوں تو پھر اپنی شناخت مجروح ہونے لگتی ہے اس لیے کہ جو دعویدار محبت نہیں ہے اس میں اور ہم میں فرق ہے اور چونکہ ہم دعویدار ہیں ہم ’’علوی‘‘ بن کر رہنا چاہتے ہیںاور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ،علوی معاشرہ کہلائے لہذا ہم شیعان علی علیہ السلام سے پہلے درجہ میں اور غیر شیعہ مسلمان دوسرے درجہ میں اس مشکل سے بہرحال روبرو ہیں اس لیے کہ سبھی علی علیہ السلام کو مانتے ہیں فقط فرق یہ ہے کہ ہم شیعہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے ایک خاص عقیدت و احترام رکھتے ہیں۔

شجاعت ایک عظیم اور تعمیری صفت:

آج میں امیرالمومنین علیہ السلام کی جس خصوصیت کو بیان کرنا چاہتا ہوں وہ ہے آپ کی شجاعت۔ خود شجاعت ایک بہت عظیم اور تعمیری صفت ہے اسی صفت کی وجہ سے انسان خطرات سے بے خوف ہو کر میدان جنگ میں کود پڑتا ہے جس کے نتیجہ میں دشمن پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔

عام لوگوں کی نگاہ میں شجاعت کے یہی ایک معنی ہیں،مگر میدان جنگ کے علاوہ دیگر اور میدانوں میں بھی یہ صفت بہت اہمیت رکھتی ہے ۔جیسے حق و باطل سے ٹکراو کے وقت خود زندگی میں معرفت کے میدان میں حقائق کی دو ٹوک توضیح کی ضرورت کے وقت اور زندگی کے دیگر میدان،جہاں انسان کو اپنے موقف کی وضاحت کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اس صفت کا ہونا لازمی ہے۔

یہاں پر شجاعت اپنا اثر دکھاتی ہے ، کہ جب ایک بہادر و شجاع انسان حق کو پہچان جاتا ہے اور پھر اس کی پیروی کرتا ہے پھر اُس راستہ مین بیجا شرم و حیا ئ اور خود غرضی وغیرہ کو آڑے نہیں آنے دیتا۔ یہ ہے حقیقی شجاع اور بہادر کہ دشمن یا مخالفت کی ظاہری قوت و طاقت اس کے لیے رکاوٹ نہیں بن پاتی اور کبھی کبھی شجاع بن کر ابھرنے والے بعض لوگوں کی شجاعت کی قلعی(خصوصاً یہ افراد اگر معاشرے میں کسی پوسٹ و منصب کے حامل ہوتے ہیں)بھی کھل جاتی ہے اور وہ شجاع ہونے کے بجائے بزدل ثابت ہوتے ہیں ، شجاعت اس جیسی صفت کا نام ہے۔

کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک مسّلم حق کسی شخص کی بزدلی کی وجہ سے ناحق بن جاتا ہے یا ایک باطل کہ جس کے بارے میں کسی کو جرآت اظہار کرنا چاےئے تھا، خود حق کا سوانگ بھر لیتا ہے اسے اخلاقی شجاعت اجتماعی جرآت اور زندگی میں ہمت و بہادری سے تعبیر کرتے ہیں کہ جو میدان جنگ کی شجاعت سے بھی ایک بلند و بالا قسم کی شجاعت ہے۔

امیرالمومنین علیہ السلام میدان جنگ کے لیے بے بدیل بہادر و شجاع تھے ہر گز کبھی بھی اپنے دشمن کو پشت نہیں دکھائی ،یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے آپ کے بارے میں جنگ خندق کے قصے مشہور ہیں کہ جہاں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابیاپنی جگہ پر آنے والے نمائندہ کفر سے لرز رہے تھے اور آپ آگے بڑھے ، بدر و احد فتح خیبر و خندق و حنین وغیرہ جس جنگ کو بھی آپ اٹھا کر دیکھ لیں علی علیہ السلام کی شجاعت کا سکہ چلتا ہوا نظر آتا ہے جب کہ اس میں سے بعض وہ جنگیں بھی ہیں جس میں آپ کل چوبیس ۲۴ سال یا بعض میں پچیس ۲۵ ،تیس ۳۰ سال سے زیادہ عمر نہیں رکھتے تھے گویا ایک ۲۷، ۲۸ سالہ جوان نے اپنی شجاعت و بہادری کے بل بوتے پر جنگ کے میدان میں اسلام کی کامیابی و کامرانی کیسے کیسے گل کھلائے ہیں ،یہ تو رہی میدان جنگ میں آپ کی شجاعت و بہادری کی داستان۔

مگر میں یہاں امیرالمومنین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کروں گا کہ اے عظیم و بزرگ و الاعلی علیہ السلام ، اے محبوب خدا، آپ کی زندگی اور میدان زندگی کی شجاعت میدان جنگ کی شجاعت سے کہیں ارفع و اعلیٰ دکھائی دیتی ہے،مگر کب سے؟ نوجوانی سے ۔آپ یہی سابق الاسلام ہونے کو ہی لے لیجئے ۔آپ نے ایسے پر آشوب ماحول میں دعوت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبول کیا کہ جب سبھی آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے تھے اور کوئی جرآت و ہمت نہیں کرتا تھا کہ اس دعوت کو قبول کرے اور دعوت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبول کر لینا خود اپنی جگہ ایک شجاعانہ عمل ہے البتہ ایک ہی واقعہ ممکن ہے مختلف زاویوں سے دیکھا جائے اور اس واقعہ میں مختلف پہلو پائے جاتے ہوں مگر یہاں پر آپ کی شجاعت و بہادری کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے اس واقعے کو پیش کیا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے معاشرے کو ایک ایسا پیغام دے رہے ہیں جو اس معاشرے پر قابض اسباب و عوامل کے بالکل برخلاف ہے، لوگوں کی جہالت، نخوت و کدورت اشرافیت، ان کے طبقاتی اور مادی منافع و مصلحتیںیہ ساری چیزیں اس پیغام کے برخلاف اور اس کی ضد ہیں ذرا اب کوئی بتائے کہ ایک ایسے معاشرے میں ایسے پیغام کی کیا ضمانت ہے؟۔

ابتداً آپ آیۃ ’’و انذر عشیرتک الا قربین ‘‘ (شعرائ۲۱۴) پر عمل کرتے ہیں اور وقت کے یہ مستکبرین نخوت و غرور کا مکمل مظاہرہ کرتے ہوئے ہر حرف حق کا تمسخراڑاتے ہیںاسکے باوجود کہ دعوت دینے والا یہ (پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود انھیں کے جسم و تن کا ایک ٹکڑا ہے ۔جب کہ یہ وہی لوگ ہیں جو خاندان کے ہیں اور ان کے اندر رگ حمیت و عصبیت پھڑک رہی ہے جو کبھی کبھی ایک دو نہیں دس سال تک تنہا خاندانی ناطے اور رشتہ داری کی وجہ سے دشمن سے برسر پیکار رہا کرتے تھے! مگر یہاں (ذوالعشیرہ) میں جب ان کے خاندان کے ایک شخص نے اس مشعل کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بلند کیا تو ان لوگوں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں، اپنے منہ پھیر لیے۔ بے اعتنائی سے کام لیا اھانت وتحقیر کی اور صرف مذاق اڑایا!

ایسے موقع پر یہ نوجوان اٹھا اور پیغمبر سے خطاب کرکے کہتا ہے اے میرے ابن عم میں آپ پر ایمان لاتا ہوں، البتہ آپ پہلے ایمان لا چکے تھے یہاں صرف اس ایمان کا اعلان کر رہے ہیں اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ان مومنوں میں سے ہیں کہ ابتدائی چند دنوں کے علاوہ تیرہ ۱۳ سالہ مکے کی زندگی میں ہرگز آپ کا ایمان ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ جب کہ سارے مسلمان چند سالوں تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے مگر یہ سب جانتے تھے کہ امیرالمومنین علی (علیہ السلام) ابتدائ ہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لا چکے ہیں لہذا کسی پر بھی آپ کا ایمان پوشیدہ نہیں تھا۔

ذرا آپ اپنے ذہنوں میں اس کا صحیح طورپر تصورکریں،کہ پڑوسی توہین کر رہے ہیں،معاشرے کے بڑے بڑے اشخاص تحقیر و تذلیل کر رہے ہیں، شاعر،خطیب ، ثرو ت مند سب کے سب مذاق اڑا رہے ہیں،پست و ذلیل اور بے مایہ ہر ایک توہین آمیز القاب سے پکار رہا ہے اور ایک انسان اس طوفان حوادث کے درمیان تن تنہا ایک کوہ محکم کی طرح ثابت و استوار کھڑا ہوا ببانگ دہل یہ اعلان کر رہا ہے۔

یہ امیرالمومنین علیہ السلام کی منطق تھی۔یعنی منطق شجاعت اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ آپ کی پوری زندگی اور آپ کی حکومت (کہ جس کی مدت پانچ ۵ سال سے کم تھی)میں ہمیشہ یہی منطق کار فرما رہی۔اگر آپ نظر دوڑائیں تو یہی چیز روز اول اور یہی بیعت کے وقت بھی دکھائی دیتی ہے یہاں تک کہ آپ کی خلافت سے قبل جو بیت المال کا غلط مصرف ہو چکا تھا اس کے بارے میں فرمایا:’’والله لو وجدته تزوج به النسائ ملک به الامام ‘‘ وغیرہ ۔۔۔ بخدا وہ پیسہ جومیری خلافت سے پہلے ناحق کسی کو دیا گیا ہے چاہے وہ عورتوں کی مہر قرار دے دیا گیا ہو یا اس سے کنیزیں خریدی گئی ہوں یا اس سے شادیاں رچائی گئی ہوں ہر حالت میں اسے بھی بیت المال میں لوٹا کر رہوں گا! اور تنہا کہا ہی نہیں بلکہ سختی سے اس پر عمل کرنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں دشمنی کا ایک سیلاب آپکے حق میں امنڈ پڑا!

کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی شجاعت ہو سکتی ہے؟ سخت اورضدی ترین افراد کے مقابل اٹھ کھڑے ہونا، ایسے لوگوں کے خلاف عدالت کی آواز اٹھانا جو معاشرے میں نام نمود رکھتے تھے ان سے مقابلہ کیا جو شام کی پٹی ہوئی دولت و ثروت کی مدد سے ہزاروں سپاہیوں کو آپ کے خلاف ورغلا سکتے تھے، مگر جب خدا کے راستے کو اچھی طرح تشخیص دے دیا تو پھر کسی کی کوئی پرواہ نہ کی، یہ ہے شجاعت علی علیہ السلام۔ کیا تو ایسے شخص سے دشمنی رکھتا ہے جس کا ایک جرآت مندانہ اقدام دنیا و مافیہا سے بلند و برتر ہے؟!

یہ وہ بزرگ امیرالمومنین علیہ السلام ہیں، یہ وہ تاریخ میں چمکنے والے علی علیہ السلام ہیں۔وہ خورشید جو صدیوں چمکتا رہا اور روز بروز درخشندہ تر ہوتا جا رہا ہے۔جہاں جہاں بھی جوہر انسانی کا مظاہرہ ضروری تھا۔یہ بزگوار وہاں وہاں موجود تھے چاہے اس جگہ کوئی اور نہ رہا ہو مگر یہ موجود تھے آپ کا ہی یہ فرمان تھا ’’لا تستوحشوا فی طریق الهديٰ لقلّة اهله ‘‘(۴) ترجمہ’’ راہ ہدایت میں ساتھیوں کی کمی سے خوف و ہراس کو اپنے دل میں جگہ بھی نہ دو‘‘ اور خود آپ بھی اسی طرح تھے یعنی جب تم نے صحیح راستے کو پا لیا ہے تو صرف اس لیے کہ تم اقلیت میں ہو، چونکہ دنیا کے سارے لوگ تم کو توجہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چونکہ دنیا کی اکثریت تمہارے راستے کو قبول نہیں رکھتی و حشت نہ کرو اس راستے کو ترک نہ کرو بلکہ اپنے پورے وجود سمیت اس راستے پر چل پڑو۔یہاں سب سے پہلے جس نے اٹھ کر حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر لبیک کہی اور عرض کیا ’’ اے رسول خدا میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں کوئی اور نہیں یہی نوجوان تھا! ایک بیس ،پچیس سالہ جوان نے اپنے ہاتھ بڑھا دئے اور کہتا ہے میں آپ کے ہاتھ پر مو ت تک کی بیعت کرتا ہوں۔آپ کے اس شجاعانہ عمل کے بعد دوسرے مسلمانوں میں بھی جرآت پید اہوئی یکے بعد دیگرے لوگ بیعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے’’لقد رضی الله عن المومنین اذیبا یعونک تحت الشجرة فعلم ما فی قلوبهم ۔،،(فتح ۱۸) اسے شجاعت کہتے ہیں ۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جہاں جہاں بھی انسانی جوہر کے مظاہرے کا وقت آتا تھا آپ کی ذات والاصفات سامنے ہوتی تھی ہر مشکل کام میں پیش پیش رہا کرتے تھے!

ایک دن ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آکر کہتا ہے! میں علی علیہ السلام سے دشمنی رکھتا ہوں۔جیسے اس کا خیال تھا کہ یہ لوگ آپس میں خاندانی دشمن ہیں شاید وہ اپنے اس بیان سے عبداللہ بن عمر کو خوش کرنا چاہتا تھا ۔عمر کے بیٹے عبداللہ نے اس سے کہا،’’ ابغضک اللہ‘‘ خد اتم کودشمن رکھے، اصل عبارت یہ ہے ’’فقال ابغضک الله!فبغض و یحک اجلاً سابقة من سوابقه خیر من الدنیا بما فیها ‘‘(۵) ’’ میں نے خدا اور اس کے راستے کو پہچان لیا ہے اور تاحیات اس پر قائم رہوںگا‘‘ یہ ہے شجاعت اسے کہتے ہیں ہمت ۔

زندگی کے تمام مراحل میں شجاعت:

امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی کے تمام مراحل میں یہی شجاعت نظر آتی ہے مکے میں یہی شجاعت تھی، مدینے اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرتے وقت یہی شجاعت تھی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،نے مختلف مناسبتوں سے مکرراً بیعت لی اس میں سے ایک بیعت جو شاید سخت ترین بیعت تھی، حدیبیہ کے موقع پر بیعت الشجرہ۔بیعت رضوان ۔ہے جیسا کہ سارے مورخین نے لکھا ہے کہ جب معاملہ ذرا سخت ہو گیا اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک ہزار۱۰۰۰ سے کچھ زیادہ اصحاب جو آپ کے اطراف میں تھے سب کو جمع کیا اور ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میں تم لوگوں سے موت پر بیعت لیتا ہوں ،کہ تم میدان جنگ سے ہرگز فرار نہیں کرو گے! اور اس قدر تم کو جنگ کرنا ہے کہ یا تو اس راہ میں قتل ہو جاو یا پھر کامیابی تمہارا نصیب ہو۔

میرا خیال ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوائے اس موقع کے کہیں اور اس قدر سخت انداز میں اصحاب سے بیعت نہیں لی ہے ظاہر ہے کہ اس مجمع میں ہر قسم کے لوگ موجود تھے، سست ایمان بلکہ منافق صفت نیز اس بیعت میں شامل تھے! جب کہ تاریخ میں نام تک مذکور ہیںوغیرہ سب کچھ ظاہری اور غیر واقعی تھا، تنہا دین کی طرف لوگوں کی تحریک و تشویش ایک عمومی اور واقعی شی تھی کہ جسے بغض و نفرت آمیز نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اس تحریک کے مقابلے میں ذرا پھیکے رنگ و بو کے ساتھ وطن پرستی کے نام پر ایک اور احساس بھی ملک کے گوشہ و کنار میں دکھائی دے رہا تھا۔اور قوم کے لیے اس قسم کی صورتحال پیدا کر دی تھی پھر آپ نے ہی بنیادی اور اساسی اقدام کر کے قوم کی ہر چیز کو از سر نو تعمیر کیا ہے ۔

آج اس حکومت میں علم و صنعت، یونیورسٹی کی تعلیم، وغیرہ سب ارتقائ حاصل کر رہی ہیں،لوگوں کی شخصیتیں،ان کے خیالات ،رشد و نمو پا رہے ہیں،آزادی اپنے حقیقی معنی و مفہوم میں ترقی پا رہی ہے۔

اس قوم کی تحریک آہستہ آہستہ وہاں تک پہنچ رہی ہے کہ اب دنیا میں خود اس کے خریدار پیدا ہونے لگے ہیں، کل تک ملت ایران اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ لوگ اس کی طرف توجہ کرتے مگر آج اس کے برعکس ہے، آج آپ ایک اہم قوم کی حیثیت رکھتے ہیں آپ کی رائے آپ کی حمایت آپ کی ممانعٰت اہمیت رکھتی ہے آپ نے ایک مسئلے کی مخالفت کی ہے وہ ابھی تک دنیا میںکسی بھی علاقے میں یا کسی کوہ و صحرا میں بھی کسی ایرانی کو امریکا نواز دکھائی دے جائے تو لوگ اس کے سائے تک کو تیر باران کرنے کے لئے تیار ہیں۔!

اس ملک میں ایک دن قوم و ملت کی کوئی حیثیت نہیں تھی،ان کو حق رائے دہی حاصل نہیں تھا،انتخابات اور پارلیمنٹ کا اتہ پتہ بھی نہیں تھاملک میں جو کچھ بھی تھا وہ سب غیر واقعی اور بناوٹ سے زیادہ، کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا، حقیقتاًپہلوی بادشاہت کا زمانہ عجیب و غریب زمانہ تھا بالکل اسی طرح کہ جیسے کوئی بڑے سے ہال میں ایک بہت بڑا کارخانہ لگائے اور دیکھنے والا اس کی عظمت ،بزرگی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔مگر جب اس کے نزدیک سے اس کا نظارہ کرے تو اسے پتہ چلے کہ اس کی ساری چیزیں، پلاسٹک کا ایک بازیچہ ہے یا مثلاً کوئی شخص ایک بلند و بالا عمارت بنائے کہ دور سے دیکھنے والے کو وہ ایک عظیم محل لگے مگر جب وہ اس کے نزدیک جانے سے تو ایسے معلوم ہو کہ یہ تو برف سے بنا ہوا ہے ایک محل ہے۔

بالکل اسی طرح اس ملک کی ساری چیزیں غیر حقیقی تھیں، یونیورسٹی، روشن خیال طبقہ ،روزنامہ، مجلّات، پارلیمنٹ، حکومت میں رکاوٹ بننے والی ایک ایک چیز کم ہو گئی،اور اس طرح سے یہ لوگ اپنے مقصد کی راہ میں موجودہر رکاوٹ کو اپنے راستے سے ہٹاتے ہیں!

جہاں پر ہر شیعہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ، بلکہ ہر اس مسلمان کو جو علی علیہ السلام پر ایمان رکھتا ہے اور دل سے معتقد ہے علی علیہ السلام کی شخصیت سے درس شجاعت لینا چاہتے ہیں کہ جن کا فرمان ہے’’ تم کو راہ ہدایت میں افراد کی کمی سے ہراساں نہیں ہونا چاہیے‘‘ دشمن کے پشت کرنے اوراس کے منہ موڑنے سے تم کو ڈرنا نہیں چاہیے احساس تنہائی نہ کرو،دشمن کے تمسخر اور اس کے مزاق اڑانے سے تمہارے ہاتھوں میں جو گوہر ہے ۔اس کے سلسلہ میں تمہارے عقیدے میں کوئی سستی نہ آنے پائے،اس لیے کہ تم لوگوں نے ایک عظیم کام انجام دیا ہے ایک ایسا خزانہ اپنی مملکت میں تم لوگوں نے کشف کر لیاہے،جو تمام ہونے والا نہیں ہے ،تم نے اسلام کی برکت سے آزادی حاصل کی استقلال حاصل کیا، اور شاطر طاقتوں کے پنجے سے رہائی حاصل کی ہے۔

ایک دن وہ بھی تھا جب یہ مملکت و سلطنت، یہ یونیورسٹی، یہ دار الحکومت(تہران) یہ فوجی مراکز،یہ فوجی اورحفاظتی دستے،یہ حکومتی ادارے،اوپر سے لے کر نیچے تک سب کے سب امریکاکے ہاتھوں میں تھے مگر آج انقلاب اسلامی کی برکت کے نتیجہ میں مملکت سے دور رہ کر شراب سے دوری کا اور حدود الہیوغیرہ کے نفاذکا مذاق اڑاتے ہیں! کبھی کبھی یہی تحقیر و تذلیل یہی مذاق اور توہین اچھے اچھوں کے لئے شک و تردید میں پڑ جانے کا سبب بن جاتا ہے اور ان کی استقامت جواب دے جاتی ہے اور وہ اپنی ہم فکر جماعت کوہی ہرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں وہ کہتے ہیں آخر ہم کیا کریں اب سب کچھ برداشت سے باہر ہے ، اور اس وقت یہ عالمی طاقتیں اپنی اس کامیابی پر چھپ چھپ کر قھقھہ مار کر ہنستی ہیں اس لئے کہ انہیں اپنے راستے میں موجود ایک رکاوٹ کے ختم کرنے کی خوشی ہے! ان کی روش یہی ہے کہ وہ ایک انقلابی تحریک یا اقدام کو اس قدر ہلکا بنا کر پیش کریں،اس کے خلاف پروپیگنڈہ کریں کہ آخر کار اس کے اصلی چہرے دل برداشتہ ہو کر اسے واپس لے لیں! یا وہ خود اس کا مذاق اڑانے لگیں! عالمی میدان سیاست میں کچھ آپ کو ایسے چہرہ نظر آجائیں گے جو کل تک دشمن کے مقابل ڈٹے ہوئے تھے اور آج خود اپنے اعمال و رفتار کامذاق اڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو دشمن کی ہنسی اور خوشحالی کا سبب ہے، یہ اپنے اعمال و رفتار کا مذاق صرف اسلئے اُ ڑاتے تھے کہ یہ صاحب بھی اپنی جماعت میں شامل ہوسکیں البتہ وہ عالمی طاقتیں اس کی تشویش بھی کرتی ہیں اور کہتی ہیں ’’ سبحان اللہ‘‘ آپ کس قدر متمدن ہیں اور یہ صاحب بھی خوشحال ہوتے ہیں مگر یہ جو کچھ بھی پیش آیا ہے حقیقتاً ان سیاسی بازیگروں کی راہ ہے کہ جس نظام حکومت کو چاہتے ہیں بروئے کار لے آتے ہیں اور جس نظام کو چاہتے ہیں ختم کر دیتے ہیں ! آج یہی مکارو دغا باز و فریب کار عالمی طاقتیں پوری طرح ،جمہوری اسلامی کی طرف متوجہ ہیں اور ان کی ایک سیاست یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے جمہوری اسلامی اور ایرانی عوام کا مذاق اڑائیں،انہیں شک و شبہ میں ڈالیں ! اور انہیں یہ پڑھائیں کہ تم لوگ جو بین الاقوامی عرفیات کے خلاف ہو کر اپنی سیاست و حکومت چلا رہے ہو غلطی کر رہے ہو۔تم غلط کر رہے ہو جو عالمی سیاست اور امریکی بین الاقوامی پالیسیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں ،وہ مسئلہ فلسطین ہو یا پھر مسئلہ بوسنیا، یا دیگر اسلامی مسائل وغیرہ اور جو تم دوسروں کی آواز سے آواز نہیں ملاتے غلط کر رہے ہو تم کو تو دنیا والوں کے ساتھ ہونا چاہیے ۔

آج کی سیاست یہ ہے اور آج کی ہی نہیں بلکہ ابتدائے انقلاب سے ان کی سیاست یہی تھی کہ ایرانی قوم کے ذمہ داران مملکت اور ہر وہ شخص جو ان کا واقعی مخالف ہے اس کامذاق اڑائیں اسے زیادہ سے زیادہ شک و تردید میں ڈالیں اور جس کام سے بھی انہیں زیادہ نقصان پہنچنے کا خطرہ محسوس ہو اس کا زیادہ سے زیادہ مذاق اڑائیں،عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا مضحکہ،یونیورسٹی کا مذاق ،عبادت نماز جماعت کا مضحکہ لیکن اقتدار تسلط یہی ہے۔

آج ہم اور آپ اس شجاعت علوی کے ضرورتمند ہیں، ایرانی عوام اس کی ضرورت مند ہے ،اس مملکت میں جو کوئی بھی کسی عہدے یا منصب پر فائز ہے اسے اس صفت کی زیادہ ضرورت ہے، مسلمانوں کے بیت المال تک جس کی بھی رسائی ہے وہ اس شجاعت و ہمت کا زیادہ ضرورت مند ہے آج مجموعاً ،ایرانی قوم، اور فرداً فرداً ہر شخص اس شجاعت کا محتاج ہے اور جس شخص پر لوگ زیادہ بھروسہ رکھتے ہیںاور وہ لوگوں کا اطمینان مورداعتماد و اطمینان ہے دوسروں کی نسبت اس شجاعت علوی اور جرآت و ہمت کا زیادہ سے زیادہ محتاج وضرورت مند ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت سے درس عمل:

آج کی دنیا ابولہب و ابوجہل جیسے ہٹ دھرم جاہلوں کی نہیں ہے بلکہ آج دنیا کے کفّار ،معاندین،دنیا کے چالاک ترین و ہوشیارترین لوگ ہیں ایسے ہیں جو دنیا کے بڑے بڑے سیاسی مسائل اور پروپگنڈہ مشینری کو اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے گردش کر رہے ہیں اور دیگر قوموں اور ملتوں کی تقدیر بدلتے ہیں غیر ملکوں میں اپنی پسند سے حکومتیں بناتے ہیں یا بنی بنائی حکومتوں کو گرا دیتے ہیں، دنیا کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہیں اس سے جس طرح چاہتے ہیں نفع اٹھاتے ہیں ،جنگ و جدال چھیڑتے ہیں پھر جنگ ختم کرتے ہیں!امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیںوالله لو ان الحسن والحسین فعلا مثل الذی فعلت ما کانت لهما عندی هواده لاظفرا منی با راده حتی آخذا الحق منهما و از یسح الباطل ان مظلمتهما ‘‘(۶) قسم بخدا یہی فعل جو تم نے انجام دیا ہے اگر میرے بیٹے حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام انجام دیتے تو اس سلسلے میں میرے لئے کوئی عذرقابل قبول نہیں ہوتا! اور ان کے نفع میں کوئی عمل سر زد نہ ہوتا یہاں تک کہ ان سے بھی حق کو لے لیتا!۔

حضرت علی علیہ السلام کا اقتدار نفس:

امیرالمومنین علیہ السلام کو بخوبی معلوم ہے کہ حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام معصوم ہیں مگر پھر بھی فرماتے ہیں کہ اگر ان دونوں میں سے کسی سے بھی یہ عمل ۔کہ ہر گز سرزد نہیں ہو سکتا ۔سر زد ہوجائے ،تو میں اس سلسلے میں ان پر بھی رحم نہ کرتا،یہ بھی شجاعت ہے جو اگرچہ ایک زاویہ سے عدل بھی ہے اور قانون کی بالادستی اور اس کا احترام بھی ہے، اس کے مختلف عنوانات ہو سکتے ہیں،مگر جس زاویے سے میں نے اسے عرض کیا ہے وہ شجاعت بھی ہے بلکہ یہ ایک ایسا منصب ہے جس تک ہر کس و ناکس کی رسائی نہیں البتہ تم کوشش کرو کہ اس راہ میں قدم اٹھاو اور پارسائی و خدا کی اطاعت کے ذریعے اپنے امام کی اتباع میں نزدیک سے نزدیک تر ہو، عبداللہ بن عباس حضرت کے سچے چاہنے والے ہیں اور دیگر اصحاب کی نسبت آپ کے قریبی،محب،مخلص اور ہمراز بھی ہیں مگرزندگی میں ایک خطا آپ سے ہو گئی جس کی بنائ پر امیرالمومنین علیہ السلام نے آپ کو ایک خط لکھا جس میں آپ کی اس خطا کو خیانت سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے اپنے اس عمل سے خیانت کی ہے! والی اسلامی کی حیثیت سے ان کے خیال میں کچھ دولت ان کا حق بنتی تھی اس لیے انہوں نے اپنا حق سمجھ کر اُسے لے لیا تھا اور راہی مکہ ہو گئے تھے۔ اور امیرالمومنین علیہ السلام نے اسی لغزش کی بنیاد پر اس قدر سخت خط لکھا کہ اسے پڑھ کر جسم کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں !۔

آخر یہ کیسا انسان ہے! یہ کیسا عظیم المرتبت شخص ہے ! کہ عبداللہ بن عباس جو کہ آپ کے چچا زاد بھائی بھی ہیں ان سے خطاب کر کے فرماتےهیں’’لا فانک ان لم تفعل ثم امکننی الله منک لا عذرن اليٰ الله فیک و لا فربنّک بسیفی الذی ماضربت به احداً الا دخل النار ‘‘(۷) حضرت امام سجاد علیہ السلام سے خود آپ کی عبادت اور حضرت علی علیہ السلام کی عبادت کے سلسلے میں گفتگو چھڑ گئی،تو امام سجادعلیہ السلام آب دیدہ ہو گئے اور فرمایا! میں کہاں؟ اور جناب امیرالمومنین علیہ السلام کی ذات والا صفات کہاں؟خود امام سجادعلیہ السلام کہ جنہیں زین العابدین کہا جاتا ہے، نے فرمایا،کیا یہ ممکن ہے کہ مثل علی علیہ السلام کوئی بننے کا دعوی کر سکے؟! آج تک دنیا کے بڑے بڑوں میں بھی یہ ہمت نہ ہو سکی کہ ان کے مثل ہونے کا دعویٰ کر سکیں نہ ہی ایسی کوئی فکر کرتا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی غلطی کسی کے ذہن میں آج تک خطور ہوئی کہ وہ امیرالمومنین علیہ السلام کے مثل ہونے یا ان کی طرح کام کر سکنے کا دعویٰ کرے! البتہ جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ ،راستہ اور سمت سفر،وہی ہو جو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا راستہ تھا جیسا کہ گذشتہ گفتگو کے دوران اس پر روشنی ڈالی جا چکی ہے ۔

خود آنجناب نے عثمان بن حنیف کو ایک خط کے ذریعے اپنی سادہ زیستی کا ذکر کرتے ہوئے کہ’’الا و ان اما مکم قداکتفيٰ من دنیاه بطمریه ‘‘(۸) میں اس طرح زندگی بسر کرتا ہوں فرمایا؛ ’’الا وانکم لا تقدرون علی ذلک ‘‘؛(۹) یعنی میں ضرور اس طرح زندگی گزار رہا ہوں مگر تم خیال نہ کرنا کہ میری طرح تم بھی ہو سکتے ہو۔

آپ کی شخصیت مجروح کرنے کے لئے حدیثیں گڑھی گئیں یا آپ کے افکار و خیالات کے برخلاف فکریں پیش کی گئیں مگر ان تمام زہر افشانیوں اور دشمنیوں کے باوجود سالھا سال گذر جانے کے بعد بھی آخر کار ان اتہمات و خرافات کے دبیز پردوں کے پیچھے سے خود کو پھر سے پہچنوایا اور اپنی شخصیت کو منوانے میں کامیاب ہو گئے،یہ تھی آپ کی شخصیت اور آپ کے اندر موجود کشش۔

گلِ گلاب:

علی علیہ السلام کی طرح کاکوئی بھی گوہر ہو جو ایک پھول کی طرح چمن انسانیت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خوشبو دیتا ہے اور خار و کانٹے خس و خاشاک اور بدبو دار چیزیں اسے آلودہ نہ کر سکیں تو اس کی قیمت میں کبھی بھی کمی نہ آئے گی اگر آپ ہیرے کا کوئی ٹکڑا کیچڑ میں بھی ڈالدیں تو وہ بہرحال ہیرا ہی رہے گا اور جب بھی مٹی ہٹے گی تو وہ خود چمک کر اپنا وجود ظاہر کرے گا،تو پھر گوہر بننا ہو تو اس طرح بنیے۔ ہر مسلمان فرد پر لازم ہے کہ وہ ذات علی علیہ السلام کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا کر نظروں کے سامنے رکھے اور اسی سمت زندگی کے سفر کا آغاز کرے۔کوئی بھی دعویٰ نہیں کر سکا ہے کہ ہم علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرح ہیں،خواہ مخواہ ان سے اور ان سے نہ کہا جائے کہ آخر آپ علی علیہ السلام کی طرح کیوں نہیں عمل کرتے آپ اس پر غور تو کریں ان باتوں کا کہہ دینا تو آسان ہے، مگر اس پر عمل کرنابہت مشکل ہے،میں یہاں پر اس حقیقت کا خود اعتراف کر رہا ہوں کہ ایک دن میں علی علیہ السلام کو نمونہ زندگی کے طور پر پیش کرتا تھا، مگر اس کی تہہ تک نہیں اترا تھا مگر آج جب مملکت اسلامی کی باگ ڈور ہم جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے تو پھر ان باتوں کا صحیح معنوں میں ادراک و احساس ہوتا ہے اور اب معلوم ہوتا ہے کہ علی علیہ السلام واقعاً کتنے بزرگ و عالی مرتبت تھے!

____________________

۱۔حدیث ولایت،ج۷،ص۔۱۸۹

۲۔بحارالانوار۔ج ۷،ص ۱۱

۳۔بحارالانوار، ج ۴،ص ۱۵۳

۴۔نہج البلاغہ۔خطبہ ۲۰۱

۵۔بحارالانوار ج ۲۲،ص۲۲۷

۶۔نہج البلاغہ ۔نامہ ۴۱

۷۔نہج البلاغہ۔نامہ ۴۱

۸۔نہج البلاغہ ،نامہ ۴۵،

۹۔نہج البلاغہ۔نامہ ۴۵


علی کی زندگی نمونہ عمل:

اگرچہ یہ باتیں کسی خاص طبقے یا فرد سے مخصوص نہیں بلکہ سب سے متعلق ہیں مگر فی الحال میں یہ باتیں اپنے لئے اور ان حضرات کے لئے عرض کر رہا ہوں جو اس مملکت اسلامی میں کسی نہ کسی عہدے پر فائز ہیں امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی کچھ اس طرح تھی کہ آپ کی ذات اور وجود کی برکت سے لاکھوں لوگ اسلام اور حقیقت سے آشنا ہوئے،وہی امیرالمومنین علیہ السلام کہ جن کو تقریباً ۱۰۰ سو سال تک منبروں سے گالیاں دی گئیں ان پر لعن و طعن ہوئی،ساری دنیائے اسلام میں آپ کے خلاف زہر افشانی کی گئی ۔

اگردشمن مذاق اڑاتا ہے تو اسے مذاق اڑانے دو اسے تحقیر کرنے دو اور جو کچھ ہمارے خلاف بولنا چاہتا ہے بولنے دو،آج ہمارے لئے علی علیہ السلام کی شجاعت اور باطل کے مقابل ان کی مردانگی ایک درس عظیم ہے اور میں اپنے معززسامعین کو عمل کرنے اور اس پر مکمل توجہ کرنے کے لیے آپ سب کو نصیحت کرتا ہوں۔خدا انشااللہ آپ کامدد گار ہے۔

گذشتہ ۱۷ سترہ سالوں میں انہی بزرگوار کے نام کا سایہ اس ملت پر چھایا ہوا تھا اور اس قوم نے ان کے انوار سے کسبِِ فیض کیا اور استفادہ کیا،ہم بھی اس درس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں گے اور دشمن کی خواہش کے برخلاف ہم اسی طرف آگے بڑھتے رہیں گے یہاں تک کہ انشائ اللہ وہ دن بھی آئے جب ہمارا پورا معاشرہ حقیقتاً،علوی معاشرے کی صورت اختیار کرلے(۱) ۔

امیرالمومنین علیہ السلام کے ذریعے عدالت اور حدود الہی کا اجرائ:

میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے حالات کا مطالعہ کر رہا تھا، تو مجھے احساس ہوا کہ جو عدل آپ کے بارے میں شہرہ آفاق ہے۔اگرچہ میں گمان نہیں کرتا کہ حتی ہمارے شیعہ معاشرے اور اہم شیعوں نے بھی آپ کے اس عدل کو محسوس و ملموس کیا ہو۔بیشتر اس کا را بطہ ان باتوں سے ہے کہ آپ راہ حق اور احکام الہی نافذ کرتے وقت کبھی بھی رشتہ داری رفاقت و دوستی،کسی کے ذریعے اپنی تعریف و تمجید وغیرہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے آپ بیت المال کا حساب کتاب لیتے وقت کسی قسم کی کوئی رو رعایت نہیں کرتے تھے ’’حسان بھی ثابت،جو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے مداح تھے اور دشمنان حضرت سے جنگوں میں مقابلہ کیا تھا کسی خلاف ورزی کی وجہ سے حدالہی کے مستحق قرار پائے تو حضرت علیہ السلام نے فرمایا،کوئی بھی ہو یہ حد الہٰی ہے، جاری ہوگی’’حسان ‘‘ نے اپنی ساری گذشتہ خدمتیں ایک ایک کر کے گنوائیں یا امیرالمومنین علیہ السلام میں آپ کا مداح ہوں میں نے آپ کی مدح و ستائش میں اتنے قصیدے کہے ہیں وغیرہ وغیرہ ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں تو سہی اگر ایسی جگہ ہم ہوتے تو کیا کرتے؟ جو میرے ذہن میں اس وقت ہے وہ یہ کہ حضرت علیہ السلام نے فرمایا: میں ان سب باتوں کی وجہ سے حد الہٰی کو معطل نہیں کر سکتا، چوں کہ ماہ رمضان میں دن میں شراب نوشی کی تھی لہذا شراب نوشی کی حد جاری ہوئی اور بیس ۲۰ تازیانے حرمت رمضان توڑنے کی وجہ سے لگائے گئے۔کہ اس کے بعد وہ کوفہ کو ترک کر کے معاویہ کی طرف شام چلے گئے اور شاید امیرالمومنین علیہ السلام کے خلاف شعر بھی کہے۔

نہج البلاغہ کے بیان کے مطابق ،عبداللہ بن عباس ،جو آپ کے حواریوں میں تھے اور ایک تعبیر کے مطابق اپنے سابقہ اعمال و کردار کی بنیاد پر آپ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے بعد آپ کی حکومت میں دوسرے نمبر کی شخصیت شمار ہوتے تھے لیکن جب بصرہ میں ماموریت کے دوران عبداللہ بن عباس کے بارے میں میں حضرت کو یہ خبر معلوم ہوئی کہ انہوں نے بیجا مصارف بھی کئے ہیں تو آپ نے عبداللہ بن عباس کو خط لکھا اور اس سلسلے میں حساب و کتاب کا حکم فرمایا تو انہوں نے آپ کو خط لکھا جس میں اس بات کا شکوہ کیا ،حضرت نے جواب میں لکھا کہ میں تم سے حساب مانگ رہا ہوں تم کو حساب دینا چاہیے گلے اور شکوے کی کیا ضرورت ہے جس کی وجہ سے وہ حضرت سے خفا ہو کر کوفہ آئے بغیر بصرہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور خود گوشہ گیر ہو گئے اور علی علیہ السلام کی تائید و تصدیق سے ہاتھ کھینچ لیا اور ایک دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جو فرصت کی تاک میں تھے قدرت و سلطنت کے بھوکے شام کی حکومت کے زیر سایہ معاویہ کی سرکردگی میں گھات لگائے بیٹھے ہوئے تھے اور قبائل کے بہت سے شہرت طلب، نام ونمود چاہنے والے،اقتدار و سلطنت کے حریص معاویہ کے دسترخوان پر لقمہ توڑنے والے علی علیہ السلام سے جنگ کر رہے تھے ادھر ایک مقدس مآب ،خشک و قدامت پرست گروہ بھی سر اٹھائے ہوئے ایک عجیب و غریب فضا بنا ئے ہوئے تھا ،یہ عظیم متحدہ محاذ تھا جو حکومت امیرالمومنین علیہ السلام کے خلاف جنگ کرنے پر تلا ہوا تھا،جمہوری اسلامی کے قیام اور لیبرل حکومت اور بانفوذ منافقین کے زوال کے وقت جو صورتحال تھی اس صورتحال سے کافی شباہت رکھتی ہے جو ایران میں جمہوری اسلامی کے قیام کے وقت اثر و رسوخ رکھنے والے (منافقین) لیبرل حکومت کے زوال کے وقت پیدا ہوئی تھی۔البتہ میں ان لوگوں کا ان سے موازنہ نہیں کرنا چاہتا۔ایک وہ گروہ جو امیرالمومنین علیہ السلام کے زمانہ میں،صدر اسلام میں اس فضا میں پلا بڑھا تھا، روحی اعتبار سے ان کے مقابل زیادہ صاحب اہمیت تھا، جو آج جمہوری اسلامی اور راہ انقلاب اسلامی کے مقابلے کے لئے دکھائی دیتے ہیں،لیکن مجموعی طور پر ایک صورت حال نظر آتی ہے کچھ لوگ تو پہلے سیاسی طور پر نام و نمود بھی رکھتے تھے سالہا سال سیاسی جنگ بھی کی تھی ۔اگرچہ کوئی کام بھی نہیں کیا تھا۔اور ایک گروہ وہ تھا جو سابقہ طاغوتی سلطنت کے لئے عزادار تھا اور انہی کے ساتھ میں مشرق سے وابستہ کمیونسٹوں کے حامی اتحادی تفکر رکھنے والے بھی تھے جو مختلف ناموں اور عنوانات سے ان کے اطراف میں کھڑے نظر آتے تھے،اور مٹھی بھر اسلام پر ظاہری طور پر عمل کرنے والے کچھ اور لوگ بھی تھے جو بنام اسلام،مکمل غیراسلامی چیزوں کو مشرق و مغرب سے جمع کر کے جھالت و التقاط کا نتیجہ پیش کر رہے تھے وہیں پر انقلاب کے مخالفین کا ایک وسیع و عریض جال بھی پھیلا ہوا تھا کہ جو فضل خدا اور پروردگار کی مدد سے حضرت امام خمینی ۲ کی علی علیہ السلام و ار تدبیر و حکمت کی وجہ سے وہ سب کے سب کائی کی طرح چھٹ گئے اور انھیں پوری طرح شکست اٹھانا پڑی،حزب اللہ ،امام خمینی ۲ کا بنا یا ہوا راستہ انقلاب کی راہ میں واضح تر ہو کر سامنے آگیا،لہذا تاریخ کے اس بیان سے ہم جو درس عبرت لیتے ہیں وہ ہے علی علیہ السلام کا راہ حق و جہاد خدا میں اٹل ہو جانا ان کا محکمیت کے ساتھ فیصلہ کرنا اور راہ صداقت و حق میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کرنا(۲)

خدا کے کام میں کوئی رو رعایت نہیں:

آپ ذرا ملاحظہ کریں کہ خلافت و حکومت امیرالمومنین علیہ السلام کے دوران دو قسم کے صحابہ اور اسلام کے بزرگ لوگ دکھائی دیتے ہیں۔کچھ تو وہ لوگ جنہوں نے جیسے ہی دیکھا کہ حضرت امیرعلیہ السلام زمام حکومت ہاتھ میں لئے تخت خلافت پر متمکن ہوئے ہیں تو وہ حق کو پہچانتے ہوے آپ کی خدمت میں اپنی پوری ہستی سمیت سرگرم خدمت ہوگئے البتہ بعض اس شدّت کے ساتھ تو نہیں مگر پھر بھی حضرت کے ساتھ آگئے،اور کچھ وہ تھے جو شک و تردید کرنے لگے،جب کہ وفات حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اب تک ۲۳ تئیس سال گذر گئے انہیں کہیں شک لاحق نہیں ہوا،اور جیسے ہی حضرت امیرعلیہ السلام تخت خلافت پر بیٹھے ان کو شک ہونے لگا! بعض نے کہا ’’انا شککنا فی هذا القتال ‘‘(۳) تو امیرالمومنین علیہ السلام ان کے سامنے ڈٹ گئے۔

مسجد مدینہ میں امیرالمومنین علیہ السلام کی بیعت کے بعد جن لوگوں نے بیعت نہیں کی تھی ان کو ایک ایک کر کے آپ کے سامنے حاضر کیا گیا تو آپ نے پوچھا تم نے کیوں بیعت نہیں کی؟ کہا،یا امیرالمومنین علیہ السلام میں دوسروں کا منتظر ہوں کہ وہ بیعت کر لیں پھر میں بھی بیعت کروں! حضرت نے کہا جاو اسی طرح ایک کے بعد دوسرے آتے گئے اور حضرت نے ان سب سے عدم بیعت کا سبب دریافت کیا،انہیں بزرگوں میں سے ’’عبداللہ ابن عمر‘‘ بھی تھے انھیں بھی مسجد میں لایا گیا،امیرالمومنین علیہ السلام نے سوال کیا تم نے بیعت کیوں نہیں کی؟ کچھ دیر تک ہاتھ ملتے رہے پھر کچھ توقف کیا اور مثلاً کچھ اس انداز سے کہا کہ اچھا، ٹھیک ہے! مالک اشتر جو وہاں کھٹرے ہوئے ماجرا دیکھ رہے تھے کہا یا امیرالمومنین علیہ السلام !آپ اجازت فرمائیں کہ میں ان کا سر(جو خلیفہ دوّم کے بیٹے بھی ہیں) قلم کردوں تاکہ دوسروں کو بھی اندازہ ہو جائے کہ یہ کوئی شوخی اور مذاق نہیں ہے اور رو رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔امیرالمومنین علیہ السلام ہنسے اور فرمایا : نہیں جانے دو یہ شخص جوانی میں بھی بد اخلاق تھا اور آج جب بوڑھا ہو چکا ہے پھر بھی وہی حال ہے۔اس دن ’’مالک اشتر‘‘ نے وہ تاریخی جملہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے عرض کیا اور کہا: یا امیرالمومنین علیہ السلام ! انھیں نہیں معلوم کہ آپ کے پاس بھی تلوار و تازیانہ ہے،لہذا اجازت دیں میں ایک کا کام تمام کر دوں تاکہ یہ اپنی اوقات کو سمجھ سکیں۔

یاد رکھیئے یہ غلط فہمی ہے لوگوں کو کہ وہ خیال کرتے ہیں حکومت اسلامی،شمشیر و تازیانے سے کام نہیں لیتی،اس میں روک ٹوک نہیں پائی جاتی ،بلکہ یہ خیال خام ہے وہ تو بلا تکلف مجرمین کو سزا دیتی ہے کیونکہ یہ کام خدا کا کام ہے جس میں کوئی رو رعایت ہے ہی نہیں،وہ لوگ جو اس طرح حکومت اسلامی کے مقابلے کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں یا وہ لوگ جو مقابلہ تو نہیں کرتے مگر کسی خدمت کے لئے بھی تیار نہیں ہیں،انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی روش میں نظر ثانی کریں اور اپنی اصلاح کریں۔اور اس نظام و مملکت اسلامی کی قدر کریں ،ذرا کوئی بتائے توسہی اس طول تاریخ میں کب اسلام آج کی طرح سے اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر حکومت و سلطنت کر سکا اور دنیا میں اپنا لوہا منوا کر عزّت و وقعت کمائی؟ لہذا یہ ایک سنہری موقع ہے جسے ہم سب کو غنیمت جاننا چاہیے۔(۴) ۔

علی علیہ السلام کی یہاں کوئی ساز باز ممکن نہیں!

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنی پوری زندگی اور دوران حکومت ثابت کر دیا کہ وہ ایک ثابت قدم اور استوار انسان ہیں جو کسی معاملے میں کوئی سمجھوتہ یا ساز باز سے کام نہیں لیتے اور وہ واقعی ایک اصول پسند آدمی ہیں؛میں ان کی اسی صفت کے دو نمونے آج مختصر طور پر آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں : نمبر۱۔احکام اسلامی میں آپ کا اٹل رہنا اور کوئی سمجھوتہ نہ کرنا۔امیرالمومنین علیہ السلام کسی قیمت پر احکام اسلام۔یعنی وہ چیز جس کا حکم قرآن دے رہا ہے،اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا حکم فرمایا ہے اور مسلمانوں نے اسے سمجھا اور جانا پہچانا ہے۔حاضر نہیں تھے کہ کوئی تغیر و تبدل پیش آئے چاہے وہ مصلحت و مفاد پرستی کی وجہ سے ہو یا پھر ’’اجتہاد بہ رائے‘‘ کی بنیاد پر یہ تبدیلی ہو۔حضرت امیرعلیہ السلام سے قبل،خلفائ ’’ اجتہاد بہ رائے ‘‘ کو جائز سمجھتے تھے اور خود برادران اہلسنت بھی اسے مانتے ہیں۔امیرالمومنین علیہ السلام اس ’’اجتہاد بہ رائے‘‘ کو ناقابل قبول سمجھتے تھے آپ تنہا ،’’کتاب خدا اور سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ یعنی قرآن اور قول و فعل پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔پر عمل کرنے کو قبول رکھتے تھے ۔آپ ذرا تاریخ میں ان کی مثالوں اور نمونوں کو کھنگالیں اس وقت آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ امیرالمومنین علیہ السلام جو کہ ساز باز کو پسند نہیں کرتے تھے ان کی انقلابی حکومت کے لئے درد سر کا نقطہ آغاز کہاں پر ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بیت المال کی تقسیم برابر سے تھی یہ کوئی نہیں کہتا تھا کہ فلاں،پہلے ایمان لائے ہیں،جو پہلے مسلمان ہوئے تھے یا جو بعد

میں مسلمان ہوئے تھے، اور وہ جو مکے سے ہجرت کر کے آئے تھے، جو مدینہ میں تھے یا جو صالح تھے ، جو ان پڑھ تھے سب کے سب بیت المال سے اپنا اپنا وظیفہ دریافت کرتے تھے ان میں کوئی تفریق نہیں تھی، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان چیزوں کو امتیاز نہیں مانتے تھے تا کہ اس وجہ سے کسی کا حصہ زیادہ نہ ہو، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو گئی،خلافتِ حضرت ابوبکر دو سال سے کچھ زیادہ مدّت تھی۔یہی صورتحال رہی کہ تقسیم بیت المال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،خلافت عمر بن خطاب کے دوران ایک مدت تک یہی صورتحال رہی مگر کچھ زمانے بعد خلیفہ دوم کے ذہن میں آیا کہ بہتر ہے مسلمانوں میں جو ظاہری امتیاز پائے جاتے ہیں اس کی بنیاد پر ایک کو دوسرے پر ترجیح دوں،یہ وہ چیز تھی جس کے بعض مسلمان بھی حامی تھے اور عمر بن خطاب کے اعتقاد میں بھی یہ اسلامی سماج اور مسلمانوں کے حق میں ایک مثبت قدم تھا،اور سابقین و غیر سابقین ، جو پہلے مسلمان ہوئے تھے اور جوبعد میں اسلام لائے تھے وہ آخر یکساں طور پر بیت المال سے کیوں استفادہ کریں؟ جو پہلے اسلام لائے تھے۔مہاجرین و انصار کے مابین فرق کیا جائے لہذا انھوں نے کہا مہاجرین انصا ر پر فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ مھاجرین مکہ میں دورانِ سختی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ تھے اورانہوں نے جنگ کی لیکن انصار جب حکومت اسلامی کا قیام ہوا اسوقت مسلمان ہوئے ہیں،اس کے علاوہ مھاجرین کے درمیان بھی جو قریش تھے ان کو غیر قریش پر حق تقدم حاصل تھا،قبائل کے درمیان مضر جو عرب کا مشہور قبیلہ تھا اس کو قبیلہ ربیعہ پر ترجیح دی، مدینہ کے مشہور و معروف قبائل میں اوس کو خزرج پر فضیلت دی، بہرحال ان کے ذہن میں اس کی ایک توجیہہ تھی کہ میرا خیال ہے یہ تفریق و امتیاز بیسویں ہجری یعنی آغاز خلافت عمر سے سات۷،آٹھ ۸ سال بعد یہ کام شروع ہوا وہ ان کا کہنا تھا میں نے اس لیے یہ تفریق کی تا کہ دلوں میں الفت ایجاد کر سکوں ،گویا وہ خیال کررہے تھے یہ کام ہونا چاہیے اور اپنی نظر و ’’اجتہاد بہ رائے‘‘ کی وجہ سے یہ کام انجام دیا کہ زندگی کے آخری مہینوں میں اپنے کام پر عمر کو شرمندگی تھی کہ میں نے عبث(فضول) یہ کام کر ڈالا وہی روش اچھی تھی جو زمان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں رائج تھی اور بعد میں ابو بکر کی خلافت میں بھی رائج رہی اگر میں زندہ رہا تو پھر سے وہی روش اپناوں گا اور مسلمانوں کے درمیان برابری کروں گا،البتہ عمر زندہ نہیں رہے اور انھیں ایام یا مہینوں میں چل بسے۔

عمر کے بعد خلافت عثمان کے زمانے میں خلیفہ موجود کی عدم قوت ارادی وجہ سے یہ روش اور پھیل گئی،اور بعض لوگوں نے تو مختلف بہانوں ،مختلف عنوان کے تحت بیت المال سے خوب فائدہ اٹھایا اور دوران خلافت عثمان بارہ ۱۲سال یہی عمل جاری رہا۔

حفاظت بیت المال میں پر عزم :

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے مسند خلافت پر متمکن ہوتے ہی جب خطبہ دیا تو سب سے پہلے جو باتیں فرمائیں اس میں سے ایک یہ تھی’’واللہ لو وجدتہ تزّوج بہ النّسائ‘‘ اگر یہ بیت المال بغیر کسی حق یا استحقاق کے کسی مسلمان کو دیا گیا، اگر اس پیسے سے عقد کیا گیا،کسی عورت کا حق مہر دیا گیا ،کوئی کنیز خریدی گئی اور مثلاً اس سے صاحب فرزند ہوئے ان سب کے باوجود میں ان غصبی پیسوں کو بیت المال تک لوٹا کر رہوں گا! یہ ہے امیرالمومنین علیہ السلام کا عزم راسخ جو حکم خدا اور سنّت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلسلے میں آپ انجام دے رہے ہیں۔البتہ امیرالمومنین علیہ السلام بھی یہاں مصلحت سے کام لے سکتے تھے مگر کوئی مصلحت اندیشی درمیان میں نہیں آنے دی یہی وجہ ہے کہ آپ نے طلحہ و زبیر سے ایک ہی جملے میں اپنی ساری پالیسی پیش کر دی کہ جس سے ساری چیزیں انسان کے لیے واضح ہو جاتی ہیں طلحہ و زبیر آپ کی خدمت میں آئے کہنے لگے یا امیرالمومنین علیہ السلام ! آپ ممالک کے حکام اور عاملین کے نصب و عزل میں ہم لوگوں سے کیوں مشورہ نہیں لیتے؟ آپ ہم لوگوں سے اس سلسلے میں رائے ،مشورہ لیا کریں۔حضرت امیرعلیہ السلام نے فرمایا؛ جو خلافت تم لوگوں نے میرے اوپر لاد دی ہے اس کو ذرّہ برابر بھی نہیں چاہتا تھا اور اب جبکہ یہ ذمہ داری میرے کاندھوں پر آہی گئی ہے ’’فلّما افضت الی ‘‘(۵)

تو جس وقت خلافت میرے ہاتھوں آئی’’نظرت اليٰ کتاب الله وما وضع لنا و امرنا بالحکم به فاتبعة ‘‘(۶) میں نے قرآن میں غور و فکر کیا دیکھا وہ ہمارے لیے قوانین و دستورات پیش کرتا ہے اور میں نے اسی قوانین کی پیروی کی،’’وما استسن النبی صلی الله علیه وآله وسلمفاقتدته‘‘ (۷) میں نے سنّت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو جو آپ نے اپنے زمانہ حکومت میں طریقہئ کاراپنایا تھا میں نے اسے بھی دیکھا اور اس پر عمل درآمدکیا،’’فلم احتج فی ذالک الیئ آیکما ولائ آی غیر کما‘‘ (۸) تو پھر مجھے کسی سے رائے و مشورہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی پھر تم لوگوں سے میں کیا مشورہ لیتا! اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت رائے ومشورے کے مخالف تھے ؛نہیں بلکہ وہ یقینا مشورہ کرتے تھے اور ان کی زندگی میں جابجا مشورے نظر آتے ہیں۔بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ ایک ممتاز طبقہ جو خلیفہ سوّم کے زمانے میں بیت المال اورمسائل مسلمین ،میں تصرف اور اپنی رائے پیش کرنے کاحق سمجھنے لگا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حاکم اسلامی کو اس طبقہ ممتاز کی پیروی کرنا چاہیے۔حضرت اس گروہ کو مردہ سمجھتے تھے اور حضرت جس چیز کو حجت سمجھتے تھے خود کو اس کا پابند جانتے تھے اور وہ کتاب اللہ و سنت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔یہ آپ کی ثابت قدمی اور راہ حق میں بے خوف و خطر ہو کر ساز باز سے پرہیز کرنے کی دلیل ہے۔

آپ نے سارے احکام اسلامی کے مقابل یہی رویہ اپنایا چاہے وہ ’’نماز تراویح‘‘ کا مسئلہ ہو یا دیگر مسائل ،وہ چیزیں جو گذشتہ خلفائ کے نزدیک ازروئے اجتہاد (کہ وہ اجتہاد بہ رائے کو حجتّ جانتے تھے )اور دینی حیثیت سے لوگوں کی زندگی میں وارد ہو چکا تھا امیرالمومنین علیہ السلام نے ان سب کو لغو قرار دے دیا،اور پوری قاطعیت کے ساتھ آپ جس چیزکو اسلام سمجھتے تھے قرآن و سنّت سمجھتے تھے اس پر عمل پیرا تھے یہ آپ کی قاطعیت واستواری عمل کا ایک اور نمونہ ہے۔

بے جا توقعات کے مقابلہ میں اٹل رہنا:

ایک دوسرا نمونہ جو آپ کی ثابت قدمی اور قاطعیت کی دلیل ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کی بیجا توقعات کہ طلحہ و زبیر کا قصہ اس سلسلے میں آپ پڑھ چکے ہیں اور اس کے علاوہ بھی کچھ نمونے ہیں۔آپ جیسے ہی خلافت پر بیٹھے لوگوں کی توقعات منہ پھیلائے سامنے آگئیں،اسلام کے مشہور و معروف چہرے جن کی توقعات پوری نہیں ہوئیں وہ حضرت سے دور ہوتے گئے طلحہ و زبیر،سعد بن ابی وقاص،عبدالرحمن بن عوف اور اسی قسم کے بعض دیگر لوگ کہ جو مشہور و معروف بھی تھے،صحابی بھی تھے،محترم اور بزرگ بھی مانے جاتے تھے مگران کی حیثیت ایک ضعیف و کمزور انسان سے زیادہ کچھ نہ تھی۔کبھی کبھی انسان کی خواہشات نفس مقدر ساز جگہوں پرانسان کی بصیرت سلب کر لیتی ہے اور جو عمل اس کی بصیرت کے مطابق ہونا چاہیے یہ نفس اس کے درمیان فاصلہ ڈال دیتا ہے اور وہ درست فیصلہ لینے سے عاجز ہو جاتا ہے یہی وجہ تھی کہ بعض لوگ امیرالمومنین علیہ السلام کو چھوڑ کر چلے گئے میں گمان نہیں کر سکتا کہ آج دنیائے اسلام میں حتی ایک شخص بھی پایا جائے جو ان اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر امیرالمومنینعلیہ السلام کو چھوڑ جانے پر ملامت نہ کرے البتہ جو لوگ اس دوری اختیار کرنے کو عیب نہیں شمار کرتے وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے توبہ کر لی تھی یا غلطی کی تھی مگر یقینا کوئی ایسا نہیں کہ جو اس کام کو سراہتا ہو۔اس غیر پسندیدہ کام کو بہتوں نے انجام دیا ہے؟ اس لئے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام لوگوں کی توقعات کو تسلیم نہیں کرتے تھے،انھیں بیجا توقعات میں سے یہ بھی ایک توقع تھی کہ معاویہ کو فی الحال ہٹایا نہ جائے اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام معاویہ کو لمحہ بھر کے لئے حکومت اسلامی میں دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔

معاو یہ کے بار ے میں اھل سنّت کا نظر یہ:

میں ایک بار پھر اس مجمع میں موجود تمام شیعوں کی خدمت میں (کہ اس ملک میں آپ کی اکثریت ہے)اور دیگر ممالک میں رہنے والے شیعہ حضرات کی خدمت میں تاکید کر دینا چاہتا ہوں،کہ ہماے سنی برادران معاویہ کے سلسلے میں ۲ دو نظریے رکھتے ہیں ایک گروہ معاویہ کو مانتا ہے دوسرا گروہ نہیں مانتا،شافعی مسلک کے سنّی برادران زیادہ تر معاویہ کو قبول نہیںکرتے،یہاں تک کہ معاویہ کے بارے میں کتابیں لکھیں ہیں،مصر کے مشہور و معروف مصنف’’عباس عقاد‘‘ نے معاویہ کے بارے میں ایک کتاب ’’معاویہ فی المیزان‘‘لکھی ہے جس میں معاویہ کو تولا ہے ایک نہایت عجیب و غریب کتاب جس میں معاویہ کے کردار کا تجزئیہ کیا ہے، البتہ بہت سے برادران اھل تسنن جو حنفی مسلک ہیں اورہمارے ملک کی جنوبی اور مشرقی سرحدوں پر آباد ہیں۔اور اسی طرح عالم اسلام میں زندگی گذار رہے ہیں یہ لوگ معاویہ کو مانتے ہیں،اور ہم لوگ کہ جو معاویہ کو نہیں مانتے ان کے احساسات کو مجروح بھی نہیں کرنا چاہتے اور ان کی رائے کااحترام کرتے ہیں ہم اُن کی توہین نہیں کرتے،مگر جو تاریخی حقائق ہیں اس کو بیان کئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔حضرت امیرالمومنین علیہ السلام معاویہ کو قبول نہیں کرتے تھے حضرت امیرعلیہ السلام ،اور معاویہ کا کوئی تقابل ہی نہیں تھا۔یہ تو تاریخ اور زمانے کے بدترین مظالم میں سے ایک ظلم تھا کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا معاویہ سے موازنہ کیا گیا۔اس لیے نہیں کہ معاویہ نے اپنی حکومت میں سیاہ کارنامے انجام دئیے یا حضرت امیرعلیہ السلام کے ساتھ کیا نہیں کیا بلکہ یہ موازنہ اس لیئے غلط ہے کہ خود اس کی شخصیت اس قابل نہیں ،چاہے اسے قبل از خلافت حضرت امیرعلیہ السلام دیکھا جائے یا بعد از خلافت۔

امیرالمومنین علیہ السلام اس ذات کا نام ہے کہ جو اسلام کی کرن پھوٹتے ہی ایمان لائے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ’’قولوا لا الہ الا اللہ ‘‘ جاری ہونے کے بعد مردوں میں اگر کسی نے یہ دعوت قبول کی ہے تو وہ علی علیہ السلام ہیں اور پھر تادم مرگ یعنی ۵۰ پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک حضرت علیہ السلام اسی راہ میں عاشق صادق کی طرح ڈٹے رہے ،جہاد کیا،ہزاروں مرتبہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا،پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان سے دفاع کیا مقدسات اسلامی کی پاسبانی کی، مومنین واقعی اور مخلصین کی جان بچائی ساری زندگی زحمت و رنج اٹھاتے رہے ایک شب بھی آسودہ خاطر ہو کر نہ سو سکے،اور اسی ایماںکی وجہ سے مکہ میں ۱۳ تیرہ سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے اور مدینہ میں ۱۰ دس سال تک تمام آزمائشوں ،مشکلات و حوادث میں حضرت کے شانہ بشانہ ،سایے کی طرح ساتھ ساتھ تھے۔یہ تو رہا سکّے کا ایک رُخ اُدھر آپ کا علم،معرفت ،تقویٰ و پارسائی ،جہاد ،دنیا سے بے توجہی،زہد کہ جب یہ ساری خصوصیتں سامنے آتی ہیں تو ذہن میں ایک عظیم انسان کا تصور ابھرتا ہے۔اب آ کے ذرا معاویہ کو بھی دیکھ لیجئے،یہ وہی شخص ہے کہ جس وقت امیرالمومنین علیہ السلام ایمان لاتے ہیں یہ ایمان سے کوسوں دور تھا،حضرت امیرعلیہ السلام نے اسلام کا دفاع کیا اور اس کے باپ،بھائی،خاندان والے اور خود یہ بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،امیرالمومنین علیہ السلام اور اسلام کے مقابلے میں صف آرائی کئے ہوئے تھے،پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری ۱۳ تیرہ سالہ مکی زندگی میں گروہ ابو سفیاناور اس کے بیٹے جنگ و جدال کر رہے تھے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکے سے ہجرت کر کے مدینہ آگئے پھر بھی یہ لوگ اپنی حرکت سے باز نہیں آئے اور مستقل فتنہ پروری کرتے رہے اور جنگ کرتے رہے بدر واحد،خندق کو ان ساری جنگوں میں کہ ۸ آٹھ ہجری تک سر اُٹھاتی رہیں ہیں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت و مدد کے لئے ساتھ ساتھ تھے معاویہ آپ کے مقابل جنگ و جدال کر رہا تھا،یہاں تک کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا۔اور اب ان سب کو مایوسی ہو گئی۔اس وقت ابو سفیان اسلام کے مقابل جھکا اور سارے مغلوبین نے بنا بر مجبوری اپنے سر اسلام کے سامنے جھکادئیے کہ جس میں سے ایک معاویہ بھی تھا!

آپ ذرا غور تو فرمائیں ان دو شخصیتوں کے حالات کہ ان میں سے ایک ابتدا سے ہی اسلام کو اپنے آغوش میں لے لیتا ہے ،اسے پروان چڑھاتا ہے،اس کی حفاظت کرتا ہے اس راستہ میں تلوار چلاتا ہے یہاں تک کہ اسی شمشیر زنی کے نتیجہ میں ایک دن مکے کی فتح نصیب ہوتی ہے جب کہ دوسرا شخص وہ ان ساری مدتوں میں ایمان سے بے بہرہ اسلام سے دور،اس سے جنگ و جدال کرتا ہے اور جب مکہ فتح ہوتا ہے تو وہ بھی ایمان لیے آتا ہے یعنی جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غالب ہو جاتے ہیں تو یہ تسلیم ہو جاتا ہے اور یہ صورتحال جو میں نے بیان کی ہے اس سے دونوں اشخاص کے مابین ایک بڑے فاصلے کو سمجھا جا سکتا ہے بہرصورت امیرالمومنین علیہ السلام کسی لحاظ سے بھی معاویہ کو ولایت و امارت اسلامی کے لیے مناسب نہیں سمجھتے تھے لہذا آپ جیسے ہی برسرِ خلافت پر بیٹھے معاویہ کو معزول کر دیا جب کہ اس سے قبل سالہا سال سے اس کے قبل اسکا بھائی،یزید بن ابوسفیان ،پھر معاویہ خود ۔شام میں حکومت کر رہا تھا حضرت نے اسکو معزول کر دیا! حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے کچھ لوگوں نے کہا،آپ اس قدر معاویہ کو معزول کرنے میں جلد بازی نہ کریں،ذرا اپنی حکومت کے پائے مستحکم کر لیجئے پھر یہ کام کریں فرمایا’’اقامرونی ان اطلب النصر بالجور(۹) اورپھروہ حضرت سے علیحدہ ہو گئے اگرچہ دشمنوں سے بھی جا کر نہیں ملے کہ اس کی توقع بھی ان سے نہیں تھی۔

تاریخ میں جس قدر غور و غوض کریں آپ کو ایسی بہت سے مثالیں علی علیہ السلام کی حیات طیبہ میں نظر آئیں گی۔تو آیئے ہم بھی اپنی زندگی میں ان سب باتوں کو جگہ دیں اور حضرت کی اتباع میں اپنے رفتار و اعمال کی تصحیح کریں۔(۱۰)

تم مجھے حساب دو:

اس سے پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ ’’عبداللہ بن عباس‘‘ آپ کے چچا زاد بھائی،شاگرد،محب اور ان افراد میں سے ہیں جن کو دوسروں کی بہ نسبت امیرالمومنین علیہ السلام کی مصاحبت کا زیادہ شرف حاصل ہے، اور آپ کی جانب سے بصرہ کے والی بھی مقرر ہوئے تھے،اور اگرچہ یہ واقعہ آپ کی زندگی میں رونما ہوا اور نہج البلاغہ میں اس کا تذکرہ بھی ملتا ہے اور حضرت امیرعلیہ السلام نے اس پر شدید رد عمل بھی ظاہر کیا تھا مگر وہ آخر تک آپ کے مرید رہے بلکہ آپ کے مبلغ اور وفادار اور آپ کی عقیدت و محبت کے منادی تھے اور آپ کی رفاقت سے تاحیات منہ نہیں موڑا۔

واقعہ یہ ہے کہ حضرت علیہ السلام کو خبر ملی کہ ’’عبداللہ بن عباس‘‘ نے بیت المال کا کچھ بیجا تصرف کیا ہے لہذا حضرت نے ایک خط میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ تم مجھے اس کا حساب دو! ذرا توجہ کریں حضرت نے یہاں یہ نہیں دیکھا کہ وہ میرے چچا کے لڑکے ہیں اگر میں ان سے حساب و کتاب کے لیے کہوں گا تو انھیں برا لگے گا وہ اسے اپنی اھانت سمجھے گا۔جب ہم جانتے ہیں کہ ہر آن فردی یا اجتماعی ذمہ داری رکھنے والا کوئی بھی شخص لغزش کر سکتا ہے ،راستے سے بھٹک سکتا ہے تو پھر اس میںلحاظ کرنا،تکلفات سے کام لینا وغیرہ خود اپنی جگہ ایک بیجا چیز ہے۔کسی کی ناراضگی کے ڈر سے اپنی یہ ذمہ داری پوری نہ کرنا غلط ہے اس لیے کہ حساب و کتاب لینا یا ذمہ داران مملکت پر نظر رکھنا،ایک ذمہ دار حاکم کا فریضہ عینی ہے۔

تقسیم مناصب اور عہدے سے برخواست کرتے و قت علی علیہ السلام کے اٹل فیصلے:

یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ہر عہدہ و منصب ہر ایک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا قانون اور ضابطے کے تحت عہدہ لیتے وقت شخص کے لیے اس عہدے کی اہلیت رکھنا ضروری ہے۔اور حضرت امیرعلیہ السلام کی حکومت میں اس بات کا خیال رکھا جاتا تھا۔انھیں موارد میں سے ایک موردیہ بھی ہے کہ جب حاکم شام کی طرف سے مصر کی حکومت پردشمنوںکے حملہ بڑھنے لگے اور حضرت کو یہ احساس ہونے لگا کہ والی مصر حضرت محمد بن ابی بکر جو حضرت کے مخصوص شاگردوں او ر دوستوں میں سے تھے ۔مصر کی حکومت کو نہیں سنبھال سکتے اور وہاں کسی قوی و طاقتور شخصیت کی ضرورت ہے تو آپ نے مالک اشتر کو مصر کا والی بنا دیا اگرچہ جناب مالک اشتر مصر جاتے وقت راستے ہی میں دشمن کے ناپاک عزائم کا شکار ہو کر شہید ہوگئے اور مصر تک نہیںپہنچ سکے مگر جب حضرت کو یہ احساس ہوا کہ مالک اشتر اس کام کے لیے زیادہ اہل ہیں تو انھیں فوراً مصر روانہ کر دیا اور محمد بن ابی بکر کو وہاں کی حکومت سے معزول کر دیا۔بہر حال آپ بھی بشر اور ایک انسان تھے۔ اس لیئے آپ کو برا لگا اور حضرت کو ایک شکایت آمیز خط لکھا۔ حضرت آپ کو اپنا بیٹا بنا چکے تھے اور آپ سے غیر معمولی محبت کرتے تھے مگر جواب میںلکھا ’’میں نے چونکہ مالک اشتر کو اس عہدے کے لیے زیادہ اھل پایا اس لیے تمھیں معزول کر کے انھیں بھیج رہا ہوں، میں تم سے بدگمان نہیں ہوں ہاں البتہ مالک اشترکو اس جگہ کے لیے بھیج دیا ہے اس لیے نہیں کہ میں نے تم کو حقیر جانا ہے یا تم سے مجھے کوئی بدگمانی ہو گئی ہے‘‘یہ ہے علی علیہ السلام کا اٹل فیصلہ(۱۱)

____________________

۱۔خطبات نماز جمعہ،۱۹ ،رمضان ۱۴۱۶ھ

۲۔ خطبات نماز جمعہ تہران ،۱۴۶۳ ھ ش۔

۳۔بحارالانوار،ج ۳۲۔ص ۴۰۶

۴۔حدیث ولایت۔ج ۴،ص ۳۲۔۳۱

۵۔ نہج البلاغہ خطبہ ۲۰۵

۸،۷،۶،نہج البلاغہ ،خطبہ ۲۰۵

۹۔نہج البلاغہ،خطبہ ۱۲۶

۱۰۔حدیث ولایت،ج ھفتم۔ص ۱۷۷۔۱۷۶

۱۱۔جنگ جمل


حضرت پر تھوپی جانے والی جنگیں:

خلافت امیرالمومنین علیہ السلام کے دوران تین ۳ جنگیں ایسی ہیں جو زبردستی علی علیہ السلام پر تھوپی گئیں اور آپ نے کسی جنگ میںبھی پہل نہیں کی ۔

۱۔جنگ جمل

یہ وہ جنگ ہے جس کے سردار اسلام کے دو بڑے سردار پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی اور اپنے وقت کے جانے پہچانے دو ۲ نورانی چہرے طلحہ و زبیر تھے ۔حضرت کو معلوم ہوا کہ ان لوگوں نے بیعت توڑ دی ہے اور بصرہ گئے ہوئے ہیں اور اپنے ساتھ ام المومنین عائشہ کو بھی مدینے سے پٹی پڑھا کر مکے اور پھر مکے سے بصرہ لے گئے جب کہ یہ لوگ پہلے علی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے ،اس وقت امیرالمومنین علیہ السلام ایک عظیم لشکر لے کر ان کے مقابلے کیلئے نکلے مگر آپ نے صف آرائی سے پہلے ان کو صلح و آتشی کی دعوت دی اور چاہا کہ مسلمانوں میں خونریزی کے بغیر یہ معاملہ سلجھ جائے اس لیے آپ نے نرم رویہ اپنایا اور مذاکرہ کرنے کے لیئے ابن عباس کو زبیر کے پاس بھیجا اور ان کو یہ ھدایت دی کہ دیکھو طلحہ کے پاس نہ جانا اس لیے کہ وہ ایک تند خو آدمی ہے اور اس کے مقابلہ میں زبیر کچھ نرم خو انسان ہیں’’ولکن الق الزبیر ‘‘(۱) ذرا دیکھئے انداز امیرالمومنین علیہ السلام کیا ہے فرماتے ہیں ’’ولکن العین عریکة ‘‘(۲) زبیر نرم خو ہیں،’’فقل له بقول لک ابن خالک ‘‘(۳) تو تم جا کے زبیر سے کہو کہ تمہارے ماموں کے بیٹے تم سے کہہ رہے ہیں زبیر امیرالمومنین کی پھوپھی کے بیٹے اور امیرالمومنین زبیر کے ماموںکے بیٹے ہیں اور اوائل بعثتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ دونوں ایک دوسرے کے قدیمی دوست تھے مکہ مدینہ اور جنگوں میں ساتھ ساتھ تھے اور قتل عثمان کے بعد طلحہ اور زبیر دونوں نے آکر حضرت کے ہاتھوں پر بیعت کی ہے،اب حضرت اس نرمی اورمحبت سے گفتگو کر رہے ہیں کہ تمہارے ماموں زاد بھائی تم سے یہ کہہ رہے ہیں’’عرفتنی بالحجاز و انکرتنی بالعراق ‘‘ کہ آخر تم کو کیا ہو گیا کہ حجاز میں تم نے مجھے پہچانا اور جب عراق میں آئے تو جیسے تم مجھے نہیں جانتے !؟ یعنی وہاں تو تم نے مجھے خلیفہ مسلمین سمجھ کر میرے ہاتھ پر بیعت کی مجھے امیرالمومنین مانا لیکن آج عراق میں اسی بات کو تم نے بھلا دیا، اورمجھے پہچاننے سے انکار کر دیا؟ ’’فماعدا مما بدا ‘‘(۴) تم خود بتاو تو سہی آخر تم نے کیوں بیعت شکنی کی؟ آخر میں نے کیا کیا ہے جو تم آج جنگ کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ امیرالمومنین کا زبیر سے خطاب کا یہ انداز تھا! البتہ خود آپ نے زبیر سے گفتگو بھی کی مگر اس کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔اس کے بعد پھر امیرالمومنین نے میدان جنگ میں زبیر کو پکارا اور ان سے گفتگو کی البتہ یہاں حضرت علیہ السلام کی بات موثر ثابت ہوئی اور زبیر جنگ کئے بغیر میدان چھوڑ کر باہر چلے گئے۔اتفاقاً راستے میں کسی نے زبیر کو دیکھا اور قتل کر دیا امیرالمومنین کو اس کا بہت افسوس ہوا اور آپ نے ان کے قتل پر رنج و غم کا اظہار فرمایا،جنگ جمل میں آپ کے ساتھ یہ صورتحال پیش آئی کہ جب آپ نے دیکھا یہ لوگ آپ کی بات پر کان تک نہیں دھرتے تو پوری جرآت و ہمت کے ساتھ ان سے جنگ کی،بہت سے لوگ اس جنگ میں مارے گئے،کچھ اسیر ہو گئے اور کچھ فرارہو گئے۔جب آپ نے اسیروں پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا اموی حلیہ گروں کا اس جنگ میں بھی ہاتھ ہے مروان بن حکم جو معاویہ اور بنی امیہ کے نزدیک ترین افراد میں سے ایک تھا حضرت کے ہاتھوں جنگ جمل میں اسیر ہوا،اس نے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام سے التماس کی تا کہ وہ اپنے والد بزرگوار سے اس کی جان بخشی کروا دیں۔دونوں حضرات نے اس پر ترس کھا کر اپنے والد سے اس کی سفارش کی اور حضرت نے اس سے بیعت لئے بغیر آزاد کر دیا! یہ ہے جمل کا قصہ!

۲۔جنگ صفین

آنجناب پر تھوپی جانے والی ایک دوسری جنگ صفین ہے جو سخت ترین جنگ تھی، یہ اس وقت کی بات ہے جب امیرالمومنین علیہ السلام نے معاویہ سے شام کی حکومت چھوڑ دینے کا حکم صادر کیا تھا،اصولاً معاویہ کو آپ کا یہ حکم قبول کرنا چاہیے تھا کیونکہ مسلمانوں کاخلیفہ اسے برخواست کر رہا تھا اور اس کے پاس عقلی،منطقی،یا حدیث و سنت اور شرع سے کوئی دلیل نہیں تھی جس کی بنا پر وہ اس منصب کا حقدار ہوتا مگر وہ امام علیہ السلام کے حکم کے برخلاف اکڑ گیااور جنگ کرنے کے لئے تیار ہوگیا،امام علیہ السلام نے جب یہ صورتحال دیکھی شام کی طرف لشکر لے کر چل پڑے اور صفین،میں دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابلہ میں آگئے پہلے حضرت علیہ السلام نے گفتگو سے اس مسئلہ کا حل نکالنا چاہا اور فرمایا اگر یہ ہماری نصیحت کو قبول کر لیں اور ہماری بات مان لیں تو پھر تلوار نہیں اٹھاوں گا؛لہذا حضرت نے جنگ کرنے کے بجائے پہلے پہل انھیں نصیحت کرنے کی کوشش کی اور مقابل مسلسل ہی شیطنت کرتا رہا اس کے باوجود امیرالمومنین علیہ السلام نے مسلمانوں کے خون کی حفاظت کی خاطر جنگ میں اس قدر تاخیر فرمائی کہ آپ کے بعض اصحاب نے یہاں تک کہ دیا ،یا امیرالمومنین علیہ السلام کیا آپ لشکر معاویہ سے خوف کھا رہے ہیں!جو لڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے! حضرت علیہ السلام نے فرمایا تم مجھے ڈر پوک سمجھتے ہو؟! جسنے عرب کے بڑے بڑے پہلوانوں کو مٹی چٹائی ،جس نے کبھی بھی میدان سے فرار نہیں کیا وہ جنگ کرنے سے ڈرے گا؟ ’’فوالله ما دفعت الحرب یوماً الا وانا اطمع ان تلحق بی طائفةُ فتهدی بی ‘‘(۵) جو میں جنگ میں دیر لگا رہا ہوں بخدا صرف اس لئے کہ شاید ان میں کا کوئی گروہ بصیرت پائے اور مجھ سے آملے اور اس طرح وہ گمراہی سے چھٹکارا پا جائے’’و ذالک احب الی من ان اقتلها علی ضلالها ‘‘(۶) اور میں اس بات کو زیادہ پسند کرتا ہوں کہ یہ گمراہی میں قتل ہونے کے بجائے میرے ہاتھوں ہدایت پا جائے اور وہ نجات یافتہ ہو جائے۔صلاحیت و قاطعیت کے ساتھ ساتھ امام کی شفقت و محبت کو ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ ان کا ارادہ یہ ہے کہ صفین میں کسی بھی صورت یہ فریب خوردہ،یہ گنہگار یہ غلطی پر اٹل ہو جانے والے امیرالمومنین علیہ السلام کے ہاتھوں،نجات پا جائیں،صحیح راستے پر آجائیں مگر معاویہ کے سپاہیوں نے آغاز ہی سے جنگ کو ہوا دی اور ایسے حالات پیدا کردئیے کہ جنگ میں کوئی شک و تردیدرہنے نہ پائے،انہوں نے آتے ہی سب سے پہلے نہر کے پانی کو اپنے قبضہ میں کر لیا جب کہ دونوں اس پانی کے برابر کے حق دار تھے جب حضرت علیہ السلام اپنے اصحاب کے ساتھ وہاں پہونچے تو دیکھا یہ چشمہ تو معاویہ کے قبضہ میں ہے ایک ۔۔۔خطبہ ارشاد فرمایا۔بہت مختصر مگر بہت ہی جامع و غرّا۔اور کہا ’’اور رو واالسیوف من الرمائ تروو امن المائ ‘‘(۷) یا تو تم لوگ یہ ننگ و ذلت قبول کرو اور پیاس سے ہلاک ہو جاو یا پھر اپنی تلواروں کو دشمن کے خون سے سیراب کرو تا کہ خود تم سیراب ہو سکو! یہ سن کر امیرالمومنین علیہ السلام کے سپاہیوں نے دشمن پر حملہ کر دیا، گھاٹ کو اپنے قبضہ میں کر لیا اور دشمن کو پیچھے دھکیل دیا۔خود بھی سیراب ہوئے اور دشمن کو بھی پانی سے منع نہیں کیا یعنی دشمن کی گھناونی حرکت خود انجام نہیں دی۔ اور ان کے لیے گھاٹ پر کوئی پہرہ نہیں لگایا،مگر معاویہ کے خیانت آمیز فشار اور دباو کی وجہ سے جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے قریب تھا کہ یہ جنگ علی علیہ السلام کے حق میں خاتمہ پائے مگر معاویہ اورعمر و عاص کی طے شدہ سازش کے تحت قرآن نیزوں پر اٹھا کر حکمیت جیسے المناک فیصلے پر اس جنگ کو بلا نتیجہ ختم کر دیا گیا۔جو اپنی جگہ تاریخ کی ایک تلخ داستان ہے۔

۳۔جنگ نہروان

صفین کی جنگ میں( حکمیت کے مسئلے میں اختلاف کے بعد) خوارج نے سر اٹھایا اور ان لوگوں نے امیرالمومنین علیہ السلام کے لیے ایک اور جنگ کی بنیاد ڈالدی قصہ یہ ہے کہ جب امیرالمومنین علیہ السلام کے سپاہیوں نے معاویہ کی افواج کو پیچھے دھکیل دیا اور ان پر سخت دباو ڈالا تو قریب تھا معاویہ اور عمر و عاص قتل کر دیئے جائیں اس موقع پر عمر و عاص نے ایک حیلہ اپنایا،اور قرآن کو نیزوں پر بلند کر دیا اور لوگوں کو قرآن پر عمل کرنے کی دعوت دی۔یہ اس لئے تا کہ وقتی طور پر جنگ کو روکا جا سکے،یہ حیلہ دنیا میں آج بھی رائج ہے کہ جیسے ہی کسی پر دوسرے لشکر کا دباو بڑھنے لگتا ہے فوراً صلح و صفائی کی آوازیں اٹھنے لگتی ہیں چاہے یہ آواز اٹھانے والے خود تجاوز کرنے والے ہی کیوں نہ ہوں؟ جیسا کہ عراق ایران جنگ میں جب عراق نے ایران پر حملہ کرنے کے بعد ایرانی فوج کا دباو محسوس کیا تو پھر صلح کی پکار کرنے لگے جب کہ خود وہی لوگ جنگ کی آگ بھڑکانے والے تھے بعینہ یہی کام صفین میں لشکر معاویہ نے انجام دیا مگر یہ بات ظاہر تھی کہ امیرالمومنین علیہ السلام اس دھوکے میں آنے والے نہ تھے! جب کہ ادھر مالک اشتر جنگ کرتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے تھے ؛مگر کچھ کم ظرف ،کوتاہ فکر دینداری سے ایک خشک تاثر رکھنے والے مسلمان حضرت پر دباو ڈالنے لگے کہ آخر یہ لوگ صلح کرنا چاہ رہے ہیں آپ کیوں قرآن کا احترام نہیں کرتے؟وہ قرآن فیصلے کے لئے پیش کر رہے ہیں آپ کیوں اسے حَکَم نہیں مانتے؟ یہ لوگ ظاہر کو دیکھ رہے تھے اور بد قسمتی سے ہر زمانے میں امت اسلامی کی ایک بڑی مشکل اور بڑی مصیبت یہی سادہ لوحی کج فکری اور کوتاہ فکری رہی ہے کہ کچھ لوگ حقائق کو صحیح طور پر سمجھنے سے عاجز رہے ہیں فقط ان کی نگاہیں ظاہر پر لگی ہوئی ہیں اسی قسم کے خشک مقدس کچھ سپاہی حضرت علیہ السلام پر دباو ڈال رہے تھے کہ آپ تسلیم ہو جائے یہاں تک کہ آپ کو تلوار سے قتل کر دینے کی دھمکی تک دے رہے تھے مگر حضرت کو اپنے ہی درمیان جنگ نہیں کرنا تھی (خود آپ اپنے لشکر میں خون خرابہ نہیں دیکھنا چاہتے تھے) آخر کار حضرت نے مالک اشتر کو واپس آجانے کا حکم دے دیا اور حَکَمیت جیسے مسئلے کی یہاںسے داغ بیل پڑی جو اہل شام کی طرف سے عمرو عاص کی سر کردگی میں انجام پا رہا تھا۔

کہا گیا فیصلے کے لئے ایک حَکَم شام کی جانب سے ایک اہل کوفہ کی طرف سے آگے آئیں اور یہی لوگ کہ جنہوں نے پہلے حضرت علیہ السلام کو حکمیت قبول کرنے پر مجبور کیا تھا،بعد میں خود اس کے منکر ہوگئے اور اسی مسئلے کو بہانہ بنا کر خود علی علیہ السلام کے مقابلے کے لئے آگئے کہ بعد میں انھیں تاریخ میں خوارج کے نام سے یاد کیا گیا۔۔البتہ خود خوارج کی دو قسمیں ہے۔ایک گروہ تو وہ ہے جو ان کے سردار و رہبر کی حیثیت سے اپنی خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کی تلاش و کوشش کر رہا تھا اور دوسرا گروہ عالم لوگوں کا تھا جو اپنی جگہ خشک دیندار اور کوتاہ نظر تھے۔

اشعث بن قیس خوارج کے سرداروں میں سے تھا جو جاہ و منصب کے لالچ و طمع میں اپنی خواہشات کی تسکین کیلئے شورش کر رہا تھا یہاں تک کہ معاویہ سے بھی در پردہ ساز باز کئے ہوئے تھے۔لیکن کچھ سادہ لوح، عوام بھی تھے جوا ن مفاد پرستوں کی خواہشات کا شکار ہو رہے تھے،اور اشعث جیسے لوگ ان کو جنگ کے لئے ورغلا رہے تھے اور جب امیرالمومنین علیہ السلام جنگ پر مجبورہو گئے تو اس وقت اپنا ایک پرچم نصب کیا اور فرمایا جو بھی اس پرچم تلے آجائے گا وہ امان میں رہے گا چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے لوگ اس کے نیچے آگئے اور حضرت نے انھیں معاف کر دیا اور بقیہ جو بچے ان سے جنگ کی۔

خشک و مقدس مآب افراد کا جتّھہ:

المختصر امیرالمومنین علیہ السلام کی چار سال اور ۹ ،۱۰ ماہ حکومت کے دوران ان پر تین تلخ جنگیں تھوپی گئیں،ایسی جنگیں کہ جس میں قریب قریب حضرت کے سارے مخالفین متحد ہو کر آپ سے لڑنے مرنے کے لئے تیار تھے،اس میں ایک گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور و معروف اصحاب جیسے طلحہ و زبیر کا تھا کہ جو امیرالمومنین علیہ السلام کے مقابلہ میں آگئے ۔ آپ کی قاطعیت اور سمجھوتہ نہ کرنا آپ کے مختصر سے دور حکومت کے لیے کس قدر درد سر کا سبب بنتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں بہت مناسب ہے اگر تھوڑا تھوڑا اس زمانے میں تاریخ کے اس عبرت انگیز پہلو کو بیان کیا جائے،اگرچہ ماہ رمضان کے ان خطبوں میں ممکن ہی نہیں کہ اس کی تشریح کی جا سکے اس کے لئے تو مخصوص وقت اور جلسات کی ضرورت ہے جس کے افراد کم اور چیدہ چیدہ ہوں اور پوری آگاہی و بصیرت کے ساتھ انصاف پسندی سے اس عبرت انگیز تاریخ کی تشریح کی جائے۔(۸)

آپ کے پاس کوئی گواہ ہے؟

اسلام میں قاضی کا ایک احترام ہے ۔حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ایک دن گلیوں اور کوچوں سے گذر رہے تھے دیکھا آپ کی ذرہ جو مدتوں سے غائب تھی ایک یہودی کے ہاتھ میں ہییا مثلاً پہنے ہوئے ہے۔حضرت اس کے قریب آئے فرمایا یہ میری ذرہ ہے۔اس یہودی نے انکار کر دیا امیرالمومنین علیہ السلام نے قاضی کے پاس چلنے کے لئے کہا اس نے آپ کی بات کو قبول کر لیا دونوں قاضی کے پاس پہنچے حضرت نے دعوی کیا کہ یہ میری ذرہ ہے جسے اس یہودی نے لے لیا ہے۔قاضی نے یہودی سے دریافت کیا کہ اس نے کہا کہ ذرہ علی علیہ السلام کی نہیں ہے،قاضی نے امیرالمومنین علیہ السلام سے کہا آپ کے پاس کوئی گواہ بھی ہے حضرت نے فرمایا نہیں میرے پاس کوئی گواہ نہیں!

قاضی نے کہا چونکہ آپ کے پاس کوئی شاھد نہیں اس لیے میں آپ کے حق میں فیصلہ نہیں دے سکتا حضرت قاضی کی بات سے مطمئن ہوگئے اور سکوت اختیار کر لیا اور پھر یہودی ذرہ لے کر اس جلسے سے خارج ہو گیا، حضرت اسی طرح کھڑے ہوئے اس یہودی کو دیکھ رہے تھے جو حکم اسلامی کی بنائ پر آپ کی ذرہ لے کر جا رہا تھا نہ تو آپ کوئی اعتراض کر رہے تھے نہ ہی آپ کوئی اعتراض کر سکتے تھے وہ یہودی کچھ دور گیا تھا کہ پھر کھڑا ہو گیا اورحضرت امیرعلیہ السلام کی خدمت میں آکر کہتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ بجز اللہ کے کوئی معبود نہیں اور آپ کا دین حق ہے اور آپ سچے ہیں۔(۹)

اجتماعی ذمہ داری کے لئے اسلامی معیارات:

امیرالمومنین علیہ السلام جنگ صفین جاتے وقت کسی منزل پر ٹھرے اور اپنی جوتی سی رہے تھے،ابن عباس وہاں پہنچے دیکھا مسلمانوں کا خلیفہ معاشرے کی سب سے اوّل درجے کی شخصیت کے جس کے ہاتھ میں لاکھوں کی رقم موجود ہے اپنے ہاتھوں ،پھٹی پرانی جوتی سی رہے ہیں امیرالمومنین علیہ السلام نے ابن عباس کی حیرت و تعجب دیکھ کر فرمایا:ابن عباس ذرا یہ تو بتاو میری اس جوتی کی کیا قیمت ہوگی؟ ابن عباس نے کہا ! اس کی کوئی قیمت نہیں؛آپ نے یہ سن کر فرمایا’’والله لهی احب انی من امرتکم ‘‘(۱۰) قسم بخدا یہ جوتی میری نگاہوں میں اس حکومت سے کہ جو تم پر کر رہا ہوں کہیں زیادہ محبوب اور قیمتی ہے یعنی اگر مقام و منصب حکومتی کو مادّی نگاہوں سے دیکھا جائے تو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی نگاہ میں اس کی حیثیت صفر ہے،مگر اس جملہ کے بعد فرماتے ہیں’’الّا ان اقیم حقّاً او ادفع باطل ‘‘ لیکن اگر میں اسی حکومت کے ذریعہ حق کا قیام کر سکوں یا باطل کو کچل سکوں تو پھر یہ حکومت ارزشمند و قیمتی بھی ہے ورنہ اس کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اس پھٹی پرانی جوتی سے بھی گئی گذری ہے!

آگاہی اور ثابت قدمی حضرت علی علیہ السلام کی دو ممتاز صفتیں:

اگر ہم امیرالمومنین علیہ السلام کے بارے میں بطور اختصار کچھ عرض کرنا چاہیں اور اس عظیم اور استثنائی انسان کے سلسلے میں تفصیل سے کہ جس کے بارے میں کتابیں بھی نا کافی ہیں ۔ تو سب سے پہلے یہ عرض کر دوں کہ امیرالمومنین علیہ السلام اپنی جگہ ’’نادرۃ الزمن‘‘ شخصیت کے حامل ہیں کہ آج اور گذشتہ تاریخ میں نہ شیعوں میں بلکہ تمام مسلمانوں کے درمیان بلکہ دنیا کے سارے آزاد اندیش غیر مسلمانوں کے درمیان میں بھی آپ محبوب رہے ہیں ایسی بہت کم بزرگ ہستیاں ہوںگی حتی کہ پیغمبرانِ الہی میں بھی کم ملیں گی کہ جن کی ستائش کرنے والے اس قدرافراد پائے جاتے ہیں جس قدر علی علیہ السلام کے ثنا خواں و مدح خواں پائے جاتے ہیں یہ اور بات ہے کہ ہماری معرفت تھوڑی اور بصیرت بہت کم ہے کیونکہ آپ کی شخصیت معنوی اعتبار سے غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے۔ہم کیا آپ کی تہہ در تہہ معنوی شخصیت کو خود بہت سے اولیائ خدا بھی درک کرنے سے قاصر ہیں ،لیکن اسی کے ساتھ آپ کی ظاہری شخصیت اس قدر جاذب نظر ہے اور آنکھوں کو لبھاتی ہے کہ حتی وہ لوگ جن کو معنوی اور روحانی چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہے وہ بھی آپ کی بزرگ شخصیت کے بارے میں معلومات حاصل کر کے آپ سے عشق و محبت کر سکتے ہیں۔امیرالمومنین علیہ السلام اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں چاہے وہ اوّل بعثت یعنی نوجوانی کا دور ہو یا پھر مدینہ کی طرف ہجرت کا زمانہ،(کہ اس وقت علی علیہ السلام صرف بیس ۲۰ یا پچیس ۲۵ سال کے تھے)۔ہو وہ رحلت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت دور ہو یا خود آپ کی حیات کا آخری دور کہ آپ جس زمانے میں خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے،ان تمام ادوار میں کہ جو تقریباً ۵ سال پر محیط ہے آپ ممتاز خصوصیتوں کے مالک رہے کہ سب کے سب خصوصاً ہمارے جوان ۔اس نکتے سے درس حاصل کر سکتے ہیں۔

غالباً تاریخ کی عظیم ہستیاں جوانی سے ہی بلکہ نوجوانی سے ہی کچھ خصوصیتیں،اپنے اندر اجاگر کرتی ہیں یا پھر وہ خصوصیات ان کے اندر پہلے سے موجود ہوتی ہے،عظیم شخصیتوں کی یہ خصوصیات و امتیازات ایک لمبی زحمتوں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور یہ بات ہم امیرالمومنین علیہ السلام کی حیات طیبہ میں ملاحظہ کرتے ہیں مجموعی طور پر جب میں امیرالمومنین علیہ السلام کی حیات پر نظر دوڑاتا ہوں اور اوّل زندگی سے لے کر ھنگام شہادت تک ان کی پرفراز وپرنشیب حیات کو دیکھتا ہوں تو پھر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ دو صفات’’بصیرت‘‘ اور ’’صبر‘‘ کے اس پورے دور میں مالک رہے ہیں،آگاہی اور ثابت قدمی وہ کبھی بھی لمحہ بھر کے لئے بھی غفلت اورانحراف فکری یا حق سے تعین میں اشتباہ کا شکار نہیں ہوئے ۔یہ بحیثیت انسان آپ کی زندگی پرایک نظر ہے نہ بحیثیت معصوم ورنہ معصوم کی خطا و کجی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔اس وقت کہ جب غار حرا اور کوہ نور سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں پر پرچم اسلام ہوا میں لہرایا اور کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا اور نبوت و رسالت کا آغاز ہوا علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اسی وقت سے حق کی تحریک کی حمایت کی اور تادم آخر اس پر ڈٹے رہے اور آنے والی ساری مشکلات کو اپنی جان کی قیمت کے بدلے میں خریدا اور جس جگہ جو ضرورت پیش آئی پیچھے نہیں ہٹے جہاں جنگ کرنا تھی،جنگ کی، جہاں فداکاری و جانثاری کرنی تھی وہاں جانثاری کی،اگر کوئی سیاسی فعالیت لازم تھی تو اسے بھی انجام دیا، حکومت چلانے کی بات آئی تو اس سے بھی پیچھے نہیں ہٹے اور کسی بھی صورت آپ کی بصیرت بیداری لمحہ بھر کے لئے بھی آپ سے جدا نہ ہوئی دوسرے یہ کہ اس راستے میں صبر و پائیداری سے کام لیتے رہے اور اس راہ استوار و صراط مستقیم پر ڈٹے رہے۔اور آپ کا استقامت سے کام لینا،مشکلات و حوادث کے مقابلے میں ڈٹے رہنا اور نہ تھکنا،خواہشات نفس سے مغلوب نہ ہونا خود ایک اہم نکتہ ہے۔

جی ہاں عصمت امیرالمومنین علیہ السلام قابل تنقید نہیں ہیں آپ کی شخصیت کا کسی سے بھی مقابلہ ممکن نہیں ہے ہم لوگوں نے تاریخ کی جن بزرگ ہستیوں کو بھی دیکھا ہے اگر کوئی ان کا علی علیہ السلام سے مقابلہ کرنا چاہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے ذرے کا آفتاب سے کوئی مقابلہ کرے،مگر یہ دو صفتیں جو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی میں نے بیان کی ہیں قابل تقلید ہیں قابل پیروی ہیںکوئی بھی یہ کہہ دے کہ اگر امیرالمومنین علیہ السلام صبر و بصیرت کے حامل تھے تو وہ اس لیے کہ وہ ان کے امیرالمومنین علیہ السلام ہونے کی وجہ سے تھا اپنی ذمہ داری سے فرار نہیں کر سکتا بلکہ تمام لوگوں کو امیرالمومنین علیہ السلام کی ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اس طرح اپنی ہمت و صلاحیت کے لحاظ سے امیرالمومنین علیہ السلام سے خود کو نزدیک کرنا چاہیے۔

بیگا نوں کے تسلط کو ختم کر نے کے لئے ضروری بیداری اور پا ئیداری:

وہ ساری مشکلات جو معاشرے اور بشریت کے لئے پیش آتی ہیں وہ ان دو ۲ کے سبب ،یا عدم بصیرت یا بے صبری ،یا غفلت کا شکار ہوجانے کی وجہ سے ہے،واقعیت کو نہیں سمجھ پاتے،حقائق کو درک نہیں کرتے یا پھر واقعیت کو جاننے کے باوجود مقاومت نہیں کر پاتے،اسی وجہ سے ان دو جگہوں میں سے کسی ایک جگہ سے یا دونوںجگہوں کی بنائ پر تاریخ بشررنج و الم محنت و مشقت سے بھری ہوئی ہے اور عالمی مستکبرین کی ہٹ دھرمی ان کے ظلم و جبر سے بھری ہوئی دسیوں یا سینکڑوں سال تک ایک قوم کسی نہ کسی استبدادی قوت و طاقت کے زیر تسلط رہی ہے۔آخر ایسا کیوں؟ کیا یہ لوگ انسان نہیں تھے؟ ! انسان تھے؛! مگر یا تو یہ لوگ بے بصیرت تھے یا اگر بصیرت رکھتے بھی تھے تو اس راستہ میں کافی صبر وتحمل کرنے سے عاری تھے جس کا مطلب یہ ہوا کہ یا تو یہ لوگ بیدار نہیں تھے یا پھر ان کے اندر قوت ،استحکام و مقاومت نہیں تھی۔

انقلاب سے پہلے کی تاریخ اٹھا کر دیکھئے جس قدر پیچھے جائیں گے ذلت و خواری،شقاوت وبدبختی،مصیبت اور مختلف قسم کا دباو حاکم وقت کی طرف سے ملاحظہ کریں گے،اس ملک میں سالہا سال برٹش ،سالہا سال روسی،سالہا سال یہ دونوں اور آخرمیں یہ امریکی سالہا سال تک جو کچھ کرنا چاہتے تھے کرتے تھے ہماری یہی ملت تھی اور یہی ساری استعداد تھی۔کہ بحمداللہ مختلف میدانوں میں ہمارے جوانوں کی صلاحتیں اب ستاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔مگر سابقہ حکومت میں یہی صلاحیتیں حکومت کی غلط سیاست اس کی غلط و ناقص تربیت کی بناپر بصیرت و صبر کا فقدان تھا اور جب ایک وقت معاشرے کے دانا و عالم اور قوم کے دانشمند حضرات میں،امام خمینی ۲ جیسی عظیم و بزرگوار شخصیت اٹھی تو لوگوں کے اندر بصیرت پیدا کر دی لوگوں کو صبر وتحمل سکھایا اور ’’وتواصوا بالحق و تواصوا بالصبر‘ کی پورے معاشرے میں نصیحت کی تو یہ جوش مارتا ہوا دریا سامنے آیا اور پھر اس ذلت و حقارت،محنت و مشقت سے بھری زندگی کے تار و پود کاٹ دئے اور بیگانوں کے غاصبانہ تسلط کو ختم کر کے سانس لی(۱۱)

اقتدار علی علیہ السلام اور ان کی مظلومیت و کامیابی :

آج جو میں ان بزرگوار کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ کی شخصیت،زندگی اور شہادت میں تین عناصر (کہ جو بظاہر ایک دوسرے سے زیادہ میل نہیں رکھتے تھے )جمع ہو گئے ہیں اور وہ عناصر ہیں اقتدار،مظلومیت اور کامیابی۔اقتدار،منطقِ فکر، سیاست و حکومت: ان بزرگوار کا ’’اقتدار‘‘ ان کی فولادی قوت ارادی ان کا عزمِ مصمم ،مشکل سے مشکل فوجی اور جنگی میدانوں میں سرگرم عمل ہو کر عالی ترین اسلامی اور انسانی مفاہیم کی طرف ذہنوں اور فکروں کی ہدایت کرنا جیسے مالک اشتر ،عمار، ابن عباس اور محمد بن ابی بکر وغیرہ۔کی تربیت اور تاریخ بشریت میں ایک انقلاب کی بنیاد ڈالنا ہے،اور ان بزرگوار کا مظہر اقتدار،منطق کی حاکمیت، فکر و سیاست کی بالادستی اقتدار حکومت جو کہ آپ کے شجاع و توانا بازو کا اقتدار تھا۔

____________________

۱،۲،۳،۴نہج البلاغہ خطبہ ۳۱

۵۔ نہج البلاغہ،خطبہ ۵۵

۶۔نہج البلاغہ،خطبہ ۵۵

۷۔نہج البلاغہ ،خطبہ ۵۱

۸۔خطبات نماز جمعہ تہران ۔۱۴ /۱۳۶۳ ش

۹۔خطبات نماز جمعہ تہران ۱۶/۱۰/۱۳۶۲

۱۰۔نہج البلاغہ خطبہ۔۳۲

۱۱۔روزنامہ جمہوری اسلامی۔۱/۴۱۶۳ ش


تاریخ کا مظلوم ترین انسان!

امیرالمومنین علیہ السلام کی ذات والاصفات میں کہیں سے بھی کوئی ضعف نہیں پایا جاتا،مگر اس کے باوجود آپ تاریخ کے مظلوم ترین انسان ہیں؛آپ کی زندگی کے ہر پہلو میں یہ مظلومیت نمایاں تھی،نوجوانی کے دوران مظلوم تھے،جوانی میں وفات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مظلوم تھے،بڑھاپے میں مظلوم تھے،شہادت کے بعد بھی برسہا برس تک منبروں سے آپ کو برا بھلا کہا جاتا رہا ،جھوٹی تہمتیں لگائی گئیں آپ کی شہادت بھی مظلومانہ تھی۔

تمام آثار اسلامی میں دو ذِوات مقدسہ ہیں جن کو ’’ثاراللہ‘‘سے تعبیر کیا گیا ہے البتہ فارسی زبان میں ہمارے پاس اس عربی لغت کے لفظ ’’ثار‘‘ کا متبادل نہیں پایا جاتا جس کو ہم پیش کر سکیں عربی میں اس وقت لفظ’’ ثار‘‘ استعمال ہوتا ہے جب کسی خاندان کا کوئی فرد ظلم و ستم کی وجہ سے قتل کر دیا جاتا ہے تو اس وقت مقتول کا خاندان صاحب خون ہوتا ہے اسی کو ’’ ثار‘‘کہتے ہیں کہ یہ خاندان خونخواہی کا حق رکھتے ہیں،اگر خون خداکا معنی کہیں سنائی بھی دیتا ہے تو یہ ’’ثار‘‘ کی ناقص اور بہت نارسا تعبیر ہے ،پوری طرح مفہوم اس سے نہیں پہنچتا ،تاریخ اسلام میں دو لوگوں کا نام آیا ہے کہ جن کے خون خواہی کا حق خدا کو ہے،اس میں ایک امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی ہے اور دوسری شخصیت امیرالمومنین علی علیہ السلام جو کہ حضرت سید الشہدا کے والد ہیں’’یاثار اللہ و ابن ثارہ ‘‘ یعنی آپ کے پدر بزرگوار کی خون خواہی کا حق بھی خداوند کریم کو ہے۔

علی علیہ السلام کے چہر ہ پر نُور کی تابانی:

تیسرا عنصر ’’کامیابی‘‘ ہے،آپ کی پہلی کامیابی تو یہی ہے کہ زندگی میں دشوار ترین تجربات آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی کرنے پڑے اور آپ ان سب پر کامیاب رہے یعنی دشمن کی طرف سے شکست دینے والے سارے محاذ ۔جس کی وضاحت ہم بعد میں کریں گے۔جو آپ کو جھکانا چاہتے تھے اپنے مقصد میں ناکام رہے،ان سب نے خود علی علیہ السلام سے ہزیمت اٹھائی اور شہادت کے بعد آپ کی تا بانی مزید آشکار ہو گئی بلکہ زندگی کی تابندگی سے بھی بڑھ چڑھ کر نمایاں ہو گئی۔آپ دنیا میں ذرا ملاحظہ کریں۔فقط دنیائے اسلام میں ہی نہیں بلکہ سارے عالم میں کس قدر علی علیہ السلام کے مداح پائے جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ لوگ جو اسلام کو نہیں مانتے مگر علی بن ابی طالب علیہ السلام کو تاریخ کی ایک عظیم تابندہ و درخشاں شخصیت کے عنوان سے جانتے ہیں،یہ خداوند عالم کی طرف سے آپ کی مظلومیت کے مقابلے میں انعام ہے کیونکہ خدا کے یہاں اس کی جزا اور مظلومیت کا پاداش یہ ٹھہرا کہ آپ تاریخ میں نیک نام ہوں آپ تاریخ بشر میں کون سا ایسا چہرہ دکھا سکتے ہیں جو آپ سے زیادہ تابناک اور درخشندہ ہو آج کے زمانے میں جن کتابوں کو ہم پہچانتے ہیں جو امیرالمومنین علیہ السلام کے بارے میں لکھی گئیں ہیں اس میں سے جو سب سے زیادہ محبت آمیز،عاشقانہ انداز میں لکھی گئیں ہیں وہ سب غیر مسلموں کی ہیں مجھے اس وقت یاد آرہا ہے کہ تین عیسائی مصنفین نے حضرت علی علیہ السلام کی مدح و ستائش کرتے ہوئے کتابیں لکھیں جو واقعاً محبت و عشق سے لبریز ہیں،اور آپ سے محبت و عقیدت روز اول ہی سے شروع ہوئی یعنی جب آپ کو شہید کر دیا گیا اور آپ کے خلاف کیچڑ اچھالا جانے لگا۔شام کی حکومت سے وابستہ رہنے والے لوگ وہ لوگ جن کو علی علیہ السلام کی عدالت سے بغض و کینہ تھا،آپ کو گالیاں دی جانے لگیں،ان کی آپ سے عقیدت و محبت اور بڑھ گئی۔یہاں پر ایک تاریخی نمونہ پیش خدمت ہے۔

عبداللہ بن عروۃ بن زبیر کے بیٹے نے اپنے باپ یعنی عبداللہ بن عروۃ بن زبیر،سے امیرالمومنین علیہ السلام کی برائی بیان کی خاندان زبیر میں ایک مصعب بن زبیر کے علاوہ سب علی علیہ السلام سے بغض و عناد رکھتے تھے،مصعب بن زبیرایک شجاع اور کریم النفس انسان تھے جو کوفہ میں مختار کے حوادثات میں تھے بقیہ خاندان زبیر کے سارے لواحقین علی علیہ السلام سے عناد رکھتے تھے جب لڑکے نے برا بھلا کہا تو اس کے باپ نے ایک جملہ کہا جو علی علیہ السلام کی طرف داری میں بہت زیادہ نہیں کہا جاسکتا مگر اس میں ایک اہم نکتہ ہے عبداللہ اپنے بیٹے سے کہتا ہے’’والله یا بنی انمّاس شیمئا قطه الّا هدمة الدّین ولا بنی الدین شیئاً فاستطاعة الدنیا هدمه ‘‘ خدا کی قسم،دین نے جس چیز کی بھی بنیاد ڈالی اور پھر اس کی دین پر بنیاد ڈالی گئی اہل دنیا نے لاکھ اسے مٹانے کی کوشش کی مگر اسے نہ مٹا سکے اس کے کہنے کا مطلب تھا علی علیہ السلام کو خراب کرنے اور ان کے چہرے کو غبارآلود کرنے کی خوامخواہ زحمت نہ کرو ۔کہ ان کے ہر کام کی بنیاد دین اور ایمان پر ہے۔پھر اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے ’’الم تر الا علی کیف تظهر بنومروان من عیبه و ذمّه والله لکانّ مآیآ خذون نباصیة رفعاً الی الّمائ ‘‘ ذرا دیکھ فرزندان مروان کس طرح ہر موقع اور مناسبت سے منبر سے علی علیہ السلام کی عیب جوئی کرتے ہیں مگر ان کی یہ عیب جوئی اور بد گوئی علی علیہ السلام کے چہرے کو مکدر کرنے کی بجائے اور روشن کرتی ہے۔یعنی لوگوں کے ذھن میں ان کے اس عمل کا برعکس اثر پڑتا ہے۔

ان کے مقابل میں بنی امیہ’’وما تری ماینضبون به موتاهم من التابین والمدیح والله لکآنّما یکشون به عن الجیف ‘‘ بنی امیہ اپنے آبائ و اجداد کی تعریفیں کرتے پھرتے ہیں مگر جس قدر وہ ان کی ستائش کرتے ہیں لوگوں کی نفرت اور بڑھتی ہے شاید یہ باتیں تقریباً حضرت علی علیہ السلام کے ۳۰ تیس سال بعد کہیں گیں،یعنی امیرالمومنین علیہ السلام اپنی تمام تر مظلومیت کے باوجود اپنی زندگی میں بھی اور تاریخ میں بھی اور لوگوں کے اذہان و افکار میں بھی کامیاب رہے ہیں۔

امیرالمو منین علیہ السلام کے مقا بلے میں تین طرح کے مکتب فکر کی صف آرائی:

مظلومیت کے ساتھ آپ کے پانچ سال سے کم مدت اقتدار میں تین قسم کے لوگوں سے آپ کا مقابلہ ہوا۔قاسطین،ناکثین،اور مارقین۔خود امیرالمومنین علیہ السلام سے یہ روایت منقول ھے کہ آپ نے فرمایا’’ امرت ان الناکثین والقاسطین والمارقین‘‘ اور یہ نام بھی ان لوگوں کے خود آپ نے ہی رکھے تھے۔

قاسطین کے معنی ستمگر اور ظالم کے ہیں،عربی قاعدے اور قانون کے لحاظ سے جب ’’قسط‘‘ مجر د استعمال ہوگا(جیسےقَسَطَ يَقسِطُ ) تو یہ ظلم کرنے کے معنی میں ہوگا اور اگر یہی مادہ ثلاثی مزید اور باب افعال میں لے جایا جائے تو پھر عدل وانصاف کے معنی دے گا جیسے’’آقَسَط يُقسِطُ ‘‘ لہذا اگر ’’قِسط‘‘ باب افعال میں لے جایا جائے تو عدل و انصاف کے معنی میں ہوگا اور اگر ثلاتی مجرد استعمال ہو جیسے (قَسَطَ يُقسِطُ ) تو پھر اس کے خلاف معنی دے گا یعنی ظلم و جور اور قاسطین یہاں پر اسی ظلم و جور کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی ستمگر اور ظلم کرنے والے حضرت علیہ السلام نے گویا ان کو ظالم کہہ کر پکارا ،تو پھر یہ کون لوگ تھے؟ در حقیقت یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی مصلحت کے تحت ظاہری طور پر اسلام کو قبول کر لیا تھا اور حکومت علوی کو سرے سے ہی قبول نہیں کرتے تھے،امیرالمومنین علیہ السلام نے لاکھ جتن کئے مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔اور یہ حکومت بنی امیہ اور معاویہ بن ابی سفیان کے اشاروںپر تشکیل ہوئی تھی اور یہی لوگ اس کے محور و مرکز تھے کہ جس کے سربراہ معاویہ اور اس کے بعد مروان بن حکم اور ولید بن عقبہ تھے یہ خود ایک محاذ پر اکٹھے تھے جو علی علیہ السلام سے تعاون کرنے کے لیے کسی بھی حالت میں تیار نہیں تھے۔

یہ بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ آغاز حکومت میں مغیرہ بن شعبہ اور عبداللہ بن عباس وغیرہ نے امیرالمو منین علیہ السلام سے کہا کہ یا امیرالمومنین علیہ السلام ابھی آپ کی حکومت کے ابتدائی ایام ہیں لہذا معاویہ اور شام کی حکومت کو کچھ دنوں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور ان کو ابھی ہاتھ نہ لگائیں ۔مگر حضرت علیہ السلام نے ان کی اس رائے کو قبول نہیں کیا۔اور ان لوگوں نے سمجھا کہ حضرت علیہ السلام کوسیاست نہیں آتی،اور بعد کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ حضرت کو مشورہ دینے والے یہ لوگ خود بے خبر تھے امیرالمومنین علیہ السلام نے لاکھ معاویہ کو سمجھانے کی کوشش کی اس کو اپنی حکومت و خلافت کے بارے میں راستے پر لانے کی کوشش کی مگر یہ ساری کوششیں ناکام رہیں معاویہ ان لوگوں میں سے نہیں تھا جو امیرالمومنین علیہ السلام کی حکومت قبول کر لیتا اگرچہ آپ سے پہلے والے ان میں سے بعض کو برداشت کرتے آئے تھے معاویہ جب سے مسلمان ہوا تھااس دن سے علی علیہ السلام سے جنگ کرنے کے لئے صفین میں آنے تک کہ ۳۰ تیس سال سے کچھ کم مدت گزاری ہوگی کہ شام اس کے طرفداروں کے قبضہ میں تھا ان لوگوں نے جگہ بنالی،حکومت میں نفوذ کر چکے تھے ایسا نہیں تھا کہ انھیں نو مسلم کی حیثیت سے روکا ٹوکا جاتا اور کسی بھی حرکت پر انھیں روک دیا جاتا نہیں بلکہ انھوں نے اپنی جگہ بنا لی تھی۔

دنیائے اسلام میں حکومت اموی کے کھِلا ئے ہوئے گل:

اس بنائ پر یہ اس گروہ سے تعلق رکھتے تھے جو حکومت علوی کو کسی قیمت پر قبول نہیں کرتے تھے وہ حکومت کو اپنے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے تھے کہ لوگوں نے بعد میں اس کا تجربہ بھی کر لیا اور دنیائے اسلام نے ان کی حکومت کا مزہ بھی چکھا وہی معاویہ جو علی علیہ السلام سے چپقلش اور رقابت میں بعض اصحاب کے ساتھ نرمی و ملائمیت کا ثبوت دیتا تھا بعد میں اسی حکومت نے ان کے ساتھ سخت رویہ بھی اپنایا یہاں تک کہ یزید کا زمانہ بھی آیا اور واقعہ کربلا رونما ہوا اس کے بعدمروان، عبدالمالک ،حجاج بن یوسف ثقفی اور یوسف بن عمر ثقفی جیسے خونخوارلوگ حاکم بنے جو اسی حکومت و امارت کا ایک تلخ نتیجہ تھا یعنی یہی حکومتیں جن کے جرم و خیالات تاریخ لکھنے سے لرزتی ہے اسی حکومت کا ثمرہ تھا جس کی معاویہ نے بنیاد رکھی تھی اور امیرالمومنین علیہ السلام سے اسی خلافت کے لئے یہ لوگ لڑ جھگڑ رہے تھے یہ تو ابتدا ہی سے معلوم تھا کہ ان لوگوں کا کیا منشائ ہے اور کیا چاہتے ہیں۔ان کی حکومت دنیا پرستی اور خواہشات نفس خود غرضی کے علاوہ کچھ اور نہ تھی جیسا کہ بنی امیہ کی حکومت میں لوگوں نے اچھی طرح دیکھا اور محسوس کیا،میں البتہ یہاں کوئی عقیدے کی بحث یا کلامی بحث نہیں کر رہا ہوں،عین تاریخ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور یہ کوئی شیعہ تاریخ بھی نہیں ہے بلکہ تاریخ ’’ابن اثیر‘‘ ،تاریخ ’’ ابن قتیبہ‘‘ وغیرہ ہے جس کی عین عبارتیں میں نے لکھی ہیں اور یہاں میں نے جو لکھا یہ مسلّمات تاریخ میں سے ہیں جس میں شیعہ سنی کے اختلاف کی کوئی بات نہیں ہے!

کچھ اپنے جو حکومت میں حصہ دار ہونا چاہتے تھے!!

ایک دوسرا گروہ جو امیرالمو منین علیہ السلام سے جنگ کرنے کے لئے آیا تھاجسے’’ناکثین‘‘ کہتے ہیں’’ناکث‘‘ یعنی توڑ دینے والے لوگ،اور یہاں پر وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے علی علیہ السلام سے بیعت کرنے کے بعد اُسے توڑ دیایہ لوگ مسلمان تھے اور پہلے والے گروہ (قاسطین) اپنوں میں سے شمار ہوتے تھے البتہ یہ ایسے تھے جو حکومت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو اسی حد تک قبول رکھتے تھے جہاں تک خود ان کو اس ریاست میں خاطر خواہ بٹوارے کی توقع تھی یعنی ان سے رائے مشورہ کیا جائے،انہیں حکومتی سطح پر ذمہ داریاں دیں جائیں،انھیں حاکم بنایا جائے جو مال و ثروت ان کے ہاتھوں میں ہے اس کے بارے میں کوئی بازپرس نہیں ہونی چاہیے یہ نہ پوچھیے کیسے اسے حاصل کیا! وغیرہ وغیرہ ۔گذشتہ سال انھیں ایام میں نماز جمعہ کے کسی خطبہ میں ،میں نے عرض کیا کہ ان لوگوں میں سے بعض لوگوں کی موت کے بعد ،کس قدر دولت و ثروت باقی بچی جو انھوں نے زندگی میں اکٹھی کی تھی ۔یہ لوگ امیرالمومنین علیہ السلام کی حکومت کوکیسے قبول کرتے ؟! کیوں نہیں لیکن اسی شرط و شروط کے ساتھ کہ انھیں ہاتھ نہ لگایا جائے اسی لیے پہلے تو ان کی اکثریت نے امیرالمومنین علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی البتہ بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے بیعت نہیں کی سعد بن ابی وقاص نے ابتدائ ہی سے بیعت نہیں اسی طرح کچھ دیگر جنہوں نے ابتدائ ہی سے بیعت نہیں کی البتہ طلحہ، زبیر اور دیگر بزرگ اصحاب وغیرہ نے امیرالمومنین علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت کی آپ کی خلافت کو قبول کر لیا،مگر جب تین ،چار ماہ گذر گئے اور دیکھاکہ یہ حکومت تو کسی کے آگے گھاس تک نہیں ڈالتی،اور یہ احساس ہوا کہ اس کے ساتھ تو دال نہیں گل سکتی اس لئے کہ یہ حکومت دوست اور آشنا کو نہیں پہچانتی خود کو کوئی امتیاز نہیں دیتی ،رشتہ داروں اور ناطے داروں کے لئے کسی حق کی قائل نہیں ہے،جو سابق الاسلام ہیں ان کے لئے حق کی قائل نہیں ہے(اگرچہ حاکم وقت خود سب سے پہلے اسلام لانے والا شخص ہے)حکم خدا کے نفاذ میں کسی کا کوئی لحاظ نہیں کیا جاتا جب یہ سب دیکھا تو پھر احساس کیا نہیںجناب اس حکومت کے ساتھ تو بننامشکل ہے لہذا کٹ گئے اور جنگ جمل کا شعلہ بھڑکا دیاجو واقعاً ایک فتنہ تھا ام المومنین عائشہ تک کو اپنے ساتھ لے آئے،کتنے لوگ اس جنگ میں مارے گئے قتل ہوئے۔اگرچہ امیرالمومنین علیہ السلام اس جنگ میں کامیاب ہو گئے اور مطلع صاف ہو گیا،مگر یہ دوسرا محاذ تھا جس کے مقابل علی علیہ السلام کو مجبوراً لڑنا پڑا اور مدت خلافت کا کچھ وقت اس میں صرف کرنا پڑا۔

وہ کج فہمیاں جو حکومت شام کی طرف سے پیدا کی گئیں!!

تیسرا گروہ مارقین کا گروہ تھا(مارق)یعنی گریز کرنے والے اس کی وجہ تسمیہ اس طرح بتائی گئی ہے کہ یہ لوگ دین سے اس طرح گریزاں تھے جس طرح تیر کمان کو چھوڑ کر نکلتا ہے کس طرح سے آپ تیر کو کمان میں جوڑ کر جب تیر پھینکتے ہیں تو وہ کمان سے باہر نکل جاتا ہے یہ لوگ اسی طرح دین سے دور ہو گئے البتہ بظاہر خود کو دین سے وابستہ رکھتے تھے اور دین کا نام بھی اپنی زبان پر جاری کرتے تھے یہ وہی خوارج تھے جو اپنی کج فکری اور انحراف کی بنیاد پر کاموں کو انجام دیتے تھے علی بن ابی طالب علیہ السلام (جو مفسر قرآن اور حقیقی علم کتاب کے عالم تھے) دین کو ان سے حاصل نہیں کرتے تھے البتہ ان کا ایک گروہ اور پارٹی کی شکل میں نمودار ہونا سیاست چاہتی تھی اور اس کے لئے وہ کسی اور سے رھنمائی لیتے تھے ایک اھم نکتہ یہاںپایا جاتا ہے کہ یہ چھوٹا سا گروہ جہاں آپ کچھ کہتے فوراً کوئی نہ کوئی قرآن کی آیت پیش کر دیتے ۔نماز جماعت کے درمیان مسجد میں آتے امیر المومنین علیہ السلام امام جماعت کی حیثیت سے کوئی سورۃ پڑھ رہے ہوتے تو یہ لوگ حضرت علیہ السلام کی طرف کنایہ کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی آیت پڑھتے ،امیرالمومنین علیہ السلام کے خطبے کے درمیان کھڑے ہو جاتے اور اشارے اور کنائے میں آیت کی تلاوت کرتے۔(لا حکم الاّللہ) ان کا نعرہ تھا یعنی ہم حکومت خدا کے حامی ہیں اور آپ کی حکومت کو قبول نہیں رکھتے ہیں۔ یہ گروہ جن کا ظاہر اس طرح سے پر فریب تھا حکومت شام اور بزرگان قاسطین کے ذریعے سیاسی طور پر ہدایت پاتے تھے (یعنی عمر و عاص اور معاویہ کے ذریعہ) ان کے یہ کام انجام پائے یہ لوگ ان سے مرتبط تھے۔مختلف قرائن اس بات پر دلالت کرتے ہیں (سردار مارقین) اشعث ابن قیس ایک بدسرشت آدمی تھا کچھ ضعیف عقیدہ رکھنے والے فقیر و بیچارے لوگ اس کے پیچھے پیچھے آگئے اس بنیاد پر جس تیسرے گروہ سے امیرالمومنین علیہ السلام کا سامنا تھا وہ مارقین تھے کہ امیرالمومنین علیہ السلام کو ان کے مقابلہ میں بھی کامیابی ملی اور مارقین کو ھزیمت اٹھانا پڑی،مگر یہ وہ لوگ تھے جن کے وجود سے حضرت علیہ السلام کو خطرہ لاحق تھا اور آخرکار انہی کی وجہ سے آپ کو شربت شہادت پینا پڑا۔

میں نے گذشتہ سال یہ عرض کیا تھا کہ خوارج کو پہچاننے میں آپ غلطی نہ کریں بعض حضرات نے خوارج کو خشک مقدس کا نام دیا ہے جب کہ ایسا نہیں ہے۔بلکہ بحث مقدس مآب ہونے یا خشک مقدس،ہونے کی نہیں ہے وہ مقدس مآب جو کسی گوشے میں بیٹھا دعا و نماز میں مشغول ہے یہ خوارج کے معنی نہیں ہیں ۔خوارج ایک ایسے وجود کا نام ہے جو فسادی ہے،فتنہ انگیزی کرتا ہے پرسکون فضا کو بحرانی کرتا ہے،میدان جنگ میں لڑائی کرنے کے لئے تیار ہے ،کسی اور سے نہیں علی علیہ السلام جیسی شخصیت سے صف آرائی کرنے کے لئے تیار ہے ہاں بات صرف اتنی سی ہے کہ اس کے افعال کی بنیاد غلط ہے،اس کی جنگ غلط ہے ،اس کے اسباب وسائل غلط ہیں،اس کا مقصد غلط اور بیجا ہے،امیرالمومنین علیہ السلام ان تین گروہوں سے جنگ کر رہے تھے اور ان جیسے لوگوں سے علی علیہ السلام کا پالا پڑا تھا۔

جن غلط کاموں کی بنیاد پر اسلام کی آڑ میں علی علیہ السلام سے جنگ کی گئی:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ اوران کی حکومت میں اور دوران حکومت امیرالمومنین علیہ السلام میں جو امتیازی فرق تھا وہ یہ تھاکہ حیات مبارک بنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صفوف معین تھیں ایک طرف ایمان تو دوسری طرف کفر،رہ گئے منافقین تو ان کے بارے میں دائماً آیات قرآن لوگوں کو متنبہ کرتی رہیں ان کی طرف انگلی اٹھتی اور مومنین کو ان کے مقابلے میں قوت حاصل ہوتی تھی یعنی نظام اسلامی حیات پیغمبر اکرم(ص) میں ساری چیزیں آشکار تھیں،تمام صفوف ایک دوسرے سے جدا تھیں،کوئی شخص کفر و طاغوت کا جانب دار تھا تو دوسرا ایمان و اسلام کا طرف دار تھا ہر چند وہاں بھی مختلف قسم کے لوگ موجود تھے مگر ہر ایک معینہ پارٹی تھی، معین صفوں میں کھڑے تھے،اور دوران امیرالمومنین علیہ السلام کی صفوں میں کوئی جدائی نہیں تھی کیونکہ وہی ’’ناکثین‘‘ لوگوں میں ایک گروہ رکھتے تھے زبیر و طلحہ جیسوں کے مقابلے میں بہت سے لوگ شک و تردید کا شکار ہو جاتے تھے ،یہی زبیر زمانہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اکابر صحابہ میں سے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیکی اور آپ کے پھوپھی زاد بھائی تھے یہاںتک کہ وفات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی امیرالمومنین علیہ السلام کا دفاع کیا،سقیفہ پر اعتراض کیا جی ہاں،عاقبت پر نظر ہونا چاہیے،خدا ہم سب کی عاقبت بخیر کرے،بسا اوقات دنیا طلبی اور اس کے رنگ برنگے جلوئے اس طرح انسان کے قلب و جگر میں جگہ بنا لیتے ہیں، اس طرح انسان کے اندر تغیر و تبدل پیدا کر دیتا ہے کہ عوام تو عوام خواص کے بارے میں بھی لوگ شک و تردید کا شکار ہو جاتے ہیں،اس لیے حقیقتاً وہ سخت دن تھے جو لوگ امیرالمومنین علیہ السلام کے حلقہ بگوش تھے دشمنوں کے مقابل جنگ کر رہے تھے بہت با بصیرت تھے نا چیز نے بارھا یہ بات نقل کی ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:(لا یحمل هذا لعلم الا آهل البصرو الصبر ) بیشک پرچم ولایت اھل بصیرت اور صبر رکھنے والوں کے علاوہ کوئی اور اٹھانے کے قابل نہیں،لہذا پہلے مرحلے میں بصیرت درکار ہے،پھر ان مشکلات اور موانع کے ہوتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امیرالمومنین کے لئے کس قدر رکاوٹیں اور ان کی راہ میں کتنے کانٹے تھے یا پھر وہ غلط کردار جو بنام اسلام وجود میں آئے اور امیرالمومنین علیہ السلام سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے اور غلط باتیں پیش کر کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی،صدر اسلام میں بھی غلط باتیں کم نہیں تھیں مگر زمانہ امیرالمومنین علیہ السلام اور صدر اسلام میں فرق یہ تھا کہ آیت قرآن نازل ہوئی اور اس غلط فکر کو باطل قرار دے دیتی تھی، وہ مکی زندگی ہو یا مدنی زندگی آپ ذرا نظر ڈالیں سورہ بقرۃ ایک مدنی سورۃ ہے جس وقت انسان کی نظر اس پر پڑتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے پیغمبر اسلام کے مقابلے میں منافقین کی ہر قسم کی ہٹ دھرمی اور یہود کی ریشہ دوانیوں کے بارے میں قرآن خاموش نہیںہے بلکہ اس کی تفصیلات بیان کرتا ہے،حتی وہ جزئیات تک قرآن نقل کرتا ہے جیسے یہودی آنحضرت کے مقابلے میں ایک نفسیاتی جنگ کے عنوان سے مسلمانوںکے مابین چھیڑے ہوئے تھے اس جیسی آیات’’لا تقولوا راعنا ‘‘ کو قرآن باقاعدہ ذکر کرتا ہے ،اسی طرح سورہ اعراف۔جو ایک مکی سورہ ہے۔ایک مفصل فصل ذکر کرتا ہے جہاں خرافات سے جنگ ہے وہ بتاتا ہے کہ یہ حلال ہے یہ حرام ہے ،کہ ان لوگوں نے واقعی محرمات کے مقابلے میں چھوٹی،چھوٹی حرمت گھڑرکھی تھی۔حقیقی حرام و حلال ان کے لئے ھیچ تھے ’’قل انّما حّرم ربی الفواحش ما ظهر منها وما بطن ‘‘ قرآن وہاں ان خرافات سے جنگ کرتا ہے حلال و حرام کو گنواتا ہے وہ کہتا ہے قرآن جس کو حلال و حرام بتا رہا ہے وہ ہے حلال و حرام نہ وہ کہ جسے تم بحیرہ نے خود سے حرام قرار دے لیا ہے،قرآن نے صراحتاً اس جیسے افکار کا مقابلہ کیا؛مگر زمانہ امیرالمومنین علیہ السلام میں یہی مخالفین خود قرآن سے اپنے باطل مقاصد تک پہنچنے کے لئے ا ستفادہ کرتے تھے وہی لوگ آیات قرآنی کو سند بنا کر پیش کرتے تھے اس لیے حضرت علیہ السلام کی مشکلات کئی گنا سخت ہوگئی تھیں،امیرالمومنین علیہ السلام اپنی چند سالہ خلافت میں اس جیسی سختیوں اور مشکلات سے گذر رہے تھے۔

پیروان علی علیہ السلام کے خلاف سازش:

ان لوگوں کے مقابلے میں خود علی علیہ السلام کا محاذ ہے جو حقیقتاً ایک مستحکم اور قوی محاذ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں عمار،مالک اشتر،عبداللہ بن عباس، محمد بن ابی بکر ،میثم تمار،اور حجر بن عدی جیسے افراد موجود ہیںکہ یہ مومن اور بابصیرت حضرات لوگوں کی ہدایت و راھنمائی میں کس قدر پُر کشش تھے،امیرالمومنین علیہ السلام کی خلافت و حکومت کا ایک درخشندہ اور حسین حصہ (البتہ یہ زیبائی اور حسن انھیں بزرگ اشخاص کی سعی و کوشش کا نتیجہ تھا کہ ہر چند انھیں اس راہ میں رنج و الم اور مصیبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا) تاریخ کا وہ منظرہے جب طلحہ و زبیر کی صف آرائی کی وجہ سے ان حضرات نے کوفے اور بصرے کا رخ کیا جب کہ طلحہ و زبیر نے بصرے کو اپنے قبضے میں لے لیا اوراگلا قدم کوفے کی طرف بڑھا رہے تھے تاکہ اسے بھی اپنے زیر تسلط کر سکیں حضرت علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام اور ان میں بعض حضرات کو ان کے فتنے کو روکنے کے لئے روانہ فرمایا،اور ان حضرات نے حکم امام علیہ السلام کے بعد لوگوں سے جو مذاکرہ کیا،جو اجتماعات کئے،گفتگو کی،مسجد میں جو لوگوں سے خطاب کیا وہ سب تاریخ صدر اسلام کے پرمغز ،اور حسین و زیبا اور ہیجان انگیز حصوں میں سے شمار ہوتا ہے۔

اس بنا پر آپ جب تاریخ اٹھا کر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ سب سے زیادہ دشمنان علی علیہ السلام نے جن اشخاص پر حملے کئے ہیں وہ یہی لوگ تھے مالک اشتر کے خلاف سازشوں کا جال،عمار یاسر کے خلاف سازشیں محمد بن ابی بکر کے خلاف سازشوں کے تانے بانے سب سے زیادہ تھے ،گویا وہ تمام یاران با وفا جو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی معیت میں تھے ان کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاص و ایمان و محبت کا امتحان دے چکے تھے اور اپنی بصیرت و قوت ایمانی کوعملاً ثابت کر چکے تھے دشمنوں کی طرف سے ہر قسم کے حملات کا شکار تھے ان پر تہمتیں لگائی جا رہی تھیں انھیں قتل کرنے کے لئے سازشیں کی جا رہی تھیں اور آخر کار

ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو شہید کر دیا گیا۔

عمار یاسر،جنگ میں شہید ہوئے مگر محمد بن ابی بکر شامیوں کے حملے کا شکار ہو کر مکر و دغا سے شہید کر دئے گئے،اسی طرح مالک اشتر نے بھی اھل شام کے مکر و حیلہ سے شربت شہادت نوش فرمایا اور ان میں سے جو حضرات باقی بچے وہ بھی بعد میں شدید ترین شکنجوں اور سختیوں سے شہید کر دئے گئے یہ امیرالمومنین علیہ السلام کے دوران حکومت اور ان کی زندگی کی کیفیت و حالت تھی جسے آپ نے ملاحظہ کیا اگر آپ کی زندگی کو مجموعی حیثیت سے کوئی دیکھنا چاہے تو یوں عرض کر سکتے ہیں کہ آپ کی حکومت ایک بااقتدار و مستحکم حکومت تھی مگر ساتھ ہی ساتھ مظلومیت سے لبریز ایک کامیاب و کامران دور بھی تھا۔یعنی آپ وہ باقتدار حاکم ہیں جو اپنے زمانے میں بھی دشمنوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتے ہیں۔اورشہادت بعد بھی۔ آپ اپنی مظلومیت کی وجہ سے فراز تاریخ پر مشعل راہ بنے ہوئے ہیں ہاں یہ بھی سچ ہے آپ نے جو اس راستے میں خون دل پیا ہے اور زحمتیں اٹھائیں ہیں وہ تاریخ کے رنج و مصیبت کے اوراق پر ایک تلخ حقیقت بھی ہے۔(۱)

____________________

۱۔مورخہ ۱۲ / ۸ / ۱۳۷۷ ش ولادت علی علیہ السلام کی مناسبت سے یونیورسٹی اور کالج کے طلبہ کے ساتھ ایک دیدار میں یہ خطاب فرمایا۔


شہادت حضرت علی علیہ السلام کی مصیبت:

ماہ رمضان کی اکیسویں تاریخ ۴۰ ھجری قمری، شہادت امیرالمومنین علیہ السلام کا دن ہے ،ذرا اس غم انگیز دن کو یاد کریں،تصور تو کریں کوفہ آج ماتم کدہ بنا ہوا ہے آپ وہ گھڑی اپنی نگاہوں میں رکھیں جب سارے تہران والے سمجھ گئے کہ امام خمینی ۲ اب اس دنیا میں نہیں رہے،کیا شور و غوغا تھا،ایک کہرام مچ گیا،دل لرزنے لگے جیسے زلزلے کے جھٹکے آرہے ہوں،جب کہ امام خمینی ۲ پہلے سے کچھ علیل تھے دلوں میں پہلے سے ایک خوف و ہراس تھا،بہرحال دھڑکا لگا ہوا تھا کہ خدانخواستہ کبھی بھی کوئی ناگوار صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے،لیکن امیرالمومنین علیہ السلام ابھی کچھ ہی دیر پہلے مسجد میں لوگوں کو نماز پڑھنے کے لئے بیدار کر رہے تھے،کچھ دیر پہلے آپ کی اذان شاید پورے کوفہ میں گونج چکی تھی ابھی کل تک آپ کی ملکوتی آواز لوگوں کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی آپ کے گوہر بار کلمات حلقہ بگوش تھے اور مسجد کوفہ ابھی بھی آپ کے صوتی تاروں سے حالت مستی میں تھی۔ابھی کچھ ہی دیر پہلے تو لوگوں نے آپ کی آواز سنی تھی ،لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے تھے کہ اچانک ایک دلخراش و غمو اندوہ سے بھری آواز نے سب کے جگر پارہ پارہ کر دےئے جیسے کوئی فریاد کر رہا تھا’’الا تهدمت ارکان الهديٰ،قتل علی المرتضيٰ ‘‘ پہلے اھل کوفہ (اور پھر سارے عالم اسلام نے) کچھ اس طرح شہادت امیرالمومنین کی خبر سنی۔

اگرچہ بارہا خود امیرالمومنین علیہ السلام نے یہ خبر غم سنائی تھی اور آپ کے قریبی رشتہ داروں کو اس کا علم بھی تھا حیات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں،جنگ خندق کے موقع پر امیرالمومنین علیہ السلام ایک چند سالہ نوجوان ہی تھے۔کہ عمر وبن عبدود سے آپ کا مقابلہ ہوا،اور یہ عرب کا نامی گرامی پہلوان ۔جس کے بارے میں لوگوں کا یہی خیال تھا کہ اب توپیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کا صفایا ہو جائے گا۔وہ حضرت علیہ السلام کے مقابلہ میں آیا اور ادھر واصل جہنم ہو گیا مگر اسی جنگ میں آپ کی پیشانی مبارک زخمی ہو گئی آپ اسی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے،آنحضرت نے آپ کے بہتے ہوئے خون کو دیکھا تو دل تڑپ گیایہ جانثار و فدا کار،نوجوان،یہ عزیز و محبوب نبی اکرم(ص) جو ابھی ابھی ایک عظیم کارنامہ انجام دے کر بیٹھا ہے،حالت یہ ہے کہ پیشانی خون سے تر بتر ہے،پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔میری جان علی علیہ السلام ،تھوڑا بیٹھو تو سہی،امیرالمومنین علیہ السلام بیٹھ گئے،آنحضرت(ص) نے ایک رومال منگوایا،شاید بنفس نفیس، پیشانی سے خون کو صاف کر رہے تھے اور دو خواتین جو مجاھدین کے زخموں کی مرہم پٹی کر رہی تھیں ان سے خطاب کر کے فرمایا کہ اچھی طرح علی علیہ السلام کے زخم کی مرہم پٹی کرو اور جس وقت آنحضرت(ص) یہ حکم کر رہے تھے اسی وقت جیسے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ یاد آگیا ہو کہ آنکھیں اشک بار ہو گئیں،امیرالمومنین علیہ السلام کی طرف ایک نظر کی اور فرمایا میری جان علی علیہ السلام ! آج تو تمہارے زخم کی مرہم پٹی میری آنکھوںکے سامنے ہو گئی اس لیے کہ میں زندہ ہوں لیکن بتاو جب تمہاری داڑھی،تمہارے سر کے خون سے خضاب ہو گی تو پھر زخم پر مرہم لگانے کے لئے کون ہوگا؟ اس وقت میں کہاں ہونگا؟ ’’ این اکون اذا اخضیت ھذہ من ھذہ‘‘ لہذا سب کو اس دن کا انتظار تھا اور خود بارہا حضرت نے بھی اس سلسلے میں فرمایا تھا ’’ محمد بن شھاب زھری‘‘ روایت کرتے ہیں کہ ’’کان امیرالمومنین ستتیع قاتله ‘‘ یعنی آپ عروس شہادت کو گلے لگانے کے لئے بے تابانہ انتظار کر رہے تھے تا کہ یہ شقی آئے اور اپنا کام تمام کر دے گویا آپ کے لیے لمحات کند پڑ گئے تھے اور وقت کی گھڑی بمشکل کٹتی دکھائی دیتی تھی دائماً زبان پر بس یہی تھا ’’متی یکون اذا خضیت ھذِہ من ھذا‘‘ گھر کے تو فرد فردکو معلوم تھا خود حضرت اس گھڑی کا شدّت سے انتظار کر رہے تھے ،مگر یہ حادثہ اس قدر عظیم تھا کہ گھر میں ایک تہلکہ مچ گیا،حضرت کو مسجد سے اٹھا کر گھر لایا گیا،میں نے بحارالانوار میں ایک روایت دیکھی ہے کہ حضرت کبھی بے ہوش ہو جاتے تو کبھی ہوش میں آتے تھے آپ کی بیٹی ام کلثوم یہ حالت دیکھ کر گریہ و زاری کر رہی تھیں کہ ایک مرتبہ حضرت نے اپنی آنکھیں کھولیں اور فرمایا:’’ میری بیٹی ام کلثوم رو کر اپنی جان ہلکان اور میرا جگر چھلنی مت کرو ’’لا تعزینی یا ام کلثوم فانک لو ترّین ما اريٰ لم تبک ‘‘اس لیے کہ جو میں دیکھ رہا ہوں اگر تم بھی دیکھتیں تو تمہاری یہ حالت نہ ہوتی’’ ان الملائکۃ من السّموات السّبع بعضھم خلف بعض والنبیون یقولون النطلق یاعلی‘‘ فرمایا: فرشتے ساتوں آسمانوں سے ایک کے پیچھے ایک مسلسل چلے آرہے ہیں اور میرے سامنے انبیائ و فرشتگان الہیکا جم غفیر ہے جو مجھ سے خطاب کر کے کہہ رہے ہیں ’’پیارے علی آجاو ہماری طرف اس لیے کہ جو تمہاری حالت بنائی گئی ہے اس سے یہاں آجانا ہی تمہارے لئے بہتر ہے ’’فما آمامک خیرلک ممّا انت فیه ‘‘(۱)

علی ان کے لئے بددعا کر و! !

میں نے آج شہادت امیرالمومنین علیہ السلام کی مناسبت سے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے ایک حدیث لکھی ہے کہ بعد از شہادت امیرالمومنین یا ضربت لگنے کے دوسرے دن امام حسن علیہ السلام کی زبانی نقل ہے،کہ آپ نے فرمایا:میں واقعہ بدر کی برسی سے کچھ دنوں قبل اپنے بابا جان سے محو گفتگو تھا کہ انھوں نے مجھ سے فرمایا :’’ملکتنی عینای ‘‘ نماز صبح کے بعد میری آنکھ ذرا لگ گئی تھی کہ خواب میں رسول خدا کو دیکھا تشریف لائے ہوئے ہیں’’فسخ لی رسول الله فقلت یا رسول الله ‘‘ آپ کی امت نے کیا کیا ستم میرے اوپر نہیں ڈھائے ،کس قدر دشمنی و گمراہی انھوں نے آپ کے بعد اپنائی،’’فقال لی ادع علیهم ‘‘ تو انھوں نے مجھ سے فرمایا۔ علی علیہ السلام اب مدارات(معاف کرنے اور چھوڑ دینے) کا وقت ختم ہوگیا،خدا سے تم ان کے لئے بددُعا کرو۔

امیرالمومنین نے جو بدعا کی وہ یہ ہے’’فقلت اللم ابدلنی بهم من هو خیر منهم ‘‘ میں نے بارگاہ الہیسے درخواست کی ،پروردگارا! مرے لیے ان سے بہتر لوگوں کو قرار دے اور ان کے لیے ایسے افراد کو بھیج دے جو بد ترین لوگ ہوں،بس ایک دن کے فاصلہ سے حضرت علیہ السلام نے جو یہ دعا کی تھی مستجاب ہوگئی اور انیسویں کی صبح کو دنیائے اسلام تاریخ کی عظیم شخصیت کے غم میں سوگوار ہو گئی آپ کا فرق مبارک دو پارہ ہو گیا اور فضا اس فریادِ’’تهدّ مت والله ارکان الهديٰ‘‘ (قسم بہ خدا ہدایت کی بنیادیں منھدم ہو گئیں )سے گونج اٹھی علی علیہ السلام لوگوں کے درمیان سے اٹھ گئے اور شہادت علی علیہ السلام کے بعد دنیائے اسلام نے جو جو سختیاں جھیلیں وہ سب تاریخ میں محفوظ ہیں، یہی کوفہ کن کن سختیوں

سے گذرا اسی کوفہ پر حجاج جیسا درندہ مسلط ہوا،یہی کوفہ ہے جس پر اموی سلاطین امیرالمومنین کی شہادت کے بعد،یک بعد دیگری آتے رہے اور اس پر قبضہ جمائے رکھا،یہ لوگوں کی ناشکری ہی کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے کوفہ کو ان سخت و دشوار مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔

لاحول ولا قوة الّا باالله العلی العظیم

دعائیہ کلمات:

خدایا :تجھے محمد و آل محمد کا واسطہ تجھے علی بن ابی طالب علیہ السلام کی طےّب و طاہر روح کا واسطہ کہ ہم سب کو علی بن ابی طالب علیہ السلام کے شیعہ اور پیرووں میں سے قرار دے۔زندگی کے دشوار گذار امتحانوں اور نشیب و فراز میں کامیابی و کامرانی عطا کر اور بصیرت و صبر کی توفیق دے۔

خدایا: مسلمان قوم کو سارے تجربوں میں کامیابی عطافرما اور دشمنان اسلام کو مغلوب و محکوم اور ذلیل و رسوا کر دے۔

پروردگارا: قوم و ملت کی اصلاح کو فساد میں بدلنے والے پوشیدہ ہاتھوں کو قطع کر دے ۔

خدایا! قوم کے ایک ایک فرد کے دلوں کو اخوت و برادری ،محبت و اتحاد کی گرمی عطا کر اور ان صفات سے قلوب کومنور فرما دے۔

پروردگارا ! بطفیل محمد وآل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انقلاب اسلامی کے بلند و بالا اہداف کی راہ میں موجود ساری رکاوٹوں کو قوم سے دور کر دے، ہمارے معاشرے کو مکمل اسلامی معاشرہ بنا دے،اسے ایمان و اسلام میں پختہ تر کر دے ہمارے دل، ہماری جانیں ہماری روح و فکر و اخلاق کو اس طرح بنا دے جس طرح علی علیہ السلام کو پسندہے۔

میرے مالک؛ ہمیں ،ہمارے مرحومین کو اور ہمارے والدین کو بخش دے۔

پروردگارا: حضرت امام خمینی ۲ کو اپنے اولیائے خاص کے جوار میں جگہ دے شہدا راہ خدا کی پاکیزہ ارواح کو اعلی علیین میں شمار کر۔

خدایا:انقلاب کے جانثاروں اور جانبازوں کو جہاں کہیں بھی ہوں اپنے لطف و رحمت کے سائے میں جگہ دے ۔(۲)

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

____________________

۱۔خطبات نماز جمعہ،تہران ،مورخہ۔۱۸ / ۱۰/۱۳۷۷ ش

۲۔خطبات نماز جمعہ تہران ۔مورخہ ۱۲/۱۱/۷۵ش


دعاے کمیل کے چند منتخب جملے

يٰاِلٰه وَرَبّ وَسَيِّدِ وَمَوْلاَٰ،لِآَّي الْاُمُورِالَيْکَ آَشْکُو،وَلِمٰامِنْهٰاآَضِجُّ

خدایا۔ پروردگارا۔ میرے سردار۔میرے مولا! میں کس کس بات کی فریاد کروں اور کس کس کام کے لئے آہ وزاری اور

وَآَبْک،لِآَليمِ الْعَذٰابِ وَشِدَّتِهِ،آَمْ لِطُولِ الْبَلاٰئِ وَ مُدَّتِهِ،فَلَئِنْ صَيَّرْتَنلِلْعُقُوبٰاتِ مَعَ

گریہ وبکا کروں ،قیامت کے دردناک عذاب اور اس کی شدت کے لئے یا اس کی طویل مصیبت اور دراز مدت کے لئے کہ اگر تونے

آَعْدَائِکَ،وَجَمَعْتَ بَيْن وَ بَيْنَ آَهْلِ بَلاٰئِکَ،وَفَرَّقْتَ بَيْنِ وَبَيْنَ آَحِبّٰائِکَ

ان سزاوں میں مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ ملادیا اور مجھے اہل معصیت کے ساتھ جمع کردیا اور میرے اوراپنے احبائ اور

وَآَوْلِيٰائِکَ،فَهَبْنِي يٰاِلٰه وَسَيِّدِ وَمَوْلاَٰ وَرَبِّ،صَبَرْتُ عَلٰي عَذٰابِکَ فَکَيْفَ

ولیائ کے درمیان جدائی ڈال دی ۔تو اے میرے خدا۔میرے پروردگار ۔میرے آقا۔میرے سردار! پھر یہ بھی طے ہے کہ اگر میں

آَصْبِرُعَلٰي فِرٰاقِکَ،وَهَبْنِ صَبَرْتُ عَلٰي حَرِّ نٰارِکَ فَکَيْفَ آَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِالٰي

تیرے عذاب پر صبر بھی کر لوں تو تیرے فراق پر صبر نہیںکر سکتا۔اگر آتش جہنم کی گرمی برداشت بھی کر لوں تو تیری کرامت نہ دیکھنے کو

کَرٰامَتِکَ،آَمْ کَيْفَ آَسْکُنُ فِي النّٰارِ وَرَجٰائِ عَفْوُکَ

برداشت نہیں کر سکتا ۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیری معافی کی امید رکھوں اور پھر میں آتش جہنم میں جلادیا جاوں ۔

فَبِعِزَّتِکَ يٰا سَيِّد وَمَوْلٰاَ اُقْسِمُ صٰادِقاًلَئِنْ تَرَکْتَننٰاطِقاً،لَآَضِجَّنَّ لَيْکَ بَيْنَ

تیری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے میری گویائی کو باقی رکھا تو میں اہل جہنم کے درمیان بھی

آَهْلِهٰاضَجيجَ الْآمِلينَ،وَلَآَصْرُخَنَّ لَيْکَ صُرٰاخَ الْمُسْتَصْرِخينَ،وَلَآَبْکِيَنَّ عَلَيْکَ بُکٰائَ الفاقدين،

امیدواروں کی طرح فریاد کروں گا۔اور فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گااور ’’عزیز گم کردہ ‘‘کی طرح تیری دوری

،وَلَاُنٰادِيَنَّکَ آَيْنَ کُنْتَ يٰاوَلَِّ الْمُوْمِنينَ،يٰاغٰايَةَ آمٰالِ الْعٰارِفينَ،يٰا غِيٰاثَ

پر آہ وبکا کروں گا اور تو جہاں بھی ہوگا تجھے آوازدوں گا کہ تو مومنین کا سرپرست، عارفین کا مرکز امید،فریادیوں کا فریادرس۔

الْمُسْتَغيثينَ،يٰاحَبيبَ قُلُوبِ الصّٰادِقينَ،وَيٰا لٰهَ الْعٰالَمينَ

صادقین کا محبوب اور عالمین کا معبود ہے۔

آَفَتُرٰاکَ سُبْحٰانَکَ يٰاِلٰه وَ بِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فيهٰاصَوْتَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ سُجِنَ فيهٰا

اے میرے پاکیزہ صفات ،قابل حمد وثنا پروردگار کیا یہ ممکن ہے کہ تواپنے بندہ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جہنم میں

بِمُخٰالَفَتِهِ،وَذٰاقَ طَعْمَ عَذٰابِهٰا بِمَعْصِيَتِهِ ،وَحُبِسَ بَيْنَ آَطْبٰاقِهٰا بِجُرْمِهِ وَجَريرَتِهِ وَهُوَ يَضِجُّ

گرفتار اور معصیت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھنے والااور جرم و خطا کی بنا پر جہنم کے طبقات کے درمیان کروٹیں بدلنے والا بنادے

لَيْکَ ضَجيجَ مُوَمِّلٍ لِرَحْمَتِکَ،وَيُنٰاديکَ بِلِسٰانِ آَهْلِ تَوْحيدِکَ،وَيَتَوَسَّلُ

اور پھر یہ دیکھے کہ وہ امید وار رحمت کی طرح فریاد کناں اور اہل توحید کی طرح پکارنے والا ،ربوبیت کے وسیلہ سے التماس

لَيْکَ بِرُبُوبِيَّتِکَ

کرنے والا ہے اور تو اس کی آواز نہیں سنتا ہے۔

يٰامَوْلاَٰ،فَکَيْفَ يَبْقٰي فِ الْعَذٰابِ وَهُوَيَرْجُوْمٰاسَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ،آَمْ کَيْفَ تُوْلِمُهُ

خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب میں رہے گا اور تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ

النّٰارُوَهُوَيَآْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ،آَمْ کَيْفَ يُحْرِقُهُ لَهيبُهٰاوَآَنْتَ تَسْمَعُ صَوْتَهُ وَتَرٰي

کرنے والا کسطرح جہنم کے الم ورنج کا شکار ہوگا۔جہنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تواس کی آواز کو سن رہا ہو

مَکٰانَهُ،آَمْ کَيْفَ يَشْتَمِلُ عَلَيْهِ زَفيرُهٰاوَآَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَهُ،آَمْ کَيْفَ يَتَقَلْقَلُ بَيْنَ آَطْبٰاقِهٰا

ور اس کی منزل کو دیکھ رہا ہو،جہنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپیٹ میں لیں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رہا ہوگا۔

وَآَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ،آَمْ کَيْفَ تَزْجُرُهُ زَبٰانِيَتُهٰاوَهُوَ يُنٰاديکَ يٰارَبَّهُ،آَمْ کَيْفَ يَرْجُوفَضْلَکَ

وہ جہنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ہے ۔ جہنم کے فرشتے اسے کس طرحجھڑکیں گے

فعِتْقِهِ مِنْهٰافَتَتْرُکُهُ فيهٰا،هَيْهَاتَ مَاذٰلِکَ الظَّنُّ بِکَ،وَلاَالْمَعْرُوفُ مِنْ

جبکہ وہ تجھے آواز دے رہا ہوگا اور تو اسے جہنم میں کس طرح چھوڑ دے گا جب کہ وہ تیرے فضل و کرم کا امیدوار ہوگا ،ہر گزتیرے بارے

فَضْلِکَ،وَلامُشْبِه? لِمٰاعٰامَلْتَ بِهِ الْمُوَحِّدينَ مِنْ بِرِّکَ وَآِحْسٰانِکَ

میں یہ خیال اور تیرے احسانات کا یہ انداز نہیں ہے ۔تونے جس طرح اہل توحید کے ساتھ نیک برتاو کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔

فَبِا لْيَقينِ آَقْطَعُ لَوْلاٰمٰاحَکَمْتَ بِهِ مِنْ تَعْذيبِ جٰاحِديکَ،وَقَضَيْتَ بِهِ مِنْ خْلاٰدِ

میں تویقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ تونے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور اپنے دشمنوں کوہمیشہ جہنم

مُعٰانِديکَ لَجَعَلْتَ النّٰارَکُلَّهٰابَرْداًوَ سَلاٰماً،وَمٰاکٰانَ لِآَحَدٍ فيهٰامَقَرّاًوَلاٰمُقٰاماً،لٰکِنَّکَ

میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو ساری آتش جہنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس میں کسی کا ٹھکانا اور مقام نہ ہوتا۔

تَقَدَّسَتْ آَسْمٰاوُکَ آَقْسَمْتَ آَنْ تَمْلَآَهٰا مِنَ الْکٰافِرينَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنّٰاسِ آَجْمَعينَ،وَ آَنْ

لیکن تونے اپنے پاکیزہ اسمائ کی قسم کھائی ہے کہ جہنم کو انسان و جنات کے کافروں سے پُر کرے گا اور معاندین کو اس میں

تُخَلِّدَ فيهٰاالْمُعٰانِدينَ،وَآَنْتَ جَلَّ ثَنٰاوُکَ قُلْتَ مُبْتَدِئاً،وَتَطَوَّلْتَ بِالِْنْعٰامِ مُتَکَرِّماً،آَفَمَنْ

ہمیشہ ہمیشہ رکھے گا۔اور تونے ابتداہی سے یہ کہہ دیا ہے اور اپنے لطف و کرم سے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ’’مومن

کٰانَ مُوْمِناًکَمَنْ کٰانَ فٰاسِقاً لاٰيَسْتَوُوْنَ

اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے‘‘۔


فہرست

مقدمہ ۴

علی علیہ السلام کی متوازی شخصیت: ۶

علی علیہ السلام پیغمبر اکرم (ص) کی ہو بہو ا یک مثال: ۶

آپکے اٹل فیصلے اور رحم دلی: ۷

خوارج کو ٹھیک سے پہچانیں: ۸

پرہیز گاری اور حکومت امیرالمومنین علیہ السلام : ۱۰

قدرت اور حضرت علی علیہ السلام کی مظلومیت: ۱۲

حضرت علی علیہ السلام کی سادگی اور زھد: ۱۲

عدالت امیرالمومنین علیہ السلام : ۱۳

علی علیہ السلام کی دعا اور توجہ و استغفار: ۱۳

استغفار کا اثر: ۱۵

مختلف حالات و شرائط کا سامنا: ۱۷

علی علیہ السلام کی زندگی کے مختلف دور: ۱۹

امیرالمومنین علیہ السلام کی بزرگی و عظمت: ۲۱

حضرت کے ہمرزم ہوئے: ۲۱

امیرالمومنین علیہ السلام کی اجتماعی عدالت: ۲۲

پارسائی و زہد امیرالمومنین علیہ السلام: ۲۴

نظام اسلامی کے عہدیداران امام علی علیہ السلام کے اصلی مخاطبین: ۲۵

علی علیہ السلام کی تہہ در تہہ شخصیت درس جاویدانی ہے: ۲۵

امیرالمومنین علیہ السلام کا جہاد : ۲۷


حکومت کے معنی میں تبدیلی: ۲۷

ولایت علی علیہ السلام سے تمسک: ۲۸

علوی معاشرہ: ۳۰

مقصد محرومین اور عوام کی خدمت ہو: ۳۰

ظلم کے خلاف جنگ: ۳۰

اخلاص حضرت علی علیہ السلام : ۳۱

علی علیہ السلام بام عروج پر: ۳۲

اخلاص اور جوہر عمل : ۳۳

فقط رضائے الہی ۳۴

حضرت علی علیہ السلام سے اخلاص آموزی: ۳۴

حضرت علیہ السلام کی شہادت کی وجہ سے ستون ہدایت منہدم ہو گیا: ۳۵

حکومت علوی کی خصوصیات: ۳۷

آپکی حکومت کی پہلی خصوصیت: ۳۸

حضرت کا تین طرح کے لوگوں سے مقابلہ: ۳۹

مسئلہ ولایت میں گمراہ گروہ: ۴۰

ولایت دین کا بنیادی ترین مسئلہ: ۴۱

جس ہاتھ کو کاٹ دینا چاہیے: ۴۱

پیغمبر(ص) کے زمانے میں کب یہ موقع پیش آیا تھا؟ ۴۲

عمار یاسر فتنوں کو برملہ کرنے والے: ۴۲

خوارج کون تھے؟ ۴۳

خوارج کے ایک فرد سے حجاج بن یوسف کا مناظرہ: ۴۴


جنگ نہروان: ۴۵

استقامت کے لیے بصیرت لازمی ہے: ۴۶

حکومتِ امیرالمومنین علیہ السلام کی دوسری خصوصیت: ۴۸

زھد کی طرف قدم بڑھائیے: ۴۹

حکمرانوں کو زہد کا سبق: ۵۰

غدیر یعنی اثبات فضائل و کمالات وحکومت و ولایت حضرت علی علیہ السلام : ۵۱

غدیر کا دوسرا پہلو: ۵۲

جمہوری ترین حکومت: ۵۳

اقدار، ولایتِ اسلامی کا سرچشمہ: ۵۵

مسلمانوں کے ذریعے ولایت کا تجربہ: ۵۵

ولایت اسلامی، اقوام عالم کے لئے سعادت کا راستہ: ۵۶

شجاعت حضرت علی علیہ السلام : ۵۷

شجاعت ایک عظیم اور تعمیری صفت: ۵۹

زندگی کے تمام مراحل میں شجاعت: ۶۳

حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت سے درس عمل: ۶۶

حضرت علی علیہ السلام کا اقتدار نفس: ۶۷

گلِ گلاب: ۶۸

علی کی زندگی نمونہ عمل: ۷۰

امیرالمومنین علیہ السلام کے ذریعے عدالت اور حدود الہی کا اجرائ: ۷۰

خدا کے کام میں کوئی رو رعایت نہیں: ۷۲

علی علیہ السلام کی یہاں کوئی ساز باز ممکن نہیں! ۷۳


حفاظت بیت المال میں پر عزم : ۷۵

بے جا توقعات کے مقابلہ میں اٹل رہنا: ۷۶

معاو یہ کے بار ے میں اھل سنّت کا نظر یہ: ۷۷

تم مجھے حساب دو: ۷۹

تقسیم مناصب اور عہدے سے برخواست کرتے و قت علی علیہ السلام کے اٹل فیصلے: ۷۹

حضرت پر تھوپی جانے والی جنگیں: ۸۲

۱۔جنگ جمل ۸۲

۲۔جنگ صفین ۸۳

۳۔جنگ نہروان ۸۴

خشک و مقدس مآب افراد کا جتّھہ: ۸۶

آپ کے پاس کوئی گواہ ہے؟ ۸۶

اجتماعی ذمہ داری کے لئے اسلامی معیارات: ۸۷

آگاہی اور ثابت قدمی حضرت علی علیہ السلام کی دو ممتاز صفتیں: ۸۷

بیگا نوں کے تسلط کو ختم کر نے کے لئے ضروری بیداری اور پا ئیداری: ۸۹

اقتدار علی علیہ السلام اور ان کی مظلومیت و کامیابی : ۹۰

تاریخ کا مظلوم ترین انسان! ۹۲

علی علیہ السلام کے چہر ہ پر نُور کی تابانی: ۹۲

امیرالمو منین علیہ السلام کے مقا بلے میں تین طرح کے مکتب فکر کی صف آرائی: ۹۴

دنیائے اسلام میں حکومت اموی کے کھِلا ئے ہوئے گل: ۹۵

کچھ اپنے جو حکومت میں حصہ دار ہونا چاہتے تھے!! ۹۵

وہ کج فہمیاں جو حکومت شام کی طرف سے پیدا کی گئیں!! ۹۶


جن غلط کاموں کی بنیاد پر اسلام کی آڑ میں علی علیہ السلام سے جنگ کی گئی: ۹۸

پیروان علی علیہ السلام کے خلاف سازش: ۹۹

شہادت حضرت علی علیہ السلام کی مصیبت: ۱۰۱

علی ان کے لئے بددعا کر و! ! ۱۰۲

دعائیہ کلمات: ۱۰۳

دعاے کمیل کے چند منتخب جملے ۱۰۵

شخصیت امیرالمومنین حضرت امام علی علیہ السلام

شخصیت امیرالمومنین حضرت امام علی علیہ السلام

اصلاح کتب

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
قسم: امیر المومنین(علیہ السلام)
صفحے: 21