یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
بسم الله الرحمن الرحیم
اللهم صلی علیٰ محمدوآل محمد
نام کتاب مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو)
تألیف خاتم المحدثین شیخ عباس بن محمد رضا قمی
تر جمہ ہئیت علمی مؤسسہ امام المنتظر (عج)
زیر نگرانی حجة السلام والمسلمین حاج آقای سید نیاز حسین نقوی مد ظلہ العالی
کمپو زنگ سید محمد رضا ،سید نجم عباس ،سید امجد حسین ،سید جعفر رضا،سید حسین علی
ناشر مؤسسہ امام المنتظر (عج)
اشاعت اول ١٤اگست ٢٠٠٢ بمطابق ٥جمادی الثانی ١٤٢٣ھ مرداد ٨١
صفحات ١٠٦٣
چھاپخانہ شریعت قم
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں ۔
نوٹ :اس کتاب کی عربی یا اردو ترجمہ وچھوٹے یا بڑے سائز میں اصل یا منتخب کسی بھی عنوان سے مؤسسہ امام المنتظر (عج) کی اجازت کے بغیر چھاپناشرعاً و قانوناًممنوع ہے ۔
ملنے کا پتہ
امام المنتظر(عج) پبلیکیشنر
پوسٹ بکس ۳۷۱۸۵/۳۶۸۳:
قم جمہوری اسلامی ایران مؤ سسہ امام المنتظر(عج)خیابان انقلاب کوچہ ١٧رو بروی مسجد گذر قلعہ
بسم الله الرحمن الرحیم
عرض ناشر
خاتم المحدثین جناب شیخ عباس قمی قدس سرہ کی مشہور و معروف اور مقبول عام کتاب مفاتیح الجنان کا جدید اردو ترجمہ پیش خدمت ہے ۔
اس تر جمہ کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ حوزہ علمیہ قم کے فضلاء پر مشتمل ایک جماعت نے حضرت آیت اللہ الحاج حافظ سید ریاض حسین نجفی دامت برکاتہ کے ترجمہ اور علمی عبارات اور اصطلاحات سے بھر پور استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ سابقہ تمام تراجم کو پیش نظر رکھا ہے اور تقریباً دو سال کی مسلسل سعی و کوشش کے بعد اس کو مرتب و منظم کیا ہے عربی عبارات کی تصحیح اور اصلاح پر خصوصی توجہ دی ہے ۔
تا حد امکان کو شش کی گئی ہے کہ موجودہ ترجمہ اور عربی عبارات اغلاط سے پاک ہوں اگرچہ کسی بھی انسانی کام کو بے عیب ونقص قرار نہیں دیا جا سکتا امید ہے قارئین کرام اپنی گرانقدر آ را ء و نظریات سے مطلع فرما کر کتاب کی مزید اصلاح اور بہتر سے بہتر اشاعت میں ضرور تعاون فرمائیں گے ۔
ہماری یہ کاوش استاد العلماء حضرت آیت اللہ سید محمد یارنجفی اور محسن ملت حضرت حجة السلام والمسلمین علامہ سید صفدر حسین نجفی قدس سرھما کی کوششوں اور محنتوں کا تسلسل ہے بار گاہ رب العزت میں التجا ہے کہ خدا وند منان ان کے درجات بلند اور ان پر اپنی رحمات نازل فرمائے اور انہیں جوار آئمہ معصومین میں جگہ عنایت فرمائے ۔
اس وقت محسن ملت کی عظیم یاد گار حوزہ علمیہ جامعة المنتظر لاہور -----حوزہ علمیہ مدینة العلم اسلام آباد، مدرسہ امام المنتظر و مؤ سسہ امام المنتظر قم اور محسن ملت کے دیگر تمام مدارس اور مراکز کی سرپرستی حضرت آیت اللہ الحاج حافظ سید ریاض حسین نجفی فرما رہے ہیں اور شب وروز ان کی تعمیر و ترقی میں مصروف عمل ہیں ۔
ہماری دعا ہے کہ خدا وند عالم انہیں صحت و سلامتی اور طول عمر عطا فرمائے اور انہیں اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور مومنین کرام کو بھی توفیق عنایت فرمائے تا کہ ان تمام دینی مراکز کی تعمیر ترقی میں ان کے ساتھ تعاون فرما کر ثواب دارین حاصل کریں ۔
آخر میں مؤسسہ امام المنتظر(عج) ان تمام طلباء و فضلاء کاممنون و مشکور ہے جنہوں نے حجة الاسلام والمسلمین سید نیاز حسین نقوی کی زیر نگرانی میں اپنی شب و روز کی مساعی سے اس کتاب کے ترجمہ ،تصحیح اور کمپوزنگ جیسے امور کو خلوص دل سے انجام دیا ہے خدا وند عالم ان تمام حضرات کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور انہیں اپنی حفظ امان میں رکھے
آخر میں قوم کے مخیر اور درد مند مومنین ہمارے مفید اور عظیم الشان منصوبوں کی تکمیل میں عملی معاونت فرمائیں ہمارے پاس مراجع عظام (مدظلہم العالی) کے اجازے اور وکالت نامے موجود ہیں آپ حضرات وجوہات شرعیہ و عطیات دے کر اپنے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں یعنی مدرسہ مدینة العلم اسلام آباد، مدرسہ امام المنتظر مشہد مقدس وسوریہ(شام) کی عملی تکمیل میں حصہ لے کر اپنے لئے یا اپنے رفتگان کیلئے آخرت کا سامان مہیا کرسکتے ہیں ۔
خداوند متعال ہم سب کے نیک کاموں کی توفیق میں اضافہ فرمائے(آمین)
ربطہ ایڈریس
پاکستان
لاہور: H بلاک ماڈل ٹاؤن حوزہ علمیہ جامعة المنتظر (عج)
محترم جناب حضرت آیة ﷲ حافظ سید ریاض حسین نجفی دام ظلہ الوارف
فون نمبر: ۰۰۹۲-۴۲-۵۸۶۶۷۳۲,۳۳,۳۴
کراچی :کمرشل ایونیو،فیز فور ایریا،دیفنس سوسائٹی، جامعہ علمیہ
محترم جناب علامہ سید فیاض حسین نقوی دام ظلہ
فون نمبر: ۰۰۹۲-۲۱-۵۸۸۸۶۴۰ & ۵۸۸۶۶۷۶
ایران
قم: جمہوری اسلامی ایران مؤ سسہ امام المنتظر(عج)خیابان انقلاب کوچہ ١٧رو بروی مسجد گذر قلعہ
جناب قبلہ قاضی سید نیاز حسین نقوی دام ظلہ الوارف
فون نمبر : ۰۰۹۸-۲۵۱-۷۷۴۵۶۴۰۔ فیکس:۷۷۳۶۷۶۰ موبائل :۰۰۹۸-۹۱۱-۲۱۲۰۹۳۵
والسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ ۔
مؤسسہ امام المنتظر(عج) حوزہ علمیہ قم المقدسہ ایران
مقدمہ
کتاب مفاتیح الجنان ایک معروف و مشہور اور معتبر ترین کتاب ہے اور ایک مومن اور عبادت گزار انسان کی تمام ضروریات زندگی پر حاوی ہے اور انسان کی زندگی کے تمام مسائل اور مشکلات کا حل اس کتاب میں موجود ہے خاتم المحدثین شیخ عباس قمی قدس سرہ نے دعاؤں کی کتاب مفتاح الجنان سے مستند دعاؤں کو منتخب فرما کر اس کتاب کی ترتیب کے مطابق مرتب کیا ہے اور بعض معتبر دعاؤں اور زیارات کا اضافہ بھی فرمایاہے کتاب مفاتیح الجنان تین ابواب پر مشتمل ہے۔
باب اول: میں تعقیبات نماز ،ایام ہفتہ کی دعائیں ،شب وروز جمعہ کے اعمال اور بعض مشہور دعاؤں اور مناجات کو بیان کیا گیا ہے۔
باب دوم :سال بھر کے مہینوں اور ایام کے اعمال پر مشتمل ہے ۔
باب سوم :زیارات کے بیان میں ہے ۔
مؤلف محترم نے مفاتیح الجنان کے آخر میں باقیات الصالحات کا بھی اضافہ فرمایا ہے جو کہ چھ ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے جسے ہم کتاب کے حاشیہ میں ذکر کر رہے ہیں ۔
کتاب کے مطالب کی مناسبت سے ہم مقدمہ میں تین مطلب ذکر کریں گے۔
مطلب اول:دعا کی اہمیت وفضیلت ، قبولیت دعا کے شرائط، آداب دعا، اور دعا کے مخصوص اوقات، حالات اور مقامات ۔
مطلب دوم زیارات :آیات وروایات کی روشنی میں معصومین کی زیارت ۔
مطلب سوم :مؤلف محترم کے مختصر حالات زندگی ۔
مطلب اول:دعا کی اہمیت وفضیلت ، قبولیت دعا کے شرائط، آداب دعا، اور دعا کے مخصوص اوقات، حالات اور مقامات ۔
١۔ دعا کی اہمیت و فضیلت
آیات وروایات :معصومین کی سیرت اور باقی اعمال کی نسبت دعاکے دنیوی واُخروی فوائد پر نظر کی جائے تو دعاکی اہمیت و فضیلت روزروشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے خدا وند متعال نے خود بھی اپنے بندوں کو دعا کے لئے حکم دیا ہے اور اپنے پیغمبروں کو بھی فرمایا ہے کہ میرے بندوں کودعا کی سفارش کریں ۔
ارشاد رب العزت ہے ۔
اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ مجھے پکارو اور( مجھ سے دعا مانگو )میں تمہای دعا کو قبول کرونگا (١)
قُلْ ادْ عُوْا ﷲ ۔ اے رسول میرے بندوںسے کہو کہ مجھ سے دعا مانگیں (٢)
يَامُوْ سیٰ مُرعِبَادِی يَدْ عُوْنِیْ ۔ اے موسیٰ میرے بندوں کو حکم دو کہ وہ مجھے پکاریں (اور مجھ سے دعا مانگیں )(٣)
يَا عِیْسیٰ مُرْهُمْ اَنْ يَدْ عُوْ نِیْ مَعَکَ ۔ اے عیسیٰ مومنین کو حکم دو کہ وہ آپکے ساتھ مل کر دعا کریں (٤)
حضرت موسیٰ و عیسیٰ جیسے بزرگترین انبیاء بلکہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دعا کے لئے مامور کرنا دعا کی فضیلت واہمیت پر بہترین دلیل ہے۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آئمہ کے فرامین میں بھی دعا کی اہمیت و فضیلت روز روشن کی طرح واضح ہے ۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں :يَاعَلِیْ اُوْصِیْکَ بِالدُّعَاءِ ۔ اے علی میں تمہیں دعا کی سفارش کرتا ہوں (٥)
قال امام محمد باقر ـ:اَفْضَلُ الْعِبَادَةِ اَلْدُّعَاءُ ۔ امام محمد باقر ـ فرماتے ہیں افضل اور بہترین عبادت دعا ہے (٦)
قال علی ـ:اَحَبُّ الْاعَمَال اِلَی ﷲ عَزَّ وَجَلْ فِیْ الْاَرْضِ الدُّ عَاءُ ۔حضرت علی ـ فرماتے ہیں خدا کے نزدیک زمین پر محبوب ترین عمل دعا ہے (٧)
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم :اَلْدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ وَلَاَ یُهْلِکَ مَعَ الّدُعَا ء اُحَد ۔ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم :دعاعبادت کی اصل اور بنیاد ہے دعا کی صورت میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوتا (٨)
قال الامام علی ـ: اَلدُّعُا تُرْسُ الْمُوُمِنْ ۔امام علی ـ فرماتے ہیں دعا مومن کے لئے ڈھال اور نگہبان ہے
اور اسے شیطان کے حملہ اور گناہوں سے محفوظ رکھتی ہے (٩)
قال الامام الصادق ـ: عَلَیْکَ بِالدُّعَاءِ: فَاِنَّ فِیْهِ شِفَاء مِنْ کُلِّ دَاءٍ ۔حضرت امام صادق ـ فرماتے ہیں تیرے لیے دعا ضروری ہے کیونکہ اس میں ہر بیماری کی شفا ہے (١٠)
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم :تَرْکُ الدُّ عَاءِ مَعْصِيَة :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں دعا کا ترک کرناگنا ہ ہے (١١)
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم :اِدْفَعُوْا اَبْوَابَ الْبَلَاءِ بِالّدُ عَاءِ :رسول اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں مصیبتوں اور مشکلات کو دور کرو دعا کے ذریعے (١٢)
قال امام علی ـ: مَنْ قَرِعَ بَابَ ﷲ سُبْحِانَهُ فُتِحَ لَه :حضرت علی ـ فرماتے ہیں جو شخص بھی (دعا کے ذریعے )اللہ کے دروازے کو کھٹکائے گا تو اس کے لئے (قبولیت کا دروازہ) کھول دیا جا ئے گا(١٣)
دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا ونددعا کا دروازہ کھلا رکھے لیکن قبولیت کا دروازہ بند کر دے (١٤)
شرائط قبولیت دعا
جس طرح ہر عمل اور عبادت کی قبولیت لئے کچھ شرائط ہیںکہ جن کے بغیر عمل اور عبادت قبول نہیں ہے اسی طرح دعا کے لئے بھی شرائط ہیں جب تک ان شرائط پر عمل نہ کیا جائے تو دعا قبول نہیں ہوتی ۔
١۔ معرفت و شناخت خدا
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم :یقول ﷲ عَزَّ وَجَلَّ :مَنْ سَألَنِیْ وَ هُوَ يَعْلَمُ اَنِّی اَضُرُّ وَ اَنْفَعُ: اَسْتَجِبْ لَهْ ۔حضرت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منقول ہے خدا فرماتا ہے کہ جو شخص مجھ سے سوال اور دعا کرے اور یہ جانتاہو (اور معرفت رکھتا ہو )کہ نفع و نقصان میرے ہاتھ میں ہے تو میں اس کی دعا قبول کروں گا (١٥)
امام صادق ـ سے جب سوال کیا گیا کہ ہم دعا کرتے ہیں لیکن قبول نہیں ہو تی تو آپ نے جواب میں فرمایا :
لَاِ أنَّکُمْ تَدْعُوْنَ مَنْ لَا تَعْرِفُوْنَهُ ۔آپ اس کو پکارتے ہو( اور اس سے دعا مانگتے ہو )جس کو نہیں جانتے اور جس کی معرفت نہیں رکھتے ہو (١٦)
٢۔محرمات اور گناہ کا ترک کرنا
قال الامام الصادق ـ:اِنَّ ﷲ يَقُوْلُ اَوْفُوْا بِعَهْدِی اُوْفِ بِعَهْدِکُمْ :وَﷲ لَوْ وَفَيْتُمْ ﷲ لَوَفٰی اللّٰهُ لَکُمْ ۔حضرت امام صادق ـ سے منقول ہے : خدا فرماتا ہے میرے عہد و پیمان اور وعدے کو پورا کرو تا کہ میں بھی تمہارے عہد و پیمان (اور وعدے) کو پورا کروںامام فرماتے ہیں اللہ کی قسم اگر تم اپنا وعدہ پورا کرو اور احکام الٰہی پر عمل کرو تو اللہ بھی تمہارے لئے اپنا وعدہ پورا کرے گا تمہاری دعاؤں کو قبول اور تمہاری مشکلات کو حل فرمائے گا (١٧)
٣۔کمائی اور غذا کا پاک و پاکیزہ ہونا
قال الامام الصادق ـ: مَنْ سَرَّهُ اَنْ يُسْتَجَابَ دُعَاءَهُ فَلْیَطَیِّبْ کَسْبُهُ ۔امام صادق ـ فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے کاروبار اور کمائی کو پاک کرے (١٨)
حضرت موسیٰ نے دیکھا ایک آدمی ہاتھ بلند کر کے تضرع و زاری کے ساتھ دعا کر رہا ہے خدا نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی اور فرمایا اس شخص کی دعا قبول نہیں ہو گی :لَاِنَّ فِیْ بَطْنِه حَرَاماً وَ عَلَیٰ ظَهُرِه حَرَاماً وَ فِیْ بَیْتِه حَرَاماً ۔کیونکہ اس کے پیٹ میں حرام ہے ( یعنی اس نے حرام کا مال کھایا ہوا ہے ) اور جو لباس پہنا ہوا ہے وہ بھی حرام ہے اور اس کے گھر میں بھی حرام ہے(١٩)
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری دعا قبول ہو تو اپنی غذا کو پاکیزہ کرو اور اپنے پیٹ میں حرام داخل نہ کرو۔
٤۔حضور ورقت قلب
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم : اِعْلَمُوْا اَنَّ ﷲ لَا يَسْتَجِیْبُ دُعَاءَ مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ ۔رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں : یہ جان لو کہ خدا وند اس دل سے دعا قبول نہیں کرتا جو غافل اوربے پرواہو (٢٠)
٥۔اخلاص وعبودیت
فَادْعُوْا ﷲ مُخْلِصِیْنَ لَه الّدِیْن ۔خدا کو پکارو (اور اس سے دعا مانگو خلوص نیت کے ساتھ یعنی )اس حال میں کہ اپنے دین کو اس کے لئے خالص قرار دو (٢١)
امام جعفر صادق ـفرماتے ہیں :وَقَدْ وَعَدَ عِبَادَهُ الْمُوْمِنِیْنَ الْاِسْتِجَا بَةَ ۔ بے شک خدا نے اپنے مومنین بندوں سے قبولیت دعا کا وعدہ فرمایا ہے (٢٢)
٦۔سعی و کوشش
یعنی دعا کا معنی یہ نہیں ہے کہ انسان کام و سعی اور کوشش چھوڑ دے اور گھر بیٹھ کر فقط دعا کرتا رہے ۔
امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں :ثَلَاثَة تُرَدُّ عَلَیْهُمْ دَ عْوَتُهُمْ: رَجُل جَلَسَ فِیْ بَیتِه وَ قَال يَا رَبِّ اُرْزُقِیِ فَيُقََالُ لَهُ اَلَمْ اَجْعَلْ لَکَ السَّبِیْلَ اِلیٰ طَلَبِ الرَّزْق ۔تین قسم کے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہو گی (ان میں سے )ایک وہ شخص ہے جو فقط گھر میں بیٹھ کر یہ دعا کرتا رہے کہ خدا وندا مجھے روزی عطا فرما اسے جواب دیا جائے گا۔ کیا میں نے تیرے لئے روزی کمانے کا ذریعہ اور وسیلہ قرار نہیں دیا دوسرے لفظوں میں حصول رزق کیلئے تلاش وکو شش کرنا کام کرنا ایک چیز ہے لیکن روزی کا نصیب ہونا اس کا با برکت ہونا توفیق الٰہی کا شامل حال ہونا دوسرا مطلب ہے جس میں دعا بہت مؤثر ہے (٢٣)
اسی طرح علاج کرواناشفاء کیلئے ڈاکٹر یا حکیم کے پاس جانا اس کے دستور کے مطابق دوائی استعمال کرنا ایک مطلب ہے لیکن ڈاکٹرکی تشخیص کا صحیح ہونا دوائی کا شفاء میں مؤثر ہونا دوسرا مطلب ہے جس میں دعا اور صدقہ وغیرہ بہت مؤثر ہیں جب یہ دونوں حصے اکھٹے ہوں تو مؤثر واقع ہونگے اور ہمیں ان دونوں کی طرف تو جہ کرنی ہوگی۔
آداب دعا
١۔بِسْم اللہ پڑھنا :
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم :لَا یَرُدُّ دُعَاء: اَوَّلُهُ بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں: وہ دعا رد نہیں ہوتی جس کے شروع میں بسم اللہ پڑھ لیا جائے (٢٤)
٢۔تمجید
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم :اِنَّ کُلُّ دُعَاء لَا يَکُونَ قَبْلَهُ تَمْجَِیْد فَهُوَاَبْتَرْ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم :ہر وہ دعا کہ جس سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کی تعریف و تمجید اور حمد و ثنا نہ ہو وہ ابتر ہے اور اسکا کوئی نتیجہ نہیں ہو گا (٢٥)
٣۔صلوات بر محمد و آل محمد
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم :صَلَاتُکُمْ عَلَّی اِجَابَة لِدُعَاءِکُمْ وَزَکاة لاَِعْمَالِکُمْ ۔رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں :تمہارا مجھ پر درود و صلوات بھیجنا تمہاری دعاؤں کی قبولیت کا سبب ہے اور تمہارے اعمال کی زکاة ہے (٢٦)
امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں :لَا يَزَالُ الدُّ عَاء محجُوباً حَتّٰی یُصَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ :دعا اس وقت تک پردوں میں چھپی رہتی ہے جب تک محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات نہ بھیجی جائے (٢٧)
حضرت امام جعفر صادق ـ ایک اور روایت میں فرماتے ہیں جوشخص خدا سے اپنی حاجت طلب کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے محمد و آل محمد پر صلوات بھیجے پھر دعا کے ذریعہ اپنی حاجت طلب کرے اس کے بعد آخرمیں درود پڑھ کر اپنی دعا کو ختم، کرے (تو اس کی دعا قبول ہو گی ) کیونکہ خدا وند کریم کی ذات اس سے بالاتر ہے کہ وہ دعا کے اول و آواخر (یعنی محمد و آل محمد پر درود و صلواة )کو قبول کرے اور دعا کے درمیانی حصے(یعنی اس بندے کی حاجت )کو قبول نہ فرمائے (٢٨)
٤۔آ ئمہ معصومین کی امامت ولایت کا اعتقاد رکھنا اور انہیں واسطہ اور شفیع قرار دینا
قال الله تعالیٰ : فَمَنْ سَأَلَنِیْ بِهِمْ عَارِفَاً بِحَقِّهِمْ وَمَقَامِهِمْ اَوْجَبْتَ لَه مِنِّی اَلْاِجَابَةَ ۔خدا فرماتا ہے کہ جو شخص پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آئمہ معصومین کا واسطہ دے کر مجھ سے سوال کرے اور دعا مانگے جبکہ وہ ان کے حق اور مقام کو پہچانتا ہوتو مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں(٢٩)
امام محمدباقر ـ فرماتے ہیں :مَنْ دَعَا ﷲ بِنَا اَفْلَحَ :یعنی جو شخص ہم اہلبیت کا واسطہ دے کر دعا کرے تو وہ شخص کامیاب و کامران ہے (٣٠)
جناب یوسف کے واقعہ میں بیان ہوا ہے کہ جناب جبرائیل حضرت یعقوب کے پاس آئے اور عر ض کی کیا میں آپ کو ایسی دعا بتاؤں کہ جس کی وجہ سے خدا آپ کی بینائی اور آپ کے دونوں بیٹے (یوسف وبنیامین )آپکو واپس لوٹا دے حضرت یعقوب نے کہا وہ کون سی دعا ہے ۔
فقال جبرائیل :قُلْ اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْءَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ عَلِّیٍ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسنِ وَالْحُسَيْنِ اَنْ تَأتِیْنیْ بِيُوْسُفَ وَبُنْيَامِیْنَ جَمِیاً وَتُرَدُّ عَلیَّ عَیْنیِ ۔حضرت جبرائیل نے حضرت یعقوب سے کہا کہ یوں دعا مانگوخدا یا میں تجھے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ،علی ،فاطمہ، حسن و حسین کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میرے دونوں بیٹوں (یوسف اور بنیا مین )کو اور میری بینائی کو واپس لوٹا دے جناب یعقوب کی یہ دعا ابھی تمام ہی ہوئی تھی کہ قاصد (بشیر)نے آکر جناب یوسف کی قمیص حضرت یعقوب پر ڈال دی تو آپ کی آنکھیں بینا ہو گئیں(٣١)
حدیث قدسی میں ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے چالیس شب عبادت کرنے کے بعد دعا کی لیکن اس کی دعا قبول نہیں ہوئی تواس نے حضرت عیسیٰ ـ کے پاس شکایت کی حضرت عیسیٰ ـ نے بارگاہ خداوندی سے سوال کیا تو جواب ملا کہ اس نے دعا کا صحیح راستہ اختیار نہیں کیا :اِنَّهُ دُعَانِیْ وَفِیْ قَلْبِه شَک مِنْکَ ۔کیوں کہ وہ مجھ سے تو دعا کرتا ہے اور حاجت طلب کرتا ہے لیکن اسکے دل میں تیری نبوت کے بارے میں شک ہے (یعنی تیری نبوت کا معتقد نہیں ہے )(٣٢)
لہذا وہ اگر اس (شک اور عدم اعتقاد کی )حالت میں اتنا دعا کرے کہ اس کا سانس ختم ہو جائے اور اس کی انگلیاں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تب بھی میں اس کی دعا قبول نہیں کروں گا ۔
٥۔گناہوں کا اقرار کرنا
قال الامام الصادق ـ :انَّمَا هِیَ اَلْمِدْحَةُ ثُمَّ الْاِقْرَارُ بِا الّذُنُبِ ثُمَّ الْمَسْءَلَة ۔امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں کہ دعا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے خدا کی حمد و تعریف کرو پھر گناہوںکا اقرار اور پھر اپنی حاجت طلب کرو (٣٣)
٦۔خشوع و خضوع کے ساتھ اور غمگین حالت میں دعا مانگنا
قال الله :يَا عِیْسیٰ اَدْعُوْنِیْ دُعَاءَ الْحَزِیْنِ الْغَریِقِْ اَلَّذِیْ لَیْسَ لَهُ مُغِيْث ۔خدا فرماتا ہے اے عیسیٰ مجھ سے اس غرق ہونے والے غمگین انسان کی طرح دعا مانگو جس کا کوئی فریادرس نہ ہو (٣٤)
٧۔دو رکعت نماز پڑھنا
امام جعفر صادق ـ فرماتے جو شخص دو رکعت نماز بجا لانے کے بعد دعا کرے تو خدا اسکی دعا قبول فرمائے گا (٣٥)
٨۔ اپنی حاجت اور مطلوب کو زیادہ نہ سمجھو
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت ہے خدا فرماتا ہے کہ اگر ساتوں آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والے مل کر مجھ سے دعا مانگیں اور میں ان سب کی دعاؤں کو قبول کر لوں اور ان کی حاجات پوری کر دوں تو میری ملکیت میں مچھر کے پر کے برابر بھی فرق نہیں آئے گا (٣٦)
٩۔ دعا کو عمومیت دینا
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم : اِذادَعَا اَحَدَکُمْ فَلْيُعِمَّ فَاِنَّهُ اَوْجَبَ لِلدُّعَاءِ ۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی دعا مانگے تو اسے چاہیے کہ کہ اپنی دعا کو عمومیت دے یعنی دوسروں کو بھی دعا میں شریک کرے کیونکہ ایسی دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہے (٣٧)
قال الامام الصادق ـ :مَنْ قَدَّمَ اَرْبَعِیْنَ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ ثُمَّ دَعَاه اَسْتُجِیبُ لَهُ ۔جو شخص پہلے چالیس مومنین کے لئے دعا کرے اور پھر اپنے لئے دعا مانگے تو اس کی دعا قبول ہوگی (٣٨)
١٠۔قبولیت دعا کے بارے میں حسن ظن رکھنا
مخصوص اوقات وحالات اور مقامات میں دعا کرنا ۔
دعا کیلئے بعض اوقات حالات اور مقامات کو افضل قرار دینا اس کا معنی ہر گز یہ نہیں ہے کہ باقی اوقات اور مقامات میں دعا قبول نہیں ہوتی اور ان میں رحمت خدا کے دروازے بند ہیں کیونکہ تمام اوقات اور مقامات خدا سے متعلق ہیں اور اس کی مخلوق ہیں جس وقت جس مقام اور جس حالت میں بھی خدا کو پکارا جائے تووہ سنتا ہے اور اپنے بندے کو جواب دیتا ہے لیکن جس طرح خدا نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے اسی طرح بعض اوقات ومقامات کو بھی بعض پر فضیلت حاصل ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم دعا کے لئے افضل ترین کو انتخاب کریں ۔
مفاتیح الجنان اور دیگر کتب دعا میں مفصل طور پر دعا کے مخصوص اوقات اور حالات اور مقامات کو بیان کیا گیا ہے ہم اجمالاً بعض کو ذکر کرتے ہیں ۔
١۔نماز کے بعد
قال الصادق ـ: اِنَّ اللّٰهَ فَرَضَ الْصَّلَوٰتَ فِیْ أَحَبِّ الْاوْقَاتِ فَأسْءَالُوْا حَوَائِجکُمْ عَقِیْبَ فَرَائِضکُمْ ۔ امام صادق ـ فرماتے ہیں کہ خدا نے نمازوں کو محبوب ترین اور افضل ترین اوقات میں واجب قرار دیا ہے بس تم اپنی حاجات کو واجب نمازوں کے بعد طلب کرو (٣٩)
٢۔حالت سجدہ میں
قال الرضا ـ: اَقْرَبُ مَا يَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنَ اللّٰه تَعَالیٰ وَهُوَ سَاجد ۔امام رضا ـ فرماتے ہیں کہ حالت سجدہ میں بندہ اپنے خالق سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے (٤٠)
٣۔ قرآن مجید کی ایک سو آیات کی تلاوت کے بعد
قال امیر المومنین ـ:مَنْ قَرَءَ مِاءَةَ آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ مِنْ اَیِّ الْقُرْآنِ شَاءَ ثُمَّ قَالَ … يَاﷲ سَبْعُ مَرَّاتٍ فَلَوْ دَعَا عَلیٰ الْصَخْرَةِ لِقَلْعِهٰا اِنْ شَاءَ ﷲ ۔امام علی ـ فرماتے ہیں جو شخص قرآن کی ایک سو آیات پڑھے پھر سات مرتبہ یااللہ کہے تو خدا اس کی دعا قبول فرمائے گا (مضمون حدیث)(٤١)
٤۔سحری کے وقت
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں بہترین وقت جس میں تم اللہ سے دعا مانگو سحر کا وقت ہے کیونکہ حضرت یعقوب نے بھی استغفار کو سحر کے وقت لئے مؤخر کر دیا تھا (مضمون حدیث )(٤٢)
٥۔رات کی تاریکی میں مخصوصاً طلوع فجر کے قریب ۔
٦۔ شب و روز جمعہ ۔
٧۔ماہ مبارک رمضان ماہ رجب و ماہ شعبان ۔
٨۔شب ہای قدر (شب ١٩،٢١،٢٣،رمضان )۔
٩۔ماہ رمضان کا آخری عشرہ اور ماہ ذالحجہ کی پہلی دس راتیں ۔
١٠۔ عید میلاد پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم و آئمہ معصومین ۔عید فطر ۔عید قربان ،عید غدیر ۔
١١۔بارش کے وقت ۔
١٢۔عمرہ کرنے والے کی دعا واپسی کے وقت یا واپسی سے پہلے ۔
١٣۔جب اذان ہو رہی ہو ۔
١٤ تلاوت قرآن سننے کے وقت ۔
١٥ ۔حالت روزہ میں افطار کے وقت یا افطار سے پہلے ۔
دعا کے لئے مخصوص مقامات
(١) مکہ مکرمہ ،بیت اللہ ،مسجد الحرام ،مسجد النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم حرم مطہر و مزارات چہاردہ معصومین مخصوصاً حرم مطہر مام حسین ـ
(٢)وہ خاص مساجد جن مین انبیاء و آئمہ معصومین اور اولیاء خدا نے نماز و عبادت انجام دی ہے جیسے مسجد اقصیٰ، مسجد کوفہ، مسجد صعصعہ، مسجد سہلہ، سرداب سامرہ، مسجد جمکران ۔
(٣)مذکورہ خاص مقامات کے علاوہ ہر مسجد قبولیت دعا کیلئے بہترین مقام ہے ۔
اہم نکتہ :حالات اوقات اور مقامات دعا کے انتخاب میں مہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ایسا وقت اور مقام انتخاب کرنا چاہیے جس میں انسان ریاکاری تظاہر اور دکھاوے جیسی آفت کا شکار نہ ہو۔اور خلوص تواضع و انکساری اور رقت قلب زیادہ سے زیادہ حاصل ہو یہی وجہ ہے کہ روایات میں سفارش کی گئی ہے کہ رات کی تاریکی میں اور سحر کے وقت دعا مانگی جائے خدا فرماتا ہے ۔يَا بْنَ عِمْرَان …وَاَدْعُنِیْ فِیْ الظُلُمِ اللَّیلِ فَاِنَّکَ تَجِدُنِیْ قَرِیْباً مُجَیْباً ۔اے موسیٰ مجھے رات کی تاریکی میں پکارو تو مجھے اپنے قریب اور دعا قبول کرنے والا پاؤ گے(٤٣)
مقبول دعائیں
قال امیر المومنین ـ:اَرْبَعَة لَا تُرَدُّ لَهُمْ دَعْوَة: اَلْاِمَامُ الْعَادِلُ لِرَعِیَّتِه وَالْوَالِدُ الْبَارُّ لِوَلْدِه وَالْوَلَدُ الْبَارُّ لِوَالِدِه وَالْمَظْلُوْمُ (لِظَالِمِهِ) امام علی ـ فرماتے ہیں چار افراد کی دعا رد نہیں ہوتی امام و حاکم عادل جب اپنی رعیت کے حق میں دعا کرے نیک باپ کی دعا اولاد کے حق میں نیک و صالح اولاد کی دعا باپ کے حق میں مظلوم کی دعا (ظالم کے بر خلاف )(٤٤)
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم : دُعَاءُ اَطْفَالِ اُمَّتِیْ مُسْتَجَاب مَا لَمْ يُقَارِفُوْا الذُّنُوْبَ ۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں کہ میری امت کے بچوں کی دعا قبول ہے جب تک وہ گناہوں سے آلودہ نہ ہوں(٤٥)
قال الامام الحسن ـ:مَنْ قَرَءَ الْقُرْآنَ کَانَتْ لَهُ دَعْوَة مُجَابَة اِمَّا مُعَجَّلَةً وَاِمَّا مُؤَجَّلَةً ۔امام حسن ـ فرماتے ہیں جو شخص قرآن کی تلاوت کرے اس کی دعا جلدی یا دیر سے قبول ہوگی (٤٦)
دعا بے فائدہ نہیں ہوتی
قال الامام زین العابدینـ: اَلْمُوْمِنُ مِنْ دُعَائِه عَلیٰ ثَلَاثٍ اِمَّا اَنْ يُدَّخَرَ لَهُ، وَاِمَّا اَنْ يُعَجَّل لَهُ وَاِمَّا اَنْ يَدْفَعَ عَنْهُ بَلائً يُرِيْدُ اَنْ يُصِیْبَ ۔ امام زین العابدین ـ فرماتے ہیں مومن کی دعا تین حالات سے خارج نہیں ہے (١)یا اس کے لئے ذخیرہ آخرت ہو گی ۔(٢)یا دنیا میں قبول ہو جاے گی ۔(٣)یا مومن سے اس مصیبت کو دور کر دے گی جو اسے پہنچنے والی ہے ۔(٤٧)
مومنین ومومنات کے لئے دعا کرنے کا فائدہ
قال الامام الصادق ـ : دُعَاءُ الْمُوْمِنِ لِلْمُوْمِنِ يَدْفَعُ عَنْهُ الْبَلَاءَ وَيُدِرُّ عَلَيْهِ الْرِّزْقَ ۔مومن کا مومن کیلئے دعا کرنا دعا کرنے والے سے مصیبت کو دور کرتا ہے اور اس کے رزق میں اضافہ کاسبب بنتا ہے ۔(٤٨)
مطلب دوم :زیارت آیات اور روایات کی روشنی میں
جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور معصومین سے منقول روایات میں غور فکر کی جائے تو پھر زیارت کی اہمیت و فضیلت بھی واضح ہو جاتی ہے اور اس بحث کی بھی ضرورت محسوس ہو تی ہے آیا انبیا ،آئمہ اور اولیا ء خدا کی مزارات کی زیارت کرنا ان کی بار گاہ میں سلام عرض کرنا اور انہیں ان کی وفات اور شہادت کے بعد بار گاہ الٰہی میں وسیلہ اور شفیع قرار دینا جائز ہے یا نہ چونکہ یہ حضرات قرآن مجید کی اس آیہ مجیدہ کے مصداق اعلیٰ و اکمل ہیں جس میں ارشاد ہوتا ہے :وَ لاَ تَحْسَبَنَ الَّذِیْنَ قُتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ ﷲ اَمْوَاتاً بَلْ اَحْيَائ عَنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ ۔جو حضرات راہ خدا میں شہید ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے مہمان ہیں(٤٩)
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی فرماتے ہیں :منَ ْزَارَنِی حَيّاً وَمَيَّتاً کُنْتُ لَه شَفِيْعاً یَومَ الْقِيَامَةِ ۔جو شخص میری زندگی یا معرفت یا میری وفات کے بعد میری زیارت کرے میں بروز قیامت اسکی شفاعت کروںگا(٥٠)
امام صادق ـ فرماتے ہیں:مَنْ زَارَنَا فِیْ مَمَاتِنَا کَاَنَّمٰا زَارَنَا فِیْ حِيَاتِنَا جو شخص ہماری وفات کے بعد ہماری زیارت کرے تو گویااس نے ہماری زندگی میں ہماری زیارت کی ہے (٥١)
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں:وَمَنْ سَلَّمَ عَلیَّ فِیْ شَیئٍ مِنْ الْاَرْضِ بَلَغَتْنِی وَمَنْ سَلَّمَ عَلیَّ عَنْدَ الْقَبْرِ سَمِعْتُه جو شخص زمین کے کسی بھی حصے سے مجھ پر سلام بھیجتا ہے اس کا سلام مجھ تک پہنچ جاتا ہے اور جو شخص میری قبر کے پاس آکر مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اس کا سلام بھی میں سنتا ہوں (٥٢)
مذکورہ آیت و روایات سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ،،و آئمہ معصومین جس طرح اپنی حیات و زندگی میں خالق اور مخلوق کے درمیان رابط اور وسیلہ ہیں اس طرح اپنی شہادت اور وفات کے بعد بھی ہمارا سلام ہماری زیارت ہماری دعائیں سنتے ہیں اور بار گاہ خدا میں ہماری شفاعت فرماتے ہیں ۔
امام صادق ـ فرماتے ہیں :مَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلیٰ زِيَارَتِنَا فَلیَزِرْ صَالِحِیْ مَوَالِینَا يَکْتُبُ لَه ثَوَّابُ زِيَارَتِنَا ۔جو شخص ہماری زیارت پر قدرت و طاقت نہیں رکھتا اسے چاہیے کہ وہ ہمارے نیک و صالح موالی اور دوستوں کی زیارت کرے اس کے لئے (خدا کی طرف سے )ہماری زیارت کا ثواب لکھا جائے گا (٥٣)
قال امام علی ـفرماتے ہیں:زُوْرُوا مَوْتَاکُمْ فَاِنَّهُمْ يَفْرَحُوْنَ بِزِيَارَتِکُمْ وَالْيَطْلُبُ الْرَجُلُ حَاجَتَه عَنْدَ قَبْرِ اٰبِيْهِ وَاُمِّهِ بَعْدَ مَا يَدْعُوا لَهُمَا ۔ اپنے مردوں کی (قبر پر جا کر )زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہاری زیارت سے خوش ہوتے ہیں انسان کو چاہیے کہ جب اپنے ماں باپ کی قبر پر جائے تو پہلے ان کے لئے دعائے خیر کرے اس کے بعد اپنی حاجت خدا سے طلب کرے جب نیک اور صالح لوگوںکی زیارت کا اتنا ثواب ہے اور انسان اپنے ماں باپ کی قبر پر جاکر خدا سے اپنی حاجات طلب کر سکتا ہے تو پھر انبیا ء آئمہ معصومین اور اولیاء خدا کی قبور اور روضہ بارگاہ مطہر کی زیارت وسلام دعا ومناجات اور ان کو اپنی حاجات و مشکالات اور اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے بارگاہ خدا میں وسیلہ اور شفیع قرار دینے میں کسی مسلمان کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیئے(٥٤)
خدا فرماتا ہے :يَا اَيُّهَا الَّذِیْنَ اَمَنُوا اِتَّقُوا ﷲ وَابْتَغُوا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ ۔اے ایمان والو تقویٰ اختیار کرو اور اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو (٥٥)
پیغمبر اور اہل بیت سے افضل اور بر تر پیش خدا کونسا وسیلہ ہے ۔
حضرت علی ـ فرماتے ہیں ہم خدا اور مخلوق کے درمیان وسیلہ ہیں۔
حضرت فاطمہ زہرا فرماتی ہیں ہم (اہل بیت پیغمبر )خلق و خالق کے درمیان رابط ہیں )
نہ فقط بزرگ ہستیوں کو وسیلہ قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ بعض مقدس و مبارک اوقات اور مقامات کو بھی وسیلہ قرار دیا گیا ہے حضرت امام سجاد ـ خدا کو ماہ مبارک رمضان کا واسطہ دیتے ہیں(٥٦)
امام حسین ـ خدا کو شب روز عرفہ کی قسم دیتے ہیں ۔
قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق :فَلَمَّا اَنْ جَاءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰهُ عَلیٰ وَجْهِه فَارْتَدَّ بَصِيْراً ۔جب حضرت یوسف ـ کا قمیص حضرت یعقوب کی آنکھوں کے ساتھ میں ہوتا ہے تو ان کی آنکھوں کی بینائی واپس لوٹ آئی کپڑا خود کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا لیکن چونکہ حضرت یوسف جیسے نبی کے بدن سے متصل رہا ہے اس میں خدا نے یہ اثر عطا فرمایا ہے(٥٧)
امام ہادی ـجب بیمار ہوتے ہیں تو ایک شخص کو کربلا روانہ کرتے ہیں کہ جا کر قبر مطہر امام حسین ـ پر میرے لئے دعا کرو ۔
جب اس شخص نے تعجب سے سوال کیا مولا آ پ معصوم ہیں میں غیر معصوم ہوں آپ کیلئے جا کر میں دعا کروں امام نے جو اب دیا رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم خانہ کعبہ اور حجر الاسود سے افضل تھے لیکن خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے۔
خدا نے کچھ ایسے مقامات قرار دیے ہیں جہاں خدا چاہتا کہ وہاں جا کر دعا مانگی جائے اور میں دعا قبول کروں گا خانہ کعبہ اور حرم امام حسین ـ بھی انہیں مقامات مقدسہ میں سے ہیں۔
اگر ہم ضریح یا ضریح مطہر کے دروازوں کو بوسہ دیتے ہیں اور چومتے ہیں تو فقط و فقط پیغمبر یا اس معصوم کے احترام کی وجہ سے کیوں کہ اب یہ ضریح و بارگاہ اور یہ در و دیوار اسی معصوم ـ کی وجہ سے مقدس اور با برکت ہو گئے ہیں جس طرح قرآن مجید کی جلد یا کاغذ قرآن کی وجہ سے مقدس ہو گئے ہیں چو نکہ اگر یہی کاغذ اور جلد کسی اور کاپی یاکتاب پر ہوں تو مقدس نہیں ہے ۔
اولیاء خدا پر سلام و درود
خدا نے اپنی کتاب مقدس قرآن مجید میں اپنے انبیاء اور اولیاء پر دروود بھیجتا ہے
(١)سَلاَم عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعَالَمِیْنَ (٢)سَلاَم عَلٰی اِبْرَاهِیْمَ (٣)سَلاَم عَلٰی مُوسٰی وَهٰرُوْنَ (٤) وَسَلاَم عَلٰی الْمُرَسَلِیْنَ (٥) سَلاَم عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ يُبْعَثُ حَيّاً (١) نوح پر دونوں جہانوں میں سلام ہو(٢) ابراہیم پر سلام ہو (٣) موسیٰ وہارون پر سلام ہو(٤) رسولوں پر سلام ہو(٥) سلام ہو اس پر ولادت کے وقت، موت کے وقت اور جب دوبارہ زندہ کیا جائے گا(٥٨)
ہم بھی قرآن مجید کی پیروی کرتے ہوئے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم و آئمہ کی زیارت کرتے ہیں اور ان پر سلام و درود بھیجتے ہیں ۔
معصومین اور زیارت
قال رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم : مَنْ اَتَانِی زَائِراً کُنْتُ شَفِيْعَه يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۔رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم : فرماتے ہیں جو شخص میری زیارت کے لئے آئے گاقیامت کے دن میںاس کی شفاعت کروں گا (٥٩)
قال الامام موسیٰ کاظم ـ :مَنْ زَارَ اَوّلنَا فَقَدْ زَارَ آخِرَنَا وَمَنْ زَارَ آخِرَنَا فَقَدْ زَارَ اَوَّلنَا ۔امام موسیٰ کاظم ـ فرماتے ہیں جس شخص نے ہمارے اول کی زیارت کی گویا اس نے ہمارے آخری کی بھی زیارت کی ہے اور جس نے ہمارے آخر کی زیارت کی گویا اس نے ہمارے پہلے کی بھی زیارت کی ہے (٦٠)
امام حسن ـ اپنے نانا رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں جو شخص آپ کی زیارت کرے اس کو کیا ثواب ملے گا آپ نے فرمایاجو شخص میری زندگی میں یا میری وفات کے بعد زیارت کرے آپ کے بابا علی کی زیارت کرے یا آپ کے بھائی حسین ـ کی زیارت کرے یا آپ کی زیارت کے لئے آئے تو مجھ پر حق بن جاتا ہے قیامت کے دن میں اس کی زیارت کروں اور (اس کی شفاعت کر کے )اس کے گناہ معاف کرادوں ۔(٦١)
قال الامام صادق ـ :مَنْ زَارَ الْحُسَيْن ـ عَارِفاً بِحَقِّه کَتَبَ ﷲ لَه ثَوَّابَ اَلْفِ حِجَّةٍ مَقْبُوْلَةٍ وَاَلْفِ عُمْرَةٍ مَقْبُوْلَةٍ وَغَفَرَلَه مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ۔امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں جو شخص امام حسین ـ کی زیارت کرے اس حال میں کہ ان کے حق کو پہچانتا ہو تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار حج مقبول اور ایک ہزار عمرہ مقبول کا ثواب لکھ دے گا اور اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہ بھی معاف فرما دے گا (٦٢)
الامام صادق ـ :اِيْتُوا قَبْرَالْحُسَيْنِ فِیْ کُلِ سَنَّةٍ مَرَّةً ۔امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں کہ ہر سال ایک مرتبہ قبر مطہر امام حسین ـ زیارت پر جاؤ (٦٣)
امام صادق ـ نماز کے بعد زائرین امام حسین ـ کے لئے یوں دعا فرماتے ہیں خدایا میرے جد امجدامام حسین ـ کی قبر مطہر کی زیارت کرنے والوں کی مغفرت فرما (٦٤)
قال الامام الصادق ـ:مَنْ زَارَنِی غُفِرَتْ لَه ذَنُوبُه وَلَمْ يَمُتْ فَقِيْراً ۔ امام صادق ـ فرماتے ہیں جو شخص میری زیارت کرے اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور وہ حالت فقر میں نہیں مرے گا (٦٥)
قال الامام الرضاـ:مَنْ زَارَنِی عَلَیَّ بُعْدِ دَارِیْ أَتَیْتَه يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِی ثَلاَثَ مَوَاطِنِ حَتّٰی اَخْلِصْه مِن اَهْوَالِهٰا اِذَا تَظَاهَرَتِ الْکُتّبُ يَمِیناً وَشِمَالاً عِنْدَ الصِّرَاطِ وَعَنْدَ الْمِيْزَانِ ۔امام رضا ـ فرماتے ہیں جو شخص میری زیارت کے لئے آئے گا (میری قبر کے دور ہونے کے باوجود)میں قیامت کے دن تین مقامات پر اس کے پاس آؤں گا تا کہ شفاعت کروں اور اسے ان مقامات کے ہولناکیوں اور سخت حالات سے اسے نجات دلاؤں (٦٦)
(١)جب اعمال نامے دائیں بائیں پھیلا دئیے جائیں گے ۔
(٢) پل صراط پر
(٣)حساب کے وقت
قال الامام الجواد ـ :مَنْ زَارَ قَبْرَ عَمَتِی بِقُمٍّ فَلَه الْجَنَّة ۔امام جوا د ـ فرماتے ہیں جو شخص قم میں میری پھوپھی(حضرت فاطمہ معصومہ ) کی زیارت کرے خدا اسے جنت عطا فرمائے گا (٦٧)
امام حسن عسکری ـ فرماتے ہیں جو شخص عبد العظیم (حسنی )کی زیارت کرے تو گویا اس نے حضرت امام حسین ـ کی زیارت کی ہے (اور اسے آپ کی زیارت کا ثواب ملے گا )(٦٨)
امام صادق ـ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنے والدین یا کسی رشتہ دار یا غیر رشتہ دار کی قبر پر جاتا ہے اور اس کے لئے دعا کرتا ہے کیا اس سے قبر والے کوکو ئی فائدہ پہنچے گا ؟آپ نے جواب میں فرمایا ہاں اگر تم میں سے کسی کو ہدیہ و تحفہ دیا جائے تو جس طرح تم خوش ہوتے ہو صاحب قبر (مرنے والا)بھی تمہارے اس عمل سے اسی طرح خوش ہوتا ہے (٦٩)
قرآنی آیات اور احادیث کے حوالہ جات
(١)سورہ غافرہ آیة ٦٠(٢)سورہ اسراء آیة ١١٠(٣،٤)کلمة ﷲ صفحہ ٤٠٩ حدیث ٤٠٥و٤٠٦ (٥) وسائل الشیعہ ابواب دعا ،باب دوم حدیث ٣(٦،٧)کافی کتاب الدعائ(٨ تا ١٩)میزان الحکمة باب دعائ(٢١)سورہ غافر آیة ١٤(٢٢)میزان الحکمة (٢٣) وسائل الشیعہ ابواب دعا باب ٥٠ حدیث ٣(٢٤تا ٢٨) میزان الحکمة حدیث ٥٦٢٠ تا ٥٦٢٥(٢٩ تا ٣١) وسائل ،ابواب دعا ،باب ٣٧ حدیث ٧،١٠،١٢(٣٢)کلمة ﷲ حدیث ٩٣(٣٣تا٣٨)میزان الحکمة حدیث ٥٦٣٠،٥٦٣٢،٥٦٣٥،٥٦٣٩،٥٦٤٧،٥٦٤٨ (٣٩) وسائل الشیعہ کتاب الصلاة ابواب تعقیب حدیث ٨ (٤٠) وسائل الشیعہ کتاب الصلاة ابواب سجود باب ٢٣ حدیث ٥(٤١) وسائل الشیعہ ابواب دعاء باب ٢٣ حدیث ٤(٤٢) میزان الحکمة حدیث ٥٦٥٨(٤٣)وسائل الشیعہ ابواب دعا باب ٣٠ حدیث ٢ (٤٤ تا ٤٨) میزان الحکمة ٥٦٩٦،٥٦٩٨،٥٧٠٠،٥٧٢٣،٥٧٣٦(٤٩) آل عمران آیة ١٦٩(٥٠ تا ٥٤) میزان الحکمة حدیث ٧٩٤٨،٧٩٥٢، ٧٩٤٨،٧٩٨٦،٧٩٨٧(٥٥) مائدہ آیة ٣٥(٥٦)صحیفہ سجادیہ دعای ٤٤(٥٧)یوسف آیة ٩٦(٥٨) صافات آیة ٧٩،١٠٩،١٢٠،١٨١(٥٩تا ٦٩) میزان الحکمة حدیث ٧٩٤٦،٧٩٥١،٧٩٤٩،٧٩٦١،٧٩٦٣،٧٩٦٦۔
مطلب سوم :
مؤلف محترم کے مختصر حالات زندگی
انبیاء اور آئمہ اطہار اور ان کے بعد نیک اور با فضیلت علماء کی سیرت سے آگاہ ہونا ان تمام لوگوں کیلئے جو نمونہ عمل کی جستجو میں ہیں روحانی ارتقاء کا موجب ہے چونکہ یہ عظیم ہستیاں روحانی اعتبار سے ممتاز ہیں اور عمدہ کردار و اخلاق کی حامل ہیںمفاتیح الجنان کے مؤلف خاتم المحدثین الحاج شیخ عباس قمی ہیں جو کہ محدث قمی کے نام سے مشہور ہیں آپ ١٢٩٤ھ میں مذہبی شہر قم میں پیدا ہوئے وہ مقدس شہر کہ جو کریمہ اہل بیت فاطمہ معصومہ کا مدفن ہے اور علم و روحانیت کا مرکز ہے ۔
والد گرامی
آپ کے والد بزرگوار الحاج محمد رضا قمی ہیں جنہیں قم کے لوگ متقی پرہیزگار شخص کے طور پر پہچانتے تھے چو نکہ آپ دینی مسائل سے بھی آگاہ تھے اس لئے لوگ شرعی احکام پوچھنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔
والدہ معظمہ
محدث قمی کی والدہ مکرمہ پرہیز گار خاتون تھیں ان کے متعلق خود محدث قمی نے کئی مقامات پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ میری تالیفات اور دیگر کام میری والدہ کی تربیت کی وجہ سے ہیں کہ انہوں نے اس قدر کوشش کی کہ مجھے ہمیشہ باوضو دودھ پلایا کرتی تھیں ۔
تعلیمی مراحل
محدث قمی نے اپنا بچپن اور جوانی قم جیسے مذہبی شہر میں گزار دی اور اس زمانے کے علماء سے ادبیات اور فقہ و اصول کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے ١٣١٦ھ میں نجف اشرف تشریف لے گئے اور حضرت آیت اللہ حاج سید محمد کاظم یزدی جیسے بزرگ و عظیم مجتہدین و مراجع سے کسب فیض کیا لیکن چونکہ علم حدیث ،رجال اور درایہ سے خصوصی لگاؤ تھا اس لئے علامہ نامدار حاج میرزا حسین نوری کی خدمت میں گئے چونکہ وہ اس زمانے میں علم حدیث کے علمبردار تھے آپ کا زیادہ وقت ان کی خدمت میں گزرا ۔
عمدہ صفات
محدث قمی نے اپنی جوانی کے دوران خود سازی کو اپنا سرنامہ زندگی قرار دیا فضائل اخلاقی اور عمدہ صفات کے حصول میں کوشاں رہے یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے علم اخلاق کے بزرگ معلمین میں ان کا شمار ہوتا تھا اور لوگ انہیں ایک روحانی متقی شخص کے طور پر پہچانتے تھے آپ کے درس اخلاق میں لوگ جوق در جوق شریک ہوتے تھے آپ کی ممتاز ترین صفات میں تین اوصاف انتہائی نمایاں ہیں۔
١۔دعا اور اہلبیت کے ساتھ گہرا تعلق ٢۔زہد و تقویٰ ٣۔تواضع و انکساری ۔
مدرسہ و مؤسسہ امام المنتظر (عج) قم
محسن ملت حضرت علامہ سید صفدر حسین نجفی اعلیٰ اللہ مقامہ نے ١٤٠٣ہجری قمری بمطابق ١٩٨٢ عیسوی میں مدرسہ امام المنتظر(عج)کی بنیاد رکھی یہ مدرسہ آج محلہ گذرقلعہ قم میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے محسن ملت مرحوم کی خواہش تھی کہ قم کی طرح مشہد مقدس اور شام میں بھی اس مدرسہ کی شاخیں ہوں ان کے علاوہ ایک عظیم علمی ،ثقافتی اور دینی ادارہ بھی معرض وجود میں آئے تاکہ وہاں سے دینی کتب کی اشاعت ہو سکے علامہ محسن ملت کی یہ خواہش ١٤١٨ ہجری قمری بمطابق ١٩٩٧ عیسوی کو مؤسسہ ہذا کی صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچی ،یہ ادارہ اس وقت تک کئی کتب شائع کر چکا ہے مؤسسہ ہذا کے شعبہ تحقیقات میں فاضل طلباء کے توسط سے مختلف موضوعات پر مناسب اور با اعتماد منابع سے تحقیقی کام ہو رہا ہے (جیسے تفسیر وعلوم قرآن ،تاریخ وسیرت اہل بیت اور اس کے علاوہ دیگر موضوعات) بہر حال یہ سب کچھ علامہ محسن ملت کی باقیات وصالحات اور صدقہ جاریہ ہیں خدا وند متعال علامہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے ۔آمین ۔
سید نیاز حسین نقوی
مؤسسہ اما م المنتظر (عج)
قم المقدسہ اسلامی جمہوریہ ایران
مؤسسہ امام المنتظر (عج)کا شعبہ نشر واشاعت مختلف زبانوں میں اب تک کئی کتب شائع کر چکا ہے ۔
قرآن (١)
چراغ ہدایت
تفسیر وجیر (١)
عدالت اجتماعی(معاشرتی انصاف)
مفاتیح الجنان (١) مرحوم شیخ عباس قمی
آئینہ حقیقت
مکاسب (٣) جلد شیخ مرتضیٰ انصاری
پیام امام زمانہ(عج)فارسی
رہبر بشریت کا اعلان
قرآن ترجمہ فارسی
زیر طبع کتب اردو
مفاتیح الجنان ترجمہ فارسی
اہل بیت قرآن وسنت کی روشنی میں
نہج البلاغہ ترجمہ فارسی
علم وحکمت قرآن وسنت کی روشنی میں
حقیقت مکتوم ترجمہ فارسی
عقل قرآن وسنت کی روشنی میں
در مکتب حسین شیعہ شدم ترجمہ فارسی
محبت قرآن وسنت کی روشنی میں
راز خلقت انسان در قرآن
خطبہ غدیر(انگلش )
عدالت اجتماعی (بخش اقتصاد)
فصول شرح کفایة الاصول
فضائل سورہ یٰس
مفاتیح النجاح میں سورہ یاسین کے فضائل کے ضمن میں حضرت رسول اکرم سے منقول ہے کہ جو شخص خدا کی خوشنودی کیلئے سورہ یٰس پڑھے تو خدا اسکے گناہ معاف کردیگا اور اسے بارہ مرتبہ قرآن کو ختم کرنے ثواب عطافرمائیگا ۔نیزجب یہ سورہ کسی مریض کے پاس تلاوت کیا جائے تو اسکے سامنے ہر حرف کے بدلے میں دس فرشتے صف بستہ ہوکرنازل ہوتے ہیں جو اس کیلئے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اسکی روح قبض ہونے تک حاضر رہتے ہیں اسکے جنازے کے ساتھ چلتے ہیں اس پر نماز پڑھتے ہیں اور اسکے دفن میں شریک ہوتے ہیں اگر کوئی مریض وقت نزع خود یا کوئی دوسرا شخص اس کے پاس سورہ یٰس کی تلاوت کرے تورضوان جنت بہشت کے پانی کا ایک کا سہ لا کر اسے دیتا ہے جسے وہ پیتا ہے اور سیراب ہوکر اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور اپنی قبرسے سیراب ہی اٹھے گااورنبیوںکے کسی حوض کامحتاج نہ ہو گاحتی کہ وہ سیراب ہو کر جنت میں داخل ہو گا۔نیزمنقول ہے کہ سورہ یٰس اپنے پڑھنے والے کو دنیا اور آخرت کی بھلائی عنایت کرے گا، قیامت کی ہولناکی اور دنیا کی بلائوں سے بچائے گا نیز ہر شر کو اس سے دور کرے گا اور اسکی ہر حاجت برلائے گا۔ سو رہ یٰس پڑھنے والے کے لیے بیس حج کا ثواب ہے اور اسے سننے والے کے لیے ہزار نور، ہزار رحمتیں اور ہزار برکتیں ہوں گی اور یہ سورہ اس کو ہر مصیبت سے نجات دلائے گا۔حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مروی ہے کہ جو شخص قبرستان میں سورہ یٰس کی تلاوت کرے تو خدا وہاں مدفون لوگوںکے عذاب میں کمی کرے گا اور اسکو مرد وں کی تعداد کے برابر نیکیاں عطا فرمائیگا۔امام جعفرصادقعليهالسلام سے منقول ہے کہ جو شخص دن میں سورہ یٰس پڑھے وہ رات تک محفوظ رہے گا اور روزی سے نوازا جائے گااور جو شخص رات کوسو نے سے پہلے یہ سورہ پڑھے تو خدا اس کو ہر آفت اور شیطان کے ہر شر سے بچانے کیلئے اس پر ہزار فرشتے مقرر کرے گا اور اگروہ اسی روز مر جائے تو خدا اس کو جنت میں داخل فرمائے گا ۔
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے( شروع کرتا ہوں)جو بڑا مہربا ن نہایت رحم والا ہے
یٰسٓ﴿۱﴾ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ ﴿۲﴾ إنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِینَ ﴿۳﴾ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ﴿۴﴾
یاسین۔پُرحکمت قرآن کی قسم۔(اے رسول)بے شک آپ ضرور پیغمبروں میں سے ہیں۔ سیدھے راستے پر (قائم) ہیں
تَنْزِیلَ الْعَزِیزِالرَّحِیمِ ﴿۵﴾ لِتُنْذِرَ قَوْماً مَا أُنْذِرَ آباؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ ﴿۶﴾
یہ (قرآن) بڑے مہربان غالب خدا کانازل کردہ ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ڈرائو جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے پس وہ بے خبر ہیں
لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَی أَکْثَرِهِمْ فَهُمْ لاَ یُؤْمِنُونَ ﴿۷﴾ إنَّاجَعَلْنَا فِی أَعْناقِهِمْ أَغْلاَلاً فَهِیَ إلَی
ہیںیقینًا ان میں اکثر پر حق واضح ہو چکا لیکن وہ ایمان نہ لائیں گے بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں جو انکی
الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُقْمَحُونَ ﴿۸﴾وَجَعَلْنَا مِنْ بَیْنِ أَیْدِیهِمْ سَدّاً وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدّاً فَأَغْشَیْنَاهُمْ
ٹھوڑیوں تک ہیں اور انہوں نے منہ اٹھا رکھے ہیں ہم نے ان کے آگے اور پیچھے دیوار کھڑی کر کے انہیں ڈھانپ دیا
فَهُمْ لاَیُبْصِرُونَ ﴿۹﴾ وَسَوَائٌ عَلَیْهِمْ أَ أَ نْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لاَ یُؤْمِنُونَ﴿۱۰﴾ إنَّمَا
لہذا وہ کچھ نہیں دیکھتے اور ان کیلئے برابر ہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیںلائیں گے بس آپ اسی
تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمنَ بِالْغَیْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ کَرِیمٍ ﴿۱۱﴾ إنَّا
کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت مانے اوران دیکھے خدا سے ڈرے آپ اسے بخشش اورباعزت اجر کی نوید دے دیں یقینا ہم ہی مردوں
نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتی وَنَکْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ وَکُلَّ شَیْئٍ أَحْصَیْنَاهُ فِی إمَامٍ مُبِینٍ ﴿۱۲﴾
کو زندہ کرتے ہیں اور جو کچھ پہلے لوگ کر چکے اور ہم انکے آثار کو لکھتے جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح پیشوا کے تابع کر دیا ہے
وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلاً أَصْحَابَ الْقَرْیَةِ إذْ جَاءَهَا الْمُرْسَلُونَ ﴿۱۳﴾ إذ أَرْسَلْنا إلَیْهِمُ اثْنَیْنِ
اور ان کیلئے( بستی انطاکیہ) والوں کی مثال بیان کریں جب انکے پاس رسول آئے جب ہم نے انکی طر ف دو رسول بھیجے تو انھوں انکو
فَکَذَّبُوهُما فَعَزَّزْنا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إنَّا إلَیْکُمْ مُرْسَلُونَ ﴿۱۴﴾ قَالُوا مَا أَ نْتُمْ إلاَّ بَشَرٌ مِثْلُنا
جھٹلایا تب ہم نے انکو تیسرے(رسول) سے قوت دی تو انہوں نے کہا ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ان لوگوں نے کہا تم بھی ہمارے جیسے آدمی ہی ہو
وَمَا أَ نْزَلَ الرَّحْمنُ مِنْ شَیْئٍ إنْ أَ نْتُمْ إلاَّ تَکْذِبُونَ ﴿۱۵﴾قَالُوا رَبُّنَا یَعْلَمُ إنَّا إلَیْکُمْ
اور رحمن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا تم واضح جھوٹ بول رہے ہو انہوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف
لَمُرْسَلُونَ ﴿۱۶﴾ وَمَا عَلَیْنَا إلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِینُ﴿۱۷﴾ قَالُوا إنَّا تَطَیَّرْنا بِکُمْ لَئِنْ لَمْ
بھیجے گئے ہیںاور ہمارا کام تو بس پیغام پہنچا دینا ہے وہ بولے ہم نے تمہیں بد شگون پایا اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں
تَنْتَهُوا لَنَرْجُمَنَّکُمْ وَلَیَمَسَّنَّکُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِیمٌ ﴿۱۸﴾ قَالُوا طَائِرُکُمْ مَعَکُمْ أَ إنْ ذُکِّرْتُمْ
ضرور سنگسار کریں گے اور ہمارے ہاتھوں تمہیں درد ناک عذاب پہنچے گا وہ بولے تمہاری بدشگونی تمہارے ساتھ ہے کیا تم نصیحت کو برا سمجھتے ہو
بَلْ أَ نْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ ﴿۱۹﴾ وَجَاءَ مِنْ أَقْصَی الْمَدِینَةِ رَجُلٌ یَسْعَی قَالَ یَا قَوْمِ اتَّبِعُوا
بلکہ تم حد سے بڑھنے والے ہو اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا اے لوگو ان رسولوں کی
الْمُرْسَلِینَ ﴿۲۰﴾ اتَّبِعُوا مَنْ لاَ یَسْأَ لُکُمْ أَجْراً وَهُمْ مُهْتَدُونَ ﴿۲۱﴾ وَمَا لِیَ لاَ أَعْبُدُ
پیروی کرو ۔ہاں ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اوریہ تو ہدایت یافتہ ہیں مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اپنے پیدا کرنے والے کی
الَّذِی فَطَرَنِی وَ إلَیْهِ تُرْجَعُونَ ﴿۲۲﴾أَ أَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً إنْ یُرِدْنِ الرَّحْمَنُ بِضُرٍّ لاَ
عبادت نہ کروں اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔کیا میں اس کے سوا دوسرے معبود بنا لوں؟ اگر خدا مجھے کوئی تکلیف دے تو نہ
تُغْنِ عَنِّی شَفاعَتُهُمْ شَیْئاً وَلاَ یُنْقِذُونِ ﴿۲۳﴾ إنِّی إذاً لَفِی ضَلالٍ مُبِینٍ ﴿۲۴﴾ إنِّی
انکی شفاعت کام آئے نہ وہ مجھے چھڑا سکیں تب یقینا میں کھلی گمراہی میں ہوں گا میری مانو
آمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُونِ ﴿۲۵﴾ قِیلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ یَا لَیْتَ قَوْمِی یَعْلَمُونَ ﴿۲۶﴾
کہ میں تمہارے رب پر ایمان لایا ہوں (قوم نے اسے مار ڈالا تو) کہا گیا جنت میں داخل ہو جا اس نے کہا کاش میری قوم جان لیتی
بِما غَفَرَ لِی رَبِّی وَجَعَلَنِی مِنَ الْمُکْرَمِینَ ﴿۲۷﴾ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَی قَوْمِهِ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ جُنْدٍ
کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور عزت والوں میں شامل کردیا ہے اس شہید کے بعد ہم نے اسکی قوم پر آسمان سے لشکر نہ اتارا
مِنَ السَّمَائِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِینَ ﴿۲۸﴾ إنْ کَانَتْ إلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً فَ إذَا هُمْ خَامِدُونَ ﴿۲۹﴾
نہ ہم اتارنے والے تھے وہ تو ایک چنگھاڑ ہی تھی جس سے وہ بجھ کر رہ گئے
یَا حَسْرَةً عَلَی الْعِبَادِ مَا یَأْتِیهِمْ مِنْ رَسُولٍ إلاَّ کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِؤُنَ ﴿۳۰﴾أَلَمْ یَرَوْا کَمْ أَهْلَکْنَا
لوگوں کے حال پر افسو س ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آیا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے ۔کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم
قَبْلَهُمْ مِنَ الْقُرُونِ أَ نَّهُمْ إلَیْهِمْ لاَ یَرْجِعُونَ ﴿۳۱﴾ وَ إنْ کُلٌّ لَمَّا جَمِیعٌ لَدَیْنَا مُحْضَرُونَ ﴿۳۲﴾
نے ان سے پہلے کئی قومیں ہلاک کر دیں جو ان کی طرف لوٹنے والی نہیں۔البتہ وہ اکھٹے ہمارے سامنے حاضر ہوں گے
وَ آیَةٌ لَهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ أَحْیَیْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبّاً فَمِنْهُ یَأْکُلُونَ ﴿۳۳﴾ وَجَعَلْنَا فِیهَا
اور مردہ زمین بھی ان کیلئے ایک نشانی ہے جسے ہم نے زندہ کیا ہم نے اس سے غلہ نکالا اور وہ اسے کھاتے ہیں اور ہم نے اس
جَنَّاتٍ مِنْ نَخِیلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِیهَا مِنَ الْعُیُونِ ﴿۳۴﴾ لِیَأْکُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ
میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے اور ہم نے اس میں کچھ چشمے جاری کیے تاکہ وہ زمین کے ان پھلو ں کو کھا ئیں جسے ان
أَیْدِیهِمْ أَفَلاَ یَشْکُرُونَ ﴿۳۵﴾ سُبْحَانَ الَّذِی خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّهَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ
کے ہاتھوں نے نہیں اگایا۔کیا وہ شکر نہیں کرتے؟ پاک ہے وہ ذات جس نے زمین سے اگنے والی سب چیزوں کے جو ڑے پیدا کیے اور
وَمِنْ أَ نْفُسِهِمْ وَمِمَّا لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۶﴾ وَ آیَةٌ لَهُمُ اللَّیْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَ إذا هُمْ
انکی جانوں سے بھی اور ان چیزوں سے جنکو وہ نہیں جانتے اور رات بھی ان کیلئے ایک نشانی ہے کہ ہم اس میں سے دن کو کھینچ لیتے ہیں تو
مُظْلِمُونَ﴿۳۷﴾ وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ ﴿۳۸﴾
وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ اور سورج اپنے مدار پر چلتا رہتاہے اور یہ بڑے علم اور غلبے والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے
وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّی عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِیمِ ﴿۳۹﴾ لاَ الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَهَا أَنْ
اور ہم نے چاند کے لیے منزلیں مقررکی ہیں کہ آخر میں کھجور کی سوکھی ٹہنی کا سا ہو جاتا ہے نہ سو رج کے بس میں ہے کہ چاند
تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ اللَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ یَسْبَحُونَ ﴿۴۰﴾ وَ آیَةٌ لَهُمْ أَنَّا
کو لے جائے اور نہ رات دن پر سبقت کر سکتی ہے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں چکر لگارہے ہیں اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے
حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونِ﴿۴۱﴾ وَخَلَقْنا لَهُمْ مِنْ مِثْلِهِ مَا
کہ ہم نے بھری کشتی میں ان کی اولاد کو اٹھایا اور ہم نے ان کیلئے کشتی کی مانند ہی چیزیں بنائیں جن پر
یَرْکَبُونَ﴿۴۲﴾وَ إنْ نَشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلاَ صَرِیخَ لَهُمْ وَلاَ هُمْ یُنْقَذُونَ﴿۴۳﴾ إلاَّ رَحْمَةً مِنَّا
و ہ سوار ہوتے ہیں اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں تو نہ کوئی انکا فریاد رس ہو گا نہ وہ بچ سکیں گے مگر یہ کہ ہم ان پر رحمت کریں اور ایک
وَمَتَاعاً إلَی حِینٍ ﴿۴۴﴾ وَ إذا قِیلَ لَهُمُ اتَّقُوا مَا بَیْنَ أَیْدِیکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ
وقت تک فائدہ پہنچائیں اور جب ان سے کہا جائے کہ اس عذاب سے ڈروجو تمہارے سامنے اور تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر
تُرْحَمُونَ ﴿۴۵﴾ وَمَا تَأْتِیهِمْ مِنْ آیَةٍ مِنْ آیَاتِ رَبِّهِمْ إلاَّ کَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِینَ ﴿۴۶﴾
رحم کیا جائے تو وہ توجہ نہیں کرتے اور انکے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی انکے پاس آتی ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
وَ إذَا قِیلَ لَهُمْ أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقَکُمُ ﷲ قَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِلَّذِینَ آمَنُوا أَنُطْعِمُ مَنْ لَوْ یَشَائُ
اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کے دئیے ہوئے رزق سے خرچ کرو تو کافرمؤمنین سے کہتے ہیں کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ
ﷲ أَطْعَمَهُ إنْ أَ نْتُمْ إلاَّ فِی ضَلاَلٍ مُبِینٍ ﴿۴۷﴾ وَیَقُولُونَ مَتَی هذَا الْوَعْدُ إنْ کُنْتُمْ
چاہتا تو کھلا دیتا۔تم توکھلی گمراہی میں ہو۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟
صَادِقِینَ ﴿۴۸﴾ مَا یَنْظُرُونَ إلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً تَأْخُذُهُمْ وَهُمْ یَخِصِّمُونَ ﴿۵۹﴾ فَلاَ
یہ ایک سخت آواز کا ہی تو انتظار کر رہے ہیں جو ان کو آپکڑے گی اور وہ جھگڑ رہے ہوں گے پس نہ وہ
یَسْتَطِیعُونَ تَوْصِیَةً وَلاَ إلَی أَهْلِهِمْ یَرْجِعُونَ ﴿۵۰﴾ وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَ إذَا هُمْ مِنَ
وصیت کر سکیں گے نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکیں گے اور(جب) صور پھونک دیا جائے گا تو وہ اپنی قبروں
الْاَجْدَاثِ إلَی رَبِّهِمْ یَنْسِلُونَ ﴿۵۱﴾قَالُوا یَا وَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا هذَا مَا وَعَد
سے (نکل کر )اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے اورکہیں گے ہائے ہماری تباہی ہو گئی ہمیں کس نے ہماری خوابگاہ سے اٹھا دیا؟ یہ ہے جس
الرَّحْمنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ ﴿۵۲﴾ إنْ کَانَتْ إلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً فَ إذَا هُمْ جَمِیعٌ لَدَیْنَا
کا وعدہ رحمن نے کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا کہ وہ ایک سخت آواز ہوگی اور اسی وقت وہ سب ہمارے ہاں حاضر
مُحْضَرُونَ ﴿۵۳﴾ فَالْیَوْمَ لاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئاً وَلاَ تُجْزَوْنَ إلاَّ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿۵۴﴾
کیے جائیں گے۔پس آج کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہو گااور جو تم کرتے رہے صرف اسی کا تمہیں بدلہ دیا جائے گا
إنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِی شُغُلٍ فَاکِهُونَ ﴿۵۵﴾ هُمْ وَأَزْواجُهُمْ فِی ظِلاَلٍ عَلَی
بے شک آج کے دن اہل جنت دل بہلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اور انکی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں
الْاَرَائِکِ مُتَّکئُونَ ﴿۵۶﴾ لَهُمْ فِیهَا فَاکِهَةٌ وَلَهُمْ مَا یَدَّعُونَ ﴿۵۷﴾ سَلامٌ قَوْلاً مِنْ
پر تکیے لگائے ہوئے ہیں۔ جنت میں ان کے لیے میوے ہیں اور جو کچھ بھی وہ طلب کریں (ان پر) مہربان خداکی
رَبٍّ رَحِیمٍ ﴿۵۸﴾ وَامْتَازُوا الْیَوْمَ أَیُّهَا الْمُجْرِمُونَ ﴿۵۹﴾ أَ لَمْ أَعْهَدْ إلَیْکُمْ یَا بَنِی آدَمَ
طرف سے سلام آئے گا (حکم ہو گا) گنہگارو آج تم الگ ہو جائو۔ اے اولاد آدم کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھاکہ شیطان
أَنْ لاَّ تَعْبُدُوا الشَّیْطَانَ إنَّهُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبِینٌ ﴿۶۰﴾ وَأَنِ اعْبُدُونِی هذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِیمٌ ﴿۶۱﴾
کی عبادت نہ کرنا کیونکہ یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا کیونکہ یہی سیدھا راستہ ہے
وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلاًّ کَثِیراً أَفَلَمْ تَکُونُوا تَعْقِلُونَ ﴿۶۲﴾ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِی کُنْتُمْ
اور اس(شیطان) نے تم میں سے بہت لوگوں کو گمراہ کیا۔کیا تم سمجھتے نہیں تھے؟یہ وہی جہنم ہے جس کا تم
تُوعَدُونَ ﴿۶۳﴾ اصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ ﴿۶۴﴾ الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلَی أَفْواهِهِمْ
سے وعدہ کیا تھا آج اس میں داخل ہو جائو کیونکہ تم کفر کرتے تھے۔آج ہم ان کے ہونٹوں پر مہر لگادیں گے
وَتُکَلِّمُنَا أَیْدِیهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ﴿۶۵﴾ وَلَوْ نَشَائُ لَطَمَسْنَا عَلَی
تو ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور انکے پائوں ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے اور اگر ہم چاہتے تو ان کی
أَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَأَ نَّی یُبْصِرُونَ ﴿۶۶﴾ وَلَوْ نَشَائُ لَمَسَخْنَاهُمْ عَلَی مَکَانَتِهِمْ
آنکھیں اندھی کر دیتے پھر وہ راستے کی طرف دوڑتے تو کہاں دیکھ پاتے؟ اور اگر ہم چاہتے تو ان کے گھروں میں ہی انکی صورتیں بدل دیتے
فَمَا اسْتَطَاعُوا مُضِیّاً وَلاَ یَرْجِعُونَ ﴿۶۷﴾ وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَکِّسْهُ فِی الْخَلْقِ أَفَلاَیَعْقِلُونَ ﴿۶۸﴾
پھرنہ وہ آگے جاسکتے نہ پیچھے مڑسکتے اور جسے ہم لمبی عمر دیتے ہیں ،اسے کمزور خلقت میں پھیر دیتے ہیں۔کیا یہ سمجھتے نہیں؟
وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِی لَهُ إنْ هُوَ إلاَّ ذِکْرٌ وَقُرْآنٌ مُبِینٌ ﴿۶۹﴾ لِیُنْذِرَ
اور ہم نے اپنے نبی کو شعر کہنا نہیں سکھایا اورنہ یہ انکے شایان شان ہے یہ کتاب تو نصیحت اور روشن قرآن ہے تاکہ وہ اسے ڈرائیں
مَنْ کَانَ حَیّاً وَیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکَافِرِینَ ﴿۷۰﴾ أَوَ لَمْ یَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِمَّا عَمِلَتْ
جو زندہ ہو اور کافروں پر حجت قائم ہو جائے کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے دست قدرت سے بنائی ہوئی مخلوق میں سے
أَیْدِینَا أَنْعَاماً فَهُمْ لَهَا مَالِکُونَ ﴿۷۱﴾ وَذَ لَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَکُوبُهُمْ وَمِنْهَا یَأْکُلُونَ ﴿۷۲﴾
ان کیلئے مویشی بنائے جنکے وہ مالک ہیں اور ہم نے چوپائوں کوانکے تا بع کر دیا تو ان میں سے بعض انکی سواریاں ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں
وَلَهُمْ فِیهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ أَفَلاَ یَشْکُرُونَ ﴿۷۳﴾ وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ ﷲ آلِهَةً لَعَلَّهُمْ
اور ان کیلئے ان میں فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں تو کیا وہ شکر نہیں کرتے ؟اور انہوں نے خدا کے علاوہ معبود بنا لیے شاید کہ ان
یُنْصَرُونَ ﴿۷۴﴾ لاَ یَسْتَطِیعُونَ نَصْرَهُمْ وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُحْضَرُونَ ﴿۷۵﴾ فَلاَ
سے مدد پائیں وہ انکی مدد نہیں کر سکتے اور یہ کافر انکے لشکر ہیںجو حاضر کیے جائیں گے پس انکی باتیں تمہیں
یَحْزُنْکَ قَوْلُهُمْ إنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ ﴿۷۶﴾ أَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ
غمزدہ نہ کریںبے شک ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں ۔کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے
نُطْفَةٍ فَ إذَا هُوَ خَصِیمٌ مُبِینٌ ﴿۷۷﴾ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِیَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ یُحْیِی الْعِظَامَ
نطفے سے پیدا کیاپھر اچانک وہ ہمارا ہی کھلا مقابل بن گیا ہے اور ہمارے لیے مثال بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہنے لگا کون ہڈیوں
وَهِیَ رَمِیمٌ ﴿۷۸﴾ قُلْ یُحْیِیهَا الَّذِی أَ نْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیمٌ ﴿۷۹﴾
کو زندہ کرے گا جبکہ وہ گل سڑگئیں ہونگیں کہہ دو انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر پیدائش کو جاننے والا ہے
الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ مِنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَاراً فَ إذَا أَ نْتُمْ مِنْهُ تُوقِدُونَ ﴿۸۰﴾ أَوَ لَیْسَ الَّذِی
جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی کہ تم فورا ہی اس سے آگ روشن کرتے ہو کیا وہ جس نے
خَلَقَ السَّموَاتِ وَالْاَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَی أَنْ یَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَی وَهُوَ الْخَلاَّقُ الْعَلِیمُ ﴿۸۱﴾
آسمانوںاور زمین کو پیدا کیا وہ ان جیسے اور لوگوں کو پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے ؟ ہاں وہ بہت کچھ پیدا کرنے والا ہے
إنَّمَا أَمْرُهُ إذَا أَرَادَ شَیْئاً أَنْ یَقُولَ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ﴿۸۲﴾ فَسُبْحَانَ الَّذِی بِیَدِهِ مَلَکُوتُ
یہی تو اس کا حکم ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرے اور کہے ہو جا ،تو وہ ہو جاتی ہے پس پاک ہے وہ ذات جس کے دست قدرت
کُلِّ شَیْئٍ وَ إلَیْهِ تُرْجَعُونَ ﴿۸۳﴾
میں ہر چیز کی حکومت ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جائو گے ۔
فضائل سورئہ رحمن
حضرت امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ سورہ رحمن کی تلاوت کبھی ترک نہ کرو، کیو نکہ یہ سورہ منافقوںکے دل میں نہیں ٹھہرتا،یہ سورہ قیامت کے دن ایک خوبصورت شخص کی شکل میں عمدہ ترین خوشبو کیساتھ بارگا ہ الہی میں ایسی جگہ پر آکر کھڑا ہو گا کہ خدا کے نزدیک اس سے زیادہ اور کوئی نہ ہوگااورخدا تعالیٰ اس سورہ سے فرمائے گا کہ کو ن تجھے اپنی دنیا وی زندگی میں ہمیشہ پڑھاکرتا تھا۔تو یہ عرض کرے گا کہ فلاں فلاں شخص میری تلاوت کرتا تھاتو اسی لمحے میں پڑہنے والوں کے چہرے روشن ہو جائیں گے۔خدا ان سے فرمائے گا کہ تم لوگ جس کی چاہو شفاعت کرو۔ اوروہ اتنی شفاعت کرینگے کہ کوئی بھی ایسا شخص باقی نہ رہیگا کہ جسکی شفاعت کا ارادہ رکھتے ہوں اور اسکی شفاعت نہ کر سکیںپھر خدا ان سب کو فرمائے گا کہ تم جنت میں داخل ہو جائو اور جہاں چاہواس میں رہو۔حضرت امام جعفر صادق - کا فرمان ہے کہ جوشخص سورہ رحمن پڑہے اور جبفَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ پرپہنچے توکہے:لَابِشَئٍمِنْ آلاَءِکَ رَبِّ اُکَذِّبُ .(اے پروردگارمیں تیری نعمتوں میں سے کسی بھی نعمت کی تکذیب نہیں کرتا)اگر کو ئی شخص رات کو یہ سورہ پڑھے اور اسی رات مرجائے تو وہ شہید قرار پائے گا اسی طرح اگر دن میں پڑھے اور مرجائے توبھی شہیدکی موت مرے گا ۔
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
الرَّحْمٰنُ ﴿۱﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿۲﴾ خَلَقَ الْاِنْسَانَ ﴿۳﴾ عَلَّمَهُ الْبَیَانَ ﴿۴﴾ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ
بڑا مہربان (خدا ہے) اسی نے قرآن سکھایا (اور)انسان کو پیدا کیا(اور)اسے بات کرنا سکھایا سورج اور چاند
بِحُسْبَانٍ ﴿۵﴾ وَالنَّجْمُ والشَّجَرُ یَسْجُدَانِ ﴿۶﴾ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِیزَانَ ﴿۷﴾
حساب سے چلتے ہیں زمین پر پھیلنے والی بیلیں اور درخت اسے سجدہ کرتے ہیں خدا نے آسمان کو اونچا بنایا اور ترازو کو قائم کیا
أَلاَّ تَطْغَوْا فِی الْمِیزَانِ ﴿۸﴾ وَأَقِیمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تُخْسِرُواالْمِیزانَ ﴿۹﴾
کہ تم تولنے میںبے انصافی نہ کرو اور انصاف سے وزن کو درست رکھو اور تولنے میں کمی نہ کرو
وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا لِلاََْنَامِ ﴿۱۰﴾ فِیهَا فَاکِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ ﴿۱۱﴾ وَالْحَبُّ ذُو
اور اسی نے مخلوق کیلئے زمین بنائی کہ جس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جنکے خوشے غلافوں میں ہیں اوربھوسے دار غلہ
الْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ ﴿۱۲﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۱۳ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ
اور خوشبودار پھول پیدا کئے۔ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے اس نے انسان کو ٹھیکری کی
صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ﴿۱۴﴾ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ ﴿۱۵﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا
طرح بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور جنات کو آگ کے شعلے سے بنایا تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿۱۶﴾ رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ ﴿۱۷﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا
کو نہ مانو گے وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب ہے تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ﴿۱۸﴾مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ ﴿۱۹﴾ بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لاَ یَبْغِیَانِ ﴿۲۰﴾ فَبِأَیِّ
کو نہ مانو گے اس نے دو سمندر جاری کیے (جو)ملے ہوئے ہیں انکے درمیان آڑ سی ہے وہ تجاوز نہیں کر سکتے تو اے جنّ و انس تم
آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۲۱﴾ یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ﴿۲۲﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا
اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے ان سمندروں سے موتی اور گھونگے نکلتے ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿۲۳﴾ وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَآتُ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلاَمِ﴿۲۴﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا
کو نہ مانو گے اور سمندر میں چلنے والی پہاڑ جیسی اونچی کشتیاں بھی اسی کی ہیںتو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿۲۵﴾ کُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ ﴿۲۶﴾ وَیَبْقَی وَجْهُ رَبِّکَ ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِکْرَامِ ﴿۲۷﴾
کو نہ مانو گے۔زمین پر موجودہر چیزکو فنا ہے صرف تمہارے رب کی ذات باقی رہے گی جو عزت وکرامت والی ہے
فَبِأَیِّ آلاَءِرَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۲۸﴾ یَسْأَلُهُ مَنْ فِی السَّموَاتِ وَالْاَرْضِ کُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِی
تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے ۔آسمانوں اور زمینوں میں موجودہر کوئی اسی سے مانگتا ہے وہ ہر آن نئی شان
شَأْنٍ ﴿۲۹﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۳۰﴾سَنَفْرُغُ لَکُمْ أَیُّهَا الثَّقَلاَنِ﴿۳۱﴾
میں ہے تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے اے دونوں گروہو۔ہم عنقریب تمہاری طرف متوجہ ہوں گے
فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۳۲﴾ یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ إنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ
تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوںکو نہ مانو گے اے گروہ جن و انس اگر آسمانوں اور زمین کے کناروں
أَقْطَارِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوا لاَ تَنْفُذُونَ إلاَّ بِسُلْطَانٍ ﴿۳۳﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا
سے نکل سکتے ہو تو نکل جائو تم کہیں نہ جا سکو گے مگر یہ کہ وہاں بھی اسی کی سلطنت ہو گی تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿۳۴﴾ یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلاَ تَنْتَصِرَانِ ﴿۳۵﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ
کو نہ مانو گے تم دونوں پر (قیامت میں)آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا تو تم اسے نہ ہٹا سکو گے تو اے جنّ و انس تم اپنے
رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۳۶﴾ فَ إذَا انْشَقَّتِ السَّمَائُ فَکَانَتْ وَرْدَةً کَالدِّهَانِ ﴿۳۷﴾ فَبِأَیِّ
رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا تو اے جنّ و انس تم
آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۳۸﴾ فَیَوْمَیِذٍ لاَ یُسْءَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إنْسٌ وَلاَ جَانٌّ ﴿۳۹﴾ فَبِأَیِّ
اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے پس اس دن کسی کے گناہ کے بارے میں کسی جن اور انسان سے نہیں پوچھا جائیگا تو اے جنّ و انس
آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۴۰﴾ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِیْمَاهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِی وَالْاَقْدَامِ ﴿۴۱﴾
تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے (اس دن)مجرم اپنی صورتوں سے پہچانے جائیں گے اور انہیں پیشانی اور پائوں سے پکڑا جائیگا
فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۴۲﴾ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِی یُکَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ﴿۴۳﴾
تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے یہ ہے وہ جہنم جسکا مجرم (لوگ) انکار کیا کرتے تھے وہ آگ اور کھولتے
یَطُوفُونَ بَیْنَهَا وَبَیْنَ حَمِیمٍ آنٍ ﴿۴۴﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۴۵﴾ وَلِمَنْ خَافَ
پانی میں چکر لگاتے پھریںگے تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے اور جو اپنے رب کے سامنے پیشی سے
مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ﴿۴۶﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۴۷﴾ ذَوَاتَا أَفْنَانٍ ﴿۴۸﴾
ڈرے اس کیلئے دو باغ ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے دونوں باغ ہرے بھرے اور لدے ہوئے ہیں
فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۵۹﴾ فِیهِمَا عَیْنَانِ تَجْرِیَانِ ﴿۵۰﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا
تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان باغوں میں دو چشمے جاری ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿۵۱﴾ فِیهِمَا مِنْ کُلِّ فَاکِهَةٍ زَوْجَانِ ﴿۵۲﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۵۳﴾
کو نہ مانو گے ان باغوں میں ہر پھل کی دو دو قسمیں ہیںتو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے
مُتَّکِئِینَ عَلَی فُرُشٍ بَطَایِنُهَا مِنْ إسْتَبْرَقٍ وَجَنَی الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ ﴿۵۴﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ
وہ ایسے بستروں پر تکیئے لگائے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہونگے اور ان باغوں کے پھل قریب تر ہونگے تو اے جنّ و
رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۵۵﴾ فِیهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ إنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَانٌّ ﴿۵۶﴾
انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان باغوں میں نیچی نظروں والی بیویاں ہیں جن کو ان سے پہلے کسی جنّ اور انسان نے چھوا تک نہیں
فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۵۷﴾ کَأِ نَّهُنَّ الْیَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ﴿۵۸﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ
تو اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے گویا وہ یاقوت اور مونگے ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن
رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۵۹﴾ هَلْ جَزَائُ الْاِحْسَانِ إلاَّ الْاِحْسَانُ ﴿۶۰﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا
نعمتوں کو نہ مانو گے نیکی کا بدلہ نیکی کے سوائ کچھ اور نہیں ہوتا تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں
تُکَذِّبَانِ ﴿۶۱﴾ وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ ﴿۶۲﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۶۳﴾
کو نہ مانو گے اور ان دونوں کے سوا اور بھی باغ ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو نہ مانو گے
مُدْهَامَّتَانِ ﴿۶۴﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۶۵﴾ فِیهِمَا عَیْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ﴿۶۶﴾
وہ دونوں باغ ہرے بھرے ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان میں دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں
فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۶۷﴾ فِیهِمَا فَاکِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ ﴿۶۸﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ
تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان میں کھجوریں انار اور دوسرے درخت ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے
رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۶۹﴾ فِیهِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ ﴿۷۰﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۷۱﴾
رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان میں خوبصورت نیک سیرت بیویاں ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے
حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِی الْخِیَامِ ﴿۷۲﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۷۳﴾ لَمْ یَطْمِثْهُنَّ
وہ حوریں ہیں جو خیموں میں ٹھہرائی ہوئی ہیں تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے ان جنتیوں سے پہلے ان
إنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلاَ جَانٌّ ﴿۷۴﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۷۵﴾ مُتَّکِئِینَ عَلَی رَفْرَفٍ
حوروں کو کسی جن وبشر نے ہاتھ تک نہیں لگایا تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے وہ سبز قالینوں اور نفیس بستروں
خُضْرٍ وَعَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ ﴿۷۶﴾ فَبِأَیِّ آلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ ﴿۷۷﴾ تَبَارَکَ اسْمُ رَبِّکَ
پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے تو اے جنّ و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کونہ مانو گے تمہارے رب کا نام بڑا بابرکت ہے
ذِی الْجَلاَلِ وَالْاِکْرَامِ ﴿۷۸﴾
جو عظمت وبزرگی کا مالک ہے۔
فضائل سورئہ واقعہ
روایت ہوئی ہے کہ عبداللہ ابن مسعودجس بیماری میں فوت ہوئے تھے اسی بیماری میںعثمان بن عفان انکی عیادت کیلئے آئے تھے انہوں نے ابن مسعود سے پوچھاتھا کہ آپ کو کس سے شکایت ہے؟جواب دیا اپنے گناہوں سے پوچھا کس چیز کی خواہش ہے ۔کہا پالنے والے کی رحمت کی۔پھر کہا کیا آپ کیلئے طبیب بلائوں ؟ کہنے لگے طبیب ہی نے بیمار کیا ہے مزید کہا کہ آپ کو مال دئیے جا نے کا حکم صادر کروں؟ کہا کہ جب میں محتاج تھا تو نہیں دیا اور اب مجھے اسکی حاجت نہیں تو دیتے ہو کہا جو آپ کو میں دے رہا ہوں وہ آپ کی لڑکیوں کیلئے ہوگا ابن مسعو دکہنے لگے کہ انہیں اس مال کی حاجت نہیں ہے کیونکہ میں نے انہیں سورہ واقعہ کے پڑھنے کا حکم دیا ہے میں نے رسول اکرم سے سنا ہے کہ جو شخص ہر شب سو رئہ واقعہ کی تلاوت کرے تو اسکو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو گی۔ امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ جو شخص ہر رات سو نے سے پہلے سور ہ واقعہ پڑھے تو وہ خدا وند عالم کے حضور اس طرح آئیگا کہ اسکا چہرہ تابناک ہو گا نیز امام جعفر صادقعليهالسلام سے منقو ل ہے کہ جو شخص بہشت اور اس کی نعمتوں کااشتیاق رکھتا ہو وہ ہررات سورئہ واقعہ پڑھے :
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہو) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
إذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ﴿۱﴾ لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا کَاذِبَةٌ ﴿۲﴾ خَافِضَةٌ رَافِعَةٌ ﴿۳﴾ إذَا رُجَّتِ
جب قیامت واقع ہو جا ئے گی۔اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔وہ کسی کو پست کسی کو بلندکرے گی۔جب زمین بڑے
الْاَرْضُ رَجّاً ﴿۴﴾ وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسّاً ﴿۵﴾ فَکَانَتْ هَبَائً مُنْبَثّاً ﴿۶﴾ وَکُنْتُمْ أَزْوَاجاً
زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ چکنا چور ہو جائیں گے پھر ذرے بن کر اڑنے لگیں گے اور تم لوگ تین
ثَلاَثَةً ﴿۷﴾ فَأَصْحَابُ الْمَیْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَیْمَنَةِ ﴿۸﴾ وَأَصْحَابُ الْمَشْأِمَةِ مَا
قسم کے ہوگے پس داہنے ہاتھ (میں اعمال نامہ لینے ) والے۔کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے اور بائیں طرف والے۔کیا ہی
أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ﴿۹﴾ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ﴿۱۰﴾ أُولٰٓئِکَ الْمُقَرَّبُونَ ﴿۱۱﴾
بدبخت ہیں بائیں طرف والے اور آگے رہنے والے توآگے ہی رہنے والے ہیں وہی خدا کے نزدیک ہیں
فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ﴿۱۲﴾ثُلَّةٌ مِنَ الْاَوَّلِینَ ﴿۱۳﴾ وَقَلِیلٌ مِنَ الاَْخِرِینَ ﴿۱۴﴾عَلَی سُرُرٍ
وہ راحت بخش باغوں میں ہیں۔پہلے لوگوں میں سے بڑا گروہ اور پچھلے لوگوں میں سے تھوڑے سے لوگ
مَوْضُونَةٍ﴿۱۵﴾مُتَّکِئِینَ عَلَیْهَا مُتَقَابِلِینَ﴿۱۶﴾یَطُوفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ ﴿۱۷﴾
جوڑواں تختوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے سدا جوان لڑکے ان کے آگے پیچھے پھرتے ہوں گے
بِأَکْوابٍ وَأَبَارِیقَ وَکَأْسٍ مِنْ مَعِینٍ ﴿۱۸﴾ لاَ یُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلاَ یُنْزِفُونَ ﴿۱۹﴾
جن کے پاس ساغر صراحیاں اور شفاف شراب کے جام ہوں گے جس سے نہ ان کو سردرد ہو گا۔اور نہ وہ مدہوش ہوں گے
وَفَاکِهَةٍ مِمَّا یَتَخَیَّرُونَ﴿۲۰﴾وَلَحْمِ طَیْرٍ مِمَّا یَشْتَهُونَ﴿۲۱﴾وَحُورٌ عِینٌ ﴿۲۲﴾
اور انکے دل پسند مزے دار پھل، اور انکے پسندیدہ پرندوں کا گوشت ، اور بڑی آنکھوں والی حور، چھپا کر رکھے ہوئے موتی
کَأَمْثَالِ اللُّؤْلُوََ الْمَکْنُونِ ﴿۲۳﴾ جَزَائً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ﴿۲۴﴾ لاَ یَسْمَعُونَ فِیهَا لَغْواً
طرح کی (حوریں)ہونگیں یہ ان نیک اعمال کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے وہاں وہ کوئی بے ہودہ اور
وَلاَ تَأْثِیماً ﴿۲۵﴾ إلاَّ قِیلاً سَلاَماً سَلاَماً ﴿۲۶﴾ وَأَصْحَابُ الْیَمِینِ مَا أَصْحَابُ الْیَمِینِ ﴿۲۷﴾
گناہ کی بات نہ سنیں گے البتہ ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں ہونگیں اور داہنے ہاتھ والے۔کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے
فِی سِدْرٍ مَخْضُودٍ ﴿۲۸﴾ وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ ﴿۲۹﴾ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ ﴿۳۰﴾ وَمَائٍ
وہ بے کانٹے کی بیریوں اور بھرے پرے کیلوں اور لمبی چھائوں اور چھلکتے ہوئے
مَسْکُوبٍ ﴿۳۱﴾ وَفَاکِهَةٍ کَثِیرَةٍ ﴿۳۲﴾لاَ مَقْطُوعَةٍ وَلاَ مَمْنُوعَةٍ ﴿۳۳﴾ وَفُرُشٍ
پانی اور بہت سے پھلوں میں ہونگے جو نہ ختم ہوں گے نہ کوئی روک ٹوک ہوگی وہ اونچے بستروں
مَرْفُوعَةٍ﴿۳۴﴾ إنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إنْشَائً﴿۳۵﴾فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْکَاراً﴿۳۶﴾عُرُباً أَتْرَاباً ﴿۳۷﴾
پر ہوںگے یقینا ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا اور ان کو باکرہ رکھا۔ دائیں طرف والوں کے لئے ہم ِسن اور محبت کرنے
لاََِصْحَابِ الْیَمِینِ﴿۳۸﴾ ثُلَّةٌ مِنَ الْاَوَّلِینَ ﴿۳۹﴾ وَثُلَّةٌ مِنَ الاَْخِرِینَ ﴿۴۰﴾
والی بیویاں ہیں ۔ان میں سے بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے اور بڑا ہی گروہ پچھلے لوگوں سے ہوگا
وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ ﴿۴۱﴾ فِی سَمُومٍ وَحَمِیمٍ ﴿۴۲﴾ وَظِلٍّ مِنْ
اور بائیں طرف والے۔ کیا ہی برے ہیں بائیں طرف والے جلانے والی آگ اور کھولتے ہوئے پانی میں ہونگے اور سیاہ دھوئیں
یَحْمُومٍ ﴿۴۳﴾ لاَ بَارِدٍ وَلاَ کَرِیمٍ ﴿۴۴﴾ إنَّهُمْ کَانُوا قَبْلَ ذلِکَ مُتْرَفِینَ ﴿۴۵﴾
کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہوگااور نہ مفید۔بے شک وہ اس سے پہلے بڑے خوش حال تھے
وَکَانُوا یُصِرُّونَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیمِ ﴿۴۶﴾ وَکَانُوا یَقُولُونَ أَ إذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَاباً
اور وہ بڑے گناہ (شرک) پر اصرار کرتے تھے اور کہتے تھے جب ہم مر ِمٹ کے خاک اور ہڈیاں
وَعِظَاماً أَ إنَّا لَمَبْعُوثُونَ﴿۴۷﴾أَوَ آبَاؤُنَا الْاَوَّلُونَ﴿۴۸﴾قُلْ إنَّ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ ﴿۴۹﴾
ہو جائیں گے تو کیا ہم اور ہمارے باپ دادا دوبارہ اٹھائے جائیں گے کہدو کہ اگلے پچھلے سب کے سب
لَمَجْمُوعُونَ إلَی مِیقَاتِ یَوْمٍ مَعْلُومٍ ﴿۵۰﴾ ثُمَّ إنَّکُمْ أَ یُّهَا الضَّالُّونَ الْمُکَذِّبُونَ ﴿۵۱﴾
ایک مقررہ دن پر ضرور ہی جمع کیے جائیں گے پھر اے گمراہو اور جھٹلانے والو تم
لاََکِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ ﴿۵۲﴾ فَمَالِئِونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ﴿۵۳﴾ فَشَارِبُونَ عَلَیْهِ مِنَ
ضرور تھوہر کے درخت سے کھائوگے پس اس سے اپنے پیٹ بھروگے اس کے ساتھ کھولتا ہوا پانی
الْحَمِیمِ ﴿۵۴﴾ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِیمِ ﴿۵۵﴾ هذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّینِ ﴿۵۶﴾ نَحْنُ
پیوگے جسے تم سخت پیاسے اونٹ کی طرح پیو گے یہی قیامت کے دن ان کی تواضع ہے ہم نے
خَلَقْنَاکُمْ فَلَوْلاَ تُصَدِّقُونَ ﴿۵۷﴾ أَفَرَأَیْتُمْ مَا تُمْنُونَ﴿۵۸﴾ أَ أَ نْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ
تمہیں پیدا کیاہے تم تصدیق کیوں نہیں کرتے؟بتائو جو نطفہ تم گراتے ہو کیا اسے تم پیدا کرتے ہو یا ہم
الْخَالِقُونَ ﴿۵۹﴾ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِینَ ﴿۶۰﴾ عَلٰی أَنْ
پیدا کرنے والے ہیں!؟ہم نے ہی تم میں موت مقرر کی اور ہم اس سے عاجز نہیں کہ تم جیسے
نُبَدِّلَ أَمْثَالَکُمْ وَنُنْشِءَکُمْ فِی مَا لاَ تَعْلَمُونَ ﴿۶۱﴾ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الاَُولَی فَلَوْلاَ
اورپیدا کردیں اور تمہیں ان صورتوں میں ڈھال دیں جن کو تم جانتے ہی نہیں بیشک تم اپنی پہلی پیدائش کو جانتے ہی ہو تو کیوں
تَذَکَّرُونَ﴿۶۲﴾أَفَرَأَیْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ﴿۶۳﴾أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ ﴿۶۴﴾
غور نہیں کرتے؟بتائو! جو کچھ تم بوتے ہو کیا اسے تم خود اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟
لَوْ نَشَائُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَاماً فَظَلْتُمْ تَفَکَّهُونَ﴿۶۵﴾ إنَّالَمُغْرَمُونَ﴿۶۶﴾ بَلْ نَحْنُ
اگر ہم چاہیں تو اسے چور چورکردیں اور تم باتیں بناتے رہ جائو کہ ہم بڑے گھاٹے میں رہے بلکہ ہم تو
مَحْرُومُونَ ﴿۶۷﴾ أَفَرَأَیْتُمُ الْمَاءَ الَّذِی تَشْرَبُونَ ﴿۶۸﴾ أَ أَ نْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ
بے نصیب رہ گئے ذرا بتائو کہ جو پانی تم پیتے ہو کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم
نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ ﴿۶۹﴾ لَوْ نَشَائُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجاً فَلَوْلاَ تَشْکُرُونَ ﴿۷۰﴾ أَفَرَأَیْتُمُ النَّارَ
اتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنادیں لہذا تم کیوں شکر نہیں کرتے؟ذرا بتائو جو آگ تم
الَّتِی تُورُونَ ﴿۷۱﴾أَ أَ نْتُمْ أَ نْشَأْ تُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ ﴿۷۲﴾ نَحْنُ جَعَلْنَاهَا
روشن کرتے ہو کیا وہ درخت (لکڑی) تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں؟ہم نے اسے یاد دہانی
تَذکِرَةً وَمَتَاعاً لِلْمُقْوِینَ﴿۷۳﴾فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیمِ ﴿۷۴﴾ فَلاَ أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ
اور مسافروں کے فائدے کیلئے بنایا پس اپنے عظیم رب کی پاکیزگی بیان کرو تو مجھے قسم ہے ستاروں کے
النُّجُومِ ﴿۷۵﴾وَ إنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْتَعْلَمُونَ عَظِیمٌ﴿۷۶﴾ إنَّهُ لَقُرْآنٌ کَرِیمٌ﴿۷۷﴾فِی
منازل کی اور تم سمجھو تو یقینا یہ ایک بہت بڑی قسم ہے بے شک یہ بڑی عزت والا قرآن ہے جو
کِتَابٍ مَکْنُونٍ﴿۷۸﴾لاَ یَمَسُّهُ إلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴿۷۹﴾ تَنْزِیلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ ﴿۸۰﴾
محفوظ کتاب میں ہے اس کو پاک لوگ کے علاوہ کوئی چھو نہیں سکتا یہ سب جہانوں کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے
أَفَبِهَذَا الْحَدِیثِ أَ نْتُمْ مُدْهِنُونَ ﴿۸۱﴾ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ ﴿۸۲﴾ فَلَوْلاَ
تو کیا تم اس کلام سے بے توجہی کرتے ہو اس میں اپنا حصہ یہی رکھتے ہو جو اسے جھٹلاتے ہو جب جان
إذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ﴿۸۳﴾ وَأَ نْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُونَ ﴿۸۴﴾ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إلَیْهِ مِنْکُمْ
حلق تک آجاتی ہے تو اسے روک کیوں نہیں لیتے اور تم اس وقت پڑے دیکھا کرتے ہو ہم اس (مرنے والے ) کے تم
وَلکِنْ لاَ تُبْصِرُونَ ﴿۸۵﴾ فَلَوْلاَ إنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِینِینَ ﴿۸۶﴾ تَرْجِعُونَهَا إنْ کُنْتُمْ
سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم نہیں دیکھتے ہو اگر تم خدا کے مملوک نہیں تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ تم روح کو لوٹا لیتے اگر
صَادِقِینَ ﴿۸۷﴾ فَأَمَّا إنْ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِینَ ﴿۸۸﴾ فَرَوْحٌ وَرَیْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِیمٍ ﴿۸۹﴾
سچے ہو پس اگر وہ (مرنے والا) مقربین میں سے ہو تو اس کے لئے راحت، خوشبو دار پھول اور نعمت کا باغ ہے
وَأَمَّا إنْ کَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْیَمِینِ ﴿۹۰﴾ فَسَلامٌ لَکَ مِنْ أَصْحَابِ الْیَمِینِ ﴿۹۱﴾ وَأَمَّا
اور اگر وہ نیک بخت لوگوں میں سے ہے تو اے رسول وہ نیک بختوں کی طرف سے تجھ پر سلام کہے گا اور اگر
إنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِینَ الضَّالِّینَ ﴿۹۲﴾ فَنُزُلٌ مِنْ حَمِیمٍ ﴿۹۳﴾ وَتَصْلِیَةُ جَحِیمٍ ﴿۹۴﴾
وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے تو اس کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور اسے جہنم میں داخل کیا جانا ہے
إنَّ هذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِینِ ﴿۹۵﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیمِ ﴿۹۶﴾
بے شک یہ بات حتماً صحیح ہے تو (اے رسول )تم اپنے عظیم رب کی پاکیزگی بیان کرو۔
فضیلت سورہ جمعہ
حضرت امام جعفر صادق -سے مروی ہے کہ ہمارے شیعوں میں سے ہرمومن کیلئے ضروری ہے کہ وہ شب جمعہ کی نماز میں سورہ جمعہ و سورہ اعلی پڑھے اور جمعہ کے دن نماز ظہرمیں سورہ جمعہ و سورہ منافقون کی تلاوت کرے جو شخص ایسا کرے گا گویا اس نے حضرت رسول اکرم کی مثل عمل کیا اور حق تعالیٰ کے ذمے اس کی جزا بہشت بریں ہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خداکے نام سے(شروع کرتا ہوں ) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
یُسَبِّحُ لِلّهِ مَا فِی السَّموَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ﴿۱﴾هُوَ
ہر وہ چیزخدا کی تسبیح کرتی ہے جو زمین اور آسمانوں میں ہے کیونکہ وہ بادشاہ،پاک،غالب اور بڑا حکمت والا ہے وہی تو ہے
الَّذِی بَعَثَ فِی الاَُمِّیِّینَ رَسُولاً مِنْهُمْ یَتْلُواْ عَلَیْهِمْ آیَاتِهِ وَیُزَکِّیهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ
جس نے اُمِّی لوگوں میں انہی میںسے رسول (محمد ) بھیجا جو ان کے سامنے آیتیں پڑھتا ہے انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب و حکمت
وَالْحِکْمَةَ وَ إنْ کَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِی ضَلاَلٍ مُّبِینٍ﴿۲﴾ وَآخَرِینَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ
کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ اس سے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے اور ان لوگوں کی طرف جو ابھی ان سے نہیں ملے
الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ﴿۳﴾ ذلِکَ فَضْلُ ﷲ یُؤْتِیهِ مَنْ یَشَائُ وَﷲ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ ﴿۴﴾
اور وہ بڑا غالب حکمت والا ہے یہ اللہ کا فضل ہے کہ جسے چاہے عطا کرے اور اللہ تو بڑے فضل والا ہے
مَثَلُ الَّذِینَ حُمِّلُوا التَّوْرٰةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوهَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ أَسْفَاراً بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ
جن لوگوں کو تورات دی گئی ،انہوں نے اسکا حق ادا نہ کیا انکا حال اس گدھے جیسا ہے جس پر کتابیں لدی ہوں کیا بری مثال ہے
الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِ ﷲ وَﷲ لاَ یَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ﴿۵﴾ قُلْ یَا أَ یُّهَا الَّذِینَ هَادُوا إنْ
ان لوگوں کی جنہوں نے آیات الہی کو جھٹلایا اور خدا ظالم قوموں کی ہدایت نہیں کرتا کہہ دو کہ اے یہودیو اگر تمہیں
زَعَمْتُمْ أَ نَّکُمْ أَوْ لِیَائُ لِلّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ ﴿۶﴾ وَلاَ
یہ گھمنڈ ہے کہ لوگوں میں سے تمہی خدا کے دوست ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو اور وہ کبھی موت
یَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً بِمَا قَدَّمَتْ أَیْدِیهِمْ وَﷲ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ﴿۷﴾ قُلْ إنَّ الْمَوْتَ الَّذِی تَفِرُّونَ
کی تمنا نہ کریں گے ان کرتوتوں کے باعث جو آگے بھیج چکے ہیں اور خدا ظالموں کو جانتاہے کہہ دو کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو
مِنْهُ فَ إنَّهُ مُلاَقِیکُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿۸﴾
وہ تمہیں ضرور آئے گی پھر تم ہر چھپی اور ظاہر چیز کے جاننے والے کی طرف لوٹا دیئے جائو گے تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کیا کرتے تھے
یَا أَ یُّها الَّذِینَ آمَنُوا إذَا نُودِیَ لِلصَّلاَةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إلَی ذِکْرِ ﷲ وَذَرُوا الْبَیْعَ
اے ایمان والو جب روز جمعہ نماز (جمعہ)کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر (نماز)کے لئے دوڑو اور لین دین
ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿۹﴾ فَ إذَا قُضِیَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِی الْاَرْضِ
کو چھوڑو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں منتشر ہو جائو
وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ ﷲ وَاذکُرُوا ﷲ کَثِیراً لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ﴿۱۰﴾ وَ إذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ
اور اللہ کا فضل (رزق) تلاش کرو اور خدا کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو اور جب یہ لوگ تجارت یا کھیل دیکھتے ہیں
لَهْواً انْفَضُّوا إلَیْهَا وَتَرَکُوکَ قَائِماً قُلْ مَاعِنْدَ ﷲ خَیْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَﷲ خَیْرُ الرَّازِقِینَ ﴿۱۱﴾
تو ادھر چلے جاتے ہیں اور تمہیں اکیلا کھڑا چھوڑ دیتے ہیںکہہ دو کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ سودا سلف، تجارت اور کھیل سے بہتر ہے اور اللہ بہترین رازق ہے ۔
فضائل سورہ ملک
حضرت امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جو شخص سونے سے پہلے واجب نماز میں سورہ ملک پڑھے تو وہ صبح تک خدا کی امان میں رہے گا ۔ نیز قیامت والے دن بھی خدا کی امان میں ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے گا ۔قطب راوندی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص بے خبری میں کسی قبر پر خیمہ لگا کر بیٹھ گیا اوراس نے وہاں سورہ ملک پڑھا تو ایک آواز سنی کہ یہ نجات دینے والا سورہ ہے پس اس نے یہ واقعہ رسول خدا سے بیان کیا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ واقعاً یہ سورہ قبر کے عذاب سے نجات دینے والا ہے ۔
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں )جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔
تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِهِ الْمُلْکُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ﴿۱﴾الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالحَیَاةَ
بڑا بابرکت ہے وہ خدا جو مختار کل ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اسی نے موت اور زندگی کو پیداکیا
لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَهُوَ الْعَزِیزُ الْغَفُورُ﴿۲﴾ الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَموَاتٍ طِبَاقاً مَا
تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے اور وہ بڑا غالب ،بہت بخشنے والا ہے وہی ہے جس نے تہہ در تہہ سات
تَرَی فِی خَلْقِ الرَّحْمنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَی مِنْ فُطُورٍ ﴿۳﴾ ثُمَّ ارْجِعِ
آسمان بنائے اور تو اس رحمن کے بنانے میں کوئی خامی نہ دیکھے گا پس نظر اٹھا کیا تجھے کوئی خرابی دکھائی دیتی ہے پھربار بار نظر اٹھا
البَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ إلَیْک البَصَرُ خَاسِئاً وَهُوَ حَسِیرٌ ﴿۴﴾ وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا
تیری نظر تھک کر ناکام تیری طرف پلٹ آئیگی اور ہم نے نچلے (پہلے )آسمان کو چمکتے تاروں سے سجایا اور انہیں
بِمَصَابِیحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُوماً لِلشَّیَاطِینِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیرِ ﴿۵﴾ وَلِلَّذِینَ
شیطانوں کو ماربھگانے کا ذریعہ بنایااور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کیا اور اپنے رب کے سا تھ کفر کرنے والوں کے لئے
کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَبِئْسَ المَصِیرُ ﴿۶﴾ إذَا أُلْقُوا فِیهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِیقاً وَهِیَ
جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے وہ جب اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا شور سنیں گے وہ جوش میں ہوگااور شدت غضب
تَفُورُ﴿۷﴾تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الغَیْظِ کُلَّمَا أُلْقِیَ فِیهَا فَوْجٌ سَأَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَ لَمْ یَأْتِکُمْ نَذِیرٌ ﴿۸﴾
سے پھٹ جائیگا جب کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا تو دوزخ کا نگران ان سے پو چھے گا کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا
قَالُوا بَلَی قَدْ جَاءَنَا نَذِیرٌ فَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ ﷲ مِنْ شَیْئٍ إنْ أَنْتُمْ إلاَّ فِی ضَلالٍ کَبِیرٍ ﴿۹﴾
وہ کہیں گے ہمارے پاس ڈرانے والا تو آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ۔تم نہیں ہو مگر بڑی گمراہی میں
وَقَالُوا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِی أَصْحَابِ السَّعِیرِ ﴿۱۰﴾ فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ
اور کہیں گے کاش ہم سنتے یا عقل ہی سے کام لیتے تو آج اہل دوزخ میں شامل نہ ہوتے پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے
فَسُحْقاً لاِاَصْحَابِ السَّعِیرِ ﴿۱۱﴾ إنَّ الَّذِینَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالغَیْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ
تو دوزخیوں کیلئے رحمت سے دوری ہے بے شک جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بہت بڑا
کَبِیرٌ ﴿۱۲﴾ وَأَسِرُّوا قَوْلَکُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إنَّهُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿۱۳﴾ أَلاَ یَعْلَمُ
اجر ہے تم اپنی بات چھپائو یا اسے ظاہر کرو بے شک خدا دلوں کی باتیں خوب جانتا ہے کیا وہ نہیں جانتا کیا
مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِیفُ الخَبِیرُ ﴿۱۴﴾ هُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمُ الاََرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوا فِی
جس نے پیدا کیا ہے وہ نہیں جانتا جبکہ وہ باریک بین اور خبردار ہے وہی (خدا)ہے جس نے زمین،تمہارے تابع کردی ۔تم اسکے
مَنَاکِبِهَا وَکُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَ إلَیْهِ النُّشُورُ ﴿۱۵﴾ أَ أَمِنْتُمْ مَنْ فِی السَّمَائِ أَنْ یَخْسِفَ بِکُمُ
راستوں پرچلو اور اللہ کے رزق سے کھائو اورتمہیں اسی کیطرف اٹھ کر جانا ہے کیا تم آسمان والے (رب)سے اس بارے میں بے خوف
الاََرْضَ فَ إذَا هِیَ تَمُورُ ﴿۱۶﴾ أَمْ أَمِنْتُمْ مَنْ فِی السَّمَائِ أَنْ یُرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِباً
ہوگئے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسادے اور وہ لرزنے لگے یا تم اس بات سے بے خوف ہو کہ آسمان والا (رب)تم پر پتھرائو
فَسَتَعْلَمُونَ کَیْفَ نَذِیرِ﴿۱۷﴾ وَلَقَدْ کَذَّبَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیرِ ﴿۱۸﴾
کرنے والی ہوا بھیج دے تم عنقریب جان لوگے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے بے شک ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا تو مجھ سے انکا انکار کیسا (عبرتناک) رہا
أَوَ لَمْ یَرَوْا إلَی الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَیَقْبِضْنَ مَا یُمْسِکُهُنَّ إلاَّ الرَّحْمنُ إنَّهُ بِکُلِّ شَیْئٍ
اورکیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا جو کبھی پر پھیلاتے اور کبھی سمیٹتے ہیں انہیں رحمن کے سوا کوئی فضا میں نہیں تھامے رہتا
بَصِیرٌ﴿۱۹﴾ أَمَّنْ هذَا الَّذِی هُوَ جُنْدٌ لَکُمْ یَنْصُرُکُمْ مِنْ دُونِ الرَّحْمٰنِ إنِ الْکَافِرُونَ إلاَّ
یقینا وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے سوائے خدا کے ایسا کون ہے جو تمہاری فوج بن کر تمہاری نصرت کرے ہاں تو اس بات میں کافر
فِی غُرُورٍ﴿۲۰﴾أَمَّنْ هذَا الَّذِی یَرْزُقُکُمْ إنْ أَمْسَکَ رِزْقَهُ بَلْ لَجُّوا فِی عُتُوٍّ
لوگ محض دھوکے میں پڑے ہیں یا کون انسان ہے جو تمہیں رزق دے جب ﷲ اپنا رزق روک دے بلکہ وہ سرکشی اور حق سے دوری
وَنُفُورٍ﴿۲۱﴾َاَفَمَنْ یَمْشِی مُکِبّاً عَلَی وَجْهِهِ أَهْدَی أَمَّنْ یَمْشِی سَوِیّاً عَلَی صِرَاطٍ
میں پکے ہوگئے ہیں کیا وہ جو منہ کے بل اوندھا ہو کر چلتا ہے وہ ٹھیک راستے پر ہے یا وہ جو سیدھا ہو کر سیدھے راستے
مُسْتَقِیمٍ﴿۲۲﴾قُلْ هُوَ الَّذِی أَنْشَأَکُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفئِدَةَ قَلِیلاً مَا
پر چلتا ہے کہہ دو وہی (ﷲ) ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنایا تم بہت کم شکر
تَشْکُرُونَ ﴿۲۳﴾ قُلْ هُوَ الَّذِی ذَرَأَکُمْ فِی الْاَرْضِ وَ إلَیْهِ تُحْشَرُونَ ﴿۲۴﴾ وَیَقُولُونَ
کرتے ہو کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے وہ کہتے ہیں اگر تم سچے ہو
مَتَی هذَا الوَعْدُ إنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ﴿۲۵﴾قُلْ إنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ ﷲ وَ إنَّمَا أَنَا نَذِیرٌ مُبِینٌ ﴿۲۶﴾
تو بتاؤ کہ یہ (قیامت) کا وعدہ کب پورا ہوگا کہہ دو اس کا علم تو ﷲ ہی کو ہے اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں
فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سیٓءَتْ وُجُوهُ الَّذِینَ کَفَرُوا وَقِیلَ هذَا الَّذِی کُنْتُمْ بِهِ تَدَّعُونَ﴿۲۷﴾ قُلْ
پھر جب وہ اسے قریب آتا دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائینگے اور ان سے کہا جائیگا یہی (قیامت)ہے جسے تم باربار
أَرَأَیْتُمْ إنْ أَهْلَکَنِیَ ﷲ وَمَنْ مَعِیَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَنْ یُجِیرُ الْکَافِرِینَ مِنْ عَذَابٍ أَلِیمٍ ﴿۲۸﴾
طلب کرتے رہے ہو کہہ دوذرا بتائو کہ اگر ﷲ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے تو کافروں کو دردناک
قُلْ هُوَ الرَّحْمنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَیْهِ تَوَکَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِی ضَلاَلٍ مُبِینٍ﴿۲۹﴾ قُلْ أَرَأَیْتُمْ إنْ أَصْبَحَ مَاؤُکُمْ غَوْراً فَمَنْ یَأْتِیکُمْ بِمَائٍ مَعِینٍ ﴿۳۰﴾
عذاب سے کون بچائے گا کہہ دو وہی رحمن ہے ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ کیا تو جلد ہی تمہیں معلوم ہو جائیگا کہ کون کھلی گمراہی میں ہے کہہ دو بتائو تو سہی اگر تمہارا پانی زمین کے اندر چلا جائے توپھر کون ہے جو تمہارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے۔
فضائل سورہ نبائ
شیخ صدوق حضرت امام جعفر صادقعليهالسلام سے روا یت کرتے ہیں کہ جو شخص لگاتار ہر روز سورہ نبائ پڑھے تو وہ سال تمام ہونے سے پہلے کعبہ کی زیارت کریگا ۔شیخ طبرسی نے مجمع البیان میں اُبی بن کعب سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص ہر روز سورہ نبائ پڑھے تو خدا قیامت کے دن اس کو ٹھنڈے پانی سے سیراب کرے گا۔ واضح رہے کہ اہل بیتعليهالسلام کی روایات میں مزکورہے کہ نبائ عظیم سے مراد ولایت ہے اور حضرت امیرالمومنین -ہی نبائ عظیم کا مصداق ہیں۔حضرت علی -ہی نبائ عظیم ،کشتی نوح اور باب ﷲ ہیں ۔
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
عَمَّ یَتَسَاءَلُونَ ﴿۱﴾ عَنِ النَّبَائِ الْعَظِیمِ ﴿۲﴾ الَّذِی هُمْ فِیهِ مُخْتَلِفُونَ ﴿۳﴾ کَلاَّ
یہ باہم ایک بڑی خبر کے متعلق کیا سوال پوچھ رہے ہیں؟ کہ جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں عنقریب
سَیَعْلَمُونَ﴿۴﴾ثُمَّ کَلاَّ سَیَعْلَمُونَ﴿۵﴾أَ لَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهَاداً﴿۶﴾وَالْجِبَالَ أَوْتَاداً ﴿۷﴾
ضرور جان لیںگے پھر عنقریب ضرور جان لیں گے کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا اور پہاڑوں کو اس کی میخیں
وَخَلَقْنَاکُمْ أَزْوَاجاً ﴿۸﴾ وَجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتاً﴿۹﴾وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ لِبَاساً﴿۱۰﴾وَجَعَلْنَا
اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا اور تمہاری نیند کو راحت کا ذریعہ بنایا اور رات کو پردہ قرار دیا اور دن
النَّهَارَ مَعَاشاً﴿۱۱﴾وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعاً شِدَاداً ﴿۱۲﴾ وَجَعَلْنَا سِرَاجاً وَهَّاجاً ﴿۱۳﴾
کو روزی کمانے کا وقت ٹھہرایا اور تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنا دئیے اور ہم نے چمکتا چراغ (سورج) بنایا
وَأَ نْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مائً ثَجَّاجاً﴿۱۴﴾لِنُخْرِجَ بِهِ حَبّاً وَنَبَاتاً﴿۱۵﴾وَجَنَّاتٍ أَلْفَافاً ﴿۱۶﴾
اور ہم نے بادلوں سے موسلا دھار بارش برسائی تاکہ اس سے غلہ اور سبزہ اور گھنے باغات اگائیں
إنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیقَاتاً ﴿۱۷﴾ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجاً ﴿۱۸﴾وَفُتِحَتِ
بے شک فیصلے کا دن ایک مقررہ وقت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے اور آسمان کھول
السَّمَائُ فَکَانَتْ أَبْوَاباً﴿۱۹﴾وَسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَاباً﴿۲۰﴾ إنَّ جَهَنَّمَ کَانَتْ
دیا جائے گا تو اس میں دروازے بن جائیں گے اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت بن جائیں گے بے شک دوزخ گھات
مِرْصَاداً ﴿۲۱﴾لِلطَّاغِینَ مَآباً ﴿۲۲﴾ لاَبِثِینَ فِیهَا أَحْقَاباً ﴿۲۳﴾ لاَ یَذُوقُونَ فِیهَا بَرْداً
لگائے ہوئے ہوگی جو کہ سرکشوں کا ٹھکانہ ہے وہ مدتوں اس میں پڑے رہیں گے اس میں نہ ٹھنڈک پائیں گے
وَلاَ شَرَاباً ﴿۲۴﴾ إلاَّ حَمِیماً وَغَسَّاقاً﴿۲۵﴾ جَزَائً وِفَاقاً ﴿۲۶﴾ إنَّهُمْ کَانُوا لاَ
نہ پانی لیکن کھولتا ہوا پانی اور پیپ یہ ان کے کیئے کا بدلہ ہے یقینًا وہ کسی محاسبے کا
یَرْجُونَ حِسَاباً﴿۲۷﴾وَکَذَّبُوا بِآیَاتِنَا کِذَّاباً ﴿۲۸﴾ وَکُلَّ شَیْئٍأَحْصَیْنَاهُ کِتَاباً ﴿۲۹﴾
خوف نہ رکھتے تھے انھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ہم نے ہر چیز کو تحریر کر دیا ہے
فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِیدَکُمْ إلاَّ عَذَاباً ﴿۳۰﴾ إنَّ لِلْمُتَّقِینَ مَفَازاً ﴿۳۱﴾ حَدَائِقَ وَأَعْنَاباً ﴿۳۲﴾
اب چکھو مزا کہ ہم تمہارے لیے عذاب ہی بڑھائیں گے بے شک پرہیزگاروں کیلئے بڑی کامیابی کی منزل ہے، باغات ہیں اور انگور
وَکَوَاعِبَ أَتْرَاباً﴿۳۳﴾وَکَأْساً دِهَاقاً﴿۳۴﴾لاَ یَسْمَعُونَ فِیهَا لَغْواً وَلاَ کِذَّاباً ﴿۳۵﴾
اور نوجوان ہم عمر بیویاں اور چھلکتے ہوئے جام وہ نہ فضول بات سنیں گے نہ جھٹلائے جائیں گے
جَزَائً مِنْ رَبِّکَ عَطَائً حِسَاباً ﴿۳۶﴾ رَبِّ السَّموَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمنِ لاَ
یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے اعمال کا بدلہ اور حساب شدہ عطا ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو انکے درمیان ہے
یَمْلِکُونَ مِنْهُ خِطَاباً ﴿۳۷﴾ یَوْمَ یَقُومُالرُّوحُ وَالْمَلائِکَةُ صَفَّاً لاَ یَتَکَلَّمُونَ إلاَّ مَنْ أَذِنَ لَهُ
وہ رحمن جس سے بات کرنے کا انہیں اختیار نہیں ہوگا جس دن جبریل کھڑے ہونگے اور فرشتے صف بستہ ہونگے کوئی بول نہیں سکے گا
الرَّحْمنُ وَقَالَ صَوَاباً ﴿۳۸﴾ ذالِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إلَی رَبِّهِ مَآباً ﴿۳۹﴾
مگر وہ جسے رحمن نے اجازت دی ہو گی اور وہ درست بات کہے گا وہ دن حق ہے اب جو چاہے اپنے رب کے حضور ٹھکانہ بنائے
إنَّا أَنْذَرْنَاکُمْ عَذَاباً قَرِیباً یَوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدَاهُ وَیَقُولُ الْکَافِرُ یَا لَیْتَنِی کُنْتُ تُرَاباً ﴿۴۰﴾
بے شک ہم نے تم لوگوں کو ایک جلد آنے والے عذاب سے ڈرایا جس دن آدمی وہ دیکھے گا جو اس نے اپنے ہاتھوں سے بھیجا
ہوگا اور کافر کہے گا اے کاش میں مٹی ہو جاتا ۔
فضائل سورہ اعلی و سو رہ شمس
شیخ صدوقرحمهالله نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جوشخص واجب یا مستحب نما ز میں سورہ اعلیٰ کی تلا وت کرے تو قیامت کے دن اس کو کہا جا ئے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ۔مجمع البیا ن میں ابی بن کعب سے روا یت نقل ہو ئی ہے کہ رسو ل اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا جو شخص سو ر ہ شمس پڑھے گا، گو یا اس نے راہ خدا میں ان اشیا ئ کے برابر صد قہ دیا ہے جن پرآفتاب اور مہتاب چمکتے ہیں۔
سورہ اعلیٰ
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی ﴿۱﴾ الَّذِی خَلَقَ فَسَوَّی ﴿۲﴾ وَالَّذِی قَدَّرَ فَهَدَی ﴿۳﴾
(اے رسول) اپنے بلند تر رب کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور سنوارا اور جس نے اندازہ مقرر کیا پھر راہ بتائی
وَالَّذِی أَخْرَجَ الْمَرْعَی﴿۴﴾ فَجَعَلَهُ غُثَائً أَحْوَی ﴿۵﴾ سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسَی ﴿۶﴾ إلاَّ
اور جس نے سبز چارا اگایا پھر اس کو خشک سیاہی مائل کر دیا ہم تمہیں ایسا پڑھا دیں گے کہ بھولو گے نہیں مگر
مَا شَاءَ ﷲ إنَّهُ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا یَخْفَی﴿۷﴾ وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرَی ﴿۸﴾ فَذَکِّرْ إنْ نَفَعَتِ
جو ﷲ چاہے۔بے شک وہ ہر عیاں ونہاں کو جانتا ہے اور ہم تمہیں آسانی کی توفیق دیں گے۔پس جہاں تک سمجھانا
الذِّکْرَی ﴿۹﴾ سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشَی ﴿۱۰﴾ وَیَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَی ﴿۱۱﴾ الَّذِی یَصْلَی
مفید ہو سمجھاتے رہو جو خوف رکھتا ہو وہ سمجھ جائے گا اور بڑا بدبخت
النَّارَ الْکُبْرَی ﴿۱۲﴾ ثُمَّ لاَیَمُوتُ فِیهَا وَلاَ یَحْیَی ﴿۱۳﴾ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی ﴿۱۴﴾
اس سے دور رہے گااور سب سے بڑی آگ میں داخل ہو گا پھر وہاں نہ مرے گا نہ جئے گا بے شک وہ کامیاب ہوا جو پاکیزہ ہو گیا
وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّی﴿۱۵﴾بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا﴿۱۶﴾وَالاَْخِرَةُ خَیْرٌ وَأَبْقَی ﴿۱۷﴾
اور اپنے رب کا نام لیتا رہا اور نماز پڑھتا رہا مگر تم لوگ دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور دیرپاہے
إنَّ هذَا لَفِی الصُّحُفِ الاَُْولَی ﴿۱۸﴾ صُحُفِ إبْراهِیمَ وَمُوسَی ﴿۱۹﴾
بے شک یہ بات پہلے صحیفوں میں ہے ابراہیمعليهالسلام اور موسٰیعليهالسلام کے صحیفوں میں ۔
سورہ شمس
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴿۱﴾ والْقَمَرِ إذَا تَلاَهَا ﴿۲﴾ وَالنَّهَارِ إذَا جَلاَّهَا ﴿۳﴾ وَاللَّیْلِ إذَا
سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی اور چاند کی قسم جب اس کے پیچھے نکلے اور دن کی قسم جب اسے چمکا دے اور رات کی قسم جب
یَغْشَاهَا﴿۴﴾وَالسَّمَائِ وَمَا بَنَاهَا﴿۵﴾وَالْاَرْضِ وَمَا طَحَاهَا﴿۶﴾وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ﴿۷﴾
اسے چھپا لے اور آسمان کی قسم اور جس نے اسے بنایا اور زمین کی اور جس نے اسے بچھایا اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست بنایا
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ﴿۸﴾ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکَّاهَا﴿۹﴾وَ قَدخَابَ مَنْ
پھر اس کی اچھائی برائی اسے سمجھائی۔بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اسے پاک کیا اور یقینًا وہ ناکام ہوا جس نے اسے
دَسَّاهَا﴿۱۰﴾کَذَّبَتْ ثَموُدُ بِطَغْوَاهَا﴿۱۱﴾اِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا ﴿۱۲﴾فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ
آلودہ کیا۔ثمود نے سرکشی سے (رسول کو) جھٹلایا جب ان میں سے بڑا بدبخت اٹھاتو خدا کے رسول (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا
ﷲ نَاقَةَ ﷲ وَسُقْیَاهَا ۱۲﴾ فَکَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا ﴿۱۴﴾
کی اونٹنی اور اس کے پانی کو نہ چھیڑنا مگر انہوں نے اسے جھٹلایا اور ناقہ کی کونچیں کاٹ دی تو خدا نے انہیں اس گناہ پر ہلاک کیا اور مٹا ڈالا
وَلاَیَخَافُ عُقْبَاهَا ﴿۱۵﴾
اور اسے ان کے انتقام کا کوئی ڈر نہیں ۔
فضیلت سو ر ہ قدر و سو رہ زلزال
اما م جعفر صادقعليهالسلام سے مروی ہے کہ جو شخص واجب نماز میں سورہ قدر پڑھے تو خدا تعا لیٰ کی طرف سے ایک منا دی ندا دے گا کہ اے شخص تیرے پچھلے گنا ہ بخش دیئے گئے ہیں اب تو عمل میں نئی زندگی کا آغاز کر دیرسول ﷲ سے رو ا یت ہو ئی ہے کہ جس نے چا ر مر تبہ سو ر ہ زلزال پڑھی تو وہ اس شخص کی مثل ہے جس نے پورا قرآن ختم کیا ہے۔
سورہ قدر
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ ﴿۱﴾ وَمَا أَدْرَیٰکَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﴿۲﴾ لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ
یقینًا ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا اور تمہیں کیا معلوم شب قدر کیا ہے شب قدر تو ہزار مہینوں
أَلْفِ شَهْرٍ ﴿۳﴾ تَنَزَّلُ الْمَلاَئِکَةُ وَالرُّوحُ فِیهَا بِ إذنِ رَبِّهِمْ مِنْ کُلِّ أَمْرٍ ﴿۴﴾ سَلامٌ هِیَ
سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور جبریل خدا کے حکم سے ہر کام کے بارے میں احکام لے کر آتے ہیں یہ رات طلوع فجر
حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿۵﴾
تک سلامتی ہی سلامتی ہے ۔
سورہ زلزال
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
إذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ﴿۱﴾ وَأَخْرَجَتِ الْاَرْضُ أَثْقَالَهَا ﴿۲﴾ وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَا ﴿۳﴾
جب زمین بڑے زور سے لرزنے لگے گی اور زمین اپنے اندر کی چیزیں نکال پھینکے گی اور ایک انسان کہے گا اسے کیا ہوا ہے
یَوْمَیِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴿۴﴾ بِأَنَّ رَبَّکَ أَوْحَی لَهَا ﴿۵﴾ یَوْمَیِذٍ یَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتاً
اس دن وہ اپنی سب گزری باتیں بتا دے گی کیونکہ اسے تمہارے رب نے حکم دیا ہو گا اس دن لوگ گروہ در گروہ قبروں
لِیُرَوْا أَعْمَالَهُمْ ﴿۶﴾ فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَرَهُ ﴿۷﴾ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَهُ ﴿۸﴾
سے نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھیں تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بدی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔
فضیلت سورہ عادیات
روایات میں آیاہے کہ جو مسلسل یہ سورہ پڑھتا رہے تو وہ قیا مت میں امیر المومنین - کیساتھ محشور ہو گا
سورہ عادیات
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
وَالْعَادِیَاتِ ضَبْحاً ﴿۱﴾ فَالْمُورِیَاتِ قَدْحاً ﴿۲﴾ فَالْمُغِیرَاتِ صُبْحاً ﴿۳﴾ فَأَثَرْنَ بِهِ
قسم ہے دوڑنے والے گھوڑوں کی جو پھنکارتے اور سم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں پھر صبح کو دھاوا بولتے ہیں تو گرد وغبار اڑاتے
نَقْعاً ﴿۴﴾ فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعاً ﴿۵﴾ إنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَکَنُودٌ ﴿۶﴾ وَ إنَّهُ عَلَی ذٰلِکَ
ہیں پھر دشمن کی فوج میں گھس جاتے ہیں بے شک آدمی ضرور اپنے رب کا ناشکرا ہے اور یقینًا وہ خود ہی
لَشَهِیدٌ ﴿۷﴾ وَ إنَّهُ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیدٌ ﴿۸﴾ أَفَلاَ یَعْلَمُ إذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُورِ ﴿۹﴾
اس پر گواہ ہے اور بے شک وہ حبِ مال میں بڑھا ہوا ہے تو کیا وہ نہیں جانتا کہ جب قبروں والے اٹھائے جائیں گے
وَحُصِّلَ مَا فِی الصُّدُورِ ﴿ ۱۰ ﴾ إنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَیِذٍ لَخَبِیرٌ ﴿۱۱﴾
اور سینوں کی چھپی باتیں کھول دی جائیں گی بے شک اس دن ان کا رب ان سے خوب واقف ہے۔
فضائل سورہ کا فرون، نصر، توحید، فلق اور ناس
بہت سی حدیثوں میں سورہ کافرون کے واجب اور مستحب نمازوں میں پڑھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور یہ کہ اس کوپڑھنا چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور سورہ توحید کا پڑھنا ایک تہائی قرآن کے مساوی ہے۔ جبکہ سورہ نصر کاواجب اور نافلہ نمازوں میں پڑھنا دشمنو ں پر فتح ونصرت پانے کا موجب ہے ۔جو شخص گھر سے باہر نکلے اور سورہ فلق اور ناس کو پڑھے تو وہ نظر بد سے محفوظ رہے گا۔جو شخص نیند میں ڈرتا ہو وہ آیت الکرسی کے ساتھ ان دونوں سورتو ں کو پڑھے:
سورہ کافرون
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
قُلْ یَاأَیُّهَاالْکَافِرُونَ ﴿۱﴾ لاَ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿۲﴾ وَلاَ أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿۳﴾
(اے رسول )کہہ دو کافرو میں انکی عبادت نہیں کرتا جنکی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اسکی عبادت کرتے ہوجسکی میں عبادت کرتا ہوں
وَلاَأَنَا عَابِدٌ مَاعَبَدْتُمْ ﴿۴﴾ وَلاَأَنْتُمْ عَابِدُونَ مَاأَعْبُدُ ﴿۵﴾ لَکُمْ دِینُکُمْ وَلِیَ دِینِ ﴿۶﴾
اور نہ میں اسکی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں
لَکُمْ دِینُکُمْ وَلِیَ دِینِ ﴿۶﴾
تمہارے لیے تمہارادین اور میرے لیے میرا دین ہے ۔
سورہ نصر
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے(شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
إذَا جَاءَ نَصْرُ ﷲ وَالْفَتْحُ﴿۱﴾وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِی دِینِ ﷲ أَفْوَاجاً ﴿۲﴾ فَسَبِّحْ
(اے رسول ) جب خدا کی مدد اور فتح آجائیگی تو دیکھنا کہ لوگ گروہ در گروہ دین میں داخل ہو رہے ہونگے تم اپنے رب کی
بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إنَّهُ کَانَ تَوَّاباً ﴿۳﴾
حمد کے ساتھ تسبیح کرواور اس سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔
سورہ توحید
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں ) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
قُلْ هُوَ ﷲ أَحَدٌ ﴿۱﴾ ﷲ الصَّمَدُ ﴿۲﴾ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ ﴿۳﴾ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدُ ﴿۴﴾
(اے رسول ) کہہ دو ﷲ ایک ہے ﷲ بے نیاز ہے نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے ۔
سورہ فلق
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے(شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿۱﴾ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿۲﴾ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إذَا وَقَب َ﴿۳﴾
(اے رسول )کہو میں پناہ لیتا ہوں صبح کے مالک کی،اسکی پیدا کی ہوئی ہرچیزکی برائی سے اور اندھیری رات کی برائی سے جب وہ چھا جائے
وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثَاتِ فِی الْعُقَدِ ﴿۴﴾ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَدَ ﴿۵﴾
اور پھونک کر گرہیں لگانے والیوں کی برائی سے اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے
سورہ ناس
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے(شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿۱﴾ مَلِکِ النَّاسِ ﴿۲﴾ إلٰهِ النَّاسِ ﴿۳﴾ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ
(اے رسول) کہو میں پناہ لیتا ہوں لوگوں کے رب کی،لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے معبود کی،وسوسہ ڈالنے،چھپ جانے
الْخَنَّاسِ ﴿۴﴾ الَّذِی یُوَسْوِسُ فِی صُدُورِ النَّاسِ ﴿۵﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿۶﴾
والے کی برائی سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے ۔جنوں اور انسانوں میں سے۔
فضائل آیت الکرسی
اس کے فضائل بہت زیادہ ہیں جو اس کتاب کے آخر(باقیات الصالحات) میں درج کیے گئے ہیں اور یہاں ہم اس کے خواص ہی کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔
(۱)ہرواجب نماز کے بعد اس کا پڑھنا رزق میں فراوانی کا باعث ہے۔
(۲) ہر روز صبح وشام پڑھنا چور ،ڈاکو اور آتش زدگی سے تحفظ کا ذریعہ ہے۔
(۳)ہر روز فریضہ نماز کے بعد اس کا پڑھنا سانپ اور بچھو کا تعویز اور جن وانس کے ضرر سے بچائو کاسبب ہے
(۴)اگر اس کو لکھ کر کھیت میں دفن کر دیاجائے تو وہ چوری اور نقصان سے بچا رہے گا اور اس میں برکت ہو گی۔
(۵)اگر اسے لکھ کر دکان میں رکھا جائے تو اس میں خیروبرکت ہوگی ۔
(۶)اس کا گھر میں لکھ کر رکھنا چوری سے بچائو کا موجب ہے۔
(۷)اگر مرنے سے پہلے اس کو پڑھنے والا بہشت میں اپنا مقام دیکھ لے گا۔
(۸)ہر شب سوتے وقت اس کا پڑھنا فالج سے حفاظت کا باعث ہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
ﷲ لاَ إلٰهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ لاَتَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَنَوْمٌ لَهُ مَا فِی السَّمَٰوٰت
ﷲ کے علاوہ کوئی خدا نہیں وو زندہ اوربندوبست کرنے والا ہے اس پر نہ غنودگی غالب آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں ہے اور
وَمَا فِی الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِی یَشْفَعُ عِنْدَهُ إلاَّ بِ إذْنِهِ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ أَیْدِیهِمْ
زمین میں سب کچھ اسی کا ہے کون ہے جو اسکی اجازت کے بغیر اسکے یہاں سفارش کرے؟ اور جو انکے سامنے ہے وہ اسے بھی جانتا ہے
وَمَا خَلْفَهُمْ وَلاَیُحِیطُونَ بِشَیْئٍ مِنْ عِلْمِهٰ إلاَّ بِمَا شَاءَ وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ
اور جو انکے پیچھے ہے اسے بھی لیکن وہ اسکے علم سے اسکی منشأ کے بغیر ذرہ بھر بھی نہیں جان سکتے اسکی کرسی آسمان اور زمین کو گھیرے
وَلاَیَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ ﴿۲۵۵﴾ لاَ إکْرَاهَ فِی الدِّینِ قَدْ تَبَیَّنَ
ہوئے ہے ان دونوں کی حفاظت اسے گراں نہیں گزرتی اور وہ اونچا ہے بہت بڑا ہے دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ہدایت گمراہی
الرُّشْدُ مِنْ الغَیِّ فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِنْ بِالله فَقَدْ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَی
سے الگ ہو کر نمایاں ہو چکی ہے اسکے بعد جو باطل کی طاقت کے ماننے سے انکار کرے اور ﷲ پر ایمان لائے اس نے مضبوط رسی
لاَانفِصَامَ لَهَا وَﷲ سَمِیعٌ عَلِیمٌ ﴿۲۵۶﴾ ﷲ وَلِیُّ الَّذِینَ آمَنُوا یُخْرِجُهُمْ مِنْ
تھام لی جسکے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں اور ﷲ سننے والا ہے اور خوب جاننے والا جو ایمان لائے ﷲ انکا سرپرست ہے انہیں
الظُّلُمٰتِ إلَی النُّورِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا أَوْلِیٰئُهُمْ الطَّاغُوتُ یُخْرِجُونَهُمْ مِنْ النُّورِ إلَی الظُّلُمٰتِ
اندھیرے سے روشنی کیطرف نکالتا ہے اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ان کی سرپرست باطل قوتیں ہیں وہ انہیں روشنی سے اندھیروں
أُوْلٰٓئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِیهَا خٰلِدُونَ
کیطرف لے جاتی ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہینگے۔
سورہ عنکبوت
شب قدر کے اعمال میں یہ بھی ہے کہ ماہ رمضان کی تئیسویں رات میں سورہ عنکبوت، سورہ روم اور سورہ دخان کی تلاوت کی جائے، لہذا مومنین کی سہولت کے پیش نظریہ سورتیں تبرک کے طور پر مفاتیح الجنان میں درج کی جارہی ہیں تا کہ مومنین انکی تلاوت کے فیض سے محروم نہ رہیں۔
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا(شروع کرتا ہوں)کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
الٓمَ ﴿۱﴾ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ یُتْرَکُوا أَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لاَ یُفْتَنُونَ ﴿۲﴾ وَلَقَدْ فَتَنَّا
الٓم کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اتنا کہہ دینے پر چھوڑ دیئے جائینگے کہ ہم ایمان لائے اور ان کا امتحان نہ ہوگا؟ اور ہم نے ان
الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ ﷲ الَّذِینَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الکَاذِبِینَ ﴿۳﴾ أَمْ حَسِبَ الَّذِینَ
لوگوں کا بھی امتحان کیا جو ان سے پہلے گزرے پس خدا ضرور ان لوگوں کو الگ دیکھے گا جو سچے ہیں اور انکو الگ دیکھے گا جو جھوٹے ہیں یا جو
یَعْمَلُونَ السَّیِّءَاتِ أَنْ یَسْبِقُونَا سَاءَ مَا یَحْکُمُونَ ﴿۴﴾ مَنْ کَانَ یَرْجُو لِقَاءَ ﷲ فَ إنَّ أَجَلَ
لوگ برے کام کرتے ہیں کیا انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ ہماری پکڑ سے نکل جائینگے؟ یہ لوگ کیا ہی برے حکم لگاتے ہیں. جو شخص خدا سے ملنے کی امید
ﷲ لاََتٍ وَهُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿۵﴾ وَمَنْ جَاهَدَ فَ إنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إنَّ ﷲ لَغَنِیٌّ عَنِ
رکھتا ہے تو یقیناً خدا کا مقررہ وقت آنے والا ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے اور جو شخص عبادت میں کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے کوشاں ہے
العَالَمِینَ ﴿۶﴾ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّءَاتِهِمْ وَلَنَجْزِیَنَّهُمْ
بے شک ﷲ لوگوں کی عبادت سے بے نیاز ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے یقیناً ہم انکے گناہوں کو معاف کر دیں گے
أَحْسَنَ الَّذِی کَانُوا یَعْمَلُونَ ﴿۷﴾ وَوَصَّیْنَا الاِِنْسَانَ بِوالِدَیْهِ حُسْناً وَ إنْ جَاهَدٰکَ
اور یہ جو اچھے کام کرتے ہیں ان پر انکو بہترین جزا دینگے ہم نے انسان کو اپنے والدین کیساتھ اچھے برتائو کا حکم دیا ہے اور یہ کہ
لِتُشْرِکَ بِی مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا إلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَأُنَبِّیُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿۸﴾
اگر تیرے ماں باپ تجھے کسی کو میرا شریک بنانے پر مجبور کریں جسکا تجھ کو علم نہیں تو انکا کہانہ ماننا. آخر تم سب کو میری طرف لوٹنا ہے تب میں بتادونگا
وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصَّالِحِینَ ﴿۹﴾ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَقُولُ
جو کچھ تم کرتے رہے اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کیے ضرور ہم انکو نیکوں میں داخل کریں گے. اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں
آمَنَّا بِالله فَ إذَا أُوذِیَ فِی ﷲ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ کَعَذَابِ ﷲ وَلَئِنْ جَاءَ نَصْرٌ مِنْ رَبِّکَ
جو کہہ دیتے ہیں ہم خدا پرایمان لائے پھر جب خدا کی راہ میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لوگوں کی زیادتی کو خدا کا عذاب قرار دیتے ہیں اور (اے رسول )
لَیَقُولُنَّ إنَّا کُنَّا مَعَکُمْ أَوَ لَیْسَ ﷲ بِأَعْلَمَ بِمَا فِی صُدُورِ العَالَمِینَ﴿۱۰﴾وَلَیَعْلَمَنَّ ﷲ
اگر تمہارے رب کی مدد آپہنچے تو وہ کہنے لگتے ہیں ہم بھی تمہارے ساتھ تھے بھلا جو کچھ دنیا والوں کے دلوں میں ہے کیا خدا اس سے واقف
الَّذِینَ آمَنُوا وَلَیَعْلَمَنَّ المُنَافِقِینَ ﴿۱۱﴾ وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِلَّذِینَ آمَنُوا اتَّبِعُوا سَبِیلَنَا
نہیں ہے؟ اور جو لوگ ایمان لائے خدا یقیناً انکو جانتا ہے اور منافقین کوبھی ضرور جانتا ہے اور کافر لوگ ایمان والوں سے کہنے لگے کہ تم ہمارے
وَلْنَحْمِلْ خَطَایَاکُمْ وَمَا هُمْ بِحَامِلِینَ مِنْ خَطَایَاهُمْ مِنْ شَیئٍ إنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ ﴿۱۲﴾
طریقے کی پیروی کرو ہم (قیامت میں) تمہارے گناہوں کا بوجھ اٹھالینگے. حالانکہ یہ لوگ انکے گناہوں میں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں. بے
وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَیُسْءَلُنَّ یَوْمَ القِیَامَةِ عَمَّا کَانُوا یَفْتَرُونَ ﴿۱۳﴾
شک یہ لوگ جھوٹے ہیں اور ہاں یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور انکے بوجھ بھی جنکو گمراہ بنایا اور جو جو افترائ یہ باندھتے رہے ان پر
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً إلَی قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِیهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إلاَّ خَمْسِینَ عَاماً فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ
ضرور ان سے باز پرس ہوگی. اور ہم نے نوحعليهالسلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ پچاس کم ہزار برس ان کو ہدایت دیتے رہے،جب وہ راہ راست پر نہ آئے
وَهُمْ ظَالِمُونَ ﴿۱۴﴾ فَأَنْجَیْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِینَةِ وَجَعَلْنَاهَا آیَةً لِلْعَالَمِینَ ﴿۱۵﴾ وَ
تو طوفان نے انکو آگھیرا تب بھی وہ سرکش ہی تھے پس ہم نے نوحعليهالسلام اور کشتی میں سوار لوگوں کو بچالیا اور اس واقعہ کو ساری خدائی کیلئے نشانی قرار دیا.
إبْرَاهِیمَ إذ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا ﷲ وَاتَّقُوهُ ذلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿۱۶﴾ إنَّمَا
اور ابراہیمعليهالسلام کو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگرتم سمجھ بوجھ رکھتے ہو. مگر تم
تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ﷲ أَوْثَاناً وَتَخْلُقُونَ إفْکاً إنَّ الَّذِینَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ﷲ لاَ یَمْلِکُونَ
لوگ خدا کو چھوڑ کر بتوں کی پرستش کرتے ہو اور جھوٹ گھڑتے ہو بے شک خدا کو چھوڑ کرتم جن چیزوں کی پرستش کرتے ہو وہ تمہاری روزی پر
لَکُمْ رِزْقاً فَابْتَغُوا عِنْدَ ﷲ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْکُرُوا لَهُ إلَیْهِ تُرْجَعُونَ ﴿۱۷﴾ وَ إنْ
اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی سے روزی مانگو اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو کہ تم لوگ اسی کی طرف لوٹا ئے جائوگے. اور (اے مکہ والو) اگر
تُکَذِّبُوا فَقَدْ کَذَّبَ أُمَمٌ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمَا عَلَی الرَّسُولِ إلاَّ البَلاَغُ المُبِینُ ﴿۱۸﴾ أَوَ لَمْ
تم نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو جھٹلایا ہے تو پہلی امتوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا تھا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذمہ صرف پیغام پہنچادینا ہے. کیا ان لوگوں نے غور نہیں
یَرَوْا کَیْفَ یُبْدئُ ﷲ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ إنَّ ذلِکَ عَلَی ﷲ یَسِیرٌ ﴿۱۹﴾ قُلْ سِیرُوا فِی
کیا کہ خدا کسطرح مخلوقات کا آغاز کرتا ہے، پھر دوبارہ پیدا کریگا. بیشک خدا کیلئے یہ بڑی آسان بات ہے (اے رسول ) ان سے
الاََرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بَدَأَ الخَلْقَ ثُمَّ ﷲ یُنْشئُ النَّشْأَةَ الآخِرَةَ إنَّ ﷲ عَلَی کُلِّ شَیئٍ
کہہ دوکہ زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ خدا نے مخلوق کو پہلے پہل کس طرح پیدا کیا پھر خدا ہی دوسری مرتبہ ان کو پیدا کرے گا یقیناً خدا
قَدِیرٌ ﴿۲۰﴾ یُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَیَرْحَمُ مَنْ یَشَائُ وَ إلَیْهِ تُقْلَبُونَ ﴿۲۱﴾ وَمَا أَنْتُمْ
ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ جس پر چاہے عذاب کرے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائوگے اور نہ تم زمین
بِمُعْجِزِینَ فِی الاََرْضِ وَلاَ فِی السَّمَائِ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ ﷲ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَ نَصِیرٌ ﴿۲۲﴾
میں خدا کو عاجز کر سکتے ہونہ آسمان میں اور نہ ہی خدا کے سوا تمہارا کوئی سرپرست ہے اور نہ ہی کوئی مددگار اور جن لوگوں نے خدا کی
وَالَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ ﷲ وَلِقَائِهِ أُولٰٓئِکَ یَئِسُوا مِنْ رَحْمَتِی وَأُولیِکَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ ﴿۲۳﴾
نشانیوں کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا یہی لوگ میری رحمت سے ناامید ہیں اور انہی کے لیے دردناک عذاب ہے.
فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إلاَّ أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنْجَاهُ ﷲ مِنَ النَّارٍ إنَّ فِی ذلِکَ
غرض ابراہیمعليهالسلام کی قوم کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر یہ کہ باہم کہنے لگے کہ اسے قتل کرڈالو یا اسے جلادو، پس خدا نے ابراہیم کو آگ سے بچالیا
لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿۲۴﴾ وَقالَ إنَّمَا اتَّخَذتُمْ مِنْ دُونِ ﷲ أَوْثَاناً مَوَدَّةَ بَیْنِکُمْ فِی
بے شک ایمان والوں کے لیے اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں. اور ابراہیم نے کہا کہ تم نے دنیا میں باہمی تعلق کے باعث خدا کو
الحَیَاةِ الدُّنْیَا ثُمَّ یَوْمَ القِیَامَةِ یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضاً وَمَأْواکُمُ النَّارُ
چھوڑ کر بتوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے پھر روز قیامت تم ایک دوسرے کا انکار کروگے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجوگے تمہارا ٹھکانا جہنم ہے
وَمَا لَکُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ﴿۲۵﴾ فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ إنِّی مُهَاجِرٌ إلَی رَبِّی إنَّهُ هُوَ العَزِیزُ
جہاں تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا تب صرف لوطعليهالسلام ہی ابراہیمعليهالسلام پر ایمان لائے اور ابراہیمعليهالسلام نے کہا میں وطن چھوڑ کر اپنے رب کیطرف جائوں گا. بیشک وہ
الحَکِیمُ ﴿۲۶﴾ وَوَهَبْنَا لَهُ إسْحقَ وَیَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِی ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالکِتَابَ وَآتَیْنَاهُ
غالب، حکمت والا ہے. اور ہم نے ابراہیمعليهالسلام کو (بیٹا )اسحاق اور( پوتا) یعقوبعليهالسلام دیئے اور نبوت و کتاب کو انکی اولاد میں قرار دیا. ہم نے
أَجْرَهُ فِی الدُّنْیَا وَ إنَّهُ فِی الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِینَ ﴿۲۷﴾ وَلُوطاً إذ قَالَ لِقَوْمِهِ إنَّکُمْ
ابراہیمعليهالسلام کو دنیا میں اچھا بدلہ دیا اور وہ آخرت میں بھی ضرور نیک لوگوں میں ہوں گے اور جب لوطعليهالسلام نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ جو بے
لَتَأْتُونَ الفَاحِشَةَ مَا سَبَقَکُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ العَالَمِینَ ﴿۲۸﴾ أَیِنَّکُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ
حیائی کرتے ہو وہ تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے بھی نہیں کی آیا تم عورتوں کی جگہ مردوں سے نزدیکی کرتے ہو،
وَتَقْطَعُونَ السَّبِیلَ وَتَأْتُونَ فِی نَادِیکُمُ المُنْکَرَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إلاَّ أَنْ قَالُوا ائْتِنَا
مسافروں کو لوٹتے ہو اور اپنی محفلوں میں بری حرکات کرتے ہو. پس انکی قوم کے پاس کوئی جواب نہ تھا، مگر یہ کہ کہنے
بِعَذَابِ ﷲ إنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِینَ ﴿۲۹﴾ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِی عَلَی القَوْمِ المُفْسِدِینَ ﴿۳۰﴾
لگے تم ہم پر خدا کا عذاب لے آئو اگر تم سچوں میں سے ہو. لوطعليهالسلام نے دعا مانگی، یا رب! ان فسادیوں کے مقابلے میں میری مدد فرما.
وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إبْرَاهِیمَ بِالْبُشْرَی قَالُوا إنَّا مُهْلِکُوا أَهْلَ هذِهِ القَرْیَةِ إنَّ أَهْلَهَا کَانُوا
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیمعليهالسلام کے پاس(بیٹے کی) خوشخبری لے کر آئے تو ان سے یہ بھی کہا کہ ہم اس گائوں کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے
ظَالِمِینَ ﴿۳۱﴾ قَالَ إنَّ فِیهَا لُوطاً قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فِیهَا لَنُنَجِّیَنَّهُ وَأَهْلَهُ إلاَّ امْرَأَتَهُ
ہیں، بے شک یہ لوگ بڑے سرکش ہیں ابراہیمعليهالسلام نے کہا کہ اس گائوں میں لوطعليهالسلام بھی ہیں فرشتوں نے کہا ہم وہاں رہنے والوں کو جانتے ہیں ہم لوطعليهالسلام
کانَتْ مِنَ الغَابِرِینَ ﴿۳۲﴾ وَلَمَّا أَنْ جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطاً سِیءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعاً
اور انکے اہل خانہ کو بچائینگے سوائے انکی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ
وَقَالُوا لاَ تَخَفْ وَلاَ تَحْزَنْ إنَّا مُنَجُّوکَ وَأَهْلَکَ إلاَّ امْرَأَتَکَ کَانَتْ مِنَ الغَابِرِینَ ﴿۳۳﴾
انکے آنے سے پریشان ہوئے اور میزبانی میں دقت محسوس کی. فرشتوں نے کہا آپ نہ ڈریں اور غم نہ کریں، یقیناً ہم آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو
إنَّا مُنْزِلُونَ عَلَی أَهْلِ هذِهِ القَرْیَةِ رِجْزاً مِنَ السَّمَائِ بِما کَانُوا یَفْسُقُونَ ﴿۳۴﴾وَلَقَدْ
بچائیں گے سوائے آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی بیشک ہم اس گاؤں کے لوگوں پر ایک آسمانی عذاب نازل کرنے والے
تَرَکْنَا مِنْهَا آیَةً بَیِّنَةً لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ﴿۳۵﴾ وَ إلَی مَدْیَنَ أَخَاهُمْ شُعَیْباً فَقَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُوا
ہیں، کیونکہ یہ لوگ بدکاریاں کرتے رہے ہیںاور ہم نے اس(الٹی ہوئی بستی)سے سمجھدار لوگوں کیلئے ایک واضح نشانی رکھی ہے ہم نے مدین کے
ﷲ وَارْجُوا الیَوْمَ الآخِرَ وَلاَ تَعْثَوْا فِی الاََرْضِ مُفْسِدِینَ ﴿۳۶﴾ فَکَذَّبُوهُ فَأَخَذَتْهُمُ
رہنے والوں کیطرف انکے بھائی شعیب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے میری قوم خدا کی عبادت کرو. روز آخرت کی امید رکھو اور روئے زمین پر فساد نہ
الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِی دَارِهِمْ جَاثِمِینَ ﴿۳۷﴾ وَعَاداً وَثَمُودَاْ وَقَدْ تَبَیَّنَ لَکُمْ مِنْ
پھیلاتے پھرو پس ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلا یا تو انہیں زلزلے نے اچک لیا تب وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے اور قوم
مَسَاکِنِهِمْ وَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیلِ وَکَانُوا مُسْتَبْصِرِینَ ﴿۳۸﴾
عاد اور ثمود بھی ہلاک ہوئیں اور تمہیں انکے اجڑ ے گھروں کا پتہ بھی ہے اور شیطان نے ان کیلئے انکے کاموں کو مزین کردیاپس انہیں سیدھی راہ سے
وَقَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مُوسَیٰ بِالبَیِّنَاتِ فَاسْتَکْبَرُوا فِی الاََرْضِ وَمَا
روک ڈالا حالانکہ وہ بڑے ہی ہوشیار تھے اور ہم نے قارون و فرعون اور ہامان کو بھی ہلاک کیا جب کہ ان کے پاس موسیٰ روشن معجزے لے کر آئے تو
کَانُوا سَابِقِینَ ﴿۳۹﴾ فَکُلاًّ أَخَذنَا بِذَنْبِهِ فَمِنْهُم مَنْ أَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِباً وَمِنْهُمْ مَنْ
بھی وہ لوگ زمین میں سرکشی کرتے رہے اور ہم سے بچ کر نہ جاسکے. پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کے سبب گرفت میں لے لیا تو ان میں سے
أَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ وَمِنْهُمْ مَنْ خَسَفْنَا بِهِ الاََرْضَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَغْرَقْنَا وَمَا کَانَ ﷲ لِیَظْلِمَهُمْ
بعض پر ہم نے پتھروں والی آندھی بھیجی ان میں وہ بھی تھے جن کو سخت چنگھاڑنے آلیا ان میں بعض وہ تھے جنکو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان
وَلکِنْ کَانُوا أَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ ﴿۴۰﴾ مَثَلُ الَّذِینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ ﷲ أَوْلِیَاءَ کَمَثَلِ
میں بعض کو ہم نے ڈبو کر مارا اور یہ نہیں کہ خدا نے ان پر ظلم کیا ہو، بلکہ یہ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے رہے تھے. جن لوگوں نے خدا کے سوا دوسروں
العَنْکَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَیْتاً وَ إنَّ أَوْهَنَ البُیُوتِ لَبَیْتُ العَنْکَبُوتِ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ﴿۴۱﴾
کو کارساز بنا رکھا ہے انکی مثال اس مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور بے شک گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے، اگر یہ لوگ
إنَّ ﷲ یَعْلَمُ مَا یَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَیئٍ وَهُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿۴۲﴾ وَتِلْکَ الاََمْثَالُ
سمجھتے بھی ہوں خدا کو چھوڑ کر یہ لوگ جس چیز کو پکارتے ہیں خدا یقیناً اس سے واقف ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے اور ہم یہ مثالیں لوگوں
نَضْرِبُها لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُهَا إلاَّ الْعَالِمُونَ ﴿۴۳﴾ خَلَقَ ﷲ السَّمواتِ وَالاََرْضَ بِالحَقِّ إنَّ
کیلئے بیان کرتے ہیں اور انکو صاحبان علم کے سوا کوئی نہیں سمجھتا خدا نے سارے آسمانوں اور زمین کو بالکل ٹھیک بنایا اس میں شک
فِی ذ لِکَ لاََیَةً لِلْمُؤْمِنِینَ ﴿۴۴﴾ اتْلُ مَا أُوحِیَ إلَیْکَ مِنَ الکِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلاَةَ إنَّ
نہیں کہ اس میں ایمانداروں کیلئے حتماً نشانی ہے( اے رسول ) جو کتاب تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اسکی تلاوت کرو اور نماز پابندی
الصَّلاَةَ تَنْهَی عَنِ الفَحْشَائِ وَالمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ ﷲ أَکْبَرُ وَﷲ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ﴿۴۵﴾ وَلاَ
سے پڑھو کہ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے اور لازماً یاد خدا بڑا مرتبہ رکھتی ہے اور جو کچھ تم لوگ کرتے ہوخدا اس سے
تُجَادِلُوا أَهْلَ الکِتَابِ إلاَّ بِالَّتِی هِیَ أَحْسَنُ إلاَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِی
واقف ہے اور (اے مومنو) اہل کتاب سے مناظرہ نہ کیا کرو مگر بہترین اندازسے، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ظلم کیا اور کہہ دو
أُنْزِلَ إلَیْنَا وَأُنْزِلَ إلَیْکُمْ وَ إلهُنَا وَ إلهُکُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿۴۶﴾ وَکَذلِکَ
ہم ایمان لائے اس پر جو (کتاب) ہم پراتری اور جو تم پراتری اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے. اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں اور (اے رسول )
أَنْزَلْنَا إلَیْکَ الکِتَابَ فَالَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الکِتَابَ یُؤْمِنُونَ بِهِ وَمِنْ هٰؤُلاَئِ مَنْ یُؤْمِنُ بِهِ وَمَا
اسی طرح ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کتاب نازل کی وہ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ان (عربوں) میں سے بھی
یَجْحَدُ بِآیاتِنَا إلاَّ الکَافِرُونَ ﴿۴۷﴾ وَمَا کُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ کِتَابٍ وَلاَ تَخُطُّهُ
بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آتیوں کا سوائے کافروں کے کوئی انکار نہیں کرتا اور(اے رسول ) قرآن سے پہلے نہ تم کوئی کتاب پڑھتے تھے
بِیَمِینِکَ إذاً لاَرْتابَ المُبْطِلُونَ ﴿۴۸﴾ بَلْ هُوَ آیاتٌ بَیِّنَاتٌ فِی صُدُورِ الَّذِینَ أُوتُوا
اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے ایسا ہوتا تو یہ جھوٹے ضرور شک کرتے مگر یہ (قرآن) روشن آیتیں ہیں جوان کے دلوں میں ہے جن کو علم عطا ہوا
العِلْمَ وَمَا یَجْحَدُ بِآیَاتِنَا إلاَّ الظَّالِمُونَ ﴿۴۹﴾ وَقَالُوا لَوْلاَ أُنْزِلَ عَلَیْهِ آیَاتٌ مِنْ رَبِّهِ قُلْ
ہے اورسرکشوں کے سواکوئی ہماری آیتوں کا منکر نہیں. اور کافر کہتے ہیں کہ اس رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پراسکے رب کی طرف سے کیوں معجزے نہیں اترتے. کہہ
إنَّمَا الاَْیَاتُ عِنْدَ ﷲ وَ إنَّمَا أَنَا نَذِیرٌ مُبِینٌ ﴿۵۰﴾أَوَ لَمْ یَکْفِهِمْ أَ نَّا أَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الکِتَابَ
دو کہ معجزے تو بس خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو صرف صاف صاف ڈرانے والا ہوں کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر
یُتْلَی عَلَیْهِمْ إنَّ فِی ذلِکَ لَرَحْمَةً وَذِکْریٰ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿۵۱﴾ قُلْ کَفٰی بِالله بَیْنِی
قرآن اتارا جو ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے. بے شک اس میں ایمانداروں کیلئے بڑی مہربانی اور اچھی نصیحت ہے. کہدو کہ میرے
وَبَیْنَکُمْ شَهِیداً یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَالَّذِینَ آمَنُوا بِالبَاطِلِ وَکَفَرُوا بِالله
اور تمہارے درمیان گواہی کیلئے خدا ہی کافی ہے جو آسمانوں اور زمین کی چیزوں کو جانتا ہے. اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا کا انکار کیا وہ
أُولیِکَ هُمُ الخَاسِرُونَ ﴿۵۲﴾ وَیَسْتَعْجِلُونَکَ بِالعَذَابِ وَلَوْلاَ أَجَلٌ مُسَمّیً لَجَاءَهُمُ
لوگ بڑے گھاٹے میں رہیں گے. اور (اے رسول ) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم جلد عذاب لائو اور اگر وقت مقرر نہ ہوتا تو ضرور ان پر عذاب
العَذَابُ وَلِیَأْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لاَ یَشْعُرُونَ ﴿۵۳﴾ یَسْتَعْجِلُونَکَ بِالعَذَابِ وَ إنَّ جَهَنَّمَ
آگیا ہوتا اور وہ یقیناً ان پر اچانک آپڑے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم جلد عذاب لائو اور اس میں شک نہیں کہ
لَمُحِیطَةٌ بِالکَافِرِینَ ﴿۵۴﴾ یَوْمَ یَغْشَاهُمُ العَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ
دوزخ کافروں کو گھیر کر رہے گی. جس دن عذاب انکے سروں کے اوپر اور پائوں کے نیچے سے گھیرے ہوئے ہوگا تب خدا ان
وَیَقُولُ ذُوقُوا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿۵۵﴾ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ آمَنُوا إنَّ أَرْضِی وَاسِعَةٌ فَ إیَّایَ
سے کہے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے ہو اب اسکا مزہ چکھو اے میرا وہ بندہ جو ایمان لایا ہو، میری زمین تو یقیناً کشادہ ہے پس تم
فَاعْبُدُونِ ﴿۵۶﴾ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ المَوْتِ ثُمَّ إلَیْنَا تُرْجَعُونَ ﴿۵۷﴾ وَالَّذِینَ آمَنُوا
میری ہی عبادت کرو ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے. پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائوگے اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا
وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّءَنَّهُمْ مِنَ الجَنَّةِ غُرَفاً تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الاََنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا
اور اچھے اچھے کام کیے ہم ان کو جنت کے گھروں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے،
نِعْمَ أَجْرُ العَامِلِینَ ﴿۵۸﴾ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَیٰ رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ ﴿۵۹﴾ وَکَأَیِّنْ مِنْ دَابَّةٍ
نیکولوگوں کا کیا خوب اجر ہے، جنہوں نے صبر سے کام لیااور اپنے رب پر بھر وسہ رکھتے ہیںزمین پر چلنے والوں میں بہت سے ایسے ہیں
لاَ تَحْمِلُ رِزْقَهَا ﷲ یَرْزُقُهَا وَ إیَّاکُمْ وَهُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿۶۰﴾ وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ
جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی انہیں اور تمہیںروزی دیتا ہے اور وہ بڑا سننے والا واقف کار ہے اور (اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم )اگر تم ان
السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ لَیَقُولُنَّ ﷲ فَأَ نّٰی یُؤْفَکُونَ ﴿۶۱﴾ ﷲ
سے پوچھو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا تو وہ ضرور کہیں گے ﷲ تعالیٰ نے، پھر وہ کہاں
یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ وَیَقْدِرُ لَهُ إنَّ ﷲ بِکُلِّ شَیئٍ عَلِیمٌ ﴿۶۲﴾ وَلَئِنْ
بہکے جاتے ہیں خدا ہی اپنے بندوں میں سے جسکی چاہے روزی وسیع کر دے اور جس کیلئے چاہے تنگ کر دے. بے شک خدا ہر چیز سے
سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمائِ مَائً فَأَحْیَا بِهِ الاََرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُولُنَّ ﷲ قُلِ الحَمِدُ
واقف ہے اور (اے رسول ) اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے سے زمین کو آباد کیا جب کہ وہ مردہ تھی وہ
لِلّهِ بَلْ أَکْثَرُهُمْ لاَ یَعْقِلُونَ ﴿۶۳﴾ وَمَا هذِهِ الحَیَاةُ الدُّنْیَا إلاَّ لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَ إنَّ الدَّارَ
ضرور کہیں گے کہ ﷲ نے ،(اے رسول ) کہہ دو الحمدﷲ.مگر ان میں سے اکثرسمجھتے نہیں ہیں اور یہ دنیا وی زندگی تو کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے
الآخِرَةَ لَهِیَ الحَیَوَانُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ﴿۶۴﴾ فَ إذَا رَکِبُوا فِی الفُلْکِ دَعَوُا ﷲ
اور اگر یہ لوگ سمجھیں بوجھیں تو ہمیشہ زندہ رہنے کی جگہ تو آخرت ہی کا گھر ہے. پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کے عبادت گزار بن
مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إلَی البَرِّ إذَا هُمْ یُشْرِکُونَ ﴿۶۵﴾ لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاهُمْ
کر اس سے دعا کرتے ہیں.پس جب وہ خشکی پر پہنچا کر. انہیں بچالیتا ہے تو فوراً شرک کرنے لگتے ہیں تا کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کا انکار کریں اور
وَلِیَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ ﴿۶۶﴾أَوَ لَمْ یَرَوْا أَ نَّا جَعَلْنَا حَرَماً آمِناً وَیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ
دنیا کے مزے لوٹیں تو نتیجہ جلدہی انکو معلوم ہو جائیگا. کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے حرمِ مکہ کو امن کی جگہ بنایا، حالانکہ اسکے گردونواح میں لوگ
حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ ﷲ یَکْفُرُونَ ﴿۶۷﴾ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی ﷲ
لٹ جاتے ہیں تو کیا یہ لوگ جھوٹوں کو مانتے اور خدا کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں اور جو شخص خدا پر جھوٹ باندھے یا جب حق بات
کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِالحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ أَلَیْسَ فِی جَهَنَّمَ مَثْویً لِلْکَافِرِینَ ﴿۶۸﴾ وَالَّذِینَ
اس کو پہنچے تو اسے جھٹلا دے اس سے بڑا ظالم کون ہوگا. کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟اور جن لوگوں نے ہمارے لیے
جَاهَدُوا فِینَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَ إنَّ ﷲ لَمَعَ المُحْسِنِینَ ﴿۶۹﴾
جہاد کیا تو ضرور ہم ان کو اپنی راہ کی ہدایت کریں گے اور بیشک خدا نیک لوگوں کا ساتھی ہے۔
سورہ روم
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
الَمَ ﴿۱﴾غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿۲﴾ فِی أَدْنَی الاََرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُونَ ﴿۳﴾ فِی
الم قریب کے ملک میں رومی مغلوب ہو گئے اور پھر چندہی سال میں وہ فارس والوں پر غالب آجائیں گے. کہ ہر امر خدا
بِضْعِ سِنِینَ لِلّهِ الاََمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ المُؤْمِنُونَ ﴿۴﴾ بِنَصْرِ ﷲ یَنْصُرُ
کے ہاتھ میں ہے، اس سے پہلے اور اس کے بعد اور اس دن مومنین خدا کی مدد سے خوش ہوجائیں گے وہ جس کی چاہے مدد کرتا ہے
مَنْ یَشَائُ وَهُوَ العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿۵﴾وَعْدَ ﷲ لاَ یُخْلِفُ ﷲ وَعْدَهُ وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ
اور وہ غالب، رحم کرنے والا ہے یہ خدا کا وعدہ ہے. خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا مگر بہت سے لوگ اس بات کو نہیں جانتے
یَعْلَمُونَ ﴿۶﴾ یَعْلَمُونَ ظَاهِراً مِنَ الحَیَاةِ الدُّنْیَا وَهُمْ عَنِ الآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ ﴿۷﴾ أَوَ
یہ لوگ بس زندگی کی ظاہری حالت کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل بے خبر ہیں کیا ان لوگوں نے اپنے
لَمْ یَتَفَکَّرُوا فِی أَنْفُسِهِمْ مَا خَلَقَ ﷲ السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا إلاَّ بِالحَقِّ وَأَجَلٍ
دلوں میں یہ نہیں سوچا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں، ان کو ٹھیک ٹھیک اور مقررہ مدت
مُسَمَّیً وَ إنَّ کَثِیراً مِنَ النَّاسِ بِلِقَائِ رَبِّهِمْ لَکَافِرُونَ﴿۸﴾أَوَ لَمْ یَسِیرُوا فِی الاََرْضِ
کیلئے بنایا ہے اور اس میں شک نہیں کہ بہت سے لوگ خدا کے ہاں حاضری کے منکر ہیں کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان
فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ کَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الاََرْضَ
لوگوں کا انجام دیکھ لیتے کہ جوان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے، چنانچہ انہوں نے جتنی زمین آباد
وَعَمَرُوهَا أَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالبَیِّنَاتِ فَمَا کَانَ ﷲ لِیَظْلِمَهُمْ وَلکِنْ
کی اور کاشت کی وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ان لوگوں نے آباد کی اور ان کے پاس بھی پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تھے. پس خدا نے
کَانُوا أَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ﴿۹﴾ ثُمَّ کَانَ عَاقِبَةَ الَّذِینَ أَسَاؤُوا السُّوأی أَنْ کَذَّبُوا بِآیَاتِ ﷲ
ان پر کوئی ظلم نہیںکیا لیکن وہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہے. پھر ان لوگوں کا انجام بد سے بدتر ہوا کیونکہ وہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے
وَکَانُوا بِهَا یَسْتَهْزِیُونَ﴿۱۰﴾ ﷲ یَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ ثُمَّ إلَیْهِ تُرْجَعُونَ﴿۱۱﴾ وَیَوْمَ
اور انکا مذاق اڑاتے رہے خدا ہی نے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے. اور جس
تَقُومُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ المُجْرِمُونَ ﴿۱۲﴾ وَلَمْ یَکُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَکَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَکَانُوا
دن قیامت برپا ہوگی تو گناہگار ناامید ہوجائیں گے، اور انہوں نے خدا کے جو شریک بنائے ہیں ان میں سے کوئی انکا سفارشی نہ ہوگا
بِشُرَکَائِهِمْ کَافِرِینَ﴿۱۳﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَتَفَرَّقُونَ ﴿۱۴﴾ فَأَمَّا الَّذِینَ
اور یہ لوگ ان کا انکار کر جائیں گے اور جس دن قیامت بپا ہوگی اس دن لوگ بٹ جائیں گے چنانچہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا
آمَنُوا وَعَمِلُواالصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِی رَوْضَةٍ یُحْبَرُونَ ﴿۱۵﴾ وَأَمَّا الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا
اور نیک کام کیے پس وہ گلزار جنت میں شاد کیے جائیں گے. اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں
بِآیاتِنَا وَلِقَائِ الآخِرَةِ فَأُولٓئِکَ فِی العَذَابِ مُحْضَرُونَ﴿۱۶﴾فَسُبْحَانَ ﷲ حِینَ تُمْسُونَ
اور آخرت کی حضوری کو جھٹلا یا تو یہ لوگ عذاب جہنم میں گرفتار کئے جائیں گے، لہذا خدا کی پاکیزگی بیان کرو جب تمہاری شام اور
وَحِینَ تُصْبِحُونَ ﴿۱۷﴾وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَعَشِیّاً وَحِینَ تُظْهِرُونَ ﴿۱۸﴾
جب تمہاری صبح ہو. اور وہی لائق تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور تیسرے پہر اور جب تمہاری دو پہر ہوجائے
یُخْرِجُ الحَیَّ مِنَ المَیِّتِ وَیُخْرِجُ المَیِّتَ مِنَ الحَیِّ وَیُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَکَذٰلِکَ
وہی زندہ کو مردہ میں سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ میں سے نکالتا ہے اور زمین کو مردہ ہونے کے بعدآباد کرتاہے اسیطرح تم بھی
تُخْرَجُونَ ﴿۱۹﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ ﴿۲۰﴾
مرنے کے بعد نکالے جائوگے اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر یکایک تم آدمی بن کر چلنے پھر نے لگے
وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِتَسْکُنُوا إلَیْهَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً
اور یہ بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری جنس میں سے بیویاں پیدا کیں کہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے تمہارے درمیان محبت
إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ﴿۲۱﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ خَلْقُ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ
و الفت پیدا کردی، بے شک اس میں غور کرنے والوں کیلئے (خداکی) نشانیاں ہیں اس کی نشانیوں میں آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری
وَاخْتِلاَفُ أَلْسِنَتِکُمْ وَأَلْوَانِکُمْ إنَّ فِی ذلِکَ لآیَاتٍ لِلْعَالِمِینَ ﴿۲۲﴾وَمِنْ آیَاتِهِ مَنَامُکُمْ
زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بھی ہے یقیناً اس میں دنیا والوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیںاور رات اور دن کو تمہارا سونا اور اسکے فضل و
بِاللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُکُمْ مِنْ فَضْلِهِ إنَّ فِی ذٰلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ﴿۲۳﴾ وَمِنْ
کرم (روزی) کی تلاش بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے بے شک اس میں ان لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں. اسکی
آیَاتِهِ یُرِیکُمُ البَرْقَ خَوْفاً وَطَمَعاً وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَیُحْیِی بِهِ الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إنَّ
نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ وہ خوف و امید میں تم کو بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس سے مردہ زمین کو آباد کرتا ہے،
فِی ذلِکَ لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ﴿۲۴﴾وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَائُ وَالاََرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إذَا
بے شک اس میں عقل والوں کے لیے بہت سی دلیلیں ہیں اور اس کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم
دَعَاکُمْ دَعْوَةً مِنَ الاََرْضِ إذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ﴿۲۵﴾وَلَهُ مَنْ فِی السَّموَاتِ وَالاََرْضِ کُلٌّ
ہیں پھر(موت کے بعد) جب وہ تمہیں بلائے گا تو تم (زندہ ہوکر) زمین سے نکل آئوگے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اسی کا ہے
لَهُ قَانِتُونَ ﴿۲۶﴾ وَهُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَیْهِ وَلَهُ المَثَلُ الاََعْلَی
اور سب چیزیں اسی کی تابع ہیں وہی ہے جو مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر وہ دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ کام اس کیلئے آسان ہے
فِیالسَّمٰوَاتِ وَالاََرْضِ وَهُوَ العَزِیزُ الحَکِیمُ ﴿۲۷﴾ ضَرَبَ لَکُمْ مَثَلاً مِنْ أَنْفُسِکُمْ هَلْ
اور سارے آسمانوں اور زمین میں اس کی شان سب سے بالاتر ہے اور وہ غالب ،حکمت والاہے اس نے تمہاری ہی ایک مثال بیان کی ہے کہ ہم
لَکُمْ مِنْمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ مِنْ شُرَکَاءَ فِی مَا رَزَقْنَاکُم فَأَنْتُمْ فِیهِ سَوَائٌ تَخَافُونَهُمْ
نے جو کچھ تم کو عطا کیا ہے کیا اس میں تمہاری لونڈی اور غلاموں میں بھی کوئی شریک و حصہ دار ہے کہ تم (اور وہ) اس میں برابر ہوجائو
کَخِیفَتِکُمْ أَنْفُسَکُمْ کَذلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ﴿۲۸﴾ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا
(کیا) تم ان سے ڈرتے ہو جیسے اپنے لوگوں سے ڈرتے ہو ہاں ہم عقل والوں کیلئے اسطرح اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں مگر سرکشوں نے
أَهْوَاءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَمَنْ یَهْدِی مَنْ أَضَلَّ ﷲ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ﴿۲۹﴾ فَأَقِمْ وَجْهَکَ
بے سوچے سمجھے اپنی خواہشوں کی پیروی کر لی غرض جسے خدا گمراہی میں چھوڑدے اسے کون راہ پر لا سکتا ہے اور ان سرکشوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہے
لِلدِّینِ حَنِیفاً فِطْرَةَ ﷲ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا لاَ تَبْدِیلَ لِخَلْقِ ﷲ ذلِکَ الدِّینُ القَیِّمُ
پس تم باطل سے کترا کر اپنا رخ دین کیطرف کیے رہو کہ یہی خدا کی بنادٹ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، خدا کی بناوٹ
وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۰﴾ مُنِیبِینَ إلَیْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِیمُوا الصَّلاةَ وَلاَ تَکُونُوا
میں تبدیلی نہیں ہوتی یہی محکم اور سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ جانتے سمجھتے نہیں ہیں خدا کی طرف رجوع کیے رہو، اس سے ڈرو، پابندی
مِنَ المَشْرِکِینَ ﴿۳۱﴾ مِنَ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَهُمْ وَکَانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْهِمْ
سے نماز پڑھو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجانا یعنی ان میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ ڈالا اور ٹولہ ٹولہ ہوگئے جس فرقے والوں کے پاس جو
فَرِحُونَ ﴿۳۲﴾ وَ إذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُنِیبِینَ إلَیْهِ ثُمَّ إذا أَذَاقَهُمْ مِنْهُ رَحْمَةً
دین ہے وہ اسی میں نہال ہے اور جب لوگوں پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتے ہیں تو جب
إذَا فَرِیقٌ مِنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِکُونَ﴿۳۳﴾لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿۳۴﴾
وہ اپنی رحمت کی لذت چکھا دیتا ہے تب ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں تا کہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے
أَمْ أَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطَاناً فَهُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوا بِهِ یُشْرِکُونَ ﴿۳۵﴾ وَ إذَا أَذَقْنَا النَّاسَ
انہیں خیر دی اسکے مزے لوٹو جلد تمہیں پتہ چل جائے گا. کیا ہم نے ان لوگوں پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسکے حق میں ہے جسکو وہ خدا کا شریک بناتے ہیں؟
رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا وَ إنْ تُصِبْهُمْ سَیِّءَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَیْدِیهِمْ إذَا هُمْ یَقْنَطُونَ ﴿۳۶﴾ أَوَ لَمْ
اور جب ہم نے لوگوں کو اپنی رحمت کی لذت چکھائی تو خوش ہوگئے اور اگر ان پر اپنی پہلی کارستانیوںکی وجہ سے مصیبت آپڑے تو جھٹ ناامید ہوجاتے ہیں کیا
یَرَوْا أَنَّ ﷲ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشَائُ وَیَقْدِرُ إنَّ فِی ذالِکَ لاََیاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ﴿۳۷﴾
ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جسکی چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور تنگ بھی کردیتا ہے بے شک اس میں ایمان داروں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں.
فَآتِ ذَا القُرْبیٰ حَقَّهُ وَالمِسْکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ ذالِکَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یُرِیدُونَ وَجْهَ ﷲ
پس(اے رسول ) اپنے قرابتداروں کا حق اسے دے دو اور محتاج اور پردیسی کا حق بھی۔یہ کام ان کیلئے بہت بہتر ہے جو خدا کی خوشنودی
وَأُولٰٓئِکَ هُمُ المُفْلِحُونَ ﴿۳۸﴾ وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ رِباً لِیَرْبُواْ فِی أَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُواْ
چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ مرادکو پہنچیں گے اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں ترقی ہوتو بھی خدا کے ہاں وہ مال نہیں
عِنْدَ ﷲ وَمَاآتَیْتُمْ مِنْ زَکَاةٍ تُرِیدُونَ وَجْهَ ﷲ فَأُولٰٓئِکَ هُمُ المُضْعِفُونَ ﴿۳۹﴾ ﷲ
بڑھتا اور تم لوگ خدا کی خوشنودی کیلئے جو زکوٰۃ دیتے ہو تو یہی لوگ خدا کے ہاں دو چند لینے والے ہیں وہی خدا ہے
الَّذِی خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیکُمْ هَلْ مِنْ شُرَکَائِکُمْ مَنْ یَفْعَلُ مِنْ ذ لِکُمْ
جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں روزی دی، پھر وہی موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو زندہ کریگا کیا تمہارے بنائے ہوئے خدا کے شریکوں
مِنْ شَیئٍ سُبْحانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ﴿۴۰﴾ ظَهَرَ الفَسَادُ فِی البَرِّ وَالبَحْرِ بِمَا
میں کوئی ہے جوان کاموں میں سے کوئی کام کر سکے؟ خدا اس سے پاک و برتر ہے جسے وہ اسکا شریک بناتے ہیں. خودلوگوں کے ہاتھوں
کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَهُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ﴿۴۱﴾قُلْ سِیرُوا فِی
کیے ہوئے غلط کاموں سے خشکی و تری میں فساد پھیل گیا تا کہ خدا انہیں ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھائے شاید کہ یہ لوگ باز آجائیں
الاََرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِینَ مِنْ قَبْلُ کَانَ أَکْثَرُهُمْ مُشْرِکِینَ ﴿۴۲﴾ فَأَقِمْ
(اے رسول ) کہدو کہ تم لوگ زمین پر چل پھر کے دیکھو جو لوگ پہلے گزر گئے ہیں ان کا انجام کیا ہوا جن میں سے زیادہ تر مشرک تھے.
وَجْهَکَ لِلدِّینِ القَیِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتِیَ یَوْمٌ لاَ مَرَدَّ لَهُ مِنَ ﷲ یَوْمَئِذٍ یَصَّدَّعُونَ ﴿۴۳﴾
(اے رسول ) وہ دن جو خدا کی طرف سے آکر رہیگا اسے کوئی روک نہیں سکتا. تم اسکے آنے سے پہلے ہی مضبوط دین کیطرف رخ کیے رہو اس دن لوگ جدا جدا
مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْهِ کُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحاً فَلاََِنْفُسِهِمْ یَمْهَدُونَ ﴿۴۴﴾ لِیَجْزِیَ الَّذِینَ
ہوجائیں گے. جنہوں نے کفر کیا اسکا وبال انہی پر ہے اور جنہوں نے اچھے کام کیے انہوں نے اپنی آسائش کا سامان کیاہے اس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور
آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ إنَّهُ لاَ یُحِبُّ الکَافِرِینَ ﴿۴۵﴾ وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ یُرْسِلَ
اچھے اچھے کام کرتے رہے خدا ان کو اپنے کرم سے اچھی جزا دیگا یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے
الرِّیَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِیُذِیقَکُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَلِتَجْرِیَ الفُلْکُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ
کہ وہ پہلے ہی بارش کا مژدہ دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے کہ تمہیں اپنی رحمت کی لذت چکھائے اور اس لیے کہ اسکے حکم سے کشتیاں
وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ﴿۴۶﴾ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً إلَی قَوْمِهِمْ فَ جَاءُوهُمْ
چلیں اور اس لیے کہ تم اسکا فضل تلاش کرو اور اس لیے بھی کہ تم لوگ اسکا شکر ادا کرو اور(اے رسول ) ہم نے تم سے پہلے بھی اپنی اپنی قوم کیطرف پیغمبر بھیجے، چنانچہ وہ
بِالبَیِّنَاتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِینَ أَجْرَمُوا وَکَانَ حَقَّاً عَلَیْنَا نَصْرُ المُؤْمِنِینَ ﴿۴۷﴾ﷲ الَّذِی
روشن معجزے لے کر انکے پاس آئے پھر نہ ماننے والے مجرموں سے ہم نے خوب ہی بدلہ لیا اور مومنوں کی مدد کرنا تو ہم پر لازم بھی تھا وہ خدا ہی ہے
یُرْسِلُ الرِّیَاحَ فَتُثِیرُ سَحَاباً فَیَبْسُطُهُ فِی السَّمَائِ کَیْفَ یَشَائُ وَیَجْعَلُهُ کِسَفاً فَتَرَی
جو ہوائوں کو بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اڑاتی پھرتی ہیں پھر وہی خدا جیسے چاہے اسکو آسمان پر پھیلادیتا ہے اور کبھی انکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھرتم دیکھتے ہو
الوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلاَلِهِ فَ إذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ إذا هُمْ یَسْتَبْشِرُونَ ﴿۴۸﴾
کہ بوندیں ان میں سے نکل پڑتی ہیں تب اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے ان کو برسا دیتا ہے تب وہ لوگ خوشیاں منانے لگتے ہیں
وَ إنْ کَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ یُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِینَ ﴿۴۹﴾ فَانْظُرْ إلَی آثَارِ رَحْمَةِ ﷲ
اگرچہ بارش آنے سے پہلے وہ لوگ بارش ہونے کے بارے میں مایوس ہو چلے تھے. غرض خدا کی رحمت کے آثار پر نظر ڈالو کہ وہ
کَیْفَ یُحْیِی الاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إنَّ ذالِکَ لَمُحْیِی المَوْتیٰ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیئٍ قَدِیرٌ ﴿۵۰﴾
مردہ زمین کو کسطرح سر سبز و شاداب کرتا ہے بے شک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِیحاً فَرَأَوْهُ مُصْفَرّاً لَظَلُّوا مِنْ بَعْدِهِ یَکْفُرُونَ ﴿۵۱﴾ فَ إنَّکَ لاَ تُسْمِعُ
اور اگر ہم ناقص ہوا بھیجیں اور وہ کھیتی کو مرجھائی ہوئی دیکھیں تو پھر ضرور ہی نا شکری کرنے لگیں گے پس (اے رسول ) تم اپنی آواز نہ
المَوْتَی وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إذَا وَلَّوْا مُدْبِرِینَ ﴿۵۲﴾ وَمَا أَنْتَ بِهَادِی العُمْیِ عَنْ
مردوں کو سنا سکتے ہو اور نہ بہرے لوگوں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے بھی جائیں اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کے راہ پر لاسکتے ہو
ضَلاَلَتِهِمْ إنْ تُسْمِعُ إلاَّ مَنْ یُؤْمِنُ بِآیَاتِنَا فَهُمْ مُسْلِمُونَ ﴿۵۳﴾ ﷲ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ
تم تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں کو مانیں. پس یہی اسلام لانے والے ہیں وہ خدا ہی تو ہے جس نے تمہیں ایک کمزور چیز
ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَیْبَةً یَخْلُقُ مَا یَشَائُ
(نطفہ) سے پیدا کیا، پھر اسی نے تم کو کمزوری کے بعد قوت عطا کی پھر اسی نے جوانی کی قوت کے بعد تم میں بڑھاپے کی کمزوری پیدا کردی وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے
وَهُوَ العَلِیمُ القَدِیرُ ﴿۵۴﴾ وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ المُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَیْرَ سَاعَةٍ
اور وہی واقف کار، قدرت والا ہے اور جس دن قیامت بپا ہوگی توگناہگار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ وہ دنیا میں لمحہ بھر سے زیادہ نہیں رہے اسی
کَذالِکَ کَانُوا یُؤْفَکُونَ ﴿۵۵﴾ وَقَالَ الَّذِینَ أُوتُوا العِلْمَ وَالاِِیمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِی کِتَابِ
طرح وہ دنیا میں جھوٹ باندھتے رہے. اور جن لوگوں کو خدا نے علم اور ایمان عطا کیا ہے وہ کہیں گے کہ کتاب کے مطابق تو تم دنیا میں قیامت آنے
ﷲ إلَی یَوْمِ البَعْثِ فَهذَا یَوْمُ البَعْثِ وَلکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ﴿۵۶﴾ فَیَوْمَئِذٍ لاَ یَنْفَعُ
تک رہتے سہتے رہے. پس یہ قیامت ہی کادن ہے مگر تم لوگ اسکا یقین ہی نہ رکھتے تھے ہاں آج کے دن سرکش لوگوں کوان کے
الَّذِینَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلاَ هُمْ یُسْتَعْتَبُونَ ﴿۵۷﴾ وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِی هذَا القُرْآنِ
عذر و معذرت کام نہ دیں گے اور نہ ان کی شنوائی ہوگی. اور ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کردی ہے
مِنْ کُلِّ مَثَلٍ وَلَئِنْ جِئْتَهُمْ بِآیَةٍ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إنْ أَنْتُمْ إلاَّ مُبْطِلُونَ ﴿۵۸﴾
اگر تم کوئی معجزہ بھی لے آئو تو کافر لوگ کہہ دیں گے کہ تم لوگ نرے دغا باز ہو
کَذالِکَ یَطْبَعُ ﷲ عَلَی قُلُوبِ الَّذِینَ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۵۹﴾ فَاصْبِرْ إنَّ وَعْدَ ﷲ حَقٌّ وَلاَ
جو لوگ سمجھ نہیں رکھتے خدا ان کے دلوں کے حال کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے. تو (اے رسول ) تم صبر کرو بے شک خدا کا وعدہ سچا ہے
یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِینَ لاَ یُوقِنُونَ ﴿۶۰﴾
اور ایسا نہ ہو کہ بے یقین لوگ تم کوبے وزن بنادیں۔
سورہ دخان
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
حمَ ﴿۱﴾ وَالکِتَابِ المُبِینِ ۲﴾ إنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةٍ مُبارَکَةٍ إنَّا کُنَّا مُنْذِرِینَ ﴿۳﴾ فِیهَا
حم واضح کتاب قرآن کی قسم ہے ہم نے اسے بابرکت رات میں نازل کیا، بے شک ہم عذاب سے ڈرانے والے ہیں. اسی شب
یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیمٍ ﴿۴﴾ أَمْراً مِنْ عِنْدِنَا إنَّا کُنَّا مُرْسِلِینَ ﴿۵﴾ رَحْمَةً مِنْ رَبِّکَ إنَّهُ
قدر میں دنیا کے پر حکمت امور کا فیصلہ ہوتا ہے،ہم ان کا حکم جاری کرتے ہیںبے شک ہم نبیوں کے بھیجنے والے ہیں یہ تمہارے پروردگار کی رحمت ہے
هُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ﴿۶﴾ رَبِّ السَّموَاتِ وَالاََرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا إنْ کُنْتُمْ مُوقِنِینَ ﴿۷﴾
بے شک وہ بڑا سننے والا واقف کارہے وہ سارے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ،سب کامالک ہے، اگر تم یقین لانے والے ہو
لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ یُحْیِی وَیُمِیتُ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمُ الاََوَّلِینَ﴿۸﴾بَلْ هُمْ فِی شَکٍّ
اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندگی اور موت دیتا ہے وہ تمہارا مالک اور تمہارے پہلے بزرگوں کا بھی مالک ہے مگر یہ لوگ تو شک میں
یَلْعَبُونَ﴿۹﴾فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَأْتِی السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِینٍ﴿۱۰﴾ یَغْشَی النَّاسَ هذَا عَذَابٌ
پڑے گھوم رہے ہیں پھر تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان سے ظاہراً دھواں نکلے گا تب یہ دردناک عذاب لوگوں کو لپیٹ لے گا تو
أَلِیمٌ ﴿۱۱﴾ رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا العَذَابَ إنَّا مُؤْمِنُونَ ﴿۲۱﴾أَ نَّی لَهُمُ الذِّکْرَیٰ وَقَدْ
(کافربھی) کہیں گے. اے ہمارے رب ہم سے یہ عذاب دور کردے ہم بھی ایمان لاتے ہیں (بھلا) اس وقت انکو کیا نصیحت آئیگی،
جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِینٌ ﴿۱۳﴾ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ﴿۱۴﴾ إنَّا کَاشِفُواْ
جب کہ انکے پاس صاف صاف بیان کرنے والے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آچکے تھے پھر بھی ان لوگوں نے اس سے منہ پھیرا اور کہا یہ تو سکھا یا ہوا دیوانہ ہے (اچھا) ہم تھوڑے دنوں
العَذَابِ قَلِیلاً إنَّکُمْ عَاءِدُونَ ﴿۱۵﴾ یَوْمَ نَبْطِشُ البَطْشَةَ الکُبْرَیٰ إنَّا مُنْتَقِمُونَ ﴿۱۶﴾
کیلئے عذاب ٹال دیتے ہیں، لیکن ضرور تم کفر کی طرف پلٹ جاوگے. ہم ان سے پورا بدلہ تو اس دن لینگے جس دن انکی سخت گرفت کرینگے
وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ کَرِیمٌ ﴿۱۷﴾ أَنْ أَدُّوا إلیَّ عِبَادَ ﷲ إنِّی
اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی بھی آزمائش کی انکے پاس ایک بلند مرتبہ پیغمبر (موسیٰ) آئے (اورکہا) کہ بندگان خدا(بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو کہ
لَکُمْ رَسُولٌ أَمِینٌ ﴿۱۸﴾وَأَنْ لاَ تَعْلُوا عَلَی ﷲ إنِّی آتِیکُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِینٍ ﴿۱۹﴾وَ إنِّی
میں خدا کیطرف سے تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں اور خدا کے مقابل سرکشی نہ کرو کہ میں تمہارے پاس واضح دلیل کیساتھ آیاہوں اور اس
عُذتُ بِرَبِّی وَرَبِّکُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ ﴿۲۰﴾ وَ إنْ لَمْ تُؤْمِنُوا لِی فَاعْتَزِلُونِ ﴿۲۱﴾ فَدَعَا
چیز سے ،کہ تم مجھے سنگسار کرو گے میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لائے تو مجھ سے الگ ہورہو( وہ تنگ کرنے لگے) تب موسیٰ
رَبَّهُ أَنَّ هؤُلاَئِ قَوْمٌ مُجْرِمُونَ﴿۲۲﴾فَأَسْرِ بِعِبَادِی لَیْلاً إنَّکُمْ مُتَّبَعُونَ ﴿۲۳﴾ وَاتْرُکِ
نے اپنے رب سے فریاد کی کہ یہ بڑے شریر لوگ ہیں تو (حکم ملا) تم میرے بندوں (بنی اسرائیل) کو راتوں رات لے جائو لیکن تمہارا پیچھا بھی کیا جائے گا اورتم
البَحْرَ رَهْواً إنَّهُمْ جُنْدٌ مُغْرَقُونَ﴿۲۴﴾کَمْ تَرَکُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ﴿۲۵﴾وَزُرُوعٍ
ٹھہرے ہوئے دریا سے پار ہو جائو مگر انکا سارا لشکر ڈبو دیا جائے گا۔ وہ لوگ کتنے ہی باغات، چشمے، کھیتیاں،
وَمَقَامٍ کَرِیمٍ ﴿۲۶﴾وَنَعْمَةٍ کَانُوا فِیهَا فَاکِهِینَ﴿۲۷﴾کَذٰ لِکَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْماً آخَرِینَ ﴿۲۸﴾
نفیس مکانات اور آرام دہ چیزیں چھوڑ گئے جن میں وہ چین سے رہا کرتے تھے ایسا ہی ہوا اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کا مالک بنادیا
فَمَا بَکَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَائُ وَالاََرْضُ وَمَا کَانُوا مُنْظَرِینَ﴿۲۹﴾وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِی إسْرَائِیلَ مِنَ
پس ان لوگوں پر آسمان و زمین کو رونا نہ آیااور نہ ہی ہم نے انہیں کچھ مہلت دی اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس سخت ترین عذاب سے
العَذَابِ المُهِینِ﴿۳۰﴾مِنْ فِرْعَوْنَ إنَّهُ کَانَ عَالِیاً مِنَ المُسْرِفِینَ﴿۳۱﴾وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ
نجات دی جو فرعون نے ان پر مسلط کر رکھا تھا، بے شک وہ سرکش اور حد سے بڑھا ہوا تھا. اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمجھ بوجھ کر
عَلَی عِلْمٍعَلَی العَالَمِینَ﴿۳۲﴾ وَآتَیْنَاهُمْ مِنَ الآیَاتِ مَا فِیهِ بَلاَئٌ مُبِینٌ﴿۳۳﴾ إنَّ هؤُلاَئِ
سارے جہانوں میں برگزیدہ کیا اور ہم نے ان کو نشانیاں دیں جن میں ان کی آزمائش تھی. یہ (کفار مکہ) مسلمانوں سے کہتے ہیں
لَیَقُولُونَ ﴿۳۴﴾ إنْ هِیَ إلاَّمَوْتَتُنَا الاَُولَیٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِینَ ﴿۳۵﴾ فَأْتُوا بِآبَائِنَا إنْ
کہ ہمیں تو صرف ایک ہی بار مرنا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے پس اگر تم لوگ سچے ہو تو ہمارے باپ دادائوں کو زندہ
کُنْتُمْ صَادِقِینَ ﴿۳۶﴾ أَهُمْ خَیْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلَکْنَاهُمْ إنَّهُمْ کَانُوا
کر لائو بھلا یہ لوگ قوی ہیں یا قوم تبع والے اور وہ جوان سے پہلے ہو چکے ہم نے ہی ان سب کو تباہ کیا کیونکہ وہ سبھی گناہگار
مُجْرِمِینَ﴿۳۷﴾وَمَا خَلَقْنَا السَّموَاتِ وَالاََرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَالاَعِبِینَ ﴿۳۸﴾ مَاخَلَقْناهُمَا
لوگ تھے اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان کے درمیان ہے ہنسی کھیل میں نہیں بنایا. ہم نے زمین و آسمان کو ٹھیک
إلاَّ بِالْحَقِّ وَلکِنَّ أَکْثَرَهُمْ لاَ یَعْلَمُونَ ﴿۳۹﴾ إنَّ یَوْمَ الفَصْلِ مِیقَاتُهُمْ أَجْمَعِینَ ﴿۴۰﴾
مصلحت سے بنایا ہے، لیکن ان میں سے بہت لوگ یہ نہیں جانتے بے شک فیصلے( قیامت) کا دن ان سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہونے کا وقت ہے
یَوْمَ لاَ یُغْنِی مَوْلَیً عَنْ مَوْلَیً شَیْئاً وَلاَ هُمْ یُنْصَرُونَ ﴿۴۱﴾ إلاَّ مَنْ رَحِمَ ﷲ إنَّهُ هُوَ
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہ آئیگا اورنہ ان کی مدد ہی کی جائے گی، سوائے اسکے جس پر خدا رحم فرمائے بے شک وہ غالب تر،
العَزِیزُ الرَّحِیمُ ﴿۴۲﴾ إنّ َشَجَرَةَ الزَّقُّومِ ﴿۴۳﴾ طَعَامُ الاََثِیمِ ﴿۴۴﴾ کَالْمُهْلِ یَغْلِی
رحم کرنے والا ہے بے شک آخرت میں تھوہر کا درخت ہی گناہگار کی خوراک ہوگا.جو پگھلے تانبے کی طرح
فِی البُطُونِ ﴿۴۵﴾ کَغَلْیِ الحَمِیمِ ﴿۴۶﴾ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إلَی سَوَائِ الجَحِیمِ ﴿۴۷﴾
پیٹوں میں ابال کھائے گا جیسے کھولتا ہوا پانی ابال کھاتا ہے (حکم ہوگا فرشتو!) اسے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جائو
ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیمِ ﴿۴۸﴾ ذُقْ إنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُالْکَرِیمُ﴿۴۹﴾
پھر کھولتا ہوا پانی اس کے سر پر ڈال کر اسے عذاب دیاجا ئے گا ہاں اب مزہ چکھ کہ بے شک تو بڑی عزت والا سردار ہے.
إنَّ هذَا مَا کُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ﴿۵۰﴾ إنَّ المُتَّقِینَ فِی مَقَامٍ أَمِینٍ﴿۵۱﴾فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ ﴿۵۲﴾
یہ وہی دوزخ ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے بے شک پرہیزگار لوگ امن و آرام کی جگہ باغوں اور چشموں میں ہونگے،
یَلْبَسُونَ مِنْ سُنْدُسٍ وَ إسْتَبْرَقٍ مُتَقَابِلِینَ﴿۵۳﴾کَذٰلِکَ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِینٍ﴿۵۴﴾
وہ باریک اور کبھی گاڑھی ریشمی پوشاکیں پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ہاں ایسا ہوگا اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان کی بیویاں بنادیں گے
یَدْعُونَ فِیهَا بِکُلِّ فَاکِهَةٍ آمِنِینَ ﴿۵۵﴾لاَ یَذُوقُونَ فِیهَا المَوْتَ إلاَّ الْمَوْتَةَ الاَُولَیٰ
وہ وہاں اپنی پسند کے میوے منگواکر آرام سے کھائیں گے۔اس جگہ وہ پہلی موت کی تلخی کے سوا پھر موت کا ذائقہ نہ چکھیں گے
وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الجَحِیمِ ﴿۵۶﴾ فَضْلاً مِنْ رَبِّکَ ذٰلِکَ هُوَ الفَوْزُ العَظِیمُ ﴿۵۷﴾
اور خدا ان کو عذاب جہنم سے محفوظ رکھے گا. یہ تمہارے پروردگار کا فضل ہے نیز یہی بہت بڑی کامیابی ہے.
فَ إنَّمَا یَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَکَّرُونَ ﴿۵۸﴾فَارْتَقِبْ إنَّهُمْ مُرْتَقِبُونَ ﴿۵۹﴾
پس ہم نے قرآن کو تمہاری زبان پر آسان کر دیا ہے تا کہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں. ہاں تم بھی (قیامت کے) منتظر رہو، یہ لوگ بھی منتظر ہیں۔
مقدمہ تعارف
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی جَعَلَ الْحَمْدَ مِفْتاحاً لِذِکْرِهِ، وَخَلَقَ الْاَشْیاءَ ناطِقَةً بِحَمْدِهِ وَشُکْرِهِ،
سب تعریفیںاس خدا کے لیے ہیں جس نے حمد کو اپنے ذکر کی کلید بنایااور ان اشیائ کو خلق کیا جو اس کی حمدوشکر کرتی ہیں
وَ الصَّلاَةُ وَاَلسَّلاَمُ عَلَی نَبِیِّهِ مُحَمَّدٍ الْمُشْتَقِّ اسْمُهُ مِنِ اسْمِهِ الْمَحْمُودِ وَعَلی آلِهِ
اور درود و سلام ہو اس کے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جن کا نام اس نے اپنے اسم محمود سے بنایا اور سلام ہو ان کی
الطَّاهِرِینَ أُولِی الْمَکارِمِ وَالجُودِ ۔
پاکیزہ آل پر جو بزرگی وسخاوت والے ہیں۔
امابعد! یہ فقیر بے مایہ ، اہل بیت رسالت کی احادیث سے تمسک کرنے والا عباس بن محمد رضاقمی (خدا میرا اور میرے والدین کا انجام بخیر کرے) عرض کرتا ہے کہ بعض مومن بھائیوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ کتاب مفاتیح الجنان(جو عام لوگوں میں رائج ومقبول ہے)کا مطالعہ کروں اورمستند دعاؤں کو ذکر کروں اور جو میری نظر میں غیر مستند ہوں انہیں چھوڑ دوں اور بعض ان معتبر دعاؤں اور زیارتوں کا اضافہ کروں جو اس کتاب میں مذکورنہیں ہیں۔پس حقیر نے مومنین کی فرمائش پوری کرتے ہوئے اس کتاب کو اسی طرح مرتب کیا جیسا وہ چاہتے تھے چنانچہ ترتیب نو کے بعد میں نے اس کتاب کا نام ’’مفاتیح الجنان‘‘ تجویز کیا ہے اور اس میں درج ذیل تین باب ہیں:
پہلاباب : تعقیبات نماز ، ایام ہفتہ کی دعائیں ، شب و روزجمعہ کے اعمال ، بعض مشہور دعائیں اور پندرہ مناجات پرمشتمل ہے۔
دوسرا باب:سال کے بارہ مہینوں ،رومی مہینوں اور نوروز کے اعمال وفضائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
تیسرا باب : اس میں آئمہعليهالسلام کی زیارات اور ان سے متعلق دعائیں وغیرہ مذکور ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ میرے مومن بھائی اس کتاب کے مندرجات کے مطابق عمل کرینگے اور اس گناہکاراور روسیاہ کو دعا وزیارت اور طلب مغفرت میں فراموش نہیں فرمائیں گے۔(مترجم کی بھی یہی خواہش ہے کہ مؤمنین اسے اپنی دعاؤں میں فراموش نہ فرمائیں)۔جزاک اللہ احسن الجزا
باب اول
اس میں تعقیبات نماز، ایام ہفتہ کی دعائیں، شب و روز جمعہ کے اعمال، بعض مشہور دعائیں اور پندرہ مناجاتیں شامل ہیں ۔اور اس میں کئی ایک فصلیں ہیں۔
پہلی فصل
تعقیبات مشترکہ
شیخ طوسیرحمهالله کی کتاب مصباح وغیرہ سے نقل ہوا ہے کہ جب نمازکا سلام پھیر لیں تو تین دفعہ ﷲ اکبر کہیں، ہر دفعہ اپنے ہاتھوں کو کانوںتک بلند کریںاور اسکے بعد یہ کہیں:
لاََ إلهَ إلاَّ ﷲ إلهاً وَاحِداً وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَلاَ نَعْبُدُ إلاَّ إیَّاهُ
خدا کے سوا کوئی معبود نہیں وہی معبود یگانہ ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں خدا کے سوا کوئی معبود نہیںہم بس اسی کی عبادت کرتے
مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ رَبُّنَا وَرَبُّ آبائِنَا الْاَوَّلِینَ
ہیںاسی کے دین کیساتھ مخلص ہیں خواہ مشرکین کو ناگوارہی لگے ،خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں جو ہمارا اور ہمارے آباؤاجداد کا
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ وَحْدَهُ وَحْدَهُ، أَ نْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَأَعَزَّ جُنْدَهُ
رب ہے، خدا کے سوا کوئی معبود نہیںجو یکتا ہے ،واحد ہے، ایک ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے بندے کی نصرت فرمائی اپنے
وَهَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ وَ یُمِیتُ وَیُحْیِی
لشکر کو غالب کیا اور اکیلے ہی جتھوں کو مار بھگایا، پس ملک اسی کا اور حمد اسی کے لیے ہے وہی زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے
وَهُوَ حَیٌّ لاَیَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ پهر کهي: أَسْتَغْفِرُ
وہی موت دیتا ہے اور زندہ کرتا ہے وہ زندہ ہے اسے موت نہیں۔ خیر اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ میں اس خدا سے بخشش
ﷲ الَّذی لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأَ تُوْبُ إلَیْهِ پهر کهي: اَللّٰهُمَّ أهْدِنِی مِنْ
چاہتا ہوں جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ وپایندہ ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ اے ﷲ اپنی جانب
عِنْدِکَ، وَأَفِضْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ، وَأنْشُرْ عَلَیَّ مِنْ رَحْمَتِکَ، و َأَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْ
سے میری رہنمائی فرما اورمجھ پر اپنا فضل وکرم فرما، اور مجھ پر اپنی رحمت پھیلا دے اور مجھ پر اپنی برکات
بَرَکاتِکَ، سُبْحانَکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ أغْفِرْ لِی ذُنُوْبِی کُلَّهٰا جَمِیعاً، فَ إنَّهُ لا یَغْفِرُ
نازل فرما، تیری ذات پاک ہے سوائے تیرے کوئی معبود نہیں میرے سارے کے سارے گناہ
الذُّنُوبَ کُلَّها جَمِیعاً إلاَّ أَ نْتَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ کُلِّ خَیْرٍ أَحَاطَ بِهِ عِلْمُکَ،
معاف فرما کہ تیرے سوا کوئی سارے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔ اے ﷲ تجھ سے ہر اس خیر کا طلب گار ہوں جس کا تیرا علم احاطہ کیے
وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ کُلِّ شَرٍّ أَحَاطَ بِهِ عِلْمُکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ عَافِیَتَکَ فِی أُمُوْریِ
ہوئے ہے اور ہراس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس پر تیرا علم محیط ہے اے ﷲ میں اپنے تمام امور میں تجھ سے عافیت طلب
کُلِّها، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الاَْخِرَةِ، وَأَعُوذُ بِوَجْهِکَ الکَرِیمِ،
کرتا ہوں ، میں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری کریم ذات
وَعِزَّتِکَ الَّتِی لاَ تُرامُ، وَقُدْرَتِکَ الَّتِی لاَ یَمْتَنِعُ مِنْهَا شَیْئٌ، مِنْ شَرِّ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ،
اور بلند مقام کہ جس تک کسی کی رسائی نہیں اور تیری قدرت کہ جس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہرتی ان کے ذریعے دنیا و آخرت
وَمِنْ شَرِّ الْأَوْجاعِ کُلِّهٰا، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دابَّةٍ أَ نْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِها، إنَّ رَبِّی عَلی
کے شر اور تمام درد و اذیت اور ہر حیوان کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جو تیرے قبضہ قدرت میں ہے، بے شک میرے رب کا
صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ
راستہ مستقیم ہے اور طاقت و قوت بس خدائے عظیم وبرتری سے ملتی ہے اور میرا بھروسہ اس زندہ (خدا)
الَّذِی لاَ یَمُوتُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ،
پر ہے جس کے لیے موت نہیں، حمد اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو فرزند بنایا نہ کوئی اس کے ملک میں شریک ہے
وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ، وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً ۔
اور نہ اس کی عاجزی کے سبب کوئی اس کا مددگار ہے اور تم اس کی بڑائی کا اظہار کرو۔
اس کے بعد تسبیح حضرت فاطمہ =پڑھیں اور اپنی جگہ سے حرکت کرنے سے پہلے دس مرتبہ کہیں:
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ إلهاً وَاحِداً أَحَداً فَرْداً صَمَداً، لَمْ
میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں وہ معبود یگانہ ، یکتا ،واحد (اور)بے نیاز ہے کہ جس کی
یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلا وَلَداً ۔
نہ زوجہ ہے اور نہ ہی اولاد ہے
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ تہلیل بہت زیادہ فضیلت رکھتی ہے خصوصًا صبح اور رات کی نمازکی تعقیب میںاور طلوع وغروب کے وقت اسکے پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ پھر یہ دعا پڑھیں:
سُبْحانَ ﷲ کُلَّما سَبَّحَ ﷲ شَیْئٌ وَکَمَا یُحِبُّ ﷲ أَنْ یُسَبَّحَ وَکَمَا هُوَ أَهْلُهُ
پاک ہے خدا ۔جب بھی کوئی چیز خداکی ایسی تسبیح کرے جسے وہ پسند کرتا ہے اور جس تسبیح کا وہ اہل ہے
وَکَمَا یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْهِهِ وَعِزِّ جَلالِهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ کُلَّما حَمِدَ ﷲ شَیْئٌ وَکَمَا
اور جیسی تسبیح اس کی کریم ذات اور جلالت و شان کے لائق ہے۔ حمد خدا ہی کیلئے ہے جب بھی کوئی چیز اس کی ایسی حمد کرے کہ جیسی
یُحِبُّ ﷲ أَنْ یُحْمَدَ وَکَمَا هُوَ أَهْلُهُ، وَ کَمَا یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْهِهِ وَعِزِّ جَلاَلِهِ وَلاَ إلهَ
حمد کو وہ پسند کرتا ہے اور جیسی حمد کا وہ اہل ہے کہ جو اس کی کریم ذات اور عزت وجلال کے لائق ہے خدا کے سوا
إلاَّ ﷲ کُلَّما هَلَّلَ ﷲ شَیْئٌ وَکَمَا یُحِبُّ ﷲ أَنْ یُهَلَّلَ وَکَمَا هُوَ أَهْلُهُ وَکَمَا یَنْبَغِی
کوئی معبود نہیں جب بھی کوئی چیز اسکا ایسے ذکر کرے جیسے ذکر کو خدا پسند کرتا ہے وہ اس کا اہل ہے اور جو ذکر اس کی بزرگی اور عزت
لِکَرَمِ وَجْهِهِ وَعِزِّ جَلاَلِهِ وَﷲ أَکْبَرُ کُلَّما کَبَّرَ ﷲ شَیْئٌ وَکَمَا یُحِبُّ ﷲ أَنْ یُکَبَّرَ
وجلال کے شایان شان ہے۔ خدا بزرگ تر ہے جب بھی کوئی چیز اس کی ایسی بزرگی بیان کرے جیسی بزرگی کو وہ پسند کرتا ہے
وَکَمَا هُوَ أَهْلُهُ وَکَمَا یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْهِهِ وَعِزِّ جَلالِهِ سُبْحانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ
جس کا وہ اہل ہے اور جو بزرگی اس کی اونچی شان اور عزت وجلال کے لائق ہے ،پاک ہے خدا اور حمد اسی کے لیے ہے
وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ عَلَی کُلِّ نِعمَةٍ أَ نْعَمَ بِهَا عَلَیَّ وَعَلَی کُلِّ أَحَدٍ مِنْ خَلْقهِ
اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور خدا ہر نعمت پربزرگ تر ہے جو اس نے مجھے دی اور جو گزری ہوئی مخلوق کو دی
مِمَّنْ کَانَ أَوْ یَکُونُ إلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
اور تاقیامت آنے والی مخلوق کو ملتی رہے گی۔اے ﷲ: میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَسْأَ لُکَ مِنْ خَیْرِ مَا أَرْجُو وَخَیْرِ مَا لاَ أَرْجُو، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ
رحمت فرما۔میں تجھ سے وہ خیر طلب کرتا ہوںجس کا امیدوار ہوں اور وہ خیر بھی جس کی آرزو نہیں کی اور ہر اس شر سے تیری پناہ
مَا أَحْذَرُ وَمِنْ شَرِّ مَا لاَ أَحْذَرُ ۔
چاہتا ہوں جس کا مجھے خوف ہے اور جس کاخوف نہیں
اس کے بعد سورئہ حمد، آیت الکرسی ُاورآیتشَهِدَ اللّهُ ، آیۃقُلِ اللّٰهُمَّ مَالِکَ اْلمُلْک اور آیات سخرہ یعنی سورۂ اعراف کی درج ذیل تین آیات (اِنَّ رَبَّکُمُ ﷲ سي مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ) کی تلاوت کریں اور پھر تین مرتبہ کہیں :
سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُونَ وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ
تمہارا صاحب عزت پروردگار ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ کہا کرتے ہیں اور سلام ہو سبھی انبیائ پر اور حمد ہے خدا کی
الْعالَمِینَ ۔پھر تین مرتبہ کہے:اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَاجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِیَ
جو عالمین کا رب ہے۔ اے ﷲ! رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور میرے ہر کام میںکشائش وسہولت
فَرَجاً وَمَخْرَجاً، وَارْزُقْنِی مِنْ حَیْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَسِبُ
قرار دے ،اور مجھے رزق دے جہاں سے توقع ہے اور جہاں سے توقع نہیں ہے۔
یہ حضرت یوسفعليهالسلام کی وہ دعا ہے جب وہ زندان میں تھے تو حضرت جبرائیلعليهالسلام نے انہیں یہ دعا تعلیم کی تھی اسکے بعد دائیں ہاتھ سے اپنی داڑھی پکڑیں اور بایاں ہاتھ آسمان کیطرف پھیلاکرسات مرتبہ کہیں:
یَارَبَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّل ْفَرَجَ آلِ مُحَمَّدٍ
اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے رب! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اپنی رحمت نازل فرما اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو جلد کشادگی عطا فرما
یَا ذَاالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْنِی وَأَجِرْ نِی مِنَ النَّارِ ۔
اے عزت وجلال والے خدا! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پراپنی رحمت نازل فرما ،مجھ پر رحم کر اور آتش جہنم سے پناہ میں رکھ
اس کے بعد بارہ مرتبہقُلْ هُوَ ﷲ اَحدُ ، پڑھیں اور کہیں:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الْمَالْاِکْنُونِ الْمَخْزُونِ الطَّاهِرِ الطُّهْرِ الْمُبَارَکِ وَأَسْأَلُکَ
اے ﷲ! میں تیرے پوشیدہ، مخزون ،پاک اور پاک کرنے والے بابرکت نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں
بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ وَسُلْطَانِکَ الْقَدِیمِ ، یَا وَاهِبَ الْعَطَایَا، وَیَا مُطْلِقَ الاَُْسَارَی ،
اور تیرے بلند تر نام اور قدیم سلطنت کے واسطے سے سائل ہوں کہ اے انمول نعمتیں دینے والے ،اے قیدیوں کو رہائی عطا کرنے
وَیَافَکَّاکَ الرِّقابِ مِنَ النَّارِ، أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُعْتِقَ
والے، اے بندوں کو جہنم سے چھٹکارہ دینے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میری
رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ وَأَنْ تُخْرِجَنِی مِنَ الدُّنْیَا سَالِماً وَتُدْخِلَنِی الْجَنَّةَ آمِناً وَأَنْ تَجْعَلَ
گردن کو آگ سے آزاد کر دے اور مجھے دنیا سے سالم ایمان کیساتھ لے جا ، اور امن وامان سے مجھے جنت میںداخل فرما اور میری
دُعَاءِی أَوَّلَهُ فَلاَحاً وَأَوْسَطَهُ نَجاحَاً وَآخِرَهُ صَلاَحاً إنَّکَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ۔
دعا کے اول کوفلاح اور اوسط کو کامیابی اور آخر کو بہتری کا موجب بنا دے۔بے شک تو ہر غیب کوخوب جانتا ہے ۔
صحیفہ علویہ میں ہے کہ ہر فریضہ نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں:
یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُهُ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ، وَیَا مَنْ لاَ یُغَلِّطُهُ السَّائِلُونَ، وَیَا مَنْ لاَ یُبْرِمُهُ
اے وہ (خدا) جس کیلئے ایک بات سننا دوسری بات سننے سے مانع نہیں اور سائلوں کی کثرت غلطی میں نہیں ڈالتی اے وہ ذات
إلْحَاحُ الْمُلِحِّینَ، أَذِقْنِی بَرْدَ عَفْوِکَ، وَحَلاَوَةَ رَحْمَتِکَ وَمَغْفِرَتِکَ ۔ پڑهیں اور کهیں:
جسے اصرار کرنے والوں کا اصرار تنگ دل نہیں کرتا اپنے عفوودرگزر کی بدولت مجھے اپنی رحمت وبخشش کی لذت چکھا دے ۔
إلهِی هذِهِ صَلاتِی صَلَّیْتُها لاَ لِحاجَةٍ مِنْکَ إلَیْهَا، وَلاَ رَغْبَةٍ مِنْکَ فِیهَا، إلاَّ تَعْظِیماً
اے ﷲ !جو میں نے نمازپڑھی ہے یہ نہ اس لیے ہے کہ تجھے اسکی حاجت تھی اور نہ اس لیے ہے کہ تجھے اس میں رغبت تھی ہاں یہ
وَطَاعَةً وَ إجَابَةً لَکَ إلَی مَا أَمَرْتَنِی بِهِ، إلهِی إنْ کَانَ فِیها خَلَلٌ أَوْ نَقْصٌ مِنْ رُکُوعِها
صرف تیری تعظیم واطاعت اور تیرے حکم کی اتباع ہے جو تو نے مجھے دیا ۔خداوندا! اگر اس نماز میں کوئی خلل یا اس کے رکوع
أَوْ سُجُودِها فَلاَ تُؤاخِذْنِی، وَتَفَضَّلْ عَلَیَّ بِالْقَبُولِ وَالْغُفْرانِ ۔
وسجود میںکچھ کمی ہو تواس پر میری گرفت نہ فرما اور اس کی قبولیت اور بخشش کے ساتھ مجھ پر فضل وکرم کر دے
نیزہرنماز کے بعدیہ دعا بھی پڑھیںجو پیغمبر نے امیرالمومنینعليهالسلام کو حافظہ کی تقویت کیلئے تعلیم فرمائی:
سُبْحَانَ مَنْ لاَ یَعْتَدِی عَلی أَهْلِ مَمْلَکَتِهِ، سُبْحانَ مَنْ لاَ یَأْخُذُ أَهْلَ الْاَرْضِ
پاک ہے وہ خد اجو اپنی مملکت میںرہنے والوں پر زیادتی نہیں کرتا، پاک ہے وہ خدا جو طرح طرح کے عذاب سے اہل زمین پر
بِأَلْوانِ الْعَذَابِ سُبْحانَ الرَّؤُوُفِ الرَّحِیمِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی فِی قَلْبِی نُوراً وَبَصَرَاً وَفَهْماً وَعِلْماً
گرفت نہیںکرتا۔پاک ہے وہ خدا جو مہربان رحم کرنے والا ہے۔اے معبود! میرے قلب میں نور،بصیرت، فہم
إنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ مصباح کفعمی میں ہے کہ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ یہ دعا پڑھیں
اور علم کو جگہ دے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
أُعِیذُ نَفْسِی وَدِینِی وَأَهْلِی وَمَالِی وَوَلَدِی وَ إخْوانِی فِی دِینِی، وَمَا رَزَقَنِی رَبِّی،وَخَواتَِیمَ
اپنے نفس، اپنے دین، اپنے اہل، اپنے مال، اپنی اولاد، اپنے دینی بھائیوں اور اپنے رب کے دئیے ہوئے رزق ،اپنے اعمال کے
عَمَلِی، وَمَنْ یَعْنِینِی أَمْرُهُ، بِالله الْوَاحِدِ الْاَحَدِ الصَّمَدِ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ
انجام اور جس کسی سے تعلق رکھتا ہوں ان سب کو خدائے واحد ویکتائے و بے نیاز کی پناہ میں دیتا ہوں کہ جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ جنا گیا
وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ، وَبِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَمِنْ شرِّ غَاسِقٍ
اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے، میں انکوصبح کے مالک کی پناہ میں دیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور اندھیری رات
إذَا وَقَبَ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فی الْعُقَدِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَدَ، وَبِرَبِّ
کے شر سے جب چھا جائے ۔گرہوں پر پھونکنے والوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ میں ان سبکو انسانوں
النَّاسِ،مَلِکِ النَّاسِ، إلهِ النَّاسِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الخَنَّاسِ الَّذِی
کے رب، انسانوں کے بادشاہ، انسانوں کے معبود کی پناہ میں دیتا ہوں۔ شیطان کے وسوسوں کے شر سے جو لوگوں کے
یُوَسْوِسُ فِی صُدُورِالنَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۔
دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔خواہ جنوں میں سے ہوں یاانسانوں میں سے ہو۔
شیخ شہید کی تحریر سے نقل کیا گیا ہے کہ حضرت رسول ﷲ نے فرمایا:جو یہ چاہے کہ خدااسے قیامت میں اسکے گناہوں سے مطلع نہ کرے اور اسکا دفترِ گناہ نہ کھولے تو وہ ہر نماز کے بعدیہ دعا پڑھے
اَللّٰهُمَّ إنَّ مَغْفِرَتَکَ أَرْجَی مِنْ عَمَلِی وَ إنَّ رَحْمَتَکَ أَوْسَعُ مِنْ ذَنْبِی اَللّٰهُمَّ إنْ کَانَ
اے ﷲ! تیری بخشش میرے عمل سے زیادہ امید افزا ہے اور تیری رحمت میرے گناہ سے زیادہ وسیع ہے۔ الہی اگر تیرے نزدیک
ذَ نْبِی عِنْدَکَ عَظِیماً فعَفْوُکَ أَعْظَمُ مِنْ ذَنْبِی اَللّٰهُمَّ إنْ لَمْ أَکُنْ أَهْلاً أَنْ أَبْلُغَ رَحْمَتَکَ
میرا گناہ عظیم ہے تو تیرا عفو میرے گناہ سے عظیم تر ہے۔ الہی اگر میں تیری رحمت تک پہنچنے کا اہل نہیں تو تیری رحمت ضرور مجھ
فَرَحْمَتُکَ أَهْلٌ أَنْ تَبْلُغَنِی وَتَسَعَنِی لاََِنَّهَا وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
تک اور مجھ پر چھا جانے کی اہل ہے کیونکہ اس نے تیرے کرم سے ہر چیز کو گھیرا ہو اہے۔ اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ۔
ابن بابویہرحمهالله سے منقول ہے کہ جب تسبیح فاطمہ زہرا =پڑھ چکیں تو یہ کہیں:
اَللّٰهُمَّ أَ نْتَ السَّلاَمُ، وَمِنْکَ السَّلاَمُ، وَلَکَ السَّلاَمُ، وَ إلَیْکَ یَعُودُ السَّلاَمُ سُبْحَانَ
اے معبود تو سلامتی والا ہے، سلامتی تیری طرف سے ہے ،سلامتی تیرے ہی لیے ہے اور سلامتی کی بازگشت تیری ہی طرف ہے
رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُونَ، وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعَالَمِینَ
صاحب عزت وغالب پرودگار اس سے پاک ہے،جو کچھ یہ کہتے ہیں اور سلام ہو تمام رسولوں پر اور ہر قسم کی حمد دونوں جہانوں کے
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، اَلسَّلاَمُ عَلَی آلاَءِمَّةِ الْهَادِین الْمَهْدِیِّینَ
پروردگار کیلئے ہے اے نبی آپ پر سلام اور خدا کی رحمت اور اس کی برکات ہوں سلام ہو ائمہ پر جو ہدایت یافتہ ہادی ہیں
السَّلاَمُ عَلی جَمِیعِ أَنْبِیائِ ﷲ وَرُسُلِهِ وَمَلاَئِکَتِهِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْنا وَعَلَیٰ عِبادِ ﷲ الصَّالِحِینَ،
سلام ہو خدا کے سب نبیوں رسولوں اور فرشتوں پر۔سلام ہو ہم پر اور خدا کے صالح بندوں پر۔
اَلسَّلاَمُ عَلَی عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سَیِّدَیْ شَبَابِ أَهْلِ
سلام ہو حضرت علی امیرالمؤمنینعليهالسلام پر۔سلام ہو حسنعليهالسلام وحسینعليهالسلام پر جو تمام جوانان جنت کے
الْجَنَّةِ أَجْمَعِینَ، السَّلاَمُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ زَیْنِ الْعَابِدِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ
سید و سردار ہیں۔سلام ہو علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام پر کہ جو زین العابدینعليهالسلام ہیں۔سلام ہو محمدعليهالسلام ابن
عَلِیٍّ باقِرِ عِلْمِ النَّبِیِّینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ، اَلسَّلاَمُ عَلَی مُوسَی بْنِ
علی باقرعليهالسلام پر جو انبیائ کے علم کو کھولنے والے ہیں۔سلام ہو محمد کے فرزند جعفر صادقعليهالسلام پر۔ سلام ہو جعفر صادقعليهالسلام کے فرزند
جَعْفَرٍ الْکَاظِمِ اَلسَّلاَمُ عَلیٰ عَلِیِّ بْنِ مُوسَی الرِّضَا، اَلسَّلاَمُ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْجَوادِ
موسیٰ کاظمعليهالسلام پر۔سلام ہو موسیٰ کاظمعليهالسلام کے فرزند علی رضاعليهالسلام پر۔سلام ہو علی رضاعليهالسلام کے فرزند محمد الجوادعليهالسلام پر۔
اَلسَّلاَمُ عَلی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْهادِی اَلسَّلاَمُ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الزَّکِیِّ الْعَسْکَرِیِّ،
سلام ہو محمد الجوادعليهالسلام کے فرزند علی الہادیعليهالسلام پر۔سلام ہو علی الہادیعليهالسلام کے فرزند حسن عسکری زکیعليهالسلام پر۔
اَلسَّلاَمُ عَلَی الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ الْقائِمِ الْمَهْدِیِّ، صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ
سلام ہو حسن عسکریعليهالسلام کے فرزند حجت القائم مہدیعليهالسلام پر۔ ان سب پر خدا کی رحمتیں ہوں۔
پھر جو بھی حاجت ہو خدا سے طلب کریں۔ شیخ کفعمی فرماتے ہیں ہر نماز کے بعد یہ کہیں :
رَضِیتُ بِالله رَبّاً وَبِالْاِسْلامِ دِیناً وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ نَبِیّاً وَبِعَلِیٍّ إمَاماً وَبِالْحَسَنِ
میں راضی ہوں اس پر کہ ﷲ میرا رب، اسلام میرا دین، محمد میرے نبی اور علیعليهالسلام میرے امام ہیں۔ نیز حضرت حسنعليهالسلام
وَالْحُسَیْنِ وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَجَعْفَرٍ وَمُوسی وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْخَلَفِ
و حسینعليهالسلام و سجادعليهالسلام و محمد باقرعليهالسلام و جعفر صادقعليهالسلام و موسی کاظمعليهالسلام و علی رضاعليهالسلام و محمدتقیعليهالسلام و علی نقیعليهالسلام وحسن عسکریعليهالسلام اور حضرت مہدی القائمعليهالسلام
الصَّالِحِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ أَئِمَّةً وَسَادَةً وَقادَةً، بِهِمْ أَتَوَلَّی، وَمِنْ أَعْدائِهِمْ أَتَبَرَّأُ ۔پھر تین مرتبہ کہیں:
میرے امام، سردار اور رہبر ہیں اور میں ان سے محبت رکھتا ہوں اور ان کے دشمنوں سے بیزار ہوں۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعافِیَةَ وَالْمُعافاةَ فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ
خداوندا! میں تجھ سے عفوودرگزر ، صحت وعافیت اور دنیا وآخرت میں بخشش کا طلب گار ہوں ۔
دوسری فصل
تعقیبات مخصوص
تعقیب نماز ظہر
کتاب المتہجد میں ہے کہ نماز ظہر کی تعقیبات کے حوالے سے یہ دعا میں پڑھیں:
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْعَظِیمُ الْحَلِیمُ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمُ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ
خدائے عظیم و حلیم کے سوا کوئی معبود نہیں، رب ِعرش بریں کے سوا کوئی سزاوارِ عبادت نہیں۔تمام حمد عالمین کے پالنے والے خدا ہی کیلئے ہے،
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ
اے خدا میں تجھ سے تیری رحمت اور یقینی مغفرت کے اسباب کا سوال کرتا ہوں ،ہر نیکی سے حصہ پانے اور ہر گناہ سے
وَالسَّلامَةَ مِنْ کُلِّ إثْمٍ اَللّٰهُمَّ لاَتَدَعْ لِی ذَنْباً إلاَّغَفَرْتَهُ، وَلاَهَمَّاً إلاَّفَرَّجْتَهُ وَلاَسُقْماً إلاَّ
بچائو کا طلب گار ہوں، اے معبود! میرے ذمہ کوئی ایسا گناہ نہ چھوڑ جسے تو معاف نہ کرے۔ کوئی غم نہ دے جسے تو دور نہ کر دے، بیماری نہ دے مگر
شَفَیْتهَُ، وَلاَعَیْباً إلاَّسَتَرْتَهُ، وَلاَرِزْقاً إلاَّبَسَطْتَهُ وَلاَخَوْفاً إلاَّ
وہ جس سے شفا عطا کردے۔ عیب نہ لگا مگر وہ جسے تو پوشیدہ رکھے،رزق نہ دے مگر وہ جس میں فراخی عطا کرے، خوف نہ ہومگر
آمَنْتَهُ، وَلاَسُوئً إلاَّصَرَفْتَهُ، وَلاَحاجَةً هِیَ لَکَ رِضاً
جس سے تو امن عطا کرے، برائی نہ آئے مگر وہ جسے تو ہٹا دے، کوئی حاجت نہ ہو مگر جسے تو پورا فرمائے اور اس میں تیری رضا
وَلِیَ فِیها صَلاحٌ إلاَّقَضَیْتَها یَاأَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ ۔پھر دس مرتبہ یہ کہیں:
اور میری بہتری ہو۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنیوالے۔ آمین اے عالمین کے پالنے والے
بِالله اعْتَصَمْتُ، وَبِالله أَثِقُ، وَعَلَی ﷲ أَتَوَکَّلُ اس کے بعد یہ کہیں:اَللّٰهُمَّ إنْ عَظُمَتْ ذُنُوبِی
ﷲ ہی سے متوسل ہوتاہوں، ﷲ ہی پر اعتماد ہے اور ﷲ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اے معبود! اگر میرا گناہ بڑا ہے
فَأَنْتَ أَعْظَمُ، وَ إنْ کَبُرَ تَفْرِیطِی فَأَنْتَ أَکْبَرُ، وَ إنْ دامَ بُخْلِی فَأَنْتَ أَجْوَدُ
تو تیری ذات سب سے بلند ہے۔ اگر میری کوتاہی بڑی ہے تو تیری ذات بزرگ تر ہے اور اگر میرا بخل دائمی ہے تو، تو زیادہ دینے والا ہے
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی عَظِیمَ ذُنُوبِی بِعَظِیمِ عَفْوِکَ، وَکَثِیرَ تَفْرِیطِی بِظَاهِرِ کَرَمِکَ، وَاقْمَعْ
اے ﷲ! اپنے عظیم عفو سے میرے بڑے گناہ بخش دے، اپنے لطف وکرم سے میری بہت سی کوتاہیاں معاف کر دے اور اپنے فضل
بُخْلِی بِفَضْلِ جُودِکَ اَللّٰهُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ
اورعطا سے میرا بخل دور کردے۔ یا خدایا! ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔میں تجھ سے
وَأَتُوبُ إلَیْکَ ۔
بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔
تعقیب نماز عصر منقول از متہجد
أَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّهُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الرَّحْمنُ الرَّحِیمُ ذُوالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ
اس خدا سے بخشش چاہتاہوں جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ وپایندہ ہے بڑے رحم والا مہربان صاحب جلال و اکرام ہے،
وَأَسْألُهُ أَنْ یَتُوبَ عَلَیَّ تَوْبَةَ عَبْدٍ ذَلِیلٍ خاضِعٍ فَقِیرٍ بَائِسٍ مِسْکِینٍ مُسْتَکِینٍ مُسْتَجِیرٍ
میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اپنے عاجز خاضع محتاج مصیبت زدہ مسکین بے چارہ طالب پناہ بندے کی توبہ قبول فرمائے جو
لاََ یَمْلِکُ لِنَفْسِهِ نَفْعاً وَلاَ ضَرَّاً وَلاَ مَوْتاً وَلاَ حَیَاةً وَلاَ نُشُوراً ۔ اس کے بعد کہیں:اَللّٰهُمَّ إنِّی
اپنے نفع ونقصان کا مالک نہیں ہے نہ ہی اپنی موت وحیات اور آخرت پر اختیار رکھتا ہے۔ اے معبود میں سیر
أَعُوذُ بِکَ مِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لاَ یَنْفَعُ، وَمِنْ صَلاةٍ لاَ
نہ ہونے والے نفس۔خوف نہ رکھنے والے دل۔ نفع نہ دینے والے علم۔قبول نہ ہونے والی نماز
تُرْفَعُ ، وَمِنْ دُعائٍ لاَیُسْمَعُ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ الْیُسْرَ بَعْدَ الْعُسْرِ وَالْفَرَجَ بَعْدَ الْکَرْبِ
اور نہ سنی جانے والی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوںکہ مجھے مشکل کے بعد آسانی، دکھ کے بعد سکھ
وَالرَّخاءَ بَعْدَ الشِّدَ ةِ اَللّٰهُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُکَ
اور تنگی کے بعد فراخی دے۔ یاخدایا! ہمارے پاس جو تیری نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میںتجھ سے
وَأَتُوبُ إلَیْکَ ۔
بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔
حضرت امام جعفرصادق -فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز عصر کے بعد ستر مرتبہ استغفار کرے توخدا اسکے سات سو گناہ معاف کردے گا۔ حضرت امام محمدتقی -کا فرمان ہے کہ جوشخص بعد از نماز عصر دس مرتبہ سورئہإنَّا أَ نْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْر پڑھے تو قیامت میں اس کا یہ عمل مخلوق کے اس دن کے اعمال کے برابر اجر وثواب کے لائق ٹھہرے گا۔نیز ہر صبح وشام دعائ عثرات کا پڑھنا مستحب ہے لیکن بہترہے کہ یہ دعا روز جمعہ کی نماز عصر کے بعد پڑھی جائے ۔ اس دعا کا ذکر بعد میں ہو گا۔
تعقیب نمازِ مغرب منقول از مصباح متہجد
تسبیح فاطمہ زہرا =کے بعد کہیں:
إنَّ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ، یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیماً
بے شک ﷲ اور اسکے فرشتے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان لانے والو تم بھی نبی پر درود بھیجو اور سلام بھیجو جسطرح سلام کا حق ہے،
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ وَعَلی ذُرِّیَّتِهِ وَعَلی أَهْلِبَیْتِهِ پھر سات مرتبہ کہیں:بِسْمِ ﷲ
خداوندا! (ہمارے ) نبی محمد ، ان کی اولاد اور ان کے اہلبیتعليهالسلام پر رحمت فرما۔ خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں)
الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ إلاَّبِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ تین مرتبه کهیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی
جو رحمن ورحیم ہے۔ خدا ئے بزرگ وبرتر کے علاوہ کسی کو طاقت و قوت نہیں ہے۔ ہر قسم کی تعریف خدا کیلئے ہے وہ
یَفْعَلُ مَا یَشَائُ وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ غَیْرُهُپهر یه کهیں: سُبْحانَکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اغْفِرْلِی
جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اسکے سوا کوئی نہیں جو جی چاہے کرسکے پاک ہے تو کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میرے سارے کے
ذُنُوبِی کُلَّها جَمِیعاً، فَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ کُلَّها جَمِیعاً إلاَّ أَنْتَ ۔
سارے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور تمام گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔
پھر دو سلاموں کیساتھ مغرب کی چار رکعت نماز نافلہ بجالائیں اور درمیان میں کسی سے بات نہ کریں ۔شیخ مفیدرحمهالله فرماتے ہیں: مروی ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص اور دیگر دو رکعتوں میں جو سورہ چاہے پڑھیں۔البتہ روایت ہے کہ امام علی نقی - تیسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حدید کی پہلی آیت سےوَهُوَ عَلِیْمُ، بِذَاتِ الصُّدُوْرِتک اور چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حشر کی آیتلَوْ اَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْاَن سے آخر سورہ پڑھا کرتے تھے اور مستحب ہے کہ ہر شب کے نوافل کے آخری سجدہ اور خصوصاً شب جمعہ کو سات مرتبہ یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ وَاسْمِکَ الْعَظِیمِ وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ أَنْ تُصَلِّی عَلیٰ
خدا وندا! تیری ذات کریم ،تیرے بلند وبالا نام اور تیرے قدیم اقتدار کے واسطے سے میں سوال کرتا ہوںکہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِی ذَ نْبِیَ الْعَظِیمَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الْعَظِیمَ إلاَّ الْعَظِیمُ
اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میرے کبیرہ(بڑے) گناہ معاف کردے کہ بڑے گناہ کو عظیم ذات ہی معاف کر سکتی ہے ۔
جب مغرب کے نوافل سے فارغ ہوجائیں تو جو چاہیں پڑھیں۔ اور پھر دس مرتبہ کہیں :
مَا شَاءَ ﷲ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله أَسْتَغْفِرُ ﷲ پهر یه کهیں : اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ
جو کچھ خدا چاہے۔ نہیں کوئی قوت سوائے خدا کے میں اس سے بخشش چاہتا ہوں، خداوند میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔تیری رحمت
وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالنَّجاةَ مِنَ النَّارِ، وَمِنْ کُلِّ بَلِیَّةٍ، وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ، وَالرِّضْوانَ فِی دارِ
کے وسائل اورتیری طرف سے یقینی مغفرت آتش جہنم سے نجات ،بلائوں سے بچانے، جنت میں داخل کیے جانے ، دارالسلام
السَّلاَمِ، وَجِوَارِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ اَللّٰهُمَّ مَا بِنَا مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْکَ
میں تیری خوشنودی حاصل ہونے اور تیرے نبی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قرب کا ، خداوندا ہمارے پاس جو نعمت ہے وہ تیری طرف سے ہے
لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إلَیْکَ
تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے بخشش چاہتا اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔
نماز مغرب وعشائ کے درمیان دو رکعت نماز غفیلہ پڑھیں۔ پہلی رکعت میں حمد کے بعد پڑھیں:
وَذَا النُّونِ إذْ ذَهَبَ مُغَاضِباً فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَیْهِ فَنادَی فِی الظُّلُماتِ أَنْ لاَ إلهَ
اور جب ذالنون غصے کی حالت میں چلا گیا تو اس کا گمان تھا کہ ہم اسے نہیں پکڑیں گے پھر اس نے تاریکیوں میں فریاد کی کہ تیرے
إلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّیْناهُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذلِکَ
سوائ کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بے شک میںہی خطا کار وں میں سے ہوں تب ہم نے اسکی گزارش قبول کی اور اسے پریشانی سے
نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ ۔دوسری رکعت میں سورئہ حمد کے بعد پڑھیں:
بچایا اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں۔
وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُهَا إلاَّ هُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إلاَّ
اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اسی کو معلوم ہے جو کچھ خشکی وتری میں ہے کوئی پتہ نہیں گرتا مگر یہ
یَعْلَمُها وَلاَ حَبَّةٍ فِی ظُلُماتِ الْاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ یَابِسٍ إلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ اس کے بعد
کہ وہ اسے جانتا ہے اورزمین کی تاریکیوں میںکوئی دانہ نہیں۔ کوئی خشک وتر نہیں مگر وہ روشن کتاب میں مذکور ہے۔
دعائے قنوت کیلئے ہاتھ اٹھائیں اور پڑھیں:اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِمَفَاتِحِ الْغَیْبِ الَّتِی لاَ یَعْلَمُها
خداوندا میں تجھ سے کلیدہائے غیب کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جسے سوائے تیرے کوئی
إلاّ أَنْتَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا، پهر کهیں : اَللّٰهُمَّ أَنْتَ وَلِیُّ
نہیں جانتا کہ محمدوآل محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور میرے حق میں یہ کام کر دے کذاوکذا کی جگہ اپنی حاجت بیان کریں اے معبود!
نِعْمَتِی، وَالْقَادِرُ عَلَی طَلِبَتِی، تَعْلَمُ حَاجَتِی، فَأَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ
تومجھے نعمت عطا کرنے والا ہے اور میری حاجت پر قدرت رکھتا ہے میری حاجت کو جانتا ہے پس محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے
اَلسَّلاَمُ لَمَّا قَضَیْتَها لِی
واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ میری حاجت پوری فرما۔
اسکے بعد خدا سے اپنی حاجت طلب کریں ۔کیونکہ روایت ہے کہ جو یہ نماز پڑھے اور حاجت طلب کرے تو اسکی حاجت پوری ہوجائے گی ۔
تعقیب نماز عشائ منقول از متہجد
اَللَّٰهُمَّ إنَّهُ لَیْسَ لِی عِلْمٌ بِمَوْضِعِ رِزْقِی، وَ إنَّما أَطْلُبُهُ بِخَطَراتٍ تَخْطُرُ عَلَی قَلْبِی فَأَجُولُ
خداوند ا! مجھے اپنی روزی کے مقام کا علم نہیں اور میں اسے اپنے خیال کے تحت ڈھونڈتا ہوں پس میں طلب رزق میں شہر ودیار کے
فِی طَلَبِهِ الْبُلْدانَ، فَأَنَا فِیَما أَنَا طالِبٌ کَالْحَیْرانِ، لاَ أَدْرِی أَفِی سَهْلٍ هُوَ أَمْ فِی جَبَلٍ، أَمْ
چکر کاٹتا ہوں پس میں جس کی طلب میںہوں اس میں سرگرداں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ آیا میرا رزق صحرا میں ہے یا پہاڑ میں
فِی أَرْضٍ أَمْ فِی سَمائٍ، أَمْ فِی بَرٍّ أَمْ فِی بَحْرٍ، وَعَلَی یَدَیْ مَنْ، وَمِنْ قِبَلِ مَنْ، وَقَدْ عَلِمْتُ
زمین میں ہے یا آسمان میں، خشکی میں ہے یا تری میں، کس کے ہاتھ اور کس کی طرف سے ہے اور میں جانتا ہوں کہ اسکا علم تیرے
أَنَّ عِلْمَهُ عِنْدَکَ، وَأَسْبابَهُ بِیَدِکَ، وَأَنْتَ الَّذِی تَقْسِمُهُ بِلُطْفِکَ، وَتُسَبِّبُهُ بِرَحْمَتِکَ
پاس ہے اسکے اسباب تیرے قبضے میں ہیں اور تو اپنے کرم سے رزق تقسیم کرتا ہے اپنی رحمت سے اس کے اسباب فراہم کرتا ہے
اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَاجْعَلْ یا رَبِّ رِزْقَکَ لِی وَاسِعاً وَمَطْلَبَهُ سَهْلاً وَمَأْخَذَهُ
یا خدایا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور اے پروردگار! اپنا رزق میرے لیے وسیع کر دے اس کا طلب کرنا آسان بنا دے اور
قَرِیباً، وَلاَ تُعَنِّنِی بِطَلبِ مَا لَمْ تُقَدِّرْ لِی فِیْهِ رِزْقاً فَ إنَّکَ غَنِیٌّ عَنْ عَذَابِی وَأَ نَا فَقِیرٌ إلَی
اسکے ملنے کی جگہ قریب کر دے جس چیز میں تو نے رزق نہیں رکھا مجھے اسکی طلب کے رنج میں نہ ڈال کہ تو مجھے عذاب دینے میں
رَحْمَتِکَ، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَجُدْ عَلَی عَبْدِکَ بِفَضْلِکَ إنَّکَ ذُو فَضْلٍ عَظِیمٍ
بینیاز ہے میں تیر ی رحمت کا محتاج ہوں پس محمدوآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور اس ناچیز بندے کواپنے فضل سے حصہ عطا فرما کہ تو بڑا فضل کرنے والا ہے۔
مولف کہتے ہیں کہ یہ طلبِ رزق کی دعائوں میں سے ہے نیز مستحب ہے کہ نماز عشائ کی تعقیب میں سات مرتبہ سورئہ قدر پڑھیں اور نماز وتر ( نماز عشائ کے بعد بیٹھ کر پڑھی جانے والی دو رکعت نمازِ نافلہ ) میںقرآن کی سو آیات پڑھیں اور نیز مستحب ہے کہ ان سوآیتوں کی بجائے پہلی رکعت میں سورئہ واقعہ اور دوسری رکعت میں سورئہ اخلاص پڑھیں:
تعقیب نمازصبح منقول از مصباح متہجد
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَاهْدِنِی لِمَا اخْتُلِفَ فِیهِ مِنَ الْحَقِّ بِ إذْنِکَ، إنَّکَ
اے معبود ! محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور حق میں اختلاف کے مقام پر اپنے حکم سے مجھے ہدایت دے۔ بے شک تو
تَهْدِی مَنْ تَشَائُ إلی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ۔اس کے بعد دس مرتبہ کہیں:اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ
جسے چاہے سیدھی راہ کی ہدایت فرماتا ہے اے معبود ! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمد
وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاَوْصِیائِ الرَّاضِینَ الْمَرْضِیِّینَ بِأَفْضَلِ صَلَواتِکَ، وَبارِکْ عَلَیْهِمْ بِأَفْضَلِ
پر رحمت فرما جو اوصیائ ہیں کہ جو خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی ہے،ان کے لیے اپنی بہترین رحمتیں اور اپنی بہترین
بَرَکَاتِکَ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْهِمْ وَعَلی أَرْواحِهِمْ وَأَجْسَادِهِمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ
برکتیں قرار دے، ان پر اوران کی ارواح واجسام پرسلام ہو اور ﷲ کی رحمت وبرکت نازل ہو۔
اس درود و سلام کی جمعہ کے عصر میں پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے اسکے بعد کہیں:
اَللّٰهُمَّ أَحْیِنِی عَلی مَا أَحْیَیْتَ عَلَیْهِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ، وَأَمِتْنِی عَلَی مَا ماتَ عَلَیْهِ عَلِیُّ
اے معبود ! مجھے اس راہ پر زندہ رکھ جس پر تو نے علیعليهالسلام ابن ابی طالبعليهالسلام کوزندہ رکھا اور مجھے اسی راہ پر موت دے جس پر تونے
بْنُ أَبِی طالِبٍ عَلَیْهِ اَلسَّلاَمُ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:أَسْتَغْفِرُ ﷲ وَأَتُوبُ إلَیْهِ ۔پھر سو مرتبہ کہیں: ٲَسْٲَلُ
امیر المومنین علی بن ابی طالبعليهالسلام کو شہادت عطا فرمائی میں ﷲ سے بخشش چاہتاہوں اور اسکے حضور توبہ کرتا ہوں خدا سے
ﷲ الْعَافِیَةَ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:أَسْتَجِیرُ بِالله مِنَ النَّارِ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:وَأَسْأَلُهُ الْجَنَّةَ ۔پھر سو مرتبہ
صحت وعافیت مانگتاہوں میں آتش جہنم سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں اس سے جنت کا طالب ہوں
کہیں:أَسْأَلُ ﷲ الْحُورَ الْعِینَ ۔پھر سو مرتبہ کہیں:لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ ۔ سومرتبہ
میں ﷲ سے حورعین کا طالب ہوں ﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو بادشاہ اور روشن حق ہے۔
سورہ اخلاص پڑھیں اور پھر سو مرتبہ کہیں:صَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ۔سو مرتبہ کہیں:
محمد وآل محمد پر خدا کی رحمت ہو
سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُﷲِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
ﷲپاک ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اور ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ﷲ برتر ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو ﷲ بزرگ وبرتر سے ملتی ہے۔
سو مرتبه کهیں: مَا شَاءَ ﷲ کَانَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِپهر کهیں: أَصْبَحْتُ
جو خدا چاہے وہی ہوتا ہے اور ﷲ بزرگ و بر ترسے بڑھ کر کوئی طاقت وقوت نہیں ہے۔ اے معبود میں نے
اَللّٰهُمَّ مُعْتَصِماً بِذِمَامِکَ الْمَنِیعِ الَّذِی لاَ یُطاوَلُ وَلاَ یُحاوَلُ مِنْ شَرِّ کُلِّ غاشِمٍ وَطَارِقٍ
تیری عظیم نگہبانی میں صبح کی ہے ،جس تک کسی کا ہاتھ نہیں پہنچتا، نہ کوئی نیرنگ بار شب میں اس پر یورش کر پاتا ہے، اس مخلوق میں
مِنْ سَائِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَمَا خَلَقْتَ مِنْ خَلْقِکَ الصَّامِتِ وَالنَّاطِقِ فِی جُنَّةٍ مِنْ کُلِّ مَخُوفٍ
سے جو تو نے خلق فرمائی ہے اور نہ وہ مخلوق جسے تو نے زبان دی اور جسے زبان نہیں دی ہر خوف میں تیری پناہ
بِلِبَاسٍ سَابِغَةٍ وَلاَئِ أَهْلِ بَیْتِ نَبِیِّکَ مُحْتَجِباً مِنْ کُلِّ قاصِدٍ لِی إلی أَذِیَّةٍ، بِجِدَارٍ حَصِینِ
میں تیرے نبی کے اہلبیتعليهالسلام کی ولا سے ساختہ لباس میں ملبوس ہر چیز سے محفوظ جو میرے اخلاص کی مضبوط دیوار میں
الاِِخْلاَصِ في الاعْتِرافِ بِحَقِّهِمْ وَالتَّمَسُّکِ بِحَبْلِهِمْ، مُوقِناً أَنَّ الْحَقَّ لَهُمْ وَمَعَهُمْ
رخنا ڈالنا چاہے، یہ مانتے ہوئے کہ وہ حق ہیں ان کی رسی سے وابستگی ہے اس یقین سے کہ حق ان کیلئے ان کے ساتھ اور
وَفِیهِمْ وَبِهِمْ، أُوالِی مَنْ وَالَوْا، وَأُجانِبُ مَنْ جَانَبُوا، فَأَعِذْنِی اَللّٰهُمَّ بِهِمْ مِنْ شَرِّ کُلِّ مَا
ان میں ہے جو ان کو چاہے میں اسے چاہتا ہوںجوان سے دور ہو میں اس سے دور ہوں پس اے خدا ان کے طفیل مجھے ہر اس شر
أَتَّقِیهِ یَا عَظِیمُ حَجَزْتُ الْاَعادِیَ عَنِّی بِبَدِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، إنَّا جَعَلْنا مِنْ بَیْنِ
سے پناہ دے جسکا مجھے خوف ہے اے بلند ذات زمین وآسمان کی پیدائش کے واسطے سے دشمنوں کو مجھ سے دور کر دے بے شک ہم
أَیْدِیهِمْ سَدّاً وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدّاً فَأَغْشَیْناهُمْ فَهُمْ لاَ یُبْصِرُوُنَ
نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوار ان کے پیچھے بنا دی پس ان کو ڈھانپ دیا کہ وہ دیکھتے نہیں ہیں۔
یہ امیرالمومنین - کی دعائے لیلۃ المبیت ہے اور ہر صبح وشام پڑھی جاتی ہے اورتہذیب میں روایت ہے کہ جوشخص نمازِ صبح کے بعددرج ذیل دعا دس مرتبہ پڑھے توحق تعالیٰ اسکو اندھے پن، دیوانگی، کوڑھ، تہی دستی، چھت تلے دبنے، اور بڑھاپے میں حواس کھو بیٹھنے سے محفوظ فرماتا ہے:
سُبْحَانَ ﷲ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بﷲ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
پاک ہے خدائے برتر اور تعریف سب اسی کی ہے اور نہیں کوئی حرکت وقوت مگر وہ جو خدائے بلند وبرتر سے ملتی ہے۔
نیز شیخ کلینیرحمهالله نے حضرت امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ جو نماز صبح اور نماز مغرب کے بعد سات مرتبہ درج ذیل دعا پڑھے تو حق تعالیٰ اس سے ستر قسم کی بلائیں دور کر دیتا ہے( ان میں سب سے معمولی زہرباد ، پھلبھری اور دیوانگی ہے) اور اگر وہ شقی ہے تو اسے اس زمرے سے نکال کر سعیدونیک بخت لوگوں میں داخل کر دیا جائے گا۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
ﷲ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے نہیں کوئی حرکت وقوت مگرخدائے بزرگ وبرتر سے ملتی ہے۔
نیز آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت ہے کہ دنیا وآخرت کی کامیابی اور دردِچشم کے خاتمے کیلئے صبح اور مغرب کی نماز کیبعدیہ دعا پڑھیں:
اَللَّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْکَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
خداوندا! محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا جو تجھ پر حق ہے میں اس کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر پر اپنی رحمت نازل فرما
واجْعَلِ النُّورَ فِی بَصَرِی وَالْبَصِیرَةَ فِی دِینِی وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی وَالْاِخْلاصَ فِی عَمَلِی
کہ میری آنکھوںمیںنور ، میرے دین میں بصیرت، میرے دل میں یقین،میرے عمل میں اخلاص،
وَالسَّلامَةَ فِی نَفْسِی وَالسَّعَةَ فِی رِزْقِی وَالشُّکْرَ لَکَ أَبَداً مَا أَبْقَیْتَنِی
میرے نفس میں سلامتی اورمیرے رزق میں کشادگی عطا فرما اورجب تک زندہ رہوں مجھے اپنے شکر کی توفیق دیتا رہ۔
شیخ ابن فہد نے عدۃالداعی میں امام رضا - سے نقل کیا ہے کہ جو شخص نماز صبح کے بعد یہ دعا پڑھے تووہ جو بھی حاجت طلب کرے گا، خداپوری فرمائے گا اور اسکی ہر مشکل آسان کردے گا:
بِسْمِ ﷲ وَ صَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍوَآلِهِ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إلَی ﷲ إنَّ ﷲ بَصِیرٌ
ﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں ۔ خدا رحمت فرمائے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور میں اپنا معاملہ سپرد خدا کرتا ہوں بے شک خدا بندوں کو دیکھتا ہے
بِالْعِبادِ فَوَقَاهُ ﷲ سَیِّئاتِ مَا مَکَرُوا لاَ إلهَ إلاَّأَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی
پس خدا اس شخص کو ان برائیوں سے بچائے جو لوگوں نے پیدا کیں۔اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں، پاک ہے تیری ذات ۔بیشک
کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنَالَهُ وَنَجَّیْناهُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذَلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ حَسْبُنَاﷲ
میں ظالموں میں سے تھا تو ہم (خدا)نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں ہمارے لیے خدا کافی ہے
وَنِعْمَ الْوَکیلُ، فَانْقَلَبُوا بِنِعْمةٍ مِنَ ﷲ وَفَضْلٍ لَمْ یَمْسَسْهُمْ سُوئٌ مَا شَا ءَ ﷲ لاَ حَوْلَ وَلَا
اور بہترین سرپرست ہے پس (مجاہد) خدا کے فضل وکرم سے اسطرح آئے کہ انہیں تکلیف نہ پہنچی تھی جو ﷲ چاہے وہ ہو گا نہیں کوئی طاقت وقوت مگروہ
قُوَّةَ إلاَّ بِالله، مَا شَاءَ ﷲ لاَ مَا شَاءَ النَّاسُ مَا شَاءَ ﷲ وَ إنْ کَرِهَ النَّاسُ، حَسْبِیَ الرَّبُّ مِنَ
جو ﷲسے ملتی ہے جو ﷲ چاہے وہ ہوگا نہ وہ جو لوگ چاہیں اور جو ﷲ چاہے وہ ہوگا اگرچہ لوگوں پر گراں ہو میرے لئے پلنے والوں کے بجائے پالنے والا
الْمَرْبُوبِینَ حَسْبِیَ الْخالِقُ مِنَ الْمَخْلُوقِینَ حَسْبِیَ الرَّازِقُ مِنَ الْمَرْزُوقِینَ حَسْبِیَ ﷲ رَبُّ
کافی ہے میرے لئے خلق ہونے والوں کی بجائے خلق کرنے والا کافی ہے میرے لیے رزق پانے والوں کی بجائے رزق دینے والا کافی ہے۔جہانوں کا
الْعالَمِینَ حَسْبِی مَنْ هُوَ حَسْبِی حَسْبِی مَنْ لَمْ یَزَلْ حَسْبِی حَسْبِی مَنْ کَانَ مُذْ
پالنے والا ؛ﷲ؛ میرے لیے کافی ہے۔ وہ جو میرے لیے کافی ہے وہی میرے لیے کافی ہے وہ جو ہمیشہ سے کافی ہے میرے لیے کافی ہے۔وہ جو کافی
کُنْتُ لَمْ یَزَلْ حَسْبِی حَسْبِیَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ
ہے میں جب سے ہوں اور کافی رہے گا ،میرے لیے کافی ہے وہ ﷲ جسکے سوا کوئی معبودنہیں میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔
مؤلف کہتے ہیں میرے استاد ثقۃ الاسلام نوریرحمهالله (خدا انکی قبر کو روشن کرے) کتاب دارالسلام میں اپنے استاد عالم ربانی حاج ملا فتح علی سلطان آبادی سے نقل کرتے ہیں کہ فاضل مقدس اخوند ملا محمد صادق عراقی بہت پریشانی ،سختی اور بد حالی میںمبتلا تھے انہیں اس تنگی سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک وادی میں بہت بڑا خیمہ نصب ہے ، جب پوچھا تو معلوم ہو ا کہ یہ فریادیوں کے فریاد رس اور پریشان حال لوگوں کے سہارے، امام زمانہ (عج)کا خیمہ ہے۔یہ سن کر جلدی سے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنی بدحالی کا قصہ سنایا اور ان سے غم کے خاتمے اور کشائش کیلئے دعا کے خواستگار ہوئے۔ آنحضرت نے انکو اپنی اولاد میں سے ایک بزرگ کی طرف بھیجا اور انکے خیمہ کی طرف اشارہ کیا اخوند حضرت کے خیمہ سے نکل کر اس بزرگ کے خیمہ میں پہنچے۔مگر کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں سید سند حبرمعتمد عالم امجد، مؤید بارگاہ آقای سید محمد سلطان آبادی مصلائے عبادت پر بیٹھے دعا وقرأت میں مشغول ہیں۔ اخوند نے انہیں سلام کیا اور اپنی حالت زار بیان کی تو سید نے انکو رفعِ مصائب اور وسعت رزق کی ایک دعا تعلیم فرمائی ،وہ خواب سے بیدار ہوئے تو مذکورہ دعا انہیں ازبرہوچکی تھی۔ اسی وقت سید کے گھر کا قصد کیا ۔حالانکہ ذہنی طور پر سید سے بے تعلق تھے اور انکے ہاں آمدورفت نہ رکھتے تھے۔ اخوند جب سید کی خدمت میں پہنچے تو انکو اسی حالت میں پایا جیسا کہ خواب میں دیکھا تھا ۔وہ مصلے پر بیٹھے ،اذکارواستغفار میں مشغول تھے۔ جب انہیں سلام کیا تو ہلکے سے تبسم کے ساتھ سلام کا جواب دیا، گویاوہ صورت حال سے واقف ہیں اخوند نے ان سے دعا کی درخواست کی تو انہوں نے وہی دعا بتائی جو خواب میں تعلیم کر چکے تھے اخوند نے وہ دعا پڑھنا شروع کر دی اور پھر چند ہی دنوں میں ہر طرف سے دنیا کی فراونی ہونے لگی۔ سختی اور بدحالی ختم ہوئی اور خوشحالی حاصل ہو گئی۔حاج ملا فتح علی سلطان آبادی علیہ الرحمہ سید موصوف کی تعریف کیا کرتے تھے کیونکہ آپ نے ان سے ملاقات کی بلکہ کچھ عرصہ انکی شاگرد بھی رہے۔ سید نے خواب وبیداری میں حاج ملافتح علی کو جو دعا تعلیم کی تھی اس میں یہ تین اعمال شامل ہیں:
( ۱ )فجر کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر ستر مرتبہیَافَتَّاحُ کہیں۔ ( ۲ )پابندی سے کافی میںمذکورہ دعا پڑھتے رہیںجس کی رسول ﷲ نے اپنے ایک پریشان حال صحابی کو تعلیم فرمائی تھی اوراس دعا کی برکت سے چنددنوں میں اس کی پریشانی دور ہوگئی
( ۳ )نماز فجر کے بعد شیخ ابن فہد سے نقل شدہ دعا پڑھا کریں اسکو غنیمت سمجھیں اور اس میں غفلت نہ کریں۔ اور وہ دعا یہ ہے:
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ
نہیں کوئی طاقت وقوت مگر وہ جو خدا سے ملتی ہے میں نے اس زندہ خدا پر توکل کیا جس کیلئے موت نہیں اور حمد اس ﷲ کیلئے ہے جسکی کوئی
وَلَداً، ولَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً
اولاد نہیں اور نہ کوئی اس کی سلطنت میں اس کا شریک ہے نہ اس کے عجز کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور تم اس کی بڑائی بیان کیا کرو
نیز جاننا چاہیے کہ نمازوں کے بعد سجدہ شکر مستحب ِمؤکد ہے اور اس کیلئے بہت سی دعائیں اور اذکاربیان ہوئے ہیں۔ امام علی رضا -فرماتے ہیں کہ سجدئہ شکر میں چاہیں تو سومرتبہشُکْرًا شُکْرًا یا سومرتبہعَفْوًا عَفْوًا کہیں، حضرت سے یہ بھی منقول ہے کہ سجدئہ شکر میںکم سے کم تین مرتبہ شُکْرًﷲ کہیں۔واضح رہے کہ رسول ﷲ اورآئمہ طاہرین سے طلوع وغروب آفتاب کے وقت بہت سی دعائیں اور اذکار نقل ہوئے ہیں نیز معتبر روایات میں ان دونوں وقتوں میں دعا کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے اس مختصر کتاب میں ہم محض چند مستند دعائوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔
بعض ادعیہ صبح و شام
اول:مشائخِ حدیث نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ ہر مسلمان پرواجب ہے کہ وہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھے:بعض روایات میںہے کہ اگر یہ دعا وقت پر نہ پڑھ سکے تو اسکی قضا کرنا ضروری ہے
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ
خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کا ہے اور اسی کیلئے حمد ہے وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے
وَیُمِیتُ وَیُحْیِی، وَهُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
اور موت دیتا ہے اور زندہ کرتا ہے وہ زندہ ہے اسے موت نہیںآتی۔ بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اوروہ ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے
دوم:انہی حضرتعليهالسلام کی معتبر روایات میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ طلوع وغروب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھیں:
أَعُوذُ بِالله السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَعُوذُ بِالله أَنْ یَحْضُرُونَ، إنَّ
میں شیاطین کے وسوسوں سے سننے جاننے والے خدا کی پناہ کا طلبگار ہوں اورخدا کی پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ وہ میرے قریب
ﷲ هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ
آئیں بے شک ﷲہی سننے اور جاننے والا ہے۔
سوم:آنجناب سے منقول ہے کہ تمہارے لیے کیا رکاوٹ ہے کہ صبح اور شام یہ دعا پڑھ لیا کریں:
اَللّٰهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْاَ بْصَارِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ، وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنِی
اے دلوں اور آنکھوں کے منقلب کرنے والے خدائے پاک میرے دل کو اپنے دین پر جما دے اسکے بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کر جب تو نے
وَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَنْتَ الْوَهَّابُ، وَأَجِرْنِی مِنَ النَّارِ بِرَحْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ
مجھے ہدایت دی ہے۔ مجھ پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اسمیں شک نہیں کہ تو بڑا ہی عطا کرنے والا ہے اور اپنی رحمت سے مجھے
امْدُدْ لِی فِی عُمْرِی وَأَوْسِعْ عَلَیَّ فِی رِزْقِی، وَانْشُرْ عَلَیَّ رَحْمَتَکَ وَ إنْ کُنْتُ عِنْدَکَ فِی
آگ سے بچا اور محفوظ رکھ اے ﷲ میری عمر طویل کر دے میرے رزق میںوسعت پیدا کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت کا سایہ فرما دے اور
أُمِّ الْکِتابِ شَقِیّاً فَاجْعَلْنِی سَعِیداً، فَ إنَّکَ تَمْحُو مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ، وَعِنْدَکَ أُمُّ الْکِتابِ
اگر میں لوح محفوظ میں تیرے نزدیک بدبخت ہوں تو مجھے نیک بخت بنا دے یقینا تو جو چاہے مٹاتا اور لکھتا ہے اور لوح محفوظ تیرے پاس ہے۔
چہارم:آنجناب سے مروی ہے کہ صبح شام یہ دعا پڑھے :
اَلْحَمْدُ ﷲِالَّذِی یَفْعَلُ مَا یَشَائُ، وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشَائُ غَیْرهُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِِ کَمَا یُحِبُّ
ساری تعریف اس ﷲ کیلئے ہے کہ جو وہ چاہے کرتا ہے اور اسکے سوا کوئی نہیں جو چاہے کر پائے ساری تعریف ﷲ کیلئے ہے کہ جیسی
ﷲ أَنْ یُحْمَدَ، الْحَمْدُ لِلّٰهِِ کَمَا هُوَ أَهْلُهُ اَللّٰهُمَّ أَدْخِلْنِی فِی کُلِّ خَیْرٍ أَدْخَلْتَ فِیهِ
تعریف وہ پسندکرتا ہے اور ساری تعریف ﷲ کیلئے ہے جیسا کہ وہ اسکا اہل ہے اے معبود! مجھے ہر اس نیکی میں داخل فرما جس میں تو
مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، وَأَخْرِجْنِی مِنْ کُلِّ شَرٍّ أَخْرَجْتَ مِنْهُ مَحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، صَلَّی
نے محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو داخل فرمایا ہے اور مجھے ہر اس برائی سے بچا کہ جس سے تونے محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو محفوظ ومامون رکھا خدا کی رحمت ہو
ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍسُبْحَانَ ﷲ، وَالْحَمْدُ ﷲِ، وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ
محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر۔ ﷲ پاک ہے ساری تعریفیں اسی کیلئے ہیں اور ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ﷲ ہی بزرگتر ہے۔
تیسری فصل:
ملحقات ِصحیفہ سجا دیہ سے منقو ل ایام ہفتہ کی دعائیں
دعا ئے روز یک شنبہ( اتو ار)
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
بِسْمِ ﷲ الَّذِی لاَ أَرْجُو إلاَّ فَضْلَهُ، وَلاَ أَخْشیٰ إلاَّ عَدْلَهُ، وَلاَ أَعْتَمِدُ
اس اللہ کے نا م سے جسکے فضل و کرم ہی کا امید وار ہو ں اور اس کے عد ل ہی سے ڈرتا ہوں اور اسی کے قو ل پر بھر و سہ رکھتا ہو ں
إلاَّ قَوْلَهُ، وَلاَ أُمْسِکُ إلاَّ بِحَبْلِهِ، بِکَ أَسْتَجِیرُ یَا ذَا الْعَفْوِ وَالرِّضْوانِ مِنَ الظُّلْمِ
اور اسی کی رسی پکڑے ہوئے ہوں اور در گزر کرنے اور راضی ہو جا نے والے (خداوند) میں ظلم
وَالْعُدْوانِ، وَمِنْ غِیَرِ الزَّمانِ، وَتَواتُرِ الْاَحْزانِ، وَطَوارِقِ الْحَدَثانِ، وَمِنِ انْقِضَائِ
و دشمنی سے۔ اور زمانے کے تغیرات سے اور پے در پے غموں سے اور پیش آنے والے حا دثو ں سے اورآخرت کیلئے خیر ونیکی کے
الْمُدّ ةِ قَبْلَ التَّأَهُّبِ وَالْعُدَّةِ، وَ إیَّاکَ أَسْتَرْشِدُ لِمَا فِیهِ الصَّلاَحُ وَالْاِصْلاحُ، وَبِکَ
ذخیرہ کی فر اہمی سے قبل زند گی ختم ہو نے سے تیر ی پنا ہ چاہتا ہوں اور جس چیز میں بہتر ی و در ستی ہے اس میں تیری
أَسْتَعِینُ فِیَما یَقْتَرِنُ بِهِ النَّجَاحُ وَالاِِ نْجَاحُ، وَ إیَّاکَ أَرْغَبُ فِی لِبَاسِ الْعافِیَةِ
رہبری چا ہتا ہوں اور اس چیز میں تیری مدد چاہتا ہوں جس میں کامیابی و سہولت ہو اور میں تجھ سے مکمل صحت و تندرستی کی تمنا رکھتا
وَتَمامِها وَشُمُولِ السَّلاَمَةِ وَدَوامِهَا، وَأَعُوذُ بِکَ یَا رَبِّ مِنْ هَمَزاتِ الشَّیَاطِینِ،
ہوں کہ جس میں ہمیشہ کی سلامتی بھی شامل ہو۔خدایا میں شیطانی وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں
وَأَحْتَرِزُ بِسُلْطانِکَ مِنْ جَوْرِ السَّلاَطِینِ، فَتَقَبَّلْ مَا کَانَ مِنْ صَلاَتِی وَصَوْمِی، وَ
اور بادشاہوں کے ظلم کے مقابل تیری سلطنت کی پناہ لیتا ہوںپس میری نمازیں اور روزے جیسے بھی ہیں انہیں قبول فرما
اجْعَلْ غَدِی وَمَا بَعْدَهُ أَ فْضَلَ مِنْ سَاعَتِی وَیَوْمِی، وَأَعِزَّنِی فِی عَشِیرَتِی وَ
کل کا دن اور اس سے اگلے وقت کو میرے آج کے دن اور اس گھڑی سے بہتر بنا دے مجھے اپنے قبیلے اور قوم میں
قَوْمِی، وَاحْفَظْنِی فِی یَقْظَتِی وَنَوْمِی، فَأَنْتَ ﷲ خَیْرٌ حَافِظاً، وَأَ نْتَ أَرْحَمُ
عزت عطا فرما خواب و بیداری ہر حال میں میری حفاظت فرما۔ اے اللہ تو بہترین نگہبان ہے اور سب سے زیادہ رحم
الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَبْرَأُ إلَیْکَ فِی یَوْمِی هذَا وَمَا بَعْدَهُ مِنَ الْاَحادِ، مِنَ الشِّرْکِ
کرنے والا ہے۔ اے اللہ میں تیرے حضور میں آج کے دن اور اس سے اگلے اتوار کے دنو ں میں شرک و بے دینی
وَالْاِلْحَادِ، وَأُخْلِصُ لَکَ دُعَاءِی تَعَرُّضاً لِلاِِْجَابَةِ، وَأُقِیمُ عَلَی طَاعَتِکَ رَجَائً
سے بری ہوں اور خلوص کے ساتھ تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ قبول ہو جائے اور میں ثواب کی امید پر تیری اطاعت
لِلاِِْثَابَةِ، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ خَیْرِ خَلْقِکَ، الدَّاعِی إلَی حَقِّکَ، وَأَعِزَّ نِی بِعِزِّکَ الَّذِی
پر قائم ہوں پس تو بہترین مخلو ق اور حق کے دا عی محمد مصطفےصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نا ز ل فر ما اور اپنی عزت کے صدقے مجھے وہ عزت دے جس میں
لاَ یُضَامُ، وَاحْفَظْنِی بِعَیْنِکَ الَّتِی لاَ تَنَامُ، وَاخْتِمْ بِالانْقِطَاعِ إلَیْکَ أَمْرِی، وَبِالْمَغْفِرَةِ
ظلم نہ ہو اپنی نہ سونے والی آنکھ سے میری نگہبانی فرما ۔میرا خا تمہ یوں ہو کہ تجھی سے امید لگا ئے رکھو ں اور میری زند گی کو بخشش پر
عُمْرِی، إنَّکَ أَ نْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ
تمام کر دے ۔بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے ۔
دعا ئے روز دو شنبہ (سو موا ر)
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شر وع کر تا ہو ں جو بڑا مہر بان اور نہا یت ہی رحم کرنے وا لا ہے ۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یُشْهِدْ أَحَداً حِینَ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالاََرْضَ، وَلاَ اتَّخَذَ مُعِیناً
حمد اس خدا کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرتے وقت کسی کو اپنے ساتھ نہیں ملایا اور جانداروں کو پیدا
حِینَ بَرَأَ النَّسَمَات، لَمْ یُشَارَکْ فِی الْاِلهِیَّةِ، وَلَمْ یُظاهِرْ فِی الْوَحْدَانِیَّةِ، کَلَّتِ
کرنے میں کسی سے مدد نہیں لی اس کے معبود ہونے میں کوئی شریک نہیں اور نہ اس کی یکتائی میں کوئی معاون ہے۔ زبانیں اس
الاََلْسُنُ عَنْ غَایَةِ صِفَتِهِ، وَالْعُقُولُ عَنْ کُنْهِ مَعْرِفَتِهِ، وَتَوَاضَعَتِ الْجَبابِرَةُ لِهَیْبَتِهِ
کی تعریف کرنے سے قاصر ہیں اور عقلیں اس کی ذات کو سمجھنے سے عاجز ہیں اور بڑے بڑے سرکش اس کی ہیبت سے سرنگوں ہیں
وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِخَشْیَتِهِ، وَانْقَادَ کُلُّ عَظِیمٍ لِعَظَمَتِهِ، فَلَکَ الْحَمْدُ مُتَواتِراً مُتَّسِقاً
اور چہرے اسکے خوف سے جھکے ہوئے ہیں اور اس کی عظمت کے سامنے ہر عظیم مطیع ہے پس تیرے لیے حمد ہے لگاتار اور سلسلہ وار
وَمُتَوالِیاً مُسْتَوْسِقاً وَصَلَوَاتُهُ عَلَی رَسُو لِهِ أَبَداً، وَسَلامُهُ دَائِماً سَرْمَداً، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ
اور بار بار استوار اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر دائمی رحمت اور سرمدی سلام ہو۔ اے معبود! میرے لیے آج کے
أَوَّلَ یَوْمِی هذَا صَلاحاً، وَأَوْسَطَهُ فَلاحاً، وَآخِرَهُ نَجَاحاً، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ یَوْمٍ
دن کے پہلے حصے کو بھلائی ، درمیانی حصے کو فائدہ وبخش اور آخری حصے کو کامیابی کا حامل بنا دے اور اس دن سے تیری پناہ لیتا ہوں
أَوَّلُهُ فَزَعٌ، وَأَوْسَطُهُ جَزَعٌ، وَآخِرُهُ وَجَعٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَغْفِرُکَ لِکُلِّ نَذْرٍ نَذَرْتُهُ، وَکُلِّ
جس کا اول فریاد، اوسط بے تابی اور آخر تکلیف دہ ہو۔اے ﷲ وہ نذریں جو میں نے کیں، وہ تمام وعدے جو
وَعْدٍ وَعَدْتُهُ، وَکُلِّ عَهْدِ عَاهَدْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَفِ بِهِ، وَأَسْأَلُکَ فِی مَظَالِمِ
میں نے کیے اور وہ ذمہ داریاں جو میں نے قبول کیں اور انہیں پورا نہیں کر سکا، ان پر تجھ سے بخشش کا طالب ہوں اور تجھ سے سوال
عِبَادِکَ عِنْدِی، فَأَ یُّما عَبْدٍ مِنْ عَبِیدِکَ أَوْ أَمَةٍ مِنْ إمَائِکَ، کَانَتْ لَهُ قِبَلِی مَظْلِمَةٌ
کرتا ہوں کہ تیرے بندوں کے جو حقوق مجھ پر رہ گئے کہ تیرے بندوں میں سے کسی بندہ یا تیری کنزوں میں سے کسی کنیز سے میں
ظَلَمْتُهَا إیَّاهُ، فِی نَفْسِهِ، أَوْ فِی عِرْضِهِ، أَوْ فِی مَالِهِ، أَوْ فِی أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ، أَوْ غَیبَةٌ
نے ناانصافی و زیادتی کی ہو۔چاہے وہ اسکی جان یا اسکی عزت یا اسکے مال یا اسکے اعزّہ اور اولاد کے بارے میں ہے یامیں
اغْتَبْتُهُ بِهَا أَوْ تَحَامُلٌ عَلَیْهِ بِمَیْلٍ أَوْ هَوَیً أَوْ أَنَفَةٍ أَوْ حَمِیَّةٍ أَوْ رِیَائٍ أَوْ عَصَبِیَّةٍ غَائِباً
نے اسکی غیبت کی یا اپنی خواہش کے تحت ان پر دبائو ڈالا یا خودپسندی یا بیزاری یا خودنمائی یا تعصب کا برتائو کیا وہ
کَانَ أَوْ شَاهِداً وَحَیّاً کَانَ أَوْ مَیِّتاً فَقَصُرَتْ یَدِی وَضَاقَ وُسْعِی عَنْ رَدِّهَا إلَیْهِ
غائب ہے یا حاضر ہے۔ زندہ ہے یا مردہ ہے تو اب اس کا حق دینا ۔یا معاف کرانا میری طاقت سے بالاتر اور دسترس سے
وَالتَّحَلُّلِ مِنْهُ فَأَسْأَلُکَ یَا مَنْ یَمْلِکُ الْحَاجَاتِ وَهِیَ مُسْتَجِیبَةٌ لِمَشِیَّتِهِ وَمُسْرِعَةٌ
باہر ہے پس اے حاجات کے مالک کہ وہ حاجات تیری مشیت میں قبول ہیں اور جلد تیرے ارادے میں آنے والی ہیں
إلَی إرادَتِهِ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُرْضِیَهُ عَنِّی بِمَا شِئْتَ
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد وآل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور ان لوگوں کو جیسے تو چاہے مجھ سے راضی فرما اور مجھ
وَتَهَبَ لِی مِنْ عِنْدِکَ رَحْمَةً إنَّهُ لاَ تَنْقُصُکَ الْمَغْفِرَةُ وَلاَ تَضُرُّکَ الْمَوْهِبَةُ یَا أَرْحَمَ
پر مہربانی فرما۔ بے شک بخش دینے سے تیرا کوئی نقصان نہیں اور عطا کرنے میں تجھے کوئی ضرر نہیں ہوتا۔اے سب سے
الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ أَوْ لِنِی فِی کُلِّ یَوْمِ اثْنَیْنِ نِعْمَتَیْنِ مِنْکَ ثِنْتَیْن سَعادَةًفِی أَوَّلِهِ
زیادہ رحم کرنے والے۔ اے معبود! ہر سوموار کو مجھے دونعمتیں اکٹھی عطا فرما کہ اس دن کے پہلے حصے میں مجھے اپنی اطاعت کی
بِطَاعَتِکَ، وَنِعْمَةً فِی آخِرِهِ بِمَغْفِرَتِکَ، یَا مَنْ هُوَ الْاِلٰهُ، وَلاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ سِوَاهُ
سعادتعنایت فرما اور اسکے دوسرے حصے میں مغفرت کی نعمت دے اے وہ جو معبود ہے اور جسکے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں
دعائے روز سہ شنبہ (منگل)
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
ﷲ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ وَالْحَمْدُ حَقُّهُ کَمَا یَسْتَحِقُّهُ حَمْداً کَثِیراً، وَأَعُوذُ بِهِ مِنْ شَرِّ نَفْسِی إنَّ
حمد خدا کے لیے ہے اور حمد اسی کا حق ہے جیسا کہ حمد کثیر اسی کے شا یا ں شان ہے اور میں اپنے نفس کے شر سے اس کی پنا ہ چا ہتا ہوں
النَّفْسَ لاَََمَّارَةٌ بِالسُّوئِ إلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّی، وَأَعُوذُ بِهِ مِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ الَّذِی
بے شک نفس برا ئی پر اکسا نے والا ہے مگر یہ کہ میرا رب رحم کردے اور اسی کی پنا ہ لیتا ہوں شیطان کے شر سے
یَزِیدُنِی ذَ نْباً إلَی ذَ نْبِی، وَأَحْتَرِزُ بِهِ مِنْ کُلِّ جَبَّارٍ فَاجِرٍ، وَسُلْطَانٍ جَائِرٍ، وَعَدُوٍّ
جو میر ے لیے ایک گناہ پر دوسرے کا اضافہ کرتا رہتا ہے میں ہر جابر بدکار اور ظالم حکمران اور قو ی دشمن کے مقابل خدا سے
قَاهِرٍ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ جُنْدِکَ فَ إنَّ جُنْدَکَ هُمُ الْغَالِبُونَ وَاجْعَلْنِی مِنْ حِزْبِکَ فَ إنَّ
تحفظ چاہتا ہوں۔اے معبود مجھے اپنے لشکر میں قرار دے کیونکہ تیرا لشکر ہی غالب رہنے
حِزْبَکَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ، وَاجْعَلْنِی مِنْ أَوْ لِیَائِکَ فَ إنَّ أَوْ لِیاءَکَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَ
والا ہے اور مجھے اپنے گر وہ میں قرا ردے کیو نکہ تیرا ہی گر وہ کامیاب ہونے والاہے اور مجھے اپنے دوستوں میں شامل فرما کہ
هُمْ یَحْزَنُونَ، اَللّٰهُمَّ أَصْلِحْ لِی دِینِی فَ إنَّهُ عِصْمَةُ أَمْرِی، وَأَصْلِحْ لِی آخِرَتِی
تیرے دوستوں کو کچھ بھی خوف اور حزن و رنج نہ ہو گا ۔اے معبود میرے دین میں بہتری فرما دے کیونکہ یہ میری ذات کا نگہبان ہے
فَ إنَّها دَارُ مَقَرِّی، وَ إلَیْهَا مِنْ مُجا وَ رَةِ اللِّءَامِ مَفَرِّی، وَاجْعَلِ الْحَیَاةَ زِیادَةً لِی فِی
اور میری آخرت کو سنوار دے کہ وہ میرا پکا ٹھکانہ ہے اور وہ پست لوگوں سے فرار کر جانے کی جگہ ہے اور میری زندگی میں ہر خیر ونیکی
کُلِّ خَیْرٍ، و َالْوَ فَاةَ رَاحَةً لِی مِنْ کُلِّ شَرٍّ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ،
کو بڑھا دے اور میری موت کو ہر برائی سے بچ جانے کا زریعہ بنا ۔اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما جو نبیوں کے خاتم ہیں
وَتَمَامِ عِدَّةِ الْمُرْسَلِینَ، وَعَلَی آلِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ، وَأَصْحَابِهِ الْمُنْتَجَبِینَ،
اور جن پر آکر رسولوں کی تعداد پوری ہوئی اور ان کی پاک و پاکیز ہ آل پر اور ان کے صاحب عزت اصحاب پر رحمت فرما
وَهَبْ لِی فِی الثُّلاثَائِ ثَلاَثاً لاَتَدَعْ لِی ذنْباً إلاَّ غَفَرْتَهُ وَلاَ غَمّاً إلاّ أَذْهَبْتَهُ، وَلاَ عَدُوّاً
اور منگل کے دن مجھے تین چیزیں عطا فرما میرا ہر گناہ بخش دے اور میرا ہر رنج دور کر دے اور میرے ہر دشمن کو مجھ سے
إلاَّ دَفَعْتَهُ، بِبِسْمِ ﷲ خَیْرِ الاََسْمَائِ، بِسْمِ ﷲ رَبِّ الْاَرْضِ وَالسَّمائِ، أَسْتَدْفِعُ کُلَّ
دور ہٹادے خدا کے نام کے واسطے سے کہ جو بہترین نام ہے اسکے نام سے جو زمین و آسما ن کو زندہ رکھنے والا ہے میں اپنے آپ
مَکْرُوهٍ أَوَّلُهُ سَخَطُهُ، وَأَسْتَجْلِبُ کُلَّ مَحْبُوبٍ أَوَّلُهُ رِضَاهُ، فَاخْتِمْ لِی مِنْکَ
سے ہر مکروہ کا خاتمہ چاہتا ہوں جسکا آغاز خدا کا غضب ہے اور ہر محبوب چیز کو چاہتا ہوں کہ جسکاآغاز رضائے الہی ہے ۔پس اے
بِالْغُفْرانِ یَا وَ لِیَّ الْاِحْسَانِ
احسان کے مالک میرا خاتمہ اپنی طرف سے بخشش کے ساتھ فرما ۔
دعائے رو ز چہار شنبہ (بدھ)
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خد اکے نا م سے شر وع کرتا ہوں جو بڑا مہر با ن اور نہا یت ہی رحم کر نے والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی جَعَلَ اللَّیْلَ لِباساً، وَالنَّوْمَ سُباتاً، وَجَعَلَ النَّهارَ نُشُوراً، لَکَ
حمد اس خد اکے لیے ہے جس نے رات کو پر دے اور نیند کو آرام کا ذریعہ بنا یا او ر دن کو کا م کا ج کے لیے قرار دیا تیرے لیے
الْحَمْدُ أَنْ بَعَثْتَنِی مِنْ مَرْقَدِی وَلَوْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ سَرْمَداً، حَمْداً دائِماً لاَ یَنْقِطعُ
حمد ہے کہ تو نے مجھے میری خوابگاہ سے زندہ اٹھایا اور اگر تو چاہتا تو اس نیند کو دائمی بنا دیتا۔ تیری ایسی حمد جو ہمیشہ رہے کبھی ختم
أَبَداً، وَلاَ یُحْصِی لَهُ الْخَلائِقُ عَدَداً، اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْ خَلَقْتَ فَسَوَّیْتَ، وَقَدَّرْتَ
نہ ہو کہ جسکی تعداد کو مخلوق شمار نہ کر سکے۔ اے معبود تیرے ہی لیے حمد ہے کہ تو نے پیدا کیا تو درست پیدا کیا اور قضائ
وَقَضَیْتَ، وَأَمَتَّ وَأَحْیَیْتَ، وَأَمْرَضْتَ وَشَفَیْتَ، وَعافَیْتَ وَأَبْلَیْتَ، وَعَلَی الْعَرْشِ
و قدر بنائی تو موت دیتا اور زندگی بخشتا ہے بیمار کرتا ہے شفا دیتا ہے تو بچاتا ہے اور آزماتا ہے اور عرش پر تیری حکومت
اسْتَوَیْتَ، وَعَلَی الْمُلْکِ احْتَوَیْتَ، أَدْعُوکَ دُعَاءَ مَنْ ضَعُفَتْ وَسِیلَتُهُ، وَانْقَطَعَتْ
اور ملک تیرے قبضہ قدرت میں ہے میں تجھے ایسے شخص کی طرح پکارتا ہوں جس کا وسیلہ کمزور ہو،چارئہ کار منقطع
حِیلَتُهُ، وَاقْتَرَبَ أَجَلُهُ، وَتَدَانٰی فِی الدُّنْیَا أَمَلُهُ، واشْتَدَّتْ إلَی رَحْمَتِکَ فاقَتُهُ،
ہو گیا ہو، موت قریب آگئی ہو اور وہ دنیا کی آرزو میں گرفتار ہو اور تیری رحمت کا بہت زیادہ محتاج ہو،اسکی کوتاہیوں کے
وَعَظُمَتْ لِتَفْرِیطِهٰ حَسْرَتُهُ وَکَثُرَتْ زَلَّتُهُ وَعَثْرَتُهُ وَخَلُصَتْ لِوَجْهِکَ تَوْبَتُهُ فَصَلِّ
باعث اسکی حسرتیں بڑھ چکی ہوں اور اسکی لغزشیں اور ٹھوکریں بہت زیادہ ہوں اور تیرے حضور سچی توبہ کر رہا ہوں پس تو نبیوں کے
عَلَی مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ وَارْزُقْنِی شَفاعَةَ
خاتم محمدمصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور انکے پاک وپاکیزہ اہل بیتعليهالسلام پر بھی رحمت فرمااور مجھے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شفاعت وحمایت
مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَاتَحْرِمْنِی صُحْبَتَهُ إنَّکَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
نصیب فرمااور مجھے انکے قرب سے محروم نہ فرما۔ بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ اے معبود!اس بدھ کے دن
اَللّٰهُمَّ اقْضِ لِی فِی الْاَرْبَعائِ أَرْبَعاً اجْعَلْ قُوَّتِی فِی طَاعَتِکَ وَنَشَاطِی فِی عِبَادَتِک
میری چار حاجتیں پوری فرما کہ میری قوت اپنی اطاعت میں لگا دے ،میری خوشی اپنی عبادت میں قرار دے اور میری توجہ اپنے
وَرَغْبَتِی فِی ثَوَابِکَ وَزُهْدِی فِیَما یُوجِبُ لِی أَلِیمَ عِقَابِکَ إنَّکَ لَطِیفٌلِمَا تَشَائُ
ثوابکیطرف کر دے اور جس چیز سے مجھ پر تیرا سخت عذاب آتا ہو مجھے اس سے دور فرما کہ بیشک تو جس پر چاہے لطف فرماتا ہے
دعائے روز پنجشنبہ (جمعرات)
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی أَذْهَبَ اللَّیْلَ مُظْلِماً بِقُدْرَتِهِ، وَجَاءَ بِالنَّهَارِ مُبْصِراً بِرَحْمَتِهِ
حمد اس خدا کے لیے ہے جس نے اپنی قدرت سے تاریک رات کو ختم کیا اور روشن دن کو اپنی رحمت سے وجود بخشا اور مجھ پر
وَکَسَانِی ضِیاءَهُ وَأَ نَا فِی نِعْمَتِهِ اَللّٰهُمَّ فَکَمَا أَبْقَیْتَنِی لَهُ فَأَبْقِنِی لاََِمْثالِهِ، وَصَلِّ
بھی روشنی بکھیری اور میں اسکی نعمت سے مستفید ہوتا ہوں۔اے معبود! جس طرح تو نے مجھے آج کے دن زندہ رکھا اسی طرح آئندہ
عَلَی النَّبِیِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَلاَ تَفْجَعْنِی فِیهِ وَفِی غَیْرِهِ مِنَ اللَّیَالِی وَالْاَیَّامِ، بِارْتِکَابِ
بھی زندہ رکھ اور اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے آج اور دیگر راتوں اور دنوں میں حرام کام کرنے
الَْمحَارِمِ وَاکْتِسَابِ الْمَآثِمِ وَارْزُقْنِی خَیْرَهُ وَخَیْرَ مَا فِیهِ وَخَیْرَ مَا بَعْدَهُ، وَاصْرِف
اور گناہ کمانے سے داغدار نہ بنا، آج کے دن میں جو بھلائی ہے اور بعد میں آنے والے انہی دنوں میں جو بھلائی ہے، عطا فرما۔اور
عَنِّی شَرَّهُ، وَشَرَّ مَا فِیهِ، وَشَرَّ مَا بَعْدَهُ اَللّٰهُمَّ إنِّی بِذِمَّةِ الْاِسْلامِ أَتَوَسَّلُ إلَیْکَ،
مجھے اس دن کے شر جو کچھ اسمیں ہے اسکے شر اور اسکے بعد بھی شر سے بچا ۔اے معبود!میں اسلام کے ذریعے سے تیری طرف وسیلہ
وَبِحُرْمَةِ الْقُرْآنِ أَعْتَمِدُ عَلَیْکَ، وَبِمُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
پکڑتا ہوں اور قرآن کے احترام کیساتھ تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں۔اور محمدمصطفی
أَسْتَشْفِعُ لَدَیْکَ، فَاعْرِفِ اَللّٰهُمَّ ذِمَّتِیَ الَّتِی رَجَوْتُ بِهَا قَضَاءَ حَاجَتِی، یَا أَرْحَمَ
کو تیرے حضور اپنا شفیع بناتا ہوں پس اے معبود! جس ضمانت کے ساتھ میں اپنی حاجت براری کا امیدوار ہوں اس پر توجہ فرما اے
الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ اقْضِ لِی فِی الْخَمِیسِ خَمْساً لاَ یَتَّسِعُ لَها إلاَّکَرَمُکَ
سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ اے معبود! اس جمعرات میں میری پانچ حاجات پوری فرما کہ سوائے تیرے کرم کے کوئی اس کی
وَلاَ یُطِیقُها إلاَّ نِعَمُکَ، سَلاَمَةً أَقْوی بِهَا عَلَی طَاعَتِکَ،
گنجائش نہیں رکھتا اور سوائے تیری نعمتوں کے کوئی اسکی طاقت نہیں رکھتا ایسی صحت وسلامتی عطا فرما جسکے ذریعے تیری
وَعِبادَةً أَسْتَحِقُّ بِها جَزِیلَ مَثُوبَتِکَ،وَسَعَةً فِی الْحَالِ مِنَ الرِّزْقِ الْحَلاَلِ،
اطاعت پر قوت حاصل ہوایسی عبادت کی توفیق دے جس سے میںتیرے عظیم ثواب کا حق دار بن جائوں۔ رزق حلال سے
وَأَن تُؤْمِنَنِی فِی مَوَاقِفِ الْخَوْفِ بِأَمْنِکَ،وَتَجْعَلَنِی مِنْ طَوَارِقِ الْهُمُومِ وَالْغُمُومِ
میری حالت میں کشادگی فرما۔ خوف و خطرے کے مواقع پر اپنے امان کے ذریعے محفوظ فرما غم وآلام کے ہجوم میں مجھے اپنی پناہ میں
فِی حِصْنِکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ تَوَسُّلِی بِهِ شَافِعاً، یَوْمَ الْقِیامَةِ نَافِعاً
رکھ اور محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور ان میں سے میرے لیے توسل کو روز قیامت نفع دینے والا شفیع بنا
إنَّکَ أَ نْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔
دعائے روز آدینہ (جمعہ)
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے (شروع) جو بڑ امہربان نہایت رحم والا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الاََوَّلِ قَبْلَ الْاِنْشائِ وَالْاِحْیائِ، وَالاَْخِرِ بَعْدَ فَنَائِ الْاَشْیائِ، الْعَلِیمِ الَّذِی
حمد اس خد اکیلئے ہے جو ہستی وزندگی میں سب سے اول اور چیزوں کے فنا کے بعد سب سے آخر میںموجود ہوگا، وہ ایسا علم والا ہے
لاَ یَنْسیٰ مَنْ ذَکَرَهُ، وَلاَ یَنْقُصُ مَنْ شَکَرَهُ، وَلاَ یَخِیبُ مَنْ دَعَاهُ، وَلاَ یَقْطَعُ رَجَاءَ
جو اس کو یاد کرے اسے بھولتا نہیں جو شکر کرے اسے کمی نہیںآنے دیتا پکارنے والے کو مایوس نہیںکرتا اور جو امید رکھے اس کی امید
مَنْ رَجَاهُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أُشْهِدُکَ وَکَفی بِکَ شَهِیداً، وَأُشْهِدُ جَمِیعَ مَلائِکَتِکَ وَسُکَّانَ
منقطع نہیں کرتا خداوندا! میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیراگواہ ہونا کافی ہے اور میں تیرے تمام فرشتوں، آسمانوں
سَمٰواتِکَ وَحَمَلَةِ عَرْشِکَ، وَمَنْ بَعَثْتَ مِنْ أَنْبِیَائِکَ وَرُسُلِکَ، وَأَ نْشَأْتَ مِنْ
کے رہنے والوں حاملین عرش اور تیرے ان نبیوں اور رسولوں کو جنہیں تو نے بھیجا اور ہرقسم کی مخلوق جو تو نے پیدا
أَصْنَافِ خَلْقِکَ، أَنِّی أَشْهَدُ أَ نَّکَ أَ نْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ، وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ
کی سبھی کوگواہ بناکر شہادت دیتا ہوں کہ بے شک تو خدا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں
وَلاَعَدِیلَ، وَلاَ خُلْفَ لِقَوْلِکَ وَلاَ تَبْدِیلَ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ عَبْدُکَ
اور نہ برابر کا ہے اور تیرے قول میں اختلاف اور تبدیلی نہیں ہے اور شہادت دیتا ہوں کہ محمد تیرے عبد خاص
وَرَسُولُکَ، أَدَّی مَا حَمَّلْتَهُ إلَی الْعِبَادِ، وَجَاهَدَ فِی ﷲ عَزَّ وَجَلَّ حَقَّ الْجِهَادِ وَأَنَّهُ
اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں انہوں نے تیرے احکام تیرے بندوں تک پہنچائے اور تیری الوہیت کیلئے جہاد کیا جس طرح جہاد کرنے کا
بَشَّرَ بِمَا هُوَ حَقٌّ مِنَ الثَّوَابِ، وَأَ نْذَرَ بِمَا هُوَ صِدْقٌ مِنَ الْعِقَابِ اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْنِی عَلیٰ
حق ہے انہوں نے تیرے ثواب کی بشارت دی جو حق ہے اور تیرے اس عذاب سے ڈرایاجو بجاہے، خداوندا! جب تک مجھے
دِینِکَ مَا أَحْیَیْتَنِی، وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنِی، وَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْک رَحْمَةً إنَّکَ
زندہ رکھے اپنے دین پر قائم رکھنا اور ہدایت دینے کے بعد میرے دل کو ٹیڑھا نہ کرنا اور مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا فرمانا بیشک
أَنْتَ الْوَهَّابُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، وَاجْعَلْنِی مِنْ أَتْباعِهِ وَشِیعَتِهِ
تو بڑا عطا کرنے والا ہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان کے پیروکاروں اور شیعوں میں قرار دے
وَاحْشُرْ نِی فِی زُمْرَتِهِ وَوَفِّقْنِی لاََِدَائِ فَرْضِ الْجُمُعَاتِ، وَمَا أَوْجَبْتَ عَلَیَّ فِیها مِنَ
اور ان ہی کے گروہ کے ساتھ محشور فرما مجھے نماز ہائے جمعہ اور جو کچھ مجھ پر تو نے اس دن میں واجب کیا اسے ادا کرنے کی
الطَّاعَاتِ، وَقَسَمْتَ لاََِهْلِهَا مِنَ الْعَطَائِ فِی یَوْمِ الْجَزَائِ، إنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ
توفیق دے اور روز قیامت جب اہل اطاعت پر تیری عنایت ہوتو مجھے بھی حصہ دے کہ تو صاحب اقتدار اور حکمت والا ہے۔
دعائے روز شنبہ (ہفتہ)
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خداکے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
بِسْمِ ﷲ کَلِمَةِ الْمُعْتَصِمِینَ، وَمَقالَةِ الْمُتَحَرِّزِینَ، وَأَعُوذُ بِالله تَعَالی مِنْ جَوْرِ
خدا کے نام سے شروع جو پناہ چاہنے والوں کا شعار اور بچائو چاہنے والوں کا ورد ہے اور میں ظالموں کی سختی ،
الْجَائِرِینَ، وَکَیْدِ الْحَاسِدِینَ، وَبَغیِ الظَّالِمِینَ، وَأَحْمَدُهُ فَوْقَ حَمْدِ الْحَامِدِینَ
حسد کرنے والوں کے مکر اور ستمگاروں کے ستم سے خدا کی پناہ لیتا ہوںاورمیں حمد کرنے والوں سے بڑھ کر اس کی حمد کرتا ہوں
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْواحِدُ بِلاَ شَرِیکٍ وَالْمَلِکُ بِلاَ تَمْلِیکٍ لاَ تُضَادُّ فِی حُکْمِکَ وَلاَ تُنَازَعُ
خدایا! تو وہ یکتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور وہ بادشاہ ہے جس کا کوئی حصہ دار نہیں تیرے حکم میں تضاد نہیں اور تیری
فِی مُلْکِکَ، أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ، وَأَنْ تُوزِعَنِی مِن
سلطنت میں اختلاف نہیں میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنے عبد خاص اور اپنے رسول محمدمصطفی پر رحمت فرما ، مجھے اپنی نعمتوں
شُکْرِ نُعْمَاکَ مَا تَبْلُغُ بِی غَایَةَ رِضَاکَ، وَأَنْ تُعِینَنِی عَلَی طَاعَتِکَ وَلُزُومِ عِبَادَتِکَ
کے شکر ادا کرنے کی اس طرح توفیق دے کہ جس سے تیری رضا کی انتہا حاصل کر سکوں اور مجھے اپنی فرمانبرادری کرنے، عبادت
وَاسْتِحْقَاقِ مَثُوبَتِکَ بِلُطْفِ عِنَایَتِکَ، وَتَرْحَمَنِی بِصَدِّی عَنْ مَعَاصِیکَ مَا أَحْیَیْتَنِی
کو ضروری سمجھنے اور اپنے فضل وکرم سے اپنے اجرو ثواب کا حق دار بننے میں میری مدد فرما تاکہ میںتیری نافرمانیوں سے بچ سکوں
وَتُوَفِّقَنِی لِمَا یَنْفَعُنِی مَا أَبْقَیْتَنِی، وَأَنْ تَشْرَحَ بِکِتَابِکَ صَدْرِی،
جب تک زندہ رہوں اور مجھے اسکی توفیق دے جو میرے لیے مفید ہے جب تک باقی ہوں اپنی کتاب کے ذریعے میرا سینہ کھول دے
وَتَحُطَّ بِتِلاوَتِهِ وِزْرِی، وَتَمْنَحَنِی السَّلاَمَةَ فِی دِینِی وَنَفْسِی، وَلاَ تُوحِشَ بِی أَهْلَ أُنْسِی
اور اسکی تلاوت کے ذریعے میرے گناہ کم کر دے میری جان اور میرے دین میں سلامتی عطا فرما اور اہل انس کو مجھ سے خائف نہ کر
وَتُتِمَّ إحْسَانَکَ فِیَما بَقِیَ مِنْ عُمْرِی کَمَا أَحْسَنْتَ فِیَما مَضَی مِنْهُ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور میری باقی زندگی میں مجھ پر کامل احسان فرما جیسے کہ میری گزری ہوئی زندگی میں مجھ پر احسان فرمایا ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
چوتھی فصل
جمعرات وجمعہ کے فضائل واعمال
جمعرات اور جمعہ کے فضائل
واضح ہے کہ جمعہ کو تمام ایام پر ایک خاص امتیاز اور شرف حاصل ہے۔ چنانچہ حضرت رسول ﷲ کا فرمان ہے کہ شب جمعہ وجمعہ کی چوبیس ساعتیں ہیں اور ہر ایک ساعت میں خداوند عالم چھ لاکھ انسانوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔ امام جعفر صادق -کا ارشاد ہے کہ زوال جمعرات سے زوال جمعہ کے درمیان جس شخص کو موت واقع ہو وہ فشار قبر سے محفوظ رہے گا۔ حضرت ہی کا فرمان ہے کہ جمعہ کا خاص احترام اور حق ہے ۔اس حق کو ضائع نہ کرو ، اس دن کی عبادت میں کوتاہی نہ کرو۔ اچھے اعمال سے خدا کا قرب حاصل کرو اور تمام محرمات کو ترک کرو کیونکہ خدا تعالیٰ اس روز اطاعت کا ثواب بڑھا دیتاہے۔ گناہوں کی سزاختم کردیتاہے اور دنیاوآخرت میںمومنین کے درجات بلند کرتا ہے اور روز جمعہ کی طرح شب جمعہ کی بھی بہت فضیلت ہے اور ممکن ہو تو شب جمعہ صبح تک دعاونماز میں گزارو۔ شب جمعہ میں خدا مومنین کی عزت بڑھانے کے لیے ملائکہ کو پہلے آسمان پر بھیجتا ہے تاکہ وہ انکی نیکیوں میں اضافہ کریں اور انکے گناہ مٹاڈالیں ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ رحیم وکریم ہے اور اسکی عنایتیں اور عطائیں وسیع ہیں۔معتبر حدیث میں رسول ﷲ سے مروی ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مومن اپنی حاجت کیلئے دعا کرتا ہے مگر خدا اسکی وہ حاجت پوری کرنے میں تاخیر کرتا ہے تاکہ روز جمعہ اسکی حاجت کو پورا کرے اور جمعہ کی فضیلت کی وجہ سے کئی گناہ معاف کردیتا ہے ۔ نیز فرمایا کہ جب برادران یوسفعليهالسلام نے حضرت یعقوبعليهالسلام سے کہا کہ وہ انکے گناہوں کی معافی کیلئے دعا کریںتو انہوںنے فرمایا: سَوْفَ اَسْتَغْفِرُلَکُمْ رَبّی کہ عنقریب میں تمہارے گناہوں کی بخشش کے لیے اپنے پروردگار سے دعا کروںگا، یہ تاخیر اس لیے کی گئی کہ جمعہ کی سحر کو دعا کی جائے تا کہ وہ قبولیت تک پہنچے۔ حضرتعليهالسلام سے یہ بھی مروی ہے کہ شب جمعہ میں مچھلیاں سرپانی سے باہر نکالتی ہیں اور صحرائی جانور اپنی گردنیں بلند کرکے بارگاہ الہی میں عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگارا انسانوں کے گناہوں کے باعث ہم پر عذاب نہ کرنا۔ امام محمدباقرعليهالسلام فرماتے ہیں کہ ہر شب جمعہ ایک فرشتہ ابتدائِ شب سے آخر شب تک عرش کے اوپر سے یہ ندا کرتا ہے کہ ہے کوئی مومن بندہ ہے جو طلوع فجر سے پہلے دنیاوآخرت کی کوئی حاجت طلب کرے تا کہ میں اس کی حاجت پوری کروں ۔ ہے کوئی مومن بندہ جوطلوع فجر سے پہلے گناہوں سے معافی کا طالب ہو اور میں اس کے گناہ معاف کردوں کوئی بندئہ مومن ہے کہ جس کی روزی میں نے تنگ کر رکھی ہو وہ طلوع صبح سے قبل مجھ سے وسعت رزق طلب کرے پس میں اس کی روزی میں وسعت عطا کروں، آیا کوئی بیمار مومن ہے جو مجھ سے طلوع صبح سے پہلے شفا کا طالب ہو تو میںاسے شفادے دوں، کوئی قیدی وغم زدہ مومن ہے جو صبح جمعہ سے پہلے مجھ سے سوال کرے تو میں اسکو قید سے رہائی دے کراس کا غم دور کروں، آیا کوئی مظلوم مومن ہے جو طلوع صبح سے پہلے ظالم کے ظلم کو دور کرنے کا مجھ سے سوال کرے تو میں اس کیلئے ہر ظلم کرنے والے سے انتقام لوں اور اس کا حق اسے دلادوں ،پس وہ فرشتہ جمعہ کی صبح طلوع ہونے تک اسی طرح آواز دیتا رہتا ہے ۔
امیرالمومنین -سے منقول ہے کہ حق تعالیٰ نے جمعہ کو تمام دنوں پر فضیلت دی ہے اور اسکو روز عید قرار دیا ہے ، اس طرح شب جمعہ کو بھی باعظمت قرار دیا ہے۔ جمعہ کی ایک فضیلت یہ ہے کہ اس روز خدا سے جو سوال کیا جائے وہ پورا کر دیا جاتا ہے اگر کوئی گروہ مستحق عذاب ہے لیکن وہ شب جمعہ یا روز جمعہ دعا کرے تو اسے عذاب سے چھٹکارا مل جاتاہے۔حق تعالی روز جمعہ مقدر کو محکم ا ور ناقابل تغیر بنا دیتا ہے ۔لہذا شب جمعہ عام راتوں سے اور روز جمعہ عام دنوں سے افضل ہے۔
حضرت امام جعفر صادق -فرماتے ہیں : شب جمعہ میں گناہوں سے بچو کیونکہ اس رات کئی گنا عذاب بڑھ جاتا ہے جیسا کہ اس شب میں نیکیوں کا ثواب بھی کئی گنا زیادہ ہوتا ہے، اگر کوئی شخص شب جمعہ میں گناہ سے پرہیز کرے تو خدا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیتا ہے اور اگر کوئی شخص شب جمعہ میں اعلانیہ گناہ کرے تو خدا اسکو ساری زندگی کے گناہوں کے برابر عذاب دے گااور اس گناہ کا عذاب بھی زیادہ ہوگا،اور معتبر سند کے ساتھ امام علی رضا -سے منقول ہے کہ رسول ﷲ نے فرمایا : جمعہ کا دن تمام دنوں کاسردار ہے اس میں نیکیوں کاثواب کئی گنا ہوتا ہے اور گناہ معاف ہو جاتے ہیں، درجات بلند ، دعائیں قبول، رنج والم زائل اور بڑی بڑی حاجات پوری کر دی جاتی ہیں۔ اس دن خدا تعالی بندوں کے لیے اپنی رحمت میں اضافہ کرتا ہے اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے۔ جو شخص اس دن خدا کو پکارے اور وہ اس دن کی عزت وعظمت کا قائل بھی ہو تو خدا پر اسکا حق ہے کہ وہ اسے جہنم کی آگ سے چھٹکارا عطا کرے اگر کوئی شخص شب جمعہ یا روز جمعہ میں وفات پا جائے تو وہ شہید شمار ہوگا اور قیامت کے دن عذاب الہی سے محفوظ رہے گا ۔ جو آدمی جمعہ کے دن کی عظمت کی پرواہ نہ کرے اور اسکے حق کو ضائع کرے مثلًا نماز جمعہ بجانہ لائے یا حرام کاموں سے نہ بچے، خدا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس شخص کو جہنم کا ایندھن بنائے مگر یہ کہ وہ توبہ کر لے ۔معتبر اسناد کے ساتھ امام محمدباقر -سے مروی ہے کہ آفتاب نے کبھی کسی ایسے دن طلوع نہیں کیا جو جمعہ سے بہتر ہو۔ اس روز پرندے جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سلام کرتے اور کہتے ہیں کہ آج بڑا ہی عظیم دن ہے۔ نیز معتبر سند کے ساتھ امام جعفرصادق -سے منقول ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن کو درک کرے وہ عبادت الہی کے علاوہ کچھ نہ کرے کہ اس دن خدا تعالی اپنے بندوں کے گناہ معاف کرتا ہے اور ان پر رحمت خداوندی نازل ہوتی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ شب جمعہ اور روز جمعہ کے فضائل کثیر ہیں اور اس مختصر کتاب میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان سب کا تذکر کیا جائے۔
شب جمعہ کے اعمال
شب جمعہ کے اعمال بہت زیادہ ہیں اور یہاں ہم چند اعمال کے ذکر پر اکتفائ کرتے ہیں۔
اول:روایت ہے کہ شب جمعہ رات کا نور اور روز جمعہ روشن ترین دن ہے لہذااس شب وروز میں بکثرت درود شریف اور مذکورہ ذکر کو پڑھیں:
سُبْحَانَ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ
پاک اور بزرگ تر ہے خدا اور خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اس رات کم از کم سو مرتبہ درود پڑھیںاور جس قدر زیادہ پڑھ سکیں بہتر ہے۔ امام جعفرصادق - سے مروی ہے کہ شب جمعہ میں محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیجنے سے ہزار نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ ہزار گناہ معاف ہوتے ہیں اور ہزار درجے بلند ہو جاتے ہیں۔مستحب ہے کہ جمعرات کی عصر سے روز جمعہ کے آخر تک محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجیں اور بہ سند صحیح امام جعفرصادق -سے منقول ہے کہ جمعرات کی عصر کوملائکہ آسمان سے اترتے ہیں اور انکے ہاتھوں میں طلائی قلم اور نقرئی کا غذ ہوتا ہے اور وہ اس میں جمعرات کی عصر سے روز جمعہ کے آخر تک محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر بھیجے ہوئے درودکے سوا کچھ نہیںلکھتے۔شیخ طوسیرحمهالله فرماتے ہیں کہ جمعرات کے دن محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایک ہزار مرتبہ درود پڑھنا مستحب ہے اور بہتر ہے کہ اس طرح درود پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ، وَأَهْلِکْ عَدُوَّهُمْ مِنَ الْجِنِّ
اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اسکی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اوران کے ظہور میں تعجیل فرمااور محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دشمنوں کو ہلاک کرخواہ وہ جن
وَالْاِنْسِ مِنَ الاََوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ
ہیں یاانسان اولین سے ہیںیا آخرین سے۔
جمعرات کی عصر کے بعد سے روز جمعہ کے آخر تک مذکورہ درود کا سو مرتبہ پڑھنا بہت فضیلت رکھتا ہے نیز شیخ فرماتے ہیں جمعرات کو دن کے آخری حصے میں اس طرح استغفار کرنا مستحب ہے:
أَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِی لا إلهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ، وَأَتُوبُ إلَیْهِ تَوْبَةَ عَبْدٍ خاضِعٍ
اس خدا سے طالب مغفرت ہوں جسکے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ وپائندہ ہے میں اسکے حضور ایسے بندے کیطرح توبہ کرتا ہوں
مِسْکِینٍ مُسْتَکِینٍ، لاَ یَسْتَطِیعُ لِنَفْسِهِ صَرْفاً وَلاَ عَدْلاً وَلاَ نَفْعاً وَلاَ ضَرّاً وَلاَ
ہوں جو ذلیل، محتاج اور بے چارہ ہے جو اپنے کاروبار، دفاع اور نفع ونقصان کا مالک نہیں اپنی موت زندگی اور قیامت کے دن اپنے
حَیَاةً وَلاَ مَوْتاً وَلاَ نُشُوراً، وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعِتْرَتِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ الْاَخْیارِ
حشر و نشر پر کچھ اختیار نہیں رکھتا اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی پاک و پاکیزہ اور نیک و پاکباز آل پر خدا کی رحمت اور سلام ہو
الاََ بْرارِ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً
جس طرح ان پر سلام کا حق ہے ۔
دوم:شب جمعہ میں قرآن کی ان سورتوں کی تلاوت کرنا چاہیے کہ ان میں سے ہر ایک کے فوائد کثیر اور ثواب بہت زیادہ ہے: سورئہ بنی اسرائیل، کہف، طٰس والی تین سورتیں ،الٓم سجدہ، یٰسں ، صٓ، احقاف، واقعہ ، حمٓ سجدہ، حٰمٓ دخان، طور، اقتربت اور جمعہ کی تلاوت کرے اگر وقت کی کمی ہو تو سورئہ واقعہ اور اس سے قبل سورتوں کی تلاوت کرے کیونکہ امام جعفر صادق -سے مروی ہے کہ جو شخص ہرشب جمعہ سورئہ بنی اسرائیل کی تلاوت کرے گا تو اسے امام العصر(عج) کی خدمت میں حاضری نصیب ہونے سے پہلے موت نہیںآئے گی اور وہ وہاں آنجنابعليهالسلام کے اصحاب میں سے ہوگانیز فرمایا کہ شب جمعہ میں سورئہ کہف کی تلاوت کرنے والا نہیں مرے گا مگر شہید اور قیامت میں حق تعالی اس کو شہیدوں کے ساتھ محشور کرے گا اور وہ انہیں کے ساتھ رہے گا۔ جو شخص جمعہ کو طٰس والی تین سورتیں پڑھے وہ خدا کا دوست شمار ہو گا،اسے خدا کی حمایت وامان حاصل ہوگی دنیا میں فقر وتنگ دستی سے محفوظ رہے گا ،آخرت کو بہشت میں اس قدر نعمات ملیں گی کہ وہ راضی وخوش ہو جائے گا۔ پھر خدا اسے اس کی رضا سے بھی زیادہ عطا فرمائے گا اور سوحوریں اسکی زوجیت میں رہیں گی آپعليهالسلام نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص ہر شب جمعہ میں سورئہ الم سجدہ پڑھے تو قیامت میں خدائے تعالی اسکا نامہ اعمال اسکے دائیں ہاتھ میں دے گا، اس سے اسکے اعمال کا حساب کتاب نہیں لیا جائے گااور وہ محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے رفقائ میں شمار ہو گا، معتبر اسناد کیساتھ امام محمد باقر -سے مروی ہے کہ جوشخص شب جمعہ میں سورئہ صٓ کی تلاوت کرے تو اسکو دنیا وآخرت کی بھلائی عطا ہو گی اور اسے اتنا اجر دیا جائے گا جتنا کسی نبی مرسل یا ملک مقرب کو دیا جاتا ہے۔ وہ خود بہشت میں جانے کیساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ میں سے جسے چاہے حتی کہ اپنے خدمت گار کو بھی بہشت میں لے جا سکے گا اگرچہ وہ خدمتگار اس شخص کے عیال میں شامل نہ ہو اور اسکی شفاعت کے دائرے میں نہ آتا ہو۔امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ جو شخص شب جمعہ یا روز جمعہ میں سورئہ احقاف کی تلاوت کرے تو وہ دنیامیں خوف وخطر اور آخرت میںروز قیامت کے خوف وپریشانی سے امن میں ہوگا۔ نیز فرمایا کہ جو شخص ہر شب جمعہ میں سورئہ واقعہ پڑھے تو ﷲاس کو اپنا دوست بنائے گا، دنیا میں بدحالی وتنگدستی اور آفات سے محفوظ رہے گا اور امیرالمومنین- کے رفقائ میں شمار ہوگا کہ یہ سورہ آنجنابصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مخصوص ہے۔روایت ہے کہ جو شخص ہر شب جمعہ میں سورئہ جمعہ کی تلاوت کرے تو وہ اس جمعہ اور آئندہ جمعہ کے درمیان اسکا کفارہ شمار ہوگا، ہر شب جمعہ میں سورئہ کہف پڑھنے کی بھی یہی فضیلت بیان ہوئی ہے اسی طرح جو شخص جمعہ کی ظہر وعصر کے بعد سورئہ کہف کی تلاوت کرے تو اسکے لیے بھی یہی فضیلت نقل ہوئی ہے۔
شب جمعہ میں پڑھی جانے والی بہت سی نمازیں ذکر ہوئی ہیں:
( ۱ )نماز امیرالمومنین -
( ۲ )یہ دو رکعت نماز ہے اسکی ہر رکعت میں سورئہ حمد کے بعد پندرہ مرتبہ سورئہ اذا زلزلت پڑھی جاتی ہے، روایت ہے کہ اس نماز کو پڑھنے والا قبر کے عذاب اور قیامت کی ہولناکی سے محفوظ رہے گا ۔
( ۳ )نماز مغرب کی پہلی رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ جمعہ اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورئہ توحید پڑھیں۔ اسی طرح نماز عشائ کی پہلی رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ اعلٰی پڑھیں:
( ۴ )شعر پڑھنا ترک کر دے کیونکہ صحیح حدیث میں امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ روزے کے ساتھ ، حرم میں ، احرام کی حالت میں اور شب جمعہ وروز جمعہ کوشعر پڑھنے مکروہ ہیں۔ راوی نے عرض کیا کہ شعر خواہ مبنی برحق ہی کیوں نہ ہو؟ فرمایا۔ ہاں شعر اگر حق ہو تو بھی اس سے پرہیز کرے۔ معتبر حدیث میں امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: جو شخص شب جمعہ یا روز جمعہ میں ایک بھی شعر پڑھے تو وہ اس رات اور دن، اسکے سوا کسی اور ثواب سے بہرہ مند نہ ہوگا ایک اور روایت میں ہے کہ ایسے شخص کی اس رات اور دن کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
( ۵ )مومنین کے حق میں زیادہ سے زیادہ دعا کریں، جیسے جناب زہرا =کیا کرتی تھیں نیز اگر مرحوم مومنین میں سے دس کیلئے مغفرت کی دعا کرے تو (ایک روایت کے مطابق )ایسے شخص کیلئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
( ۶ )شب جمعہ کی وہ دعائیں پڑھے جو وارد ہوئی ہیں انکی تعداد بہت زیادہ ہے یہاں ہم ان میں سے چند ایک کا تذکرہ کرتے ہیں۔بہ سند صحیح امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ جو شخص شب جمعہ نافلہ مغرب کے آخری سجدے میں سات مرتبہ یہ دعا پڑھے تو اس عمل سے فارغ ہونے سے پہلے اسکے سارے گناہ معاف ہو چکے ہوں گے اگر ہر شب میں اس دعا کو پڑھتا رہے تو اور بھی بہتر ہے وہ دعایہ ہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ، وَاسْمِکَ الْعَظِیمِ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ
خداوندا میں تیری کریم ذات اور تیرے برتر نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوںکہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمد پر
مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِی ذَ نْبِیَ الْعَظِیمَ
رحمت نازل فرما اور میرے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دے۔
رسول ﷲ سے مروی ہے کہ جو شخص شب جمعہ یا روز جمعہ یہ دعا سات مرتبہ پڑھے اور اگر اس رات یا اس دن فوت ہو جائے تو جنت میں داخل ہو گا۔ وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّی لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ خَلَقْتَنِی وَأَ نَا عَبْدُکَ وَابْنُ أَمَتِکَ، وَفِی قَبْضَتِکَ
اے معبود! تو ہی میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں اورتیرے قبضے
وَناصِیَتِی بِیَدِکَ، أَمْسَیْتُ عَلَی عَهْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِرِضاکَ مِنْ شَرِّ
میں ہوں میری مہار تیرے دست قدرت میں ہے میں نے تیرے عہدوپیمان پر رات گزاری جتنا ہو سکے میں تیری رضا کی پناہ چاہتا
مَا صَنَعْتُ، أَبُوئُ بِنِعْمَتِکَ، وَأَبُوئُ بِذَنْبِی، فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ
ہوں اسکے شر سے جو میں نے انجام دیا ہے تیری نعمت کا بار اور میرے گناہ کا بوجھ میرے کندھے پر ہے پس میرے گناہ معاف فرما
الذُّنُوبَ إلاَّ أَنْتَ
دے تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا۔
شیخ طوسی، سید، کفعمی اور سید ابن باقی فرماتے ہیں کہ شب جمعہ، روز جمعہ، شب عرفہ اور روز عرفہ یہ دعا پڑھنا مستحب ہے۔ ہم اس دعا کو شیخ کی کتاب مصباح سے نقل کر رہے ہیں:
اَللّٰهُمَّ مَنْ تَعَبَّأَ وَتَهَیَّأَ وَأَعَدَّ وَاسْتَعَدَّ لِوِفَادَةٍ إلَی مَخْلُوقٍ رَجَاءَ رِفْدِهِ وَطَلَبَ نائِلِهِ
خدایا جو بھی عطاوبخشش کے لیے مخلوق کی طرف جانے کو آمادہ اور مستعد ہو اس کی امید اسی کی داد وہش پر لگی
وَجائِزَتِهِ، فَ إلَیْکَ یَا رَبِّ تَعْبِیَتِی وَاسْتِعْدادِی رَجَاءَ عَفْوِکَ وَطَلَبَ نائِلِکَ وَجَائِزَتِکَ
ہوتی ہے تو اے میرے پروردگار میری آمادگی و تیاری تیرے عفو و درگزر تیری بخشش اور تیرے انعام کے حصول کی امید پر ہے
فَلاَ تُخَیِّبْ دُعَاءِی یَا مَنْ لاَ یَخِیبُ عَلَیْهِ سائِلٌ وَلاَ یَنْقُصُهُ نائِلٌ، فَ إنِّی لَمْ آتِکَ ثِقَةً
پس میری دعا کو مایوس نہ کر اے وہ ذات جس سے کوئی سائل ناامید نہیں ہوتاکسی کا حاصل کرنا اسکی عطا کو کم نہیں کر سکتا ہے پس میں
بِعَمَلٍ صَالِحٍ عَمِلْتُهُ، وَلاَ لِوَفادَةِ مَخْلُوقٍ رَجَوْتُهُ، أَتَیْتُکَ مُقِرّاً عَلَی نَفْسِی
نے جو عمل صالح کیا اس کے بھروسے پر تیری جناب میں نہیں آیااور نہ ہی مخلوق کے دین کی امید رکھتا ہوں میں تو اپنی برائیوں اور ظلم کا
بِالْاِساءَةِ وَالظُّلْمِ، مُعْتَرِفاً بِأَنْ لاَ حُجَّةَ لِی وَلاَ عُذْرَ، أَتَیْتُکَ أَرْجُو عَظِیمَ عَفْوِکَ
اقرار کرتے ہوئے تیری بارگاہ میں حاضر ہوا ہوںاور اعتراف کرتا ہوں کہ میں کوئی حجت اور عذر نہیں رکھتا ہوں میں تیرے حضور عفو
الَّذِی عَفَوْتَ بِهِ عَنِ الْخاطِئِینَ، فَلَمْ یَمْنَعْکَ طُولُ عُکُوفِهِمْ عَلی عَظِیمِ الْجُرْمِ
عظیم کی امید لے کر آیا ہوںجس سے تو خطاکاروں کو معاف فرماتا ہے کہ ان کے بڑے گناہوں کا تسلسل تجھے ان پر رحمت کرنے
أَنْ عُدْتَ عَلَیْهِمْ بِالرَّحْمَةِ، فَیَا مَنْ رَحْمَتُهُ واسِعَةٌ، وَعَفْوُهُ عَظِیمٌ، یَا عَظِیمُ یَا
سے باز نہیں رکھ سکتا تو اے وہ ذات جسکی رحمت عام اور عفو وبخشش عظیم ہے اے خدائے عظیم اے خدائے عظیم اے خدائے
عَظِیمُ یَا عَظِیمُ، لاَ یَرُدُّ غَضَبَکَ إلاَّ حِلْمُکَ وَلاَ یُنْجِی مِنْ سَخَطِکَ إلاَّ التَّضَرُّعُ
عظیم تیرا غضب تیرے ہی حلم سے پلٹ سکتا ہے اور تیری ناراضگی تیرے حضور نالہ وفریاد سے ہی دور
إلَیْکَ فَهَبْ لِی یَا إلهِی فَرَجاً بِالْقُدْرَةِ الَّتِی تُحْیِی بِهَا مَیْتَ الْبِلاَدِ، وَلاَ تُهْلِکْنِی غَمّاً
ہوسکتی ہے تو اے میرے خدا مجھے اپنی قدرت سے کشائش عطا کر جس سے تو اجڑے ہوئے شہروں کو آباد کرتا ہے مجھے غمگینی میں
حَتَّی تَستَجِیبَ لِی، وَتُعَرِّفَنِی الْاِجابَةَ فِی دُعَاءِی، وَأَذِقْنِی طَعْمَ الْعَافِیَةِ إلَی
ہلاک نہ کر یہاں تک کہ تو میری دعا کو قبول کر لے اور دعا کی قبولیت سے مجھے آگاہ فرما دے مجھے آخر دم تک صحت وعافیت سے
مُنْتَهی أَجَلِی، وَلاَ تُشْمِتْ بِی عَدُوِّی، وَلاَ تُسَلِّطْهُ عَلَیَّ، وَلاَ تُمَکِّنْهُ مِنْ عُنُقِی
رکھ اور میرے دشمن کو میری بری حالت پر خوش نہ ہونے دے اور اسے مجھ پر تسلط اور اختیار نہ دے
اَللّٰهُمَّ إنْ وَضَعْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَرْفَعُنِی؟ وَ إنْ رَفَعْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَضَعُنِی
اے پروردگار! اگر تو مجھے گرا دے تو کون مجھے اٹھانے والا ہے اور اگر تو مجھے بلند کرے تو کون ہے جو مجھے پست کر سکتا ہے
وَ إنْ أَهْلَکْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَعْرِضُ لَکَ فِی عَبْدِکَ أَوْ یَسْأَلُکَ عَنْ أَمْرِهِ وَقَدْ عَلِمْتُ
اگر تو مجھے ہلاک کرے تو کون تیرے بندے سے متعلق تجھے کچھ کہہ سکتا ہے اس کے متعلق سوال کر سکتا ہے بے شک میں جانتا ہوں
أَنَّهُ لَیْسَ فِی حُکْمِکَ ظُلْمٌ، وَلاَ فِی نَقِمَتِکَ عَجَلَةٌ، وَ إنَّمَا یَعْجَلُ مَنْ یَخَافُ الْفَوْتَ
کہ تیرے فیصلے میںظلم نہیں اور تیرے عذاب میں جلدی نہیں اور بے شک جلدی وہ کرتا ہے جسے وقت نکل جانے کا ڈر ہو
وَ إنَّمَا یَحْتاجُ إلَی الظُّلْمِ الضَّعِیفُ، وَقَدْ تَعالَیْتَ یَا إلهِی عَنْ ذَٰلِکَ عُلُوّاً کَبِیراً
اور ظلم وہ کرتا ہے جو کمزور ہو اور اے میرے معبود! تو ان باتوں سے بہت بلند اور بہت بڑا ہے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ فَأَعِذْنِی، وَأَسْتَجِیرُ بِکَ فَأَجِرْنِی، وَأَسْتَرْزِقُکَ فَارْزُقْنِی
اے معبود! میں تیری پناہ لیتا ہوں تو مجھے پناہ دے تیرے نزدیک آتا ہوںمجھے نزدیک کرلے تجھ سے روزی مانگتا ہوں مجھے روزی
وَأَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ فَاکْفِنِی، وَأَسْتَنْصِرُکَ عَلی عَدُوِّی فَانْصُرْنِی، وَأَسْتَعِینُ بِکَ
دے تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں میری کفالت فرما اپنے دشمن کے خلاف تجھ سے مدد چاہتا ہوں اور اعانت کا طالب
فَأَعِنِّی، وَأَسْتَغْفِرُکَ یَا إلهِی فَاغْفِرْ لِی، آمِینَ آمِینَ آمِینَ
ہوںمیری مدد فرما اور میرے معبود تجھ سے بخشش کا طالب ہوں مجھے بخش دے آمین آمین آمین۔
( ۷ )دعائے کمیل پڑھیں۔ انشائ ﷲ چھٹی فصل میں اس کا تذکرہ ہوگا ۔
( ۸ ) شب عرفہ میں پڑھی جانے والی وہ دعا پڑھیں جو ماہ ذی الحج کے اعمال میں درج ہے۔یعنی
اَللّٰهُمَّ یَا شَاهِدَ کُلِّ نَجْویٰ
اے خدا! اے سب رازوں کے جاننے والے۔
( ۹ )دس مرتبہ یہ ذکر کہیں۔نیز یہ ذکر شریف شب عیدالفطر میں بھی پڑھا جاتا ہے۔
یَادائِمَ الْفَضْلِ عَلَی الْبَرِیَّةِ، یَابَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالْعَطِیَّةِ، یَاصَاحِبَ الْمَوَاهِبِ السَّنِیَّةِ
اے وہ ذات جسکا احسان مخلوق پر ہمیشہ ہے اے وہ جسکے دونوں ہاتھ عطا کیلئے کھلے ہیں اے بڑی بڑی نعمتیں دینے والے۔ خدا وندا
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ خَیْرِ الْوَرَیٰ سَجِیَّةً، وَاغْفِرْ لَنا یَا ذَا الْعُلیٰ فِی هَذِهِ الْعَشِیَّةِ
محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما جو مخلوقات میں سب سے بہتر ہیں اصل فطرت ہیں اور اے بلندیوں کے مالک ! اس رات میں میرے گناہ بخش دے۔
(۱۰)انار کھائیں جیسا کہ امام جعفرصادق -ہر شب جمعہ انار تناول فرماتے تھے ، اگر سوتے وقت کھائیں تو(شاید)بہتر ہوگا جیسا کہ روایت میں ہے کہ جوشخص سوتے وقت انار کھائے توصبح تک اسکا جسم وجان امن میں رہے گا۔ مناسب ہو گا کہ انار کھاتے وقت کوئی رومال بچھا لے تاکہ دانے اکٹھے کرے اور پھر کھائے اور بہتر یہ ہے کہ اپنے انار میں کسی کو شریک نہ کرے۔
شیخ جعفر بن احمدقمیرحمهالله نے کتاب ِعروس میں امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ حق تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ایک محل عطا کرے گا جو صبح کی نماز نافلہ وفریضہ درمیان سو مرتبہ کہے:
سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُﷲ رَبِّی وَاَتُوْبُ اِلَیٰهِ
پاک ہے میرا ربِ عظیم اور حمد اسی کی ہے میں اپنے رب سے مغفرت کا طالب ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
شیخ و سید اور دیگر بز رگو ں کا فر ما ن ہے کہ شب جمعہ سحر ی کے وقت یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَهَبْ لِیَ الْغَداةَ رِضَاکَ، وَأَسْکِنْ قَلْبِی خَوْفَکَ
اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نا زل فرما آج کی صبح مجھے اپنی رضا عطا فر ما میرے دل کو اپنے خو ف سے
وَاقْطَعْهُ عَمَّنْ سِواکَ، حَتَّی لاَ أَرْجُوَ وَلاَ أَخافَ إلاَّ إیَّاکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ
بھر دے اور اسے اپنے غیر سے ہٹا دے تاکہ تیر ے سو ا کسی سے امید اور خو ف نہ رکھوں خدایا! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت
وَآلِهِ وَهَبْ لِی ثَباتَ الْیَقِینِ، وَمَحْضَ الْاِخْلاصِ، وَشَرَفَ التَّوْحِیدِ، وَدَوَامَ
فرما اور مجھے یقین میں پختگی اور خلوص کامل عطا فرما یکتا پرستی کا شرف بخش دے اور ہمیشہ کی ثابت
الاسْتِقامَةِ وَمَعْدِنَ الصَّبْرِ وَالرِّضَا بِالْقَضَائِ وَالْقَدَرِ یَا قَاضِیَ حَوَائِجِ السَّائِلِین
قدمی سے نواز اور صبر و رضاکا خزا نہ عطا کر کہ جس سے قضا ئوقدر پر راضی رہوں اے سائلو ں کی حاجات برلانے والے
یَا مَنْ یَعْلَمُ مَا فِی ضَمِیرِ الصَّامِتِینَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاسْتَجِبْ دُعَاءِی
اے وہ جو خاموش رہنے والوں کے مدعا کو جانتا ہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میری دعا قبول فرما
وَاغْفِرْ ذَ نْبِی، وَأَوْسِعْ رِزْقِی، وَ اقْضِ حَوَائِجِی فِی نَفْسِی وَ إخْوانِی فِی دِینِی
میرے گناہ بخش دے میرے رزق میں فراخی پیدا کر دے میری اور میرے دینی بھائیوں اور میرے اہل خاندان کی
وَأَهْلِی إلهِی طُمُوحُ الاَْمالِ قَدْ خابَتْ إلاَّ لَدَیْکَ، وَمَعَاکِفُ الْهِمَمِ قَدْ تَعَطَّلَتْ إلاَّ
حاجات پوری فرما خدایا تیری مدد کے بغیر بڑی بڑی امیدیں نا تمام اور بلند ہمتیں بے فائدہ اور بے کار ہو جاتی ہیں
عَلَیْکَ وَمَذَاهِبُ الْعُقُولِ قَدْ سَمَتْ إلاَّ إلَیْکَ فَأَنْتَ الرَّ جَاءُ وَ إلَیْکَ الْمُلْتَجَأُ یَا أَکْرَمَ
اور تیری طرف توجہ کے بغیر عقلوں کی جولانیاں نارسا رہ جاتی ہیں پس تو ہی امید اور تو ہی پناہ گاہ ہے اے بزرگتر معبود !
مَقْصُودٍ، وَأَجْوَدَ مَسْؤُولٍ، هَرَبْتُ إلَیْکَ بِنَفْسِی یَا مَلْجَأَ الْهَارِبِینَ بِأَثْقالِ الذُّنُوبِ
اور سخی تر داتا اے پناہ لینے والوں کی پناہ گاہ میں اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ کہ جسے میں اپنی
أَحْمِلُهَا عَلَی ظَهْرِی، لاَ أَجِدُ لِی إلَیْکَ شَافِعاً سِوی مَعْرِفَتِی بِأَنَّکَ أَقْرَبُ مَنْ
پشت پر اٹھائے ہوئے ہوںتیری طر ف بھا گے ہو ئے آیا ہو ں تیر ے حضو ر میرا کو ئی سفا رشی نہیں سو ائے میری اس معرفت کے
رَجَاهُ الطَّالِبُونَ، وَأَمَّلَ مَا لَدَیْهِ الرَّاغِبُونَ، یَا مَنْ فَتَقَ الْعُقُولَ بِمَعْرِفَتِهِ
کہ تو اہل حا جت کی امیدوں کے بہت ہی قریب ہے اور رغبت کرنے وا لوں کو ڈھارس دیتا ہے اے وہ جس نے عقلوںکو اپنی
وَأَطْلَقَ الاَْلَسُنَ بِحَمْدِهِ، وَجَعَلَ مَا امْتَنَّ بِهِ عَلَی عِبَادِهِ فِی کِفَائٍ لِتَأْدِیَةِ حَقَّهِ صَلِّ
معرفت کیلئے کھولا زبانوں کو اپنی حمد پر رواں کیا اور بندوں کو اپنے حق کی ادائیگی کی ہمت دے کر ان پر احسان عظیم فرمایا ہے
عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَلاَ تَجْعَلْ لِلشَّیْطَانِ عَلَی عَقْلِی سَبِیلاً، وَلاَ لِلْباطِلِ عَلَی عَمَلِی دَلِیلاً
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور شیطان کومیر ی عقل میں آنے کی راہ نہ دے اور با طل کو میر ے عمل و کر دار میں دا خل نہ ہونے دے۔
صبح جمعہ کے طلوع ہونے کے بعد یہ دعا پڑھیں:أَصْبَحْتُ فِی ذِمَّةِ ﷲ، وَذِمَّةِ مَلائِکَتِهِ، وَذِمَمِ
میں نے صبح کی ہے خدا کی پنا ہ میں اور اس کے فرشتوں کے زیر حفاظت
أَنْبِیائِهِ وَرُسُلِهِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ،وَذِمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَذِمَمِ الْاَوْصِیائِ مِنْ آلِ
اور اس کے انبیائ اور رسل کے زیر حمایت کہ ان پر سلام ہو اور محمد رسو ل ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سپر داری میں اور ان کے جانشینوں کی نگرانی میں جو آل
مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ آمَنْتُ بِسِرِّ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ وَعَلاَنِیَتِهِمْ وَظَاهِرِهِمْ
محمد میں سے ہیں میں آل محمد کے راز پر اعتقاد رکھتا ہوں اور ان کے عیاں پر اور ان کے ظاہر
وَبَاطِنِهِمْ، وَأَشْهَدُ أَ نَّهُمْ فِی عِلْمِ ﷲ وَطَاعَتِه کَمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
اور ان کے باطن پر اور گواہی دیتا ہوں کہ وہ علم الہی کو جاننے اور اس کی فرمانبرداری میں حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مانند ہیں۔
روا یت ہے کہ جو شخص نما ز صبح سے پہلے تین مر تبہ یہ ورد کرے تو اسکے گنا ہ بخش دئیے جاتے ہیں چا ہے در یا کی جھاگ سے بھی زیا دہ ہی کیوں نہ ہوں :
أَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إلَیْهِ
میں اس خد اسے مغفر ت چاہتا ہو ں جسکے سو اکو ئی معبو د نہیں وہ ہمیشہ زند ہ و قائم ہے اسی کے حضو ر تو بہ کرتا ہوں۔
روز جمعہ کے اعما ل
روزجمعہ کے اعما ل بہت زیادہ ہیںاور یہا ں ہم ان میںسے چند ایک کاتذکر کرتے ہیں۔
( ۱ ) جمعہ کے دن نما زِ صبح کی پہلی رکعت میں سو رہ جمعہ اور دوسر ی رکعت میں سو رہ توحید پڑھیں:
( ۲ )نماز صبح کے بعد کسی سے با ت کر نے سے پہلے یہ دعا پڑ ھیں تا کہ اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک اسکے گنا ہوں کا کفارہ ہو جا ئے ۔
اَللّٰهُمَّ مَا قُلْتُ فِی جُمُعَتِی هَذِهِ مِنْ قَوْلٍ أَوْ حَلَفْتُ فِیها مِنْ حَلْفٍ أَوْنَذَرْتُ فِیها مِنْ نَذْرٍ
اے معبود میں نے اپنے اس جمعہ کے رو زجو با ت کہی یا اس میں کسی بات پر قسم کھائی ہے یا کسی طرح کی نذر و منت مانی ہے
فَمَشِیْءَتُکَ بَیْنَ یَدَیْ ذلِکَ کُلِّهِ فَمَا شِئْتَ مِنْهُ أَنْ یَکُونَ کَانَ، وَمَا لَمْ تَشَأْ مِنْهُ لَمْ یَکُنْ
تو یہ سب کچھ تیری مرضی کے تابع ہے پس ان میں سے جسکے پورا ہو نے میں تیری مصلحت ہے اسے پورا فرما اور جسے تو نہ چاہے پورا نہ کر
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی وَتَجاوَزْ عَنِّی اَللّٰهُمَّ مَنْ صَلَّیْتَ عَلَیْهِ فَصَلاَتِی عَلَیْهِ وَمَنْ لَعَنْتَ
اے معبود مجھے بخش دے اور مجھ سے در گزر فرما اے معبود جس پر تو رحمت کرے میں اس پر رحمت کا طالب ہوں اور جس پر تو لعنت کرے
فَلَعْنَتِی عَلَیْهِ
میری بھی اس پر لعنت ہے۔
ہر ما ہ کم ازکم ایک مرتبہ یہ عمل کر نا ضر وری ہے
رو ایت میں آیا ہے کہ جوشخص جمعہ کے دن نمازِ صبح کے بعد طلو ع آفتاب تک تعقیبات میں مشغو ل رہے تو جنت الفر دو س میں اسکے ستر درجا ت بلند کیے جائیں گے ۔شیخ طو سیرحمهالله سے رو ایت ہے کہ نماز جمعہ کی تعقیبا ت میں یہ دعا پڑھنا بہت بہتر ہے ۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی تَعَمَّدْتُ إلَیْکَ بِحَاجَتِی، وَأَ نْزَلْتُ إلَیْکَ الْیَوْمَ فَقْرِی وَفَاقَتِی وَمَسْکَنَتِیِ
اے معبود اپنی حاجت لے کر تیرے حضور آیا ہوں اور آج کے دن تیری جناب میں اپنے فقر و فاقہ اور بے چارگی کے ساتھ حا ضر
فَأَنَا لِمَغْفِرَتِکَ أَرْجٰی مِنِّی لِعَمَلِی، وَلَمَغْفِرَتُکَ وَرَحْمَتُکَ أَوْسَعُ مِنْ ذُ نُوبِی
ہوں تو اپنے عمل کی بجائے تیری بخشش و رحمت کی زیادہ امید رکھتا ہوں اور تیری بخشش و رحمت میرے گناہوں سے زیادہ وسعت
فَتَوَلَّ قَضاءَ کُلِّ حَاجَةٍ لِی بِقُدْرَتِکَ عَلَیْهَا وَتَیْسِیْرِ ذلِٰکَ عَلَیْکَ، وَ لِفَقْرِی إلَیْکَ
رکھتی ہے پس میری تمام حاجات پوری فرماکہ تو ایسا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور یہ تیرے لیے بہت ہی آسان اور میری احتیاج
فَ إنِّی لَمْ أُصِبْ خَیْراً قَطُّ إلاَّ مِنْکَ وَلَمْ یَصْرِفْ عَنِّی سُوئً قَطُّ أَحَدٌ سِوَاکَ، وَلَسْتُ
کیمناسب ہے کیونکہ میں تیری توفیق کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتا اور تیرے سوا مجھے برائی سے بچانے والا کوئی نہیں ہے اور میں اپنی
أَرْجُو لآِخِرَتِی وَدُنْیایَ وَلا لِیَوْمِ فَقْرِی یَوْمَ یُفْرِدُنِیَ النَّاسُ فِی حُفْرَتِی
دنیاو آخرت اور غربت وتنہائی کے بارے میں تیرے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتا اور نہ اس دن جس دن مجھے لوگ قبر میںاکیلا چھوڑ
وَأُفْضِی إلَیْکَ بِذَنْبِی سِوَاکَ
جائیں گے اور میں اپنے گناہوں میں تیرے سوا کسی کو کارساز نہیں سمجھتا۔
( ۳ )روایت ہے کہ جو شخص روزِ جمعہ یاغیر جمعہ بعد نماز فجر و ظہر یہ صلوات پڑھے تو وہ مرنے سے پہلے حضر ت قا ئم (عج) کا دیدار کریگا۔ جو یہ صلوا ت سو مر تبہ پڑ ھے تو حق تعا لیٰ اسکی سا ٹھ حاجات پوری کر ے گا۔ تیس حاجات دنیا میںاورتیس حاجات آخر ت میں۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ
اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور انکے آخری ظہور میں تعجیل فرما۔
( ۴ )نما ز فجر کے بعد سو رہ رحمن پڑھیں اورفَبِاَیِّ اٰلآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ کے بعد ہر دفعہ کہیں:لاَ بِشَْْْیئٍ مِّنْ اَلآئِکَ رَبِّ اُکَذِّبُ (میں تیری نعمتوں میں سے کسی بھی نعمت کی تکذیب نہیں کرتا)
( ۵ )شیخ طو سیرحمهالله کہتے ہیں، سنت ہے کہ روز ِجمعہ نمازِ فجر کے بعد سو مرتبہ درود پڑھیں اور سو مر تبہ استغفار کر یں نیز ان سو رتوں( نبا ئ،ہو د،کہف ، صا فات اور رحمن) میں سے کسی ایک کی تلاوت کریں۔
( ۶ )سو رہ احقا ف اور سو رہ مو منو ن پڑھیں جیسا کہ امام جعفر صادق -سے مروی ہے کہ جو شخص ہر شبِ جمعہ یا روزِ جمعہ سو رہ احقاف پڑھے گا تو وہ دنیا میں خوف و خطر سے محفو ظ رہے گااور قیا مت میں فزع اکبر (بڑی ہولناکی)سے امن میں ہو گا۔ نیز فرمایا کہ جو شخص ہر جمعہ کو پا بندی سے سو رہ مو منو ن پڑھے تو اسکے اعما ل کا خا تمہ خیر و نیکی پر ہو گا اور اسکا فر دوس بر یں میں انبیا ئ و مرسلین کیساتھ قیام ہو گا ۔
( ۷ )طلو ع آفتا ب سے قبل دس مرتبہ سو رہ کا فر ون پڑ ھیں اور پھر دعا کر یں تو وہ قبو ل ہو گی اور روایت میں ہے کہ امام زین العا بدین- صبحِ جمعہ سے ظہر تک آیت الکر سی پڑھا کرتے تھے اور جب نمازوں سے فارغ ہوتے تو بعد میں سو رہ قدر کی تلا وت شروع کر تے تھے ۔واضح رہے کہ جمعہ کے دن آیت الکر سی (علی التنزیل ) پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ علامہ مجلسی نے فرمایا ہے کہ علی ابن ابراہیم اور کلینی کی روایت کے مطابق علی التنزیل آیۃ الکرسی اس طرح ہے ۔
ﷲ لاَ إلَهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ لاَتَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَنَوْمٌ لَهُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ
ﷲ وہ ہے کہ جسکے سو اکو ئی معبو د نہیں وہ زند ہ ہے اور سا رے جہان کا مالک ہے اس کو نہ اونگھ آتی ہے نہ نیندجو کچھ آسمانوں میں ہے
وَمَا فِی الأَرْضِ
اور زمین میں ہے (سب ) اسی کی ملکیت ہے ۔
پھر ان الفاظ کی تلا وت کر یں:
وَمَابَیْنَهُمَا وَمَا تَحْتَ ثَریٰ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔
اور جو زمین اور آسما ن کے در میا ن ہے اور جو تحت الثریٰ میں ہے وہ پوشیدہ اور ظاہر ہے وہ آگاہ ہے وہ رحمن اور رحیم ہے۔
اس کے بعدمَنْ ذَالَّذِی ْسےهُمْ فِیْهَاخٰلِدُوْنَتک آیت الکر سی کو تمام کرے اور اسکے بعد وَالْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعالَمِیْنَ کہیں:
( ۸ )جمعہ کے روز غسل کرنا سنت موکدہ ہے روایت میں ہے کہ رسول ﷲ نے امیرالمومنین- سے فرما یا:یا علی! جمعہ کے دن غسل کیا کرو اگرچہ اس روز کی خوراک بیچ کر بھی پانی حاصل کرنا اور بھوکا رہنا پڑے کہ اس سے بڑی کوئی اور سنت نہیں ہے ۔امام جعفر صا دق - سے منقول ہے کہ جو شخص جمعہ کے رو ز غسل کر کے درج ذیل دعا پڑ ھے تو وہ آئندہ جمعہ تک گناہوں سے پاک ہو گا یا طہارت باطنی کی بدولت اسکے اعمال قبول ہونگے اس میں احتیاط یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے جمعہ کا غسل ترک نہ کرے اسکا وقت طلو ع فجر سے زوال آفتاب تک ہے اور زوال سے جتنا قریب ہو بہتر ہے
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو یکتا و لاثا نی ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اسکے بندے اور رسول ہیں
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍوَاجْعَلْنِی مِنَ التَّوَّابِینَ وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَهِّرِینَ
اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھے توبہ کرنے والوںاور پاکیزہ لوگوں میں سے قرار دے ۔
( ۹ )اپنے سر کو خطمی سے دھو ئے تو بر ص و دیو انگی سے محفو ظ رہے گا ۔
(۱۰) اس روز مو نچھیں اور نا خن کا ٹنے کی بڑ ی فضیلت ہے اس سے رزق میں وسعت ہو گی آئند ہ جمعہ تک گنا ہو ں سے پاک رہیگا اور بر ص و دیوانگی اور جزام سے محفو ظ رہیگا نا خن کا ٹتے وقت درج ذیل دعاپڑہے۔نیز ناخن کاٹنے میں بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر ختم کرے۔ پائوں کے ناخن کاٹنے میں بھی یہ ترتیب قائم رکھے اور کاٹے ہوئے ناخنوں کو دفن کرے ۔ :
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَعَلیٰ سُنْةِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
خدا کے نام اور اس کی ذات کے ذکر سے اور محمد آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سیرت کے مطابق عمل کرتا ہوں ۔
(۱۱)پاکیزہ لباس پہنے اور خوشبو لگائے ۔
(۱۲)صدقہ دے کیونکہ روایت میں ہے کہ شب جمعہ و روز جمعہ میں دیا ہوا صدقہ عام دنوں کے صدقے سے ہزار گنا زیادہ شمار ہوتا ہے ۔
(۱۳)اہل و عیال کیلئے اچھی چیزیں یعنی گوشت اور پھل وغیرہ خریدکر لائے تاکہ وہ جمعہ کی آمد سے خوش و شادمان ہوں ۔
(۱۴)ناشتے میں انار کھائے اور قبل از زوال کاسنی(ایک قسم کی جڑی بوٹی ہے) کے سات پتے کھائے اس ضمن میں امام موسی کا ظمعليهالسلام کا فرما ن ہے کہ رو ز جمعہ نا شتے میں ایک انار کھا نے سے چالیس دن تک دل نورانی رہیگا دو انار کھا نے سے اسی ۰۸ د ن اور تین انارکھانے سے ایک سو بیس ۰ ۱۲ دن دل نورانی رہیگا اور وسوسہ شیطانی کو اس سے دور کرے گا اور جس سے وسوسہ شیطان دور ہوجائے وہ خدا کی معصیت نہیں کرتا اور جو خدا کی معصیت نہ کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔مصبا ح میں شیخ کا ارشاد ہے کہ روایا ت میں شب جمعہ و روز جمعہ میں انار کھا نے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے ۔
(۱۵)جمعہ کے دن سیر و سیاحت ، لوگوں کے باغات اور زراعت میں تفریح ، غلط قسم کے لوگوں سے ملنے جلنے ،مسخرہ کرنے ، لوگوں کی عیب جوئی کرنے، قہقہہ لگا کر ہنسنے، لغو باتوں اور اشعار اور دیگر ناروا کام کرنے والوں سے دوری اختیار کرے کہ جنکی خرابیاں بیان نہیں کی جاسکتیں بلکہ اسکے بجا ئے خود کو دنیاوی کاموںسے بچا کر مسا ئل دینی کے سمجھنے اور انہیںیا د کرنے میں مصروف رکھے۔ امام جعفر صادقعليهالسلام فرماتے ہیں کہ اس مسلمان پر افسوس ہے جو سات دنوں میں (جمعہ کے دن بھی) خود کو مسائل دینی کی تعلیم حاصل کرنے میں مشغو ل نہیں رکھ سکا اور دنیا کے کاموں میں پھنسا رہا رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں کہ اگر تم لو گ جمعہ کے دن کسی بو ڑھے کو کفر و جاہلیت کے وا قعا ت اور قصے کہانیاں بیان کرتے دیکھو تو اس پر سنگ با ری کر دو۔
(۱۶)ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھیں جیسا کہ امام محمد با قر - فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک جمعہ کے دن محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درو د بھیجنے سے بہتر کوئی عبا دت نہیں ہے ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ اگر ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھنے کی فرصت نہ ہو تو کم ازکم ایک سو مرتبہ درود پڑھے تاکہ قیامت کے دن اسکا چہرہ منور ہو۔ روایت میں آیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن سو مرتبہ درود شریف سو مرتبہ اَسْتَغْفِرُﷲ رَبِّی وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ اور سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے تو اسکے گناہ معاف ہو جائیں گے ایک اور روایت میں ہے کہ جمعہ کے دن ظہر و عصر کے درمیا ن محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلو ات بھیجنا ستر حج کرنے کے برابر ہے ۔
(۱۷) رسو ل ﷲ اور آئمہ طاہرینکی زیارت پڑھے کہ جنکی کیفیت باب زیارات میں آئیگی ۔
( ۱۸)اپنے والدین اور دیگر مومنین کی قبروںکی زیارت کیلئے جائے کہ اسکی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے ۔ جیسا کہ امام محمد باقر - فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن مرُدوں کی زیارت کرو کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کون انکی زیارت کیلئے آیا ہے وہ خوش ہوتے ہیں۔
(۱۹)دعائے ندبہ پڑھیں اور یہ دعا چاروں عیدوں میں پڑھی جاتی ہے اور اسکا تذکرتیسرے باب میں آئیگا۔
(۲۰)جمعہ کے دن بیس رکعت نافلہ جمعہ کے علاوہ (کہ جنکے پڑھنے کا طریقہ مشہور علمائ کے نزدیک یہ ہے کہ چھ رکعت اس وقت پڑھے جب سورج خوب نکل آئے ،پھر چھ رکعت چاشت کے وقت اسکے بعد چھ رکعت زوال کے قریب اور دو رکعت زوال کے بعد فریضہ سے پہلے پڑھے یا یہ کہ پہلی چھ رکعت کو نماز جمعہ یا ظہر کے بعد اس طرح بجالائے جس طرح فقہائ کی کتابوں اور مصابیح میں ذکر ہے۔ اسکے علاوہ اور نمازیں بھی منقول ہیں جنکی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہاں ہم ان میں سے چند ایک نمازوں کا ذکر کرتے ہیں ،اگرچہ ان میں سے اکثر نمازیں جمعہ کے دن کیساتھ مخصوص نہیں ہیں۔لیکن جمعہ کے دن انکی ادائیگی کا ثواب یقینًا زیادہ ہے۔
پہلی نماز: یہ نماز کاملہ ہے چنانچہ شیخ ، سید ، شہید ، علامہ اور دیگر مشائخ نے معتبر سندوں کے ساتھ امام جعفر صادق -سے اور انہوں نے اپنے آبائ طاہرینعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ رسول ﷲ نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن زوال سے پہلے چاررکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں دس مرتبہ سورئہ حمد اور آیت الکرسی ، سورئہ کافرون ، سورئہ توحید ، سورئہ فلق اور سورئہ ناس میں سے ہرسورہ دس مرتبہ پڑھے ایک اور روایت کے مطابق انکے ساتھ سورئہ قدر اور آیت شَھِدَﷲ بھی دس دس مرتبہ پڑھے :یہ چار رکعت نماز پڑھنے کے بعد سو مرتبہ اَسْتَغْفِرُﷲ پڑھے اور سومرتبہ یہ پڑھے:
سُبْحَانَ ﷲ، وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله
پاک ہے خدا اور حمد خدا ہی کے لیے ہے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں اور خدا بزرگتر ہے اور نہیں کوئی قوت وطاقت مگر وہ جو خدائے
الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
بزرگ و برتر سے ہے
پھر سو مرتبہ درود پڑھے پس جو شخص اس عمل کو بجالائے تو خدا اسکو اہل آسمان ، اہل زمین کے شر اور شیطان کے شر سے نیزظالم حاکموں کے شر سے بھی محفوظ رکھے گا۔( روایت میںاسکے اور بھی فوائد اور فضیلتیں ذکر ہوئی ہیں)
دوسری نماز: حارث ہمدانی نے امیرالمومنین -سے روایت کی کہ اگر ممکن ہو تو جمعہ کے دن دس رکعت نماز پڑھے اور رکوع وسجود اچھی طرح بجا لائے ۔ اس دوران میں ہر رکعت کے بعد سومرتبہسُبْحَانَ ﷲ وَبِحَمْدِهٰ پڑھے، اس نماز کی بھی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔
تیسری نماز: معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ جمعہ کے دن دو رکعت نماز پڑھے کہ جسکی پہلی رکعت میں سورئہ ابراہیم اور دوسری رکعت میں سورئہ حجر کی تلاوت کرے،پس وہ پریشانی ودیوانگی بلکہ ہر بلاوآفت سے محفوظ رہے گا۔
نماز حضرت رسول ﷲ
سّیدا بن طاؤس نے معتبر سند کیساتھ امام علی رضا - سے روا یت کی ہے کہ آنجنا ب سے نمازِ جعفر طّیار کے متعلق سوال کیا گیا تو فرما یا :تم لوگ نماز ِرسول ﷲ سے کیو ں غا فل ہو؟ کیا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نمازِ جعفر طیار نہ پڑھی تھی ؟ اورکیا جعفر طّیار نے نمازِ رسول ﷲ نہ پڑھی تھی؟ راوی نے عر ض کی :مو لا !آپ ہمیں تعلیم فرما ئیں!حضر ت نے فرما یا کہ یہ دو رکعت نما ز ہے کہ ہر رکعت میں سُو ر ئہ حمد کے بعد پند رہ مر تبہ سُورہ قد ر پڑھو ۔ پھر ر کو ع اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ، پہلے سجدے میں اورسجد ے سے سر اُ ٹھانے کے بعد،پھر دوسرے سجدے میں اور اس سے سر اٹھانے کے بعد ہر ایک مقا م پر(۱۵) پندرہ مرتبہ سو رئہ قدر پڑھو۔پھرتشہد و سلا م پڑھو۔اس کے بعد خد ا اور بندے میں حا ئل ہر گنا ہ معا ف ہو جائیں گے اور ہر حاجت پو ری ہو جا ئے گی ۔نما ز سے فا ر غ ہو کر یہ دُعا پڑھیں:
لَاَ إلهَ إلاَّ ﷲ رَبُّنا وَرَبُّ آبائِنَا الْاَوَّلِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ إلهاً واحِداً وَنَحْنُ لَهُ
خدا کے سوا کوئی معبود نہیں جوہما را ا ور ہما رے گذشتہ اباؤ اجداد کا ر ب ہے خدا کے سوا کوئی معبود نہیںجو یکتا معبود ہے اور ہم اسکے
مُسْلِمُونَ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ لاَ نَعْبُدُ إلاَّ إیَّاهُ مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ
فرمانبردار ہیں خدا کے سوا کوئی معبود نہیںہم اسکی عبادت کرتے ہیں ہم اسی کے دین کیساتھ مخلص ہیں اگرچہ مشرکوں کو ناگوار
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ وَحْدَهُ وَحْدَهُ، أَ نْجَزَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَأَعَزَّ جُنْدَهُ
گذرے خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔جو یکتا ہے یکتا ہے یکتا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اسکے لشکر کو
وَهَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهُ فَلَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ
غالب کیا اور اکیلے ہی کئی گروہوں کو شکست دی حکو مت اسی کیلئے اور حمد اسی کیلئے ہے اور وہ ہر چیز پر اختیار رکھتا ہے اے معبود تو
نُورُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیهِنَّ فَلَکَ الْحَمْدُ وَأَنْتَ قَیَّامُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
آسمانوںاور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اسے منور کرنے و الا ہے پس حمد تیرے ہی لئے ہے اور آسمانوں اور زمین اور
وَمَنْ فِیهِنَّ فَلَکَ الْحَمْدُ وَأَ نْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ حَقٌّ وَ إنْجَازُکَ حَقٌّ
جو کچھ ان میں ہے تو اسے قا ئم رکھنے و الا ہے تو حمد تیر ے ہی لئے ہے تو حق اور تیر او عدہ حق ہے اور تیرا قو ل حق ہے تیرا عمل حق ہے
وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ اَللّٰهُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَبِکَ
جنت حق ہے اور جہنم حق ہے۔ اے معبود میں تیرا دلدادہ ہوں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوںتیری مدد
خَاصَمْتُ، وَ إلَیْکَ حَاکَمْتُ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ
سے دشمن کا مقابلہ کرتا ہوں اور تجھ سے فیصلہ چاہتا ہوں اے میرے رب اے میرے رب اے میرے رب میرے ا گلے پچھلے
وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إلهِی لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
گناہوں کو معاف کر دے چاہے وہ میں نے چھپائے ہوں یا ظاہراً کیے ہوں توہی میرا معبود ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل
وَاغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَتُبْ عَلَیَّ إنَّکَ أَ نْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ۔اور المتہجد میں ذکر ہوا ہے
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھے بخش د ے اور مجھ پر رحم فرما میری تو بہ قبول کر لے کہ بے شک تُو تو بہ قبو ل کرنے والا مہر با ن ہے۔
علا مہ مجلسیرحمهالله فرماتے ہیں کہ یہ نما ز چند مشہور نما زو ں میں سے ہے کہ جسکو عامہ و خا صہ نے اپنی کتا بوں میں در ج کیا ہے ۔بعض نے اسے رو ز جمعہ کی نمازوں میں شما ر کیا ہے۔لیکن روایت سے اختصاص معلوم نہیں ہوتا اور ظا ہر اًیہ نما ز سبھی دنو ں میں پڑھی جاسکتی ہے۔
نما ز حضرت ا میر المؤمنین
شیخ و سّید نے اما م جعفر صا دق - سے نقل کیا ہے کہ تم میں سے جو شخص چا ر رکعت نما ز امیرالمؤمنین- پڑھے گا تو وہ گنا ہوں سے اسطرح پاک ہو جا ئیگا جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور اسکی تما م حاجتیں بھی پوری ہو جائیں گی اس نماز کا طریقہ یہ ہے ہر رکعت میں ایک مرتبہ سُورہ حمد اور پچاس مرتبہ سُورہ توحید کی تلاوت کریں اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دُعا پڑھیں کہ جو حضرتعليهالسلام کی تسبیح بھی ہے:
سُبْحَانَ مَنْ لاَ تَبِیدُ مَعالِمُهُ، سُبْحانَ مَنْ لاَ تَنْقُصُ خَزائِنُهُ، سُبْحَانَ مَنْ لاَ اضْمِحْلالَ
پاک ہے وہ ذات جسکی نشانیاں مٹتی نہیں ہیں پاک ہے وہ ذات جسکے خزانے کم نہیں ہوتے پاک ہے وہ ذات جسکا فخر کمزور
لِفَخْرِهِ، سُبْحانَ مَنْ لاَ یَنْفَدُ مَا عِنْدَهُ، سُبْحَانَ مَنْ لاَ انْقِطَاعَ لِمُدَّتِهِ سُبْحَانَ مَنْ
نہیں پڑتا پاک ہے وہ ذات جسکے پاس جو کچھ ہے وہ ختم نہیں ہوتا پاک ہے وہ ذات جسکی مدت منقطع نہیں ہوتی پاک ہے وہ
لاَ یُشَارِکُ أَحَداً فِی أَمْرِهِ، سُبْحانَ مَنْ لاَ إلهَ غَیْرُهُ ۔پس اپنے لیے دعا مانگیں اور پھر کہیں:
ذات جسکے حکم میں کوئی شریک نہیںہے۔پاک ہے وہ ذات جسکے سوائ کوئی معبود نہیں ۔
یَا مَنْ عَفَا عَنِ السَّیِّئاتِ وَلَمْ یُجازِ بِهَا ارْحَمْ عَبْدَکَ یَا ﷲ، نَفْسِی نَفْسِی أَنَا
اے وہ جو گناہ گاروں سے در گزر کرتا ہے اور انہیں سزا نہیں دیتااپنے بندے پر رحم فرما اے اللہ مجھے میرے نفس امارہ سے بچا کہ
عَبْدُکَ یَا سَیِّدَاهُ، أَنَا عَبْدُکَ بَیْنَ یَدَیْکَ یَا رَبَّاهُ، إلهِی بِکَیْنُونَتِکَ یَا
اے میرے مالک میں تیرا بندہ ہوں جو تیرے سامنے حاضر ہوں اے پروردگار اے میرے معبود تجھے تیری ذات کا واسطہ ہے اے
أَمَلاَهُ، یَا رَحْمَانَاهُ یَا غِیَاثَاهُ، عَبْدُکَ عَبْدُکَ لاَ حِیلَةَ لَهُ یَا مُنْتَهی رَغْبَتَاهُ، یَا مُجْرِیَ
اے مرکزِ امید اے رحم کرنے والے اے پناہ دینے والے تیرا بندہ تیرا ہی بندہ ہے جو کوئی چارہ کار نہیں رکھتا اے آخری امیدگاہ اے
الدَّمِ فِی عُرُوقِ عَبْدِکَ، یَا سَیِّدَاهُ یَا مَالِکَاهُ أَیَا هُوَ أَیَا هُوَ یَا رَبَّاهُ،
اپنے بندے کی رگوں میں خون جاری کرنے والے اے اسکے سردار اے اسکے مالک اے وہ ذات اے وہ ذات اے پروردگار
عَبْدُکَ عَبْدُکَ لاَ حِیلَةَ لِی وَلاَ غِنیً بِی عَنْ نَفْسِی وَلاَ أَسْتَطِیعُ لَهَا ضَرّاً وَلاَنَفْعاً، وَلاَ
میں صرف تیرا بندہ ہوں میرا کوئی چارہ کار نہیںمیں اپنے نفس میں بے نیاز نہیں اور نہ اس کیلئے نفع ونقصان پہنچانے کے قابل ہوں
أَجِدُ مَنْ أُصَانِعُهُ، تَقَطَّعَتْ أَسْبَابُ الْخَدَائِعِ عَنِّی وَاضْمَحَلَّ کُلُّ مَظْنُونٍ عَنِّی أَفْرَدَنِی
میرا کوئی نہیں جس سے یہ با تیں کروں میرے فریب کاری کے سب ذرائع منقطع ہوگئے میرے سارے گما ن ماند پڑگئے
الدَّهْرُ إلَیْکَ فَقُمْتُ بَیْنَ یَدَیْکَ هذَا الْمَقامَ یَا إلهِی بِعِلْمِکَ کانَ هذَا کُلُّهُ
زمانے نے مجھے تیری بارگاہ میںتنہا چھوڑ دیاپس میں تیرے حضور اس مقام پر کھڑا ہوں اے معبود یہ سب کچھ تیرے علم میں ہے
فَکَیْفَ أَنْتَ صَانِعٌ بِی وَلَیْتَ شِعْرِی کَیْفَ تَقُولُ لِدُعَاءِی أَتَقُولُ نَعَمْ أَمْ تَقُولُ لاَ فَ إنْ قُلْتَ
پس اب تو مجھ سے کیا سلوک کرے گا ۔اے کاش میں جان لیتاکہ میری دعا پر تو نے کیا کہا کیا تو نے ہاں کہی ہے یا نہ کی ہے پس اگر تو
لاَ، فَیَا وَیْلِی یَا وَیْلِی یَا وَیْلِی یَا عَوْلِی یَا عَوْلِی یَا عَوْلِی، یَا شِقْوَتِی یَا شِقْوَتِی یَا شِقْوَتِی،
نے نہ کی ہے توہائے میری بربادی ہی بربادی ہے ہائے میری درماندگی درماندگی درماندگی ہائے میری بدبختی بدبختی بدبختی
یَا ذُ لِّی یَا ذُ لِّی یَا ذُلِّی، إلٰی مَنْ وَمِمَّنْ أَوْ عِنْدَ مَنْ أَوْ کَیْفَ أَوْ مَاذَا أَوْ إلٰی أَیِّ شَیْئٍ أَلْجَأُ
ہائے میری خواری خواری خواری کس کی طرف اور کس طرف سے یا کس کے پاس یا کیسے اور کہاں جائوں یا کس کی پناہ میں جائوں
وَمَنْ أَرْجُو وَمَنْ یَجُودُ عَلَیَّ بِفَضْلِهِ حِینَ تَرْفُضُنِی یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ وَ إنْ قُلْتَ نَعَمْ،
کس سے امید لگائوں کون مجھ پر فضل و کرم کرے گا جب تو نے مجھے چھوڑ دیا ہو اے و سیع بخشش کے مالک اور اگر تو نے میرے
کَمَا هُوَ الظَّنُّ بِکَ وَالرَّ جَاءُ لَکَ، فَطُوبٰی لِی أَ نَا السَّعِیدُ وَأَنَا الْمَسْعُودُ، فَطُوبٰی لِی
جواب میں ہاں کی جسکا مجھے تجھ سے گمان اور تجھ سے امید ہے تو میرا حال کیا ہی اچھا ہے میں نیک بخت اور خوش نصیب ہوںتومیرا
وَأَنَا الْمَرْحُومُ، یَا مُتَرَحِّمُ یَا مُتَرَئِّفُ یَا مُتَعَطِّفُ یَا مُتَجَبِّرُ
حال کیا ہی اچھا ہے کہ میںرحمت شدہ ہوں اے رحمت والے اے مہربان اے دلجوئی کرنے والے اے کمی پوری کرنے والے
یَا مُتَمَلِّکُ یَا مُقْسِطُ، لاَعَمَلَ لِی أَبْلُغُ بِهِ نَجَاحَ حَاجَتِی، أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی
اے حکومت کرنے والے اے معا ف کرنے والے میں کوئی ا یسا عمل نہیں کرتا جسکے ذریعے اپنی مراد کو پہنچ سکوں میں تیرے اس
جَعَلْتَهُ فِی مَکْنُونِ غَیْبِکَ وَاسْتَقَرَّ عِنْدَکَ فَلاَ یَخْرُجُ مِنْکَ إلَی شَیْئٍ سِوَاکَ،
نام کے واسطے سوال کرتا ہوں جسے تو نے پردئہ غیب میں پوشیدہ رکھا کہ تیرے پاس محفوظ ہے وہ تیرے سوا کسی چیز کی طرف اپنا رخ
أَسْأَلُکَ بِهِ وَبِکَ وَبِهٰ فَ إنَّهُ أَجَلُّ وَأَشْرَفُ أَسْمائِکَ،
نہیں کرتامیں اسی نام کے واسطے سے اور تیری ذات اور اس نام کے واسطے سوال کرتا ہوں جو تیرے ناموں میں بزرگ و برتر ہے
لاَ شَیْءَ لِی غَیْرُ هذَا وَلاَ أَحَدَ أَعْوَدُ عَلَیَّ مِنْکَ، یَا کَیْنُونُ یَا مُکَوِّنُ،
اسکے علاوہ کچھ بھی میرے پاس نہیں تیری ذات کے علا وہ کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے اے وہ کہ از خود موجو د اور وجود ینے والا ہے
یَا مَنْ عَرَّفَنِی نَفْسَهُ، یَا مَنْ أَمَرَنِی بِطَاعَتِهِ، یَا مَنْ نَهَانِی عَنْ مَعْصِیَتِهِ، وَیَا
اے وہ جس نے خود کو مجھے پہنچوایا اے وہ جس نے مجھے اپنی اطاعت کا حکم دیا اے وہ جس نے اپنی نافرمانی سے مجھے روکا ہے اے
مَدْعُوُّ یَا مَسْؤُولُ، یَا مَطْلُوباً إلَیْهِ رَفَضْتُ وَصِیَّتَکَ الَّتِی أَوْصَیْتَنِی
وہ جسے خد ا پکاراجاتا ہے اے وہ جس سے سوال کیا جاتا ہے جس سے مانگا جاتاہے جوہدایت تو نے مجھے فرمائی میں نے اس پر
وَلَمْ أُطِعْکَ، وَلَوْ أَطَعْتُکَ فِیَما أَمَرْتَنِی لَکَفَیْتَنِی مَا قُمْتُ إلَیْکَ فِیهِ، وَ
عمل نہیں کیا اور تیری اطاعت نہیں کی اگر میں تیرے حکم پر عمل پیراہوتا تو اس مقصد میں تو کافی تھا جس کیلئے میں حا ضر ہواہوں اور
أَنَا مَعَ مَعْصِیَتِی لَکَ راجٍ فَلاَ تَحُلْ بَیْنِی وَبَیْنَ مَا رَجَوْتُ، یَا مُتَرَحِّماً لِی
میں تیری نافرمانی کرکے بھی تجھ سے امید رکھتا ہوں پس تو میرے اور میری امید کے درمیان حائل نہ ہو اے مجھ پر رحم کرنے والے
أَعِذْنِی مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی وَمِنْ فَوْقِی وَمِنْ تَحْتِی، وَمِنْ کُلِّ جِهَاتِ
مجھے پناہ میں رکھ۔ میرے آگے، میرے پیچھے ،میرے اُوپر اور میرے نیچے غرض ہر طرف سے جو مجھے
الْاِحَاطَةِ بِی اَللّٰهُمَّ بِمُحَمَّدٍ سَیِّدِی، وَبِعَلِیٍّ وَلِیِّی، وَبِآلاَءِمَّةِ الرَّاشِدِینَ عَلَیْهِمُ
گھیرے ہوئے ہے اے معبود تجھے واسطہ میرے آقا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا میرے ولی علیعليهالسلام اور ہدایت یافتہ اماموںعليهالسلام کا ان پر درود
اَلسَّلاَمُ اجْعَلْ عَلَیْنا صَلاَتَکَ وَرَأْفَتَکَ وَرَحْمَتَکَ وَأَوْسِعْ عَلَیْنَا مِنْ رِزْقِکَ، وَاقْضِ
اور سلام ہو کہ ہم پر اپنی رحمت مہربانی اور اپنا فضل و کرم فرما اور ہم پر اپنا رزق کشادہ کر دے اور ہمارے قرضے
عَنَّا الدَّیْنَ وَجَمِیعَ حَوَائِجِنا یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
ادا کر دے اور سب حاجتیں پوری فرما۔ یااللہ یااللہ یااللہ بے شک توہر چیز پر قادر ہے۔
حضرت فرماتے ہیں کہ جو شخص اس نما ز کے بعد مذکورہ بالا دُعا پڑھے تو خدا تعالی اسکے تمام گناہ معا ف فرما دیتا ہے۔ مؤلف کہتے ہیں شب جمعہ و روزِجمعہ میں اس چا ر رکعت نما ز کی فضیلت بہت سی حد یثو ں میں وا رد ہو ئی ہے اگر نما ز کے بعد اَللَّھُمَّ صَلِّیْ عَلیٰ النَبِیِ الْعَرَبِیِ وَآلِہٰ(اے معبودنبی عر بی اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما)کہیںتو اسکے سا بقہ و آئندہ گناہ معاف ہو جائیں گے اور وہ ایسے ہوگا کہ گویا اس نے بارہ مرتبہ قرآن ختم کیا ہے نیزخدا قیا مت کی بھوک پیاس کو اس سے دور کر دے گا۔
نما ز حضرت فا طمہ
رو ایت میں ہے کہ جبر ائیل نے حضر ت فا طمہ زہرا =کودو رکعت نما ز تعلیم فرمائی کہ جسکی تر کیب یہ ہے پہلی رکعت میں سُو رئہ حمد کے بعد سو مرتبہ سُو رئہ قدر اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سو مرتبہ سُو رئہ تو حید پڑھیں جنا ب سّیدہ اس نما ز کے بعد یہ دُ عا پڑھتی تھیں:
سُبْحَانَ ذِی الْعِزِّ الشَّامِخِ الْمُنِیفِ، سُبْحَانَ ذِی الْجَلاَلِ الْباذِخِ الْعَظِیمِ،سُبْحَانَ
پاک ہے وہ ذات جو اعلی و بلند عزت کی مالک ہے پاک ہے وہ ذات جو اعلی و ارفع جلالت کی مالک ہے پاک ہے
ذِی الْمُلْکِ الْفَاخِرِ الْقَدِیمِ سُبْحَانَ مَنْ لَبِسَ الْبَهْجَةَ وَالْجَمَالَ، سُبْحَانَ مَنْ تَرَدّیٰ
وہ ذات جو قدیم و عزیم سلطنت کی مالک ہے پاک ہے وہ جس نے حُسن و جمال کا لباس پہنا پاک ہے وہ ذات جس نے نور اور
بِالنُّورِ وَالْوَقَارِ، سُبْحَانَ مَنْ یَرَیٰ أَثَرَ النَّمْلِ فِی الصَّفَا، سُبْحَانَ مَنْ یَرَیٰ وَقْعَ
وقار کی چادر اوڑھی ہوئی ہے پاک ہے وہ جو چٹیل پتھر پر چیونٹی کا نقش پا دیکھ لیتی ہے پاک ہے وہ جو ہوا میں پرندوں
الطَّیْرِ فِی الْهَوَائِ، سُبْحَانَ مَنْ هُوَ هَکَذَا لاَ هَکَذَا غَیْرُهُ
کے نشان دیکھ لیتاہے پاک ہے وہ جو ایسا ہے اور کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے۔
سید فرما تے ہیں کہ ایک اور روایت کے مطابق نماز کے بعد ہر نماز کے بعد پڑھی جانے والی تسبیحِ حضرت فاطمہ= پڑھیں ،پھر سو مرتبہ درود شریف پڑھیں ۔مصبا ح المتہجدین میں شیخ فرماتے ہیں کہ نماز حضرت فاطمہ= دو رکعت ہے اور اسکی تر کیب یہ ہے پہلی رکعت میں سُورئہ حمد کے بعد سو مرتبہ سُورئہ قدر اور دوسری رکعت میں سُورئہ حمد کے بعد سو مرتبہ سُورہ تو حید پڑھیں، سلا م کے بعد تسبیح حضرت فاطمہ= پڑھیں اور پھر مذکورہ دعا (سبحان ذی العز الشامخ.الخ پڑھیں)پھر فرمایا جو شخص یہ نماز بجالائے وہ مذکو ر تسبیح سے فا رغ ہو نے کے بعد اپنے گھٹنے اور کہنیاں برہنہ کرے تما م اعضائ سجدئہ زمین پر رکھے کہ کوئی چیز حتی کہ کپڑا بھی حائل نہ ہو ،ایسے میں اپنی حاجت طلب کرے اور پھر جو دُ عا چا ہے مانگے اور پھر سجدہ میں کہے:
یَا مَنْ لَیْسَ غَیْرَهُ رَبٌّ یُدْعیٰ، یَا مَنْ لَیْسَ فَوْقَهُ إلهٌ یُخْشیٰ، یَا مَنْ
اے وہ ذات جسکے سوا کوئی رب نہیں جسے پکاراجا ئے ۔اے وہ ذات جس سے اُوپرکوئی معبود نہیں جس کا خوف ہو۔اے وہ ذات
لَیْسَ دُونَهُ مَلِکٌ یُتَّقیٰ، یَا مَنْ لَیْسَ لَهُ وَزِیرٌ یُؤْتیٰ، یَا مَنْ لَیْسَ لَهُ
جسکے سوا کوئی بادشاہ نہیں جسکا ڈر ہو۔ اے وہ ذات جسکا کوئی وزیر نہیں جس سے رابطہ کیا جائے۔ اے وہ ذات جسکا کوئی محافظ نہیں
حَاجِبٌ یُرْشیٰ، یَا مَنْ لَیْسَ لَهُ بَوَّابٌ یُغْشیٰ، یَا مَنْ لاَ یَزْدَادُ عَلَی کَثْرَةِ السُّؤالِ
جسکو رشوت دی جائے۔ اے وہ ذات جسکا کوئی دربان نہیں جو مانع ہو۔ اے وہ ذات کہ کثرت سوال سے جسکی عطا وبخشش میں
إلاَّ کَرَماً وَجُوداً، وَعَلَی کَثْرَةِ الذُّنُوبِ إلاَّ عَفْواً وَصَفْحاً، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اضافہ ہوتا ہے اور گناہوں کی کثرت سے جسکے عفو و درگذر میں وسعت آتی ہے۔ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور
مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِی کَذَا وَکَذَا،۔ کذا کذا کی بجائے اپنی حاجات طلب کرئے ۔
میری یہ حاجت پوری فرما ۔
حضر ت فا طمہ ز ہرا کی ایک اور نما ز
شیخ و سّید نے صفوان سے روایت کی ہے کہ جمعہ کے دن محمد ابنِ علی حلبی امام جعفرصا دق - کی خدمت میں شرفیاب ہوئے تو عرض کی :مولا !مجھے کوئی ایسا عمل تعلیم فرما ئیں جو آج کے دن سب سے بہتر ہو حضرت نے فرمایا:میں نہیں سمجھتاکہ رسُول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک کوئی حضرت فاطمہعليهالسلام سے بڑ ھ کر عزیز ہو ۔ پس حضر ت رسو ل نے جو تعلیم ان کو دی ہو اس سے افضل کیا چیز ہوگی؟ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جنا ب فا طمہعليهالسلام سے فرما یا کہ جو جُمعہ کی صبح کو درک کرے تو وہ غسل کرے اور چار رکعت نما ز (دو دو کرکے) اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں حمد کے بعد پچاس مرتبہ سُورہ توحید اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد پچاس مرتبہ سُورہ عادیات،تیسری رکعت میں حمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ زلزال اور چوتھی رکعت میں حمد کے بعد پچاس مرتبہ سُورئہ نصر پڑھے ۔یہ نزولِ قرآن کے سلسلے کا آخر ی سُورہ ہے جب نماز سے فارغ ہو جائے تو یہ دُعا پڑھے:
إلهِی وَسَیِّدِی مَنْ تَهَیَّأَ أَوْ تَعَبَّأَ أَوْ أَعَدَّ أَوِ اسْتَعَدَّ لِوِفَادَةِ مَخْلُوقٍ رَجَاءَ رِفْدِهِ وَفَوَائِدِهِ
اے میرے خدا اور میرے سردا ر جو کوئی آمادہ و تیار ہو یا کمربستہ ہو یا اُٹھ کھڑا ہو کہ کسی مخلوق کی طرف انعام کی اُمید، فوائد
وَنَائِلِهِ وَفَوَاضِلِهِ وَجَوائِزِهِ فَ إلَیْکَ یَا إلهِی کَانَتْ تَهْیِیَتِی وَتَعْبِیَتِی وَ إعْدَادِی
اور بخشش کی طلب اور عطا وسخاوت کے حصول کیلئے جاسکے تو بھی اے میرے معبود! میری آمادگی میری تیاری میری کمربستگی
وَاسْتِعْدَادِی رَجَاءَ فَوَائِدِکَ وَمَعْرُوفِکَ وَنَائِلِکَ وَجَوَائِزِکَ فَلا تُخَیِّبْنِی مِنْ ذلٰکَ
اور میرا اُٹھنا تیری نعمتوں اور تیری عطا وبخشش اور انعام کی اُمید پر ہے تو اے خدا مجھے اس میں ناکام نہ کر،
یَا مَنْ لاَ تَخِیبُ عَلَیْهِ مَسْأَلَةُ السَّائِلِ، وَلاَ تَنْقُصُهُ عَطِیَّةُ نَائِلٍ، فَ إنِّی لَمْ آتِکَ بِعَمَلٍ
اے وہ جو مانگنے والوں کے مانگنے سے تنگ نہیں ہوتا اور جسکے ہاں عطائ و سخائ سے کمی نہیں آتی۔ میں تیرے حضور اپنے کسی عمل
صَالِحٍ قَدَّمْتُهُ، وَلاَ شَفَاعَةِ مَخْلُوقٍ رَجَوْتُهُ، أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِشَفَاعَتِهِ إلاَّ مُحَمَّداً وَأَهْلَ
خیر کی و جہ سے نہیں آیا جو میں نے آگے بھیجا ہو نہ میں کسی مخلوق کی سفارش لا یا ہوںکہ اسکے ذریعے تیرا تقرب حاصل کروں ہاں محمد و
بَیْتِهِ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ وَعَلَیهِمْ، أَتَیْتُکَ أَرْجُو عَظِیمَ عَفْوِکَ الَّذِی عُدْتَ بِهِ عَلَی
آلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کہ ان پر تیری رحمتیں ہوں انکی سفارش کے ساتھ تیرے پاس تیرے عظیم عفو کی امید لے کر آیا ہوں جسکے ذریعے تُو نے
الْخَطَّائِینَ عِنْدَ عُکُوفِهِمْ عَلَی الَْمحَارِمِ، فَلَمْ یَمْنَعْکَ طُولُ عُکُوفِهِمْ عَلَی الَْمحَارِمِ أَنْ
خطاکاروں کو معاف فرمایا جبکہ وہ گناہوں میں غلطاں تھے اور انکا ایک عرصے تک گناہوں میں رہنا ان پر تیرے کرم اور
جُدْتَ عَلَیْهِمْ بِالْمَغْفِرَةِ وَأَنْتَ سَیِّدِی الْعَوَّادُ بِالنَّعْمَائِ وَأَنَا الْعَوَّادُ بِالخَطَائِ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ
بخشش میں مانع نہیں ہوسکا اور اے میرے سردار تو بار بار نعمتیں دینے والا اور میں بار بار خطا کرنے والا ہوں۔ میں حضرت محمد
مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ، أَنْ تَغْفِرَ لِی ذَ نْبِیَ الْعَظِیمَ، فَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الْعَظِیمَ إلاَّ الْعَظِیمُ،
اور انکی پاک آلعليهالسلام کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میرے بڑے گناہ کو معاف فرما کیونکہ عظیم گناہ کو عظیم ہستی ہی معاف کرسکتی ہے
یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ
اے بزرگ،اے عظیم، اے برتر، اے بزرگ،اے عظیم، اے برتر، اے عظیم۔
مؤلف کہتے ہیں کہ سّیدابنِ طا ؤس نے جمال الا سبو ع میں ائمہ میں سے ہر ایک کی نماز و دُعا نقل کی ۔پس منا سب ہو گا کہ یہاں ا ن نما زوں اور دُعا ئو ں کا ذکر کر د یا جا ئے۔
نماز امام حسن و حسین
نما زا مام حسن -
جمعہ کے دن،امیرا لمومنین - کی نماز کی طرح یہ بھی چار رکعت نمازہے۔اسی طرح امام حسن -کی ایک اور چار رکعتی نماز بھی ہے جسکی ہررکعت میں حمد کے بعد پچیس مرتبہ سُورہ توحید کی تلاوت کریں اور نمازکے بعد حضرت کی یہ دُعا پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ وَأَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ
اے معبود میں تیرے جود وکرم کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوںاور میں تیرے بندے اور رسول محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے
وَأَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِمَلاَئِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ وَأَ نْبِیائِکَ وَرُسُلِکَ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
ذریعے تجھ سے تقرب چاہتا ہوں اور میں تیرے مقرب ملائکہ اور تیرے نبیوںاور رسولوں کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوں ۔اے
عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تُقِیلَنِی عَثْرَتِی، وَتَسْتُرَ عَلَیَّ ذُ نُوبِی
اللہ تو اپنے بندے اور رسول حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما۔اور میری خطا معاف فرما دے ۔میرے گناہوں کی پردہ
وَتَغْفِرَهَا لِی، وَتَقْضِیَ لِی حَوَائِجِی، وَلاَ تُعَذِّبْنِی بِقَبِیحٍ کَانَ مِنِّی، فَ إنَّ عَفْوَکَ
ڈال اور انہیں معاف کر دے۔ میری حا جت پوری فرما اور جو بری حرکت مجھ سے ہوئی ہے اس پر مجھے عذاب نہ کر۔بے شک
وَجُودَکَ یَسَعُنِی، إنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
تیرا عفو اور تیرا جود میرے شامل حال ہے۔ یقینا توہر چیز پر قادر ہے۔
نما ز اما م حسین -
یہ بھی چا ر ر کعت نما ز ہے جسکی ہر ر کعت میں سُورہ حمد اور سُو رہ تو حید پچاس پچا س مرتبہ، اسی طرح دس دس مرتبہ سُو رہ حمد و تو حید کو رکوع ، رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہو کر،پہلے سجدے ، دونوں سجدوں کے درمیان اور دوسرے سجد ے میں پڑھیں اور نما ز سے فا ر غ ہو کر ہے یہ دعا پڑھیں:اَللَّھُمَّ اَنْتَ الَّذِیْ اسْتَجَبْتَ لِآدَمَ وَحَوَائتاآخر ۔ یہ دعا کچھ طویل ہے جو مکمل طور پر ملحقات دوم مفاتیح الجنان میں ملاحظہ فرمائی جا سکتی ہے ۔
نما ز اما م زین العا بد ین -
یہ بھی چا ر رکعت نما ز ہے جسکی ہر رکعت میں ایک مرتبہ سُو رہ حمد اور سو مرتبہ سُورہ توحید پڑھیں اور نما ز کے بعد حضرت -کی یہ دعا پڑھیں:
یَا مَنْ أَظْهَر الْجَمِیلَ وَسَتَرَ الْقَبِیحَ، یَا مَنْ لَمْ یُؤْاخِذْ بِالْجَرِیرَةِ، وَلَمْ یَهْتِکِ السِّتْرَ،
اے وہ جو اچھائی کو ظاہر اور برائی کو چھپاتا ہے اور وہ جو گناہ پر نہیں پکڑتا اورپردہ فاش نہیں کرتا
یَا عَظِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ، یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ، یَا بَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَةِ،
اے عظیم عفو والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے وسیع مغفرت والے اے رحمت کرنے کیلئے دونوں ہاتھ کھلے رکھنے والے
یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْویٰ، یَا مُنْتَهیٰ کُلِّ شَکْویٰ، یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ، یَا عَظِیمَ الرَّجَائِ،
اے ہر بھید کے جاننے والے اے تمام شکایتوںکی آخری بارگاہ اے چشم پوشی کرنے والے مہربان اے سب سے بڑی امیدگاہ اے
یَا مُبْتَدِئاً بِالنِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقاقِها، یَا رَبَّنا وَسَیِّدَنا وَمَوْلاَنا، یَا غَایَةَ رَغْبَتِنا،
کسی کے حقدار ہو نے سے پہلے نعمتیں دینے والے اے ہمارے رب اے ہمارے سردار اے ہمارے آقااے ہماری رغبت کی انتہا
أَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے اللہ میں سوال کرتا ہوں کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلِ محمدعليهالسلام پر اپنی رحمت نازل فرما ۔
نما ز حضرت امام محمد با قر -
یہ دو رکعت نماز ہے کہ جس کی ہر رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سو ۰ ۱۰ مرتبہ یہ کہیں:
سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ
پاک ہے ﷲ اور حمد ﷲ ہی کے لیے ہے اور ﷲ کے سوا کوئی معبودنہیںاور ﷲ بزرگتر ہے۔
نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں :اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ یَا حَلِیمٌ ذُو أَنَاةٍ غَفُورٌ وَدُودٌ أَنْ
اے معبود! اے بردبار اے صاحب بخشش اے محبت کرنے والے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ
تَتَجاوَزَ عَنْ سَیِّءَاتِی وَمَا عِنْدِی بِحُسْنِ مَا عِنْدَکَ، وَأَنْ تُعْطِیَنِی مِنْ عَطَائِکَ مَا
میرے گناہوں سے درگزر فرما اور جو کچھ میرے پاس ہے تجھی سے ہے اور مجھے اپنی عطا سے اتنا دے کہ جس میں میرے
یَسَعُنِی، وَتُلْهِمَنِی فِیمَا أَعْطَیْتَنِی الْعَمَلَ فِیهِ بِطَاعَتِکَ وَطَاعَةِ رَسُولِکَ، وَأَنْ
لئے وسعت ہو اور جو کچھ مجھے دے اس میں اپنی اور اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت وپیروی کے لیے توفیق عمل
تُعْطِیَنِی مِنْ عَفْوِکَ مَا أَسْتَوْجِبُ بِهِ کَرَامَتَکَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ وَلاَ تَفْعَلْ
بھی مرحمت فرما اور مجھ سے ایسا عفوودرگزر فرما جس سے میں تیرے فضل وکرم کے لائق ہو جائوں اے معبود! مجھ پر وہ عطا کر جس کا تو
بِی مَا أَ نَا أَهْلُهُ فَ إنَّمَا أَ نَا بِکَ، وَلَمْ أُصِبْ خَیْراً قَطُّ إلاَّ مِنْکَ، یَا أَبْصَرَ الْاَ بْصَرِینَ،
اہل ہے اور مجھ سے وہ برتائو نہ کر کہ جسکا میں اہل ہوں پس میں تیری وجہ سے زندہ ہوں اور مجھے تیرے سوا کسی سے بھلائی نہیں مل
وَیَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، وَیَا أَحْکَمَ الْحَاکِمِینَ، وَیَا جَارَ الْمُسْتَجِیرِینَ، وَیَا
سکتی اے دیکھنے والوں سے بڑھ کر دیکھنے والے اورسننے والوں سے بڑھ کر سننے والے اور حاکموں سے بڑھ کر حکم کرنے والے اور
مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے پناہ دینے والوں کی پناہ گاہ اور لاچاروں کی دعا قبول کرنے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما۔
نماز حضرت امام جعفر صادق -
یہ دو رکعت نما ز ہے جسکی ہر ایک ر کعت میں سُورہ حمد کے بعد سو مرتبہ آ یت شَھِدَ ﷲ کی تلاو ت کریں اور نما ز کے بعد حضرت کی یہ دُ عا پڑ ھیں:
یَا صَانِعَ کُلِّ مَصْنُوعٍ، یَا جَابِرَ کُلِّ کَسِیرٍ، وَیَا حَاضِرَ کُلِّ مَلاَئٍ، وَیَا شَاهِدَ کُل
اے ہربنی ہوئی چیز کے بنانے والے اے ہر شکستہ کو جوڑنے والے اور اے ہر گروہ میں موجود رہنے والے اور اے
نَجْویٰ، وَیَا عَالِمَ کُلِّ خَفِیَّةٍ، وَیَا شَاهِداً غَیْرَ غَائِبٍ، وَغالِباً غَیْرَ
ہر راز کے شا ہد و گواہ اور اے ہر چھپی ہوئی چیز کے جاننے والے اور اے وہ حاضر جو کبھی غائب نہیں ہوتا اے وہ غالب
مَغْلُوبٍ، وَیَا قَرِیباً غَیْرَ بَعِیدٍ، وَیَا مُؤنِسَ کُلِّ وَحِیدٍ، وَیَا حَیُّ مُحْیِیَ الْمَوْتیٰ،
جو کبھی مغلوب نہیں ہوتا اے وہ قریب جو کبھی دور نہیں ہوتا اے ہر اکیلے کے ساتھ رہنے والے اور اے وہ زندہ جو مردوں کو
وَمُمِیتَ الْاَحْیَائِ، الْقائِمُ عَلی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ، وَیَا حَیَّاً حِینَ لاَ حَیَّ،
زندہ کرتا ہے اور زندوں کو موت دیتا ہے ہر نفس کو اسکے کئے کا بدلہ دینے والے اے اس و قت زندہ رہنے والے جب کوئی زندہ نہ
لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
ہو گا۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما۔
نماز حضرت امام موسٰی کاظم -
یہ دو رکعت ہے جسکی ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ حمد اوربارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھیں۔ نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں :
إلهِی خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لَکَ، وَضَلَّتِ الْاَحْلاَمُ فِیکَ، وَوَجِلَ کُلُّ شَیْئٍ مِنْکَ،
اےمعبود! تیری بارگاہ میں آوازیں لرز جاتی ہیں اورتیرےحضورمیں تصورات گم ہوجاتے ہیں ہرچیز تجھ سے خوف کھاتی ہے اورہر
وَهَرَبَ کُلُّ شَیْئٍ إلَیْکَ، وَضَاقَتِ الْاَشْیَائُ دُونَکَ، وَمَلاََ کُلَّ شَیْئٍ نُورُکَ، فَأَنْتَ
چیز تیری طرف دوڑ رہی ہے تمام اشیائ تیرے سامنے ہیچ ہیں اور تیرے نور نے ہر چیز کو
الرَّفِیعُ فِی جَلاَلِکَ، وَأَ نْتَ الْبَهِیُّ فِی جَمَالِکَ ، وَأَ نْتَ الْعَظِیمُ فِی قُدْرَتِکَ، وَأَ نْتَ
گھیر لیا ہے پس تو اپنے جلال میں بلندتر ہے اور تو اپنے جمال میں روشن تر ہے تو اپنی قدرت میں بزرگتر ہے اور تو
الَّذِی لاَ یَؤُودُکَ شَیْئٌ یَا مُنْزِلَ نِعْمَتِی، یَا مُفَرِّجَ کُرْبَتِی، وَیَا قَاضِیَ حَاجَتِی،
ہی وہ ہے جسے کوئی چیز تھکاتی نہیں اے مجھ پر نعمت نازل کرنے والے اے میرے دکھ دور کرنے والے اور اے میری حا جت برلانے
أَعْطِنِی مَسْأَلَتِی بِلاَ إلٰهَ إلاَّ أَ نْتَ، آمَنْتُ بِکَ مُخْلِصاً لَکَ دِینِی، أَصْبَحْتُ عَلَی
والے میری خواہش پوری کر دے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ پر ایمان لایا ہوں تیرے دین میں مخلص ہوں میں نے تیرے
عَهْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَبُوئُ لَکَ بِالنِّعْمَةِ، وَأَسْتَغْفِرُکَ مِنَ الذُّنُوبِ
عہد وپیما ن پر قائم رہتے ہوئے صبح کی ہے اپنی حد تک تیری نعمتیں سمیٹ رہا ہوں میں اپنے گناہوں پر تجھ سے بخشش کا طلبگار ہوں
الَّتِی لاَ یَغْفِرُها غَیْرُکَ، یَا مَنْ هُوَ فِی عُلُوِّهِ دَانٍ، وَفِی دُنُوِّهِ عَالٍ، وَفِی إشْرَاقِهِ
جنکو سوائے تیرے کوئی معاف نہیں کر سکتا اے وہ جو اپنی بلندی میں نزدیک اور نزدیکی میں بلندہے
مُنِیرٌ، وَفِی سُلْطَانِهِ قَوِیٌّ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
اور روشنی میں منور کرنے والا ہے اور سلطنت میں قوی ہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلِ محمدعليهالسلام پر رحمت فرما۔
نماز حضرت امام علی رضا-
یہ چھ رکعت نماز ہے،جسکی ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورئہ حمد اوردس مرتبہ سورہ انسان (هَل اَتیٰ عَلیٰ الانسَانِ ) پڑھیں ۔ نماز کے بعد یہ دُعا پڑھیں:
یَا صَاحِبِی فِی شِدَّتِی وَیَا وَ لِیِّی فِی نِعْمَتِی، وَیَا إلهِی وَ إلهَ إبْراهِیمَ وَ إسْمَاعِیلَ
اے میری تنگی میں میرے ساتھی اے نعمت میں میرے سرپرست اور اے میرے معبود! اور ابراہیمعليهالسلام و اسماعیلعليهالسلام
وَ إسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ، یَا رَبَّ کَهیعَصَ وَیٰسٓ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ،أَسْأَلُکَ یَا أَحْسَنَ
و اسحاقعليهالسلام و یعقوبعليهالسلام کے معبود اے کھیعٓص اور یٰسٓ و القرآن الحکیم کے رب میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
مَنْ سُئِلَ، وَیَا خَیْرَ مَنْ دُعِیَ، وَیَا أَجْوَدَ مَنْ أَعْطیٰ، وَیَا خَیْرَ مُرْتَجیٰ،
اے بہترین ذات جس سے سوال کئے جاتے ہیں اور اے بہترین پکارے جانے والے اے عطا کرنے والوں میں زیادہ سخی اور
أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے بہترین اُمیدگاہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما ۔
نماز حضرت امام محمد تقی -
دو رکعت نماز ہے اسکی ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ حمد اور ستر ۰۷ مرتبہ سورہ توحید پڑھیں اور نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں :
اَللّٰهُمَّ رَبَّ الْاَرْوَاحِ الْفَانِیَةِ، وَالْاَجْسَادِ الْبَالِیَةِ، أَسْأَ لُکَ بِطَاعَةِ الْاَرْوَاحِ الرَّاجِعَةِ
اے معبود! تو فنا ہونے والی روحوں اور بوسیدہ جسموں کا پالنے والا ہے تجھ سے میں سوال کرتا ہوں اپنے جسموں کیطرف پلٹنے والی
إلَی أَجْسَادِها، وَبِطَاعَةِ الْاَجْسَادِ الْمُلْتئِمَةِ بِعُرُوقِها،وَبِکَلِمَتِکَ النَّافِذَةِ بَیْنَهُمْ،
روحوں کی بندگی کے واسطے سے اور اپنی رگوں کے ساتھ ملنے والے جسموں کی بندگی کے واسطے سے اور ان میں نافذ ہونے والے
وَأَخْذِکَ الْحَقَّ مِنْهُمْ وَالْخَلائِقُ بَیْنَ یَدَیْکَ یَنْتَظِرُونَ فَصْلَ قَضَائِکَ، وَیَرْجُونَ
تیرے حکم کے واسطے سے اور ان سے حق لینے کے واسطے سے جبکہ مخلوقات تیرے حضور تیرے اٹل فیصلے کی منتظر کھڑی ہونگی اور تیری
رَحْمَتَکَ وَیَخَافُونَ عِقَابَکَ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلِ النُّورَ فِی بَصَرِی،
رحمت کی اُمیدوار اور تیرے عذاب سے ڈری ہوئی ہونگی میرا سوال ہے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما میری آنکھوں میں نور اور میرے
وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی، وَذِکْرَکَ بِاللَّیْلِ وَالنَّهارِ عَلی لِسانِی، وَعَمَلاً صالِحاً فَارْزُقْنِی
دل میں یقین پیدا کردے اور تیرا ذکر شب و روز میری زبان پر ہو اور مجھے نیک عمل کرنے کی تو فیق دے۔
نماز حضرت امام علی نقی -
یہ دو رکعت ہے اسکی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ یٰسں دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ رحمن پڑھیں نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں:
یَا بَارُّ یَا وَصُولُ یَا شَاهِدَ کُلِّ غائِبٍ، وَیَا قَرِیبُ غَیْرَ بَعِیدٍ، وَیَا غَالِبُ غَیْرَ مَغْلُوبٍ،
اے نیکی کروانے والے اے ملنے والے اے ہر غائب کے دیکھنے والے اے وہ قریب جو دور نہیں ہوتا اور اے وہ غالب جو مغلوب
وَیَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ کَیْفَ هُوَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ تُبْلَغُ قُدْرَتُهُ، أَسْأَ لُکَ اَللّٰهُمَّ بِاسْمِکَ
نہیں ہوتا اے وہ ذات جسے تیرے اپنے سوا کوئی نہیں جانتاکہ کیسا ہے اے وہ جسکی قدرت تک رسائی نہیں ہوتی اے معبود! میں
الْمَکْنُونِ الْمَخْزُونِ الْمَکْتُومِ عَمَّنْ شِئْتَ، الطَّاهِرِ الْمُطَهَّرِلْمُقَدَّسِ النُّورِ التَّامِّ
تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے اس نام کے واسطے جو پوشیدہ، محفوظ اور مخفی ہے جس سے تو چا ہے۔ تو پاک وپاکیزہ، مقدس
الْحَیِّ الْقَیُّومِ الْعَظِیمِ، نُورِ السَّمَاوَاتِ وَنُورِ الْاَرَضِینَ،عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ الْکَبِیرِ
نور، کامل، زندہ، نگہبان، عظیم، آسمانوں کو روشن کرنے والا اور زمینوں کو روشن کرنے والا ہے ظاہر اور باطن کا جاننے والا
الْمُتَعَالِ الْعَظِیمِ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
بزرگوار، بلند اورعظیم ہے کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما۔
نماز امام حسن عسکری -
یہ چار رکعت نماز ہے اسکی پہلی دو رکعت میں حمد کے بعد پندرہ مرتبہ سُورئہ زلزال اور دوسری دو رکعت میںحمد کے بعد پندرہ مرتبہ سُورئہ تو حید کی تلا وت کریں اور نماز کے بعد حضرت کی یہ دُعا پڑھیں :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ الْبَدِیئُ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، وَأَ نْتَ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ حمد تیرے ہی لئے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں توہر چیز سے پہلے موجود رہا ہے اور تو
الْحَیُّ الْقَیُّومُ، وَلاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ الَّذِی لاَ یُذِلُّکَ شَیْئٌ، وَأَ نْتَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَأْنٍ، لاَ
زندہ و نگہبا ن ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں کہ تجھے کوئی چیز پست نہیں کر سکتی اور توہی ہر روز نئی شان والا ہے تیرے
إلهَ إلاَّ أَ نْتَ خالِقُ مَا یُریٰ وَمَا لاَ یُریٰ، الْعالِمُ بِکُلِّ شَیْئٍ بِغَیْرِ تَعْلِیمٍ، أَسْأَ لُکَ
سوا کوئی معبود نہیں تو ہر دیکھی وان دیکھی چیز کا خالق ہے کہ بغیر علم حا صل کئے ہر چیز کا علم رکھتا ہے میں تیری خوبیوں اور نعمتوں کے
بِآلآئِکَ وَنَعْمَائِکَ بِأَ نَّکَ ﷲ الرَّبُّ الْوَاحِدُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ،
ذریعے سوال کرتا ہوں کیوں کہ تو ہی اللہ، رب اور یکتا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو رحمن و رحیم ہے
وَأَسْأَلُکَ بِأَنَّکَ أَنْتَ ﷲ لاَ إلٰهَ إلاَّ أَنْتَ الْوِتْرُ الْفَرْدُ، الاَٰحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ
اور سوال کرتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو تنہا ویکتا ہے یگانہ ہے۔ بے نیاز ہے کہ جس نے نہ کسی کو جنا
وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ، وَأَسْأَلُکَ بِأَ نَّکَ ﷲ لاَ إلٰهَ إلاَّ أَ نْتَ اللَّطِیفُ
اور نہ وہ جنا گیااور نہ ہی کوئی اسکا ہمسر ہے اور میں سوال کرتا ہوں تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو جاننے والا
الْخَبِیرُ الْقَائِمُ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ الرَّقِیبُ الْحَفِیظُ، وَأَسْأَ لُکَ
اور خبر رکھنے والا ہے ہر نفس کو اسکے کئے کا بدلہ دینے والا ہے تو نگہبان و محافظ ہے اور میں سوال کرتا ہوں
بِأَنَّکَ ﷲ الْاَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، وَالآَخِرُ بَعْدَ کُلِّ شَیْئٍ، وَالْبَاطِنُ
تو ہی اللہ ہے جو ہر چیز سے پہلے ہے اور ہر چیز کے بعد رہے گا اور تو ہر چیز میں پوشیدہ ہے
دُونَ کُلِّ شَیْئٍ الضَّارُّ النَّافِعُ الْحَکِیمُ الْعَلِیمُ، وَأَسْأَ لُکَ بِأَ نَّکَ أَ نْتَ
توہی ضرر دینے اور نفع پہنچانے والا ہے حکیم و دانا ہے۔ اور سوال کرتا ہوں کہ تو
ﷲ لاَ إلٰهَ إلاَّ أَ نْتَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الْبَاعِثُ الْوَارِثُ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ
اللہ ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیںتو زندہ اور پایندہ ہے۔مردوں کا اٹھانے والا ،وارث مہربان اور محسن ہے
بَدِیعُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِکْرامِ وَذُو الطَّوْلِ وَذُو
تو آسمانوں اور زمین کا ایجاد کرنے والا جلالت و بزرگی والا اور صاحب سخاوت صاحب
الْعِزَّةِ وَذُو السُّلْطانِ لاَ إلٰهَ إلاَّ أَ نْتَ أَحَطْتَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً، وَأَحْصَیْتَ کُلَّ شَیْئٍ عَدَداً
عزت اور صاحبِ حکومت ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں کہ تیرا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور تو نے ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے
صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم آلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما۔
نمازِ حضرت صاحب الّزمان عجل اللہ تعالی فرجہ‘
یہ دو رکعت نما ز ہے اسکی ہر ر کعت میں سُو رہ حمد پڑھتے ہوئے جبإیَّاکَ نَعْبُدُ وَ إیَّاکَ نَسْتَعِینُ تک پہنچیں تو اسی آیت کو سو مرتبہ پڑھیں اور پھر اگلی آیا ت پڑ ھ کر حمد مکمل کریں ، اسکے بعد سُو رئہ توحید پڑھیں اور رکوع وسجود کیساتھ نماز مکمل کرلیں نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ عَظُمَ الْبَلاَئُ، وَبَرِحَ الْخَفَائُ، وَانْکَشَفَ الْغِطَائُ، وَضَاقَتِ الْاَرْضُ بِمَا وَسَعَتِ
اے معبود! مصیبت بڑھ گئی، درد نہاں ظاہر ہوگیا ہے اور پردہ کھل گیا ہے اور زمین تنگ ہوگئی ہے اگرچہ آسمان وسیع ہے ا
السَّمائُ وَ إلَیْکَ یَا رَبِّ الْمُشْتَکیٰ وَعَلَیْکَ الْمُعَوَّلُ فِی الشِّدَّةِ وَالرَّخَائِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
اور خدایا ہم اپنی شکایت تیرے ہی پاس لاتے ہیں اور تنگی اور فراخی میں تجھ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الَّذِینَ أَمَرْتَنَا بِطَاعَتِهِمْ، وَعَجِّلِ اَللّٰهُمَّ فَرَجَهُمْ بِقَائِمِهِمْ
آلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما کہ جن کی فرمانبرداری کا تونے ہمیں حکم دیا، اے معبود! انکے قائم کے بدولت انکو جلد آسودگی دے اور اسکی
وَأَظْهِرْ إعْزَازَهُ یَا مُحَمَّدُ یَا عَلِیُّ یَا عَلِیُّ یَا مُحَمَّدُ اکْفِیانِی فَ إنَّکُمَا کَافِیَایَ یَا مُحَمَّدُ
عزت کو ظاہر کردے یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم یا علیعليهالسلام یا علیعليهالسلام یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میری کفایت کیجیے کہ بے شک آپ دونوں میرے حامی ہیں یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
یَا عَلِیُّ، یَا عَلِیُّ یَا مُحَمَّدُ، انْصُرَانِی فَ إنَّکُما نَاصِرَایَ، یَا مُحَمَّدُ یَا عَلِیُّ
یا علیعليهالسلام ، یا علیعليهالسلام یا محمد میری مدد کیجئے ۔یا محمد یا علیعليهالسلام ،یا علیعليهالسلام یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میری مدد کیجئے کہ بیشک آپ دونوں میری مدد کرنے والے ہیں یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم یا علیعليهالسلام
یَا عَلِیُّ یَا مُحَمَّدُ، احْفظَانِی فَ إنَّکُما حَافِظَایَ، یَا مَوْلایَ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ، یَا
یا علیعليهالسلام یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میری حفاطت کیجیے کہ آپ دونوں میرے محافظ ہیں اے میرے مولا اے صاحب زماںعليهالسلام اے میرے مولا اے
مَوْلایَ یَا صَاحِبَ الزَّمانِ یَا مَوْلاَیَ یَا صاحِبَ الزَّمَانِ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ
صاحب زماںعليهالسلام اے میرے مولا اے صاحب زماںعليهالسلام فریاد سننے والے فریاد سننے والے فریاد سننے والے
أَدْرِکْنِی أَدْرِکْنِی أَدْرِکْنِی، الْاَمَانَ الْاَمَانَ الْاَمَانَ
میری مدد کیجئے۔ میری مدد کیجئے۔ میری مدد کیجئے ۔مجھے پناہ دیجیے ۔پناہ دیجیے ۔پناہ دیجیے۔
نما ز حضرت جعفر طیا ر -
یہ نماز ا کسیر اعظم اور کبر یت احمر ہے اور بہت معتبر اسناد اور بڑی فضیلت کیساتھ بیان ہوئی ہے اسکا خا ص فا ئدہ یہ ہے کہ اسکے بجا لا نے سے بڑے بڑے گنا ہ معاف ہو جا تے ہیں اسکا افضل و قت روز جمعہ کا پہلہ حصّہ ہے ،یہ چا ر رکعت نما ز ہے جو دودو کر کے پڑھی جاتی ہے۔پہلی رکعت میں سُورئہ حمد کے بعد سُو رئہ زلزال ،دوسری رکعت میں سُو رہ حمدکے بعد سُورئہ عادیات ، تیسری رکعت میں حمد کے بعدسُورئہ نصر اور چو تھی ر کعت میں حمد کے بعد سُورۃ تو حید پڑھیں۔ نیز ہر رکعت میں سورتیں پڑھنے کے بعد پندرہ مرتبہ کہیں
سُبْحَانَ ﷲ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ لَا اِلَهَ اِلَّا ﷲ وَ ﷲ اَکْبَرُ
خدا پاک ہے اور حمد اسی کیلئے ہے اورخدا کے سوا کوئی معبود نہیںاور خد ا بزرگتر ہے۔
یہی تسبیحا ت ہر رکوع ، رکو ع سے سر اُ ٹھا نے کے بعد، پہلے سجدے میں، سجدے سے سراُٹھا نے کے بعد ، دوسرے سجدے میں اور سجدے سے سراُٹھا نے کے بعد اٹھنے سے پہلے دس دس مرتبہ پڑھیں۔جب چاروں رکعتوں میں یہ عمل بجا لا ئیں تو یہ کل تین سو تسبیحات ہو جا ئیں گی۔شیخ کلینیرحمهالله نے ابو سعید مدائنی سے رو ایت کی ہے کہ امام جعفر صا دق -نے مجھے فرمایا: کیا تمہیں ایسی چیز تعلیم نہ کروں جسے تم نما زِ جعفر طیا ر میں پڑھا کرو ۔میں نے عرض کی ہاں ضرور تعلیم فرمائیں۔ تب آپ نے فرما یا کہ ان چا ر رکعتو ں کے آخر ی سجد ے میں تسبیحات ا ر بعہ کے بعد یہ دعا پڑھو:
سُبْحانَ مَنْ لَبِسَ الْعِزَّ وَالْوَقارَ، سُبْحانَ مَنْ تَعَطَّفَ بِالْمَجْدِ وَتَکَرَّمَ بِهِ، سُبْحانَ
پاک ہے وہ جس نے عزت و وقار کا لباس پہنا ہوا ہے۔ پاک ہے وہ جو بزرگی پر ناز کرتا ہے اور بزرگی ظاہر فرماتا ہے۔ پاک ہے وہ
مَنْ لاَ یَنْبَغِی التَّسْبِیحُ إلاَّ لَهُ، سُبْحانَ مَنْ أَحْصی کُلَّ شَیْئٍ عِلْمُهُ، سُبْحانَ ذِی الْمَنِّ
جسکے علاوہ کوئی اور لائق تسبیح نہیں۔ پاک ہے وہ جوہر چیز کی تعدادکا علم رکھتا ہے۔ پاک ہے وہ جو صاحب احسان
وَالنِّعَمِ، سُبْحانَ ذِی الْقُدْرَةِ وَالْکَرَمِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِمَعاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ
و نعمت ہے۔ پاک ہے وہ جو صاحب قدرت و بزرگی ہے۔ اے معبود! میں تیرے عرش کے بلند مقامات
وَمُنْتَهَی الرَّحْمَةِ مِنْ کِتابِکَ وَاسْمِکَ الْاَعْظَمِ وَکَلِماتِکَ التَّامَّةِ الَّتِی تَمَّتْ صِدْقاً
تیری کتاب کی انتہائے رحمت اور تیرے اسم اعظم اور تیرے کامل کلمات، جو صدق وعدل میں پورے ہیں۔( ان) کے واسطے سوال
وَعَدْلاً، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ، وَافْعَلْ بِی کَذا وَکَذا
کرتا ہوں کہ تو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکے اہلبیتعليهالسلام پر رحمت فرما اوراِفْعَلْ بِی کَذا وَکَذا۔کی بجا ئے اپنی حا جا ت طلب کر ے ۔
شیخ و سّید نے مفضل بن عمر سے روا یت کی ہے کہ ایک دن میں نے د یکھا کہ امام جعفر صادق -نے نما زِ جعفر طّیا ر پڑھی،پھر اپنے ہا تھ اُٹھا ئے اور یہ دعا پڑھنے لگے:
ایک سانس کی مقدار کہایَارَبِّ یَارَبّ (اے میرے رب اے میرے رب)پھرایک سانس کے برابر کہایَارَبَّاهُ یَارَبَّاهُ (اے پروردگار اے پروردگار)بقدر ایک سانس کہا رَبِّ رَبِّ(میرے رب میرے رب)بقدرایک سانسیَا ﷲ یَاﷲ (اے اللہ اے اللہ)بقدر ایک سانسیَاحَیُ یَا حَیُ (اے زندہ اے زندہ) بقدر ایک سانسیَا رَحِیْمُ یَارَحِیْمُ (اے مہربان اے مہربان)سات مرتبہیَارَحْمٰنُ یَارَحْمٰنُ (اے بڑے ر حم والے اے بڑ ے رحم والے) اورسات مرتبہ یَااَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنِ ( اے سب سے ز یا دہ ر حم کرنے والے) کہا اور اسکے بعد یہ دعاپڑھی:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَفْتَتِحُ الْقَوْلَ بِحَمْدِکَ وَأَ نْطِقُ بِالثَّنائِ عَلَیْکَ وَاُمَجِّدُکَ وَلاَ غَایَةَ لِمَدْحِکَ
اے معبود میں تیری حمد کیساتھ آغاز سخن کرتا ہوں اور تیری ثنا کرتے ہوئے بولتا ہوں تیری بزرگی بیان کرتا ہوںتیری تعریف کی کوئی
وَأُثْنِی عَلَیْکَ وَمَنْ یَبْلُغُ غایَةَ ثَنَائِکَ وَأَمَدَ مَجْدِکَ وَأَنَّیٰ لِخَلِیقَتِکَ کُنْه ُمَعْرِفَةِ
انتہا نہیں میں تیرا ثنا خواں ہوں اور کون تیری ثنا کی حد اور تیری بزرگی کی انتہا تک پہنچ سکتا ہے تیرے پیدا کیے ہوئے کیونکر تیری بزرگی
مَجْدِکَ وَأَیُّ زَمَنٍ لَمْ تَکُنْ مَمْدُوحاً بِفَضْلِکَ مَوْصُوفاً بِمَجْدِکَ عَوَّاداً عَلَی الْمُذْنِبِینَ
تک پہنچ سکتے ہیںوہ کون سا زمانہ ہے جس میں تو اپنے فضل کے باعث لائق مدح اپنی بزرگی میں قابل ذکراور اپنے حلم کی بدولت گناہگاروں
بِحِلْمِکَ تَخَلَّفَ سُکَّانُ أَرْضِکَ عَنْ طَاعَتِکَ فَکُنْتَ عَلَیْهِمْ عَطُوفاً بِجُودِکَ جَوَاداً
پر کرم نہ کرتا تھا تیری زمین پر رہنے والوں نے تیری فرما نبرداری سے منہ موڑا لیکن تو ان کیلئے اپنی بخشش سے مہربان اپنے فضل سے سخی
بِفَضْلِکَ، عَوَّاداً بِکَرَمِکَ، یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ الْمَنَّانُ ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِکْرامِ
اور اپنے کرم سے توجہ فرمارہا ہے اے وہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو احسان کرنے والا صاحب جلالت اور شان والا ہے۔
پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اے مفضل جب تمہیں کوئی بڑی اور ضروری حاجت پیش آئے تو نمازِ جعفر طیار پڑھو اور اس دُعا کے بعد اپنی حا جت طلب کرو تو انشا ا للہ وہ پو ری ہو جائیگی۔
مو لّف کہتے ہیں :شیخ طُوسی نے حا جت بر آری کیلئے امام جعفر صادق -کا ایک اور فرمان بھی نقل کیا ہے کہ بدھ جمعرات اور جمعہ کو روزہ رکھیں ، جمعرات کی شام دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو ۰۵۷ گرام غّلہ صد قہ دیں ۔جمعہ کے روز غسل کریں اور صحرا و بیا با ن میں جا کر نمازِ جعفر طیّار بجا لائیں پھر اپنے زانو برہنہ کر کے زمین پر رکھیں اور کہیں:
یَا مَنْ أَظْهَرَ الْجَمِیلَ وَسَتَرَ الْقَبِیحَ، یَا مَنْ لَمْ یُؤاخِذْ بِالْجَرِیرَةِ، وَلَمْ یَهْتِکِ السِّتْرَ،
اے وہ جس نے زیبا کو ظاہر کیا اور زشت کو چھپایا اے وہ جو گناہ پر گرفت نہیں کرتا اور پردہ فاش نہیں کرتا
یَا عَظِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ، یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ، یَا بَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَةِ،
اے بہت معاف کرنے والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے وسیع بخشش والے اے کھلے ہاتھوں رحمت کرنے والے
یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْوَیٰ، وَمُنْتَهَیٰ کُلِّ شَکْوَیٰ، یَا مُقِیلَ الْعَثَرَاتِ، یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ ،
اے ہر راز کے جاننے والے اور ہر شکایت ختم کرنے والے اے خطائیں معاف کرنے والے اے چشم پوشی کرنے والے کریم
یَا عَظِیمَ الْمَنِّ، یَا مُبْتَدِیاً بِالنِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقاقِهَا ۔
اے بہت احسان کرنے والے اے حق داری سے پہلے نعمتیں عطا فرمانے واے ۔
دس مرتبہیَا رَبَّاهُ یَا رَبَّاهُ یَا رَبَّاهُ دس مرتبہیَاﷲ یَاﷲ یَاﷲ دس مرتبہ یَاسَیِّدَاهُ یَا
اے پالنے والے۔ اے پالنے والے۔ اے پالنے والے۔ اے خدا ۔اے خدا۔ اے خدا اے آقا و مولا ۔اے
سَیِّدَاهُ دس مرتبہیَامُوْلاَیَاهُ یَامُوْلاَیَاهُ دس مرتبہیَارَجَآأهُ دس مرتبہیَا غَیَاثَاهُ دس مرتبہ یَا
آقا و مولا اے میرے مولا۔ اے میرے مولا اے میری امید اے پناہ دینے والے اے
غَاْیَة رَغْبَتَاهُ دس مرتبہیَارَحْمٰنُ دس مرتبہیَارَحِیْمُ دس مرتبہیَامُعْطِی الْخِیْرَات دس مرتبہ
میری رغبت کی انتہا اے بڑے مہربان اے رحم والے اے بھلا ئیاں عطا کرنے والے
صَلِ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَثیٰراً طَیِباً کَاَفْضَلِ مٰاصَلِّیْتَ عَلیٰ اَحدٍ مِنْ خَلْقِکَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر زیادہ و پاکیزہ رحمت فرما جیسی بہترین رحمت تو نے اپنی مخلوق میں کسی پر کی ہے۔
اور پھر اپنی حاجت طلب کرے۔مؤ لّف کہتے ہیںمذکورہ بالا تین دنوں کے روزے رکھنے اور جمعہ کے دن زوال کے قریب دو رکعت نماز بجا لانے کے متعلق کافی روایات ہیں اور اس عمل سے تمام حاجتیں پوری ہو جاتی ہیں۔
زوال روز جمعہ کے اعمال
(۲۱) روز جمعہ کے اعمال میں سے ایک عمل یہ بھی ہے کہ زوالِ آفتاب کے وقت وہ دُعا پڑھیں جو امام جعفر صادقعليهالسلام نے محمدبن مُسلم کو تعلیم فرمائی تھی اسے ہم شیخ کی مصباح سے نقل کر رہے ہیں :
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ ﷲ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگتر ہے خدا پاک ہے اور حمد خدا ہی کیلئے ہے جس نے کسی کو اپنابیٹا نہیں بنایا اور نہ ہی سلطنت
وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ، وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً
میں کوئی اس کا شریک ہے نہ وہ کمزور ہے کہ کوئی اس کا سرپرست ہواور اسکی بڑائی بیان کرو جس طرح بڑائی بیان کا حق ہے۔
پهر یه کهیں: یَا سَابِغَ النِّعَمِ، یَا دَافِعَ النِّقَمِ، یَا بَارِیََ النَّسَمِ، یَا عَلِیَّ الْهِمَمِ، یَا مُغْشِیَ
اے کامل نعمتوں والے اے مصائب دور کرنے والے اے جانداروں کے پیدا کرنے والے اے بلند ہمتوں والے اے
الظُّلَمِ یَا ذَا الْجُودِ وَالْکَرَمِ یَا کَاشِفَ الضُّرِّ وَالْاَلَمِ، یَا مُؤْنِسَ الْمُسْتَوْحِشِینَ فِی
تاریکیاں دور کرنے والے اے عطا و بخشش کے مالک اے درد وغم کو دور کرنے والے اے تاریکیوں میں خوف زدہ لوگوں کا ساتھ
الظُّلَمِ، یَا عَالِماً لاَ یُعَلَّمُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِی مَا أَ نْتَ أَهْلُهُ یَا
دینے والے اے وہ عالم جس نے علم حا صل نہیں کیا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھ سے وہ برتاؤ کر کہ جو تیرے شایان شان ہے اے
مَنِ اسْمُهُ دَوَائٌ وَذِکْرُهُ شِفائٌ وَطَاعَتُهُ غَنائٌ اِرْحَمْ مَنْ رَأْسُ مَالِهِ الرَّ جَاءُ وَسِلاَحُهُ
وہ جسکا نام دوا ہے جسکا ذکر شفا ہے جسکی اطاعت تونگری ہے اس پر رحم فرما جسکی پو نجی اُمید اورجسکا ہتھیار
الْبُکَائُ، سُبْحانَکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ یَا بَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ یَا
گریہ ہے تو پاک ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے مہربانی کرنے والے اے آسمانوں اور زمین کے ایجاد کرنے والے اے
ذَا الْجَلاَلِ وَالْاِکْرَامِ
جلالت و بزرگی کے مالک۔
( ۲۲ )جمعہ کے دن نماز ظہر کے فریضہ میں سُورئہ منافقون اور عصرکے فریضہ میں سُورئہ جُمعہ و سُو رئہ توحید پڑھیں۔ شیخ صدوقرحمهالله نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو چیزیں ہر شیعہ مومن پر واجب و لازم ہیں ان میں سے ایک یہ کہ وہ شب جمعہ کی نماز میں سُورئہ جمعہ و سُورئہ اعلی اور جُمعہ کی نماز ظہر میں سُو رئہ جمعہ و سُورئہ منا فقون پڑھے۔ جس نے یہ عمل انجام دیا گویا اس نے حضرت رسُولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا عمل انجام دیاہے اور خدا کی طرف سے اس کی جزا بہشت بریں ہے۔ شیخ کلینی نے بسند حسن (جو صحیح کی مثل ہے) حلبی سے روایت کی ہے۔ کہ میں نے امام جعفر صادق - سے پوچھا۔ اگر میں جمعہ کے دن تنہا نماز پڑھوں یعنی نماز جمعہ بجا نہ لائوں اور چار رکعت نماز ظہر پڑھوں تو آیا میں باآواز قرات کر سکتا ہوں؟ آپعليهالسلام نے فرمایا: ہاں کر سکتے ہو مگر روز جمعہ سُورئہ جمعہ و منافقون کے ساتھ پڑھو:
(۲۳) شیخ طوسیرحمهالله مصباح میں جمعہ کے دن ظہرکے بعد کی تعقیبات کے ضمن میں امام جعفر صادق - سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص روز جمعہ بعد از سلام درج ذیل سورتیںاور آیتیں پڑھے تو وہ اس جمعہ سے آیندہ جمعہ تک دُشمنوں کے شر اور دیگرآفات سے محفوظ رہے گا ۔یعنی سُورئہ حمد ،سُورئہ ناس ، سُورئہ فلق، سُورئہ تو حید ، سُورئہ کافرون سات سات مرتبہ پڑھیں اور آخر میں سُورئہ توبہ میں سے لَقَدجَائَ کُم رَسُولُ سے آخر تک سُورئہ حشرکے لَو اَنزَ لناَ ھذَاالقُرآنَ سے تا آ خر سُورئہ اور سورئہ آلِ عمران کی پا نچ آیا تاِنّ فی خَلقِ السّمواتِ وَا لاَرضِ سےاِ نَّکَ لا تُخلِفُ المِیعَادَ تک پڑھیں:
(۲۴)امام جعفر صادق -کا فرمان ہے کہ جو شخص جمعہ کے روز نماز فجر یا ظہر کے بعد کہے:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ صَلَواتِکَ وَصَلٰوةَ ملَاٰئِکَتِکَ وَرُسُلِکَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے معبود!محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیے اپنی رحمت اور اپنے فرشتوں اور رسولوں کی دعائیں مخصوص فرما دے۔
تو ایک سال تک اسکا کوئی گناہ نہیں لکھا جائیگا نیز فرمایا جو شخص نماز فجر اور ظہرکے بعد کہے
اَللَّهُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّل ْفَرَجَهُم
اے معبود !محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور ا نکے ظہور میں تعجیل عطافرما۔
تو اسے اسوقت تک موت نہیں آئیگی جبتک وہ امام زمانہ (عج)کا دیدار نہ کرلے ۔مؤ لّف کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جمعہ کے روز نمازِ ظہر کے بعدپہلی دعا کو تین با ر پڑھے تو وہ آئندہ جمعہ تک سختیوں سے امان میں رہیگا ۔نیز روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن دو نمازوں کے درمیان محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلِ محمدعليهالسلام پر درود بھیجے تو اسکو ستر رکعت نماز کے برابرثواب حاصل ہو گا۔
(۲۵)یاَ مَن يَرحَمُ مَن لَا تَرْحَمُهُ العِبَادُ اور اَللّٰهُمَّ هذَا يَومٌ مُّبَارَکٌ سے شروع ہونے والی دونوںدُعائیں پڑھیں۔یہ دعائیں صحیفہ کا ملہ میں مرقوم ہیں ۔
(۲۶)شیخ نے مصبا ح میں ائمہ سے روایت کی ہے کہ جو شخص روز جمعہ بعد از نمازِ ظہر دو رکعت نماز پڑھے جسکی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت کرے اور نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ الَّتِی حَشْوُهَا الْبَرَکَةُ وَعُمَّارُهَاالْمَلائِکَةُمَعَ نَبِیِّنا
اے معبود! مجھے جنت والوں میں سے قرار دے جسکو برکت نے پر کیا ہوا ہے جسکو آباد کرنے والے فر شتے اور انکے ساتھ
مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَأَبِینَا إبْراهِیمَ ں
ہمارے نبی حضرت محمد اور ہمارے باپ ابراہیم - ہیں۔
تو اس تک اس جمعہ سے آیندہ جمعہ تک بلائ و فتنہ نہیں پہنچے گا اور قیامت میں رسول اللہ اور حضرت ابرا ہیمعليهالسلام کیساتھ ہوگا۔علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اگر غیر سید اس دعا کو پڑ ھے تو وہ وَاَبِینَا کے بجائے وَاَبِیہِ کہے۔
عصر روز جمعہ کے اعمال
(۲۷)روایت ہے کہ روز جمعہ درود پڑھنے کا بہترین وقت نمازعصر کے بعد ہے لہذا سو مرتبہ کہے:
اَللَّهُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّل ْفَرَجَهُم
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پررحمت فرما اور انکے ظہور میں تعجیل فرما۔
شیخ فرماتے ہیں ایک روایت ہے کہ سو مرتبہ یہ کہنا بھی مستحب ہے:
صَلَوَاتُ ﷲ وَمَلاَئِکَتِهِ وَأَنْبِیَائِهِ وَرُسُلِهِ وَجَمِیعِ خَلْقِهِ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
خدا کی رحمت اور ملائکہ اور انبیائ و رسل اور تمام مخلوق کا درود ہو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَالسَّلاَمُ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ وَعَلَی أَرْواحِهِمْ وَأَجْسادِهِمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ
اور سلام ہو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان سب پر اور ان کی روحوں اور ان کے جسموں پر اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
شیخ جلیل ابن ادریس سرائر میںجامع بزنطی سے نقل کرتے ہیں کہ ا بو بصیر کا کہناہے کہ میںنے امام جعفر صادق -کو یہ فرماتے ہوئے سنا:ظہرو عصر کے درمیان محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیجنا ستر رکعت نماز کے برابر ہے۔ جو شخص روز جمعہ عصر کے بعدمحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوٰت پڑھے تو اسکا ثواب اسے جن و انس کے اس دن کے اعمال کے برابر ملے گا اور وہ صلوٰت یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاَوْصِیَائِ الْمَرْضِیِّینَ بِأَفْضَلِ صَلَوَاتِکَ وَبَارِکْ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما کہ جو تیرے پسندیدہ اوصیائ ہیں اپنی بہترین رحمتوں کے ساتھ اور ان پر برکت نازل فرما
عَلَیْهِمْ بِأَفْضَلِ بَرَکَاتِکَ وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْهِمْ وَعَلَی أَرْوَاحِهِمْ وَأَجْسَادِهِمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
اپنی بہترین برکتوں سے اور سلام ہو ان پراور ان کی روحوں پر اور ان کے جسموں پر اور خدا کی رحمتیں اوربرکتیں ہوں۔
مؤ لف کہتے ہیں : یہ صلوات مشائخِ حدیث کی کتب میں معتبر اسناد اور بہت زیادہ فضائل کیساتھ نقل ہوئی ہے پس اسے دس مرتبہ یا سات مرتبہ پڑھیں تو افضل ہے کیونکہ امام جعفرصادق - کا فرمان ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد اپنی جگہ سے حرکت کرنے سے قبل مذکورہ بالا صلوات دس مرتبہ پڑھے تو اس جمعہ سے اگلے جمعہ کی اسی ساعت تک ملا ئکہ اس کیلئے فضل و رحمت طلب کرتے رہیں گے۔نیز حضرت سے یہ روایت بھی ہو ئی ہے کہ روز جمعہ نماز ِعصر کے بعد اس صلوات کو سات مرتبہ پڑھو اور کا فی میں شیخ کلینیرحمهالله نے روایت کی ہے کہ جب روز جمعہ نماز پڑھ لو تو یہ صلوٰۃ پڑھو:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاَوْصِیَائِ الْمَرْضِیِّینَ بِأَفْضَلِ صَلَوَاتِکَ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما کہ جو تیرے پسندیدہ اوصیائ ہیں۔ اپنی بہترین رحمتوںکے ساتھ اور
وَبَارِکْ عَلَیْهِمْ بِأَفْضَلِ بَرَکَاتِکَ وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
ان پر برکت نازل فرما اپنی بہترین برکتوں سے اور سلام ہو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان سب پراور خدا کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
اس میں شک نہیں کہ جو شخص نمازِ عصر کے بعد صلوٰت پڑھے تو خدا اس کو ایک لاکھ نیکی عطا کریگا اسکی ایک لاکھ بدی مٹا دے گا۔ اسکی ایک لاکھ حا جا ت پوری ہونگی اور ایک لاکھ درجہ بلندکیا جائیگا ۔نیز یہ روا یت بھی ہے کہ جو شخص سات مرتبہ یہ صلوٰۃ پڑھے تو اسکے لئے تما م انسانو ں کی تعد اد کے بر ابر نیکیا ں لکھی جا ئیں گی اور اس روز اس کا عمل مقبو ل ہو گا اور وہ قیا مت کے دن نو را نی چہرے کے ساتھ آئیگا۔علا وہ ازیں ا عما ل روز عر فہ میں ایک صلوات ہے جو ماہ ذالحجہ میں( یوم عرفہ کے اعمال میں) ملا حظہ فرمائیں ۔جو شخص اس صلوات کو پڑھے وہ محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مسرور کرے گا۔
(۲۸)جو شخص عصر کے بعد ستر مرتبہ استغفار پڑھے تو اسکے گنا ہ بخش د یے جا ئیں گے اور وہ استغفاریہ ہے:
اَسْتَغْفِرُﷲ وَاَتُوْبُ اِلَیٰہ ۔
میں اللہ سے بخشش چا ہتا ہوں اور اسکے حضور تو بہ کرتا ہوں۔
(۲۹)سو مرتبہ سو رہ قدر پڑھیں،اما م مو سی کاظم -سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن خدا کی ہزار نسیمِ رحمت ہیں کہ ان میں سے جس قدر چاہے اپنے کسی بند ے کو عطا کرتا ہے۔ پس جو شخص روز جمعہ بعد از عصر سو مرتبہ سو رہ قدر پڑھے تو اسے یہ ہزار رحمت دگنی کرکے عنایت کی جا ئے گی ۔
(۳۰)دعا ئ عشر ات پڑھیں جس کا ذکر چھٹی فصل میں کیاجا ئے گا ۔
(۳۱)شیخ طو سی فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن عصر سے غروب آفتاب تک قبولیتِ دعا کا و قت ہے پس اس وقت زیا دہ سے زیا دہ دعا کیاکریں ۔ روایت ہے کہ دعا کی منظو ری اور قبو لیت کا خا ص وقت وہ ہے جب سو رج آد ھا چھپا اور آد ھا چمک ر ہا ہو۔حضرت فا طمہ =اسی و قت دعا کیا کر تی تھیںلہذا اس خاص وقت میں دعا کر نا بہت بہتر ہے اور منا سب ہے کہ ان قبو لیت کی گھڑیوں میں رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مر وی دعا پڑھیں جو یہ ہے:
سُبْحَانَکَ لاَ إلهَ إلاَّأَنْتَ یَاحَنَّانُ یَامَنَّانُ، یَابَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ یَاذَاالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ
تو پاک ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اے مہربانی کرنے والے ۔اے احسان کرنے والے۔ اے آسمانوں اور زمین کو ایجاد کرنے والے اے جلالت اور بزرگی کے مالک ۔
رو ز جمعہ کے آخر ی اوقات میں قبو لیت دعا کے وقت دعائِ سما ت پڑھیں جو چھٹی فصل میں ذکر کی جائے گی ۔وا ضح رہے کہ روز جمعہ کئی مناسبتوں سے اما م العصر(عج) کے ساتھ تعلق ر کھتا ہے ، اولاً یہ کہ حضرت کی ولا دت با سعا دت اسی روز ہو ئی ۔ثا نیاً یہ کہ آپ کا ظہو ر پر نو ربھی اسی دن ہو گا ۔ ثا لثا یہ کہ دیگر ایا م کی نسبت اس دن حضر ت کا انتظا رِظہور زیادہ ہے ۔جمعہ کے روز حضرت کی زیا رت خاصہ بعد میں ذکر کی جائے گی،جسکے چند جملے یہ ہیں ۔
هذَایَوْمُ الْجُمُعَةِ وَهُوَیَوْمُکَ الْمُتَوَقَّعُ فِیهِ ظُهُورُکَ وَالْفَرَجُ فِیهِ لِلْمُؤْمِنِینَ عَلَی یَدِکَ
یہ روز جمعہ ہے اور یہ وہی دن ہے جس میں آپ کے ظہور کی تو قع ہے اور جس میںآپ کے ہا تھوں مومنوں کوآسودگی ہو گی۔
بلکہ جمعہ کے روز کے عید قرار پانے اور چار عیدوں میں شمار ہو نے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اس روز امام العصر(عج)ز مین کو کفر و شرک کی آلودگی ،گنا ہوں کی کثا فت اور جابروں ، منکروں اور منافقوں کے وجود سے پاک کریں گے اور اعلیِ کلمہ حق اور اظہار دین و شریعت کے باعث مو منین کے دل اس دن روشن ومنور اورمسرور ہوں گے۔وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضَ بِنُوْرِرَبِهَا ۔(اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی)۔بہتر ہے کہ اس دن صلو ات کبیر اور صا حب الامر(عج)کیلئے امام علی رضا - کی فرمودہ یہ دعا پڑ ھیں:اَللّٰهُمَّ ادْفَعْ عَنْ وَلِیِّکَ وَ خَلیٰفَتِکَ (یہ دعا اعمال سرداب ، میں ذکر کی جائے گی)۔نیز قائم آل محمد -کے زمانہ غیبت میں وہ دعا پڑھیں جو شیخ ابو عمر وعمر وی نے ابو علی ابن ہمام کو لکھوائی تھی چونکہ صلوات کبیر اور یہ دعا دونوں بہت طولانی ہیں لہذا اس مختصر کتاب میں ان کی گنجا ئش نہیں ہے ۔ پس شائقین اس سلسلے میںمصباح المتہجد اور جمال الاسبوع کی طرف رجوع کریں۔البتہ مناسب ہے کہ ہم یہاں ابالحسن ضراب اصفہانی کیطرف منسوب صلوات کا ذکر کریں جسے شیخ وسید نے عصرِ جمعہ کے اعما ل میںنقل فرمایا ہے۔ سید فرماتے ہیں کہ یہ صلوات اما م زمانہ (عج) سے مروی ہے اگر روز جمعہ کسی عذر کے باعث عصر ِجمعہ کی د یگر تعقیبات نہ پڑھ سکیں تو بھی اس صلو ت کا پڑھنا ہرگز ہرگز ترک نہ کریں اس خصوصیت کی وجہ سے کہ جس سے خدا نے ہمیں مطلع کیا ہے پھر انہوں نے صلوات کے ساتھ اسکی سند بھی نقل کی ہے لیکن مصباح میں شیخ نے فرمایا ہے کہ یہ صلٰوۃ حضرت امام زمانہ (عج) سے مروی ہے کہ جسے آپ نے ابوالحسن ضراب اصفہانی کو مکہ میں تعلیم فرمائی تھی اور ہم نے اختصار کے پیش نظر اسکی سند کو ذکر نہیں کیا اوروہ صلوات یہ ہے:
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خد اکے نا م سے شر وع(کرتا ہوں) جو بڑ ا مہر با ن نہا یت ر حم و الا ہے ۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ سَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ، وَخَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِینَ،
اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما جو رسولوں کے سردار اور آخری نبی ہیں اور عالمین کے پالنے والے کی حجت ہیں
الْمُنْتَجَبِ فِی الْمِیثَاقِ، الْمُصْطَفی فِی الظِّلالِ، الْمُطَهَّرِ مِنْ کُلِّ آفَةٍ، الْبَرِیئِ مِنْ
وہی جو روز میثاق میں برگزیدہ،عالم اشباح میں منتخب،ہر آفت سے دور،ہر عیب سے
کُلِّ عَیْبٍ، الْمُؤَمَّلِ لِلنَّجَاةِ، الْمُرْتَجَی لِلشَّفاعَةِ، الْمُفَوَّضِ إلَیْهِ دِینُ ﷲ اَللّٰهُمَّ
پاک،نجات کیلئے امیدگاہ،شفاعت کا سہارا کہ اللہ کا دین انہی کے سپرد ہوا ہے۔ اے معبود!
شَرِّفْ بُنْیَانَهُ وَعَظِّمْ بُرْهَانَهُ وَأَ فْلِجْ حُجَّتَهُ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ وَأَضِیئْ نُورَهُ وَبَیِّضْ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات کو بلندی، انکی برہان کو عظمت ،انکی حجت کو کامیابی، انکے درجے کو رفعت عطا فرما۔ انکے نور کو چمک اور انکے
وَجْهَهُ وَأَعْطِهِ الْفَضْلَ وَالْفَضِیلَةَ وَالْمَنْزِلَةَ وَالْوَسِیلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفِیعَةَ وَابْعَثْهُ
چہرے کو روشنی دے۔ انکو فضیلت بزرگی ، وسیلہ اور بلند درجہ عطا فرما۔ اور انہیں مقام
مَقَاماً مَحْمُوداً یَغْبِطُهُ بِهِ الْاَوَّلُونَ وَالاَْخِرُونَ وَصَلِّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَوَارِثِ
محمود پر فائز فرما کہ ان پر اگلے اور پچھلے سبھی رشک کریں اور امیر المومنینعليهالسلام پر رحمت فرما جو رسولوں
الْمُرْسَلِینَ وَقَائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ وَسَیِّدِ الْوَصِیِّینَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِینَ وَصَلِّ
کے وارث، روشن چہرے والوں کے رہنما، وصےّوں کے سردار اور عالمین کے پالنے والے کی حجت ہیں اور حسنعليهالسلام ابن علیعليهالسلام
پر رحمت فرما۔ جو مومنوں کے پیشوا،رسولوں کے وارث،اور عالمین کے رب کی حجت ہیں
عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ ووَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَ
اور حسینعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر رحمت فرما۔ جو مومنوں کے پیشوا،رسولوں کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام پر رحمت فرما۔ جو مومنوں کے پیشوا اور مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں ۔
وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا اور مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
وَصَلِّ عَلی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَ
اور جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا نبیوں کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
صَلِّ عَلَی مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور موسٰیعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
وَصَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُوسی إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور علیعليهالسلام بن موسٰیعليهالسلام پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
وَصَلِّ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
وَصَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں ۔
وَصَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ وَحُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں۔
وَصَلِّ عَلَی الْخَلَفِ الْهٰادِی الْمَهْدِیِّ إمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَحُجَّةِ
اور خلف ہادی و مہدیعليهالسلام پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا نبیوں کے وارث اور عالمین کے
رَبِّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ آلاَءِمَّةِ الْهَادِینَ الْعُلَمائِ الصَّادِقِینَ
رب کی حجت ہیں۔اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکے اہلبعليهالسلام یت پر رحمت فرما جو ہدایت کرنے والے امامعليهالسلام ، حق گو علمائ،
الْاَ بْرَارِ الْمُتَّقِینَ دَعَاءِمِ دِینِکَ وَأَرْکَانِ تَوْحِیدِکَ وَتَراجِمَةِ وَحْیِکَ وَحُجَجِکَ عَلَی
نیکوکار، پرہیزگار، تیرے دین کے ستون، تیری توحید کے ارکان، تیری وحی کے ترجمان، تیری مخلوق پر تیری
خَلْقِکَ وَخُلَفَائِکَ فِی أَرْضِکَ الَّذِینَ اخْتَرْتَهُمْ لِنَفْسِکَ، وَاصْطَفَیْتَهُمْ عَلَی عِبَادِکَ
حجت اور زمین پر تیرے نائب ہیں۔جنکو تو نے اپنی ذات کیلئے چنا۔ اپنے بندوں پر انہیں بزرگی دی اپنے دین کیلئے
وَارْتَضَیْتَهُمْ لِدِینِکَ وَخَصَصْتَهُمْ بِمَعْرِفَتِکَ وَجَلَّلْتَهُمْ بِکَرَامَتِکَ وَغَشَّیْتَهُمْ بِرَحْمَتِکَ
انہیں پسند کیااپنی معرفت میں انہیں خصوصیت بخشی اپنے کرم سے انکو بزرگ بنایا۔ انکو اپنی رحمت کے سایہ میں ڈھانپ لیا
وَرَبَّیْتَهُمْ بِنِعْمَتِکَ وَغَذَّیْتَهُمْ بِحِکْمَتِکَ، وَأَلْبَسْتَهُمْ نُورَکَ، وَرَفَعْتَهُمْ فِی مَلَکُوتِکَ
اپنی نعمت سے ان کی تربیت کی اپنی حکمت کی غذا دی اور انہیں اپنے نور کا لباس پہنایا اپنے ملکوت میں بلند کیا اور انہیں
وَحَفَفْتَهُمْ بِملائِکَتِکَ وَشَرَّفْتَهُمْ بِنَبِیِّکَ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ وَ آلِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ
اپنے فرشتوں سے گھیرے رکھا اور اپنے نبی کے ذریعے انہیں عزت دی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور انکی آلعليهالسلام پر تیری رحمت ہو۔ اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَعَلَیْهِمْ صَلاَةً زَاکِیَةً نَامِیَةً، کَثِیرَةً دَائِمَةً طَیِّبَةً، لاَ یُحِیطُ بِهَا إلاَّ أَ نْتَ، وَلاَ یَسَعُهَا
اور ائمہعليهالسلام پر رحمت فرما وہ رحمت جو پاکیزہ ،بڑھنے والی، کثیر ،دائمی اور پسندیدہ ہو اور سوائے تیرے کوئی اسکا احاطہ نہ کرسکے اور جو تیرے ہی علم
إلاَّ عِلْمُکَ، وَلاَ یُحْصِیهَا أَحَدٌ غَیْرُکَ اَللّٰهُمَّ وَصَلِّ عَلَی وَ لِیِّکَ الُْمحْیِی سُنَّتَکَ
میں سماسکے اور سوائے تیرے کوئی اسکا اندازہ نہ کرسکے اور اے معبود! اپنے ولی پر رحمت فرما جو تیرے امر کو قائم کرنے والا، تیری شریعت
الْقَائِمِ بِأَمْرِکَ الدَّاعِی إلَیْکَ الدَّلِیلِ عَلَیْکَ حُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ وَخَلِیفَتِکَ فِی
کو زندہ کرنے والا، تیری طرف بلانے والا، تیری طرف رہنمائی کرنے والا ،تیری مخلوق پر تیری حجت ،تیری زمین پر تیرا
أَرْضِکَ وَشَاهِدِکَ عَلَی عِبَادِکَ اَللّٰهُمَّ أَعِزَّ نَصْرَهُ، وَمُدَّ فِی عُمْرِهِ، وَزَیِّنِ الْاَرْضَ
خلیفہ اور تیرے بندوں پر تیرا گواہ ہے۔ اے معبود! اسکی نصرت میں اضافہ اور اسکی عمر طولانی فرما اور اسکی طولانی بقا
بِطُولِ بَقائِهِ اَللّٰهُمَّ أَکْفِهِ بَغْیَ الْحَاسِدِینَ، وَأَعِذْهُ مِنْ شَرِّ الْکَائِدِینَ، وَازْجُرْ عَنْهُ
سے زمین کو زینت دے۔ اے معبود ! اسے حاسدوں کے ظلم سے بچا، مکاروں کے فریب سے محفوظ رکھ، اسکے بارے میں ظالموں
إرَادَةَ الظَّالِمِینَ، وَخَلِّصْهُ مِنْ أَیْدِی الْجَبَّارِینَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِهِ فِی نَفْسِهِ وَذُرِّیَّتِهِ
کے ارادے کو ناکام بنادے اور اسے جابروں کے ہاتھوں سے رہائی دے ۔اے معبود! اپنے ولی کو وہ چیزیں دے اور اسکی اولاد،
وَشِیعَتِهِ وَرَعِیَّتِهِ وَخَاصَّتِهِ وَعَامَّتِهِ وَعَدُوِّهِ وَجَمِیعِ أَهْلِ الدُّنْیا مَا تُقِرُّ بِهِ عَیْنَهُ
اسکے شیعوں ،اسکی رعیت، اسکے خاص و عام ساتھیوں کو اسکے دشمنوں کواور تمام دنیا والوں کو وہ چیزیں دے جن سے اسکی آنکھوں کو ٹھنڈک
وَتَسُرُّ بِهِ نَفْسَهُ وَبَلِّغْهُ أَفْضَلَ مَا أَمَّلَهُ فِی الدُّنْیَا وَالاَْخِرَةِ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
اور دل کو چین ملے اور اسکی بہترین امیدوں کو دنیا و آخرت میں پورا فرما ۔بے شک توہر چیز پر قادر ہے ۔
اَللّٰهُمَّ جَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحیٰ مِنْ دِینِکَ، وَأَحْیِ بِهِ مَا بُدِّلَ مِنْ کِتَابِکَ، وَأَظْهِرْ بِهِ مَا
اے معبود! اسکے ذریعے دین کی محو شدہ باتوں کو ظاہر فرما۔ اسکے ہاتھوں اپنی کتاب کے بدلے گئے احکام زندہ فرما۔ تیرے احکام
غُیِّرَ مِنْ حُکْمِکَ، حَتَّی یَعُودَ دِینُکَ بِهِ وَعَلَی یَدَیْهِ غَضّاً جَدِیْداً خَالِصاً
جو تبدیل ہو چکے ہیں اسکے ذریعے انہیں ظا ہر فرما۔کہ تیرا دین تازہ ہو جائے اور اس ولی کے ہا تھوں دین نئی شان سے پاک و
مُخْلَصاً، لاَ شَکَّ فِیهِ، وَلاَ شُبْهَةَ مَعَهُ، وَلاَ بَاطِلَ عِنْدَهُ، وَلاَ بِدْعَةَ لَدَیْهِ اَللّٰهُمَّ نَوِّرْ
خالص ہو جائے کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہ رہے ۔نہ اس میں باطل رہے اور نہ بدعت موجود ہو۔ اے معبود! اپنے ولی کے
بِنُورِهِ کُلَّ ظُلْمَةٍ، وَهُدَّ بِرُکْنِهِ کُلَّ بِدْعَةٍ، وَاهْدِمْ بِعِزِّهِ کُلَّ ضَلالَةٍ، وَاقْصِمْ بِهِ
نور سے تا ریکیوں کو روشنی دے۔ اسکی قوت سے ہر بدعت کو مٹا دے ۔اسکی عزت کے واسطے سے ہر گمراہی ختم کر دے اسکے ذریعے
کُلَّ جَبَّارٍ، وَأَخْمِدْ بِسَیْفِهِ کُلَّ نارٍ، وَأَهْلِکْ بِعَدْلِهِ جَوْرَ کُلِّ جَائِرٍ وَأَجْرِ حُکْمَهُ عَلَی
ہرجابر کی کمر توڑ دے اسکی تلوار سے ہر فتنے کی آگ بجھا دے ۔اسکے عدل کے ذریعے ہر ظالم کے ظلم کو ختم کر دے ۔اسکے حکم کوہر حکم
کُلِّ حُکْمٍ، وَأَذِلَّ بِسُلْطانِهِ کُلَّ سُلْطَانٍ اَللّٰهُمَّ أَذِلَّ کُلَّ مَنْ نَاوَاهُ، وَأَهْلِکْ کُلَّ مَنْ
سے بالاتر کر دے اور اسکی سلطنت کے ذریعے ہر سلطان کو پست کر دے ۔اے معبود اپنے ولی کے ہر مخالف کوہیچ کردے اور اسکے
عَادَاهُ، وَامْکُرْ بِمَنْ کَادَهُ، وَاسْتَأْصِلْ مَنْ جَحَدَهُ حَقَّهُ، وَاسْتَهَانَ بِأَمْرِهِ، وَسَعَی
دشمنوں کو ہلاک کر دے جو اسے دھوکہ دے، اسکو ناکام کر دے۔ جو اسکے حق کا منکر ہو ۔اسکی جڑ کاٹ دے اور اسکے حکم کو اہمیت نہ
فِی إطْفَائِ نُورِهِ، وَأَرَادَ إخْمَادَ ذِکْرِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی، وَعَلِیٍّ
دے جو کہ اسکے نور کو بجھانے میں کوشاں ہو اور اسکے ذکر مٹانے کا ارادہ کرے۔ اے معبود! محمد مصطفےصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور علی
الْمُرْتَضی وَفاطِمَةَ الزَّهْرائِ وَالْحَسَنِ الرِّضا وَالْحُسَیْنِ الْمُصَفَّی وَجَمِیعِ الْاَوْصِیَائِ
مرتضیعليهالسلام ، فاطمہ زہراعليهالسلام ، حسن مجتبیٰعليهالسلام اور حسینعليهالسلام مصفّیٰ اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تمام اوصیائ پر رحمت فرما۔
مَصَابِیحِ الدُّجٰی وَأَعْلامِ الْهُدیٰ وَمَنَارِ التُّقیٰ، وَالْعُرْوَةِ الْوُثْقیٰ، وَالْحَبْلِ الْمَتِینِ،
جو روشن چراغ اور ہدایت کے نشان ، تقویٰ کے مینار، مضبوط رسی، پائیدار ڈوری
والصِّراطِ الْمُسْتَقِیمِ وَصَلِّ عَلَی وَ لِیِّکَ وَوُلاَةِ عَهْدِکَ، وَآلاَءِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ، وَمُدَّ فِی
اور صراط مستقیم ہیں۔ اور اپنے ولی علیعليهالسلام پر رحمت فرما۔ اور انکے جانشینوں پر جو انکی اولاد میں سے امامعليهالسلام ہیں۔ انکی عمریں
أَعْمارِهِمْ، وَزِدْ فِی آجالِهِمْ، وَبَلِّغْهُمْ أَقْصیٰ آمالِهِمْ دِیناً وَدُنْیا وَآخِرَةً، إنَّکَ عَلی
دراز فرما۔انکی مدت میں اضافہ کر دے اور انکی تمام امیدیں پوری فرما۔ جو دنیا و آخرت سے متعلق ہیں کہ بے شک
کُلِّ شَیْئٍ قَدِْیرٌ
تو ہر چیز پر قادر ہے۔
واضح ہو کہ ہفتہ کی شب بھی شب جمعہ کی ما نند ہے اور ایک روایت کے مطابق شب ِجمعہ میں جو دعا ئیں پڑھی جاتی ہیں ۔وہ ہفتہ کی رات میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں ۔
پا نچویں فصل
تعین ایام ہفتہ برائے معصومین
اس فصل میں حضرت رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ائمہ کے ناموں کے ساتھ ایام ہفتہ کے تعیّن اور انکی زیارتوں کا تذکرہ ہے۔ سید ابن طاؤس جمال الاسبوع میں لکھتے ہیں کہ ابن بابو یہ صقرابن ابی دلف سے روایت کرتے ہیں کہ جب متو کل نے امام علی نقی - کو سامرا میں طلب کیا تو ایک روز میں وہاں گیاتاکہ امام سے ملاقات کا شرف حا صل کروں۔ اس وقت آپ متوکل کے نگہبان زراقی کے ہاں محبوس تھے ، میں اسکے پاس پہنچا تو اس نے پو چھا کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا : آپکی ملا قات کیلئے آیا ہوں، میں وہاں بیٹھا رہا اور ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں ۔ پھر جب عام لوگ چلے گئے اور تنہائی ہوئی تو اس نے مجھ سے دوبارہ پو چھا : کیسے آئے ہو؟ میں نے کہا : آپکی ملاقا ت کو آیا ہوں! اس نے کہا : گو یا تم اپنے مولاعليهالسلام کی خبر لینے آئے ہو ، میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: میرا مولا تو خلیفہ ہی ہے۔ وہ زور دے کر کہنے لگا: خا مو ش رہو کہ تمہارے مولا برحق ہیںاور خود میں بھی انہی کا معتقد ہوں۔ میں نے کہا: اَلْحَمْدُ ﷲ! وہ بولا:آیا تم اپنے مولاعليهالسلام کی خدمت میں حا ضر ہونا چاہتے ہو؟ میں نے کہا : ہاں! اس نے کہا : تھوڑی دیر بیٹھو کہ ہرکا رہ یہاں سے ہو کر چلا جائے چنانچہ جب ہر کا رہ سرکاری ڈاک دے کر چلا گیا تو اس نے ایک لڑکے کو میرے ساتھ کر دیا کہ وہ مجھے امام کی خدمت میں لے جائے۔ جب میں مولاعليهالسلام کے پاس پہنچا تو کیا دیکھا کہ آپ چٹائی پر تشریف فرما ہیں اور برابر میں قبر موجود ہے ۔میں نے سلام کیا آپ نے جواب ِسلام دیا اور فرمایا کہ بیٹھ جائو ! پھر پو چھا کہ کیوں آئے ہو ؟ عرض کی کہ آپکی خیریت معلوم کرنے آیا ہوں۔ جب میری نظر اس قبر پر پڑی تو میں اپنا گریہ ضبط نہ کر سکا ، آپ نے فرمایا کہ گریہ نہ کرو اس وقت مجھے ان سے کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،میں نے کہا :اَلْحَمْدُ ﷲ!میں نے عرض کی: اے میرے سیدو سردار!حضرت رسول کی حدیث ہے،جسکا مطلب میں سمجھ نہیں سکا۔ فرمایا کونسی حدیث ہے؟ میں نے عرض کی ۔لا تعادو الایام فتعا دیکم یعنی دنوں سے دشمنی نہ کرو ورنہ وہ تمہارے دشمن ہو جائیں گے۔ فرمایا کہ جبتک زمین و آسمان قائم ہیں، اس میں ایا م سے مراد ہم ہیں۔
ہفتہ: حضرت رسول اورآپکے اسم گرامی سے متعلق ہے۔اتوار: امیرالمومنین -کا نام نامی ہے۔(آپ کے اسم گرامی سے متعلق ہے)پیر: حسن و حسین ٭کا نام ہے۔(انکے اسمائ گرامی سے متعلق ہے)منگل: علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام ،محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام اور جعفرعليهالسلام ابن محمدعليهالسلام کا نام ہے۔(انکے اسمائ گرامی سے متعلق ہے)بدھ: موسیعليهالسلام ابن جعفرعليهالسلام ،علیعليهالسلام ابن موسیعليهالسلام ، محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام کا اور میرا نام ہے۔(انکے اسمائ گرامی سے متعلق ہے)جمعرات: اس سے مراد میرا فرزند حسن عسکریعليهالسلام ہے۔(یعنی انکے اسم گرامی سے متعلق ہے)جمعہ: اس سے مراد میرے فرزند حسن عسکریعليهالسلام کا وہ بیٹا ہے جسکے ہاں تمام اہل حق جمع ہوں گے۔
یہ ہیں ایا م کے معنی پس ان سے دنیا میں دشمنی نہ کرو، ورنہ آخرت میں یہ تمہارے دشمن ہوں گے۔ پھر فرمایا کہ الوداع کر کے چلے جائو کیونکہ میں تمہارے بارے میں مطمئن نہیں ہوں اور ڈرتا ہوں کہ تمہیں اذیت نہ پہنچے۔
سید نے یہ حدیث ایک دوسری سند کیساتھ قطب راوندی سے بھی نقل کی ہے اسکے بعد فرمایا کہ
روز شنبہ(ہفتہ) میں حضرت رسول اکرم کی زیارت یہ ہے ۔
ہفتہ:یہ رسول ﷲ کا دن ہے ہفتے کے روز حضرت رسول ﷲ کی یہ زیارت پڑھیں:
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَ نَّکَ رَسُولُهُ وَأَنَّکَ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اسکے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیںاور آپ
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ﷲ، وَأَشْهَدُ أَ نَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسالاتِ رَبِّکَ، وَنَصَحْتَ لاَُِمَّتِکَ
اور آپ ہی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ابن عبدعليهالسلام اللہ ہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اپنے پروردگار کے احکام پہنچائے اپنی امت کو وعظ ونصیحت کی
وَجَاهَدْتَ فِی سَبِیلِ ﷲ بِالْحِکْمَةِ وَالمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَأَدَّیْتَ الَّذِی عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ
اور آپ نے دانشمندی اور موعظہ حسنہ کے ساتھ خدا کی راہ میں جہاد کیا اور حق کے بارے میں آپ نے اپنا فرض ادا کیا ہے
وَأَ نَّکَ قَدْ رَؤُفْتَ بِالْمُؤْمِنِینَ، وَغَلَظْتَ عَلَی الْکَافِرِینَ، وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً حَتَّی
اور بے شک آپ مومنوں کیلئے مہربان اور کافروںکے لیے سخت تھے آپ نے اللہ کی پر خلوص عبادت کی یہاں تک
أَتیکَ الْیَقِینُ، فَبَلَغَ ﷲ بِکَ أَشْرَفَ مَحَلِّ الْمُکَرَّمِینَ، الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی
کہ آپ کا وقت وفات آگیا پس خدا نے آپ کہ بزرگواروں میں سب سے بلند مقام پر پہنچایا حمد ہے اس خدا کیلئے جس نے آپ
اسْتَنْقَذَنا بِکَ مِنَ الشِّرْکِ وَالضَّلالِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَاجْعَلْ صَلَوَاتِکَ
آپ کے ذریعے ہمیں شرک اور گمراہی سے نجات دی اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور اپنا درود
وَصَلَوَاتِ مَلائِکَتِکَ وَأَنْبِیائِکَ وَالْمُرْسَلِینَ وَعِبَادِکَ الصَّالِحِینَ وَأَهْلِ السَّمَاوَاتِ
اور اپنے ملائکہ اپنے انبیائ و مرسلین اپنے نیکوکار بندوں آسمانوں اور زمینوں
وَالْاَرَضِینَ وَمَنْ سَبَّحَ لَکَ یَا رَبَّ الْعَالَمِینَ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ
میں رہنے والوں اے عالمین کے رب اولین وآخرین میں سے جو تیری تسبیح کرنے والے ہیں ان سب کا درود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے قرار دے جو
وَرَسُولِکَ وَنَبِیِّکَ وَأَمِینِکَ وَنَجِیبِکَ وَحَبِیبِکَ وَصَفِیِّکَ وَصِفْوَتِکَ وَخَاصَّتِکَ
تیرے بندے تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرے امین تیرے نجیب تیرے حبیب تیرے برگزیدہ تیرے پاک کردہ تیرے خاص
وَخَالِصَتِکَ، وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ، وَأَعْطِهِ الْفَضْلَ وَالْفَضِیلَةَ وَالْوَسِیلَةَ وَالدَّرَجَةَ
تیرے خالص اور تیری مخلوق میں سے بہترین ہیں خدایا! ان کو فضل و فضیلت اور وسیلہ بخش اور بلند درجہ
الرَّفِیعَةَ، وَابْعَثْهُ مَقاماً مَحْمُوداً یَغْبِطُهُ بِهِ الْاَوَّلُونَ وَالاَْخِرُونَ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ قُلْتَ وَلَوْ
عطا فرما انہیں مقام محمود پر فائز فرما کہ جس کیلئے اگلے اور پچھلے سبھی ان پر ر شک کریں اے معبود! بے شک تو نے فرمایا کہ
أَنَّهُمْ إذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا ﷲ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ
(اے رسول )اگر یہ لوگ اس وقت جب انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا تمہارے پاس آتے اور اللہ سے بخشش طلب کرتے اور اس
لَوَجَدُوا ﷲ تَوَّاباً رَحِیماً، إلهِی فَقَدْ أَتَیْتُ نَبِیَّکَ مُسْتَغْفِراً تَائِباً مِنْ
کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی ان کیلئے مغفرت طلب کرتا تو ضرور یہ خدا کو تو بہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔ میرے معبود!میں اپنے گناہوں کی معافی
ذُ نُوبِی، فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَاغْفِرْها لِی، یَا سَیِّدَنا أَتَوَجَّهُ بِکَ
مانگتے اور توبہ کرتے ہوئے تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور آیا ہوں پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور میرے گناہ بخش دے اے مولاعليهالسلام !میں آپ
وَبِأَهْلِ بَیْتِکَ إلَی ﷲ تَعَالی رَبِّکَ وَرَبِّی لِیَغْفِرَ لِی
کے اور آپ کے اہلبیتعليهالسلام کے ذریعے خدا کی طرف متوجہ ہوا ہوں جو آپ کا اور میرا پروردگار ہے تاکہ مجھے بخش دے گا۔
پھر تین مرتبہ کہیں:إنَّا لِلّٰهِِ وَ إنَّا إلَیْهِ رَاجِعُونَ پھر کہیں:
بے شک ہم خدا کے لیے ہیں اور یقینا اسی کی طرف پلٹنے والے ہیں
أُصِبْنا بِکَ یَا حَبِیبَ قُلُوبِنا، فَمَا أَعْظَمَ الْمُصِیبَةَ بِکَ حَیْثُ انْقَطَعَ عَنَّا الْوَحْیُ
سوگوار ہیں ہم آپ کیلئے اے ہمارے دلی محبوب ، یہ کتنی بڑی مصیبت ہے کہ اب ہم میں وحی کا سلسلہ کٹ گیا ہے
وَحَیْثُ فَقَدْنَاکَ فَ إنَّا لِلّٰهِِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ یَا سَیِّدَنا یَا رَسُولَ ﷲ
اور ہم آپکے ظا ہری وجود سے محروم ہیں اور بے شک ہم اللہ کیلئے ہیں اور یقینا اسی کیطرف پلٹنے والے ہیں اے ہمارے سردار اے
صَلَوَاتُ ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ الطَّاهِرِینَ، هذَا یَوْمُ السَّبْتِ وَهُوَ یَوْمُکَ، وَأَ نَا
اللہ کے رسول : آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں اور آپ کے اہل خاندان پر جو پاک ہیں آج ہفتہ کا دن ہے اور یہی آپ کا دن ہے اور آج
فِیهِ ضَیْفُکَ وَجَارُکَ، فَأَضِفْنِی وَأَجِرْنِی، فَ إنَّکَ کَرِیمٌ تُحِبُّ الضِّیَافَةَ، وَمَأمُورٌ
میں آپ کا مہمان اور آپ کی پناہ میں ہوں پس میری میزبانی فرما یئے اور پناہ دیجیے کہ بے شک آپ سخی اور مہمان نواز ہیں اور پناہ
بِالْاِجارَةِ، فَأَضِفْنِی وَأَحْسِنْ ضِیَافَتِی، وَأَجِرْنا وَأَحْسِنْ إجَارَتَنا، بِمَنْزِلَةِ ﷲ
دینے پر مامور بھی ہیں پس مجھے مہمان کیجیے اور بہترین ضیافت کیجیے مجھے پناہ دیجیے جو بہترین پناہ ہو آپ کو واسطہ ہے خدا کی اس
عِنْدَکَ وَعِنْدَ آلِ بَیْتِکَ، وَبِمَنْزِلَتِهِمْ عِنْدَهُ، وَبِمَا اسْتَوْدَعَکُمْ مِنْ عِلْمِهِ
منزلت کا جو وہ آپکے اور آپکے اہلبیتعليهالسلام کے نزدیک رکھتا ہے اور جو منزلت ان کی خدا کے ہاں ہے اور اس علم کا واسطہ کہ جو اس نے
فَ إنَّهُ أَکْرَمُ الْاَکْرَمِینَ
آپ حضرات کو عطا کیا ہے کہ وہ کریموں میں سب سے بڑا کریم ہے۔
مؤلّف و جامع کتاب ہذا عباس قمی عفی عنہ کہتے ہیں کہ میں جب آنحضرت کی یہ زیارت پڑھنا چاہتا ہوںتو پہلے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وہ زیارت پڑھتا ہوں کہ جو امام علی رضا -نے بزنطی کو تعلیم فرمائی تھی اس کے بعدمذکورہ بالا زیارت پڑھتا ہوں اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ صحیح سند کے ساتھ روایت ہوئی ہے کہ ابن ابی نصر نے امام علی رضا -سے عرض کیا:نماز کے بعد میں حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر کس طرح صلوت بھیجوں ؟ آپ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو:
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدُ بْنَ
آپ پر سلام ہو اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں آپ پر سلام ہو اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن
عَبْدِالله اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا خِیَرَةَ ﷲ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
عبدﷲعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے پسندیدہ خدا، آپ پر سلام ہو اے حبیبصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا آپ پر سلام ہو
یَا صِفْوَةَ ﷲ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ ﷲ ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ رَسُولُ ﷲ، وَأَشْهَدُ أَ نَّکَ
اے خدا کے منتخب آپ پر سلام ہو اے خدا کے امانت دار میں گواہی دیتاہوں کہ آپ خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِﷲ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ نَصَحْتَ لاَُِمَّتِکَ، وَجَاهَدْتَ فِی سَبِیلِ رَبِّکَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن عبدﷲعليهالسلام ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اپنی امت کی خیر خواہی کی اور اپنے رب کی راہ میں جہاد کیا
وَعَبَدْتَهُ حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَجَزَاکَ ﷲ یَا رَسُولَ ﷲ أَ فْضَلَ ما جَزی نَبِیّاً عَنْ
اور اس کی عبادت کرتے رہے حتی کہ وقت موت آگیاپس اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم وہ آپ کو جزا دے وہ بہترین جزا جو نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنی امت
أُمَّتِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَ فْضَلَ ما صَلَّیْتَ عَلی إبْراهِیمَ وَآلِ
سے مل سکتی ہے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما بہترین رحمت جو تو نے حضرت ابراہیمعليهالسلام اور آل ابراہیمعليهالسلام پر
إبْراهِیمَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
فرمائی بے شک تو لائق حمد اور شان والا ہے۔
زیارت حضرت امیرالمومنین
اتوار:یہ حضرت امیرالمومنین -کا دن ہے۔
اس دن امیر المومنین- کی زیارت پڑھیں جیساکہ روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حالتِ بیداری میں امام زمانہ کو دیکھا کہ آپعليهالسلام امیرالمومنین -کی یہ زیارت پڑھ رہے ہیں ۔
اَلسَّلاَمُ عَلَی الشَّجَرَةِ النَّبَوِیَّةِ وَالدَّوْحَةِ الْهَاشِمِیَّةِ الْمُضِییَةِ الْمُثْمِرَةِ بِالنُّبُوَّةِ الْمُونِقَةِ
درخشاں شجرہ نبویہ اور گلزار ہاشمیہ پر سلام ہو جو نبوت سے ثمرآور ہوا ہے اور امامت سے
بِالْاِمَامَةِ وَعَلی ضَجِیعَیْکَ آدَمَ وَنُوحٍ عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِکَ
لہرایا ہے۔ اور آدم و نوح + پر سلام ہو جو آپ کے پاس دفن ہیں۔ آپ پر سلام ہو اور آپ کے اہلبیتعليهالسلام پر
الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْمَلائِکَةِ الْمُحْدِقِینَ بِکَ وَالْحَافِّینَ بِقَبْرِکَ
جو پاک پاکیزہ ہیں۔ آپ پر سلام ہو اوران فرشتوں پر جو آپ کے دروازے پر کھڑے ہیں اور آپکی قبر کو گھیرے ہوئے ہیں
یَا مَوْلایَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ هَذاَ یَوْمُ الْاَحَدِ وَهُوَ یَوْمُکَ وَبِاسْمِکَ وَأَ نَا ضَیْفُکَ فِیهِ
اے میرے مولاعليهالسلام اے مومنوں کے امیر یہ اتوار کا دن ہے اور یہی آپکا دن ہے اور آپکے نام سے منسوب ہے اور میں اس دن میں آپکا
وَجارُکَ فَأَضِفْنِی یَا مَوْلایَ وَأَجِرْنِی فَ إنَّکَ کَرِیمٌ تُحِبُّ الضِّیافَةَ وَمَأْمُورٌ
مہمان اور آپکی پناہ میں ہوں۔پس میرے مولاعليهالسلام مجھے مہمان کیجیے اور پناہ دیجیے کہ بے شک آپ سخی، مہمان نواز اور پناہ دینے پر مامور
بِالْاِجارَةِ فَافْعَلْ مَا رَغِبْتُ إلَیْکَ فِیهِ وَرَجَوْتُهُ مِنْکَ بِمَنْزِلَتِکَ وَآلِ بَیْتِکَ عِنْدَ
ہیں۔ پس جس مقصد سے میں اس دن حا ضر ہوا ہوں اور آپ سے جو آرزو رکھتا ہوں پوری فرمائیے اپنی اور اپنے خاندان کی خداکے
ﷲ، وَمَنْزِلَتِهِ عِنْدَکُمْ، وَبِحَقِّ ابْنِ عَمِّکَ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ہاںبلندی کے واسطے اور خدا کی منزلت کے واسطے جو آپکے نزدیک ہے اور اپنے چچا کے بھائی حضرت رسول کے حق کے
وَعَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ
واسطے میری آرزو پوری کیجیے آنحضرت اور ان سب پر درود سلام ہو۔
زیارت حضرت فاطمہ
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکِ یَا مُمْتَحَنَةُ، امْتَحَنَکِ الَّذِی خَلَقَکِ فَوَجَدَکِ لِمَا امْتَحَنَکِ صَابِرَةً،
آپ پر سلام ہو اے آزمائی ہوئی ذات۔ آپ کے خالق نے آپ کا امتحان لیا تو اس نے آپ کو امتحان میں صبر کرنے والی پایا
أَنَا لَکِ مُصَدِّقٌ صَابِرٌ عَلَی مَا أَتی بِهِ أَبُوکِ وَوَصِیُّهُ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِما،
میں آپ پر ایمان رکھتا ہوں جو کچھ آپ کے والد گرامی اور انکے وصی کو دیا گیا اس پر ثا بت قدم ہوںان دونوں پر خدا کی رحمت ہو
وَأَ نَا أَسْأَ لُکِ إنْ کُنْتُ صَدَّقْتُکِ إلاَّ أَ لْحَقْتِنِی بِتَصْدِیقِی
میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اگر میں نے آپکی تصدیق کی ہے تو صرف اس لیے کہ آپ اس تصدیق کے ذریعے مجھے اپنے بابا
لَهُمَا، لِتُسَرَّ نَفْسِی، فَاشْهَدِی أَ نِّی طاهِرٌ بِوَلاَیَتِکِ وَوَِلایَةِ آلِ بَیْتِکِ
اور ان کے وصی سے ملحق کر دیجیے تاکہ مجھے خو شی ملے ۔اے بی بیعليهالسلام گواہ رہنا کہ میں آپکی اور آپکے خاندان کی ولایت کی تائید کرتا ہوں
صَلَوَاتُ ﷲ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ ان سب پر خدا کی رحمتیں ہوں
زیارت دیگر حضرت فاطمہ = (دوسری روایت کی بنا پر)
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکِ یَا مُمْتَحَنَةُ امْتَحَنَکِ الَّذِی خَلَقَکِ قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَکِ وَکُنْتِ لِمَا
آپ پر سلام ہو اے آزمائی ہوئی ذات آپ کے خالق نے آپ کی تخلیق سے پہلے آپ کا امتحان لیا اور اے بی بی آپ امتحان
امْتَحَنَکِ بِهِ صَابِرَةً وَنَحْنُ لَکِ أَوْ لِیَائٌ مُصَدِّقُونَ وَ لِکُلِّ مَا أَتی بِهِ أَبُوکِ صَلَّی ﷲ
میں صبر کرنے والی نکلیں ہم آپکے محب اور تصدیق کرنے والے ہیں۔ آپ کے اور جو کچھ آپ کے بابا محمد
عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَتی بِهِ وَصِیُّهُ ں مُسَلِّمُونَ وَنَحْنُ نَسْأَ لُکَ اَللّٰهُمَّ إذْ کُنَّا مُصَدِّقِینَ
کو دیا گیا اور جو کچھ انکے وصی علی مرتضی - کو دیا گیا ،اسے تسلیم کرنے والے ہیں اور ہم سوال کرتے ہیں تجھ سے اے معبود کہ جب ہم
لَهُمْ أَنْ تُلْحِقَنَا بِتَصْدِیقِنا بِالدَّرَجَةِ الْعَالِیَةِ لِنُبَشِّرَ أَنْفُسَنَا بِأَنَّا قَدْ طَهُرْنا
ان ہستیوں کی تصدیق کرتے ہیں توہمیں اس تصدیق کی بدولت درجہ عالیہ پر پہنچا دیناکہ ہم خودکو بشارت سنائیں کہ ہم اہلبیت کی
بِوِلایَتِهِمْ عَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ
ولایت(کو ماننے ) سے پاک دل ہو گئے ہیں۔
زیارت امام حسن و حسین روزپیر
پیر :یہ امام حسنعليهالسلام و امام حسینعليهالسلام کا دن ہے
زیارت حضرت امام حسن -
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ رَسُولِ رَبِّ الْعَالَمِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ أَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ
آپ پر سلام ہو اے عالمین کے رب کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند! آپ پر سلام ہو اے امیرالمومنینعليهالسلام کے فرزند
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرَائِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہراعليهالسلام کے فرزند آپ پر سلام ہو اے خدا کے ولی، آپ پر سلام ہو
یَا صِفْوَةَ ﷲ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ ﷲ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
اے خدا کے برگزیدہ ،آپ پر سلام ہو اے خدا کے امانتدار، آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت ،آپ پر سلام ہو
یَا نُورَ ﷲ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا صِرَاطَ ﷲ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا بَیَانَ حُکْمِ ﷲ اَلسَّلاَمُ
اے خدا کے نور، آپ پر سلام ہو اے خدا کی راہ ،آپ پر سلام ہو اے حکمِ خدا کے مظہر، آپ پر
عَلَیْکَ یَا نَاصِرَ دِینِ ﷲ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا السَّیِّدُ الزَّکِیُّ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْبَرُّ
سلام ہو اے دین خدا کے مددگار، آپ پر سلام ہو اے پاک سردار ،آپ پر سلام ہو اے نیکوکار
الْوَفِیُّ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْقَائِمُ الْاَمِینُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْعَالِمُ بِالتَّأْوِیلِ
و وفادار، آپ پر سلام ہو اے قائم و امین، آپ پر سلام ہو اے تاویل قرآن کے عالم ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْهَادِی الْمَهْدِیُّ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الطَّاهِرُ الزَّکِیُّ، اَلسَّلاَمُ
آپ پر سلام ہو اے ہدایت دینے والے ہدایت یافتہ ،آپ پر سلام ہو اے پاک و پاکیزہ، آپ پر
عَلَیْکَ أَیُّهَا التَّقِیُّ النَّقِیُّ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْحَقُّ الْحَقِیقُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الشَّهِیدُ
سلام ہو اے پرہیزگار و پاک دامن، آپ پر سلام ہو اے حق کے لائق، آپ پر سلام ہو اے شہید
الصِّدِّیقُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا أَبَا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
و صدیق، آپ پر سلام ہو اے ابو محمد حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام آپ پر خدا کی رحمتیںاور برکتیں ہوں۔
زیارت حضرت امام حسین -
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلاَمُ
آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیر المومنینعليهالسلام کے فرزند آپ پر
عَلَیْکَ یَا ابْنَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ أَشْهَدُ أَ نَّکَ أَقَمْتَ الصَّلاَةَ، وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ،
سلام ہو اے زنان عالم کی سردار کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی زکوۃ ادا فرمائی
وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً، وَجَاهَدْتَ فِی ﷲ
آپ نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا خدا کی پر خلوص عبادت کی اور خدا کی راہ میں جہاد کیا
حَقَّ جِهادِهِ حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَعَلَیْکَ اَلسَّلاَمُ مِنِّی مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهَارُ،
جس طرح جہاد کا حق ہے یہاں تک کہ شہادت کو پہنچے پس آپ پر میرا سلام ہو جب تک میں زندہ ہوں اور شب وروز کا سلسلہ قائم
وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ أَ نَا یَا مَوْلاَیَ مَوْلیً لَکَ وَ لاَِلِبَیْتِکَ، سِلْمٌ
ہے اور آپ کے پاکیزہ اہل خاندان پر بھی سلام ہو اے میرے آقا میں آپ کا اور آپ کے خاندان کا غلام ہوں میری صلح ہے اس
لِمَنْ سَالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَکُمْ مُوَْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَجَهْرِکُمْ وَظَاهِرِکُمْ وَبَاطِنِکُمْ
سے جس سے آپ کی صلح اور میری جنگ ہے اس سے جس سے آپ کی جنگ ۔میں آپ کے نہاں اور عیاںاور آپ کے ظاہر و باطن
لَعَنَ ﷲ أَعْداءَکُمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ وَأَنَا أَبْرَأُ إلَی ﷲ تَعالی مِنْهُمْ یَا مَوْلاَیَ
کا معتقد ہوں خدا لعنت کرے آپکے دشمنوں پر جو اگلے اور پچھلے لوگوں میں سے ہیں اور میں خدا کے سامنے ان سے بیزاری ظاہر
یَا أَبا مُحَمَّدٍ، یَا مَوْلاَیَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، هذا یَوْمُ الاثْنَیْنِ وَهُوَ یَوْمُکُما وَبِاسْمِکُما
کرتا ہوں اے میرے آقا اے ابو محمد (حسنعليهالسلام )اے میرے آقا اے ابو عبداللہ (حسینعليهالسلام ) یہ سوموار کادن ہے جو آپ دونوں کا دن اور
وَأَ نَا فِیهِ ضَیْفُکُما، فَأَضِیفانِی وَأَحْسِنا ضِیَافَتِی، فَنِعْمَ مَنِ اسْتُضِیفَ
آپ دونوں کے نام سے منسوب ہے اس دن میں آپ دونوں بھائیوں کا مہمان ہوں مجھے مہمان کر کے اچھی ضیافت کیجیے کتنا خوش
بِهِ أَ نْتُمَا، وَأَ نَا فِیهِ مِنْ جِوارِکُما فَأَجِیرانِی، فَ إنَّکُمَا مَأمُورانِ
نصیب ہے وہ جو آپ کا مہمان ہو اور آج کے دن میں آپ کی پناہ میں ہوں مجھے پناہ دیجیے کہ آپ دونوں مہمان نوازی اور پناہ دینے
بِالضِّیافَةِ وَالْاِجارَةِ، فَصَلَّی ﷲ عَلَیْکُمَا وَآلِکُمَا الطَّیِّبِینَ
پر مامور ہیں۔ پس خدا آپ دونوں پر اور آپ کے پاک خاندان پر رحمت فرمائے۔
زیارت آئمہ بقیع روز منگل
منگل:یہ امام زین العابدین ،امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کا دن ہے ۔
تینوں ائمہعليهالسلام کی زیارت
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا خُزَّانَ عِلْمِ ﷲ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا تَرَاجِمَةَ وَحْیِ ﷲ، اَلسَّلاَمُ
سلام ہو آپ پر جو علم الہی کے خزینہ دار ہیں سلام ہو آپ پر جو وحی خدا کے ترجمان ہیں آپ پر
عَلَیْکُمْ یَا أَئِمَّةَ الْهُدَی، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا أَعْلامَ التُّقی، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا أَوْلادَ
سلام ہو جو ہدایت دینے والے امام ہیں آپ پر سلام ہو جو تقوی کے نشان ہیں آپ پر سلام ہو جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا
رَسُولِ ﷲ أَنَا عَارِفٌ بِحَقِّکُمْ مُسْتَبْصِرٌ بِشَأْنِکُمْ مُعادٍ لاََِعْدائِکُمْ مُوَالٍ لاََِوْ لِیَائِکُمْ
کے فرزند ہیں میں آپکے حق کو جانتا ہوں آپکی شان کو سمجھتا ہوں آپکے دشمنوں کا دشمن ہوں آپکے دوستوں کا دوست ہوں
بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکُمْ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَوالی آخِرَهُمْ کَمَا تَوالَیْتُ أَوَّلَهُمْ
میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں اے معبود! میں انکے آخری سے ایسی محبت رکھتا ہوں جیسی انکے اول
وَأَبْرَأُ مِنْ کُلِّ وَلِیجَةٍ دُونَهُمْ، وَأَکْفُرُ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَاللاَّتِ وَالْعُزَّی
سے ہے اور انکے مقابل ہر گروہ سے دور ہوں اور جادوگر طاغوت اور لات وعزیٰ کا انکار کرتا ہوں
صَلَوَاتُ ﷲ عَلَیْکُمْ یَا مَوالِیَّ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ
اے میرے سردارو! آپ پر خدا کی رحمت اور برکت ہو آپ پر سلام ہو اے عابدوں
الْعَابِدِینَ وَسُلالَةَ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا بَاقِرَ عِلْمِ النَّبِیِّینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
کے سردار اور وصیوں کی اصل آپ پر سلام ہو اے انبیائ کے علم کو ظاہر کرنے واے آپ پر سلام ہو
یَا صَادِقاً مُصَدَّقاً فِی الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ یَا مَوالِیَّ هذَا یَوْمُکُمْ وَهُوَ یَوْمُ الثُّلاثَائِ وَأَنَا
اے وہ صادق جسکی تصدیق اسکے قول و فعل میں کی گئی۔ اے میرے تینوں سردارو! یہ منگل والا دن، آپ کا دن ہے اور میں
فِیهِ ضَیْفٌ لَکُمْ وَمُسْتَجِیرٌ بِکُمْ، فَأَضِیفُونِی وَأَجِیرُونِی بِمَنْزِلَةِ ﷲ عِنْدَکُمْ وَآلِ
اس میں آپکا مہمان ہوںاور آپکی پناہ میں ہوںلہذا آپ میری مہمانوازی کیجیے اور مجھے پناہ دیجیے خدا کے اس مقام کے واسطے جو
بَیْتِکُمُ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ
آپکے نزدیک ہے اور اپنے پاک و پاکیزہ خاندان کے واسطے سے۔
چار آئمہ کی زیارات بروز بدھ
بدھ:یہ حضرت امام موسیٰ کاظمعليهالسلام حضرت امام علی رضاعليهالسلام حضرت امام محمد تقیعليهالسلام اور امام علی نقیعليهالسلام کا دن ہے
چاروںائمہ کی زیارت
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا أَوْلِیَاءَ ﷲ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا حُجَجَ ﷲ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا نُورَ
آپ پر سلام ہو اے اولیائ خدا آپ پر سلام ہو جو خدا کی دلیل و حجت ہیں آپ پر سلام ہو جو زمین کی
ﷲ فِی ظُلُمَاتِ الْاَرْضِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ، صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکُمْ وَعَلَی آلِ بَیْتِکُمُ
تاریکیوں میں خدا کا نور ہیں آپ پر سلام ہو خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر اور آپ کے پاک و پاکیزہ
الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ، بِأَبِی أَ نْتُمْ وَأُمِّی، لَقَدْ عَبَدْتُمُ ﷲ مُخْلِصِینَ، وَجَاهَدْتُمْ فِی
اہلبیتعليهالسلام پر آپ پر میرے ماں باپ قربان آپ نے مخلصانہ طور پر خدا کی عبادت کی اور خدا کی راہ میں
ﷲ حَقَّ جِهَادِهِ حَتَّی أَتاکُمُ الْیَقِینُ فَلَعَنَ ﷲ أَعْداءَکُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ أَجْمَعِینَ
جہاد کیا جس طرح جہاد کرنے کا حق ہے حتی کہ آپ کی اجل آگئی پس خدا لعنت کرے آپ کے تمام دشمنوں پر جو جنوں اور انسانوں
وَأَ نَا أَبْرَأُ إلَی ﷲ وَ إلَیْکُمْ مِنْهُمْ، یَا مَوْلایَ یَا أَبا إبْراهِیمَ مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ، یَا
میں سے ہیں میں آپکے اور خدا کے سامنے ان سے برائت کرتا ہوں اے میرے سردار اے ابوابراہیم موسیٰ کاظمعليهالسلام بن جعفر صادقعليهالسلام
مَوْلایَ یَا أَبَا الْحَسَنِ عَلِیَّ بْنَ مُوسی، یَا مَوْلایَ یَا أبا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ
اے میرے سردار اے ابو الحسنعليهالسلام علی رضاعليهالسلام بن موسٰی کاظمعليهالسلام اے میرے سردار اے ابو جعفر محمد تقیعليهالسلام بن علی رضاعليهالسلام
یَا مَوْلایَ یَا أَبَا الْحَسَنِ عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ، أَ نَا مَوْلیً لَکُمْ مُوَْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَجَهْرِکُمْ،
اے میرے سردار اے ابوالحسنعليهالسلام علی نقیعليهالسلام بن محمد تقیعليهالسلام ! میں آپ سب کا غلام ہوں آپکے نہاں وعیاں پر ایمان رکھتا ہوں
مُتَضَیِّفٌ بِکُمْ فِی یَوْمِکُمْ هذَا وَهُوَ یَوْمُ الْاَرْبَعائِ وَمُسْتَجِیرٌ بِکُمْ، فَأَضِیفُونِی
یہ آپ کا دن ہے میں اس میں آپ کا مہمان ہوں۔ یہ بدھ کا دن ہے اور آپ کی پناہ میں ہوں پس میری مہمانوازی کیجیے
وَأَجِیرُونِی بِآلِ بَیْتِکُمُ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ
اور مجھے پناہ دیجیے۔ آپکو آپکے پاک و پاکیزہ خاندان کاواسطہ دیتا ہوں۔
زیارت امام عسکری روز جمعرات
جمعرات:یہ امام حسن عسکری - کا دن ہے۔
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا وَ لِیَّ ﷲ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ وَخَالِصَتَهُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
آپعليهالسلام پر سلام ہو اے ﷲ کے ولی آپعليهالسلام پر سلام ہو اے حجت خدا اور اسکے خاص الخاص آپعليهالسلام پر سلام ہو
یَا إمَامَ الْمُؤْمِنِینَ، وَوَارِثَ الْمُرْسَلِینَ، وَحُجَّةَ رَبِّ الْعَالَمِینَ، صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ
اے مومنوں کے امام اور انبیائ کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت آپعليهالسلام پر خدا کی رحمت ہو اور آپعليهالسلام کے
وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ، یَا مَوْلایَ یَا أَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ
اہل خاندان پر جو پاک و پاکیزہ ہیں اے میرے سردار اے ابو محمد حسن عسکریعليهالسلام بن علی نقیعليهالسلام
أَ نَا مَوْلیً لَکَ وَلاَِلِ بَیْتِکَ، وَهذَا یَوْمُکَ وَهُوَ یَوْمُ الْخَمِیسِ، وَأَ نَا ضَیْفُکَ فِیهِ وَ
میں آپعليهالسلام کا اور آپ کے اہل خاندان کا غلام ہوں اور یہ دن آپعليهالسلام کا ہے جو جمعرات ہے میں اس میں آپ کا مہمان ہوں اور آپ کی
مُسْتَجِیرٌ بِکَ فِیهِ فَأَحْسِنْ ضِیَافَتِی وَ إجَارَتِی بِحَقِّ آلِ بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ
پناہ میں ہوں میری بہتر ین مہما نوازی کیجئے اور مجھے پناہ دیجئے اس کیلئے میںآپ کو آپ کے پاک و پاکیز ہ خاند ان کا و اسطہ د یتا ہوں ۔
زیارت امام العصر (عج)روز جمعہ
جمعہ:یہ حضرت صا حب الزمان (عج) کا دن ہے اور انہیں سے منسوب ہے اور یہ وہی دن ہے جس دن آپ ظہور فرمائیں گے آپ کی زیارت یہ ہے
زیا رت حضرت صا حب الزمان (عج)
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ فِی أَرْضِهِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ ﷲ فِی خَلْقِهِ اَلسَّلاَمُ
آپ پر سلام ہو جو خدا کی زمین میں اس کی حجت ہیں آپ پر سلام ہو جو خدا کی مخلوق میں اس کی آنکھ ہیں آپ پر
عَلَیْکَ یَا نُورَ ﷲ الَّذِی یَهْتَدِی بِهِ الْمُهْتَدُونَ وَیُفَرَّجُ بِهِ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ
سلام ہو جو خدا کے وہ نور ہیں جس سے ہدایت چاہنے والے ہدایت پاتے ہیں اور جس سے مومنوں کو کشادگی ملتی ہے آپ پر سلام ہو
أَیُّهَا الْمُهَذَّبُ الْخائِفُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْوَلِیُّ النَّاصِحُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا سَفِینَةَ
جو نیک طینت ڈرنے والے ہیں آپ پر سلام ہو اے خیر خواہ و سرپرست آپ پر سلام ہو اے کشتی
النَّجاةِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ الْحَیَاةِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ، صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ
نجات آپ پر سلام ہو اے چشمہ حیات آپ پر سلام ہو خدا کی رحمت ہو آپعليهالسلام پر اورآپکے پاک
بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ عَجَّلَ ﷲ لَکَ مَا وَعَدَکَ مِنَ النَّصْرِ وَظُهُورِ
و پاکیزہ خاندانعليهالسلام پر آپ پر سلام ہو خدا اس امر کے ظہور او نصرت میں جس کا وعدہ اس نے آپ سے
الْاَمْرِ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ أَنَا مَوْلاکَ عَارِفٌ بِأُولاَکَ وَأُخْرَاکَ أَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ
کیا ہے آپعليهالسلام پر سلام ہو اے میرے سردار میں آپ کا غلام ہوں آپ کے آغاز و انجام سے واقف ہوں میں خدا کا قرب چاہتا
تَعَالَی بِکَ وَبِآلِ بَیْتِکَ وَأَنْتَظِرُ ظُهُورَکَ وَظُهُورَ الْحَقِّ عَلَی یَدَیْکَ وَأَسْأَلُ ﷲ أَنْ
ہوں آپ کا اور آپکے خاندان کے و سیلے کا انتظا کرتا ہوںآپکے ظہوراورآ پکے ہا تھو ں حق کے ظہو ر کا اور خد ا سے سو ال کرتا ہوں
یُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ یَجْعَلَنِی مِنَ الْمُنْتَظِرِینَ لَکَ وَالتَّابِعِینَ وَالنَّاصِرِینَ
کہ وہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرمائے اور مجھے آپکے انتظار کرنے والوں اور پیروی کرنے والوں اور آپ کے دشمنوں کے
لَکَ عَلَی أَعْدائِکَ وَالْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْکَ فِی جُمْلَةِ أَوْلِیَائِکَ یَا مَوْلایَ یَا صَاحِبَ
مقابل آپکے مددگاروں اور آپکے سامنے شہید ہونے والے آپکے دوستوں میں سے قرار دے۔ اے میرے آقا اے
الزَّمَانِ، صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ، هذَا یَوْمُ الْجُمُعَةِ وَهُوَ یَوْمُکَ الْمُتَوَقَّعُ
صاحب زماںعليهالسلام آپ پر اور آپعليهالسلام کے اہل خاندانعليهالسلام پر خدا کی رحمتیں ہوں ۔ یہ جمعہ کا دن ہے جوآپعليهالسلام کا دن ہے جس میں
فِیهِ ظُهُورُکَ، وَالْفَرَجُ فِیهِ لِلْمُؤْمِنِینَ عَلَی یَدَیْکَ، وَقَتْلُ الْکافِرِینَ بِسَیْفِکَ، وَأَ نَا یَا
آپعليهالسلام کے ظہور اور آپعليهالسلام کے ذریعے مومنوں کی آسودگی کی توقع ہے اور آپ کی تلوار سے کافروں کے قتل کی امید ہے اور اے
مَوْلایَ، فِیهِ ضَیْفُکَ وَجَارُکَ، وَأَ نْتَ یَا مَوْلایَ کَرِیمٌ مِنْ أَوْلادِ الْکِرَامِ، وَمَأْمُورٌ
میرے آقا میں آج کے دن آپ کی پناہ میں ہوں اور اے میرے آقا آپ کریم اور کریموں کی اولاد سے ہیں اور مہمان رکھنے اور
بِالضِّیافَةِ وَالْاِجَارَةِ فَأَضِفْنِی وَأَجِرْنِی صَلَوَاتُ ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِکَ الطَّاهِرِینَ
پناہ دینے پر مامور ہیں بس مجھے مہمان کیجیے اور پنا ہ دیجئے پر اور آپ کے پاک و پاکیز ہ اہل خاندان پرخدا تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ۔
سید بن طاؤس کہتے ہیں میں اس زیارت کے بعد اس شعر کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور امام زمانہ - کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہوں
نزیلک حیث ماا تحهت رکابی وضیفک حیث کنت من البلاد
میری سواری مجھے جہاں بھی لے جائے میں آپ ہی کا مہمان ہوں اور شہروں میں سے جس شہر میں رہوں وہاں بھی آپکا مہمان ہوں
چھٹی فصل –
اس میں بعض مشہو ر د عا ئو ں کا تذ کر ہ ہے۔
دعائے صبا ح
یہ حضرت امیر المو منین - کی د عا ہے :مؤلّف کہتے ہیںکہ علامہ مجلسی نے یہ دعا اپنی کتاب بحار الانوار کی کتاب الدعائ اور کتاب الصلوۃ میں درج کی ہے۔ نیز فرمایا ہے کہ یہ مشہور دعائوں میں سے ہے ۔ لیکن میں نے اسے دیگر معتبر کتب میں نہیں پایا۔ البتہ سید بن باقی کی کتابِ مصباح میں یہ دعا موجود ہے۔اور اسی طرح علامہ مجلسی نے فرمایا ہے کہ اس دعا کا فریضہ ِصبح کے بعد پڑھا جانا مشہور ہے ۔ تا ہم سید بن باقیرحمهالله نے روایت کی ہے کہ اسے نافلہ صبح کے بعد پڑھا جائے۔ بہرحال ان دونوں میں سے جو صورت بھی اختیار کی جائے مناسب ہے:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خد ا کے نا م سے(شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہر با ن نہا یت ر حم کرنے وا لا ہے
اَللّٰهُمَّ یَا مَنْ دَلَعَ لِسانَ الصَّباحِ بِنُطْقِ تَبَلُّجِهِ، وَسَرَّحَ قِطَعَ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ بِغَیَاهِبِ
اے میرے معبود! جس نے صبح کی زبان کو روشنی کی گویائی دی اور اندھیری رات کے ٹکڑوں کو لرزتی تاریکیوں سمیت
تَلَجْلُجِهِ، وَأَتْقَنَ صُنْعَ الْفَلَکِ الدَّوَّارِ فِی مَقَادِیرِ تَبَرُّجِهِ، وَشَعْشَعَ ضِیَاءَ الشَّمْسِ
ہنکا دیا اور گھومتے آسمان کی ساخت کو اسکے برجوں سے محکم کیا اور سورج کی روشنی کو اسکے نور فروزاں
بِنُورِ تَأَجُّجِهِ، یَا مَنْ دَلَّ عَلَی ذَاتِهِ بِذَاتِهِ، وَتَنَزَّهَ عَنْ مُجَانَسَةِ مَخْلُوقَاتِهِ، وَجَلَّ
سے چمکایا۔ اے وہ جس نے اپنی ذات کو دلیل بنایا جو اپنی مخلوقات کا ہم جنس ہونے سے پاک اور اسکی کیفیتوں
عَنْ مُلاءَمَةِ کَیْفِیَّاتِهِ، یَا مَنْ قَرُبَ مِنْ خَطَراتِ الظُّنُونِ، وَبَعُدَ عَنْ لَحَظَاتِ الْعُیُونِ
کی آمیزش سے بلند ہے اے وہ جو ظنی خیالوں سے قریب ہے اور آنکھوں کی دید سے دور ہے
وَعَلِمَ بِمَا کَانَ قَبْلَ أَنْ یَکُونَ، یَا مَنْ أَرْقَدَنِی فِی مِهَادِ أَمْنِهِ وَأَمَانِهِ، وَأَیْقَظَنِی إلی
اور ہونے والی چیزوں کوہونے سے پہلے جان چکا ہے اے وہ جس نے مجھے اپنے امن و سلامتی کے گہوارے میں سلایا اور اپنی بخشش
مَا مَنَحَنِی بِهِ مِنْ مِنَنِهِ وَ إحْسَانِهِ، وَکَفَّ أَکُفَّ السُّوئِ عَنِّی بِیَدِهِ وَسُلْطَانِهِ صَلِّ
اور احسان کو پانے کیلئے مجھے بیدار کیا اپنی قدرت و اقتدار سے برائی کو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے روکا۔ اے معبود
اَللّٰهُمَّ عَلَی الدَّلِیلِ إلَیْکَ فِی اللَّیْلِ الأَلْیَلِ، وَالْمَاسِکِ مِنْ أَسْبَابِکَ بِحَبْلِ الشَّرَفِ
اس پر رحمت فرما جو تاریک رات میں تیری طرف رہنمائی کرنے والا، تیرے سہاروں میں سے شرف کی پا ئیدار رسی کو پکڑ ے والا،
الاَطْوَلِ وَالنَّاصِعِ الْحَسَبِ فِی ذِرْوَةِ الْکَاهِلِ الاَعْبَلِ وَالثَّابِتِ الْقَدَمِ عَلَی زَحالِفِها
اعلیٰ خاندان میں سے چمکتی پیشانی والا، استوار روش والا،آغاز ہی سے لغزشوں کے مواقع پر ثابت
فِی الزَّمَنِ الْاَوَّلِ وَعَلَی آلِهِ الْاَخْیَارِ الْمُصْطَفَیْنَ الاَ بْرارِ وَافْتَحِ اَللّٰهُمَّ لَنَا مَصَارِیعَ
قدم رہنے والا ہے اور اس نبی کی نیکوکار برگزیدہ خوش کردار آلعليهالسلام پر رحمت فرما۔ اے معبود! اپنی رحمت و بخشش
الصَّباحِ بِمَفَاتِیحِ الرَّحْمَةِ وَالْفَلاَحِ وَأَلْبِسْنِی اَللّٰهُمَّ مِنْ أَفْضَلِ خِلَعِ الْهِدَایَةِ وَالصَّلاَحِ
کی کنجیوں سے ہمارے لئے صبح کے دروازے کھول دے ۔اے معبود مجھے نیکی وہدایت کی بہترین خلعت پہنادے
وَأَغْرِسِ اَللّٰهُمَّ بِعَظَمَتِکَ فِی شِرْبِ جَنانِی یَنَابِیعَ الْخُشُوعِ وَأَجْرِ اَللّٰهُمَّ لِهَیْبَتِکَ مِنْ
خداوند! اپنی عظمت کے باعث میرے دل کی زمین میں خشوع و انکساری کے درخت لگا دے اے معبود! اپنی ہیبت کیلئے
آمَاقِی زَفَرَاتِ الدُّمُوعِ، وَأَدِّبِ اَللّٰهُمَّ نَزَقَ الْخُرْقِ مِنِّی بِأَزِمَّةِ الْقُنُوعِ إلهِی إنْ لَمْ
میری آنکھوں سے آنسوئوں کے تار جاری کردے۔ خدایا میری کج خلقی کو قناعت کی لگام ڈال دے۔ میرے اللہ اگر
تَبْتَدِیْنِی الرَّحْمَةُ مِنْکَ بِحُسْنِ التَّوْفِیقِ فَمَنِ السَّالِکُ بِی إلَیْکَ فِی واضِحِ الطَّرِیقِ وَ
تو نے اپنی نیکی کی توفیق نہ دی تو کون مجھے تیری طرف کشادہ راہ پر لے چلے گا اور
إنْ أَسْلَمَتْنِی أَنَاتُکَ لِقائِدِ الْاَمَلِ وَالْمُنَیٰ فَمَنِ الْمُقِیلُ عَثَرَاتِی مِنْ کَبَوَاتِ الْهَوی
تیری دی ہوئی ڈھیل سے میں خواہش کے پیچھے چل پڑا تو کون مجھے ہوس کی ٹھوکروں سے بچائے گا
وَ إنْ خَذَلَنِی نَصْرُکَ عِنْدَ مُحارَبَةِ النَّفْسِ وَالشَّیْطانِ فَقَدْ وَکَلَنِی خِذْلانُکَ إلی
اور اگر میرے نفس اور شیطا ن کی جنگ میں تیری نصرت میرے شامل حال نہ ہوتی تو گویا تیری دوری نے مجھے
حَیْثُ النَّصَبِ وَالْحِرْمانِ، إلهِی أَتَرَانِی مَا أَتَیْتُکَ إلاَّ مِنْ حَیْثُ الآمالِ، أَمْ عَلِقْتُ
رنج و غم کے حوالے کر دیا ہوتا میرے مالک کیا تیری نظر سے تیرے پاس اپنی خواہشوں کیلئے آیا ہوں یا میں نے
بِأَطْرَافِ حِبَالِکَ إلاَّ حِینَ باعَدَتْنِی ذُ نُوبِی عَنْ دَارِ الْوِصَالِ، فَبِیْسَ الْمَطِیَّةُ الَّتِی
تجھ سے اس وقت تعلق قائم کیا کہ جب میرے گناہوں نے مجھے تیرے وصال سے دور کردیا پس میرے دل نے
امْتَطَتْ نَفْسِی مِنْ هَوَاها فَوَاهاً لَهَا لِمَا سَوَّلَتْ لَهَا ظُنُونُها وَمُنَاها وَتَبّاً لَها لِجُرْأَتِها
خواہشوں کو اپنی بری سواری بنایا پس اس پر اور اسکی خیالی تمنائوں پر نفرین ہے اور تباہی ہو اسکی جو
عَلَی سَیِّدِها وَمَوْلاها إلهِی قَرَعْتُ بَابَ رَحْمَتِکَ بِیَدِ رَجَائِی، وَهَرَبْتُ إلَیْکَ لاَجِئاً
اس نے اپنے آقا پر یہ جرات کی ہے۔ الہی میں نے اپنی امید کے ہاتھوں تیرے باب ِرحمت پر دستک دی ہے اور اپنی حد سے زیادہ
مِنْ فَرْطِ أَهْوَائِی، وَعَلَّقْتُ بِأَطْرَافِ حِبَالِکَ أَنامِلَ وَلاَئِی، فَاصْفَحِ اَللّٰهُمَّ عَمَّا کُنْتُ
تمنائوں سے ڈر کے تیرے پاس بھاگ آیا ہوں اور محبت کی انگلیوں سے تیرے دامان ِرحمت کو تھام لیا ہے۔ اے معبود! مجھ سے جو
أَجْرَمْتُهُ مِنْ زَلَلِی وَخَطَائِی، وَأَقِلْنِی مِنْ صَرْعَةِ رِدَائِی، فَ إنَّکَ سَیِّدِی وَمَوْلایَ
لغزشیں اور خطائیں ہوئی ہیں ان سے چشم پوشی فرما اور میری چادر کی پایچی(وادی ہلاکت) سے صرف نظر فرما کیونکہ تو میرا آقا و
وَمُعْتَمَدِی وَرَجَائِی، وَأَ نْتَ غایَةُ مَطْلُوبِی وَمُنَایَ فِی مُنْقَلَبِی وَمَثْوَایَ إلهِی کَیْفَ
مالک اور میرا سہارا اور امید ہے اور تو ہی اس دنیا اور آخرت میں میرا اصلی مطلوب و مقصود ہے ۔میرے معبود! تو اس بے چارے
تَطْرُدُ مِسْکِیناً الْتَجَأَ إلَیْکَ مِنَ الذُّنُوبِ هارِبَاً أَمْ کَیْفَ تُخَیِّبُ مُسْتَرْشِداً قَصَدَ إلَی
کو کیسے نکال دے گا جوتیرے پاس گناہوں سے بھاگ کر آیا ہے یا اس طالب ہدایت کو کیسے مایوس کرے گا جو تیرے حضور دوڑتا ہوا
جَنَابِکَ سَاعِیاً أَمْ کَیْفَ تَرُدُّ ظَمْآناً وَرَدَ إلی حِیَاضِکَ شَارِباً کَلاَّ وَحِیَاضُکَ مُتْرَعَةٌ
آیا ہے یا اس پیاسے کو کیسے دور کرے گا جو تیرے کرم کے حوض سے پیاس بجھانے آیا ہے ہرگز نہیں !کہ تیرے فیض کے چشمے خشک
فِی ضَنْکِ الْمُحُولِ، وَبَابُکَ مَفْتُوحٌ لِلطَّلَبِ وَالْوُغُولِ، وَأَ نْتَ غایَةُ الْمَسْؤُولِ وَنِهَایَةُ
سالی میں بھی رواں ہیں اور تیرا بابِ کرم داخلے اور سوال کیلئے کھلا ہے تو سوال کی انتہا اور امید کی آخری
الْمَأْمُولِ إلهِی هَذِهِ أَزِمَّةُ نَفْسِی عَقَلْتُها بِعِقَالِ مَشِیْءَتِکَ وَهذِهِ أَعْبَائُ ذُ نُوبِی دَرَأْتُها
حد ہے میرے معبود! یہ میرے نفس کی باگیں ہیں جنکو میں نے تیری مشیت کی رسی سے باندھ دیا ہے اور یہ ہیں میرے گناہوں کی
بِعَفْوِکَ وَرَحْمَتِکَ وَهَذِهِ أَهْوَائِیَ الْمُضِلَّةُ وَکَلْتُها إلَی جَنَابِ لُطْفِکَ وَرَأْفَتِکَ،
گٹٹھریاں جو میں نے تیری بخشش و رحمت کے آگے لا رکھی ہیں اور یہ ہیں میری گمراہ کن خواہشیں جو میں نے تیرے لطف و کرم کے
فَاجْعَلِ اَللّٰهُمَّ صَبَاحِی هذا نَازِلاً عَلَیَّ بِضِیَائِ الْهُدی وَبِالسَّلامَةِ فِی الدِّینِ وَالدُّنْیا
سپرد کر دی ہیں پس اے پروردگار! اس صبح کو میرے لیے نور ہدایت اور دین و دنیا کی سلامتی کی حامل بنا کر نازل فرما
وَمَسَائِی جُنَّةً مِنْ کَیْدِ الْعِدَیٰ وَوِقایَةً مِنْ مُرْدِیاتِ الْهَوَیٰ، إنَّکَ قادِرٌ عَلَی ما تَشائُ
اور اس رات کو دشمنوں کی مکاری سے میری ڈھال اور ہلاک کرنے والی ہوس کی سپر بنادے بے شک تو جو چاہے اس پر قادر ہے
تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشائُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشائُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشائُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشائُ،
جسے چاہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہے واپس لے لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے ہر بھلائی
بِیَدِکَ الْخَیْرُ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، تُو لِجُ اللَّیْلَ فِی النَّهارِ، وَتُو لِجُ النَّهارَ فِی
تیرے ہاتھ میں ہے بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل
اللَّیْلِ، وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ، وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشائُ بِغَیْرِ
کرتا ہے مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو برآمد کرتا ہے اور جسے چاہے بے حساب رزق عطا
حِسَابٍ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ اَللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ مَنْ ذَا یَعْرِفُ قَدْرَکَ فَلاَ یَخافُکَ
فرماتا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں پاک ہے تو اے اللہ اور حمد تیرے ہی لیے ہے کون ہے جو تیری قدر و عظمت کو پہچانے تو اس سے
وَمَنْ ذَا یَعْلَمُ مَا أَ نْتَ فَلاَ یَهابُکَ، أَ لَّفْتَ بِقُدْرَتِکَ الْفِرَقَ، وَفَلَقْتَ بِلُطْفِکَ الْفَلَقَ،
نہ ڈرے کون ہے جو جانتا ہو تو کون ہے پھر تجھ سے مرعوب نہ ہو تو نے اپنی قدرت سے منتشرکو متحد کیا اور اپنے لطف سے سپیدہ صبح کو
وَأَنَرْتَ بِکَرَمِکَ دَیاجِیَ الْغَسَقِ وَأَنْهَرْتَ الْمِیَاهَ مِنَ الصُّمِّ الصَّیاخِیدِ عَذْباً وَأُجَاجاً
نمایاں کیا اور تو نے ہی اپنے کرم سے تاریک راتوں کو روشن کیا اور تو نے سخت پتھروں میں سے میٹھے اور کھاری پانی کے چشمے جاری
وَأَنْزَلْتَ مِنَ الْمُعْصِراتِ مائً ثَجَّاجاً وَجَعَلْتَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لِلْبَرِیَّةِ سِراجاً وَهَّاجاً
کیے اور بادلوں سے نتھرا ہوا میٹھا پانی برسایا اور تو نے سورج اور چاند کو مخلوق کیلئے روشن چراغ قرار دیا بغیر اس کے کہ
مِنْ غَیْرِ أَنْ تُمَارِسَ فِیَما ابْتَدَأْتَ بِهِ لُغُوباً وَلاَ عِلاجاً، فَیا مَنْ تَوَحَّدَ بِالْعِزِّ وَالْبَقَائِ
پیدا کرنے میں تجھے کوئی تھکاوٹ و خستگی عارض ہوئی یا تو محتاج ہوا ہو پس اے عزت اور بقا میں یگانہ
وَقَهَرَ عِبَادَهُ بِالْمَوْتِ وَالْفَنائِ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الْاَتْقِیَائِ وَاسْمَعْ نِدَائِی وَاسْتَجِبْ
اور موت دفنا کے ذریعے بندوں پر غالب رہنے والے! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما جو پرہیزگار ہیں اور میری پکار سن لے میری دعا
دُعَاءِی وَحَقِّقْ بِفَضْلِکَ أَمَلِی وَرَجَائِی یَا خَیْرَ مَنْ دُعِیَ لِکَشْفِ الضُّرِّ، وَالْمَأْمُولِ
قبول فرما اور اپنے کرم سے میری تمناو امید پوری کر دے اے وہ بہترین ذات جسے تکلیف دور کرنے کیلئے پکارا جاتا ہے اور اے تنگی
فِی کُلِّ عُسْرٍ وَیُسْرٍ بِکَ أَنْزَلْتُ حاجَتِی فَلاَ تَرُدَّنِی مِنْ سَنِیِّ مَوَاهِبِکَ خائِباً یَا کَرِیمُ
و فراخی کی امید گاہ، میں تیرے حضور حاجت لے کر آیا ہوں پس مجھے اپنی وسیع عطائوں سے محرومی کے ساتھ دور نہ کر یاکریم
یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَصَلَّی ﷲ عَلی خَیْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ
یاکریم یاکریم اپنی رحمت کے ساتھ اے سب سے زیادہ رحمت کرنے والے اور اس کی بہترین مخلوق حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی سبھی آلعليهالسلام پر
وَآلِهِ أَجْمَعِینَ پهر سجده میں جائیں اور کهیں: إلهِی قَلْبِی مَحْجُوبٌ وَنَفْسِی مَعْیُوبٌ وَعَقْلِی
خدا کی رحمت ہو خدایا !میرے دل پر حجاب ہے میرے نفس میں عیب ہے میری عقل
مَغْلُوبٌ وَهَوَائِی غَالِبٌ، وَطَاعَتِی قَلِیلٌ، وَمَعْصِیَتِی کَثِیرٌ، وَ لِسَانِی مُقِرٌّ بِالذُّنُوبِ،
ناکارہ ہے میری خواہش غالب میری عبادت کم اور گناہ بہت زیادہ ہیں میری زبان گناہوں کا اقرار کرتی ہے
فَکَیْفَ حِیلَتِی یَا سَتَّارَ الْعُیُوبِ وَیَا عَلاَّمَ الْغُیُوبِ وَیَا کَاشِفَ الْکُرُوبِ اغْفِرْ ذُنُوبِی
تو میرا چارہ کار کیا ہے؟ اے عیبوں کو چھپانے والے اے چھپی باتوں کو جاننے والے اے دکھوں کو دور کرنے والے میرے تمام گناہ
کُلَّها بِحُرْمَةِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ یَا غَفَّارُ یَا غَفَّارُ یَا غَفَّارُ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
بخش دے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حرمت کے واسطے سے یاغفار یاغفار یاغفار اپنی رحمت کے ساتھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
دعائے کمیل بن زیادرحمهالله
یہ مشہور و معروف دعائوں میں سے ہے اور علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ یہ بہترین دعائوں میں سے ایک ہے اور یہ حضرت خضرعليهالسلام کی دعا ہے۔ امیرالمومنین- نے یہ دعا، کمیل بن زیاد کو تعلیم فرمائی تھی جو حضرتعليهالسلام کے اصحاب خاص میں سے ہیں یہ دعا شب نیمہ شعبان اور ہر شب جمعہ میں پڑھی جاتی ہے ۔جو شر دشمنان سے تحفظ، وسعت و فراوانی رزق اور گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔ اس دعا کو شیخ و سید ہر دو بزرگوں نے نقل فرمایا ہے۔ میں اسے مصباح المتہجد سے نقل کر رہا ہوں اور وہ دعا شریف یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ وَبِقُوَّتِکَ الَّتِی قَهَرْتَ بِها کُلَّ شَیْئٍ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رحمت کے ذریعے جوہر شی پر محیط ہے تیری قوت کے ذریعے جس سے تو نے ہر شی کو زیر نگیں کیا
وَخَضَعَ لَها کُلُّ شَیْئٍ، وَذَلَّ لَها کُلُّ شَیْئٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتِی غَلَبْتَ بِها کُلَّ شَیْئٍ
اور اس کے سامنے ہر شی جھکی ہوئی اور ہر شی زیر ہے اور تیرے جبروت کے ذریعے جس سے توہر شی پر غالب ہے
وَبِعِزَّتِکَ الَّتِی لاَ یَقُومُ لَها شَیْئٌ، وَ بِعَظَمَتِکَ الَّتِی مَلَأَتْ کُلَّ شَیْئٍ، وَ بِسُلْطانِکَ
تیری عزت کے ذریعے جسکے آگے کوئی چیز ٹھہرتی نہیں تیری عظمت کے ذریعے جس نے ہر چیز کو پر کر دیا تیری سلطنت کے
الَّذِی عَلاَ کُلَّ شَیْئٍ، وَ بِوَجْهِکَ الْباقِی بَعْدَ فَنَائِ کُلِّ شَیْئٍ، وَبِأَسْمَائِکَ الَّتِی مَلأَتْ
ذریعے جو ہر چیز سے بلند ہے تیری ذات کے واسطے سے جوہر چیز کی فنا کے بعد باقی رہے گی اورسوال کرتا ہوںتیرے ناموں کے
أَرْکَانَ کُلِّ شَیْئٍ، وَبِعِلْمِکَ الَّذِی أَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ، وَبِنُورِ وَجْهِکَ الَّذِی أَضَاءَ
ذریعے جنہوںنے ہر چیز کے اجزائ کو پر کر رکھا ہے تیرے علم کے ذریعے جس نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور تیری ذات کے نور کے
لَهُ کُلُّ شَیْئٍ یَا نُورُ یَا قُدُّوسُ، یَا أَوَّلَ الْاَوَّلِینَ ، وَیَا آخِرَ الْاَخِرِینَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ
ذریعے جس سے ہر چیز روشن ہوئی ہے یانور یاقدوس اے اولین میں سب سے اول اور اے آخرین میں سب سے آخر اے معبود
الذُّنُوبَ الَّتِی تَهْتِکُ الْعِصَمَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ النِّقَمَ
میرے ان گناہوں کو معاف کر دے جو پردہ فاش کرتے ہیں خدایا! میرے وہ گناہ معاف کر دے جن سے عذاب نازل ہوتا ہے
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَحْبِسُ الدُّعَاءَ
خدایا میرے وہ گناہ بخش دے جن سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں اے معبود! میرے وہ گناہ معاف فرما جو دعا کو روک لیتے ہیں
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ الْبَلاَءَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی کُلَّ ذَ نْبٍ أَذْ نَبْتُةُ
اے اللہ میرے وہ گناہ بخش دے جن سے بلائیں نازل ہوتی ہے اے خدا میرا ہر وہ گناہ معاف فرما جو میں نے کیا ہے
وَکُلَّ خَطِیءَةٍ أَخْطَأْتُها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِذِکْرِکَ، وَأَسْتَشْفِعُ
اور ہر لغزش سے درگزر کر جو مجھ سے ہو ئی ہے اے اللہ میں تیرے ذکر کے ذریعے تیرا تقرب چاہتا ہوں اور تیری ذات کو تیرے
بِکَ إلَی نَفْسِکَ وَأَسْأَ لُکَ بِجُودِکَ أَنْ تُدْنِیَنِی مِنْ قُرْبِکَ، وَأَنْ تُوزِعَنِی شُکْرَکَ
حضور اپنا سفارشی بناتا ہوں تیرے جود کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپناقرب عطا فرما اور توفیق دے کہ تیرا شکر ادا کروں
وَأَنْ تُلْهِمَنِی ذِکْرَکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ سُؤَالَ خَاضِعٍ مُتَذَلِّلٍ خَاشِعٍ أَنْ تُسامِحَنِی
اور میری زبان پر اپنا ذکر جاری فرما اے اللہ میں سوال کرتا ہوں جھکے ہوئے گرے ہوئے ڈرے ہوئے کیطرح کہ مجھ سے چشم پوشی
وَتَرْحَمَنِی وَتَجْعَلَنِی بِقَِسْمِکَ رَاضِیاً قانِعاً، وَفِی جَمِیعِ الْاَحْوَالِ مُتَواضِعاً اَللّٰهُمَّ
فرما مجھ پر رحمت کر اور مجھے اپنی تقدیر پر راضی و قانع اور ہر قسم کے حالات میں نرم خو رہنے والا بنا دے یااللہ میں
وَأَسْأَ لُکَ سُؤَالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فَاقَتُهُ، وَأَ نْزَلَ بِکَ عِنْدَ الشَّدایِدِ حَاجَتَهُ، وَعَظُمَ فِیَما
تجھ سے سوال کرتا ہوں اس شخص کیطرح جو سخت تنگی میں ہو سختیوں میں پڑا ہواپنی حاجت لے کر تیرے پاس آیاہوں اور جو کچھ تیرے
عِنْدَکَ رَغْبَتُهُ اَللّٰهُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُکَ وَعَلاَ مَکَانُکَ وَخَفِیَ مَکْرُکَ، وَظَهَرَ أَمْرُکَ
پاس ہے اس میں زیادہ رغبت رکھتا ہوں اے اللہ تیری عظیم سلطلنت اور تیرا مقام بلند ہے تیری تدبیر پوشیدہ اور تیرا امر ظاہر ہے
وَغَلَبَ قَهْرُکَ وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ وَلاَ یُمْکِنُ الْفِرارُ مِنْ حُکُومَتِکَ اَللّٰهُمَّ لاَ أَجِدُ لِذُنُوبِی
تیرا قہر غالب تیری قدرت کارگر ہے اور تیری حکومت سے فرار ممکن نہیں خداوندا میں تیرے سوا کسی کو نہیں پاتا جو میرے گناہ
غَافِراً، وَلاَ لِقَبائِحِی سَاتِراً، وَلاَ لِشَیْئٍ مِنْ عَمَلِیَ الْقَبِیحِ بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَکَ لاَ
بخشنے والا میری برائیوں کو چھپانے والا اور میرے برے عمل کو نیکی میں بدل دینے والا ہو تیرے سوا کوئی معبود نہیں
إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ، ظَلَمْتُ نَفْسِی، وَتَجَرَّأْتُ بِجَهْلِی، وَسَکَنْتُ إلَی
تو پاک ہے اور حمد تیرے ہی لیے ہے میںنے اپنے نفس پر ظلم کیا اپنی جہالت کی وجہ سے جرأت کی اور میں نے تیری قدیم یاد آوری
قَدِیمِ ذِکْرِکَ لِی وَمَنِّکَ عَلَیَّ اَللّٰهُمَّ مَوْلاَیَ کَمْ مِنْ قَبِیحٍ سَتَرْتَهُ، وَکَمْ مِنْ فَادِحٍ مِنَ
اور اپنے لیے تیری بخشش پر بھروسہ کیا ہے اے اللہ : میرے مولا کتنے ہی گناہوں کی تو نے پردہ پوشی کی اور کتنی ہی سخت بلائوں
الْبَلاَئِ أَقَلْتَهُ، وَکَمْ مِنْ عِثَارٍ وَقَیْتَهُ، وَکَمْ مِنْ مَکْرُوهٍ دَفَعْتَهُ، وَکَمْ مِنْ ثَنَائٍ جَمِیلٍ
سے مجھے بچالیا کتنی ہی لغزشیں معاف فرمائیں اور کتنی ہی برائیاں مجھ سے دور کیں تو نے میری کتنی ہی تعریفیں عام
لَسْتُ أَهْلاً لَهُ نَشَرْتَهُ اَللّٰهُمَّ عَظُمَ بَلاَئِی وَأَ فْرَطَ بِی سُوئُ حالِی وَقَصُرَتْ بِی
کیں جن کا میں ہر گز اہل نہ تھا اے معبود! میری مصیبت عظیم ہے بدحالی کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی ہے میرے اعمال
أَعْمالِی، وَقَعَدَتْ بِی أَغْلالِی ، وَحَبَسَنِی عَنْ نَفْعِی بُعْدُ آمالِی، وَخَدَعَتْنِی الدُّنْیا
بہت کم ہیں گناہوں کی زنجیر نے مجھے جکڑ لیا ہے لمبی آرزوئوں نے مجھے اپنا قیدی بنا رکھا ہے دنیا نے دھوکہ
بِغُرُورِها، وَنَفْسِی بِجِنایَتِها، وَمِطالِی یَا سَیِّدِی فَأَسْأَ لُکَ بِعِزَّتِکَ أَنْ لاَ یَحْجُبَ
بازی سے اور نفس نے جرائم اور حیلہ سازی سے مجھ کو فریب دیا ہے اے میرے آقا میں تیری عزت کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ
عَنْکَ دُعائِی سُوئُ عَمَلِی وَفِعالِی وَلاَ تَفْضَحْنِی بِخَفِیِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنْ سِرِّی
میری بدعملی و بدکرداری میری دعا کو تجھ سے نہ روکے اور تو مجھے میرے پوشیدہ کاموں سے رسوا نہ کرے جن میں تو میرے راز کو
وَلاَ تُعاجِلْنِی بِالْعُقُوبَةِ عَلی مَا عَمِلْتُهُ فِی خَلَواتِی مِنْ سُوئِ فِعْلِی وَ إساءَتِی
جانتاہے اور مجھے اس پر سزا دینے میں جلدی نہ کر جو میں نے خلوت میں غلط کام کیا برائی کی ہمیشہ
وَدَوامِ تَفْرِیطِی وَجَهالَتِی، وَکَثْرَ ةِ شَهَواتِی وَغَفْلَتِی، وَکُنِ اَللّٰهُمَّ بِعِزَّتِکَ لِی فِی
کوتاہی کی اس میں میری نادانی، خواہشوں کی کثرت اور غفلت بھی ہے اور اے میرے اللہ تجھے اپنی عزت
کُلِّ الْاَحْوالِ رَؤُوفاً، وَعَلَیَّ فِی جَمِیعِ الاَُْمُورِ عَطُوفاً إلهِی وَرَبِّی مَنْ لِی غَیْرُکَ
کا واسطہ میرے لیے ہر حال میں مہربان رہ اور تمام امور میں مجھ پر عنایت فرما میرے معبود میرے رب تیرے سوا میرا کون ہے
أَسْأَلُهُ کَشْفَ ضُرِّی، وَالنَّظَرَ فِی أَمْرِی إلهِی وَمَوْلایَ أَجْرَیْتَ عَلَیَّ حُکْماً
جس سے سوال کروں کہ میری تکلیف دور کر دے اور میرے معاملے پر نظر رکھ میرے معبود اور میرے مولا تو نے میرے لیے حکم
اتَّبَعْتُ فِیهِ هَویٰ نَفْسِی، وَلَمْ أَحْتَرِسْ فِیهِ مِنْ تَزْیِینِ عَدُوِّی، فَغَرَّنِی بِمَا أَهْوی
صادر فرمایالیکن میں نے اس میں خواہش کا کہا مانا اور میں دشمن کی فریب کاری سے بچ نہ سکا اس نے میری خواہشوں میں دھوکہ دیا
وَأَسْعَدَهُ عَلَی ذلِکَ الْقَضائُ، فَتَجاوَزْتُ بِما جَری عَلَیَّ مِنْ ذلِکَ بَعْضَ حُدُودِکَ،
اور وقت نے اسکا ساتھ دیا پس تو نے جو حکم صادر کیا میں نے اس میں تیری بعض حدود کو توڑا اور تیرے بعض احکام کی
وَخالَفْتُ بَعْضَ أَوامِرِکَ، فَلَکَ الحُجَّةُ عَلَیَّ فِی جَمِیعِ ذلِکَ وَلاَ حُجَّةَ لِی فِیما
مخالفت کی پس اس معاملہ میں مجھ پر لازم ہے تیری حمد بجالانا اور میرے پاس کوئی حجت نہیں اس میں جو
جَریٰ عَلَیَّ فِیهِ قَضَاؤُکَ، وَأَ لْزَمَنِی حُکْمُکَ وَبَلاؤُکَ، وَقَدْ أَتَیْتُکَ یَا إلهِی بَعْدَ
فیصلہ تو نے میرے لیے کیا ہے اور میرے لیے تیرا حکم اور تیری آزمائش لازم ہے اور اے اللہ میں تیرے حضور آیا ہوں
تَقْصِیرِی وَ إسْرافِی عَلی نَفْسِی، مُعْتَذِراً نادِماً مُنْکَسِراً مُسْتَقِیلاً مُسْتَغْفِراً مُنِیباً
جب کہ میں نے کو تاہی کی اور اپنے نفس پرزیادتی کی ہے میں عذر خواہ و پشیماں،ہارا ہوا، معافی کا طالب، بخشش کا سوالی ،تائب
مُقِرّاً مُذْعِناً مُعْتَرِفاً، لاَ أَجِدُ مَفَرّاً مِمَّا کَانَ مِنِّی وَلاَ مَفْزَعاً أَتَوَجَّهُ إلَیْهِ فِی أَمْرِی
گناہوں کا اقراری، سرنگوں اور اقبال جرم کرتا ہوں جو کچھ مجھ سے ہوا نہ اس سے فرار کی راہ ہے نہ کوئی جا ئے پناہ کہ اپنے معاملے
غَیْرَ قَبُو لِکَ عُذْرِی وَ إدْخالِکَ إیَّایَ فِی سَعَةٍ مِنْ رَحْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ فَاقْبَلْ عُذْرِی
میں اسکی طرف توجہ کروںسوائے اسکے کہ تو میرا عذر قبول کر اور مجھے اپنی وسیع تر رحمت میں داخل کرلے اے معبود! بس میرا عذر قبول
وَارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّی وَفُکَّنِی مِنْ شَدِّ وَثاقِی یَا رَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِی وَرِقَّةَ
فرما میری سخت تکلیف پر رحم کر اور بھاری مشکل سے رہائی دے اے پروردگار میرے کمزور بدن، نازک جلد اور باریک
جِلْدِی وَدِقَّةَ عَظْمِی، یَا مَنْ بَدَأَ خَلْقِی وَذِکْرِی وَتَرْبِیَتِی وَبِرِّی وَتَغْذِیَتِی، هَبْنِی
ہڈیوں پر رحم فرما اے وہ ذات جس نے میری خلقت ذکر، پرورش، نیکی اور غذا کا آغاز کیا اپنے پہلے کرم
لاِبْتِدائِ کَرَمِکَ وَسالِفِ بِرِّکَ بِی یَا إلهِی وَسَیِّدِی وَرَبِّی أَتُراکَ مُعَذِّبِی بِنَارِکَ بَعْدَ
اور گزشتہ نیکی کے تحت مجھے معاف فرما اے میرے معبودمیرے آقا اور میرے رب کیا میں یہ سمجھوں کہ تو مجھے اپنی آگ کا عذاب
تَوْحِیدِکَ، وَبَعْدَ مَا انْطَوی عَلَیْهِ قَلْبِی مِنْ مَعْرِفَتِکَ، وَلَهِجَ بِهِ لِسَانِی مِنْ ذِکْرِکَ
دے گا جبکہ تیری توحید کا معترف ہوں اسکے ساتھ میرا دل تیری معرفت سے لبریز ہے اور میری زبان تیرے ذکر میں لگی ہوئی ہے
وَاعْتَقَدَهُ ضَمِیرِی مِنْ حُبِّکَ وَبَعْدَ صِدْقِ اعْتِرافِی وَدُعَاءِی خَاضِعاً لِرُبُوبِیَّتِکَ
میرا ضمیر تیری محبت سے جڑا ہوا ہے اور اپنے گناہوں کے سچے اعتراف اور تیری ربوبیت کے آگے میری عاجزانہ پکار کے
هَیْهاتَ أَنْتَ أَکْرَمُ مِنْ أَنْ تُضَیِّعَ مَنْ رَبَّیْتَهُ أَوْ تُبَعِّدَ مَنْ أَدْنَیْتَهُ أَوْ تُشَرِّدَ مَنْ آوَیْتَهُ
بعد بھی تو مجھے عذاب دے گا۔ ہرگز نہیں! تو بلند ہے اس سے کہ جسے پالا ہو اسے ضائع کرے یا جسے قریب کیا ہو اسے دور کرے
أَوْ تُسَلِّمَ إلَی الْبَلاَئِ مَنْ کَفَیْتَهُ وَرَحِمْتَهُ، وَلَیْتَ شِعْرِی یَا سَیِّدِی وَ إلهِی
یا جسے پناہ دی ہو اسے چھوڑ دے یا جسکی سرپرستی کی ہو اور اس پر مہربانی کی ہو اسے مصیبت کے حوالے کر دے اے کاش میں جانتا
وَ مَوْلایَ، أَ تُسَلِّطُ النَّارَ عَلَی وُ جُوهٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِکَ سَاجِدَةً، وَعَلَی
اے میرے آقا میرے معبود!اور میرے مولا کہ کیا تو ان چہروں کو آگ میں ڈالے گا جو تیری عظمت کے سامنے سجدے میں پڑے
أَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحِیدِکَ صَادِقَةً، وَبِشُکْرِکَ مَادِحَةً، وَعَلَی قُلُوبٍ
ہیں اور ان زبانوں کو جو تیری توحید کے بیان میں سچی ہیں اور شکر کے ساتھ تیری تعریف کرتی ہیں اور ان دلوں
اعْتَرَفَتْ بِ إلهِیَّتِکَ مُحَقِّقَةً، وَعَلَی ضَمَائِرَ حَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِکَ حَتَّی
کو جو تحقیق کیساتھ تجھے معبود مانتے ہیں اور انکے ضمیروں کو جو تیری معرفت سے پر ہو کر تجھ سے خائف
صَارَتْ خَاشِعَةً، وَعَلَی جَوارِحَ سَعَتْ إلَی أَوْطانِ تَعَبُّدِکَ طَائِعَةً، وَ أَشارَتْ
ہیں تو انہیںآگ میں ڈالے گا؟ اور ان اعضائ کو جو فرمانبرداری سے تیری عبا دت گاہوں کی طرف دوڑتے ہیں اور یقین کے ساتھ
بِاسْتِغْفارِکَ مُذْعِنَةً، مَا هَکَذَا الظَّنُّ بِکَ، وَلاَ أُخْبِرْنا بِفَضْلِکَ عَنْکَ یَا کَرِیمُ یَا رَبِّ
تیری مغفرت کے طالب ہیں (تو انہیں آگ میں ڈالے) تیری ذات سے ایسا گمان نہیں، نہ یہ تیرے فضل
وَأَ نْتَ تَعْلَمُ ضَعْفِی عَنْ قَلِیلٍ مِنْ بَلائِ الدُّنْیا وَعُقُوباتِها، وَمَا یَجْرِی فِیها مِنَ
کے مناسب ہے اے کریم اے پروردگار! دنیا کی مختصر تکلیفوں اور مصیبتوں کے مقابل تو میری ناتوانی کو جانتا ہے اور اہل دنیا پر جو
الْمَکَارِهِ عَلَی أَهْلِها، عَلی أَنَّ ذلِکَ بَلائٌ وَمَکْرُوهٌ قَلِیلٌ مَکْثُهُ، یَسِیرٌ بَقاؤُهُ، قَصِیرٌ
تنگیاں آتی ہیں (میں انہیں برداشت نہیں کرسکتا) اگرچہ اس تنگی و سختی کا ٹھہراؤ اور بقائ کا وقت تھوڑا اور مدت کوتاہ ہے تو پھر
مُدَّتُهُ، فَکَیْفَ احْتِمالِی لِبَلائِ الاَْخِرَةِ وَجَلِیلِ وُقُوعِ الْمَکَارِهِ فِیها وَهُوَ بَلائٌ تَطُولُ
کیونکر میں آخرت کی مشکلوں کو جھیل سکوں گا جو بڑی سخت ہیں اور وہ ایسی تکلیفیں ہیں جنکی
مُدَّتُهُ وَیَدُومُ مَقامُهُ، وَلاَ یُخَفَّفُ عَنْ أَهْلِهِ، لاََِنَّهُ لاَ یَکُونُ إلاَّ عَنْ غَضَبِکَ وَانْتِقامِکَ
مدت طولانی ،اقامت دائمی ہے اور ان میں سے کسی میں کمی نہیں ہو گی اس لیے کہ وہ تیرے غضب تیرے انتقام
وَسَخَطِکَ، وَهذا ما لاَ تَقُومُ لَهُ السَّماواتُ وَالْاَرْضُ، یَا سَیِّدِی فَکَیْفَ بِی وَأَ نَا
اور تیری ناراضگی سے آتی ہیں اور یہ وہ سختیاں ہیں جنکے سامنے زمین وآسمان بھی کھڑے نہیں رہ سکتے تو اے
عَبْدُکَ الضَّعِیفُ الذَّلِیلُ، الْحَقِیرُ الْمِسْکِینُ الْمُسْتَکِینُ یَا إلهِی وَرَبِّی وَسَیِّدِی
آقا مجھ پر کیا گزرے گی جبکہ میں تیرا کمزور پست، بے حیثیت، بے مایہ اور بے بس بندہ ہوں اے میرے آقا اور میرے مولا! میں
وَمَوْلایَ، لاََِیِّ الاَُْمُورِ إلَیْکَ أَشْکُو، وَ لِمَا مِنْها أَضِجُّ وَأَبْکِی، لاََِلِیمِ الْعَذابِ
کن کن باتوں کی تجھ سے شکایت کروں اور کس کس کے لیے نالہ و شیون کروں؟ دردناک عذاب اور اس کی سختی کے لیے یا
وَشِدَّتِهِ، أَمْ لِطُولِ الْبَلاَئِ وَمُدَّتِهِ فَلَئِنْ صَیَّرْتَنِی لِلْعُقُوبَاتِ مَعَ أَعْدائِکَ، وَجَمَعْتَ
طولانی مصیبت اور اس کی مدت کی زیادتی کیلئے پس اگر تو نے مجھے عذاب و عقاب میں اپنے دشمنوں کے ساتھ رکھااور مجھے اور
بَیْنِی وَبَیْنَ أَهْلِ بَلاَئِکَ، وَفَرَّقْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ أَحِبَّائِکَ وَأَوْ لِیائِکَ، فَهَبْنِی یَا إلهِی
اپنے عذابیوں کو اکٹھا کر دیا اور میرے اور اپنے دوستوں اور محبوں میں دوری ڈال دی تو اے میرے معبود
وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ وَرَبِّی، صَبَرْتُ عَلَی عَذابِکَ، فَکَیْفَ أَصْبِرُ عَلَی فِراقِکَ، وَهَبْنِی
میرے آقا میرے مولا اور میرے رب تو ہی بتا کہ میں تیرے عذاب پر صبر کر ہی لوں تو تجھ سے دوری پر کیسے
صَبَرْتُ عَلی حَرِّ نَارِکَ، فَکَیْفَ أَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِ إلَی کَرامَتِکَ أَمْ کَیْفَ أَسْکُنُ فِی
صبر کروں گا؟ اور مجھے بتاکہ میں نے تیری آگ کی تپش پر صبر کر ہی لیا تو تیرے کرم سے کسطرح چشم پوشی کرسکوں گا یا کیسے آگ میں
النَّارِ وَرَجائِی عَفْوُکَ فَبِعِزَّتِکَ یَا سَیِّدِی وَمَوْلایَ أُقْسِمُ صَادِقاً لَئِنْ تَرَکْتَنِی نَاطِقاً
پڑا رہوں گا جب کہ میں تیرے عفو و بخشش کا امیدوار ہوں پس قسم ہے تیری عزت کی اے میرے آقا اور مولا سچی قسم کہ اگر تو نے میری
لاَََضِجَّنَّ إلَیْکَ بَیْنَ أَهْلِها ضَجِیجَ الْاَمِلِینَ وَلاَََصْرُخَنَّ إلَیْکَ صُراخَ
گویائی باقی رہنے دی تو میں اہل نار کے درمیان تیرے حضور فریاد کروں گا آرزو مندوں کی طرح اور تیرے سامنے نالہ کروں گا جیسے
الْمُسْتَصْرِخِینَ وَلَااَبْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکَاءَ الْفَاقِدِینَ، وَلاََُنادِیَنَّکَ أَیْنَ کُنْتَ یَا وَ لِیَّ
مددگار کے متلاشی کرتے ہیںتیرے فراق میں یوں گریہ کروں گا جیسے ناامید ہونے والے گریہ کرتے ہیںاور تجھے پکاروں گا کہاں
الْمُؤْمِنِینَ یَا غَایَةَ آمالِ الْعارِفِینَ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ یَا حَبِیبَ قُلُوبِ الصَّادِقِینَ
ہے تواے مومنوں کے مددگار اے عارفوں کی امیدوں کے مرکز اے بیچاروں کی داد رسی کرنے والے اے سچے لوگوں کے دوست
وَیَا إلهَ الْعالَمِینَ أَفَتُراکَ سُبْحَانَکَ یَا إلهِی وَبِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فِیها صَوْتَ عَبْدٍ
اور اے عالمین کے معبود کیا میں تجھے دیکھتا ہوں تو پاک ہے اس سے اے میرے اللہ اپنی حمد کے ساتھ کہ تو وہاں سے بندہ مسلم کی
مُسْلِمٍ سُجِنَ فِیها بِمُخالَفَتِهِ، وَذاقَ طَعْمَ عَذابِها بِمَعْصِیَتِهِ، وَحُبِسَ بَیْنَ أَطْباقِها
آواز سن رہا ہے جو بوجہ نافرمانی دوزخ میں ہے اپنی برائی کے باعث عذاب کا ذائقہ چکھ رہا ہے اور اپنے جرم گناہ پر جہنم
بِجُرْمِهِ وَجَرِیرَتِهِ، وَهُوَ یَضِجُّ إلَیْکَ ضَجِیجَ مُؤَمِّلٍ لِرَحْمَتِکَ وَیُنادِیکَ بِلِسانِ أَهْلِ
کے طبقوںکے بیچوں بیچ بند ہے وہ تیرے سامنے گریہ کر رہا ہے تیری رحمت کے امیدوار کی طرح اور اہل توحید کی زبان میں
تَوْحِیدِکَ، وَیَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ یَا مَوْلایَ فَکَیْفَ یَبْقی فِی الْعَذابِ وَهُوَ
تجھے پکار رہا ہے اور تیرے حضور تیری ربوبیت کو وسیلہ بنا رہا ہے اے میرے مولا! پس کس طرح وہ عذاب میں رہے گا جب کہ وہ
یَرْجُو مَا سَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ أَمْ کَیْفَ تُؤْ لِمُهُ النَّارُ وَهُوَ یَأْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ
تیرے گزشتہ حلم کا امیدوار ہے یا پھر آگ کیونکر اسے تکلیف دے گی جبکہ وہ تیرے فضل اور رحمت کی امید رکھتا ہے
أَمْ کَیْفَ یُحْرِقُهُ لَهِیبُها وَأَ نْتَ تَسْمَعُ صَوْتَهُ وَتَری مَکانَهُ أَمْ کَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْهِ
یا آگ کے شعلے کیسے اس کو جلائیں گے جبکہ تو اسکی آواز سن رہا ہے اور اس کے مقام کو دیکھ رہا ہے یا کیسے آگ کے شرارے اسے
زَفِیرُها وَأَ نْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَهُ أَمْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ أَطْباقِها وَأَ نْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ أَمْ
گھیریں گے جبکہ تو اسکی ناتوانی کو جانتا ہے یا کیسے وہ جہنم کے طبقوں میں پریشان رہے گا جبکہ تو اس کی سچائی سے واقف ہے
کَیْفَ تَزْجُرُهُ زَبانِیَتُها وَهُوَ یُنادِیکَ یَا رَبَّهُ أَمْ کَیْفَ یَرْجُو فَضْلَکَ فِی عِتْقِهِ مِنْها
یا کیسے جہنم کے فرشتے اسے جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے پکار رہا ہے اے میرے رب یا کیسے ممکن ہے کہ وہ خلاصی میں تیرے فضل کا
فَتَتْرُکُهُ فِیها، هَیْهاتَ ما ذلِکَ الظَّنُ بِکَ، وَلاَ الْمَعْرُوفُ مِنْ فَضْلِکَ، وَلاَ مُشْبِهٌ لِمَا
امیدوار ہو اور تو اسے جہنم میں رہنے دے ہرگز نہیں! تیرے بارے میں یہ گمان نہیں ہو سکتا نہ تیرے فضل کا ایسا تعارف ہے نہ یہ توحید
عَامَلْتَ بِهِ الْمُوَحِّدِینَ مِنْ بِرِّکَ وَ إحْسانِکَ، فَبِالْیَقِینِ أَقْطَعُ، لَوْلاَ مَا حَکَمْتَ بِهِ
پرستوں پر تیرے احسان و کرم سے مشابہ ہے پس میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے دشمنوں کو آگ کا عذاب دینے کا حکم
مِنْ تَعْذِیبِ جَاحِدِیکَ، وَقَضَیْتَ بِهِ مِنْ إخْلادِ مُعانِدِیکَ، لَجَعَلْتَ النَّارَ کُلَّها بَرْداً
نہ دیا ہوتا اور اپنے مخالفوں کوہمیشہ اس میں رکھنے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو ضرور تو آگ کو ٹھنڈی اور آرام بخش بنا دیتا
وَسَلاماً، وَمَا کانَ لاََِحَدٍ فِیها مَقَرّاً وَلاَ مُقاماً، لَکِنَّکَ تَقَدَّسَتْ أَسْماؤُکَ أَقْسَمْتَ أَنْ
اور کسی کو بھی آگ میں جگہ اور ٹھکانہ نہ دیا جاتا لیکن تو نے اپنے پاکیزہ ناموں کی قسم کھائی
تَمْلاَََها مِنَ الْکَافِرِینَ، مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، وَأَنْ تُخَلِّدَ فِیهَا الْمُعانِدِینَ،
کہ جہنم کو تمام کافروں سے بھر دے گا جنّوں اور انسانوں میں سے اور یہ مخالفین ہمیشہ اس میں رہیں گے اور تو بڑی
وَأَنْتَ جَلَّ ثَناؤُکَ قُلْتَ مُبْتَدِیاً، وَتَطَوَّلْتَ بِالْاِنْعامِ مُتَکَرِّماً، أَفَمَنْ کَانَ مُوَْمِناً کَمَنْ
تعریف والا ہے تو نے فضل و کرم کرتے ہوئے بلا سابقہ یہ فرمایا کہ کیا وہ شخص جو مومن ہے
کَانَ فَاسِقاً لاَ یَسْتَوُونَ إلهِی وَسَیِّدِی، فَأَسْأَ لُکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتِی قَدَّرْتَها وَبِالْقَضِیَّةِ
وہ فاسق جیسا ہو سکتا ہے؟ یہ دونوں برابر نہیں میرے معبود میرے آقا! میں تیری قدرت جسے تو نے توانا کیا اور تیرا فرمان جسے تو نے
الَّتِی حَتَمْتَها وَحَکَمْتَها، وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَیْهِ أَجْرَیْتَها، أَنْ تَهَبَ لِی فِی هَذِهِ اللَّیْلَةِ
یقینی و محکم بنایا اور تو غالب ہے اس پر جس پر اسے جاری کرے اسکے واسطے سے سوال کرتا ہوںبخش دے اس شب میں اور اس
وَفِی هَذِهِ السَّاعَةِ کُلَّ جُرْمٍ أَجْرَمْتُهُ، وَکُلَّ ذَنْبٍ أَذْ نَبْتُهُ، وَکُلَّ قَبِیحٍ أَسْرَرْتُهُ، وَکُلَّ
ساعت میں میرے تمام وہ جرم جو میں نے کیے تمام وہ گناہ جو مجھ سے سرزد ہوئے وہ سب برائیاں جو میں نے چھپائی ہیں جو نادانیاں
جَهْلٍ عَمِلْتُهُ کَتَمْتُهُ أَوْ أَعْلَنْتُهُ أَخْفَیْتُهُ أَوْ أَظْهَرْتُهُ وَکُلَّ سَیِّءَةٍ أَمَرْتَ بِ إثْباتِهَا الْکِرامَ
میں نے جہل کی وجہ سے کیں ہیں علی الاعلان یا پوشیدہ، رکھی ہوں یا ظاہر کیں ہیں اور میری بدیاں جن کے لکھنے کا تو نے معزز کاتبین
الْکاتِبِینَ الَّذِینَ وَکَّلْتَهُمْ بِحِفْظِ مَا یَکُونُ مِنِّی وَجَعَلْتَهُمْ شُهُوداً عَلَیَّ مَعَ جَوارِحِی
کو حکم دیا ہے جنہیں تو نے مقرر کیا ہے کہ جو کچھ میں کروں اسے محفوظ کریں اور ان کو میرے اعضائ کے ساتھ مجھ پر گواہ بنایا
وَکُنْتَ أَ نْتَ الرَّقِیبَ عَلَیَّ مِنْ وَرائِهِمْ وَالشَّاهِدَ لِما خَفِیَ عَنْهُمْ وَبِرَحْمَتِکَ أَخْفَیْتَهُ
اور انکے علاوہ خود تو بھی مجھ پر ناظر اور اس بات کا گواہ ہے جو ان سے پوشیدہ ہے حالانکہ تو نے اپنی رحمت سے اسے چھپایا اور اپنے
وَبِفَضْلِکَ سَتَرْتَهُ، وَأَنْ تُوَفِّرَ حَظِّی، مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تُنْزِلُهُ، أَوْ إحْسانٍ تُفْضِلُهُ، أَوْ
فضل سے اس پر پردہ ڈالاوہ معاف فرما اور میرے لیے وافر حصہ قرار دے ہر اس خیر میں جسے تو نے نازل کیا یا ہر اس احسان میں جو
بِرٍّ تَنْشِرُهُ، أَوْ رِزْقٍ تَبْسِطُهُ، أَوْ ذَ نْبٍ تَغْفِرُهُ، أَوْ خَطَاًَ تَسْتُرُهُ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا
تو نے کیا یا ہر نیکی میں جسے تو نے پھیلایا رزق میں جسے تو نے وسیع کیا یا گناہ میں جسے تو معاف نے کیا یا غلطی میں جسے تو نے چھپایا
رَبِّ یَا إلهِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ وَمالِکَ رِقِّی یَا مَنْ بِیَدِهِ نَاصِیَتِی، یَا عَلِیماً بِضُرِّی
یارب یا رب یا رب اے میرے معبود میرے آقا اورمیرے مولا اور میری جان کے مالک اے وہ جسکے ہاتھ میں میری لگام ہے
وَمَسْکَنَتِی یَا خَبِیراً بِفَقْرِی وَفاقَتِی یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ أَسْأَ لُکَ بِحَقِّکَ وَقُدْسِکَ
اے میری تنگی و بے چارگی سے واقف اے میری ناداری و تنگدستی سے باخبر یارب یارب یارب میں تجھ سے تیرے حق ہونے، تیری
وَأَعْظَمِ صِفاتِکَ وَأَسْمائِکَ، أَنْ تَجْعَلَ أَوْقاتِی فِی اللَّیْلِ وَالنَّهارِ بِذِکْرِکَ مَعْمُورَةً،
پاکیزگی، تیری عظیم صفات اور اسمائ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میرے رات دن کے اوقات اپنے ذکر سے آباد کر اور مسلسل اپنی
وَبِخِدْمَتِکَ مَوْصُولَةً وَأَعْمالِی عِنْدَکَ مَقْبُولَةً، حَتَّی تَکُونَ أَعْمالِی وَأَوْرادِی کُلُّها
حضوری میں رکھ اور میرے اعمال کو اپنی جناب میں قبولیت عطا فرما حتی کہ میرے تمام اعمال اور اذکار تیرے حضور
وِرْداً وَاحِداً، وَحالِی فِی خِدْمَتِکَ سَرْمَداً یَا سَیِّدِی یَا مَنْ عَلَیْهِ مُعَوَّلِی، یَا مَنْ
ورد قرار پائیں اور میرا یہ حال تیری بارگاہ میں ہمیشہ قائم رہے اے میرے آقا اے وہ جس پر میرا تکیہ ہے اے جس سے
إلَیْهِ شَکَوْتُ أَحْوالِی یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ قَوِّ عَلی خِدْمَتِکَ جَوارِحِی وَاشْدُدْ عَلَی
میں اپنے حالات کی تنگی بیان کرتا ہوں یارب یارب یارب میرے ظاہری اعضائ کو اپنی حضوری میں قوی اور میرے باطنی ارادوں کو
الْعَزِیمَةِ جَوانِحِی، وَهَبْ لِیَ الْجِدَّ فِی خَشْیَتِکَ، وَالدَّوامَ فِی الاتِّصالِ بِخِدْمَتِکَ،
محکم و مضبوط بنا دے اور مجھے توفیق دے کہ تجھ سے ڈرنے کی کوشش کروں اور تیری حضوری میں ہمیشگی پیدا کروں تاکہ تیری بارگاہ میں
حَتّی أَسْرَحَ إلَیْکَ فِی مَیادِینِ السَّابِقِینَ، وَأُسْرِعَ إلَیْکَ فِی المُبَادِرِینَ وَأَشْتاقَ
سابقین کی راہوں پر چل پڑ و ں اور تیری طر ف جا نے والوں سے آگے نکل جا ئوں تیرے قرب کا شوق رکھنے والوں
إلی قُرْبِکَ فِی الْمُشْتاقِینَ وَأَدْنُوَ مِنْکَ دُنُوَّ الْمُخْلِصِینَ، وَأَخافَکَ مَخافَةَ الْمُوقِنِینَ
میں زیادہ شوق والا بن جائوں تیرے خالص بندوں کی طرح تیرے قریب ہو جائوں اہل یقین کی مانند تجھ سے ڈروں
وَأَجْتَمِعَ فِی جِوارِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ اَللّٰهُمَّ وَمَنْ أَرادَنِی بِسُوئٍ فَأَرِدْهُ، وَمَنْ کادَنِی
اور تیرے آستانہ پر مومنوں کے ساتھ حاضر رہوں اے معبود جو میرے لئے برائی کا ارادہ کرے تو اسکے لئے ایسا ہی کر جو میرے
فَکِدْهُ وَاجْعَلْنِی مِنْ أَحْسَنِ عَبِیدِکَ نَصِیباً عِنْدَکَ وَأَقْرَبِهِمْ مَنْزِلَةً مِنْکَ، وَأَخَصِّهِمْ
ساتھ مکر کر ے تو اسکے ساتھ بھی ایسا ہی کر مجھے اپنے بند و ںمیں قر ار دے جو نصیب میں بہتر ہیں جومنزلت میں تیرے قریب ہیں
زُلْفَةً لَدَیْکَ، فَ إنَّهُ لاَ یُنالُ ذلِکَ إلاَّ بِفَضْلِکَ، وَجُدْ لِی بِجُودِکَ، وَاعْطِفْ عَلَیَّ
جو تیرے حضور تقرب میں مخصوص ہیں کیونکہ تیرے فضل کے بغیر یہ درجات نہیں مل سکتے بواسطہ اپنے کرم کے مجھ پر کرم کر بذریعہ اپنی
بِمَجْدِکَ، وَاحْفَظْنِی بِرَحْمَتِکَ، وَاجْعَلْ لِسانِی بِذِکْرِکَ لَهِجاً، وَقَلْبِی بِحُبِّکَ
بزرگی کے مجھ پر توجہ فرما بوجہ اپنی رحمت کے میری حفاظت کر میری زبان کو اپنے ذکر میں گویا فرما اور میرے دل کو اپنا اسیر محبت بنا دے
مُتَیَّماً وَمُنَّ عَلَیَّ بِحُسْنِ إجابَتِکَ وَأَقِلْنِی عَثْرَتِی وَاغْفِرْ زَلَّتِی فَ إنَّکَ قَضَیْتَ عَلی
میری دعا بخوبی قبول فرما مجھ پر احسان فرما میرا گناہ معاف کر دے اور میری خطا بخش دے کیونکہ تو نے بندوں پر
عِبادِکَ بِعِبادَتِکَ، وَأَمَرْتَهُمْ بِدُعائِکَ، وَضَمِنْتَ لَهُمُ الْاِجابَةَ، فَ إلَیْکَ یارَبِّ نَصَبْتُ
عبادت فرض کی ہے اور انہیں دعا مانگنے کا حکم دیا اور قبولیت کی ضمانت دی پس اے پروردگار میں اپنا رخ تیری طرف
وَجْهِی، وَ إلَیْکَ یَا رَبِّ مَدَدْتُ یَدِی، فَبِعِزَّتِکَ اسْتَجِبْ لِی دُعائِی، وَبَلِّغْنِی مُنایَ،
کر رہا ہوں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہوں تو اپنی عزت کے طفیل میری د عا قبول فرما میری تمنائیں برلا اور اپنے فضل سے لگی
وَلاَ تَقْطَعْ مِنْ فَضْلِکَ رَجائِی، وَاکْفِنِی شَرَّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنْ أَعْدائِی، یَا سَرِیعَ
میری امید نہ توڑ میرے دشمن جو جنّوں اور انسانوں سے ہیں ان کے شر سے میری کفایت کر اے جلد
الرِّضا، اغْفِرْ لِمَنْ لاَ یَمْلِکُ إلاَّ الدُّعاءَ، فَ إنَّکَ فَعَّالٌ لِما تَشَائُ، یَا مَنِ اسْمُهُ دَوَائٌ،
را ضی ہونے والے مجھے بخش دے جو دعا کے سوا کچھ نہیں ر کھتا بے شک تو جو چا ہے کرنے والا ہے اے وہ جس کا نام دوا جس
وَذِکْرُهُ شِفائٌ وَطَاعَتُهُ غِنیً اِرْحَمْ مَنْ رَأْسُ مالِهِ الرَّجائُ وَسِلاحُهُ الْبُکَائُ یَا سَابِغَ
کا ذکر شفا اور اطاعت تونگری ہے رحم فرما اس پرجس کا سرمایہ محض امید ہے اور جس کا ہتھیار گریہ ہے
النِّعَمِ، یَا دَافِعَ النِّقَمِ، یَا نُورَ الْمُسْتَوْحِشِینَ فِی الظُّلَمِ، یَا عَالِماً لاَ یُعَلَّمُ، صَلِّ
اے نعمتیں پوری کرنے والے اے سختیاں دور کرنے والے اے تاریکیوں میں ڈرنے والوں کیلئے نور اے وہ عالم جسے پڑھایا نہیں گیا
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَافْعَلْ بِی مَا أَ نْتَ أَهْلُهُ، وَصَلَّی ﷲ عَلی رَسُو لِهِ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما مجھ سے وہ سلوک کر جس کا تو اہل ہے خدا اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور بابرکت آئمہ
وَآلاَءِمَّةِ الْمَیامِینَ مِنْ آلِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً
پرسلام بھیجتا ہے بہت زیادہ سلام وتحیات جو انکی آلعليهالسلام میں سے ہیں۔
دعائے عشرات
یہ بڑی معتبر دعاؤں میں سے ہے لیکن اسکے نسخوں میں خا صا فر ق پا یا جا تا ہے ہم اسے شیخ کی کتاب مصبا ح المتہجد سے نقل کر رہے ہیں۔ہر صبح و شا م اسکا پڑ ھنا مستحب ہے۔ لیکن اسکے پڑ ھنے کا ا فضل وقت جمعہ کے دن عصر کے بعد ہے ۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نا م سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہر با ن نہا یت رحم کرنے و الا ہے
سُبْحانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله
پاک ہے خدا اور حمد خدا کے لئے ہی ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگتر ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو خدائے
الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ سُبْحانَ ﷲ آناءَ اللَّیْلِ وَأَطْرافَ النَّهارِ سُبْحانَ ﷲ بِالْغُدُوِّ وَالآصالِ
بزرگ و برتر سے ہے پاک ہے خدا اوقات شب اور اطراف روز میں پاک ہے خدا طلوع و غروب کے وقت
سُبْحانَ ﷲ بالْعَشِیِّ وَالْاِ بْکارِ، سُبْحانَ ﷲ حِینَ تُمْسُونَ وَحِینَ تُصْبِحُونَ،
پاک ہے خدا شام اور صبح کے وقت پاک ہے خدا جب تم شام کرتے اور جب تم صبح کرتے ہو
وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّماواتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیّاً وَحِینَ تُظْهِرُونَ، یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ
اور حمد اسی کیلئے ہے آسمانوں اور زمین میں اور بوقت عصر جب تم ظہر کرتے ہو وہ مردہ سے
الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ، وَیُحْیِی الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها وَکَذَلِکَ تُخْرَجُونَ،
زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اسکی موت کے بعد زندہ کرتا ہے اور ایسے ہی تم قیا مت میں نکالے جائو گے،
سُبْحانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُونَ، وَسَلامٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ
پاک ہے تمہارا رب ان باتوں سے جو وہ لوگ بیان کیا کرتے ہیں اور سلام ہو تمام رسولوں پر اور حمد خدا ہی کے لئے ہے جو عالمین
الْعالَمِینَ سُبْحانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوتِ سُبْحانَ ذِی الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحانَ
کا پروردگار ہے پاک ہے وہ جو صاحب ملک و ملکوت ہے۔ پاک ہے وہ جو صاحب عزت و جبروت ہے پاک ہے وہ
ذِی الْکِبْرِیائِ وَالْعَظَمَةِ الْمَلِکِ الْحَقِّ المُهَیْمِنِ القُدُّوسِ، سُبْحانَ ﷲ الْمَلِکِ الْحَیِّ
جو بڑائی اور بزرگی کا مالک ہے بادشاہ،بر حق،مقتدر،اور منزہ ہے پاک ہے خدا جو بادشاہ اور زندہ ہے کہ
الَّذِی لاَ یَمُوتُ سُبْحانَ ﷲ الْمَلِکِ الْحَیِّ الْقُدُّوسِ سُبْحانَ الْقائِمِ الدَّائِمِ سُبْحانَ
جسے موت نہیں، پاک ہے خدا جو بادشاہ زندہ و منزہ ہے پاک ہے وہ جو قائم و دائم ہے، پاک ہے وہ جو دائم و
الدَّائِمِ الْقائِمِ، سُبْحانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ سُبْحانَ رَبِّیَ الأَعْلی، سُبْحانَ الْحَیِّ الْقَیُّومِ
قائم ہے، پاک ہے میرا رب جوعظمت والاہے پاک ہے میرا رب جو اعلٰی ہے پاک ہے وہ جوہمیشہ زندہ وپائندہ ہے
سُبْحانَ الْعَلِیِّ الأَعْلی، سُبْحانَهُ وَتَعالی، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّنا وَرَبُّ الْمَلائِکَةِ
پاک ہے وہ جو بلند و بالا ہے وہ پاک اور بر تر ہے پاکیزہ و منزہ ہے ہمارا رب جو ملائکہ
وَالرُّوحِ، سُبْحانَ الدَّائِمِ غَیْرِ الْغافِلِ، سُبْحانَ الْعالِمِ بِغَیْرِ تَعْلِیمٍ، سُبْحانَ خالِقِ
اور روح کا رب ہے پاک ہے وہ ہمیشہ رہنے و الا جو غافل نہیں، پاک ہے وہ جو بغیر تعلیم کے عالم ہے پاک ہے وہ جو دیکھی
مَا یُریٰ وَمَا لاَ یُریٰ، سُبْحانَ الَّذِی یُدْرِکُ الاَ بْصارَ وَلاَ تُدْرِکُهُ الاَ بْصارُ، وَهُوَ
ان دیکھی ہر چیز کا خالق ہے پاک ہے وہ جو نظروں کو پاتا ہے اور نظریں اسے پا نہیں سکتیں اور وہ
اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَصْبَحْتُ مِنْکَ فِی نِعْمَةٍ وَخَیْرٍ وَبَرَکَةٍ وَعافِیَةٍ، فَصَلِّ
باریک بین و خبر والا ہے اے معبود میں نے تیری طرف سے ملنے والی نعمت، خیر و برکت اور عافیت میں صبح کی پس رحمت فرما
عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاَتْمِمْ عَلَیَّ نِعْمَتَکَ وَخَیْرَکَ وَبَرَکَاتِکَ وَعافِیَتَکَ بِنَجاةٍ مِنَ النَّارِ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور مجھ پر اپنی نعمت، اپنی خیر اور اپنی برکتیں اور اپنی عافیت پوری فرما جہنم سے نجات کے ذریعے اور
وَارْزُقْنِی شُکْرَکَ وَعافِیَتَکَ وَفَضْلَکَ وَکَرامَتَکَ أَبَداً ما أَبْقَیْتَنِی اَللّٰهُمَّ بِنُورِکَ
مجھے اپنے شکر کی توفیق بھی دے اور اپنی طرف سے عافیت، عطا فرما اور مہربانی سے نواز جب تک میں زندہ ہوں اے معبود مجھے تیرے
اهْتَدَیْتُ وَبِفَضْلِکَ اسْتَغْنَیْتُ، وَبِنِعْمَتِکَ أَصْبَحْتُ وَأَمْسَیْتُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أُشْهِدُکَ
نور سے ہدایت اور تیرے فضل سے تونگری ملی ہے تیری نعمت کیساتھ میں نے صبح کی اور شام کی ہے اے معبود میں تجھے گواہ بناتاہوں
وَکَفی بِکَ شَهِیداً وَأُشْهِدُ مَلائِکَتَکَ وَأَ نْبِیاءَکَ وَرُسُلَکَ وَحَمَلَةَ عَرْشِکَ وَسُکّانَ
اور تیری گواہی کافی ہے اور گواہ بناتا ہوں تیرے ملائکہ، انبیائ ، رسل اور تیرے عرش کے حاملین تیرے
سَماواتِکَ وَأَرْضِکَ وَجَمِیعَ خَلْقِکَ بِأَنَّکَ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ
آسمانوں اور تیری زمین کے رہنے والوں اور تیری مخلوق کو اس بات پر کہ یقینا توہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا ہے تیرا
لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَ آلِهِ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَأَ نَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ
کوئی ثانی نہیں اور اس پر کہ حضرت محمد تیر ے بندے اور تیرے رسول ہیں اور بے شک توہر چیز پر
قَدِیرٌ، تُحْیِی وَتُمِیتُ، وَتُمِیتُ وَتُحْیِی، وَأَشْهَدُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ،
قادر ہے توہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور موت دیتا اور زندہ کرتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ جنت حق ہے جہنم حق ہے
وَالنُّشُورَ حَقٌّ وَالسَّاعَةَ آتِیَةٌ لاَ رَیْبَ فِیها وَأَنَّ ﷲ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ وَأَشْهَدُ
قبروں سے جی اٹھنا حق ہے اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور خدا اسے زندہ کرے گا جو قبر میں ہے میں گواہی دیتا
أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ حَقّاً حَقّاً، وَأَنَّ آلاَءِمَّةَ مِنْ وُلْدِهِ هُمُ الْائِمَّةُ
ہوں کہ امام علیعليهالسلام ابن ابی طالبعليهالسلام مومنین کے بر حق امیر ہیں اور یہ کہ انکی اولاد میں سے جو آئمہ ہیں وہی ہدایت
الْهُداةُ الْمَهْدِیُّونَ غَیرُ الضَّالِّینَ وَلاَ الْمُضِلِّینَ وَأَ نَّهُمْ أَوْلِیاؤُکَ الْمُصْطَفَونَ وَحِزْبُکَ
یافتہ ہدایت دینے والے ہیں وہ نہ گمراہ ہیں اور نہ گمراہ کرنے والے ہیں اور یہ کہ وہی تیرے چنے ہوئے اولیائ اور تیری
الْغالِبُونَ وَصِفْوَتُکَ وَخِیَرَتُکَ مِنْ خَلْقِکَ وَنُجَبَاؤُکَ الَّذِینَ انْتَجَبْتَهُمْ لِدِینِکَ
غالب جماعت ہیں وہ تیری مخلوق میں سے برگزیدہ اور بہترین افراد ہیں اور وہ ایسے شریف ہیں جن کو تو نے اپنے دین کی خاطر چنا
وَاخْتَصَصْتَهُمْ مِنْ خَلْقِکَ وَاصْطَفَیْتَهُمْ عَلی عِبادِکَ وَجَعَلْتَهُمْ حُجَّةً عَلَی الْعالَمِینَ
اور انہیں اپنی مخلوق میں خاص مرتبہ دیا تو نے انھیں اپنے بندوں میں سے منتخب کیا اور ان کو عالمین کیلئے اپنی حجت قرار دیا
صَلَواتُکَ عَلَیْهِمْ وَاَلسَّلاَمُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَللّٰهُمَّ اکْتُبْ لِی هذِهِ الشَّهادَةَ
ان پر تیرا درود اور سلام ہو اور ان پر خدا کی رحمت اور برکات ہوں اے معبود! میری یہ گواہی اپنے ہاں درج فرما لے
عِنْدَکَ حَتّی تُلَقِّنَنِیها یَوْمَ الْقِیامَةِ وَأَنْتَ عَنِّی راضٍ، إنَّکَ عَلی ما تَشائُ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ
تاکہ قیامت کے دن تو مجھے اسکی تلقین کرے اور تو مجھ سے راضی ہو جائے بے شک تو ہر اس پر جو تو چاہے قادر ہے اے معبود! تیرے
لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً یَصْعَدُ أَوَّلُهُ وَلاَ یَنْفَدُ آخِرُهُ، اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً تَضَعُ لَکَ
لئے حمد ہے جس کا پہلا حصہ بلند ہو تا ہے او ر آخری ختم ہونے وا لا نہیں۔ اے معبود!حمد تیرے ہی لئے ہے ایسی حمد کہ آسما ن تیرے
السَّمائُ کَنَفَیْها وَتُسَبِّحُ لَکَ الْاَرْضُ وَمَنْ عَلَیْها اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً سَرْمَداً أَبَداً
آگے اپنے شانے جھکا دے اور زمین اور جو اس پر ہے وہ تیری تسبیح کرے اے معبود! تیرے لئے حمد ہے ایسی حمد جو ہمیشہ ہمیشہ
لاَ انْقِطاعَ لَهُ وَلاَ نَفادَ وَلَکَ یَنْبَغِی وَ إلَیْکَ یَنْتَهِی، فِیَّ وَعَلَیَّ وَلَدَیَّ وَمَعِی وَقَبْلِی
جاری رہے جونہ رکتی ہے نہ ختم ہوتی ہے وہ تیرے ہی لائق ہے اور تجھی تک پہنچتی ہے وہ میرے دل میں زبان پر میرے سامنے مجھ
وَبَعْدِی وَأَمامِی وَفَوْقِی وَتَحْتِی وَ إذا مِتُّ وَبَقِیتُ فَرْداً وَحِیداً ثُمَّ فَنِیتُ وَلَکَ
سے پہلے میرے بعد میرے پہلو میں میرے اوپر اور میرے نیچے ہے جب میں مروںاور قبر میں تنہا ہو جا ئو ں پھر خا ک در خاک ہو
الْحَمْدُ إذا نُشِرْتُ وَبُعِثْتُ یَا مَوْلایَ اَللّٰهُمَّ وَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ بِجَمِیعِ
جائوں اور تیرے لئے حمد ہے جب قبر میں اٹھ بیٹھوں اور کھڑا کیا جائوں اے مولا اے معبود حمد اور شکر تیرے ہی لئے ہے تیرے تمام و
مَحامِدِکَ کُلِّها عَلی جَمِیعِ نَعْمائِکَ کُلِّها حَتَّی یَنْتَهِیَ الْحَمْدُ إلی مَا تُحِبُّ رَبَّنا وَتَرْضیٰ
مکمل اوصاف کے ساتھ تیری سبھی نعمات پر حتی کہ حمد وہاں پہنچے جہاں تو چاہتا ہے اے ہمارے رب جس میں تیری رضا ہے
اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی کُلِّ أَکْلَةٍ وَشَرْبَةٍ وَبَطْشَةٍ وَقَبْضَةٍ وَبَسْطَةٍ، وَفِی کُلِّ مَوْضِع
اے معبود! تیرے لئے حمد ہے تمام اشیائ خورد و نوش پر زور و طاقت اور پکڑنے و کھولنے اورجسم کے ہربال بال
شَعْرَةٍ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً خالِداً مَعَ خُلُودِکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْداً لاَ مُنْتَهیٰ لَهُ
پر، تیری حمد ہے اے معبود! تیرے لئے حمد ہے ہمیشہ کی حمد تیرے دوام کے ساتھ تیرے لیے حمد ہے ایسی حمد جس کی
دُونَ عِلْمِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْداً لاَ أَمَدَ لَهُ دُونَ مَشِیءَتِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْداً لاَ أَجْرَ
تیرے علم کے علاوہ کہیں انتہائ نہیں تیرے لیے حمد ہے جس کی مدت تیری مشیت سے سوا نہیں ہے تیرے لیے حمد ہے کہ حمد کرنے
لِقائِلِهِ إلاَّ رِضاکَ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلی حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلی عَفْوِکَ
والے کا اجر تیری رضا کے علاوہ نہیں تیرے لیے حمد ہے جو جانتے ہوئے بھی نرمی کرتا ہے تیرے لیے حمد ہے کہ قوت کے باوجود
بَعْدَ قُدْرَتِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ باعِثَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ وارِثَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ
درگذر فرماتا ہے تیرے لیے حمد ہے تو وجہ حمد ہے تیرے لیے حمد ہے کہ تو مالک حمد ہے تیرے لیے حمد ہے کہ تجھ سے
بَدِیعَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ مُنْتَهَی الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ مُبْتَدِعَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ
ابتدا ئ حمد ہے اورتیرے لیے حمد ہے کہ تجھ سے انتہائ حمد ہے تیرے لیے حمد ہے کہ تو حمد کا آغازکرنے والا ہے تیرے لیے حمد ہے کہ تو
مُشْتَرِیَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ وَ لِیَّ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ قَدِیمَ الْحَمْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ
خریدار حمد ہے تیرے لیے حمد ہے تونگہبان حمد ہے تیرے لیے حمد ہے کہ تو قدیمی حمد والا ہے اور تیرے لیے حمد ہے کہ تو وعدے میں سچا
صَادِقَ الْوَعْدِ وَفِیَّ الْعَهْدِ عَزِیزَ الْجُنْدِ قَائِمَ الْمَجْدِ وَلَکَ الْحَمْدُ رَفِیعَ الدَّرَجاتِ مُجِیبَ
عہد کا پکا ہے توانا لشکر والا پائدار بزرگی والا اور تیرے لیے حمد ہے کہ تو اونچے درجوں والا ہے دعائیں قبول
الدَّعَواتِ، مُنْزِلَ الآیاتِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاواتٍ، عَظِیمَ الْبَرَکاتِ، مُخْرِجَ النُّورِ
کرنے والا ہے ساتوں آسمانوں سے بلند تر مقام سے آیات نازل کرنے والا ہے بڑی برکتوں والا ہے نور کو تاریکیوں
مِنَ الظُّلُماتِ، وَمُخْرِجَ مَنْ فِی الظُّلُماتِ إلَی النُّورِ، مُبَدِّلَ السَّیِّئاتِ حَسَناتٍ
سے نکالنے والا تاریکیوں میں پڑے کو روشنی کی طرف لانے والا گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے والا
وَجاعِلَ الْحَسَناتِ دَرَجَاتٍ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ غَافِرَ الذَّنْبِ، وَقَابِلَ التَّوْبِ، شَدِیدَ
اور نیکیوں کو بلند مراتب میں بدلنے والا اے معبود تیرے لیے حمد ہے کہ تو گناہ معاف کرنے والا توبہ قبو ل کرنے والا سخت
الْعِقابِ ذَا الطَّوْلِ، لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ إلَیْکَ الْمَصِیرُ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ فِی اللَّیْلِ إذا
عذاب دینے والا اور عطا کرنے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں بازگشت تیری ہی طرف ہے اے معبود تیرے لیے حمد ہے رات
یَغْشیٰ، وَلَکَ الْحَمْدُ فِی النَّهارِ إذا تَجَلّیٰ، وَلَکَ الْحَمْدُ فِی الآخِرَةِ وَالاُولیٰ، وَلَکَ
میں جب وہ چھا جائے تیرے لیے حمد ہے دن میں جب وہ روشن ہو جائے تیرے لیے حمد ہے دنیا اور آخرت میں، تیرے
الْحَمْدُ عَدَدَ کُلِّ نَجْمٍ وَمَلَکٍ فِی السَّمَائِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ الثَّرَیٰ وَالْحَصیٰ وَالنَّوَیٰ
لیے حمد ہے آسما ن کے ستاروں اور فرشتوں کی تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے خاک اور ریت کے ذروں اور پھلوں کی گٹھلیوں
وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما فِی جَوِّ السَّمائِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما فِی جَوْفِ الْاَرْضِ وَلَکَ
کی تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے فضائ آسمان میں موجود چیزوں کی تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے تہ زمین میں موجود
الْحَمْدُ عَدَدَ أَوْزانِ مِیاهِ الْبِحارِ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ أَوْراقِ الاَشْجارِ، وَلَکَ الْحَمْدُ
چیزوںکی تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے سمندروں کے پانیوںکے وزن کے برابر، تیرے لیے حمد ہے درختوں کے پتوں کی
عَدَدَ ما عَلی وَجْهِ الاَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ مَا أَحْصیٰ کِتابُکَ وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما
تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے زمین پر موجود چیزوں کی تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے تیری کتاب میں موجود تعداد کے
أَحاطَ بِهِ عِلْمُکَ وَلَکَ الْحَمْدُ عَدَدَ الِانْسِ وَالْجِنِّ وَالْهَوامِّ وَالطَّیْرِ وَالْبَهائِمِ وَالسِّباعِ
برابر، تیرے لیے حمد ہے تیرے علم میں موجود تعداد کے برابر، تیرے لیے حمد ہے انسانوں، جنوں، حشرات، پرندوں، چرندوں اور
حَمْداً کَثِیراً طَیِّباً مُبارَکاً فِیهِ کَما تُحِبُّ رَبَّنا وَتَرْضیٰ، وَکَما یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْهِکَ
درندوں کی تعداد کے برابر، بہت زیادہ پاک اور بابرکت حمد اے پروردگار تجھے پسند اور جس پر تو راضی ہو اور جیسی حمد تیری
وَعِزِّ جَلالِکَ پهر دس مرتبه کهیں: لاٰاِلٰهَ اِلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاٰشَریٰکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ
شان کرم اور تیری جلالت کے لائق ہے ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے جس کا کوئی ثا نی نہیں اس کیلئے ملک ہے اسی
وَهُوَ الْلَطیٰفُ الْخَبٰیرُ پهر دس مرتبه: لاٰاِلٰهَ اِلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاٰشَریٰکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ
کیلئے حمد ہے اور وہ باریک بین خبر دار ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے جسکا کوئی ثا نی نہیں اسی کیلئے ملک اور اسی کے
الْحَمْدُ یُحْیٰی وَیُمیِتُ وَیُمِیتُ وَ یُحْییٰ وَهُوَ حَیٌ لاٰیَمُوتُ بَیِدهِ الْخَیْرِ وَهُوَعَلٰی کُلِ
لیے حمد ہے جو زند ہ کرتا ہے اور ما رتا ہے، ما رتا اور زندہ کرتا ہے اور زندہ ہے جسے مو ت نہیں اسی کے ہا تھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز
شَیئٍ قَدیٰر پھر دس مرتبہ:اَسْتَغْفِرُﷲ الَّذِی لاٰاِلٰهَ اِلاَّ هُوَالْحَیُ الْقَیُومُ وَاَتُوبُ اِلٰیْه پھر دس مرتبہ:
پر قادر ہے میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ و پائندہ ہے اور اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں
یَاﷲ یَاﷲ دس مرتبہ:یَارَحْمٰنُ یَارَحْمٰنُ پھر دس مرتبہ:یَارَحِیْمُ یَارَحِیْمُ پھر دس مرتبہ :
یااللہ یااللہ اے رحمت کرنے وا لے اے رحمت کرنے والے اے مہربان اے مہربان
یَابَدِیْعَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ پھر دس مرتبہ:یَاذَالْجَلٰالِ وَالْاِکْرَامِ پھر دس مرتبہ:یَا حَنّٰانُ
اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے اے صاحب جلا لت و بزرگی اے مہربانی کرنے والے
یَامَنّٰانُ پھر دس مرتبہ:یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ پھر دس مرتبہ:یَاحَیُّ لاٰاِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ پھر دس مرتبہ:یَا ﷲ یَا لاٰ
اے احسان کرنے والے اے ز ندہ و پا ئند ہ اے زندہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے ﷲ اے وہ ذات
اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ پھر دس مرتبہ:بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پھر دس مرتبہ:اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے اے معبود! محمد
وَآلِ مُحَمَّدٍ پھر دس مرتبہ:اَللّٰهُمَّ اِفْعَلْ بِیْ مَااَنْتَ اَهْلُهُ پھر دس مرتبہ: آمِیْنَ آمِیْنَ پھر دس مرتبہ:
وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پررحمت فرما اے معبود میرے ساتھ وہ برتائو کر جس کا تو اہل ہے ایسا ہی ہوایسا ہی ہو
قُلْ ھُوَ ﷲ اَحَدٌ پڑھیں پھر کہیں:اَللّٰهُمَّ اِصْنِعْ بِیْ مَااَنْتَ اَهْلُهُ وَلَاتَصْنَعْ بِیْ مَا اَنَا
کہو (اے نبی) اللہ ا یک ہے اے معبود میرے ساتھ وہ بر تا ئو کر جس کا تو اہل ہے اور مجھ سے وہ نہ کر جس کا میں اہل ہوں
اَهْلُهُ فَاِنَّکَ اَهْلُ التَّقْویٰ وَاَهْلُ الْمَغْفِرَ ةِ وَاَنَا اَهْلُ الذُّنُوْبِ وَالْخَطَایٰافَارْحَمْنِیْ
بیشک تو بچانے والا اور بخشنے والا ہے اور میں گناہ کرنے والا اور خطائیں کرنے والا ہوں پس رحم کر مجھ پر اے میرے مولا
یَامَوْلٰایَ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ پھر دس مرتبہ:لاٰحَوْلَ وَلاٰقُوَّ ةَ اِلاَّبِالله تَوَکَّلْتُ عَلٰی
اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے کوئی طاقت وقوت نہیں سواے اسکے جو اللہ کیطرف سے ہے بھر و سہ ر کھتا ہوں
الْحَیِّ اَلَّذِیْ لاٰیَمُوْتُ وَالْحَمْدُ ﷲِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیْکٌ فِیْ الْمُلْکِ
اس زندہ پر جسے مو ت نہیں اور حمد ہے اس اللہ کیلئے جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنا یا اور نہ کوئی اسکی حکو مت میں شریک
وَلَمْ یَکُنْ لَه، وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیْرًا
ہے اور نہ کوئی اس کا مدد گا ر ہے بو جہ اسکے عجز کے اور اس کی بڑا ئی بیان کرتے ر ہا کرو۔
دعا ئے سما ت
یہ دعا شبّور کے نام سے معرو ف ہے اور اس کا جمعہ کے آخر ی اوقا ت میں پڑھنا مستحب ہے یہ مشہو ر دعا ئو ں میں سے ہے اور اکثر علما ئ متقد مین اس کوہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔مصباح ِشیخ طوسی، جمال الاسبوحِ سید ابن طاؤس اور کفعمی کی کتب میں یہ دعا معتبر اسنا د کے ساتھ حضرت اما م العصر -کے نا ئب خا ص محمد بن عثما ن عمر ی سے نقل ہو ئی ہے ۔نیز یہ دعا حضرت اما م محمد با قر - و حضرت اما م جعفرصادق -سے بھی رو ایت کی گئی ہے ۔علا مہ مجلسی نے بحا ر الا نو ار میں اسے شر ح کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہا ں ہم اسے مصبا ح سے نقل کر ر ہے ہیں:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ الأَعْظَمِ الأَعَزِّ الأَجَلِّ الأَکْرَمِ، الَّذِی إذا دُعِیتَ
اے معبود میں تیرے عظیم بڑی عظمت والے بڑے روشن بڑی عزت والے نام کے ذریعے سوال کرتا ہوں کہ جب آسمان کے بند
بِهِ عَلی مَغالِقِ أَبْوابِ السَّمائِ لِلْفَتْحِ بِالرَّحْمَةِ انْفَتَحَتْ وَ إذا دُعِیتَ بِهِ عَلی مَضائِقِ
دروازے رحمت کیلئے کھولنے کیلئے تجھے اس نام سے پکاریں تو وہ کھل جاتے ہیں اور جب زمین کے تنگ راستے کھولنے کیلئے تجھے
أَبْوابِ الاَرْضِ لِلْفَرَجِ انْفَرَجَتْ وَ إذا دُعِیتَ بِهِ عَلَی الْعُسْرِ لِلْیُسْرِ تَیَسَّرَتْ، وَ إذا
اس نام سے پکارا جائے تو وہ کشادہ ہو جاتے ہیں اور جب سختی کے وقت آسانی کیلئے اس نام سے پکاریں تو آسانی ہو جا تی ہے اور
دُعِیتَ بِهِ عَلَی الْاَمْواتِ لِلنُّشُورِ انْتَشَرَتْ، وَ إذا دُعِیتَ بِهِ عَلی کَشْفِ الْبَأْسَائِ
جب مردوں کو اٹھانے کیلئے تجھے اس نام سے پکاریں تو وہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور تنگیاں اور سختیاں دور کرنے کیلئے تجھے اس
وَالضَّرَّائِ انْکَشَفَتْ، وَبِجَلالِ وَجْهِکَ الْکَرِیمِ أَکْرَمِ الْوُجُوهِ وَأَعَزِّ الْوُجُوهِ الَّذِی
نام سے پکاریںتو وہ دور ہو جاتی ہیں اور سوالی ہوں تیری ذات کریم کے جلال کے ذریعے جو سب سے بزرگ ذات ہے سب سے
عَنَتْ لَهُ الْوُجُوهُ وَخَضَعَتْ لَهُ الرِّقابُ وَخَشَعَتْ لَهُ الْاَصْواتُ وَوَجِلَتْ لَهُ الْقُلُوبُ
معزز ذات ہے کہ جس کے آگے چہرے جھکتے ہیں اسکے سامنے گردنیں خم ہوتی ہیں اسکے حضور آوازیں کانپتی ہیں اور جسکے خوف
مِنْ مَخافَتِکَ وَبِقُوَّتِکَ الَّتِی بِها تُمْسِکُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ إلاَّ بِ إذْنِکَ
سے دلوں میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور سوال کرتا ہوں تیری اس قوت کے ذریعے جس سے تو نے آسمان کو زمین پر گرنے سے روک
وَتُمْسِکُ السَّماواتِ وَالْاَرْضَ أَنْ تَزُولا، وَبِمَشِیءَتِکَ الَّتِی دَانَ لَهَا الْعالَمُونَ،
رکھا ہے مگر جب تو اسے حکم دے اور اس آسمان اور زمین کو روکا ہوا ہے کہ کھسک نہ جائیں اور تیری اس مشیت کے ذریعے سوالی ہوں
وَبِکَلِمَتِکَ الَّتِی خَلَقْتَ بِهَا السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ، وَبِحِکْمَتِکَ الَّتِی
عالمین جس کے مطیع ہیںتیرے ان کلما ت کے واسطے سے سو الی ہوں جن سے تونے آسما نوں اور زمین کو پیدا کیاتیری اس حکمت
صَنَعْتَ بِهَا الْعَجائِبَ، وَخَلَقْتَ بِهَا الظُّلْمَةَ وَجَعَلْتَها لَیْلاً، وَجَعَلْتَ اللَّیْلَ سَکَناً،
کے واسطے سے جس سے تونے عجائب کو بنایا اورجس سے تو نے تاریکی کو خلق کیا اور اسے رات قرار دیا اور اسے آرام کیلئے خاص کیا
وَخَلَقْتَ بِهَا النُّورَ وَجَعَلْتَهُ نَهاراً، وَجَعَلْتَ النَّهارَ نُشُوراً مُبْصِراً، وَخَلَقْتَ بِهَا
اور اپنی حکمت سے تونے روشنی پیدا کی اور اسے دن کا نام دیا اور دن کو جاگ اٹھنے اور دیکھنے کیلئے بنایا اور تو نے اس سے
الشَّمْسَ وَجَعلْتَ الشَّمْسَ ضِیائً، وَخَلَقْتَ بِهَا الْقَمَرَ وَجَعَلْتَ الْقَمَرَ نُوراً، وَخَلَقْتَ
سورج کو پیدا کیا اور سورج کو روشن کیا تونے اس سے چاند کو پیدا کیا اور چاند کو چمکدار بنایا اور تونے اس سے
بِهَا الْکَواکِبَ وَجَعلْتَها نُجُوماً وَبُرُوجاً وَمَصابِیحَ وَزِینةً وَرُجُوماً، وَجَعَلْتَ لَها
ستاروں کو پیدا کیا انہیں فروزاں کیا ان کے برج بنائے اور انہیں چراغ بنایا اور زینت بنایا، سنگبار بنایا تو نے ان کیلئے
مَشارِقَ وَمَغارِبَ وَجَعَلْتَ لَها مَطالِعَ وَمَجارِیَ وَجَعَلْتَ لَها فَلَکاً وَمَسابِحَ وَقَدَّرْتَها
مشرق اورمغرب بنائے تونے ان کے چمکنے اور چلنے کی راہیں بنائیں تونے ان کیلئے فلک اور سیر کی جگہ بنائی اور آسمان میں
فِی السَّمائِ مَنازِلَ فَأَحْسَنْتَ تَقْدِیرَها، وَصَوَّرْتَها فَأَحْسَنْتَ تَصْوِیرَها وَأَحْصَیْتَها
ان کی منزلیں مقرر کیں پس تونے ان کا بہترین اندازہ ٹھہرایا اور تونے انہیں شکل عطا کی کیا ہی اچھی شکل دی اور
بِأَسْمائِکَ إحْصائً وَدَبَّرْتَها بِحِکْمَتِکَ تَدْبِیراً فَأَحْسَنْتَ تَدْبِیرَها وَسَخَّرْتَها بِسُلْطانِ
انھیں اپنے ناموں کے ساتھ پوری طرح شمار کیا اور اپنی حکمت سے ان کا ایک نظام قائم کیا اور خوب تدبیر فرمائی اور رات کے عرصے
اللَّیْلِ وَسُلْطانِ النَّهارِ وَالسَّاعاتِ وَعَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسابِ، وَجَعَلْتَ رُؤْیَتَها
اور دن کی مدت کیلئے مطیع بنایا اور ساعتوں اور سالوں کے حساب کا ذریعہ بنایا اور سب لوگوں کیلئے ان
لَجَمِیعِ النّاسِ مَرْیًَ واحِداً وَأَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ بِمَجْدِکَ الَّذِی کَلَّمْتَ بِهِ عَبْدَکَ وَرَسُولَکَ
کو دیکھنا یکساں کردیا اور سوال کرتا ہوں تجھ سے اے اللہ تیری اس بزرگی کے ذریعے جس سے تونے اپنے بندے اور رسول
مُوسَی بْنَ عِمْرانَ ں فِی الْمُقَدَّسِینَ، فَوْقَ إحْساسِ الْکَرُوبِیِّیْنَ، فَوْقَ
حضرت موسی - سے کلام فرمایا پاک لوگوں میں جو فرشتوں کی سمجھ سے بالا نور کے بادلوں سے بلند
غَمائِمِ النُّورِ، فَوْقَ تابُوتِ الشَّهادَةِ، فِی عَمُودِ النَّارِ، وَفِی طُورِ سَیْناءَ، وَفِی جَبَلِ
تابوت شہادت سے اونچا جو آگ کے ستون میں طور سینا میں کوہ حوریث میں وادی مقدس میں
حُورِیثَ، فِی الْوادِی الْمُقَدَّسِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبارَکَةِ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْاَیْمَنِ مِنَ
برکت والی زمین میں طور ایمن کی طرف ایک درخت سے جو سر زمین مصر میں پیدا ہوا سوال کرتا ہوں نو روشن معجزوں
الشَّجَرَ ةِ وَفِی أَرْضِ مِصْرَ بِتِسْعِ آیاتٍ بَیِّناتٍ وَیَوْمَ فَرَقْتَ لِبَنِی إسْرائِیلَ الْبَحْرَ
کے واسطے سے اور اس دن کے واسطے سے کہ جس دن تونے بنی اسرا ئیل کیلئے دریا میں راستہ بنایا
وَفِی الْمُنْبَجِساتِ الَّتِی صَنَعْتَ بِهَا الْعَجائِبَ فِی بَحْرِ سُوفٍ، وَعَقَدْتَ ماءَ
اور ان چشموں میں جو پتھر سے جاری ہوئے کہ جن کے ذریعے تونے عجیب معجزات کو دریائے سوف میں ظاہر کیا۔ اور تونے دریا کے
الْبَحْرِ فِی قَلْبِ الْغَمْرِ کَالْحِجارَةِ، وَجاوَزْتَ بِبَنِی إسْرائِیلَ الْبَحْرَ ، وَتَمَّتْ کَلِمَتُکَ
پانی کو بھنور کے درمیان پتھروں کی مانند جکڑ کے رکھ دیا اور تونے بنی اسرائیل کو دریا سے گذار دیا اور ان کے بارے میں تیرا بہترین
الْحُسْنی عَلَیْهِمْ بِما صَبَرُوا، وَأَوْرَثْتَهُمْ مَشارِقَ الْاَرْضِ وَمَغارِبَهَا الَّتِی بارَکْتَ
وعدہ پورا ہوا جب انھوں نے صبر کیا اور تونے ان کو زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنایا جن میں تو نے عالمین
فِیها لِلْعالَمِینَ، وَأَغْرَقْتَ فِرْعَوْنَ وَجُنُودَهُ وَمَراکِبَهُ فِی الْیَمِّ، وَبِاسْمِکَ الْعَظِیمِ
کیلئے برکتیں رکھی ہیں اور تو نے فرعون اور اسکے لشکر کو اور انکی سواریوں کو دریائے نیل میں غرق کر دیا اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے نام
الْاَعْظَمِ الْاَعَزِّ الْاَجَلِّ الْاَکْرَمِ، وَبِمَجْدِکَ الَّذِی تَجَلَّیْتَ بِهِ لِمُوسی کَلِیمِکَ ں فِی
کے جو بلندترعزت والا روشن بزرگی والا ہے اور بواسطہ تیری شان کے جو تو نے اپنے کلیم موسی - کے لیے طور سینا
طُورِ سَیْناءَ وَ لاِِِبْراهِیمَ ں خَلِیلِکَ مِنْ قَبْلُ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ وَلاِِِسْحاقَ
میں ظاہر کی اور اس سے پہلے اپنے خلیل ابراہیم - کیلئے مسجد خیف میں اور اپنے برگزیدہ
صَفِیِّکَ ں فِی بِئْرِ شِیعٍ، وَ لِیَعْقُوبَ نَبِیِّکَ ں فِی بَیْتِ إیلٍ، وَأَوْفَیْتَ لاِِِبْراهِیمَ
اسحاق - کیلئے چاہ شیع میں ظاہر کی اور اپنے محبوب یعقوب - کیلئے بیت ایل میں ظاہر کی اور تونے
ں بِمِیثاقِکَ، وَلاِِِسْحاقَ بِحَلْفِکَ، وَ لِیَعْقُوبَ بِشَهادَتِکَ، وَ لِلْمُؤْمِنِینَ بِوَعْدِکَ
ابراہیم - سے اپنا عہد و پیمان پورا کیا اور اسحاق - کیلئے اپنی قسم پوری کی اور یعقوب - کیلئے اپنی شہادت ظاہر کی اور مومنین سے اپنا
وَ لِلدَّاعِینَ بِأَسْمائِکَ فَأَجَبْتَ وَبِمَجْدِکَ الَّذِی ظَهَرَ لِمُوسَی بْنِ عِمْرانَ ںعَلی
وعدہ وفا کیا اور جنہوں نے تیرے ناموں کے ذریعے دعائیںکیں انہیں قبول کیا اور سوالی ہوں بواسطہ تیری اس شان کے جو قبہئ
قُبَّةِ الرُّمّانِ، وَبِآیاتِکَ الَّتِی وَقَعَتْ عَلی أَرْضِ مِصْرَ بِمَجْدِ الْعِزَّةِ وَالْغَلَبَةِ بِآیاتٍ
رمان پر موسی ابن عمران - کیلئے ظاہر ہوئی اور بواسطہ تیرے معجزوں کے جو ملک مصر میں تیری شان و عزت اور غلبہ سے
عَزِیزَةٍ، وَبِسُلْطانِ الْقُوَّةِ، وَبِعِزَّةِ الْقُدْرَةِ، وَبِشَأْنِ الْکَلِمَةِ التَّامَّةِ، وَبِکَلِماتِکَ الَّتِی
عزت والی نشانیوں سے غالب قوت سے قدرت کی بلندی اور پورا ہونے والے قول کی شان سے رونما ہوئے اور تیرے ان کلمات
تَفَضَّلْتَ بِها عَلی أَهْلِ السَّماواتِ وَالْاَرْضِ وَأَهْلِ الدُّنْیا وَأَهْلِ الاَْخِرَةِ وَبِرَحْمَتِکَ
سے جن کے ذریعے تو نے آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں اور اہل دنیا اور اہل آخرت پر احسان کیا اور سوالی ہوں تیری اس
الَّتِی مَنَنْتَ بِها عَلی جَمِیعِ خَلْقِکَ، وَبِاسْتِطاعَتِکَ الَّتِی أَقَمْتَ بِها عَلَی الْعالَمِینَ
رحمت کے ذریعے سے جس سے تو نے اپنی ساری مخلوق پر کرم کیا سوالی ہوں تیری اس توانائی کے واسطے سے جس سے تو نے اہل عالم
وَبِنُورِکَ الَّذِی قَدْ خَرَّ مِنْ فَزَعِهِ طُورُ سَیْناءَ وَبِعِلْمِکَ وَجَلالِکَ وَکِبْرِیائِکَ وَعِزَّتِکَ
کو قائم رکھاسوالی ہوں بواسطہ تیرے اس نور کے جس کے خوف سے طو رسینا چکنا چور ہوا سوالی ہوں تیرے اس علم و جلالت اور تیری
وَجَبَرُوتِکَ الَّتِی لَمْ تَسْتَقِلَّهَا الْاَرْضُ، وَانْخَفَضَتْ لَهَا السَّماواتُ، وَانْزَجَرَ لَهَا
بڑائی و عزت اور تیرے جبروت کے واسطے سے جس کو زمین برداشت نہ کر سکی اور آسمان عاجز ہو گئے اور اس سے زمین کی گہرائیاں
الْعُمْقُ الْاَکْبَرُ، وَرَکَدَتْ لَهَا الْبِحارُ وَالْاَ نْهارُ، وَخَضَعَتْ لَهَا الْجِبالُ، وَسَکَنَتْ لَهَا
کپکپا گئیں جسکے آگے سمندر اور نہریں رک گئیں پہاڑ اس کیلئے جھک گئے اور زمین اس کیلئے اپنے
الْاَرْضُ بِمَناکِبِها، وَاسْتَسْلَمَتْ لَهَا الْخَلائِقُ کُلُّها، وَخَفَقَتْ لَهَا الرِّیاحُ فِی
ستونوں پر ٹھہر گئی اور اسکے سامنے ساری مخلوق سرنگوں ہو گئی اپنی رئووں پر چلتی ہوائیں اسکے سامنے
جَرَیانِها وَخَمَدَتْ لَهَا النِّیرانُ فِی أَوْطانِها، وَبِسُلْطانِکَ الَّذِی عُرِفَتْ لَکَ بِهِ الْغَلَبَةُ
پریشان ہوگئیں اس کیلئے آگ اپنے مقام پر بجھ گئی سوالی ہوں بواسطہ تیری اس حکومت کے جسکے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ تیرے غلبے کی
دَهْرَ الدُّهُورِ، وَحُمِدْتَ بِهِ فِی السَّماواتِ وَالْاَرَضِینَ وَبِکَلِمَتِکَ کَلِمَةِ الصِّدْقِ الَّتِی
پہچان ہوتی ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں اس سے تیری حمد ہوتی ہے سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس سچے قول کے جو تو نے
سَبَقَتْ لاََِبِینا آدَمَ ں وَذُرِّیَّتِهِ بِالرَّحْمَةِ، وَأَسْأَلُکَ بِکَلِمَتِکَ الَّتِی غَلَبَتْ کُلَّ شَیْئٍ،
ہمارے باپ آدم - اور ان کی اولاد کیلئے رحمت کے ساتھ فرمایا ہے سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس کلمہ کے جو تمام چیزوں پر غالب ہے
وَبِنُورِ وَجْهِکَ الَّذِی تَجَلَّیْتَ بِهِ لِلْجَبَلِ فَجَعَلْتَهُ دَ کّاً وَخَرَّ مُوسی صَعِقاً وَبِمَجْدِکَ
سوالی ہوںبواسطہ تیری ذات کے اس نور کے جس کا جلوہ تونے پہاڑ پر ظاہر کیا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور موسیعليهالسلام بے ہوش
الَّذِی ظَهَرَ عَلی طُورِ سَیْناءَ فَکَلَّمْتَ بِهِ عَبْدَکَ وَرَسُولَکَ مُوسَی بْنَ عِمْرانَ،
ہو کر گرپڑے سوالی ہوں بواسطہ تیری اس بزرگی کے جو طور سینا پر ظاہر ہوئی تو، تو اپنے بندے اور اپنے رسول موسیعليهالسلام بن عمران سے ہم
وَبِطَلْعَتِکَ فِی ساعِیرَ، وَظُهُورِکَ فِی جَبَلِ فارانَ، بِرَبَواتِ الْمُقَدَّسِینَ وَجُنُودِ
کلام ہوا سوالی ہوں تیری نورانیت کے ذریعے جناب عیسیٰ کی مناجات کی جگہ میں اور تیرے نور کے ظہور کے ذریعے کوہ فاران میں
الْمَلائِکَةِ الصَّافِّینَ، وَخُشُوعِ الْمَلائِکَةِ الْمُسَبِّحِینَ، وَبِبَرَکاتِکَ الَّتِی بارَکْتَ فِیها
بلند و مقدس مقامات میں صفیں باندھے ہوئے ملائکہ کی فوج کے ذریعے اور تسبیح خواں ملا ئکہ کے خشوع کے ذریعے سوال کرتا ہوں
عَلی إبْراهِیمَ خَلِیلِکَ ں فِی أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَبارَکْتَ لاِِِسْحاقَ
بواسطہ تیری ان برکات کے ذریعے جن سے تو نے برکت عطا کی اپنے خلیل ابراہیم - کو حضرت محمد کی امت میں برکت دی اور
صَفِیِّکَ فِی أُمَّةِ عِیسی عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ، وَبارَکْتَ لِیَعْقُوبَ إسْرائِیلِکَ فِی أُمَّةِ
اپنے برگزیدہ اسحاق - کو حضرت عیسیٰ - کی امت میں برکت دی اور برکت دی تونے اپنے خاص بندے یعقوب - کو حضرت موسی -
مُوسی عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ ، وَبارَکْتَ لِحَبِیبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ فِی عِتْرَتِهِ
کی امت میں اور برکت دی تو نے اپنے حبیب حضرت محمد کو ان کی عترت،
وَذُرِّیَّتِهِ وَأُمَّتِهِ اَللّٰهُمَّ وَکَما غِبْنا عَنْ ذلِکَ وَلَمْ نَشْهَدْهُ، وَآمَنَّا بِهِ وَلَمْ نَرَهُ، صِدْقاً
ذریت اور انکی امت میں خدایا جیسا کہ ہم ان کے عہد میں موجود نہ تھے اور ہم نے انہیں دیکھا نہیں اور ان پر سچائی اور حقانیت کے
وَعَدْلاً، أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تُبارِکَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ،
ساتھ اور درستی سے ایمان لائے ہم چاہتے ہیں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَتَرَحَّم عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَأَفْضَلِ ما صَلَّیْتَ وَبارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلی
برکت نازل فرما اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر شفقت فرما جس طرح تو نے بہترین رحمت اور برکت اور شفقت ابرہیم
إبْراهِیمَ وَآلِ إبْراهِیمَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ فَعَّالٌ لِما تُرِیدُ وَأَ نْتَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
و آل ابراہیم پر فرمائی تھی بے شک تو حمد اور شان والا ہے جو چاہے سو کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتاہے ۔
اب اپنی حاجت بیان کریں اور کہیں:
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذَا الدُّعائِ وَبِحَقِّ هَذِهِ الْاَسْمائِ الَّتِی لاَ یَعْلَمُ تَفْسِیرَها وَلاَ یَعْلَمُ باطِنَها
اے معبود! اس دعا کے واسطے اور ان ناموں کے واسطے سے کہ جن کی تفسیر تیرے سوا کوئی نہیں جانتا اور جن کی حقیقت سے سوائے
غَیْرُکَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِی ما أَنْتَ أَهْلُهُ وَلاَ تَفْعَلْ بِی ما أَنَا أَهْلُهُ
تیرے کوئی آگاہ نہیں تو محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایان شان ہے نہ کہ وہ سلوک جسکا میں مستحق ہوں
وَاغْفِرْ لِی مِنْ ذُ نُوبِی ما تَقَدَّمَ مِنْها وَما تَأَخَّرَ، وَوَسِّعْ عَلَیَّ مِنْ حَلالِ رِزْقِکَ
اور میرے گناہوں میں سے جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں ،بخش دے اور اپنا رزق حلال میرے لیے کشادہ کر دے اور مجھے
وَاکْفِنِی مَؤُونَةَ إنْسانِ سَوْئٍ وَجارِ سَوْئٍ وَقَرِینِ سَوْئٍ وَسُلْطانِ سَوْئٍ إنَّکَ عَلی ما
برے انسان برے ہمسائے برے ساتھی اور برے حاکم کی اذیت سے بچائے رکھ بے شک تو جو
تَشائُ قَدِیرٌ، وَبِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیمٌ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
چاہے وہ کرنے پر قادر ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے آمین یارب العالمین ۔
مولف کہتے ہیں کہ بعض نسخوں میں یوں آیا ہے:اسکے بعد جو حاجت ہو اسکا ذکر کریں اور کہیں:
وَ اَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر
اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
یَا ﷲ یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا بَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ
اے اللہ اے محبت کرنے والے اے احسان کرنے والے اے آسمان اور زمین کے ایجاد کرنے وا لے اے جلالت اور بزرگی والے
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذَا الدُّعائِ دعا کي آخر تک
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے معبود اس دعا کے واسطے
اور علامہ مجلسیرحمهالله نے مصباحِ سید بن باقیرحمهالله سے نقل کیا ہے کہ دعائے سمات کے بعد یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذَا الدُّعائِ وَبِحَقِّ هَذِهِ الْاَسْمائِ الَّتِی لاَ یَعْلَمُ تَفْسِیرَها وَلاَ تَأْوِیلَها وَلاَ
اے معبود اس دعا کے واسطے سے اور ان ناموں کے واسطے سے کہ جن کی تفسیر اور تاویل اور جن کے باطن
باطِنَها وَلاَ ظاهِرَها غَیْرُکَ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَرْزُقَنِی خَیْرَ
و ظاہر کو سوائے تیرے کوئی نہیں جانتا تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھے دنیا اور آخرت کی
الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ اب حاجت طلب کریں اور کهیں: وَافْعَلْ بِی ما أَ نْتَ أَهْلُهُ، وَلاَ تَفْعَلْ بِی
بھلائی عطا فرما دے اور مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایان شان ہے نہ کہ وہ سلوک جسکا میں
ما أَنَا أَهْلُهُ وَانْتَقِمْ لِی مِنْ فُلانِ بْنِ فُلان فلاں بن فلاں کی جگہ اپنے دشمن کا نام لیںاور کہیں:
مستحق ہوں اور میری طرف سے فلاں بن فلاں سے بدلہ لے۔
وَاغْفِرْلِی مِنْ ذُ نُوبِی مَا تَقَدَّمَ مِنْها وَمَا تَأَخَّرَ وَ لِوالِدَیَّ وَلِجَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ
اور میرے گذشتہ اور آیندہ تمام گناہوں کو معاف فرما اور میرے ماں باپ اور سارے مومنین اور مومنات کے
وَالْمُؤْمِناتِ وَوَسِّعْ عَلَیَّ مِنْ حَلالِ رِزْقِکَ، وَاکْفِنِی مَؤُونَةَ إنْسانِ سَوْئٍ، وَجارِ
گناہ بخش دے اور اپنا رزق حلال میرے لیے کشادہ کر دے اور مجھ کو برے انسان برے
سَوْئٍ، وَسُلْطانِ سَوْئٍ، وَقَرِینِ سَوْئٍ، وَیَوْمِ سَوْئٍ، وَساعَةِ سَوْئٍ، وَانْتَقِمْ لِی مِمَّنْ
ہمسائے برے حاکم برے ساتھی برے دن برے وقت کی اذیت سے بچائے رکھ اور میری طرف سے بدلہ لے اس سے جس نے
یَکِیدُنِی، وَمِمَّنْ یَبْغِی عَلَیَّ، وَیُرِیدُ بِی وَبِأَهْلِی وَأَوْلادِی وَ إخْوانِی وَجِیرانِی
مجھے دھوکہ دیا اور جس نے مجھ پر ظلم کیا اور جو ظلم کا ارادہ رکھتا ہے میرے اہل میری اولاد میرے بھائیوں
وَقَراباتِی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ ظُلْماً إنَّکَ عَلی ما تَشَائُ قَدِیرٌ، وَبِکُلِّ شَیْئٍ
اور میرے ہمسایوں کیلیے جو مومنین اور مومنات میں سے ہیں اس سے انتقام لے بے شک تو جو کچھ چاہتا ہے اس پر قدرت رکھتا ہے
عَلِیمٌ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ پهر کهیں: اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذَا الدُّعائِ تَفَضَّلْ عَلی فُقَرائِ
اور ہر چیز سے واقف ہے آمین اے رب العالمین اے معبود اس دعا کے واسطے سے غریب مومنین اور
الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالْغِنی وَالثَّرْوَةِ وَعَلی مَرْضَی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالشِّفائِ
مومنات کو مال و متاع عطا فرما بیمار مومنین اور مومنات کو تندرستی اور صحت
وَالصِّحَّةِ، وَعَلی أَحْیائِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِاللُّطْفِ وَالْکَرامَةِ، وَعَلی أَمْواتِ
عطا فرما اور زندہ مومنین اور مومنات پر لطف و کرم فرما اور مردہ
الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَعَلی مُسافِرِی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ
مومنین اور مومنات پر بخشش و رحمت فرما اور مسافر مومنین اور مومنات کو
بِالرَّدِّ إلی أَوْطانِهِمْ سالمِینَ غانِمِینَ ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَصَلَّی ﷲ
سلامتی و رزق کے ساتھ گھروں میں واپس لا اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور ہمارے سردار نبیوں کے
عَلی سَیِّدنا مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَعِتْرَتِهِ الطَّاهِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً
خاتم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت خدا ہو اور ان کی پاکیزہ اولاد پر اور سلام ہو بہت زیادہ سلام ۔
شیخ ابن فہد نے فرمایا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ دعائے سمات کے بعد کہیں:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحُرْمَةِ هذَا الدُّعائِ، وَبِما فاتَ مِنْهُ مِنَ الْاَسْمائِ، وَبِما یَشْتَمِلُ
اے معبود میں سوال کرتا ہوں بوا سطہ اس دعا کی حرمت کے اور ان ناموں کے ذریعے جو اس میں مذکور نہیںاور اس تفسیر و
عَلَیْهِ مِنَ التَّفْسِیرِ وَالتَّدْبِیرِ، الَّذِی لاَ یُحِیطُ بِهِ إلاَّ أَ نْتَ ، أَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکذا،
تدبیر کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس کا سوائے تیرے کوئی احاطہ نہیں کر سکتا کہ تو میرے لیے ایسا اور ایسا کر۔
کذا و کذا کی جگہ پر اپنی حاجات طلب کرے
دعا ئے مشلول
اس دعا کا ایک اور نام بھی ہے یعنی دعا الشاب الماخوذ بذنبہیہ وہ دعا جو ایک نوجوان نے اپنے گنا ہوں کی سزا میں گرفتار ہونے کے بعد پڑھی۔مہج الد عو ات اور کتابِ کفعمی میں مذکو ر ہے یہ وہ دعا ہے جو امیر المو منین- نے اس نوجوان کو تعلیم فرمائی جو اپنے والدین کی نافرمانی کرنے کے با عث شل ہوگیا تھا جب اس نے یہ دعا پڑھی تو خواب میں دیکھا کہ رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا د ست شفقت اسکے بدن پر پھیرا اور فرما یا کہ اس اسم اعظم کو حفظ کر لے کہ یقینا تیرا کا م بن جا ئے گا ۔اب جو اسکی آنکھ کھلی تو کیا د یکھتا ہے کہ اسکا نا کا رہ جسم درست ہو گیا ہے وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، یَا ذَا الْجَلالِ
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے ﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن ورحیم ہے اے صاحب
وَالاِِکْرامِ، یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ، یَا حَیُّ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ، یَا هُوَ یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ ما هُوَ وَلاَ
جلالت و بزرگی اے زندہ، اے نگہبان، اے زندہ سوائے تیرے کوئی معبود نہیں اے وہ کہ جسے کوئی نہیںجانتا کہ وہ کیا ہے اور کیسا
کَیْفَ هُوَ وَلاَ أَیْنَ هُوَ وَلاَ حَیْثُ هُوَ إلاَّ هُوَ، یَا ذَا الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوتِ، یَا ذَا الْعِزَّةِ
ہے ،وہ کہاں ہے ،وہ کیوںکر ہے ہاں وہ خود ہی جانتا ہے۔ اے صاحب ملک و ملکوت اے صاحب عزت و اقتدار، اے بادشاہ،
وَالْجَبَرُوتِ یا مَلِکُ یَا قُدُّوسُ یَا سَلامُ یَا مُؤْمِنُ یَا مُهَیْمِنُ یَا عَزِیزُ یَا جَبّارُ
اے پاک، اے سلا متی والے، اے امن دینے وا لے، اے پاسبان، اے عزت والے، اے زبردست ،اے بڑائی والے،
یَا مُتَکَبِّرُ یَا خالِقُ یَا بارئُ یَا مُصَوِّرُ، یَا مُفِیدُ یَا مُدَبِّرُ، یَا شَدِیدُ
اے پیدا کرنے والے، اے وجود دینے والے، اے صورت بنانے والے ،اے فائدہ دینے والے، اے تدبیر والے، اے محکم کار
یَا مُبْدئُ، یَا مُعِیدُ یَا مُبِیدُ یَا وَدُودُ یَا مَحْمُودُ یَا مَعْبُودُ
اے صاحب ایجاد، اے مرجع خلق، اے ظالم کوختم کرنے والے، اے محبت والے، اے نیک صفات والے، اے معبود
یَا بَعِیدُ یَا قَرِیبُ یَا مُجِیبُ، یَا رَقِیبُ یَا حَسِیبُ، یَا بَدِیعُ یَا رَفِیعُ
اے بعید، اے قریب، اے دعا قبول کرنے والے، اے نگہبان ،اے حساب کرنے والے ،اے ایجاد کرنے والے، اے بلند مرتبہ
یَا مَنِیعُ یَا سَمِیعُ، یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ یَا کَرِیمُ یَا حَکِیمُ یَا قَدِیمُ، یَا عَلِیُّ
اے عالی مقام، اے سننے والے، اے علم والے، اے حلم والے، اے مہربان، اے حکمت والے ،اے وجود قدیم، اے عالی شان
یَا عَظِیمُ، یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا دَیَّانُ یَا مُسْتَعانُ
اے بزرگی والے، اے محبت کرنے والے، اے احسان کرنے والے، اے حسا ب کرنے والے، اے جز ادینے والے، اے مدد کرنے
یَا جَلِیلُ یَا جَمِیلُ، یَا وَکِیلُ یَا کَفِیلُ، یَا مُقِیلُ یَا مُنِیلُ
والے، اے جلالت والے، اے صا حب جما ل، اے کارساز، اے سرپرست ،اے معاف کرنے والے ،اے پہنچانے والے
یَا نَبِیلُ یَا دَلِیلُ یَا هادِی یَا بادِی یَا أَوَّلُ یَا آخِرُ، یَا ظاهِرُ یَا باطِنُ، یَا قائِمُ یَا دائِمُ
اے باعظمت ،اے رہنما ،اے رہبر، اے ابتدائ کرنے والے ،اے اول، اے آخر، اے ظاہر، اے باطن ،اے استوار ،اے ہمیشہ رہنے
یَا عالِمُ یَا حاکِمُ، یَا قاضِی یَا عادِلُ، یَا فاصِلُ یَا واصِلُ، یَا طاهِرُ
والے، اے علم والے، اے صاحب حکم، اے منصف ،اے عدل کرنے والے، اے سب سے جدا، اے سب سے ملے ہو ئے، اے پاک ،
یَا مُطَهِّرُ، یَا قادِرُ یَا مُقْتَدِرُ، یَا کَبِیرُ یَا مُتَکَبِّرُ، یَا واحِدُ یَا أَحَدُ یَا صَمَدُ، یَا مَنْ لَمْ
اے پاک کرنے والے، اے قدرت والے، اے اقتدار والے، اے بزرگ، اے بزرگی والے، اے یگانہ، اے یکتا ،اے بے نیاز، اے وہ
یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ ، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ صاحِبَةٌ وَلاَ کانَ مَعَهُ وَزِیرٌ وَلاَ
جو کسی کا باپ نہیں اور نہ کسی کا بیٹا ہے اور جسکا کوئی ہمسر نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی زوجہ ہے نہ اس کیلئے کوئی وزیر ہے اور نہ اس نے
اتَّخَذَ مَعَهُ مُشِیراً وَلاَ احْتاجَ إلی ظَهِیرٍ وَلاَ کانَ مَعَهُ مِنْ إلهٍ غَیْرُهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ
اپنا کوئی مشیر بنایا ہے نہ وہ کسی مددگار کی حاجت رکھتا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے سوائے تیرے کوئی معبود نہیں
فَتَعالَیْتَ عَمَّا یَقُولُ الظَّالِمُونَ عُلُوّاً کَبِیراً، یَا عَلِیُّ یَا شامِخُ یَا باذِخُ یَا فَتَّاحُ
پس تو اس سے بہت زیادہ بلند ہے جو یہ ظالم کہا کرتے ہیں۔اے عالی شان اے بلند مرتبہ والے اے عالی مرتبہ اے کھولنے والے
یَا نَفَّاحُ یَا مُرْتاحُ، یَا مُفَرِّجُ یَا ناصِرُ یَا مُنْتَصِرُ یَا مُدْرِکُ یَا
اے بخشنے والے اے ہوا کو چلانے والے اے راحت دینے والے اے مدد کرنے والے اے مدد دینے والے اے پہنچنے والے اے
مُهْلِکُ یَا مُنْتَقِمُ یَا باعِثُ یَا وارِثُ، یَا طالِبُ یَا غالِبُ، یَا مَنْ لاَ یَفُوتُهُ هارِبٌ، یَا تَوَّابُ
ہلاک کرنے والے اے بدلہ لینے والے اے اٹھانے والے اے وارث اے طالب اے غالب اے وہ جس سے بھاگنے والا بھاگ
یَا أَوَّابُ یَا وَهَّابُ یَا مُسَبِّبَ الْاَسْبابِ یَا مُفَتِّحَ الْاَ بْوابِ،
نہیں سکتا اے توبہ قبول کرنے والے اے پلٹنے والے اے بہت دینے والے اے اسباب مہیاکرنے والے اے دروازوں کے
یَا مَنْ حَیْثُ ما دُعِیَ أَجابَ یَا طَهُورُ یَا شَکُورُ یَا عَفُوُّ
کھولنے والے اے وہ کہ جسے پکارا جا ئے تو وہ دعا قبول کرتا ہے اے بہت پاکیزہ اے بہت شکر کرنے والے اے معاف کرنے والے
یَا غَفُورُ، یَا نُورَ النُّورِ، یَا مُدَبِّرَ الاَُْمُورِ، یَا لَطِیفُ یَا خَبِیرُ، یَا مُجِیرُ یَا
اے بخشنے والے اے نورکے پیدا کرنے والے اے امورکی تدبیرکرنے والے اے مہربان اے خبردار اے پناہ دینے والے اے
مُنِیرُ، یَا بَصِیرُ یَا ظَهِیرُ یَا کَبِیرُ، یَا وِتْرُ یَا فَرْدُ، یَا أَبَدُ یَا سَنَدُ یَا صَمَدُ،
روشن کرنے والے اے بینا اے مددگاراے سب سے بڑے اے بزرگ اے یکتا اے تنہا اے ہمیشگی والے اے نگہبا ن اے بے نیاز
یَا کافِی یَا شافِی، یَا وافِی یَا مُعافِی، یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ، یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ،
اے کافی اے شفا د ینے والے اے وفا کرنے والے اے معا ف کرنے و الے اے احسا ن کرنے والے اے نیکوکار اے نعمت دینے
یَا مُتَکَرِّمُ یَا مُتَفَرِّدُ، یَا مَنْ عَلا فَقَهَرَ، یَا مَنْ مَلَکَ فَقَدَرَ،
والے اے بزرگواراے بڑے مرتبے والے اے یگانگی والے اے وہ جو بلندی کیساتھ غالب ہے اے وہ جو مالک ہے پھر قادر ہے
یَا مَنْ بَطَنَ فَخَبَرَ، یَا مَنْ عُبِدَ فَشَکَرَ، یَا مَنْ عُصِیَ فَغَفَرَ، یَا مَنْ لاَ تَحْوِیهِ الْفِکَرُ،
اے وہ جو نہاں ہے اور باخبر ہے اے وہ جو معبود ہے تو بدلہ دیتا ہے اے جو نافرمانی پر بخشتا ہے اے وہ جو فکر میں سما نہیں سکتا اور نگاہ
وَلاَ یُدْرِکُهُ بَصَرٌ، وَلاَ یَخْفی عَلَیْهِ أَثَرٌ، یَا رازِقَ الْبَشَرِ، یَا مُقَدِّرَ کُلِّ قَدَرٍ،
اسے دیکھ نہیں پاتی اور کوئی نشان اس سے پوشیدہ نہیں ہے اے انسانوں کو رزق دینے والے اے ہر اندازہ کے مقرر کرنے والے
یَا عالِیَ الْمَکانِ یَا شَدِیدَ الْاَرْکانِ یَا مُبَدِّلَ الزَّمانِ یَا قابِلَ الْقُرْبانِ یَا ذَا الْمَنِّ
اے بلند مرتبہ اے محکم وسائل والے اے زمانے کو بدلنے والے اے قربانی قبول کرنے والے اے صاحب نعمت و احسان
وَالاِحْسانِ یَا ذَا الْعِزَّةِ وَالسُّلْطانِ یَا رَحِیمُ یَا رَحْمنُ یَا مَنْ هُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَأْنٍ
اے صاحب عزت اور ابدی حکومت والے اے رحیم اے رحمن اے وہ کہ ہر روز جسکی نئی شان ہے اے وہ
یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُهُ شَأْنٌ عَنْ شَأْنٍ، یَا عَظِیمَ الشَّأْنِ یَا مَنْ هُوَ بِکُلِّ مَکانٍ، یَا سامِعَ
جسے ایک کام دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا اے بڑے مقام والے اے وہ جو ہر جگہ موجود ہے اے آوازوں کے
الْاَصْواتِ یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ یَا مُنْجِحَ الطَّلِباتِ یَا قاضِیَ الْحاجاتِ یَا مُنْزِلَ
سننے والے اے دعا ئیں قبول کرنے والے اے مرادیں برلانے والے اے حاجات پوری کرنے والے اے برکتیں نازل کرنے
الْبَرَکاتِ یَا راحِمَ الْعَبَراتِ یَا مُقِیلَ الْعَثَراتِ یَا کاشِفَ الْکُرُباتِ یَا وَ لِیَّ الْحَسَناتِ
والے اے آنسوئوں پر رحم کھانے والے اے گناہوں کے معاف کرنے والے اے سختیاں دور کرنے والے اے نیکیوں کو پسند کرنے
یَا رافِعَ الدَّرَجاتِ یَا مُؤْتِیَ السُّؤْلاتِ یَا مُحْیِیَ الْاَمْواتِ یَا جامِعَ الشَّتاتِ یَا مُطَّلِعاً
والے اے مرتبے بلند کرنے والے اے مرادیں پوری کرنے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے بکھروں کو اکٹھا کرنے
عَلَی النِّیَّاتِ، یَا رادَّ ما قَدْ فاتَ یَا مَنْ لاَ تَشْتَبِهُ عَلَیْهِ الْاَصْواتُ، یَا مَنْ لاَ تُضْجِرُهُ
والے اے نیتوں کی خبر رکھنے والے اے کھوئی ہوئی چیزیں لوٹانے والے اے وہ جس پر آوازیں مشتبہ نہیں ہوتیں اے وہ جسے
الْمَسْأَلاتُ وَلاَ تَغْشاهُ الظُّلُماتُ یَا نُورَ الْاَرْضِ وَالسَّماواتِ یَا سابِغَ النِّعَمِ یَا دافِعَ
کثرت سوال سے تنگی نہیں ہوتی اور تاریکیاں اسے گھیرتی نہیں ہیں اے آسمانوں اور زمین کی روشنی اے نعمتوں کے پورا کرنے
النِّقَمِ، یَا بارِیَٔ النَّسَمِ، یَا جامِعَ الاَُْمَمِ، یَا شافِیَ السَّقَمِ
والے اے بلائیں ٹالنے والے اے جانداروں کو پیدا کرنے والے اے امتوںکو جمع کرنے والے اے بیماروں کو شفا دینے والے
یَا خالِقَ النُّورِ وَالظُّلَمِ یَا ذَا الْجُودِ وَالْکَرَمِ یَا مَنْ لاَ یَطَأُ عَرْشَهُ قَدَمٌ، یَا أَجْوَدَ
اے روشنی اور تاریکی کے پیدا کرنے والے اے صاحب جودو کرم اے وہ جس کے عرش پر کسی کا قدم نہیں آیا اے سخیوں میںسے
الْاَجْوَدِینَ، یَا أَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ، یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ،
سب سے بڑے سخی اے بزرگی والوں سے زیادد بزرگ اے سننے والوں میں سے زیادہ سننے والے اے دیکھنے والوں میں سے زیادہ
یَا جارَ الْمُسْتَجِیرِینَ، یَا أَمانَ الْخائِفِینَ، یَا ظَهْرَ اللاَّجِینَ یَا وَ لِیَّ الْمُؤْمِنِینَ
دیکھنے والے اے پناہ گزینوں کی پناہ گاہ اے ڈرے ہوئوں کی جائے امن اے پناہ چاہنے والوں کی جائے پناہ اے مومنوں کے
یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا غایَةَ الطَّالِبِینَ، یَا صاحِبَ کُلِّ غَرِیبٍ، یَا مُؤْنِسَ کُلِّ
سرپرست اے فریادیوں کے فریاد رس اے طلبگاروں کی امید اے ہر سفر کرنے والے کے ساتھی اے ہر اکیلے کے ہم نشیں
وَحِیدٍ، یَا مَلْجَأَ کُلِّ طَرِیدٍ، یَا مَأْوی کُلِّ شَرِیدٍ، یَا حافِظَ کُلِّ ضَّالَّةٍ، یَا راحِمَ
اے ہر نکالے گئے کی جائے پناہ اے بے ٹھکانوں کی قرارگاہ اے گمشدہ کے نگہبان اے بڑے بوڑھے پر رحم
الشَّیْخِ الْکَبِیرِ، یَا رازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیرِ، یَا جَابِرَ الْعَظْمِ الْکَسِیرِ، یَا فَاکَّ کُلِّ أَسِیرٍ
کرنے والے اے ننھے بچے کو روزی دینے والے اے ٹوٹی ہڈی کو جوڑنے والے اے ہر قیدی کو رہائی دینے والے اے بے چارے
یَا مُغْنِیَ الْبَائِسِ الْفَقِیرِ، یَا عِصْمَةَ الْخائِفِ الْمُسْتَجِیرِ، یَا مَنْ لَهُ التَّدْبِیرُ وَالتَّقْدِیرُ
مفلس کو غنی بنانے والے اے خائف پناہ گزین کی جائے قرار اے تدبیر اور تقدیر کے مالک
یَا مَنِ الْعَسِیرُ عَلَیْهِ سَهْلٌ یَسِیرٌ یَا مَنْ لاَ یَحْتاجُ إلی تَفْسِیرٍ یَا مَنْ هُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ
اے وہ جس کے لیے ہر مشکل کام آسان اور ہلکا ہے اے وہ جو تفسیر کا محتاج نہیں اے وہ جو ہر چیز پر قدرت
قدِیرٌ، یَا مَنْ هُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ خَبِیرٌ، یَا مَنْ هُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ بَصِیرٌ، یَا مُرْسِلَ الرِّیاحِ،
رکھتا ہے اے وہ جو ہر چیز سے واقف ہے اے وہ جو ہر چیز کو دیکھتا ہے اے ہوائوں کو چلانے والے
یَا فَالِقَ الْاِصْباحِ یَا بَاعِثَ الْاَرْواحِ، یَا ذَا الْجُودِ وَالسَّماحِ، یَا مَنْ بِیَدِهِ کُلُّ مِفْتاحٍ،
اے صبح کی پو کھولنے والے اے روحوں کو بھیجنے والے اے عطا و سخاوت والے اے وہ جس کے ہاتھ میںساری کنجیاں ہیں
یَا سَامِعَ کُلِّ صَوْتٍ، یَا سَابِقَ کُلِّ فَوْتٍ، یَا مُحْیِیَ کُلِّ نَفْسٍ بَعْدَ الْمَوْتِ ، یَا عُدَّتِی
اے ہر آواز کے سننے وا لے اے ہر گزرے ہوئے سے پہلے اے ہر نفس کو اس کی موت کے بعد زندہ کرنے والے اے سختیوں میں
فِی شِدَّتِی، یَا حافِظِی فِی غُرْبَتِی، یَا مُؤْنِسِی فِی وَحْدَتِی، یَا وَلِیِّی فِی نِعْمَتِی
میری پناہ اے سفر میں میرے محافظ اے میری تنہائی کے ہمدم اے میری نعمتوںکے مالک
یَا کَهْفِی حِینَ تُعْیِینِی الْمَذٰاهِبُ وَتُسَلِّمُنِی الْاَقارِبُ وَیَخْذُلُنِی کُلُّ صَاحِبٍ یَا عِمَادَ
اے میری پناہ جب مجھ پر راہیں بند ہوجائیں اور رشتہ دار مجھے دور کر دیں اور احباب مجھے چھوڑ جائیں اے اسکے سہارے جسکا
مَنْ لاَ عِمادَ لَهُ یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَهُ یَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَهُ یَا حِرْزَ مَنْ لاَ حِرْزَ لَهُ
کوئی سہارا نہیں اے اسکی سند جسکی کوئی سند نہیں اے اسکے ذخیرے جسکا کوئی ذخیرہ نہیں
یَا کَهْفَ مَنْ لاَ کَهْفَ لَهُ، یَا کَنْزَ مَنْ لاَ کَنْزَ لَهُ، یَا رُکْنَ
اے اسکی پناہ جسکی کوئی پناہ نہیں اے اسکی اما ن جسکی کوئی امان نہیں اے اسکے خزانے جسکا کوئی خز انہ نہیں
مَنْ لاَ رُکْنَ لَهُ، یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَهُ، یَا جَارَ مَنْ لاَ جَارَ لَهُ، یَا جَارِیَ اللَّصِیقَ
اے اسکے پشت پناہ جسکا کوئی پشت پناہ نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکے ہمسائے جسکا کوئی
یَا رُکْنِیَ الْوَثِیقَ، یَا إلهِی بِالتَّحْقِیقِ، یَا رَبَّ الْبَیْتِ الْعَتِیقِ، یَا شَفِیقُ یا رَفِیقُ،
ہمسایہ نہیں جو نزدیک تر ہے اے میرا مضبوط ترین سہارہ اے میرے حقیقی معبود اے خانہ کعبہ کے پروردگار اے مہربان اے دوست
فُکَّنِی مِنْ حَلَقِ الْمَضِیقِ، وَاصْرِفْ عَنِّی کُلَّ هَمٍّ وَغَمٍّ وَضِیقٍ، وَاکْفِنِی شَرَّ مَا لاَ
مجھے تنگ گھیرے سے آزاد کر مجھ سے ہر غم و اندیشہ اور تنگی دور فرما دے مجھے اس شر سے بچا جو میری طاقت
أُطِیقُ، وَأَعِنِّی عَلَی ما أُطِیقُ، یَا رَادَّ یُوسُفَ عَلَی یَعْقُوبَ، یَا کاشِفَ ضُرِّ أَیُّوبَ،
سے زیادہ ہے اور اس میں مدد دے جو میں سہہ سکتا ہوں اے وہ جس نے یعقوبعليهالسلام کو یوسفعليهالسلام واپس دلایا اے ایو بعليهالسلام کا دکھ دور کرنے
یَا غافِرَ ذَ نْبِ داوُدَ، یَا رافِعَ عِیسَی بْنِ مَرْیَمَ وَمُنْجِیَهُ مِنْ أَیْدِی الْیَهُودِ، یَا مُجِیبَ
والے اے دائودعليهالسلام کی خطا معاف کرنے والے اے عیسیعليهالسلام بن مریم کو آسمان پر اٹھانے والے۔ اور انہیں یہودیوں کے چنگل سے
نِدائِ یُونُسَ فِی الظُّلُماتِ یَا مُصْطَفِیَ مُوسی بِالْکَلِماتِ، یَا مَنْ غَفَرَ لاَِدَمَ خَطِیءَتَهُ
چھڑانے والے اے تاریکیوں میں یونسعليهالسلام کی فریاد کو پہنچنے والے اے موسیٰعليهالسلام کو اپنے کلام کیلئے منتخب کرنے والے اے آدمعليهالسلام
وَرَفَعَ إدْرِیسَ مَکَاناً عَلِیّاً بِرَحْمَتِهِ، یَا مَنْ نَجَّی نُوحاً مِنَ الْغَرَقِ، یَا مَنْ أَهْلَکَ عاداً
کے ترک اولی کو معاف کرنے والے اور ادریسعليهالسلام کو اپنی رحمت سے بلند مقام پر لے جانے والے اے نوحعليهالسلام کو ڈوبنے سے بچانے
الاَُْولی وَثَمُودَ فَما أَبْقَی وَقَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ إنَّهُمْ کَانُوا هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَی
والے اے وہ جس نے عاد اولی اور ثمود کوہلا ک کیا پس کسی کو باقی نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوحعليهالسلام کو ہلاک کیا جو بڑے ظالم سرکش اور
وَالْمُؤْتَفِکَةَ أَهْوَی، یَا مَنْ دَمَّرَ عَلی قَوْمِ لُوطٍ، وَدَمْدَمَ عَلی قَوْمِ شُعَیْبٍ، یَا مَنِ
دین میں افترا کرنے والے تھے اے وہ جس نے قوم لوط کی بستیوں کو الٹ دیا اور قوم شعیب پر عذاب بھیجا تھا اے وہ جس
اتَّخَذَ إبْراهِیمَ خَلِیلاً یَا مَنِ اتَّخَذَ مُوسی کَلِیماً وَاتَّخَذَ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
نے ابراہیمعليهالسلام کو اپنا خلیل بنایا اے وہ جس نے موسیعليهالسلام کو اپنا کلیم بنایا اور محمد
وَعَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ حَبِیباً، یَا مُؤْتِیَ لُقْمانَ الْحِکْمَةَ، وَالْواهِبَ
کو اپنا حبیب قرار دیا کہ خدا کی رحمت ہو ان پر انکی آلعليهالسلام پر اور ان سب ہستیوں پر جنکا ذکر ہو ا ہے اے لقما نعليهالسلام کو حکمت عطاکرنے والے
لِسُلَیْمانَ مُلْکاً لاَ یَنْبَغِی لاََِحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ، یَا مَنْ نَصَرَ ذَا الْقَرْنَیْنِ عَلَی الْمُلُوکِ
اور سلیما نعليهالسلام کو ایسی سلطنت د ینے و الے کہ جیسی سلطنت انکے بعد کسی کو نہیں ملی اے وہ جس نے جا بر بادشا ہوں کے خلاف ذوالقرنین
الْجَبابِرَ ةِ یَا مَنْ أَعْطَی الْخِضْرَ الْحَیاةَ وَرَدَّ لِیُوشَعَ بْنِ نُونٍ الشَّمْسَ بَعْدَ غُرُوبِها
عليهالسلام کی مدد فرمائی اے وہ جس نے خضرعليهالسلام کو دا ئمی زندگی دی اور یوشععليهالسلام بن نون کی خاطر آفتاب کو پلٹایاجب کہ وہ غروب ہو چکا تھا اے وہ جس
یَا مَنْ رَبَطَ عَلی قَلْبِ أُمِّ مُوسی، وَأَحْصَنَ فَرْجَ مَرْیَمَ ابْنَةِ عِمْرانَ، یا مَنْ حَصَّنَ
نے مادر موسیعليهالسلام کے دل کو سکون دیا اور مریم بنت عمرانعليهالسلام کو پاکدامنی سے سرفراز فرمایا اے وہ جس نے
یَحْیَی بْنَ زَکَرِیَّا مِنَ الذَّنْبِ وَسَکَّنَ عَنْ مُوسَی الْغَضَبَ یَا مَنْ بَشَّرَ زَکَرِیَّا بِیَحْیی
یحییٰعليهالسلام بن زکریاعليهالسلام کو گناہ سے محفوظ رکھا اور موسیعليهالسلام سے غضب کو دور فرمایااے وہ جس نے زکریاعليهالسلام کو یحییعليهالسلام کی بشارت دی
یَا مَنْ فَدا إسْماعِیلَ مِنَ الذَّبْحِ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ یَا مَنْ قَبِلَ قُرْبانَ هابِیلَ وَجَعَلَ اللَّعْنَةَ
اے وہ جس نے اسما عیلعليهالسلام کے ذبح ہونے کو ذبح عظیم میں بدلااے وہ جس نے ہا بیلعليهالسلام کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل پر لعنت مسلط کر
عَلی قابِیلَ، یَا هازِمَ الْاَحْزابِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ
دی اے حضرت محمد کی خاطر کفار کے جتھو ں کو شکست دینے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
مُحَمَّدٍ وَعَلی جَمِیعِ الْمُرْسَلِینَ وَمَلائِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ وَأَهْلِ طَاعَتِکَ أَجْمَعِینَ وَأَسْأَلُکَ
رحمت نازل کر اپنے تمام رسولوں پر اور اپنے مقرب فرشتوں پر اور فرمانبردار بندوں پر رحمت نازل فرما اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
بِکُلِّ مَسْأَلَةٍ سَأَلَکَ بِها أَحَدٌ مِمَّنْ رَضِیتَ عَنْهُ،فَحَتَمْتَ لَه عَلیٰ الْاِجابَةِ، یَا ﷲ
ہر اس سوال کے واسطے سے جو تیرے ہر اس بندے نے کیا جس سے تو راضی و خوش ہے پھر تو نے اسکی دعا یقینا قبول فرمائی یااللہ
یَا ﷲ یَا ﷲ،یَا رَحْمنُ یَا رَحْمنُ یَا رَحْمنُ،یا رَحِیمُ یَا رَحِیمُ یَا رَحِیمُ، یَا ذَا
یااللہ یاﷲ یارحمن یارحمن یارحمن یارحیم یارحیم یارحیم اے جلالت
الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ بِهِ بِهِ بِهِ بِهِ بِهِ بِهِ بِهِ
و بزرگی والے اے جلالت وبزرگی والے اے جلالت و بزرگی والے اسی کا واسطہ اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا
أَسْأَ لُکَ بِکُلِّ اسْمٍ سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَکَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِی شَیْئٍ مِنْ کُتُبِکَ، أَوِ اسْتَأَثَرْتَ
میں سوال کرتا ہوں تیرے ہر اس نام کے واسطہ سے جس سے تو نے اپنی ذات کو پکارایا اپنے صحیفوں میں سے کسی میں اتارا یا اسے
بِهِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، وَبِمَعاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ، وَبِمُنْتَهَی الرَّحْمَةِ مِنْ کِتابِکَ
علم غیب میں اپنے لئے مقرر و خاص کیا ہے ان مقامات بلند کا واسطہ جو تیرے عرش میں ہیں اس انتہائی رحمت کا واسطہ
وَبِما لَوْ أَنَّ ما فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ
جو تیری کتاب میں ہے اور اس آیت کا واسطہ کہ اگر زمین کے تمام درخت قلم اور سمندر روشنائی بن جائیں اسکے بعد سات سمندر
ما نَفِدَتْ کَلِماتُ ﷲ إنَّ ﷲ عَزِیزٌ حَکِیمٌ، وَأَسْأَ لُکَ بِأَسْمائِکَ الْحُسْنَی
اور ہوں تو بھی خدا کے کلمات تمام نہیں ہوں گے بے شک اللہ غا لب ہے حکمت والا اور میں سوال کرتا ہوں تیرے پیارے ناموں
الَّتِی نَعَتَّهٰا فِی کِتابِکَ فَقُلْتَ وَلِلّٰهِ الْاَسْمائُ الْحُسْنی فَادْعُوهُ بِها وَقُلْتَ ادْعُونِی
کیساتھ جنکی تو نے قرآن میں توصیف کی پس تو نے کہا اور اللہ کیلئے ہیں پیارے پیارے نام تو تم اسے انہی سے پکارو اور تو نے کہا
أَسْتَجِبْ لَکُمْ، وَقُلْتَ وَ إذا سَأَلَکَ عِبادِی عَنِّی فَ إنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ
مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور تونے کہا کہ جب میرے بندے مجھے پکاریں تو میں ان کے قریب ہی ہوتا ہوںمیں دعا
الدَّاعِ إذا دَعَانِ، وَقُلْتَ یا عِبادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلی أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ
کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ دعا کرے اور تو نے کہا اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے کہ تم اللہ کی
رَحْمَةِ ﷲ إنَّ ﷲ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعاً إنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ وَأَ نَا أَسْأَ لُکَ یَا
رحمت سے ناامید نہ ہو جانا کہ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دے گا یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
إلهِی، وَأَدْعُوکَ یَا رَبِّ، وَأَرْجُوکَ یَا سَیِّدِی، وَأَطْمَعُ فِی إجابَتِی
اے معبود تجھے پکارتا ہوں اے پروردگار اور تجھ سے امید رکھتا ہوں اے میرے آقامیںدعا کے قبول ہونے کی طمع رکھتا ہوں اے
یَا مَولایَ کَما وَعَدْتَنِی وَقَدْ دَعَوْتُکَ کَما أَمَرْتَنِی، فَافْعَلْ بِی ما أَ نْتَ أَهْلُهُ یَا کَرِیمُ،
میرے مولا جیسے تو نے وعدہ کیا اور میں نے تجھے پکارا جیسا کہ تو نے مجھے حکم دیا پس اے کریم ذات تو بھی مجھ سے وہ سلوک کر جسکا تو
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ
اہل ہے اور تعریف بس خدا کیلئے ہے جو عالمین کا رب ہے اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اوراسکی تمام آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ﷲ رحمت فرمائے۔
اسکے بعد اپنی حاجات طلب کریں کہ انشااللہ پوری ہوگی اور مہج الدعوات میں ہے کہ اس دعا کوباطہارت حالت ہی میں پڑھا جائے۔
دعائے یستشیر
سید ابن طاؤس نے مہج الدعوات میں امیر المومنین -سے روایت کی ہے، کہ آپ نے فرمایا: رسول ﷲ نے مجھے یہ دعا تعلیم فرمائی اور یہ حکم بھی دیا کہ میں تنگی و فراخی میں اس دعا کو پڑھتا رہوں اور اپنے جانشین کو اسکی تعلیم دوں اور تا دم آخر اسے ترک نہ کروںپھر فرمایا: کہ اے علیعليهالسلام ہر مرد مؤمن صبح و شام یہ دعا پڑھے کیونکہ یہ عرش الٰہی کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، تب ابی بن کعب نے عرض کی کہ یا رسول اللہ اس دعا کی فضیلت بیان فرمائیں آنحضرت نے اسکا اجر وثواب اور بہت سے فضائل بیان فرمائے۔ پس جو شخص ان سے آگاہ ہونا چاہے وہ مہج الدعوات کی طرف رجوع کرے:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے (شروع) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ، الْمُدَبِّرُ بِلا وَزِیرٍ، وَلاَ خَلْقٍ مِنْ
ساری تعریف خدا کیلئے ہے جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ حق ظاہر بظاہر ہے وہ بغیر وزیر کے اور مخلوق میں سے کسی کے مشورے
عِبادِهِ یَسْتَشِیرُ، الْاَوَّلُ غَیْرُ مَوْصُوفٍ، وَالْباقِی بَعْدَ فَنائِ الْخَلْقِ، الْعَظِیمُ الرُّبُوبِیَّةِ،
کے بغیر نظم قائم کرنیوالا خدا ہے وہ ایسا اول ہے جسکا بیان نہیں ہوسکتا اور مخلوق کی فنائ کے بعد باقی رہنے والا ہے وہ ہے بڑا پالنے والا
نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضِینَ وَفاطِرُهُما وَمُبْتَدِعُهُما، بِغَیْرِ عَمَدٍ خَلَقَهُما وَفَتَقَهُما
آسمانوں اور زمینوں کو روشن کرنے والا انکا پیدا کرنیوالا اور انہیں بغیرستون کے بنانے والا ہے اس نے ان دونوں کو پیدا کیا اور
فَتْقاً، فَقامَتِ السَّمَاوَاتُ طایِعاتٍ بِأَمْرِهِ، وَاسْتَقَرَّتِ الْأَرَضُونَ بِأَوْتادِها فَوْقَ
الگ الگ رکھا پس آسمان اسکی اطاعت کرتے ہوئے اسکے حکم پر کھڑے ہوگئے اور زمینیں اپنی میخوں کے سہارے پانی کے
الْمائِ، ثُمَّ عَلا رَبُّنا فِی السَّمَاوَاتِ الْعُلی، الرَّحْمنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوی، لَهُ ما فِی
اوپر ٹھہرگئی پھر ہمارا پروردگار اونچے آسمانوں پر مسلط ہوگیا وہی رحمن ہر بلندی پر حاوی ہوگیا جو کچھ
السَّمَاوَاتِ وَما فِی الْاَرْضِ وَما بَیْنَهُما وَما تَحْتَ الثَّری، فَأَ نَا أَشْهَدُ بِأَ نَّکَ أَنْتَ
آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے جو کچھ انکے درمیان اور جو کچھ زیر زمین موجود ہے اسی کا ہے پس میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی
ﷲ لاَ رافِعَ لِما وَضَعْتَ، وَلاَ واضِعَ لِما رَفَعْتَ، وَلاَ مُعِزَّ
اللہ ہے جسے تو بلند کرے اسے کوئی پست کرنے والا نہیں ہے جسے تو پست کرے اسے کوئی بلند کرنے والا نہیں ہے اور جسے تو عزت
لِمَنْ أَذْ لَلْتَ، وَلاَ مُذِلَّ لِمَنْ أَعْزَزْتَ، وَلاَ مانِعَ لِما
دے اسے کوئی ذلیل کرنے والا نہیں جسے تو ذلیل کرے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے اور جس سے تو روک لے اس کو کوئی عطا
أَعْطَیْتَ، وَلاَ مُعْطِیَ لِما مَنَعْتَ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ کُنْتَ
کرنے والا نہیں ہے جسے تو عطا کرے اس سے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو موجود تھا
إذْ لَمْ تَکُنْ سَمائٌ مَبْنِیَّةٌ، وَلاَ أَرْضٌ مَدْحِیَّةٌ، وَلاَ شَمْسٌ مُضِیءَةٌ، وَلاَ لَیْلٌ مُظْلِمٌ، وَلاَ نَهارٌ
جب آسمان بلند نہیں کیا گیا تھا اور نہ زمین بچھائی گئی تھی اور نہ سورج چمکایا گیا تھا نہ تاریک رات اور نہ روشن
مُضِیئٌ، وَلاَ بَحْرٌ لُجِّیٌّ، وَلاَ جَبَلٌ راسٍ، وَلاَ نَجْمٌ سارٍ، وَلاَ قَمَرٌ مُنِیرٌ، وَلاَ رِیحٌ تَهُبُّ،
دن پیدا ہوا تھا نہ سمندر موجزن تھا نہ کوئی اونچا پہاڑ تھا نہ چلتا ہوا ستارہ تھا اور نہ چمکتا ہواچاند اور نہ چلتی ہوئی ہوا تھی
وَلاَ سَحَابٌ یَسْکُبُ، وَلاَ بَرْقٌ یَلْمَعُ، وَلاَ رَعْدٌ یُسَبِّحُ، وَلاَ رُوحٌ تَنَفَّسُ، وَلاَ طَائِرٌ یَطِیرُ،
نہ ہی برسنے والا بادل تھا نہ چمکنے والی بجلی اور نہ کڑکنے والے بادل نہ سانس لینے والی روح اور نہ اڑنے والا پرندہ تھا
وَلاَ نَارٌ تَتَوَقَّدُ، وَلاَ مائٌ یَطَّرِدُ، کُنْتَ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ وَکَوَّنْتَ کُلَّ شَیْئٍ، وَقَدَرْتَ عَلی
نہ جلتی ہوئی آگ اور نہ بہتا ہوا پانی پس توہر چیز سے پہلے تھا اور تو نے ہر چیز کو بنایا توہی ہر شیئ پر قادر
کُلِّ شَیْئٍ، وَابْتَدَعْتَ کُلَّ شَیْئٍ، وَأَغْنَیْتَ وَأَ فْقَرْتَ، وَأَمَتَّ وَأَحْیَیْتَ، وَأَضْحَکْتَ
و قدیر ہے تو نے ہر چیز کو ایجاد کیا اور انہیں بے حاجت اور محتاج بناتا ہے انہیں موت اور حیات دیتا ہے ہے ہنساتا ہے
وَأَبْکَیْتَ، وَعَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیْتَ، فَتَبارَکْتَ یَا ﷲ وَتَعالَیْتَ، أَنْتَ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ
اور رلاتا ہے اور تو عرش پر حاوی ہے پس تو بابرکت ہے اے اللہ تو بلند ہے تو وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
أَنْتَ الْخَلاَّقُ الْمُعِینُ، أَمْرُکَ غالِبٌ وَعِلْمُکَ نافِذٌ، وَکَیْدُکَ غَرِیبٌ، وَوَعْدُکَ
تو پیدا کرنے والا مدد دینے والا ہے تیرا حکم غالب تیرا علم گہرا اور تیری تدبیر عجیب ہے تیرا وعدہ
صَادِقٌ، وَقَوْلُکَ حَقٌّ، وَحُکْمُکَ عَدْلٌ، وَکَلامُکَ هُدیً وَوَحْیُکَ نُورٌ،
سچا اور تیرا قول حق ہے اور تیرا فیصلہ عادلانہ اور تیرا کلام ہدایت والا ہے تیری وحی نور
وَرَحْمَتُکَ واسِعَةٌ وَعَفْوُکَ عَظِیمٌ، وَفَضْلُکَ کَثِیرٌ، وَعَطاؤُکَ جَزِیلٌ، وَحَبْلُکَ
اور تیری رحمت وسیع ہے تیری بخشش عظیم تیرا فضل کثیر اور تیری عطا بہت بڑی ہے تیری رسی
مَتِینٌ وَ إمْکانُکَ عَتِیدٌ، وَجَارُکَ عَزِیزٌ، وَبَأسُکَ شَدِیدٌ، وَمَکْرُکَ مَکِیدٌ، أَ نْتَ
مظبوط اور تیری قدرت آمادہ ہے تیری پناہ لینے والا قوی تیرا حملہ سخت اور تیری تجویز پیچ دار ہے اے پروردگار
یَا رَبِّ مَوْضِعُ کُلِّ شَکْوی، وَحاضِرُ کُلِّ مَلاَئٍ، وَشاهِدُ کُلِّ نَجْوی، مُنْتَهی کُلِّ حاجَةٍ،
تو ہر شکایت کے پہنچنے کی جگہ ہر جماعت میں موجود اور ہر سرگوشی کا گواہ ہے تو ہر حاجت کی پناہ
مُفَرِّجُ کُلِّ حُزْنٍ، غِنیٰ کُلِّ مِسْکِینٍ، حِصْنُ کُلِّ هَارِبٍ، أَمانُ کُلِّ خَائِفٍ، حِرْزُ
ہر غم کو دور کرنے والا ہر بے چارے کا سرمایہ ہر بھاگنے والے کیلئے قلعہ ہر ڈرنے والے کیلئے جائے امن کمزوروں کی
الضُّعَفائِ، کَنْزُ الْفُقَرَائِ، مُفَرِّجُ الْغَمَّائِ، مُعِینُ الصَّالِحِینَ، ذلِکَ ﷲ رَبُّنا لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ،
ڈھال فقیروں کا خزانہ غموں کو مٹانے والا اور نیکوکاروں کا مددگار ہے یہی اللہ ہمارا رب ہے جسکے سوا کوئی معبود نہیں
تَکْفِی مِنْ عِبادِکَ مَنْ تَوَکَّلَ عَلَیْکَ، وَأَ نْتَ جَارُ مَنْ لاذَ بِکَ وَتَضَرَّعَ إلَیْکَ،
تو اپنے ان بندوں کیلئے کافی ہے جو تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اسکی پناہ ہے جو تیری پناہ چاہے اورجو تجھ سے فریاد کرے
عِصْمَةُ مَنِ اعْتَصَمَ بِکَ، ناصِرُ مَنِ انْتَصَرَ بِکَ، تَغْفِرُ الذُّنُوبَ لِمَنِ اسْتَغْفَرَکَ
اسکا مددگار جو تجھ سے مدد مانگے اسکا ناصر ہے جو تیری نصرت چاہے تو اسکے گناہ بخش دیتا ہے جو تجھ سے بخشش طلب کرے
جَبَّارُ الْجَبَابِرَةِ عَظِیمُ الْعُظَمَائِ کَبِیرُ الْکُبَرائِ سَیِّدُ السَّادَاتِ مَوْلَی الْمَوَالِی صَرِیخُ
اسے معاف کر دیتا ہیتو جابروں پر غالب بزرگوں کا بزرگ بڑوں کا بڑا سرداروں کا سردار آقاؤں کا آقا دادخواہوں
المُسْتَصْرِخِینَ مُنَفِّسٌ عَنِ الْمَکْرُوبِینَ، مُجِیبُ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ،أَسْمَعُ السَّامِعِینَ،
کا دادرس مصیبت زدوں کا غمگسار بے قراروں کی دعا قبول کرنے والا سننے والوں میں زیادہ سننے والا
أَبْصَرُ النَّاظِرِینَ، أَحْکَمُ الْحَاکِمِینَ، أَسْرَعُ الْحَاسِبِینَ، أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، خَیْرُ الْغَافِرِینَ،
دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والا حاکموں میں زیادہ حکم کرنیوالا جلد حساب کرنے والا رحم کرنے والوں میں زیادہ رحم والا بخشنے والوں میں
قَاضِی حَوائِجِ الْمُؤْمِنِینَ، مُغِیثُ الصَّالِحِینَ، أَ نْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ رَبُّ الْعالَمِینَ،
سب سے بہتر مومنوں کی حاجات برلانے والا نیکوکاروں کا فریاد رس تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو عالموں کا رب ہے
أَنْتَ الْخالِقُ وَأَ نَا الْمَخْلُوقُ، وَأَ نْتَ الْمَالِکُ وَأَنَا الْمَمْلُوکُ، وَأَ نْتَ الرَّبُّ وَأَ نَا
تو خالق ہے اور میں مخلوق ہوں تو مالک ہے اور میں مملوک ہوں تو پروردگار ہے اور میں تیرا
الْعَبْدُ، وَأَ نْتَ الرَّازِقُ وَأَ نَا الْمَرْزُوقُ، وَأَ نْتَ الْمُعْطِی وَأَ نَا السَّائِلُ، وَأَ نْتَ الْجَوادُ وَأَ نَا
بندہ ہوں تو رازق ہے اور میں رزق پانے والا ہوںتو عطا کرنے والا اور میں مانگنے والا ہوں تو سخاوت کرنیوالا اور میں
الْبَخِیلُ، وَأَ نْتَ الْقَوِیُّ وَأَ نَا الضَّعِیفُ، وَأَ نْتَ الْعَزِیزُ وَأَ نَا الذَّلِیلُ، وَأَ نْتَ الْغَنِیُّ و أَ نَا
کنجوس ہوں توقوت والا ہے اور میں کمزور ہوں تو عزت والا ہے اور میں ذلیل ہوں تو بے حاجت ہے اور میں
الْفَقِیرُ وَأَ نْتَ السَّیِّدُ وَأَ نَا الْعَبْدُ وَأَ نْتَ الْغافِرُ وَأَ نَا الْمُسِیئُ وَأَ نْتَ الْعَالِمُ وَأَ نَا الْجَاهِلُ
محتاج ہوں تو آقا ہے اور میں غلام ہوں تو بخشنے والا ہے اور میں گنہگار ہوں تو علم والا ہے اور میں نادان ہوں
وَأَ نْتَ الْحَلِیمُ وَأَ نَا الْعَجُولُ وَأَ نْتَ الرَّحْمنُ وَأَنَا الْمَرْحُومُ وَأَ نْتَ الْمُعافِی وَأَ نَا الْمُبْتَلی
تو بردبار ہے اور میں جلد باز ہوں تو رحم کرنے والا ہے اور میں رحم کیا ہوا تو عافیت دینے والا اور میں پھنسا ہوا ہوں
وَأَ نْتَ الْمُجِیبُ وَأَ نَا الْمُضْطَرُّ، وَأَ نَا أَشْهَدُ بِأَ نَّکَ أَ نْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ، الْمُعْطِی
تو دعا قبول کرنیوالا اور میں بے قرار ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک توہی معبود ہے تو جو اپنے بندوں
عِبادَکَ بِلا سُؤالٍ، وَأَشْهَدُ بِأَ نَّکَ أَ نْتَ ﷲ الْواحِدُ الْاَحَدُ الْمُتَفَرِّدُ الصَّمَدُ الْفَرْدُ
کو بن مانگے عطا کرتا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا توہی خدائے یگانہ یکتا بے مثل بے نیاز بے مثال ہے
وَ إلَیْکَ الْمَصِیرُ، وَصَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ، وَاغْفِرْ لِی
اور تیری ہی طرف واپسی ہے اور خدا حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور انکے اہلبیتعليهالسلام پر رحمت فرمائے جو پاک و پاکیزہ ہیں اور میرے گناہ
ذُ نُوبِی، وَاسْتُرْ عَلَیَّ عُیُوبِی، وَافْتَحْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً وَرِزْقاً وَاسِعاً
معاف فرما دے اور میرے عیبوں کو چھپائے رکھ اور میرے لیے اپنی طرف سے در رحمت اور کشادہ اور رزق کے دروازے کھول
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَحَسْبُنَا ﷲ
دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جو عالمین کا رب ہے اور کا فی ہے ہمارے لیے ایک اللہ
وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
جوبہترین کا رساز ہے اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو خدائے بلند و برتر سے ملتی ہے۔
دعائے مجیر
یہ حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منقول بڑی شان والی دعا ہے اور روایت ہے کہ یہ دعا حضرت جبرائیلعليهالسلام نے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس وقت پہنچائی جب آپ مقام ابراہیمعليهالسلام میں نماز ادا کررہے تھے۔ کفعمی نے بلد الامین اور مصباح میں اس دعا کو درج کیا ہے اور حاشیے میں اسکی فضیلت بھی ذکر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص اس دعا کو ماہ رمضان کے ایام بیض میں پڑھے تواسکے گناہ معاف ہوجائیں گے چاہے وہ بارش کے قطروں درختوں کے پتوں اور صحر اکی ریت کے ذروں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔ نیز یہ دعا مرض سے شفائ، ادائے قرض ،فراخی و توانگری اور غم کے دور ہونے کے کیلئے بھی مفید ہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
سُبْحانَکَ یَا ﷲ، تَعالَیْتَ یَا رَحْمنُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا رَحِیمُ
تو پاک ہے اے اللہ تو بلندتر ہے اے رحم کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے مہربان
تَعالَیْتَ یَا کَرِیمُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیر سُبْحانَکَ یَا مَلِکُ، تَعالَیْتَ یَا مالِکُ
تو بلندتر ہے اے کریم ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بادشاہ تو بلندتر ہے اے آقا
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا قُدُّوسُ، تَعالَیْتَ یَا سَلامُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے پاک ترین تو بلندتر ہے اے سلامتی دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُؤْمِنُ، تَعالَیْتَ یَا مُهَیْمِنُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے امن دینے والے تو بلندتر ہے اے نگہبان ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے
یَا عَزِیزُ، تَعالَیْتَ یَا جَبَّارُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُتَکَبِّرُ، تَعالَیْتَ
اے صاحب عزت تو بلندتر ہے اے زبردست ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بڑائی والے تو بلندتر ہے
یَا مُتَجَبِّرُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا خالِقُ، تَعالَیْتَ یَا بارئُ
اے بڑائی کے مالک ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے پیدا کرنیوالے تو بلندتر ہے اے بنانے والے
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُصَوِّرُ، تَعالَیْتَ یَا مُقَدِّرُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے صورت گر تو بلند ہے اے اندازہ ٹھہرانے والے ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا هادِی، تَعالَیْتَ یَا باقِی، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے ہدایت دینے والے تو بلندتر ہے اے باقی رہنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا وَهَّابُ، تَعالَیْتَ یَا تَوَّابُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ
تو پاک ہے اے بہت دینے والے تو بلندتر ہے اے توبہ قبول کرنیوالے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے
یَا فَتَّاحُ، تَعالَیْتَ یَا مُرْتاحُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا سَیِّدِی، تَعالَیْتَ
اے کھولنے والے تو بلندتر ہے اے صاحب راحت پناہ دے ہمیںآگ سے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے میرے سردار تو بلندتر ہے
یَا مَوْلایَ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا قَرِیبُ، تَعالَیْتَ یَا رَقِیبُ، أَجِرْنا مِنَ
اے میرے مولا ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے نزدیک تر تو بلندتر ہے اے نگہدار ہمیں آگ سے پناہ
النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُبْدئُ، تَعالَیْتَ یَا مُعِیدُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے ابتدائ کرنے والے تو بلندتر ہے اے لوٹا نے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا حَمِیدُ، تَعالَیْتَ یَا مَجِیدُ، أَجِرْنا مِنَ النّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا قَدِیمُ،
تو پاک ہے اے حمد کے لائق تو بلندتر ہے اے شان والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے توپاک ہے اے سب سے پہلے
تَعالَیْتَ یَا عَظِیمُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا غَفُورُ، تَعالَیْتَ یَا شَکُورُ،
تو بلند ترہے اے بزرگتر ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بہت بخشنے والے تو بلندتر ہے اے لائق شکر
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا شَاهِدُ، تَعالَیْتَ یَا شَهِیدُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے گواہی دینے والے تو بلندتر ہے اے حاضر و موجود ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا حَنَّانُ، تَعالَیْتَ یَا مَنَّانُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے محبت والے تو بلندتر ہے اے احسان کرنیوالے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا بَاعِثُ، تَعالَیْتَ یَا وَارِثُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُحْیِی،
تو پاک ہے اے اٹھانے والے تو بلندتر ہے اے سچے وارث ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے زندہ کرنے والے
تَعالَیْتَ یَا مُمِیتُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا شَفِیقُ، تَعالَیْتَ
تو بلندتر ہے اے موت دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے مہربانی کرنے والے تو بلندتر ہے
یَا رَفِیقُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا أَنِیسُ، تَعالَیْتَ یَا مُؤْنِسُ، أَجِرْنا
اے ساتھ دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے رفیق تو بلندتر ہے اے ہمدم و یاور ہمیں آگ
مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا جَلِیلُ، تَعالَیْتَ یَا جَمِیلُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے جلالت والے تو بلندتر ہے اے صاحب حسن ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا خَبِیرُ، تَعالَیْتَ یَا بَصِیرُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا حَفِیُّ،
تو پاک ہے اے خبر رکھنے والے تو بلندتر ہے اے دیکھنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے صاحب عقل
تَعالَیْتَ یَا مَلِیُّ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مَعْبُودُ، تَعالَیْتَ یَا مَوْجُودُ،
تو بلندتر ہے اے مراد برلانے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے معبود تو بلندتر ہے اے موجود حقیقی
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا غَفَّارُ، تَعَالَیْتَ یَا قَهَّارُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ،
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بخشنے والے تو بلندتر ہے اے زبردست ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا مَذْکُورُ، تَعالَیْتَ یَا مَشْکُورُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا جَوادُ
تو پاک ہے اے یاد کئے ہوئے تو بلندتر ہے اے شکر کیے گئے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بہت زیادہ سخی
تَعالَیْتَ یَا مَعاذُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا جَمالُ، تَعالَیْتَ یَا جَلالُ،
تو بلندتر ہے اے جائے پناہ ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے حسن والے تو بلندتر ہے اے بزرگی والے
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا سَابِقُ، تَعالَیْتَ یَا رَازِقُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے سب سے اول تو بلندتر ہے اے رزق دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا صَادِقُ، تَعالَیْتَ یَا فَالِقُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا سَمِیعُ،
تو پاک ہے اے صاحب صدق تو بلندتر ہے اے شگافتہ کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے سننے والے
تَعالَیْتَ یَا سَرِیعُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا رَفِیعُ، تَعالَیْتَ یَا بَدِیعُ،
تو بلندتر ہے اے تیزتر ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بلندی والے تو بلندتر ہے اے جدت والے
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا فَعَّالُ، تَعالَیْتَ یَا مُتَعالٍ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بڑے فاعل تو بلندتر ہے اے عالی تر ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا قَاضِی، تَعالَیْتَ یَا رَاضِی، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا قَاهِرُ،
تو پاک ہے اے فی صلہ کرنے والے تو بلندتر ہے اے راضی ہو جانے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے زبردست
تَعالَیْتَ یَا طَاهِرُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا عَالِمُ، تَعالَیْتَ یَا حَاکِمُ،
تو بلندتر ہے اے پاکیزگی والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے صاحب علم تو بلندتر ہے اے صاحب حکم
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا دائِمُ، تَعالَیْتَ یَا قائِمُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے توپاک ہے اے ہمیشہ رہنے والے تو بلندتر ہے اے موجود ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا عَاصِمُ، تَعالَیْتَ یَا قاسِمُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا غَنِیُّ،
تو پاک ہے اے حفاظت کرنیوالے تو بلندتر ہے اے تقسیم کرنیوالے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے تونگر
تَعالَیْتَ یَا مُغْنِی، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا وَفِیُّ، تَعالَیْتَ یَا قَوِیُّ،
تو بلندتر ہے اے تونگر کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے وفا والے تو بلندتر ہے اے قوت والے
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا کَافِی، تَعالَیْتَ یَا شَافِی، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے، اے کفایت کرنے والے تو بلندتر ہے اے شفا دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا مُقَدِّمُ، تَعالَیْتَ یَا مُؤَخِّرُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ
تو پاک ہے اے سب سے پہلے تو بلندتر ہے اے سب سے آخر رہنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے
یَا أَوَّلُ، تَعالَیْتَ یَا آخِرُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا ظَاهِرُ، تَعالَیْتَ یَا بَاطِنُ،
اے سب سے اول تو بلندتر ہے اے سب سے آخر موجود ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے آشکار تو بلندتر ہے اے پوشیدہ
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا رَ جَاءُ، تَعالَیْتَ یَا مُرْتَجیٰ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے امیدگاہ تو بلندتر ہے اے امید کیے ہوئے ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا ذَا الْمَنِّ، تَعالَیْتَ یَا ذَا الطَّوْلِ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے صاحب احسان تو بلندتر ہے اے صاحب بخشش ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا حَیُّ، تَعالَیْتَ یَا قَیُّومُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا واحِدُ
تو پاک ہے اے زندہ تو بلندتر ہے اے نگہبان ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے یگانہ
تَعالَیْتَ یَا أَحَدُ أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا سَیِّدُ، تَعالَیْتَ یَا صَمَدُ، أَجِرْنا مِنَ
تو بلندتر ہے اے یکتا ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے آقا تو بلندتر ہے اے بے نیاز ہمیں آگ سے
النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا قَدِیرُ، تَعالَیْتَ یَا کَبِیرُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے صاحب قدرت تو بلندتر ہے اے صاحب کبر ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا وَالِی، تَعالَیْتَ یَا عَالِی، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا عَلِیُّ،
توپاک ہے اے حاکم تو بلندتر ہے اے ذات عالی ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بلند
تَعالَیْتَ یَا أَعْلیٰ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا وَ لِیُّ، تَعالَیْتَ یَا مَوْلیٰ،
تو بلندتر ہے اے سب سے بلند ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے سرپرست تو بلندتر ہے اے مالک
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا ذارئُ، تَعالَیْتَ یَا بَارئُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے ہوا چلانے والے تو بلندتر ہے اے پیدا کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا خَافِضُ، تَعالَیْتَ یَا رَافِعُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے پست کرنے والے تو بلندتر ہے اے بلند کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا مُقْسِطُ، تَعالَیْتَ یَا جَامِعُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ
تو پاک ہے اے پراگندہ کرنے والے تو بلندتر ہے اے اکٹھا کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے
یَا مُعِزُّ، تَعالَیْتَ یَا مُذِلُّ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا حَافِظُ،
اے عزت دینے والے تو بلندتر ہے اے ذلت دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے حفاظت کرنے والے
تَعالَیْتَ یَا حَفِیظُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا قادِرُ، تَعالَیْتَ یَا مُقْتَدِرُ،
تو بلندتر ہے اے نگہبان ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے قدرت والے تو بلندتر ہے اے اقتدار والے
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا عَلِیمُ، تَعالَیْتَ یَا حَلِیمُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یا مُجِیرُ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے علم والے تو بلندتر ہے اے حلم والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا حَکَمُ، تَعالَیْتَ یَا حَکِیمُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُعْطِی،
تو پاک ہے اے فیصلہ کرنے والے توبلندتر ہے اے حکمت والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے عطا کرنے والے
تَعالَیْتَ یَا مانِعُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا ضَارُّ، تَعالَیْتَ
تو بلندتر ہے اے روک لینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے نقصان دینے والے تو بلندتر ہے
یَا نَافِعُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُجِیبُ، تَعالَیْتَ یَا حَسِیبُ،
اے نفع دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے دعا قبول کرنے والے تو بلندتر ہے اے حساب کرنے والے
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا عادِلُ، تَعالَیْتَ یَا فاصِلُ، أَجِرْنا مِنَ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے عدل کرنے والے تو بلند تر ہے اے جدا کرنے والے ہمیں آگ
النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا لَطِیفُ، تَعالَیْتَ یَا شَرِیفُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے لطف کرنے والے تو بلندتر ہے اے عزت والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا رَبُّ، تَعالَیْتَ یَا حَقُّ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا مَاجِدُ،
تو پاک ہے اے پالنے والے تو بلندتر ہے اے برحق ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بزرگی والے
تَعالَیْتَ یَا وَاحِدُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا عَفُوُّ تَعالَیْتَ یَا مُنْتَقِمُ،
تو بلندتر ہے اے یکتا ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے معاف کرنے والے تو بلندتر ہے اے بدلہ لینے والے
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا واسِعُ تَعالَیْتَ یَا مُوَسِّعُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے کشادگی والے تو بلندتر ہے اے کشادگی دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا رَؤُوفُ، تَعالَیْتَ یَا عَطُوفُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے مہربانی کرنے والے تو بلندتر ہے اے نرمی کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا فَرْدُ تَعالَیْتَ یَا وِتْرُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُقِیتُ تَعالَیْتَ
تو پاک ہے اے بے مثل تو بلندتر ہے اے تنہا ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے نگاہ رکھنے والے تو بلندتر ہے
یَا مُحِیطُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا وَکِیلُ، تَعالَیْتَ یَا عَدْلُ،
اے احاطہ کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے کارساز تو بلندتر ہے اے انصاف کرنے والے
أَجِرْنا مِنَ النّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُبِینُ، تَعالَیْتَ یَا مَتِینُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے روشن تر تو بلندتر ہے اے محکم ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا بَرُّ، تَعالَیْتَ یَا وَدُودُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا رَشِیدُ،
تو پاک ہے اے نیکوتر تو بلندتر ہے اے محبت والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے ہدایت والے
تَعالَیْتَ یَا مُرْشِدُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یا مُجِیرُ، سُبْحانَکَ یَا نُورُ، تَعالَیْتَ یَا مُنَوِّرُ،
تو بلندتر ہے اے ہدایت دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے نور تو بلندتر ہے اے نور دینے والے
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا نَصِیرُ، تَعالَیْتَ یَا نَاصِرُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے مدد کرنے والے تو بلندتر ہے اے مددگار ہمیں آگ سے پناہ دے
یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا صَبُورُ، تَعالَیْتَ یَا صَابِرُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ
اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے برداشت کرنے والے تو بلندتر ہے اے صبر کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے
سُبْحانَکَ یَا مُحْصِی، تَعالَیْتَ یَا مُنْشئُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحَانَکَ
تو پاک ہے اے جمع کرنے والے تو بلندتر ہے اے پیدا کرنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے
یَا سُبْحَانُ، تَعالَیْتَ یَا دَیَّانُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا مُغِیثُ، تَعالَیْتَ
اے پاک و پاکیزہ تو بلند تر ہے اے جزا دینے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے فریادرس تو بلندتر ہے
یَا غِیاثُ، أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا فَاطِرُ، تَعالَیْتَ یَا حَاضِرُ،
اے فریاد کو پہنچنے والے ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے پیدا کرنے والے تو بلندتر ہے اے موجود
أَجِرْنا مِنَ النَّارِ یَا مُجِیرُ سُبْحانَکَ یَا ذَا الْعِزِّ وَالْجَمَالِ تَبارَکْتَ یَا ذَا الْجَبَرُوتِ وَالْجَلاَلِ
ہمیں آگ سے پناہ دے اے پناہ دینے والے تو پاک ہے اے بڑائی اور حسن والے تو بابرکت ہے اے صاحب اقتدار اور جلالت والے
سُبْحانَکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ، سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنا لَهُ وَنَجَّیْناهُ مِنَ
تو پاک ہے سوائے تیرے کوئی معبودنہیں ہے تو پاک ہے بے شک میں خطا کاروں میں ہوں سے پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور ہم نے اس کو
الْغَمِّ وَکَذلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ وَالْحَمْدُ
رنج سے نجات دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں اور خدا ہمارے سردار حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور انکی ساری آلعليهالسلام پر رحمت فرمائے اور ساری تعریف
لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَحَسْبُنا ﷲ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
اللہ ہی کیلئے ہے جو عالمین کا رب ہے اور اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور کارساز اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگروہی جو بلند و برتر خدا سے ملتی ہے
دعا عدیلہ
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
شَهِدَ ﷲ أَنَّهُ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ وَالْمَلائِکَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِماً بِالْقِسْطِ لاَ إلهَ إلاَّ
خدا گواہ ہے کہ سوائے اسکے کوئی معبود نہیں نیز ملائکہ اور با انصاف صاحبان علم بھی اس پر گواہی دے رہے ہیںکہ سوائے اسکے کوئی معبود نہیں
هُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ، إنَّ الدِّینَ عِنْدَ ﷲ الْاِسْلامُ، وَأَ نَا الْعَبْدُ الضَّعِیفُ الْمُذْنِبُ الْعاصِی
جو صاحب عزت حکمت والا ہے یقینا خدا کاپسندیدہ دین اسلام ہی ہے اور میں جو ایک ناتواں گنہگار خطاکار
الْمُحْتاجُ الْحَقِیرُ، أَشْهَدُ لِمُنْعِمِی وَخالِقِی وَرازِقِی وَمُکْرِمِی کَما شَهِدَ لِذاتِهِ،
حاجت مند اور بے مایہ بندہ ہوں میں اپنے منعم ، خالق ، رازق اور اپنے کرم فرما خدا کی گواہی دیتا ہوں، جیسے اس نے اپنی ذات کی گواہی دی ہے
وَشَهِدَتْ لَهُ الْمَلائِکَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ مِنْ عِبادِهِ، بِأَنَّهُ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ ذُو النِّعَمِ وَالْاِحْسانِ،
نیز ملائکہ اور صاحب علم بندوں نے بھی اسکی گواہی دی ہے کہ سوائے اسکے کوئی معبود نہیں جو نعمت، احسان
وَالْکَرَمِ وَالْاِمْتِنانِ، قادِرٌ أَزَلِیٌّ، عالِمٌ أَبَدِیٌّ، حَیٌّ أَحَدِیٌّ، مَوْجُودٌ سَرْمَدِیٌّ، سَمِیعٌ بَصِیرٌ
و کرم اور عطا کا مالک ہے اور وہ ہمیشہ سے صاحب قدرت اور دائمی صاحب علم ،زندہ ،یکتا اور ہمیشگی والاموجود ہے سننے والا دیکھنے والا
مُرِیدٌ کارِهٌ، مُدْرِکٌ صَمَدِیٌّ، یَسْتَحِقُّ هَذِهِ الصِّفاتِ وَهُوَ عَلَی ما هُوَ عَلَیْهِ فِی عِزِّ
ارادے والا ناپسند کرنے والا پا لینے والا بے نیاز ہے وہ ان صفات کا صحیح حقدار ہے اور وہ دیگر صفات کا بھی
صِفاتِهِ، کَانَ قَوِیّاً قَبْلَ وُجُودِ الْقُدْرَةِ وَالْقُوَّةِ، وَکانَ عَلِیماً قَبْلَ إیجادِ الْعِلْمِ وَالْعِلَّةِ، لَمْ
مالک ہے جو بہت بڑی صفات ہیں کہ قدرت اور قوت کے وجود میں آنے سے قبل وہ صاحب قوت تھا اور وہ صاحب علم تھا علم اور
یَزَلْ سُلْطاناً إذْ لاَ مَمْلَکَةَ وَلاَ مالَ، وَلَمْ یَزَلْ سُبْحَاناً عَلی جَمِیعِ الْاَحْوالِ، وُجُودُهُ قَبْلَ
دلیل کی ایجاد سے پہلے وہ مستقل سلطان تھا جب نہ کوئی ملک تھا اور نہ مال ، وہ لا زوال پاکیزہ تھا ہر ہر حال میں کہ اس کا وجود قبل سے
الْقَبْلِ فِی أَزَلِ الاَْزالِ، وَبَقاؤُهُ بَعْدَ الْبَعْدِ مِنْ غَیْرِ انْتِقالٍ وَلاَ زَوالٍ، غَنِیٌّ فِی الْاَوَّلِ
قبل اور ازلوں کے ازل سے ہے اور اس کی بقا بعد سے بعد ہے کہ جسمیں نہ تبدیلی ہے نہ زوال وہ اول و آخر سے
وَالاَْخِرِ، مُسْتَغْنٍ فِی الْباطِنِ وَالظَّاهِرِ، لاَ جَوْرَ فِی قَضِیَّتِهِ، ولاَ مَیْلَ فِی مَشِیءَتِهِ، وَلاَ ظُلْمَ
بے نیاز اور ظاہر و باطن میں بے پرواہ ہے اسکے فیصلے میں ظلم نہیں اور اسکی مرضی میں طرفداری نہیں ہے اسکی تقدیر میں
فِی تَقْدِیرِهِ وَلاَ مَهْرَبَ مِنْ حُکُومَتِهِ وَلاَ مَلْجَأَ مِنْ سَطَواتِهِ وَلاَ مَنْجیً مِنْ نَقِماتِهِ، سَبَقَتْ
ستم نہیں اور اسکی حکومت سے فرار ممکن نہیں اسکا قہر آئے تو کوئی پناہ نہیں اور وہ عذاب کرے تو نجات نہیں اسکی
رَحْمَتُهُ غَضَبَهُ وَلاَ یَفُوتُهُ أَحَدٌ إذا طَلَبَهُ، أَزاحَ الْعِلَلَ فِی التَّکْلِیفِ، وَسَوَّی التَّوْفِیقَ بَیْنَ
رحمت ،غضب سے پہلے ہے جسے وہ طلب کرے وہ فرار نہیں کرسکتا اس نے فریضوں میں اضداد دور کر دیں اور توفیق دینے میں
الضَّعِیفِ وَالشَّرِیفِ، مَکَّنَ أَداءَ الْمَأْمُورِ، وَسَهَّلَ سَبِیلَ اجْتِنابِ الْمَحْظُورِ، لَمْ یُکَلِّفِ
ادنیٰ و اعلیٰ میں برابری رکھی ہے حکم کردہ باتوں پر عمل کو ممکن اور گناہ سے بچنے کا راستہ آسان کردیا ہے اس نے وسعت
الطَّاعَةَ إلاَّ دُونَ الْوُسْعِ وَالطَّاقَةِ سُبْحانَهُ مَا أَبْیَنَ کَرَمَهُ وَأَعْلَی شَأْنَهُ سُبْحانَهُ مَا أَجَلَّ نَیْلَهُ
و طاقت سے کمتر فریضے عائد کیئے ہیں پاک ہے وہ جسکا کرم کتنا واضح اور شان کتنی بلند ہے پاک ہے وہ کہ جسکا نام کتنا عمدہ
وَأَعْظَمَ إحْسانَهُ بَعَثَ الْاَنْبِیاءَ لِیُبَیِّنَ عَدْلَهُ، وَنَصَبَ الْاَوْصِیاءَ لِیُظْهِرَ طَوْلَهُ وَفَضْلَهُ،
اور احسان کتنا بڑا ہے اس نے اپنے عدل کی تشریح کیلئے انبیائ بھیجے اور اپنے فضل و کرم کے اظہار کی خاطر اوصیائ کو مامور فرمایا
وَجَعَلَنا مِنْ أُمَّةِ سَیِّدِ الْاَنْبِیائِ وَخَیْرِ الْاَوْ لِیائِ وَأَفْضَلِ الْاَصْفِیائِ وَأَعْلَی الْاَزْکِیائِ مُحَمَّدٍ
اور ہمیں نبیوں کے سردار ولیوں میں بہتر برگزیدوں میں سب سے افضل اور پاکبازوں میں سب سے بلند حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَ آلِهِ وَسَلَّمَ، آمَنَّا بِهِ وَبِما دَعانا إلَیْهِ، وَبِالْقُرْآنِ الَّذِی أَنْزَلَهُ عَلَیْهِ وَبِوَصِیِّهِ
کی امت میں قرار دیا ہم ان پر ایمان لائے اور انکے پیغام پر اور قرآن پر جو ان پر نازل ہوا اور انکے جانشین پر
الَّذِی نَصَبَهُ یَوْمَ الْغَدِیرِ وَأَشارَ بِقَوْلِهِ هذا عَلِیٌّ إلَیْهِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ آلاَءِمَّةَ الْاَ بْرارَ وَالْخُلَفاءَ
جسے انہوں نے یوم غدیر مقرر کیا اور اپنی زبان سے فرمایا کہ یہ ہے علیعليهالسلام جو میرا وصی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد
الْاَخْیارَ بَعْدَ الرَّسُولِ الْمُخْتارِ عَلِیٌّ قامِعُ الْکُفّارِ وَمِنْ بَعْدِهِ سَیِّدُ أَوْلادِهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ
نیکوکار امامعليهالسلام اور بہترین جانشین ہیں جن میں علیعليهالسلام ہی کافروں کو ختم کرنے والے ہیں اور انکے بعد انکی اولاد کے سردار حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام
ثُمَّ أَخُوهُ السِّبْطُ التَّابِعُ لِمَرْضاةِ ﷲ الْحُسَیْنُ ثُمَّ الْعابِدُ عَلِیٌّ ثُمَّ الْباقِرُ مُحَمَّدٌ ثُمَّ الصّادِقُ
پھر انکے بھائی نواسہ رسول ، اللہ کی رضاؤں کے طلبگار حسینعليهالسلام ہیں پھر علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام پھر محمد باقرعليهالسلام پھر جعفر
جَعْفَرٌ، ثُمَّ الْکَاظِمُ مُوسی، ثُمَّ الرِّضا عَلِیٌّ، ثُمَّ التَّقِیُّ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ النَّقِیُّ عَلِیٌّ، ثُمَّ الزَّکِیُّ
صادقعليهالسلام پھر موسیٰ کاظمعليهالسلام پھر علی رضاعليهالسلام پھر محمد تقیعليهالسلام ہیں انکے بعد علی نقیعليهالسلام ہیں پھر حسن عسکری
الْعَسْکَرِیُّ الْحَسَنُ، ثُمَّ الْحُجَّةُ الْخَلَفُ الْقائِمُ الْمُنْتَظَرُ الْمَهْدِیُّ الْمُرْجَی الَّذِی بِبَقائِهِ
زکیعليهالسلام ہیں پھر حضرت حجت خلف قائم المنتظر مہدیعليهالسلام امیدگاہ خلق ہیں جنکی بقائ سے
بَقِیَتِ الدُّنْیا، وَبِیُمْنِهِ رُزِقَ الْوَری، وَبِوُجُودِهِ ثَبَتَتِ الْاَرْضُ وَالسَّمائُ، وَبِهِ یَمْلاُئ
دنیا قائم ہے اور انکی برکت سے مخلوق کو روزی ملتی ہے اور انکے وجود سے زمین و آسمان کھڑے ہیں اور انکے ذریعے ﷲ تعالیٰ
ﷲ الْاَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلاً بَعْدَما مُلِءَتْ ظُلْماً وَجَوْراً وَأَشْهَدُ أَنَّ أَقْوالَهُمْ حُجَّةٌ وَامْتِثالَهُمْ
زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیگا جب کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی میں گواہی دیتا ہوں کہ ان آئمہ کے اقوال حجت، ان پر عمل کرنا
فَرِیضَةٌ وَطاعَتَهُمْ مَفْرُوضَةٌ وَمَوَدَّتَهُمْ لازِمَةٌ مَقْضِیَّةٌ وَالْاِقْتِداءَ بِهِمْ مُنْجِیَةٌ وَمُخالَفَتَهُمْ
واجب اور انکی پیروی فرض ہے اور ان سے محبت رکھنا ضروری و لازم ہے انکی اطاعت باعث نجات اور ان سے مخالفت
مُرْدِیَةٌ، وَهُمْ سَاداتُ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَجْمَعِینَ، وَشُفَعائُ یَوْمِ الدِّینِ، وَأَئِمَّةُ أَهْلِ الْاَرْضِ عَلَی
وجہ تباہی ہے اور وہ سب کے سب اہل جنت کے سردار ہیں قیامت میں شفاعت کرنے والے اور یقینی طور پر اہل زمین کے امامعليهالسلام
الْیَقِینِ وَأَ فْضَلُ الْاَوْصِیائِ الْمَرْضِیِّینَ وَأَشْهَدُ أَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ وَمُساءَلَةَ الْقَبْرِ حَقٌّ وَالْبَعْثَ
ہیں وہ پسندیدہ اوصیائ میں سے افضل ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ موت حق ہے قبر میں سوال و جواب حق ہیں دوبارہ اٹھنا
حَقٌّ، وَالنُّشُورَ حَقٌّ، وَالصِّراطَ حَقٌّ، وَالْمِیزانَ حَقٌّ، وَالْحِسابَ حَقٌّ، وَالْکِتابَ حَقٌّ،
حق ہے قیامت میں حاضری حق ہے صراط سے گزرنا حق ہے میزان عمل حق ہے حساب حق ہے اور کتاب حق ہے
وَالْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِیَةٌ لاَ رَیْبَ فِیها، وَأَنَّ ﷲ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ
اسی طرح جنت حق ہے اور جہنم حق ہے نیز قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اللہ انہیں ضرور اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں
اَللّٰهُمَّ فَضْلُکَ رَجَائِی، وَکَرَمُکَ وَرَحْمَتُکَ أَمَلِی، لاَ عَمَلَ لِی أَسْتَحِقُّ بِهِ الْجَنَّةَ، وَلاَ
اے معبود! تیرا فضل میرا سہارا اور تیری رحمت و بخشش میری امید ہے میرا کوئی ایسا عمل نہیں جس سے میں جنت کا حقدا ر بنوں اور نہ
طاعَةَ لِی أَسْتَوْجِبُ بِهَا الرِّضْوانَ إلاَّ أَنِّی اعْتَقَدْتُ تَوْحِیدَکَ وَعَدْلَکَ، وَارْتَجَیْتُ
عبادت ہے کہ جو تیری خوشنودی کا باعث ہو سوائے اسکے کہ میں تیری توحید و عدل پر اعتقاد رکھتا ہوںاور تیرے فضل و
إحْسانَکَ وَفَضْلَکَ وَتَشَفَّعْتُ إلَیْکَ بِالنَّبِیِّ وَآلِهِ مِنْ أَحِبَّتِکَ وَأَنْتَ أَکْرَمُ الاَْکْرَمِینَ
احسان کی امید رکھتا ہوں اور تیرے حضور تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آلعليهالسلام کی شفاعت لایا ہوں جو تیرے محبوب ہیں اور تو سب سے زیادہ کرم کرنے والا
وَأَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلی نَبِیِّنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ وَسَلَّمَ
اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اور ہمارے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور انکی ساری آلعليهالسلام پر خدا کی رحمت ہو جو پاک و پاکیزہ ہیں اور ان پر سلام ہو
تَسْلِیماً کَثِیراً کَثِیراً، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ اَللّٰهُمَّ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
سلام ِخاص زیادہ بہت زیادہ اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو بلند وبرتر خدا سے ملتی ہے اے معبود اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
إنِّی أَوْدَعْتُکَ یَقِینِی هذَا وَثَباتَ دِینِی وَأَ نْتَ خَیْرُ مُسْتَوْدَعٍ، وَقَدْ أَمَرْتَنا بِحِفْظِ
بے شک میں اپنا یہ عقیدہ اوردین میں ثابت قدمی تیرے سپرد کرتا ہوں اور تو بہترین امانتدار ہے اور تو نے ہمیں امانتوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے
الْوَدائِعِ فَرُدَّهُ عَلَیَّ وَقْتَ حُضُورِ مَوْتِی بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
پس اپنی رحمت سے میرا یہ عقیدہ بوقت مرگ مجھے یاد دلادینا واسطہ تجھے تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
مؤلف کہتے ہیں اسکے ساتھ معصومین سے یہ الفاظ بھی مروی ہیں:
اَلَّهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَدِیْلَةِ عِنْدَ الْمَوْتِ
اے معبود وقت مرگ اس عقیدے سے پلٹنے سے، میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں-عدیلہ موت سے مراد موت کے وقت حق سے باطل کیطرف پھر جانا ہے، اسکی صورت یہ ہے کہ جان کنی کے وقت شیطان شک میں ڈال کر گمراہ کردیتا ہے اور یوںانسان ایمان چھوڑ بیٹھتا ہے یہی وجہ ہے کہ دعاؤں میں ایسی صورت حال سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ فخر المحققین نے فرمایا ہے کہ جو شخص موت کے وقت اس خطرے سے محفوظ رہنا چاہتا ہے اسے ایمان اور اصول دین کی دلیلیں ذہن نشین کیے رکھنا چاہئیں اور پھر انکو بطور امانت خدا کی بارگاہ میں پیش کردینا چاہیئے تاکہ موت کی گھڑی میں یہ امانت اسے واپس مل جائے۔ اسکا طریقہ یہ ہے کہ عقائد حقّہ کو دہرانے کے بعد کہیں:
اَللّٰهُمَّ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، إنِّی قَدْ أَوْدَعْتُکَ یَقِینِی هذَا وَثَباتَ دِینِی وَأَ نْتَ خَیْرُ
اے معبوداے سب سے زیادہ رحم کرنے والے بے شک میں اپنا یہ عقیدہ اور دین میں اپنی ثابت قدمی تیرے سپرد کرتا ہوںاور تو
مُسْتَوْدَعٍ، وَقَدْ أَمَرْتَنا بِحِفْظِ الْوَدائِعِ، فَرُدَّهُ عَلَیَّ وَقْتَ حُضُورِ مَوْتِی
بہترین امانتدار ہے اور تو نے ہمیں امانتوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے پس اپنی رحمت سے میرا یہ عقیدہ وقت مرگ مجھے یاد دلادینا۔
پس ان بزرگوار کے فرمان کے مطابق اس دعا عدیلہ کا پڑھنا اور اسکے مطالب کو وقتِ مرگ دل میں رکھنا، حق سے پھرجانے کے خطرے کو روکنا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ آیا یہ دعا منقول ہے یا خود علمائے کرام نے اسے مرتب کیا ہے؟ اس بارے میں عرض ہے کہ علم حدیث کے ماہر اور اخبار ائمہ کے جمع کرنے والے اجل عالم، محدث ناقد و بابصیرت اور ہمارے استاد محدث اعظم الحاج مولانا میرزا حسین نوری (ہ خدا انکے مرقد کو روشن کرے۔) کا فرمان ہے کہ معروف دعائ عدیلہ بعض علمائ کی وضع کردہ ہے، یہ کسی امامعليهالسلام سے نقل نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ حدیث کی کتابوں میں پائی جائی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ شیخ طوسیرحمهالله نے محمد بن سلیمان دیلمی سے روایت کی ہے کہ میں نے امام جعفر صادق -کی خدمت میں عرض کیا کہ بعض شیعہ بھائیوں کا کہنا ہے کہ ایمان کی دو قسمیں ہیں، یعنی ایک محکم و ثابت اور دوسرا عارضی و امانتی جو زائل ہوسکتا ہے۔ پس آپ مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم فرمائیں کہ جسکے پڑھنے سے میرا ایمان قائم و ثابت رہے اور زائل نہ ہونے پائے۔ اس پر آپعليهالسلام نے فرمایا کہ ہر واجب نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرو۔
رَضِیتُ بِالله رَبّاً وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ نَبِیّاً وَبِالْاِسْلامِ دِیناً، وَبِالْقُرْآنِ کِتاباً
میں راضی ہوںاس پر کہ ﷲ میرا رب اور حضرت محمد میرے نبی ہیں اسلام میرادین ہے قرآن میری کتاب ہے
وَبِالْکَعْبَةِ قِبْلَةً وَبِعَلِیٍّ وَ لِیّاً وَ إماماً وَبِالْحَسَنِ والحسین و علی ابن الحسین و محمد بن ِ
کعبہ میرا قبلہ ہے اور اضی ہوں اس پر کہ علی - میرے مولا اور امام ہیں نیز حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام ، علیعليهالسلام ابن حسینعليهالسلام ، محمدعليهالسلام ابن
علی و جعفر ابن محمد وَمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ وَعَلِیِّ بْنِ مُوسی وَمُحَمَّدبْنِ عَلِیٍّ وَعلی بن
علیعليهالسلام ، جعفرعليهالسلام ابن محمدعليهالسلام ، موسیٰعليهالسلام ابن جعفرعليهالسلام ، علیعليهالسلام ابن موسیٰعليهالسلام ، محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام ، علیعليهالسلام ابن محمدعليهالسلام ، حسنعليهالسلام ابن علیعليهالسلام ،
مُحَمَّدِ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَالْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ أَئِمَّةً اَللّٰهُمَّ إنِّی رَضِیتُ بِهِمْ أَئِمَّةً فَارْضَنِی لَهُمْ إنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
اور حجتعليهالسلام بن حسنعليهالسلام کہ ان پر اللہ کی رحمتیں ہوں میرے امام ہیں اے معبود میں راضی ہوں کہ وہ میرے امامعليهالسلام ہیں پس انہیں مجھ سے راضی فرمادے بے شک توہر چیز پرقادر ہے
دعائے جوشن کبیر
بلدالامین و مصباح کفعمی میں مروی ہے کہ امام زین العابدین -نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے اپنے والد امیر المومنینعليهالسلام سے اور انہو ںنے حضرت رسول سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دعا جبرائیلعليهالسلام نے ایک جنگ کے دوران آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پہنچائی اس وقت آپ نے بھاری بھر کم زرہ پہن رکھی تھی ، جسکے بوجھ سے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جسم کو تکلیف ہو رہی تھی۔ جبرائیلعليهالسلام نے عرض کی کہ یامحمد مصطفٰیصلىاللهعليهوآلهوسلم آپکا رب آپکو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ بھاری زرہ اتار دیں اور یہ دعا پڑھیں کہ یہ آپ کیلئے اور آپکی امت کیلئے حفظ و امان کی باعث ہے۔پھر اس دعا کے اور فضائل و فوائد بھی بتائے کہ جنکے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں فرمایا کہ جو شخص اسے کفن پر لکھے تو خدا کی رحمت سے دور ہے کہ اسے جہنم میں جلائے۔ اور جو شخص رمضان المبارک کی پہلی رات، خلوص نیت کے ساتھ یہ دعا پڑھے تو اسکو شب قدر دیکھنا نصیب ہو گی اور خدا وند عالم اسکی خاطر ستر ہزار فرشتے پیدا کرے گا جو تسبیح و تقدیس کریں گے کہ جسکا ثواب اسکو ملے گا۔ اسکی مزید فضیلت بھی بیان ہوئی ہے کہ جو شخص ماہ رمضان میں تین مرتبہ یہ دعا پڑھے تو خدا تعالی اسکے جسم پر جہنم کی آگ حرام کر دیگا، جنت اس کیلئے واجب قرار دے گا اور دو فرشتے اس پر مقرر کر دے گا جو گناہوں سے اسکی حفاظت کریں گے اور وہ زندگی بھر خدا کی امان میں رہے گا۔اور روایت کے آخر میں ہے کہ امام حسین -نے فرمایا : میرے والد گرامی علی ابن ابی طالب ٭ نے مجھے اس دعا کومحفوظ کرنے کی وصیت فرمائی اور ہدایت کی کہ میں اسے انکے کفن پر لکھوں، اپنے اہلبیت کو اس کی تعلیم دوں اور انہیں اسکے پڑھنے کی ترغیب دلائوں۔ یہ ہزار اسم ہیں کہ انہیں میں اسم اعظم ہے۔مؤلف کہتے ہیں کہ اس روایت سے دوباتیں معلوم ہوتی ہیں ، ایک یہ کہ اس دعا کا کفن پر لکھنا مستحب ہے۔ جیسا کہ علامہ بحرالعلوم (خدا انکی قبر کو معطر فرمائے )نے اپنی کتاب درّہ میں اسکی طرف اشارہ کیا ہے۔
وَسُنَّ أَنْ یَکْتُبَ بِالْاَکْفانِ شَهادَةُ الاِِسْلامِ وَالْاِیْمَانِ
سنت ہے کہ میت کے کفن پر لکھا جائے، اسلام اور ایمان کی شھادت
وَهَکَذا کِتابَةُ الْقُرْآنِ وَالْجَوْشَنِ الْمَنْعُوتِ بِالْاَمَانِ
اسی طرح قرآن کریم بھی لکھا جائے اور دعا جوشن کو لکھا جائے جو وسیلہِ حفظ و امان ہے
دوسری یہ کہ اس دعا کوآغاز ماہ رمضان میں پڑھنا مستحب ہے، لیکن اس کا شب قدر میں پڑھنے کے بارے میں مذکورہ روایت میں کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ تاہم علامہ مجلسیرحمهالله نے زاد المعاد میں شب قدر کے اعمال میں اسکا ذکر کیا ہے۔اوربعض روایات میں ہے کہ دعا جوشن کبیر کو شب قدر کی تینوںراتوں میں پڑھا جائے اور ہمارے لئے اس مقام پر بزرگوار کا فرمان ہی کافی ہے(اللہ انہیں دار الاسلام میں داخل کرے)۔ خلاصہ یہ کہ اس دعا کی ایک سو فصلیں ہیں اور ہر فصل میں ﷲ تعالیٰ کے دس اسمائ ہیں اور ضروری ہے کہ ہر فصل کے آخر میں کہیں:
سُبْحانَکَ یَا لاَ إلهَ إلاَّأَنْتَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ خَلِّصْنا مِنَ النَّارِیَارَبِّ
توپاک ہے اے وہ کہ تیرے سو اکوئی معبود نہیں فریاد رسوں کے فریاد رس اے رب ہمیں آگ سے نجات عطا فرما ۔
بلدالامین میں ہے کہ ہر فصل سے پہلے بِسْمِ ﷲ کہیں اور ہر فصل کے بعدکہیں:
سُبْحانَکَ یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَخَلِّصْنا
تو پاک ہے اے وہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں فریاد رسوں کے فریاد رس رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمد پر اورہمیںآگ سے نجات دے
مِنَ النَّارِ یَا رَبِّ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے رب ،اے صاحب جلالت و بزرگی والے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
دعائ جوشن کبیر یہ ہے:
﴿۱﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْءَلُکَ بِاسْمِکَ یَا ﷲ، یَا رَحْمنُ، یَا رَحِیمُ، یَا کَرِیمُ، یَا مُقِیمُ
اے معبود میں تجھ سے تیرے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے ﷲ اے بخشنے والے اے مہربان اے کرم کرنے والے اے ٹھہرنے والے
یَا عَظِیمُ یَا قَدِیمُ یَا عَلِیمُ یَا حَلِیمُ یَا حَکِیمُ سُبْحانَکَ یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ
اے بڑائی والے اے سب سے پہلے اے علم والے اے بردبار اے حکمت والے ۔ تو پاک ہے اے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں فریاد سن فریاد سن
خَلِّصْنا مِنَ النَّارِ یَا رَبِّ ﴿۲﴾ یَا سَیِّدَ السَّاداتِ یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ، یَا رَافِعَ الدَّرَجَاتِ
ہمیں آگ سے نجات دے اے پروردگار اے سرداروں کے سردار اے دعائیں قبول کرنے والے اے درجات بلند کرنے والے
یَا وَ لِیَّ الْحَسَناتِ، یَا غَافِرَ الْخَطِیئاتِ، یَا مُعْطِیَ الْمَسْأَلاتِ، یَا قابِلَ التَّوْباتِ، یَا سَامِعَ
اے نیکیوں میں مدد دینے والے اے گناہوں کے بخشنے والے اے حاجات پوری کرنے والے اے توبہ قبول کرنے والے اے آوازوں کے
الْاَصْواتِ، یَا عَالِمَ الْخَفِیِّاتِ، یَا دَافِعَ الْبَلِیِّاتِ ﴿۳﴾ یَا خَیْرَ الْغافِرِینَ، یَا خَیْرَ الْفاتِحِینَ،
سننے والے اے چھپی چیزوں کے جاننے والے اے بلائیں دور کرنے والے اے بخشنے والوں میں بہتر اے فتح کرنے والوں میں بہتر
یَا خَیْرَ النَّاصِرِینَ یَا خَیْرَ الْحَاکِمِینَ یَا خَیْرَ الرَّازِقِینَ یَا خَیْرَ الْوَارِثِینَ یَا خَیْرَ الْحَامِدِینَ،
اے مدد کرنے والوں میں بہتر اے حاکموں میں بہتر اے رزق دینے والوں میں بہتر اے وارثوں میں بہتر اے تعریف کرنے والوں میں بہتر
یَا خَیْرَ الذَّاکِرِینَ یَا خَیْرَ الْمُنْزِلِینَ، یَا خَیْرَ الُْمحْسِنِینَ، ﴿۴﴾ یَا مَنْ لَهُ الْعِزَّةُ وَالْجَمالُ،
اے ذکر کرنے والوں میں بہتر اے میزبانوں میں بہتراے احسان کرنے والوں میں بہتر۔ اے وہ جس کیلئے عزت اور جمال ہے
یَا مَنْ لَهُ الْقُدْرَةُ وَالْکَمالُ، یَا مَنْ لَهُ الْمُلْکُ وَالْجَلالُ، یَا مَنْ هُوَ الْکَبِیرُ الْمُتَعالِ، یَا
اے وہ جس کے لیے قدرت اور کمال ہے اے وہ جسکے لیے ملک اور جلال ہے اے وہ جو بڑائی والا بلند تر ہے اے
مُنْشِیََ السَّحابِ الثِّقالِ، یَا مَنْ هُوَ شَدِیدُ الِْمحالِ، یَا مَنْ هُوَ سَرِیعُ الْحِسابِ، یَا مَنْ هُوَ
بھرے بادلوں کے پیدا کرنے والے اے وہ جو بہت زیادہ قوت والا ہے اے وہ جو تیز تر حساب کرنے والا ہے اے وہ جو
شَدِیدُ الْعِقابِ، یَا مَنْ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوابِ، یَا مَنْ عِنْدَهُ أُمُّ الْکِتابِ ﴿۵﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی
سخت عذاب دینے والا ہے اے وہ جسکے ہاں بہترین ثواب ہے اے وہ جسکے پاس لوح محفوظ ہے۔ اے معبود! تجھ سے
أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا حَنَّانُ، یَا مَنَّانُ، یَا دَیَّانُ، یَا بُرْهانُ، یَا سُلْطانُ، یَا رِضْوانُ،
سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے محبت والے اے احسان کرنیوالے اے بدلہ دینے والے اے دلیل روشن اے صاحب سلطنت اے راضی ہونے والے
یَا غُفْرانُ، یَا سُبْحانُ، یَا مُسْتَعانُ، یَا ذَا الْمَنِّ وَالْبَیانِ ﴿۶﴾ یَا مَنْ تَواضَعَ کُلُّ شَیْئٍ
اے بخشنے والے اے پاکیزگی والے اے مدد کرنے والے اے صاحب احسان وبیان۔ اے وہ جس کی عظمت کے آگے سب چیزیں
لِعَظَمَتِهِ، یَا مَنِ اسْتَسْلَمَ کُلُّ شَیْئٍ لِقُدْرَتِهِ، یَا مَنْ ذَلَّ کُلُّ شَیْئٍ لِعِزَّتِهِ، یَا مَنْ خَضَعَ کُلُّ
جھکی ہوئی ہیں اے وہ جسکی قدرت کے سامنے ہر شے سرنگوں ہے اے وہ جسکی بڑائی کے سامنے ہر چیز پست ہے اے وہ جسکے خوف سے ہر چیز
شَیْئٍ لِهَیْبَتِهِ، یَا مَنِ انْقادَ کُلُّ شَیْئٍ مِنْ خَشْیَتِهِ، یَا مَنْ تَشَقَّقَتِ الْجِبالُ مِنْ مَخافَتِهِ، یَا مَنْ
دبی ہوئی ہے اے وہ جسکے ڈر سے ہر چیز فرمانبردار بنی ہوئی اے وہ جسکے خوف سے پہاڑ پھٹ جاتے ہیں اے وہ جسکے
قامَتِ السَّمَاوَاتُ بِأَمْرِهِ یَا مَنِ اسْتَقَرَّتِ الْاَرَضُونَ بِ إذْنِهِ، یَا مَنْ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ، یَا
حکم سے آسمان کھڑے ہیں اے وہ جسکے اذن سے زمینیں ٹھہری ہوئی ہیں اے وہ کہ کڑکتی بجلی جسکی تسبیح خواں ہے اے
مَنْ لاَ یَعْتَدِی عَلی أَهْلِ مَمْلَکَتِهِ ﴿۷﴾ یَا غافِرَ الْخَطایا یَا کاشِفَ الْبَلایا یَا مُنْتَهَی الرَّجایَا
وہ جو اپنے زیر حکومت لوگوں پر ظلم نہیں کرتا اے گناہوں کے بخشنے والے اے بلائیں دور کرنے والے اے امیدوں کے آخری مقام
یَا مُجْزِلَ الْعَطایَا، یَا واهِبَ الْهَدایَا، یَا رازِقَ الْبَرایا، یَا قَاضِیَ الْمَنایا، یَا سَامِعَ الشَّکَایا،
اے بہت عطائوں والے اے تحفے عطا کرنے والے اے مخلوق کو رزق دینے والے اے تمنائیں پوری کرنے والے اے شکایتیں سننے والے
یَا بَاعِثَ الْبَرایا یَا مُطْلِقَ الاَُْساری ﴿۸﴾ یَا ذَا الْحَمْدِ وَالثَّنائِ، یَا ذَا الْفَخْرِ وَالْبَهائِ، یَا ذَا
اے مخلوق کو زندہ کرنے والے اے قیدیوں کو آزاد کرنے والے اے تعریف و ثنائ کرنے والے اے فخر و خوبی والے اے
الَْمجْدِ وَالسَّنائِ، یَا ذَا الْعَهْدِ وَالْوَفائِ، یَا ذَا الْعَفْوِ وَالرِّضائِ، یَا ذَا الْمَنِّ وَالْعَطَائِ، یَا ذَا
بزرگی و بلندی والے اے عہد اور وفا والے اے معافی دینے والے اور راضی ہونے والے اے عطا و بخشش کرنے والے اے
الْفَصْلِ وَالْقَضائِ، یَا ذَا الْعِزِّ وَالْبَقائِ، یَا ذَا الْجُودِ وَالسَّخائِ، یَا ذَا الآلاَءِ وَالنَّعْمَائِ ﴿۹﴾
فیصلے اور انصاف والے اے عزت اور بقائ والے اے عطائ و سخاوت والے اے رحمتوں اور نعمتوں والے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مانِعُ، یَا دافِعُ، یَا رافِعُ، یَا صانِعُ، یَا نافِعُ،
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے روکنے والے اے ہٹانے والے اے بلندکرنے والے اے بنانے والے اے نفع والے
یَا سامِعُ، یَا جامِعُ، یَا شافِعُ، یَا واسِعُ، یَا مُوسِعُ ﴿۱۰﴾ یَا صانِعَ کُلِّ مَصْنُوعٍ،
اے سننے والے اے جمع کرنے والے اے شفاعت کرنے والے اے کشادگی والے اے وسعت دینے والے اے ہر مصنوع کے صانع
یَا خالِقَ کُلِّ مَخْلُوقٍ یَا رازِقَ کُلِّ مَرْزُوقٍ یَا مالِکَ کُلِّ مَمْلُوکٍ یَا کَاشِفَ کُلِّ مَکْرُوبٍ
اے ہر مخلوق کے خالق اے ہررزق پانے والے کے رازق اے ہر مملوک کے مالک اے ہر دکھی کا دکھ دور کرنے والے
یَا فَارِجَ کُلِّ مَهْمُومٍ، یَا رَاحِمَ کُلِّ مَرْحُومٍ، یَا نَاصِرَ کُلِّ مَخْذُولٍ، یَا سَاتِرَ کُلِّ مَعْیُوبٍ،
اے ہر پریشان کی پریشانی مٹانے والے اے ہر رحم کیے گئے پر رحم کرنے والے اے ہر بے سہار کے مددگار اے ہربرائی پر پردہ ڈالنے والے
یَا مَلْجَأَ کُلِّ مَطْرُودٍ ﴿۱۱﴾ یَا عُدَّتِی عِنْدَ شِدَّتِی، یَا رَجَائِی عِنْدَ مُصِیبَتِی، یَا مُؤْ نِسِی
اے ہر راندے گئے کی پناہ گاہ ۔اے سختی کے وقت میرے سرمایہ اے مصیبت میں میری امید گاہ
عِنْدَ وَحْشَتِی، یَا صَاحِبِی عِنْدَ غُرْبَتِی، یَا وَ لِیِّی عِنْدَ نِعْمَتِی، یَا غِیاثِی عِنْد کُرْبَتِی،
اے وحشت کے وقت میرے ہمدم اے میری تنہائی میں میرے ساتھی اے نعمت میں میری کفالت کرنے والے اے دکھ درد میں میرے مددگار
یَا دَلِیلِی عِنْدَ حَیْرَتِی، یَا غَنائِی عِنْدَ افْتِقارِی، یَا مَلْجَیِی عِنْدَ اضْطِرارِی، یَا مُعِینِی عِنْدَ
اے حیرت کے وقت میرے رہنما اے محتاجی کے وقت میرے سرمایہ اے برقراری کے وقت میری پناہ گاہ اے فریاد کے وقت
مَفْزَعِی ﴿۱۲﴾ یَا عَلاَّمَ الْغُیُوبِ یَا غَفَّارَ الذُّنُوبِ یَا سَتَّارَ الْعُیُوبِ یَا کَاشِفَ الْکُرُوبِ
میرے مددگار ۔ اے ہر غیب کے جاننے والے اے گناہوں کے بخشنے والے اے عیبوں کے چھپانے والے اے مصیبتیں دور کرنے والے
یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ یَا طَبِیبَ الْقُلُوبِ یَا مُنَوِّرَ الْقُلُوبِ یَا أَنِیسَ الْقُلُوبِ، یَا مُفَرِّجَ الْهُمُومِ،
اے دلوں کو پلٹنے والے اے دلوں کے معالج اے دلوں کے روشن کرنے والے اے دلوں کے ہمدم اے غموں کی گرہ کھولنے والے
یَا مُنَفِّسَ الْغُمُومِ ﴿۱۳﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا جَلِیلُ، یَا جَمِیلُ، یَا وَکِیلُ،
اے غموں کو دور کرنے والے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے اے جلال والے اے جمال والے اے کارساز
یَا کَفِیلُ، یَا دَلِیلُ، یَا قَبِیلُ، یَا مُدِیلُ، یَا مُنِیلُ، یَا مُقِیلُ، یَا مُحِیلُ ﴿۱۴﴾ یَا دَلِیلَ
اے سرپرست اے رہنما اے قبول کرنے والے اے رواں کرنے والے اے بخشنے والے اے معاف کرنے والے اے جگہ دینے والے اے سرگردانوں
الْمُتَحَیِّرِینَ، یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، یَا جارَ الْمُسْتَجِیرِینَ،
کے رہنما اے پکارنے والوں کی مدد کرنے والے اے فریادیوں کی فریاد کو پہنچنے والے اے پناہ طلب کرنے والوں کی پناہ
یَا أَمانَ الْخَائِفِینَ، یَا عَوْنَ الْمُؤْمِنِینَ، یَا رَاحِمَ الْمَساکِینَ، یَا مَلْجَأَ الْعَاصِینَ، یَا غافِرَ
اے ڈرنے والوں کی ڈھارس اے مومنوں کے مددگار اے بے چاروں پر رحم کرنے والے اے گنہگاروں کی پناہ اے خطاکاروں
الْمُذْنِبِینَ یَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ ﴿۱۵﴾ یَا ذَا الْجُودِ وَالْاِحْسانِ یَا ذَا الْفَضْلِ وَالْاِمْتِنانِ
کے بخشنے والے اے بے قراروں کی دعا قبول کرنے والے اے صاحب جود و احسان اے صاحب فضل و منت
یَا ذَا الْاَمْنِ وَالْاَمانِ یَا ذَا الْقُدْسِ وَالسُّبْحانِ یَا ذَا الْحِکْمَةِ وَالْبَیانِ یَا ذَا الرَّحْمَةِ وَالرِّضْوانِ
اے صاحب امن و امان اے طہارت و پاکیزگی والے اے حکمت و بیان والے اے رحمت و رضا والے
یَا ذَا الْحُجَّةِ وَالْبُرْهانِ یَا ذَا الْعَظَمَةِ وَالسُّلْطَانِ یَا ذَا الرَّأْفَةِ وَالْمُسْتَعانِ یَا ذَا الْعَفْوِ وَالْغُفْرانِ ﴿۱۶﴾
اے حجت اور روشن دلیل والے اے عظمت و سلطنت والے اے مہربانی کرنے اور مدد دینے والے اے معافی دینے اور بخشنے والے۔
یَا مَنْ هُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ هُوَ إلهُ کُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ هُوَ خالِقُ کُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ هُوَ صَانِعُ
اے وہ جو ہر چیز کا پروردگار ہے اے وہ جو ہرشے کامعبود ہے اے وہ جو ہر چیز کا خالق ہے اے وہ جو ہرچیز کا
کُلِّ شَیْئٍ، یَا مَنْ هُوَ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ ، یَا مَنْ هُوَ بَعْدَ کُلِّ شَیْئٍ، یَا مَنْ هُوَ فَوْقَ کُلِّ شَیْئٍ،
بنانے والا ہے اے وہ جو ہر شے سے پہلے تھا اے وہ جو ہر شے کے بعد رہے گا اے وہ جو ہر شے سے بلند ہے
یَا مَنْ هُوَ عَالِمٌ بِکُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ هُوَ قادِرٌ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ هُوَ یَبْقی وَیَفْنی کُلُّ شَیْئٍ﴿۱۷﴾
اے وہ جو ہر چیز کاجاننے والا ہے اے وہ جو ہر چیز پر قادر ہے اے وہ جو باقی رہے گا جب ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُوَْمِنُ، یَا مُهَیْمِنُ، یَا مُکَوِّنُ، یَا مُلَقِّنُ، یَا مُبَیِّنُ،
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے امن دینے والے اے نگہبان اے کائنات بنانے والے اے تلقین کرنے والے اے ظاہر کرنے والے
یَا مُهَوِّنُ، یَا مُمَکِّنُ، یَا مُزَیِّنُ، یَا مُعْلِنُ، یَا مُقَسِّمُ ﴿۱۸﴾ یَا مَنْ هُوَ فِی مُلْکِهِ مُقِیمٌ،
اے آسان کرنے والے اے قدرت دینے والے اے زینت دینے والے اے اعلان کرنے والے اے باٹنے والے ۔ اے وہ جو اپنے اقتدار پر میں پائیدار ہے
یَا مَنْ هُوَ فِی سُلْطانِهِ قَدِیمٌ یَا مَنْ هُو فِی جَلالِهِ عَظِیمٌ یَا مَنْ هُوَ عَلَی عِبادِهِ رَحِیمٌ یَا مَنْ هُوَ
اے وہ جو اپنی سلطنت میں قدیم ہے اے وہ جو اپنی شان میں بلند تر ہے اے وہ جو اپنے بندوں پر مہربان ہے اے وہ جو
بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیمٌ یَا مَنْ هُوَ بِمَنْ عَصاهُ حَلِیمٌ یَا مَنْ هُوَ بِمَنْ رَجاهُ کَرِیمٌ یَا مَنْ هُوَ فِی صُنْعِهِ
ہر چیز کا جاننے والا ہے اے وہ جو نافرمان سے نرمی کرنے والا ہے اے وہ جو امیدوارپر کرم کرنے والا ہے اے وہ جو اپنی صنعت میں
حَکِیمٌ، یَا مَنْ هُوَ فِی حِکْمَتِهِ لَطِیفٌ، یَا مَنْ هُوَ فِی لُطْفِهِ قَدِیمٌ ﴿۱۹﴾ یَا مَنْ لاَ یُرْجی
حکمت والا ہے اے وہ جو اپنی حکمت میں باریک بین ہے اے وہ جس کا احسان قدیم ہے۔ اے وہ جس سے اس کے فضل کی امید کی
إلاَّ فَضْلُهُ، یَا مَنْ لاَ یُسْأَلُ إلاَّ عَفْوُهُ، یَا مَنْ لاَ یُنْظَرُ إلاَّ بِرُّهُ، یَا مَنْ لاَ یُخافُ إلاَّ عَدْلُهُ، یَا
جاتی ہے اے وہ جس کی بخشش کاسوال کیا جاتا ہے اے وہ جس سے بھلائی کی آس ہے اے وہ جسکے عدل سے خوف آتا ہے اے
مَنْ لاَ یَدُومُ إلاَّ مُلْکُهُ، یَا مَنْ لاَ سُلْطانَ إلاَّ سُلْطانُهُ، یَا مَنْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ رَحْمَتُهُ،
وہ جسکی حکومت ہمیشہ رہے گی اے وہ جسکی سلطنت کے سوا کوئی سلطنت نہیں اے وہ جسکی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے
یَا مَنْ سَبَقَتْ رَحْمَتُهُ غَضَبَهُ یَا مَنْ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمُهُ، یَا مَنْ لَیْسَ أَحَدٌ مِثْلُهُ ﴿۲۰﴾
اے وہ جسکی رحمت اسکے غضب سے آگے ہے اے وہ جسکا علم ہر چیز پر حاوی ہے اے وہ کہ جس جیسا کوئی نہیں ہے۔
یَا فارِجَ الْهَمِّ، یَا کَاشِفَ الْغَمِّ، یَا غَافِرَ الذَّنْبِ، یَا قَابِلَ التَّوْبِ، یَا خَالِقَ الْخَلْقِ، یَا صَادِقَ
اے اندیشے ہٹا دینے والے اے غم دور کرنے والے اے گناہ معاف کرنے والے اے توبہ قبول کرنے والے اے مخلوقات کے خالق اے وعدے
الْوَعْدِ یَا مُوفِیَ الْعَهْدِ، یَا عَالِمَ السِّرِّ، یَا فَالِقَ الْحَبِّ، یَا رَازِقَ الْاَنامِ ﴿۲۱﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی
میں سچے اے عہد پورا کرنے والے اے راز کے جاننے والے اے دانے کو چیرنے والے اے لوگوں کے رازق۔ اے معبود میں تجھ سے
أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا عَلِیُّ یَا وَفِیُّ، یَا غَنِیُّ، یَا مَلِیُّ، یَا حَفِیُّ، یَا رَضِیُّ، یَا زَکِیُّ، یَا بَدِیُّ،
تیرے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے بلند اے وفادار اے بے نیاز اے مہربان اے احسان کرے والے اے پسندیدہ اے پاکیزہ اے ابتدا کرنے والے
یَا قَوِیُّ یَا وَ لِیُّ﴿۲۲﴾ یَا مَنْ أَظْهَرَ الْجَمِیلَ یَا مَنْ سَتَرَ الْقَبِیحَ یَا مَنْ لَمْ یُوَاخِذْ بِالْجَرِیرَةِ
اے قوت والے اے حاکم۔ اے وہ جس نے نیکی کو ظاہر کیا اے وہ جس نے بدی کو ڈھانپا اے وہ جس نے جرم پر گرفت نہیں فرمائی
یَا مَنْ لَمْ یَهْتِکِ السِّتْرَ، یَا عَظِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ، یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ، یَا بَاسِطَ
اے وہ جس نے پردہ فاش نہیں کیا اے بہت معاف کرنے والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے وسیع مغفرت والے اے دونوں ہاتھوں
الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَةِ یَا صَاحِبَ کُلِّ نَجْوی یَا مُنْتَهی کُلِّ شَکْوی ﴿۲۳﴾ یَا ذَا النِّعْمَةِ السَّابِغَةِ
سے رحمت کرنے والے اے ہر سرگوشی کے مالک اے شکایت سننے والے۔ اے کامل نعمت کے مالک
یَا ذَا الرَّحْمَةِ الْواسِعَةِ، یَا ذَا الْمِنَّةِ السَّابِقَةِ، یَا ذَا الْحِکْمَةِ الْبَالِغَةِ، یَا ذَا الْقُدْرَةِ الْکَامِلَةِ،
اے وسیع رحمت والے اے احسان میں پہل کرنے والے اے بھرپور حکمت والے اے کامل قدرت والے
یَا ذَا الْحُجَّةِ الْقَاطِعَةِ یَا ذَا الْکَرامَةِ الظَّاهِرَةِ یَا ذَا الْعِزَّةِ الدَّائِمَةِ، یَا ذَا الْقُوَّةِ الْمَتِینَةِ، یَا ذَا
اے قاطع دلیل والے اے کھلی سخاوت والے اے ہمیشہ کی عزت والے اے مضبوط قوت والے اے سب سے
الْعَظَمَةِ الْمَنِیعَةِ﴿۲۴﴾ یَا بَدِیعَ السَّمَاواتِ یَا جَاعِلَ الظُّلُماتِ یَا رَاحِمَ الْعَبَراتِ یَا مُقِیلَ
زیادہ عظمت والے۔ اے آسمانوں کے بنانے والے اے تاریکیوں کو وجود میں لانے والے اے آنسوؤں پر رحم کرنے والے اے لغزشوں کے
الْعَثَراتِ، یَا سَاتِرَ الْعَوْراتِ، یَا مُحْیِیَ الْاَمْواتِ، یَا مُنْزِلَ الاَْیاتِ، یَا مُضَعِّفَ الْحَسَنَاتِ،
معاف کرنے والے اے عیبوں کے چھپانے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے آیات کے نازل کرنے والے اے نیکیوں کو دوچند کرنے والے
یَا مَاحِیَ السَّیِّئاتِ، یَا شَدِیدَ النَّقِماتِ ﴿۲۵﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا مُصَوِّرُ،
اے گناہوںکے مٹانے والے اے سخت بدلہ لینے والے۔اے معبود! میں تجھ سے تیرے ہی نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے صورت ساز
یَا مُقَدِّرُ یَا مُدَبِّرُ یَا مُطَهِّرُ یَا مُنَوِّرُ یَا مُیَسِّرُ، یَا مُبَشِّرُ، یَا مُنْذِرُ، یَا مُقَدِّمُ، یَا مُوََخِّرُ ﴿۲۶﴾
اے تقدیر بنانے والے اے تدبیر کرنے والے اے پاک کرنے والے اے روشن کرنے والے اے آسان کرنے والے اے بشارت دینے والے اے سب سے پہلے اے سب سے آخری
یَا رَبَّ الْبَیْتِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الشَّهْرِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْبَلَدِ الْحَرامِ، یَا رَبَّ الرُّکْنِ وَالْمَقامِ
اے مقدس گھر کے رب اے مقدس مہینے کے رب اے مقدس شہر کے رب اے رکن و مقام کے رب
یَا رَبَّ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ یَا رَبَّ الْحِلِّ وَالْحَرامِ یَا رَبَّ النُّورِ وَالظَّلامِ
اے معشر الحرام کے رب اے مسجد الحرام کے رب اے حلال و حرام کے رب اے روشنی و تاریکی کے رب
یَا رَبَّ التَّحِیَّةِ وَالسَّلامِ یَا رَبَّ الْقُدْرَةِ فِی الْاَنامِ ﴿۲۷﴾ یَا أَحْکَمَ الْحاکِمِینَ، یَا أَعْدَلَ
اے درود و سلام کے رب اے لوگوںمیں زیادہ توانائی پیدا کرنے والے۔ اے حاکموں میں بڑے حاکم اے عادلوں میں
الْعادِلِینَ یَا أَصْدَقَ الصَّادِقِینَ یَا أَطْهَرَ الطَّاهِرِینَ یَا أَحْسَنَ الْخالِقِینَ یَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ
زیادہ عادل اے سچوں میں زیادہ سچے اے پاکوں میں پاک تر اے خالقوں میں بہترین خالق اے حساب کرنے والوں میں زیادہ تیز
یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ، یَا أَشْفَعَ الشَّافِعِینَ، یَا أَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ ﴿۲۸﴾
اے سننے والوں میں زیادہ سننے والے اے دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والے اے شفاعت کرنے والوں میں بڑے شفیع اے بزرگی والوں میں بڑے بزرگ۔
یَا عِمادَ مَنْ لاَ عِمادَ لَهُ، یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَهُ، یَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَهُ، یَا حِرْزَ مَنْ
اے اسکا آسراجسکا کوئی آسرا نہیں اے اسکے سہارے جسکا کوئی سہارا نہیں اے اسکے سرمایہ جسکا کوئی سرمایہ نہیں اے اسکی پناہ جسکی کوئی
لاَ حِرْزَ لَهُ، یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَهُ، یَا فَخْرَ مَنْ لاَ فَخْرَ لَهُ، یَا عِزَّ مَنْ لاَ عِزَّ لَهُ، یَا مُعِینَ
پناہ نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکی بڑائی جسکا کوئی فخرنہیں اے اسکی عزت جس کیلئے عزت نہیں اے اسکے مددگار
مَنْ لاَ مُعِینَ لَهُ یَا أَنِیسَ مَنْ لاَ أَنِیسَ لَهُ یَا أَمانَ مَنْ لاَ أَمانَ لَهُ ﴿۲۹﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
جسکا کوئی مددگار نہیںاے اسکے ساتھی جسکا کوئی ساتھی نہیں اے اسکی پناہ جسکی کوئی پناہ نہیں ۔ اے معبود میں تجھ سے تیرے نام کے
بِاسْمِکَ یَا عَاصِمُ، یَا قائِمُ، یَا دائِمُ، یَا راحِمُ، یَا سالِمُ، یَا حاکِمُ، یَا عالِمُ، یَا قاسِمُ، یَا
واسطے سے سوال کرتا ہوں اے پناہ دینے والے اے پائیدار اے ہمیشگی والے اے رحم کرنے والے اے بے عیب اے حکومت کے مالک اے علم والے اے تقسیم کرنے والے اے
قابِضُ، یَا باسِطُ ﴿۳۰﴾ یَا عاصِمَ مَنِ اسْتَعْصَمَهُ، یَا راحِمَ مَنِ اسْتَرْحَمَهُ، یَا غافِرَ مَنِ
بند کرنے والے اے کھولنے والے۔ اے اسکے نگہدار جو نگہداری چاہے اے اس پر رحم کرنے والے جو رحم کا طالب ہو اے اسکے بخشنے والے
اسْتَغْفَرَهُ، یَا ناصِرَ مَنِ اسْتَنْصَرَهُ، یَا حافِظَ مَنِ اسْتَحْفَظَهُ، یَا مُکْرِمَ مَنِ اسْتَکْرَمَهُ،
جو طالب ِبخشش ہو اے اسکی نصرت کرنے والے جو نصرت چاہے اے اسکی حفاظت کرنے والے جو حفاظت چاہے اے اسکو بڑائی دینے والے جو بڑائی طلب کرے
یَا مُرْشِدَ مَنِ اسْتَرْشَدَهُ یَا صَرِیخَ مَنِ اسْتَصْرَخَهُ یَا مُعِینَ مَنِ اسْتَعانَهُ یَا مُغِیثَ مَنِ اسْتَغاثَهُ ﴿۳۱﴾
اے اسکی رہنمائی کرنے والے جو رہنمائی چاہے اے اسکے داد رس جو دادرسی چاہے اے اسکے مددگار جو مددطلب کرے اے اسکے فریاد رس جو فریادکرے۔
یَا عَزِیزاً لاَ یُضامُ، یَا لَطِیفاً لاَ یُرامُ، یَا قَیُّوماً لاَ یَنامُ، یَا دائِماً لاَ یَفُوتُ، یَا حَیّاً لاَ یَمُوتُ،
اے وہ غالب جو ظلم نہیں کرتا اے وہ باریک جو نظر انداز نہیں ہوتا اے وہ نگہبان جو سوتا نہیں اے وہ جاوداں جو مرتا نہیں اے وہ زندہ جسے موت نہیں
یَا مَلِکاً لاَ یَزُولُ یَا باقِیاً لاَ یَفْنی یَا عالِماً لاَ یَجْهَلُ یَا صَمَداً لاَ یُطْعَمُ یَا قَوِیّاً لاَ یَضْعُفُ﴿۳۲﴾
اے وہ بادشاہ جسے زوال نہیں اے وہ باقی جو فانی نہیں اے وہ عالم جس میں جہل نہیں اے وہ بے نیاز جو کھاتا نہیں اے وہ قوی جسے ضعف نہیں۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا أَحَدُ، یَا واحِدُ، یَا شاهِدُ، یَا ماجِدُ، یَا حامِدُ، یَا راشِدُ،
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے یکتا اے یگانہ اے حاضر اے بزرگوار اے تعریف والے اے رہنما
یَا باعِثُ یَا وارِثُ یَا ضارُّ یَا نافِعُ ﴿۳۳﴾ یَا أَعْظَمَ مِنْ کُلِّ عَظِیمٍ یَا أَکْرَمَ مِنْ کُلِّ کَرِیمٍ
اے اٹھانے والے اے وارث اے خسارہ دینے والے اے نفع دینے والے۔ اے سب بڑوں سے بڑے اے سب بزرگوں سے بزرگ تر
یَا أَرْحَمَ مِنْ کُلِّ رَحِیمٍ یَا أَعْلَمَ مِنْ کُلِّ عَلِیمٍ یَا أَحْکَمَ مِنْ کُلِّ حَکِیمٍ یَا أَقْدَمَ مِنْ کُلِّ قَدِیمٍ
اے سب مہربانوں سے مہربان اے ہر عالم سے بڑے عالم اے ہر حکیم سے بڑے حکیم اے ہر قدیم سے قدیم تر
یَا أَکْبَرَ مِنْ کُلِّ کَبِیرٍ یَا أَلْطَفَ مِنْ کُلِّ لَطِیفٍ یَا أَجَلَّ مِن کُلِّ جَلِیلٍ یَا أَعَزَّ مِنْ کُلِّ عَزِیزٍ﴿۳۴﴾
اے ہر بزرگ سے بزرگ تر اے ہر لطیف سے زیادہ لطیف اے ہر جلال والے سے زیادہ جلال والے اے ہرزبردست سے زیادہ زبردست۔
یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ یَا عَظِیمَ الْمَنِّ یَا کَثِیرَ الْخَیْرِ، یَا قَدِیمَ الْفَضْلِ، یَا دائِمَ اللُّطْفِ، یَا لَطِیفَ
اے بہتر درگزر کرنے والے اے بڑے احسان والے اے زیادہ خیروالے اے قدیم فضل والے اے ہمیشہ کے لطف والے اے خوبصورت
الصُّنْعِ یَا مُنَفِّسَ الْکَرْبِ یَا کاشِفَ الضُّرِّ، یَا مالِکَ الْمُلْکِ، یَا قاضِیَ الْحَقِّ ﴿۳۵﴾
صنعت والے اے سختی دور کرنے والے اے دکھ دور کرنے والے اے ہر ملک کے مالک اے حق کا فیصلہ دینے والے۔
یَا مَنْ هُوَ فِی عَهْدِهِ وَفِیٌّ، یَا مَنْ هُوَ فِی وَفائِهِ قَوِیٌّ، یَا مَنْ هُوَ فِی قُوَّتِهِ عَلِیٌّ ، یَا مَنْ هُوَ فِی
اے وہ جو اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہے اے وہ جو اپنی وفا میں قوی ہے اے وہ جو اپنی قوت میں بلند ہے اے وہ جو اپنی بلندی
عُلُوِّهِ قَرِیبٌ یَا مَنْ هُوَ فِی قُرْبِهِ لَطِیفٌ یَا مَنْ هُوَ فِی لُطْفِهِ شَرِیفٌ یَا مَنْ هُوَ فِی شَرَفِهِ عَزِیزٌ
میں قریب ہے اے وہ جو اپنے قرب میں مہربان ہے اے وہ جو اپنے لطف میں کریم ہے اے وہ جو اپنی کرم میں عزت دار ہے
یَا مَنْ هُوَ فِی عِزِّهِ عَظِیمٌ یَا مَنْ هُوَ فِی عَظَمَتِهِ مَجِیدٌ یَا مَنْ هُوَ فِی مَجْدِهِ حَمِیدٌ ﴿۳۶﴾
اے وہ جو اپنی عزت میں عظیم ہے اے وہ جو اپنی عظمت میں بلند مرتبہ ہے اے وہ جو اپنے مرتبے میں تعریف والا ہے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا کافِی، یَا شافِی، یَا وافِی، یَا مُعافِی، یَا
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے کفایت کرنے والے اے شفادینے والے اے وفاداراے عافیت دینے والے اے
هادِی، یَا داعِی، یَا قاضِی، یَا راضِی، یَا عالِی، یَا باقِی ﴿۳۷﴾ یَا مَنْ
ہدایت دینے والے اے بلانے والے اے فیصلے کرنے والے اے خوشنودی والے اے بلندی والے اے باقی رہنے والے۔ اے
کُلُّ شَیْئٍ خاضِعٌ لَهُ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ خاشِعٌ لَهُ، یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ کائِنٌ لَهُ، یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ
وہ جسکے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے اے وہ جسکے آگے ہر چیز خوف زدہ ہے اے وہ جس سے ہر چیز کو وجود ملا ہے اے وہ جسکے
مَوْجُودٌ بِهِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ مُنِیبٌ إلَیْهِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ خائِفٌ مِنْهُ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ قائِمٌ بِهِ
ذریعے ہر چیز موجود ہوئی ہے اے وہ جسکی طرف ہر چیز کی بازگشت ہے اے وہ جس سے ہرچیز ڈرتی ہے اے وہ جسکے ذریعے ہر چیز باقی ہے
یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ صائِرٌ إلَیْهِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ یُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ یَا مَنْ کُلُّ شَیْئٍ هالِکٌ إلاَّ وَجْهَهُ﴿۳۸﴾
اے وہ جسکی طرف ہر چیز لوٹتی ہے اے وہ کہ ہر چیز جسکی حمد میں مصروف ہے اے وہ کہ جسکے جلوے کے سوا ہر چیز ناپید ہو جائے گی۔
یَا مَنْ لاَ مَفَرَّ إلاَّ إلَیْهِ یَا مَنْ لاَ مَفْزَعَ إلاَّ إلَیْهِ یَا مَنْ لاَ مَقْصَدَ إلاَّ إلَیْهِ یَا مَنْ لاَ مَنْجَیً مِنْهُ إلاَّ إلَیْهِ،
اے وہ جسکے سوا کوئی جائے فرار نہیں ہے اے وہ جسکے سوا کوئی جائے پناہ نہیں اے وہ جسکے سوا کوئی منزلِ مقصود نہیںاے وہ جسکے علاوہ کوئی جائے نجات نہیں
یَا مَنْ لاَ یُرْغَبُ إلاَّ إلَیْهِ، یَا مَنْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِهِ، یَا مَنْ لاَ یُسْتَعانُ إلاَّ بِهِ، یَا مَنْ لاَ
اے وہ جسکے بغیر کسی شئی میںرغبت نہیں ہو سکتی اے وہ کہ نہیں ہے طاقت و قوت مگر اسی سے اے وہ جسکے سوا کہیں سے مدد نہیں مل سکتی اے وہ جسکے سوا
یُتَوَکَّلُ إلاَّ عَلَیْهِ یَا مَنْ لاَ یُرْجی إلاَّ هُوَ یَا مَنْ لاَ یُعْبَدُ إلاَّ هُوَ ﴿۳۹﴾ یَا خَیْرَ الْمَرْهُوبِینَ
کسی پر بھروسہ نہیں ہو سکتا اے وہ جسکے سوا کسی سے امید نہیں ہوسکتی اے وہ جسکے سوا کسی کی عبادت نہیں ہو سکتی۔ اے بہترین ذات جس سے ڈرا جائے
یَا خَیْرَ الْمَرْغُوبِینَ، یَا خَیْرَ الْمَطْلُوبِینَ، یَا خَیْرَ الْمَسْؤُولِینَ، یَا خَیْرَ الْمَقْصُودِینَ یَا خَیْرَ
اے بہترین لبھانے والے اے بہترین طلب کیے جانے والے اے بہترین سوال کیے جانے والے اے بہترین قصد کیے جانے والے اے بہترین
الْمَذْکُورِینَ یَا خَیْرَ الْمَشْکُورِینَ یَا خَیْرَ الْمَحْبُوبِینَ یَا خَیْرَ الْمَدْعُوِّینَ یَا خَیْرَ الْمُسْتَأْنِسِینَ﴿۴۰﴾
ذکر کیے جانے والے اے بہترین شکرکیے جانے والے اے بہترین محبت کیے جانے والے اے بہترین پکارے جانے والے اے بہترین مانوس کیے جانے والے۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا غافِرُ یَا ساتِرُ یَا قادِرُ یَا قاهِرُ یَا فاطِرُ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام سے اے معاف کرنے والے اے چھپانے والے اے قدرت والے اے غلبے والے اے پیدا کرنیوالے
یَا کاسِرُ یَا جابِرُ یَا ذاکِرُ، یَا ناظِرُ، یَا ناصِرُ ﴿۴۱﴾ یَا مَنْ خَلَقَ فَسَوَّی،
اے توڑنے والے اے جوڑنے والے اے ذکر کرنیوالے اے دیکھنے والے اے مدد کرنے والے۔ اے وہ جس نے پیدا کیا پھر درست کیا
یَا مَنْ قَدَّرَ فَهَدی، یَا مَنْ یَکْشِفُ الْبَلْوی ، یَا مَنْ یَسْمَعُ النَّجْوی، یَا مَنْ یُنْقِذُ الْغَرْقی،
اے وہ جس نے تقدیر بنائی پھرہدایت دی اے وہ جو بلائیں دور کرتا ہے اے وہ جو سرگوشیاں سنتا ہے اے وہ جو ڈوبنے والوں کو بچاتا ہے
یَا مَنْ یُنْجِی الْهَلْکی یَا مَنْ یَشْفِی الْمَرْضی یَا مَنْ أَضْحَکَ وَأَبْکی، یَا مَنْ أَماتَ وَأَحْیی
اے وہ جو ہلاکتوں سے نجات دیتا ہے اے وہ جو مریضوں کو شفا دیتا ہے اے وہ جو ہنساتا اور رلاتا ہے اے وہ جو مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے
یَا مَنْ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثیٰ ﴿۴۲﴾ یَا مَنْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ سَبِیلُهُ یَا مَنْ فِی
اے وہ جس نے نر اور مادہ جوڑے بنائے اے وہ جس نے خاک و آب میں راستے بنائے اے وہ جس نے فضا میں
الْآفاقِ آیاتُهُ یَا مَنْ فِی الاَْیاتِ بُرْهانُهُ، یَا مَنْ فِی الْمَماتِ قُدْرَتُهُ، یَا مَنْ فِی الْقُبُورِ عِبْرَتُهُ،
اپنی نشانیاں بنائیں اے وہ جسکی نشانیوں میں قوی دلیل ہے اے وہ کہ موت میں جسکی قدرت ظاہرہے اے وہ جس نے قبروں میں عبرت رکھی ہے
یَا مَنْ فِی الْقِیامَةِ مُلْکُهُ، یَا مَنْ فِی الْحِسابِ هَیْبَتُهُ، یَا مَنْ فِی الْمِیزانِ قَضاؤُهُ، یَا مَنْ فِی
اے وہ کہ قیامت میں جسکی بادشاہت ہے اے وہ کہ حساب میں جسکی ہیبت ہے اے وہ کہ میزان عمل میں جسکی منصفی ہے اے وہ کہ جس کیطرف سے
الْجَنَّةِ ثَوابُهُ یَا مَنْ فِی النَّارِ عِقابُهُ ﴿۴۳﴾ یَا مَنْ إلَیْهِ یَهْرَبُ الْخائِفُونَ، یَا مَنْ إلَیْهِ یَفْزَعُ
ثوابِ جنت ہے اے وہ کہ جسکا عذاب دوزخ ہے۔ اے وہ کہ خوف زدہ جسکی طرف بھاگتے ہیں اے وہ کہ گنہگار جسکی
الْمُذْنِبُونَ یَا مَنْ إلَیْهِ یَقْصِدُ الْمُنِیبُونَ یَا مَنْ إلَیْهِ یَرْغَبُ الزَّاهِدُونَ یَا مَنْ إلَیْهِ یَلْجَأُ الْمُتَحَیِّرُونَ
پناہ لیتے ہیں اے وہ کہ توبہ کرنے والے جسکا قصد کرتے ہیں اے وہ کہ جسکی طرف پرہیز گار رغبت کرتے ہیں اے وہ کہ پریشان لوگ جسکی پناہ چاہتے ہیں
یَا مَنْ بِهِ یَسْتَأْنِسُ الْمُرِیدُونَ یَا مَنْ بِهِ یَفْتَخِرُ الْمُحِبُّونَ یَا مَنْ فِی عَفْوِهِ یَطْمَعُ الْخاطِئُونَ
اے وہ کہ ارادہ کرنے والے جس سے مانوس ہیں اے وہ کہ جس پر محبت کرنے والے فخر کرتے ہیںاے وہ کہ خطاکار جسکے عفو کی خواہش رکھتے ہیں
یَا مَنْ إلَیْهِ یَسْکُنُ الْمُوقِنُونَ یَا مَنْ عَلَیْهِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُونَ ﴿۴۴﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
اے وہ جسکے ہاں یقین والے سکون پاتے ہیں اے وہ کہ توکل کرنے والے جس پر توکل کرتے ہیں۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
بِاسْمِکَ یَا حَبِیبُ یَا طَبِیبُ یَا قَرِیبُ یَا رَقِیبُ یَا حَسِیبُ یَا مُهِیبُ یَا مُثِیبُ یَا مُجِیبُ
تیرے نام کے واسطے سے اے محبوب اے چارہ گر اے نزدیک تر اے نگہدار اے حساب رکھنے والے اے ہیبت والے اے ثواب دینے والے اے دعا قبول کرنے والے
یَا خَبِیرُ یَا بَصِیرُ ﴿۴۵﴾ یَا أَقْرَبَ مِنْ کُلِّ قَرِیبٍ یَا أَحَبَّ مِنْ کُلِّ حَبِیبٍ یَا أَبْصَرَ مِنْ
اے با خبر اے بینا۔ اے ہر قریب سے زیادہ قریب اے ہر محب سے زیادہ محبت کرنے والے اے ہر دیکھنے والے
کُلِّ بَصِیرٍ یَا أَخْبَرَ مِنْ کُلِّ خَبِیرٍ یَا أَشْرَفَ مِنْ کُلِّ شَرِیفٍ یَا أَرْفَعَ مِنْ کُلِّ رَفِیعٍ یَا أَقْوی
سے زیادہ بینا اے ہر باخبر سے زیادہ خبر والے اے ہر بزرگ سے زیادہ بزرگ اے ہر بلند سے زیادہ بلند اے ہر توانا
مِنْ کُلِّ قَوِیٍّ یَا أَغْنی مِنْ کُلِّ غَنِیٍّ یَا أَجْوَدَ مِنْ کُلِّ جَوادٍ یَا أَرْأَفَ مِنْ کُلِّ رَؤُوفٍ ﴿۴۶﴾
سے زیادہ توانا اے ہر باثروت سے زیادہ باثروت اے ہر داتا سے زیادہ دینے والے اے ہر مہربان سے زیادہ مہربان۔
یَا غالِباً غَیْرَ مَغْلُوبٍ یَا صانِعاً غَیْرَ مَصْنُوعٍ یَا خالِقاً غَیْرَ مَخْلُوقٍ یَا مالِکاً غَیْرَ مَمْلُوکٍ
اے وہ غالب جس پر کوئی غالب نہیں اے وہ صانع جسے کسی نے نہیں بنایا اے وہ خالق جو خلق نہیں ہوا اے وہ مالک جسکا کوئی مالک نہیں
یَا قاهِراً غَیْرَ مَقْهُورٍ، یَا رافِعاً غَیْرَ مَرْفُوعٍ، یَا حافِظاً غَیْرَ مَحْفُوظٍ، یَا ناصِراً
اے وہ زبردست جو کسی کے زیر نگیں نہیں اے وہ بلند جسے کسی نے بلند نہیں کیا اے وہ نگہبان جسکا کوئی نگہبان نہیں اے وہ مددگار
غَیْرَ مَنْصُورٍ یَا شاهِداً غَیْرَ غائِبٍ یَا قَرِیباً غَیْرَ بَعِیدٍ ﴿۴۷﴾ یَا نُورَ النُّورِ، یَا مُنَوِّرَ النُّورِ،
جسکا کوئی مددگار نہیں اے وہ حاضر جو کہیں بھی غائب نہیں اے وہ قریب جو کبھی دور نہیں ہوا۔ اے نور کی روشنی اے نور روشن کرنے والے
یَا خالِقَ النُّورِ یَا مُدَبِّرَ النُّورِ، یَا مُقَدِّرَ النُّورِ، یَا نُورَ کُلِّ نُورٍ، یَا نُوراً قَبْلَ کُلِّ نُورٍ، یَا نُوراً
اے نور پیدا کرنے والے اے نور کا بندوبست کرنے والے اے نور کی اندازہ گیری کرنے والے اے نور کی روشنی اے ہر نور سے اولین نور
بَعْدَ کُلِّ نُورٍ یَا نُوراً فَوْقَ کُلِّ نُورٍ یَا نُوراً لَیْسَ کَمِثْلِهِ نُورٌ ﴿۴۸﴾ یَا مَنْ عَطَاؤُهُ شَرِیفٌ
اے ہر نور کے بعد روشن رہنے والے اے ہرنور سے بالاتر نور اے وہ نور جسکی مثل کوئی نور نہیں۔ اے وہ جسکی عطا بلند تر ہے
یَا مَنْ فِعْلُهُ لَطِیفٌ یَا مَنْ لُطْفُهُ مُقِیمٌ یَا مَنْ إحْسانُهُ قَدِیمٌ یَا مَنْ قَوْلُهُ حَقٌّ یَا مَنْ وَعْدُهُ صِدْقٌ
اے وہ جسکا فعل باریک تر ہے اے وہ جسکا لطف پائندہ ہے اے وہ جسکا احسان قدیم ہے اے وہ جسکا قول حق ہے اے وہ جسکا وعدہ سچا ہے
یَا مَنْ عَفْوُهُ فَضْلٌ، یَا مَنْ عَذابُهُ عَدْلٌ، یَا مَنْ ذِکْرُهُ حُلْوٌ، یَا مَنْ فَضْلُهُ عَمِیمٌ ﴿۴۹﴾
اے وہ جسکی عفو میں احسان ہے اے وہ جسکے عذاب میں عدل ہے اے وہ جسکا ذکر شیریں ہے اے وہ جسکا احسان عام ہے۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُسَهِّلُ، یَا مُفَصِّلُ، یَا مُبَدِّلُ، یَا
اے معبودمیں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے ہموار کرنے والے اے جدا کرنے والے اے تبدیل کرنے والے اے
مُذَلِّلُ، یَا مُنَزِّلُ، یَا مُنَوِّلُ، یَا مُفْضِلُ، یَا مُجْزِلُ، یَا مُمْهِلُ، یَا مُجْمِلُ ﴿۵۰﴾
پست کرنیوالے اے اتارنے والے اے عطا کرنے والے اے نعمت دینے والے اے احسان کرنیوالے اے مہلت دینے والے اے نیکوکار۔
یَا مَنْ یَری وَلاَ یُری، یَا مَنْ یَخْلُقُ وَلاَ یُخْلَقُ، یَا مَنْ یَهْدِی وَلاَ یُهْدی، یَا مَنْ یُحْیِی
اے وہ جو دیکھتا ہے خود نظر نہیں آتا اے وہ جو خلق کرتا ہے اور خلق نہیں ہوا اے وہ جو ہدایت دیتا ہے اور ہدایت طلب نہیں کرتا اے وہ جو زندہ کرتا ہے
وَلاَ یُحْیی، یَا مَنْ یَسْأَلُ وَلاَ یُسْأَلُ، یَا مَنْ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ، یَا مَنْ یُجِیرُ وَلاَ یُجارُ عَلَیْهِ، یَا
اور زندہ نہیں کیا گیا اے وہ جومسئول ہے اور سائل نہیں اے وہ جو کھلاتا ہے اور کھاتا نہیں اے وہ جو پناہ دیتا ہے اور محتاجِ پناہ نہیں ہے
مَنْ یَقْضِی وَلاَ یُقْضی عَلَیْهِ، یَا مَنْ یَحْکُمُ وَلاَ یُحْکَمُ عَلَیْهِ، یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ
اے وہ جو فیصلے کرتا ہے اور طالبِ فیصلہ نہیں ہے اے وہ جو حکم دیتا ہے اور اس پر کسی کا حکم نہیں اے وہ جسکا کوئی بیٹا نہیں نہ وہ کسی کا بیٹا ہے
وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ ﴿۵۱﴾ یَا نِعْمَ الْحَسِیبُ، یَا نِعْمَ الطَّبِیبُ، یَا نِعْمَ الرَّقِیبُ، یَا نِعْمَ
اور نہ کوئی اسکا ہمسر ہے۔ اے بہترین حساب کرنے والے اے بہترین چارہ گر اے بہترین نگہبان اے بہترین
الْقَرِیبُ یَا نِعْمَ الْمُجِیبُ، یَا نِعْمَ الْحَبِیبُ، یَا نِعْمَ الْکَفِیلُ، یَا نِعْمَ الْوَکِیلُ، یَا نِعْمَ الْمَوْلیٰ،
قریب اے بہترین دعا قبول کرنے والے اے وہ جو بہترین محبوب ہے اے وہ جو بہترین سرپرست ہے اے وہ جو بہترین کارساز ہے اے بہترین آقا
یَا نِعْمَ النَّصِیرُ ﴿۵۲﴾ یَا سُرُورَ الْعارِفِینَ یَا مُنَی الْمُحِبِّینَ یَا أَنِیسَ الْمُرِیدِینَ، یَا حَبِیبَ
اے بہترین یاور۔ اے عارفوں کی شادمانی اے حب داروں کی تمنا اے ارادت مندوںکے ہمدم اے توبہ کرنے
التَّوَّابِینَ، یَا رازِقَ الْمُقِلِّینَ، یَا رَجاءَ الْمُذْنِبِینَ، یَا قُرَّ ةَ عَیْنِ الْعابِدِینَ
والوں کے محبوب اے بے مایہ لوگوں کے رازق اے گناہگاروں کی آس اے عبادت کرنے والوں کی آنکھوں کی ڈھنڈک
، یَا مُنَفِّساً عَنِ الْمَکْرُوبِینَ، یَا مُفَرِّجاً عَنِ الْمَغْمُومِینَ، یَا إلهَ الْاَوَّلِینَ
اے دکھیاروں کے دکھ دور کرنے والے اے غمزدوں کا غم مٹانے والے اے اولین
وَالاَْخِرِینَ ﴿۵۳﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا رَبَّنا، یَا إلهَنا، یَا
و آخرین کے معبود۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ہی نام کے واسطے سے اے ہمارے رب اے ہمارے معبود اے
سَیِّدَنا، یَا مَوْلانا، یَا ناصِرَنا، یَا حافِظَنا، یَا دَلِیلَنا، یَا مُعِینَنا، یَا
ہمارے سردار اے ہمارے آقا اے ہمارے یاور اے ہمارے محافظ اے ہمارے رہنما اے ہمارے مددگار اے
حَبِیبَنا، یَا طَبِیبَنا ﴿۵۴﴾ یَا رَبَّ النَّبِیِّینَ وَ الْاَبْرارِ، یَا رَبَّ الصِّدِّیقِینَ
ہمارے محبوب اے ہمارے چارہ گر۔ اے انبیائ و صالحین کے پروردگار اے صدیقوں اور
وَالْاَخْیارِ، یَا رَبَّ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، یَا رَبَّ الصِّغارِ وَالْکِبارِ، یَا رَبَّ
نیک لوگوں کے پروردگار اے جنت و دوزخ کے مالک اے چھوٹے بڑے کے رب اے دانہ و ثمر
الْحُبُوبِ وَالثِّمارِ، یَا رَبَّ الْاَ نْهارِ وَالْاَشْجارِ، یَا رَبَّ الصَّحارِی
کے پروان چڑھانے والے اے دریائوں اور درختوں کے مالک اے صحرائوں اور
وَالْقِفارِ، یَا رَبَّ الْبَرارِی وَالْبِحارِ، یَا رَبَّ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ، یَا رَبَّ
بستیوں کے مالک اے صحراؤں اور سمندروں کے مالک اے دن اور رات کے مالک اے کھلی
الْاِعْلانِ وَالْاِسْرارِ ﴿۵۵﴾ یَا مَنْ نَفَذَ فِی کُلِّ شَیْئٍ أَمْرُهُ، یَا مَنْ لَحِقَ
اور چھپی باتوں کے مالک۔ اے وہ جسکا حکم ہر چیز پر نافذ ہے اے وہ جسکا علم
بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمُهُ، یَا مَنْ بَلَغَتْ إلی کُلِّ شَیْئٍ قُدْرَتُهُ، یَا مَنْ
ہر چیز پر حاوی ہے اے وہ جسکی قدرت ہر چیز تک پہنچی ہوئی ہے اے وہ جسکی
لاَیُحْصِی الْعِبادُ نِعَمَهُ، یَا مَنْ لاَ تَبْلُغُ الْخَلائِقُ شُکْرَهُ، یَا مَنْ لاَتُدْرِکُ
نعمتوں کوبندے گن نہیں سکتے اے وہ کہ مخلوقات جسکاشکریہ ادا نہیں کر سکتیں اے وہ کہ جسکی جلالت سمجھ میں نہیں
الْاَفْهامُ جَلالَهُ، یَا مَنْ لاَ تَنالُ الْاَوْهامُ کُنْهَهُ، یَا مَنِ الْعَظَمَةُ
آسکتی اے وہ کہ جسکی حقیقت کو وہم پا نہیں سکتے اے وہ کہ بزرگی اور بڑائی
وَالْکِبْرِیَائُ رِداؤُهُ، یَا مَنْ لاَ یَرُدُّ الْعِبادُ قَضاءَهُ، یَا مَنْ لاَ مُلْکَ إلاَّ
جسکا لباس ہے اے وہ جسکی قضا کو بندے ٹال نہیں سکتے اے وہ جسکے سوا کسی کی
مُلْکُهُ، یَا مَنْ لاَ عَطاءَ إلاَّ عَطاؤُهُ ﴿۵۶﴾ یَا مَنْ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلی، یَا
حکومت نہیں اے وہ جسکی عطا کے سوا کوئی عطا نہیں۔ اے وہ جسکے لئے اعلٰی نمونہ ہے اے
مَنْ لَهُ الصِّفاتُ الْعُلْیا، یَا مَنْ لَهُ الاَْخِرةُ وَالاَُْولی، یَا مَنْ لَهُ جَنَّةُ
وہ جسکے لیے بلند صفات ہیں اے وہ دنیا و آخرت جسکی ملکیت ہیں اے وہ جو جنت الماویٰ کا
الْمَأْوی، یَا مَنْ لَهُ الاَْیاتُ الْکُبْری، یَا مَنْ لَهُ الْاَسْمائُ الْحُسْنی، یَا
مالک ہے اے وہ جسکی نشانیاں عظیم ہیں اے وہ جسکے نام پسندیدہ ہیں اے
مَنْ لَهُ الْحُکْمُ وَالْقَضائُ، یَا مَنْ لَهُ الْهَوائُ وَالْفَضائُ، یَا مَنْ لَهُ الْعَرْشُ
وہ جو حکم و فیصلے کا مالک ہے اے وہ کہ ہوا و فضا جسکی ملک ہیں اے وہ جو عرش و
وَالثَّری، یَا مَنْ لَهُ السَّمَاوَاتُ الْعُلی ﴿۵۷﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ
فرش کا مالک ہے اے وہ جو بلند آسمانوں کا مالک ہے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
بِاسْمِکَ یَا عَفُوُّ، یَا غَفُورُ، یَا صَبُورُ، یَا شَکُورُ، یَا رَؤُوفُ، یَا
تیرے نام کے واسطے سے اے معافی دینے والے اے بخشنے والے اے بہت صبر والے اے بہت شکر والے اے مہربان اے
عَطُوفُ، یَا مَسْؤُولُ، یَا وَدُودُ، یَا سُبُّوحُ، یَا قُدُّوسُ ﴿۵۸﴾ یَا مَنْ فِی
نرم خو اے مسئول اے محبت والے اے پاک تر اے پاکیزہ۔ اے وہ کہ آسمان
السَّمائِ عَظَمَتُهُ، یَا مَنْ فِی الْاَرْضِ آیاتُهُ، یَا مَنْ فِی کُلِّ شَیْئٍ
میں جسکی بڑائی ہے اے وہ کہ زمین میں جسکی نشانیاں ہیں اے وہ ہر چیز میں جس
دَلائِلُهُ، یَا مَنْ فِی الْبِحارِ عَجائِبُهُ، یَا مَنْ فِی الْجِبالِ خَزائِنُهُ، یَا مَنْ
کی دلیلیں ہیں اے وہ کہ سمندروں میں جسکی انوکھی چیزیں ہیں اے وہ پہاڑوں میں جسکے خزانے ہیں اے وہ جس نے
یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُهُ، یَا مَنْ إلَیْهِ یَرْجِعُ الْاَمْرُ کُلُّهُ، یَا مَنْ أَظْهَرَ فِی
خلق کو ظاہر کیا پھر جاری رکھا اے وہ جسکی طرف ہر امر کی بازگشت ہے اے وہ جسکا لطف
کُلِّ شَیْئٍ لُطْفَهُ، یَا مَنْ أَحْسَنَ کُلَّ شَیْئٍ خَلْقَهُ، یَا مَنْ تَصَرَّفُ فِی
ہر چیز میں عیاں ہے اے وہ جس نے ہرچیز کو خوبی سے خلق کیا اے وہ جسکی قدرت مخلوقات میں
الْخَلائِقِ قُدْرَتُهُ ﴿۵۹﴾ یَا حَبِیبَ مَنْ لاَ حَبِیبَ لَهُ، یَا طَبِیبَ مَنْ لاَ
اثراندازی کر رہی ہے۔ اے اسکے ساتھی جسکا کوئی ساتھی نہیں اے اسکے چارہ گر جسکا کوئی
طَبِیبَ لَهُ، یَا مُجِیبَ مَنْ لاَ مُجِیبَ لَهُ، یَا شَفِیقَ مَنْ لاَ شَفِیقَ لَهُ، یَا
چارہ گر نہیں اے اسکی دعا قبول کرنے والے جسکی کوئی قبول کرنے والا نہیں اے اسکے مہربان جس پرکوئی مہربان نہیں اے
رَفِیقَ مَنْ لاَ رَفِیقَ لَهُ، یَا مُغِیثَ مَنْ لاَ مُغِیثَ لَهُ، یَا دَلِیلَ مَنْ لاَ دَلِیلَ
اسکے ہمراہی جس کا کوئی ہمراہی نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکے رہنما جسکا کوئی رہنمانہیں
لَهُ، یَا أَنِیسَ مَنْ لاَ أَنِیسَ لَهُ، یَا راحِمَ مَنْ لاَ راحِمَ لَهُ، یَا صاحِبَ مَنْ
اے اسکے ہمدم جسکا کوئی ہمدم نہیں اے اس پر رحم کرنے والے جس پر رحم کرنے والا کوئی نہیں اے اسکے ساتھی جسکا
لاَ صاحِبَ لَهُ ﴿۶۰﴾ یَا کافِیَ مَنِ اسْتَکْفاهُ، یَا هادِیَ مَنِ اسْتَهْداهُ، یَا
کوئی ساتھی نہیں۔ اے طالبِ کفایت کی کفایت کرنے والے اے ہدایت طلب کی ہدایت کرنے والے اے
کالِیََ مَنِ اسْتَکْلاهُ، یَا راعِیَ مَنِ اسْتَرْعاهُ، یَا شافِیَ مَنِ اسْتَشْفاهُ،
نگہبانی چاہنے والے کے نگہبان اے حفاظت چاہنے والے کی حفاظت کرنے والے اے شفا مانگنے والے کو شفادینے والے
یَا قاضِیَ مَنِ اسْتَقْضاهُ، یَا مُغْنِیَ مَنِ اسْتَغْناهُ، یَا مُوفِیَ مَنِ اسْتَوْفاهُ
اے فیصلہ چاہنے والے کا فیصلہ کرنے والے اے ثروت خواہ کو ثروت دینے والے اے وفا طلب سے وفا کرنے والے اے قوت
، یَا مُقَوِّیَ مَنِ اسْتَقْواهُ، یَا وَ لِیَّ مَنِ اسْتَوْلاهُ ﴿۶۱﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی
کے طالب کو قوت عطا کرنے والے اے طالب سرپرستی کی سرپرستی کرنے والے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ہی
أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا خالِقُ، یَا رازِقُ، یَا ناطِقُ، یَا صادِقُ، یَا فالِقُ، یَا
نام کے واسطے سے اے خلق کرنے والے اے رزق دینے والے اے بولنے والے اے صدق والے اے شگافتہ کرنے والے اے
فارِقُ، یَا فاتِقُ، یَا راتِقُ، یَا سابِقُ، یَا سامِقُ ﴿۶۲﴾ یَا مَنْ یُقَلِّبُ
جداکرنے والے اے توڑنے والے اے جوڑنے والے اے سب سے پہلے اے بلندی والے ۔ اے رات اور دن کو پلٹانے
اللَّیْلَ وَالنَّهارَ، یَا مَنْ جَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالْاَ نْوارَ، یَا مَنْ خَلَقَ الظِّلَّ
والے اے روشنیوں اور تاریکیوں کے پیدا کرنے والے اے وہ جس نے سایہ
وَالْحَرُورَ، یَا مَنْ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ، یَا مَنْ قَدَّرَ الْخَیْرَ وَالشَّرَّ، یَا
اور دھوپ کو پیدا کیا اے وہ جس نے سورج اور چاند کو پابند کیا اے وہ جس نے نیکی و بدی کا اندازہ ٹھہرایا اے
مَنْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیاةَ، یَا مَنْ لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ، یَا مَنْ لَمْ یَتَّخِذْ
وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا اے وہ جسکے ہاتھ میں خلق و امر ہے اے وہ جسکی نہ کوئی
صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً، یَا مَنْ لَیْسَ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، یَا مَنْ لَمْ یَکُنْ
زوجہ اور نہ فرزند ہے اے وہ جسکی حکومت میں کوئی شریک نہیںاے وہ جوعاجز نہیں کہ اسکا
لَهُ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ ﴿۶۳﴾ یَا مَنْ یَعْلَمُ مُرادَ الْمُرِیدِینَ، یَا مَنْ یَعْلَمُ
کوئی مددگار ہو۔ اے وہ جو ارادہ کرنے والوں کی مراد کو جانتا ہے اے وہ جو خاموش
ضَمِیرَ الصَّامِتِینَ، یَا مَنْ یَسْمَعُ أَنِینَ الْواهِنِینَ، یَا مَنْ یَری بُکاءَ
لوگوں کے دل کی باتیں جانتا ہے اے وہ جوکمزوروں کی زاری کو سنتا ہے اے وہ جو ڈرنے والے لوگوں
الْخائِفِینَ، یَا مَنْ یَمْلِکُ حَوائِجَ السَّائِلِینَ، یَا مَنْ یَقْبَلُ عُذْرَ
کا رونا دیکھ لیتا ہے اے وہ جو سائلین کی حاجتوں کا مالک ہے اے وہ جو توبہ کرنے والوں کا عذر
التَّائِبِینَ، یَا مَنْ لاَ یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِینَ، یَا مَنْ لاَ یُضِیعُ أَجْرَ
قبول کرتا ہے اے وہ جو فسادیوں کے عمل کو اچھا نہیں سمجھتا اے وہ جو نیکوکاروں کے اجر کو
الْمُحْسِنِینَ، یَا مَنْ لاَ یَبْعُدُ عَنْ قُلُوبِ الْعارِفِینَ، یَا أَجْوَدَ الْاَجْوَدِینَ ﴿۶۴﴾
ضائع نہیں کرتا اے وہ جو عارفوں کے دلوں سے دور نہیں رہتا اے سب داتائوں سے بڑے داتا
یَا دائِمَ الْبَقائِ، یَا سامِعَ الدُّعائِ، یَا واسِعَ الْعَطائِ، یَا غافِرَ
اے ہمیشہ باقی رہنے والے اے دعا کے سننے والے اے بہت زیادہ عطا کرنے والے اے خطا کے
الْخَطائِ، یَا بَدِیعَ السَّمائِ، یَا حَسَنَ الْبَلائِ، یَا جَمِیلَ الثَّنائِ، یَا قَدِیمَ
بخشنے والے اے آسمان کے بنانے والے اے بہترین آزمائش کرنے والے اے بھلی تعریف والے اے قدیمی
السَّنائِ، یَا کَثِیرَ الْوَفائِ، یَا شَرِیفَ الْجَزائِ ﴿۶۵﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ
بلندی والے اے بہت وفاداری کرنے والے اے بہترین جزادینے والے اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
بِاسْمِکَ یَا سَتَّارُ، یَا غَفَّارُ، یَا قَهَّارُ، یَا جَبَّارُ، یَا صَبَّارُ، یَا بارُّ، یَا
تیرے نام کے واسطے سے اے پردہ پوش اے بخشنے والے غلبہ والے اے زور والے اے بہت صبروالے اے نیکی والے اے
مُخْتارُ، یَا فَتَّاحُ، یَا نَفَّاحُ، یَا مُرْتاحُ ﴿۶۶﴾ یَا مَنْ خَلَقَنِی وَسَوَّانِی، یَا
اختیار والے اے کھولنے والے اے نفع دینے والے اے شاداں۔ اے وہ جس نے مجھے پیدا کیا اور سنوارا اے
مَنْ رَزَقَنِی وَرَبَّانِی، یَا مَنْ أَطْعَمَنِی وَسَقانِی، یَا مَنْ قَرَّبَنِی وَأَدْنانِی
وہ جس نے مجھے رزق دیا اور پالااے وہ جس نے مجھے طعام دیا اور سیراب کیا اے وہ جس نے مجھے قریب کیا اور قربت عطا کی
، یَا مَنْ عَصَمَنِی وَکَفانِی، یَا مَنْ حَفِظَنِی وَکَلانِی، یَا مَنْ أَعَزَّنِی
اے وہ جس نے میری نگہداشت کی اور کفالت کی اے وہ جس نے میری حفاظت کی اور حمایت کی اے وہ جس نے مجھے عزت دی
وَأَغْنانِی، یَا مَنْ وَفَّقَنِی وَهَدانِی، یَا مَنْ آنَسَنِی وَآوانِی، یَا مَنْ
اور دولتمند بنایا اے وہ جس نے میری مدد کی اور ہدایت عطا کی اے وہ جس نے مجھ سے انس کیا اور پناہ دی اے وہ جس نے
أَماتَنِی وَأَحْیانِی ﴿۶۷﴾ یَا مَنْ یُحِقُّ الْحَقَّ بِکَلِماتِهِ، یَا مَنْ یَقْبَلُ
مجھے موت دی اور زندہ کیا۔ اے وہ جو اپنے کلام سے حق کو ثابت کرتا ہے اے وہ جو اپنے بندوں کی
التَّوْبَةَ عَنْ عِبادِهِ، یَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَقَلْبِهِ، یَا مَنْ لاَ تَنْفَعُ
توبہ قبول فرماتا ہے اے وہ جو انسان اور اسکے دل کے درمیان حائل ہوتاہے اے وہ جسکے اذن کے بغیر
الشَّفاعَةُ إلاَّ بِ إذْنِهِ، یَا مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیلِهِ، یَا مَنْ لاَ
شفاعت کچھ نفع نہیں پہنچاتی اے وہ جو راہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو خوب جانتا ہے اے وہ جسکے
مُعَقِّبَ لِحُکْمِهِ، یَا مَنْ لاَ رَادَّ لِقَضائِهِ، یَا مَنِ انْقادَ کُلُّ شَیْئٍ لاََِمْرِهِ
حکم کو کوئی ہرگز نہیں ٹال سکتا اے وہ جسکے فیصلے کو کوئی پلٹا نہیں سکتا اے وہ جسکے امرکے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے
یَا مَنِ السَّمَاوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِهِ، یَا مَنْ یُرْسِلُ الرِّیاحَ بُشْراً بَیْنَ
اے وہ جسکی قدرت سے آسمان باہم لپٹے ہوئے ہیں اے وہ جو اپنی رحمت سے ہوائوں کی خوشخبری دے کر
یَدَیْ رَحْمَتِهِ ﴿۶۸﴾ یَا مَنْ جَعَلَ الْاَرْضَ مِهاداً، یَا مَنْ جَعَلَ الْجِبالَ
بھیجتاہے۔ اے وہ جس نے زمین کوفرش بنایا اے وہ جس نے پہاڑوں کو میخیں بنایا
أَوْتاداً، یَا مَنْ جَعَلَ الشَّمْسَ سِراجاً، یَا مَنْ جَعَلَ الْقَمَرَ نُوراً، یَا مَنْ
اے وہ جس نے سورج کو چراغ بنایا اے وہ جس نے چاند کو روشن کیا اے وہ جس نے
جَعَلَ اللَّیْلَ لِباساً، یَا مَنْ جَعَلَ النَّهارَ مَعَاشاً، یَا مَنْ جَعَلَ النَّوْمَ سُباتاً
رات کو پردہ پوشی کے لیے بنایا اے وہ جس نے دن کو کام کاج کا وقت ٹھہرایا اے وہ جس نے نیند کو ذریعہ راحت بنایا
یَا مَنْ جَعَلَ السَّمَاءَ بِنائً، یَا مَنْ جَعَلَ الْأَشْیاءَ أَزْواجاً، یَا مَنْ جَعَلَ
اے وہ جس نے آسمان کا شامیانہ لگایا اے وہ جس نے چیزوں میں جوڑے مقرر کیے اے وہ جس نے آتش دوزخ کو
النَّارَ مِرْصاداً ﴿۶۹﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا سَمِیعُ، یَا شَفِیعُ،
کمین گاہ بنایا۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے سننے والے اے شفاعت والے
یَا رَفِیعُ، یَا مَنِیعُ، یَا سَرِیعُ، یَا بَدِیعُ، یَا کَبِیرُ، یَا قَدِیرُ، یَا خَبِیرُ، یَا
اے بلندی والے اے محفوظ اے جلدی کرنے والے اے ابتداکرنے والے اے بڑائی والے اے قدرت والے اے خبر والے
مُجِیرُ ﴿۷۰﴾ یَا حَیّاً قَبْلَ کُلِّ حَیٍّ، یَا حَیّاً بَعْدَ کُلِّ حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی
اے پناہ دینے والے۔ اے ہرزندہ سے پہلے زندہ ہو اے ہرزندہ کے بعد زندہ اے وہ زندہ جسکی
لَیْسَ کَمِثْلِهِ حَیٌّ، یَا حَیُّ الَّذِی لاَ یُشارِکُهُ حَیٌّ، یَا حَیُّ الَّذِی لاَ
مثل کوئی اور زندہ نہیں اے وہ زندہ جسکا کوئی زندہ شریک نہیں اے وہ زندہ جو کسی زندہ کا
یَحْتاجُ إلی حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی یُمِیتُ کُلَّ حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی یَرْزُقُ
محتاج نہیں اے وہ زندہ جو سب زندوں کو موت دیتا ہے اے وہ زندہ جو سب زندوں کو رزق
کُلَّ حَیٍّ، یَا حَیّاً لَمْ یَرِثِ الْحَیا ةَ مِنْ حَیٍّ، یَا حَیُّ الَّذِی یُحْیِی الْمَوْتیٰ
دیتا ہے اے وہ زندہ جس نے کسی زندہ سے زندگی نہیں پائی اے وہ زندہ جو زندوں کو موت دیتا ہے
یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ ﴿۷۱﴾ یَا مَنْ لَهُ ذِکْرٌ لاَ یُنْسی
اے وہ نگہبان جسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔ اے وہ جسکا ذکر بھلایا نہیں جا سکتا
یَا مَنْ لَهُ نُورٌ لاَ یُطْفیٰ، یَا مَنْ لَهُ نِعَمٌ لاَ تُعَدُّ، یَا مَنْ لَهُ مُلْکٌ لاَ
اے وہ جسکے نور کو بجھایا نہیں جا سکتا اے وہ جسکی نعمتوں کوشمار نہیں کیا جا سکتا اے وہ جسکی بادشاہی
یَزُولُ، یَا مَنْ لَهُ ثَنَائٌ لاَ یُحْصیٰ، یَا مَنْ لَهُ جَلالٌ لاَ یُکَیَّفُ، یَا مَنْ لَهُ
ختم ہونے والی نہیں اے وہ جسکی تعریف کی کوئی حد نہیں اے وہ جسکے جلال کی کیفیت بے بیان ہے اے وہ جسکے
کَمالٌ لاَ یُدْرَکُ، یَا مَنْ لَهُ قَضائٌ لاَ یُرَدُّ، یَا مَنْ لَهُ صِفَاتٌ لاَ تُبَدَّلُ، یَا
کمال کو سمجھا نہیں جا سکتا اے وہ جسکا فیصلہ ٹالا نہیں جا سکتا اے وہ جسکی صفات میں تبدیلی نہیں آسکتی اے
مَنْ لَهُ نُعُوتٌ لاَ تُغَیَّرُ ﴿۷۲﴾ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ، یَا مالِکَ یَوْمِ الدِّینِ، یَا
وہ جسکے وصفوں میں تبدیلی نہیں۔ اے عالمین کے پروردگار اے روز جزا کے مالک اے
غایَةَ الطَّالِبِینَ، یَا ظَهْرَ اللاَّجِینَ، یَا مُدْرِکَ الْهارِبِینَ، یَا مَنْ یُحِبُّ
طالبوں کے مقصود اے پناہ لینے والوں کی پناہ گاہ اے بھاگنے والوں کو پالینے والے اے وہ جو صبر والوں کو
الصَّابِرِینَ، یَا مَنْ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ، یَا مَنْ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِینَ، یَا مَنْ
دوست رکھتا ہے اے وہ جو توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اے وہ جو پاکیزگی والوں کو پسندکرتا ہے اے وہ جو
یُحِبُّ الُْمحْسِنِینَ، یَا مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِینَ ﴿۷۳﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی
نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے اے وہ جو ہدایت یافتہ لوگوں کو جانتا ہے۔ اے معبود میں تجھ سے
أَسْأَلُکَ بِأِسْمِکَ یَا شَفِیقُ، یَا رَفِیقُ، یَا حَفِیظُ، یَا مُحِیطُ، یَا مُقِیتُ، یَا
سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے مہربان اے ہمدم اے نگہدار اے احاطہ کرنے والے اے رزق دینے والے اے
مُغِیثُ، یَا مُعِزُّ، یَا مُذِلُّ، یَا مُبْدِیُٔ، یَا مُعِیدُ ﴿۷۴﴾ یَا مَنْ هُوَ أَحَدٌ بِلا
فریاد رس اے عز ت دینے والے اے ذلت دینے والے اے پیدا کرنے والے اے لوٹانے والے ۔ اے وہ جو ایسا یگانہ ہے جس کا
ضِدٍّ، یَا مَنْ هُوَ فَرْدٌ بِلا نِدٍّ، یَا مَنْ هُوَ صَمَدٌ بِلا عَیْبٍ، یَا مَنْ هُوَ وِتْرٌ
کوئی مقابل نہیں اے وہ جو ایسا یکتا ہے جسکا شریک نہیں اے وہ جو بے نیاز ہے جس میں کوئی عیب نہیں اے وہ جوایسا فرد ہے
بِلا کَیْفٍ، یَا مَنْ هُوَ قاضٍ بِلا حَیْفٍ، یَا مَنْ هُوَ رَبٌّ بِلا وَزِیرٍ، یَا مَنْ
جس میں کوئی کیفیت نہیں اے وہ جسکا فیصلہ خلاف حق نہیں ہوتا اے وہ رب جسکا کوئی وزیرنہیں ہے اے وہ
هُوَ عَزِیزٌ بِلا ذُلٍّ، یَا مَنْ هُوَ غَنِیٌّ بِلا فَقْرٍ، یَا مَنْ هُوَ مَلِکٌ بِلا عَزْلٍ، یَا
عزت دار جسے ذلت نہیں اے وہ ثروت مند جو محتاج نہیں اے وہ بادشاہ جسے ہٹایا نہیں جا سکتا اے
مَنْ هُوَ مَوْصُوفٌ بِلا شَبِیهٍ ﴿۷۵﴾ یَا مَنْ ذِکْرُهُ شَرَفٌ لِلذَّاکِرِینَ، یَا
ایسے صفتوں والے جسکی کوئی مثال نہیں۔ اے وہ جسکا ذکر ذاکروں کے لیے وجہ بزرگی ہے اے
مَنْ شُکْرُهُ فَوْزٌ لِلشَّاکِرِینَ، یَا مَنْ حَمْدُهُ عِزٌّ لِلْحامِدِینَ، یَا مَنْ
وہ جسکاشکر شاکروں کے لیے کامیابی ہے اے وہ جسکی حمد، حمدکرنے والوں کے لیے وجہ عزت ہے اے وہ جسکی
طَاعَتُهُ نَجاةٌ لِلْمُطِیعِینَ، یَا مَنْ بابُهُ مَفْتُوحٌ لِلطَّالِبِینَ، یَا مَنْ سَبِیلُهُ
فرمانبرداری فرمانبرداروں کے لیے وجہ نجات ہے اے وہ جسکا دروازہ طلبگاروں کے لیے کھلا رہتا ہے اے وہ جسکا راستہ
واضِحٌ لِلْمُنِیبِینَ، یَا مَنْ آیاتُهُ بُرْهانٌ لِلنَّاظِرِینَ، یَا مَنْ کِتابُهُ تَذْکِرَةٌ
توبہ کرنے والوں کیلئے ظاہر و واضح ہے اے وہ جسکی نشانیاں دیکھنے والوں کیلئے پختہ دلیل ہیں اے وہ جسکی کتاب پرہیزگاروں
لِلْمُتَّقِینَ، یَا مَنْ رِزْقُهُ عُمُومٌ لِلطَّائِعِینَ وَالْعاصِینَ، یَا مَنْ رَحْمَتُهُ
کے لیے نصیحت ہے اے وہ جسکا رزق فرمانبرداروں اور نافرمانوں کے لیے یکساں ہے اے وہ جسکی رحمت
قَرِیبٌ مِنَ الُْمحْسِنِینَ ﴿۷۶﴾ یَا مَنْ تَبارَکَ اسْمُهُ، یَا مَنْ تَعالی جَدُّهُ،
نیکوکاروں کے نزدیک تر ہے۔ اے وہ جسکا نام برکت والا ہے اے وہ جسکی شان بلند ہے
یَا مَنْ لاَ إلهَ غَیْرُهُ، یَا مَنْ جَلَّ ثَناؤُهُ، یَا مَنْ تَقَدَّسَتْ أَسْماؤُهُ، یَا مَنْ
اے وہ جسکے سوا کوئی معبود نہیں اے وہ جسکی تعریف روشن ہے اے وہ جسکے نام پاک وپاکیزہ ہیں اے وہ جسکی
یَدُومُ بَقاؤُهُ، یَا مَنِ الْعَظَمَةُ بَهاؤُهُ، یَا مَنِ الْکِبْرِیائُ رِداؤُهُ، یَا مَنْ لاَ
ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اے وہ کہ بزرگی جسکا جلوہ ہے اے وہ کہ بڑای جسکا لباس ہے اے وہ جسکی
تُحْصی آلاؤُهُ، یَا مَنْ لاَ تُعَدُّ نَعْماؤُهُ ﴿۷۷﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ
نعمتوں کی حد نہیں اے وہ جسکی نعمتوں کا شمار نہیں۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
بِاسْمِکَ یَا مُعِینُ، یَا أَمِینُ، یَا مُبِینُ، یَا مَتِینُ، یَا مَکِینُ، یَا رَشِیدُ، یَا
تیرے نام کے واسطے سے اے مددگار اے امانتدار اے آشکار اے سنجیدہ اے قدرت والے اے ہدایت والے اے
حَمِیدُ، یَا مَجِیدُ، یَا شَدِیدُ، یَا شَهِیدُ ﴿۷۸﴾ یَا ذَا الْعَرْشِ الَْمجِیدِ، یَا ذَا
تعریف والے اے بزرگی والے اے محکم اے گواہ۔ اے عرش عظیم کے مالک اے سچے قول
الْقَوْلِ السَّدِیدِ، یَا ذَا الْفِعْلِ الرَّشِیدِ، یَا ذَا الْبَطْشِ الشَّدِیدِ، یَا ذَا
والے اے پختہ تر کام کرنے والے اے سخت گرفت کرنے والے اے وعدہ کرنے
الْوَعْدِ وَالْوَعِیدِ، یَا مَنْ هُوَ الْوَ لِیُّ الْحَمِیدُ، یَا مَنْ هُوَ فَعَّالٌ لِما یُرِیدُ،
اور دھمکی دینے والے اے وہ جو قابل تعریف سرپرست ہے اے وہ جو چاہے کر گزرتا ہے
یَا مَنْ هُوَ قَرِیبٌ غَیْرُ بَعِیدٍ، یَا مَنْ هُوَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ شَهِیدٌ، یَا مَنْ هُوَ
اے وہ جو ایسا قریب ہے کہ دور نہیں ہوتا اے وہ جو ہر چیز کا دیکھنے والا ہے اے وہ جو
لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ ﴿۷۹﴾ یَا مَنْ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَلاَ وَزِیرَ، یَا مَنْ لاَ
بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔ اے وہ جسکا نہ کوئی شریک ہے نہ وزیر اے وہ جسکی نہ
شَبِیهَ لَهُ وَلاَ نَظِیرَ، یَا خالِقَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ الْمُنِیرِ، یَا مُغْنِیَ الْبائِسِ
کوئی مثل ہے نہ ثانی اے سورج اور روشن چاند کے خالق اے نادار و بے نوا کو ثروت
الْفَقِیرِ، یَا رازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیرِ، یَا راحِمَ الشَّیْخِ الْکَبِیرِ، یَا جابِرَ
دینے والے اے ننھے بچے کو رزق دینے والے اے بڑے بوڑھے پر رحم کرنے والے اے ٹوٹی ہوئی
الْعَظْمِ الْکَسِیرِ، یَا عِصْمَةَ الْخائِفِ الْمُسْتَجِیرِ، یَا مَنْ هُوَ بِعِبادِهِ خَبِیرٌ
ہڈیوں کو جوڑنے والے اے خوفزدہ کو پناہ دینے والے اے وہ جو خود اپنے بندوں کو جانتا اور
بَصِیرٌ، یَا مَنْ هُوَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ﴿۸۰﴾ یَا ذَا الْجُودِ وَالنِّعَمِ ، یَا
دیکھتا ہے اے وہ جو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے نعمتوں والے سخی اے
ذَا الْفَضْلِ وَالْکَرَمِ، یَا خالِقَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ، یَا بارِیَٔ الذَّرِّ وَالنَّسَمِ ، یَا
فضل و کرم کرنے والے اے لوح و قلم کے پیدا کرنے والے اے انسانوں اور حشرات کے خلق کرنے والے اے
ذَا الْبَأْسِ وَالنِّقَمِ، یَا مُلْهِمَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ، یَا کَاشِفَ الضُّرِّ وَالْاَلَمِ، یَا
سخت گیر اور بدلہ لینے والے اے عرب و عجم کو الہام کرنے والے اے درد و غم کو دور کرنے والے اے
عَالِمَ السِّرِّ وَالْهِمَمِ، یَا رَبَّ الْبَیْتِ وَالْحَرَمِ، یَا مَنْ خَلَقَ الْاَشْیاءَ مِنَ
راز و نیت کے جاننے والے اے کعبہ و حرم کے پروردگار اے وہ جس نے چیزوں کو عدم سے پیدا کیا۔
الْعَدَمِ ﴿۸۱﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا فاعِلُ، یَا جاعِلُ، یَا قابِلُ،
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے کام کرنے والے اے بنانے والے اے قبول کرنے والے
یَا کامِلُ، یَا فاصِلُ، یَا واصِلُ، یَا عادِلُ، یَا غالِبُ، یَا طالِبُ، یَا
اے کامل اے جداکرنے والے اے ملانے والے اے عدل کرنے والے اے غلبہ والے اے طلب کرنے والے اے
واهِبُ ﴿۸۲﴾ یَا مَنْ أَ نْعَمَ بِطَوْ لِهِ، یَا مَنْ أَکْرَمَ بِجُودِهِ، یَا مَنْ جادَ
عطا کرنے والے اے وہ جس نے اپنے فضل سے نعمت بخشی اے وہ جو سخاوت میں بلند ہے اے وہ جس نے مہربانی
بِلُطْفِهِ، یَا مَنْ تَعَزَّزَ بِقُدْرَتِهِ، یَا مَنْ قَدَّرَ بِحِکْمَتِهِ، یَا مَنْ حَکَمَ
سے عطافرمایا اے وہ جس نے اپنی قدرت سے عزت دی اے وہ جس نے حکمت سے اندازہ ٹھہرایا اے وہ جس نے اپنی رائے سے
بِتَدْبِیرِهِ، یَا مَنْ دَ بَّرَ بِعِلْمِهِ، یَا مَنْ تَجاوَزَ بِحِلْمِهِ، یَا مَنْ دَنَا فِی عُلُّوِهِ،
حکم دیا اے وہ جس نے اپنے علم سے نظم قائم کیا اے وہ جو اپنی بردباری سے معاف کرتا ہے اے وہ جو بلند ہوتے ہوئے بھی قریب
یَا مَنْ عَلا فِی دُ نُوِّهِ ﴿۸۳﴾ یَا مَنْ یَخْلُقُ ما یَشَائُ، یَا مَنْ یَفْعَلُ ما
ہے اے وہ جو نزدیکی میں بھی بلند ہے۔ اے وہ کہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اے وہ کہ جو چاہے کرگزرتا
یَشَائُ، یَا مَنْ یَهْدِی مَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یُضِلُّ مَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یُعَذِّبُ
ہے اے وہ کہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے عذاب
مَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یَغْفِرُ لِمَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یُعِزُّ مَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یُذِلُّ
دیتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے بخشتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے عزت دیتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے
مَنْ یَشَائُ، یَا مَنْ یُصَوِّرُ فِی الْاَرْحامِ مَا یَشَائُ، یَا مَنْ یَخْتَصُّ
ذلت دیتا ہے اے وہ کہ شکموں میں جیسی چاہے صورت بناتا ہے اے وہ کہ جسے چاہے اپنی
بِرَحْمَتِهِ مَنْ یَشَائُ ﴿۸۴﴾ یَا مَنْ لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً، یَا مَنْ
رحمت سے خاص کرتا ہے۔ اے وہ جس نے نہ بیوی کی اور نہ اولاد والا ہوا اے وہ جس نے ہر چیز کا
جَعَلَ لِکُلِّ شَیْئٍ قَدْراً، یَا مَنْ لاَ یُشْرِکُ فِی حُکْمِهِ أَحَداً، یَا مَنْ جَعَلَ
ایک انداز ٹھہرایا اے وہ جسکی حکومت میں کوئی حصہ دار نہیں اے وہ جس نے فرشتوں
الْمَلائِکَةَ رُسُلاً، یَا مَنْ جَعَلَ فِی السَّمائِ بُرُوجاً، یَا مَنْ جَعَلَ الْاَرْضَ
کو قاصد قرار دیا اے وہ جس نے آسمان میں برج ترتیب دیے اے وہ جس نے زمین کو رہنے کی
قَراراً، یَا مَنْ خَلَقَ مِنَ الْمَائِ بَشَراً، یَا مَنْ جَعَلَ لِکُلِّ شَیْئٍ أَمَداً، یَا
جگہ بنایا اے وہ جس نے انسان کو قطرہ آب سے پیدا کیا اے وہ جس نے ہر چیز کی مدت مقرر فرمائی اے
مَنْ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً، یَا مَنْ أَحْصی کُلَّ شَیْئٍ عَدَداً ﴿۸۵﴾
وہ جسکا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اے وہ جس نے سب چیزوں کا شمار کر رکھا ہے۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا أَوَّلُ، یَا آخِرُ، یَا ظاهِرُ، یَا باطِنُ، یَا بَرُّ،
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے اول اے آخر اے ظاہر اے باطن اے نیک
یَا حَقُّ، یَا فَرْدُ، یَا وِتْرُ، یَا صَمَدُ، یَا سَرْمَدُ ﴿۸۶﴾ یَا خَیْرَ مَعْرُوفٍ
اے حق اے یکتا اے یگانہ اے بے نیاز اے دائم۔ اے پہچانے ہوئوں میں بہترین
عُرِفَ، یَا أَ فْضَلَ مَعْبُودٍ عُبِدَ، یَا أَجَلَّ مَشْکُورٍ شُکِرَ، یَا أَعَزَّ مَذْکُورٍ
پہچانے ہوئے اے بہترین معبود کہ جسکی عبادت کی جائے اے شکر کیے ہو ؤں میں بہترین شکر کیے گئے اے ذکر کئے ہوؤں میں
ذُکِرَ، یَا أَعْلی مَحْمُودٍ حُمِدَ، یَا أَقْدَمَ مَوْجُودٍ طُلِبَ، یَا أَرْفَعَ
بلندتر اے تعریف کیے ہوؤں میں بالاتر اے ہر موجود سے قدیم جو طلب کیا گیا اے ہر موصوف سے
مَوْصُوفٍ وُصِفَ، یَا أَکْبَرَ مَقْصُودٍ قُصِدَ، یَا أَکْرَمَ مَسْؤُولٍ سُئِلَ، یَا
اعلٰی جس کی توصیف کی گئی اے ہرمقصود سے بلند کہ جسکا قصد کیا گیا اے ہر سوال شدہ سے باعزت جس سے سوال ہوا اے
أَشْرَفَ مَحْبُوبٍ عُلِمَ ﴿۸۷﴾ یَا حَبِیبَ الْباکِینَ، یَا سَیِّدَ الْمُتَوَکِّلِینَ، یَا
بہترین محبوب۔ اے رونے والوں کے دوست اے توکل کرنے والوں کے سردار اے
هادِیَ الْمُضِلِّینَ، یَا وَ لِیَّ الْمُئْومِنِینَ، یَا أَنِیسَ الذَّاکِرِینَ، یَا مَفْزَعَ
گمراہوں کو ہدایت دینے والے اے مومنوں کے سرپرست اے یادکرنے والوں کے ہمدم اے دل جلوں
الْمَلهُوفِینَ، یَا مُنْجِیَ الصَّادِقِینَ، یَا أَقْدَرَ الْقادِرِینَ، یَا أَعْلَمَ
کی پناہ گاہ اے سچے لوگوں کو نجات دینے والے اے قدرت والوں میں بڑے باقدرت اے علم والوں سے
الْعالِمِینَ، یَا إلهَ الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ ﴿۸۸﴾ یَا مَنْ عَلا فَقَهَرَ، یَا مَنْ مَلَکَ
زیادہ علم رکھنے والے اے ساری مخلوق کے معبود۔ اے وہ جو بلند اور مسلط ہے اے وہ جو مالک
فَقَدَرَ، یَا مَنْ بَطَنَ فَخَبَرَ، یَا مَنْ عُبِدَ فَشَکَرَ، یَا مَنْ عُصِیَ فَغَفَرَ، یَا
و توانا ہے اے وہ جونہاں اور خبردار ہے اے وہ جو معبود ہے تو شاکر بھی ہے اے وہ جسکی معصیت ہو تو بخش دیتا ہے اے
مَنْ لاَ تَحْوِیهِ الْفِکَرُ، یَا مَنْ لاَ یُدْرِکُهُ بَصَرٌ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْهِ أَثَرٌ
وہ جسکو فکر پا نہیں سکتی اے وہ جسے آنکھ دیکھ نہیں سکتی اے وہ جس پر کوئی نشان مخفی نہیں ہے اے بشر کو
یَا رازِقَ الْبَشَرِ، یَا مُقَدِّرَ کُلِّ قَدَرٍ ﴿۸۹﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ
روزی دینے والے اے ہر اندازے کے مقرر کرنے والے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے
یَا حافِظُ، یَا بارِیُٔ، یَا ذارِیُٔ یَا باذِخُ، یَا فارِجُ، یَا فاتِحُ، یَا کاشِفُ،
نگہبان اے پیدا کرنے والے اے ظاہر کرنے والے اے بلندی والے اے کشائش دینے والے اے کھولنے والے اے نمایاں
یَا ضامِنُ، یَا آمِرُ، یَا ناهِی ﴿۹۰﴾ یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ الْغَیْبَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ
کرنے والے اے ذمہ دار اے حکم کرنے والے اے روکنے والے۔ اے وہ جسکے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا اے وہ جسکے
لاَ یَصْرِفُ السُّوءَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یَخْلُقُ الْخَلْقَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ
سوا کوئی دکھ دور نہیں کر سکتا اے وہ جسکے سوا کوئی بھی خلق نہیں کر سکتااے وہ جسکے سوا
یَغْفِرُ الذَّنْبَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یُتِمُّ النِّعْمَةَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یُقَلِّبُ
کوئی گناہ معاف نہیں کرتا اے وہ جسکے سوا کوئی نعمت تمام نہیں کرتا اے وہ جسکے سوا کوئی دلوں کو
الْقُلُوبَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ إلاَّ
نہیں پلٹاتا اے وہ جسکے سوا کوئی کام پورے نہیں کرتا اے وہ جسکے سوا کوئی بارش نہیں برساتا
هُوَ، یَا مَنْ لاَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یُحْیِی الْمَوْتی إلاَّ هُوَ ﴿۹۱﴾
اے وہ جسکے سوا کوئی روزی نہیں بڑھاتا اے وہ جسکے سوا کوئی مردے زندہ نہیں کرتا۔
یَا مُعِینَ الْضُعَفائِ، یَا صاحِبَ الْغُرَبائِ، یَا ناصِرَ الْاَوْ لِیائِ، یَا
اے کمزوروں کے مددگار اے مسافروںکے ہمدم اے دوستوں کی مدد کرنے والے اے
قاهِرَ الْاَعْدائِ، یَا رافِعَ السَّمائِ، یَا أَنِیسَ الْاَصْفِیائِ، یَا حَبِیبَ
دشمنوں پر غلبہ پانے والے اے آسمان کو بلند کرنے والے اے خواص کے ساتھی اے پرہیزگاروں کے
الْاَتْقِیائِ، یَا کَنْزَ الْفُقَرائِ، یَا إلهَ الْاَغْنِیائِ، یَا أَکْرَمَ الْکُرَمائِ ﴿۹۲﴾ یَا
دوست اے بے مایوں کے خزانے اے دولتمندوں کے معبود اے کریموں سے زیادہ کریم۔ اے
کافِیاً مِنْ کُلِّ شَیْئٍ، یَا قائِماً عَلَیٰ کُلِّ شَیْئٍ، یَا مَنْ لاَ یُشْبِهُهُ شَیْئٌ،
ہر چیز سے کفایت کرنے والے اے ہر چیز کی نگرانی کرنے والے اے وہ جسکی مثل کوئی چیز نہیں
یَا مَنْ لاَ یَزِیدُ فِی مُلْکِهِ شَیْئٌ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْهِ شَیْئٌ، یَا مَنْ لاَ
اے وہ جسکی حکومت میں کوئی چیز اضافہ نہیں کر سکتی اے وہ جس سے کوئی چیز مخفی نہیں اے وہ جسکے
یَنْقُصُ مِنْ خَزائِنِهِ شَیْئٌ، یَا مَنْ لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ، یَا مَنْ لاَ یَعْزُبُ
خزانوں میں کسی شئی سے کمی نہیں آتی اے وہ جسکی مثل کوئی چیز نہیں اے وہ جسکے علم سے
عَنْ عِلْمِهِ شَیْئٌ، یَا مَنْ هُوَ خَبِیرٌ بِکُلِّ شَیْئٍ، یَا مَنْ وَسِعَتْ رَحْمَتُهُ
کوئی چیز باہر نہیں ہے اے وہ جو ہر چیز کی خبر رکھتا ہے اے وہ جسکی رحمت ہر چیز تک وسیع ہے۔
کُلَّ شَیْئٍ ﴿۹۳﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ یَا مُکْرِمُ، یَا مُطْعِمُ، یَا
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اے عزت دینے والے اے کھانا دینے والے اے نعمت دینے
مُنْعِمُ، یَا مُعْطِی، یَا مُغْنِی، یَا مُقْنِی، یَا مُفْنِی، یَا مُحْیِی، یَا مُرْضِی،
والے اے عطا کرنے والے اے غنی بنانے والے اے ذخیرہ کرنے والے اے فنا کرنے والے اے زندہ کرنے والے اے بیماری
یَا مُنْجِی ﴿۹۴﴾ یَا أَوَّلَ کُلِّ شَیْئٍ وَآخِرَهُ، یَا إلهَ کُلِّ شَیْئٍ وَمَلِیکَهُ، یَا
دینے والے اے نجات دینے والے۔ اے ہر چیز سے پہلے اور اسکے بعد اے ہرچیز کے معبود اور اسکے مالک اے
رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ وَصانِعَهُ، یَا بارِیَٔ کُلِّ شَیْئٍ وَخالِقَهُ، یَا قابِضَ کُلِّ
ہر چیز کے پروردگار اور اسے بنانے والے اے ہر چیز کے پیدا کرنے والے اوراندازہ ٹھہرانے والے اے ہرچیز کو بند کرنے
شَیْئٍ وَباسِطَهُ، یَا مُبْدِیَٔ کُلِّ شَیْئٍ وَمُعِیدَهُ، یَا مُنْشِیَٔ کُلِّ شَیْئٍ
اور کھولنے والے اے ہر چیزکا آغاز کرنے والے اور اسے لوٹانے والے اے ہر چیز کو بڑھانے
وَمُقَدِّرَهُ، یَا مُکَوِّنَ کُلِّ شَیْئٍ وَمُحَوِّلَهُ، یَا مُحْیِیَ کُلِّ شَیْئٍ وَمُمِیتَهُ،
اور اسکا اندازہ کرنے والے اے ہر چیز کو بنانے اور اسے تبدیل کرنے والے اے ہر چیز کو زندہ کرنے اور اسے موت دینے والے
یَا خالِقَ کُلِّ شَیْئٍ وَوارِثَهُ ﴿۹۵﴾ یَا خَیْرَ ذاکِرٍ وَمَذْکُورٍ، یَا خَیْرَ
اے ہر چیز کے خالق و وارث۔ اے بہترین ذکر کرنے والے اور ذکر کیے ہوئے اے بہترین شکر کرنے والے اور شکرکیے ہوئے
شاکِرٍ وَمَشْکُورٍ، یَا خَیْرَ حامِدٍ وَمَحْمُودٍ، یَا خَیْرَ شاهِدٍ وَمَشْهُودٍ، یَا
اے بہترین حمد کرنے والے اور حمد کیے ہوئے اے بہترین گواہ اور گواہی دیے ہوئے اے بہترین بلانے
خَیْرَ داعٍ وَمَدْعُوٍّ، یَا خَیْرَ مُجِیبٍ وَمُجابٍ، یَا خَیْرَ مُؤْنِسٍ وَأَنِیسٍ، یَا
والے اور بلائے ہوئے اے بہترین جواب دینے والے اور جواب دیئے ہوئے اے بہترین انس کرنے والے اور انس کیے ہوئے
خَیْرَ صاحِبٍ وَجَلِیسٍ، یَا خَیْرَ مَقْصُودٍ وَمَطْلُوبٍ، یَا خَیْرَ حَبِیبٍ
اے بہترین رفیق اور ہم نشین اور بہترین قصد کیے ہوئے اور طلب کئے گئے اے بہترین دوست
وَمَحْبُوبٍ ﴿۹۶﴾ یَا مَنْ هُوَ لِمَنْ دَعاهُ مُجِیبٌ، یَا مَنْ هُوَ لِمَنْ أَطاعَهُ
اوردوست رکھے ہوئے۔ اے وہ جسے پکارا جائے توجواب دیتا ہے اے وہ جسکی اطاعت کی جائے تو
حَبِیبٌ، یَا مَنْ هُوَ إلَی مَنْ أَحَبَّهُ قَرِیبٌ، یَا مَنْ هُوَ بِمَنِ اسْتَحْفَظَهُ
محبت کرتا ہے اے وہ جو محبت کرنے والے کے قریب ہوتا ہے اے وہ جو طالبِ حفاظت کا نگہبان ہے
رَقِیبٌ، یَا مَنْ هُوَ بِمَنْ رَجاهُ کَرِیمٌ، یَا مَنْ هُوَ بِمَنْ عَصاهُ حَلِیمٌ، یَا
اے وہ جو امیدوار پر کرم کرتا ہے اے وہ جو نافرمان کے ساتھ نرمی کرتا ہے اے
مَنْ هُوَ فِی عَظَمَتِهِ رَحِیمٌ، یَا مَنْ هُوَ فِی حِکْمَتِهِ عَظِیمٌ، یَا مَنْ هُوَ فِی
وہ جو اپنی بڑائی کے باوجود مہربان ہے اے وہ جو اپنی حکمت میں بلند ہے اے وہ جو قدیم احسان
إحْسانِهِ قَدِیمٌ، یَا مَنْ هُوَ بِمَنْ أَرادَهُ عَلِیمٌ ﴿۹۷﴾ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ
والا ہے اے وہ جو ارادہ رکھنے والے کو جانتا ہے۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے
بِاسْمِکَ یَا مُسَبِّبُ، یَا مُرَغِّبُ، یَا مُقَلِّبُ، یَا مُعَقِّبُ، یَا مُرَتِّبُ، یَا
اے سبب بنانے والے اے شوق دلانے والے اے پلٹانے والے اے پیچھا کرنے والے اے تربیت کرنے والے اے
مُخَوِّفُ، یَا مُحَذِّرُ، یَا مُذَکِّرُ، یَا مُسَخِّرُ، یَا مُغَیِّرُ ﴿۹۸﴾ یَا مَنْ عِلْمُهُ
خوف دلانے والے اے ڈرانے والے اے یادکرنے والے اے پابند کرنے والے اے بدلنے والے۔ اے وہ جسکا علم
سابِقٌ، یَا مَنْ وَعْدُهُ صادِقٌ، یَا مَنْ لُطْفُهُ ظاهِرٌ، یَا مَنْ أَمْرُهُ غالِبٌ،
سبقت رکھتا ہے اے وہ جسکا وعدہ سچا ہے اے وہ جسکا لطف ظاہر ہے اے وہ جسکا حکم غالب ہے
یَا مَنْ کِتابُهُ مُحْکَمٌ، یَا مَنْ قَضاؤُهُ کائِنٌ، یَا مَنْ قُرْآنُهُ مَجِیدٌ، یَا مَنْ
اے وہ جسکی کتاب محکم ہے اے وہ جسکا فیصلہ نافذ ہے اے وہ جسکا قرآن شان والا ہے اے وہ جسکی
مُلْکُهُ قَدِیمٌ، یَا مَنْ فَضْلُهُ عَمِیمٌ، یَا مَنْ عَرْشُهُ عَظِیمٌ ﴿۹۹﴾ یَا مَنْ لاَ
حکومت قدیمی ہے اے وہ جسکا فضل عام ہے اے وہ جسکا عرش عظیم ہے۔ اے وہ جسے ایک
یَشْغَلُهُ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ، یَا مَنْ لاَ یَمْنَعُهُ فِعْلٌ عَنْ فِعْلٍ، یَا مَنْ لاَ یُلْهِیهِ
سماعت دوسری سماعت سے غافل نہیں کرتی اے وہ جس کیلئے ایک فعل دوسرے فعل سے مانع نہیں ہوتا اے وہ جس کیلئے ایک قول
قَوْلٌ عَنْ قَوْلٍ، یَا مَنْ لاَ یُغَلِّطُهُ سُوَالٌ عَنْ سُوَالٍ، یَا مَنْ لاَ یَحْجُبُهُ
دوسرے قول میں خلل نہیں ڈالتا اے وہ جسے ایک سوال دوسرے سوال میں غلطی نہیں کراتا اے وہ جسکے لیے ایک چیز دوسری
شَیْئٌ عَنْ شَیْئٍ، یَا مَنْ لاَ یُبْرِمُهُ إلْحاحُ الْمُلِحِّینَ، یَا مَنْ هُوَ غایَةُ
چیز کے آگے حائل نہیں ہوئی اے وہ جسے اصرار کرنے والوں کااصرار تنگ دل نہیں کرتا اے وہ جو ارادہ کرنے والوں کے
مُرادِ الْمُرِیدِینَ، یَا مَنْ هُوَ مُنْتَهی هِمَمِ الْعارِفِینَ، یَا مَنْ هُوَ مُنْتَهی
ارادے کی انتہا ہے اے وہ جو عارفوں کی امنگوں کا نقطئہ آخر ہے اے وہ جو طلبگاروں کی طلب
طَلَبِ الطَّالِبِینَ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْهِ ذَرَّ ةٌ فِی الْعالَمِینَ ﴿۱۰۰﴾ یَا
کی انتہا ہے اے وہ جسکے لیے سارے جہانوں میںسے ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں۔ اے
حَلِیماً لاَ یَعْجَلُ، یَا جَوَاداً لاَ یَبْخَلُ، یَا صادِقاً لاَ یُخْلِفُ، یَا وَهَّاباً لاَ
وہ بردبار جو جلدی نہیں کرتا اے وہ داتا جو ہاتھ نہیں کھینچتا اے وہ صادق جو خلاف ورزی نہیں کرتا اے وہ دینے والا جو
یَمَلُّ، یَا قاهِراً لاَ یُغْلَبُ، یَا عَظِیماً لاَ یُوصَفُ، یَا عَدْلاً لاَ یَحِیفُ، یَا
تھکتا نہیں اے زبردست جو مغلوب نہیں ہوتا اے بے بیان عظمت والے اے وہ عادل جو ظالم نہیں اے
غَنِیّاً لاَ یَفْتَقِرُ، یَا کَبِیراً لاَ یَصْغُرُ، یَا حافِظاً لاَ یَغْفُلُ، سُبْحانَکَ یَا لاَ إلهَ
وہ دولت والے جو کسی کا محتاج نہیں اے وہ بڑا جو چھوٹا نہیں اے وہ نگہبان جو غافل نہیں تو پاک ہے اے وہ کہ سوائے تیرے
إلاَّ أَ نْتَ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ خَلِّصْنا مِنَ النَّارِ یَا رَبِّ
کوئی معبود نہیں اے فریاد رس اے فریاد رس ہمیں آتش جہنم سے بچالے اے پالنے والے
دعائے جوشن صغیر
معتبر کتابوں میں دعائ جوشن صغیر کا ذکر جوشن کبیر سے زیادہ شرح کیساتھ آیا ہے ۔کفعمی نے بلدالامین کے حاشیے میں فرمایا ہے کہ یہ بہت بلند مرتبہ اور بڑی قدر و منزلت والی دعا ہے جب ہادی عباسی نے امام موسیٰ کاظم -کے قتل کا ارادہ کیا توآپ نے یہ دعا پڑھی، تو آپ نے خواب میں اپنے جد بزرگوار رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں کہ حق تعالیٰ آپکے دشمن کو ہلاک کردے گا۔ یہ دعا سید ابن طاؤس نے بھی مہج الدعوات میں نقل کی ہے، لیکن کفعمی اور ابن طاؤس کے نسخوں میں کچھ اختلاف ہے، ہم اسے کفعمی کی بلدالامین سے نقل کررہے ہیں اور دعا یہ ہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی کَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضیٰ عَلَیَّ سَیْفَ عَداوَتِهِ، وَشَحَذَ لِی ظُبَةَ
میرے معبود کتنے ہی دشمنوں نے مجھ پر عداوت کی تلوار کھینچ رکھی ہے اور میرے لیے اپنے خنجر کی دھار تیز کرلی ہے
مِدْیَتِهِ، وَأَرْهَفَ لِی شَبَا حَدِّهِ، وَدافَ لِی قَواتِلَ سُمُومِهِ، وَسَدَّدَ إلیَّ
اور اسکی تیز نوک میری طرف کر رکھی ہے اورمیرے لیے قاتل زہر مہّیا کر رکھے ہیں اور اپنے تیروں کے
صَوائِبَ سِهامِهِ، وَلَمْ تَنَمْ عَنِّی عَیْنُ حِراسَتِهِ، وَأَضْمَرَ أَنْ یَسُومَنِی
نشانے مجھ پر باندھ لیے ہوئے ہیں اور اسکی آنکھ میری طرف سے جھپکتی نہیں اور اس نے مجھے تکلیف دینے کی ٹھان رکھی ہے
الْمَکْرُوهَ، وَیُجَرِّعَنِی ذُعافَ مَرارَتِهِ نَظَرْتَ إلی ضَعْفِی عَنِ احْتِمالِ
اور مجھے زہر کے گھونٹ پلانے پر آمادہ ہے لیکن تو ہی ہے جس نے بڑی سختیوں کے مقابل میری
الْفَوادِحِ وَعَجْزِی عَنِ الانْتِصارِ مِمَّنْ قَصَدَنِی بِمُحارَبَتِهِ، وَوَحْدَتِی
کمزوری اورمجھ سے مقابلہ کرنے کا قصد رکھنے والوں کے سامنے میری ناطاقتی اور مجھ پر یورش کرنے والوں
فِی کَثِیرٍ مِمَّنْ ناوانِی وَأَرْصَدَ لِی فِیما لَمْ أُعْمِلْ فِکْرِی فِی الْاِرْصادِ
کے درمیان میری تنہائی کو دیکھا جو مجھے ایسی تکلیف دینا چاہتے ہیں جسکا سامنا کرنے کا میں نے
لَهُمْ بِمِثْلِهِ، فَأَیَّدْتَنِی بِقُوَّتِکَ، وَشَدَدْتَ أَزْرِی بِنُصْرَتِکَ، وَفَلَلْتَ لِی
سوچا بھی نہ تھا پس تو نے اپنی قوت سے میری حمایت کی اور اپنی نصرت سے مجھے سہارا دیا اور میرے دشمن کی
حَدَّهُ، وَخَذَلْتَهُ بَعْدَ جَمْعِ عَدِیدِهِ وَحَشْدِهِ، وَأَعْلَیْتَ کَعْبِی عَلَیْهِ،
تلوار کو کند کردیا اور تو نے انہیں رسوا کردیا جبکہ وہ اپنی بہت بڑی تعداد اور سامان کے ساتھ جمع تھے تو نے مجھے دشمن پر غالب کیا
وَوَجَّهْتَ ما سَدَّدَ إلَیَّ مِنْ مَکائِدِهِ إلَیْهِ، وَرَدَدْتَهُ عَلَیْهِ، وَلَمْ یَشْفِ
اور اس نے میرے لیے مکر و فریب کے جو جال بنے تھے تو نے میری جگہ ان میںاسی کو پھنسادیا تو نہ اسکی تشنگی دور
غَلِیلَهُ، وَلَمْ تَبْرُدْ حَزازاتُ غَیْظِهِ، وَقَدْ عَضَّ عَلَیَّ أَنامِلَهُ، وَأَدْبَرَ
ہوئی نہ اسکے غصے کی آگ ٹھنڈی ہوئی اور افسوس کیساتھ اس نے اپنی انگلیاں چبالیں اور وہ پست ہوگیا
مُوَلِّیاً قَدْ أَخْفَقَتْ سَرایاهُ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ،
جب اسکے جھنڈے گر پڑے۔ پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی
وَذِیٔ أَنَا ةٍ لاَ یَعْجَل صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِن
اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے
الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَکَمْ مِنْ باغٍ بَغانِی
والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اے معبود کسی سرکش نے میرے خلاف مکر
بِمَکائِدِهِ، وَنَصَبَ لِی أَشْراکَ مَصائِدِهِ، وَوَکَّلَ بِی تَفَقُّدَ رِعایَتِهِ،
سے مجھ پر زیادتی کی اور مجھے پھانسنے کے لیے شکاری جال بچھایا اور مجھے اپنی فرصت کے سپرد کردیا
وَأَضْبَأَ إلَیَّ إضْباءَ السَّبُعِ لِطَرِیدَتِهِ، انْتِظاراً لاِنْتِهازِ فُرْصَتِهِ، وَهُوَ
اور اس طرح تاک لگائی ہے جیسے درندہ اپنے بھاگے ہوئے شکار کو پکڑے جانے تک دیکھتا رہتا ہے حالانکہ یہ
یُظْهِرُ بَشاشَةَ الْمَلَقِ، وَیَبْسُطُ وَجْهاً غَیْرَ طَلِقٍ فَلَمّا رَأَیْتَ دَغَلَ
شخص مجھ سے ملنے میں خوشگوار اور کشادہ رو ہے اور اصل میں بد نیت ہے پس جب تو نے اسکی بدباطنی کو
سَرِیرَتِهِ، وَقُبْحَ مَا انْطَویٰ عَلَیْهِ لِشَرِیکِهِ فِی مِلَّتِهِ، وَأَصْبَحَ مُجْلِباً لِی
اور اپنی ملت کے ایک فرد کے لیے اسکی خباثت کو دیکھا یعنی میرے لیے اسے ستمگر پایا تو اسے تو نے سر کے بل
فِی بَغْیِهِ أَرْکَسْتَهُ لاَُِمِّ رَأْسِهِ، وَأَتَیْتَ بُنْیانَهُ مِنْ أَساسِهِ، فَصَرَعْتَهُ فِی
زمین پر پھینک دیا اور اسکی ساختگی کو جڑ سے اکھاڑ ڈالا پس تو نے اسے اسی کے کھودے ہوئے کنوئیں میں
زُبْیَتِهِ، وَرَدَّیْتَهُ فِی مَهْویٰ حُفْرَتِهِ، وَجَعَلْتَ خَدَّهُ طَبَقاً لِتُرابِ رِجْلِهِ،
دھکیلا اور اسی کے کھودے ہوئے گڑھے میں پھینکا اور تو نے اسکے منہ پر اسی کے پاؤں کی خاک ڈالی
وَشَغَلْتَهُ فِی بَدَنِهِ وَرِزْقِهِ، وَرَمَیْتَهُ بِحَجَرِهِ، وَخَنَقْتَهُ بِوَتَرِهِ، وَذَکَّیْتَهُ
اور اسے اسکے بدن اور رزق میں گم کردیا اسے اسی کے پتھر سے مارا اور اسکی گردن اسی کی کمان سے چھیدی اسکا
بِمَشاقِصِهِ، وَکَبَبْتَهُ لِمَنْخِرِهِ، وَرَدَدْتَ کَیْدَهُ فِی نَحْرِهِ،
سر اسی کی تلوار سے اڑایا اور اسے منہ کے بل گرایا اس کا مکر اسی کی گردن میں ڈالا
وَرَبَقْتَهُ بِنَدامَتِهِ، وَفَسَأْتَهُ بِحَسْرَتِهِ، فَاسْتَخْذَأَ وتَضاءَلَ بَعْدَ نَخْوَتِهِ،
اور پشیمانی کی زنجیر اس کے گلے میں ڈال دی اسکی حسرت سے اسے فنا کیا پس میرا وہ دشمن اکڑبازاور ذلیل ہوااور گھٹنوں کے بل گرا
وَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطالَتِهِ ذَلِیلاً مَأْسُوراً فِی رِبْقِ حِبالَتِهِ الَّتِی کانَ یُؤَمِّلُ
اور سرکشی و تندی کے بعد رسوا ہوا اور اپنے مکر و فریب کی رسیوں میں جگڑا گیا یہ وہ پھندا ہے جس میںوہ مجھے
أَنْ یَرانِی فِیها یَوْمَ سَطْوَتِهِ، وَقَدْ کِدْتُ یَا رَبِّ لَوْلا رَحْمَتُکَ أَنْ
اپنے تسلط میںدیکھنا چاہتا تھا اور اے پروردگار اگر تیری رحمت مجھ پر نہ ہوتی تو قریب تھا کہ میرے
یَحُلَّ بِی ما حَلَّ بِساحَتِهِ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ ،
ساتھ وہی ہوتا جو اسکے ساتھ ہوا پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں
وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ
تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا
مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَکَمْ مِنْ حاسِدٍ شَرِقَ
شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے خدایا میرے کئی حاسد حسرت سے گلوگیر
بِحَسْرَتِهِ، وَعَدُوٍّ شَجِیَ بِغَیْظِهِ، وَسَلَقَنِی بِحَدِّ لِسانِهِ، وَوَخَزَنِی بِمُوقِ
ہوئے اوردشمن غصے میں جل بھن گئے اور تیزی زبان سے مجھے اذیت دی اور مجھے اپنی آنکھوں کی پلکوں سے زخمِ جگر
عَیْنِهِ، وَجَعَلَنِی غَرَضاً لِمَرامِیهِ، وَقَلَّدَنِی خِلالاً لَمْ تَزَلْ فِیهِ نادَیْتُکَ
لگائے اور مجھے اپنی نفرت کے تیروں کا نشانہ بنایا میرے گلے میں پھندا ڈالا تو اے پروردگارمیں نے تجھے لگاتار پکارا کہ
یَا رَبِّ مُسْتَجِیراً بِکَ، واثِقاً بِسُرْعَةِ إجابَتِکَ، مُتَوَکِّلاً عَلی ما لَمْ أَزَلْ
تیری پناہ لوں جو یقینی ہے کہ تو جلد قبولیت کرنے والا ہے میر ابھروسہ تیرے حسن دفاع پر رہا ہے جسکی مجھے
أَتَعَرَّفُهُ مِنْ حُسْنِ دِفاعِکَ، عالِماً أَ نَّهُ لاَ یُضْطَهَدُ مَنْ أَوی إلی ظِلِّ
پہلے ہی معرفت ہے میں جانتا ہوں کہ جو تیرے سایہ رحمت میں آجائے تو تو اسکی پردہ
کَنَفِکَ، وَلَنْ تَقْرَعَ الْحَوادِثُ مَنْ لَجَأَ إلی مَعْقِلِ الانْتِصارِ بِکَ،
دری نہیں کرتا اور جو تجھ سے مدد مانگتا رہے مصائب اسکی سرکوبی نہیں کرسکتے
فَحَصَّنْتَنِی مِنْ بَأْسِهِ بِقُدْرَتِکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ
پس تو اپنی قدرت سے تو مجھے دشمن کی اذیت سے محفوظ فرما پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے
یُغْلَبُ وَذِی أَنا ةٍ لاَ یَعْجَلُ ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی
شکست نہیں ہوتی تو وہ بردباد ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں
لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، إلهِی وَکَمْ مِنْ
کا شکر ادا کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے خدایا کتنے ہی
سَحائِبِ مَکْرُوهٍ جَلَّیْتَها، وَسَمائِ نِعْمَةٍ مَطَرْتَها، وَجَداوِلِ کَرامَةٍ
خطرناک بادلوں کو تو نے میرے سر سے ہٹایا اور نعمتوںکے آسمان سے مجھ پر مینہ برسایا اور عزت و آبرو کی
أَجْرَیْتَها، وَأَعْیُنِ أَحْداثٍ طَمَسْتَها، وَناشِیَةِ رَحْمَةٍ نَشَرْتَها، وَجُنَّةِ
نہریں جاری کیں اور سختیوںکے سرچشموں کو ناپید کردیا اور رحمت کا سایہ پھیلا دیا اور عافیت کی
عافِیَةٍ أَ لْبَسْتَها، وَغَوامِرِ کُرُباتٍ کَشَفْتَها، وَأُمُورٍ جارِیَةٍ قَدَّرْتَها، لَمْ
زرہ پہنادی اور دکھوں کے بھنور توڑ کر رکھ دیے اور جو کچھ ہو رہا تھا اسے قابو کر لیا جو تو
تُعْجِزْکَ إذْ طَلَبْتَها، وَلَمْ تَمْتَنِعْ مِنْکَ إذْ أَرَدْتَها، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ
کرنا چاہے اس سے عاجز نہیں اور جسکا تو ارادہ کرے اس میں تجھے دشواری نہیں پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار
مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ
کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی اور تو وہ بردباد ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل
مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ
محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میںقرار دے
إلهِی وَکَمْ مِنْ ظَنٍّ حَسَنٍ حَقَّقْتَ، وَمِنْ کَسْرِ إمْلاقٍ جَبَرْتَ، وَمِنْ
اے اللہ تو نے بہت سی خوش خیالیوں کو حقیقت بنادیا اور میری تنگدستی کو دور فرما دیا اور میری بے چارگی
امَسْکَنَةٍ فادِحَةٍ حَوَّلْتَ، وَمِنْ صَرْعَةٍ مُهْلِکَةٍ نَعَشْتَ، وَمِنْ مَشَقَّةٍ
کو مجھ سے دور کردیا اور مار ڈالنے والے تھپیڑوں سے امن دیا اور مشقت کی بجائے
أَرَحْتَ لاَ تُسْأَلُ عَمَّا تَفْعَلُ وَهُمْ یُسْأَ لُونَ، وَلاَ یَنْقُصُکَ ما أَ نْفَقْتَ،
راحت دی جو تو کرے میرے دشمن اس پر تجھے کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ تیرے سامنے جوابدہ ہیں عطا و بخشش سے تیرا خزانہ کم نہیں ہوتا
وَلَقَدْ سُئِلْتَ فَأَعْطَیْتَ، وَلَمْ تُسْأَلْ فَابْتَدَأْتَ، وَاسْتُمِیحَ بابُ فَضْلِکَ
جب بھی تجھ سے مانگا گیا تو، تو نے عطا کیا اور سوال نہ کیا گیا تو، بھی تو نے دیا اور تیری درگاہ عالی سے جو طلب کیا گیا
فَما أَکْدَیْتَ، أَبَیْتَ إلاَّ إنْعاماً وَامْتِناناً، وَ إلاَّ تَطَوُّلاً یَا رَبِّ وَ إحْساناً،
تو نے اس سے دریغ نہ کیا نہ ہی دیر کی مگر یہ کہ نعمت دی اور احسان کیا اور بہت زیادہ دیا اے پروردگار تو نے خوب دیا
وَأَبَیْتُ إلاَّ انْتِهاکاً لِحُرُماتِکَ، وَاجْتِرائً عَلی مَعاصِیکَ، وَتَعَدِیّاً
اور میںنے تو تیری حرمتوں کو توڑا اور تیری نافرمانی کرنے میں جرأت کی اور تیری حدوںسے تجاوز
لِحُدُودِکَ، وَغَفْلَةً عَنْ وَعِیدِکَ، وَطاعَةً لِعَدُوِّی وَعَدُوِّکَ، لَمْ یَمْنَعْکَ
کیا اور تیرے ڈرانے کے باوجود بے پروائی کی اور اپنے اور تیرے دشمن کی اطاعت کی لیکن
یَا إلهِی وَناصِرِی إخْلالِی بِالشُّکْرِ عَنْ إتْمامِ إحْسانِکَ، وَلاَ حَجَزَنِی
اے میرے پروردگار اے میرے مددگار میری ناشکری پر تو نے اپنے احسان کو مجھ سے نہیںروکا اور میری
ذلِکَ عَنِ ارْتِکابِ مَساخِطِکَ اَللّٰهُمَّ وَهذا مَقَامُ عَبْدٍ ذَلِیلٍ اعْتَرَفَ
نافرمانیاں ان عنائتوںمیں آڑے نہیں آئیں اے معبود یہ حال ہے تیرے اس ذلیل بندے کا جو تیری توحید کو
لَکَ بِالتَّوْحِیدِ، وَأَقَرَّ عَلی نَفْسِهِ بِالتَّقْصِیرِ فِی أَدائِ حَقِّکَ، وَشَهِدَ لَکَ
مانتا ہے اور خود کو تیرے حق کی ادائیگی میں قصوروار گردانتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ تو نے
بِسُبُوغِ نِعْمَتِکَ عَلَیْهِ وَجَمِیلِ عادَتِکَ عِنْدَهُ وَ إحْسانِکَ إلَیْهِ، فَهَبْ لِی
اس پر نعمتوں کی بارش فرمائی اوراسکے ساتھ اچھا برتاؤ کیا اور اس پر تیرا احسان ہی احسان ہے پس
یَا إلهِی وَسَیِّدِی مِنْ فَضْلِکَ ما أُرِیدُهُ سَبَباً إلی رَحْمَتِکَ، وَأَتَّخِذُهُ
اے میرے معبود اور اے میرے آقا مجھے اپنے فضل سے وہ رحمت نصیب فرما جس کا میں خواہاں ہوں تا کہ میںاسے زینہ بنا
سُلَّماً أَعْرُجُ فِیهِ إلی مَرْضاتِکَ، وَ آمَنُ بِهِ مِنْ سَخَطِکَ، بِعِزَّتِکَ
کر تیری رضاؤں تک پہنچ پاؤں اور تیری ناراضگی سے بچ سکوں تجھے واسطہ ہے اپنی عزت
وَطَوْلِکَ وَبِحَقِّ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا
و سخاوت اور اپنے نبی محمد مصطفیٰ کا پس حمد تیرے ہی لیے
رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی تو بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل
مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ
محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے
إلهِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ فِی کَرْبِ الْمَوْتِ، وَحَشْرَجَةِ
اے معبود بہت سے بندے ایسے ہیں جو موت کے شکنجے میں صبح اور شام کرتے ہیں جب کہ دم سینے میں
الصَّدْرِ، وَالنَّظَرِ إلی ما تَقْشَعِرُّ مِنْهُ الْجُلُودُ، وَتَفْزَعُ لَهُ الْقُلُوبُ، وَأَ نَا
گھٹ جاتا ہے اور آنکھیں وہ چیز دیکھتی ہیں جس سے بدن کانپ اٹھا ہے اوردل گھبراہٹ میں جاتا ہے اور میں
فِی عافِیَةٍ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ،
ان حالتوں سے امن میں رہا ہوں پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی
وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ
اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھ کو اپنی نعمتوں کا
مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی
شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میںقرار دے اے معبود بہت سے ایسے بندے ہیں جو صبح
وَأَصْبَحَ سَقِیماً مُوجَعاً فِی أَ نَّةٍ وَعَوِیلٍ یَتَقَلَّبُ فِی غَمِّهِ لاَ یَجِدُ
اور شام کرتے ہیں بیماری اور درد میں آہ و زاری کے ساتھ اور غم سے بے قرار ہوتے ہیں نہ کوئی چارہ رکھتے
مَحِیصاً، وَلاَ یُسِیغُ طَعاماً وَلاَ شَراباً، وَأَ نَا فِی صِحَّةٍ مِنَ الْبَدَنِ،
ہیں نہ انہیں کھانے پینے کا مزا بھلا لگتا ہے لیکن میں جسمانی لحاظ سے تندرست
وَسَلامَةٍ مِنَ الْعَیْشِ کُلُّ ذلِکَ مِنْکَ فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ
اور زندگی کے لحاظ سے آرام میں ہوں اور یہ سب تیرا ہی کرم ہے پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگارکہ تو وہ تواناہے
یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی
جسے شکست نہیں ہوتی اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیںکرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھ کو اپنی
لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَکَمْ مِنْ
نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اے معبود بہت سے ایسے
عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ خائِفاً مَرْعُوباً مُشْفِقاً وَجِلاً هارِباً طَرِیداً
بندے ہیں جو صبح اور شام کرتے ہیں ڈرے ہوئے دبے ہوئے سہمے ہوئے کانپتے ہوئے بھاگے ہوئے دھتکارے ہوئے
مُنْجَحِراً فِی مَضِیقٍ وَمَخْبَأَةٍ مِنَ الَْمخابِیََ قَدْ ضاقَتْ عَلَیْهِ الْاَرْضُ
تنگ کوٹھڑی میںگھسے ہوئے اور اوٹ میں چھپے ہوئے کہ یہ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود ان کے لیے تنگ ہے
بِرُحْبِها، لاَ یَجِدُ حِیلَةً وَلاَ مَنْجی وَلاَ مَأْوی، وَأَ نَا فِی أَمْنٍ وَطُمَأْنِینَةٍ
نہ انکا کوئی وسیلہ ہے نہ نجات کا ذریعہ اور نہ پناہ کی جگہ ہے جبکہ میںان باتوں سے امن و چین
وَعافِیَةٍ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ وَذِی
اور آرام و آسائش میں ہوں پس حمدتیرے ہی لیے ہے اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی اور تو وہ
أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ
بردبار ہے جو جلدی نہیںکرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھ کو اپنی نعمتوں کا
الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَسَیِّدِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ
شکر کرنے والوں اپنے احسانوںکا ذکر کرنے والوں میں قرار دے اے معبود بہت لوگ ایسے ہیں جنہوں
أَمْسی وَأَصْبَحَ مَغْلُولاً مُکَبَّلاً فِی الْحَدِیدِ بِأَیْدِی الْعُداةِ لاَ یَرْحَمُونَهُ
نے صبح اور شام کی جب کہ دشمنوں کے ہاتھوں ہتھکڑیوںاور بیڑیوں میںجکڑے ہیں کہ ان پر رحم نہیںکیا جاتا وہ
فَقِیداً مِنْ أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ، مُنْقَطِعاً عَنْ إخْوانِهِ وَبَلَدِهِ، یَتَوَقَّعُ کُلَّ ساعَةٍ
اپنے زن و فرزندسے جدا قید تنہائی میں ہیں اپنے شہر اور اپنے بھائیوں سے دور ہر لمحہ اس خیال میں ہیں کہ کس
بِأَیِّ قِتْلَةٍ یُقْتَلُ، وَبِأَیِّ مُثْلَةٍ یُمَثَّلُ بِهِ، وَأَ نَا فِی عافِیَةٍ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ
طرح انہیں قتل کیا جائے گا اور کس کس طرح ان کے جوڑ کا ٹے جائیں گے اور میں ان سب سختیوںسے محفوظ ہوں
فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ
پس حمد ہے تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار تو وہ تواناہے جسے شکست نہیں ہوتی اور تو وہ بردبارہے جو جلدی نہیں کرتا
عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے
مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ یُقاسِی الْحَرْبَ
یاد کرنے والوں میں قرار دے میرے معبود بہت سے ایسے بندے ہیںجنہوںنے صبح اور شام کی حالت جنگ
و َمُبا شَرَةَ الْقِتالِ بِنَفْسِهِ قَدْ غَشِیَتْهُ الْاَعْدائُ مِنْ کُلِّ جانِبٍ بِالسُّیُوفِ
اور میدان قتال میں جب کہ ان پر دشمن چھائے ہوئے ہیں اور ہر طرف سے ان پر آبدار شمشیریں
وَالرِّماحِ وَآلَةِ الْحَرْبِ، یَتَقَعْقَعُ فِی الْحَدِیدِ قَدْ بَلَغَ مَجْهُودَهُ لاَ یَعْرِفُ
اور تیز دھار نیزے اور دیگر اسلحہ کے وار ہورہے ہیں ان کی ہمت ٹوٹ چکی ہے وہ نہیں جانتے کہ اب کیاکریں
حِیلَةً، وَلاَ یَجِدُ مَهْرَباً، قَدْ أُدْنِفَ بِالْجِراحَاتِ، أَوْ مُتَشَحِّطاً بِدَمِهِ
کوئی جگہ نہیں جہاںبھاگ کے چلے جائیں وہ زخموں سے چور ہیں یا اپنے خون میں غلطاں گھوڑوں
تَحْتَ السَّنابِکِ وَالْاَرْجُلِ، یَتَمَنَّی شَرْبَةً مِنْ مائٍ أَوْ نَظْرَ ةً إلی أَهْلِهِ
کے سموں کی زد میں بے بس پڑے ہیں وہ ایک گھونٹ پانی کو ترس رہے ہیں یا اپنے زن و فرزند کو ایک نظر دیکھنے کے
وَوَلَدِهِ لاَ یَقْدِرُ عَلَیْها، وَأَ نَا فِی عافِیَةٍ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ فَلَکَ الْحَمْدُ یَا
تڑپ رہے ہیں اور اتنی طاقت نہیں رکھتے اور میں ان سب دکھوں سے بچا ہؤا ہوں پس حمد تیرے ہی لیے ہے
رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اے پروردگار کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیںہوتی اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل
مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ ۔
محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں سے قرار دے
إلهِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ فِی ظُلُماتِ الْبِحارِ وَعَواصِفِ
میرے معبود بہت سے بندے ایسے ہیں جنہوں نے صبح اور شام کی سمندروں کی تاریکیوں اور باد و باران کے بلاخیز طوفانوں
الرِّیاحِ وَالْاَهْوالِ وَالْاَمْواجِ، یَتَوَقَّعُ الْغَرَقَ وَالْهَلاکَ، لاَ یَقْدِرُ عَلی
میں اور بپھری ہوئی موجوں کے خطروں میں جب کہ انہیں ڈوب کے مرجانے کا خوف ہو وہ اس سے بچ نکلنے کا کوئی
حِیلَةٍ، أَوْ مُبْتَلیً بِصاعِقَةٍ أَوْ هَدْمٍ أَوْ حَرْقٍ أَوْشَرْقٍ أَوْ خَسْفٍ أَوْ
راستہ نہیںپاتے یا وہ گھر چمکتی بجلیوں میں گھرے ہوئے ہیں یا بے موت مرنے یا جل جانے یا دم گھٹ جانے یا زمین میں دھنسنے
مَسْخٍ أَوْ قَذْفٍ، وَأَ نَا فِی عافِیَةٍ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ فَلَکَ الْحَمْدُ یَا رَبِّ مِنْ
یا صورت بگڑنے یا بیماری کے حال میں ہیں اور میں ان ساری تکلیفوں سے امن میں ہوں پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے پروردگار
مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، و َذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
کہ تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیںہوتی تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیںکرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما
وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، إلهِی
اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اے معبود
وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ مُسافِراً شاخِصاً عَنْ أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ،
بہت بندے ایسے ہیں جنہوں نے صبح اور شام کی حالت سفر میںاپنے زن و فرزند سے دور بیابانوں
مُتَحَیِّراً فِی الْمَفاوِزِ، تایِهاً مَعَ الْوُحُوشِ وَالْبَهائِمِ وَالْهَوامِّ، وَحِیداً
میںراستہ بھولے ہوئے ہیںوہ وحشی درندوں، چوپایوں اور کا ٹنے والے کیڑے مکوڑوں میں یکتا و تنہا
فَرِیداً لاَ یَعْرِفُ حِیلَةً وَلاَ یَهْتَدِی سَبِیلاً، أَوْ مُتَأَذِّیاً بِبَرْدٍ أَوْ حَرٍّ أَوْ
پریشان ہیںجہاںان کاکوئی چارہ نہیںاور نہ انہیںکوئی راہ سوجھتی ہے یا سردی میںٹھٹھرتے یا گرمی میں جلتے ہیںیا
جُوعٍ أَوْ عُرْیٍ أَوْ غَیْرِهِ مِنَ الشَّدائدِ مِمَّا أَ نَا مِنْهُ خِلْوٌ فِی عافِیَةٍ مِنْ
بھوک یا عریانی و غیرہ ایسی سختیوں میں گرفتار ہیں جن سے میں ایک طرف ہوں اور ان سب دکھوں
ذلِکَ کُلِّهِ فَلَکَ الْحَمْدُ یا رَبِّ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ
سے آرام میں ہوں پس حمدتیرے ہی لیے ہے اے پروردگار تو وہ توانا ہے جسے شکست نہیںہوتی اور تو وہ بردبار ہے جو
یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ
جلدی نہیں کرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام رحمت نازل فرما پر اور مجھے اپنی نعمتوں کا شکر کرنے
الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، إلهِی وَسَیِّدِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ
والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے میرے معبود اور میرے آقا بہت سے بندے ایسے ہیںجو
أَمْسی وَأَصْبَحَ فَقِیراً عائِلاً عارِیاً مُمْلِقاً مُخْفِقاً مَهْجُوراً جائِعاً
صبح و شام کرتے ہیںجبکہ وہ محتاج بے خرچ بے لباس بے نوا سرنگوں گوشہ نشیں خالی پیٹ
ظَمْآناً، یَنْتَظِرُ مَنْ یَعُودُ عَلَیْهِ بِفَضْلٍ، أَوْ عَبْدٍ وَجِیهٍ عِنْدَکَ هُوَ أَوْجَهُ
اورپیاسے ہیںوہ دیکھتے ہیںکہ کون آتا ہے جو ہمیں خیرات دے یا ایسا آبرومند بندہ جو تیرے ہاںمجھ سے زیادہ
مِنِّی عِنْدَکَ وَأَشَدُّ عِبادَةً لَکَ، مَغْلُولاً مَقْهُوراً قَدْ حُمِّلَ ثِقْلاً مِنْ تَعَبِ
عزت دار ہے اور تیری عبادت و فرمانبرداری میںبڑھا ہؤا ہے وہ حقارت کی قید میںہے اس نے تکلیفوں کا بوجھ کندھوں
الْعَنائِ، وَشِدَّةِ الْعُبُودِیَّةِ، وَکُلْفَةِ الرِّقِّ، وَثِقْلِ الضَّرِیبَةِ، أَوْ مُبْتَلیً بِبَلائٍ
پر اٹھا رکھا ہے ا ور غلامی کی سختی اور بندگی کی تکلیف اور تلوار کا زخم کھائے ہوئے یا بڑی مصیبت میں گرفتار
شَدِیدٍ لاَ قِبَلَ لَهُ إلاَّ بِمَنِّکَ عَلَیْهِ، وَأَ نَا الْمَخْدُومُ الْمُنَعَّمُ الْمُعافَی
ہے کہ جن کو سہہ نہیںسکتا سوائے اس مدد کے جو تو کرے اور مجھے خدمتگار نعمتیں عافیت اور عزت
الْمُکَرَّمُ فِی عافِیَةٍ مِمَّا هُوَ فِیهِ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلی ذلِکَ کُلِّهِ مِنْ مُقْتَدِرٍ
حاصل ہے میںان چیزوں سے امان میں ہوںپس حمد تیرے ہی لیے ہے ان تمام عنایتوں پر کہ تو وہ توانا ہے
لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی
جسے شکست نہیںہوتی اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیںکرتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی
لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ إلهِی وَسَیِّدِی وَکَمْ
نعمتوںکا شکر کرنے والوں اور اپنے احسانوں کو یاد کرنے والوں میں قرار دے میرے معبود اور میرے مولا بہت سے ایسے بندے
مِنْ عَبْدٍ أَمْسَی وَأَصْبَحَ عَلِیلاً مَرِیضاً سَقِیماً مُدْنِفاً عَلی فُرُشِ الْعِلَّةِ
ہیںجنہوں نے صبح وشام کی جب کہ وہ علیل بیمار کمزور بدحال ہیں بستر علالت پر بیماروں کے لباس
وَفِی لِباسِها یَتَقَلَّبُ یَمِیناً وَشِمالاً، لاَ یَعْرِفُ شَیْئاً مِنْ لَذَّةِ الطَّعامِ وَلاَ
میں دائیں بائیں کروٹیں بدل رہے ہیں ان کو کھانے کی کسی چیز کا ذائقہ نصیب نہیںاور نہ پینے کی کوئی چیز
مِنْ لَذَّةِ الشَّرابِ ، یَنْظُرُ إلی نَفْسِهِ حَسْرَةً لاَ یَسْتَطِیعُ لَها ضَرّاً وَلاَ
پی سکتے ہیںوہ اپنے آپ پرحسرت کی نظر ڈالتے ہیںکہ وہ خود کو کچھ فائدہ یا نقصان پہنچانے پر قادر نہیں
نَفْعاً، وَأَ نَا خِلْوٌ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ فَلا إلهَ إلاَّ أَ نْتَ
اور میںان دکھوں سے امن میں ہوں یہ تیرا کرم اور تیری نوازش ہے پس تیرے سوا کوئی معبود نہیں
سُبْحانَکَ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ
تو پاک ہے ایسا توانا ہے جسے شکست نہیںہوتی اور تو وہ بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمد
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لَکَ مِنَ الْعابِدِینَ، وَ لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ ،
و آل محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنے عبادت گذاروں سے اور اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والوں
وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، وَارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اور اپنی مہربانی سے مجھ پر رحمت فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
مَوْلایَ وَسَیِّدِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ وَقَدْ دَنا یَوْمُهُ مِنْ
میرے مولا اور میرے آقا بہت سے بندے ہیں جنہوں نے صبح اور شام کی جبکہ ان کی موت کا وقت قریب
حَتْفِهِ، وَأَحْدَقَ بِهِ مَلَکُ الْمَوْتِ فِی أَعْوانِهِ یُعالِجُ سَکَراتِ الْمَوْتِ
آگیا ہے اور فرشتہ اجل نے اپنے ساتھیوں سمیت انہیں گھیر رکھا ہے وہ موت کی غشیوں میں جان کنی کی سختیوں میں
وَحِیاضَهُ، تَدُورُ عَیْناهُ یَمِیناً وَشِمالاً یَنْظُرُ إلی أَحِبَّائِهِ وَأَوِدَّائِهِ
پڑے ہیں وہ دائیں بائیں نظریں گھما گھما کر اپنے دوستوں مہربانوں اور ساتھیوں کو دیکھتے ہیں جبکہ وہ
وَأَخِلاَّئِهِ، قَدْ مُنِعَ مِنَ الْکَلامِ، وَحُجِبَ عَنِ الْخِطابِ ، یَنْظُرُ إلی
بولنے سے قاصر اور گفتگو کرنے سے عاجز ہیں وہ اپنے آپ پر حسرت کی نگاہ ڈالتے ہیں
نَفْسِهِ حَسْرَةً لاَ یَسْتَطِیعُ لَها ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً، وَأَ نَا خِلْوٌ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ
جس کے نفع و نقصان پر قدرت نہیں رکھتے اور میں ان تمام مشکلوں سے محفوظ ہوں
بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ فَلاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی
یہ تیرا کرم اور احسان ہے پس تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے ایسا توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی اور ایسا
أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ
بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا محمد و آل محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کے شکر گزاروں
الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، وَارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ
اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں سے قرار دے اور اپنی مہربانی سے مجھ پر رحمت فرما اے سب سے زیادہ
الرَّاحِمِینَ مَوْلایَ وَسَیِّدِی وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ فِی
رحم کرنے والے میرے مولا اور میرے آقا بہت سے بندے ہیں جنہوں نے صبح اور شام کی جب وہ
مَضائِقِ الْحُبُوسِ وَالسُّجُونِ وَکُرَبِها وَذُ لِّها وَحَدِیدِها یَتَداوَلُهُ
زندانوں اور قید خانوں کی تنگ کوٹھڑیوں میں تکلیفوں اور ذلتوں کے ساتھ بیڑیوں میں جکڑے ایک نگران سے
أَعْوانُها وَزَبانِیَتُها فَلا یَدْرِی أَیُّ حالٍ یُفْعَلُ بِهِ، وَأَیُّ مُثْلَةٍ یُمَثَّلُ بِهِ،
دوسرے سخت گیر نگران کے حوالے کیے جاتے ہیں پس نہیں جانتے کہ ان کا کیا حال ہوگا اور ان کا کون کون سا جوڑ کاٹا جائے گا
فَهُوَ فِی ضُرٍّ مِنَ الْعَیْشِ وَضَنْکٍ مِنَ الْحَیاةِ یَنْظُرُ إلی نَفْسِهِ حَسْرَةً لاَ
تو وہ گزرہ مشکل اور زندگی دشوار ہے۔ وہ اپنے آپ کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ جس کے
یَسْتَطِیعُ لَها ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً، وَأَ نَا خِلْوٌ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ بِجُودِکَ وَکَرمِکَ
نفع و نقصان پر اختیار نہیں رکھتے اور میں ان سب غموں سے آزاد ہوں یہ تیرا کرم اور احسان ہے
فَلاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ ،
پس تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے ایسا توانا ہے جسے شکست نہیںہوتی اور ایسا بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا
صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لَکَ مِنَ الْعابِدِینَ، وَ لِنَعْمائِکَ
محمدعليهالسلام و آل محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنے عبادت گزاروں اور اپنی نعمتوں کا
مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، وَارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ یَا
شکر ادا کرنے والوں اور اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قرار دے اور اپنی مہربانی سے مجھ پر رحمت فرما اے
أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ سَیِّدِی وَمَوْلایَ وَکَمْ مِنْ عَبْدٍ أَمْسی وَأَصْبَحَ قَدِ
سب سے زیادہ رحم کرنے والے میرے سردار اور میرے مولا بہت سے بندے ہیں جنہوں نے صبح اور شام کی جن پر
اسْتَمَرَّ عَلَیْهِ الْقَضائُ، وَأَحْدَقَ بِهِ الْبَلائُ، وَفارَقَ أَوِدَّاءَهُ وَأَحِبَّاءَهُ
قضا وارد ہوچکی ہے اور بلاؤں نے انہیں گھیرا ہؤا ہے اور وہ اپنے دوستوں مہربانوں اور ساتھیوں سے جدا ہیں
وَأَخِلاَّءَهُ، وَأَمْسی أَسِیراً حَقِیراً ذَلِیلاً فِی أَیْدِی الْکُفَّارِ وَالْاَعْدائِ
اور انہوں نے کافروں کے ہاتھوں قیدی ناپسندیدہ اور خوار ہوکر شام کی ہے اور دشمن ان کو
یَتَداوَلُونَهُ یَمِیناً وَشِمالاً قَدْ حُصِرَ فِی الْمَطامِیرِ، وَثُقِّلَ بِالْحَدِیدِ، لاَ
دائیں بائیں کھینچتے ہیں جب کہ وہ کال کوٹھڑیوں میں بند ہیں اور بیڑیاںلگی ہوئی وہ زمین پر پھیلنے
یَری شَیْئاً مِنْ ضِیائِ الدُّنْیا وَلاَ مِنْ رَوْحِها، یَنْظُرُ إلی نَفْسِهِ حَسْرَةً لاَ
والے اجالے کو نہیں دیکھ پاتے اور نہ کوئی خوشبو سونگھتے ہیں وہ اپنے آپ کو حسرت سے دیکھتے ہیں کہ جس کے
یَسْتَطِیعُ لَها ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً، وَأَ نَا خِلْوٌ مِنْ ذلِکَ کُلِّهِ بِجُودِکَ وَکَرمِکَ
نفع و نقصان پر وہ کچھ بھی اختیار نہیںرکھتے اور میں ان سب تنگیوں سے امن میں ہوں یہ تیرا کرم اور احسان ہے
فَلاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ مِنْ مُقْتَدِرٍ لاَ یُغْلَبُ، وَذِی أَناةٍ لاَ یَعْجَلُ،
پس تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے ایسا توانا ہے جسے شکست نہیں ہوتی اور ایسا بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا
صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لَکَ مِنَ الْعابِدِینَ، وَ لِنَعْمائِکَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنے عبادت گذاروں اور اپنی نعمتوں کاشکر ادا کرنے والوں اور
مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ، وَارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اپنے احسانوں کے یاد کرنے والوں میں قراردے اور اپنی مہربانی سے مجھ پر رحمت فرما ایسب سے زیادہ رحم کرنے والے
وَعِزَّتِکَ یَا کَرِیمُ لاَََطْلُبَنَّ مِمَّا لَدَیْکَ، وَلاََُلِحَّنَّ عَلَیْکَ، وَلاَََمُدَّنَّ یَدِی نَحْوَکَ
واسطہ ہے تیری عزت کا اے کریم کہ میں وہ طلب کرتا ہوں جو تیرے پاس ہے اور باربارمانگتا ہوں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں
مَعَ جُرْمِها إلَیْکَ یَا رَبِّ فَبِمَنْ أَعُوذُ وَبِمَنْ أَلُوذُ لاَ أَحَدَ لِی إلاَّ أَ نْتَ،
اگرچہ یہ تیرے ہاں مجرم ہے اے پروردگار پھر کس کی پناہ لوں اور کس سے عرض کروں سوائے تیرے میرا کوئی نہیں کیا تو مجھے ہنکا دے گا
أَفَتَرُدَّنِی وَأَ نْتَ مُعَوَّلِی وَعَلَیْکَ مُتَّکَلِی أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ الَّذی وَضَعْتَهُ عَلَی
جب کہ تو ہی میرا تکیہ ہے اور تجھی پر میرابھروسہ ہے میںتیرے اس نام کے ذریعے سوال کرتا ہوں جسے تو نے آسمانوں پر رکھا
السَّمائِ فَاسْتَقَلَّتْ وَعَلَی الْاَرْضِ فَاسْتَقَرَّتْ وَعَلَی الْجِبالِ فَرَسَتْ وَعَلَی اللَّیْلِ
تو وہ مستقل ہوگئے اور زمین پر رکھا تو قائم ہوگئی اور پہاڑوں پر رکھا تو وہ اپنی جگہ جم گئے اور رات پر رکھا تو
فَأَظْلَمَ وَعَلَی النَّهارِ فَاسْتَنارَ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَقْضِیَ لِی
وہ کالی ہوگئی اور دن پر رکھا تو وہ چمک اٹھا ہاں تومحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمد پر رحمت نازل فرما اور میری تمام حاجتیں
حَوائِجِی کُلَّها وَتَغْفِرَ لِی ذُنُوبِی کُلَّها صَغِیرَها وَکَبِیرَها وَتُوَسِّعَ عَلَیَّ مِنَ الرِّزْقِ
پوری کردے اور میرے سبھی گناہ معاف فرمادے چھوٹے بھی اوربڑے بھی اور میرے رزق میں فراخی فرما
ما تُبَلِّغُنِی بِهِ شَرَفَ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ مَوْلایَ بِکَ اسْتَعَنْتُ
کہ جس سے مجھے دنیا اور آخرت میں عزت حاصل ہو اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے میرے مولا میں تجھی سے مدد مانگتا ہوں
فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَعِنِّی وَبِکَ اسْتَجَرْتُ فَأَجِرْنِی وَأَغْنِنِی
پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور میری مدد کر میں تیری پناہ لیتا ہوں پس مجھے پناہ دے اور اپنی اطاعت کے ذریعے مجھے اپنے
بِطاعَتِکَ عَنْ طاعَةِ عِبادِکَ وَبِمَسْأَلَتِکَ عَنْ مَسْأَلَةِ خَلْقِکَ وَانْقُلْنِی مِنْ ذُلِّ الْفَقْرِ
بندوں کی اطاعت سے بے نیاز کردے اپنا سوالی بناکر لوگوں کا سوالی بننے سے بچالے اور فقر کی ذلت سے نکال کر بے نیازی کی
إلی عِزِّ الْغِنیٰ وَمِنْ ذُلِّ الْمَعاصِی إلی عِزِّ الطَّاعَةِ فَقَدْ فَضَّلْتَنِی عَلی کَثِیرٍ مِنْ
عزت دے اور نافرمانی کی ذلت کے بجائے فرمانبرداری کی عزت دے تو نے مجھے اپنے کثیر بندوں پر جو بڑائی دی ہے وہ محض تیرا
خَلْقِکَ جُوداً مِنْکَ وَکَرَماً لاَ بِاسْتِحْقاقٍ مِنِّی إلهِی فَلَکَ الْحَمْدُ عَلی ذلِکَ کُلِّهِ صَلِّ عَلی
فضل و کرم ہے نہ یہ کہ میں اس کا حقدار ہوں اے معبود تیرے ہی لیے حمد ہے کہ تو نے یہ مہربانیاں فرمائیں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی لِنَعْمائِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ مِنَ الذَّاکِرِینَ ۔
رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کے شکرگذاروں اور اپنے احسانوں کو یاد کرنے والوں میں قرار دے
پھر سجدہ میں جائے اور کہے:سَجَدَ وَجْهِیَ الذَّلِیلُ لِوَجْهِکَ الْعَزِیزِ الْجَلِیلِ، سَجَدَ وَجْهِیَ
میرے کمتر چہرے نے تیری ذات عزیز و جلیل کو سجدہ کیا میرے فانی و پست
الْبالِي الْفانِی لِوَجْهِکَ الدَّائِمِ الْباقِی، سَجَدَ وَجْهِیَ الْفَقِیرُ لِوَجْهِکَ الْغَنِيِّ
چہرے نے تیری ہمیشہ قائم رہنے والی ذات کو سجدہ کیا میرے محتاج چہرے نے تیری بے نیاز
الْکَبِیرِ، سَجَدَ وَجْهِی وَسَمْعِی وَبَصَرِی وَلَحْمِی وَدَمِی وَجِلْدِی
و بلند ذات کو سجدہ کیا میرے چہرے کان آنکھ گوشت خون چمڑے
وَعَظْمِی وَما أَقَلَّتِ الْاَرْضُ مِنِّی لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ عُدْ عَلی
اور ہڈی نے اور میرا جو کچھ روئے زمین پر ہے اس نے عالمین کے رب کو سجدہ کیا خدایا میری جہالت کو
جَهْلِی بِحِلْمِکَ، وَعَلی فَقْرِی بِغِناکَ، وَعَلی ذُ لِّی بِعِزِّکَ وَسُلْطانِکَ،
بردباری سے ڈھانپ لے میری محتاجی پر اپنی دولت برسادے میری پستی کو اپنی بلندی و اختیار سے دور فرما
وَعَلی ضَعْفِی بِقُوَّتِکَ، وَعَلی خَوْفِی بِأَمْنِکَ، وَعَلی ذُ نُوبِی
اور میری کمزوری کو اپنی قوت سے دور کردے اور میرے خوف کو اپنے امن سے مٹادے اور میری خطاؤں
وَخَطایایَ بِعَفْوِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْرَأُ بِکَ
اور گناہوں کو اپنی رحمت سے بخش دے اے رحم والے اے مہربان اے اللہ میں تیری پناہ لیتا
فِی نَحْرِ فُلانِ بْنِ فُلان، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّهِ فَاکْفِنِیهِ بِما کَفَیْتَ بِهِ
ہوں فلاں بن فلاں کے حملوں سے اور اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں پس اس سے میری کفایت کر جیسے اپنے
أَنْبِیاءَکَ وَأَوْ لِیاءَکَ مِنْ خَلْقِکَ وَصالِحِی عِبادِکَ مِنْ فَراعِنَةِ خَلْقِکَ،
انبیائ کی اور اولیائ کی اپنی مخلوق سے اپنے نیک بندوں کی کفایت فرمائی اپنی مخلوق میںسے سرکشوں
وَطُغاةِ عُداتِکَ، وَشَرِّ جَمِیعِ خَلْقِکَ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرّاحِمِینَ،
اور شریروں سے جو تیرے دشمن تھے اور ساری مخلوق کے شر سے اپنی رحمت کے ساتھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
إنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَحَسْبُنَا ﷲ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ ۔
بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ ہمارے لیے کا فی ہے جو بہترین کارساز ہے
دعائ سیفی صغیر یعنی دعائ قاموس
شیخ اجل ثقتہ الاسلام نوریرحمهالله نے صحیفہ علویہ ثانیہ میں دعا سیفی کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ طلسمات اور علم تسخیرکے ماہرین نے اس دعا کی عجیب و غریب شرح کی اور اسکے حیرت انگیز اثرات بیان کیے ہیں چونکہ میں ایسے لوگوں پر چنداں اعتماد نہیں کرتا لہذا میں نے انکے اقوال نقل نہیں کیے لیکن یہاں میں اصل دعا کو بطور تسامح اور چشم پوشی اور علمائے اعلام کی پیروی میں نقل کر رہاہوں اور وہ یہ ہے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
شروع خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
رَبِّ أَدْخِلْنِی فِی لُجَّةِ بَحْرِ أَحَدِیَّتِکَ، وَطَمْطَامِ یَمِّ وَحْدانِیَّتِکَ،
خدایا مجھے اپنی یگانگی کے سمندر میں داخل فرما اور اپنی یکتائی کی
وَقَوِّنِی بِقُوَّةِ سَطْوَةِ سُلْطانِ فَرْدانِیَّتِکَ، حَتَّی أَخْرُجَ إلی فَضَائِ سَعَةِ
موجوں میں وارد کردے اورمجھے اپنی سلطنتِ وحدانیت کے دبدبہ سے قوت عطا کر یہاں تک کہ میں تیری رحمت کی وسیع
رَحْمَتِکَ، وَفِی وَجْهِی لَمَعاتُ بَرْقِ الْقُرْبِ مِنْ آثارِ حِمایَتِکَ، مَهِیباً
فضائ میں جاپہنچوں اور میرے چہرے پر تیرے قرب کی روشنی کی کرنیں تیری حمایت کی نشانیاں بن جائیں
بِهَیْبَتِکَ، عَزِیزاً بِعِنایَتِکَ، مُتَجَلِّلاً مُکَرَّماً بِتَعْلِیمِکَ وَتَزْکِیَتِکَ، وَ
تیرے رعب سے مجھے رعب ملے تیری مہربانی سے معزز ہوجائوں تیری تعلیم وتربیت سے مجھے جلالت و کرامت حاصل ہو
أَلْبِسْنِی خِلَعَ الْعِزَّةِ وَالْقَبُولِ، وَسَهِّلْ لِی مَناهِجَ الْوُصْلَةِ وَالْوُصُولِ،
مجھے عزت وقبولیت کا لباس پہنا دے اور میرے لیے اپنے قرب و وصال کی راہیں آسان فرما دے
وَتَوِّجْنِی بِتاجِ الْکَرامَةِ وَالْوَقارِ، وَأَ لِّفْ بَیْنِی وَبَیْنَ أَحِبَّائِکَ فِی دارِ
میرے سر پر شان و شوکت کا تاج سجادے اور اس دنیا اور دوسری دنیا میں اپنے پیاروں اورمیرے درمیان
الدُّنْیا وَدارِ الْقَرارِ، وَارْزُقْنِی مِنْ نُورِ اسْمِکَ هَیْبَةً وَسَطْوَةً تَنْقادُ لِیَ
الفت قائم کر دے اپنے نام کے نور سے مجھے ایسارعب ودبدبہ عطا فرما کہ لوگوں کے دل اور جانیں میری مطیع ہوں
الْقُلُوبُ وَالْاَرْواحُ، وَتَخْضَعُ لَدَیَّ النُّفُوسُ وَالْاَشْباحُ، یَا مَنْ ذَ لَّتْ
اور ان کے جسم اور نفوس میرے آگے جھکے رہیں اے وہ جس کے سامنے ظالم لوگ پست ہیں
لَهُ رِقابُ الْجَبابِرَةِ، وَخَضَعَتْ لَدَیْهِ أَعْناقُ الْاَکاسِرَةِ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ
اور جس کے حضور بادشاہوں کی گردنیں جھکی ہوئی ہیں پناہ اور نجات نہیں
مَنْجیً مِنْکَ إلاَّ إلَیْکَ، وَلاَ إعانَةَ إلاَّ بِکَ، وَلاَ اتِّکاءَ إلاَّ عَلَیْکَ، ادْفَعْ
مگر تیری ہی جناب میں اور نہیں کوئی امداد مگر تیری طر ف سے نہیں کوئی تکیہ گاہ مگر تو ہی ہے
عَنِّی کَیْدَ الْحاسِدِینَ، وَظُلُماتِ شَرِّ الْمُعانِدِینَ، وَارْحَمْنِی تَحْتَ
مجھ سے حاسدوں کے فریب اور دشمنوں کے شر کے اندھیرے دور فرما اور پردہ ہائے عرش کے سائے میں جگہ دے
سُرادِقَاتِ عَرْشِکَ یَا أَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ، أَیِّدْ ظاهِرِی فِی تَحْصِیلِ
مجھ پر رحمت فرما اے سب سے زیادہ بزرگی والے میری کمر مضبوط فرما کہ میں تیری پسندیدہ
مَراضِیکَ، وَنَوِّرْ قَلْبِی وَسِرِّی بِالاطِّلاعِ عَلی مَناهِجِ مَساعِیکَ،
چیزیں حاصل کروں میرے قلب وروح کو روشن کر دے تاکہ میں تیرے لیے کوشش کرنے کی راہیں دیکھوں
إلهِی کَیْفَ أَصْدُرُ عَنْ بابِکَ بِخَیْبَةٍ مِنْکَ، وَقَدْ وَرَدْتُهُ عَلی ثِقَةٍ بِکَ
میرے معبود میں کس طرح تیرے دروازے سے مایوس ہو کر پلٹ جائوں جبکہ تجھ پر بھروسہ کر کے یہاں حاضر ہوا ہوں
وَکَیْفَ تُؤْیِسُنِی مِنْ عَطائِکَ وَقَدْ أَمَرْتَنِی بِدُعائِکَ وَهَا أَ نَا مُقْبِلٌ
اور تواپنی اطاعت سے مجھے کیسے مایوس کرے گا جب کہ تیرا حکم ہے کہ تجھے پکارا کروں اور اب میں تیرے حضور آن پڑا ہوں
عَلَیْکَ، مُلْتَجِیٌَ إلَیْکَ، باعِدْ بَیْنِی وَبَیْنَ أَعْدائِی کَما باعَدْتَ بَیْنَ
تجھ سے عرض کرتا ہوں کہ میرے اور میرے دشمنوں میں دوری کردے جیسے تو نے میرے دشمنوں میں دوری
أَعْدائِی، اخْتَطِفْ أَبْصارَهُمْ عَنِّی بِنُورِ قُدْسِکَ وَجَلالِ مَجْدِکَ، إنَّکَ
ڈالی میری طرف سے ان کی آنکھوں کو چندھیا دے اپنے پاکیزہ نور اور اپنی جلالت شان سے بے شک تو ہی
أَنْتَ ﷲ الْمُعْطِی جَلائِلَ النِّعَمِ الْمُکَرَّمَةِ لِمَنْ نَاجَاکَ بِلَطائِفِ
وہ ﷲ ہے جواپنے لطف وکرم سے اپنی عظیم نعمتیں اسے عطا فرماتا ہے جو چپکے چپکے تجھ سے
رَحْمَتِکَ، یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ وَصَلَّی ﷲ عَلی
سوال کرتا ہے اے زندہ نگہبان اے جلالت و بزرگی کے مالک اور اے ﷲ ہمارے
سَیِّدِنا وَنَبِیِّنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ
سردار اور ہمارے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی ساری طاہر و اطہر آل پر رحمت فرما۔
ساتویں فصل
بعض قرآنی آیات اور دعائیں
اس میں بعض قرآنی آیات اور چند مختصر و مفید دعائیں مذکور ہیں جو میں نے معتبر کتب سے منتخب کی ہیں ۔ان میں اول یہ قرآنی آیات ہیں کہ جنہیں سید اجل سید علی خاں شیرازیرحمهالله نے کتاب کلم طیب میں نقل کیا ہے کہ اسم اعظم لفظ ﷲ سے شروع اور لفظ ھُوَ پر ختم ہوتاہے اس میں اسم کے حروف بلانقطہ کے ہیں اور اس پر اعراب لگائیں یا نہ لگائیں، اسکی قرائت میں کوئی فرق نہیں پڑتا اوروہ قرآن کریم کی پانچ سورتوں یعنی سورہ بقرہ ، آل عمران ، نسائ ، طٰہٰ اور تغابن کی پانچ آیتوں میں موجود ہے۔ شیخ مغربی کافرمان ہے کہ جو شخص روزانہ گیارہ مرتبہ ان آیات کے پڑھنے کو اپنا ورد بنا لے تواسکی ہر چھوٹی بڑی مشکل بہت جلد آسان ہو جائے گی اور وہ پانچ آیات یہ ہیں :
( ۱ ) دعائ اسم اعظم
﴿ ۱ ﴾ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُیه آیت الکرسی هے اسے تا آخر پڑهنا چاهیئے : ﴿ ۲ ﴾ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ
ﷲ وہ ہے کہ جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ وقائم ہے ﷲ وہ ہے کہ جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ و قائم ہے اس نے تم پر کتاب برحق
هُوَالْحَیُّ الْقَیُّومُ نَزَّل عَلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالاِِنْجِیلَ
نازل کی جواپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے توریت و انجیل نازل کی
مِنْ قَبْلُ هُدَیً لِلنَّاسِ وَأَنْزَلَ الْفُرْقانَ ﴿ ۳ ﴾ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إلی یَوْمِ الْقِیَامَةِ
اور اسی نے قرآن اتارا ہے ﷲ وہ ہے کہ جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہ ضرورتم سب کو قیامت کے دن اکٹھا کرے گا اس میں شک نہیں
لاَرَیْبَ فِیهِ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ﷲ حَدِیثاً ﴿ ۴ ﴾ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ لَهُ الْاَسْمائُ الْحُسْنَی
بات کہنے میں ﷲ تعالیٰ سے زیادہ سچا کون ہے۔ﷲ وہ ہے کہ جسکے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں۔
﴿ ۵ ﴾ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ وَعَلَی ﷲ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
ﷲ وہ ہے کہ جسکے سوا کوئی معبود نہیں اور مومن تو ﷲ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
( ۲ ) دعائ توسل
علامہ مجلسی نے فرمایا کہ بعض معتبر کتابوں میں محمد بن بابویہ سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے دعائ توسل کو ائمہ معصومین سے روایت کیا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ میں نے اس دعا کو جس مقصد کے لیے بھی پڑھا بہت جلد اس کی قبولیت کااثر دیکھا اور وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ وَأَتَوَجَّهُ إلَیْکَ بِنَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں تیرے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نبی رحمت حضرت محمد
یَا أَبَا الْقاسِمِ یَا رَسُولَ ﷲ یَا إمامَ الرَّحْمَةِ یَا سَیِّدَنا وَمَوْلاَنَا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا
کے وسیلے سے اے ابوالقاسمصلىاللهعليهوآلهوسلم اے ﷲ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے امامعليهالسلام رحمت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں
وَتَوَسَّلْنا بِکَ إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجاتِنا، یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا
اور آپ کو بارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت
عِنْدَ ﷲ یَا أَبَا الْحَسَنِ، یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، یَا عَلِیُّ بْنَ أَبِی طالِبٍ، یَا حُجَّةَ ﷲ
والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابوالحسنعليهالسلام اے امیرالمومنینعليهالسلام اے علیعليهالسلام ابن ابی طالبعليهالسلام اے خلق خدا پر اس کی حجت
عَلی خَلْقِهِ یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکَ
اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں
بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا یا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ ﷲ یا فاطِمَةَ الزَّهْرائِ
اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے فاطمہ الزہرا
یَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ، یَا قُرَّةَ عَیْنِ الرَّسُولِ، یَا سَیِّدَتَنا وَمَوْلاتَنا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا
اے دختر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آنکھوں کی ڈھنڈک اے ہماری سردار اور ہماری آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی
وَتَوَسَّلْنا بِکِ إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکِ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا، یَا وَجِیهَةً عِنْدَ ﷲ اشْفَعِی لَنا
میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیںآپکے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والی خدا کے حضور ہماری
عِنْدَ ﷲ یَا أَبا مُحَمَّدٍ، یَا حَسَنُ بْنَ عَلِیٍّ، أَ یُّهَا الْمُجْتَبی، یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ، یَا
سفارش کیجئے اے ابومحمدعليهالسلام اے حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام اے پسندیدہ اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے خلق خدا پر اس کی حجت
حُجَّةَ ﷲ عَلی خَلْقِهِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ
اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں آپ کو بارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ
إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا، یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ ﷲ یَا أَبا
بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے امنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابو
عَبْدِﷲ، یَا حُسَیْنُ بْنَ عَلِیٍّ، أَ یُّهَا الشَّهِیدُ، یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ، یَا حُجَّةَ ﷲ عَلی
عبدﷲعليهالسلام اے حسینعليهالسلام بن علیعليهالسلام اے شہید اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی
خَلْقِهِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکَ
طرف متوجہ ہیںاور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے
بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ ﷲ یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا عَلِیُّ بْنَ
خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابوالحسنعليهالسلام اے علیعليهالسلام بن
الْحُسَیْنِ یَا زَیْنَ الْعابِدِینَ یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ یَا حُجَّةَ ﷲ عَلی خَلْقِهِ، یَا سَیِّدَنا
الحسینعليهالسلام اے عابدوں کی زینت اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا
وَمَوْلانا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا
ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپکے سامنے پیش کرتے ہیں
یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ ﷲ یَا أَبا جَعْفَرٍ، یَا مُحَمَّدُ بْنَ عَلِیٍّ، أَ یُّهَا الْباقِرُ،
اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابو جعفرعليهالسلام اے محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام اے باقرعليهالسلام اے فرزند رسول
یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ یَا حُجَّةَ ﷲ عَلی خَلْقِهِ یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا
اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی
وَتَوَسَّلْنا بِکَ إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنا، یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا
اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے
عِنْدَ ﷲ یَا أَبا عَبْدِﷲ، یَا جَعْفَرُ بْنَ مُحَمَّدٍ ، أَ یُّهَا الصَّادِقُ، یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ،
خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے جعفرعليهالسلام ابن محمدعليهالسلام اے صادق اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے خلق خدا پر
یَا حُجَّةَ ﷲ عَلی خَلْقِهِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانَا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ
اس کی حجت اے ہمارے سرداراور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور
إلَی ﷲ وَقَدَمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ ﷲ یَا أَبَا
وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے
الْحَسَنِ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ، أَ یُّهَا الْکاظِمُ، یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ، یَا حُجَّةَ ﷲ عَلی
اے ابوالحسنعليهالسلام اے موسٰی ابن جعفرعليهالسلام اے کاظمعليهالسلام اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے خلق خدا پر اس کی حجت
خَلْقِهِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانَا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکَ
اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں
بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنا، یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ ﷲ یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا عَلِیُّ
اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابوالحسنعليهالسلام اے علیعليهالسلام
بْنَ مُوسی، أَ یُّهَا الرِّضا، یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ، یَا حُجَّةَ ﷲ عَلی خَلْقِهِ، یَا سَیِّدَنا
ابن موسٰیعليهالسلام اے رضاعليهالسلام اے فرزندرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں
وَمَوْلانا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنا
اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں
یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ ﷲ یَا أَبا جَعْفَرٍ یَا مُحَمَّدُ بْنَ عَلِیٍّ أَیُّهَا التَّقِیُّ الْجَوادُ
اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے ابوجعفرعليهالسلام اے محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام اے تقی و جوادعليهالسلام
یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ یَا حُجَّةَ ﷲ عَلی خَلْقِهِ یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانَا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا
اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے خلق خدا پر اسکی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں
وَتَوَسَّلْنا بِکَ إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنا، یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا
اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری
عِنْدَ ﷲ یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا عَلِیُّ بْنَ مُحَمَّدٍ أَیُّهَا الْهادِی النَّقِیُّ یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ
سفارش کیجئے اے ابوالحسنعليهالسلام اے علیعليهالسلام ابن محمدعليهالسلام اے ہادیعليهالسلام نقیعليهالسلام اے فرزند رسول
یَا حُجَّةَ ﷲ عَلی خَلْقِهِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ
اے خلق خدا پر اس کی حجت اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور
إلَی ﷲ وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا، یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ ﷲ یَا أَبا
وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے
مُحَمَّدٍ، یَا حَسَنُ بْنَ عَلِیٍّ أَیُّهَا الزَّکِیُّ الْعَسْکَرِیُّ، یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ، یَا حُجَّةَ ﷲ
اے ابو محمدعليهالسلام اے حسنعليهالسلام بن علی اے زکی اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے خلق خدا پر اس کی حجت
عَلی خَلْقِهِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إلَی ﷲ
اے ہمارے سردار اور ہمارے آقا ہم آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں
وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ ﷲ یَا وَصِیَّ الْحَسَنِ
اور اپنی حاجتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے اے وصی حسنعليهالسلام
وَالْخَلَفُ الْحُجَّةُ، أَ یُّهَا الْقائِمُ الْمُنْتَظَرُ الْمَهْدِیُّ، یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ، یَا حُجَّةَ ﷲ
اے خلف حجت اے قائم منتظر مہدیعليهالسلام اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے خلق خدا پر اس کی حجت
عَلی خَلْقِهِ، یَا سَیِّدَنا وَمَوْلانا إنَّا تَوَجَّهْنا وَاسْتَشْفَعْنا وَتَوَسَّلْنا بِکَ إلَی ﷲ
اے ہمارے سردار و آقا ہم آپکی طرف متوجہ ہیں اور آپ کوبارگاہ الہی میں اپنا سفارشی اور وسیلہ بناتے ہیں اور اپنی حاجتیں آپکے
وَقَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حاجاتِنا، یَا وَجِیهاً عِنْدَ ﷲ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ ﷲ
سامنے پیش کرتے ہیں اے خدا کے ہاں عزت والے خدا کے حضور ہماری سفارش کیجئے۔
پس اپنی حاجات طلب کرے کہ وہ انشائ ﷲ پوری ہونگی ایک روایت میں ہے کہ اس کہ بعد یہ بھی پڑھے :
یَا سادَتِی وَمَوالِیَّ، إنِّی تَوَجَّهْتُ بِکُمْ أَئِمَّتِی وَعُدَّتِی لِیَوْمِ فَقْرِی وَحاجَتِی إلَی
اے میرے سردار اور میرے آقا میرے ائمہعليهالسلام میرے سرمایہ میں اپنے فقر اور حاجت کے دن کے لئے تمھارے
ﷲ، وَتَوَسَّلْتُ بِکُمْ إلَی ﷲ، وَاسْتَشْفَعْتُ بِکُمْ إلَی ﷲ، فَاشْفَعُوا لِی عِنْدَ ﷲ،
ذریعے اور وسیلے سے خدا کے سامنے حاضر ہوں اور خد اکے ہاں تمہیں اپنا سفارشی بناتا ہوں پس خدا کے حضور میری سفارش کیجئے
وَاسْتَنْقِذُونِی مِنْ ذُ نُوبِی عِنْدَ ﷲ، فَ إنَّکُمْ وَسِیلَتِی إلَی ﷲ، وَبِحُبِّکُمْ وَبِقُرْبِکُمْ
اور خدا کی جانب سے میرے گناہ معاف کروائیے کیونکہ تم خدا کے ہاں میراوسیلہ ہو اور تمہاری محبت اور قربت کے وسیلے سے میں خدا
أَرْجُو نَجاةً مِنَ ﷲ فَکُونُوا عِنْدَ ﷲ رَجائِی یَا سادَتِی یَا أَوْ لِیاءَ ﷲ صَلَّی ﷲ
سے طالب نجات ہوں پس میری امید گاہ بن جائو اے میرے سردار اے خدا کے پیارے خد اکی رحمت ہو ان تمام پر
عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ وَلَعَنَ ﷲ أَعْداءَ ﷲ ظالِمِیهِمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
اور خدا کی لعنت ہو ان دشمنا ن خدا پر جنہوں نے ان پر ظلم ڈھائے کہ جو اولین اور اخرین میں سے ہیںآمین اے رب العالمین۔
( ۲ ) دعائے توسل دیگر
مؤلف کہتے ہیں کہ شیخ کفعمی نے بلد الامین میں ایک دعا نقل کی ہے جس کا نام دعائے فرج ہے اور اس کے ذیل میں یہ دعا توسل بھی مذکور ہے۔ اس بارے میں میرا گمان یہ ہے کہ خواجہ نصیر الدین طوسیرحمهالله کے مُرَتَّبَہ بارہ امامعليهالسلام کی یہ دعائ توسل ہے کہ جس میں حججِ طاہرہ پرصلوات بھی ساتھ ہی ذکر ہوئی ہے۔یہ دعا پُر معنی خطبہ میں موجود ہے کہ جس کو کفعمی نے مصباح کے آخر میں ذکر کیا ہے سید علی خان نے کلم طیب میں شیخ صہرشتی کی کتاب قبس المصباح سے ایک دعائ توسل نقل فرمائی ہے کہ جس کے متعلق ان کی لکھی ہوئی تشریح و تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں اور وہ دعا یہ ہے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَعَلَی ابْنَتِهِ وَعَلَی ابْنَیْها وَأَسْأَ لُکَ بِهِمْ أَنْ تُعِینَنِی عَلَی
اے معبود حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما ان کی دختر اور ان کے بیٹوں پر اور میں ان کے ذریعے سوال کرتا ہوں کہ میری مدد فرما
طاعَتِکَ وَرِضْوانِکَ، وَأَنْ تُبَلِّغَنِی بِهِمْ أَفْضَلَ ما بَلَّغْتَ أَحَداً مِنْ أَوْ لِیائِکَ، إنَّکَ
تاکہ میں اطاعت و رضا پاؤںان کے ذریعے سے تو مجھ کو بہترین مقام پر پہنچا جو تیرے ولیوں کے لیے مقرر ہے بے شک
جَوادٌ کَرِیم اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِحَقِّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ ں إلاَّ
تو سخی و مہربان ہے اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں امیر المومنین علی ابن ابیطالب + کے واسطے کے ساتھ
انْتَقَمْتَ بِهِ مِمَّنْ ظَلَمَنِی وَغَشَمَنِی وَآذانِی وَانْطَویٰ عَلی ذلِکَ، وَکَفَیْتَنِی بِهِ مَؤُونَةَ
کہ تو اس شخص سے بدلہ لے جس نے مجھ پر ظلم کیا دھوکہ دیا دکھ پہنچایا اور ایسا کرنے پر آمادہ ہے اور ہر ایسے شخص سے میری کفایت فرما
کُلِّ أَحَدٍ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِحَقِّ وَ لِیِّکَ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ ں
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوںتیرے ولی علیعليهالسلام بن الحسین - کے حق کے واسطے سے
إلاَّ کَفَیْتَنِی بِهِ مَؤُونَةَ کُلِّ شَیْطانٍ مَرِیدٍ وَسُلْطانٍ عَنِیدٍ یَتَقَوَّیٰ عَلَیَّ بِبَطْشِهِ وَیَنْتَصِرُ
کہ تو ہر سرکش شیطان اور ہر ستمگر بادشاہ سے جو مجھ پر قبضہ کی قوت رکھتا ہے اور اپنے لشکر سے مجھ پر غالب آسکتا ہے
عَلَیَّ بِجُنْدِهِ، إنَّکَ جَوادٌ کَرِیمٌ، یَا وَهَّابُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِحَقِّ وَ لِیَّیْکَ مُحَمَّدِ
میری کفایت فرما بے شک تو سخی و مہربان ہے اے بہت دینے والے اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے دونوں ولیوں محمدعليهالسلام
بْنِ عَلِیٍّ وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ إلاَّ أَعَنْتَنِی بِهِما عَلی أَمْرِ آخِرَتِی بِطاعَتِکَ
ابن علی اور جعفر ابن محمد ٭کے حق کے واسطے سے کہ ان کے طفیل آخرت کے معاملے میں میری مدد فرما کہ میں تیری عبادت
وَرِضْوانِکَ وَبَلَّغْتَنِی بِهِما ما یُرْضِیکَ، إنَّکَ فَعَّالٌ لِما تُرِیدُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ
سے تیری رضا حاصل کر سکوں اور ان کے وسیلے سے مجھے پسندیدہ مقام تک پہنچادے بے شک تو جو چاہے کرسکتا ہے اے معبود میں
وَ لِیِّکَ مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ ں إلاَّ عافَیْتَنِی بِهِ فِی جَمِیعِ جَوارِحِی مَا ظَهَرَ مِنْها وَما
تجھ سے سوال کرتا ہوںتیرے ولی موسیٰ بن جعفر - کے حق کے واسطے سے کہ میرے ظاہری اور باطنی اعضائ بدن کو صحت و سلامتی
بَطَنَ یَا جَوادُ یَا کَرِیمُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِحَقِّ وَلِیِّکَ الرِّضا عَلِیِّ بْنِ مُوسی ں
سے ہمکنار کردے اے سخی اے مہربان اے معبود میںتجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ولی علیعليهالسلام رضا بن موسیٰ -
إلاَّ سَلَّمْتَنِی بِهِ فِی جَمِیعِ أَسْفارِی فیِ الْبَرارِی وَالْبِحارِ وَالْجِبالِ وَالْقِفارِ وَالْاَوْدِیَةِ
کے حق کے واسطے سے کہ ان کے طفیل مجھے تمام سفروں میں جو میدانوں اور دریاؤں، پہاڑوں اور صحراؤں اور وادیوں اور جنگلوں
وَالْغِیاضِ مِنْ جَمِیعِ ما أَخافُهُ وَأَحْذَرُهُ، إنَّکَ رَؤُوفٌ رَحِیمٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
میں ہوں ہر خوفناک اور خطرناک چیز سے محفوظ فرما بے شک تو نرمی کرنے والا مہربان ہے، اے معبود میں تجھ سے
بِحَقِّ وَ لِیِّکَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ ں إلاَّ جُدْتَ بِهِ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ، وَتَفَضَّلْتَ بِهِ عَلَیَّ
تیرے ولی محمدعليهالسلام بن علی - کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوںکہ ان کے طفیل مجھ پر اپنا فضل اور کرم فرما
مِنْ وُسْعِکَ وَوَسَّعْتَ عَلَیَّ رِزْقَکَ، وَأَغْنَیْتَنِی عَمَّنْ سِواکَ، وَجَعَلْتَ حاجَتِی إلَیْکَ
اپنی وسعت سے میرے رزق میں فراخی کردے اور اپنے علاوہ ہر ایک سے بے نیاز فرما اور صرف اپنی ذات کا محتاج رکھ اور حاجتیں
وَقَضاءَها عَلَیْکَ إنَّکَ لِمَا تَشائُ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ وَلِیِّکَ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ
پوری فرما بے شک تو جو چاہے کرسکتا ہے اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوںتیرے ولی علی بن محمد کے حق کے
عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ إلاَّ أَعَنْتَنِی بِهِ عَلی تَأْدِیَةِ فُرُوضِکَ وَبِرِّ إخْوانِیَ الْمُؤْمِنِینَ وَسَهِّلْ
واسطے سے کہ ان کی خاطر میری مدد فرما کہ میںاپنے فرائض ادا کر سکوںاور اپنے مومن بھائیوںسے نیکی کر سکوں یہ کام مجھ پر آسان
ذلِکَ لِی وَاقْرُنْهُ بِالْخَیْرِ، وَأَعِنِّی عَلَی طاعَتِکَ بِفَضْلِکَ یَا رَحِیمُ اَللّٰهُمَّ إنِّی
کردے نیکی پر قائم رکھ اور اپنے کرم سے مجھے توفیق دے کہ تیری عبادت کر سکوںاے مہربان اے معبود میںتجھ سے سوال کرتا ہوں
أَسْأَلُکَ بِحَقِّ وَ لِیِّکَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ إلاَّ أَعَنْتَنِی بِهِ عَلی أَمْرِ
تیرے ولی حسنعليهالسلام بن علی علیہماالسلام کے حق کے واسطے سے کہ انکے طفیل میری مدد فرما امر آخرت میں تاکہ میں تیری بندگی کر سکوں
آخِرَتِی بِطاعَتِکَ وَرِضْوانِکَ، وَسَرَرْتَنِی فِی مُنْقَلَبِی وَمَثْوایَ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ
اور تیری رضا پاسکوں اور مجھے خوشی دے میری بازگشت اور میرے مقام میںاپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ وَلِیِّکَ وَحُجَّتِکَ صاحِبِ الزَّمانِ ں إلاَّ أَعَنْتَنِی
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوںتیرے ولی اور تیری حجت صاحب زمان - کے حق کے واسطے سے کہ ان کے طفیل میرے تمام
بِهِ عَلَی جَمِیعِ أُمُورِی، وَکَفَیْتَنِی بِهِ مَؤُونَةَ کُلِّ مُؤْذٍ وَطاغٍ وَباغٍ، وَأَعَنْتَنِی بِهِ فَقَدْ
کاموں میں میری مدد فرما اوران کے ذریعے میری کفایت فرما ہر اذیت دینے والے سرکش اور باغی سے اور ان کی خاطر حمایت فرما
بَلَغَ مَجْهُودِی، وَکَفَیْتَنِی بِهِ کُلَّ عَدُوٍّ وَهَمٍّ وَغَمٍّ وَدَیْنٍ وَعَنِّی وَعَنْ
کہ اب مجھ میں تاب نہیں رہی اور کفایت کر ہر دشمن سے ہر غم و اندیشے اور قرض سے میری اور میری اولاد کی اور میرے
وُلْدِی وَجَمِیعِ أَهْلِی وَ إخْوانِی وَمَنْ یَعْنِینِی أَمْرُهُ وَخاصَّتِی آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
اہل کی اور میرے بھائیوں کی اور اس کی جس کا مجھ سے تعلق ہے اور میرے قریب ہے ایسا ہی کر اے عالمین کے پروردگار۔
( ۳ ) دعائے فرج
شیخ کفعمی نے بلدالامین میں ایک دعا امیرالمومنین - سے روایت کی ہے کہ جب بھی کوئی مصیبت زدہ ، گرفتار غم اور خائف اس دعا کو پڑھے گا تو حق تعالیٰ اس کیلئے فرج و کشائش فرمائے گا ۔
یَا عِمادَ مَنْ لاَ عِمادَ لَهُ وَیَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَهُ، وَیَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَهُ، وَیَا حِرْزَ
اے بے سہاروں کے سہارے اے بے ذخیروں کے ذخیرے اے بے آسروں کے آسرا اے پناہ سے محروموں
مَنْ لاَ حِرْزَ لَهُ وَیَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَهُ وَیَا کَنْزَ مَنْ لاَ کَنْزَ لَهُ وَیَا عِزَّ مَنْ لاَ عِزَّ لَهُ
کی پناہ اے دادرس نہ رکھنے والوں کے داد رس اے بے خزانوں کے خزانے اے عزت نہ رکھنے والوں کی عزت
یَا کَرِیمَ الْعَفْوِ یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ یَا عَوْنَ الضُّعَفائِ یَا کَنْزَ الْفُقَرائِ یَا عَظِیمَ الرَّجائِ
اے کرم کرنے اور معاف کرنے والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے کمزوروں کے مددگار اے محتاجوں کے خزانے اے
یَا مُنْقِذَ الْغَرْقی یَا مُنْجِیَ الْهَلْکی یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ أَنْتَ الَّذِی
بڑی امید گاہ اے ڈوبتوں کو بچانے والے اے تباہ ہونے والوں کو بچانے والے اے احسان کرنے والے اے نعمت دینے والے
سَجَدَ لَکَ سَوادُ اللَّیْلِ وَنُورُ النَّهارِ وَضَوْئُ الْقَمَرِ وَشُعاعُ الشَّمْسِ وَحَفِیفُ الشَّجَرِ
اے عطا کرنے والے تو وہ ہے کہ تیرے لیے سجدہ ریز ہے تیرے لیے رات کی تاریکی دن کی روشنی چاند کی چاندنی سورج کی کرن درخت کی
وَدَوِیُّ الْمائِ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ یَا رَبَّاهُ یَا ﷲ
سرسراہٹ اور پانی کی آواز یاﷲ یاﷲ یاﷲ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا و لاثانی ہے اے پروردگار اے ﷲ
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِنَا مَا أَ نْتَ أَهْلُهُ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمد پر رحمت نازل فرما اور ہمارے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے شایان شان ہے۔
اس کے بعد جو حاجت بھی رکھتا ہو طلب کرے۔
مولف کہتے ہیں کہ سختی وغم کے دور ہونے اور آسودگی کے لئے اس ذکر کا ہمیشہ پڑھنا بہت مفید ہے اور یہ وہی ذکر ہے جو امام محمد تقی - نے تعلیم فرمایا ہے:
یَا مَنْ یّکْفِیْ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَّ لَا یَکْفِیْ مِنْهُ شَیْئٌ اِکْفنِِیْ مَآ اَهَمَّنِیْ
اے وہ جو ہر چیز سے بڑھ کر کفایت کرتا ہے اور اس سے کوئی چیز کفایت نہیں کرتی میرے اہم کاموں میں میری کفایت کر۔
( ۴ ) حرز حضرت فاطمہ الزہرائ اور قید سے رہائی کی دعا
سید ابن طائوسرحمهالله مہج الدعوات میں کہتے ہیں کہ ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص بڑی مدت سے شام میں قید تھا اسنے عالم خواب میں سیدہ فاطمہ =کو دیکھا کہ فرماتی ہیں:اس دعا کو پڑھو اور پھر اسے یہ دعا تعلیم فرمائی پس جب اس نے یہ دعا پڑھی تو اسکو قید سے رہائی مل گئی اور وہ اپنے گھر لوٹ آیا، وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ الْعَرْشِ وَمَنْ عَلاهُ وَبِحَقِّ الْوَحْیِ وَمَنْ أَوْحاهُ وَبِحَقِّ النَّبِیِّ وَمَنْ نَبَّاهُ
اے معبود واسطہ ہے عرش کا اور جو کچھ اس پر ہے واسطہ ہے وحی کا اور جس نے وحی کی واسطہ ہے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اور جس پیغمبر نے خبر دی ہے
وَبِحَقِّ الْبَیْتِ وَمَنْ بَناهُ یَا سامِعَ کُلِّ صَوْتٍ، یَا جامِعَ کُلِّ فَوْتٍ، یَا بارِیََ النُّفُوسِ
واسطہ ہے کعبے کا اور اسے تعمیر کرنے والے کا اے ہر آواز کے سننے والے اے ہرگمشدہ کو لانے والے اے موت کے بعد
بَعْدَ الْمَوْتِ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَآتِنا وَجَمِیعَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی
نفسوں کو پیدا کرنے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہل بیتعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اور سب مومنین و مومنات کو زمین کے ہر
مَشارِقِ الْاَرْضِ وَمَغارِبِها فَرَجاً مِنْ عِنْدِکَ عاجِلاً بِشَهادَةِ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَأَنَّ
مشرق اور ہر مغرب میں کشادگی وفراخی عطا فرما اپنی جناب سے جلد تر واسطے سے اس گواہی کے ساتھ کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور
مُحَمَّداً عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلی ذُرِّیَّتِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ،
یہ کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرے بندے اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں رحمت ہو خدا کی ان پر ان کی آلعليهالسلام اور اولاد پر جو پاک ہیں طاہرہیں
وَسَلَّمَ تَسْلَِیماً کَثِیراً
اور سلام ہو ان پر بہت بہت سلام۔
( ۵ )بخار سے شفا پانے کی دعائ
سیدابن طائوس نے مہج الدعوات میں سلمان سے ایک روایت کی ہے کہ جس کے آخر میں ایک خبر مذکور ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سیدہ زہراعليهالسلام نے مجھے ایک ورد بتایا جو انہوں نے رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم سے حفظ کیا ہوا تھا ، جسے آپ صبح و شام پڑھا کرتی تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اس دنیا میں تمہیں کبھی بخار نہ چڑھے تو اس کلام کو ہمیشہ پڑھاکرو اور وہ کلام یہ ہے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے
بِسْمِ ﷲ النُّورِ، بِسْمِ ﷲ نُورِ النُّورِ، بِسْمِ ﷲ نُورٌ عَلی نُورٍ، بِسْمِ
خداوند نور کے نام کے واسطے سے اس خدا کے نام کے واسطے سے جو نور کا نور ہے اس خدا کے نام کے واسطے سے جو نور پر نور ہے اس
ﷲ الَّذِی هُوَ مُدَبِّرُ الاَُْمُورِ بِسْمِ ﷲ الَّذِی خَلَقَ النُّورَ مِنَ النُّورِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی
خدا کے نام کے واسطے سے جو کاموں کو سنوارنے والا ہے اس خدا کے نام کے واسطے سے جس نے نور کو نور سے پیدا کیاحمد اسی خدا کیلئے
خَلَقَ النُّورَ مِنَ النُّورِ وَأَنْزَلَ النُّورَ عَلَی الطُّورِ فِی کِتابٍ مَسْطُورٍ فِی رَقٍّ مَنْشُورٍ
ہے جس نے نور کو نور سے پیدا کیا اور نور کو کوہ طور پر نازل کیا ایک لکھی ہوئی کتاب میں ایک پھیلے ہوئے ورق میں اندازے
بِقَدَرٍ مَقْدُورٍ عَلی نَبِیٍّ مَحْبُورٍ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی هُوَ بِالْعِزِّ مَذْکُورٌ وَبِالْفَخْرِ مَشْهُورٌ
کے مطابق ایک دانشمند پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم پر حمد اسی خدا کے لیے ہے جو عزت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے فخر کے ساتھ مشہور ہے
وَعَلَی السَّرَّائِ وَالضَّرَّائِ مَشْکُورٌ وَصَلَّی ﷲ عَلی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
اور جس کا تنگی و فراخی میں شکرکیا جاتا ہے ہمارے آقا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کی آلعليهالسلام پرخدا کی رحمت ہو۔
سلمان کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ ورد سیدہ زہرا = سے حاصل کیا تو قسم بخدا کہ میں نے یہ مکہ ومدینہ میں ایسے ایک ہزار افراد کو بتایا کہ جو بخار میں مبتلا تھے جن کو اس کے پڑھنے سے بحکم خدا شفا حاصل ہوئی۔
( ۶ )حرز حضرت امام زین العابدین-
ابن طائوس نے مہج الدعوات میں دومقامات پر یہ حرز امام زین العابدین-سے نقل کیا ہے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
شروع خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ، یَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ، یَا أَحْکَمَ
اے سننے والوں سے زیادہ سننے والے اے دیکھنے والوں سے زیادہ دیکھنے والے اے حساب کرنے والوں میں تیز تر اے سب سے
الْحاکِمِینَ، یَا خالِقَ الْمَخْلُوقِینَ، یَا رازِقَ الْمَرْزُوقِینَ، یَا ناصِرَ الْمَنْصُورِینَ،
بڑے حاکم اے خلق شدہ چیزوں کے خالق اے رزق پانے والوں کے رازق اے مدد یافتہ لوگوں کے مددگار
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، یَا دَلِیلَ الْمُتَحَیِّرِینَ، یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، أَغِثْنِی یَا مالِکَ
اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے اے پریشان لوگوں کے رہنما اے فریادیوں کے فریاد رس میری فریاد رسی کر اے یوم جزا
یَوْمِ الدِّینِ، إیَّاکَ نَعْبُدُ وَ إیَّاکَ نَسْتَعِینُ، یَا صَرِیخَ الْمَکْرُوبِینَ، یَا مُجِیبَ دَعْوَةِ
و سزا کے مالک ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں اے دکھیاروں کے فریاد رس اے دعا قبول
الْمُضْطَرِّینَ أَنْتَ ﷲ رَبُّ الْعالَمِینَ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ،
کرنے والے تو ہی وہ ﷲ ہے جو عالمین کا پروردگار ہے تو ہی وہ ﷲ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو سچا اور حقیقی حکمران ہے
الْکِبْرِیائُ رِداؤُکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی وَعَلی عَلِیٍّ الْمُرْتَضی وَفاطِمَةَ
کہ بڑائی تیرا لباس ہے اے معبود محمد مصطفٰیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور علیعليهالسلام مرتضیعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور فاطمہ
الزَّهْرائِ، وَخَدِیجَةَ الْکُبْری، وَالْحَسَنِ الْمُجْتَبی، وَالْحُسَیْنِ الشَّهِیدِ بِکَرْبَلاءَ،
زہراعليهالسلام اور خدیجۃعليهالسلام الکبریٰ پر رحمت نازل فرما اور حسنعليهالسلام مجتبٰی پر رحمت نازل فرما اور اس حسینعليهالسلام پر رحمت نازل فرما جو کربلا میں شہید ہوئے
وَعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ زَیْنِ الْعابِدِینَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْباقِرِ وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ
اور علیعليهالسلام ابن حسینعليهالسلام زین العابدینعليهالسلام اور محمد باقرعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور جعفر صادقعليهالسلام
وَمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ الْکَاظِمِ، وَعَلِیِّ بْنِ مُوسَی الرِّضا، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ التَّقِیِّ،
اور موسی کاظمعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور علی رضاعليهالسلام اور محمد تقیعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور علی نقیعليهالسلام
وَعَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّقِیِّ وَالْحَسَنِ الْعَسْکَرِیِّ وَالْحُجَّةِ الْقائِمِ الْمَهْدِیِّ الْاِمامِ المُنْتَظَرِ
اور حسن عسکریعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور حجۃ القائمعليهالسلام امام مہدیعليهالسلام پر رحمت نازل فرما
صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ اَللّٰهُمَّ والِ مَنْ وَالاهُمْ، وَعادِ مَنْ عادَاهُمْ، وَانْصُرْ
خدا کی رحمتیں ہوں ان سب پر اے معبود دوست رکھ اسے جو انہیں دوست رکھے اور دشمنی رکھ اس سے جو ان سے دشمنی رکھے اور مدد کر
مَنْ نَصَرَهُمْ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَالْعَنْ مَنْ ظَلَمَهُمْ، وَعَجِّلْ فَرَجَ آلِ مُحَمَّدٍ
اس کی جو ان کی مدد کرے اور چھوڑ دے ان کو اور لعنت کر ان پر جو ظلم کرے ور آلعليهالسلام محمدعليهالسلام کو کشادگی دینے میں جلدی کر اور آلعليهالسلام محمدعليهالسلام کے
وَانْصُرْ شِیعَةَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَارْزُقْنِی رُؤْیَةَ قائِمِ آلِ مُحَمَّدٍ، وَاجْعَلْنِی مِنْ أَتْباعِهِ
شیعوں کی مدد فرما اور مجھے قائم آلعليهالسلام محمدعليهالسلام کا دیدار نصیب فرما اور مجھ کو ان کے پیروکاروں اور
وَأَشْیاعِهِ وَالرَّاضِینَ بِفِعْلِهِ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ان کے مددگاروں اور ان کے کام سے خوش ہونے والوں میں قرار دے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے ولے۔
( ۷ )دعائ امام زین العابدین- یا دعائ مقاتل بن سلیمان(رض) ۔
شیخ کفعمی نے بلدالامین میں ایک دعا امام سجادعليهالسلام سے نقل کی اور کہا ہے کہ یہ دعا آنجنابعليهالسلام سے مقاتل بن سلمان نے روایت کی اورساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی شخص اس دعا کو سومرتبہ پڑھے اور اس کی دعا قبول نہ ہو تو مقاتل پر لعنت بھیجے اور وہ دعا یہ ہے :
إلهِی کَیْفَ أَدْعُوکَ وَأَ نَا أَ نَا وَکَیْفَ أَقْطَعُ رَجائِی مِنْکَ وَأَنْتَ أَنْتَ إلهِی إذا لَمْ
میرے معبود میں تجھے کیسے پکاروں اور میں تو میں ہوں اور کیونکر تجھ سے اپنی امید توڑوں جبکہ تو تو ہی ہے میرے معبود جب میں تجھ
أَسْأَلْکَ فَتُعْطِیَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی أَسْأَلُهُ فَیُعْطِیَنِی إلهِی إذا لَمْ أَدْعُکَ فَتَسْتَجِیبَ لِی
سے نہ مانگوں کہ تو مجھے عطا کرتا ہے اور کون ہے جس سے مانگوں تو وہ مجھے دے گا میرے معبود جب میں تجھ سے دعا نہ کروں تو میری
فَمَنْ ذَا الَّذِی أَدْعُوهُ فَیَسْتَجِیبُ لِی إلهِی إذا لَمْ أَتَضَرَّعْ إلَیْکَ فَتَرْحَمُنِی، فَمَنْ ذَا
دعا قبول فرماتا ہے اور کون ہے جس سے دعا کروں تو وہ میری دعاقبول کرے گا میرے معبود جب میں تیرے حضورزاری نہ کروں
الَّذِی أَتَضَرَّعُ إلَیْهِ فَیَرْحَمُنِی إلهِی فَکَما فَلَقْتَ الْبَحْرَ لِمُوسیٰ ں
تب بھی تو مجھ پر رحم کرتا ہے اور کون ہے جس کے آگے زاری کروں تو وہ مجھ پر رحم کرے گا میرے معبود جیسے تونے دریا کو شگافتہ کیا موسٰعليهالسلام ی
وَنَجَّیْتَهُ أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تُنَجِّیَنِی مِمَّا
کیلیے اور انہیں نجات دی تھی تو میں بھی تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمد پر رحمت نازل فرما اور مجھے نجات دے اس مشکل سے جس میں گرفتار
أَنَا فِیهِ وَتُفَرِّجَ عَنِّی فَرَجاً عاجِلاً غَیْرَ آجِلٍ بِفَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ہوں اور مجھے کشادگی عطا فرماجلد تر کہ اس میں دیر نہ ہو اپنے فضل سے اور اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
( ۸ )دعائے حضرت رسول
سید ابن طائوس نے مہج الدعوات میں امام محمد باقر -سے نقل کیا ہے کہ جبرائیل - نے رسول ﷲ سے عرض کیا کہ میں کسی پیغمبر کو آپ سے بڑھ کر دوست نہیں رکھتا پس آپ بکثرت یہ پڑھا کریں :
اَللّٰهُمَّ إنَّکَ تَریٰ وَلاَ تُریٰ وَأَ نْتَ بِالْمَنْظَرِ الْأَعْلیٰ وَأَنَّ إلَیْکَ الْمُنْتَهیٰ وَالرُّجْعیٰ وَأَنَّ
اے معبود تو دیکھتا ہے اور تو دیکھا نہیں جاتا اور تو اعلیٰ مقام پر ہے اور بے شک انتہا اور بازگشت تیری ہی طرف ہے بے شک تیرے
لَکَ الاَْخِرَةَ وَالاَُْولیٰ وَأَنَّ لَکَ الْمَماتَ وَالْمَحْیَا وَرَبِّ أَعُوذُ بِکَ أَنْ أُذَلَّ أَوْ أُخْزی
ہی لیے دنیا و آخرت ہے بے شک تیرے ہاتھ میں ہی موت اور زندگی ہے اور اے پروردگار میں اپنی ذلت و رسوائی میں تیری ہی پناہ لیتا ہوں۔
( ۹ )دعائے سریع الاجابت
شیخ کفعمی نے بلدالامین میں امام موسٰی کاظم -سے مروی ایک دعانقل کی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دعائ عظیم الشأن اور جلد قبول ہونے والی ہے اور وہ یہ ہے۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَطَعْتُکَ فِی أَحَبِّ الْاَشْیائِ إلَیْکَ وَهُوَ التَّوْحِیدُ، وَلَمْ أَعْصِکَ فِی أَبْغَضِ
اے معبود میں نے تیری اطاعت کی اس چیز میں جو تجھے بہت پسند ہے اور وہ تیری توحید ہے اور تیری نافرمانی نہیں کی اس چیز میں جو
الْاَشْیائِ إلَیْکَ وَهُوَ الْکُفْرُ، فَاغْفِر لِی ما بَیْنَهُما، یَا مَنْ إلَیْهِ مَفَرِّی آمِنِّی مِمَّا فَزِعْتُ
تجھے سخت ناپسند ہے اور وہ کفر ہے پس بخش دے جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اے وہ جس تک میری دوڑ ہے مجھے امن دے اس
مِنْهُ إلَیْکَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیَ الْکَثِیرَ مِنْ مَعاصِیکَ، وَاقْبَلْ مِنِّی الْیَسِیرَ مِنْ طاعَتِکَ، یَا
سے جس کے ڈر سے میں تیری طرف آیا ہوں اے معبود معاف کر دے جو میں نے تیری بہت ہی نافرمانیاں کی ہیں اور قبول فرما
عُدَّتِی دُونَ الْعُدَدِ ، وَیَا رَجائِی وَالْمُعْتَمَدَ، وَیَا کَهْفِی وَالسَّنَدَ، وَیَا وَاحِدُ یَا أَحَدُ، یَا
میری تھوڑی اطاعت جو میں نے کی ہے اے ذخیروں کے مقابل میرے ذخیرہ اور میری امید گاہ اور سہارے اے میری پناہ گاہ
قُلْ هُوَ ﷲ أَحَدٌ ﷲ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ،
اوراے پشت پناہ اور اے یگانہ اے یکتا اے کہ تیری شان ہے کہو ﷲایک ہے ﷲ بے نیاز ہے نہ کوئی اس کا بیٹا ہے اور نہ وہ کسی کا
أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مَنِ اصْطَفَیْتَهُمْ مِنْ خَلْقِکَ وَلَمْ تَجْعَلْ فِی خَلْقِکَ مِثْلَهُمْ
فرزند ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس کے واسطے سے جسے تو نے اپنی مخلوق میں سے چنا ہے اور اپنی
أَحَداً ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَتَفْعَلَ بِی ما أَ نْتَ أَهْلُهُ اَللّٰهُمَّ
خلقت میں سے کسی کو ویسا قرار نہیں دیاکہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایانِ شان ہے اے
إنِّی أَسْأَ لُکَ بِالْوَحْدانِیَّةِ الْکُبْریٰ وَالْمُحَمَّدِیَّةِ الْبَیْضائِ، وَالْعَلَوِیَّةِ العُلْیا، وَبِجَمِیعِ
معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بواسطہ عظیم یکتائی کے اور بواسطہ محمدیت کی تابانی اور علویت کی بلندی کے اور ان سب کے واسطے
مَا احْتَجَجْتَ بِهِ عَلی عِبادِکَ وَبِالاسْمِ الَّذِی حَجَبْتَهُ عَنْ خَلْقِکَ فَلَمْ یَخْرُجْ مِنْکَ إلاَّ
سے جن کو تو نے حجت قرار دیاہے اپنے بندوں پر اور اس نام کے واسطے سے جو تونے اپنی مخلوق سے پوشیدہ رکھا پس وہ ظاہرنہ ہوا وہ
إلَیْکَ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِی فَرَجاً وَمَخْرَجاً، وَارْزُقْنِی مِنْ
تیرے سوا کسی پر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور میرے کام میں کشادگی پیدا کر اور راستہ بنا دے اور مجھے رزق دے جہاں
حَیْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَسِبُ، إنَّکَ تَرْزُقُ مَنْ تَشائُ بِغَیْرِ حِسابٍ
سے مجھے توقع ہے اور جہاں سے مجھے توقع نہیں ہے بے شک تو جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے۔
اس کے بعد اپنی حاجت طلب کرے
(۱۰)دعا امن از بلاوغیرہ
کفعمی نے مصباح میں ایک دعا نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیدابن طاوس نے اس کو ظالم حاکم سے بچائو، دشمن کے غلبے، مصیبت کے آنے، فقر و تنگدستی اور تنگی سینہ کے خوف کے اوقات میں پڑھنے کیلئے ذکر کیا ہے اور یہ دعا صحیفہ سجادیہ میں سے ہے پس جب ان میں سے کسی بات کا خوف ہو تو اس دعا کو پڑھے اور وہ یہ ہے:
یَا مَنْ تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ الْمَکارِهِ، وَیَا مَنْ یُفْثَأُ بِهِ حَدُّ الشَّدائِدِ، وَیَا مَنْ یُلْتَمَسُ
اے وہ جس کے ذریعے دکھوں کی گرہیں کھلتی ہیں اے وہ جس کے وسیلے سے سختیوں کی باڑھ ٹوٹتی ہے اے وہ جس سے خوشی وکشائش
مِنْهُ الْمَخْرَجُ إلی رَوْحِ الْفَرَجِ، ذَلَّتْ لِقُدْرَتِکَ الصِّعابُ، وَتَسَبَّبَتْ بِلُطْفِکَ الْأَسْبابُ
کیطرف لے جانے کی خواہش کی جاتی ہے تیری قدرت کے آگے مشکلات آسان ہوجاتی ہیں اور تیری مہربانی سے اسباب کا
وَجَریٰ بِقُدْرَتِکَ الْقَضائُ وَمَضَتْ عَلی إرادَتِکَ الْأَشْیائُ فَهِیَ بِمَشِیءَتِکَ دُونَ قَوْلِکَ
سلسلہ قائم ہے تری قدرت سے قضا جاری ہے اور چیزیں تیرے ارادے کے مطابق رواں ہیں وہ بغیر کہے تیری مرضی کے ماتحت
مُؤْتَمِرَةٌ وَبِ إرادَتِکَ دُونَ نَهْیِکَ مُنْزَجِرَةٌ أَنْتَ الْمَدْعُوُّ لِلْمُهِمَّاتِ، وَأَ نْتَ الْمَفْزَعُ فِی
ہیں اور محض تیرے ارادے ہی سے رکی ہوئی ہیں اور پابند ہیں تو ہی ہے جسے مشکلوں میں پکارا جاتا ہے اور تو ہی حوادث زمانہ میں
الْمُلِمَّاتِ، لاَ یَنْدَفِعُ مِنْها إلاَّ ما دَفَعْتَ، وَلاَ یَنْکَشِفُ مِنْها إلاَّما کَشَفْتَ، وَقَدْ نَزَلَ
جائے پناہ ہے کوئی مصیبت نہیں ٹلتی مگر وہی جسے تو ٹالے اور کوئی مشکل حل نہیں ہوتی مگر وہی جسے تو حل کرے اے پروردگار مجھ پر ایسی
بِی یَا رَبِّ ما قَدْ تَکَأَّدَنِی ثِقْلُهُ وَأَلَمَّ بِی ما قَدْ بَهَظَنِی حَمْلُهُ، وَبِقُدْرَتِکَ أَوْرَدْتَهُ عَلَیَّ
سختی پڑی ہے جس کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں اور وہ آفت آئی ہے جو ناقابل برداشت ہے تو نے اپنی قدرت سے یہ مجھ پروارد کی
وَبِسُلْطانِکَ وَجَّهْتَهُ إلَیَّ فَلا مُصْدِرَ لِما أَوْرَدْتَ وَلاَ صارِفَ لِما وَجَّهْتَ، وَلاَ فاتِحَ
ہے اور تو نے اپنے حکم سے یہ مجھ پر ڈالی ہے پس کوئی اسے ہٹا نے والا نہیں جو تو وارد کرے اور جسے تو لائے کوئی اسے دور کرنے والا
لِما أَغْلَقْتَ، وَلاَ مُغْلِقَ لِما فَتَحْتَ، وَلاَ مُیَسِّرَ لِما عَسَّرْتَ، وَلاَ ناصِرَ لِمَنْ خَذَلْتَ،
نہیں جسے تو بند کرے کوئی کھولنے والا نہیںجسے تو کھولے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جسے تو تنگی دے کوئی آسانی کرنے والا نہیں
فَصَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَافْتَحْ لِی یَا رَبِّ بَابَ الْفَرَجِ بِطَوْ لِکَ،
جسے تو چھوڑ ے کوئی اس کا ناصر نہیں پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور اے پروردگار اپنی رحمت سے میرے لیے کشادگی کادروازہ
وَاکْسِرْ عَنِّی سُلْطانَ الْهَمِّ بِحَوْ لِکَ، وَأَنِلْنِی حُسْنَ النَّظَرِ فِیما شَکَوْتُ ، وَأَذِقْنِی
کھول دے اور اپنی قوت سے میرے فکر اندیشے کا زور توڑ دے میری شکایت کے بارے میں اپنی نظر کرم سے مجھے کامیابی دے اور
حَلاوَةَ الصُّنْعِ فِیما سَأَلْتُ، وَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً وَفَرَجاً هَنِیئاً،
میری حاجت روائی سے مجھے احسان کی مٹھاس چکھا دے اپنے حضورسے مجھ پر رحمت نازل فرما اور کشادگی کا لطف بخش دے اور
وَاجْعَلْ لِی مِنْ عِنْدِکَ مَخْرَجاً وَحِیّاً، وَلاَ تَشْغَلْنِی بِالْاِهْتِمامِ عَنْ تَعاهُدِ فُرُوضِکَ،
اپنی طرف سے میرے لیے چھٹکارے کی راہ جلدی سے نکال دے اور ان غموں کے باعث مجھے اپنے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی
وَاسْتِعْمالِ سُنَّتِکَ، فَقَدْ ضِقْتُ لِما نَزَلَ بِی یَا رَبِّ ذَرْعاً، وَامْتَلْأَتُ بِحَمْلِ ما حَدَثَ
اور مستحبات کی بجا آوری سے غافل نہ ہونے دے کیونکہ اے پروردگار میں اس مصیبت سے اکتا چکاہوں اور ان حادثوں کے سبب
عَلَیَّ هَمّاً، وَأَ نْتَ الْقادِرُ عَلی کَشْفِ ما مُنِیتُ بِهِ، وَدَفْعِ ما وَقَعْتُ فِیهِ، فَافْعَلْ بِی
میرا دل رنج اور غم سے بھر گیا ہے اور تو ہی قادر ہے اس پر کہ جس دکھ میں پھنسا ہوں اسے دور کرے جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کو
ذلِکَ وَ إنْ لَمْ أَسْتَوْجِبْهُ مِنْکَ یَا ذَا الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَذَا الْمَنِّ الْکَرِیمِ، فَأَ نْتَ
ٹال دے پس میرے لیے ایسا ہی کر اگرچہ تیری طرف سے میں اس لائق نہ بھی ہوں اے عرش عظیم کے مالک اور اے صاحب
قادِرٌ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
احسان و کرم پس تو ہی توانا ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ایسا ہی ہو اے عالمین کے پروردگار۔
(۱۱)دعا فرج حضرت حجت(عج)
شیخ کفعمی نے بلدالامین میں لکھا ہے کہ یہ دعا حضرت حجت (عج)نے ایک شخص کو تعلیم فرمائی جو قید میں تھا اس نے یہ دعا پڑھی تو قید سے رہا ہو گیا، وہ دعا یہ ہے :
إلهِی عَظُمَ الْبَلائُ، وَبَرِحَ الْخَفائُ، وَانْکَشَفَ الْغِطائُ، وَانْقَطَعَ الرَّجائُ ، وَضاقَتِ
میرے معبود! مصیبت بڑھ گئی ہے چھپی بات کھل گئی ہے پردہ فاش ہو گیا ہے امید ٹوٹ گئی ہے زمین تنگ
الْاَرْضُ وَمُنِعَتِ السَّمائُ، وَأَ نْتَ الْمُسْتَعانُ، وَ إلَیْکَ الْمُشْتَکیٰ، وَعَلَیْکَ الْمُعَوَّلُ فِی
ہوگئی ہے اور آسمان نے رکاوٹ ڈال دی ہے تو ہی مدد کرنے والا ہے اور تجھی سے شکایت ہو سکتی ہے اور تنگی وآسانی میں صرف تو ہی
الشِّدَّةِ وَالرَّخائِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أُولِی الْأَمْرِ الَّذِینَ فَرَضْتَ
سہارا بن سکتا ہے اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما جو صاحبان امر ہیں وہی ہیں جن کی اطاعت تو نے
عَلَیْنا طاعَتَهُمْ، وَعَرَّفْتَنا بِذَلِکَ مَنْزِلَتَهُمْ، فَفَرِّجْ عَنّا بِحَقِّهِمْ، فَرَجاً عاجِلاً قَرِیباً
ہم پر فرض کی ہے اور اس طرح ہمیں ان کے مرتبہ کی پہچان کرائی ہے پس ان کے صدقے میں ہمیں آسودگی عطا فرما جلد تر نزدیک
کَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ یَا مُحَمَّدُ یَا عَلِیُّ یَا عَلِیُّ یَا مُحَمَّدُ إکْفِیانِی فَ إنَّکُما کافِیانِ
تر گویا آنکھ جھپکنے کی مقدار یا اس سے بھی پہلے یامحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم یاعلیعليهالسلام یاعلیعليهالسلام یامحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میری سرپرستی فرمائیے کہ آپ دونوں ہی کافی ہیں
وَانْصُرانِی فَ إنَّکُما ناصِرانِ یَا مَوْلانا یَا صاحِبَ الزَّمانِ، الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ،
میری مدد فرمائیے کہ آپ دونوں ہی میرے مددگا رہیں اے ہمارے آقا اے صاحب زمانعليهالسلام فریاد کو پہنچیں فریاد کو پہنچیں فریاد کو پہنچیں
أَدْرِکْنِی أَدْرِکْنِی أَدْرِکْنِی السَّاعَةَ السَّاعَةَ السّاعَةَ الْعَجَلَ الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَا أَرْحَمَ
مجھے پہنچیں مجھے پہنچیں مجھے پہنچیں اسی وقت اسی لمحے اسی گھڑی جلد تر جلد تر جلد تر اے سب سے زیادہ
الرَّاحِمِینَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
رحم کرنے والے واسطہ ہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کااور ان کی پاک آلعليهالسلام کا۔
(۱۲)دعا فرج حضرت حجت(عج)
کفعمی نے بلدالامین میں تحریرکیا ہے کہ یہ بھی حضرت حجت (عج)ہی کی دعا ہے:
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنا تَوْفِیقَ الطّاعَةِ، وَبُعْدَ الْمَعْصِیَةِ، وَصِدْقَ النِّیَّةِ، وَعِرْفانَ الْحُرْمَةِ،
اے معبود توفیق دے ہمیں اطاعت کرنے، نافرمانی سے دور رہنے، نیت صاف رکھنے اور حرمتوں کو پہچاننے کی
وَأَکْرِمْنا بِالْهُدی وَالاسْتِقامَةِ، وَسَدِّدْ أَ لْسِنَتَنا بِالصَّوابِ وَالْحِکْمَةِ، وَامْلاََْ قُلُوبَنا
اور ہمیں راہ راست اور ثابت قدمی سے سرفراز فرما اور ہماری زبانوں کو خوبی و دانائی سے بولنے کی توفیق دے ہمارے دلوں
بِالْعِلْمِ وَالْمَعْرِفَةِ، وَطَهِّرْ بُطُونَنا مِنَ الْحَرامِ وَالشُّبْهَةِ، وَاکْفُفْ أَیْدِیَنا عَنِ الظُّلْمِ
کو علم و معرفت سے بھر دے اور ہمارے شکموں کو حرام اور مشکوک غذا سے پاک رکھ ہمارے ہاتھوں کو ستم
وَالسَّرِقَةِ، وَاغْضُضْ أَبْصارَنا عَنِ الْفُجُورِ وَالْخِیانَةِ، وَاسْدُدْ أَسْماعَنا عَنِ اللَّغْوِ
اور چوری کرنے سے بچائے رکھ اور ہماری آنکھوں کو بدی اور خیانت سے باز رکھ اور ہمارے کانوں کو چغلی اور بے فائدہ باتیں
وَالْغِیبَةِ وَتَفَضَّلْ عَلی عُلَمائِنا بِالزُّهْدِ وَالنَّصِیحَةِ وَعَلَی الْمُتَعَلِّمِینَ بِالْجُهْدِ وَالرَّغْبَةِ
سننے سے محفوظ فرما ہمارے علمائے دین پر زہد ونصیحت کی ارزانی فرما اور ہمارے طالب علموں کو محنت اور رغبت عطا کر
وَعَلَی الْمُسْتَمِعِینَ بِالاتِّباعِ وَالْمَوْعِظَةِ وَعَلی مَرْضَی الْمُسْلِمِینَ بِالشِّفائِ وَالرَّاحَةِ
وعظ سننے والوں کو نصیحت حاصل کرتے اور پیروی کرنے کی توفیق دے اور بیمار مسلمانوں کو شفایاب فرما
وَعَلی مَوْتاهُمْ بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ وَعَلی مَشائِخِنا بِالْوَقارِ وَالسَّکِینَةِ وَعَلَی الشَّبابِ
اور آرام دے ان کے مرحومین پر مہربانی فرما ہمارے بوڑھوں کو وقار اور سکون عطا کر اور ہمارے جوانوں کو
بِالْاِنابَةِ وَالتَّوْبَةِ وَعَلَی النِّسائِ بِالْحَیائِ وَالْعِفَّةِ وَعَلَی الْاَغْنِیائِ بِالتَّواضُعِ وَالسَّعَةِ
توبہ و استغفار کی توفیق دے اور عورتوں کو حیا اور پاکدامنی عنایت فرما ہمارے تونگروں کی فروتنی اور سخاوت عطا کر دے
وَعَلَی الْفُقَرائِ بِالصَّبْرِ وَالْقَناعَةِ، وَعَلَی الْغُزاةِ بِالنَّصْرِ وَالْغَلَبَةِ، وَعَلَی الاَُْسَرَائِ
اور مفلسوں کو صبر و قناعت بخش دے غازیوں کو مدد اور غلبہ دے قیدیوں کو
بِالْخَلاصِ وَالرَّاحَةِ، وَعَلَی الاَُْمَرائِ بِالْعَدْلِ وَالشَّفَقَةِ ، وَعَلَی الرَّعِیَّةِ بِالْاِنْصافِ
رہائی اور آرام دے حاکموں کو انصاف اور نرمی کی توفیق دے اور عوام کو حق شناسی اور نیک کردار بنا دے
وَحُسْنِ السِّیرَةِ، وَبارِکْ لِلْحُجَّاجِ وَالزُّوَّارِ فِی الزَّادِ وَالنَّفَقَةِ، وَاقْضِ ما أَوْجَبْتَ
حاجیوں اور زائروں کے زاد راہ اور خرچ میں برکت دے اور ان پر جو حج اور عمرہ تو نے
عَلَیْهِمْ مِنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، بِفَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
واجب کیا ہے وہ اچھی طرح ادا کر دے اپنے فضل سے اور اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
(۱۳)دعا فرج حضرت حجت(عج)
مہج الدعوات میں کہا گیاہے کہ یہ بھی حضرت حجت القائم (عج)ہی کی دعا ہے:
إلهِی بِحَقِّ مَنْ نَاجَاکَ، وَبِحَقِّ مَنْ دَعَاکَ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
میرے معبود اس کا واسطہ جو تجھ سے راز کہتا ہے اور اس کاواسطہ جو تجھے صحرا و دریا میں پکارتا ہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آل پر درود بھیج
وَتَفَضَّلْ عَلی فُقَرائِ الْمُوَْمِنِینَ وَالْمُوَْمِناتِ بِالْغَنائِ وَالثَّرْوَةِ، وَعَلی مَرْضَیٰ الْمُوَْمِنِینَ
کہ مفلس مومنین ومومنات کو مال و ثروت عطا کربیمار مومن مردوں اور
وَالْمُومِناتِ بِالشِّفائِ وَالصِّحَّةِ، وَعَلی أَحْیائِ الْمُوَْمِنِینَ وَالْمُوَْمِناتِ بِاللُّطْفِ وَالْکَرَم
مومن عورتوں کو صحت و تندرستی عطا فرمازندہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اپنا لطف و کرم اور فروانی فرما اور مرحوم مومن
وَعَلی أَمْواتِ الْمُوَْمِنِینَ وَالْمُوَْمِناتِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَعَلی غُرَبائِ الْمُوَْمِنِینَ
مردوں اور مومن عورتوں پر بخشش اور مہربانی عطا فرما اور مسافر مومن مردوںاور مومن عورتوں کو صحت وسلامتی
وَالْمُوَْمِناتِ بِالرَّدِّ إلی أَوْطانِهِمْ سالِمِینَ غانِمِینَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ
اور مال کے ساتھ اپنے گھروں میں پہنچا دے تجھے واسطہ ہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اوران کی تمام آلعليهالسلام پاک کا۔
(۱۴)استغاثہ بہ حضرت قائم (عج)
سید علی خان نے کلم طیب میں تحریرفرمایا ہے کہ یہ وہ استغاثہ ہے جوامام زمانہ (عج)سے کیا جانا چاہیے۔
پس جہاں بھی ہو دورکعت نماز حمد اور کسی بھی سورہ کے ساتھ پڑھے بعد از نماز زیر آسمان قبلہ رخ کھڑے ہو کر یہ استغاثہ کرے:
سَلامُ ﷲ الْکامِلُ التَّامُّ الشَّامِلُ الْعامُّ، وَصَلَواتُهُ الدَّائِمَةُ وَبَرَکاتُهُ الْقائِمَةُ التَّامَّةُ
خدا کا سلام کامل و مکمل بہت زیادہ اور اس کا دائمی سلام ہو اور اس کی ہمیشہ رہنے والی رحمت ساری برکتیں اس ذات پر ہوں جو خدا
عَلی حُجَّةِ ﷲ وَوَ لِیِّهِ فِی أَرْضِهِ وَبِلادِهِ، وَخَلِیفَتِهِ عَلی خَلْقِهِ وَعِبادِهِ، وَسُلالَةِ
کی حجت اور اس کا دوست ہے زمین پر اور شہروں میں اس کا خلیفہ ہے مخلوق اور بندوں پر نبوت کی
النُّبُوَّةِ وَبَقِیَّةِ الْعِتْرَةِ وَالصَّفْوَةِ، صاحِبِ الزَّمانِ، وَمُظْهِرِ الْاِیمانِ، وَمُلَقِّنِ أَحْکامِ
نشانی اہل بیتعليهالسلام کے آخری فرد اور منتخب ہستی، زمانہ حاضر کے امامعليهالسلام ہیں جو ایمان کو ظاہر کرنے والے احکام قرآن
الْقُرْآنِ، وَمُطَهِّرِ الْاَرْضِ ، وَناشِرِ الْعَدْلِ فِی الطُّولِ وَالْعَرْضِ، وَالْحُجَّةِ الْقائِمِ
کی تعلیم دینے والے زمین کو پاک کرنے والے اور اس کے طول وعرض میں عدل کوعا م کرنے والے ہیں وہ حجت قائم مہدیعليهالسلام امامعليهالسلام
الْمَهْدِیِّ الْاِمامِ الْمُنْتَظَرِ الْمَرْضِیِّ وَابْنِ الْاَ ئِمَّةِ الطَّاهِرِینَ الْوَصِیِّ ابْنِ الْاَوْصِیائِ
منتظر خدا کے پسندیدہ ہیں وہ پاک اماموں کے فرزند اور خود بھی وصی ہیں اور ان اوصیائ کے فرزند ہیں جو پسندیدہ،
الْمَرْضِیِّینَ، الْهادِی الْمَعْصُومِ ابْنِ الْاَ ئِمَّةِ الْهُداةِ الْمَعْصُومِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا
وہ ہادیعليهالسلام اور معصوم ہیں جو ہدایت یافتہ معصوم اماموں کے فرزند ہیں سلام ہو آپ پر اے ناتواں
مُعِزَّ الْمُوَْمِنِینَ الْمُسْتَضْعَفِینَ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مُذِلَّ الْکافِرِینَ الْمُتَکَبِّرِینَ الظَّالِمِینَ
مومنوں کو عزت دینے والے سلام ہو آپ پر اے ظالم اور سرکش کافروں کو ذلیل کرنے والے
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ،
سلام ہو آپ پر اے میرے آقا اے صاحب الزمانعليهالسلام سلام ہو آپ پر اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ أَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ سَیِّدَةِ
سلام ہو آپ پر اے فرزند امیرالمومنین سلام ہو آپ پر اے فاطمہ زہراعليهالسلام کے نور نظر جو عالمین کی
نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ الْاَ ئِمَّةِ الْحُجَجِ الْمَعْصُومِینَ وَالْاِمامِ عَلَی
عورتوں کی سردار ہیں سلام ہو آپ پر اے حجج خدا آئمہ معصومین کے جگر گوشہ اور ساری
الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ سَلامَ مُخْلِصٍ لَکَ فِی الْوِلایَةِ، أَشْهَدُ
مخلوقات کے امامعليهالسلام سلام ہو آپ پر اے میرے مولا اس کا سلام جو آپ کی محبت میں مخلص ہے میںگواہی دیتا ہوں کہ
أَنَّکَ الْاِمامُ الْمَهْدِیُّ قَوْلاً وَفِعْلاً، وَأَ نْتَ الَّذِی تَمْلاََُ الْاَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلاً بَعْدَ ما
بہ لحاظ قول و فعل آپ ہی امام مہدیعليهالسلام ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں گے جبکہ وہ
مُلِئتْ ظُلْماً وَجَوْراً، فَعَجَّلَ ﷲ فَرَجَکَ، وَسَهَّلَ مَخْرَجَکَ، وَقَرَّبَ زَمانَکَ، وَکَثَّرَ
ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی پس خدا آپکو جلد آسودگی دے اور آپ کے ظہور کو آسان بنائے آپ کاعہد قریب تر کرے اور آپ کے
أَنْصارَکَ وَأَعْوانَکَ، وَأَ نْجَزَ لَکَ ما وَعَدَکَ فَهُوَ أَصْدَقُ الْقائِلِینَ وَنُرِیدُ أَنْ نَمُنَّ
مددگاروں میں اضافہ کر دے اورآپ سے کیے ہوئے وعدہ کو پورا فرمائے پس وہی کہنے والوں میں سب سے سچا ہے کہ فرمایا
عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوارِثِینَ، یَا
’’ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ ان لوگوں پر جن کو زمین میں کمزور کر دیا گیا احسان کریں اور ان کو امامعليهالسلام بنائیں اور ہم انہیں وارث قرار
مَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ، یَا ابْنَ رَسُولِ ﷲ، حاجَتِی کَذا وَکَذا
دیں‘‘ اے میرے مولا اے صاحب الزمانعليهالسلام اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میری یہ یہ۔
لفظ کذا کذا کی بجائے اپنی حاجت طلب کرے پھر کہے:
فَاشْفَعْ لِی فِی نَجاحِها، فَقَدْ تَوَجَّهْتُ إلَیْکَ بِحاجَتِی لِعِلْمِی أَنَّ لَکَ عِنْدَ ﷲ
پس ان حاجات کی برآری میں شفاعت کیجئے کہ اپنی حاجت لے کر آپ کی خدمت میں آیاہوں یہ جانتے ہوئے کہ خدا کے حضور
شَفاعَةً مَقْبُولَةً وَمَقاماً مَحْمُوداً فَبِحَقِّ مَنِ اخْتَصَّکُمْ بِأَمْرِهِ، وَارْتَضاکُمْ
آپ کی شفاعت مقبول ہے اور آپ کا مقام قابل ستائش ہے پس اس ذات کے واسطے سے جس نے آپ کو اس امر کیلئے چنا ہے یا
لِسِرِّهِ، وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَ ﷲ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَهُ، سَلِ ﷲ تَعالی فِی نُجْحِ
اپنے اسرار کے لیے پسند کیا اور اس شان کے واسطے سے جو خدا کے ہاں آپ کو حاصل ہے جو آپ کے اور اس کے درمیان ہے ﷲ
طَلِبَتِی وَ إجابَةِ دَعْوَتِی وَکَشْفِ کُرْبَتِی
سے سوال کیجئے کہ وہ میری حاجت پوری کریں دعا قبول فرمائے اور میری مشکل کو آسان کرے۔
پس جو دعا چاہے مانگے انشائ ﷲ وہ برآئے گی۔
مؤلف کہتے ہیں کہ بہتر ہے دو رکعت نماز جس کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ (اِنَّا فَتَحْنَا )اور دوسری رکعت میں سورہ نصر (اِذَا جَاءَ )پڑھے۔
آٹھویں فصل
مناجات کے بیان میں
حضرت امام زین العابدین -کی پندرہ مناجاتیں
علامہ مجلسیرحمهالله نے بحارالانوار میں فرمایا ہے کہ میں نے یہ مناجاتیںبعض اصحاب کی کتابوں میں دیکھی ہیں اور یہ حضرت سجاد -سے روایت کی گئی ہیں۔
پہلی مناجات
منا جات تائبین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
شروع خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی أَلْبَسَتْنِی الْخَطایا ثَوْبَ مَذَلَّتِی وَجَلَّلَنِی التَّباعُدُ مِنْکَ لِباسَ مَسْکَنَتِی وَأَماتَ
اے معبود میرے گناہوںنے مجھے ذلت کا لباس پہنا دیا تجھ سے دوری کے باعث بے چارگی نے مجھے ڈھانپ لیا بڑے بڑے
قَلْبِی عَظِیمُ جِنایَتِی، فَأَحْیِهِ بِتَوْبَةٍ مِنْکَ یَا أَمَلِی وَبُغْیَتِی، وَیَا سُؤْلِی وَمُنْیَتِی
جرائم نے میرے دل کو مردہ بنادیا پس توفیق توبہ سے اس کو زندہ کردے اے میری امید اے میری طلب اے میری چاہت اے
فَوَعِزَّتِکَ ما أَجِدُ لِذُنُوبِی سِواکَ غافِراً وَلاَ أَرَیٰ لِکَسْرِی غَیْرَکَ جابِراً وَقَدْ
میری آرزو مجھے تیری عزت کی قسم کہ سوائے تیرے میرے گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں اور تیرے سوا کوئی میری کمی پوری کرنے والا
خَضَعْتُ بِالْاِنابَةِ إلَیْکَ، وَعَنَوْتُ بِالاسْتِکانَةِ لَدَیْکَ، فَ إنْ طَرَدْتَنِی مِنْ بابِکَ فَبِمَنْ
نظر نہیں آتا میں تیرے حضور جھک کر توبہ و استغفار کرتا ہوں اور درماندہ ہو کر تیرے سامنے آپڑا ہوں اگر تو مجھے اپنی بارگاہ سے نکال
أَلُوذُ وَ إنْ رَدَدْتَنِی عَنْ جَنابِکَ فَبِمَنْ أَعُوذُ فَوا أَسَفاهُ مِنْ خَجْلَتِی وَافْتِضاحِی
دے تو میںکس کا سہارا لوں گا اور اگر تو نے مجھے اپنے آستانے سے دھتکار دیا تو کس کی پناہ لوں گا پس وائے ہو میری شرمساری و
وَوا لَهْفاهُ مِنْ سُوئِ عَمَلِی وَاجْتِراحِی أَسْأَلُکَ یَا غافِرَ الذَّنْبِ الْکَبِیرِ، وَیَا جابِرَ
رسوائی پراور صد افسوس میری اس بد عملی اور آلودگی پر، سوال کرتا ہوں تجھ سے اے گناہان کبیرہ کو بخشنے والے اور ٹوٹی ہڈی
الْعَظْمِ الْکَسِیرِ، أَنْ تَهَبَ لِی مُوبِقاتِ الْجَرائِرِ، وَتَسْتُرَ عَلَیَّ فاضِحاتِ السَّرائِرِ
کو جوڑنے والے کہ میرے سخت ترین جرائم کو بخش دے اور رسوا کرنے والے بھیدوں کی پردہ پوشی فرما
وَلاَ تُخْلِنِی فِی مَشْهَدِ الْقِیامَةِ مِنْ بَرْدِ عَفْوِکَ وَغَفْرِکَ، وَلاَ تُعْرِنِی مِنْ جَمِیلِ
میدان قیامت میںمجھے اپنی بخشش اور مغفرت سے محروم نہ فرما اور اپنی بہترین پردہ داری
صَفْحِکَ وَسَتْرِکَ إلهِی ظَلِّلْ عَلی ذُ نُوبِی غَمامَ رَحْمَتِکَ، وَأَرْسِلْ عَلی عُیُوبِی
و چشم پوشی سے محروم نہ کر اے معبود میرے گناہوں پر اپنے ابر رحمت کا سایہ ڈال دے اور میرے عیبوں پر اپنی مہربانی کا مینہ
سَحابَ رَأْفَتِکَ إلهِی هَلْ یَرْجِعُ الْعَبْدُ الْآبِقُ إلاَّ إلی مَوْلاهُ أَمْ هَلْ یُجِیرُهُ مِنْ
برسادے اے معبود کیا بھاگا ہوا غلام سوائے اپنے آقا کے کسی کے پاس لوٹتا ہے یا یہ کہ آقا کی ناراضی پرسوائے اسکے کوئی اسے پناہ
سَخَطِهِ أَحَدٌ سِواهُ إلهِی إنْ کانَ النَّدَمُ عَلَی الذَّنْبِ تَوْبَةً فَ إنِّی وَعِزَّتِکَ مِنَ
دے سکتا ہے میرے معبود اگر گناہ پر پشیمانی کا مطلب توبہ ہی ہے تو مجھے تیری عزت کی قسم کہ میں پشیمان ہونے والواں میں ہوں
النَّادِمِینَ وَ إنْ کانَ الاسْتِغْفارُ مِنَ الْخَطِیءَةِ حِطَّةً فَ إنِّی لَکَ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ، لَکَ
اور اگر خطا کی معافی مانگنے سے خطا معاف ہوجاتی ہے تو بے شک میں تجھ سے معافی مانگنے والوں میں ہوں تیری چوکھٹ
الْعُتْبَیٰ حَتَّی تَرْضَیٰ إلهِی بِقُدْرَتِکَ عَلَیَّ تُبْ عَلَیَّ، وَبِحِلْمِکَ عَنِّی اعْفُ عَنِّی
پر ہوں حتیٰ کہ تو راضی ہوجائے اے معبود اپنی قدرت سے میری توبہ قبول فرما اور اپنی ملائمت سے مجھے معاف فرما اور میرے متعلق
وَبِعِلْمِکَ بِی ارْفَقْ بِی إلهِی أَنْتَ الَّذِی فَتَحْتَ لِعِبادِکَ بَاباً إلی عَفْوِکَ سَمَّیْتَهُ
اپنے علم سے مجھ پر مہربانی کر اے معبود تو وہ ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے عفو و درگذر کا دروازہ کھولا کہ جسے تو نے توبہ
التَّوْبَةَ فَقُلْتَ تُوبُوا إلَی ﷲ تَوْبَةً نَصُوحاً فَمَا عُذْرُ مَنْ أَغْفَلَ دُخُولَ الْبابِ بَعْدَ
کا نام دیا تو نے ہی فرما یا کہ توبہ کرو خدا کے حضور مؤثر توبہ پس کیا عذر ہے اس کا جو کھلے ہوئے دروازے سے داخل ہونے میں
فَتْحِهِ إلهِی إنْ کانَ قَبُحَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِکَ فَلْیَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِکَ إلهِی مَا أَنَا
غفلت کرے اے معبود اگرچہ تیرے بندے سے گناہ ہوجانا بری بات ہے لیکن تیری طرف سے معافی تو اچھی ہے اے معبود میں ہی
بِأَوَّلِ مَنْ عَصَاکَ فَتُبْتَ عَلَیْهِ وَتَعَرَّضَ لِمَعْرُوفِکَ فَجُدْتَ عَلَیْهِ، یَا مُجِیبَ الْمُضْطَرِّ
وہ پہلا نافرمان کہ جسکی توبہ تونے قبول کی ہو اور وہ تیرے احسان کا طالب ہوا تو تو نے اس پر عطا کی ہو اے بے قرار کی دعا قبول کرنے
یَا کَاشِفَ الضُّرِّ یَا عَظِیمَ الْبِرِّ، یَا عَلِیماً بِمَا فِی السِّرِّ، یَا جَمِیلَ السِّتْرِ اسْتَشْفَعْتُ
والے اے سختی ٹالنے والے اے بہت احسان کرنے والے اے پوشیدہ باتوں کے جاننے والے اے بہتر پردہ پوشی کرنے والے میں
بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ إلَیْکَ وَتَوَسَّلْتُ بِجَنابِکَ وَتَرَحُّمِکَ لَدَیْکَ فَاسْتَجِبْ دُعائِی وَلاَ
تیری جناب میں تیری بخشش و احسان کو شفیع بناتا ہوںاور تیرے سامنے تیری ذات اور تیرے رحم کو وسیلہ قرار دیتا ہوں پس میری دعا
تُخَیِّبْ فِیکَ رَجائِی، وَتَقَبَّلْ تَوْبَتِی، وَکَفِّرْ خَطِیءَتِی، بِمَنِّکَ وَرَحْمَتِکَ
قبول فرما اور تجھ سے میری جو امید ہے اسے نہ توڑ میری توبہ قبول فرما اور اپنے رحم و کرم سے میری خطائیں معاف کردے
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
دوسری مناجات
مناجات شاکین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی إلَیْکَ أَشْکُو نَفْساً بِالسُّوئِ أَمَّارَةً وَ إلَی الْخَطِیءَةِ مُبادِرَةً وَبِمَعاصِیکَ مُولَعَةً
اے معبود میں تجھ سے اپنے نفس کی شکایت کرتا ہوں جو برائی پر اکسانے والا اور خطاکیطرف بڑھنے والا ہے وہ تیری نافرمانی کا
وَ لِسَخَطِکَ مُتَعَرِّضَةً تَسْلُکُ بِی مَسالِکَ الْمَهَالِکِ وَتَجْعَلُنِی عِنْدَکَ أَهْوَنَ هَالِکٍ
شائق اور تیری ناراضی سے ٹکر لیتا ہے وہ مجھے تباہی کی راہوں پر لے جاتا ہے اور اس نے مجھے تیرے سامنے ذلیل اور تباہ حال بنادیا
کَثِیرَةَ الْعِلَلِ، طَوِیلَةَ الْاَمَلِ، إنْ مَسَّهَا الشَّرُّ تَجْزَعُ، وَ إنْ مَسَّهَا الْخَیْرُ تَمْنَعُ، مَیَّالَةً
ہے یہ بڑا بہانہ ساز اور لمبی امیدوں والا ہے اگر اسے تکلیف ہو تو چلاتا ہے اور اگر آرام پہنچے تو چپ رہتا ہے وہ کھیل تماشے کی طرف
إلَی اللَّعِبِ وَاللَّهْوِ، مَمْلُوءَةً بِالْغَفْلَةِ وَالسَّهْوِ، تُسْرِعُ بِی إلی الْحَوْبَةِ، وَتُسَوِّفُنِی
زیادہ مائل اورغفلت اور بھول چوک سے بھرا پڑا ہے مجھے تیزی سے گناہ کی طرف لے جاتاہے اور توبہ کرنے میں تاخیر
بِالتَّوْبَةِ الِهِی أَشْکُو إلَیْکَ عَدُوّاً یُضِلُّنِی، وَشَیْطاناً یُغْوِینِی، قَدْ مَلاَءَ بِالْوَسْواسِ
کرتا ہے میرے معبود میںتجھ سے شکایت کرتا ہوں اس دشمن کی جو گمراہ کرتا ہے اور شیطان کی جو بہکاتا ہے اس نے میرے سینے کو
صَدْرِی، وَأَحاطَتْ هَواجِسُه بِقَلْبِی، یُعاضِدُ لِیَ الْهَویٰ، وَیُزَیِّنُ لِی حُبَّ الدُّنْیا،
برے خیالوں سے بھردیا اسکی خواہشوں نے میرے دل کو گھیرلیا ہے بری خواہشوںمیں مدد کرتا ہے اوردنیاکی محبت کواچھا بنا کر دکھاتا
وَیَحُولُ بَیْنِی وَبَیْنَ الطَّاعَةِ وَالزُّلْفیٰ إلهِی إلَیْکَ أَشْکُو قَلْباً قاسِیاً مَعَ الْوَسْواسِ
ہے وہ میرے اور تیری بندگی اور قرب کے درمیان حائل ہوگیاہے اے معبود میں تجھ سے دل کی سختی کی شکایت کرتا ہوںاورمسلسل
مُتَقَلِّباً، وَبِالرَّیْنِ وَالطَّبْعِ مُتَلَبِّساً، وَعَیْناً عَنِ الْبُکائِ مِنْ خَوْفِکَ جامِدَةً، وَ إلی ما
وسواسوں شکایت کرتا ہوں جورنگ و تیرگی سے آلودہ ہے اس آنکھ کی شکایت کرتا ہوںجو تیرے خوف میں گریہ نہیں کرتی اور جو
یَسُرُّها طامِحَةً إلهِی لاَ حَوْلَ لِی وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِقُدْرَتِکَ، وَلاَ نَجاةَ لِی مِنْ مَکارِهِ
چیز اچھی لگے اس سے خوش ہے اے معبود نہیںمیری حرکت اور نہیںطاقت مگر جو تیری قدرت سے ملتی ہے میں بچ نہیںسکتادنیا کی
الدُّنْیا إلاَّ بِعِصْمَتِکَ، فَأَسْأَ لُکَ بِبَلاغَةِ حِکْمَتِکَ، وَنَفاذِ مَشِیءَتِکَ، أَنْ لاَ تَجْعَلَنِی
برائیوں سے مگرصرف تیری نگہداشت سے پس تجھ سے سوال کرتا ہوںتیری گہری حکمت اور تیری پوری ہونے والی مرضی کے واسطے
لِغَیْرِ جُودِکَ مُتَعَرِّضاً، وَلاَ تُصَیِّرَنِی لِلْفِتَنِ غَرَضاً، وَکُنْ لِی عَلَی الْأَعْدائِ ناصِراً،
سے کہ مجھے اپنی بخشش کے سوا کسی طرف نہ جانے دے اور مجھے فتنوں کا ہدف نہ بننے دے اور دشمنوں کے مقابل میرا مددگار بن
وَعَلَیٰ الْمَخازِی وَالْعُیُوبِ ساتِراً وَمِنَ الْبَلائِ واقِیاً وَعَنِ الْمَعاصِی عاصِماً بِرَأْفَتِکَ
میرے عیبوں اور رسوائیوں کی پردہ پوشی فرما مجھ سے مصیبتیں دور کر اور گناہوں سے بچائے رکھ اپنی رحمت و نوازش سے
وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
تیسری مناجات
مناجات خائفین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی أَتَراکَ بَعْدَ الْاِیمانِ بِکَ تُعَذِّبُنِی أَمْ بَعْدَ حُبِّی إیَّاکَ تُبَعِّدُنِی أَمْ
میرے معبود کیا تجھے ایسا سمجھوں کہ تجھ پر ایمان رکھنے کے باوجود مجھے عذاب دے گا یا تجھ سے محبت کروں تو بھی مجھے دورکرے گایا
مَعَ رَجائِی لِرَحْمَتِکَ وَصَفْحِکَ تَحْرِمُنِی أَمْ مَعَ اسْتِجارَتِی بِعَفْوِکَ تُسْلِمُنِی
تیری رحمت و چشم پوشی کی امید رکھوں تو بھی محروم کرے گا یا تیرے عفو کی پناہ لوں تو بھی مجھے آگ کے سپرد کرے گانہیں تیری ذات
حَاشَا لِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ أَنْ تُخَیِّبَنِی لَیْتَ شِعْرِی أَلِلشَّقائِ وَلَدَتْنِی أُمِّی أَمْ لِلْعَنائِ
کریم ہے بعید ہے کہ مجھے نا امید کرے کاش میں جان سکتا کہ آیا میری ماں نے مجھے بدبختی کے لیے جنا یا دکھ کے لیے
رَبَّتْنِی فَلَیْتَها لَمْ تَلِدْنِی، وَلَمْ تُرَبِّنِی ، وَلَیْتَنِی عَلِمْتُ أَمِنْ أَهْلِ السَّعادَةِ جَعَلْتَنِی،
پالا کاش وہ مجھے نہ جنتی اور مجھے نہ پالتی اور کاش مجھے یہ علم ہوتا کہ آیاتو نے مجھے نیک بختوں میں قرار دیا
وَبِقُرْبِکَ وَجِوارِکَ خَصَصْتَنِی، فَتَقِرَّ بِذلِکَ عَیْنِی، وَتَطْمَئِنَّ لَهُ نَفْسِی إلهِی هَلْ
اور قرب و نزدیکی کے لیے مجھے خاص کیا ہے تو اس سے میری آنکھیںروشن اور دل مطمئن ہوجاتا میرے معبود آیا توان چہروں
تُسَوِّدُ وُجُوهاً خَرَّتْ ساجِدَةً لِعَظَمَتِکَ أَوْ تُخْرِسُ أَلْسِنَةً نَطَقَتْ بِالثَّنائِ عَلی مَجْدِکَ
کو سیاہ کردے گا جو تیری عظمت کو سجدے کرتے ہیں یا ان زبانوںکو گنگ کرے گا جو تیری اونچی شان اور جلالت کی تعریف میں
وَجَلالَتِکَ أَوْ تَطْبَعُ عَلی قُلُوبٍ انْطَوَتْ عَلی مَحَبَّتِکَ أَوْ تُصِمُّ أَسْماعاً تَلَذَّذَتْ
تر ہیں یا ان دلوںپر مہر لگائے گا جو اپنے اندر تیری محبت لیے ہوئے ہیں یا ان کانوں کو بہرا کرے گاجو تیرا ذکر سننے کا
بِسَماعِ ذِکْرِکَ فِی إرادَتِکَ أَوْ تَغُلُّ أَکُفّاً رَفَعَتْهَا الْآمالُ إلَیْکَ رَجاءَ رَأْفَتِکَ أَوْ تُعاقِبُ
شرف حاصل کرتے ہیں یاان ہاتھوںکو باندھے گاجن کو تیری رحمت کی امید نے تیرے حضور پھیلایا ہے یا ان بدنوں کو
أَبْداناً عَمِلَتْ بِطاعَتِکَ حَتَّی نَحِلَتْ فِی مُجاهَدَتِکَ أَوْ تُعَذِّبُ أَرْجُلاً سَعَتْ فِی
عذاب دے گا جنہوں نے تیری اطاعت کی حتیٰ کہ اس کوشش میںلاغر ہوگئے یا ان پاؤں کو عذاب کرے گا جو عبادت
عِبادَتِکَ إلهِی لاَ تُغْلِقْ عَلی مُوَحِّدِیکَ أَبْوابَ رَحْمَتِکَ وَلاَ تَحْجُبْ مُشْتاقِیکَ عَنِ
کیلئے دوڑتے ہیں میرے معبود جو تیری توحید کے پرستار ہیں ان پر رحمت کے دروازے بند نہ کر اور جو تیرا شوق دیدار رکھتے ہیں
النَّظَرِ إلی جَمِیلِ رُؤْیَتِکَ إلهِی نَفْسٌ أَعْزَزْتَها بِتَوْحِیدِکَ کَیْفَ تُذِلُّها بِمَهانَةِ
ان کو اپنی تجلیوں پر نظر کرنے سے محروم نہ کرنا میرے معبود جس جان کو تو نے اپنی توحید پر ایمان کی عزت دی کیونکراسے ہجر کی اہانت
هِجْرانِکَ وَضَمِیرٌ انْعَقَدَ عَلی مَوَدَّتِکَ کَیْفَ تُحْرِقُهُ بِحَرارَةِ نِیرانِکَ إلهِی أَجِرْنِی مِنْ
سے ذلیل کرے گا اور جس دل میں تیری محبت سمائی ہوئی ہے اسکو اپنی آگ کی تپش میں کسطرح جلائے گا میرے معبود مجھے دردناک
أَلِیمِ غَضَبِکَ، وَعَظِیمِ سَخَطِکَ، یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا رَحِیمُ یَا رَحْمانُ، یَا جَبَّارُ یَا
غضب اور سخت ناراضی سے بچانا اے محبت والے اے احسان والے اے مہربان اے رحم والے اے زبردست اے
قَهَّارُ یَا غَفَّارُ یَا سَتَّارُ، نَجِّنِی بِرَحْمَتِکَ مِنْ عَذابِ النَّارِ، وَفَضِیحَةِ الْعارِ، إذا امْتازَ
غلبے والے اے بخشنے والے اے پردہ پوش مجھے اپنی رحمت سے عذاب جہنم سے نجات دے رسوائی پر شرمندگی سے بچا جب نیک لوگ
الْاَخْیارُ مِنَ الْاَشْرارِ، وَحَالَتِ الْاَحْوالُ وَهَالَتِ الْاَهْوالُ، و قَرُبَ الْمُحْسِنُونَ
الگہوں گے برے لوگوں سے جب حالات دگرگوں ہوںگے اور خوف و خطر گھیر لیںگے اچھے لوگ قریب کیے جائیں گے اور
وَبَعُدَ الْمُسِیئُونَ، وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ وَهُمْ لاَیُظْلَمُونَ
برے لوگ دھتکارے جائیں گے اور ہر نفس نے جو کیا وہ پورا پورا پائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا
چوتھی مناجات
مناجات راجین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خداکے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
یَا مَنْ إذا سَأَلَهُ عَبْدٌ أَعْطاهُ، وَ إذا أَمَّلَ ما عِنْدَهُ بَلَّغَهُ مُناهُ، وَ إذا أَقْبَلَ
اے وہ کہ جب بندہ اس سے مانگے تو اسے دیتا ہے اور جب وہ کسی چیز کی امید رکھے تو اسکی آرزو پوری کرتا ہے جب وہ اسکی طرف
عَلَیْهِ قَرَّبَهُ وَأَدْناهُ، وَ إذا جاهَرَهُ بِالْعِصْیانِ سَتَرَ عَلی ذَ نْبِهِ وَغَطَّاهُ، وَ إذا تَوَکَّلَ
بڑھے تو اسے قریب کرلیتا ہے جب وہ کھلم کھلا نافرمانی کرے تو اسکے گناہ پر پردہ ڈالتا اور چھپا لیتاہے اور جب وہ اس پر بھروسہ
عَلَیْهِ أَحْسَبَهُ وَکَفاهُ إلهِی مَنِ الَّذِی نَزَلَ بِکَ مُلْتَمِساً قِراکَ فَما قَرَیْتَهُ؟ وَمَنِ
کرے تو اس کی ضرورت پوری کرتا ہے میرے معبود کون ہے جو تیری بارگاہ میںمہمانی کا طالب ہو تو تو اسکی مہمانی نہ کرے؟ کون
الَّذِی أَناخَ بِبابِکَ مُرْتَجِیاً نَداکَ فَما أَوْلَیْتَهُ ؟ أَیَحْسُنُ أَنْ أَرْجِعَ عَنْ بابِکَ بِالْخَیْبَةِ
ہے؟ جو بخشش کی آس لے کر تیرے دروازے پرآئے تو تو اس پر احسان نہ کرے کیا یہ مناسب ہے کہ میںتیرے دروازے سے
مَصْرُوفاً، وَلَسْتُ أَعْرِفُ سِواکَ مَوْلیً بِالْاِحْسانِ مَوْصُوفاً؟ کَیْفَ أَرْجُو غَیْرَکَ
مایوسی کے ساتھ پلٹ جاؤں جبکہ میںتیرے سوا کوئی مولا نہیںپاتا جو احسان و کرم کرنے والا ہو پھر کیوں تیرے سوا کسی سے امید
وَالْخَیْرُ کُلُّهُ بِیَدِکَ؟ وَکَیْفَ أُؤَمِّلُ سِواکَ وَالْخَلْقُ وَالْاَمْرُ لَکَ؟ أَأَقْطَعُ
رکھوں جب کہ ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور کیوں تیرے سوا کسی سے آرزو کروںجب کہ تو ہی خلق و امر کا مالک ہے آیا تجھ سے
رَجائِی مِنْکَ وَقَدْ أَوْلَیْتَنِی ما لَمْ أَسْأَلْهُ مِنْ فَضْلِکَ ؟ أَمْ تُفْقِرُنِی إلی مِثْلِی وَأَنَا
امید توڑلوں جبکہ تو مجھے بن مانگے ہی اپنے کرم سے ہر چیز عطا فرماتا ہے تو کیا تو مجھ جیسے شخص کوکسی کا محتاج کرے گا جب کہ میںتیرا
أَعْتَصِمُ بِحَبْلِکَ؟ یَا مَنْ سَعَدَ بِرَحْمَتِهِ الْقاصِدُونَ، وَلَمْ یَشْقَ بِنِقْمَتِهِ الْمُسْتَغْفِرُونَ
دامن پکڑے ہوںاے وہ جس نے اپنی رحمت سے قصد کرنے والوں کو بھلائی عطا کی اور جو معافی مانگنے والوںکو اپنے انتقام سے تنگی
کَیْفَ أَنْساکَ وَلَمْ تَزَلْ ذاکِرِی؟ وَکَیْفَ أَلْهُو عَنْکَ وَ أَنْتَ مُراقِبِی؟ إلهِی
نہیں دیتا کیسے تجھے بھول سکتا ہوں جب کہ تیرے ذکر میںلگا رہتا ہوںکیسے تجھ سے غافل رہ سکتا ہوںجبکہ تو میرا نگہبان ہے میرے
بِذَیْلِ کَرَمِکَ أَعْلَقْتُ یَدِی، وَ لِنَیْلِ عَطایاکَ بَسَطْتُ أَمَلِی، فَأَخْلِصْنِی بِخالِصَةِ
معبود میں نے اپنے ہاتھ سے تیرے دامن کرم کو پکڑ لیا ہوا ہے اور تیری عطاؤںکی آرزو کیئے ہوئے ہوںپس مجھے اپنی توحید کے سچے
تَوْحِیدِکَ، وَاجْعَلْنِی مِنْ صَفْوَةِ عَبِیدِکَ، یَا مَنْ کُلُّ هارِبٍ إلَیْهِ یَلْتَجئُ، وَکُلُّ طالِبٍ
پرستاروں میں شامل کرلے اور مجھے اپنے چنے ہوئے بندوں میں سے قرار دے اے وہ کہ ہر بھاگ کر آنے والا جس کی پناہ لیتا ہے
إیَّاهُ یَرْتَجِی، یَا خَیْرَ مَرْجُوٍّ، وَیَا أَکْرَمَ مَدْعُوٍّ، وَیَا مَنْ لاَ یُرَدُّ سائِلُهُ، وَلاَ یُخَیَّبُ
اور ہر سائل جس سے امید رکھتا ہے اے بہترین امید برلانے والے اے بہترین پکارے جانے والے اے وہ جو سائل کو نہیںہٹکاتا
آمِلُهُ ، یَا مَنْ بابُهُ مَفْتُوحٌ لِداعِیهِ، وَحِجابُهُ مَرْفُوعٌ لِراجِیهِ، أَسْأَلُکَ
اور وہ آرزومند کو مایوس نہیں کرتااے وہ جس کادروازہ پکارنے والے کے لیے کھلا ہے اور امیدوار کے لیے پردہ اٹھا ہؤا ہے میں
بِکَرَمِکَ أَنْ تَمُنَّ عَلَیَّ مِنْ عَطائِکَ بِما تَقِرُّ بِهِ عَیْنِی، وَمِنْ رَجائِکَ
بواسطہ تیرے کرم کے سوال کرتا ہوں کہ مجھ پر اپنی عطا سے ایسا احسان فرما جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور ایسی امید
بِما تَطْمَئِنُّ بِهِ نَفْسِی، وَمِنَ الْیَقِینِ بِما تُهَوِّنُ بِهِ عَلَیَّ مُصِیباتِ الدُّنْیا، وَتَجْلُو بهِِ
دے کہ جس سے میرے دل کو چین آجائے ایسا یقین عطا کر کہ جس سے دنیا کی مصیبتیںمیرے لیے ہلکی ہوجائیں اور میری سمجھ بوجھ
عَنْ بَصِیرَتِی غَشَواتِ الْعَمیٰ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
پرسے نادانی کے پردے دور ہوجائیںتیری رحمت کے واسطے سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
پانچویں مناجات
مناجات راغبین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خداکے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والاہے
إلهِی إنْ کانَ قَلَّ زادِی فِی الْمَسِیرِ إلَیْکَ، فَلَقَدْ حَسُنَ ظَنِّی بِالتَّوَکُّلِ عَلَیْکَ، وَ إنْ
میرے معبود اگرچہ تیری راہ میںسفر کیلئے میرا زاد راہ کم ہے تو پھربھی مجھے جوتجھ پر بھروسہ ہے اسکے باعث میں پر امید ہوں اور اگرچہ
کانَ جُرْمِی قَدْ أَخافَنِی مِنْ عُقُوبَتِکَ، فَ إنَّ رَجائِی قَدْ أَشْعَرَنِی بِالْاَمْنِ مِنْ نِقْمَتِکَ
میرا جرم مجھے تیری طرف کی سزا سے خوف دلاتا ہے تا ہم تجھ سے میری امید مجھے تیرے انتقام سے بچ جانے کی نوید دیتی ہے
وَ إنْ کانَ ذَ نْبِی قَدْ عَرَّضَنِی لِعِقابِکَ، فَقَدْ آذَ نَنِی حُسْنُ ثِقَتِی بِثَوابِکَ، وَ إنْ
اور اگرچہ میرا گناہ مجھے تیری طرف کے عذاب کے سامنے لے آیا ہے لیکن تجھ پر میرا اعتماد تیرے ثواب سے آگاہ کرتا ہے اگرچہ
أَنامَتْنِی الْغَفْلَةُ عَنِ الاسْتِعْدادِ لِلِقائِکَ، فَقَدْ نَبَّهَتْنِی الْمَعْرِفَةُ بِکَرَمِکَ وَآلائِکَ، وَ إنْ
غفلت نے مجھے تیری ملاقات کے لائق نہیںرہنے دیا لیکن تیری نوازش اور تیری نعمتوںسے واقفیت نے مجھے بیدار کردیا ہے اور
أَوْحَشَ ما بَیْنِی وَبَیْنَکَ فَرْطُ الْعِصْیانِ وَالطُّغْیانِ، فَقَدْ آنَسَنِی بُشْرَی الْغُفْرانِ
اگرچہ میرے اور تیرے درمیان میرے گناہوں اور سرکشیوںنے دوری پیدا کردی ہے تب بھی تیری بخشش اور مہربانی کی خوشخبری
وَالرِّضْوانِ أَسْأَ لُکَ بِسُبُحاتِ وَجْهِکَ وَبِأَ نْوارِ قُدْسِکَ،
نے مجھے تجھ سے مانوس کردیا ہے میںسوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ذات کی پاکیزگیوںاور تیرے انوار کی روشنیوں کے واسطے سے
وَأَبْتَهِلُ إلَیْکَ بِعَواطِفِ رَحْمَتِکَ، وَلَطائِفِ بِرِّکَ، أَنْ تُحَقِّقَ ظَنِّی بِما أُؤَمِّلُهُ
اورتیرے حضور زاری کرتا ہوں تیری رحمت کی نرمیوں احسان کی لطافتوں کے واسطے کہ میرے خیال کو جمادے اس پر جس کی آرزو
مِنْ جَزِیلِ إکْرامِکَ، وَجَمِیلِ إنْعامِکَ، فِی الْقُرْبیٰ مِنْکَ وَالزُّلْفیٰ لَدَیْکَ،
کرتا ہوں تیرے بڑے بڑے احسانوںاور پسندیدہ انعاموںمیں سے کہ میںتیرے قریب ہوجاؤں اور تیرے نزدیک ہوجاؤں
وَالتَّمَتُّعِ بِالنَّظَرِ إلَیْکَ، وَهَا أَ نَا مُتَعَرِّضٌ لِنَفَحاتِ رَوْحِکَ وَعَطْفِکَ، وَمُنْتَجِعٌ
اور تیرے آستاںپر نظر ڈالوںاورہاںاب میںتیرے نسیم راحت کے انوار اور تیری مہربانی کا طالب ہوںاور تیری بخشائش
غَیْثَ جُودِکَ وَلُطْفِکَ، فارٌّ مِنْ سَخَطِکَ إلی رِضاکَ، هارِبٌ مِنْکَ إلَیْکَ،
اور لطف کے مینہ کا طلب گار ہوںمیں تیری ناراضی سے تیری رضا کی طرف دوڑنے والا ہوںتجھ سے بھاگ کر تیری درگاہ میںامید
راجٍ أَحْسَنَ ما لَدَیْکَ، مُعَوِّلٌ عَلی مَواهِبِکَ، مُفْتَقِرٌ إلی رِعایَتِکَ إلهِی مَا بَدَأْتَ بِهِ
لگائے ہوں اس چیز کی جو تیرے ہاں بہتر ہے مجھے تیری عطاؤں پر اعتمادہے اور میںتیری رعایت کا محتاج ہوںمیرے معبود تو نے
مِنْ فَضْلِکَ فَتَمِّمْهُ، وَما وَهَبْتَ لِی مِنْ کَرَمِکَ فَلا تَسْلُبْهُ، وَما سَتَرْتَهُ عَلَیَّ بِحِلْمِکَ
جس مہربانی کا آغاز کیا ہے اسے پورا فرما اور تو نے جس نوازش سے جو کچھ مجھے عطا فرمایا ہے اسے نہ چھین اور اپنی ملائمت سے جو پردہ
فَلا تَهْتِکْهُ، وَما عَلِمْتَهُ مِنْ قَبِیحِ فِعْلِی فَاغْفِرْهُ إلهِی اسْتَشْفَعْتُ بِکَ إلَیْکَ،
پوشی کی ہے وہ فاش نہ کر میرے جن برے کاموں کاتجھے علم ہے انکی معافی دے میرے معبود میں تیرے سامنے تجھی سے شفاعت کراتا ہوں
وَاسْتَجَرْتُ بِکَ مِنْکَ، أَتَیْتُکَ طامِعاً فِی إحْسانِکَ، راغِباً فِی امْتِنانِکَ، مُسْتَسْقِیاً
اور تجھ سے تیری ہی ذات کی پناہ لیتا ہوں میں تیرے احسان کی خواہش میں تیرے پاس آیاہوںتیری بخشش کی رغبت رکھتا ہوں میں
وَابِلَ طَوْ لِکَ، مُسْتَمْطِراً غَمامَ فَضْلِکَ، طالِباً مَرْضاتَکَ، قاصِداً جَنابَکَ، وَارِداً
تیرے فضل کے بادلوں سے تیری سخاوت کی بارش کا طلبگار ہوں تیری رضاؤں کا طالب، تیری طرف قدم بڑھانے والا ہوں
شَرِیعَةَ رِفْدِکَ، مُلْتَمِساً سَنِیَّ الْخَیْراتِ مِنْ عِنْدِکَ، وَافِداً إلی حَضْرَةِ جَمالِکَ،
تیری قبولیت کے گھاٹ پر آیا ہوں تجھ سے روشن بھلائیاں مانگنے کو حاضر ہوا ہوں تیرے حضور جمال میں تیری ذات کی خاطر پیش ہؤا
مُرِیداً وَجْهَکَ طارِقاً بابَکَ، مُسْتَکِیناً لِعَظَمَتِکَ وَجَلالِکَ، فَافْعَلْ بِی ما أَ نْتَ أَهْلُهُ
ہوں تیرا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تیری بڑائی و بزرگی کے سامنے عاجز ہوں پس میرے ساتھ وہ سلوک فرما جو تیرے لائق ہے
مِنَ الْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَلاَ تَفْعَلْ بِی ما أَنَا أَهْلُهُ مِنَ الْعَذابِ وَالنِّقْمَةِ، بِرَحْمَتِکَ
وہ بخشش و مہربانی ہے اور مجھ سے وہ نہ کر جس کا میں اہل ہوں جو عذاب اور گناہوں کی سزا ہے تیری رحمت کا واسطہ
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
چھٹی مناجات
مناجات شاکرین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی أَذْهَلَنِی عَنْ إقامَةِ شُکْرِکَ تَتابُعُ طَوْ لِکَ، وَأَعْجَزَنِی عَنْ إحْصائِ
میرے معبود تیری لگاتار بخششوں نے مجھے تیرا شکر ادا کرنے سے غافل کردیا ہے اور تیرے فضل کے تسلسل نے مجھے تیری ثنائ کا
ثَنائِکَ فَیْضُ فَضْلِکَ، وَشَغَلَنِی عَنْ ذِکْرِ مَحامِدِکَ تَرادُفُ عَوائِدِکَ،
احاطہ کرنے سے عاجز کردیا ہے اور تیری پے در پے ہونے والی مہربانیوں نے مجھے تیری تعریفوں کے بیان سے بے دھیان کردیا اور
وَأَعْیانِی عَنْ نَشْرِ عَوارِفِکَ تَوَالِی أَیادِیکَ، وَهذا مَقامُ مَنِ اعْتَرَفَ بِسُبُوغِ النَّعْمائِ
تیری مسلسل نعمتوں نے مجھے تیرے احسانات کے ذکر سے تکھاکر رکھ دیا یہی مقام ہے اس شخص کا جو تیری نعمتوں کا معترف ہے
وَقابَلَها بِالتَّقْصِیرِ وَشَهِدَ عَلی نَفْسِهِ بِالْاِهْمالِ وَالتَّضْیِیعِ وَأَنْتَ الرَّؤُوفُ الرَّحِیمُ
اور ان پر شکر سے قاصر ہے وہ اپنی اس بے دھیانی اور نافکری پر خود ہی گواہ ہے اور تو ہی وہ شفیق و مہربان نیک نام سخی ہے
الْبَرُّ الْکَرِیمُ، الَّذِی لاَ یُخَیِّبُ قاصِدِیهِ، وَلاَ یَطْرُدُ عَنْ فِنائِهِ آمِلِیهِ، بِساحَتِکَ تَحُطُّ
جو اپنی درگاہ کا قصد کرنے والوں کو ناامید نہیں کرتا اور آرزومندوںکو اپنے آستانے سے دور نہیںکرتا تیرے ہی در پر امیدواروں کے
رِحالُ الرَّاجِینَ، وَبِعَرْصَتِکَ تَقِفُ آمالُ الْمُسْتَرْفِدِینَ، فَلاَ تُقابِلْ آمالَنا بِالتَّخْیِیبِ
کارواں اترتے ہیں اور تیرے ہی میدان میں طالبان نعمت کی تمنائیںجگہ پاتی ہیںپس ہماری چاہتوں کے مقابلے میں ناامیدی و
وَالْاِیآسِ وَلاَ تُلْبِسْنا سِرْبالَ الْقُنُوطِ وَالْاِ بْلاسِ إلهِی تَصَاغَرَ عِنْدَ تَعاظُمِ آلائِکَ
یاس نہ دے اور ہمیں ناامیدی اور پشیمانی کا پیراہن نہ پہنا میرے معبود تیری بزرگتر نعمتوں کے سامنے میرا شکر و سپاس ہیچ ہے
شُکْرِی وَتَضَاءَلَ فِی جَنْبِ إکْرامِکَ إیَّایَ ثَنائِی وَنَشْرِی جَلَّلَتْنِی نِعَمُکَ مِنْ أَنْوارِ
تیری عظمتوں کے مقابل میری زبان سے تیری تعریف و ذکر بے مایہ ہے تیری نعمتوںنے مجھے ایمان کے نورانی پوشاکوں سے
الْاِیمانِ حُلَلاً، وَضَرَبَتْ عَلَیَّ لَطائِفُ بِرِّکَ مِنَ الْعِزِّ کِلَلاً، وَقَلَّدَتْنِی مِنَنُکَ قَلایِدَ لاَ
ڈھانپ دیا اور تیری خوش آیند بھلائی نے مجھے عزت کے تاج پہنائے ہیںتو نے مجھے فخر کے وہ زیور پہنائے جو اترتے
تُحَلُّ وَطَوَّقَتْنِی أَطْواقاً لاَ تُفَلُّ فَآلاوَُکَ جَمَّةٌ ضَعُفَ لِسانِی عَنْ إحْصَائِها وَنَعْماؤُکَ
نہیںاور گردن میںوہ ہار ڈالا جو ٹوٹتا نہیںتیری مہربانیاںزیادہ ہیںمیری زبان انکو شمار کرنے سے عاجز ہے اور تیری نعمتیں کثیر ہیں
کَثِیرَةٌ قَصُرَ فَهْمِی عَنْ إدْراکِها فَضْلاً عَنِ اسْتِقْصَائِها فَکَیْفَ لِی بِتَحْصِیلِ
میرا فہم ان کو سمجھنے سے قاصر ہے چہ جائیکہ ان کی تعداد کو جان سکے تو میں کیسے مقام شکر حاصل کروں کہ
الشُّکْرِ وَشُکْرِی إیَّاکَ یَفْتَقِرُ إلی شُکْرٍ ؟ فَکُلَّما قُلْتُ لَکَ الْحَمْدُ وَجَبَ عَلَیَّ لِذلِکَ
میرا شکر کرنا بھی محتاج شکر ہے تو جب میں کہوں کہ تیرے لیے حمد ہے اس کے لیے مجھ پر واجب ہے کہ
أَنْ أَ قُولَ لَکَ الْحَمْدُ إلهِی فَکَما غَذَّیْتَنا بِلُطْفِکَ وَرَبَّیْتَنا بِصُنْعِکَ فَتَمِّمْ عَلَیْنا سَوَابِغَ
میں کہوں تیرے لیے حمد ہے پس جیسے تو نے ہمیں اپنے لطف سے غذا دی اور اپنے احسان سے پرورش کی ہے تو ہم پر اپنی کثیر نعمتیں
النِّعَمِ، وَادْفَعْ عَنَّا مَکارِهَ النِّقَمِ، وَآتِنا مِنْ حُظُوظِ الدَّارَیْنِ أَرْفَعَها وَأَجَلَّها عاجِلاً
بھی تمام فرما اور عذاب کی سختیاں ہم سے دور کردے اور ہمیں دنیا و آخرت میں بہتر اور بیشتر حصہ عطا فرما
وَآجِلاً، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلی حُسْنِ بَلائِکَ، وَسُبُوغِ نَعْمَائِکَ، حَمْداً یُوافِقُ رِضَاکَ،
اب بھی اور تب بھی تیرے لیے حمد ہے تیری بہترین آزمائش اور کثیر نعمتوں پرایسی حمد جو تیری رضا کے موافق ہو
وَیَمْتَرِی الْعَظِیمَ مِنْ بِرِّکَ وَنَدَاکَ، یَا عَظِیمُ یَا کَرِیمُ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور تیرے عظیم احسان و بخشش کو حاصل کرے اے عظیم اے کریم تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
ساتویں مناجات
مناجات مطِیعِین للہ
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اَللّٰهُمَّ أَلْهِمْنا طَاعَتَکَ وَجَنِّبْنا مَعْصِیَتَکَ وَیَسِّرْ لَنا بُلُوغَ مَا نَتَمَنَّیٰ مِنِ ابْتِغائِ رِضْوانِکَ
اے معبود ہمیںاپنی فرمانبرداری کی تعلیم دے اور اپنی نافرمانی سے بچائے رکھ ہمارے لیے ان تمناؤں تک پہنچنا آسان فرما
وَأَحْلِلْنا بُحْبُوحَةَ جِنانِکَ، وَاقْشَعْ عَنْ بَصائِرِنا سَحابَ الارْتِیابِ، وَاکْشِفْ عَنْ
جو تیری رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہوں ہمیں اپنی جنت کے وسط میںجگہ دے ہماری آنکھوں سے شک کے بادل دور کردے
قُلُوبِنا أَغْشِیَةَ الْمِرْیَةِ وَالْحِجابِ وَأَزْهِقِ الْباطِلَ عَنْ ضَمائِرِنا، وَأَ ثْبِتِ الْحَقَّ فِی
ہمارے دلوں سے شبہ و حجاب کے پردے ہٹا دے اور ہمارے ضمیروں سے باطل کو مٹادے ہمارے باطن میں حق
سَرائرِنا، فَ إنَّ الشُّکُوکَ وَالظُّنُونَ لَواقِحُ الْفِتَنِ، وَمُکَدِّرَةٌ لِصَفْوِ الْمَنائِحِ وَالْمِنَنِ
کو قائم کردے کیونکہ شکوک اور گمان فتنہ پیدا کرتے ہیں اور بخششوں اور احسانوں کی چمک پر داغ دار کرتے ہیں
اَللّٰهُمَّ احْمِلْنا فِی سُفُنِ نَجاتِکَ، وَمَتِّعْنا بِلَذِیذِ مُنَاجَاتِکَ، وَأَوْرِدْنا حِیَاضَ حُبِّکَ،
اے معبود ہمیں نجات کی کشتیوںمیں جگہ دے اپنے حضور مناجات کی لذت نصیب فرما ہمیںاپنی محبت کے حوضوں میں داخل کر
وَأَذِقْنا حَلاوَةَ وُدِّکَ وَقُرْبِکَ، وَاجْعَلْ جِهادَنا فِیکَ، وَهَمَّنا فِی طَاعَتِکَ، وَأَخْلِصْ
اور اپنی محبت اور قرب کی مٹھاس چکھا دے ہماری کوشش اپنی راہ میں قرار دے اور اپنی اطاعت کی ہمت عطا کر اپنے ساتھ معاملے
نِیَّاتِنا فِی مُعامَلَتِکَ، فَ إنَّا بِکَ وَلَکَ وَلاَ وَسِیلَةَ لَنا إلَیْکَ إلاَّ أَ نْتَ إلهِی اجْعَلْنِی مِنَ
میں ہماری نیتوں کو خالص فرما کہ ہم تیرے ساتھ اور تیرے لیے ہیںتیرے بارگاہ میںہمارا وسیلہ کوئی نہیںمگر خود تو ہی ہے میرے
الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیارِ، وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ الْاَ بْرارِ، السَّابِقِینَ إلَی الْمَکْرُماتِ،
معبود مجھے چنے ہوئے نیک لوگوں میں سے قرار دے اور مجھے نیکوکار پاک دل لوگوںمیں شامل فرما جو خوبیوں میں آگے بڑھنے اور
الْمُسارِعِینَ إلَی الْخَیْراتِ، الْعامِلِینَ لِلْباقِیاتِ الصَّالِحاتِ، السَّاعِینَ إلَی رَفِیعِ
نیکیوں میں جلدی کرنے والے ہیں جو اچھے آثار پر عمل کرنے والے اونچے درجوں کی طرف جانے میں
الدَّرَجاتِ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَبِالْاِجابَةِ جَدِیرٌ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
کوشاں ہیں بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور قبول کرنے کا اہل ہے تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
آٹھویں مناجات
مناجات مریدین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
سُبْحانَکَ مَا أَضْیَقَ الطُّرُقَ عَلَی مَنْ لَمْ تَکُنْ دَلِیلَهُ، وَمَا أَوْضَحَ الْحَقَّ عِنْدَ مَنْ
تو پاک ہے اس کیلئے راستے کتنے تنگ ہیں جس کا رہبر تو نہ ہو اور اس کے لیے حق کتنا واضح ہے
هَدَیْتَهُ سَبِیلَهُ؟ إلهِی فَاسْلُکْ بِنا سُبُلَ الْوُصُولِ إلَیْکَ ، وَسَیِّرْنا فِی أَقْرَبِ الطُّرُقِ
جسے تو راستہ بتائے میرے معبود ہمیں اپنی درگاہ تک پہنچانے والے راستوں پر چلا اور ہمیں اپنی طرف لے جانے والے قریب ترین
لِلْوُفُودِ عَلَیْکَ، قَرِّبْ عَلَیْنَا الْبَعِیدَ، وَسَهِّلْ عَلَیْنَا الْعَسِیرَ الشَّدِیدَ، وَأَ لْحِقْنا بِعِبادِکَ
راستوں پر رواں فرما جو دور ہے وہ ہمارے قریب لے آ اور جو مشکل اور کٹھن ہے وہ ہمارے لیے آسان فرمادے ہمیں اپنے ان
الَّذِینَ هُمْ بِالْبِدارِ إلَیْکَ یُسارِعُونَ وَبابَکَ عَلَی الدَّوامِ یَطْرُقُونَ، وَ إیَّاکَ فِی اللَّیْلِ
بندوں سے ملحق کردے جو تیری طرف بڑھنے میں جلدی کرنے والے ہیں اور تیرے دروازہ رحمت کو ہمیشہ کھٹکھٹاتے ہیںرات دن
وَالنَّهارِ یَعْبُدُونَ، وَهُمْ مِنْ هَیْبَتِکَ مُشْفِقُونَ، الَّذِینَ صَفَّیْتَ لَهُمُ الْمَشَارِبَ،
تیری عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور تیرے دبدبہ سے خائف و ترساں رہتے ہیں وہ وہی ہیں جن کی سیرابی کی جگہوں کو تو نے
وَبَلَّغْتَهُمُ الرَّغائِبَ، وَأَ نْجَحْتَ لَهُمُ الْمَطالِبَ، وَقَضَیْتَ لَهُمْ مِنْ فَضْلِکَ الْمَآرِبَ،
صاف کیااور انہیں ان کی چاہتوں تک پہنچایا ہے انہیں اپنے مقاصد میں کامیاب بنایااور اپنے کرم سے انکی حاجات پوری فرمائی ہیں
وَمَلَائ ِتَ لَهُمْ ضَمائِرَهُمْ مِنْ حُبِّکَ وَرَوَّیْتَهُمْ مِنْ صافِی شِرْبِکَ فَبِکَ إلَی لَذِیذِ
ان کے دلوں کو اپنی محبت سے لبریز کر دیا ہے اور انہیں شفاف گھاٹ سے سیراب کیا ہے وہ تجھ سے مناجات کی لذت
مُناجاتِکَ وَصَلُوا، وَمِنْکَ أَقْصیٰ مَقاصِدِهِمْ حَصَّلُوا، فَیا مَنْ هُوَ عَلَی الْمُقْبِلِینَ
سے تیری بارگاہ میں پہنچے ہیں اور تجھی سے انہوں نے اپنے تمام مقاصد حاصل کیے ہیں پس اے وہ جو اپنی طرف رخ کرنے
عَلَیْهِ مُقْبِلٌ، وَبِالْعَطْفِ عَلَیْهِمْ عائِدٌ مُفْضِلٌ، وَبِالْغافِلِینَ عَنْ ذِکْرِهِ رَحِیمٌ ر ئُ وْفٌ،
والوں کی جانب متوجہ ہے اور اپنی مہربانی سے انہیں متواتر نعمت دینے اور بخشنے والا ہے اور اپنے ذکر سے غفلت کرنے والوں پر نرم اور
وَبِجَذْبِهِمْ إلَی بابِهِ وَدُودٌ عَطُوفٌ، أَسْأَلُکَ أَنْ تَجْعَلَنِی مِنْ أَوْفَرِهِمْ مِنْکَ حَظّاً،
مہربان ہے اور انہیں اپنے دروازے پر لانے میں پیار کرنیوالا مہربان ہے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں رکھ جو
وَأَعْلاهُمْ عِنْدَکَ مَنْزِلاً، وَأَجْزَلِهِمْ مِنْ وُدِّکَ قِسْماً ، وَأَ فْضَلِهِمْ فِی
تیرے ہاں زیادہ حصہ رکھتے ہیں اور تیرے حضور ان کا مقام بلند ہے اور انہوں نے تیری رحمت کا زیادہ حصہ پایا ہے اور وہ تیری
مَعْرِفَتِکَ نَصِیباً، فَقَدِ انْقَطَعَتْ إلَیْکَ هِمَّتِی، وَانْصَرَفَتْ نَحْوَکَ
معرفت میں سے بہت زیادہ حصہ لے چکے ہیں پس میری ہمت تجھ تک آکر قطع ہوگئی ہے اور میں نے اپنی چاہت تیری طرف پھیر
رَغْبَتِی، فَأَ نْتَ لاَ غَیْرُکَ مُرادِی، وَلَکَ لاَ لِسِوَاکَ سَهَرِی وَسُهادِی، وَ لِقاؤُکَ
دی ہے تو ہی ہے کہ تیرے سوا میرا کوئی مطلوب نہیں میری نیند اور بیداری تیرے ہی لیے ہے کسی اور کے لیے نہیںتیری ملاقات
قُرَّةُ عَیْنِی، وَ وَصْلُکَ مُنَیٰ نَفْسِی، وَ إلَیْکَ شَوْقِی، وَفِی مَحَبَّتِکَ وَلَهِی، وَ إلَیٰ
میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور تجھ سے ملنا میری دلی آرزو ہے مجھے تیرا ہی شوق ہے اور تیری ہی محبت کا جنون ہے تیری چاہت میرا
هَواکَ صَبابَتِی وَرِضاکَ بُغْیَتِی، وَرُؤْیَتُکَ حاجَتِی، وَجِوارُکَ طَلَبِی، وَقُرْبُکَ غایَةُ
عشق ہے اور تیری رضا میرا مقصود ہے تیرا نظارہ ہی میری ضرورت ہے تیرا ساتھ میری طلب ہے تیرا قرب میری
سُؤْلِی، وَفِی مُناجَاتِکَ رَوْحِی وَرَاحَتِی، وَعِنْدَکَ دَوائُ عِلَّتِی، وَشِفائُ غُلَّتِی، وَبَرْدُ
انتہائی خواہش ہے اور تجھ سے راز و نیاز میں میری خوشی و مسرت ہے تو ہی میری بیماری و علت کی دوا میرے سوز جگر کی شفا سوز دل کی
لَوْعَتِی، وَکَشْفُ کُرْبَتِی، فَکُنْ أَنِیسِی فِی وَحْشَتِی، وَمُقِیلَ عَثْرَتِی، وَغافِرَ زَلَّتِی،
ٹھنڈک ہے اور میری سختی کادور ہونا ہے پس تو میری تنہائی کا ساتھی بن جا میری خطاؤں کو معاف کرنے والا میری کوتاہیوں کو بخشنے والا
وَقابِلَ تَوْبَتِی وَمُجِیبَ دَعْوَتِی وَوَ لِیَّ عِصْمَتِی وَمُغْنِیَ فاقَتِی، وَلاَ تَقْطَعْنِی عَنْکَ،
میری توبہ قبول کرنے والا میری دعا قبول کرنے والا میری نگہداری کا ذمہ داراور کمی کو پورا کرنے والا بن جا مجھے خود سے الگ نہ فرما
وَلاَ تُبْعِدْنِی مِنْکَ، یَا نَعِیمِی وَجَنَّتِی، وَیَا دُنْیَایَ وَآخِرَتِی، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور نہ خود سے دور ہٹا اے میرے لیے نعمت اے میری جنت اے میری دنیا و آخرت اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
نویں مناجات
مناجات محبین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی مَنْ ذَا الَّذِی ذاقَ حَلاوَةَ مَحَبَّتِکَ فَرامَ مِنْکَ بَدَلاً وَمَنْ ذَا الَّذِی أَنِسَ
میرے معبود کون ہے جو تیری صحبت کی شیرینی کامزہ چکھے اور پھر اس میںتبدیلی کی خواہش کرے اور کون ہے جو تیری نزدیکی سے
بِقُرْبِکَ فَابْتَغَی عَنْکَ حِوَلاً؟ إلهِی فَاجْعَلْنا مِمَّنِ اصْطَفَیْتَهُ لِقُرْبِکَ وَوِلایَتِکَ،
مانوس ہو اور پھر اس سے دوری چاہے میرے معبود مجھے ان لوگوں میں قرار دے جن کو تو نے قرب و دوستی کے لیے پسند فرمایا
وَأَخْلَصْتَهُ لِوُدِّکَ وَمَحَبَّتِکَ، وَشَوَّقْتَهُ إلَی لِقائِکَ، وَرَضَّیْتَهُ بِقَضَائِکَ، وَمَنَحْتَهُ
اور جن کے لیے اپنی چاہت اور محبت کو خالص کیا ہے جنہیں اپنی ملاقات کا شوق دلایاہے اور جن کو اپنی قضا پر راضی کیا اور اپنی ذات
بِالنَّظَرِ إلَی وَجْهِکَ، وَحَبَوْتَهُ بِرِضَاکَ، وَأَعَذْتَهُ مِنْ هَجْرِکَ وَقِلاَکَ، وَبَوَّأْتَهُ مَقْعَدَ
کا نظارہ کرنے کا شرف بخشا ہے جنہیں اپنی رضا سے نوازا ہے خود سے دوری اور علیحدگی سے پناہ میں رکھا ہے اور اپنی خوشنودی
الصِّدْقِ فِی جِوارِکَ وَخَصَصْتَهُ بِمَعْرِفَتِکَ وَأَهَّلْتَهُ لِعِبادَتِکَ وَهَیَّمْتَ قَلْبَهُ لاِِِرادَتِکَ
کے مقام کے قریب رکھا ہے اور انہیں اپنی معرفت کے لیے خاص کیا اپنی عبادت کا اہل بنایا ان کے دلوںمیں اپنی ارادت پیدا کی
وَاجْتَبَیْتَهُ لِمُشَاهَدَتِکَ، وَأَخْلَیْتَ وَجْهَهُ لَکَ، وَفَرَّغْتَ فُؤادَهُ لِحُبِّکَ، وَرَغَّبْتَهُ فِیما
اور ان کو اپنے جلووں کے مشاہدے کے لیے چن لیا ان کے چہروںکو اپنے حضور جھکایا ان کے دلوں کو اپنی محبت کیلئے فارغ کیا اور جو
عِنْدَکَ، وَأَ لْهَمْتَهُ ذِکْرَکَ، وَأَوْزَعْتَهُ شُکْرَکَ، وَشَغَلْتَهُ بِطَاعَتِکَ، وَصَیَّرْتَهُ مِنْ
کچھ تیرے پاس ہے اس کی چاہت دی انہیں اپنا ذکر تعلیم کیا ان کو اپنے شکر کی توفیق دی اور اپنی اطاعت میں مشغول کیا انہیں اپنی
صَالِحِی بَرِیَّتِکَ، وَاخْتَرْتَهُ لِمُنَاجَاتِکَ، وَقَطَعْتَ عَنْهُ کُلَّ شَیْئٍ یَقْطَعُهُ عَنْکَ اَللّٰهُمَّ
نیک مخلوق میں سے قرار دیا اور انہیں اپنی مناجات کے لیے چنا تو نے ان سے وہ تمام چیزیں الگ کردیں جو انہیں تجھ سے جدا کرسکتی
اجْعَلْنا مِمَّنْ دَأْبُهُمُ الارْتِیاحُ إلَیْکَ وَالْحَنِینُ، وَدَهْرُهُمُ الزَّفْرَةُ وَالْاَنِینُ، جِباهُهُمْ
تھیں اے معبود ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو تیری بارگاہ کا شوق و خوشدلی رکھتے ہیں جن کی زندگی آہ و زاری سے عبارت ہے ان
سَاجِدَةٌ لِعَظَمَتِکَ، وَعُیُونُهُمْ سَاهِرَةٌ فِی خِدْمَتِکَ، وَدُمُوعُهُمْ سَائِلَةٌ مِنْ
کی پیشانیاں تیری بڑائی کے آگے جھکی ہوئی ہیں ان کی آنکھیں تیرے حضور بیدار رہتی ہیں تیرے خوف میں ان کے آنسو رواں ہیں
خَشْیَتِکَ وَقُلُوبُهُمْ مُتَعَلِّقَةٌ بِمَحَبَّتِکَ وَأَفْئِدَتُهُمْ مُنْخَلِعَةٌ مِنْ مَهَابَتِکَ یَا مَنْ أَ نْوارُ
انکے دل تیری محبت میں لگے بندھے ہیں ان کے باطن تیرے رعب سے پگھلے ہوئے ہیں اے وہ جس کی پاکیزگی کے انوار محبوں
قُدْسِهِ لاََِ بْصَارِ مُحِبِّیهِ رَائِقَةٌ، وَسُبُحَاتُ وَجْهِهِ لِقُلُوبِ عَارِفِیهِ شَائِفَةٌ، یَا مُنَیٰ
کو بھلے لگتے ہیں اور اس کی ذات کے جلوے سے عارفوںکے دلوں کو کھولنے والے ہیں اے شوق رکھنے
قُلُوبِ الْمُشْتَاقِینَ وَیَا غَایَةَ آمَالِ الْمُحِبِّینَ أَسْأَلُکَ حُبَّکَ، وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ، وَحُبَّ
والے دلوں کی آرزو اے محبوں کے ارمانوں کی انتہا میں تجھ سے تیری محبت اور تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت مانگتا ہوں
کُلِّ عَمَلٍ یُوصِلُنِی إلَی قُرْبِکَ، وَأَنْ تَجْعَلَکَ أَحَبَّ إلَیَّ مِمَّا سِوَاکَ، وَأَنْ تَجْعَلَ
اور ہر اس عمل کی محبت جو مجھے تیرے نزدیک کرنے والا ہے میں چاہتا ہوں کہ دوسروںسے زیادہ اپنی ذات کو میرا محبوب بنا اور یہ کہ
حُبِّی إیَّاکَ قائِداً إلَی رِضْوَانِکَ، وَشَوْقِی إلَیْکَ ذَائِداً عَنْ عِصْیانِکَ، وَامْنُنْ
میں تجھ سے جو محبت کرتا ہوں اسے میرے لیے دخول جنت کا ذریعہ بنا اور تیرے لیے میرا جو شوق ہے اسے نافرمانیوں سے مانع بنا
بِالنَّظَرِ إلَیْکَ عَلَیَّ، وَانْظُرْ بِعَیْنِ الْوُدِّ وَالْعَطْفِ إلَیَّ، وَلاَ تَصْرِفْ عَنِّی وَجْهَکَ،
اور اپنی نظر عنایت کرکے مجھ پر احسان فرما مجھ کو نرمی اور محبت کی نظروں سے دیکھ اور مجھ سے اپنی توجہ نہ ہٹا مجھے اپنے
وَاجْعَلْنِی مِنْ أَهْلِ الْاِسْعادِ وَالْحَظْوَةِ عِنْدَکَ، یَا مُجِیبُ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
نزدیک اہل سعادت اور بہرہ مندوں میں قرار دے اے دعا قبول کرنے والے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
دسویں مناجات
مناجات متوسلین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی لَیْسَ لِی وَسِیلَةٌ إلَیْکَ إلاَّ عَوَاطِفُ رَأْفَتِکَ، وَلاَلٰی ذَرِیعَةٌ إلَیْکَ
میرے معبود تیری درگاہ تک تیرے کرم اور مہربانیوں کے علاوہ میرا کوئی وسیلہ نہیں مگر تیرا کرم اور مہربانیاں اور تجھ تک پہنچنے کا میرا کوئی
إلاَّ عَوَارِفُ رَحْمَتِکَ وَشَفَاعَةُ نَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ، وَمُنْقِذِ الاَُْمَّةِ مِنَ الْغُمَّةِ فَاجْعَلْهُما
ذریعہ نہیں مگر تیری رحمت اور احسان اور تیرے نبیٔ رحمت کی شفاعت جو امت کو گمراہی سے نکالنے والے ہیں ان دونوں کو میرے
لِی سَبَباً إلَی نَیْلِ غُفْرانِکَ، وَصَیِّرْهُما لِی وُصْلَةً إلَی الْفَوْزِ بِرِضْوَانِکَ، وَقَدْ حَلَّ
لیے اپنی بخشش کے حصول کا ذریعہ بنا اور انہی دونوں کو میرے لیے اپنی رضاتک پہنچنے کا وسیلہ قرار دے میری امیدیں تیری بارگاہ کرم
رَجَائِی بِحَرَمِ کَرَمِکَ وَحَطَّ طَمَعِی بِفِنَائِ جُودِکَ، فَحَقِّقْ فِیکَ أَمَلِی، وَاخْتِمْ بِالْخَیْرِ
سے وابستہ ہیں اور میری خواہش مجھے تیرے آستان سخاوت پر لائی ہے پس میری امید پوری فرما میرے عمل کا
عَمَلِی وَاجْعَلْنِی مِنْ صَفْوَتِکَ الَّذِینَ أَحْلَلْتَهُمْ بُحْبُوحَةَ جَنَّتِکَ وَبَوَّأْتَهُمْ دَارَ کَرامَتِکَ
انجام بہ خیر کر مجھے اہل صفا میں قرار دے جن کو تو نے اپنی جنت کے بیچوںبیچ جگہ عطا کی ہے اور انہیں اپنے کرامت والے گھر میں رکھا
وَأَقْرَرْتَ أَعْیُنَهُمْ بِالنَّظَرِ إلَیْکَ یَوْمَ لِقائِکَ، وَأَوْرَثْتَهُمْ مَنَازِلَ الصِّدْقِ فِی جِوارِکَ
تو نے یوم ملاقات اپنی درگاہ کی طرف نظر کرنے سے ان کی آنکھوںکو روشن کیا اور انہیںاپنے قرب میں صدق کی منزلوں کا وارث بنایا
یَا مَنْ لاَ یَفِدُ الْوَافِدُونَ عَلَی أَکْرَمَ مِنْهُ وَلاَ یَجِدُ الْقَاصِدُونَ أَرْحَمَ مِنْهُ، یَا خَیْرَ مَنْ
اے وہ کہ وارد ہونے والے اس سے زیادہ کریم کے ہاں وارد نہیںہوتے اور نہ ہی قصد کرنے والے کوئی اس سے زیادہ رحم والا پاتے
خَلاَ بِهِ وَحِیدٌ، وَیَا أَعْطَفَ مَنْ آوَیٰ إلَیْهِ طَرِیدٌ، إلَی سَعَةِ عَفْوِکَ مَدَدْتُ یَدِی،
ہیں اے ان سب سے بہتر جن سے تنہائی میں ملاقات کی جائے اوراے بہت مہربان کہ ہر دور کیا ہؤا تیرے ہی وسیع دامان عفو میں
وَبِذَیْلِ کَرَمِکَ أَعْلَقْتُ کَفِّی، فَلا تُو لِنِی الْحِرْمَانَ، وَلاَ تُبْلِنِی بِالْخَیْبَةِ وَالْخُسْرانِ،
پناہ حاصل کرتا ہے میںنے اپنا ہاتھ پھیلایا اورتیرے دامن سخاوت کو اپنی ہاتھ سے تھام لیا ہے پس مجھے ناامید نہ فرما اور مجھے رسوائی
یَا سَمِیعَ الدُّعائِ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور گھاٹے سے دوچار نہ کر اے دعا کے سننے والے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
گیارہویں مناجات
مناجات مفتقرین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی کَسْرِی لاَ یَجْبُرُهُ إلاَّ لُطْفُکَ وَحَنانُکَ وَفَقْرِی لاَ یُغْنِیهِ إلاَّ عَطْفُکَ وَ إحْسَانُکَ
میرے معبود کوئی میری شکستگی کو بحال نہیں سکتا مگر تیرا لطف و مہربانی اور مجھے محتاجی سے کوئی نہیں نکال سکتا مگرتیری نوازش اور تیرا
وَرَوْعَتِی لاَ یُسَکِّنُها إلاَّ أَمانُکَ، وَذِلَّتِی لاَ یُعِزُّها إلاَّ سُلْطانُکَ، وَأُمْنِیَّتِی لاَ یُبَلِّغُنِیها
احسان کوئی میرے خوف کو سکون میں نہیں بدل سکتا مگر تیری پناہ کوئی میری ذلت کو عزت سے نہیں بدل سکتا مگر تیری قوت کوئی میری آرزو پوری
إلاَّ فَضْلُکَ، وَخَلَّتِی لاَ یَسُدُّها إلاَّ طَوْلُکَ، وَحَاجَتِی لاَ یَقْضِیها غَیْرُکَ، وَکَرْبِی لاَ
نہیں ہوسکتی مگر تیرے فضل سے کوئی میری حاجت بر نہیںآتی مگر تیری بخشش سے کوئی میری ضرورت پوری نہیںکرسکتا سوائے تیرے
یُفَرِّجُهُ سِوَی رَحْمَتِکَ وَضُرِّی لاَ یکْشِفُهُ غَیْرُ رَأْفَتِکَ وَغُلَّتِی لاَ یُبَرِّدُها إلاَّ وَصْلُکَ
میری مصیبت نہیں کٹتی بجز اس کے کہ تو رحمت فرمائے میری بے چارگی رفع نہیں ہوتی سوائے تیری مہربانی کے میرے سینے کی جلن کو
وَلَوْعَتِی لاَ یُطْفِیها إلاَّ لِقاؤُکَ، وَشَوْقِی إلَیْکَ لاَ یَبُلُّهُ إلاَّ النَّظَرُ إلَی
تیرا ہی وصالٹھنڈک پہنچا سکتاہے میرے سوزدل کو تیری ملاقات ہی خنک کرسکتی ہے میرے شوق کو تیرے جلوے کا نظارہ ہی تسکین
وَجْهِکَ، وَقَرارِی لاَ یَقِرُّ دُونَ دُنُوِّی مِنْکَ، وَلَهْفَتِی لاَ یَرُدُّها إلاَّ رَوْحُکَ، وَسُقْمِی
دے سکتا ہے سوائے تیرے قرب کے مجھے قرار نہیں مل سکتا میرے رنج و غم کو تیری خوشنودی ہی مٹا سکتی ہے اورمیری
لاَ یَشْفِیهِ إلاَّ طِبُّکَ وَغَمِّی لاَ یُزِیلُهُ إلاَّ قُرْبُکَ وَجُرْحِی لاَ یُبْرِئُهُ إلاَّ صَفْحُکَ، وَرَیْنُ
بیماری دور نہیں ہوتی مگر تیری دوا سے میرا غم نہیں جاتا مگر تیرے قرب سے تیری ہی چشم پوشی میرے زخم کو اچھا کرسکتی ہے
قَلْبِی لاَ یَجْلُوهُ إلاَّ عَفْوُکَ وَوَسْوَاسُ صَدْرِی لاَ یُزِیحُهُ إلاَّ أَمْرُکَ فَیَا مُنْتَهیٰ أَمَلِ
تیرا عفو ہی میرے دل کے میل کو صاف کرسکتا ہے تیرے ہی حکم سے میرے سینے کا وسواس دور ہوسکتا ہے پس اے امید کرنے والوں
الْآمِلِینَ، وَیَا غَایَةَ سُؤْلِ السَّائِلِینَ، وَیَا أَقْصَیٰ طَلِبَةِ الطَّالِبِینَ، وَیَا أَعْلَیٰ رَغْبَةِ
کی امید کی انتہا اے سوالیوں کی انتہا اے طلب کرنے والوںکی انتہائی طلب اے رغبت کرنے والوں
الرَّاغِبِینَ وَیَا وَ لِیَّ الصَّالِحِینَ وَیَا أَمانَ الْخَائِفِینَ، وَیَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ
کی رغبت سے بالاتر اے نیکوکاروں کے سرپرست اے ڈرے ہوؤں کی پناہ گاہ اے بے قراروں کی دعائیں قبول کرنے والے
وَیَا ذُخْرَ الْمُعْدِمِینَ وَیَا کَنْزَ الْبَائِسِینَ، وَیَا غِیَاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، وَیَا قَاضِیَ حَوَائِجِ
اے ناداروں کے سرمایہ اے درماندوں کے خزانے اے داد خواہوں کے داد رس اے فقرائ و مساکین کی حاجتیں
الْفُقَرَائِ وَالْمَسَاکِینِ وَیَا أَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ وَیَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ لَکَ تَخَضُّعِی
پوری کرنے والے اے عزت داروںمیں بڑے عزت دار اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تیرے آگے عاجزی کرتا ہوں
وَسُؤالِی وَ إلَیْکَ تَضَرُّعِی وَابْتِهالِی، أَسْأَ لُکَ أَنْ تُنِیلَنِی مِنْ رَوْحِ رِضْوانِکَ،
اور تجھی سے ہی سوال کرتا ہوں تیرے ہی سامنے فریاد و زاری کرتا ہوں میں سوال کرتا ہوں کہ اپنی نسیم رضا مجھ تک پہنچا دے
وَتُدِیمَ عَلَیَّ نِعَمَ امْتِنانِکَ، وَهَا أَ نَا بِبابِ کَرَمِکَ واقِفٌ، وَ لِنَفَحاتِ بِرِّکَ مُتَعَرِّضٌ،
اور ہمیشہ مجھ پراحسان و کرم فرما ہاں اب میں تیرے در سخاوت پر آکھڑا ہوں اور تیرے بہترین عطیات کا منتظر ہوں
وَبِحَبْلِکَ الشَّدِیدِ مُعْتَصِمٌ وَبِعُرْوَتِکَ الْوُثْقی مُتَمَسِّکٌ إلهِی ارْحَمْ عَبْدَکَ الذَّلِیلَ
اور تیری مضبوط رسی کو پکڑے ہوئے ہوں اور تیری محکم ڈوری کو تھامے ہوئے ہوں میرے معبود اپنے اس پست بندے پر رحم فرما
ذَا اللِّسَانِ الْکَلِیلِ وَالْعَمَلِ الْقَلِیلِ وَامْنُنْ عَلَیْهِ بِطَوْ لِکَ الْجَزِیلِ، وَاکْنُفْهُ تَحْتَ ظِلِّکَ
جس کی زبان گنگ اور عمل بہت کم ہے اس پر اپنی فزوں تر سخاوت سے احسان فرما اوراپنے بلندتر سائے تلے پناہ دے اے کریم
الظَّلِیلِ، یَا کَرِیمُ یَا جَمِیلُ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے جمیل اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
بارہویں مناجات
مناجات عارفین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی قَصُرَتِ الْاَلْسُنُ عَنْ بُلُوغِ ثَنائِکَ کَما یَلِیقُ بِجَلالِکَ، وَعَجَزَتِ الْعُقُولُ عَنْ
میرے معبود تیری جلالت شان کے مناسب تیری تعریف کرنے میں زبانیںگنگ ہیں اور تیرے جمال کی حقیقت کو سمجھنے سے
إدْراکِ کُنْهِ جَمالِکَ، وَانْحَسَرَتِ الْاَ بْصارُ دُونَ النَّظَرِ إلی سُبُحاتِ وَجْهِکَ، وَلَمْ
لوگوں کی عقلیں عاجز ہیں تیری ذات کے جلووں کی طرف نظر کرنے سے آنکھیں درماندہ ہو کر رہ جاتی ہیں لوگوں کے لیے تیری
تَجْعَلْ لِلْخَلْقِ طَرِیقاً إلَی مَعْرِفَتِکَ إلاَّ بِالْعَجْزِ عَنْ مَعْرِفَتِکَ إلهِی فَاجْعَلْنا مِنَ
معرفت کا حصول بس یہی ہے کہ وہ تیری معرفت سے قاصر ہیں میرے معبود مجھے ان لوگوں میں سے قرار دے
الَّذِینَ تَرَسَّخَتْ أَشْجارُ الشَّوْقِ إلَیْکَ فِی حَدائِقِ صُدُورِهِمْ وَأَخَذَتْ لَوْعَةُ مَحَبَّتِکَ
جن کے سینوں کے باغیچوں میں تیرے شوق کے درخت جڑیں پکڑ چکے ہیں اور تیرے سوز محبت نے ان کے دلوں کو
بِمَجامِعِ قُلُوبِهِمْ، فَهُمْ إلَی أَوْکارِ الْاَفْکارِ یَأْوُونَ، وَفِی رِیاضِ الْقُرْبِ وَالْمُکاشَفَةِ
گھیرا ہؤا ہے اب وہ یادوں کے آشیانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور تیرے قرب اور جلوے کے باغوں میں
یَرْتَعُونَ، وَمِنْ حِیَاضِ الْمَحَبَّةِ بِکَأْسِ الْمُلاطَفَةِ یَکْرَعُونَ، وَشَرائِعَ الْمُصافاةِ
سیر کر رہے ہیں وہ تیری محبت کے چشموں سے جام الفت کے گھونٹ پی رہے ہیں اور صاف ستھرے گھاٹوں پر
یَرِدُونَ قَدْ کُشِفَ الْغِطائُ عَنْ أَبْصارِهِمْ وَانْجَلَتْ ظُلْمَةُ الرَّیْبِ عَنْ عَقَائِدِهِمْ
وارد ہیں ان کی آنکھوں سے پردہ اٹھ چکا ہے اور شک کی کالک ان کے عقیدوں اور ضمیروںسے دور ہوگئی ہے ان کے
وَضَمَائِرِهِمْ وَانْتَفَتْ مُخَالَجَةُ الشَّکِّ عَنْ قُلُوبِهِمْ وَسَرَائِرِهِمْ، وَانْشَرَحَتْ بِتَحْقِیقِ
دلوں اور باطنوں سے شبہ کے اثرات ختم ہوگئے ہیں صحیح معرفت حاصل ہونے سے ان کے سینے
الْمَعْرِفَةِ صُدُورُهُمْ، وَعَلَتْ لِسَبْقِ السَّعَادَةِ فِی الزَّهَادَةِ هِمَمُهُمْ، وَعَذُبَ فِی مَعِینِ
کھل چکے ہیں حصول سعادت کے لیے زہد میں ان کی ہمتیںبلند ہوگئی ہیں کردار کے چشمہ میں ان کا پینا شیریںہے
الْمُعَامَلَةِ شِرْبُهُمْ، وَطَابَ فِی مَجْلِسِ الاَُْنْسِ سِرُّهُمْ، وَأَمِنَ فِی مَوْطِنِ الْمَخَافَةِ
انس و محبت کی محفل میں ان کا باطن صاف ہے خوفناک جگہوں پر ان کا گروہ امن میں ہے اور پالنے والوں
سِرْبُهُمْ، وَاطْمَأَ نَّتْ بِالرُّجُوعِ إلَی رَبِّ الْاَرْبابِ أَنْفُسُهُمْ، وَتَیَقَّنَتْ بِالْفَوْزِ وَالْفَلاَحِ
کے پالنے والے کی طرف بازگشت سے ان کے نفس مطمئن ہیں ان کی روحوں کو بخشش و کامیابی
أَرْواحُهُمْ، وَقَرَّتْ بِالنَّظَرِ إلَی مَحْبُوبِهِمْ أَعْیُنُهُمْ، وَاسْتَقَرَّ بِ إدْرَاکِ السُّؤْلِ وَنَیْلِ
کا یقین ہے ان کی آنکھیں دیدار محبوب سے خنک ہیں ان کو حاجتیں پوری ہونے اور مرادیں
الْمَأْمُولِ قَرارُهُمْ، وَرَبِحَتْ فِی بَیْعِ الدُّنْیا بِالاَْخِرَةِ تِجَارَتُهُمْ إلهِی مَا أَلَذَّ خَواطِرَ
بر آنے سے قرار حاصل ہے آخرت کے بدلے دنیا بیچنے سے ان کا سودا نفع بخش ہے میرے معبود کیا ہی مزہ ہے ان خیالوںمیں
الْاِلْهامِ بِذِکْرِکَ عَلَی الْقُلُوبِ وَمَا أَحْلَیٰ الْمَسِیرَ إلَیْکَ بِالْاَوْهامِ فِی مَسالِکِ الْغُیُوبِ
جو تیرے ذکر سے دلوں میںآتے ہیںاور کتنا شرین ہے تیری طرف وہ سفر جو بخیال خود غیب کے راستوں پر جاری ہے کتنا اچھا ہے
وَمَا أَطْیَبَ طَعْمَ حُبِّکَ وَمَا أَعْذَبَ شِرْبَ قُرْبِکَ، فَأَعِذْنا مِنْ طَرْدِکَ وَ إبْعادِکَ،
تیری محبت کا ذائقہ اور کتنا میٹھا ہے تیرے قرب کا شربت پس بچا ہمیں کہ تیرے ہاںسے ہانکے جائیں اور تجھ سے دور رہیں ہمیں
وَاجْعَلْنا مِنْ أَخَصِّ عَارِفِیکَ وَأَصْلَحِ عِبَادِکَ وَأَصْدَقِ طَائِعِیکَ وَأَخْلَصِ عُبَّادِکَ
اپنے خصوصی عارفوں اور صالح ترین بندوں میںقرار دے اور اپنے سچے فرمانبرداروں اور کھرے عبادت گزاروں میں رکھ اے عظمت
یَا عَظِیمُ یَا جَلِیلُ، یَا کَرِیمُ یَا مُنِیلُ، بِرَحْمَتِکَ وَمَنِّکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
والے اے جلال والے اے مہربان اے عطا کرنے والے تجھے تیری رحمت و احسان کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
تیرہویں مناجات
مناجات ذاکرین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی لَوْلاَ الْواجِبُ مِنْ قَبُولِ أَمْرِکَ لَنَزَّهْتُکَ عَنْ ذِکْرِی إیَّاکَ عَلَی أَنَّ ذِکْرِی لَکَ
میرے معبود اگر تیرا حکم ماننا واجب نہ ہوتا تو میںتیرا ذکر اپنی زبان پر نہ لاتا کیونکہ میں تیرا جو ذکر کرتا ہوں وہ میرے اندازے سے
بِقَدْرِی لاَ بِقَدْرِکَ، وَمَا عَسَیٰ أَنْ یَبْلُغَ مِقْدارِی حَتَّی أُجْعَلَ مَحَلاًّ لِتَقْدِیسِکَ، وَمِنْ
ہے نہ تیری شان کے مطابق اور میری کیا بساط کہ میں تیری تقدیس و پاکیزگی کا محل قرار پا سکوں یہ چیز ہم پر تیری
أَعْظَمِ النِّعَمِ عَلَیْنا جَرَیَانُ ذِکْرِکَ عَلَی أَلْسِنَتِنا، وَ إذْ نُکَ لَنا بِدُعائِکَ وَتَنْزِیهِکَ
عظیم نعمتوں میں سے ہے کہ تیرا ذکر ہماری زبانوں پر جاری ہے اور ہمیںتجھ سے دعا مانگنے اور تیری پاکیزگی و نظافت بیان کرنے
وَتَسْبِیحِکَ إلهِی فَأَ لْهِمْنا ذِکْرَکَ فِی الْخَلاَئِ وَالْمَلاَئِ، وَاللَّیْلِ وَالنَّهارِ، وَالْاِعْلانِ
کی اجازت ہے میرے معبود ہمیں اپنے ذکر کی توفیق دے کہ ہم نہاں اور عیاں، رات اور دن، ظاہر و باطن اور
وَالْاِسْرارِ وَفِی السَّرَّائِ وَالضَّرَّائِ وَآنِسْنا بِالذِّکْرِ الْخَفِیِّ وَاسْتَعْمِلْنا بِالْعَمَلِ الزَّکِیِّ
خوشی و غمی میں تیرا ذکر کیا کریں ہمیں اپنے پوشیدہ ذکر سے مانوس فرما ہمیں پاکیزہ عمل اور پسندیدہ کوشش
وَالسَّعْیِ الْمَرْضِیِّ، وَجازِنا بِالْمِیزانِ الْوَفِیِّ إلهِی بِکَ هامَتِ الْقُلُوبُ الْوَالِهَةُ،
میں لگا اور پوری میزان سے ہمیں جزا دے میرا محبت بھرا دل تجھ سے لگاؤ رکھے ہوئے ہے
وَعَلَی مَعْرِفَتِکَ جُمِعَتِ الْعُقُولُ الْمُتَبایِنَةُ فَلاَ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ إلاَّبِذِکْرَاکَ وَلاَ تَسْکُنُ
تیری معرفت میں مختلف قسم کی عقلیں اتفاق رکھتی ہیں پس دل چین نہیں پکڑتے مگر تیرے ذکر سے
النُّفُوسُ إلاَّ عِنْدَ رُؤْیاکَ، أَنْتَ الْمُسَبَّحُ فِی کُلِّ مَکَانٍ، وَالْمَعْبُودُ فِی کُلِّ زَمَانٍ،
اور تیری ذات پر یقین سے نفسوں کو سکوں ملتا ہے تو ہی ہے جس کی تسبیح ہر جگہ ہوتی ہے اور جو ہر زمانے میں معبود ہے اور ہر
وَالْمَوْجُودُ فِی کُلِّ أَوَانٍ وَالْمَدْعُوُّ بِکُلِّ لِسَانٍ وَالْمُعَظَّمُ فِی کُلِّ جَنانٍ وَأَسْتَغْفِرُکَ
وقت ہر جگہ موجود ہے اور ہر زبان سے پکارا جاتا ہے اور ہر دل میں تیری عظمت قائم ہے میںمعافی چاہتا
مِنْ کُلِّ لَذَّةٍ بِغَیْرِ ذِکْرِکَ، وَمِنْ کُلِّ رَاحَةٍ بِغَیْرِ أُ نْسِکَ، وَمِنْ کُلِّ سُرُورٍ بِغَیْرِ قُرْبِکَ
ہوں تجھ سے تیرے ذکر کے سوا ہر لذت سے تیری محبت کے سوا ہر راحت سے تیری قربت کے سوا ہر خوشی پر اور معافی چاہتا ہوں
وَمِنْ کُلِّ شُغْلٍ الْحَقُّ بِغَیْرِ طَاعَتِکَ إلهِی أَنْتَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا
تجھ سے تیری اطاعت کے سوا ہر کام سے میرے معبود تو نے ہی کہا ہے اور تیرا قول حق ہے
اذْکُرُوا ﷲ ذِکْراً کَثِیراً وَسَبِّحُوهُ بُکْرَةً وَأَصِیلاً وَقُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَق فَاذْکُرُونِی
کہ اے ایمان لانے والو ذکر کرو اللہ کا بہت زیادہ ذکر اور صبح و شام اس کی پاکیزگی بیان کرو نیز تو نے ہی کہا اور تیرا قول حق ہے پس تم
أَذْکُرْکُمْ فَأَمَرْتَنا بِذِکْرِکَ وَوَعَدْتَنا عَلَیْهِ أَنْ تَذْکُرَنا تَشْرِیفاً لَنا وَتَفْخِیماً وَ
مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرونگا تو نے ہمیں اپنی یاد کا حکم دیا اور ہم سے وعدہ کیا اس پرکہ تو بھی ہمیںیاد کرے گا یہ ہمارے لیے شرف و
إعْظَاماً وَهَا نَحْنُ ذَاکِرُوکَ کَما أَمَرْتَنا، فَأَ نْجِزْ لَنا مَا وَعَدْتَنا، یَا ذاکِرَ الذَّاکِرِینَ،
احترام اور بڑائی ہے تو اب ہم تجھے یاد کررہے ہیں جیسے تو نے حکم دیا ہے پس تو بھی ہم سے کیا ہؤا وعدہ پورا کر اے یاد کرنے والوںکو
وَیَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
یاد کرنے والے اور اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
چودھویں مناجات
مناجات معتصمین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
اَللّٰهُمَّ یَا مَلاذَ اللاَّئِذِینَ، وَیَا مَعَاذَ الْعَاءِذِینَ، وَیَا مُنْجِیَ الْهَالِکِینَ، وَیَا عَاصِمَ
میرے معبود اے پناہ دینے والوں کی پناہ اے پناہ لینے والوں کی پناہ گاہ اے ہلاکت والوں کو نجات دینے والے اے بے چاروں
الْبَائِسِینَ، وَیَا رَاحِمَ الْمَساکِینِ، وَیَا مُجِیبَ الْمُضْطَرِّینَ، وَیَا کَنْزَ الْمُفْتَقِرِینَ،
کے نگہدار اے بے کسوںپر رحم کرنے والے اے پریشانوں کی دعا قبول کرنے والے اے محتاجوں کے خزانے
وَیَا جابِرَ الْمُنْکَسِرِینَ وَیَا مَأْوَی الْمُنْقَطِعِینَ وَیَا نَاصِرَ الْمُسْتَضْعَفِینَ وَیَا مُجِیرَ
اے ٹوٹے ہوؤں کے جوڑنے والے اے بے ٹھکانوں کی جائے پناہ اور اے کمزوروں کی مدد کرنے والے اے خوف زدوں
الْخائِفِینَ، وَیَا مُغِیثَ الْمَکْرُوبِینَ ، وَیَا حِصْنَ اللاَّجِینَ، إنْ لَمْ أَعُذْ بِعِزَّتِکَ فَبِمَنْ
کی پناہ گاہ اے دکھیاروں کے فریاد رس اے پناہ خواہوں کی محکم جائے پناہ اگر میں تیری عزت کی پناہ نہ لوں تو کس کی
أَعُوذُ ؟ وَ إنْ لَمْ أَلُذْ بِقُدْرَتِکَ فَبِمَنْ أَ لُوذُ ؟ وَقَدْ أَلْجَأَتْنِی الذُّنُوبُ إلَی التَّشَبُّثِ
پناہ لوں اور اگر تیری قدرت سے التجا نہ کروں تو کس سے التجا کروں میرے گناہوں نے مجھے مجبور کردیا ہے کہ میں تیرے دامان عفو کو
بِأَذْیَالِ عَفْوِکَ وَأَحْوَجَتِنیِ الْخَطَایَا إلَی اسْتِفْتاحِ أَبْوَابِ صَفْحِکَ وَدَعَتْنِی
تھام لوں اور میری خطاؤں نے مجھے تیری چشم پوشی کے دروازوں کے کھلنے کا طلبگار بنا دیا ہے میری بدعملی نے مجھے تیرے آستان
الْاِساءَةُ إلَی الْاِناخَةِ بِفِنَائِ عِزِّکَ، وَحَمَلَتْنِی الْمَخَافَةُ مِنْ نِقْمَتِکَ عَلَی التَّمَسُّکِ
عزت پرڈیرہ ڈال دینے کو کہا ہے اور تیرے عذاب کے خوف نے مجھے تیری مہربانی کی ڈوری پکڑ لینے پر آمادہ کیا ہے اور حق یہ نہیں
بِعُرْوَةِ عَطْفِکَ، وَمَا حَقُّ مَنِ اعْتَصَمَ بِحَبْلِکَ أَنْ یُخْذَلَ، وَلاَ یَلِیقُ بِمَنِ اسْتَجَارَ
کہ جو تیری رسی کو پکڑ لے تو اسے رسوا کیا جائے اور یہ مناسب نہیں کہ جو تیری عزت کی پناہ لے اس کو
بِعِزِّکَ أَنْ یُسْلَمَ أَوْ یُهْمَلَ إلهِی فَلا تُخْلِنا مِنْ حِمَایَتِکَ، وَلاَ تُعْرِنا مِنْ رِعَایَتِکَ،
بے سہارا چھوڑا جائے میرے معبود ہمیں اپنی حمایت کے بغیر چھوڑ نہ دے اور ہمیں اپنی نگاہ سے محروم نہ فرما اور ہمیں
وَذُدْنا عَنْ مَوارِدِ الْهَلَکةِ فَ إنَّا بِعَیْنِکَ وَفِی کَنَفِکَ وَلَکَ أَسْأَ لُکَ بِأَهْلِ خَاصَّتِکَ مِنْ
ہلاکت کی جگہوں سے دور رکھ کیونکہ ہم تیرے زیر نظر اور تیری پناہ میں ہیں میں تیرے مخصوص فرشتوں اور تیری مخلوق میں سے صالح
مَلاَئِکَتِکَ وَالصَّالِحِینَ مِنْ بَرِیَّتِکَ، أَنْ تَجْعَلَ عَلَیْنا واقِیَةً تُنْجِینا مِنَ الْهَلَکَاتِ،
بندوں کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہم پر ایسی سپر ڈال دے جو ہمیں ہلاکتوں سے بچائے
وَتُجَنِّبُنا مِنَ الْآفاتِ وَتُکِنُّنا مِنْ دَوَاهِی الْمُصِیبَاتِ، وَأَنْ تُنْزِلَ عَلَیْنا مِنْ سَکِینَتِکَ،
اور آفتوں سے محفوظ رکھے اور تو ہمیں بڑی بڑی مصیبتوں سے نجات عطا فرما میں چاہتا ہوں کہ تو ہم پر اپنی طرف سے تسکین نازل کر
وَأَنْ تُغَشِّیَ وُجُوهَنا بِأَ نْوارِ مَحَبَّتِکَ، وَأَنْ تُؤْوِیَنا إلَی شَدِیدِ رُکْنِکَ، وَأَنْ تَحْوِیَنا
اور ہمارے چہروں کا اپنی محبت کے انوار سے احاطہ فرما ہمیں اپنے محکم و پائیدار رکن کا سہارا دے اور اپنی عصمت کے
فِی أَکْنافِ عِصْمَتِکَ، بِرَأْفَتِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
سایوں میں لے لے واسطہ ہے تیری رحمت و ملائمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
پندرہویں مناجات
مناجات زاہدین
بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
إلهِی أَسْکَنْتَنا داراً حَفَرَتْ لَنا حُفَرَ مَکْرِها وَعَلَّقَتْنا بِأَیْدِی الْمَنایا فِی
میرے معبودتو نے ہمیں ایسے گھر میںرکھا جس کو فریب کے کدال نے ہمارے لیے کھودا ہے اور تو نے ہمیں آرزوؤں
حَبَائِلِ غَدْرِها فَ إلَیْکَ نَلْتَجئُ مِنْ مَکَائِدِ خُدَعِها، وَبِکَ نَعْتَصِمُ
کے ہاتھوںاسکے فریب کی رسیوںمیں جکڑ دیا ہے پس ہم اس دنیا کے فریبوںاور مکاریوںسے تیری پناہ چاہتے ہیںاور ہم اس کی
مِنَ الاغْتِرارِ بِزَخَارِفِ زِینَتِها، فَ إنَّهَا الْمُهْلِکَةُ طُلاَّبَهَا، الْمُتْلِفَةُ
جھوٹی زینتوں کے دھوکوں سے بچنے کے لیے تیرا مضبوط دامن پکڑتے ہیں کہ یہ اپنے طلبگاروںکو ہلاک کرنے والی یہاںآنے
حُلاَّلَهَا، الْمَحْشُوَّةُ بِالْآفاتِ، الْمَشْحُونَةُ بِالنَّکَبَاتِ إلهِی فَزَهِّدْنا فِیها، وَسَلِّمْنا
والوں کو تلف کرنے والی آفتوںسے بھری بدحالیوں سے پر ہے میرے معبود ہمیںاس میں زہد عطا فرما اور اپنی مدد اور حفاظت کے
مِنْها بِتَوْفِیقِکَ وَعِصْمَتِکَ وَانْزَعْ عَنَّا جَلابِیبَ مُخالَفَتِکَ وَتَوَلَّ أُمُورَنا بِحُسْنِ کِفایَتِکَ
ساتھ اس سے بچائے رکھ اپنی مخالفت کی چادروں کو ہم سے جدا کر دے اپنی بہترین کفایت سے ہمارے امور کی سرپرستی فرما
وَأَوْفِرْ مَزِیدَنا مِنْ سَعَةِ رَحْمَتِکَ، وَأَجْمِلْ صِلاتِنا مِنْ فَیْضِ مَواهِبِکَ وَاغْرِسْ فِی
ہمارے لیے اپنی وسیع رحمت فراواں اور زیادہ کردے اپنی عطاؤں کے فیض سے ہمیں بہترین جزائیں دے ہمارے دلوں میں اپنی
أَفْیِدَتِنا أَشْجارَ مَحَبَّتِکَ، وَأَتْمِمْ لَنا أَ نْوارَ مَعْرِفَتِکَ، وَأَذِقْنا حَلاوَةَ عَفْوِکَ وَلَذَّةَ
محبت کے درخت لگا دے ہمیں اپنی معرفت کے سبھی انوار عطا کر دے اور اپنے عفو کی شیرینی اور بخشش کی لذت کا ذائقہ چکھا
مَغْفِرَتِکَ، وَأَقْرِرْ أَعْیُنَنا یَوْمَ لِقائِکَ بِرُؤْیَتِکَ، وَأَخْرِجْ حُبَّ الدُّنْیا مِنْ قُلُوبِنا کَما
اپنی ملاقات کے دن اپنے جمال سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی فرما اور ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال دے
فَعَلْتَ بِالصَّالِحِینَ مِنْ صَفْوَتِکَ وَالْاَ بْرارِ مِنْ خَاصَّتِکَ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ
جیسا کہ تو نے اپنے مخصوص نیکو کاروں اور اپنے چنے ہوئے خوش کردار لوگوں کے لیے کیا تجھے واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے
الرَّاحِمِینَ، وَیَا أَکْرَمَ الْاَ کْرَمِینَ
زیادہ رحم کرنے والے اور اے سب سے زیادہ کرم کرنے والے۔
مناجات منظومہ حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب -
منقول از صحیفۂ علویہ
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
شروع خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
لَک الْحَمْدُیَاذَاالْجُودِوَالْمَجْدِوَالْعُلَیٰ
تَبارَکْتَ تُعْطِی مَنْ تَشَائُ وَتَمْنَعُ
تیرے لیے حمد ہے اے سخاوت بزرگی اور بلندی والے
تو بابرکت ہے (جسے چاہے) دیتا ہے جسے چاہے روک لیتا ہے
إلهِی وَخَلاَّقِی وَحِرْزِی وَمَوْئِلِی
إلَیْکَ لَدَی الْاِعْسَارِ وَالْیُسْرِ أَفْزَعُ
اے میرے معبود میرے خالق میری پناہ اور میرے پشت پناہ
میںتنگی اور فراخی میںتیری ہی بارگاہ میںفریاد کرتا ہوں
إلهِی لَئِنْ جَلَّتْ وَجَمَّتْ خَطِیءَتِی
فَعَفْوُکَ عَنْ ذَنْبِی أَجَلُّ وَأَوْسَعُ
اے میرے معبود اگر میری خطائیں بڑی ہیں اور بہت ہیں
تیرا عفو میرے گناہوںکی نسبت عظیم اور وسیع ہے
إلهِی لَئِنْ أَعْطَیْتُ نَفْسِیَ سُؤْلَها
فَهَا أَنَا فِی رَوْضِ النَّدَامَةِ أَرْتَعُ
اے میرے معبود اگر چہ میں نے اپنے نفس کی بری خواہش پوری کی
اب میںپشیمانی کے بیابانوں میںسرگرداں ہوں
إلهِی تَریٰ حَالِی وَفَقْرِی وَفاقَتِی
وَأَنْتَ مُنَاجاتِی الْخَفِیَّةَ تَسْمَعُ
اے میرے معبود تو میری حالت فقر و فاقہ کو جانتا ہے
اور تو ہی میری پوشیدہ عرض احوال کو سنتا ہے
إلهِی فَلا تَقْطَعْ رَجَائِی وَلا تُزِغْ
فُؤُادِی فَلِی فِی سَیْبِ جُودِکَ مَطْمَعُ
اے معبود پس میری امید کو قطع نہ کر اور نہ ہی ٹیڑھا کر
میرے دل کو کہ میں تیرے جود و سخا کی طمع رکھتا ہوں
إلهِی لَئِنْ خَیَّبْتَنِی أَوْ طَرَدْتَنِی
فَمَنْ ذَاالَّذِی أَرْجُو وَمَنْ ذَا أُشَفِّعُ؟
اے میرے معبود اگر تو نے مجھے ناامید کیا اور اپنی بارگاہ سے دور کردیا
پھر کون ہے جس سے امید رکھوں اورکسے اپنا شفیع بناؤں
إلهِی أَجِرْنِی مِنْ عَذَابِکَ إنَّنِی
أَسِیرٌ ذَلِیلٌ خَائِفٌ لَکَ أَخْضَعُ
اے میرے معبود مجھے اپنے عذاب سے نجات دے کہ بے شک
میں قیدی، خوار، خوف زدہ اور تجھ سے ہراساں ہوں
إلهِی فَآنِسْنِی بِتَلْقِینِ حُجَّتِی
إذَا کَانَ لِی فِی الْقَبْرِمَثْوَیً وَمَضْجَعُ
اے میرے معبود مجھ کو دلیل و حجت تلقین کر میرا ساتھی بن
اس وقت جب قبر میںمیرا مقام اور میرا ٹھکانہ ہو
إلهِی لَئِنْ عَذَّبْتَنِی أَلْفَ حجَّةٍ
فَحَبْلُ رَجَائِی مِنْکَ لاَ یَتَقَطَّعُ
اے میرے معبود اگر تومجھے ہزار سال تک عذاب کرے
تو بھی تجھ سے میری امید کارشتہ ہرگز نہ ٹوٹے گ
إلهِی أَذِقْنِی طَعْمَ عَفْوِکَ یَوْمَ لاَ
بَنُونَ وَلاَ مالٌ هُنَالِکَ یَنْفَعُ
اے میرے معبود مجھے اپنے عفو کا ذائقہ چکھا اس دن کہ
جس میںمال اور اولاد کچھ فائدہ نہیںدیںگے
إلهِی لَئِنْ لَمْ تَرْعَنِی کُنْتُ ضَائِعاً
وَ إنْ کُنْتَ تَرْعَانِی فَلَسْتُ أُضَیَّعُ
اے میرے معبود اگر تو نے میری سرپرستی نہ کی تو میںتباہ ہوجاؤں گا
اور اگر تو میری سرپرستی کرے تو میں تباہ نہیں ہوسکت
إلهِی إذَا لَمْ تَعْفُ عَنْ غَیْرِ مُحْسِنٍ
فَمَنْ لِمُسِیئٍ بِالْهَوَیٰ یَتَمَتَّعُ
اے میرے معبود جب تو بدکار کو معاف نہ فرمائے گا
تو پھر کون چاہت سے گناہ کرنے والے کا بھلا کرے
إلهِی لَئِنْ فَرَّطْتُ فِی طَلَبِ التُّقَیٰ
فَهَا أَنَا إثْرَ الْعَفْوِ أَقْفُو وَأَتْبَعُ
اے میرے معبود اگر میںنے برائی سے بچنے میں کوتاہی کی ہے
تو اب میں صاف دلی سے معافی کے پیچھے چل رہا ہوں
إلهِی لَئِنْ أَخْطَأْتُ جَهْلاً فَطَالَمَا
رَجَوْتُکَ حَتَّی قِیلَ ما هُوَ یَجْزَعُ
اے میرے معبود اگر میں نے جہالت سے خطا کی ہے تو اب تجھ سے
ایسی امید رکھتا ہوںکہ کہا جائے اسے کوئی بے چینی نہیں
إلهِی ذُنُوبِی بَذَّتِ الطَّوْدَ وَاعْتَلَتْ
وَصَفْحُکَ عَنْ ذَنْبِی أَجَلُّ وَأَرْفَعُ
اے میرے معبود میرے گناہ پہاڑ سے بڑے اور اونچے ہیں
اور تیری بخشش میرے گناہوں کی نسبت عظیم اور بلند ہے
إلهِی یُنَجِّی ذِکْرُ طَوْلِکَ لَوْعَتِی
وَذِکْرُ الْخَطَایَا الْعَیْنَ مِنِّی یُدَمِّعُ
اے میرے معبود تیرے فضل و کرم کی یادمیرے دل کو ٹھنڈا کرتی ہے
اور میری خطاؤں کے یاد میری آنکھوں میں آنسو لے آتی ہے
إلهِی أَقِلْنِی عَثْرَتِی وَامْحُ حَوْبَتِي
فَ إنِّی مُقِرٌّ خَائِفٌ مُتَضَرِّعُ
اے میرے معبود میری لغزش معاف کر اور میرے گناہ مٹادے
کیونکہ میںگناہوں کا اقراری ترساںاور ان پر زاری کرتا ہوں
إلهِی أَنِلْنِی مِنْکَ رَوْحاً وَرَاحَةً
فَلَسْتُ سِویٰ أَبْوَابِ فَضْلِکَ أَقْرَعُ
اے میرے معبود مجھے اپنی طرف سے خوشی و راحت عطا فرما
کہ میں تیرے فضل کے دروازوں کے سوا کوئی دروازہ نہیں کھٹکھٹات
إلهِی لَئِنْ أَقْصَیْتَنِی أَوْ أَهَنْتَنِی
فَمَا حِیلَتِی یَا رَبِّ أَمْ کَیْفَ أَصْنَعُ؟
اے میرے معبود اگر تو نے مجھے دور کیایا مجھے پست کردیا
تو اے میرے پروردگار میرا کیاحیلہ ہے اور میں کیا کروںگ
إلهِی حَلِیفُ الْحُبِّ فِی اللَّیْلِ سَاهِرُ
یُناجِی وَیَدْعُو وَالْمُغَفَّلُ یَهْجَعُ
اے میرے معبود تجھ سے محبت کرنے والا رات کو جاگتا ہے
تجھے یاد کرتا اور دعا مانگتا ہے اور تجھے بھولنے والا سو رہا ہے
إلهِی وَهَذَا الْخَلْقُ مَا بَیْنَ نَائِمٍ
وَمُنْتَبِهٍ فِی لَیْلِهِ یَتَضَرَّعُ
اے میرے معبود یہ مخلوق ہے جن میں کچھ سوئے ہوئے
اور کچھ بیدار ہیںجو رات میں آہ و فغاںکر رہے ہیں
وَکُلُّهُمُ یَرْجُو نَوَالَکَ رَاجِیاً
لِرَحْمَتِکَ الْعُظْمیٰ وَفِی الْخُلْدِ یَطْمَعُ
اور یہ سب کے سب تیری بخشندگی کے امیدوار ہیں
کہ تیری عظیم رحمت اور بہشت بریںکی حرص رکھتے ہیں
إلهِی یُمَنِّینِی رَجَائِی سَلامَةً
وَقُبْحُ خَطِیئاتِی عَلَیَّ یُشَنِّعُ
اے میرے معبودمیری امید نے مجھے سلامتی کا آرزومند بنایا ہے
اور میرے گناہوںکی برائی مجھ پر طعن کر رہی ہے
إلهِی فَ إنْ تَعْفُو فَعَفْوُکَ مُنْقِذِی
وَ إلاَّ فَبِالذَّنْبِ الْمُدَمِّرِ أُصْرَعُ
اے میرے معبود پس اگر تو معاف کردے یہ معافی مجھے چھڑادینے والی ہے
اور اگر ایسا نہ ہؤا تو میںتباہ کرنے والے گناہوںمیںپڑا رہونگ
إلهِی بِحَقِّ الْهَاشِمِیِّ مُحَمَّدٍ
وَحُرْمَةِ أَطْهارٍ هُمُ لَکَ خُضَّعُ
اے میرے معبود پیغمبرمحمد ہاشمی کے حق کے واسطے سے
اور ان پاک ہستیوںکے واسطے جو تیرے حضور عجز کرتے ہیں
إلهِی بِحَقِّ الْمُصْطَفی وَابْنِ عَمِّه
وَحُرْمَةِ أَبْرارٍ هُمُ لَکَ خُشَّعُ
اے میرے معبودنبی مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے ابن عم کے حق کے واسطے
اور ان نیکوکاروںکے واسطے جو تیرے سامنے فروتن ہیں
إلهِی فَأَنْشِرْنِی عَلَی دِینِ أَحْمَدٍ
مُنِیباً تَقِیّاً قَانِتاً لَکَ أَخْضَعُ
اے میرے معبود مجھے دین احمد مجتبیٰ پر اٹھا
اس حال میںکہ میںتائب متقی تیرا فرمانبردار ومطیع ہوں
وَلاَ تَحْرِمَنِّی یا إلهِی وَسَیِّدِی
شَفاعَتَهُ الْکُبْریٰ فَذاکَ الْمُشَفَّعُ
اے میرے معبود و سردار مجھے محروم نہ فرما مصطفی کی
عظیم تر شفاعت سے کہ ان کی شفاعت مقبول ہے
وَصَلِّ عَلَیْهِمْ مَا دَعَاکَ مُوَحِّدٌ
وَنَاجَاکَ أَخْیارٌ بِبَابِکَ رُکَّعُ
اور رحمت فرماان پر جب تک موحدین تجھے پکاریں
اور نیکوکار لوگ تجھے چپکے سے یاد کریںجو تیرے حضور جھکتے ہیں۔
صحیفہ علویہ میںایک اور منظوم مناجات نقل ہوئی ہے کہ جس کا آغاز یا سامع الدعا سے ہوتا ہے۔ چونکہ اس کے کلمات بہت مشکل ہیں۔ لذا ہم نے اسے یہاں ذکر نہیں کیا۔
حضرت علی -کے تین کلمات مناجات
إلهِی کَفیٰ بِی عِزّاً أَنْ أَکُونَ لَکَ عَبْداً
وَکَفیٰ بِی فَخْراً أَنْ تَکُونَ لِی رَبّاً
میرے معبود میری عزت کیلئے یہی کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں
اور میرے فخر کے لئے یہی کافی ہے کہ تو میرا پروردگار ہے
أَنْتَ کَما أُحِبُّ فَاجْعَلْنِی کَما تُحِبُّ
تو ایسا ہے جیسا کہ میںچاہتا ہوںپس مجھے ویسا بنادے جیسا کہ تو چاہتاہے۔
باب دوم
سال کے مہینوں کے اعمال
اس باب میں سال کے مہینوں کے اعمال نوروز کی فضیلت اور اس کے اعمال اور رومی مہینوں کے اعمال مذکور ہیں اور اس میں کئی فصلیں ہیں۔
پہلی فصل
ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال
واضح رہے کہ ماہ رجب، شعبان اور رمضان بڑی عظمت اور فضیلت کے حامل ہیں اور بہت سی روایات میں ان کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ جیساکہ حضرت محمد کا ارشاد پاک ہے کہ ماہ رجب خداکے نزدیک بہت زیادہ بزرگی کا حامل ہے۔ کوئی بھی مہینہ حرمت و فضیلت میں اس کا ہم پلہ نہیں اور اس مہینے میںکافروں سے جنگ و جدال کرنا حرام ہے۔آگاہ رہو رجب خدا کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ رجب میںایک روزہ رکھنے والے کو خدا کی عظیم خوشنودی حاصل ہوتی ہے‘ غضب الہی اس سے دور ہوجاتا ہے‘ اور جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اس پر بند ہوجاتا ہے۔ امام موسٰی کاظم -فرماتے ہیں کہ ماہ رجب میںایک روزہ رکھنے سے جہنم کی آگ ایک سال کی مسافت تک دور ہوجاتی ہے اورجو شخص اس ماہ میں تین دن کے روزے رکھے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ نیز حضرت فرماتے ہیں کہ رجب بہشت میںایک نہر ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے اور جو شخص اس ماہ میں ایک دن کا روزہ رکھے تو وہ اس نہر سے سیراب ہوگا۔
امام جعفر صادق -سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم نے فرمایا: کہ رجب میری امت کے لیے استغفار کامہینہ ہے۔ پس اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ طلب مغفرت کرو کہ خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔ رجب کو اصبّ بھی کہاجاتا ہے کیونکہ اس ماہ میںمیری امت پر خدا کی رحمت بہت زیادہ برستی ہے۔ پس اس ماہ میںبہ کثرت کہا کرو:
اَسْتَغْفِرُ ﷲ وَ اَسْءَلُهُ التَّوْبَةَ
’’ میں خدا سے بخشش چاہتا ہوں اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں‘‘
ابن بابویہ نے معتبر سند کے ساتھ سالم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں اوخر رجب میں امام جعفر صادق -کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے میری طرف دیکھتے ہوئے فرمایا کہ اس مہینے میںروزہ رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ! وﷲ نہیں! تب فرمایا کہ تم اس قدر ثواب سے محروم رہے ہوکہ جسکی مقدارسوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا کیونکہ یہ مہینہ ہے جسکی فضیلت تمام مہینوںسے زیادہ اور حرمت عظیم ہے اور خدا نے اس میں روزہ رکھنے والے کا احترام اپنے اوپرلازم کیا ہے۔ میںنے عرض کیا اے فرزند رسول ! اگرمیں اسکے باقی ماندہ دنوں میں روزہ رکھوں توکیا مجھے وہ ثواب مل جائیگا؟
آپ نے فرمایا: اے سالم!
جو شخص آخر رجب میں ایک روزہ رکھے تو خدا اسکو موت کی سختیوں اور اس کے بعدکی ہولناکی اورعذاب قبر سے محفوظ رکھے گا۔جوشخص آخر ماہ میں دوروزے رکھے وہ پل صراط سے آسانی کے ساتھ گزرجائے گا اور جو آخررجب میں تین روزے رکھے اسے قیامت میں سخت ترین خوف‘تنگی اورہولناکی سے محفوظ رکھا جائے گا اور اس کوجہنم کی آگ سے آزادی کاپروانہ عطا ہوگا۔
واضح ہوکہ ماہ رجب میں روزہ رکھنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے جیساکہ روایت ہوئی ہے اگر کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکتاہو وہ ہرروز سو مرتبہ یہ تسبیحات پڑھے تو اس کو روزہ رکھنے کاثواب حاصل ہوجائے گا۔
سُبْحانَ الْاِلهِ الْجَلِیلِ سُبْحانَ مَنْ لاَ یَنْبَغِی التَّسْبِیحُ إلاَّ لَهُ سُبْحانَ الْاَعَزِّ الْاَکْرَمِ
پاک ہے جو معبود بڑی شان والا ہے پاک ہے وہ کہ جس کے سوا کوئی لائق تسبیح نہیں پاک ہے وہ جو بڑا عزت والا اور بزرگی والا ہے
سُبْحانَ مَنْ لَبِسَ الْعِزَّ وَهُوَ لَهُ أَهْلٌ
پاک ہے وہ جولباس عزت میں ملبوس ہے اور وہی اس کا اہل ہے۔
ماہ رجب کے مشترکہ اعمال
دعایہ روزانہ ماہ رجب
یہ ماہ رجب کے اعمال میں پہلی قسم ہے یہ وہ اعمال ہیں جومشترکہ ہیں اورکسی خاص دن کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں اور یہ چند اعمال ہیں۔
( ۱ )
رجب کے پورے مہینے میں یہ دعا پڑھتا رہے اور روایت ہے کہ یہ دعا امام زین العابدین -نے ماہ رجب میں حجر کے مقام پر پڑھی:
یَا مَنْ یَمْلِکُ حَوائِجَ السَّائِلِینَ، وَیَعْلَمُ ضَمِیرَ الصَّامِتِینَ، لِکُلِّ مَسْأَلَةٍ مِنْکَ سَمْعٌ
اے وہ جوسائلین کی حاجتوں کامالک ہے اور خاموش لوگوں کے دلوں کی باتیں جانتا ہے ہر وہ سوال جو تجھ سے کیا جائے تیرا
حَاضِرٌ، وَجَوَابٌ عَتِیدٌ اَللّٰهُمَّ وَمَواعِیدُکَ الصَّادِقَةُ، وَأَیادِیکَ الْفَاضِلَةُ، وَرَحْمَتُکَ
کان اسے سنتا ہے اور اس کا جواب تیار ہے اے معبود تیرے سب وعدے یقینا سچے ہیں تیری نعمتیں بہت عمدہ ہیں اور تیری رحمت
الْوَاسِعَةُ فَأَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَقْضِیَ حَوائِجِی لِلدُّنْیا
بڑی وسیع ہے پس میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ میری دنیا اور اور آخرت کی حاجتیں
وَالاَْخِرَةِ، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
پوری فرما بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
( ۲ )
یہ دعا پڑھے کہ جسے امام جعفر صادق -رجب میں ہر روز پڑھا کرتے تھے۔
خابَ الْوافِدُونَ عَلَی غَیْرِکَ، وَخَسِرَ الْمُتَعَرِّضُونَ إلاَّ لَکَ، وَضاعَ الْمُلِمُّونَ إلاَّ بِکَ
نا امید ہوئے تیرے غیرکی طرف جانے والے گھاٹے میں رہے تیرے غیر سے سوال کرنے والے تباہ ہوئے تیرے غیر کے ہاں
وَأَجْدَبَ الْمُنْتَجِعُونَ إلاَّ مَنِ انْتَجَعَ فَضْلَکَ بَابُکَ مَفْتُوحٌ لِلرَّاغِبِینَ وَخَیْرُکَ مَبْذُولٌ
جانے والے، قحط کاشکار ہوئے تیرے فضل کے غیر سے روزی طلب کرنے والے تیرا در اہل رغبت کیلئے کھلا ہے تیری بھلائی طلب
لِلطَّالِبِینَ، وَفَضْلُکَ مُباحٌ لِلسَّائِلِینَ، وَنَیْلُکَ مُتَاحٌ لِلاَْمِلِینَ، وَرِزْقُکَ مَبْسُوطٌ لِمَنْ
گاروں کو بہت ملتی ہے تیرا فضل سائلوں کیلئے عام ہے اور تیری عطا امید واروں کیلئے آمادہ ہے تیرا رزق نافرمانوں کیلئے بھی فراواں
عَصَاکَ وَحِلْمُکَ مُعْتَرِضٌ لِمَنْ نَاوَاکَ عَادَتُکَ الْاِحْسانُ إلَی الْمُسِیئِینَ وَسَبِیلُکَ
ہے تیری بردباری دشمن کے لیے ظاہر و عیاں ہے گناہگاروں پر احسان کرنا تیری عادت ہے اور ظالموں کو باقی رہنے دینا
الْاِ بْقائُ عَلَی الْمُعْتَدِینَ اَللّٰهُمَّ فَاهْدِنِی هُدَی الْمُهْتَدِینَ وَارْزُقْنِی اجْتِهادَ الْمُجْتَهِدِینَ
تیرا شیوہ ہے اے معبود مجھے ہدایت یافتہ لوگوں کی راہ پر لگا اور مجھے کوشش کرنے والوں کی سی کوشش نصیب فرما
وَلاَ تَجْعَلْنِی مِنَ الْغَافِلِینَ الْمُبْعَدِینَ، وَاغْفِرْ لِی یَوْمَ الدِّینِ
مجھے غافل اور دورکیے ہوئے لوگوں میں سے قرار نہ دے اور یوم جزا میں مجھے بخش دے۔
( ۳ )
شیخ نے مصباح میں فرمایا ہے کہ معلٰی بن خنیس نے امام جعفرصادق -سے روایت کی ہے۔ آپعليهالسلام نے فرمایا کہ ماہ رجب میں یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ صَبْرَ الشَّاکِرِینَ لَکَ، وَعَمَلَ الْخَائِفِینَ مِنْکَ، وَیَقِینَ الْعَابِدِینَ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے شکر گزاروں کا صبر ڈرنے والوں کا عمل اور عبادت گزاروں کا یقین عطا
لَکَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ وَأَنَا عَبْدُکَ الْبَائِسُ الْفَقِیرُ أَنْتَ الْغَنِیُّ الْحَمِیدُ وَأَنَا
فرما اے معبود تو بلند و بزرگ ہے اور میں تیرا حاجت مند اور بے مال ومنال بندہ ہوں تو بے حاجت اور تعریف والا ہے اور میں تیرا
الْعَبْدُ الذَّلِیلُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَامْنُنْ بِغِنَاکَ عَلَی فَقْرِی، وَبِحِلْمِکَ عَلَی
پست تر بندہ ہوں اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور میری محتاجی پر اپنی تونگری سے میری نادانی پر اپنی ملائمت و بردباری
جَهْلِی وَبِقُوَّتِکَ عَلَی ضَعْفِی یَا قَوِیُّ یَا عَزِیزُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الْاَوْصِیائِ
سے اور اپنی قوت سے میری کمزوری پر احسان فرما اے قوت والے اسے زبردست اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اورانکی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما
الْمَرْضِیِّینَ وَاکْفِنِی مَا أَهَمَّنِی مِنْ أَمْرِ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
جو پسندیدہ وصی اور جانشین ہیں اور دنیا و آخرت کے اہم معاملوں میں میری کفایت فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ کتاب اقبال میں سید بن طائوس نے بھی اس دعا کی روایت کی ہے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ جامع ترین دعا ہے اور اسے ہروقت پڑھاجاسکتا ہے۔
( ۴ )
شیخ فرماتے ہیں کہ اس دعا کو ہر روز پڑھنا مستحب ہے۔
اَللّٰهُمَّ یَا ذَا الْمِنَنِ السَّابِغَةِ وَالآلاَءِ الْوَازِعَةِ وَالرَّحْمَةِ الْوَاسِعَةِ، وَالْقُدْرَةِ الْجَامِعَةِ
اے معبود اے مسلسل نعمتوں والے اور عطا شدہ نعمتوں والے اے کشادہ رحمت والے۔ اے پوری قدرت والے۔
وَالنِّعَمِ الْجَسِیمَةِ وَالْمَواهِبِ الْعَظِیمَةِ وَالْاَیادِی الْجَمِیلَةِ وَالْعَطایَا الْجَزِیلَةِ یَا مَنْ
اے بڑی نعمتوں والے اے بڑی عطائوں والے اے پسندیدہ بخششوںوالے اور اے عظیم عطائوں والے اے وہ جس کے وصف
لاَ یُنْعَتُ بِتَمْثِیلٍ وَلاَ یُمَثَّلُ بِنَظِیرٍ وَلاَ یُغْلَبُ بِظَهِیرٍ یَا مَنْ خَلَقَ فَرَزَقَ وَأَلْهَمَ فَأَنْطَقَ
کیلئے کوئی مثال نہیں اور جسکا کوئی ثانی نہیں جسے کسی کی مدد سے مغلوب نہیںکیا جاسکتا اے وہ جس نے پیدا کیاتوروزی دی الہام کیاتو
وَابْتَدَعَ فَشَرَعَ، وَعَلا فَارْتَفَعَ، وَقَدَّرَ فَأَحْسَنَ، وَصَوَّرَ فَأَتْقَنَ، وَاحْتَجَّ فَأَبْلَغَ،
گویائی بخشی نئے نقوش بنائے تورواں کردیئے بلند ہوا تو بہت بلند ہوا اندازہ کیا تو خوب کیا صورت بنائی تو پائیدار بنائی حجت قائم کی
وَأَنْعَمَ فَأَسْبَغَ، وَأَعْطی فَأَجْزَلَ، وَمَنَحَ فَأَفْضَلَ یَا مَنْ سَمَا فِی الْعِزِّ فَفاتَ نَواظِرَ
تو پہنچائی نعمت دی تو لگاتار دی عطا کیا تو بہت زیادہ اور دیا تو بڑھاتا گیا اے وہ جو عزت میں بلند ہوا تو ایسا بلند کہ
الْاَ بْصارِ، وَدَنا فِی اللُّطْفِ فَجازَ هَواجِسَ الْاَفْکارِ یَا مَنْ تَوَحَّدَ بِالْمُلْکِ فَلا نِدَّ لَهُ
آنکھوں سے اوجھل ہوگیا اور تو لطف و کرم میں قریب ہوا تو فکر و خیال سے بھی آگے نکل گیا اے وہ جو بادشاہت میں
فِی مَلَکُوتِ سُلْطَانِهِ وَتَفَرَّدَ بِالآلاَءِ وَالْکِبْرِیائِ فَلاَ ضِدَّ لَهُ فِی جَبَرُوتِ شَأْنِهِ یَا مَنْ
یکتا ہے کہ جسکی بادشاہی کے اقتدار میں کوئی شریک نہیں وہ اپنی نعمتوں اور اپنی بڑائی میںیکتا ہے پس شان و عظمت میں کوئی اسکا
حارَتْ فِی کِبْرِیائِ هَیْبَتِهِ دَقائِقُ لَطائِفِ الْاَوْهامِ، وَانْحَسَرَتْ دُونَ إدْراکِ عَظَمَتِهِ
مقابل نہیں اے وہ جس کے دبدبہ کی عظمت میں خیالوں کی باریکیاں حیرت زدہ ہیں اور اس کی بزرگی کو پہچاننے میں مخلوق
خَطَائِفُ أَبْصَارِ الْاَنامِ یَا مَنْ عَنَتِ الْوُجُوهُ لِهَیْبَتِهِ، وَخَضَعَتِ الرِّقابُ لِعَظَمَتِهِ،
کی نگاہیں عاجز ہیں اے وہ جس کے رعب کے آگے چہرے جھکے ہوئے ہیں اور گردنیں اسکی بڑائی کے سامنے نیچی ہیں
وَوَجِلَتِ الْقُلُوبُ مِنْ خِیفَتِهِ أَسْأَلُکَ بِهَذِهِ الْمِدْحَةِ الَّتِی لاَ تَنْبَغِی إلاَّ لَکَ وَبِما وَأَیْتَ
اور دل اسکے خوف سے ڈرے ہوئے ہیں میں سوال کرتا ہوں تیری اس تعریف کے ذریعے جو سوائے تیرے کسی کو زیب نہیں اور اس
بِهِ عَلَی نَفْسِکَ لِداعِیکَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَبِما ضَمِنْتَ الْاِجابَةَ فِیهِ عَلَی نَفْسِکَ
کے واسطے جو کچھ تو نے اپنے ذمہ لیا پکارنے والوں کی خاطر جو کہ مومنوں میں سے ہیں اس کے واسطے جسے تونے پکارنے والوں کی
لِلدَّاعِینَ یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، وَأَبْصَرَ النَّاظِرِینَ، وَأَسْرَعَ الْحَاسِبِینَ، یَا ذَا الْقُوَّةِ
دعا قبول کرنے کی ضمانت دے رکھی ہے اے سب سے زیادہ سننے والے اے سب سے زیادہ دیکھنے والے اے تیز تر حساب کرنے
الْمَتِینَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ وَاقْسِمْ لِی فِی شَهْرِنا هذَا
والے اے محکم تر قوت والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما جو خاتم الانبیائ ہیں اور ان کے اہلبیت پر بھی اور اس مہینے میں مجھے اس سے بہتر
خَیْرَ مَا قَسَمْتَ وَاحْتِمْ لِی فِی قَضَائِکَ خَیْرَ مَا حَتَمْتَ، وَاخْتِمْ لِی بالسَّعادَةِ فِیمَنْ
حصہ دے جو تو تقسیم کرے اور اپنے فیصلوں میں میرے لیے بہتر و یقینی فیصلہ فرما کر مجھے نواز اور اس مہینے کو میرے لیے خوش بختی پر
خَتَمْتَ وَأَحْیِنِی مَا أَحْیَیْتَنِی مَوْفُوراً وَأمِتْنِی مَسْرُوراً وَمَغْفُوراً وَتَوَلَّ أَنْتَ نَجَاتِی
تمام کر دے اور جب تک تو مجھے زندہ رکھے فراواں روزی سے زندہ رکھ اور مجھے خوشی و بخشش کی حالت میں موت دے
مِنْ مُساءَلَةِ البَرْزَخِ وَادْرأْ عَنِّی مُنکَراً وَنَکِیراً، وَأَرِ عَیْنِی مُبَشِّراً وَبَشِیراً، وَاجْعَلْ
اور برزخ کی گفتگو میں تو خود میرا سرپرست بن جامنکر و نکیر کو مجھ سے دور اور مبشر و بشیر کو میری آنکھوں کے سامنے لا اور مجھے اپنی رضا
لِی إلَی رِضْوَانِکَ وَجِنانِکَ مَصِیراً وَعَیْشاً قَرِیراً، وَمُلْکاً کَبِیراً، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
مندی اور بہشت کے راستے پر گامزن کر دے وہاں آنکھوں کو روشن کرنے والی زندگی اور بڑی حکومت عطا فرما اور تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کی
وَآلِهِ کَثِیراً
آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما بہت زیادہ۔
مولف کہتے ہیں کہ یہ دعا مسجد صعصعہ میں بھی پڑھی جاتی ہے جو مسجدکوفہ کے قریب ہے۔
( ۵ )
شیخ نے روایت کی ہے کہ ناحیہ مقدسہ (اما م زمان(عج) کی جانب) سے امام العصرعليهالسلام کے وکیل شیخ کبیر ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید کے ذریعے سے یہ توقیع یعنی مکتوب آیا ہے۔
رجب کے مہینے میں یہ دعا ہرروزپڑھاکرو:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِمَعانِی جَمِیعِ مَا یَدْعُوکَ بِهِ وُلاةُ أَمْرِکَ الْمَأْمُونُونَ عَلَی سِرِّکَ
اے معبود میں سوال کرتا ہوں تجھ سے ان پر معنی الفاظ کے واسطے سے جن سے تیرے امر کے ولی تجھے پکارتے ہیں جو تیرے راز کے
الْمُسْتَبْشِرُونَ بأَمْرِکَ، الْواصِفُونَ لِقُدْرَتِکَ، الْمُعْلِنُونَ لِعَظَمَتِکَ، أَسْأَلُکَ بِما نَطَقَ
امانتدار تیرے امر کی خوشخبری پانے والے تیری قدرت کی توصیف کرنے والے اور تیری عظمت کا اعلان کرنے والے ہیں تجھ سے
فِیهِمْ مِنْ مَشِیءَتِکَ فَجَعَلْتَهُمْ مَعادِنَ لِکَلِماتِکَ وَأَرْکاناً لِتَوْحِیدِکَ وَآیاتِکَ وَمَقاماتِکَ
سوال کرتا ہوں تیری اس مشیت کے واسطے سے جو ان کے حق میں گویا ہے پس تو نے ان کو اپنے کلمات کی کانیں بنایا اور اپنی توحید،
الَّتِی لاَ تَعْطِیلَ لَهَا فِی کُلِّ مَکَانٍ یَعْرِفُکَ بِهَا مَنْ عَرَفَکَ، لاَ فَرْقَ بَیْنَکَ وَبَیْنَها
آیات اور مقامات کے ارکان کو جو کسی جگہ بھی اپنے فرض کے ادا کرنے سے باز نہیں رہتے کہ جو تجھے پہچانتا ہے ان کے ذریعے
إلاَّ أَ نَّهُمْ عِبادُکَ وَخَلْقُکَ، فَتْقُها وَرَتْقُها بِیَدِکَ، بَدْؤُها مِنْکَ وَعَوْدُها
پہنچانتا ہے ان میں تجھ میں کوئی فرق نہیںسوائے اس کے کہ وہ تیرے بندے اور تیری مخلوق ہیں کہ ن کی حرکت اور سکون تیرے حکم
إلَیْکَ، أَعْضادٌ وَأَشْهادٌ وَمُناةٌ وَأَذْوَادٌ وَحَفَظَةٌ وَرُوَّادٌ، فَبِهِمْ مَلاََْتَ
سے ہے ان کی ابتدائ تجھ سے اور انتہائتجھ تک ہے وہ مددگار گواہ آزمودہ دافع محافظ اور پیغام رساں ہیں انہی کے واسطے سے تو نے
سَمَاءَکَ وَأَرْضَکَ حَتَّی ظَهَرَ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ، فَبِذلِکَ أَسْأَ لُکَ وَبِمَواقِعِ الْعِزِّ مِنْ
اپنے آسمان اور زمین کو آباد کیا۔ تب آشکار ہوا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں پس انکے واسطے سے اورتیری عزت کے عظیم موقعوں کے
رَحْمَتِکَ وَبِمَقاماتِکَ وَعَلامَاتِکَ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تَزِیدَنِی إیماناً
واسطے سے اور تیرے مراتب اورنشانیوں کے واسطے سے سوال کرتا ہوںکہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میرے ایمان و ثابت قدمی
وَتَثْبِیتاً یَا بَاطِناً فِی ظُهُورِهِ وَظَاهِراً فِی بُطُونِهِ وَمَکْنُونِهِ یَا مُفَرِّقاً بَیْنَ النُّورِ
میں اضافہ فرما اے وہ کہ اپنے ظہور میں پوشیدہ اور اپنی پوشیدگیوں اور پردوں میں ظاہر ہے اسے نور اور تاریکی میں جدائی ڈالنے
وَالدَّیجُورِ، یَا مَوْصُوفاً بِغَیْرِ کُنْهٍ، وَمَعْرُوفاً بِغَیْرِ شِبْهٍ، حَادَّ کُلِّ مَحْدُودٍ، وَشَاهِدَ
والے اے بغیر حقیقی معرفت کے متصف کیے جانے والے اور بغیرمثال کے پہچانے جانے والے ہرمحدود کی حدبندی کرنے والے
کُلِّ مَشْهُودٍ وَمُوجِدَ کُلِّ مَوْجُودٍ وَمُحْصِیَ کُلِّ مَعْدُودٍ وَفاقِدَ کُلِّ مَفْقُودٍ لَیْسَ
اور اے ہر محتاج گواہی کے گواہ ہر موجود کے ایجاد کرنے والے ہر تعداد کے شمار کرنے والے ہر گمشدہ کے گم کرنے والے تیرے سوا
دُونَکَ مِنْ مَعْبُودٍ، أَهْلَ الْکِبْرِیائِ وَالْجُودِ، یَا مَنْ لاَ یُکَیَّفُ بِکَیْفٍ، وَلاَ یُؤَیَّنُ بِأَیْنٍ،
کوئی معبود نہیں کہ جو بڑائی اور سخاوت والا ہو۔ اے وہ جس کی حقیقت بے بیان ہے جو کسی
یَا مُحْتَجِباً عَنْ کُلِّ عَیْنٍ، یَا دَیْمُومُ یَا قَیُّومُ وَعالِمَ کُلِّ مَعْلُومٍ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
مکان میں نہیں سماتا اے وہ جوہر آنکھ سے اوجھل ہے اے ہمیشگی والے اے نگہبان اور ہر چیزکے جاننے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر
وَآلِهِ وَعَلَی عِبادِکَ الْمُنْتَجَبِینَ وَبَشَرِکَ الْمُحْتَجِبِینَ، وَمَلائِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ وَالْبُهْمِ
رحمت فرما اور اپنے پاک و پاکیزہ بندوں پر اور پوشیدہ رہنے والے انسانوں پر اور اپنے مقرب فرشتوں پر اور نامعلوم
الصَّافِّینَ الْحَافِّینَ وَبارِکْ لَنا فِی شَهْرِنا هذَا الْمُرَجَّبِ الْمُکَرَّمِ وَمَا بَعْدَهُ مِنَ
صف بستہ دائرے میں کھڑے ہوئوں پر اور برکت نازل فرماہمارے لیے ہمارے اس رجب کے مہینے میں جوبزرگی والاہے اور اس
الْاَشْهُرِ الْحُرُمِ وَأَسْبِغْ عَلَیْنا فِیهِ النِّعَمَ وَأَجْزِلْ لَنا فِیهِ الْقِسَمَ وَأَبْرِرْ لَنا فِیهِ
کے بعد آنے والے محترم مہینوں میں نیز اس مہینے میں ہم پر نعمتیں کامل فرما اور ہمیں زیادہ حصہ عنایت کر اور اس مہینے میں ہماری قسمتیں
الْقَسَمَ بِاسْمِکَ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ الْاَجَلِّ الْاَکْرَمِ، الَّذِی وَضَعْتَهُ عَلَی النَّهَارِ فَأَضاءَ
نیک کر دے واسطہ ہے تیرے نام کا جو بڑا خوش آئند اور کرامت والا ہے جسے تونے دن پر متوجہ کیا تو وہ روشن ہوگیا اور رات
وَعَلَی اللَّیْلِ فَأَظْلَمَ وَاغْفِرْ لَنا مَا تَعْلَمُ مِنَّا وَمَا لاَ نَعْلَمُ، وَاعْصِمْنا مِنَ الذُّنُوبِ خَیْرَ
پر رکھا تو وہ تاریک ہوگئی پس بخش دے ہمارے وہ گناہ جن کو تو جانتا ہے ہم نہیں جانتے اور ہمیں گناہوں سے بخوبی محفوظ فرما ہماری
الْعِصَمِ، وَاکْفِنا کَوافِیَ قَدَرِکَ، وَامْنُنْ عَلَیْنا بِحُسْنِ نَظَرِکَ، وَلاَ تَکِلْنا إلَی غَیْرِکَ،
کفایت فرما جیسی تو قدرت کاملہ رکھتا ہے اور اپنے حسن نظر سے ہم پر احسان فرما ہمیں اپنے غیر کے حوالے نہ کر اپنی خیر و برکت ہم
وَلاَ تَمْنَعْنا مِنْ خَیْرِکَ، وَبَارِکْ لَنَا فِیما کَتَبْتَهُ لَنَا مِنْ أَعْمارِنا، وَأَصْلِحْ لَنا خَبِیءَةَ
سے نہ روک اور ہماری جو عمریں تونے لکھی ہیں ان میں برکت عطا فرما ہماری چھپی ہوئی برائیاں مٹا دے اور ہمیں
أَسْرَارِنا وَأَعْطِنَا مِنْکَ الْاَمانَ، وَاسْتَعْمِلْنا بِحُسْنِ الْاِیمَانِ، وَبَلِّغْنَا شَهْرَ الصِّیامِ،
اپنی طرف سے پناہ عطا کردے ہمیں بہترین ایمان رکھنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں آنے والے ماہ رمضان اس کے
وَمَا بَعْدَهُ مِنَ الْاَیَّامِ وَالْاَعْوامِ، یَا ذَا الْجَلاَلِ وَالْاِکْرامِ
بعد کے دنوںاور سالوں تک زندہ رکھ اے جلالت و بزرگی کے مالک۔
( ۶ )
شیخ نے روایت کی ہے کہ ناحیہ مقدسہ سے شیخ ابوالقاسم کے ذریعے سے رجب کی دنوں میں پڑھنے کے لیے یہ دعا صادر ہوئی۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِالْمَوْلُودَیْنِ فِی رَجَبٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الثَّانِی وَابْنِهِ
اے مبعود! ماہ رجب میںمتولد ہونے والے دو مولودوں کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو محمدعليهالسلام بن علی ثانی (امام محمدعليهالسلام تقی)اور ان کے
عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُنْتَجَبِ، وَأَتَقَرَّبُ بِهِمَا إلَیْکَ خَیْرَ الْقُرَبِ، یَا مَنْ إلَیْهِ
فرزند علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام (امام علی نقیعليهالسلام ) بلند نسب والے ہیں ان دونوں کے واسطے سے تیرا بہترین تقریب چاہتا ہوں اے وہ ذات جس سے
الْمَعْرُوفُ طُلِبَ، وَفِیما لَدَیْهِ رُغِبَ، أَسْأَ لُکَ سُؤالَ مُقْتَرِفٍ مُذْنِبٍ قَدْ أَوْبَقَتْهُ
احسان وکرم طلب کیاجاتا ہے اور جواسکے پاس ہے اس کی خواہش کی جاتی ہے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس گناہگار کا سا سوال
ذُ نُوبُهُ، وَأَوْثَقَتْهُ عُیُوبُهُ، فَطالَ عَلَی الْخَطایَا دُؤُوبُهُ ، وَمِنَ الرَّزَایا خُطُوبُهُ،
جسے گناہوں نے تباہ کر دیا اور عیبوں نے جکڑ لیا ہے پس گناہوں پر اس کی عادت پختہ ہو چکی اور بلائوں سے مشکلیں بڑھ گئیں ہیں
یَسْأَ لُکَ التَّوْبَةَ وَحُسْنَ الْاَوْبَةِ وَالنُّزُوعَ عَنِ الْحَوْبَةِ وَمِنَ النَّارِ فَکاکَ رَقَبَتِهِ
اب وہ سوال کرتا ہے تجھ سے توفیق توبہ اور بہترین بازگشت کا گناہوں سے کنارہ کشی اور آتش جہنم سے چھٹکارے کا خواہش مند ہے
وَالْعَفْوَ عَمَّا فِی رِبْقَتِهِ، فَأَنْتَ مَوْلاَیَ أَعْظَمُ أَمَلِهِ وَثِقَتِهِ اَللّٰهُمَّ وَأَسْأَ لُکَ بِمَسَائِلِکَ
وہ اپنے سبھی گناہوں کی معافی چاہتا ہے پس تو میرا وہ مولا ہے جس پر امید و اعتماد ہے اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے
الشَّرِیفَةِ وَوَسَائِلِکَ الْمُنِیفَةِ أَنْ تَتَغَمَّدَنِی فِی هذَا الشَّهْرِ بِرَحْمَةٍ مِنْکَ وَاسِعَةٍ
پاک معاملوں تیرے بلند وسیلوں کے واسطے سے کہ اس مہینے میں اپنی وسیع رحمت اور بخشی جانے والی نعمتوں کو عطا فرما۔
وَنِعْمَةٍ وَازِعَةٍ، وَنَفْسٍ بِمَا رَزَقْتَها قَانِعَةٍ، إلَی نُزُولِ الْحَافِرَةِ، وَمَحَلِّ الاَْخِرَةِ،
اور جو روزی تو نے دی اس پر میرے نفس کو قانع فرما تا وقتیکہ وہ قبر میں جائے اور منزل آخر پر پہنچے
وَمَا هِیَ إلَیْهِ صَائِرَةٌ
اور جس کی طرف اس کی بازگشت اس تک پہنچے۔
زیارت رجبیہ
( ۷ )
شیخ نے حضرت امام العصر (عج)کے نائب خاص ابو القاسم حسین بن روح سے روایت کی ہے کہ رجب کے مہینے میں آئمہ میں سے جس امامعليهالسلام کی ضریح مبارکہ پر جائے تو اس میں داخل ہوتے وقت یہ زیارت ماہ رجب پڑھے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی أَشْهَدَنا مَشْهَدَ أَوْ لِیائِهِ فِی رَجَبٍ، وَأَوْجَبَ عَلَیْنا مِنْ حَقِّهِمْ مَا
حمد خدا ہی کیلئے ہے جس نے ہمیں رجب میں اپنے اولیائ کی زیارت گاہوں پر حاضر کیا اور ان کا حق ہم پر واجب کیا
قَدْ وَجَبَ وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ الْمُنْتَجَبِ، وَعَلَی أَوْصِیائِهِ الْحُجُبِ اَللّٰهُمَّ فَکَما
جو ہونا چاہئے تھا اور رحمت خدا ہو عالی نسب محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کے اوصیائ پر جو صاحب حجاب ہیں اے معبود! پس جیسے تونے ہمیں ان کی
أَشْهَدْتَنا مَشْهَدَهُمْ فَأَ نْجِزْلَنا مَوْعِدَهُمْ، وَأَوْرِدْنا مَوْرِدَهُمْ، غَیْرَ مُحَلَّئیِنَ عَنْ وِرْدٍ
زیارت کی توفیق دی ویسے ہی ہمارے لئے ان کا وعدہ پورا فرما اور ہمیں ان کی جائے ورود پر وارد فرما بغیر کسی روک ٹوک
فِی دارِ الْمُقامَةِ وَالْخُلْدِ وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ، إنِّی قَدْ قَصَدْتُکُمْ وَاعْتَمَدْتُکُمْ بِمَسْأَلَتِی
کے جائے اقامت اور خلد برین میں پہنچا دے اور سلام ہو آپ پر کہ میں آپ کی طرف آیا اور آپ پر بھروسہ کیا اپنے سوال
وَحَاجَتِی وَهِیَ فَکَاکُ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ، وَالْمَقَرُّ مَعَکُمْ فِی دَارِ الْقَرارِ ، مَعَ شِیعَتِکُمُ
اور حاجت کے لئے اور وہ یہ ہے کہ میری گردن آگ سے آزاد ہو اور میرا ٹھکانہ آپ کے ساتھ آپ کے نیکوں کار شیعوں
الْاَ بْرَارِ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ، أَنَا سائِلُکُمْ وَآمِلُکُمْ فِیمَا
کیساتھ ہو اور سلام ہو آپ پر کہ آپ نے صبر کیا پس آپ کا کیا ہی اچھا انجام ہے میں آپکاسائل اور امید وار ہوں ان چیزوں کیلئے
إلَیْکُمُ التَّفْوِیضُ، وَعَلَیْکُمُ التَّعْوِیضُ، فَبِکُمْ یُجْبَرُ الْمَهِیضُ، وَیُشْفَی الْمَرِیضُ،
جو آپ کے اختیار میں ہیں اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے آپ کے ذریعے شکستگی کی تلافی اور بیمار کو شفا ملتی ہے اور جو کچھ
وَمَا تَزْدَادُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَغِیضُ، إنِّی بِسِرِّکُمْ مُؤْمِنٌ، وَ لِقَوْ لِکُمْ مُسَلِّمٌ، وَعَلَی ﷲ
رحموں میں بڑھتا اور گھٹتا ہے بے شک میںآپ کی قوت باطنی کا معتقد اور آپ کے قول کو تسلیم کرتا ہوں میں خدا کوآپ کی قسم
بِکُمْ مُقْسِمٌ فِی رَجْعِی بِحَوَائِجِی وَقَضَائِها وَ إمْضَائِها وَ إنْجَاحِها وَ إبْراحِها
دیتا ہوں کہ میری حاجتوں پر توجہ دے انہیں پورا کرے ان کا اجرا کرے اور کامیاب کرے یا ناکام کرے اور جو کام میں نے آپ
وَبِشُؤُونِی لَدَیْکُمْ وَصَلاَحِها وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ سَلاَمَ مُوَدِّعٍ وَلَکُمْ حَوائِجَهُ مُودِعٌ
کے سپرد کئے ہیں ان میں بہتری کرے اور سلام ہو آپ پر، وداع کرنے والے کا سلام جو اپنی حاجتیں آپ کے سپرد کر رہا ہے
یَسْأَلُ ﷲ إلَیْکُمُ الْمَرْجِعَ وَسَعْیُهُ إلَیْکُمْ غَیْرَ مُنْقَطِعٍ وَأَنْ یَرْجِعَنِی مِنْ حَضْرَتِکُمْ
وہ خدا سے سوال کرتا ہے کہ آپکے ہاں واپس آئے اور اسکا آپکی بارگاہ میں آنا چھوٹنے نہ پائے وہ چاہتا ہے کہ آپکے حضور سے
خَیْرَ مَرْجِعٍ إلَی جَنَابٍ مُمْرِعٍ وَخَفْضٍ مُوَسَّعٍ وَدَعَةٍ وَمَهَلٍ إلَی حِینِ الْاَجَلِ وَخَیْرِ
جائے تو پھر آپ کی خدمت میں حاضری دے تو یہ جگہ ہموار، سر سبز اور وسیع ہو چکی ہو کہ تا دم آخر وہ یہاں رہے اوراس کا انجام بخیر ہو
مَصِیرٍ وَمَحَلٍّ فِی النَّعِیمِ الْاَزَلِ، وَالْعَیْشِ الْمُقْتَبَلِ، وَدَوامِ الاَُْکُلِ، وَشُرْبِ الرَّحِیقِ
ہمیشہ کی نعمتیں نصیب ہوں آئندہ زندگی خوشگوار ہو ہمیشہ بہترین غذائیں اور پاک شراب ملے اور آب شرین
وَالسَّلْسَلِ وَعَلٍّ وَنَهَلٍ لاَ سَأَمَ مِنْهُ وَلاَ مَلَلَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ وَتَحِیَّاتُهُ عَلَیْکُمْ
اور یہ مہینہ بار بار آئے جس میں نہ تنگی آئے نہ رنج ہو اور خدا کی رحمت، برکتیں اور درود و سلام ہو آپ پر جب تک
حَتَّی الْعَوْدِ إلَی حَضْرَتِکُمْ، وَالْفَوْزِ فِی کَرَّتِکُمْ، وَالْحَشْرِ فِی زُمْرَتِکُمْ، وَرَحْمَةُ
کہ میں دوبارہ حاضر بارگاہ ہوں آپ کی رجعت میں کامیاب رہوں حشر میں آپ کے گروہ میں اٹھوں خدا کی رحمت اور
ﷲ وَبَرَکاتُهُ عَلَیْکُمْ وَصَلَواتُهُ وَتَحِیَّاتُهُ، وَهُوَ حَسْبُنا وَنِعْمَ الْوَکِیلُ
برکتیں ہوںآپ پر اور اس کی نوازشیں اور سلامتیاں اور وہ ہمارے لئے کافی اور بہترین کارساز ہے۔
ادامہ اعمال مشترکہ ماہ رجب
( ۸ )
محمد بن ذکو ان،آپ اس لئے سجاد کے نام سے معروف ہیں کہ انہوں نے اتنے سجدے کیے اور خوف خدا میں اس قدر روئے کہ نابینا ہوگئے تھے، سید بن طاؤس نے محمد بن ذکوان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفر صادق -کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ پر قربان ہو جاؤں یہ ماہ رجب ہے، مجھے کوئی دعا تعلیم کیجیئے کہ حق تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے فائدہ عطا فرمائے ۔ آپ نے فرمایا کہ لکھوبسم اللہ الرحمن الرحیم اور رجب کے مہینے میں ہر روزصبح وشام کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرو:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
شروع خدا کے نام سے کرتا ہوں جو رحمان اور رحیم ہے
یَا مَنْ أَرْجُوهُ لِکُلِّ خَیْرٍ، وَآمَنُ سَخَطَهُ عِنْدَ کُلِّ شَرٍّ، یَا مَنْ یُعْطِی الْکَثِیرَ
اے وہ جس سے ہر بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور ہر برائی کے وقت اس کے غضب سے امان چاہتا ہوں اے وہ جو تھوڑے عمل پر زیادہ
بِالْقَلِیلِ، یَا مَنْ یُعْطِی مَنْ سَأَلَهُ، یَا مَنْ یُعْطِی مَنْ لَمْ یَسْأَلْهُ وَمَنْ لَمْ یَعْرِفْهُ تَحَنُّناً
اجر دیتا ہے اے وہ جو ہر سوال کرنے والے کو دیتا ہے اے وہ جو اسے بھی دیتا ہے جو سوال نہیں کرتا اور اسے بھی دیتا ہے جو اسے نہیں
مِنْهُ وَرَحْمَةً أَعْطِنِی بِمَسْأَلَتِی إیَّاکَ جَمِیعَ خَیْرِ الدُّنْیا وَجَمِیعَ خَیْرِ الاَْخِرَةِ
پہچانتا احسان و رحمت کے طور پر تو مجھے بھی میرے سوال پر دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں اور نیکیاں عطا فرما دے اور میری طلبگاری پر
وَاصْرِفْ عَنِّی بِمَسْأَلَتِی إیَّاکَ جَمِیعَ شَرِّ الدُّنْیا وَشَرِّ الاَْخِرَةِ، فَ إنَّهُ غَیْرُ مَنْقُوصٍ
دنیا و آخرت کی تمام تکلیفیں اور مشکلیں دور کر کے مجھے محفوظ فرما دے کیونکہ تو جتنا عطا کرے تیرے ہاں کمی
مَا أَعْطَیْتَ، وَزِدْنِی مِنْ فَضْلِکَ یَا کَرِیمُ
نہیں پڑتی اے کریم تو مجھ پر اپنے فضل میں اضافہ فرما۔
راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد امام -نے اپنی ریش مبارک کو داہنی مٹھی میںلیا اور اپنی انگشت شہادت کو ہلاتے ہوئے نہایت گریہ و زاری کی حالت میںیہ دعا پڑھی:
یَا ذَاالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا ذَاالنَّعْمائِ وَالْجُودِ یَا ذَاالْمَنِّ وَالطَّوْلِ حَرِّمْ شَیْبَتِی عَلَی النَّارِ
اے صاحب جلالت و بزرگی اے نعمتوں اور بخشش کے مالک اے صاحب احسان و عطامیرے سفید بالوں کو آگ پر حرام فرما دے۔
( ۹ )
رسول ﷲ سے مروی ہے کہ جو شخص ماہ رجب میں سو مرتبہ کہے :
اَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِیْ لَااِلٰهَ اِلَّاهُوَ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ واَتُوْبُ اِلَیْهَ
بخشش چاہتا ہوں ﷲ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یگانہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
اور اس کے بعد صدقہ دے تو حق تعالیٰ اس پر اپنی تمام تر رحمت و مغفرت نازل کرے گا اور جو اسے چار سو مرتبہ پڑھے گا تو خدا اسے سو شہیدوں کا اجر دے گا ۔
(۱۰)
رسول ﷲ سے روایت ہوئی کہ ماہ رجب میں جو شخص ہزار مرتبہلَااِلٰهَ اِلَّاﷲ کہے تو حق تعالیٰ اس کیلئے ہزار نیکیاں لکھے گا اور جنت میں اس کیلئے سو شہر بنائیگا۔
( ۱۱ )
روایت ہوئی ہے کہ جو شخص رجب کے مہینے میں صبح شام ستر، ستر مرتبہ
اَسْتَغْفِرُ ﷲ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہَ پڑھے اور پھر اپنے ہاتھوں کو بلند کرکےاَلَّلهُمَّ اغْفَرْلِیْ وَ تُبْ عَلَیَّ
بخشش چاہتا ہوں اور اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں اے معبود! مجھے بخش دے اور توبہ قبول کر لے
کہے تو اگر وہ اس مہینے میں مر جائے تو حق تعالیٰ اس ماہ کی برکت سے اس پر راضی ہوگا اور آتش جہنم اسے نہ چھوئے گی۔
(۱۲)
رجب کے پورے مہینے میں ہزار مرتبہ پڑھے تاکہ حق تعالیٰ اس کو بخش دے۔
اَسْتَغْفِرُ ﷲ ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِکْرَامِ مِنْ جَمِیْعِ الذَّنُوْبِ وَ الْآثَامِ
بخشش چاہتا ہوں خدا سے جو صاحب جلالت و بزرگی ہے اپنے تمام گناہوں اور خطاؤں پر طالب عفو ہوں۔
(۱۳)
سید نے اقبال میں رسول ﷲ سے نقل کیا ہے کہ ماہ رجب میں سورہ اخلاص کے دس ہزار مرتبہ یا ایک ہزار مرتبہ یا ایک سو مرتبہ پڑھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے ۔ نیز یہ روایت بھی ہے کہ ماہ رجب میں جمعہ کے روز جو شخص سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے تو قیامت میں اس کیلئے ایک خاص نور ہوگا جو اسے جنت کی طرف لے جائے گا ۔
(۱۴)
سید نے روایت نقل کی ہے کہ جو شخص ماہ رجب میں ایک دن روزہ رکھے اور چار رکعت نماز ادا کرے کہ جس کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سو مرتبہ آیۃ الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دو سو مرتبہ قُلْ ھُوَ ﷲ پڑھے تو وہ شخص مرنے سے پہلے جنت میں اپنا مقام خود دیکھ لے گا۔ یا اسے جنت میںاس کا مقام دکھایا جائے گا۔
(۱۵)
سید نے رسول ﷲ سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ جو شخص رجب میں جمعہ کے روز نماز ظہر و عصر کے درمیان چار رکعت نماز پڑھے جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ آیت الکرسی اور پانچ مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور نماز کے بعد دس مرتبہ کہے:
اَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِیْ لَا اِلَهَ اِلَّا هُوَ وَ اَسْءَلُهُ التَّوْبَةَ
بخشش چاہتا ہوں خدا سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسی سے توبہ کا سوالی ہوں ۔
پس حق تعالیٰ اس نماز کے ادا کرنے کے دن سے اس کی موت تک ہر روز اس کیلئے ہزار نیکیاں لکھے گا ، ہر آیت جو اس نے نماز میں پڑھی ہے اس کے بدلے میں اسے جنت میں یاقوت سرخ کا شہر عنائت کرے گا ۔ ہر ہر حرف کے عوض سفید موتیوں کا محل عطا کرے گا ، حورالعین سے اس کی تزویج کرے گا ، خدا ئے تعالیٰ اس سے راضی و خوشنود ہوگا، اس کا نام عبادت گزاروں میںلکھا جائے گا اور خدا اس کا خاتمہ بخشش اور نیک بختی پر کرے گا ۔
(۱۶)
رجب کے مہینے میں تین دن یعنی جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھے کیونکہ روایت ہوئی ہے کہ جو محترم مہینوں کے ان دنوں میں روزہ رکھے تو حق تعالیٰ اس کو نو سوبرس کی عبادت کا ثواب عطا فرمائے گا ۔
(۱۷)
پورے ماہ رجب میں ساٹھ رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر شب میں دو رکعت بجالائے جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد ایک مرتبہ، سورہ کافرون تین مرتبہ اور سورہ قل ھو ﷲ ایک مرتبہ پڑھے اور جب سلام دے چکے تو اپنے ہاتھ بلند کر کے یہ پڑھے :
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ وَهُوَحَیٌّ
ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اسکا شریک نہیں حکومت اسیکی اور حمد اسی کیلئے ہے وہ زندہ کرتااور موت دیتا ہے وہ زندہ ہے
لاَ یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَ إلَیْهِ الْمَصِیرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ
اسے موت نہیں ہر بھلائی اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور بازگشت اسی کی طرف ہے نہیں کوئی طاقت و قوت
إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الاَُْمِّیِّ وَآلِهِ،
مگر جو بلند و بزرگ خدا سے ہے اے معبود ! نبی امّی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما۔
یہ دعا پڑھنے کے بعد دونوں ہاتھ اپنے منہ پر پھیرے۔
حضرت رسول ﷲ سے روایت ہوئی ہے کہ جو شخص یہ عمل انجام دے حق تعالیٰ اس کی دعا قبول کرے گا اور اسے ساٹھ حج اور ساٹھ عمرہ کا ثواب عطا فرمائے گا۔
(۱۸)
حضرت رسول ﷲ سے روایت کی گئی ہے کہ جو شخص رجب کے مہینے کی ایک رات میں دو رکعت نماز ادا کرے کہ اس میں سو مرتبہ سورہ قُلْ ھُو ﷲ پڑھے تو وہ ایسے ہے کہ جیسے اس نے حق تعالیٰ کیلئے سو سال کے روزہ رکھے ہوں۔ پس ﷲ تعالیٰ اس کو بہشت میں ایسے سو محلات عنایت کرے گا کہ جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی نبی کی ہمسائیگی میں واقع ہوگا۔
(۱۹)
حضرت رسول ﷲ سے مروی ہے کہ جو شخص ماہ رجب کی ایک رات میں دس رکعت نماز پڑھے کہ جس کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ و سورہ کافرون ایک ایک مرتبہ اور سورہ قل ھو ﷲ تین مرتبہ پڑھے تو ﷲ تعالیٰ اس کا ہر وہ گناہ بخش دے گا جو اس نے کیا ہو گا۔
(۲۰)
علامہ مجلسیرحمهالله نے زاد المعاد میں ذکر فرمایا کہ مولا امیر-سے نقل کیا گیا ہے کہ رسولخدا نے فرمایا ہے کہ جو شخص رجب، شعبان اور رمضان کی ہر رات اور دن میں سورہ حمد، آیۃ الکرسی، سورہ کافرون، سورہ فلق اور سورہ ناس میں سے ہر ایک تین تین مرتبہ پڑھے اور پھر تین مرتبہ کہے :
سُبْحَانَ ﷲ، وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَقوّ َةَ إلاَّ بﷲ
خدا پاک ہے اور حمد اسی کیلئے ہے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں اور ﷲ بزرگ تر ہے اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو بلند
الْعَلِیِّ الْعَظِیمِتین مرتبه کهے : اَللَّهُمَّ صَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَلَّلهُمَّ اغْفِرْ
و بزرگ خدا سے ہے اے معبود ! محمد و آل محمدعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اے معبود! مومن مردوں
لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤمِنَاتِاور چارسو مرتبه کهے : اَسْتَغْفر ﷲ وَ اَتُوْبُ اِلَیْهِ
اور مومن عورتوں کو بخش دے میں خدا سے بخشش چاہتا ہوں اور اسی کی طرف پلٹتا ہوں
پس خدا تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا چاہے وہ بارش کے قطروں، درختوں کے پتوں اور دریاؤں کی جھاگ جتنے ہی کیوںنہ ہوں۔ نیز علامہ مجلسیرحمهالله فرماتے ہیں کہ اس مہینے کی ہر رات میں ہزار مرتبہلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ کہنا بھی نقل ہوا ہے ۔
واضح ہو کہ ماہ رجب کی پہلی شبِ جمعہ کو لیلۃ الرغائب (رغبتوں والی رات) کہا جاتا ہے اس شب کیلئے رسولخدا سے ایک نماز نقل ہوئی ہے کہ جس کے فضائل بہت زیادہ ہیں جنہیں سیدنے اقبال اور علامہ مجلسی نے اجازہ بنی زہرہ میںذکر کئے ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نماز کی برکت سے کثیر گناہ معاف ہو جائیں گے اور قبر کی پہلی رات یہ نماز بحکم خدا خوبصورت بدن، خندہ چہرہ اور صاف و شیرین زبان کے ساتھ آکر کہے گی اے میرے حبیب خوشخبری ہو تجھے کہ تو نے ہر تنگی و سختی سے نجات پالی ہے وہ شخص پوچھے گا تو کون ہے؟خدا کی قسم میں نے تجھ سے خوبصورت اور شیرین کلام اور خوشبو والا کوئی نہیں دیکھا؟ وہ جواب دے گی میں تیری وہ نماز اور اس کا ثواب ہوں جو تونے فلاں رات فلاں ماہ اور فلاں سال میں پڑھی تھی آج میں تیرے حق کی ادائیگی کیلئے حاضر اور اس وحشت و تنہائی میں تیری ہمدم و غمخوار ہوں کل روز قیامت جب صور پھونکا جائے گا ۔
تو اس وقت میں تیرے سر پر سایہ کروں گی پس خوش و خرم رہ کہ خیر و نیکی کبھی تجھ سے دور نہیں ہوگی اس با برکت نماز کی ترکیب یہ ہے کہ ماہ رجب کی پہلی جمعرات کو روزہ رکھے اور شب جمعہ میں مغرب و عشائ کے درمیان بارہ رکعت دو دو رکعت کر کے نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد تین مرتبہ انا انزلناہ اور بارہ مرتبہ قُلْ ھُو ﷲ پڑھے ، فارغ ہو کر ستر مرتبہ کہے:
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النبیِ الاُمِّیِ وَ عَلیٰ آلِهٰ پھر سجدے میں جا کر ستر مرتبہ کہے:سُبُّوْحُ،
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم امی پر اور ان کی آلعليهالسلام پررحمت نازل فرما فرشتوں اور
قُدُّوْسُ، رَبُ الْمَلائِکَةِ وَ الرُّوْح سجدے سے سر اٹھا کر ستر مرتبہ کہے:رَبِّ اغْفَرْ وَارْحَمْ وَ
روح کا رب بے عیب پاک تر ہے پالنے والے بخش دے رحم فرما اور
تَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ أَنَّکَ اَنْتَ العَلِیُّ الْاَعْظَمُ پھر سجدے میں جائے اور ستر مرتبہ کہے:سُبُّوْحُ ،
در گزر کر ان گناہوں سے جن کو تو جانتا ہے بے شک تو بلند تر بزرگتر ہے فرشتوں اور
قُدُّوْسُ، رَبُ الْمَلائِکَةِ وَ الرُّوْحِ
روح کا رب بے عیب پاک تر ہے۔
اس کے بعد اپنی حاجت بھی طلب کرے گا انشائ ﷲ تعالیٰ وہ پوری ہوگی۔
یاد رہے کہ ماہ رجب میں امام علی رضا -کی زیارت کو جانا مستحب ہے ، جیساکہ اس ماہ میں عمرہ ادا کرنے کی بھی زیادہ فضیلت ہے اور عمرہ کی فضیلت حج کے قریب قریب ہے روایت ہوئی ہے کہ امام زین العابدین -ماہ رجب میں عمرہ ادا فرماتے، خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھتے شب و روز سجدے میں رہتے اور سجدے میں یہ کلمات ادا فرماتے۔
عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِکَ فُلْیَحْسُنِ الْعَفْوُ مَنْ عِنْدِکَ
تیرے بندے کا گناہ بہت بڑا ہے پس تیری طرف سے در گزر بھی خوب ہونی چاہیئے۔
رجب میں دن رات کے مخصوص اعمال
رجب کی پہلی رات
یہ بڑی بابرکت رات ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں
( ۱ ) جب ماہ رجب کا چاند (ہلال) دیکھے تو یہ دعاپڑھے:
اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَیْنَا بِالْأَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلامَةِ وَالْاِسْلَامِ رَبِّی وَرَبُّکَ ﷲ عَزَّ وَجَلَّ
اے معبود نیا چاند ہم پر امن،ایمان،سلامتی اور اسلام کیساتھ طلوع کر(اے چاند) تیرا اور میرا رب وہ ﷲ ہے جو عزت و جلال والا ہے
نیز حضور کی سیرت تھی جب رجب کا چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنٰا فِی رَجَبٍ وَ شَعْبانَ وَ بَلَّغْنَا شَهْرَ رَمَضانَ وَ أَعِنَّا عَلَیٰ الصَّیامِ
اے معبود! رجب اور شعبان میں ہم پر برکت نازل فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے میں داخل فرما اور ہماری مدد کر دن کے
وَ الْقِیاِم وَ حِفْظِ اللِّسانِ وَ غَضِّ الْبَصَرِ وَ لَاٰ تَجْعَلْ حَظَّنا مِنْهُ الْجُوعَ وَ الْعَطَشَ
روزے، رات کے قیام، زبان کو روکنے اور نگاہیں نیچی رکھنے میں اوراس مہینے میں ہمارا حصہ محض بھوک وپیاس قرار نہ دے۔
( ۲ ) رجب کی پہلی رات میں غسل کرے۔ جیساکہ بعض علمائ نے فرمایا ہے کہ رسول ﷲ کا فرمان ہے کہ جو شخص ماہ رجب کو پائے اور اس کے اول، وسط اور آخر میں غسل کرے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جیسے آج ہی شکم مادر سے نکلاہے۔
( ۳ ) حضرت امام حسین -کی زیارت کرے۔
( ۴ ) نماز مغرب کے بعد بیس رکعت نماز دو دو رکعت کر کے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد کے ساتھ سورہ توحید کی تلاوت کرے تو وہ خود، اس کے اہل و عیال اور اس کا مال محفوظ رہے گا ۔ نیز عذاب قبر سے بچ جائے گا اور پل صراط سے برق رفتاری کے ساتھ گزر جائے گا۔
( ۵ )نماز عشائ کے بعد دو رکعت نماز پڑھے ، پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد ایک مرتبہ الم نشرح اور تین مرتبہ سورہ توحید، دوسری رکعت میں سورہ حمد ، سورہ الم نشرح، قل ھو ﷲ اور سورہ فلق و سورہ ناس پڑھے۔ نماز کا سلام دینے کے بعد تیس مرتبہَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ اور تیس مرتبہ درود شریف پڑھے تو وہ شخص گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جیسے آج ہی شکم مادر سے پید اہوا ہے۔
( ۶ ) تیس رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ کافرون اور تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔
( ۷ ) رجب کی پہلی رات کے بارے میں شیخ نے مصباح المتہجد میں نقل کیا ہے (یعنی ذکر شب اول رجب) کہ ابوالبختری وہب بن وہب نے امام جعفر صادق -سے، آپ اپنے والد ماجد اور انہوں نے اپنے جد امجد امیر المومنین - سے روایت کرتے ہیں کہ آپعليهالسلام فرمایا کرتے تھے: مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ انسان پورے سال کے دوران ان چار راتوں میں خود کو تمام کاموں سے فارغ کر کے بیدار رہے اور خدا کی عبادت کرے ، وہ چار راتیں یہ ہیں : رجب کی پہلی رات ۔ شب نیمہ شعبان۔ شب عید الفطر اور شب عید قربان۔
ابو جعفر ثانی امام محمد تقی جواد -سے روایت کی گئی ہے کہ رجب کی پہلی رات میں نماز عشائ کے بعد اس دعا کا پڑھنا مستحب ہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُک بِأَنَّکَ مَلِکٌ وَأَنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ مُقْتَدِرٌ وَأَنَّکَ مَا تَشائُ مِنْ أَمْرٍ
اے معبود! میں تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو بادشاہ ہے اور بے شک تو ہر چیز پر اقتدار رکھتا ہے نیز تو جو کچھ بھی چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے
یَکُونُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
اے معبود ! میں تیرے حضور آیا ہوں تیرے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے واسطے جو نبی رحمتصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں خدا کی رحمت ہو ان پر ان کی آلعليهالسلام پر یا محمد
یَا مُحَمَّدُ یَا رَسُولَ ﷲ إنِّی أَتَوَجَّهُ بِکَ إلَی ﷲ رَبِّکَ وَرَبِّی لِیُنْجِحَ لِی بِکَ طَلِبَتِی
اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں آپکے واسطے سے خدا کے حضور آیا ہوں جو آپکا اور میرا رب ہے تاکہ آپکی خاطر وہ میری حاجت پوری فرمائے
اَللّٰهُمَّ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ وَآلاَءِمَّةِ مِنْ أَهْلِ بَیْتِهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ أَ نْجِحْ طَلِبَتِی
اے معبود! بواسطہ اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکے اہلبیتعليهالسلام میں سے آئمہعليهالسلام کے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان سب آل پر خدا کی رحمت ہو میری حاجت پوری فرما۔
اس کے بعد اپنی حاجتیں طلب کرے۔نیز علی بن حدید نے روایت کی کہ حضرت امام موسی کاظم - نماز تہجد سے فارغ ہو نے کے بعد سجدے میں جا کر یہ دعا پڑھتے تھے:
لَکَ الْمَحْمَدَةُ إنْ أَطَعْتُکَ، وَلَکَ الْحُجَّةُ إنْ عَصَیْتُکَ، لاَ صُنْعَ لِی وَلاَ لِغَیْرِی فِی
حمد تیرے ہی لئے ہے اگر میں تیری اطاعت کروں اور اگر میں تیری نا فرمانی کروں تیرے لیے مجھ پر حق ہے تو نہ میں نیکی کر سکتا ہوں
إحْسانٍ إلاَّ بِکَ، یَا کائِناً قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، وَیَا مُکَوِّنَ کُلِّ شَیْئٍ، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ
نہ کوئی اور نیکی کر سکتا ہے سوائے تیرے وسیلے کے اے وہ کہ ہر چیز سے پہلے موجود تھا اور تو نے ہر چیز کو پیدا فرمایا بے شک تو ہر چیز پر
قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْعَدِیلَةِ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَرْجِعِ فِی الْقُبُورِ،
قدرت رکھتا ہے اے معبود! میں تیری پناہ لیتا ہوں موت کے وقت حق سے پھر جانے سے اور قبر میں جانے پر ہونے والے عذاب
وَمِنَ النَّدامَةِ یَوْمَ الاَْزِفَةِ فَأَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ
سے اور قیامت کے دن کی شرمندگی سے تیری پناہ لیتا ہوں پس سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ میری
عَیْشِی عِیشَةً نَقِیَّةً وَمِیْتَتِی مِیتَةً سَوِیَّةً وَمُنْقَلَبِی مُنْقَلَباً کَرِیماً غَیْرَ مُخْزٍ وَلاَ فاضِحٍ
زندگی کو پاک زندگی اور موت کو عزت کی موت قرار دے اور میری بازگشت کو آبرومند بنا دے کہ جس میں ذلت و رسوائی نہ ہو
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ آلاَءِمَّةِ یَنابِیعِ الْحِکْمَةِ، وَأُوْ لِی النِّعْمَةِ، وَمَعادِنِ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام میں ائمہعليهالسلام پر رحمت فرما جو حکمت کے چشمے، صاحبان نعمت اور پاکبازی
الْعِصْمَةِ، وَاعْصِمْنِی بِهِمْ مِنْ کُلِّ سُوئٍ، وَلاَ تَأْخُذْنِی عَلَی غِرَّةٍ وَلاَ عَلَی غَفْلَةٍ،
کی کانیں ہیں ان کے واسطے سے مجھے ہر برائی سے محفوظ فرما بے خبری میں، اچانک اور غفلت میں میری گرفت نہ کر
وَلاَ تَجْعَلْ عَواقِبَ أَعْمالِی حَسْرَةً، وَارْضَ عَنِّی، فَ إنَّ مَغْفِرَتَکَ لِلظَّالِمِینَ وَأَنَا مِنَ
میرے اعمال کا انجام حسرت پر نہ کر اور مجھ سے راضی ہوجا کہ یقینا تیری بخشش ظالموں کیلئے ہے اور میں
الظَّالِمِینَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی مَا لاَ یَضُرُّکَ وَأَعْطِنِی مَا لاَ یَنْقُصُکَ فَ إنَّکَ الْوَسِیعُ
ظالموں سے ہوں اے معبود!مجھے بخش دے جس کا تجھے ضرر نہیں اور عطا کردے جس کا تجھے نقصان نہیں کیونکہ تیری
رَحْمَتُهُُ الْبَدِیعُ حِکْمَتُهُ وَأَعْطِنِی السَّعَةَ وَالدَّعَةَ وَالْاَمْنَ وَالصِّحَّةَ وَالْنُّجُوعَ
رحمت وسیع اور حکمت عجیب ہے اور مجھے عطا فرما وسعت و آسائش، امن و تندرستی، عاجزی و
وَالْقُنُوعَ وَالشُّکْرَ وَالْمُعافاةَ وَالتَّقْوی وَالصَّبْرَ وَالصِّدْقَ عَلَیْکَ وَعَلَی أَوْ لِیائِکَ
قناعت، شکر اور معافی، صبر و پرہیزگاری اور تو مجھے اپنی ذات اور اپنے اولیا سے متعلق سچ بولنے کی توفیق دیاور آسودگی وشکر عطا فرما اور
وَالْیُسْرَ وَالشُّکْرَ، وَأعْمِمْ بِذلِکَ یَا رَبِّ أَهْلِی وَوَلَدِی وَ إخْوانِی فِیکَ وَمَنْ أَحْبَبْتُ
اے پالنے والے ان چیزوں کو عام فرما میرے رشتہ داروں، میری اولاد، میرے دینی بھائیوں کیلئے اور جس سے میں محبت کرتا ہوں اور جو مجھ
وَأَحَبَّنِی وَوَلَدْتُ وَوَلَدَنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُؤْمِنِینَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ
سے محبت کرتا ہے اور جو میری اولاد ہے اور جس کی میں اولاد ہوں اور تمام مسلمانوں اور مومنین کیلئے اے عالمین کے پروردگار۔
ابن اشیم کا کہنا ہے کہ مذکورہ بالا دعا نماز تہجد کی آٹھ رکعت کے بعد پڑھے ، پھر دو رکعت نماز شفع اور ایک رکعت نمازوتر ادا کرے اور سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے یہ دعا پڑھے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی لاَ تَنْفَدُ خَزائِنُهُ وَلاَ یَخافُ آمِنُهُ، رَبِّ إنِ ارْتَکَبْتُ الْمَعاصِیَ فَذلِکَ
حمد ہے اس خدا کیلئے جس کے خزانے ختم نہیں ہوتے اور جسے وہ امان دے اسے خوف نہیں میرے پروردگار اگر میں نینافرمانیاں کی
ثِقَةٌ مِنِّی بِکَرَمِکَ، إنَّکَ تَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبادِکَ، وَتَعْفُو عَنْ سَیِّئاتِهِمْ وَتَغْفِرُ الزَّلَلَ
ہیں تو اس واسطے کہ مجھے تیرے کرم پر بھروسہ تھا کیونکہ تو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ان کی برائیوں سے در گزر کرتا اور خطائیں
وَ إنَّکَ مُجِیبٌ لِدَاعِیکَ وَمِنْهُ قَرِیبٌ وَأَ نَا تائِبٌ إلَیْکَ مِنَ الْخَطایا وَراغِبٌ إلَیْکَ فِی
معاف کرتا ہے تو پکارنے والے کا جواب دیتا ہے اور تو اس سے قریب ہوتا ہے اور میں تیرے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کر رہا ہوں
تَوْفِیرِ حَظِّی مِنَ الْعَطایا، یَا خالِقَ الْبَرایا، یَا مُنْقِذِی مِنْ کُلِّ شَدِیدَةٍ، یَا
اور تجھ سے تیری عطاؤں میں اپنے حصے میں فراوانی چاہتا ہوں اے مخلوق کے پیدا کرنے والے اے مجھے ہر مشکل سے نکالنے والے اے
مُجِیرِی مِنْ کُلِّ مَحْذُورٍ، وَفِّرْ عَلَیَّ السُّرُورَ، وَاکْفِنِی شَرَّ عَواقِبِ الاَُْمُورِ، فَأَ نْتَ
مجھ کو ہر بدی سے بچانے والے مجھ پر مسرت کی فراوانی فرما مجھے سب معاملوں کے برے انجام سے محفوظ رکھ کہ تو ہی وہ
ﷲ عَلَی نَعْمائِکَ وَجَزِیلِ عَطائِکَ مَشْکُورٌ، وَ لِکُلِّ خَیْرٍ مَذْخُورٌ
خدا ہے کہ کثیر نعمتوں اور عطاؤں پر جس کا شکر کیا جاتا ہے اور ہر بھلائی تیرے ہاں ذخیرہ ہے۔
یاد رہے کہ علمائے کرام نے رجب کی ہر رات کیلئے ایک مخصوص نماز ذکر فرمائی ہے ، لیکن اس مختصر کتاب میں ان کے بیان کی گنجائش نہیں ہے۔
پہلی رجب کا دن
یہ بڑی عظمت والا دن ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں :
( ۱ ) روزہ رکھنا روایت ہے کہ حضرت نوح -اسی دن کشتی پر سوار ہوئے اور آپعليهالسلام نے اپنے ساتھیوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا پس جو شخص اس دن کا روزہ رکھے تو جہنم کی آگ اس سے ایک سال کی مسافت پر رہے گی ۔
( ۲ ) اس روز غسل کرے ۔
( ۳ ) حضرت امام حسین -کی زیارت کرے جیسا کہ شیخ نے بشیر دھان سے اور انہوں نے امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے فرمایا: پہلی رجب کے دن امام حسین -کی زیارت کرنے والے کو خدائے تعالیٰ یقینا بخش دے گا ۔
( ۴ ) وہ طویل دعا پڑھے جو سید نے کتاب اقبال میں نقل کی ہے۔
( ۵ ) نماز حضرت سلمان پڑھے جو دس رکعت ہے دو دو رکعت کر کے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد تین مرتبہ سورہ توحید اور تین مرتبہ سورہ کافرون کی تلاوت کرے نماز کا سلام دینے کے بعد ہاتھوں کو بلند کر کے کہے :
لَا اِلٰهَ اِلَّا ﷲ وَحْدَه، لَا شَرِیْکَ لَهُ لَهُ الْمُلکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَهُوَ حَیٌّ
ﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو یگانہ ہے اسکا کوئی ثانی نہیں حکومت اسکی اور حمد اسی کی ہے وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے وہ ایسا زندہ ہے
لَّا یَموتُ بِیَدهِ الْخَیْرُ وَ هُوَ عَلٰی کُلِّ شیٍٔ قَدِیرٌپھر کهے : اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعطَیْتَ وَلَا
جسے موت نہیں بھلائی اسی کے پاس ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود!جو کچھ تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو
مُعْطِیْ لِمَا مُنِعَتْ وَ لَا یُنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدِّ
کچھ تو روکے وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نفع نہیں دیتا کسی کا بخت سوائے تیری دی ہوئی خوشبختی کے۔
اس کے بعد ہاتھوں کو منہ پر پھیر لے ۔ پندرہ رجب کے دن بھی یہی نماز بجا لائے، لیکن اس دعا کے بدلے میں عَلیٰ کُلِ شَیٍٔ قَدِیْرٍ کے بعد یہ کہے :
اِلَهاً وَّاحداً اَحَدًا فَرْدًا صَمَدًا لَّمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًانیزرجب کے آخری دن بهی یهی نماز
وہ معبود یگانہ، یکتا، تنہا اور بے نیاز ہے نہ اس کی کوئی زوجہ ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔
اداکرے لیکن عَلیٰ کُلِ شَیٍٔ قَدِیْر کے بعد یہ کہے :
وَصَلَی ﷲعَلی مُحمَّدٍ وَآلِهِ الطَاهِرِیْنَ وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ اِلاَّبِاﷲ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
اور خدا کی رحمت ہو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اس کی پاکیزہ آلعليهالسلام پر اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو بلند و بزرگ خدا سے ہے۔
پھر اپنے ہاتھوں کو منہ پر پھیرے اور اپنی حاجتیں طلب کرے، اس نماز کے فوائد اور برکات بہت زیادہ ہیں پس اس سے غفلت نہ برتی جائے واضح ہو کہ یکم رجب کے دن میں حضرت سلمان کی ایک اور نماز بھی منقول ہے جو دس رکعت ہے دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے اس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد تین مرتبہ سورہ توحید پڑھے۔ اس نماز کی بھی بہت ساری فضیلتیں ہیں، جن میں سب سے کم تر فضیلت یہ ہے کہ جو شخص یہ نماز بجا لائے اسکے گناہ بخش دیئے جائیں گے، وہ برص ، جذام اور نمونیہ سے محفوظ رہے گا ، نیز عذاب قبر اور قیامت کی سختیوں سے بچا رہے گا۔ سیدرحمهالله نے بھی اس دن کیلئے چار رکعت نماز نقل کی ہے ۔ پس وہ نماز ادا کرنے کی خواہش رکھنے والے ان کی کتاب اقبال کی طرف رجوع کریں ۔ اس قول کے مطابق ۵۷ھ میں اسی روز امام محمد باقر - کی ولادت با سعادت ہوئی۔ لیکن مؤلف کا خیال ہے کہ آپ کی ولادت تین صفر کو ہوئی ہے ۔ اسی طرح ایک قول ہے کہ دو رجب ۲۱۲ ھ میں امام علی نقی -کی ولادت اور تین رجب ۲۵۴ ھ میں آپ کی شہادت سامرہ میں واقع ہوئی ۔ نیز ابن عیاش کے بقول دس(۱۰) رجب امام محمد تقی -کی ولادت کا دن ہے ۔
تیرھویں رجب کی رات
ماہ رجب ، شعبان اور ماہ رمضان کی تیرھویں شب میں دو رکعت نماز مستحب ہے کہ اسکی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ یٰسین، سورہ ملک اور سورہ توحید پڑھے چودھویں شب میں چار رکعت نماز دو دو رکعت کر کے اسیطرح پڑھے اور پندرھویں شب میں چھ رکعت نماز دو دو کرکے اسی طرح سے پڑھے امام جعفر صادق -کا ارشاد ہے کہ اس طریقے سے یہ تین نمازیں بجالانے والا ان تینوں مہینوں کی تمام فضیلتیں حاصل کرے گا اور سوائے شرک کے اسکے سبھی گناہ معاف ہو جائینگے ۔
تیرھویں رجب کا دن
یہ ایام بیض کا پہلا دن ہے اس دن اور اسکے بعد کے دو دنوں میں روزہ رکھنے کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے، اگر کوئی شخص عمل ام داؤد بجالانا چاہتا ہے تو اس کیلئے ۱۳ رجب کا روزہ رکھنا ضروری ہے بنا بر مشہور عام الفیل کے تیس سال بعد اسی روز کعبہ معظمہ میں امیرالمومنین - کی ولادت باسعادت ہوئی ۔
پندرھویں رجب کی رات
یہ بڑی ہی با برکت رات ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں :
( ۱ ) غسل کرے۔
( ۲ ) عبادت کیلئے شب بیداری کرے ، جیساکہ علامہ مجلسیرحمهالله نے فرمایا ہے۔
( ۳ ) امام حسین -کی زیارت کرے ۔
( ۴ ) چھ رکعت نماز بجا لائے ، جس کا ذکر تیرھویں کی شب میں ہوا ہے ۔
( ۵ ) تیس رکعت نماز کہ جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید پڑھی جائے حضرت رسول ﷲ سے اس نماز کی بڑی فضیلت نقل ہوئی ہے ۔
( ۶ )بارہ رکعت نماز دو دو رکعت کرکے پڑھے اور ہررکعت میں سورہ الحمد، سورہ توحید، سورہ فلق، سورہ ناس، آیۃ الکرسی اور سورہ قدر میں سے ہر ایک کو چار چار مرتبہ پڑھے اور نماز کا سلام دینے کے بعد چار مرتبہ کہے :
ﷲ ﷲ رَبِّیْ لاَاُ شْرِکُ بِهٰ شَیْئاً وَلاَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٰ وَلِیًّا
خدا وہ خدا جو میرا پروردگار ہے میں کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا اور نہ اس کے سوا کسی کو اپنا سرپرست بناتا ہوں ۔
اس کے بعد جو ذکر و دعا چاہے پڑھے ۔ نماز کا یہ طریقہ سید نے امام جعفر صادق -سے نقل کیا ہے ، لیکن شیخ نے مصباح میں داؤد بن سرحان کے ذریعے امام جعفر صادق -سے اس نماز کا ایک اور طریقہ بیان کیا ہے کہ پندرہ رجب کی شب میں بارہ رکعت نماز ادا کرے جسکی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد کوئی ایک سورہ پڑھے اور نماز کا سلام دینے کے بعد سورہ الحمد ، سورہ فلق ، سورہ ناس، سورہ توحید اور آیۃ الکرسی میں سے ہر ایک چار چار مرتبہ پڑھے ۔ اور پھرچار مرتبہ کہے:
سُبْحَانَ ﷲ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ لَا اِلَهَ اِلَّا ﷲ وَ ﷲ اَکْبَرُ اس کے بعدکہے:ﷲ ﷲ رَبِّیْ
خدا پاک ہے اور حمد خدا ہی کیلئے ہے اور ﷲکے سوائ کوئی معبود نہیں اور ﷲ بزرگ تر ہے۔ ﷲ ہی پروردگار ہے
لاَاُ شْرِکُ بِهٰ شَیْئاً وَمَا شَاءَ ﷲ، لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمَ
میں کسی کو اسکا شریک نہیں بناتا وہی ہوگا جو ﷲ چاہے کوئی طاقت نہیں ہے مگر وہ بلند قوت و بزرگ خدا سے ہے۔
نیز ستائیس رجب کی شب میں بھی یہی نماز بجالائے۔
پندرہ رجب کا دن
یہ بڑا ہی مبارک دن ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں :
( ۱ )غسل کرے۔
( ۲ ) امام حسین -کی زیارت کرے، ابن ابی نصر سے روایت ہے کہ میں نے امام علی رضا -سے عرض کیا کہ میں کس مہینے میں امام حسین -کی زیارت کروں ؟ آپ نے فرمایا، کہ پندرہ رجب، اور پندرہ شعبان کو یہ زیارت کیا کرو۔
( ۳ ) نمازحضرت سلمان بجالائے کہ جس کا ذکر رجب کی پہلی شب کے اعمال میں گذر چکا ہے۔
( ۴ ) چار رکعت نماز دو دو رکعت کرکے پڑھے اور نماز کا سلام دینے کے بعد ہاتھ پھیلا کر کہے :
اَللّٰهُمَّ یَا مُذِلَّ کُلِّ جَبَّار، وَیَا مُعِزَّ الْمُؤْمِنِینَ، أَ نْتَ کَهْفِی حِینَ تُعْیِینِی الْمَذاهِبُ
اے معبود! اے ہر سرکش کو سرنگوں کرنے والے اور مومنوں کو عزت دینے والے تو ہی میری پناہ ہے جب راستے مجھے تھکا کررکھ دیں
وَأَنْتَ بارئُ خَلْقِی رَحْمَةً بِی، وَقَدْ کُنْتَ عَنْ خَلْقِی غَنِیّاً، وَلَوْلا رَحْمَتُکَ لَکُنْتُ
اور تو ہی اپنی رحمت سے مجھے پیدا کرنے والا ہے جب کہ تو میری پیدائش سے بے نیاز تھا اور اگر تیری رحمت میرے شامل
مِنَ الْهالِکِینَ، وَأَ نْتَ مُؤَیِّدِی بِالنَّصْرِ عَلَی أَعْدائِی، وَلَوْلا نَصْرُکَ إیَّایَ لَکُنْتُ
حال نہ ہوتی تو میں تباہ ہونے والوں میں ہوتا اور تو ہی دشمنوں کے مقابل میری نصرت کر کے مجھے طاقت دینے والا ہے اور اگر تیری
مِنَ الْمَفْضُوحِینَ، یَا مُرْسِلَ الرَّحْمَةِ مِنْ مَعادِنِها، وَمُنْشِیََ الْبَرَکَةِ مِنْ مَواضِعِها،
مدد حاصل نہ ہوتی تو میں رسوا لوگوں میں سے ہوتا اے اپنے خزانوں سے رحمت بھیجنے والے اور با برکت جگہوں سے برکت ظاہر
یَا مَنْ خَصَّ نَفْسَهُ بِالشُّمُوخِ وَالرِّفْعَةِ فَأَوْ لِیاؤُهُ بِعِزِّهِ یَتَعَزَّزُونَ، وَیَا مَنْ وَضَعَتْ
کرنے والے اے وہ جس نے خود کو بلندی اور برتری کے ساتھ خاص کیا پس اس کے دوست اس کی عزت کے ذریعے عزت دار
لَهُ الْمُلُوکُ نِیرَ الْمَذَلَّةِ عَلَی أَعْناقِهِمْ فَهُمْ مِنْ سَطَواتِهِ خائِفُونَ،
ہیں اور اے وہ جس کی غلامی کا طوق بادشاہوں نے اپنی گردنوں میں ڈال رکھا ہے اور اس کے دبدبے سے ڈرتے ہیں میں تجھ سے
أَسْأَلُک بِکَیْنُونِیَّتِکَ الَّتِی اشْتَقَقْتَها مِنْ کِبْرِیائِکَ، وَأَسْأَ لُک بِکِبْرِیائِکَ
سوال کرتا ہوں تیری آفرینش کے واسطے سے جو تو نے اپنی بڑائی سے ظاہر کی اور سوال کرتا ہوں تیری بڑائی کے واسطے سے جسے
الَّتِی اشْتَقَقْتَها مِنْ عِزَّتِکَ، وَأَسْأَ لُک بِعِزَّتِکَ الَّتِی اسْتَوَیْتَ بِها عَلَی عَرْشِکَ
تو نے اپنی عزت سے نمایاں کیا اور سوال کرتا ہوں تیری عزت کے واسطے سے جس سے تو اپنے عرش پر
فَخَلَقْتَ بِها جَمِیعَ خَلْقِکَ فَهُمْ لَکَ مُذْعِنُونَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ
حاوی ہے پس اسی سے تو نے ساری مخلوق کو پیدا کیا جو سب تیرے فرمانبردار ہیں یہ کہ تو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہلبیتعليهالسلام پر رحمت فرما۔
روایت میں آیا ہے کہ جو بھی غمزدہ یہ دعا پڑھے گا خدا وند اس کا غم و اندوہ دور فرما دے گا۔
اعمال ام داؤد
( ۵ ) عمل ام داؤد کہ یہی اس دن کا خاص عمل ہے جو حاجت بر آری ، مصیبت کی دوری اور ظالموں کے ظلم سے بچاو کیلئے بہت مؤثر ہے ، شیخ نے مصباح میں اس عمل کی کیفیت یوں لکھی ہے کہ عمل ام داؤد کرنے کیلئے ۱۳، ۱۴، ۱۵/ رجب کو روزہ رکھے اور ۱۵/ رجب کو زوال کے وقت غسل کرے زوال کے فورا بعد نماز ظہر و عصر بجالائے کہ رکوع و سجود میں خوف اور عاجزی کا اظہار کرے اس وقت وہ خلوت کی جگہ پر ہو، جہاں وہ کسی کام میں مشغول نہ ہو اور کوئی شخص اس سے بات بھی نہ کرے ، جب نماز سے فارغ ہو جائے تو قبلہ رو ہو کر اس طرح عمل کرے:
سو مرتبہ سورہ الحمد، سو مرتبہ سور اخلاص اور دس مرتبہ آیت الکرسی، اسکے بعد یہ سورتیں پڑھے: سورہ انعام، سورہ بنی اسرائیل، سورہ کہف، سورہ لقمان، سورہ یٰسین، سورہ صافات، سورہ حٰم سجدہ، سورہ حٰمعسق، سورہ حٰم دخان، سورہ فتح، سورہ واقعہ، سورہ ملک، سورہ نون، سورہ انشقاق اور اسکے بعد قرآن کی آخری سورہ تک مسلسل پڑھے جب فارغ ہوجائے تو قبلہ رخ ہو کر یہ دعا پڑھے:
صَدَقَ ﷲ الْعَظِیمُ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ ذُوالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ الرَّحْمٰنُ
سچا ہے خدا ئے بزرگتر کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی جو زندہ، نگہدار، صاحب جلالت و بزرگی، بڑے رحم والا،
الرَّحِیمُ، الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، الَّذِی لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، الْبَصِیرُ
مہربان، بردبار اور کرم کرنے والا ہے جس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سننے اور جاننے والا ہے بینا و
الْخَبِیرُ، شَهِدَ ﷲ أَ نَّهُ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ وَالْمَلائِکَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قائِماً بِالْقِسْطِ لاَ إلهَ
خبردار ہے ﷲ تعالیٰ نے خود گواہی دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں اور صاحبان علم نے بھی گواہی دی جو عدل پر قائم
إلاَّ هُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ الْکِرامُ وَأَ نَا عَلَی ذلِکَ مِنَ
ہے کہ اس کے سوائ کوئی معبود نہیں جو غالب صاحب حکمت ہے اور اس کے محترم رسولوںعليهالسلام نے یہی پیغام دیا اور میں بھی اس کے
الشَّاهِدِینَ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ، وَلَکَ الْمَجْدُ، وَلَکَ الْعِزُّ، وَلَکَ الْفَخْرُ،
گواہوں میں سے ہوں اے معبود ! تیرے لئے ہی حمد ہے تیرے لئے ہی بزرگی ہے تیرے لئے ہی عزت ہے تیرے لئے ہی فخر
وَلَکَ الْقَهْرُ ولَکَ النِّعْمَةُ ، وَلَکَ الْعَظَمَةُ، وَلَکَ الرَّحْمَةُ، وَلَکَ الْمَهابَةُ، وَلَکَ
ہے تیرے لئے ہی غلبہ ہے تیرے ہی لئے نعمت ہے تیرے لئے ہی بڑائی ہے تیرے لئے ہی رحمت ہے تو ہی صاحب ہیبت ہے تو
السُّلْطانُ وَلَکَ الْبَهائُ وَلَکَ الامْتِنانُ وَلَکَ التَّسْبِیحُ وَلَکَ التَّقْدِیسُ وَلَکَ التَّهْلِیلُ
ہی سلطنت والا ہے توہی خوبی والا ہے تو ہی صاحب احسان ہے تیرے ہی لئے تسبیح ہے تیرے ہی لئے پاکیزگی ہے تیرے ہی لئے
وَلَکَ التَّکْبِیرُ، وَلَکَ مَا یُری، وَلَکَ مَا لا یُری، وَلَکَ مَا فَوْقَ السَّماواتِ الْعُلی،
ذکر ہے تیرے ہی لئے بڑائی ہے تیرے ہی لئے ہے ہر دکھائی دینے اور دکھائی نہ دینے والی چیز تیرے ہی لئے ہے جو بلندآسمانوں
وَلَکَ مَا تَحْتَ الثَّری، وَلَکَ الْاَرَضُونَ السُّفْلی، وَلَکَ الاَْخِرَةُ وَالاَُْولی، وَلَکَ مَا
سے اوپر ہے تیرے ہی لئے ہے ہر چیز جو زیر زمین ہے تیرے ہی لئے ہیں نچلی زمینیںتیرے ہی لئے ہے آغاز اور انجام تیرے ہی
تَرْضی بِهِ مِنَ الثَّنائِ وَالْحَمْدِ وَالشُّکْرِ وَالنَّعْمائِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی جَبْرَئِیلَ أَمِینِکَ
لئے ہے تیری پسند کی ہوئی تعریف، حمد، شکر اور نعمات اے معبود! جبریلعليهالسلام پر رحمت فرما جو تیری وحی کا امین ہے تیرا حکم ماننے میں
عَلَی وَحْیِکَ، وَالْقَوِیِّ عَلَی أَمْرِکَ، وَالْمُطاعِ فِی سَمَاوَاتِکَ وَمَحالِّ کَراماتِکَ،
قوی ہے اور تیرے آسمانوں میں قابل اطاعت ہے تیری نوازشوں کا مرکز
الْمُتَحَمِّلِ لِکَلِماتِکَ، النَّاصِرِ لاََِنْبِیائِکَ، الْمُدَمِّرِ لاََِعْدائِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
اور تیرے کلمات کا حامل ہے تیرے انبیائ کا مددگار ہے اور تیرے دشمنوں کو ہلاک کرنے والا ہے اے معبود ! میکائیلعليهالسلام پر رحمت
عَلَی مِیکائِیلَ مَلَکِ رَحْمَتِکَ وَالْمَخْلُوقِ لِرَأْفَتِکَ وَالْمُسْتَغْفِرِ الْمُعِینِ لاََِهْلِ طاعَتِکَ
فرما جو تیری رحمت کا فرشتہ ہے اس کا وجود تیری مہربانی کا مظہر ہے وہ تیرے اطاعت گزاروںکا مددگار اور ان کیلئے طالب بخشش ہے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی إسْرافِیلَ حامِلِ عَرْشِکَ وَصاحِبِ الصُّوْرِ الْمُنْتَظِرِ لاََِمْرِکَ
اے معبود ! رحمت فرما اسرافیلعليهالسلام پر جو تیرے عرش کو اٹھانے والا اور صور پھونکنے والا کہ تیرے انتظار میں ہے
الْوَجِلِ الْمُشْفِقِ مِنْ خِیفَتِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی حَمَلَةِ الْعَرْشِ الطَّاهِرِینَ وَعَلَی
وہ تیرے خوف سے خائف و ہراساں ہے اے معبود ! حاملان عرش پر رحمت فرما جو پاک و پاکیزہ ہیں اور اپنے سفیروں
السَّفَرَةِ الْکِرامِ الْبَرَرَةِ الطَّیِّبِینَ، وَعَلَی مَلائِکَتِکَ الْکِرامِ الْکاتِبِینَ، وَعَلَی مَلائِکَةِ
پر رحمت فرما جو عزت دار نیک اور پاکیزہ ہیں اور اپنے فرشتوں پر رحمت فرما جو عزت دار کاتب ہیں اور جنت کے فرشتوں پر
الْجِنانِ، وَخَزَنَةِ النِّیرانِ، وَمَلَکِ الْمَوْتِ وَالْاَعْوانِ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ اَللّٰهُمَّ
جہنم کے نگہبان فرشتوں پر اور فرشتہ موت اور اس کے مدد گاروں پر رحمت فرما اے صاحب جلالت و عزت اے معبود ! ہمارے باپ
صَلِّ عَلَی أَبِینا آدَمَ بَدِیعِ فِطْرَتِکَ الَّذِی کَرَّمْتَهُ بِسُجُودِ مَلائِکَتِکَ، وَأَبَحْتَهُ جَنَّتَکَ
آدم پررحمت نازل فرما جو تیری مخلوق میں نقش اول ہیں جنکو تونے فرشتوں سے سجدہ کراکے عزت دی اور اپنی جنت ان کیلئے کھول دی
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی أُمِّنا حَوّاءَ الْمُطَهَّرَةِ مِنَ الرِّجْسِ، الْمُصَفَّاةِ مِنَ الدَّنَسِ، الْمُفَضَّلَةِ
اے معبود !ہماری ماں حوا پر رحمت فرما جو آلائش سے پاک اور ہر میل کچیل سے صاف و پاکیزہ ہیں وہ انسانوں میںسے
مِنَ الْاِنْسِ الْمُتَرَدِّدَةِ بَیْنَ مَحالِّ الْقُدْسِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی هابِیلَ وَشَیْثٍ وَ إدْرِیسَ
بلند تر اور پاکیزگی کے محلات میں چلتی پھرتی ہیں اے معبود! ہابیلعليهالسلام ، شیثعليهالسلام ، ادریسعليهالسلام
وَنُوحٍ وَهُودٍ وَصالِحٍ وَ إبْراهِیمَ وَ إسْماعِیلَ وَ إسْحاقَ وَیَعْقُوبَ وَیُوسُفَ
اور نوحعليهالسلام ، ہودعليهالسلام ، صاعليهالسلام لح، ابراہیمعليهالسلام و اسماعیلعليهالسلام اور اسحاقعليهالسلام ، یعقوبعليهالسلام اور یوسفعليهالسلام پر رحمت فرما
وَالْاَسْباطِ وَلُوطٍ وَشُعَیْبٍ وَأَ یُّوْبَ وَمُوسی وَهارُونَ وَیُوشَعَ وَمِیشا وَالْخِضْرِ
اور ان کے اسباط و اولاد پر اور لوطعليهالسلام ، شعیبعليهالسلام ، ایوبعليهالسلام ، موسیٰعليهالسلام و ہارونعليهالسلام پر رحمت فرما اور یوشععليهالسلام ، میشاعليهالسلام و خضرعليهالسلام
وَذِی الْقَرْنَیْنِ وَیُونُسَ وَ إلْیاسَ وَالْیَسَعَ وَذِی الْکِفْلِ وَطالُوتَ وَداوُدَ وَسُلَیْمانَ
اور ذوالقرنینعليهالسلام پر اور یونسعليهالسلام ، الیاسعليهالسلام ، الیسععليهالسلام ، ذوالکفلعليهالسلام ، طالوتعليهالسلام اور داؤدعليهالسلام و سلیمانعليهالسلام پر رحمت فرما
وَزَکَرِیَّا وَشَعْیا وَیَحْیی وَتُورَخَ وَمَتّی وَ إرْمِیا وَحَیْقُوقَ وَدانِیالَ وَعُزَیْرٍ وَعِیسی
اور ذکریاعليهالسلام ، شععليهالسلام یا، یحعليهالسلام یٰ، تورخعليهالسلام ، متیعليهالسلام ، ارمیاعليهالسلام اور حیقوقعليهالسلام پر رحمت فرما اور دانیالعليهالسلام ، عزیرعليهالسلام ، عیسیٰعليهالسلام ،
وَشَمْعُونَ وَجِرْجِیسَ وَالْحَوارِیِّینَ وَالْاَتْباعِ وَخالِدٍ وَحَنْظَلَةَ وَلُقْمانَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
شمعونعليهالسلام اور جرجیسعليهالسلام نیز ان کے حواریوں اور پیروکاروں پر رحمت فرما اور خالد ، حنظلہ اور لقمان پر رحمت فرما اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ وَبارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج اور رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر برکت نازل فرما
کَما صَلَّیْتَ وَرَحِمْتَ وَبارَکْتَ عَلَی إبْراهِیمَ وَآلِ إبْراهِیمَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ اَللّٰهُمَّ
جیساکہ تو نے ابراہیمعليهالسلام اور آل ابراہیمعليهالسلام پر درود بھیجا، رحمت کی اور برکت نازل کی بے شک تو تعریف والا اور شان والا ہے اے معبود!
صَلِّ عَلَی الْاَوْصِیائِ وَالسُّعَدائِ وَالشُّهَدائِ وَأَئِمَّةِ الْهُدی اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْاَ بْدالِ
وصیوں، نیک بختوں، شہیدوں اور ہدایت والے ائمہ پر رحمت فرما اے معبود! رحمت فرما ولیوں
وَالْاَوْتادِ وَالسُّیَّاحِ وَالْعُبَّادِ وَالْمُخْلِصِینَ وَالزُّهَّادِ وَأَهْلِ الْجِدِّ وَالاجْتِهادِ وَاخْصُصْ
اور قلندروں پر اور رحمت فرما سیاحوں، عابدوں، مخلصوں، زاہدوں اور کوشش و اجتہاد کرنے والوں پر اور حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
مُحَمَّداً وَأَهْلَ بَیْتِهِ بِأَفْضَلِ صَلَواتِکَ وَأَجْزَلِ کَراماتِکَ، وَبَلِّغْ رُوحَهُ وَجَسَدَهُ مِنِّی
اور ان کے اہلبیعليهالسلام ت کو اپنی بہترین کے ساتھ مختص فرما رحمتوں اور عظیم مہربانیوں سے نواز اور میری طرف سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جسم و روح
تَحِیَّةً وَسَلاماً وَزِدْهُ فَضْلاً وَشَرَفاً وَکَرَماً حَتّی تُبَلِّغَهُ أَعْلی دَرَجاتِ أَهْلِ الشَّرَفِ
کو سلام اور آداب پہنچا اور انہیں فضل و شرف اور بزرگی میںبڑھا حتیٰ کہ تو ان کو انبیائ مرسلین میں سے اہل شرف ہستیوں اور
مِنَ النَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ وَالْاَفاضِلِ الْمُقَرَّبِینَ، اَللّٰهُمَّ وَصَلِّ عَلَی مَنْ سَمَّیْتُ وَمَنْ
اپنے بزرگ تر مقربوں کے بلند درجات پر پہنچا دے اے معبود ! ان پر رحمت فرما جن کے نام میں نے لیئے اور جن کے
لَمْ أُسَمِّ مِنْ مَلائِکَتِکَ وَأَنْبِیائِکَ وَرُسُلِکَ وَأَهْلِ طاعَتِکَ، وَأَوْصِلْ صَلَواتِی إلَیْهِمْ
نام میںنے نہیں لیئے جو تیرے فرشتوں، نبیوں اور رسولوں اور فرمانبرداروں میں سے ہیں میری صلوات ان تک اور ان کی
وَ إلی أَرْواحِهِمْ وَاجْعَلْهُمْ إخْوانِی فِیکَ وَأَعْوانِی عَلَی دُعائِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَشْفِعُ
روحوں تک پہنچا دے اور اپنی درگاہ میں انہیں میرے بھائی اور دعا میں میرے مدد گار بنا دے اے معبود میں تیرے حضور
بِکَ إلَیْکَ وَبِکَرَمِکَ إلی کَرَمِکَ وَبِجُودِکَ إلی جُودِکَ وَبِرَحْمَتِکَ إلی رَحْمَتِکَ
تیری شفاعت لایا اور تیرے کرم تک، تیری عطا تک، تیری عطا کو اور تیری رحمت تک تیری رحمت کو اور
وَبِأَهْلِ طاعَتِکَ إلَیْکَ وَأَسْأَلُک اَللّٰهُمَّ بِکُلِّ ما سَأَلَکَ بِهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ مِنْ مَسْأَلَةٍ شَرِیفَةٍ
تیرے فرمانبرداروں کو شفیع بنا رہا ہوں اور اے پرودگار میں تجھ سے وہ سوال کرتا ہوں جو ان میں سے کسی نے بہترین سوال کیا جسے رد
غَیْرِ مَرْدُودَةٍ وَبِما دَعَوْکَ بِهِ مِنْ دَعْوَةٍ مُجابَةٍ غَیْرِ مُخَیَّبَةٍ یَا ﷲ یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ
نہیں کیا گیا اور جو دعا انہوں نے مانگی جسے قبول کیا گیا رد نہیں کیا گیا وہی دعا کرتا ہوں اے ﷲ، اے رحمن، اے مہربان،
یَا حَلِیمُ یَا کَرِیمُ یَا عَظِیمُ یَا جَلِیلُ یَا مُنِیلُ یَا جَمِیلُ یَا کَفِیلُ یَا وَکِیلُ
اے بردبار، اے کرم کرنے والے، اے بڑائی والے، اے جلالت والے، اے بخشنے والے، اے زیبا، اے سرپرست، اے کار
یَا مُقِیلُ یَا مُجِیرُ یَا خَبِیرُ یَا مُنِیرُ یَا مُبِیرُ یَا مَنِیعُ یَا مُدِیلُ
ساز، اے معاف کرنے والے، اے پناہ دینے والے، اے خبر دار، اے تابندہ، اے نابود کرنے والے،اے محفوظ، اے پھیرنے
یَا مُحِیلُ یَا کَبِیرُ یَا قَدِیرُ یَا بَصِیرُ یَا شَکُورُ یَا بَرُّ یَا طُهْرُ یَا طاهِرُ
والے، اے حرکت دینے والے، اے بزرگ، اے قدرت والے، اے بینا، اے قدرداں، اے نیکوکار، اے پاک، اے پاکیزہ،
یَا قاهِرُ یَا ظاهِرُ یَا باطِنُ یَا ساتِرُ یَا مُحِیطُ یَا مُقْتَدِرُ یَا حَفِیظُ یَا مُتَجَبِّرُ
اے غالب، اے عیاں، اے پنہاں، اے پردہ پوش، اے گھیرنے والے، اے اقتدار والے، اے نگہبان،اے جوڑنے والے،
یَا قَرِیبُ یَا وَدُودُ یَا حَمِیدُ یَا مَجِیدُ یَا مُبْدئُ یَا مُعِیدُ یَا شَهِیدُ یَا مُحْسِنُ
اے نزدیک تر، اے دوستی والے، اے پسندیدہ، اے بزرگوار، اے آغاز کرنے والے، اے پلٹانے والے، اے گواہ، اے احسان
یَا مُجْمِلُ یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ یَا قابِضُ یَا باسِطُ یَا هادِی
کرنیوالے، اے نیکی کرنیوالے، اے نعمت دینیوالے، اے عطا کرنیوالے، اے پکڑنیوالے، اے دینیوالے، اے ہدایت دینیوالے
یَا مُرْسِلُ یَا مُرْشِدُ یَا مُسَدِّدُ یَا مُعْطِی یَا مانِعُ یَا دافِعُ یَا رافِعُ
اے بھیجنے والے اے نیک بنانیوالے اے محکم کرنیوالے اے عطا کرنیوالے اے روکنے والے اے ہٹانے والے اے بلند
یَا باقِی یَا واقِی یَا خَلاَّقُ یَا وَهَّابُ یَا تَوَّابُ یَا فَتَّاحُ یَا نَفَّاحُ
کرنیوالے اے بقا والے، اے نگہدار، اے پیدا کرنیوالے، اے بخشنے والے اے توبہ قبول کرنیوالے اے کھولنے والے، اے ہوا
یَا مُرْتاحُ یَا مَنْ بِیَدِهِ کُلُّ مِفْتاحٍ یَا نَفَّاعُ یَا رَؤُوفُ یَا عَطُوفُ
بھیجنے والے اے راحت دینے والے، اے وہ جس کے ہاتھ میںہر کلید ہے اے نفع دینے والے، اے مہربان، اے نرمی والے،
یَا کافِی یَا شافِی یَا مُعافِی یَا مُکافِی یَا وَفِیُّ یَا مُهَیْمِنُ یَا عَزِیزُ
اے کفایت والے، اے شفا والے، اے عافیت والے، اے کفایت کرنے والے، اے وفا والے، اے نگہبان، اے زبردست،
یَا جَبّارُ یَا مُتَکَبِّرُ یَا سَلامُ یَا مُؤْمِنُ یَا أَحَدُ یَا صَمَدُ یَا نُورُ یَا مُدَبِّرُ
اے غلبے والے، اے بڑائی والے اے سلامتی والے اے امن دینے والے، اے یکتا، اے بے نیاز، اے روشن، اے کام پورا
یَا فَرْدُ یَا وِتْرُ یَا قُدُّوسُ یَا ناصِرُ یَا مُؤْ نِسُ یَا باعِثُ
کرنے والے، اے یگانہ، اے تنہا اے پاکیزہ تر، اے مددگار، اے انس والے، اے اٹھانے
یَا وارِثُ یَا عالِمُ یَا حاکِمُ یَا بادِی یَا مُتَعالِی یَا مُصَوِّرُ یَا مُسَلِّمُ یَا
والے، اے ورثہ دار، اے دانا، اے حکم والے اے آغاز کرنے والے اے برتری والے اے صورتگر اے سلامتی دینے والے اے
مُتَحَبِّبُ یَا قائِمُ یَا دائِمُ یَا عَلِیمُ یَا حَکِیمُ یَا جَوادُ یَا بارئُ یَا بارُّ
دوستی کرنے والے اے قائم اے ہمیشگی والے اے علم والے اے حکمت والے اے عطا والے اے پیدا کرنے والے اے نیکی والے،
یَا سارُّ یَا عَدْلُ یَا فاصِلُ یَا دَیَّانُ یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ یَا
اے خوشی دینے والے اے عدل والے، اے فیصلہ کرنیوالے اے جزادینیوالے اے محبت کرنیوالے اے احسان کرنے والے اے
سَمِیعُ یَا بَدِیعُ یَا خَفِیرُ یَا مُعِینُ یَا ناشِرُ یَا غافِرُ یَا قَدِیمُ
سننے والے اے نقش سازاے پناہ دینے والے، اے مددگار اے دوبارہ زندہ کرنیوالے اے بخشنے والے اے سب سے پہلے اے
یَا مُسَهِّلُ یَا مُیَسِّرُ یَا مُمِیتُ یَا مُحْیِی یَا نافِعُ یَا رازِقُ یَا
آسان کرنیوالے اے ہموار کرنیوالے اے مارنے والے اے زندہ کرنیوالے، اے نفع دینے والے اے رزق دینے والے اے
مُقْتَدِرُ یَا مُسَبِّبُ یَا مُغِیثُ یَا مُغْنِی یَا مُقْنِی یَا خالِقُ یَا راصِدُ یَا واحِدُ
اختیار والے اے سبب پیدا کرنیوالے اے فریاد رس اے ثروت دینے والے اے نگہدار اے خلق کرنیوالے اے نگہبان اے یگانہ
یَا حاضِرُ یَا جابِرُ یَا حافِظُ یَا شَدِیدُ یَا غِیاثُ یَا عائِدُ یَا قابِضُ یَا مَنْ
اے موجود اے جوڑنے والے اے حفاظت کرنے والے اے سخت گیر، اے داد رس، اے لوٹانے والے، اے گرفت والے، اے وہ
عَلا فَاسْتَعْلی فَکانَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلی، یَا مَنْ قَرُبَ فَدَنا، وَبَعُدَ فَنَأَی، وَعَلِمَ السِّرَّ
جو بلند ہو کر غائب ہوا تو بہت ہی اونچے مقام پر تھا، اے وہ جوقریب ہے تو پہلو میں ہے اور دور ہے تو پہنچ میں نہیں اور چھپی کھلی ہر چیز
وَأَخْفی یَا مَنْ إلَیْهِ التَّدْبِیرُ وَلَهُ الْمَقادِیرُ، وَیا مَنِ الْعَسِیرُ عَلَیْهِ سَهْلٌ یَسِیرٌ، یَا مَنْ
کو جانتا ہے، اے وہ جو صاحب تدبیر اور وہی اندازیکرنے والا ہے، اے وہ جس کیلئے مشکل کام معمولی اور آسان ہے، اے وہ جو
هُوَ عَلَی مَا یَشائُ قَدِیرٌ یَا مُرْسِلَ الرِّیاحِ، یَا فالِقَ الْاِصْباحِ، یَا باعِثَ الْاَرْواحِ یَا ذَا
کچھ بھی چاہے اس پرقادر ہے اے ہواؤں کے چلانے والے، اے صبح کی روشنی پھیلانے والے، اے روحوں کو بھیجنے والے، اے عطا
الْجُودِ وَالسَّماحِ، یَا رادَّ مَا قَدْ فاتَ، یَا ناشِرَ الْاَمْواتِ، یَا جامِعَ الشَّتاتِ،
و سخاوت کے مالک، اے گمشدہ چیز کے پلٹانے والے، اے مردوں کے زندہ کرنے والے، اے بکھری چیزوں کے جمع کرنے والے،
یَا رازِقَ مَنْ یَشائُ بِغَیْرِ حِسابٍ، وَیا فاعِلَ مَا یَشائُ کَیْفَ یَشائُ، وَیا ذَا الْجَلالِ
اے جسے چاہے بغیر حساب کے رزق دینے والے، اے جو چاہے جیسے چاہے کرنے والے اور اے جلالت
وَالْاِکْرامِ، یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ، یَا حَیّاً حِینَ لا حَیَّ، یَا حَیُّ یَا مُحْیِیَ الْمَوْتی، یَا حَیُّ
و بزرگی والے، اے زندہ، اے نگہبان، اے زندہ جب کوئی زندہ نہ ہو،اے وہ زندہ جو مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، اے وہ زندہ کہ
لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ بَدِیعُ السَّماواتِ وَالْاَرْضِ یَا إلهِی وَسَیِّدِی صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو آسمانوں اور زمین کا ایجاد کرنے والا ہے اے معبود اور میرے سردار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل
مُحَمَّدٍ، وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، وَبارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، کَما صَلَّیْتَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر برکت نازل کر جیسے تو نے ابراہیمعليهالسلام اور آل ابراہیمعليهالسلام پر درود بھیجا
وَبارَکْتَ وَرَحِمْتَ عَلَی إبْراهِیمَ وَآلِ إبْراهِیمَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ وَارْحَمْ ذُ لِّی وَفاقَتِی
برکت نازل کی اور رحمت فرمائی بے شک تو تعریف والا شان والا ہے اور میری ذلت، فقر و فاقہ میری بے کسی،
وَفَقْرِی وَانْفِرادِی وَوَحْدَتِی وَخُضُوعِی بَیْنَ یَدَیْکَ، وَاعْتِمادِی عَلَیْکَ، وَتَضَرُّعِی
میری تنہائی پر رحم کر اور تیرے سامنے میں جو عاجزی کرتا ہوں اور رحم کر کہ میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں اور تیرے حضور زاری کرتا ہوں
إلَیْکَ، أَدْعُوکَ دُعاءَ الْخاضِعِ الذَّلِیلِ الْخاشِعِ الْخائِفِ الْمُشْفِقِ الْبائِسِ الْمَهِینِ
تیری درگاہ میں دعا کرتا ہوں اس شخص کی سی دعا جو عاجز، پست، ہیچ، ڈرا ہوا، سہما ہوا، بے چارہ، کم ترین،
الْحَقِیرِ الْجائِعِ الْفَقِیرِ الْعائِذِ الْمُسْتَجِیرِ الْمُقِرِّ بِذَ نْبِهِ، الْمُسْتَغْفِرِ مِنْهُ، الْمُسْتَکِینِ
ناچیز، بھوکا، محتاج، پناہ خواہ، طالب پناہ، اپنے گناہ کا اقرار کرنے والا، گناہ کی معافی مانگنے والا اور اپنے رب کے حضور
لِرَبِّهِ ، دُعاءَ مَنْ أَسْلَمَتْهُ ثِقَتُهُ وَرَفَضَتْهُ أَحِبَّتُهُ، وَعَظُمَتْ فَجِیعَتُهُ، دُعاءَ
بے بس ہے ایسے شخص کی سی دعا جسے اعتباریوں نے چھوڑ دیا دوستوں نے دور ہٹا دیا اور اس کی مصیبت بھاری ہے میں دعا کرتا ہوں
حَرِقٍ حَزِینٍ ضَعِیفٍ مَهِینٍ بائِسٍ مُسْتَکِینٍ بِکَ مُسْتَجِیرٍ اَللّٰهُمَّ وَأَسْأَلُک بِأَ نَّکَ
جیسے کوئی دل جلا، دکھی، کمزور، پست، بے چارہ، ذلیل اور تجھ سے طالب پناہ دعا کرتا ہے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس
مَلِیکٌ وَأَ نَّکَ مَا تَشائُ مِنْ أَمْرٍ یَکُونُ وَأَ نَّکَ عَلَی مَا تَشائُ قَدِیرٌ وَأَسْأَ لُک بِحُرْمَةِ
لئے کہ تو مالک ہے تو جو چاہے وہ ہو جاتا ہے اور تو جو چاہے اس پر قادر ہے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس محترم مہینے
هذَا الشَّهْرِ الْحَرامِ، وَالْبَیْتِ الْحَرامِ، وَالْبَلَدِ الْحَرامِ، وَالرُّکْنِ وَالْمَقامِ، وَالْمَشاعِرِ
اور پاک گھر، کعبہ مقدس، شہر مکہ، رکن ومقام اور عظمت والے مشعروں کی حرمت کے واسطے سے
الْعِظامِ، وَبِحَقِّ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ یَا مَنْ وَهَبَ لاَِدَمَ شَیْثاً
اور تیرے نبی محمد (ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر سلام) کے واسطے سے سوالی ہوں اے وہ جس نے آدمعليهالسلام کو شیثعليهالسلام
وَلاِِِ بْراهِیمَ إسْماعِیلَ وَ إسْحاقَ، وَیَا مَنْ رَدَّ یُوسُفَ عَلَی یَعْقُوبَ، وَیا مَنْ کَشَفَ
اور ابراہیمعليهالسلام کو اسماعیلعليهالسلام و اسحاقعليهالسلام دئے اے وہ جس نے یوسفعليهالسلام کو یعقوبعليهالسلام کی طرف لوٹایا اے وہ جس نے آزمائش
بَعْدَ الْبَلائِ ضُرَّ أَ یُّوْبَ، یَا رادَّ مُوسی عَلَی أُمِّهِ، وَزایِدَ الْخِضْرِ فِی عِلْمِهِ، وَیا مَنْ
کے بعد ایوبعليهالسلام کی سختی دور کی اے موسیٰعليهالسلام کو ان کی ماں کے پاس لانے والے خضرعليهالسلام کے علم میں اضافہ کرنے والے اے وہ جس
وَهَبَ لِداوُدَ سُلَیْمانَ وَلِزَکَرِیَّا یَحْیی، وَ لِمَرْیَمَ عِیسی، یَا حافِظَ بِنْتِ شُعَیْبٍ، وَیا
نے داودعليهالسلام کو سلیمانعليهالسلام ، زکریاعليهالسلام کو یحییعليهالسلام اور مریمعليهالسلام کو عیسیٰعليهالسلام عطا کیئے اے دختر شعیبعليهالسلام کی حفاظت کرنے والے اے
کافِلَ وَلَدِ أُمِّ مُوسی أَسْأَلُک أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَغْفِرَ لِی
مادر موسیٰعليهالسلام کے فرزند کے محافظ میں سوال کرتا ہوں کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ میرے
ذُنُوبِی کُلَّها، وَتُجِیرَنِی مِنْ عَذابِکَ، وَتُوجِبَ لِی رِضْوانَکَ وَأَمانَکَ وَ إحْسانَکَ
سارے گناہ بخش دے مجھے اپنے عذاب سے پناہ دے اور میرے لئے اپنی رضا مندی، اپنی پناہ، اپنا احسان،اپنی بخشش
وَغُفْرانَکَ وَجِنانَکَ وَأَسْأَ لُک أَنْ تَفُکَّ عَنِّی کُلَّ حَلْقَةٍ بَیْنِی وَبَیْنَ مَنْ یُؤْذِینِی،
اور اپنی بہشت واجب کردے اور میں سوال کرتا ہوں کہ میرے اور مجھے ایذ ادینے والے کے درمیان جتنی کڑیاں ہیں وہ کھول دے
وَتَفْتَحَ لِی کُلَّ بابٍ، وَتُلَیِّنَ لِی کُلَّ صَعْبٍ، وَتُسَهِّلَ لِی کُلَّ عَسِیرٍ، وَتُخْرِسَ عَنِّی
ہر دروازہ میرے لئے کھول دے ہر سختی کو نرمی میں بدل دے ہر مشکل کوآسان کر دے میرے خلاف ہر بدگوئی کرنے والے
کُلَّ ناطِقٍ بِشَرٍّ، وَتَکُفَّ عَنِّی کُلَّ باغٍ، وَتَکْبِتَ عَنِّی کُلَّ عَدُوٍّ لِی وَحاسِدٍ، وَتَمْنَعَ
کو گونگا کردے ہر سرکش کو مجھ سے دور کردے اور میرے ہر دشمن و حاسد کو ذلیل کردے ہر ظالم کو
مِنِّی کُلَّ ظالِمٍ، وَتَکْفِیَنِی کُلَّ عائِقٍ یَحُولُ بَیْنِی وَبَیْنَ حاجَتِی وَیُحاوِلُ أَنْ یُفَرِّقَ
مجھ سے روکے رکھ ہر اس مانع سے میری کفایت فرما جو میرے جو میری حاجت کے درمیان حائل ہے اور چاہتا ہے کہ مجھے تیری
بَیْنِی وَبَیْنَ طاعَتِکَ وَیُثَبِّطَنِی عَنْ عِبادَتِکَ یَا مَنْ أَ لْجَمَ الْجِنَّ الْمُتَمَرِّدِینَ، وَقَهَرَ
فرمانبرداری سے باز رکھے اور تیری عبادت سے دور کرے اے وہ جس نے سر کش جنات کو لگام دی اور نافرمان
عُتاةَ الشَّیاطِینِ وَأَذَلَّ رِقابَ الْمُتَجَبِّرِینَ وَرَدَّ کَیْدَ الْمُتَسَلِّطِینَ عَنِ الْمُسْتَضْعَفِینَ
شیطانوں کی سرکوبی کی اور ظالموں کی گردنیں جھکا دیں اور کمزور لوگوں کو ظالموں کے پنجے سے آزادی بخشی میں
أَسْأَ لُک بِقُدْرَتِکَ عَلَی مَا تَشائُ، وَتَسْهِیلِکَ لِما تَشائُ کَیْفَ تَشائُ أَنْ تَجْعَلَ قَضاءَ
سوال کرتا ہوں بواسطہ اس کے کہ تو جو چاہے اس پر قادر ہے اور جو چاہے، جیسے چاہے تیرے لئے آسان ہے کہ تو میری
حاجَتِی فِیما تَشائُ
حاجت روائی، جس چیز میں چاہے قرار دے۔
اسکے ساتھ ہی زمین پر سجدہ کرے اور اپنے دونوں رخسار خاک پر رکھ کر یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ لَکَ سَجَدْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، فَارْحَمْ ذُلِّی وَفاقَتِی وَاجْتِهادِی وَتَضَرُّعِی
اے معبود ! میں تجھی کو سجدہ کرتا ہوں اورتجھی پر ایمان رکھتا ہوں پس میری ذلت، احتیاج اور میری کوشش، میری زاری و بے چارگی اور
وَمَسْکَنَتِی وَفَقْرِی إلَیْکَ یَارَبِّ
اپنی بارگاہ میں میری محتاجی پر رحم فرما اے پروردگار۔
اس دوران یہ کوشش کرے کہ آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اگر چہ وہ مکھی کے پر جتنے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ قبولیت دعا کی نشانی ہے۔
پچیس رجب کا دن
۲۵ رجب ۱۸۳ھ کو ۵۵ برس کی عمر میں امام موسیٰ کاظم -کی شہادت بغداد میں واقع ہوئی پس یہ ایسا دن ہے جس میں اہلبعليهالسلام یت اور ان کے حبداروں کے غم پھر سے تازہ ہوجاتے ہیں۔
ستائیس رجب کی رات
یہ بڑی متبرک راتوں میں سے ہے کیونکہ یہ رسول اللہ کے مبعث (مامور بہ تبلیغ ہونے) کی رات ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں:
( ۱ )مصباح میں شیخ نے امام ابو جعفر جواد -سے نقل کیا ہے کہ فرمایا : ماہ رجب میں ایک رات ہے کہ وہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج چمکتا ہے اور وہ ستائیسویں رجب کی رات ہے کہ جس کی صبح رسول اعظم مبعوث بہ رسالت ہوئے۔ ہمارے پیروکاروں میںجو اس رات عمل کرے گا تو اس کو ساٹھ سال کے عمل کا ثواب حاصل ہوگا۔ میں نے عرض کیا اس رات کا عمل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : نماز عشا کے بعد سوجائے اور پھر آدھی رات سے پہلے اٹھ کر بارہ رکعت نماز دو دو رکعت کرکے پڑھے اور ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد قرآن کی آخری مفصل سورتوں (سورہ محمد سے سورہ ناس) میں سے کوئی ایک سورہ پڑھے۔ نماز کا سلام دینے کے بعد سورہ حمد، سورہ فلق سورہ ناس، سورہ توحید، سورہ کافرون اور سورہ قدر میں سے ہر ایک سات سات مرتبہ نیز آیۃ الکرسی بھی سات مرتبہ پڑھے اور ان سب کو پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَ لِیٌّ
حمد ہے اس خدا کیلئے جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی اس کی حکومت میںاس کا شریک ہے نہ وہ کمزور ہے کہ کوئی اس کا حامی
مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُک بِمَعاقِدِ عِزِّکَ عَلَی أَرْکانِ عَرْشِکَ
ہو اور تم اس کی بڑائی خوب بیان کرو اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے عرش پر تیرے مقامات عزت کے واسطے
وَمُنْتَهَی الرَّحْمَةِ مِنْ کِتابِکَ، وَبِاسْمِکَ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ،
سے اور اس انتہائی رحمت کے واسطے سے جو تیرے قرآن میں ہے اور بواسطہ تیرے نام کے جو بہت بڑا، بہت بڑا، بہت ہی بڑا ہے
وَذِکْرِکَ الْاَعْلَی الْاَعْلَی الْاَعْلی، وَبِکَلِماتِکَ التَّامَّاتِ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
بواسطہ تیرے ذکر کے جو بلند تر، بلندتر اور بہت بلندتر ہے اور بواسطہ تیرے کامل کلمات کے سوالی ہوں کہ تو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی
وَأَنْ تَفْعَلَ بِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ
آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھ سے وہ سلوک فرما جو تیرے شایان شان ہے۔
اس کے بعد جو دعا چاہے پڑھے۔ نیز اس رات میں غسل کرنا مستحب ہے اور اس شب میں پندرہ رجب کی رات میں پڑھی جانے والی نماز بھی بجا لانی چاہیئے۔
( ۲ )امیرالمؤمنین -کی زیارت پڑھنا کہ جو اس رات کے تمام اعمال سے بہتر وافضل ہے، اس رات میں آنجنابعليهالسلام کی تین زیارتیں ہیں جن کا ذکر انشائ اللہ باب زیارات میں آئے گا۔
واضح ہو کہ مشہور اہل سنت عالم ابو عبداللہ محمد ابن بطوطہ نے چھ سو سال قبل مکہ معظمہ و نجف اشرف کا سفر کیا اور امیرالمومنین -کے روضہ پر حاضری دی، انہوں نے اپنے سفر نامہ(رحلہ ابن بطوطہ) میں مکہ سے نجف اشرف میں داخل ہونے کے بعد جوار امیر المؤمنین علی ابن ابی طالبعليهالسلام کے روضہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ تحریر کیا ہے کہ اس شہر کے رہنے والے سب کے سب رافضی ہیں اور اس روضہ سے بہت سی کرامات ظہور میںآتی ہیں۔ یہ لوگ لیلۃ المحیا (جاگنے کی رات) کہ جو ستائیسویں رجب کی شب ہے۔ اس میں کوفہ، بصرہ، خراسان اور بلاد فارس و روم و غیرہ سے ہر بیمار،مفلوج، شل شدہ اور زمین گیرکو یہاں لاتے ہیں کہ جن کی تعداد عموماً تیس چالیس تک ہوتی ہے وہ لوگ نماز عشائ کے بعد ان اپاہجوں کو امیرالمومنین -کی ضریح مبارک پر لے جاتے ہیں جہاں بہت سے لوگ ان کے اردگرد جمع ہوجاتے ہیں ۔ ان میں سے بعض نماز، تلاوت اور ذکر میں مشغول رہتے ہیں اور بعض صرف ان بیمار لوگوں کو ہی دیکھتے رہتے ہیں کہ کب وہ تندرست ہوکر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ جب آدھی یا دوتہائی رات گزر جاتی ہے تو جو مفلوج و زمین گیر حرکت ہی نہ کرسکتے تھے وہ اس حالت میں اٹھتے ہیں کہ انہیں کوئی بیماری نہیں ہوتی اور کلمہ طیبہلاَاِلَهَ اِلاَّ ﷲ مُحَمَّدُ، رَّسُوْلُ ﷲ عَلِیُّ، وَلِیُّ، ﷲ پڑھتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوجاتے ہیں۔ یہ مشہور و مسلمہ کرامت ہے اگر چہ اس رات میں خود وہاں موجود نہ تھا، لیکن قابل اعتماد اور نیکوکار لوگوں کی زبانی مجھ تک پہنچی ہے تا ہم میں نے امیرالمومنین- کے روضہ اقدس کے قریب واقع مدرسہ میں تین آدمی دیکھے جو اپاہج زمین پر پڑے تھے ان میں سے ایک اصفہان کا دوسرا خراسان کا اور تیسرا اہل روم سے تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ تندرست کیوں نہیں ہوئے؟ وہ کہنے لگے کہ ہم ستائیس رجب کو یہاں پہنچ نہیں سکے۔ لہذا ہم آئندہ ستائیس رجب تک یہیں رہیں گے تا کہ ہمیں شفا حاصل ہو اور پھر ہم واپس جائیں۔ آخر میں ابن بطوطہ کہتے ہیں کہ اس رات دوردراز شہروں کے لوگ زیارت کے لیے اس روضہ اقدس پر جمع ہوجاتے ہیں اور یہاں بہت بڑا بازار لگتا ہے جو دس دن تک جما رہتا ہے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ لوگ اس واقعہ کو بعید نہ سمجھیں کیونکہ ان مشاہد مشرفہ سے اتنی کرامات ظاہر ہوئی ہیںجن کا شمار نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ماہ شوال ۱۳۴۳ ھ میں امت عاصی کے ضامن امام ثامن یعنی ابوالحسن امام علی رضا -کے مشہد اطہر میں تین مفلوج و زمین گیر عورتیں لائی گئیں۔ جن کے علاج سے طبیب و معالج عاجز آگئے تھے۔ ان کو وہاں سے شفا ملی اور وہ تندرست ہوکر اس حرم سے واپس گئیں اس مشہد مبارک کے معجزات و کرامات ایسے واضح و آشکار ہیں، جیسے آسمان پر سورج کا چمکنا اور بدوؤں کیلئے حرم نجف کے دروازے کا کھلنا ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ ان عورتوں کا واقعہ ایسا ظاہر وباہر تھا کہ جو معالج ان کے کامیاب نہ ہوسکے تھے ۔انہوں نے اعتراف کیا کہ ہمارا خیال یہی تھا کہ یہ عورتیں صحت یاب نہیں ہوسکتیں، لیکن، انہیں حرم مطہر سے شفا مل گئی ہے، پھر انہوں نے باقاعدہ تحریری تصدیق نامہ بھی لکھ کر دیا اور اگر اختصار مدنظر نہ ہوتا تو ایسے بہت سے واقعات کا ذکر کیا جاسکتا تھا ، ہمارے بزرگ شیخ حر عاملی نے اپنے قصیدہ میں کیا خوب فرمایا ہے:
وَما بَدا مِنْ بَرَکاتِ مَشْهَدِه
فِی کُلِّ یَوْمٍ أَمْسُهُ مِثْلُ غَدِه
جو برکتیں ان کی درگاہ سے ظاہر ہوئیں
آج کی طرح کل بھی عیاں ہوں گی
وَکَشِفا الْعَمی وَالْمَرضی بِهِ
إجابَةُ الدُّعائِ فِی أَعْتابِهِ
یعنی بیماری و نابینا پن دور ہوتا ہے
ان کی درگاہ پر دعائیں قبول ہوتی ہیں
( ۳ )شیخ کفعمی نے بلدالامین میں فرمایا ہے کہ بعثت کی رات یہ دعا بھی پڑھی جائے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُک بِالتَّجَلِّی الْاَعْظَمِ فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ مِنَ الشَّهْرِ الْمُعَظَّمِ،
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ بہت بڑی نورانیت کے جو آج کی رات اس بزرگتر مہینے میں ظاہر ہوئی ہے اور بواسطہ
وَالْمُرْسَلِ الْمُکَرَّمِ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تَغْفِرَ لَنا مَا أَنْتَ بِهِ مِنَّا أَعْلَمُ،
عزت والے رسول کے یہ کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور ہمیں وہ چیزیں عطا فرما کہ تو انہیں ہم سے زیادہ جانتا ہے اے وہ جو
یَا مَنْ یَعْلَمُ وَلاَ نَعْلَمُ اَللّٰهُمَّ بارِکْ لَنا فِی لَیْلَتِنا هذِهِ الَّتِی بِشَرَفِ الرِّسالَةِ فَضَّلْتَها،
جانتا ہے اور ہم نہیںجانتے اے معبود! برکت دے ہمیں آج کی رات میں کہ جسے تو نے آغاز رسالت سے فضیلت بخشی اپنی بزرگی
وَبِکَرامَتِکَ أَجْلَلْتَها، وَبِالْمَحَلِّ الشَّرِیفِ أَحْلَلْتَها اَللّٰهُمَّ فَ إنّا نَسْأَ لُکَ بِالْمَبْعَثِ
سے اسے برتری دی اورمقام بلند دے کر اس کو زینت بخشی ہے اے معبود! پس ہم تیرے سوالی ہیں بواسطہ
الشَّرِیفِ، وَالسَّیِّدِ اللَّطِیفِ، وَالْعُنْصُرِ الْعَفِیفِ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ
بعثت شریف اور مہربان اور پاکیزہ سردار و پارسا ذات کے یہ کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور آج کی
تَجْعَلَ أَعْمالَنا فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ وَفِی ساِئرِ اللَّیالِی مَقْبُولَةً وَذُ نُوبَنا مَغْفُورَةً
رات اور تمام راتوں میںہمارے اعمال کو شرف قبولیت عطا فرما ہمارے گناہوں کو بخش دے
وَحَسَناتِنا مَشْکُورَةً وَسَیِّئاتِنا مَسْتُورَةً وَقُلُوبَنا بِحُسْنِ الْقَوْلِ مَسْرُورَةً وَأَرْزاقَنا
ہماری نیکیوں کو پسندیدہ قرار دے ہماری خطاؤں کو ڈھانپ دے ہمارے دلوں کو اپنے عمدہ کلام سے خود سند فرما اور ہماری روزی میں
مِنْ لَدُنْکَ بِالْیُسْرِ مَدْرُورَةً اَللّٰهُمَّ إنَّکَ تَریٰ وَلاَ تُریٰ، وَأَ نْتَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلی، وَ
اپنی بارگاہ سے آسانی اور اضافہ کردے اے معبود! تو دیکھتا ہے اور خود نظر نہیں آتا کہ تو مقام نظر سے بالا و بلندتر ہے اور جائے
إنَّ إلَیْکَ الرُّجْعٰی وَالْمُنْتَهیٰ وَ إنَّ لَکَ الْمَماتَ وَالْمَحْیا، وَ إنَّ لَکَ الاَْخِرَةَ وَالاَُْولی
آخر و بازگشت تیری ہی طرف ہے اور موت دینا اور زندہ کرنا تیرے اختیار میں ہے اور تیرے ہی لیے ہے آغاز و انجام
اَللّٰهُمَّ إنَّا نَعُوذُ بِکَ أَنْ نَذِلَّ وَنَخْزی وَأَنْ نَأْتِیَ مَا عَنْهُ تَنْهی اَللّٰهُمَّ إنَّا نَسْأَلُکَ الْجَنَّةَ
اے معبود! ہم ذلت و خواری میں پ ڑنے سے تیری پناہ کے طالب ہیں اور وہ کام کرنے سے جس سے تو نے منع کیا ہے اے معبود! ہم
بِرَحْمَتِکَ، وَنَسْتَعِیذُ بِکَ مِنَ النَّارِ فَأَعِذْنا مِنْها بِقُدْرَتِکَ،
تیری رحمت کے ذریعے تجھ سے جنت کے طلبگار ہیں اور دوزخ سے تیری پناہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس سے پناہ دے اپنی قدرت کے
وَنَسْأَلُکَ مِنَ الْحُورِ الْعِینِ فَارْزُقْنا بِعِزَّتِکَ، وَاجْعَلْ أَوْسَعَ أَرْزاقِنا
ساتھ اور ہم تجھ سے زیبا ترین حوروں کی خواہش کرتے ہیں وہ بواسطہ اپنی عزت کے عطا فرما اور بڑھاپے کے وقت ہماری روزی میں
عِنْدَ کِبَرِ سِنِّنا، وَأَحْسَنَ أَعْمالِنا عِنْدَ اقْتِرابِ آجالِنا، وَأَطِلْ فِی
اضافہ فرما موت کے وقت ہمارے اعمال کو پسندیدہ قرار دے ہمیں اپنی اطاعت اوراپنی نزدیکی کے اسباب میں
طاعَتِکَ وَما یُقَرِّبُ إلَیْکَ وَیُحْظِی عِنْدَکَ وَیُزْ لِفُ لَدَیْکَ أَعْمارَنا وَأَحْسِنْ فِی جَمِیعِ
ترقی عطا فرمادے اپنے ہاں حصے اور منزلت کی خاطر ہماری عمریں دراز کردے تمام حالات اور تمام معاملوں میں
أَحْوالِنا وَأُمُورِنا مَعْرِفَتَنا، وَلاَ تَکِلْنا إلی أَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ فَیَمُنَّ عَلَیْنا، وَتَفَضَّلْ
ہمیں بہترین معرفت عطا فرما ہمیں اپنی مخلوق میں سے کسی کے حوالے نہ فرما کہ وہ ہم پر احسان رکھے اور دنیا اور
عَلَیْنا بِجَمِیعِ حَوائِجِنا لِلدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ وَابْدَأْ بِآبائِنا وَأَبْنائِنا وَجَمِیعِ إخْوانِنَا
آخرت کی تمام ضرورتوں اور حاجتوں کیلئے ہم پر احسان فرما اورہم نے تجھ سے اپنے لیے جن چیزوں کاسوال کیا ہے ان کی عطا میں
الْمُؤْمِنِینَ فِی جَمِیعِ مَا سَأَلْناکَ لاََِ نْفُسِنا یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ إنَّا نَسْأَلُکَ
ہمارے پہلے بزرگوں، ہماری اولاد اور دینی بھائیوں کو بھی شامل فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے معبود! ہم سوالی ہیں
بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ، وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَغْفِرَ لَنَا
بواسطہ تیرے عظیم نام اور تیری ازلی حکومت کے کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور ہمارے سارے کے سارے گناہ
الذَّنْبَ الْعَظِیمَ، إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الْعَظِیمَ إلاَّ الْعَظِیمُ اَللّٰهُمَّ وَهذا رَجَبٌ الْمُکَرَّمُ الَّذِی
بخش دے کیونکہ کثیر گناہوں کو بزرگتر ذات کے سوا کوئی نہیںبخش سکتا اے معبود! یہ عزت والا مہینہ رجب ہے جسے تو نے حرمت
أَکْرَمْتَنا بِهِ أَوَّلُ أَشْهُرِ الْحُرُمِ، أَکْرَمْتَنا بِهِ مِنْ بَیْنِ الاَُْمَمِ، فَلَکَ الْحَمْدُ یَا ذَا الْجُودِ
والے مہینوں میں اولیت دے کر ہمیں سرفراز کیا تو نے اس کے ذریعے ہمیں دوسری امتوں میں ممتاز کیا پس تیرے ہی لیے حمد ہے
وَالْکَرَمِ، فَأَسْأَلُکَ بِهِ وَبِاسْمِکَ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ الْاَجَلِّ الْاَکْرَمِ الَّذِی
اے عطا وبخشش کرنے والے پس تیرا سوالی ہوں بواسطہ اس ماہ کے اور تیرے بہت بڑے، بہت بڑے، بہت ہی بڑے نام کے جو
خَلَقْتَهُ فَاسْتَقَرَّ فِی ظِلِّکَ فَلا یَخْرُجُ مِنْکَ إلی غَیْرِکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ
روشن بزرگی والا ہے، اسے تونے خلق کیا وہ تیرے ہی زیر سایہ قائم ہے پس وہ تیرے ہاں سے دوسرے کی طرف نہیں جاتا بواسطہ اس
بَیْتِهِ الطَّاهِرِینَ، وَأَنْ تَجْعَلَنا مِنَ الْعامِلِینَ فِیهِ بِطاعَتِکَ، وَالاَْمِلِینَ فِیهِ لِشَفاعَتِکَ
کے سوالی ہوں کہ تو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی پاکیزہ اہلبیتعليهالسلام پررحمت فرما اور یہ کہ اس مہینے میں ہمیں اپنی فرمانبرداری میں رہنے والے اور
اَللّٰهُمَّ اهْدِنا إلَی سَوائِ السَّبِیلِ، وَاجْعَلْ مَقِیلَنا عِنْدَکَ خَیْرَ مَقِیلٍ، فِی
اپنی شفاعت کے امیدوار قرار دیاے معبود! ہمیں راہ راست کی ہدایت دے اور اپنے ہاں ہمارا قیام بہترین جگہ پر اپنے بلند
ظِلٍّ ظَلِیلٍ، وَمُلْکٍ جَزِیلٍ، فَ إنَّکَ حَسْبُنا وَ نِعْمَ الْوَکِیلُ اَللّٰهُمَّ اقْلِبْنا
سایہ اور اپنی عظیم حکومت میںقرار دے پس ضرور تو ہمارے لیے کافی اور بہترین سرپرست ہے اے معبود! ہمیں فلاح پانے اور
مُفْلِحِینَ مُنْجِحِینَ غَیْرَ مَغْضُوبٍ عَلَیْنا وَلاَ ضَالِّینَ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
کامیابی والے بنادے نہ ہم پر غضب کیا جائے اورنہ ہم گمراہ ہوں واسطہ ہے تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُک بِعَزائِمِ مَغْفِرَتِکَ، وَبِواجِبِ رَحْمَتِکَ، السَّلامَةَ مِنْ کُلِّ إثْمٍ،
اے معبود! میں سوال کرتا ہوںتیری یقینی بخشش اور تیری حتمی رحمت کے واسطے سے ہر گناہ سے بچائے رکھنے، ہر نیکی سے حصہ پانے،
وَالْغَنِیمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّجاةَ مِنَ النَّارِ اَللّٰهُمَّ دَعاکَ الدَّاعُونَ وَدَعَوْتُکَ
جنت میں داخلے کی کامیابی اور جہنم سے نجات پانے کا اے معبود! دعا کرنیوالوں نے، تجھ سے دعا کی اور میں بھی دعا کرتاہوں سوال
وَسَأَلَکَ السَّائِلُونَ وَسَأَلْتُکَ وَطَلَبَ إلَیْکَ الطَّالِبُونَ وَطَلَبْتُ إلَیْکَ اَللّٰهُمَّ أَ نْتَ الثِّقَةُ
کیا تجھ سے سوال کرنیوالوں نے، میں بھی سوالی ہوںتجھ سے طلب کیا طلب کرنیوالوں نے میں بھی تجھ سے طلب کرتا ہوں اے
وَالرَّجائُ، وَ إلَیْکَ مُنْتَهَیٰ الرَّغْبَةِ فِی الدُّعائِ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاجْعَلِ
معبود! تو ہی میر اسہارہاور امیدگاہ ہے اور دعا میں تیری ہی طرف انتہائے رغبت ہے اے معبود! پس تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت
الْیَقِینَ فِی قَلْبِی وَالنُّورَ فِی بَصَرِی وَالنَّصِیحَةَ فِی صَدْرِی وَذِکْرَکَ بِاللَّیْلِ
نازل فرما اور میرے دل میں یقین، میری آنکھوں میں نور، میرے سینے میں نصیحت، میری زبان پر رات دن اپنا ذکر و اذکار قرار دے
وَالنَّهارِ عَلَی لِسانِی وَرِزْقاً واسِعاً غَیْرَ مَمْنُونٍ وَلاَ مَحْظُورٍ فَارْزُقْنِی، وَبارِکْ لِی
کسی کے احسان اور کسی رکاوٹ کے بغیر زیادہ روزی دے پس جو رزق تونے مجھے دیا ا س میں میرے لیے برکت عطا کر اور میرے
فِیما رَزَقْتَنِی وَاجْعَلْ غِنایَ فِی نَفْسِی وَرَغْبَتِی فِیما عِنْدَکَ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
دل کو سیر فرما اورجو تیرے پاس ہے اس میں رغبت دے واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنیوالے۔
اب سجدہ میں جائے اور سو مرتبہ کہے :
اَلْحَمْدُ ﷲِ الَّذِیْ هَدٰانَا لِمَعْرِفَتِهٰ وَ خَصَّنَا بِوِلاَیَتِهٰ وَ وَفَّقَنَا لِطَاعِتهٰ شُکْراً شُکْراً
حمد ہے ا س خدا کیلئے جس نے اپنی معرفت میں ہماری رہنمائی کی اپنی سرپرستی میں خاص کیا اور اپنی اطاعت کی توفیق دی شکر ہے اس کا بہت شکر
پھر سجدے سے سر اٹھائے اور کہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی قَصَدْتُکَ بِحاجَتِی، وَاعْتَمَدْتُ عَلَیْکَ بِمَسْأَلَتِی، وَتَوَجَّهْتُ إلَیْکَ بِأَئمَّتِی
اے معبود! میں اپنی حاجت لیے تیری طرف آیا اور اپنے سوال میں تجھ پر بھروسہ کیا ہے میں اپنے اماموںعليهالسلام اورسرداروں کے ذریعے
وَسادَتِی اَللّٰهُمَّ انْفَعْنا بِحُبِّهِمْ، وَأَوْرِدْنا مَوْرِدَهُمْ، وَارْزُقْنا مُرافَقَتَهُمْ، وَأَدْخِلْنَا
تیری طرف متوجہ ہوا اے معبود! ہمیں ان کی محبت سے نفع دے ان کے مقام تک پہنچا ہمیں ان کی رفاقت عطا کر اور ہمیں ان کے
الْجَنَّةَ فِی زُمْرَتِهِمْ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ساتھ جنت میں داخل فرما واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
سیدرحمهالله نے فرمایا ہے کہ یہ دعا مبعث کے دن میں بھی پڑھی جائے۔
ستائیس رجب کا دن
یہ عیدوں میں سے بہت بڑی عید کا دن ہے کہ اسی دن حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم مبعوث بہ رسالت ہوئے اور اسی دن جبرائیلعليهالسلام احکام رسالت کے ساتھ حضور پر نازل ہوئے ، اس دن کیلئے چند ایک عمل ہیں:
( ۱ )غسل کرنا۔
( ۲ )روزہ رکھنا، یہ دن سال بھر میں ان چار دنوں میں سے ایک ہے کہ جن میں روزہ رکھنے کی ایک خاص امتیازی حیثیت ہے، اور اس دن کا روزہ ستر سال کے روزے کا ثواب رکھتا ہے۔
( ۳ )کثرت سے درود شریف پڑھنا۔
( ۴ )حضرت رسول اللہ اور امیر المومنین -کی زیارت کرنا۔
( ۵ )مصباح میں شیخ نے ذکر کیا ہے کہ ریان ابن صلت سے روایت ہے کہ جب امام محمد تقی - بغداد میں تھے تو آپ پندرہ اور ستائیس رجب کا روزہ رکھتے اور آپ کے تمام متعلقین بھی روزہ رکھتے تھے۔ نیزحضرت نے ہمیں بارہ رکعت نمازپڑھنے کا حکم دیا تھا جس کی ہر رکعت میں الحمد کے بعد ایک سورہ پڑھے اور اس کے بعد سورہ حمد، توحید اور الفلق، الناس میں سے ہر ایک چار چار مرتبہ پڑھنے کے بعد چار مرتبہ کہتے:
لاَ إلهَ إلاَّﷲ وﷲ أَکْبَرُ سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ إلاَّبِالله الْعَلِیّ الْعَظِیمِ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگتر ہے خدا پاک ہے اور حمد خدا ہی کیلئے ہے اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو خدائے بلند وبرتر سے ہے
چار مرتبه ﷲ ﷲ رَبِّیْ لاَاُ شْرِکُ بِهٰ شَیْئاً اور چارمرتبه لاَاُ شْرِکُ بِرَبِّیْ اَحَداً
وہ اللہ، وہی اللہ میر ارب ہے میں کسی چیز کو اسکا شریک نہیں بناتا میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں گردانتا
( ۶ )شیخ نے جناب ابوالقاسم حسین بن روحرحمهالله سے روایت کی ہے کہ ستائیس رجب کو بارہ رکعت نماز پڑھے اور ہر دو رکعت کے بعد بیٹھے اور تشہد اور سلام کے بعد کہے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَ لِیٌّ
حمد خدا ہی کے لیے ہے جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنا یا اور نہ ازلی سلطنت میںکوئی اس کا شریک ہے نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا
مِنَ الذُّلِّ، وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً یَا عُدَّتِی فِی مُدَّتِی، یَا صاحِبِی فِی شِدَّتِی، یَا وَ لِیِّی فِی
مددگار ہو اور اس کی بڑائی بیان کرو بہت، بہت اے میری عمر میں میری آمادگی، اے سختی میں میرے ساتھی، اے نعمت میں میرے
نِعْمَتِی یَا غِیاثِی فِی رَغْبَتِی یَا نَجاحِی فِی حاجَتِی یَا حافِظِی فِی غَیْبَتِی یَا کافِیَّ
سرپرست، اے میری توجہ پر میرے فریاد رس، اے میریحاجت میں میری کامیابی، اے میری پوشیدگی میں میرے نگہبان، اے
فِی وَحْدَتِی، یَا أُ نْسِی فِی وَحْشَتِی، أَ نْتَ السَّاتِرُ عَوْرَتِی، فَلَکَ الْحَمْدُ، وَأَ نْتَ
میری تنہائی میں میری کفایت، کرنے والے، اے میری تنہائی میں میرے انس تو ہی میرے عیب کا پردہ پوش ہے توحمد تیرے ہی لیے
الْمُقِیلُ عَثْرَتِی، فَلَکَ الْحَمْدُ، وَأَ نْتَ الْمُنْعِشُ صَرْعَتِی، فَلَکَ الْحَمْدُ،
ہے اور تو ہی میری لغزش سے درگزر کرنے والا ہے حمد تیرے ہی لیے ہے تو ہی مجھے بے ہوشی سے ہوش میں لانے والا ہے پس حمد ہے
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاسْتُرْ عَوْرَتِی، وَآمِنْ رَوْعَتِی، وَأَقِلْنِی عَثْرَتِی،
تیرے لیے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میرے عیب چھپا دے مجھے خوف سے بچائے رکھ میری خطا معاف فرما میرے جرم سے
وَاصْفَحْ عَنْ جُرْمِی وَتَجاوَزْ عَنْ سَیِّئاتِی فِی أَصْحابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِی
درگزر فرما میرے گناہ معاف کرکے مجھے اہل جنت میں سے قرار دے یہ وہ سچا وعدہ ہے
کانُوا یُوعَدُونَ
جو دنیا میں ان سے کیا جاتا ہے۔
اس نماز اور دعا کے بعد سورہ حمد، سورہ توحید، سورہ فلق، سورہ ناس، سورہ کافرون، سورہ قدر اور آیت الکرسی سات سات مرتبہ پڑھے۔ پھر سات مرتبہ کہے:
لاَ إلهَ إلاَّﷲ وﷲ أَکْبَرُوَسُبْحَانَ ﷲ وَلاَحَوْلَ وَلاَقُوَّةَ إلاَّبِالله پھر سات مرتبہ کہےﷲ ﷲ رَبِّیْ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگتر ہے اورخدا پاک ہے نہیں کوئی حرکت اورقوت مگر وہی جو خدا سے ہے وہ اللہ ہی میرا رب ہے
لاَاُ شْرِکُ بِهٰ شَیْئاً
میں کسی چیز کو اس کاشریک نہیں بناتا
اس کے بعد جو بھی دعا پڑھنا چاہے وہ پڑھے۔
( ۷ )کتاب اقبال اور مصباح کے بعض نسخوں میںستائیس رجب کے دن اس دعا کا پڑھنا مستحب قرار دیا گیا ہے:
یا مَنْ أَمَرَ بِالْعَفْوِ وَالتَّجاوُزِ، وَضَمَّنَ نَفْسَهُ الْعَفْوَ وَالتَّجاوُزَ، یَا مَنْ عَفا وَتَجاوَزَ
اے وہ جس نے عفو ودرگزر کا حکم دیا ہے اور خود کو عفو و درگزر کا ضامن قرار دیا ہے اے وہ جس نے معاف کیا اور درگزر
اعْفُ عَنِّی وَتَجاوَزْ یَا کَرِیمُ اَللّٰهُمَّ وَقَدْ أَکْدَی الطَّلَبُ، وَأَعْیَتِ الْحِیلَةُ وَالْمَذْهَبُ ،
کی مجھے معافی دے اور درگزر فرما اے بزرگتر اے معبود! طلب نے مجھے مشقت میں ڈال دیا چارہ جوئی ختم اور
وَدَرَسَتِ الاَْمالُ، وَانْقَطَعَ الرَّجائُ إلاَّ مِنْکَ وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَجِدُ
راستہ بند ہوگیا آرزوئیں پرانی ہوگئیں اور تیرے علاوہ ہر کسی سے امید ٹوٹ گئی ہے تو ہی یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیںاے معبود! میں
سُبُلَ الْمَطالِبِ إلَیْکَ مُشْرَعَةً، وَمَناهِلَ الرَّجائِ لَدَیْکَ مُتْرَعَةً، وَأَبْوابَ الدُّعائِ لِمَنْ
اپنے مقاصد کے راستے تیری طرف آتا ہوں اور امید کے سرچشمے تیرے پاس لبالب بھرے ہوئے ہیں اور جو تجھ سے دعا کرے
دَعاکَ مُفَتَّحَةً، وَالاسْتِعانَةَ لِمَنِ اسْتَعانَ بِکَ مُباحَةً، وَأَعْلَمُ أَ نَّکَ لِداعِیکَ بِمَوْضِعِ
اس کیلئے دعا کے دروازے کھلے ہوئے ہیں تجھ سے مد دمانگنے والے کے لیے تیری مدد عام ہے اور میں جانتا ہوں کہ بے شک تو
إجابَةٍ، وَ لِلصَّارِخِ إلَیْکَ بِمَرْصَدِ إغاثَةٍ، وَأَنَّ فِی اللَّهْفِ إلی جُودِکَ وَالضَّمانِ
پکارنے والے کیلئے مرکزِ قبولیت ہے تو فریاد کرنے والے کے کیے دادرسی کا ٹھکا نہ ہے اور یقینا تیری عطا میں رغبت اور تیرے
بِعِدَتِکَ عِوَضاً مِنْ مَنْعِ الْباخِلِینَ وَمَنْدُوحَةً عَمَّا فِی أَیْدِی الْمُسْتَأْثِرِینَ، وَأَ نَّکَ لاَ
وعدے پر اعتماد ہی ہے جو کنجوسوں کی طرف سے رکاوٹ کا مداوا اور مالداروں کے قبضے میں آئے ہوئے مال پر رنج سے بچانے
تَحْتَجِبُ عَنْ خَلْقِکَ إلاَّ أَنْ تَحْجُبَهُمُ الْاَعْمالُ دُونَکَ، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَ فْضَلَ زادِ
والاہے بے شک تو اپنی مخلوق سے اوجھل نہیں ہے مگر بات یہ ہے کہ ان کے برے اعمال نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے اور
الرَّاحِلِ إلَیْکَ عَزْمُ إرادَةٍ یَخْتارُکَ بِها وَقَدْ ناجاکَ بِعَزْمِ الْاِرادَةِ قَلْبِی، وَأَسْأَ لُک
میں جانتا ہوں کہ تیری طرف سفر کرنے والے کا بہترین زاد راہ تجھے پالینے کا پکا ارادہ ہی ہے بے شک یکسوئی کے ساتھ تیری یاد میں
بِکُلِّ دَعْوَةٍ دَعاکَ بِها راجٍ بَلَّغْتَهُ أَمَلَهُ، أَوْ صارِخٌ إلَیْکَ أَغَثْتَ صَرْخَتَهُ، أَوْ
لگا ہوا ہے اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ایسی دعا کے ذریعے جو کسی امیدوار نے کی اور قبول ہوئی یا ایسے فریادی کی سی فریاد جس کی
مَلْهُوفٌ مَکْرُوبٌ فَرَّجْتَ کَرْبَهُ، أَوْ مُذْنِبٌ خاطِیٌَ غَفَرْتَ لَهُ، أَوْ
تونے داد رسی کی ہے یااس رنجیدہ دکھی کی سی فریاد جس کی تکلیف تونے دور کی ہے یا ایسے خطاکار گنہگار کی سی پکار جسے تونے بخش دیا
مُعافیً أَ تْمَمْتَ نِعْمَتَکَ عَلَیْهِ، أَوْ فَقِیرٌ أَهْدَیْتَ غِناکَ إلَیْهِ، وَ لِتِلْکَ
ہے یاایسے با آرام جیسی دعا جسے تونے سب نعمتیں عطا کیں ہیں یا اس محتاج جیسی دعا جسے تونے دولت عطا کی ہے اور ایسی
الدَّعْوَةِ عَلَیْکَ حَقٌّ وَعِنْدَکَ مَنْزِلَةٌ إلاَّ صَلَّیْتَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَقَضَیْتَ
دعا جس نے تجھ پر اپنا حق پیدا کیا اور تیرے حضور گرامی ہوئی وہ یہی ہے کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور دنیا و
حَوائِجِی حَوائِجَ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ، وَهذا رَجَبٌ الْمُرَجَّبُ الْمُکَرَّمُ الَّذِی أَکْرَمْتَنا بِهِ
آخرت میں میری تمام حاجات پوری فرما اور یہ ماہ رجب ہے کہ عزت شان والا ہے جس سے تونے ہمیں سرفراز کیا جو حرمت والے
أَوَّلُ أَشْهُرِ الْحُرُمِ أَکْرَمْتَنا بِهِ مِنْ بَیْنِ الاَُْمَمِ یَا ذَا الْجُودِ وَالْکَرَمِ فَنَسْأَلُکَ بِهِ
مہینوں میں پہلا ہے اس سے تو نے ہمیں امتوں میں سے ممتاز کیا اے عطا وبخشش کے مالک پس میں سوالی ہوں اسکے واسطے سے اور
وَبِاسْمِکَ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ الْاَعْظَمِ ، الْاَجَلِّ الْاَکْرَمِ الَّذِی خَلَقْتَهُ فَاسْتَقَرَّ فِی ظِلِّکَ
تیرے نام کے واسطے سے جو بہت بڑا، بہت بڑا، بہت بڑا ہے روشن تر اور بزرگی والا جسے تو نے خلق کیا پس وہ تیرے بلند سایہ میں
فَلا یَخْرُجُ مِنْکَ إلی غَیْرِکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ الطَّاهِرِینَ وَتَجْعَلَنا
ٹھہرا اور تیرے ہاں سے کسی اور کی طرف نہیں گیا میں سوالی ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کے پاکیزہ تر اہلبیتعليهالسلام پر رحمت فرما اور ہمیں اپنی
مِنَ الْعامِلِینَ فِیهِ بِطاعَتِکَ وَالاَْمِلِینَ فِیهِ بِشَفاعَتِکَ اَللّٰهُمَّ وَاهْدِنا إلی سَوائِ السَّبِیلِ
فرمانبرداری پر کارمند اور اپنی شفاعت کا طلبگار اور امیدوار بنا دے اے معبود ہمیں راہ راست کیطرف ہدایت فرما اور ہماری روز مرہ
وَاجْعَلْ مَقِیلَنا عِنْدَکَ خَیْرَ مَقِیلٍ فِی ظِلٍّ ظَلِیلٍ فَ إنَّکَ حَسْبُنا وَ نِعْمَ الْوَکِیلُ
زندگی اپنی جناب سے بہترین زندگی قرار دے جو تیرے بلند ترین سایہ میں ہو پس تو ہمارے لئے کافی اور بہترین کام بنانے والا ہے
وَاَلسَّلاَمُ عَلَی عِبادِهِ الْمُصْطَفَیْنَ وَصَلَواتُهُ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ اَللّٰهُمَّ وَبارِکْ لَنا فِی
اور سلام ہو خدا کے چنے ہوئے افراد پر اور ان سبھوں پر اس کی رحمت نازل ہو اے معبود! آج کا دن ہمارے لئے
یَوْمِنا هذَا الَّذِی فَضَّلْتَهُ، وَبِکَرامَتِکَ جَلَّلْتَهُ، وَبِالْمَنْزِلِ الْعَظِیمِ الْاَعْلی أَنْزَلْتَهُ
مبارک فرما کہ جسے تو نے فضیلت دی اور اپنی مہربانی سے اس کو زیبائش دی اور اسے بلند تر مقام پر اتارا ہے اس دن میں
صَلِّ عَلَی مَنْ فِیهِ إلَی عِبادِکَ أَرْسَلْتَهُ، وَبِالْمَحَلِّ الْکَرِیمِ أَحْلَلْتَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیْهِ
اس ذات پر رحمت فرما جسے تو نے اپنے بندوں کی طرف رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم بنا کر بھیجا اور اسے عزت والی جگہ پر اتاراہے اے معبود، آنحضرت
صَلاةً دائِمَةً تَکُونُ لَکَ شُکْراً، وَلَنا ذُخْراً، وَاجْعَلْ لَنا مِنْ أَمْرِنا یُسْراً،
پر رحمت فرما ہمیشہ کی رحمت کہ جو تیرے شکر کا موجب بنے اور ہمارے لئے ذخیرہ ہو اور ہمارے کاموں میں آسانی اور سہولت قرار دے
وَاخْتِمْ لَنا بِالسَّعادَةِ إلی مُنْتَهی آجالِنا، وَقَدْ قَبِلْتَ الْیَسِیرَ مِنْ أَعْمالِنا، وَبَلَّغْتَنا
اور ہماری زندگیوں کو سعادت مندی و نیک بختی کے ساتھ انجام پر پہنچا اور تو نے کمتر اعمال کو شرف قبولیت بخشا ہے اور اپنی رحمت سے
بِرَحْمَتِکَ أَفْضَلَ آمالِنا إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب کیا ہے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور درود و سلام ہو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی پاک و پاکیزہ آلعليهالسلام پر۔
مولف کہتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظم -کو جب بغداد لے جا رہے تھے تو اس روز آپ نے یہ دعا پڑھی اور وہ ستائیس رجب کا دن تھا پس یہ دعا رجب کی خاص دعاؤں میں شمار ہوتی ہے ۔
( ۸ ) سیدرحمهالله نے اقبال میں فرمایا ہے کہ ۲۷/رجب کو یہ دعا پڑھے:اَللَّھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِالنَجْل الْاَعْظَمِ .الخیہ دعا صفحہ نمبر ۲۸۸ پر ذکر ہو چکی ہے
کفعمی کی روایت کے مطابق یہ دعا ستائیس رجب کی رات کو پڑھی جانے والی دعاؤں میں بھی ذکر ہوئی ہے۔جس کا ذکر صفحہ نمبر ۲۸۷ پرہو چکا ہے
رجب کا آخری دن
اس روز غسل کرنے کا حکم ہے اور اس دن کا روزہ رکھنا گذشتہ و آئندہ گناہوں کی معافی کا موجب ہے نیز اس دن نمازسلمانعليهالسلام پڑھے کہ جس کا طریقہ یکم رجب کے اعمال میں گذر چکا ہے۔
دوسری فصل
ماہ شعبان کی فضیلت واعمال
معلوم ہونا چاہئے کہ شعبان وہ عظیم مہینہ جو حضرت رسول سے منسوب ہے حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں َ سے متصل فرماتے تھے ۔ اس بارے میں آنحضرت کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور جو شخص اس مہینہ میں ایک روزہ رکھے تو جنت اس کیلئے واجب ہو جاتی ہے۔
امام جعفر صادق -فرماتے ہیں کہ جب شعبان کا چاند نمودار ہوتا تو امام زین العابدین- تمام اصحاب کو جمع کرتے اور فرماتے : اے میرے اصحاب ! جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے ؟ یہ شعبان کا مہینہ ہے اور رسول ﷲ فرمایا کرتے تھے کہ یہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ پس اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی محبت اور خدا کی قربت کیلئے اس مہینے میں روزے رکھو ۔ اس خدا کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں علی ابن الحسین+ کی جان ہے میں نے اپنے پدر بزرگوار حسین ابن علی +سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے اپنے والد گرامی امیر المومنین -سے سنا کہ جو شخص محبت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور تقرب خدا کیلئے شعبان میں روزہ رکھے تو خدائے تعالیٰ اسے اپنا تقرب عطا کریگا قیامت کے دن اس کو عزت و احترم ملے گا اور جنت اس کیلئے واجب ہو جائے گی ۔
شیخ نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق -نے فرمایا: اپنے قریبی لوگوں کو ماہ شعبان میں روزہ رکھنے پر آمادہ کرو ! میں نے عرض کیا آپ پر قربان ہو جاؤں اس میں کوئی فضیلت ہے ؟آپعليهالسلام نے فرمایا ہاں اور فرمایا رسول ﷲ جب شعبان کا چاند دیکھتے تو آپ کے حکم سے ایک منادی یہ ندا کرتا :
اے اہل مدینہ! میں رسول خدا کا نمائندہ ہوں اور ان کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے ۔ خدا کی رحمت ہو اس پر جو اس مہینے میں میری مدد کرے ۔ یعنی روزہ رکھے۔ صفوان کہتے ہیں امام جعفر صادق -کا ارشاد ہے کہ امیر المؤمنین- فرماتے تھے جب سے منادی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ ندا دی اسکے بعد شعبان کا روزہ مجھ سے قضا نہیں ہوا اور جب تک زندگی کا چراغ گل نہیں ہو جاتا یہ روزہ مجھ سے ترک نہیں ہوگا نیز فرمایا کہ شعبان اور رمضان دو مہینوں کے روزے توبہ اور بخشش کا موجب ہیں۔
اسماعیل بن عبد الخالق سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق -کی خدمت میں حاضر تھا، وہاں روزۂ شعبان کا ذکر ہوا تو حضرت نے فرمایا ماہ شعبان کے روزے رکھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے حتی کہ نا حق خون بہانے والے کو بھی ان روزوں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے اور بخشا جا سکتا ہے۔
اس عظیم و شریف مہینے کے اعمال دو قسم کے ہیں :
’’اعمال مشترکہ او راعمال مختصہ‘‘
ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال
اعمالِ مشترکہ میں سے چند امور ہیں۔
( ۱ ) ہر روز ستر مرتبہ کہے :اَسْتغْفِرُ ﷲ وَ اَسْءَلُهُ التَّوْبَةَ
( ۲ ) ہر روز ستر مرتبہ کہے :اَسْتغْفِرُ ﷲ الَّذِیْ لَا
بخشش چاہتا ہوں ﷲ سے اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں بخشش کا طالب ہوں ﷲ سے کہ جس کے سوا کوئی
اِلَهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْهِ بعض روایات میںالْحَیُّ الْقَیُّوْمُ کے الفاظ
معبودنہیں وہ بخشنے والا مہربان ہے زندہ نگہبان ہے اورمیں اسکے حضور توبہ کرتا ہوں زندہ و پائندہ بخشنے والا مہربان
الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ سے قبل ذکر ہوئے ہیں۔
بخشنے والا مہربان
پس جیسے بھی عمل کرے مناسب ہے روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کا بہترین عمل استغفار ہے اور اس مہینے میں ستر مرتبہ استغفار کرنا گویا دوسرے مہینوں میں ستر ہزار مرتبہ استغفار کرنے کے برابر ہے۔
( ۳ ) صدقہ دے اگرچہ وہ نصف خرما ہی کیوں نہ ہو، اس سے خدا اسکے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام کردے گا ۔
امام جعفر صادق -سے ماہ رجب کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایاتم ماہ شعبان کے روزے سے کیوں غافل ہو ؟ راوی نے عرض کی ، فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ! شعبان کے ایک روزے کا ثواب کس قدر ہے؟ فرمایا قسم بخدا کہ اس کااجر و ثواب بہشت ہے۔ اس نے عرض کی۔ اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ! اس ماہ کا بہترین عمل کیا ہے؟ فرمایا کہ صدقہ و استغفار ، جو شخص ماہ شعبان میں صدقہ دے ۔ پس خدا اس صدقے میں اس طرح اضافہ کرتا رہے گا، جیسے تم لوگ اونٹنی کے بچے کو پال کر عظیم الجثہ اونٹ بنا دیتے ہو چنانچہ یہ صدقہ قیامت کے روز احد کے پہاڑ کی مثل بڑھ چکا ہوگا۔
( ۴ ) پورے ماہ شعبان میں ہزار مرتبہ کہے:
لاَ اِلٰهَ اِلَّا ﷲ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکِیْنَ
ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم عبادت نہیں کرتے مگر اسی کی ہم اس کے دین سے خلوص رکھتے ہیں اگرچہ مشرکوں پر ناگوار گزرے
اس ذکر کا بہت زیادہ ثواب ہے، جس میں ایک جز یہ ہے کہ جو شخص مقررہ تعداد میں یہ ذکر کرے گا اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھ دیا جائے گا ۔
( ۵ ) شعبان کی ہر جمعرات کو دو رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور نماز کے بعد سو مرتبہ درود شریف پڑھے تاکہ خدا دین و دنیا میں اس کی ہر نیک حاجت پوری فرمائے واضح ہو کہ روزے کا اپنا الگ اجر و ثواب ہے اور روایت میں آیا ہے کہ شعبان کی ہر جمعرات کو آسمان سجایا جاتا ہے تو ملائکہ عرض کرتے ہیں ، خدایا آج کا روزہ رکھنے والوں کوبخش دے اور ان کی دعائیں قبول کر لے۔ ایک حدیث میں مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص ماہ شعبان میں سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھے تو خدا وند کریم دنیا و آخرت میں اس کی بیس بیس حاجات پوری فرمائے گا۔
( ۶ ) ماہ شعبان میں درود شریف بکثرت پڑھے۔
( ۷ ) شعبان میں ہر روز وقت زوال اور پندرہ شعبان کی رات کو امام زین العابدین- سے مروی صلوات پڑھے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ شَجَرَةِ النُّبُوَّةِ، وَمَوضِعِ الرِّسالَةِ، وَمُخْتَلَفِ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما جو نبوت کا شجر رسالت کا مقام، فرشتوں کی آمد و رفت
الْمَلائِکَةِ وَمَعْدِنِ الْعِلْمِ، وَأَهْلِ بَیْتِ الْوَحْیِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
کی جگہ، علم کے خزانے اور خانہ وحی میں رہنے والے ہیں اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما
الْفُلْکِ الْجارِیَةِ فِی اللُّجَجِ الْغامِرَةِ، یَأْمَنُ مَنْ رَکِبَها، وَیَغْرَقُ مَنْ تَرَکَهَا، الْمُتَقَدِّمُ
جو بے پناہ بھنوروں میں چلتی ہوئی کشتی ہیں کہ بچ جائے گا جو اس میں سوار ہوگا اور غرق ہوگا جو اسے چھوڑ دے گا ان سے آگے نکلنے والا
لَهُمْ مارِقٌ، وَالْمُتَأَخِّرُ عَنْهُمْ زاهِقٌ، وَاللاَّزِمُ لَهُمْ لاحِقٌ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ
دین سے خارج اور ان سے پیچھے رہ جانے والا نابود ہو جائے گا اور ان کے ساتھ رہنے والا حق تک پہنچ جائے گا اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَآلِ مُحَمَّدٍ الْکَهْفِ الْحَصِینِ، وَغِیاثِ الْمُضْطَرِّ الْمُسْتَکِینِ، وَمَلْجَاََ الْهارِبِینَ
و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما جو پائیدار جائے پناہ اور پریشان و بے چارے کی فریاد کو پہنچنے والے، بھاگنے اور ڈرنے والے کیلئے جائے
وَعِصْمَةِ الْمُعْتَصِمِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلاةً کَثِیرَةً تَکُونُ
امان اور ساتھ رہنے والوں کے نگہدار ہیں اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما بہت بہت رحمت کہ جوان کے لیے وجہ خوشنودی
لَهُمْ رِضاً وَ لِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَدائً وَقَضائً بِحَوْلٍ مِنْکَ وَقُوَّةٍ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ
اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدعليهالسلام کے واجب حق کی ادائیگی اور اس کے پورا ہونے کاموجب بنے تیری قوت و طاقت سے اے جہانوں کے پروردگار
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّیِّبِینَ الْاَ بْرارِ الْاَخْیارِ الَّذِینَ أَوْجَبْتَ
اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما جو پاکیزہ تر، خوش کردار اور نیکو کار ہیںجن کے حقوق تو نے واجب کیے
حُقُوقَهُمْ وَفَرَضْتَ طاعَتَهُمْ وَوِلایَتَهُمْ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاعْمُرْ
اور تو نے ان کی اطاعت اور محبت کو فرض قرار دیا ہے اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور میرے دل کو اپنی
قَلْبِی بِطاعَتِکَ وَلاَ تُخْزِنِی بِمَعْصِیَتِکَ وَارْزُقْنِی مُواساةَ مَنْ قَتَّرْتَ عَلَیْهِ مِنْ رِزْقِکَ
اطاعت سے آباد فرما اپنی نافرمانی سے مجھے رسوا و خوار نہ کر اور جس کے رزق میں تو نے تنگی کی ہے مجھے اس سے ہمدردی کرنے کی
بِما وَسَّعْتَ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ، وَنَشَرْتَ عَلَیَّ مِنْ عَدْلِکَ، وَأَحْیَیْتَنِی تَحْتَ ظِلِّکَ
توفیق دے کیونکہ تو نے اپنے فضل سے میرے رزق میں فراخی کی مجھ پر اپنے عدل کوپھیلایا اور مجھے اپنے سائے تلے زندہ رکھا ہے
وَهذا شَهْرُ نَبِیِّکَ سَیِّدِ رُسُلِکَ شَعْبانُ الَّذِی حَفَفْتَهُ مِنْکَ بِالرَّحْمَةِ وَالرِّضْوانِ الَّذِی
اور یہ تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مہینہ ہے جو تیرے رسولوں کے سردار ہیں یہ ماہ شعبان جسے تو نے اپنی رحمت اور رضامندی کے ساتھ گھیرا ہوا ہے
کانَ رَسُولُ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ یَدْأَبُ فِی صِیامِهِ وَقِیامِهِ فِی لَیالِیهِ
یہ وہی مہینہ ہے جس میں حضرت رسول اپنی فروتنی سے دنوں میں روزے رکھتے اور راتوں میں صلوٰۃ و قیام کیا کرتے تھے
وَأَیَّامِهِ بُخُوعاً لَکَ فِی إکْرامِهِ وَ إعْظامِهِ إلی مَحَلِّ حِمامِهِ اَللّٰهُمَّ فَأَعِنَّا عَلَی
تیری فرمانبرداری اور اس مہینے کے مراتب و درجات کے باعث وہ زندگی بھر ایسا ہی کرتے رہے اے معبود! پس اس مہینے میں ہمیں
الاسْتِنانِ بِسُنَّتِهِ فِیهِ، وَنَیْلِ الشَّفاعَةِ لَدَیْهِ اَللّٰهُمَّ وَاجْعَلْهُ لِی شَفِیعاً مُشَفَّعاً،
ان کی سنت کی پیروی اور ان کی شفاعت کے حصول میں مدد فرما اے معبود؛ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو میرا شفیع بنا جن کی شفاعت مقبول ہے اور
وَطَرِیقاً إلَیْکَ مَهْیَعاً وَاجْعَلْنِی لَهُ مُتَّبِعاً حَتّی أَلْقاکَ یَوْمَ الْقِیامَةِ عَنِّی راضِیاً، وَعَنْ
میرے لیے اپنی طرف کھلا راستہ قرار دے مجھے انکا سچا پیروکار بنادے یہاں تک کہ میںروز قیامت تیرے حضور پیش ہوں جبکہ تو مجھ
ذُ نُوبِی غاضِیاً، قَدْ أَوْجَبْتَ لِی مِنْکَ الرَّحْمَةَ وَالرِّضْوانَ، وَأَ نْزَلْتَنِی دارَ الْقَرارِ
سے راضی ہو اور میرے گناہوں سے چشم پوشی کرے ایسے میں تو نے میرے لیے اپنی رحمت اور خوشنودی لازم کر رکھی ہو اور مجھے
وَمَحَلَّ الْاَخْیارِ
دارالقرار اور صالح لوگوں کے ساتھ رہنے کی مہلت دے
( ۸ )ابن خالویہ سے روایت ہے کہ امیرالمومنین -اور ان کے فرزندان ماہ شعبان میں روزانہ جو مناجات پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاسْمَعْ دُعائِی إذا دَعَوْتُکَ، وَاسْمَعْ نِدائِی إذا
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور جب میں تجھ سے دعا کروں تو میری دعا سن جب میں تجھے پکاروں تو میری
نادَیْتُکَ وَأَ قْبِلْ عَلَیَّ إذا ناجَیْتُکَ فَقَدْ هَرَبْتُ إلَیْکَ وَوَقَفْتُ بَیْنَ یَدَیْکَ مُسْتَکِیناً لَکَ
پکار کو سن جب میں تجھ سے مناجات کروں تو میری پر توجہ فرما کہ تیرے ہاں تیزی سے آیا ہوں میں تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں اپنی بے
مُتَضَرِّعاً إلَیْکَ راجِیاً لِما لَدَیْکَ ثَوابِی وَتَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَتَخْبُرُ
چارگی تجھ پر ظاہر کر رہا ہوں تیرے سامنے نالہ و فریاد کرتا ہوں اپنے اس ثواب کی امید میں جو تیرے ہاں ہے اور تو جانتا ہے جو کچھ
حاجَتِی وَتَعْرِفُ ضَمِیرِی، وَلاَ یَخْفی عَلَیْکَ أَمْرُ مُنْقَلَبِی وَمَثْوایَ
میرے دل میں ہے تو میری حاجت سے آگاہ ہے اور تو میرے باطن سے باخبر ہے دنیا اور آخرت میں میری حالت تجھ پرمخفی نہیں اور
وَما أُرِیدُ أَنْ أُبْدِیََ بِهِ مِنْ مَنْطِقِی، وَأَ تَفَوَّهَ بِهِ مِنْ طَلِبَتِی، وَأَرْجُوهُ لِعاقِبَتِی، وَقَدْ
جس کا میں ارادہ کرتا ہوں کہ زبان پر لاؤں اور اسے بیان کروں اور اپنی حاجت ظاہر کروں اور اپنی عافیت میں ا س کی امید رکھوںتو
جَرَتْ مَقادِیرُکَ عَلَیَّ یَا سَیِّدِی فِیما یَکُونُ مِنِّی إلی آخِرِ عُمْرِی مِنْ سَرِیرَتِی
یقینا تیرے مقدرات مجھ پر جاری ہوئے اے میرے سردار جو میں آخر عمر تک عمل کروں گا میرے پوشیدہ اور ظاہرا کاموں میں سے
وَعَلانِیَتِی وَبِیَدِکَ لاَ بِیَدِ غَیْرِکَ زِیادَتِی وَنَقْصِی وَنَفْعِی وَضَرِّی إلهِی إنْ حَرَمْتَنِی
اور میری کمی بیشی اور نفع و نقصان تیرے ہاتھ میں ہے نہ کہ تیرے غیر کے ہاتھ میں میرے معبود! اگر تو نے مجھے محروم کیا
فَمَنْ ذَا الَّذِی یَرْزُقُنِی وَ إنْ خَذَلْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یَنْصُرُنِی إلهِی أَعُوذُ بِکَ مِنْ
تو پھر کون ہے جو مجھے رزق دے گا اور اگر تو نے مجھے رسو کیا تو پھر کون ہے جو میری مدد کرے گا میرے معبود! میں تیرے غضب اور تیرا
غَضَبِکَ وَحُلُولِ سَخَطِکَ إلهِی إنْ کُنْتُ غَیْرَ مُسْتَأْهِلٍ لِرَحْمَتِکَ فَأَنْتَ أَهْلٌ أَنْ تَجُودَ
عذاب نازل ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوںمیرے معبود: اگر میں تیری رحمت کے لائق نہیں پس تو اس چیز کا اہل ہے کہ مجھ پر اپنے
عَلَیَّ بِفَضْلِ سَعَتِکَ إلهِی کَأَ نِّی بِنَفْسِی واقِفَةٌ بَیْنَ یَدَیْکَ وَقَدْ أَظَلَّها حُسْنُ تَوَکُّلِی
عظیم تر فضل سے عطا و عنایت فرمائے میرے معبود! گویا میں خود تیرے سامنے کھڑا ہوں اور تجھ پر میرے حسن اعتماد اور توکل کا سایہ
عَلَیْکَ فَقُلْتَ مَا أَ نْتَ أَهْلُهُ وَتَغَمَّدْتَنِی بِعَفْوِکَ إلهِی إنْ عَفَوْتَ
پڑرہا ہے پس تو نے وہی کچھ کیا جو تیری شان کے لائق ہے اور تو نے مجھے اپنے دامن عفو میں لے لیا میرے معبود: اگر تو مجھے معاف
فَمَنْ أَوْلی مِنْکَ بِذلِکَ وَ إنْ کانَ قَدْ دَنا أَجَلِی وَلَمْ یُدْنِنِی مِنْکَ عَمَلِی فَقَدْ جَعَلْتُ
کرے تو کون ہے جو اس کا تجھ سے زیادہ اہل ہو اور اگر میری موت قریب آگئی ہے اور میرا کردار مجھے تیرے قریب کرنے والا نہیں تو
الْاِقْرارَ بِالذَّنْبِ إلَیْکَ وَسِیلَتِی إلهِی قَدْ جُرْتُ عَلی نَفْسِی فِی النَّظَرِ لَها فَلَهَا
میں نے اپنے گناہ کے اقرار کو تیری جناب میں اپنا وسیلہ قرار دے لیا ہے میرے معبود! میںنے اپنے نفس کی تدبیر میں اس پر ظلم کیا
الْوَیْلُ إنْ لَمْ تَغْفِرْ لَها إلهِی لَمْ یَزَلْ بِرُّکَ عَلَیَّ أَیَّامَ حَیاتِی فَلا تَقْطَعْ بِرَّکَ عَنِّی
اگر تو اسے بخشے تو یہ ہلاکت وبربادی ہے میرے معبود ایام زندگی میں تیرا احسان ہمیشہ مجھ پر ہوتا رہا پس بوقت موت اسے مجھ سے قطع
فِی مَماتِی إلهِی کَیفَ آیَسُ مِنْ حُسْنِ نَظَرِکَ لِی بَعْدَ مَماتِی وَأَ نْتَ لَمْ تُوَلِّنِی إلاَّ
نہ فرما میرے معبود! میں مرنے کے بعد تیرے عمدہ التفات سے کیونکر مایوس ہوں گا جبکہ میں نے اپنی زندگی میں تیری طرف سے
الْجَمِیلَ فِی حَیَاتِی إلهِی تَوَلَّ مِنْ أَمْرِی مَا أَ نْتَ أَهْلُهُ، وَعُدْ عَلَیَّ بِفَضْلِکَ عَلی
سوائے نیکی کے کچھ اور نہیں دیکھا میرے معبود! میرے امور کا اس طرح ذمہ دار بن جو تیرے شایاں ہے اور مجھ گنہگار پر اپنے فضل
مُذْنِبٍ قَدْ غَمَرَهُ جَهْلُهُ إلهِی قَدْ سَتَرْتَ عَلَیَّ ذُ نُوباً فِی الدُّنْیا وَأَ نَا أَحْوَجُ إلی
سے توجہ فرما جسے نادانی نے گھیر رکھا ہے میرے معبود! تو نے دنیا میں میرے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائی جبکہ میں آخرت میں
سَتْرِها عَلَیَّ مِنْکَ فِی الاَُْخْری إذْ لَمْ تُظْهِرْها لاََِحَدٍ مِنْ عِبادِکَ الصَّالِحِینَ
اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کا زیادہ محتاج ہوں میرے معبود! یہ تیرا احسان ہے کہ تو نے میرے گناہ اپنے نیک بندوں میں سے کسی پر
فَلا تَفْضَحْنِی یَوْمَ الْقِیامَةِ عَلی رُؤُوسِ الْاَشْهادِ إلهِی جُودُکَ بَسَطَ أَمَلِی
ظاہر نہیں کیے پس روز قیامت بھی مجھے لوگوں کے سامنے رسوا و ذلیل نہ فرما میرے معبود! تیری عطا میری امید پر چھائی ہوئی ہے اور
وَعَفْوُکَ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِی إلهِی فَسُرَّنِی بِلِقائِکَ یَوْمَ تَقْضِی فِیهِ بَیْنَ عِبادِکَ
تیرا عفو میرے عمل سے برتر ہے میرے معبود! اپنی ملاقات سے مجھے شاد فرما جس روز تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرے گا
إلهِی اعْتِذارِی إلَیْکَ اعْتِذارُ مَنْ لَمْ یَسْتَغْنِ عَنْ قَبُولِ عُذْرِهِ فَاقْبَلْ عُذْرِی یَا أَکْرَمَ
میرے معبود! تیرے حضور میری عذر خواہی اس شخص کی طرح ہے جو قبول عذر سے بے نیاز نہیں پس میرا عذر قبول فرما اے سب
مَنِ اعْتَذَرَ إلَیْهِ الْمُسِیئُونَ إلهِی لاَ تَرُدَّ حاجَتِی، وَلاَ تُخَیِّبْ طَمَعِی
سے زیادہ کرم کرنے والے کہ جس کے سامنے گنہگار عذر خواہی کرتے ہیں میرے مولا میری حاجت رد نہ فرما میری طمع میںمجھے
وَلاَ تَقْطَعْ مِنْکَ رَجائِی وَأَمَلِی إلهِی لَوْ أَرَدْتَ هَوانِی لَمْ تَهْدِنِی
ناامید نہ کر اور میں تجھ سے جو امید و آرزو رکھتا ہوں اسے قطع نہ کرمیرے معبود اگر تو میری خواری چاہتا ہے تو میری رہنمائی نہ فرماتا اور
وَلَوْ أَرَدْتَ فَضِیحَتِی لَمْ تُعافِنِی إلهِی مَا أَظُنُّکَ تَرُدُّنِی فِی حاجَةٍ قَدْ أَفْنَیْتُ
اگر تو میری رسوائی چاہتا تو میری پردہ پوشی نہ کرتا، میرے معبود! میں یہ گمان نہیں کرتا کہ تو میری وہ حاجت پوری نہ کرے گا جو میں عمر
عُمْرِی فِی طَلَبِها مِنْکَ إلهِی فَلَکَ الْحَمْدُ أَبَداً أَبَداً دائِماً سَرْمَداً یَزِیدُ وَلاَ یَبِیدُ
بھر تجھ سے طلب کرتا رہاہوں، میرے معبود! حمد بس تیرے ہی لیے ہے ہمیشہ ہمیشہ پے در پے اور بے انتہا جو بڑھتی جاتی ہے اور کم
کَما تُحِبُّ وَتَرْضی إلهِی إنْ أَخَذْتَنِی بِجُرْمِی أَخَذْتُکَ بِعَفْوِکَ وَ إنْ أَخَذْتَنِی
نہیں ہوتی جو تجھے پسند ہے اور تجھے بھلی لگتی ہے، میرے معبود! اگر تو مجھے جرم پر پکڑے گا تو میں تیری بخشش کا دامن تھام لوں گا اگر
بِذُنُوبِی أَخَذْتُکَ بِمَغْفِرَتِکَ، وَ إنْ أَدْخَلْتَنِی النَّارَ أَعْلَمْتُ أَهْلَها أَ نِّی أُحِبُّکَ
مجھے گناہ پر پکڑے گا تو میں تیری پردہ پوشی کا سہارا لوں گا اور اگرتو مجھے جہنم میں ڈالے گا تو میں اہل جہنم کو بتاؤں گا کہ میں تیرا چاہنے
إلهِی إنْ کانَ صَغُرَ فِی جَنْبِ طاعَتِکَ عَمَلِی فَقَدْ کَبُرَ فِی جَنْبِ رَجائِکَ أَمَلِی
والا ہوں میرے خدا! اگر تیری اطاعت کے سلسلے میں میرا عمل کمتر ہے تو بھی تجھ سے بخشش کی امید رکھنے میں میری آرزو بہت بڑی
إلهِی کَیْفَ أَنْقَلِبُ مِنْ عِنْدِکَ بِالْخَیْبَةِ مَحْرُوماً وَقَدْ کانَ حُسْنُ ظَنِّی بِجُودِکَ أَنْ
ہے، میرے خدا! کس طرح میں تیری درگاہ سے مایوسی میں خالی ہاتھ پلٹ جاوں جبکہ میں تیری عطا سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ تو مجھے
تَقْلِبَنِی بِالنَّجاةِ مَرْحُوماً إلهِی وَقَدْ أَ فْنَیْتُ عُمْرِی فِی شِرَّةِ السَّهْوِ عَنْکَ، وَأَبْلَیْتُ
رحمت و بخشش کے ساتھ پلٹائے گا، میرے خدا ہوا یہ کہ میں نے تجھے فراموش کرکے اپنی زندگی برائی میں گزاری اور میں نے اپنی
شَبابِی فِی سَکْرَةِ التَّباعُدِ مِنْکَ إلهِی فَلَمْ أَسْتَیْقِظْ أَیَّامَ اغْتِرارِی بِکَ، وَرُکُونِی
جوانی تجھ سے دوری اور غفلت میںگنوائی میرے خدا؛ تیرے مقابل جرأت کرنے کے دوران میں ہوش میں نہ آیا اور تیری ناخوشی
إلی سَبِیلِ سَخَطِکَ إلهِی وَأَنَا عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ قائِمٌ بَیْنَ یَدَیْکَ مُتَوَسِّلٌ بِکَرَمِکَ
کے راستے پر چلتا گیا پھر بھی اے معبود؛ میں تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیرے ہی لطف و کرم کو وسیلہ بنا کر تیری بارگاہ
إلَیْکَ إلهِی أَنَا عَبْدٌ أَتَنَصَّلُ إلَیْکَ مِمَّا کُنْتُ أُواجِهُکَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ اسْتِحْیائِی مِنْ
میں آکر کھڑا ہوں، میرے خدا! میں وہ بندہ ہوں جو خود کو تیری طرف کھینچ لایا ہے جبکہ میں تیری نگاہوں کا حیا نہ کرتے ہوئے تیرے
نَظَرِکَ، وَأَطْلُبُ الْعَفْوَ مِنْکَ إذِ الْعَفْوُ نَعْتٌ لِکَرَمِکَ إلهِی لَمْ یَکُنْ لِی حَوْلٌ
مقابل اکڑا ہوا تھا میں تجھ سے معافی مانگتاہوں کیونکہ معاف کردینا تیرے لطف و کرم کا خاصہ ہے میرے خدا! میں جنبش نہیں کرسکتا تا
فَأَنْتَقِلَ بِهِ عَنْ مَعْصِیَتِکَ إلاَّ فِی وَقْتٍ أَیْقَظْتَنِی لَِمحَبَّتِکَ، وَکَما أَرَدْتَ أَنْ أَکُونَ
کہ تیری نافرمانی کی حالت سے نکل آؤں مگر اس وقت جب تو مجھے اپنی محبت کی طرف متوجہ کرے کہ جیسا تو چاہے میں ویساہی بن
کُنْتُ فَشَکَرْتُکَ بِ إدْخالِی فِی کَرَمِکَ، وَ لِتَطْهِیرِ قَلْبِی مِنْ أَوْساخِ الْغَفْلَةِ
سکتا ہوں پس میں تیرا شکر گذار ہوں کہ تو نے مجھے اپنی مہربانی میں داخل کیا اور میں تجھ سے جو غفلت کرتا رہاہوں میرے دل کو اس
عَنْکَ إلهِی انْظُرْ إلَیَّ نَظَرَ مَنْ نادَیْتَهُ فَأَجابَکَ، وَاسْتَعْمَلْتَهُ بِمَعُونَتِکَ
سے پاک کردیا میرے خدا! مجھ پر وہ نظر کر جو تو تجھے پکارنے والے پر کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کرتا ہیپھر اس کی یوں مدد کرتا ہے گویا
فَأَطاعَکَ، یَا قَرِیباً لاَ یَبْعُدُ عَنِ الْمُغْتَرِّ بِهِ، وَیا جَواداً لاَ یَبْخَلُ عَمَّنْ رَجا
وہ تیرا فرمانبردار تھا اے قریب کہ جو نافرمان سے دوری اختیار نہیں کرتا اور اے بہت دینے والے جو ثواب کے امیدوار کے کیے کمی
ثَوابَهُ إلهِی هَبْ لِی قَلْباً یُدْنِیهِ مِنْکَ شَوْقُهُ، وَ لِساناً یُرْفَعُ إلَیْکَ صِدْقُهُ، وَنَظَراً
نہیں کرتا، میرے خدا! مجھے وہ دل دے جس میں تیرے قرب کاشوق ہو۔ وہ زبان عطا فرما جو تیرے حضور سچی رہے اور وہ نظر دے
یُقَرِّبُهُ مِنْکَ حَقُّهُ إلهِی إنَّ مَنْ تَعَرَّفَ بِکَ غَیْرُ مَجْهُولٍ، وَمَنْ لاذَ بِکَ غَیْرُ مَخْذُولٍ
جس کی حق بینی مجھے تیرے قریب کرے، میرے خدا! بے شک جسے تو جان لے وہ نامعلوم نہیں رہتا جو تیری محبت میں آجائے وہ بے
وَمَنْ أَ قْبَلْتَ عَلَیْهِ غَیْرُ مَمْلُولٍ إلهِی إنَّ مَنِ انْتَهَجَ بِکَ لَمُسْتَنِیرٌ، وَ إنَّ مَنِ
کس نہیں ہوتا اور جس پر تیری نگاہ کرم ہو وہ کسی کا غلام نہیں ہوتا، میرے خدا! بے شک جو تیری طرف بڑھے اسے نور ملتا ہے اور جو تجھ
اعْتَصَمَ بِکَ لَمُسْتَجِیرٌ، وَقَدْ لُذْتُ بِکَ یَا إلهِی فَلا تُخَیِّبْ ظَنِّی مِنْ رَحْمَتِکَ،
سے وابستہ ہو وہ پناہ یافتہ ہے، ہاں میں تیری پناہ لیتا ہوں اے خدا؛ مجھے اپنے دوستوں میں قرار دے جن کا مقام یہ ہے
وَلاَ تَحْجُبْنِی عَنْ رَأْفَتِکَ إلهِی أَقِمْنِی فِی أَهْلِ وِلایَتِکَ مُقامَ مَنْ رَجَا
کہ وہ تیری محبت کی بہت امید رکھتے ہیں، میرے خدا! مجھے اپنے ذکر کے ذریعے اپنے ذکر کا
الزِّیادَةَ مِنْ مَحَبَّتِکَ إلهِی وَأَ لْهِمْنِی وَلَهاً بِذِکْرِکَ إلی ذِکْرِکَ، وَهِمَّتِی فِی رَوْحِ
شوق اور ذوق دے اور مجھے اپنے اسمائ حسنیٰ سے مسرور ہونے اور اپنے پاکیزہ مقام سے دلی سکون حاصل کر
نَجاحِ أَسْمائِکَ وَمَحَلِّ قُدْسِکَ إلهِی بِکَ عَلَیْکَ إلاَّ أَلْحَقْتَنِی بِمَحَلِّ أَهْلِ طاعَتِکَ
نیکی ہمت دے میرے خدا تجھے تیری ذات کا واسطہ ہے کہ مجھے اپنے فرمانبردار بندوں میں شامل کرلے
وَالْمَثْوَی الصَّالِحِ مِنْ مَرْضاتِکَ، فَ إنِّی لاَ أَقْدِرُ لِنَفْسِی دَفْعاً، وَلا أَمْلِکُ لَها نَفْعاً
اور اپنی خوشنودی کے مقام تک پہنچادے کیونکہ میں نہ اپنا بچاؤ کرسکتا ہوں اورنہ اپنے آپ کو کچھ فائدہ پہنچاسکتاہوں ،
إلهِی أَ نَا عَبْدُکَ الضَّعِیفُ الْمُذْنِبُ، وَمَمْلُوکُکَ الْمُنِیبُ فَلا تَجْعَلْنِی مِمَّنْ صَرَفْتَ
میرے خدا؛ میں تیرا ایک کمزور و گنہگار بندہ اور تجھ سے معافی کا طلب گار غلام ہوں پس مجھے ان لوگوں میں نہ رکھ جن سے تو نے توجہ
عَنْهُ وَجْهَکَ وَحَجَبَهُ سَهْوُهُ عَنْ عَفْوِکَ إلهِی هَبْ لی کَمالَ الانْقِطاعِ إلَیْکَ، وَأَنِرْ
ہٹالی اور جن کی بھول نے انہیںتیرے عفو سے غافل کر رکھا ہے میرے خدا مجھے توفیق دے کہ میں تیری بارگاہ کا ہوجاؤں اور ہمارے
أَبْصارَ قُلُوبِنا بِضِیائِ نَظَرِها إلَیْکَ، حَتَّی تَخْرِقَ أَبْصارُ الْقُلُوبِ حُجُبَ النُّورِ
اورہمارے دلوں کی آنکھیں جب تیری طرف نظر کریں تو انہیں نورانی بنادے تا کہ یہ دیدہ ہائے دل حجابات نور کو پار کرکے تیری
فَتَصِلَ إلی مَعْدِنِ الْعَظَمَةِ، وَتَصِیرَ أَرْواحُنا مُعَلَّقَةً بِعِزِّ قُدْسِکَ إلهِی وَاجْعَلْنِی
عظمت و بزرگی کے مرکز سے جاملیں اور ہماری روحیں تیری پاکیزہ بلندیوں پر آویزاں ہوجائیں میرے خدا؛ مجھے ان لوگوں میںرکھ
مِمَّنْ نادَیْتَهُ فَأَجابَکَ، وَلاحَظْتَهُ فَصَعِقَ لِجَلالِکَ، فَناجَیْتَهُ سِرّاً
جن کو تو نے پکارا تو انہوں نے جواب دیا تو نے ان پر توجہ فرمائی تو انہوں نے تیرے جلال کا نعرہ لگایا ہاں تو نے انہیں باطن میں پکارا
وَعَمِلَ لَکَ جَهْراً إلهِی لَمْ أُسَلِّطْ عَلی حُسْنِ ظَنِّی قُنُوطَ الْاَیاسِ، وَلاَ انْقَطَعَ
اور انہوں نے تیرے لیے ظاہر میں عمل کیا ، میرے خدا؛ میں نے اپنے حسن ظن پر ناامیدی کو مسلط نہیںکیا اور تیرے
رَجائِی مِنْ جَمِیلِ کَرَمِکَ إلهِی إنْ کانَتِ الْخَطایَا قَدْ أَسْقَطَتْنِی لَدَیْکَ فَاصْفَحْ
لطف و کرم کی توقع قطع نہیں ہونے دی ہے، میرے خدا؛ اگر تیرے نزدیک میری خطائیں نظر انداز کردی گئی ہیںتو میری جو توکل تجھ
عَنِّی بِحُسْنِ تَوَکُّلِی عَلَیْکَ إلهِی إنْ حَطَّتْنِی الذُّنُوبُ مِنْ مَکارِمِ لُطْفِکَ فَقَدْ
پر ہے اس کے پیش نظر میری پردہ پوشی فرمادے، میرے خدا؛ اگر گناہوں نے مجھے تیرے کرم کی برکتوں سے دور کردیا ہے تو بھی
نَبَّهَنِی الْیَقِینُ إلی کَرَمِ عَطْفِکَ إلهِی إنْ أَنامَتْنِی الْغَفْلَةُ عَنِ الاسْتِعْدادِ
یقین نے مجھے تیری عنایت و مہربانی سے آگاہ کر رکھا ہے میرے خدا؛ اگر میں نے خواب غفلت میں پڑکر تیری بارگاہ میں حاضری کی
لِلِقائِکَ فَقَدْ نَبَّهَتْنِی الْمَعْرِفَةُ بِکَرَمِ آلائِکَ إلهِی إنْ دَعانِی إلَی النَّارِ عَظِیمُ عِقابِکَ
تیاری نہیں کی تو بے شک معرفت نے مجھے تیری مہربانیوں سے باخبر کردیا ہے، میرے خدا؛ اگر تیری سخت سزا مجھے جہنم کی طرف
فَقَدْ دَعانِی إلَی الْجَنَّةِ جَزِیلُ ثَوابِکَ إلهِی فَلَکَ أَسْأَلُ وَ إلَیْکَ أَبْتَهِلُ
بلارہی ہے تو بھی تیرا بہت زیادہ ثواب مجھے جنت کی سمت لیے جاتا ہے، میرے خدا؛ میں بس تیرا سوالی ہوں تیرے آگے زاری کرتا
وَأَرْغَبُ، وَأَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَنِی مِمَّنْ یُدِیمُ
ہوں تیرے پاس آیا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ مجھے ایسا قرار دے جو ہمیشہ تیرا
ذِکْرَکَ، وَلاَ یَنْقُضُ عَهْدَکَ، وَلاَ یَغْفُلُ عَنْ شُکْرِکَ، وَلاَ یَسْتَخِفُّ بِأَمْرِکَ
ذکر کرتا رہا، جس نے تیری نافرمانی نہیں کی، جو تیرا شکر ادا کرنے سے غافل نہیںہوا اور جس نے تیرے فرمان کو سبک نہیں سمجھا،
إلهِی وَأَلْحِقْنِی بِنُورِ عِزِّکَ الْاَ بْهَجِ فَأَکُونَ لَکَ عارِفاً وَعَنْ سِواکَ مُنْحَرِفاً، وَمِنْکَ
میرے خدا؛ مجھے اپنی روشن تر عزت کو نور تک پہنچادے تا کہ میں تجھے پہچان لوں، تیرے غیر کو چھوڑدوں اور تجھ سے
خائِفاً مُراقِباً یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ وَصَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ رَسُولِهِ وَآلِهِ
ڈرتے ہوئے تیری جانب متوجہ رہوں اے سب مرتبوں اور عزتوں کے مالک اور اللہ اپنے رسول محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم پررحمت نازل فرمائے
الطَّاهِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً
اور ان کی پاکیزہ آلعليهالسلام پر اور سلام بھیجے کہ جو سلام بھیجنے کاحق ہے۔
اور یہ بہت جلیل القدر مناجات ہیں جو آئمہ کی طرف سے منسوب ہیں اور یہ دعا مضامین عالیہ پر مشتمل ہے جب انسان حضور قلب رکھتا ہو اس دعا کا پڑھنا مناسب ہے
ماہ شعبان کے مخصوص اعمال
فضیلت روز اول شعبان
پہلی شعبان کی رات
کتاب اقبال میںشعبان کی پہلی رات میں پڑھی جانے والی کافی نمازوں کا ذکر ہوا ہے ، ان میں سے ایک بارہ رکعت نماز ہے کہ جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھی جاتی ہے۔
پہلی شعبان کا دن
ماہ شعبان کے پہلے دن کا روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ اور امام جعفر صادق -سے روایت ہوئی ہے کہ یکم شعبان کا روزہ رکھنے والے کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔ سید ابن طاؤس نے رسول اللہ سے نقل کیا ہے کہ شعبان کے پہلے تین دن کا روزہ رکھنے اور پہلی تین راتوں میں دو، دو رکعت نماز پڑھنے کاثواب بہت زیادہ ہے، اس نماز کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھے:
واضح رہے کہ ماہ شعبان اور اسکے پہلے دن کے روزے کی فضیلت تفسیر امام -میں مذکور ہے۔ ہمارے استاد ثقۃ الاسلام نوریرحمهالله نے کتاب کلمہ طیبہ کے آخر میں ایک روایت نقل کی ہے۔ جس میں ا سکے بہت سے فوائد و برکات کا ذکر ہے، یہ روایت بڑی طویل ہے۔ ہم یہاں ا سکا خلاصہ نقل کررہے ہیں:
خلاصہ روایت
یکم شعبان کو چند افراد مسجد میں بیٹھے قضا و قدر کے مسئلہ پر بحث و تکرار کرتے ہوئے بلند آواز سے بول رہے تھے۔ امیرالمومنین -نے ان لوگوں کو سلام کیا، جب انہوں نے آپ سے وہاںتشریف رکھنے کی خواہش کی تو آپ نے فرمایا : تم لوگ ایسی باتیں کر رہے ہو، جن میںکوئی فائدہ نہیں آیا تم نہیں جانتے کہ خدا کے ایسے بندے بھی ہیں جو صرف خوف خدا سے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں لیکن وہ بولنے سے قاصر نہیں ہوتے۔ بات یہ ہے کہ جب ان کے دلوں میں عظمت خداوندی کا تصور آتا ہے۔ تو ان کی زبانیں گنگ اور ان کی عقلیں حیران ہوجاتی ہیں پھر جب وہ اپنی حالت میں آتے ہیں تو خود کو بارگاہ الٰہی میںگنہگار و خطاکار سمجھتے ہوئے آہیں بھرتے ہیںجبکہ وہ گناہوں سے مبرأ ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے عمل کو کم تر سمجھتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ ہم میں تقصیر اور کوتاہی ہے۔ پس وہ ہر وقت عمل خیر میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ان کی طرف نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ حالت خوف میں عبادت میں کھڑے ہیں اور ان کا اضطراب ظاہر ہے۔ ان لوگوں کے مقابلے میں تم کہاں ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کہ سب سے بڑا دانا وہ ہے جو زیادہ خاموش رہے اور سب سے بڑا جاہل وہ ہے جو بہت زیادہ باتیں کرتا ہو۔ اے نادان و کم سمجھ لوگو! آج یکم شعبان ہے اور خدائے تعالیٰ نے اس کا نام شعبان اس لیے رکھا ہے کہ اس میں نیکیاں عام کردی جاتی ہیں، حسنات کے دروازے کھل جاتے ہیں اورجنت کے محلات ارزاں قیمت اورآسان تر اعمال سے حاصل ہوتے ہیں۔ پس عبادت کرکے انہیں خریدلو۔ شیطان، ابلیس نے برائیوں کو تمہارے لیے پسندیدہ بنادیا ہے، تم گمراہی نافرمانی اور سرکشی میں پڑے ہو، شیاطین کی بدیوں اور برائیوں کی طرف متوجہ ہو اور شعبان کی خوبیوں اور اچھائیوں سے منہ نہ موڑو۔ جب کہ خدا کی طرف سے حسنات و خیرات کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔
آج یکم شعبان ہے اور اس کی حسنا ت و خیرات میں نماز، روزہ، امر بہ معروف و نہی از منکر، والدین، ہمسایہ اور اقربا سے حسن سلوک، آپس کے اختلافات دور کرنا اور فقرائ و مساکین کے لیے صدقہ و خیرات کرنا ہے۔ ادھر تم ہو کہ قضا و قدر کی بحث میں الجھے ہوئے ہو۔ کہ جس کا تمہیںحکم نہیں دیا گیا، جن باتوں سے تمہیں منع کیا گیا ہے تم ان میں مشغول ہو۔ خبر دار رہو کہ جو راز الٰہی کے کھولنے میں کوشاں ہوگا وہ برباد ہوجائے گا۔ آج کے دن اطاعت کرنے والوں کے لیے خدا نے جو کچھ مہیا فرمایا ہے اگر تمہیں اس کا علم ہوجائے تو یقینا تم ان بے کار بحثوں کو چھوڑکر احکام خد اکی طرف متوجہ ہوجاؤگے۔
ان سب نے عرض کی کہ یا امیرالمومنین-! خدا تعالیٰ نے اطاعت گذاروں کے لیے کیا کچھ مہیا فرمایا ہے؟ تب حضرت نے ایک لشکر کا قصہ اس طرح نقل فرمایا:
رسول اکرم نے کفار سے جنگ کے لیے ایک لشکربھیجا تو کافروں نے اس پر شب خون مارا۔ جب کہ وہ ایک تاریک ترین رات تھی اور سبھی مسلمان پڑے سورہے تھے ۔ اس لشکر میںسے صرف چار افراد جاگ رہے تھے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے لشکر کے ایک کونے پر تلاوت، ذکر اور نماز میں مشغول تھا۔ یہ چار افراد زید بن حارثہ، عبداللہ بن رواحہ، قتادہ بن نعمان اور قیس بن عاصم منقری تھے۔ جب دشمن نے مسلمانوں پر سوتے میں حملہ کردیا تو قریب تھا کہ سب کے سب مارے جائیں۔ لیکن اچانک ان چار اشخاص کے چہروں سے نور کی کرنیں پھوٹ نکلیں کہ سارا میدان روشن ہوگیا۔ اس روشنی میں مسلمان سنبھلے اور دیکھ بھال کر دشمن کا مقابلہ کرنے لگے۔ اور اس نور کو دیکھ کر ان کے حوصلے اور بھی بڑھتے جاتے تھے۔ پس انہوں نے دشمنوں کو تلواروں سے زیر کرلیا۔
یہاں تک کہ بہت سے مارے گئے اور بہت سے زخمی و اسیر ہوگئے۔ جب یہ فاتح لشکر واپس آیا تو یہ ماجرا رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ یہ نور تمہارے ان بھائیوں کے ان اعمال کی برکت سے ظاہر ہوا جو اس رات (یکم شعبان کے سلسلہ میں) انجام دے رہے تھے۔ ہاں یہ یکم شعبان کے اعمال ہی ہیںکہ جن کے باعث تمہیں فتح حاصل ہوئی اورتم لوگ دشمن کے اچانک حملے میں اس کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے ہو۔
پھر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک ایک کرکے یکم شعبان کے اعمال کا ذکر فرماتے ہوئے کہا: جب یکم شعبان کا دن آتا ہے تو شیطان اپنے گماشتوں سے کہتا ہے کہ ہر طرف پھیل جاؤ، لوگوں کو اپنی طرف بلاؤ اور انہیں خدا سے دور کرو۔ جب کہ خدائے رحمان اپنے ملائکہ سے فرماتا ہے کہ آج یکم شعبان ہے، تم ہر طرف پھیل جاؤ اور میرے بندوں کو میری طرف بلاؤ، انہیں نیکی کی طرف راغب کرو تاکہ وہ سب با سعادت اور نیک بخت بن جائیںالبتہ ان میں سے سرکش اور نافرمان لوگ شیطان کے گروہ میں ہی رہیں گے۔
آنحضرت نے فرمایا کہ جب یکم شعبان ہوتی ہے تو بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، شجر طوبیٰ کو حکم ہوتا ہے کہ اپنی شاخیں پھیلائے اور انہیں زمین کے قریب کرے، خدا کا ایک منادی یہ ندا دیتا ہے کہ اے خدا کے بندو اور اے نیکوکار لوگو! طوبیٰ کی ان شاخوں سے لپٹ جاؤ کہ وہ تمہیں اٹھاکے جنت میں لے جائیں۔ جب کہ بدکاروں کی لیے تھوہر کا درخت ہے اور ڈرتے رہو کہ کہیں اس کی شاخیں تمہیں جہنم میں نہ لے جائیں۔
رسول اللہ نے یہ بھی فرمایا:اس ذات کی قسم جس نے مجھ کو حق کے ساتھ رسالت پر مبعوث فرمایا کہ جو یکم شعبان کے دن نیکی کرے تو وہ طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا اور وہ اسے جنت میں لے جائے گی۔ پھر فرمایا جو آج کے دن نماز پڑھے یا روزہ رکھے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ اسی طرح جوشخص آج کے دن باپ بیٹے میں صلح کرائے۔ میاں بیوی میں سمجھوتہ کرائے، رشتہ داروں میں راضی نامہ کرائے یا اپنے ہمسائے یا کسی اجنبی میں مصالحت کرائے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ جو مقروض کی پریشانی کم کرے یا طلب میں تخفیف کرے تو وہ شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ جو شخص آج کے دن اپنے حساب پر نظر کرے اور دیکھے کہ ایک پرانا قرضہ ہے جسے مقروض ادا نہیں کرسکتا۔ پس وہ اس قرضے کو حساب سے کاٹ دے تو وہ طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جو کسی یتیم کی کفالت کرے، کسی جاہل کومؤمن کی ہتک کرنے سے باز کرے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔ جو قرآن کی تلاوت کرے، مریض کی عیادت کرے، خداکا ذکر کرے اور خدا کی نعمتوں کا نام لے لے کر اس کا شکر ادا کرے تو وہ بھی طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جوشخص آج کے دن اپنے ماں یا باپ یا دونوں میںسے ایک کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ بھی طوبیٰ کی شاخ سے لپٹا، جو اس سے پہلے کسی کو غضب ناک کرچکا ہو اور آج اسے راضی اور خوش کردے تو وہ بھی شاخ طوبیٰ سے لپٹا جو شخص جنازے کے ساتھ چلے تو وہ بھی طوبیٰ کی شاخ سے لپٹ گیا۔ جو کسی مصیبت زدہ کی بھی دلجوئی کرے وہ شاخ طوبیٰ سے لپٹا اور جو شخص آج کے دن کوئی بھی نیک کام کرے تو وہ شاخ طوبیٰ سے لپٹ گیا۔
اس کے بعد رسول اکرم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھ کورسالت پر مامور کیا ہے کہ جو شخص آج کے دن شر و بدی کا کوئی بھی کام کرے تو وہ زقوم(تھوہر) کی شاخوں سے لپٹ گیا اوروہ اسے جہنم کی طرف کھینچ لے جائیں گیں پھر فرمایا کہ قسم ہے مجھ کو اس ہستی کی جس نے مجھے پیغمبر قرار دیا کہ جو شخص بھی آج کے دن واجب نماز میں کوتاہی کرتے ہوئے اسے ضائع کرے تو وہ بھی شجر زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جس کے پاس کوئی فقیر و ناتواں آئے کہ جس کی حالت کو یہ جانتا ہے اور اس کی حالت کو بدل بھی سکتا ہے۔ کہ خود اس کو کچھ ضرر نہیں پہنچتا۔ نیز اس غریب کی مدد کرنے والا کوئی دوسرا شخص بھی نہ ہو پس اگر وہ اس درماندہ کو اس حالت میںچھوڑدے اور وہ ہلاک ہوجائے تو یہ مدد نہ کرنے والازقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جس کے سامنے کوئی برے کام والا آدمی معذرت کرے اور پھر بھی وہ اس کو اس کی برائی کی سزا سے کچھ زیادہ سزا دے تو یہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص آج کے دن میاں بیوی یا باپ بیٹے یا بھائی بھائی یا بھائی بہن یا کسی قریبی رشتہ داریا ہمسائے یا دو دوستوں میں جدائی اور غلط فہمی پیدا کرے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔
جو شخص کسی تنگ دست پر سختی کرے کہ جس کی حالت کو جانتاہے اور اس کی مصیبت میںاپنے غصے کا اضافہ کرے تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔ جس پر کسی کا قرض ہو اور یہ اس کا انکار کردے اور اپنی عیاری سے اس قرض کو باطل قرار دے تو یہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔جو شخص کسی یتیم کو اذیت دے۔ اس پر ستم توڑے اور اس کے مال و متاع کو ضائع کردے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا اور جو شخص کسی مومن کی عزت کو خراب کرے اور دوسروں کو ایسا کرنے کے لیے شہ دے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص اس طرح گانا گائے کہ لوگ اس کے گانوں سے گناہوں میں مبتلا ہوں تو وہ زقوم کی شاخوںسے لپٹا اور جوشخص زمانہ جنگ میں کیے ہوئے اپنے برے کاموں اور اپنے ظلم و ستم کے دوسرے واقعات لوگوں میں بیٹھ کر فخرسے سنائے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹا۔
جو شخص اپنے بیمار ہمسائے کو کم تر تصور کرتے ہوئے اس کی عیادت نہ کرے تو وہ زقوم کی شاخوںسے لپٹ گیا۔ اور جو شخص اپنے مردہ ہمسائے کو ذلیل سمجھتے ہوئے اس کے جنازے کے ساتھ نہ جائے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹا۔ جو شخص کسی ستم رسیدہ سے بے رخی برتے اوراسے پست خیال کرتے ہوئے اس پر سختی کرے تو وہ زقوم کی شاخوں سے لپٹا اور جو شخص اپنے ماںباپ یا دونوں میں سے کسی ایک کا نافرمان ہوجائے تو وہ بھی اس درخت کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ جو شخص آج کے دن سے قبل اپنے ماں باپ کا نافرمان ہو اور آج کے دن ان کو راضی و خوش نہ کرے تو وہ بھی زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔ نیز جو بھی شخص ان برائیوں کے علاوہ کسی اور بدی و گناہ کا ارتکاب کرے تو وہ بھی درخت زقوم کی شاخوں سے لپٹ گیا۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مزید فرمایا: قسم ہے مجھے اس ذات کی جس نے مجھ کو نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم و پیغمبر بنایا کہ جو لوگ درخت طوبیٰ کی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہونگے وہ انہیں اٹھاکر جنت میں لے جائینگے۔ اس کے بعد رسول ﷲ نے چند لمحوں کیلئے اپنی نگاہ آسمان کیطرف بلند کی تو آپ خوش ہوئے اور ہنسے پھر اپنی نگاہ زمین پر ڈالی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا چہرہ مبارک کچھ ترش ہؤا۔ تب اپنے اصحاب کی سمت دیکھتے ہوئے فرمایا مجھ کو قسم ہے ا س ہستی کی جس نے مجھے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم قرار دیا کہ میں نے شجر طوبیٰ کو بلند ہوتے اور اپنے سے لپٹے ہوئے لوگوں کو جنت کیطرف لے جاتے دیکھا ہے۔ بقدر اپنی اطاعت و نیکوکاری کے کہ اسکی ایک شاخ یا کئی کئی شاخوں سے لپٹے ہوئے تھے میں نے دیکھا کہ زید بن حارثہ اسکی کئی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں اور وہ انکو جنت کے مقام اعلیٰ علیین کیطرف بلند کرتی جارہی ہیں یہ دیکھ کر میں خوش ہؤا اور ہنسا۔پھر میں نے زمین پر نظر ڈالی تو قسم ہے اس ہستی کی جس نے مجھ کونبیصلىاللهعليهوآلهوسلم بنایا۔ کہ میں نے درخت زقوم کو دیکھا کہ اس کی شاخیں نیچے کو جارہی ہیں اور جو لوگ اپنی برائیوں کے مطابق اس کی ایک یا کئی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں وہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے طبقے کی طرف لے جارہی ہیں۔ اس سے میرے چہرے پر بیزاری کے آثار ظاہر ہوئے تھے۔اور اس کے ساتھ کئی منافق لپٹے ہوئے تھے۔
تیسری شعبان کا دن
یہ بڑا با برکت دن ہے شیخ نے مصباح میں فرمایا ہے کہ اس روز امام حسین- کی ولادت ہوئی نیز امام عسکری -کے وکیل قاسم بن علا ہمدانی کیطرف سے فرمان جاری ہؤا کہ بروز جمعرات ۳ / شعبان کو امام حسین -کی ولادت باسعادت ہوئی ہے۔ پس اس دن کا روزہ رکھو اور اس روز یہ دعا پڑھو:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِحَقِّ الْمَوْلُودِ فِی هذَا الْیَوْمِ الْمَوْعُودِ بِشَهادَتِهِ قَبْلَ اسْتِهْلالِهِ
اے معبود! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں آج کے دن پیدا ہونیوالے مولود کے واسطے سے کہ جس کے پیدا ہونے اور دنیا میں
وَوِلادَتِهِ، بَکَتْهُ السَّمائُ وَمَنْ فِیها، وَالْاَرْضُ وَمَنْ عَلَیْها، وَلَمَّا یَطَأْ لابَتَیْها
آنے سے پہلے اس سے شہادت کا وعدہ لیا گیا تو اس پر آسمان رویا اور جو کچھ اس میں ہے اور زمین اور جو کچھ اس پر ہے روے جبکہ
قَتِیلِ الْعَبْرَةِ، وَسَیِّدِ الْاُسْرَةِ، الْمَمْدُودِ بِالنُّصْرَةِ یَوْمَ الْکَرَّةِ، الْمُعَوَّض ِ مِنْ
اس نے زمین مدینہ پر قدم نہ رکھا تھا وہ گریہ والا شہید اور کامیاب و کامران خاندان کا سید و سردار ہے رجعت کے دن، یہ اس کی
قَتْلِهِ أَنَّ آلاَءِمَّةَ مِنْ نَسْلِهِ، وَالشِّفائَ فِی تُرْبَتِهِ، وَالْفَوْزَ مَعَهُ فِی أَوْبَتِهِ،
شہادت کا بدلہ ہے کہ پاک آئمہعليهالسلام اس کی اولاد میں سے ہوئے اس کی خاکِ قبر میں شفائ ہے اور اس کی بازگشت میں کامیابی اسی کے
وَالْاَوْصِیائَ مِنْ عِتْرَتِهِ بَعْدَ قائِمِهِمْ وَغَیْبَتِهِ، حَتّی یُدْرِکُوا الْاَوْتارَ، وَیَثْأَرُوا الثَّارَ،
لیے ہے اور اوصیائ اسی کی اولاد میں سے ہیں کہ ان میں سے قائم غیبت ختم ہونے کے بعد وہ اپنے خون کا بدلہ اور انتقام لے کر تلافی
وَیُرْضُوا الْجَبَّارَ وَیَکُونُوا خَیْرَ أَنْصارٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِمْ مَعَ اخْتِلافِ اللَّیْلِ وَالنَّهار
کرنے والے خدا کو راضی کریںگے اور بہترین مددگار ثابت ہوںگے درود ہوان سب پر جب تک رات دن آتے جاتے رہیں
اَللّٰهُمَّ فَبِحَقِّهِمْ إلَیْکَ أَ تَوَسَّلُ وَأَسْأَلُ سُؤالَ مُقْتَرِفٍ مُعْتَرِفٍ مُسِیئٍ إلی نَفْسِهِ
اے معبود ان کا حق جو تجھ پر ہے اسے وسیلہ بناتا ہوں اور سوال کرتا ہوں اپنا گناہ تسلیم کرنے والے کیطرح کہ جس نے اپنے نفس
مِمَّا فَرَّطَ فِی یَوْمِهِ وَأَمْسِهِ، یَسْأَ لُکَ الْعِصْمَةَ إلی مَحَلِّ رَمْسِهِ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلی
سے برائی کی ہے آج کے دن اور گزری ہوئی رات میں تو وہ سوال کرتا ہے اپنی موت کے دن تک کیلئے اے معبود! پس حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور
مُحَمَّدٍ وَعِتْرَتِهِ، وَاحْشُرْنا فِی زُمْرَتِهِ ، وَبَوّئْنا مَعَهُ دارَ الْکَرامَةِ، وَمَحَلَّ الْاِقامَةِ
انکے خاندان پر رحمت فرما اور ہمیں اسکے گروہ میں محشور فرما اور ہمیں بزرگی والے گھر اور جائے قیام کے سلسلے میں انکے ساتھ جگہ دے
اَللّٰهُمَّ وَکَما أَکْرَمْتَنا بِمَعْرِفَتِهِ فَأَکْرِمْنا بِزُلْفَتِهِ، وَارْزُقْنا مُرافَقَتَهُ وَسابِقَتَهُ،
اے معبود! جیسے تو نے ان کی معرفت کے ساتھ ہمیں عزت دی اسی طرح ان کے تقرب سے بھی نوازا اور ہمیں ان کی رہنمائی عطا کر
وَاجْعَلْنا مِمَّنْ یُسَلِّمُ لاََِمْرِهِ، وَیُکْثِرُ الصَّلاةَ عَلَیْهِ عِنْدَ ذِکْرِهِ، وَعَلی جَمِیعِ
اور انکی ہمراہی نصیب فرما ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو ان کاحکم مانتے اور ان کے ذکر کے وقت ان پر بکثرت درود بھیجتے ہیں نیز
أَوْصِیائِهِ وَأَهْلِ أَصْفِیائِهِ، الْمَمْدُودِینَ مِنْکَ بِالْعَدَدِ الاثْنَی عَشَرَ، النُّجُومِ الزُّهَرِ،
ان کے سارے جانشینوں پر اور برگزیدہ اہل خاندان پر جن کی تعداد کو تو نے بارہ تک پورا فرمایا ہے جو چمکتے ہوئے ستارے ہیں
وَالْحُجَجِ عَلی جَمِیعِ الْبَشَرِ اَللّٰهُمَّ وَهَبْ لَنا فِی هذَا الْیَوْمِ خَیْرَ مَوْهِبَةٍ، وَأَ نْجِحْ
اور وہ تمام انسانوں پرخدا کی حجتیں ہیںاے معبود! آج کے دن ہمیں بہتریں عطاؤں سے سرفراز فرما اور ہماری سبھی حاجات
لَنا فِیهِ کُلَّ طَلِبَةٍ، کَما وَهَبْتَ الْحُسَیْنَ لُِمحَمَّدٍ جَدِّهِ، وَعاذَ فُطْرُسُ بِمَهْدِهِ، فَنَحْنُ
پوری کر دے جیسے تو نے حسینعليهالسلام کے نانا حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خود حسینعليهالسلام عطا فرمائے تھے اور فطرس نے انکے گہوارے کی پناہ لی پس ہم انکے روضہ
عائِذُونَ بِقَبْرِهِ مِنْ بَعْدِهِ نَشْهَدُ تُرْبَتَهُ وَنَنْتَظِرُ أَوْبَتَهُ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
کی پناہ لیتے ہیں انکے بعد اب ہم انکے روضہ کی زیارت کرتے ہیں اور انکی رجعت کے منتظر ہیں ایسا ہی ہو اے جہانوں کے پالنے والے۔
اس کے بعد امام حسین - کی دعا پڑھے کہ جو آپ نے یوم عاشورہ کوپڑھی جب کہ آپ دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے اور وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ أَ نْتَ مُتَعالی الْمَکانِ، عَظِیمُ الْجَبَرُوتِ، شَدِیدُ الْمِحالِ، غَنِیٌّ عَنِ الْخَلائِقِ،
اے معبود! تو بلند تر منزلت رکھتا ہے تو بڑے ہی غلبے والا ہے زبردست طاقت والا، مخلوقات سے بے نیاز،
عَرِیضُ الْکِبْرِیائِ قادِرٌ عَلی مَا تَشائُ قَرِیبُ الرَّحْمَةِ ، صَادِقُ الْوَعْدِ، سَابِغُ النِّعْمَةِ،
بے حد و حساب بڑائی والاہے جو چاہے اس پر قادر، رحمت کرنے میں قریب، وعدے میں سچا، کامل نعمتوں والا،
حَسَنُ الْبَلائِ، قَرِیبٌ إذا دُعِیتَ، مُحِیطٌ بِما خَلَقْتَ، قابِلُ التَّوْبَةِ لِمَنْ تابَ إلَیْکَ،
بہترین آزمائش کرنے والاہے تو قریب ہے جب پکارا جائے جسکو پیدا کیا تو اسے گھیرے ہوئے ہے تو اسکی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے
قادِرٌ عَلی مَا أَرَدْتَ ، وَمُدْرِکٌ مَا طَلَبْتَ، وَشَکُورٌ إذا شُکِرْتَ، وَذَ کُورٌ إذا ذُکِرْتَ،
تو جو ارادہ کرے اس پر قادر ہے جسے تو طلب کرے اسے پالینے والا ہے اور جب تیرا شکر کیا جائے تو قدر کرتا ہے تجھے یاد کیا جائے
أَدْعُوکَ مُحْتاجاً، وَأَرْغَبُ إلَیْکَ فَقِیراً، وَأَ فْزَعُ إلَیْکَ خائِفاً، وَأَبْکِی إلَیْکَ
تو بھی یاد کرتا ہے میں حاجتمندی میں تجھے پکارتا اور مفلسی میں تیری رغبت کرتا ہوں تیرے خوف سے گھبراتا ہوں مصیبت میں تیرے
مَکْرُوباً، وَأَسْتَعِینُ بِکَ ضَعِیفاً، وَأَ تَوَکَّلُ عَلَیْکَ کافِیاً، احْکُمْ بَیْنَنا وَبَیْنَ قَوْمِنا
آگے روتا ہوں کمزوری کے باعث تجھ سے مدد مانگتا ہوں تجھے کافی جان کر توکل کرتا ہوں فیصلہ کردے ہمارے اور ہماری قوم کے
بِالْحَقِّ، فَ إنَّهُمْ غَرُّونا وَخَدَعُونا وَخَذَلُونا وَغَدَرُوا بِنا وَقَتَلُونا، وَنَحْنُ عِتْرَةُ نَبِیِّکَ
درمیان کہ انہوں نے ہمیں فریب دیا اور ہم سے دھوکہ کیا ہمیں چھوڑدیا اور بے وفائی کی اور ہمیں قتل کیا جبکہ ہم تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کا گھرانہ اور
وَوَلَدُ حَبِیبِکَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِﷲ الَّذِی اصْطَفَیْتَهُ بِالرِّسالَةِ وَائْتَمَنْتَهُ عَلی وَحْیِکَ،
تیرے حبیب محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن عبداللہ کی اولاد ہیں جن کو تو نے تبلیغ رسالت کے لیے چنا اور انہیں اپنی وحی کا امین بنایا
فَاجْعَلْ لَنا مِنْ أَمْرِنا فَرَجاً وَمَخْرَجاً بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
پس اس معاملے میں ہمیں کشادگی اور فراخی دے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم والے۔
ابن عیاش سے روایت ہے کہ میں نے حسین بن علی بن سفیان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ امام جعفر صادق -تین شعبان کو مذکورہ دعا پڑھتے اور فرماتے تھے کہ یہ امام حسین کی پاک ولادت کا دن ہے۔
تیرھویں شعبان کی رات
یہ شب ہائے بیض(روشن راتوں) میں سے پہلی رات ہے، اس رات اور اس کے بعد کی دونوں راتوں میں پڑھی جانے والی نمازوں کی ترکیب ماہ رجب کے اعمال میں ذکر ہوئی ہے۔ پس ا سکے مطابق یہ نمازیں ادا کی جائیں۔
فضیلت و اعمال نیمہ شعبان
پندرھویں شعبان کی رات
یہ بڑی بابرکت رات ہے، امام جعفر صادق -فرماتے ہیں کہ امام محمد باقر -سے نیمہ شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ رات شب قدر کے علاوہ تمام راتوں سے افضل ہے۔ پس اس رات تقرب الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ اس رات خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر فضل و کرم فرماتا ہے اور ان کے گناہ معاف کرتا ہے حق تعالیٰ نے اپنی ذاتِ مقدس کی قسم کھائی ہے کہ اس رات وہ کسی سائل کو خالی نہ لوٹائے گا سوائے اس کے جو معصیت و نافرمانی سے متعلق سوال کرے۔ خدا نے یہ رات ہمارے لیے خاص کی ہے۔ جیسے شب قدر کو رسول اکرم کے لیے مخصوص فرمایا۔ پس اس شب میں زیادہ سے زیادہ حمد و ثنائ الٰہی کرنا اس سے دعا و مناجات میں مصروف رہنا چاہیئے۔
اس رات کی عظیم بشارت سلطان عصر حضرت امام مہدی (عج)کی ولادت باسعادت ہے جو ۵۵۲ ھ میں بوقت صبح صادق سامرہ میں ہوئی جس سے اس رات کو فضیلت نصیب ہوئی۔
اس رات کے چند ایک اعمال ہیں :
( ۱ )غسل کرنا کہ جس سے گناہ کم ہوجاتے ہیں۔
( ۲ )نماز اور دعا و استغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام زین العابدین -کا فرمان ہے، کہ جو شخص اس رات بیدار رہے تو اس کے دل کو اس دن موت نہیں آئے گی۔ جس دن لوگوں کے قلوب مردہ ہوجائیں گے۔
( ۳ )اس رات کا سب سے بہترین عمل امام حسین -کی زیارت ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیںجو شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروںکی ارواح اس سے مصافحہ کریں تو وہ کبھی اس رات یہ زیارت ترک نہ کرے۔ حضرتعليهالسلام کی چھوٹی سے چھوٹی زیارت بھی ہے کہ اپنے گھر کی چھت پر جائے اپنے دائیں بائیں نظر کرے۔ پھر اپنا سر آسمان کی طرف بلند کرکے یہ کلمات کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَبَا عَبْدِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَکَاتُهُ
سلام ہو آپ پر اے ابوعبداعليهالسلام للہ سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں
کوئی شخص جہاں بھی اور جب بھی امام حسین -کی یہ مختصر زیارت پڑھے تو امید ہے کہ اس کو حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔نیز اس رات کی مخصوص زیارت انشائ اللہ باب زیارات میںآئیگی۔
( ۴ )شیخ و سید نے اس رات یہ دعا پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے، جو امام زمانہ کی زیارت کے مثل ہے اور وہ یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ لَیْلَتِنا هذِهِ وَمَوْلُودِها وَحُجَّتِکَ وَمَوْعُودِهَا الَّتِی قَرَنْتَ إلی فَضْلِها فَضْلاً
اے معبود! واسطہ ہماری اس رات کا اور اس کے مولود کا اور تیری حجتعليهالسلام اور اس کے موعودعليهالسلام کا جس کو تو نے فضیلت پر فضیلت عطا کی
فَتَمَّتْ کَلِمَتُکَ صِدْقاً وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِماتِکَ وَلاَ مُعَقِّبَ لآَِیاتِکَ نُورُکَ الْمُتَأَلِّقُ
اور تیرا کلمہ صدق و عدل کے لحاظ سے پورا ہوگیا تیرے کلموںکو بدلنے والا کوئی نہیں اورنہ کوئی تیری آیتوں کا مقابلہ کرنیوالا ہے وہ
وَضِیاؤُکَ الْمُشْرِقُ، وَالْعَلَمُ النُّورُ فِی طَخْیائِ الدَّیْجُورِ، الْغائِبُ الْمَسْتُورُ جَلَّ
(مہدی موعودعليهالسلام ) تیرا نور تاباں اور جھلملاتی روشنی ہے وہ نور کا ستون، شان والی سیاہ رات کی تاریکی میں پنہاںو پوشیدہ ہے اس کی
مَوْلِدُهُ، وَکَرُمَ مَحْتِدُهُ، وَالْمَلائِکَةُ شُهَّدُهُ، وَﷲ ناصِرُهُ وَمُؤَیِّدُهُ، إذا آنَ مِیعادُهُ
ولادت بلند مرتبہ ہے اس کی اصل، فرشتے ا س کے گواہ ہیں اور اللہ ا سکا مدد گار و حامی ہے جب اس کے وعدے کا وقت آئے گا
وَالْمَلائِکَةُ أَمْدادُهُ، سَیْفُ ﷲ الَّذِی لاَ یَنْبُو، وَنُورُهُ الَّذِی لاَ یَخْبُو، وَذُو الْحِلْمِ
اور فرشتے اس کے معاون ہیں وہ خدا کی تلوار ہے جو کند نہیں ہوتی اور اس کا ایسا نور ہے جو ماند نہیں پڑتا وہ ایسا بردبار ہے
الَّذِی لاَ یَصْبُو، مَدارُ الدَّهْرِ، وَنَوامِیسُ الْعَصْرِ، وَوُلاةُ الْاَمْرِ، وَالْمُنَزَّلُ عَلَیْهِمْ
جو حد سے نہیں نکلتا وہ ہر زمانے کا سہارا ہے یہ معصومینعليهالسلام ہر عہد کی عزت اور والیان امر ہیں جو کچھ شبِ قدر میں نازل کیا جاتا ہے
مَا یَتَنَزَّلُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ، وَأَصْحابُ الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ، تَراجِمَةُ وَحْیِهِ، وَوُلاةُ أَمْرِهِ
انہی پر نازل ہوتا ہے وہی حشر و نشر میں ساتھ دینے والے اس کی وحی کے ترجمان اور اس کے امر و نہی
وَنَهْیِهِ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی خاتِمِهِمْ وَقائِمِهِمُ الْمَسْتُورِ عَنْ عَوالِمِهِمْ اَللّٰهُمَّ وَأَدْرِکْ
کے نگران ہیں اے معبود! پس ان کے خاتم اور ان کے قائم پر رحمت فرما جو اس کائنات سے پوشیدہ ہیں اے معبود! ہمیں اس کا زمانہ
بِنا أَیَّامَهُ وَظُهُورَهُ وَقِیامَهُ، وَاجْعَلْنا مِنْ أَ نْصارِهِ، وَاقْرِنْ ثأْرَنا بِثَأْرِهِ، وَاکْتُبْنا
اس کا ظہور اور قیام دیکھنا نصیب فرما اور ہمیں اس کے مددگاروں میں قرار دے ہمارا اور اس کا انتقام ایک کردے اور ہمیں اس کے
فِی أَعْوانِهِ وَخُلَصائِهِ، وَأَحْیِنا فِی دَوْلَتِهِ ناعِمِینَ، وَبِصُحْبَتِهِ غانِمِینَ ، وَبِحَقِّهِ
مددگاروں اور مخلصوں میں لکھ دے ہمیں اسکی حکومت میں زندگی کی نعمت عطا کر اور اسکی صحبت سے بہرہ یاب فرما اسکے حق میں قیام کرنے
قائِمِینَ، وَمِنَ السُّوئِ سالِمِینَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ،
والے اور برائی سے محفوظ رہنے کی توفیق دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور حمد اللہ ہی کیلئے ہے جو جہانوںکا پروردگار ہے
وَصَلَواتُهُ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ الصَّادِقِینَ
اور اسکی رحمتیں ہوں ہمارے سردار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جو نبیوں اور رسولوں کے خاتم ہیں اور انکے اہل پر جو ہر حال میں سچ بولنے والے ہیں اور انکے
وَعِتْرَتِهِ النَّاطِقِینَ، وَالْعَنْ جَمِیعَ الظَّالِمِینَ، وَاحْکُمْ بَیْنَنا وَبَیْنَهُمْ یَا أَحْکَمَ الْحاکِمِینَ
اہل خاندان پر جو حق کے ترجمان ہیں اور لعنت کرتمام ظلم کرنے والوں پر اور فیصلہ کر ہمارے اور ان کے درمیان اے سب سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والے۔
( ۵ )شیخ نے اسماعیل بن فضل ہاشمی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
امام جعفر صادق -نے پندرہ شعبان کی رات کو پڑھنے کیلئے مجھے یہ دعا تعلیم فرمائی:
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ الْخالِقُ الرَّازِقُ الْمُحْیِی الْمُمِیتُ الْبَدِیئُ
اے معبود! تو زندہ وپائندہ، بلندتر، بزرگتر خلق کرنے والا، رزق دینے والا، زندہ کرنے والا، موت دینے والا، آغاز کرنے
الْبَدِیعُ لَکَ الْجَلالُ وَلَکَ الْفَضْلُ وَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الْمَنُّ وَلَکَ الْجُودُ وَلَکَ الْکَرَمُ
اور ایجاد کرنے والا ہے تیرے لیے جلالت اور تیرے ہی لیے بزرگی ہے تیری ہی حمد ہے اور تو ہی احسان کرتا ہے اور تو ہی سخاوت والا ہے
وَلَکَ الْاَمْرُ، وَلَکَ الْمَجْدُ، وَلَکَ الشُّکْرُ، وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ، یَا واحِدُ یَا
تو ہی صاحب کرم اور تو ہی امر کا مالک ہے تو ہی شان والا اور تو ہی لائق شکر ہے تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اے یکتا، اے
أَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ
یگانہ، اے بے نیاز، اے وہ جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہوسکتا ہے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
آلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاکْفِنِی مَا أَهَمَّنِی وَاقْضِ دَیْنِی، وَوَسِّعْ عَلَیَّ فِی
پر رحمت فرما اور مجھے بخش دے مجھ پر رحمت فرما کٹھن کاموں میں میری کفایت فرما میرا قرض ادا کردے میرے رزق میں
رِزْقِی، فَ إنَّکَ فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ کُلَّ أَمْرٍ حَکِیمٍ تَفْرُقُ، وَمَنْ تَشائُ مِنْ خَلْقِکَ تَرْزُقُ،
کشائش فرما کہ تو اسی رات میں ہر حکمت والے کام کی تدبیر کرتا ہے اور اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے رزق و روزی دیتا ہے،
فَارْزُقْنِی وَأَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ، فَ إنَّکَ قُلْتَ وَأَ نْتَ خَیْرُ الْقائِلِینَ النَّاطِقِینَ
پس مجھے بھی رزق دے کیونکہ تو ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے یقینا یہ تیرا ہی فرمان ہے اور تو بہتر ہے سب کہنے والوں بولنے
وَاسْأَلُوا ﷲ مِنْ فَضْلِهِ فَمِنْ فَضْلِکَ أَسْأَلُ وَ إیَّاکَ قَصَدْتُ، وَابْنَ نَبِیِّکَ اعْتَمَدْتُ،
والوں میں کہ مانگو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل میں سے پس میں تیرے فضل کا سوال کرتاہوں اور بس تیرا ہی ارادہ رکھتا ہوںتیرے
وَلَکَ رَجَوْتُ، فَارْحَمْنِی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند کو اپنا سہارابناتا ہوں اور تجھی سے امید رکھتا ہوں پس مجھ پر رحم فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
( ۶ )یہ دعا پڑھے کہ رسول اکرم اس رات یہ دعا پڑھتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ اقْسِمْ لَنا مِنْ خَشْیَتِکَ مَا یَحُولُ بَیْنَنا وَبَیْنَ مَعْصِیَتِکَ، وَمِنْ
اے معبود! ہمیں اپنے خوف کا اتنا حصہ دے جو ہمارے اور ہماری طرف سے تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن جائے اور
طاعَتِکَ مَا تُبَلِّغُنا بِهِ رِضْوانَکَ، وَمِنَ الْیَقِینِ مَا یَهُونُ عَلَیْنا بِهِ
فرمانبرداری سے اتنا حصہ دے کہ اس سے ہم تیری خوشنودی حاصل کرسکیں اور اتنا یقین عطا کر کہ جس کی بدولت دنیا کی تکلیفیں ہمیں
مُصِیباتُ الدُّنْیا اَللّٰهُمَّ أَمْتِعْنا بِأَسْماعِنا وَأَبْصارِنا وَقُوَّتِنا مَا أَحْیَیْتَنا وَاجْعَلْهُ
سبک معلوم ہوں اے معبود! جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ہمیں ہمارے کانوں، آنکھوں اور قوت سے مستفید فرما اور اس قائمعليهالسلام کو ہمارا
الْوارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثأْرَنا عَلَی مَنْ ظَلَمَنا، وَانْصُرْنا عَلَی مَنْ عادانا، وَلاَ تَجْعَلْ
وارث بنا اور ان سے بدلہ لینے والا قرار دے جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرما اور ہمارے دین میں
مُصِیبَتَنا فِی دِینِنا، وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْیا أَکْبَرَ هَمِّنا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنا، وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَیْنا
ہمارے لیے کوئی مصیبت نہ لا اور ہماری ہمت اور ہمارے علم کے لیے دنیا کو بڑا مقصد قرار نہ دے اور ہم پر اس شخص کو غالب نہ کر
مَنْ لاَ یَرْحَمُنا، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
جو ہم پر رحم نہ کرے واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم والے۔
یہ دعا جامع و کامل ہے۔ پس اسے دیگر اوقات میں بھی پڑھیں۔ جیسا کہ عوالی اللئالی میں مذکور ہے کہ رسول اللہ یہ دعا ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
( ۷ )وہ صلوٰت پڑھے جو ہر روز بوقت زوال پڑھا جاتا ہے۔
( ۸ )اس رات دعائ کمیل پڑھنے کی بھی روایت ہوئی ہے اور یہ دعا باب اول میں ذکر ہوچکی ہے۔
( ۹ )یہ تسبیحات سو مرتبہ پڑھے تا کہ حق تعالی ٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کردے اور دنیا وآخرت کی حاجات پوری فرما دے:
سُبْحَانَ ﷲ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ ﷲ اَکْبَرُ وَ لَا اِلَهَ اِلَّا ﷲ
اللہ پاک تر ہے اور حمد اللہ ہی کی ہے اللہ بزرگتر ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
(۱۰)مصباح میں شیخ نے ابو یحییٰ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے امام جعفر صادق -سے پوچھا کہ اس رات کیلئے بہترین دعا ئ کونسی ہے؟
حضرت نے فرمایا اس رات نمازِعشا کے بعد دو رکعت نماز پڑھے جس کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد اور سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سور ہ الحمد اور سورہ توحید پڑھے نماز کا سلام دینے کے بعد ۳۳/ مرتبہ سبحان اللہ۔ ۳۳ / مرتبہ الحمد للہ اور ۳۴/مرتبہ اللہ اکبر کہے۔ بعد میں یہ دعا پڑھے:
یَا مَنْ إلَیْهِ مَلْجَأُ الْعِبادِ فِی الْمُهِمَّاتِ وَ إلَیْهِ یَفْزَعُ الْخَلْقُ فِی الْمُلِمّاتِ یَا عالِمَ
اے وہ جو مشکل کاموں میں بندوں کی پناہ گاہ ہے اور جس کی طرف لوگ ہر مصیبت کے وقت فریادی ہوتے ہیں اے سب چھپی اور
الْجَهْرِ وَالْخَفِیّاتِ، یَا مَنْ لاَ تَخْفی عَلَیْهِ خَواطِرُ الْاَوْهامِ وَتَصَرُّفُ الْخَطَراتِ، یَا
کھلی چیزوں کے جاننے والے اے وہ جس پر لوگوں کے وہم و خیال اور دلوں میں گردش کرنے والے اندیشے بھی پوشیدہ نہیںاے
رَبَّ الْخَلائِقِ وَالْبَرِیَّاتِ، یَا مَنْ بِیَدِهِ مَلَکُوتُ الْاَرَضِینَ وَالسَّماواتِ، أَ نْتَ ﷲ لاَ
مخلوقات و موجودات کے پروردگار اے وہ ذات کہ زمینوں اور آسمانوں کی حکمرانی جس کے قبضہ قدرت میں ہے تو ہی معبود ہے
إلهَ إلاَّ أَ نْتَ، أَمُتُّ إلَیْکَ بِلا إلهَ إلاَّ أَ نْتَ، فَیا لا إلهَ إلاَّ أَ نْتَ اجْعَلْنِی فِی
تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تیری طرف متوجہ ہوں اس لیے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیںپس اے (ﷲ) تیرے سوا کوئی معبود نہیں
هذِهِ اللَّیْلَةِ مِمَّنْ نَظَرْتَ إلَیْهِ فَرَحِمْتَهُ، وَسَمِعْتَ دُعائَهُ فَأَجَبْتَهُ،
اس رات میں مجھے ان لوگوں میں قرار دے جن پر تو نے نظر کرم فرمائی تو نے ان پر مہربانی کی ان کی دعا سنی تو نے اور اسے شرف
وَعَلِمْتَ اسْتِقالَتَهُ فَأَ قَلْتَهُ، وَتَجاوَزْتَ عَنْ سالِفِ خَطِیئَتِهِ وَعَظِیمِ جَرِیرَتِهِ،
قبولیت بخشا تو ان کی پشیمانی سے آگاہ ہوا تو انہیں معاف کردیا اور ان کے سب پچھلے گناہوں اور بڑے بڑے جرائم پر عفو ودرگذر
فَقَدِ اسْتَجَرْتُ بِکَ مِنْ ذُ نُوبِی، وَلَجَأْتُ إلَیْکَ فِی سَتْرِ عُیُوبِی
سے کام لیا پس میں اپنے گناہوں سے تیری پناہ کا طالب ہوں اور اپنے عیبوں کی پردہ پوشی کے لیے تجھ سے التجا کرتا ہوں
اَللّٰهُمَّ فَجُدْ عَلَیَّ بِکَرَمِکَ وَفَضلِکَ وَاحْطُطْ خَطایایَ بِحِلْمِکَ وَعَفْوِکَ وَتَغَمَّدْنِی
اے معبود! مجھ پر اپنے فضل و کرم سے عطا و بخشش فرما اور اپنی نرم خوئی اور درگزر کے ذریعے میری خطائیں بخش دے اس رات میں
فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ بِسابِغِ کَرامَتِکَ، وَاجْعَلْنِی فِیها مِنْ أَوْلِیائِکَ الَّذِینَ اجْتَبَیْتَهُمْ
مجھ کو اپنے انتہائی کرم کے سائے تلے لے لے اور اس شب میں مجھے اپنے ان پیاروں میں قرار دے جن کو تو نے اپنی
لِطاعَتِکَ، وَاخْتَرْتَهُمْ لِعِبادَتِکَ، وَجَعَلْتَهُمْ خالِصَتَکَ وَصِفْوَتَکَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی
فرمانبرداری کیلئے پسند کیا اپنی عبادت کے لیے چنا اور ان کو اپنے خاص الخاص اور برگزیدہ بنایا ہے اے معبود! مجھے ان لوگوں
مِمَّنْ سَعَدَ جَدُّهُ، وَتَوَفَّرَ مِنَ الْخَیْراتِ حَظُّهُ، وَاجْعَلْنِی مِمَّنْ سَلِمَ فَنَعِمَ، وَفازَ
میں قرار دے جنکا نصیب اچھا اور نیک کاموں میں جن کا حصہ زیادہ ہے اور مجھے ان لوگوںمیںرکھ جو تندرست، نعمت یافتہ، کامران
فَغَنِمَ وَاکْفِنِی شَرَّ مَا أَسْلَفْتُ، وَاعْصِمْنِی مِنَ الازْدِیادِ فِی مَعْصِیَتِکَ، وَحَبِّبْ إلَیَّ
اور فائدہ پانے والے ہیں اور جو کچھ میں نے کیا اس کے شر سے بچا مجھے اپنی نافرمانی میںبڑھ جانے سے محفوظ رکھ مجھے اپنی
طاعَتَکَ وَمَا یُقَرِّبُنِی مِنْکَ وَیُزْلِفُنِی عِنْدَکَ سَیِّدِی إلَیْکَ یَلْجَأُ الْهارِبُ،
فرمانبرداری کا شوق دے اور اسکا جو مجھے تیرے قریب کرے اور مجھے تیرا پسندیدہ بنائے میرے سردار، بھاگنے والا، تیرے ہاں پناہ
وَمِنْکَ یَلْتَمِسُ الطَّالِبُ، وَعَلَی کَرَمِکَ یُعَوِّلُ الْمُسْتَقِیلُ التَّائِبُ، أَدَّ بْتَ عِبادَکَ
لیتا ہے طلبگار تیرے حضور عرض کرتا ہے اور پشیمان ہونے اور توبہ کرنے والا تیرے فضل و کرم پر بھروسہ کرتا ہے تو اپنی کریمی و مہربانی
بِالتَّکَرُّمِ وَأَ نْتَ أَکْرَمُ الْاَکْرَمِینَ، وَأَمَرْتَ بِالْعَفْوِ عِبادَکَ وَأَ نْتَ الْغَفُورُ
سے بندوں کی پرورش کرتا ہے اور تو سب سے زیادہ کرم کرنیوالا ہے تو نے اپنے بندوں کو معاف کرنے کا حکم دیا اور تو بہت بخشنے والا
الرَّحِیمُ اَللّٰهُمَّ فَلا تَحْرِمْنِی مَا رَجَوْتُ مِنْ کَرَمِکَ، وَلا تُؤْیِسْنِی مِنْ سابِغِ نِعَمِکَ،
رحم کرنے والا ہے اے معبود! پس میں نے تیرے کرم کی جو امید لگارکھی ہے اس سے محروم نہ کرمجھے اپنی کثیر نعمتوں سے ناامید نہ ہونے
وَلاَ تُخَیِّبْنِی مِنْ جَزِیلِ قِسَمِکَ فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ لاََِهْلِ طاعَتِکَ وَاجْعَلْنِی فِی جُنَّةٍ مِنْ
دے اور آج کی رات اس بیشتر عطا سے محروم نہ کر جو تو نے اپنے فرمانبرداروںکیلئے مقرر کی ہوئی ہے اور مجھے اپنی مخلوق کی اذیتوں
شِرارِ بَرِیَّتِکَ، رَبِّ إنْ لَمْ أَکُنْ مِنْ أَهْلِ ذلِکَ فَأَ نْتَ أَهْلُ الْکَرَمِ وَالْعَفْوِ وَالْمَغْفِرَةِ،
سے امان میں قرار رکھ میرے پروردگار! اگر میں اس سلوک کے لائق نہیںپس تو مہربانی کرنے، معافی دینے اور بخش دینے کا اہل ہے
وَجُدْ عَلَیَّ بِما أَ نْتَ أَهْلُهُ لاَ بِما أَسْتَحِقُّهُ فَقَدْ حَسُنَ ظَنِّی بِکَ، وَتَحَقَّقَ رَجائِی لَکَ
اور مجھ پر ایسی بخشش فرما جو تیرے لائق ہے نہ وہ کہ جس کامیں حقدار ہوںپس میں تجھ سے اچھا گمان رکھتا ہوںمیری امید تجھی سے لگی ہوئی ہے
وَعَلِقَتْ نَفْسِی بِکَرَمِکَ فَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ وَأَکْرَمُ الْاَکْرَمِینَ
اور میرا نفس تیرے کرم سے تعلق جوڑے ہوئے ہے جبکہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور سب سے بڑھ کر مہربانی کرنیوالا ہے
اَللّٰهُمَّ وَاخْصُصْنِی مِنْ کَرَمِکَ بِجَزِیلِ قِسَمِکَ، وَأَعُوذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ،
اے معبود! مجھے اپنی مہربانی و بخشش سے زیادہ حصہ دینے میں خصوصیت عطافرما اور میںتیرے عذاب سے، تیرے عفو کی پناہ لیتا ہوں
وَاغْفِرْ لِیَ الذَّنْبَ الَّذِی یَحْبِسُ عَلَیَّ الْخُلُقَ وَیُضَیِّقُ عَلَیَّ الرِّزْقَ حَتَّی أَقُومَ
میرا وہ گناہ بخش دے کہ جس نے مجھ کو بدخلقی میں پھنسادیا اور میری روزی میں تنگی کا باعث ہے تاکہ میں تیری بہترین رضا
بِصالِحِ رِضاکَ، وَأَ نْعَمَ بِجَزِیلِ عَطائِکَ، وَأَسْعَدَ بِسابِغِ نَعْمائِکَ، فَقَدْ لُذْتُ
حاصل کرسکوں تو اپنی مہربانی سے مجھے نعمتیں عنایت فرما اور اپنی کثیر نعمتوں سے مجھے بہرہ مند کردے کیونکہ میں نے تیرے آستان پر
بِحَرَمِکَ وَتَعَرَّضْتُ لِکَرَمِکَ وَاسْتَعَذْتُ بِعَفْوِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَبِحِلْمِکَ مِنْ غَضَبِکَ
پناہ لی اور تیری بخشش کی امید لگائے ہوں اور میں تیرے عذاب سے عفو کی پناہ لیتا ہوں اور تیرے غضب سے تیری نرم خوئی کی پناہ لیتا ہوں
فَجُدْ بِما سَأَلْتُکَ، وَأَنِلْ مَا الْتَمَسْتُ مِنْکَ، أَسْأَ لُکَ بِکَ لاَبِشَیْئٍ
پس مجھے وہ دے جس کا میںنے تجھ سے سوال کیا ہے اس میںکامیاب کر جس کی تجھ سے خواہش کی ہے میں تجھ سے تیرے ہی
ھُوَ ٲَعْظَمُ مِنْکَ ۔ پھر سجدے میں جاکر بیس مرتبے کہے : یَا رَبِّ سات مرتبہ: یَا ﷲ سات مرتبہ:
ذریعے سوال کرتا ہوں کہ تجھ سے بزرگتر کوئی چیز نہیں ہے ۔ اے پروردگار اے معبود
لَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ اِلَّا بِالله دس مرتبہ مَا شَائَ ﷲ اور دس مرتبہ:لَا قُوَّةَ اِلَّا بِالله کہے:
نہیںکوئی طاقت و قوت مگر وہ جو اللہ سے ہے جو کچھ خدا چاہے نہیں کوئی قوت مگر خدا کی۔
پھر رسول اللہ اور ان کی آل پر درود بھیجے اور بعد میں اپنی حاجات طلب کرے۔ قسم بخدا اگر کسی کی حاجات بارش کے قطروں جتنی ہوںتو بھی حق تعالیٰ اپنے وسیع فضل و کرم اور اس عمل کی برکت سے وہ تمام حاجات برلائے گا۔
( ۱۱ )شیخ طوسی اور کفعمی نے فرمایا ہے کہ اس رات یہ دعا پڑھے:
إلهِی تَعَرَّضَ لَکَ فِی هذَا اللَّیْلِ الْمُتَعَرِّضُونَ، وَقَصَدَکَ الْقاصِدُونَ
میرے معبود! طلب کرنیوالوں نے آج رات خود کو تیرے ہی سامنے پیش کیا ہے ارادہ کرنیوالوں نے تیری ہی بارگاہ کا ارادہ کیا ہے
وَأَمَّلَ فَضْلَکَ وَمَعْرُوفَکَ الطّالِبُونَ، وَلَکَ فِی هذَا اللَّیْلِ نَفَحاتٌ
اور حاجتمندوں نے تیری ہی فضل و احسان سے امید باندھی ہوئی ہے آج کی رات تیری مہربانیاں، تیری بخشش، تیری عطائیں
وَجَوائِزُ وَعَطایا وَمَواهِبُ تَمُنُّ بِها عَلَی مَنْ تَشائُ مِنْ عِبادِکَ، وَتَمْنَعُها مَنْ لَمْ
اور تیرے ہی انعام ہیں کہ تو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے ان سے احسان فرمائے اور جس پر تیری توجہ اور عنایت نہ ہوئی ہو
تَسْبِقْ لَهُ الْعِنایَةُ مِنْکَ وَها أَنَا ذا عُبَیْدُکَ الْفَقِیرُ إلَیْکَ الْمُؤَمِّلُ فَضْلَکَ وَمَعْرُوفَکَ
اس سے روک لے اور یہ میںہوں تیراحقیر بندہ کہ تیرا محتاج ہوں اور تیرے فضل و احسان کی امید وار ہوں
فَ إنْ کُنْتَ یَا مَوْلایَ تَفَضَّلْتَ فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ عَلَی أَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ وَعُدْتَ عَلَیْهِ
پس اے میرے مولا! اگر آج کی رات میں تو اپنی مخلوق میںکسی پر فضل و کرم کرے اور اس کو انعام عطا فرمائے اور وہ انعام عطا
بِعائِدَةٍ مِنْ عَطْفِکَ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ الْخَیِّرِینَ
فرمائے جو تیری مہربانی کے ساتھ ہو تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما جوپاکیزہ ہیں، نیکو کار ہیں
الْفاضِلِینَ وَجُدْ عَلَیَّ بِطَوْ لِکَ وَمَعْرُوفِکَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ
اور با فضیلت ہیں اور اپنے فضل اور احسان سے مجھ پر بخشش کر اے جہانوں کے پالنے والے اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ﷲ کی رحمت ہوجو نبیوں
خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً إنَّ ﷲ حَمِیدٌ مَجِیدٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی
میں آخری نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور ان کی آلعليهالسلام پر جو پاکیزہ ہیں اور سلام ہو بہت سلام بے شک اللہ خوبی والااور شان والا ہے اے معبود! میں
أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَ فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَ إنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیعادَ
تجھ سے دعا کرتا ہوں جیسے تو نے حکم دیا تو اپنے وعدے کے مطابق اسے قبول فرما کیونکہ تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
یہ وہ دعا ہے جو نماز شفع کے بعد بھی پڑھی جاتی ہے۔
(۱۲)اس رات نماز تہجد کی ہر دو رکعت کے بعد اور نماز شفع اور وتر کے بعد وہ دعا پڑھے کہ جو شیخ و سید نے نقل فرمائی ہے۔
(۱۳)سجدے اور دعائیں جو رسول اللہ سے مروی ہیں وہ بجا لائے اور ان میں سے ایک وہ روایت ہے جو شیخ نے حماد بن عیسیٰ سے ، انہوںنے ابان بن تغلب سے اور انہوں نے کہا کہ امام جعفر صادق -نے فرمایا کہ جب پندرہ شعبان کی رات آئی تو اس رات رسول اللہ بی بی عائشہ کے ہاں تھے جب آدھی رات گزرگئی تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم بغرض عبادت اپنے بستر سے اٹھ گئے، بی بی بیدار ہوئیں تو حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا انہیں وہ غیرت آگئی جو عورتوں کا خاصا ہے۔ ان کا گمان تھا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔ پس وہ چادر اوڑھ کر حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ڈھونڈتی ہوئی ازواج رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حجروں میں گئیں۔ مگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کہیں نہ پایا۔ پھر اچانک ان کی نظر پڑی تو دیکھا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم زمین پر مثل کپڑے کے سجدے میں پڑے ہیں۔ وہ قریب ہوئیں تو سناکہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم سجدے میںیہ دعا پڑھ رہے ہیں۔
سَجَدَ لَکَ سَوادِی وَخَیالِی، وَ آمَنَ بِکَ فُؤادِی، هذِهِ یَدایَ وَمَا جَنَیْتُهُ
سجدہ کیا تیرے آگے میرے بدن اور میرے خیال نے اور ایمان لایا ہے تجھ پر میرا دل یہ ہیںمیرے دونوں ہاتھ اور جو ستم میں نے
عَلَی نَفْسِی، یَا عَظِیمُ تُرْجی لِکُلِّ عَظِیمٍ اغْفِرْ لِیَ الْعَظِیمَ فَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذَّنْبَ
خود پر کیا ہے اے بڑائی والے جس سے امید ہے بڑے کام کی تو میرے بڑے بڑے گناہ بخش دے کیونکہ بڑے گناہوں کو سوائے
الْعَظِیمَ إلاَّ الرَّبُّ الْعَظِیمُ
بڑائی والے پروردگار کے کوئی بخش نہیں سکتا۔
پھر آنحضرت سجدے سے سر اٹھاکر دوبارہ سجدے میں گئے اوربی بی عائشہ نے سنا کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پڑھ رہے تھے:
أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِکَ الَّذِی أَضائَتْ لَهُ السَّماواتُ وَالْاَرَضُونَ وَانْکَشَفَتْ لَهُ الظُّلُماتُ
پناہ لیتا ہوں میں تیرے نورِ ذات کی جس سے آسمانوں اور زمینوں نے روشنی حاصل کی اور جس سے تاریکیاں چھٹ گئیں
وَصَلَحَ عَلَیْهِ أَمْرُ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ مِنْ فُجْأَةِ نَقِمَتِکَ، وَمِنْ تَحْوِیلِ عافِیَتِکَ وَمِنْ
اور اسکی بدولت اولین اورآخرین کا کام بن گیا کہ وہ تیرے ناگہانی عذاب سے امن کے چھن جانے اور تیری نعمتوں کے زائل ہو
زَوالِ نِعْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی قَلْباً تَقِیّاً نَقِیّاً وَمِنَ الشِّرْکِ بَریئاً لاَ کافِراً وَلاَ شَقِیّاً،
جانے کی سختیوں سے بچ گئے اے معبود!مجھے پاک اور پرہیزگار دل دے کہ جو شرک سے پاک ہو اور نہ حق سے انکاری ہو نہ بے رحم ہو۔
پس آپ نے اپنے چہرے کو دونوں طرف سے خاک پر رکھا اور یہ پڑھا:
عَفَّرْتُ وَجْهِیْ فِیْ التُّرَابِ وَحُقَّ لِّیْٓ اَنْ اَسْجُدَ لَکَ
میںنے اپنے چہرے کو خاک پر رکھا ہے اور میرے لیے ضروری ہے کہ تیرے آگے سجدہ کروں
جونہی رسول اکرم اٹھے تو بی بی عائشہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پہچان کر جھٹ سے اپنے بستر پر آلیٹیں۔ جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے بستر پر آئے تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دیکھا کہ ان بی بی کا سانس تیز تیز چل رہاہے، اس پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: تمہارا سانس کیوں اکھڑا ہوا ہے؟ آیا تمہیں نہیں معلوم کہ آج کونسی رات ہے؟ یہ پندرہ شعبان کی رات ہے۔ اس میں روزی تقسیم ہوتی ہے۔ زندگی کی میعاد مقرر ہوتی ہے، حج پر جانے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔ قبیلہ بنی کلب کی بکریوںکے بالوں سے زیادہ تعداد میں گناہگار افراد بخشے جاتے ہیں اور ملائکہ آسمان سے زمین مکہ پر نازل ہوتے ہیں۔
(۱۴)اس رات نماز جعفر طیارعليهالسلام بجا لائے، جو شیخ نے امام علی رضا -سے روایت کی ہے۔
( ۵۱ )اس رات کی مخصوص نمازیں پڑھے جو کئی ایک ہیں، ان میں سے ایک وہ نماز ہے جو ابو یحییٰ صنعانی نے حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق +سے نیز دیگر تیس معتبر اشخاص نے بھی ان سے روایت کی ہے۔ کہ فرمایا:
پندرہ شعبان کی رات چار رکعت نماز بجا لائے کہ ہر رکعت میںسورہ الحمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی إلَیْکَ فَقِیرٌ، وَمِنْ عَذابِکَ خائِفٌ مُسْتَجِیرٌ اَللّٰهُمَّ لاَ تُبَدِّلِ اسْمِی
اے معبود! میں تیرا محتاج ہوں اور تیرے عذاب سے خوف کھاتا ہوں اور اس سے پناہ ڈھونڈتا ہوں اے معبود! میرا نام تبدیل نہ کر
وَلاَ تُغَیِّرْ جِسْمِی، وَلاَ تَجْهَدْ بَلائِی، وَلاَ تُشْمِتْ بِی أَعْدائِی ، أَعُوذُ بِعَفْوِکَ مِنْ
اور میرے جسم کو دگرگوں نہ فرما میری آزمائش کو سخت نہ بنا اور میرے دشمنوں کو مجھ پر خوشی نہ دے میں پناہ لیتا ہوں تیرے عفو کی،
عِقابِکَ وَأَعُوذُ بِرَحْمَتِکَ مِنْ عَذابِکَ وَأَعُوذُ بِرِضاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوذُ بِکَ
تیرے عذاب سے میں پناہ لیتا ہوں تیری رحمت کی، تیری سزا سے میں پناہ لیتا ہوں تیری رضا کی، تیری ناراضگی سے اور چاہتا ہوں
مِنْکَ، جَلَّ ثَناؤُکَ أَ نْتَ کَما أَ ثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ وَفَوْقَ مَا یَقُولُ الْقائِلُونَ
تجھ سے تیرے ہی ذریعے سے کہ تیری تعریف روشن ہے جیسا کہ تو نے خود ہی اپنی تعریف کی ہے جو تعریف کرنے والوں کے قول سے بلند تر ہے۔
یاد رہے کہ اس رات سو رکعت نماز بجا لانے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ اس کی ہر رکعت میںسورہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید پڑھے۔ اس کے علاوہ چھ رکعت نماز ادا کرے کہ جس میںسورہ الحمد، سورہ یٰسین، سورہ ملک اور سورہ توحید پڑھی جاتی ہے اور اس کی ترکیب ماہ رجب کے اعمال میں بیان ہوچکی ہے۔
پندرہ شعبان کا دن
پندرہ شعبان کا دن ہمارے بارہویںامام زمانہ (عج) کی ولادت باسعادت کا دن ہے لہذا آج کے دن ہماری بہت بڑی عید ہے آج جہاںبھی کوئی مؤمن ہو اور اس سے جس وقت بھی ہوسکے بارہویں امام مہدی (عج)کی زیارت پڑھے اس کا پڑھنا مستحب ہے اور ضروری ہے کہ زیارت پڑھتے وقت آپ کے جلد ظہور کی دعا مانگے سامرہ کے سرداب میںآپ کی زیارت پڑھنے کی زیادہ تاکید ہے کہ یہ آپ کے ظہور کا یقینی مقام ہے اور آپ ہی ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردیںگے جب کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
ماہ شعبان کے باقی اعمال
امام علی رضا -سے منقول ہے کہ جو شخص شعبان کے آخری تین دن روزہ رکھ کر ماہ رمضان کے روزوںسے متصل کردے تو حق تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ساٹھ متصل روزوںکا ثواب لکھے گا۔ ابوصلت ہروی سے روایت ہے کہ میں شعبان کے آخری جمعہ کو امام علی رضا -کی خدمت میں حاضر ہؤا تو حضرتعليهالسلام نے مجھ سے فرمایا: اے ابوصلت شعبان کا زیادہ حصہ گزرگیا ہے اور آج اس کا آخری جمعہ ہے۔لہٰذا اس کے گزشتہ دنوں میں تجھ سے جو کوتاہیاں ہوئی ہیںاس کے باقی آنے والے دنوں میںتجھے ان کی تلافی کرلینا چاہیئے اور تمہیں وہ عمل اختیار کرنا چاہیئے جو تمہارے لیے مفید ہو، تمہیں تلاوتِ قرآن اور بہت زیادہ دعا وا ستغفار کرنا چاہیئے نیز خدا کی بارگاہ میںاپنے گناہوں پر توبہ کرو تا کہ جب ماہ مبارک رمضان آئے تو اس وقت تک تم نے خود کو اپنے رب کے لیے خالص کرلیا ہو۔ اپنے ذمہ کسی کا کوئی حق نہ رہنے دو مگر یہ کہ اسے ادا کردو، اپنے دل میںکسی کے لیے بغض و کینہ نہ رکھو۔ اگر کوئی گناہ کرتے رہے ہو تو اسے ترک کردو، خدا سے ڈرو اور ظاہر و باطن میں اسی پر بھروسہ رکھو کہ جوشخص خدا پر توکل اور بھروسہ رکھتا ہے تو خدا اس کے لیے کافی ہے پس اس مہینے کے باقی دنوں میں زیادہ تر یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّٰهُمَّ اِنْ لَّمْ تَکُنْ غَفَرْتَ لَنَا فِیْمَا مَضٰی مِنْ شَعْبَانَ فَا غْفِرْ لَنَا فِیْمَا بَقِیَ مِنْهُ
اے معبود!اگر تو نے ہمیں شعبان کے گزشتہ دنوں میں گناہوں کی معافی نہیںدی تو بھی اسکے باقی دنوں میں ہمیں بخشش عطا کردے
کیونکہ حق تعالیٰ اس مہینے میںاحترام رمضان کے ناطے اپنے بہت زیادہ بندوں کوجہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے شیخ نے حارث بن مغیرہ نضری سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - شعبان کی آخری اور رمضان کی پہلی رات میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اَللّٰهُمَّ إنَّ هذَا الشَّهْرَ الْمُبارَکَ الَّذِی أُ نْزِلَ فِیهِ الْقُرْآنُ وَجُعِلَ هُدیً لِلنَّاسِ وَبَیِّناتٍ
اے معبود! بے شک یہی وہ بابرکت مہینہ ہے کہ جس میںقرآن کریم نازل کیا گیا اور اسے انسانوں کا رہنما قرار دیا گیاکہ اس میں
مِنَ الْهُدی وَالْفُرْقانِ قَدْ حَضَرَ فَسَلِّمْنا فِیهِ وَسَلِّمْهُ لَنا وَتَسَلَّمْهُ مِنّا فِی یُسْرٍ مِنْکَ
ہدایت کی دلیلیںاور حق و باطل کی تفریق ہے قرآن موجود ہے ہمیں اس کیلئے اسے ہمارے لیے سلامت رکھ اور اس کو ہم سے آسانی و
وَعافِیَةٍ، یَا مَنْ أَخَذَ الْقَلِیلَ وَشَکَرَ الْکَثِیرَ اقْبَلْ مِنِّی الْیَسِیرَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ
امن کے ساتھ لے اے وہ جو مؤخذہ کم اور قدردانی زیادہ کرتا ہے مجھ سے یہ تھوڑا عمل قبول فرما اے معبود! میں سوال کرتا ہوں
أَنْ تَجْعَلَ لِی إلی کُلِّ خَیْرٍ سَبِیلاً، وَمِنْ کُلِّ مَا لاَ تُحِبُّ مانِعاً یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
تجھ سے کہ میرے لیے نیکی کا ہر راستہ بنا اور جو چیزیں تجھے ناپسند ہیں ان سے باز رکھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
یَا مَنْ عَفا عَنِّی وَعَمَّا خَلَوْتُ بِهِ مِنَ السَّیِّئاتِ یَا مَنْ لَمْ یُؤاخِذْنِی بِارْتِکابِ الْمَعاصِی
اے وہ جس نے مجھے معاف کیا ان گناہوں پر جو میں نے تنہائی میںکیے اے وہ جس نے نافرمانیوںپر میری گرفت نہیں کی
عَفْوَکَ عَفْوَکَ عَفْوَکَ یَا کَرِیمُ إلهِی وَعَظْتَنِی فَلَمْ أَ تَّعِظْ ، وَزَجَرْتَنِی عَنْ مَحارِمِکَ
معاف کر دے معاف کردے معاف کردے اے مہربان اے معبود! تو نے مجھے نصیحت کی میںنے پرواہ نہ کی تو نے حرام کاموں
فَلَمْ أَ نْزَجِرْ، فَما عُذْرِی فَاعْفُ عَنِّی یَا کَرِیمُ، عَفْوَکَ عَفْوَکَ اَللّٰهُمَّ
سے روکا تو میں ان سے باز نہ آیا پس میرا کوئی عذر نہیں تب بھی مجھے معاف فرما ایمہربان معاف کردے معاف کردے اے معبود!
إنِّی أَسْأَ لُکَ الرَّاحَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَفْوَ عِنْدَ الْحِسابِ، عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِکَ
میں مانگتا ہوں تجھ سے موت کے وقت راحت حساب کتاب کے وقت درگزر، تیرے بندے کا گناہ بہت بڑا ہے
فَلْیَحْسُنِ التَّجاوُزُ مِنْ عِنْدِکَ ، یَا أَهْلَ التَّقْوی وَیَا أَهْلَ الْمَغْفِرَةِ، عَفْوَکَ عَفْوَکَ
پس تیری طرف سے بہترین درگزر ہونی چاہیے اے تقویٰ کے مالک اور اے بخش دینے والے معاف کردے معاف کردے
اَللّٰهُمَّ إنِّی عَبْدُکَ بْنُ عَبْدِکَ بْنُ أَمَتِکَ ضَعِیفٌ فَقِیرٌ إلی رَحْمَتِکَ وَأَ نْتَ مُنْزِلُ الْغِنی
اے معبود! میں تیرا بندہ ہوں تیرے بندے اور تیری کنیز کا بیٹا ہوںکمزور ہوں تیری رحمت کا محتاج ہوں اور تو اپنے بندوں پر ثروت و
وَالْبَرَکَةِ عَلَی الْعِبادِ، قاهِرٌ مُقْتَدِرٌ أَحْصَیْتَ أَعْمالَهُمْ، وَقَسَمْتَ أَرْزاقَهُمْ وَجَعَلْتَهُمْ
برکت نازل کرنے والا زبردست بااختیار ہے تو ان کے اعمال کو شمار کرتا اور ان میںروزی بانٹتا ہے تو نے انہیں
مُخْتَلِفَةً أَ لْسِنَتُهُمْ وَأَ لْوانُهُمْ خَلْقاً مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ، وَلاَ یَعْلَمُ الْعِبادُ عِلْمَکَ، وَلاَ یَقْدِرُ
مختلف زبانوں اور رنگوں والے بنایا کہ ہر مخلوق کے بعد دوسری مخلوق ہے بندے تیرے علم کو نہیں جانتے اور نہ ہی بندے تیری قدرت
الْعِبادُ قَدْرَکَ، وَکُلُّنا فَقِیرٌ إلی رَحْمَتِکَ، فَلا تَصْرِفْ عَنِّی وَجْهَکَ، وَاجْعَلْنِی مِنْ
کا اندازہ کرسکتے ہیں ہم سب تیری رحمت کے محتاج ہیں پس ہم سے اپنی توجہ ہرگز نہ ہٹا مجھے عمل آرزو قسمت اور مقدر کے اعتبار سے
صالِحِی خَلْقِکَ فِی الْعَمَلِ وَالْاَمَلِ وَالْقَضائِ وَالْقَدَرِ اَللّٰهُمَّ أَبْقِنِی خَیْرَ الْبَقائِ وَأَفْنِنِی
اپنے صالح و نیکوکار بندوں میںسے قرار دے اے معبود! مجھے زندہ رکھ بہتر زندگی میں اور موت دے تو
خَیْرَ الْفَنائِ عَلَی مُوالاةِ أَوْ لِیائِکَ، وَمُعاداةِ أَعْدائِکَ وَالرَّغْبَةِ إلَیْکَ، وَالرَّهْبَةِ مِنْکَ
بہترین موت دے جو تیرے دوستوں کی دوستی اور تیرے دشمنوں سے دشمنی میںہو نیز میری موت و حیات تیری رغبت، تجھ سے خوف
وَالْخُشُوعِ وَالْوَفائِ وَالتَّسْلِیمِ لَکَ، وَالتَّصْدِیقِ بِکِتابِکَ ، وَاتِّباعِ سُنَّةِ رَسُو لِکَ
تیرے سامنے عاجزی وفاداری تیرا حکم ماننے تیری کتاب کوسچی جاننے اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت کی پیروی میںہو
اَللّٰهُمَّ مَا کانَ فِی قَلْبِی مِنْ شَکٍّ أَوْ رِیبَةٍ أَوْ جُحُودٍ أَوْ قُنُوطٍ أَوْ فَرَحٍ أَوْ بَذَخٍ أَوْبَطَرٍ
اے معبود! میرے دل میں جو بھی شک یا گمان یا ضدیت یا نا امیدی یا سرمستی یا تکبر یا بے فکری
أَوْ خُیَلائَ أَوْ رِیائٍ أَوْ سُمْعَةٍ أَوْ شِقاقٍ أَوْ نِفاقٍ أَوْ کُفْرٍ أَوْ فُسُوقٍ أَوْ عِصْیانٍ أَوْ
یا خود خواہی یا ریاکاری یا شہرت طلبی یا سنگدلی یا دورنگی یا کفر یا بد عملی یا نا فرمانی یا
عَظَمَةٍ أَوْ شَیْئٍ لاَ تُحِبُّ، فَأَسْأَ لُکَ یَا رَبِّ أَنْ تُبَدِّلَنِی مَکانَهُ إیماناً بِوَعْدِکَ
گھمنڈ یا تیری کوئی نا پسندیدہ بات ہے تو تجھ سے سوال کرتا ہوںاے پروردگار کہ ان برائیوں کومٹاکر ان کی جگہ میرے دل میں اپنے
وَوَفائً بِعَهْدِکَ، وَرِضاً بِقَضائِکَ، وَزُهْداً فِی الدُّنْیا، وَرَغْبَةً فِیما عِنْدَکَ، وَ أَثَرَةً
وعدے پر یقین اپنے عہد سے وفا اپنے فیصلے پر رضامندی دنیا سے بے رغبتی اور جو کچھ تیرے ہاںہے اس میں رغبت اپنے در پر
وَطُمَأْنِینَةً وَتَوْبَةً نَصُوحاً، أَسْأَ لُکَ ذلِکَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ إلهِی أَ نْتَ مِنْ حِلْمِکَ
حاضری دلجمعی اور سچی توبہ کی توفیق دے میں تجھ سے یہی چاہتا ہوںاے جہانوں کے پالنے والے میرے معبود! تیری نرم خوئی کی
تُعْصی فَکَأَنَّکَ لَمْ تُرَ، وَمِنْ کَرَمِکَ وَجُودِکَ تُطاعُ فَکَأَ نَّکَ لَمْ تُعْصَ
وجہ سے تیری نافرمانی کی جاتی ہے اور تیری عطا و بخشش سے تیری اطاعت کی جاتی ہے گویا تیری نافرمانی نہیںہوتی میرے جیسا
وَأَ نَا وَمَنْ لَمْ یَعْصِکَ سُکَّانُ أَرْضِکَ فَکُنْ عَلَیْنا بِالْفَضْلِ جَواداً
نافرمان اور جو تیری نافرمانی نہیںکرتے تیری ہی زمین پر رہتے ہیں پس ہمارے لیے اپنے فضل سے بہت عطا کرنے والا اور
وَبِالْخَیْرِ عَوَّاداً، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ صَلاةً دائِمَةً لاَ
بھلائی پر بھلائی کرنیوالا ہوجا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے خدا کی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اوران کی آلعليهالسلام پر رحمت ہو ہمیشہ ہمیشہ کی رحمت
تُحْصی وَلاَ تُعَدُّ وَلاَ یَقْدِرُ قَدْرَها غَیْرُکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
جسے نہ جمع کیا جاسکے نہ شمار کیا جاسکے اور تیرے سوا کوئی اسکا اندازہ نہیں کر سکتا اے سب سے بڑھ کر رحم کرنیوالے۔
تیسری فصل
ماہ رمضان کے فضائل و اعمال
شیخ صدوقرحمهالله نے معتبر سند کیساتھ امام علی رضا -سے اور حضرت نے اپنے آبائ طاہرین + کے واسطے سے امیرالمومنین -سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک روز رسول اللہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! تمہاری طرف رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ آرہا ہے۔ جس میںگناہ معاف ہوتے ہیں۔ یہ مہینہ خدا کے ہاں سارے مہینوں سے افضل و بہتر ہے۔ جس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوںسے بہتر، جس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر اور جس کی گھڑیاں دوسرے مہینوں کی گھڑیوں سے بہتر ہیں۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں حق تعالیٰ نے تمہیں اپنی مہمان نوازی میں بلایا ہے اور اس مہینے میںخدا نے تمہیں بزرگی والے لوگوںمیں قرار دیا ہے کہ اس میں سانس لینا تمہاری تسبیح اور تمہارا سونا عبادت کا درجہ پاتا ہے۔ اس میں تمہارے اعمال قبول کیے جاتے اور دعائیںمنظور کی جاتی ہیں۔
پس تم اچھی نیت اور بری باتوں سے دلوں کے پاک کرنے کے ساتھ اس ماہ میںخدا ئے تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ تم کو اس ماہ کے روزے رکھنے اور اس میں تلاوتِ قرآن کرنے کی توفیق عطا کرے کیونکہ جو شخص اس بڑائی والے مہینے میں خدا کی طرف سے بخشش سے محروم رہ گیا وہ بدبخت اور بدانجام ہوگا اس مہینے کی بھوک پیاس میں قیامت والی بھوک پیاس کا تصور کرو، اپنے فقیروں اور مسکینوںکو صدقہ دو، بوڑھوںکی تعظیم کرو، چھوٹوں پر رحم کرواور رشتہ داروںکے ساتھ نرمی و مہربانی کرو اپنی زبانوں کو ان باتوں سے بچاؤ کہ جو نہ کہنی چاہئیں، جن چیزوں کا دیکھنا حلال نہیں ان سے اپنی نگاہوں کو بچائے رکھو، جن چیزوں کا سننا تمہارے لیے روا نہیں ان سے اپنے کانوں کو بند رکھو، دوسرے لوگوں کے یتیم بچوں پر رحم کرو تا کہ تمہارے بعد لوگ تمہارے یتیم بچوں پر رحم کریں ،اپنے گناہوں سے توبہ کرو، خدا کی طرف رخ کرو، نمازوں کے بعد اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھاؤ کہ یہ بہترین اوقات ہیںجن میں حق تعالیٰ اپنے بندوںکی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جو بندے اس وقت اس سے مناجات کرتے ہیں وہ انکو جواب دیتا ہے اور جو بندے اسے پکارتے ہیں ان کی پکار پر لبیک کہتا ہے اے لوگو! اس میں شک نہیں کہ تمہاری جانیںگروی پڑی ہیں۔ تم خدا سے مغفرت طلب کرکے ان کو چھڑانے کی کوشش کرو۔ تمہاری کمریں گناہوںکے بوجھ سے دبی ہوئی ہیں تم زیادہ سجدے کرکے ان کا بوجھ ہلکا کرو کیونکہ خدا نے اپنی عزت و عظمت کی قسم کھارکھی ہے کہ ا س مہینے میں نمازیںپڑھنے اور سجدے کرنے والوںکو عذاب نہ دے اور قیامت میںان کو جہنم کی آگ کا خوف نہ دلائے اے لوگو! جو شخص اس ماہ میںکسی مؤمن کا روزہ افطار کرائے تو اسے گناہوںکی بخشش اور ایک غلام کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب میںسے بعض نے عرض کی یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ! ہم سب تو اس عمل کی توفیق نہیںرکھتے تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ تم افطار میںآدھی کھجور یا ایک گھونٹ شربت دے کر بھی خود کو آتشِ جہنم سے بچا سکتے ہو۔ کیونکہ حق تعالیٰ اس کو بھی پورا اجر دے گا جو اس سے کچھ زیادہ دینے کی توفیق نہ رکھتا ہو۔ اے لوگو! جو شخص اس مہینے میںاپنے اخلاق درست کرے تو حق تعالیٰ قیامت میں اس کو پل صراط پر سے با آسانی گزاردے گا۔ جب کہ لوگوں کے پاؤں پھسل رہے ہوںگے۔ جو شخص اس مہینے میںاپنے غلام اور لونڈی سے تھوڑی خدمت لے تو قیامت میں خدا اس کا حساب سہولت کے ساتھ لے گا اور جو شخص اس مہینے میں کسی یتیم کو عزت اور مہربانی کی نظر سے دیکھے تو قیامت میں خدا اس کو احترام کی نگاہ سے دیکھے گا۔ جوشخص اس مہینے میں اپنے رشتہ داروں سے نیکی اور اچھائی کا برتاؤ کرے تو حق تعالیٰ قیامت میںاس کو اپنی رحمت کے ساتھ ملائے رکھے گا اور جو کوئی اپنے قریبی عزیزوںسے بدسلوکی کرے تو خدا روز قیامت اسے اپنے سایہ رحمت سے محروم رکھے گا۔ جوشخص اس مہینے میںسنتی نمازیں بجا لائے تو خدا ئے تعالیٰ قیامت کے دن اسے دوزخ سے برائت نامہ عطا کرے گا۔ اور جو شخص اس ماہ میں اپنی واجب نمازیں ادا کرے توحق تعالیٰ اس کے اعمال کا پلڑا بھاری کردے گا۔ جبکہ دوسرے لوگوںکے پلڑے ہلکے ہوںگے۔ جو شخص اس مہینے میں قرآن پاک کی ایک آیت پڑھے تو خداوند کریم اس کے لیے کسی اور مہینے میں ختم قرآن کا ثواب لکھے گا، اے لوگو! بے شک اس ماہ میںجنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ انہیںتم پر بند نہ کرے۔ دوزخ کے دروازے اس مہینے میں بند ہیں۔ پس خدائے تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ انہیں تم پر نہ کھولے اور شیطانوں کو اس مہینے میںزنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ پس خدا سے سوال کرو کہ وہ انہیںتم پر مسلط نہ ہونے دے الخ
شیخ صدوقرحمهالله نے روایت کی ہے کہ جب ماہِ رمضان داخل ہوتا تو رسول اللہ تمام غلاموں کو آزاد فرمادیتے اسیروں کو رہا کردیتے اور ہر سوالی کو عطا فرماتے تھے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ رمضان مبارک خدائے تعالیٰ کا مہینہ ہے اور یہ سارے مہینوں سے افضل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میںآسمان جنت اور رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیںاور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ اس مہینے میںایک رات ایسی بھی ہے، جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ پس اے انسانو! تمہیں سوچنا چاہیئے کہ تم اس مہینے کے رات دن کس طرح گزارتے ہو اور اپنے اعضائے بدن کو خدا کی نافرمانی سے کیونکر بچاسکتے ہو، خبردار کوئی شخص اس مہینے کی راتوں میںسوتا نہ رہے اور اس کے دنوںمیں حق تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ رہے کیونکہ ایک روایت میں آیا ہے کہ ماہِ رمضان میں دن کا روزہ افطار کرنے کے وقت اللہ تعالیٰ ایک لاکھ انسانوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے اور شبِ جمعہ یا جمعہ کے دن ہر گھڑی میںخدائے تعالیٰ ایسے ہزاروں انسانوں کو آتشِ دوزخ سے رہائی بخشتا ہے جو دوزخی بن چکے ہوتے ہیں۔نیز اس مہینے کی آخری رات اور دن میںحق تعالیٰ اپنے اتنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے جتنے کہ پورے رمضان میں آزاد کرچکا ہے۔ پس اے عزیزو! توجہ کرو کہ مبادا یہ مبارک مہینہ تمام ہوجائے اور تمہاری گردن پر گناہوں کا بوجھ باقی رہ جائے اور جب روزہ دار اپنے روزوں کا اجر پارہے ہوں تو تم ان لوگوںمیںگنے جاؤ جن کو محروم کیا جارہا ہو۔ تمہیںتلاوتِ قرآن کرکے افضل وقت میںنمازیں بجا لاکر دیگر عبادتوں میں سعی کرکے اور توبہ واستغفار کرکے خدا کا تقرب حاصل کرنا چاہیئے، کیونکہ امام جعفر صادق -سے روایت ہے کہ جو شخص اس بابرکت مہینے میں نہیںبخشا گیا تو وہ آیندہ رمضان تک نہیںبخشا جائیگا سوائے اس کے کہ وہ عرفہ میں حاضر ہوجائے۔ پس تمہیں ان چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیئے جن کو خدائے تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ یعنی حرام چیزوں سے روزہ افطار نہیںکرناچاہیئے، اور تمہیں اس طرح رہنا چاہیئے جیسے امام جعفر صادق علیہ السلام نے وصیت فرمائی ہے کہ جب تم روزہ رکھو تو تمہارے کانوں آنکھوں بدن کے رونگٹوںاور جلد اور دوسرے سب اعضائ کو بھی روزہ دار ہونا چاہیئے یعنی ان کو حرام بلکہ مکروہ چیزوں اور کاموں سے بچائے رکھو۔ نیز فرمایا کہ تمہارا روزہ دار ہونے کادن اس طرح کا نہ ہو جیسے تمہارا روزہ دار نہ ہونے کا دن تھا۔پھر فرمایا کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے تک ہی نہیں۔ بلکہ حالتِ روزہ میں اپنی زبانوں کو جھوٹ سے اور آنکھوں کو حرام سے دور رکھو۔ روزے کی حالت میں کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرو، کسی سے حسد نہ رکھو۔ کسی کا گلہ شکوہ نہ کرو اور جھوٹی قسم نہ کھاؤ۔ بلکہ سچی قسم سے بھی پرہیز کرو، گالیاںنہ دو، ظلم نہ کرو، جہالت کا رویہ نہ اپناؤ۔ بیزاری ظاہر نہ کرو اور یاد خدا اور نماز سے غفلت نہ برتو ۔ ہر وہ بات جو نہ کہنی چاہیئے۔ اس سے خاموشی اختیار کرو ، صبر سے کام لو ، سچی بات کہو برے آدمیوں سے الگ رہو بری باتوں، جھوٹ بولنے، بہتان لگانے، لوگوں سے جھگڑنے ، گلہ کرنے اور چغلی کھانے جیسی سب چیزوں سے پرہیز کرو ۔ اپنے آپ کو آخرت کے قریب جانو ۔ حضرت قائم آلِ محمدعليهالسلام کے ظہور کے انتظار میں رہو، آخرت کے ثواب کی امید رکھو، آخرت کیلئے اچھے اعمال کا ذخیرہ تیار کرو۔ تمہیں خدا کے خوف میں اس طرح عاجز وخوار رہنا چاہیئے، جیسے وہ غلام کہ جو اپنے آقا سے ڈرتا ہے۔ اس کا دل رکا ہوا اور جسم سہما ہوا ہوتا ہے۔ خدا کے عذاب سے ڈرو اور اس کی رحمت کی امید رکھو۔ اے روزہ دارو! تمہارے دل عیبوں سے تمہارے باطن مکر و فریب سے اور تمہارے بدن آلودگیوں سے پاک ہونے چاہیے۔ ﷲ کے سوا دوسرے خداؤں سے بیزاری اختیار کرو اور روزے کی حالت میں اپنی محبت و نصرت کو ﷲ کیلئے خالص کرو۔ ہر وہ چیز ترک کردو جس سے خدا نے ظاہر و باطن میں روکا ہے خدا وند قہار سے ظاہر و باطن میں ایسا خوف رکھو جو خوف رکھنے کا حق ہے اور روزے کی حالت میں اپنا بدن اور روح خدا کے حوالے کردو اور اپنے دل کو صرف اس کی محبت اور یاد کیلئے یکسو کر لو اور اپنے جسم کو ہر اس چیز کیلئے فرمان بردار بناؤ جس کا خدا نے حکم دیا ہے ۔ اگر تم ان سب چیزوں پر عمل کر لو جو روزے کیلئے مناسب ہیں توپھر تم نے خدا کی فرمائشوں پر عمل کیا ہے اور جن چیزوں کا میں نے تذکرہ کیا ہے اگر ان میں سے کچھ کم کر دوگے تو تمہارے ثواب اور فضیلت میں کمی آجائے گی ۔ بے شک میرے والد بزرگوار نے فرمایاکہ:رسول ﷲ نے سنا کہ ایک عورت بحالت روزہ اپنی کنیز کو گالیاں دے رہی ہے تو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کھانا منگوایا اور اس عورت سے کہا کہ یہ کھانا کھا لو ۔ اس نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ یہ کس طرح کا روزہ ہے جبکہ تونے اپنی کنیز کو گالیاں دی ہیں ۔ روزہ محض کھانے پینے سے رکنے ہی کا نام نہیں بلکہ حق تعالیٰ نے تو روزے کو تمام قبیح کاموں یعنی بد کرداری و بد گفتاری وغیرہ سے محفوظ قرار دیا ہے پس اصل و حقیقی روزے دار بہت کم اور بھوکے پیاسے رہنے والے بہت زیادہ ہیں امیر المؤمنین -نے فرمایا کہ کتنے ہی روزہ دار ہیں کہ جن کے لئے اس میں بھوکا پیاسا رہنے کے سوا کچھ نہیں اور کتنے ہی عبادت گزار ہیں کہ جن کا حصہ ان میں سوائے بدن کی زحمت اور تھکن کے کچھ نہیں ہے ۔ کیا کہنا اس عقل مند کی ننید کا جو جاہل کی بیداری سے بہتر ہے اور کیا کہنا اس صاحب فراست کا جس کا روزے سے نہ ہونا روزداروں سے بہتر ہے جابر بن یزید نے امام محمد باقر -سے روایت کی ہے کہ رسول ﷲ نے جابر ابن عبد ﷲ(رض) سے فرمایا: اے جابر! یہ رمضان مبارک کا مہینہ ہے ، جو شخص اس کے دنوں میں روزہ رکھے اور اس کی راتوں کے کچھ حصے میں عبادت کرے۔ اپنے شکم اور شرمگاہ کو حرام سے بچائے رکھے اپنی زبان کو روکے رکھے تو وہ شخص گناہوں سے اس طرح باہر آئے گا جیسے یہ مہینہ جلدی ختم ہو گیا ہے ۔ جناب جابر (رض) نے عرض کی یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ﷲ! آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بہت اچھی حدیث فرمائی ہے ، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا وہ شرطیں کتنی سخت ہیں جو میں نے روزے کیلئے بیان کی ہیں ۔ مختصر یہ کہ اس ماہ مبارک کے اعمال دو مطالب اور ایک خاتمہ میں ذکر کیئے جائیں گے ۔
پہلا مطلب
ماہ رمضان کے مشترکہ اعمال
ان اعمال کی چار قسمیں ہیں
پہلی قسم:ماہِ رمضان میں شب روز کے اعمال
سید ابن طاؤس نے امام جعفر صادق اور امام موسیٰ کاظم +سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ پورے رمضان میں ہر فریضہ نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرامِ فِی عامِی هذَا وَفِی کُلِّ عامٍ مَا أَبْقَیْتَنِی فِی یُسْرٍ
اے معبود! اس سال اور آئندہ پوری زندگی مجھے اپنے بیت الحرام (کعبہ) کے حج کی توفیق فرما جب تک تو مجھے زندہ رکھے اپنی
مِنْکَ وَعافِیَةٍ وَسَعَةِ رِزْقٍ وَلاَ تُخْلِنِی مِنْ تِلْکَ الْمَواقِفِ الْکَرِیمَةِ وَالْمَشاهِدِ الشَّرِیفَةِ
طرف سے آسانی ، آرام اور وسعت رزق نصیب فرما مجھے ان بزرگی و کرامت والے مقامات اور مقدس پاکیزہ مزارات اور اپنے
وَزِیارَةِ قَبْرِ نَبِیِّکَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَ آلِهِ، وَفِی جَمِیعِ حَوائِجِ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ فَکُنْ
نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کریم کے سبز گنبد کی زیارت کرنے سے محروم نہ رکھ ان پر اور ان کی آل پر تیری رحمت ہو اور دنیا و آخرت سے متعلق میری تمام
لِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ مِنْ الْاَمْرِ الْمَحْتُومِ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ
حاجات پوری فرما دے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ شب قدر میں تو جو یقینی امور طے فرماتا ہے اور جو محکم فیصلے کرتا ہے
الْقَضائِ الَّذِی لا یُرَدُّ وَلاَ یُبَدَّلُ أَنْ تَکْتُبَنِی مِنْ حُجَّاجِ بَیْتِکَ الْحَرامِ الْمَبْرُورِ
کہ جن میں کسی قسم کی رد و بدل نہیں ہوتی ان میں میرا نام اپنے بیت ﷲ (کعبہ) کا حج کرنے والوں میں لکھ دے کہ جن کا حج تمہیں
حَجُّهُمُ، الْمَشْکُورِ سَعْیُهُمُ، الْمَغْفُورِ ذُ نُوبُهُمُ، الْمُکَفَّرِ عَنْهُمْ سَیِّئاتُهُمْ، وَاجْعَلْ
منظور ہے اور ان کی سعی مقبول ہے ان کے گناہ بخشے گئے اور ان کی خطائیں مٹا دی گئیں ہیں اور اپنی قضائ و قدر
فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ أَنْ تُطِیلَ عُمْرِی وَتُوَسِّعَ عَلَیَّ رِزْقِی، وَتُؤَدِّیَ عَنِّی أَمانَتِی
میں میری عمر طولانی میری روزی و رزق کشادہ فرما اور مجھے ہر امانت اور ہر قرض ادا کرنے کی توفیق
وَدَیْنِی، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ اور نماز کے بعد یہ کہے:یَا عَلِیُّ یَا عَظِیمُ، یَا غَفُورُ یَا رَحِیمُ
دے ایسا ہی ہو اے جہانوں کے پالنے والے۔ اے بلند تر اے بزرگی والے اے بخشنے والے اے مہربان
أَنْتَ الرَّبُّ الْعَظِیمُ الَّذِی لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ وَهُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ وَهذَا شَهْرٌ عَظَّمْتَهُ
تو ہی بڑائی والا پروردگار ہے کہ جس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے دیکھنے والا ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جسے تونے بزرگی دی عزت عطا کی
وَکَرَّمْتَهُ وَشَرَّفْتَهُ وَفَضَّلْتَهُ عَلَی الشُّهُورِ، وَهُوَ الشَّهْرُ الَّذِی فَرَضْتَ صِیامَهُ عَلَیَّ
بلندی بخشی اور سبھی مہینوں پر فضیلت عنایت کی ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس کے روزے تونے مجھ پر فرض کیئے ہیں
وَهُوَ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِی أَنْزَلْتَ فِیهِ الْقُرْآنَ هُدیً لِلنَّاسِ وَبَیِّناتٍ مِنَ الْهُدی
اور وہ ماہ مبارک رمضان ہے کہ جس میں تو نے قرآن اتارا ہے جو لوگوں کیلئے رہبر ہے اس میں ہدایت کی دلیلیں اور حق و باطل
وَالْفُرْقانِ وَجَعَلْتَ فِیهِ لَیْلَةَ الْقَدْرِ وَجَعَلْتَها خَیْراً مِنْ أَ لْفِ شَهْرٍ، فَیا ذَا الْمَنِّ وَلاَ
کی تفریق ہے تو نے اس مہینے میں شب قدر رکھی اور اسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے پس اے احسان کرنے والے تجھ پر
یُمَنُّ عَلَیْکَ مُنَّ عَلَیَّ بِفَکاکِ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ فِی مَنْ تَمُنُّ عَلَیْهِ وَأَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ
احسان نہیں کیا جا سکتا تو مجھ پر احسان فرما میری گردن آگ سے چھڑا کر ان کے ساتھ جن پر تونے احسان کیا اور مجھے داخل جنت
بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
فرما اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحمت کرنے والے ۔
شیخ کفعمی نے مصباح و بلد الامین اور شیخ شہید نے اپنے مجموعہ میں رسول ﷲ سے نقل کیا ہے کہا آپ نے فرمایا: جو شخص رمضان المبارک میں ہر واجب نماز کے بعد یہ دعا پڑھے تو خدا وند اس کے قیامت تک کے گناہ معاف کر دے گا اور وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ أَدْخِلْ عَلَی أَهْلِ الْقُبُورِ السُّرُورَ اَللّٰهُمَّ أَغْنِ کُلَّ فَقِیرٍ اَللّٰهُمَّ أَشْبِعْ کُلَّ جائِعٍ
اے معبود ! قبروں میں دفن شدہ لوگوں کو شادمانی عطا فرما اے معبود! ہر محتاج کو غنی بنا دے اے معبود! ہر بھوکے کو شکم سیر کر دے
اَللّٰهُمَّ اکْسُ کُلَّ عُرْیانٍ، اَللّٰهُمَّ اقْضِ دَیْنَ کُلِّ مَدِینٍ، اَللّٰهُمَّ فَرِّجْ عَنْ کُلِّ مَکْرُوبٍ
اے معبود! ہر عریان کو لباس پہنا دے اے معبود! ہر مقروض کا قرض ادا کر اے معبود! ہر مصیبت زدہ کو آسودگی عطا کر
اَللّٰهُمَّ رُدَّ کُلَّ غَرِیبٍ اَللّٰهُمَّ فُکَّ کُلَّ أَسِیرٍ اَللّٰهُمَّ أَصْلِحْ کُلَّ فاسِدٍ مِنْ أُمُورِ الْمُسْلِمِینَ
اے معبود! ہر مسافر کو وطن واپس لا اے معبود! ہر قیدی کو رہائی بخش دے اے معبود! مسلمانوں کے امور میں سے ہر بگاڑ کی اصلاح فرما دے
اَللّٰهُمَّ اشْفِ کُلَّ مَرِیضٍ اَللّٰهُمَّ سُدَّ فَقْرَنا بِغِناکَ اَللّٰهُمَّ غَیِّرْ سُوئَ حالِنا بِحُسْنِ حالِکَ
اے معبود! ہر مریض کو شفا عطا فرما اے معبود! اپنی ثروت سے ہماری محتاجی ختم کر دے اے معبود! ہماری بد حالی کو خوشحالی سے بدل
اَللّٰهُمَّ اقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَأَغْنِنا مِنَ الْفَقْرِ، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
دے اے معبود! ہمیں اپنے قرض ادا کرنے کی توفیق دے اور محتاجی سے بچا لے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
کافی میں شیخ کلینیرحمهالله نے ابو بصیر سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق -ماہ مبارک رمضان میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی بِکَ وَمِنْکَ أَطْلُبُ حاجَتِی، وَمَنْ طَلَبَ حاجَةً إلَی النَّاسِ فَ إنِّی لاَ أَطْلُبُ
اے معبود! میں تیرے ہی ذریعے تجھ سے اپنی حاجت طلب کرتاہوں جو لوگوں سے طلب حاجت کرتا ہے کیا کرے پس میں تیرے
حاجَتِی إلاَّ مِنْکَ وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ وَأَسْأَ لُکَ بِفَضْلِکَ وَرِضْوانِکَ أَنْ تُصَلِّیَ
سوا کسی سے طلب حاجت نہیں کرتا تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیری عطا و مہربانی کے یہ کہ
عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَأَنْ تَجْعَلَ لِی فِی عامِی هذَا إلی بَیْتِکَ الْحَرامِ سَبِیلاً حِجَّةً
حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہلبعليهالسلام یت پر رحمت نازل فرما اور میرے لئے اسی سال میں اپنے محترم گھر کعبہ پہنچنے کا وسیلہ بنا دے وہاں مجھے حج
مَبْرُورَةً مُتَقَبَّلَةً زاکِیةً خالِصَةً لَکَ تَقَرُّ بِها عَیْنِی وَتَرْفَعُ بِها دَرَجَتِی، وَتَرْزُقَنِی أَنْ
نصیب کر جو درست مقبول پاکیزہ اور خاص تیرے ہی لئے ہو اس سے میری آنکھیں ٹھنڈی کر اور میرے درجے بلند فرما مجھے توفیق
أَغُضَّ بَصَرِی وَأَنْ أَحْفَظَ فَرْجِی وَأَنْ أَکُفَّ بِها عَنْ جَمِیعِ مَحارِمِکَ حَتَّی لاَ یَکُونَ
دے کہ حیا سے آنکھیں نیچی رکھوں اپنی شرمگاہ کی حفاظت کروں اور تیری حرام کردہ ہر چیز سے بچ کے رہوں یہاں تک کہ میرے
شَیْئٌ آثَرَ عِنْدِی مِنْ طاعَتِکَ وَخَشْیَتِکَ وَالْعَمَلِ بِما أَحْبَبْتَ وَالتَّرْکِ لِما کَرِهْتَ وَنَهَیْتَ
نزدیک تیری فرمانبرداری اور تیرے خوف سے عزیز تر کوئی چیز نہ ہو جس چیز کو تو پسند کرتا ہے اس پر عمل کروں اور جسے تو نے نا پسند کیا
عَنْهُ وَاجْعَلْ ذلِکَ فِی یُسْرٍ وَیَسارٍ وَعافِیَةٍ وَمَا أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَیَّ،
اور اس سے روکا ہے اسے چھوڑ دوں اور یہ اس طرح ہو کہ اس میں آسانی فروانی و تندرستی ہو اور اس کے ساتھ جو بھی نعمت تو مجھے عطا
وَأَسْأَلُکَ أَنْ تَجْعَلَ وَفاتِی قَتْلاً فِی سَبِیلِکَ تَحْتَ رایَةِ نَبِیِّکَ مَعَ أَوْ لِیائِکَ،
کرے۔ اور تجھ سے سوالی ہوں کہ میری موت کو ایسا قرار دے گویا میں تیری راہ میں تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جھنڈے تلے قتل ہوا ہو تیرے
وَأَسْأَلُکَ أَنْ تَقْتُلَ بِی أَعْدائَکَ وَأَعْدائَ رَسُو لِکَ، وَأَسْأَ لُکَ أَنْ تُکْرِمَنِی
دوستوں کے ہمراہ اور سوال کرتا ہوں مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دشمنوں کو قتل کروں اور سوال کرتا ہوں کہ تو
بِهَوانِ مَنْ شِئْتَ مِنْ خَلْقِکَ وَلاَ تُهِنِّی بِکَرامَةِ أَحَدٍ مِنْ أَوْ لِیائِکَ
اپنی مخلوق میں سے جس کی خواری سے چاہے مجھے عزت دے لیکن اپنے پیاروں میں سے کسی کی عزت کے مقابل مجھے ذلیل نہ فرما۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلاً، حَسْبِیَ ﷲ، مَا شَائَ ﷲ
اے معبود! حضرت رسول کے ساتھ میرا رابطہ قائم فرما کافی ہے میرے لئے ﷲ جو ﷲ چاہے وہی ہوگا۔
مؤلف کہتے ہیں کہ اس دعا کو دعائے حج کہا جاتا ہے سید نے اپنی کتاب اقبال میں امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ ماہ رمضان کی راتوں میں بعد از مغرب یہ دعا پڑھے کفعمی نے بلد الامین میں فرمایا ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں ہر روز اور اس مہینے کی پہلی رات اس دعا کا پڑھنا مستحب ہے نیز مقنع میں شیخ مفیدرحمهالله نے یہ دعاخصوصاً رمضان کی پہلی رات بعد از مغرب پڑھنے کیلئے نقل فرمائی ہے ۔
یا د رہے کہ ماہ رمضان کے دنوں اور راتوں میں بہترین عمل تلاوت قرآن پاک ہے پس اس مہینے میں بکثرت تلاوت قرآن کرے کیونکہ قرآن اسی ماہ میں نازل ہوا ہے۔ روایت ہے کہ ہر چیز کیلئے بہار ہوتا ہے اور قرآن کی بہار ماہ رمضان ہے دیگر مہینوں میں سے ہر ایک میں ایک ختم قرآن سنت ہے اور کم از کم چھ دن میں ختم قرآن مستحب ہے لیکن ماہ رمضان مبارک میں ہر تین روز میں ایک ختم قرآن سنت ہے اور اگر ہر روز پورا قرآن ختم کرے تو اور بہتر ہے علامہ مجلسیرحمهالله نے فرمایا کہ آئمہ ٪میں سے چند ایک اس ماہ مبارک میں چالیس قرآن ختم فرماتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ قرآن ختم کر لیا کرتے تھے۔ اگر ختم قرآن کا ثواب چہاردہ معصومین ٪میں سے کسی معصوم -کی روح پاک کو ہدیہ کر دے تو اسکا ثواب دگنا ہو جاتا ہے ایک روایت میں ہے کہ اس شخص کا اجر روز قیامت ان معصومعليهالسلام کی رفاقت ہے۔
اس ماہ میں بکثرت دعا و صلوات پڑھے اور بہت زیادہ استغفار کرے نیز لاَاِلَہَ اِلاَّﷲ کا بہت ورد کرے روایت میں ہے کہ امام سجاد-ماہ رمضان میں دعا، تسبیح، تکبیر اور استغفار کے سوا کوئی اور بات نہ کرتے تھے پس اس مہینے میں دن رات کی عبادات اور نوافل کا خاص اہتمام کرے
دوسری قسم : ماہ رمضان کی راتوں کے اعمال
ان میں سے چند ایک امور ہیں :
( ۱ ) افطار: نماز عشائ کے بعد افطار کرنا مستحب ہے مگر یہ کہ کمزوری زیادہ ہو یا افطار میں کوئی شخص اس کا منتظر ہو ۔
( ۲ ) حرام اور مشکوک چیزوں سے افطار نہ کرے بلکہ اس کیلئے حلال و پاکیزہ چیزیں استعمال کرے حلال خرما سے افطار کرے تا کہ اس کی نماز کا ثواب چار سو گنا ہو جائے پانی، تازہ کھجوراور دودھ، حلوہ، مٹھائی اور گرم پانی میں سے جس چیز سے افطار کرے بہتر ہے۔
( ۳ ) افطار کے وقت جو دعائیں وارد ہیں وہ پڑھے یا ان میں سے مشہور دعا پڑھے تا کہ اسے ساری دنیا کے روزہ داروں جتنا ثواب حاصل ہو اور وہ دعا یہ ہے:
اَللَّهُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ عَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ
اے اللہ! تیرے لیے روزہ رکھتا ہوں تیرے رزق سے افطار کرتا ہوں اور تجھی پر بھروسہ کرتا ہوں
اگر دعااَللَّهُمَّ رَبَّ النُّوْرِ الْعَظِیْمِ پڑھے کہ جو سید اور کفعمی دونوںنے نقل کی ہے تو اس کی بڑی
اے اللہ! اے عظیم نور کے رب
فضیلت ہے، روایت میں ہے کہ امیرالمؤمنین -بوقت افطار یہ دعا پڑھتے تھے:
بِسْمِ ﷲ اَللَّهُمَّ لَکَ صُمْنَا وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْنَا فَتَقَبَّلْ مِنَّااِنَّکَ اَنْتَ السّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
خدا کے نام سے اے اللہ! ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا تیرے رزق سے افطار کیا پس اسے ہماری طرف سے قبول فرما بے شک تو سننے والا جاننے والا ہے
( ۴ ) پہلا لقمہ اٹھاتے وقت یہ دعا پڑھے تا کہ اس کے گناہ بخشے جائیں:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ اِغْفِرْلِیْ
خدا کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن و رحیم ہے اے وسیع مغفرت والے مجھے بخش دے۔
روایت میں ہے کہ ماہِ رمضان کی ہر شام ایک لاکھ انسانوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کیا جاتا ہے لہذا دعا کرے کہ وہ بھی ان میں سے ایک ہو۔
( ۵ ) افطار کے وقت سورہإنَّا أَ نْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْر . پڑھے۔
( ۶ ) افطار کے وقت صدقہ دے اور دیگر مومنوں کا روزہ افطار کرائے چاہے چند کھجوریں یا پانی سے ہی کیوں نہ ہو، رسول اللہ سے روایت ہے کہ جو شخص کسی کا روزہ افطار کرائے تو اس کو بھی روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا جب کہ اس روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ نیز اس طعام کی قوّت سے افطار کرنے والا جو نیکی کرے گا اس کا ثواب افطار کرانے والے کو بھی ملے گا۔
علامہ حلیرحمهالله نے رسالہ سعدیہ میں امام جعفر صادق - سے نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا: جو شخص اپنے مومن بھائی کا روزہ افطار کرائے اس کو تیس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور خدا کے ہاں اس کی ایک دعا بھی قبول ہوگی۔
( ۷ ) روایت میں ہے کہ ماہِ رمضان کی ہر رات ایک ہزار مرتبہ سورہ انزلناہ پڑھے۔
( ۸ ) اگر ممکن ہو تو ہر رات سو مرتبہ سورہ حم ٓدخان پڑھے۔
( ۹ ) سید نے روایت کی ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کی ہر رات یہ دعا پڑھے تو اس کے چالیس سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ رَبَّ شَهْرِ رَمْضانَ الَّذِی أَ نْزَلْتَ فِیهِ الْقُرْآنَ وَافْتَرَضْتَ عَلَی عِبادِکَ فِیهِ الصِّیامَ
اے اللہ! اے ماہ رمضان کے پروردگار کہ جس میں تو نے قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے بندوں پر اس ماہ میں روزے رکھنا فرض کیے
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنِی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرامِ فِی عامِی هذَا وَفِی کُلِّ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھے اسی سال اپنے بیت الحرام (کعبہ) کا حج نصیب فرما اور آئندہ سالوں میں بھی اور میرے
عامٍ وَاغْفِر لِی تِلْکَ الذُّنُوبَ الْعِظامَ، فَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُها غَیْرُکَ یَا رَحْمنُ یَا عَلاَّمُ ۔
اب تک کے تمام گناہان کبیرہ معاف کردے کیونکہ سوائے تیرے انہیںکوئی معاف نہیں کرسکتا اے زیادہ رحم والے اے زیادہ علم والے
(۱۰) ہر روز نماز مغرب کے بعد دعائ حج پڑھے جو قبل ازیں پہلی قسم میں نقل ہوچکی ہے۔
( ۱۱ ) ماہ رمضان کی ہر رات یہ دعا پڑھے:
دعائ افتتاح
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَ فْتَتِحُ الثَّنائَ بِحَمْدِکَ وَأَ نْتَ مُسَدِّدٌ لِلصَّوابِ بِمَنِّکَ وَأَیْقَنْتُ أَنَّکَ أَنْتَ
اے معبود! تیری حمد کے ذریعے تیری تعریف کا آغاز کرتا ہوں اور تو اپنے احسان سے راہ راست دکھانے والا ہے اور مجھے یقین ہے
أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ فِی مَوْضِعِ الْعَفْوِ وَالرَّحْمَةِ وَأَشَدُّ الْمُعاقِبِینَ فِی مَوْضِعِ النَّکالِ
کہ تو معافی دینے مہربانی کرنے کے مقام پر سب سے بڑھ کر رحم و کرم کرنے والا ہے اور شکنجہ و عذاب کے موقع پر سب سے سخت
وَالنَّقِمَةِ، وَأَعْظَمُ الْمُتَجَبِّرِینَ فِی مَوْضِعِ الْکِبْرِیائِ وَالْعَظَمَةِ اَللّٰهُمَّ أَذِنْتَ لِی فِی
عذاب دینے والا ہے اور بڑائی اور بزرگی کے مقام پر تو تمام قاہروں اور جابروں سے بڑھا ہوا ہے اے ﷲ ! تو نے مجھے اجازت
دُعائِکَ وَمَسْأَلَتِکَ فَاسْمَعْ یَا سَمِیعُ مِدْحَتِی وَأَجِبْ یَا رَحِیمُ دَعْوَتِی وَأَقِلْ یَا غَفُورُ
دے رکھی ہے کہ تجھ سے دعا و سوال کروں پس اے سننے والے اپنی یہ تعریف سن اور اے مہربان میری دعا قبول فرما اے بخشنے والے
عَثْرَتِی، فَکَمْ یَا إلهِی مِنْ کُرْبَةٍ قَدْ فَرَّجْتَها، وَهُمُومٍ قَدْ کَشَفْتَها، وَعَثْرَةٍ قَدْ أَ قَلْتَها
میری خطا معاف کرپس اے میرے معبود ! کتنی ہی مصیبتوں کو تو نے دور کیا اور کتنے ہی اندیشوں کو ہٹایا اور خطاؤں سے در گزر کی
وَرَحْمَةٍ قَدْ نَشَرْتَها وَحَلْقَةِ بَلائٍ قَدْ فَکَکْتَها؟ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ
رحمت کو عام کیا اور بلاؤں کے گھیرے کو توڑا اور رہائی دی حمد اس ﷲ کیلئے ہے جس نے نہ کسی کو اپنی زوجہ بنایا اور نہ کسی کو
وَلَداً وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً
اپنا بیٹا بنایا نہ ہی سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا سر پرست ہو اس کی بڑائی بیان کرو بہت بڑائی
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ بِجَمِیعِ مَحامِدِهِ کُلِّها عَلَی جَمِیعِ نِعَمِهِ کُلِّها الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لاَ مُضادَّ لَهُ
حمد ﷲ ہی کیلئے ہے اس کی تمام خوبیوں اور اس کی ساری نعمتوں کے ساتھ حمد اس ﷲکیلئے ہے جس کی حکومت میں
فِی مُلْکِهِ، وَلاَ مُنازِعَ لَهُ فِی أَمْرِهِ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لاَ شَرِیکَ لَهُ فِی خَلْقِهِ، وَلاَ
اس کا کوئی مخالف نہیں نہ اس کے حکم میں کوئی رکاوٹ ڈالنے والا ہے حمد اس ﷲ کیلئے ہے جس کی آفرینش میں کوئی اس کا شریک نہیں
شَبِیهَ لَهُ فِی عَظَمَتِهِ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الْفاشِی فِی الْخَلْقِ أَمْرُهُ وَحَمْدُهُ، الظَّاهِرِ بِالْکَرَمِ
اور اسکی بڑائی میں کوئی اس جیسا نہیں حمد اس ﷲ کیلئے ہے کہ جسکا حکم اور حمد خلق میں آشکار ہے اس کی شان اس کی بخشش کے ساتھ
مَجْدُهُ، الْباسِطِ بِالْجُودِ یَدَهُ، الَّذِی لاَ تَنْقُصُ خَزائِنُهُ، وَلاَ تَزِیدُهُ کَثْرَةُ الْعَطائِ
ظاہر ہے بن مانگے دینے میں اس کا ہاتھ کھلا ہے وہی ہے جس کے خزانہ نے کم نہیں ہوتے اور کثرت کے ساتھ عطا کرنے سے اس
إلاَّ جُوداً وَکَرَماً إنَّهُ هُوَ الْعَزِیزُ الْوَهَّابُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ قَلِیلاً مِنْ
کی بخشش اور سخاوت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ وہ زبردست عطا کرنے والا ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بہت میں سے
کَثِیرٍ، مَعَ حاجَةٍ بِی إلَیْهِ عَظِیمَةٍ وَغِناکَ عَنْهُ قَدِیمٌ وَهُوَ عِنْدِی کَثِیرٌ، وَهُوَ عَلَیْکَ
تھوڑے کا جبکہ مجھے اس کی بہت زیادہ حاجت ہے اور تو ہمیشہ اس سے بے نیاز ہے وہ نعمت میرے لیئے بہت بڑی ہے اور تیرے
سَهْلٌ یَسِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنَّ عَفْوَکَ عَنْ ذَ نْبِی، وَتَجاوُزَکَ عَنْ خَطِیئَتِی، وَصَفْحَکَ عَنْ
لئے اس کا دینا آسان ہے اے معبود! بے شک تیرا میرے گناہ کو معاف کرنا میری خطا سے تیری در گزر میرے ستم سے تیری چشم
ظُلْمِی وَسَِتْرَکَ عَلَی قَبِیحِ عَمَلِی، وَحِلْمَکَ عَنْ کَثِیرِجُرْمِی عِنْدَ مَا کانَ مِنْ خَطَ إی
پوشی میرے برے عمل کی پردہ پوشی میرے بہت سے جرائم پر تیری برد باری ہے جبکہ ان میں سے بعض بھول کر اور بعض میں نے جان
وَعَمْدِی أَطْمَعَنِی فِی أَنْ أَسْأَلَکَ مَا لاَ أَسْتَوْجِبُهُ مِنْکَ الَّذِی رَزَقْتَنِی مِنْ رَحْمَتِکَ
بوجھ کر کئے ہیں تب بھی اس سے مجھے طمع ہوئی کہ میں تجھ سے وہ مانگوں جس کا میں حقدار نہیں چنانچہ تو نے اپنی رحمت سے مجھے روزی
وَأَرَیْتَنِی مِنْ قُدْرَتِکَ وَعَرَّفْتَنِی مِنْ إجابَتِکَ فَصِرْتُ أَدْعُوکَ آمِناً وَأَسْأَلُکَ
دی اور اپنی قدرت کے کرشمے دکھائے قبولیت کی پہچان کرائی پس اب میں با امن ہوکر تجھے پکارتا ہوں اور سوال کرتا ہوں
مُسْتَأْنِساً لاَ خائِفاً وَلاَ وَجِلاً، مُدِلاًّ عَلَیْکَ فِیما قَصَدْتُ فِیهِ إلَیْکَ، فَ إنْ أَبْطَأَ عَنِّی
الفت سے نہ ڈرتے اور گھبراتے ہوئے اور مجھے ناز ہے کہ اس بارے میں تیری بارگاہ میں آیا ہوں پس اگر تو نے قبولیت میں دیر کی تو
عَتَبْتُ بِجَهْلِی عَلَیْکَ وَلَعَلَّ الَّذِی أَبْطَأَ عَنِّی هُوَ خَیْرٌ لِی لِعِلْمِکَ بِعاقِبَةِ الاَُْمُورِ، فَلَمْ
میں بوجہ نادانی تجھ سے شکوہ کروں گا اگر چہ وہ تاخیر کاموں کے نتائج سے متعلق تیرے علم میں میرے لیے بہتری کی حامل ہو پس میں
أَرَ مَوْلیً کَرِیماً أَصْبَرَ عَلَی عَبْدٍ لَئِیمٍ مِنْکَ عَلَیَّ، یَا رَبِّ ، إنَّکَ تَدْعُونِی فَأُوَلِّی عَنْکَ
نے تیرے سوا کوئی مولا نہیں دیکھا جو میرے جیسے پست بندے پر مہربان و صابر ہو۔ اے پروردگار! تو مجھے پکارتا ہے تو میں تجھ سے
وَتَتَحَبَّبُ إلَیَّ فأَتَبَغَّضُ إلَیْکَ، وَتَتَوَدَّدُ إلَیَّ فَلاَ أَقْبَلُ مِنْکَ کَأَنَّ لِیَ التَّطَوُّلَ عَلَیْکَ
منہ موڑتا ہوں تو مجھ سے محبت کرتا ہے میں تجھ سے خفگی کرتا ہوں تو میرے ساتھ الفت کرتا ہے میں بے رخی کرتا ہوں جیسے کہ میرا تجھ پر
فَلَمْ یَمْنَعْکَ ذلِکَ مِنَ الرَّحْمَةِ لِی وَالْاِحْسانِ إلَیَّ وَالتَّفَضُّلِ عَلَیَّ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ
کوئی احسان رہا ہو تو بھی میرا یہ طرز عمل تجھے مجھ پر رحمت فرمانے اور مجھ پر اپنی عطا و بخشش کیساتھ فضل و احسان کرنے سے باز نہیں
فَارْحَمْ عَبْدَکَ الْجاهِلَ وَجُدْ عَلَیْهِ بِفَضْلِ إحْسانِکَ إنَّکَ جَوادٌ کَرِیمٌ الْحَمْدُ
رکھتا پس اپنے اس نادان بندے پر رحم کر اور اس پر اپنے فضل و احسان سے سخاوت فرما بے شک تو بہت دینے والا سخی ہے حمد ہے اس
لِلّٰهِِ مالِکِ الْمُلْکِ، مُجْرِی الْفُلْکِ، مُسَخِّرِ الرِّیاحِ، فالِقِ الْاِصْباحِ، دَیَّانِ الدِّینِ، رَبِّ
اللہ کے لیے جو سلطنت کا مالک کشتی کو رواں کرنیوالا ہواؤں کو قابو رکھنے والا صبح کو روشن کرنے والا او رقیامت میں جزا دینے والا
الْعالَمِینَ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ عَلی حِلْمِهِ بَعْدَ عِلْمِهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ عَلَی عَفْوِهِ بَعْدَ قُدْرَتِهِ
جہانوں کا پروردگار ہے حمد ہے اللہ کی کہ جانتے ہوئے بھی بردباری سے کام لیتا ہے اورحمد ہے اس اللہ کی جو قوت کے باوجود معاف
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ عَلَی طُولِ أَناتِهِ فِی غَضَبِهِ وَهُوَ قادِرٌ عَلَی مَا یُرِیدُ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ خالِقِ
کرتا ہے اور حمد ہے اس اللہ کی جو حالت غضب میں بھی بڑا بردبار ہے اور وہ جو چاہے اسے کرگزرنے کی طاقت رکھتا ہے حمد ہے اس
الْخَلْقِ، باسِطِ الرِّزْقِ، فالِقِ الْاِصْباحِ، ذِی الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ وَالْفَضْلِ وَالْاِنْعامِ
اللہ کی جو مخلوق کو پیدا کرنیوالا روزی کشادہ کرنیوالا صبح کو روشنی بخشنے والا صاحب جلالت و کرم اور فضل و نعمت کا مالک ہے
الَّذِی بَعُدَ فَلا یُریٰ، وَقَرُبَ فَشَهِدَ النَّجْویٰ، تَبارَکَ وَتَعالی الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَیْسَ
جو ایسا دور ہے کہ نظر نہیںآتا اور اتنا قریب ہے کہ سرگوشی کو بھی جانتا ہے وہ مبارک اور برتر ہے حمد ہے اس ﷲ کی جس کا ہمسر نہیں جو
لَهُ مُنازِعٌ یُعادِلُهُ، وَلاَ شَبِیهٌ یُشاکِلُهُ، وَلاَ ظَهِیرٌ یُعاضِدُهُ، قَهَرَ بِعِزَّتِهِ الْاَعِزَّائَ
جو اس سے جھگڑا کرے نہ کوئی اس جیسا ہے کہ اس کاہمشکل ہو نہ کوئی اس کا مددگار و ہمکار ہے وہ اپنی عزت میں سب عزت والوں پر
وَتَواضَعَ لِعَظَمَتِهِ الْعُظَمائُ، فَبَلَغَ بِقُدْرَتِهِ مَا یَشائُ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی یُجِیبُنِی حِینَ
غالب ہے اور سبھی عظمت والے اس کی عظمت کے آگے جھکتے ہیں وہ جو چاہے اس پر قادر ہے حمد ہے اللہ کی جسے پکارتا ہوں تو وہ
أُنادِیهِ، وَیَسْتُرُ عَلَیَّ کُلَّ عَوْرَةٍ وَأَ نَا أَعْصِیهِ، وَیُعَظِّمُ النِّعْمَةَ عَلَیَّ فَلاَ أُجازِیهِ
جواب دیتا ہے اور میری برائی کی پردہ پوشی کرتا ہے میںاسکی نافرمانی کرتا ہوں تو بھی مجھے بڑی بڑی نعمتیں دیتا ہے کہ جن کا بدلہ میں
فَکَمْ مِنْ مَوْهِبَةٍ هَنِیئةٍ قَدْ أَعْطانِی، وَعَظِیمَةٍ مَخُوفَةٍ قَدْ کَفانِی، وَبَهْجَةٍ مُو نِقَةٍ
اسے نہیں دیتا پس اس نے مجھ پر کتنی ہی خوشگوار عنایتیں اوربخششیں کی ہیں کتنی ہی خطرناک آفتوں سے مجھے بچالیا ہے کئی حیرت انگیز
قَدْ أَرانِی فَأُ ثْنِی عَلَیْهِ حامِداً، وَأَذْکُرُهُ مُسَبِّحاً الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لاَ یُهْتَکُ حِجابُهُ
خوشیاں مجھے دکھائی ہیں پس ان پر اس کی حمد و ثنا کرتا ہوں اور لگاتار اس کا نام لیتا ہوں حمد ہے اللہ کی جس کا پردہ ہٹایا نہیںجاسکتا
وَلاَ یُغْلَقُ بابُهُ، وَلاَ یُرَدُّ سائِلُهُ، وَلاَ یُخَیَّبُ آمِلُهُ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی یُؤْمِنُ الْخائِفِینَ
اس کا در رحمت بند نہیں ہوتا اس کا سائل خالی نہیں جاتا اور اس کا امیدوار مایوس نہیں ہوتا حمد ہے اللہ کی جو ڈرنے والوں کو پناہ دیتا ہے
وَیُنَجِّی الصَّالِحِینَ، وَیَرْفَعُ الْمُسْتَضْعَفِینَ، وَیَضَعُ الْمُسْتَکْبِرِینَ، وَیُهْلِکُ مُلُوکاً
نیکوکاروں کو نجات دیتا ہے لوگوں کے دبائے ہوؤں کو ابھارتا ہے بڑا بننے والوں کو نیچا دکھاتا ہے بادشاہوں کو تباہ کرتا اور ان کی جگہ
وَیَسْتَخْلِفُ آخَرِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ قاصِمِ الْجَبَّارِینَ مُبِیرِ الظَّالِمِینَ، مُدْرِکِ الْهارِبِینَ
دوسروں کو لے آتا ہے۔ حمد ہے اللہ کی کہ وہ دھونسیوں کا زور توڑنے والا ظالموں کو برباد کرنے والا فریادیوں کو پہنچنے والا
نَکالِ الظَّالِمِینَ صَرِیخِ الْمُسْتَصْرِخِینَ مَوْضِعِ حاجاتِ الطَّالِبِینَ مُعْتَمَدِ الْمُؤْمِنِینَ
اور بے انصافوں کو سزا دینے والا ہے وہ دادخواہوں کا دادرس حاجات طلب کرنے والوں کا ٹھکانہ اور مومنوں کی ٹیک ہے
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی مِنْ خَشْیَتِهِ تَرْعُدُ السَّمائُ وَسُکَّانُها، وَتَرْجُفُ الْاَرْضُ وَعُمَّارُها
حمد ہے اس اللہ کی جس کے خوف سے آسمان اور آسمان والے لرزتے ہیں زمین اور اس کے آبادکار دہل جاتے ہیں
وَتَمُوجُ الْبِحارُ وَمَنْ یَسْبَحُ فِی غَمَراتِها الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی هَدانا لِهذا وَمَا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ
سمندر لرزتے ہیں اور وہ جو انکے پانیوں میں تیرتے ہیں حمد ہے اللہ کی جس نے ہمیں یہ راہ ہدایت دکھائی اور ہم ہرگز ہدایت نہ پاسکتے
لَوْلاَ أَنْ هَدَانا ﷲ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی یَخْلُقُ وَلَمْ یُخْلَقْ، وَیَرْزُقُ وَلاَ یُرْزَقُ
اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نہ فرماتا حمد ہے اس اللہ کی جو خلق کرتا ہے اور وہ مخلوق نہیں وہ رزق دیتا ہے اور وہ مرزوق نہیں
وَیُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ وَیُمِیتُ الْاَحْیائَ وَیُحْیِی الْمَوْتی وَهُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ
وہ کھانا کھلاتا ہے اور کھاتا نہیں وہ زندوں کو مارتاہے اور مردوں کو زندہ کرتا ہے وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں بھلائی اسیکے ہاتھ میں ہے
وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ وَأَمِینِکَ وَصَفِیِّکَ
اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود! اپنی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما جو تیرے بندے تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرے امانتدار تیرے
وَحَبِیبِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ وَحافِظِ سِرِّکَ، وَمُبَلِّغِ رِسالاتِکَ أَ فْضَلَ وَأَحْسَنَ
برگزیدہ تیرے حبیب اور تیری مخلوق میں سے تیرے پسندیدہ ہیں تیرے راز کے پاسدار ہیں اور تیرے پیغاموں کے پہنچانے
وَأَجْمَلَ وَأَکْمَلَ وَأَزْکی وَأَ نْمی وَأَطْیَبَ وَأَطْهَرَ وَأَسْنی وَأَکْثَرَ مَا صَلَّیْتَ
والے ہیں ان پر رحمت کر بہترین نیکوترین زیباترین کامل ترین روئیدہ ترین پاکیزہ ترین شفاف ترین روشن ترین اور تو نے جو بہت
وَبارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ وَتَحَنَّنْتَ وَسَلَّمْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ عِبادِکَ وَأَ نْبِیائِکَ وَرُسُلِکَ
رحمت کی برکت دی نوازش کی مہربانی کی اور درود بھیجا اپنے بندوں میں اپنے نبیوں اپنے رسولوں اور اپنے برگزیدوں میں سے کسی
وَصِفْوَتِکَ وَأَهْلِ الْکَرامَةِ عَلَیْکَ مِنْ خَلْقِکَ اَللّٰهُمَّ وَصَلِّ عَلَی عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ
ایک پر اور جو تیرے ہاں بزرگی والے ہیں تیری مخلوق میں سے۔ اے معبود! امیرالمومنین علیعليهالسلام پر رحمت فرما
وَوَصِیِّ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ عَبْدِکَ وَوَ لِیِّکَ وَأَخِی رَسُولِکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ
جو جہانوں کے پروردگار کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی ہیںتیرے بندے تیرے ولی تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی تیری مخلوق پر تیری
وَآیَتِکَ الْکُبْری، وَالنَّبَاََ الْعَظِیمِ، وَصَلِّ عَلَی الصِّدِّیقَةِ الطَّاهِرَةِ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ
حجت تیری بہت بڑی نشانی اور بہت نبأ عظیم ہیں اور صدیقہ طاہرہ فاطمہ =پر رحمت فرما جو تمام جہانوں کی عورتوں کی
الْعالَمِینَ وَصَلِّ عَلَی سِبْطَیِ الرَّحْمَۃِ وَ إمامَیِ الْھُدی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سَیِّدَیْ
سردار ہیں اور نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم رحمت کے دو نواسوں اور ہدایت والے دو ائمہعليهالسلام حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام پر رحمت فرما جو جنت کے
شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَصَلِّ عَلَی أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِینِّ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ
جوانوں کے سید و سردار ہیں۔ اور مسلمانوں کے ائمہعليهالسلام پر رحمت فرما کہ وہ علی زین العابدینعليهالسلام محمد الباقرعليهالسلام
وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ وَعَلِیِّ بْنِ مُوسی وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ وَعَلِیِّ بْنِ
جعفر الصادقعليهالسلام موسیٰ الکاظمعليهالسلام علی الرضاعليهالسلام محمد تقی الجوادعليهالسلام علی نقیعليهالسلام
مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَالْخَلَفِ الْهادِی الْمَهْدِیِّ حُجَجِکَ عَلَی عِبادِکَ وَأُمَنائِکَ
الہادیعليهالسلام حسن العسکریعليهالسلام اور بہترین سپوت ہادی المہدیعليهالسلام ہیں جو تیرے بندوں پر تیری حجتیں اور تیرے شہروں
فِی بِلادِکَ صَلاةً کَثِیرَةً دائِمَةً اَللّٰهُمَّ وَصَلِّ عَلَی وَ لیِّ أَمْرِکَ الْقائِمِ الْمُؤَمَّلِ
میں تیرے امین ہیں ان پر رحمت فرما بہت بہت ہمیشہ ہمیشہ اے معبود اپنے ولی امر پر رحمت فرما کہ جو قائم، امیدگاہ
وَالْعَدْلِ الْمُنْتَظَرِ وَحُفَّهُ بِمَلائِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ وَأَیِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ
عادل اور منتظر ہے اسکے گرد اپنے مقرب فرشتوں کا گھیرا لگادے اور روح القدس کے ذریعے اسکی تائید فرما اے جہانوں کے پروردگار
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ الدَّاعِیَ إلی کِتابِکَ وَالْقائِمَ بِدِینِکَ اسْتَخْلِفْهُ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفْتَ
اے معبود! اسے اپنی کتاب کی طرف دعوت دینے والا اور اپنے دین کیلئے قائم قرار دے اسے زمین میںاپنا خلیفہ بنا جیسے ان کو خلیفہ
الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِ، مَکِّنْ لَهُ دِینَهُ الَّذِی ارْتَضَیْتَهُ لَهُ، أَبْدِلْهُ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِ أَمْناً یَعْبُدُکَ
بنایا جو اس سے پہلے ہو گزرے ہیں اپنے پسندیدہ دین کو اس کیلئے پائیدار بنادے اسکے خوف کے بعد اسے امن دے کہ وہ تیرا
لاَ یُشْرِکُ بِکَ شَیْئاً اَللّٰهُمَّ أَعِزَّهُ وَأَعْزِزْ بِهِ، وَانْصُرْهُ وَانْتَصِرْ بِهِ، وَانْصُرْهُ
عبادت گزار ہے کسی کو تیرا شریک نہیں بناتا۔ اے معبود! اسے معزز فرما اور اس کے ذریعے مجھے عزت دے میں اسکی مدد کرو اور اس
نَصْراً عَزِیزاً، وَافْتَحْ لَهُ فَتْحاً یَسِیراً، وَاجْعَلْ لَهُ مِنْ لَدُنْکَ سُلْطاناً نَصِیراً
کے ذریعے میری مدد فرما اسے باعزت مدد دے اور اسے آسانی کے ساتھ فتح دے اور اسے اپنی طرف سے قوت والا مددگار عطا فرما
اَللّٰهُمَّ أَظْهِرْ بِهِ دِینَکَ وَسُنَّةَ نَبِیِّکَ حَتَّی لاَ یَسْتَخْفِیَ بِشَیْئٍ مِنَ الْحَقِّ مَخافَةَ أَحَدٍ
اے معبود! اس کے ذریعے اپنے دین اور اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت کو ظاہر فرما یہاں تک کہ حق میں سے کوئی چیز مخلوق کے خوف سے مخفی و
مِنَ الْخَلْقِ اَللّٰهُمَّ إنَّا نَرْغَبُ إلَیْکَ فِی دَوْلَةٍ کَرِیمَةٍ تُعِزُّ بِهَا الْاِسْلامَ وَأَهْلَهُ
پوشیدہ نہ رہ جائے اے معبود! ہم ایسی برکت والی حکومت کی خاطر تیری طرف رغبت رکھتے ہیں جس سے تو اسلام و اہل اسلام کو قوت
وَتُذِلُّ بِهَا النِّفاقَ وَأَهْلَهُ، وَتَجْعَلُنا فِیها مِنَ الدُّعاةِ إلَی طاعَتِکَ، وَالْقادَةِ إلی
دے اور نفاق و اہل نفاق کو ذلیل کرے اور اس حکومت میں ہمیں اپنی اطاعت کیطرف بلانے والے اور اپنے راستے کیطرف رہنمائی
سَبِیلِکَ، وَتَرْزُقُنا بِها کَرامَةَ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ اَللّٰهُمَّ مَا عَرَّفْتَنا مِنَ الْحَقِّ
کرنے والے قرار دے اور اس کے ذریعے ہمیں دنیا و آخرت کی عزت دے اے معبود! جس حق کی تو نے ہمیں معرفت کرائی اسکے
فَحَمِّلْناهُ، وَمَا قَصُرْنا عَنْهُ فَبَلِّغْناهُ اَللّٰهُمَّ الْمُمْ بِه شَعَثَنا، وَاشْعَبْ
تحمل کی توفیق دے اور جس سے ہم قاصر رہے اس تک پہنچادے اے معبود اسکے ذریعے ہم بکھروں کو جمع کردے اسکے ذریعے
بِهِ صَدْعَنا، وَارْتُقْ بِهِ فَتْقَنا، وَکَثِّرْ بِهِ قِلَّتَنا، وَأَعْزِزْ بِهِ ذِلَّتَنا، وَأَغْنِ بِهِ عائِلَنا
ہمارے جھگڑے ختم کر اور ہماری پریشانی دور فرما اسکے ذریعے ہماری قلت کوکثرت اور ذلت کو عزت میں بدل دے اسکے ذریعے
وَاقْضِ بِهِ عَنْ مُغْرَمِنا، وَاجْبُرْ بِهِ فَقْرَنا، وَسُدَّ بِهِ خَلَّتَنا، وَیَسِّرْ
ہمیں نادار سے تونگر بنا اور ہمارے قرض ادا کر دے اسکے ذریعے ہمارا فقر دور فرما دے ہماری حاجتیں پوری کر دے اور تنگی کو آسانی
بِهِ عُسْرَنا، وَبَیِّضْ بِهِ وُجُوهَنا، وَفُکَّ بِهِ أَسْرَنا، وَأَ نْجِحْ بِهِ طَلِبَتَنا، وَأَ نْجِزْ بِهِ
میں بدل دے اس کے ذریعے ہمارے چہرے روشن کر اور ہمارے قیدیوں کو رہائی دے اس کے ذریعے ہماری حاجات بر لا اور
مَواعِیدَنا، وَاسْتَجِبْ بِهِ دَعْوَتَنا، وَأَعْطِنا بِهِ سُؤْلَنا، وَبَلِّغْنا بِهِ مِنَ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ
ہمارے وعدے نبھا دے اسکے ذریعے ہماری دعائیں قبول فرما اور ہمارے سوال پورے کر دے اس کے ذریعے دنیا و آخرت میں
آمالَنا، وَأَعْطِنا بِهِ فَوْقَ رَغْبَتِنا، یَا خَیْرَ الْمَسْؤُولِینَ، وَأَوْسَعَ
ہماری امیدیں پوری فرما اور ہمیں ہماری درخواست سے زیادہ عطا کر اے سوال کئے جانے والوں میں بہترین۔اور اے سب سے
الْمُعْطِینَ، اشْفِ بِهِ صُدُورَنا، وَأَذْهِبْ بِهِ غَیْظَ قُلُوبِنا، وَاهْدِنا بِهِ لِمَا اخْتُلِفَ فِیهِ
زیادہ عطا کرنے والے اس کے ذریعے ہمارے سینوں کو شفا دے اور ہمارے دلوں سے بغض و کینہ مٹا دیجس حق میں ہمارا
مِنَ الْحَقِّ بِ إذْنِکَ، إنَّکَ تَهْدِی مَنْ تَشائُ إلی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ، وَانْصُرْنا
اختلاف ہے اپنے حکم سے اس کے ذریعے ہمیں ہدایت فرما بے شک تو جسے چاہیسیدھے راستے کی طرف لے جاتا ہے اس کے
بِهِ عَلَی عَدُوِّکَ وَعَدُوِّنا إلهَ الْحَقِّ آمِینَ اَللّٰهُمَّ إنَّا نَشْکُو إلَیْکَ فَقْدَ
ذریعے اپنے اور ہمارے دشمن پر ہمیں غلبہ عطا فرما اے سچے خدا ایسا ہی ہو۔ اے معبود ! ہم شکایت کرتے ہیں تجھ سے اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے
نَبِیِّنا صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَغَیْبَةَ وَلِیِّنا، وَکَثْرَةَ عَدُوِّنا، وَقِلَّةَ عَدَدِنا،
اٹھ جانے کی کہ ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر تیری رحمت ہو اور اپنے ولی کی پوشیدگی کی اور شاکی ہیں دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت تعداد
وَشِدَّةَ الْفِتَنِ بِنا، وَتَظاهُرَ الزَّمانِ عَلَیْنا، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَأَعِنَّا عَلی ذلِکَ
اور فتنوں کی سختی اور حوادث زمانہ کی یلغار کی شکایت کرتے ہیں پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور ہماری مدد فرما ان پر فتح کے ساتھ
بِفَتْحٍ مِنْکَ تُعَجِّلُهُ، وَبِضُرٍّ تَکْشِفُهُ، وَنَصْرٍ تُعِزُّهُ، وَسُلْطانِ حَقٍّ تُظْهِرُهُ، وَرَحْمَةٍ
اور اس میں جلدی کر کے تکلیف دور کردے نصرت سے عزت عطا کر حق کے غلبے کا اظہار فرما ایسی رحمت فرما جو ہم پر
مِنْکَ تُجَلِّلُناها، وَعافِیَةٍ مِنْکَ تُلْبِسُناها، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
سایہ کرے اور امن عطا کر جو ہمیں محفوظ بنا دے رحمت فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
(۱۲) ہر رات یہ دعا پڑھے :اَللّٰهُمَّ بِرَحْمَتِکَ فِی الصَّالِحِینَ فَأَدْخِلْنا وَفِی عِلِّیِّینَ فَارْفَعْنا
اے معبود ! اپنی رحمت سے ہمیں نیکوکاروں میں داخل فرما جنت علیین میں ہمارے درجے بلند فرما ہمیں چشمہ
وَبِکَأْسٍ مِنْ مَعِینٍ مِنْ عَیْنٍ سَلْسَبِیلٍ فَاسْقِنا وَمِنَ الْحُورِ الْعِینِ بِرَحْمَتِکَ فَزَوِّجْنا، وَمِنَ
سلسبیل کے خوشگوار جام سے سیراب فرما اپنی مہربانی سے حوران جنت کو ہماری بیویاں بنا اور ہمیشہ جوان رہنے والے
الْوِلْدانِ الْمُخَلَّدِینَ کَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَکْنُونٌ فَأَخْدِمْنا وَمِنْ ثِمارِ الْجَنَّةِ وَلُحُومِ الطَّیْرِ فَأَطْعِمْنا
لڑکے جو گویا چھپے موتی ہیں انہیں ہماری خدمت پر لگا جنت کے میوے اور وہاں کے پرندوں کا گوشت ہمیں کھلا
وَمِنْ ثِیابِ السُّنْدُسِ وَالْحَرِیرِ وَالْاِسْتَبْرَقِ فَأَلْبِسْنا، وَلَیْلَةَ الْقَدْرِ، وَحَجَّ بَیْتِکَ
اور ہمیں سندس ابریشم اور چمکیلے کپڑوں کے بنے ہوئے لباس پہنا ہمیں شب قدر عطا کر اپنے بیت ﷲ (کعبہ) کے حج کی
الْحَرامِ وَقَتْلاً فِی سَبِیلِکَ فَوَفِّقْ لَنا، وَصالِحَ الدُّعائِ وَالْمَسْأَلَةِ فَاسْتَجِبْ لَنا،وَ إذا
توفیق دے اور اپنی راہ میں شہادت نصیب کر دے ہماری نیک دعاؤں اور اچھی حاجتوں کو پورا فرما دے اور جب
جَمَعْتَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ یَوْمَ الْقِیامَةِ فَارْحَمْنا، وَبَرائَةً مِنَ النَّارِ فَاکْتُبْ لَنا
قیامت کے روز تو اگلے پچھلوں کو اکٹھا کرے تو ہم پر رحم فرما ہمارے لئے جہنم سے خلاصی لاز می کردے
وَفِی جَهَنَّمَ فَلا تَغُلَّنا، وَفِی عَذابِکَ وَهَوانِکَ فَلا تَبْتَلِنا، وَمِنَ الزَّقُّومِ وَالضَّرِیعِ فَلا
ہمیں اس میں نہ ڈال ہمیں اپنے عذاب اور ذلت میں نہ پھنسا اور ہمیں تھوہر اور زہریلی گھاس
تُطْعِمْنا وَمَعَ الشَّیاطِینِ فَلا تَجْعَلْنا وَفِی النَّارِ عَلی وُجُوهِ نا فَلا تَکْبُبْنا، وَمِنْ ثِیابِ النَّارِ
نہ کھلا اور ہمیں شیطانوں کا ہم نشین نہ بنا اور جہنم میں ہمیں چہروں کے بل نہ لٹکا ہمیں آتشی کپڑے
وَسَرابِیلِ الْقَطِرانِ فَلا تُلْبِسْنا وَمِنْ کُلِّ سُوئٍ یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ بِحَقِّ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ فَنَجِّنا
اور قطران کے پیراہن نہ پہنا اور اے وہ کہ نہیں کوئی معبود مگر تو ہی ہے نہیں کوئی معبود مگر تو ہے کے واسطے ہمیں بچا۔
ادامہ دوسری قسم
رمضان کی راتوں کے اعمال
(۱۳) امام جعفر صادق -سے روایت ہے کہ ہر رات یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ تَجْعَلَ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ مِنَ الْاَمْرِ الْمَحْتُومِ فِی الْاَمْرِ
اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اپنی قضائ و قدر میں محکم امور سے متعلق جو یقینی فیصلے کرتا ہے جو تیری وہ قضائ ہے کہ
الْحَکِیمِ مِنَ الْقَضائِ الَّذِی لاَ یُرَدُّ وَلاَ یُبَدَّلُ أَنْ تَکْتُبَنِی مِنْ حُجَّاجِ بَیْتِکَ الْحَرامِ
جس میں کسی بھی طرح کی تبدیلی اور پلٹ نہیں ہوتی اس میں میرا نام اپنے بیت الحرام (کعبہ) کے حاجیوں میں
الْمَبْرُورِ حَجُّهُمُ، الْمَشْکُورِ سَعْیُهُمُ، الْمَغْفُورِ ذُنُوبُهُمُ، الْمُکَفَّرِ عَنْ سَیِّئاتِهِمْ، وَأَنْ
لکھ دے کہ جن کا حج تجھے منظور ہے ان کی سعی قبول ہے ان کے گناہ بخشے گئے ہیں اور ان کی خطائیں مٹا دی گئی ہیں نیز
تَجْعَلَ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ أَنْ تُطِیلَ عُمْرِی فِی خَیْرٍ وَعافِیَةٍ، وَتُوَسِّعَ فی رِزْقِی
اپنی قضائ و قدر میں میری عمر طویل قرار دے جس میں بھلائی اور امن ہو میری روزی میں فراخی دے
وَتَجْعَلَنِی مِمَّنْ تَنْتَصِرُ بِهِ لِدِینِکَ وَلاَ تَسْتَبْدِلْ بِی غَیْرِی
اور مجھے ان لوگوں میںقرار دے جن کے ذریعے تو اپنے دین کی مدد کرتا ہے اور میری جگہ کسی اور کو نہ دے ۔
(۱۴) انیس الصالحین میں ہے کہ ماہ رمضان کی ہر رات یہ دعا پڑھے :
أَعُوذُ بِجَلالِ وَجْهِکَ الْکَرِیمِ أَنْ یَنْقَضِیَ عَنِّی شَهْرُ رَمَضانَ أَوْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ
میں تیری ذات کریم کی جلالت کے ذریعے پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ میرا ماہ رمضان گزر جائے یا میری آج کی رات کے بعد اگلی
لَیْلَتِی هذِهِ وَلَکَ قِبَلِی تَبِعَةٌ أَوْ ذَ نْبٌ تُعَذِّبُنِی عَلَیْهِ
صبح طلوع ہو جائے اور میرے لئے کوئی سزا باقی ہو جس پر تو مجھے عذاب کرے ۔
(۱۵) شیخ کفعمی نے بلد الامین کے حاشیہ میں سید بن باقی سے نقل کیا ہے کہ ماہ رمضان کی ہر شب دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے کہ اس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد تین مرتبہ سور ہ توحید پڑھے اور نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
سُبْحانَ مَنْ هُوَ حَفِیظٌ لاَ یَغْفُلُ سُبْحانَ مَنْ هُوَ رَحِیمٌ لاَ یَعْجَلُ سُبْحانَ مَنْ هُوَ
پاک تر ہے وہ خدا جو ایسا نگہبان ہے غافل نہیں ہوتا، پاک تر ہے وہ مہربان جو جلدی نہیں کرتا پاک تر ہے وہ
قائِمٌ لاَ یَسْهُو سُبْحانَ مَنْ هُوَ دائِمٌ لاَ یَلْهُو
قائم جو کبھی بھولتا نہیں پاک تر ہے وہ ہمیشہ رہنے والا جو کھیل میں نہیں پڑتا ۔
اس کے بعد سات مرتبہ تسبیحات اربعہ پڑھے اور پھر کہے :
سُبْحَانَکَ سُبْحَانَکَ سُبْحَانَکَ یَا عَظِیْمُ اِغْفِرْلِیَ الذَنْبَ الْعَظِیْمَ
تو پاک تر ہے تو پاک تر ہے اے بڑائی والے میرے بڑے بڑے گناہ معاف کر دے ۔
اس کے بعد حضرت رسول اور ان کی آلعليهالسلام پر دس مرتبہ صلوات بھیجے جو شخص یہ نماز بجا لائے تو حق تعالیٰ اس کے ستر ہزار گناہ بخش دیتا ہے۔
(۱۶) روایت میں ہے کہ ماہ رمضان کی ہر رات کی نافلہ نماز میں سورہ ’’ انا فتحنا‘‘ پڑھے تو وہ اس سال میں ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔ واضح ہو کہ ماہ رمضان کے رات کے اعمال میں ایک ہزار رکعت نماز بھی ہے جو اس پورے مہینے میں پڑھی جائے گی ، بزرگ علمائ نے کتب فقہ اور کتب عبادات میں اس کا ذکر کیا ہے تاہم اس کی ترکیب کے سلسلے میں مختلف حدیثیں وارد ہوئی ہیں ۔
لیکن ابن قرۃ کی روایت کے مطابق امام محمد تقی -کا فرمان ہے، جسے شیخ مفیدرحمهالله نے اپنی کتاب الغریہ ٰو الاشراف میں نقل کیا ہے اور وہ وہی قول مشہور ہے اور وہ یہ ہے کہ ماہ رمضان کے پہلے اور دوسرے عشرے میں ہر رات دو دو رکعت کر کے نماز پڑھے ان میں سے آٹھ رکعت نماز مغرب کے بعد اور بارہ رکعت عشائ کے بعد بجا لائے پھر ماہ رمضان کے آخری عشرے میں ہر رات تیس رکعت نماز مذکورہ ترتیب سے اس طرح پڑھے کہ آٹھ رکعت نماز مغرب کے بعد اور بائیس رکعت عشائ کے بعد ادا کرے۔باقی تین سو رکعت اس طرح پوری کرے کہ سو رکعت انیس کی شب، سو رکعت اکیس کی شب اور سو رکعت تئیس کی شب میں بجا لائے تومجموعی طور پر ایک ہزار رکعت پوری ہو جائے گی ۔
اس کے علاوہ بھی کچھ ترکیبیں نقل ہیں لیکن اس مختصر کتاب میں ان سب کا تذکرہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے، تاہم امید ہے کہ سعادت مند لوگ یہ ایک ہزار رکعت نماز بجا لانے میں ذوق وشوق کا اظہار کرکے اس کی برکات سے بہرور ہوں گے۔
روایت ہے کہ ماہ رمضان کے نافلہ کی ہر دو رکعت کے بعد یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ مِنَ الْاَمْرِ الْمَحْتُومِ وَفِیما تَفْرُقُ مِنَ الْاَمْرِ الْحَکِیمِ
اے معبود تو قضائ وقدر میں جن یقینی امور کو طے فرماتا ہے اور محکم فیصلے کرتا ہے اور شب قدر میں جو پر حکمت حکم جاری کرتا ہے
فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ أَنْ تَجْعَلَنِی مِنْ حُجَّاجِ بَیْتِکَ الْحَرامِ الْمَبْرُورِ حَجُّهُمُ، الْمَشْکُورِ
ان میں مجھے اپنے بیت الحرام کعبہ کے ایسے حاجیوں میں سے قرار دے کہ جن کا حج تیرے ہاں مقبول ہے جن کی سعی پسندیدہ
سَعْیُهُمُ، الْمَغْفُورِ ذُ نُوبُهُمْ، وَأَسْأَ لُکَ أَنْ تُطِیلَ عُمْرِی فِی طاعَتِکَ، وَتُوَسِّعَ لِی
ہوئی جن کے گناہ بخش دیئے گئے اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میری عمر دراز کر جو تیری بندگی میں گزرے اور میرے رزق میں
فِی رِزْقِی، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
فراخی فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
تیسری قسم
ماہ رمضان میں سحری کے اعمال
ماہ رمضان میں سحری کے اعمال اور وہ چند امور ہیں
( ۱ ) سحری کھانا، سحری کھانا ترک نہ کرے ۔ اگرچہ اس میں ایک کھجور اور ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو اور سحری کے وقت کی بہترین خوارک ستو ہے ، جس میں کھجور کا سفوف ملا ہو اور روایت ہوئی ہے کہ خدا وند عالم اور ملائکہ درود بھیجتے ہیں ان پر جو استغفار کرتے ہیں سحری کے وقت اور سحری کھاتے ہیں
( ۲ ) سحری کے وقت سورہ ’’ انا انزلناہ ‘‘ پڑھے روایت میں آیا ہے جو شخص سحری وافطاری اوران وقتوں کے درمیان اس سورے کی تلاوت کرے تو اس کے لئے اس شخص جتنا ثواب ہے جو راہ خدا میں زخم کھائے اور جان قربان کر دے
( ۳ ) سحری کے وقت یہ عظیم القدر دعا پڑھے جو امام علی رضا-سے منقول ہے آپعليهالسلام نے فرمایا کہ یہ وہی دعا ہے جسے امام محمد باقر - سحری کے وقت پڑھتے تھے اور وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ بَهائِکَ بِأَبْهاهُ وَکُلُّ بَهائِکَ بَهِیٌّ، اَللّٰهُمَّ إنِّی
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری روشنی میں سے جو روشن تر ہے جبکہ تیری تمام روشنی بڑی بھر پور روشنی ہے اے معبود ! میں
أَسْأَلُکَ بِبَهائِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ جَمالِکَ بِأَجْمَلِهِ وَکُلُّ جَمالِکَ
تجھ سے تیری تمام روشنی کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے جمال میں سے جو بہت زیبا ہے اور
جَمِیلٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِجَمالِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ جَلالِکَ
تیرا سارا جمال زیبا ہے اے معبود! میں تجھ سے تیرے سارے جمال کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ
بِأَجَلِّهِ وَکُلُّ جَلالِکَ جَلِیلٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِجَلالِکَ کُلِّهِ
سے تیرے جلال میں سے اسکی پوری جلالت کیساتھ اور تیرا سارا جلال پُر جلالت ہے اے معبود! میںتجھ سے تیرے پورے جلال کے ذریعے سوال کرتا ہوں
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ عَظَمَتِکَ بِأَعْظَمِها وَکُلُّ عَظَمَتِکَ عَظِیمَةٌ
اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عظمت کے ذریعے جو بڑی ہی عظیم ہے اور تیری تمام عظمتیں بڑی ہی عظیم ہیں۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِعَظَمَتِکَ کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ نُورِکَ بِأَنْوَرِهِ وَکُلُّ
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عظمت کے واسطے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوںتیرے نور کے پُر نور ہونے سے
نُورِکَ نَیِّرٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِنُورِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ
اور تیرا سارا نور تاباں ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوںتجھ سے بواسطہ تیرے تمام نور کے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
مِنْ رَحْمَتِکَ بِأَوْسَعِها وَکُلُّ رَحْمَتِکَ واسِعَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِرَحْمَتِکَ
تیری رحمت میں سے اس کی وسعتوں کے ساتھ اور تیری ساری رحمت وسیع ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیری
کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ کَلِماتِکَ بِأَ تَمِّها وَکُلُّ کَلِماتِکَ تامَّةٌ،
تمام رحمت کے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے کلمات میں سے جو کامل تر ہیں اور تیرے تمام کلمات کامل تر ہیں
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِکَلِماتِکَ کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ کَمالِکَ
اے معبود! میں تجھ سے تیرے تمامی کلمات کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے کمال میں سے
بِأَکْمَلِهِ وَکُلُّ کَمالِکَ کامِلٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِکَمالِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی
جو بہت کامل ہے اور تیرا ہر کمال ہی کامل تر ہے اے معبود! میں تجھ سے تیرے تمامی کمال کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں
أَسْأَلُکَ مِنْ أَسْمائِکَ بِأَکْبَرِها وَکُلُّ أَسْمائِکَ کَبِیرَةٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِأَسْمائِکَ
تجھ سے تیرے ناموں میں سے بڑے نام کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں اور تیرے سبھی نام بزرگتر ہیں اے معبود! میں تجھ تیرے
کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ عِزَّتِکَ بِأَعَزِّها وَکُلُّ عِزَّتِکَ
سبھی ناموں کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود! میں تجھ سے تیری عزت میں سے بلند تر عزت کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور
عَزِیزَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِعِزَّتِکَ کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ مَشِیئَتِکَ
تیری عزت ہی بلند تر ہے اے معبود ! میں تجھ سے تیری تمامی عزت کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیری نافذ
بِأَمْضاها وَکُلُّ مَشِیئَتِکَ ماضِیَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِمَشِیئَتِکَ
ہونے والی مرضی کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیری ہر مرضی نافذ ہونے والی ہے اے معبود ! میں تجھ سے تیری ہر مرضی کے ذریعے
کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ قُدْرَتِکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتِی اسْتَطَلْتَ بِها عَلَی کُلِّ شَیْئٍ
سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیری اس قدرت کے ذریعے سے سوال کرتا ہوں جس سے تو ہر چیز پر تسلط رکھتا ہے
وَکُلُّ قُدْرَتِکَ مُسْتَطِیلَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِقُدْرَتِکَ کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی
اور تیری تمامی قدرت تسلط رکھنے والی ہے اے معبود! میں تجھ سے تیری کلی قدرت کے ذریعے سوال کرتا ہوں۔اے معبود ! میں تجھ
أَسْأَ لُکَ مِنْ عِلْمِکَ بِأَ نْفَذِهِ وَکُلُّ عِلْمِکَ نافِذٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِعِلْمِکَ
سے تیرے بہت نفوذ کرنے والے علم کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیرا تمامی علم نافذ تر ہے اے معبود ! میں تجھ سے تیرے سارے
کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ قَوْ لِکَ بِأَرْضاهُ وَکُلُّ قَوْ لِکَ رَضِیٌّ،
ہی علم کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیرے قول سے سوال کرتا ہوں جو پسندیدہ تر ہے اور تیرا ہر قول پسندیدہ ہے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِقَوْ لِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ مَسائِلِکَ بِأَحَبِّها إلَیْکَ
اے معبود ! میں تجھ سے تیرے ہر قول کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے محبوب تر مسائل سے
وَکُلُّ مَسائِلِکَ إلَیْکَ حَبِیبَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِمَسائِلِکَ کُلِّها،
کہ وہ سب کے سب تیرے نزدیک محبوب و مطلوب ہیں اے معبود ! میں تجھ سے تیرے تمام مسائل کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ شَرَفِکَ بِأَشْرَفِهِ وَکُلُّ شَرَفِکَ شَرِیفٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی
معبود ! میں تجھ سے تیرے شرف میں سے اعلیٰ تر شرف کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیرا ہر شرف اعلیٰ تر ہے اے معبود! میں تجھ سے
أَسْأَ لُکَ بِشَرَفِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ سُلْطانِکَ بِأَدْوَمِهِ وَکُلُّ
تیرے تمامی شرف کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری سلطنت سے جو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہے اور
سُلْطانِکَ دَائِمٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِسُلْطانِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ
تیری سلطنت ہے ہی ہمیشگی والی اے معبود! میں تجھ سے تیری ساری سلطنت کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے
مُلْکِکَ بِأَفْخَرِهِ وَکُلُّ مُلْکِکَ فاخِرٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِمُلْکِکَ
تیرے پر فخر ملک کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیرا تمام ملک ہی موجب فخر ہے اے معبود! میں تجھ سے تیرے تمام ملک کے ذریعے
کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ عُلُوِّکَ بِأَعْلاهُ وَکُلُّ عُلُوِّکَ عالٍ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ
سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیری بلند تر بلندی کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیری ہر بلندی بلند تر ہے اے معبود! میں تجھ سے
بِعُلُوِّکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ مَنِّکَ بِأَ قْدَمِهِ وَکُلُّ مَنِّکَ
تیری تمام تر بلندی کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیرے احسان کی قدامت کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیرا
قَدِیمٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِمَنِّکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ آیاتِکَ
ہر احسان قدیم ہے اے معبود ! میں تجھ سے تیرے تمام احسانات کے ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے تیری آیات
بِأَکْرَمِها وَکُلُّ آیاتِکَ کَرِیمَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بآیاتِکَ
میں سے بزرگتر آیت کے ذریعے سوال کرتا ہوں اور تیری سبھی آیات بزرگ ہیں اے معبود ! میں تجھ سے تیری تمام آیات کے
کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِما أَ نْتَ فِیهِ مِنَ الشَّأْنِ وَالْجَبَرُوتِ وَأَسْأَ لُکَ بِکُلِّ
ذریعے سوال کرتا ہوں اے معبود ! میں تجھ سے اس کے ذریعے سوال کرتا ہوں جس میں قدرت اور شان کے ساتھ ہے اور میں تجھ
شَأْنٍ وَحْدَهُ وَجَبَرُوتٍ وَحْدَها، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِما تُجِیبُنِی بِهِ حِینَ أَسْأَ لُکَ
سے سوال کرتا ہوں ہر نرالی شان اور یکتا بزرگی کے ذریعے اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کے ذریعے
فَأَجِبْنِی یَا ﷲ
جس سے تو حاجت پوری فرمائے ۔
اس کے بعد اپنی ہر حاجت طلب کرے تاکہ خدائے تعالیٰ اسے بر لائے۔
دعا ئے ابو حمزہ ثمالی
( ۴ ) شیخ نے مصباح میں ابو حمزہ ثمالی کی روایت نقل کی ہے کہ امام زین العابدین -رمضان مبارک کی راتیں نماز میں گزارتے اور سحری کے وقت یہ دعا پڑھے تھے:
إلھِی لاَ تُؤَدِّبْنِی بِعُقُوبَتِکَ، وَلاَ تَمْکُرْ بِی فِی حِیلَتِکَ، مِنْ ٲَیْنَ لِیَ الْخَیْرُ یَا
میرے ﷲ!مجھے اپنے عذاب میں گرفتار نہ کر اور مجھے اپنی قدرت کے ساتھ نہ آزما مجھے کہاں سے بھلائی حاصل ہوسکتی ہے اے
رَبِّ وَلاَ یُوجَدُ إلاَّ مِنْ عِنْدِکَ وَمِنْ ٲَیْنَ لِیَ النَّجاۃُ وَلا تُسْتَطاعُ إلاَّ بِکَ لاَ الَّذِی
پالنے والے جب کہ وہ تیرے سوا کہیں موجود نہیں سے نجات مل سکے گی جبکہ اس پر تیرے سوا کسی کو قدرت نہیں نہ ہی کو نیکی کرنے
ٲَحْسَنَ اسْتَغْنی عَنْ عَوْ نِکَ وَرَحْمَتِکَ، وَلاَ الَّذِی ٲَسائَ وَاجْتَرَٲَ عَلَیْکَ وَلَمْ یُرْضِکَ
میں تیری مدد اور رحمت سے بے نیاز ہے اور نہ ہی کوئی برائی کرنے والا تیرے سامنے جرأت کرنیوالا اور تیری رضا جوئی نہ کرنیوالا
خَرَجَ عَنْ قُدْرَتِکَ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ یَا رَبِّ
تیرے قابو سے باہر ہے اے پالنے والے اے پالنے والے اے پالنے والے۔
اس کو اتنی مرتبہ کہے کہ سانس ٹوٹ جائے اور اس کے بعد کہے:
بِکَ عَرَفْتُکَ وَٲَ نْتَ دَلَلْتَنِی عَلَیْکَ وَدَعَوْتَنِی إلَیْکَ ، وَلَوْلا ٲَ نْتَ لَمْ ٲَدْرِ مَا
میں نے تیرے ہی ذریعے تجھے پہچانا تو نے اپنی طرف میری راہنمائی کی اور مجھے اپنی طرف بلایا ہے اور اگر تو مجھے نہ بلاتا تو میں سمجھ
ٲَنْتَ ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِِ الَّذِی ٲَدْعُوھُ فَیُجِیبُنِی وَ إنْ کُنْتُ بَطِیئاً حِینَ یَدْعُونِی، وَالْحَمْدُ
ہی نہ سکتا کہ تو کون ہے حمد ہے اس خدا کیلئے جسے پکارتا ہوں تو جواب دیتا ہے اگرچہ جب وہ مجھے پکارے تو میں سستی کرتا ہوں حمد ہے
لِلّٰہِ الَّذِی ٲَسْٲَ لُہُ فَیُعْطِینِی وَ إنْ کُنْتُ بَخِیلاً حِینَ یَسْتَقْرِضُنِی، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ
اس ﷲ کیلئے کہ جس سے مانگتا ہوں تو مجھے عطا کرتا ہے اگرچہ وہ مجھ سے قرض کا طالب ہو تو کنجوسی کرتا ہوں حمد ہے اس ﷲ کیلئے
الَّذِی ٲُنادِیہِ کُلَّما شِئْتُ لِحاجَتِی وَٲَخْلُو بِہِ حَیْثُ شِئْتُ لِسِرِّی بِغَیْرِ شَفِیعٍ فَیَقْضِی
کہ جب چاہوں اسے اپنی حاجت کیلئے پکارتاہوں اور جب چاہوں تنہائی میں بغیر کسی سفارشی کے اس سے راز و نیاز کرتا ہوں تو وہ
لِی حاجَتِی ، الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لاَ ٲَدْعُو غَیْرَھُ وَلَوْ دَعَوْتُ غَیْرَھُ لَمْ یَسْتَجِبْ لِی
میری حاجت پوری کرتا ہے حمد ہے اس ﷲ کیلئے کہ جس کے سوا میں کسی کو نہیں پکارتا اور اگر اس کے غیر سے دعا کروں تو وہ میری دعا
دُعائِی وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لاَ ٲَرْجُو غَیْرَھُ وَلَوْ رَجَوْتُ غَیْرَھُ لاَََخْلَفَ رَجائِی
قبول نہیں کرے گا حمد ہے اس ﷲ کیلئے جس کے غیر سے میں امید نہیں رکھتا اور اگرامید رکھوں بھی تو وہ میری امید پوری نہ کریگا حمد
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی وَکَلَنِی إلَیْہِ فَٲَکْرَمَنِی وَلَمْ یَکِلْنِی إلَی النَّاسِ فَیُھِینُونِی، وَالْحَمْدُ
ہے اس ﷲ کیلئے جس نے اپنی سپردگی میں لے کر مجھے عزت دی اور مجھے لوگوں کے سپرد نہ کیا کہ مجھے ذلیل کرتے حمد ہے
لِلّٰہِ الَّذِی تَحَبَّبَ إلَیَّ وَھُوَ غَنِیٌّ عَنِّی، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی یَحْلُمُ عَنِّی حَتَّی کَٲَ نِّی لاَ
اس ﷲ کے لئے جو مجھ سے محبت کرتا ہے اگرچہ وہ مجھ سے بے نیاز ہے حمد ہے اس ﷲ کیلئے جو مجھ سے اتنی نرمی کرتا ہے جیسے میں نے
ذَنْبَ لِی، فَرَبِّی ٲَحْمَدُ شَیْئٍ عِنْدِی وَٲَحَقُّ بِحَمْدِی اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَجِدُ سُبُلَ
کوئی گناہ نہ کیا ہو پس میرا رب میرے نزدیک ہر شئے سے زیادہ قابل تعریف ہے اور وہ میری حمد کا زیادہ حقدار ہے۔اے معبود !
الْمَطالِبِ إلَیْکَ مُشْرَعَۃً، وَمَناھِلَ الرَّجائِ لَدَیْکَ مُتْرَعَۃً، وَالاسْتِعانَۃَ بِفَضْلِکَ لِمَنْ
میں اپنے مقاصد کی راہیں تیری طرف کھلی ہوئی پاتا ہوں اور امیدوں کے چشمے تیرے ہاں بھرے پڑے ہیں ہر امید وار کے لئے
ٲَمَّلَکَ مُباحَۃً، وَٲَبْوابَ الدُّعائِ إلَیْکَ لِلصَّارِخِینَ مَفْتُوحَۃً، وَٲَعْلَمُ ٲَ نَّکَ
تیرے فضل سے مدد چاہنا آزاد وروا ہے اور فریاد کرنے والوں کی دعائوں کیلئے تیرے دروازے کھلے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ تو
لِلرَّاجِین بِمَوْضِعِ إجابَۃٍ وَ لِلْمَلْھُوفِینَ بِمَرْصَدِ إغاثَۃٍ، وَٲَنَّ فِی اللَّھْفِ إلی جُودِکَ
امیدوار کی جائے قبولیت ہے تو مصیبت زدوںکے لئے فریاد رسی کی جگہ ہے میں جانتا ہوں کہ تیری سخاوت
وَالرِّضا بِقَضائِکَ عِوَضاً مِنْ مَنْعِ الْباخِلِینَ وَمَنْدُوحَۃً عَمَّا فِی ٲَیْدِی الْمُسْتَٲْثِرِینَ
کی پناہ لینا اور تیرے فیصلے پر راضی رہنا کنجوسوں کی روک ٹوک سے بچنے اور خود غرض مالداروں سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے
وَٲَنَّ الرَّاحِلَ إلَیْکَ قَرِیبُ الْمَسافَۃِ، وَٲَ نَّکَ لاَ تَحْتَجِبُ عَنْ خَلْقِکَ إلاَّ ٲَنْ تَحْجُبَھُمُ
نیز یہ کہ تیری طرف آنے والے کی منزل قریب ہے اور تو اپنی مخلوق سے اوجھل نہیں ہے مگر ان کے برے اعمال نے ہی انہیں تجھ سے
الْاَعْمالُ دُونَکَ وَقَدْ قَصَدْتُ إلَیْکَ بِطَلِبَتِی وَتَوَجَّھْتُ إلَیْکَ بِحاجَتِی وَجَعَلْتُ بِکَ
دور کر رکھا ہے میں اپنی طلب لیکر تیری بارگاہ میں آیا اور اپنی حاجت کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہوا ہوں میری فریاد تیرے
اسْتِغاثَتِی، وَبِدُعائِکَ تَوَسُّلِی مِنْ غَیْرِ اسْتِحْقاقٍ لاِسْتِماعِکَ مِنِّی، وَلاَ اسْتِیجابٍ
حضور میں ہے میری دعا کا وسیلہ تیری ہی ذات ہے جبکہ میں اس کا حقدار نہیں کہ تو میری سنے اور نہ اس قابل ہوں
لِعَفْوِکَ عَنِّی بَلْ لِثِقَتِی بِکَرَمِکَ، وَسُکُونِی إلی صِدْقِ وَعْدِکَ وَلَجَائِی إلَی الْاِیمانِ
کہ تو مجھے معاف کرے البتہ مجھے تیرے کرم پر بھروسہ اور تیرے سچے وعدے پر اعتماد ہے تیری توحید پر ایمان میری پکی سچی پناہ ہے
بِتَوْحِیدِکَ وَیَقِینِی بِمَعْرِفَتِکَ مِنِّی ٲَنْ لا رَبَّ لِی غَیْرُکَ، وَلاَ إلہَ إلاَّ ٲَ نْتَ وَحْدَکَ لاَ
اور تیرے بارے میں مجھے اپنی معرفت پر یقین ہے تیرے سوا میرا کوئی پالنے والا نہیں اور تو ہی صرف یگانہ ہے تیرا کوئی
شَرِیکَ لَکَ اَللّٰھُمَّ ٲَنْتَ الْقائِلُ وَقَوْلُکَ حَقٌّ، وَوَعْدُکَ صِدْقٌ وَاسْٲَلُوا ﷲ مِنْ فَضْلِہِ
شریک نہیں۔ اے معبود! یہ تیرا فرمان ہے اور تیرا کہنا درست اور تیرا وعدہ سچا ہے کہ ﷲ سے اس کا فضل مانگو بے شک
إنَّ ﷲ کانَ بِکُمْ رَحِیماً، وَلَیْسَ مِنْ صِفاتِکَ یَا سَیِّدِی ٲَنْ تَٲْمُرَ بِالسُّؤالِ وَتَمْنَعَ
ﷲ تم پر بڑا مہربان ہے اور اے میرے سردار ! یہ بات تیری شان سے بعید ہے کہ تو مانگنے کا حکم دے تو عطا نہ فرمائے
الْعَطِیَّۃَ وَٲَ نْتَ الْمَنَّانُ بِالْعَطِیَّاتِ عَلَی ٲَھْلِ مَمْلَکَتِکَ، وَالْعائِدُ عَلَیْھِمْ بِتَحَنُّنِ رَٲْفَتِکَ
تو اپنی مملکت کے باشندوں کو بہت بہت عطا کرنے والا ہے اور اپنی مہربانی و نرمی سے ان کی طرف متوجہ ہے
إلھِی رَبَّیْتَنِی فِی نِعَمِکَ وَ إحْسانِکَ صَغِیراً، وَنَوَّھْتَ بِاسْمِی کَبِیراً، فَیا مَنْ رَبَّانِی
اے ﷲ جب میں بچہ تھا تو نے مجھے اپنی نعمت اور احسان کے ساتھ پالا اور جب میں بڑا ہوا تو مجھے شہرت عطا کی پس اے وہ ذات
فِی الدُّنْیا بِ إحْسانِہِ وَتَفَضُّلِہِ وَنِعَمِہِ، وَٲَشارَ لِی فِی الاَْخِرَۃِ إلی عَفْوِھِ وَکَرَمِہِ،
جس نے دنیا میں مجھے اپنے احسان نعمت اور عطا سے پالا اور آخرت میں مجھے اپنے عفو و کرم کا اشارہ دیا ہے اے میرے مولا!
مَعْرِفَتِی یَا مَوْلایَ دَلِیلِی عَلَیْکَ، وَحُبِّی لَکَ شَفِیعِی إلَیْکَ، وَٲَ نَا واثِقٌ مِنْ دَلِیلِی
میری معرفت ہی تیری طرف میری رہنما ہے اور میری تجھ سے محبت تیرے سامنے میری سفارشی ہے اور مجھے تیری طرف لے جانے والے
بِدَلالَتِکَ وَساکِنٌ مِنْ شَفِیعِی إلی شَفاعَتِکَ، ٲَدْعُوکَ یَا سَیِّدِی بِلِسانٍ قَدْ ٲَخْرَسَہُ
اپنے اس رہبر پر بھروسہ اور تیرے حضور شفاعت کرنے والے اپنے شفیع پر اطمینان ہے اے میرے سردار !میں تجھے اس زبان سے
ذَنْبُہُ، رَبِّ ٲُناجِیکَ بِقَلْبٍ قَدْ ٲَوْبَقَہُ جُرْمُہُ، ٲَدْعُوکَ یَا رَبِّ
پکارتا ہوں جو بوجہ گناہ کے لکنت کرتی ہے پالنے والے میں اس دل سے راز گوئی کرتا ہوں جسے اس کے جرم نے تباہ کردیا اے پالنے
راھِباً راغِباً راجِیاً خائِفاً إذا رَٲَیْتُ مَوْلایَ ذُ نُوبِی فَزِعْتُ
والے میں تجھے پکارتا ہوں لیکن سہما ہوا ڈرا ہوا چاہتا ہوا امید رکھتا ہوا اے میرے مولا! جب میں اپنے گناہوں کو دیکھتا ہوں تو گھبراتا
وَ إذا رَٲَیْتُ کَرَمَکَ طَمِعْتُ فَ إنْ عَفَوْتَ فَخَیْرُ راحِمٍ، وَ إنْ عَذَّبْتَ فَغَیْرُ ظالِمٍ،
ہوں اور تیرے کرم پر نگاہ ڈالتا ہوں تو آرزو بڑھتی ہے پس اگر تو مجھے معاف کرے تو بہترین رحم کرنے والا ہے اور عذاب دے تو
حُجَّتِی یَا ﷲ فِی جُرْٲَتِی عَلَی مَسْٲَلَتِکَ مَعَ إتْیانِی مَا تَکْرَھُ جُودُکَ
بھی ظلم کرنے والا نہیں اے ﷲ جو کام تجھے نا پسند ہیں وہ انجام دینے کے با وجود تجھ سے سوال کرنے کی جرأت میں تیرا جود و کرم
وَکَرَمُکَ، وَعُدَّتِی فِی شِدَّتِی مَعَ قِلَّۃِ حَیائِی رَٲْفَتُکَ وَرَحْمَتُکَ، وَقَدْ رَجَوْتُ ٲَنْ لاَ
ہی میری حجت ہے اور حیا کی کمی کے با وجود سختی کے وقت میں میرا سہارا تیری ہی مہربانی و نرم روی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ایسی
تَخِیبَ بَیْنَ ذَیْنِ وَذَیْنِ مُنْیَتِی فَحَقِّقْ رَجائِی، وَاسْمَعْ دُعائِی، یَا خَیْرَ مَنْ دَعاھُ
ویسی باتوں کے ہوتے ہوئے بھی تو مجھے مایوس نہ کرے گا پس میری امید برلا اور میری دعاسن لے اے پکارے جانے والوں میں
داعٍ، وَٲَ فْضَلَ مَنْ رَجاھُ راجٍ، عَظُمَ یَا سَیِّدِی ٲَمَلِی وَسائَ عَمَلِی فَٲَعْطِنِی مِنْ
سب سے بہتر اور جن سے امید کی جاتی ہے ان میں سب سے بلند تر اے میرے آقا ! میری آرزو بڑی اور میرا عمل برا ہے پس اپنے
عَفْوِکَ بِمِقْدارِ ٲَمَلِی، وَلاَ تُؤاخِذْنِی بِٲَسْوَئِ عَمَلِی فَ إنَّ کَرَمَکَ یَجِلُّ عَنْ مُجازاۃِ
عفو سے کام لے کر میری آرزو پوری فرما اور برے عمل پر میری گرفت نہ کر کیونکہ تیرا کرم گناہگاروں کی سزاؤں سے بہت بلند و بالا ہے
الْمُذْنِبِینَ، وَحِلْمَکَ یَکْبُرُ عَنْ مُکافٲَۃِ الْمُقَصِّرِینَ، وَٲَ نَا یَا سَیِّدِی عائِذٌ بِفَضْلِکَ،
اور تیرا حلم کوتاہی کرنے والوں کی سزاؤں سے عظیم تر ہے اور اے میرے سردار ! میں تیرے خوف سے بھاگ کر تیرے فضل کی پناہ
ہارِبٌ مِنْکَ إلَیْکَ، مُتَنَجِّزٌ مَا وَعَدْتَ مِنَ الصَّفْحِ عَمَّنْ ٲَحْسَنَ بِکَ ظَنّاً، وَمَا ٲَ نَا یَا
لیتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ جس نے تجھ سے اچھا گمان رکھا ہے اس سے در گزر کا وعدہ پورا فرما اور اے میرے
رَبِّ وَمَا خَطَرِی ھَبْنِی بِفَضْلِکَ، وَتَصَدَّقْ عَلَیَّ بِعَفْوِکَ، ٲَیْ رَبِّ جَلِّلْنِی بِسِتْرِکَ،
پروردگار! میں کیا اور میری اوقات کیا تو ہی اپنے فضل سے مجھے بخش دے اور اپنے عفو سے مجھ پر عنایت فرما اے میرے رب ! مجھے
وَاعْفُ عَنْ تَوْبِیخِی بِکَرَمِ وَجْھِکَ، فَلَوِ اطَّلَعَ الْیَوْمَ عَلَی ذَ نْبِی غَیْرُکَ مَا فَعَلْتُہُ،
اپنی پردہ پوشی سے ڈھانپ اور اپنے خاص کرم سے میری سرزنش ٹال دے اگر آج تیرے سوا کوئی دوسرا میرے گناہ کو جان لیتا تو میں
وَلَوْ خِفْتُ تَعْجِیلَ الْعُقُوبَۃِ لاَجْتَنَبْتُہُ، لاَ لاََِ نَّکَ ٲَھْوَنُ النَّاظِرِینَ إلَیَّ وَٲَخَفُّ
یہ کبھی نہ کرتا اور اگر مجھے جلد سزا ملنے کا خوف ہوتا تو ضرور گناہ سے دور رہتا لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ تو دیکھنے والوں میں کمتر اور جاننے
الْمُطَّلِعِینَ عَلَیَّ، بَلْ لاََِ نَّکَ یَا رَبِّ خَیْرُ السَّاتِرِینَ، وَٲَحْکَمُ الْحاکِمِینَ، وَٲَکْرَمُ
والوں میں کم رتبہ ہے بلکہ اس وجہ یہ ہے اے پروردگار کہ تو بہترین پردہ پوش سب سے بڑا حاکم اور سب سے زیادہ
الْاَکْرَمِینَ، سَتَّارُ الْعُیُوبِ، غَفَّارُ الذُّنُوبِ، عَلاَّمُ الْغُیُوبِ، تَسْتُرُ الذَّنْبَ بِکَرَمِکَ،
کرم کرنے والا عیبوں کو ڈھانپنے والا گناہوں کا معاف کرنے والا چھپی باتوں کا جاننے والا ہے تو اپنے کرم سے گناہ کو ڈھانپتا
وَتُؤَخِّرُ الْعُقُوبَۃَ بِحِلْمِکَ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ وَعَلَی عَفْوِکَ بَعْدَ
اور اپنی نرم خوئی سے سزا میں تاخیر کرتا ہے پس حمد ہے تیرے لئے کہ جانتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے تیری حمد ہے کہ تو توانا ہوتے
قُدْرَتِکَ، وَیَحْمِلُنِی وَیُجَرِّئُنِی عَلَی مَعْصِیَتِکَ حِلْمُکَ عَنِّی، وَیَدْعُونِی إلی قِلَّۃِ
ہوئے معاف کرتا ہے اور وہ میرے ساتھ تیری نرم روی ہے جس نے مجھے تیری نا فرمانی پر آمادہ کیا ہے تیرا میری پردہ پوشی کرنا مجھ
الْحَیائِ سَِتْرُکَ عَلَیَّ وَیُسْرِعُنِی إلَی التَّوَثُّبِ عَلَی مَحارِمِکَ مَعْرِفَتِی بِسَعَۃِ رَحْمَتِکَ
میں حیا کی کمی کا موجب بنا ہے اور تیری وسیع رحمت اور عظیم عفو کی معرفت کے باعث میں تیرے حرام کیئے ہوئے
وَعَظِیمِ عَفْوِکَ، یَا حَلِیمُ یَا کَرِیمُ، یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ، یَا غافِرَ الذَّنْبِ، یَا قابِلَ التَّوْبِ،
کاموں کیطرف جلدی کرتا ہوںاے نرم خو اے مہربان اے زندہ اے نگہبان اے گناہ معاف کرنے والے اے توبہ قبول کرنے والے
یَا عَظِیمَ الْمَنِّ، یَا قَدِیمَ الْاِحْسانِ ٲَیْنَ سَِتْرُکَ الْجَمِیلُ ٲَیْنَ عَفْوُکَ الْجَلِیلُ ٲَیْنَ
اے عظیم عطا والے اے قدیم احسان والے کہاں ہے تیری بہترین پردہ پوشی کہاں ہے تیرا بلند تر عفو، کہاں ہے
فَرَجُکَ الْقَرِیبُ ٲَیْنَ غِیاثُکَ السَّرِیعُ ٲَیْنَ رَحْمَتُکَ الْواسِعَۃُ ٲَیْنَ عَطایاکَ الْفاضِلَۃُ
تیری قریب تر کشائش کہاں ہے تیری فوری فریاد رسی کہاں ہے تیری وسیع تر رحمت کہاں ہیں تیری بہترین عطائیں کہاں ہیں
ٲَیْنَ مَواھِبُکَ الْھَنِیئَۃُ ٲَیْنَ صَنائِعُکَ السَّنِیَّۃُ ٲَیْنَ فَضْلُکَ الْعَظِیمُ ٲَیْنَ مَنُّکَ الْجَسِیمُ
تیری خوشگوار بخششیں کہاں ہیں تیرے شاندار انعامات کہاں ہے تیرا با عظمت فضل کہاں ہے تیری عظیم بخشش
ٲَیْنَ إحْسانُکَ الْقَدِیمُ ٲَیْنَ کَرَمُکَ یَا کَرِیمُ بِہِ وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ فَاسْتَنْقِذْنِی،
کہاں ہے تیرا قدیم احسان کہاں ہے تیری مہربانی اے مہربان اپنی مہربانی سے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صدقے مجھے عذاب سے نکال
وَبِرَحْمَتِکَ فَخَلِّصْنِی، یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ، لَسْتُ أَتَّکِلُ فِی
اور اپنی رحمت سے مجھے اس سے رہائی دے اے نیکوکار اے خوش صفات اے نعمت دینے والے اے بلندی دینے والے تیری سزا
النَّجاةِ مِنْ عِقابِکَ عَلَی أَعْمالِنا بَلْ بِفَضْلِکَ عَلَیْنا لاََِنَّکَ أَهْلُ التَّقْوی وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ
سے بچنے میں مجھے اپنے اعمال پر کچھ بھی بھروسہ نہیں بلکہ تیرے فضل کا سہارا ہے جو ہم پر ہے کیونکہ تو گناہ سے بچا لینے والا اور گناہ
تُبْدئُ بِالْاِحْسانِ نِعَماً، وَتَعْفُو عَنِ الذَّنْبِ کَرَماً، فَما نَدْرِی مَا نَشْکُرُ أَجَمِیلَ مَا
بخش دینے والا ہے تو احسان کے ساتھ نعمتوں کا آغاز کرتا اور مہربانی کرتے ہوئے گناہ کی معافی دیتا ہے پس ہم نہیں جانتے کہ کس
تَنْشُرُ أَمْ قَبِیحَ مَا تَسْتُرُ أَمْ عَظِیمَ مَا أَبْلَیْتَ وَأَوْلَیْتَ أَمْ کَثِیرَ مَا مِنْهُ نَجَّیْتَ
بات پر شکر کریں آیا تیرے نیکی ظاہر کرنے پر یا برائی کی پردہ پوشی پر یا بہت بڑی غم خواری اور عطائے نعمت پر شکر کریں یا بہت چیزوں
وَعافَیْتَ یَا حَبِیبَ مَنْ تَحَبَّبَ إلَیْکَ، وَیَا قُرَّةَ عَیْنِ مَنْ لاذَ بِکَ
سے تیرے نجات عطا کرنے اور امن دینے پر شکر کریں اے اس کے دوست جو تجھ سے دوستی کرے اور اے اس کا نور چشم جو تیری پناہ لے
وَانْقَطَعَ إلَیْکَ، أَ نْتَ الْمُحْسِنُ وَنَحْنُ الْمُسِیئُونَ فَتَجاوَزْ یَا رَبِّ عَنْ قَبِیحِ مَا
اور سب سے کٹ کر تیرا ہی ہو جائے تو بھلائی کرنے والا اور ہم برائی کرنے والے ہیں پس اے پالنے والے اپنی بھلائی سے کام
عِنْدَنا بِجَمِیلِ مَا عِنْدَکَ وَأَیُّ جَهْلٍ یَا رَبِّ لاَ یَسَعُهُ جُودُکَ أَوْ أَیُّ زَمانٍ أَطْوَلُ مِنْ
لیتے ہوئے ہماری برائی سے در گزر فرما اے پالنے والے وہ کونسی نادانی ہے جس پر تیرا کرم وسعت نہ رکھتا ہو یا وہ کونسا زمانہ ہے جو
أَناتِکَ وَمَا قَدْرُ أَعْمالِنا فِی جَنْبِ نِعَمِکَ وَکَیْفَ نَسْتَکْثِرُ أَعْمالاً نُقابِلُ بِها کَرَمَکَ بَلْ
تیری مہلت سے دراز ہو اور تیری نعمتوں کے سامنے ہمارے اعمال کی کیا وقعت ہے کس طرح ہم اپنے اعمال میں اضافہ کریں کہ
کَیْفَ یَضِیقُ عَلَی الْمُذْنِبِینَ مَا وَسِعَهُمْ مِنْ رَحْمَتِکَ یَا واسِعَ الْمَغْفِرَةِ، یَا باسِطَ
انہیں تیرے کرم کے سامنے لا سکیں بلکہ تیری وہ رحمت گنہگاروں پر کیسے تنگ ہو جائے گی جو ان پر چھائی ہوئی ہے اے وسیع بخشش
الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَةِ، فَوَعِزَّتِکَ یَا سَیِّدِی لَوْ نَهَرْتَنِی مَا بَرِحْتُ مِنْ بابِکَ وَلاَ
والے اے مہربانی سے بہت زیادہ دینے والے پس تیری عزت کی قسم اے میرے آقا ! تو دھتکارے تب بھی میں تیرے دروازے
کَفَفْتُ عَنْ تَمَلُّقِکَ لِما انْتَهی إلَیَّ مِنَ الْمَعْرِفَةِ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ، وَ أَنْتَ
سے نہ ہٹوں گا چونکہ مجھے تیرے جود و کرم کی معرفت ہے اس لئے میں اپنی زبان کو تیری تعریف و توصیف سے نہ روکوں گا تو جو
الْفاعِلُ لِما تَشائُ تُعَذِّبُ مَنْ تَشائُ بِما تَشائُ کَیْفَ تَشائُ، وَتَرْحَمُ مَنْ تَشائُ بِما تشائُ
چاہے کر گزرتا ہے تو جسے چاہے جس چیز سے چاہے اور جیسے چاہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہے جس چیز سے چاہے جیسے چاہے
کَیْفَ تَشائُ لاَ تُسْأَلُ عَنْ فِعْلِکَ وَلاَ تُنازَعُ فِی مُلْکِکَ، وَلاَ تُشارَکُ فِی أَمْرِکَ، وَلاَ
رحم کرتا ہے تیرے فعل پر پوچھ گچھ نہیں کی جا سکتی تیری سلطنت پر جھگڑا نہیںہوسکتا اور تیرے کام میں کوئی شریک نہیں تیرے حکم میں
تُضادُّ فِی حُکْمِکَ وَلاَ یَعْتَرِضُ عَلَیْکَ أَحَدٌ فِی تَدْبِیرِکَ لَکَ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبارَکَ
کوئی ضدیت نہیں اور تیری تدبیر میں کوئی تجھ پر اعتراض نہیں کر سکتا تیرے ہی لئے پیدا کرنا اور حکم فرمانا با برکت ہے وہ
ﷲ رَبُّ الْعالَمِینَ یَا رَبِّ هذَا مَقامُ مَنْ لاذَ بِکَ وَاسْتَجارَ بِکَرَمِکَ
ﷲ جو جہانوں کا پالنے والا ہے اے پروردگار ! یہ ہے اس شخص کا مقام جس نے تیری پناہ لی تیرے سایہ کرم میں آیا
وَأَلِفَ إحْسانَکَ وَ نِعَمَکَ، وَأَ نْتَ الْجَوادُ الَّذِی لاَ یَضِیقُ عَفْوُکَ، وَلاَ یَنْقُصُ
اور تیرے ہی احسان اور نعمت کا خواہاں ہوا ہے اور تو ایسا سخی ہے کہ تیرا دامن عفو تنگ نہیں ہوتا تیرے فضل میں
فَضْلُکَ، وَلاَ تَقِلُّ رَحْمَتُکَ، وَقَدْ تَوَثَّقْنا مِنْکَ بِالصَّفْحِ الْقَدِیمِ، وَالْفَضْلِ الْعَظِیمِ،
کمی نہیں آتی اور تیری رحمت میں کمی نہیں پڑتی ہم نے اعتماد کیا ہے تجھ پر تیری درینہ در گزر عظیم تر فضل و کرم
وَالرَّحْمَةِ الْواسِعَةِ، أَفَتُراکَ یَا رَبِّ تُخْلِفُ ظُنُونَنا أَوْ تُخَیِّبُ آمالَنا
اور تیری کشادہ تر رحمت کے ساتھ تو اے میرے پالنے والے ! کیا تو ہمارے اچھے گمان کے خلاف کریگا یا ہماری کوشش ناکام بنائے گا
کَلاَّ یَا کَرِیمُ فَلَیْسَ هذَا ظَنُّنا بِکَ وَلاَ هذَا فِیکَ طَمَعُنَا یَا رَبِّ إنَّ لَنا فِیکَ أَمَلاً طَوِیلاً
نہیں اے مہربان تجھ سے ہم یہ گمان نہیں رکھتے اور نہ تجھ سے ہماری یہ خواہش تھی اے پالنے والے ! بے شک تیری بارگاہ سے ہماری
کَثِیراً، إنَّ لَنا فِیکَ رَجائً عَظِیماً، عَصَیْناکَ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَسْتُرَ
بہت سی لمبی امیدیں ہیں بے شک ہم تیری بارگاہ سے بڑی بڑی آرزوئیں رکھتے ہیں ہم تیری نا فرمانی کرتے ہیں تو بھی ہمیں آس
وَنَحْنُ عَلَیْنا، وَدَعَوْناکَ نَرْجُو أَنْ تَسْتَجِیبَ لَنا، فَحَقِّقْ رَجائَنا مَوْلانا فَقَدْ عَلِمْنا
ہے تو ہماری پردہ پوشی کرے گا اور ہم تجھ سے دعا مانگتے ہیں تو امید کرتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول کرے گا پس اے ہمارے مولا
مَا نَسْتَوْجِبُ بِأَعْمالِنا وَلکِنْ عِلْمُکَ فِینا وَعِلْمُنا بِأَ نَّکَ لاَ تَصْرِفُنا عَنْکَ حَثَّنا عَلَی
ہماری امیدیں پوری فرما اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اعمال کی سزا کیا ہے لیکن تیرا علم ہمارے بارے میں ہے اور ہمیںاس کا علم
الرَّغْبَةِ إلَیْکَ وَ إنْ کُنَّا غَیْرَ مُسْتَوْجِبِینَ لِرَحْمَتِکَ فَأَ نْتَ أَهْلٌ أَنْ تَجُودَ عَلَیْنا وَعَلَی
ہے کہ تو ہمیں اپنے ہاں سے پلٹائے گا نہیں چاہے ہم تیری رحمت کے حقدار نہ بھی ہوئے پس تو اس کا اہل ہے کہ ہم پر اور دوسرے
الْمُذْنِبِینَ بِفَضْلِ سَعَتِکَ، فَامْنُنْ عَلَیْنا بِما أَ نْتَ أَهْلُهُ وَجُدْ عَلَیْنا فَ إنَّا مُحْتاجُونَ
گنہگاروں پر اپنے وسیع تر فضل سے داد و دہش کرے پس ہم پر ایسا احسان فرما کہ جس کا تو اہل ہے اور سخاوت کر کیونکہ ہم تیرے
إلی نَیْلِکَ یَا غَفَّارُ بِنُورِکَ اهْتَدَیْنا وَبِفَضْلِکَ اسْتَغْنَیْنا، وَبِنِعْمَتِکَ أَصْبَحْنا وَأَمْسَیْنا
انعام کے محتاج ہیں اے بخشنے والے تیرے ہی نور سے ہمیں ہدایت ملی تیرے فضل سے ہم مالا مال ہوئے اور تیری نعمت کے ساتھ ہم
ذُ نُوبُنا بَیْنَ یَدَیْکَ نَسْتَغْفِرُکَ اَللّٰهُمَّ مِنْها وَنَتُوبُ إلَیْکَ، تَتَحَبَّبُ إلَیْنا بِالنِّعَمِ
صبح و شام کرتے ہیں ہمارے گناہ تیرے سامنے ہیں اے ﷲ! ہم تجھ سے ان کی بخشش چاہتے اور تیرے حضور توبہ کرتے ہیں تو
وَنُعارِضُکَ بِالذُّنُوبِ، خَیْرُکَ إلَیْنا نازِلٌ، وَشَرُّنا إلَیْکَ صاعِدٌ
نعمتوں کے ذریعے ہم سے محبت کرتا ہے اور اس کے مقابل ہم تیری نا فرمانی کرتے ہیں تیری بھلائی ہماری طرف آرہی ہے اور
وَلَمْ یَزَلْ وَلاَ یَزالُ مَلَکٌ کَرِیمٌ یَأْتِیکَ عَنَّا بِعَمَلٍ قَبِیحٍ فَلا یَمْنَعُکَ ذلِکَ مِنْ
ہماری برائی تیری طرف جا رہی ہے تو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے عزت والا بادشاہ ہے تیرے پاس ہمارے برے اعمال جاتے ہیں تو بھی تجھے
أَنْ تَحُوطَنا بِنِعَمِکَ، وتَتَفَضَّلَ عَلَیْنا بِآلائِکَ، فَسُبْحانَکَ مَا أَحْلَمَکَ وَأَعْظَمَکَ
ہم پر اپنی نعمتوں کی بارش سے روک نہیں سکتے اور تو ہم پر اپنی عطائیں بڑھاتا رہتا ہے پس تو پاک تر ہے تو کیسا بردبار ہے کتنا عظیم ہے
وَأَکْرَمَکَ مُبْدِئاً وَمُعِیداً تَقَدَّسَتْ أَسْماؤُکَ وَجَلَّ ثَناؤُکَ وَکَرُمَ صَنائِعُکَ وَفِعالُکَ
کتنا معزز ہے ابتدائ کرنے اور پلٹانے میں تیرے نام پاک تر ہیں تیری ثنائ بر تر ہے اور تیری نعمتیں اور تیرے کام بلند تر ہیں
أَنْتَ إلهِی أَوْسَعُ فَضْلاً وَأَعْظَمُ حِلْماً مِنْ أَنْ تُقایِسَنِی بِفِعْلِی وَخَطِیئَتِی،
اے معبود! تو فضل میں وسعت والا اور برد باری میں عظیم تر ہے اس سے کہ تو میرے فعل اور خطا کے بارے میں قیاس کرے
فَالْعَفْوَ الْعَفْوَ الْعَفْوَ، سَیِّدِی سَیِّدِی سَیِّدِی اَللّٰهُمَّ اشْغَلْنا بِذِکْرِکَ، وَأَعِذْنا مِنْ
پس معافی دے معافی دے معافی دے میرے سردار میرے سردار میرے سردار اے ﷲ ! ہمیں اپنے ذکر میں مشغول رکھ ہمیں اپنی
سَخَطِکَ وَأَجِرْنا مِنْ عَذابِکَ وَارْزُقْنا مِنْ مَواهِبِکَ وَأَنْعِمْ عَلَیْنا مِنْ فَضْلِکَ وَارْزُقْنا
ناراضگی سے پناہ دے ہمیں اپنے عذاب سے امان دے ہمیں اپنی عطاؤں سے رزق دے ہمیں اپنے فضل سے انعام دے ہمیں
حَجَّ بَیْتِکَ وَزِیارَةَ قَبْرِ نَبِیِّکَ صَلَواتُکَ وَرَحْمَتُکَ وَمَغْفِرَتُکَ وَرِضْوانُکَ عَلَیْهِ
اپنے گھر (کعبہ) کا حج نصیب فرما اور ہمیں اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے روضہ کی زیارت کرا تیرا درود تیری رحمت تیری بخشش اور تیری رضا ہو
وَعَلَی أَهْلِبَیْتِهِ إنَّکَ قَرِیبٌ مُجِیبٌ، وَارْزُقْنا عَمَلاً بِطاعَتِکَ وَتَوَفَّنا عَلَی مِلَّتِکَ وَسُنَّةِ
تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے اور ان کے اہل بیتعليهالسلام کیلئے بے شک تو نزدیک تر قبول کرنے والا ہے اور ہمیں اپنی عبادت بجا لانے کی توفیق دے
نَبِیِّکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی
ہمیں اپنی ملت اور اپنے نبی کی سنت پر موت دے انصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کی آلعليهالسلام پرخدا تعالیٰ کی رحمت ہو اے معبود! مجھے بخش دے اور
وَ لِوالِدَیَّ وَارْحَمْهُما کَما رَبَّیانِی صَغِیراً اجْزِهِما بِالْاِحْسانِ إحْساناً وَبِالسَّیِّئاتِ
میرے ماں باپ کو بھی اور دونوں پر رحم کر جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا اے ﷲ! انہیں احسان کا بدلہ احسان اور گناہوں کے بدلے
غُفْراناً اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ الْاَحْیائِ مِنْهُمْ وَالْاَمْواتِ وَتابِعْ بَیْنَنا
بخشش عطا فرما اے معبود! بخش دے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو جو ان میں زندہ اور مردہ ہیں سبھی کو بخش دے اور ان کے اور
وَبَیْنَهُمْ بِالْخَیْراتِ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنا وَمَیِّتِنا وَشاهِدِنا وَغائِبِنا ذَکَرِنا وَأُ نْثانا
ہمارے درمیان نیکیوں کے ذریعے تعلق بنادے اے معبود! بخش دے ہمارے زندہ، مردہ، حاضر، غائب اور مرد و عورت،
صَغِیرِنا وَکَبِیرِنا، حُرِّنا وَمَمْلُوکِنا، کَذَبَ الْعادِلُونَ بِالله وَضَلُّوا ضَلالاً بَعِیداً
خورد و بزرگ اور ہمارے آزاد اور غلام سبھی کو بخش دے، خدا سے پھر جانے والے جھوٹے ہیں وہ گمراہ گمراہی میں دور نکل گئے ہیں
وَخَسِرُوا خُسْراناً مُبِیناً اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاخْتِمْ لِی بِخَیْرٍ،
اور وہ نقصان اٹھانے والے ہیں کھلا نقصان اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میرا خاتمہ بخیر فرما
وَاکْفِنِی مَا أَهَمَّنِی مِنْ أَمْرِ دُنْیایَ وَآخِرَتِی، وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَیَّ مَنْ لاَ یَرْحَمُنِی،
اور دنیا و آخرت میں میرے اہم کاموں میں میری حمایت فرما اور مجھ پر اسے مسلط نہ کر جو مجھ پر رحم نہ کرے
وَاجْعَلْ عَلَیَّ مِنْکَ واقِیَةً باقِیَةً، وَلاَ تَسْلُبْنِی صالِحَ مَا أَ نْعَمْتَ بِهِ عَلَیَّ، وَارْزُقْنِی
اور میرے لئے اپنی طرف سے باقی رہنے والا نگہبان قرار دے اپنی دی ہوئی اچھی نعمتیں مجھ سے چھین نہ لے اور
مِنْ فَضْلِکَ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَیِّباً اَللّٰهُمَّ احْرُسْنِی بِحَراسَتِکَ وَاحْفَظْنِی بِحِفْظِکَ
مجھے اپنے فضل سے روزی عطا کر جو کشادہ حلال اور پاک ہو اے معبود! مجھے اپنی پاسداری میں زیر نگاہ رکھ اور اپنی حفاظت میں محفوظ
وَاکْلاََْنِی بِکَلائَتِکَ، وَارْزُقْنِی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرامِ فِی عامِنا هذَا وَفِی کُلِّ عامٍ وَزِیارَةَ
فرما اپنی حمایت میں مجھے امان دے اور مجھے ہمارے اس سال اور آیندہ سالوں میں بھی اپنے بیت الحرام کعبہ کا حج نصیب فرما اور
قَبْرِ نَبِیِّکَ وَآلاَءِمَّةِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ، وَلا تُخْلِنِی یَا رَبِّ مِنْ تِلْکَ الْمَشاهِدِ الشَّرِیفَةِ
اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم و ائمہعليهالسلام کے مزاروں کی زیارت نصیب فرما کہ ان سب پر سلام ہو اے پروردگار! ان بلند مرتبہ بارگاہوں اور ان با برکت
وَالْمَواقِفِ الْکَرِیمَةِ اَللّٰهُمَّ تُبْ عَلَیَّ حَتَّی لاَ أَعْصِیَکَ، وَأَ لْهِمْنِی الْخَیْرَ وَالْعَمَلَ بِهِ
مقامات سے مجھے بر کنار نہ رکھ اے معبود! مجھے ایسی توبہ کی توفیق دے کہ پھر تیری نا فرمانی نہ کروں میرے دل میں نیکی و عمل کا جذبہ
وَخَشْیَتَکَ بِاللَّیْلِ وَالنَّهارِ مَا أَبْقَیْتَنِی یَا رَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ
ابھار دے اور جب تک مجھے زندہ رکھے دن رات اپنا خوف میرے قلب میں ڈالے رکھ اے جہانوں کے پالنے والے اے معبود!
إنِّی کُلَّما قُلْتُ قَدْ تَهَیَّأْتُ وَتَعَبَّأْتُ وَقُمْتُ لِلصَّلاةِ بَیْنَ یَدَیْکَ وَناجَیْتُکَ أَ لْقَیْتَ عَلَیَّ
جب بھی میں کہتا ہوں کہ میں آمادہ و تیار ہوں اور تیرے حضور نماز گزار نے کو کھڑا ہوتا ہوں اور تجھ سے مناجات کرتا ہوں تو مجھے اونگھ
نُعاساً إذا أَنَا صَلَّیْتُ، وَسَلَبْتَنِی مُناجاتَکَ إذا أَ نَا ناجَیْتُ، مالِی کُلَّما
آلیتی ہے جب کہ میں نماز میں ہوتا ہوں اور جب میں تجھ سے راز و نیاز کرنے لگوں تو اس حال میں بر قرار نہیں رہتا مجھے کیا ہوگیا
قُلْتُ قَدْ صَلُحَتْ سَرِیرَتِی وَقَرُبَ مِنْ مَجالِسِ التَّوَّابِینَ مَجْلِسِی عَرَضَتْ لِی بَلِیَّةٌ
میں کہتا ہوں کہ میرا باطن صاف ہے میں توبہ کرنے والوں کی صحبت میں بیٹھتا ہوں ایسے میں کوئی آفت آپڑتی ہے
أَزالَتْ قَدَمِی وَحالَتْ بَیْنِی وَبَیْنَ خِدْمَتِکَ سَیِّدِی لَعَلَّکَ عَنْ بابِکَ
جس سے میرے قدم ڈگمگا جاتے ہیں اور میرے اور تیری حضوری کے درمیان کوئی چیز آڑ بن جاتی ہے میرے سردار ! شاید کہ تو نے
طَرَدْتَنِی، وَعَنْ خِدْمَتِکَ نَحَّیْتَنِی، أَوْ لَعَلَّکَ رَأَیْتَنِی مُسْتَخِفّاً بِحَقِّکَ فَأَ قْصَیْتَنِی،
مجھے اپنی بارگاہ سے ہٹا دیا ہے اور اپنی خدمت سے دور کر دیا ہے یا شاید تو دیکھتا ہے کہ میں تیرے حق کو سبک سمجھتا ہوں پس مجھے ایک
أَوْ لَعَلَّکَ رَأَیْتَنِی مُعْرِضاً عَنْکَ فَقَلَیْتَنِی أَوْ لَعَلَّکَ وَجَدْتَنِی فِی مَقامِ الْکاذِبِینَ
طرف کردیا یا شاید تو نے دیکھا کہ میں تجھ سے روگرداں ہوں تو مجھے برا سمجھ لیا یا شاید تو نے دیکھا کہ میں جھوٹوں میں سے ہوں تو مجھے
فَرَفَضْتَنِی أَوْ لَعَلَّکَ رَأَیْتَنِی غَیْرَ شاکِرٍ لِنَعْمائِکَ فَحَرَمْتَنِی، أَوْ لَعَلَّکَ فَقَدْتَنِی مِنْ
میرے حال پر چھوڑ دیا یا شاید تو دیکھتا ہے کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا تو مجھے محروم کر دیا یا شاید کہ تو نے مجھے علمائ کی
مَجالِسِ الْعُلَمائِ فَخَذَلْتَنِی أَوْ لَعَلَّکَ رَأَیْتَنِی فِی الْغافِلِینَ فَمِنْ رَحْمَتِکَ آیَسْتَنِی، أَوْ
مجالس میں نہیں پایا تو اس بنا پر مجھے ذلیل کر دیا ہے یا شاید تو نے مجھے غافل دیکھا تو اس پر مجھے اپنی رحمت سے مایوس کردیا ہے یا شاید
لَعَلَّکَ رَأَیْتَنِی آلِفَ مَجالِسِ الْبَطَّالِینَ فَبَیْنِی وَبَیْنَهُمْ خَلَّیْتَنِی، أَوْ لَعَلَّکَ لَمْ تُحِبَّ
تو نے مجھے بے کار باتیں کرنے والوں میں دیکھا تو مجھے انہیں میں رہنے دیا یا شاید تو میری دعا
أَنْ تَسْمَعَ دُعائِی فَباعَدْتَنِی، أَوْ لَعَلَّکَ بِجُرْمِی وَجَرِیرَتِی کافَیْتَنِی، أَوْ لَعَلَّکَ بِقِلَّةِ
کو سننا پسند نہیں کیا تو مجھے دورکر دیا یا شاید تو نے مجھے میرے جرم اور گناہ کا بدلہ دیا ہے یا شاید میں نے تجھ سے
حَیائِی مِنْکَ جازَیْتَنِی، فَ إنْ عَفَوْتَ یَا رَبِّ فَطالَمَا عَفَوْتَ عَنِ الْمُذْنِبِینَ قَبْلِی لاََِنَّ
حیا کرنے میں کمی کی تو مجھے یہ سزا ملی ہے پس اے پروردگار! مجھے معاف کردے کہ مجھ سے پہلے تونے بہت سے گناہگاروں کو معاف
کَرَمَکَ أَیْ رَبِّ یَجِلُّ عَنْ مُکافاةِ الْمُقَصِّرِینَ، وَأَ نَا عائِذٌ بِفَضْلِکَ، هارِبٌ
فرمایا ہے اس لئے کہ اے پالنے والے تیری بخشش کوتاہی کرنے والوں کی سزا سے بزرگترہے اور میں تیرے فضل کی پناہ لے رہا
مِنْکَ إلَیْکَ، مُتَنَجِّزٌ مَا وَعَدْتَ مِنَ الصَّفْحِ عَمَّنْ أَحْسَنَ بِکَ ظَنّاً
ہوں اور تجھ سے تیری ہی طرف بھاگا ہوں تیرے وعدے کی وفا چاہتا ہوں کہ جو تجھ سے اچھا گمان رکھتا ہے اسے معاف کردے
إلهِی أَ نْتَ أَوْسَعُ فَضْلاً، وَأَعْظَمُ حِلْماً مِنْ أَنْ تُقایِسَنِی بِعَمَلِی، أَوْ أَنْ تَسْتَزِلَّنِی
میرے معبود! تیرا فضل وسیع تر اور تیری بردباری عظیم تر ہے اس سے کہ تو مجھے میرے عمل کے ساتھ تولے یا میرے گناہ کے باعث
بِخَطِیئَتِی، وَمَا أَ نَا یَا سَیِّدِی وَمَا خَطَرِی هَبْنِی بِفَضْلِکَ سَیِّدِی وَتَصَدَّقْ عَلَیَّ
مجھے گرادے اور اے میرے آقا ! میں کیا اور میری اوقات کیا مجھے اپنے فضل سے بخش دے میرے سردار اور اپنے عفو کے صدقے
بِعَفْوِکَ، وَجَلِّلْنِی بِسَِتْرِکَ، وَاعْفُ عَنْ تَوْبِیخِی بِکَرَمِ وَجْهِکَ، سَیِّدِی أَ نَا الصَّغِیرُ
میں مجھے اپنے پردے میں لے لے اور اپنے خاص کرم سے مجھے سرزنش سے معاف رکھ میرے سردار ! میں وہی بچہ ہوں
الَّذِی رَبَّیْتَهُ، وَأَنَا الْجاهِلُ الَّذِی عَلَّمْتَهُ، وَأَنَا الضَّالُّ الَّذِی هَدَیْتَهُ، وَأَ نَا الْوَضِیعُ
جسے تو نے پالا میں وہی کورا ہوں جسے تو نے علم دیا میں وہی گمراہ ہوں جسے تو نے راہ دکھائی میں وہ پست ہوں جسے تو نے بلند کیا
الَّذِی رَفَعْتَهُ، وَأَ نَا الْخائِفُ الَّذِی آمَنْتَهُ ، وَالْجائِعُ الَّذِی أَشْبَعْتَهُ، وَالْعَطْشانُ
میں وہ خوف زدہ ہوں جسے تو نے امن دیا میں بھوکا ہوں جسے تو نے سیر کیا اور وہ پیاسا ہوں جسے تو نے
الَّذِی أَرْوَیْتَهُ، وَالْعارِی الَّذِی کَسَوْتَهُ، وَالْفَقِیرُ الَّذِی أَغْنَیْتَهُ، وَالضَّعِیفُ الَّذِی
سیراب کیا میں وہ عریاں ہوں جسے تو نے لباس دیا میں وہ محتاج ہوں جسے تونے غنی بنایا میں وہ کمزور ہوں جسے تو نے قوت
قَوَّیْتَهُ، وَالذَّلِیلُ الَّذِی أَعْزَزْتَهُ، وَالسَّقِیمُ الَّذِی شَفَیْتَهُ، وَالسَّائِلُ الَّذِی
بخشی میں وہ پست ہوں جسے تو نے عزت عطا فرمائی میں وہ بیمار ہوں جسے تو نے صحت عطا فرمائی میں وہ سائل ہوں جسے تو نے بہت
أَعْطَیْتَهُ، وَالْمُذْنِبُ الَّذِی سَتَرْتَهُ، وَالْخاطئُ الَّذِی أَ قَلْتَهُ، وَأَ نَا الْقَلِیلُ الَّذِی
کچھ عطا کیا میں وہ گناہگار ہوں جسے تو نے ڈھانپ لیا میں وہ خطاکار ہوں جسے تو نے معاف کیا میں وہ کمتر ہوں جسے تو نے
کَثَّرْتَهُ، وَالْمُسْتَضْعَفُ الَّذِی نَصَرْتَهُ، وَأَ نَا الطَّرِیدُ الَّذِی آوَیْتَهُ، أَ نَا یَا رَبِّ الَّذِی
بڑھا دیا ہے میں وہ کمزور ہوں جس کی تونے مدد کی اور میں وہ نکالا ہوا ہوں جسے تو نے پناہ دی اے پرودگار میں وہی ہوں
لَمْ أَسْتَحْیِکَ فِی الْخَلائِ، وَلَمْ أُراقِبْکَ فِی الْمَلائِ، أَ نَا صاحِبُ الدَّواهِی الْعُظْمی،
جس نے خلوت میں تجھ سے حیا نہیں کی اور جلوت میں تیرا لحاظ نہیں رکھا میں بہت بھاری مصیبتوں والا ہوں میں وہ ہوں
أَنَا الَّذِی عَلَی سَیِّدِهِ اجْتَرأَ، أَ نَا الَّذِی عَصَیْتُ جَبَّارَ السَّمائِ، أَ نَا الَّذِی أَعْطَیْتُ
جس نے اپنے سردار پر جرأت کی میں وہ ہوں جس نے اس کی نافرمانی کی جو آسمانوں پر مسلط ہے میں وہ ہوں جس نے رب
عَلَی مَعاصِی الْجَلِیلِ الرُّشی، أَ نَا الَّذِی حِینَ بُشِّرْتُ بِها خَرَجْتُ إلَیْها أَسْعی،
جلیل کی نا فرمانی کیلئے رشوت دی میں وہ ہوں جب مجھے اس کی خوشخبری ملی تو میں دوڑتا ہوا اس کی طرف گیا
أَنَا الَّذِی أَمْهَلْتَنِی فَمَا ارْعَوَیْتُ، وَسَتَرْتَ عَلَیَّ فَمَا اسْتَحْیَیْتُ، وَعَمِلْتُ بِالْمَعاصِی
میں وہ ہوں جسے تو نے ڈھیل دی تو ہوش میں نہ آیا اور تونے میری پردہ پوشی کی تو میں نے حیا سے کام نہ لیا اور گناہوں میں حد سے گزر گیا
فَتَعَدَّیْتُ، وَأَسْقَطْتَنِی مِنْ عَیْنِکَ فَما بالَیْتُ، فَبِحِلْمِکَ أَمْهَلْتَنِی، وَبِسِتْرِکَ سَتَرْتَنِی
تو نے مجھے نظروں سے گرایا تو میں نے کچھ پروا نہیں کی پس تو نے اپنی نرمی سے مجھے ڈھیل دی اور اپنے حجاب سے میری پردہ پوشی کی
حَتَّی کَأَ نَّکَ أَغْفَلْتَنِی، وَمِنْ عُقُوباتِ الْمَعاصِی جَنَّبْتَنِی حَتَّی کَأَ نَّکَ اسْتَحْیَیْتَنِی
جیساکہ تو میری طرف سے بے خبر ہے تو نے مجھے نا فرمانیوں کی سزاؤں سے بر کنار رکھا گویا تو مجھ سے شرم کھاتاہے
إلهِی لَمْ أَعْصِکَ حِینَ عَصَیْتُکَ وَأَ نَا بِرُبُوبِیَّتِکَ جاحِدٌ، وَلاَ بِأَمْرِکَ مُسْتَخِفٌّ،
میرے معبود! جب میں نے تیری نا فرمانی کی تو وہ اس لئے نہیں کی کہ میں تیری پرودگاری سے انکاری تھا یا تیرے حکم کو سبک سمجھ رہا تھا
وَلاَ لِعُقُوبَتِکَ مُتَعَرِّضٌ، وَلاَ لِوَعِیدِکَ مُتَهاوِنٌ، لَکِنْ خَطِیئَةٌ عَرَضَتْ وَسَوَّلَتْ لِی
یا خود کو تیرے عذاب کیطرف کھینچ رہا تھا یا تیرے ڈراوے کو کمتر سمجھتا تھا بلکہ حقیقت یہ تھی کہ خطایوں ابھری کہ میرے نفس نے میرے لئے
نَفْسِی، وَغَلَبَنِی هَوایَ، وَأَعانَنِی عَلَیْها شِقْوَتِی، وَغَرَّنِی سِتْرُکَ الْمُرْخی عَلَیَّ،
مزین کر دیا تھا میری خواہش مجھ پر غالب آگئی تھی میری بدبختی نے اس پر میرا ساتھ دیا تیری پردہ پوشی نے مجھے مغرور کردیا
فَقَدْ عَصَیْتُکَ وَخالَفْتُکَ بِجُهْدِی، فَالاَْنَ مِنْ عَذابِکَ مَنْ یَسْتَنْقِذُنِی وَمِنْ أَیْدِی
یوں میں تیری نافرمانی اور تیرے حکم کی مخالفت میںکوشاں ہوا پس اب مجھے تیرے عذاب سے کون رہائی دے گا کل کو مجھے دشمنوں
الْخُصَمائِ غَداً مَنْ یُخَلِّصُنِی وَبِحَبْلِ مَنْ أَتَّصِلُ إنْ أَنْتَ قَطَعْتَ حَبْلَکَ عَنِّی
کے ہاتھوں سے کون چھڑائے گا اور اگر تو نے اپنی رسی مجھ سے کاٹ دی تو پھر میں کس کی رسی کو تھاموں گا ہائے افسوس کہ تیری کتاب
فَوا سَوْأَتا عَلَی مَا أَحْصی کِتابُکَ مِنْ عَمَلِی الَّذِی لَوْلا مَا أَرْجُو مِنْ کَرَمِکَ وَسَعَةِ
میں میرے ایسے ایسے اعمال درج ہوگئے کہ اگر میں تیرے فضل و کرم اور تیری وسیع رحمت کا
رَحْمَتِکَ وَنَهْیِکَ إیَّایَ عَنِ الْقُنُوطِ لَقَنَطْتُ عِنْدَما أَ تَذَکَّرُها، یَا خَیْرَ مَنْ دَعاهُ
امید وار نہ ہوتا اور نا امیدی سے تیری ممانعت کو نہ جانتا تو جب میں اپنے اعمال کو یاد کرتا تو ضرور ناامیدہوجاتا اے پکارے جانے
داعٍ، وَأَفْضَلَ مَنْ رَجاهُ راجٍ اَللّٰهُمَّ بِذِمَّةِ الْاِسْلامِ أَ تَوَسَّلُ إلَیْکَ، وَبِحُرْمَةِ
والوں میں بہترین اور امید کئے جانے والوں میں برتر اے معبود! میں اسلام کی پناہ میں تجھ کو اپنا وسیلہ بناتا ہوں احترام قرآن
الْقُرْآنِ أَعْتَمِدُ عَلَیْکَ، وَبِحُبِّی النَّبِیَّ الاَُْمِّیَّ الْقُرَشِیَّ الْهاشِمِیَّ الْعَرَبِیَّ التِّهامِیَّ
کے ساتھ مجھے تجھ پر بھروسہ ہے اور میں تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم امی قرشی ہاشمی عربی تہامی
الْمَکِّیَّ الْمَدَنِیَّ أَرْجُو الزُّلْفَةَ لَدَیْکَ، فَلا تُوحِشْ اسْتِیناسَ إیمانِی، وَلاَ تَجْعَلْ
مکی مدنی سے محبت کے واسطے سے تیرے تقرب کا امیدوار ہوں پس میری اس ایمانی انسیت کو وحشت میں نہ ڈال اور میرے
ثَوابِی ثَوابَ مَنْ عَبَدَ سِواکَ، فَ إنَّ قَوْماً آمَنُوا بِأَ لْسِنَتِهِمْ لِیَحْقِنُوا بِهِ دِمائَهُمْ
ثواب کو اپنے غیر کے عبادت گزار کا ثواب قرار نہ دے کیونکہ ایک گروہ زبانی کلامی مومن ہے تاکہ اس کے ذریعے ان کا خون محفوظ
فَأَدْرَکُوا مَا أَمَّلُوا، وَ إنَّا آمَنَّا بِکَ بِأَ لْسِنَتِنا وَقُلُوبِنا لِتَعْفُوَ عَنَّا فَأَدْرِکْنا
رہے تو انہوں نے اپنا مقصد پالیا لیکن ہم تجھ پر اپنی زبانوں اور دلوں سے ایمان لائے ہیں تاکہ تو ہمیں معاف کردیے پس ہماری
مَا أَمَّلْنا، وَثَبِّتْ رَجائَکَ فِی صُدُورِنا، وَلاَ تُزِغْ قُلُوبَنا بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنا،
امید پوری فرما اور اپنی آرزو ہمارے سینوں میں بسادے اور ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ فرما اس کے بعد کہ جب تونے ہمیں ہدایت دی
وَهَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَ نْتَ الْوَهَّابُ، فَوَعِزَّتِکَ لَوِ انْتَهَرْتَنِی مَا بَرِحْتُ
ہے اور اپنی طرف سے ہم پر رحمت فرما کہ بے شک تو بہت دینے والا ہے پس قسم ہے تیری عزت کی کہ اگر تو مجھے جھڑک دے تو بھی
مِنْ بابِکَ، وَلاَ کَفَفْتُ عَنْ تَمَلُّقِکَ لِما أُ لْهِمَ قَلْبِی مِنَ الْمَعْرِفَةِ بِکَرَمِکَ
میں تیری بارگاہ سے نہ ہٹوں گا اور تیری توصیف کرنے سے زبان نہ روکوں گا کیونکہ میرا دل تیرے فضل و کرم اور تیری وسیع رحمت کی
وَسَعَةِ رَحْمَتِکَ، إلی مَنْ یَذْهَبُ الْعَبْدُ إلاَّ إلی مَوْلاهُ، وَ إلی مَنْ یَلْتَجئُ الْمَخْلُوقُ
معرفت سے بھرا ہوا ہے تو غلام اپنے مولا و آقا کے سوا کس کی طرف جا سکتا ہے اور مخلوق کو اپنے خالق کے
إلاَّ إلی خالِقِهِ إلهِی لَوْ قَرَنْتَنِی بِالْاَصْفادِ، وَمَنَعْتَنِی سَیْبَکَ مِنْ بَیْنِ الْاَشْهادِ،
علاوہ کہاں پناہ مل سکتی ہے میرے ﷲ! اگر تونے مجھے زنجیروں میں جکڑ دیا اور دیکھتی آنکھوں مجھ سے اپنا فیض روک دیا
وَدَلَلْتَ عَلَی فَضائِحِی عُیُونَ الْعِبادِ، وَأَمَرْتَ بِی إلَی النَّارِ، وَحُلْتَ بَیْنِی وَبَیْنَ
اور لوگوں کے سامنے میری رسوائیاں عیاں کر دیں اور میرے جہنم کا حکم صادر کر دیا اور تو میرے اور نیک لوگوں کے درمیان حائل ہو
الْاَبْرارِ مَا قَطَعْتُ رَجائِی مِنْکَ وَمَا صَرَفْتُ تَأْمِیلِی لِلْعَفْوِ عَنْکَ وَلاَ خَرَجَ حُبُّکَ مِنْ
جائے تو بھی میں تجھ سے امید نہ توڑوں گا تجھ سے عفو درگزر کی امید رکھنے سے باز نہ آؤں گا اور میرے دل سے تیری محبت
قَلْبِی، أَ نَا لاَ أَ نْسی أَیادِیَکَ عِنْدِی، وَسَِتْرَکَ عَلَیَّ فِی دارِ الدُّنْیا، سَیِّدِی أَخْرِجْ
ختم نہ ہوگی میں دنیا میں دی گئی تیری نعمتوں اور گناہوں پر تیری پردہ پوشی کو ہرگز نہیں بھول سکتا میرے آقا ! میرے دل
حُبَّ الدُّنْیا مِنْ قَلْبِی وَاجْمَعْ بَیْنِی وَبَیْنَ الْمُصْطَفی وَآلِهِ خِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ وَخاتَمِ
سے دنیا کی محبت نکال دے اور مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بہتر نبیوں کے خاتم
النَّبِیِّینَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَانْقُلْنِی إلی دَرَجَةِ التَّوْبَةِ إلَیْکَ، وَأَعِنِّی
محمد مصطفی اور ان کی آلعليهالسلام کے قرب میں جگہ عنایت فرما اور مجھے اپنے حضور توبہ کے مقام کی طرف پلٹا دے اور مجھے خود اپنے
بِالْبُکائِ عَلَی نَفْسِی فَقَدْ أَفْنَیْتُ بِالتَّسْوِیفِ وَالاَْمالِ عُمْرِی، وَقَدْ نَزَلْتُ مَنْزِلَةَ
آپ پر رونے کی توفیق دے کیونکہ میں نے اپنی عمر ٹال مٹول اور جھوٹی آرزوؤں میں گنوا دی اور اب میں اپنی بہبودی سے
الاَْیِسِینَ مِنْ خَیْرِی فَمَنْ یَکُونُ أَسْوَأَ حالاً مِنِّی إنْ أَنَا نُقِلْتُ عَلَی مِثْلِ حالِی إلی
مایوس ہو جانے کو ہوں تو مجھ سے برا حال اور کس کا ہوگااگر میں اسی حال کے ساتھ ہی اپنی قبر میں اتار دیا
قَبْرٍ لَمْ أُمَهِّدْهُ لِرَقْدَتِی، وَلَمْ أَ فْرُشْهُ بِالْعَمَلِ الصَّالِحِ لِضَجْعَتِی وَمَا لِی لاَ أَبْکِی
جاؤں جب کہ میں نے قبر کیلئے کچھ سامان نہیں کیا اور نیک اعمال کا بستر نہیں بچھایا کہ آرام پاؤں ایسے میں کیوں زاری نہ کروں
وَلاَ أَدْرِی إلی مَا یَکُونُ مَصِیرِی، وَأَری نَفْسِی تُخادِعُنِی، وَأَیَّامِی تُخاتِلُنِی
کہ مجھے نہیں معلوم میرا نجام کیا ہوگا میں دیکھتا ہوں کہ نفس مجھے دھوکہ دیتا ہے اور حالات مجھے فریب دیتے ہیں
وَقَدْ خَفَقَتْ عِنْدَ رَأْسِی أَجْنِحَةُ الْمَوْتِ فَما لِی لاَ أَبْکِی أَبْکِی لِخُرُوجِ نَفْسِی،
اور اب موت نے میرے سر پر اپنے پر آن پھیلائے ہیں تو کیسے گریہ نہ کروں میں جان کے نکل جانے پر گریہ کرتا ہوں
أَبْکِی لِظُلْمَةِ قَبْرِی، أَبْکِی لِضِیقِ لَحْدِی، أَبْکِی لِسُؤالِ مُنْکَرٍ وَنَکِیرٍ إیَّایَ، أَبْکِی
قبر کی تاریکی اور اس کے پہلو کی تنگی پر گریہ کرتا ہوں منکر نکیر کے سوالات کے ڈر سے گریہ کرتا ہوں خاص کر اس لئے
لِخُرُوجِی مِنْ قَبْرِی عُرْیاناً ذَلِیلاً حامِلاً ثِقْلِی عَلَی ظَهْرِی أَ نْظُرُ مَرَّةً عَنْ یَمِینِی
گریہ کرتا ہوں کہ مجھے قبر سے اٹھنا ہے کہ عریانی وخواری کے ساتھ اپنے گناہوں کا بار لئے ہوئے دائیں بائیں دیکھوں گا جب
وَأُخْری عَنْ شِمالِی إذِ الْخَلائِقُ فِی شَأْنٍ غَیْرِ شَأْنِی، لِکُلِّ امْرِیٍَ مِنْهُمْ یَوْمَئِذٍ
دوسرے لوگ ایسے حال میں ہوں گے جو میرے حال سے مختلف ہوگا ان میں سے ہر شخص دوسروں سے بے خبر اپنے حال میں
شَأْنٌ یُغْنِیهِ، وُجُوهٌ یَوْمَیِذٍ مُسْفِرَةٌ ضاحِکَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ، وَوُجُوهٌ یَوْمَئِذٍ عَلَیْها
مگن ہوگا اس روز بعض چہرے کشادہ خنداں اور خوش ہوں گے اور بعض چہرے ایسے ہوں گے جن پر گرد و غبار
غَبَرَةٌ تَرْهَقُها قَتَرَةٌ وَذِلَّةٌ، سَیِّدِی عَلَیْکَ مُعَوَّلِی وَمُعْتَمَدِی وَرَجائِی وَتَوَکُّلِی،
اور تنگی و ذلت کا غلبہ ہوگا میرے سردار تو ہی میرا سہارا ہے تو ہی میری ٹیک ہے تو ہی میری امید گاہ ہے تجھی پر مجھے بھروسہ ہے
وَبِرَحْمَتِکَ تَعَلُّقِی تُصِیبُ بِرَحْمَتِکَ مَنْ تَشائُ وَتَهْدِی بِکَرامَتِکَ مَنْ تُحِبُّ، فَلَکَ
اور تیری رحمت سے تعلق ہے تو جسے چاہے رحمت سے نوازتا ہے اور جسے تو پسند کرے اس کو اپنی مہربانی کی راہ دکھاتا ہے پس حمد
الْحَمْدُ عَلَی مَا نَقَّیْتَ مِنَ الشِّرْکِ قَلْبِی، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی بَسْطِ لِسانِی، أَ فَبِلِسانِی
تیرے ہی لئے کہ تو نے میرے دل کو شرک سے پاک کیا تیرے ہی لئے حمد ہے کہ تو نے میری زبان کو گویا کیا آیا میں اس کج زبان
هذَا الْکالُّ أَشْکُرُکَ أَمْ بِغایَةِ جُهْدِی فِی عَمَلِی أُرْضِیکَ وَمَا قَدْرُ لِسانِی یَا رَبِّ فِی
سے تیرا شکر ادا کر سکتا ہوں یا عمل میں کوشش کر کے تجھے راضی کر سکتا ہوںاے پروردگار! تیری حمد کے برابر میری زبان کی
جَنْبِ شُکْرِکَ وَمَا قَدْرُ عَمَلِی فِی جَنْبِ نِعَمِکَ وَ إحْسانِکَ إلهِی إنَّ جُودَکَ بَسَطَ
کیا حیثیت ہے اور تیری نعمتوں اور احسانوں کے سامنے میرے عمل کا کیا وزن ہے میرے معبود! تیری سخاوت نے میری آرزو
أَمَلِی، وَشُکْرَکَ قَبِلَ عَمَلِی سَیِّدِی إلَیْکَ رَغْبَتِی، وَ إلَیْکَ رَهْبَتِی، وَ إلَیْکَ تَأْمِیلِی
کو بڑھایا اور تیری قدر دانی نے میرے عمل کو قبول فرمایا ہے میرے سردار میری رغبت تیری طرف اور خوف بھی تجھی سے ہے میری
وَقَدْ ساقَنِی إلَیْکَ أَمَلِی، وَعَلَیْکَ یَا واحِدِی عَکَفَتْ هِمَّتِی، وَفِیما عِنْدَکَ انْبَسَطَتْ
امید تیری ذات سے ہے اور یہ مجھے تیرے حضور کھینچ لائی ہے اے خدائے یکتا میری ہمت تیرے حضور پہنچ کے ختم ہو گئی اور میری
رَغْبَتِی، وَلَکَ خالِصُ رَجائِی وَخَوْفِی، وَبِکَ أَ نَِسَتْ مَحَبَّتِی، وَ إلَیْکَ أَ لْقَیْتُ
رغبت تیرے خزانے کے گرد گھوم رہی ہے میری امید اور میرا خوف خاص تیرے لئے ہے میری محبت تیرے ساتھ لگی ہوئی ہے
بِیَدِی، وَبِحَبْلِ طاعَتِکَ مَدَدْتُ رَهْبَتِی، یَا مَوْلایَ بِذِکْرِکَ عاشَ
میرے ہاتھ نے تیرا دامن تھام رکھا ہے میرے خوف نے مجھے تیری اطاعت کی طرف بڑھایا ہے اے میرے آقا ! میرا دل تیرے
قَلْبِی، وَبِمُناجاتِکَ بَرَّدْتُ أَ لَمَ الْخَوْفِ عَنِّی، فَیا مَوْلایَ وَیَا مُؤَمَّلِی وَیَا مُنْتَهی
ذکر سے زندہ ہے اور تیری مناجات کے ذریعے میں نے اپنا خوف دور کیا ہے پس اے میرے مولا! اور میری امید گاہ اے میرے
سُؤْلِی فَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَ ذَ نْبِیَ الْمانِعِ لِی مِنْ لُزُومِ طاعَتِکَ، فَ إنَّما أَسْأَ لُکَ
سوال کی انتہا مجھے اپنی اطاعت میں لگا کر مجھے گناہ سے روک دے اور میرے گناہ کے درمیان جدائی ڈال دے پس میں تجھ سے ازلی
لِقَدِیمِ الرَّجائِ فِیکَ، وَعَظِیمِ الطَّمَعِ مِنْکَ الَّذِی أَوْجَبْتَهُ عَلَی نَفْسِکَ مِنَ الرَّأْفَةِ
امید اور بڑی خواہش رکھتے ہوئے سوال کرتا ہوں اس مہربانی اور عنایت کا جو تو نے اپنی ذات پر واجب کی
وَالرَّحْمَةِ فَالْاَمْرُ لَکَ وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ وَالْخَلْقُ کُلُّهُمْ عِیالُکَ وَفِی قَبْضَتِکَ
ہوئی ہے پس حکم تیرا ہی ہے تو یکتا ہے تیرا کوئی ثانی نہیں ہے اور ساری مخلوق تیرا کنبہ ہے جو تیرے اختیار میں ہے
وَکُلُّ شَیْئٍ خاضِعٌ لَکَ، تَبارَکْتَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ إلهِی ارْحَمْنِی إذَا انْقَطَعَتْ
اور ہر چیز تیرے سامنے جھکی ہوئی ہے تو با برکت ہے اے جہانوں کے پالنے والے میرے ﷲ!مجھ پر رحم فرما جب میرے پاس عذر
حُجَّتِی، وَکَلَّ عَنْ جَوابِکَ لِسانِی، وَطاشَ عِنْدَ سُؤالِکَ إیَّایَ لُبِّی، فَیا عَظِیمَ
نہ رہے تیرے حضور بولنے میں میری زبان گنگ ہو جائے اور تیرے سوال پر میری عقل گم ہو جائے پس میری سب سے بڑی
رَجائِی لاَ تُخَیِّبْنِی إذَا اشْتَدَّتْ فاقَتِی وَلاَ تَرُدَّنِی لِجَهْلِی وَلاَ تَمْنَعْنِی لِقِلَّةِ صَبْرِی
امید گاہ مجھے اس وقت ناامید نہ کر جب میری حاجت سخت ہو مجھے نا دانی پر دور نہ فرما میری کم صبری پر محروم نہ رکھ
أَعْطِنِی لِفَقْرِی، وَارْحَمْنِی لِضَعْفِی، سَیِّدِی عَلَیْکَ مُعْتَمَدِی وَمُعَوَّلِی وَرَجائِی
میری حاجت کے مطابق عطا کر اور میری کمزوری پر رحم فرما میرے سردار ! تو ہی میرا آسرا ہے تجھ پر بھروسہ ہے تجھی سے
وَتَوَکُّلِی، وَبِرَحْمَتِکَ تَعَلُّقِی، وَبِفِنائِکَ أَحُطُّ رَحْلِی، وَبِجُودِکَ أَ قْصِدُ طَلِبَتِی،
امید ہے تجھی پر توکل اور تیری رحمت سے تعلق ہے تیری ڈیوڑھی پر ڈیرا ڈالے ہوئے ہوں تیری سخاوت سے اپنی حاجت برآری
وَبِکَرَمِکَ أَیْ رَبِّ أَسْتَفْتِحُ دُعائِی، وَلَدَیْکَ أَرْجُو فاقَتِی، وَبِغِناکَ أَجْبُرُ عَیْلَتِی،
چاہتا ہوں اے میرے رب تیرے کرم سے اپنی دعا کی ابتدائ کرتا ہوں تجھ سے تنگی دور کرنے کی امید کرتا ہوں تیرے خزانوں سے
وَتَحْتَ ظِلِّ عَفْوِکَ قِیامِی، وَ إلی جُودِکَ وَکَرَمِکَ أَرْفَعُ بَصَرِی، وَ إلی مَعْرُوفِکَ
اپنی عسرت دور کرانا چاہتا ہوں تیرے عفو کے سائے میں آیا کھڑا ہوں میری نگاہیں تیری عطا و سخاوت کی طرف اٹھتی ہیں اور ہمیشہ
أُدِیمُ نَظَرِی، فَلا تُحْرِقْنِی بِالنَّارِ وَأَ نْتَ مَوْضِعُ أَمَلِی، وَلاَ تُسْکِنِّی الْهاوِیَةَ فَ إنَّکَ
تیرے احسان کی طرف نظر جمائے رکھتا ہوں پس مجھے جہنم میں نہ جلانا کہ تو میری امید کا مرکز ہے اور مجھے ہاویہ دوزخ میں نہ ٹھہرانا
قُرَّةُ عَیْنِی، یَا سَیِّدِی لاَ تُکَذِّبْ ظَنِّی بِ إحْسانِکَ وَمَعْرُوفِکَ فَ إنَّکَ ثِقَتِی،
کیونکہ تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اے میرے آقا! تیرے احسان اور بھلائی سے مجھے جو گمان ہے اس کو نہ جھٹلا کیونکہ تو ہی میری جائے
وَلاَ تَحْرِمْنِی ثَوابَکَ فَ إنَّکَ الْعارِفُ بِفَقْرِی إلهِی إنْ کانَ قَدْ دَنا أَجَلِی
اعتماد ہے اور مجھے اپنی طرف کے ثواب سے محروم نہ فرما تو میری محتاجی سے واقف ہے میرے ﷲ ! اگر میری موت قریب آگئی ہے
وَلَمْ یُقَرِّبْنِی مِنْکَ عَمَلِی فَقَدْ جَعَلْتُ الاعْتِرافَ إلَیْکَ بِذَ نْبِی وَسائِلَ عِلَلِی
اور میرے عمل نے مجھے تیرے نزدیک نہیں کیا تو میں اپنے گناہوں کے اقرار کو تیرے حضور اپنے گناہوں کا عذر قرار دیتا ہوں
إلهِی إنْ عَفَوْتَ فَمَنْ أَوْلی مِنْکَ بِالْعَفْوِ وَ إنْ عَذَّبْتَ فَمَنْ أَعْدَلُ مِنْکَ فِی الْحُکْمِ
میرے معبود! اگر تو معاف کردے تو کون تجھ سے زیادہ معاف کرنے والا ہے اور اگر تو عذاب دے تو کون ہے جو فیصلہ کرنے میں تجھ
ارْحَمْ فِی هذِهِ الدُّنْیا غُرْبَتِی وَعِنْدَ الْمَوْتِ کُرْبَتِی، وَفِی الْقَبْرِ وَحْدَتِی، وَفِی اللَّحْدِ
سے زیادہ عادل ہے اس دنیا میں میری بے کسی پر رحم فرما اور موت کے وقت میری تکلیف پر اور قبر میں میری تنہائی اور پہلوئے قبر میں
وَحْشَتِی، وَ إذا نُشِرْتُ لِلْحِسابِ بَیْنَ یَدَیْکَ ذُلَّ مَوْقِفِی، وَاغْفِرْ لِی مَا خَفِیَ عَلَی
میری خوفزدگی پر رحم فرما جب میں حساب کیلئے اٹھایا جاؤں تو اپنے حضور میرے بیان کو نرم فرما میرے اعمال میں سے جو لوگوں سے مخفی
الاَْدَمِیِّینَ مِنْ عَمَلِی، وَأَدِمْ لِی مَا بِهِ سَتَرْتَنِی، وَارْحَمْنِی صَرِیعاً عَلَی الْفِراشِ
ہیں ان پر معافی فرما میری جو پردہ پوشی کی ہے اسے دائمی کر دے اور اس وقت رحم فرما جب میرے دوست بستر پر
تُقَلِّبُنِی أَیْدِی أَحِبَّتِی وَتَفَضَّلْ عَلَیَّ مَمْدُوداً عَلَی الْمُغْتَسَلِ یُقَلِّبُنِی صالِحُ جِیرَتِی
میرے پہلو بدل رہے ہونگے اس وقت رحم فرما جب میرے نیک ہمسائے تختہ غسل پر مجھے ادھر سے ادھر کرتے ہوں گے اس وقت
وَتَحَنَّنْ عَلَیَّ مَحْمُولاً قَدْ تَناوَلَ الْاَقْرِبائُ أَطْرافَ جِنازَتِی، وَجُدْ عَلَیَّ مَنْقُولاً قَدْ
مہربانی فرما جب میرے رشتہ دار میرا جنازہ چاروں طرف سے اٹھائے ہوئے لے جائیں گے اور مجھ پر اس وقت بخشش کر جب
نَزَلْتُ بِکَ وَحِیداً فِی حُفْرَتِی وَارْحَمْ فِی ذَلِکَ الْبَیْتِ الْجَدِیدِ غُرْبَتِی حَتَّی لاَ أَسْتَأْنِسَ
تیرے حضور آؤں گا اور قبر میں تنہا ہوں گا اور اس نئے گھر میں میری بے کسی پر رحم و کرم فرما یہاں تک کہ تیرے سوا کسی اور سے لگاؤ نہ ہو
بِغَیْرِکَ، یَا سَیِّدِی إنْ وَکَلْتَنِی إلی نَفْسِی هَلَکْتُ، سَیِّدِی فَبِمَنْ أَسْتَغِیثُ إنْ لَمْ
اے میرے آقا ! اگر تو نے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا تو میں تباہ ہو جاؤں گا میرے سردار ! اگر تو نے خطا معاف نہ کی تو کس
تُقِلْنِی عَثْرَتِی فَ إلی مَنْ أَ فْزَعُ إنْ فَقَدْتُ عِنایَتَکَ فِی ضَجْعَتِی وَ إلی مَنْ أَ لْتَجئُ
سے مدد مانگوں اگر اس مصیبت میں مجھ پر تیری عنایت نہ ہو تو کس سے فریاد کروں اور اگر تو میری تنگی دور نہ کرے تو کسے اپنا حال
إنْ لَمْ تُنَفِّسْ کُرْبَتِی سَیِّدِی مَنْ لِی وَمَنْ یَرْحَمُنِی إنْ لَمْ تَرْحَمْنِی وَفَضْلَ مَنْ
سناؤں میرے سردار اگر تو مجھ پر رحم نہ کرے تو پھر میرا کون ہے جو مجھ پر رحم کرے گا اگر اس ضرورت کے دن مجھ پر تیرا کرم نہ
أُؤَمِّلُ إنْ عَدِمْتُ فَضْلَکَ یَوْمَ فاقَتِی وَ إلی مَنِ الْفِرارُ مِنَ الذُّنُوبِ إذَا انْقَضیٰ
ہو تو کس سے اس کی امید کروں جب میرا وقت ختم ہو جائے تو گناہوں سے بھاگ کر کس کے پاس جاؤں
أَجَلِی سَیِّدِی لاَ تُعَذِّبْنِی وَأَ نَا أَرْجُوکَ إلهِی حَقِّقْ رَجائِی، وَآمِنْ خَوْفِی، فَ إنَّ
میرے سردار مجھے عذاب نہ دینا کہ میں امید لے کر آیا ہوں میرے ﷲ! میری امید پوری فرما اور خوف سے امان دے پس گناہوں
کَثْرَةَ ذُ نُوبِی لاَ أَرْجُو فِیها إلاَّ عَفْوَکَ، سَیِّدِی أَ نَا أَسْأَ لُکَ مَا لاَ أَسْتَحِقُّ، وَأَنْتَ
کی کثرت میں تیرے عفو کے سوا مجھے کسی سے امید نہیں میرے آقا! میں تجھ سے وہ کچھ مانگتا ہوں جس کا حقدار نہیں ہوں اور تو
أَهْلُ التَّقْوی وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ فَاغْفِرْ لِی وَأَ لْبِسْنِی مِنْ نَظَرِکَ ثَوْباً یُغَطِّی عَلَیَّ
ڈھانپنے والا اور بخشنے والا ہے پس مجھے بخش دے تو اپنی نظر کرم سے مجھے ایسا لباس دے کہ جو میری خطاؤں کو چھپالے تو
التَّبِعاتِ وَتَغْفِرُها لِی وَلاَ أُطالَبُ بِها، إنَّکَ ذُو مَنٍّ قَدِیمٍ، وَصَفْحٍ عَظِیمٍ، وَتَجاوُزٍ
وہ خطائیں معاف کردے کہ ان پر باز پرس نہ ہو بے شک تو قدیمی نعمت والا بڑا درگزر کرنے والا اور مہربان معافی
کَرِیمٍ إلهِی أَ نْتَ الَّذِی تُفِیضُ سَیْبَکَ عَلَی مَنْ لاَ یَسْأَ لُکَ وَعَلَی الْجاحِدِینَ
دینے والا ہے میرے اللہ! تو وہ ہے جو سوال نہ کرنے والوں اور اپنی ربوبیت کے منکر لوگوں کو بھی اپنے فیض و کرم سے نوازتا ہے تو
بِرُبُوْبِیَّتِکَ فَکَیْفَ سَیِّدِی بِمَنْ سَأَلَکَ وَأَیْقَنَ أَنَّ الْخَلْقَ لَکَ، وَالْاَمْرَ إلَیْکَ تَبارَکْتَ
میرے سردار کیونکر وہ محروم رہے گا جو تجھ سے مانگتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پیدا کرنا اور حکم دینا خاص تیرے ہی لیے ہے بابرکت
وَتَعالَیْتَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ، سَیِّدِی عَبْدُکَ بِبابِکَ أَقامَتْهُ الْخَصاصَةُ بَیْنَ یَدَیْکَ
اور بلندتر ہے تو اے جہانوں کے پالنے والے اے میرے آقا! تیرا بندہ حاضر ہے جسے اس کی تنگی نے تیرے دروازے پر لاکھڑا کیا
یَقْرَعُ بابَ إحْسانِکَ بِدُعائِهِ فَلا تُعْرِضْ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ عَنِّی، وَاقْبَلْ
ہے وہ اپنی دعا کے ذریعے تیرے احسان کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے پس اپنی ذات کے واسطے مجھے اپنی توجہ سے محروم نہ فرما اور میری عرض
مِنِّی مَا أَقُولُ فَقَدْ دَعَوْتُ بِهذَا الدُّعائِ وَأَ نَا أَرْجُو أَنْ لاَ تَرُدَّنِی مَعْرِفَةً مِنِّی بِرَأْفَتِکَ
قبول کرلے میں نے اس دعا کے ذریعے تجھے پکارا ہے اور امید رکھتا ہوں کہ تو اسے رد نہ کرے گا کیونکہ مجھے مہربانی اور رحمت کی
وَرَحْمَتِکَ إلهِی أَ نْتَ الَّذِی لاَ یُحْفِیکَ سائِلٌ، وَلاَ یَنْقُصُکَ نائِلٌ، أَ نْتَ کَما تَقُولُ
معرفت ہے میرے معبود! تو وہ ہے جس سے سائل کو اصرار نہیںکرنا پڑتا اور عطا کرنے سے تجھ میں کمی نہیں آتی تو ایسا ہے جیسا تو بتاتا
وَفَوْقَ مَا نَقُولُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ صَبْراً جَمِیلاً وَفَرَجاً قَرِیباً وَقَوْلاً صادِقاً وَأَجْراً
ہے اور اس سے بلند ہے جیسا ہم کہتے ہیں اے معبود! میں مانگتا ہوں تجھ سے بہترین صبر جلدتر کشائش سچ بولنے کی توفیق اور بیش تر ثواب
عَظِیماً، أَسْأَلُکَ یَا رَبِّ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، أَسْأَ لُکَ اَللّٰهُمَّ مِنْ
کی عطائیگی اے پروردگار! میں تجھ سے ہر بھلائی کا سوالی ہوں جسے تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اے اللہ! میں تجھ سے
خَیْرِ مَا سَأَلَکَ مِنْهُ عِبادُکَ الصَّالِحُونَ، یَا خَیْرَ مَنْ سُئِلَ، وَأَجْوَدَ مَنْ أَعْطیٰ،
وہ چیز مانگتا ہوںجو تیرے نیک بندے تجھ سے مانگتے ہیں اے بہترین مسئول اور عطا کرنے والوں میں بہترین
أَعْطِنِی سُؤْلِی فِی نَفْسِی وَأَهْلِی وَوالِدَیَّ وَوُلْدِی وَأَهْلِ حُزانَتِی وَ إخْوانِی فِیکَ
میں اپنے لیے اپنے کنبے اپنے والدین کے لیے اپنی اولاد تعلقداروں اور دینی بھائیوں کے لیے جو چاہتا ہوں عطا فرما اور میری
وَأَرْغِدْ عَیْشِی وَأَظْهِرْ مُرُوَّتِی وَأَصْلِحْ جَمِیعَ أَحْوالِی وَاجْعَلْنِی مِمَّنْ أَطَلْتَ عُمْرَهُ
زندگی بہترین میری اچھائی ظاہر اور میرے تمام حالات کو سدھار دے اور مجھے ان لوگوں میں قرار دے جن کو تو نے لمبی عمر دی
وَحَسَّنْتَ عَمَلَهُ، وَأَ تْمَمْتَ عَلَیْهِ نِعْمَتَکَ، وَرَضِیتَ عَنْهُ، وَأَحْیَیْتَهُ حَیاةً طَیِّبَةً فِی
ان کے عمل کو نیک گردانا ان کو اپنی بہت سی نعمتیں عطا کیں اور تو ان سے راضی ہوگیا اور ان کو پاکیزہ زندگی بخشی جس میں وہ
أَدْوَمِ السُّرُورِ، وَأَسْبَغِ الْکَرامَةِ، وَأَ تَمِّ الْعَیْشِ إنَّکَ تَفْعَلُ مَا تَشائُ وَلاَ یَفْعَلُ مَا
سدا خوش رہے ان کو عزت دار بنایا اور روزگار کو مکمل فرما کیونکہ خود تو جو چاہے کرتا ہے اور جو تیرا غیر چاہے تو
یَشائُ غَیْرُکَ اَللّٰهُمَّ خُصَّنِی مِنْکَ بِخاصَّةِ ذِکْرِکَ، وَلاَ تَجْعَلْ شَیْئاً مِمَّا أَ تَقَرَّبُ بِهِ
وہ نہیں سکتا اے معبود! مجھے اپنے ذکر کے ساتھ خاص فرما اور رات کے وقتوں اور دن کے گوشوں میں جس عمل
فِی آنائِ اللَّیْلِ وَأَطْرافِ النَّهارِ رِیائً وَلاَ سُمْعَةً وَلاَ أَشَراً وَلاَ بَطَراً، وَاجْعَلْنِی
سے تیرا تقرب چاہتا ہوں اس میں میری طرف سے ریا اور تعریف کی خواہش خودستائی اور بڑائی کا احساس نہ آنے دے اور مجھے ان
لَکَ مِنَ الْخاشِعِینَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِی السَّعَةَ فِی الرِّزْقِ، وَالْاَمْنَ فِی الْوَطَنِ، وَقُرَّةَ
میں قرار دے جو تجھ سے ڈرتے ہیں اے معبود! مجھے روزی میں کشائش وطن میں امن اور میرے
الْعَیْنِ فِی الْاَهْلِ وَالْمالِ وَالْوَلَدِ، وَالْمُقامَ فِی نِعَمِکَ عِنْدِی، وَالصِّحَّةَ فِی الْجِسْمِ،
رشتہ داروں اور میرے مال اور میری اولاد کے بارے میں خنکی چشم فرما اور اپنی نعمتوں میں مجھے خصوصی حصہ، بدن میں صحت و درستی
وَ الْقُوَّةَ فِی الْبَدَنِ، وَالسَّلامَةَ فِی الدِّینِ، وَاسْتَعْمِلْنِی بِطاعَتِکَ وَطاعَةِ رَسُو لِکَ
اور توانائی دے اور دین میں سلامتی عنایت فرما اورمجھے ایسے عمل کی توفیق دے کہ میں تیری بندگی اور تیرے رسول
مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ أَبَداً مَا اسْتَعْمَرْتَنِی، وَاجْعَلْنِی مِنْ أَوْفَرِ عِبادِکَ عِنْدَکَ
حضرت محمد کی فرمانبرداری میں رہوں جب تک تو مجھے زندہ رکھے مجھے اپنے ان بندوں میں قرار دے جن کا حصہ تیرے ہاں
نَصِیباً فِی کُلِّ خَیْرٍ أَنْزَلْتَهُ وَتُنْزِلُهُ فِی شَهْرِ رَمَضانَ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَنْتَ مُنْزِلُهُ
ان بھلائیوں میں بہت زیادہ ہے جو تو نے نازل کیں اور نازل کرتا ہے ماہ رمضان میں اور شب قدر میں اور جو تو ہرسال کے دوران
فِی کُلِّ سَنَةٍ مِنْ رَحْمَةٍ تَنْشُرُها وَعافِیَةٍ تُلْبِسُها وَبَلِیَّةٍ تَدْفَعُها وَحَسَناتٍ تَتَقَبَّلُها
نازل کرتا ہے یعنی وہ رحمت جسے تو پھیلاتا ہے وہ آرام جو تو دیتا ہے وہ سختی جسے تو دور کرتا ہے وہ نیکیاں جو تو قبول کرتا ہے
وَسَیِّئاتٍ تَتَجاوَزُ عَنْها، وَارْزُقْنِی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرامِ فِی عامِناهذَا وَفِی کُلِّ عامٍ،
اور وہ گناہ جو تو معاف فرماتا ہے اور مجھے اپنے بیت الحرام کعبہ کا حج اس سال اور آئندہ سالوں میں بھی نصیب فرما اور
وَارْزُقْنِی رِزْقاً واسِعاً مِنْ فَضْلِکَ الْواسِعِ، وَاصْرِفْ عَنِّی یَا سَیِّدِی الْاَسْوائَ
مجھ کو اپنے وسعت والے فضل سے کشادہ رزق دے اور اے میرے سردار بری چیزوں کو مجھ سے دوررکھ
وَاقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَالظُّلاماتِ حَتَّی لا أَ تَأَذَّی بِشَیْئٍ مِنْهُ، وَخُذْ عَنِّی بِأَسْماعِ
میرے قرض اور ناحق لی ہوئی چیزوں کو میرے طرف سے لوٹا دے حتیٰ کہ مجھ پر ایذا نہ رہے اور میرے دشمنو ں حاسدوں
وَأَبْصارِ أَعْدائِی وَحُسَّادِی وَالْباغِینَ عَلَیَّ، وَانْصُرْنِی عَلَیْهِمْ، وَأَقِرَّ عَیْنِی وَفَرِّحْ
اور مخالفوں کے کان اور آنکھیں میری طرف سے بند کردے اور ان کے مقابل میری مدد فرما میری آنکھیں ٹھنڈی کر اور میرے دل
قَلْبِی، وَاجْعَلْ لِی مِنْ هَمِّی وَکَرْبِی فَرَجاً وَمَخْرَجاً وَاجْعَلْ مَنْ أَرادَنِی بِسُوئٍ مِنْ
کو فرحت دے میری تکلیف اور پریشانی کے دور ہوجانے کا ذریعہ پیدا کردے تیری ساری مخلوقات میں سے جو جو میرے لیے برا
جَمِیعِ خَلْقِکَ تَحْتَ قَدَمَیَّ وَاکْفِنِی شَرَّ الشَّیْطانِ وَشَرَّ السُّلْطانِ وَسَیِّئاتِ عَمَلِی
ارادہ رکھتا ہے اسے میرے پاؤں تلے ڈال دے اور شیطان و سلطان کے شر اور برے اعمال سے بچنے میں میرے مدد فرما
وَطَهِّرْنِی مِنَ الذُّنُوبِ کُلِّها وَأَجِرْنِی مِنَ النَّارِ بِعَفْوِکَ، وَأَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِکَ،
اور مجھے سب گناہوں سے پاک صاف کردے اپنی درگذر کے ساتھ مجھے جہنم سے پناہ دے اپنی رحمت سے مجھے جنت میں داخل کر
وَزَوِّجْنِی مِنَ الْحُورِ الْعِینِ بِفَضْلِکَ، وَأَ لْحِقْنِی بِأَوْ لِیائِکَ الصَّالِحِینَ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
اپنے فضل سے حور العین کو میری بیوی بنادے اور مجھے اپنے پیاروں اور نیکوکاروں کے ساتھ جگہ دے جو حضرت محمد اور ان کی خوش
الْاَ بْرارِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ الْاَخْیارِ صَلَواتُکَ عَلَیْهِمْ وَعَلَی أَجْسادِهِمْ وَأَرْواحِهِمْ
اطوار آلعليهالسلام ہیں اور پاکیزہ شفاف اور پاک دل ان پر ان کے جسموں پر اور ان کی روحوں پر رحمت فرما اور ان پر
وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ إلهِی وَسَیِّدِی وَعِزَّتِکَ وَجَلالِکَ لَأِِنْ طالَبْتَنِی بِذُ نُوبِی
رحمت خدا اور اس کی برکتیں ہوں میرے اللہ و میرے آقا! تیری عزت و جلال کی قسم کہ اگر تو میرے گناہوںکی بازپرس کرے گا
لاََُطالِبَنَّکَ بِعَفْوِکَ، وَلَأِنْ طالَبْتَنِی بِلُؤْمِی لاََُطالِبَنَّکَ بِکَرَمِکَ، وَلَأِنْ أَدْخَلْتَنِی
تو میں تیرے عفو کی خواہش کروں گا اگر تو نے میرے پستی پر پوچھ گچھ کی تو میں تیری مہربانی کی تمنا کروں گا اگر تو مجھے دوزخ میں
النَّارَ لاََُخْبِرَنَّ أَهْلَ النَّارِ بِحُبِّی لَکَ إلهِی وَسَیِّدِی إنْ کُنْتَ لاَ تَغْفِرُ إلاَّ
ڈالے گا وہ میں وہاں کے لوگوں کو بتاؤں گا کہ میں تجھ سے محبت کرتا رہا ہوں میرے معبود میرے سردار! اگر تو نے اپنے پیاروں
لاََِوْ لِیائِکَ وَأَهْلِ طاعَتِکَ فَ إلی مَنْ یَفْزَعُ الْمُذْنِبُونَ وَ إنْ کُنْتَ لاَ تُکْرِمُ إلاَّ أَهْلَ الْوَفائِ
اور فرمانبرداروں کے سوا کسی کو معافی نہ دی تو گناہ گار لوگ کس سے فریاد کر سکیں گے اور اگر تو صرف اپنے وفا داروں کو عزت عطا فرمائے گا
بِکَ فَبِمَنْ یَسْتَغِیثُ الْمُسِیئُونَ إلهِی إنْ أَدْخَلْتَنِی النَّارَ فَفِی ذلِکَ سُرُورُ عَدُوِّکَ،
تو پھر خطا کار لوگ کس سے داد وفریاد کریں گے میرے معبود! اگر تو مجھے جہنم میں ڈالے گا تو اس میں تیرے دشمنوں ہی کو خوشی ہوگی
وَ إنْ أَدْخَلْتَنِی الْجَنَّةَ فَفِی ذلِکَ سُرُورُ نَبِیِّکَ، وَأَنَا وَﷲ أَعْلَمُ أَنَّ سُرُورَ نَبِیِّکَ
اور اگر تو نے مجھے جنت میں داخل کیا تو اس میں تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مسرت ہوگی اور قسم بخدا کہ میں یہ جانتا ہوں کہ تجھے اپنے دشمن
أَحَبُّ إلَیْکَ مِنْ سُرُورِ عَدُوِّکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ أَنْ تَمْلاَََ قَلْبِی حُبّاً لَکَ، وَخَشْیَةً
کی خوشی کی نسبت اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خوشی منظور ہے اے اللہ! میں سوالی ہوں تجھ سے کہ میرے دل کو اپنی محبت سے اپنے رعب سے اور
مِنْکَ وَتَصْدِیقاً بِکِتابِکَ وَ إیماناً بِکَ وَفَرَقاً مِنْکَ وَشَوْقاً إلَیْکَ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ
اپنی کتاب کی تصدیق سے بھردے نیز میرے دل کو ایمان خوف اور شوق سے پر کردے اے بزرگی اور عزت کے مالک!
حَبِّبْ إلَیَّ لِقائَکَ، وَأَحْبِبْ لِقائِی، وَاجْعَلْ لِی فِی لِقائِکَ الرَّاحَةَ وَالْفَرَجَ وَالْکَرامَةَ
میرے لیے اپنی حضوری محبوب بنا اور مجھ سے ملاقات کو محبوب رکھ اور میرے لیے اپنی ملاقات کو خوشی کشادگی اور فخر و عزت کا ذریعہ بنا
اَللّٰهُمَّ أَ لْحِقْنِی بِصالِحِ مَنْ مَضی، وَاجْعَلْنِی مِنْ صالِحِ مَنْ بَقِیَ وَخُذْ بِی سَبِیلَ
اے معبود! مجھے گزرے ہوئے نیک لوگوں سے ملحق فرمادے اور موجودہ نیک لوگوں میں شامل کردے میرے لیے نیکوکاروں
الصَّالِحِینَ، وَأَعِنِّی عَلَی نَفْسِی بِما تُعِینُ بِهِ الصَّالِحِینَ عَلَی أَ نْفُسِهِمْ، وَاخْتِمْ
کا راستہ مقرر کردے اور میرے نفس کے بارے میں میری مدد کر جیسے تو اپنے نیک بندوں کی ان کے نفسوں پر مدد فرماتا ہے میرے عمل
عَمَلِی بِأَحْسَنِهِ وَاجْعَلْ ثَوابِی مِنْهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِکَ وَأَعِنِّی عَلَی صالِحِ مَا أَعْطَیْتَنِی
کا انجام خیر کے ساتھ کر اور اپنی رحمت سے اس کے ثواب میں مجھے جنت عطا فرما اور جو نیک عمل تو نے مجھے عطا کیا ہے
وَثَبِّتْنِی یَا رَبِّ وَلاَ تَرُدَّنِی فِی سُوئٍ اسْتَنْقَذْتَنِی مِنْهُ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ
اس پر مجھ کو ثابت قدم رکھ اے پالنے والے اور جس برائی سے مجھے نکالا ہے اس کی طرف نہ پلٹا اے جہانوں کے پروردگار! اے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ إیماناً لاَ أَجَلَ لَهُ دُونَ لِقائِکَ، أَحْیِنِی مَا أَحْیَیْتَنِی عَلَیْهِ وَتَوَفَّنِی
معبود! میں تجھ سے وہ ایمان مانگتا ہوں جو تیرے حضور میری پیشی سے پہلے ختم نہ ہو مجھے زندہ رکھنا ہے تو اسی پر زندہ رکھ اور موت
إذا تَوَفَّیْتَنِی عَلَیْهِ وَابْعَثْنِی إذا بَعَثْتَنِی عَلَیْهِ وَأَبْرِیَْ قَلْبِی مِنَ الرِّیائِ وَالشَّکِّ وَالسُّمْعَةِ
دینی ہے تو اسی پر دے جب مجھے اٹھائے تو اسی پر اٹھا کھڑا کر اور میرے دل کو دین میں دکھا دے شک اور ستائش طلبی سے
فِی دِینِکَ حَتَّی یَکُونَ عَمَلِی خالِصاً لَکَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِی بَصِیرَةً فِی دِینِکَ، وَفَهْماً
پاک رکھ یہاں تک کہ میراعمل تیرے لیے خاص ہوجائے اے معبود! مجھے اپنے دین کی پہچان اپنے حکم
فِی حُکْمِکَ وَفِقْهاً فِی عِلْمِکَ وَکِفْلَیْنِ مِنْ رَحْمَتِکَ وَوَرَعاً یَحْجُزُنِی عَنْ مَعاصِیکَ
کی سمجھ اور اپنے علم کی سوجھ بوجھ عنایت فرما اور مجھے اپنی رحمت کے دونوں حصے دے اور ایسی پرہیزگاری دے جو مجھے تیری نافرمانی سے روکے
وَبَیِّضْ وَجْهِی بِنُورِکَ وَاجْعَلْ رَغْبَتِی فِیما عِنْدَکَ، وَتَوَفَّنِی فِی سَبِیلِکَ وَعَلَی مِلَّةِ
اور میرے چہرے کو اپنے نور سے روشن فرما میری چاہت اس میں قرار دے جو تیرے پاس ہے اور مجھے اپنی راہ میں اور اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
رَسُو لِکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْفَشَلِ وَالْهَمِّ
کے گروہ میں موت دے کہ ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر خدا کی رحمت ہو اے معبود! میں سستی، بددلی، پریشانی،
وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْغَفْلَةِ وَالْقَسْوَةِ وَالْمَسْکَنَةِ وَالْفَقْرِ وَالْفاقَةِ وَکُلِّ بَلِیَّةٍ وَالْفَواحِشِ
بزدلی، کنجوسی، غفلت، سنگدلی، خواری اور فقر و فاقہ سے تیری پناہ لیتا ہوں اور تمام سختیوں اور بے حیائی
مَا ظَهَرَ مِنْها وَمَا بَطَنَ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ نَفْسٍ لاَ تَقْنَعُ، وَبَطْنٍ لاَ یَشْبَعُ،
کے ظاہر اور پوشیدہ کاموں سے تیری پناہ لیتا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں سیر نہ ہونے والے نفس پر نہ ہونیوالیشکم، نہ ڈرنے والے
وَقَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ ، وَدُعائٍ لاَ یُسْمَعُ، وَعَمَلٍ لاَ یَنْفَعُ، وَأَعُوذُ بِکَ یَا رَبِّ عَلَی نَفْسِی
دل، سنی نہ جانے والی دعا اور فائدہ نہ دینے والے کام سے اور تیری پناہ لیتا ہوں اے پالنے والے اپنے نفس
وَدِینِی وَمالِی وَعَلَی جَمِیعِ مَا رَزَقْتَنِی مِنَ الشَّیْطانِ الرَّجِیمِ، إنَّکَ أَ نْتَ السَّمِیعُ
اپنے دین اپنے مال اور جو تو نے مجھے دیا ہے اس میں راندے ہوئے شیطان سے بے شک تو سننے
الْعَلِیمُ اَللّٰهُمَّ إنَّهُ لاَ یُجِیرُنِی مِنْکَ أَحَدٌ، وَلاَ أَجِدُ مِنْ دُو نِکَ مُلْتَحَداً، فَلا تَجْعَلْ
جاننے والا ہے اے معبود! سچ تو یہ ہے کہ تجھ سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا نہ ہی تیرے سوا کوئی پناہ گاہ پاتا ہوں پس میرے نفس کو
نَفْسِی فِی شَیْئٍ مِنْ عَذابِکَ، وَلاَ تَرُدَّنِی بِهَلَکَةٍ وَلاَ تَرُدَّنِی بِعَذابٍ أَلِیمٍ اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ
اپنی طرف کے کسی عذاب میں نہ ڈال اور نہ مجھے کسی تباہی کی طرف پلٹا اور نہ مجھے دردناک عذاب کی طرف روانہ کر اے معبود! میرا
مِنِّی وَأَعْلِ ذِکْرِی وَارْفَعْ دَرَجَتِی وَحُطَّ وِزْرِی وَلاَ تَذْکُرْنِی بِخَطِیئَتِی وَاجْعَلْ
عمل قبول فرما میرے ذکر کو بلند کر میرے مقام کو اونچا کر اور میرے گناہ مٹادے مجھے میرے گناہوں کے
ثَوابَ مَجْلِسِی، وَثَوابَ مَنْطِقِی، وَثَوابَ دُعائِی رِضاکَ وَالْجَنَّةَ، وَأَعْطِنِی یَا رَبِّ
ساتھ یاد نہ فرما اور میرے بیٹھنے کا ثواب میری گفتگو کا ثواب اور میری دعا کا ثواب اپنی خوشنودی و جنت کی شکل میں دے اور اے
جَمِیعَ مَا سَأَ لْتُکَ وَزِدْنِی مِنْ فَضْلِکَ إنِّی إلَیْکَ راغِبٌ یَا رَبَّ
پالنے والے! وہ سب کچھ دے جو میں نے مانگا ہے اور اپنے فضل سے اس میں اضافہ کردے بے شک میں تیری چاہت رکھتا ہوں
الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ أَنْزَلْتَ فِی کِتابِکَ أَنْ نَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنا وَقَدْ ظَلَمْنا
اے جہانوں کے پالنے والے اے معبود! بے شک تو نے اپنی کتاب میں یہ حکم نازل کیا ہے کہ جو ہم پر ظلم کرے اسے معاف کردیں
أَ نْفُسَنا فَاعْفُ عَنَّا فَ إنَّکَ أَوْلی بِذلِکَ مِنَّا، وَأَمَرْتَنا أَنْ لاَ نَرُدَّ سائِلاً عَنْ
ضرور ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تو ہمیں معاف فرما یقینا تو ہم سے زیادہ اس کا اہل ہے تو نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سوالی کو اپنے
أَبْوابِنا وَقَدْ جِئْتُکَ سائِلاً فَلاَ تَرُدَّنِی إلاَّ بِقَضائِ حاجَتِی، وَأَمَرْتَنا
دروازوں سے نہ ہٹائیں اور میں تیرے حضور سوالی بن کے آیا ہوں پس مجھے دور نہ کر مگر جب میری حاجت پوری کردے تو نے ہمیں
بِالْاِحْسانِ إلی مَا مَلَکَتْ أَیْمانُنا وَنَحْنُ أَرِقَّاوَُکَ فَأَعْتِقْ رِقابَنا مِنَ النَّارِ یَا مَفْزَعِی
حکم دیا کہ جو افراد ہمارے غلام ہیں ہم ان پر احسان کریں۔ اور ہم تیرے غلام ہیں پس ہماری گردنیں آگ سے آزاد فرما اے وقت
عِنْدَ کُرْبَتِی، وَیَا غَوْثِی عِنْدَ شِدَّتِی، إلَیْکَ فَزِعْتُ، وَبِکَ اسْتَغَثْتُ وَلُذْتُ، لاَ أَ لُوذُ
مصیبت میری پناہ گاہ اے سختی کے ہنگام میرے فریاد رس تجھ سے فریاد کرتا ہوں اور تجھ سے داد خواہ ہوں میں پناہ چاہتا ہوں تیری نہ
بِسِواکَ، وَلاَ أَطْلُبُ الْفَرَجَ إلاَّ مِنْکَ، فَأَغِثْنِی وَفَرِّجْ عَنِّی یَا مَنْ یَقْبَلُ الْیَسِیرَ وَیَعْفُو
کسی اور کی اور سوائے تیرے کسی سے کشائش کا طالب نہیں ہوں پس میری فریاد سن اور رہائی دے اے وہ جو قیدی کو چھڑاتا ہے اور
عَنِ الْکَثِیرِ، اقْبَلْ مِنِّی الْیَسِیرَ وَاعْفُ عَنِّی الْکَثِیرَ، إنَّکَ أَ نْتَ الرَّحِیمُ
بہت سارے گناہ معاف کرتا ہے میرے تھوڑے عمل کو قبول فرما اور میرے بہت سارے گناہ معاف کردے بیشک تو بہت رحم کرنیوالا
الْغَفُورُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ إیماناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی، وَیَقِیناً صادِقاً حَتَّی أَعْلَمَ أَ نَّهُ
بہت بخشنے والا ہے اے معبود! میں تجھ سے ایسا ایمان و یقین مانگتا ہوں جو میرے دل میں جما رہے یہاں تک کہ میں سمجھوں کہ مجھے
لَنْ یُصِیبَنِی إلاَّ مَا کَتَبْتَ لِی، وَرَضِّنِی مِنَ الْعَیْشِ بِمَا قَسَمْتَ لِی، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
کوئی چیز نہیں پہنچتی سوائے اس کے جو تو نے میرے لیے لکھی ہے اور مجھے اس زندگی پر شاد رکھ جو تو نے میرے لیے قرار دی اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
دعا سحر یا عُدَتِیْ
( ۵ ) شیخ نے فرمایا ہے کہ سحری کے وقت یہ دعا بھی پڑھے:
یَا عُدَّتِی فِی کُرْبَتِی، وَیَا صاحِبِی فِی شِدَّتِی، وَیَا وَ لِیِّی فِی نِعْمَتِی وَیَا غایَتِی
اے وقت مصیبت میری پونجی اے تنگی کے ہنگام میرے ہمدم اے نعمت دینے میں میرے سرپرست اور اے میری رغبت کے مرکز تو
فِی رَغْبَتِی أَنْتَ السّاتِرُ عَوْرَتِی وَالْمُؤْمِنُ رَوْعَتِی وَالْمُقِیلُ عَثْرَتِی فَاغْفِرْ لِی خَطِیئَتِی
ہی ہے میری برائی کو چھپانے والا خوف سے امن دینے والا میری خطا سے درگزر کرنے والا پس میرے گناہ بخش دے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ خُشُوعَ الْاِیمانِ قَبْلَ خُشُوعِ الذُلِّ فِی النَّارِ، یَا واحِدُ
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں حالت ایمان میں زاری کا اس سے پہلے کہ میں جہنم کی ذلت میں پڑا فریاد کروں اے یگانہ
یَا أَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ، یَا مَنْ یُعْطِی مَنْ
اے یکتا اے بے نیاز اے وہ جس نے نہ جنا اور نہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہوسکتا ہے اے وہ جو اپنی مہربانی اور رحمت
سَأَلَهُ تَحَنُّناً مِنْهُ وَرَحْمَةً، وَیَبْتَدئُ بِالْخَیْرِ مَنْ لَمْ یَسْأَلْهُ تَفَضُّلاً مِنْهُ وَکَرَماً،
سے ہر سائل کو عطا کرتا ہے اور اپنے فضل وکرم سے اس کو بھی بھلائی سے نوازتا ہے جو سوال نہ کرے
بِکَرَمِکَ الدَّائِمِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَهَبْ لِی رَحْمَةً واسِعَةً جامِعَةً أَبْلُغُ
اپنے ہمیشگی والے کرم کے واسطے سے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھ کو ہر پہلو سے کشادہ رحمت سے بہرہ مند فرما کہ جس سے
بِها خَیْرَ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَغْفِرُکَ لِما تُبْتُ إلَیْکَ مِنْهُ ثُمَّ عُدْتُ فِیهِ،
میں دنیا اور آخرت کی بہتری حاصل کرپاؤں اے اللہ! میں اس فعل کی معافی چاہتا ہوں جس سے میں نے تیرے حضور توبہ کی اور
وَأَسْتَغْفِرُکَ لِکُلِّ خَیْرٍ أَرَدْتُ بِهِ وَجْهَکَ فَخالَطَنِی فِیهِ مَا
اور پھر وہی فعل کر گزرا اور میں بخشش چاہتا ہوں اس عمل پر جو میں نے خاص تیرے لیے کرنے کا ارادہ کیا اور پھر اس میں تیرے غیر
لَیْسَ لَکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاعْفُ عَنْ ظُلْمِی وَجُرْمِی بِحِلْمِکَ
کو بھی شامل کرلیا اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور معاف کردے میری بے انصافی اور برائی کو اپنے حلم اور
وَجُودِکَ یَا کَرِیمُ، یَا مَنْ لاَ یَخِیبُ سائِلُهُ، وَلاَ یَنْفَدُ نائِلُهُ، یَا مَنْ عَلا فَلا شَیْئَ
بخشش سے اے مہربان، اے وہ جس کا سائل ناامید نہیں ہوتا اور جس کی عطا کم نہیں ہوتی اے وہ جو بلند ہے جس کے اوپر کوئی چیز
فَوْقَهُ، وَدَنا فَلا شَیْئَ دُونَهُ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْنِی یَا فالِقَ الْبَحْرِ
نہیں اور اے قریب جس کے تحت کوئی چیز نہیں حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور رحم فرما مجھ پر اے موسیٰعليهالسلام کے لیے دریا کو
لِمُوسَی، اللَّیْلَةَ اللَّیْلَةَ اللَّیْلَةَ، السّاعَةَ السّاعَةَ السّاعَةَ اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِی مِنَ
چیر دینے والے رحم کر اسی رات، اسی رات، اسی رات، اسی گھڑی، اسی گھڑی، اسی گھڑی اے معبود! پاک کردے میرے دل کو نفاق
النِّفاقِ، وَعَمَلِی مِنَ الرِّیائِ، وَ لِسانِی مِنَ الکَذِبِ، وَعَیْنِی مِنَ الْخِیانَةِ، فَ إنَّکَ تَعْلَمُ
سے میرے عمل کو دکھاوے سے میری زبان کو جھوٹ بولنے سے اور میری آنکھ کو بری نظر خیانت سے کیونکہ تو جانتا ہے آنکھوں کی
خائِنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ، یَا رَبِّ هذَا مَقامُ الْعائِذِ بِکَ مِنَ النَّارِ، هذَا مَقامُ
خیانت اور دل میں پوشیدہ باتوں کو اے پالنے والے یہ ہے جہنم سے تیری پناہ مانگنے والے کا مقام یہ ہے دوزخ سے تیری امان
الْمُسْتَجِیرِ بِکَ مِنَ النَّارِ هذَا مَقامُ الْمُسْتَغِیثِ بِکَ مِنَ النَّارِ هذَا مَقامُ الْهارِبِ إلَیْکَ
چاہنے والے کا مقام یہ ہے آگ سے بچنے میں تیری مدد کے طلب گار کا مقام، یہ ہے آگ سے تیری طرف بھاگ
مِنَ النَّارِ ، هذَا مَقامُ مَنْ یَبُوئُ لَکَ بِخَطِیئَتِهِ، وَیَعْتَرِفُ بِذَ نْبِهِ، وَیَتُوبُ إلی رَبِّهِ
آنے والے کا مقام، یہ خطاؤں کا بار لے کر تیرے پاس آنے والے اپنے گناہوں کا اقرار کرنے والے اور اپنے رب کی طرف لوٹنے والے
هذَا مَقامُ الْبائِسِ الْفَقِیرِ هذَا مَقامُ الْخائِفِ الْمُسْتَجِیرِهذَا مَقام الْمَحْزُون
کا مقام، یہ ہے بے چارہ و نادار کامقام یہ ہے ڈرنے والے پناہ لینے والے کا مقام یہ ہے غم کے ستائے ہوئے مصیبت کے مارے ہوئے
الْمَکْرُوبِ، هذَا مَقامُ الْمَغْمُومِ الْمَهْمُوم هذَا مَقامُ الْغَرِیبِ الْغَرِیقِ هذَا مَقامُ الْمُسْتَوْحِشِ
کا مقام، یہ ہے رنجیدہ و پریشان کا مقام، یہ ہے بے کس غرق شدہ کا مقام، یہ ہے ڈرتے کانپتے ہوئے کا مقام، یہ ہے اس کا مقام
الْفَرِقِ، هذَا مَقامُ مَنْ لاَ یَجِدُ لِذَ نْبِهِ غافِراً غَیْرَکَ، وَلاَ لِضَعْفِهِ مُقَوِیّاً إلاَّ أَ نْتَ، وَلاَ
جس کے گناہ کا بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں نہ تیرے سوا کوئی اس کی کمزوری کو طاقت میں بدلنے والا ہے اور نہ تیرے
لِهَمِّهِ مُفَرِّجاً سِواکَ، یَا ﷲ یَا کَرِیمُ لاَ تُحْرِقْ وَجْهِی بِالنَّارِ بَعْدَ سُجُودِی لَکَ
سوا کوئی اسکی پریشانی دور کرنیوالا ہے اے اللہ اے کرم کرنیوالے! میرے چہرے کو آگ میں نہ جلا جبکہ میں تیرے آگے سجدہ ریز ہوا
وَتَعْفِیرِی بِغَیرِ مَنٍّ مِنِّی عَلَیْکَ بَلْ لَکَ الْحَمْدُ وَالْمَنُّ وَالتَّفَضُّلُ عَلَیَّ، ارْحَمْ
اور اپنا چہرہ خاک پر رکھا کہ اس میں تجھ پر میرا احسان نہیںبلکہ تیرے لیے حمد ہے اور تیرا ہی مجھ پر فضل و احسان ہے رحم فرما
أَیْ رَبِّ أَیْ رَبِّ أَیْ رَبِّ جب تک سانس نہ ٹوٹے کہے جائے اور پھر کہے:ضَعْفِی، وَقِلَّةَ
اے پا لنے والے اے پالنے والے اے پالنے والے ..........میرے کمزوری میری بے
حِیلَتِی، وَرِقَّةَ جِلْدِی، وَتَبَدُّدَ أَوْصالِی، وَتَناثُرَ لَحْمِی وَجِسْمِی وَجَسَدِی،
چارگی میرے پوست کی نرمی میرے جوڑوں کے ٹوٹنے اور میرے گوشت میرے بدن اور میرے ڈھانچے کے ٹوٹ گرنے
وَوَحْدَتِی وَوَحْشَتِی فِی قَبْرِی وَجَزَعِی مِنْ صَغِیرِ الْبَلائِ، أَسْأَ لُکَ یَا رَبّ
اور قبر میں میری تنہائی و گبھراہٹ اور چھوٹی سختی پر میری بلبلایت میں مجھ پر رحم فرما اے پالنے والے!
قُرَّةَ الْعَیْنِ وَالاغْتِباطَ یَوْمَ الْحَسْرَةِ وَالنَّدامَةِ، بَیِّضْ وَجْهِی یَا رَبِّ یَوْمَ تَسْوَدُّ
میں افسوس اور شرمندگی کے دن میں تجھ سے خنکی چشم اور قابل رشک ہونے کا سوال کرتا ہوں اے پروردگار! جس دن چہرے سیاہ
الْوُجُوهُ، آمِنِّی مِنَ الْفَزَعِ الْاَکْبَرِ، أَسْأَ لُکَ الْبُشْریٰ یَوْمَ تُقَلَّبُ الْقُلُوبُ
ہوں گے میرا چہرہ روشن فرما مجھے قیامت میں بڑے غم سے امن میں رکھ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس دن دل اور آنکھیں تہ و
وَالْاَ بْصارُ وَالْبُشْری عِنْدَ فِراقِ الدُّنْیا الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی أَرْجُوهُ عَوْناً لِی فِی حَیاتِی
بالا ہوں مجھے اچھی خبر دے اور دنیا سے جاتے وقت بھی اچھی خبر دے حمد اس خدا کیلئے ہے جس سے زندگی میں مدد کا امیدوار ہوں
وَأُعِدُّهُ ذُخْراً لِیَوْمِ فاقَتِی الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی أَدْعُوهُ وَلاَ أَدْعُو غَیْرَهُ، وَلَوْ دَعَوْتُ
اور حاجت کے دن وہ میر اسرمایہ ہے حمد اس خدا کے لیے ہے جسے پکارتا ہوں اور اس کے غیر کو نہیں پکارتا اگر اس کے غیر کو پکاروں
غَیْرَهُ لَخَیَّبَ دُعائِی الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی أَرْجُوهُ وَلاَ أَرْجُو غَیْرَهُ، وَلَوْ رَجَوْتُ غَیْرَهُ
تو میری دعا ضائع ہوجائے حمد اس خدا کے لیے ہے جس سے امید رکھتا ہوں اور اس کے غیر سے امید نہیں رکھتا اگر اس کے غیر سے
لاَََخْلَفَ رَجائِی الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الْمُنْعِمِ الْمُحْسِنِ الْمُجْمِلِ الْمُفْضِلِ ذِی الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ
امید رکھوں تو وہ پوری نہیں ہوگی حمد ہے اللہ کے لیے جو نعمت دینے والا بھلائی کرنے والا سدھارنے والا بڑھانے والا بڑے مرتبے
وَ لِیُّ کُلِّ نِعْمَةٍ وَصاحِبُ کُلِّ حَسَنَةٍ وَمُنْتَهیٰ کُلِّ رَغْبَةٍ، وَقاضِی کُلِّ حاجَةٍ اَللّٰهُمَّ
اور بڑی عزت والا ہر نعمت کا مالک ہر اچھائی کا حامل ہر رغبت کی انتہا اور سبھی حاجتیں پوری کرنے والا ہے اے معبود!
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنِی الْیَقِینَ وَحُسْنَ الظَّنِّ بِکَ، وَأَثْبِتْ رَجائَکَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھ کو توفیق دے کہ تجھ پر یقین اور تیرے بارے میں اچھا گمان رکھوں میرے دل میں
فِی قَلْبِی،وَاقْطَعْ رَجائِی عَمَّنْ سِواکَ حَتَّی لاَ أَرْجُوَ غَیْرَکَ وَلاَ أَثِقَ إلاَّ بِکَ،
اپنی امید نقش کردے اور سوائے تیرے ہر ایک سے میری امید کٹ جائے یہاں تک کہ تیرے غیر سے امید نہ لگاؤں سوائے تیرے
یَا لَطِیفاً لِما تَشائُ اُلْطُفْ لِی فِی جَمِیعِ أَحْوالِی بِما تُحِبُّ
کسی پر بھروسہ نہ کروں اے جس پر چاہے مہربانی کرنے والے مجھ پر مہربانی فرما میرے تمام حالات پر جسے تو پسند کرے اور جس پر تو
وَتَرْضی، یَا رَبِّ إنِّی ضَعِیفٌ عَلَی النَّارِ فَلا تُعَذِّبْنِی بِالنَّارِ، یَا رَبِّ ارْحَمْ دُعائِی
راضی ہو اے پالنے والے میں دوزخ کی آگ سے کمزور ہوں پس تو مجھے آگ کا عذاب نہ دے اے پروردگار! میری دعا میری
وَتَضَرُّعِی وَخَوْفِی وَذُ لِّی وَمَسْکَنَتِی وَتَعْوِیذِی وَتَلْوِیذِی، یَا رَبِّ إنِّی ضَعِیفٌ
فریاد میرے خوف میری پستی میری بے چارگی میری پناہ طلبی اور آستاں بوسی پر رحم فرما اے پالنے والے! میں دنیا کی طلب
عَنْ طَلَبِ الدُّنْیا وَأَنْتَ واسِعٌ کَرِیمٌ أَسْأَلُکَ یَا رَبِّ بِقُوَّتِکَ عَلَی ذلِکَ وَقُدْرَتِکَ عَلَیْهِ
میں بہت ہی ناتواں ہوں اور تو وسعت والا عطا کرنیوالا ہے میں تجھ سے سوال کرتا ہو ں اے پروردگار کہ تو اس پر حاوی اور اس پر
وَغِناکَ عَنْهُ، وَحاجَتِی إلَیْهِ، أَنْ تَرْزُقَنِی فِی عامِی هذَا، وَشَهْرِی هذَا، وَیَوْمِی هذَا،
قابو رکھتا ہے اور تو دنیا سے بے نیاز اور میں اس کی حاجت رکھتا ہوںسوالی ہوں کہ مجھے دے اسی سال میں اسی مہینے میں اور آج کے
وَساعَتِی هذِهِ رِزْقاً تُغْنِینِی بِهِ عَنْ تَکَلُّفِ مَا فِی أَیْدِی النّاسِ مِنْ رِزْقِکَ الْحَلالِ
دن میں اور اسی گھڑی وہ رزق جو مجھے اس سے بے پروا کردے جو دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اور تو اپنے حلال و پاک
الطَّیِّبِ، أَیْ رَبِّ مِنْکَ أَطْلُبُ، وَ إلَیْکَ أَرْغَبُ، وَ إیّاکَ أَرْجُو، وَأَ نْتَ أَهْلُ
رزق میں سے مجھے دے اے پروردگار! تجھ سے مانگتاہوں تیری طرف توجہ کرتا ہوں اور تجھی سے امید رکھتا ہوں کہ تو ہی اس لائق
ذلِکَ لاَ أَرْجُو غَیْرَکَ وَلاَ أَثِقُ إلاَّ بِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، أَیْ رَبِّ ظَلَمْتُ
ہے میں تیرے غیر سے امید نہیں رکھتا اور بس تجھ پربھروسہ کرتا ہوں اے سب سے زیادہ رحم والے اے پالنے والے! میں نے اپنے
نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعافِنِی، یَا سامِعَ کُلِّ صَوْتٍ، وَیَا جامِعَ کُلِّ فَوْتٍ،
آپ پر ظلم کیا پس مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما اور آسائش دے اے سب آوازوں کے سننے والے اے سب مردوں کو اکٹھا کرنے والے
وَیَا بارِیََ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ، یَا مَنْ لاَ تَغْشاهُ الظُّلُماتُ، وَلاَ تَشْتَبِهُ عَلَیْهِ
اور موت کے بعد نفسوں کو دوبارہ زندہ کرنے والے اے وہ ذات جسے تاریکیاں ڈھانپ نہیں سکتیں جسے طرح طرح کی
الْاَصْواتُ وَلاَ یَشْغَلُهُ شَیْئٌ عَنْ شَیْئٍ، أَعْطِ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ أَفْضَلَ
آوازوں میں غلطی نہیں لگ سکتی اور جسے ایک چیز دوسری سے بے خبر نہیں کرپاتی تو حضرت محمد کو اس سے بہتر انعام دے جس
مَا سَأَلَکَ، وَأَ فْضَلَ مَا سُئِلْتَ لَه، وَأَ فْضَلَ مَا أَ نْتَ مَسْؤُولٌ لَهُ إلی یَوْمِ الْقِیامَةِ،
کا تجھ سے سوال کیا ہے اس سے بہتر جو تجھ سے مانگا گیا اور اس سے بہتر جس کا تجھ سے سوال ہوسکتا ہے آج سے قیامت کے دن
وَهَبْ لِیَ الْعافِیَةَ حَتَّی تُهَنِّیَنِی الْمَعِیشَةَ وَاخْتِمْ لِی بِخَیْرٍ حَتَّی لاَ تَضُرَّنِی الذُّنُوبُ
تک اور مجھے ایسی آسائش دے جس سے میری زندگی خوشگوار ہوجائے اور میرا انجام بخیر فرما تاکہ گناہ مجھے تنگی میں نہ ڈال سکیں
اَللّٰهُمَّ رَضِّنِی بِما قَسَمْتَ لِی حَتَّی لاَ أَسْأَلَ أَحَداً شَیْئاً اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
اے معبود! مجھے اس پر راضی کردے جو تو نے مجھے دیا تا کہ میں کسی سے کوئی چیز مانگنے کو آمادہ نہ ہوں اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْتَحْ لِی خَزائِنَ رَحْمَتِکَ ، وَارْحَمْنِی رَحْمَةً لاَ تُعَذِّبُنِی بَعْدَها أَبَداً فِی
رحمت نازل فرما اور میرے لیے اپنی رحمت کے خزانے کھول دے اور اپنی مہربانی سے مجھ پر رحم فرما کہ اس کے بعد مجھ پر دنیا اور
الدُّنْیا وَ ا لْآخِرَةِ، وَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِکَ الْواسِعِ رِزْقاً حَلالاً طَیِّباً لاَ تُفْقِرُنِی إلی
آخرت میں کوئی عذاب نہ آئے اور مجھے اپنے کشادہ فضل سے حلال اور پاکیزہ رزق عطا فرما کہ اس کے بعد میں تیرے سوا
أَحَدٍ بَعْدَهُ سِواکَ، تَزِیدُنِی بِذلِکَ شُکْراً، وَ إلَیْکَ فاقَةً وَفَقْراً، وَبِکَ عَمَّنْ سِواکَ
کسی اور کا محتاج نہ رہوںاور مجھے اس پر بہت زیادہ شکر ادا کرنے کی توفیق دے اور اپنا ہی محتاج بنائے رکھ اس میں تیرے غیر سے
غِنیً وَتَعَفُّفاً، یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ یَا مَلِیکُ
بے نیاز اور الگ رہوں اے احسان کرنے والے اے سنوارنے والے اے نعمت دینے والے اے بڑھانے والے اے بادشاہ
یَا مُقْتَدِرُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاکْفِنِی الْمُهِمَّ کُلَّهُ، وَاقْضِ لِی بِالْحُسْنی،
اے صاحب قدرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مشکل کاموں میں میری مدد فرما میرے حق میں بہتر حکم جاری کر میرے تمام معاملوں
وَبارِکْ لِی فِی جَمِیعِ أُمُورِی وَاقْضِ لِی جَمِیعَ حَوائِجِی اَللّٰهُمَّ یَسِّرْ لِی مَا أَخافُ
میں امن و برکت دے اور میری سبھی ضرورتیں پوری فرماتا رہ اے معبود! جس تنگی سے میں ڈرتا ہوں اس میں
تَعْسِیرَهُ فَ إنَّ تَیْسِیرَ مَا أَخافُ تَعْسِیرَهُ عَلَیْکَ سَهْلٌ یَسِیرٌ، وَسَهِّلْ لِی مَا أَخافُ
فراخی دینا تجھ پرآسان اور سہل تر ہیاور جس کٹھن سے میں ڈرتا ہوں وہ مجھ پر آسان کردے اور جس تنگی
حُزُونَتَهُ، وَنَفِّسْ عَنِّی مَا أَخافُ ضِیقَهُ، وَکُفَّ عَنِّی مَا أَخافُ هَمَّهُ، وَاصْرِفْ عَنِّی
کا مجھے خوف وہ مجھ سے دور فرما جس معاملے میں پریشان ہوں اس میں میری حمایت کر اور جس مصیبت کا مجھے خوف ہے اسے ٹال
مَا أَخافُ بَلِیَّتَهُ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ امْلاََْ قَلْبِی حُبّاً لَکَ، وَخَشْیَةً مِنْکَ وَتَصْدِیقاً
دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے اللہ! میرے دل کو اپنی محبت اپنے خوف اپنی تصدیق
لَکَ وَ إیماناً بِکَ وَفَرَقاً مِنْکَ وَشَوْقاً إلَیْکَ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ اَللّٰهُمَّ إنَّ لَکَ
اپنے ایمان اپنے ڈر اور اپنے شوق سے بھردے اے بڑی شان و عزت والے اے معبود!تیرے جو حقوق ہیں ان کو مجھ پر صدقہ
حُقُوقاً فَتَصَدَّقْ بِها عَلَیَّ، وَ لِلنَّاسِ قِبَلِی تَبِعاتٌ فَتَحَمَّلْها عَنِّی، وَقَدْ أَوْجَبْتَ لِکُلِّ
کردے لوگوں کے جو حق مجھ پر ہیں ان میں تو میرا ضامن بن جا اور تو نے ہر مہمان کی مدارات کا حکم دے
ضَیْفٍ قِریً وَأَ نَا ضَیْفُکَ فَاجْعَلْ قِرایَ اللَّیْلَةَ الْجَنَّةَ، یَا وَهّابَ الْجَنَّةِ، یَا وَهّابَ
رکھا ہے جب کہ اس وقت میں تیرا مہمان ہوںاس مہمانی میں آج رات مجھے جنت عطا کرنے والے اے معافی عطا کرنے والے
الْمَغْفِرَةِ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِکَ
اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہی جو تجھ سے ہے۔
( ۶ )دعائ ادریسعليهالسلام بھی پڑھے کہ جسے شیخرحمهالله نے مصباح میں اور سیدرحمهالله نے اقبال میں ذکر کیا ہے۔ پس خواہش مند مومنین ان کتابوں کی طرف رجوع کریں۔
دعا سحر یا مفزعی عند کربتی
( ۷ )یہ دعا پڑھے کہ جو سحری کی دعاؤں میں سب سے مختصر ہے اور سید کی کتاب اقبال میں ہے وہ دعا یہ ہے:
یَا مَفْزَعِی عِنْدَ کُرْبَتِی، وَیَا غَوْثِی عِنْدَ شِدَّتِی، إلَیْکَ فَزِعْتُ، وَبِکَ اسْتَغَثْتُ،
اے مصیبت میں میری پناہ گاہ اے سختی میں میرے فریادرس ڈرا ہوا تیرے پاس آیا ہوں اور تجھ سے فریاد کرتا ہوں
وَبِکَ لُذْتُ لاَ أَ لُوذُ بِسِواکَ، وَلاَ أَطْلُبُ الْفَرَجَ إلاَّ مِنْکَ، فَأَغِثْنِی وَفَرِّجْ عَنِّی، یَا مَنْ
تیری طرف دوڑا ہوں اور تیرے غیر کی پناہ نہیں لیتا تیرے سوا کسی سے کشائش کا طالب نہیں ہوں پس میری فریاد سن اور کشائش عطا
یَقْبَلُ الْیَسِیرَ، وَیَعْفُو عَنِ الْکَثِیرِ، اقْبَلْ مِنِّی الْیَسِیرَ، وَاعْفُ عَنِّی الْکَثِیرَ، إنَّکَ أَ نْتَ
کر اے وہ جو تھوڑا عمل قبول کرتا ہے اور بہت سے گناہ معاف کرتا ہے مجھ سے بھی تھوڑا عمل قبول فرما اور بہت سے گناہوں کو معاف
الْغَفُورُ الرَّحِیمُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ إیماناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی، وَیَقِیناً حَتّی أَعْلَمَ أَ نَّهُ
کردے بے شک تو ہی بہت بخشنے والا مہربان ہے اے معبود! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوالی ہوں جو میرے دل میں جما رہے اور
لَنْ یُصِیبَنِی إلاَّ مَا کَتَبْتَ لِی، وَرَضِّنِی مِنَ الْعَیْشِ بِما قَسَمْتَ لِی، یَا أَرْحَمَ
ایسا یقین کہ جس سے میں یہ سمجھنے لگوں کہ مجھے وہی پہنچے گا جو تو نے میرے لیے لکھا ہے اور مجھے اس زندگی پر شاد رکھ جو تو نے مجھے دی
الرَّاحِمِینَ، یَا عُدَّتِی فِی کُرْبَتِی، وَیَا صاحِبِی فِی شِدَّتِی، وَیَا وَ لِیِّی فِی نِعْمَتِی،
ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے مصیبت میں میرے سرمایہ اے سختی میں میرے ساتھی اے نعمت میں میرے سرپرست
وَیَا غایَتِی فِی رَغْبَتِی، أَ نْتَ السَّاتِرُ عَوْرَتِی، وَالاَْمِنُ رَوْعَتِی، وَالْمُقِیلُ عَثْرَتِی،
اور اے میری چاہت کے مرکز تو میرے عیبوں کا چھپانے والا خوف میں امان دینے والا اور میری غلطیاں معاف کرنے والا ہے
فَاغْفِرْ لِی خَطِیئَتِی، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
پس میری خطائیں بخش دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
( ۸ )یہ تسبیحات پڑھے جو اقبال میں بھی مذکور ہیں:
سُبْحانَ مَنْ یَعْلَمُ جَوارِحَ الْقُلُوبِ سُبْحانَ مَنْ یُحْصِی عَدَدَ الذُّنُوبِ سُبْحانَ مَنْ
پاک تر ہے وہ جو دلوں کے بھید جانتا ہے پاک تر ہے وہ جو گناہوں کو شمار کرتا ہے پاک تر ہے وہ جس
لاَ یَخْفی عَلَیْهِ خافِیَةٌ فِی السَّمَاواتِ وَالْاَرَضِینَ سُبْحانَ الرَّبِّ الْوَدُودِ سُبْحانَ
پر آسمانوں اور زمینوں کی پنہائیاں مخفی اور اوجھل نہیں پاک تر ہے محبت کرنے والا پروردگار پاک تر ہے وہ جو تنہا و یکتا ہے پاک تر ہے
الْفَرْدِ الْوِتْرِ سُبْحانَ الْعَظِیمِ الْاَعْظَمِ سُبْحانَ مَنْ لاَ یَعْتَدِی عَلَی أَهْلِ مَمْلَکَتِهِ
وہ جو بڑا ہے سب سے بڑا ہے پاک تر ہے وہ جو اپنی حکومت میں رہنے والوں پر زیادتی نہیں کرتا
سُبْحانَ مَنْ لاَ یُؤاخِذُ أَهْلَ الْاَرْضِ بِأَ لْوانِ الْعَذابِ سُبْحانَ الْحَنَّانِ الْمَنَّانِ
پاک تر ہے وہ جو زمین پر رہنے والوں کو طرح طرح کا عذاب نہیں دیتا پاک تر ہے وہ جو محبت والا احسان والا ہے
سُبْحانَ الرَّؤُوفِ الرَّحِیمِ سُبْحانَ الْجَبّارِ الْجَوادِ سُبْحانَ الْکَرِیمِ الْحَلِیمِ
پاک تر ہے وہ جو مہربان رحم والا ہے پاک تر ہے وہ جو غالب تر ہے بہت دینے والا پاک تر ہے وہ جو بزرگی والا بردبار ہے
سُبْحانَ الْبَصِیرِ الْعَلِیمِ سُبْحانَ الْبَصِیرِ الْواسِعِ سُبْحانَ ﷲ عَلَی إقْبالِ النَّهارِ
پاک تر ہے وہ جو دیکھنے والا جاننے والا ہے پاک تر ہے وہ جو بصیرت و وسعت والا ہے پاک تر ہے اللہ دن کے نکل آنے پر
سُبْحانَ ﷲ عَلَی إدْبارِ النَّهارِ، سُبْحانَ ﷲ عَلَی إدْبارِ اللَّیْلِ وَ إقْبالِ النَّهارِ وَلَهُ
پاک تر ہے اللہ دن کے چھپ جانے پر پاک تر ہے اللہ رات کے چلے جانے اور دن کے آجانے پر اسی کے لیے
الْحَمْدُ وَالْمَجْدُ وَالْعَظَمَةُ وَالْکِبْرِیائُ مَعَ کُلِّ نَفَسٍ وَکُلِّ طَرْفَةِ عَیْنٍ وَکُلِّ لَمْحَةٍ سَبَقَ
حمد بزرگی بڑائی اور بلندی ہے ہر سانس کے ساتھ آنکھ جھپکنے کے ساتھ اور ہر گھڑی میں جو اس کے علم میں گزرچکی ہے
فِی عِلْمِهِ، سُبْحانَکَ مِلْئَ مَا أَحْصی کِتابُکَ، سُبْحانَکَ زِنَةَ عَرْشِکَ، سُبْحانَکَ
تیری ذات پاک ہے اس پر جو کچھ تیری کتاب میں شمار کیا گیا ہے تیری ذات پاک ہے تیرے عرش کے وزن کیساتھ تو پاک تر ہے
سُبْحانَکَ سُبْحانَکَ
تو پاک تر ہے تو پاک تر ہے
معلوم ہونا چاہئے کہ علمائ فرماتے ہیں کہ روزے کی نیت سحری کے بعد کرے تو بہتر ہے وگرنہ اول رات سے آخر رات تک جس وقت چاہے روزے کی نیت کرلے نیت کے سلسلے میں اتنا ہی کافی ہے کہ اسکو علم ہو اور اسکا ارادہ ہو کہ کل خدا کی اطاعت میں روزہ رکھے گا پھر ہر ایسی چیز سے پرہیز کرے جو روزے کو باطل کرتی ہے نیز بہتر ہے کہ سحری کے وقت نماز تہجد کا بجا لانا ترک نہ کرے۔
چوتھی قسم
ماہ رمضان میں دنوں کے اعمال
ان میں چند امور ہیں:
( ۱ )شیخ و سید سے منقول یہ دعا ہر روز پڑھے:
اَللّٰهُمَّ هذَا شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِی أَنْزَلْتَ فِیهِ الْقُرْآنَ هُدیً لِلنَّاسِ وَبَیِّناتٍ مِنَ الْهُدی
اے معبود!یہ رمضان کا مہینہ ہے کہ جس میں تو نے قرآن پاک اتارا جو لوگوں کے لیے رہنما ہے اس میں ہدایت کی دلیلیں اور حق و
وَالْفُرْقانِ، وَهذَا شَهْرُ الصِّیامِ، وَهذَا شَهْرُ الْقِیامِ وَهذَا شَهْرُ الْاِنابَةِ، وَهذَا شَهْرُ
باطل کا فرق واضح ہے یہ روزے رکھنے کا مہینہ ہے یہ راتوں کی عبادت کا مہینہ ہے اور یہ خداکی طرف واپسی کا مہینہ ہے یہ توبہ
التَّوْبَةِ، وَهذَا شَهْرُ الْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ وَهذَا شَهْرُ الْعِتْقِ مِنَ النَّارِ وَالْفَوْزِ بِالْجَنَّةِ
قبول ہونے کا مہینہ ہے یہ بخشے جانے اور رحمت نازل ہونے کا مہینہ ہے یہ جہنم سے رہائی پانے اور جنت میں جانے کی کامیابی کا
وَهذَا شَهْرٌ فِیهِ لَیْلَةُ الْقَدْرِ الَّتِی هِیَ خَیْرٌ مِنَ أَ لْفِ شَهْرٍ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
مہینہ ہے اور یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں شب قدر ہے کہ جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے پس اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَعِنِّی عَلَی صِیامِهِ وَقِیامِهِ، وَسَلِّمْهُ لِی وَسَلِّمْنِی فِیهِ، وَأَعِنِّی عَلَیْهِ
رحمت نازل فرما اور اس ماہ کے روزے رکھنے اور عبادت میں میری مدد فرما اسے میرے لیے پورا کراور مجھے اس میں سلامت رکھ
بِأَفْضَلِ عَوْ نِکَ، وَوَفِّقْنِی فِیهِ لِطاعَتِکَ وَطاعَةِ رَسُو لِکَ وَأَوْ لِیائِکَ صَلَّی ﷲ
اور اس ماہ میں میری بہترین مدد فرما اس میں اپنی بندگی نیز اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اپنے دوستوں کی پیروی کی توفیق دے
عَلَیْهِمْ، وَفَرِّغْنِی فِیهِ لِعِبادَتِکَ وَدُعائِکَ وَتِلاوَةِ کِتابِکَ، وَأَعْظِمْ لِی فِیهِ الْبَرَکَةَ
رحمت خدا ہو ان پر اور اس مہینے میں اپنی عبادت کرنے دعا مانگنے اور تلاوت قرآن کا موقع دے اس ماہ میں مجھے بہت زیادہ برکت دے
وَأَحْسِنْ لِی فِیهِ الْعافِیَةَ، وَأَصِحَّ فِیهِ بَدَنِی، وَأَوْسِعْ فِیهِ رِزْقِی، وَاکْفِنِی فِیهِ مَا
مجھے بہتر سے بہتر آسائش عطا فرما میرے بدن کو سلامت رکھ میرے رزق میں وسعت دے اس ماہ میں میری پریشانی میں مددگار
أَهَمَّنِی، وَاسْتَجِبْ فِیهِ دُعائِی، وَبَلِّغْنِی فِیهِ رَجائِی اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
بن میری دعا کو شرف قبولیت عطا فرما اور میری امید پوری کر اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت
مُحَمَّدٍ وَأَذْهِبْ عَنِّی فِیهِ النُّعاسَ وَالْکَسَلَ وَالسَّأْمَةَ وَالْفَتْرَةَ وَالْقَسْوَةَ وَالْغَفْلَةَ
نازل فرما اور اس مہینے میں مجھ سے اونگھ، سستی، چڑچڑاہٹ ،سستی سنگ دلی، بے خبری اور فریب کو مجھ سے
وَ الْغِرَّةَ وَجَنِّبْنِی فِیهِ الْعِلَلَ وَالْاَسْقامَ وَالْهُمُومَ وَالْاَحْزانَ وَالْاَعْراضَ وَالْاَمْراضَ
دور رکھ اور اس مہینے میں دردوں بیماریوں پریشانیوں غموں دکھوں بیماریوں خطاؤں اور گناہوں
وَالْخَطایا وَالذُّنُوبَ، وَاصْرِفْ عَنِّی فِیهِ السُّوئَ وَالْفَحْشائَ وَالْجَهْدَ وَالْبَلائَ وَالتَّعَبَ
سے مجھے بچائے رکھ اور اس مہینے میں مجھ سے ہر برائی بے حیائی، رنج، کٹھن، سختی اور بے دلی
وَالْعَنائَ إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَعِذْنِی فِیهِ مِنَ
دور کردے بے شک تو دعا کا سننے والا ہے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور اس ماہ میں مجھے دھتکارے ہوئے
الشَّیْطانِ الرَّجِیمِ وَهَمْزِهِ وَلَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ وَوَسْوَسَتِهِ وَتَثْبِیطِهِ وَبَطْشِهِ
شیطان سے پناہ دے اور اس کے اشارے، سرگوشی اس کے منتر اس کی پھونک اس کے برے خیال رکاوٹ
وَکَیْدِهِ وَمَکْرِهِ وَحَبائِلِهِ وَخُدَعِهِ وَأَمانِیِّهِ وَغُرُورِهِ وَفِتْنَتِهِ وَشَرَکِهِ وَأَحْزابِهِ
داؤ بناوٹ اور اس کے پھندے، دھوکے، آرزو، بھلاوے، بہکاوے اور اس کے جالوں، ٹولیوں،
وَأَتْباعِهِ وَأَشْیاعِهِ وَأَوْ لِیائِهِ وَشُرَکائِهِ وَجَمِیعِ مَکائِدِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
پیروکاروں، ساتھیوں، دوستوں اور اس کے ہمکاروں اور اس کے دھوکوں سے پناہ دے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنا قِیامَهُ وَصِیامَهُ وَبُلُوغَ الْاَمَلِ فِیهِ وَفِی قِیامِهِ وَاسْتِکْمالَ مَا
رحمت نازل فرما اور ہمیں اس ماہ میں نماز روزہ نصیب فرما اور اس میں امید پوری فرما اور اس ماہ میں عبادت کرنے کی کمال حد جس
یُرْضِیکَ عَنِّی صَبْراً وَاحْتِساباً وَ إیماناً وَیَقِیناً، ثُمَّ تَقَبَّلْ ذلِکَ مِنِّی بِالْاَضْعافِ
میں تو مجھ سے راضی ہو اس میں مجھے برداشت خوش رفتاری ایمان اور یقین عطا فرما پھر اسے میری طرف سے قبول فرما
الْکَثِیرَةِ، وَالْاَجْرِ الْعَظِیمِ، یَا رَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
کئی گنا بڑھا کر اور اس پر بہت بڑا اجر دے اے جہانو ںکے پالنے والے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما
وَارْزُقْنِی الْحَجَّ وَا لْعُمْرَةَ وَالْجِدَّ وَالاجْتِهادَ وَالْقُوَّةَ وَالنَّشاطَ وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْبَةَ
اور نصیب فرما مجھے حج و عمرہ، کوشش، طاقت، جوش،
وَالتَّوْفِیقَ وَالْقُرْبَةَ وَالْخَیْرَ الْمَقْبُولَ وَالرَّغْبَةَ وَالرَّهْبَةَ وَالتَّضَرُّعَ وَالْخُشُوعَ وَالرِّقَّةَ
بازگشت، توبہ، تقرب، پسندیدہ نیکی، چاہت، ڈر، عاجزی، فروتنی، نرمی،
وَالنِّیَّةَ الصّادِقَةَ، وَصِدْقَ اللِّسانِ، وَالْوَجَلَ مِنْکَ، وَالرَّجائَ لَکَ، وَالتَّوَکُّلَ عَلَیْکَ،
اور کھری نیت رکھنے اور سچ بولنے کی توفیق دے اور یوں کر کہ میں تجھ سے ڈروں تجھ سے امید رکھوں تجھ پر بھروسہ کروں
وَالثِّقَةَ بِکَ، وَالْوَرَعَ عَنْ مَحارِمِکَ مَعَ صالِحِ الْقَوْلِ، وَمَقْبُولِ السَّعْیِ ، وَمَرْفُوعِ
اور تجھے سہارا بناؤں اور تیری حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کروں اس کے ساتھ بات میں نرمی ہو کوشش قبول ہو کردار
الْعَمَلِ وَمُسْتَجابِ الدَّعْوَةِ وَلاَ تَحُلْ بَیْنِی وَبَیْنَ شَیْئٍ مِنْ ذلِکَ بِعَرَضٍ وَلاَ مَرَضٍ
بلند ہو اور میری ہر دعا مقبول بارگاہ ہو اور میرے اور ان چیزوں کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ آنے دے جیسے دکھ بیماری
وَلاَ هَمٍّ وَلاَ غَمٍّ وَلاَ سُقْمٍ وَلاَ غَفْلَةٍ وَلاَ نِسْیانٍ، بَلْ بِالتَّعاهُدِ وَالتَّحَفُّظِ لَکَ وَفِیکَ
پریشانی رنج نقص بے خبری اور فراموشی و غیرہ بلکہ ان عبادتوں میں تیری طرف سے توفیق و حفاظت ہو تیرے لیے ان پر کاربند
وَالرِّعایَةِ لِحَقِّکَ وَالْوَفائِ بِعَهْدِکَ وَوَعْدِکَ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ
رہوں تیرے حق کا لحاظ کروں اور تو اپنا پیمان اور اپنا وعدہ پورا فرمائے الٰہی اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْسِمْ لِی فِیهِ أَفْضَلَ مَا تَقْسِمُهُ لِعِبادِکَ الصَّالِحِینَ
معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور اس ماہ میں تو نے جو حصہ اپنے نیک بندوں کیلئے رکھا ہے مجھے اس میں سے زیادہ عطا کر
وَأَعْطِنِی فِیهِ أَ فْضَلَ مَا تُعْطِی أَوْ لِیائَکَ الْمُقَرَّبِینَ مِنَ الرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ وَالتَّحَنُّنِ
اور اس مہینے میں تو نے اپنے قریبی دوستوں کو جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سے مجھے زیادہ حصہ دے یعنی رحمت ،بخشش، محبت،
وَالْاِجابَةِ وَالْعَفْوِ وَالْمَغْفِرَةِ الدَّائِمَةِ وَالْعافِیَةِ وَالْمُعافاةِ وَالْعِتْقِ مِنَ النَّارِ وَالْفَوْزِ
قبولیت اور درگزر نیز ہمیشہ کے لیے بخشش آرام، آسودگی اور آگ سے خلاصی جنت میں جانے کی
بِالْجَنَّةِ وَخَیْرِ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ دُعائِی
کامیابی اور دنیا و آخرت کی بھلائی میں زیادہ حصہ دے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور اس مہینے میں میری دعا کو ایسا بنا
فِیهِ إلَیْکَ واصِلاً، وَرَحْمَتَکَ وَخَیْرَکَ إلَیَّ فِیهِ نازِلاً، وَعَمَلِی فِیهِ مَقْبُولاً، وَسَعْیِی
کہ تجھ تک پہنچ جائے اور تیری رحمت اور بھلائی ا س میں مجھ پر نازل ہو اور اس ماہ میں میرا عمل تجھے قبول میری کوشش
فِیهِ مَشْکُوراً وَذَ نْبِی فِیهِ مَغْفُوراً حَتّی یَکُونَ نَصِیبِی فِیهِ الْاَکْثَرُ وَحَظِّی فِیهِ الْاَوْفَرُ
تجھے پسند اور اس میں تو میرا گناہ بخش دے یہاں تک کہ اس ماہ میں میرا نصیب بڑھ جائے اور میرا حصہ زیادہ ہوجائے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَوَفِّقْنِی فِیهِ لِلَیْلَةِ الْقَدْرِ عَلَی أَفْضَلِ حالٍ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور اس ماہ میں مجھے شب قدر سے بہرہ ور فرما اس بہترین صورت
تُحِبُّ أَنْ یَکُونَ عَلَیْها أَحَدٌ مِنْ أَوْ لِیائِکَ وَأَرْضاها لَکَ، ثُمَّ اجْعَلْها لِی خَیْراً مِنْ
میں جسے تو پسند کرے کہ تیرے دوستوں میں سیہر ایک اسی حال میں ہو جو تیرے لیے بہت پسندیدہ ہے پھر شب قدر کو میرے لیے
أَلْفِ شَهْرٍ، وَارْزُقْنِی فِیها أَ فْضَلَ مَا رَزَقْتَ أَحَداً مِمَّنْ بَلَّغْتَهُ إیَّاها وَأَکْرَمْتَهُ بِها
ہزار مہینوں سے بہتر قرار دے اور اس میں وہ بہترین روزی دے جو تو نے کسی شخص کو دی اور وہ استک پہنچائی اور یوں اسکو سرفراز کیا
وَاجْعَلْنِی فِیها مِنْ عُتَقائِکَ مِنْ جَهَنَّمَ وَطُلَقائِکَ مِنَ النَّارِ وَسُعَدائِ خَلْقِکَ بِمَغْفِرَتِکَ
ہے مجھے اس میں جہنم سے آزاد کیے گئے لوگوں میں قرار دے کہ جو آگ سے خلاصی پاگئے ہیں اور تیری بخشش و خوشنودی کے ساتھ
وَرِضْوانِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنا فِی
تیری مخلوق میں سے خوش بخت ہیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس ماہ
شَهْرِنا هذَا الْجِدَّ وَالاجْتِهادَ وَالْقُوَّةَ وَالنَّشاطَ وَمَا تُحِبُّ وَتَرْضی اَللّٰهُمَّ رَبَّ الْفَجْرِ
رمضان میں نصیب کر سعی، کوشش، طاقت ولولہ اور وہ چیز جسے تو چاہے اور پسند کرے اے اللہ! اے ایک صبح
وَلَیالٍ عَشْرٍ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَرَبَّ شَهْرِ رَمَضانَ وَمَا أَنْزَلْتَ فِیهِ مِنَ الْقُرْآنِ وَرَبَّ
اور دس راتوں اور شفع و وتر کے رب اور ماہ رمضان کے مالک اور اس قرآن کے مالک جو تو نے اس ماہ میں نازل کیا
جَبْرَائِیلَ وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَعِزْرائِیلَ وَجَمِیعِ الْمَلائِکَةِ الْمُقَرَّبِینَ وَرَبَّ إبْراهِیمَ
اور جبرائیلعليهالسلام و میکائیلعليهالسلام و اسرافیلعليهالسلام و عزرائیلعليهالسلام اور تمام مقرب فرشتوں کے رب اور اے حضرت ابراہیمعليهالسلام
وَ إسْمعِیلَ وَ إسْحقَ وَیَعْقُوبَ وَرَبَّ مُوسی وَعِیسی وَجَمِیعِ النَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ
و اسماعیلعليهالسلام و اسحاقعليهالسلام و یعقوبعليهالسلام کے رب اور حضرت موسیٰعليهالسلام و عیسیٰعليهالسلام اور سارے نبیوں اور رسولوں کے رب اور اے نبیوں کے خاتم حضرت
وَرَبَّ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ، وَأَسْأَ لُکَ بِحَقِّکَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے رب ان پر اور سب پہلے نبیوں پر تیری رحمتیں ہوں میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے حق کے واسطے سے جوان پر ہے، اور
عَلَیْهِمْ وَبِحَقِّهِمْ عَلَیْکَ وَبِحَقِّکَ الْعَظِیمِ لَمَّا صَلَّیْتَ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ
انکے حق کے واسطے سے جو تجھ پر ہے اور تیرے بزرگتر حق کے واسطے سے کہ ضرور ان پر اور انکی آل پررحمت کر اور ان سب پر رحمت کر
وَنَظَرْتَ إلَیَّ نَظْرَةً رَحِیمَةً تَرْضی بِها عَنِّی رِضیً لاَ سَخَطَ عَلَیَّ بَعْدَهُ أَبَداً
اور مجھ پر ایسی نظر فرما جو مہربانی کی نظر ہو کہ تو مجھ سے ایسا راضی ہوجائے اور اس کے بعد کبھی ناراض نہ ہو
وَأَعْطَیْتَنِی جَمِیعَ سُؤْلِی وَرَغْبَتِی وَأُمْنِیَتِی وَ إرادَتِی وَصَرَفْتَ عَنِّی مَا أَکْرَهُ
اور میری تمام مرادیں خواہشیں آرزوئیں اور ارادے پورے فرما وہ چیزیں مجھ سے دور کردے جن سے میں اپنی جان کیلئے ڈرتا
وَأَحْذَرُ وَأَخافُ عَلَی نَفْسِی وَمَا لاَ أَخافُ وَعَنْ أَهْلِی وَمالِی وَ إخْوانِی وَذُرِّیَّتِی
اور خوف کھاتا ہوں اور خوف نہیں کھاتااور انہیں میرے رشتہ داروں میرے مال میرے بھائیوں اور اولاد سے بھی دور فرما
اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ فَرَرْنا مِنْ ذُ نُوبِنا فَآوِنا تائِبِینَ، وَتُبْ عَلَیْنا مُسْتَغْفِرِینَ، وَاغْفِرْ لَنا
اے معبود! ہم اپنے گناہوں سے تیری طرفبھاگے ہیں ہمیں توبہ کرنیوالوں کی سی پناہ دے اور توجہ کر کہ ہم بخشش کے طالب ہیں
مُتَعَوِّذِینَ، وَأَعِذْنا مُسْتَجِیرِینَ، وَأَجِرْنا مُسْتَسْلِمِینَ، وَلاَ تَخْذُلْنا راهِبِینَ،
لے ہیں ہم خواہاں ہیں امان ہمیں بخش دے پناہ دیتے ہوئے پناہ دے کہ طالب پناہ ہیں ہمیں پناہ میں لے کہ سرنگوں ہیں ہمیں رسوا
وَآمِنَّا راغِبِینَ، وَشَفِّعْنا سائِلِینَ، وَأَعْطِنا إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ قرِیبٌ مُجِیبٌ
نہ کر کہ ڈرنے وادے ہم سائل ہیں شفاعت قبول فرما اور حاجت پوری کر بے شک تو دعا سننے والا ہے قریب تر قبول کرنے والا ہے
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّی وَأَ نَا عَبْدُکَ وَأَحَقُّ مَنْ سَأَلَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَلَمْ یَسْأَلِ
اے معبود! تو میرا پروردگار اور میں تیرا بندہ ہوں اور بندے کو زیادہ حق ہے کہ اپنے پروردگار سے سوال کرے اور بندوں سے تیرے
الْعِبادُ مِثْلَکَ کَرَماً وَجُوداً یَا مَوْضِعَ شَکْوَی السَّائِلِینَ وَیَا مُنْتَهی حاجَةِ الرَّاغِبِینَ
جیسے کرم و بخشش کا سوال نہیں کیا جاسکتا اے سائلوں کے لیے مرکز شکایت اور اے محتاجوں کی حاجت برآری کی آخری امیدگاہ
وَیَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، وَیَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، وَیَا مَلْجَأَ الْهارِبِینَ، وَیَا
اے فریاد کرنے والوں کے فریادرس اے بے چاروں کی دعائیں قبول کرنے والے اے بھاگنے والوں کی جائے پناہ
صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، وَیَا رَبَّ الْمُسْتَضْعَفِینَ، وَیَا کاشِفَ کَرْبِ الْمَکْرُوبِینَ،
اے چیخ و پکار کرنے والوں کے مددگار اور ایزیردستوں کے پروردگار اے دکھی لوگوں کے دکھ دور کرنے والے
وَیَا فارِجَ هَمِّ الْمَهْمُومِینَ، وَیَا کاشِفَ الْکَرْبِ الْعَظِیمِ، یَا ﷲ یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ
اے پریشانوں کی پریشانی ہٹانے والے اور اے بڑی مصیبت کے دور کرنے والے یا اللہ اے رحم کرنے والے اے مہربان
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی ذُ نُوبِی وَعُیُوبِی
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور بخش دے میرے گناہ میرے عیب
وَ إسائَتِی وَظُلْمِی وَجُرْمِی وَ إسْرافِی عَلَی نَفْسِی وَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ
میری برائیاں میری ناانصافی میرا جرم اور اپنے نفس پر میری زیادتی اور مجھ پر اپنا فضل و کرم اور رحمت فرما
فَ إنَّهُ لاَ یَمْلِکُها غَیْرُکَ، وَاعْفُ عَنِّی، وَاغْفِرْ لِی کُلَّ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِی، وَاعْصِمْنِی
کیونکہ تیرے سوا کسی کو یہ اختیار نہیں اور مجھے معاف فرما اور میرے گزشتہ گناہ معاف کردے اور بقایا زندگی میں
فِیما بَقِیَ مِنْ عُمْرِی وَاسْتُرْ عَلَیَّ وَعَلَی والِدَیَّ وَوَلَدِی وَقَرابَتِی وَأَهْلِ حُزانَتِی
مجھے گناہ سے بچائے رکھاور میری میرے والدین کی میری اولاد اور عزیزوں کی میرے ملنے والوں کی اور مومنین
وَمَنْ کانَ مِنِّی بِسَبِیلٍ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ فَ إنَّ ذلِکَ کُلَّهُ
و مومنات میں سے جو میرے ہمقدم ہیں ان سب کی دنیا اور آخرت میں پردہ پوشی فرماکیونکہ یہ باتکلی طور پر تیرے اختیار میں ہے
بِیَدِکَ وَأَ نْتَ واسِعُ الْمَغْفِرَةِ فَلا تُخَیِّبْنِی یَا سَیِّدِی، وَلاَ تَرُدَّ دُعائِی وَلاَ یَدِی إلی
اور تو بخش دینے میں وسعت والا ہے پس ناامید نہ کر میرے آقا! میری دعا رد نہ کر اور میرا ہاتھ میرے سینے
نَحْرِی حَتّی تَفْعَلَ ذلِکَ بِی وَتَسْتَجِیبَ لِی جَمِیعَ مَا سَأَلْتُکَ وَتَزِیدَنِی مِنْ
کی طرف نہ پلٹا یہاں تک کہ مجھے وہ سب کچھ دے اور میری سب حاجتیں پوری کردے جو میں نے طلب کیں اور اپنے فضل سے
فَضْلِکَ، فَ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَنَحْنُ إلَیْکَ راغِبُونَ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْاَسْمائُ
مجھے کچھ زیادہ بھی دے کہ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہیاور ہم تیری ہی طرف رغبت کرتے ہیں اے معبود! تیرے لیے اچھے
الْحُسْنی، وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا، وَالْکِبْرِیَائُ وَالاَْلائُ، أَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ
اچھے نام ہیں اور بلندترین شانیں ہیں بڑائیاں اور نعمتیں ہیں میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے نام (اللہ، رحمن،
الرَّحِیمِ إنْ کُنْتَ قَضَیْتَ فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ تَنَزُّلَ الْمَلائِکَةِ وَالرُّوحِ فِیها أَنْ تُصَلِّیَ
رحیم) کے اگر تو نیاس رات میں ملائکہ اور روح کو زمین پر اتارنے کا فیصلہ کر رکھا ہے تو اس رات
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی السُّعَدائِ، وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ،
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ میرا نام نیک بختوں میں میری روح کو شہیدوں کے ساتھ میری نیکی کو درجہ علیین میں
وَ إحْسانِی فِی عِلِّیِّینَ، وَ إسَائَتِی مَغْفُورَةً، وَأَنْ تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی،
اور میرے گناہوں کو بخشے ہوئے قرار دے اور یہ کہ مجھے وہ یقین دے جو میرے دل میں جما رہے
وَ إیماناً لاَ یَشُوبُهُ شَکٌّ، وَرِضیً بِما قَسَمْتَ لِی، وَآتِنِی فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی
وہ ایمان عطا کر جسے شک کا خطرہ نہ ہو جو کچھ تو نے دیا اس پر راضی رکھ مجھے اس دنیا میں نیکی اور
الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنِی عَذابَ النّارِ وَ إنْ لَمْ تَکُنْ قَضَیْتَ فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ تَنَزُّلَ
آخرت میں خوشی نصیب فرما اور مجھے آگ کے عذاب سے بچائے رکھاور اگر تو نے آج کی رات میں ملائکہ اور روح کو نازل کرنے
الْمَلائِکَةِ وَالرُّوْحِ فِیها فَأَخِّرْنِی إلی ذلِکَ وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ وَطاعَتَکَ
کا فیصلہ نہیں کیا تو پھر مجھ کو ایسی رات تک مہلت دے اور اس میں مجھے اپنے ذکر، شکر فرمانبرداری اور بہترین
وَحُسْنَ عِبادَتِکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِأَفْضَلِ صَلَواتِکَ یَا أَرْحَمَ الرّاحِمِینَ
عبادت کی توفیق دے اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اپنی بہترین رحمتوں سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والا
یَا أَحَدُ یَا صَمَدُ یَا رَبَّ مُحَمَّدٍ اغْضَبِ الْیَوْمَ لِمُحَمَّدٍ وَ لاِبْرارِ عِتْرَتِهِ وَاقْتُلْ أَعْدائَهُمْ
اے یگانہ اے بے نیاز اے ربِ محمد ! آج غضبناک ہو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے خاندان کے نیکوکارں کی خاطر اور ان کے دشمنوں کے ٹکڑے
بَدَداً، وَأَحْصِهِمْ عَدَداً، وَلاَ تَدَعْ عَلَی ظَهْرِ الْاَرْضِ مِنْهُمْ أَحَداً، وَلاَ تَغْفِرْ لَهُمْ أَبَداً
ٹکڑے کردے انہیں ایک ایک کرکے چن لے اور ان میں سے کسی کو روئے زمین پر زندہ نہ چھوڑ انہیں کبھی بھی معاف نہ فرما
یَا حَسَنَ الصُّحْبَةِ، یَا خَلِیفَةَ النَّبِیِّینَ أَ نْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، الْبَدِیئُ الْبَدِیعُ الَّذِی
اے بہترین رفیق اینبیوں کے بعدباقی رہنے والے تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ایسا آغاز کرنیوالا ہے پیدا کرنیوالا ہے کہ
لَیْسَ کَمِثْلِکَ شَیْئٌ، وَالدَّائِمُ غَیْرُ الْغافِلِ، وَالْحَیُّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ، أَ نْتَ کُلَّ یَوْمٍ
کوئی بھی چیز تیرے جیسی نہیں ہے اے ہمیشہ کے بیدار جو غافل نہیں ہوتا اور وہ زندہ جسے موت نہیں آتی تو وہ ہے جو ہر روز نرالی
فِی شَأْنٍ، أَنْتَ خَلِیفَةُ مُحَمَّدٍ، وَناصِرُ مُحمَّدٍ، وَمُفَضِّلُ مُحَمَّدٍ، أَسْأَ لُکَ أَنْ تَنْصُرَ
شان رکھتا ہے تو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا پشت پناہ ان کا مددگار اور ان کو فضیلت دینے والا ہیمیں سوالی ہوں تیرا کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی ان کے
وَصِیَّ مُحَمَّدٍ وَخَلِیفَةَ مُحَمَّدٍ وَالْقائِمَ بِالْقِسْطِ مِنْ أَوْصِیائِ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ
جانشین اور ان کے جانشینوں میں سے عدل و انصاف قائم کرنے والے کی مدد فرما اس پر اور ان سب پر تیری رحمتیں ہوں
وَعَلَیْهِمْ، اعْطِفْ عَلَیْهِمْ نَصْرَکَ، یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ بِحَقِّ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ صَلِّ عَلَی
ان سبھوں کی مددو نصرت فرما اے وہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیرے سوا کوئی معبود نہیں کے واسطے سے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی مَعَهُمْ فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ، وَاجْعَلْ عاقِبَةَ أَمْرِی إلی
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھے دنیا اور آخرت میں انہی کے ساتھ قرار دے اور میری زندگی کو اپنی بخشش و رحمت
غُفْرانِکَ وَرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَکَذلِکَ نَسَبْتَ نَفْسَکَ یا سَیِّدِی بِاللُّطْفِ
کے شمول پر ختم فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور جیسا کہ اپنے آپ کو لطیف و مہربان کے نام سے موسوم کیا ہے میرے
بَلَی إنَّکَ لَطِیفٌ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَالْطُفْ بِی لِما تَشائُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
مالک ہاں بے شک تو مہربان ہے پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور جس پر چاہے لطف و کرم کر اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنِی الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فِی عامِنا هذَا وَتَطَوَّلْ عَلَیَّ بِجَمِیعِ
پر رحمت نازل فرما اور نصیب فرمامجھے حج اور عمرہ کی ادائیگی اسی رواں سال میں اور مجھ پر عنایت کرتے ہوئے میری دنیا و آخرت
حَوائِجِی لِلاَْخِرَةِ وَالدُّنْیاپهر تین مرتبه کهے : أَسْتَغْفِرُ ﷲ رَبِّی وَ أَ تُوبُ إلَیْهِ إنَّ رَبِّی
کی تمام حاجتیںپوری فرما بخشش چاہتا ہوں خدا سے جو میرا رب ہے اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں بیشک
قَرِیبٌ مُجِیبٌ، أَسْتَغْفِرُ ﷲ رَبِّی وَأَ تُوبُ إلَیْهِ إنَّ رَبِّی
میرا رب نزدیک اور دعا قبول کرنیوالا ہے بخشش چاہتا ہوں خدا سے جو میرا رب ہے اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں بے شک میرا
رَحِیمٌ وَدُودٌ، أَسْتَغْفِرُ ﷲ رَبِّی وَأَتُوبُ إلَیْهِ إنَّهُ کانَ غَفَّاراً
رب مہربان محبت والا ہے بخشش چاہتا ہوں خدا سے جو میرا رب ہے اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں کیونکہ وہ بہت بخشنے والا ہے
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی إنَّکَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، رَبِّ إنِّی عَمِلْتُ سُوئ اً وَظَلَمْتُ نَفْسِی
اے معبود! مجھے بخش دے بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے میرے رب میں نے برا عمل کیا اور اپنی جان پرظلم کیا
فَاغْفِرْ لِی إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلاَّ أَ نْتَ ، أَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ
پس مجھے بخش دے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کا معاف کرنے والا نہیں بخشش چاہتاہوں اللہ سے جسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ
الْقَیُّومُ الْحَلِیمُ الْعَظِیمُ الْکَرِیمُ الْغَفَّارُ لِلذَّنْبِ الْعَظِیمِ وَأَ تُوبُ إلَیْهِ، اَسْتَغْفِرُ ﷲ
پائندہ بردبار بڑائی والا مہربان بڑے سے بڑے گناہ کو بخش دینے والا ہے میں اسکے حضور توبہ کرتا ہوںاللہ سے بخشش چاہتا ہوں
إنَّ ﷲ کانَ غَفُوراً رَحِیماً ۔ اس کے بعد یہ پڑھے :اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی
بے شک اللہ ہے بخش دینے والا مہربان ہے اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ مِنَ الْاَمْرِ الْعَظِیمِ الْمَحْتُومِ فِی
رحمت نازل فرما ور یہ کہ تو شب قدر میں جن بڑے اور یقینی امور کے بارے میں بست و کشاد کا حکم لگائے جو تیرے
لَیْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ الْقَضائِ الَّذِی لاَ یُرَدُّ وَلاَ یُبَدَّلُ أَنْ تَکْتُبَنِی مِنْ حُجَّاجِ بَیْتِکَ
ایسے فیصلے ہوں جن میںکسی طرح کا التوا اور تبدیلی واقع نہیں ہوتی ان کے ضمن میں مجھے اپنے بیت الحرام کعبہ کے ان حاجیوں میں
الْحَرامِ الْمَبْرُورِ حَجُّهُمُ الْمَشْکُورِ سَعْیُهُمُ الْمَغْفُورِ ذُنُوبُهُمُ الْمُکَفَّرِ عَنْهُمْ سَیِّئاتُهُمْ
لکھ دے جن کا حج قبول جن کی سعی پسندیدہ جن کے گناہ معاف شدہ اور جن کی خطائیں ان سے دور کردی گئی ہوں
وَأَنْ تَجْعَلَ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ أَنْ تُطِیلَ عُمْرِی، وَتُوَسِّعَ رِزْقِی، وَتُؤَدِّیَ عَنِّی
اور یہ کہ جن باتوں میں تو بست و کشاد کرے ان میں میری عمر کو طولانی میرے رزق میں فراوانی فرما اور میری طرف سے
أَمانَتِی وَدَیْنِی، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِیَ فَرَجاً وَمَخْرَجَاً
امانتیں اور قرضے ادا کردے ایسا ہی ہو اے جہانوںکے پالنے والے اے اللہ! میرے معاملوں میں کشادگی اور سہولت قرار دے
وَارْزُقْنِی مِنْ حَیْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَسِبُ وَاحْرُسْنِی مِنْ حَیْثُ أَحْتَرِسُ
اور مجھے رزق دے جہاں سے مجھے توقع ہے اور جہاں سے مجھے اس کے ملنے کی توقع نہیں ہے اور میری حفاظت کر جہاں میں اپنی
وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَرِسُ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَسَلِّمْ کَثِیراً
حفاظت کرسکوں اور جہاں اپنی حفاظت نہ کرسکوں اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور بہت زیادہ سلام ۔
( ۲ )بزرگوں کا فرمان ہے کہ ماہ رمضان میں ہر روز یہ تسبیحات پڑھے کہ یہ دس جزئ ہیں اور ہر جزئ میں دس مرتبہ سبحان اللہ آیا ہے:
﴿۱﴾ سُ بْحانَ ﷲ بارِیَِ النَّسَمِ سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ
( ۱ )پاک ہے اللہ جاندوروں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہتمام موجودات میں جوڑے
کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی
بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو چیرنے والا
سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری، سُبْحانَ
پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے
ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ السَّمِیعِ الَّذِی لَیْسَ
اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ جو ایسا سننے والا ہے کہ اس سے
شَیْئٌ أَسْمَعَ مِنْهُ، یَسْمَعُ مِنْ فَوْقِ عَرْشِهِ مَا تَحْتَ سَبْعِ أَرَضِینَ، وَیَسْمَعُ مَا فِی
زیادہ سننے والا کوئی نہیںوہ اپنے عرش کی بلندیوں پر سات زمینوں کے نیچے کی آواز سنتا ہے اور خشکی و تری کی
ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، وَیَسْمَعُ الْاَنِینَ وَالشَّکْوی، وَیَسْمَعُ السِّرَّ وَأَخْفی، وَیَسْمَعُ
تاریکیوں میں سے ہر آواز سنتا ہے وہ نالہ و شکایت سنتا ہے ڈھکی چھپی باتیں سنتا ہے اور دلوں میں
وَساوِسَ الصُّدُورِ، وَلاَ یُصِمُّ سَمْعَهُ صَوْتٌ ﴿ ۲ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیَِ النَّسَم
گزرنے والے خیالوں کو بھی سنتا ہے اور کوئی آواز اس کی سماعت کو ختم نہیں کرتی ( ۲ )پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنیوالا
سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ
پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہ تمام موجودات میںجوڑے بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کا
الظُّلُماتِ وَالنُّورِ سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ،
پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو چیرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا
سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ
پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ
رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ الْبَصِیرِ الَّذِی لَیْسَ شَیْئٌ أَبْصَرَ مِنْهُ، یُبْصِرُ مِنْ فَوْقِ
جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ جو ایسا دیکھنے والا ہے کہ اس سے زیادہ دیکھنے والا کوئی نہیں وہ اپنے عرش کے
عَرْشِهِ مَا تَحْتَ سَبْعِ أَرَضِینَ وَیُبْصِرُ مَا فِی ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ لاَ تُدْرِکُهُ
اوپر سے وہ سب کچھ دیکھتا ہے جو سات زمینوں کے نیچے ہے وہ ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو خشکی و تری کیتاریکیوں میں ہیں آنکھیں
الْاَبْصارُ، وَهُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصارَ، وَهُوَ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ، وَلاَ تُغْشِی بَصَرَهُ الظُّلْمَةُ،
اسے نہیں پاسکتیں اور وہ آنکھوں کو پالیتا ہے اور وہ باریک بین ہے خبردار تاریکی اسکی آنکھ کو ڈھانپ نہیں سکتی کوئی چھپی چیز اس سے
وَلاَ یُسْتَتَرُ مِنْهُ بِسِتْرٍ، وَلاَ یُوارِی مِنْهُ جِدارٌ، وَلاَ یَغِیبُ عَنْهُ بَرٌّ وَلاَ بَحْرٌ، وَلاَ یَکُنُّ
چھپ نہیں سکتی اور کوئی دیوار اس کے لیے پردہ نہیں بن پاتی صحرا اور دریا اس سے اوجھل نہیں ہوسکتے نہیں چھپاسکتا اس
مِنْهُ جَبَلٌ مَا فِی أَصْلِهِ وَلاَ قَلْبٌ مَا فِیهِ وَلاَ جَنْبٌ مَا فِی قَلْبِهِ وَلاَ یَسْتَتِرُ مِنْهُ صَغِیرٌ
سے کوئی پہاڑ جو کچھ اسکے نیچے ہے نہ کوئی دل کہ جو اس کے اندر ہے نہ کوئی پہلو کہ جو اس کے بیچ میںہے اور کوئی چھوٹی بڑی چیز اس
وَلاَ کَبِیرٌ، وَلاَ یَسْتَخْفِی مِنْهُ صَغِیرٌ لِصِغَرِهِ، وَلاَ یَخْفی عَلَیْهِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ
سے اوجھل نہیں ہوسکتی کوئی چھوٹی چیز چھوٹائی کی وجہ سے اس سے چھپی نہیں رہتی اور نہ زمین اور آسمانوں میں کوئی چیز اس سے پنہاں
وَلاَ فِی السَّمائِ، هُوَ الَّذِی یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحامِ کَیْفَ یَشائُ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْعَزِیزُ
ہے وہ وہی تو ہے جس نے رحموں میں تمہاری صورت بنائی جیسے اس نیچاہی اس کے سوا کوئی معبود نہیںجو اقتدار والا
الْحَکِیمُ ﴿ ۳ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیَِ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ ﷲ
حکمت والا ہے( ۳ ) پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنے والاپاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہ
خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ
تمام موجودات میں جوڑے بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور
الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ
بیج کو چیرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا
یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ الَّذِی
کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کاپالنے والا پاک ہے اللہ جو بوجھل بادلوں
یُنْشئُ السَّحابَ الثِّقالَ وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلائِکَةُ مِنْ خِیفَتِهِ، وَیُرْسِلُ
کو پیدا کرتا ہے اور بجلی کی کڑک اس کی حمد کرتی ہے اور فرشتے خوف سے اس کی تسبیح پڑھتے ہیںوہ جلانے والی
الصَّواعِقَ فَیُصِیبُ بِها مَنْ یَشائُ، وَیُرْسِلُ الرِّیاحَ بُشْراً بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهِ، وَیُنَزِّلُ
بجلیاں گراتا ہے اور جسے چاہے ان کا نشانہ بنادیتا ہے وہ ہواؤں کو بھیجتاہے جو اس کی رحمت کامژدہ دیتی ہیں اور اپنے حکم سے
الْمائَ مِنَ السَّمائِ بِکَلِمَتِهِ، وَیُنْبِتُ النَّباتَ بِقُدْرَتِهِ، وَیَسْقُطُ الْوَرَقُ بِعِلْمِهِ، سُبْحانَ
آسمانوں کی طرف سے پانی اتارتا ہے اپنی قدرت سے سبزیاگاتا ہے اور اپنے علم کے ساتھ پتوں کو توڑگراتا ہے پاک ہے
ﷲ الَّذِی لاَ یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمائِ وَلاَ أَصْغَرُ مِنْ
اللہ جس کی لیے زمین اور آسمانوں میں کوئیذرہ برابر چیز اوجھل نہیں ہے اور ان میںسے کوئی چھوٹی
ذلِکَ وَلاَ أَکْبَرُ إلاَّ فِی کِتابٍ مُبِینٍ ﴿ ۴ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ
بڑی چیز نہیں ہے جو ایکواضح کتاب میں نہ لکھی ہوئی ہو( ۴ )پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنیوالا پاک ہے اللہ
الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ
صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہ تمام موجودات میں جوڑے بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کاپیدا کرنے والا
سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ
پاک ہے اللہ دانے اور بیج کا چیرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ
خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ،
دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا
سُبْحانَ ﷲ الَّذِی یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ أُ نْثی وَمَا تَغِیضُ الْاَرْحامُ وَمَا تَزْدادُ وَکُلُّ
پاک ہے اللہ جس کو معلوم ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اور جو کچھ ماؤں کے رحموں میں ہے اور جو کچھ بڑھتا ہے وہ اس
شَیْئٍ عِنْدَهُ بِمِقْدارٍ عالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهادَةِ الْکَبِیرُ الْمُتَعالِ سَوائٌ مِنْکُمْ مَنْ أَسَرَّ
کا اندازہ رکھتا ہے وہ ہر کھلی چھپی چیز کا جاننے والا بزرگتر بلندتر ہے برابر ہے اس کے لیے تم میں جو کوئی راز کی
الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّیْلِ وَسارِبٌ بِالنَّهارِ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ
بات کرے یا کھول کر اور وہ جو رات کو چھپ کر چلے اور جو دن کے وقت سفر کرے ہر ایک کے آگے اور پیچھے کچھ پیکر ہوتے ہیں
بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ یَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ ﷲ، سُبْحانَ ﷲ الَّذِی یُمِیتُ الْاَحْیائَ
جو خدا کے حکم کے مطابق اس کی حفاظت کیا کرتے ہیں پاک ہے اللہ کہ جو زندوں کو موت دیتا
وَیُحْیِی الْمَوْتی وَیَعْلَمُ مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ وَیُقِرُّ فِی الْاَرْحامِ مَا یَشائُ إلی
اور مردوں کو زندہ کرتا ہے وہ جانتا ہے زمین ان میں جو کمی کرتی ہے اور جو چاہتا ہے وقت مقررہ تک رحموں میں
أَجَلٍ مُسَمّیً ﴿ ۵ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ
قرار دیتا ہے ( ۵ )پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنیوالا پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے
ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ
اللہ تمام موجودات میں جوڑیبنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو
الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ
چیرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا
یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ مالِکِ
کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ جو ملک کا
الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشائُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشائُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشائُ وَتُذِلُّ مَنْ
مالک ہے جسے چاہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہے حکومت چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل
تَشائُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ تُو لِجُ اللَّیْلَ فِی النَّهارِ، وَتُو لِجُ النَّهارَ
کرتا ہے بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات
فِی اللَّیْلِ، وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ، وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشائُ
میں داخل کرتا ہے مردہ سے زندہ کو نکالتا اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور جسے چاہے بغیر حساب کے
بِغَیْرِ حِسابٍ ﴿ ۶ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ
رزق دیتا ہے( ۶ ) پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے
ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ
اللہ تمام موجودات میں جوڑے بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی و تاریکی کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو
الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ
چیرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا
یُری سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ سُبْحانَ ﷲ الَّذِی عِنْدَهُ
کرنے والا پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ جس کے پاس
مَفاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُها إلاَّ هُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إلاَّ
غیب کی کنجیاں ہیں جن کا اس کے سوا کسی کو علم نہیں وہ جانتا ہے جو کچھ ہے صحرائ و دریا میں اور نہیں گرتا کوئی پتا مگر وہ
یَعْلَمُها وَلاَ حَبَّةٍ فِی ظُلُماتِ الْاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ یابِسٍ إلاَّ فِی کِتابٍ مُبِینٍ ﴿ ۷ ﴾
اسے جانتا ہے اور نہیں کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں اور نہیں کوئی خشک وتر مگر یہ کہ وہ واضح کتاب میں مذکورہے( ۷ )
سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ
پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہ تمام موجودات میں جوڑے
کُلِّها سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی
بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی اور تاریکی کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو چیرنے والا
سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری سُبْحانَ ﷲ
پاک ہے اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ
مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ الَّذِی لاَ یُحْصِی مِدْحَتَهُ
اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا پاک ہے وہ اللہ کہ بولنے والے جس کی تعریف کا حق ادا نہیں کر
الْقائِلُونَ، وَلاَ یَجْزِی بِآلائِهِ الشَّاکِرُونَ الْعابِدُونَ، وَهُوَ کَما قالَ وَفَوْقَ مَا نَقُولُ
پاتے اس کا شکر کرنے اور عبادت کرنے والے اس کا حق نعمت ادا نہیں کرسکتے وہ ایسا ہے جیسا اس نے کہا اور جو ہم کہتے ہیں
وَﷲ سُبْحانَهُ کَما أَثْنی عَلَی نَفْسِهِ، وَلاَ یُحِیطُونَ بِشَیْئٍ مِنْ عِلْمِهِ إلاَّ بِما شائَ
اس سے بلند ہے اور اللہ پاک ہے جیسے اس نے اپنی تعریف فرمائی اور وہ اس کے علم میں سے کچھ نہیں جان سکتے مگر وہی جو وہ چاہے
وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَلاَ یَؤُودُهُ حِفْظُهُما وَهُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ ﴿ ۸ ﴾
اس کی حکومت زمین اور آسمانوں کو گھیرے ہوئے ہے اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں اور وہ بلند ہے بڑائی والا ( ۸ )
سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ، سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ
پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ صورت گری کرنیوالا پاک ہے اللہ تمام موجودات میں جوڑے
کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی
بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی اور تاریکی کا بنانے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج کو چیرنے والا
سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری، سُبْحانَ
پاک ہے اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے
ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ الَّذِی یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی
اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ جہانوں کا پالنے والا پاک ہے کہ جو جانتا ہے زمین میں
الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْها، وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ وَمَا یَعْرُجُ فِیها، وَلاَ یَشْغَلُهُ مَا یَلِجُ
داخل ہونے اور اس سے خارج ہونے والی چیزوں کو اور جو آسمان سے اترتا ہے اور اس کی طرف بلند ہوتا ہے اور اسے زمین
فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْها عَمَّا یَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ وَمَا یَعْرُجُ فِیها، وَلاَ یَشْغَلُهُ مَا
میں داخل اور اس سے خارج ہونے والی چیزیں آسمان سے نازل ہونے اور اس طرف بلند ہونے والی چیزوں سے غافل نہیں
یَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ وَمَا یَعْرُجُ فِیها عمَّا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْها، وَلاَ یَشْغَلُهُ
کرتیں اور آسمان سے اترنے اور اس میں چڑھنے والی چیزیں زمین میں داخل اور اس سے خارج ہونے والی چیزوں سے غافل نہیں کرتیں
عِلْمُ شَیْئٍ عَنْ عِلْمِ شَیْئٍ وَلاَ یَشْغَلُهُ خَلْقُ شَیْئٍ عَنْ خَلْقِ شَیْئٍ، وَلاَ حِفْظُ شَیْئٍ
اوراسے ایک چیز کا علم دوسری کے علم سے غافل نہیں کرتا اور ایک چیز کا پیدا کرنا دوسری کے پیدا کرنے سے غافل نہیں کرتا اور ایک
عَنْ حِفْظِ شَیْئٍ، وَلاَ یُساوِیهِ شَیْئٌ ، وَلاَ یَعْدِلُهُ شَیْئٌ، لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ، وَهُوَ
چیز کی نگہبانی دوسری کی نگہبانی سے غافل نہیں کرتی اور نہ کوئی چیز اس کے برابر ہے نہ کوئی چیز اس جیسی ہے کوئی چیز اس کی مانند ہے
السَّمِیعُ الْبَصِیرُ ﴿ ۹ ﴾ سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ سُبْحانَ
ہی نہیں اور وہ ہے سننے والا دیکھنے والا( ۹ ) پاک ہے اللہ جانداروں کا پیداکرنے والا پاک ہے اللہ صورت گری کرنے والا پاک ہے
ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها، سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّوْرِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ
اللہ تمام موجودات میں جوڑے بنانے والا پاک ہے اللہ روشنی اور تاریکی کا بنانے والا پاک ہے اللہ دانے اور بیج
الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ
کو چیرنے والا پاک ہے اللہ ہر چیز کا پیدا کرنیوالا پاک ہے اللہ دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا
یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ کَلِماتِهِ، سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ فاطِرِ
کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو بڑھانے والا پاک ہے اللہ تمام جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ جس نے پیدا کیے
السَّمَاواتِ وَالْاَرْضِ جاعِلِ الْمَلائِکَةِ رُسُلاً أُولِی أَجْنِحَةٍ مَثْنی وَثُلاثَ وَرُباعَ
آسمان اور زمین اور ملائکہ کو اپنے قاصد قراردیا جو دو دو تین تین اور چار چار پروں والے ہیں وہ مخلوق
یَزِیدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشائُ إنَّ ﷲ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ مَا یَفْتَحِ ﷲ لِلنّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ
میں جتنا چاہے اضافہ کرتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اللہ رحمت کا جو در چاہے لوگوں پر کھول دیتا ہے تو کوئی
فَلا مُمْسِکَ لَها وَمَا یُمْسِکْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ﴿۱۰﴾
اسے بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ روک دے اس کے بعد کوئی اسے کھولنے والا نہیں اور وہ ہے غلبے والا حکمت والا (۱۰)
سُبْحانَ ﷲ بارِیََ النَّسَمِ سُبْحانَ ﷲ الْمُصَوِّرِ سُبْحانَ ﷲ خالِقِ الْاَزْواجِ کُلِّها
پاک ہے اللہ جانداروں کا پیدا کرنیوالا پاک ہے اللہ صورت گری کرنے والا پاک ہے اللہ تمام موجودات میں جوڑے بنانے والا
سُبْحانَ ﷲ جاعِلِ الظُّلُماتِ وَالنُّورِ، سُبْحانَ ﷲ فالِقِ الْحَبِّ وَالنَّوی، سُبْحانَ
پاک ہے اللہ روشنی اور تاریکی کو جد اجدا بنانے والا پاک ہے اللہ زیرزمین دانے اور بیج کو چیرنے والا پاک ہے
ﷲ خالِقِ کُلِّ شَیْئٍ، سُبْحانَ ﷲ خالِقِ مَا یُری وَمَا لاَ یُری، سُبْحانَ ﷲ مِدادَ
اللہ سب چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ تمام دیکھی ان دیکھی چیزوں کا پیدا کرنے والا پاک ہے اللہ اپنے کلمات کو
کَلِماتِهِ سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ، سُبْحانَ ﷲ الَّذِی یَعْلَمُ مَا فِی السَّماواتِ وَمَا
بڑھانے والا پاک ہے اللہ تمام جہانوں کا پالنے والا پاک ہے اللہ وہی ہے جو جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ
فِی الْاَرْضِ مَا یَکُونُ مِنْ نَجْوی ثَلاثَةٍ إلاَّ هُوَ رابِعُهُمْ وَلاَ خَمْسَةٍ إلاَّ هُوَ سادِسُهُمْ
زمینوں میں ہے کہیں تین آدمی سرگوشی نہیں کرتے مگر یہ کہ وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے پانچ آدمی نہیں مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے
وَلاَ أَدْنی مِنْ ذلِکَ وَلاَ أَکْثَرَ إلاَّ هُوَ مَعَهُمْ أَیْنَما کانُوا ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِما عَمِلُوا یَوْمَ
اور اس سے کم و بیش آدمی سرگوشی نہیں کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں مگر وہ قیامت کے روز انہیں ان
الْقِیامَةِ إنَّ ﷲ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیمٌ
کے اعمال سے آگاہ کرے گا بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔
( ۳ )علمائ کا فرمان ہے کہ ماہ رمضان میں حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم پرہر روز یہ صلٰوۃ پڑھے:
إنَّ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَا أَ یُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا
بے شک اللہ اوراس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پاک پر تو اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام جو سلام
تَسْلِیماً، لَبَّیْکَ یَا رَبِّ وَسَعْدَیْکَ وَسُبْحانَکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
کا حق ہے حاضر ہوں اے پروردگار تیرے سامنے اور تو سعادت کامالک اور پاک تر ہے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج
وَبارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما صَلَّیْتَ وَبارَکْتَ عَلَی إبْراهِیمَ وَآلِ إبْراهِیمَ إنَّکَ
اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے جناب ابراہیمعليهالسلام اور آل ابراہیمعليهالسلام پر درود بھیجا اور برکت نازل کی بے شک تو
حَمِیدٌ مَجِیدٌ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ کَما رَحِمْتَ إبْراهِیمَ وَآلَ إبْراهِیمَ إنَّکَ
تعریف و بزرگی والا ہے اے اللہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحم فرما جیسا کہ تو نے ابراہیمعليهالسلام و آل ابراہیمعليهالسلام پر رحم فرمایا بے شک تو
حَمِیدٌ مَجِیدٌ اَللّٰهُمَّ سَلِّمْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما سَلَّمْتَ عَلَی نُوحٍ فِی الْعالَمِینَ
تعریف و بزرگی والا ہے اے اللہ! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام بھیج جیسا کہ تو نے عالمین میں حضرت نوحعليهالسلام پر سلام بھیجا
اَللّٰهُمَّ امْنُنْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما مَنَنْتَ عَلَی مُوسی وَهارُونَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
اے اللہ! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر احسان فرما جیسا کہ تو نے موسیٰعليهالسلام و ہارونعليهالسلام پر احسان فرمایا اے اللہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما شَرَّفْتَنا بِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما
درود بھیج جیسا کہ تونے ہمیں اس سے مشرف کیا اے اللہ! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وا ٓل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج جیسا کہ تو نے ہمیں ان کے
هَدَیْتَنا بِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْهُ مَقاماً مَحْمُوداً یَغْبِطُهُ بِهِ
ذریعے ہدایت دی اے اللہ! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مقام محمود پر سرفراز فرما کہ اس سے پہلے پچھلے
الْاَوَّلُونَ وَالاَْخِرُونَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ کُلَّما طَلَعَتْ شَمْسٌ أَوْ غَرَبَتْ، عَلَی
ان پر رشک کرنے لگ جائیں۔ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر سلام ہو جب تک سورج کا طلوع و غروب ہو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور
مُحَمَّدٍ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ کُلَّما طَرَفَتْ عَیْنٌ أَوْ بَرَقَتْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ کُلَّما ذُکِرَ
ان کی آلعليهالسلام پر سلام ہو جب تک آنکھ جھپکتی یا کھلتی رہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر سلام ہو جب تک سلام کیا
اَلسَّلاَمُ، عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ کُلَّما سَبَّحَ ﷲ مَلَکٌ أَوْ قَدَّسَهُ، اَلسَّلاَمُ عَلَی
جاتا رہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر سلام ہو جب تک فرشتے اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے رہیں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر
مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْاَوَّلِینَ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الاَْخِرِینَ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَی
سلام ہو اولین میں اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر سلام ہو آخرین میں اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام
مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ اَللّٰهُمَّ رَبَّ الْبَلَدِ الْحَرامِ، وَرَبَّ الرُّکْنِ وَالْمَقامِ،
پر سلام ہو دنیا اور آخرت میں۔ اے اللہ! اے حرمت والے شہر مکہ کے رب اے رکن اور مقام کے رب
وَرَبَّ الْحِلِّ وَالْحَرامِ أَبْلِغْ مُحَمَّداً نَبِیَّکَ عَنَّا السَّلامَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً مِنَ الْبَهائِ
اور اے حل و حرام کے رب اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور ہمارا سلام پہنچادے اے اللہ! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تابش، تازگی،
وَالنَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ وَالْکَرامَةِ وَالْغِبْطَةِ وَالْوَسِیلَةِ وَالْمَنْزِلَةِ وَالْمَقامِ وَالشَّرَفِ
شادمانی، بزرگواری، فضیلت، وسیلہ، بلندی، مرتبہ، عزت،
وَالرِّفْعَةِ وَالشَّفاعَةِ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیامَةِ أَفْضَلَ ما تُعْطِی أَحَداً مِنْ خَلْقِکَ، وَأَعْطِ
برتری اور قیامت میں اپنے حضور شفاعت کرنے کا حق عطا فرما اس سے زیادہ جو تو نے مخلوق میں سے کسی کو دیا اور عطا فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو
مُحَمَّداً فَوْقَ مَا تُعْطِی الْخَلائِقَ مِنَ الْخَیْرِ أَضْعافاً کَثِیرَةً لاَ یُحْصِیها غَیْرُکَ اَللّٰهُمَّ
اس سے فوقیت جو بھلائی تو نے مخلوق کو دی ہے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کئی گنا زیادہ دے جسے بجز تیرے کوئی شمار نہ کرسکے اے اللہ!
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَطْیَبَ وَأَطْهَرَ وَأَزْکی وَأَ نْمی وَأَ فْضَلَ مَا صَلَّیْتَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج پاک تر پاکیزہ تر عمدہ بہترین اور زیادہ اس سے جو درود تو نے اگلے پچھلے
عَلَی أَحَدٍ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ وَعَلَی أَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ
لوگوں میں کسی پر بھیجا اور اپنی مخلوق میں سے کسی پر بھیجا ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ اے اللہ!
صَلِّ عَلَی عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَوالِ مَنْ والاهُ وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ الْعَذابَ
امیرالمومنین حضرت علیعليهالسلام پر رحمت فرما ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی رکھ اور ان کے قتل میں شریک پر
عَلَی مَنْ شَرِکَ فِی دَمِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی فاطِمَةَ بِنْتِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلاَمُ
دوچند عذاب نازل کر اے اللہ! اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دختر فاطمہعليهالسلام پر رحمت فرما کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر سلام ہو
وَوالِ مَنْ وَالاها، وَعادِ مَنْ عَادَاهَا، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَها، وَالْعَنْ مَنْ
ان کے دوست سے دوستی رکھ اور انے کے دشمن سے دشمنی رکھ اور ان پر ظلم کرنے والے کے عذاب کو دو چند کر دے اور لعنت کر جس
آذی نَبِیَّکَ فِیها اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ إمامَیِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ مَنْ
نے فاطمہعليهالسلام کے بارے میں تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ستایا اے اللہ! حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے دو امامعليهالسلام ہیں ان دونوں کے دوست
وَالاهُما، وَعادِ مَنْ عَاداهُما، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ شَرِکَ فِی دِمائِهِما اَللّٰهُمَّ
سے دوستی رکھ اور ان دونوں کے دشمن سے دشمنی کر اور جنہوں نے انکا خون بہانے میں شرکت کی انکا عذاب دوچند کردے اے اللہ!
صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ،
علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر
وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ إمامِ الْمُسْلِمِینَ
جنہوں نے آپ پر ظلم ڈھایا اور ان کا عذاب دو چند کر دے اے اللہ! محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں
وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ان کا ع ذاب دوچند کردے۔ اے اللہ! جعفرعليهالسلام بن
عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ وَضاعِفِ
محمدعليهالسلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں اور ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر اور جہنوں نے آپ پر ظلم کیا
الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ
ان کا عذاب دوچند کردے اے اللہ! موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں ان کے دوست سے
مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ شَرِکَ فِی دَمِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر جنہوں نے آپ کا خون بہانے میں شرکت کی ان کا عذاب دو چند کردے اے اللہ ! علیعليهالسلام بن
عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُوسی إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ وَضاعِفِ
موسیٰعليهالسلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر اور جنہوں نے آپ کا خون
الْعَذابَ عَلَی مَنْ شَرِکَ فِی دَمِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ إمامِ الْمُسْلِمِینَ،
بہانے میں شرکت کی ان کا عذاب دوچند کردے اے ﷲ ! علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام پر رحمت فرما کہ جو مسلمانوں کے امام ہیں
وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کراور جنہوں نے آپعليهالسلام پر ظلم کیا ان کا عذاب دو چند کر دے اے ﷲ! علیعليهالسلام بن
عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ
محمدعليهالسلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں ان کے دوست سے دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کراور جنہوں آپعليهالسلام پر ظلم کیا ان کا
الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ إمامِ الْمُسْلِمِینَ، وَوالِ
عذاب دو چند کر دے اے ﷲ ! حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر رحمت فرما جو مسلمانوں کے امام ہیں ان کے دوست سے
مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَضاعِفِ الْعَذابَ عَلَی مَنْ ظَلَمَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی
دوستی رکھ اور ان کے دشمن سے دشمنی کر اور جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ان کا عذاب دو چند کر دے اے ﷲ! ان کے ما بعد
الْخَلَفِ مِنْ بَعْدِهِ إمامِ الْمُسْلِمِینَ وَوالِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عاداهُ، وَعَجِّلْ فَرَجَهُ
جانشین پر رحمت فرماجو مسلمانوں کے امام ہیں انکے دوست سے دوستی رکھ اور انکے دشمن سے دشمنی کر اور ان کے ظہور میں جلدی فرما
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْقاسِمِ وَالطَّاهِرِ ابْنَیْ نَبِیِّکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی رُقَیَّةَ بِنْتِ نَبِیِّکَ
اے ﷲ جناب قاسمعليهالسلام و جناب طاہرعليهالسلام پر رحمت فرما جو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیٹے ہیں اے ﷲ ! رقیہ پر رحمت فرما جو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی لے پالک بیٹی ہیں
وَالْعَنْ مَنْ آذی نَبِیَّکَ فِیها اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی أُمِّ کُلْثُومَ بِنْتِ نَبِیِّکَ،
اور لعنت کر اس پر جس نے ان کے بارے میں تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ستایا اے ﷲ! ام کلثوم پر رحمت فرما جو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی لے پالک بیٹی ہیں
وَالْعَنْ مَنْ آذی نَبِیَّکَ فِیها اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی ذُرِّیَّةِ نَبِیِّکَ اَللّٰهُمَّ اخْلُفْ
اور لعنت کر اس پر جس نے انکے بارے میں تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ستایا اے ﷲ! اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اولاد پر رحمت فرما اے ﷲ اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیچھے
نَبِیَّکَ فِی أَهْلِ بَیْتِهِ اَللّٰهُمَّ مَکِّنْ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنا مِنْ عَدَدِهِمْ وَمَدَدِهِمْ
ان کے اہل بیتعليهالسلام کا مددگار بن اے ﷲ ! انہیں زمین میں مقتدر بنا اے ﷲ! ہمیں حق کے بارے میں ان کے کھلے چھپے حامیوں
وَأَنْصارِهِمْ عَلَی الْحَقِّ فِی السِّرِّ وَالْعَلانِیَةِ اَللّٰهُمَّ اطْلُبْ بِذَحْلِهِمْ وَوِتْرِهِمْ وَدِمائِهِمْ
مددگاروں اور ناصروں میں سے قرار دے اے ﷲ ! ان سے دشمنی کرنے ان کو تنہا چھوڑنے اور ان کا خون بہانے کا بدلہ لے
وَکُفَّ عَنّا وَعَنْهُمْ وَعَنْ کُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ بَأْسَ کُلِّ باغٍ وَطاغٍ وَکُلِّ دابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ
ہماری، ان کی اور ہر مومن و مومنہ کی مدد فرما ہر ایک نا فرمان سرکش اور ہر حیوان کی اذیت پر کہ وہ تیرے قبضہ
بِناصِیَتِها إنَّکَ أَشَدُّ بَأْساً وَأَشَدُّ تَنْکِیلاً
قدرت میں ہیں بے شک تو ہے سخت عذاب والا بڑے دباؤ والا۔
سید ابن طاؤس نے فرمایا ہے کہ پھر یہ کہے:
یَا عُدَّتِی فِی کُرْبَتِی، وَیَا صاحِبِی فِی شِدَّتِی، وَیَا وَ لِیِّی فِی نِعْمَتِی ، وَیَا غایَتِی
اے مصیبت میں میرے سرمایہ اے سختی میں میرے ساتھی اے میری نعمت کے نگہبان اے میری چاہت
فِی رَغْبَتِی، أَ نْتَ السَّاتِرُ عَوْرَتِی، وَالْمُؤْمِنُ رَوْعَتِی، وَالْمُقِیلُ عَثْرَتِی، فَاغْفِرْ لِی
کے مرکز تو میرے عیبوں کے چھپانے والا خوف میں ڈھارس دینے والا اور خطائیں معاف کرنے والا پس میری غلطیاں
خَطِیئَتِی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
معاف کردے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
اس کے بعد یہ کہے :اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ لِهَمٍّ لاَ یُفَرِّجُهُ غَیْرُکَ، وَ لِرَحْمَةٍ لاَ تُنالُ إلاَّ بِکَ،
اے معبود ! میں تجھے پکارتا ہوں پریشانی میں کہ اسے تیرے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا رحمت کیلئے کہ جو تجھی سے ملتی ہے اور
وَ لِکَرْبٍ لاَ یَکْشِفُهُ إلاَّ أَ نْتَ، وَ لِرَغْبَةٍ لاَ تُبْلَغُ إلاَّ بِکَ، وَ لِحاجَةٍ لاَ یَقْضِیها إلاَّ أَ نْتَ
دکھ میں کہ اسے سوائے تیرے کوئی ہٹا نہیں سکتا اور خواہش کیلئے کہ وہ تو ہی پوری کرتا ہے اور حاجت کیلئے کہ اسے تو ہی روا فرماتا ہے
اَللّٰهُمَّ فَکَما کانَ مِنْ شَأْنِکَ مَا أَذِنْتَ لِی بِهِ مِنْ مَسْأَلَتِکَ، وَرَحِمْتَنِی بِهِ مِنْ ذِکْرِکَ
اے ﷲ! جیسے تو نے اپنی شان و کرم سے مجھے اجازت دی ہے کہ میں تجھ سے سوال کروں اور مانگوں اور تو نے اپنی یاد سے مجھ پر رحمت فرمائی
فَلْیَکُنْ مِنْ شَأْنِکَ سَیِّدِی الْاِجابَةُ لِی فِیما دَعَوْتُکَ وَعَوائِدُ الْاِفْضالِ فِیما رَجَوْتُکَ
پس اسی طرح اے میرے سرداراپنی مہربانی سے میری طلب کردہ حاجت پوری فرما جن چیزوں کی امید کرتا ہوں وہ مجھے عطا کردے
وَالنَّجاةُ مِمَّا فَزِعْتُ إلَیْکَ فِیهِ فَ إنْ لَمْ أَکُنْ أَهْلاً أَنْ أَبْلُغَ رَحْمَتَکَ فَ إنَّ رَحْمَتَکَ أَهْلٌ
اور ہر اس چیز سے نجات دے جس سے تیری پناہ مانگی ہے اگر میں اس لائق نہیں کہ مجھ پر تیری رحمت ہو تو بھی تیری رحمت اسکی اہل ہے
أَنْ تَبْلُغَنِی وَتَسَعَنِی، وَ إنْ لَمْ أَکُنْ لِلاِِْجابَةِ أَهْلاً فَأَ نْتَ أَهْلُ الْفَضْلِ، وَرَحْمَتُکَ
کہ مجھ تک پہنچے اور مجھے گھیر لے اور اگر میں اس لائق نہیں کہ میری دعا قبول ہو تو بھی تو فضل کرنے کا اہل ہے اور تیری رحمت
وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ، فَلْتَسَعْنِی رَحْمَتُکَ یَا إلهِی یَا کَرِیمُ أَسْأَ لُکَ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ أَنْ
ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے پس ضرور ہے کہ تیری رحمت مجھے گھیر لے اے معبود! اے مہربان میں تیری ذات کریم کے واسطے سے سوالی
تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَأَنْ تُفَرِّجَ هَمِّی وَتَکْشِفَ کَرْبِی وَغَمِّی، وَتَرْحَمَنِی
ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور انکے اہل بیتعليهالسلام پر رحمت نازل کر اور یہ کہ میری پریشانی دور کردے میرا دکھ اور غم ہٹا دے بواسطہ اپنی
بِرَحْمَتِکَ، وَتَرْزُقَنِی مِنْ فَضْلِکَ، إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ قَرِیبٌ مُجِیبٌ
رحمت کے مجھ پر رحم کر اور اپنے فضل سے مجھے روزی دے بے شک تو دعا کا سننے والا قریب سے جواب دینے والاہے ۔
( ۴ ) شیخ و سید فرماتے ہیں کہ ہر روز یہ دعا بھی پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ فَضْلِکَ بِأَ فْضَلِهِ وَکُلُّ فَضْلِکَ فاضِلٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ
اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے فضل میں سے زیادہ فضل کا اور تیر اسارا ہی فضل بہت بڑھا ہوا ہے اے معبود !میں سوال کرتا ہوں
بِفَضْلِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ رِزْقِکَ بِأَعَمِّهِ وَکُلُّ رِزْقِکَ عامٌّ
تجھ سے تیرے سارے ہی فضل کا اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے رزق میں سے عمومی رزق کا اور تیرا سارا رزق عام ہے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِرِزْقِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ عَطائِکَ بِأَهْنَئِهِ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے تمام تر رزق کا اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری عطا میں سے گوارا تر کا اور
وَکُلُّ عَطائِکَ هَنِیئٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِعَطائِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ
تیری تمام عطائیں ہی گواراتر ہیں اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ہر ایک عطا کا اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
مِنْ خَیْرِکَ بِأَعْجَلِهِ وَکُلُّ خَیْرِکَ عاجِلٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِخَیْرِکَ کُلِّهِ
تیری بھلائی میں سے جلد پہنچنے والی کا اور تیری ہر بھلائی جلد پہنچنے والی ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام بھلائیوں کا
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ إحْسانِکَ بِأَحْسَنِهِ وَکُلُّ إحْسانِکَ حَسَنٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے بہترین احسان کا اور تیرے تمام احسان بہترین ہیں اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں
بِ إحْسانِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِما تُجِیبُنِی بِهِ حِینَ أَسْأَلُکَ فَأَجِبْنِی یَا ﷲ وَصَلِّ
تجھ سے تیرے تمام تر احسانوں کا اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس واسطے سے جس کو تو قبول فرماتا ہے پس میری دعا قبول
عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ الْمُرْتَضی، وَرَسُو لِکَ الْمُصْطَفی، وَأَمِینِکَ وَنَجِیِّکَ دُونَ
کر اے ﷲ اور اپنے رضا یافتہ بندے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما جو تیرے چنے ہوئے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرے امانتدار ساری مخلوق میںتیرے
خَلْقِکَ وَنَجِیبِکَ مِنْ عِبادِکَ، وَنَبِیِّکَ بِالصِّدْقِ وَحَبِیبِکَ، وَصَلِّ عَلَی رَسُولِکَ
رازدار بندوں میں سے تیرے پسندیدہ تیرے سچے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور تیرے دوست ہیں اور اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما
وَخِیَرَتِکَ مِنَ الْعالَمِینَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ، السِّراجِ الْمُنِیرِ، وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ الْاَ بْرارِ
جو سارے جہانوں میں تیرے منتخب بشارت دینے والے ڈرانے والے اور چراغِ روشن ہیں اور ان کے نیک پاک اہل بیتعليهالسلام پر
الطّاهِرِینَ، وَعَلَی مَلائِکَتِکَ الَّذِینَ اسْتَخْلَصْتَهُمْ لِنَفْسِکَ وَحَجَبْتَهُمْ عَنْ خَلْقِکَ،
اور اپنے فرشتوں پر رحمت فرما جن کو تو نے اپنے لئے خاص کیا اور انہیں اپنی مخلوق سے پوشیدہ رکھا اور اپنے نبیوں
وَعَلَی أَنْبِیائِکَ الَّذِینَ یُنْبِئُونَ عَنْکَ بِالصِّدْقِ وَعَلَی رُسُلِکَ الَّذِینَ خَصَصْتَهُمْ بِوَحْیِکَ
پر رحمت کر جو تیری سچی خبر دیتے رہے ہیں اور ان رسولوں پر جن کو تونے اپنی وحی کیلئے مخصوص کیا
وَفَضَّلْتَهُمْ عَلَی الْعالَمِینَ بِرِسالاتِکَ، وَعَلَی عِبادِکَ الصَّالِحِینَ الَّذِینَ أَدْخَلْتَهُمْ
اور ان کو اپنے پیغاموں کا حامل بنا کر جہانوں میں فضیلت دی اور اپنے نیک بندوں پر رحمت کر جن کو تونے اپنے
فِی رَحْمَتِکَ آلاَءِمَّةِ الْمُهْتَدِینَ الرَّاشِدِینَ وَأَوْ لِیائِکَ الْمُطَهَّرِینَ، وَعَلَی جَبْرائِیلَ
رحمت میں داخل فرمایا ہدایت یافتہ امام اور پیشوا ہیں اور تیرے پاک دل دوست ہیں اور جبرائیلعليهالسلام
وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَمَلَکِ الْمَوْتِ، وَعَلَی رِضْوانَ خازِنِ الْجِنانِ، وَعَلَی مالِکٍ
میکائیلعليهالسلام اسرافیلعليهالسلام اور فرشتہ موت پر رحمت فرما اور رضوان داروغہ جنت پر اور مالک پر رحمت کر
خازِنِ النَّارِ، وَرُوحِ الْقُدُسِ، وَالرُّوحِ الْاَمِینِ، وَحَمَلَةِ عَرْشِکَ الْمُقَرَّبِینَ، وَعَلَی
جو داروغہ جہنم ہے اور روح القدس و روح الامین پر رحمت کر اور حاملان عرش پر جو تیرے مقرب ہیں اور ان دو فرشتوں
الْمَلَکَیْنِ الْحافِظَیْنِ عَلَیَّ بِالصَّلاةِ الَّتِی تُحِبُّ أَنْ یُصَلِّیَ بِها عَلَیْهِمْ أَهْلُ السَّماواتِ
پر رحمت کرجو نماز میں میرے نگہبان ہیں جو تجھے پسند ہے کہ اس کے ذریعے ان کیلئے رحمت طلب کرتے ہیں آسمانوں والے
وَأَهْلُ الْاَرَضِینَ صَلاةً طَیِّبَةً کَثِیرَةً مُبارَکَةً زاکِیَةً نامِیَةً ظاهِرَةً باطِنَةً شَرِیفَةً
اور زمین والے پاکیزہ رحمت بہت زیادہ برکت والی نکھری ہوئی بڑھنے والی جو ظاہر و باطن میں عزت و قدر والی
فاضِلَةً تُبَیِّنُ بِها فَضْلَهُمْ عَلَی الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً الْوَسِیلَةَ
ہو کہ اس سے اگلوں پچھلوں پر ان کی بزرگی آشکار ہوجائے اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ذریعہ قرب،
وَالشَّرَفَ وَالْفَضِیلَةَ وَاجْزِهِ خَیْرَ مَا جَزَیْتَ نَبِیّاً عَنْ أُمَّتِهِ اَللّٰهُمَّ وَأَعْطِ مُحَمَّداً
بزرگی اور بلندی عطا کر اور ان کو امت کی طرف سے وہ بہترین بدلہ دے جو کسی نبی کو اس کی امت سے ملا اے معبود! حضرت محمد
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ مَعَ کُلِّ زُلْفَةٍ زُلْفَةً، وَمَعَ کُلِّ وَسِیلَةٍ وَسِیلَةً وَمَعَ کُلِّ فَضِیلَةٍ
کو ہر تقرب کے ساتھ ایک اور تقرب ہر ذریعے کے ساتھ ایک اور ذریعہ ہر بزرگی کے ساتھ ایک اور بزرگی
فَضِیلَةً، وَمَعَ کُلِّ شَرَفٍ شَرَفاً تُعْطِی مُحَمَّداً وَآلَهُ یَوْمَ الْقِیامَةِ أَ فْضَلَ مَا أَعْطَیْتَ
اور ہر بڑائی کے ساتھ ایک اور بڑائی دے اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام کو روز قیامت اس سے بڑا مقام دے جو اس روز تو اگلوں پچھلوں
أَحَداً مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ اَللّٰهُمَّ وَاجْعَلْ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ أَدْنَی
میں سے کسی کو عطا فرمائے گا اے معبود! حضرت محمد کو تمام نبیوں کی
الْمُرْسَلِینَ مِنْکَ مَجْلِساً وَأَفْسَحَهُمْ فِی الْجَنَّةِ عِنْدَکَ مَنْزِلاً وَأَ قْرَبَهُمْ إلَیْکَ وَسِیلَةً
نسبت خود سے زیادہ قریب کی نشست دے اور جنت میں انہیں بہت کشادہ مکان عطا کر اور اپنے قرب کا نزدیکی ذریعہ عنایت فرما
وَاجْعَلْهُ أَوَّلَ شافِعٍ، وَأَوَّلَ مُشَفَّعٍ، وَأَوَّلَ قائِلٍ، وَأَ نْجَحَ سائِلٍ، وَابْعَثْهُ الْمَقامَ
اور بنا دے ان کو پہلا شفیع اور جس کی شفاعت قبول ہوئی انہیں پہلا کلام کرنے والا بنا جس کا سوال پورا ہوا اور انہیں مقام محمود پر
الْمَحْمُودَ الَّذِی یَغْبِطُهُ بِهِ الْاَوَّلُونَ وَالاَْخِرُونَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَأَسْأَ لُکَ
فائز فرما جس سے سب اگلے پچھلے ان پر رشک کرنے لگیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے میں سوال کرتا ہوں
أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَسْمَعَ صَوْتِی وَتُجِیبَ دَعْوَتِی، وَتَتَجاوَزَ
تجھ سے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ میری آواز سن میری دعا قبول فرما میرے گناہوں سے
عَنْ خَطِیئَتِی، وَتَصْفَحَ عَنْ ظُلْمِی، وَتُنْجِحَ طَلِبَتِی، وَتَقْضِیَ حاجَتِی، وَتُنْجِزَ لِی
در گزر کر میرے ناروا عمل سے چشم پوشی فرمامیری ضرورت پوری کر میری حاجت بر لا اور مجھ سے کیا
مَا وَعَدْتَنِی، وَتُقِیلَ عَثْرَتِی، وَتَغْفِرَ ذُ نُوبِی، وَتَعْفُوَ عَنْ جُرْمِی، وَتُقْبِلَ عَلَیَّ وَلاَ
ہوا وعدہ پورا فرما میری لغزشیں معاف کرمیرے گناہ بخش دے میرا جرم معاف فرما میری طرف توجہ کر اور مجھ
تُعْرِضَ عَنِّی وَتَرْحَمَنِی وَلاَ تُعَذِّبَنِی، وَتُعافِیَنِی وَلاَ تَبْتَلِیَنِی، وَتَرْزُقَنِی مِنَ الرِّزْقِ
سے دھیان نہ ہٹا مجھ پر رحم کر اور عذاب نہ دے مجھے بچائے رکھ اور مصیبت میں نہ ڈال مجھے بہترین روزی عطا فرما
أَطْیَبَهُ وَأَوْسَعَهُ وَلاَ تَحْرِمَنِی، یَا رَبِّ وَاقْضِ عَنِّی دَیْنِی، وَضَعْ عَنِّی وِزْرِی،
اور اس میں وسعت دے اور مجھے محروم نہ کر اے پروردگار میرا قرض ادا کر دے اور مجھ سے بوجھ ہٹا دے اور مجھ پر وہ بار نہ ڈال
وَلاَ تُحَمِّلْنِی مَا لاَ طاقَةَ لِی بِهِ، یَا مَوْلایَ وَأَدْخِلْنِی فِی کُلِّ خَیْرٍ أَدْخَلْتَ فِیهِ
جو میری طاقت سے زیادہ ہو اے میرے مالک اور مجھے ہر اس نیکی میں داخل کر جس میں تو نے
مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ وَأَخْرِجْنِی مِنْ کُلِّ سُوئٍ أَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو داخل کیا اور مجھے ہر اس بدی سے دور رکھ جس سے تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دور رکھا تیری صلوات ہو ان پر اور
صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
انصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آلعليهالسلام پر اور سلام ہو ان پر اور انصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آلعليهالسلام پر اور خدا کی رحمت اور برکتیں ہوں
پهر تین مرتبه کهے : اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِیپهر کهے : اَللّٰهُمَّ
اے معبود ! میں پکارتا ہوں تجھے جیسا تونے حکم دیا بس میری دعا قبول کر جیساکہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا اے معبود! میں تجھ
إنِّی أَسْأَلُکَ قَلِیلاً مِنْ کَثِیرٍ مَعَ حاجَةٍ بِی إلَیْهِ عَظِیمَةٍ، وَغِناکَ عَنْهُ قَدِیمٌ، وَهُوَ عِنْدِی
سے مانگتا ہوں بہت میں سے تھوڑا جس کی مجھے بڑی ضرورت ہے اور تو اس سے ہمیشہ بے نیاز ہے اور وہ میرے نزدیک بہت ہے
کَثِیرٌ وَهُوَ عَلَیْکَ سَهْلٌ یَسِیرٌ فَامْنُنْ عَلَیَّ بِهِ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
اور تیرے لئے وہ بہت معمولی و آسان ہے پس وہ مجھے عطا فرما بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ایسا ہی ہو اے سب جہانوں کے رب ۔
( ۵ ) یہ دعا بھی پڑھے:اَلَّلهُمَّ اِنِّی اَدْعُوْکَ کَمَا اَمَرْتَنِیْ فَاسْتَجِبْ لِیْ کَمَا وَعَدْتَّنِیْ
اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیساکہ تو نے حکم دیا پس میری دعا قبول کر جیساکہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا ۔
چونکہ یہ دعا بہت طویل ہے لہذا اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے یہاں نقل نہیں کیا گیا ۔ جو شخص یہ دعا پڑھنا چاہے وہ کتاب اقبال یا زاد المعاد کی طرف رجوع کرے ۔
( ۶ ) کتاب مقنعہ میں شیخ مفیدرحمهالله نے ثقہ جلیل علی بن مہزیار سے روایت کی ہے کہ امام محمد تقی -نے فرمایا کہ ماہ رمضان کے دنوں اور راتوں میں اس دعا کو زیادہ سے زیادہ پڑھے :
یَا ذَا الَّذِی کانَ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، ثُمَّ خَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ، ثُمَّ یَبْقی وَیَفْنی کُلُّ شَیْئٍ
اے وہ جو ہر چیز سے پہلے موجود تھا پھر ہر ایک چیز کو پیدا کیا تو وہ جو باقی رہے گا اور ہر چیز فنا ہو جائے گی
یَا ذَا الَّذِی لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ، وَیَا ذَا الَّذِی لَیْسَ فِی السَّمٰوَاتِ الْعُلی، وَلاَ فِی
اے وہ جس کی مانند کوئی چیز نہیں اے وہ جو نہ بلند آسمانوں میں ہے اور نہ پست ترین
الْاَرَضِینَ السُّفْلی، وَلاَ فَوْقَهُنَّ وَلاَ تَحْتَهُنَّ وَلاَ بَیْنَهُنَّ إلهٌ یُعْبَدُ غَیْرُهُ، لَکَ الْحَمْدُ
زمینوں میں ہے اور نہ ان کے اوپر اور نہ ان کے نیچے ہے اور نہ درمیان میں ہے وہ معبود جس کے سوا کوئی معبود نہیں تیرے لئے حمد
حَمْداً لاَ یَقْوی عَلَی إحْصائِهِ إلاَّ أَ نْتَ، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلاةً لاَ
ہے وہ حمد کہ کوئی اسے شمار نہ کر سکے سوائے تیرے پس حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما
یَقْوی عَلَی إحْصائِها إلاَّ أَ نْتَ
وہ رحمت کہ کوئی اسے شمار نہ کر سکے سوائے تیرے ۔
( ۷ )بلد الامین و مصباح میں شیخ کفعمی نے سید بن باقی سے نقل کیا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے شب وروز میں یہ دعا پڑھے تو ﷲ اسکے چالیس سال کے گناہ معاف کردیگا اور وہ یہ دعا ہے:
اَللّٰهُمَّ رَبَّ شَهْرِ رَمَضانَ الَّذِی أَ نْزَلْتَ فِیهِ الْقُرْآنَ، وَافْتَرَضْتَ عَلَی عِبادِکَ فِیهِ
اے معبود ! اے ماہ رمضان کے پروردگار کہ جس میں تو نے قرآن نازل کیا اور تونے اپنے بندوں پر اس کے
الصِّیامَ، ارْزُقْنِی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرامِ فِی هذَا الْعامِ وَفِی کُلِّ عامٍ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ
روزے فرض کیئے کہ مجھے اپنے بیت الحرام کعبہ کا حج نصیب فرما اس سال میں اور آئیندہ سالوں میں اور میرے بڑے بڑے گناہ
الْعِظامَ فَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُها غَیْرُکَ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ
بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی انہیں نہیں بخش سکتا اے جلالت اور برزگیوں والے۔
( ۸ ) یہ ذکر جو محدث فیض نے خلاصۃ الاذکار میں نقل کیا ہے اس کا ہر روز سو مرتبہ ورد کرے :
سُبْحانَ الضَّارِّ النَّافِعِ سُبْحانَ الْقاضِی بِالْحَقِّ، سُبْحانَ الْعَلِیِّ الْاَعْلی سُبْحانَهُ
پاک ہے نقصان و نفع دینے والا پاک ہے وہ حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والا پاک ہے وہ بلند و برتر پاکیزگی ہے
وَبِحَمْدِهِ، سُبْحانَهُ وَتَعالی
اس کی حمد کے ساتھ پاکیزگی ہے اس کی اور بلندی۔
( ۹ ) مقنعہ میں شیخ مفیدرحمهالله نے فرمایا کہ ماہ رمضان کی سنتوں میں سے ایک حضرت رسول پر صلوٰۃ بھیجنا ہے کہ ہر روز سو مرتبہ صلوات بھیجے اور اگر اس سے زیادہ بھیجے تو یہ افضل عمل ہے :
دوسرا مطلب
ماہ رمضان میں شب وروز کے مخصوص اعمال
اس میں چند ایک امور ہیں:
( ۱ )ماہ رمضان کا چاند دیکھے بلکہ بعض علمائ نے تو ہلال رمضان کا دیکھنا واجب قرار دیا ہے۔
( ۲ )جب ہلا ل رمضان دیکھے تو ا س کی طرف اشارہ نہ کرے لیکن قبلہ رخ ہو کر ہاتھوں کو بلند کرے اور ہلا ل سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ کہے:
رَبِّی وَرَبُّکَ ﷲ رَبُّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَیْنا بِالْاَمْنِ وَالْاِیمانِ وَالسَّلامَةِ
میرا اور تیرا پروردگار ﷲ ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اے معبود! اس چاند کو ہمارے لیے امن وامان اور سلامتی
وَالْاِسْلامِ وَالْمُسارَعَةِ إلی مَا تُحِبُّ وَتَرْضی اَللّٰهُمَّ بارِکْ لَنا فِی شَهْرِنا هذَا،
وتسلیم کیساتھ طلوع کر اور پسندیدہ چیزوں کی طرف جلدی کرنے کا ذریعہ بنادے اے معبود! اس مہینے میں ہم پر خیروبرکت نازل فرما
وَارْزُقْنا خَیْرَهُ وَعَوْنَهُ، وَاصْرِفْ عَنَّا ضُرَّهُ وَشَرَّهُ وَبَلائَهُ وَفِتْنَتَهُ
اور ہمیں خیروبھلائی سے ہمکنار کر دے اس مہینے میں ہم سے نقصان تکلیف میصبت اور آزمائش کو دور رکھ
روایت ہوئی ہے کہ جب حضرت رسول ﷲ ماہ مبارک رمضان کا نیا چاند دیکھتے تو قبلہ رو ہو کر فرماتے:
اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَیْنا بِالْاَمْنِ وَالْاِیمانِ وَالسَّلامَةِ وَالْاِسْلامِ وَالْعافِیَةِ الْمُجَلَّلَةِ وَدِفاعِ
اے معبود اس چاند کو ہمارے لیے امن و امان اور صحت و سلامتی کے ساتھ طلوع کر اور اس ماہ کو ہمارے لیے بہترین آسائش ،
الْاَسْقامِ وَالْعَوْنِ عَلَی الصَّلاةِ وَالصِّیامِ وَالْقِیامِ وَتِلاوَةِ الْقُرْآنِ اَللّٰهُمَّ سَلِّمْنا
بیماریوں سے بچائو ، نماز روزے اور نفلی عبادات بجا لانے اور قرآن کی تلاوت کرنے میں مدد گار بنادے اے معبود ! ہمیں ماہ
لِشَهْرِ رَمَضانَ، وَتَسَلَّمْهُ مِنّا، وَسَلِّمْنا فِیهِ حَتَّی یَنْقَضِیَ عَنَّا شَهْرُ رَمَضانَ وَقَدْ
رمضان میں سلامت رکھ اور یہ پورا مہینہ نصیب فرما ہمیں تندرست رکھ جب تک ماہ رمضان گزر نہ جائے اور تو نے اس میں ہمیں
عَفَوْتَ عَنَّا وَغَفَرْتَ لَنا وَرَحِمْتَنا
معاف کیا ہو، بخش دیا ہو اور ہم پر مہربانی فرمائی ہو
امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ ہلال رمضان دیکھتے وقت یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ قَدْ حَضَرَ شَهْرُ رَمَضانَ وَقَدِ افْتَرضْتَ عَلَیْنا صِیامَهُ، وَأَ نْزَلْتَ فِیهِ الْقُرْآنَ
اے معبود! ماہ رمضان آ گیا اور تو نے ہم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں تو نے اس میں قرآن اتارا کہ جس میں
هُدیً لِلنّاسِ وَبَیِّناتٍ مِنَ الْهُدی وَالْفُرْقانِ اَللّٰهُمَّ أَعِنَّا عَلَی صِیامِهِ، وَتَقَبَّلْهُ مِنّا
لوگوں کے لیے ہدایت اور ہدایت کی دلیلیں اور یہ حق وبا طل کا فرق ہے اے معبود! روزے رکھنے میں ہماری مدد فرما اور انہیں قبول کر
وَسَلِّمْنا فِیهِ، وَسَلِّمْنا مِنْهُ، وَسَلِّمْهُ لَنا فِی یُسْرٍ مِنْکَ وَعافِیَةٍ، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ
ہمیں اس ماہ میں تندرست رکھ اس سے مستفید کر اس پورے مہینے میں ہمیں آسانی نصیب فرمااور آسائش دے بے شک تو ہر چیز پر
قَدِیرٌ، یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ
قدرت رکھتا ہے اے بڑے رحم والے اے مہربان
( ۳ )رمضان المبارک کا نیا چاند دیکھتے وقت صحیفہ کاملہ کی تینالیسویں دعا پڑھے، سیدابن طائو س نے روایت کی ہے کہ امام سجاد - جا رہے تھے کہ ہلال رمضان پر نظر پڑی تو آپ رک گئے اور یہ کہا
أَیُّهَا الْخَلْقُ الْمُطِیعُ، الدَّائِبُ السَّرِیعُ، الْمُتَرَدِّدُ فِی مَنازِلِ التَّقْدِیرِ، الْمُتَصَرِّفُ فِی
اے فرمانبردار مخلوق جلد تر حرکت کرنے والے، مقررہ منزلوں میں گردش کرنے والے، تدبیر کے آسمان میں اپنا اثر دکھانے والے،
فَلَکِ التَّدْبِیرِ آمَنْتُ بِمَنْ نَوَّرَ بِکَ الظُّلَمَ وَأَوْضَحَ بِکَ الْبُهَمَ وَجَعَلَکَ آیَةً مِنْ آیاتِ
میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوںجس نے تجھ سے تاریکی میں روشنی کی اور تجھ سے مدھم چیزوں کو واضح کیااور تجھے اپنی حکمرانی کی
مُلْکِهِ وَعَلامَةً مِنْ عَلاماتِ سُلْطانِهِ فَحَدَّ بِکَ الزَّمانَ وَامْتَهَنَکَ بِالْکَمالِ وَالنُّقْصانِ
نشانی قرار دیا اوراپنے اقتدار کی علامتوں میں سے ایک علامت بنایا ہے پس تجھ سے وقت کی حد مقر ر کی اورتیرے عروج وزوال ،
وَالطُّلُوعِ وَالاَُْ فُولِ وَالْاِنارَةِ وَالْکُسُوفِ فِی کُلِّ ذلِکَ أَ نْتَ لَهُ مُطِیعٌ، وَ إلی إرادَتِهِ
طلوع وغروب اور روشنی وتاریکی کی حالتیں قرار دیں کہ تو ان میں سے ہر حال میں اس کافرما نبردار اوراس کے ارادے پر جلد عمل
سَرِیعٌ، سُبْحانَهُ مَا أَعْجَبَ مَا دَ بَّرَ مِنْ أَمْرِکَ وَأَ لْطَفَ مَا صَنَعَ فِی شَأْنِکَ جَعَلَکَ
کرنے والا ہے وہ پاک ہے عجیب کام کرنے والا جو اس نے تیرے بارے میں کیا اور تجھے بڑی باریک بینی کے ساتھ بنایا
مِفْتاحَ شَهْرٍ حادِثٍ لاََِمْرٍ حادِثٍ فَأَسْأَلُ ﷲ رَبِّی وَرَبَّکَ وَخالِقِی وَخالِقَکَ وَمُقَدِّرِی
اس نے تجھے نئے مہینے کی کلیدنئے امر کا آغاز قرار دیا پس سوال کرتاہوں ﷲ سے جو میرا اور تیرا رب، میرااور تیرا خالق، میرا اور تیرا
وَمُقَدِّرَکَ، وَمُصَوِّرِی وَمُصَوِّرَکَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ یَجْعَلَکَ
اندازہ ٹھہرانے والا اور مجھے اور تجھے صورت دینے والا ہے کہ وہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرمائے اور یہ کہ تجھے بابرکت
هِلالَ بَرَکَةٍ لاَ تَمْحَقُهَا الْاَیَّامُ، وَطَهارَةٍ لاَ تُدَنِّسُهَا الاَْثامُ، هِلالَ أَمْنٍ مِنَ الاَْفاتِ،
چاند بنائے کہ جس کی برکت کو زمانہ ختم نہ کر سکے ایسی پاکیزگی عطا کرے جسے گناہ آلودہ نہ کریں تجھے ایسا چاند بنائے جو بلائوں سے مبرا ہو
وَسَلامَةٍ مِنَ السَّیِّئاتِ هِلالَ سَعْدٍ لاَ نَحْسَ فِیهِ وَیُمْنٍ لاَ نَکَدَ مَعَهُ وَیُسْرٍ لاَ یُمازِجُهُ
جس میں برائیوں سے بچائو ہو وہ چاند جس میں اچھائی ہو برائی نہ ہو جس میں نفع حاصل ہو نقصان نہ ہو جس میں آسانی ہو
عُسْرٌ وَخیْرٍ لاَ یَشُوبُهُ شَرٌّ هِلالَ أَمْنٍ وَ إیمانٍ وَ نِعْمَةٍ وَ إحْسانٍ وَسَلامَةٍ وَ إسْلامٍ
تنگی نہ آئے جس میں بھلائی ہو برا ئی نہ ہو تجھے وہ چاند بنائے کہ جس میں آرام وسہولت، نعمت واحسان، سلامتی اور تسلیم حاصل رہے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنا مِنْ أَرْضیٰ مَنْ طَلَعَ عَلَیْهِ وَأَزْکی مَنْ
اے معبود ! محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور قرار دے ہمیں پسندیدہ لوگوںمیںجن پر یہ چاند طلوع ہوا اور پاکیزہ لوگوں
نَظَرَ إلَیْهِ، وَأَسْعَدَ مَنْ تَعَبَّدَ لَکَ فِیهِ، وَوَفِّقْنَا اَللّٰهُمَّ فِیهِ لِلطَّاعَةِ
میں جنہوں نے اسے دیکھا اور نیک لوگوں میں جو اس میں تیری عبادت کریں گے اے معبود! توفیق دے ہمیں اس چاند میں عبادت
وَالتَّوْبَةِ ، وَاعْصِمْنا فِیهِ مِنَ الاَْثامِ وَالْحَوْبَةِ، وَأَوْزِعْنا فِیهِ شُکْرَ النِّعْمَةِ،
کرنے اور توبہ کرنے کی اور اس میں ہمیں گناہوںاور برائیوں سے بچا اور نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی ہمت دے اس ماہ میں
وَأَلْبِسْنا فِیهِ جُنَنَ الْعافِیَةِ، وَأَ تْمِمْ عَلَیْنا بِاسْتِکْمالِ طاعَتِکَ فِیهِ الْمِنَّةَ، إنَّکَ أَ نْتَ
حفاظت کی زرہیں پہنادے اور ہمارا یہ مہینہ بندگی میں کمال حاصل کرنے میں گزار اور احسان فرما بے شک تو احسان
الْمَنّانُ الْحَمِیدُ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّیِّبِینَ، وَاجْعَلْ لَنا فِیهِ عَوْناً مِنْکَ
کرنے والا اور تعریف والا ہے اور خدا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پررحمت فرمائے جو پاکیزہ تر ہیں اور اس ماہ میں ہماری مدد فرما اس امر میں
عَلَی مَا نَدَ بْتَنا إلَیْهِ مِنْ مُفْتَرَضِ طاعَتِکَ وَتَقَبَّلْها إنَّکَ الْاَکْرَمُ مِنْ کُلِّ کَرِیمٍ وَالْاَرْحَمُ
جس کا حکم تو نے دیا ہے یعنی عبادت ہم پر فرض کی ہے اور اسے قبول فرما بے شک توہر مہربان سے زیادہ مہربان اور ہر رحم والے سے
مِنْ کُلِّ رَحِیمٍ، آمِینَ آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
بڑا رحم والا ہے ایسا ہی ہے اے جہانوں کے پروردگار۔
اعمال شب اول ماہ رمضان
( ۴ )ماہ رمضان کی چاند رات میں اپنی بیوی سے مجامت کرے کہ یہ اس ماہ مبارک کی خصوصیت ہے ورنہ دیگر مہینوں کی پہلی رات میں جماع کرنا مکروہ ہے۔
( ۵ )ماہ رمضان کی شب اول میں غسل کرے کیونکہ روایت ہوئی ہے کہ جوشخص اس رات غسل کرے توآئندہ رمضان تک خارش وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔
( ۶ )اس رات بہتی ہو ئی نہر میں غسل کرے اور تیس چلو پانی سر پر ڈالے تاکہ آنے والے رمضان تک باطنی پاکیزگی کا حامل رہے۔
( ۷ )رمضان المبارک کی شب اول میںامام حسین -کی ضریح مقدس کی زیارت کرے تاکہ اس کے گناہ جھڑ جائیں اور اس کو اس سال میں عمرہ وحج کرنیو الے تما م افراد جتنا ثواب حاصل ہو۔
( ۸ )اس رات سے ہزار رکعت نماز کی ابتدائ کرے کہ جس کی ترکیب ان اعما ل کی قسم دوم کے آخر میں ذکر ہوئی ہے ۔
( ۹ )اس رات دورکعت نماز پڑھے کہ ہررکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ انعام کی تلاوت کرے اور سوال کرے کہ خدا کفایت کرے اس کے لئے اور جس سے ڈرتا ہو اس سے محفوظ رکھے
(۱۰)دعااَللَّهُمَّ اِنَّ هَذَاالشَّهْرَالْمُبَارَکَ پڑھے کہ جو ماہ شعبان کی آخری شب کے اعمال میں ذکر ہو چکی ہے۔
( ۱۱ )نماز مغرب کے بعد اپنے ہاتھ بلند کرکے وہ دعا پڑھے جو امام جواد - سے وارد ہے اور اقبال میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ یَا مَنْ یَمْلِکُ التَّدْبِیرَ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، یَا مَنْ یَعْلَمُ خائِنَةَ الْاَعْیُنِ
اے معبود! اے وہ جو نظام عالم کا مالک ہے اور وہی ہے جو ہرچیز پرقدرت رکھتا ہے اے وہ جو جانتا ہے آنکھوں کی خاینت کو سینوں
وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ وَتُجِنُّ الضَّمِیرُ وَهُوَ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنا مِمَّنْ نَویٰ
میں چھپی ہوئی باتوں کواور باطن میں ٹھہری خواہشوں کو اور وہ باریک بینخبردار ہے اے معبود! ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو نیت
فَعَمِلَ، وَلاَ تَجْعَلْنا مِمَّنْ شَقِیَ فَکَسِلَ ، وَلاَ مِمَّنْ هُوَ عَلَی غَیْرِ عَمَلٍ یَتَّکِلُ اَللّٰهُمَّ
باندھتے، پھر عمل کرتے ہیں ہمیں بدبخت اور سست لوگوں میں سے نہ بنانہ ان میں سے جو بے عملی پر تکیہ کر کے بیٹھے رہتے ہیں اے معبود!
صَحِّحْ أَبْدانَنا مِنَ الْعِلَلِ، وَأَعِنّا عَلَی مَا افْتَرَضْتَ عَلَیْنا مِنَ الْعَمَلِ، حَتّی یَنْقَضِیَ
ہمارے بدنوں کو بیماریوں سے بچائے رکھ اور جو اعمال تو نے ہم پر واجب کیے ہیں ان کی ادائیگی میں ہماری مدد فرما یہاں تک کہ تیرا
عَنَّا شَهْرُکَ هذَا وَقَدْ أَدَّیْنا مَفْرُوضَکَ فِیهِ عَلَیْنا اَللّٰهُمَّ أَعِنّا عَلَی صِیامِهِ، وَوَفِّقْنا
یہ مہینہ بیت جائے اور ہم نے اس ماہ میں تیرے واجبات ادا کر لیے ہوں جو ہم پر عائد تھے اے معبود! اس ماہ کے روزے رکھنے میں
لِقِیامِهِ، وَنَشِّطْنا فِیهِ لِلصَّلاةِ وَلاَ تَحْجُبْنا مِنَ الْقِرائَةِ وَسَهِّلْ لَنا فِیهِ إیتائَ الزَّکاةِ
مدد فرما نمازیں پڑھنے کی توفیق دے اور نماز میں ہمیں سروردے ہمیں قرآن پڑھنے سے دور نہ رکھ اور اس ماہ میں زکوۃ دینا ہمارے لیے آسان قرار دے
اَللّٰهُمَّ لاَ تُسَلِّطْ عَلَیْنا وَصَباً وَلاَ تَعَباً وَلاَ سَقَماً وَلاَ عَطَباً اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنا الْاِفْطارَ
اے معبود! اس مہینے میں ہم پر تھکاوٹ، تنگی، بیماری اور بے ہمتی کو مسلط نہ ہونے دے اے معبود! اس ماہ میں ہمیں اپنے رزق حلال
مِنْ رِزْقِکَ الْحَلالِ اَللّٰهُمَّ سَهِّلْ لَنا فِیهِ مَا قَسَمْتَهُ مِنْ رِزْقِکَ، وَیَسِّرْ مَا قَدَّرْتَهُ مِنْ
سے افطاری نصیب فرما اے معبود! اس ماہ میں وہ رزق ہمیں آسانی سے دے جو تو نے مقرر کر رکھا ہے اور جو امرتونے طے کیاہے وہ
أَمْرِکَ، وَاجْعَلْهُ حَلالاً طَیِّباً نَقِیَّاً مِنَ الاَْثامِ، خالِصاً مِنَ الاَْصارِ وَالْاَجْرامِ
ہمارے لیے آسان بنا دے اور اس ماہ کو ہمارے لیے حلال، پاکیزہ اور پاک تر رکھ کہ اس میں ہم گناہوں، سزائوں اور جرموں سے بچے رہیں
اَللّٰهُمَّ لاَ تُطْعِمْنا إلاَّ طَیِّباً غَیْرَ خَبِیثٍ وَلاَ حَرامٍ، وَاجْعَلْ رِزْقَکَ لَنا حَلالاً
اے معبود! اس مہینے میں ہمیں وہی غذا دے جو پاک وپاکیزہ ہو جس میں حرام نہ ملا ہو اور ہمارے لیے اپنا حلال رزق قرار دے جس
لاَ یَشُوبُهُ دَنَسٌ وَلا أَسْقامٌ، یَا مَنْ عِلْمُهُ بِالسِّرِّ کَعِلْمِهِ بِالْاِعْلانِ،
میں بیماری وگندگی کاعنصر شامل نہ ہو اے وہ ذات جس کاعلم پوشیدہ چیزوں کے بارے میں ایسا ہی ہے جیسااشیائ کے بارے باتوں میں ہے
یَا مُتَفَضِّلاً عَلَی عِبادِهِ بِالْاِحْسانِ یَا مَنْ هُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَبِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیمٌ
اے اپنے بندوں پر احسان میں اضافہ کرنے والے اے وہ کہ جو ہرچیزپر قدرت رکھتا ہے اور ہرچیز کے متعلق علم
خَبِیرٌ أَلْهِمْنا ذِکْرَکَ وَجَنِّبْنا عُسْرَکَ وَأَنِلْنا یُسْرَکَ وَاهْدِنا لِلرَّشادِ
وخبر رکھتا ہے اپنے ذکر کی طرف ہماری رہنمائی فرما، ہمیں سختی سے بچائے رکھ اور آسانی سے ہمکنار کر دے ہمیں حق کی طرف لے چل
وَوَفِّقْنا لِلسَّدادِ وَاعْصِمْنا مِنَ الْبَلایا، وَصُنَّا مِنَ الْاَوْزارِ وَالْخَطایا، یَا مَنْ لاَ یَغْفِرُ
اور راستی کی توفیق دے ہمیں مصیبتوں سے محفوظ فرما اور ہم کو خطائوں اور غلطیوں سے بچائے رکھ اے وہ جس کے سوا کوئی گناہوں کا
عَظِیمَ الذُّنُوبِ غَیْرُهُ وَلا یَکْشِفُ السُّوئَ إلاَّ هُوَ یَا أَرْحَمَ الرّاحِمِینَ وَأَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ
بخشنے والا نہیں اور نہ کوئی برائی کو دور کرنے والا ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور سب سے بڑھ کر عطاوبخشش کرنے والے
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ الطَّیِّبِینَ، وَاجْعَلْ صِیامَنا مَقْبُولاً، وَبِالْبِرِّ وَالتَّقْوی
حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کے اہلبیتعليهالسلام پر رحمت فرما جو پاکیزہ تر ہیں ہمارے رمضان کے روزے قبول فرما اور ہمیں نیکی وپرہیزگاری کی
مَوْصُولاً، وَکَذلِکَ فَاجْعَلْ سَعْیَنا مَشْکُوراً، وَقِیامَنا مَبْرُوراً، وَقُرْآنَنا مَرْفُوعاً،
منزل پرپہنچا اور اسی طرح ہماری کوششوں کو پسندیدہ قرار دے ہماری نماز وقیام کومنظور فرماہماری تلاوتِ قرآن کو اوپر لے جا
وَدُعائَنا مَسْمُوعاً، وَاهْدِنا لِلْحُسْنی، وَجَنِّبْنا الْعُسْری، وَیَسِّرْنا لِلْیُسْری، وَأَعْلِ
ہماری دعائیں قبول کر اور ہمیں نیکی کی طرف لے چل ہمیں سختیوں سے بچا اور آسانیوں سے بہرہ ور فرما ہمارے
لَنَا الدَّرَجاتِ، وَضاعِفْ لَنَا الْحَسَناتِ، وَاقْبَلْ مِنَّا الصَّوْمَ وَالصَّلاةَ، وَاسْمَعْ مِنَّا
درجے بلند کر دے اور ہماری نیکیوں میں اضافہ فرماہمارے روزوں اور نمازوں کو قبول فرما اور ہماری حاجتوں
الدَّعَواتِ وَاغْفِرْ لَنَا الْخَطِیئاتِ وَتَجاوَزْ عَنَّا السَّیِّئاتِ وَاجْعَلْنا مِنَ الْعامِلِینَ
کو پورا فرما ہماری خطائیں معاف فرما اور ہمارے گناہوں کو بخش دے ہمیں عمل کرنے والوں اور کامیاب ہونے والوں
الْفَائِزِینَ وَلاَ تَجْعَلْنا مِنَ الْمَغْضُوبِ عَلَیْهِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ، حَتَّی یَنْقَضِیَ شَهْرُ
میں قرار دے اور ہمیں ان میں قرار نہ دے جن پر غضب ہوا نہ ان میں جو گمراہی میں پڑگئے یہاں تک کہ ہمارا یہ رمضان
رَمَضانَ عَنَّا وَقَدْ قَبِلْتَ فِیهِ صِیامَنا وَقِیامَنا، وَزَکَّیْتَ فِیهِ أَعْمالَنا، وَغَفَرْتَ فِیهِ
گزر جائے جب کہ تو نے ہمارے روزے اور ہماری نمازیں قبول کر لی ہوں اس میں ہمارے اعمال خالص کیے ہوں
ذُ نُوبَنا، وَأَجْزَلْتَ فِیهِ مِنْ کُلِّ خَیْرٍ نَصِیبَنا، فَ إنَّکَ الْاِلهُ الْمُجِیبُ، وَالرَّبُّ الْقَرِیبُ،
ہمارے گناہ بخش دیے ہوں اور اس ماہ میں ہمیں نیکیوں کا بڑا حصہ دیا ہو بے شک تو معبود ہے قبول کرنے والا اور تو رب ہے
وَأَ نْتَ بِکُلِّ شَیْئٍ مُحِیطٌ
جو نزدیک ہے اور تونے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔
(۱۲)یہ دعا پڑھے جو امام جعفر صادق -سے کتاب اقبال میں منقول ہے :
اَللّٰهُمَّ رَبَّ شَهْرِ رَمَضانَ، مُنَزِّلَ الْقُرْآنِ، هذَا شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِی أَنْزَلْتَ فِیهِ
اے معبود: اے ماہ رمضان کے پروردگار اے قرآن کے اتارنے والے یہ ماہ رمضان ہے کہ جس میں تو نے قرآن کریم
الْقُرْآنَ وَأَ نْزَلْتَ فِیهِ آیاتٍ بَیِّناتٍ مِنَ الْهُدی وَالْفُرْقانِ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنا صِیامَهُ، وَأَعِنَّا
کو نازل کیا اور اس میں ہدایت کی روشن نشانیاں نازل کیں اور یہ حق وباطل کا فرق ہے اے معبود! ہمیں اسکے روزے نصیب کر اور اس میں
عَلَی قِیامِهِ اَللّٰهُمَّ سَلِّمْهُ لَنا، وَسَلِّمْنا فِیهِ، وَتَسَلَّمْهُ مِنَّا فِی یُسْرٍ مِنْکَ
عبادت کرنے کی توفیق دے اے معبود! ہمیں پورا مہینہ نصیب کر اور اس میں سلامتی عطا فرما اسے ہم سے اپنی دی ہوئی آسانی اور
وَمُعافاةٍ، وَاجْعَلْ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ مِنَ الْاَمْرِ الْمَحْتُومِ وَفِیما تَفْرُقُ مِنَ الْاَمْرِ
عافیت کے ساتھ قبول کر اور جن یقینی کاموں میں تیری بست وکشاد طے کی جاتی ہے اور جن پر حکمت معاملوں کے فیصلے تو
الْحَکِیمِ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ الْقَضائِ الَّذِی لاَ یُرَدُّ وَلاَ یُبَدَّلُ أَنْ تَکْتُبَنِی مِنْ
شب قدر میں کرتا ہے اور وہ ایسے فیصلے ہیں کہ جن میں کوئی ردوبدل نہیں ہوتا ان کے ضمن میں مجھے اپنے بیت الحرام کعبہ کے ان
حُجَّاجِ بَیْتِکَ الْحَرامِ الْمَبْرُورِ حَجُّهُمُ الْمَشْکُورِ سَعْیُهُمُ الْمَغْفُورِ ذُنُوبُهُمُ الْمُکَفَّرِ
حاجیوں میں لکھ دے کہ جن کا حج قبول ہے، ان کی کوشش پسندیدہ، ان کے گناہ بخشے ہوئے اور ان کی برائیاں مٹا دی گئی ہیں
عَنْهُمْ سَیِّئاتُهُمْ وَاجْعَلْ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ أَنْ تُطِیلَ لِی فِی عُمْرِی، وَتُوَسِّعَ عَلَیَّ
اور جن معاملوں کی تو بست وکشاد کرتا ہے ان مین میری عمر طویل کر دے اور میرے لیے رزق حلال میں
مِنَ الرِّزْقِ الْحَلالِ
کشادگی وفراخی قرار دے۔
( ۳۱ )صیحفہ کاملہ کی چوالیسویں دعا پڑھے:
( ۴۱ )وہ دعا پڑھے جو سید نے اقبال میں نقل فرمائی ہے اور وہ بہت طویل ہے اس کا پہلا جملہ یہ ہے:
اَللَّهُمَّ اِنَّ هَذَا شَهْرُ رَمَضَانَ
اے معبود! بیشک یہ رمضان کا مہینہ ہے
( ۵۱ )روایت ہے کہ جب ماہ رمضان کا آغاز ہوتا تو حضور اسکی شب اول میں یہ دعا پڑھتے تھے:
اَللّٰهُمَّ إنَّهُ قَدْ دَخَلَ شَهْرُ رَمَضانَ اَللّٰهُمَّ رَبَّ شَهْرِ رَمَضانَ الَّذِی أَنْزَلْتَ فِیهِ الْقُرْآنَ
اے معبود! یقینًا رمضان کا مہینہ آگیا ہے اے معبود! اے ماہ رمضان کے پروردگار جس میں تو نے قرآن کریم نازل کیا
وَجَعَلْتَهُ بَیِّناتٍ مِنَ الْهُدی وَالْفُرْقانِ اَللّٰهُمَّ فَبارِکْ لَنا فِی شَهْرِ رَمَضانَ وَأَعِنَّا عَلَی
اور تو نے اس کوہدایت کی نشانیاں اور حق وباطل میں فرق کرنیوالا بنایا اے معبود! پس ماہ رمضان میں ہم پر برکت ناز ل فرما اور اس
صِیامِهِ وَصَلَواتِهِ، وَتَقَبَّلْهُ مِنَّا
میں روزوں، نمازوں کے لیے ہماری مد د کر اور انہیں ہم سے قبول فرما
( ۶۱ )یہ روایت بھی ہوئی ہے کہ حضرت رسول ﷲ ماہ رمضان کی پہلی رات میں یہ دعا پڑھتے تھے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی أَکْرَمَنا بِکَ أَیُّهَا الشَّهْرُ الْمُبارَکُ اَللّٰهُمَّ فَقَوِّنا عَلَی صِیامِنا وَقِیامِنا
حمد ہے اس خدا کیلئے جس نے تیرے ذریعے سے ہمیں عزت دی اے برکت والے مہینے اے معبود! پس ہمیں قوت دے روزوں اور نمازوں کیلئے
وَثَبِّتْ أَقْدامَنا وَانْصُرْنا عَلَی الْقَوْمِ الْکافِرِینَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْواحِدُ فَلا وَلَدَ لَکَ وَأَنْتَ
اور ہمارے قدم جما دے اور کافر گروہ کے مقابل ہماری نصرت فرما اے معبود! تویکتا ہے پس تیرا کوئی بیٹا نہیں ہے اور تو
الصَّمَدُ فَلا شِبْهَ لَکَ وَأَنْتَ الْعَزِیزُ فَلا یُعِزُّکَ شَیْئٌ وَأَنْتَ الْغَنِیُّ وَأَنَا الْفَقِیرُ وَأَنْتَ
بے نیاز ہے پس تیری کوئی مثال نہیں تو صاحب عزت ہے پس کوئی چیز تجھے عزت نہیں دیتی اور تو مالکِ ثروت ہے اور میں محتاج
الْمَوْلی وَأَنَا الْعَبْدُ وَأَنْتَ الْغَفُورُ وَأَنَا الْمُذْنِبُ وَأَنْتَ الرَّحِیمُ وَأَنَا الْمُخْطئُ وَأَنْتَ
ہوں تو آقا ہے اور میں غلام ہوں تو بخشنے والا ہے اور میں گناہگار ہوں تو رحم والا ہے اور میں خطا کار ہوں تو
الْخالِقُ وَأَنَا الْمَخْلُوقُ وَأَنْتَ الْحَیُّ وَأَنَا الْمَیِّتُ أَسْأَلُکَ بِرَحْمَتِکَ أَنْ تَغْفِرَ لِی
خلق کرنے والا ہے اور میں مخلوق ہوں اور تو زندہ ہے اور میں مردہ ہوں بواسطہ تیری رحمت کے سوالی ہوں کہ مجھے بخش دے مجھ پر
وَتَرْحَمَنِی وَتَتَجاوَزَ عَنِّی إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
رحم فرما اور مجھ سے درگزر کر بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
( ۷۱ )اس کتاب کے باب اول میں ذکر ہو چکا ہے کہ رمضان کی پہلی رات میں دعائے جوشن کبیر کا پڑھنا مستحب ہے:
( ۸۱ )دعائے حج پڑھے کہ جو اس مہینے کے مشترکہ اعمال میں ذکر ہو چکی ہے۔
( ۹۱ )جب ماہ رمضان آئے تو اس مہینے میں بہت زیادہ قرآن کی تلاوت کرے اور روایت ہے کہ امام جعفر صادق -تلاوت شروع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھتے تھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَشْهَدُ أَنَّ هذَا کِتابُکَ الْمُنْزَلُ مِنْ عِنْدِکَ عَلَی رَسُو لِکَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِﷲ
اے معبود! میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ تیری کتاب (قرآن)ہے جو تیری جانب سے نازل ہوئی ہے تیرے آخری رسول محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن عبدﷲ
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَکَلامُکَ النَّاطِقُ عَلَی لِسانِ نَبِیِّکَ جَعَلْتَهُ هادِیاً مِنْکَ إلی
پر اور یہ تیرا کلام ہے جو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان سے ظاہر ہوا ہے جسے تونے اپنی طرف سے اپنی مخلوق کا ہادی
خَلْقِکَ وَحَبْلاً مُتَّصِلاً فِیما بَیْنَکَ وَبَیْنَ عِبادِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی نَشَرْتُ عَهْدَکَ وَکِتابَکَ
بنایا ہے اور یہ وہ رسی ہے جو تیرے بندوں کی درمیان تنی ہوئی ہے اے معبود ! بے شک میں نے تیرے حکم نامے اور تیری کتاب کو کھولا ہے
اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ نَظَرِی فِیهِ عِبادَةً، وَقِرائَتِی فِیهِ فِکْراً، وَفِکْرِی فِیهِ اعْتِباراً وَاجْعَلْنِی
اے معبود! پس اس پر میرے نظر کرنے کو عبادت اور میری تلاوت کو اس پر غور اور میرے اس غور کو نصیحت قرار دے اور مجھے ان
مِمَّنْ اتَّعَظَ بِبَیانِ مَواعِظِکَ فِیهِ، وَاجْتَنَبَ مَعاصِیَکَ، وَلاَ تَطْبَعْ عِنْدَ قِرائَتِی عَلَی
لوگوں میں رکھ جو اس میں تیرے بیان سے نصیحت پکڑتے ہیں اور تیری نافرمانیوں سے درکنار رہتے ہیں اور اسکی تلاوت کے وقت
سَمْعِی، وَلاَ تَجْعَلْ عَلَی بَصَرِی غِشاوَةً، وَلاَ تَجْعَلْ قِرائَتِی قِرائَةً لاَ تَدَبُّرَ فِیها
میرے کان بند نہ کر میری آنکھوں پر پردہ نہ ڈال اور میری تلاوت کو ایسی تلاوت نہ بنا جس میں غور وفکر نہ ہو
بَلِ اجْعَلْنِی أَتَدَ بَّرُ آیاتِهِ وَأَحْکامَهُ آخِذاً بِشَرائِعِ دِینِکَ وَلاَ تَجْعَلْ نَظَرِی فِیهِ غَفْلَةً
بلکہ مجھے ایسا بنادے کہ میں اسکی آیتوںاور احکام پر غور کروں اور تیرے دین کے اصول معلوم کروں اور اس پر میری نظر کو بے توجہی
وَلاَ قِرائَتِی هَذَراً، إنَّکَ أَ نْتَ الرَّؤُوفُ الرَّحِیمُ
اورمیری تلاوت کو بے فائدہ نہ بنا بے شک تو بہت مہربان، بڑے رحم والا ہے۔
نیز آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم تلاوت کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی قَدْ قَرَأْتُ مَا قَضَیْتَ مِنْ کِتابِکَ الَّذِی أَ نْزَلْتَهُ عَلَی نَبِیِّکَ الصَّادِقِ صَلَّی
اے معبود میں نے تیری کتاب میں سے اتنا پڑھا جتنا تو نے چاہا کہ جسے تو نے نازل فرمایا اپنے سچے نبی پر،
ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ فَلَکَ الْحَمْدُ رَبَّنا اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی مِمَّنْ یُحِلُّ حَلالَهُ وَیُحَرِّمُ حَرامَهُ
پس حمد تیرے ہی لیے ہے اے ہمارے رب اے معبود! مجھے ان لوگوں میں رکھ جنہوں نے قرآن کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام گردانا
وَیُؤْمِنُ بِمُحْکَمِهِ وَمُتَشابِهِهِ وَاجْعَلْهُ لِی أُنْساً فِی قَبْرِی وَأُنْساً فِی حَشْرِی
اور اس کی مستقل اور ذومعنی آیتوں پر ایمان لائے اور قرآن کو میری قبر کا ہمدم اور میرے حشر کاساتھی بنا دے اور مجھے
وَاجْعَلْنِی مِمَّنْ تُرَقِّیهِ بِکُلِّ آیَةٍ قَرَأَها دَرَجَةً فِی أَعْلَی عِلِّیِّینَ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
ان لوگوں میں رکھ کہ جو ہر آیت کے پڑھنے سے ایک ایک درجہ بلند ہوتے جاتے ہیں بلندتر جنت میں ایساہو اے جہانوں کے رب
پہلی رمضان کادن
اس میں چند اعمال ہیں :
( ۱ )آب جاری میں غسل کرنا اور تیس چلوپانی سر میں ڈالنا کہ یہ سال بھر تک تمام دردوں اور بیماریوں سے محفوظ رہنے کا موجب ہے۔
( ۲ )ایک چلو عرق گلاب اپنے چہرے پر ڈالے تاکہ ذلت وپریشانی سے نجات ہو اور تھوڑا سا عرق گلاب سرمیں ڈالے کہ سال بھر سرسام سے بچا رہے۔
( ۳ )اول ماہ کی دورکعت نماز پڑھے اور صدقہ دے۔
( ۴ )دورکعت نماز پڑھے جس کی پہلی رکعت میں سورئہ الحمدکے بعد سورئہ انافتحنا اوردوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد کوئی سورہ پڑھے تاکہ خدائے تعالیٰ اس سال تمام برائیوں کو اس سے دور رکھے اور آخر سال تک اس کی حفاظت کرے۔
( ۵ )طلوع فجر کے بعدیہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ قَدْ حَضَرَ شَهْرُ رَمَضانَ وَقَدِ افْتَرَضْتَ عَلَیْنا صِیامَهُ، وَأَ نْزَلْتَ فِیهِ الْقُرْآنَ
اے معبود! ماہ رمضان آگیا ہے اور تونے اس کے روزے ہم پر فرض کیے ہیں اس میں تو نے قرآن اتارا ہے
هُدیً لِلنّاسِ وَبَیِّناتٍ مِنَ الْهُدی وَالْفُرْقانِ اَللّٰهُمَّ أَعِنَّا عَلَی صِیامِهِ، وَتَقَبَّلْهُ مِنّا
جو لوگوں کیلئے ہدایت اور ہدایت کی نشانیاں اور حق وباطل میں فرق کرتا ہے اے معبود! اسکے روزے رکھنے میں مدد کر اور اسے ہم سے
وَتَسَلَّمْهُ مِنّا، وَسَلِّمْهُ لَنا فِی یُسْرٍ مِنْکَ وَعافِیَةٍ، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
قبول فرما اسکو ہم سے پورا لے اور ہمارے لیے پورا فرما اپنی طرف سے آسانی و سہولت کے ساتھ بیشک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔
( ۶ )صحیفہ کاملہ کی چوالیسویں دعا اگر اس ماہ کی پہلی رات میں نہ پڑھ سکے توآج کے دن میں پڑھے:
( ۷ )زادلمعاد میں علامہ مجلسیرحمهالله نے فرمایا کہ شیخ کلینیرحمهالله وشیخ طوسیرحمهالله اور دیگر بزرگوں نے معتبر سند کیساتھ روایت کی ہے کہ امام موسٰی کاظم -نے فرمایا: ماہ مبارک رمضان میں اول سال یعنی اس ماہ کے پہلے دن جو شخص دکھاوے یا کسی غلط ارادے کے بغیر محض رضائ الٰہی کیلئے اس دعا کو پڑھے تو خدا سال بھر تک فتنہ وفساد اور بدن کو ضرر پہنچانے والی ہر آفت سے محفوظ رکھے گا اور وہ دعایہ ہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی دانَ لَهُ کُلُّ شَیْئٍ وَبِرَحْمَتِکَ الَّتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ
اے معبود! میں سوال کرتاہوں تجھ سے تیرے نام کے واسطے سے ہر چیز جس کی مطیع ہے اور تیری رحمت کے واسطے سے جو ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے
وَبِعَظَمَتِکَ الَّتِی تَواضَعَ لَها کُلُّ شَیْئٍ وَبِعِزَّتِکَ الَّتِی قَهَرَتْ کُلَّ شَیْئٍ وَبِقُوَّتِکَ الَّتِی
تیری بڑائی کے واسطے سے جس کے آگے ہر چیز جھکی ہوئی ہے تیری عزت کے واسطے سے جو ہر چیز پر حاوی ہے تیری قوت کے واسطے سے
خَضَعَ لَها کُلُّ شَیْئٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتِی غَلَبَتْ کُلَّ شَیْئٍ، وَبِعِلْمِکَ الَّذِی أَحاطَ بِکُلِّ
جسکے آگے ہر چیز سرنگوں ہے تیرے اقتدار کے واسطے سے کے جو ہر چیز پر غالب ہے اور سوالی ہوں تیر ے علم کے واسطے سے جو ہر چیز کو گھیرے
شَیْئٍ، یَا نُورُ یَا قُدُّوسُ، یَا أَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، وَیَا باقِیاً بَعْدَ کُلِّ شَیْئٍ، یَا ﷲ
ہوئے ہے اے نور اے پاکیزہ تر اے اول جو ہرچیز سے پہلے تھا اے وہ جو ہرچیزکے بعد باقی رہے گا اے ﷲ،
یَا رَحْمنُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ وَاغْفِرْلِیَ
اے رحمن، محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میرے وہ گناہ معاف فرما جو نعمتوں کو پلٹا دیتے ہیں اور میرے وہ
الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ النِّقَمَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَقْطَعُ الرَّجائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ
گناہ معاف فرما جو عذاب کا باعث ہیں میرے وہ گناہ معاف فرما جو امید رحمت کو توڑتے ہیں میرے وہ گناہ معاف فرما
الَّتِی تُدِیلُ الْاَعْدائَ وَاغْفِرْلِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَرُدُّ الدُّعائَ وَاغْفِرْلِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی
جو مجھ پردشمنوں کو چڑھا لاتے ہیں میرے وہ گناہ معاف فرما جو دعا قبول نہیں ہونے دیتے میرے وہ گناہ معاف فرما جن کی
یُسْتَحَقُّ بِها نُزُولُ الْبَلائِ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَحْبِسُ غَیْثَ السَّمائِ، وَاغْفِرْلِیَ
وجہ سے مصیبت آن پڑتی ہے میرے وہ گناہ معاف فرما جو آسمان سے بارش کو روکتے ہیں میرے وہ گناہ
الذُّنُوبَ الَّتِی تَکْشِفُ الْغِطائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُعَجِّلُ الْفَنائَ، وَاغْفِرْ لِیَ
معاف فرما جن سے پردہ دری ہوتی ہے ہے میرے وہ گناہ معاف فرما جو جلد زندگی ختم کر دیتے ہیں میں، میرے وہ گناہ
الذُّنُوبَ الَّتِی تُورِثُ النَّدَمَ، وَاغْفِرْلِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَهْتِکُ الْعِصَمَ وَأَلْبِسْنِی دِرْعَکَ
معاف فرما جو شرمندگی کی وجہ ہیں اور میرے وہ گنا ہ معاف فرما جو پردہ چاک کرتے ہیں اور مجھے اپنی و ہ پائیدار زرہ
الْحَصِینَةَ الَّتِی لاَ تُرامُ وَعافِنِی مِنْ شَرِّ مَا أُحاذِرُ بِاللَّیْلِ وَالنَّهارِ فِی مُسْتَقْبَلِ سَنَتِی هذِهِ
پہنا دے جسے کوئی اتار نہ سکے مجھے اس آنے والے سال کے شب وروز میں جن چیزوں کا ڈر ہے ان کے شر سے حفاظت میں رکھ
اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاواتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْاَرَضِینَ السَّبْعِ وَمَا فِیهِنَّ وَمَا بَیْنَهُنَّ وَرَبَّ
اے معبود! اے سات آسمانوں اور سات زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کے پروردگار اور
الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَرَبَّ السَّبْعِ الْمَثانِی وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ، وَرَبَّ إسْرافِیلَ وَمِیکائِیلَ
عرش عظیم کے پروردگار اور دوبار نازل شدہ سات آیتوں اور قرآن عظیم کے پروردگار اور اسرافیلعليهالسلام میکائیلعليهالسلام و
وَجَبْرائِیلَ، وَرَبَّ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ وَخاتَمِ النَّبِیِّینَ،
جبرائیلعليهالسلام کے پروردگار اور حضرت محمد کے پروردگار کہ جو رسولوں کے سردار اور نبیوں میں آخری ہیں
أَسْأَلُکَ بِکَ وَبِما سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَکَ یَا عَظِیمُ أَ نْتَ الَّذِی تَمُنُّ بِالْعَظِیمِ، وَتَدْفَعُ
تیرے واسطے سے تجھ سے سوالی ہوں اور اس کے واسطے جس سے تو نے خود کو موسوم کیا اے بزرگتر تو وہ ہے جو بڑا احسان کرنے
کُلَّ مَحْذُورٍ، وَتُعْطِی کُلَّ جَزِیلٍ، وَتُضاعِفُ الْحَسَناتِ بِالْقَلِیلِ وَبِالْکَثِیرِ وَتَفْعَلُ مَا
والا، ہر خطرے کو دور کرنے والا، ب ڑی ب ڑی عطائوں والا، کم اور زیادہ نیکیوں کو دوگنا کرنے والا ہے اور تو جو چاہے وہی کرنے والا ہے
تَشائُ یَا قَدِیرُ یَا ﷲ یَا رَحْمنُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَأَلْبِسْنِی فِی مُسْتَقْبَِلِ
اے قدیر، اے ﷲ، اے رحمن، حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور ان کے اہل بیتعليهالسلام پر رحمت فرما اور اس آنے والے سال میں اپنی طرف
سَنَتِی هذِهِ سِتْرَکَ وَنَضِّرْ وَجْهِی بِنُورِکَ، وَأَحِبَّنِی بِمَحَبَّتِکَ، وَبَلِّغْنِی رِضْوانَکَ،
سے میری پردہ پوشی فرما میرے چہرے کو اپنے نور سے شادماں کر اپنی محبت میں مجھے محبوب بنا مجھے اپنی رضا وخوشنودی، اپنی بہترین
وَشَرِیفَ کَرامَتِکَ، وَجَسِیمَ عَطِیَّتِکَ، وَأَعْطِنِی مِنْ خَیْرِ مَا عِنْدَکَ وَمِنْ خَیْرِ مَا أَنْتَ
بخشش اور اپنی بڑی بڑی عطائوں سے حصہ دے اور مجھے اپنی طرف سے بھلائی عطافرما اور اس بھلائی میں سے عطا فرما جو تو اپنی مخلوق
مُعْطِیهِ أَحَداً مِنْ خَلْقِکَ، وَأَ لْبِسْنِی مَعَ ذلِکَ عافِیَتَکَ، یَا مَوْضِعَ کُلِّ شَکْویٰ، وَیَا
میں سے کسی کو عطا فرمائے اور ان نوازشوں کے ساتھ تندرستی بھی دے اے تمام شکایتوں کے سننے والے، اے
شاهِدَ کُلِّ نَجْویٰ، وَیَا عالِمَ کُلِّ خَفِیَّةٍ، وَیَا دافِعَ مَا تَشائُ مِنْ بَلِیَّةٍ، یَا کَرِیمَ الْعَفْوِ،
ہر راز کے گواہ،اے ہر پوشیدہ چیز کے جاننے والے اور جس کوچاہے دور کر دینے والے، اے باعزت معاف کرنے والے،
یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ تَوَفَّنِی عَلَی مِلَّةِ إبْراهِیمَ وَفِطْرَتِهِ، وَعَلَی دِینِ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ
اے بہترین درگزر کرنے والے مجھے ابراہیمعليهالسلام کے دین اور ان کی سیرت پر موت دے اور مجھے حضرت محمد کے
عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسُنَّتِهِ، وَعَلَی خَیْرِ الْوَفاةِ فَتَوَفَّنِی مُوالِیاً لاََِوْ لِیائِکَ، وَمُعادِیاً لاََِعْدائِکَ
دین پر موت دے اور اچھے طریقے سے موت دے پس موت دے مجھے جبکہ میں تیرے دوستوں کا دوست اور تیرے دشمنوں کا دشمن ہوں
اَللّٰهُمَّ وَجَنِّبْنِی فِی هذِهِ السَّنَةِ کُلَّ عَمَلٍ أَوْ قَوْلٍ أَوْ فِعْلٍ یُباعِدُنِی مِنْکَ، وَاجْلِبْنِی
اے معبود! اس سال مجھے ہر اس قول و عمل سے دور رکھ جومجھے تجھ سے دور کر دینے والا ہے اور مجھے اس سال
إلی کُلِّ عَمَلٍ أَوْ قَوْلٍ أَوْ فِعْلٍ یُقَرِّبُنِی مِنْکَ فِی هذِهِ السَّنَةَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ،
ہر ایسے قول وعمل کی طرف لے جا جو مجھ کو تیری قربت میں پہچاننے والا ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
وَامْنَعْنِی مِنْ کُلِّ عَمَلٍ أَوْ قَوْلٍ أَوْ فِعْلٍ یَکُونُ مِنِّی أَخافُ ضَرَرَ عاقِبَتِهِ، وَأَخافُ
مجھے ہر قول یا عمل یافعل سے دور رکھ جس کے نقصان اور انجام سے ڈرتا ہوں اور خائف ہوں
مَقْتَکَ إیَّایَ عَلَیْهِ حِذارَ أَنْ تَصْرِفَ وَجْهَکَ الْکَرِیمَ عَنِّی فَأَسْتَوْجِبَ بِهِ نَقْصاً مِنْ
کہ تو اس کو پسند نہ کرے تو میری طرف سے اپنی پاکیزہ توجہ ہٹا لے گا پس اس سے تیرے ہاں میرے
حَظٍّ لِی عِنْدَکَ یَا رَؤُوفُ یَا رَحِیمُ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی فِی مُسْتَقْبَِلِ سَنَتِی هذِهِ فِی حِفْظِکَ
حصے میں کمی ہو جائے گی اے محبت والے، اے رحم والے، اے معبود! اس سال مجھے اپنی حفاظت ونگہداری میں قرار دے اپنی
وَفِی جِوارِکَ وَفِی کَنَفِکَ وَجَلِّلْنِی سِتْرَ عافِیَتِکَ وَهَبْ لِی کَرامَتَکَ عَزَّ جارُکَ وَجَلَّ
پناہ میں اپنے آستاں پر رکھ اور مجھے اپنی حفاظت کا لباس پہنا مجھے اپنی طرف سے بزرگی دے تیری قربت والا باعزت ہے اورتیری تعریف
ثَناؤُکَ، وَلاَ إلهَ غَیْرُکَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی تابِعاً لِصالِحِی مَنْ مَضیٰ مِنْ أَوْ لِیائِکَ،
بلند ہے اورتیرے سوا کوئی معبود نہیں اے معبود! تیرے دوستوں میں جونیک لوگ گزرے ہیں مجھے ان میں شمارکر اور انکے ساتھ ملا دے
وَأَلْحِقْنِی بِهِمْ، وَاجْعَلْنِی مُسَلِّماً لِمَنْ قالَ بِالصِّدْقِ عَلَیْکَ مِنْهُمْ، وَأَعُوذُ بِکَ اَللّٰهُمَّ
اور ان میں سے جس نے تیری طرف سے جو سچی بات کہی مجھے اس کا ماننے والا بنا اور اے معبود! میں تیری پناہ لیتا ہوں
أَنْ تُحِیطَ بِی خَطِیئَتِی وَظُلْمِی وَ إسْرافِی عَلَی نَفْسِی وَ اتِّباعِی لِهَوایَ وَاشْتِغالِی
اس سے کہ گھیرے مجھ کومیری خطا، میرا ظلم، اپنے نفس پر میری زیادتی اور اپنی خواہش کی پیروی اور اپنی چاہت
بِشَهَواتِی فَیَحُولُ ذلِکَ بَیْنِی وَبَیْنَ رَحْمَتِکَ وَرِضْوانِکَ فَأَکُونُ مَنْسِیّاً عِنْدَکَ،
میں محویت کو یہ چیزیں میرے اور تیری رحمت وخوشنودی کے درمیان حائل ہو جائیں پس میں تیرے ہاں
مُتَعَرِّضاً لِسَخَطِکَ وَ نِقْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ وَفِّقْنِی لِکُلِّ عَمَلٍ صَالِحٍ تَرْضیٰ بِهِ عَنِّی،
فراموش ہو جائوں اور تیری ناراضگی میں پھنس جائوں اے معبود! مجھے ہر اس نیک عمل کی توفیق دے جس سے تو خوش ہو اور مجھے بہ لحاظ
وَقَرِّبْنِی إلَیْکَ زُلْفیٰ اَللّٰهُمَّ کَما کَفَیْتَ نَبِیَّکَ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ هَوْلَ عَدُوِّهِ
مقام اپنے قریب کر لے اے معبود! جیسے تو نے مدد فرمائی اپنے نبی محمد کی خوف دشمنان میں
وَفَرَّجْتَ هَمَّهُ وَکَشَفْتَ غَمَّهُ وَصَدَقْتَهُ وَعْدَکَ وَأَ نْجَزْتَ لَهُ عَهْدَکَ اَللّٰهُمَّ فَبِذلِکَ
اور انکی پریشانی دور کی اور انکا رنج و غم مٹا دیا اور تو نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ان سے کیا ہوا پیمان پورا فرمایا تو اے معبود! اسی طرح
فَاکْفِنِی هَوْلَ هذِهِ السَّنَةِ وَآفاتِها وَأَسْقامَها وَفِتْنَتَها وَشُرُورَها وَأَحْزانَها وَضِیقَ
اس سال کے خوف میں میری مدد فرما اس کی مصیبتوں بیماریوں آزمائشوں تکلیفوں اور غموں اور اس میں معاش
الْمَعاشِ فِیها وَبَلِّغْنِی بِرَحْمَتِکَ کَمالَ الْعافِیَةِ بِتَمامِ دَوامِ النِّعْمَةِ عِنْدِی إلی مُنْتَهی
کی تنگی وغیرہ پر مجھے اپنی رحمت سے بہترین آسائش دے مجھے تمام نعمتیں ملتی رہیں یہاں تک کہ میری موت کا
أَجَلِی، أَسْأَلُکَ سُؤالَ مَنْ أَسائَ وَظَلَمَ وَاسْتَکانَ وَاعْتَرَفَ، وَأَسْأَ لُکَ أَنْ تَغْفِرَ لِی
وقت آجائے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس کی طرح جس نے گناہ اور ظلم کیا اور وہ محتاج ہی گناہ کا اعتراف کرتا ہے اور سوالی ہوں
مَا مَضیٰ مِنَ الذُّنُوبِ الَّتِی حَصَرَتْها حَفَظَتُکَ وَأَحْصَتْها کِرامُ مَلائِکَتِکَ عَلَیَّ وَأَنْ
تجھ سے کہ میرے پچھلے گناہ معاف کر دے جنکو تیرے نگہبانوں نے لکھا ہے اور تیرے معزز فرشتوں نے شمار کیا جو مجھ پر مقرر ہیں اور
تَعْصِمَنِی اَللّٰهُمَّ مِنَ الذُّنُوبِ فِیما بَقِیَ مِنْ عُمْرِی إلی مُنْتَهی أَجَلِی یَا ﷲ یَا رَحْمنُ
میرے ﷲ! باقی ماندہ زندگی میں مجھے گناہوں سے بچا اس وقت تک کہ میری عمر تمام ہو جائے اے ﷲ، اے رحمن،
یَا رَحِیمُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ وَآتِنِی کُلَّ مَا سَأَلْتُکَ وَرَغِبْتُ إلَیْکَ فِیهِ
اے رحیم، حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہل بیتعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے وہ سب کچھ عطا کر جو میں نے مانگا اور جس کی تجھ سے خواہش کی ہے
فَ إنَّکَ أَمَرْتَنِی بِالدُّعائِ، وَتَکَفَّلْتَ لِی بِالْاِجابَةِ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
پس تو نے دعا کرنے کا حکم دیا اور میری دعا قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے اے سب سے زیادہ رحم والے۔
یہ فقیر (مؤلف) کہتے ہیں کہ سید نے اسکو رمضان کی پہلی رات کی دعائوں میں بھی ذکر کیا ہے
چھٹی رم ضان کا دن
چھ رمضان ۱۰۲ ھ میں مسلمانوں نے بطور ولی عہد کے امام علی رضا -کی بیعت کی تھی ، سید نے روایت کی ہے کہ مومنین اس نعمت کے شکرانے کی دورکعت نماز پڑھیں اور ہر رکعت میں سورئہ حمد کے بعد پچیس مرتبہ سورئہ توحید کی تلاوت کریں۔
اعمال شب ١٣ و ١٥ رمضان
تیرھویں رمضان کی رات
یہ شب ہائے بیض (روشن راتوں) کی پہلی رات ہے اور اس میں تین عمل ہیں:
( ۱ )غسل کرے
( ۲ )چاررکعت نماز پڑھے اور ہررکعت میں سورئہ حمد کے بعد پچیس دفعہ سورئہ توحید کی تلاوت کرے
( ۳ )دورکعت نماز پڑھے جیسے رجب اور شعبان کی تیرھویں رات میں پڑھی جاتی ہے۔ یعنی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورہ یٰسین ، سورئہ ملک اور سورئہ توحید پڑھے۔ رمضان کی چودہویں رات کو بھی چار رکعت نماز دو دو کر کے اسی ترکیب سے پڑھے کہ قبل ازیں دعا مجیر کی شرح میں اس کا ذکرہوچکا ہے۔ یعنی جوشخص ماہ رمضان کی شب ہائے بیض میں یہ نماز پڑھے تو اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے چاہے وہ درختوں کے پتوں اور بارش کے قطروں جتنے بھی ہوں۔
پندرہویں رمضان کی رات
اس کاشمار بابرکت راتوں میں ہے اور اس میں چندایک اعمال ہیں:
( ۱ )غسل کرے۔
( ۲ )زیارت حضرت امام حسین -۔
( ۳ )چھ رکعت نماز پڑھے جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ یٰسین ، سورئہ ملک اور سورئہ توحید کی تلاوت کرے۔
( ۴ )سورکعت نماز پڑھے جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ توحید کی تلاوت کرے ، مقنعہ میں شیخ مفیدرحمهالله نے امیرامومنین -سے روایت کی ہے کہ جو شخص اس عمل کو بجا لائے تو حق تعالی کی طرف سے دس فرشتوں کو مقرر کیا جائے گا کہ وہ اس کے دشمنوں (جن ہوں یاانسان ) کو اس سے دور رکھیں۔ نیز اس کی موت کے وقت تیس فرشتے آئیں گے جو اس کو جہنم کی آگ سے بچانے کا بندوبست کریں گے۔
( ۵ ) امام جعفرصادق -سے پوچھا گیا کہ جو شخص پندرہویں رمضان کی رات ضریح امام حسین -کے قریب ہو کر زیارت کرے تو اس کا ثواب کس قدر ہو گا؟ آپعليهالسلام نے فرمایا کہ جو شخص نماز عشائ کے بعد نافلہ شب کے علاوہ ضریح مبارک کے نزدیک دس رکعت نماز پڑھے جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ توحید کی تلاوت کرے اور نمازسے فارغ ہو کر آتش جہنم سے خدائے تعالیٰ کی پناہ مانگے تو وہ اسے جہنم کی آگ سے آزادی عطا کرے گا ۔ وہ شخص قبل از مرگ خواب میں ایسے ملائکہ کو دیکھے گا جو اس کوجنت کی بشارت اور جہنم سے امان کی خوشخبری دے رہے ہوں گے۔
پندرہویں رمضان کا دن
رمضان ۲ ھ میں امام حسن -کی ولادت باسعادت ہوئی اور شیخ مفیدرحمهالله کا قول ہے کہ ۵۹۱ ھ میں حضرت امام محمدتقی -کی ولادت باسعادت بھی اسی روز ہوئی۔ لیکن بعض روایات میں کسی اور تاریخ کا ذکر آیا ہے وہی مشہور بھی ہے۔ بہرحال یہ بڑی عظمت والادن ہے اور اس میں صدقات وحسنات کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔
سترھویں رمضان کی رات
یہ بڑی بابرکت رات ہے کہ اس میں لشکر اسلام و فوج کفر میں آمنا سامنا ہوا اور ۷۱ رمضان کے دن جنگ بدر واقع ہوئی ، جس میں مسلمانوں کو فتح ونصرت نصیب ہوئی یہ اسلام کی ع ظیم ترین فتح تھی ۔ اس ضمن میں علمائ اعلام کا فرمان ہے کہ ہر مومن اس روز صدقہ دے اور خدا کا شکربجالائے ، اس رات میں غسل کرنا اور نوافل پڑھنا باعث فضیلت ہے۔
مؤلف کہتے ہیں بہت سی روایات میں آیا ہے کہ حضرت رسول ﷲ نے اصحاب سے فرمایا کہ آج کی رات تم میں سے کون ہے جو آج رات کنویں سے پانی لائے؟ اس پر سب خاموش رہے اور کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ تب امیرالمومنین -نے مشکیزہ لیا اور چل دیئے ، وہ نہایت تاریک اور سرد رات تھی اور ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ۔ آپعليهالسلام کنوئیں پر پہنچے جوبہت تاریک اور گہرا تھا ۔ پھر وہا ں ڈول اوررسی وغیرہ بھی نہ تھی ۔ پس حضرت کنوئیں میں اترے۔ مشکیزہ بھرا اور واپس چلے تو اچانک ہوا کاایک تیز جھونکا آیا ، حضرت رک گئے اور تھوڑی دیر کے بعد چلنے کا ارادہ کیا تو پھر ویسا ہی سخت جھونکا آیا اور حضرت رک گئے۔ پھراٹھے لیکن سخت ہوا کے باعث رک گئے اور یوں ہی رکتے چلتے ہوئے رسول ﷲ کی خدمت میں آپہنچے ۔ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: یاعلیعليهالسلام ! بہت دیر لگا دی عرض کی ہوا بہت تیز اور سرد تھی ۔ اس لیے تین دفعہ رک رک کر چلنا پڑا ۔ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پوچھا : یاعلیعليهالسلام ! آیا تمہیں معلوم ہے یہ کیا ماجرا تھا؟عرض کیا آپ ہی بتا دیں ۔ فرمایا پہلی ہوا حضرت جبرائیلعليهالسلام کی ایک ہزارفرشتوں کے ساتھ آمد کی تھی کہ ان سب نے آپ کوسلام کیا، دوسری مرتبہ ہزارفرشتوں کے ساتھ میکائیلعليهالسلام آئے اور ان سب نے آپعليهالسلام کو سلام کیا اور آخر میں ہزار فرشتوں کیساتھ اسرافیلعليهالسلام آئے اور انہوں نے بھی آپعليهالسلام کو سلام کیا، ہاں تو یہ سب فرشتے کل کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کریں گے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ ایک بزرگ کا قول ہے کہ امیرالمومنین -کے لیے ایک رات میں تین ہزار منقبتیں ہیں پس ممکن ہے کہ اس قول میں بدر کی رات کے اسی وقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہو۔
سید حمیری اپنے اشعار میں امیرالمومنین -کی مدح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
أُقْسِمُ بِالله وَآلائِهِ
وَالْمَرْئُ عَمّا قالَ مَسْؤُولُ
خدا اوراس کی نعمتوں کی قسم
انسان اپنے قول کا جوابدہ ہے
إنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طالِبٍ
عَلَی التُّقی وَالبِرِّ مَجْبُولُ
بیشک علیعليهالسلام ابن ابی طالب
نیکی وپرہیز گاری پر پیدا کیے گئے
کانَ إذَا الْحَرْبُ مَرَتْهَا الْقَنا
وَأَحْجَمَتْ عَنْهَا الْبَهالِیلُ
جب نیزے لہرانے سے جنگ تیز ہوئی
اور بڑے بڑے بہادررک جاتے
یَمْشِی إلَی الْقرْنِ وَفِی کَفِّهِ
أَبْیَضُ ماضِی الْحَدِّ مَصْقُولُ
علیعليهالسلام مقابل کی طرف بڑھتے ان کے ہاتھ میں
صیقل کی ہوئی تیز تلوار ہوتی
مَشْیَ الْعَفَرْنا بَیْنَ أَشْبالِهِ
أَبْرَزَهُ لِلْقَنَصِ الْغِیلُ
جیسے شیر اپنے بچوں میں چلتا ہے
تاکہ شکار سے انہیں بچا لے
ذاکَ الَّذِی سَلَّمَ فِی لَیْلَةٍ
عَلَیْهِ مِیکالٌ وَجِبْرِیلُ
علیعليهالسلام وہ ہے سلام کیا ایک رات
اس پر میکائیلعليهالسلام وجبرائیلعليهالسلام نے
مِیکالُ فِی أَلْفٍ وَجِبْرِیلُ فِی
أَلْفٍ وَیَتْلُوهُمْ سَرافِیلُ
میکائیلعليهالسلام ایک ہزارفرشتوں میں جبرائیلعليهالسلام
ایک ہزارفرشتوں میں اسرافیلعليهالسلام بھی
لَیْلَةَ بَدْرٍ مَدَداً أُنْزِلُوا
کَأَنَّهُمْ طَیْرٌ أَبابِیلُ
جنگ بدر کی شب مدد کے لیے آئے
جیسے ابابیلوں کے جھنڈ ہوں
انیسویں شب کی رات
یہ شب قدر کی راتوں میں سے پہلی رات ہے، شب قدر ایسی عظیم رات ہے کہ عام راتیں اس کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتیں کیونکہ اس رات کا عمل ہزارمہینوں کے عمل سے بہتر ہے۔ اسی رات تقدیر بنتی ہے اور روح کہ جو ملائکہ میں سب سے عظیم ہے وہ اسی رات پروردگار کے حکم سے فرشتوں کے ہمراہ زمین پر نازل ہوتا ہے۔
یہ ملائکہ امام العصر (عج)کی خدمت میںحاضر ہوتے اور ہر کسی کے مقدر میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی تفصیل حضرتعليهالسلام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
شب قدر کے اعمال دو قسم کے ہیں ۔
اعمال مشترکہ اور اعمال مخصوصہ ۔
اعمال مشترکہ وہ ہیں جو تینوں شب قدر میں بجالائے جاتے ہیں اور اعمال مخصوصہ وہ ہیں جو ہر ایک رات کے ساتھ مخصوص ہیں۔
اعمال مشترکہ شب ہای قدر
اعمال مشترکہ میں چند امور ہیں:
( ۱ )غسل کرنا اور علامہ مجلسی کافرمان ہے کہ غروب آفتاب کے نزدیک غسل کیا جائے اور نماز مغرب اسی غسل کے ساتھ ادا کی جائے۔
( ۲ )دورکعت نماز بجا لائے جس کی ہررکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سات مرتبہ سورئہ توحید پڑھے ، بعد ازنماز ستر مرتبہ کہے:
اَسْتَغْفِرُﷲ وَاَتُوْبُ اِلَیْهِ
خدا سے بخشش چاہتا اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں
حضرت رسول ﷲ سے مروی ہے کہ ابھی وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھا بھی نہ ہو گا کہ حق تعالی اس کے اور اس کے ماں باپ کے گناہ معاف کردے گا۔
( ۳ )قرآن کریم کو کھول کر اپنے سامنے رکھے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِکِتابِکَ الْمُنْزَلِ وَمَا فِیهِ وَفِیهِ اسْمُکَ الْاَکْبَرُ
اے معبود! بے شک سوال کرتا ہوںتیری نازل کردہ کتاب کے واسطے سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے واسطے اور اس میں تیرا بزرگتر نام ہے
وَأَسْماؤُکَ الْحُسْنیٰ وَمَا یُخافُ وَیُرْجیٰ أَنْ تَجْعَلَنِی مِنْ عُتَقائِکَ مِنَ النّارِ
اور تیرے دیگر اچھے اچھے نام بھی ہیں اور وہ جو خوف وامید دلاتاہے سوالی ہوں کہ مجھے ان میں قرار دے جن کو تونے آگ سے آزاد کر دیا
اس کے بعد جو حاجت چاہے طلب کرے
( ۴ )قرآن پاک کو اپنے سرپر رکھے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذَا الْقُرْآنِ وَبِحَقِّ مَنْ أَرْسَلْتَهُ بِهِ وَبِحَقِّ کُلِّ مُؤْمِنٍ مَدَحْتَهُ فِیهِ
اے معبود!اس قرآن کے واسطے اور اس کے واسطے جسے تونے اس کے ساتھ بھیجا اوران مومنین کے واسطے جن کی تونے اس میں مدح کی ہے
وَبِحَقِّکَ عَلَیْهِمْ فَلاَ أَحَدَ أَعْرَفُ بِحَقِّکَ مِنْکَ بعد میںدس مرتبہبِکَ یَا ﷲ اور دس مرتبہ
اور ان پر تیرے حق کا واسطہ پس کوئی نہیں جانتا تیرے حق کو تجھ سے بڑھ کر اے ﷲ تیرا واسطہ،
بِمُحَمَّدٍ دس مرتبہبِعَلِیّ ٍ دس مرتبہبِفاطِمَةَ دس مرتبہ بِالْحَسَنِ دس مرتبہ بِالْحُسَیْنِ دس مرتبہ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کاواسطہ، علیعليهالسلام کا واسطہ فاطمہعليهالسلام کا واسطہ حسنعليهالسلام کاواسطہ، حسینعليهالسلام کا واسطہ
بِعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ دس مرتبہبِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ دس مرتبہبِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ دس مرتبہبِمُوسَیٰ
علی بن الحسینعليهالسلام کا واسطہ، محمد بن علیعليهالسلام کا واسطہ جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کا واسطہ موسیعليهالسلام
بْنِ جَعْفَرٍ دس مرتبہبِعَلِیِّ بْنِ مُوسی دس مرتبہبِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ دس مرتبہبِعَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ
بن جعفرعليهالسلام کا واسطہ علیعليهالسلام بن موسیعليهالسلام کا واسطہ محمد بن علیعليهالسلام کاواسطہ علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کاواسطہ
دس مرتبہبِالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ دس مرتبہبِالْحُجَّةِ کہو پھر اپنی حاجات طلب کرو
حسن بن علیعليهالسلام کا واسطہ حجت القائمعليهالسلام کا واسطہ
( ۵ )امام حسین -کی زیارت پڑھے ، روایت ہے کہ شب قدر میں ساتویں آسمان پر عرش کے نزدیک ایک منادی ندا دیتا ہے کہ حق تعالیٰ نے ہر اس شخص کے گناہ معاف کر دئیے جو زیارت امام حسین- کے لیے آیا ہے۔
( ۶ )شب بیداری کرے یعنی ان راتوں میں جاگتا رہے ،روایت ہے کہ جو شخص شب قدر میں جاگتا رہے تو اس کے گناہ معا ف ہو جائیں گے۔ اگرچہ وہ آسمانوں کے ستاروں، پہاڑوں کی جسامت اور دریائوں کے پانی جتنے ہوں۔
( ۷ )سورکعت نماز بجا لائے جسکی بہت زیادہ فضیلت ہے اس کی ہررکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ توحید کا پڑھنا افضل ہے۔
( ۸ )شب قدر کی راتوں میں یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَمْسَیْتُ لَکَ عَبْداً داخِراً لاَ أَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعاً وَلا ضَرّاً وَلا
اے معبود: بے شک میں نے شام کی اس حال میں کہ تیرا آستاں بوس بندہ ہوں نہ اپنے نفع کا مالک ہوں اورنہ نقصان کا اور نہ برائی
أَصْرِفُ عَنْها سُوئً، أَشْهَدُ بِذلِکَ عَلَی نَفْسِی، وَأَعْتَرِفُ لَکَ بِضَعْفِ قُوَّتِی، وَقِلَّةِ
کو اس سے دور کر سکتا ہوں میں اپنے نفس پر خود ہی گواہ ہوں اور تیرے سامنے اعتراف کرتاہوں اپنی کمزوری بے چارگی اور
حِیلَتِی، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَ نْجِزْ لِی مَا وَعَدْتَنِی وَجَمِیعَ الْمُؤْمِنِینَ
بے بسی کا پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور اپنا وہ مغفرت کا وعدہ پورا فرما جو اس رات میں میرے لیے اور تمام مومنین
وَالْمُؤْمِناتِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ وَأَتْمِمْ عَلَیَّ مَا آتَیْتَنِی فَ إنِّی عَبْدُکَ الْمِسکِینُ
ومومنات کے لیے جو تونے عمومی طور پر کر رکھا ہے اور مجھ پر اپنی عطائ ورحمت پوری فرما دے کہ بیشک میں تیرا بے کس،
الْمُسْتَکِینُ الضَّعِیفُ الْفَقِیرُ الْمَهِینُ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِی ناسِیاً لِذِکْرِکَ فِیما أَوْلَیْتَنِی
ناچار، بے طاقت، محتاج اور پست ترین بندہ ہوں اے معبود! مجھے ایسا نہ بنا کہ تیری عطائوں کے ذکر کو بھول جاؤں تیرے احسانات
وَلا غافِلاً لاِِِحْسانِکَ فِیما أَعْطَیْتَنِی، وَلاَ آیِساً مِنْ إجابَتِکَ وَ إنْ أَبْطَأَتْ عَنِّی فِی
سے غفلت کروں اور تیری طرف سے قبولِ دعا سے مایوس ہو جاؤں اگرچہ میں غفلت شعار ہوں
سَرَّائَ أَوْ ضَرَّائَ أَوْ شِدَّةٍ أَوْ رَخائٍ أَوْ عافِیَةٍ أَوْ بَلائٍ أَوْ بُؤْسٍ أَوْ نَعْمائَ إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ
خوشی وغم میں یا سختی وآسودگی میں یا آسانی وتنگی میں یامحرومی ونعمت میں بے شک تو دعا کا سننے والا ہے۔
شیخ کفعمی سے روایت ہے کہ امام زین العابدین -اس دعا کو تینوں شب قدر میں قیام وقعود اور رکوع سجود کی حالت میں پڑھتے تھے۔ علامہ مجلسیرحمهالله فرماتے ہیں کہ ان راتوں کا بہترین عمل یہ ہے کہ اپنی بخشش کی دعا کرے ، اپنے والدین، اقربائ اور زندہ ومردہ مومنین کی دنیا وآخرت کے لیے دعا مانگے ۔ نیز جس قدر ممکن ہومحمدوآل محمد ٪پر صلوات بھیجے اور بعض روایات میں ہے کہ شب قدر کی تینوں راتوں میں دعائے جوشن کبیر پڑھے:
مؤلف کہتے ہیں کہ دعا جوشن کبیر قبل ازیں باب اول میں ذکر ہو چکی ہے ۔ایک اور روایت میںآیاہے کہ کسی نے رسول ﷲ سے سوال کیا کہ اگر مجھے شب قدر کا موقعہ ملے تو میں خدا سے کیا مانگوں؟ آپ نے فرمایا: کہ خدا سے صحت وعافیت مانگو۔
اعمال مخصوص لیالی قدر
اعمال مخصوصہ :
جو ہر شب قدر کے ساتھ مخصوص ہیں ،
انیسویں رمضان کی رات کے چند ایک اعمال ہیں:
( ۱ )سومرتبہ کہے:اَسْتَغْفِرُﷲ رَبِّی وَاَتُوْبُ اِلَیٰهِ ( ۲ )سومرتبہ کہے:اَللَّهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ اَمِیٰرِالْمُوْمِنِیْنَ
بخشش چاہتاہوں ﷲ سے جو میرا رب ہے اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں اے معبود: لعنت فرما امیرالمومنینعليهالسلام کے قاتلین پر
( ۳ ) مشہور دعا:یَاذَاالَّذِیْ کَاْنَ پڑھے: جو اعمال رمضان کی چوتھی قسم میں ذکر ہو چکی ہے۔
اے وہ جو موجود تھا
( ۴ ) یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ مِنَ الْاَمْرِ الْمَحْتُومِ وَفِیما تَفْرُقُ مِنَ
اے معبود! جن امور کا تو لیلۃ القدر میں فیصلہ کرتا ہے حتمی فیصلوں میں سے اور ان کو مقرر فرماتا ہے اور جن پر حکمت امور میں
الْاَمْرِ الْحَکِیمِ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ وَفِی الْقَضائِ الَّذِی لاَ یُرَدُّ وَلاَ یُبَدَّلُ أَنْ تَکْتُبَنِی
امتیازات دیتا ہے اور ایسی قضائ وقدر معین کرتا ہے جس کو رد یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا اس میں تو مجھے اس سال کے حجاج میں قرار دے
مِنْ حُجَّاجِ بَیْتِکَ الْحَرامِ الْمَبْرُورِ حَجُّهُمُ، الْمَشْکُورِ سَعْیُهُمُ، الْمَغْفُورِ ذُنُوبُهُمُ
کہ جن کا حج مقبول، جن کی سعی پسندیدہ، جن کے گناہ معاف
الْمُکَفَّرِ عَنْهُمْ سَیِّئاتُهُمْ وَاجْعَلْ فِیما تَقْضِی وَتُقَدِّرُ أَنْ تُطِیلَ عُمْرِی، وَتُوَسِّعَ عَلَیَّ
جن کی برائیاں مٹا دی گئی ہیں اور جن کا تو نے فیصلہ کیا اس میں میری عمر کو دراز
فِی رِزْقِی، وَتَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا ۔ کذاو کذا کی بجائے اپنی حاجات کا نام لے
اور میرے رزق کو وسیع قرار دے ۔
اکیسویں رمضان کی رات
اس رات کی فضیلت انیسویں رمضان کی رات سے زیادہ ہے۔ لہ ذا انیسویں رات کے جو اعمال مشترکہ ہیں وہ اس رات میں بھی بجا لائے۔
( ۱ )غسل ۔
( ۲ ) شب بیداری۔
( ۳ ) زیارت امام حسین -۔
( ۴ ) سورئہ حمد کے بعد سات مرتبہ سورئہ توحید والی نماز۔
( ۵ ) قرآن کو سر پر رکھنا۔
( ۶ ) سورکعت نماز۔
( ۷ ) دعائ جوشن کبیر وغیرہ۔
روایات میں تاکید کی گئی ہے کہ اس رات اور تئیسویں کی رات میں غسل اور شب بیداری کرے اور عبادت میں مشغول رہے کہ شب قدر انہی دوراتوں میں سے ایک ہے۔ چند ایک اور روایات میں مذکور ہے کہ امام جعفر صادق -سے عرض کیا گیا کہ معین طور پر فرمائیں کہ شب قد ر کونسی رات ہے ؟آپ نے کسی رات کا تعین نہ کیا ۔ فرمایا کہ مگر اس میں کیا حرج ہے کہ تم ان دو راتوں میں اعمال خیر بجا لاتے رہو۔ ہمارے بزرگ عالم شیخ صدوقرحمهالله نے فرمایا کہ علمائ امامیہ کے ایک اجتماع میں میرے ایک استاد نے یہ بات املا کرائی کہ جو شخص ان دو (اکیسویں اور تئیسویں رمضان کی ) راتوں کو مسائل دینی بیان کرتے ہوئے جاگ کر گزارے تو وہ سب لوگوں سے افضل ہے۔ بہرحال آج کی رات سے رمضان المبارک کے آخری عشرے کی دعائیں شروع کر دے، ان دعائوں میں سے ایک وہ دعا ہے جسے شیخ کلینی نے کافی میں امام جعفر صادق -سے نقل کیا ہے کہ فرمایا: ماہ رمضان کے آخری عشرے میں ہر رات کو یہ دعا پڑھے:
أَعُوذُ بِجَلالِ وَجْهِکَ الْکَرِیمِ أَنْ یَنْقَضِی عَنِّی شَهْرُ رَمَضانَ أَوْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ
تیری ذات کریم کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ جب میرا ماہ رمضان اختتام پذیر ہو یا جب میری اس رات کی فجر طلوع کرے
لَیْلَتِی هذِهِ وَلَکَ قِبَلِی ذَنْبٌ أَوْ تَبِعَةٌ تُعَذِّبُنِی عَلَیْهِ
تو میرے ذمے کوئی گناہ یا اس پر گرفت باقی ہو جس پر مجھے عذاب دے
شیخ کفعمی نے حاشیہ بلدالامین میں نقل کیا ہے کہ امام جعفرصادق -رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ہر رات فرائض ونوافل کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اَللّٰهُمَّ أَدِّ عَنَّا حَقَّ مَا مَضیٰ مِنْ شَهْرِ رَمَضانَ وَاغْفِرْ لَنا تَقْصِیرَنا فِیهِ وَتَسَلَّمْهُ مِنَّا
اے معبود ماہ رمضان کا جو حق ہماری طرف رہ گیا ہو وہ ہماری جانب سے ادا کردے ہمارا یہ قصور معاف فرما اور اسے ہم سے پوراپورا
مَقْبُولاً، وَلاَ تُؤاخِذْنا بِ إسْرافِنا عَلَی أَنْفُسِنا، وَاجْعَلْنا مِنَ الْمَرْحُومِینَ وَلاَ تَجْعَلْنا
قبول فرما اس ماہ میں ہم نے اپنے نفس پر جو زیادتی کی اس پر ہمیں نہ پکڑ اور ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جن پر رحم ہو چکاہے اور
مِنَ الْمَحْرُومِینَ
ہمیں ناکام لوگوں میں قرار نہ دے
شیخ کفعمی نے یہ بھی فرمایاکہ جو شخص اس دعا کو پڑھے توحق تعالیٰ رمضان کے گذ شتہ دنوں میں سرزد ہونے والی اس کی خطائیں معاف فرمائے گا اور آئندہ دنوں میں اسے گناہوں سے بچائے رکھے گا۔سید ابن طاوس نے کتاب اقبال میں ابن ابی عمیر کے ذریعے مرازم سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق -رمضان کے آخری عشرے کی ہررات یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اَللّٰهُمَّ إنَّکَ قُلْتَ فِی کِتابِکَ الْمُنْزَلِ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِی أُنْزِلَ فِیهِ الْقُرْآنُ هُدیً لِلنَّاسِ
اے معبود! تو نے اپنی نازل کردہ کتاب میں فرمایا ہے کہ رمضان وہ مہینہ ہے جسمیں قرآن کریم نازل کیاگیا جو لوگوں کیلئے ہدایت ہے
وَبَیِّناتٍ مِنَ الْهُدیٰ وَالْفُرْقانِ فَعَظَّمْتَ حُرْمَةَ شَهْرِ رَمَضانَ بِما أَ نْزَلْتَ فِیهِ مِنَ
اور اس میں ہدایت کی دلیلیں اور حق وباطل کا امتیاز ہے پس تونے ماہ رمضان کو اس سے بزرگی دی اس میں قران کریم
الْقُرْآنِ وَخَصَصْتَهُ بِلَیْلَةِ الْقَدْرِ وَجَعَلْتَها خَیْراً مِنْ أَ لْفِ شَهْرٍ اَللّٰهُمَّ وَهذِهِ أَیَّامُ
کا نزول فرمایا اور اسے شب قدر کے لیے خاص کیااور اس رات کو ہزارمہینوں سے بہتر قرار دیا اے معبود! یہ ماہ رمضان مبارک
شَهْرِ رَمَضانَ قَدِ انْقَضَتْ، وَلَیالِیهِ قَدْ تَصَرَّمَتْ، وَقَدْ صِرْتُ یَا إلهِی مِنْهُ إلی مَا
کے دن ہیں کہ جو گزرے جا رہے ہیں اور اس کی راتیں ہیں جو بیت رہی ہیںاے میرے ﷲ ان گزرے شب وروز میں میری جو
أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّی وَأَحْصیٰ لِعَدَدِهِ مِنَ الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ، فَأَسْأَلُکَ بِما سَأَلَکَ
حالت رہی تو اسے مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور تمام لوگوں سے بڑھ کر تو اس کا حساب رکھتا ہے لہذا میں اس وسیلے سے سوال کرتا ہوں
بِهِ مَلائِکَتُکَ الْمُقَرَّبُونَ، وَأَ نْبِیاؤُکَ الْمُرْسَلُونَ، وَعِبادُکَ الصَّالِحُونَ أَنْ تُصَلِّیَ
جس سے تیرے مقرب فرشتے سوال کرتے ہیں اور تیرے بھیجے ہو ئے انبیائ اور تیرے نیک بندے سوال کرتے ہیں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفُکَّ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ، وَتُدْخِلَنِی الْجَنَّةَ برَحْمَتِکَ وَأَنْ
پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ مجھے جہنم کی آگ سے رہائی عطا فرما اور اپنی رحمت سے مجھے جنت میں داخل فرما نیز یہ کہ
تَتَفَضَّلَ عَلَیَّ بِعَفْوِکَ وَکَرَمِکَ وَتَتَقَبَّلَ تَقَرُّبِی، وَتَسْتَجِیبَ دُعائِی وَتَمُنَّ عَلَیَّ
مجھ پر اپنے درگذر اور احسان سے فضل کر میرے قرب حاصل کرنے کو قبول فرما اور میری دعا کوقبولیت ،بخشش اور مجھ پر احسان کرتے
بِالْاَمْنِ یَوْمَ الْخَوْفِ مِنْ کُلِّ هَوْلٍ أَعْدَدْتَهُ لِیَوْمِ الْقِیامَةِ إلهِی وَأَعُوذُ بِوَجْهِکَ
ہوئے اس خوف کے دن ہر دہشت سے محفوظ رکھ جو تو نے روز قیامت کیلئے تیار کی ہوئی ہے اے ﷲ! میں پناہ لیتا ہوں تیری ذات
الْکَرِیمِ وَبِجَلالِکَ الْعَظِیمِ أَنْ تَنْقَضِیَ أَیَّامُ شَهْرِ رَمَضانَ وَلَیالِیهِ وَلَکَ قِبَلِی تَبِعَةٌ
کریم اور تیرے بزرگ تر جلال کی اس سے کہ جب ماہ رمضان المبارک کے دن اور راتیں گزر جائیں تو میرے ذمے کوئی
أَوْ ذَ نْبٌ تُؤاخِذُنِی بِهِ، أَوْ خَطِیئَةٌ تُرِیدُ أَنْ تَقْتَصَّها مِنِّی لَمْ تَغْفِرْها لِي، سَیِّدِی
جوابدہی ہو یا کوئی گناہ ہو جس پر میری گرفت کرے یاکوئی لغزش ہو تو مجھے جسکی سزا دینا چاہتا ہو اور اسکی معافی نہ دی ہو میرے مالک
سَیِّدِی سَیِّدِی، أَسْأَلُکَ یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ إذْ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ إنْ کُنْتَ رَضِیتَ عَنِّی
میرے آقا میرے سردار میں سوال کرتا ہوں اے کہ نہیں کوئی معبود مگر تو کیونکہ نہیں کوئی معبود مگر تو ہی ہے اگر تو اس مہینے میں مجھ سے
فِی هذَا الشَّهْرِ فَازْدَدْ عَنِّی رِضیً، وَ إنْ لَمْ تَکُنْ رَضِیتَ عَنِّی فَمِنَ الاَْنَ فَارْضَ
راضی ہو گیا ہے تو میرے لیے اپنی خوشنودی میںاضافہ فرما اور اگر تو مجھ سے راضی نہیں ہوا تو اس گھڑی مجھ سے راضی ہو جا اے سب
عَنِّی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، یَا ﷲ یَا أَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ
سے زیادہ رحم کرنے والے اے ﷲ، اے یکتا، اے بے نیاز، اے وہ جس نے نہ جنا ہے اور نہ جنا گیا اور نہ کوئی
لَهُ کُفُواً أَحَدٌاور یه بهت زیاده کهے :یَا مُلَیِّنَ الْحَدِیدِ لِداوُدَ عَلَیْهِ اَلسَّلاَمُ یَا کاشِفَ الضُّرِّ
اس کا ہمسر ہے اے حضرت دائود - کے لیے لوہے کو نرم کرنے والے اے حضرت ایوب - کے
وَالْکُرَبِ الْعِظامِ عَنْ أَ یُّوبَ أَیْ مُفَرِّجَ هَمِّ یَعْقُوبَ أَیْ مُنَفِّسَ غَمِّ یُوسُفَ
دکھ اور تکلیفیں ہٹا دینے والے اے یعقوب - کی بے تابی دور کرنے والے اے یوسف
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما أَنْتَ أَهْلُهُ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ وَافْعَلْ
- کا رنج مٹا دینے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو اس کا اہل ہے کہ ان سب پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اور
بِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَلاَ تَفْعَلْ بِی مَا أَنَا أَهْلُهُ
میرے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے شایان ہے اور وہ سلوک نہ کر کہ جو میرے لائق ہے۔
جو دعائیں کافی کی سند کے ساتھ اور مقنعہ ومصباح میں مرسلہ طور پر نقل ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کو اکیسویں رمضان کی رات پڑھے :
یَا مُو لِجَ اللَّیْلِ فِی النَّهارِ، وَمُو لِجَ النَّهارِ فِی اللَّیْلِ، وَ مُخْرِجَ الْحَیِّ مِنَ الْمَیِّتِ،
اے رات کو دن میں داخل کرنے والے اور دن کو رات میں داخل کرنے والے اے زندہ کو مردہ سے نکالنے والے
وَمُخْرِجَ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ، یَا رازِقَ مَنْ یَشائُ بِغَیْرِ حِسابٍ، یَا ﷲ یَا رَحْمٰنُ، یَا
اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والے اے جسے چاہے بغیر حساب کے رزق دینے والے، اے ﷲ، اے رحمن ،اے
ﷲ یَا رَحِیمُ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ لَکَ الْاَسْمائُ الْحُسْنیٰ، وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا وَالْکِبْرِیائُ
ﷲ، اے رحیم، اے ﷲ، اے ﷲ، اے ﷲ، تیرے ہی لیے ہیں اچھے اچھے نام بلند ترین نمونے اور تیرے لیے ہیں بڑائیاں
وَالاَْلائُ، أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی هذِهِ
اور مہربانیاں میں تجھ سے سؤال کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ آج کی رات میں میرانام نیکوکاروں
اللَّیْلَةِ فِی السُّعَدائِ، وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ، وَ إحْسانِی فِی عِلِّیِّینَ، وَ إسائَتِی
میں قرار دے، میری روح کو شہیدوں کے ساتھ قرار دے میری اطاعت کو مقام علیین پر پہنچا دے،
مَغْفُورَةً وَأَنْ تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی، وَ إیماناً یُذْهِبُ الشَّکَّ عَنِّی،
میری بدی کو معاف شدہ قرار دے اور یہ کہ مجھے وہ یقین عطا کر جو میرے دل میں بسا ہو وہ ایمان دے جو شک کو مجھ سے دور کر دے
وَتُرْضِیَنِی بِما قَسَمْتَ لِی، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً، وَفِی الاَْخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنا
اور مجھے راضی بنا اس پر جو حصہ تو نے مجھے دیا ہے اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے اور آخرت میں خوش ترین اجر عطا کر اور ہمیں
عَذابَ النَّارِ الْحَرِیقِ وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ وَالرَّغْبَةَ إلَیْکَ
جلانے والی آگ کے عذاب سے بچا اور اس مہینے میں مجھے ہمت دے کہ تیرا ذکر کروں تیرا شکر کروں تیری طرف توجہ رکھوں
وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْفِیقَ لِما وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ
اورتیرے حضور توبہ کروں اور مجھے توفیق دے اس عمل کی جسکی توفیق تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دی ہے سلام ہو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کی آلعليهالسلام پر
بائیسویں شب کی دعا: یَا سالِخَ النَّهارِ مِنَ اللَّیْلِ فَ إذا نَحْنُ مُظْلِمُونَ وَمُجْرِیَ الشَّمْسِ
اے وہ جودن کو رات پر سے کھینچ لے جاتا ہے تو ہم تاریکی میں گھر جاتے ہیں اور اپنے اندازے سے سورج کو
لِمُسْتَقَرِّها بِتَقْدِیرِکَ یَا عَزِیزُ یَا عَلِیمُ وَمُقَدِّرَ الْقَمَرِ مَنازِلَ حَتّی عادَ کَالْعُرْجُونِ
اسکے راستے پر چلاتا ہے اے زبردست اور اے دانا تو نے چاند کی منزلیں ٹھہرائیں کہ وہ گھٹتے گھٹتے کھجور کی پرانی سوکھی شاخ جیسا رہ
الْقَدِیمِ، یَا نُورَ کُلِّ نُورٍ، وَمُنْتَهیٰ کُلِّ رَغْبَةٍ، وَوَ لِیَّ کُلِّ نِعْمَةٍ، یَا ﷲ یَا رَحْمٰنُ، یَا
جاتا ہے، اے ہر شی کی نورانیت کا نور، اے ہر چاہت کے مرکز ومحور اور ہر نعمت کے مالک اے ﷲ، اے رحمن، اے
ﷲ یَا قُدُّوسُ، یَا أَحَدُ یَا واحِدُ یَا فَرْدُ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ لَکَ الْاَسْمائُ الْحُسْنی
ﷲ، اے پاکیزہ، اے یکتا، اے یگانہ ،اے تنہا ، اے ﷲ، اے ﷲ، اے ﷲ، تیرے ہی لیے اچھے اچھے نام ہیں
وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا وَالْکِبْرِیائُ وَالاَْلائُ، أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَأَنْ
اور بلند ترین نمونے اور تیرے ہی لیے ہیں بڑائیاں اور مہربانیاں ہیں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہلبیتعليهالسلام پر رحمت نازل
تَجْعَلَ اسْمِی فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ فِی السُّعَدائِ وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ وَ إحْسانِی فِی
فرما اور یہ کہ آج کی رات میں میرا نام نیکوکاروں میں لکھ دے، میری روح کو شہیدوں کیساتھ قرار دے، میری اطاعت کومقام علیین
عِلِّیِّینَ وَ إسائَتِی مَغْفُورَةً وَأَنْ تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی وَ إیماناً یُذْهِبُ الشَّکَّ
میں پہنچا اور میری برائی کو معاف شدہ قرار دے اور یہ کہ مجھے وہ یقین عطا کر جومیرے دل میں بسا رہے اور وہ ایمان دے جو شک کو
عَنِّی، وَتُرْضِیَنِی بِما قَسَمْتَ لِی، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً، وَفِی الاَْخِرَةِ حَسَنَةً،
مجھ سے دور کردے اور مجھے راضی بنا اس پر جو حصہ تو نے مجھے دیا اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے آخرت میں خوش ترین اجر عطا
وَقِنا عَذابَ النَّارِ الْحَرِیقِ، وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ، وَالرَّغْبَةَ
کر اور ہمیں جلانے والی آگ کے عذاب سے بچا اور اس ماہ میں مجھے ہمت دے کہ تجھے یاد کروں تیرا شکر بجا لائوں تیری طرف توجہ
إلَیْکَ، وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْفِیقَ لِما وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ
رکھوں اور تیرے حضور توبہ کروں اور مجھے توفیق دے اس عمل کی جس کی توفیق تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دی ان سب پر سلام ہو
رمضان کی تیئسویں شب کی دعا یه هے :یَا رَبَّ لَیْلَةِ الْقَدْرِ وَجاعِلَها خَیْراً مِنْ أَ لْفِ شَهْرٍ
اے شب قدر کے پروردگار اور اس کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دینے والے اے رات اور
وَرَبَّ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَالْجِبالِ وَالْبِحارِ وَالظُّلَمِ وَالْاَ نْوارِ وَالْاَرْضِ وَالسَّمائِ
دن کے رب اے پہاڑوں اور دریائوں، تاریکیوں اور روشنیوں و زمین اور آسمان کے رب اے
یَا بارِیُٔ یَا مُصَوِّرُ یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ، یَا ﷲ یَا رَحْمٰنُ یَا ﷲ یَا قَیُّومُ یَا ﷲ
پیدا کرنے والے ،اے صورتگر، اے محبت والے، اے احسان والے، اے ﷲ، اے رحمن ،اے ﷲ، اے نگہبان ،اے ﷲ
یَا بَدِیعُ، یَا ﷲ یَا ﷲ یَا اللّهُ، لَکَ الْاَسْمائُ الْحُسْنیٰ، وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا، وَالْکِبْرِیائُ
اے پیدا کرنے والے، اے ﷲ، اے ﷲ، اے ﷲ، تیرے ہی لیے ہیں اچھے اچھے نام، بلندترین نمونے،اور بڑائیاں اور مہربانیاں
وَالاَْلائُ، أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی هذِهِ
تیرے لیے ہیں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ آج کی رات میں میرا نام
اللَّیْلَةِ فِی السُّعَدائِ، وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ، وَ إحْسانِی فِی عِلِّیِّینَ، وَ إسائَتِی
نیکوکاروں میں قرار دے، میری روح کو شہیدوں کیساتھ قرار دے، میری اطاعت کو مقام علیین میں پہنچا اور میری برائی
مَغْفُورَةً وَأَنْ تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی وَ إیماناً یُذْهِبُ الشَّکَّ عَنِّی وَتُرْضِیَنِی
کو معاف شدہ قرار دے اور یہ کہ مجھے وہ یقین دے جو میرے دل میں بسا رہے اور وہ ایمان دے جو شک کو مجھ سے دور کردے اور مجھے
بِما قَسَمْتَ لِی، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً، وَفِی الاَْخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنا عَذابَ
راضی بنا اس پر جو حصہ تو نے مجھے دیا اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے، آخرت میں خوش ترین اجر عطا کر اور ہمیں جلانے والی
النَّارِ الْحَرِیقِ، وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ وَالرَّغْبَةَ إلَیْکَ وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْبَةَ
آگ کے عذاب سے بچا اور اس ماہ میں مجھے ہمت دے کہ تجھے یادکروں، تیرا شکر بجا لائوں، تیری طرف توجہ رکھوں، تیری طرف
وَالتَّوْفِیقَ لِما وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ
پلٹوں اور توبہ کروں اور مجھے اس عمل کی توفیق دے جس کی توفیق تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دی کہ ان سب پر سلام ہو۔
محمد بن عیسٰی نے اپنی سند کے ساتھ صالحین سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
تئیسویں رمضان کی رات اس دعا کو قیام و قعود اور رکوع وسجود میں نیز ہر حال میں بار بارپڑھے اور پھر اپنی زندگی میں جب بھی یہ دعا یادآئے تو پڑھتا رہے پس حق تعالیٰ کی بزرگی بیان کرنے اور حضرت نبی اکرم پردرود وسلام بھیجنے کے بعد کہے:
اَلَّلهُمَّ کُنْ لِّوَلِیِّکَ فلان بن فلاناورفلان بن فلان کی بجائے کهے : الْحُجَّةِ بنِ الْحَسَنِ
اے معبود ! محافظ بن جا اپنے ولی حجت القائمعليهالسلام بن حسنعليهالسلام کا
صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَعَلَی آبائِهِ فِی هذِهِ السَّاعَةِ وَفی کُلِّ ساعَةٍ وَلِیّاً وَحافِظاً وَقائِداً
تیری رحمت نازل ہو ان پر اور ان کے آباؤ اجداد پر اس لمحہ میںاور ہر آنے والے لمحہ میں، ان کا مددگاربن جا نگہبان پیشوا،
وَناصِراً وَدَلِیلاً وَعَیْناً حَتَّی تُسْکِنَهُ أَرْضَکَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فِیها طَوِیلاًپهر یه کهے :
حامی، راہنما اور نگہدار بن جا یہاں تک کہ تو لوگوں کی چاہت سے انہیں زمین کی حکومت دے اور مدتوں اس پر برقرار رکھے
یَا مُدَبِّرَ الاَُمُورِ، یَا باعِثَ مَنْ فِی القُبُورِ، یَا مُجْرِیَ البُحُورِ، یَا مُلَیِّنَ الحَدِیدِ
اے کاموں کو منظم کرنے والے، اے قبروں سے اٹھا کھڑا کرنے والے، اے دریائوں کو رواں کرنے والے، اے دائودعليهالسلام کے لیے
لِداوُدَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلَ مُحَمَّدٍ وَافْعَلَ بِی کَذا وَکَذاان الفاظ کی بجائے اپنی حاجتیں
لوہے کو موم بنانے والے، محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پررحمت نازل فرما اور کر دے میرے لیے یہ اور یہ میرے لیے ایسے ایسے کر دے
طلب کرے : اَللَّیْلَةُ اَللَّیْلَةُاپنے ہاتھ بلند کرے اور کهے : یَا مُدَبِّرَ الاَُمُورِ
اسی رات اسی رات اے کاموں کو منظم کرنے والے ۔
اس دعا کو حالت رکوع سجود، قیام اور قعود میں بار بار پڑھے علاوہ از ایںاس دعا کو ماہ رمضان کی آخری رات میں بھی پڑھے:
چوبیسویں شب کی دعا: یَا فالِقَ الْاِصْباحِ وَجاعِلَ اللَّیْلِ سَکَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً، یَا
اے صبح کی سفیدی کو ظاہر کرنے، والے اے رات کو وقت آرام بنانے والے اور سورج اور چاند کو رواں کرنے والے اے
عَزِیزُ یَا عَلِیمُ یَا ذَا الْمَنِّ وَالطَّوْلِ وَالْقُوَّةِ وَالْحَوْلِ وَالْفَضْلِ وَالْاِنْعامِ وَالْجَلالِ
زبردست، اے دانا، اے احسان ونعمت والے ، اے قوت وحرکت کے مالک، اے مہربانی وعطا کرنے والے، اے جلالت
وَالْاِکْرامِ، یَا ﷲ یَا رَحْمنُ یَا ﷲ یَا فَرْدُ یَا وِتْرُ یَا ﷲ یَا ظاهِرُ یَا باطِنُ، یَا حَیُّ لاَ
اور بزرگی والے ، اے ﷲ ،اے رحمن، اے ﷲ، اے تنہا ، اے یکتا، اے ﷲ، اے ظاہر اے باطن ،اے زندہ ، کہ
إلهَ إلاَّ أَ نْتَ لَکَ الْاَسْمائُ الْحُسْنی، وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا، وَالْکِبْرِیائُ وَالاَْلائُ، أَسْأَ لُکَ
صرف تو ہی معبود ہے تیرے لیے اچھے اچھے نام، بلند ترین نمونے اور بڑائیاں اور مہربانیاں ہیں سوال کرتا ہوں تجھ سے
أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ فِی السُّعَدائِ
کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ آج کی رات میں میرا نام نیکوکاروں کے زمرے میں شمار کر
وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ، وَ إحْسانِی فِی عِلِّیِّینَ، وَ إسائَتِی مَغْفُورَةً، وَأَنْ تَهَبَ لِی
میری روح کو شہیدوں کے ساتھ قرار دے میری اطاعت کو مقام علیین میں پہنچا اور میری برائی کو معاف شدہ قرار دے اور یہ کہ مجھے
یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی، وَ إیماناً یَذْهَبُ بِالشَّکِّ عَنِّی، وَرِضیً بِما قَسَمْتَ لِی، وَآتِنا
وہ یقین دے جو میرے دل میں بسار ہے اور وہ ایمان دے جو شک کو مجھ سے دور کردے اور مجھے اس پر راضی بنا جو حصہ تو نے مجھے دیا ہے
فِی الدُّنْیا حَسَنَةً، وَفِی الاَْخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنا عَذابَ النَّارِ الْحَرِیقِ، وَارْزُقْنِی فِیها
اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے آخرت میں خوش ترین اجر عطا کر اور ہمیں جلانے والی آگ کے عذاب سے بچا اور اس ماہ میں
ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ وَالرَّغْبَةَ إلَیْکَ وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْبَةَ وَالتَّوْفِیقَ لِما وَفَّقْتَ لَهُ
مجھے ہمت دے کہ تجھے یادکروں، تیرا شکر بجا لائوں، تیری طرف توجہ رکھوں،تیری طرف پلٹوں اور توبہ کروں اور مجھے اس عمل کی توفیق
مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ
دے جس کی توفیق تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دی کہ تیری رحمت ہو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی ساری آلعليهالسلام پر۔
پچیسویں شب کی دعا:یَا جاعِلَ اللَّیْلِ لِباساً وَالنَّهارِ مَعاشاً، وَالْاَرْضِ مِهاداً، وَالْجِبالِ
اے رات کو بنانے والے پردہ اور دن کو وقت کاروبار، زمین کو جائے آرام اور پہاڑوں
أَوْتاداً یَا ﷲ یَا قاهِرُ، یَا ﷲ یَا جَبّارُ، یَا ﷲ یَا سَمِیعُ، یَا ﷲ یَا قَرِیبُ، یَا ﷲ یَا
کو میخیں اے ﷲ ،اے غالب، اے ﷲ، اے دبدبہ والے، اے ﷲ، اے سننے والے، اے ﷲ، اے نزدیک تر، اے ﷲ، اے
مُجِیبُ، یَا ﷲ یَا ﷲ یَا اللّهُ، لَکَ الْاَسْمائُ الْحُسْنی ، وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا، وَالْکِبْرِیائُ
قبول کرنے والے، اے ﷲ، اے ﷲ، اے ﷲ تیرے لیے اچھے اچھے نام، بلند ترین نمونے اور بڑائیاں
وَالاَْلائُ، أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی هذِهِ
اور مہربانیاں ہیں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ آج کی رات میں میرا نام نیکوکاروں کے زمرے
اللَّیْلَةِ فِی السُّعَدائِ وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ وَ إحْسانِی فِی عِلِّیِّینَ وَ إسائَتِی مَغْفُورَةً
میں شمار کر میری روح کو شہیدوں کیساتھ قرار دے میری اطاعت کو مقام علیین میں پہنچا اور میری برائی کو معاف شدہ قرار دے
وَأَنْ تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی، وَ إیماناً یُذْهِبُ الشَّکَّ عَنِّی، وَرِضیً بِما
اور یہ کہ مجھے وہ یقین دے جو میرے دل میں بسار ہے اور وہ ایمان دے جو شک کو مجھ سے دور کردے اور مجھے اس پر راضی بنا جو حصہ
قَسَمْتَ لِی وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الاَْخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنا عَذابَ النَّارِ الْحَرِیقِ
تو نے مجھے دیا ہے اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے آخرت میں خوش ترین اجر عطا کر اور ہمیں جلانے والی آگ کے عذاب سے بچا
وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ وَالرَّغْبَةَ إلَیْکَ وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْبَةَ وَالتَّوْفِیقَ
اور اس ماہ میں مجھے ہمت دے کہ تجھے یادکروں، تیرا شکر بجا لائوں، تیری طرف توجہ رکھوں، تیری طرف پلٹوں اور توبہ کروں اور مجھے
لِما وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ
اس عمل کی توفیق دے جس کی توفیق تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمد کودی کہ تیری رحمت ہو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی ساری آلعليهالسلام پر
رمضان کی چھبیسویں رات کی دعائ:یَا جاعِلَ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ آیَتَیْنِ، یَا مَنْ مَحا آیَةَ اللَّیْلِ
اے رات اور دن کو اپنی نشانیاں بنانیوالے ،اے رات کی نشانی کو تاریک
وَجَعَلَ آیَةَ النَّهارِ مُبْصِرَةً لِتَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْهُ وَرِضْواناً یَا مُفَصِّلَ کُلِّ شَیْئٍ تَفْصِیلاً
اور دن کی نشانی کو روشن بنانے والے تاکہ لوگ اس میں تیرے فضل اور خوشنودی کو تلاش کریں اے ہر چیز کی حد اور فرق مقرر کرنے والے
یَا مَاجِدُ یَا وَهَّابُ یَا ﷲ یَا جَوادُ، یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ، لَکَ الْاَسْمائُ الْحُسْنی،
اے شان والے، اے بہت دینے والے،اے اللہ ، اے عطا کرنے والے، اے اللہ، اے ﷲ ،اے ﷲ، تیرے لیے اچھے اچھے نام،
وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا، وَالْکِبْرِیائُ وَالاَْلائُ، أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ،
بلند ترین نمونے اور بڑائیاں اور مہربانیاں ہیں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما
وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ فِی السُّعَدائِ، وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ، وَ إحْسانِی
اور یہ کہ آج کی رات میں میرا نام نیکوکاروں کے زمرے میں شمار کر، میری روح کو شہیدوں کیساتھ قرار دے میری اطاعت کو مقام
فِی عِلِّیِّینَ وَ إسائَتِی مَغْفُورَةً، وَأَنْ تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی، وَ إیماناً یُذْهِبُ
علیین میں پہنچا اور برائی کو معاف شدہ قرار دے اور یہ کہ مجھے یقین دے جومیرے دل میں بس جائے اور وہ ایمان دے
الشَّکَّ عَنِّی وَتُرْضِیَنِی بِما قَسَمْتَ لِی، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً، وَفِی الاَْخِرَةِ
جو شک کو مجھ سے دور کردے اور مجھے اس پر راضی بنا جو حصہ تو نے مجھے دیا اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے آخرت میں خوش ترین
حَسَنَةً، وَقِنا عَذابَ النّارِ الْحَرِیقِ، وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ وَالرَّغْبَةَ
اجر عطا کر اور ہمیں جلانے والی آگ کے عذاب سے بچا اور اس ماہ میں مجھے ہمت دے کہ تجھے یادکروں، تیرا شکر بجا لائوں تیری
إلَیْکَ وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْبَةَ وَالتَّوْفِیقَ لِما وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَّی
طرف توجہ لگائے رکھوں، تیری طرف پلٹوں اور توبہ کروں اور مجھے اس عمل کی توفیق دے جس کی توفیق تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دی کہ خدا
ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آل پر رحمت کرے
رمضان کی ستائیسویں رات کی دعائ:
یَا مادَّ الظِّلِّ وَلَوْ شِئْتَ لَجَعَلْتَهُ ساکِناً وَجَعَلْتَ
اے سایہ کو پھیلانے والے اور اگر تو چاہتا تو اس کو ایک جگہ ٹھہرادیتا تو نے سورج
الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیلاً ثُمَّ قَبَضْتَهُ إلَیْکَ قَبْضاً یَسِیراً، یَا ذَا الْجُودِ وَالطَّوْلِ وَالْکِبْرِیائِ
کو سایہ کے لیے رہنما قرار دیا اور پھر اسے قابو میں کیا، تو آسانی سے قابو کیا اے سخاوت وعطا والے اور بڑائیوں
وَ الاَْلائِ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ عالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهادَةِ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ، لاَ إلهَ إلاَّ
اور نعمتوںوالے تیرے سوا کوئی معبود نہیں جو کہ ظاہر و باطن باتوں کا جاننے والا،بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے تیرے سوائ کوئی
أَنْتَ یَا قُدُّوسُ یَا سَلامُ یَا مُؤْمِنُ یَا مُهَیْمِنُ یَا عَزِیزُ یَا جَبَّارُ یَا مُتَکَبِّرُ
معبود نہیں اے پاک ترین، اے سلامتی والے، اے امن دینے والے، اے نگہدار، اے زبردست ،اے غلبہ والے، اے بڑائی
یَا ﷲ یَا خالِقُ یَا بارِیُٔ یَا مُصَوِّرُ، یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ، لَکَ الْاَسْمائُ
والے، اے ﷲ، اے خلق کرنے والے، اے پیدا کرنے والے، اے صورت بنانے والے، اے ﷲ، اے ﷲ، اے ﷲ، تیرے
الْحُسْنیٰ وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا، وَالْکِبْرِیائُ وَالاَْلائُ، أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
لیے اچھے اچھے نام، بلند ترین نمونے اور بڑائیاں اور مہربانیاں ہیں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل
مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ فِی السُّعَدائِ، وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ،
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ آج کی رات میں مجھے نیکوکاروں کے زمرے میں شمار کر اورمیری روح کو شہیدوں کیساتھ قرار دے،
وَ إحْسانِی فِی عِلِّیِّینَ، وَ إسائَتِی مَغْفُورَةً، وَأَنْ تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی،
میری اطاعت کو مقام علیین میں پہنچا اور میری برائی کو معاف شدہ قرار دے اور یہ کہ مجھے وہ یقین عطا کر جو میرے دل میں بس جائے
وَ إیماناً یُذْهِبُ الشَّکَّ عَنِّی، وَتُرْضِیَنِی بِما قَسَمْتَ لِی، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً،
اور وہ ایمان دے جو شک کو مجھ سے دور کردے اور مجھے اس پر راضی بنا جو حصہ تو نے مجھے دیا اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے
وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنا عَذابَ النَّارِ الْحَرِیقِ، وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ
آخرت میں خوش ترین اجر عطا کر اور ہمیں جلانے والی آگ کے عذاب سے بچا اور اس ماہ میں مجھے ہمت دے کہ تجھے یادکروں، تیرا
وَالرَّغْبَةَ إلَیْکَ وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْبَةَ وَالتَّوْفِیقَ لِما وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَّی
شکر بجا لائوں، تیری طرف توجہ رکھوں، تیری طرف پلٹوں اور توبہ کروں اور مجھے اس عمل کی توفیق دے جسکی توفیق تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ
کو دی کہ خدا کی رحمت ہو آنحضرت اور ان کی آلعليهالسلام پر
اٹھائیسویں شب کی دعائ:
یَا خازِنَ اللَّیْلِ فِی الْهَوائِ، وَخازِنَ النُّورِ فِی السَّمائِ، وَمَانِعَ
اے رات کو ہوا میں جگہ دینے والے ،اے روشنی کو آسمان میںجگہ دینے والے اور آسمان کو
السَّمائِ أَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ إلاَّ بِ إذْنِهِ وَحابِسَهُما أَنْ تَزُولا، یَا عَلِیمُ
روکنے والے کہ وہ زمین پر نہ آ پڑے لیکن اس کے حکم سے اور ان دونوں کے نگہدار کہ ٹوٹ نہ جائیں اے جاننے والے
یَا عَظِیمُ یَا غَفُورُ یَا دائِمُ یَا ﷲ یَا وارِثُ یَا باعِثَ مَنْ فِی الْقُبُورِ، یَا
اے عظمت والے، اے بہت بخشنے والے، اے ہمیشگی والے ،اے ﷲ، اے ورثہ والے، اے قبروں سے اٹھا کھڑا کرنے والے ، اے
ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ، لَکَ الْاَسْمائُ الْحُسْنی، وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا، وَالْکِبْرِیائُ وَالاَْلائُ
ﷲ ،اے ﷲ، اے ﷲ تیرے لیے اچھے اچھے نام بلند ترین نمونے اور بڑائیاں اور مہربانیاں ہیں
أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ فِی
سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ آج کی رات میں مجھے نیکوکاروں کے زمرے
السُّعَدائِ، وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ، وَ إحْسانِی فِی عِلِّیِّینَ، وَ إسائَتِی مَغْفُورَةً، وَأَنْ
میں شمار کر میری روح کو شہیدوں کے ساتھ قرار دے، میری اطاعت کو مقام علیین میں پہنچا اور میری برائی کو معاف شدہ قرار دے اور یہ
تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی، وَ إیماناً یُذْهِبُ الشَّکَّ عَنِّی، وَتُرْضِیَنِی بِما قَسَمْتَ
کہ مجھے وہ یقین دے جو میرے دل میں بسار ہے اور وہ ایمان دے جو شک کو مجھ سے دور کردے اور مجھے اس پر راضی بنا جو حصہ تو
لِی، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً، وَفِی الاَْخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنا عَذابَ النَّارِ الْحَرِیقِ
نے مجھے دیا اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے آخرت میں خوش ترین اجر عطا کر اور ہمیں جلانے والی آگ کے عذاب سے بچا
وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ، وَالرَّغْبَةَ إلَیْکَ وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْبَةَ
اور اس ماہ میں مجھے ہمت دے کہ تجھے یادکروں، تیرا شکر بجا لائوں، تیری طرف توجہ رکھوں،تیری طرف پلٹوں اور توبہ کروں اور مجھے
وَالتَّوْفِیقَ لِما وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ
اس عمل کی توفیق دے جس کی توفیق تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دی کہ خدا رحمت کرے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر
انتیسویں شب کی دعائ:یَا مُکَوِّرَ اللَّیْلِ عَلَی النَّهارِ، وَمُکَوِّرَ النَّهارِ عَلَی اللَّیْلِ، یَا عَلِیمُ
اے رات کو دن پر چڑھانے والے اور دن کو رات پر لپیٹ دینے والے اے دانا ،
یَا حَکِیمُ، یَا رَبَّ الْاَرْبابِ، وَسَیِّدَ السَّاداتِ، لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ، یَا أَ قْرَبَ إلَیَّ مِنْ
اے حکمت والے، اے پالنے والوں کے پالنے والے، اور سرداروں کے سردار، تیرے سوائ کوئی معبود نہیں اے مجھ سے میری رگِ
حَبْلِ الْوَرِیدِ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ لَکَ الْاَسْمائُ الْحُسْنیٰ وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا وَالْکِبْرِیائُ
جان سے زیادہ قریب اے ﷲ، اے ﷲ، اے ﷲ تیرے لیے ہیں اچھے اچھے نام، بلند ترین نمونے اور بڑائیاں
وَالاَْلائُ أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی هذِهِ
اور مہربانیاں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ آج کی رات میں میرا نام نیکوکاروں کی
اللَّیْلَةِ فِی السُّعَدائِ، وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ، وَ إحْسانِی فِی عِلِّیِّینَ، وَ إسائَتِی
فہرست میں درج فرما میری روح کو شہیدوں کے ساتھ قرار دے میری نیکی کو مقام علیین میں پہنچا اور میری برائی کو
مَغْفُورَةً وَأَنْ تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی، وَ إیماناً یُذْهِبُ الشَّکَّ عَنِّی وَتُرْضِیَنِی
معاف شدہ قرار دے اور یہ کہ مجھے وہ یقین دے جو میرے دل میں بسار ہے اور وہ ایمان دے جو شک کو مجھ سے دور کردے اور مجھے اس
بِما قَسَمْتَ لِی، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً، وَفِی الاَْخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنا عَذابَ النَّارِ
پر راضی بنا جو حصہ تو نے مجھے دیا اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے آخرت میں خوش ترین اجر عطا کر اور ہمیں جلانے والی آگ
الْحَرِیقِ وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ، وَالرَّغْبَةَ إلَیْکَ وَالْاِنابَةَ
کے عذاب سے بچا اور اس ماہ میں مجھے ہمت دے کہ اس ماہ میں تجھے یادکروں، تیرا شکر بجا لائوں تیری طرف توجہ رکھوں، تیری طرف
وَالتَّوْبَةَ وَالتَّوْفِیقَ لِما وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ
پلٹوں اور توبہ کروں اور مجھے اس عمل کی توفیق دے جس کی توفیق تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دی کہ خدا رحمت کرے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آلعليهالسلام پر
تیسویں شب کی دعائ:
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ لاَ شَرِیکَ لَهُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِِ کَما یَنْبَغِی لِکَرَمِ وَجْهِهِ
حمد ہے اس خدا کے لیے جس کا کوئی شریک نہیں حمد ہے اس خدا کیلئے جیسے کہ اس کی بزرگتر ذات اور
وَعِزِّ جَلالِهِ وَکَما هُوَ أَهْلُهُ، یَا قُدُّوسُ یَا نُورُ، یَا نُورَ الْقُدْسِ، یَا سُبُّوحُ، یَا مُنْتَهَی
عزت وجلال کا تقاضا ہے اور جس طرح وہ اہل ہے اے پاکیزہ تر، اے نور، اے پاکیزہ تر نور، اے بے عیب، اے پاکیزگی کے
التَّسْبِیحِ، یَا رَحْمٰنُ، یَا فاعِلَ الرَّحْمَةِ، یَا ﷲ، یَا عَلِیمُ، یَا کَبِیرُ، یَا ﷲ، یَا لَطِیفُ،
مرکز، اے بڑے مہربان، اے رحمت کے خالق،اے ﷲ ،اے دانا، اے بزرگتر، اے ﷲ، اے باریک بین،
یَا جَلِیلُ، یَا ﷲ، یَا سَمِیعُ، یَا بَصِیرُ، یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ، لَکَ الْاَسْمائُ الْحُسْنیٰ،
اے بڑی شان والے، اے ﷲ، اے سننے والے، اے دیکھنے والے، اے ﷲ، اے ﷲ، اے ﷲ تیرے لیے اچھے اچھے نام،
وَالْاَمْثالُ الْعُلْیا، وَالْکِبْرِیائُ وَالاَْلائُ، أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ،
بلند ترین نمونے اور بڑائیاں اور مہربانیاں ہیں میں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما
وَأَنْ تَجْعَلَ اسْمِی فِی هذِهِ اللَّیْلَةِ فِی السُّعَدائِ، وَرُوحِی مَعَ الشُّهَدائِ، وَ إحْسانِی
اور یہ کہ آج کی رات میں میرا نام نیکوکاروں کے زمرے میں شمار کر میری روح کو شہیدوں کے ساتھ قرار دے میری نیکی کو مقام
فِی عِلِّیِّینَ، وَ إسائَتِی مَغْفُورَةً، وَأَنْ تَهَبَ لِی یَقِیناً تُباشِرُ بِهِ قَلْبِی، وَ إیماناً یُذْهِبُ
علیین میں پہنچا اور میری برائی کو معاف شدہ قرار دے اور یہ کہ مجھے وہ یقین دے جو میرے دل میں بسار ہے اور وہ ایمان دے جو شک کو
الشَّکَّ عَنِّی، وَتُرْضِیَنِی بِمَا قَسَمْتَ لِی، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ
مجھ سے دور کردے اور مجھے اس پر راضی بنا جو حصہ تو نے مجھے دیا اور ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے آخرت میں خوش ترین اجر عطا
حَسَنَةً، وَقِنا عَذابَ النَّارِ الْحَرِیقِ، وَارْزُقْنِی فِیها ذِکْرَکَ وَشُکْرَکَ، وَالرَّغْبَةَ إلَیْکَ
کر اور ہمیں جلانے والی آگ کے عذاب سے بچا اور اس ماہ میں مجھے ہمت دے کہ اس ماہ میں تجھے یادکروں، تیرا شکر بجا لائوں،
وَالْاِنابَةَ وَالتَّوْبَةَ وَالتَّوْفِیقَ لِما وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَّی
تیری طرف توجہ رکھوں، تیری طرف پلٹوں اور توبہ کروں اورمجھے اس عمل کی توفیق دے جس کی توفیق تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دی کہ خدا
ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ
رحمت کرے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر ۔
اکیسویں رات کے باقی اعمال:
کفعمی نے سیدرحمهالله سے نقل کیا ہے کہ رمضان کی اکیسویں رات یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّد وَاقْسِمْ لِی حِلْماً یَسُدُّ عَنِّی بابَ الْجَهْلِ وَهُدیً
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھے وہ نرم خوئی عطا فرما جو جہالت کا دروازہ مجھ پر بند کرے اور ہدایت نصیب کر جس
تَمُنُّ بِهِ عَلَیَّ مِنْ کُلِّ ضَلالَةٍ، وَغِنیً تَسُدُّ بِهِ عَنِّی بابَ کُلِّ فَقْرٍ، وَقُوَّةً
کے ذریعے تو مجھ پر ہر گمراہی سے بچانے کا احسان کرے اور تونگری دے جس کے ذریعے تو مجھ پر ہر محتاجی کا دروازہ بندہ کرے اور
تَرُدُّ بِها عَنِّی کُلَّ ضَعْفٍ، وَعِزّاً تُکْرِمُنِی بِهِ عَنْ کُلِّ ذُلٍّ، وَرِفْعَةً
قوت عطا کر جس کے ذریعے تو مجھ سے کمزوریاں دور کرے اور وہ عزت دے جس سے تو ہر ذلت کو مجھ سے دور کرے اور وہ بلندی
تَرْفَعُنِی بِها عَنْ کُلِّ ضَعَةٍ، وَأَمْناً تَرُدُّ بِهِ عَنِّی کُلَّ خَوْفٍ، وَعافِیَةً
دے کہ جس کے ذریعے تو مجھے ہر پستی سے بلند کر دے اور ایسا امن عطا کر کہ جس کے ذریعے تومجھے ہر خوف سے بچائے اور وہ پناہ
تَسْتُرُنِی بِها عَنْ کُلِّ بَلائٍ، وَعِلْماً تَفْتَحُ لِی بِهِ کُلَّ یَقِینٍ،
دے کہ جسکے ذریعے تو مجھے ہر مصیبت سے محفوظ رکھے او ر وہ علم دے جس کے ذریعے تومیرے لیے ہر یقین کا دروازہ کھول دے
وَیَقِیناً تُذْهِبُ بِهِ عَنِّی کُلَّ شَکٍّ، وَدُعائً تَبْسُطُ لِی بِهِ الاِِجابَةَ فِی هذِهِ اللَیْلَةِ
اور وہ یقین عطا کرکہ جس کے ذریعے ہر شک کو مجھ سے دور کر دے اورایسی دعا نصیب فرما کہ جسے تو قبول فرمائے اسی رات میں اور
وَفِی هذِهِ السَّاعَةِ، السَّاعَةَ السَّاعّةَ السَّاعَةَ یَا کَرِیمُ، وَخَوْفاً تَنْشُرُ لِی بِهِ کُلَّ
اسی گھڑی میں، اسی گھڑی میں ،اسی گھڑی میں، اسی گھڑی میں ابھی، اے کرم کرنے والے، اور وہ خوف دے جس سے تو مجھ پر
رَحْمَةٍ، وَعِصْمَةً تَحُولُ بِها بَیْنِی وَبیْنَ الذُّنُوبِ حَتَّی أُفْلِحَ بِها عِنْدَ الْمَعْصومِینَ
رحمتیں برسائے اور وہ تحفظ دے کہ میرے اور گناہوں کے درمیان آڑ بن جائے یہاں تک کہ اس کے ذریعے تیرے معصومینعليهالسلام کی
عِنْدَکَ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
خدمت میں پہنچ پائوں تیری رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم والے۔
ایک اور روایت ہے کہ حماد بن عثمان اکیسویں رات امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپعليهالسلام نے پوچھا : آیا تم نے غسل کیا ہے؟ اس نے عرض کی جی ہاں! آپ پر قربان ہوجائوں ۔ حضرت نے مصلیٰ طلب فرمایا۔ حماد کو اپنے قریب بلایا اور نماز میں مشغول ہو گئے حماد بھی حضرتعليهالسلام کے ساتھ ساتھ نماز پڑھتے رہے ۔ یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے تب حضرت نے دعا مانگی اور حماد آمین کہتے رہے ۔ اس اثنائ میں صبح صادق کا وقت ہوگیا ۔ پس حضرتعليهالسلام نے اذان واقامت کہی پھر اپنے غلاموں کو بلایا اور نماز صبح باجماعت ادا کی پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ قدر اوردوسری رکعت میں حمد کے بعد سورئہ توحید پڑھی نماز کے بعد تسبیح وتقدیس ، حمدوثنائ الہی اور حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درودوسلام بھیجا اور مومنین ومومنات اورمسلمین ومسلمات، سبھی کے لیے دعا فرمائی ۔ پھر آپ نے سرسجدہ میں رکھا اور بڑی دیر تک اسی حالت میں رہے جب کہ آپ کے سانس کے سوا کوئی آواز نہ آتی تھی ، اس کے بعد یہ دعا تاآخر پڑھی کہ جو سید بن طائوس کی کتاب اقبال میں مذکور ہے اور وہ اس جملے سے شروع ہوتی ہے :
لَااِلَهَ اِلَّااَنْتَ مُقَلِّبُ الْقُلُوْبِ وَالْاَبْصَارِ
نہیں کوئی معبود مگر تو کہ جو دلوں اورآنکھوں کو زیروزبر کرنیوالا ہے
شیخ کلینیرحمهالله نے روایت کی ہے کہ امام محمدباقر -رمضان کی اکیسویں اور تئیسویں راتوں میں نصف شب تک دعا پڑھتے اور پھر نمازیں شروع کر دیتے تھے ۔ واضح رہے کہ رمضان کی آخری راتوں میں ہر رات غسل کرنا مستحب ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت رسول ان دس راتوں میں ہر رات غسل فرماتے تھے۔ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھنا مستحب ہے بلکہ اس کی بڑی فضیلت ہے اور یہی اعتکاف کا افضل وقت ہے۔ ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ ان ایام میں اعتکاف بیٹھنے پر دوحج اور دوعمرے کا ثواب ملتا ہے۔ حضرت رسول رمضان کے ان آخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف بیٹھتے تھے، تب مسجد میں آپ کے لیے چھولداری لگا دی جاتی آپ اپنا بستر لپیٹ دیتے اور شب وروز عبادت الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔
یاد رہے کہ ۰۴ ھ میںرمضان کی اسی اکیسویں رات میں امیرالمومنین -کی شہادت ہوئی تھی۔ لہذا اس رات آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے پیروکاروں کا رنج وغم تازہ ہوجاتا ہے۔
روایت ہے کہ یہ شب بھی امام حسین -کی شبِ شہادت کے مانند ہے کہ جو پتھر بھی اٹھایا جاتا اسکے نیچے سے تازہ خون ابل پڑتا تھا۔ شیخ مفیدرحمهالله فرماتے ہیں کہ اس رات بکثرت درود شریف پڑھے آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ظلم کرنے والوں پر نفرین کرے اور امیرالمومنین -کے قاتل پر لعنت بھیجے۔
اکیسویںرمضان کا دن
یہ وہ دن ہے جس میںامیرالمومنین- شہید ہوئے پس اس میںحضرتعليهالسلام کی زیارت پڑھنا مناسب ہے اور بہترہے کہ اس میں حضرت خضرعليهالسلام کے کلمات دہرائے جائیں جو زیارت ہی کے مشابہ ہیںاور یہ کلمات کتاب ہدیۃ الزائر میں مذکور ہیں۔
تئیسویں رمضان کی رات
ہدیۃ الزائر میں منقول ہے کہ یہ رات شب قدر کی پہلی دوراتوں سے افضل ہے اور بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شب قدر یہی ہے او ر یہ بات حقیقت کے قریب تر ہے اس رات حکمت الہی کے مطابق کائنات کے تمام امور مقدر ہوتے ہیں پس اس میں پہلی دوراتوں کے مشترکہ اعمال بجا لائے اور ان کے علاوہ اس رات کے چند مخصوص اعمال بھی ہیں:
( ۱ )سورئہ عنکبوت وسورئہ روم پڑھے کہ امام جعفرصادق -نے قسم کھاتے ہوئے فرمایاکہ اس رات ان دوسورتوں کا پڑھنے والااہل جنت میں سے ہے۔
( ۲ )سورئہ حٰم دخان پڑھے :
( ۳ )ایک ہزار مرتبہ سورئہ قدر پڑھے:
( ۴ )اس رات خصوصًا اور دیگر اوقات میں عمومًا یہ دعا پڑھے اَللّٰھُمَّ کُنْ لِوَلیِّکَ کہ رمضان مبارک کے آخری عشرے کی دعائوں کے سلسلے میں تئیسویں شب کی دعا کے بعد اس کا ذکر ہوا ہے۔
( ۵ )یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ امْدُدْ لِی فِی عُمْرِی وَٲَوْسِعْ لِی فِی رِزْقِی وَٲَصِحَّ لِی جِسْمِی
اے ﷲ! میری عمر دراز فرما، میرے رزق میں وسعت دے، میرے بدن کو تندرست رکھ اور میری
وَبَلِّغْنِی ٲَمَلِی وَ إنْ کُنْتُ مِنَ الاََشْقِیائِ فَامْحُنِی مِنَ الاََشْقِیائِ وَاکْتُبْنِی مِنَ السُّعَدائِ فَ إنَّکَ
آرزو پوری فرما اور اگر میں بدبختوں میں سے ہوں تو میرا نام بدبختوں سے کاٹ دے اور میرا نام خوش بختوں میں لکھ دے کیونکہ تو
قُلْتَ فِی کِتابِکَ الْمُنْزَلِ عَلَی نَبِیِّکَ الْمُرْسَلِ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ یَمْحُواْ ﷲ مَایَشائُ
نے اپنی اس کتاب میں فرمایا ہے جو تونے اپنے نبی مرسلصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل کی کہ تیری رحمت ہو ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر یعنی خدا جو چاہے مٹا دیتا
وَیُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْکِتابِ
ہے اور جو چاہے لکھ دیتا ہے اور اسی کے پاس ام الکتاب ہے ۔
( ۶ ) یہ دعا پڑھے :اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِیما تَقْضِی وَفِیما تُقَدِّرُ مِنَ الاََمْرِ الْمَحْتُومِ وَفِیما
اے معبود! جن امور کا تو لیلۃ القدر میں فیصلہ کرتا ہے حتمی فیصلوں میں سے اور ان کو
تَفْرُقُ مِنَ الاََمْرِ الْحَکِیمِ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ الْقَضائِ الَّذِی لاَ یُرَدُّ وَلاَ یُبَدَّلُ أَنْ
مقرر فرماتا ہے اور جن پر حکمت امور میں امتیازات دیتا ہے اور ایسی قضائ وقدر معین کرتا ہے جسکو رد یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا اس میں
تَکْتُبَنِی مِنْ حُجَّاجِ بَیْتِکَ الْحَرامِ فِی عامِی هذا الْمَبْرُورِ حَجُّهُمُ الْمَشْکُورِ سَعْیُهُمُ
تو مجھے اس سال کے حجاج میں قرار دے کہ جن کا حج مقبول، جن کی سعی پسندیدہ،
الْمَغْفُورِ ذُنُوبُهُمُ، الْمُکَفَّرِ عَنْهُمْ سَیِّئاتُهُمْ، وَاجْعَلْ فِیما تِقْضِی وَتُقَدِّرُ أَنْ تُطِیلَ
جن کے گناہ معاف، جن کی برائیاں مٹا دی گئی ہیں اور جن کا تو نے فیصلہ کیا اس میں
عُمْرِی، وَتُوَسِّعَ لِی فِی رِزْقِی
میری عمر کو دراز اور میرے رزق کو وسیع قرار دے ۔
( ۷ ) یہ دعا پڑھے جو کتاب اقبال میں ہے:یَا باطِناً فِی ظُهُورِهِ ویَا ظاهِراً فِی بُطُونِهِ وَیَا باطِناً
اے وہ جو اپنے ظہور میں بھی باطن ہے اور اے وہ جو وہ باطن رہ کر بھی ظاہر ہے اے وہ باطن کہ جو
لَیْسَ یَخْفَیٰ، وَیَا ظاهِراً لَیْسَ یُریٰ، یَا مَوْصُوفاً لاَ یَبْلُغُ بِکَیْنُونَتِهِ مَوْصُوفٌ وَلاَ
پوشیدہ نہیں ہے اور وہ ظاہر جو نظر نہیں آتا اے وہ موصوف کہ توصیف جس کی حقیقت تک نہیں پہنچتی اور نہ اس کی حد
حَدٌّ مَحْدُودٌ، وَیَا غائِباً غَیْرَ مَفْقُودٍ، وَیَا شاهِداً غَیْرَ مَشْهُودٍ، یُطْلَبُ فَیُصابُ، وَلَمْ
مقرر کر سکتی ہے اے وہ غائب جو گم نہیں ہے اور وہ حاضر جو دکھائی نہیں دیتا جسے ڈھونڈنے والا پالیتا ہے اور
یَخْلُ مِنْهُ السَّماواتُ وَالْاَرْضُ وَمَا بَیْنَهُما طَرْفَةَ عَیْنٍ ، لاَ یُدْرَکُ بِکَیْفٍ، وَلاَ یُؤَیَّنُ
اس کے وجود سے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے پل بھر کیلئے اس سے خالی نہیں ہے اسکی کیفیت نہ کوئی جگہ ہے جہاں
بِأَیْنٍ وَلاَ بِحَیْثٍ، أَنْتَ نُورُ النُّورِ وَرَبُّ الاََرْبابِ، أَحَطْتَ بِجَمِیعِ الاَُمورِ، سُبحانَ
وہ ساکن ہو نہ کوئی سمت کہ جدھر وہ ہو تو نور کوروشن کرنے والا پالنے والوں کا پالنے والا اور تمام امور پر حاوی ہے پاک ہے
مَنْ لَیْسَ کَمِثِلهِ شَیْئٌ وَهُوَ السَّمیعُ البَصیرُ سبحانَ مَنْ هُوَ هکَذَا وَلاَ هَکَذا غَیْرُه
وہ جس کی مانند کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے پاک ہے وہ جو ایسا ہے اور اس کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے۔
اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔
( ۸ )اول شب میں کئے ہو ئے غسل کے علاوہ آخر شب پھر غسل کرے اور واضح رہے کہ اس رات غسل ، شب بیداری ، زیارت امام حسین -اور سورکعت نماز کی بہت زیادہ تاکید اور فضیلت ہے۔
تہذیب الاسلام میں شیخ نے ابوبصیر کے ذریعے امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جس رات کے بارے میں یقین ہو کہ وہ شب قدر ہے تو اس میں سورکعت نماز اس طرح کہ ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ توحید پڑھو۔ میں نے عرض کیا آپ پر قربان ہوجائوں ! اگر یہ نماز کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکوں تو بیٹھ کر پڑھ لوں ؟ فرمایا اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ سکتے ہو میں نے عرض کی اگر بیٹھ کر نہ پڑھ سکوں تو پھر کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا: بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے ہو تو پشت کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔
دعائم الاسلام میں روایت نقل ہوئی ہے کہ رسول ا ﷲ رمضان مبارک کے آخری عشرے میں اپنا بستر لپیٹ دیتے اور عبادت الہی میں مصروف ہو جاتے تئیسویں کی رات آپ اپنے اہل و عیال کو بیدار کرتے اور پھر جس پر نیند کا غلبہ ہوتا اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے دیتے۔ حضرت فاطمہ =بھی اس رات اپنے گھر کے کسی فرد کو سونے نہ دیتیں ، نیند کا علاج یوں کرتیں کہ دن کو کھانا کم دیتیں اور فرماتیں کہ دن کو سو جائو تاکہ رات کو بیدار رہ سکو، آپ فرماتی ہیں کہ بدقسمت ہے وہ شخص جو آج کی رات خیرونیکی سے محروم رہ جائے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ امام جعفر صادق -سخت علیل تھے کہ تئیسویں رمضان کی رات آگئی آپ نے اپنے کنبے والوں اور غلاموں کو حکم دیا کہ مجھ کو مسجد لے چلو اور پھر آپ نے مسجد میں شب بیداری فرمائی علامہ مجلسیرحمهالله کا ارشاد ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس رات تلاوت قرآن کرے اور صحیفہ کاملہ کی دعائیں بالخصوص دعائ مکارم الاخلاق اور دعا توبہ پڑھے:
نیز یہ کہ شب ہائے قدر کے دنوں کی عظمت وحرمت کا بھی خیال رکھے اور ان میں عبادت الہی اور تلاوت قرآن کرتا رہے، معتبر احادیث میں ہے کہ شب قدر کادن بھی رات کی طرح عظمت اور فضیلت کا حامل ہے۔
ستائیسویں رمضان کی رات
اس رات خاص طور پر غسل کرنے کا حکم ہے اور منقول ہے کہ امام زین العابدین -اس رات میں پہلے سے پچھلے پہر تک اس دعا کو باربار پڑھا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ ارْزُقنی التَّجافِیَ عَنْ دارِ الغُرُورِ، وَالاِِنابَةَ إلَی دارِ الْخُلُودِ، وَالاسْتِعدادَ
اے معبود! مجھے فریب کے گھر سے دوری اختیار کرنا، ہمیشہ کے مسکن کی طرف لوٹ کے جانااور موت کے آنے سے پہلے
لِلْمَوْتِ قَبْلَ حُلُولِ الْفَوتِ
موت کے لیے تیار ہونا نصیب فرما
ماہ رمضان کی آخری رات
یہ بڑی بابرکت رات ہے اور اس میں چند اعمال ہیں:
( ۱ )غسل کرے۔
( ۲ )زیارت امام حسین -۔
( ۳ )سورئہ انعام ، سورئہ کہف اور سورئہ یاسین کی تلاوت کرے اور سومرتبہ کہے:
اَسْتَغْفِرُﷲ وَاَتُوْبُ اِلَیْهِ
بخشش چاہتاہوں ﷲ سے اس کے حضور توبہ کرتا ہوں
( ۴ )شیخ کلینیرحمهالله نے امام جعفر صادق -سے نقل کیا ہے کہ یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ هذا شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِی أَ نْزَلْتَ فِیهِ الْقُرْآنَ وَقَدْ تَصَرَّمَ، وَأَعُوذُ بِوَجْهِکَ
اے معبود! یہ ماہ رمضان المبارک ہے جس میں تو نے قرآن کریم نازل فرمایا اور وہ مہینہ ختم ہو گیا ہے اور پناہ لیتا ہوں میں
الْکَرِیمِ یَا رَبِّ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ لَیْلَتِی هذِهِ أَوْ یَتَصَرَّمَ شَهْرُ رَمَضانَ وَلَکَ قِبَلِی
تیری ذات کریم کی اے پروردگار اس سے کہ آج کی رات ختم ہو اور صبح ہو جائے یا رمضان مبارک کا مہینہ گزر جائے اور مجھ پر تیری
تَبِعَةٌ أَوْ ذَ نْبٌ تُرِیدُ أَنْ تُعَذِّبَنِی بِهِ یَوْمَ أَ لْقاکَ
کوئی سزا باقی ہو یا کوئی گناہ ہو کہ تو مجھے اس پر عذاب دینا چاہتا ہو جس دن میں پیش ہوں گا۔
( ۵ )دعا یامدبر الامور.....پڑھے کہ جو تئیسویں کی رات کے اعمال میں ذکر ہوئی ہے۔
( ۶ )وہ دعائیں پڑھ کر ماہ رمضان کوالوداع کرے کہ جو شیخ کلینیرحمهالله ، صدوقرحمهالله ،شیخ مفیدرحمهالله ، طوسیرحمهالله اور سیدابن طائوسرحمهالله نے نقل کی ہیں۔ شاید ان میں سب سے بہتر صحیفہ کاملہ کی پینتالیسیویں دعا ہے۔
نیز سید ابن طائوس نے امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص ماہ رمضان کی آخری رات کو الوداع کرے تو یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ من صِیامِی لِشَهْرِ رَمَضانَ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ یَطْلُعَ فَجْرُ
اے ﷲ! رمضان کے اس مہینے کے روزے میرے لیے آخری روزے قرار نہ دے اور میں پناہ مانگتا ہوںتیری اس سے کہ اس رات
هذِهِ اللَّیْلَةِ إلاَّ وَقَدْ غَفَرْتَ لِی
کی صبح ہو جائے لیکن تو نے مجھے بخش دیا ہو۔
جوشخص ان کلمات کے کیساتھ ماہ رمضان کوالوداع کرے تو حق تعالیٰ اسے صبح ہونے سے پہلے بخش دے گا اور اس کو توبہ و استغفار کی توفیق عطا کرے گا۔
سید و شیخ صدوقرحمهالله نے جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ میں رسول ﷲ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ دن رمضان مبارک کا آخری جمعہ تھا ۔ جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نظر مجھ پر پڑی تو فرمایا کہ اے جابر! یہ ماہ رمضان کا آخری جمعہ ہے پس ماہ رمضان کو الوداع کرو اور کہو:
اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلهُ آخِرَ العَهْدِ مِنْ صِیامِنا إیَّاهُ فَ إنْ جَعَلْتَهُ فَاجْعَلْنِی مَرْحُوماً وَلاَ
اے ﷲ! رمضان کے اس مہینے کے روزے میرے لیے آخری روزے قرار نہ دے پس اگر تو ایسا کرے تو مجھے رحم کیا ہواقرار دے
تَجْعَلْنِی مَحْرُوماً
اور رحمت سے محروم کیا ہوا نہ بنا
جوشخض اس دعا کو پڑھے تو یقینًا وہ دوسعادتوں میں سے ایک ضرور حاصل کرتا ہے۔ یعنی وہ آئندہ رمضان کو پائے گا یا خدا کی انتہائی رحمت و بخشش سے ہم کنار ہو کر عالم بقائ میںراحتی حاصل کرے گا۔
سید ابن طائوسرحمهالله وشیخ کفعمیرحمهالله نے رسول ﷲ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: جوشخص ماہ رمضان کی آخری رات دس رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں دس مرتبہ سورئہ توحید اور رکوع وسجود میں دس دس مرتبہ کہے:
سُبْحَانَ ﷲ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ لَا اِلَهَ اِلَّا ﷲ وَ ﷲ اَکْبَرُ
پاک تر ہے خدا کہ حمد اسی کے لئے ہے اور نہیں کوئی معبود مگر ﷲ بزرگ تر ہے۔
نیز ہر دورکعت کے بعد تشہدوسلام پڑھے اور یہ دس رکعت نماز ختم کرکے ہزار مرتبہ استغفار کرے پھر سجدہ میں جائے اور کہے :
یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ، یَا ذَا الجَلالِ وَالاِِکرامِ، یَارَحْمانَ الدُّنیا وَالآخِرَةِ وَرَحِیمَهُما
اے زندہ، اے نگہبان ،اے جلالت اور بزرگی کے مالک ،اے دنیا وآخرت میں رحم کرنے والے اور ان دونوں میں مہربان
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، یَا إلهَ الاََوَّلِینَ وَالآخِرِینَ، اغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا، وَتَقَبَّلْ مِنَّا صَلاتَنا
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے اولین و آخرین کے معبود ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری نمازیں ہمارے روزے
وَصِیامَناوَقِیامَنا
اور ہماری عبادتیں قبول فرما
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مزید فرمایا:مجھے اس ذات کے حق کی قسم کہ جس نے مجھے شرف نبوت سے نوازا ہے کہ جبرائیل نے مجھے خبر دی ہے اسرفیل کے ذریعہ اور اسرافیل نے خدا وند عالم سے لیا ہے وہ شخص ابھی سر سجدے سے نہیں اٹھائے گا کہ اس کے ماہ رمضان میں بجالائے ہوئے اعمال قبول کر لیے جائیں گے او ر اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
یہ نماز شب عیدالفطر میں بھی پڑھی جاسکتی ہے، لیکن اس روایت کے مطابق رکوع وسجود کے اذکار کی بجائے تسبیحات اربعہ پڑھے اور نماز سے فراغت کے بعد سجدہ میں جاکر جب مذکورہ بالا دعا پڑھے تواغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا سے وَقِیامَنَا تک کی بجائے یہ کہے:
اغْفِرْ لِی ذُنُوبِی، وتَقَبَّلْ صَوْمِی وَصَلاتِی وَقِیامِی
میرے گناہ بخش دے اور میرا روزہ، میری نماز اور میری عبادت قبول فرما
تیسویں رمضان کا دن
سید نے ماہ رمضان کے آخری دن میں پڑھنے کیلئے ایک دعا نقل کی ہے۔ جسکا پہلا جملہ یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ اِنَّکَ اَرْحْمُ الرَّاحِمِیْنَ
اے معبود! بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
عمومًا لوگ اس دن رمضان مبارک میں شروع کیا ہوا قرآن مجید ختم کرتے ہیں۔
پس ختم قرآن کے بعد ان کیلئے صحیفہ کاملہ کی بیالیسویں دعا کا پڑھنا بہتر ہے اور اگر کوئی شخص اسکی بجائے مختصر دعا پڑھنا چاہے تو وہ یہ دعا پڑھے جو شیخ نے حضرت امیرالمومنین -سے نقل کی ہے:
اَللّٰهُمَّ اشْرَحْ بِالْقُرْآنِ صَدْرِی وَاسْتَعْمِلْ بِالْقُرْآنِ بَدَنِی، وَنَوِّرْ بِالْقُرْآنِ بَصَرِی،
اے معبود ! میرے سینے کو قرآن کے ذریعے کشادہ کر دے، میرے بدن کو قرآن پر عمل پیرا بنا دے، میری آنکھوں کوقرآن سے روشن کر دے
وَأَطْلِقْ بِالْقُرْآنِ لِسانِی، وَأَعِنِّی عَلَیْهِ مَا أَبْقَیْتَنِی فَ إنَّهُ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِکَ
اور میری زبان کو قرآن کیلئے رواں کر دے اور جب تک مجھے زندہ رکھے اس میں میرا مددگار رہ کہ نہیں کوئی حرکت وقوت مگر جو تیری طرف سے ہے
نیز یہ دعا پڑھے جو امیرالمؤمنین- سے منقول ہے:اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ إخْباتَ الْمُخْبِتِینَ وَ
اے معبود! میں تجھ سے دل لگانیوالوں کی توجہ مانگتا ہوں اور یقین رکھنے والوں کا
إخْلاصَ الْمُوقِنِینَ، وَمُرافَقَةَ الْاَ بْرارِ، وَاسْتِحْقاقَ حَقائِقِ الْاِیمانِ، وَالْغَنِیمَةَ مِنْ
خلوص، نیکوکاروں کی ہمراہی، کا سئوال کرتا ہوں اور ایمان کی حقیقتوں تک رسائی، ہر نیکی میں اپنی حصے داری اور ہر گناہ سے بچے رہنے
کُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلامَةَ مِنْ کُلِّ إثْمٍ، وَوُجُوبَ رَحْمَتِکَ، وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالْفَوْزَ
کی صلاحیت کا خواہاں ہوں نیز اپنے لیے تیری رحمت کے لازمی ہونے، تیری طرف سے اپنی بخشش کے یقینی ہونے، جنت میں
بِالْجَنَّةِ، وَالنَّجاةَ مِنَ النّارِ
داخل ہونے اور جہنم سے رہائی کا سوال کرتا ہوں۔
خاتمہ
ماہ رمضان کی راتوں کی نمازیں اور دنوں کی دعائیں
ماہ رمضان کی راتوں کی نمازیں
علامہ مجلسیرحمهالله نے زاد المعاد کی آخری فصل میں ماہ رمضان کی راتوں کی نماز اور دنوں کی خاص دعاؤں کا ذکر کیا ہے ۔یہاںہم انہی بزگوار کے فرمودات نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔
پہلی رات کی نماز: یہ چار رکعت ہے جسکی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پندرہ مرتبہ سورہ توحید پڑھے:
دوسری رات کی نماز: یہ چار رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعدبیس مرتبہ سورہ قدر پڑھے:
تیسری رکعت کی نماز: یہ دس رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعدپچاس مرتبہ سورہ توحید پڑھے:
چوتھی رات کی نماز: یہ آٹھ رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعدبیس مرتبہ سورہ قدر پڑھے:
پانچویں رات کی نماز: یہ دو رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید اور سلام کے بعد سو مرتبہ صلوات پڑھے:
چھٹی رات کی نماز: یہ چار رکعت نماز ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ ملک پڑھے:
ساتویں رات کی نماز: یہ چار رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد تیرہ مرتبہ سورہ قدر پڑھے:
آٹھویں رات کی نماز: یہ دو رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور سلام کے بعدہزار مرتبہ سُبْحَانَ ﷲ کہے:
نویں رات کی نماز: یہ مغرب و عشا کے درمیان چھ رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعدسات مرتبہ آیۃ الکرسی اور سلام کے بعد پچاس مرتبہ صلوات پڑھے :
دسویں رات کی نماز: یہ بیس رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد تیس مرتبہ سور ہ توحید پڑھے:
گیارہویں رات کی نماز: یہ دو رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد بیس مرتبہ سورہ کوثر پڑھے:
بارہویں رات کی نماز: یہ آٹھ رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد تیس مرتبہ سورہ قدر پڑھے:
تیرہویں رات کی نماز: یہ چار رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچیس مرتبہ سورہ توحید پڑھے:
چودہویں رات کی نماز: یہ چھ رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد تیس مرتبہ سورہ زلزال پڑھے:
پندرہویں رات کی نماز: یہ چار رکعت ہے جس کی پہلی دو رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور دوسری دو رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس پچاس مرتبہ سورہ توحید پڑھے:
سولہویں رات کی نماز: یہ بارہ رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد بارہ مرتبہ سورہ تکاثر پڑھے:
سترہویں رات کی نماز: یہ دو رکعت ہے جس کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعدکوئی ایک سورہ اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور سلام کے بعد سو مرتبہ لا الہ الا ﷲ کہے:
اٹھارہویں رات کی نماز: یہ چار رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچیس مرتبہ سورہ کوثر پڑھے:
انیسویں رات کی نماز: یہ پچاس رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ زلزال پڑھے تاہم ظاہراً اس سے مراد یہ ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ زلزال پڑھے کیونکہ ایک رات میں پچیس سو مرتبہ سورہ زلزال پڑھنا بہت مشکل ہے :
بیسویں، اکیسویں، بائیسویں، تئیسویں اور چوبیسویں رات کی نماز: ان راتوں میں سے ہر ایک میں آٹھ رکعت نماز ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد جو سورہ چاہے پڑھے:
پچیسویں رات کی نماز:یہ آٹھ رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعددس مرتبہ سورہ توحید پڑھے:
چھبیسویں رات کی نماز: یہ آٹھ رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے:
ستائیسویں رات کی نماز: یہ چار رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ ملک پڑھے اگر یہ نہ ہوسکے تو پچیس مرتبہ سورہ توحید پڑھے:
اٹھائیسویں رات کی نماز: یہ چھ رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سو مرتبہ آیۃ الکرسی ، سو مرتبہ سورہ توحید اور سو مرتبہ سورہ کوثر پڑھے اور بعد از نماز سو مرتبہ صلوات پڑھے:
مؤلف کہتے ہیں کہ میری دانست میں اٹھائیسویں رات کی نماز چھ رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس مرتبہ آیۃ الکرسی ۔ دس مرتبہ سورہ کوثر اور دس مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور نماز کے بعدسو مرتبہ پر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات بھیجے:
انتیسویں رات کی نماز: یہ دو رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد بیس مرتبہ سورہ توحید پڑھے:
تیسویں رات کی نماز: یہ بارہ رکعت ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد بیس مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور بعد از نماز سو مرتبہ صلوات پڑھے:
واضح رہے کہ یہ سب نمازیں دو، دو رکعت کر کے ایک تشہد و سلام کیساتھ پڑھی جاتی ہیں
ماہ رمضان کے دنوں کی دعائیں
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول ﷲ نے فرمایا کہ ماہ رمضان کا ہر روزہ اپنی جگہ فضیلت رکھتا ہے ، لیکن ہر دن کی مخصوص دعا پڑھنے سے اسکی عظمت دو چند ہوجاتی ہے ۔
آنحضرت نے رمضان مبارک کے دنوں میں پڑھی جانے والی دعاؤں کی فضیلت بھی بیان فرمائی ہے ۔ مگر یہاں ہم صرف ہر دن کی دعا ہی کا ذکر کریں گے۔
پہلے دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ صِیامِی فِیهِ صِیامَ الصَّائِمِینَ وَقِیامِی فِیهِ قِیامَ الْقائِمِینَ
اے معبود! میرا آج کا روزہ حقیقی روزے داروں جیسا قرار دے میری عبادت کوسچے عبادت گزاروں
وَنَبِّهْنِی فِیهِ عَنْ نَوْمَةِ الْغافِلِینَ، وَهَبْ لِی جُرْمِی فِیهِ یَا إلهَ الْعالَمِینَ، وَاعْفُ عَنِّی
جیسی قرار دے آج مجھے غافل لوگوں جیسی نیند سے بیدار کردے اور آج میرے گناہ بخش دے اے جہانوں کے پالنے والے اورمجھ سے درگزر کر
یَا عافِیاً عَنِ الْمُجْرِمِینَ
اے گناہگاروں سے درگزر کرنے والے
دوسرے دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ قَرِّبْنِی فِیهِ إلی مَرْضاتِکَ وَجَنِّبْنِی فِیهِ مِنْ سَخَطِکَ وَنَقِماتِکَ
اے معبود !آج کے دن مجھے اپنی رضاؤں کے قریب کر دے آج کے دن مجھے اپنی ناراضی اور اپنی سزاؤںسے
وَوَفِّقْنِی فِیهِ لِقِرائَةِ آیاتِکَ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
بچائے رکھ اور آج کے دن مجھے اپنی آیات پڑھنے کی توفیق دے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
تیسرے دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی فِیهِ الذِّهْنَ وَالتَّنْبِیهَ، وَباعِدْنِی فِیهِ مِنَ السَّفاهَةِ
اے معبود! آج کے دن مجھے ہوشاور آگاہی عطا فرما مجھے ہر طرح کی نا سمجھی اور بے راہ روی سے
وَالتَّمْوِیهِ، وَاجْعَلْ لِی نَصِیباً مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تُنْزِلُ فِیهِ، بِجُودِکَ یَا أَجْوَدَ الْاَجْوَدِین
بچا کے رکھ اور مجھ کو ہر اس بھلائی میں سے حصہ دے جو آج تیری عطاؤں سے نازل ہو اے سب سے زیادہ عطا کرنے والے۔
چوتھے دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ قَوِّنِی فِیهِ عَلَی إقامَةِ أَمْرِکَ وَأَذِقْنِی فِیهِ حَلاوَةَ ذِکْرِکَ وَأَوْزِعْنِی
اے معبود! آج کے دن مجھے قوت دے کہ تیرے حکم کی تعمیل کروں اس میں مجھے اپنے ذکر کی مٹھاس کا مزہ عطا کرآج کے دن
فِیهِ لاََِدائِ شُکْرِکَ بِکَرَمِکَ وَاحْفَظْنِی فِیهِ بِحِفْظِکَ وَسَتْرِکَ یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ
اپنے کرم سے مجھے اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق دے مجھے اپنی نگہداری اور پردہ پوشی کی حفاظت میں رکھ اے دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والے۔
پانچویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی فِیهِ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ، وَاجْعَلْنِی فِیهِ مِنْ عِبادِکَ
اے معبود! آج کے دن مجھے بخشش مانگنے والوں میں سے قرار دے آج کے دن مجھے اپنے نیکوکار عبادت گزار بندوں
الصَّالِحِینَ الْقانِتِینَ وَاجْعَلْنِی فِیهِ مِنْ أَوْ لِیائِکَ الْمُقَرَّبِینَ بِرَأْفَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
میں سے قرار دے اور آج کے دن مجھے اپنے نزدیکی دوستوں میں سے قرار دے اپنی محبت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
چھٹے دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ لاَ تَخْذُلْنِی فِیهِ لِتَعَرُّضِ مَعْصِیَتِکَ وَلاَ تَضْرِبْنِی بِسِیاطِ نَقِمَتِکَ
اے معبود! آج کے دن مجھے چھوڑ نہ دے کہ تیری نا فرمانی میں لگ جاؤں اور نہ مجھے اپنے غضب کا تازیانہ مار
وَزَحْزِحْنِی فِیهِ مِنْ مُوجِباتِ سَخَطِکَ، بِمَنِّکَ وَأَیادِیکَ یَا مُنْتَهی رَغْبَةِ الرَّاغِبِینَ
آج کے دن مجھے اپنے احسان و نعمت سے مجھے اپنی ناراضی کے کاموں سے بچائے رکھ اے رغبت کرنے والوں کی آخری امید گاہ۔
ساتویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ أَعِنِّی فِیهِ عَلَی صِیامِهِ وَقِیامِهِ، وَجَنِّبْنِی فِیهِ مِنْ هَفَواتِهِ
اے معبود! آج کے دن مجھے روزہ رکھنے اور عبادت کرنے میں مدد دے اور اس میں مجھے بے کار باتوں اور گناہوں سے
وَآثامِهِ، وَارْزُقْنِی فِیهِ ذِکْرَکَ بِدَوامِهِ، بِتَوْفِیقِکَ یَا هادِیَ الْمُضِلِّینَ
بچائے رکھ اور اس میں مجھے یہ توفیق دے کہ ہمیشہ تیرے ذکر و فکر میں رہوں اے گمراہوں کو ہدایت دینے والے۔
آٹھویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی فِیهِ رَحْمَةَ الْاَیْتامِ وَ إطْعامَ الطَّعامِ وَ إفْشائَ السَّلامِ
اے معبود! آج کے دن مجھے یتیموں پر رحم کرنے، ان کو کھانا کھلانے اور کھلے دل سب کو سلام کہنے
وَصُحْبَةَ الْکِرامِ، بِطَوْ لِکَ یَا مَلْجَأَ الاَْمِلِینَ
اور شرفائ کے پاس بیٹھنے کی توفیق دے اپنے فضل سے اے آرزومندوں کی پناہ گاہ ۔
نویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی فِیهِ نَصِیباً مِنْ رَحْمَتِکَ الْواسِعَةِ وَاهْدِنِی فِیهِ لِبَراهِینِکَ
اے معبود! آج کے دن مجھے اپنی وسیع رحمت میں سے بہت زیادہحصہ دے اس میں مجھ کو اپنے روشن
السّاطِعَةِ، وَخُذْ بِناصِیَتِی إلی مَرْضاتِکَ الْجامِعَةِ، بِمَحَبَّتِکَ یَا أَمَلَ الْمُشْتاقِینَ
دلائل کی ہدایت فرما اور میری مہار پکڑ کے مجھے اپنی ہمہ جہتی رضاؤں کی طرف لے جا اپنی محبت سے اے شوق رکھنے والوں کی آرزو۔
دسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی فِیهِ مِنَ الْمُتَوَکِّلِینَ عَلَیْکَ، وَاجْعَلْنِی فِیهِ مِنَ الْفائِزِینَ
اے معبود! آج کے دن مجھے ان لوگوں میں رکھ جو تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اس میں مجھے ان میں قرار دے جو تیرے حضور
لَدَیْکَ، وَاجْعَلْنِی فِیهِ مِنَ الْمُقَرَّبِینَ إلَیْکَ، بِ إحْسانِکَ یَا غایَةَ الطَّالِبِینَ
کامیاب ہیں اور اس میں اپنے احسان و کرم سے مجھے اپنے نزدیکی لوگوں میں قرار دے اے طلبگاروں کے مقصود ۔
گیارہویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ حَبِّبْ إلَیَّ فِیهِ الْاِحْسانَ وَکَرِّهْ إلَیَّ فِیهِ الْفُسُوقَ وَالْعِصْیانَ
اے معبود! آج کے دن نیکی کو میرے لئے پسندیدہ فرما دے اس میں گناہ و نا فرمانی کو میرے لئے نا پسندیدہ بنا دے
وَحَرِّمْ عَلَیَّ فِیهِ السَّخَطَ وَالنِّیرانَ، بِعَوْ نِکَ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِین
اور اس میں غیظ و غضب کو مجھ پر حرام کر دے اپنی حمایت کے ساتھ اے فریادیوں کے فریاد رس۔َ
بارہویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ زَیِّنِّی فِیهِ بِالسِّتْرِ وَالْعَفافِ، وَاسْتُرْنِی فِیهِ بِلِباسِ الْقُنُوعِ
اے معبود! آج کے دن مجھے پردے اور پاکدامنی سے زینت دے اس میں مجھے قناعت اور خود داری کے لباس
وَالْکَفافِ وَاحْمِلْنِی فِیهِ عَلَی الْعَدْلِ وَالْاِنْصافِ وَآمِنِّی فِیهِ مِنْ کُلِّ مَا أَخافُ
سے ڈھانپ دے اس میں مجھے عدل و انصاف پر آمادہ فرما اور اس میں مجھے اپنی پناہ کے ساتھ ان چیزوں سے امن دے
بِعِصْمَتِکَ یَا عِصْمَةَ الْخائِفِینَ
جن سے ڈرتا ہوں اے ڈرنے والوں کی پناہ ۔
تیرہویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ طَهِّرْنِی فِیهِ مِنَ الدَّنَسِ وَالْاَقْذارِ وَصَبِّرْنِی فِیهِ عَلَی کائِناتِ
اے معبود! آج کے دن مجھ کو میل کچیل سے پاک و صاف رکھ اس میں مجھے مقدر شدہ مشکلات پر صبر
الْاَقْدارِ، وَوَفِّقْنِی فِیهِ لِلتُّقی وَصُحْبَةِ الْاَ بْرارِ، بِعَوْ نِکَ یَا قُرَّةَ عَیْنِ الْمَساکِینِ
عطا فرما اور آج اپنی مدد کے ساتھ مجھ کوپرہیزگاری اور نیکوکاروں کے ساتھ رہنے کی توفیق دے اے بے چاروں کی خنکی چشم۔
چودھویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ لاَ تُؤاخِذْنِی فِیهِ بِالْعَثَراتِ وَأَقِلْنِی فِیهِ مِنَ الْخَطایا وَالْهَفَواتِ
اے معبود! آج کے دن لغزشوں پر میری گرفت نہ فرما اس میں میری خطاؤں اور فضول باتوں سے درگزر کر اور آج مجھ
وَلاَ تَجْعَلْنِی فِیهِ غَرَضاً لِلْبَلایا وَالاَْفاتِ، بِعِزَّتِکَ یَا عِزَّ الْمُسْلِمِینَ
کو مشکلوں اور مصیبتوں کا نشانہ قرار نہ دے بواسطہ اپنی عزت کے اے مسلمانوں کی عزت۔
پندرہویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی فِیهِ طاعَةَ الْخاشِعِینَ، وَاشْرَحْ فِیهِ صَدْرِی بِ إنابَةِ
اے معبود! آج کے دن مجھے خاشعین کی سی اطاعت نصیب فرمااور اس میں دلدادہ لوگوں ایسی بازگشت کیلئے میرا سینہ
الْمُخْبِتِینَ، بِأَمانِکَ یَا أَمانَ الْخائِفِینَ
کھول دے اپنی پناہ کے ساتھ اے خوف زدوں کی پناہ۔
سولہویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ وَفِّقْنِی فِیهِ لِمُوافَقَةِ الْاَ بْرارِ، وَجَنِّبْنِی فِیهِ مُرافَقَةَ الْاَشْرارِ
اے معبود! آج کے دن مجھے نیکوں سے سنگت کرنے کی توفیق عطا فرما اس میں مجھ کو بروں کے ساتھ سے بچائے رکھ
وَآوِنِی فِیهِ بِرَحْمَتِکَ إلی دارِ الْقَرارِ، بِ إلهِیَّتِکَ یَا إلهَ الْعالَمِینَ
اور اس میں اپنی رحمت سے مجھے دار القرار میں جگہ عطا فرما بواسطہ اپنی معبودیت کے اے جہانوں کے معبود۔
سترہویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ اهْدِنِی فِیهِ لِصالِحِ الْاَعْمالِ، وَاقْضِ لِی فِیهِ الْحَوائِجَ وَالاَْمالَ
اے معبود! آج کے دن مجھے نیک اعمال بجالانے کی ہدایت دے اور اس میں میری حاجتیں اور
یَا مَنْ لا یَحْتاجُ إلَی التَّفْسِیرِ وَالسُّؤالِ، یَا عالِماً بِما فِی صُدُورِ الْعالَمِینَ، صَلِّ
خواہشیں پوری فرما اے وہ جو سوال کرنے اور ان کی تشریح کا محتاج نہیں اے ان باتوں کے جاننے والے جو اہل عالم کے
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
سینوں میں ہیں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی پاکیزہ آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما ۔
اٹھارہویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ نَبِّهْنِی فِیهِ لِبَرَکاتِ أَسْحارِهِ، وَنَوِّرْ فِیهِ قَلْبِی بِضِیائِ
اے معبود! آج کے دن مجھ کو اس مہینے کی سحریوں کی برکتوں سے آگاہ کر اس میں میرے دل کو اسکی روشنیوں سے چمکا دے اور اس میں
أَنْوارِهِ، وَخُذْ بِکُلِّ أَعْضائِی إلَی اتِّباعِ آثارِهِ، بِنُورِکَ یَا مُنَوِّرَ قُلُوبِ الْعارِفِینَ
میرے اعضائ کو اس ماہ کے احکام پر عمل کرنے کیطرف لگا دے بواسطہ اپنے نور کے اے پہچان والوں کے دلوں کو روشن کرنیوالے۔
انیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ وَفِّرْ فِیهِ حَظِّی مِنْ بَرَکاتِهِ، وَسَهِّلْ سَبِیلِی إلی خَیْراتِهِ، وَلاَ
اے معبود! آج کے دن اس ماہ کی برکتوں میں میرا حصہ بڑھا دے اس کی بھلائیوں کیلئے میرا راستہ آسان فرما اور میری
تَحْرِمْنِی قَبُولَ حَسَناتِهِ، یَا هادِیاً إلَی الْحَقِّ الْمُبِینِ
نیکیوں کی قبولیت سے مجھے محروم نہ کر اے روشن حق کی طرف ہدایت کرنے والے۔
بیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِی فِیهِ أَبْوابَ الْجِنانِ، وَأَغْلِقْ عَنِّی فِیهِ أَبْوابَ النِّیرانِ
اے معبود! آج میرے لئے جنت کے دروازے کھول دے اور آج مجھ پر جہنم کے دروازے بند فرما دے اور آج مجھے
وَوَفِّقْنِی فِیهِ لِتِلاوَةِ الْقُرْآنِ، یَا مُنْزِلَ السَّکِینَةِ فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ
قرآن پڑھنے کی توفیق دے اے ایمان داروں کے دلوں کو تسلی بخشنے والے۔
اکیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی فِیهِ إلی مَرْضاتِکَ دَلِیلاً، وَلاَ تَجْعَلْ لِلشَّیْطانِ
اے معبود! آج کے دن اپنی رضاؤں کی طرف میری رہنمائی کا سامان کر اور اس میں شیطان کو مجھ پر کسی طرح
فِیهِ عَلَیَّ سَبِیلاً، وَاجْعَلِ الْجَنَّةَ لِی مَنْزِلاً وَمَقِیلاً، یَا قاضِیَ حَوائِجِ الطَّالِبِینَ
کا اختیار نہ دے اور جنت کو میرا مقام اور ٹھکانہ قرار دے اے طلبگاروں کی حاجتیں پوری کرنے والے ۔
بائیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِی فِیهِ أَبْوابَ فَضْلِکَ، وَأَنْزِلْ عَلَیَّ فِیهِ بَرَکاتِکَ
اے معبود! آج کے دن میرے لئے اپنے کرم کے دروازے کھول دے اس میں مجھ پر اپنی برکتیں نازل فرما
وَوَفِّقْنِی فِیهِ لِمُوجِباتِ مَرْضاتِکَ وَ أَسْکِنِّی فِیهِ بُحْبُوحاتِ جَنَّاتِکَ یَا مُجِیبَ دَعْوَةِ
اس میں مجھے اپنی رضاؤں کے ذرائع اختیار کرنے کی توفیق دے اور اس میں مجھ کومرکز بہشت میںسکونت عنایت فرما اے بے قرار
الْمُضْطَرِّینَ
لوگوں کی دعائیں قبول فرمانے والے۔
تئیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ اغْسِلْنِی فِیهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَطَهِّرْنِی فِیهِ مِنَ الْعُیُوبِ وَامْتَحِنْ
اے معبود! آج کے دن میرے گناہوں کو دھو ڈال میرے عیوب و نقائص دور فرما دے اور اس میں
قَلْبِی فِیهِ بِتَقْوَی الْقُلُوبِ، یَا مُقِیلَ عَثَراتِ الْمُذْنِبِینَ
میرے دل کو آزما کر اہل تقویٰ کا درجہ دے اے گناہگاروں کی لغزشیں معاف کرنے والے ۔
چوبیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ فِیهِ مَا یُرْضِیکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِمَّا یُؤْذِیکَ وَأَسْأَلُکَ
اے معبود! آج کے دن میں وہ چیز مانگتا ہوں جو تجھے پسند ہے اور اس چیز سے پناہ لیتا ہوں جو تجھے نا پسند ہے اور اس میں تجھ
التَّوْفِیقَ فِیهِ لاََِنْ أُطِیعَکَ وَلاَ أَعْصِیَکَ، یَا جَوادَ السَّائِلِینَ
سے توفیق مانگتا ہوں تاکہ میں فرمانبرداری کروں اور تیری نا فرمانی نہ کروں اے سائلوں کو بہت عطا کرنے والے ۔
پچیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی فِیهِ مُحِبّاً لاََِوْلِیائِکَ وَمُعادِیاً لاََِعْدائِکَ، مُسْتَنّاً بِسُنَّةِ
اے معبود! آج کے دن مجھے اپنے دوستوں کا دوست قرار دے اور اپنے دشمنوں کا دشمن نیز مجھے اپنے نبیوں کے خاتم کی
خاتَمِ أَنْبِیائِکَ، یَا عاصِمَ قُلُوبِ النَّبِیِّینَ
سنت پر قائم رکھ اے نبیوں کے دلوں کی نگہداری کرنے والے۔
چھبیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ سَعْیِی فِیهِ مَشْکُوراً، وَذَ نْبِی فِیهِ مَغْفُوراً، وَعَمَلِی
اے معبود! آج کے دن میری کوشش کو پسندیدہ قرار دے اس میں میرے گناہ کو معاف اور اس میں
فِیهِ مَقْبُولاً، وَعَیْبِی فِیهِ مَسْتُوراً، یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ
میرے عمل کو مقبول اور اس میں میرے عیب کو چھپا ہوا قرار دے اے سب سے زیادہ سننے والے۔
ستائیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی فِیهِ فَضْلَ لَیْلَةِ الْقَدْرِ وَصَیِّرْ أُمُورِی فِیهِ مِنَ الْعُسْرِ
اے معبود! آج کے دن مجھے شب قدر کا فضل نصیب فرمادے اس میں میرے معاملوں کو مشکل سے آسان بنا دے
إلَی الْیُسْرِ وَاقْبَلْ مَعاذِیرِی، وَحُطَّ عَنِّی الذَّنْبَ وَالْوِزْرَ، یَا رَؤُوفاً بِعِبادِهِ الصَّالِحِینَ
اور میرا عذر و معذرت قبول کر لے اور میرا گناہ معاف اور بوجھ دور کردے اے اپنے نیکوکاربندوں کے ساتھ مہربانی کرنے والے۔
اٹھائیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ وَفِّرْ حَظِّی فِیهِ مِنَ النَّوافِلِ وَأَکْرِمْنِی فِیهِ بِ إحْضارِ الْمَسائِلِ
اے معبود! آج کے دن نفلی عبادت سے مجھے بہت زیادہ حصہ دے اور اس میں مجھے مسائل دین یاد کرنے سے عزت دے اور اس
وَقَرِّبْ فِیهِ وَسِیلَتِی إلَیْکَ مِنْ بَیْنِ الْوَسائِلِ، یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُهُ إلْحاحُ الْمُلِحِّینَ
میں تمام وسیلوں میں سے میرے وسیلے کو اپنے حضور قریب تر فرما اے وہ ذات جسے اصرار کرنے کا اصرار دوسروں سے غافل نہیں کرتا
انتیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ غَشِّنِی فِیهِ بِالرَّحْمَةِ، وَارْزُقْنِی فِیهِ التَّوْفِیقَ وَالْعِصْمَةَ، وَطَهِّرْ
اے معبود! آج کے دن مجھے رحمت سے ڈھانپ دے اس میں مجھے نیکی کی توفیق اور برائی سے تحفظ نصیب فرما اور میرے
قَلْبِی مِنْ غَیاهِبِ التُّهَمَةِ، یَا رَحِیماً بِعِبادِهِ الْمُؤْمِنِینَ
دل کو تہمت تراشی کی تاریکیوں سے پاک کردے اے اپنے ایماندار بندوں پر بہت مہربان۔
تیسویں دن کی دعا:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ صِیامِی فِیهِ بِالشُّکْرِ وَالْقَبُولِ عَلَی مَا تَرْضاهُ وَیَرْضاهُ
اے معبود! میرے اس ماہ کے روزوں کو پسندیدہ اور قبول کیئے ہوئے قرار دے اس صورت میں جس کو تو اور تیرارسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
الرَّسُولُ، مُحْکَمَةً فُرُوعُهُ بِالاَُْصُولِ، بِحَقِّ سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
پسند فرماتا ہے کہ اس کے فروع اس کے اصول سے پختہ تعلق رکھتے ہوں بواسطہ ہمارے سردار حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی پاکیزہ آلعليهالسلام کے
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور حمد ہے خدا کیلئے جو جہانوں کارب ہے ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ ان دعاؤں کی تقدیم و تاخیر اور ان کی عبارتوں میں اختلاف ہے ۔
لیکن جن روایتوں میں اختلاف کا تذکرہ ہوا ہے ہم ان کو معتبر نہیں سمجھتے ، لہذا ہم نے ان کا ذکر نہیں کیا ۔ کفعمی نے ستائیسویں دن کی دعا کو انتیسویں دن کی دعا قرار دیا ہے تا مذہب شیعہ کے موافق اس کا تیسویں دن پڑھنا بھی بعید نہیں ہے۔
چوتھی فصل
ماہ شوال کے اعمال
اعمال شب عید فطر
یکم شوال کی رات با برکت راتوں میں سے ہے، اس کی فضیلت، بیداری، عبادت اور ثواب سے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئیں ہیں ، حضرت رسول سے مروی ہے کہ یہ رات مرتبے میںشب قدر سے کچھ کم نہیں اور اس میں چند ایک اعمال ہیں
( ۱ ) غروب آفتاب کے وقت غسل کرے ۔
( ۲ ) شب بیداری یعنی نماز، دعا، استغفار اور خدا سے طلب حاجات کرتے ہوئے مسجد میں جاگ کر رات گزارے۔
( ۳ ) نماز مغرب ، عشائ، فجر اور نماز عید کے بعد یہ تکبیریں پڑھے:
ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ وَ لِلّٰهِ الْحَمْدُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ
خدا بزرگتر ہے خدا بزرگتر ہے ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں خدا بزرگتر ہے خدا بزرگتر ہے اور خدا کیلئے حمد ہے حمد ہے خدا کیلئے
عَلَی مَا هَدانا ، وَلَهُ الشُّکْرُ عَلَی مَا أَوْلانا
اس پر کہ ہمیں ہدایت دی اوراس کا شکر ہے اس پر جو کچھ اس نے ہمیں بخشا۔
( ۴ ) نماز مغرب فرائض و نافلہ کے بعد ہاتھوں کو بلند کر کے کہے:
یَا ذَا الْمَنِّ وَالطَّوْلِ، یَا ذَا الْجُودِ، یَا مُصْطَفِیَ مُحَمَّدٍ وَناصِرَهُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
اے فضل و احسان والے اے عطا کرنے والے اے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو منتخب کرنے والے اور ان کے حامی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی کُلَّ ذَنْبٍ أَحْصَیْتَهُ وَهُوَ عِنْدَکَ فِی کِتابٍ مُبِینٍ
رحمت نازل فرمااور میرے تمام گناہ بخش دے جو تیرے ہاں شمار ہو چکے ہوں کہ وہ اس کھلی کتاب میں درج ہیں جو تیرے پاس ہے۔
اس کے بعد سجدے میں جاکر سو مرتبہ کہے: اَتُوْبُ اِلَی ﷲ پس اب خدا سے جو حاجت بھی طلب کرے انشائ ﷲ پوری ہوگی۔
شیخ نے روایت کی ہے کہ نماز مغرب سے فراغت کے بعد سجدے میں جائے اور یہ پڑھے:
یَا ذَا الْحَوْلِ یَا ذَا الطَّوْلِ یَا مُصْطَفِیاً مُحَمَّداً وَناصِرَهُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے حرکت دینے والے اے سخاوت والے اے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو منتخب کرنے والے اور ان کے حامی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما
وَاغْفِرْ لِی کُلَّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ وَنَسِیتُهُ أَنَا وَهُوَ عِنْدَکَ فِی کِتابٍ مُبِینٍ اسکے بعد سو مرتبہ کہے:
اور میرے وہ سبھی گناہ بخش دے جو میں نے کئے اور انہیں بھول گیا ہوں اور وہ گناہ تیری روشن کتاب میں درج ہیں
اَتُوْبُ اِلَی ﷲ
خدا کے حضور توبہ کرتا ہوں
( ۵ ) امام حسین -کی زیارت پڑھے ۔ کہ اس کی فضیلت بہت زیادہ ہے اور آج کی رات امام حسین- کی مخصوص زیارت باب زیارت میں آئے گی ۔
( ۶ ) شب جمعہ کے اعمال میں مذکورہ دعا یا دائم الفضل دس مرتبہ پڑھے ۔
( ۷ ) دس رکعت نماز پڑھے جس کا ذکر ماہ رمضان کی آخری شب کے اعمال میں ہو چکا ہے ۔
( ۸ ) دو رکعت نماز ادا کرے جس کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد ایک ہزار مرتبہ سورہ توحید پڑھے، اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ توحید پڑھے نماز کا سلام دینے کے بعد سر سجدے میں رکھے اور سو مرتبہ کہے :
أَتُوبُ إلَی ﷲ پھر کہے :یَا ذَا الْمَنِّ وَالْجُودِ، یَا ذَا الْمَنِّ وَالطَّوْلِ، یَا مُصْطَفِیَ مُحَمَّدٍ
خدا کے حضور توبہ کرتا ہوں اے احسان و عطا والے اے احسان وبخشش والے اے حضرت محمد کو منتخب وبرگزیدہ
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَافْعَلْ بِی کَذا وَکَذا
کرنے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور میرے لئے یہ اور یہ کردے
وَافْعَلْ بِی کَذا کی بجائے اپنی حاجت طلب کرے۔
روایت ہے کہ امیر المؤمنین -یہ نماز اسی طریقے سے بجالاتے تھے اور جب سر سجدے سے اٹھاتے تو فرماتے کہ اس خدا کے حق کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو بھی شخص یہ نماز پڑھ کر خدا سے اپنی کوئی حاجت طلب کرے گا تو وہ یقینا پوری ہوگی اور اسکے گناہ اگر ریت کے ذرات کے برابر بھی ہوں تو معاف کر دیئے جائیں گے۔
ایک اور روایت میں اس نماز کی پہلی رکعت میں ایک ہزار کی بجائے ایک سو مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کا ذکر آیا ہے لیکن اس صورت میں اس نماز کو نافلہ مغرب کے بعد بجا لانا ہوگا۔ شیخ و سید نے اس نماز کے بعد پڑھنے کے لیے یہ دعا نقل کی ہے:
یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ، یَا رَحْمنُ یَا ﷲ، یَا رَحِیمُ یَا ﷲ، یَا مَلِکُ یَا ﷲ، یَا قُدُّوسُ
اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے بڑے مہربان اے اللہ اے بڑے رحم والے اے اللہ اے بادشاہ اے اللہ اے پاکیزہ
یَا ﷲ یَا سَلامُ یَا ﷲ، یَا مُؤْمِنُ یَا ﷲ، یَا مُهَیْمِنُ یَا ﷲ، یَا عَزِیزُ یَا ﷲ، یَا جَبّارُ
اے اللہ اے کامل اے اللہ اے امن دینے والے اے اللہ اے نگہدار اے اللہ اے غالب اے اللہ اے دبدبہ والے
یَا ﷲ، یَا مُتَکَبِّرُ، یَا ﷲ، یَا خالِق،ُ یَا ﷲ، یَا بارِیَ،ُ یَا ﷲ، یَا مُصَوِّرُ، یَا ﷲ
اے اللہ اے بڑائی والے اے اللہ اے بنانیوالے اے اللہ اے پیدا کرنے والے اے اللہ اے صورت بنانیوالے اے اللہ
یَا عالِمُ یَا ﷲ، یَا عَظِیمُ یَا ﷲ، یَا عَلِیمُ یَا ﷲ، یَا کَرِیمُ یَا ﷲ، یَا حَلِیمُ یَا ﷲ
اے جاننے والے اے ﷲ اے بزرگی والے اے اللہ اے دانا اے اللہ اے کرم کرنے والے اے اللہ اے بردبار اے اللہ
یَا حَکِیمُ یَا ﷲ، یَا سَمِیعُ یَا ﷲ، یَا بَصِیرُ یَا ﷲ، یَا قَرِیبُ یَا ﷲ، یَا مُجِیبُ یَا
اے حکمت والے اے اللہ اے سننے والے اے اللہ اے دیکھنے والے اے اللہ اے نزدیک اے اللہ اے قبول کرنے والے اے
ﷲ یَا جَوادُ یَا ﷲ یَا ماجِدُ یَا ﷲ، یَا مَلِیُّ یَا ﷲ، یَا وَفِیُّ یَا ﷲ، یَا مَوْلَی یَا ﷲ
اللہ اے بہت عطا والے اے اللہ اے شان والے اے اللہ اے دوست اے اللہ اے وفاوالے اے اللہ اے حاکم اے اللہ
یَا قاضِی یَا ﷲ، یَا سَرِیعُ یَا ﷲ، یَا شَدِیدُ یَا ﷲ، یَا رَؤُوفُ یَا ﷲ، یَا رَقِیبُ
اے فیصلہ کرنے والے اے اللہ اے تیزتر اے اللہ اے سخت گیر اے اللہ اے مہربانی والے اے اللہ اے نگہبان
یَا ﷲ یَا مَجِیدُ یَا ﷲ، یَا حَفِیظُ یَا ﷲ، یَا مُحِیطُ یَا ﷲ، یَا سَیِّدَ السّاداتِ یَا ﷲ،
اے اللہ اے بزرگی والے اے اللہ اے نگہدار اے اللہ اے گھیرنے والے اے اللہ اے سرداروں کے سردار اے اللہ
یَا أَوَّلُ یَا ﷲ، یَا آخِرُ یَا ﷲ، یَا ظاهِرُ یَا ﷲ، یَا باطِنُ یَا ﷲ، یَا فاخِرُ یَا ﷲ
اے اول اے ﷲ اے آخر اے ﷲ اے ظاہراے ﷲ اے باطن اے اللہ اے فخر والے اے اللہ
یَا قاهِرُ یَا ﷲ یَا رَبّاهُ یَا ﷲ یَا رَبّاهُ یَا ﷲ، یَا رَبّاهُ یَا ﷲ، یَا وَدُودُ یَا ﷲ، یَا نُورُ
اے غلبہ والے اے اللہ اے پروردگار اے اللہ اے پروردگار اے دوستی والے اے اللہ اے روشن
یَا ﷲ یَا رافِعُ یَا ﷲ یَا مانِعُ یَا ﷲ، یَا دافِعُ یَا ﷲ، یَا فاتِحُ یَا ﷲ، یَا نَفَّاحُ
اے اللہ اے بلند کرنے والے اے اللہ اے روکنے والے اے اللہ اے ہٹانے والے اے اللہ اے کھولنے والے اے اللہ اے نفع
یَا ﷲ یَا جَلِیلُ یَا ﷲ یَا جَمِیلُ یَا ﷲ، یَا شَهِیدُ یَا ﷲ، یَا شاهِدُ یَا ﷲ، یَا مُغِیثُ
پہنچانے والے اے اللہ اے بزرگ اے اللہ اے زیبا اے اللہ اے گواہ اے اللہ اے مشاہدہ کرنے والے اے اللہ اے فریاد رس
یَا ﷲ، یَا حَبِیبُ یَا ﷲ، یَا فاطِرُ یَا ﷲ، یَا مُطَهِّرُ یَا ﷲ، یَا مَلِکُ یَا ﷲ، یَا مُقْتَدِرُ
اے اللہ اے دوست اے اللہ اے پیدا کرنے والے اے اللہ اے پاکیزہ اے اللہ اے بادشاہ اے اللہ اے تقدیر بنانے والے
یَا ﷲ، یَا قابِضُ یَا ﷲ، یَا باسِطُ یَا ﷲ، یَا مُحْیِی یَا ﷲ، یَا مُمِیتُ یَا ﷲ،
اے اللہ اے بند کرنے والے اے اللہ اے کھولنے والے اے اللہ اے زندہ کرنے والے اے اللہ اے موت دینے والے اے اللہ
یَا باعِثُ یَا ﷲ، یَا وارِثُ یَا ﷲ، یَا مُعْطِی یَا ﷲ، یَا مُفْضِلُ یَا ﷲ، یَا مُنْعِمُ
اے اٹھانے والے اے اللہ اے ورثہ والے اے اللہ اے عطا کرنے والے اے اللہ اے فضل کرنے والے اے اللہ اے نعمت
یَا ﷲ، یَا حَقُّ یَا ﷲ، یَا مُبِینُ یَا ﷲ، یَا طَیِّبُ یَا ﷲ، یَا مُحْسِنُ یَا ﷲ، یَا مُجْمِلُ
دینے والے اے اللہ اے حق اے اللہ اے آشکار کرنے والے اے اللہ اے پاکیزہ اے اللہ اے احسان کرنے والے اے اللہ اے نیکی کرنے والے
یَا ﷲ، یَا مُبْدئُ یَا ﷲ، یَا مُعِیدُ یَا ﷲ، یَا بارئُ یَا ﷲ، یَا بَدِیعُ یَا ﷲ، یَا هادِی
اے اللہ اے آغاز کرنے والے اے اللہ اے لوٹانے والے اے اللہ اے پیدا کرنے والے اے اللہ اے نیا کام کرنے والے اے اللہ اے رہنما
یَا ﷲ، یَا کافِی یَا ﷲ، یَا شافِی یَا ﷲ، یَا عَلِیُّ یَا ﷲ، یَا عَظِیمُ یَا ﷲ، یَا حَنّانُ
اے اللہ اے پورا کرنے والے اے اللہ اے شفا دینے والے اے اللہ اے بلند مرتبہ اے اللہ اے بڑائی والے اے اللہ اے محبت
یَا ﷲ، یَا مَنَّانُ یَا ﷲ، یَا ذَا الطَّوْلِ یَا ﷲ، یَا مُتَعالِی یَا ﷲ، یَا عَدْلُ یَا ﷲ،
والے اے اللہ اے احسان والے اے ﷲ اے نعمت والے اے اللہ اے بلندی والے اے اللہ اے عدل کرنے والے اے اللہ
یَا ذَا الْمَعارِجِ یَا ﷲ، یَا صادِقُ یَا ﷲ، یَا صَدُوقُ یَا ﷲ، یَا دَیَّانُ یَا ﷲ، یَا باقِی
اے بلندیوں والے اے اللہ اے راست گو اے اللہ اے بہت راست گو اے اللہ اے بدلہ لینے والے اے اللہ اے بقاوالے
یَا ﷲ یَا واقِی یَا ﷲ، یَا ذَا الْجَلالِ یَا ﷲ، یَا ذَا الْاِکْرامِ یَا ﷲ، یَا مَحْمُودُ یَا ﷲ
اے اللہ اے نگہدار اے اللہ اے جلالت والے اے اللہ اے عزت والے اے اللہ اے پسندیدہ اے اللہ
یَا مَعْبُودُ یَا ﷲ، یَا صانِعُ یَا ﷲ، یَا مُعِینُ یَا ﷲ، یَا مُکَوِّنُ یَا ﷲ،
اے بندگی کیے گئے اے اللہ اے بنانے والے اے اللہ اے مدد کرنے والے اے اللہ اے وجود دینے والے اے اللہ
یَا فَعّالُ یَا ﷲ، یَا لَطِیفُ یَا ﷲ، یَا غَفُورُ یَا ﷲ، یَا شَکُورُ یَا ﷲ، یَا نُورُ
اے کام کرنے والے اے اللہ اے باریک بین اے اللہ اے بہت معاف کرنے والے اے اللہ اے قدردان اے اللہ اے روشن
یَا ﷲ، یَا قَدِیرُ یَا ﷲ، یَا رَبَّاهُ یَا ﷲ، یَا رَبَّاهُ یَا ﷲ، یَا رَبَّاهُ یَا ﷲ، یَا رَبَّاهُ یَا
اے اللہ اے قدرت والے اے اللہ اے پروردگار اے اللہ اے پروردگار اے اللہ اے پروردگار اے اللہ اے پروردگار
ﷲ، یَا رَبَّاهُ یَا ﷲ، یَا رَبَّاهُ یَا ﷲ، یَا رَبَّاهُ یَا ﷲ، یَا رَبَّاهُ یَا ﷲ، یَا رَبَّاهُ یَا ﷲ،
اے اللہ اے پروردگار اے اللہ اے پروردگار اے اللہ اے پروردگار اے اللہ اے پروردگار اے اللہ اے پروردگار اے اللہ
یَا رَبّاهُ یَا ﷲ، أَسْأَ لُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَمُنَّ عَلَیَّ بِرِضاکَ،
اے پروردگار اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور اپنی رضا کے ذریعے مجھ پراحسان فرما
وَتَعْفُوَ عَنِّی بِحِلْمِکَ، وَتُوَسِّعَ عَلَیَّ مِنْ رِزْقِکَ الْحَلالِ الطَّیِّبِ وَمِنْ حَیْثُ أَحْتَسِبُ
اپنی بردباری کے ساتھ مجھے معاف کر اور مجھ پر اپنے حلال وپاکیزہ رزق میں فراخی کردے جہاں سے مجھے رزق ملنے کی توقع ہے
وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَسِبُ، فَ إنِّی عَبْدُکَ لَیْسَ لِی أَحَدٌ سِواکَ، وَلاَ أَحَدٌ أَسْأَلُهُ غَیْرُکَ،
اور جہاں سے مجھے رزق ملنے کی توقع نہیں ہے پس میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے سوا میرا کوئی نہیں اور نہ تیرے سوا کوئی اور ہے جس
یَا أَرْحَمَ الرّاحِمِینَ، مَا شائَ ﷲ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ پھر سجدے میں جائے
سے مانگوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہے نہیں کوئی قدرت لیکن وہی جو بزرگ وبرتر خدا سے ملتی ہے
اور کہے:یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ، یَا رَبُّ یَا رَبُّ یَا رَبُّ، یَا مُنْزِلَ الْبَرَکاتِ بِکَ تُنْزَلُ کُلُّ
اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے پروردگار اے پروردگار اے پروردگار اے برکتوں کے نازل کرنے والے تجھی سے ہر حاجت برآتی
حاجَةٍ، أَسْأَ لُکَ بِکُلِّ اسْمٍ فِی مَخْزُونِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ وَالْاَسْمائِ الْمَشْهُورَةِ عِنْدَکَ
اور پوری ہوتی ہے سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ ہر ایک نام کے جو تیرے ہاں خزانہ غیب میں ہے اور بواسطہ ان معروف ناموں
الْمَکْتُوبَةِ عَلَی سُرادِقِ عَرْشِکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ
کے جو تیرے ہاں عرش کے پردوں پر تحریر و نقش کیے ہوئے ہیں سوالی ہوں کہ تو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ
تَقْبَلَ مِنِّی شَهْرَ رَمَضانَ، وَتَکْتُبَنِی مِنَ الْوافِدِینَ إلی بَیْتِکَ الْحَرامِ، وَتَصْفَحَ
میری طرف سے ماہ رمضان کی عبادت قبول کر لے اور تو مجھے اپنے محترم گھر کعبہ کا حج ادا کرنے والوں میں لکھ دے اور تو میرے
لِی عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظامِ، وَتَسْتَخْرِجَ لِی یَا رَبِّ کُنُوزَکَ یَا رَحْمنُ
بڑے بڑے گناہوں کو معاف کرے اور تو میرے لیے اپنے ان گنت خزانے کھولے اے بہت مہربان ۔
( ۹ )چودہ رکعت نماز بجا لائے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمدو آیۃ الکرسی کے بعد تین مرتبہ سورہ توحید پڑھے تاکہ اسے ہر رکعت کے بدلے میں چالیس سال کی عبادت کا ثواب ملے نیز اس شخص کے برابر مزید ثواب بھی حاصل ہو کہ جس نے ماہ رمضان کے پورے روزے رکھے ہوں اور عبادت کی ہو۔
(۱۰)مصباح میں شیخ کا فرمان ہے کہ آخر شب غسل کرے اور مصلائے عبادت پر رہے یہاں تک کہ صبح صادق ہوجائے۔
پہلی شوال کا دن
یہ عیدالفطر کا دن ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں:
( ۱ )نماز فجر کے بعد اور نماز عید کے بعد وہ تکبیریں پڑھے جو شب عید کے اعمال میں ذکر ہوچکی ہیں
( ۲ )وہ دعا پڑھے کہ سید نے روایت کی ہے کہ اسے نماز فجر کے بعد پڑھے اور شیخ کا فرمان ہے، کہ اسے نماز عید کے بعد پڑھے:
اَللَّهُمَّ اِنِّی تَوَجَّهْتُ اِلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ اَمَامِی .الخ
اے معبود! میں اپنے رہبر حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وسیلے سے تیرے حضور آیا ہوں
( ۳ )نماز عیدسے قبل گھر کے ہر چھوٹے بڑے فرد کی طرف سے زکات فطرہ ادا کرے کہ جس کی مقدار فی کس ایک صاع یعنی ۲/۱ ۳ چھٹانک جنس یا اس کی قیمت بتائی گئی ہے، اس کی تفصیل کے لیے کتب فقہ کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔
واضح رہے کہ زکات فطرہ واجب مؤکد ہے جو ماہ مبارک کے روزوں کی قبولیت اور سال آئندہ تک حفظ وامان کا سبب ہے۔ خدا نے سورہ اعلیٰ میں زکات کا ذکر نماز سے پہلے کیا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی وَذَکَر اسْمَ رَبِّهِ فَصَلّٰی
کامیاب ہؤا وہ جس نے زکوٰۃ دی اور اپنے پروردگار کو یاد کیا پھر نماز پڑھی۔
اس سے ظاہر ہے کہ زکات فطرہ کا نماز عید سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے:
( ۴ )غسل کرے اور بہتر ہے کہ نہر میں غسل کیا جائے۔ اس کا وقت طلوع فجر سے نماز عید پڑھنے سے قبل تک ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ یہ غسل چھت کے نیچے کرنا زیادہ مناسب ہے، غسل کرتے وقت یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ اِیْمَاناً بِکَ وَتَصْدِیْقاً بِکِتَابِکَ وَ اِتِّبَاعَ سُنَّةِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلیٰ ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهٰ
اے معبود! تجھ پر ایمان رکھتا ہوں تیری کتاب کی تصدیق کرتا ہوں اور تیرے نبی حضر ت محمد کی سنت و روش کا پیروکار ہوں
بسم ﷲ پڑھ کر غسل شروع کرے اور غسل کے بعد کہے:اَللَّهُمَّ اجْعَلْهُ کَفَّارَةً لِذُنُوْبِیْ وَطَهِّرِ
اے معبود! اس غسل کو میرے گناہوں کا کفارہ بنا اور میرے دین کو
دِیْنِی اَللَّهُمَّ اِذْهَبْ عَنِّی الدَّنَسَ
پاک فرما اے معبود! مجھ سے ناپاکی کو دور کردے
( ۵ )عمدہ لباس پہنے اور خوشبو لگائے۔ مکہ مکرمہ کے سوا کسی اور مقام پر ہو تو نماز عید صحرا میں کھلے آسمان تلے ادا کرے ۔
( ۶ )نماز عید سے پہلے دن کے آغاز میں افطار کرے اور بہتر ہے کہ کھجور یا مٹھائی سے ہو، شیخ مفیدرحمهالله فرماتے ہیں کہ افطار میں تھوڑی سی خاک شفا کھائے تو وہ ہر بیماری سے شفا کا موجب بنے گی۔
( ۷ )جب نماز عیدکے لیے تیار ہوجائے تو طلوع آفتاب کے بعد گھرسے نکلے اور وہ دعائیں پڑھے جو سید نے کتاب اقبال میں نقل کی ہیں۔
اس ذیل میں ابو حمزہ ثمانی نے امام محمد باقر -سے روایت کی ہے کہ عید فطر، عید قربان اور جمعہ کے روز جب نماز کے لیے نکلے تو یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ مَنْ تَهَیَّأَ فِی هذَا الْیَوْمِ أَوْ تَعَبَّأَ أَوْ أَعَدَّ وَاسْتَعَدَّ لِوِفادَةٍ إلی مَخْلُوقٍ رَجائَ
اے معبود! جو شخص آمادہ ہے آج کے دن یا کمر بستہ ہے یا تیاری کرتا اور تیار ہوتا ہے لوگوں کی طرف جانے کیلئے اس امید سے کہ ان
رِفْدِهِ وَنَوافِلِهِ وَفَواضِلِهِ وَعَطایَاهُ فَ إنَّ إلَیْکَ یَا سَیِّدِی تَهْیِئَتِی وَتَعْبِیئَتِی وَ إعْدادِی
سے نقدی چیزیں بخششیں اور عطائیں لے لیکن اے میرے آقا میری تیاری میری آمادگی اور میری ساری کوشش تیری طرف
وَاسْتِعْدادِی رَجائَ رِفْدِکَ وَجَوایِزِکَ وَنَوافِلِکَ وَفَواضِلِکَ وَفَضائِلِکَ وَعَطایاکَ
آنے میں ہے کہ میں امیدوار ہوں تیری عطا تیرے انعام تیری عنائتوں تیرے احسانوں تیری مہربانیوں اور بخششوں کا اور آج صبح
وَقَدْ غَدَوْتُ إلی عِیدٍ مِنْ أَعْیادِ أُمَّةِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَی آلِهِ
کی ہے میں نے ایک عید کے دن جو تیرے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کہ خدا کی رحمتیں ہوں ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر کی امت کی عیدوں میں سے ہے اور
وَلَمْ أَفِدْ إلَیْکَ الْیَوْمَ بِعَمَلٍ صالِحٍ أَثِقُ بِهِ قَدَّمْتُهُ وَلاَ تَوَجَّهْتُ بِمَخْلُوقٍ أَمَّلْتُهُ وَلکِنْ
میں آج تیرے حضور کوئی صالح عمل لے کر نہیں آیا ہوں جسکو یقینی طور پر پیش کروں نہ کسی مخلوق کی طرف توجہ اور امید رکھتا ہوں ہاں
أَتَیْتُکَ خاضِعاً مُقِرّاً بِذُ نُوبِی وَ إسائَتِی إلی نَفْسِی، فَیا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا
مگر تیری جناب میں عاجز بن کر اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اقراری ہوکر آیا ہوں تو اے عظمت والے اے عظمت والے اے
عَظِیمُ اغْفِرْ لِیَ الْعَظِیمَ مِنْ ذُ نُوبِی، فَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ الْعِظامَ إلاَّ أَنْتَ یَا لاَ إلهَ
عظمت والے بخش دے میرے بڑے بڑے گناہوں کو کیونکہ تیرے سوا کوئی نہیں ہے جو بڑے بڑے گناہوں کو بخشتا ہو تیرے سوا
إلاَّ أَ نْتَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
سوا کوئی معبود نہیں ہے اے سب سے زیادہ رحم والے۔
( ۸ )نماز عیددو رکعت ہے، پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ اعلیٰ پڑھے اور پانچ تکبیریں کہے کہ ہر تکبیر کے بعد یہ قنوت پڑھے:
اَللّٰهُمَّ أَهْلَ الْکِبْرِیائِ وَالْعَظَمَةِ، وَأَهْلَ الْجُودِ وَالْجَبَرُوتِ، وَأَهْلَ الْعَفْوِ وَالرَّحْمَةِ
بارالہا بزرگیوں کا اور بڑائی کا مالک تو ہے اور بخشش کا اور دبدبے کا مالک تو ہے درگزر اور مہربانی کا مالک تو ہے
وَأَهْلَ التَّقْوی وَالْمَغْفِرَةِ، أَسْأَلُکَ بِحَقِّ هذَا الْیَوْمِ الَّذِی جَعَلْتَهُ لِلْمُسْلِمِینَ عِیداً وَ
میں پناہ و پردہ پوشی کا سوال کرتا ہوں میں بواسطہ آج کے دن کے جس کو تو نے مسلمانوںکیلئے،
لِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ ذُخْراً وَمَزِیداً أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ
محمد کیلئے عید قرار دیا اسے سرمایہ اور اضافہ کادن بنایا ہے آج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ
تُدْخِلَنِی فِی کُلِّ خَیْرٍ أَدْخَلْتَ فِیهِ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تُخْرِجَنِی مِنْ کُلِّ سُوئٍ
داخل کر مجھے ہر اس نیکی میں جس میں تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو داخل کیا اور یہ کہ دور کردے مجھے ہر اس بدی
أَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ خَیْرَ
سے جس سے تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دور رکھا تیری رحمتیں ہوں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور انکی آل پر اے معبود! میں سوال کرتاہوں تجھ سے ہر اس
مَا سَأَلَکَ عِبادُکَ الصَّالِحُونَ، وَأَعُوذُ بِکَ مِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ عِبادُکَ الصَّالِحُونَ
بھلائی کا جس کاسوال تجھ سے تیرے نیک بندوں نے کیا اور پناہ لیتا ہوں تیری جس سے تیرے نیکوکاربندوں نے پناہ چاہی ہے ۔
پھر چھٹی تکبیر کہہ کررکوع و سجود کرے۔
دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ الشمس پڑھے اور چار تکبیریں کہے ، ہر تکبیر کے بعد وہی قنوت پڑھے اور پانچویں تکبیر کہہ کر رکوع و سجود کرے اور تشہد و سلام کے بعد تسبیح فاطمہ = پڑھے:
نماز عید کے بعد پڑھنے کی بہت سی دعائیں منقول ہیں اور ان میں سب سے بہتر صحیفہ کاملہ کی چھیالیسویں دعا ہے۔ مستحب ہے کہ نماز عید زیر آسمان ایسی زمین پرپڑھے، جس کا فرش نہ کیا گیا ہو۔نماز کے بعد گھر واپس آتے ہوئے اس راستے سے نہ آئے، جس سے نماز کے لیے گیا تھا اس روز اپنے لیے اور اپنے دینی بھائیوں کیلئے جو دعا بھی مانگے گا قبول ہوگی۔
( ۹ )امام حسین -کی زیارت پڑھے:
(۱۰)دعائ ندبہ پڑھے کہ جس کا ذکرباب زیارت میں آئے گا، سید ابن طاؤس کہتے ہیں کہ یہ دعائ پڑھنے کے بعد سجدے میں سر رکھے اور کہے:
أَعُوذُ بِکَ مِنْ نارٍ حَرُّها لاَ یُطْفأ وَجَدِیدُها لاَ یَبْلی وَعَطْشانُها لاَیُرْوی اب دایاں
تیری پناہ لیتا ہوں آگ سے جو بجھائی نہیں جا سکتی اور اس کی تازگی مان نہیں پڑتی اور جس کی پیاس دور نہیں ہوتی
رخسار رکھے اور کہے:إلهِی لاَ تُقَلِّبْ وَجْهِی فِی النَّارِ بَعْدَ سُجُودِی وَتَعْفِیرِی لَکَ بِغَیْرِ
اے معبود! میرے چہرے کو آگ میں نہ الٹ پلٹ جبکہ میں نے سجدے کیے اور تیرے لیے اسے خاک پر رگڑا ہے
مَنٍّ مِنِّی عَلَیْکَ بَلْ لَکَ الْمَنُّ عَلَیَّ پهر بایاں رخسار رکھے اور کہے:اِرْحَمْ مَنْ أَسائَ وَاقْتَرَفَ
کہ اس میں تجھ پر میرا کوئی احسان نہیں بلکہ یہ مجھ پر تیرا احسان ہے رحم فرما اس پر جس نے بدی و نافرمانی
وَاسْتَکانَ وَاعْتَرَفَ اور پھر سجدہ میں جائے اور کہے:إنْ کُنْتُ بِئْسَ الْعَبْدُ فَأَنْتَ نِعْمَ الرَّبُّ
کی اور وہ بے چارہ اس کا اعتراف کرتا ہے اگر میں ایک برا بندہ ہوں پس تو یقینا اچھا پروردگار ہے تیرے بندے سے
عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِکَ فَلْیَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِکَ یَا کَرِیمُ پھر سو بار کہے:اَلْعَفْوُ اَلْعَفْوُ
بڑے بڑے گناہ ہوئے ہیں تو بھی تیری طرف سے بہترین پردہ پوشی ہی ہونی چاہیئے اے مہربان معافی، معافی۔
اس کے بعدسید ابن طاوس فرماتے ہیں :اور اپنے اس روز عید کو کھیل کود اور بے کار باتوں میں نہ گزاریں کہ تجھے نہیں معلوم آیا تیرے اعمال رد ہوئے یا قبول ہوئے ہیںپس اگر تجھے ان کے قبول ہونے کی امید ہے تو اس پر تجھے بہترین طریقے سے شکر ادا کرنا چاہیئے اور اگر تجھے اعمال کے رد ہونے کا ڈر ہے تو تجھے اس پر گہرے غم میں ڈوبے رہنا چاہیئے۔
پچیسویں شوال کا دن
۲۵ شوال ۱۴۸ھ امام جعفر صادق -کی تاریخ وفات ہے بعض کا قول ہے کہ حضرت کی وفات ۱۵ رجب کو ہوئی۔ جب کہ آپ کو انگور میں زہر دیا گیا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ بوقت وفات آپ نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا کہ میرے سب عزیزوں کو جمع کرو، جب سارے عزیز آگئے تو آپ نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: میری شفاعت اس شخص کے لیے نہیں ہوگی جو نماز کو اہمیت نہ دے اور اس کی پروا نہ کرے۔
پانچویں فصل
ماہ ذیقعد کے اعمال
قرآن میں جن مہینوں کو حرمت والے ماہ قرار دیا گیا ہے یہ ان میں سے پہلا مہینہ ہے، سید ابن طاؤس راوی ہیں کہ ماہ ذیقعد میں تنگی دور ہونے کی دعا قبول ہوجاتی ہے۔ اس ماہ میں اتوار کے دن کی ایک نماز ہے کہ جو بڑی فضیلت رکھتی ہے، حضرت رسول ﷲ کا فرمان ہے کہ جو شخص اس نماز کو بجا لائے اس کی توبہ قبول ہوتی ہے، گناہ بخشے جاتے ہیں، قیامت میںدشمن اس سے راضی ہوجائیںگے، اس کی موت ایمان پر ہوگی اور اس کا دین سلامت رہے گا۔ اس کی قبر وسیع و روشن ہوگی اس کے والدین اس سے راضی ہوں گے، اس کے والدین اور اولاد کو مغفرت حاصل ہوگی، اس کے رزق میں وسعت ہوگی، ملک الموت اس کی روح نرمی سے قبض کرے گا اور اس کی موت آسان ہوگی۔ اس نماز کا طریقہ یہ ہے:
اتوار کے دن غسل اور وضو کرکے چار رکعت نماز پڑھے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد تین مرتبہ سورہ توحید اور ایک ایک مرتبہ سورہ فلق و سورہ ناس کی قرائت کرے، ستر مرتبہ استغفار کرے آخر میں یہ دعا پڑھے:
لَاْ حَوْلَ وَلَاْ قُوَّةَ اِلَّا بِالله اْلعَلِیِ الْعَظِیْمِ کہے اور پھر یہ دعا پڑھے :یَا عَزِیْزُ یَا غَفَّارُ
نہیں ہے کوئی طاقت و قوت مگر وہی جو بلند و برتر خدا سے ملتی ہے۔ اے غالب اے بہت بخشنے والے
اِغْفِرْلِیْ ذُنُوبِیْ وَذُنُوِبِ جَمِیعِ اِلمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤمِنَاتِ فَاِنَّه لَا یَغْفِرُ الذُنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ
بخش دے میرے گناہ اور بخش دے تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کے گناہ کیونکہ تیرے سواکوئی گناہوں کا بخشنے والا نہیں ہے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ استغفار اور دعا نماز کے بعد ہے۔ لہذا ان کو نماز کی قرائت میں نہ پڑھے:
واضح رہے جیسا کہ روایت میں ہے کہ جو شخص حرمت والے مہینوں میں سے کسی ایک مہینے میں تیں دن یعنی جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کو یکے بعد دیگرے روزے رکھے تو اس کیلئے نوسو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا، شیخ اجل علی بن ابراہیم قمی نے فرمایا کہ تین حرمت والے مہینوں میں جیسے نیکی کئی گنا زیادہ شمار ہوتی ہے ویسے ہی گناہ بھی کئی گنا زیادہ کرکے لکھے جاتے ہیں۔
گیارہویں ذیقعد کا دن
۱۱ ذیقعد ۱۴۸ھ میں امام علی رضا -کی ولادت باسعادت ہوئی۔
پندرھویں رات:یہ بر کت والی رات ہے خدا اپنے مومن بندوں پر رحمت کی نگاہ ڈالتا ہے اور جو شخص اس رات میں خدا وند عالم کی عبادت میں مشغول رہتا ہے اس کے لئے سو ایسے روزے دار کا اجر ہو تا ہے جو مسجد میں رہا ہو اور خدا کی معصیت پلک جپھکنے پر بھی نہ کی ہو جیسا کہ پیغمبر کی روایت میں ہے ۔لہذا اس رات کو غنیمت سمجھو اور اپنی اطاعت اور عبادت۔ نماز اور خدا سے طلب حاجت میں مشغول رہو۔یہ بھی روایت ہے جو شخص اس رات میں سوال کرے گا خدا سے حاجت کا خدا اسے بہر حال عطا کرے گا
تئیسویں ذیقعد کا دن
ایک قول کے مطابق ۲۰۳ ھ میں اسی دن امام علی رضا -کی شہادت واقع ہوئی، اس دن دور و نزدیک سے حضرت کی زیارت کرنا سنت ہے۔ سید ابن طاؤس نے اقبال میں مزید فرمایا ہے کہ میں نے اپنے بعض علمائ کی کتب میں دیکھا کہ ۲۳ ذیقعد کے دن دور و نزدیک سے امام علی رضا -کی زیارت مستحب ہے۔
اعمال روز دحوالارض
پچیسویں ذیقعد کی رات
یہ دحوالارض کی رات ہے کہ اس میں خانہ کعبہ کے نیچے زمین پانی پر بچھائی گئی تھی۔ یہ بڑی فضیلت والی رات ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوئی ہے۔ لہٰذا اس میں مصروف عبادت رہنا باعث اجر و ثواب ہے۔ حسن بن علی وشا سے روایت ہے کہ میں کم سن تھا کہ ایک مرتبہ ۲۵ ذیقعد کی رات کو اپنے والد کے ساتھ امام علی رضا -کے ہاں گیا اور رات کا کھانا حضرت کے ساتھ کھایا۔ تب آپ نے فرمایا کہ آج کی رات ہی میں حضرت ابراہیم -اور حضرت عیسیٰ -متولد ہوئے اور روئے زمین کو خانہ کعبہ کے نیچے بچھایا گیا ۔ جو شخص اس دن روزہ رکھے تو گویااس نے ساٹھ مہینوں کے روزے رکھے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ وہ یہی دن ہے جس میں قائم آل محمد -کا قیام شروع ہوگا۔
پچیسویں ذیقعد کا دن
یہ سال بھر کے ان چار دنوں میں سے ایک ہے کہ جن میں روزہ رکھنے کی خاص فضیلت ہے، ایک روایت میں ہے کہ اس دن کا روز ہ ستر سال کے روزے کی مانند ہے اور ایک روایت میں ہے کہ اس دن کا روزہ ستر سال کے گناہوں کا کفارہ ہے، جو شخص اس دن روزہ رکھے اور اس کی رات میں عبادت کرے تو اس کیلئے سو سال کی عبادت لکھی جائے گی۔
آج کے دن روزہ رکھنے والے کے لیے ہر وہ چیز استغفار کرے گی جو زمین و آسمان میں ہے۔ یہ وہ دن ہے، جس میں خدا کی رحمت دنیا میں عام ہوتی ہے، اس دن ذکر و عبادت کیلئے جمع ہونے کا بہت بڑا اجر ہے۔ آج کے دن میں غسل ،روزہ اور ذکر و عبادت کے علاوہ دو عمل ہیں ۔ ان میںسے پہلاعمل وہ نماز ہے جو قمی علمائ کی کتب میں مروی ہے اور یہ دو رکعت نماز ہے جو بوقت چاشت(ظہر کے قریب) پڑھی جاتی ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پانچ مرتبہ سورہ شمس پڑھے اور نماز کا سلام دینے کے بعد یہ دعا پڑھے:
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ ،پھر دعا کرے اور یہ پڑھے:یَا مُقِیلَ الْعَثَراتِ
نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو بلند و برتر خدا سے ملتی ہے۔ اے لغزشوں کے معاف کرنے والے
أَقِلْنِی عَثْرَتِی، یَا مُجِیبَ الدَّعَوَاتِ أَجِبْ دَعْوَتِی، یَا سامِعَ الْاَصْواتِ اِسْمَعْ
میری ہر لغزش معاف فرما اے دعاؤں کے قبول کرنے والے میری دعا قبول کرلے اے آوازوں کے سننے والے میری آواز
صَوْتِی وَاِرْحَمْنِی وَتَجاوَزْ عَنْ سَیِّئاتِی وَمَا عِنْدِی یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ
سن لے مجھ پر رحم کر میرے گناہوں اور جو کچھ مجھ سے سرزد ہوا ہے اس سے درگذر فرما اے جلالت اور بزرگی کے مالک۔
دوسرا عمل اس دعا کا پڑھنا ہے کہ بقول شیخ اس کا پڑھنا مستحب ہے:
اَللّٰهُمَّ داحِیَ الکَعْبَةِ، وَفالِقَ الْحَبَّةِ، وَصارِفَ اللَّزْبَةِ، وَکاشِفَ کُلِّ کُرْبَةٍ
اے اللہ! اے زمین کعبہ کے بچھانے والے دانے کو شگافتہ کرنے والے سختی دور کرنے والے اور ہر تنگی سے نکالنے والے
أَسْأَلُکَ فِی هذَا الْیَوْمِ مِنْ أَیَّامِکَ الَّتِی أَعْظَمْتَ حَقَّها، وَأَقْدَمْتَ سَبْقَها، وَجَعَلْتَها
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس دن میں جو تیرے ان دنوں میں سے ہے تو نے جن کا حق عظیم قرار دیا انکے شرف کو بڑھایا اور انہیں
عِنْدَ الْمُؤْمِنِینَ وَدِیعَةً، وَ إلَیْکَ ذَرِیعَةً، وَبِرَحْمَتِکَ الْوَسِیعَةِ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
مومنوں کے پاس اپنی امانت بنایا اور اپنی جانب ذریعہ قرار دیا اور بواسطہ تیری وسیع رحمت کے سوالی ہوں کہ اپنے بندہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت
عَبْدِکَ الْمُنْتَجَبِ فِی الْمِیثاقِ الْقَرِیبِ یَوْمَ التَّلاقِ فاتِقِ کُلِّ رَتْقٍ، وَداعٍ إلی کُلِّ
نازل فرما جو برگزیدہ ہیں اور میثاق میں تیرے نزدیک تر ہیں قیامت میں ہر گرفتار کو چھڑانے والے اور رہ حق کیطرف بلانے والے
حَقٍّ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ الْاَطْهارِ، الْهُداةِ الْمَنارِ، دَعايِمِ الْجَبَّارِ، وَوُلاةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ،
ہیں نیز ان کے پاکیزہ اہل بیت پر رحمت فرما جو چراغ ہدایت، خدا کے بنائے ہوئے ستون اور جنت و جہنم کے حاکم ہیں
وَأَعْطِنا فِی یَوْمِنا هذَا مِنْ عَطائِکَ الْمَخْزُونِ غَیْرَ مَقْطُوعٍ وَلاَ مَمْنُوعٍ، تَجْمَعُ لَنا بِهِ
اور یہ کہ آج ہماری عید کے روزہمیں اپنی عطاؤں کے خزانے سے وہ عطا کر جو کبھی ختم نہ ہو اور نہ اس کو روکا جائے اس کے ساتھ ہمیں
التَّوْبَةَ وَحُسْنَ الْاَوْبَةِ، یَا خَیْرَ مَدْعُوٍّ، وَأَکْرَمَ مَرْجُوٍّ، یَا کَفِیُّ یَا وَفِیُّ، یَا مَنْ لُطْفُهُ
توبہ اور اچھی بازگشت بھی دے اے بہترین پکارے گئے اور شریف تر امید کیے گئے اے پورا کرنے والے اے وفا کرنے والے
خَفِیٌّ، اُلْطُفْ لِی بِلُطْفِکَ، وَأَسْعِدْنِی بِعَفْوِکَ، وَأَیِّدْنِی بِنَصْرِکَ، وَلاَ تُنْسِنِی کَرِیمَ
اے وہ جس کا کرم نہاں ہے اپنی کریمی سے مجھ پر کرم فرما اور اپنی پردہ پوشی سے مجھے نیک بختی دے اپنی نصرت سے مجھے قوی کر اور
ذِکْرِکَ ، بِوُلاةِ أَمْرِکَ، وَحَفَظَةِ سِرِّکَ، وَاحْفَظْنِی مِنْ شَوایِبِ الدَّهْرِ إلی یَوْمِ
بواسطہ اپنے والیان امر اور اپنے رازداروں کے مجھے اپنا ذکر پاک نہ بھلا حشر و نشر کے دن تک مجھے زمانے کی سختیوں سے
الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ، وَأَشْهِدْنِی أَوْ لِیائَکَ عِنْدَ خُرُوجِ نَفْسِی، وَحُلُولِ رَمْسِی،
اپنی حفاظت میں رکھ مجھے اپنے اولیائ کی زیارت کا شرف بخش اس وقت جب میری جان نکلے جب مجھے قبر میں اتارا جائے، جب
وَانْقِطاعِ عَمَلِی، وَانْقِضائِ أَجَلِی اَللّٰهُمَّ وَاذْکُرْنِی عَلَی طُولِ الْبِلی إذا حَلَلْتُ بَیْنَ
میرا عمل بند ہوجائے اور میری عمر تمام ہوجائے اے معبود! مجھے یاد رکھنا جب مجھ پر آزمائش کے لمبا ہونے پر کہ جب میں زمین کی
أَطْباقِ الثَّریٰ، وَنَسِیَنِی النَّاسُونَ مِنَ الْوَری، وَأَحْلِلْنِی دارَ الْمُقامَةِ، وَبَوِّئْنِی
تہوں میں پڑا ہوں گا اور لوگوں میں سے بھولنے والے مجھے بھول چکے ہونگے تب مجھے رہنے کی جگہ دے اور
مَنْزِلَ الْکَرامَةِ وَاجْعَلْنِی مِنْ مُرافِقِی أَوْ لِیائِکَ وَأَهْلِ اجْتِبائِکَ وَاصْطِفائِکَ وَبارِکْ
باعزت ٹھکانہ عطا فرما مجھے اپنے اولیائ کے رفیقوں میں رکھ اپنے منتخب افراد میں قرار دے اور اپنے پسندیدہ لوگوں میں داخل کر اپنی
لِی فِی لِقائِکَ، وَارْزُقْنِی حُسْنَ الْعَمَلِ قَبْلَ حُلُولِ الْاَجَلِ بَرِیْئاً مِنَ الزَّلَلِ وَسُوئِ
ملاقات میرے لیے مبارک کر موت سے پہلے اچھے اچھے اعمال بجا لانے کی توفیق دے لغزشوں سے بچائے رکھ اور برے
الْخَطَلِ اَللّٰهُمَّ وَأَوْرِدْنِی حَوْضَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَاسْقِنِی مِنْهُ
کاموں سے دور کر۔ اے معبود! مجھے اپنے نبی حضرت محمد کے حوض کوثر پر وارد فرما اور اس میں سے خوش مزہ گوارا
مَشْرَباً رَوِیّاً سائِغاً هَنِیئاً لاَ أَظْمَأُ بَعْدَهُ، وَلاَ أُحَلَّأُ وِرْدَهُ، وَلاَ عَنْهُ أُذادُ، وَاجْعَلْهُ
پانی سے سیراب فرما کہ اس کے بعد نہ مجھے پیاس لگے اور نہ اس سے روکا جاؤں نہ اس سے ہٹایا جاؤں اور اسے میرا بہتر توشہ قرار
لِی خَیْرَ زادٍ، وَأَوْفی مِیعادٍ یَوْمَ یَقُومُ الْاَشْهادُ اَللّٰهُمَّ وَالْعَنْ جَبابِرَةَ الْاَوَّلِینَ
دے اس دن کے لیے جب وعدے کا دن آپہنچے گا اے معبود! اگلے اور پچھلے ستم گار لوگوں پر لعنت کر اور ان پر
وَالاَْخِرِینَ وَبِحُقُوقِ أَوْلِیائِکَ الْمُسْتَأْثِرِینَ اَللّٰهُمَّ وَاقْصِمْ دَعائِمَهُمْ، وَأَهْلِکْ
جنہوں نے تیرے اولیائ کے حقوق غصب کیے اے معبود! ان کے سہارے توڑ دے اور ان کے
أَشْیاعَهُمْ وَعامِلَهُمْ، وَعَجِّلْ مَهالِکَهُمْ، وَاسْلُبْهُمْ مَمالِکَهُمْ، وَضَیِّقْ عَلَیْهِمْ
پیروکاروں اور کارندوں کو ہلاک کر دے اور انکی تباہی میں اور ان کی حکومتیں چھیننے میں جلدی کر اور ان کے لیے
مَسالِکَهُمْ، وَالْعَنْ مُساهِمَهُمْ وَمُشارِکَهُمْ اَللّٰهُمَّ وَعَجِّلْ فَرَجَ أَوْ لِیائِکَ، وَارْدُدْ
راستے تنگ کردے اور ان کے ہمکاروں اور حصہ داروں پر لعنت کر اے معبود! اپنے اولیائ کو جلد کشادگی دے ان کے چھنے ہوئے
عَلَیْهِمْ مَظالِمَهُمْ، وَأَظْهِرْ بِالْحَقِّ قائِمَهُمْ، وَاجْعَلْهُ لِدِینِکَ مُنْتَصِراً، وَبِأَمْرِکَ فِی
حقوق واپس دلا قائم آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا جلد ظہور فرما اور انہیں اپنے دین کا مددگار اور اپنے اذن سے اپنے
أَعْدائِکَ مُؤْتَمِراً اَللّٰهُمَّ احْفُفْهُ بِمَلائِکَةِ النَّصْرِ، وَبِما أَلْقَیْتَ إلَیْهِ مِنَ الْاَمْرِ فِی لَیْلَةِ
دشمنوں پر مسلط فرما اے معبود! ان کے گرد میں مدد گار فرشتوں کو کھڑ اکردے اور شب قدر میںجو حکم تو نے اان کو دیا اس کے مطابق
الْقَدْرِ مُنْتَقِماً لَکَ حَتّی تَرْضی وَیَعُودَ دِینُکَ بِهِ وَعَلَی یَدَیْهِ جَدِیداً غَضّاً، وَیَمْحَضَ
انہیں اپنی طرف سے بدلہ لینے والا قرار دے یہاں تک کہ تو راضی ہو تیرا دین ان کے ذریعے پلٹ آئے اور انکے ہاتھوں نئی قوت و
الْحَقَّ مَحْضاً، وَیَرْفُضَ الْباطِلَ رَفْضاً اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیْهِ وَعَلَی جَمِیعِ آبائِهِ
غلبہ پاکر حق نکھر کے سامنے آئے اور باطل پوری طرح مٹ جائے اے معبود! امام العصرعليهالسلام پر رحمت فرما اور ان کے تمام بزرگوں پر
وَاجْعَلْنا مِنْ صَحْبِهِ وَأُسْرَتِهِ، وَابْعَثْنا فِی کَرَّتِهِ، حَتّی نَکُونَ فِی زَمانِهِ
اور ہمیں ان کے مددگاروں اور ساتھیوں میں قرار دے ہمیں ان کی آمد ثانی پر مبعوث فرما یہاں تک کہ ہم ان کے عہد میں ان
مِنْ أَعْوانِهِ اَللّٰهُمَّ أَدْرِکْ بِنا قِیامَهُ، وَأَشْهِدْنا أَیَّامَهُ وَصَلِّ عَلَیْهِ، وَارْدُدْ إلَیْنا
کے حامیوں میں ہوںاے معبود! ہمیں انکے قیام تک پہنچا اور ان کی حکومت کے دن دکھا اور ان پر رحمت فرما اور ان کی دعا ہم تک
سَلامَهُ، وَاَلسَّلاَمُ عَلَیْهِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
پہنچا اور ان پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔
معلوم ہو کہ میرداماد نے اپنے رسالہ اربعہ ایام میں دحوالارض کے دن کے اعمال میں فرمایا ہے کہ آج کے دن امام علی رضا -کی زیارت کرنا مستحب اعمال میں سے ہے اور مسنون آداب کے ساتھ مؤکد ہے اسی طر ح امام علی رضا - کی زیارت پہلی رجب کو بھی زیادہ تاکیدی ہے
ذیقعد کا آخری دن
بنابر مشہور ۲۲۰ھ میں ذیقعد کے آخری دن امام محمد تقی - معتصم کے دیئے ہوئے زہر سے شہر بغداد میں شہیدہوئے، یہ واقعہ مامون کی موت سے قریباً اڑھائی سال بعد پیش آیا، جیسا کہ حضرت خود فرماتے تھے کہ تیس ماہ کے بعد کشائش ہوگی۔ آپ کے یہ کلمات آپ کے ساتھ مامون کے برے سلوک پر دلالت کرتے ہیں اور اس کی طرف سے آپ کو حد درجہ کی اذیت اور صدمہ پہنچانے کو ظاہر کر رہے ہیں۔
کیونکہ آپ اپنی موت کو کشائش سے تعبیر فرماتے ہیں۔ جیسا کہ آپ کے والد ماجد امام علی رضا -نے ولی عہدی کو ایسے ہی تعبیر فرمایا تھا۔چنانچہ ہر جمعہ کو جب آپ جامع مسجد سے واپس آتے تو اسی پسینے اور غبارآلود حالت میںہاتھوں کو بار گاہ الہی میں بلند کرتے تھے اور دعا فرماتے ۔ اے میرے مالک! اگر میری کشائش و راحت میری موت میں ہے تو اس گھڑی میری موت میں تعجیل فرما! پس اسی غم و اندوہ میں آپ کا وقت گزرتا رہا یہاںتک کہ آپ نے اس دنیا سے رحلت فرمائی۔
جب امام محمد تقی -کی شہادت ہوئی تو آپ کا سن مبارک پچیس سال اور کچھ مہینے تھا، آپ کی قبر مبارک کاظمین میں اپنے جد بزرگوار امام موسیٰ کا ظم - کے پشت سر کی طرف ہے۔
چھٹی فصلماہ ذی الحجہ کے اعمال
اعمال عشرہ اول ذی الحجہ
واضح ہو کہ ذوالحجہ ایک عظیم اور بزرگ تر مہینہ ہے، جب اس مہینے کا چاند نظر آتا تو اکثر صحابہ(رض) و تابعین عبادت میں خاص اہتمام کرتے تھے قرآن مجید میں اس کے پہلے دس دنوں کو ایام معلومات کہا گیا ہے اور یہ بڑی فضیلت اور برکت والے ایام ہیں۔ حضرت رسول اللہ کا فرمان ہے کہ کسی بھی دن کی نیکی و عبادت خدا کے ہاںاس نیکی و عبادت سے زیادہ محبوب نہیں جو ان دس دنوں میں کی جائے۔
ان دس دنوں میںچند ایک اعمال ہیں۔
( ۱ )پہلے نو دن کے روزے رکھے تو ایسا ہے گویا ساری زندگی روزے رکھے ہوں ۔
( ۲ )ان دس دنوں میں مغرب و عشا کے درمیان دو رکعت نماز پڑھے جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمدکے بعد سورہ توحید اور یہ آیت پڑھے تا کہ حجاج کعبہ کے ثواب میں شریک ہوجائے۔
وَوٰاعَدْنا مُوسیٰ ثَلاَثِینَ لَیْلَةً وَأَتْمَمْناها بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیقاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِینَ لَیْلَةً وَقالَ
وعدہ کیا ہم نے موسیٰعليهالسلام سے تیس راتوں کا اورمزید دس راتوں کا اضافہ کیا تو پھر اس کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کا ہوگیا
مُوسی لاََِخِیهِ هارُونَ اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِیلَ المُفْسِدِینَ
اور کہا موسیٰعليهالسلام نے اپنے بھائی ہارونعليهالسلام سے میری امت میںجانشین بن اور ان کی اصلاح کر اور فساد کرنیوالوں کی راہ پر نہ چلنا۔
( ۳ )پہلے دن سے عرفہ کے دن تک نماز فجر کے بعد اور نمازمغرب سے پہلے یہ دعا پڑھے، جو شیخ و سید نے امام جعفر صادق -سے نقل کی اور وہ یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ هذِهِ الْاَیَّامُ الَّتِی فَضَّلْتَها عَلَی الْاَیَّامِ وَشَرَّفْتَها وَقَدْ بَلَّغْتَنِیها بِمَنِّکَ وَرَحْمَتِکَ
اے معبود! یہ وہ دن ہیں جن کو تو نے دوسرے دنوں پر فضیلت و بزرگی دی ہے تو نے اپنے احسان اور رحمت سے یہ دن ہم کو دکھائے
فَأَنْزِلْ عَلَیْنا مِنْ بَرَکاتِکَ، وَأَوْسِعْ عَلَیْنا فِیها مِنْ نَعْمائِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ
ہیں پس ان دنوں میں ہم پر اپنی برکتیں نازل فرما اور اپنی نعمتوں میں وسعت فرما اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ
تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَهْدِیَنا فِیها لِسَبِیلِ الْهُدی وَالْعَفافِ وَالْغِنی
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں راہ ہدایت، پاکدامنی اور سیر چشمی کی طرف ہماری رہنمائی کر اور ان میں ہمیں
وَالْعَمَلِ فِیها بِما تُحِبُّ وَتَرْضی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ یَا مَوْضِعَ کُلِّ شَکْوی، وَیَا
اپنا پسندیدہ عمل کرنے کی توفیق دے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے ہر شکایت کی امیدگاہ اے ہر سرگوشی
سامِعَ کُلِّ نَجْوی، وَیَا شاهِدَ کُلِّ مَلَأَ، وَیَا عالِمَ کُلِّ خَفِیَّةٍ، أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
کے سننے والے اے ہر جماعت پر حاضر گواہ اور اے ہر راز کے جاننے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَکْشِفَ عَنَّا فِیهَا الْبَلائَ، وَتَسْتَجِیبَ لَنا فِیهَا الدُّعائَ، وَتُقَوِّیَنا فِیها
رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں ہم سے مصیبت کو دور کر ان ایام میں ہماری دعا قبول فرما اور قوت عطا کر
وَتُعِینَنا وَتُوَفِّقَنا فِیها لِما تُحِبُّ رَبَّنا وَتَرْضی وَعَلَی مَا افْتَرَضْتَ عَلَیْنا مِنْ طاعَتِکَ
ان دنوں میں ہمیں اس عمل پر مدد اور توفیق دے جس سے تو راضی ہو اور اس کی بھی توفیق کہ جس کو تو نے اور اپنے رسول اور اپنے اہل
وَطاعَةِ رَسُو لِکَ وَأَهْلِ وِلایَتِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ أَنْ تُصَلِّیَ
ولایت کی اطاعت کے عنوان سے ہم پرفرض کیا ہے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے کہ
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَهَبَ لَنا فِیهَا الرِّضا إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ، وَلاَ تَحْرِمْنا
تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں ہمیں اپنی خوشنودی عطاکر بے شک تو دعا کا سننے والا ہے اور ہمیں اس بھلائی
خَیْرَ مَا تُنْزِلُ فِیها مِنَ السَّمائِ، وَطَهِّرْنا مِنَ الذُّنُوبِ یَا عَلاّمَ الْغُیُوبِ، وَأَوْجِبْ
سے محروم نہ کر جو تو نے آسمان سے نازل کی ہے اور ہمارے گناہ دھوڈال اے غیبوں کے جاننے والے اور اس دنوں ہمارے لیے
لَنا فِیها دارَ الْخُلُودِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلاَ تَتْرُکْ لَنا فِیها ذَ نْباً إلاَّ
ہمیشگی والی جنت واجب کردے اے معبود؛ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور ہمارا کوئی گناہ نہ رہنے دے جسے تونے نہ بخشا ہو اور نہ
غَفَرْتَهُ، وَلاَ هَمّاً إلاَّ فَرَّجْتَهُ، وَلاَ دَیْناً إلاَّ قَضَیْتَهُ، وَلاَ غائِباً إلاَّ أَدَّیْتَهُ، وَلاَ حاجَةً
کوئی غم کہ جس سے تو نے گشائش نہ دی ہو اور نہ کوئی قرض کہ جسے تو نے ادا نہ کیا ہو اور نہ گمشدہ شی کہ جسے تو نے (ہم تک)نہ پہنچایا
مِنْ حَوٰائِجِ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ إلاَّ سَهَّلْتَها وَیَسَّرْتَها، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ
ہو اور نہ دنیا وآخرت کی حاجات میں سے کوئی حاجت کہ جسے تو نے پورا نہ کیا ہو اور اسے آسان نہ بنایا ہوبے شک تو ہرچیز پر قدرت
قَدِیرٌ ۔ اَللّٰھُمَّ یَا عالِمَ الْخَفِیَّاتِ، یَا راحِمَ الْعَبَراتِ، یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ، یَا رَبَّ
رکھتا ہے اے معبود! اے چھپی چیزوں سے واقف اے گرتے آنسوؤں پر رحم کھانے والے اے دعائیں قبول کرنے والے اے
الْاَرَضِینَ وَالسَّماواتِ، یَا مَنْ لاَ تَتَشابَهُ عَلَیْهِ الْاَصْواتُ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
زمینوں و آسمانوں کے پروردگار اے وہ جس کو آوازیں شبہ میں نہیں ڈال سکتیں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنا فِیها مِنْ عُتَقائِکَ وَطُلَقائِکَ مِنَ النَّارِ، وَالْفائِزِئنَ بِجَنَّتِکَ وَالنَّاجِینَ
رحمت فرما اور ان دنوں ہمیں اپنی طرف سے آتش جہنم سے آزاد اور رہاکیئے ہوئے قرار دے نیز اپنی جنت میں داخل شدہ اور نجات
بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ
یافتہ شمار کر اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور خدا ہمارے سردار حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی ساری آلعليهالسلام پررحمت فرمائے ۔
( ۴ ) وہ پانچ دعائیں پڑھے جو جبرائیل خدا کی طرف سے حضرت عیسیٰ -کیلئے بطور ہدیہ لائے تھے تاکہ حضرت اس عشرہ میں ہر روز یہ دعائیں پڑھیں ۔ وہ پانچ دعائیں یہ ہیں ۔
﴿ ۱ ﴾أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، بِیَدِهِ
( ۱ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا ثانی نہیں حکومت اسی کی ہے اور اسی کیلئے حمد ہے اسی کے
الْخَیْرُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ﴿ ۲ ﴾أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ،
ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔( ۲ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا
أَحَداً صَمَداً لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً ﴿ ۳ ﴾ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ
ثانی نہیں وہ یکتا بے نیاز ہے نہ اس نے کوئی زوجہ کی نہ اس کا کوئی بیٹا ہے ۔ ( ۳ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں
وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، أَحَداً صَمَداً لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ ﴿ ۴ ﴾
جو یکتا ہے کوئی اسکا ثانی نہیںہے وہ یکتا و بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر و ثانی ہو سکتا ہے۔ ( ۴ )
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِی
میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا ثانی نہیں ملک اسی کا ہے اور حمد اسی کی ہے وہ زندہ کرتا ہے وہ
وَیُمِیتُ، وَهُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ﴿ ۵ ﴾ حَسْبِیَ
موت دیتا ہے اور وہ زندہ جسے موت نہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔( ۵ ) ﷲ میرے لئے
ﷲ وَکَفی، سَمِعَ ﷲ لِمَنْ دَعا، لَیْسَ وَرائَ ﷲ مُنْتَهی، أَشْهَدُ لِلّٰهِ بِما دَعا
اور کافی وراضی ہے جو اسکو پکارے نہیں (اس کی پکار کو) سنتاہے خدا کے علاوہ کوئی انتہا نہیں جسکی اس نے دعوت دی اسکی گواہی دیتا ہوں
وَأَ نَّهُ بَرِیئٌ مِمَّنْ تَبَرَّأَ، وَأَنَّ لِلّٰهِِ الْآخِرَةَ وَالاَُْولیٰ
اور ﷲ تعالیٰ سے دور ہے جو اس سے دور ہونا چاہے اور ﷲ کیلئے ہی ابتدائ وانتہا ہے ۔
حضرت عیسیٰ -نے ان دعاؤں میں سے ہر ایک کو روزانہ سو مرتبہ پڑھنے پر بہت زیادہ ثواب کا ذکر کیا ہے علامہ مجلسیرحمهالله کے فرمان کے مطابق یہ بعید نہیں کہ اگر کوئی شخص ان پانچ دعاؤں کو روزانہ دس مرتبہ پڑھے تو بھی روایت پر عمل ہوجائے گا لیکن اگر ہر دعا کو سو مرتبہ پڑھے تو بہت بہتر ہے ۔
( ۵ ) ان دس دنوں میں ہر روز یہ تہلیلات پڑھے جو حضرت امیرا لمومنین -سے منقول ہیں اور ان پر ثواب کثیر کا ذکر ہوا ہے اگر ان کو روزانہ دس مرتبہ پڑھے تو خوب ہے وہ تہلیلات یہ ہیں :
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ اللَّیالِی وَالدُّهُورِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ أَمْواجِ الْبُحُورِ، لاَ إلهَ
ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں راتوں اور زمانوں کی تعداد میں ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں سمندروں کی موجوں کے برابر ﷲ کے سوا
إلاَّ ﷲ وَ رَحْمَتُهُ خَیْرٌ مِمّا یَجْمَعُونَ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الشَّوْکِ وَالشَّجَرِ
کوئی معبود نہیں اور اس کی رحمت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں درختوں اور کانٹوں کی تعداد کے
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الشَّعْرِ وَالْوَبَرِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الْحَجَرِ وَالْمَدَرِ، لاَ إلهَ إلاَّ
برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں بالوں اور دن کے ریشوں کی تعداد کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں پتھروں اور ڈھیلوں کی تعداد
ﷲ عَدَدَ لَمْحِ الْعُیُونِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ فِی اللَّیْلِ إذا عَسْعَسَ، وَالصُّبْحِ
کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں پلکوںکے جھپکنے کی تعداد کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں رات جب تاریک ہوجائے اور صبح
إذا تَنَفَّسَ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَدَدَ الرِّیاحِ فِی الْبَرارِی وَالصُّخُورِ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مِنَ
کو جب وہ روشن ہو ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہواؤں اور بیابانوں اور صحراؤں کی تعداد کے برابر ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں آج
الْیَوْمِ إلی یَوْمِ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ
سے صور پھونکنے کے دن تک کے دنوں میں ۔
ذالحجہ کا پہلا دن
اس میں چند ایک اعمال ہیں ۔
( ۱ ) روزہ رکھے اس کا ثواب اَ سیّ(۸۰) مہینوں کے روزے رکھنے کے ثواب کے برابر ہے ۔
( ۲ ) نماز حضرت فاطمہ الزہرا =بجالائے شیخ فرماتے ہیں کہ یہ نماز چار رکعت ہے دو دو کرکے پڑھے جیسے کہ امیر المومنین -کی نماز پڑھی جاتی ہے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید اور بعداز نماز تسبیح فاطمہ الزہرا =پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے:
سُبْحانَ ذِی الْعِزِّ الشَّامِخِ الْمُنِیفِ سُبْحانَ ذِی الْجَلالِ الْباذِخِ الْعَظِیمِ سُبْحانَ
پاک ہے وہ جو بلند و بالا عزت کا مالک ہے پاک ہے وہ صاحب جلالت شان و عظمت والا پاک ہے
ذِی الْمُلْکِ الْفاخِرِ الْقَدِیمِ سُبْحانَ مَنْ یَریٰ أَثَرَ النَّمْلَةِ فِی الصَّفا سُبْحانَ مَنْ
وہ قدیمی قابل فخر حکومت کا مالک پاک ہے وہ جو چٹیل پتھر پر چیونٹی کے پاؤں کا نشان دیکھتا ہے پاک ہے وہ جو فضا میں پرندے
یَریٰ وَقْعَ الطَّیْرِ فِی الْهَوائِ سُبْحانَ مَنْ هُوَ هکَذا وَلاَ هکَذا غَیْرُهُ
کے اڑنے کے خط دیکھتا ہے پاک ہے وہ جو ایسا ہے اور اس کے سوا کوئی ایسا نہیں ۔
( ۳ ) زوال سے آدھ گھنٹہ پہلے دو رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد دس دس مرتبہ سورہ توحید آیۃ الکرسی اور سورہ قدر پڑھے :
( ۴ ) جو شخص کسی ظالم سے خوف زدہ ہو وہ آج کے دن یہ کلمات کہے تاکہ حق تعالیٰ اسے ظالم کے شر سے محفوظ فرمائے وہ کلمات یہ ہیں :
حَسْبِی حَسْبِی حَسْبِی مِنْ سُؤالِی عِلْمُکَ بِحالِی
مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے مجھے کافی ہے سوال کی نسبت میرے حال سے متعلق تیرا علم۔
واضح ہو کہ آج کے دن ہی حضرت ابراہیم -کی ولادت ہوئی تھی اور شیخین کی روایت کے مطابق امیر المومنین -کے ساتھ حضرت فاطمہ الزہرا =کی تزویج بھی اسی دن ہوئی ۔
ساتویں ذی الحجہ کا دن
سات ذی الحجہ ۴۱۱ ھ میں بمقام مدینہ منورہ امام محمد باقر - کی وفات ہوئی پس یہ مسلمانوں کیلئے یوم غم ہے۔
آٹھویں ذی الحجہ کا دن
یہ ترویہ کا دن ہے اور اس میں روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے روایت ہے کہ اس دن کا روزہ ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور شیخ شہید کا فرمان ہے کہ اس روز غسل کرنا مستحب ہے۔
نویں ذی الحجہ کی رات
یہ بڑی مبارک رات ہے یہ قاضی الحاجات سے مناجات اور راز و نیاز کی رات ہے اس رات توبہ قبول اور دعا مستجاب ہوتی ہے۔ پس جو شخص یہ رات عبادت میں گزارے گویا وہ ایک سو ستر سال تک عبادت میں مصروف رہا ہے اس رات کے چند اعمال ہیں :
( ۱ ) یہ دعا پڑھے روایت ہے کہ شب عرفہ یا شب جمعہ میں اس دعا کے پڑھنے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ یَا شاهِدَ کُلِّ نَجْوی، وَمَوْضِعَ کُلِّ شَکْوی، وَعالِمَ کُلِّ خَفِیَّةٍ، وَمُنْتَهی کُلِّ
اے ﷲ ! اے ہر راز کے گواہ اے ہر شکایت کے پہنچنے کے مقام اے ہر پوشیدہ چیز کے جاننے والے اور ہر حاجت کی
حاجَةٍ، یَا مُبْتَدِئاً بِالنِّعَمِ عَلَی الْعِبادِ، یَا کَرِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ، یَا جَوادُ،
آخری جگہ اے بندوں پر اپنی نعمتوں کا آغاز کرنے والے اے مہربان معاف کرنے والے اے بہترین در گزر کرنے والے اے عطا والے
یَا مَنْ لاَ یُوارِی مِنْهُ لَیْلٌ داجٍ وَلاَ بَحْرٌ عَجَّاجٌ وَلاَ سَمائٌ ذاتُ أَبْراجٍ، وَلاَ ظُلَمٌ ذاتُ
اے وہ جس سے نہاں نہیں ہے تاریک رات نہ بے کراں سمندر نہ برجوں والا آسمان اور نہ یکبارگی اٹھنے والی موجیں
ارْتِتاجٍ، یَا مَنِ الظُّلْمَةُ عِنْدَهُ ضِیائٌ، أَسْأَلُکَ بِنُورِ وَجْهِکَ الْکَرِیمِ الَّذِی تَجَلَّیْتَ
نہاں ہیں اے وہ تاریکیاں جس کیلئے روشن ہیں سوال کرتا ہوں بواسطہ تیری عزت والی ذات کے نور کے جسکو تونے پہاڑ پر چمکایا تو
بِهِ لِلْجَبَلِ فَجَعَلْتَهُ دَ کّاً وَخَرَّ مُوسی صَعِقاً، وَبِاسْمِکَ الَّذِی رَفَعْتَ بِهِ السَّماواتِ
وہ بکھر کر رہ گیا اور حضرت موسیٰعليهالسلام بے ہوش ہو کر گر پڑے اور بواسطہ تیرے نام کے جس سے تونے آسمانوں کو
بِلا عَمَدٍ، وَسَطَحْتَ بِهِ الْاَرْضَ عَلَی وَجْهِ مَائٍ جَمَدٍ، وَبِاسْمِکَ الْمَخْزُونِ الْمَکْنُونِ
بغیر ستونوں کے بلند کیا اور زمین کو جمے ہوئے پانی کی سطح کے اوپر پھیلایا اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے محفوظ پوشیدہ
الْمَکْتُوبِ الطَّاهِرِ الَّذِی إذا دُعِیتَ بِهِ أَجَبْتَ، وَ إذا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَیْتَ، وَبِاسْمِکَ
لکھے ہوئے پاک تر نام کے کہ جس سے تجھے پکارا جائے تو جواب دیتا ہے اور جب اس کے ذریعے تجھ سے مانگا جائے تو عطاکرتا
السُّبُّوحِ الْقُدُّوسِ الْبُرْهانِ الَّذِی هُوَ نُورٌ عَلَی کُلِّ نُورٍ، وَنُورٌ مِنْ نُورٍ یُضِیئُ مِنْهُ
ہے اور بواسطہ تیرے پاکسا وپاکیزہ نام کے سوالی ہوں جو ہر نور سے بالا تر نور ہے وہ نور ہے اس نورمیںسے اورجس سے
کُلُّ نُورٍ، إذا بَلَغَ الْاَرْضَ انْشَقَّتْ، وَ إذا بَلَغَ السَّماواتِ فُتِحَتْ، وَ إذا بَلَغَ الْعَرْشَ
ہر نور چمکتا ہے جب وہ زمین پر پہنچا تو وہ پھٹ گئی جب آسمانوں پر پہنچا تووہ کشادہ ہوگئے جب عرش پر پہنچا تو
اهْتَزَّ وَبِاسْمِکَ الَّذِی تَرْتَعِدُ مِنْهُ فَرائِصُ مَلائِکَتِکَ وَاَسأَلُکَ بِحَقِّ جَبْرَائِیلَ
وہ لرزنے لگا اور بواسطہ تیرے اس نام کے کہ جس سے تیرے فرشتوںکے دل دہل جاتے ہیں اورسوالی ہوںجبرائیل میکائیل
وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلَی جَمِیعِ
اور اسرافیل کے واسطے سے اور حضرت محمد مصطفےٰ کے اس حق کے واسطے سے سوالی ہوں جوتمام نبیوںاورفرشتوںپرہے اور
الْاَ نْبِیائِ وَجَمِیعِ الْمَلائِکَةِ، وَبِالاسْمِ الَّذِی مَشی بِهِ الْخِضْرُ عَلَی قُلَلِ الْمائِ کَما
سوالی ہوں کہ جس کی برکت سے خضر پانی کی لہروں پر چلتے تھے جیساکہ وہ اس
مَشی بِهِ عَلَی جَدَدِ الْاَرْضِ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی فَلَقْتَ بِهِ الْبَحْرَ لِمُوسی وَأَغْرَقْتَ
زمین کی بلندیوں پر چلتے تھے اور بواسطہ تیرے نام کے جس سے تو نے موسیعليهالسلام کیلئے دریا کو چیرا فرعون کو اس کی
فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ وَأَنْجَیْتَ بِهِ مُوسَی بْنَ عِمْرانَ وَمَنْ مَعَهُ وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ
قوم سمیت غرق کیا اور موسیعليهالسلام بن عمران کو ساتھیوں سمیت نجات دی اور بواسطہ اس نام کے جس سے موسیعليهالسلام بن عمران نے
مُوسَی بْنُ عِمْرانَ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْاَیْمَنِ فَاسْتَجَبْتَ لَهُ وَأَلْقَیْتَ عَلَیْهِ مَحَبَّةً مِنْکَ
طور ایمن کی ایک سمت سے پکارا تھا پس تو نے اس کو جواب دیا اور اس پر اپنی محبت نازل فرمائی
وَبِاسْمِکَ الَّذِی بِهِ أَحْیَا عِیسَی بْنُ مَرْیَمَ الْمَوْتی وَتَکَلَّمَ فِی الْمَهْدِ صَبِیّاً، وَأَبْرَأَ
اور سوالی ہوں بواسطہ اس نام کے جس کی برکت سے عیسیٰ بن مریم نے مردے زندہ کیئے بچپنے میں گہوارے میں کلام کیا اور تیرے
الْاَکْمَهَ والْاَ بْرَصَ بِ إذْنِکَ وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ حَمَلَةُ عَرْشِکَ وَجَبْرَائِیلُ
حکم سے اس نام کے ساتھ جذام و برص والوں کو شفا دی اور بواسطہ تیرے اس نام کے جس سے تجھے حاملان عرش اور جبرائیل
وَمِیکائِیلُ وَ إسْرافِیلُ وَحَبِیبُکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَمَلائِکَتُکَ الْمُقَرَّبُونَ،
میکائیل اور اسرافیل اور تیرے حبیب حضرت محمد تجھے پکارتے ہیں نیز جس نام سے تیرے مقرب فرشتے
وَأَنْبِیاؤُکَ الْمُرْسَلُونَ، وَعِبادُکَ الصَّالِحُونَ مِنْ أَهْلِ السَّماواتِ وَالْاَرَضِینَ،
تیرے بھیجے ہوئے انبیائ اور تیرے نیکوکار بندے تجھے پکارتے ہیں جو آسمان والوں اور زمین والوں میں ہیں اور بواسطہ تیرے اس
وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ ذُو النُّونِ إذْ ذَهَبَ مُغاضِباً فَظَنَّ أَنْ لَنْ تَقْدِرَ عَلَیْهِ فَنادی
نام کے جس سے تجھے پکارا مچھلی والے نے جب وہ غصے میں جا رہا تھا تو اس نے خیال کیا کہ تو اسے نہ پکڑے گا پس اس نے وہ پانی
فِی الظُّلُماتِ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْتَ لَهُ
کی تاریکیوں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک ہے بے شک میں ظالموں میں سے ہوں پس تو نے اسکی دعا قبول
وَنَجَّیْتَهُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذَلِکَ تُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ، وَبِاسْمِکَ الْعَظِیمِ الَّذِی دَعاکَ
کی اور تو نے اسے رنج و غم میں سے نکالا اور تو مومنوں کو اسی طرح رہائی دیتا ہے اور سوالی ہوں تیرے بزرگتر نام کے واسطے سے
بِهِ داوُدُ وَخَرَّ لَکَ ساجِداً فَغَفَرْتَ لَهُ ذَ نْبَهُ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعَتْکَ بِهِ آسِیَةُ
جسکے ساتھ تجھے داؤدعليهالسلام نے سجدے کی حالت میں پکارا پس بخش دی تو نے اسکی بھول اور بواسطہ تیرے نام کے جسکے ساتھ تجھے آسیہ زوجہ
امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ إذْ قالَتْ رَبِّ ابْنِ لِی عِنْدَکَ بَیْتاً فِی الْجَنَّةِ وَنَجِّنِی مِنْ فِرْعَوْنَ
فرعون نے پکارا جب کہنے لگی کہ میرے رب میرے لئے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اسکے عمل سے نجات
وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِی مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ، فَاسْتَجَبْتَ لَها دُعائَهَا، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ
دے اور مجھے ظالموں کے گروہ سے نجات دے پس تو نے اسکی دعا سن لی اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس نام کے جسکے ساتھ تجھے
بِهِ أَیُّوبُ إذْ حَلَّ بِهِ الْبَلائُ فَعافَیْتَهُ وَآتَیْتَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِکَ
ایوبعليهالسلام نے پکارا جب ان پر سختی آن پڑی پس تونے انکو نجات دی اور اپنی رحمت سے انہیں اہلبیت دیئے اور ان جیسے اور بھی عطا کیئے
وَذِکْری لِلْعابِدِینَ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ یَعْقُوبُ فَرَدَدْتَ عَلَیْهِ بَصَرَهُ
تاکہ عبادت گزاروں کیلئے یادگار بنے اور سوالی ہوں بواسطہ تیرے اس نام کے جسکے ساتھ تجھے یعقوبعليهالسلام نے پکارا پس تو نے انہیں
وَقُرَّةَ عَیْنِهِ یُوسُفَ وَجَمَعْتَ شَمْلَهُ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی دَعاکَ بِهِ سُلَیْمانُ
آنکھیں واپس دیں اور انکا نور نظر یوسفعليهالسلام بھی اور اس بکھرے خاندان کو یکجاہ کردیا اور بواسطہ تیرے اس نام کے جسکے ساتھ تجھے
فَوَهَبْتَ لَهُ مُلْکاً لاَ یَنْبَغِی لاََِحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إنَّکَ أَ نْتَ الْوَهَّابُ،
سلیمانعليهالسلام نے پکارا پس تو نے انہیں ایسا ملک و حکومت بخشا جو ان کے بعد کسی کیلئے نہیں بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے اور بواسطہ
وَبِاسْمِکَ الَّذِی سَخَّرْتَ بِهِ الْبُراقَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إذْ قالَ تَعالی
تیرے اس نام کے جس کے ساتھ تو نے براق کو بخاطر محمد مطیع کیا جیساکہ فرمایا خدائے تعالیٰ
سُبْحانَ الَّذِی أَسْری بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصی
نے پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی راتوں رات کعبہ شریف سے مسجد اقصی تک کی
وَقَوْلُهُ سُبْحانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنا هَذا وَما کُنَّا لَهُ مُقْرِنِینَ وَ إنَّا إلی رَبِّنا لَمُنْقَلِبُونَ
اور قول خدا ہے پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لئے مطیع کیا ورنہ ہم میں ایسی طاقت نہ تھی اور اپنے
وَبِاسْمِکَ الَّذِی تَنَزَّلَ بِهِ جَبْرَائِیلُ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَبِاسْمِکَ
پروردگار کی طرف پلٹنے والے ہیں اور بواسطہ تیرے اس نام کے جسے جبرائیل حضرت محمد کے پاس لے کے آئے ۔اور
الَّذِی دَعاکَ بِهِ آدَمُ فَغَفَرْتَ لَهُ ذَ نْبَهُ وَأَسْکَنْتَهُ جَنَّتَکَ، وَأَسْأَ لُکَ بِحَقِّ الْقُرْآنِ
بواسطہ تیرے اس نام کے جس کے ساتھ تجھے آدمعليهالسلام نے پکارا پس معاف کی تو نے ان کی بھول اور انہیں اپنی جنت میں ٹہرایا اور سوال
الْعَظِیمِ وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَبِحَقِّ إبْراهِیمَ ، وَبِحَقِّ فَصْلِکَ
کرتا ہوں تجھ سے عظمت والے قرآن کے واسطے سے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نبیوں کے خاتم کے واسطے سے اور ابراہیمعليهالسلام کے واسطے سے اور
یَوْمَ الْقَضائِ، وَبِحَقِّ الْمَوازِینِ إذا نُصِبَتْ، وَالصُّحُفِ إذا نُشِرَتْ، وَبِحَقِّ الْقَلَمِ
قیامت کے روز تیرے فیصلے کے واسطے سے اور میزان و عدل کے واسطے سے جب نصب کی جائے گی اور صحیفے کھولے جائیں گے
وَمَا جَری، وَاللَّوْحِ وَمَا أَحْصی، وَبِحَقِّ الاسْمِ الَّذِی کَتَبْتَهُ عَلَی سُرادِقِ
اور قلم کے واسطے سے جب وہ چلے گا اور لوح کے واسطے سے جب وہ پر ہوجائے گی اور اس نام کے واسطے سے جس کو تونے عرش
الْعَرْشِ قَبْلَ خَلْقِکَ الْخَلْقَ وَالدُّنْیا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ بِأَ لْفَیْ عامٍ، وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ
کے پردوں پر لکھااس سے پہلے کہ تونے مخلوق، سورج اور چاند کو دو ہزار سال میں بنایا اور گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوائ
إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ
کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے اسکا کوئی ثانی نہیں اور یہ کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اسکے بندے اور رسول ہیں اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ اس نام کے
الْمَخْزُونِ فِی خَزائِنِکَ الَّذِی اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ لَمْ یَظْهَرْ عَلَیْهِ
جو تیرے خزانوں میں محفوظ ہے جسکو خاص کیا ہے تونے علم غیب کے ساتھ اپنے حضور میں جس پر تیری مخلوق میں سے کوئی بھی آگاہ
أَحَدٌ مِنْ خَلْقِکَ لاَ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلاَ نَبِیٌّ مُرْسَلٌ وَلاَ عَبْدٌ مُصْطَفی وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ
نہیں ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ نہ کوئی بھیجا ہوا نبی اور نہ ہی کوئی برگزیدہ بندہ اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے اس نام کے جس
الَّذِی شَقَقْتَ بِهِ الْبِحارَ وَقامَتْ بِهِ الْجِبالُ وَاخْتَلَفَ بِهِ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ وَبِحَقِّ السَّبْعِ
کے ساتھ تو نے دریاؤں کو چیرا پہاڑوں کو قائم فرمایا اور اس سے دن رات میں تفریق کی ہے اور بواسطہ دوبارہ نازل ہونے والی
الْمَثانِی وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ، وَبِحَقِّ الْکِرامِ الْکاتِبِینَ، وَبِحَقِّ طه وَیسَ وَکَهیعَصَ،
سات آیتوں اور عظمت والے قرآن کے بواسطہ عزت والے کاتبوں کے بواسطہ طہ و یٰس اور کھیعص
وَحمَعَسَقَ، وَبِحَقِّ تَوْراةِ مُوسی، وَ إنْجِیلِ عِیسی، وَزَبُورِ داوُدَ، وَفُرْقانِ مُحَمَّدٍ
اور حمعسق اور بواسطہ موسٰیعليهالسلام کی توریت عیسیٰعليهالسلام کی انجیل داؤدعليهالسلام کی زبور اور بواسطہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قرآن
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلَی جَمِیعِ الرُّسُلِ وَباهِیّاً شَراهِیّاً اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ
کے خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آل پر اور تمام رسولوں پر اور اپنے دونوں اسمائ اعظم پر اے ﷲ میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
تِلْکَ الْمُناجاةِ الَّتِی کانَتْ بَیْنَکَ وَبَیْنَ مُوسَی بْنِ عِمْرانَ فَوْقَ جَبَلِ طُورِ سَیْنائَ
بواسطہ اس راز و نیاز کے جو تیرے اور موسیٰعليهالسلام بن عمران کے درمیان طور سینا ئ کے با برکت پہاڑ پر ہوا تھا
وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی عَلَّمْتَهُ مَلَکَ الْمَوْتِ لِقَبْضِ الْاَرْواحِ، وَأَسْأَ لُکَ بِاسْمِکَ
اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے اس نام کے جو تونے روحیں قبض کرنے کیلئے فرشتہ موت کو تعلیم فرمایا اور سوال کرتا ہوں تجھ
الَّذِی کُتِبَ عَلَی وَرَقِ الزَّیْتُونِ فَخَضَعتِ النِّیرانُ لِتِلْکَ الْوَرَقَةِ فَقُلْتَ یا نارُ کُونِی
سے بواسطہ تیرے اس نام کے جو شجر زیتون کے پتے پر لکھا گیا پس دوزخ اس پتے کے آگے جھک گیاپھر کہا تونے کہ اے آگ
بَرْداً وَسَلاماً وَأَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی کَتَبْتَهُ عَلَی سُرادِقِ الْمَجْدِ وَالْکَرامَةِ، یَا مَنْ
ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی والی اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے اس نام کے جسے تونے عزت اور بزرگی کے پردوں پر لکھا ہے
لاَ یُخْفِیهِ سائِلٌ وَلاَ یَنْقُصُهُ نائِلٌ، یَا مَنْ بِهِ یُسْتَغاثُ وَ إلَیْهِ یُلْجَأُ، أَسْأَلُکَ
اے وہ کہ جسے سوال سے تنگی نہیں ہوتی اور عطائ سے کمی نہیں آتی اے وہ جس سے مدد مانگی اور جس سے پناہ لی جاتی ہے سوال کرتا
بِمَعاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ وَمُنْتَهَی الرَّحْمَةِ مِنْ کِتابِکَ، وَبِاسْمِکَ الْاَعْظَمِ، وَجَدِّکَ
ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے عرش کے عزت والے مقامات تیری کتاب میں موجود انتہائی رحمت کے اور بواسطہ تیرے اسم اعظم
الْاَعْلی وَکَلِماتِکَ التَّامَّاتِ الْعُلی اَللّٰهُمَّ رَبَّ الرِّیاحِ وَمَا ذَرَتْ وَالسَّمائِ وَمَا أَظَلَّتْ
تیری بلند شان اور تیرے کامل اور بلندتر کلمات کے اے اللہ اے ہواؤں اور ان کے اثرات کے رب اے آسمان اور اس کے سایہ
وَالْاَرْضِ وَمَا أَقَلَّتْ وَالشَّیاطِینِ وَمَا أَضَلَّتْ، وَالْبِحارِ وَمَا جَرَتْ، وَبِحَقِّ کُلِّ حَقٍّ
کے رب اے زمین اور اس کے بوجھ کے رب اے شیطانوں اور ان کے گمراہ کردہ کے رب اے دریاؤں اور ان کی روانی کے رب
هُوَ عَلَیْکَ حَقٌّ وَبِحَقِّ الْمَلائِکَةِ الْمُقَرَّبِینَ وَالرَّوْحانِیِّینَ وَالْکَرُوبِیِّینَ وَالْمُسَبِّحِینَ
اور بواسطہ ہر اس حق کے جو تجھ پر ہے اور بواسطہ مقرب فرشتوں روحانیوں کروبیوں اور رات اور دن میں
لَکَ بِاللَّیْلِ وَالنَّهارِ لاَ یَفْتُرُونَ، وَبِحَقِّ إبْراهِیمَ خَلِیلِکَ، وَبِحَقِّ کُلِّ وَ لِیٍّ یُنادِیکَ
تیری تسبیح کرنے والوں کے جو تھکتے نہیں ہیں اور بواسطہ تیرے خلیل ابراہیمعليهالسلام کے اور بواسطہ تیرے ہر دوست کے جو صفا و مروہ کے
بَیْنَ الصَّفا وَالْمَرْوَةِ وَتَسْتَجِیبُ لَهُ دُعائَهُ، یَا مُجِیبُ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ هذِهِ الْاَسْمائِ
درمیان تجھے پکارتا ہے اور تو اس کی دعا قبول کرتا ہے اے قبول کرنے والے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ ان ناموں کے
وَبِهذِهِ الدَّعَواتِ أَنْ تَغْفِرَ لَنٰا مَا قَدَّمْنا وَمَا أَخَّرْنٰا وَمَا أَسْرَرْنٰا وَمَا أَعْلَنَّا
اور بواسطہ ان دعاؤں کے یہ کہ ہمارے گناہ بخش دے جو ہم کرچکے اور کریں گے اور جو ہم نے چھپ کر کیے ہیں اور جو ظاہر کیے ہیں
وَمَا أَبْدَیْنٰا وَمَا أَخْفَیْنٰا وَمَا أَ نْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنَّا إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
اور جو ہم نے بیان کیے ہیں اور جو ہم نے چھپائے اور جن کو تو ہم سے زیادہ جانتا ہے بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ یَا حافِظَ کُلِّ غَرِیبٍ، یَا مُؤْ نِسَ کُلِّ وَحِیدٍ، یَا قُوَّةَ
بذریعہ اپنی رحمت کے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے ہر بے وطن کے نگہبان اے ہر تنہا کے مونس وغمخوار اے ہر کمزور
کُلِّ ضَعِیفٍ یَا ناصِرَ کُلِّ مَظْلُومٍ، یَا رازِقَ کُلِّ مَحْرُومٍ، یَا مُؤْ نِسَ کُلِّ مُسْتَوْحِشِ
کی قوت اے ہر ستم دیدہ کی مدد کرنے والے اے ہر محروم کے رازق اے ہر خوف زدہ کے ہمدم
یَا صاحِبَ کُلِّ مُسافِرٍ، یَا عِمادَ کُلِّ حاضِرٍ، یَا غافِرَ کُلِّ ذَ نْبٍ وَخَطِیئَةٍ، یَا غِیاثَ
اے ہر مسافر کے ہمراہی اے ہر حاضر کے سہارے اے ہر گناہ اور خطا کے بخشنے والے اے فریادیوں کے
الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، یَا کاشِفَ کَرْبِ الْمَکْرُوبِینَ، یَا فارِجَ هَمِّ
فریادرس اے ہر پکارنے والے کی (پکار) سننے والے اے دکھیارے لوگوں کے دکھوں کے دور کرنے والے اے غم زدوں کے غم
الْمَهْمُومِینَ، یَا بَدِیعَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرَضِینَ، یَا مُنْتَهی غایَةِ الطَّالِبِینَ، یَا مُجِیبَ
مٹانے والے اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے اے طلبگاروںکے مقصد کی انتہائ اے پریشان لوگوںکی دعا
دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، یَا رَبَّ الْعالَمِینَ، یَا دَیَّانَ یَوْمِ الدِّینِ، یَا
قبول کرنے والے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے سب جہانوں کے رب اے یوم جزا کو بدلہ دینے والے اے عطا
أَجْوَدَ الْاَجْوَدِینَ، یَا أَکْرَمَ الْاَکْرَمِینَ، یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ، یَا أَبْصَرَ
کرنے والوں سے زیادہ عطا کرنے والے اے مہربانوں سے زیادہ مہربان اے سننے والوں سے زیادہ سننے والے اے دیکھنے
النَّاظِرِینَ، یَا أَ قْدَرَ الْقادِرِینَ، اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ، وَاغْفِرْ لِیَ
والوں سے زیادہ دیکھنے والے اے طاقتوروں سے زیادہ طاقت والے میرے وہ گناہ معاف کردے جو نعمتوں سے محروم کرتے ہیں
الذُّنُوبَ الَّتِی تُورِثُ النَّدَمَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُورِثُ السَّقَمَ، وَاغْفِرْ لِیَ
میرے وہ گناہ بخش دے جو شرمندگی کا باعث بنتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو بیماریاں پیدا کرتے ہیں میرے وہ گناہ بخش
الذُّنُوبَ الَّتِی تَهْتِکُ الْعِصَمَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَرُدُّ الدُّعائَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ
دے جو پردوں کو فاش کرتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو دعا کو روک دیتے ہیںمیرے وہ گناہ بخش دے
الَّتِی تَحْبِسُ قَطْرَ السَّمائِ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُعَجِّلُ الْفَنائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ
جو بارشوں میں رکاوٹ ڈالتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو جلد موت لاتے ہیں میرے وہ گناہ بخش دے جو بدبختی
الَّتِی تَجْلِبُ الشَّقائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُظْلِمُ الْهَوائَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی
کا موجب بنتے ہیں میرے وہ گناہ معاف کردے جو میری دنیا کو تاریک کرتے ہیں میرے وہ گناہ بخش دے جو
تَکْشِفُ الْغِطائَ ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی لاَ یَغْفِرُها غَیْرُکَ یَا ﷲ، وَاحْمِلْ عَنِّی کُلَّ
بے پردگی کا سبب بنتے ہیں اور میرے وہ گناہ معاف کردے جن کو تیرے سوا کوئی معاف نہیں کرسکتا اے اللہ! تیری مخلوق میں سے
تَبِعَةٍ لاََِحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ، وَاجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِی فَرَجاً وَمَخْرَجاً وَیُسْراً وَأَنْزِلْ یَقِینَکَ
مجھ پر کسی کا جو بوجھ ہے وہ مجھ سے ہٹادے میرے کاموں میںکشائش آسانی اور سہولت پیدا کردے میرے سینے میں اپنا یقین اور
فِی صَدْرِی، وَرَجائَکَ فِی قَلْبِی حَتَّی لاَ أَرْجُوَ غَیْرَکَ اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِی وَعافِنِی
میرے دل میں اپنی امید کو جگہ دے یہاں تک کہ تیرے غیر سے امید نہ رکھوں اے اللہ! میرے مقام میں میری حفاظت کر
فِی مَقامِی وَاصْحَبْنِی فِی لَیْلِی وَنَهارِی، وَمِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ یَمِینِی
اور مجھے پناہ دے اور میرے ساتھ رہ دن میں رات میں میری نگہبانی کر میرے آگے سے پیچھے سے میرے دائیں
وَعَنْ شِمالِی وَمِنْ فَوْقِی وَمِنْ تَحْتِی، وَیَسِّرْ لِیَ السَّبِیلَ، وَأَحْسِنْ لِیَ التَّیْسِیرَ،
سے بائیں سے اور میرے اوپر سے اور نیچے سے اور میرا راستہ آسان کردے میرے لیے بہتر آسائش پیدا کردے
وَلاَ تَخْذُلْنِی فِی الْعَسِیرِ وَاهْدِنِی یَا خَیْرَ دلِیلٍ، وَلاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی فِی الاَُْمُورِ
اور مجھے تنگی میں ذلیل و خوار نہ کر مجھے راہ سمجھا دے اے بہترین رہبر اور معاملات میں مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر مجھے ہر طرح
وَلَقِّنِی کُلَّ سُرُورٍ وَاقْلِبْنِی إلی أَهْلِی بِالْفَلاحِ وَالنَّجاحِ مَحْبُوراً فِی الْعاجِلِ وَالْآجِلِ
کی خوشی عطا فرما اور بہتری اور کامیابی کے ساتھ اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے ساتھ مجھے اپنے کنبے میں واپس لے چل
إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِکَ، وَأَوْسِعْ عَلَیَّ مِنْ طَیِّباتِ رِزْقِکَ،
بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور مجھ پر اپنا فضل و کرم کر میرے لیے اپنے پاکیزہ رزق میں فراوانی فرما
وَاسْتَعْمِلْنِی فِی طاعَتِکَ، وَأَجِرْنِی مِنْ عَذابِکَ وَنارِکَ، وَاقْلِبْنِی إذا تَوَفَّیْتَنِی إلی
مجھے اپنی فرمانبرداری میں لگادے مجھے اپنی سزا اور آگ سے پناہ دے اور جب تو مجھے وفات دے تو اپنی رحمت سے مجھے جنت میں
جَنَّتِکَ بِرَحْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوالِ نِعْمَتِکَ، وَمِنْ تَحْوِیلِ عافِیَتِکَ
پہنچادے اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ مجھ سے تیری نعمت چھن جائے اور تیری نگہبانی حاصل نہ رہے اور تیری پناہ
وَمِنْ حُلُولِ نَقِمَتِکَ وَمِنْ نُزُولِ عَذابِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ جَهْدِ الْبَلائِ وَدَرَکِ الشَّقائِ
چاہتا ہوں تیری طرف سے سختی اورعذاب کے آنے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں سخت آزمائش سے بدبختی کے آنے سے
وَمِنْ سُوئِ الْقَضائِ، وَشَماتَةِ الْاَعْدائِ، وَمِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ، وَمِنْ شَرِّ مَا
بری تقدیر سے دشمنوں کے طعن سے اور اس تکلیف سے جو آسمان سے نازل ہو اور ہر اس برائی سے جس کا
فِی الْکِتابِ الْمُنْزَلِ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِی مِنَ الْاَشْرارِ، وَلاَ مِنْ أَصْحابِ النَّارِ، وَلاَ
ذکر نازل شدہ کتاب میں ہے اے اللہ! مجھے برے لوگوں میں قرار نہ دے اور نہ ہی اہل جہنم میں سے قرار دے اور نہ ہی مجھے نیک
تَحْرِمْنِی صُحْبَةَ الْاَخْیارِ، وَأَحْیِنِی حَیَاةً طَیِّبَةً، وَتَوَفَّنِی وَفاةً طَیِّبَةً تُلْحِقُنِی
افراد کی صحبت سے محروم رکھ مجھے پاکیزہ زندگی نصیب کرمجھ کو بہترین حالت میں موت دے نیکوکاروں میں شامل کردینا
بِالْاَ بْرارِ، وَارْزُقْنِی مُرافَقَةَ الْاَنْبِیائِ فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیکٍ مُقْتَدِرٍ اَللّٰهُمَّ لَکَ
مجھے انبیائ کا ساتھ عطا فرمانا اس مقام صدق و صفا میں جو تیری زبردست حکومت میں ہے اے معبود! حمد تیرے ہی
الْحَمْدُ عَلَی حُسْنِ بَلائِکَ وَصُنْعِکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی الْاِسْلامِ وَاتِّباعِ السُّنَّةِ، یَا
لیے ہے تیری طرف سے بہترین آزمائش میں مدد کرنے پر اور حمد تیرے لیے ہے کہ تو نے اسلام کی پیروی اور سنت پر عمل کرنے کی
رَبِّ کَما هَدَیْتَهُمْ لِدِینِکَ وَعَلَّمْتَهُمْ کِتابَکَ فَاهْدِنا وَعَلِّمْنا، وَلَکَ الْحَمْدُ
توفیق دی ہے اے پروردگار جیسے تونے ان کی اپنے دین کی طرف رہنمائی کی اپنی کتاب انہیں سکھائی پس ہماری بھی رہنمائی کر اور
عَلَی حُسْنِ بَلائِکَ وَصُنْعِکَ عِنْدِی خاصَّةً کَما خَلَقْتَنِی
ہمیں سکھا اور حمد تیرے لیے ہے بہترین آزمائش پر اور اس خاص احسان پر جو تو نے مجھ پر کیا ہے جیسا کہ تو نے مجھے پیدا کیا ہے تو
فَأَحْسَنْتَ خَلْقِی وَعَلَّمْتَنِی فَأَحْسَنْتَ تَعْلِیمِی وَهَدَیْتَنِی فَأَحْسَنْتَ هِدایَتِی، فَلَکَ
اچھی صورت دی ہے مجھے علم سکھایا تو بہترین تعلیم دی ہے اور میری رہنمائی کی تو کیا خوب رہنمائی کی ہے پس حمد تیرے
الْحَمْدُ عَلَی إنْعامِکَ عَلَیَّ قَدِیماً وَحَدِیثاً، فَکَمْ مِنْ کَرْبٍ یَا سَیِّدِی قَدْ فَرَّجْتَهُ وَکَمْ
لیے ہے کہ تو نے مجھے اول سے آخر تک مسلسل نعمتیں دیں پس اے میرے سردار کتنے ہی دکھ تھے جو تو نے دور کردیے میرے آقا
مِنْ غَمٍّ یَا سَیِّدِی قَدْ نَفَّسْتَهُ وَکَمْ مِنْ هَمٍّ یَا سَیِّدِی قَدْ کَشَفْتَهُ وَکَمْ مِنْ بَلائٍ یَا
کتنے ہی غم تھے جو تو نے مٹادیے اے میرے مالک! کتنے ہی اندیشے تھے جو تو نے محو کردیئے اے میرے
سَیِّدِی قَدْ صَرَفْتَهُ وَکَمْ مِنْ عَیْبٍ یَا سَیِّدِی قَدْ سَتَرْتَهُ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی کُلِّ حالٍ
آقا کتنی ہی پریشانیاں تھیں جو تو نے ختم کردیںاور کتنے ہی عیب تھے جو تو نے ڈھانپ لیے پس حمد تیرے لیے ہے
فِی کُلِّ مَثْویً وَزَمَانٍ وَمُنْقَلَبٍ وَمَقامٍ وَعَلَی هذِهِ الْحالِ وَکُلِّ حالٍ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی
ہر ایک حال میں ہرجگہ ہر زمانے میں ہر ایک منزل اور ہر ایک مقام پر اور اس موجودہ حالت میں اور ہر حالت میں اے معبود! آج
مِنْ أَفْضَلِ عِبادِکَ نَصِیباً فِی هذَا الْیَوْمِ مِنْ خَیْرٍ تَقْسِمُهُ أَوْ ضُرٍّ تَکْشِفُهُ، أَوْ سُوئٍ
کے دن مجھے حصہ و نصیب کے لحاظ سے اپنے سب بندوں سے برتر قرار دے اس بھلائی میں جوتو نے تقسیم کی یا جو تکلیف تو نے دور
تَصْرِفُهُ أَوْ بَلائٍ تَدْفَعُهُ أَوْ خَیْرٍ تَسُوقُهُ، أَوْ رَحْمَةٍ تَنْشُرُها، أَوْ عافِیَةٍ تُلْبِسُها فَ إنَّکَ
کی یا جو برائی تو نے ہٹائی یا جو سختی تو نے ٹالی یا جو خیر تو نے عطا کی یا جو رحمت تو نے عام کی یا جو عافیت تو نے عنایت کی ہے کہ بے شک
عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَبِیَدِکَ خَزائِنُ السَّماواتِ وَالْاَرْضِ وَأَنْتَ الْواحِدُ الْکَرِیمُ
تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے آسمانوں اور زمین کے خزانے تیرے قبضے میں ہیںاور تو وہ یکتا بزرگی والا
الْمُعْطِی الَّذِی لاَ یُرَدُّ سائِلُهُ، وَلاَ یُخَیَّبُ آمِلُهُ، وَلاَ یَنْقُصُ نائِلُهُ، وَلاَ یَنْفَدُ مَا عِنْدَهُ
عطا کرنے والا ہے جو کسی سائل کو ہٹکاتا نہیں کسی امیدوار کو مایوس نہیں کرتا اور جس کی عطاکم نہیں ہوتی اور جو کچھ اس کے پاس ہے
بَلْ یَزْدادُ کَثْرَةً وَطِیباً وَعَطائً وَجُوداً، وَارْزُقْنِی مِنْ خَزٰائِنِکَ الَّتِی لاَ تَفْنی، وَمِنْ
ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ بڑھتاہے مقدارمیں پاکیزگی میں عطا میں اور سخاوت میں اور مجھے اپنے ان خزانوں سے عنایت کر جو ختم نہیں
رَحْمَتِکَ الْواسِعَةِ إنَّ عَطائَکَ لَمْ یَکُنْ مَحْظُوراً وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ بِرَحْمَتِکَ
ہوتے اور اپنی وسیع رحمت میں سے مجھے عطا کر کہ بے شک تیری عطا کبھی بند نہیں ہوتی اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اپنی رحمت کے
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ساتھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
( ۲ )وہ دس تسبیحات جو سید نے ذکر کی ہیں ان کو ہزار مرتبہ پڑھے اور وہ روز عرفہ کے اعمال میں آئیںگیں۔
( ۳ )دعااَللّٰهُمَّ تَعَبَّأَ وَ تَهَیَّأَ پڑھے کہ جو شب جمعہ کے اعمال میں مذکور ہے اور اسے روز عرفہ میں پڑھنا بھی وارد ہوا ہے۔
( ۴ )زمین کربلا میں امام حسین -کی زیارت کرے اور یوم عید تک وہیں رہے تا کہ اس سال میں ہر شر سے محفوظ رہ سکے۔
نویں ذی الحجہ کا دن
یہ روز عرفہ ہے اور بہت بڑی عید کا دن ہے۔ اگر چہ اس کو عید کے نام سے موسوم نہیں کیا گیا، یہی وہ دن ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے بندوں کو اپنی اطاعت و عبادت کی طرف بلایاہے ، آج کے دن ان کے لیے اپنے جود و سخا کا دسترخوان بچھایا ہے اور آج شیطان کو دھتکارا گیا اور وہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔
روایت ہے کہ امام زین العابدین -نے روز عرفہ ایک سائل کی آواز سنی جو لوگوں سے خیرات مانگ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: افسوس ہے تجھ پرکہ آج کے دن بھی تو غیر خدا سے سوال کر رہا ہے حالانکہ آج تو یہ امید ہے کہ ماؤں کے پیٹ کے بچے بھی خدا کے لطف و کرم سے مالامال ہو کر سعید و خوش بخت ہو جائیں ۔
اس دن کے چند ایک اعمال ہیں:
( ۱ )غسل کرے۔
( ۲ )امام حسین -کی زیارت کرے اس کا ثواب ہزار حج وعمرہ اور ہزار جہاد جتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس زیارت کی فضیلت میں بہت سی متواتر حدیثیں نقل ہوئی ہیں ۔ کہ آج کے دن جو کوئی حضرت کے قبہ مقدسہ کے سائے میں رہے تو اس کا ثواب عرفات والوں سے کم نہیں زیادہ ہے اور وہ ان لوگوں سے مقدم ہے۔ حضرت کی زیارت کی کیفیت باب زیارت میں آئے گی ۔ تا ہم یہ یاد رہے کہ یہ ثواب اور درجہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنا واجب حج چھوڑ کر زیارات کو نہ گیا ہو۔
( ۳ )نماز عصر کے بعد دعائ عرفہ پڑھنے سے قبل زیر آسمان دو رکعت نماز بجا لائے اور اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کرے تاکہ اسے عرفات میں حاضری کا ثواب ملے اور اس کے گناہ معاف ہوں۔اس کے بعد ائمہ طاہرین ٪کے حکم کے مطابق دعائ عرفہ پڑھے اور اعمال عرفہ بجا لائے اور یہ اعمال بہت زیادہ ہیں کہ اس مختصر کتاب میں ان کا بیان ممکن نہیں، پھر بھی حسب گنجائش ہم یہاں چند اعمال کا ذکر کرتے ہیں۔
شیخ کفعمی نے مصباح میں فرمایا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے بشرطیکہ دعائ عرفہ کے پڑھنے میں کمزوری کا بھی خوف نہ ہو۔ زوال سے پہلے غسل کرنا بھی مستحب ہے اور شب عرفہ وروز عرفہ زیارت امام حسین -بھی مستحب ہے۔
زوال کے وقت زیر آسمان نماز ظہر و عصر نہایت متانت اور سنجیدگی سے بجا لائے، اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے جس کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ توحید اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ کافرون پڑھے، اس کے بعد چار رکعت نماز پڑھے جس کی ہررکعت میں سورہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید کی پڑھے:
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ چار رکعت وہی امیر المومنین -کی نماز ہے جو اعمال روز جمعہ میں مذکور ہے، پھر فرماتے ہیں کہ چار رکعت نماز کے بعد یہ دس تسبیحات پڑھے۔ جو رسول اللہ سے مروی ہیں اور سید ابن طاؤس نے اپنی کتاب اقبال میں درج کیں اور وہ یہ ہیں۔
سُبْحانَ الَّذِی فِی السَّمائِ عَرْشُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْاَرْضِ حُکْمُهُ سُبْحانَ الَّذِی
پاک ہے وہ خدا جس کا عرش آسمان میں ہے پاک ہے وہ خدا جس کا حکم زمین میں نافذ ہے پاک ہے وہ خد اجس کا
فِی الْقُبُورِ قَضاؤُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْبَحْرِ سَبِیلُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی النَّارِ سُلْطانُهُ
فیصلہ قبروں میں نافذ ہے پاک ہے وہ خدا جس کا دریا میں راستہ ہے پاک ہے وہ خدا جو جہنم پر اختیار رکھتا ہے
سُبْحانَ الَّذِی فِی الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ سُبْحانَ الَّذِی فِی الْقِیامَةِ عَدْلُهُ سُبْحانَ الَّذِی رَفَعَ
پاک ہے وہ خدا جنت میں جس کی رحمت ہے پاک ہے وہ خداقیامت میں جس کا عدل ہے پاک ہے وہ خدا جس نے آسمان
السَّمائَ سُبْحانَ الَّذِی بَسَطَ الْاَرْضَ سُبْحانَ الَّذِی لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجی مِنْهُ إلاَّ إلَیْهِ
بلند کیا پاک ہے وہ خدا جس نے زمین بچھائی پاک ہے وہ خدا جس سے پناہ و نجات نہیں مگر اسی کے ہاں سے
پھر سو مرتبہ کہے :سُبْحَانَ ﷲ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ ﷲ اَکْبَرُ نیز سورہ توحید و آیت الکرسی اور صلوات
اللہ پاک ہے اللہ ہی کے لیے حمد ہے نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اورا للہ بزرگتر ہے
سوسو مرتبہ پڑھے، دس مرتبہ کہے:لَا اِلَهَ اِلَّا ﷲ وَحْدَه، لَا شَرِیْکَ لَه، لَه، الْمُلْکُ وَ لَهُ
نہیںکوئی معبود سوائے اللہ کے وہ یکتا ہے کوئی اس کا ثانی نہیں اسی کے لیے حکومت اور حمد
الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَ یُمِیْتُ وَ یُحْیِیْ وَ هُوَ حَیُّ، لَا یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَهُوَ
وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور موت دیتا اور زندہ کرتا ہے اور وہ ایسازندہ ہے جسے موت نہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ
عَلیٰ کُلِّ شَئْیٍ قَدِیْرُ ، دس مرتبہ کہے:اَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذٰی لاٰ اِلهَ اِلاّٰ هُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ
ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے بخشش چاہتاہوں اس اللہ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ و پائندہ ہے اور
وَاَتَوُبُ اِلَیْہِ دس مرتبہ کہے: یٰا ﷲ دس مرتبہ کہے: یٰا رَحْمٰنُ دس مرتبہ کہے: یٰا رَحیٰمُ دس مرتبہ کہے:
میں اسکے حضور توبہ کرتا ہوں اے اللہ اے بڑے مہربان اے رحم والے
یٰا بَدیٰعُ السَّمَوٰاتِ وَ الْاَرْضِ یٰا ذَا الْجَلاٰلِ وَ الْاِکْرٰامِ دس مرتبہ کہے:یٰا حَيُّ یَا قَیُّومُ
اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے اے جلالت و بزرگی کے مالک اے
دس مرتبہ کہے: یٰا حَنَّانُ یٰا مَنَّانُ دس مرتبہ کہے: یٰا لاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ اَنْتَ دس
زندہ اے پائندہ اے محبت والے اے احسان والے اے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
مرتبہ کہے: آمین پھر یہ کہے :اَللّٰهُمَّ اِنّیِ اَسْئَلُکَ یٰا مَنْ هُوَ اَقْرَبُ اِلَیَّ مِنْ حَبْلِ
اے معبود! سوال کرتا ہوں تجھ سے اے وہ جو شہ رگ سے زیادہ میرے قریب و نزدیک
الْوَریٰد یٰا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ قَلْبِه یَا مَنْ هُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلٰی وَ بِالْاُفُقِ
ہے اے وہ جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اے وہ جو بلند مقام اور واضح
الْمُبیٰنِ یٰا مَنْ هُوَ الْرَحْمٰنُ عَلٰی الْعَرْشِ اسْتَوٰی یٰا مَنْ لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ وَهُوَ
افق میں ہے اے وہ جو بڑے رحم والا ہے اور عرش پر مسلط ہے اے وہ جس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہ
سَمیٰعُ الْبَصٰیرْ اَسْئَلُکَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
سننے دیکھنے والا ہے سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما ۔
پس اپنی حاجت طلب کرے کہ انشائ ﷲ پوری ہوگی ۔
امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ جو شخص یہ صلوات پڑھے تو گویا اس نے اہل بیتعليهالسلام کو مسرور کیا ہے۔ اور وہ یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ یَا أَجْوَدَ مَنْ أَعْطی، وَیَا خَیْرَ مَنْ سُئِلَ، وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
اے اللہ! اے ہر عطا کرنے والے سے زیادہ سخی اے ہر سوال کئے ہوئے سے بہتر اور اے سب سے زیادہ رحمت کرنے والے اے اللہ
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْاَوَّلِینَ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الاَْخِرِینَ، وَصَلِّ عَلَی
حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور انکی آل پر رحمت نازل فرما پہلوں کیساتھ اور حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آل پر رحمت نازل کر پچھلوں کیساتھ اور حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْمَلَأِ الْاَعْلیٰ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْمُرْسَلِینَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِ
اور ان کی آل پر رحمت نازل کر معالم بالا میں اور حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آل پر رحمت نازل کر مرسلوں کے ساتھ اے اللہ! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
مُحَمَّداً وَآلَهُ الْوَسِیلَةَ وَالْفَضِیلَةَ وَالشَّرَفَ وَالرِّفْعَةَ وَالدَّرَجَةَ الْکَبِیرَةَ اَللّٰهُمَّ إنِّی
و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ذریعہ و وسیلہ بڑائی بزرگی بلندی اور بہت بڑا درجہ و مقام عطا کر اے اللہ! بے شک میں
آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَمْ أَرَهُ فَلا تَحْرِمْنِی فِی الْقِیامَةِ رُؤْیَتَهُ
ایمان لایا ہوں حضرت محمد پر اور انہیں دیکھا نہیں پس قیامت میںمجھے ان کے دیدار سے محروم نہ رکھنا
وَارْزُقْنِی صُحْبَتَهُ، وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِهِ، وَاسْقِنِی مِنْ حَوْضِهِ مَشْرَباً رَوِیّاً ساِئغاً
اور ان کی صحبت نصیب کرنا نیز مجھے ان کے دین پر موت دے ان کے حوض کوثر میں سے پانی پلانا جو سیر کردینے والا خوش مزہ و
هَنِیئاً لاَ أَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَداً، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی
شیریں ہو کہ اس کے بعد میں کبھی پیاسا نہ ہوں بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ! بیشک میں ایمان لاتا ہوں حضرت محمد
ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَمْ أَرَهُ فَعَرِّفْنِی فِی الْجِنانِ وَجْهَهُ اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ
پر اور انہیں دیکھا نہیں پس جنت میں مجھے ان کی پہچان کرادینا اے اللہ! پہنچادے حضرت محمد
عَلَیْهِ وَآلِهِ مِنِّی تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً،
کو میری طرف سے بہت بہت آداب اور سلام۔
اس کے بعد دعائ ام داؤد پڑھے جو ماہ رجب کے اعمال میں ذکر ہوچکی ہے۔
پھر یہ تسبیح پڑھے کہ جس کے ثواب کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا اور بوجہ اختصا ر ہم نے اس کوبیان نہیں کیا ، وہ تسبیح یہ ہے:
سُبْحانَ ﷲ قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ مَعَ کُلِّ أَحَدٍ
پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز سے پہلے ہے پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز کے بعد ہے پاک ہے وہ خدا جو ہر چیز کے ساتھ ہے
وَسُبْحانَ ﷲ یَبْقی رَبُّنا وَیَفْنی کُلُّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ
پاک ہے خدا ہمارا رب جو وہ باقی رہے گا جب کہ ہر چیز فنا ہوجائے گی پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی
الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ
تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر ایک چیز سے پہلے اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی
الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍوَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ
تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر چیز کے بعد اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی
الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً مَعَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً یَفْضُلُ تَسْبِیحَ
تسبیح سے بہت بہت برتر ہے ہر چیزکے ساتھ اور پاک ہے خدا نہایت پاکیزہ ہے جو تسبیح کرنے والوں کی
الْمُسَبِّحِینَ فَضْلاً کَثِیراً لِرَبِّنَا الْباقِی وَیَفْنی کُلُّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ تَسْبِیحاً لاَ
تسبیح سے بہت بہت برتر ہے کہ ہمارا رب باقی رہے گاجب کہ ہر چیز فنا ہو جائے گی پاک ہے نہایت پاکیزہ ہے کہ
یُحْصی وَلاَ یُدْری وَلاَ یُنْسی وَلاَ یَبْلی وَلاَ یَفْنی وَلَیْسَ لَهُ مُنْتَهی وَسُبْحانَ ﷲ
شمار نہیں ہوسکتا سمجھ میں نہیں آتا فراموش نہیں ہوتا پرانا نہیں ہوتا ناپید نہیں ہوتا اور اس کی کوئی انتہا نہیں ہے پاک ہے خدا
تَسبِیحاً یَدُومُ بِدَوامِهِ وَیَبْقی بِبَقائِهِ فِی سِنِی الْعالَمِینَ وَشُهُورِ الدُّهُورِ وَأَیَّامِ
نہایت پاکیزہ ہے جو ہمیشہ ہے اسکی ہمیشگی سے باقی ہے اسکی بقاکیساتھ جہانوں کے برسوں ہر زمانے کے مہینوں دنیا کے تمام دنوں
الدُّنْیا وَساعاتِ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَسُبْحانَ ﷲ أَبَدَ الْاَبَدِ وَمَعَ الْاَ بَدِ مِمّا لاَ یُحْصِیهِ
اور رات دن کی ہر ہر گھڑی میں پاک ہے وہ خدا جو ہمیشہ ہمیشہ ہے ہمیشگی کے ساتھ کہ جس کی ذات کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا وہ زمانہ
الْعَدَدُ، وَلاَ یُفْنِیهِ الْاَمَدُ، وَلاَ یَقْطَعُهُ الْاَ بَدُ، وَ تَبارَکَ ﷲ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ
گزرنے سے فنا نہیں ہوا اور ہمیشگی اس سے جدا نہیں ہوسکتی اور برکت والا ہے وہ خدا جو بہترین خالق ہے۔
پھر کہے :وَالْحَمْدُ ﷲِ قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ وَالْحَمْدُ ﷲِ بَعْدَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک لیکن ہر جگہ
حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز سے پہلے اور حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز کے بعد
سُبْحَانَ ﷲ کی بجائےاَلْحَمْدُ ﷲِ کہے اور جباَحْسَنُ الْخَالِقِین تک پہنچے تو کہےلاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ ﷲ
پاک ہے خدا حمد خدا ہی کے لیے ہے جو بہترین خالق ہے نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے
قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک مگر ہر جگہسُبْحَانَ ﷲ ہے وہاںلاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ ﷲ کہے اور اسکے بعد کہے
جو ہر چیز سے پہلے ہے۔ پاک ہے خدا نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے
وَﷲ اَکْبَرُ قَبْلَ کُلِّ اَحَدٍ دعا کے آخر تک لیکن ہر جگہسُبْحٰانَ ﷲ کی بجائے ﷲ اَکْبَرُکہے پھر یہ
سب سے بڑا ہے خدا جو ہرچیز سے پہلے ہے پاک ہے ﷲ خدا بزرگتر ہے
دعا پڑھے جو شب جمعہ کے اعمال میں ذکر ہوئی ہےاَللّٰهُمَّ مَنْ تَعَبَّأَ وَتَهَیَّأ َ۔بعد میں امام زین العابدین-
اے اللہ! جو آمادہ ہؤا اور تیار ہوا
کی یہ دعا پڑھے جو شیخ طوسیرحمهالله نے مصباح المتہجد میں ذکر کی ہے:اَللّٰهُمَّ اَنْتَ ﷲ رَبُّ الْعٰالَمیٰنَ
اے اللہ! تو ہی وہ خدا ہے جو جہانوں کا رب ہے۔
دعائے عرفہ امام حسین
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ دعا مقام عرفات کی ہے اور پھرطویل بھی ہے۔ لہذا ہم نے یہاں درج نہیں کی ہے۔علاوہ ازیں آج کے دن امام زین العابدین -ہی کی وہ دعا پڑھے جو صحیفہ کاملہ میں سینتالیسویں دعا ہے اور دونوں جہانوں کے تمام مطالب و مقاصد پر مشتمل ہے۔ اس دعائ کو صدق دل سے پڑھنے والے پر خد اکی رحمت ہو۔
اس دن پڑھی جانے والی دعاؤں میں سے ایک امام حسین -کی دعا ہے بشر وبشیر پسران غالب اسدی سے روایت ہے کہ روز عرفہ بوقت عصر میدان عرفات میں ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تب آپ اپنے فرزندوں اور شیعوں کے ساتھ نہایت عاجزانہ طور پراپنے خیمے سے باہر آئے اور پہاڑ کی بائیں طرف کھڑے ہوکر کعبے کی طرف رخ کرلیا، اپنے دونوں ہاتھ چہرے کے سامنے لا کر پھیلادیئے۔ خدا کے حضور عاجزی اور انکساری کی حالت میں یہ کلمات کہے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَیْسَ لِقَضائِهِ دافِعٌ، وَلاَ لِعَطائِهِ مانِعٌ، وَلاَ کَصُنْعِهِ صُنْعُ صانِعٍ
حمد ہے خدا کے لیے جس کے فیصلے کو کوئی بدلنے والا نہیں کوئی اس کی عطا روکنے والا نہیں اور کوئی اس جیسی صنعت والا نہیں
وَهُوَ الْجَوادُ الْواسِعُ، فَطَرَ أَجْناسَ الْبَدائِعِ، وَأَ تْقَنَ بِحِکْمَتِهِ الصَّنائِعَ، لاَ تَخْفی
اور وہ کشادگی کیساتھ دینے والاہے اس نے قسم قسم کی مخلوق بنائی اور بنائی ہوئی چیزوں کو اپنی حکمت سے محکم کیا دنیا میں آنے والی کوئی
عَلَیْهِ الطَّلائِعُ، وَلاَ تَضِیعُ عِنْدَهُ الْوَدائِعُ، جازِی کُلِّ صانِعٍ، وَرایِشُ کُلِّ قانِعٍ
چیز اس سے پوشیدہ نہیں اس کے ہاں کوئی امانت ضائع نہیں ہوتی وہ ہر کام پر جزا دینے والا ہے وہ ہر قانع کو زیادہ دینے والا اور ہر
وَراحِمُ کُلِّ ضارِعٍ وَمُنْزِلُ الْمَنافِعِ وَالْکِتابِ الْجامِعِ بِالنُّورِ السَّاطِعِ وَهُوَ
نالاں پر رحم کرنے والا ہے وہ بھلائیاںنازل کرنے والا اور چمکتے نور کے ساتھ مکمل و کامل کتاب اتارنے والا ہے وہ لوگوںکی
لِلدَّعَواتِ سامِعٌ، وَ لِلْکُرُباتِ دافِعٌ، وَ لِلدَّرَجاتِ رافِعٌ، وَ لِلْجَبابِرَةِ قامِعٌ، فَلا إلهَ
دعاؤں کا سننے والا لوگوںکے دکھ دور کرنے والا درجے بلند کرنے والا اور سرکشوں کی جڑ کاٹنے والا ہے پس اس کے سوا کوئی
غَیْرُهُ وَلاَ شَیْئَ یَعْدِلُهُ، وَلَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْئٌ، وَهُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ
معبود نہیںکوئی چیز اس کے برابر کوئی چیز اس کے مانند نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے باریک بین خبر رکھنے والا ہے
وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَرْغَبُ إلَیْکَ وَأَشْهَدُ بِالرُّبُوبِیَّةِ لَکَ مُقِرّاً بِأَنَّکَ
اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ! بے شک میں تیری طرف متوجہ ہوا ہوں تیرے پروردگار ہونے کی گواہی دیتا اور
رَبِّی، وَأَنَّ إلَیْکَ مَرَدِّی، ابْتَدَأْتَنِی بِنِعْمَتِکَ قَبْلَ أَنْ أَکُونَ شَیْئاً مَذْکُوراً، وَخَلَقْتَنِی
مانتاہوں کہ تو میرا پالنے والا ہے اور تیری طرف لوٹا ہوں کہ تو نے مجھ سے اپنی نعمت کا آغاز کیا اس سے پہلے کہ میں وجود میں آتا اور تو
مِنَ التُّرابِ ثُمَّ أَسْکَنْتَنِی الْاَصْلابَ آمِناً لِرَیْبِ الْمَنُونِ وَاخْتِلافِ الدُّهُورِ وَالسِّنِینَ
نے مجھ کو مٹی سے پیدا کیا پھر بڑوں کی پشتوں میں جگہ دی مجھے موت سے اور ماہ وسال میں آنے والی آفات سے امن دیا پس میں
فَلَمْ أَزَلْ ظاعِناً مِنْ صُلْبٍ إلی رَحِمٍ فِی تَقادُمٍ مِنَ الْاَیَّامِ الْماضِیَةِ وَالْقُرُونِ
پے در پے ایک پشت سے ایک رحم میں آیا ان دنوں میں جو گزرے ہیں اور ان صدیوں میں جو بیت چکی
الْخالِیَةِ لَمْ تُخْرِجْنِی لِرَأْفَتِکَ بِی وَلُطْفِکَ لِی وَ إحْسانِکَ إلَیَّ فِی دَوْلَةِ أَئِمَّةِ الْکُفْرِ
ہیں تو نے بوجہ اپنی محبت و مہربانی کے مجھ پر احسان کیا اور مجھے کافر بادشاہوں کے دور میں پیدا نہیں کیا کہ جنہوں نے تیرے فرمان کو
الَّذِینَ نَقَضُوا عَهْدَکَ وَکَذَّبُوا رُسُلَکَ، لَکِنَّکَ أَخْرَجْتَنِی لِلَّذِی سَبَقَ لِی مِنَ الْهُدَی
توڑا اور تیرے رسولوں کو جھٹلایا لیکن تو نے مجھ کو اس زمانے میں پیدا کیا جس میں تھوڑے عرصے میں مجھے
الَّذِی لَهُ یَسَّرْتَنِی وَفِیهِِ أَنْشَأْتَنِی وَمِنْ قَبْلِ ذلِکَ رَؤُفْتَ بِی بِجَمِیلِ صُنْعِکَ وَسَوابِغِ
ہدایت میسر آگئی کہ اس میں تو نے مجھے پالا اور اس سے پہلے تو نے اچھے عنوان سے میرے لیے محبت ظاہر فرمائی اور بہترین نعمتیں
نِعَمِکَ فَابْتَدَعْتَ خَلْقِی مِنْ مَنِیٍّ یُمْنی، وَأَسْکَنْتَنِی فِی ظُلُماتٍ ثَلاثٍ بَیْنَ لَحْمٍ وَدَمٍ
عطا کیں پھر میرے پیدا کرنے کاآغاز ٹپکنے والے آب حیات سے کیا اور مجھ کو تین تاریکیوں میں ٹھرادیا یعنی گوشت خون اور جلد کے
وَجِلْدٍ لَمْ تُشْهِدْنِی خَلْقِی، وَلَمْ تَجْعَلْ إلَیَّ شَیْئاً مِنْ أَمْرِی، ثُمَّ أَخْرَجْتَنِی لِلَّذِی
نیچے جہاں میں نے بھی اپنی خلقت کو نہ دیکھا اور تو نے میرے اس معاملے میں سے کچھ بھی مجھ پر نہ ڈالا پھر تو نے مجھے رحم مادر سے
سَبَقَ لِی مِنَ الْهُدیٰ إلَی الدُّنْیا تامّاً سَوِیّاً، وَحَفِظْتَنِی فِی الْمَهْدِ طِفْلاً صَبِیّاً،
نکالا کہ مجھے ہدایت دے کر دنیا میں درست و سالم جسم کے ساتھ بھیجا اور گہوارے میں میری نگہبانی کی جب میں چھوٹا بچہ تھا تو
وَرَزَقْتَنِی مِنَ الْغِذائِ لَبَناً مَرِیّاً، وَعَطَفْتَ عَلَیَّ قُلُوبَ الْحَواضِنِ، وَکَفَّلْتَنِی الاَُْمَّهاتِ
نے میرے لیے تازہ دودھ کی غذا بہم پہنچائی اور دودھ پلانے والیوں کے دل میرے لیے نرم کردیے تو نے مہربان ماؤں کو میری
الرَّواحِمَ وَکَلاََْتَنِی مِنْ طَوارِقِ الْجانِّ وَسَلَّمْتَنِی مِنَ الزِّیادَةِ وَالنُّقْصانِ فَتَعالَیْتَ
پرورش کا ذمہ دار بنایا جن و پری کے آسیب سے میری حفاظت فرمائی اور مجھے ہر قسم کی کمی بیشی سے بچائے رکھا پس تو برتر ہے
یَا رَحِیمُ یَا رَحْمنُ حَتَّی إذَا اسْتَهْلَلْتُ ناطِقاً بِالْکَلامِ أَتْمَمْتَ عَلَیَّ سَوابِغَ الْاِنْعامِ
اے مہربان اے عطاؤں والے یہاں تک کہ میں باتیں کرنے لگا اور یوں تو نے مجھے اپنی بہترین نعمتیں پوری کردیں
وَرَبَّیتَنِی زائِداً فِی کُلِّ عامٍ، حَتَّی إذَا اکْتَمَلَتْ فِطْرَتِی وَاعْتَدَلَتْ مِرَّتِی أَوْجَبْتَ عَلَیَّ
اور ہر سال میرے جسم کو بڑھایا حتی کہ میری جسمانی ترقی اپنے کمال تک پہنچ گئی اور میری شخصیت میں توازن پیدا ہوگیا تو مجھ پر تیری
حُجَّتَکَ بِأَنْ أَلْهَمْتَنِی مَعْرِفَتَکَ، وَرَوَّعْتَنِی بِعَجائِبِ حِکْمَتِکَ، وَأَیْقَظْتَنِی لِما ذَرَأْتَ
حجت قائم ہوگئی اس لیے کہ تو نے مجھے اپنی معرفت کرائی اور اپنی عجیب عجیب حکمتوں کے ذریعے مجھے خائف کردیا اورمجھے بیدار کیا
فِی سَمائِکَ وَأَرْضِکَ مِنْ بَدائِعِ خَلْقِکَ، وَنَبَّهْتَنِی لِشُکْرِکَ وَذِکْرِکَ، وَأَوْجَبْتَ
ان چیزوں کے ذریعے جو تو نے آسمان و زمین میں عجیب طرح سے خلق کیں اسطرح مجھے اپنے شکر اور ذکر سے آگاہ کیا اور مجھ پر اپنی
عَلَیَّ طاعَتَکَ وَعِبادَتَکَ وَفَهمْتَنِی مَا جائَتْ بِهِ رُسُلُکَ، وَیَسَّرْتَ لِی تَقَبُّلَ مَرْضاتِکَ
فرمانبرداری اور عبادت لازم فرمائی تو نے مجھے وہ چیز سمجھائی جو تیرے رسول لائے اور میرے لیے اپنی رضاؤں کی قبولیت آسان کی
وَمَنَنْتَ عَلَیَّ فِی جَمِیعِ ذلِکَ بِعَوْ نِکَ وَلُطْفِکَ، ثُمَّ إذْ خَلَقْتَنِی مِنْ خَیْرِ الثَّریٰ، لَمْ
تو ان سب باتوں میں مجھ پر تیرا احسان ہے اس کے ساتھ تیری مدد اور مہربانی ہے پھر جب تو نے مجھے پیدا کیا بہترین خاک سے تو
تَرْضَ لِی یَا إلهِی نِعْمَةً دُونَ أُخْری، وَرَزَقْتَنِی مِنْ أَ نْواعِ الْمَعاشِ وَصُنُوفِ
میرے لیے اے اللہ! تو نے ایک آدھ نعمت پر ہی بس نہیں کی بلکہ مجھے معاش کے کئی طریقے اور فائدے کے کئی راستے عطا کیے مجھ
الرِّیاشِ بِمَنِّکَ الْعَظِیمِ الْاَعْظَمِ عَلَیَّ، وَ إحْسانِکَ الْقَدِیمِ إلَیَّ، حَتَّی إذا أَتْمَمْتَ
پر اپنے بڑے بہت بڑے احسان و کرم سے اور مجھ پر اپنی سابقہ مہربانیوں سے یہاں تک کہ جب مجھے تو نے یہ
عَلَیَّ جَمِیعَ النِّعَمِ وَصَرَفْتَ عَنِّی کُلَّ النِّقَمِ لَمْ یَمْنَعْکَ جَهْلِی وَجُرْأَتِی عَلَیْکَ أَنْ
تمام نعمتیں دے دیں اور تکلیفیںمجھ سے دور کردیں تیرے آگے میری جرات اور میری نادانی اس میں رکاوٹ
دَلَلْتَنِی إلَی مَا یُقَرِّبُنِی إلَیْکَ، وَوَفَّقْتَنِی لِما یُزْ لِفُنِی لَدَیْکَ، فَ إنْ دَعَوْتُکَ
نہیں بنی کہ تو نے مجھے وہ راستے بتائے جو مجھ کو تیرے قریب کرتے اور تو نے مجھے توفیق دی کہ تیرا پسندیدہ بنوں پس میں نے جو دعا
أَجَبْتَنِی، وَ إنْ سَأَلْتُکَ أَعْطَیْتَنِی، وَ إنْ أَطَعْتُکَ شَکَرْتَنِی، وَ إنْ شَکَرْتُکَ زِدْتَنِی،
مانگی تو نے قبول کی اور جو سوال کیا وہ تو نے پورا فرمایا اگر میں نے تیری اطاعت کی تو نے قدر فرمائی اورمیں نے شکر کیا تو نے زیادہ
کُلُّ ذلِکَ إکْمالاً لاََِ نْعُمِکَ عَلَیَّ وَ إحْسانِکَ إلَیَّ فَسُبْحانَکَ سُبْحانَکَ مِنْ مُبْدِیًَ
دیا یہ سب مجھ پر تیری نعمتوں کی کثرت اور مجھ پر تیرا احسان و کرم ہے پس تو پاک ہے تو پاک ہے کہ تو آغاز کرنے والا لوٹانے والا
مُعِیدٍ حَمِیدٍ مَجِیدٍ وَتَقَدَّسَتْ أَسْماؤُکَ، وَعَظُمَتْ آلاؤُکَ، فَأَیُّ نِعَمِکَ یَا إلهِی
تعریف والا بزرگی والا ہے اور پاک ہیں تیرے نام اور بہت بڑی ہیں تیری نعمتیں تو اے میرے خدا! تیری کس نعمت کی گنتی کروں
أُحْصِی عَدَداً وَذِکْراً أَمْ أَیُّ عَطایاکَ أَقُومُ بِها شُکْراً وَهِیَ یَا رَبِّ أَکْثَرُ مِنْ أَنْ
اور اسے یاد کروں یاتیری کون کونسی عطاؤں کا شکر بجا لاؤں اور اے میرے پروردگار یہ تو اتنی زیادہ ہیں کہ شمار
یُحْصِیهَا الْعادُّونَ، أَوْ یَبْلُغَ عِلْماً بِهَا الْحافِظُونَ ثُمَّ مَا صَرَفْتَ وَدَرَأْتَ عَنِّی اَللّٰهُمَّ مِنَ
کرنے والے انہیں شمار نہیں کرسکتے یا یاد کرنے والے ان کو یاد نہیں رکھ سکتے پھر اے اللہ! جو تکلیفیں
الضُّرِّ وَالضَّرَّائِ أَکْثَرُ مِمَّا ظَهَرَ لِی مِنَ الْعافِیَةِ وَالسَّرَّائِ، وَ أَنَا أَشْهَدُ
اور سختیاں تو نے مجھ سے دور کیں اور ہٹائی ہیں ان میں اکثر ایسی ہیں جن سے میرے لیے آرام اور خوشی ظاہر ہوئی ہے اور میں گواہی
یَا إلهِی بِحَقِیقَةِ إیمانِی وَعَقْدِ عَزَماتِ یَقِینِی، وَخالِصِ صَرِیحِ تَوْحِیدِی
دیتا ہوں اے اللہ! اپنے ایمان کی حقیقت اپنے اٹل ارادوں کی مظبوطی اپنی واضح و آشکار توحید
وَباطِنِ مَکْنُونِ ضَمِیرِی وَعَلائِقِ مَجارِی نُورِ بَصَرِی، وَأَسارِیرِ صَفْحَةِ جَبِینِی
اپنے باطن میں پوشیدہ ضمیر اپنی آنکھوں کے نور سے پیوستہ راستوں اپنی پیشانی کے نقوش کے رازوں
وَخُرْقِ مَسارِبِ نَفْسِی، وَخَذارِیفِ مارِنِ عِرْنِینِی، وَمَسارِبِ صِماخِ سَمْعِی، وَمَا
اپنے سانس کی رگوں کے سوراخوںاپنی ناک کے نرم و ملائم پردوں اپنے کانوں کی سننے والی جھلیوں اور اپنے
ضُمَّتْ وَأَطْبَقَتْ عَلَیْهِ شَفَتایَ، وَحَرَکاتِ لَفْظِ لِسانِی، وَمَغْرَزِ حَنَکِ فَمِی وَفَکِّی،
چپکنے اور ٹھیک بند ہونے والے ہونٹوں اپنی زبان کی حرکات سے نکلنے والے لفظوںاپنے منہ کے اوپر نیچے کے حصوںکے ہلنے اپنے
وَمَنابِتِ أَضْراسِی، وَمَساغِ مَطْعَمِی وَمَشْرَبِی، وَحِمالَةِ أُمِّ رَأْسِی، وَبُلُوعِ فارِغِ
دانتوں کے اگنے کی جگہوں اپنے کھانے پینے کے ذائقہ دار ہونے اپنے سر میں دماغ کی قرارگاہ اپنی گردن میں غذا کی
حَبائِلِ عُنُقِی وَمَا اشْتَمَلَ عَلَیْهِ تامُورُ صَدْرِی وَحَمائِلِ حَبْلِ وَتِینِی وَ نِیاطِ حِجابِ
نالیوں اور ان ہڈیوں، جن سے سینہ کا گھیرا بناہے اپنے گلے کے اندر لٹکی ہوئی شہ رگ اپنے دل میں آویزاں
قَلْبِی وَأَفْلاذِ حَواشِی کَبِدِی، وَمَا حَوَتْهُ شَراسِیفُ أَضْلاعِی، وَحِقاقُ مَفاصِلِی،
پردے اپنے جگر کے بڑھے ہوئے کناروں اپنی ایک دوسری سے ملی اور جھکی ہوئی پسلیوں اپنے جوڑوں کے حلقوں اپنے
وَقَبْضُ عَوامِلِی، وَأَطْرافُ أَنامِلِی، وَلَحْمِی وَدَمِی وَشَعْرِی وَبَشَرِی وَعَصَبِی
اعضائ کے بندھنوں اپنی انگلیوں کے پوروں اور اپنے گوشت خون اپنے بالوں اپنی جلد اپنے پٹھوں
وَقَصَبِی وَعِظامِی وَمُخِّی وَعُرُوقِی وَجَمِیعُ جَوارِحِی وَمَا انْتَسَجَ عَلَی ذلِکَ أَیَّامَ
اور نلیوں اپنی ہڈیوں اپنے مغز اپنی رگوں اور اپنے ہاتھ پاؤں اور بدن کی جو میری شیرخوارگی
رِضاعِی، وَمَا أَ قَلَّتِ الْاَرْضُ مِنِّی وَنَوْمِی وَیَقْظَتِی وَسُکُونِی، وَحَرَکاتِ رُکُوعِی
میں پیدا ہوئیں اور زمین پر پڑنے والے اپنے بوجھ اپنی نینداپنی بیداری اپنے سکون اور اپنے رکوع
وَسُجُودِی أَنْ لَوْ حاوَلْتُ وَاجْتَهَدْتُ مَدَی الْاَعْصارِ وَالْاَحْقابِ لَوْ عُمِّرْتُها أَنْ
و سجدے کی حرکات ان سب چیزوں پر اگر تیرا شکر ادا کرناچاہوں اور تمام زمانوں اور صدیوں میں کوشاںرہوں اور عمر وفا کرے تو
أُؤَدِّیَ شُکْرَ واحِدَةٍ مِنْ أَ نْعُمِکَ مَا اسْتَطَعْتُ ذلِکَ إلاَّ بِمَنِّکَ الْمُوجَبِ عَلَیَّ بِهِ
بھی میں تیری ان نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شکر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگر تیرے احسان کے ذریعے جس سے مجھ پر تیرا
شُکْرُکَ أَبَداً جَدِیداً، وَثَنائً طارِفاً عَتِیداً، أَجَلْ وَلَوْ حَرَصْتُ أَ نَا وَالْعادُّونَ مِنْ
ایک اور شکر واجب ہو جاتا ہے اور تیری لگاتار ثنا واجب ہو جاتی ہے اور اگر میں ایسا کرنا چاہوں اور تیری مخلوق میں سے شمار کرنے
أَنامِکَ أَنْ نُحْصِیَ مَدی إنْعامِکَ سالِفِهِ وَآنِفِهِ مَا حَصَرْناهُ عَدَداً، وَلاَ أَحْصَیْناهُ
والے بھی شمار کرنا چاہیں کہ ہم تیری گزشتہ و آیندہ نعمتیں شمار کریں تو ہم نہ انکی تعداد کا اور نہ ان کی مدت کا حساب کرسکیں گے یہ ممکن ہی
أَمَداً هَیْهاتَ أَنَّی ذلِکَ وَأَ نْتَ الْمُخْبِرُ فِی کِتابِکَ النَّاطِقِ وَالنَّبَاََ الصَّادِقِ وَ إنْ تَعُدُّوا
نہیں ہے کیونکہ تو نے اپنی خبر دینے والی گویا کتاب میں سچی خبر دے کر بتایا ہے کہ اور اگر تم خدا کی
نِعْمَةَ ﷲ لاَ تُحْصُوها صَدَقَ کِتابُکَ اَللّٰهُمَّ وَ إنْباؤُکَ، وَبَلَّغَتْ أَ نْبِیاؤُکَ وَرُسُلُکَ مَا
نعمتوں کو گنو تو ان کا حساب نہ لگا سکوگے تیری کتاب سچی ہے اے اللہ! اور تیری خبریں بھی سچی ہیں جو تیرے نبیوں اور رسولوں نے تبلیغ
أَنْزَلْتَ عَلَیْهِمْ مِنْ وَحْیِکَ، وَشَرَعْتَ لَهُمْ وَبِهِمْ مِنْ دِینِکَ، غَیْرَ أَنِّی
کی وہ سچ ہے جو تو نے ان پر وحی نازل کی وہ سچ ہے اور جو ان کیلئے اور انکے ذریعے اپنے دین کو جاری کیا وہ سچ ہے دیگر یہ کہ اے
یَا إلهِی أَشْهَدُ بِجُهْدِی وَجِدِّی وَمَبْلَغِ طاقَتِی وَوُسْعِی، وَأَ قُولُ مُؤْمِناً مُوقِناً
میرے اللہ! گواہی دیتا ہوں میںاپنی محنت و کوشش اور اپنی فرمانبرداری و ہمت کے ساتھ اور میں ایمان و یقین سے
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً فَیَکُونَ مَوْرُوثاً، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی مُلْکِهِ
کہتا ہوں کہ حمد خدا کے لیے ہے جس نے اپنا کوئی بیٹا نہیں بنایا جو اس کا وارث ہو اور نہ ملک و حکومت میں کوئی اس کا شریک ہے جو
فَیُضادَّهُ فِیَما ابْتَدَعَ، وَلاَ وَ لِیٌّ مِنَ الذُّلِّ فَیُرْفِدَهُ فِیما صَنَعَ، فَسُبْحانَهُ سُبْحانَهُ لَوْ
پیدا کرنے میں اس کا ہمکار ہو اور نہ وہ کمزور ہے کہ اشیائ کے بنانے میں کوئی اس کی مدد کرے پس وہ پاک ہے پاک ہے اگر
کانَ فِیهِما آلِهَةٌ إلاَّ ﷲ لَفَسَدَتا وَتَفَطَّرَتاسُبْحانَ ﷲ الْواحِدِ الْاَحَدِ الصَّمَدِ الَّذِی
زمین و آسمان میں خدا کے سوا کوئی معبود ہوتا تو یہ ٹوٹ پھوٹ کر گرپڑتے پاک ہے خدا یگانہ یکتا بے نیاز جس نے
لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ حَمْداً یُعادِلُ حَمْدَ مَلائِکَتِهِ
نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے حمد ہے خدا کے لیے برابر اس حمد کے جو اس کے مقرب فرشتوں
الْمُقَرَّبِینَ وَأَ نْبِیائِهِ الْمُرْسَلِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی خِیَرَتِهِ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَآلِهِ
اور اس کے بھیجے ہوئے نبیوں نے کی ہے اور اس کے پسند کیے ہوئے محمد نبیوں کے خاتم پر خدا کی رحمت ہو اور ان کی آل پر
الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ الْمُخْلَصِینَ وَسَلَّمَ
جو نیک پاک خالص ہیں اور ان پر سلام ہو ۔
پھر آپ نے خدائے تعالیٰ سے حاجات طلب کرنا شروع کیں۔ جب کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اسی حالت میں آپ بارگاہ الٰہی میں یوں عرض گزار ہوئے:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی أَخْشاکَ کَأَ نِّی أَراکَ، وَأَسْعِدْنِی بِتَقْواکَ، وَلاَ تُشْقِنِی بِمَعْصِیَتِکَ
اے اللہ! مجھے ایسا ڈرنے والا بنادے گویا تجھے دیکھ رہا ہوں مجھے پرہیزگاری کی سعادت عطا کر اور نافرمانی کے ساتھ بدبخت نہ بنا
وَخِرْ لِی فِی قَضائِکَ، وَبارِکْ لِی فِی قَدَرِکَ، حَتَّی لاَ أُحِبَّ تَعْجِیلَ مَا أَخَّرْتَ وَلاَ
اپنی قضا میں مجھے نیک بنادے اور اپنی تقدیر میں مجھے برکت عطا فرما یہاںتک کہ جس امر میں تو تاخیر کرے اس میں جلدی نہ چاہوں
تَأْخِیرَ مَا عَجَّلْتَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ غِنایَ فِی نَفْسِی، وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی، وَالْاِخْلاصَ
اور جس میں تو جلدی چاہے اس میں تاخیر نہ چاہوں اے اللہ! پیدا کردے میرے نفس میں بے نیازی میرے دل میں یقین میرے عمل
فِی عَمَلِی وَالنُّوْرَ فِی بَصَرِی، وَالْبَصِیرَةَ فِی دِینِی، وَمَتِّعْنِی بِجَوارِحِی، وَاجْعَلْ
میں خلوص میری نگاہ میںنور میرے دین میں سمجھ اور میرے اعضا میں فائدہ پیدا کردے اور میرے
سَمْعِی وَبَصَرِی الْوارِثَیْنِ مِنِّی، وَانْصُرْنِی عَلَی مَنْ ظَلَمَنِی، وَأَرِنِی فِیهِ ثارِی
کانوں و آنکھوں کو میرا مطیع بنادے اور جس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے مقابل میری مدد کر مجھے اس سے بدلہ لینے والا بنا
وَمَآرِبِی، وَأَقِرَّ بِذلِکَ عَیْنِی اَللّٰهُمَّ اکْشِفْ کُرْبَتِی، وَاسْتُرْ عَوْرَتِی، وَاغْفِرْ لِی
یہ آرزو پوری کر اور اس سے میری آنکھیں ٹھنڈی فرما اے اللہ! میری سختی دور کردے میری پردہ پوشی فرما میری خطائیں معاف
خَطِیئَتِی، وَاخْسَأْ شَیْطانِی، وَفُکَّ رِهانِی، وَاجْعَلْ لِی یَا إلهِی الدَّرَجَةَ الْعُلْیا فِی
کردے میرے شیطان کو ذلیل کر اور میری ذمہ داری پوری کرادے میرے لیے اے میرے خدا دنیا اور آخرت میں بلند سے بلندتر
الْآخِرَةِ وَالْاُوْلیٰ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَما خَلَقْتَنِی فَجَعَلْتَنِی سَمِیعاً بَصِیراً وَلَکَ الْحَمْدُ
مرتبے قرار دے اے اللہ! حمد تیریہی لیے ہے کہ تو نے مجھے پیدا کیا تو نے مجھ کو سننے والا دیکھنے والا بنایا حمدتیرے ہی لیے ہے
کَما خَلَقْتَنِی فَجَعَلْتَنِی خَلْقاً سَوِیّاً رَحْمَةً بِی وَقَدْ کُنْتَ عَنْ خَلْقِی غَنِیّاً رَبِّ
کہ تو نے مجھے پیدا کیاتواپنی رحمت سے بہترین تربیت عطا کی حالانکہ تو مجھے خلق کرنے سے بے نیاز تھا میرے پروردگار تو
بِما بَرَأْتَنِی فَعَدَّلْتَ فِطْرَتِی رَبِّ بِما أَنْشَأْتَنِی فَأَحْسَنْتَ صُورَتِی رَبِّ بِما أَحْسَنْتَ
نے مجھے پیدا کیا ہے تو متوازن بنایا ہے اے میرے پروردگار تو نے مجھے نعمت دی ہے تو ہدایت بھی عطا کی ہے اے پروردگار تو نے مجھ پر احسان کیا
إلَیَّ وَفِی نَفْسِی عافَیْتَنِی، رَبِّ بِما کَلاََْتَنِی وَوَفَّقْتَنِی رَبِّ بِما أَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَهَدَیْتَنِی
اور مجھے صحت وعافیت دی اے پروردگار تو نے میری حفاظت کی اور توفیق دی اے پروردگار تو نے مجھے نعمت دی تو ہدایت بھی عطاکر
رَبِّ بِما أَوْلَیْتَنِی وَمِنْ کُلِّ خَیْرٍ أَعْطَیْتَنِی، رَبِّ بِما أَطْعَمْتَنِی وَسَقَیْتَنِی، رَبِّ بِما
اے پروردگار تو نے مجھے اپنی پناہ میں لیا اور ہر بھلائی مجھے عطا فرمائی اے پروردگار تو نے مجھے کھانا اور پانی دیا اے پروردگار تو نے مجھے
أَغْنَیْتَنِی وَأَ قْنَیْتَنِی، رَبِّ بِما أَعَنْتَنِی وَأَعْزَزْتَنِی، رَبِّ بِما أَ لْبَسْتَنِی مِنْ سِتْرِکَ
مال دیا میری نگہبانی کی اے پروردگار تو نے میری مدد کی اور عزت بخشی اے پروردگار تو نے اپنی عنایت سے مجھے
الصَّافِی، وَیَسَّرْتَ لِی مِنْ صُنْعِکَ الْکافِی، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَعِنِّی
لباس عطا کیا اور اپنی چیزیں میری دسترس میں دی ہیں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرمااور زمانے کی سختیوں
عَلَی بَوائِقِ الدُّهُورِ وَصُرُوفِ اللَّیالِی وَالْاَیَّامِ، وَنَجِّنِی مِنْ أَهْوالِ الدُّنْیا وَکُرُباتِ
اور شب و روز کی گردش کے مقابلے میں میری مدد فرما دنیا کے خوفوں اور آخرت کی سختیوں سے مجھے نجات دے اور
الْآخِرَةِ وَاکْفِنِی شَرَّ مَا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ فِی الْاَرْضِ اَللّٰهُمَّ مَا أَخافُ فَاکْفِنِی وَمَا
اس زمین پر ظالموں کے پھیلائے ہوئے فساد سے محفوظ رکھ اے اللہ! حالت خوف میں میری مدد فرما اور ہر اس سے بچائے رکھ
أَحْذَرُ فَقِنِی، وَفِی نَفْسِی وَدِینِی فَاحْرُسْنِی، وَفِی سَفَرِی فَاحْفَظْنِی، وَفِی
جس سے میں ڈرتا ہوں میری جان اور میرے ایمان کی نگہداری فرما دوران سفر میری حفاظت کر اور میری عدم موجودگی میں
أَهْلِی وَمالِی فَاخْلُفْنِی وَفِیما رَزَقْتَنِی فَبارِکْ لِی، وَفِی نَفْسِی فَذَلِّلْنِی، وَفِی أَعْیُنِ
میرے مال و اولاد کو نظر میں رکھ جو رزق تو نے مجھے دیا اس میں برکت دے میرے نفس کو میرا مطیع بنا دے اور لوگوں کی نگاہوں میں
النَّاسِ فَعَظِّمْنِی، وَمِنْ شَرِّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فَسَلِّمْنِی، وَبِذُ نُوبِی فَلا تَفْضَحْنِی،
مجھے عزت دے مجھ کو جنّوں اور اور انسانوں کی بدی سے محفوظ فرما میرے گناہوں پر مجھے بے پردہ نہ کر
وَبِسَرِیرَتِی فَلا تُخْزِنِی، وَبِعَمَلِی فَلا تَبْتَلِنِی، وَ نِعَمَکَ فَلا تَسْلُبْنِی، وَ إلی غَیْرِکَ
میرے باطن سے مجھے رسوا نہ کر میرے عمل پر میری گرفت نہ کر اپنی نعمتیں مجھ سے نہ چھین مجھے اپنے غیر کے
فَلا تَکِلْنِی إلهِی إلی مَنْ تَکِلُنِی إلی قَرِیبٍ فَیَقْطَعُنِی، أَمْ إلی بَعِیدٍ فَیَتَجَهَّمُنِی
حوالے نہ کر میرے خدا تو مجھے جس کے بھی حوالے کرے گاوہ جلد ہی نظریں پھیرے یا تھوڑے عرصے کے بعد مجھ سے نفرت
أَمْ إلَی الْمُسْتَضْعِفِینَ لِی وَأَنْتَ رَبِّی وَمَلِیکُ أَمْرِی أَشْکُو إلَیْکَ غُرْبَتِی، وَبُعْدَ
کرے گا یا انکے حوالے کرے گا جو پست سمجھیں جبکہ تو میرا پروردگار اور میرا مالک ہے میں اپنی اس بے کسی اپنے گھر سے دوری اور
دارِی وَهَوانِی عَلَی مَنْ مَلَّکْتَهُ أَمْرِی، إلهِی فَلا تُحْلِلْ عَلَیَّ غَضَبَکَ، فَ إنْ لَمْ تَکُنْ
جسے تو نے مجھ پر اختیار دیا ہے تجھی سے اس کی شکایت کرتا ہوںمیرے اللہ! مجھ پر اپنا غضب نازل نہ فرما پس اگر تو ناراض نہ ہو
غَضِبْتَ عَلَیَّ فَلا أُبالِی سِواکَ، سُبْحانَکَ غَیْرَ أَنَّ عافِیَتَکَ أَوْسَعُ لِی، فَأَسْأَلُکَ یَا
تو پھر مجھے تیرے سوا کسی کی پروا نہیں تیری ذات پاک ہے تیری مہربانی مجھ پر بہت زیادہ ہے پس مزید سوال کرتا ہوں بواسطہ تیرے
رَبِّ بِنُورِ وَجْهِکَ الَّذِی أَشْرَقَتْ لَهُ الْاَرْضُ وَالسَّماواتُ، وَکُشِفَتْ بِهِ الظُّلُماتُ،
نور کے جس سے زمین اور سارے آسمانوں روشن ہوئے تاریکیاں اس کے ذریعے سے چھٹ گئیں
وَصَلُحَ بِهِ أَمْرُ الْاَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ أَنْ لاَ تُمِیتَنِی عَلَی غَضَبِکَ وَلاَ تُنْزِلْ بِی سَخَطَکَ
اور اس سے اگلے پچھلے لوگوں کے کام سدھر گئے یہ کہ مجھے موت نہ دے جب تو مجھ سے ناراض ہو اور مجھ پر سختی نہ ڈال تجھ سے معافی
لَکَ الْعُتْبیٰ، لَکَ الْعُتْبیٰ حَتَّی تَرْضیٰ قَبْلَ ذلِکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ رَبَّ الْبَلَدِ الْحَرامِ
کاطالب ہوں معافی کا طالب ہوں حتیٰ کہ تو میری موت سے پہلے مجھ سے راضی ہوجائے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے کہ تو حرمت
وَالْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَالْبَیْتِ الْعَتِیقِ الَّذِی أَحْلَلْتَهُ الْبَرَکَةَ وَجَعَلْتَهُ لِلنَّاسِ أَمْناً، یَا مَنْ
والے شہر حرمت والے مشعر اور پاکیزہ گھر کعبہ کا رب ہے جس میں تو نے برکت نازل کی اور اسے لوگوں کیلئے جائے امن قرار دیا اے
عَفا عَنْ عَظِیمِ الذُّنُوبِ بِحِلْمِهِ، یَا مَنْ أَسْبَغَ النَّعْمائَ بِفَضْلِهِ، یَا مَنْ أَعْطَیٰ الْجَزِیلَ
وہ جو اپنی نرمی سے بڑے بڑے گناہ معاف کرتا ہے اے وہ جو اپنے فضل سے نعمتیں کامل کرتا ہے اے وہ جو اپنے کرم سے بہت عطا
بِکَرَمِهِ یَا عُدَّتِی فِی شِدَّتِی یَا صاحِبِی فِی وَحْدَتِی، یَا غِیاثِی فِی کُرْبَتِی، یَا وَلِیِّی
کرتا ہے اے سختی کے وقت میری مدد پر آمادہ اے تنہائی کے ہنگام میرے ساتھی اے مشکل میں میرے فریادرس اے مجھے نعمت دینے
فِی نِعْمَتِی، یَا إلهِی وَ إلهَ آبائِی إبْراهِیمَ وَ إسْماعِیلَ وَ إسْحاقَ وَیَعْقُوبَ وَرَبَّ
والے مالک اے میرے معبود اور میرے آبائ و اجداد ابراہیمعليهالسلام ، اسمٰعیلعليهالسلام ، اسحاقعليهالسلام اور یعقوبعليهالسلام کے معبود اور مقرب
جَبْرَائِیلَ وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَرَبَّ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَآلِهِ الْمُنْتَجَبِینَ وَمُنْزِلَ
فرشتوںجبرائیل میکائیل اور اسرافیل کے رب اور اے نبیوں کے خاتم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے گرامی قدرآل کے رب
التَّوْراةِ وَالْاِنْجِیلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقانِ وَمُنَزِّلَ کهیَعَصَ وَطه وَیسَ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ
اے تورات، انجیل، زبور اور قرآن کریم کے نازل کرنے والے اے کٰھٰیٰعص، طٰہٰ،یس اور قرآن کریم کے نازل کرنے والے
أَنْتَ کَهْفِی حِینَ تُعْیِینِی الْمَذاهِبُ فِی سَعَتِها، وَتَضِیقُ بِیَ الْاَرْضُ بِرُحْبِها وَلَوْلاَ
تو ہی میری جائے پناہ ہے جب زندگی کے وسیع راستے مجھ پر تنگ ہوجائیں اور زمین کشادگی کے باوجود میرے لیے تنگ ہوجائے
رَحْمَتُکَ لَکُنْتُ مِنَ الْهالِکِینَ، وَأَنْتَ مُقِیلُ عَثْرَتِی، وَلَوْلا سَتْرُکَ إیَّایَ لَکُنْتُ
اور اگر تیری رحمت شامل حال نہ ہوتی تو میں تباہ ہوجاتا تو ہی میرے گناہ معاف کرنیوالا ہے اور اگر تو میری پردہ پوشی نہ کرتا تو میں رسوا
مِنَ الْمَفْضُوحِینَ، وَأَنْتَ مُؤَیِّدِی بِالنَّصْرِ عَلَی أَعْدائِی وَلَوْلا نَصْرُکَ إیَّایَ لَکُنْتُ
ہوکر رہ جاتا اور تو اپنی مدد کے ساتھ دشمنوں کے مقابل میں مجھے قوت دینے والا ہے اور اگر تیری مدد حاصل نہ ہوتی تو میں زیر ہو جانے
مِنَ الْمَغْلُوبِینَ، یَا مَنْ خَصَّ نَفْسَهُ بِالسُّمُوِّ وَالرِّفْعَةِ فَأَوْ لِیاؤُهُ بِعِزِّهِ یَعْتَزُّونَ، یَا
والوں میں سے ہوجا اے وہ جس نے اپنی ذات کو بلندی اور برتری کے لیے خاص کیا اور جس کے دوست اس کی عزت سے عزت
مَنْ جَعَلَتْ لَهُ الْمُلُوکُ نِیرَ الْمَذَلَّةِ عَلَی أَعْناقِهِمْ فَهُمْ مِنْ سَطَواتِهِ خائِفُونَ، یَعْلَمُ
پاتے ہیں اے وہ جسکے دربار میں بادشاہوں نے اپنی گردنوں میں عاجزی کا طوق پہنا پس وہ اس کے دبدبے سے ڈرتے ہیں وہ
خایِنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ، وَغَیْبَ مَا تَأْتِی بِهِ الْاَزْمِنَةُ وَالدُّهُورُ،
آنکھوں کے اشاروں کو اور جوسینوں میں چھپاہے اسے جانتا ہے اور ان غیب کی باتوں کو جانتا ہے جو آیندہ زمانوں میں ظاہر ہونگی
یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ کَیْفَ هُوَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ مَا هُوَ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ مَا
اے وہ جسکی حقیقت کوئی نہیں جانتا مگر وہ خود اے وہ جس کی حقیقیت کوئی نہیں جانتا مگر وہ خود ا اے وہ کوئی جسکا علم نہیں رکھتا مگر وہ خود
یَعْلَمُهُ إلاَّ هُوَ، یَا مَنْ کَبَسَ الْاَرْضَ عَلَی الْمائِ وَسَدَّ الْهَوائَ بِالسَّمائِ یَا مَنْ لَهُ أَکْرَمُ
اے وہ جس نے زمین کو پانی کی سطح پر رکھا ہوا اور ہوا کو فضائ آسمان میں باندھا اے وہ جس کیلئے سب سے بہترین نام ہے اے
الْاَسْمائِ، یَا ذَا الْمَعْرُوفِ الَّذِی لاَ یَنْقَطِعُ أَبَداً، یَا مُقَیِّضَ الرَّکْبِ لِیُوسُفَ فِی الْبَلَدِ
احسان کے مالک جو کسی وقت میں منقطع نہ ہوتا اے یوسفعليهالسلام کے لیے بے آب بیابان میں کاروان کو روکنے والے اور انہیں کنوئیں میں
الْقَفْرِ وَمُخْرِجَهُ مِنَ الْجُبِّ وَجاعِلَهُ بَعْدَ الْعُبُودِیَّةِ مَلِکاً، یَا رادَّهُ عَلَی یَعْقُوبَ بَعْدَ
سے نکالنے والے اور غلامی کے بعد ان کو بادشاہ بنانے والے اے یوسفعليهالسلام کو یعقوبعليهالسلام سے ملانے والے جبکہ ان کی آنکھیں روتے
أَنِ ابْیَضَّتْ عَیْناهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ کَظِیمٌ، یَا کاشِفَ الضُّرِّ وَالْبَلْویٰ عَنْ أَ یُّوبَ،
روتے سفید ہوچکی تھیںاور وہ سخت غم زدہ رہتے تھے اے ایوبعليهالسلام کو نقصان اور مصیبت سے نجات دینے والے اے
وَمُمْسِکَ یَدَیْ إبْراهِیمَ عَنْ ذَبْحِ ابْنِهِ بَعْدَ کِبَرِ سِنِّهِ وَفَنائِ عُمُرِهِ، یَا مَنِ اسْتَجابَ
اپنے بیٹے کو ذبح کرنے میں ابراہیمعليهالسلام کے ہاتھوں کو روکنے والے جب وہ بہت بوڑھے اور زندگی کی آخری منزل میں تھے اے وہ جس
لِزَکَرِیَّا فَوَهَبَ لَهُ یَحْییٰ وَلَمْ یَدَعْهُ فَرْداً وَحِیداً یَا مَنْ أَخْرَجَ یُونُسَ مِنْ بَطْنِ
نے زکریاعليهالسلام کی دعا قبول کی پس انہیں یحییٰ عطا کیا اور انہیں یکہ و تنہا نہ چھوڑا تھا اے وہ جس نے یونسعليهالسلام کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا
الْحُوتِ، یَا مَنْ فَلَقَ الْبَحْرَ لِبَنِی إسْرائِیلَ فَأَنْجاهُمْ وَجَعَلَ فِرْعَوْنَ وَجُنُودَهُ مِنَ
اے وہ جس نے بنی اسرائیل کے لیے دریا میں راستے بنائے پس انہیں نجات دی اور فرعون اور اس کے لشکروں
الْمُغْرَقِینَ، یَا مَنْ أَرْسَلَ الرِّیاحَ مُبَشِّراتٍ بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهِ، یَا مَنْ لَمْ یَعْجَلْ عَلَی
کو غرق کردیا اے وہ جو باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اے وہ جو اپنی مخلوق میں نافرمانی
مَنْ عَصاهُ مِنْ خَلْقِهِ یَا مَنِ اسْتَنْقَذَ السَّحَرَةَ مِنْ بَعْدِ طُولِ الْجُحُودِ وَقَدْ غَدَوْا فِی
کرنے والے کی گرفت میں جلدی نہیں کرتا اے وہ جس نے جادوگروں کو مدتوں کے کفر سے نجات عطا فرمائی جبکہ وہ اس کی نعمتوں
نِعْمَتِهِ یَأْکُلُونَ رِزْقَهُ وَیَعْبُدُونَ غَیْرَهُ وَقَدْ حادُّوهُ وَنادُّوهُ وَ
سے فائدہ اٹھاتے اسکی دی ہوئی روزی کھاتے اور عبادت اس کے غیر کی کرتے تھے وہ خدا سے دشمنی کرتے شرک کی راہ پر چلتے اور
کَذَّبُوا رُسُلَهُ، یَا ﷲ یَا ﷲ یَا بَدِیئُ، یَا بَدِیعاً لاَ نِدَّ لَکَ، یَا دائِماً لاَ نَفادَ لَکَ،
اس کے رسولوں کو جھٹلاتے تھے اے اللہ اے اللہ! اے آغاز کرنے والے اے پیدا کرنے والے تیرا کوئی ثانی نہیں اے ہمیشگی والے
یَا حَیّاً حِینَ لاَ حَیَّ، یَا مُحْیِیَ الْمَوْتی، یَا مَنْ هُوَ قایِمٌ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِما کَسَبَتْ،
تجھے فنا نہیں اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے ہر نفس کے اعمال پر نگہبان جو اس نے انجام دیے
یَا مَنْ قَلَّ لَهُ شُکْرِی فَلَمْ یَحْرِمْنِی وَعَظُمَتْ خَطِیئَتِی فَلَمْ یَفْضَحْنِی، وَرَآنِی عَلَی
اے وہ میں نے جس کا شکر کم کیا تب بھی اس نے مجھے محروم نہ کیا میں نے بڑی بڑی خطائیں کیں تب بھی اس نے مجھے رسوا نہ کیا اس
الْمَعاصِی فَلَمْ یَشْهَرْنِی، یَا مَنْ حَفِظَنِی فِی صِغَرِی، یَا مَنْ رَزَقَنِی فِی کِبَرِی، یَا
نے مجھے نافرمان دیکھا تو پردہ فاش نہ کیا اے وہ جس نے میرے بچپنے میں میری حفاظت کی اے وہ جس نے میرے بڑھاپے میں
مَنْ أَیَادِیهِ عِنْدِی لاَ تُحْصی وَ نِعَمُهُ لاَ تُجازی یَا مَنْ عارَضَنِی بِالْخَیْرِ وَالْاِحْسانِ
روزی دی اے وہ جس کی نعمتوں کا کوئی شمار ہی نہیں اور جس کی نعمتوں کا کوئی بدلہ نہیں اے وہ جس نے مجھ سے بھلائی اور احسان کیا
وَعارَضْتُهُ بِالْاِسائَةِ وَالْعِصْیانِ، یَا مَنْ هَدانِی لِلاِِْیمانِ مِنْ قَبْلِ أَنْ أَعْرِفَ شُکْرَ
اور میں نے برائی اور نافرمانی پیش کی اے وہ جس نے مجھے ایمان کی راہ بتائی اس سے پہلے کہ اس پر میری طرف سے شکر ادا ہوتا اے
الْاِمْتِنانِ، یَا مَنْ دَعَوْتُهُ مَرِیضاً فَشَفانِی، وَعُرْیاناً فَکَسانِی، وَجائِعاً فَأَشْبَعَنِی
وہ جسے میں نے بیماری میں پکارا تو مجھے شفا دی عریانی میں پکارا تو لباس دیا بھوک میں پکارا تو مجھے سیر کیا
وَعَطْشاناً فَأَرْوانِی، وَذَلِیلاً فَأَعَزَّنِی، وَجاهِلاً فَعَرَّفَنِی، وَوَحِیداً فَکَثَّرَنِی، وَغائِباً
پیاس میں پکارا تو سیراب کیا پستی میں عزت دی نادانی میں معرفت بخشی تنہائی میں کثرت دی سفر سے
فَرَدَّنِی، وَمُقِلاًّ فَأَغْنانِی، وَمُنْتَصِراً فَنَصَرَنِی، وَغَنِیّاً فَلَمْ یَسْلُبْنِی، وَأَمْسَکْتُ عَنْ
وطن پہنچایا تنگدستی میں مجھے مال دیامدد مانگی تو میری مدد فرمائی تونگر تھا تو میرا مال نہیں چھینا اور میں نے ان چیزوں کا شکر نہ کیا
جَمِیعِ ذلِکَ فَابْتَدَأَنِی، فَلَکَ الْحَمْدُ وَالشُّکْرُ یَا مَنْ أَقالَ عَثْرَتِی، وَنَفَّسَ کُرْبَتِی،
تو اس نے دینے میں پہل کی پس ساری تعریف اور شکرتیرے ہی لیے ہے اے وہ جس نے میری لغزش معاف کی میری تکلیف دور کی
وَأَجابَ دَعْوَتِی، وَسَتَرَ عَوْرَتِی، وَغَفَرَ ذُ نُوبِی، وَبَلَّغَنِی طَلِبَتِی، وَنَصَرَنِی عَلَی
میری دعا قبول فرمائی میرے عیبوں کو چھپایا میرے گناہ بخش دیے میری حاجت پوری کی اور دشمن کے خلاف میری
عَدُوِّی، وَ إنْ أَعُدَّ نِعَمَکَ وَمِنَنَکَ وَکَرایِمَ مِنَحِکَ لاَ أُحْصِیها، یَا مَوْلایَ أَنْتَ الَّذِی
مدد کی اور اگر میں تیری نعمتوں تیرے احسانوں اور عطاؤں کو شمار کروں تو شمار نہیںکرسکتا اے میرے مالک تو وہ ہے جس نے احسان
مَنَنْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَنْعَمْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَحْسَنْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَجْمَلْتَ، أَنْتَ الَّذِی
کیا تو وہ ہے جس نے نعمت دی تو وہ ہے جس نے بہتری کی تو وہ ہے جس نے جمال دیا تو وہ ہے جس نے
أَفْضَلْتَ أَنْتَ الَّذِی أَکْمَلْتَ أَنْتَ الَّذِی رَزَقْتَ أَنْتَ الَّذِی وَفَّقْتَ أَنْتَ الَّذِی أَعْطَیْتَ
بڑائی دی تو وہ ہے جس نے کمال عطا کیا تو وہ ہے جس نے روزی دی تو وہ ہے جس نے توفیق دی تو وہ ہے جس نے عطا کیا تو وہ ہے
أَنْتَ الَّذِی أَغْنَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَقْنَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی آوَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی کَفَیْتَ، أَنْتَ
جس نے مال دیا تو وہ ہے جس نے نگہداری کی تو وہ ہے جس نے پناہ دی تو وہ ہے جس نے کام بنایا تو وہ ہے جس نے
الَّذِی هَدَیْتَ، أَنْتَ الَّذِی عَصَمْتَ، أَنْتَ الَّذِی سَتَرْتَ، أَنْتَ الَّذِی غَفَرْتَ، أَنْتَ
ہدایت کی تو وہ ہے جس نے گناہ سے بچایا تو وہ ہے جس نے پرورش کی تو وہ ہے جس نے معاف کیا تو وہ ہے
الَّذِی أَقَلْتَ، أَنْتَ الَّذِی مَکَّنْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَعْزَزْتَ، أَنْتَ الَّذِی أَعَنْتَ، أَنْتَ الَّذِی
جس نے بخش دیا تو وہ ہے جس نے قدرت دی تو وہ ہے جس نے عزت بخشی تو وہ ہے جس نے آرام دیا تو وہ ہے جس نے
عَضَدْتَ أَنْتَ الَّذِی أَیَّدْتَ أَنْتَ الَّذِی نَصَرْتَ أَنْتَ الَّذِی شَفَیْتَ أَنْتَ الَّذِی عافَیْتَ
سہارا دیا تو وہ ہے جس نے حمایت کی تو وہ ہے جس نے مدد کی تو وہ ہے جس نے شفا دی تو وہ ہے جس نے آرام دیا تو وہ ہے جس نے
أَنْتَ الَّذِی أَکْرَمْتَ تَبارَکْتَ وَتَعالَیْتَ، فَلَکَ الْحَمْدُ دائِماً، وَلَکَ الشُّکْرُ واصِباً أَبَداً
بزرگی دی تو بڑا برکت والا اور برتر ہے ہمیشہ پس حمد ہی تیرے لیے ہے اور شکر لگاتار ہمیشہ ہمیشہ تیرے ہی لیے ہے
ثُمَّ أَنَا یَا إلهِیَ الْمُعْتَرِفُ بِذُ نُوبِی فَاغْفِرْهالِی أَنَا الَّذِی أَسَأْتُ أَنَا
پھر میں ہوں اے میرے معبود اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے والا پس مجھے ان سے معافی دے میں وہ ہوں جس نے برائی کی میں
الَّذِی أَخْطَأْتُ أَنَا الَّذِی هَمَمْتُ، أَنَا الَّذِی جَهِلْتُ، أَنَا الَّذِی غَفَلْتُ، أَنَا الَّذِی
وہ ہوں جس نے خطا کی میں وہ ہوں جس نے برا ارادہ کیا میں وہ ہوں جس نے نادانی کی میں وہ ہوں جس سے بھول ہوئی میں وہ
سَهَوْتُ أَنَا الَّذِی اعْتَمَدْتُ، أَنَا الَّذِی تَعَمَّدْتُ، أَنَا الَّذِی وَعَدْتُ، وَأَنَا الَّذِی أَخْلَفْتُ
ہوں جو چوک گیا میں نے خود پر اعتماد کیا میں نے دانستہ گناہ کیا میں وہ ہوں جس نے وعدہ کیا میں وہ ہوںجس نے وعدہ خلافی کی
أَنَا الَّذِی نَکَثْتُ، أَنَا الَّذِی أَقْرَرْتُ، أَنَا الَّذِی اعْتَرَفْتُ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَعِنْدِی وَأَبُوئُ
میں وہ ہوں جس نے عہد توڑا میں وہ ہوں جو اقرار کرتا اور میں وہ ہوں جو تیری نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں جو مجھے ملی ہیں اور میرے
بِذُ نُوبِی فَاغْفِرْها لِی یَا مَنْ لاَ تَضُرُّهُ ذُنُوبُ عِبادِهِ وَهُوَ الْغَنِیُّ عَنْ طاعَتِهِمْ
پاس ہیں مجھ پر گناہوں کا بڑا بوجھ ہے پس مجھے معاف کردے اے وہ جسے اس کے بندوں کے گناہ نقصان نہیں پہنچاتے اور وہ ان کی
وَالْمُوَفِّقُ مَنْ عَمِلَ صالِحاً مِنْهُمْ بِمَعُونَتِهِ وَرَحْمَتِهِ، فَلَکَ الْحَمْدُ
بندگی سے بے نیاز ہے اور توفیق دیتا ہے اسے اپنی مہربانی اور مدد سے جو ان میں سے نیک عمل کرے پس حمد تیرے ہی لیے ہے
إلهِی وَسَیِّدِی إلهِی أَمَرْتَنِی فَعَصَیْتُکَ، وَنَهَیْتَنِی فَارْتَکَبْتُ نَهْیَکَ، فَأَصْبَحْتُ لاَ ذا
اے میرے معبود و سردار اے میرے معبود تو نے حکم دیاتو میں نے نافرمانی کی جس سے تو نے مجھے روکا میں وہ کام کر گزرا پس حال یہ
بَرائَةٍ لِی فَأَعْتَذِرُ، وَلاَ ذا قُوَّةٍ فَأَنْتَصِرُ ، فَبِأَیِّ شَیْئٍ أَسْتَقْبِلُکَ یَا مَوْلایَ
ہے کہ نہ گناہ سے بری ہوں کہ عذر کروں نہ یہ طاقت ہے کہ کامیاب ہوجاؤں پس کیا چیزلے کر تیرے سامنے آؤںاے میرے مالک
أَبِسَمْعِی أَمْ بِبَصَرِی أَمْ بِلِسانِی أَمْ بِیَدِی أَمْ بِرِجْلِی أَلَیْسَ کُلُّها نِعَمَکَ عِنْدِی
آیا اپنے کان یا اپنی آنکھ یا اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنے پاؤں کے ساتھ کیا یہ سب میرے پاس تیری نعمتیں نہیں ہیں ؟اور ان سب
وَبِکُلِّها عَصَیْتُکَ یَا مَوْلایَ فَلَکَ الْحُجَّةُ وَالسَّبِیلُ عَلَیَّ، یَا مَنْ سَتَرَنِی مِنَ الْآبائِ
کے ساتھ میں نے تیری نافرمانی کی اے میرے مولا پس تیرے پاس میرے خلاف حجت اور دلیل ہے اے وہ جس نے ماں باپ
وَالْاُمَّهاتِ أَنْ یَزْجُرُونِی، وَمِنَ الْعَشائِرِ وَالْاِخْوانِ أَنْ یُعَیِّرُونِی، وَمِنَ
سے میری پردہ پوشی کی کہ وہ مجھے دھتکار دیں گے اہل قبیلہ اور بھائی بندوں سے میرا پردہ رکھا کہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کریں گے اور
السَّلاطِینِ أَنْ یُعاقِبُونِی ، وَلَوِ اطَّلَعُوا یَا مَوْلایَ عَلَی مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنِّی إذاً مَا
حاکموں سے میرا پردہ رکھا کہ وہ مجھے سزا دیں گے اے میرے مولا اگر وہ میرے بارے میں وہ جان لیتے جو کچھ تو جانتا ہے تو وہ مجھے
أَنْظَرُونِی، وَلَرَفَضُونِی وَقَطَعُونِی، فَها أَنَا ذا یَا إلهِی، بَیْنَ یَدَیْکَ یَا سَیِّدِی
کبھی مہلت نہ دیتے مجھے چھوڑ جاتے اور قطع تعلق کر جاتے پس اے میرے معبود میں تیرے سامنے حاضر ہوں اے میرے سردار
خاضِعٌ ذَلِیلٌ حَصِیرٌ حَقِیرٌ لاَ ذُو بَرائَةٍ فَأَعْتَذِرُ، وَلاَ ذُو قُوَّةٍ فَأَ نْتَصِرُ، وَلاَ حُجَّةٍ
میں پست عاجز قیدی بے مایہ ہوں نہ گناہ سے بری ہوں کہ عذر کروں اور نہ طاقت ہے کہ کامیاب ہو جاؤں نہ کوئی دلیل ہے
فَأَحْتَجُّ بِها وَلاَ قائِلٌ لَمْ أَجْتَرِحْ وَلَمْ أَعْمَلْ سُوئ اً، وَمَا عَسَی الْجُحُودُ وَلَوْ جَحَدْتُ
کہ وہ پیش کروں نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ گناہ نہیں کیا اور نہ یہ کہ برائی نہیں کی اس سے انکار کا کوئی راستہ نہیںاور اگر انکار کروں تو
یَا مَوْلایَ یَنْفَعُنِی، کَیْفَ وَأَنَّی ذلِکَ وَجَوارِحِی کُلُّها شاهِدَةٌ عَلَیَّ بِما قَدْ عَمِلْتُ،
اے میرے مولا اسکا کچھ فائدہ نہیں اور ایسا کیونکر ہو سکتا ہے جب میرے اعضا ئ مجھ پرگواہ ہیں کہ جو کچھ میں نے عمل کیا ہے اور میں
وَعَلِمْتُ یَقِیناً غَیْرَ ذِی شَکٍّ أَ نَّکَ سائِلِی مِنْ عَظائِمِ الاَُْمُورِ، وَأَ نَّکَ الْحَکَمُ الْعَدْلُ
جانتا ہوں یقین کے ساتھ جس میں شک نہیں ضرور تو بڑے معاملوں میں میری بازپرس کرے گا بلا شبہ تو انصاف کا فیصلہ دینے والا
الَّذِی لاَ تَجُورُ وَعَدْلُکَ مُهْلِکِی وَمِنْ کُلِّ عَدْلِکَ مَهْرَبِی فَ إنْ تُعَذِّبْنِی
ہے کہ جو زیادتی نہیں کرتا تیرا انصاف مجھے نابود کردے گا اور میں تیرے ہر عدل سے ڈرتا بھاگتا ہوں پس اگر تو مجھے عذاب دے
یَا إلهِی فَبِذُنُوبِی بَعْدَ حُجَّتِکَ عَلَیَّ، وَ إنْ تَعْفُ عَنِّی فَبِحِلْمِکَ
اے میرے اللہ تو وہ میرے گناہوں کی وجہ سے مجھ پر تیری حجت ہے اور اگر تو مجھے معاف فرما دے تو یہ تیری طرف مہربانی تیری
وَجُودِکَ وَکَرَمِکَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، لاَ إلهَ
بخشش اور تیرے کرم کا نتیجہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں ستم کاروں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود
إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ
نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں معافی مانگنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں
الْمُوَحِّدِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْخائِفِینَ، لاَ إلهَ
توحید پرستوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں تجھ سے ڈرنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا
إلاَّ أَ نْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْوَجِلِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ
کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں خوف رکھنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں
الرَّاجِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الرَّاغِبِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ
امیدواروں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں توجہ کرنے والوں میں سے ہوں تیرے سوا کوئی معبود
أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُهَلِّلِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ
نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں نام لیواؤں میں ہوںنہیں کوئی معبود سوائے تیرے تو پاک تر ہے بے شک میں سوال کرنے والوں
السَّائِلِینَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ
میں ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں تسبیح کرنے والوں میں ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے
إنِّی کُنْتُ مِنَ الْمُکَبِّرِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ رَبِّی وَرَبُّ آبائِیَ الْاَوَّلِینَ
بے شک میں تکبیر کہنے والوں میں ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے کہ میرا رب اور میرے پہلے بزرگوں کا رب ہے
اَللّٰهُمَّ هذَا ثَنایِی عَلَیْکَ مُمَجِّداً، وَ إخْلاصِی لِذِکْرِکَ مُوَحِّداً، وَ إقْرارِی
اے معبودمیری طرف سے یہ تیری ثنائ ہے تیری شان بیان کرتے ہوئے یہ تیرے ذکر کے بارے میں میرا خلوص توحید کو مانتے ہوئے
بِآلائِکَ مُعَدِّداً، وَ إنْ کُنْتُ مُقِرّاً أَنِّی لَمْ أُحْصِها لِکَثْرَتِها
اور میری طرف سے یہ تیری مہربانیوں کا اقرار ہے ان کو شمار کرتے ہوئے اگرچہ یہ مانتا ہوں کہ میں ان کا شمار نہیں کرسکتا کیونکہ وہ
وَسُبُوغِها وَتَظاهُرِها وَتَقادُمِها إلی حادِثٍ مَا لَمْ تَزَلْ تَتَعَهَّدُنِی بِهِ مَعَها مُنْذُ
زیادہ ہیں اور بہت سی ہیں وہ عیاں ہیں اور پہلے سے اب تک مل رہی ہیں تو نے مجھ کو یہ نعمات دینے میں ہمیشہ یاد رکھا ہے جب سے
خَلَقْتَنِی وَبَرَأْتَنِی مِنْ أَوَّلِ الْعُمْرِ مِنَ الْاِغْنائِ مِنَ الْفَقْرِ، وَکَشْفِ الضُّرِّ، وَتَسْبِیبِ
تو نے مجھے پیدا کیا اور اول عمر میں مجھے بے مائیگی میں تو نگری کا حصہ عنایت فرمایا تنگدستی سے بچایا آسائش کے اسباب
الْیُسْرِ، وَدَفْعِ الْعُسْرِ، وَتَفْرِیجِ الْکَرْبِ، وَالْعافِیَةِ فِی الْبَدَنِ، وَالسَّلامَةِ فِی الدِّینِ،
فراہم کیے اور سختی دور فرمائی مصیبت سے چھٹکارا دلایا جسمانی صحت نصیب کی اور دین و ایمان پر پوری طرح قائم رکھا
وَلَوْ رَفَدَنِی عَلَی قَدْرِ ذِکْرِ نِعْمَتِکَ جَمِیعُ الْعالَمِینَ مِنَ الْأَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ مَا قَدَرْتُ
اور اگر تیری نعمتوں کا اندازہ کرنے کیلئے دنیا جہان کے لوگ اولین اور آخرین میں سے میرا ساتھ دیں تو بھی میں اندازہ نہ کر سکوں گا
وَلاَ هُمْ عَلَی ذلِکَ، تَقَدَّسْتَ وَتَعالَیْتَ مِنْ رَبٍّ کَرِیمٍ عَظِیمٍ رَحِیمٍ لاَ تُحْصیٰ آلاؤُکَ
اور نہ ہی وہ اندازہ کرسکیں گے تو پاکیزہ ہے اور بلند تر ہے اے پروردگار شان والا بڑائی والا رحم والا تیری مہربانیوں کا شمار نہیں
وَلاَ یُبْلَغُ ثَناؤُکَ، وَلاَ تُکافی نَعْماؤُکَ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَتْمِمْ عَلَیْنا
تیری تعریف کا حق ادا نہیں ہو پاتا اور تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دیا جاسکتا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور ہم پر اپنی نعمتیں پوری فرما
نِعَمَکَ، وَأَسْعِدْنا بِطاعَتِکَ، سُبْحانَکَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ تُجِیبُ الْمُضْطَرَّ
اپنی بندگی کے ساتھ خوش بخت بنا دے پاک تر ہے تو تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے اللہ تو بے شک لاچار کی دعا قبول کرتا ہے
وَتَکْشِفُ السُّوئَ وَتُغِیثُ الْمَکْرُوبَ وَتَشْفِی السَّقِیمَ وَتُغْنِی الْفَقِیرَ وَتَجْبُرُ الْکَسِیرَ
برائی دور کرتا ہے مصیبت زدہ کی فریاد کو پہنچتا ہے بیمار کو صحت دیتا ہے مفلس کو مال دیتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے
وَتَرْحَمُ الصَّغِیرَ، وَتُعِینُ الْکَبِیرَ، وَلَیْسَ دُونَکَ ظَهِیرٌ، وَلاَ فَوْقَکَ قَدِیرٌ ، وَأَ نْتَ
چھوٹے پر رحم کرتا ہے بڑے کی مدد کرتا ہے اور تیرے سوا کوئی سہار ہ دینے والا نہیں ہے اور تجھ پر کوئی بالادست نہیں ہے تو برتر
الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ یَا مُطْلِقَ الْمُکَبَّلِ الْاَسِیرِ یَا رازِقَ الطِّفْلِ الصَّغِیرِ، یَا عِصْمَةَ الْخائِفِ
بزرگی والا ہے اے قیدی کو پھندے سے چھڑانے والے اے ننھے بچے کو روزی دینے والے اے ڈرے ہوئے پناہ کے طالب کو
الْمُسْتَجِیرِ، یَا مَنْ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَلاَ وَزِیرَ ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَعْطِنِی
بچانے والے اے وہ ذات جس کا کوئی ثانی نہیں نہ کوئی وزیر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور آج کی شب مجھے اس
فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ أَفْضَلَ مَا أَعْطَیْتَ وَأَنَلْتَ أَحَداً مِنْ عِبادِکَ مِنْ نِعْمَةٍ تُولِیها وَآلائٍ
سے بہتر دے جو تو نے کسی کو دیا ہے اور اپنے بندوں میں سے کسی کو کوئی نعمت عطا فرمائی اور جو مہربانیاں
تُجَدِّدُها وَبَلِیَّةٍ تَصْرِفُها وَکُرْبَةٍ تَکْشِفُها وَدَعْوَةٍ تَسْمَعُها وَحَسَنَةٍ تَتَقَبَّلُها وَسَیِّئَةٍ
کسی پر کی ہیں اور جو سختی دور کی ہے جو مصیبت ہٹائی ہے جو دعا تو نے سنی ہے جو نیکی قبول کی ہے اور جو برائی
تَتَغَمَّدُها، إنَّکَ لَطِیفٌ بِما تَشائُ خَبِیرٌ وَعَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ أَقْرَبُ مَنْ
معاف کی ہے بے شک جس پر چاہے تو لطف کرتا ہے اور خبر رکھتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ بے شک تو قریب تر ہے
دُعِیَ، وَأَسْرَعُ مَنْ أَجابَ، وَأَکْرَمُ مَنْ عَفا، وَأَوْسَعُ مَنْ أَعْطیٰ، وَأَسْمَعُ مَنْ
جسے پکارا جاتا ہے تو تیز تر ہے جو قبول کرتا ہے معاف کرنے والوں میں بہترین عطا کرنے والوں میں زیادہ عطا والا اور سوالی کی
سُئِلَ، یَا رَحْمنَ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ وَرَحِیمَهُما، لَیْسَ کَمِثْلِکَ مَسْؤُولٌ، وَلاَ
بہت سننے والا اے دنیا و آخرت میں رحم کرنے والے اور دونوں جگہ پر مہربان کوئی تیرے جیسا نہیں جس سے سوال کیا جائے اور
سِواکَ مَأْمُولٌ، دَعَوْتُکَ فَأَجَبْتَنِی، وَسَأَلْتُکَ فَأَعْطَیْتَنِی، وَرَغِبْتُ إلَیْکَ
سوائے تیرے کوئی نہیں جس پر امید رکھی جائے میں نے دعا کی تو نے قبول کی میں نے مانگا پس تو نے عطا کیا میں نے تیری طرف
فَرَحِمْتَنِی، وَوَثِقْتُ بِکَ فَنَجَّیْتَنِی، وَفَزِعْتُ إلَیْکَ فَکَفَیْتَنِی اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
توجہ کی پس تو نے رحمت فرمائی تیرا سہار الیا پس تو نے نجات دی میں تجھ سے ڈرا تو نے میری مدد فرمائی اے اللہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما
عَبْدِکَ وَرَسُو لِکَ وَنَبِیِّکَ وَعَلَی آلِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ أَجْمَعِینَ وَتَمِّمْ لَنا نَعْمائَکَ
جو تیرے بندے تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور انکی آل پر جو سب کے سب بے عیب اور پاک تر ہیں اور ہم پر اپنی نعمتیں پوری کر
وَهَنِّئْنا عَطائَکَ، وَاکْتُبْنا لَکَ شاکِرِینَ، وَلاَِلائِکَ ذاکِرِینَ، آمِینَ آمِینَ
اور ہم پر خوشگوار عطائیں فرما ہمیں اپنے شکر گزاروں میں رکھ دے اور اپنے احسانوں کا ذکر کرنے والوں میں رکھ ایسا ہی ہو ایسا ہی ہو
رَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ یَا مَنْ مَلَکَ فَقَدَرَ، وَقَدَرَ فَقَهَرَ، وَعُصِیَ فَسَتَرَ، وَ
اے جہانوں کے پروردگار اے اللہ اے وہ مالک جو باقدرت ہے اے با قدرت جو غالب ہے اے وہ جو نافرمانی کو ڈھانپتا ہے اور
اسْتُغْفِرَ فَغَفَرَ، یَا غایَةَ الطَّالِبِینَ الرَّاغِبِینَ وَمُنْتَهیٰ أَمَلِ الرَّاجِینَ، یَا مَنْ أَحاطَ
بخشش چاہنے پر بخشتا ہے اے طلبگاروں توجہ کرنے والوں کی امید گاہ اور آرزومندوں کے مقام آرزو اے وہ کہ جس کا علم
بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً، وَوَسِعَ الْمُسْتَقِیلِینَ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَحِلْماً اَللّٰهُمَّ إنَّا نَتَوَجَّهُ إلَیْکَ
ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور تو بہ کرنے والوں کے لئے محبت و مہربانی اور ملائمت سے جس کا دامن وسیع ہے اے اللہ ہم نے توجہ کی
فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ الَّتِی شَرَّفْتَها وَعَظَّمْتَها بِمُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ وَرَسُولِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ
ہے تیری طرف آج کی رات میں جسے تو نے بزرگی اور بڑائی دی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعے جو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مخلوقات میں
خَلْقِکَ وَأَمِینِکَ عَلَی وَحْیِکَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ السِّراجِ الْمُنِیرِ، الَّذِی أَ نْعَمْتَ بِهِ عَلَی
سے تیرے چنے ہوئے تیری وحی کے امانتدار بشارت دینے والے ڈرانے والے روشن چراغ ہیں جن کے وجود کو تو نے مسلمانوں
الْمُسْلِمِینَ وَجَعَلْتَهُ رَحْمَةً لِلْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما
کیلئے نعمت بنایا اور ان کو سارے جہانوں کے لئے رحمت قراردیا اے اللہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور ان کی آل پر جیسا کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
مُحَمَّدٌ أَهْلٌ لِذلِکَ مِنْکَ یَا عَظِیمُ فَصَلِّ عَلَیْهِ وَعَلَی آلِهِ الْمُنْتَجَبِینَ الطَّیِّبِینَ
تیری طرف سے اس کے لائق ہیں اے بزرگتر ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل کر جو سب کے سب بلند تر نیک نہاد
الطَّاهِرِینَ أَجْمَعِینَ، وَتَغَمَّدْنا بِعَفْوِکَ عَنَّا، فَ إلَیْکَ عَجَّتِ الْاَصْواتُ بِصُنُوفِ
اور پاک ہیں اور ہمیں معافی دیکر ہماری پردہ پوشی کر کیونکہ تیرے حضور فریادیں ہو رہی ہیں ہر ہر دیس کی
اللُّغاتِ، فَاجْعَلْ لَنَا اَللّٰهُمَّ فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ نَصِیباً مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تَقْسِمُهُ بَیْنَ عِبادِکَ
زبان میں پس اے اللہ آج کی رات میں ہر نیکی میں سے حصہ قراردے ہمارے لئے جو تو نے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کی نور
وَنُورٍ تَهْدِی بِهِ، وَرَحْمَةٍ تَنْشُرُها، وَبَرَکَةٍ تُنْزِلُها، وَعافِیَةٍ تُجَلِّلُها، وَرِزْقٍ تَبْسُطُهُ
میں جس سے ہدایت فرمائی رحمت میں جو عام کی برکت میں جو تو نے نازل کی عافیت کے لباس میں جو تو نے پہنایا رزق میں جو وسیع
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ أَقْلِبْنا فِی هذَا الْوَقْتِ مُنْجِحِینَ مُفْلِحِینَ مَبْرُورِینَ
کیا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے اللہ اس وقت ہمیں بدل کر بنا دے کامیاب ہو نے والے فلاح پانے والے پسندیدہ
غانِمِینَ، وَلاَ تَجْعَلْنا مِنَ الْقانِطِینَ، وَلاَ تُخْلِنا مِنْ رَحْمَتِکَ ، وَلاَ تَحْرِمْنا مَا
عمل والے اور نفع اٹھانے والے اور ہمیں مایوس ہونے والوں میں قرار نہ دے ہمیں اپنی رحمت سے دور نہ کر ہمیں اس چیز میں سے
نُؤَمِّلُهُ مِنْ فَضْلِکَ، وَلاَ تَجْعَلْنا مِنْ رَحْمَتِکَ مَحْرُومِینَ، وَلاَ لِفَضْلِ مَا نُؤَمِّلُهُ مِنْ
محروم نہ فرما جس کی تیرے فضل میں سے امید کریں اور ہم کو اپنی رحمت سے محروم و خالی قرارنہ دے تیری عطا میں سے جس عنایت
عَطائِکَ قانِطِینَ وَلاَ تَرُدَّنا خائِبِینَ، وَلاَ مِنْ بابِکَ مَطْرُودِینَ، یَا أَجْوَدَ
کی امید کریں اس سے مایوس نہ فرما ہمیں ناکام کرکے نہ پلٹا اور اپنی بارگاہ سے دھتکارے ہوئے قرار نہ دے اے بہت عطاوالوں
الْاََجْوَدِینَ، وَأَکْرَمَ الْاََکْرَمِینَ، إلَیْکَ أَقْبَلْنا مُوقِنِینَ، وَ لِبَیْتِکَ الْحَرامِ آمِّینَ
میں بڑی عطا والے اور عزت داروں میں بڑی عزت والے ہم تیری درگاہ میں لوٹ کے آئے ہیں معتقد بن کر ہم تیرے محترم گھر
قاصِدِینَ، فَأَعِنَّا عَلَی مَناسِکِنا، وَأَکْمِلْ لَنا حَجَّنا، وَاعْفُ عَنَّا وَعافِنا، فَقَدْ
کعبہ میں پکار کرتے ہوئے آئے ہیں پس اعمال حج میں ہماری مدد فرما اور ہمارا حج مکمل کرادے ہمیں معاف فرما پناہ دے کہ ہم نے
مَدَدْنا إلَیْکَ أَیْدِیَنا فَهِیَ بِذِلَّةِ الاعْتِرافِ مَوْسُومَةٌ اَللّٰهُمَّ فَأَعْطِنا فِی هذِهِ الْعَشِیَّةِ
اپنے ہاتھ تیرے آگے پھیلائے ہیں کہ جن پر گناہوں کے اقرارو اعتراف کے نشان ہیں اے اللہ پس ہمیں آج کی رات میں جو ہم
مَا سَأَلْناکَ، وَاکْفِنا مَا اسْتَکْفَیْناکَ، فَلا کافِیَ لَنا سِواکَ، وَلاَ رَبَّ لَنا غَیْرُکَ، نافِذٌ
نے تجھ سے مانگا عطا فرما تمام کاموں میں ہماری مدد کر کہ تیرے سوا کوئی ہماری کفایت کرنے والا نہیں اور سوائے تیرے کوئی ہمارا
فِینا حُکْمُکَ، مُحِیطٌ بِنا عِلْمُکَ، عَدْلٌ فِینا قَضاؤُکَ، اقْضِ لَنَا الْخَیْرَ، وَاجْعَلْنا مِنْ
رب نہیں کہ تیرا حکم ہی ہم پر جاری ہے تیرا علم ہمیں گھیرے ہوئے ہے ہمارے لئے تیرا فیصلہ درست ہے ہمارے لئے اچھا فیصلہ کر
أَهْلِ الْخَیْرِ اَللّٰهُمَّ أَوْجِبْ لَنا بِجُودِکَ عَظِیمَ الْاَجْرِ، وَکَرِیمَ الذُّخْرِ، وَدَوامَ الْیُسْرِ،
اور ہمیں نیکوکارں میں سے قراردے اے اللہ ہمارے لئے اپنی عطا سے بہت بڑا اجر بہترین ذخیرہ اور ہمیشہ کی آسائش واجب
وَاغْفِرْ لَنا ذُ نُوبَنا أَجْمَعِینَ، وَلاَ تُهْلِکْنا مَعَ الْهالِکِینَ، وَلاَ تَصْرِفْ عَنَّا رَأْفَتَکَ
کردے ہمارے سارے کے سارے گناہ بخش دے اور ہمیں تباہ ہونے والوں کے ساتھ تباہ نہ کر اور اپنی مہربانی اور رحمت
وَرَحْمَتَکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنا فِی هذَا الْوَقْتِ مِمَّنْ سَئَلَکَ
ہم سے دور نہ فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے اللہ اس وقت ہمیں ان لوگوں میںقراردے جنہوں نے تجھ سے مانگا تو
فَأَعْطَیْتَهُ،وَشَکَرَکَ فَزِدْتَهُ، وَثابَ إلَیْکَ فَقَبِلْتَهُ، وَتَنَصَّلَ إلَیْکَ مِنْ ذُ نُوبِهِ کُلِّها
نے عطا کیا جنہوں نے شکر کیا تو نے زیادہ دیا تیری طرف پلٹے تو نے انہیں قبول کیا اپنے گناہوں کے ساتھ تیری طرف آئے
فَغَفَرْتَها لَهُ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ اَللّٰهُمَّ وَنَقِّنا وَسَدِّدْناوَاقْبَلْ تَضَرُّعَنا، یَا خَیْرَ
تو ان کے سبھی گناہ معاف کردیئے اے جلالت و عزت کے مالک اے اللہ ہمیں پاک کر ہماری رہنمائی فرما اور ہماری زاری قبول کر
مَنْ سُئِلَ، وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ، یَا مَنْ لاَ یَخْفی عَلَیْهِ إغْماضُ الْجُفُونِ، وَلاَ
اے بہترین سوال شدہ اور طلب رحمت پر زیادہ رحمت کرنے والے اے وہ جس پر پوشیدہ نہیں ہے پلک کا جھپکنا نہ
لَحْظُ الْعُیُونِ، وَلاَ مَا اسْتَقَرَّ فِی الْمَکْنُونِ، وَلاَ مَا انْطَوَتْ عَلَیْهِ مُضْمَراتُ الْقُلُوبِ
آنکھوں کا اشارہ نہ وہ چیز جو پردے کے نیچے ہو اور نہ وہ بات جو دلوں کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہو ہاں ان
أَلاَ کُلُّ ذلِکَ قَدْ أَحْصاهُ عِلْمُکَ وَوَسِعَهُ حِلْمُکَ سُبْحانَکَ وَتَعالَیْتَ عَمَّا یَقُولُ الظَّالِمُونَ
سب کو تیرے علم نے شمار کررکھا ہے اور تیری نرمی ان پر چھائی ہوئی ہے تو پاک تر اور بلند تر ہے اس سے جو ناحق کہنے والے کہتے ہیں
عُلُوّاً کَبِیراً، تُسَبِّحُ لَکَ السَّماواتُ السَّبْعُ وَالْاََرَضُونَ وَمَنْ فِیهِنَّ وَ إنْ مِنْ شَیْئٍ
تو بلندتر بزرگتر ہے تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان میں ہے نہیں کوئی چیز موجود ہے مگر
إلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ وَالْمَجْدُ وَعُلُوُّ الْجَدِّ، یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ،
وہ تیری حمد کررہی ہے پس حمد تیرے لئے ہے اے بزرگی بلند شان اے جلالت و عزت کے مالک فضل
وَالْفَضْلِ وَالْاِنْعامِ، وَالْاَیادِی الْجِسامِ، وَأَ نْتَ الْجَوادُ الْکَرِیمُ، الرَّؤُوفُ الرَّحِیمُ
کرنے والے نعمت دینے والے بڑی بڑی عطائیں کرنے والے اور تو بخشش کرنے والا کرم کرنے والا نرمی کرنے والا مہربان ہے
اَللّٰهُمَّ أَوْسِعْ عَلَیَّ مِنْ رِزْقِکَ الْحَلالِ، وَعافِنِی فِی بَدَنِی وَدِینِی، وَآمِنْ خَوْفِی،
اے اللہ میرے لئے اپنا رزق حلال وسیع فرما میرے بدن اور میرے دین کی حفاظت فرما مجھے خوف سے بچا اور میری گردن کو جہنم کی
وَأَعْتِقْ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ اَللّٰهُمَّ لاَ تَمْکُرْ بِی وَلاَ تَسْتَدْرِجْنِی وَلاَ تَخْدَعْنِی، وَادْرَ
آگ سے آزاد کردے اے اللہ مجھے غلط فہمی میں نہ ڈال دھوکے میں نہ رکھ مجھے فریب نہ کھانے دے اور نابکار
أْعَنِّی شَرَّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ
جنّوں اور انسانوں کو مجھ سے دور کر دے ۔
پھر آپ نے اپنے سر اور انکھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا جبکہ آپ کی انکھوں سے آنسو رواں تھے اور آپ با آواز بلند عرض کر رہے تھے:
یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ وَیَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ وَیَا أَرحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ سننے والے اے سب سے زیادہ دیکھنے والے اے سب سے تیز ترحساب کرنے والے اے سب سے زیادہ رحم
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ السَّادَةِ الْمَیامِینِ وَأَسْأَ لُکَ اَللّٰهُمَّ حاجَتِیَ الَّتِی إنْ
کرنے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما جو برکت والے سردار ہیں اورمیں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ اپنی اس حاجت کا
أَعْطَیْتَنِیها لَمْ یَضُرَّنِی مَا مَنَعْتَنِی، وَ إنْ مَنَعْتَنِیها لَمْ یَنْفَعْنِی مَا أَعْطَیْتَنِی، أَسْأَ لُکَ
کہ اگر تو وہ عطا کردے تو جو کچھ تو نے نہیں دیا اس سے مجھے نقصان نہیں اور اگر تو وہ عطا نہ کرے تو جو تونے دیا اس سے مجھے کوئی نفع
فَکاکَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ لَکَ الْمُلْکُ
نہیں سوال کرتا ہوں کہ میری گردن جہنم سے آزاد کردے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں تیرے لئے حکومت
وَلَکَ الْحَمْدُ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، یَا رَبِّ یَا رَبِّ،
تیرے لئے حمد ہے اور تو ہر ایک چیز پر قدرت رکھتا ہے اے میرے رب اے میرے رب اے میرے رب۔
حضرت امام حسین -بار بار یارب یارب کہتے رہے جب کہ آپکے اردگرد کھڑے لوگ آپکی دعا سنتے ہوئے آمین کہتے رہے یہاں تک کہ آپکے ساتھ ساتھ ان سب کی رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں ،غروب آفتاب تک یہی حالت رہی پھر سب لوگ مشعر الحرام روانہ ہو گئے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ بلدالامین میں کفعمی نے امام حسین -کی دعائے عرفہ اس قدر نقل کی ہے جو اوپر ذکر ہوئی ہے اور زادالمعاد میں علامہ مجلسی نے بھی کفعمی کی روایت کے مطابق یہ دعا یہیں تک ذکر کی ہے ،لیکن ابن طاؤس نے یارب یارب کے بعد یہ اضافی کلمات بھی تحریر فرمائے ہیں۔
إلهِی أَنَا الْفَقِیرُ فِی غِنایَ فَکَیْفَ لاَ أَکُونُ فَقِیراً فِی فَقْرِی إلهِی أَنَا الْجاهِلُ فِی
میرے اللہ میں اپنی تونگری میں بھی محتاج ہوں تو اپنے فقر کی حالت میں کیوں نہ محتاج ہوں گا میرے اللہ میں علم رکھتے ہوئے
عِلْمِی فَکَیْفَ لاَ أَکُونُ جَهُولاً فِی جَهْلِی إلهِی إنَّ اخْتِلافَ تَدْبِیرِکَ وَسُرْعَةَ طَوائِ
بھی جاہل ہوں تو اپنی جہالت میں کیوں نہ جاہل ہوں گا اے اللہ بے شک تیری تدبیر کے تغیر و تبدل اور تیری جلد وارد ہونے والی
مَقادِیرِکَ مَنَعا عِبادَکَ الْعارِفِینَ بِکَ عَنِ السُّکُونِ إلی عَطائٍ وَالْیَأْسِ مِنْکَ فِی بَلائٍ
تقدیر نے تیری معرفت رکھنے والے بندوں کو ہے تیری عطا کی امید نہ رکھنے اور مشکل کے وقت تجھ سے مایوس ہو جانے سے روکا ہوا ہے
إلهِی مِنِّی مَا یَلِیقُ بِلُؤْمِی وَمِنْکَ مَا یَلِیقُ بِکَرَمِکَ إلهِی وَصَفْتَ
میرے اللہ میں نے وہ کیا جو میری پستی کا تقاضہ ہے اور تو وہ کرے گا جو تیری بڑائی کے لائق ہے میرے اللہ میری کمزوری سے پہلے
نَفْسَکَ بِاللُّطْفِ وَالرَّأْفَةِ لِی قَبْلَ وُجُودِ ضَعْفِی أَفَتَمْنَعُنِی مِنْهُما بَعْدَ وُجُودِ ضَعْفِی
ہی تیری ذات لطف و کرم کے اوصاف رکھتی ہے تو کیا میری کمزوری کے بعد مجھ سے تو یہ مہربانیاں روک دے گا
إلهِی إنْ ظَهَرَتِ الْمَحاسِنُ مِنِّی فَبِفَضْلِکَ وَلَکَ الْمِنَّةُ عَلَیَّ وَ إنْ ظَهَرَتِ الْمَساوئُ
میرے اللہ اگر مجھ سے نیکیاں ظاہر ہوئیں تو یہ تیرا فضل ہے اور مجھ پر یہ تیرا احسان ہے اور اگر مجھ سے برائیوں کا ظہور ہوا ہے تو یہ تیرا
مِنِّی فَبِعَدْلِکَ وَلَکَ الْحُجَّةُ عَلَیَّ إلهِی کَیْفَ تَکِلُنِی وَقَدْ تَکَفَّلْتَ لِی وَکَیْفَ أُضامُ
عدل ہے اور مجھ پر تیری حجت قائم ہو گئی ہے میرے اللہ کیسے تو مجھ کو چھوڑ دے گا جب کہ تو میرا کفیل ہے کیونکر میں روند دیا جاؤں
وَأَنْتَ النَّاصِرُلِی أَمْ کَیْفَ أَخِیبُ وَأَنْتَ الْحَفِیُّ بِی ها أَنَا أَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِفَقْرِی إلَیْکَ
جب کہ تو میرا مددگار ہے یا کیسے بے آس ہوجاؤں جب کہ تو مجھ پر مہربان ہے اب میں تیری درگاہ میں اپنے فقر کے ساتھ آیا ہوں
وَکَیْفَ أَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِمَا هُوَ مَحالٌ أَنْ یَصِلَ إلَیْکَ أَمْ کَیْفَ أَشْکُو إلَیْکَ حالِی
اور کسطرح تجھے اپنا وسیلہ بناؤں جب کہ یہ ناممکن ہے کہ کوئی تجھ تک پہنچ پائے یا کیونکر تجھ سے اپنے حالات کی شکایت کروں جب کہ
وَهُوَ لاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ أَمْ کَیْفَ أُتَرْجِمُ بِمَقالِی وَهُوَ مِنْکَ بَرَزٌ إلَیْکَ أَمْ کَیْفَ تُخَیِّبُ
وہ تجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں یا کسطرح اپنی زبان سے ان کی تشریح کروں جب کہ وہ تیری طرف سے اور تجھ پر عیاں ہیں یا کیونکر میری
آمالِی وَهِیَ قَدْ وَفَدَتْ إلَیْکَ أَمْ کَیْفَ لاَ تُحْسِنُ أَحْوالِی وَبِکَ
آرزوئیں ناکام رہیں گی جب کہ یہ تیرے جناب میں پیش کی جا چکی ہیں یا کیونکر میرے حالات بہتر نہ ہونگے جب کہ میں تیری وجہ
قامَتْ إلهِی مَا أَلْطَفَکَ بِی مَعَ عَظِیمِ جَهْلِی وَمَا أَرْحَمَکَ بِی مَعَ قَبِیحِ فِعْلِی
سے قائم ہوں میرے اللہ تیرا کتنا لطف ہے مجھ پر جبکہ میں بڑا ہی نادان ہوں اور تو کس قدر مہربان ہے مجھ پر جبکہ میں خطاکار ہوں
إلهِی مَا أَقْرَبَکَ مِنِّی وَأَبْعَدَنِی عَنْکَ وَمَا أَرْأَ فَکَ بِی فَمَا الَّذِی یَحْجُبُنِی عَنْکَ
میرے اللہ تو کتنا نزدیک ہے مجھ سے جبکہ میں تجھ سے بہت دور ہوں اور کتنا مہربان ہے تو مجھ پر پھر کس نے مجھے تجھ سے ہٹا دیا ہے
إلهِی عَلِمْتُ بِاِخْتِلافِ الْآثارِ وَتَنَقُّلاتِ الْآطْوارِ، أَنَّ مُرادَکَ مِنِّی أَنْ تَتَعَرَّفَ إلَیَّ
میرے اللہ دنیا کے حالات کی تبدیلیوں اور طریقوں کے تغیرات کے ذریعے میں جان گیا کہ تیری مراد یہ ہے کہ تو ہر چیز سے مجھے اپنی
فِی کُلِّ شَیْئٍ حَتَّی لا أَجْهَلَکَ فِی شَیْئٍ إلهِی کُلَّما أَخْرَسَنِی لُؤْمِی أَنْطَقَنِی
شناسائی کرائے تاکہ میں کسی چیز کے ضمن میں تیری قدرت سے ناواقف نہ رہوں میرے اللہ جب میری پستی مجھے گنگ کر دیتی ہے تو
کَرَمُکَ وَکُلَّما آیَسَتْنِی أَوْصافِی أَطْمَعَتْنِی مِنَنُکَ إلهِی
تیرا کرم مجھے گویا کر دیتا ہے جب بھی میرے برے اوصاف مجھے مایوس کرتے ہیں تیرے احسان مجھے حوصلہ دیتے ہیں میرے اللہ
مَنْ کانَتْ مَحاسِنُهُ مَساوِیََ فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ مَساویُهُ مَساوِیََ وَمَنْ کانَتْ حَقائِقُهُ
جس شخص کی خوبیاں بھی برائیاں ہوں تو اس کی برائیاں کیوں نہ برائیاں شمار کی جائیں گی اور جس شخص کی حقیقت ہی محض
دَعاوِیَ فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ دَعاواهُ دَعاوِیَ إلهِی حُکْمُکَ النَّافِذُ وَمَشِیئَتُکَ الْقاهِرَةُ
کھوکھلی باتیں ہوں تو اس کی خالی خولی باتیں کیوں نہ محض باتیں تصور کی جائیں گی میرے اللہ تیرا حکم جاری ہے اور تیری مرضی قاہر
لَمْ یَتْرُکا لِذِی مَقالٍ مَقالاً، وَلاَ لِذِی حالٍ حالاً إلهِی کَمْ مِنْ طاعَةٍ
و غالب ہے کہ ان کے مقابل بولنے والا بول نہیں سکتا اور نہ کوئی صاحب حال کچھ کرسکتا ہے میرے اللہ کتنی ہی بار میں نے اطاعت
بَنَیْتُها، وَحالَةٍ شَیَّدْتُها هَدَمَ اعْتِمادِی عَلَیْها عَدْلُکَ، بَلْ أَقالَنِی مِنْها
کرتے ہوئے عبادت کی شکل بنائی ہے مگر تیرے عدل کے خوف سے اس پر میرا بھروسہ نہ رہا بلکہ وہ تیرے فضل سے میری بخشش کا
فَضْلُکَ إلهِی إنَّکَ تَعْلَمُ أَ نِّی وَ إنْ لَمْ تَدُمِ الطَّاعَةُ مِنِّی فِعْلاً جَزْماً فَقَدْ دامَتْ
ذریعہ بنی میرے اللہ بے شک تو جانتا ہے اگرچہ میں عبادت میں مستقلاً مشغول نہیں ہوں تو بھی تجھ سے میری محبت
مَحَبَّةً وَعَزْماً إلهِی کَیْفَ أَعْزِمُ وَأَ نْتَ الْقاهِرُ وَکَیْفَ لاَ أَعْزِمُ وَأَ نْتَ الْاَمِرُ إلهِی
ہمیشہ راسخ ہے میرے اللہ کس قدر بندگی کا ارادہ کروں جب کہ تو غالب ہے اور کیونکر ارادہ نہ کروں جب کہ تو حکم دیتا ہے میرے اللہ
تَرَدُّدِی فِی الْاَثارِ یُوجِبُ بُعْدَ الْمَزارِ فَاجْمَعْنِی عَلَیْکَ بِخِدْمَةٍ تُوصِلُنِی إلَیْکَ کَیْفَ
تیری قدرت کے آثار میں غور کرنا تیرے دیدار سے دوری کا سبب ہے پس مجھے اپنے حضور حاضر رکھ تیری سرکار میں پہنچ پاؤں کیونکر
یُسْتَدَلُّ عَلَیْکَ بِما هُوَ فِی وُجُودِهِ مُفْتَقِرٌ إلَیْکَ أَیَکُونُ لِغَیْرِکَ مِنَ الظُّهُورِ مَا لَیْسَ
وہ چیز تیری طرف رہنمائی کر سکتی ہے جو اپنے وجود ہی میں تیری محتاج ہے آیا تیرے غیر کیلئے ایسا ظہور ہے جو تیرے لئے نہیں ہے
لَکَ حَتَّی یَکُونَ هُوَ الْمُظْهِرَ لَکَ مَتی غِبْتَ حَتَّی تَحْتاجَ إلی دَلِیلٍ یَدُلُّ عَلَیْکَ وَمَتی
یہاں تک کہ وہ تجھے ظاہر کرنے والا بن جائے تو کب غائب تھا کہ کسی ایسے نشان کی حاجت ہو جو تیری دلیل ٹھہرے اور تو کب دور
بَعُدْتَ حَتَّی تَکُونَ الْاَثارُ هِیَ الَّتِی تُوصِلُ إلَیْکَ عَمِیَتْ عَیْنٌ لاَ تَراکَ عَلَیْها رَقِیباً
تھا کہ آثار اور نشان تجھ تک پہنچانے کا ذریعہ و وسیلہ بنیں اندھی ہے وہ آنکھ جو تجھ کو اپنا نگہبان نہیں پاتی اس
وَخَسِرَتْ صَفْقَةُ عَبْدٍ لَمْ تَجْعَلْ لَهُ مِنْ حُبِّکَ نَصِیباً إلهِی أَمَرْتَ بِالرُّجُوعِ إلَی
بندے کا سودہ خسارے والا ہے جس کو تو نے اپنی محبت کا حصہ نہیں دیا میرے اللہ تو نے اپنی قدرت کے آثار پر توجہ کا
الْاَثارِ فَأَرْجِعْنِی إلَیْکَ بِکِسْوَةِ الْاََ نْوارِ وَهِدایَةِ الاسْتِبْصارِ حَتَّی أَرْجِعَ إلَیْکَ
حکم کیا پس مجھ کو اپنے نور کے پردوں اور بصیرت کے راستوں کی طرف لے چل تاکہ اس کے ذریعے تیری
مِنْها کَما دَخَلْتُ إلَیْکَ مِنْها مَصُونَ السِّرِّ عَنِ النَّظَرِ إلَیْها، وَمَرْفُوعَ الْهِمَّةِ عَنِ
درگاہ میں آؤں جس طرح انہی کے ذریعے تیری طرف راہ پائی انہیں دیکھ کر راز حقیقت کی خبر پاؤں اور ان کے سہارے اپنی ہمت کو
الاعْتِمادِ عَلَیْها، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ إلهِی هذَا ذُ لِّی ظاهِرٌ بَیْنَ یَدَیْکَ، وَهذَا
بلند کروں بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے میرے اللہ یہ ہے میری پستی جو تیرے آگے عیاں ہے اور یہ ہے
حالِی لاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ مِنْکَ أَطْلُبُ الْوُصُولَ إلَیْکَ، وَبِکَ أَسْتَدِلُّ عَلَیْکَ فَاهْدِنِی
میری بری حالت جو تجھ سے پوشیدہ نہیں میں تیری بارگاہ میں پہنچنا چاہتا ہوں اور تجھ پر تجھی کو دلیل ٹھہراتا ہوں پس اپنے نور سے میری
بِنُورِکَ إلَیْکَ وَأَقِمْنِی بِصِدْقِ الْعُبُودِیَّةِ بَیْنَ یَدَیْکَ إلهِی عَلِّمْنِی مِنْ عِلْمِکَ الْمَخْزُونِ
اپنی طرف سے رہنمائی کر اور اپنے حضور مجھے سچی بندگی پر قائم رکھ میرے اللہ مجھے اپنے پوشیدہ علوم میں سے تعلیم دے
وَصُنِّی بِسِتْرِکَ الْمَصُونِ إلهِی حَقِّقْنِی بِحَقایِقِ أَهْلِ الْقُرْبِ، وَاسْلُکْ بِی مَسْلَکَ
اور اپنے محکم پردے کے ساتھ میری حفاظت کر میرے اللہ مجھے اپنے اہل قرب کے حقائق سے بہرہ ور فرما اور ان کی راہ پر ڈال جو
أَهْلِ الْجَذْبِ إلهِی أَغْنِنِی بِتَدْبِیرِکَ لِی عَنْ تَدْبِیرِی، وَبِاخْتِیارِکَ عَن إخْتِیارِی،
تیری طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں میرے اللہ اپنے تدبراور پسند کے ذریعے مجھے میرے تدبر اور پسند سے بے نیاز کردے اور
وَأَوْقِفْنِی عَلَی مَراکِزِ اضْطِرارِی إلهِی أَخْرِجْنِی مِنْ ذُلِّ نَفْسِی، وَطَهِّرْنِی مِنْ
پریشانی کے عالم میں مجھے ثابت قدم رکھ میرے معبود مجھے میرے نفس کی پستی سے نکال لے مجھے شک اور
شَکِّی وَشِرْکِی قَبْلَ حُلُولِ رَمْسِی بِکَ أَنْتَصِرُ فَانْصُرْنِی وَعَلَیْکَ أَتَوَکَّلُ فَلاتَکِلْنِی
شرک سے پاک کردے قبل اسکے کہ میں قبر میں جاؤں، تجھ سے مدد چاہتا ہوں میری مدد فرما تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں پس مجھے چھوڑ نہ
وَ إیَّاکَ أَسْئَلُ فَلا تُخَیِّبْنِی، وَفِی فَضْلِکَ أَرْغَبُ فَلا تَحْرِمْنِی، وَبِجَنابِکَ أَ نْتَسِبُ
دے تجھ سے مانگتا ہوں پس ناامید نہ کر تیرے فضل کی آس لگائی ہے پس مجھے محروم نہ کر تیری بارگاہ سے تعلق جوڑا ہے پس مجھے دور نہ
فَلا تُبْعِدْنِی، وَبِبابِکَ أَقِفُ فَلا تَطْرُدْنِی إلهِی تَقَدَّسَ رِضاکَ أَنْ یَکُونَ لَهُ عِلَّةٌ
فرما تیرا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں پس مجھے بھگا نہ دے میرے اللہ تیری رضا پاک ہے ممکن نہیں اس میں تیری طرف سے
مِنْکَ فَکَیْفَ یَکُونُ لَهُ عِلَّةٌ مِنِّی إلهِی أَ نْتَ الْغَنِیُّ بِذاتِکَ أَنْ یَصِلَ إلَیْکَ النَّفْعُ مِنْکَ
نقص آئے پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اسے نقص دار کہوں میرے اللہ تو اپنی ذات میں بے نیاز ہے اس سے کہ تجھے اپنی ذات سے نفع
فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ غَنِیّاً عَنِّی إلهِی إنَّ الْقَضائَ وَالْقَدَرَ یُمَنِّینِی، وَ إنَّ الْهَویٰ بِوَثائِقِ
پہنچے کیوں کر تو مجھ سے بے نیاز نہ ہوگا میرے اللہ قضا وقدر مجھ کو آرزومند بناتی ہے اور خواہش نفس مجھے آرزوؤں کا قیدی
الشَّهْوَةِ أَسَرَنِی فَکُنْ أَنْتَ النَّصِیرَ لِی حَتَّی تَنْصُرَنِی وَتُبَصِّرَنِی وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ
بنا لیتی ہے پس تو میرا مددگار بن جا تاکہ کامیاب ہو جاؤں بینا ہو جاؤں اور اپنے فضل سے مجھ کو بے نیاز کردے
حَتَّی أَسْتَغْنِیَ بِکَ عَنْ طَلَبِی أَنْتَ الَّذِی أَشْرَقْتَ الْاََ نْوارَ فِی قُلُوبِ أَوْلِیائِکَ حَتَّی
تاکہ تیرے ذریعے حاجت سے بے نیاز ہو جاؤں تو وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں کو نور کی شعاؤں سے روشن کردیا تو
عَرَفُوکَ وَوَحَّدُوکَ ، وَأَ نْتَ الَّذِی أَزَلْتَ الْاََغْیارَ عَنْ قُلُوبِ أَحِبَّائِکَ حَتَّی لَمْ یُحِبُّوا
انہوں نے تجھے پہچانا اور تجھے ایک مانا اور تو وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں سے غیروں کو دور کردیا تو وہ
سِواکَ وَلَمْ یَلْجَأُوا إلی غَیْرِکَ، أَ نْتَ الْمُؤْ نِسُ لَهُمْ حَیْثُ أَوْحَشَتْهُمُ الْعَوالِمُ
سوائے تیرے کسی سے محبت نہیں رکھتے اور تیرے غیر کی پناہ نہیں لیتے جب زمانہ ان کو ہراساں کرے اس وقت تو ہی انکا ہمدم ہے
وَأَنْتَ الَّذِی هَدَیْتَهُمْ حَیْثُ اسْتَبانَتْ لَهُمُ الْمَعالِمُ، مَاذا وَجَدَ مَنْ فَقَدَکَ وَمَا الَّذِی
اور تو وہ ہے جس نے ان کی رہنمائی کی جب وہ تیرے نشان و برھان سے دور ہوئے اس نے کیا پایاجس نے تجھے کھویا اور اس نے
فَقَدَ مَنْ وَجَدَکَ لَقَدْ خابَ مَنْ رَضِیَ دُونَکَ بَدَلاً وَلَقَدْ خَسِرَ مَنْ بَغیٰ عَنْکَ مُتَحَوِّلاً
کچھ نہ کھویا جس نے تجھ کو پایا اور یقینا ناکام ہوا جو تیری بجائے کسی اور کو پسند کرنے لگا اور وہ گھاٹے میں پڑا جو سرکشی کیساتھ تجھ سے پھر گیا
کَیْفَ یُرْجیٰ سِواکَ وَأَنْتَ مَا قَطَعْتَ الْاِحْسانَ وَکَیْفَ یُطْلَبُ مِنْ غَیْرِکَ وَأَنْتَ مَا
کس طرح تیرے غیر سے امید رکھی جا سکتی ہے جبکہ تیرا احسان و کرم رکتا ہی نہیں اور کیونکر تیرے غیر سے سو،ال کیا جاسکتا ہے جبکہ
بَدَّلْتَ عادَةَ الامْتِنانِ یَا مَنْ أَذاقَ أَحِبَّائَهُ حَلاوَةَ الْمُؤانَسَةِ فَقامُوا بَیْنَ یَدَیْهِ
تیرے فضل و احسان کرنے کی عادت میں تبدیلی نہیں آتی اور وہ جو اپنے دوستوںکو الفت کی مٹھاس چکھاتا ہے پس وہ اس کے حضور
مُتَمَلِّقِینَ وَیَا مَنْ أَلْبَسَ أَوْلِیائَهُ مَلابِسَ هَیْبَتِهِ فَقامُوا بَیْنَ یَدَیْهِ
تعریفیں کرتے کھڑے ہو جاتے ہیں اے وہ جو اپنے دوستوں کو اپنی ہیبت کا لباس پہناتا ہے تو وہ اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہیں
مُسْتَغْفِرِینَ، أَ نْتَ الذَّاکِرُ قَبْلَ الذَّاکِرِینَ، وَأَ نْتَ الْبادئُ بِالاحْسانِ قَبْلَ تَوَجُّهِ
بخشش مانگتے ہوئے تو یاد کرنے والوں سے پہلے انکو یاد رکھنے والا ہے تو احسان میں ابتدا کرنے والا ہیعبادت گزاروں کے توجہ کرنے
الْعابِدِینَ، وَأَنْتَ الْجَوادُ بِالْعَطائِ قَبْلَ طَلَبِ الطَّالِبِینَ، وَأَ نْتَ الْوَهَّابُ ثُمَّ لِما
سے پہلے تو عطا میں اضافہ کرنے والا ہے مانگنے والوں کے مانگنے سے پہلے تو بہت دینے والا ہے پھر اس میں سے بطور قرض مانگتا
وَهَبْتَ لَنا مِنَ الْمُسْتَقْرِضِینَ إلهِی اطْلُبْنِی بِرَحْمَتِکَ حَتَّی أَصِلَ إلَیْکَ وَاجْذِبْنِی
ہے جو کچھ تو نے ہمیں دیا ہے میرے اللہ اپنی رحمت سے مجھ کو بلا لے تاکہ میں تیرے حضور پہنچ سکوں مجھے اپنی طرف کھینچ لے
بِمَنِّکَ حَتَّی أُقْبِلَ عَلَیْکَ إلهِی إنَّ رَجائِی لاَ یَنْقَطِعُ عَنْکَ وَ إنْ عَصَیْتُکَ، کَما أَنَّ
تاکہ تیری بارگاہ میں آسکوں میرے اللہ بے شک میری آس تجھ سے نہیں ٹوٹے گی اگرچہ میں تیری نافرمانی کروں جیسا کہ میرا
خَوفِی لاَ یُزایِلُنِی وَ إنْ أَطَعْتُکَ، فَقَدْ دَفَعَتْنِی الْعَوالِمُ إلَیْکَ، وَقَدْ أَوْقَعَنِی عِلْمِی
خوف دور نہ ہوگا اگرچہ میں تیری اطاعت بھی کروں پس زمانے کی سختیوں نے مجھ کو تیری طرف دھکیل دیا اور تیری نوازش کے علم نے
بِکَرَمِکَ عَلَیْکَ إلهِی کَیْفَ أَخِیبُ وَأَ نْتَ أَمَلِی أَمْ کَیْفَ أُهانُ وَعَلَیْکَ مُتَّکَلِی
تیری بارگاہ میں پہنچا دیا میرے اللہ کیونکر ناامید ہو جاؤں جب کہ تو میری آرزو ہے یا کیسے پست ہوں گا جب کہ میرا بھروسہ تجھ پر ہے
إلهِی کَیْفَ أَسْتَعِزُّ وَفِی الذِّلَّةِ أَرْکَزْتَنِی أَمْ کَیْفَ لاَ أَسْتَعِزُّ وَ إلَیْکَ نَسَبْتَنِی
میرے اللہ کیسے عزت کا دعوی کروں جب کہ اس خواری میں تو نے مجھے یاد کیا یا کیسے عزت کا دعوا کروںمیری نسبت تیری طرف ہے
إلهِی کَیْفَ لاَ أَفْتَقِرُ وَأَنْتَ الَّذِی فِی الْفُقَرائِ أَقَمْتَنِی أَمْ کَیْفَ أَفْتَقِرُ وَأَنْتَ الَّذِی بِجُودِکَ
میرے اللہ کیونکر فقیر نہ بنوں جب کہ تو نے مجھے فقیروں کی صف میں رکھا ہے یا کسیے میں فقیر بنوں جب کہ تو نے مجھ کو اپنی عطا سے غنی
أَغْنَیْتَنِی وَأَنْتَ الَّذِی لاَ إلهَ غَیْرُکَ تَعَرَّفْتَ لِکُلِّ شَیْئٍ فَما جَهِلَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ
کیا ہوا ہے اور تو وہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے ہر چیز کو اپنی پہچان کرائی پس کوئی چیز نہیں جو تجھے پہچانتی نہ ہو اور تو وہ ہے
الَّذِی تَعَرَّفْتَ إلَیَّ فِی کُلِّ شَیْئٍ فَرَأَیْتُکَ ظاهِراً فِی کُلِّ شَیْئٍ، وَأَ نْتَ الظَّاهِرُ لِکُلِّ
جس نے ہر چیز کے ذریعے مجھے اپنی معرفت کرائی پس میں نے تجھے ہر چیز میں عیاں و نمایاں دیکھا اور تو ہر چیز پر ظاہر و آشکار
شَیْئٍ یَا مَنِ اسْتَویٰ بِرَحْمانِیَّتِهِ فَصارَ الْعَرْشُ غَیْباً فِی ذاتِهِ مَحَقْتَ الْآثارَ بِالْآثارِ
ہے اے وہ جو اپنی رحمت عامہ کیساتھ قائم ہے کہ عرش اس کی ذات میں نہاں ہو گیا ہے تو نے اپنی نشانیوں سے دیگر نشانیوں کو مٹا دیا
وَمَحَوْتَ الْأَغْیارَ بِمُحِیطاتِ أَ فْلاکِ الْاََ نْوارِ، یَا مَنِ احْتَجَبَ فِی سُرادِقاتِ عَرْشِهِ
تو نے اپنے غیروں کو نورانی آسمانوں کے حلقوں میں نابود کردیا اے وہ جو اپنے عرش کی چلمنوں میں پنہاں ہو گیا
عَنْ أَنْ تُدْرِکَهُ الْاََ بْصارُ، یَا مَنْ تَجَلَّیٰ بِکَمالِ بَهائِهِ فَتَحَقَّقَتْ عَظَمَتُهُ مِنَ الاسْتِوائَ
دیکھتی آنکھیں اسے دیکھ نہیں پاتیں اے وہ جس نے اپنے نورکامل کا جلوہ دکھایا تو اس کی عظمت قائم و برقرار
کَیْفَ تَخْفیٰ وَأَ نْتَ الظَّاهِرُ أَمْ کَیْفَ تَغِیبُ وَأَ نْتَ الرَّقِیبُ الْحاضِرُ إنَّکَ عَلَی کُلِّ
ہو گئی کیونکر پوشیدہ ہے تو جب کہ آشکار ہے یا کیسے تو پنہاں ہے جبکہ تو نگہبان اور حاضر ہے بے شک تو ہر چیز پر
شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَحْدَهُ
قدرت رکھتا ہے اور اللہ کیلئے حمد ہے جو یکتا ہے ۔
بہرحال جس کو خدا توفیق عطا فرما ئے اور وہ آج کے دن عرفات میں موجود ہو تو اس کیلئے آج کے دن کے بہت سے اعمال اور دعائیں ہیں ۔لیکن آج کے دن کی اہم ترین دعا ۔دعائے عرفہ ہے ۔دعا و مناجات کے لحاظ سے آج کا دن پورے سال کے دنوں میں ایک خاص امتیاز رکھتا ہے ۔پس اس روز اپنے زندہ و مردہ مومن بھائیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرنا چاہیے ۔
عبد اللہ بن جندب کی حالت کے بارے میں روایت مشہور ہے کہ وہ عرفات میں کیسے کھڑے ہوتے تھے۔ ان کی حالت کیا ہوتی تھی اور وہ اپنے مومن بھائیوں کے لئے کس طرح دعا کرتے تھے ۔نیز زید نرسی کی روایت میں ہے کہ ثقئہ جلیل معاویہ ابن وہب عرفات میں کس طرح کھڑے ہوتے اور کیسے اپنے ایک ایک مومن بھائی کے لئے دعا کرتے تھے ۔
علاوہ ازیں آج کے دن کی عظمت کے بارے میں انہوں نے امام جعفر صادق -سے بھی روایت کی ہے کہ اس روز دعا کرنا ایک بہترین اور پسندیدہ عمل ہے پس امید واثق ہے کہ برادران دینی اور بزرگواروں کی پیروی کرتے ہوئے اس روز اپنے مومن بھائیوں کیلئے دعا کرینگے اور مجھ گناہ گار کو میری زندگی اور موت ہر حال میں اپنی روز عرفہ کی دعا میں فراموش نہیں کرینگے ۔
آج کے دن تیسری زیارت جامع پڑھے ،جو گیارہویں فصل میں ہے اور اس دن کے آخری حصے میں یہ دعا پڑھے :
یَا رَبِّ إنَّ ذُ نُوبِی لاَ تَضُرُّکَ، وَ إنَّ مَغْفِرَتَکَ لِی لاَ تَنْقُصُکَ، فَأَعْطِنِیمَا لاَ
اے پروردگاربے شک میرے گناہ تجھے نقصان نہیں دیتے اور یقینا مجھ کو بخش دینے سے تیری عطا میں ہرگز کوئی کمی نہیں آتی پس مجھے
یَنْقُصُکَ، وَاغْفِرْ لِی مَا لاَ یَضُرُّکَپھر یہ بھی پڑھے : اَللّٰهُمَّ لاَ تَحْرِمْنِی خَیْرَ مَا
عطا کر کہ اس سے تجھے کمی نہیں آتی اور مجھے بخش دے کہ اس میں تیرا نقصان نہیں اے اللہ ! مجھے اپنی بھلائی سے محروم نہ کر
عِنْدَکَ لِشَرِّ مَا عِنْدِی، فَ إنْ أَ نْتَ لَمْ تَرْحَمْنِی بِتَعَبِی وَنَصَبِی فَلا تَحْرِمْنِی أَجْرَ
اس برائی کی وجہ سے جو میں نے کی پس اگر تو نے اس رنج اور تکلیف میںمجھ پر رحم نہیں کیا تو مجھے اس شخص جیسے اجر سے محروم نہ فرما
الْمُصابِ عَلَی مُصِیبَتِهِ
جس نے سختی پر سختی جھیلی ہو ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ روز عرفہ کی دعاؤں کے سلسلے میں سید ابن طاؤس نے غروب آفتاب کے وقت پڑھنے کے لئے اس دعا کا ذکر فرمایا ہے :
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَ سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ ﷲِیه دعا وہی دعا عشرات ہے جو قبل از یں چھٹی فصل میں ذکر ہو چکی ہے پس یہ دعا جو ہر صبح شام پڑھی جاتی ہے اس کو آخر روز عرفہ میں پڑھنا ترک نہ کرے ۔یہ دہ گانہ اذکار جن کو شیخ کفعمیرحمهالله نے نقل کیا ہے وہی اذکار ہیں جو سید نے بھی تحریر فرمائے ہیں ۔
اعمال شب وروز عید ضحی
دسویں ذی الحجہ کی رات
یہ بڑی عظمت و برکت والی رات ہے اور یہ ان چار راتوں میں سے ہے جن میں شب بیداری مستحب ہے آج کی رات آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں ،اس شب میں امام حسین- کی زیارت مستحب ہے اور یہ دعا’’یٰا دٰائِمَ الفَضْلِ عَلَیٰ الْبَرّیٰۃ ...‘‘کا پڑھنا بھی بہتر ہے جس کا ذکر شب جمعہ کے اعمال میں گذر چکا ہے ۔
دسویں ذی الحجہ کا دن
یہ روز عید قربان اور بڑی عظمت و بزرگی والا دن ہے ۔اس میں کئی ایک اعمال ہیں :
( ۱ )غسل: آج کے دن غسل کرنا سنت مؤکدہ ہے اور بعض علمائ تو اسکے واجب ہونے کے قائل ہیں۔
( ۲ )نماز عید:اس کا طریقہ بھی وہی ہے جو نماز عید الفطر کا ہے اور تفصیلی طور پر ذکر ہو چکا ہے اور بہتر ہے کہ آج کے دن بھی نماز عید کے بعد قربانی کے گوشت سے افطار کرے ۔
( ۳ )نماز عید سے قبل و بعد منقولہ دعائیں پڑھے :تاہم آج کے دن صحیفہ کاملہ کی اڑتالیسویں دعا پڑھنا بہت بہتر ہے جو اَلَّلھُمَّ ھَذَا یَوْمٌ مُبَارَکٌ سے شروع ہوتی ہے ۔نیز صحیفہ کاملہ کی چھیالیسویں دعا بھی پڑھے جس کا آغاز یَامَنْ یَرْحَمُ مَن لَا یَرْحَمُہُ الْعِبَادُ سے ہوتا ہے :
( ۴ )دعائ ندبہ پڑھے جو دسویں فصل میں ذکر ہو گی ۔
( ۵ )قربانی: قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے ۔
( ۶ ) تکبیرات:جو شخص منیٰ میں ہووہ روز عید کی نماز ظہر سے تیرھویں ذی الحجہ کی نماز فجر تک پندرہ نمازوں کے بعد تکبیریں پڑھے اور دیگر شہروں کے لوگ روز عید کی نماز ظہر سے بارھویں ذی الحجہ کی نماز فجر تک دس نماز وں کے بعد تکبیریں پڑھیں:
کافی کی صحیح روایت کے مطابق وہ تکبیریں یہ ہیں ۔
ﷲ أَکْبَرُ، ﷲ أَکْبَرُ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ، وَﷲ أَکْبَرُ، وَﷲ أَکْبَرُ، وَلِلّٰهِ
اللہ بزرگتر ہے اللہ بزرگتر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ بزرگتر ہے اللہ بزرگتر ہے اور اللہ ہی کے لئے
الْحَمْدُ ﷲ أَکْبَرُ عَلَی مَا هَدَانا، ﷲ أَکْبَرُ عَلَی مَا رَزَقَنا مِنْ بَهِیمَةِ الْاََنْعامِ وَالْحَمْدُ
حمد ہے اللہ بزرگتر ہے کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اللہ بزرگتر ہے کہ اس نے ہمیں روزی دی بے زبان چوپایوں میں سے اور حمد ہے
لِلّٰهِ عَلَی مَا أَیْْلاٰنٰا
ﷲ کیلئے کہ اس نے ہماری آزمائش کی ۔
یہ تکبیریں مذکورہ نمازوں کے بعد حتی الامکان بار بار پڑھنا مستحب ہیں ۔بلکہ نوافل کے بعد بھی پڑھے :
پندرھویں ذی الحجہ کا دن
یہ امام علی نقی -کا یوم ولادت ہے جو پندرہ ذی الحجہ ۲۱۲ ھ میں ہوئی تھی۔
اعمال شب وروز عید غدیر
اٹھارویں ذی الحجہ کی رات
یہ عید غدیر کی رات ہے جو بڑی عزت و عظمت کی حامل ہے ،سید نے کتاب اقبال میں اس رات کی بارہ رکعت نماز ذکر کی ہے ۔جو ایک سلام سے پڑھی جائے گی اس نماز کی ترکیب اور اس میں پڑھی جانے والی دعائیں کتاب اقبال میں ملاحظہ کریں ۔
اٹھارویں ذی الحجہ کا دن
یہ عید غدیر کا دن ہے جو خدائے تعالیٰ اور آل محمد ٪کی عظیم ترین عیدوں میں سے ہے ہر پیغمبر نے اس دن عید منائی اور ہر نبی اس دن کی شان و عظمت کا قائل رہا ہے ۔آسمان میں اس عید کانام ’’روز عہد معہود‘‘ ہے اور زمین میں اس کانام ۔میثاق ماخوذ و جمع مشہور‘‘ ہے ایک روایت کے مطابق امام جعفر صادق - سے پوچھا گیا کہ’’ جمعہ ۔عید الفطر اور عید قربان کے علاوہ بھی مسلمانوں کیلئے کوئی عید ہے ؟حضرت نے فرمایا: ہاںان کے علاوہ بھی ایک عید ہے اور وہ بڑی عزت و شرافت کی حامل ہے ۔عرض کی گئی وہ کونسی عید ہے ؟آپعليهالسلام نے فرمایا وہ دن کہ جس میں حضرت رسول اعظم نے امیرالمؤمنین -کا تعارف اپنے خلیفہ کے طور پر کرایا ،آپ نے فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں علی -اس کے مولا ہیں اور یہ اٹھارویں ذی الحجہ کا دن اور روز عید غدیر ہے، راوی نے عرض کی کہ اس دن ہم کیا عمل کریں ؟حضرتعليهالسلام نے فرمایا کہ اس دن روزہ رکھو ،خدا کی عبادت کرو ،محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ذکر کرو اور ان پر صلوٰت بھیجو ۔
حضور نے امیرالمؤمنین - کو اس دن عید منانے کی وصیت فرمائی جیسے ہر پیغمبر اپنے اپنے وصی کو اس طرح وصیت کرتا رہا ہے:
ابن ابی نصر بزنطی نے امام علی رضا -سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا : اے ابن ابی نصر !تم جہاں کہیں بھی ہو روز غدیر نجف اشرف پہنچو اور حضرت امیرالمؤمنین -کی زیارت کرو ۔ کہ ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اور ہر مسلم مرد اور ہر مسلمہ عورت کے ساٹھ سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ مزید یہ کہ پورے ماہ رمضان شب ہائے قدر اور عیدالفطر میں جتنے انسان جہنم کی آگ سے آزاد کیے جاتے ہیں اس ایک دن میں ان سے دوچند افراد کو جہنم سے آزاد قراردیا جاتا ہے ۔آج کے دن اپنے حاجت مند مومن بھائی کو ایک درہم بطور صدقہ دینا دوسرے دنوں میں ایک ہزار درھم دینے کے برابر ہے ۔ پس عید غدیر کے دن اپنے برادرمومن کے ساتھ احسان و نیکی کرو ،اور اپنے مومن بھائی اور مومنہ بہن کو شاد کرو ،خدا کی قسم اگر لوگوں کو ا س دن کی فضیلت کا علم ہوتا اور وہ اس کا لحاظ رکھتے تو اس روز ملائکہ ان سے دس مرتبہ مصافحہ کیا کرتے ،مختصر یہ کہ اس دن کی تعظیم کرنا لازم ہے اور اس میں چند اعمال ہیں :
( ۱ )اس دن کا روزہ رکھنا ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے ،ایک روایت میں ہے کہ یوم غدیر کا روزہ مدت دنیا کے روزوں ،سوحج اور سو عمرے کے برابر ہے ۔
( ۲ )اس دن غسل کرنا ضروری اور باعث خیر و برکت ہے ۔
( ۳ )اس روز جہاں کہیں بھی ہو خود کو روضہ امیرالمؤمنین- پر پہنچائے اور آپکی زیارت کرے آج کے دن کیلئے حضرت کی تین مخصوص زیارتیں ہیں اور ان میں سب سے زیادہ مشہور زیارت امین اللہ ہے جو دور و نزدیک سے پڑھی جا سکتی ہے ۔یہ زیارت جامعہ مطلقہ ہے اور اسے باب زیارات میں ذکر کیا جائے گا ۔
( ۴ )حضرت رسول سے منقول تعویذ پڑھے کہ سید نے کتاب اقبال میں اس کا ذکر کیا ہے ۔
( ۵ )دورکعت نماز بجا لائے اور سجدہ شکر میں سو مرتبہ شکراً شکراً کہے ۔پھر سر سجدے سے اٹھائے اور یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ وَأَ نَّکَ واحِدٌ أَحَدٌ صَمَدٌ
اے معبود!سوال کرتا ہوں تجھ سے اس لئے کہ صرف تیرے ہی لئے حمد تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ تو یگانہ ویکتا بے نیاز ہے
لَمْ تَلِدْ وَلَمْ تُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَکَ کُفُواً أَحَدٌ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ صَلَواتُکَ
نہ تو نے جنا اور نہ ہی تو جنا گیا اور تیرا کوئی ہمسر نہیں ہے اور یہ کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرے بندے اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ان پر اور
عَلَیْهِ وَآلِهِ، یَا مَنْ هُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَأْنٍ کَما کانَ مِنْ شَأْنِکَ أَنْ تَفَضَّلْتَ عَلَیَّ بِأَنْ
ان کی آلعليهالسلام پر تیری رحمت ہو اے وہ جو ہر روز کسی نئے کام میں ہے جو تیری شان کے لائق ہے یعنی تو نے مجھ پر فضل وکرم کیا کہ مجھ کو
جَعَلْتَنِی مِنْ أَهْلِ إجابَتِکَ وَأَهْلِ دِینِکَ وَأَهْلِ دَعْوَتِکَ، وَوَفَّقْتَنِی لِذلِکَ فِی مُبْتَدَئ
ان میں قرار دیا جن کی دعا قبول فرمائی جو تیرے دین پر ہیں اور تیرے پیغام کے حامل ہیں اور مجھے میری پیدائش
خَلْقِی تَفَضُّلاً مِنْکَ وَکَرَماً وَجُوداً ثُمَّ أَرْدَفْتَ الْفَضْلَ فَضْلاً وَالْجُودَ جُوداً وَالْکَرَمَ
کے آغاز میں اپنی مہربانی عنایت اور عطا سے اس کی توفیق دی پھر اپنی محبت اور رحمت سے تو نے متواتر مہربانی پر مہربانی عطا پر عطا
کَرَمَاً رَأْفَةً مِنْکَ وَرَحْمَةً إلی أَنْ جَدَّدْتَ ذلِکَ الْعَهْدَ لِی تَجْدِیداً بَعْدَ تَجْدِیدِکَ خَلْقِی
اور نوازش پر نوازش کی یہاں تک کہ میری بندگی کے عہد کی جب میری نئی پیدائش ہوئی پھر سے تجدید کی
وَکُنْتُ نَسْیاً مَنْسِیّاً ناسِیاً ساهِیاً غافِلاً، فَأَ تْمَمْتَ نِعْمَتَکَ بِأَنْ ذَکَّرْتَنِی ذلِکَ وَمَنَنْتَ
جب میں بھولا بسرا بھولنے والا اور بے دھیان بے خبر تھا تو نے اپنی نعمت تمام کرتے ہوئے مجھے وہ عہد یاد دلایا اور یوں مجھ پر احسان
بِهِ عَلَیَّ وَهَدَیْتَنِی لَهُ، فَلْیَکُنْ مِنْ شَأْنِکَ یَا إلهِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ أَنْ
کیا اور اس کی طرف میری رہنمائی کی پس اے میرے معبود اے میرے سردار اور میرے مالک یہ تیری ہی شان کریمی ہے کہ اس
تُتِمَّ لِی ذلِکَ وَلاَ تَسْلُبْنِیهِ حَتَّی تَتَوَفَّانِی عَلَی ذلِکَ وَأَ نْتَ عَنِّی راضٍ، فَ إنَّکَ أَحَقُّ
عہد کو انجام تک پہنچائے اسے مجھ سے جدا نہ کرے یہاں تک کہ اسی پر مجھے موت دے جبکہ تو مجھ سے راضی ہو کیونکہ تو نعمت دینے
الْمُنْعِمِینَ أَنْ تُتِمَّ نِعْمَتَکَ عَلَیَّ اَللّٰهُمَّ سَمِعْنا وَأَطَعْنا وَأَجَبْنا داعِیَکَ
والوں میں زیادہ حقدار ہے کہ مجھ پر اپنی نعمت تمام کرے اے معبود ہم نے سنا ہم نے اطاعت کی اور تیرے احسان کے ذریعے
بِمَنِّکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ غُفْرانَکَ رَبَّنا وَ إلَیْکَ الْمَصِیرُ، آمَنّا بِالله وَحْدَهُ لاَ
تیرے داعی کا فرمان قبول کیا پس حمد تیرے لئے ہے تجھ سے بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور ﷲ پر ایمان رکھتے ہیں واپسی
شَرِیکَ لَهُ، وَبِرَسُو لِهِ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَصَدَّقْنا وَأَجَبْنا داعِیَ ﷲ
تیری طرف ہی ہے وہ یکتا ہے کوئی اسکا ثانی نہیں اور اس کے رسول محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر خدا کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر قبول کیا ﷲ کے اس
وَاتَّبَعْنا الرَّسُولَ فِی مُوالاةِ مَوْلانا وَمَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی
داعی کو ہم نے مان لیا اور ہم نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی کی اپنے اورمومنوں کے مولا سے دوستی کرنے میں کہ وہ مومنوں کے امیرعلیعليهالسلام ابن ابی
طالِبٍ عَبْدِ ﷲ، وَأَخِی رَسُو لِهِ، وَالصِّدِّیقِ الْاََکْبَرِ، وَالْحُجَّةِ عَلَی بَرِیَّتِهِ، الْمُؤَیِّدِ
طالبعليهالسلام ہیں جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول کے بھائی اور سب سے بڑے صدیق اور مخلوقات پر خدا کی حجت ہیں ان کے
بِهِ نَبِیَّهُ وَدِینَهُ الْحَقَّ الْمُبِینَ، عَلَماً لِدِینِ ﷲ، وَخازِناً لِعِلْمِهِ، وَعَیْبَةَ غَیْبِ ﷲ
ذریعے خدا کے نبی اور اس کے سچے اور واضح دین کو قوت ملی وہ اللہ کے دین کے پرچم اس کے علم کے خزینہ دار اس کے غیبی علوم کا
وَمَوْضِعَ سِرِّ ﷲ، وَأَمِینَ ﷲ عَلَی خَلْقِهِ، وَشاهِدَهُ فِی بَرِیَّتِهِ اَللّٰهُمَّ رَبَّنا إنَّنا
گنجینہ اور اسکے راز دار ہیں وہ خدا کی مخلوق پر اسکے امانتدار اور کائنات میں اسکے گواہ ہیں اے اللہ! اے ہمارے رب یقینا ہم نے
سَمِعْنا مُنادِیاً یُنادِی لِلاِِْیْمانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا رَبَّنا فَاغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا وَکَفِّرْ
سنا منادی کو ایمان کی صدا دیتے ہوئے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ پس ہم اپنے رب پر ایمان لائے اب ہمارے گناہوں کو بخش دے
عَنَّا سَیِّئاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الْاََ بْرارِ، رَبَّنا وَآتِنا مَا وَعَدْتَنا عَلَی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنا یَوْمَ
ہماری برائیوں کو مٹا دے اور ہمیں نیکوں جیسی موت دے اے ہمارے رب ہمیں عطا کر وہ جسکا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے
الْقِیامَةِ إنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیعادَ، فَ إنَّا یَا رَبَّنا بِمَنِّکَ وَلُطْفِکَ أَجَبْنا
کیا اور قیامت کے روز ہم کو رسوا نہ کرنا بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا پس اے ہمارے رب ہم نے تیرے لطف و
داعِیَکَ، وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ وَصَدَّقْناهُ، وَصَدَّقْنا مَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ، وَکَفَرْنا بِالْجِبْتِ
احسان سے تیرے داعی کی بات مانی تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی کی اس کو سچا جانا اور مومنوں کے مولاعليهالسلام کی بھی تصدیق کی اور ہم نے بت
وَالطَّاغُوتِ، فَوَ لِّنا مَا تَوَلَّیْنا، وَاحْشُرْنا مَعَ أَئِمَّتِنا فَ إنَّا بِهِمْ مُؤْمِنُونَ
اور شیطان کی پیروی سے انکار کیا پس ہمارا والی اسے بنا جو حقیقی والی ہے اور ہمیں ہمارے ائمہعليهالسلام کے ساتھ اٹھانا کہ ہم ان پر عقیدہ و
مُوقِنُونَ، وَلَهُمْ مُسَلِّمُونَ، آمَنَّا بِسِرِّهِمْ وَعَلانِیَتِهِمْ وَشاهِدِهِمْ وَغائِبِهِمْ، وَحَیِّهِمْ
ایمان رکھتے ہیں اور انکے فرمانبردار ہیں ہم ان کے باطن اور ان کے ظاہر پر ان میں سے حاضر پر اور غایب پر اور ان میں سے زندہ
وَمَیِّتِهِمْ، وَرَضِینا بِهِمْ أَئِمَّةً وَقادَةً وَسادَةً، وَحَسْبُنا بِهِمْ بَیْنَنا وَبَیْنَ ﷲ دُونَ
اور متوفی پر ایمان لائے ہیں اور ہم اس پر راضی ہیں کہ وہ ہمارے امام پیشوا و سردار ہیں اور ہمیں کافی وہ ہیں وہ ہمارے اور خدا کے درمیان
خَلْقِهِ لاَ نَبْتَغِی بِهِمْ بَدَلاً وَلاَ نَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِمْ وَلِیجَةً، وَبَرِئْنا إلَی ﷲ مِنْ کُلِّ مَنْ
ہم اس کی مخلوق میں سے ان کی جگہ کسی اور کو نہیں چاہتے اور نہ ان کے سوا ہم کسی کو واسطہ بناتے ہیں اور خدا کے حضور ہم ان سے اپنی
نَصَبَ لَهُمْ حَرْباً مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، وَکَفَرْنا بِالْجِبْتِ
علیحدگی اظہار کرتے ہیں جو ائمہ طاہرینعليهالسلام کے مقابلے میں آکر لڑے کہ وہ اولین و آخرین جنّوں انسانوں میں سے جو بھی ہیں اور ہم
وَالطَّاغُوتِ وَالْاََوْثانِ الْاََرْبَعَةِ وَأَشْیاعِهِمْ وَأَ تْباعِهِمْ وَکُلِّ مَنْ والاهُمْ مِنَ الْجِنِّ
انکار کرتے ہیں ہر بت کا نیز ہر دور ہیں شیطان سے چاروں بتوں اور ان کے مددگاروں اور پیروکاروں سے اور ہم اس شخص سے
وَالاِنْسِ مِنْ أَوَّلِ الدَّهْرِ إلی آخِرِهِ اَللّٰهُمَّ إ نَّا نُشْهِدُکَ أَنَّا نَدِینُ بِما
دور ہیں جو ان سے محبت کرتا ہو جنّوں اور انسانوں میں سے زمانے کے آغاز سے اختتام تک کے عرصے میں اے اللہ ! ہم تجھے گواہ
دانَ بِهِ مُحَمَّدٌ وَآلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ، وَقَوْلُنا مَا قالُوا، وَدِینُنا مَا
بناتے کہ ہم اس دین پر ہیں جس پر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تھے کہ خدا ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت کرے ہمارا قول وہ ہے جو ان کا قول تھا ہمارا
دانُوا بِهِ، مَا قالُوا بِهِ قُلْنا، وَمَا دانُوا بِهِ دِنَّا، وَمَا أَ نْکَرُوا أَ نْکَرْنا، وَمَنْ والَوْا
دین وہ ہے جو انکا دین تھا انکا قول ہی ہمارا قول اور انکا دین ہی ہمارا دین ہے جس سے ان کو نفرت اس سے ہمیں نفرت جس سے ان کو محبت
والَیْنا، وَمَنْ عادَوْا عادَیْنا، وَمَنْ لَعَنُوا لَعَنَّا، وَمَنْ تَبَرَّأُوا مِنْهُ تَبَرَّأْنا مِنْهُ،
اس سے ہمیں محبت جس سے ان کو دشمنی اس سے ہمیں دشمنی جس پر انکی لعنت اس پر ہماری لعنت جس سے وہ دور اس سے ہم بھی دور ہیں
وَمَنْ تَرَحَّمُوا عَلَیْهِ تَرَحَّمْنا عَلَیْهِ، آمَنَّا وَسَلَّمْنا وَرَضِینا وَاتَّبَعْنا مَوالِیَنا صَلَواتُ
جس کے لئے وہ طالب رحمت اس کے لئے ہم بھی طالب رحمت ہیں ہم ایمان لائے تسلیم کیا اور راضی ہوئے اپنے سرداروں کے
ﷲ عَلَیْهِمْ اَللّٰهُمَّ فَتَمِّمْ لَنا ذلِکَ وَلاَ تَسْلُبْناهُ وَاجْعَلْهُ مُسْتَقِرّاً ثابِتاً عِنْدَنا، وَلاَ
پیروکار ہیں ان پر خدا کی رحمت ہو اے معبود! ہمارا یہ عقیدہ کامل کر دے اور اسے ہم سے جدا نہ کر اور اسے ہمارا مستقل طریقہ اور
تَجْعَلْهُ مُسْتَعاراً، وَأَحْیِنا مَا أَحْیَیْتَنا عَلَیْهِ، وَأَمِتْنا إذا أَمَتَّنا عَلَیْهِ، آلُ مُحَمَّدٍ أَئِمَّتُنا
روشن بنا اور اس کو عارضی قرار نہ دے جب تک زندہ ہیں ہمیں اس پر زندہ رکھ اور ہمیں اسی عقیدے پر موت دے کہ آل محمدہمارے
فَبِهِمْ نَأْ تَمُّ وَ إیَّاهُمْ نُوالِی، وَعَدُوَّهُمْ عَدُوَّ ﷲ نُعادِی، فَاجْعَلْنا مَعَهُمْ فِی الدُّنْیا
امام و پیشوا ہوں ہم انکی پیروی کرتے اور ان کو دوست رکھتے ہوں ان کا دشمن خدا کا دشمن ہے ہم اسکے دشمن ہیں پس ہمیں انکے ساتھ دنیا
وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ، فَ إنَّا بِذلِکَ راضُونَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
و آخرت میں قرار دے اور ہمیں اپنے مقربوں میں داخل فرما کہ ہم اس عقیدے پر راضی ہیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
اب پھر سجدے میں جائے اور سو مرتبہ کہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔اور سو مرتبہ کہے:شُکْراً ﷲِ
روایت ہے کہ جو شخص اس عمل کو بجا لائے وہ اجر و ثواب میں اس شخص کے برابر ہے جو عید غدیر کے دن حضرت رسول کی خدمت میں حاضر ہو اور جناب امیر- کے دست مبارک پر بیعت ولایت کی ہو بہتر ہے کہ اس نماز کو قریب زوال بجا لائے کیونکہ یہی وہ وقت ہے کہ جب حضرت رسول نے امیرالمؤمنین -کو مقام غدیر پر امامت و خلافت کے لئے منصوب فرمایا پس اس نماز کی پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ قدر اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد سورئہ توحید کی قرائت کرے ۔
( ۶ )غسل کرے زوال سے آدھا گھنٹہ قبل دو رکعت نماز بجا لائے جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ توحید دس مرتبہ آیۃالکرسی اور دس مرتبہ سورئہ قدر پڑھے تو اس کو ایک لاکھ حج ایک لاکھ عمرے کا ثواب ملے گا ۔نیز اس کی دنیا و آخرت کی حاجات بآسانی پوری ہوں گی ۔مخفی نہ رہے کہ سید نے کتاب اقبال میں اس نماز میں دس مرتبہ سورئہ قدر پڑھنے کو آیۃالکرسی سے پہلے ذکر کیا ہے ،علامہ مجلسی نے بھی زاد المعاد میں کتاب اقبال کی پیروی میں یہی تحریر فرمایا اور مؤلف نے بھی اپنی دیگر کتب میں یہی ترتیب لکھی ہے ۔لیکن بعد میں جب تلاش و جستجو کی گئی تو معلوم ہوا ہے کہ آیۃالکرسی کے سورئہ قدر سے پہلے پڑھنے کا ذکر بہت زیادہ روایات میں آیا ہے ظاہراً کتاب اقبال میں سہو قلم ہوا ہے یا کاتب سے غلطی سرزد ہو گئی ہے ،یہ سہو دوگونہ ہے ،یعنی سورئہ الحمد کی تعداد اور سورئہ قدر کے آیۃالکرسی سے پہلے پڑھے جانے سے متعلق ہے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک الگ نماز ہو لیکن اس کا ایک الگ اور مستقل نماز ہونا بعید ہے ،واللہ اعلم بہتر ہو گا کہ اس نماز کے بعد رَبَّّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیا ًپڑھے: یہ ایک طویل دعا ہے ۔
( ۷ )آج کے دن دعائے ندبہ پڑھے ،جس کا ذکر دسویں فصل میں ہو گا ۔
( ۸ )اس دعا کو پڑھے جسے سید ابن طاؤس نے شیخ مفید سے نقل کیا ہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ وَعَلِیٍّ وَ لِیِّکَ وَالشَّأْنِ وَالْقَدْرِ الَّذِی
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم مصطفی اور تیرے ولی علی مرتضیعليهالسلام کے اور بواسطہ اس عزت و شان کے جس
خَصَصْتَهُما بِهِ دُونَ خَلْقِکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَأَنْ تَبْدَأَ بِهِما فِی کُلِّ
جس سے تو نے ان دونوں کو اپنی مخلوق میں خاص کیا یہ کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و علیعليهالسلام پر رحمت فرما اور یہ کہ ہر خیر و خوبی ان دونوں
خَیْرٍ عاجِلٍ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ آلاَءِمَّةِ الْقادَةِ، وَالدُّعاةِ السَّادَةِ
کو جلد عطا فرما اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما جو امام و رہبر اور داعی حق و سردار ہیں
وَالنُّجُومِ الزَّاهِرَةِ، وَالْأَعْلامِ الْباهِرَةِ، وَساسَةِ الْعِبادِ، وَأَرْکانِ الْبِلادِ، وَالنَّاقَةِ
وہ روشن ستارے اور چمکتے نشان ہیں وہ لوگوں کے پیشوا اور شہروں کے ستون ہیں وہ ناقہ صاعليهالسلام لح
الْمُرْسَلَةِ وَالسَّفِینَةِ النَّاجِیَةِ الْجارِیَةِ فِی اللُّجَجِ الْغامِرَةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
کی مانند اور کشتی نوحعليهالسلام کی مثل ہیں جو پانی کی بڑی بڑی لہروں میں چل رہی تھی اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام
وَآلِ مُحَمَّدٍ خُزَّانِ عِلْمِکَ، وَأَرْکانِ تَوْحِیدِکَ، وَدَعائِمِ دِینِکَ، وَمَعادِنِ کَرامَتِکَ،
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما جو تیرے علم کے خزانے تیری توحید کے عمود و ستون تیرے دین کے سہارے تیرے احسان
وَصَفْوَتِکَ مِنْ بَرِیَّتِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ الْاَتْقِیائِ الْاَنْقِیائِ النُّجَبائِ الْاََ بْرارِ وَالْباب
و کرم کی کانیں تیری مخلوقات میں سے چنے ہوئے تیر ی مخلوق میں سے پسندیدہ پرہیزگار پاکیزہ بزرگوار نیکوکار اور وہ دروازہ ہیں
الْمُبْتَلیٰ بِهِ النَّاسُ مَنْ أَتاهُ نَجا وَمَنْ أَباهُ هَویٰ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
جسکے ذریعے لوگ آزمائے گئے جو اس در سے گزرا نجات پا گیا جسنے انکار کیا تباہ ہوا ہے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما
أَهْلِ الذِّکْرِ الَّذِینَ أَمَرْتَ بِمَسْأَلَتِهِمْ وَذَوِی الْقُرْبَی الَّذِینَ أَمَرْتَ بِمَوَدَّتِهِمْ وَفَرَضْتَ
جو ایسے اہل ذکر ہیں کہ تو نے ان سے پوچھنے کا حکم دیا وہ وہی اقربائ پیغمبر ہیں کہ جن سے محبت کرنے کا تو نے حکم دیا ان کا حق
حَقَّهُمْ وَجَعَلْتَ الْجَنَّةَ مَعادَ مَنِ اقْتَصَّ آثارَهُمْ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
واجب کر دیا اور جو ان کے نقش قدم پر چلے اس کا گھر جنت میں قرار دیا اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما
کَما أَمَرُوا بِطاعَتِکَ وَنَهَوْا عَنْ مَعْصِیَتِکَ وَدَلُّوا عِبادَکَ عَلَی وَحْدانِیَّتِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی
جیسا کہ انہوں نے تیری فرمانبرداری کا حکم دیا تیری نافرمانی سے روکا اور تیری توحید و یکتائی کی طرف لوگوں کی رہنمائی کی اے معبود!
أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ وَنَجِیبِکَ وَصَفْوَتِکَ وَأَمِینِکَ، وَرَسُو لِکَ
میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرے چنے ہوئے تیرے پسند کیے ہوئے تیرے امانتدار اور تیری
إلی خَلْقِکَ وَبِحَقِّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَیَعْسُوبِ الدِّینِ وَقائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْوَصِیِّ
مخلوق کی طرف تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور میں سوالی ہوں بواسطہ امیرالمومنینعليهالسلام اہل دین کے سردار نیکوکار لوگوں کے پیشوا وصی رسول
الْوَفِیِّ وَالصِّدِّیقِ الْاََ کْبَرِ وَالْفارُوقِ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْباطِلِ وَالشَّاهِدِ لَکَ وَالدَّالِّ عَلَیْکَ
وفادارسب سے بڑے تصدیق کرنے والے حق وباطل میں فرق کرنیوالے تیری گواہی دینے والے تیری طرف رہنمائی کرنیوالے
وَالصَّادِعِ بِأَمْرِکَ، وَالْمُجاهِدِ فِی سَبِیلِکَ، لَمْ تَأْخُذْهُ فِیکَ لَوْمَةُ لائِمٍ، أَنْ تُصَلِّیَ
تیرے حکم کو نافذ کرنے والے تیری راہ میں جہاد کرنے والے جن کو تیرے بارے میں کسی ملامت کی کچھ پروا نہیں تھی یہ کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَنِی فِی هذَا الْیَوْمِ الَّذِی عَقَدْتَ فِیهِ لِوَ لِیِّکَ الْعَهْدَ
و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھ کو قرار دے آج کے دن میں جس میں تو نے اپنے ولیعليهالسلام کے عہدہ امامت کا بندھن اپنی
فِی أَعْناقِ خَلْقِکَ وَأَکْمَلْتَ لَهُمُ الدِّینَ مِنَ الْعارِفِینَ بِحُرْمَتِهِ وَالْمُقِرِّینَ بِفَضْلِهِ مِن
مخلوق کی گردنوں میں ڈالا اور تو نے ان کے لئے دین کو مکمل کیا جو اس کی حرمت سے واقف اوراس کی بزرگی کو مانتے ہیں کہ جن کو
عُتَقائِکَ وَطُلَقائِکَ مِنَ النَّارِ، وَلاَ تُشْمِتْ بِی حاسِدِی النِّعَمِ اَللّٰهُمَّ فَکَما جَعَلْتَهُ
تو نے جہنم سے آزاد اور رہا کر دیا ہے نیز نعمتوں پر حسد کرنے والے کو میرے بارے میں خوش نہ کر اے معبود! جیسے تو نے اس دن
عِیدَکَ الْاََکْبَرَ وَسَمَّیْتَهُ فِی السَّمائِ یَوْمَ الْعَهْدِ الْمَعْهُودِ، وَفِی الْاََرْضِ یَوْمَ الْمِیثاق
کو اپنی طرف سے بڑی عید قرار دیا آسمان میں اس کا نام یوم عہد و پیمان مقرر کیا ہے اور زمین میں اسے یوم المیثاق بنایا
الْمَأْخُوذِ وَالْجَمْعِ الْمَسْؤُولِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَقْرِرْ بِهِ عُیُونَنا وَاجْمَعْ
جس کے بارے میں باز پرس ہوگی اسی طرح محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور اس کے ذریعے ہماری آنکھیں ٹھنڈی کر اس سے ہمیں
بِهِ شَمْلَنا وَلاَ تُضِلَّنا بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنا وَاجْعَلْنَا لاََِ نْعُمِکَ مِنَ الشَّاکِرِینَ یَا أَرْحَمَ
متحد کر دے ہدایت دینے کے بعدہمیں گمراہ نہ ہونے دے اور ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والے بنا دے اے سب سے زیادہ
الرَّاحِمِینَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی عَرَّفَنا فَضْلَ هذَا الْیَوْمِ وَبَصَّرَنا حُرْمَتَهُ وَکَرَّمَنا بِهِ
رحم کرنے والے حمد ہے اللہ کے لئے جس نے ہمیں آج کے دن کی بزرگی سے آگاہ کیا اس کی حرمت سے با خبر کیا اس سے ہمیں
وَشَرَّفَنا بِمَعْرِفَتِهِ، وَهَدانا بِنُورِهِ یَا رَسُولَ ﷲ، یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، عَلَیْکُما
عزت دی اور اس کی معرفت سے بڑائی عطا کی اور اپنے نور سے ہدایت دی اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اے مؤمنوں کے امیرعليهالسلام آپ دونوں پر
وَعَلَی عِتْرَتِکُما وَعَلَی مُحِبِّیکُما مِنِّی أَفْضَلُ السَّلامِ مَا بَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ وَبِکُما
آپ کے اہلبعليهالسلام یت پر اور آپ کے محبوں پر میرا بہت بہت سلام ہو جب تک دن رات کی آمد و رفت قائم رہے اور بواسطہ آپ
أَتَوَجَّهُ إلَی ﷲ رَبِّی وَرَبِّکُما فِی نَجاحِ طَلِبتِی وَقَضائِ حَوائِجِی وَتَیْسِیرِ أُمُورِی
دونوں کے میں متوجہ ہوا آپعليهالسلام کے اور اپنے رب کی طرف اپنے مقصد کے حصول حاجتوں کی پورا ہونے اور کاموں میں آسانی کیلئے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے واسطے سے یہ کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور جو آج
تَلْعَنَ مَنْ جَحَدَ حَقَّ هذَا الْیَوْمِ وَأَنْکَرَ حُرْمَتَهُ فَصَدَّ عَنْ سَبِیلِکَ لاِِِطْفائِ نُورِکَ فَأَبَی
کے دن کے حق سے انکار کرے اس پر لعنت کر اور اسکے احترام سے پھیرے پس وہ تیرے نور کو بجھانے کیلئے تیرے راستے سے روکتا
ﷲ إلاَّ أَنْ یُتِمَّ نُورَهُ اَللّٰهُمَّ فَرِّجْ عَنْ أَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ وَ اکْشِفْ
ہے لیکن خدا کو یہ منظور نہیں وہ تو اپنے نور کو کامل کرے گا اے معبود! اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم مصطفی کے اہلبعليهالسلام یت کے لئے کشادگی فرما ان کی مشکل
عَنْهُمْ وَبِهِمْ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ الْکُرُباتِ اَللَّهُمَّ امْلَأَ الْاَرْضَ بِهِمْ عَدْلاً کَما
دور کردے اور ان کے وسیلے سے مومنوں کی تنگیاں برطرف کردے اے اللہ ! اس زمین کو ان کے ذریعے عدل سے بھر دے جیسا کہ
مُلِیَتْ ظُلْماً وَجَوْراً وَأَنْجِزْ لَهُمْ مَا وَعَدْتَهُمْ إنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیعادَ
وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہے اور عطا کر انہیں جس کا ان سے وعدہ کر رکھا ہے بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔
اگر ممکن ہو تو سید کی کتاب اقبال میں منقولہ دیگر بڑی بڑی دعائیں بھی پڑھے :
( ۹ )جب برادر مومن سے ملاقات کرے تو اسے عید غدیر کی تبریک اس طرح کہے :
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی جَعَلَنا مِنَ الْمُتَمَسِّکینَ بِوِلایَةِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْاََ ئِمَّة عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ
اس اللہ کے لئے حمد ہے جس نے ہمیں امیرالمؤمنینعليهالسلام کی اور ان کے بعد ائمہعليهالسلام کی ولایت و امانت کو ماننے والوں میں سے قرار دیا ہے۔
نیز یہ بھی پڑھے:الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَکْرَمَنا بِهذَا الْیَوْمِ وَجَعَلَنا مِنَ الْمُوفِینَ
اس اللہ کے لئے حمد ہے جس نے آج کے دن کے ذریعے ہمیں عزت دی اور ہمیں اس عہد کو وفا کرنے والا بنایا
بِعَهْدِهِ إلَیْنا وَمِیثاقِهِ الَّذِی واثَقَنا بِهِ مِنْ وِلایَةِ وُلاةِ أَمْرِهِ وَالْقُوَّامِ بِقِسْطِهِ، وَلَمْ
جو ہمارے سپرد کیا اور وہ پیمان جو ہم سے ولایت امیرالمؤمنینعليهالسلام اپنے والیان امر اور عدل پر قائم رہنے والوں کے بارے میں لیا
یَجْعَلْنا مِنَ الْجاحِدِینَ وَالْمُکَذِّبِینَ بِیَوْمِ الدِّینِ
اور ہمیں روز قیامت کا انکار کرنے والوں اور اسے جھٹلانے والوں میں نہیں رکھا ۔
(۱۰) سو مرتبہ کہے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی جَعَلَ کَمالَ دِینِهِ وَتَمامَ نِعْمَتِهِ بِوِلایَةِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ
اس اللہ کے لئے حمد ہے جس نے اپنے دین کے کمال اور نعمت کے اتمام کو امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب + کی ولایت کے
أَبِی طالِبٍ عَلَیْهِ اَلسَّلَامُ
ساتھ مشروط قرار دیا ۔
واضح ہو کہ عید غدیر کے دن اچھا لباس پہنے ،خوشبو لگائے۔خوش خرم ہو مؤمنین کو راضی و خوش کرے ،ان کے قصور معاف کرے ۔ان کی حاجات پوری کرے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے ۔اہل و عیال کے لئے عمدہ کھانے کا انتظام کرے مؤمنین کی ضیافت کرے اور ان کا روزہ افطار کرائے ۔مؤمنین سے مصافحہ کرے ۔برادران ایمانی سے خوش خوش ملے اور ان کو تحائف دے آج کی عظیم نعمت یعنی ولایت امیرالمؤمنین -پر خدا کا شکر بجا لائے ۔کثرت سے صلوات پڑھے اور اس دن خدا کی عبادت کرے کہ ان تمام امور میں سے ہر ایک کی بڑی فضیلت ہے ۔
آج کے دن اپنے مومن بھائی کو ایک روپیہ دینا دوسرے دنوں میں ایک لاکھ روپیہ دینے کے برابر ثواب رکھتا ہے اور آج کے دن مومن بھائیوں کو دعوت طعام دینا گویا تمام پیغمبروں اور مومنوں کو دعوت طعام دینے کے مانند ہے امیرالمؤمنین -کے خطبہ غدیر میں ہے جو شخص آج کے دن کسی روزہ دار کو افطاری دے گویا اس نے دس فئام کو افطاری دی ہے ایک شخص نے اٹھ کر عرض کی مولا! فئام کیا ہے ؟ فرمایا کہ فئام سے مراد ایک لاکھ پیغمبر ،صدیق اور شہید ہیں ہاں تو کتنی فضیلت ہو گی اس شخص کی جو چند مومنین و مومنات کی کفالت کر رہا ہو ؟پس میں بارگاہ الہی میں اس شخص کا ضامن ہوں کہ وہ کفر اور فقر سے امان میں رہے گا ۔خلاصہ یہ ہے کہ اس عزوشرف والے دن کی فضیلت کا بیان ہماری استطاعت سے باہر ہے یہ شیعہ مسلمانوں کے اعمال قبول ہونے اور ان کے غم دور ہونے کا دن ہے ۔اسی دن حضرت موسیٰعليهالسلام کو جادوگروں پر غلبہ حاصل ہوا اور حضرت ابراہیمعليهالسلام کیلئے آگ گلزار بنی۔ اور حضرت موسیٰعليهالسلام نے یوشع بن نونعليهالسلام کو وصی بنایا اور حضرت عیسیٰعليهالسلام کی طرف حضرت شمعونعليهالسلام کو ولایت و وصایت ملی، حضرت سلیمان- نے آصف بن برخیا کی وزارت و نیابت پر لوگوں کو گواہ بنایا اور اسی دن حضرت رسول نے اپنے اصحاب میں اخوت قائم فرمائی پس یوم غدیر مومنین باہم صیغہ اخوت پڑھیں اور آپس میں بھائی چارہ قائم کریں ۔
ہمارے شیخ صاحب مستدرک ا لوسائل نے زادالفردوس سے عقد اخوت کی کیفیت یوں نقل کی ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ اپنے برادر مومن کے داہنے ہاتھ پر رکھے اور کہے :
واخَیْتُکَ فِی ﷲ، وَصافَیْتُکَ فِی ﷲ، وَصافَحْتُکَ فِی ﷲ، وَعاهَدْتُ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ
میں بھائی بنا تمہارا راہ خدا میں میں مخلص ہوا تمہارا راہ خدا میں میںہاتھ ملایا تم سے راہ خدا میں اور عہد کرتا ہوں خدا سے اسکے فرشتوں
وَکُتُبَهُ وَرُسُلَهُ وَأَنْبِیائَهُ وَآلاَءِمَّةَ الْمَعْصُومِینَ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ عَلَی أَنَّی إنْ کُنْتُ مِنْ
سے اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اس کے نبیوں سے اور ائمہ معصومین ٪سے اس بات کا کہ اگر میں ہو جاؤں میں بہشت
أَهْلِ الْجَنَّةِ وَالشَّفاعَةِ وَأُذِنَ لِی بِأَنْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ لاَ أَدْخُلُها إلاَّ وَأَنْتَ مَعِی
والوں اور شفاعت حاصل کرنے والوں میںاور مجھے جنت میں داخلے کا حکم ہوا تو نہیں داخل ہوں گا جنت میں تجھے ساتھ لئے بغیر
دوسرا مومن بھائی اس کے جواب میں کہے: قَبِلْتُاور پھر یہ کہے:أَسْقَطْتُ عَنْکَ جَمِیعَ
میں نے قبول کیا ساقط کر دئیے میں نے تجھ سے بھائی
حُقُوقِ الْاَُخُوَّةِ مَا خَلاَ الشَّفاعَةَ وَالدُّعائَ وَالزِّیارَةَ
چارے کے تمام حقوق سوائے شفاعت کرنے دعائے خیر کرنے اور ملاقات کرنے کے
محد ث فیض نے بھی خلاصۃالاذکار میں صیغہ اخوت کا تقریبا یہی طریقہ لکھا ہے کہ دوسرا مومن بھا ئی خود یا اس کا وکیل ایسے الفاظ سے اخوت قبول کرے جو واضح طور پر قبولیت کا مفہوم ادا کر رہے ہوں ۔پس ساقط کریں ایک دوسرے سے تمام حقوق اخوت کو،سوائے دعا اور ملاقات کے ۔
چوبیسویں ذی الحجہ کا دن
مشہور روایت کے مطابق۲۴ ذی الحجہ عید مباہلہ کا دن ہے اس دن حضرت رسول نے نصارٰی نجران سے مباہلہ کیا تھا واقعہ یوں ہے کہ حضرت رسول نے اپنی عبا اوڑھی ،پھر امیرالمؤمنین -،جناب فاطمہ =اور حضرت حسن و حسین +کو اپنی عبا میںلے لیا ۔تب فرمایا کہ یا اللہ ! ہر نبی کے اہلبیتعليهالسلام ہوتے ہیں اور یہ میرے اہلبیتعليهالسلام ہیں ۔ پس ان سے ہر قسم کی ظاہری و باطنی برائی کو دور رکھ اور ان کو اس طرح پاک رکھ جیسے پاک رکھنے کا حق ہے ،اس وقت جبرائیل امینعليهالسلام آیت تطہیر لے کر نازل ہوئے اس کے بعد حضرت رسول خدا نے ان چار ہستیوں کو اپنے ساتھ لیا اور مباہلہ کے لئے نکلے ،نصاریٰ نجران نے آپ کو اس شان سے آتے دیکھا ،اور علامات عذاب کا مشاہدہ کیا تو مباہلہ سے دست بردار ہو کر مصالحت کر لی اور جزیہ دینے پر آمادہ ہو گئے ۔
آج ہی کے دن امیرالمؤمنین - نے حالت نماز میں سائل کو انگوٹھی عطا فرمائی ۔اور آپ کی شان میں آیہ مبارکہ’’اِنَّمَاْ وَلَیُّکُمُ ﷲ. ..‘‘ نازل فرمائی۔
خلاصہ کلام یہ کہ یوم مباہلہ بڑی عظمت اور اہمیت کا حامل ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں ۔
( ۱ )غسل ۔
( ۲ )روزہ۔
( ۳ )دورکعت نماز کہ جس کا وقت، ترتیب اور ثواب عید غدیر کی نماز کی مثل ہے ،البتہ اس میں آیۃالکرسی کو ھُمْ فِیْھَا خَالِدُوْنَ تک پڑھے ۔
( ۴ ) دعائے مباہلہ:یہ ماہ رمضان کی دعائے سحر کے مشابہ ہے اور اسکو شیخ و سید دونوں نے نقل فرمایا ہے چونکہ ان دونوں بزرگوں کے نقل کردہ کلمات دعا میں کچھ اختلاف ہے ،لہذا یہاں ہم اسے شیخ کی کتاب مصباح کی روایت کے مطابق تحریر کر رہے ہیں ،شیخ کا کہنا ہے کہ امام جعفر صادق - نے دعائے مباہلہ کی بہت زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے اور وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ بَهائِکَ بِأَبْهاهُ وَکُلُّ بَهائِکَ بَهِیٌّ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِبَهائِکَ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے روشن ترین نور میں سے اور تیرا ہر نور درخشاں ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تیرے
کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ جَلالِکَ بِأَجَلِّهِ وَکُلُّ جَلالِکَ جَلِیلٌ،
تمام نور کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے بہت بڑے جلوے میں سے اور تیرا ہر جلوہ بہت بڑا جلوا ہے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِجَلالِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ جَمالِکَ بِأَجْمَلِهِ وَکُلُّ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے تمام جلوہ کے واسطے اے معبود ! طلب کرتا ہوں تجھ سے تیرے بہترین جمال میں سے
جَمالِکَ جَمِیلٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بَجَمالِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی
اور تیرا ہر جمال پسندیدہ و بہترین ہے اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تیرے پورے جمال کے واسطے اے معبود! میں پکارتا ہوں تجھے
فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ عَظَمَتِکَ
جیسا کہ تو نے حکم کیا پس میری دعا قبول کر جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری بڑی بزرگی میں
بِأَعْظَمِها وَکُلُّ عَظَمَتِکَ عَظِیمَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِعَظَمَتِکَ کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی
سے اور تیری ہر بزرگی ہی بڑی ہے اے معبود ! میں سوال کرتا ہوںتجھ سے تیری پوری بزرگی کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا
أَسْأَلُکَ مِنْ نُورِکَ بِأَنْوَرِهِ وَکُلُّ نُورِکَ نَیِّرٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ بِنُورِکَ کُلِّهِ
ہوں تجھ سے تیرے روشن نور میں سے اور تیرا ہر نور روشن ہے اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے پوری نور کے واسطے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ رَحْمَتِکَ بِأَوسَعِها وَکُلُّ رَحْمَتِکَ واسِعَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری وسیع تر رحمت میں سے اور تیری ساری رحمت وسیع ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
بِرَحْمَتِکَ کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی
تیری پوری رحمت کے واسطے اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس میری دعا قبول کر جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ کَمالِکَ بِأَکْمَلِهِ وَکُلُّ کَمالِکَ کامِلٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے کامل ترین کمال میں سے اور تیرا ہر کمال ہی کامل ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
بِکَمالِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ کَلِماتِکَ بِأَ تَمِّها وَکُلُّ کَلِماتِکَ تامَّةٌ،
تیرے پورے کمال کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے سالم ترین کلمات میں سے اور تیرے سب کلمات ہی سالم تر ہیں
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِکَلِماتِکَ کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ أَسْمائِکَ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے پورے کلمات کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے بہت بڑے
بِأَکْبَرِها وَ کُلُّ أَسْمائِکَ کَبِیرَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِأَسْمائِکَ کُلِّها اَللّٰهُمَّ
ناموں میں سے اور تیرے سارے ہی نام بڑے ہیں اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے تمام تر ناموں کے واسطے اے معبود
إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ
میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے تو نے وعدہ کیا اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
عِزَّتِکَ بِأَعَزِّها وَکُلُّ عِزَّتِکَ عَزِیزَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِعِزَّتِکَ کُلِّها
تیری بہت بڑی عزت میں سے اور تیری ہر عزت بہت بڑی ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام تر عزت کے واسطے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ مَشِیئَتِکَ بِأَمْضاهَا وَکُلُّ مَشِیئَتِکَ ماضِیَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے ارادے میں سے جو نافذ ہونے والا ہے اور تیرا ہر ارادہ نافذ ہونے والا ہے اے معبود! میں
أَسْأَلُکَ بِمَشِیئَتِکَ کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِقُدْرَتِکَ الَّتِی اسْتَطَلْتَ
سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے پورے ارادے کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری قدر ت کا جس سے تو ہر چیز پر
بِها عَلَی کُلِّ شَیْئٍ وَکُلُّ قُدْرَتِکَ مُسْتَطِیلَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِقُدْرَتِکَ کُلِّها
قبضہ و غلبہ رکھتا ہے اور تیری ہر قدر ت قابض اور غالب ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام تر قدرت کے واسطے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں
مِنْ عِلْمِکَ بِأَ نْفَذِهِ وَکُلُّ عِلْمِکَ نافِذٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِعِلْمِکَ
تجھ سے تیرے بہت جاری ہونے والے علم میں سے اور تیرا ہر علم جاری ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے تمام تر علم
کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ قَوْ لِکَ بِأَرْضاُه وَکُلُّ قَوْلِکَ رَضِیٌّ، اَللّٰهُمَّ إنِّی
کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے بڑے خوش آیند قول میں سے اور تیرا ہر قول خوش آیند ہے اے معبود! میں
أَسْأَلُکَ بِقَوْلِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ مَسائِلِکَ بِأَحَبِّها وَکُلُّها إلَیْکَ
سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے پورے قول کے واسطے اے معبود! میں طلب کرتا ہوں تجھ سے تیرے محبوب ترین سوالوں میں سے اور
حَبِیبَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِمَسائِلِکَ کُلِّها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ
وہ سبھی تیرے نزدیک محبوب ہیں اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے سبھی سوالوں کے واسطے اے معبود! میں دعا کرتا ہوں
کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ شَرَفِکَ بِأَشْرَفِهِ
تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے اے معبود طلب کرتا ہوں تجھ سے تیری سب سے بڑی بزرگی
وَکُلُّ شَرَفِکَ شَرِیفٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِشَرَفِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ
میں سے اور تیری ہر بزرگی ہی سب سے بڑی ہے اے معبود !میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ساری بزرگی کے واسطے اے معبود !
إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ سُلْطانِکَ بِأَدْوَمِهِ وَکُلُّ سُلْطانِکَ دائِمٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری سب سے دائمی سلطانی میں سے اور تیری ہر سلطانی ہی دائمی ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ
بِسُلْطانِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ مُلْکِکَ بِأَ فْخَرِهِ وَکُلُّ مُلْکِکَ
سے تیری تمام تر سلطانی کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری سب سے بڑی حکومت میں سے اور تیری تمام تر
فاخِرٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِمُلْکِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی
حکومت بڑی ہے اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ساری حکومت کے واسطے اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو
فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ عَلائِکَ بِأَعْلاهُ وَکُلُّ
نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے اے معبود! طلب کرتا ہوں تجھ سے تیری سب سے بڑی بلندی میں سے اور تیری ہر
عَلائِکَ عالٍ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِعَلائِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ
بلندی بہت بڑی ہے اے معبود ! سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام تر بلندی کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری
آیاتِکَ بِأَعْجَبِها وَکُلُّ آیاتِکَ عَجِیبَةٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِآیاتِکَ کُلِّها
سب سے عجیب تر نشانیوں میں سے اور تیری سبھی آیات عجیب ہیں اے اللہ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام تر آیتوں کے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ مَنِّکَ بِأَقْدَمِهِ وَکُلُّ مَنِّکَ قَدِیمٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی
واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے سب سے قدیم احسان میں سے اور تیرا ہر احسان قدیم ہے اے معبود! میں سوال
أَسْأَلُکَ بِمَنِّکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما
کرتا ہوں تجھ سے تیرے سارے احسان کے واسطے اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے
وَعَدْتَنِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِما أَ نْتَ فَیهِ مِنَ الشَّأنِ وَالْجَبَرُوتِ
کہ تو نے وعدہ کیا ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس کے واسطے جس میں تیری شان اور تیرا غلبہ ظاہر و عیاں ہے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِکُلِّ شَأْنٍ وَکُلِّ جَبَرُوتٍ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِما
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ہر شان اور تیرے ہر غلبے کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس نام کے
تُجِیبُنِی بِهِ حِینَ أَسْأَلُکَ یَا ﷲ یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ أَسْأَلُکَ بِبَهائِ لا إلهَ
واسطے جس سے تو جواب دیتا ہے جب میں تجھ سے مانگتا ہوں اے اللہ اے وہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں سوال کرتا ہوں لاالہ الا
إلاَّ أَنْتَ، یَا لا إلهَ إلاَّ أَ نْتَ أَسْأَلُکَ بِجَلالِ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، یَا لاَ إلهَ
انت کے نور کے واسطے اے وہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں سوال کرتا ہوں تجھ سے لاالہ الا انت کے جلال کے واسطے اے وہ کہ
إلاَّ أَ نْتَ أَسْأَلُکَ بِلا إلهَ إلاَّ أَنْتَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی
تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے سوال کرتا ہوں لاالہ الا انت کے واسطے اے معبود میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا
فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ مِنْ رِزْقِکَ بِأَعَمِّهِ
پس قبول کر میری دعا جیسے تو نے وعدہ کیا ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے وسیع تر رزق میں سے
وَکُلُّ رِزْقِکَ عامٌّ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِرِزْقِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
اور تیرا ہر رزق وسیع ہے اے معبود میں سوال کرتا ہوں تیرے تمام رزق کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے
مِنْ عَطائِکَ بِأَهْنَاهُ وَکُلُّ عَطائِکَ هَنِیئٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِعَطائِکَ
تیری خوشگوار عطا میں سے اور تیری ہر عطا خوشگوار ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام عطا کے واسطے
کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِکَ بِأَعْجَلِهِ وَکُلُّ خَیْرِکَ عاجِلٌ، اَللّٰهُمَّ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری بھلائی میں سے جلد ملنے والی کااور تیری ہر بھلائی جلد ملنے والی ہے اے معبود! میں سوال
إنِّی أَسْأَلُکَ بِخَیْرِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ بِأَ فْضَلِهِ
کرتا ہوں تجھ سے تیری ساری بھلائی کے واسطے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے فضل میں سے بہت بڑا فضل کا اور تیرا
وَکُلُّ فَضْلِکَ فاضِلٌ، اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِفَضْلِکَ کُلِّهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی
ہر فضل بہت بڑا ہے اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری سارے فضل کے واسطے اے معبود! میں دعا کرتا ہوں
أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی
تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْنِی عَلَی الْاََیمانِ بِکَ وَالتَّصْدِیقِ برَسُولِکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلَامُ
اور اٹھا کھڑا کر مجھے جبکہ تجھ پر میرا ایمان ہو تیرے رسول کی تصدیق کروںان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر سلام ہو
وَالْوِلایَةِ لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ وَالْبَرائَةِ مِنْ عَدُوِّهِ وَالائتِمامِ بِآلاَءِمَّةِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ
اور تصدیق کروں علیعليهالسلام ابن ابی طالبعليهالسلام کی ولایت کی دورر ہوں ان کے دشمنوں سے اور ائمہعليهالسلام کی پیروکاری کا کہ جو آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میں سے ہیں
عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ، فَ إنِّی قَدْ رَضیْتُ بِذلِکَ یَا رَبِّ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ
ان سب پر سلام ہو پس میں راضی ہوں اس بات پر اے پروردگار اے معبود!حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما جو تیرے بندے اور تیرے
وَرَسُولِکَ فِی الْاََوَّلِینَ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ فِی الْاَخِرِینَ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ فِی
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں پہلے لوگوں میں اور حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما پچھلے لوگوں میں حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما
الْمَلاََ الْاََعْلیٰ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ فِی الْمُرْسَلِینَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً الْوَسِیلَةَ
افلاک اور عرش برین میں اور حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما پیغمبروں میں اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو عطا فرما ذریعہ
وَالشَّرَفَ وَالْفَضِیلَةَ وَالدَّرَجَةَ الْکَبِیرَةَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَقَنِّعْنِی
بلندی بڑائی اور بلند سے بلند تر مقام اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھے قانع کر
بِما رَزَقْتَنِی، وَبارِکْ لَی فِیما آتَیْتَنِی، وَاحْفَظْنِی فِی غَیْبَتِی وَکُلِّ غائِبٍ هُوَ لِی
اس رزق پر جو تو نے دیا برکت دے اس میں جو تو نے مجھے دیامیری حفاظت کر میری غیبت میں اور اس میں جو مجھ سے غائب ہے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْنِی عَلَی الْاِیمانِ بِکَ وَالتَّصْدِیقِ بِرَسُولِکَ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھے اٹھا جبکہ میرا تجھ پر ایمان ہو اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تصدیق کروں
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وأَسْأَلُکَ خَیْرَ الْخَیْرِ رِضْوانَکَ وَالْجَنَّةَ وَأَعُوذُ
اے معبود!محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری بہتر سے بہتر خوشنودی اور جنت کااور پناہ لیتا ہوں
بِکَ مِنْ شَرِّ الشَّرِّ سَخَطِکَ وَالنَّارِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاحْفَظْنِی
تیرے سخت سے سخت غضب اور جہنم سے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور میری حفاظت کر
مِنْ کُلِّ مُصِیبَةٍ وَمِنْ کُلِّ بَلِیَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عُقُوبَةٍ وَمِنْ کُلِّ فِتْنَةٍ وَمِنْ کُلِّ بَلائٍ وَمِنْ کُلِّ
ہر ایک مصیبت سے ہر ایک مشکل سے ہر ایک سزا سے ہر ایک الجھن سے ہرایک تنگی سے ہر ایک
شَرٍّ وَمِنْ کُلِّ مَکْرُوهٍ وَمِنْ کُلِّ مُصِیبَةٍ وَمِنْ کُلِّ آفَةٍ نَزَلَتْ أَو تَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ إلَی
برائی سے ہر ایک ناپسند امر سے ہر ایک کھٹنائی سے اورہر ایک آفت سے جو نازل ہوئی یا نازل ہو آسمان سے زمین کی
الْاََرْضِ فِی هذِهِ السَّاعَةِ وَفِی هذِهِ اللَّیْلَةِ، وَفِی هذَا الْیَوْمِ، وَفِی هذَا الشَّهْرِ وَفِی
طرف اس موجودہ گھڑی میں آج کی رات میں آج کے دن میں اور اس مہینہ میں اور اس رواں
هذِهِ السَّنَةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْسِمْ لِی مِنْ کُلِّ سُرُورٍ وَمِنْ کُلِّ
سال میں اے معبود! رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمد پر اور نصیب کر مجھے ہر ایک راحت ہر ایک
بَهْجَةٍ، وَمِنْ کُلِّ اسْتِقامَةٍ، وَمِنْ کُلِّ فَرَجٍ، وَمِنْ کُلِّ عافِیَةٍ، وَمِنْ کُلِّ سَلامَةٍ، وَمِنْ
مسرت ہر طرح کی ثابت قدمی ہر ایک کشادگی ہر ایک آرام ہر طرح کی سلامتی ہر طرح
کُلِّ کَرامَةٍ وَمِنْ کُلِّ رِزْقٍ واسِعٍ حَلالٍ طَیِّبٍ وَمِنْ کُلِّ نِعْمَةٍ وَمِنْ کُلِّ سعَةٍ نَزَلَتْ أَو
کی عزت اور ہر قسم کی روزی وسیع حلال پاکیزہ ہر طرح کی نعمت اور ہر ایک وسعت جو نازل ہوئی یا
تَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ إلَی الْاََرْضِ فِی هذِهِ السَّاعَةِ، وَفِی هذِهِ اللَّیْلَةِ، وَفِی هذَا الْیَوْمِ،
نازل ہو آسمان سے زمین کی طرف اس موجودہ گھڑی میں آج کی رات میں آج کے دن
وَفِی هذَا الشَّهْرِ وَفِی هذِهِ السَّنَةِ اَللّٰهُمَّ إنْ کانَتْ ذُ نُوبِی قَدْ أَخْلَقَتْ وَجْهِی عِنْدَکَ
اس مہینے میں اور اس رواں سال میں اے معبود !اگر میرے گناہوں نے تیرے سامنے میرا چہرا پژمردہ کردیا وہ میرے اور تیرے
وَحالَتْ بَیْنِی وَبَیْنَکَ وَغَیَّرَتْ حالِی عِنْدَکَ فَ إنِّی أَسْأَلُکَ بِنُورِ وَجْهِکَ الَّذِی لاَ یُطْفَأُ
درمیان حائل ہو گئے اور تیرے سامنے میرا حال خراب کر دیا ہے تو میں سوالی ہوں تیرے نور ذات کے واسطے جو بجھتا نہیں
وَبِوَجْهِ مُحَمَّدٍ حَبِیبِکَ الْمُصْطَفی، وَبِوَجْهِ وَ لِیِّکَ عَلِیٍّ الْمُرْتَضی، وَبِحَقِّ أَولِیائِکَ
اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عزت کے واسطے جو تیرے چنے ہوئے دوست ہیں اور تیرے ولی علی مرتضیعليهالسلام کی عزت کے واسطے اور تیرے اولیائ
الَّذِینَ انْتَجَبْتَهُمْ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَغْفِرَ لِی مَا مَضیٰ مِنْ
کے وسیلے سے جن کو تو نے پسند کیا ہے یہ کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ میں جو گناہ پہلے کر چکا ہوں وہ
ذُنُوبِی، وَأَنْ تَعْصِمَنِی فَیما بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَأَعُوذُ بِکَ اَللّٰهُمَّ أَنْ أَعُودَ فِی شَیْئٍ
معاف کر دے اور باقی زندگی میں گناہوں سے مجھے محفوظ رکھ اور تیری پناہ لیتا ہوں اے اللہ اس سے کہ تیری نافرمانی کے کسی
مِنْ مَعاصِیکَ أَبَداً مَا أَبْقَیْتَنِی، حَتَّی تَتَوَفَّانِی وَأَنَا لَکَ مُطِیعٌ وَأَنْتَ عَنِّی راضٍ،
کام کیطرف پلٹوں جب تک تو مجھے زندہ رکھے یہاں تک کہ مجھے موت دے تو میں تیرا اطاعت گزار اور تو مجھ سے راضی ہو اور یہ کہ تو
وَأَنْ تَخْتِمَ لِی عَمَلِی بِأَحْسَنِهِ وَتَجْعَلَ لِی ثَوابَهُ الْجَنَّةَ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ
میرے اعمال نامے کو نیکی پر ختم کرے اور اس کے ثواب میں مجھے جنت عطا کرے نیز میرے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے شایاں
یَا أَهْلَ التَّقْوی وَیَا أَهْلَ الْمَغْفِرَةِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ
ہے اے بچانے والے اے پردہ پوشی کرنے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھ پر رحم فرما اپنی رحمت سے
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
( ۵ )دورکعت نماز اور ستر مرتبہ استغفار کے بعد شیخ و سید کی نقل کردہ وہ دعا پڑھے ،جس کا آغاز الحمد للہ رب العالمین سے ہوتا ہے ،ہر مومن اور مومنہ حضرت امیر-کی پیروی کرتے ہوئے صدقہ و خیرات کرے نیز حضرت کی زیارت پڑھے اور اس روز زیارت جامعہ کا پڑھنا زیادہ مناسب ہے ۔
پچیسویں ذی الحجہ کا دن
۲۵ ذی الحجہ ایک عظیم الشان دن ہے کہ اسی روز اہل بیت ٪کے حق میں سورئہ دھر نازل ہوا تھا ،اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان مقدس ہستیوں نے تین دن کے روزے رکھے ،اپنی افطاری مسکین ،یتیم،اور اسیر کو عطا کرتے ہوئے خود پانی سے افطار فرماتے رہے ۔پس بہتر ہے اہلبیت اطہارعليهالسلام کے پیروکار مسلمان ان بزرگواروں کی اتباع میں ۲۵ ذی الحجہ کی شب میں یتیموں اور مسکینوں کو صدقہ دیں اور ان کی تواضع کریں ۔نیز اس دن کا روزہ بھی رکھیں ۔بعض علمائ آج کے دن کو روز مباہلہ بھی قرار دیتے ہیں لہذا زیارت جامعہ کے ساتھ ساتھ دعا مباہلہ کا پڑھنا بھی مناسب ہے ۔
ذی الحجہ کا آخری دن
یہ اسلامی سال کا آخری دن ہے ۔سید نے کتاب اقبال میں روایت کی ہے کہ اس دن دو رکعت نماز بجا لائے ،جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ توحید اور دس مرتبہ آیۃ الکرسی پڑھے ،نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللَّٰهُمَّ مَا عَمِلْتُ فِی هذِهِ السَّنَةِ مِنْ عَمَلٍ نَهَیْتَنِی عَنْهُ وَلَمْ تَرْضَهُ وَنَسِیتُهُ وَلَمْ
اے معبود اس سال میں جو ایسا عمل میں نے کیا ہے جس سے تو نے مجھے روکا ہے جو تجھے پسند نہیں میں اسے بھول گیا ہوں لیکن تو اسے
تَنْسَهُ وَدَعَوْتَنِی إلَی التَّوْبَةِ بَعْدَ اجْتِرائِی عَلَیْکَ، اَللّٰهُمَّ فَ إنِّی أَسْتَغْفِرُکَ مِنْهُ فَاغْفِرْ
نہیں بھولا اور تو نے گناہ پر میری اس دلیری کے بعد مجھے توبہ کیطرف بلایا ہے اے معبود میںتجھ سے اس گناہ کی معافی مانگتا ہوں پس
لِی، وَمَا عَمِلْتُ مِنْ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إلَیْکَ فَاقْبَلْهُ مِنِّی، وَلاَ تَقْطَعْ رَجائِی مِنْکَ یَا کَرِیمُ
مجھے بخش دے ، میرا جو عمل مجھ کو تیرے نزدیک لانے والا ہے اسے قبول فرما اور میں تجھ سے جو آس رکھتا ہوں اسے نہ توڑ اے مہربان۔
جب مومن یہ دعا پڑھے گا تو شیطان کہے گا افسوس ہے مجھ پر کہ میں نے اس سال کے دوران اس شخص کو گمراہ کرنے کی جتنی کوشش کی وہ اس کے ان کلمات کے ادا کرنے سے اکارت ہو گئی ہے اور اس نے اپنا یہ سال بخیر و خوبی پورا کرلیا ہے ۔
ساتویں فصل
ماہ محرم کے اعمال
واضح ہو کہ محرم کا مہینہ اہلبیت اور ان کے پیروکاروں کے لئے رنج و غم کا مہینہ ہے ۔امام علی رضا -سے روایت ہے کہ جب ماہ محرم آتا تھا تو کوئی شخص والد بزرگوار امام موسٰی کاظم - کو ہنستے ہوئے نہ پاتا تھا ،آپ پر حزن و ملال طاری رہا کرتا اور جب دسویں محرم کا دن آتا تو آہ وزاری کرتے اور فرماتے کہ آج وہ دن ہے جس میں امام حسین - کو شہید کیا گیا تھا ۔
پہلی محرم کی رات
سید نے کتاب اقبال میں اس رات کی چند نمازیں ذکر فرمائی ہیں :
( ۱ )سورکعت نماز جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد اور سورئہ توحید پڑھے :
( ۲ )دورکعت نماز جس کی پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ انعام اور دوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ یاسین پڑھے :
( ۳ )دو رکعت نماز جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورئہ توحید پڑھے :
روایت ہوئی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ جو شخص اس رات دو رکعت نماز ادا کرے اور اس کی صبح جو کہ سال کا پہلا دن ہے روزہ رکھے تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو سال بھر تک اعمال خیر بجا لاتا رہا ،وہ شخص اس سال محفوظ رہے گا اور اگر اسے موت آجائے تو وہ بہشت میں داخل ہو جائے گا ،نیز سید نے محرم کا چاند دیکھنے کے وقت کی ایک طویل دعا بھی نقل فرمائی ہے۔
پہلی محرم کا دن
اسلامی سال کا پہلا دن ہے اس کے لئے دو عمل بیان ہوئے ہیں ۔
( ۱ )روزہ رکھے،اس ضمن میں ریان بن شبیب نے امام علی رضا -سے روایت کی ہے ۔ کہ جو شخص پہلی محرم کاروزہ رکھے اور خدا سے کچھ طلب کرے تو وہ اس کی دعا قبول فرمائے گا ،جیسے حضرت زکریا -کی دعا قبول فر مائی تھی ۔
( ۲ )امام علی رضا -سے روایت ہوئی ہے کہ حضرت رسول پہلی محرم کے دن دو رکعت نماز ادا فرماتے اور نماز کے بعد اپنے ہاتھ سوئے آسمان بلند کر کے تین مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے :
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْاِلهُ الْقَدِیمُ، وَهذِهِ سَنَةٌ جَدِیدَةٌ، فأَسْأَلُکَ فِیهَا الْعِصْمَةَ مِنَ الشَّیْطانِ
اے اللہ! تو معبود قدیمی ہے اور یہ نیا سال ہے جو اب آیا ہے پس اس سال کے دوران میں شیطان سے بچاؤ کا سوال کرتاہوں اس
وَالْقُوَّةَ عَلَی هذِهِ النَّفْسِ الْاََمَّارَةِ بِالسُّوئِ وَالاشْتِغالَ بِما یُقَرِّبُنِی إلَیْکَ یَا کَرِیمُ،
نفس پر غلبے کا سوال کرتا ہوں جو برائی پر آمادہ کرتا ہے اور یہ کہ مجھے ان کاموں میں لگا جو مجھے تیرے نزدیک کریں اے مہربان
یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا عِمادَ مَنْ لا عِمادَ لَهُ یَا ذَخِیرَةَ مَنْ لا ذَخِیرَةَ لَهُ یَا حِرْزَ
اے جلالت اور بزرگی کے مالک اے بے سہاروں کے سہارے اے تہی دست لوگوں کے خزانے اے بے کسوں کے نگہبان
مَنْ لاَ حِرْزَ لَهُ یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَهُ یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَهُ یَا کَنْزَ مَنْ لاَ کَنْزَ لَهُ
اے بے بسوں کے فریاد رس اے بے حیثیتوں کی حیثیت اے بے خزانہ لوگوں کے خزانے اے بہتر آزمائش کرنے والے
یَا حَسَنَ الْبَلائِ یَا عَظِیمَ الرَّجائِ یَا عِزَّ الضُّعَفائِ یَا مُنْقِذَ الْغَرْقیٰ یَا مُنْجِیَ الْهَلْکَیٰ
اے سب سے بڑی امید اے کمزوروں کی عزت اے ڈوبتوں کو تیرانے والے اے مرتوں کو بچانے والے اے نعمت والے
یَا مُنْعِمُ یَا مُجْمِلُ یَا مُفْضِلُ یَا مُحْسِنُ أَنْتَ الَّذِی سَجَدَ لَکَ سَوادُ اللَّیْلِ وَنُورُ النَّهارِ
اے جمال والے اے فضل والے اے احسان والے تو وہ ہے جس کو سجدہ کرتے ہیں رات کے اندھیرے دن کے اجالے چاند کی
وَضَوْئُ الْقَمَرِ، وَشُعاعُ الشَّمْسِ، وَدَوِیُّ الْمائِ، وَحَفِیفُ الشَّجَرِ یَا ﷲ لاَ شَرِیکَ
چاندنیاں سورج کی کرنیں پانی کی روانیاں اور درختوں کی سرسراہٹیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں اے اللہ ہمیں لوگوں نیک گماں
لَکَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنا خَیْراً مِمَّا یَظُنُّونَ وَاغْفِرْ لَنا مَا لاَ یَعْلَمُونَ وَلاَ تُؤاخِذْنا بِما یَقُولُونَ
سے بھی زیادہ نیک بنا دے لوگ ہم کو اچھا سمجھتے ہیں ہمارے وہ گناہ بخش جن کو وہ نہیں جانتے اور جو کچھ وہ ہمارے بارے میں کہتے ہیں
حَسْبِیَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ
اس پرہماری گرفت نہ کر اللہ کافی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے ہمارا ایمان
آمَنَّا بِهِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنا وَمَا یَذَّکَّرُ إلاَّ أُولُوا الْاََلْبابِ، رَبَّنا لا تُزِغْ
ہے کہ سب کچھ ہمارے رب کیطرف سے ہے اور صاحبان عقل کے سوا کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا اے ہمارے رب ہمارے دلوں
قُلُوبَنا بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنا وَهَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
کو ٹیڑھا نہ ہونے دے جبکہ ہمیں تو نے ہدایت دی ہے اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے ۔
شیخ طوسیرحمهالله نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہے مگر یوم عاشورہ کو عصر تک کچھ نہ کھائے پیئے، عصر کے بعد، تھوڑی سی خاک شفا سے فاقہ شکنی کرے، سید نے پورے ماہ محرم کے روزے رکھنے کی فضیلت لکھی اور فرمایا ہے کہ اس مہینے کے روزے انسان کو ہر گناہ سے محفوظ رکھتے ہیں۔( ۱ )
تیسری محرم کا دن
یہ وہ دن ہے جس دن حضرت یوسف -قید خانے سے آزاد ہوئے تھے ،جو شخص اس دن کا روزہ رکھے حق تعالیٰ اس کی مشکلات آسان فرماتا ہے اور اس کے غم دور کر دیتا ہے نیز حضرت رسول سے روایت ہوئی ہے کہ اس دن کا روزہ رکھنے والے کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔
نویں محرم کا دن
یہ روز تاسوعا حسینی ہے ،امام جعفر صادق -سے روایت ہے کہ نو( ۹ ) محرم کے دن فوج یزید نے امام حسین -اور ان کے انصار کا گھیراؤ کر کے لوگوں کو ان کے قتل پر آمادہ کیا ابن مرجانہ اور عمر بن سعد اپنے لشکر کی کثرت پر خوش تھے اور امام حسین- کو ان کی فوج کی قلت کے باعث کمزور و ضعیف سمجھ رہے تھے ۔انہیں یقین ہو گیا تھا کہ اب امام حسین -کا کوئی یار و مددگار نہیں آسکتا اور
( ۱ ) سوائے یوم عاشور کے کیونکہ اس دن کا روزہ مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک حرام ہے۔
عراق والے ان کی کچھ بھی مدد نہیں کرسکتے امام جعفر صادق -نے یہ بھی فرمایا کہ اس غریب و ضعیف یعنی امام حسین - پر میرے والد بزرگوار فدا وقربان ہوں ۔
دسویں محرم کی رات
یہ شب عاشور ہے ،سید نے اس رات کی بہت سی بافضیلت نمازیں اور دعائیں نقل فرمائی ہیں ۔ان میں سے ایک سو رکعت نماز ہے ،جو اس رات پڑھی جاتی ہے اس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد تین مرتبہ سورئہ توحید پڑھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر مرتبہ کہے :
سُبْحانَ ﷲ، وَالحَمْدُ ﷲِ، وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بﷲ
پاک تر ہے اللہ حمد اللہ ہی کے لئے ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ بزرگتر ہے اور نہیں ہے کوئی طاقت وقوت مگر وہی جو
العَلِیِّ العَظِیمِ
خدائے بلند و برتر سے ملتی ہے ۔
بعض روایات میں ہے کہالعَلِیِّ العَظِیمِ کے بعد استغفار بھی پڑھے :اس رات کے آخری حصے میں چار رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ آیۃالکرسی۔دس مرتبہ سورئہ توحید دس مرتبہ سورئہ فلق اور دس مرتبہ سورئہ ناس کی قرائت کرے اور بعد از سلام سومرتبہ سورئہ توحید پڑھے :
آج کی رات چار رکعت نماز ادا کرے جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد پچاس مرتبہ سورئہ توحید پڑھے ،یہ وہی نماز امیرالمؤمنینعليهالسلام ہے کہ جس کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اس نماز کے بعد زیادہ سے زیادہ ذکر الہی کرے حضرت رسول پر صلوات بھیجے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دشمنوں پر بہت لعنت کرے ۔
اس رات بیداری کی فضیلت میں روایت وارد ہوئی ہے کہ اس رات کو جاگنے والا اس کے مثل ہے جس نے تمام ملائکہ جتنی عبادت کی ہو، اس رات میں کی گئی عبادت ستر سال کی عبادت کے برابر ہے، اگر کسی شخص کیلئے یہ ممکن ہو تو آج رات کو اسے سر زمین کربلا میں رہنا چاہیے، جہاں وہ حضرت امام حسین -کے روضہ اقدس کی زیارت کرے اور حضرت امام حسین - کے قرب میں شب بیداری کرے تاکہ خدا اس کو امام حسین- کے ساتھیوں میں شمار کرے جو اپنے خون میں لتھڑے ہوئے تھے۔
دسویں محرم کادن
یہ یوم عاشور ہے جو امام حسین- کی شہادت کا دن ہے یہ ائمہ طاہرین اور ان کے پیروکاروں کیلئے مصیبت کا دن ہے اور حزن و ملال میں رہنے کادن ہے ،بہتر یہی ہے کہ امام علی - کے چاہنے اور ان کی اتباع کرنے والے مومن مسلمان آج کے دن دنیاوی کاموں میں مصروف نہ ہوں اور گھر کے لئے کچھ نہ کمائیں بلکہ نوحہ و ماتم اور نالہ بکائ کرتے رہیں ،امام حسین - کیلئے مجالس برپا کریں اور اس طرح ماتم و سینہ زنی کریں جس طرح اپنے کسی عزیز کی موت پر ماتم کیا کرتے ہوں آج کے دن امام حسین- کی زیارت عاشور پڑھیں جو تیسرے باب میں ذکر ہوگی ،حضرت کے قاتلوں پر بہت زیادہ لعنت کریں اور ایک دوسرے کو امام حسین- کی مصیبت پر ان الفاظ میں پرسہ دیں۔
أَعْظَمَ ﷲ أُجُورَنا بِمُصأبِنا بِالْحُسَیْنِں وَجَعَلَنا وَ إیَّاکُمْ مِنَ الطَّالِبِینَ
اللہ زیادہ کرے ہمارے اجر و ثواب کو اس پر جو کچھ ہم امام حسین- کی سوگواری میں کرتے ہیں اور ہمیں تمہیںامام حسین- کے خون کا
بِثارِهِ مَعَ وَلِیِّهِ الْاِمامِ الْمَهْدِیِّ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ
بدلہ لینے والوں میں قرار دے اپنے ولی امام مہدیعليهالسلام کے ہم رکاب ہو کر کہ جو آل محمد میں سے ہیں ۔
ضروری ہے کہ آج کے دن امام حسین- کی مجلس اور واقعات شہادت کو پڑھیں خود روئیں اور دوسروں کو رلائیں ،روایت میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ -کو حضرت خضر -سے ملاقات کرنے اور ان سے تعلیم لینے کا حکم ہوا تو سب سے پہلی بات جس پر ان کے درمیان مذاکرہ مکالمہ ہوا وہ یہ ہے کہ حضرت خضر -نے حضرت موسیٰ -کے سامنے ان مصائب کا ذکر کیا جو آل محمد پہ آنا تھے ،اور ان دونوں بزرگواروں نے ان مصائب پر بہت گریہ و بکا کیا ۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:میں مقام ذیقار میں امیرالمؤمنین- کے حضور گیاتو آپ نے ایک کتابچہ نکالا جو آپ کا اپنا لکھا ہوا اور رسول اللہ کا لکھوایا ہوا تھا، آپ نے اس کا کچھ حصہ میرے سامنے پڑھا اس میں امام حسین- کی شہادت کا ذکر تھا اور اسی طرح یہ بھی تھا کہ شہادت کس طرح ہو گی اور کون آپ کو شہید کرے گا ،کون کون آپ کی مدد و نصرت کرے گا اور کون کون آپ کے ہمرکاب رہ کر شہید ہوگا یہ ذکر پڑھ کر امیرالمؤمنین- نے خود بھی گریہ کیا اور مجھ کو بھی خوب رلایا ۔مؤلف کہتے ہیں اگر اس کتاب میں گنجائش ہوتی تو میں یہاں امام حسین- کے کچھ مصائب ذکر کرتا ،لیکن موضوع کے لحاظ سے اس میں ان واقعات کا ذکر نہیں کیا جاسکتا ،لہذا قارئین میری کتب مقاتل کی طرف رجوع کریں ۔خلاصہ یہ کہ اگر کوئی شخص آج کے دن امام حسین- کے روضہ اقدس کے نزدیک رہ کر لوگوں کو پانی پلاتا رہے تو وہ اس شخص کی مانند ہے، جس نے حضرت کے لشکر کو پانی پلایا ہو اور آپ کے ہمرکاب کربلا میں موجود رہا ہو آج کے دن ہزار مرتبہ سورئہ توحید پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے، روایت میں ہے کہ خدائے تعالیٰ ایسے شخص پر نظر رحمت فرماتا ہے ،سید نے آج کے دن ایک دعا پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے ۔جو دعائے عشرات کی مثل ہے ،بلکہ بعض روایات کے مطابق وہ دعا ئے عشرات ہی ہے ۔
شیخ نے عبداللہ بن سنان سے انہوں نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ یوم عاشور کو چاشت کے وقت چار رکعت نماز و دعا پڑھنی چاہیے کہ جسے ہم نے اختصار کے پیش نظر ترک کر دیا ہے پس جو شخص اسے پڑھنا چاہتا ہو وہ علامہ مجلسی کی کتاب زادالمعاد میں ملاحظہ کرے۔ یہ بھی ضروری اور مناسب ہے کہ شیعہ مسلمان آج کے دن فاقہ کریں، یعنی کچھ کھائیں پئیں نہیں، مگر روزے کا قصد بھی نہ کریں عصر کے بعد ایسی چیز سے افطار کریں جو مصیبت زدہ انسان کھاتے ہیں مثلا دودھ یا دھی و غیرہ نیز آج کے دن قمیضوں کے گریبان کھلے رکھیں اور آستینیں چڑھا کر ان لوگوں کی طرح رہیں جو مصیبت میں مبتلا ہو تے ہیں یعنی مصیبت زدہ لوگوں جیسی شکل و صورت بنائے رہیں ۔
علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ نہ رکھے کیونکہ بنی امیہ اور ان کے پیروکار ان دو دنوں کو امام حسین- کو قتل کرنے کے باعث بڑے بابرکت وحشمت تصور کرتے ہیں اور ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے ،انہوں نے بہت سی وضعی حدیثیں حضرت رسول کی طرف منسوب کر کے یہ ظاہر کیا کہ ان دو دنوں کا روزہ رکھنے کا بڑا اجر و ثواب ہے حالانکہ اہلبیت سے مروی کثیر حدیثوں میں ان دودنوں اور خاص کر یوم عاشور کا روزہ رکھنے کی مذمت آئی ہے ،بنی امیہ اور ان کی پیروی کرنے والے برکت کے خیال سے عاشورا کے دن سال بھر کا خرچہ جمع کر کے رکھ لیتے تھے اسی بنا پر امام رضا- سے منقول ہے کہ جو شخص یوم عاشور اپنا دنیاوی کاروبار چھوڑے رہے تو حق تعالیٰ اس کے دنیا و آخرت سب کاموں کو انجام تک پہنچا دے گا ،جو شخص یوم عاشور کو گریہ و زاری اور رنج و غم میں گزارے تو خدائے تعالیٰ قیامت کے دن کو اس کیلئے خوشی و مسرت کا دن قرار دے گا اور اس شخص کی آنکھیں جنت میں اہلبیت کے دیدار سے روشن ہوں گی ،مگر جو لوگ یوم عاشورا کو برکت والا دن تصور کریں اور اس دن اپنے گھر میں سال بھر کا خرچ لا کر رکھیں تو حق تعالیٰ ان کی فراہم کی ہوئی جنس و مال کو ان کے لئے بابرکت نہ کرے گا اور ایسے لوگ قیامت کے دن یزید بن معاویہ ،عبیداللہ بن زیاد اور عمرابن سعد جیسے ملعون جہنمیوں کے ساتھ محشور ہوں گے اس لئے یوم عاشور میں کسی انسان کو دنیا کے کاروبار میں نہیں پڑنا چاہیے اور اس کی بجائے گریہ و زاری ،نوحہ و ماتم اور رنج و غم میں مشغول رہنا چاہیے نیز اپنے اہل و عیال کو بھی آمادہ کرے کہ وہ سینہ زنی و ماتم میں اس طرح مشغول ہوں جیسے اپنے کسی رشتہ دار کی موت پر ہوا کرتے ہیں ۔آج کے دن روزے کی نیت کے بغیر کھانا پینا ترک کیئے رہیں اور عصر کے بعد تھوڑے سے پانی و غیرہ سے فاقہ شکنی کریں اور دن بھر فاقے سے نہ رہیں مگر یہ کہ اس پر کوئی روزہ واجب ہو جیسے نذر وغیرہ آج کے دن گھر میں سال بھر کیلئے غلہ و جنس جمع نہ کرے ،آج کے دن ہنسنے سے پرہیز کریں، اور کھیل کود میں ہرگز مشغول نہ ہوں اور امام حسین- کے قاتلوں پر ان الفاظ میں ہزار مرتبہ لعنت کریں:
اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ الْحُسَیْنِ ں
اے اللہ:امام حسین -کے قاتلوں پر لعنت کر
مؤلف کہتے ہیں اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوم عاشور کا روزہ رکھنے کے بارے میں جو حدیثیں آئیں وہ سب جعلی اور بناوٹی ہیں اور ان کو جھوٹوں نے حضرت رسول کی طرف منسوب کیا ہے :
اَللَّهُمَّ انَّ هَذَا یُوْمَ تَبَرَکْتَ بِهٰ بَنُوْ اُمَیَّةِ
اے اللہ ! یہ وہ دن ہے جس کو بنی امیہ نے بابرکت قرار دیا ہے ۔
صاحب شفا ئ الصدور نے زیارت کے مندرجہ بالا جملے کے ذیل میں ایک طویل حدیث سے اس کی تشریح فرمائی ہے ۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی امیہ آج کے منحوس دن کو چند وجوہات کی بنا پر بابرکت تصور کرتے تھے ۔
( ۱ ) بنی امیہ نے آج کے دن آیندہ سال کے لئے غلہ و جنس جمع کر رکھنے کو مستحب جانا اور اس کو وسعت رزق اور خوشحالی کا سبب قراردیا ،چنانچہ اہلبیت کی طرف سے ان کے اس زعم باطل کی باربار تردید اور مذمت کی گئی ہے ۔
( ۲ )بنی امیہ نے آج کے دن کو روز عید قرار دیا اور اس میں عید کے رسوم جاری کیے ۔جیسے اہل و عیال کے لئے عمدہ لباس و خوراک فراہم کرنا ،ایک دوسرے سے گلے ملنا اور حجامت بنوانا وغیرہ لہذا یہ امور ان کے پیروکاروں میں عام طور پر رائج ہو گئے ۔
( ۳ )انہوں نے آج کے دن کا روزہ رکھنے کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وضع کیں اور اس دن روزہ رکھنے پر عمل پیرا ہوئے ۔
( ۴ )انہوں نے عاشور کے دن دعا کرنے اور اپنی حاجات طلب کرنے کو مستحب قرار دیا اس لئے اس سے متعلق بہت سے فضائل اور مناقب گھڑ لیے ،نیز آج کے دن پڑھنے کے لئے بہت سی دعائیں بنائیں اور انہیں عام کیا تاکہ لوگوں کو حقیقت واقعہ کی سمجھ نہ آئے چنانچہ وہ آج کے دن اپنے شہروں میں منبروں پر جو خطبے دیتے ،ان میں یہ بیان ہوا کرتا تھا کہ آج کے دن ہر نبی کے لئے شرف اور وسیلے میں اضافہ ہوا مثلا نمرود کی آگ بجھ گئی حضرت نوح کی کشتی کنارے لگی ،فرعون کا لشکر غرق ہوا حضرت عیسیٰ کو یہودیوں کے چنگل سے نجات حاصل ہوئی یعنی یہ سب امور آج کے دن وقوع میں آئے ۔تاہم ان کا یہ کہنا سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
اس بارے میں شیخ صدوق نے جبلہ مکیہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے میثم تمار سے سنا وہ کہتے تھے: خدا کی قسم ! یہ امت اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند کو دسویں محرم کے دن شہید کرے گی اور خدا کے دشمن اس دن کو بابرکت دن تصور کریں گے یہ سب کام ہو کر رہیں گے اور یہ باتیں اللہ کے علم میں آچکیں ہیں یہ بات مجھے اس عہد کے ذریعے سے معلوم ہے ،جو مجھ کو امیرالمؤمنین- کی طرف سے ملا ہے جبلہ کہتے ہیں کہ میں نے میثم سے عرض کی کہ وہ لوگ امام حسین- کے روز شہادت کو کس طرح بابرکت قراردیں گے ؟تب میثم رو پڑے اور کہا لوگ ایک ایسی حدیث وضع کریں گے جس میں کہیں گے کہ آج کا دن ہی وہ دن ہے کہ جب حق تعالیٰ نے حضرت آدم -کی توبہ قبول فرمائی۔
حالانکہ خدائے تعالیٰ نے ان کی توبہ ذی الحجہ میں قبول کی تھی وہ کہیں گے آج کے دن ہی خدانے حضرت یونس- کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکالا حالانکہ خدانے ان کو ذی القعدہ میں شکم ماہی سے نکالا تھا وہ تصور کریں گے کہ آج کے دن حضرت نوح - کی کشتی جودی پر رکی ،جبکہ کشتی ۸۱ ذی الحجہ کو رکی تھی وہ کہیں گے کہ آج کے دن ہی حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ -کیلئے دریا کو چیرا ،حالانکہ یہ واقعہ ربیع الاول میں ہوا تھا خلاصہ یہ کہ میثم تمار کی اس روایت میں مذکورہ تصریحات وہ ہیں جو اصل میں نبوت و امامت کی علامات ہیں اور شیعہ مسلمانوں کے برسر حق ہونے کی روشن دلیل ہیں ۔ کیونکہ اس میں ان باتوں کا ذکر ہے جو ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں پس یہ تعجب کی بات ہے کہ اس واضح خبر کے باوجود ان لوگوں نے اپنے وہم وگمان کی بنا پر قراردی ہوئی جھوٹی باتوں کے مطابق دعائیں بنا لی ہیں جو بعض بے خبر اشخاص کی کتابوں میں درج ہیں کہ جن کو ان کی اصلیت کا کچھ بھی علم نہ تھا ۔
ان کتابوں کے ذریعے سے یہ دعائیں عوام کے ہاتھوں میں پہنچ گئی ہیں، لیکن ان دعاؤں کا پڑھنا بدعت ہونے کے علاوہ حرام بھی ہے ان بدعت و حرام دعاؤں میں سے ایک یہ ہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، سُبْحانَ ﷲ مِلئَ الْمِیزانِ، وَمُنْتَهَی الْعِلْمِ، وَمَبْلَغَ
خدا کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے پاک ہے اللہ ترازو کے پورا ہونے علم کی آخری حدوں اور خوشنودی
الرِّضا، وَزِنَةَ الْعَرْشِ
کی رسائی اور وزن عرش کے برابر ۔
دو تین سطروں کے بعد یہ ہے کہ دس مرتبہ صلوات پڑھے پھر یہ کہے :
یَا قَابِلَ تَوْبَةِ آدَمَ یَوْمَ عاشُورائَ یَارافِعَ إدْرِیسَ إلَی السَّمائِ یَوْمَ عاشُورائَ یَا مُسَکِّنَ
اے روز عاشور آدمعليهالسلام کی توبہ قبول کرنے والے اے عاشور کے دن ادریسعليهالسلام کو آسمان پر لے جانے والے اے
سَفِینَةِ نُوحٍ عَلَی الْجُودِیِّ یَوْمَ عاشُورائَ، یَا غِیاثَ إبْراهِیمَ مِنَ النَّارِ یَوْمَ عاشُورائَ
اے روز عاشور نوحعليهالسلام کی کشتی کو جودی پہاڑ پر ٹکانے والے اے یوم عاشور ابراہیمعليهالسلام کو آگ سے نجات دینے والے
اس میں شک نہیں کہ یہ دعا مدینے کے کسی ناصبی یا مسقط کے کسی خارجی نے یا ان کے کسی ہم عقیدہ نے گھڑی ہے ،اس طرح اس نے وہ ظلم کیا ہے جو بنی امیہ کے ظلم کو انتہائ تک پہنچا دیتا ہے یہ بیان کتاب شفائ الصدور کے مندرجات کا خلاصہ ہے جو یہاں ختم ہو گیا ہے ۔بہرحال یوم عاشور کے آخری وقت میں امام حسین- کے اہل حرم انکی دختران اور اطفال کے حالات و واقعات کو نظر میں لانا چاہیے کہ اس وقت میدان کربلا میں ان پر کیا بیت رہی ہے ۔جب کہ وہ دشمنوں کے ہاتھوں قید میں ہیں اور اپنی مصیبتوں میں آہ و زاری کررہے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ اہلبیت پر وہ دکھ اور مصیبتیں آئی ہیں جو کسی انسان کے تصور میں نہیں آسکتیں اور قلم دان کو لکھنے کا یارا نہیں ،کسی شاعر نے اس سانحہ کو کیا خوب بیان کیا ہے :
فاجِعةٌ إنْ أَرَدْتُ أَکْتُبُها
مُجْمَلَةً ذِکْرَةً لِمُدَّکِرِ
یہ ایسی مصیبت ہے اگر اسے لکھوں
کسی یاد کرنے والے کیلئے مجمل سی یاد دھانی
جَرَتْ دُمُوعَی فَحالَ حائِلُها
مَا بَیْنَ لَحْظِ الْجُفُونِ وَالزُّبُرِ
تو میرے آنسو نکل پڑتے ہیں اور
میری آنکھوں اور اوراق کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں
وَقال قَلْبی بُقْیا عَلَیَّ فَلاَ
وَﷲ مَا قَدْ طُبِعْتُ مِنْ حَجَرِ
میرا دل کہتا ہے رحم کر مجھ پر نہیں میں
بخدا کو ئی پتھر کہ میری تو جان نکلے جارہی
بَکَتْ لَهَا الْاََرْضُ وَالسَّمائُ
وَمَا بَیْنَهُما فی مَدامِعٍ حُمُرِ
اس پر روئے ہیں زمین و آسماں
اور جو کچھ ان کے درمیان ہے خون کے آنسو
یوم عاشور کے آخر وقت کھڑا ہو جائے اور رسول اللہ ، امیرالمؤمنین، جناب فاطمہ، امام حسن اور باقی ائمہ جو اولادامام حسین- میں سے ہیں ،ان سب پر سلام بھیجے اور گریہ کی حالت میں ان کو پرسہ دے اور یہ زیارت پڑھے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ،
آپ پر سلام ہو اے آدمعليهالسلام کے وارث جو برگزیدئہ خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے نوحعليهالسلام کے وارث جو اللہ کے نبی ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے ابراہیمعليهالسلام کے وارث جو اللہ کے دوست ہیں آپ پر سلام ہو اے موسیٰعليهالسلام کے وارث جو خدا کے کلیمعليهالسلام ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عَیسی رُوحِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے عیسٰیعليهالسلام کے وارث جو خدا کی روح ہیں آپ پر سلام ہو اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وارث جو خدا کے حبیب ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ لِیِّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ
آپ پر سلام ہو اے علیعليهالسلام کے وارث جو مؤمنوں کے امیر اور ولی خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے حسنعليهالسلام
الْحَسَنِ الشَّهِیدِ سِبْطِ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
کے وارث جو شہید ہیں اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نواسے ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول کے فرزند آپ پر سلام ہو
یَابْنَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ وَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ
اے بشیر و نذیر اور وصیوں کے سردار کے فرزند آپ پر سلام ہو اے فرزند فاطمہعليهالسلام جو جہانوں کی عورتوں کی
الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خِیَرَةَ ﷲ وَابْنَ خِیَرَتِهِ،
سردار ہیں آپ پر سلام ہو اے ابو عبداعليهالسلام للہ آپ پر سلام ہو اے خدا کے پسند کیے ہوئے اور پسندیدہ کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ ﷲ وَابْنَ ثارِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْوِتْرُ الْمَوْتُورُ، اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے شہید راہ خدا اور شہید کے فرزند آپ پر سلام ہو اے وہ مقتول جس کے قاتل ہلاک ہوگئے آپ پر
عَلَیْکَ أَیُّهَا الْاِمامُ الْهادِی الزَّکِیُّ وَعَلَی أَرْواحٍ حَلَّتْ بِفِنائِکَ وَأَقامَتْ فَی جِوارِکَ
سلام ہو اے ہدایت و پاکیزگی والے امام اور سلام ان روحوں پر جوآپ کے آستاں پر سوگئیں اور آپ کی قربت میں رہ رہی ہیں
وَوَفَدَتْ مَعَ زُوَّارِکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مِنِّی مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ،
اور سلام ہو ان پر جو آپکے زائروں کیساتھ آئیں میرا آپ پر سلام ہو جب تک میں زندہ ہوں اور جب تک رات دن کا سلسلہ قائم ہے
فَلَقَدْ عَظُمَتْ بِکَ الرَّزِیَّةُ وَجَلَّ الْمُصابُ فِی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ وَفِی أَهْلِ السَّمٰوَاتِ
یقینا آپ پر بہت بڑی مصیبت گزری ہے اور اس سے بہت زیادہ سوگواری ہے مومنوں اور مسلمانوں میں آسمانوں میں رہنے والی
أَجْمَعِینَ وَفِی سُکَّانِ الْاََرَضِینَ فَ إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ، وَصَلَواتُ ﷲ
ساری مخلوق میں اور زمین میں رہنے والی خلقت میں پس اللہ ہم ہی کیلئے ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹ کر جائیں گے خدا کی رحمتیں
وَبَرَکاتُهُ وَتَحِیَّاتُهُ عَلَیْکَ وَعَلَی آبائِکَ الطَّاهِرِینَ الطَّیِّبِینَ الْمُنْتَجَبِینَ وَعَلَی ذَرارِیهِمُ
ہوں اس کی برکتیں آپ پر سلام ہو اور آپ کے آبائ واجداد پر جو پاک نہاد نیک سیرت اور برگزیدہ ہیں اور ان کی اولاد پر
الْهُداةِ الْمَهْدِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَعَلَیْهِمْ وَعَلَی رُوحِکَ وَعَلَی أَرْواحِهِمْ،
کہ جو ہدایت یافتہ پیشوا ہیں آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اور ان سب پرسلام ہو آپ کی روح پر اور ان کی روحوں پر
وَعَلَی تُرْبَتِکَ وَعَلَی تُرْبَتِهِمْ اَللّٰهُمَّ لَقِّهِمْ رَحْمَةً وَرِضْواناً وَرَوْحاً وَرَیْحاناً اَلسَّلَامُ
اور سلام ہو آپکے مزار پر اور ان کے مزاروں پر اے اللہ !ان سے مہربانی خوشنودی مسرت اور خوش روئی کے ساتھ پیش آئے آپ
عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَیَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، وَیَابْنَ
پر سلام ہو اے میرے سردار اے ابوعبدعليهالسلام اللہ اے نبیوں کے خاتم کے فرزند اے اوصیائ کے سردار کے فرزند اے جہانوں
سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَهِیدُ، یَابْنَ الشَّهِیدِ، یَا أَخَ الشَّهِیدِ، یَا أَبَا
کی عورتوں کی سردار کے فرزند آپ پر سلام ہو اے شہید اے فرزند شہید اے برادر شہید اے پدر
الشُّهَدائِ اَللّٰهُمَّ بَلِّغْهُ عَنِّی فی هذِهِ السَّاعَةِ وَفِی هذَا الْیَوْمِ وَفِی هذَا الْوَقْتِ وَفِی
شہیداں اے اللہ! پہنچا ان کو میری طرف سے اس گھڑی میں آج کے دن میں اور موجودہ وقت میں اور ہرہر
کُلِّ وَقْتٍ تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً، سَلامُ ﷲ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ یَابْنَ سَیِّدِ
وقت میں بہت بہت درود اور سلام، آپ پر اللہ کا سلام ہواللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں اے جہانوں
الْعالَمِینَ وَعَلَی الْمُسْتَشْهَدِینَ مَعَکَ سَلاماً مُتَّصِلاً مَا اتَّصَلَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ اَلسَّلَامُ
کے سردار کے فرزند اور ان پرجو آپ کے ساتھ شہید ہوئے سلام ہو لگاتار سلام جب تک رات دن باہم ملتے ہیں
عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ الشَّهِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ الشَّهِیدِ، اَلسَّلَامُ
حسینعليهالسلام ابن علیعليهالسلام شہید پر سلام ہو علیعليهالسلام ابن حسینعليهالسلام شہید پر سلام ہو
عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ الشَّهِیدِ اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّهَدائِ مِنْ وُلْدِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ
عباسعليهالسلام ابن امیر المؤمنینعليهالسلام شہید پر سلام ہوان شہیدوں پر سلام ہو جو امیرالمؤمنینعليهالسلام کی اولاد میں سے ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّهَدائِ مِنْ وُلْدِ الْحَسَنِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّهَدائِ مِنْ وُلْدِ الْحُسَیْنِ،
ان شہیدوں پر سلام ہو جواولاد حسنعليهالسلام سے ہیں ان شہیدوں پر سلام ہو جو اولاد حسینعليهالسلام سے ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّهَدائِ مِنْ وُلْدِ جَعْفَرٍ وَعَقِیلٍ اَلسَّلَامُ عَلَی کُلِّ مُسْتَشْهَدٍ مَعَهُمْ مِنَ
ان شہیدوں پر سلام ہو جو جعفرعليهالسلام اور عقیلعليهالسلام کی اولاد سے ہیں مومنوں میں سے ان سب شہیدوں پر سلام ہو جو ان کے ساتھ
الْمُؤْمِنِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْهُمْ عَنَّی تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً
شہید ہوئے اے اللہ! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور پہنچا ان کو میری طرف سے بہت بہت درود اور سلام
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ أَحْسَنَ ﷲ لَکَ الْعَزائَ فَی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدائے تعالیٰ آپ کے فرزند حسینعليهالسلام کے بارے میں آپ کے ساتھ بہترین تعزیت کرے آپ پر
عَلَیْکِ یَا فاطِمَةُ أَحْسَنَ ﷲ لَکِ الْعَزائَ فَی وَلَدِکِ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ
سلام ہو اے فاطمہعليهالسلام خدائے تعالیٰ آپ کے فرزند حسینعليهالسلام کے بارے میں آپ کے ساتھ بہترین تعزیت کرے آپ پر سلام ہو اے
الْمُؤْمِنِینَ أَحْسَنَ ﷲ لَکَ الْعَزائَ فِی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا مُحَمَّدٍ
امیرالمؤمنینعليهالسلام خدائے تعالیٰ آپ کے فرزند حسینعليهالسلام کے بارے میں آپ کے ساتھ بہترین تعزیت کرے آپ پر سلام ہو اے ابومحمدعليهالسلام
الْحَسَنَ أَحْسَنَ ﷲ لَکَ الْعَزائَ فَی أَخِیکَ الْحُسَیْنِ، یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ
حسنعليهالسلام خدائے تعالیٰ آپکے بھائی حسینعليهالسلام کے بارے میں آپکے ساتھ بہترین تعزیت کرے اے میرے سردار اے ابوعبدعليهالسلام اللہ
أَنَا ضَیْفُ ﷲ وَضَیْفُکَ وَجارُ ﷲ وَجارُکَ، وَ لِکُلِّ ضَیْفٍ وَجارٍ قِریً وَقِرایَ فِی
میں اللہ کا مہمان اور آپ کا مہمان ہوں اور خدا کی پناہ اور آپکی پناہ میں ہوں یہاں ہر مہمان اور پناہ گیر کی پذیرائی ہوتی ہے اور اس
هذَا الْوَقْتِ أَنْ تَسْأَلَ ﷲ سُبْحانَهُ وَتَعَالی أَنْ یَرْزُقَنِی فَکَاکَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ
وقت میری پذیرائی یہی ہے کہ آپ سوال کریں اللہ سے جو پاک تر اور عالی قدر ہے یہ کہ میری گردن کو عذاب جہنم سے آزاد کردے
إنَّهُ سَمِیعُ الدُّعائِ قَرِیبٌ مُجِیبٌ
بے شک وہ دعا کا سننے والا ہے نزدیک تر قبول کرنے والا ۔
پچیسویں محرم کا دن
بہت سے علما کے نزدیک ۲۵ محرم ۹۴ھ کے دن امام زین العابدین- کی شہادت واقع ہوئی تھی، بعض علمائ نے آپکی شہادت کا دن ۱۲ محرم ۹۵ھ بیان کیا ہے، کہ جس سال کو سنۃالفقہائ کا نام دیا گیا ہے ۔
آٹھویں فصل
ماہ صفر کے اعمال
یہ مہینہ اپنی نحوست کے ساتھ مشہور ہے اور نحوست کو دور کرنے میں صدقہ دینے ،دعا کرنے اور خدا سے پناہ طلب کرنے سے بہتر کوئی اور چیز وارد نہیں ہوئی اگر کوئی شخص اس مہینے میں وارد ہونے والی بلاؤں سے محفوظ رہنا چاہے تو جیسا کہ محدث فیض اور دیگر بزرگوں نے فرمایا ہے، وہ اس دعا کو ہر روز دس مرتبہ پڑھتا رہے :
یَا شَدِیدَ الْقُویٰ وَیَا شَدِیدَ الْمِحالِ یَا عَزِیزُ یَا عَزِیزُ یَا عَزِیزُ ذَ لَّتْ بِعَظَمَتِکَ جَمِیعُ
اے زبردست قوتوں والے اے سخت گرفت کرنے والے اے غالب اے غالب اے غالب تیری بڑائی کے آگے تیری ساری
خَلْقِکَ فَاکْفِنِی شَرَّ خَلْقِکَ، یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ
مخلوق پست ہے پس اپنی مخلوق کے شر سے بچائے رکھ اے احسان والے اے نیکی والے اے نعمت والے اے فضل والے
یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنا لَهُ وَنَجَّیْناهُ
اے کہ نہیں کوئی معبود سوائے تیرے تو پاک تر ہے بے شک میں ظالموں میں سے ہوں پس ہم نے اسکی دعا قبول کی اور اسے نجات
مِنَ الْغَمِّ وَکَذلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ
دے دی اور ہم مومنوں کو اسی طرح نجات دیتے ہیں خدا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل کرے جو پاک و پاکیزہ ہیں ۔
سید نے اس مہینے کا چاند دیکھنے کے وقت کی ایک دعا بھی نقل کی ہے :
پہلی صفر کادن
۳۷ھ میں اس دن امیرالمؤمنین- اور معاویہ کے درمیان جنگ صفین لڑی گئی ،ایک قول کے مطابق ۶۱ ھ میں،اس دن امام حسین- کا سر مبارک دمشق پہنچایا گیا جس سے بنی امیہ کو خوشی ہوئی اور انہوں نے عید منائی یہی وجہ ہے کہ اس روز رنج و غم تازہ ہو جاتا ہے ،اس دن عراق کے مومنین کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوتی ہے اور شام میں بنی امیہ اس کو عید قرار دے رہے ہوتے ہیں اس دن یا ایک قول کے مطابق ۱۲۱ ھ میں تیسری صفر کے دن امام زین العابدینعليهالسلام کے فرزند زید کو شہید کیا گیا ۔
تیسری صفر کا دن
سید ابن طاؤس ہمارے علمائ کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں کہ اس دن دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے اس کی پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ انا فتحنا اور دوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ توحید پڑھے پھر سو مرتبہ صلوات پڑھے اور سو مرتبہ کہے :
اَللَّهُمَّ الْعَنْ آَلَ اَبِیْ سُفْیَانَ
اے اللہ! آل ابو سفیان پر پھٹکار بھیج ۔
اس کے بعد سو مرتبہ استغفار کرے اور اپنی حاجات طلب کرے ۔
ساتویں صفر کا دن
شہید اور کفعمی کے قول کے مطابق ۷ صفر ۱۲۸ھ ÷ کو مکہ مدینہ کے درمیان ابوائ کے مقام پر حضرت امام موسیٰ کاظم -کی ولادت باسعادت ہوئی ۔
بیسویں صفر کا دن
یہ امام حسین- کے چہلم کا دن ہے، بقول شیخین، امام حسین -کے اہل حرم نے اسی دن شام سے مدینہ کی طرف مراجعت کی، اسی دن جابر بن عبداللہ انصاری حضرت امام حسین- کی زیارت کیلئے کربلا معلی پہنچے اور یہ بزرگ حضرت امام حسین- کے اولین زائر ہیں، آج کے دن حضرت امام حسین- کی زیارت کرنا مستحب ہے، حضرت امام حسن عسکری - سے روایت ہوئی ہے کہ مومن کی پانچ علامتیں ہیں، ( ۱ )رات دن میں اکاون رکعت نماز فریضہ و نافلہ ادا کرنا، ( ۲ )زیارت اربعین پڑھنا ( ۳ )دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، ( ۴ )سجدے میں پیشانی خاک پر رکھنا، ( ۵ )اور نماز میں بہ آواز بلند بِسْمِ ﷲ الرَحْمنِ الرَحیمْ پڑھنا، نیز شیخ نے تہذیب او ر مصباح میں اس دن کی مخصوص زیارت حضرت امام جعفر صادق -سے نقل کی ہے جسے ہم انشائ اللہ باب زیارات میں درج کریں گے ۔
اٹھائیسویں صفر کا دن
۱۱ ھ ۲۸ صفر سوموار کے دن رسول اکرم کی وفات ہوئی ،جبکہ آپ کی عمر شریف تریسٹھ ۶۳ سال تھی ۔
چالیس سال کی عمر میں آپ تبلیغ رسالت کیلئے مبعوث ہوئے ،اس کے بعد تیرہ سال تک مکہ معظمہ میں لوگوں کو خدا پرستی کی دعوت دیتے رہے ترپن برس کی عمر میں آپ نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پھر ان کے دس سال بعد آپ نے اس دنیائ فانی سے رحلت فرمائی امیرالمؤمنین- نے بنفس نفیس آپ کو غسل و کفن دیا حنوط کیا اور آپ کی نماز جنازہ پڑھی پھر دوسرے لوگوں نے بغیر کسی امام کے گروہ در گروہ آپ کا جنازہ پڑھا، بعد میں امیرالمؤمنین- نے آنحضرت کو اسی حجرے میں دفن کیا، جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی ۔
انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے دفن کے بعد جناب سیدہ = میرے قریب آئیں اور فرمایا اے انس ! تمہارے دلوں نے یہ کس طرح گوارا کیا کہ آنحضرت کے جسد مبارک پر مٹی ڈالی جائے ۔پھر آپ نے روتے ہوئے فرمایا :
یٰا اَبَتَاهُ اَجٰابَ رَبّاً دَعٰاهُ
یَا اَبَتَاهُ مِنْ رَبِهِ مَا اَدْنٰاهُ
بابا جان نے رب کی آواز پر لبیک کہا
بابا جان آپ اپنے رب کے کتنے قریب ہیں
ایک معتبر روایت کے مطابق بی بی = نے آنحضرت کی قبر مبارک کی تھوڑی سی مٹی لے کر آنکھوں سے لگائی اور فرمایا:
مَاذا عَلَی الْمُشْتَمِّ تُرْبَةَ أَحْمَدٍ
أَنْ لاَ یَشَمَّ مَدَی الزَّمانِ غَوالِیا
جو احمد مجتبی کی تربت کی خوشبو سونگھے
وہ تا زندگی دوسری خوشبو نہ سونگھے گا
صُبَّتْ عَلَیَّ مَصائِبٌ لَوْ أَنَّها
صُبَّتْ عَلَی الْاََیّامِ صِرْنَ لَیالِیا
مجھ پر وہ مصیبتیں پڑی ہیں اگر وہ
دنوں پر آتیں تو وہ کالی راتیں بن جاتے
شیخ یوسف شامی نے درالنظیم میں نقل کیا ہے کہ جناب سیدہ =نے اپنے والد بزرگوار پر یہ مرثیہ پڑھا :
قُلْ لِلْمُغَیِّبِ تَحْتَ أَطْباقِ الثَّریٰ
إنْ کُنْتَ تَسْمَعُ صَرْخَتِی وَنِدائِیا
خاک پردوں میں غائب ہونے والے سے کہو
اگر تو میری فریاد اور پکار سن رہا ہے
صُبَّتْ عَلَیَّ مَصائِبٌ لَوْ أَنَّها
صُبَّتْ عَلَی الْاََیَّامِ صِرْنَ لَیالِیا
مجھ پر وہ مصیبتیں پڑی ہیں کہ اگر وہ
دنوں پر آتیں تو وہ کالی راتیں بن جاتے
قَدْکُنْتُ ذاتَ حِمیً بِظِلِّ مُحَمَّدٍ
لاَأَخْشَی مِنْ ضَیْمٍ وَکانَ حِمیً لِیا
میں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حمایت کے سائے میں تھی
مجھے کسی کے ظلم کا ڈر نہ تھا ان کی پناہ میں
فَالْیَوْمَ أَخْضَعُ لِلذَّلِیلِ وَأَتَّقِی
ضَیْمِی وَأَدْفَعُ ظالِمِی بِرِدائِیا
لیکن آج پست لوگوں کے سامنے حاضر ہوں
ظلم کا خوف ہے اپنی چادر سے ظالم کو ہٹاتی ہوں
فَ إذا بَکَتْ قُمْرِیَّةٌ فِی لَیْلِها
شَجَناً عَلی غُصْنٍ بَکَیْتُ صَباحِیا
رات کی تاریکی میں جب قمری شاخ پر روئے
میں شاخ پر صبح کے وقت روتی ہوں
فَلاَََجْعَلَنَّ الْحُزْنَ بَعْدَکَ مُؤنِسِی
وَلاَََجْعَلَنَّ الدَّمْعَ فِیکَ وِشاحِیا
بابا آپ کے بعد میں نے غم کو اپنا ہمدم بنا لیا
آپ کے غم میں اشکوں کے ہار پروتی ہوں
شہید اور کفعمی کے بقول ۵۰ھ میں اٹھائیسویں صفر کو امام حسن- کی شہادت ہوئی جبکہ جعدہ بنت اشعث نے معاویہ کے اشارے پر آپ کو زہر دیا تھا ۔
صفر کا آخری دن
شیخ طبرسی وابن اثیر کے بقول ۲۰۳ھ میں اسی دن امام علی رضا -کی شہادت اس زہر سے ہوئی جو آپ کو انگور میں دیا گیا ۔جب کہ آپ کی عمر ۵۵ برس تھی آپ کا روضہ مبارک سناباد نامی بستی میں حمید بن قحطبہ کے مکان میں ہے ،جو طوس کا علاقہ ہے اب وہ مشہد مقدس کے نام سے مشہور ہے جہاں لاکھوں افراد زیارت کو آتے ہیں ،ہارون الرشید عباسی کی قبر بھی وہیں ہے ۔
نویں فصل
ماہ ربیع الاول کے اعمال
پہلی ربیع الاول کی رات
بعثت کے تیرھویں سال اسی رات حضرت رسول کی مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت کا آغاز ہوا ،اس رات آپ غار ثور میں پوشیدہ رہے اور حضرت امیر-اپنی جان آپ پر فدا کرنے کیلئے مشرک قبائل کی تلواروں سے بے پرواہ ہو کر حضور کے بستر پر سو رہے تھے ۔ اس طرح آپ نے اپنی فضیلت اور حضور کے ساتھ اپنی اخوت اور ہمدردی کی عظمت کو سارے عالم پر آشکار کردیا ۔پس اسی رات امیرالمؤمنین- کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَائِ مَرْضَاْتِ ﷲ
اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو رضاالہی حاصل کرنے کیلئے جان دے دیتے ہیں ۔
پہلی ربیع الاول کا دن
علمائ کرام کا فرمان ہے کہ اس دن رسول اکرم اور امیرالمؤمنین- کی جانیں بچ جانے پر شکرانے کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور آج کے دن ان دونوں ہستیوں کی زیارت پڑھنا بھی مستحب ہے ۔سید نے کتاب اقبال میں آج کے دن کی دعا بھی نقل کی ہے ،شیخ و کفعمی کے بقول آج ہی کے دن امام حسن عسکری -کی شہادت ہوئی ،لیکن قول مشہور یہ ہے کہ آپ کی شہادت اس مہینے کی آٹھویں کو ہوئی ،لہذا ممکن ہے کہ پہلی کو آپ کے مرض کی ابتدا ہوئی ہو ۔
آٹھویں ربیع الاول کا دن
قول مشہور کے مطابق ۲۶۰ھ میں اسی دن امام حسن عسکری -کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد امام العصر عجل اللہ فرجہ منصب امامت پر فائز ہوئے اس لئے مناسب ہے کہ اس روز ان دونوں بزرگواروں کی زیارت پڑھی جائے ۔
نویں ربیع الاول کا دن
آج کا دن بہت بڑی عید ہے ،کیونکہ مشہور قول یہی ہے کہ آج کے دن عمر ابن سعد واصل جہنم ہوا جو میدان کربلا میں امام حسین- کے مقابلہ میں یزیدی لشکر کا سپاہ سالار تھا ،روایت ہوئی ہے کہ جو شخص آج کے دن راہ خدا میںخرچ کرے تو اس کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے نیز یہ کہ آج کے دن برادر مومن کو دعوت طعام دینا اسے خوش و شادمان کرنا اپنے اہل و عیال کے خرچ میں فراخی کرنا، عمدہ لباس پہننا ،خدا کی عبادت کرنا اور اس کا شکر بجا لانا سبھی امور مستحب ہیں، آج وہ دن ہے کہ جس میں رنج و غم دور ہوئے اور چونکہ ایک دن قبل امام حسن عسکری -کی شہادت ہوئی، لہذا آج امام العصر (عج)کی امامت کا پہلا دن ہے لہذا اسکی عزت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
بارھویں ربیع الاول کا دن
کلینی و مسعودی کے قول ،نیز برادران اہل سنت کی مشہور روایت کے مطابق اس دن رسول اللہ کی ولادت باسعادت ہوئی ،اس روز دورکعت نماز مستحب ہے کہ جس کی پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد تین مرتبہ سورئہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد تین مرتبہ سورئہ توحید پڑھے یہی وہ دن ہے جس میں بوقت ہجرت رسول اللہ وارد مدینہ ہوئے اورشیخ نے فرمایا کہ ۲۳۱ھ میں اسی دن بنی مروان کی حکومت و سلطنت کا خاتمہ ہوا۔
چودھویں ربیع الاول کا دن
۶۴ھ میں اسی دن رسوائے عالم یزید بن معاویہ واصل جہنم ہوا ،اخبار الدول میں لکھا ہے یزید ملعون دل اور معدے کے درمیانی پردے کی سوجن (ذات الجنب )میں مبتلا تھا جس سے وہ مقام حوران میں مرا وہاں سے اس کی لاش دمشق لائی گئی اور باب صغیر میں دفن کر دی گئی پھر لوگ اس جگہ کوڑا، کرکٹ پھینکتے رہے ۔وہ جہنمی ۷۳ سال کی عمر میں موت کا شکار ہوا اور اس کی ظالم و باطل حکومت محض تین سال نو ماہ رہی ۔
سترھویں ربیع الاول کی رات
یہ رسول اللہ کی ولادت باسعادت کی رات ہے اور بڑی ہی بابرکت رات ہے سید نے روایت کی ہے کہ ہجرت سے ایک سال قبل اسی رات رسول اللہ کو معراج ہوا ۔
سترھویں ربیع الاول کادن
علمائ شیعہ امامیہ میں یہ قول مشہور و معروف ہے کہ یہ رسول اللہ کا یوم ولادت ہے اور انکے درمیان یہ امر بھی مسلمہ ہے کہ آپکی ولادت باسعادت روز جمعہ طلوح فجر کے وقت اپنے گھر میں ہوئی جب کہ عام الفیل کا پہلا سال اور نوشیرواں عادل کا عہد حکومت تھا نیز ۸۳ھ میں اسی دن امام جعفر صادق - کی ولادت باسعادت ہوئی لہذا اس دن کی عظمت و بزرگی میں اور بھی اضافہ ہوا
خلاصہ یہ کہ اس دن کو بڑی عظمت عزت اور شرافت حاصل ہے اس میں چند ایک اعمال ہیں:
( ۱ )غسل کرنا۔
( ۲ )آج کے دن روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت ہے ،روایت ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن کا روزہ رکھنے والے کو ایک سال کے روزے رکھنے کا ثواب عطا فرمائے گا ،آج کا دن سال کے ان چار دنوں میں سے ایک ہے کہ جن میں روزہ رکھنا خاص فضیلت و اہمیت کا حامل ہے :
( ۳ )آج کے دن دور و نزدیک سے حضرت رسول اللہ کی زیارت پڑھے :
( ۴ )اس دن حضرت امیرالمؤمنین- کی وہ زیارت پڑھے ،جو امام جعفر صادق -نے پڑھی اور محمد بن مسلم کو تعلیم فرمائی تھی انشائ اللہ وہ زیارت باب زیارات میں آئے گی۔
( ۵ )جب سورج تھوڑا سا بلند ہو جائے تو دو رکعت نماز بجا لائے جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ قدر اور دس مرتبہ سورئہ توحید پڑھے ۔نماز کا سلام دینے کے بعد مصلےٰ پر بیٹھا رہے اور یہ دعا پڑھے :
اَللَّهُمَّ اَنْتَ حَيُّ، لاَ تَمُوْتُ ...الخ
اے اللہ ! تو وہ زندہ ہے جسے موت نہیں
یہ دعا بہت طویل ہے اور اس کی سند بھی کسی امام معصومعليهالسلام تک پہنچتی دکھائی نہیں دیتی اس لئے یہاں ہم نے اسے نقل نہیں کیا ،تاہم جو شخص اس کو پڑھنا چاہے وہ علامہ مجلسی کی زادالمعاد میں دیکھ لے ۔
( ۶ )آج کے دن مسلمانوں کو خاص طور پر خوشی منانی چاہیے ،وہ اس دن کی بہت تعظیم کریں ،صدقہ و خیرات دیں اور مومنین کو شادمان کریں ۔نیز ائمہ طاہرین٪ کے روضہ ہائے مقدسہ کی زیارت کریں سید نے کتاب اقبال میں آج کے دن کی تعظیم و تکریم کا تفصیلی تذکرہ کیا اور فرمایا ہے کہ نصرانی اور مسلمانوں کا ایک گروہ حضرت عیسٰی -کی ولادت کے دن کی بہت یاد کرتے ہیں، لیکن مجھے ان پر تعجب ہوتا ہے کہ کیوں وہ آنحضرت کے یوم ولادت کی تعظیم نہیں کرتے کہ جو حضرت عیسٰی -کی نسبت بلند مرتبہ ہیں اور ان سے بڑھ کر فضیلت رکھتے ہیں ۔
دسویں فصل
ربیع الثانی، جمادی الاول اور جمادی الثانی کے اعمال
سید ابن طاؤس نے ان تینوں مہینوں میں سے ہر ایک کے پہلے دن کیلئے ایک دعا نقل کی ہے شیخ مفید نے ۲۳۲ ھ میں ۱۰ ربیع الثانی کو امام حسن عسکری -کی ولادت باسعادت ذکر کی ہے، لہذا یہ بہت بابرکت دن ہے اور اس نعمت کے شکرانے میں اس دن روزہ رکھنا مستحب ہے ۔
تیرھویں ،چودھویں ،اور پندرھویں جمادی الاول کے تین دنوں میں جناب سیدہ = کی زیارت کرنا اور ان روایتوں میں آیا ہے کہ آپ اپنے والد گرامی کے بعد پچھتر ۷۵ دن اس دنیا میں زندہ رہیں اور پھر آپ شہادت پا گئیں بنا بر مشہور رسول اللہ کی وفات ۲۸ صفر کو ہوئی، اس صورت میں ان مظلومہ و محرومہ بی بی =کی شہادت انہی تین دنوں میں سے کسی دن ہوئی ہو گی۔
۶۳ ھ میں ۱۵ جمادی الاول کو امیرالمؤمنین- جنگ جمل میں غالب آئے اور بصرہ فتح ہوا، اسی سال اسی دن امام زین العابدین- کی ولادت باسعادت ہوئی ،پس اس دن ان ہر دو بزرگواروں کی زیارت پڑھنا مناسب ہے ۔جمادی الثانی کے اعمال کے ضمن میں سید ابن طاؤس نے نقل کیا ہے کہ اس ماہ میں جس وقت بھی چاہے چار رکعت نماز دو دو کر کے بجا لائے پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد ایک مرتبہ آیۃ الکرسی اور پچیس مرتبہ سورئہ قدر دوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد ایک مرتبہ سورئہ تکاثر اور پچیس مرتبہ سورئہ توحید ،اور پھر آخری دو رکعت میں پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعدایک مرتبہ سورئہ کافرون اور پچیس مرتبہ سورئہ فلق،دوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد ایک مرتبہ سورئہ نصر اور پچیس مرتبہ سورئہ ناس پڑھے اور نماز کے بعد ستر مرتبہ کہے :
سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلَا اِلَهَ اِلَّاﷲ وَﷲ اَکْبَرُ ۔ ستر مرتبہ کہے :اَللَّهُمَّ صَلِّ
اللہ پاک تر ہے حمد اللہ ہی کیلئے ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگتر ہے اے معبود! رحمت
عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ ۔ تین مرتبہ کہے:اَللَّهُمَّ اغْفَرِ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۔ پھر سجدہ
نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر اے معبود! مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو بخش دے
میں جاکر تین مرتبہ یہ کہے :یَا حَيُّ یَا قَیُّومُ یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یَا ﷲ یَا رَحْمَانُ یَا
اے زندہ اے پائیندہ اے جلالت اور بزرگی کے مالک اے اللہ اے بڑے رحم والے اے مہربان
رَحَیْمُ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
اس کے بعد اپنی حاجات طلب کرے ،کیونکہ جو شخص یہ عمل کرے حق تعالیٰ آیندہ سال تک اسکو اس کے مال کو اس کے اہل خاندان اور اس کی اولاد کو اس کے دین و دنیا کو محفوظ و مامون رکھے گا ۔اگر وہ شخص اس سال کے دوران مر جائے تو اس کو شہید کے برابر ثواب عطا کیا جائے گا۔
تیسری جمادی الثانی کا دن
ایک قول کی بنا پر ۱۱ ھ میں اس دن جناب سیدہ = کی شہادت ہوئی، لہذا شیعہ مسلمانوں کو اس دن ان بی بی = کی صف ماتم بچھانا اور آپ کی زیارت پڑھنا چاہیے ،نیز آپ پر ظلم کرنے والوں اور آپ کا حق غصب کرنے والوں پر نفرین کرنا چاہیے ۔سید ابن طاؤس نے کتاب اقبال میں آج کے دن ان محرومہ و مغمومہ بی بی = کی زیارت یوں نقل فرمائی ہے :
اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یَا سَیِّدَةَ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا والِدَةَ الْحُجَجِ عَلَی
سلام ہو آپعليهالسلام پر اے جہانوں کی عورتوں کی سردار سلام ہو آپعليهالسلام پر اے ان کی والدہ جو لوگوں پر خدا
النَّاسِ أَجْمَعِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَمْنُوعَةُ حَقَّها پھر یہ کہو:اَللّٰهُمَّ صَلِّ
کی حجتیں ہیں سلام ہو آپعليهالسلام پر اے وہ مظلومہ جس کا حق چھین لیا گیا اے معبود! رحمت نازل فرما
عَلَی أَمَتِکَ وَابْنَةِ نَبِیِّکَ وَزَوجَةِ وَصِیِّ نَبِیِّکَ صَلاةً تُزْلِفُها فَوْقَ زُلْفی عِبادِکَ
اپنی کنیز اپنے نبی کی دختر اور اپنے نبی کے وصیعليهالسلام کی شریکئہ حیات پر ایسی رحمت جو نزدیک کرے اسکو بڑھ کر تیری عزت والے بندوں
الْمُکَرَّمِینَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاواتِ وَأَهْلِ الْاََرَضِینَ
کی نسبت جو آسمانوں میں رہنے والے اور زمین میں بسنے والے ہیں ۔
روایت میں آیا ہے کہ آج جو شخص جناب سیدہ = کی یہ زیارت پڑھے اور اپنے گناہوں کی معافی کا طالب ہو تو خدائے تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا اور اس کو جنت میں داخل کرے گا ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ سید ابن طاؤسرحمهالله کے فرزند نے بھی اس زیارت کو زوایدالفوائد میں درج کیا اور کہا ہے کہ یہ زیارت جناب زہرا = کے یوم وفات کے لئے خاص ہے کہ جو تیسری جمادی الثانی کو ہوئی تھی انہوں نے آپ کی زیارت کی کیفیت اس طرح بیان کی ہے کہ دو رکعت نماز زیارت بجا لائے یا نماز جناب سیدہ فاطمۃالزہرا (س)پڑھے جو کہ دو رکعت ہے اور اس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد ساٹھ مرتبہ سورئہ توحید پڑھے اگر اس قدر نہ پڑھ سکے تو پھر پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد ایک مرتبہ سورئہ توحید اور دوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد ایک مرتبہ سورئہ کافرون پڑھے اور سلام کے بعد مذکورہ بالا زیارت پڑھے :
بیسویں جمادی الثانی کا دن
پانچویں یا دوسرے سال بعثت میں اس دن جناب سیدہ =کی ولادت باسعادت ہوئی اور اس کے چند عمل ہیں ۔
( ۱ )روزہ رکھنا۔
( ۲ )محتاج مومنین کو صدقہ و خیرات دینا۔
( ۳ )جناب سیدہ = کی زیارت پڑھنا آپ کی زیارت کی کیفیت باب زیارات میں آئے گی :
گیارہویں فصل
ہر نئے قمری مہینے ،عید نوروز اوررومی مہینوں کے اعمال
جب بھی نیا چاند نظر آئے ۔تو یہ چند اعمال بجا لائے :
( ۱ )سب سے پہلے تو چاند دیکھنے کی دعا پڑھے اور سب سے مناسب صحیفہ کاملہ کی تینتالیسویں دعا ہے کہ جو پہلی رمضان کے اعمال میں بھی ذکر ہو چکی ہے ۔
( ۲ )آنکھوں کے درد سے حفاظت کیلئے سات مرتبہ سورئہ الحمد پڑھے :
( ۳ )پنیر کھائے ،یہ چیز ایران و عراق میں ہوتی ہے اور اسے دودھ سے تیار کیا جاتا ہے، روایت ہوئی ہے کہ جو شخص ہر قمری مہینے کی پہلی شب میںپنیر کھاتا رہے تو اس مہینے میں اس کی کوئی دعا رد نہیں ہو گی ۔
( ۴ )چاند رات میں دو رکعت نماز پڑھے جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ انعام کی قرائت کرے ،نماز کے بعد حق تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ اسے ہر درد وخوف سے بچائے رکھے اوراس مہینے میں اسے کوئی ایسا معاملہ درپیش نہ ہو جس کو وہ پسند نہ کرتا ہو ۔
( ۵ )ہر قمری مہینے کی پہلی کے دن دو رکعت نماز ادا کرے جس کی پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد تیس مرتبہ سورئہ توحید اور دوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد تیس مرتبہ سورئہ قدر پڑھے اور نماز کے بعد صدقہ دے اگر ایساکر لیا گیا تو گویا اس نے حق تعالیٰ سے اس مہینے میں اپنی سلامتی خرید لی ہے ۔
بعض روایات میں منقول ہے کہ اس نماز کے بعد یہ دعا پڑھے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاََرْضِ إلاَّ عَلَی ﷲ رِزْقُها
خدا کے نام سے شروع جو رحمن و رحیم ہے اورنہیں زمین میں حرکت کرنے والی کوئی چیز مگر یہ کہ اسکی روزی خدا کے ذمہ ہے وہ اس کی
وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّها وَمُسْتَوْدَعَها کُلٌّ فِی کِتابٍ مُبِینٍ بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ وَ إنْ
قیام گاہ اور مقام حرکت کو جانتا ہے یہ سب کچھ واضح کتاب میں درج ہے خدا کے نام سے شروع جو رحمن و رحیم ہے اور اگر
یَمْسَسْکَ ﷲ بِضُرٍّ فَلا کَاشِفَ لَهُ إلاَّ هُوَ وَ إنْ یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلا رادَّ لِفَضْلِهِ
خدا کسی وجہ سے تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو سوائے اسکے کوئی اسے دور نہیں کرسکتا اگر وہ تیری بھلائی کا ارادہ کرے تو کوئی اس کے
یُصِیبُ بِهِ مَنْ یَشائُ مِنْ عِبادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ، بِسْمِ ﷲ
فضل کو روک نہیں سکتا وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے نوازتا ہے اور وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے خدا کے نام سے شروع
الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ سَیَجْعَلُ ﷲ بَعْدَ عُسْرٍ یُسْراً مَا شائَ ﷲ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله حَسْبُنَا
جو رحمن و رحیم ہے بہت جلد خدا سختی کے بعد آسانی عطا کرے گا جو اللہ چاہے وہ ہوگا نہیں کوئی قوت سوائے اللہ کے کافی ہے ہمارے
ﷲ وَ نِعْمَ الْوَکِیلُ وَأُ فَوِّضُ أَمْرِی إلَی ﷲ إنَّ ﷲ بَصِیرٌ بِالْعِبادِ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ
لئے اللہ وہ بہترین کارساز ہے اور میں اپنا ہر کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں بے شک خدا اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے تیرے سوا کوئی معبود
سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، رَبِّ إنِّی لِما أَ نْزَلْتَ إلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ، رَبِّ لاَ
نہیں تو پاک تر ہے بے شک میں ہی قصور وار تھا اے پروردگارتو مجھ کو جو بھی نعمت عطا کرے گا میں اس کی حاجت رکھتا ہوں میرے
تَذَرْنِی فَرْداً وَأَ نْتَ خَیْرُ الْوارِثِینَ
رب مجھ کو اکیلا نہ چھوڑ جب کہ بہترین وارث تو ہی ہے ۔
اعمال عید نوروز
امام جعفر صادق - نے معلی بن خنیس کو عید نوروز کے اعمال کی یوں تعلیم فرمائی کہ جب نوروز کا دن آئے تو غسل کرے، پاکیزہ لباس پہنے خوشبو لگائے اور اس دن کا روزہ رکھے جب نماز ظہر و عصر اور انکے نافلہ سے فارغ ہو تو چار رکعت نماز دو دو کر کے پڑھے انکی پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ قدر اور دوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ کافرون اور پھر آخری دو رکعت میں سے پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ توحید اور دوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورئہ فلق اور دس مرتبہ سورئہ ناس کی قرائت کرے نماز تمام کرنے کے بعد سجدہ شکر کرے اور اس میں یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الْاََوصِیائِ الْمَرْضِیِّینَ، وَعَلَی جَمِیعِ أَ نْبِیائِکَ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما جو پسند کیے ہوئے اوصیائعليهالسلام ہیں اور اپنے تمام نبیوں
وَرُسُلِکَ بِأَفْضَلِ صَلَواتِکَ وَبارِکْ عَلَیْهِمْ بِأَفْضَلِ بَرَکاتِکَ وَصَلِّ عَلَی أَرْواحِهِمْ
اور رسولوں پر رحمت نازل کر اپنی بہترین رحمت سے اور انہیں برکت دے اپنی بہترین برکتوں سے اور ان کی روحوں پر
وَأَجْسادِهِمْ اَللّٰهُمَّ بارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبارِکْ لَنا فِی یَوْمِنا هذَا الَّذِی
اور ان کے جسموں پر رحمت فرما اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر برکت نازل کر اور ہمیں آج کے دن برکت دے جس کو تو نے
فَضَّلْتَهُ وَکَرَّمْتَهُ وَشَرَّفْتَهُ وَعَظَّمْتَ خَطَرَهُ اَللّٰهُمَّ بارِکْ لِی فِیما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَیَّ
بڑائی دی عزت دی بلندی دی اور اسے اونچی شان عطا کی اے معبود! برکت دے مجھے اس نعمت میں جو تو نے مجھے عطاکی ہے اتنی
حَتَّی لاَ أَشْکُرَ أَحَداً غَیْرَکَ، وَوَسِّعْ عَلَیَّ فِی رِزْقِی یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ اَللّٰهُمَّ
کہ سوائے تیرے کسی کا شکر گزار نہ ہوں اور میرے رزق میں فراوانی عطا فرما اے جلالت اور بزرگی کے مالک اے معبود! جو کچھ مجھ
مَا غابَ عَنِّی فَلا یَغِیبَنَّ عَنِّی عَوْنُکَ وَحِفْظُکَ، وَمَا فَقَدْتُ مِنْ شَیْئٍ فَلا تُفْقِدْنِی
سے غائب ہو سو ہو جائے لیکن تیری مدد اور تیری حفاظت مجھ سے ہرگز غائب نہ ہو اور میری جو چیز گم ہو سو ہو جائے لیکن تیری
عَوْنَکَ عَلَیْهِ حتَّی لاَ أَتَکَلَّفَ مَا لاَ أَحْتاجُ إلَیْهِ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ﴿ ۱ ﴾
مدد وحمایت مجھ سے کبھی بھی گم نہ ہو یہاں تک کہ جس چیز کی ضرورت نہیں اس کے لئے رنج نہ کروں اے جلالت اور بزرگی کے مالک۔
جو شخص یہ عمل بجالائے گا تو اسکے پچاس برس کے گناہ معاف ہو جائیں گے نیز یہ باکثرت کہا کرے :
یَا ذَا لْجَلَالِ وَالْاِکْرَمِ
اے جلالت و بزرگی کے مالک۔
( ۱ )کتب مشہورہ کے سوا دیگر غیر معروف میںلکھا ہے کہ وقت تحویل بہ کثرت اور بعض نے کہا ہے اس دعا کو ۶۶۳مرتبہ پڑھے :
یَا مُحَوِّلَ الْحَوْلِ وَالْاَحْوَالِ حَوِّلْ حَاَلَنَا اِلیٰ اَحْسَنِ الْحَالِ ایک اور روایت میں ہے کہ اس طرح
اے زمانے اور حالتوں کو بدلنے والے ہمارے حال کو اچھے حال میں بدل دے ۔
پڑھے :یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ وَالْاَبْصَارِ یَا مُدَبِّرَ الْلَیْلِ وَالنَّهَارِ یَا مُحَوِّلَ الی آخر دعاجیسا کہ علامہ
اے دلوں اور آنکھوں کے پلٹانے والے اے دن رات کی ترتیب قائم رکھنے والے اے پلٹانے والے ۔
مجلسی کی زاد المعاد میں آیا ہے ۔
رومی مہینوں کے اعمال
خواص آب نیساں
اس موضوع میں یہاں ہم وہی کچھ بیان کریں گے ،جو زادالمعاد میں مذکور ہے ،سید جلیل علی ابن طاؤس سے روایت ہے کہ صحابہ کا ایک گروہ کسی جگہ بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ بھی وہاں تشریف لے آئے ،آپ نے سلام کیا اور صحابہ نے سلام کا جواب دیا تب آپ نے فرمایا آیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں وہ دوا بتاؤں جس سے جبرائیل -نے مجھے آگاہ کیا ہے اور اس کے بعد تم دوا میں طبیبوں کے محتاج نہ رہو گے ۔مولاامیر- اور سلمان فارسی وغیرہ نے آپ سے پوچھا کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم وہ کونسی دوا ہے ؟آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مولاامیر- کو مخاطب کر کے فرمایا ،کہ رومی مہینے نیساں میں ہونے والی بارش کا پانی لیں اور اس پر ستر مرتبہ الحمد سترمرتبہ آیۃالکرسی ستر مرتبہ سورئہ توحید ستر مرتبہ سورئہ فلق ستر مرتبہ سورئہ ناس اور ستر مرتبہ سورئہ کافرون پڑھیں ایک اور روایت کے مطابق ستر مرتبہ سورئہ قدر ستر مرتبہ اللہ اکبر ستر مرتبہ لاالہ الااللہ اور ستر مرتبہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام پر صلوات بھی اس پر پڑھیں پھر سات دن تک ہر روز صبح اور عصر کے وقت اس پانی میں سے پیتے رہیں ،قسم ہے مجھے اس ذات کی ،جس نے مجھے برحق مبعوث کیا ہے کہ جبرائیلعليهالسلام نے مجھ سے کہا ہے کہ جو شخص اس پانی میں سے پیئے گا ۔
حق تعالیٰ ہر وہ درد دور کردے گا جو اس کے جسم میں ہوگا خدائے تعالیٰ اس کو آرام و عافیت عطا کرے گا ،اس کے بدن اوراس کی ہڈیوں سے درد کو نکال دے گا اور اگرلوح میں اس کے لئے درد لکھا بھی ہوا ہو تو اسے وہاں سے محو کردے گا ۔مجھے اس خدا کے حق کی قسم کہ جس نے مجھے بھیجا ہے ،جس کے یہاں فرزند نہ ہوتا ہو اور فرزند کی خواہش رکھتا ہو تو اس پانی کو اس نیت سے پیئے پس حق تعالیٰ اس کو فرزند عطا کرے گا، اگر عورت بانجھ ہو گئی ہو کہ اس کے ہاں بچہ نہ ہوتا ہو تو وہ اس نیت کے ساتھ اس پانی میں سے پیئے تو اس کا بچہ ہوگا اور اگر شوہر یا زوجہ بیٹا یا بیٹی چاہتے ہوں تو وہ بھی اس پانی میں سے پئیں،ان کا یہ مقصد پورا ہوجائے گا ،جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ۔
یَهَبُ لِمَنْ یَشائُ إناثاً وَیَهَبُ لِمَنْ یَشائُ الذُّکُورَ أَو یُزَوِّجُهُمْ ذُکْراناً وَ إناثاً وَیَجْعَلُ
وہ جسے چاہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہے بیٹے عطا کرتا ہے یا بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی دیتا ہے اور جسے چاہے
مَنْ یَشائُ عَقِیماً
بے اولاد رکھتا ہے ۔
اس کے بعد آنحضرت نے فرمایا جس کے سر میں درد ہو وہ اس پانی میں سے پیئے خدا کی قدرت سے اس کا درد جاتا رہے گا اگر کسی کی آنکھ میں درد ہو تو اس پانی کا ایک قطرہ آنکھ میں ڈالے اس میں سے پی بھی لے اور اپنی آنکھوں کواس پانی سے دھوئے تو بہ حکم خدا شفا مل جائے گی اس پانی کے پینے سے دانتوں کی جڑیں پختہ ہوتی ہیں یہ دانتوں میں خوشبو پیدا کرتا ہے لعاب دھن کم ہوتا اور بلغم بھی گھٹ جاتا ہے اس پانی کے پینے سے پیٹ میں کھانے پینے کا بوجھ نہیں ہوگا ۔درد قولنج سے بچا رہے گا کمر اور پیٹ کا درد نہ ہوگا زکام کی تکلیف نہ آئے گی دانتوں میں درد نہ ہوگا معدے کا درد اور کیڑے ختم ہوجائیں گے اس شخص کو خون نکلوانے کی ضرورت نہ رہے گی بواسیر خارش دیوانگی برص جذام نکسیر اور قے سے بھی نجات ہو گی اور وہ شخص اندھا گونگا لنگڑا اور بہرا نہیں ہو گا اس کی آنکھ میں سیاہ پانی نہیں اترے گا وہ درد لاحق نہیں ہوگا جو روزہ چھوڑ دینے اور نماز ناتمام پڑھنے کا موجب ہوتا ہے اور شیطان و جن کے وسوسوں سے بچا رہے گا ۔
اس کے بعد آنحضرت نے فرمایا جو شخص اس پانی میں سے پیئے گا اگر اس کے بدن میں سب لوگوں جتنے درد ہوں تو بھی شفا پائے گا ،جبرائیلعليهالسلام نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ،جو شخص اس پانی پر پہلے ذکر کی گئی آیات پڑھے گا تو حق تعالیٰ اس کے دل کو نور سے بھر دے گا ،اس کی زبان پر حکمت کو رواں کر دے گا اس کے قلب کو فہم و ذکائ سے پر کردے گا اوراس پر اتنی مہربانیاں کریگا جو دنیا میں کسی پر بھی نہ کی ہوں گئیں اس کو ہزار رحمت اور ہزار مغفرت سے نوازے گا نیز فریب کاری بددیانتی غیبت حسد ظلم تکبر بخل اور حرص وغیرہ کو اس کے قلب سے دور کردے گا اس کو لوگوں کی طرف سے دشمنی ،ان کی بدگوئی سے بچائے گا اور یہ پانی اس کے لئے تمام بیماریوں سے شفا یابی کا سبب ہو گا ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ اس روایت کا سلسلہ سند عبداللہ بن عمر پر ختم ہوتا ہے اسلئے یہ روایت بہ لحاظ سند ضعیف ہے لیکن میں نے اسے بقلم شہید دیکھا کہ انہوں نے اسے امام جعفر صادق - سے روایت کیا ہے اور اس میں یہی خواص اور صورتیں ذکر کی ہیں لیکن آیات اور اذکار کی روایت اس طرح ہے کہ اس آب نیساں پر سورئہ فاتحہ ،آیۃ الکرسی ،سورئہ کافرون ، سورئہ اعلی،سورئہ فلق ، سورئہ ناس ، اور سورئہ توحید ستر ستر مرتبہ پڑھے ،پھر ستر مرتبہ کہے لاالہ الااللہ ،ستر مرتبہ کہے اللہ اکبر اور ستر مرتبہ کہے :
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ پھر ستر مرتبہ پڑھے:سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلَا اِلَهَ
اے معبود!محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما پاک تر ہے اللہ اور حمد اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا
اَلاَّ ﷲ وَﷲ اَکْبَرُ
کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگتر ہے ۔
علاوہ ازیں اس پانی کے خواص میں یہ بھی ہے اگر کوئی قید خانے میں بند ہو اور وہ اس پانی میں سے پیئے تو قید سے رہائی پائے گا سردی اس کی طبیعت پر غلبہ نہ کرے گی اس کے دیگر خواص وہی بیان ہوئے ہیں جو سابقہ روایت میں مذکور ہیں ۔ پھر بارش کا پانی تو مطلق طور پر بابرکت اور فائدہ بخش ہوتا ہے چاہے وہ نیساں کے مہینے میں لیا گیا ہو یا کسی اور مہینے میں لیا ہو جیسا کہ ایک معتبر حدیث میں امیرالمؤمنین- سے نقل ہوا ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا آسمان کے پانی کو پیا کرو کہ وہ جسم کو پاک کرنے والا اور دردوں کو ہٹانے والا ہے ،جیسا کہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے :
وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمائِ مائً لِیُطَهِّرَکُمْ بِهِ وَیُذْهِبَ عَنْکُمْ رِجْزَ الشَّیْطانِ وَلِیَرْبِطَ
اور اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے تاکہ تم کو پاک کرے اور شیطان کے وسوسوں کو تم سے دور کرے اور تمہارے
عَلی قُلُوبِکُمْ وَیُثَبِّتَ بِهِ الْاََقْدامَ
دلوں کو مضبوط کرے اور تمہارے قدم جمائے رکھے۔
نیساں کا عمل کرنے میں بہتر یہ ہے کہ ایک گروہ مل کر ان اذکار کو ستر ستر مرتبہ پڑھے کہ اس میں پڑھنے والوں کیلئے بہت فائدہ اور اجروثواب ہے ۔موجودہ سالوں میں نوروز سے ۲۳ دن گزرنے کے بعد نیساں کا رومی مہینہ شروع ہوتا ہے اور یہ رومی مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے امام جعفر صادق - سے نقل ہوا ہے کہ ماہ حزیراں کی سات کو پچھنے لگوایا کرو ،اگر اس دن نہ ہو سکے تو پھر اس کی چودھویں تاریخ کو لگوایا کرو۔ماہ حزیران کی پہلی قریباً نوروز سے چوراسی دن بعد ہوتی ہے اور یہ مہینہ بھی تیس دن کا ہوتا ہے ۔یہ نحوست کا مہینہ ہے ۔جیسا کہ ایک معتبر حدیث میں ہے کہ امام جعفر صادق - کے سامنے ماہ حزیران کا ذکر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ وہی مہینہ ہے جس میں حضرت موسیٰ -نے بنی اسرائیل پر نفرین کی اور ایک ہی دن میں بنی اسرائیل کے تین لاکھ افراد مرگئے تھے ۔نیز معتبر سند کے ساتھ آپ ہی سے نقل ہوا ہے کہ حق تعالیٰ اس مہینے میں قضائ واجل کو نزدیک تر کردیتا ہے ۔چنانچہ اس مہینے میں بہت زیادہ موتیں واقع ہوتی ہے ۔یہ یاد رہے کہ رومی مہینوں کی بنیاد سورج کی حرکت پر ہے۔ یہ بارہ مہینے ہیں اور ان کی ترتیب کچھ اس طرح ہے۔ تشرین اول ،تشرین الآخر ،کانون اول ،کانون الآخر ،شباط ،آذر ،نیساں ، ایار، حزیران ، تموز، اب اور ایلول ،ان میں یہ چار مہینے تیس دن کے ہوتے ہیں یعنی تشرین الآخر ، نیساں ،حزیراں ،اور ایلول ، باقی آٹھ مہینے ماسوائے شباط کے اکتیس دن کے ہوتے ہیں اور شباط کو تین سال تک آٹھائیس دن کا اور چوتھے سال (یعنی سال کبیسہ میں) انتیس دن کا قرار دیتے ہیں۔ رومی سال ۱/۴ ۔ ۵۶۳ دن کا ہوتا ہے اور اس کی ابتدائ تشرین اول کے مہینے سے ہے اور اس دن سورج برج میزان کے انتیسویں درجے میں ہوتا ہے ۔اس کی تفصیل بحار الانوار میں مذکور ہے چونکہ احادیث میں ان مہینوں کا ذکر آیا ہے ۔ لہذا ہم نے یہاں مختصراً ان کا تذکرہ کردیا ہے ،یہ رومی مہینے اس وقت عراق کے دفاتر میں رائج ہیں اور ان کا نظام حکومت انہی مہینوں کے مطابق چلتا ہے ۔
تیسرا باب
باب زیارات
اس باب میں ایک مقدمہ، چند فصلیں اور خاتمہ بیان کیا جائے گا ۔
مقدمہ
یہ سفر کے آداب سے متعلق ہے سفر شروع کرنے سے پہلے بدھ ،جمعرات اور جمعہ کو روزہ رکھے اور ہفتہ ، منگل یا جمعرات کو سفر پر نکلے سوموار اور بدھ کو سفر نہ کرے ۔نیز جمعہ کے دن بھی ظہر سے پہلے سفر پر نہ جائے ۔اس کے علاوہ ہر ماہ ان تاریخوں میں سفر نہ کرے جو درج ذیل اشعار میں ذکر ہیں:
ھفت روزی نحس باشد در مھی
زاں حذرکن تانیابی ھیچ رنج!
سہ وپنج وسیزدہ باشانزدہ
بیست ویک بیست وچھار بیست وپنج
ہر مہینے کی سات تاریخیں ،تین ،پانچ ،تیرہ،سولہ،اکیس،چوبیس اور پچیس سفر کیلئے نحس ہیں ان میں سفر نہ کریں تاکہ سفر کی وجہ سے کسی مصبیت کا شکار نہ ہوں ۔
اسی طرح ہر مہینے کے آخری دن جن میں چاند ڈوبا رہتا ہے اور جب قمر در عقرب ہوتا ہے ان دنوں میں بھی سفر نہ کریں ۔ان ایام میں سفر کرنا نامناسب اور ممنوع ہے البتہ اگر ان دنوں میں کسی اشد ضرورت کے تحت سفر کرنا پڑے تو سفر کی دعائیں پڑھیں اور صدقہ دے کر سفر کریں تو انشائ ﷲ کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی ۔
روایت میں ہے کہ امام محمدباقر - کے اصحاب میں سے ایک شخص نے سفر کا قصد کیا اور الوداع کرنے کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہو ا آپ نے اس سے فرمایا کہ میرے والد ماجد امام زین العابدین- جب اپنی کسی املاک وجائیداد کی طرف جانے کی خاطر سفر کا قصد کرتے تو آسان تر خیر ونیکی کے بدلے میں خدا سے اپنی سلامتی خرید لیتے ،یعنی جتنا ہوسکے صدقہ دے دیتے تھے۔ یہ صدقہ آپ اس وقت دیتے جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھ لیتے اور جب سفر سے سلامتی کیساتھ واپس آتے تو ﷲ کا شکر ادا کرتے اور پھر جتنا ممکن ہوتا صدقہ دیتے تھے، وہ شخص آپ کے ہاں سے رخصت ہوا ،لیکن اس نے آپ کے فرمان پر عمل نہ کیا اور وہ راستے میں ہلاک ہوگیا ۔جب امام محمد باقر - کو یہ خبر ملی تو فرمایا کہ اس شخص کو نصیحت کی گئی تھی،اگر وہ اس نصیحت کو مان لیتا تو اس ہلاکت سے بچ جاتا۔
سفر پر جانے سے قبل غسل کرنا بھی ضروری ہے غسل کے بعدپھر اپنے اہل وعیال کو جمع کرکے دو رکعت نماز ادا کرے اور حق تعالیٰ سے اپنی خیریت کی دعا مانگے اور اس کے بعد آیۃالکرسی پڑھے :
ﷲ کی ثنائ وحمد بجا لائے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدعليهالسلام پر درود بھیجے اور یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَوْدِعُکَ الْیَوْمَ نَفْسِی وَأَهْلِی وَمَالِی وَوُلْدِی وَمَنْ کَانَ
اے معبود ! آج کے دن میں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں اپنا خاندان اپنا مال ومتاع اپنی اولاد اور جو کوئی مجھ سے
مِنِّی بِسَبِیلٍ الشَّاهِدَ مِنْهُمْ وَالْغَائِبَ اَللّٰهُمَّ احْفَظْنا بِحِفْظِ الْاِیمانِِ
تعلق رکھتا ہے چاھے حاضر ہے یا غائب کو تیرے سپرد کرتا ہوں اے معبود! ہماری حفاظت فرما کر ہمارا ایمان اور ہماری جان
وَاحْفَظْ عَلَیْنا اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنا فِی رَحْمَتِکَ، وَلاَ تَسْلُبْنا فَضْلَکَ إنَّا إلَیْکَ رَاغِبُونَ
محفوظ رکھ اے معبود! ہمیں اپنے سایۂ رحمت میں رکھ اور اپنا فضل ہم سے دور نہ کر بے شک ہم تیرے ہی مشتاق ہیں
اَللّٰهُمَّ إنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَکَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْاََهْلِ
اے معبود! ہم تیری پناہ لیتے ہیں سفر کی مشکلوں سے مایوس ہوکر واپس آنے سے اور اپنے خاندان اپنے مال ومتاع
وَالْمالِ وَالْوَلَدِ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَ تَوَجَّهُ إلَیْکَ هذَا التَّوَجُّهَ طَلَباً
اور اپنی اولاد کے بارے میں دنیا وآخرت میں برے انجام سے اے معبود! میں تیری طرف متوجہ ہوا ہوں یہ توجہ تیری خوشنودی کی
لِمَرْضاتِکَ وَتَقَرُّباً إلَیْکَ اَللّٰهُمَّ فَبَلِّغْنِی مَا أُؤَمِّلُهُ وَأَرْجُوهُ فِیکَ وَفِی أَوْلِیائِکَ
طلب اور تیرا تقرب حاصل کرنے کیلئے ہے اے معبود!پس مجھے عطا کر وہ جس کی تجھ سے اور تیرے اولیائ سے آرزو اور امید رکھتا
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ہوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اس کے بعد اپنے اہل وعیال کو وداع کرے اور اپنے مکان کے دروازے پر کھڑے ہوکر تسبیح فاطمہ زہراعليهالسلام پڑھے ،پھر سامنے دائیں اور بائیں طرف منہ کر کے سورہ الحمد پڑھے اور اسی طرح آیۃ الکرسی بھی تینوں طرف منہ کر کے ایک ایک مرتبہ پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ وَجَّهْتُ وَجْهِی، وَعَلَیْکَ خَلَّفْتُ أَهْلِی وَمَالِی وَمَا
اے معبود ! میں نے اپنا رخ تیری طرف کیا ہے اور تجھ پر چھوڑے جاتا ہوں اپنا خاندان اپنا مال اور جو کچھ تو نے
خَوَّلْتَنِی وَقَدْ وَثِقْتُ بِکَ فَلاَ تُخَیِّبْنِی، یَا مَنْ لاَ یُخَیِّبُ مَنْ أَرادَهُ، وَلاَ
مجھے دے رکھا ہے میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں پس مجھے نا امید نہ کر اے وہ جس کا قصد کرنے والا نا امید نہیں ہوتا اور جس کی
یُضَیِّعُ مَنْ حَفِظَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاحْفَظْنِی فِیما غِبْتُ
وہ نگہبانی کرے وہ بربادنہیں ہوتا اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور جن چیزوں کے پاس میں حاضر نہیں
عَنْهُ وَلاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ان کی نگہداری کر اور مجھے میری خواہش کے سپرد نہ کر اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
پھر گیارہ مرتبہ سورہ توحید پڑھے ،ایک مرتبہ سورہ قدر ،آیۃ الکرسی ،سورہ ناس اور سورہ فلق پڑھ کر اپنے ہاتھوں کو بدن پر پھیرے اور جس قدر ہوسکے صدقہ دے اور یہ پڑھے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی اشْتَرَیْتُ بِهذِهِ الصَّدَقَةِ سَلاَمَتِی وَسَلامَةَ سَفَرِی وَمَا مَعِی اَللّٰهُمَّ
اے معبود! میں اس صدقہ کے بدلے حاصل کرنا چاہتا ہوں اپنی سلامتی ،سفر میں خیریت اور اپنے متاع کی حفاظت اے معبود !
احْفَظْنِی وَاحْفَظْ مَا مَعِیَ، وَسَلِّمْنِی وَسَلِّمْ مَا مَعِیَ، وَبَلِّغْنِی وَبَلِّغْ مَا مَعِیَ بِبَلاغِکَ
میری حفاظت فرما اور میرے مال کی نگہداری کر مجھے اور جو میرے پاس ہے اسے سالم رکھ اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہے اس کو خیر
الْحَسَنِ الْجَمِیلِ
وخوبی سے منزل پر پہنچا دے ۔
سفر کے دوران تلخ بادام کی لکڑی کا عصا بھی اپنے پاس رکھے ۔کیونکہ روایت ہے کہ جو شخص سفر پر جائے اور تلخ بادام کا عصا اپنے پاس رکھے اور یہ پڑھے:وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآئَ مَدْیَنَ... تا وَﷲعَلیٰ مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ ۔
یہ سورہ قصص کی آیت ہے اور اس کے پڑھنے سے خدا اس کو ہر درندے ،چور اور ہر زہریلے حیوان سے محفوظ رکھے گا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس پہنچ جائے نیز ستتر( ۷۷ ) فرشتے اس کے ہمراہ رہیں گے اور جب تک وہ شخص واپس آکر اپنا عصا ہاتھ سے رکھ نہ دے گا وہ اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے ۔سنت ہے کہ عمامہ باندھ کر روانہ ہو اور اس میں تحت الحنک بھی لگائے رکھے تاکہ کوئی آسیب نہ پہنچے اسے کوئی چور نہ لوٹے ،دریا میں غرق نہ ہو اور آگ میں جل کے نہ مرے نیز کربلا معلّیٰ کی تھوڑی سی خاک شفا بھی اپنے پاس رکھے اور یہ خاک اٹھاتے وقت یہ دعاپڑھے:
اَللّٰهُمَّ هذِهِ طِینَةُ قَبْرِ الْحُسَیْنِ ں وَلِیِّکَ وَابْنِ وَلِیِّکَ اتَّخَذْتُها حِرْزاً لِمَا
اے معبود! یہ تیرے ولی اور تیرے ولی کے فرزند حسین - کے مزار کی خاک ہے کہ جو میں نے اپنی پناہ کیلئے اٹھائی اس چیز سے جس
أَخافُ وَمَا لاَ أَخافُ
سے ڈرتا ہوں اور جس سے نہیں ڈرتا ۔
سفر میں عقیق وفیروزہ کی انگوٹھی پہنے اور خصوصاً زرد عقیق کی انگوٹھی کہ جس پر ایک طرف یہ نقش ہو :
مَاشَآئَ ﷲ لاَقَوَّةَ اِلاَّبِالله اَسْتَغْفِرُﷲ
وہی ہوگا جو خدا چاہے نہیں کوئی قوت سوائے ﷲ کے میں ﷲ سے بخشش مانگتا ہوں ۔
اس انگوٹھی کی دوسری طرف محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و علیعليهالسلام ہر دو اسمائ مبارکہ نقش کیے گئے ہوں ۔سید ابن طاؤس نے امان الاخطار میں ابو محمد قاسم بن علائ سے اور انہوں نے امام علی نقی -کے خادم صافی سے روایت کی ہے کہ میں نے امام علی نقی -سے ان کے جد طاہر امام علی رضا- کی زیارت کو جانے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا کہ اپنے پاس زرد عقیق کی انگوٹھی رکھو کہ جس کی ایک طرفمَاشَآئَ ﷲ لاَقَوَّةَ اِلاَّبِالله اَسْتَغْفِرُﷲ اور دوسری طرف محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و علیعليهالسلام کے اسمائ گرامی نقش ہوں ۔اگر تم یہ انگوٹھی اپنے ساتھ رکھو گے تو چوروں ،ڈاکوؤں کے شر سے محفوظ رہوگے اور یہ انگوٹھی تمہاری جان کی سلامتی اور تمہارے دین کی محافظ رہے گی، وہ خادم کہتا ہے کہ حضرتعليهالسلام کے ہاں سے آکر جب میں نے ویسی ہی انگوٹھی مہّیا کر لی تو پھر وداع کرنے کیلئے حضرتعليهالسلام کی خدمت میں گیا ۔آپ سے وداع کرکے جب چل پڑا تو میرے بہت دور نکل جانے کے بعد حضرتعليهالسلام نے مجھے واپس بلوایا ،میں حاضر خدمت ہوا تو آپ نے فرمایا اے صافی : فیروزہ کی انگوٹھی بھی لے جاؤ کہ طوس اور نیشاپور کے درمیان تمہیں ایک شیر سے سابقہ پڑے گا جو تمہیں اور تمہارے قافلے کو آگے نہ جانے دے گا ۔تب آگے بڑھ کر تم اس شیر کویہ انگوٹھی دکھاتے ہوئے کہنا کہ میرے مولا فرماتے ہیں کہ تو ہمارے راستے سے ہٹ جا۔ ہاں اس فیروزہ کی ایک طرفﷲ الْمَلِکُ اور دوسری طرفالْمَلِک َﷲِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ کنده کرالینا که ﷲ الْمَلِکُ امیر المؤمنین- کی انگوٹھی کا نقش تھا، جب آپ کو ظاہری خلافت ملی تو آپ نے اپنی انگوٹھی پراَلْمَلِک َﷲِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ کندہ کرالیا ۔آپ کی انگوٹھی فیروزہ کی تھی ۔یہ نگینہ درندوں سے امان کا باعث ہوتا ہے اور جنگ میںدشمنوں پر فتح و کامیابی کا موجب بنتا ہے ،صافی کہتا ہے کہ میں اس سفر پر چلاگیا اور خدا کی قسم جیسے میرے مولا نے فرمایاتھا وہ شیر اسی مقام پر ہمارے آگے آیااورمیں نے اپنے آقا کے فرمان پر عمل کیا تو وہ شیر پلٹ گیا۔ جب میں زیارت کرکے واپس آیا تو میں نے یہ واقعہ حضرتعليهالسلام کی خدمت میں عرض کیا ،آپ نے فرمایا ایک بات رہ گئی جو تم نے نہیں بتائی ۔اگر تم چاہو تو وہ بات بتا دوں ؟ میں نے عرض کی کہ شاید وہ بات میں بھول گیا ہوں !آپ نے فرمایا کہ طوس میں جب تم رات کو قبر امامعليهالسلام کے قریب سو رہے تھے تو جنات کا ایک گروہ امام علی رضا - کی زیارت کو وہاں آیا ہواتھا ،انہوں نے تمہارے ہاتھ میں اس انگوٹھی پر وہ نقش دیکھا تو انگوٹھی اتار کرلے گئے،اسے پانی میں ڈال کر وہ پانی اپنے ایک بیمار کو پلایا تو وہ تندرست ہوگیا۔ وہ انگوٹھی لا کر انہوں نے تیرے بائیں ہاتھ میں پہنا دی جب کہ سوتے وقت وہ تمہارے دائیں ہاتھ میں تھی اس سے تمہیں تعجب ہوا اور تمہاری سمجھ میں کچھ نہ آیا ۔نیز تم نے اپنے سرہانے ایک یاقوت پڑا پایا اور اسے اٹھالیا جو، اب بھی تمہارے پاس ہے،یہ یاقوت وہ جنات تمہارے لئے بطور ہدیہ لائے تھے ،تم اسے بازار لے جاؤ تو اس کو اسی (۸۰) اشرفی میں بیچ سکتے ہو ۔وہ خادم بیان کرتا ہے کہ میں نے وہ یاقوت بازار میں اسی (۸۰)اشرفی میں ہی فروخت کیاجیسا کہ میرے مولاعليهالسلام نے فرمایا تھا ۔امام جعفر صادق - کاارشاد ہے کہ جو شخص سفرمیں ہر رات آیۃ الکرسی پڑھے تو وہ خود اور اس کا مال ومتاع محفوظ رہیں گے نیز یہ دعا بھی پڑھیں :
اَللَّهُمَّ اجْعَلْ مَسِیْرِی عَبْراً وَصُمْتِیْ تَفَکُّراً وَکَلَامِیْ ذِکْراً
اے معبود !میری رفتار کو عبرت ،میری خاموشی کو غور و فکر اور میرے کلام کو ذکر قرار دے ۔
امام زین العابدین- سے منقول ہے کہ جب میں ذیل کے دعائیہ کلمات پڑھ لیتا ہوں تو پھر میں کوئی پروا نہیں کرتا خواہ مجھے ضرر پہنچانے کے لئے تمام جن و انس بھی جمع ہو جائیں۔
بِسْمِ ﷲ، وَبِالله، وَمِنَ ﷲ، وَ إلَی ﷲ، وَفِی سَبِیلِ ﷲ اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ أَسْلَمْتُ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے خدا کے اذن سے اور خدا کی راہ میں اے معبود ! میں نے اپنی جان تجھے
نَفْسِی، وَ إلَیْکَ وَجَّهْتُ وَجْهِی، وَ إلَیْکَ فَوَّضْتُ أَمْرِی، فَاحْفَظْنِی بِحِفْظِ الْاِیمانِ
سونپ دی اپنا رخ تیری جانب کرلیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا تو مجھے ایمان کی حفاظت کے ساتھ محفوظ کر
مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ، وَمِنْ خَلْفِی، وَعَنْ یَمِینِی، وَعَنْ شِمالِی، وَمِنْ فَوْقِی، وَمِنْ تَحْتِی
میرے آگے سے میرے پیچھے سے میرے دائیں سے میرے بائیں سے میرے اوپر سے میرے نیچے سے
وَادْفَعْ عَنِّی بِحَوْلِکَ وَقُوَّتِکَ فَ إنَّهُ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
اور اپنی بخشش و قوت سے میرا دفاع کرتا رہ کیونکہ نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو بلند تر بزرگ تر خدا سے ہے ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ سفر کے آداب کے بارے میں بہت سی دعائیں وارد ہوئی ہیں مگر یہاں ہم ان میں سے چند ایک کے ذکر پر اکتفا کریں گے ۔
( ۱ )ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ جب سوار ہونے لگے توبسم اللہ کا پڑھنا ہر گز ترک نہ کرے ۔
( ۲ )اپنے کھانے پینے کی چیزوں اور نقدی کی حفاظت کرے اور ان کو کسی محفوظ جگہ پر رکھے ،اس بارے میں روایت ہوئی ہے کہ مسافر کی سمجھ بوجھ کا معیار یہی ہے کہ وہ اپنی خوراک اور سفر خرچ کو سنبھا ل کر رکھے ۔
( ۳ )سفر کے دوران اپنے ساتھیوں کی مدد اور خدمت کرنے میں بے اعتنائی نہ کرے تاکہ حق تعالیٰ اسکی تہتر( ۳۷ )پریشانیاں دور کردے، دنیا میں اسکو فکر و اندیشے سے بچائے رکھے اور قیامت میں فزع اکبر (بہت بڑے غم واندوہ)سے محفوظ فرمائے روایت میں آیا ہے کہ امام زین العابدین- ایسے لوگوں کے ہمراہ سفر فرماتے تھے جو آپ کو پہچانتے نہ ہوں تا کہ راستہ میں حضرتعليهالسلام ان کی اعانت کر پائیں ۔کیونکہ جب آپ جان پہچان والے لوگوں کے ہمراہ سفر فرماتے تو وہ آپ کو کام میںہاتھ نہیں بٹانے دیتے تھے ۔ حضرت رسول کا طریقہ یہ تھا کہ جب اپنے اصحاب کے ہمراہ سفر کرتے اوراگر آپ کوئی گوسفند ذبح کرنے لگتے تو ایک صحابی کہتا کہ اسے میں ذبح کروں گا دوسرا کہتا کہ اس کی کھال میں اتاروں گا اور تیسرا یہ کہتا کہ اس کا پکانا میرے ذمے ہے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے کہ اس کو پکانے کے لئے لکڑیاں لانا میرا کام ہے۔ اس پر اصحاب عرض کرتے کہ حضورصلىاللهعليهوآلهوسلم یہ سارے کام ہم خود کریں گے ۔ آپ یہ زحمت نہ فرمائیں ،آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے کہ میں جانتا ہوں تم یہ کام انجام دے لو گے لیکن میں نہیں چاہتا کہ تم سے الگ رہوں کیونکہ خدا اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ اس کا کوئی بندہ خود کو دوسروں سے افضل سمجھے۔ واضح رہے کہ سفر میں اپنے ساتھیوں کے لئے سب سے بڑا بوجھ وہ شخص ہے جو صحیح و سالم ہوتے ہوئے بھی اپنے حصے کا کام کرنے میں سستی برتے اوراس انتظار میں رہے کہ اس کاکام دوسرے لوگ انجام دیں ۔
( ۴ )ایسے لوگوں کے ساتھ سفر کرے جو خرچ کرنے میں اس کے برابر ہوں۔
( ۵ )کسی جگہ کا پانی اس وقت تک نہ پئے جب تک اس میں پچھلی منزل کا پانی نہ ملا لے ،مسافر کے لئے ضروری ہے کہ جس جگہ وہ پلا بڑھا ہو وہاں کی مٹی اپنے پاس رکھے اورجب کسی جگہ کا پانی پینے لگے تو وہ مٹی اس پانی میں ڈال کر خوب ہلائے پھر اس کو رکھ دے یہاں تک کہ مٹی بیٹھ جائے اور پانی صاف ہوجائے تب اس کو پئے :
( ۶ )اپنے اخلاق و عادات کو سنوارے اور نرمی و ملائمت سے کام لے ۔اس بارے میں کچھ اور باتوں کا ذکر انشائ اللہ امام حسین- کی زیارت کے ذیل میں آئے گا ۔
( ۷ )سفر میں اپنا خرچ اپنے ہمراہ رکھے کیونکہ انسان کے لئے یہ عزت و شرافت کی بات ہے کہ دوران سفر بہترین نان و نفقہ اپنے ساتھ رکھے اور خاص کر مکہ معظمہ کے سفر میں اس کا بہت دھیان رکھے البتہ امام حسین- کی زیارت کے سفر میں لذیز غذائیں مثلا حلوہ اور بریانی وغیرہ کھانا چنداں مناسب نہیں ہے ۔ جیسا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت میں اس کا ذکر آئے گا ابن اعثم نے اسی مفہوم کو ان اشعار میں ادا کیا ہے ۔
مِنْ شَرَفِ الْاِنْسانِ فِی الْاََسْفارِ
تَطْیِیبُهُ الزَّادَ مَعَ الْاِکْثارِ
سفر کے دوران انسان کی عزت اس میں ہے
کہ اس کے پاس اچھا اور زیادہ سامان سفر ہو
وَلْیُحْسِنِ الْاِنْسانُ فِی حالِ السَّفَرِ
أَخْلاقَةُ زِیادَةً عَلَی الْحَضَرِ
حالت سفر میں انسان کے لئے بہتر ہے کہ
وہ حضر کی نسبت زیادہ بلند اخلاق ہو
وَلْیَدْعُ عِنْدَ الْوَضْعِ لِلْخِوانِ
مَنْ کانَ حاضِراً مِنَ الْاِخْوانِ
جب دستر خوان پر کھانا چنا جائے تو
جو مرد و زن وہاں ہوں ان کو وہاں بلائے
وَلْیُکْثِرِ الْمَزْحَ مَعَ الصَّحْبِ إذا
لَمْ یُسْخِطِ ﷲ وَلَمْ یَجْلِبْ أَذیٰ
اپنے ہمراہیوں کیساتھ مزاحیہ گفتگو کرے
اس میں کسی کو ستانے اور خدا کی ناراضیگی کا پہلو نہ ہو
مَنْ جائَ بَلْدَةً فَذا ضَیْفٌ عَلیٰ
إخْوانِهِ فِیها إلی أَنْ یَرْحَلا
جوکسی شہرمیں آئے وہ مہمان ہوتا ہے
وہاں رہنے والے بھائیوں کا جب تک چلا نہ جائے
یُبَرُّ لَیْلَتَیْنِ ثُمَّ لیَأْکُلِ
مِنْ أَکْلِ أَهْلِ الْبَیْتِ فِی الْمُسْتَقْبِلِ
دو راتوں کی خاطر تواضع مہمان کا حق ہے
پھر گھر والوں کے ساتھ عام کھانا کھائے
( ۸ ) سفر کے دوران جس کی رعایت کرنا بہت ضروری ہے کہ مسافر اپنی فریضہ نمازکو حدود وشرائط کے ساتھ اول وقت میں بجا لائے ۔کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ حاجی و زائر حضرات راستے میں نماز نہیں پڑھتے یا شرائط کا دھیان نہیں رکھتے اور گاڑی وموٹر وغیرہ پر تیمم کر کے مشکوک کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو مسائل کا علم نہیں ہوتا ،یا نماز ادا کرنے میںبے اعتنائی سے کام لیتے ہیں ۔ حالانکہ امام جعفر صادق - کا ارشاد ہے کہ فریضہ نماز بیس حج سے بہتر ہے اور ایک حج سونے سے بھرے ہوئے مکان کو صدقے میں دے دینے سے بہتر ہے ۔ سفر میں نماز پڑھنا چاہیئے اور نماز قصر کے بعد کی تسبیح کو تیس مرتبہ پڑھنا ترک نہ کریں ۔کیونکہ اس کے پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید بیان ہوئی ہے ۔
سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلَا اِلَهَ اِلاَّ ﷲ وَﷲ اَکْبَرُ
ﷲ پاک تر ہے حمد ﷲ ہی کے لیے ہے اور ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ﷲ بزرگتر ہے ۔
پہلی فصل
زیارات ائمہ کے آداب
آداب زیارت بہت زیادہ ہیں مگر یہاں ہم ان میں سے چند ایک کا ذکر کریں گے :
( ۱ ) زیارت کے سفر پر روانگی سے پہلے غسل کرے۔
( ۲ ) راستے میں بے ہودہ باتوں ،لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ سے پرہیز کرے۔
( ۳ ) ہر امام کی زیارت پڑھنے سے پیشتر غسل کرے اور ان سے وارد ہونے والی دعاؤں کو پڑھے جن کا ذکر زیارت وارث سے قبل آئے گا۔
( ۴ ) حدث اکبر واصغر سے پاک رہے ۔یعنی وضو وغسل کے ساتھ رہے۔
( ۵ ) پاک وصاف اورنیا لباس پہنے ۔
( ۶ ) جب کسی روضہ مبارک پر جائے تو چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے ،اطمینان کے ساتھ خضوع وخشوع کی حالت میں ادھر ادھر دیکھے بغیر آگے بڑھے ۔
( ۷ ) امام حسین- کی زیارت کے علاوہ دیگر زیارتوں کے لیے خوشبو لگا کر جائے ۔
( ۸ ) حرم مطہر کی طرف جاتے ہوئے ذکر الہٰی تکبیر وتحمید اور تسبیح وتہلیل اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدعليهالسلام پر درود وصلوات سے زبان کو معطر کرے۔
( ۹ ) حرم مبارک کے دروازے پر کھڑے ہو کر اذن دخول پڑھے اور کوشش کرے کہ اس پر رقت قلب اور خشوع وخضوع طاری ہوجائے خدا کے جلال وعظمت کا تصور کرے اور جس بزرگ ہستی کے در پر حاضر ہوا ہے اسکی بلند وبالا شان کو نظر میں لائے اور یہ باور کرے کہ وہ بزرگوار اس کو دیکھتے ہیں اسکا کلام سنتے ہیں اور اس کو سلام کا جواب دیتے ہیںاذن دخول جو اس وقت زائر پڑھتا ہے اس سب کی گواہی دیتا ہے اور ان کی محبت ونوازش سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے وہ اپنے شیعوں سے کلام کرتے ہیں زائر کو اپنے حالات پر غور کرنا چاہیے ،اپنی خرابیوں اور نافرمانیوں کو یاد کرنا چاہیے جو ان مقدس ہستیوں کے احکام کے بارے میں اس نے کی ہیں، ان اذیتوں کو نگاہ میں لائے جو اس نے ان ہستیوں اور انکے شیعوں کو پہنچائی ہیں کیونکہ ان کے محبوں کو تکلیف پہنچانا اصل میں خود ان کو تکلیف دینا ہے اگر انسان ان چیزوں پر توجہ کرے تو اسکے قدم آگے بڑھنے کی بجائے رک جائیں گے اس کا دل خوف زدہ وآنکھیں روئیںگی اور یہی آداب کی حقیقی روح اور جان ہے ۔
نیز بہتر ہے یہ اشعار پڑھے جائے:
قالُوا غَداً نَأْتِی دِیارَ الْحِمیٰ
وَیَنْزِلُ الرَّکْبُ بِمَغْناهُمُ
کہنے لگے کل ان کے حرم سرا میں پہنچیں گے
اور قافلہ خیریت سے اپنی منزل پر اترے گا
فَکُلُّ مَنْ کانَ مُطِیعاً لَهُمْ
أَصْبَحَ مَسْرُوراً بِلُقْیاهُمُ
جو بھی ان کا مطیع وفرمانبردار ہوگا
ان کے حضور پہنچ کر راضی وخوش ہوگا
قُلْتُ فَلِی ذَنْبٌ فَما حِیلَتِی
بِأَیِّ وُجْهٍ أَتَلَقَّاهُمُ
میں نے کہا میں گنہگار ہوں میرا کیا چارہ ہوگا
میں کس منہ سے ان کے حضور حاضر ہوں گا
قالُوا أَلیْسَ العَفْوُ مِنْ شَأْنِهِمْ
لاَ سِیَّما عَمَّنْ تَرَجَّاهُمُ
لوگوں نے کہا کیا معاف کردینا انکی شان نہیں
خاص کر ان کیلئے جو معافی کی امید رکھیں
فَجِیْتُهُمْ أَسْعیٰ إلی بابِهِمْ
أَرْجُوهُمُ طَوْراً وَأَخْشاهُمُ
پس میں انکے دروازے کی طرف دوڑا آرہا تھا
کبھی امید بندھ جاتی کبھی خوف آنے لگتا تھا
اس مقام پر سخاوی کے یہ اشعار نقل کر دینا بہت مناسب ہوگا ۔
هَا عَبْدُکَ وَاقفٌ ذَلِیْلٌ
بِالْبَابِ یَمُدُّ کَفَّ سَائِلْ
یہ ہے آپ کا پست تر غلام جو حاضر ہے
آپ کے در پر دست سوال پھیلائے ہوئے
قَدْ عَزَّ عَلیَّ سُوئُ حَالِی
ما یَفْعَلُ مَا فَعَلْتُ عاقِلْ
مجھ پر بد حالی کا بہت زیادہ غلبہ ہے
جو کچھ میں نے کیا کوئی عقلمند وہ کام نہیں کرتا
یَا أَکْرَمَ مَنْ رَجاهُ رَاجٍ
عَنْ بَابِکَ لاَ یُرَدُّ سَائِلْ
اے وہ سخی جس سے امیدوار امید رکھتا ہے
آپ کے در سے سوالی کو ہٹایا نہیں جاتا
علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں عیون المعجزات سے ایک روایت نقل کی ہے ۔ ابراہیم جمال جو شیعیان علی - میں سے تھے انہوں نے ہارون الرشید عباسی کے وزیر علی بن یقطین سے ملاقات کرنا چاہی چونکہ ابراہیم ایک ساربان تھے اور ان کی ظاہری حالت ایسی نہ تھی کہ ایک وزیر کے دربار میں جائیں لہٰذا ملازمین نے ان کو علی بن یقطین کے پاس نہ جانے دیا ۔ ادھر اسی سال علی بن یقطین حج کو گئے اور بعد میں مدینہ منورہ بھی آئے ۔وہاں انہوں نے اپنے آقا ومولا امام موسیٰ کاظم - کی خدمت میں حاضری دینا چاہی تو حضرتعليهالسلام نے اس کوملاقات کی اجازت نہ دی دوسرے روز دروازے پر امام سے اس کی ملاقات ہوگئی ۔علی بن یقطین نے عرض کی کہ مولا مجھ سے کیا خطا ہوئی کہ آپ نے مجھے اپنے حضور آنے کی اجازت نہیں دی؟ آپعليهالسلام نے فرمایا ، تمہیں ملاقات کی اجازت نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ تم نے اپنے ایک مومن بھائی ابراہیم جمال کو اپنے پاس نہیں آنے دیا تھا ۔پس حق تعالیٰ تمہاری اس سعی وکوشش کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے ۔جب تک کہ ابراہیم ساربان تمہیں معاف نہ کر دے ۔اس پر علی بن یقطین نے عرض کیا کہ مولا میں اس وقت مدینے میں ہوں اور ابراہیم جمال کوفہ میں ہے تو میں اس سے کیسے مل سکتا ہوں ، آپ نے فرمایا کہ آج رات اپنے غلام اور اپنے ساتھیوں کو بتائے بغیر تنہا بقیع میں چلے جانا وہاں تمہیں پالان کسا ہوا ایک اونٹ نظر آئے گا۔تم اس اونٹ پر سوار ہو کر کوفہ چلے جانا ۔علی بن یقطین رات کوتنہا بقیع گئے ۔ اور وہاں ویسا ہی اونٹ دیکھا تو وہ اس پر سوار ہوگئے اور تھوڑی ہی دیر میں کوفہ پہنچ گئے اور انہوں نے ابراہیم جمال کے دروازے پر اونٹ کو بٹھایا اور پھر دروازہ کھٹکھٹایا ،ابراہیم نے پوچھا کون ہے ؟ انہوں نے کہا میں علی بن یقطین ہوں ۔ ابراہیم بولے کہ علی بن یقطین کا میرے دروازے پر کیا کام ؟انہوں نے کہا مجھے تم سے انتہائی اہم کام ہے ۔پھر اسے قسم دی کہ دروازہ کھولے اور اندر آنے دے جب اندر گئے تو کہنے لگے اے ابراہیم ! میرے مولاعليهالسلام نے مجھے بتایا ہے کہ میرا کوئی عمل قبول نہ ہوگا ۔ جب تک ابراہیم جمال تجھ سے راضی نہ ہو جائے ،ابراہیمعليهالسلام نے کہا خدا آپ کو معاف کرے۔ یعنی میں نے آپ کو معاف کردیا ۔لیکن علی بن یقطین نے اس پر بس نہ کی بلکہ اپنا چہرہ خاک پر رکھ دیا اور ابراہیمعليهالسلام کو قسم دے کر کہا کہ تم اپنا پاؤں میرے چہرے پر رکھ کر خوب روند ڈالو ،ابراہیم نے بامر مجبوری ایسا ہی کیا۔ تب علی بن یقطین نے کہا اے خدا تو گواہ رہنا ۔اور علی بن یقطین اسی اونٹ پر سوار ہوئے اور اسی رات مدینہ واپس آپہنچے اور اونٹ کو امام موسیٰ کاظم - کے دروازے پر بٹھایا اسی وقت آپعليهالسلام نے ان کو اندر آنے کی اجازت دی اور پھر حضرتعليهالسلام نے وہ چیزیں قبول فرمایئں جو علی بن یقطین آپ کی نذر کرنا چاہتے تھے ۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن بھائیوں کے حقوق کی پاسداری کس قدر لازم اور اہم ہے ۔
(۱۰) روضہ مبارک کی چوکھٹ پر بوسہ دے اور شیخ شہیدرحمهالله کا ارشاد ہے کہ زائر اگر چوکھٹ پر خدا کے حضور سجدہ شکر بجا لائے اور یہ نیت کرے کہ میں خداکے لئے سجدہ بجا لا رہا ہوں کیونکہ اس نے اسے اس مقدس مقام تک پہنچنے کی توفیق دی ہے تو اس کا یہ عمل صحیح ہے ۔
( ۱۱ )حرم میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پاؤں اندر رکھے اور باہر آتے ہوئے پہلے بایاں پاؤں باہر نکالے ۔ جیسا کہ مسجد کا حکم ہے ۔
(۱۲)ضریح کے اتنا قریب ہو جائے کہ اس سے لپٹ سکے ،یہ گمان کرنا باطل ہے کہ ضریح سے دور کھڑے ہونے میں پاس ادب ہے کیونکہ اسے بوسہ دینے اور اس کا سہارا لینے کا تذکرہ آیا ہے ۔
(۱۳) زیارت پڑھتے وقت پشت بہ قبلہ ہوکر اپنا منہ ضریح کی طرف کیے رہے ،بظاہر یہ ادب صرف معصومعليهالسلام کے روضہ مبارک کی زیارت کے لیے مخصوص ہے ۔جب زیارت پڑھ چکے تو اپنے چہرے کے دائیں حصے کو ضریح مبارک کے ساتھ مس کرکے گریہ و زاری کرتے ہوئے خدائے تعالیٰ سے دعا مانگے ،پھر بائیں حصے کو مس کرے اور صاحب قبر کا واسط دے کے دعا مانگے کہ حق تعالیٰ قیامت میں اس معصومعليهالسلام کو اس کاشفیع بنائے ۔ دعا کرنے میں ہمت وحوصلے سے کام لے اور پوری توجہ کے ساتھ خاصی دیر تک مصروف دعا رہے اسکے بعد ضریح مبارک کے سرہانے قبلہ رو ہو کر دعا کرے۔
(۱۴) اگر کھڑے ہو کر زیارت پڑھنے میں کوئی عذر ہو جیسے کمر درد ،پاؤں کا درد یا کمزوری لاحق ہو تو بیٹھ کر پڑھے :
(۱۵) جب روضہ مقدس کو دیکھے تو زیارت پڑھنے سے پہلے تکبیر یعنی ﷲ اکبر کہے ۔کیونکہ روایت میں ہے کہ جو شخص امام کے حضور تکبیر کہے اور ’’لاَ اِلٰهَ اِلاَّ ﷲ وَحْدَه، لاَ شَرِیْکَ لَه ، ‘‘ پڑھے تو اس کیلئے رضوان اکبر لکھا جائے گا۔
(۱۶) وہ زیارتیں پڑھے جو ائمہ سے مروی ہیں ،اپنی یا کسی اور کی بنائی ہوئی زیارتیں پڑھنے سے پرہیز کرے کہ جو بے خبر لوگوں نے اصل زیارتوں کی خوشہ چینی کرکے مرتب کیں اور بے خبر لوگوں کو انہی کے پڑھنے میں لگائے رکھتے ہیں ۔
شیخ کلینیرحمهالله نے عبد الرحیم قصیر سے روایت کی ہے کہ میں امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرے آقا ! میں نے اپنی طرف سے ایک دعا ترتیب دی ہوئی ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ مجھے اپنی خود ساختہ دعا سے معاف رکھو۔یعنی یہ بے کار ہے جب تمہیں کوئی حاجت پیش آئے تو رسول ﷲ کے وسیلے سے خدا کی پناہ مانگو اور دو رکعت نماز پڑھ کے آنحضرت کیلئے ہدیہ کر دو۔
(۱۷) زیارت پڑھنے کے بعد نماز زیارت ادا کرے کہ جو کم سے کم دو رکعت ہوتی ہے ۔شیخ شہیدرحمهالله نے فرمایا ہے کہ اگر رسول اکرم کی زیارت کرے تو پھر نماز زیارت آنحضرت کے روضہ مبارک میں بجا لائے اور اگر ائمہ طاہرین میں سے کسی کی زیارت کرے تو پھر نماز زیارت ان کے سرہانے کی طرف ہوکر پڑھے ۔اس دو رکعت نماز کو مسجد میں ادا کرنا بھی جائز ہے علامہ مجلسیرحمهالله نے فرمایا ہے کہ میرے خیال میں نماز زیارت اور دوسری نمازیں ضریحوں کے بالائے سر ادا کرنا بہتر ہے اور علامہ بحر العلوم نے بھی کتاب درہ میں فرمایا ہے ۔
وَمِنْ حَدِیثِ کَرْبَلا وَالْکَعْبةِ
لِکَرْبَلاَ بانَ عُلُوُّ الرُّتْبَةِ
جب بات کربلا وکعبہ کی ہو
تو کربلا کا مرتبہ بلند معلوم ہوتا ہے
وَغَیْرُها مِنْ سَائِرِ الْمَشاهِدِ
أَمْثالُها بِالنَّقْلِ ذِی الشَّوَاهِدِ
اور ان کے علاوہ دیگر مشاہد ایسے ہی ہیں
انکے بارے میں بہت دلائل نقل ہوئے ہیں
وَراعِ فِیهِنَّ اقْتِرابَ الرَّمْسِ
وَآثِرِ الصَّلاَةَ عِنْدَ الرَّأْسِ
انکے اندر جا کر تعویذ قبر کے قریب ہونا چاہیے
اور سرہانے کے نزدیک نماز ادا کریں
وَصَلِّ خَلْفَ الْقَبْرِ فَالصَّحِیحُ
کَغَیْرِهِ فِی نَدْبِها صَرِیحٌ
اور قبر کی پچھلی طرف نماز پڑھے تو صحیح ہے
اس کے مستحب ہونے میں واضح نص ہے
وَالْفَرْقُ بَیْنَ هَذِهِ الْقُبُورِ
وَغَیْرِها کالنُّورِ فَوْقَ الطُّورِ
ان میں اور دوسری قبروں میں ایسا فرق ہے
جیسے کوہ طور اور نور میں فرق تھا
فَالسَّعْیُ لِلصَّلاةِ عِنْدَها نُدِبْ
وَقُرْبُها بَلِ اللُّصُوقُ قَدْ طُلِبْ
ان کے قریب نماز پڑھنے کی کوشش مستحب ہے
ان کے قریب ہونا بلکہ ان سے لپٹ جانا چاہیے
(۱۸) اگر کسی موقع پر نماز زیارت کی خاص کیفیت کا ذکر نہ ہو تو وہاں نماز زیارت کی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ یاسین اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ رحمن پڑھے اور پھر وہ دعا پڑھے جو زیارت کے بعد پڑھی جاتی ہے یا اپنی دنیا وآخرت کے لیے جو کچھ بھی چاہتا ہو اسکا سوال کرے بہتر یہ ہے کہ عام مؤمنین کے حق میں دعا کرے کہ اسکی قبولیت یقینی ہے۔
(۱۹) شیخ شہیدرحمهالله نے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص حرم میں داخل ہو اور وہاں نماز باجماعت پڑھی جا رہی ہو تو پہلے اس میں شریک ہو کر فریضہ نماز بجا لائے اور بعد میں زیارت کرے ۔اسی طرح نماز جماعت میں شرکت کی خاطر زیارت پڑھنے کو بھی ترک کردے اور نماز سے فراغ ہوکر زیارت پڑھے: اگر وہ زیارت پڑھ رہا ہو اور نماز کا وقت داخل ہوجائے تو بھی اسے چھوڑ کر نماز جماعت میں شامل ہو کیونکہ نماز جماعت کے لیے زیارت کو ترک کر دینا مستحب ہے ،حرم کے متولی پر لازم ہے کہ ایسے وقت میں لوگوں کو نماز جماعت میں شمولیت کا حکم دے ۔
(۲۰) شیخ شہیدرحمهالله نے ضریح مقدس کے نزدیک تلاوت قرآن کو بھی آداب زیارت میں ذکر فرمایا ہے اور یہ کہ اس تلاوت کو اس روح پاک کے لیے ہدیہ کرے کہ جس کی زیارت کررہا ہے ،اس عمل میں زائر کا نفع اور صاحب مزار کی تعظیم ہے ۔
(۲۱) زائر کو نازیبا باتوں اور بیہودہ گفتگو سے بچنا چاہیے کہ یہ چیزیں عام حالات میں بھی نا پسندیدہ، رزق میں مانع اور دل کی سختی کا سبب ہیں خاص طور پر ان پاکیزہ روضوں میںکہ ﷲنے ان بزرگواروں کی عظمت و بلندی سورہ نور میں بیان فرمائی کہ فی بیوتاذن ﷲ ان ترفع ...الخ
( ۲۲ ) زیارت پڑھتے ہوئے اپنی آواز بلند نہ کرے ۔جیسا کہ میں نے اسے ہدیہ الزائرین میں ذکر کیا ہے ۔
(۲۳)جس مقام پر کسی امام- کی زیارت کو گیا ہو ،وہاں سے کسی دوسرے شہر یا اپنے وطن کو جانا چاہے تو روضہ امام پر جا کر ان کو الوداع کہے اور زیارت وداع پڑھے کہ جو نقل ہوئی ہے ۔
(۲۴) اپنے گناہوں پر استغفار کرے اور زیارت سے واپس آنے کے بعد اپنے اخلاق واعمال کو سنوارے کہ زیارت سے قبل وبعد کا فرق نمایاں رہے ۔
(۲۵) اپنی حیثیت کے مطابق خدام حرم کی مالی خدمت کرے ،لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ ان آستانوں کے خدام ،شریف ،نیک ،دینداراور خوش اخلاق ہوں اگر زائروں کی طرف سے کوئی نامناسب بات ہوجائے تو وہ ان پر غصہ وناراضگی کا اظہار نہ کریں،بلکہ ان میں جو غریب ہوں ان کی رہنمائی سے پہلوتہی نہ کریں اور انہیں زیارت کے آداب اور اعمال سے آگاہ کریں ۔ خادموں کو حقیقی معنی میں خادم ہونا چاہیے اور صفائی نگرانی اور زائرین کی حفاظت جیسی لازمی خدمات میں مشغول رہنا چاہیے ۔
(۲۶) روضہ مطہر کے قرب میں جو محتاج ومسکین افراد خصوصاً سادات ،علمائ اور طلبائ کہ جن کے دم قدم سے یہ آستانے آباد ہیں ،ان سب پردیسی لوگوں کو اپنی واجب شرعی رقوم میں سے مناسب حصہ دے ۔
(۲۷) شیخ شہیدرحمهالله نے فرمایا ہے کہ زیارت کرنے کے بعد وہاں سے روانگی میں جلدی کرے اور دوبارہ یہاں آنے کا اشتیاق دل میں لے کر جائے ،زیارت کرنے میں مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے علیحٰدہ رہیں۔ تاہم عورتیں اگر رات کوزیارت کریں تو یہ بہت بہتر ہے نیز انہیں عمدہ لباس پہن کر حرم میں نہیں جانا چاہیے تاکہ وہاں موجود لوگ ان کو پہچان نہ سکیں ،وہ پوشیدہ طور پر حرم سے باہر آئیں کہ کوئی ان پر نظریں نہ جمائے ۔اگرچہ عورتوں کا مردوں کے ساتھ زیارت کرنا ایک جائز امر ہے ،لیکن یہ پسندیدہ طریقہ نہیں ہے ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ مذکورہ باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے میں یہ بد تر طریقہ رواج پاگیا ہے کہ عورتیں بن سنور کر اور نفیس لباس پہن کر زیارت کے لیے گھروں سے نکلتی ہیں اور حرم مقدسہ میں مردوں کے ساتھ مخلوط ہو کر زیارت کرتی ہیں ۔کئی مواقع پر وہ مردوں کے آگے آبیٹھتی ہیں اور انکی عبادت میں خلل پیدا کرتی ہیں جو ﷲ کے راستے سے روکتے ہیں ۔ان عورتوں کا یہ فعل بہت برا اور ناپسندیدہ ہے حقیقیت یہ ہے کہ ان کا اس ڈھب سے زیارت کرنا شرعی لحاظ سے چنداں مناسب نہیں اور نہ ہی یہ کار ثواب کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا عورتوں کو اس بارے میں خاص احتیاط کرنا چاہیے کہ اجر کی بجائے زجر اور ثواب کی بجائے عذاب لے کر نہ جائیں۔
امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ امیر المؤمنین- عراق کے لوگوں سے فرماتے تھے اے اہل عراق! مجھے بتایا گیا ہے کہ تمہاری عورتیں سرراہ مردوں سے ملتی اور گفتگو کرتی ہیں آیا ان کی اس روش پر تمہیں شرم نہیں آتی؟ خدا اس شخص پر لعنت کرتا ہے ،جس کو غیرت نہ آتی ہو من لا یحضرہ الفقیہ میں اصبغ بن نباتہ سے روایت کی گئی ہے کہ میں نے امیرالمؤمنین- کو یہ فرماتے سنا کہ قرب قیامت کا زمانہ جو سب زمانوں سے بدتر ہوگا، اس میں عورتیں بے پردہ ،دین سے ناواقف ،فتنہ انگیز ،خواہشوں کی دلدادہ ،لذتوں کی طرف مائل اور حرام چیزوں کو حلال سمجھنے والی ہوں گی ۔پس وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گی ۔
(۲۸) جب زائرین کی تعداد زیادہ ہو تو جو لوگ ضریح کے پاس پہنچے ہوئے ہوں انہیں جلد تر زیارت سے فارغ ہوجانا چاہیے ۔تاکہ دوسرے لوگ ضریح مقدس کی زیارت کا ثواب حاصل کرسکیں ۔
البتہ امام حسین- کی زیارت کے ذیل میں کچھ اور آداب بھی بتائے جائیں گے کہ جو زائر کو بجا لانا چاہئیں۔
دوسری فصل
تمام حرم ہائے مبارکہ کیلئے اذن دخول
یہاں دو اذن دخول تحریر کیے جارہے ہیں جو حرم کے اندر جانے سے قبل پڑھنے چاہئیں۔
پہلا اذن دخول
شیخ کفعمی نے فرمایا ہے کہ جب حضرت رسول کی مسجد یا ائمہعليهالسلام میں سے کسی امامعليهالسلام کے حرم میں جانے کا ارادہ کرے تو دروازے پر کھڑے ہو کر یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی وَقَفْتُ عَلَی بَابٍ مِنْ أَبْوابِ بُیُوتِ نَبِیِّکَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ
اے معبود! میں تیرے نبی کے گھر کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر حاضر ہوں ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر تیری رحمت نازل ہو
وَآلِهِ وَقَدْ مَنَعْتَ النَّاسَ أَنْ یَدْخُلُوا إلاَّ بِ إذْنِهِ فَقُلْتَ یَا أَیُّهَا الَّذِینَ
تو نے لوگوں کو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اجازت کے بغیر ان کے گھروں میں داخل ہونے سے منع کیا ہے اور تیرا فرمان ہے اے ایمان والو
آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إلاَّ أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعْتَقِدُ حُرْمَةَ صَاحِبِ
داخل نہ ہواکرو نبی کے گھروں میں مگر اس وقت جب تمہیں اجازت مل جائے اے ﷲ بے شک میں اس حرم شریف میں مدفون ہستی
هذَا الْمَشْهَدِ الشَّرِیفِ فِی غَیْبَتِهِ کَمَا أَعْتَقِدُها فِی حَضْرَتِهِ، وَأَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَکَ
کا ان کی غیبت میں ایسے ہی معتقد ہوں جیسے میں ان کے ظہور میں معتقد تھا اور میں جانتا ہوں کہ تیرا رسول اور
وَخُلَفائَکَ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ أَحْیائٌ عِنْدَکَ یُرْزَقُونَ یَرَوْنَ مَقامِی، وَیَسْمَعُونَ کَلامِی،
تیرے خلفائ کہ ان سب پر سلام ہو وہ زندہ ہیں اور تیرے ہاں رزق پاتے ہیں وہ مجھے دیکھ رہے ہیںمیری معروضات سن رہے ہیں
وَیَرُدُّونَ سَلامِی، وَأَنَّکَ حَجَبْتَ عَنْ سَمْعِی کَلامَهُمْ، وَفَتَحْتَ بابَ فَهْمِی بِلَذِیذِ
اور میرے سلام کا جواب دے رہے ہیں اور بے شک تو نے میرے کانوں کو ان کا کلام سننے سے روکا ہے اور ان سے راز ونیاز کرنے
مُناجاتِهِمْ، وَ إنِّی أَسْتَأْذِنُکَ یَا رَبِّ أَوَّلاً، وَأَسْتَأْذِنُ رَسُولَکَ صَلَّی ﷲ
میں میرے فہم کو کھول رکھا ہے اور اے میرے رب پہلے میں تجھ سے اجازت مانگتاہوں پھر تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اجازت مانگتا ہوں کہ
عَلَیْهِ وَآلِهِ ثانِیاً ، وَأَسْتَأْذِنُ خَلِیفَتَکَ الْاِمامَ الْمَفْرُوضَ عَلَیَّ طاعَتُهُ
خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر اور اجازت مانگتا ہوں تیرے خلیفہ و امام سے جن کی اطاعت مجھ پر واجب ہے ۔
فلاں بن فلاں کی بجائے ان امام - کا نام مع ان کے والد بزرگوار کے اسم گرامی کو زبان پر لائے کہ جن کی زیارت کررہا ہے مثلاً اگر امام حسین- کی زیارت ہے تو کہے:
الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ ں اوراگر زیارت امام رضا - ہو تو کہے:عَلِیَّ بْنَ مُوسَی الرِّضا ں
حسین بن علی - علی بن موسیٰ الرضا -
اور اسی طرح باقی آئمہ کے بارے میں کہے پھر یہ پڑھے :وَالْمَلائِکَةَ الْمُوَکَّلِینَ بِهذِهِ الْبُقْعَةِ
اورپھر ان فرشتوں سے جو اس بارگاہ کے نگہبان ہیں
الْمُبارَکَةِ ثالِثاً، أَأَدْخُلُ یَا رَسُولَ ﷲ أَأَدْخُلُ یَا حُجَّةَ ﷲ أَأَدْخُلُ یَا مَلائِکَةَ
جو پر برکت ہے آیا میں اندر آجائوں اے ﷲ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آیا میں اندر آجائوں اے خدا کی حجتعليهالسلام آیا میں اندر آجائوں اے خدا کے
ﷲ الْمُقَرَّبِینَ الْمُقِیمِینَ فِی هذَا الْمَشْهَدِ فَأْذَنْ لِی یَا مَوْلایَ فِیالدُّخُولِ أَفْضَلَ مَا أَذِنْتَ
مقرب ملائکہ جو قبر مطہر کے پاس مقیم ہیں پس اے میرے مولاعليهالسلام مجھے اندر آنے کی اجازت دیجیے ایسی بہترین اجازت جو آپ نے
لاََِحَدٍ مِنْ أَوْ لِیائِکَ، فَ إنْ لَمْ أَکُنْ أَهْلاً لِذلِکَ فَأَنْتَ أَهْلٌ لِذلِکَ ۔ برکت والی دہلیز کو بوسہ
اپنے دوستوں میں کسی کو دی ہو پس اگرچہ میں اس کے لائق نہیں ہوں لیکن آپ اجازت دینے کے اہل ہیں۔
دے کر اندر جائے اور کہے: بِسْمِ ﷲ وَبِﷲ وَفِی سَبِیلِ ﷲ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سیخدا کی راہ میں اور حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خداکی ملت پر کہ رحمت کرے ﷲ ان پر اور
عَلَیْہِ وَآلِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی، وَارْحَمْنِی، وَتُبْ عَلَیَّ إنَّکَ ٲَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ۔
ان کی آلعليهالسلام پر اے معبود! مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما اور میری توبہ قبول کرکہ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
دوسرا اذن و خول یہ ہے جو علامہ مجلسیرحمهالله نے اپنے علمائے اعلام کی قدیم کتابوں سے نقل کیا ہے ۔ اور اسے سرداب مقدس یا کسی امام -کے حرم مبارک کے اندر داخل ہونے سے پہلے دروازے پر کھڑے ہو کر پڑھنا چائیے اور وہ یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ إنَّ هذِهِ بُقْعَةٌ طَهَّرْتَها، وَعَقْوَةٌ شَرَّفْتَها، وَمَعالِمُ زَکَّیْتَها حَیْثُ أَظْهَرْتَ فِیها
اے معبود! یقیناً اس بارگاہ کو تو نے پاکیزہ کیا ہے اور اس آستانے کو عزت دی اور یہ مقام نصیحت ہے جسے تو نے چمکا یا تاکہ تو اس میں
أَدِلَّةَ التَّوْحِیدِ وَأَشْباحَ الْعَرْشِ الْمَجِیدِ الَّذِینَ اصْطَفَیْتَهُمْ مُلُوکاً لِحِفْظِ النِّظامِ
توحید کی دلیلیں اور عزت والے عرش کی مثالیں ظاہر فرمائے کہ جن لوگوں کو تو نے نظم و نظام کی حفاظت کیلیے حاکم بنایا
وَاخْتَرْتَهُمْ رُؤَسائَ لِجَمِیعِ الْاََنامِ، وَبَعَثْتَهُمْ لِقِیامِ الْقِسْطِ فِی ابْتِدائِ الْوُجُودِ إلی
انہیں ساری مخلوق کیلئے سردار مقرر کیا اور انہیں عدل و قسط قائم رکھنے کے لیے مامور فرمایا تاکہ آغاز کائنات سے قیامت تک یہ کام
یَوْمِ الْقِیَامَةِ، ثُمَّ مَنَنْتَ عَلَیْهِمْ بِاسْتِنابَةِ أَنْبِیائِکَ لِحِفْظِ شَرائِعِکَ وَأَحْکَامِکَ
انجام دیں پھر تو نے ان پر یہ احسان کیا کہ انہیں اپنے نبیوںکا جانشین قرار دیا تاکہ تیری شریعتوں اور حکموں کی حفاظت ہو پس تو نے
فَأَکْمَلْتَ بِاسْتِخْلافِهِمْ رِسالَةَ الْمُنْذِرِینَ کَما أَوْجَبْتَ رِیَاسَتَهُمْ فِی فِطَرِ الْمُکَلَّفِین
ان کو خلافت دے کرنبیوں کی رسالت کو کامل کردیاجیسا کہ تو نے اہل دین پر ان کی حکمرانی واجب و لازم کردی ہے
فَسُبْحانَکَ مِنْ إلهٍ مَا أَرْأَ فَکَ، وَلاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ مِنْ مَلِکٍ مَا أَعْدَلَکَ حَیْثُ طابَقَ
پس پاک تر ہے تو اے معبود! کہ بڑی محبت کرتا ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں کہ تو بڑا عدل کرنے والا بادشاہ ہے
صُنْعُکَ مَا فَطَرْتَ عَلَیْهِ الْعُقُولَ، وَوافَقَ حُکْمُکَ مَا قَرَّرْتَهُ فِی الْمَعْقُولِ
کیونکہ تیری بنائی ہوی چیزیں عقل و خرد سے مطابقت رکھتی ہیں اور تیرا حکم ان اصولوں سے موافقت رکھتا ہے جو تو نے معقولات و
وَالْمَنْقُولِ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی تَقْدِیرِکَ الْحَسَنِ الْجَمِیلِ وَلَکَ الشُّکْرُ عَلَی قَضائِکَ
منقولات میں مقرر فرمائے ہیں پس حمد تیرے لیے ہے کہ تو نے ہر چیز کا بہترین اندازہ ٹھہرایا اور شکر تیرے لیے ہے کہ تو نے اپنے ہر
الْمُعَلَّلِ بِأَکْمَلِ التَّعْلِیلِ، فَسُبْحانَ مَنْ لاَ یُسْأَلُ عَنْ فِعْلِهِ، وَلاَ یُنازَعُ فِی أَمْرِهِ
فیصلے میں ایک قوی دلیل کوبنیاد بنایا ہے پس پاک ہے وہ کہ جس کے فعل پر باز پرس نہیں اور جس کے حکم میں اختلاف نہیں ہوتااور
وَسُبْحانَ مَنْ کَتَبَ عَلَی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ قَبْلَ ابْتِدائِ خَلْقِهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی مَنَّ
پاک ہے وہ جس نے رحمت کرنا خود پر ضروری قرار دیا قبل اس کے کہ اپنی مخلوق کا آغاز کرتا اور حمد اس ﷲ کی ہے جس نے
عَلَیْنا بِحُکَّامٍ یَقُومُونَ مَقامَهُ لَوْ کانَ حاضِراً فِی الْمَکانِ، وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الَّذِی
اپنے قائم مقام حکّام (انبیائ) کے تقرر سے ہم پر احسان کیا اگرچہ وہ کسی جگہ محدود نہیں ہے ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیںجس نے انبیائ
شَرَّفَنا بِأَوْصِیائَ یَحْفَظُونَ الشَّرائِعَ فِی کُلِّ الْاََزْمانِ، وَﷲ أَکْبَرُ الَّذِی أَظْهَرَهُمْ
کے جانشینوں کے ذریعے ہمیںعزت دی جو ہر ہر زمانے میں شریعتوں کی حفاظت کرتے رہے اور بزرگتر ہے وہ ﷲ جس نے ان کو
لَنا بِمُعْجِزاتٍ یَعْجُزُ عَنْهَا الثَّقَلانِ، لا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ الَّذِی
ہمارے لیے ظاہر کیا معجزے دے کر کہ جن کے مقابل جن وانس عاجز ہیں نہیں کوئی طاقت وقوت مگر وہ جو بلند و برتر خدا سے ملتی ہے
أَجْرانا عَلَی عَوائِدِهِ الْجَمِیلَةِ فِی الْاَُمَمِ السَّالِفِینَ اَللّٰهُمَّ فَلَکَ الْحَمْدُ وَالثَّنائُ الْعَلِیُّ
جس نے ہمیں سابقہ امتوں سے خوب تر نعمتوں سے نوازا اور سرفراز کیا ہے اے معبود! تیرے ہی لیے حمد ہے اور بہت تعریف اس پر
کَما وَجَبَ لِوَجْهِکَ الْبَقائُ السَّرْمَدِیُّ، وَکَما جَعَلْتَ نَبِیَّنا خَیْرَ النَّبِیِّینَ، وَمُلُوکَنا
کہ تونے اپنی ذات میں ہمیشہ ہمیشہ کا جلوہ رکھا اور تیری حمد اس پر کہ تو نے ہمارے نبی کو نبیوں میں افضل اور ہمارے ائمہ کو مخلوق میں
أَفْضَلَ الْمَخْلُوقِینَ وَاخْتَرْتَهُمْ عَلَی عِلْمٍ عَلَی الْعالَمِینَ وَفِّقْنا لِلسَّعْیِ إلی أَبْوابِهِمُ
بہتر بنایا نیزعلم ودانش سے ان کو پوری کائنات سے منتخب کیا ہے ہمیں قیامت تک ان کے آبادآستانوں پر حاضر ہونے کی توفیق دی
الْعامِرَةِ إلی یَوْمِ الدِّینِ، وَاجْعَلْ أَرْواحَنا تَحِنُّ إلی مَوْطِیََ أَقْدامِهِمْ، وَنُفُوسَنا
ہماری روح کو ان کے قدموں میں جانے کا اشتیاق دے ہماری جانوں کو ان کے
تَهْوِی النَّظَرَ إلی مَجالِسِهِمْ وَعَرَصاتِهِمْ حَتَّی کَأَنَّنا نُخاطِبُهُمْ فِی حُضُورِ أَشْخاصِهِمْ
درباروں اور صحنوں کے دیکھنے کی تمنا دے یہاں تک کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان کے روبرو ہو کر عرض گزارہیں
فَصَلَّی ﷲ عَلَیْهِمْ مِنْ سادَةٍ غایِبِینَ وَمِنْ سُلالَةٍ طاهِرِینَ وَمِنْ أَئِمَّةٍ مَعْصُومِینَ
ﷲ کی رحمت ہو ان پر جو سردار ،غائب پاکیزہ خاندان اور صاحب عصمت امام و پیشوا ہیں
اَللّٰهُمَّ فَأْذَنْ لَنا بِدُخُولِ هذِهِ الْعَرَصاتِ الَّتِی اسْتَعْبَدْتَ بِزِیارَتِها أَهْلَ الْاََرَضِینَ
اے معبود! ہمیں ان بارگاہوں کے احاطہ میں داخل ہونے کی اجازت دے کہ جن کی زیارت کو تو نے زمین
وَالسَّمٰوَاتِ، وَأَرْسِلْ دُمُوعَنا بِخُشُوعِ الْمَهابَةِ، وَذَ لِّلْ جَوارِحَنا بِذُلِّ الْعُبُودِیَّةِ
وآسمان والوں کیلئے ذریعہ عبادت قرار دیا اپنی ہیبت سے ہمارے آنسورواں کردے اور ہمارے اعضا کو بندگی اور اطاعت
وَفَرْضِ الطَّاعَةِ، حَتَّی نُقِرَّ بِمَا یَجِبُ لَهُمْ مِنَ الْاََوْصَافِ، وَنَعْتَرِفَ بِأَ نَّهُمْ شُفَعَاءُ
کے لیے جھکا دے یہاں تک کہ ہم اقرار کریں ان ہستیوں کے اوصاف کا اور مانیں اس بات کو کہ اس وقت وہ مخلوق کی
الْخَلائِقِ إذَا نُصِبَتِ الْمَوَازِینُ فِی یَوْمِ الْاََعْرافِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلامٌ عَلَی عِبادِهِ
شفاعت کرنے والے ہونگے جب روز قیامت اعمال کے وزن سامنے آئیں گے اورحمد خدا کیلئے ہے اور سلام ہو اسکی برگزیدہ
الَّذِینَ اصْطَفی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
مخلوق محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جو پاک و پاکیزہ ہیں۔
پھر چوکھٹ کا بوسہ دے اورگریہ کرتے ہوئے حرم میں داخل ہوجائے ، یہی ان کی طرف سے اذن دخول ہے۔
صَلَوَاتُ ﷲ عَلِیِهِمْ اَجَمَعِیْن
ان تمام پر ﷲ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔
تیسری فصل
مدینہ میں حضرت رسول ، فاطمہ زہرا اور ائمہ بقیع کی زیارات
جاننا چاہیے کہ تمام مسلمان مومنین کے لیے اور خصوصاً حاجیوں کے لیے سید المرسلین ختم النبیین حضرت محمد بن عبدﷲ کی زیارت کرنا مستحب موکدہ ہے آپ کی زیارت نہ کرنے والا قیامت والے دن آپ پرظلم کرنے والا شمار ہوگاشیخ شہیدرحمهالله نے فرمایا ہے کہ اگر لوگ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت کرنا ترک کردیں تو پھر آپ کے وارث حقیقی امام معصومعليهالسلام پر لازم ہوگا کہ وہ لوگوں کو آپ کی زیارت کے لیے جانے پر مجبور کریں۔ کیونکہ آپ کی زیارت کو نہ جانا ظلم وجفا ہے جو کہ حرام اور ناجائز ہے شیخ صدوقرحمهالله نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ تم میں سے جو بھی شخص حج کرنے جائے تو اسے حج کو حضرت رسول کی زیارت پر تمام کرنا چاہیے اسی سے حج تمام وکامل ہوتا ہے۔ نیز حصرت امیر المؤمنین- سے روایت ہوئی ہے آپ نے فرمایا: اپنے حج کو حضرت رسول کی زیارت کیساتھ ختم کرو کیونکہ حج کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت نہ کرنا ظلم وجور اور خلاف ادب ہے پھر تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کی زیارت کیلئے جاؤ جن کا حق زیارت ﷲ نے تم پر واجب قرار دیا ہے ان مزارات پر جاکر حق تعالیٰ سے رزق طلب کرو۔
ابوصلت ہروی نے روایت کی ہے کہ میں نے امام علی رضا- سے عرض کیا کہ یہ حدیث جو نقل کی جاتی ہے کہ مومنین جنت میں اپنے ٹھکانوں پر ہی اپنے پروردگار کی زیارت کریں گے۔ سائل کا خیال یہ تھا کہ بظاہر یہ حدیث درست نہیں ۔کیونکہ اس سے خدا کاصاحب جسم ہونا لازم آتا ہے۔لہٰذا اگر اس کا کوئی ایسا مطلب ہے جو توحید کے منافی نہ ہو تو وہ بیان فرمائیں۔ امام رضا- نے فرمایا کہ اے ابو صلت! حق تعالیٰ نے حضرت رسول کو اپنی تمام مخلوق حتیٰ سبھی انبیائ اورملائکہ سے افضل قرار دیا ہے۔ اس نے ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت ،ان کی بیعت کو اپنی بیعت اور ان کی زیارت کو اپنی زیارت کہا ہے۔ نیز حضرت رسول نے فرمایا کہ جس نے میری زندگی یا میری موت کے بعد میری زیارت کی گویا اس نے حق تعالیٰ کی زیارت کی ہے۔چنانچہ ارشاد ہوا جس نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کی گویا اس نے ﷲ کی اطاعت کی ،ایک اور مقام پر فرمایا بیشک جو لوگ تیری بیعت کرتے ہیں وہ ﷲ کی بیعت کرتے ہیں اور ﷲ کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے۔ لہذا یہاں بھی پروردگار کی زیارت سے حضرت رسول کی زیارت مراد ہے۔ اور اس حدیث میں خدا کے مجسم ہونے کا مفہوم نہیں پایا جاتا۔ حمیری نے قرب الاسناد میں امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے۔ حضرت رسول نے فرمایا کہ جس نے میری زندگی میںیا میری حیات کے بعد میری زیارت کی تو میں روز قیامت اس کی شفاعت کروں گا۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ عید کا دن تھا اور امام جعفر صادق - مدینہ منورہ میں موجود تھے‘ آپعليهالسلام حضرت رسول کی زیارت کو گئے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام بھیجا۔ پھر فرمایا کہ ہم سبھی شہروں کے باشندوں حتیٰ کہ مکہ والوں پر بھی اس سبب سے فضیلت رکھتے ہیں کہ ہم حضرت رسول کی زیارت کرتے ہیںاور قریب سے ان پر سلام بھیجتے ہیں۔
شیخ طوسیرحمهالله نے تہذیب الاحکام میں یزید بن عبدالملک سے اور اس نے اپنے باپ اور دادا سے روایت کی ہے کہ میں جناب فاطمتہ الزہراعليهالسلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے سلام کرنے میں پہل فرمائی اور پوچھا کہ کس لیے آئے ہو؟ میں نے گذارش کی کہ ثواب اور برکت کیلئے حاضر ہوا ہوں بی بی(س) نے فرمایا کہ مجھے میرے پدرعالی قدر نے خبر دی ہے (جو باطنی طور پر اب بھی حاضر ہیں) جو شخص مجھ پر یا میرے والد بزرگوار پر تین روز سلام کرے تو حق تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب کردیتا ہے۔ میں نے عرض کی کہ آپعليهالسلام کی اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زندگی میں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں زندگی میں اور بعد میں بھی سلام کا یہی اجر ہے۔
علامہ مجلسیرحمهالله کہتے ہیں کہ معتبر سند کے ساتھ عبدﷲ بن عباس سے نقل ہوا ہے کہ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ جو شخص بقیع میں امام حسن- کی زیارت کرے‘ اس کا قدم پل صراط پر ثابت رہے گا جب کہ دوسرے لوگوں کے قدملغزش کھا رہے ہوں گے۔ مقنعہ میں امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ جو شخص میری زیارت کرے گا اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور اسے تنگ دستی اور پریشانی لاحق نہیں ہوگی۔
شیخ طوسیرحمهالله نے تہذیب الاحکام میں امام حسن عسکری - سے روایت کی ہے کہ جو شخص امام جعفر صادق - اور ان کے والد گرامی امام محمد باقر - کی زیارت کرے تو اس کو درد چشم نہ ہوگا اور کسی درد و بیماری میں مبتلا ہو کر نہ مرے گا۔ ابن قولویہ نے کتاب کامل میں ہشام بن سالم کے واسطہ سے امام جعفر صادق - سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے کہ جس کا مضمون یہ ہے کہ ایک شخص آنجنابعليهالسلام کی خدمت میں آیا اور عرض کی آیا آپ کے والد بزرگوار امام محمد باقر - کی زیارت کرنا ضروری ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں! اس نے کہا پس ان کے زائر کیلئے کیا ثواب ہے؟ آپ نے فرمایا اگر وہ ان کی امامت کا معتقد اور ان کی پیروی کرنے والا ہے تو اس کیلئے جنت واجب ہے۔ اس نے عرض کی کہ جو شخص ان کی زیارت نہ کرے اس کا حال کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ قیامت میں اس کو ندامت اور حسرت ہوگی۔ اگرچہ اس بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں تاہم ہمارے لیے یہاں ذکر کی جانے والی احادیث کافی ہیں۔
کیفیت زیارت حضرت رسول خدا
زائر جب مدینہ منورہ پہنچے تو غسل زیارت کرے اور مسجد نبوی میں داخل ہونے لگے تو دروازے پر کھڑے ہو کر پہلا اذن دخول پڑھے جو قبل ازیں نقل کیا جاچکا ہے۔ اس کے بعد درجبرائیلعليهالسلام سے داخل ہو۔ پہلے اپنا دایاں پائوں اندر کھے اور سومرتبہ ﷲ اکبر کہے۔ پھر دو رکعت نماز تحیت المسجد بجالائے۔ پھر حجرہ مبارک کی طرف جائے اور اپنا ہاتھ اس سے مس کرکے اس پر بوسہ دے اور یہ پڑھے:
زیارت حضرت رسول خدا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدُ
آپ پر سلام ہو اے ﷲ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سلام ہو آپ پر اے ﷲکے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم سلام ہو آپ پر اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
بْنَ عَبْدِﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خاتَمَ النَّبِیِّینَ، أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسالَةَ وَأَقَمْتَ
بن عبداعليهالسلام ﷲ آپ پر سلام ہو اے نبیوں کے خاتم میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے پیغام حق پہنچایا نماز کو
الصَّلاَةَ وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً
قائم فرمایا زکات ادا کی نیک کاموں کا حکم دیا برائیوں سے روکتے رہے اورخلوص کے ساتھ ﷲ کی عبادت کی
حَتَّی أَتاکَ الْیَقِینُ، فَصَلَواتُ ﷲ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُهُ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِکَ الطَّاهِرِینَ
یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا پس آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاک و پاکیزہ اہلعليهالسلام بیت پرخدا کا درود اور اس کی رحمت ہو
پھر اس ستون کے قریب کھڑا ہو جو قبر مطہر کے دائیں طرف ہے وہاں اس طرح قبلہ رخ ہوجائے کہ بایاں کاندھا قبر شریف کی طرف اور دایاںکاندھا منبر کی جانب ہو کہ یہی رسول کے سر مبارک کا مقام ہے۔ پس اس طرح کھڑے ہو کر یہ پڑھے:
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے کوئی اسکا شریک نہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اسکے بندے و رسول ہیں
وَأَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ ﷲ، وَأَنَّکَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ﷲ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ
اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷲ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور آپ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن عبداعليهالسلام ﷲ ہیں گواہی دیتا ہوںکہ آپ نے اپنے رب کے احکام
رِسالاتِ رَبِّکَ وَنَصَحْتَ لاَُِمَّتِکَ، وَجاهَدْتَ فِی سَبِیلِ ﷲ وَعَبَدْتَ ﷲ حَتّی أَتاکَ
لوگوں تک پہنچائے اپنی امت کو نصیحت فرمائی آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا اور ﷲ تعالیٰ کی عبادت کی یہاں تک کہ آپ کو
الْیَقِینُ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، وَأَدَّیْتَ الَّذِی عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ، وَأَ نَّکَ قَدْ
اپنی پر حکمت تبلیغ اور بہترین پند و نصیحت پر اطمینان ہوگیااور حق سے متعلق اپنی ہر ذمہ داری پوری کی بے شک آپ نے مومنوں
رَؤُفْتَ بِالْمُؤْمِنِینَ، وَغَلُظْتَ عَلَی الْکافِرِینَ، فَبَلَّغَ ﷲ بِکَ أَفْضَلَ شَرَفِ مَحَلِّ
کے ساتھ مہربانی اور کافروں کے ساتھ سختی کی پس خدا نے آپ کو عزت وتکریم کے بلند مقام پر
الْمُکَرَّمِینَ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی اسْتَنْقَذَنا بِکَ مِنْ الشِّرْکِ وَالضَّلالَةِ اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ
پہنچا دیا حمد ہے اس خدا کی جس نے ہمیں آپ کے وسیلے سے شرک اور گمراہی سے نجات دی اے معبود! قرار دے
صَلَوَاتِکَ وَصَلَوَاتِ مَلائِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ وَأَنْبِیائِکَ الْمُرْسَلِینَ وَعِبادِکَ الصَّالِحِینَ
اپنی رحمتیں، اور اپنے تمام مقرب فرشتوں، اپنے بھیجے ہوئے سارے نبیوں، اپنے سارے نیک بندوں آسمان
وَأَهْلِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرَضِینَ وَمَنْ سَبَّحَ لَکَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ
زمین پربسنے والی مخلوقات اور جو تیری تسبیح کرتے ہیں اے تمام جہانوں کے رب اولین وآخرین سے سب کی طرف
عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُو لِکَ وَنَبِیِّکَ وَأَمِینِکَ وَنَجِیِّکَ وَحَبِیبِکَ وَصَفِیِّکَ وَخاصَّتِکَ
سے درود قرار دے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جو تیرے بندے، رسول، نبی، امانتدار، برگذیدہ، حبیب، منتخب، خاص،
وَصَفْوَتِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِهِ الدَّرَجَةَ الرَّفِیعَةَ، وَآتِهِ الْوَسِیلَةَ مِنَ
منتخب شدہ اور تیری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں اے معبود! آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بلند درجہ عطا فرما ان کو جنت کی طرف
الْجَنَّةِ، وَابْعَثْهُ مَقاماً مَحْمُوداً یَغْبِطُهُ بِهِ الْاََوَّلُونَ وَالْاَخِرُونَ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ قُلْتَ وَلَوْ
وسیلہ بنا اور انہیں مقام محمود پر فائز فرما کہ جس پر اولین اورآخرین رشک کریں اے معبود! یقینا تو نے فرمایاہے کہ
أَنَّهُمْ إذْظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا ﷲ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا
اور اگر لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرکے تیرے پاس آئیں پھر وہ ﷲ تعالیٰ سے استغفارکریں اور رسول بھی ان کے لیے بخشش طلب
ﷲ تَوَّاباً رَحِیماً وَ إنِّی أَتَیْتُکَ مُسْتَغْفِراً تَائِباً مِنْ ذُ نُوبِی
کریںتو وہ یقیناًﷲ کو توبہ قبول کرنیوالااور مہربان پائیںگے اور میںآپ کے حضور استغفاراور گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے آیا
وَ إنِّی أَتَوَجَّهُ بِکَ إلَی ﷲ رَبِّی وَرَبِّکَ لِیَغْفِرَ لِی ذُ نُوبِی
ہوں بے شک میں آپ کے وسیلے سے ﷲ کی طرف متوجہ ہوں جو میرا اور آپ کا پروردگار ہے تاکہ وہ میرے گناہ بخش دے۔
اگرتمہیں کوئی حاجت ہو توقبلہ رخ ہو جاؤ اس وقت قبر مبارک کندھے کے پیچھے ہوجائے گی اس وقت ہاتھوں کو بلند کرکے حاجت طلب کرو تو انشائ ﷲ پوری ہوجائے گی‘ ابن قولویہ نے معتبر سند کے ساتھ محمد بن مسعود سے روایت کی ہے کہ میں نے دیکھا کہ امام جعفر صادق - رسول ﷲ کی قبر مبارک کے قریب آئے اور اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر یہ پڑھا:
أَسْأَلُ ﷲ الَّذِی اجْتَبَاکَ وَاخْتَارَکَ وَهَدَاکَ وَهَدیٰ بِکَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْکَ
میں سوال کرتا ہوں ﷲ سے جس نے آپکومنتخب کیا آپکو اختیارکیا آپکو ہادی بنایا اور آپکے ذریعے ہدایت دی وہ ﷲ آپ پر درود نازل فرمائے۔
اس کے بعد فرمایا:
إنَّ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیماً
بے شک ﷲ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اے ایمان والوتم بھی ان پر درود بھیجو اوراس طرح سلام کرو جیسا حق ہے۔
شیخ نے مصباح میں فرمایا ہے کہ جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی قبر مبارک کے نزدیک دعا وغیرہ سے فارغ ہو جاؤ تو منبر کے پاس جاؤ اور اپنا ہاتھ اس سے مس کرو۔ نیز منبر کی نچلی طرف جو انارکی مثل زینے ہیں ان کو بھی اپنے چہرے اور آنکھوں سے مس کرو، اس سے آنکھوں کو شفا ملتی ہے۔ پھر منبر کے پاس کھڑے ہو کر ﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنائ کرو اور اپنی حاجات طلب کرو‘ کیونکہ حضرت رسولخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ارشاد ہے کہ میری قبر اور میرے منبر کے درمیانجنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے‘ میرا منبربہشت کے دروازوںمیں سے ایک دروازہ ہے۔
پھر مقام رسول کے پاس جائے اور وہاں جتنی نمازیں پڑھ سکے پڑھے‘ مسجد نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم میں زیادہ سے زیادہ نمازیںادا کرے کیونکہ وہاں پڑھی گئی ایک نماز ہزار نمازوں کے برابر ہے اور جب بھی مسجد میں داخل ہو یا وہاں سے باہر نکلے تو صلوات پڑھے حضرت فاطمتہ الزہراعليهالسلام کے مکان میں بھی نماز پڑھے اور پرنالے کے نیچے مقام جبرائیلعليهالسلام پر بھی جائے اسی مقام پر حضرت جبرائیلعليهالسلام ، حضرت نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت لیا کرتے تھے وہاں کھڑے ہوکر یہ پڑھے:
ٲَسْٲَلُکَ ٲَیْ جَوادُ، ٲَیْ کَرِیمُ، ٲَیْ قَرِیبُ، ٲَیْ بَعِیدُ ٲَنْ تَرُدَّ عَلَیَّ نِعْمَتَکَ۔
سوال کرتا ہوں تجھ سے اے جواد اے مہربان اے نزدیک اے دور مجھے اپنی نعمت عطا فرما۔
کیفیت زیارت حضرت فاطمتہ الزہرا
اس کے بعد جناب سیدہ الزہرا =کے روضہ مبارک کی زیارت کرے۔آپ کے مدفن میں اختلاف ہے۔
بعضلوگ کہتے ہیں آپ(س) کی قبر مبارک روضہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپ کے منبر کے درمیان ہے‘ بعض کا کہنا ہے کہ بی بی(س) کی قبر مبارک ان کے گھر میں ہی ہے‘ ایک تیسرے گروہ نے کہا ہے کہ آپ کی قبر مبارک جنت البقیع میں ہے اور ہمارے اکژ علمائ فرماتے ہیں کہ آپ کی قبر روضہ رسول کے قریب ہے۔ وہاں زیارت پڑھی جائے البتہ آپ کی زیارت ان تینوں جگہ پر پڑھنا بہتر ہے۔ جب آپ کی زیارت کرے تو یہ پڑھے:
زیارت حضرت فاطمہ زہرا
یَا مُمْتَحَنَةُ امْتَحَنَکِ ﷲ الَّذِی خَلَقَکِ قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَکِ فَوَجَدَکِ لِمَا امْتَحَنَکِ صابِرَةً
اے آزمائش شدہ بی بی آپ کا اس ﷲ نے امتحان لیا جس نے آپ کو پیدا کیا اس نے آپ کی خلقت سے پہلے ہی آپ کوصابرہ پایا
وَزَعَمْنا أَنَّا لَکِ أَوْلِیائٌ وَمُصَدِّقُونَ وَصابِرُونَ لِکُلِّ مَا أَتَانَا بِهِ أَ بُوکِ صَلَّی ﷲ
اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم آپ کے محب ماننے والے اور معتقد ہیںہر اس تعلیم میں جو آپ کے والد بزرگواراور ان کے وصی سے ہمیں ملی ہے
عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَأَتی بِهِ وَصِیُّهُ، فَ إنّا نَسْأَلُکِ إنْ کُنَّا صَدَّقْناکِ إلاَّ أَلْحَقْتِنَا بِتَصْدِیقِنَا
خدا کی رحمت ہو ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر پس ہم درخواست کرتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے مخلص ہیں تو ہمارے اسی اعتقاد کے ساتھ ہمیں
لَهُما لِنُبَشِّرَ أَنْفُسَنا بِأَنَّا قَدْ طَهُرْنا بِوِلایَتِکِ نیز مستحب ہے یہ پڑھے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا
ان دونوں تک پہنچائیں تاکہ اپنے نفس کو بشارت دیں کہ آپکی ولایت ومحبت کے ذریعے پاک ہوگئے ہیں آپ پر سلام ہو اے
بِنْتَ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ نَبِیِّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ حَبِیبِ ﷲ
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی دختر آپ پر سلام ہو اے ﷲ کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیٹی آپ پر سلام ہو اے ﷲ کے حبیب کی دختر
اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ خَلِیلِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ صَفِیِّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے خلیل کی دختر آپ پر سلام ہو اے خدا کے برگزیدہ کی دختر آپ پر سلام ہو
یَا بِنْتَ أَمِینِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ خَیْرِ خَلْقِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ أَفْضَل
اے امین ﷲ کی دختر آپ پر سلام ہو اے مخلوق خدا میں سے بہترین کی دخترآپ پر سلام ہو اے نبیوں رسولوں اور
أَنْبِیائِ ﷲ وَرُسُلِهِ وَمَلائِکَتِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ خَیْرِ الْبَرِیَّةِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا
فرشتوں سے برتر ہستی کی دختر آپ پر سلام ہو اے بہترین مخلوق کی دختر آپ پر سلام ہو اے
سَیِّدَةَ نِسائِ الْعالَمِینَ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا زَوْجَةَ وَ لِیِّ ﷲ
جہان میں (اولین وآخرین) سبھی عورتوں کی سیدہ و سردار آپ پر سلام ہو اے خدا کے ولی کی زوجہ
وَخَیْرِ الْخَلْقِ بَعْدَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا أُمَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سَیِّدَیْ
جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد ساری مخلوق میںبہترین ہیں آپ پر سلام ہو اے حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کی والدہ جو جنت کے جوانوں
شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الصِّدِّیقَةُ الشَّهِیدَةُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا
کے سردار ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ صدیقہ و شہیدہ ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ خدا سے
الرَّضِیَّةُ الْمَرْضِیَّةُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الْفاضِلَةُ الزَّکِیَّةُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا
راضی اور خدا آپ سے راضی ہے آپ پر سلام ہو کہ آپ فضیلت والی اور پاکیزہ ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ
الْحَوْرائُ الْاِنْسِیَّةُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا التَّقِیَّةُ النَّقِیَّةُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الْمُحَدَّثَةُ
نوع انسانی میں حور صفت ہیں آپ پر سلام ہو اے پرہیزگار پاکباز آپ پر سلام ہو اے وحی کی رازداں
الْعَلِیمَةُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَغْصُوبَةُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الْمُضْطَهَدَةُ
علم و دانش والی آپ پر سلام ہو اے بی بی جس پرظلم ہوا جس کا حق چھینا گیا آپ پر سلام ہو اے ستم کشیدہ۔ اورحاکموں کا
الْمَقْهُورَةُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یا فاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ ﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، صَلَّی
قہر دیکھنے والی آپ پر سلام ہو اے ﷲ کے رسول کی دختر فاطمہ زہراعليهالسلام آپ پر ﷲ کی رحمت وبرکات ہوں آپ پر اور
ﷲ عَلَیْکِ وَعَلَی رُوحِکِ وَبَدَنِکِ أَشْهَدُ أَنَّکِ مَضَیْتِ عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّکِ وَأَنَّ مَنْ
آپکی روح اور آپ کے جسم پر خدا رحمت فرمائے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی طرف سے روشن دلیل پر زندگی گزری ہے
سَرَّکِ فَقَدْ سَرَّ رَسُولَ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَمَنْ جَفَاکِ فَقَدْ جَفَا رَسُولَ
بیشک جس نے آپ کو خوش کیا اس نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خوش کیا، خداان پر اور انکی آلعليهالسلام پر رحمت کرے اور جس نے آپ پرظلم کیا اس نے
ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَمَنْ آذاکِ فَقَدْ آذی رَسُولَ ﷲ صَلَّی
رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم پرظلم کیا اور خدا رحمت کرے ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر، اور جس نے آپ کواذیت دی اس نے رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اذیت دی ،
ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَمَنْ وَصَلَکِ فَقَدْ وَصَلَ رَسُولَ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَمَنْ
خدا کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر جو آپ کے ساتھ ہوا وہ رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ہواخدا کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر، اور جو
قَطَعَکِ فَقَدْ قَطَعَ رَسُولَ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ لاََِنَّکِ بِضْعَةٌ مِنْهُ وَرُوحُهُ الَّذِی
آپ سے جدا ہوا وہ رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم سے جدا ہوا ، خدا کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر اس لیے کہ آپ ان کی گوشئہ جگر اور ان کی روح
بَیْنَ جَنْبَیْهِ، أُشْهِدُ ﷲ وَرُسُلَهُ وَمَلائِکَتَهُ أَنِّی راضٍ عَمَّنْ رَضِیتِ عَنْهُ
ہیں جو انکے بدن میں ہے میں ﷲاسکے رسولوں اور فرشتوں کو گواہ بناتا ہوںکہ میں خوش ہوں اس سے جس سے آپ خوش ہیں اور
ساخِطٌ عَلَی مَنْ سَخِطْتِ عَلَیْهِ، مَتَبَرِّیٌَ مِمَّنْ تَبَرَّأْتِ مِنْهُ، مُوَالٍ لِمَنْ وَالَیْتِ، مُعادٍ
خفاہوں اس سے جس سے آپ خفا ہیں دور ہوں اس سے جس سے آپ دور ہیں ساتھی ہوں اسکا آپ جس کیساتھ ہیں دشمن ہوں
لِمَنْ عادَیْتِ ، مُبْغِضٌ لِمَنْ أَبْغَضْتِ، مُحِبٌّ لِمَنْ أَحْبَبْتِ، وَکَفَی بِالله شَهِیداً
اسکا جو آپکا دشمن ہے نفرت کرتا ہوں اس سے جس سے آپ کو نفرت ہے چاہتا ہوں اسے جس کو آپ چاہتی ہیں اور ﷲ گواہی میں،
وَحَسِیباً وَجازِیاً وَمُثِیباً
حساب، سزا اور جزا دینے میں کافی ہے۔
اس کے بعد حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ائمہ مصومینعليهالسلام پر صلوات بھیجے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت فاطمہ زہرا = کی ایک تیسری زیارت بھی ۳ جمادی الثانی کے اعمال میں نقل کی ہے (باب دوم کی دسویں فصل میں رجوع کریں) نیز علمائ اعلام نے ان صدیقہ (س)کی ایک اور طویل زیارت بھی تحریر فرمائی ہے جو لفظ بہ لفظ وہی زیارت ہے جو ہم نے
شیخ سے ابھی نقل ہے۔ جواَلسَّلاَمُ عَلِیْکِ یَا بِنْتَ رَسُولِ ﷲ سے شروع ہوتی ہے۔اُشْهِدُ ﷲ
آپ پر سلام ہواے خدا کے رسول کی دختر گواہ بناتا ہوں ﷲ کو
وَرُسُلَهُ وَمَلاَئِکَتَهُ (اس کے رسولوں اور فرشتوں) پر تمام ہوتی ہے اور اس کے بعد یوں ہے۔
أُشْهِدُ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ أَنِّی وَ لِیٌّ لِمَنْ وَالاکِ، وَعَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاکِ، وَحَرْبٌ
گواہ بناتا ہوں ﷲ کو اور اس کے فرشتوں کو اس پر کہ میں یقینا آپ کے دوستوں کا دوست آپ کے دشمنوںکا دشمن ہوںاور میری اس
لِمَنْ حَارَبَکِ، أَنَا یَا مَوْلاتِی بِکِ وَبِأَبِیکِ وَبَعْلِکِ وَآلاَءِمَّةِ مِنْ وُلْدِکِ مُوقِنٌ،
سے جنگ ہے جس سے آپ کی جنگ ہے اے میری مالکہ میں آپ کا آپ کے بابا جان کا آپ کے شوہر کا اور آپ کی اولاد میں
وَبِوِلایَتِهِمْ مُؤْمِنٌ، وَ لِطَاعَتِهِمْ مُلْتَزِمٌ، أَشْهَدُ أَنَّ الدِّینَ دِینُهُمْ، وَالْحُکْمَ
سے ائمہعليهالسلام کا معتقد ہوں انکی ولایت پر ایمان اور ان کی فرمانبرداری کو لازم سمجھتا ہوں گواہی دیتا ہوں کہ دین صرف ان کا دین ہے اور
حُکْمُهُمْ، وَهُمْ قَدْ بَلَّغُوا عَنِ ﷲ عَزَّ وَجَلَّ، وَدَعَوْا إلَی سَبِیلِ ﷲ
حکم فقط ان کا حکم ہے انہوں نے عزت و جلالت والے خدا کی طرف سے پیغام دیا اور انہوں نے دانائی اور اچھی نصیحت کے ذریعے
بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، لاَ تَأْخُذُهُمْ فِی ﷲ لَوْمَةُ لائِمٍ، وَصَلَواتُ ﷲ
خدا کے راستے کیطرف بلایا کہ خدا کے بارے انہیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں اور آپ پر خدا کی رحمت ہو آپ
عَلَیْکِ وَعَلَی أَبِیکِ وَبَعْلِکِ وَذُرِّیَّتِکِ آلاَءِمَّةِ الطَّاهِرِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ
کے بابا جان پر آپ کے شوہر پر اور آپ کی اولاد میں سے پاکباز ائمہعليهالسلام پر اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کے اہل
بَیْتِهِ وَصَلِّ عَلَی الْبَتُولِ الطَّاهِرَةِ الصِّدِّیقَةِ الْمَعْصُومَةِ التَّقِیَّةِ النَّقِیَّةِ الرَّضِیَّةِ الْمَرْضِیَّةِ
بیعليهالسلام ت پر رحمت فرما اور بی بی بتول(س) پر رحمت فرما جو پاکیزہ بہت سچی گناہ سے دور پرہیزگار پاکباز راضی شدہ پسندیدہ
الزَّکِیَّةِ الرَّشِیدَةِ الْمَظْلُومَةِ الْمَقْهُورَةِ الْمَغْصُوبَةِ حَقُّها الْمَمْنُوعَةِ إرْثُها الْمَکْسُورَةِ
پاک باطن ہدایت یافتہ مظلومہ قہر زدہ اپنے حق سے محروم اور اپنی وراثت سے محروم پہلو پر چوٹ کھائے ہوئے ہیں
ضِلْعُهَا، الْمَظْلُومِ بَعْلُهَا، الْمَقْتُولِ وَلَدُها، فاطِمَةَ بِنْتِ رَسُو لِکَ، وَبَضْعَةِ لَحْمِهِ
جس کا شوہر مظلوم جس کا بیٹا مقتول ہے وہ تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دختر فاطمہعليهالسلام ہے جو ان کے جسم کا ٹکڑا
وَصَمِیمِ قَلْبِهِ وَفِلْذَةِ کَبِدِهِ وَالنُّخْبَةِ مِنْکَ لَهُ وَالتُّحْفَةِ خَصَصْتَ بِها وَصِیَّهُ وَحَبِیبَةِ
ان کے دل کا چین ان کے جگر کا گوشہ تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیے منتخب اور تیرا وہ تحفہ جوتو نے ان کے وصی کو نوازا وہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم مصطفےٰ کی
الْمُصْطَفی وَقَرِینَةِ الْمُرْتَضی وَسَیِّدَةِ النِّسائِ وَمُبَشِّرَةِ الْاََوْ لِیائِ حَلِیفَةِ الْوَرَعِ وَالزُّهْدِ
لاڈلی اور علیعليهالسلام مرتضی کی شریک حیات ہے عورتوں کی سردار ائمہعليهالسلام کی بشارت دینے والی تقویٰ و پرہیز گاری کی مالکہ
وَتُفَّاحَةِ الْفِرْدَوْسِ وَالْخُلْدِ الَّتِی شَرَّفْتَ مَوْ لِدَها بِنِسائِ الْجَنَّةِ وَسَلَلْتَ مِنْها أَنْوارَ
اور وہ بہشت جادواں کا سیب ہے کہ جس کی ولادت سے تو نے جنت کی عورتوں کو عزت دی اور انوار ائمہ طاہرینعليهالسلام کو ان کی ذریت
آلاَءِمَّةِ، وَأَرْخَیْتَ دُونَها حِجابَ النُّبُوَّةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیْها صَلاةً تَزِیدُ فِی مَحَلِّها
میں قرار دیا اور انکے سامنے نبوت کے حجاب کو ڈال دیا اے معبود! اس بی بی(س) پر رحمت فرما کہ جو تیرے حضور اس کے مرتبہ کو
عِنْدَکَ، وَشَرَفِها لَدَیْکَ، وَمَنْزِلَتِها مِنْ رِضَاکَ، وَبَلِّغْها مِنَّا تَحِیَّةً وَسَلاماً، وَآتِنَا مِنْ
بڑھائے اس کے شرف کو زیادہ کرے اور تیری رضا میں اس کی شان بلند کرے اس بی بی(س) کو ہمارا درود و سلام پہنچا اور اس کی
لَدُنْکَ فِی حُبِّها فَضْلاً وَ إحْسَاناً وَرَحْمَةً وَغُفْراناً إنَّکَ ذُو الْعَفْوِ الْکَرِیمِ
محبت کے طفیل ہمیں اپنی طرف سے فضل احسان رحمت اور بخشش عطا فرما کہ بے شک تو معاف کرنے والا مہربان ہے۔
شیخ نے تہذیب میں فرمایا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا = کی زیارت کی بہت زیادہ فضیلت ذکر ہوئی ہے‘ مصباح الانوار میں علامہ مجلسیرحمهالله نے نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا = سے روایت ہوئی ہے کہ مجھ سے میرے والد گرامی نے فرمایا کہ جو شخص تجھ پر صلوات بھیجے تو ﷲ تعالیٰ اسے بخش دے گا۔ نیز بہشت میں وہ اس مقام پر میرے ساتھ ہوگا جہاں میں مقیم ہوں گا۔
حضرت رسول کی دور سے پڑھنے کی زیارت
۷۱ ربیع الاول عید میلاد النبی کا دن ہے‘ علامہ مجلسیرحمهالله نے زادالمعاد میں اس دن کے اعمال میں کہا کہ شیخ مفیدرحمهالله اور سید ابن طائووس نے فرمایا ہے کہ جب اس روز مدینہ منورہ کے علاوہ کسی اور مقام سے رسول ﷲ کی زیارت کرنا چاہے تو غسل کرنے کے بعد مٹی وغیرہ سے قبر جیسی شکل بنائے اور اس پر رسول ﷲ کا اسم گرامی لکھے‘ پھر اپنے دل کو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف متوجہ کرے اور یہ پڑھے:
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهٰ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے بندے
وَرَسُولُهُ، وَأَ نَّهُ سَیِّدُ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، وَأَ نَّهُ سَیِّدُ الْاََ نْبِیائِ وَالْمُرْسَلِینَ
اور رسول ہیں جو اولین وآخرین کے سید و سردار ہیں اوروہ نبیوں اور رسولوں کے بھی سردار ہیں۔
اس کے بعد کہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیْهِ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ آلاَءِمَةِ الطَّیِّبِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ
اے معبود! ان پر اور ان کے اہل بیتعليهالسلام پر رحمت فرما جو پاک و پاکیزہ امامعليهالسلام ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیلَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے دوست آپ پر سلام ہو اے خدا کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ پر سلام ہو اے خدا کے منتخب
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَحْمَةَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خِیَرَةَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے خدا کی رحمت آپ پر سلام ہو اے خدا کے چنے ہوئے آپ پر سلام ہو اے خدا کے حبیب
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَجِیبَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خاتَمَ النَّبِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے برگزیدہ آپ پر سلام ہو اے نبیوں کے خاتم آپ پر سلام ہو اے رسولوں کے
الْمُرْسَلِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قائِماً بِالْقِسْطِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا فَاتِحَ الْخَیْرِ، اَلسَّلَامُ
سردار آپ پر سلام ہو اے عدل قائم کرنے والے آپ پر سلام ہو اے ہر نیکی کو کھولنے والے آپ پر
عَلَیْکَ یَا مَعْدِنَ الْوَحْیِ وَالتَّنْزِیلِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُبَلِّغاً عَنِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
سلام ہو اے وحی اور تنزیل کے خزانہ آپ پر سلام ہو اے خدا کا پیغام پہنچانے والے آپ پر سلام ہو
أَیُّهَا السِّراجُ الْمُنِیرُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُبَشِّرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَذِیرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
اے روشن چراغ آپ پر سلام ہو اے بشارت دینے والے آپ پر سلام ہو اے ڈرانے والے آپ پر سلام ہو
یَا مُنْذِرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نُورَ ﷲ الَّذِی یُسْتَضائُ بِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی أَهْلِ
اے ڈرانے والے سلام ہوآپ پر اے خدا کے نور جس سے لوگ روشنی پاتے ہیں آپ پر سلام ہواور آپ کے اہلعليهالسلام بیت
بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ الْهادِینَ الْمَهْدِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی جَدِّکَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
پر کہ جو نیک سیرت پاکیزہ تر ہدایت دینے والے ہدایت یافتہ ہیں آپ پر سلام ہواور آپ کے جد اعلیٰ جناب عبدالمطلبعليهالسلام پر
وَعَلَی أَبِیکَ عَبْدِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی أُمِّکَ آمِنَةَ بِنْتِ وَهَبٍ، اَلسَّلَامُ عَلَی عَمِّکَ حَمْزَةَ
اور آپ کے پدر بزرگوار عبدﷲعليهالسلام پر سلام ہو آپ کی والدہ محترمہ آمنہ(س) بنت وہبعليهالسلام پر سلام ہو آپ کے چچا حمزہعليهالسلام پر
سَیِّدِ الشُّهَدائِ، اَلسَّلَامُ عَلَی عَمِّکَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اَلسَّلَامُ عَلَی عَمِّکَ
جو شہیدوں کے سردار ہیں سلام ہو آپ کے چچا عباسعليهالسلام بن عبدالمطلبعليهالسلام پر سلام ہو آپ کے چچا
وَکَفِیلِکَ أَبِی طَالِبٍ اَلسَّلَامُ عَلَی ابْنِ عَمِّکَ جَعْفَرٍ الطَّیَّارِ فِی جِنَانِ الْخُلْدِ، اَلسَّلَامُ
اور آپ کے مربی ابو طالبعليهالسلام پر سلام ہو آپ کے چچا زاد جعفر طیارعليهالسلام پر جو باغ بہشت میں محو پرواز ہیں آپ پر
عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَحْمَدُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ عَلَی الْاََوَّلِینَ
سلام ہو یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم سلام ہو آپ پر یا احمدصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ پر سلام ہو اے سب اولین
وَالْاَخِرِینَ ، وَالسَّابِقَ إلَی طَاعَةِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَالْمُهَیْمِنَ عَلَی رُسُلِهِ، وَالْخاتِمَ
وآخرین پر خدا کی حجت اور عالمین کے پروردگارکی جانب سبقت کرنے والے اس کے رسولوں کے نگہدار اس کے نبیوں
لاََِ نْبِیائِهِ، وَالشَّاهِدَ عَلَی خَلْقِهِ وَالشَّفِیعَ إلَیْهِ وَالْمَکِینَ لَدَیْهِ وَالْمُطاعَ فِی مَلَکُوتِهِ
کے خاتم اس کی خلقت کے گواہ اور شفاعت کرنے والے اس کی نگاہ میں صاحب منزلت اور مطیع فرشتگان بہترین پسندیدہ صفتوں
الْاََحْمَدَ مِنَ الْاََوْصافِ، الْمُحَمَّدَ لِسائِرِ الْاََشْرافِ، الْکَرِیمَ عِنْدَ الرَّبِّ، وَالْمُکَلَّمَ مِنْ
والے جس کے تمام شرف کی تعریف کی گئی ہے پروردگار کے نزدیک عزت والے خدا کے ساتھ پردوں کے پیچھے سے کلام کرنے
وَرَائِ الْحُجُبِ الْفائِزَ بِالسِّباقِ، وَالْفائِتَ عَنِ اللِّحاقِ، تَسْلِیمَ عارِفٍ بِحَقِّکَ مُعْتَرِفٍ
والے کامیابی میں سبقت رکھنے والے کسی غیر کی پیروی کرنے سے منع کیے گئے آپ کے حق کو جانتا ہوں
بِالتَّقْصِیرِ فِی قِیامِهِ بِواجِبِکَ غَیْرِ مُنْکِرٍ مَا انْتَهی إلَیْهِ مِنْ فَضْلِکَ مُوْقِنٍ بِالْمَزِیداتِ
اسے قائم کرنے میں اپنی کوشش کی کمی کو مانتا ہوں آپکی فصیلت اور بزرگی کا منکر نہیں ہوں اس میں آپکے رب کی طرف سے مزید
مِنْ رَبِّکَ مُؤْمِنٍ بِالْکِتابِ الْمُنْزَلِ عَلَیْکَ مُحَلِّلٍ حَلالَکَ، مُحَرِّمٍ حَرامَکَ، أَشْهَدُ یَا
فضل کا یقین رکھتا ہوں آپ پر نازل کی گئی کتاب پر ایمان رکھتا ہوں آپکے حلال کو حلال آپکے حرام کو حرام سمجھتا ہوں گواہی دیتا ہوں
رَسُولَ ﷲ مَعَ کُلِّ شاهِدٍ،وَأَتَحَمَّلُها عَنْ کُلِّ جاحِدٍ، أَ نَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسالاتِ
اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہر گواہ کے ہمراہ اور ہر انکار کرنے والے کی طرف سے بھی کہ بے شک آپ نے اپنے رب کے احکام پہنچا دیے
رَبِّکَ، وَنَصَحْتَ لاَُِمَّتِکَ، وَجاهَدْتَ فِی سَبِیلِ رَبِّکَ، وَصَدَعْتَ بِأَمْرِهِ، وَاحْتَمَلْتَ
ہیں اپنی امت کو پندو نصیحت کی ہے اور آپ نے خدا کی راہ میںبہترین جہاد کیا اس کے دین کے لیے پریشانی اٹھائی اس کی خاطر
الْاََذَی فِی جَنْبِهِ، وَدَعَوْتَ إلی سَبِیلِهِ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ الْجَمِیلَةِ
تکلیفیں برداشت کیں اور اس کے صراط مستقیم کی طرف لوگوں کو دانشمندی اور بہترین پندونصیحت کے ساتھ بلایا
وَأَدَّیْتَ الْحَقَّ الَّذِی کانَ عَلَیْکَ وَأَنَّکَ قَدْ رَؤُفْتَ بِالْمُؤْمِنِینَ وَغَلُظْتَ عَلَی الْکافِرِینَ
آپ نے وہ فرض ادا کیا جو آپ کے ذمہ تھا اور بے شک آپ مومنوں پر مہربان اور کافروں کے ساتھ بڑے سخت گیر رہے
وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَبَلَغَ ﷲ بِکَ أَشْرَفَ مَحَلِّ الْمُکَرَّمِینَ،
آپ خلوص سے خدا کی عبادت کرتے رہے حتیٰ کہ آپکا وصال ہوگیا پس خدا نے آپ کوعزت داروں میں سے اعلیٰ مقام عطا فرمایا
وَأَعْلی مَنازِلِ الْمُقَرَّبِینَ، وَأَرْفَعَ دَرَجاتِ الْمُرْسَلِینَ حَیْثُ لاَ یَلْحَقُکَ لاحِقٌ، وَلاَ
اپنے مقربین میں بلند مرتبہ دیا اور نبیوں میں سب سے بڑا درجہ بخشا اس منزل پر کہ کوئی اس مقام تک نہیں پہنچا اور کوئی آپ سے
یفُوقُکَ فائِقٌ، وَلاَ یَسْبِقُکَ سابِقٌ، وَلاَ یَطْمَعُ فِی إدْراکِکَ طامِعٌ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی
بلند نہیں ہوا کسی نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سبقت حاصل نہ کی اور جہاں تک آپ کی رسائی ہے کوئی اس کی تمنا نہیں کرسکتا حمد خدا کیلئے ہے جس نے
اسْتَنْقَذَنا بِکَ مِنَ الْهَلَکَةِ، وَهَدَانَا بِکَ مِنَ الضَّلالَةِ، وَنَوَّرَنا بِکَ مِنَ الظُّلْمَةِ،
آپکے ذریعے ہمیںہلاکت سے نجات دی گمراہی سے ہدایت کیطرف آنے کا راستہ بتایا اور آپکے ذریعے تاریکی سے روشنی میں لایا
فَجَزاکَ ﷲ یَا رَسُولَ ﷲ مِنْ مَبْعُوثٍ أَفْضَلَ مَا جَازَیٰ نَبِیّاً عَنْ أُمَّتِهِ، وَرَسُولاً
پس خدا آپ کوجزادے اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اس سے بہتر کہ جو کسی نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کی امت کی تربیت میں ملی اور کسی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کی قوم
عَمَّنْ أُرْسِلَ إلَیْهِ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ ﷲ زُرْتُکَ عارِفاً بِحَقِّکَ مُقِرّاً بِفَضْلِکَ
سے ملی ہو جس کی طرف بھیجا گیا ہے آپ پر میرے ماں باپ قربان یارسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم میں نے آپ کی زیارت کی آپ کے حق کو پہچانتے
مُسْتَبْصِراً بِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکَ وَخَالَفَ أَهْلَ بَیْتِکَ، عارِفاً بِالْهُدَی الَّذِی
ہوئے آپکی بزرگی کو مانتے ہوئے آپکی اور آپکے اہلبیتعليهالسلام کی مخالفت کرنے والوں کی گمراہی کو پہچانتے ہوئے اس ہدایت کو سمجھتے
أَنْتَ عَلَیْهِ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی وَنَفْسِی وَأَهْلِی وَمالِی وَوَلَدِی، أَنَا أُصَلِّی
ہوئے جس پر آپ قائم ہیں آپ پر قربان ہوں میرے ماں باپ اور میری جان میرا کنبہ میرا مال اور میری اولادمیں آپ پر درود
عَلَیْکَ کَما صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ وَصَلَّی عَلَیْکَ مَلائِکَتُهُ وَأَ نْبِیاؤُهُ وَرُسُلُهُ صَلاةً
بھیجتاہوں جیسے آپ پر ﷲ درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس کے انبیائ اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
مُتَتابِعَةً وافِرَةً مُتَواصِلَةً لاَ انْقِطاعَ لَها وَلاَ أَمَدَ وَلاَ أَجَلَ، صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی
ایسا درود جو لگاتار بہت زیادہ اور مسلسل ہے کہ اس میں وقفہ نہیں اور نہ اس کی حدو انتہائ ہے ﷲ آپ پر اور آپ کی اہل بیت پر رحمت
أَهْلِ بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ کَما أَ نْتُمْ أَهْلُهُ
فرمائے جو نیک سیرت اور پاکیزہ تر ہیں جس رحمت کے آپ سب اہل ہیں۔
پھر اپنے ہاتھ کو اٹھا کر پڑھے:اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ جَوَامِعَ صَلَواتِکَ، وَنَوَامِیَ بَرَکاتِکَ وَفَواضِلَ
اے معبود! قراردے اپنی تمام تر رحمتیں اپنی بہت زیادہ برکتیں اپنی کثیر تعداد نیکیاں
خَیْراتِکَ وَشَرائِفَ تَحِیَّاتِکَ وَتَسْلِیمَاتِکَ وَکَرامَاتِکَ وَرَحَمَاتِکَ وَصَلَوَاتِ مَلائِکَتِکَ
اپنے بہتر و برتر درود اپنے سلام و سلامتیاں اپنی بزرگیاں اپنی رحمتیں اور اپنے مقرب فرشتوں
الْمُقَرَّبِینَ، وَأَنْبِیائِکَ الْمُرْسَلِینَ، وَأَئِمَّتِکَ الْمُنْتَجَبِینَ، وَعِبادِکَ الصَّالِحِینَ، وَأَهْلِ
اپنے بھیجے ہوئے سارے نبیوں اور رسولوں اپنے برگزیدہ ائمہعليهالسلام اور زمینوں و آسمانوں میں رہنے والے اپنے
السَّمٰوَاتِ وَالْاََرَضِینَ، وَمَنْ سَبَّحَ لَکَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ
نیک بندوں اور اے جہانوں کے پروردگار اولین و آخرین میں سے جو تیری تسبیح
عَلَی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُو لِکَ وَشاهِدِکَ وَنَبِیِّکَ وَنَذِیرِکَ وَأَمِینِکَ وَمَکِینِکَ
کرتے ہیں ان سب کا درود قراردے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جو تیرے بندے تیرے رسول تیرے گواہ نبی تجھ سے ڈرانے والے تیرے
وَنَجِیِّکَ وَنَجِیبِکَ وَحَبِیبِکَ وَخَلِیلِکَ وَصَفِیِّکَ وَصَفْوَتِکَ وَخاصَّتِکَ وَخالِصَتِکَ
امانتدارتیرے قائم کردہ تیرے رازوار تیرے چنے ہوئے تیرے حبیب تیرے دوست تیرے پسندیدہ تیرے برگزیدہ تیرے یگانہ
وَرَحْمَتِکَ وَخَیْرِ خِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ، نَبِیِّ الرَّحْمَةِ، وَخازِنِ الْمَغْفِرَةِ، وَقائِدِ الْخَیْرِ
تیرے مخلص اور خالص تیری رحمت اور تیری مخلوق میںنیک لوگوں میں سے نیک رحمت والے نبی بخشش کے خزینہ دار خیر و برکت کے
وَالْبَرَکَةِ، وَمُنْقِذِ الْعِبادِ مِنَ الْهَلَکَةِ بِ إذْنِکَ، وَداعِیهِمْ إلَی دِینِکَ، الْقَیِّمِ بِأَمْرِکَ، أَوَّلِ
لانے والے تیرے حکم کے تحت لوگوںکو تباہی سے نجات دلانے والے اور ان کو تیرے دین کی طرف بلانے والے تیرے حکم پر قائم
النَّبِیِّینَ مِیثاقاً وَآخِرِهِمْ مَبْعَثاً، الَّذِی غَمَسْتَهُ فِی بَحْرِ الْفَضِیلَةِ، وَالْمَنْزِلَةِ الْجَلِیلَةِ
رہنے والے میثاق میں سب نبیوں سے اول اور بھیجے جانے میں نبی آخر کہ جن کو تو نے فضیلت کے سمندر میں داخل کیا اونچی شان
وَالدَّرَجَةِ الرَّفِیعَةِ، وَالْمَرْتَبَةِ الْخَطِیرَةِ، وَأَوْدَعْتَهُ الْاََصْلابَ الطَّاهِرَةَ، وَنَقَلْتَهُ مِنْها
عطا کی بلند مقام پر سرفراز فرمایا اور بڑے سے بڑا مرتبہ بخشا تو نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پاکیزہ صلب میں ودیعت کیا اور وہاں سے
إلَی الْاََرْحامِ الْمُطَهَّرَةِ لُطْفاً مِنْکَ لَهُ وَتَحَنُّناً مِنْکَ عَلَیْهِ إذْ وَکَّلْتَ لِصَوْ نِهِ وَحِراسَتِهِ
پاکیزہ رحموں میں پہنچایا یہ ان پر تیری مہربانی اور ان کے ساتھ تیری محبت تھی جب تو نے ان کی حفاظت ان کی
وَحِفْظِهِ وَحِیاطَتِهِ مِنْ قُدْرَتِکَ عَیْناً عاصِمَةً حَجَبْتَ بِها عَنْهُ مَدانِسَ
نگہداری ان کی نگہبانی اور سنبھالنے کیلئے اپنی قدرت سے بچائو کرنے والی آنکھ معین کی جس سے تو نے انہیں بدنگاہوں اور برے
الْعَهْرِ وَمَعائِبَ السِّفاحِ حَتَّی رَفَعْتَ بِهِ نَواظِرَ الْعِبادِ، وَأَحْیَیْتَ بِهِ مَیْتَ الْبِلادِ بِأَنْ
کاموں کی آلائش سے بچایا یہاں تک کہ ان کے ذریعے تو نے لوگوں کو بلند نگاہ بنایا اور شہروں کو رونق بخشی کیونکہ
کَشَفْتَ عَنْ نُورِ وِلادَتِهِ ظُلَمَ الْاََسْتارِ، وَأَلْبَسْتَ حَرَمَکَ بِهِ حُلَلَ الْاََ نْوارِ اَللّٰهُمَّ
تو نے ان کی ولادت کے نور سے تاریکیوں کے پردے ہٹائے اور اپنے گھر کو نورانی لباس پہنائے اے معبود!
فَکَمَا خَصَصْتَهُ بِشرَفِ هذِهِ الْمَرْتَبَةِ الْکَرِیمَةِ، وَذُخْرِ هذِهِ الْمَنْقَبَةِ الْعَظِیمَةِ، صَلِّ
جس طرح تو نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس بلند ترین مرتبہ میں اس بڑی خوبی میں خصوصیت دی ہے اب ان پر
عَلَیْهِ کَمَا وَفَیٰ بِعَهْدِکَ وَبَلَّغَ رِسَالاتِکَ وَقاتَلَ أَهْلَ الْجُحُودِ عَلَی تَوْحِیدِکَ، وَقَطَعَ
رحمت فرما جیسے انہوں نے تیرا عہد پورا کیا تیرے احکام پہنچائے اور تیری توحید کی خاطر منکروں کو قتل کیا
رَحِمَ الْکُفْرِ فِی إعْزازِ دِینِکَ، وَلَبِسَ ثَوْبَ الْبَلْوی فِی مُجاهَدَةِ أَعْدائِکَ، وَأَوْجَبْتَ
تیرے دین کی قوت کے لیے کفر کی جڑیں کاٹ ڈالیںتیرے دشمنوں کے ساتھ جہاد میں سخت تکلیف اٹھائی ان پر جو سختی ہوئی یا جو مکر
لَهُ بِکُلِّ أَذیً مَسَّهُ أَوْ کَیْدٍ أَحَسَّ بِهِ مِنَ الْفِیَةِ الَّتِی حاوَلَتْ قَتْلَهُ فَضِیلَةً تَفُوقُ
ان سے کیا گیا اس گروہ کی طرف سے جو انہیں قتل کرنا چاہتا تھا تو نے ہر ایک سختی ومکر کے بدلے میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو فضیلت پر
الْفَضائِلَ وَیَمْلِکُ بِهَا الْجَزِیلَ مِنْ نَوالِکَ، وَقَدْ أَسَرَّ الْحَسْرَةَ، وَأَخْفَیٰ الزَّفْرَةَ
فضیلت عطا کی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بڑے سے بڑا اجر عنایت فرمایا اور یقینا انہوں نے حسرت کو چھپایا رنج کو پوشیدہ رکھا
وَتَجَرَّعَ الْغُصَّةَ، وَلَمْ یَتَخَطَّ مَا مَثَّلَ لَهُ وَحْیُکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیْهِ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ
اور غم کو برداشت کیا مگر تیری وحی کے احکام سے تجاوز نہیں کیااے معبود! رحمت کر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور انکے اہل بیتعليهالسلام پر ایسی رحمت جو تو
صَلاةً تَرْضاها لَهُمْ وَبَلِّغْهُمْ مِنَّا تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً وَآتِنا مِنْ لَدُنْکَ فِی مُوَالاتِهِمْ
ان کیلئے پسند کرتا ہے اور ہماری طرف سے انہیں بہت بہت درود وسلام پہنچا دے اور ان کی محبت کے بدلے میں
فَضْلاً وَ إحْساناً وَرَحْمَةً وَغُفْراناً إنَّکَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ
ہمیں فضل و احسان رحمت اور بخشش نصیب فرما بے شک تو بڑا ہی فضل و کرم والا ہے۔
پس اب چاررکعت نماز زیارت دو دوکرکے بجالائے جو سورہ چاہے پڑھے جب نماز سے فارغ ہو جائے تو تسبیح فاطمہ الزہرائ = پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے :
اَللّهُمَّ إنَّکَ قُلْتَ لِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ
اے معبود! بے شک تو نے اپنے نبی محمد سے فرمایااگر لوگ اپنے نفس پر ظلم کریں
جَاؤُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا ﷲ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا ﷲ تَوَّاباً
اور تمہارے پاس آئیں اور ﷲ سے بخشش طلب کریں اور رسول بھی ان کیلئے بخشش طلب کرے تو ضرور وہ ﷲ کو پائیں گے توبہ قبول
رَحِیمَاً وَلَمْ أَحْضُرْ زَمانَ رَسُو لِکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلَامُ اَللّٰهُمَّ وَقَدْ زُرْتُهُ
کرنے والا مہربان اور میں موجود نہ تھا تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے میں ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر سلام اے معبود! میں نے ان کی زیارت
راغِباً تائِباً مِنْ سَیِّئِ عَمَلِی، وَمُسْتَغْفِراً لَکَ مِنْ ذُ نُوبِی، وَمُقِرَّاً
کی رغبت کے ساتھ اپنے برے عمل سے توبہ کرتے ہوئے تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے اور تیرے سامنے ان کا
لَکَ بِها وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِها مِنِّی، وَمُتَوَجِّهاً إلَیْکَ بِنَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ
اقرار کرتے ہوئے اور تو ان کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تیرے نبی کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوں جو رحمت والے نبی ہیں ان پر
وَآلِهِ فَاجْعَلْنِی اللَّهُمَّ بِمُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ عِنْدَکَ وَجِیهاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ
اور ان کی آلعليهالسلام پر تیری رحمتیں ہوں پس اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہل بیتعليهالسلام کے واسطے سے مجھے دنیا و آخرت میںاپنے
الْمُقَرَّبِینَ، یَا مُحَمَّدُ یَا رَسُولَ ﷲ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، یَا نَبِیَّ ﷲ، یَا سَیِّدَ خَلْقِ
نزدیک باعزت اور مقرب قرار دے یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم یا رسول ﷲ: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوںاے ﷲ کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اے مخلوق خدا کے
ﷲ، إنِّی أَ تَوَجَّهُ بِکَ إلَی ﷲ رَبِّکَ وَرَبِّی لِیَغْفِرَ لِی ذُ نُوبِی، وَیَتَقَبَّلَ
سردار میں نے آپ کے وسیلے سے ﷲ کی طرف توجہ کی ہے جو آپ کا اور میرا رب ہے تاکہ وہ میرے گناہ بخش دے اور میرے عمل کو
مِنِّی عَمَلِی وَیَقْضِیَ لِی حَوائِجِی فَکُنْ لِی شَفِیعاً عِنْدَ رَبِّکَ وَرَبِّی فَنِعْمَ الْمَسْؤُولُ
قبول فرمائے اور میری حاجت برلائے پس آپ اپنے اور میرے رب کے حضور میری شفاعت فرمائیں کیونکہ میرا پروردگار بہترین
الْمَوْلیٰ رَبِّی، وَ نِعْمَ الشَّفِیعُ أَ نْتَ یَا مُحَمَّدُ عَلَیْکَ وَعَلَی أَهْلِ بَیتِکَ
مولا اور ایسا رب ہے جس سے سوال کیا جاتا ہے بہترین شفاعت کرنے والا ہے اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ اور آپ کے اہل بیتعليهالسلام پر بہت بہت
اَلسَّلَامُ اَللّٰهُمَّ وَأَوْجِبْ لِی مِنْکَ الْمَغْفِرَةَ وَالرَّحْمَةَ وَالرِّزْقَ الْواسِعَ الطَّیِّبَ النَّافِعَ
سلام ہو اے معبود! اپنی طرف سے میرے لیے بخشش و رحمت اور نفع بخش رزق کو واجب کردے
کَمَا أَوْجَبْتَ لِمَنْ أَتیٰ نَبِیَّکَ مُحَمَّداً صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَهُوَ حَیٌّ فَأَقَرَّ لَهُ
جیسا کہ تو نے لازم کیا ہے اس کے لیے جو آیا تیرے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور آیا تیری رحمتیں ہوں ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پرجبکہ زندہ تھا
بِذُ نُوبِهِ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ رَسُولُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلَامُ فَغَفَرْتَ لَهُ بِرَحْمَتِکَ
اس نے انکے پاس گناہوں کا اقرار کیا اور تیرے رسول نے اس کیلئے بخشش مانگی ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر سلام ہو پس تو نے اسے بخش دیا
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ وَقَدْ أَمَّلْتُکَ وَرَجَوْتُکَ وَقُمْتُ بَیْنَ یَدَیْکَ
اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنیوالے اے معبود! میںتجھ سے آرزو رکھتا ہوں تجھ سے امید کرتا ہوں تیرے سامنے
وَرَغِبْتُ إلَیْکَ عَمَّنْ سِواکَ وَقَدْ أَمَّلْتُ جَزِیلَ ثَوابِکَ، وَ إنِّی لَمُقِرٌّ غَیْرُ مُنْکِرٍ
حاضر ہوں اور تیرا مشتاق ہوں نہ تیرے غیر کا اور میں نے تجھ سے بہت زیادہ ثواب کی امید لگائی ہے میں اقرارکر رہا ہوںمنکر نہیں
وَتائِبٌ إلَیْکَ مِمَّا اقْتَرَفْتُ، وَعائِذٌ بِکَ فِی هذَا الْمَقامِ مِمَّا قَدَّمْتُ مِنَ الْاََعْمالِ
ہوں اور جو گناہ کیا ہے تیرے حضور ان سے توبہ کررہا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس مقام پر ان گناہوں سے جو میں نے کیے ہیں جن
الَّتِی تَقَدَّمْتَ إلَیَّ فِیها وَنَهَیْتَنِی عَنْها وَأَوْعَدْتَ عَلَیْهَا الْعِقابَ، وَأَعُوذُ بِکَرَمِ وَجْهِکَ
سے تو نے پہلے مجھے آگاہ کیا مجھے ان سے روکا اور ان پر عذاب کا وعدہ دیا ہے پناہ لیتا ہوں میں تیری ذات کے کرم کی کہ تو
أَنْ تُقِیمَنِی مَقامَ الْخِزْیِ وَالذُّلِّ یَوْمَ تُهْتَکُ فِیهِ الْاََسْتارُ، وَتَبْدُو فِیهِ الْاََسْرارُ
مجھ کو ذلت و رسوائی کے مقام پر کھڑا کرے جس دن پر دے فاش ہوں گے اور چھپی برائیاں اور رسوائیاں
وَالْفَضائِحُ وَتَرْعَدُ فِیهِ الْفَرائِصُ یَوْمَ الْحَسْرَةِ وَالنَّدَامَةِ، یَوْمَ الْآفِکَةِ، یَوْمَ الْآزِفَةِ
ظاہر ہوں گی اور لوگوں کے دل کانپتے ہوں گے وہ افسوس اور پشیمانی کا دن ہوگا تہمت پر پکڑ کا دن بدحالی کا دن
یَوْمَ التَّغابُنِ، یَوْمَ الْفَصْلِ، یَوْمَ الْجَزائِ، یَوْماً کانَ مِقْدارُهُ خَمْسِینَ أَ لْفَ سَنَةٍ،
خسارے کا دن فیصلے کا دن جزائ پانے کا دن وہ دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی وہ ہے صورپھونکے جانے کا
یَوْمَ النَّفْخَةِ، یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ، یَوْمَ النَّشْرِ، یَوْمَ الْعَرْضِ، یَوْمَ
دن لرزہ پیدا کرنے والا دن اس کے پیچھے دوسرا صور پھونکا جائے گا اعمال نامے کھلنے کا دن جس دن لوگ جہانوں کے
یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِینَ، یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ أَخِیهِ وَأُمِّهِ وَأَبِیهِ وَصاحِبَتِهِ وَبَنِیهِ
رب کے حضور کھڑے ہوں گے وہ دن جب آدمی اپنے بھائی اپنی ماں اپنے باپ اپنی بیوی اور اپنے بچوں سے دور بھاگے گا وہ دن
یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاََرْضُ وَأَکْنافُ السَّمائِ، یَوْمَ تَأْتِی کُلُّ نَفْسٍ تُجادِلُ عَنْ نَفْسِها، یَوْمَ
جب زمین پھٹ جائے گی اور آسمان شگافتہ ہوجائیں گے جس دن ہر شخص اپنی ہی ذات کے بچاؤ کے لیے بولے گا جس دن لوگ
یُرَدُّونَ إلَی ﷲ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا، یَوْمَ لاَ یُغْنِی مَوْلیً عَنْ مَوْلیً شَیْئاً وَلاَ هُمْ
خدا کی طرف لوٹیں گے تو وہ ان کے اعمال ان کو دکھائے گا جس دن دوست دوست کے ذرہ بھر کام نہ آئے گانہ ان کی
یُنْصَرُونَ إلاَّ مَنْ رَحِمَ ﷲ إنَّهُ هُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ، یَوْمَ یُرَدُّونَ إلی عالِمِ الْغَیْبِ
مدد کی جائے گی مگرجس پر نے ﷲ رحم کیا بے شک وہ قوی ہے مہربان جس دن لوگ اس کی طرف پلٹیں گے جو ظاہر دباطن
وَالشَّهادَةِ، یَوْمَ یُرَدُّونَ إلَی ﷲ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ، یَوْمَ یَخْرُجُونَ مِنَ الْاََجْداثِ
کو جانتا ہے جس دن لوگ ﷲ کی طرف پلٹیں گے جو انکا سچا مالک ہے جس دن لوگ اس تیزی کے ساتھ قبروں سے نکلیں گے گویا وہ
سِراعاً کَأَنَّهُمْ إلی نُصُبٍ یُوفِضُونَ وَکَأَ نَّهُمْ جَرادٌ مُنْتَشِرٌ مُهْطِعِینَ إلَی الدَّاعِی
مرکز کی طرف بھاگے جا رہے ہیںاور گویا ٹڈی کی طرح منتشر ہوں گے جو جلدی خدا کی طرف دعوت دینے والے
إلَی ﷲ یَوْمَ الْواقِعَةِ، یَوْمَ تُرَجُّ الْاََرْضُ رَجَّاً، یَوْمَ تَکُونُ السَّمائُ کَالْمُهْلِ وَتَکُونُ
کی طرف جائیں گے وہ دن آنے والا ہے جس دن زمین سخت لرزے گی جس دن آسمان پگھل جائیں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی
الْجِبَالُ کَالْعِهْنِ وَلاَ یَسْأَلُ حَمِیمٌ حَمِیماً، یَوْمَ الشَّاهِدِ وَالْمَشْهُودِ، یَوْمَ تَکُونُ
کی طرح اڑیں گے کوئی قریبی کسی قریبی کا حال نہ پوچھے گا وہ گواہ اور گواہی کا دن ہے وہ دن جب فرشتے
الْمَلائِکَةُ صَفَّاً صَفَّاً اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ مَوْقِفِی فِی ذلِکَ الْیَوْمِ بِمَوْقِفِی فِی هذَا الْیَوْمِ
صفیں باندھے کھڑے ہوں گے اے معبود!اس دن کے سخت مقام میں مجھ پر رحم فرما اس روز میری قرار گاہ پر رحم کر مجھے اس قرارگاہ
وَلاَ تُخْزِنِی فِی ذلِکَ الْمَوْقِفِ بِما جَنَیْتُ عَلَی نَفْسِی وَاجْعَلْ یَا رَبِّ فِی ذلِکَ الْیَوْمِ
میں اس جرم پر جو میں نے خود پر کیا ہے مجھے رسوا نہ کر اے پروردگار اس دن اپنے اولیائ کے
مَعَ أَوْلِیائِکَ مُنْطَلَقِی، وَفِی زُمْرَةِ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ مَحْشَرِی
ساتھ مجھے چھوڑ دے اور آزاد قرار دے اور مجھ کو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہل بیت کے زمرے میں محشور فرما حوض کوثر کو میرے وارد
وَاجْعَلْ حَوْضَهُ مَوْرِدِی، وَفِی الْغُرِّ الْکِرامِ مَصْدَرِی، وَأَعْطِنِی کِتَابِی بِیَمِینِی
ہونے کی جگہ بنا اور آبرومند لوگوں میں میرا نکلنا قرار دے میرے نامہ اعمال میرے داہنے ہاتھ میں دے تاکہ
حَتَّی أَفُوزَ بِحَسَناتِی، وَتُبَیِّضَ بِهِ وَجْهِی، وَتُیَسِّرَ بِهِ حِسابِی، وَتُرَجِّحَ بِهِ
میں نیکیوں تک پہنچوں اور اس کے ذریعے میرا چہرہ روشن فرما اور میرے حساب میں آسانی فرما اور میرے
مِیزانِی، وَأَمْضِیَ مَعَ الْفَائِزِینَ مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ إلی رِضْوَانِکَ وَجِنَانِکَ إلهَ
عمل کا پلڑا بھاری فرما اور میں تیرے نیک بندوں میں سے کامیابی والوں کے ساتھ ہو کرتیری خوشنودی اور تیری جنت میں پہنچوں
الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ تَفْضَحَنِی فِی ذلِکَ الْیَوْمِ بَیْنَ یَدَی الْخَلائِقِ
اے جہانوں کے معبود! اے ﷲ میں تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ اس روز تو مجھے ساری مخلوق کے سامنے میرے گناہ کے بدلے
بِجَرِیرَتِی أَو أَنْ أَلْقَی الْخِزْیَ وَالنَّدامَةَ بِخَطِیئَتِی، أَوْ أَنْ تُظْهِرَ فِیهِ سَیِّئَاتِی عَلَی
رسوا کرے یا مجھ کو میری خطائوں پر ذلت وپشیمانی سے دو چار کرے یا اس دن میری نیکیوں کی نسبت میری برائیاں عیاں کردے اپنی
حَسَناتِی أَوْ أَنْ تُنَوِّهَ بَیْنَ الْخَلائِقِ بِاسْمِی، یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ، الْعَفْوَ الْعَفْوَ، السَّتْرَ
مخلوق کے روبرو میرے نام کی تشہیر کرے اے مہربان معافی، معافی پردہ پوشی،
السَّتْرَ اَللّٰهُمَّ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ یَکُونَ فِی ذلِکَ الْیَوْمِ فِی مَواقِفِ الْاََشْرارِ
پردہ پوشی فرما اے معبود! تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ اس دن میرا مقام برے لوگوں کے ساتھ ہو یا مجھ کو بدبخت لوگوں
مَوْقِفِی أَوْ فِی مَقامِ الْاََشْقِیائِ مَقامِی وَ إذا مَیَّزْتَ بَیْنَ خَلْقِکَ فَسُقْتَ کُلاًّ بِأَعْمالِهِمْ
کے ساتھ جگہ دی جائے پس جب تو اپنی مخلوق کومختلف گروہوں میںتقسیم کرے پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کو گروہ در گروہ ان
زُمَراً إلی مَنازِ لِهِمْ فَسُقْنِی بِرَحْمَتِکَ فِی عِبادِکَ الصَّالِحِینَ، وَفِی زُمْرَةِ أَوْلِیائِکَ
کے ٹھکانوں پر بھیجے تو اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے نیک بندوں کے زمرے میں لے جانا اپنے پاکباز دوستوں کے ہمراہ
الْمُتَّقِینَ إلی جَنَّاتِکَ یَا رَبَّ الْعَالَمِینَ
اپنی جنت کی طرف لے جانا اے جہانوں کے پروردگار۔
ودعا رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
اب آنحضرت سے و داع کرے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْبَشِیرُ النَّذِیرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو اے ﷲ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ پر سلام ہو اے بشارت دینے اور ڈرانے والے آپ پر سلام ہو
أَ یُّهَا السِّراجُ الْمُنِیرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا السَّفِیرُ بَیْنَ ﷲ وَبَیْنَ خَلْقِهِ، أَشْهَدُ یَا
اے روشن چراغ آپ پر سلام ہو اے کہ جو ﷲ اور اس کی مخلوق کے درمیان سفیر ہیں آپ پر سلام ہو گواہی دیتا ہوں اے
رَسُولَ ﷲ أَ نَّکَ کُنْتَ نُوراً فِی الْاََصْلابِ الشّامِخَةِ، وَالْاََرْحامِ الْمُطَهَّرَةِ، لَمْ
خدا کے رسول بے شک آپ ایک نور تھے بہترین صلبوںاور پاکیزہ رحموں میں آپ تک جاہلیت اپنی نجاستوں کے ہمراہ نہیں آئی
تُنَجِّسْکَ الْجاهِلِیَّةُ بِأَنْجاسِها وَلَمْ تُلْبِسْکَ مِنْ مُدْلَهِمَّاتِ ثِیابِها، وَأَشْهَدُ یَا رَسُولَ
اور نہ ہی جاہلیت کے لباس نے آپ کے جسم کو مس کیا گواہی دیتا ہوں اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
ﷲ أَنِّی مُؤْمِنٌ بِکَ وَبِآلاَءِمَّةِ مِنْ أَهْلِ بَیْتِکَ مُوقِنٌ بِجَمِیعِ مَا أَتَیْتَ بِهِ، راضٍ
یہ کہ میں آپکا اور ان ائمہعليهالسلام کا معتقد ہوں جو آپ کے اہل بیتعليهالسلام سے ہیں جو احکام آپ لائے ان کا یقین کرتا ہوںان سے راضی ہوں
مُؤْمِنٌ وَأَشْهَدُ أَنَّ آلاَءِمَّةَ مِنْ أَهْلِ بَیْتِکَ أَعْلامُ الْهُدَیٰ، وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقَیٰ، وَالْحُجَّةُ
ان پر ایمان رکھتا ہوں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کے اہل بیتعليهالسلام میں سے جو امامعليهالسلام ہیں وہ ہدایت کی نشانیاں اور خدا کے محکم رشتے اور دینا
عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَةِ نَبِیِّکَ عَلَیْهِ
جہان کے لوگوں پر دلیل اور حجت ہیں اے معبود! میں نے تیرے نبی کی جو زیارت کی ہے اسکوآخری زیارت قرار نہ دے ان پر اور
وَآلِهِ اَلسَّلَامُ وَ إنْ تَوَفَّیْتَنِی فَ إنِّی أَشْهَدُ فِی مَماتِی عَلَی مَا أَشْهَدُ عَلَیْهِ فِی حَیَاتِی
ان کی آلعليهالسلام پر سلام ہو اگر تو مجھے موت دے تو میں یقینا موت کے وقت وہی گواہی دوں گاجو گواہی میں اپنی زندگی میں دیتا ہوں کہ
أَنَّکَ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ
بے شک تو ہی ﷲ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا ہے تیرا کوئی ثانی وشریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرے بندے اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں
وَأَنَّ آلاَءِمَّةَ مِنْ أَهْلِ بَیْتِهِ أَوْلِیاؤُکَ وَأَ نْصارُکَ وَحُجَجُکَ عَلَی خَلْقِکَ وَخُلَفاؤُکَ
نیز یہ کہ ان کے اہل بیتعليهالسلام میں ائمہعليهالسلام تیرے ولی تیرے ناصر اور تیری مخلوق پر تیری حجت ہیں تیرے بندوں میں تیرے خلیفہ اورنائب
فِی عِبادِکَ وَأَعْلامُکَ فِی بِلادِکَ وَخُزَّانُ عِلْمِکَ وَحَفَظَةُ سِرِّکَ وَتَراجِمَةُ وَحْیِکَ
ہیں تیرے شہروں میں تیری نشانیاں ہیں وہ تیرے علوم کے خزینہ دار تیرے رازداں اور تیری وحی کے ترجمان ہیں
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْ رُوحَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی ساعَتِی هذِهِ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود نازل فرما اور میری طرف سے تحیت اور سلام پہنچا دے اپنے نبی محمد اور ان کی آلعليهالسلام کی روح پر
وَفِی کُلِّ ساعَةٍ تَحِیَّةً مِنِّی وَسَلاماً، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ
اس وقت اور ہر وقت میری طرف سے تحیہ وسلام ہو آپ پر اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ﷲ کی رحمت ہو اور
وَبَرَکاتُهُ لاَ جَعَلَهُ ﷲ آخِرَ تَسْلِیمِی عَلَیْکَ
اس کی برکتیں خدا اس سلام کو آپ پر میراآخری سلام قرار نہ دے۔
زیارت معصومین روز جمعہ
شیخ نے مصباح میں اور سید نے جمال الاسبوع میں اعمال جمعہ کے ضمن میں فرمایا ہے کہ روز جمعہ زیارت حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور زیارت ائمہ کا پڑھنا مستحب ہے امام جعفر صادق -سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنے شہر میں ہو اور وہ روضہ رسول جناب امیر المومینن سیدہ فاطمہ زہرائ حضرات حسنین اور دیگر ائمہ کے مزارات کی زیارت کرنا چاہتا ہوتو وہ روز جمعہ غسل کرے اور پاکیزہ لباس پہنے اور شہر کے باہر صحرائ ا ور میدان میں جائے اور ایک دوسری روایت کے مطابق اپنے مکان کی چھت پر جاکر چاررکعت نماز پڑھے۔ اس میں جو سورہ بھی یاد ہو اس کی قرات کرے اور تشہد و سلام کے بعد اٹھ کھڑا ہو اور قبلہ رخ کھڑے ہو کرپڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا النَّبِیُّ الْمُرْسَلُ
آپ پر سلام ہو اے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ﷲ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں آپ پر سلام ہو اے خداکے بھیجے ہوئے پیغمبر اور سلام ہو آپ کے
وَالْوَصِیُّ الْمُرْتَضی وَالسَّیِّدَةُ الْکُبْریٰ وَالسَّیِّدَةُ الزَّهْرائُ وَالسِّبْطانِ الْمُنْتَجَبانِ
پسندیدہ وصی پر سلام ہو بی بی خدیجہ کبریٰ (س) اور بی بی فاطمہ زہرعليهالسلام ا پر سلام ہو آپ کے نجیب وپاکیزہ نواسوں( حسنعليهالسلام و حسین)عليهالسلام پر اور
وَالْاََوْلادُ الْاََعْلامُ وَالْاَُمَنائُ الْمُنْتَجَبُونَ جِیْتُ انْقِطاعاً إلَیْکُمْ وَ إلَی آبَائِکُمْ وَوَلَدِکُمْ
ان کی اولاد پر جو حق کی نشانیاں اور اس کے امین اور نجیب وپاکیزہ ہیں میں سب کو چھوڑ کر آپ کی جانب آیا ہوں اور آپ کے آبائ
الْخَلَفِ عَلی بَرَکَةِ الْحَقِّ فَقَلْبِی لَکُمْ مُسَلِّمٌ وَنُصْرَتِی لَکُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّی یَحْکُمَ ﷲ
اور آپ کے فرزند قائمعليهالسلام کے حضور برکت حاصل کرنے کیلئے حاضر ہوں پس میرا دل آپ کیلئے جھکا ہوا اور میری نصرت آپ کیلئے
بِدِینِهِ، فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لاَ مَعَ عَدُوِّکُمْ، إنِّی لَمِنَ الْقَائِلِینَ
آمادہ ہے یہاں تک کہ خدا ظہور قائمعليهالسلام کاحکم فرمائے پس آپ کیساتھ آپ کیساتھ ہوں آپکے دشمن کیساتھ ہرگز نہیں ہوں بے شک
بِفَضْلِکُمْ، مُقِرٌّ بِرَجْعَتِکُمْ، لاَ أُنْکِرُ لِلّٰهِ قُدْرَةً، وَلا أَزْعُمُ إلاَّ مَا شائَ
آپکی بزرگی کا قائل اور آپکی رجعت کااقرار کرتا ہوںمیں خدا کی قدرت کا انکار نہیں کرتا ہوں اوروہی اعتقاد رکھتا ہوں جو خدا
ﷲ سُبْحانَ ﷲ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوتِ یُسَبِّحُ ﷲ بِأَسْمائِهِ جَمِیعُ خَلْقِهِ وَاَلسَّلَامُ
چاہتا ہے پاک ہے ﷲ جو کائنات کا مالک اور حکمران ہے ﷲ کی تمام مخلوق اس کے نام کی تسبیح کرتی ہے اور سلام ہو
عَلی أَرْواحِکُمْ وَأَجْسَادِکُمْ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ
آپ کی ردحوں پر اور آپ کے جسموں پر آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہواور اس کی برکتیں ہوں۔
مولف کہتے ہیں: بہت سی روایات میں وارد ہوا ہے کہ رسول ﷲ پر جس مقام سے بھی درود و سلام بھیجا جائے وہ ان تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں آیا ہے۔کہ ایک فرشتہ اس پر متعین ہے کہ جو مومن یہ کہے کہ:
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَسَلَّمْ تو وہ فرشتہ جواب میں کہتا ہے: وَعَلَیْکَ پھر وہ
اے معبود حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر درود و سلام بھیج اور تم پر بھی
صلواة رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم بزبان حضرت علی
رسول ﷲ کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ یا رسول ﷲ ! فلاں شخص نے آپ پر سلام بھیجا ہے تب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم یوں ارشاد فرماتے ہیں:وَعَلَیْہِ السَّلاَمُ ایک معتبر روایت میں مذکور ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: جس نے میرے وصال کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو وہ اس شخص کی مانند ہے جو میری حیات ظاہری میں میرے پاس آیا ہو۔ پس جب تم لوگ میری قبر پر حاضر نہ ہوسکو تو جہاں سے مجھ پر درود و سلام بھیجو گے وہ مجھ تک پہنچ جائیگا اس مضمون کی بہت سی روایات ہیں جو ہم نے باب اول ایام ہفتہ میں ائمہ معصومین کی زیارات اورہفتہ کے دن حضرت رسولعليهالسلام کی دوزیارتوں کے ہمراہ نقل کی ہیں جو ان روایتوں کو دیکھنا چاہے وہ باب اول کی چوتھی فصل میں دیکھے اور ان سے فیض حاصل کرے بہتر ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر وہ صلٰوت پڑھی جائے جو امیرالمومینن - نے جمعہ کے ایک خطبہ میں پڑھی اور وہ روضہ کافی میں اس طرح نقل ہوئی ہے:
إنَّ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا
بے شک ﷲ اور اس کے فرشتے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود و
تَسْلِیماً ۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَبارِکْ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ،
سلام بھیجو جیسے سلام کا حق ہے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور برکت عطا فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَتَحَنَّنْ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَسَلِّمْ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَأَ فْضَلِ ما صَلَّیْتَ
اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر مہربانی فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام بھیج جیسے تو نے ابراہیمعليهالسلام اور آل ابراہیمعليهالسلام پر بہترین درود بھیجا
وَبَارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ وَتَحَنَّنْتَ وَسَلَّمْتَ عَلی إبْراهِیمَ وَآلِ إبْراهِیمَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
برکت عطا کی رحمت نازل کی مہربانی فرمائی اور سلام بھیجا بے شک تو تعریف والا بزرگوار ہے
اَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً الْوَسِیلَةَ وَالشَّرَفَ وَالْفَضِیلَةَ وَالْمَنْزِلَةَ الْکَرِیمَةَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ
اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو وسیلہ شرف اور فضیلت اور کریم منزلت عطا فرما خدایا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و
مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ أَعْظَمَ الْخَلائِقِ کُلِّهِمْ شَرَفاً یَوْمَ الْقِیَامَةِ، وَأَقْرَبَهُمْ مِنْکَ مَقْعَداً،
آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قیامت کے دن ساری مخلوق میں سے سب سے زیادہ شرف اور مقام والا بنا ان کو اپنے قریب تر جگہ پر قرار دے کر اور روز
وَأَوْجَهَهُمْ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ جَاهَاً، وَأَ فْضَلَهُمْ عِنْدَکَ مَنْزِلَةً وَنَصِیباً اَللّٰهُمَّ أَعْطِ
قیامت ان کو اپنے ہاں زیادہ عزت دار بنا اور مرتبہ و حصہ کے لحاظ سے افضل و برتر قرار دے اے معبود! حضرت
مُحَمَّداً أَشْرَفَ الْمَقامِ وَحِبَائَ السَّلامِ، وَشَفاعَةَ الْاِسْلامِ اَللّٰهُمَّ وَأَ لْحِقْنا بِهِ غَیْرَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بلند ترین مقام صلح و نیکی کا اجر اور تبلیغ اسلام کا صلہ عطا فرما اے معبود!ہمیں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملا دے
خَزایا وَلاَ ناکِثِینَ وَلاَ نادِمِینَ وَلاَ مُبَدِّلِینَ إلهَ الْحَقِّ آمِینَ
اس طرح کہ نہ ہم رسوا ہوں نہ عہدشکنی کریں نہ شرمندگی اٹھائیں اور نہ احکام کوبدلیں اے سچے خدا اس دعا کو قبول فرما۔
آنحضرت اور آپ کی آلعليهالسلام پر پڑھی جانے والی ایک صلوات کا ذکر باب زیارات کے آخر میں آئے گا۔
زیارات ائمہ بقیع
یعنی امام حسن مجتبیٰ، امام سجاد، امام محمد باقراور اما م جعفر صادق کی زیارت جب ان بزرگواروں کی زیارت کرنا چاہیں تو آداب زیارت میں ذکر شدہ امورپر عمل کریں جیسے غسل، طہارت، پاکیزہ لباس پہنیں، خوشبو لگایں، اور حرم میں داخل ہونے کی اجازت طلب کریں وغیرہ۔
یَا مَوالِیَّ یَا أَ بْنائَ رَسُولِ ﷲ عَبْدُکُمْ وَابْنُ أَمَتِکُمْ، الذَّلِیلُ بَیْنَ أَیْدِیکُمْ وَالْمُضْعِفُ
اے میرے آقا اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند ان! آپکا غلام اور آپکی کنیز کا بیٹا آپکے حضور خوار وذلیل ہوں آپکی بلند شان کے سامنے
فِی عُلُوِّ قَدْرِکُمْ، وَالْمُعْتَرِفُ بِحَقِّکُمْ، جائَکُمْ مُسْتَجِیراً بِکُمْ قاصِداً إلَی حَرَمِکُمْ،
ناتواں ہوں اور آپکے حق کا معترف ہوںآپ کے ہاں پناہ کا طالب ہوں آپ کے حرم کا قصد کرکے آیاہوں اور آپ کے مقام کا
مُتَقَرِّباً إلی مَقامِکُمْ، مُتَوَسِّلاً إلَی ﷲ تَعالی بِکُمْ، أَأَدْخُلُ یَا مَوَالِیَّ أَأَدْخُلُ یَا
قرب چاہتا ہوں اور آپ کے ذریعے سے ﷲ تعالیٰ کی طرف جانے کا متمنی ہوں آیا اندر آجائوں میرے سردارو آیا اندر آجائوں
أَوْلِیائَ ﷲ أَأَدْخُلُ یَا مَلائِکَةَ ﷲ الْمُحْدِقِینَ بِهذَا الْحَرَمِ الْمُقِیمِینَ بِهَذَا الْمَشْهَدِ
اے ﷲ کے اولیائ ﷲ کے فرشتو جو اس حرم کو گھیرے ہوئے ہو اور اس زیارت گاہ میں رہتے ہو آیا اجازت ہے میں اسکے اندر آئوں۔
اسکے بعد نہایت ہی عاجزی اور انکساری کیساتھ اندر جائے اور پہلے دایاں پاؤں اندر رکھے اور یہ دعا پڑھے :
ﷲ أَکْبَرُ کَبِیراً وَالْحَمدُ لِلّٰهِ کَثِیراً وَسُبْحانَ ﷲ بُکْرَةً وَأَصِیلاً، وَالْحَمدُ لِلّٰهِ الْفَرْدِ
ﷲ بزرگتر ہے ساری بزرگی کیساتھ سب تعریف خدا کیلئے ہے وہ بہت زیادہ پاک ہے خدا صبح و شام کے وقت اور حمد خدا کیلئے ہے
الصَّمَدِ الْماجِدِ الْاََحَدِ الْمُتَفَضِّلِ الْمَنّانِ الْمُتَطَوِّلِ الْحَنّانِ الَّذِی مَنَّ بِطَوْ لِهِ وَسَهَّلَ
جو یگانہ، بے نیاز، شان والا، یکتا، فضل و کرم والا، مہربان، بخشش کرنے والا محبت والا ہے جس نے اپنی نعمت سے احسان کیا اور اپنے
زِیارَةَ سَادَاتِی بِ إحْسانِهِ وَلَمْ یَجْعَلْنِی عَنْ زِیارَتِهِمْ مَمْنُوعاً بَلْ تَطَوَّلَ وَمَنَحَ
کرم سے میرے آقائوں کی زیارت کو مجھ پر آسان کیا ہے اس زیارت میں کوئی رکاوٹ نہ آنے دی بلکہ وسعت دی اور مہربانی کی۔
پھر ان بزرگوں کی قبروں کے قریب جائے ان کی قبرکی طرف رخ کرتے ہوئے پشت بہ قبلہ ہو کریہ زیارت پڑھے:
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ أَئِمَّةَ الْهُدیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَهْلَ التَّقْوی، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَ یُّهَا
آپ پر سلام ہو اے ہدایت دینے والے ائمہعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے صاحبان تقویٰ آپ پر سلام ہو جو دنیا والوں
الْحُجَجُ عَلی أَهْلِ الدُّنْیا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَ یُّهَا الْقُوَّامُ فِی الْبَرِیَّةِ بِالْقِسْطِ، اَلسَّلَامُ
کے لیے خدا کی حجت اوردلیل ہیں آپ پر سلام ہو جو مخلوقات میں عدل وانصاف قائم کرنے والے ہو سلام ہو
عَلَیْکُمْ أَهْلَ الصَّفْوَةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ آلَ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَهْلَ النَّجْویٰ
آپ پر اے صاحبان صفا آپ پر سلام ہو جو رسول ﷲ کی آلعليهالسلام پاک ہو آپ پر سلام ہو جو خدا کے رازداں ہو
أَشْهَدُ أَ نَّکُمْ قَدْ بَلَّغْتُمْ وَنَصَحْتُمْ وَصَبَرْتُمْ فِی ذاتِ ﷲ وَکُذِّبْتُمْ وَأُسِیئَ إلَیْکُمْ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سب نے بہترین تبلیغ کی اورنصیحت فرمائی آپ نے خدا کی راہ میں صبر کیا اور جب آپ کو جھٹلایا گیااور
فَغَفَرْتُمْ، وَأَشْهَدُ أَ نَّکُمُ آلاَءِمَّةُ الرَّاشِدُونَ الْمُهْتَدُونَ، وَأَنَّ طاعَتَکُمْ
آپ سے برا سلوک کیا گیا تو آپ نے درگذر کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سب ہدایت یافتہ و ہدایت دینے والے امام ہیںیقینا
مَفْرُوضَةٌ، وَأَنَّ قَوْلَکُمُ الصِّدْقُ، وَأَ نَّکُمْ دَعَوْتُمْ فَلَمْ تُجَابُوا، وَأَمَرْتُمْ
آپکی اطاعت واجب ہے اور آپکا قول برحق ہے بے شک آپ نے دعوت دی اور اسے قبول نہیں کیا گیا آپ نے حکم دیا تو اطاعت
فَلَمْ تُطَاعُوا، وَأَ نَّکُمْ دَعَاءِمُ الدِّینِ وَأَرْکَانُ الْاََرْضِ لَمْ تَزالُوا بِعَیْنِ ﷲ یَنْسَخُکُمْ
نہ کی گئی سب دین کے ستون اورہمیشہ سے زمین کے رکن ہیں خدا کی نگہداری میں آپ سب پاک و طاہر
مِنْ أَصْلابِ کُلِّ مُطَهَّرٍ، وَیَنْقُلُکُمْ مِنْ أَرْحامِ الْمُطَهَّراتِ، لَمْ تُدَنِّسْکُمُ الْجاهِلِیَّةُ
صلبوں سے پاک و پاکیزہ رحموں میں منتقل ہوئے ہیں آپ جاہلوں کی جاہلیت سے آلودہ نہیں ہوئے اور خواہشات نفسانی کے فتنے
الْجَهْلائُ وَلَمْ تَشْرَکْ فِیکُمْ فِتَنُ الْاََهْوَائِ، طِبْتُمْ وَطَابَ مَنْبَتُکُمْ، مَنَّ بِکُمْ عَلَیْنا دَیَّانُ
آپ پر اثر نہیں ڈال سکے آپکی اصل پاک ہے جزا دینے والے نے آپ کے ذریعے ہم پر
الدِّینِ فَجَعَلَکُمْ فِی بُیُوتٍ أَذِنَ ﷲ أَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیهَا اسْمُهُ، وَجَعَلَ صَلاتَنا
احسان کیا پس اس نے آپ کو ان گھروں میں بھیجاجن کو خدا نے بلند کیا ان میں اس کا ذکرہوتا ہے اور ہمارادرود آپ کیلئے قرار دیا
عَلَیْکُمْ رَحْمَةً لَنا وَکَفَّارَةً لِذُ نُوبِنا إذِ اخْتارَکُمُ ﷲ لَنا وَطَیَّبَ خَلْقَنا بِمَا مَنَّ عَلَیْنا
جو ہمارے لیے رحمت ہے اور ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے کہ خدا نے آپ کو ہمارے لیے چنا آپ کی ولایت سے ہماری خلقت کو
مِنْ وِلایَتِکُمْ وَکُنَّا عِنْدَهُ مُسَمِّینَ بِعِلْمِکُمْ، مُعْتَرِفِینَ بِتَصْدِیقِنا إیَّاکُمْ، وَهذَا مَقامُ
پاک کیا اور ہم پر احسان کیا ہے آپکے علم کا اعتراف اور تصدیق کرنے سے ہم اس کے ہاںقابل ذکر ہوگئے ہیں اور اب اس حرم میں
مَنْ أَسْرَفَ وَأَخْطَأَ وَاسْتَکانَ وَأَقَرَّ بِمَا جَنی وَرَجَا بِمَقامِهِ الْخَلاصَ وَأَنْ
وہ شخص آیا کھڑا ہے جو گنہگار خطا کار اور مسکین ہے اپنے گناہوںکا اقرارکرنے والا ہے اس جگہ اپنی نجات کا امیدوار ہے اور چاہتا ہے
یَسْتَنْقِذَهُ بِکُمْ مُسْتَنْقِذُ الْهَلْکی مِنَ الرَّدی، فَکُونُوا لِی شُفَعائَ فَقَدْ وَفَدْتُ إلَیْکُمْ إذْ
کہ آپ کی شفاعت سے خدا اس کو ہلاکت وبربادی سے بچائے پس آپ سب میرے شفیع بن جائیں میں آپ کی بارگاہ میں اس
رَغِبَ عَنْکُمْ أَهْلُ الدُّنْیا وَاتَّخَذُوا آیاتِ ﷲ هُزُواً وَاسْتَکْبَرُوا عَنْها ۔یہاں سے سر اونچا کرے
وقت آیا ہوں جب دنیا والے آپ سے دور ،انہوں نے آیات الہی کا مذاق اڑایا اور ان سے سرکشی کی ہے۔
اور یہ کہے :یَا مَنْ هُوَ قائِمٌ لاَ یَسْهُو وَدائِمٌ لاَ یَلْهُو وَمُحِیطٌ بِکُلِّ شَیْئٍ لَکَ الْمَنُّ بِمَا وَفَّقْتَنِی
اے وہ ذات جو قائم ہے جو بھولتا نہیں ہے اور وہ دائم ہے جو غافل نہیں ہوتا اور ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے تیرا احسان ہے جس کیساتھ تو
وَعَرَّفْتَنِی بِما أَقَمْتَنِی عَلَیْهِ إذْ صَدَّ عَنْهُ عِبادُکَ وَجَهِلُوا مَعْرِفَتَهُ،
نے مجھے توفیق دی اور زیارت کی معرفت بخشی کہ مجھے یہاں کھڑا کیا ہے جب تیرے بندے اس سے منحرف ہوگئے اس کی پہچان نہ کر
وَاسْتَخَفُّوا بِحَقِّهِ وَمَالُوا إلی سِواهُ فَکانَتِ الْمِنَّةُ مِنْکَ عَلَیَّ مَعَ أَقْوامٍ خَصَصْتَهُمْ
پائے اس کے حق کو سبک سمجھ لیا اور غیر کی طرف مائل ہوگئے پھر مجھ پر تیرا فضل و کرم ہوا اور تو نے مجھ کو ان گروہوں کے ساتھ ملا دیا
بِمَا خَصَصْتَنِی بِهِ، فَلَکَ الْحَمدُ إذْ کُنْتُ عِنْدَکَ فِی مَقامِی هذَا مَذْکُوراً مَکْتُوباً فَلا
جن کو تو نے اپنے لئے خاص قرار دیا ہے پس حمد تیرے لیے ہے جب میں اس حرم میں ہوں مجھے تیرے ہاں یاد کیا گیا اور میرا نام لکھا
تَحْرِمْنِی ما رَجَوْتُ، وَلاَ تُخَیِّبْنِی فِیما دَعَوْتُ، بِحُرْمَةِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ،
گیا ہے پس مجھے میری آرزو سے محروم نہ فرما جو مانگتا ہوں اس میں ناکام نہ کر تجھے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آل پاکعليهالسلام کا واسطہ ہے
وَصَلَّی ﷲ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اور ﷲ حضرت محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پررحمت کرے ۔
اس کے بعد جو دعا چاہے مانگے‘ تہذیب میں شیخ طوسیرحمهالله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد آٹھ رکعت نماز زیارت پڑھے۔ یعنی ان چاروں ائمہعليهالسلام میں سے ہر امامعليهالسلام کے لیے دو رکعت نماز پڑھے۔ شیخ طوسیرحمهالله اور سید ابن طائوس نے کہا ہے کہ جب ان سے و داع ہونا چاہے تو کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَئِمَّةَ الْهُدیٰ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَسْتَوْدِعُکُمُ ﷲ، وَأَقْرَأُ عَلَیْکُمُ
آپ سب پر سلام ہو اے ہدایت کے ائمہعليهالسلام اور اس کی رحمت ہو اور اسکی برکتیں آپ کو وداع کرتا ہوں اورسپردخدا کرتا ہوں اور آپ
السَّلامَ، آمَنَّا بِالله وَبِالرَّسُولِ وَبِمَا جِئْتُمْ بِهِ وَدَلَلْتُمْ عَلَیْهِ، اَللّٰهُمَّ فَاکْتُبْنا مَعَ
پر سلام بھیجتا ہوں ایمان رکھتا ہوں خدا اور اسکے رسول پر اور جو آپ لائے اور جسکی طرف آپ نے رہنمائی فرمائی اے معبود! ہمیں
الشَّاهِدِینَ
یہ گواہی دینے والوں میں لکھ دے
پس خدا سے بہت بہت دعائیں کرے اور کہے کہ وہ اس زیارت کو اس کی آخری زیارت قرارنہ دے اور دوبارہ یہاں حاضر ہونے کا موقع عطا فرمائے۔ علامہ مجلسیرحمهالله نے بحارالانوار میں کسی قدیم کتاب سے ایک طویل زیارت نقل فرمائی ہے لیکن ان کی اور دیگر بزرگوں کی تصریح کے مطابق چونکہ ان ائمہعليهالسلام کی زیارات میں سے بہترین زیارت جامعہ ہے‘ جس کا کچھ حصہ ہم بعد میں نقل کریں گے لہذا ہم یہاں اسی پر اکتفا کررہے ہیں۔ باب اول میں ائمہ معصومینعليهالسلام کیلئے ایام ہفتہ کی زیارات میں ہم نے ایک زیارت امام حسن- کی اور ایک زیارت دیگر تین ائمہ کیلئے نقل کی ہے۔ پس اس کو نظر اندازنہ کیا جائے۔ پھر ائمہ بقیع کے علاوہ ہر امامعليهالسلام کی زیارت کے ساتھ صلوات بھی ذکر ہوئی ہے‘ ائمہ بقیع کی صلوات باب زیارات کے آخر میںذکر ہوگی وہاں ملاحظہ کریں اور ان بزرگواروں پر صلوات پڑھ کر اپنے نامہ اعمال کا وزن بڑھائیں۔
قصیدہ ازریہ
واضح ہوکہ ان مقدس زیارت گاہوں سے اپنی دوری اور شوق زیارت نے مجھ کو آمادہ کیا کہ شیخ ازریرحمهالله کے قصیدہ سے چند مناسب اشعار یہاں تحریر کروں۔ شیخ الفقہا شیخ محمد حسن صاحب جواہر الکلام سے نقل ہوا ہے کہ وہ آرزو کیا کرتے کہ شیخ ازری کا یہ قصیدہ میرے نامئہ عمل میں اور میری کتاب الجواہر اسلام ان کے نامئہ اعمال میں لکھ دی جائے۔ اس قصیدے کا کچھ حصہ یہ ہے:
إنَّ تِلْکَ الْقُلُوبَ أَقْلَقَهَا الْوَجْدُ
وَأَدْمی تِلْکَ الْعُیُونَ بُکاها
بے شک یہ دل گرمئی عشق میں پریشان ہیں
روتے روتے آنکھیں لہو رنگ ہوگئی
کانَ أَنْکَیٰ الْخُطُوبِ لَمْ یُبْکِ مِنِّی
مُقْلَةً لَکِنِ الْهَویٰ أَبْکاها
بڑی سے بڑی مصیبتیں تو مجھ کو رلانہ سکیں
لیکن عشق نے مجھ کو نالہ کناں کردیا ہے
کُلَّ یَوْمٍ لِلْحادِثاتِ عَوادٍ
لَیْسَ یَقْویٰ رَضْویٰ عَلی مُلْتَقاها
ہر دن غم انگیز حادثوں سے بھرا ہے
جن کو رضوی پہاڑ بھی برداشت نہیںکر سکتا
کَیْفَ یُرْجَیٰ الْخَلاصُ مِنْهُنَّ إلا
بِذِمامٍ مِنْ سَیِّدِ الرُّسُلِ طهٰ
ان حادثوں سے چھٹکارے کا کوئی ذریعہ نہیں
سوائے رسولوں کے سردار طہ کے سایہ کے
مَعْقِلُ الْخائِفِینَ مِنْ کُلِّ خَوْفٍ
أَوْفَرُ الْعُرْبِ ذِمَّةً أَوْفاها
جو خوفزدہ لوگوں کو ہر خوف سے پناہ دیتے ہیں
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم عربوں میں زیادہ عہد پورا کرنیوالے ہیں
مَصْدَرُ الْعِلْمِ لَیْسَ إلاَّ لَدَیْهِ
خَبَرُ الْکائِناتِ مِنْ مُبْتَداها
علم کا خزانہ صرف انہی کے پاس ہے
کائنات کے آغاز کا انہی کو حال معلوم ہے
فاضَ لِلْخَلْقِ مِنْهُ عِلْمٌ وَحِلْمٌ
أَخَذَتْ مِنْهُمَا الْعُقُولُ نُهاها
آپ ہی سے لوگوں کو علم اور ادب ملا ہے
اسی علم اور ادب سے عقلوں کو روشنی ملی ہے
نَوَّهَتْ بِاسْمِهِ السَّمٰوَاتُ وَالْاََرْضُ
کَما نَوَّهَتْ بِصُبْحٍ ذَکاها
زمین اور آسمان انہی کے نام سے روشن ہیں
جیسا کہ آپ ہی کے نام سے صبح کو روشنی ملی ہے
وَغَدَتْ تَنْشُرُ الْفَضائِلَ عَنْهُ
کُلُّ قَوْمٍ عَلَی اخْتِلافِ لُغاها
ہر قوم نے ان کی فضیلتیں بیان کی ہیں
اگرچہ ان کی زبانیں اور کتابیں الگ الگ ہیں
طَرِبَتْ لاِِسْمِهِ الثَّری فَاسْتَطالَتْ
فَوْقَ عُلْوِیَّةِ السَّما سُفْلاها
زمین کو ان کے نام سے اتنی خوشی ہوئی
کہ اس کی پستی خود کو آسمان سے بلند سمجھنے لگی
جازَ مِنْ جَوْهَرِ التَّقَدُّسِ ذاتاً
تاهَتِ الْاََنْبِیائُ فِی مَعْناها
اور اپنی ذات میں پاکیزگی کے جو ہر سے گزرے
حتی کہ انبیائ بھی ان کی حقیقت کو نہ پاسکے
لا تُجِلْ فِی صِفاتِ أَحْمَدَ فِکْراً
فَهِیَ الصُّورَةُ الَّتِی لَنْ تَراها
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی صفات میں غور و فکر نہ کرو
کیونکہ یہ وہ صورت ہے جسے تم دیکھ نہیں سکتے
أَیُّ خَلْقٍ لِلّٰهِ أَعْظَمُ مِنْهُ
وَهُوَ الْغایَةُ الَّتِی اسْتَقْصاها
کہو تو مخلوق میں کون ان سے بڑا ہے
وہ تو مخلوق کے پیدا ہونے کا سبب ہیں
قَلَّبَ الْخافِقَیْنِ ظَهْراً لِبَطْنٍ
فَرَأَیٰ ذاتَ أَحْمَدٍ فَاجْتَباها
خدا نے اپنی مخلوق کا ظاہر و باطن دیکھا
پھر مخلوق میں سے ذات احمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کوچن لیا
لَسْتُ أَنْسیٰ لَهُ مَنازِلَ قُدْسٍ
قَدْ بَناها التُّقی فَأَعْلا بِناها
میں ان کے پاک مراتب کو کیسے فراموش کروں
ان کی اصل تقوی ہے جو عقل وخرد سے بلند ہے
وَرِجالاً أَعِزَّةً فِی بُیُوتٍ
أَذِنَ ﷲ أَنْ یُعَزَّ حِماها
باعزت مرد ان گھروں میں پیدا ہوئے
کہ خدا کے اذن سے جن کی عظمت اور بڑھی
سادَةٌ لاَ تُرِیدُ إلاَّ رِضَی ﷲ
کَمَا لاَ یُرِیدُ إلاَّ رِضاها
وہ نوع بشر کے سردار کچھ نہیں چاہتے مگر رضائ الہی
جیسا کہ خدا بھی کچھ نہیں چاہتا مگر ان کی خوشنودی
خَصَّها مِنْ کَمالِهِ بِالْمَعانِی
وَبِأَعْلیٰ أَسْمائِهِ سَمَّاها
اس نے انہیں باطنی کمالات میں خاص کیا
اور انہیں اپنے اعلیٰ اسمائ سے موسوم فرمایا
لَمْ یَکُونُوا لِلْعَرْشِ إلاَّ کُنُوزاً
خافِیاتٍ سُبْحانَ مَنْ أَبْداها
وہ عرش کے پوشیدہ خزانے ہیں
پاک ہے وہ خدا جس نے ان کو ظاہر کردیا
کَمْ لَهُمْ أَلْسُنٌ عَنِ ﷲ تُنْبِی
هِیَ أَقْلامُ حِکْمَةٍ قَدْ بَراها
انہوں نے مختلف زبانوںمیں خدا کی خبر دی
یہ حکمت کے قلم ہیں جس کو قدرت نے بنایا
وَهُمُ الْاََعْیُنُ الصَّحِیحاتُ تَهْدِیٰ
کُلَّ عَیْنٍ مَکْفُوفَةٍ عَیْناها
وہ راہ حق کو دیکھنے والی صحیح آنکھیں ہیں
ان کے علاوہ دوسروں کی آنکھیں اندھی ہیں
عُلَمائٌ أَئِمَّةٌ حُکَمائٌ
یَهْتَدِی النَّجْمُ بِاتِّباعِ هُدَاها
وہ عالم ہیں امام ہیں اور داناہیں
ان کی پیروی سے ستاروں کو ہدایت ملی
قادَةٌ عِلْمُهُمْ وَرَأْیُ حِجاهُمْ
مَسْمَعا کُلِّ حِکْمَةٍ مَنْظَراها
وہ ہر علم میں پیشرو اور رائے میں پختہ ہیں
وہ ہر حکمت و دانش کو سننے دیکھنے والے ہیں
مَا أُبالِی وَلَوْ أُهِیلَتْ عَلَی
الْاََرْضِ السَّمٰوَاتُ بَعْدَ نَیْلِ وِلاها
مجھے کچھ پروا نہیں اگر آسمان زمین پرآ گرے
مگر مجھ کو عشق محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میں سے حصہ نصیب ہوجائے
ذکر زیارات مدینہ منقول ازمصباح الزائر وغیرہ
زیارت ابراہیم بن حضرت رسول
جناب ابراہیمعليهالسلام کی قبر کے نزدیک کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلی رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلی نَبِیِّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلی حَبِیبِ ﷲ، اَلسَّلَامُ
ﷲ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام ﷲ کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام ﷲ کے حبیبصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام
عَلی صَفِیِّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلی نَجِیِّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ ﷲ، سَیِّدِ
ﷲ کے بندہ خاص پر سلام ﷲ کے راز پر سلام حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن عبدﷲ پر سلام جو نبیوں
الْاََنْبِیائِ، وَخاتَمِ الْمُرْسَلِینَ، وَخِیَرَةِ ﷲ مِنْ خَلْقِهِ فِی أَرْضِهِ وَسَمائِهِ، اَلسَّلَامُ
کے سردار رسولوں کے خاتم اور زمین و آسمان میں ﷲ کی ساری مخلوق میں برگزیدہ ہیں ﷲ کے
عَلی جَمِیعِ أَنْبِیائِهِ وَرُسُلِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّهَدائِ وَالسُّعَدائِ وَالصَّالِحِینَ اَلسَّلَامُ
سارے نبیوں اور رسولوں پر سلام شہیدوں نیک لوگوں اور صالح بندوں پر سلام
عَلَیْنا وَعَلی عِبادِ ﷲ الصَّالِحِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیکِ أَیَّتُهَا الرُّوحُ الزَّاکِیَةُ، اَلسَّلَامُ
ہم سب پر اور ﷲ کے تمام نیک بندوں پر سلام، آپ پر سلام ہو اے پاکیزہ روح سلام ہو
عَلَیْکِ أَیَّتُهَا النَّفْسُ الشَّرِیفَةُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا السُّلالَةُ الطَّاهِرَةُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ
آپ پر اے شریف نفس آپ پر سلام ہو اے پاکیزہ ذریت آپ پر سلام ہو
أَیَّتُهَا النَّسَمَةُ الزَّاکِیَةُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خَیْرِ الْوَریٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ النَّبِیِّ
اے پاکیزہ صفات بندے آپ پر سلام ہو اے مخلوق میں بہترین کے فرزند آپ پر سلام ہو اے برگزیدہ نبی کے
الْمُجْتَبیٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْمَبْعُوثِ إلی کافَّةِ الْوَریٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ
فرزند آپ پر سلام ہو اے ساری مخلوق کی طرف مبعوث کیے گئے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند آپ پر سلام ہو اے بشارت دینے والے اور ڈرانے
الْبَشِیرِ النَّذِیرِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ السِّراجِ الْمُنِیرِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْمُؤَیَّدِ
والے نبی کے فرزند آپ پر سلام ہو اے روشن چراغ کے فرزند آپ پر سلام ہو اے اس کے فرزند جس کی تائید قرآن
بِالْقُرْآنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْمُرْسَلِ إلَی الْاِنْسِ وَالْجانِّ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ
سے کی گئی ہے آپ پر سلام ہو اے اس کے فرزند جو جن و انس کی طرف بھیجا گیا ہے آپ پر سلام ہو اے علم ونشان
صاحِبِ الرَّایَةِ وَالْعَلامَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الشَّفِیعِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
والے کے فرزند آپ پر سلام ہو اے روز قیامت شفاعت کرنے والے کے فرزند آپ پر سلام ہو
یَابْنَ مَنْ حَباهُ ﷲ بِالْکَرامَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ قَدِ
اے اس کے فرزند جس کو اللہ نے کرامت دی سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت و برکات ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا نے
اخْتارَ ﷲ لَکَ دارَ إنْعامِهِ قَبْلَ أَنْ یَکْتُبَ عَلَیْکَ أَحْکامَهُ أَوْ یُکَلِّفَکَ حَلالَهُ وَحَرامَهُ
آپ کو نعمتوں والے گھر کے لئے منتخب کیا ہے اس سے پہلے کہ وہ آپ پر اپنے حلال و حرام کے احکام واجب اور لازم قرار دیتا
فَنَقَلَکَ إلَیْهِ طَیِّباً زاکِیاً مَرْضِیَّاً طاهِراً مِنْ کُلِّ نَجَسٍ مُقَدَّساً مِنْ کُلِّ دَنَسٍ، وَبَوَّأَکَ
پس اس نے آپ کو اپنی طرف بلالیا جب آپ پاک وصاف پسندیدہ و ہرآلودگی سے پاکیزہ تھے پھر اس نے آپ کو آسائش بھری
جَنَّةَ الْمَأْویٰ وَرَفَعَکَ إلَی الدَّرَجاتِ الْعُلیٰ، وَصَلَّی ﷲ عَلَیْکَ صَلاَةً تَقَرُّ بِها عَیْنُ
جنت میں جگہ دی اور آپ کو بلند درجے عنایت فرمائے خدا رحمت فرمائے آپ پر ایسی رحمت جس سے اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آنکھیں
رَسُو لِهِ، وَتُبَلِّغُهُ أَکْبَرَ مَأْمُو لِهِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ أَفْضَلَ صَلَواتِکَ وَأَزْکاها، وَأَ نْمَیٰ
ٹھنڈی ہوں اور ان کی بڑی آرزو پوری ہوجائے اے معبود اپنی بہترین صلوات پاک و پاکیزہ تر اور اپنی بڑھنے والی
بَرَکاتِکَ وَأَوْفَاهَا عَلَی رَسُو لِکَ وَنَبِیِّکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ
برکتیں پوری کی پوری اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اپنی مخلوق میں اپنے پسند کیے ہوئے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے قرار دے جو تمام نبیوں کے خاتم
وَعَلی مَنْ نَسَلَ مِنْ أَوْلادِهِ الطَّیِّبِینَ، وَعَلی مَنْ خَلَّفَ مِنْ عِتْرَتِهِ الطَّاهِرِینَ
ہیں اور ان کی پاک نسل اور ان کی نیک و پاک اولاد پر اور ان کی پاکیزہ اولاد میں سے ان کے خلفائ
بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ
وجانشینوں پر اور بواسطہ اپنی رحمت کے اے سب سے زیادہ رحم والے اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بواسطہ تیرے برگزیدہ
صَفِیِّکَ، وَ إبْراهِیمَ نَجْلِ نَبِیِّکَ أَنْ تَجْعَلَ سَعْیِی بِهِمْ مَشْکُوراً، وَذَنْبِی
حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت ابراہیمعليهالسلام کے جو تیرے نبی کے فرزند اور ان کے وسیلے سے میری کوشش کو قابل شکریہ قرار دے میرے گناہ
بِهِمْ مَغْفُوراً وَحَیَاتِی بِهِمْ سَعِیدَةً، وَعاقِبَتِی بِهِمْ حَمِیدَةً، وَحَوَائِجِی بِهِمْ مَقْضِیَّةً
معاف کردے میری زندگی بہتر بنا دے میری عاقبت اچھی کر دے میری حاجتیں پوری فرما دے
وَأَفْعَالِی بِهِمْ مَرْضِیَّةً، وَأُمُورِی بِهِمْ مَسْعُودَةً، وَشُوَُونِی بِهِمْ مَحْمُودَةً اَللّٰهُمَّ
میرے اعمال نیک فرما دے کام سنوار دے میرے اطوار بہتر بنا دے اے معبود !
وَأَحْسِنْ لِیَ التَّوْفِیقَ وَنَفِّسْ عَنِّی کُلَّ هَمٍّ وَضِیقٍ اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنِی عِقابَکَ، وَامْنَحْنِی
مجھے بہترین توفیق دے اور میرے سارے غم اندیشے اور سختیاں دور فرما دے اے معبود! مجھے اپنے عذاب سے بچا اجر و ثواب عطا فرما
ثَوابَکَ، وَأَسْکِنِّی جِنانَکَ، وَارْزُقْنِی رِضْوانَکَ وَأَمانَکَ، وَأَشْرِکْ لِی فِی صَالِحِ
مجھے اپنی جنت میں جگہ دے مجھے اپنی خوشنودی اور اپنی پناہ نصیب فرما میری نیک دعاؤں میں میرے ماں باپ
دُعَاءی والِدَیَّ وَوُلْدِی وَجَمِیعَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ الْاََحْیائَ مِنْهُمْ والْاََمْواتِ إنَّکَ
میری اولاد اور سب زندہ و مردہ مومنین و مومنات کو شریک قرار دے بے شک تو
وَ لِیُّ الْباقِیاتِ الصَّالِحاتِ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
باقیات و صالحات کا نگہبان ہے دعا قبول فرما اے جہانوں کے پالنے والے ۔
اور اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اپنی حاجتیں طلب کرے ۔
زیارت جناب فاطمہ بنت اسد
آپ امیرالمومنین- کی والدہ ماجدہ ہیں،ان بی بی کی قبر کے نزدیک کھڑے ہو کر کہے :
اَلسَّلَامُ عَلَی نَبِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلی رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلی مُحَمَّدٍ سَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ
سلام ہو اللہ کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام ہو اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام ہو رسولوں کے سردار حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
اَلسَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدٍ سَیِّدِ الْاََوَّلِینَ، اَلسَّلَامُ عَلی مُحَمَّدٍ سَیِّدِ الْاَخِرِینَ، اَلسَّلَامُ
سلام ہو اولین کے سردار حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام ہو آخرین کے سردار حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام ہو
عَلی مَنْ بَعَثَهُ ﷲ رَحْمَةً لِلْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
ان جناب پر جن کو اللہ نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا سلام ہو اے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور رحمت ہو اللہ کی اور اس کی برکتیں
اَلسَّلَامُ عَلی فاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدٍ الْهاشِمِیَّةِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الصِّدِّیقَةُ الْمَرْضِیَّةُ
سلام ہو بی بی فاطمہ بنت اسد پر جو ہاشمیہ ہیں آپ پر سلام ہو اے صدیقہ اور خدا کی پسندیدہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا التَّقِیَّةُ النَّقِیَّةُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الْکَرِیمَةُ الرَّضِیَّةُ، اَلسَّلَامُ
سلام ہو آپ پر آپ پرہیز گار و پاکیزہ آپ پر سلام ہو عزت و رضا کی مالکہ آپ پر
عَلَیْکِ یَا کافِلَةَ مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یا والِدَةَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ
سلام ہو کے خاتم محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سرپرست آپ پر سلام ہو اوصیائ کے سردار کی والدہ آپ پر
عَلَیْکِ یَا مَنْ ظَهَرَتْ شَفَقَتُها عَلی رَسُولِ ﷲ خاتَمِ النَّبِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا مَنْ
سلام ہو اے وہ جس نے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور نبیوں کے خاتم پر شفقت و مہربانی کی آپ پر سلام ہو اے وہ
تَرْبِیَتُها لِوَلیِّ ﷲ الْاََمِینِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ وَعَلی رُوحِکِ وَبَدَنِکِ الطّاهِرِ، اَلسَّلَامُ
جس نے اللہ کے امانتدار ولی کی پرورش کی سلام ہو آپ پر آپ کی روح پر اور آپ کے پاکیزہ بدن پر آپ پر
عَلَیْکِ وَعَلی وَلَدِکِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ أَشْهَدُ أَنَّکِ أَحْسَنْتِ الْکِفالَةَ، وَأَدَّیْتِ
سلام ہو اور آپکی اولاد پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے حضرت رسول کی اچھی سرپرستی کی اس
الْاََمانَةَ، وَاجْتَهَدْتِ فِی مَرْضاةِ ﷲ، وَبالَغْتِ فِی حِفْظِ رَسُولِ ﷲ، عارِفَةً بِحَقِّهِ،
امانت کو سنبھالا اور خدا کی رضا میں کوشاں رہیں آپ خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہیں جبکہ آپ ان کے حق سے
مُؤْمِنَةً بِصِدْقِهِ، مُعْتَرِفَةً بِنُبُوَّتِهِ، مُسْتَبْصِرَةً بِنِعْمَتِهِ، کافِلَةً بِتَرْبِیَتِهِ، مُشْفِقَةً عَلی
واقف ان کی سچائی پر ایمان رکھنے والی ان کی نبوت کا اعتراف کرنے والی ان کو ملی ہوئی نعمت کو پہچاننے والی ان کی پرورش کی ذمہ دار
نَفْسِهِ، واقِفَةً عَلی خِدْمَتِهِ، مُخْتارَةً رِضَاهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّکِ مَضَیْتِ
انکی ذات پر مہربان ان کی خدمت کے لئے ہمہ وقت حاضر اور ان کی خوشی چاہتی رہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دنیا سے گئیں تو
عَلَی الْاِیمانِ وَالتَّمَسُّکِ بِأَشْرَفِ لاََْدْیانِ، راضِیَةً مَرْضِیَّةً طاهِرَةً زَکِیَّةً تَقِیَّةً نَقِیَّةً
ایمان کیساتھ اور بہترین دین سے وابستگی رکھتے ہوئے جبکہ آپ خدا سے راضی وہ آپ سے راضی آپ پاکیزہ نیک پرہیزگار پاکباز تھیں
فَرَضِیَ ﷲ عَنْکِ وَأَرْضاکِ وَجَعَلَ الْجَنَّةَ مَنْزِلَکِ وَمَأْواکِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ
پس خدا آپ سے راضی ہوا اس نے آپ کو خوش کیا اور اس نے آپ کو جنت میں مقام و منزل عطا کی اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَانْفَعْنِی بِزِیارَتِها وَثَبِّتْنِی عَلی مَحَبَّتِها وَلاَ تَحْرِمْنِی شَفاعَتَها
و آل محمد پر رحمت فرما اور مجھے اس بی بی کی زیارت سے نفع عطا کر مجھے اس کی محبت پر قائم رکھ اور مجھ کو اس کی شفاعت اور اس
وَشَفاعَةَ آلاَءِمَّةِ مِنْ ذُرِّیَّتِها، وَارْزُقْنِی مُرافَقَتَها، وَاحْشُرْنِی مَعَها وَمَعَ أَوْلادِهَا
کی اولاد میں سے ائمہ کی شفاعت سے محروم نہ فرما مجھے اس بی بی کی ہمسائیگی نصیب کر اور مجھے اس بی بی کے ساتھ اور اس کی پاکیزہ
الطَّاهِرِیْنَ اَللّٰهُمَّ لَاتَجْعَلْهُ اٰخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِی إیَّاها، وَارْزُقْنِی الْعَوْدَ
اولاد کے ساتھ محشور فرما اے معبود ! میں نے فاطمہ بنت اسد کی جو زیارت کی ہے اسے میرا آخری موقع قرار نہ دے اور مجھے بار بار
إلَیْها أَبَداً مَا أَبْقَیْتَنِی، وَ إذا تَوَفَّیْتَنِی فَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَتِها، وَأَدْخِلنِی فِی
یہاں آنا نصیب فرما جب تک تو مجھے زندہ رکھے اور جب مجھے موت دے تو مجھے اس بی بی کے گروہ میں اٹھا اور مجھے اس کی شفاعت
شَفاعَتِها، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ بِحَقِّها عِنْدَکَ، وَمَنْزِلَتِها
میں داخل فرما بواسطہ اپنی رحمت کے اے سب سے زیادہ رحم والے اے معبود ! بواسطہ اس بی بی کے حق کے جو تیرے ہاں ہے اور اس
لَدَیْکَ اغْفِرْلِی وَ لِوالِدَیَّ وَ لِجَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً
کا جو مرتبہ تیرے نزدیک ہے مجھ کو میرے ماں باپ اور تمام مومنین و مومنات کو بخش دے ہمیں دنیا میں اور آخرت میں نیکی
وَفِی الْاَخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنا بِرَحْمَتِکَ عَذابَ النَّارِ
اور خوشحالی عطا فرما اور بواسطہ اپنی رحمت کے ہمیں آتش جہنم سے بچائے رکھ ۔
پس دو رکعت نماز زیارت پڑھے اور جو چاہے دعا مانگے۔
زیارت حضرت حمزہعليهالسلام احد میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَمَّ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ
سلام ہو آپ پر اے حضرت رسول کے چچا سلام ہو آپ پر اے شہدائ
الشُّهَدائِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَسَدَ ﷲ وَأَسَدَ رَسُو لِهِ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ قَدْ جاهَدْتَ فِی
میں بہترین سلام ہوآپ پر اے اللہ کے شیر اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شیر میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے راہ خدا
ﷲ عَزَّ وَجَلَّ وَجُدْتَ بِنَفْسِکَ وَنَصَحْتَ رَسُولَ ﷲ، وَکُنْتَ فِیما عِنْدَ ﷲ سُبْحانَهُ
میں جہاد کیا اپنی جان کی قربانی پیش کی خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خیر خواہی فرمائی اور آپ خدا کے ہاں جو اجر تھا اس کی طرف
راغِباً، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی أَ تَیْتُکَ مُتَقَرِّباً إلَی ﷲ عَزَّ وَجَلَّ بِزِیارَتِکَ، وَمُتَقَرِّباً إلی
راغب ہوئے میرے ماں باپ آپ پر قربان میں آپ کی بارگاہ میں حضرت رسول کی قربت کے لئے آیا ہوں اس طر ح میں متوجہ
رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ بِذلِکَ، راغِباً إلَیْکَ فِی الشَّفاعَةِ، أَبْتَغِْی
ہوا ہوں آپ کی طرف شفاعت کیلئے کہ آپ کی زیارت کے ذریعے اپنے بچاؤ کے واسطے آپ کی پناہ حاصل کروں اس آگ سے
بِزِیارَتِکَ خَلاصَ نَفْسِی، مُتَعَوِّذاً بِکَ مِنْ نارٍ اسْتَحَقَّها مِثْلِی بِما جَنَیْتُ عَلی
جو میرے لئے یقینی ہو چکی ہے اس ستم کے بدلے جو میں نے خود پر کیا اپنے ان گناہوں سے بھاگا ہوں جو میں نے اپنی
نَفْسِی، هارِباً مِنْ ذُ نُوبِیَ الَّتِی احْتَطَبْتُها عَلی ظَهْرِی، فَزِعاً إلَیْکَ رَجائَ رَحْمَةِ
پشت پر اٹھا رکھے ہیں اپنے رب کی رحمت کی امید میں آپ کے پاس گھبرایا ہوا آیا ہوں اپنی گردن
رَبِّی، أَتَیْتُکَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِیدَةٍ طالِباً فَکاکَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ، وَقَدْ أَوْقَرَتْ ظَهْرِی
آگ سے چھڑانے کے لئے دور دراز کا سفر کرکے آپ کے پاس آیا کھڑا ہوں جبکہ اپنے گناہوں
ذُنُوبِی، وَأَ تَیْتُ مَا أَسْخَطَ رَبِّی، وَلَمْ أَجِدْ أَحَداً أَ فْزَعُ إلَیْهِ خَیْراً لِی
کا بار میری پشت پر ہے اور میں وہ لایا ہوں جس سے میرا رب ناراض ہے میں کسی کو نہیں پاتا کہ اس سے فریاد کروں جو میرے لئے
مِنْکُمْ أَهْلَ بَیْتِ الرَّحْمَةِ، فَکُنْ لِی شَفِیعاً یَوْمَ فَقْرِی وَحاجَتِی، فَقَدْ
آپ اہلبیتعليهالسلام رحمت سے بہتر ہو پس آپ فقر و حاجت کے دن میری شفاعت کرنے والے بن جائیں کہ میں مخزون ہو کر
سِرْتُ إلَیْکَ مَحْزُوناً، وَأَ تَیْتُکَ مَکْرُوباً، وَسَکَبْتُ عَبْرَتِی عِنْدَکَ باکِیاً
آپ کے پاس آیا اور کرب و غم کے عالم میں آپ کے حضور آیا اور آپ کی خدمت میں آکر میں نے بے بسی میں آنسو بہائے ہیں
وَصِرْتُ إلَیْکَ مُفْرَداً، وَأَ نْتَ مِمَّنْ أَمَرَ نِیَ ﷲ بِصِلَتِهِ، وَحَثَّنِی عَلی
میں سب کو چھوڑ کر آپ کی طرف چلا آیا ہوں اور آپ وہ ہیں جن سے وابستہ ہونے کا خدا نے مجھے حکم دیا جن سے اچھائی کی
بِرِّهِ، وَدَلَّنِی عَلی فَضْلِهِ، وَهَدانِی لِحُبِّهِ، وَرَغَّبَنِی فِی الْوِفادَةِ إلَیْهِ،
ترغیب دی جن کی فضیلت سے مجھے آگاہ کیا جن سے محبت رکھنے کی ہدایت کی جن کی طرف آنے کا شوق دلایا جن کی قربت میں
وَأَلْهَمَنِی طَلَبَ الْحَوائِجِ عِنْدَهُ، أَ نْتُمْ أَهْلُ بَیْتٍ لاَ یَشْقیٰ مَنْ تَوَلاَّکُمْ ، وَلاَ یَخِیبُ
طلب حاجات کرنے کی تعلیم دی اے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل خاندان آپ لوگوں کا چاہنے والا بد بخت نہیں ہے جو آپ کے پاس آئے
مَنْ أَتاکُمْ، وَلاَ یَخْسَرُ مَنْ یَهْواکُمْ، وَلاَ یَسْعَدُ مَنْ عاداکُمْ
وہ ناکام نہیں ہے جوآپ سے محبت رکھے اسے نقصان نہیں ہے جو آپ کا دشمن ہو اسے کامیابی نہیں ملتی ۔
اس کے بعد قبلہ رو ہو کر دو رکعت نماز زیارت پڑھے ۔پھر عم رسول حضرت حمزہعليهالسلام کی قبر مبارک سے لپٹ جائے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَللّٰهُمَّ إنِّی تَعَرَّضْتُ لِرَحْمَتِکَ بِلُزُومِی لِقَبْرِ عَمِّ
اے معبود! رحمت نازل کر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پراے معبود ! میں تیری رحمت کی خواہش لے کر تیرے نبی کے چچا
نَبِیِّکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ لِیُجِیرَنِی مِنْ نِقْمَتِکَ وَسَخَطِکَ وَمَقْتِکَ فِی یَوْمٍ تَکْثُرُ
عليهالسلام کی قبر مبارک کے ساتھ لپٹا ہوا ہوں تاکہ مجھ کو اس روز تیرے عذاب سے پناہ ملے جس میں ہر طرف
فِیهِ الْاََصْواتُ، وَتُشْغَلُ کُلُّ نَفْسٍ بِمَا قَدَّمَتْ وَتُجَادِلُ عَنْ نَفْسِها، فَ إنْ تَرْحَمْنِی
چیخ و پکار ہو گی اور ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال میں گھرا ہوا اپنے آپ کو ملامت کر رہا ہو گااور فقط اپنا دفاع کر رہا ہو گا پس اگر اس
الْیَوْمَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیَّ وَلاَ حُزْنٌ، وَ إنْ تُعاقِبْ فَمَوْلیً لَهُ الْقُدْرَةُ عَلی عَبْدِهِ، وَلاَ
دن تو مجھ پر رحم فرمائے تو مجھے نہ خوف ہو گا نہ غم اور اگر سزا دے گا تو بھی مولا و مالک کو اپنے غلام پر اختیار حاصل ہے اور آج
تُخَیِّبْنِی بَعْدَ الْیَوْمِ، وَلاَ تَصْرِفْنِی بِغَیْرِ حاجَتِی، فَقَدْ لَصِقْتُ بِقَبْرِ عَمِّ نَبِیِّکَ،
کے بعد مجھ کو نا امید نہ کر اور حاجات پوری کیے بغیر نہ پلٹا کیونکہ میں تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا کی قبر سے لپٹا ہوا ہوں
وَتَقَرَّبْتُ بِهِ إلَیْکَ ابْتِغائَ مَرْضاتِکَ، وَرَجائَ رَحْمَتِکَ، فَتَقَبَّلْ مِنِّی،
اور ان کے ذریعے تیرے قریب ہوا ہوں تیری خوشنودی کی جستجو اور تیری رحمت کی امید کرتا ہوں پس میری زیارت قبول فرما
وَعُدْ بِحِلْمِکَ عَلی جَهْلِی، وَبِرَأْفَتِکَ عَلی جِنایَةِ نَفْسِی، فَقَدْ عَظُمْ جُرْمِی، وَمَا
میرے جہل پر نرمی اور میرے خود پر کیے ہوئے ستم پر مہربانی سے کام لے گویا میرا جرم بڑا ہے مجھے خوف نہیں
أَخافُ أَنْ تَظْلِمَنِی وَلکِنْ أَخافُ سُوئَ الْحِسابِ، فَانْظُرِ الْیَوْمَ تَقَلُّبِی عَلی قَبْرِ عَمِّ
کہ تو مجھ پر ظلم کرے گا لیکن حساب کی سختی سے ڈرتا ہوں پس یہ دیکھ کہ آج میں تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا کی قبر پر
نَبِیِّکَ، فَبِهِمَا فُکَّنِی مِنَ النَّارِ، وَلا تُخَیِّبْ سَعْیِی، وَلاَ یَهُونَنَّ عَلَیْکَ ابْتِهالِی، وَلاَ
تڑپ رہا ہوں تو بواسطہ ان دونوں کے مجھے آگ سے آزاد فرما اور میری یہ کوشش ناکام نہ کر اپنے حضور میری زاری کو ناچیز نہ بنا میری
تَحْجُبَنَّ عَنْکَ صَوْتِی، وَلاَ تَقْلِبْنِی بِغَیْرِ حَوائِجِی، یَا غِیاثَ کُلِّ مَکْرُوبٍ وَمَحْزُونٍ
پکار کو خود تک پہنچنے سے نہ روک اور مجھے بغیر حاجت پوری کیے نہ پلٹا اے ہر مصیبت زدہ اور غمگین کے فریاد رس اے ہر
وَیَا مُفَرِّجاً عَنِ الْمَلْهُوفِ الْحَیْرانِ الْغَرِیْقِ الْمُشْرِفِ عَلَی الْهَلَکَةِ، فَصَلِّ عَلی
دکھ کے مارے پریشان حال ڈوبے ہوئے ہلاکت میں پڑے ہوئے کو ان سختیوں سے نکالنے والے پس
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَانْظُرْ إلَیَّ نَظْرَةً لاَأَشْقی بَعْدَها أَبَداً وَارْحَمْ تَضَرُّعِی وَعَبْرَتِی
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھ پر ایسی نظر فرما کہ اس کے بعد کبھی بد بختی میں نہ پڑوںمیرے آہ و نالہ اور میری بے کسی پر رحم فرما کہ
وَانْفِرادِی، فَقَدْ رَجَوْتُ رِضاکَ، وَتَحَرَّیْتُ الْخَیْرَ الَّذِی لاَ یُعْطِیهِ أَحَدٌ سِواکَ، فَلاَ
میں تیری رضا کی امید رکھتا ہوں اور اس بھلائی کا طالب ہوں جو سوائے تیرے کوئی نہیں عطا کرتا پس میری
تَرُدَّ أَمَلِی اَللّٰهُمَّ إنْ تُعاقِبْ فَمَوْلیً لَهُ الْقُدْرَةُ عَلی عَبْدِهِ وَجَزائِهِ بِسُوئِ فِعْلِهِ، فَلاَ
آس نہ توڑ اے معبود ! اگر تو سزا دے تو وہ با اختیار مالک کی طرف سے اپنے غلام کی برائی کا بدلہ ہے پس آج مجھے محروم و ناکام نہ فرما
أَخِیبَنَّ الْیَوْمَ، وَلا تَصْرِفْنِی بِغَیْرِ حَاجَتِی، وَلاَ تُخَیِّبَنَّ شُخُوصِی وَوِفادَتِی، فَقَدْ
اور مجھ کو حاجت روائی کے بغیر نہ پلٹا میرے یہاں آنے اور حاضر ہو نے کو بیکار نہ بنا کیونکہ میں
أَنْفَدْتُ نَفَقَتِی وَأَتْعَبْتُ بَدَنِی وَقَطَعْتُ الْمَفازاتِ وَخَلَّفْتُ الْاََهْلَ وَالْمالَ وَمَا خَوَّلْتَنِی
اپنا زاد راہ خرچ کر چکا تنگی و سختی اٹھائی اور بیابانوں میں سے گزرا ہوں میں اپنے اہل و عیال اور سامان
وَآثَرْتُ مَا عِنْدَکَ عَلی نَفْسِی، وَلُذْتُ بِقَبْرِ عَمِّ نَبِیِّکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ،وَتَقَرَّبْتُ
اور جو تو نے دیا پیچھے چھوڑ آیا اور اپنے لئے وہ پسند کیا جو تیرے قبضہ میں ہے اب تیرے نبی کے چچاکی قبرکی پناہ لئے ہوئے
بِهِ ابْتِغائَ مَرْضاتِکَ فَعُدْ بِحِلْمِکَ عَلی جَهْلِی وَبِرَأْفَتِکَ عَلی ذَ نْبِی
تیرا قرب چاہا اور اس کے ذریعے تیری رضائیں طلب کرتا ہوں پس اپنی نرمی کے ذریعے میری نادانی سے اور اپنی مہربانی کے سبب
فَقَدْ عَظُمَ جُرْمِی بِرَحْمَتِکَ یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ
میرے گناہ سے درگزر کر کہ میرا جرم بہت بڑا ہے واسطہ ہے تیری رحمت کا اے مہربان اے مہربان ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ جناب حمزہعليهالسلام کے اوصاف اور ان کی زیارت کی فضیلت بہت زیادہ ہے جو کہ بیان نہیں کی جاسکتی ۔فخر المحققین نے رسالہ فخریہ میں فرمایا :حضرت حمزہعليهالسلام اور أحد کے دیگر شہدائ کی زیارت کرنا مستحب ہے کیونکہ حضرت رسول سے روایت ہوئی ہے کہ فرمایا : جو شخص میری زیارت کرے اور میرے چچا حمزہعليهالسلام کی زیارت کو نہ جائے تو گویا اس نے مجھ پر ظلم کیا نیز اس حقیر نے’’ بیت الاحزان فی مصائب سیدۃ النسوان ‘‘میں نقل کیا ہے کہ حضرت رسول کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ =ہر ہفتے میں پیر اور جمعرات کو حضرت حمزہعليهالسلام اور دیگر شہدائ أحد کی زیارت کو جاتیں وہاں نماز پڑھتیں اور دعا مانگتیں حتیٰ کہ اپنی وفات تک ایسا ہی کرتی رہیں محمود بن لبید نے بیان کیا کہ سیدہ جلیلہ حضرت حمزہعليهالسلام کی قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر گریہ فرمایا کرتی تھیں ایک روز جو میں حضرت حمزہعليهالسلام کی زیارت کو گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ معظمہ حضرت حمزہعليهالسلام کی قبر پر گریہ کر رہیں ہیں۔ تب میں نے صبر سے کام لیا اور انکا گریہ تھم گیا میں انکے قریب ہوا اور سلام عرض کرنے کے بعد کہا: اے سیدہ نسواں! قسم بخدا آپ نے اپنے گریہ سے میرے دل کی رگیں کاٹ کر رکھ دیں ! بی بی نے فرمایا اے ابو عمر ! مجھے اسی طرح رونا چاہیے کہ مجھے کائنات کے بہترین باپ حضرت رسول کی وفات کا رنج پہنچا ہے ۔پھر فرمایا : ہائے خدا کے رسول سے ملنے کی آرزو اور یہ کہا :
اِذٰا مَاتَ یُوْماً مَیِتٌ قَلَّ ذِکْرُهُ
وَذِکْرُ أَبٰی مُذْ مٰاتَ وَﷲ اَکْثَرُ
جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کی یاد کم ہو جاتی ہے
لیکن بخدا کہ وفات کے بعد میرے بابا کی یاد زیادہ ہے ۔
شیخ مفید نے فرمایا: حضرت رسول نے اپنی حیات میں حضرت حمزہعليهالسلام کی قبر کی زیارت کا حکم دیااور خود بھی آپ کی اور دیگر شہدائ أحد کی زیارت کرتے رہے ،آنحضرت کی وفات کے بعد سیدہ فاطمہ = حضرت حمزہعليهالسلام کی قبر پر جاتیں تھیں اور دوسرے مسلمان بھی آپ کی زیارت کرتے اور قبر پر حاضر ہوتے تھے ۔
شہدائ أحد رضوان اللہ علیہم کی قبور کی زیارت
شہدائ احدکی زیارت کے وقت کہے :
اَلسَّلَامُ عَلی رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی نَبِیِّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ ﷲ
سلام ہو اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام ہو اللہ کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام ہو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ابن عبدعليهالسلام اللہ پر
اَلسَّلَامُ عَلی أَهْلِ بَیْتِهِ الطَّاهِرِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَ یُّهَا الشُّهَدائُ الْمُؤْمِنُونَ
سلام ہو ان کے پاک و پاکیزہ اہلعليهالسلام بیت پر سلام ہو آپ سب پر اے با ایمان شہیدان راہ خدا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَهْلَ بَیْتِ الْاِیمانِ وَالتَّوْحِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَ نْصارَ دِینِ
آپ پر سلام ہو اے ایمان اور توحید والے گھر کے افرادآپ پر سلام ہو اے دین خدا کے مددگارو
ﷲ وَأَنْصارَ رَسُو لِهِ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلَامُ، سَلامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی
اور خدا کے رسول (سلام ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر) کی نصرت کرنے والو آپ پر سلام ہوکہ آپ نے صبر کیا ہے تو آخرت میں اچھا گھر
الدَّارِ، أَشْهَدُ أَنَّ ﷲ اخْتارَکُمْ لِدِینِهِ، وَاصْطَفاکُمْ لِرَسُو لِهِ، وَأَشْهَدُ أَ نَّکُمْ قَدْ
پایا میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا نے آپ کو اپنے دین کے لئے اختیار کیا اور اپنے رسول کے لئے منتخب کیا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ
جاهَدْتُمْ فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ، وَذَبَبْتُمْ عَنْ دِینِ ﷲ وَعَنْ نَبِیِّهِ ، وَجُدْتُمْ بِأَ نْفُسِکُمْ
آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا جسطرح جہاد کا حق ہے آپ نے خدا کے دین اور خدا کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کی اور ان کیلئے اپنی جانیں
دُونَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّکُمْ قُتِلْتُمْ عَلی مِنْهاجِ رَسُولِ ﷲ، فَجَزاکُمُ ﷲ عَنْ نَبِیِّهِ وَعَنِ
قربان کی ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ بوقت شہادت آپ خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی روش پر تھے پس خداآپ کو اپنے نبی ،دین اسلام اور
الْاِسْلامِ وَأَهْلِهِ أَفْضَلَ الْجَزائِ، وَعَرَّفَنا وُجُوهَکُمْ فِی مَحَلِّ رِضْوانِهِ، وَمَوْضِعِ
اہل اسلام کی طرف سے بہترین جزادے اور اپنی خوشنودی اور مہربانی کے مقام میں ہمیں آپ کا دیدار کرائے
إکْرامِهِ مَعَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّهَدائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولئِکَ رَفِیقاً
جو نبیوں‘ شہیدوں اور صالحین کے ہمراہ و قریب ہے ان کی یہ رفاقت بہت بہترین ہے
أَشْهَدُ أَ نَّکُمْ حِزْبُ ﷲ، وَأَنَّ مَنْ حارَبَکُمْ فَقَدْ حارَبَ ﷲ، وَأَ نَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷲ کا گروہ ہیں اور جو آپ سے جنگ کرے گویا وہ خدا سے جنگ کرنیو الا ہے یقینا آپ خدا کے مقرب
الْفائِزِینَ الَّذِینَ هُمْ أَحْیائٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ، فَعَلَی مَنْ قَتَلَکُمْ لَعْنَةُ ﷲ
اسکے ہاں کامیاب ہیں اور زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں سے رزق پارہے ہیں پس جس جس نے آپ لوگوں کو قتل کیا اس پر خدا کی
وَالْمَلائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، أَ تَیْتُکُمْ یَا أَهْلَ التَّوْحِیدِ زائِراً، وَبِحَقِّکُمْ عارِفاً،
لعنت فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہو اے توحید کے پرستارو میں آپ کی زیارت کرنے آیا آپ کے حق کو پہچانتے ہوئے
وَبِزِیارَتِکُمْ إلَی ﷲ مُتَقَرِّباً وَبِمَا سَبَقَ مِنْ شَرِیفِ الْاََعْمالِ وَمَرْضِیِّ الْاََفْعالِ
اور آپ کی زیارت کے ذریعے خدا کا تقرب چاہتا ہوں اور جو بہترین اعمال اور پسندیدہ افعال آپ نے
عالِماً فَعَلَیْکُمْ سَلامُ ﷲ وَرَحْمَتُهُ وَبَرَکاتُهُ، وَعَلی مَنْ قَتَلَکُمْ لَعْنَةُ ﷲ
انجام دیئے ہیں ان کومانتا ہوں پس آپ پر سلام ہوخدا کی آپ پر رحمت ہو اور اس کی برکتیں اور جن لوگوں نے آپ کو قتل کیاان پر
وَغَضَبُهُ وَسَخَطُهُ اَللّٰهُمَّ انْفَعْنِی بِزِیارَتِهِمْ، وَثَبِّتْنِی عَلی قَصْدِهِمْ، وَتَوَفَّنِی عَلی
خدا کی لعنت اس کا غضب اور ناراضگی ہو اے معبود! مجھے ان شہدائ کی زیارت سے نفع دے مجھے ان کے مقاصد پر ثابت قدم رکھ مجھے
مَا تَوَفَّیْتَهُمْ عَلَیْهِ، وَاجْمَعْ بَیْنِی وَبَیْنَهُمْ فِی مُسْتَقَرِّ دارِ رَحْمَتِکَ، أَشْهَدُ
اس طریق پر موت دے جس پر انہیں موت دی اور اپنی رحمت کے گھر میں مجھ کو ان کیساتھ مقام و جگہ عطاکر میں گواہی دیتا ہوں کہ
أَنَّکُمْ لَنَا فَرَطٌ، وَنَحْنُ بِکُمْ لاحِقُونَ
آپ نے ہم پر سبقت حاصل کر لی ہیاور ہم آپ کے ساتھ ملحق ہونے والے ہیں۔
پھرجتنا ممکن ہو سورہ انا انزلنا ہ فی لیلۃ القدر پڑھے‘ بعض علمائ کا کہنا ہے کہ ہر زیارت کے بعدقبر کے نزدیک دو رکعت نماز زیارت بجا لائے۔
مدینہ منورہ کی باعظمت مساجد کاتذکرہ
مسجد قبائ
روز اول ہی سے اس مسجد کی بنیاد تقوی و پرہیز گاری پر رکھی گئی تھی روایت میں ہے کہ اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے پر عمرہ کا ثواب ہے۔ اس مسجد میں جاکر دو رکعت نماز تحیت مسجد پڑھے اور تسبیح فاطمہ = کے بعد زیارت جامعہ پڑھے‘ جس کی ابتدا السلام علی اولیائ ﷲ سے ہوتی ہے اس کو زیارت جامعہ اول کے عنوان سے اس باب کے آخر میں نقل کیا جائے گا۔ پھریہ دعا کرے ’’یا کائناً قبل کل شی تا آخر ‘‘یہ ایک طولانی دعا ہے اوراس کیلئے بحار الانوار کی طرف رجوع کریں:
حضرت ابراہیمعليهالسلام بن رسول کی مادر گرامی کے مکان یعنی مشربہ ام ابراہیمعليهالسلام میں دو رکعت نماز پڑھے کہ یہ مقام حضرت رسول کا مسکن اور جائے عبادت رہا ہے۔
مسجد فضیح
یہ مسجد قبائ کے نزدیک ہے اس کو مسجد ردشمس بھی کہا جاتا ہے اس میں دورکعت نماز پڑھے:
مسجد فتح
اس کو مسجد احزاب بھی کہا جاتا ہے‘ مسجد فتح میں دو رکعت نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا بھی پڑھے:
یَا صَرِیخَ الْمَکْرُوبِینَ، وَیَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، وَیَا مُغِیثَ الْمَهْمُومِینَ
اے دکھی لوگوں کی فریاد کو پہنچنے والے اے بے قراروں کی دعا قبول کرنے والے اور اے غم کے ماروں کی مدد کرنے والے
اکْشِفْ عَنِّی ضُرِّی وَهَمِّی وَکَرْبِی وَغَمِّی کَمَا کَشَفْتَ عَنْ نَبِیِّکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ
میری سختی‘ تنگی‘ پریشانی تکلیف اور رنج و غم دور کردے جیسا کہ تو نے اپنے نبی کی
وَآلِهِ هَمَّهُ، وَکَفَیْتَهُ هَوْلَ عَدُوِّهِ، وَاکْفِنِی مَا أَهَمَّنِی مِنْ أَمْرِ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، یَا
پریشانی دور فرمائی اور دشمن سے خوف میں ان کا مدد گار ہوا دنیا و آخرت کی پریشانیوں میں میری کفایت فرما اور مدد کر اے
أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
امام زین العابدین و امام جعفر صادق + کے مکانوں میں جہاں تک ہوسکے نماز پڑھے اور دعائیں مانگے۔ مسجد سلمانعليهالسلام و مسجد امیر المومنین- جو قبر حضرت حمزہ کے مقابل ہے۔ نیز مسجد مباہلہ میں تاحدامکان نماز پڑھے اور دعا و مناجات کرے۔
زیارت وداع
جب مدینے سے روانگی کا ارادہ کرئے تو غسل کرکے روضہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس جائے‘ وہاں نماز پڑھے اور دعائیں مانگے۔ پھر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے وداع ہوتے ہوئے کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ، أَسْتَوْدِعُکَ ﷲ وَأَسْتَرْعِیکَ
آپ پر سلام ہو اے ﷲ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ کو سپرد خدا کرتے ہوئے آپ سے وداع ہورہا ہوں اور خدا سے چاہتا ہوں کہ وہ آپ کی
وَأَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلامَ آمَنْتُ بِالله وَبِمَا جِئْتَ بِهِ وَدَلَلْتَ عَلَیْهِ اَللّٰهُمَّ لاَ
حرمت کا خیال رکھے اور آپ پرسلام بھیجتا ہوں میں ﷲ پر اور اس پر جو آپ لے کے آئے اور جس کی طرف آپ نے رہنمائی کی
تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی لِزِیارَةِ قَبْرِ نَبِیِّکَ، فَ إنْ تَوَفَّیْتَنِی قَبْلَ ذلِکَ فَ إنِّی
ایمان لایا ہوں اے ﷲاپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے روضہ پر اسے میری آخری حاضری قرار نہ دے پس اگر تو نے مجھے اس سے پہلے وفات دے
أَشْهَدُ فِی مَماتِی عَلی مَا شَهِدْتُ عَلَیْهِ فِی حَیَاتِی أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ
تو میں اپنی موت میں بھی اس چیز کی گواہی دوں گا جس کی گواہی میں اپنی زندگی میں دیتا ہوں وہ یہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
ہے اور یہ کہ حضرت محمد تیرے بندے اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں خدا رحمت فرمائے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر۔
حضرت رسول سے الوداع کے سلسلے میں امام جعفر صادق - نے یونس بن یعقوب سے فرمایا کہ اس طرح کہو:
صَلَی ﷲ عَلَیْکَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ لاَ جَعَلَهُ ﷲ اَخِرَ تَسْلِیْمِیْ عَلَیْکَ
خدا رحمت فرمائے آپ پر آپ پر سلام ہوکہ خدا اس سلام کو آپ پر میرا آخری سلام قرار نہ دے۔
وظائف زوار مدینہ
مولف کہتے ہیں: زائرین مدینہ کے لیے احکام بیان کرتے ہوئے ہم نے ہدیۃ الزائرین میں بیان کیا ہے کہ جب تک وہ مدینہ میں رہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے مسجد نبوی میں زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھیں کہ اس مسجد میں ایک نماز کسی اور جگہ پڑھی گئی نماز کے مقابل دس ہزار نماز کے برابر ہے۔یہاں نماز پڑھنے کا بہترین مقام وہ روضہ ہے جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی قبراطہر اور منبر کے درمیان ہے۔
واضح رہے کہ ہمارے شیخ نے تحیہ میں فرمایا ہے کہ پیغمبر اسلام اور ائمہ اطہارعليهالسلام کے مدفن کے مقامات مکہ معظمہ سے بھی اشرف اور زیادہ فضیلت والے ہیں ۔اس پر تمام فقہائ کا اجماع ہے جیسا کہ شہید نے قواعد میں تصریح کی ہے۔
حضرمی سے حدیث حسن میں منقول ہے کہ امام جعفر صادق - نے مجھے حکم دیا کہ کہ مسجد نبوی میں جہاں تک ہوسکے زیادہ سے زیادہ نمازیں ادا کروں۔ آپ نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تجھے اس مکان شریف میں آنے کا موقع ہمیشہ میسر نہیں ہوسکتا۔ شیخ طوسی نے تہذیب الاحکام میں بہ سند معتبر مرازم سے روایت نقل کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا: مدینہ میں روزہ رکھنا اور ستون کے قریب نماز پڑھنا واجب نہیں‘ واجب تو صرف ماہ رمضان کے روزے اور پنجگانہ نمازیں ہیں لیکن جو شخص چاہے روزہ رکھے یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اس مسجد میں جتنی زیادہ نمازیں پڑھ سکے پڑھے کہ یہ تمہارے لیے بہتر ہیں۔ یاد رہے کہ جب کوئی آدمی دنیا کے کاموں میں تیز طرار ہو تو لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں تو پھر انسان کو آخرت کے امور میں کیوں نہ تیز طرار ہونا چاہیے۔ پس قیام مدینہ کے دوران روزانہ کئی کئی بار حضرت رسول اور ائمہ بقیع کی زیارت کرے اور جب حجرہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نگاہ پڑے تو سلام عرض کرے۔ جب تک مدینہ میں رہے خود کو جرم و گناہ سے محفوظ رکھے‘ اس مقام کے شرف اور مرتبے کے بارے میں غور کرے کہ یہی وہ خطہ ہے جس کے کوچہ و بازار میں حضرت رسول کے قدم ہائے مبارک آئے‘ اسی مسجد میں حضور نماز ادا فرماتے یہی مقام نزول وحی ہے اور جبرائیلعليهالسلام و ملائکہ مقربین اسی جگہ اترا کرتے تھے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
أَرْضٌ مَشَی جِبْرِئیلُ فِی عَرَصاتِها
وَﷲ شَرَّفَ أَرْضَها وَسَمَائَها
یہ وہ زمین جس پر جبرائیلعليهالسلام کی آمدورفت رہی
خدا نے بھی اس زمین اور اسکے آسمان کو عزت دی
جہاں تک ممکن ہو مدینے میں خدا کے نام پرصدقہ دے۔ خصوصًا مسجد میں اور سادات عظام کا حق ادا کرنے کیلئے کیے گئے خرچ کا بہت زیادہ ثواب ہے۔ علامہ مجلسیرحمهالله نے فرمایا کہ معتبر روایت میں وارد ہوا ہے کہ مدینے میں ایک روپیہ صدقہ دیاجائے تو وہ کسی دوسری جگہ پر صدقہ دئیے ہوئے دس ہزار روپے کے برابر ہے۔ اگر حالات اجازت دیں تو مدینے میں زیادہ سے زیادہ قیام کرے کہ اقامت مدینہ مستحب ہے اور اس بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔
سَقَی ﷲ قَبْراً بِالْمَدِینَةِ غَیْثَهُ
فَقَدْ حَلَّ فِیهِ الْاََمْنُ بِالْبَرَکاتِ
خدا مدینہ میں قبر پیغمبر پر ابر رحمت فرمائے
اس میں امن اور برکتیں وارد ہوئیں
نَبِیُّ الْهُدیٰ صَلَّی عَلَیْهِ مَلِیکُهُ
وَبَلَّغَ عَنَّا رُوحَهُ التُّحَفاتِ
وہ نبی برحق جن پر فرشتے درود بھیجتے ہیں
اس پاک روح کو ہمارا تحفہ دورد پہنچے
وَصَلَّی عَلَیْهِ ﷲ مَا ذَرَّ شارِقٌ
وَلاحَتْ نُجُومُ اللَّیْلِ مُبْتَدِراتِ
خدا درود بھیجے ان پر جب تک سورج چمکے
یا رات کے وقت ستارے تاباں د روشن رہیں
چوتھی فصل
زیارت امیرالمومنین - کی فضیلت وکیفیت
اس میں چند مطالب ہیں۔
مطلب اول
فضیلت زیارت حضرت امیرالمومنین-
شیخ طوسیرحمهالله نے بہ سند صحیح محمد بن مسلم کے واسطے سے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا: خدا نے فرشتوں سے زیادہ کوئی مخلوق پیدا نہیں کی چنانچہ ہر روز ستر ہزار فرشتے بیت المعمور پر اترتے اور اسکا طواف کرتے ہیں اسکے بعد کعبہ میں آکر اسکا طواف کرتے ہیں، پھر روضہ رسول پر حاضر ہوتے اور سلام عرض کرتے ہیں اس کے بعد قبر امیر المؤمنین - پر آکر سلام پیش کرتے ہیں۔
پھر قبر امام حسین - پر حاضر ہو کر سلام کرتے ہیں اور یہاں سے آسمان کی طرف پرواز کر جاتے ہیں ۔اور تا قیامت فرشتو ں کی آمد ورفت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔آپ نے مزید فرمایا: جو شخص امیر المومنین- کی ان کے حق کو پہچانتے ہوئے زیارت کرے یعنی ان کے واجب الاطاعت امام اور خلیفہ بلا فصل ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو اور اس نے یہ زیارت مجبورا ً یا بڑائی جتانے کے لئے نہ کی ہو تو خدا اس کے لئے ایک لاکھ شھیدوں کا ثواب لکھے گا ،اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے گا ۔ وہ قیامت کے خوف و خطر سے امن میں ہو گا ،خدا اس کا حساب آسان کر دے گا اور فرشتے اس کا استقبال کر رہے ہوں گے ۔ جب وہ زیارت سے واپس جائے گا تو فرشتے اسکے ساتھ ہو ں گے جو اسکے گھر تک جائیں گے ،وہ بیمار ہو گا تو فرشتے اسکی عیادت کریں گے مرے گا تو وہ اسکے جنازے کے ہمراہ چلیں گے اور قبر تک اس کیلئے مغفرت کی دعا کرتے جائیں گے۔ سید عبد الکریم ابن طاؤس نے اپنی کتاب فرحتہ الغری میں امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ فرمایا: جو شخص امیرالمومنین- کی زیارت کو پاپیادہ جائے تو حق تعالیٰ ہر قدم کے عوض ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھے گا ۔اگر واپسی میں بھی پا پیادہ چلے تو حق سبحانہ اس کے ہر قدم کے بدلے میں اس کے لئے دو حج اور دو عمرے کا ثواب لکھے گا ۔انہوں نے امام جعفر صادق - سے یہ روایت بھی کی ہے کہ آپ نے ابن مارو سے فرمایا: اے ابن مارو! جو شخص میرے جد امیر المومنین- کے حق کو پہچانتے ہوئے آپ کی زیارت کرے تو حق تعالیٰ اسکے ہر قدم کے بدلے میں اس کیلئے حج مقبول اور عمرہ پسندیدہ کا ثواب لکھے گا۔ اے ابن مارو!جو قدم حضرت امیرالمومنین- کی زیارت میں گرد آلود ہوگا اسے آتش جہنم نہ جلائے گی خواہ پیادہ جائے یا سوار ہوکر جائے اے ابن مارو!اس حدیث کو آب زر کے ساتھ لکھ لو۔نیز آنجنابعليهالسلام سے ہی یہ روایت کی ہے کہ فرمایا:ہم کہتے ہیں کہ شہر کوفہ کے عقب میں ایک قبر ہے کہ جو دکھی شخص اس کی پناہ لیتا ہے ،حق تعالی اس کا دکھ دور کر دیتا ہے :
مؤلف کہتے ہیں : معتبر روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے تعالی نے امیر المومنین- اور ان کی پاکیزہ اولاد کے مزارات کو خوف زدہ اور ستم رسیدہ لوگوں کے لئے جائے پناہ اور اہل زمین کے لئے وسیلہ امان قرار دے رکھا ہے ۔جب کوئی غمزدہ ان کے پاس آ جاتا ہے اس کا غم دور ہوجاتا ہے اورآسیب زدہ خود کو اس سے مس کر کے شفا حاصل کرتا ہے اور جو پناہ چاہتا ہے،امان میں ہوتا ہے عبد الکریم ابن طاؤس نے محمد بن علی شیبانی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا :میں،میرا باپ اور میرا چچا حسین ۰۶۲ ھ خفیہ طور پر قبر امیر المومنین- کی زیارت کو گئے ۔جب کہ میں چھوٹا بچہ تھا ۔جب ہم قبر مبارک پر پہنچے تو دیکھا کہ آپ کی قبر کے چاروں طرف سیاہ پتھر رکھے ہوئے تھے اور اس پر کوئی عمارت نہیں بنی ہوئی تھی ۔ہم قبر مطہر کے نزدیک گئے ہم میں بعض تلاوت،بعض نماز اور بعض زیارت پڑھنے میں مشغول ہوگئے ،اچانک ہم نے کیا دیکھا کہ ایک شیر ہماری طرف آرہا ہے جب وہ ہمارے قریب آیا تب ہم قبر شریف سے ایک نیزہ بھر دور ہٹ گئے ۔وہ حیوان قبر مبارک کے نزدیک ہوا اور اپنی اگلی ٹانگیں اس سے مس کرنے لگا ہم میںسے ایک شخص اس کے قریب گیا اور اسے دیکھا۔ مگر شیر نے اسے کچھ نہ کہا ،وہ واپس آیا اور ہمیں شیر کے حال سے باخبر کیا۔تب ہمارا خوف دور ہو گیا اور ہم قبر شریف کے نزدیک چلے گئے ،ہم نے دیکھا کہ شیر کے بازو زخمی ہیں اور وہ ان کو قبر سے ملتا اور مس کرتا جارہا ہے وہ کچھ دیر کے بعد وہاں سے چلا گیا تو ہم دوبارہ تلاوت و نماز اور زیارت میں مصروف ہوگئے ۔
شیخ مفید نقل فرماتے ہیں کہ ایک دن ہارون الرشید شکار کے ارادے سے کوفہ سے باہر گیا اور غریین و ثویہ ّ(نجف وا شرف)کی طرف جا نکلا۔اس نے وہاں چند ہرن دیکھے تو شکاری باز اور شکاری کتے ان کے پیچھے لگا دیئے ،یہ دیکھ کر ہرن وہاں سے بھاگے اور ایک ٹیلے پر جا بیٹھے ۔اس پر شکاری باز ایک طرف بیٹھ گئے اور کتے پلٹ آئے،ہارون یہ صورتحال دیکھ کر حیران رہ گیا ۔وہ ہرن ٹیلے سے نیچے اترے تو بازوں اور کتوں نے دوبارہ ان کا پیچھا کیا ۔وہ پھر ٹیلے پر چڑھ گئے اور شکاری جانور پلٹ پڑے۔ یہاں تک کہ تیسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ۔ہارون سخت حیران ہوا، اس نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ جلدی سے کسی ایسے شخص کو لاؤجو اس مقام کے حالات سے واقف ہو غلام بھاگے ہوئے گئے اور قبیلہ بنی اسد میں سے ایک بوڑھے آدمی کو لے آئے، ہارون نے اس سے پوچھا کہ اس ٹیلے کا کیا ماجرا ہے اس جگہ کی کیا خصوصیت ہے ؟ اس بوڑھے نے کہا اگر آپ مجھے امان دیں تو عرض کروں !ہارون بولا: میں خدا سے عہد کرتا ہوں کہ تجھے کوئی اذیت نہ دوں گا اور تو امان میں رہے گا ،بس اب تو بات بتا دے جو تجھے اس مقام کے بارے معلوم ہے ۔بوڑھا کہنے لگا : میرے باپ نے اپنے آباؤ اجداد سے سنا اور اس نے مجھے بتایا کہ اس ٹیلے میں حضرت امیر المومنین - کی قبر ہے کہ خدا نے اس کو امن وامان کا حرم قرار دیا ہے ،جو اس کی پناہ لے گا وہ امان میں میں رہے گافقیر کہتا ہے:عرب کی کہاوتوں میں کہا گیا ہے ’’احمیٰ مِنْ مُجِیرِ الْجَرادُ‘‘یعنی فلاں شخص ٹڈیوں کو پناہ دینے والے سے زیادہ پناہ دینے والا ہے ۔اس کا قصہ یہ ہے کہ قبیلہ بنی طی کا ایک شخص مدلج بن سوید اپنے خیمے میں بیٹھا تھا کہ قبیلہ کے کچھ لوگ برتن لئے ہوئے وہاں آگئے۔ اس نے پوچھا تو کہنے لگے تمہارے خیمے کے پاس بہت سی ٹڈیاں جمع ہو گئی ہیں اور ہم پکڑنے آئے ہیں ،یہ سن کر مدلج گھوڑے پر سوار نیزہ لئے باہر نکل آیااور کہنے لگا ۔ قسم بخداجو بھی ان ٹڈیوں کو پکڑنے کی کوشش کرے گا ،میں اسے قتل کر دوں گا ، کیا یہ ٹڈی میرے پڑوس اور میری پناہ میں نہیں ہے ؟ اور تم انہیں پکڑنے آ گئے ہو ۔ایسا کبھی نہ ہوگا ! وہ ان کی نگہبانی کرتا رہا ،یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا اور وہ ٹڈیاں وہاں سے اڑ گئیں تب اس نے لوگوں سے کہا کہ اب یہ میری پناہ میں نہیں ہیں ۔ لہذا ان کے بارے میں تم جو چاہو کرتے رہو۔
صاحب قاموس کہتے ہیں کہ ذوالاعوادایک معزز اور محترم شخص کا لقب تھا بعض کا خیال ہے کہ وہ اکثم بن صیفی کا دادا تھا قبیلہ مضر کے لوگ ہر سال اسے خراج دیتے تھے، جب وہ بوڑھا ہوگیا تو وہ اسے ایک تخت پر بٹھائے قبائل عرب میں اٹھائے اٹھائے پھرتے اور اس کے نام پر خراج وصول کرتے تھے،وہ اس قدر محترم شخص تھا کہ جو خوف زدہ خود کو اس کے تخت تک پہنچاتا وہ امن میں ہوجاتا جو پست آدمی اس کے تخت کے قریب آتا وہ عزت دار بن جاتا اور جو بھوکا اس کے پاس چلا آتا وہ بھوک سے نجات پا جاتا تھا۔جب ایک عرب کے تخت کی یہ عزت و رفعت ہے تو پھر اس میں کیا تعجب ہے کہ خدائے تعالی نے اپنے ولی کہ جس کے جنازے کو اٹھانے والے جبرائیلعليهالسلام و میکائیلعليهالسلام اور امام حسن و امام حسین + رہے ہوں ،ان کی قبر کو خوف زدہ لوگوں کی پناہ ، بھاگنے والوں کی قرار گاہ اور بے کسوں کی جائے فریاد قرار دیا ہے بیماروں کی فریاد رسی اور دردمندوں کیلئے شفا قرار دیا ہو ایسا مومن جہاں کہیں بھی ہو وہ خود کو امیرالمومنین- کی قبر مطہر پر پہنچائے اور اس سے لپٹ کر آہ و زاری کرے تاکہ وہ فریاد کو پہنچے اور اس کو دنیا و آخرت کی ہلاکتوں سے نجات عطا کرے۔
لُذْ إلَی جُودِهِ تَجِدْهُ زَعِیماً
بِنَجاةِ الْعُصاةِ یَوْمَ لِقَاهَا
اس کے وجود کی پناہ لے اس سردار کے پاس آجا
وہ قیامت میں گناہ سے معافی دلائے گا
عائِدٌ لِلْمُؤَمِّلِینَ مُجِیبٌ
سامِعٌ مَا تُسِرُّ مِنْ نَجْوَاهَا
وہ امیدواروں کی امید بر لانے والا ہے
وہ راز و نیاز کا سننے والا ہے
دارالاسلام میں شیخ ویلمی سے نقل ہوا ہے اور انہوں نے نجف اشرف کے صالح بزرگوں سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ اس بارگاہ کے اندر اور باہر جتنی قبریں ہیں ان میں ہر قبر سے ایک رسی قبئہ حضرت امیرالمومنین- تک تنی ہوئی ہے ،یہ امید افزا منظر دیکھ کر اس شخص نے یہ اشعار کہے:
إذا مُتُّ فَادْفِنِّی إلَی جَنْبِ حَیْدَرٍ
أَبِی شُبَّرٍ أَکْرِمْ بِهِ وَشُبَیْرِ
جب میں مروں تو مجھے پہلوئے حیدر میں دفن کرو
کتنا بزرگوار ہے حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کا باپ
فَلَسْتُ أَخافُ النَّارَ عِنْدَ جِوارِهِ
وَلا أَتَّقِی مِنْ مُنْکَرٍ وَنَکِیرِ
ان کے زیر سایہ مجھے جہنم کا کچھ بھی خوف نہیں
اور نہ مجھ کو منکر نکیر کا ڈر ہے
فَعارٌ عَلَی حامِی الْحِمیٰ وَهُوَ فِی الْحِمیٰ
إذَا ضَلَّ فِی الْبَیْدائِ عِقالُ بَعِیرِ
حمایت کرنے والوں کے لئے عار ہے اس کی حمایت میں
اونٹ کے پاؤں کی رسی بھی گم ہو جائے
مطلب دوم
کیفیت زیارت حضرت امیرالمومنین
معلوم ہو کہ حضرت کی زیارت کی دو قسمیں ہیں
( ۱ )مطلقہ :جو کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں۔
( ۲ )مخصوصہ:جن کے پڑھنے کا وقت معین ہے ۔
مقصد اول
یہ زیارات مطلقہ کے بارے میں ہے اور وہ کثیر تعداد میں ہیں لیکن یہاں ہم چند ایک کے ذکر پر اکتفا کریں گے ان میں سے پہلی زیارت وہ ہے، جس کا ذکر شیخ مفید،شہید،سید ابن طاؤس وغیرہ نے کیا ہے۔ اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب زیارت کا ارادہ ہو تو غسل کرے دو پاک کپڑے پہنے اگر ہوسکے تو خوشبو بھی لگائے ۔جب گھر سے روانہ ہو تو کہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی خَرَجْتُ مِنْ مَنْزِلِی أَبْغِی فَضْلَکَ وَأَزُورُ وَصِیَّ نَبِیِّکَ
اے اللہ: بے شک میں اپنے گھر سے نکلا ہوں تیرے فضل کا طالب ہوںاور تیرے نبی کے وصی کی زیارت کو آیا ہوں
صَلَواتُکَ عَلَیْهِما اَللّٰهُمَّ فَیَسِّرْ ذلِکَ لِی وَسَبِّبِ الْمَزارَ لَهُ، وَاخْلُفْنِی
تیری رحمت ہو دونوں پر اے اللہ تو اسے میرے لئے آسان بنا یہ زیارت نصیب فرمااور میرے بعد میرے کاموں
فِی عاقِبَتِی وَحُزانَتِی بِأَحْسَنِ الْخِلافَةِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور میرے گھر والوں کا بہترین نگران بن اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
پھر چل پڑے جب کہ زبان پر یہ ذکر ہو
الْحَمْدُ ﷲِ، وَسُبْحانَ ﷲ، وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ
حمد خدا کے لئے ہے پاک تر ہے خدا اور ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
اور جب خندق کوفہ پر پہنچے تو کھڑے ہوکر کہے:
ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ أَهْلَ الْکِبْرِیائِ وَالْمَجْدِ وَالْعَظَمَةِ ﷲ أَکْبَرُ أَهْلَ التَّکْبِیرِ
اللہ بزر گ تر ہے اللہ بزرگ تر ہے کہ وہ بہت بڑی بڑائی کا مالک ہے بڑی شان اور بزرگی والا ہے اللہ بزرگ تر ہے وہ بڑائی کیے
وَالتَّقْدِیسِ وَالتَّسْبِیحِ وَالْاَلائِ ﷲ أَکْبَرُ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ
جانے پاکیزگی بیان کیے جانے اور یاد کیے جانے کے لائق اور نعمت والا ہے اللہ بزرگ تر ہے ہر اس چیز سے جس سے میں خائف و
ﷲ أَکْبَرُ عِمَادِی وَعَلَیْهِ أَتَوَکَّلُ، ﷲ أَکْبَرُ رَجَائِی وَ إلَیْهِ
ترساں ہوں اللہ بزرگ تر ہے جو میرا سہارا ہے اور اس پر بھروسہ کرتا ہوں اللہ بزرگ تر ہے اور میری امید ہے اسی کی طرف پلٹتا
أُنِیبُ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ وَلِیُّ نِعْمَتِی، وَالْقادِرُ عَلَی طَلِبَتِی، تَعْلَمُ حاجَتِی وَمَا تُضْمِرُهُ هَو
ہوں اے اللہ: تو ہی مجھے نعمت دینے والا اور میری حاجت بر لانے پر قادر ہے تو میری حاجت کو جانتا اور سینوں میں چھپی تمناؤں اور
اجِسُ الصُّدُورِ وَخَواطِرُ النُّفُوسِ، فأَسْأَلُکَ بِمُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَی الَّذِی قَطَعْتَ بِهِ
دلوں میں گزرنے والے خیالوں سے واقف ہے پس میں سوال کرتا ہوں تجھ سے محمد مصطفیٰصلىاللهعليهوآلهوسلم کے واسطے سے جن کے ذریعے تو حجت
حُجَجَ الْمُحْتَجِّینَ وَعُذْرَ الْمُعْتَذِرِینَ وَجَعَلْتَهُ رَحْمَةً لِلْعالَمِینَ أَنْ لاَ تَحْرِمَنِی ثَوابَ
لانے والوں کی دلیل اور عذر کرنے والوں کے عذر قطع کر دیے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو جہانوں کیلئے رحمت قرار دیا یہ کہ مجھے اپنے ولیعليهالسلام اور
زِیارَةِ وَلِیِّکَ وَأَخِی نَبِیِّکَ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ وَقَصْدَهُ، وَتَجْعَلَنِی مِنْ وَفْدِهِ الصَّالِحِینَ
اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی امیرالمومنینعليهالسلام کی زیارت اور قصد زیارت کے ثواب سے محروم نہ فرمامجھے ان کی بارگاہ میں آنے والے نیکو کاروں
وَشِیعَتِهِ الْمُتَّقِینَ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور پرہیز گار پیروکاروں میں قرار دے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
اور جب امیر المومنین کا قبہ شریفہ نظر آنے لگے تو یہ کہے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی مَا اخْتَصَّنِی بِهِ مِنْ طِیبِ الْمَوْلِدِ، وَاسْتَخْلَصَنِی إکْراماً بِهِ
حمد خدا کے لئے ہے اس پرکہ اس نے مجھ کو پاکیزگیئ ولادت کا شرف عطا کیا اور وہ بزرگوارجو نشان فضیلت پاکیزہ تر پیغام
مِنْ مُوَالاةِ الْاََبْرارِ السَّفَرَةِ الْاََطْهارِ، وَالْخِیَرَةِ الْاََعْلامِ اَللّٰهُمَّ فَتَقَبَّلْ سَعْیِی إلَیْکَ
رساںاور چنے ہوئے نمایاں افراد ہیں مجھے ان سے محبت رکھنے کی عزت بخشی ہے اے اللہ: میں نے تیری طرف آنے کی جو کوشش کی
وَتَضَرُّعِی بَیْنَ یَدَیْکَ، وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی لاَ تَخْفَیٰ عَلَیْکَ، إنَّکَ أَنْتَ ﷲ
اور تیرے حضور جو تضرع و زاری کی ہے اسے قبول فرما اور میرے گناہ معاف کردے کہ جو تجھ سے مخفی و پوشیدہ نہیں ہیں بے شک تو وہ
الْمَلِکُ الْغَفّارُ
اللہ ہے جو بہت بخشنے والا بادشاہ ہے۔
مؤلف کہتے ہیں: جب قبئہ امیر المومنینعليهالسلام کی دیدار سے زائر پر شوق و شادمانی کی حالت طاری ہوتی جائے اور وہ چاہتا ہو کہ اپنی پوری توجہ آنجناب کیطرف کرے تو جس زبان و بیان میں ممکن ہو حضرت کی مدح و ثنائ میں مصروف ہو جائے اور خصوصا زائر اگر اہل علم و کمال ہو تو وہ چاہتا ہے کہ اگر اسے اس سلسلے میں کچھ بہترین اشعار یاد ہوں تو ان کے ذریعے سے اپنے جذبات کا اظہار کرے ۔
اس بنا پر مجھے خیال آیا کہ شیخ ازری کے قصیدہ ہائیہّ أُزریہ میں سے چند مناسب حال اشعار یہاں نقل کردوں ۔امید واثق ہے کہ زائر مجھ جیسے سیاہ کار کا سلام بھی اس بارگاہ عالی میں پہنچائے گا اور اس عاجز کو دعائے خیر میں فراموش نہ کرے گا ۔ وہ اشعار یہ ہیں ۔
أَیُّهَا الرَّاکِبُ الْمُجِدُّ رُوَیْداً
بِقُلُوبٍ تَقَلَّبَتْ فِی جَوَاها
اے تیز رفتار سوار مہلت دے
ان دلوں کو جو سوز میں تڑپتے ہیں
إنْ تَرائَتْ أَرْضُ الْغَرِیَّیْنِ فَاخْضَعْ
وَاخْلَعِ النَّعْلَ دُونَ وادِی طُواها
جب تو زمین نجف کو دیکھے تو جھک جا
اس وادی طویٰ میں آنے سے قبل جوتے اتار دے
وَ إذا شِمْتَ قُبَّةَ الْعالَمِ
الْاََعْلیٰ وَأَنْوارُ رَبِّها تَغْشاها
جب تو عالم بالا کے اس قبئہ کو دیکھے گا
تو اس کے رب کا نور تیری آنکھیں منور کردے گا ۔
فَتَواضَعْ فَثَمَّ دارَةُ قُدْسٍ
تَتَمَنَّیٰ الْاََفْلاکُ لَثْمَ ثَراها
جھک جا کہ یہ پاکیزگی کا وہ میدان ہے ،
کہ آسمان اس کی خاک کو چومنا چاہتا ہے
قُلْ لَهُ وَالدُّمُوعُ سَفْحُ عَقِیقٍ
وَالْحَشا تَصْطَلِی بِنارِ غَضاها
ان سے کہو جبکہ آنکھوں میں خون کے آنسو ہوں
اور دل ان کے عشق میں سوزاں ہو
یَابْنَ عَمِّ النَّبِیِّ أَنْتَ یَدُ ﷲ
الَّتِی عَمَّ کُلَّ شَیْئٍ نَداها
اے نبی کے ابن عم آپ اللہ کا وہ ہاتھ ہیں
جس سے ہر چیز کو عطا وبخشش ملتی ہے
أَنْتَ قُرْآنُهُ الْقَدِیمُ وَأَوْصافُکَ
آیاتُهُ الَّتِی أَوْحاها
آپ وہ قرآن اول ہیں جس کے اوصاف
ان آیتوں میں آئے جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہوئیں
خَصَّکَ ﷲ فِی مَأثِرَ شَتّیٰ
هِيَ مِثْلُ الْاََعْدادِ لاَ تَتَناهیٰ
خدا نے آپ کو بہت سی صفات میں خاص کیا
کہ جو اعداد کی طرح بے انتہا ہیں
لَیْتَ عَیْناً بِغَیْرِ رَوْضِکَ تَرْعیٰ
قَذِیَتْ وَاسْتَمَرَّ فِیها قَذاها
ہائے وہ آنکھ جو آپ کے روضہ کے سوا کسی چیز کو دیکھے
اس میں خاک پڑے اور ہمیشہ ہی پڑی رہے ۔
أَنْتَ بَعْدَ النَّبِیِّ خَیْرُ الْبَرایا
وَالسَّما خَیْرُ ما بِها قَمَراها
بعد از نبی آپ ساری مخلوق سے بہتر ہیں
جیسے آسمان میں شمس و قمر سب سے بہتر ہیں
لَکَ ذاتٌ کَذاتِهِ حَیْثُ لَوْلا
أَنَّها مِثْلُها لَما آخاها
آپ نبی اکرم کی مانند ہیں کہ آپ نہ ہوتے
تو نہ کوئی ان کی مانند ہوتا نہ ان کا بھائی بنتا
قَدْ تَراضَعْتُما بِثَدْیِ وِصالٍ
کانَ مِنْ جَوْهَرِ التَّجَلِّی غِذاها
آپ دونوں نے ایک جگہ سے روحانی غذا پائی
تجلیات کا جوہر ہی آپ دونوں کی غذا ہے
یا أَخَا الْمُصْطَفیٰ لَدَیَّ ذُنُوب
هِيَ عَیْنُ الْقَذا وَأَنْتَ جَلاها
اے مصطفی کے بھائی میں گناہ گار ہوں
میری آنکھوں میں دھول ہے اور آپ اس کی روشنی ہیں
لَکَ فِی مُرْتَقَی الْعُلیٰ وَالْمَعالِی
دَرَجاتٌ لاَ یُرْتَقیٰ أَدْناها
آپ کے لئے درجات کی بہت بلندیاں ہیں
وہ درجات جن تک کوئی نہیں پہنچ پاتا
لَکَ نَفْسٌمِنْ مَعْدِنِ اللُّطْفِ صِیغَتْ
جَعَلَ ﷲ کُلَّ نَفْسٍ فِداها
آپ کا نفس لطافت کے خزانے سے بنایا گیا
خدا ہر نفس کو آپ کا فدیہ قرار دے
جب نجف اشرف کے دروازے پر پہنچے تو کہے :
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی هَدانا لِهَذا وَمَا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْلا أَنْ هَدانَا ﷲ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی
حمد خدا کے لئے ہے جس نے ہمیں راستہ دکھایا اور اگر وہ رہبری نہ فرماتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہو سکتے تھے حمد خدا کے لئے ہے جس نے
سَیَّرَنِی فِی بِلادِهِ وَحَمَلَنِی عَلَی دَوابِّهِ وَطَویٰ لِیَ الْبَعِیدَ وَصَرَفَ عَنِّی الْمَحْذُورَ
مجھے شہروں سے گزارااپنے چوپایوں پر سواری کرائی دور کی مسافت طے کرنے کی توفیق دی رکاوٹیں رفع فرمائیں
وَدَفَعَ عَنِّی الْمَکْرُوهَ، حَتَّی أَقْدَمَنِی حَرَمَ أَخِی رَسُو لِهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
اور برائی کو مجھ سے دور رکھا یہاں تک کہ میں اس کے رسول کے برادر کی بارگاہ میں پہنچ گیا ہوں۔
پس شہر نجف میں داخل ہو کہ کہے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَدْخَلَنِی هذِهِ الْبُقْعَةَ الْمُبارَکَةَ الَّتِی بارَکَ ﷲ فِیها وَاخْتارَها
حمد خدا کے لئے ہے جس نے مجھے اس بابرکت پر نور حرم میں داخل کیاجسے اللہ نے مبارک بنایا اور اس کو اپنے نبی کے وصی کیلئے
لِوَصِیِّ نَبِیِّهِ اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْها شاهِدَةً لِی
پسند کیا اے معبود ! اس روضہ کو میرا گواہ قرار دے۔
جب پہلے دروازہ پر پہنچے:
اَللّٰهُمَّ بِبابِکَ وَقَفْتُ وَبِفِنٰائِکَ نَزَلْتُ وَبِحَبْلِکَ اعْتَصَمْتُ وَلِرَحْمَتِکَ تَعَرَّضْتُ
اے معبود ! تیرے آستاں پر کھڑا ہوں تیرے در پر آیا ہوںتیری رسی پکڑے ہوں تیری رحمت کا امیدوار ہوں تیرے ولی کو وسیلہ
وَبِوَلِیِّکَ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ تَوَسَّلْتُ، فَاجْعَلْها زِیارَةً مَقْبُولَةً، وَدُعَاء مُسْتَجاباً
بنایا ہے ان پر تیری رحمت ہو پس میری اس زیارت کو قبول فرمااور دعائیں سن لے۔
جب صحن کے دروازہ پر آئے تو کہے:
اَللّٰهُمَّ إنَّ هذَا الْحَرَمَ حَرَمُکَ، وَالْمَقامَ مَقامُکَ، وَأَنَا أَدْخُلُ إلَیْهِ أُناجِیکَ بِمَا أَنْتَ
اے معبود! بے شک یہ بارگاہ تیری بارگاہ ہے یہ مقام تیرا مقام ہے اور میں اس میں داخل ہوا ہوں میں تجھ سے مناجات کررہا ہوں کہ
أَعْلَمُ بِهِ مِنِّی وَمِنْ سِرِّی وَنَجْوایَ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الْحَنَّانِ الْمَنَّانِ الْمُتَطَوِّلِ الَّذِی مِنْ
تو مجھ سے زیادہ میرے باطن و راز کوجانتا ہے حمد خدا کے لئے ہے جو محبت والا احسان والا عطا والا ہے وہ جس کی عطا یہ ہے کہ اپنے
تَطَوُّلِهِ سَهَّلَ لِی زِیارَةَ مَوْلایَ بِ إحْسانِهِ، وَلَمْ یَجْعَلْنِی عَنْ زِیارَتِهِ مَمْنُوعاً، وَلاَ
احسان سے میرے مولا کی زیارت مجھ پر آسان کر دی اس نے مجھے ان کی زیارت سے باز نہیں رکھا اور نہ
عَنْ وِلایَتِهِ مَدْفُوعاً، بَلْ تَطَوَّلَ وَمَنَحَ اَللّٰهُمَّ کَمَا مَنَنْتَ عَلَیَّ بِمَعْرِفَتِهِ فَاجْعَلْنِی
انکی ولایت سے دور کیا ہے بلکہ مجھ پر عطا و بخشش کی ہے اے معبود ! جیسے تو نے مجھ پر مولا کی معرفت کا احسان فرمایا ہے پس مجھے ان
مِنْ شِیعَتِهِ، وَأَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ بِشَفاعَتِهِ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
کے شیعوں میں قرار دے اور ان کی شفاعت سے مجھے جنت میں داخل فرما اے سب سے زیادہ رحم والے۔
پھر داخل ہو جائے اور کہے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَکْرَمَنِی بِمَعْرِفَتِهِ وَمَعْرِفَةِ رَسُو لِهِ وَمَنْ فَرَضَ عَلَیَّ طاعَتَهُ رَحْمَةً
حمد خدا کیلئے ہے جس نے اپنی معرفت اور اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی معرفت سے مجھے عزت دی وہ جس نے مجھ پر رحمت فرماتے ہوئے اور مجھ
مِنْهُ لِی، وَتَطَوُّلاً مِنْهُ عَلَیَّ، وَمَنَّ عَلَیَّ بِالْاِیْمانِ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَدْخَلَنِی حَرَمَ
پر احسان کرتے ہوئے اپنی اطاعت مجھ پر واجب ٹھہرائی اور ایمان دے کر مجھ پر مہربانی فرمائی حمد اللہ کیلئے ہے جس نے مجھ کو اپنے نبی
أَخِی رَسُو لِهِ وَأَرانِیهِ فِی عافِیَةٍ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی جَعَلَنِی مِنْ زُوّارِ قَبْرِ وَصِیِّ
کے بھائی کے حرم میں داخل کیا اور امن کے ساتھ یہ جگہ دکھائی حمد اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے وصیعليهالسلام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے روضہ کے زائرین
رَسُو لِهِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ
میں قرار دیا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ
مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ جائَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ ﷲ، وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِیَّاً عَبْدُ ﷲ وَأَخُو
حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے بندے و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں وہ خدا کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علیعليهالسلام خدا کے بندے اور
رَسُولِ ﷲ، ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ
رسول خدا کے بھائی ہیں اللہ بزرگ تر ہے اللہ بزرگ تر ہے اللہ بزرگ تر ہے اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں اور اللہ بزرگ تر ہے حمد خدا
عَلَی هِدایَتِهِ وَتَوْفِیقِهِ لِما دَعا إلَیْهِ مِنْ سَبِیلِهِ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ أَ فْضَلُ مَقْصُودٍ
کے لئے ہے کہ جس نے اپنے دین کی ہدایت و توفیق دی جسکی طرف اس نے بلایا اے معبود! بے شک تو سب سے بڑا مطلوب اور
وَأَکْرَمُ مَأْتِیٍّ، وَقَدْ أَتَیْتُکَ مُتَقَرِّباً إلَیْکَ بِنَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ،
وہ بہترین ہے جسکے پاس آیا جاتا ہے اور میں تیری خدمت میں حاضر ہوا قرب کے لئے بوسیلہ تیرے نبی کے جو نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم رحمت ہیں اور
وَبِأَخِیهِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ عَلَیْهِمَا اَلسَّلَامُ، فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
بواسطہ ان کے بھائی امیرالمومنین علیعليهالسلام ابن ابی طالبعليهالسلام کے سلام ہو ان دونوں پر پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمد
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلاَ تُخَیِّبْ سَعْیِی، وَانْظُرْ إلَیَّ نَظْرَةً رَحِیمَةً تَنْعَشُنِی بِها، وَاجْعَلْنِی
پر رحمت فرما اور میری یہ کوشش ناکام نہ بنا نظر فرما مجھ پر مہربانی کی نظر کہ جس سے تو مجھے سنبھالا دے اور مجھے دنیا و آخرت
عِنْدَکَ وَجِیهاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ
میں اپنے نزدیک عزت دار اور اپنے مقربین میں قرار دے۔
جب برآمدے کے دروازہ پر پہنچے تو کھڑا ہو جائے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ ﷲ أَمِینِ ﷲ عَلَی وَحْیِهِ وَعَزائِمِ أَمْرِهِ، الْخاتِمِ لِمَا سَبَقَ
سلام ہو خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پرجو وحیئ خدا کے امین اسرار الہی کے شناسا نبیوں کے خاتم علوم آسمانی کے بیان کر نے والے
وَالْفاتِحِ لِمَا اسْتُقْبِلَ، وَالْمُهَیْمِنِ عَلَی ذلِکَ کُلِّهِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَی
اورتمام تر مادی و روحانی علوم کے نگہبان ہیں آپ پر اللہ کی رحمت ہواور اس کی برکتیں سلام ہو
صاحِبِ السَّکِینَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَدْفُونِ بِالْمَدِینَةِ،اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَنْصُورِ
سکینہ و وقار کے مالک نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام ہو حضرت پر جو مدینہ میں دفن ہیں سلام ہو نصرت دیئے گئے تائید شدہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
الْمُؤَیَّدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی الْقاسِمِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ ﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
سلام ہو ابولقاسم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ابن عبد اللہ پراور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
پھر برآمدے میں داخل ہو اور اس وقت دایاں پاؤں آگے رکھے اور دروازہ حرم پر کھڑے ہو کر کہے:
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اورگواہی دیتا ہوں حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے بندہ اور
جائَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِهِ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ، اَلسَّلَامُ
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں جو اس کی طرف سے حق لے کر آئے اور رسولوں کی تصدیق فرمائی آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ پر
عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ وَخِیَرَتَهُ مِنْ خَلْقِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِیر الْمُؤْمِنِینَ عَبْدِ ﷲ
سلام ہو اے خدا کے دوست اور اس کی مخلوق میں اس کے چنے ہوئے ہیں سلام ہو امیرالمومنینعليهالسلام پر جو خدا کے بندے اور اس کے
وَأَخِی رَسُولِ ﷲ، یَا مَوْلایَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی ہیں اے میرے آقا اے مومنوں کے سردار آپ کا غلام آپ کے غلام اور آپ کی کنیز کا بیٹا آپ کی
جَاءَکَ مُسْتَجِیراً بِذِمَّتِکَ، قاصِداً إلی حَرَمِکَ، مُتَوَجِّهاً إلی مَقَامِکَ، مُتَوَسِّلاً إلَی
خدمت میں آیا آپ سے پناہ لینے آپ کے حرم میں حاضر ہوا ہے آپ کے مقام بلند کے ذریعے اللہ کے حضور آپ کو اپنا
ﷲ تَعَالی بِکَ، أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ أَأَدْخُلُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَأَدْخُلُ یَا حُجَّةَ ﷲ
وسیلہ بنا رہا ہے اے میرے آقا کیا میں اندر آجاؤں اے مومنوں کے سردار کیا میں اندر آجاؤں اے حجت خدا آیا میں اندر آجاؤں
أَأَدْخُلُ یَا أَمِینَ ﷲ أَأَدْخُلُ یَا مَلائِکَةَ ﷲ الْمُقِیمِینَ فِی هذَا الْمَشْهَدِ یَا مَوْلایَ
اے امین خدا میں اندر آؤں اے خدا کے فرشتو جو اس بارگاہ میں رہتے ہو کیا میں اندر داخل ہو جاؤں اے میرے مولا کیا آپ مجھے
أَتَأْذَنُ لِی بِالدُّخُولِ أَفْضَلَ مَا أَذِنْتَ لاََِحَدٍ مِنْ أَوْلِیائِکَ فَ إنْ لَمْ أَکُنْ لَهُ أَهْلاً
اندر آنے کی اجازت دیتے ہیں اس سے بہتر اجازت جو آپ نے اپنے کسی محب کو دی پس اگر میں ایسی اجازت ملنے کا اہل نہیں
فَٲَنْتَ ٲَھْلٌ لِذلِکَ
آپ تو یہ اجازت دینے کے اہل ہیں ۔
پھر چوکھٹ پر بوسہ دے دایاں پاؤں اندر رکھے اور داخل ہوتے وقت کہے:
بِسْمِ ﷲ، وَبِالله، وَفِی سَبِیلِ ﷲ، وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے خدا کی راہ میںاور خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دین پر کہ خدارحمت کرے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَتُبْ عَلَیَّ إنَّکَ أَنْتَ التَّوّابُ الرَّحِیمُ
اے اللہ!مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما اور میری توبہ قبول کر لے بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔
اب آگے بڑھے تاکہ قبر شریف کے سامنے پہنچے پھر کھڑا ہوجائے اور قبر کے نزدیک ہونے سے پہلے اپنا رخ قبر کی طرف کرے اور کہے :
اَلسَّلَامُ مِنَ ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ رَسُولِ ﷲ أَمِینِ ﷲ عَلَی وَحْیِهِ وَرِسالاتِهِ وَعَزائِمِ
خدا کی طرف سے سلام ہو خدا کے رسول حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جو خدا کی وحی اور اس کے پیغاموں اور احکام دین کے امین ہیں
أَمْرِهِ وَمَعْدِنِ الْوَحْیِ وَالتَّنْزِیلِ الْخاتِمِ لِما سَبَقَ، وَالْفاتِحِ لِمَا اسْتُقْبِلَ، وَالْمُهَیْمِنِ
وحی و آیات کے خزینہ دار ہیں نبیوں کے خاتم علوم آسمانی کے بیان کرنے والے اور تمام مادی و روحانی علوم
عَلَی ذلِکَ کُلِّهِ، الشَّاهِدِ عَلَی الْخَلْقِ، السِّراجِ الْمُنِیرِ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْهِ وَرَحْمَةُ ﷲ
کے محافظ ہیں مخلوق پر گواہ و شاہد روشنی پھیلانے والا چراغ ہیں سلام ہو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی
وَبَرَکاتُهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ الْمَظْلُومِینَ أَفْضَلَ وَأَکْمَلَ وَأَرْفَعَ
برکتیں اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہلبیتعليهالسلام پر رحمت نازل فرما جو مظلوم ہیں ان پر بہترین اس سے کامل تر بلند تر
وَأَشْرَفَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَ نْبِیائِکَ وَرُسُلِکَ وَأَصْفِیائِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی
اور بزرگتر رحمت فرماجو تو نے اپنے نبیوں اپنے رسولوں اور اپنے پسند کئے ہوؤں میں سے کسی پر کی ہے اے معبود! مومنوں کے
أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَبْدِکَ وَخَیْرِ خَلْقِکَ بَعْدَ نَبِیِّکَ، وَأَخِی رَسُولِکَ، وَوَصِیِّ
سردار پر رحمت نازل فرما جو تیرے بندے اور تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد ساری مخلوق میں بہترین تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی اور تیرے وصی کے
حَبِیبِکَ الَّذِی انْتَجَبْتَهُ مِنْ خَلْقِکَ، وَالدَّلِیلِ عَلَی مَنْ بَعَثْتَهُ بِرِسالاتِکَ، وَدَیَّانِ
حبیب ہیں کہ جنکو تو نے اپنی مخلوق کے درمیان سے چنا وہ رہنمائی کرتے ہیں اس ہستی کیطرف جسے تو نے اپنا پیغمبر بنایا وہ قیامت
الدِّینِ بِعَدْلِکَ، وَفَصْلِ قَضائِکَ بَیْنَ خَلْقِکَ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْهِ وَرَحْمَةُ ﷲ
میں تیرے عدل سے جزا دینے والے اور تیری مخلوق میں انصاف کا فیصلہ کرنے والے ہیں سلام ہو امیر المؤمنینعليهالسلام پر اور خدا کی رحمت ہو
وَبَرَکاتُهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی آلاَءِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ الْقَوَّامِینَ بِأَمْرِکَ مِنْ بَعْدِهِ
اور اس کی برکتیں اے معبود! ان ائمہ پر رحمت فرماجو ان کی اولاد سے ہیں کہ ان کے بعد تیرے امر دین کو قائم رکھنے والے ہیں وہ
الْمُطَهَّرِینَ الَّذِینَ ارْتَضَیْتَهُمْ أَنْصاراً لِدِینِکَ وَحَفَظَةً لِسِرِّکَ، وَشُهَدائَ عَلَی خَلْقِکَ
پاک پاکیزہ ہیں جن کو تو نے اپنے دین کی نصرت کے لئے پسند فرمایا وہ تیرے اسرار کے محافظ تیری مخلوق پر گواہ وشاہد اور تیرے
وَأَعْلاماً لِعِبادِکَ، صَلَواتُکَ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ
بندوں کے لئے نشان ہدایت ہیں تیری رحمتیں ہوں ان سب پر سلام ہو امیر المومنین علیعليهالسلام ابن
أَبِی طالِبٍ وَصِیِّ رَسُولِ ﷲ وَخَلِیفَتِهِ وَالْقَائِمِ بِأَمْرِهِ مِنْ بَعْدِهِ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ
ابی طالبعليهالسلام پر جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے وصی ان کے جانشین اور ان کے بعد ان کی ذمہ داریاں نبھانے والے اور اوصیائ کے سردار ہیں
وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی فاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
خدا کی رحمت ہو ان پر اور اس کی برکتیں سلام ہو جناب فاطمہ پر جو خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دختر
سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سَیِّدَیْ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہو حضرت حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام پر جو دونوں ساری مخلوق میں سے جوانان
مِنَ الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی آلاَءِمَّةِ الرَّاشِدِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی الْاََنْبِیائِ وَالْمُرْسَلِینَ
جنت کے سردار ہیں سلام ہو ہدایت دینے والے ائمہعليهالسلام پر سلام ہو تمام نبیوں اور رسولوں پر سلام ہو
اَلسَّلَامُ عَلَی آلاَءِمَّةِ الْمُسْتَوْدَعِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی خاصَّةِ ﷲ مِنْ خَلْقِهِ، اَلسَّلَامُ
ان ائمہعليهالسلام پر جن کو نبوت کی امانتیں دی گئیں سلام ہو ان پر جو مخلوق میں سے خاصان خدا ہیں سلام ہو
عَلَی الْمُتَوَسِّمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ الَّذِینَ قامُوا بِأَمْرِهِ وَوازَرُوا أَوْلِیائَ ﷲ وَخافُوا
صاحبان عقل وخرد پر سلام ہو ان مومنوں پر جو حکم خدا پر کاربند ہوئے خدا کے اولیائ کے مددگار بنے
بِخَوْفِهِمْ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَلائِکَةِ الْمُقَرَّبِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنا وَعَلَی عِبَادِ ﷲ الصَّالِحِینَ
اور ان کے خوف میں خائف ہیں سلام ہو مقرب بارگاہ فرشتوں پر سلام ہوہم پر اور خدا کے نیک اور خوش کردار بندوں پر۔
یہاں تک کہ قبر کے نزدیک کھڑا ہو جائے پھر پشت بہ قبلہ اور قبر کی طرف رخ کرے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا
آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے امیر آپ پر سلام ہو اے خدا کے حبیب آپ پر سلام ہو اے
صَفْوَةَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
خدا کے چنے ہوئے آپ پر سلام ہو اے خدا کے ولی سلام ہو آپ پر اے خدا کی حجت آپ پر سلام ہو
یَا إمامَ الْهُدیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلَمَ التُّقیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْوَصِیُّ الْبَرُّ
اے ہدایت والے امام آپ پر سلام ہو اے پرہیز گاری کے نشان آپ پر سلام ہو اے وصی نیک
التَّقِیُّ النَّقِیُّ الْوَفِیُّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَمُودَ
پرہیزگار پاکباز اور وفادار آپ پر سلام ہو اے حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کے والد آپ پر سلام ہو اے دین کے
الدِّینِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْوَصِیِّینَ، وَأَمِینَ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَدَیَّانَ یَوْمِ الدِّینِ،
ستون آپ پر سلام ہو اے اوصیائ کے سردار جہانوں کے رب کے امانتدار روز قیامت بحکم خدا جزا دینے والے،
وَخَیْرَ الْمُؤْمِنِینَ، وَسَیِّدَ الصِّدِّیقِینَ، وَالصَّفْوَةَ مِنْ سُلالَةِ النَّبِیِّینَ، وَبابَ حِکْمَةِ
مومنوں میں بہترین، صدیقوں کے سردار نبیوں کی اولاد میں سے برگزیدہ و پسندیدہ، جہانوں کے رب کی
رَبِّ الْعالَمِینَ وَخازِنَ وَحْیِهِ، وَعَیْبَةَ عِلْمِهِ، وَالنَّاصِحَ لاَُِمَّةِ نَبِیِّهِ، وَالتَّالِیَ لِرَسُولِهِ
حکمت کے دروازے، وحی خدا کے خزینہ دار اور اس کے علم کا ذخیرہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی امت کے خیر خواہ اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیروکار
وَالْمُواسِیَ لَهُ بِنَفْسِهِ، وَالنَّاطِقَ بِحُجَّتِهِ، وَالدَّاعِیَ إلی شَرِیعَتِهِ، وَالْماضِیَ عَلَی
اور ان کے جانثار رفیق ان کی حجت کے بیان کرنے والے ان کی شریعت کی طرف بلانے والے اور ان کی سنت پر
سُنَّتِهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ عَنْ رَسُولِکَ مَا حُمِّلَ، وَرَعیٰ مَا اسْتُحْفِظَ،
چلنے والے اے معبود! میں گواہی دیتا ہوں کہ امیرالمومنینعليهالسلام نے تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے علوم بیان فرمائے اور جو علوم انکے پاس تھے انکی نگہداری کی
وَحَفِظَ مَا اسْتُودِعَ، وَحَلَّلَ حَلالَکَ، وَحَرَّمَ حَرامَکَ، وَأَقامَ أَحْکامَکَ، وَجاهَدَ
جو اسرار انکے سپرد ہوئے ان کی حفاظت فرمائی تیرے حلال کو حلال اور حرام کو حرام قرار دیا تیرے احکام کو نافذ کیا انہوں نے بیعت
النَّاکِثِینَ فِی سَبِیلِکَ، وَالْقاسِطِینَ فِی حُکْمِکَ، وَالْمَارِقِینَ عَنْ أَمْرِکَ، صابِراً
توڑ دینے والے تیرے حکم سے منہ موڑ لینے والوں اور تیرے دین سے نکل جانے والوں سے تیری راہ میں جہاد کیا جس میں صبر و
مُحْتَسِباً لاَ تَأْخُذُهُ فِیکَ لَوْمَةُ لائِمٍ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ
حوصلہ سے کا م لیا اور تیرے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کی اے اللہ !رحمت فرما حضرت امیرعليهالسلام پر بہترین رحمت جو تو
مِنْ أَوْلِیائِکَ وَأَصْفِیائِکَ وَأَوْصِیائِ أَنْبِیائِکَ اَللّٰهُمَّ هذَا قَبْرُ وَلِیِّکَ الَّذِی فَرَضْتَ
نے اپنے ولیوں اپنے برگزیدہ اور اپنے نبیوں کے وصیوں میں سے کسی پر کی ہو اے معبود! یہ تیرے اس ولی کی قبر ہے جسکی اطاعت
طاعَتَهُ، وَجَعَلْتَ فِی أَعْناقِ عِبادِکَ مُبایَعَتَهُ، وَخَلِیفَتِکَ الَّذِی بِهِ تَأْخُذُ
تو نے واجب کی جس کی بیعت کا حلقہ تو نے اپنے بندوں کی گردنوں میں ڈالا یہ تیرے خلیفہ کی قبر ہے جس کے ذریعے تو اخذ کرتا ہے
وَتُعْطِی، وَبِهِ تُثِیبُ وَتُعاقِبُ، وَقَدْ قَصَدْتُهُ طَمَعاً لِما أَعْدَدْتَهُ لاََِوْلِیائِکَ، فَبِعَظِیمِ
اور عطا کرتا ہے وہی تیرے ثواب و عقاب کا معیار ہے میں نے ان کی زیارت کا قصد کیا اس اجر کی خواہش میں جو تو نے اپنے اولیائ
قَدْرِهِ عِنْدَکَ وَجَلِیلِ خَطَرِهِ لَدَیْکَ وَقُرْبِ مَنْزِلَتِهِ مِنْکَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
کیلئے رکھا ہے پس بواسطہ انکی بڑی شان اور مرتبہ کے جو تیرے ہاں ہے اور انکو جو تقرب تجھ سے ہے اسکا واسطہ کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما
وَافْعَلْ بِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ فَ إنَّکَ أَهْلُ الْکَرَمِ وَالْجُودِ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ
اور مجھ سے وہ برتاؤ کر جو تیرے شایاں ہے کہ یقینا تو کرم و بخشش والا ہے اور آپ پر سلام ہو اے میرے آقا
وَعَلَی ضَجِیعَیْکَ آدَمَ وَنُوحٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ
اور سلام آپ کے دونوں ساتھیوں آدمعليهالسلام اور نوحعليهالسلام پرجو آپ کے پہلو میں ہیں خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ۔
پس ضریح مبارک کو بوسہ دے اور سر کی جانب کھڑے ہو کر کہے:
یَا مَوْلایَ إلَیْکَ وُفُودِی، وَبِکَ أَتَوَسَّلُ إلَی رَبِّی فِی بُلُوغِ مَقْصُودِی ، وَأَشْهَدُ أَنَّ
اے میرے آقا میں آپ کی بارگاہ میں آیا ہوں اپنے رب کے حضور آپ کو وسیلہ بنا رہا ہوں کہ میرا مقصد حاصل ہو جائے اور گواہی
الْمُتَوَسِّلَ بِکَ غَیْرُ خَائِبٍ وَالطَّالِبَ بِکَ عَنْ مَعْرِفَةٍ غَیْرُ مَرْدُودٍ إلاَّ بِقَضَائِ حَوَائِجِهِ
دیتا ہوں کہ آپ کو وسیلہ بنانے والا ناکام نہیں ہوتا آپ کے ذریعے طلب کرنے والا بامعرفت حاجات پوری کیے بغیر کبھی نہیں لوٹایا
فَکُنْ لِی شَفِیعاً إلَی ﷲ رَبِّکَ وَرَبِّی فِی قَضائِ حَوائِجِی وَتَیْسِیرِ أُمُورِی
گیا پس آپ خدا کے حضور میں شفاعت کریں جو آپکا اور میرا رب ہے تاکہ میری حاجتیں پوری ہوں میرے کام بن جائیں میری
وَکَشْفِ شِدَّتِی، وَغُفْرانِ ذَنْبِی، وَسَعَةِ رِزْقِی، وَتَطْوِیلِ عُمْرِی، وَ إعْطَائِ سُؤْلِی
مشکل حل ہو جائے میرے گناہ بخشے جائیں میرے رزق میں فراوانی ہو میری زندگی بڑھ جائے اور میری دنیا و آخرت کی تمام
فِی آخِرَتِی وَدُنْیایَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ الْحَسَنِ
حاجات پوری ہوجائیں اے معبود! امیرالمومنینعليهالسلام کے قاتلوں پر لعنت فرما اے معبود! حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کے قاتلوں
وَالْحُسَیْنِ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ آلاَءِمَّةِ وَعَذِّبْهُمْ عَذَاباً أَلِیماً لاَ تُعَذِّبُهُ أَحَداً مِنَ الْعَالَمِینَ
پر لعنت فرما اے معبود! تمام ائمہعليهالسلام کے قاتلوں پر لعنت کر اوران کو ایسا دردناک عذاب دے جو تمام جہانوں میں کسی کو نہ دیا ہوبہت
عَذاباً کَثِیراً لاَ انْقِطاعَ لَهُ وَلاَ أَجَلَ وَلاَ أَمَدَ بِما شاقُّوا وُلاةَ أَمْرِکَ، وَأَعِدَّ لَهُمْ
زیادہ عذاب جو کبھی ختم نہ ہو نہ اس کی مدت مقرر ہو نہ کوئی انتہا ہو جیسا کہ انہوں نے تیرے والیان امر کو ستایا ان کے لئے وہ عذاب
عَذاباً لَمْ تُحِلَّهُ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ اَللّٰهُمَّ وَأَدْخِلْ عَلَی قَتَلَةِ أَ نْصارِ رَسُولِکَ، وَعَلَی
مہیا کر جو تو نے مخلوق میں سے کسی پرنہ اتارا ہو اے معبود ! یہ عذاب قاتلان انصار رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بھی دے اور قاتلان
قَتَلَةِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَعَلَی قَتَلَةِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ، وَعَلَی قَتَلَةِ أَنْصارِ الْحَسَنِ
امیرالمومنینعليهالسلام قاتلان حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام اور قاتلان انصار حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام اور ان سب کے قاتلوں کو
وَالْحُسَیْنِ، وَقَتَلَةِ مَنْ قُتِلَ فِی وِلایَةِ آلِ مُحَمَّدٍ أَجْمَعِینَ عَذاباً أَلِیماً مُضاعَفاً فِی
یہ عذاب دے جو ولایت آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ماننے کی پاداش میں قتل ہوئے ان قاتلوں کو سخت عذاب دے جو بڑھتا رہے دوزخ کے سب سے
أَسْفَلِ دَرَکٍ مِنَ الْجَحِیمِ لاَ یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذابُ وَهُمْ فِیهِ مُبْلِسُونَ مَلْعُونُونَ
نچلے طبقے جحیم میں کہ ان کے عذاب میں کبھی کمی نہ آئے اور وہ اس میں مایوس و ملعون اپنے رب کے
ناکِسُو رُؤُوسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَدْ عَایَنُوا النَّدامَةَ وَالْخِزْیَ الطَّوِیلَ لِقَتْلِهِمْ عِتْرَةَ
سامنے سر جھکائے ہوئے اپنی پشیمانی اور طویل ذلت کو دیکھتے ہوں کیونکہ انہوں نے تیرے
أَنْبِیائِکَ وَرُسُلِکَ وَأَتْباعَهُمْ مِنْ عِبادِکَ الصَّالِحِینَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ فِی مُسْتَسِرِّ
نبیوں اور رسولوں کی اولاد اور انکے ساتھیوں کو قتل کیا جو تیرے نیک بندوں میں سے تھے اے اللہ ! اپنی زمین اور آسمان میں ان پر پوشیدہ
السِّرِّ، وَظاهِرِ الْعَلانِیَةِ فِی أَرْضِکَ وَسَمَائِکَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ فِی
اور ظاہر طور پر لعنت کی بوچھاڑ کرتا رہ اے معبود ! مجھے اپنے دوستوں کی راہ پر ثابت قدم
أَوْلِیائِکَ، وَحَبِّبْ إلَیَّ مَشَاهِدَهُمْ وَمُسْتَقَرَّهُمْ حَتَّی تُلْحِقَنِی بِهِمْ وَتَجْعَلَنِی لَهُمْ
فرما اور مجھے ان کی مزاروں اور بارگاہوں کی محبت سے معمور کردے حتی کہ مجھے ان سے ملا دے اور مجھے دنیا و آخرت
تَبَعاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
میں ان کا تابع قرار دے اے سب سے زیادہ رحم والے ۔
اس کے بعد امیرالمومنین- کی ضریح مبارک کو بوسہ دے اور پشت بہ قبلہ کھڑا ہو اور امام حسین- کی قبر کی طرف رخ کرے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ
آپ پر سلام ہو اے ابو عبدعليهالسلام اللہ آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند سلام ہو آپ پر اے
أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ
امیرالمومنینعليهالسلام کے فرزند سلام ہو آپ پر اے فاطمہ زہرا کے فرزند جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہو
عَلَیْکَ یَا أَبَا آلاَءِمَّةِ الْهادِینَ الْمَهْدِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَرِیعَ الدَّمْعَةِ السَّاکِبَةِ،
آپ پر اے ان ائمہعليهالسلام کے باپ جو ہدایت یافتہ ہدایت دینے والے ہیںسلام ہو آپ پر اے وہ مقتول جس کے نام پر آنسو نکلتے ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صاحِبَ الْمُصِیبَةِ الرَّاتِبَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی جَدِّکَ وَأَبِیکَ،
سلام ہو آپ پر اے لگاتار مصیبت والے مظلوم سلام ہو آپ پر اور آپ کے نانا اور بابا پر
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی أُمِّکَ وَأَخِیکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی آلاَءِمَّةِ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ وَبَنِیکَ
سلام ہو آپ پر اور آپ کی والدہ پر اور بھائی پر سلام ہو آپ پر اور ان ائمہعليهالسلام پر جو آ پ کی ذریت و اولاد میں ہیں
أَشْهَدُ لَقَدْ طَیَّبَ ﷲ بِکَ التُّرابَ، وَأَوْضَحَ بِکَ الْکِتابَ، وَجَعَلَکَ
میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا نے آپ کے خون سے زمین کو پاکیزہ بنایا آپ کے وجود سیحقیقت کتاب واضح فرمائی اور آپ کو آپ کے
وَأَبَاکَ وَجَدَّکَ وَأَخاکَ وَبَنِیکَ عِبْرَةً لاَُِولِی الْاََلْبَابِ ، یَابْنَ الْمَیَامِینَ الْاََطْیَابِ
والد، نانا جان کو آپ کے بھائی کو اور آپ کے فرزندوں کو صاحبان عقل کے لئے
التَّالِینَ الْکِتابَ، وَجَّهْتُ سَلامِی إلَیْکَ، صَلَواتُ ﷲ وَسَلامُهُ عَلَیْکَ
عبرت بنایا اے تلاوت قرآن کرنے والے پاکیزہ و مبارک بزرگوں کے فرزند میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوںآپ پر خدا کی طرف
وَجَعَلَ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِی إلَیْکَ مَا خابَ مَنْ تَمَسَّکَ بِکَ وَلَجَأَ إلَیْکَ
سے درود و سلام ہو اور وہ نیک لوگوں کے دلوں کو آپکی طرف مائل کرے آپ سے تعلق رکھنے اور آپکی پناہ لینے والا کبھی ناکام نہیں ہو گا ۔
پھر ضریح مبارک کی پائنتی جا ئے اور کھڑے ہو کر یہ کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی آلاَءِمَّةِ وَخَلِیلِ النُّبُوَّةِ وَالْمَخْصُوصِ بِالْاَُخُوَّةِ، اَلسَّلَامُ عَلَی
سلام ہو ائمہعليهالسلام کے پدر بزرگوار مقام نبوت کے خلیل اور پیغمبر کے برادر خاص پر سلام ہو
یَعْسُوبِ الدِّینِ وَالْاِیمانِ وَکَلِمَةِ الرَّحْمٰنِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مِیزانِ الْاََعْمالِ وَمُقَلِّبِ
دین و ایمان کے سردار اور کلمہ رحمان پر سلام ہو اعمال کے معیار اور میزان پر
الْاََحْوالِ وَسَیْفِ ذِی الْجَلالِ وَساقِی السَّلْسَبِیلِ الزُّلالِ، اَلسَّلَامُ عَلَی صالِحِ
جو حالات کو بدل دینے والے صاحب جلال خدا کی تلوار اور آب کوثر و سلسبیل کے ساقی ہیں سلام ہو سب سے بہتر مومن پر
الْمُؤْمِنِینَ وَوارِثِ عِلْمِ النَّبِیِّینَ وَالْحاکِمِ یَوْمَ الدِّینِ، اَلسَّلَامُ عَلَی شَجَرَةِ التَّقْویٰ
جو نبیوں کے علوم کے وارث اور روز جزا میں حکم کرنے والے ہیں سلام ہو ان پر جو تقوی کادرخت ہیں راز اور سرگوشی کو
وَسامِعِ السِّرِّ وَالنَّجْویٰ، اَلسَّلَامُ عَلَی حُجَّةِ ﷲ الْبالِغَةِ وَنِعْمَتِهِ السَّابِغَةِ وَنِقْمَتِهِ
سننے والے ہیںسلام ہو خدا کی کامل ترین حجت پر جو اس کی نعمت واسعہ اور اس کی طرف سے سزا دینے
الدَّامِغَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الصِّراطِ الْواضِحِ وَالنَّجْمِ اللاَّئِحِ وَالْاِمَامِ النَّاصِحِ وَالزِّنادِ
والے ہیں سلام ہو ان پر جو خدا کا روشن راستہ چمکتا ہوا ستارہ شفقت کرنے والا امام اور منارئہ
الْقَادِحِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ
نور ہیں ان پر خدا کی رحمت اور برکتیں ۔
اس کے بعد کہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ أَخِی نَبِیِّکَ وَوَلِیِّهِ وَناصِرِهِ
اے معبود! رحمت فرما مومنوں کے سردار علیعليهالسلام ابن ابی طالبعليهالسلام پر جو تیرے نبی کے بھائی ان کے ولی ان کے مددگار
وَوَصِّیِهِ وَوَزِیرِهِ وَمُسْتَوْدَعِ عِلْمِهِ وَمَوْضِعِ سِرِّهِ وَبابِ حِکْمَتِهِ وَالنَّاطِقِ بِحُجَّتِهِ
ان کے وصی ان کے وزیر ان کے علم کے خزینہ دار ان کے راز داںان کی حکمت کے دروازہ ان کی حجت بیان کرنے والے ان کی
وَالدَّاعِی إلی شَرِیعَتِهِ، وَخَلِیفَتِهِ فِی أُمَّتِهِ، وَمُفَرِّجِ الْکَرْبِ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَاصِمِ
شریعت کی طرف بلانے والے امت میں ان کے قائم مقام اور خلیفہ ان سے سختی دورہٹانے والے کافروں کی کمر
الْکَفَرَةِ وَمُرْغِمِ الْفَجَرَةِ، الَّذِی جَعَلْتَهُ مِنْ نَبِیِّکَ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسیٰ اَللّٰهُمَّ
توڑنے والے اور فاجروں کو پست کرنے والے کہ جن کو تو نے اپنے نبی کے ساتھ وہ مرتبہ دیا جو موسیٰ کے ساتھ ہارون کا تھا اے اللہ !
والِ مَنْ والاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ، وَالْعَنْ مَنْ
اس کے دوست سے دوستی اور اس کے دشمن سے دشمنی رکھ جو اس کی کرے اس کی مدد کر اور چھوڑ دے اس کوجو اس کو چھوڑ دے
نَصَبَ لَهُ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، وَصَلِّ عَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ
اور لعنت کر اس پر اولین و آخرین میں سے جو ان کے مقابل آیا اور رحمت فرما حضرت امیرعليهالسلام پر وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے نبیوں
أَوْصِیائِ أَ نْبِیائِکَ، یَا رَبَّ الْعالَمِینَ
کے اوصیائ میں سے کسی پر کی ہو اے جہانوں کے پالنے والے ۔
نماز و زیارت آدم و نوح
پھر ضریح مبارک کے سرہا نے کی طرف جائے اور حضرت آدمعليهالسلام اور حضرت نوحعليهالسلام کی زیارت کرے پس حضرت آدمعليهالسلام کی زیارت کے لئے کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے چنے ہوئے آپ پر سلام ہو اے خدا کے دوست سلام ہو آپ پر اے خدا
ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیفَةَ ﷲ فِی أَرْضِهِ، اَلسَّلَامُ
کے نبیعليهالسلام سلام ہو آپ پر اے وحی الہی کے امین سلام ہو آپ پر اے زمین میں خدا کے خلیفہ سلام ہو
عَلَیْکَ یَا أَبَا الْبَشَرِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی رُوحِکَ وَبَدَنِکَ، وَعَلَی الطَّاهِرِینَ مِنْ
آپ پر اے ابو البشر سلام ہو آپ پر آپ کی روح پر آپ کے جسم پر اور سلام ان پاک بزرگواروں پر جو آپ کے فرزند اور آپ کی
وُلْدِکَ وَذُرِّیَّتِکَ وَصَلَّی ﷲ عَلَیْکَ صَلاةً لاَ یُحْصِیها إلاَّ هُوَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ
اولاد میں ہیں خدا رحمت کرے آپ پر وہ رحمت جس کا اندازہ اس کے سوا کوئی نہیں لگا سکتا اور خدا کی رحمت ہو اور برکتیں ۔
پھر حضرت نوح - کی زیارت کے لئے کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ
سلام ہو آپ پر اے خدا کے نبیعليهالسلام سلام ہو آپ پر اے خدا کے چنے ہوئے سلام ہو آپ پر اے خدا کے ولی
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَیْخَ الْمُرْسَلِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا
سلام ہو آپ پر اے خدا کے دوست سلام ہو آپ پر اے نبیوں کے بزرگ سلام ہو آپ پر اے
أَمِینَ ﷲ فِی أَرْضِهِ، صَلَوَاتُ ﷲ وَسَلامُهُ عَلَیْکَ وَعَلَی رُوحِکَ وَبَدَنِکَ وَعَلَی
زمین میں وحی خدا کے امین خدا کا درود و سلام ہو آپ پر آپ کی روح پرآپ کے بدن پر اور سلام ہو ان پاک بزرگواروں پر
الطَّاهِرِینَ مِنْ وُلْدِکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
جو آپ کی اولاد میں سے ہیں اور خدا کی رحمت ہو اور برکتیں ہوں۔
پھر اسکے بعد چھ رکعت نماز پڑھے، دو رکعت برائے امیرالمومنین- کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورئہ رحمن اور دوسری رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد سورئہ یٰس کی تلاوت کرے نماز کے بعد تسبیح فاطمہ زہرا =پڑھے اور اپنے لئے بخشش طلب کرتے ہوئے دعا کرے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی صَلَّیْتُ هاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ هَدِیَّةً مِنِّی إلی سَیِّدِی وَمَوْلایَ وَلِیِّکَ وَأَخِی
اے معبود! یقینا میں نے جو یہ دو رکعت نماز پڑھی میری طرف سے یہ ہدیہ ہے میرے سردار اور میرے آقا کے لئے جو تیرے ولی
رَسُولِکَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَسَیِّدِ الْوَصِیِّینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ
اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی مومنوں کے امیراور اوصیائ کے سردار علیعليهالسلام ابن ابیطالبعليهالسلام ہیں کہ ان پر خدا کی
وَعَلَی آلِهِ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْها مِنِّی وَاجْزِنِی عَلَی ذلِکَ جَزَائَ
رحمتیں ہوں اور ان کی اولاد پر پس اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمد پر رحمت فرما میری یہ نماز قبول فرما اور اس پر مجھے جزا دے
الْمُحْسِنِینَ اَللّٰهُمَّ لَکَ صَلَّیْتُ وَلَکَ رَکَعْتُ وَلَکَ سَجَدْتُ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ
جو نیک بندوں کے لئے ہے اے معبود ! میں نے تیرے لئے نماز پڑھی تیرے لئے رکوع کیا اور تیرے لئے سجدہ کیا تو یکتا ہے تیرا
لاََِ نَّهُ لاَتَکُونُ الصَّلاة وَالرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ إلاَّ لَکَ لاََِنَّکَ أَ نْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ
کوئی شریک نہیں لہذا تیرے سوا کسی کیلئے نماز رکوع اور سجدہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بے شک تو ہی اللہ ہے تیرے سوائ کوئی معبود نہیں ہے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْ مِنِّی زِیَارَتِی، وَأَعْطِنِی سُؤْلِی بِمُحَمَّدٍ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما میری یہ زیارت قبول فرما اور میری حاجت بر لا حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی
وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
پاک آلعليهالسلام کے واسطہ سے ۔
اس کے بعد مزید چار رکعت نماز برائے ہدیہ حضرت آدم و نوح + پڑھے پھر سجدہ شکر بجالائے اور حالت سجدہ میں کہے :
اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ تَوَجَّهْتُ وَبِکَ اعْتَصَمْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ اَللّٰهُمَّ أَ نْتَ ثِقَتِی وَرَجائِی
اے معبود ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں تجھ سے تعلق جوڑا ہے اور تجھ پر بھروسہ کیا ہے اے معبود ! تو ہی میرا سہارا اور میری امید
فَاکْفِنِی مَا أَهَمَّنِی وَمَا لاَ یُهِمُّنِی وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّی، عَزَّ جارُکَ، وَجَلَّ ثَناؤُکَ
ہے پس میرے سب چھوٹے بڑے کاموں میں میری مدد فرما اور ان امور میں جن کو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے تیری پناہ بڑی اور
وَلاَ إلهَ غَیْرُکَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَقَرِّبْ فَرَجَهُمْ
تیری ثنائ بزرگ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور ان کے ظہور کو قریب فرما ۔
اب اپنا دایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے:
ارْحَمْ ذُ لِّی بَیْنَ یَدَیْکَ،وَتَضَرُّعِی إلَیْکَ، وَوَحْشَتِی مِنَ النَّاسِ، وَأُ نْسِی بِکَ، یَا
خدایا اپنے حضور میری عاجزی اور میری آہ و زاری پر رحم فرما رحم کر کہ میں لوگوں سے دور اور تیرے قریب ہوا ہوں اے
کَرِیمُ یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ
مہربان اے مہربان اے مہربان ۔
اب اپنا بایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے:
لاَ إلهَ إلاَّ أَ نْتَ رَبِّی حَقَّاً حَقَّاً، سَجَدْتُ لَکَ یَا رَبِّ تَعَبُّداً وَرِقَّاً اَللّٰهُمَّ
تیرے سوائ کوئی معبود نہیں ہے جو میرا سچا رب ہے اے پروردگار میں نے تیرے لئے سجدہ کیا عبادت و بندگی کے ساتھ اے معبود!
إنَّ عَمَلِی ضَعِیفٌ فَضاعِفْهُ لِی، یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ
بے شک میرا عمل کمتر ہے تو اسے میرے لئے بڑھا دے اے مہربان اے مہربان اے مہربان ۔
حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا
اس کے بعد سجدے میں جائے اور سو (۱۰۰) مرتبہ کہے شکراً اور بہت زیادہ دعائیں مانگے یہ طلب حاجات کا بہترین مقام ہے۔ زیادہ سے زیادہ استغفار کرے کہ یہ گناہوں کے بخشے جانے کا موقع ہے اور خدائے تعالی سے اپنی حاجتیں طلب کرے کہ یہاں دعائیں قبول ہونے کی جگہ ہے ۔ اور سید ابن طاؤس اور دیگر علمائ کا کہنا ہے کہ زائر جب تک نجف اشرف میں مزار کے اندر رہے تو ہر نماز کے بعد خواہ ’’فریضہ ہو یا نافلہ‘‘یہ دعا پڑھتا رہے :
اَللّٰهُمَّ لاَبُدَّ مِنْ أَمْرِکَ، وَلاَبُدَّ مِنْ قَدَرِکَ، وَلاَبُدَّ مِنْ قَضَائِکَ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ
اے معبود تیرا حکم یقینی ہے تیری تقدیر حتمی اور لازمی ہے تیرا فیصلہ ضروری ہے اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر
بِکَ اَللّٰهُمَّ فَمَا قَضَیْتَ عَلَیْنَا مِنْ قَضَائٍ أَوْ قَدَّرْتَ عَلَیْنَا مِنْ قَدَرٍ فَأَعْطِنَا مَعَهُ صَبْراً
وہ جو تجھی سے ہے اے معبود !اپنی قضا میں سے جو تو نے ہم پر جاری کی ہے یا اپنی جو تقدیر ہم پر لازم کی ہے اس کیلئے ہمیں ایسا صبر
یَقْهَرُهُ وَیَدْمَغُهُ، وَاجْعَلْهُ لَنا صَاعِداً فِی رِضْوانِکَ، یُنْمِی فِی حَسَناتِنا وَتَفْضِیلِنا
عطا فرما جو خواہشوں پرغالب ہو اور ان کو دبائے اسے ہمارے لئے وسیلہ بنا کہ تیری خوشنودی حاصل کریں جو دنیا و آخرت میں
وَسُوَْدَدِنا وَشَرَفِنا وَمَجْدِنا وَنَعْمائِنا وَکَرامَتِنا فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَلاَ تَنْقُصْ
ہماری نیکیوں ہماری بلندیوں ہماری بزرگیوںہماری عزتوں ہماری بڑائیوں ہماری نعمتوں اور منزلتوں میں اضافے کا ذریعہ بنے اور تو
مِنْ حَسَناتِنا اَللّٰهُمَّ وَمَا أَعْطَیْتَنا مِنْ عَطائٍ، أَوْ فَضَّلْتَنا بِهِ مِنْ فَضِیلَةٍ، أَوْ أَکْرَمْتَنا
ہماری نیکیوں میں کچھ کمی نہ آنے دے اے معبود ! جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے یا جو بڑائی تو نے ہمیں بخشی ہے یا جو عزت ووقار
بِهِ مِنْ کَرامَةٍ فَأَعْطِنا مَعَهُ شُکْراً یَقْهَرُهُ وَیَدْمَغُهُ، وَاجْعَلْهُ لَنا صاعِداً فِی رِضْوانِکَ
ہمیں عنایت کیا ہے ہمیں اس کے ساتھ شکر کی توفیق دے جو اس پر غالب رہے اس کو ہمارے لئے وسیلہ بنا کہ تیری خوشنودی حاصل
وَفِی حَسَناتِنا وَسُوَْدَدِنا وَشَرَفِنا وَنَعْمائِنا وَ کَرامَتِنَا فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَلاَ
کریں جو دنیا و آخرت میں ہماری نیکیوں ہماری بلندیوں ہماری بزرگیوں نعمتوں اورہماری عزتوںمیں اضافے کا ذریعہ بن جائے
تَجْعَلْهُ لَنا أَشَراً وَلاَبَطَراً وَلاَفِتْنَةً وَ لاَ مَقْتاً وَلاَ عَذاباً وَلاَ خِزْیاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ
اور اسے ہمارے لئے غرور و تکبر اور فتنہ قرار نہ دینا اور دنیا و آخرت میں ہمارے لئے عذاب و رسوائی کا موجب نہ بنا
اَللّٰهُمَّ إنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ عَثْرَةِ اللِّسَانِ، وَسُوئِ الْمَقامِ، وَخِفَّةِ الْمِیزانِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
اے معبود! ہم تیری پناہ لیتے ہیںزبان کی لغزش، برے ٹھکانے اور میزان عمل کی کمی سے اے معبود!
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلَقِّنا حَسَناتِنا فِی الْمَماتِ، وَلاَ تُرِنا أَعْمالَنا حَسَراتٍ،
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل و محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور موت کے بعد ہمیں ہماری نیکیاں دکھا اور ہماری بد کرداریاں ہمارے آگے نہ لا
وَلاَ تُخْزِنا عِنْدَ قَضائِکَ، وَلاَ تَفْضَحْنا بِسَیِّئاتِنا یَوْمَ نَلْقاکَ، وَاجْعَلْ قُلُوبَنَا تَذْکُرُکَ
اپنے فیصلے کے وقت ہمیں رسوا نہ کر اور جس روز ہم تیرے حضور میں پیش ہوں ہمیں گناہوں پر شرمندہ نہ کر ہمارے دلوں کو اپنی یاد میں
وَلاَ تَنْسَاکَ، وَتَخْشَاکَ کَأَ نَّها تَراکَ حَتَّی تَلْقاکَ، وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
لگا کہ تجھے فراموش نہ کریں اور تجھ سے ایسے ڈریں گویا تجھے دیکھ رہے ہیں پھر اسی حال میں حاضر ہوجائیں اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل و محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت
وَبَدِّلْ سَیِّئاتِنَا حَسَنَاتٍ، وَاجْعَلْ حَسَناتِنَا دَرَجَاتٍ، وَاجْعَلْ دَرَجاتِنا غُرُفاتٍ
فرما اور ہماری بدیاں نیکیوں میں بدل کر دے نیکیوں کو بلندی درجات کا ذریعہ بنا دے ہمارے درجات کو مکانات جنت بنا دے اور
وَاجْعَلْ غُرُفاتِنا عَالِیاتٍ اَللّٰهُمَّ وَأَوْسِعْ لِفَقِیرِنا مِنْ سَعَةِ مَا قَضَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ
ہمارے مکانات جنت کو بلند تر کر دے اے اللہ! ہم میں سے جو محتاج ہے اسے وسعت رزق دے جیسا کہ تو نے خود پر واجب کر رکھا ہے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمُنَّ عَلَیْنا بِالْهُدَی مَا أَبْقیْتَنا، وَالْکَرامَةِ مَا
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور جب تک ہم باقی ہیں ہدایت دے کر ہم پر احسان فرما جب تک زندہ ہیں عزت و آبرو
أَحْیَیْتَنا، وَالْکَرامَةِ إذا تَوَفَّیْتَنا، وَالْحِفْظِ فِیما بَقِیَ مِنْ عُمْرِنا، وَالْبَرَکَةِ فِیما رَزَقْتَنا
دے جب مریں تو ہمیں بخشش سے نواز ہماری بقا و زندگی میں ہماری حفاظت فرما جو رزق ہمیں دیا ہے اس میں برکت عطا کر فرائض
وَالْعَوْنِ عَلَی مَا حَمَّلْتَنا، وَ الثَّباتِ عَلَی مَا طَوَّقْتَنا، وَلاَ تُؤاخِذْنا بِظُلْمِنا، وَلاَ
کی ادائیگی میں مدد فرما جو طاقت ہمیں دی ہے اسے قائم رکھ ہمارے ظلم پر ہماری گرفت نہ فرما ہماری
تُقایِسْنا بِجَهْلِنا، وَ لاَ تَسْتَدْرِجْنا بِخَطَایَانا، وَاجْعَلْ أَحْسَنَ مَا نَقُولُ ثابِتاً فِی
جہالت پر حساب نہ کر ہماری خطاؤں کے باعث عذاب میں اضافہ نہ کر ہم جو اچھی بات کہتے ہیں وہ ہمارے دلوں میں
قُلُوبِنا، وَ اجْعَلْنا عُظَمائَ عِنْدَکَ، وَأَذِلَّةً فِی أَ نْفُسِنا، وَانْفَعْنا بِما عَلَّمْتَنا، وَزِدْنا
نقش فرما دے اورہمیں اپنے حضور بڑا بنا اور خود ہمارے نزدیک ہمیں پست بنائے رکھ جو علم تو نے دیا ہے اسے مفید قرار دے اور مفید
عِلْماً نافِعاً، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ، وَمِنْ عَیْنٍ لاَ تَدْمَعُ، وَمِنْ صَلاةٍ لاَ
علم میں اضافہ فرما اور میں تیری پناہ لیتا ہوں نہ ڈرنے والے دل سے اور آنسو نہ بہانے والی آنکھ سے اور قبول نہ ہونے
تُقْبَلُ، أَجِرْنا مِنْ سُوئِ الْفِتَنِ یَا وَلِیَّ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ
والی نماز سے ہمیں بری آزمائش سے بچائے رکھ اے دنیا و آخرت کے ولی و حاکم ۔
مصباح الزائر میں سید فرماتے ہیں کہ امیر المومنین- کی نماز زیارت کے بعد ایک اور مستحب دعا بھی پڑھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے:
یَاﷲ یَاﷲ یَاﷲ یَا مُجِیْبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّیْنَ.الخ
اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے پریشان حال کی دعا قبول کرنے والے ۔
یہ فقیر کہتا ہے کہ یہ وہی دعائے صفوان ہے جو دعائے علقمہ کے نام سے معروف ہے اس کا ذکر زیارت عاشور کے ذیل میں آئے گا ۔
حرم امیر المومنین ـ میںزیارت امام حسین ـ
واضح رہے کہ امام حسین- کے سر کی زیارت مستحب ہے جو قبر امیرالمومنین- کے نزدیک ہے وسائل ومستدرک میں اسکے بارے میں ایک علیحدہ باب ترتیب دیا گیا ہے۔
مستدرک میں محمد بن مشہدی کی کتاب مزار سے نقل کیا گیا ہے کہ امام جعفر صادق - نے امیر المومنین- کے سرہانے کیطرف امام حسین- کے سر کی زیارت پڑھی اور اسکے قریب چار رکعت نماز ادا فرمائی۔ وہ زیارت یہ ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیر المومنینعليهالسلام کے فرزند آپ پر سلام ہو
یَابْنَ الصِّدِّیقَةِ الطَّاهِرَةِ سَیِّدةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ
اے صدیقہ طاہرہ کے فرزند جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہوآپ پر اے میرے مولا اے ابو عبدعليهالسلام اللہ
ﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ قَدْ أَ قَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ
خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ نے نماز قائم کی اور زکوۃ ادا فرمائی آپ نے نیکی
بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتَلَوْتَ الْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِهِ وَجاهَدْتَ فِی ﷲ حَقَّ
کرنے کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا آپ نے تلاوت قرآن کا حق ادا کیا اور خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا
جِهادِهِ، وَصَبَرْتَ عَلَی الْاََذیٰ فِی جَنْبِهِ مُحْتَسِباً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ
اس میں آپ نے اذیت پر صبر کیا اصلاح حال کی خاطر حتیٰ کہ شہادت قبول کر لی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک
الَّذِینَ خالَفُوکَ وَحارَبُوکَ، وَأَنَّ الَّذِینَ خَذَلُوکَ، وَالَّذِینَ قَتَلُوکَ مَلْعُونُونَ عَلَی
جنہوں نے آپ کی مخالفت کی آپ سے جنگ کی جنہوں نے آپ کی نصرت نہ کی اور جنہوں نے آپ کو قتل کیا وہ نبی امی کے فرمان
لِسانِ النَّبِیِّ الْاَُمِّیِّ، وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَریٰ، لَعَنَ ﷲ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاََوَّلِینَ
کے مطابق ملعون ٹھہرائے گئے ہیں اور جس نے آپ پر بہتان باندھا وہ رسو اہوا خدا کی لعنت ہو اولین و آخرین پر جنہوں نے آپ
وَالْاَخِرِینَ وَضاعَفَ عَلَیْهِمُ الْعَذابَ الْاََلِیمَ، أَ تَیْتُکَ یَا مَوْلایَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ
پر ظلم ڈھایا ان کے دردناک عذاب میں اضافہ ہوتاچلا جائے اے میرے مولا اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند میں آپ کی زیارت کو آیا
زائِراً عارِفاً بِحَقِّکَ مُوالِیاً لاََِوْ لِیائِکَ مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ مُسْتَبْصِراً بِالْهُدَیٰ الَّذِی
ہوں آپکے حق کو پہچانتا ہوں آپکے دوستوں کا دوست آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں اس ہدایت کو حق سمجھتا ہوں جس کو آپ نے
أَنْتَ عَلَیْهِ عارِفاً بِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکَ فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ
اختیار کیا آپ کے مخالفوں کی گمراہی سے واقف ہوں پس اپنے رب کے ہاں میری شفاعت فرمائیں۔
زیارت امام حسین مسجد حنانہ
مؤلف کہتے ہیں کہ اس زیارت کو مسجد حنانہ میں پڑھنا مستحب ہے ۔کیونکہ شیخ محمد بن مشہدی نے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے مسجد حنانہ میں امام حسین- کیلئے یہی زیارت پڑھی اور چار رکعت نماز ادا فرمائی ۔مخفی نہ رہے کہ مسجد حنانہ نجف اشرف کی مقدس مسجدوں میں سے ہے اور ایک روایت میں ہے کہ امام حسین- کا سر اقدس وہیں مدفون ہے ۔ایک روایت ہے کہ امام جعفر صادق - نے وہاں دو رکعت نماز پڑھی ،لوگوں نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے پوچھا کہ یہ کونسی نماز ہے، آپ نے فرمایا یہ وہ جگہ ہے جہاں میرے جد امجد امام حسین- کا سر اقدس رکھا گیا تھا جب کربلا سے لا کر یہاں ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ آنجناب سے روایت کی گئی ہے کہ فرمایا :اس مقام پر یہ دعا پڑھا کرو :
اَللّٰهُمَّ إنَّکَ تَریٰ مَکَانِی، وَتَسْمَعُ کَلامِی، وَلاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ شَیْئٌ مِنْ أَمْرِی، وَکَیْف
اے معبود ! بے شک تو دیکھتا ہے جہاں میں کھڑا ہوں اور میری بات سنتا ہے میرے امور میں سے کچھ بھی تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے اور
یَخْفیٰ عَلَیْکَ مَا أَنْتَ مُکَوِّنُهُ وَبارِئُهُ وَقَدْ جِئْتُکَ مُسْتَشْفِعاً بِنَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ
کیونکر تجھ سے پوشیدہ رہے جسے تو نے خود وجود دیا اور پیدا کیا یقینا میں تیرے حضور تیرے رحمت والے نبی کی شفاعت لایا ہوں
وَمُتَوَسِّلاً بِوَصِیِّ رَسُو لِکَ، فأَسْأَلُکَ بِهِما ثَباتَ الْقَدَمِ، وَالْهُدَیٰ وَالْمَغْفِرَةَ فِی
اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی کو وسیلہ بنایا ہے لہذا ان دونوں کے واسطے سے مانگتا ہوںثابت قدمی ہدایت اور مغفرت اس دنیا
الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ
میں اور آخرت میں۔
دوسری زیارت
یہ زیارت امین اللہ کے نام سے معروف ہے اور انتہائی معتبر زیارت ہے جو زیارات کی تمام کتب اور مصابیح میں منقول ہے علامہ مجلسی فرماتے ہیں یہ متن اور سند کے لحاظ سے بہترین زیارت ہے اور اسے تمام مبارک روضوں میں پڑھنا چاہیے (مترجم)(زائرین حضرات کو چاہیے کہ امیرالمومنین- کے علاوہ اگر کسی اور امام کی زیارت کر رہے ہیں تو امیرالمومنین- کے بجائے اس معصوم امامعليهالسلام کا نام لے مثلًا امام علی رضا -کی زیارت کر رہا ہے تو کہے: السلام علیک یا علی ابن موسی رضاعليهالسلام ۔اس کی کیفیت یہ ہے کہ معتبر اسناد کے ساتھ جابر نے امام محمد باقر - کے ذریعے امام زین العابدین- سے روایت کی ہے کہ آنجناب نے قبر امیرالمومنین- کے قریب کھڑے ہو کر روتے ہوئے ان کلمات کے ساتھ آپ کی زیارت کی :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ ﷲ فِی أَرْضِهِ، وَحُجَّتَهُ عَلَی عِبادِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ
آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین میں اس کے امین اور اس کے بندوں پر اس کی حجت سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے
الْمُوَْمِنِینَ، أَشْهَدُ أَنَّکَ جاهَدْتَ فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ وَعَمِلْتَ بِکِتابِهِ وَاتَّبَعْتَ سُنَنَ
سردار میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیااس کی کتاب پر عمل کیا اور اس کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنتوں کی پیروی کی
نَبِیِّهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ حَتّی دَعاکَ ﷲ إلی جِوارِهِ فَقَبَضَکَ إلَیْهِ بِاخْتِیارِهِ
خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر پھر خدا نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا اپنے اختیار سے آپ کی جان قبض کر لی اور آپ کے
وَأَلْزَمَ أَعْدائَکَ الْحُجَّةَ مَعَ مَا لَکَ مِنَ الْحُجَجِ الْبالِغَةِ عَلَی جَمِیعِ خَلْقِهِ اَللّٰهُمَّ
دشمنوں پر حجت قائم کی جبکہ تمام مخلوق کے لئے آپ کے وجود میں بہت سی کامل حجتیں ہیں اے اللہ میرے
فَاجْعَلْ نَفْسِی مُطْمَئِنَّةً بِقَدَرِکَ، راضِیَةً بِقَضائِکَ، مُولَعَةً بِذِکْرِکَ وَدُعائِکَ، مُحِبَّةً
نفس کو ایسا بنا کہ تیری تقدیر پر مطمئن ہو تیرے فیصلے پر راضی و خوش رہے تیرے ذکر کا مشتاق اور دعا میںحریص ہو تیرے برگزیدہ
لِصَفْوَةِ أَوْلِیائِکَ، مَحْبُوبَةً فِی أَرْضِکَ وَسَمائِکَ، صابِرَةً عَلَی نُزُولِ بَلائِکَ
دوستوں سے محبت کرنے والا تیرے زمین و آسمان میں محبوب و منظور ہو تیری طرف سے مصائب کی آمد پر صبر کرنے والا ہو تیری
شاکِرَةً لِفَواضِلِ نَعْمائِکَ، ذاکِرَةً لِسَوابِغِ آلائِکَ، مُشْتاقَةً إلی فَرْحَةِ لِقائِکَ،
بہترین نعمتوں پر شکر کرنے والا تیری کثیر مہربانیوں کو یاد کرنے والا ہو تیری ملاقات کی خوشی کا خواہاں یوم جزا کے لئے تقوی کو زاد راہ
مُتَزَوِّدَةً التَّقْویٰ لِیَوْمِ جَزائِکَ، مُسْتَنَّةً بِسُنَنِ أَوْلِیائِکَ، مُفارِقَةً لاََِخْلاقِ أَعْدائِکَ،
بنانے والا ہو تیرے دوستوں کے نقش قدم پر چلنے والا تیرے دشمنوں کے طور طریقوں سے متنفر و دور اور دنیا سے بچ بچا کر
مَشْغُولَةً عَنِ الدُّنْیا بِحَمْدِکَ وَثَنائِکَ
تیری حمد و ثنائ میں مشغول رہنے والا ہو۔
پھر اپنا رخسار قبر مبارک پر رکھا اور فرمایا:
اَللّٰهُمَّ إنَّ قُلُوبَ الْمُخْبِتِینَ إلَیْکَ والِهَةٌ وَسُبُلَ الرَّاغِبِینَ إلَیْکَ شارِعَةٌ، وَأَعْلامَ
اے معبود!بے شک ڈرنے والوں کے قلوب تیرے لئے بے تاب ہیںشوق رکھنے والوں کے لئے راستے کھلے ہوئے ہیں تیرا قصد
الْقاصِدِینَ إلَیْکَ واضِحَةٌ، وَأَفْئِدَةَ الْعارِفِینَ مِنْکَ فازِعَةٌ، وَأَصْواتَ الدَّاعِینَ إلَیْکَ
کرنے والوں کی نشانیاں واضح ہیں معرفت رکھنے والوں کے دل تجھ سے کانپتے ہیں تیری بارگاہ میں دعا کرنے والوں کی آوازیں
صاعِدَةٌ وَأَبْوابَ الْاِجابَةِ لَهُمْ مُفَتَّحَةٌ وَدَعْوَةَ مَنْ ناجاکَ مُسْتَجابَةٌ وَتَوْبَةَ مَنْ أَنابَ
بلند ہیں اور ان کے لئے دعا کی قبولیت کے دروازے کھلے ہیں تجھ سے راز و نیاز کرنے والوں کی دعا قبول ہے جو تیری طرف پلٹ
إلَیْکَ مَقْبُولَةٌ، وَعَبْرَةَ مَنْ بَکَیٰ مِنْ خَوْفِکَ مَرْحُومَةٌ، وَالْاِغاثَةَ لِمَنِ اسْتَغاثَ بِکَ
آئے اس کی توبہ منظور و مقبول ہے تیرے خوف میں رونے والے کے آنسوؤں پر رحمت ہوتی ہے جو تجھ سے فریاد کرے اس کے
مَوْجُودَةٌ، وَالْاِعانَةَ لِمَنِ اسْتَعانَ بِکَ مَبْذُولَةٌ، وَعِدٰاتِکَ لِعِبادِکَ مُنْجَزَةٌ، وَزَلَلَ مَنِ
لئے داد رسی موجود ہے جو تجھ سے مدد طلب کرے اس کو مدد ملتی ہے اپنے بندوں سے کیے گئے تیرے وعدے پورے ہوتے ہیں
اسْتَقالَکَ مُقالَةٌ وَأَعْمالَ الْعامِلِینَ لَدَیْکَ مَحْفُوظَةٌ وَأَرْزاقَکَ إلَی الْخَلائِقِ مِنْ لَدُنْکَ
تیرے ہاں عذر خواہوں کی خطائیں معاف اور عمل کرنے والوں کے اعمال محفوظ ہوتے ہیں مخلوقات کے لئے رزق
نازِلَةٌ، وَعَوائِدَ الْمَزِیدِ إلَیْهِمْ واصِلَةٌ، وَذُنُوبَ الْمُسْتَغْفِرِینَ مَغْفُورَةٌ، وَحَوائِجَ
و روزی تیری جانب سے ہی آتی ہے اور ان کو مزید عطائیں حاصل ہوتی ہیں طالبان بخشش کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ساری
خَلْقِکَ عِنْدَکَ مَقْضِیَّةٌ، وَجَوائِزَ السَّائِلِینَ عِنْدَکَ مُوَفَّرَةٌ، وَعَوائِدَ الْمَزِیدِ مُتَواتِرَةٌ
مخلوق کی حاجتیں تیرے ہاں سے پوری ہوتی ہیں تجھ سے سوال کرنے والوں کو بہت زیادہ ملتا ہے اور پے در پے عطائیں
وَمَوائِدَ الْمُسْتَطْعِمِینَ مُعَدَّةٌ، وَمَناهِلَ الظِّمائِ مُتْرَعَةٌ اَللّٰهُمَّ فَاسْتَجِبْ دُعائِی
ہوتی ہیں کھانے والوں کیلئے دستر خوان تیار ہے اور پیاسوں کی خاطر چشمے بھرے ہوئے ہیں اے معبود ! میری دعائیں قبول کر لے
وَاقْبَلْ ثَنائِی، وَاجْمَعْ بَیْنِی وَبَیْنَ أَوْ لِیائِی، بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَفاطِمَةَ وَالْحَسَنِ
اس ثنائ کو پسند فرما مجھے میرے اولیائ کے ساتھ جمع کر دے کہ واسطہ دیتا ہوں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و علیعليهالسلام و فاطمہ(س)
وَالْحُسَیْنِ إنَّکَ وَ لِیُّ نَعْمائِی، وَمُنْتَهَیٰ مُنایَ، وَغایَةُ رَجائِی فِی مُنْقَلَبِی وَمَثْوَایَ
و حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کا بے شک تو مجھے نعمتیں دینے والادنیاو آخرت میں میری آرزوؤں کی انتہائ میری امیدوں کا مرکز۔
کامل الزیارۃ میں اس زیارت کے بعد ان جملوں کا اضافہ ہے :
أَنْتَ إلهِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ اغْفِرْ لاََِوْ لِیائِنا، وَکُفَّ عَنَّا أَعْدائَنا، وَاشْغَلْهُمْ عَنْ
تو میرا معبود میرا آقا اور میرا مالک ہے ہمارے دوستوں کو معاف فرما دشمنوں کو ہم سے دور کر ان کو ہمیں ایذا دینے سے باز رکھ
أَذَانَا وَأَظْهِرْ کَلِمَةَ الْحَقِّ وَاجْعَلْهَا الْعُلْیَا، وَأَدْحِضْ کَلِمَةَ الْبَاطِلِ وَاجْعَلْهَا السُّفْلی
کلمہ حق کا ظہور فرما اور اسے بلند قرار دے کلمہ باطل کو دبا دے اور اس کو پست قرار دے کہ
إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔
اس کے بعد امام محمد باقر - نے فرمایاہمارے شیعوں میں سے جو بھی اس زیارت اور دعا کو ضریح امیر المومنین- کے نزدیک یا ان کے جانشین ائمہ میں سے کسی مزار کے پاس پڑھے گا تو حق تعالی اس کی پڑھی ہوئی اس زیارت و دعا کو ایک نورانی نوشتہ میں عالم بالا تک پہنچا کراس پر حضرت رسول کی مہر ثبت کرائے گا ۔وہ نوشتہ اسی صورت میں محفوظ رہے گا اور ظہور قائم آل محمد - کے وقت ان کے حوالے کر دیا جائے گا آنجناب- جنت کی بشارت سلام خاص اور عزت کے ساتھ اس کا استقبال فرمائیں گے انشائ اللہ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ باشرف زیارت زیارت مطلقہ میں بھی شمار ہوتی ہے اور روز غدیر کی زیارات مخصوصہ میں بھی شمار ہوتی ہے ۔نیز یہ زیارت جامعہ کے طور پر بھی معروف ہے کہ جو سبھی ائمہ کے مزارات پر پڑھی جاتی ہے ۔
تیسری زیارت
عبدالکریم ابن طاؤس نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ :ہم امام جعفر صادق - کے ہمراہ کوفہ میں داخل ہوئے آپ ابو جعفر دوانقی (منصور عباسی)کے پاس جا رہے تھے آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے صفوان اونٹ کو بٹھا دو میرے جد بزرگوار امیرالمومنین- کا مزار یہاں سے نزدیک ہے آپ اونٹ سے اتر پڑے ،پھر غسل فرمایا،لباس تبدیل کیا، پا برہنہ ہوگئے اور فرمایا کہ تم بھی ایسا کرو اسکے بعد آپ نجف اشرف کی سمت روانہ ہوئے اور فرمایا کہ قدم چھوٹا رکھو اورسر جھکا کے چلو کہ ﷲ اس راستے میں اٹھائے تمہارے ہر قدم کے بدلے میں تمہارے لئے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا تمہارے ایک لاکھ گناہ معاف فرمائے گا ایک لاکھ درجے بلند کرے گا اور تمہاری ایک لاکھ حاجات بر لائے گا نیز تمہارے اعمال میں ہر صدیق و شہید کا ثواب لکھے گا جو زندہ ہے یا مارا جا چکا ہے پس آنجناب چل پڑے اور میں بھی آپ کے ساتھ اطمینا ن اور سنجیدگی کے ساتھ ذکر الہی کرتا ہوا چلا جارہا تھا یہاں تک کہ ہم ٹیلوں کے قریب پہنچ گئے وہاں آپ نے دائیں بائیں نگاہ فرمائی اور اپنی ہاتھ کی چھڑی سے ایک لکیر کھینچی اور مجھ سے فرمایا کہ اس جگہ کو دیکھو لہذا میں نے جستجو کی تو مجھے نشان قبر نظر آگیایہ دیکھ کر آپ کے آنسوجاری ہو کر چہرے پر آگئے اور آپ نے یوں کہا:
إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ پهر فرمایا اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْوَصِیُّ الْبَرُّ التَّقِیُّ
ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف پلٹنے والے ہیں آپ پر سلام ہو اے وصی نیک و پرہیزگار
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا النَّبَأُ الْعَظِیمُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الصِّدِّیقُ الرَّشِیدُ، اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے خبر عظیم (امامت)آپ پر سلام ہو اے صاحب صدق و ہدایت یافتہ آپ پر
عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْبَرُّ الزَّکِیُّ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَصِیَّ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ
سلام ہو اے نیک و پاکیزہ آپ پر سلام ہو اے جہانوں کے رب کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصیعليهالسلام و جانشین آپ پر
عَلَیْکَ یَا خِیَرَةَ ﷲ عَلَی الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ حَبِیبُ ﷲ وَخاصَّةُ ﷲ
سلام ہو اے ساری مخلوق پر خدا کی طرف سے برگزیدہ میں گواہی دیتا ہو ں کہ آپ خدا کے حبیب اور اس کے خاص اور مخلص بندے
وَخالِصَتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَمَوْضِعَ سِرِّهِ وَعَیْبَةَ عِلْمِهِ وَخازِنَ وَحْیِهِ
ہیں سلام ہو آپ پر اے خدا کے ولی اسرار الہی کے امین اس کے علم کے گنجینہ اور اس کے وحی کے خزینہ دار ۔
پھر آپ قبر اطہر سے لپٹ گئے اور فرمایا :
بِأَبِی أَ نْتَ وَأُمِّی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، بِأَبِی أَ نْتَ وَأُمِّی یَا حُجَّةَ الْخِصامِ، بِأَبِی
قربان ہوں آپ پر میرے ماں باپ اے امیرالمومنینعليهالسلام قربان ہوں آپ پر میرے ماں باپ اے دشمنوں پر حجت قربان ہوں آپ
أَنْتَ وَأُمِّی یَا بَابَ الْمَقَامِ، بِأَبِی أَ نْتَ وَأُمِّی یَا نُورَ ﷲ التَّامَّ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ
پر میرے ماں باپ اے ہر مقصود کے دروازے قربان ہوں آپ پر میرے ماں باپ اے خدا کے کامل نور میں گواہی دیتا ہوں کہ
قَدْ بَلَّغْتَ عَنِ ﷲ وَعَنْ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ مَا حُمِّلْتَ، وَرَعَیْتَ
آپ نے خدا اور اس کے رسول کے وہ احکام لوگوں تک پہنچائے جو آپ نے حاصل کیے جو علوم ملے
مَا اسْتُحْفِظْتَ، وَحَفِظْتَ مَا اسْتُودِعْتَ، وَحَلَّلْتَ حَلالَ ﷲ، وَحَرَّمْتَ حَرامَ ﷲ،
ان کی نگہبانی کی جو امور آپ کے سپرد ہوئے انہیں فراموش نہیں کیا اور آپ نے حلال خدا کو حلال اور حرام خدا کو حرام ٹھہرایا
وَأَقَمْتَ أَحْکامَ ﷲ، وَلَمْ تَتَعَدَّ حُدُودَ ﷲ، وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ،
آپ نے احکام الہی کو نافذ کیا خدا کی حدوں سے تجاوز نہیں کیا اور خدا کی خالص بندگی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ شہادت پاگئے
صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی آلاَءِمَّةِ مِنْ بَعْدِکَ
خدا رحمت کرے آپ پر اور آپ کے جانشین ائمہعليهالسلام پر ۔
اس کے بعدحضرت امام جعفر صادق - اٹھے اور قبر کے سرہانے کی طرف کھڑے ہو کر چند رکعت نماز پڑھی ۔اور پھر فرمایا : اے صفوان ! جو شخص امیرالمومنین- کی زیارت کرنے میں یہ زیارت پڑھے اس طرح نماز گزارے تو وہ اپنے اہل خانہ کے پاس اس حال میںلوٹے گا کہ اس کے گناہ بخشے جا چکے ہوں گے اس کا یہ عمل زیارت مقبول ہو گا اور اس کے لئے وہ ثواب لکھا جائے گا جو فرشتوں میں سے حضرت کی زیارت کو آنے والے کسی فرشتے کو ملتا ہے ۔
صفوان نے حیران ہو کر پوچھا آیا کو ئی فرشتہ بھی حضرت امیرالمومنین- کی زیارت کرنے آتا ہے؟ حضرت نے فرمایا : ہاں ہر رات ملائکہ میں سے ستر قبیلے آپ کی زیارت کو آتے ہیں اس نے پوچھا ہر قبیلے میں کتنے فرشتے ہوتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہر قبیلے میں ایک لاکھ فرشتے ہوتے ہیںپھر آنجناب الٹے پاؤں چلتے ہوئے قبرحضرت امیرالمومنین- سے واپس ہوئے۔ جبکہ آپ فرما رہے تھے:
یَا جَدَّاهُ یَا سَیِّداهُ یَا طَیِّباهُ یَا طاهِراهُ لاَ جَعَلَهُ ﷲ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْکَ
اے میرے جد بزرگواراے میرے سردار اے خوش کردار اے پاکیزہ تر خدا آپ کی اس زیارت کو میرے لئے آخری نہ بنائے اور
وَرَزَقَنِی الْعَوْدَ إلَیْکَ، وَالْمَقامَ فِی حَرَمِکَ، وَالْکَوْنَ مَعَکَ وَمَعَ الْاََبْرارِ مِنْ وُلْدِکَ
مجھے دوبارہ حاضر ہونا اور آپکے حرم میں ٹھہرنا نصیب کرے آپکی خدمت میں آنے اور آپکی پاک اولاد کے حضور حاضری کی توفیق دے
صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی الْمَلائِکَةِ الْمُحْدِقِینَ بِکَ
خدا رحمت کرے آپ پر اور ان ملائکہ پر جو آپ کی قبر کا طواف کرتے ہیں ۔
صفوان کہتا ہے کہ میں نے آنجناب کی خدمت میںعرض کی کہ آیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں کوفہ میں اپنے مومن بھائیوں کو اس واقعہ کی خبر دوں اور انہیں اس قبر کے نشان سے آگاہ کروں آپ نے فرمایا ہاں تمہیں اجازت ہے پھر آپ نے مجھے کچھ درہم عنایت کیے ۔ جن سے میں نے قبر امیرالمومنین- کی مرمت کرائی ۔
چوتھی زیارت
مستدرک میں مزار قدیم سے نقل کیا گیا ہے کہ ہمارے مولا امام محمد باقر - سے مروی ہے کہ فرمایا میں اپنے والد بزرگوارکیساتھ اپنے دادا امیرالمومنین- کی زیارت قبر کیلئے نجف اشرف گیا وہاں میرے والد قبر کے نزدیک کھڑے ہو کر روئے اور یوں گویا ہوئے :
اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی آلاَءِمَّةِ وَخَلِیلِ النُّبُوَّةِ وَالْمَخْصُوصِ بِالْاَُخُوَّةِ، اَلسَّلَامُ عَلَی
سلام ہو ائمہعليهالسلام کے پدر بزرگوار پر نبوت کے خلیل اور حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے برادر خاص پر سلام ہو اسلام
یَعْسُوبِ الْأِیْمَانِ وَمِیزانِ الْأَعْمالِ وَسَیْفِ ذِی الْجَلالِ ، اَلسَّلَامُ عَلَی صالِحِ
و ایمان کے سردار اعمال کے معیار و میزان اور صاحب جلال خدا کی تلوار پر سلام ہو سب سے بہترین
الْمُؤْمِنِینَ وَوارِثِ عِلْمِ النَّبِیِّینَ الْحاکِمِ فِی یَوْمِ الدِّینِ اَلسَّلَامُ عَلَی شَجَرَةِ التَّقْویٰ
مومن پر جونبیوں کے علوم کے وارث اور روز جزا میں حکم کرنے والے ہیں سلام ہو ان پر جو شجر تقویٰ ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَی حُجَّةِ ﷲ الْبالِغَةِ وَ نِعْمَتِهِ السَّابِغَةِ وَ نِقْمَتِهِ الدَّامِغَةِ، اَلسَّلَامُ عَلَی
سلام ہو خدا کی کامل ترین حجت پر جو اس کی نعمت واسعہ اور اس کی طرف سے سزا دینے والے ہیں سلام ہو ان پر جو
الصِّراطِ الْواضِحِ وَالنَّجْمِ اللاَّئِحِ وَالْاِمامِ النَّاصِحِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُاسکے بعد یه فرمایا :
خدا کا واضح راستہ چمکتا ہوا ستارہ اور نصیحت کرنے والے امام ہیں ان پر رحمت ہو خدا کی اور برکتیں ہوں
أَنْتَ وَسِیلَتِی إلَی ﷲ وَذَرِیعَتِی وَلِی حَقُّ مُوالاتِی وَتَأْمِیلِی، فَکُنْ
آپ خدا کے حضور میرا وسیلہ اور میرا ذریعہ ہیں اور میرے لئے دوستی اور امید واری کا حق ہیں پس خدا عزوجل
شَفِیعِی إلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ فِی الْوُقُوفِ عَلَی قَضائِ حاجَتِی وَهِیَ فَکٰاکُ رَقَبَتِی مِنَ
کے ہاں میرے سفارشی بنئے میری حاجت برآری کے لئے اور وہ میری گردن کی آگ سے
النَّارِ، وَاصْرِفْنِی فِی مَوْقِفِی هذَا بِالنُّجْحِ وَبِمَا سَأَلْتُهُ کُلَّهُ بِرَحْمَتِهِ وَقُدْرَتِهِ اَللّٰهُمَّ
خلاصی ہے اس جگہ سے مجھے کامیاب کرا کے لوٹائیے اور وہ سب کچھ دلوایئے جو بواسطہ اسکی رحمت و قدرت کے مانگا ہے اے معبود!
ارْزُقْنِی عَقْلاً کامِلاً، وَلُبّاً راجِحاً، وَقَلْباً زَکِیّاً، وَعَمَلاً کَثِیراً، وَأَدَباً بارِعاً، وَاجْعَلْ
مجھے عطا فرما عقل کامل بہترین دماغپاکیزہ قلب کثرت عمل اور بلند تر اخلاق اور یہ سب نعمتیں
ذلِکَ کُلَّهُ لِی، وَلاَ تَجْعَلْهُ عَلَیَّ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
میرے لئے مفیدقرار دے اور ان کو بواسطہ اپنی رحمت کے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
پانچویں زیارت
شیخ کلینی نے امام علی نقی - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت امیرالمومنین- کی ضریح مبارک کے نزدیک کھڑے ہو کر یہ زیارت پڑھا کرو :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَ لِیَّ ﷲ، أَنْتَ أَوَّلُ مَظْلُومٍ، وَأَوَّلُ مَنْ غُصِبَ حَقُّهُ، صَبَرْتَ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے ولی کہ آپ پہلے مظلوم ہیں اور پہلے مومن ہیں جن کا حق چھینا گیا اس پر آپ نے صبر کیا
وَاحْتَسَبْتَ حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَأَشْهَدُ أَنَّکَ لَقِیتَ ﷲ وَأَنْتَ شَهِیدٌ، عَذَّبَ ﷲ
اور حوصلے سے کام لیا یہاں تک کہ آپ کی شہادت ہو گئی میں گواہ ہوں کہ آپ خدا سے جا ملے ہیںاور آپ وہ شہید ہیںکہ جس کے
قاتِلَکَ بِأَ نْواعِ الْعَذابِ وَجَدَّدَ عَلَیْهِ الْعَذابَ، جِئْتُکَ عارِفاً بِحَقِّکَ، مُسْتَبْصِراً
قاتل کو خدا نے طرح طرح کے عذاب دیئے اور وہ اسے ایک پر دوسراعذاب دیا ہے میں حاضر ہوں آپ کے حق کو پہنچانتے ہوئے
بِشَأْنِکَ، مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ وَمَنْ ظَلَمَکَ، أَ لْقیٰ عَلَی ذلِکَ
آپ کے مرتبے کو جانتے ہوئے میں آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں اور جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ان کا دشمن ہوں انشائ اللہ میں اسی
رَبِّی إنْ شَائَ ﷲ، یَا وَ لِیَّ ﷲ، إنَّ لِی ذُ نُوباً کَثِیرَةً فَاشْفَعْ لِی إلی رَبِّکَ فَ إنَّ لَکَ
عقیدے پر اپنے رب کے حضور جاؤں گا اے ولی خدا بے شک میرے گناہ بہت زیادہ ہیں پس اپنے رب کے ہاں میری سفارش
عِنْدَ ﷲ مَقَاماً مَعْلُوماً، وَ إنَّ لَکَ عِنْدَ ﷲ جَاهاً وَشَفاعَةً وَقَدْ قالَ ﷲ
کریں بے شک آپ خدا کے جناب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں خدا کے ہاں آپکی بڑی عزت اور شفاعت کا حق ہے اور یقینا اللہ
تَعالی وَلاَ یَشْفَعُونَ إلاَّ لِمَنِ ارْتَضی
تعالی نے فرمایا ہے اور شفاعت نہیں کریں گے مگر وہ جس سے خدا راضی ہو۔
چھٹی زیارت
یہ وہ زیارت ہے جسے علمائ کی ایک جماعت نے روایت کی ہے کہ ان میں ایک شیخ محمد بن مشہدی ہیں جنہوں نے فرمایا محمد بن خالد طیالسی نے سیف بن عمیرہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا میں صفوان جمال اور دیگر مومن بھائیوں کیساتھ نجف اشرف کیطرف گیا اور ہم سب نے قبر امیرالمومنین- کی زیارت کا شرف حاصل کیا جب زیارت سے فارغ ہوئے تو صفوان نے روضہ امام حسین- کیطرف رخ کیا اور کہا زیارت کرتا ہوں امام حسین- کی اس مقام پر حضرت امیرالمومنین- کے سرہانے کی طرف پھر صفوان نے بیان کیا کہ ہم لوگ امام جعفر صادق - کے ہمراہ یہاں آئے تو حضرت نے اس طر ح زیارت پڑھی نماز ادا کی اور دعا مانگی جیسا کہ میں اس وقت عمل کر رہا ہوں حضرت نے فرمایا اے صفوان اس زیارت کو یا د کر لو اور اس دعا کو پڑھوپس ہمیشہ اس طرح امیرالمومنین- اور امام حسین- کی زیارت کرتے رہوجو شخص ان دونوں بزرگواروں کی اس طرح زیارت کرے اور یہ دعا پڑھے چاہے نزدیک ہو یا دور تو میں خدا کی طرف سے ضامن ہوں کہ اس شخص کی زیارت قبول ہو گی اور اس عمل کی جزا ملے گی اس کا سلام حضرت تک پہنچے گا اور اس کی حاجات پوری ہوں گی ۔خواہ وہ بڑی ہوں یا چھوٹی مؤلف کہتے ہیں: اس روایت کا تتمہ اس عمل کی فضیلت کے سلسلے میں دعا صفوان و زیارت روز عاشور کے بعد آئے گا انشائ اللہ حضرت امیرالمؤمنین- کی وہ زیارت یہ ہے کہ قبر کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوکر کہے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفْوَةَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ پر سلام ہو اے خدا کے منتخب بندے سلام ہو آپ پر اے وحی خدا کے
ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی مَنِ اصْطَفاهُ ﷲ وَاخْتَصَّهُ وَاخْتارَهُ مِنْ بَرِیَّتِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
امین سلام ہو اس پر جس کو خدا نے منتخب کیا اپنا خاص بنایا اور اپنی مخلوق میں سے پسند کیا آپ پر سلام ہو
یَا خَلِیلَ ﷲ مَا دَجَیٰ اللَّیْلُ وَغَسَقَ، وَأَضائَ النَّهارُ وَأَشْرَقَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مَا
اے خدا کے خلیل جب تک رات کی تاریکی پھیلے اور دن روشن اور چمکتا رہے آپ پر سلام ہوجب تک
صَمَتَ صامِتٌ، وَنَطَقَ نَاطِقٌ، وَذَرَّ شارِقٌ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی
خاموش رہنے والا خاموش اور بولنے والا بولتا رہے اور سورج چمکتا رہے خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں سلام ہو اے ہمارے مولا
مَوْلانا أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ صَاحِبِ السَّوابِقِ وَالْمَناقِبِ وَالنَّجْدَةِ
مومنوں کے امیر جناب علیعليهالسلام ابن ابی طالبعليهالسلام پر جو مالک ہیں فضیلتوں خوبیوں اور کامرانیوں کے اور بڑے بڑے
وَمُبِیدِ الْکَتَائِبِ الشَّدِیدِ الْبَأْسِ الْعَظِیمِ الْمِرَاسِ الْمَکِینِ الْاََسَاسِ سَاقِی الْمُؤْمِنِینَ
لشکروں کو ہزیمت دینے والے سخت جنگ کرنے والے بڑی یورش کرنے والے ڈٹ کر لڑنے والے حوض رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مؤمنوں
بِالْکَأْسِ مِنْ حَوْضِ الرَّسُولِ الْمَکِینِ الْاََمِینِ اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ النُّهیٰ
کو بھر بھر کر جام پلانے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں سلام ہو ان پر کہ وہ عقل و خرد والے
وَالْفَضْلِ وَالطَّوائِلِ وَالْمَکْرُماتِ وَالنَّوائِلِ اَلسَّلَامُ عَلَی فارِسِ الْمُؤْمِنِینَ، وَلَیْثِ
فضیلت والے سخاوتیں کرنے والے عزتوں والے اور عطاؤں والے ہیں سلام ہو مومنوں کے شہسواروں توحید پرستوں کے
الْمُوَحِّدِینَ وَقاتِلِ الْمُشْرِکِینَ وَوَصِیِّ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
شیر مشرکوں کو قتل کرنے والے اور رب العالمین کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی پر سلام ہو خدا کی رحمت اور برکتیں
اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ أَیَّدَهُ ﷲ بِجَبْرائِیلَ، وَأَعانَهُ بِمِیکائِیلَ، وَأَزْلَفَهُ فِی الدَّارَیْنِ،
سلام ہو اس پر جسے خدا نے جبرائیلعليهالسلام کے ذریعے قوت دی میکائیلعليهالسلام کے ذریعے مدد عطا کی دوجہان میں اپنا مقرب بنایا
وَحَباهُ بِکُلِّ مَا تَقِرُّ بِهِ الْعَیْنُ وَصَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَی آلِهِ الطَّاهِرِینَ وَعَلَی أَوْلادِهِ
اور ہر نعمت دی جس سے آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی پاک آلعليهالسلام پر ان کی پسندیدۂ خدا
الْمُنْتَجَبِینَ، وَعَلَی آلاَءِمَّةِ الرَّاشِدِینَ الَّذِینَ أَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ
اولاد پر اور سلام ان ہدایت یافتہ ائمہعليهالسلام پر جنہوں نے اچھے کاموں کا حکم دیا اور برے کاموں سے روکا
وَفَرَضُوا عَلَیْنا الصَّلَٰواتِ، وَأَمَرُوا بِ إیتائِ الزَّکاةِ، وَعَرَّفُونا صِیامَ شَهْرِ رَمَضانَ
اور جنہوں نے ہم کو فرض نمازوں کی تعلیم دی زکوٰۃ دینے کا حکم فرمایا اور ہمیں ماہ رمضان کے روزوں
وَقِرائَةَ الْقُرْآنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَیَعْسُوبَ الدِّینِ، وَقائِدَ الْغُرِّ
اور تلاوت قرآن کی معرفت کرائی آپ پر سلام ہو اے مؤمنوں کے امیر دین کے سردار اور چمکتے چہروں والوں کے
الْمُحَجَّلِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بابَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ ﷲ النَّاظِرَةَ، وَیَدَهُ
پیشوا آپ پر سلام ہو اے معرفت خدا کے دروازے آپ پر سلام ہو اے خدا کی چشم بینا اس کے کھلے ہوئے
الْباسِطَةَ، وَأُذُ نَهُ الْواعِیَةَ ، وَحِکْمَتَهُ الْبَالِغَةَ، وَ نِعْمَتَهُ السَّابِغَةَ، وَ نِقْمَتَهُ الدَّامِغَةَ
ہاتھ اور اس کے گوش شنوا اس کی کامل حکمت کے مظہر اس کی نعمت واسعہ اور اس کے عذاب شدید
اَلسَّلَامُ عَلَی قَسِیمِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ اَلسَّلَامُ عَلَی نِعْمَةِ ﷲ عَلَی الْاََ بْرارِ، وَ نِقْمَتِهِ
سلام ہو جنت و جہنم تقسیم کرنے والے پر سلام اس پر جو نیکوکاروں کیلئے خدا کی نعمت اور بدکاروں کیلئے
عَلَی الْفُجَّارِ اَلسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ الْمُتَّقِینَ الْاََخْیارِ اَلسَّلَامُ عَلَی أَخِی رَسُولِ ﷲ
اس کی سختی ہے سلام ہو نیک پرہیز گار لوگوں کے سردار پر سلام ہو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے بھائی اور
وَابْنِ عَمِّهِ، وَزَوْجِ ابْنَتِهِ، وَالْمَخْلُوقِ مِنْ طِینَتِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْاََصْلِ الْقَدِیمِ،
ان کے چچازاد پر جو ان کی بیٹی کے شوہر اور ان کی طینت سے پیدا ہونے والے ہیں سلام ہو اس اصل امامت اور نبوت کی
وَالْفَرْعِ الْکَرِیمِ اَلسَّلَامُ عَلَی الثَّمَرِ الْجَنِیِّ اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی الْحَسَنِ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ
سبز شاخ پر سلام ہو اس میوہ کامل پر سلام ہو ابو الحسن علی المرتضیعليهالسلام پر سلام ہو
عَلَی شَجَرَةِ طُوبَیٰ ، وَسِدْرَةِ الْمُنْتَهیٰ اَلسَّلَامُ عَلَی آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ، وَنُوحٍ نَبِیِّ
اس درخت طوبی اور سدرۃ المنتھی پر سلام ہو آدمعليهالسلام پر جو خدا کے چنے ہوئے ہیں سلام ہو نوح نبی
ﷲ، وَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ، وَمُوسی کَلِیمِ ﷲ، وَعِیسی رُوحِ ﷲ، وَمُحَمَّدٍ حَبِیبِ
ﷲ پر سلام ہو ابراہیمعليهالسلام خلیل خدا پر سلام ہو موسی کلیم خدا پر سلام ہو عیسی روح خدا پر سلام ہو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم حبیب
ﷲ، وَمَنْ بَیْنَهُمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّهَدائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولئِکَ
خدا پر اور ان کے درمیان نبیوں صدیقوں شہیدوں اور نیک لوگوں پر کہ یہ سب بہت اچھے
رَفِیقاً اَلسَّلَامُ عَلَی نُورِ الْاََ نْوارِ، وَسَلِیلِ الْاََطْهارِ، وَعَناصِرِ الْاََخْیارِ اَلسَّلَامُ
رفیق ہیں سلام ہو روشنیوں کی روشنی پاک بزرگوں کے فرزند اور پاکیزہ اولاد کے بزرگوار پر سلام ہو
عَلَی والِدِ آلاَءِمَّةِ الْاََبْرارِ اَلسَّلَامُ عَلَی حَبْلِ ﷲ الْمَتِینِ، وَجَنْبِهِ الْمَکِینِ وَرَحْمَةُ
نیک آئمہعليهالسلام کے باپ پر سلام ہو خدا کی مضبوط رسی اور اس کے توانا طرف دار پر خدا کی رحمت ہو
ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِینِ ﷲ فِی أَرْضِهِ، وَخَلِیفَتِهِ وَالْحاکِمِ بِأَمْرِهِ وَالْقَیِّمِ
اور برکتیں ہوں سلام ہو خدا کی زمین پر اس کے امانت دار اور خلیفہ و نائب پر جو اس کے حکم سے حکم کرنے والے
بِدِینِهِ، وَالنَّاطِقِ بِحِکْمَتِهِ، وَالْعامِلِ بِکِتابِهِ، أَخِی الرَّسُولِ، وَزَوْجِ الْبَتُولِ وَسَیْفِ
اسکے دین کو محکم کرنے والے اسکی حکمتوں کو بیان کرنے والے اسکی کتاب پر عمل کرنے والے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے برادر بتول کے شوہر اور خدا
ﷲ الْمَسْلُولِ اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ الدَّلالاتِ، وَالْاَیاتِ الْباهِراتِ، وَالْمُعْجِزاتِ
کی تیز تر تلوار ہیں سلام ہو مولی علی المرتضیعليهالسلام پرجو حق کے دلائل رکھنے والے روشن آیتوں کے جاننے والے غالبتر
الْقاهِراتِ وَالْمُنْجِی مِنَ الْهَلَکاتِ، الَّذِی ذَکَرَهُ ﷲ فِی مُحْکَمِ الْاَیاتِ، فَقالَ تَعالی
معجزوں کے حامل اور مصیبتوں سے چھڑانے والے ہیں جن کا ذکر خدا نے اپنی محکم آیتوں میں کیا ہے پس خدا تعالیٰ
وَ إنَّهُ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیمٌ اَلسَّلَامُ عَلَی اسْمِ ﷲ الرَّضِیِّ، وَوَجْهِهِ
نے فرمایا کہ بے شک وہ بزرگ تر کتاب میں ہمارے نزدیک بلند اہل دانش ہے سلام ہو علیعليهالسلام پر جو خدا کا پسندیدہ نام ہے اس کا روشن
الْمُضِیئِ وَجَنْبِهِ الْعَلِیِّ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی حُجَجِ ﷲ وَأَوْصِیَائِهِ
نشان ہے اس کی بلند شان ہے خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوںسلام ہو ان کے اوصیائ پر جو خدا کی حجتیں ہیں
وَخَاصَّةِ ﷲ وَأَصْفِیَائِهِ، وَخالِصَتِهِ وَأُمَنَائِهِ، وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ
خدا کے مقرب خاص ہیں اس کے چنے ہوئیاس کے خاص بندے اور امانت دار ہیں خدا کی رحمت ہو ان پر اور اس کی برکتیں ہوں
قَصَدْتُکَ یَا مَوْلایَ یَا أَمِینَ ﷲ وَحُجَّتَهُ زَائِراً عَارِفاً بِحَقِّکَ مُوالِیاً
اے میرے مولا میں حاضر ہوا ہوں اے خدا کے امانت دار اور اس کی حجت آپ کے حق کوپہچانتے ہوئے زیارت کو آیا آپ کے
لاََِوْ لِیَائِکَ مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ، مُتَقَرِّباً إلَی ﷲ بِزِیَارَتِکَ، فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ
دوستوں کا دوست آپ کے دشمنوںکا دشمن ہوں آپ کی زیارت سے خدا کاتقرب چاہتا ہوں پس خدا کے ہاں میری سفارش کریں
ﷲ رَبِّی وَرَبِّکَ فِی خَلاصِ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ وَقَضَائِ حَوَائِجِی حَوَائِجِ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ
جو میرا اور آپ کا رب ہے یہ کہ میری گردن آگ سے آزاد ہو اور میری حاجتیں پوری ہوں جو بھی دنیا وآخرت کی حاجتیں ہیں۔
پھر خود کو قبر مبارک سے چپکائے اور اس پر بوسہ دے اور کہے:
سَلامُ ﷲ وَسَلامُ مَلائِکَتِهِ الْمُقَرَّبِینَ وَالْمُسَلَّمِینَ لَکَ بِقُلُوبِهِمْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ
سلام ہو خدا کا سلام ہو مقرب فرشتوں کا اور سلام ہو اے مؤمنوں کے امیرعليهالسلام ان کا جو آپ کو دل و جان سے مانتے ہیں
وَالنَّاطِقِینَ بِفَضْلِکَ وَالشَّاهِدِینَ عَلَی أَنَّکَ صَادِقٌ أَمِینٌ صِدِّیقٌ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ
اور آپکے فضائل بیان کرتے ہیں اور اس پر گواہ ہیں کہ بے شک آپ سچے اور امانت دار اور صدیق ہیں آپ پر سلام خدا کی رحمت
وَبَرَکاتُهُ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ طُهْرٌ طاهِرٌ مُطَهَّرٌ مِنْ طُهْرٍ طاهِرٍ مُطَهَّرٍ، أَشْهَدُ لَکَ یَا وَلِیَّ
اور برکتیں ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ پاک پاکیزہ اور مطہر ہیں پاک پاکیزہ پاک نسل سے ہیں اے خدا کے ولیعليهالسلام اور اس کے
ﷲ وَوَلِیَّ رَسُو لِهِ بِالْبَلاغِ وَالْاََدائِ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ جَنْبُ ﷲ وَبابُهُ، وَأَنَّکَ حَبِیبُ
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ولیعليهالسلام میں گواہی دیتا ہوں آپ نے تبلیغ کیاور فرض ادا کیا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ طرفدار خدا ور باب خدا ہیں بے
ﷲ وَوَجْهُهُ الَّذِی یُؤْتیٰ مِنْهُ وَأَنَّکَ سَبِیلُ ﷲ وَأَنَّکَ
شک آپ خدا کے دوست اور مظہر ہیں جو اس کی طرف سے بھیجے گئے اور یہ کہ آپ خدا تک جانے کا راستہ ہیں نیز آپ خدا کے
عَبْدُ ﷲ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، أَتَیْتُکَ مُتَقَرِّباً إلَی ﷲ عَزَّ وَجَلَّ
بندے اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی ہیں خدا رحمت کر ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر میں خدا کا تقرب حاصل کرنے کی خاطر آپ کی زیارت
بِزِیَارَتِکَ راغِباً إلَیْکَ فِی الشَّفاعَةِ أَبْتَغِی بِشَفاعَتِکَ خَلاصَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ،
کو آیا ہوں آپ سے شفاعت کا طلب گار ہوں آپ کی شفاعت کے ذریعے جہنم سے اپنی گلو خلاصی چاہتا ہوں جہنم کی آگ سے
مُتَعَوِّذاً بِکَ مِنَ النَّارِ، هارِباً مِنْ ذُ نُوبِیَ الَّتِی احْتَطَبْتُها عَلَی ظَهْرِی فَزِعاً إلَیْکَ
آپ کی پناہ لیتا ہوں میں اپنے گناہوں سے بھاگ کر آیا جو میری کمر توڑ رہے ہیں آپ کے حضور پہنچا اپنے رب کی
رَجائَ رَحْمَةِ رَبِّی، أَ تَیْتُکَ أَسْتَشْفِعُ بِکَ یَا مَوْلایَ وَأَتَقَرَّبُ بِکَ إلَی ﷲ لِیَقْضِیَ
رحمت کا امیدوار آپ کے پاس آیا ہوں میرے مولا آپ کی شفاعت اور تقرب چاہتا ہوں اور خدا کے حضور کہ وہ آپ کے ذریعے
بِکَ حَوَائِجِی فَاشْفَعْ لِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إلَی ﷲ فَ إنِّی عَبْدُ ﷲ وَمَوْلاکَ
میری حاجتیں پوری کرے پس اے امیرالمؤمنینعليهالسلام خدا کے ہاں میرے سفارشی بنیں کہ میں اللہ کا بندہ اور آپ کا غلام
وَزائِرُکَ وَلَکَ عِنْدَ ﷲ الْمَقامُ الْمَحْمُودُ وَالْجَاهُ الْعَظِیمُ وَالشَّأْنُ الْکَبِیرُ وَالشَّفاعَةُ
و زائر ہوں اور آپ کو خدا کے ہاں بلند ترمقام بہت بڑی عزت بہت اونچی شان اور قبول شفاعت کا
الْمَقْبُولَةُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصَلِّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَبْدِکَ
درجہ حاصل ہے اے معبود! رحمت نازل کر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور رحمت فرما مؤمنوں کے امیرعليهالسلام پرجو تیرے
الْمُرْتَضیٰ، وَأَمِینِکَ الْاَوْفیٰ، وَعُرْوَتِکَ الْوُثْقیٰ، وَیَدِکَ الْعُلْیا، وَجَنْبِکَ الْاََعْلیٰ
پسندیدہ بندے تیرے پکے امانتدار تیری مضبوط رسی تیرا دست بلند تیرے بہت بڑے طرفدار تیرے خوب تر
وَکَلِمَتِکَ الْحُسْنیٰ، وَحُجَّتِکَ عَلَی الْوَریٰ، وَصِدِّیقِکَ الْاَکْبَرِ، وَسَیِّدِ الْاََوْصِیائِ،
کلمہ مخلوق پر تیری حجت تیرے صدیق اکبر اوصیائ کے سید و سردار
وَرُکْنِ الْاََوْ لِیائِ، وَعِمادِ الْاََصْفِیائِ، أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَیَعْسُوبِ الدِّینِ، وَقُدْوَةِ
اولیائ کے ستون پاک باطنوں کے سہارے مؤمنوں کے امیر دین کے سردار نیکوکاروں کے
الصَّالِحِینَ وَ إمامِ الْمُخْلِصِینَ، الْمَعْصُومِ مِنَ الْخَلَلِ، الْمُهَذَّبِ مِنَ الزَّلَلِ الْمُطَهَّرِ
پیشوا پاکبازوں کے امام خرابی سے بچے ہوئے لغزش سے پاک و صاف ہر نقص سے پاک شک
مِنَ الْعَیْبِ، الْمُنَزَّهِ مِنَ الرَّیْبِ، أَخِی نَبِیِّکَ، وَوَصِیِّ رَسُو لِکَ، الْبائِتِ عَلَی فِراشِهِ،
و شبہ سے دور تیرے نبی کے برادر تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصیعليهالسلام ان کے بستر پر سونے والے
وَالْمُواسِی لَهُ بِنَفْسِهِ وَکاشِفِ الْکَرْبِ عَنْ وَجْهِهِ الَّذِی جَعَلْتَهُ سَیْفاً لِنُبُوَّتِهِ وَآیَةً
ان پر جان فدا کرنے والے ان سے مصیبت کو دور کرنیوالے کہ جن کو تو نے بنایا ان کی نبوت کی حامی تلوار ان کے پیغام کیلئے
لِرِسالَتِهِ وَشاهِداً عَلَی أُمَّتِهِ وَدِلالَةً عَلَی حُجَّتِهِ، وَحامِلاً لِرایَتِهِ، وَوِقایَةً لِمُهْجَتِهِ
معجزہ ان کی امت پر گواہ ان کی حجت پر واضح دلیل ان کے پرچم کے اٹھانے والے ان کی جان کے نگہبان ان کی
وَهادِیاً لاَُِمَّتِهِ، وَیَداً لِبَأْسِهِ، وَتاجاً لِرَأْسِهِ، وَباباً لِسِرِّهِ، وَمِفْتاحاً لِظَفَرِهِ، حَتَّی
امت کے رہنما ان کی طرف سے جنگ آزما ان کے سر کا تاج ان کے اسرار کا دروازہ ان کی کامرانی کی کلید حتی کہ انہوں نے مشرکین
هَزَمَ جُیُوشَ الشِّرْکِ بِ إذْنِکَ وَأَبادَ عَساکِرَ الْکُفْرِ بِأَمْرِکَ، وَبَذَلَ نَفْسَهُ فِی مَرْضاةِ
کے لشکر تیرے حکم سے پچھاڑ دیے کفار کی فوجوں کو تیرے حکم سے نابود کر دیا تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رضا پر جان
رَسُولِکَ، وَجَعَلَها وَقْفاً عَلَی طاعَتِهِ، فَصَلِّ اَللّٰهُمَّ عَلَیْهِ صَلاةً دَائِمَةً بَاقِیَةً ۔پھر کہے:
قربان کر دی اور اپنے آپ کو ان کی اطاعت کے لئے وقف کر دیا پس اے اللہ رحمت فرما ان پر وہ رحمت جو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہو
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَالشِّهابَ الثَّاقِبَ وَالنُّورَ الْعاقِبَ یَا سَلِیلَ الْاََطَائِبِ
آپ پر سلام ہواے خدا کے ولی تیز چمک والے ستارے اے باقی رہنے والے نور اے پاکیزہ بزرگوںکے فرزند
یَا سِرَّ ﷲ، إنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ ﷲ تَعالی ذُ نُوباً قَدْ أَثْقَلَتْ ظَهْرِی وَلاَ یَأْتِی عَلَیْها إلاَّ
اے سر الہی بے شک میرے اور خدا کے درمیان گناہ حائل ہو گئے جو میری کمر توڑ رہے ہیں اور اس کی رضا ہی انہیں
رِضاهُ، فَبِحَقِّ مَنِ ائْتَمَنَکَ عَلَی سِرِّهِ، وَاسْتَرْعاکَ أَمْرِ خَلْقِهِ، کُنْ لِی إلَی ﷲ
ختم کر سکتی ہے پس بواسطہ اس کے حق کا جس نے آپ کو اپنے اسرار کا امین بنایا اور آپ کو اپنے امر خلق کا نگہبان بنایا خدا کی جانب
شَفِیعاً وَمِنَ النَّارِ مُجِیراً وَعَلَی الدَّهْرِ ظَهِیراً، فَ إنِّی عَبْدُﷲ وَوَلِیُّکَ وَزائِرُکَ صَلَّی
میں میرے سفارشی بنیں جہنم کی آگ سے پناہ اور زمانے کی سختیوں میں مدد گار بنیں کیونکہ میں خدا کا بندہ اور آپ کا محب و زائر ہوں
ﷲ عَلَیْکَ ۔ پھر چھ رکعت نماز پڑھے اور جو دعا چاہے مانگے اور کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ
خدا آپ پر رحمت فرماتا رہے۔ سلام ہو آپ پر اے مؤمنوں
الْمُؤْمِنِینَ، عَلَیْکَ مِنِّی سَلامُ ﷲ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ
کے امیر آپ پر میری طرف سے اللہ کا سلام ہو ہمیشہ ہمیشہ جب تک میں زندہ ہوں اور رات دن باقی ہیں۔
اب قبر امام حسین- کی طرف متوجہ ہو کر اشارہ کرتے ہوئے کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ أَتَیْتُکُما زائِراً وَمُتَوَسِّلاً
آپ پر سلام ہو اے ابا عبداللہعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند میں نے آپ دونوں کی زیارت کی اور اسے اللہ کی
إلَی ﷲ تَعالی رَبِّی وَرَبِّکُما، وَمُتَوَجِّهاً إلَی ﷲ بِکُما، وَمُسْتَشْفِعاً بِکُما إلَی ﷲ
طرف وسیلہ بنایا جو میرا اور آپ دونوں کا رب ہے آپ کے ذریعے خدا کی طرف متوجہ ہوا اور آپ دونوں کو اپنی حاجت کیلئے خدا
فِی حاجَتِی هذِهِ
کے ہاں اپنا وسیلہ بنایا ہے۔
اس کے بعد دعائے صفوان آخر تک پڑھے: (انہ قریب مجیب )پس قبلہ رو ہو کر دعا کا پہلا حصہ پڑھنا شروع کرے :
یَآﷲ یَآﷲ یَآﷲ یَا مُجِیْبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّیْنَ وَیَآ کَاْشِفَ کَرْبِ الْمَکْرُوْبِیْنَسے ان جملوں تک
اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے پریشانوں کی دعا قبول کرنے والے اے غم زدہ لوگوں کے غم دور کرنے والے
وَاصْرِفْنِیْ بِقَضَآئِ حَاجَتِیْ وَکِفَایَةِ مَآ اَهَمَّنِیْ هَمُّهُ مِنْ اَمْرِ دُنْیَایَ
مجھے یہاں سے لوٹا جبکہ میری حاجت پوری ہو اور میری دنیا و آخرت کے پریشان کن امور میں تو میرا حامی
وَآخِرَتِیْ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ پھر قبر امیر المومنین- کی طرف رخ کرے اور کہے : اَلسَّلاَمُ
و مدد گا ر ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے سلام ہو
عَلَیْکَ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالسَّلاَمُ عَلَیٰ أَبِیْ عَبْدِﷲ الْحُسَیْنِ مَا بَقِیْتُ وَبَقِیَ
آپ پر اے مؤمنوں کے امیر سلام ہو ابی عبداللہ حسینعليهالسلام پر جب تک میں زندہ ہوں اور دن رات کا سلسلہ
اللَّیْلُ وَالنَّهَارُ وَلَا جَعَلَهُ ﷲ اٰخِرَ الْعَهْدِ مِنِّیْ لِزِیَارَتِکُمَا وَلاَ فَرَّقَ ﷲ بَیْنِیْ وَبِیْنَکُمَا
قائم ہے میں نے آپ دونوں کی جو زیارت کی خدا اسے میری آخری زیارت قرار نہ دے اور مجھ میں اور آپ میں جدائی نہ ڈالے ۔
مؤلف کہتے ہیں دعا صفوان وہی دعائے علقمہ ہے جس کا ذکر روز عاشور کے بعد آئے گا۔ انشائ اللہ تعالیٰ ۔
ساتویں زیارت
سید ابن طاؤس مصباح الزائر میں اس زیارت کی کیفیت نقل کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ باب السلام یعنی روضہ امیرالمؤمنین- کی طرف جاتے ہوئے جب ضریح مقدس دکھائی دینے لگے تو چونتیس مرتبہ ﷲ ٲَکْبَر کہے اور پھر پڑھے :
سَلامُ ﷲ وَسَلامُ مَلائِکَتِهِ الْمُقَرَّبِینَ، وَأَ نْبِیائِهِ الْمُرْسَلِینَ، وَعِبادِهِ الصَّالِحِینَ
سلام ہو اللہ کا سلام ہو خدا کے مقرب فرشتگان کا خدا کے بھیجے ہوئے نبیوں کا خدا کے سبھی نیک بندوں کا
وَجَمِیعِ الشُّهَدائِ وَالصِّدِّیقِینَ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی آدَمَ صَفْوَةِ
تمام شہیدان راہ خدا اور سلام ہو صدیقوں کا آپ پر اے مؤمنوں کے امیرعليهالسلام سلام ہو آدم پر جو خدا کے برگزیدہ
ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ،اَلسَّلَامُ عَلَی إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی
ہیں سلام ہو نوح پرجو خدا کے نبی ہیں سلام ہو ابراہیم پر جو خدا کے خلیل ہیں سلا م ہو موسی پر
مُوسی کَلِیمِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی عِیسی رُوحِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدٍ حَبِیبِ ﷲ
جو کلیم خدا ہیں سلام ہو عیسیٰ پر جو روح خدا ہیں سلام ہو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جو خدا کے حبیب ہیں
وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَی اسْمِ ﷲ الرَّضِیِّ، وَوَجْهِهِ الْعَلِیِّ، وَصِراطِهِ
خدا کی رحمت ہو اور برکتیں ہوں سلام ہو خدا کے پسندیدہ نام اور بلند نور اور اس کے صراط
السَّوِیِّ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمُهَذَّبِ الصَّفِیِّ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی الْحَسَنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی
مستقیم پر سلام ہو خوش اطوار اور برگزیدہ پر سلام ہو ابی الحسن علی ابن ابی
طالِبٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی خالِصِ الْاََخِلاَّئِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَخْصُوصِ
طالبعليهالسلام پر اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو خدا کے خالص و مخلص دوست پر سلام ہو اس پر جو خاص جناب سیدہ کی
بِسَیِّدَةِ النِّسَائِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَوْلُودِ فِی الْکَعْبَةِ الْمُزَوَّجِ فِی السَّمائِ اَلسَّلَامُ عَلَی
ہمسری کے لئے پیدا ہوا سلام ہو اس پر جو کعبہ مقدس میں پیدا ہوا جس کی تزویج آسمان میں ہوئی سلام ہو میدان جنگ
أَسَدِ ﷲ فِی الْوَغیٰ اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ شُرِّفَتْ بِهِ مَکَّةُ وَمِنیٰ اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ
میں خدا کے شیر پر سلام ہو اس پر جس کو مکہ و منی میں شرف ملا سلام ہو ساقی حوض
الْحَوْضِ وَحامِلِ اللِّوائِ، اَلسَّلَامُ عَلَی خَامِسِ أَهْلِ الْعَبائِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْبائِتِ
کوثر اور لوائ الحمد اٹھانے والے پر سلام ہو آل عبا میں پانچویں پر سلام ہو بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
عَلَی فِراشِ النَّبِیِّ وَمُفْدِیهِ بِنَفْسِهِ مِنَ الْاََعْدائِ اَلسَّلَامُ عَلَی قالِعِ بابِ خَیْبَرَ
بے خوف ہو کر سونے والے اور دشمنوں کے مقابل ان پر جان قربان کرنے والے پر سلام ہو باب خیبر اکھاڑنے
وَالدَّاحِی بِهِ فِی الْفَضائِ اَلسَّلَامُ عَلَی مُکَلِّمِ الْفِتْیَةِ فِی کَهْفِهِمْ بِلِسانِ الْاََ نْبِیائِ
اور اس کو اوپر پھینکنے والے پر اس پر جس نے نبیوں کی زبان میں اصحاب کہف سے بات کی
اَلسَّلَامُ عَلَی مُنْبِعِ الْقَلِیبِ فِی الْفَلاَ، اَلسَّلَامُ عَلَی قالِعِ الصَّخْرَةِ وَقَدْ عَجَزَ عَنْهَا
سلام ہو بیابان میں ابلتا ہوا چشمہ نکالنے والے پر سلام پتھر اکھاڑنے والے پر کہ جسے بڑے بڑے پہلوان
الرِّجالُ الْاََشِدَّائُ اَلسَّلَامُ عَلَی مُخاطِبِ الثُّعْبانِ عَلَی مِنْبَرِ الْکُوْفَةِ بِلِسانِ الْفُصَحائِ
نہ اکھاڑ سکتے تھے سلام ہو اس پر جس نے منبر کوفہ پر اژدھا کے ساتھ فصیح تر زبان میں کلام کیا
اَلسَّلَامُ عَلَی مُخاطِبِ الذِّئْبِ وَمُکَلِّمِ الْجُمْجُمَةِ بِالنَّهْرَوانِ وَقَدْ نَخِرَتِ الْعِظامُ
سلام ہو بھیڑیئے سے بات کرنے والے پراور نہروان میں کھوپڑی سے کلام کرنے والے پر جب کہ وہ ٹوٹی پھوٹی پرانی
بِالْبِلَا، اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ الشَّفاعَةِ فِی یَوْمِ الْوَرَیٰ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
ہڈیاں ہی تھیں سلام ہو روز قیامت میں شفاعت کرنے والے پر اس کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں
اَلسَّلَامُ عَلَی الْاِمامِ الزَّکِیِّ حَلِیفِ الْمِحْرابِ اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ الْمُعْجِزِ الْباهِرِ
سلام ہو اس پاکباز امام پر جو محراب عبادت کا شائق رہا سلام ہو اس پر جو واضح معجزے رکھنے والا
وَالنَّاطِقِ بِالْحِکْمَةِ وَالصَّوابِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ عِنْدَهُ تَأْوِئلُ الْمُحْکَمِ والْمُتَشابِهِ
اور علم و دانش کی گفتگو کرنے والا ہے سلام ہو اس پر جسے واضح اور ذومعنی سبھی آیتوں کی تاویل معلوم
وَعِنْدَهُ أُمُّ الْکِتابِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ رُدَّتْ عَلَیْهِ الشَّمْسُ حِینَ تَوارَتْ بِالْحِجابِ
اور اصل کتاب کا علم ہے سلام ہو اس پر جس کے لئے سورج پلٹا جبکہ وہ پردۂ تاریکی میں ڈوب چکا تھا
اَلسَّلَامُ عَلَی مُحْیِی اللَّیْلِ الْبَهِیمِ بِالتَّهَجُّدِ وَالاکْتِیابِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ خاطَبَهُ
سلام ہو اس پر جو رات کی تاریکی میں عبادت و گریہ میں جاگتا رہا سلام ہو اس پر کہ جسے
جَبْرَئِیلُ بِ إمْرَةِ الْمُؤْمِنِینَ بِغَیْرِ ارْتِیابٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ
جبرائیلعليهالسلام نے کسی شبہ کے بغیرامیرالمؤمنینعليهالسلام کہہ کر مخاطب کیا خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں سلام ہو سرداروں کے سردار پر
السَّاداتِ، اَلسَّلَامُ عَلَی صاحِبِ الْمُعْجِزاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ عَجِبَ مِنْ حَمَلاتِهِ
سلام ہو معجزوں کے مالک پر سلا م ہو اس پر جس نے جنگوں میں اپنے پے در پے حملوں سے
فِی الْحُرُوبِ مَلائِکَةُ سَبْعِ سَمٰوَاتٍ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ نَاجَی الرَّسُولَ فَقَدَّمَ بَیْنَ
ہفت آسمان کے فرشتوں کو حیران کر دیا سلام ہو اس پر جس نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ سرگوشی کی
یَدَیْ نَجْواهُ صَدَقَاتٍ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِیرِ الْجُیُوشِ وَصَاحِبِ الْغَزَواتِ، اَلسَّلَامُ
اور قبل اس کے صدقہ دیا سلام ہو لشکروں کے سالار اور کثیر جنگیں لڑنے والے پر سلا م ہو
عَلَی مُخاطِبِ ذِئْبِ الْفَلَواتِ، اَلسَّلَامُ عَلَی نُورِ ﷲ فِی الظُّلُمَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَی
اس پر جس نے جنگل میں بھیڑیئے سے گفتگو کی سلام ہو اس پر جو تاریکیوں میں خدا کا نور ہے سلام ہو اس پر
مَنْ رُدَّتْ لَهُ الشَّمْسُ فَقَضیٰ مَا فَاتَهُ مِنَ الصَّلاةِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُه اَلسَّلَامُ
جس کے لئے سورج پلٹا تو اس نے اپنی چھوٹی ہوئی نماز وقت پر ادا کی خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں سلام ہو
عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی إمامِ الْمُتَّقِینَ
مؤمنوں کے امیر پر سلام ہو اوصیائ کے سردار پر سلام ہو پرہیزگاروں کے امام پر
اَلسَّلَامُ عَلَی وَارِثِ عِلْمِ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَی یَعْسُوبِ الدِّینِ اَلسَّلَامُ عَلَی عِصْمَةِ
سلام ہو نبیوں کے علوم کے حامل و وارث پر سلام ہو دین کے سردار پر سلام ہو مؤمنوں کے
الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی قُدْوَةِ الصَّادِقِینَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی حُجَّةِ
نگہبان و نگہدار پر سلام ہو سچ بولنے والوں کے پیشوا پر خدا کی رحمت ہو اوراس کی برکتیں سلام ہو نیک لوگوں
الْاََ بْرارِ اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی آلاَءِمَّةِ الْاََطْهارِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَخْصُوصِ بِذِی الْفَقارِ
کی حجت پر سلام ہو پاکیزہ ائمہ کے پدر بزرگوار پر سلام ہو عطائے ذوالفقار کے لئے خاص کیے جانے والے پر
اَلسَّلَامُ عَلَی ساقِی أَوْ لِیائِهِ مِنْ حَوْضِ النَّبِیِّ الْمُخْتارِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ مَا
سلام ہو اس پر جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم مختار کے حوض سے اپنے دوستوں کو سیراب کرنے والا ہے خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر
اطَّرَدَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبَاََ الْعَظِیمِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَنْ أَنْزَلَ ﷲ فِیهِ
جب تک رات دن آئیں جائیں سلام ہو اس پر جو خبر عظیم ہے سلام ہو اس پر جس کے لئے خدا نے نازل کیا:
وَ إنَّهُ فِی أُمِّ الْکِتابِ لَدَیْنا لَعَلِیٌّ حَکِیمٌ اَلسَّلَامُ عَلَی صِراطِ ﷲ الْمُسْتَقِیمِ اَلسَّلَامُ
اور بے شک وہ اصل کتاب میں ہمارے ہاں بلند تر علم والا ہے سلام ہو اس پر جو خدا کا سیدھا راستہ ہے سلام ہو
عَلَی الْمَنْعُوتِ فِی التَّوْرٰاةِ وَالْاِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
اس پر جس کا تورات انجیل اور قرآن حکیم میں تعارف کرایا گیا ہے خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں۔
اب اپنے آپ کو ضریح مبارک پر گرا دے اور بوسہ دے اور کہے:
یَا أَمِینَ ﷲ یَا حُجَّةَ ﷲ یَا وَلِیَّ ﷲ یَا صِرَاطَ ﷲ زَارَکَ عَبْدُکَ وَوَلِیُّکَ اللاَّئِذُ
اے خدا کے امین اے خدا کی حجت خدا کے ولی اے خدا کی راہ راست آپ کی زیارت کی ہے آپ کے غلام اور محب نے
بِقَبْرِکَ وَالْمُنِیخُ رَحْلَهُ بِفِنَائِکَ الْمُتَقَرِّبُ إلَی ﷲ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُسْتَشْفِعُ بِکَ إلَی
پناہ لیتے ہوئے اس قبر کی اور آپ کی بارگاہ میں حاضری کے ذریعے خدا عزوجل کا تقرب چاہتا ہے خدا کے حضور آپ کی شفاعت کا
ﷲ زِیارَةَ مَنْ هَجَرَ فِیکَ صَحْبَهُ وَجَعَلَکَ بَعْدَ ﷲ حَسْبَهُ أَشْهَدُ
طالب ہے یہ زیارت اس نے کی ہے جو آپ کیلئے سب کو چھوڑ آیا ہے اور خدا کے بعد آپ کو اپنے لئے کافی جانتا ہے میں گواہ ہوں
أَنَّکَ الطُّورُ وَالْکِتاب الْمَسْطُورُ، وَالرِّقُّ الْمَنْشُورُ، وَبَحْرُ الْعِلْمِ الْمَسْجُورُ، یَا
بے شک آپ کوہ طور ہیں لکھی ہوئی کتاب کھلا ہوا صحیفہ اور علوم کا موجزن سمندر ہیں اے
وَلِیَّ ﷲ إنَّ لِکُلِّ مَزُورٍ عَِنایَةً فِی مَنْ زارَهُ وَقَصَدَهُ وَأَتاهُ وَأَنَا وَلِیُّکَ وَقَدْ حَطَطْتُ
ولی خدا جس کی زیارت کی جائے وہ زیارت کرنے والے اور ارادت سے آنے والے پر مہربانی کرتا ہے اور میں جو آپ کا محب
رَحْلِی بِفِنائِکَ، وَلَجَأْتُ إلی حَرَمِکَ، وَلُذْتُ بِضَرِیحِکَ لِعِلْمِی بِعَظِیمِ
ہوں میں آپکی بارگاہ میں آیا ہوں آپ کے حرم کی پناہ چاہتا ہوں آپ کی ضریح سے چمٹا ہوا ہوں کہ مجھے آپ کے بلند مرتبے کا علم
مَنْزِلَتِکَ وَشَرَفِ حَضْرَتِکَ، وَقَدْ أَثْقَلَتِ الذُّنُوبُ ظَهْرِی وَمَنَعَتْنِی رُقادِی، فَما أَجِدُ
ہے سرکار کے شرف کو جانتا ہوں جبکہ مجھ پر میرے بھاری گناہ کا بوجھ ہے میری قوت جواب دے گئی ہے میرا کوئی نگہدار نہیں کوئی
حِرْزاً وَلاَ مَعْقِلاً وَلاَمَلْجَأً أَلْجَأُ إلَیْهِ إلاَّﷲ تَعالی وَتَوَسُّلِی بِکَ إلَیْهِ وَاسْتِشْفاعِی
محفوظ مقام نہیں کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں پناہ لوں بس اللہ تعالی ہی ہے اور اس کیلئے آپ کو وسیلہ بناتا ہوں اس کے حضور آپ کو سفارشی
بِکَ لَدَیْهِ، فَها أَنَا نازِلٌ بِفِنائِکَ وَلَکَ عِنْدَ ﷲ جاهٌ عَظِیمٌ، وَمَقامٌ کَرِیمٌ، فَاشْفَعْ لِی
بناتا ہوں پس یہ میں ہوںکہ اب آپ کی بارگاہ میں آبیٹھا ہوں جبکہ آپ اللہ کے ہاں بہت بڑی عزت اور بلند مرتبہ رکھتے ہیں لہذا
عِنْدَ ﷲ رَبِّکَ یَا مَوْلایَ اس کے بعد ضریح مبارک کو بوسہ دے اور قبلہ رخ ہو کر کہے:اَللّٰهُمَّ إنِّی
اے میرے مولا خدا کے حضور میری سفارش فرمائیں ۔ اے معبود! میں
أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ یَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ وَیَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ وَیَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ، وَیَا
تیرا تقرب چاہتا ہوں اے سب سے زیادہ سننے والے اے سب سے زیادہ دیکھنے والے اے تیز تر حساب کرنے والے اور اے
أَجْوَدَ الْاََجْوَدِینَ بِمُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ رَسُولِکَ إلَی الْعالَمِینَ وَبِأَخِیهِ وَابْنِ عَمِّهِ
سب سے زیادہ عطا کرنے والے بواسطہ نبیوں کے خاتم محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جو عالمین کی طرف تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں بواسطہ ان کے بھائی اور چچا زاد
الْاَ نْزَعِ الْبَطِینِ الْعالِمِ الْمُبِینِ عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَالْحَسَنَ وَالْحُسَیْنِ الْاِمامَیْنِ
کے جو گہرے باطن والے علم میں آشکار امیرالمؤمنین علیعليهالسلام کے اور بواسطہ حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کے جو دونوں امام
الشَّهِیدَیْنِ وَبِعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ زَیْنِ الْعابِدِینَ وَبِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ باقِرِ عِلْمِ الْاََوَّلِینَ
اور شہید راہ خدا ہیں بواسطہ علی بن حسینعليهالسلام زین العابدینعليهالسلام کے اور بواسطہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن علیعليهالسلام کے جو اولین کے علم کو ظاہر کرنے والے ہیں
وَبِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ زَکِیِّ الصِّدِّیقِینَ وَبِمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ الْکاظِمِ الْمُبِینِ وَحَبِیسِ
بواسطہ جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کے جو صدیقوں میں پاکیزہ ہیں بواسطہ موسیٰعليهالسلام ابن جعفرعليهالسلام کے جو ظاہر بظاہر غصے کو پینے والے اور ظالموں کے
الظَّالِمِینَ وَبِعَلِیِّ بْنِ مُوسَی الرِّضَا الْاََمِینِ وَبِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْجَوادِ عَلَمِ الْمُهْتَدِینَ
اسیر ہیں بواسطہ علیعليهالسلام ابن موسیعليهالسلام کے جو راضی بہ رضا امین خدا ہیں بواسطہ محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام کے جو ہدایت یافتگان کے نشان جواد ہیں
وَبِعَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَرِّ الصَّادِقِ سَیِّدِ الْعابِدِینَ وَبِالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْعَسْکَرِیِّ وَلِیِّ
بواسطہ علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کے جو سچے نیک عبادت گزاروں کے سردار ہیں بواسطہ حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام کے جو عسکری اور مؤمنوں کے
الْمُؤْمِنِینَ وَبِالْخَلَفِ الْحُجَّةِ صاحِبِ الْاََمْرِ مُظْهِرِ الْبَراهِینِ، أَنْ تَکْشِفَ مَا بِی مِنَ
سرپرست ہیں بواسطہ خلف حجت صاحب امرعليهالسلام جو دلائل کے مظہر ہیں ان سب کے واسطے میرے
الْهُمُومِ وَتَکْفِیَنِی شَرَّ الْبَلائِ الْمَحْتُومِ وَتُجِیرَنِی مِنَ النَّارِ ذاتِ السَّمُومِ، بِرَحْمَتِکَ
سب اندیشے دور کر دے ختم نہ ہونے والی سختیوں میں میری مدد فرما اور مجھے جہنم کی زہریلی آگ سے پناہ میں رکھ اپنی رحمت سے
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
اس کے بعد جس حاجت کے لئے چاہے دعا مانگے اور حضرت کو الوداع کر کے واپس لوٹے۔
مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز
مؤلف کہتے ہیں کہ سید عبدالکریم بن طاؤس نے فرحتہ الغرٰی میں روایت کی ہے کہ امام زین العابدین- کوفہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں تشریف لائے وہاں ابو حمزہ ثمالی موجود تھے جن کا کوفہ کے عبادت گزاروں اور بزرگ لوگوں میں شمار ہوتا تھا حضرت نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی ابو حمزہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے زیادہ پاکیزہ لہجہ کبھی نہیں سنا تھا ۔ میں ان کے نزدیک گیا تاکہ سنوں وہ کیا کہہ رہے ہیں چنانچہ میں نے سنا کہ وہ فرما رہے ہیں :
اِلٰهِیْ اِنْ کَانَ قَدْ عَصَیْتُکَ فَاِنِیْ قَدْ اَطَعْتُکَ فِیْ أَحِبَ الْأَشْیَائِ اِلَیْکَ
میرے معبود! اگر تیری نا فرمانی کی ہے تو بے شک میں نے تیری پسندیدہ چیزوں میں تیری اطاعت بھی کی ہے۔
اور یہ ایک مشہور دعا ہے ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ دعا اعمال کوفہ میں ذکر کی جائے گی اور ابو حمزہ نے بیان کیا ہے کہ وہ بزرگوار ساتویں ستون کے قریب آئے ،اپنے جوتے اتارے اور کھڑے ہو گئے پھر اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھا کر ایک تکبیر کہی کہ جس کی دہشت سے میرے بدن کے تمام رونگٹے کھڑے ہو گئے پھر انہوں نے چار رکعت نماز ادا کی جس میں رکوع و سجود انتہائی خلوص سے انجام دیئے اس کے بعد یہ دعا پڑھیاِلَهِیْ اِنْ کُنْتُ قَدْ اَعْصَیْتُکَ تا آخردعا اور سابقہ روایت کے مطابق امامعليهالسلام اٹھے اور چل دیئے ابو حمزہ نے کہا کہ میں ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا اس طرف ہم کوفہ کے باہر اونٹ بٹھانے کی جگہ پر آ گئے ۔میں نے دیکھا وہاں ایک حبشی غلام ہے جس کے پاس ایک زخمی اونٹ اور اونٹنی ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا یہ شخص کون ہے ؟ اس شخص نے کہااو یخفیٰ عَلَیْکَ شمائله ۔۔۔ آؤ آیا تم نے اسے شکل و صورت سے نہیں پہچانا وہ علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام ہیں ابو حمزہ کہتے ہیں یہ سنتے ہی میں نے خود کو ان کے قدموں میں ڈال دیا تا کہ ان کو بوسہ دوں ۔ مگر آنجناب نے مجھے ایسا نہ کرنے دیا اپنے ہاتھ سے میرا سر اٹھایا اور فرمایا ایسا مت کرو کیونکہ سوائے خدائے عز و جل کے کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ۔ میں نے عرض کی : اے فرزند رسول آپ یہاں کس لئے تشریف لائے ہیں ؟ فرمایا وہی کام تھا جو تونے دیکھا کہ میں نے مسجد کوفہ میں نماز ادا کی ہے اگر لوگوں کو اس نماز کی فضیلت کا علم ہوتا تو وہ بچوں کی طرح گھٹنوں کے بل چل کر بھی یہاں آتے ۔ یعنی ہر تکلیف اٹھا کر یہاں پہنچتے پھر فرمایا کہ آیا تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ ہو کر میرے جد بزرگوار علی ابن ابی طالب - کی زیارت کرو ، میں نے عرض کی کہ ہاں میں آپ کے ہمراہ یہ زیارت کرنا چاہتا ہوں لہذا جب آپ روانہ ہوئے اور میں آپ کے ناقہ کے سائے میں چلنے لگا آپ مجھ سے گفتگو فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نجف اشرف پہنچ گئے وہاں سفید روضہ تھا جو نور سے دمک رہا تھا آپ ناقہ سے اتر کر پیادہ ہوگئے اپنے دونوں رخسارے اس زمین پر رکھے اور فرمایا : اے ابو حمزہ ! یہ میرے جد بزرگوار علی ابن ابی طالب + کی قبر ہے : پھر ایک زیارت پڑھی ،جس کا آغاز یوں ہوتا ہے :
امام سجاد اور زیارت امیر ـ
اَلسَّلاَمُ عَلَیٰ اِسْمِ ﷲ الرَّضِیَّ وَنُوْرِ وَجْهِهٰ الْمُضِیٓئِ
سلام ہو خدا کے اس نام پر جو اس کا پسندیدہ اور اس کا مظہر ہے ۔
اس کے بعد آپ نے اس قبر اطہر کو الوداع کہا اور مدینے کی طرف روانہ ہوگئے اور میں کوفہ واپس آ گیا ۔مؤلف کہتے ہیں کہ فرحتہ الغریٰ میں سید ابن طاؤس کی اس زیارت کو نقل نہ کرنے پر مجھے افسوس ہوا میں نے امیرالمؤمنین- کے لئے منقول ایک ایک زیارت تلاش کی اور اسے دیکھا لیکن مجھے وہ زیارت نہ ملی ،جس کی ابتدائ ان دو جملوںسے ہوتی ہو ،مگر یہ زیارت شریف کہ جس کا پہلا جملہ اس کے موافق اور دوسرا اس سے مختلف ہے ۔پس ممکن ہے کہ یہ وہی زیارت ہو اور اس کا یہ اختلاف چنداں اثر نہیں رکھتا ۔ اگر کوئی کہے کہ اس زیارت کا آغاز وہی :
سَلاَمُ ﷲ وَسَلاَمُ مَلاَئِکَتِهٰ ہے نہ کہ :اَلسَّلاَمُ عَلَیٰ اِسْمِ ﷲ تو میں کہوں گا اس کا آغاز
سلام ہو خدا کا اور سلام ہو اس کے فرشتوں کا سلام ہو خدا کے اس نام پر
اَلسَّلاَمُ عَلَیٰ اِسْمِ ﷲ الرَّضِیَّ
سلام ہو خدا کے اس نام پرجو اس کا پسندیدہ ہے ۔
اور دیگر سلام اجازت داخلہ اور طلب رخصت کیلئے ہیں اور اس کی دلیل امیرالمؤمنین- کے روز ولادت کی زیارت ہے جو ہماری زیر بحث زیارت سے بہت حد تک مشابہت رکھتی ہے ۔جو اس کی طرف رجوع کرے اسے معلوم ہو جائے گا نیز معلوم ہونا چاہیے کہ زیارت ششم اور زیارت روز ولادت میں یہ دو جملے بجز لفظ نور کے شامل ہیں لیکن وہ زیارت کے آغاز میں نہیں آئے ہیں ۔ وﷲ اعلم ۔ مختصر یہ کہ زیارات مطلقہ میں سے یہ سات زیارتیں ہی ہمارے لئے کافی ہیں جو ہم نے نقل کر دی ہیں اور اگر کوئی اس سے زیادہ کا خواہش مند ہو تو وہ زیارت جامعہ پڑھے یہ زیارت مبسوطہ ہے کہ جو اس کے بعد ہم روز غدیر کے لئے نقل کریں گے کیونکہ اس زیارت کے ہر جگہ اور ہر وقت پڑھنے کی روایت ہوئی ہے ۔یاد رہے کہ اس زیارت اور نماز کو امیرالمؤمنین- کے حرم مطہر میں پڑھنے کو غنیمت شمار کرے ان بزرگوار اور دیگر آئمہ کے قرب میں ایک نماز دو لاکھ نمازوں کے برابر ہے امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جو شخص واجب الاطاعت امام کی زیارت کرے اور وہاں چار رکعت نماز پڑھے تو اس کیلئے حج و عمرہ کا ثواب لکھا جائے گا نیز ہم نے ہدیۃ الزائرین میں قبر امیرالمؤمنین- کی مجاورت کی فضیلت نقل کی ہے۔
لیکن شرط یہ ہے کہ امیرالمؤمنین- کے قرب کا حق ملحوظ رکھا جائے جو کہ کافی مشکل ہے اور ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے اور اس مقام پر اس کا ذکر کیا جانا ضروری ہے۔پس خواہش مند اہل ایمان کتاب کلمہ طیبہ کی طرف رجوع فرمائیں ۔
ذکر وداع امیرالمؤمنین
جب زیارت سے فراغت پا کر نجف اشرف سے واپسی کا ارادہ کرے تو امیرالمؤمنین- کیلئے یہ وداع پڑھے جو علمائ کی کتب میں مذکور ہے اور ہم نے اسے زیارت پنجم کے بعد نقل کیا ہے ۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ أَسْتَوْدِعُکَ ﷲ وَأَسْتَرْعِیکَ وَأَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلامَ
آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہو اور برکتیں میں آپکو خدا کے سپرد کرتا ہوں آپ کی توجہ چاہتا ہوںاور آپ کو سلام عرض کرتا ہوں
آمَنّا بِالله وَبِالرُّسُلِ وَبِمَا جَاءَتْ بِهِ وَدَعَتْ إلَیْهِ، وَدَلَّتْ عَلَیْهِ فَاکْتُبْنا مَعَ
اور ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر رسولوں پر اور جو پیغام وہ لائے جسکی طرف دعوت دی اور جس کی طرف رہبری کی پس ہمارا نام گواہی
الشَّاهِدِینَ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِی إیَّاهُ فَ إنْ تَوَفَّیْتَنِی قَبْلَ ذلِکَ
دینے والوں میں لکھ دے اے اللہ! اس زیارت کو میری ان کی آخری زیارت قرار نہ دے پس اگر میں قبل اس کے مر جاؤں تو
فَ إنِّی أَشْهَدُ فِی مَمَاتِی عَلَی مَا شَهِدْتُ عَلَیْهِ فِی حَیٰاتِی، أَشْهَدُ أَنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ
بے شک میری بعد از موت وہی گواہی ہوگی جو گواہی میں زندگی میں دے رہا ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ مؤمنوں کے امیر
عَلِیَّاً وَالْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ وَعَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ
علیعليهالسلام ، حسنعليهالسلام حسینعليهالسلام علی بن الحسینعليهالسلام ، محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام ، جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام ،
وَمُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ وَعَلِیَّ بْنَ مُوسی وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ وَعَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنَ
موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام ، علیعليهالسلام بن موسیعليهالسلام ، محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام ، علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام ، حسنعليهالسلام
بْنَ عَلِیٍّ، وَالْحُجَّةَ بنَ الْحَسَنِ صَلَواتُکَ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ أَئِمَّتِی، وَأَشْهَدُ أَنَّ مَنْ
بن علیعليهالسلام ، اور حجت بن الحسنعليهالسلام ان سب پر تیری رحمت ہو میرے امام ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ان سے جنگ کرنے
قَتَلَهُمْ وَحارَبَهُمْ مُشْرِکُونَ، وَمَنْ رَدَّ عَلَیْهِمْ فِی أَسْفَلِ دَرَکٍ مِنَ الْجَحِیمِ، وَأَشْهَدُ
اور انہیں قتل کرنے والے مشرک ہیںجنہوں نے ان کے حکم کو رد کیا وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گیاور گواہی دیتا ہوں
أَنَّ مَنْ حارَبَهُمْ لَنا أَعْدائٌ وَنَحْنُ مِنْهُمْ بُرَائُ وَأَنَّهُمْ حِزْبُ الشَّیْطانِ وَعَلَی مَنْ قَتَلَهُمْ
کہ جو ان سے لڑے وہ ہمارے دشمن ہیں اور ہم ان سے بیزار ہیں کہ وہ شیطان کا گروہ ہیں اور جنہوں نے ائمہعليهالسلام کو قتل کیا
لَعْنَةُ ﷲ وَالْمَلائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ وَمَنْ شَرِکَ فِیهِمْ وَمَنْ سَرَّهُ قَتْلُهُمْ اَللّٰهُمَّ
لعنت ہو ان پر اللہ کی اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی اور ان پر بھی جو ان کے قتل میں شریک ہوئے اور اس پر خوش ہوئے اے اللہ !
إنِّی أَسْأَلُکَ بَعْدَ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِیمِ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَفاطِمَةَ وَالْحَسَنِ
میں بعد از درود و سلام تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ رحمت نازل فرما محمد ، علیعليهالسلام ، فاطمہ(س)، حسنعليهالسلام ،
وَالْحُسَیْنِ وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَجَعْفَرٍ وَمُوسی وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُجَّةِ
حسینعليهالسلام ، علیعليهالسلام ، محمدعليهالسلام ، جعفرعليهالسلام ، موسیعليهالسلام ، علیعليهالسلام ، محمدعليهالسلام ، علیعليهالسلام ، حسنعليهالسلام ،
وَلاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِهِ فَ إنْ جَعَلْتَهُ فَاحْشُرْنِی مَعَ هؤُلائِ الْمُسَمَّیْنَ آلاَءِمَّةِ
اور حجتعليهالسلام پر اور میری اس زیارت کوزیارت آخر قرار نہ دے پس اگر تو ایسا کرے تو مجھے ان کے ساتھ اٹھانا جن ائمہعليهالسلام کے نام لیے گئے
اَللّٰهُمَّ وَذَ لِّلْ قُلُوبَنا لَهُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْمُناصَحَةِ وَالْمَحَبَّةِ وَحُسْنِ الْمُٰؤَازَرَةِ وَالتَّسْلِیمِ
اے معبود! ہمارے دلوں کو انکی اطاعت کیلئے جھکادے نیز ان سے نصیحت حاصل کرنے محبت رکھنے انکے ہاں حاضر ہونے اور حکم ماننے میں لگا دے ۔
دوسرا مقصد
زیارت مخصوصہ امیر المؤمنین-
زیارت امیر ـ روز عید غدیر
یہ امیرالمؤمنین- کی زیارت مخصوصہ کے بارے میں ہے اور اس میں چند زیارات ہیں کہ ان میں پہلی زیارت روز غدیر ہے یہ زیارت امام رضا- سے روایت ہوئی ہے آپ نے ابن ابی نصر سے فرمایا:اے ابن ابی نصر! تم جہاںکہیں بھی ہو روز غدیر امیرالمؤمنین- کے روضہ پر حاضر ہو جاؤ یقینا حق تعالی اس روز مؤمن مردوں اور عورتوں کے ساٹھ سال کے گناہ معاف کرتا ہے اور اس روز اس سے دگنے مردوں عورتوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے جتنے ماہ رمضان ،شب قدر، اور شب عید فطر میں آزاد کیے ہوتے ہیں واضح رہے کہ اس پاک دن پڑھنے کیلئے بہت سی زیارتیں نقل کی گئی ہیں۔( ۱ ) امین اللہ ہے جو کہ مطلقہ زیارت میں دوسری زیارت کے عنوان سے گزر چکی ہے۔ ( ۲ )یہ زیارت معتبر اسنا د کے ساتھ امام علی نقی - سے نقل کی گئی ہے جس کی کیفیت یہ ہے کہ جب زیارت کا ارادہ کرے تو امیرالمؤمنین- کے روضہ منورہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر اِذن دخول پڑھے اور شیخ شہید نے اس طرح فرمایا ہے کہ غسل کرے پاکیزہ لباس پہنے اور پھر داخلے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہے :
اَللّٰهُمَ أِنِیْ وَقَفْتُ عَلَیٰ بَابِ ۔
اے اللہ ! میں اس دروازے پر کھڑا ہوں ۔
اور یہ وہی پہلا اذن دخول ہے جو ہم نے باب اول میں نقل کیا ہے دایاں پاؤں آگے رکھ کر اندر داخل ہو ضریح مبارک کے نزدیک جائے اور پشت بہ قبلہ ضریح کے سامنے کھڑا ہو اور کہے :
اَلسَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدٍ رَسُولِ ﷲ، خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَسَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ، وَصَفْوَةِ رَبِّ
سلام ہو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پرجو خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نبیوں کے خاتم پیغمبروں کے سردار منتخب پروردگار عالم ہیں اس کی
الْعالَمِینَ، أَمِینِ ﷲ عَلَی وَحْیِهِ وَعَزائِمِ أَمْرِهِ، وَالْخاتِمِ لِما سَبَقَ، وَالْفاتِحِ لِمَا
وحی اور محکم امر کے امانت دار ہیں سابقہ علوم کو کامل کرنے والے آئندہ علوم کے دروازے
اسْتُقْبِلَ وَالْمُهَیْمِنِ عَلَی ذلِکَ کُلِّهِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ وَصَلَواتُهُ وَتَحِیَّاتُهُ
کھولنے والے اور ان سب کے محافظ و نگہبان ہیں خدا کی رحمت ہو ان پر اور اس کی برکتیں اس کے درود اور سلام ہوں
اَلسَّلَامُ عَلَی أَنْبِیَائِ ﷲ وَرُسُلِهِ وَمَلائِکَتِهِ الْمُقَرَّبِینَ وَعِبَادِهِ الصَّالِحِینَ اَلسَّلَامُ
سلام ہو خدا کے نبیوں اور اس کے رسولوں اس کے مقرب فرشتوں اور اس کے نیک بندوں پر آپ پر سلام ہو
عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَسَیِّدَ الْوَصِیِّینَ وَوَارِثَ عِلْمِ النَّبِیِّینَ وَوَلِیَّ رَبِّ الْعالَمِینَ
اے مؤمنوں کے امیر اوصیائ کے سردار نبیوں کے علم کے وارث جہانوں کے رب کے ولی
وَمَوْلایَ وَمَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَمِیرَ
اور میرے اور سب مؤمنوں کے مولا سلام ہو خدا کی رحمت اور برکتیں سلام ہو آپ پر اے میرے مولا اے مؤمنوں کے
الْمُؤْمِنِینَ یَا أَمِینَ ﷲ فِی أَرْضِهِ وَسَفِیرَهُ فِی خَلْقِهِ، وَحُجَّتَهُ الْبَالِغَةَ عَلَی عِبَادِهِ
امیر اے خدا کی زمین میں اس کے امین اس کی مخلوق میںاس کے سفیر اور اس کے بندوں پر اس کی کامل تر حجت
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا دِینَ ﷲ الْقَوِیمَ، وَصِراطَهُ الْمُسْتَقِیمَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا النَّبَأُ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے دین محکم اور اس کے راہ راست آپ پر سلام ہو اے خبر عظیم
الْعَظِیمُ الَّذِی هُمْ فِیهِ مُخْتَلِفُونَ وَعَنْهُ یُسْئَلُوْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ،
جس میں لوگوں نے اختلاف کیا اور اس کے لئے جواب دہ ہیں آپ پر سلام ہو اے مؤمنوں کے امیرعليهالسلام کہ آپ
آمَنْتَ بِالله وَهُمْ مُشْرِکُونَ، وَصَدَّقْتَ بِالْحَقِّ وَهُمْ مُکَذِّبُونَ، وَجاهَدْتَ فِی ﷲ
خدا پر ایمان لائے اور وہ مشرک ہو گئے آپ نے حق کی تصدیق فرمائی اور انہوں نے جھٹلایا آپ نے جہاد کیا اور وہ سر
وَهُمْ مُحْجِمُونَ وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً لَهُ الدِّینَ صابِراً مُحْتَسِباً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ
چھپاتے رہے اور آپ نے خدا کے دین میں خالص ہو کر اس کی عبادت کی خیر خواہ اور صابر رہ کر حتی کہ آپ کی شہادت ہوگئی
أَلاَ لَعْنَةُ ﷲ عَلَی الظَّالِمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْمُسْلِمِینَ وَیَعْسُوبَ الْمُؤْمِنِینَ
آگاہ رہو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے آپ پر سلام ہو اے مسلمانوں کے سردار مؤمنوں کے رہبر و پیشوا پرہیزگاروں کے
وَ إمامَ الْمُتَّقِینَ، وَقائِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ، وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ أَشْهَدُ أَ نَّکَ أَخُو
امام نورانی چہرے والے پیشانی والوں کے پیشرو خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں میں گواہ ہوں بے شک آپ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے
رَسُولِ ﷲ وَوَصِیُّهُ وَوارِثُ عِلْمِهِ، وَأَمِینُهُ عَلَی شَرْعِهِ، وَخَلِیفَتُهُ فِی أُمَّتِهِ، وَأَوَّلُ
برادر ان کے وصی ان کے علوم کے وارث ان کی شریعت کے امانت دار ان کی امت میں ان کے جانشین اور وہ پہلے فرد ہیں کہ خدا پر
مَنْ آمَنَ بِالله وَصَدَّقَ بِما أُنْزِلَ عَلَی نَبِیِّهِ، وَأَشْهَدُ أَ نَّهُ قَدْ بَلَّغَ عَنِ ﷲ مَا أَ نْزَلَهُ
ایمان لائے اور جو کچھ اس کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہوا اس کی تصدیق کی میں گواہ ہوں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پہنچایا جو کچھ آپ کے حق میں اترا
فِیکَ فَصَدَعَ بِأَمْرِهِ وَأَوْجَبَ عَلَی أُمَّتِهِ فَرْضَ طاعَتِکَ وَوِلایَتِکَ وَعَقَدَ عَلَیْهِمُ الْبَیْعَةَ
پس حکم خدا میں سعی کی اور اپنی امت پر آپکی اطاعت واجب کی آپکی ولایت فرض کر دی آپ کیلئے ان لوگوں سے بیعت لی اور
لَکَ، وَجَعَلَکَ أَوْلَیٰ بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ کَما جَعَلَهُ ﷲ کَذَلِکَ، ثُمَّ أَشْهَدَ ﷲ
آپ کوان کے نفسوں سے زیادہ بااختیار بنایا جیسا کہ خدا نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو با اختیا ر بنایا پھر خدا کو ان پر گواہ قرار دیا
تَعَالی عَلَیْهِمْ فَقالَ أَلَسْتُ قَدْ بَلَّغْتُ فَقالُوا اَللّٰهُمَّ بَلیٰ فَقالَ اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ وَکَفیٰ بِکَ
اور فرمایا آیا میں نے تبلیغ نہیں کی انہوں نے کہا باخدا کی ہے تب فرمایا اے اللہ گواہ رہنا اور تو گواہی کے لئے کافی ہے
شَهِیداً وَحاکِماً بَیْنَ الْعِبادِ، فَلَعَنَ ﷲ جاحِدَ وِلایَتِکَ بَعْدَ الْاِقْرارِ، وَناکِثَ عَهْدِکَ
اور بندوں میں حکم کرنے والا ہے پس خدا کی لعنت اس پر جو اقرار کے بعد تیری ولایت کا انکار کرے اور تجھ سے عہد باندھنے
بَعْدَ الْمِیثَاقِ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ وَفَیْتَ بِعَهْدِ ﷲ تَعالَی وَأَنَّ ﷲ تَعالَی مُوفٍ لَکَ بِعَهْدِهِ
کے بعد توڑے اور میں گواہ ہوں بے شک آپ نے خدا سے کیا ہوا عہد پورا کیا اور یقینا خدا بھی آپ سے کیا ہوا عہد پورا کر یگا اور جو
وَمَنْ أَوْفَی بِما عاهَدَ عَلَیْهِ ﷲ فَسَیُؤْتِیهِ أَجْراً عَظِیماً، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ
خدا سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرے تو وہ اسے بہت بڑا اجر دے گا میں گواہ ہوں کہ مؤمنوں کے حقیقی امیر ہیں
الْحَقُّ الَّذِی نَطَقَ بِوِلایَتِکَ التَّنْزِیلُ، وَأَخَذَ لَکَ الْعَهْدَ عَلَی الْاَُمَّةِ بِذلِکَ الرَّسُولُ
جن کی ولایت قرآن نے بتائی اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کا عہد لے کر حجت تمام کر دی ہے
وَأَشْهَدُ أَنَّکَ وَعَمَّکَ وَأَخاکَ الَّذِینَ تاجَرْتُمُ ﷲ بِنُفُوسِکُمْ فَأَنْزَلَ ﷲ فِیکُمْ إنَّ ﷲ
میں گواہ ہوں کہ آپ کے چچا حمزہعليهالسلام آپ کے بھائی جعفرعليهالسلام نے خدا سے اپنی جانوں کا سودا کیا تو اس نے آپ کے لئے فرمایا بے شک
اشْتَرَیٰ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ ﷲ
خدا نے مؤمنوںسے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ان کو جنت دے کر کہ وہ خدا کی راہ میں جنگ کرتے ہیں
فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَیْهِ حَقَّاً فِی التَّوْرٰاةِ وَالْاِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَیٰ
پھر قتل کرتے ہیں اور قتل ہو جاتے ہیں یہ اس کے ذمہ سچا وعدہ ہے جو اس نے توریت انجیل اور قرآن میں فرمایااور کون ہے جو
بِعَهْدِهِ مِنَ ﷲ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمُ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِهِ وَذلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ
خدا سے بڑھ کر وعدہ پورا کرنے والاہے پس مژدہ ہو تمہارے سودے پر جو تم نے خدا سے کیا ہے اور یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہے
التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاکِعُونَ السَّاجِدُونَ الْاَمِرُونَ
جو توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے اس کی حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے
بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ ﷲ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِینَ،
نیک کاموں کا حکم دینے والے برے کاموں سے روکنے والے اور خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ایسے مؤمنوں کو
أَشْهَدُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَنَّ الشَّاکَّ فِیکَ مَا آمَنَ بِالرَّسُولِ الْاََمِینِ وَأَنَّ الْعادِلَ بِکَ
خوشخبری دو اے مؤمنوں کے امیر میں گواہی دیتا ہوں کہ جو آپ کی امامت میں شک کرے وہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم امین پر ایمان نہیں لایا اور جو
غَیْرَکَ عانِدٌ عَنِ الدِّینِ الْقَوِیمِ الَّذِی ارْتَضَاهُ لَنَا رَبُّ الْعَالَمِینَ، وَأَکْمَلَهُ
آپ کے علاوہ غیر کو مانے تو وہ اس محکم دین کا دشمن ہے جسے جہانوں کے رب نے ہمارے لئے پسند فرمایا اور یوم غدیر آپ کی
بِوِلایَتِکَ یَوْمَ الْغَدِیرِ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ الْمَعْنِیُّ بِقَوْلِ الْعَزِیزِ الرَّحِیمِ وَأَنَّ هذَا صِرَاطِی
ولایت سے اس کو کامل کیا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ قوی و مہربان کے قول میں آپ ہی مراد ہیں کہ بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے
مُسْتَقِیماً فَاتَّبِعُوهُ وَلَاتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِهِ ضَلَّ وَﷲ وَأَضَلَّ مَنِ
پس اس کی پیروی کرو اور ٹیڑھے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کے راستے سے بھٹکا دیں گے بخدا آپ کے غیر کا پیروکار اور گمراہ
اتَّبَعَ سِواکَ وَعَنَدَ عَنِ الْحَقِّ مَنْ عاداکَ اَللّٰهُمَّ سَمِعْنا لاََِمْرِکَ وَأَطَعْنا وَاتَّبَعْنا
کرنے والا ہے اور آپ کا دشمن حق و حقیقت کا دشمن ہے اے معبود! ہم نے تیرا فرمان سنا اور اطاعت کی اور تیری صراط مستقیم (علیعليهالسلام )
صِراطَکَ الْمُسْتَقِیمَ فَاهْدِنا رَبَّنا وَلاَتُزِغْ قُلُوبَنا بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنا إلی طاعَتِکَ وَاجْعَلْنا
کی پیروی کی پس قائم رکھ ہمیں اے ہمارے رب اور جب ہمیں اپنی اطاعت کی راہ دکھائی ہے تو ہمارے دلوں کو کج نہ ہونے دے
مِنَ الشَّاکِرِینَ لاََِنْعُمِکَ وَأَشْهَدُ أَ نَّکَ لَمْ تَزَلْ لِلْهَویٰ مُخالِفاً، وَ لِلتُّقیٰ مُحالِفاً،
اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بنادے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہمیشہ خواہش نفس کے مخالف پرہیز گاری کے حامی غصے کو
وَعَلَی کَظْمِ الْغَیْظِ قادِراً ، وَعَنِ النَّاسِ عافِیاً غافِراً، وَ إذا عُصِیَ ﷲ ساخِطاً، وَ
پینے پر قادر اور لوگوں کو معاف کرنے بخش دینے والے رہے آپ خدا کی نافرمانی پر ناراض اور
إذا أُطِیعَ ﷲ راضِیاً، وَبِما عَهِدَ إلَیْکَ عامِلاً، راعِیاً لِمَا اسْتُحْفِظْتَ، حافِظاً لِمَا
اس کی اطاعت پر راضی ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کرنے والے قابل حفاظت چیزوں کے نگہبان خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی امانتوں کے محافظ
اسْتُودِعْتَ، مُبَلِّغاً مَا حُمِّلْتَ، مُنْتَظِراً مَا وُعِدْتَ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ مَا اتَّقَیْتَ ضارِعاً،
احکام الہی کے مبلغ اور اس کے وعدوں کے منتظر رہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کی روا داری کمزوری کی وجہ سے
وَلاَ أَمْسَکْتَ عَنْ حَقِّکَ جازِعاً وَلاَ أَحْجَمْتَ عَنْ مُجاهَدَةِ غاصِبِیکَ ناکِلاً وَلاَ
نہ تھی آپ کی اپنے حق پر خاموشی خوف کے باعث نہ تھی غاصبوں سے جہاد نہ کرنے میں آپ کی سستی کا دخل نہ تھا آپ نے
أَظْهَرْتَ الرِّضیٰ بِخِلافِ مَا یُرْضِی ﷲ مُداهِناً، وَلاَ وَهَنْتَ لِما أَصابَکَ فِی سَبِیلِ
رضا الہی کے خلاف سہل پسندی سے اپنی رضا مندی کا اظہار نہیں کیا اور خدا کی راہ میںمصیبتو ں پر کبھی کم ہمتی سے کام نہیں لیا
ﷲ، وَلاَ ضَعُفْتَ وَلاَ اسْتَکَنْتَ عَنْ طَلَبِ حَقِّکَ مُراقِباً، مَعاذَ ﷲ أَنْ تَکُونَ کَذلِکَ،
آپ نے دیکھنے سننے اپنا حق طلب کرنے میں کوئی کمزوری اور ناتوانی نہیں دکھائی اس سے خدا کی پناہ کہ آپ اس طرح کے ہوں
بَلْ إذْ ظُلِمْتَ احْتَسَبْتَ رَبَّکَ وَفَوَّضْتَ إلَیْهِ أَمْرَکَ وَذَکَّرْتَهُمْ فَمَا ادَّ کَرُوا وَوَعَظْتَهُمْ
بلکہ جب آپ پر ظلم کیا گیا جس پر آپ نے صبر کیا اور اپنا یہ معاملہ خدا کے سپرد کر دیا آپ نے انہیں نصیحت کی تو انہوں نے قبول نہ کی
فَمَا اتَّعَظُوا، وَخَوَّفْتَهُمُ ﷲ فَمَا تَخَوَّفُوا، وَأَشْهَدُ أَ نَّکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ جاهَدْتَ
انکو سمجھایا تو وہ نہیں سمجھے اور آپ نے خد ا سے ڈرایا تو وہ نہیں ڈرے اے مؤمنوں کے امیر میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کیلئے
فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ حَتّی دَعاکَ ﷲ إلی جِوارِهِ، وَقَبَضَکَ إلَیْهِ بِاخْتِیارِهِ، وَأَلزَمَ
وہ جہاد کیا جو جہاد کرنے کا حق ہے یہاں تک کہ خدا نے آپکو جوار رحمت میں بلا لیا اور اپنے اختیار سے آپکی جان قبض کر لی اور آپکے
أَعْدائَکَ الْحُجَّةَ بِقَتْلِهِمْ إیَّاکَ لِتَکُونَ الْحُجَّةُ لَکَ عَلَیْهِمْ مَعَ مَا لَکَ مِنَ الْحُجَجِ
دشمنوں پر حجت لازم کردی جب کہ انہوں نے آپکو قتل کیا تاکہ آپکی طرف سے ان پر حجت قائم ہو جائے علاوہ ان کامل حجتوں کے
الْبَالِغَةِ عَلَی جَمِیعِ خَلْقِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، عَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً
جو آپ کی طرف سے ساری مخلوق پر قائم ہیں آپ پر سلام ہو اے مؤمنوں کے امیر کہ آپ نے خدا کی خالص عبادت کی
وَجَاهَدْتَ فِی ﷲ صَابِراً، وَجُدْتَ بِنَفْسِکَ مُحْتَسِباً، وَعَمِلْتَ بِکِتابِهِ ، وَاتَّبَعْتَ
خدا کی راہ میں صبر تحمل کیساتھ جہاد کیا اور ُحسن نیت کے ساتھ اپنی جان قربان کر دی آپ نے کتاب خدا پر عمل کیا اس کے نبی کی سنت
سُنَّةَ نَبِیِّهِ وَأَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ
کی پیروی فرمائی آپ نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دیتے رہے آپ نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا جہاں تک
مَا اسْتَطَعْتَ مُبْتَغِیاً مَا عِنْدَ ﷲ، رَاغِباً فِیمَا وَعَدَ ﷲ، لاَ تَحْفِلُ بِالنَّوَائِبِ، وَلاَ تَهِنُ
آپ کی وسعت تھی آپ کا مقصد رضا الہی تھا خدا کے وعدوں پر توجہ رکھی آپ مصائب میں گھبرائے نہیں اور سختیوں میں
عِنْدَ الشَّدائِدِ وَلاَ تَحْجِمُ عَنْ مُحارِبٍ أَفِکَ مَنْ نَسَبَ غَیْرَ ذلِکَ إلَیْکَ
کمزوری ظاہر نہیں کی نہ آپ نے کسی دشمن کو پیٹھ دکھائی جس نے اس کے علاوہ آپ کے بارے کچھ کہا اس نے آپ پر بہتان لگایا
وَافْتَریٰ باطِلاً عَلَیْکَ، وَأَوْلی لِمَنْ عَنَدَ عَنْکَ، لَقَدْ جاهَدْتَ فِی ﷲ حَقَّ الْجِهادِ
اور آپکے بارے میں جھوٹ باندھا اور یہ باتیں آپ کے دشمنوں میں موجود رہی ہیں جب کہ آپ نے خدا کی خاطر جہاد کا حق ادا
وَصَبَرْتَ عَلَی الْاََذیٰ صَبْرَ احْتِسابٍ، وَأَنْتَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِالله وَصَلَّی لَهُ
کر دیا اور دکھوں پر خیر خواہی کے ساتھ صبر استقامت کا مظاہرہ کیا آپ ہی وہ پہلے فرد ہیں کہ خدا پر ایمان لائے اس کی نماز پڑھی اور
وَجاهَدَ وَأَبْدی صَفْحَتَهُ فِی دارِ الشِّرْکِ وَالْاََرْضُ مَشْحُونَةٌ ضَلالَةً، وَالشَّیْطانُ
جہاد کیا آپ نے اس شرک کے مرکز اور گمراہی سے بھری دنیا میں خود کو آشکار کیا جہاں کھلے عام شیطان کی
یُعْبَدُ جَهْرَةً، وَأَنْتَ الْقائِلُ لاَ تَزِیدُنِی کَثْرَةُ النَّاسِ حَوْلِی عِزَّةً، وَلاَ
پوجا کی جارہی تھی وہ آپ ہی ہیں جو کہہ رہے تھے کہ میرے گرد لوگوں کی کثرت سے میری عزت میں کچھ اضافہ نہیں ہوتا اور نہ ان
تَفَرُّقُهُمْ عَنِّی وَحْشَةً، وَلَوْ أَسْلَمَنِی النَّاسُ جَمِیعاً لَمْ أَکُنْ مُتَضَرِّعاً اعْتَصَمْتَ
کے ہٹ جانے سے مجھے وحشت ہوتی ہے اگر سب لوگ مجھے چھوڑ کر جائیں تو بھی میں باطل کے آگے نہیں جھکونگا آپ نے خدا سے تعلق رکھا
بِالله فَعَزَزْتَ، وَآثَرْتَ الْآخِرَةَ عَلَی الْاَُولی فَزَهِدْتَ، وَأَیَّدَکَ ﷲ وَهَداکَ
تو اس نے عزت عطا کی آپ نے دنیا کے مقابل آخرت کو ترجیح دی پس آپ نے زہد کو اپنایا پھر خدا نے آپکی تائید فرمائی آپ کو ہدایت
وَأَخْلَصَکَ وَاجْتَباکَ، فَما تَناقَضَتْ أَ فْعالُکَ، وَلاَ اخْتَلَفَتْ أَقْوالُکَ، وَلاَ تَقَلَّبَتْ
دی آپ کو خالص اپنا بنایا اور برگزیدہ کیا پس آپ کے افعال میں تفریق نہیں آپ کے اقوال میں مختلف نہیں آپ کے احوال
أَحْوالُکَ، وَلاَ ادَّعَیْتَ وَلاَ افْتَرَیْتَ عَلَی ﷲ کَذِباً، وَلاَ شَرِهْتَ إلَی الْحُطامِ، وَلاَ
متغیر نہیں ہوئے آپ نے کوئی غلط دعویٰ نہیں کیا نہ آپ نے خدا کے بارے میں جھوٹ کہا آپ نے دنیا کمانے کی خواہش نہیں رکھی
دَنَّسَکَ الْاَثامُ، وَلَمْ تَزَلْ عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّکَ، وَیَقِینٍ مِنْ أَمْرِکَ، تَهْدِی إلَی الْحَقِّ وَ
نہ گناہوں نے آپ کو آلودہ کیا آپ ہمیشہ ہمیشہ خدا کی دلیل و حجت پر قائم اور یقین کے ساتھ عمل کرتے رہے یعنی حق و حقیقت راہ
إلی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ، أَشْهَدُ شَهادَةَ حَقٍّ، وَأُقْسِمُ بِالله قَسَمَ صِدْقٍ أَنَّ مُحَمَّداً
راست کی طرف رہبری فرمائی کہ گواہی دیتا ہوں میں سچی گواہی اور قسم کھاتا ہوں اللہ کی سچی قسم کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَآلَهُ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ سَادَاتُ الْخَلْقِ، وَأَ نَّکَ مَوْلایَ وَمَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ، وَأَ نَّکَ
و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ساری مخلوق کے سردار ہیں خدا کی رحمتیں ہوں ان پر اور بے شک آپ میرے مولا اور مؤمنوں کے مولا ہیں یقینا
عَبْدُ ﷲ وَوَ لِیُّهُ وَأَخُوالرَّسُولِ وَوَصِیُّهُ وَوارِثُهُ، وَأَنَّهُ الْقائِلُ لَکَ وَالَّذِی بَعَثَنِی
آپ خدا کے بندے اسکے ولی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی انکے وصی اور انکے وارث ہیں اور انہوں نے آپ کیلئے فرمایا قسم اسکی جس نے مجھے
بِالْحَقِّ مَا آمَنَ بِیْ مَنْ کَفَرَ بِکَ، وَلاَ أَقَرَّ بِالله مَنْ جَحَدَکَ، وَقَدْ ضَلَّ مَنْ صَدَّ عَنْکَ
حق کیساتھ مبعوث کیا کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لایا جس نے تمہارا ا نکار کیا اور جو تمہارا منکر ہؤا اس نے خدا کو نہیں مانا وہ گمراہ ہوا جوتم
وَلَمْ یَهْتَدِ إلَی ﷲ وَلاَ إلَیَّ مَنْ لاَ یَهْتَدِی بِکَ، وَهُوَ قَوْلُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ
سے پھر گیا جو تمہاری ولایت کا قائل نہیں وہ اللہ کی طرف اور میری طرف راہ نہیں پائے گا یہی میری عزت وجلال والے رب کا قول
وَ إنِّی لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً ثُمَّ اهْتَدیٰ إلی وِلایَتِکَ مَوْلایَ
ہے یقینا میں اسے بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر آپکی ولایت کے راستے پر آئے میرے سردار آپ
فَضْلُکَ لاَ یَخْفیٰ، وَنُورُکَ لاَ یُطْفَأُ، وَأَنَّ مَنْ جَحَدَکَ الظَّلُومُ الْاََشْقیٰ، مَوْلایَ
کی بزرگی پوشیدہ نہیں آپ کا نور بجھتا نہیں بے شک آپ سے جنگ کرنے والا بڑا ظالم اور بد بخت ہے میرے آقا
أَنْتَ الْحُجَّةُ عَلَی الْعِبادِ، وَالْهادِی إلَی الرَّشادِ، وَالْعُدَّةُ لِلْمَعادِ، مَوْلایَ لَقَدْ رَفَعَ
آپ بندوں پر خدا کی حجت ہیں راہ راست کی طرف لے جانے والے اور آخرت کے لئے سرمایہ ہیں میرے مولا !دنیا میں
ﷲ فِی الْاَُولی مَنْزِلَتَکَ، وَأَعْلی فِی الْاَخِرَةِ دَرَجَتَکَ، وَبَصَّرَکَ مَا عَمِیَ عَلَی مَنْ
خدا نے آپ کا مرتبہ بلند کیا اور آخرت میں آپ کو بلند تر قرار دیا ہے خدا نے آپ کو بصیرت دی جب کہ آپ کے مخالف نابینا ہیں
خالَفَکَ، وَحالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ مَواهِبِ ﷲ لَکَ، فَلَعَنَ ﷲ مُسْتَحِلِّی الْحُرْمَةِ
اس لئے وہ آپکے اور آپ کیلئے خدا کے عطیوں کے درمیان حائل ہوگئے پس خدا لعنت کرے ان پر جنہوں نے آپ کی حرمت کا
مِنْکَ وَذائِدِی الْحَقِّ عَنْکَ وَأَشْهَدُ أَنَّهُمُ الْاََخْسَرُونَ الَّذِینَ تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ
خیال نہ رکھا اور آپ کے حق پر قبضہ کر بیٹھے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بہت گھاٹے میں ہیں آگ ان کے چہروں کوپگھلائے گی
وَهُمْ فِیها کالِحُونَ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ مَا أَقْدَمْتَ وَلاَ أَحْجَمْتَ وَلاَ نَطَقْتَ وَلاَ أَمْسَکْتَ
اور وہ اس میں خوار ہوں گے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا آگے بڑھنا پیچھے ہٹنا آپ کا کلام کرنا اور خاموش رہنا
إلاَّ بِأَمْرٍ مِنَ ﷲ وَرَسُو لِهِ، قُلْتَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِهِ لَقَدْ نَظَرَ إلَیَّ رَسُولُ ﷲ
بس اللہ اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم سے ہے آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ أَضْرِبُ بِالسَّیْفِ قُدْماً فَقالَ یَا عَلِیُّ أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ
اللہ نے مجھ پر نظر فرمائی جب میںبڑھ بڑھ کے تلوار چلا رہا تھا پس فرمایا اے علیعليهالسلام ! میرے ساتھ تیری وہی نسبت ہے جو ہارونعليهالسلام کی
مِنْ مُوسیٰ إلاَّ أَ نَّهُ لاَ نَبِیَّ بَعْدِی، وَأُعْلِمُکَ أَنَّ مَوْتَکَ وَحَیاتَکَ مَعِی وَعَلَی سُنَّتِی،
موسیٰعليهالسلام سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میں تجھے بتا دوں کہ بے شک تیری موت و حیات میرے ساتھ اور میری سنت پر ہے
فَوَﷲ مَا کَذِبْتُ وَلاَ کُذِّبْتُ وَلاَ ضَلَلْتُ وَلاَ ضُلَّ بِی وَلاَ نَسِیتُ مَا عَهِدَ إلَیَّ رَبِّی،
بخدا میں نے جھوٹ نہیں کہا نہ جھوٹ سنا نہ میں گمراہ ہوا نہ گمراہ کیا اور میں اپنے رب کی فرمائش نہیں بھولا
وَ إنِّی لَعَلی بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی بَیَّنَها لِنَبِیِّهِ، وَبَیَّنَهَا النَّبِیُّ لِی، وَ إنِّی لَعَلَیٰ الطَّرِیقِ
میں ضرور اس دلیل پر قائم ہوں جومیرے رب نے اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بتائی اور نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھ کو سمجھائی میں لفظ بہ لفظ
الْواضِحِ أَلْفِظُهُ لَفْظاً صَدَقْتَ وَﷲ وَقُلْتَ الْحَقَّ فَلَعَنَ ﷲ مَنْ ساواکَ بِمَنْ ناواکَ
واضح راستے اور طریقے پر رواں ہوں بخدا آپ نے سچ فرمایا اور حق بات کہی پس خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپکو آپکے مخالف
وَﷲ جَلَّ اسْمُهُ یَقُولُ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِینَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِینَ لاَ یَعْلَمُون، فَلَعَنَ ﷲ
کے برابر جانا جبکہ بلند نام والا خدا کہتا ہے کہ آیا برابر ہو سکتے ہیں جاننے والے اور وہ جو نہیں جانتے ہیں پس خدا لعنت کرے
مَنْ عَدَلَ بِکَ مَنْ فَرَضَ ﷲ عَلَیْهِ وِلایَتَکَ وَأَنْتَ وَلِیُّ ﷲ، وَأَخُو رَسُولِهِ، وَالذَّابُّ
اس پر جو خدا کیطرف سے واجب شدہ آپکی ولایت سے منہ موڑے رہا جبکہ آپ خدا کے دوست اسکے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے برادر اور اسکے
عَنْ دِینِهِ، وَالَّذِی نَطَقَ الْقُرْآنُ بِتَفْضِیلِهِ، قالَ ﷲ تَعالی وَفَضَّلَ ﷲ الْمُجاهِدِینَ
دین کو بچانے والے ہیں آپ وہ ہیں جسکی فضیلت کو قرآن ظاہر کرتا ہے جیسے خدائے تعالی نے فرمایا کہ خدا نے بڑائی دی ہے مجاہدوں
عَلَی الْقاعِدِینَ أَجْراً عَظِیماً دَرَجاتٍ مِنْهُ وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةً وَکانَ ﷲ غَفُوراً رَحِیماً
کو پیچھے بیٹھ رہنے والوں پر ان کیلئے اس کیطرف سے بڑا اجر اور بلند درجہ بخشش اور رحمت ہے اور خدا بہت بخشنے والااور مہربان ہے
وَقالَ ﷲ تَعالی أَجَعَلْتُمْ سِقایَهَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ کَمَنْ آمَنَ بِالله
اور خدائے تعالی نے یہ بھی فرمایا آیا تم حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کو آباد کرنے والے کے عمل کو ویسا قرار دیتے ہو جو کہ خدا
وَالْیَوْمِ الْاَخِرِ وَجاهَدَ فِی سَبِیلِ ﷲ لاَ یَسْتَوُونَ عِنْدَ ﷲ وَﷲ لاَ یَهْدِی الْقَوْمَ
و یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے راہ خدا میں جہاد کیا اور خدا کے ہاں برابر نہیں ہیں اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت
الظَّالِمِینَ، الَّذِینَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا فِی سَبِیلِ ﷲ بِأَمْوالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ
نہیں دیتا وہ جو ایمان لائے ہجرت کی اور انہوں نے خدا کی راہ میں جہاد کیا اپنے مالوں اور جانوں سے
أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ ﷲ وَأُولَئِکَ هُمُ الْفائِزُونَ یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ
خدا کے نزدیک ان کا بڑا درجہ ہے وہی تو کامیاب ہیں ان کا پروردگار بشارت دیتا ہے ان کو اپنی رحمت اورخوشنودی کی اور ان کیلئے
وَجَنَّاتٍ لَهُمْ فِیها نَعِیمٌ مُقِیمٌ، خَالِدِینَ فِیهَا أَبَداً إنَّ ﷲ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِیمٌ، أَشْهَدُ
باغات ہیں نعمت بھرے جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہا کریں گے کیونکہ خدا وہ ہے جس کے ہاں بہت بڑا اجر ہے میں گواہی دیتا ہوں
أَنَّکَ الْمَخْصُوصُ بِمِدْحَةِ ﷲ، الْمُخْلِصُ لِطاعَةِ ﷲ، لَمْ تَبغِ بِالْهُدیٰ بَدَلاً، وَلَمْ
کہ آپ خدا کی مدح کے خاص مصداق ہیں خدا کی اطاعت میں مخلص ہیں آپ نے ہدایت کے بدلے میں کچھ نہیں چاہا اور اپنے
تُشْرِکْ بِعِبادَةِ رَبِّکَ أَحَداً، وَأَنَّ ﷲ تَعالَی اسْتَجابَ لِنَبِیِّهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
یگانہ خدا کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کیا بے شک خدائے تعالی نے اپنے نبی کی وہ دعا قبول فرمائی
فِیکَ دَعْوَتَهُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِ إظْهارِ مَا أَوْلاکَ لاَُِمَّتِهِ، إعْلائً لِشَأْنِکَ، وَ إعْلاناً لِبُرْهانِکَ،
جو آپکے بارے میں تھی پھر انکو حکم دیا کہ انکی امت پر آپکو جو بڑائی ہے اسکا اظہار کریں تاکہ آپکی شان عیاں ہو نیزآپکے بارے میں
وَدَحْضاً لِلاََْباطِیلِ، وَقَطْعاً لِلْمَعاذِیرِ، فَلَمَّا أَشْفَقَ مِنْ فِتْنَةِ الْفاسِقِینَ، وَاتَّقیٰ فِیکَ
برہان و دلیل کا اعلان کریں کہ باطل ہٹ جائے اور بہانے کٹ جائیں پس وہ آپکے حق میں بد کرداروں اور منافقوں سے خوف و
الْمُنافِقِینَ، أَوْحیٰ إلَیْهِ رَبُّ الْعالَمِینَ یَا أَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ
خطر محسوس کرتے تھے تب جہانوں کے پروردگار نے ان کو یہ وحی بھیجی کہ اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا وہ
وَ إنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَﷲ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ، فَوَضَعَ عَلَی نَفْسِهِ
پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اس کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا اور خدا تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا پس حضرت نے سفر کی زحمت
أَوْزارَ الْمَسِیرِ، وَنَهَضَ فِی رَمْضائِ الْهَجِیرِ، فَخَطَبَ وَأَسْمَعَ وَنَادَی فَأَبْلَغَ، ثُمَّ
کا بوجھ اٹھا لیا غدیر کے تپتے ہوئے صحرا میں رک گئے پس خطبہ دیا اور بآواز بلند سب کو سنایا پھر
سَأَلَهُمْ أَجْمَعَ، فَقالَ هَلْ بَلَّغْتُ فَقالُوا اَللّٰهُمَّ بَلَیٰ فَقالَ اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ، ثُمَّ قالَ أَلَسْتُ
اس اجتماع سے سوال کیا فرمایا آیا میں نے تبلیغ کردی؟ سب نے کہا ہاں تب فرمایا اے اللہ! گواہ رہنا پھر فرمایا آیا میں مؤمنوں پر ان
أَوْلَیٰ بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَقالُوا بَلیٰ فَأَخَذَ بِیَدِکَ، وَقالَ مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ فَهَذا
کی جانوں سے بڑھ کر مختار نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا ہاں پس حضرت نے آپکا ہاتھ پکڑا اور کہا جس کا میں مولا ہوں پس یہ علیعليهالسلام اس کا
عَلِیُّ مَوْلاهُ، اَللّٰهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَعادِ مَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ
مولا ہے اے اللہ اسکے دوست سے دوستی اور اسکے دشمن سے دشمنی رکھ جو اسکی مدد کرے اسکی مدد کر اور جو اسے چھوڑے تو اسے چھوڑ
خَذَلَهُ، فَمَا آمَنَ بِما أَنْزَلَ ﷲ فِیکَ عَلَی نَبِیِّهِ إلاَّ قَلِیلٌ، وَلاَ زَادَ أَکْثَرَهُمْ غَیْرَ
دے پس وہ ایمان نہ لائے اس پر جو خدا نے آپکے حق میں اپنے نبی پر نازل کیا لیکن تھوڑے لوگ اور ان میں زیادہ تر لوگوں نے
تَخْیِیرٍ، وَلَقَدْ أَنْزَلَ ﷲ تَعالی فِیکَ مِنْ قَبْلُ وَهُمْ کَارِهُونَ یَا أَیُّهَا
گھاٹے کے سوا کچھ حاصل نہ کیا اس سے پہلے خدا نے آپ کے بارے میں آیات نازل کیں تو انہوں نے ناپسندیدگی ظاہر کی اے
الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِهِ فَسَوْفَ یَأْتِی ﷲ بِقَوْمٍ یُحِبُّهُمْ وَیُحِبُّونَهُ
ایمان لانے والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائیگا تو خدا آیندہ ایسا گروہ لے آئے گا جسے وہ چاہتا اور وہ اسے چاہتے ہیں
أَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ أَعِزَّةٍ عَلَی الْکَافِرِینَ یُجَاهِدُونَ فِی سَبِیلِ ﷲ وَلاَ یَخَافُونَ
وہ مؤمنوں کے ساتھ نرم اور کافروں پر سخت گیر ہیں وہ خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور ملامت کرنے والوں کی ملامت
لَوْمَةَ لائِمٍ ذلِکَ فَضْلُ ﷲ یُؤْتِیهِ مَنْ یَشائُ وَﷲ واسِعٌ عَلِیمٌ إنَّمَا وَلِیُّکُمُ ﷲ
سے نہیں ڈرتے یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے تحقیق تمہارا ولی اللہ
وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ،
اور اس کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور وہ ہیں جو ایمان لائے انہوں نے نماز قائم کی اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں
وَمَنْ یَتَوَلَّ ﷲ وَرَسُولَهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا فَ إنَّ حِزْبَ ﷲ هُمُ الْغَالِبُونَ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا
اور جو لوگ اللہ اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور صاحبان ایمان کی ولایت قبول کر لیں تو وہ خدا کا گروہ ہیں غالب رہنے والے ہمارے رب
أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاکْتُبْنا مَعَ الشَّاهِدِینَ رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ
ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے نازل کیا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی کرتے ہیں پس ہمیں گواہوں میں لکھ لے ہمارے رب ہمارے دلوں کو
إذْ هَدَیْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَنْتَ الْوَهَّابُ اَللّٰهُمَّ إنَّا
ٹیڑھا نہ ہونے دے جبکہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے اے اللہ
نَعْلَمُ أَنَّ هذَا هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَالْعَنْ مَنْ عَارَضَهُ وَاسْتَکْبَرَ وَکَذَّبَ بِهِ
ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ وہی حق ہے کہ جو تیری طرف سے ہے پس لعنت کر ان پر جو انکے مخالف تکبر کرنے والے اسکا انکار
وَکَفَرَ وَسَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ
کرنے جھٹلانے والے ہیں اور ظلم کرنے والوں کو جلد معلوم ہو جائیگا کہ انہیں کہاں لوٹ کر جانا ہے سلام ہوآپ پر اے مؤمنوں کے امیر
وَسَیِّدَ الْوَصِیِّینَ وَأَوَّلَ الْعابِدِینَ وَأَزْهَدَ الزَّاهِدِینَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ وَصَلَواتُهُ
اوصیائ کے سردار عبادت کرنے والوں میں پہلے سب سے بڑے زاہد خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں اور اس کا درود
وَتَحِیَّاتُهُ، أَنْتَ مُطْعِمُ الطَّعامِ عَلَی حُبِّهِ مِسْکِیناً وَیَتِیماً وَأَسِیراً لِوَجْهِ ﷲ لاَ تُرِیدُ
و سلام ہو آپ ہیں خدا کی محبت میں مسکین یتیم اور اسیر کو کھانا کھلانے والے ہیںمحض خدا کی خاطر کہ آپ ان سے
مِنْهُمْ جَزائً وَلاَ شُکُوراً، وَفِیکَ أَنْزَلَ ﷲ تَعالی وَیُؤْثِرُونَ عَلی أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ کَانَ
کسی بدلے اور شکریے کے خواہاں نہ تھے اور آپ کے بارے میں خدا نے نازل کیا کہ وہ دوسروں کو خود پر مقدم رکھتے ہیں اگرچہ
بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَأَ نْتَ الْکاظِمُ لِلْغَیْظِ
انکو شدید حاجت بھی ہو اور جو اپنے نفس کو بخل سے بچاتے ہیں تو وہی نجات پانے والے ہیں اور آپ ہیں غصے کو پینے والے لوگوں کو
وَالْعافِی عَنِ النَّاسِ وَﷲ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ، وَأَنْتَ الصَّابِرُ فِی الْبَأْسائِ وَالضَّرَّائِ
معاف کرنے والے اور خدا نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے اور آپ ہیں تنگدستی اور سختیوں اور ہنگام جنگ میں
وَحِینَ الْبَأْسِ، وَأَنْتَ الْقاسِمُ بِالسَّوِیَّةِ، وَالْعادِلُ فِی الرَّعِیَّةِ، وَالْعالِمُ بِحُدُودِ ﷲ
صبر کرنے والے اور آپ برابر تقسیم کرنے والے رعیت میں عدل کرنے والے اور سب سے بڑھ کر خدا
مِنْ جَمِیعِ الْبَرِیَّةِ وَﷲ تَعالی أَخْبَرَ عَمَّا أَوْلاکَ مِنْ فَضْلِهِ بِقَوْ لِهِ أَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِناً
کی حدوں کو جاننے والے اور اللہ تعالی نے آپ کو فضیلت و بڑائی کی خبر دی اپنے قول میں کہ آیا جو مؤمن ہے
کَمَنْ کَانَ فَاسِقاً لاَ یَسْتَوُونَ، أَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ جَنَّاتُ
وہ فاسق کی مانند ہے وہ برابر نہیں ہیں لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے کام کرتے رہے تو ان کے لئے ہمیشگی والے
الْمَأْوَیٰ نُزُلاً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ وَأَنْتَ الْمَخْصُوصُ بِعِلْمِ التَّنْزِیلِ وَحُکْمِ
باغات ٹھکانہ ہیں ان کے بدلے میں جو عمل انہوں نے کیے اور آپ کوخاص کیا گیا نزول آیات کے علم میں اور آیتوں کی تاویل کے
التَّأْوِیلِ وَنَصِّ الرَّسُولِ، وَلَکَ الْمَواقِفُ الْمَشْهُودَةُ، وَالْمَقاماتُ الْمَشْهُورَةُ
مطابق حکم لگانے میں اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے نامزدگی میں اور آپ کی ثابت قدمی کے مقامات عیاں ہیں آپ کے مرتبے آشکار اور
وَالْاََیَّامُ الْمَذْکُورَةُ ، یَوْمَ بَدْرٍ وَیَوْمَ الْاََحْزابِ إذْ زاغَتِ الْاََ بْصارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ
آپ کے خاص دن یادگار ہیں یعنی یوم بدر اور یوم خندق کہ جب ڈر سے آنکھیں خیرہ ہو گئیں اور دل گردنوں میں
الْحَناجِرَ وَتَظُنُّونَ بِالله الظُّنُونَا هُنالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزالاً شَدِیداً
آپھنسے اور خدا کے بارے میں بد گمانیاں ہونے لگیں وہاں مؤمنوں کی آزمائش کی گئی اور ان پر سخت لرزہ طاری ہوگیا
وَ إذْ یَقُولُ الْمُنافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا ﷲ وَرَسُولُهُ إلاَّ غُرُوراً
جب منافقین اور جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ کہہ رہے تھے کہ خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہمیں جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ نہیں دیا
وَ إذْ قالَتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ یَا أَهْلَ یَثْرِبَ لاَ مُقامَ لَکُمْ فَارْجِعُوا وَیَسْتَأْذِنُ فَرِیقٌ مِنْهُمُ
اور یاد کرو جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا اے یثرب والو یہاں تمہارے لئے کوئی ٹھکانا نہیں گھروں کو چلے جاؤ اور ان میں ایک
النَّبِیَّ یَقُولُونَ إنَّ بُیُوتَنا عَوْرَةٌ وَمَا هِیَ بِعَوْرَةٍ إنْ یُرِیدُونَ إلاَّ فِراراً،
گروہ پیغمبر سے واپسی کی اجازت کیلئے کہتا تھا ہمارے گھرغیرمحفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہ تھے بلکہ وہ صرف جنگ سے بھاگنا چاہتے تھے
وَقالَ ﷲ تَعالی وَلَمَّا رَأَیٰ الْمُؤْمِنُونَ الْاََحْزابَ قَالُوا هذَا مَا وَعَدَنَا ﷲ وَرَسُولُهُ
اور خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ جب مؤمنوں نے احزاب کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہم سے
وَصَدَقَ ﷲ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إلاَّ إیماناً وَتَسْلِیماً، فَقَتَلْتَ عَمْرَهُمْ، وَهَزَمْتَ
وعدہ کیا خدا اوراسکا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سچے ہیں اور اس سے انکے ایمان و یقین میں اضافہ ہوا تب آپ نے عمر(بن ود) کو قتل کیا اور ان کے لشکر
جَمْعَهُمْ وَرَدَّ ﷲ الَّذِینَ کَفَرُوا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنالُوا خَیْراً وَکَفَیٰ ﷲ الْمُؤْمِنِینَ
کو شکست دی خدا نے کافروں کو غیض و غضب کے عالم میں واپس کیا اور انہوں نے کوئی بھلائی نہ پائی اور خدا نے جنگ میں
الْقِتالَ وَکانَ ﷲ قَوِیَّاً عَزِیزاً، وَیَوْمَ أُحُدٍ إذْ یُصْعِدُونَ وَلاَ یَلْوُونَ عَلَی أَحَدٍ
مؤمنوں کی کفایت فرمائی اور خدا قوت والا غالب تر ہے اور احد کے دن جب لوگ پہاڑ پر چڑھے جاتے تھے اور پیچھے رہ جانے والوں
وَالرَّسُولُ یَدْعُوهُمْ فِی أُخْراهُمْ وَأَنْتَ تَذُودُ بِهِمُ الْمُشْرِکِینَ عَنِ النَّبِیِّ ذَاتَ
کو دیکھتے ہی نہ تھے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے پیچھے ان کو پکار رہے تھے جب کہ آپ نبی کے دائیں بائیں سے مشرکین کو لڑ بھڑ کر پیچھے دھکیلتے
الْیَمِینِ وَذاتِ الشِّمَالِ حَتَّی رَدَّهُمُ ﷲ تَعَالی عَنْکُما خائِفِینَ وَنَصَرَ بِکَ الْخاذِلِینَ
جاتے تھے یہاں تک کہ خدا نے خائف دشمنوں کو آپ سے دور کر دیا اور آپ کے ذریعے بھاگے ہوؤں کو مدد دی
وَیَوْمَ حُنَیْنٍ عَلَی مَا نَطَقَ بِهِ التَّنْزِیلُ إذْ أَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئاً
اور حنین کا دن جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ جب تمہاری کثرت نے تمہیں نازاں کر دیا پس وہ تمہارے کسی کام نہ آئی
وَضاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاََرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ، ثُمَّ أَنْزَلَ ﷲ سَکِینَتَهُ عَلَی
اور زمین تمہارے لئے تنگ ہو گئی جب وہ وسیع تھی پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سکون قلب نازل کیا
رَسُولِهِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْتَ وَمَنْ یَلِیکَ وَعَمُّکَ الْعَبَّاسُ یُنادِی الْمُنْهَزِمِینَ
اور مؤمنوں پر بھی ہاں آپ اور آپ کے پیروکار ہی تو مؤمن ہیں اس وقت آپ کے چچا عباس بھاگنے والوں کو پکار رہے تھے اے
یَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، یَا أَهْلَ بَیْعَةِ الشَّجَرَةِ، حَتَّی اسْتَجابَ لَهُ قَوْمٌ قَدْ
سورہ بقرہ کی تلاوت کرنے والواے بیعت شجرہ میں حصہ لینے والویہاں تک کہ ایک گروہ نے ان کو لبیک کہا اس وقت آپ نے ان
کَفَیْتَهُمُ الْمَؤُونَةَ وَتَکَفَّلْتَ دُونَهُمُ الْمَعُونَةَ فَعَادُوا آیِسِینَ مِنَ الْمَثُوبَةِ رَاجِینَ وَعْدَ
کے نان و نفقہ کا انتظام کیا پس وہ ثواب جہاد سے ناامیدی میں خدا کے قبول توبہ کے وعدے کی
ﷲ تَعالی بِالتَّوْبَةِ، وَذلِکَ قَوْلُ ﷲ جَلَّ ذِکْرُهُ ثُمَّ یَتُوبُ ﷲ مِنْ بَعْدِ ذلِکَ عَلی مَنْ
آس میں پلٹ آئے اور یہ بلند ذکر والے خدا کا فرمان ہے کہ پھر خدا جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے اور آپ ہی ہیں جو صبر کے
یَشَائُ، وَأَنْتَ حَائِزٌ دَرَجَةَ الصَّبْرِ فائِزٌ بِعَظِیمِ الْاََجْرِ، وَیَوْمَ خَیْبَرَ إذْ أَظْهَرَ ﷲ
اونچے درجے پر ہیں بہت بڑا اجر پانے والے ہیں اور خیبر کے دن جب خدا نے منافقوں کی سستی ظاہر کی
خَوَرَ الْمُنافِقِینَ وَقَطَعَ دابِرَ الْکافِرِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَلَقَدْ کانُوا عَاهَدُوا
اور آپ کے ذریعے کافروں کی جڑیں کاٹ دیں اور حمد ہے خدا کے لئے جو جہانوں کا رب ہے اور فرمان الہی ہے کہ اس سے پہلے
ﷲ مِنْ قَبْلُ لاَ یُوَلُّونَ الْاََدْبَارَ وَکَانَ عَهْدُ ﷲ مَسْؤُولاً مَوْلایَ أَنْتَ
انہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ دشمنوں سے پیٹھ نہ پھیریں گے اور خدا سے کیے ہوئے عہد پر باز پرس ہوگی اے میرے مولا آپ ہی
الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ ، وَالْمَحَجَّةُ الْواضِحَةُ، وَالنِّعْمَةُ السَّابِغَةُ، وَالْبُرْهانُ الْمُنِیرُ، فَهَنِیئاً
تو کامل حجت حق کا واضح تر طریق خدا کی نعمت عامہ اور روشن تردلیل ہیں پس آپ پر اللہ کا
لَکَ بِما آتاکَ ﷲ مِنْ فَضْلٍ، وَتَبّاً لِشانِئِکَ ذِی الْجَهْلِ، شَهِدْتَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی
یہ فضل مبارک بہت بہت مبارک ہو آپ کے جاہل دشمن پر ہلاکت پڑے آپ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ
ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ جَمِیعَ حُرُوبِهِ وَمَغازِیهِ تَحْمِلُ الرَّایَةَ أَمامَهُ وَتَضْرِبُ بِالسَّیْفِ قُدَّامَهُ
سبھی جنگوں میں حاضر اور شامل ہوئے ان کے حضور علمبردار لشکر رہے اور ان پر حملہ کرنے والوں پر تلوار چلاتے رہے
ثُمَّ لِحَزْمِکَ الْمَشْهُورِ، وَبَصِیرَتِکَ فِی الْاَُمُورِ أَمَّرَکَ فِی الْمَواطِنِ وَلَمْ یَکُنْ عَلَیْکَ
پھر آپ کی انتہائیاحتیاط اور آپ کی معاملہ فہمی کے پیش نظر وہ آپ کو امیر بناتے تھے کسی کو آپ پر امیر نہیں بنایا
أَمِیرٌ، وَکَمْ مِنْ أَمْرٍ صَدَّکَ عَنْ إمْضائِ عَزْمِکَ فِیهِ التُّقیٰ، وَاتَّبَعَ غَیْرُکَ فِی مِثْلِهِ
کتنے ہی ایسے امور ہیں جن میں تقویٰ آپ کے لئے رکاوٹ بن گیا جب کہ آپ کے غیر نے ان میں خواہش کی
الْهَویٰ فَظَنَّ الْجاهِلُونَ أَنَّکَ عَجَزْتَ عَمَّا إلَیْهِ انْتَهیٰ، ضَلَّ وَﷲ الظَّانُّ لِذَلِکَ وَمَا
پیروی کی پس جاہلوں نے خیال کیا آپ ان امور میں قاصر و عاجز ہیں قسم بخدا یہ خیال کرنے والا گمراہ ہوا اور راہ نہ پاسکا اور آپ نے
اهْتَدیٰ، وَلَقَدْ أَوْضَحْتَ مَا أَشْکَلَ مِنْ ذلِکَ لِمَنْ تَوَهَّمَ وَامْتَریٰ بِقَوْ لِکَ صَلَّی ﷲ
ایسا وہم کرنے والے کی مشکل آسان کر دی جو آپ کے قول پر شک کرتا تھا خدا کی رحمت ہو آپ پر کبھی
عَلَیْکَ قَدْ یَرَیٰ الْحُوَّلُ الْقُلَّبُ وَجْهَ الْحِیلَةِ وَدُونَها حَاجِزٌ مِنْ تَقْوَی ﷲ فَیَدَعُها
امور کو انجام دینے والا ان کے لئے عجیب سا طریقہ دیکھتا ہے جس میں تقویٰ رکاوٹ بن جاتا ہے لیکن اس کی
رَأْیَ الْعَیْنِ، وَیَنْتَهِزُ فُرْصَتَها مَنْ لاَ حَرِیجَةَ لَهُ فِی الدِّینِ، صَدَقْتَ وَﷲ وَخَسِرَ
پروا نہیں کرتا جو چاہے کر گزرتا ہے اور اپنے دین کی کچھ فکر نہیں کرتا آپ سچے اور اہل باطل
الْمُبْطِلُونَ وَ إذْ ماکَرَکَ النَّاکِثانِ، فَقالا نُرِیدُ الْعُمْرَةَ، فَقُلْتَ لَهُما
گھاٹے میں ہیں جب بیعت توڑنے والے دو شخصوں نے مکر کیا اور آپ سے کہا ہم عمرہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے ان سے کہا
لَعَمْرُکُما مَا تُرِیدانِ الْعُمْرَةَ، لکِنْ تُرِیدانِ الْغَدْرَةَ، فَأَخَذْتَ الْبَیْعَةَ عَلَیْهِما،
تمہاری زندگی کی قسم تم عمرہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے لیکن یہ کہ تم دھوکہ دینا چاہتے ہو پس آپ نے بار دیگر ان سے بیعت لے لی
وَجَدَّدْتَ الْمِیثاقَ، فَجَدَّا فِی النِّفاقِ، فَلَمَّا نَبَّهْتَهُما عَلَی فِعْلِهِما أَغْفَلا وَعادا وَمَا
اور پھر سے عہد و پیمان باندھا مگر وہ دونوں نفاق کر رہے تھے جب آپ نے ان کو اس فعل سے خبردار کیا تو بے پروا ہو کر چلے گئے اور
انْتَفَعا، وَکانَ عاقِبَةُ أَمْرِهِما خُسْراً، ثُمَّ تَلاهُما أَهْلُ الشَّامِ فَسِرْتَ إلَیْهِمْ بَعْدَ
کچھ فائدہ نہ پا سکے اور انجام کار وہ خسارے سے دوچار ہوئے پھر شام والوں نے بھی انہی کی پیروی کی تو ان کا عذر و بہانہ سن کر آپ
الْاِعْذارِ وَهُمْ لاَ یَدِینُونَ دِینَ الْحَقِّ، وَلاَ یَتَدَ بَّرُونَ الْقُرْآنَ، هَمَجٌ رُعاعٌ ضَالُّونَ
ان کی طرف روانہ ہوئے کیونکہ ان کا دین و حق سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہی قرآن کی تعلیم پر توجہ دیتے تھے اور ہر آواز کے پیچھے چلنے
وَبِالَّذِی أُنْزِلَ عَلَی مُحَمَّدٍ فِیکَ کافِرُونَ، وَلاََِهْلِ الْخِلافِ عَلَیْکَ
والے گمراہ تھے آپ کے بارے میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جو آیات آئیں ان کا انکار کرتے تھے اور آپ کے دشمنوں کی مدد و نصرت کرنے
نَاصِرُونَ، وَقَدْ أَمَرَ ﷲ تَعالی بِاتِّباعِکَ، وَنَدَبَ الْمُؤْمِنِینَ إلَی نَصْرِکَ، وَقالَ عَزَّ
والے تھے جبکہ خدا نے آپ کی پیروی کا حکم دیا اور مؤمنوں کو آپ کی نصرت کی دعوت دی تھی اور خدائے عز وجل
وَجَلَّ یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا ﷲ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ، مَوْلایَ بِکَ ظَهَرَالْحَقُّ،
نے فرمایا کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو اور حق سچ والوں کیساتھ ہو جاؤ میرے مولاعليهالسلام آپ کے ذریعے حق آشکار ہوا
وَقَدْ نَبَذَهُ الْخَلْقُ، وَأَوْضَحْتَ السُّنَنَ بَعْدَ الدُّرُوسِ وَالطَّمْسِ، فَلَکَ سابِقَةُ الْجِهادِ
جب کہ لوگ اسے چھوڑ چکے تھے آپ نے پیغمبر کی سنتوں کو ظاہر کیا جب وہ بھلائی مٹائی جا چکیں تھیں پس تبلیغ قرآن کے لئے جہاد
عَلَی تَصْدِیقِ التَّنْزِیلِ وَلَکَ فَضِیلَةُ الْجِهادِ عَلَی تَحْقِیقِ التَّأْوِیلِ وَعَدُوُّکَ عَدُوُّ ﷲ
میں آپ کو سبقت حاصل ہے اور قرآن کی تاویل و تعین مفہوم کیلئے جہاد کی فضیلت بھی آپ ہی کے لئے ہے آپ کا دشمن خدا کا دشمن
جاحِدٌ لِرَسُولِ ﷲ یَدْعُو باطِلاً، وَیَحْکُمُ جائِراً، وَیَتَأَمَّرُ غاصِباً، وَیَدْعُو حِزْبَهُ
خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا انکار کرنے والا باطل کی طرف بلانے والا ظالمانہ فیصلہ کرنے والا زبردستی حکومت لینے والا اور اپنے گروہ کو جہنم
إلَی النَّارِ، وَعَمَّارٌ یُجاهِدُ وَیُنادِی بَیْنَ الصَّفَّیْنِ الرَّواحَ الرَّواحَ إلَی الْجَنَّةِ، وَلَمَّا
کی طرف بلانے والا لیکن عمار جہاد کرتے اور آواز دے رہے تھے دو لشکروں کے درمیان کہ چلو چلو جنت کی طرف چلو
اسْتَسْقیٰ فَسُقِیَ اللَّبَنَ کَبَّرَ وَقالَ قالَ لِی رَسُولُ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ آخِرُ
اور جب انہوں نے پانی مانگا تو انہیں دودھ پلایا گیا تب تکبیر بلند کی اور کہا حضرت رسول نے مجھ سے فرمایا تھا
شَرابِکَ مِنَ الدُّنْیا ضَیاحٌ مِنْ لَبَنٍ، وَتَقْتُلُکَ الْفِیَةُ الْباغِیَةُ، فَاعْتَرَضَهُ أَبُو الْعادِیَةِ
کہ دنیا میں تمہاری آخری خوراک دودھ کا پیالہ ہے اور تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا پس ابو العادیہ فزاری آپکے مقابل آیا اور
الْفَزارِیُّ فَقَتَلَهُ فَعَلیٰ أَبِی الْعادِیَةِ لَعْنَةُ ﷲ وَلَعْنَةُ مَلائِکَتِهِ وَرُسُلِهِ أَجْمَعِینَ وَعَلَیٰ
اس نے آپ کو شہید کردیا پس ابو العادیہ پر خدا کی اس کے فرشتوں کی اور اس کے رسولوں کی لعنت برستی رہے اس پر
مَنْ سَلَّ سَیْفَهُ عَلَیْکَ، وَسَلَلْتَ سَیْفَکَ عَلَیْهِ، یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، مِنَ الْمُشْرِکِینَ
جس نے آپ پر تلوار کھینچی اور اس پر بھی جس پر آپ نے تلوار کھینچی اے مؤمنوں کے امیرعليهالسلام ، جو کہ مشرکوں میں سے اور
وَالْمُنافِقِینَ إلی یَوْمِ الدِّینِ وَعَلَی مَنْ رَضِیَ بِما سَائَکَ وَلَمْ یَکْرَهْهُ وَأَغْمَضَ عَیْنَهُ
منافقوں میں سے ہیں روز قیامت تک لعنت ہو اور اس پر لعنت ہو اور آپ کو تکلیف پہنچانے پر راضی ہوا اور ناخوش نہ ہوا آنکھیں
وَلَمْ یُنْکِرْ، أَوْ أَعانَ عَلَیْکَ بِیَدٍ أَوْ لِسانٍ، أَوْ قَعَدَ عَنْ نَصْرِکَ، أَوْ خَذَلَ عَنِ الْجِهادِ
بند کر لیں اور نفرت نہیں کی یا آپ کے خلاف ہاتھ یا زبان سے معاون بنا آپ کی نصرت سے دست بردار یا جہاد میں آپ کو چھوڑ کر
مَعَکَ أَوْ غَمَطَ فَضْلَکَ وَجَحَدَ حَقَّکَ، أَوْ عَدَلَ بِکَ مَنْ جَعَلَکَ ﷲ أَوْلیٰ بِهِ
چلا گیا یا آپ کی فضیلت کو چھپایا اور آپ کے حق کا منکر ہوا یااسے آپ کے برابرلایا کہ جس پر خدا نے آپ کو اس کے اپنے آپ
مِنْ نَفْسِهِ وَصَلَواتُ ﷲ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ وَسَلامُهُ وَتَحِیَّاتُهُ وَعَلَی
سے زیادہ اختیار دیا اور درود ہو خدا کاآپ پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں اس کا سلام اور اس کی عنایت ہو اور آپ کی
آلاَءِمَّةِ مِنْ آلِکَ الطَّاهِرِینَ إنَّهُ حَمِیدٌ مَجِیدٌ وَالْاََمْرُ الْاََعْجَبُ، وَالْخَطْبُ الْاََفْظَعُ
پاکیزہ اولاد میں سے ہونے والے ائمہعليهالسلام پر بھی بے شک وہ حمد والا شان والا ہے اور آپ کے حق کاانکار کیے جانے کے بعد سب سے
بَعْدَ جَحْدِکَ حَقَّکَ غَصْبُ الصِّدِیقَةِ الطَّاهِرَةِ الزَّهْرائِ سَیِّدَةِ النِّسائِ فَدَکاً، وَرَدُّ
عجیب اور بڑی مصیبت یہ ہے کہ صدیقہ طاہرہ زہرائ کا حق غصب کیا گیا اور فدک چھین لیا گیا اور آپ کی اور آپ کی اولاد
شَهادَتِکَ وَشَهادَةِ السَّیِّدَیْنِ سُلالَتِکَ وَعِتْرَةِ الْمُصْطَفیٰ صَلَّی ﷲ عَلَیْکُمْ وَقَدْ
میں سے دو ،سرداروں کی شہادتیں رد کی گئیں جو عترت پیغمبر میں سے ہیں خدا کی رحمت آپ سب پر کیونکہ خدا نے آپ کو امت پر
أَعْلَی ﷲ تَعالی عَلَی الْاَُمَّةِ دَرَجَتَکُمْ، وَرَفَعَ مَنْزِلَتَکُمْ، وَأَبانَ فَضْلَکُمْ وَشَرَّفَکُمْ
بلندئی درجات دی آپ کی شان بلند کی آپ کی فضیلت ظاہر فرمائی اور آپ کو سب جہانوں پر
عَلَی الْعالَمِینَ فَأَذْهَبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَکُمْ تَطْهِیراً، قالَ ﷲ عَزَّ وَجَلَّ إنَّ
بڑائی دی پس آپ سب سے ہر برائی کو دور رکھا اور آپ کو پاک رکھا جسطرح پاک رکھنے کا حق ہے خدائے عز و جل نے فرمایا انسان
الْاِنْسانَ خُلِقَ هَلُوعاً إذا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعاً وَ إذا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوعاً إلاَّ الْمُصَلِّینَ
کو بے صبر پیدا کیا گیا کہ جب اسے تکلیف پہنچے تو گھبرا جاتا ہے اور جب بھلائی ملے تو روک لیتا ہے سوائے نماز گزاروں کے پس خدا
فَاسْتَثْنَیٰ ﷲ تَعالی نَبِیَّهُ الْمُصْطَفیٰ وَأَنْتَ یَا سَیِّدَ الْاََوْصِیائِ مِنْ جَمِیعِ الْخَلْقِ،
نے اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم مصطفی کو اور اے اوصیائ کے سردار آپ کو ساری مخلوق سے الگ قراردیا
فَما أَعْمَهَ مَنْ ظَلَمَکَ عَنِ الْحَقِّ، ثُمَّ أَفْرَضُوکَ سَهْمَ ذَوِی الْقُرْبیٰ مَکْراً، وَأَحادُوهُ
پس کس قدر اندھا ہے وہ جو آپ کے حق کو نہیں پہچانتا پھر یہ کہ ان لوگوں نے مکر کے ساتھ نبی کے قرابت داروں کا حق تسلیم کیا اور ظلم
عَنْ أَهْلِهِ جَوْراً، فَلَمَّا آلَ الْاََمْرُ إلَیْکَ أَجْرَیْتَهُمْ عَلَی مَا أَجْرَیَا رَغْبَةً عَنْهُما
کے ساتھ ان حقداروں کو محروم کیا پھر جب معاملہ آپ کے ہاتھ میں آیا تو آپ نے ان امور کو جوں کا توں رہنے دیا یا اس ثواب کی
بِمَا عِنْدَ ﷲ لَکَ، فَأَشْبَهَتْ مِحْنَتُکَ بِهِما مِحَنَ الْاََ نْبِیائِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ عِنْدَ الْوَحْدَةِ
خاطر جو خدا کے ہاں آپ کیلئے ہے پس ان دو باتوں میں آپ کی مظلومی انبیائ کی مظلومی جیسی ہے یعنی آپ کی تنہائی
وَعَدَمِ الْاََ نْصارِ، وَأَشْبَهْتَ فِی الْبَیاتِ عَلَی الْفِراشِ الذَّبِیحَ ں إذْ أَجَبْتَ کَما
اور مددگاروں سے محرومی آپ کا شب ہجرت بستر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سونا مشابہ ہے ذبیح - کی قربانی کے
أَجابَ، وَأَطَعْتَ کَما أَطاعَ إسْمَاعِیلُ صَابِراً مُحْتَسِباً إذْ قالَ لَهُ یَا بُنَیَّ إ نِّی أَریٰ
جب آپ نے سونا قبول کیا اور حکم کی اطاعت کی جیسا کہ اسماعیلعليهالسلام نے خوشدلی اور صبر سے اطاعت کی جب باپ نے ان سے کہا اے
فِی الْمَنامِ أَ نّٰی أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَریٰ قالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ
میرے بیٹے بے شک میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں پس دیکھو تمہاری کیارائے ہے انہوں نے کہا اے بابا جو
سَتَجِدُنِی إنْ شائَ ﷲ مِنَ الصَّابِرِینَ، وَکَذَلِکَ أَ نْتَ لَمَّا أَباتَکَ النَّبِیُّ صَلَّی ﷲ
حکم ملا اس کی تعمیل کریں خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر ہی پائیں گے اور اسی طرح جب نبی نے آپ کو
عَلَیْهِ وَآلِهِ وَأَمَرَکَ أَنْ تَضْجَعَ فِی مَرْقَدِهِ واقِیاً لَهُ بِنَفْسِکَ أَسْرَعْتَ إلَی
اپنے بستر پر سلایا اور حکم دیا کہ آپ ان کے بستر پر سو جائیں اور اپنی جان کی قربانی سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جان بچائیں تو آپ فورا
إجابَتِهِ مُطِیعاً، وَ لِنَفْسِکَ عَلَی الْقَتْلِ مُوَطِّناً، فَشَکَرَ ﷲ تَعالی طَاعَتَکَ،
اطاعت کرتے ہوئے اس پر آمادہ ہوگئے اور اپنے آپکو قتل ہونے کیلئے پیش کر دیا پس خدا نے آپکی اس فرمانبرداری کی قدر فرمائی
وَأَبَانَ عَنْ جَمِیلِ فِعْلِکَ بِقَوْ لِهِ جَلَّ ذِکْرُهُ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی
اور آپ کے کارنامے کو ظاہر کیا اپنے اس واضح قول کے ذریعے کہ لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو خدا کی رضا حاصل کرنے کیلئے اپنی
نَفْسَهُ ابْتِغَائَ مَرْضَاةِ ﷲ، ثُمَّ مِحْنَتُکَ یَوْمَ صِفِّینَ وَقَدْ رُفِعَتِ الْمَصَاحِفُ حِیلَةً
جانیں بیچ دیتے ہیں پھر جنگ صفین میں آپ کی سخت مصیبت کہ جب انہوں نے فریب کاری کے ساتھ قرآن نیزوں پر بلند کر
وَمَکْراً فَأَعْرَضَ الشَّکُّ، وَعُزِفَ الْحَقُّ، وَاتُّبِعَ الظَّنُّ، أَشْبَهَتْ مِحْنَةَ هَارُونَ إذْ
دیئے تو لوگ شک و شبہ میں پڑ گئے حق کو چھوڑ دیا گیا اور شک پر عمل ہونے لگا آپ کی یہ مصیبت ہارونعليهالسلام کی مشکل جیسی تھی جب کہ
أَمَّرَهُ مُوسیٰ عَلَیٰ قَوْمِهِ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ، وَهارُونُ یُنادِی بِهِمْ وَیَقُولُ یَا قَوْمِ إنَّما
موسیٰعليهالسلام نے ان کو اپنی قوم پر امیر مقرر کیا تولوگ انہیں چھوڑ گئے تب ہارونعليهالسلام انہیں آوازیں دیتے اور کہتے تھے کہ اے قوم یقینا تم
فُتِنْتُمْ بِهِ وَ إنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمنُ فَاتَّبِعُونِی وَأَطِیعُوا أَمْرِی قالُوا لَنْ
بچھڑے کے ذریعے آزمائے گئے ہو بے شک رحمان ہی تمہارا رب ہے پس تم میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو انہوں نے کہا ہم تو
نَبْرَحَ عَلَیْهِ عاکِفِینَ حَتَّی یَرْجِعَ إلَیْنا مُوسیٰ وَکَذلِکَ أَنْتَ لَمَّا رُفِعَتِ
اس کے ارد گرد عبادت کرتے رہیں گے جب تک موسیٰعليهالسلام ہمارے پاس واپس نہیں آتے اسی طرح جب قرآن نیزوں پر بلند کیے
الْمَصاحِفُ قُلْتَ یَا قَوْمِ إنَّما فُتِنْتُمْ بِها وَخُدِعْتُمْ فَعَصَوْک
گئے تو آپ بھی ان لوگوں سے فرما رہے تھے کہ اے لوگو یقینا اس میں تم آزمائے گئے ہو اور فریب دیے گئے ہو پس انہوں نے
وَخالَفُوا عَلیْکَ وَاسْتَدْعَوْا نَصْبَ الْحَکَمَیْنِ، فَأَبَیْتَ عَلَیْهِمْ وَتَبَرَّأْتَ إلَی
نافرمانی کی اور آپ کے خلاف ہوگئے اور آپ کو حکمین کے تقررکی خواہش کی تو آ پ نے اس سے انکار کیا ان کے اس فعل سے
ﷲ مِنْ فِعْلِهِمْ وَفَوَّضْتَهُ إلَیْهِمْ، فَلَمَّا أَسْفَرَ الْحَقُّ، وَسَفِهَ الْمُنْکَرُ، وَاعْتَرَفُوا
خدا کی جانب برأت ظاہر کی اور معاملہ ان پر چھوڑ دیا پھر جب حق ظاہر ہوا منکروں کی بے وقوفی عیاںہوئی اور انہوں نے لغزش کا
بِالزَّلَلِ وَالْجَوْرِ عَنِ الْقَصْدِ اخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِهِ وَأَلْزَمُوکَ عَلَی سَفَهِ التَّحْکِیمِ الَّذِی
اعتراف کیا اور نافرمانی کی اور بعد میں اپنی اس بات سے پھر گئے اور اس پنچایت (تحکیم)کی غلطی کو آپکے ذمے لگانے لگے کہ جسکا
أَبَیْتَهُ وَأَحَبُّوهُ وَحَظَرْتَهُ وَأَباحُوا ذَ نْبَهُمُ الَّذِی اقْتَرَفُوهُ وَأَنْتَ عَلَی نَهْجِ بَصِیرَةٍ
آپ نے انکار کیا اور انہوں نے اس میں رغبت کی آپ نے منع کیا اورانہوں نے جو گناہ کیا تھا اس کو درست سمجھنے لگےآپ عقل
وَهُدیً، وَهُمْ عَلَی سُنَنِ ضَلالَةٍ وَعَمیً، فَمَا زالُوا عَلَی النِّفاقِ مُصِرِّینَ
وہدایت کی راہ پر تھے اور وہ لوگ گمراہی اور اندھے پن کے طریقے اختیار کیے ہوئے تھے پس انہوں نے نفاق کا دامن پکڑا اپنی
وَفِی الْغَیِّ مُتَرَدِّدِینَ حَتَّی أَذاقَهُمُ ﷲ وَبَالَ أَمْرِهِمْ،
گمراہی پر اصرار کرتے رہے جب کہ گمراہی میں پڑتے رہے یہاں تک کہ خدا نے انہیں انکے کیے کا مزہ چکھایا آپ کے مخالفوں
فَأَماتَ بِسَیْفِکَ مَنْ عانَدَکَ فَشَقِیَ وَهَویٰ، وَأَحْیا بِحُجَّتِکَ مَنْ سَعَدَ
کو آپ کی تلوار سے قتل کرایا اور وہ بد بختی کے ساتھ تباہ ہوئے اور جنہوں نے آپ کو حجت مانا وہ خوش بخت اور خدا کی ہدایت حاصل
فَهُدِیَ، صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکَ غادِیَةً وَرائِحَةً وَعاکِفَةً وَذاهِبَةً، فَمَا یُحِیطُ الْمَادِحُ
کرتے زندہ ہوئے رحمت ہو آپ پر ہر صبح وشام خواہ آپ کسی جگہ ٹھہرے ہوں چل رہے ہوں کیونکہ مدح کرنے والا آپ کے
وَصْفَکَ، وَلاَ یُحْبِطُ الطَّاعِنُ فَضْلَکَ، أَنْتَ أَحْسَنُ الْخَلْقِ عِبَادَةً، وَأَخْلَصُهُمْ
اوصاف گن نہیں سکتا اورطعن کرنے والا آپ کی فضیلت کو چھپا نہیں سکتا آپ عبادت میں ساری مخلوق سے بہتر زہد میں سب سے
زَهَادَةً ، وَأَذَ بُّهُمْ عَنِ الدِّین ِ، أَقَمْتَ حُدُودَ ﷲ بِجُهْدِکَ، وَفَلَلْتَ عَسَاکِرَ الْمَارِقِینَ
خالص ہیں اور دین کی حفاظت میں سب سے آگے ہیں آپ نے حدود الہی کے قیام میں بڑی کوشش کی آپ نے اپنی تلوار سے
بِسَیْفِکَ، تُخْمِدُ لَهَبَ الْحُرُوبِ بِبَنانِکَ، وَتَهْتِکُ سُتُورَ الشُّبَهِ
بے دین ہونے والوں کے لشکر ناکارہ بنادئیے آپ نے انگلی کے اشارے سے جنگ کے شعلے ٹھنڈے کردیئے اپنے بیان سے
بِبَیانِکَ، وَتَکْشِفُ لَبْسَ الْباطِلِ عَنْ صَرِیحِ الْحَقِّ لاَ تَأْخُذُکَ فِی ﷲ
شک کے پردوں کو چاک کر ڈالا اور آپ نے حق کے چہرے سے باطل کے حجاب نوچ لئے کیونکہ خدا کے معاملے میں آپ کو ملامت
لَوْمَةُ لائِمٍ، وَفِی مَدْحِ ﷲ تَعالی لَکَ غِنیً عَنْ مَدْحِ الْمادِحِینَ وَتَقْرِیظِ
کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں اور جب خدا ہی آپ کی تعریف کر رہا ہے تو مدح کرنے والوں کی مدح اور تعریف کرنے
الْواصِفِینَ قالَ ﷲ تَعالی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا ﷲ عَلَیْهِ
والوں کی تعریف کا کیا ہے خدائے تعالی کا فرمان ہے کہ مومنوں میں ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے خدا سے کیا ہوا عہد سچ کردکھایا
فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلاً، وَلَمَّا رَأَیْتَ أَنْ قَتَلْتَ
پس ان میں سے کچھ دنیا سے چلے گئے اور ان میں سے بعض انتظار میں ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور جب آپ نے دیکھا
النَّاکِثِینَ وَالْقَاسِطِینَ وَالْمَارِقِینَ وَصَدَقَکَ رَسُولُ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعْدَهُ
کہ عہد توڑنے والے تفرقہ ڈالنے والے اور بے دین آپ سے لڑتے ہیں اور حضرت رسول ﷲ کا آپ کو دیا ہوا وعدہ سچ نکلا
فَأَوْفَیْتَ بِعَهْدِهِ قُلْتَ أَمَا آنَ أَنْ تُخْضَبَ هذِهِ مِنْ هذِهِ أَمْ مَتیٰ یُبْعَثُ أَشْقاها
تو آپ نے وہ عہد پورا کردیا تب آپ نے کہا کہ وہ وقت کیا نہیں آیا ہے کہ پیشانی کے خون سے داڑھی پر خصاب ہو تو وہ بد بخت
واثِقاً بِأَنَّکَ عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّکَ، وَبَصِیرَةٍ مِنْ أَمْرِکَ، قادِمٌ عَلَی ﷲ،
کب اٹھے گا یہ اس لیے کہ اپنے رب کی واضح دلیل کا آپ کو یقین اور اپنے معاملے میں کامل بصیرت حاصل تھی آپ بارگاہ الہی میں
مُسْتَبْشِرٌ بِبَیْعِکَ الَّذِی بایَعْتَهُ بِهِ وَذلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ أَنْبِیائِکَ
جان کی تجارت پر خوش ہوکر گئے جو تجارت اس ذات خداسے کی تھی اور یہی وہ بڑی کامیابی ہے اے اللہ! لعنت کراپنے
وَأَوْصِیائِ أَنْبِیائِکَ بِجَمِیعِ لَعَناتِکَ، وَأَصْلِهِمْ حَرَّ نارِکَ ، وَالْعَنْ مَنْ غَصَبَ وَلِیَّکَ
نبیوں کے قاتلوں اور انکے اوصیائ کے قاتلوں پر مکمل لعنت اور انکو آتش جنہم میں جھونک دے اور لعنت کر ان پر جنہوں نے تیرے ولی
حَقَّهُ، وَأَنْکَرَ عَهْدَهُ، وَجَحَدَهُ بَعْدَ الْیَقِینِ وَالْاِقْرارِ بِالْوِلایَةِ لَهُ یَوْمَ أَکْمَلْتَ لَهُ
کا حق چھینا ان کی بیعت کا انکار کیا اور دین کے کامل ہونے کے دن ان کی ولایت کا یقینی اقرار کرنے کے بعد اس کے مخالف
الدِّینَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَمَنْ ظَلَمَهُ وَأَشْیاعَهُمْ وَأَ نْصارَهُمْ اَللّٰهُمَّ
ہوگئے اے اللہ! لعنت کر امیر المؤمنینعليهالسلام کے قاتلوں پر حضرت پر ظلم کرنے والے پر ان ظالموں کے پیروکاروں اور مددگاروں پر اے اللہ!
الْعَنْ ظالِمِی الْحُسَیْنِ وَقاتِلِیهِ، وَالْمُتابِعِینَ عَدُوَّهُ وَناصِرِیهِ، وَالرَّاضِینَ
لعنت کر امام حسینعليهالسلام پرظلم کرنے والوں پر آپ کے قاتلوں پر آپ کے دشمنوں کے پیروکاروں اور مددگاروں پر آپ کے قتل پر خوش
بِقَتْلِهِ وَخاذِلِیهِ لَعْناً وَبِیلاً اَللّٰهُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظالِمٍ ظَلَمَ آلَ مُحَمَّدٍ وَمانِعِیهِمْ
ہونے والوں اور آپ کو چھوڑ جانے والوں پر لعنت اور انہیں عذاب دے اے اللہ! لعنت اس پہلے ظالم پر جس نے آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم پر ظلم کیا
حُقُوقَهُمْ اَللّٰهُمَّ خُصَّ أَوَّلَ ظالِمٍ وَغاصِبٍ لآَِلِ مُحَمَّدٍ بِاللَّعْنِ وَکُلَّ
اور انکے حقوق کو روک لیا اے اللہ! آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ظلم کرنے والے انکا حق غصب کرنے والے پہلے ظالم سے مخصوص اظہار بیزاری کر اور
مُسْتَنٍّ بِمَا سَنَّ إلی یَوْمِ الْقِیامَةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَعَلَی
اس کے طریقے پر چلنے والوںسے تاقیامت اظہار بیزاری کرتا رہ اے معبود! رحمت فرما نبیوں کے خاتم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور رحمت کر
عَلِیٍّ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ، وَاجْعَلْنا بِهِمْ مُتَمَسِّکِینَ، وَبِوِلایَتِهِمْ مِنَ
اوصیائ کے سردار علیعليهالسلام پر اور ان کی پاک آلعليهالسلام پر اور قرار دے ہمیں ان سے تعلق رکھنے اور ان کی ولایت کو ماننے والوں
الْفَائِزِینَ الْاَمِنِینَ الَّذِینَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَ هُمْ یَحْزَنُونَ
میں کہ جن کو نہ کوئی خوف ہے نہ ان کو کچھ غم واندیشہ ہے۔
مؤلف کہتے ہیں ہم نے کتاب ہدیتہُ الزائرین میں اس زیارت کی سندکی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ اس زیارت کو ہر روز نزدیک یا دور سے پڑھا جاسکتا ہے ذوق عبادت رکھنے والوں اور امیرالمؤمنین- کی زیارت کے شائقین کو اسے غنیمت شما رکرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے
روز غدیرکی تیسری زیارت وہ ہے‘ جسے سید نے اقبال میں امام جعفر صادق - سے نقل کیا اور فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص غدیر کے دن امیر المؤمنینعليهالسلام کی قبر پر موجود ہو تو نماز اور دعائ کے بعد قبر شریف کے نزدیک جاکر یہ زیارت پڑھے۔ اگر کسی دوسرے شہر میں ہو تو اس دن امیر المؤمنین- کی قبر مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے پڑھے اور وہ دعا یہ ہے۔
دعائے بعد از زیارت امیر
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی وَ لِیِّکَ وَأَخِی نَبِیِّکَ وَوَزِیرِهِ وَحَبِیبِهِ وَخَلِیلِهِ، وَمَوْضِعِ سِرِّهِ،
اے معبود! رحمت نازل فرما اپنے ولی پر جو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے برادر ان کے وزیر ان کے حبیب ان کے خلیل اور ان کے راز دار ہیں
وَخِیَرَتِهِ مِنْ أُسْرَتِهِ، وَوَصِیِّهِ وَصَفْوَتِهِ وَخالِصَتِهِ وَأَمِینِهِ وَوَ لِیِّهِ وَأَشْرَفِ عِتْرَتِهِ
وہ انکے خاندان میں سے بہترین شخص انکے وصی انکے چنے ہوئے انکے خاص وخالص انکے امانتدار انکے ولی اور انکی عترت میں بلند
الَّذِینَ آمَنُوا بِهِ، وَأَبِی ذُرِّیَّتِهِ، وَبابِ حِکْمَتِهِ، وَالنَّاطِقِ بِحُجَّتِهِ، وَالدَّاعِی إلَی
تر ہیں کہ وہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لائے اور انکی ذریت کے باپ ہیں وہ ان کی حکمت کا دروازہ ان کی حجت کے بیان کرنے والے ان
شَرِیعَتِهِ، وَالْماضِی عَلَی سُنَّتِهِ، وَخَلِیفَتِهِ عَلَی أُمَّتِهِ، سَیِّدِ الْمُسْلِمِینَ، وَأَمِیرِ
کی شریعت کی طرف بلانے والے ان کی سنت پر عمل کرنے والے ان کی امت میں ان کے جانشین مسلمانوں کے سردار اور مومنوں
الْمُوَْمِنِینَ وَقائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ
کے امیر ہیں وہ چمکتے چہروںوالوں کے پیشرو ہیں ان پروہ بہترین رحمت فرما کہ جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی پر اور اپنے برگزیدہ و
وَأَصْفِیائِکَ وَأَوْصِیائِ أَنْبِیائِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ عَنْ
منتخب بندوں میں سے اور اپنے نبیوں کے اوصیائ میں کسی پر کی ہو اے اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے وہ احکام لوگوں تک پہنچائے
نَبِیِّکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ مَا حُمِّلَ وَرَعیٰ مَا اسْتُحْفِظَ وَحَفِظَ مَا اسْتُودِ عَ وَحَلَّلَ
جو تیرے نبی سے حاصل کیے وہ یاد رکھا جو یاد رکھناچاہیے تھا جو کچھ ان کے سپرد ہوا اس کی نگہداری کی تیرے حلال کو
حَلالَکَ، وَحَرَّمَ حَرامَکَ، وَأَقامَ أَحْکامَکَ، وَدَعا إلی سَبِیلِکَ، وَوَالیٰ أَوْلِیائَکَ،
حلال اور تیرے حرام کو حرام قرار دیا اور تیرے احکام جاری کیے تیری راہ کی طرف بلاتے رہے تیرے دوستوں سے محبت رکھی
وَعَادَیٰ أَعْدائَکَ وَجَاهَدَ النَّاکِثِینَ عَنْ سَبِیلِکَ، وَالْقاسِطِینَ وَالْمارِقِینَ عَنْ أَمْرِکَ،
اور تیرے دشمنوں کے دشمن رہے انہوں نے تیری بیعت توڑنے والوں تفرقہ ڈالنے والوں اور تیرے حکم کو نہ سمجھنے والوں کے ساتھ
صابِراً مُحْتَسِباً مُقْبِلاً غَیْرَ مُدْبِرٍ لاَ تَأْخُذُهُ فِی ﷲ لَوْمَةُ لائِمٍ حَتَّی بَلَغَ فِی ذلِکَ
صبر اور خیر خواہی سے جہاد کیا کہ بڑھتے تو پیچھے نہ ہٹتے تھے خدا کے معاملے میں وہ کسی کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ اسی عمل
الرِّضا، وَسَلَّمَ إلَیْکَ الْقَضائَ، وَعَبَدَکَ مُخْلِصاً، وَنَصَحَ لَکَ مُجْتَهِداً حَتَّی أَتاهُ
میں تیری رضا تک پہنچے اور تیرے فیصلے کو قبول کرلیا انہوں نے تیری خاص عبادت کی اور تیری خاطر نصیحت کرتے رہے حتیٰ کہ ان کی
الْیَقِینُ، فَقَبَضْتَهُ إلَیْکَ شَهِیداً سَعِیداً وَلِیّاً تَقِیّاً رَضِیّاً زَکِیّاً هادِیاً مَهْدِیّاً
شہادت واقع ہوئی تو نے ان کی جان قبض کرلی اور وہ شہید نیک بخت ولی پرہیزگار پسندیدہ پاکباز رہبر ورہنما اور ہدایت یافتہ تھے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَنْبِیائِکَ وَأَصْفِیائِکَ
اے اللہ رحمت فرما حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان (علیعليهالسلام ) پر وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے نبیوں اوراپنے منتخب بندوں میں سے کسی پر کی ہو
یَا رَبَّ الْعالَمِینَ
اے جہانوں کے پروردگار ۔
مؤلف کہتے ہیں: سیدرحمهالله نے مصباح الزائر میں اس باشرف دن میں پڑھنے کیلئے ایک اور زیارت نقل کی ہے مگر اس دن کے ساتھ اس زیارت کی خصوصیت کا علم نہیں ہوسکا‘ مذکورہ زیارت ان دو زیارتوں پر مشتمل ہے جن کو علامہ مجلسی نے تحفہ کی دوسری اور تیسری زیارت قرارد یا ہے۔
دوسری مخصوص زیارت
یہ حضرت رسول کے روز ولادت کی زیارت ہے ‘ شیخ مفیدرحمهالله شہیدرحمهالله اور سید ابن طائوس نے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے ۱۷ربیع الاول کو امیر المؤمنین- کی زیارت میں یہی زیارت پڑھی اور باوثوق صحابی محمد بن مسلم ثقفی کو بھی تعلیم فرمائی۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ جب امیر المؤمنین- کے روضئہ پاک پر آئو تو زیارت کیلئے غسل کرو، پاک ترین لباس پہنو اورخوشبو لگاؤ پھر آرام وسکون کے ساتھ چلتے ہوئے جب باب السلام یعنی حرم مطہر کے دروازے پر پہنچو تو قبلہ رخ ہوکر تیس مرتبہ اللہ اکبر کہو اور اس کے بعد یہ زیارت پڑھو۔
اَلسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی خِیَرَةِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْبَشِیرِ النَّذِیرِ
سلام ہو خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام ہو خدا کے چنے ہوئے پر سلام ہو خوشخبری دینے ڈرانے والے پر
السِّراجِ الْمُنِیرِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَی الطُّهْرِ الطَّاهِرِ، اَلسَّلَامُ عَلَی
جو نورانی چراغ ہے خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکتیں ہوں سلام ہو پاک وپاکیزہ پر سلام ہو
الْعَلَمِ الزَّاهِرِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَنْصُورِ الْمُؤَیَّدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِی الْقَاسِمِ مُحَمَّدٍ
چمکتے ہوئے پرچم پر سلام ہو مدد کیے ہوئے تائید کیے ہوئے پر سلام ہو ابو القاسم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی أَنْبِیائِ ﷲ الْمُرْسَلِینَ وَعِبادِ ﷲ الصَّالِحِینَ،
خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوںسلام ہو خدا کے بھیجے ہوئے سبھی نبیوں پر اور اس کے نیک بندوں پر
اَلسَّلَامُ عَلَی مَلائِکَةِ ﷲ الْحَافِّینَ بِهَذَا الْحَرَمِ وَبِهَذَا الضَّرِیحِ اللاَّئِذِینَ بِهِ
سلام ہو خدا کے ان فرشتوں پر جو اس حرم کے گرد کھڑے ہیں اور انہوں نے اس ضریح کی پناہ لے رکھی ہے ۔
پھر قبر کے نزدیک جا کر یہ پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَصِیَّ الْاََوْصِیائِ، السَّلامُّ عَلَیْکَ یَا عِمادَ الْاََتْقِیائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو اے سب اوصیائ کے وصی آپ پر سلام ہو اے پرہیز گاروں کے ستون آپ پر سلام ہو
یَا وَ لِیَّ الْاََوْلِیائِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الشُّهَدائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا آیَةَ ﷲ الْعُظْمی
اے اولیائ کے ولی آپ پر سلام ہو اے شہیدوں کے سالار آپ پر سلام ہو اے خدا کی عظیم نشانی
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خامِسَ أَهْلِ الْعَبائِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قائِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْاََتْقِیائِ
آپ پر سلام ہوا ے آل عبا میں پانچویں فرد آپ پر سلام ہو اے چمکتے چہروں والے نیکوں کے سردار
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عِصْمَةَ الْاََوْ لِیائِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا زَیْنَ الْمُوَحِّدِینَ النُّجَبائِ
سلام ہو آپ پر اے اولیائ کی ڈھال سلام ہو آپ پر اے توحید پر ستوں کی زینت
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خالِصَ الْاََخِلاّئِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا والِدَ آلاَءِمَّةِ الْاَُمَنائِ، اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے دوستان خدا میں خالص سلام ہو آپ پر اے امانتدار ا ئمہعليهالسلام کے باپ آپ پر
عَلَیْکَ یَا صاحِبَ الْحَوْضِ وَحامِلَ اللِّوائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قَسِیمَ الْجَنَّةِ وَلَظی،
سلام ہو اے ساقی حوض کوثر اور لوائ الحمد کے اٹھانے والے آپ پر سلام ہو اے جنت وجہنم کو تقسیم کرنے والے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ شُرِّفَتْ بِهِ مَکَّةُ وَمِنی، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بَحْرَ الْعُلُومِ وَکَنَفَ
آپ پر سلام ہو اے وہ ذات جس سے مکہ ومنیٰ نے عزت پائی آپ پر سلام ہو اے علوم کے سمندر اور محتاجوں کی
الْفُقَرائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ وُ لِدَ فِی الْکَعْبَةِ وَزُوِّجَ فِی السَّمائِ بِسَیِّدَةِ النِّسائِ
امید گاہ آپ پر سلام ہو اے وہ جو کعبے میں پیدا ہوا جس کا آسمان پر سیدہ زہرائ(س) سے نکاح ہوا
وَکانَ شُهُودُهَا الْمَلائِکَةُ الْاََصْفِیائُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مِصْباحَ الضِّیائِ، اَلسَّلَامُ
اور منتخب فرشتے اس کے گواہ بنے آپ پر سلام ہو اے روشنی دینے والے چراغ آپ پر
عَلَیْکَ یَا مَنْ خَصَّهُ النَّبِیُّ بِجَزِیلِ الْحِبائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ باتَ عَلَی فِرَاشِ
سلام ہو اے وہ جسے پیغمبر نے بڑی عطا کے لیے مخصوص فرمایا آپ پر سلام ہو اے وہ جو نبیوں میں
خاتَمِ الْاََ نْبِیائِ وَوَقاهُ بِنَفْسِهِ شَرَّ الْاََعْدائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ رُدَّتْ لَهُ الشَّمْسُ
آخری نبی کے بستر پر سویا اور اپنی جان کے عوض انہیں دشمنوں سے بچایاآپ پر سلام ہو اے وہ جس کے لیے سورج پلٹ آیا
فَسامیٰ شَمْعُونَ الصَّفا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ أَنْجَی ﷲ سَفِینَةَ نُوحٍ بِاسْمِهِ
تو وہ شمعون صفا قرار پایا آپ پر سلام ہو اے وہ کہ خدا نے کشتی نوح کو اس کے نام اور اس کے
وَاسْمِ أَخِیهِ حَیْثُ الْتَطَمَ الْمائُ حَوْلَها وَطَمیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ تابَ ﷲ بِهِ
بھائی کے نام پر بچایا جب وہ پانی کی موجوں میںطلاطم کے خطرے میں تھی آپ پر سلام ہو اے وہ کہ خدا نے اس کے
وَبِأَخِیهِ عَلَی آدَمَ إذْ غَویٰ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا فُلْکَ النَّجاةِ الَّذِی مَنْ
اور اس کے بھائی کے نام پر آدمعليهالسلام کی توبہ کوقبول کیا جب وہ ترک اولی میں مبتلا ہو گئے آپ پر سلام ہو اے وہ کشتی نجات کہ جو اس پر
رَکِبَهُ نَجَا وَمَنْ تَأَخَّرَ عَنْهُ هَوی، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ خاطَبَ الثُّعْبانَ وَذِئْبَ الْفَلا،
سوار ہوا بچ گیا اور جو ہٹا رہا وہ ہلاک ہوگیا آپ پر سلام ہو اے وہ جس نے اژدھا اور جنگل کے بھیڑیے سے خطاب کیا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے امیرخدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں آپ پر سلام ہو اے انکار کرنے والوں اور رجوع
عَلَیٰ مَنْ کَفَرَ وَأَنابَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا إمامَ ذَوِی الْاََلْبابِ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَعْدِنَ
کرنے والوں پر خدا کی حجت آپ پر سلام ہو اے صاحبان عقل کے امام آپ پر سلام ہو اے علم
الْحِکْمَةِ وَفَصْلَ الْخِطابِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتابِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
وحکمت اور فیصلہ دینے کے خرینہ دار آپ پر سلام ہو اے وہ جس کے پاس علم کتاب ہے سلام ہو آپ پر
یَا مِیزانَ یَوْمِ الْحِسابِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا فاصِلَ الْحُکْمِ النَّاطِقَ بِالصَّوابِ اَلسَّلَامُ
اے حساب میں میزان عمل آپ پر سلام ہو اے واضح اور بہترین فیصلہ دینے والے آپ پر
عَلَیْکَ أَیُّهَا الْمُتَصَدِّقُ بِالْخاتَمِ فِی الْمِحْرابِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ کَفَی ﷲ الْمُؤْمِنِینَ
سلام ہو کہ آپ نے محراب عبادت میں انگشتری صدقہ میں دی آپ پر سلام ہو اے وہ جس کے ذریعے خدا نے مومنوں
الْقِتالَ بِهِ یَوْمَ الْاََحْزابِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ أَخْلَصَ لِلّٰهِ الْوَحْدَانِیَّةَ وَأَنَابَ،
کی احزاب کے دن مدد کی آپ پر سلام ہو اے وہ جس نے خلوص سے خدا کو ایک مانا اور متوجہ رہے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قَاتِلَ خَیْبَرَ وَقالِعَ الْبابِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ دَعَاهُ خَیْرُ الْاََنَامِ
آپ پر سلام ہو اے اہل خیبر کو قتل کرنے اور دروازہ اکھاڑنے والے آپ پر سلام ہو اے وہ جسے مخلوقات میں سے سب سے افضل نے
لِلْمَبِیتِ عَلَی فِراشِهِ فَأَسْلَمَ نَفْسَهُ لِلْمَنِیَّةِ وَأَجابَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ لَهُ طُوبیٰ
اپنے بستر پر سونے کے لیے بلایا تو اس نے حکم مانا اور خود کو موت کے منہ میں دے دیا آپ پر سلام ہو اے وہ جس کے لیے خوشخبری
وَحُسْنُ مَآبٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَ لِیَّ عِصْمَةِ الدِّینِ وَیَا سَیِّدَ
اور بہترین مقام ہے خدا کی رحمت ہے اور اس کی برکات ہیں سلام ہو آپ پر اے دین کی حفاظت کے ذمہ دار اور سرداروں کے
السَّاداتِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صاحِبَ الْمُعْجِزاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ نَزَلَتْ فِی
سردار آپ پر سلام ہو اے معجزوں کے مالک سلام ہوآپ پر اے وہ جس کی فضیلت میں
فَضْلِهِ سُورَةُ الْعادِیاتِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ کُتِبَ اسْمُهُ فِی السَّمائِ عَلَی السُّرادِقاتِ
سورئہ عادیات نازل ہوا آپ پر سلام ہو اے وہ جس کا نام آسمانوںکے پردوں پر لکھا ہوا ہے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُظْهِرَ الْعَجائِبِ وَالْاَیاتِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْغَزَواتِ اَلسَّلَامُ
سلام ہو آپ پر اے عجیب امور اور نشانیاں ظاہر کرنے والے آپ پر سلام ہو اے جنگوں کے سپہ سالار آپ پر
عَلَیْکَ یَا مُخْبِراً بِما غَبَرَ وَبِما هُوَ آتٍ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُخاطِبَ ذِئْبِ الْفَلَواتِ اَلسَّلَامُ
سلام ہو اے خبر دینے والے اس کی جو ہوچکا اور جو ہوگا آپ پر سلام ہو اے صحرائی بھیڑیے سے خطاب کرنے والے آپ پر
عَلَیْکَ یَا خاتِمَ الْحَصیٰ وَمُبَیِّنَ الْمُشْکِلاتِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ عَجِبَتْ مِنْ
سلام ہو اے پتھروں پر نقش کرنے والے اور مشکلیں حل کردینے والے سلام ہو آپ پرا ے وہ کہ جنگ میں جس کے حملوں
حَمَلاتِهِ فِی الْوَغَی مَلائِکَةُ السَّمٰوَاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ ناجَی الرَّسُولَ فَقَدَّمَ
سے آسمانوں کے فرشتے حیران ہوئے سلام ہو آپ پر اے وہ جس نے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سرگوشی کی
بَیْنَ یَدَیْ نَجْواهُ الصَّدَقاتِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا والِدَ آلاَءِمَّةِ الْبَرَرَةِ السَّاداتِ وَرَحْمَةُ
اور سرگوشی کے وقت صدقات پیش کیے سلام ہوآپ پر اے ان ائمہعليهالسلام کے باپ جو نیک سردار ہیں خدا کی
ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا تالِیَ الْمَبْعُوثِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِلْمِ خَیْرِ
رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قائم مقام سلام ہو آپ پراے علم کے مورث جو بہترین
مَوْرُوثٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا
ورثہ ہے خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں آپ پر سلام ہو اے اوصیائ کے سردار آپ پر سلام ہو اے
إمامَ الْمُتَّقِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاغِیاثَ الْمَکْرُوبِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عِصْمَةَ الْمُؤْمِنِینَ
پرہیزگاروں کے امام آپ پر سلام ہو اے دکھی لوگوںکے فریاد رس آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے نگہدار
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُظْهِرَ الْبَراهِینِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا طه وَیٓسَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبْلَ
آپ پر سلام ہو اے دلیل وبرہان ظاہر کرنے والے سلام ہوآپ پر اے طہ اور یاسین آپ پر سلام ہو اے اللہ کی مضبوط
ﷲ الْمَتِینِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ تَصَدَّقَ فِی صَلاتِهِ بِخاتَمِهِ عَلَی الْمِسْکِینِ اَلسَّلَامُ
رسی آپ پر سلام ہو اے وہ جس نے حالت نماز میں اپنی انگشتری مسکین کو صدقہ میں دی آپ پر
عَلَیْکَ یَا قالِعَ الصَّخْرَةِ عَنْ فَمِ الْقَلِیبِ وَمُظْهِرَ الْمائِ الْمَعِینِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ
سلام ہو اے کنویں پر سے پتھر کی سل ہٹا کر ٹھنڈا پانی کھولنے والے آپ پر سلام ہو اے خدا کی دیکھنے
ﷲ النَّاظِرَةَ ، وَیَدَهُ الْباسِطَةَ، وَ لِسانَهُ الْمُعَبِّرَ عَنْهُ فِی بَرِیَّتِهِ أَجْمَعِینَ، اَلسَّلَامُ
والی آنکھ اس کا کھلا ہوا ہاتھ اور اسکی ساری مخلوق کو اس کی خبردینے والی زبان آپ پر
عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِلْمِ النَّبِیِّینَ، وَمُسْتَوْدَعَ عِلْمِ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، وَصاحِبَ لِوائِ
سلام ہو اے نبیوں کے علم کے وارث اور اولین اور آخرین کے علم کے امانتدار لوائ حمد کے
اَلْحَمْدِ وَساقِیَ أَوْلِیائِهِ مِنْ حَوْضِ خاتَمِ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا یَعْسُوبَ الدِّین
اٹھانے والے اور آخری پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حوض کوثر سے ان کے دوستوں کو سیراب کرنے والے آپ پر سلام ہو اے دین کے سردار
وَقائِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ، وَوالِدَ آلاَءِمَّةِ الْمَرْضِیِّینَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ
چمکتے چہرے والوں کے قائد پر سلام ہو خدا کے پسندیدہ اماموں کے باپ خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں سلام ہو
عَلَی اسْمِ ﷲ الرَّضِیِّ وَوَجْهِهِ الْمُضِیئِ وَجَنْبِهِ الْقَوِیِّ وَصِراطِهِ السَّوِیِّ
خدا کے پسندیدہ نام پر اس کے تابندہ جلوے اس کے توانا طرفدار اور اس کے راہ راست پر
اَلسَّلَامُ عَلَی الْاِمامِ التَّقِیِّ الْمُخْلِصِ الصَّفِیِّ اَلسَّلَامُ عَلَی الْکَوکَبِ الدُّرِّیِّ
سلام ہو اس امام پر جو پرہیزگار مخلص پاکیزہ ہے سلام ہو چمکتے ہوئے ستارے پر
اَلسَّلَامُ عَلَی الْاِمامِ أَبِی الْحَسَنِ عَلِیٍّ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی أَئِمَّةِ
سلام ہو ابو الحسن امام علی مرتضیعليهالسلام ٰ پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو ہدایت یافتہ
الْهُدیٰ، وَمَصابِیحِ الدُّجَیٰ، وَأَعْلامِ التُّقیٰ، وَمَنارِ الْهُدیٰ، وَذَوِی النُّهَیٰ، وَکَهْفِ
اماموں پر جو تاریکی کے چراغ پرہیزگاری کے نشان ہدایت کے مینار صاحبان عقل وخرد مخلوق کی جائے پناہ مضبوط تر رسی اور
الْوَرَیٰ، وَالْعُرْوَةِ الْوُثْقی، وَالْحُجَّةِ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ
دنیا والوں پر خدا کی حجت ہیں خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو
عَلَی نُورِ الْاََ نْوارِ، وَحُجَّةِ الْجَبَّارِ، وَوالِدِ آلاَءِمَّةِ الْاََطْهارِ، وَقَسِیمِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ،
انوار کے نور پر جو خدائے جبار کی حجت پاک ائمہعليهالسلام کا باپ جنت وجہنم تقسیم کرنے والا
الْمُخْبِرِ عَنِ الْاَثارِ، الْمُدَمِّرِ عَلَی الْکُفَّارِ، مُسْتَنْقِذِ الشِّیعَةِ الْمُخْلِصِینَ مِنْ عَظِیمِ
قدیم آثار سے خبریں دینے والا کافروں کو ہلاک کرنے والا اور خالص ومخلص شیعوں کو گناہوں کے بوجھ تلے سے
الْاََوْزارِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَخْصُوصِ بِالطَّاهِرَةِ التَّقِیَّةِ ابْنَةِ الْمُخْتارِ، الْمَوْلُودِ فِی
نکالنے والا ہے سلام ہو اس پر جو خاص کیا گیا پاکیزہ تقیہ دختر نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیے جو پیدا ہوا پردوں والے گھر (کعبہ)
الْبَیْتِ ذِی الْاََسْتارِ، الْمُزَوَّجِ فِی السَّمائِ بِالْبَرَّةِ الطَّاهِرَةِ الرَّضِیَّةِ الْمَرْضِیَّةِ والِدَةِ
میں جس کا نکاح ہوا آسمان میں نیک اور پاکیزہ بی بی سے جو راضی شدہ راضی کی گئی
آلاَءِمَّةِ الْاََطْهارِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبَاََ الْعَظِیمِ الَّذِی هُمْ فِیهِ
پاک ائمہعليهالسلام کی ماں ہے خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو اس بڑی خبر پر کہ جس میں وہ لوگ
مُخْتَلِفُونَ، وَعَلَیْهِ یُعْرَضُونَ، وَعَنْهُ یُسْأَلُونَ، اَلسَّلَامُ عَلَی نُورِ ﷲ الْاََ نْوَرِ،
اختلاف کرتے اس پر معترض ہوتے اور اس کے متعلق پوچھتے ہیں سلام ہو خدا کے روشن نور
وَضِیائِهِ الْاََزْهَرِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَحُجَّتَهُ وَخالِصَةَ
اور اسکی چمک پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں آپ پر سلام ہو اے ولی خدا اور اس کی حجت خدا کے
ﷲ وَخاصَّتَهُ، أَشْهَدُ أَنَّکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَحُجَّتَهُ لَقَدْ جاهَدْتَ فِی سَبِیلِ ﷲ حَقَّ
مخلص اور اس کے خاص بندے میں گواہی دیتا ہوں اے ولی خدا کہ آپ نے جہاد کیا خدا کی راہ میں جو جہاد کرنے کا
جِهادِهِ، وَاتَّبَعْتَ مِنْهاجَ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَحَلَّلْتَ حَلالَ ﷲ،
حق ہے اور آپ نے حضر ت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے راستے کی پیروی کی خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پرآپ نے حلال خدا کو حلال رکھا
وَحَرَّمْتَ حَرامَ ﷲ، وَشَرَعْتَ أَحْکامَهُ، وَأَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ
حرام خدا کو حرام قرار دیا اس کے احکام جاری کیے آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دیتے رہے آپ نے نیک کاموں کا
بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَجاهَدْتَ فِی سَبِیلِ ﷲ صابِراً ناصِحاً مُجْتَهِداً
حکم دیا اور برے کاموں سے روکتے رہے آپ نے راہ خدا میںصبر و تحمل کے ساتھ جہاد کیا اور خیر خواہی میں
مُحْتَسِباً عِنْدَ ﷲ عَظِیمَ الْاََجْرِ حَتَّیٰ أَتاکَ الْیَقِینُ، فَلَعَنَ ﷲ مَنْ دَفَعَکَ
کوشاں رہے اور اس پر خدا کے نزدیک سے اجر کی امید رکھی یہاں تک کہ آپ شہید ہوگئے پس خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ
عَنْ حَقِّکَ، وَأَزالَکَ عَنْ مَقامِکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ بَلَغَهُ ذلِکَ فَرَضِیَ بِهِ، أُشْهِدُ ﷲ
کو حق سے محروم کیا اور آپکے مقام سے ہٹایا اور خدا لعنت کرے اس پر جو یہ اطلاع حاصل کرکے خوش ہوا گواہ بناتا ہوں خدا کو اسکے
وَمَلائِکَتَهُ وَأَنْبِیائَهُ وَرُسُلَهُ أَنّٰی وَ لِیٌّ لِمَنْ وَالاکَ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عَاداکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
فرشتوں اس کے نبیوں اور رسولوں کو اس پر کہ میں آپ کے دوست کا دوست اور آپ کے دشمن کا دشمن ہوںآپ پر سلام ہو
وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ ۔خود کو قبر شریف سے لپٹائے اسے بوسہ دے اور کہے:أَشْهَدُ أَنَّکَ تَسْمَعُ
خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ میرا کلام
کَلامِی، وَتَشْهَدُ مَقامِی، وَأَشْهَدُ لَکَ یَا وَ لِیَّ ﷲ بِالْبَلاغِ وَالْاََدائِ، یَا مَوْلایَ،
سنتے ہیں اور میرے قیام کا مشاہدہ کر رہے ہیںاور آپ کا گواہ ہوں اے ولی خدا کہ آپ نے پیغام دیا اور فرض نبھایا اے میرے آقا
یَا حُجَّةَ ﷲ یَا أَمِینَ ﷲ، یَا وَلِیَّ ﷲ، إنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ ﷲ عَزَّ وَجَلَّ ذُ نُوباً قَدْ أَثْقَلَتْ ظَهْرِی،
اے حجت خدا اے خدا کے امین اے خدا کے ولی بے شک میرے اور خدا کے درمیان میرے گناہ حائل ہیں جن کا بوجھ میری کمر پر
وَمَنَعَتْنِی مِنَ الرُّقادِ، وَذِکْرُها یُقَلْقِلُ أَحْشَائِی، وَقَدْ هَرَبْتُ إلَی ﷲ عَزَّ وَجَلَّ وَ إلَیْکَ،
ہے انہوں نے میری نیند اڑادی ہے ان کی یاد سے میرا دل گبھراتاہے اور میں بھاگ کے آیا ہوں خدائے عزوجل کی طرف اور آپ
فَبِحَقِّ مَنِ ائْتَمَنَکَ عَلَی سِرِّهِ، وَاسْتَرْعاکَ أَمْرَ خَلْقِهِ، وَقَرَنَ طاعَتَکَ بِطاعَتِهِ،
کی طرف لہذا اس کے واسطہ سے جس نے آپ کو اپنا راز دار بنایا اپنی مخلوق کا معاملہ آپ کو سوپنا اس نے آپ کی اطاعت اپنی اطاعت کے ساتھ
وَمُوالاتَکَ بِمُوالاتِهِ، کُنْ لِی إلَی ﷲ شَفِیعاً، وَمِنَ النَّارِ مُجِیراً، وَعَلَی الدَّهْرِ ظَهِیراً
اور آپ کی محبت اپنی محبت کے ساتھ قرار دی آپ خدا کے ہاں میری شفاعت کریںجہنم سے پناہ دیں اور حالات میں میرے مدد گار ہوں۔
پھر دوسری مرتبہ قبر مبارک سے لپٹ کر بوسہ دے کر پڑھے:
یَا وَلِیَّ ﷲ یَا حُجَّةَ ﷲ، یَا بابَ حِطَّةِ ﷲ وَلِیُّکَ وَزائِرُکَ وَاللاَّئِذُ بِقَبْرِکَ، وَالنَّازِلُ
اے ولی خدا اے حجت خدا اے باب حطہ گناہان خدا کی جانب سے آپ کا دوست آپ کا زائر آپ کی قبر کی پناہ لینے والا آپ کی
بِفِنائِکَ، وَالْمُنِیخُ رَحْلَهُ فِی جِوارِکَ یَسْأَلُکَ أَنْ تَشْفَعَ لَهُ إلَی ﷲ فِی قَضائِ
درگارہ پر آنے والا اور آپ کے جوار میں آرہنے والا سوال کرتا ہے کہ آپ خدا کے ہاں اس کی شفاعت کریںکہ اس کی حاجت
حاجَتِهِ وَنُجْحِ طَلِبَتِهِ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ فَ إنَّ لَکَ عِنْدَ ﷲ الْجَاهَ الْعَظِیمَ وَالشَّفاعَةَ
پوری ہو اور مقصد حاصل ہو دنیا اور آخرت میں، کیونکہ خدا کے حضور آپ کی بڑی عزت ہے اور آپ کی شفاعت
الْمَقْبُولَةَ، فَاجْعَلْنِی یَا مَوْلایَ مِنْ هَمِّکَ وَأَدْخِلْنِی فِی حِزْبِکَ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
مقبول ہے پس قراردیں اے میرے آقا مجھے اپنے اصل عنایت میں شامل اور اپنے گروہ میں داخل کرآپ پر سلام ہو
وَعَلَی ضَجِیعَیْکَ آدَمَ وَنُوحٍ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی وَلَدَیْکَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ،
اور آپ کے دونوں ساتھیوں آدمعليهالسلام ونوحعليهالسلام پر سلام ہو آپ پر اور آپ کے فرزندوں حسنعليهالسلام وحسینعليهالسلام پر اور سلام ہو آپ کی
وَعَلَی آلاَءِمَّةِ الطَّاهِرِینَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ
اولاد میں سے پاک ائمہعليهالسلام پر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں۔
امیر المومنین ـ نفس پیغمبر
اس کے بعد چھ رکعت نماز زیارت پڑھے جن میں سے دو رکعت امیر المؤمنین- کیلئے اور دو دو رکعت حضرت آدم -اور دو رکعت حضرت نوح - کیلئے بجالائے اسکے بعد بہت زیادہ ذکر الہی کرے انشائ اللہ اس کی زیارت ودعائ قبول ہوگی۔
مؤلف کہتے ہیں: صاحب مزار کبیر نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہی زیارت ۱۷ ربیع الاول کو طلوع شمس کے قریب پڑھی جائے اور علامہ مجلسیرحمهالله کا فرمان ہے کہ یہ بہترین زیارتوں میں سے ہے کہ اسکا ذکر معتبراسناد کے ساتھ کتابوں میںہے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زیارت اس دن سے مخصوص نہیں ۔ بلکہ جس وقت بھی یہ زیارت پڑھی جائے اچھا ہے مؤلف کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اسکی کیاوجہ ہے کہ حضرت رسول کے یوم ولادت یا یوم بعثت میں امیر المؤمنین- کی زیارت پڑھنے کو کہا گیا ہے۔ حالانکہ مناسب یہ ہے کہ اس دن حضرت رسول کی زیارت پڑھنے کا حکم ہو؟ اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن دو بزرگوں کا آپس میں کمال اتصال ہے۔ اور دونوں نور کے مکمل اتحاد کی علامت ہیں ۔ گو یا جس نے امیر المؤمنین- کی زیارت کی اس نے حضرت رسول کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ اس امر کی دلیل قرآن کریم کی آیت انفسنا ہے۔ کیونکہ مباہلہ میں خدائے تعالیٰ نے امیر المومنین- کو نفس پیغمبر قرار دیا اور کسی دوسرے کو یہ مقام نہیں ملا بہت سی روایتوں میں آیا ہے اور ان میں سے ایک شیخ محمد بن مشہدی نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک اعرابی حضرت رسول کے حضور حاضر ہوا اور عرض کی کہ یارسول اللہ! میرا گھر یہاں سے بہت دور ہے اور آپ کی زیارت کا اشتیاق کبھی کبھی مجھے یہاں لے آتا ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی آپ سے شرف ملاقات حاصل نہیں ہو پاتا تو میں علی ابن ابی طالب -سے ملاقات کرلیتا ہوں اور وہ مجھے وعظ و نصیحت کرتے ہیں اورحدیث تعلیم فرما کر مانوس و مطمئن کر دیتے ہیں تا ہم آپ کی ملاقات نہ ہونے پر افسوس کے ساتھ واپس ہوجاتا ہوں۔ اس پر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ جو شخص علی المرتضی - کی زیارت کرے گویا اس نے میری زیارت کی جو اسے دوست رکھتا ہے وہ مجھے دوست رکھتا ہے اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے دشمنی کرتا ہے پس تم یہ بات میری طرف سے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو بتادو کہ جو شخص علی - کی زیارت کیلئے جائے تو گویا وہ میری زیارت کو آیا ہے۔ پس میں جبرائیل- اور ایک صالح مؤمن اس شخص کو قیامت میں اس عمل کی جزا دیں گے۔ ایک معتبر حدیث میں امام جعفر صادق - سے روایت ہوئی ہے کہ جب تم نجف اشرف کی زیارت کرو تو آدم -اور نوح - کے ابدان اور علی - کے جسم کی زیارت کرتے ہو، اس میں شک نہیں کہ گویا تم نے ان کے آبائ واجداد، نبیوں کے خاتم محمد مصطفی اور حضرت علی - کی زیارت کی ہوگی کہ جواوصیائ میں بہترین ہیں، قبل ازیں چھٹی زیارت میں ذکر ہوچکا ہے کہ حسب فرمان امیر المؤمنین- کی قبر مبارک کی طرف رخ کرکے کھڑا ہو اور کہے :
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا صَفْوَةَ ﷲ الخ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ پر سلام ہو اے خدا کے برگزیدہ۔
ابیات قصیدہ ازریہ
شیخ جابر نے قصیدئہ ازریہ میں کیا خوب اشعار کہے ہیں حضرت علی - کے گنبد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے:
فَاعْتَمِدْ لِلنَّبِیِّ أَعْظَمَ رَمْسٍ
فِیهِ لِلطُّهْرِ أَحْمَدٍ أَیُّ نَفْسٍ
اعتماد کرو بہ خاطر پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اس قبر شریف کو
اس میں احمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا نفس جاگزیں ہے
أَوْ تَرَیٰ الْعَرْشَ فِیهِ أَنْوَرَ شَمْسٍ
فَتَواضَعْ فَثَمَّ دارَةُ قُدْسٍ
یا اس عرش کو دیکھو اس میں چمکتا سورج ہے
پس جھک جا کہ یہ پاکیزہ مقام ہے
تَتَمَنَّی الْاََفْلاکُ لَثْمَ ثَراهَا
تمنا کرتے ہیں افلاک کہ چومیں اس کی خاک کو
حکیم سنائی نے یہ فارسی کے اشعار کہے:
( ۱ )مر تضائی کہ کردیز دانش
ہمرہ جان مصطفی جانش
( ۱ )علی مرتضی وہ ہیں کہ خدا نے
ان کو جان مصطفی قرار دیا۔
( ۲ )ہر دو یک قبلہ وخرد شان دو
ہر دویک روح کا لبد شان دو
( ۲ )ان دونوں کا قبلہ ایک اور عقلیں دو ہیں۔
ان کی روح ایک اور جسم دو ہیں۔
( ۳ )دور وندہ چواختر گردوں
دوبرادر چوں موسیٰ وہارون
( ۳ ) وہ دونوں آسمان پر چلتے ہوئے ستارے ہیں
وہ موسیٰعليهالسلام وہارونعليهالسلام کی طرح دوبھائی ہیں
( ۴ )ہر دویکدرز یکصد ف بودند
ہر دو پیرایئہ شرف بودند
( ۴ ) وہ دونوں ایک صدف کے دو موتی ہیں ۔
وہ دونوں شرف کے ایک ہی مقام پر ہیں۔
( ۵ )تانہ بکشاد علم حیدر در
ند ہد سنت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم بر
( ۵ ) جب تک حیدر کرار کا علم اپنا دروازہ نہ کھولے
پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت کا میٹھا پھل حاصل نہیں ہوتا۔
تیسری مخصوص زیارت
یہ بعثت کی رات اور دن کیلئے ہے۔
روز مبعث یعنی حضرت رسول اللہ کے مبعوث ہونے کا دن ۷۲ رجب ہے اس رات اور دن میں تین زیارتیں ہیں اور وہ یہ ہیں۔
پہلی زیارت رجبیہ
اس زیارت کا آغازاَلْحَمْدُ ﷲِالَّذِیْ اَشْهَدَنَا مَشْهَدَ اَوْلِیَائِهٰ سے ہوتا ہے جو ماہ رجب کے اعمال مشترکہ میں زیارت رجبیہ کے عنوان سے ذکر ہو چکی ہے۔ یہ زیارت ماہِ رجب میں ہر امام کے روضہ مبارک پر پڑھی جا سکتی ہے‘ لیکن صاحب مزار قدیم اور شیخ محمد بن مشہدی نے اسے شب ِ مبعث کی مخصوص زیارات میں قرار دیا ہے۔ جب کوئی شخص اس رات یہ زیارت پڑھے تو بعد میں دو رکعت نماز زیارت بجا لائے اور پھر جو چاہے دعا مانگے۔
دوسری زیارت
اس کی ابتدائاَلسَّلاَمُ عَلیٰ اٰبیْ آلاَءِمَةِ وَ مَعْدِنِ النَبُوَّةِ سے ہوتی ہے اور علامہ مجلسیرحمهالله نے تحفہ میں اسے ساتویں زیارت قرار دیا ہے ۔ صا حب مزار قدیم فرماتے ہیںکہ یہ ۲۷ رجب کے ساتھ مخصوص ہے جیسا کہ ہم نے بھی ہدیتہ الزائرین میں اس کا ذکر کیا ہے۔
تیسری زیارت
یہ وہی زیارت ہے‘ جسے شیخ مفید،رحمهالله سیدرحمهالله اور شہیدرحمهالله نے اس طرح نقل کیا ہے کہ مبعث کی رات یا دن میں جب کوئی شخص امیرالمؤمنین- کی زیارت کرنا چاہے‘ تو پہلے قبہ شریفہ کے دروازے پر آنجناب کی قبر کے مقابل کھڑے ہو کر یہ کہے:
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو یگانہ ہے اسکا کوئی شریک نہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے بندے
وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طالِبٍ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَبْدُ ﷲ وَأَخُو رَسُو لِهِ، وَأَنَّ
اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور یہ کہ علی بن ابی طالبعليهالسلام مومنوں کے امیر خدا کے بندے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی ہیں اور وہ
آلاَءِمَّةَ الطَّاهِرِینَ مِنْ وُلْدِهِ حُجَجُ ﷲ عَلَی خَلْقِهِ
پاک و پاکیزہ امام جو ان کی اولاد سے ہیں وہ مخلوق خدا پر اس کی حجت ہیں۔
پھر اندر داخل ہو کر پشت بہ قبلہ حضرت کی قبر مبارک کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جائے اور سو مرتبہ اللہ اکبر کہے اور اس کے بعد یہ زیارت پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ آدَمَ خَلِیفَةِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ صِفْوَةِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے وارث آدمعليهالسلام جو خلیفہ خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے وارث نوحعليهالسلام جو خدا کے برگزیدہ ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے وارث ابراہیمعليهالسلام جو خدا کے دوست ہیں سلام ہوآپ پر اے وارث موسیٰعليهالسلام جو خدا کے کلیم ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِیسی رُوحِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ سَیِّدِ رُسُلِ
آپ پر سلام ہو اے وارث عیسٰیعليهالسلام جو روح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے وارث محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم جو خدا کے رسولوں کے
ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا إمامَ الْمُتَّقِینَ، اَلسَّلَامُ
سردار ہیں سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے امیرعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے پرہیز گاروں کے امامعليهالسلام سلام ہو
عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَصِیَّ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ
آپ پر اے اوصیائ کے سردار آپ پر سلام ہو اے جہانوں کے پروردگار کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی سلام ہو
عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِلْمِ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا النَّبَأُ الْعَظِیمُ، اَلسَّلَامُ
آپ پر اے اولین و آخرین کے علم کے ورثہ دار سلام ہو
عَلَیْکَ أَیُّهَا الصِّراطُ الْمُسْتَقِیمُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْمُهَذَّبُ الْکَرِیمُ
آپ پر کہ آپ بہت بڑی خبر ہیںآپ پر سلام ہوکہ آپ ہی صراط مستقیم ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ سنوارے ہوئے صاحب مرتبہ ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْوَصِیُّ التَّقِیُّ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الرَّضِیُّ الزَّکِیُّ، اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو کہ آپ پرہیزگار وصی ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ راضی شدہ پاک شدہ ہیں آپ پر
عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْبَدْرُ الْمُضِیئُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الصِّدِّیقُ الْاََکْبَرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
سلام ہو کہ آپ چودھویں کے چمکتے چاند ہیںآپ پر سلام ہو کہ آپ سب سے بڑے تصدیق کرنے والے ہیں آپ پر سلام ہو
أَیُّهَا الْفارُوقُ الْاََعْظَمُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا السِّراجُ الْمُنِیرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
کہ آپ سب سے بڑھ کر حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ روشن و تاباں چراغ ہیں آپ پر سلام ہو
یَا إمامَ الْهُدیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلَمَ التُّقی، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ الْکُبْریٰ،
اے ہدایت دینے والے امامعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے تقویٰ کے نشان آپ پر سلام ہو اے خدا کی بہت بڑی حجت
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خاصَّةَ ﷲ وَخالِصَتَهُ وَأَمِینَ ﷲ وَصَفْوَتَهُ وَبابَ ﷲ وَحُجَّتَهُ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے مقرب اور اس کے خاص کردہ اور خدا کے امانتدار اور اس کے چنے ہوئے باب الہی اور اس کی حجت
وَمَعْدِنَ حُکْمِ ﷲ وَسِرِّهِ، وَعَیْبَةَ عِلْمِ ﷲ وَخازِنَهُ، وَسَفِیرَ ﷲ فِی خَلْقِهِ، أَشْهَدُ
خدا کے حکم اور اس کے رازکے حامل خدا کے علم کے جامع اور خزینہ دار اور خلق خدا میں اس کے نمائندہ میں گواہی دیتا ہوں کہ
أَنَّکَ أَقَمْتَ الصَّلاةَ وَآتَیْتَ الزَّکاةَ وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَاتَّبَعْتَ
آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دیتے رہے آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکاآپ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی
الرَّسُولَ، وَتَلَوْتَ الْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِهِ، وَبَلَّغْتَ عَنِ ﷲ، وَوَفَیْتَ بِعَهْدِ ﷲ، وَتَمَّتْ
کی اور قرآن کی تلاوت کی جو تلاوت کرنے کا حق ہے آپ نے خدا کا پیغام دیاخدا کا عہد پورا کیا اور آپ کے ذریعے خدا کی
بِکَ کَلِماتُ ﷲ، وَجاهَدْتَ فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ، وَنَصَحْتَ لِلّٰهِ وَ لِرَسُولِهِ صَلَّی
باتیں مکمل ہوئیں آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا جو جہاد کا حق ہے آپ نے خدا اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی
ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَجُدْتَ بِنَفْسِکَ صابِراً مُحْتَسِباً مُجاهِداً عَنْ دِینِ ﷲ مُوَقِّیاً
خاطر نصیحت و خیرخو اہی کی آپ نے جان کی بازی لگائی صبر و احتیاط کے ساتھ جہاد کیا خدا کے دین کے لیے
لِرَسُولِ ﷲ، طالِباً مَا عِنْدَ ﷲ، راغِباً فِیما وَعَدَ ﷲ، وَمَضَیْتَ لِلَّذِی
اور خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آبرو کے لیے خدا کے ہاں اجر چاہتے ہوئے خدا کے وعدے پر توجہ رکھے ہوئے اور آپ اس عقیدہ پر باقی رہے
کُنْتَ عَلَیْهِ شَهِیداً وَشاهِداً وَمَشْهُوداً، فَجَزاکَ ﷲ عَنْ رَسُو لِهِ وَعَنِ
کہ جس کیلئے آپ شہید ہوئے آپ اس پر گواہ اور گواہی والے تھے پس خدا جزا دے آپ کو اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے اور اسلام و
الْاِسْلامِ وَأَهْلِهِ مِنْ صِدِّیقٍ أَفْضَلَ الْجَزائِ أَشْهَدُ أَ نَّکَ کُنْتَ أَوَّلَ الْقَوْمِ إسْلاماً،
صاحب صدق مسلمانوں کی طرف سے بہتر و برتر جزا، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سب لوگوں میں اول ہیں اسلام لانے میں
وَأَخْلَصَهُمْ إیماناً، وَأَشَدَّهُمْ یَقِیناً، وَأَخْوَفَهُمْ ﷲِ، وَأَعْظَمَهُمْ عَنائً، وَأَحْوَطَهُمْ
ان میں سے مخلص ہیں ایمان میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں یقین میںان سے زیادہ خوف خدا والے ہیںاور سب سے زیادہ
عَلَی رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَأَفْضَلَهُمْ مَناقِبَ ، وَأَکْثَرَهُمْ سَوابِقَ،
مصیبت برداشت کرنے والے اور رسول اللہ کے بارے میںزیادہ محتاط ہیں ان سے بلند ہیں خوبیوں میں ان سے آگے ہیں
وَأَرْفَعَهُمْ دَرَجَةً، وَأَشْرَفَهُمْ مَنْزِلَةً، وَأَکْرَمَهُمْ عَلَیْهِ، فَقَوِیْتَ حِینَ
فضیلتوں میں ان سے بلندتراور برتر ہیں درجے میں ارفع اورمنزلت میں بزرگ تر ہیں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک پس آپ قوی تھے
وَهَنُوا، وَلَزِمْتَ مِنْهَاجَ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ کُنْتَ
جب وہ لوگ کمزور پڑے اور آپ قائم رہے طریقہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ
خَلِیفَتَهُ حَقَّاً، لَمْ تُنازَعْ بِرَغْمِ الْمُنافِقِینَ، وَغَیْظِ الْکافِرِینَ، وَضِغْنِ الْفاسِقِینَ،
ان کے خلیفہ برحق بلا تنازعہ ہیں منافقوں کی مخالفت کافروں کے غصے اور بدکاروںکے کینے کے باوجودآپ دین
وَقُمْتَ بِالْاََمْرِ حِینَ فَشِلُوا، وَنَطَقْتَ حِینَ تَتَعْتَعُوا، وَمَضَیْتَ بِنُورِ ﷲ إذْ
کے امر کے ساتھ قائم رہے جب لوگ سست پڑ گئے آپ نے حق بیان کیا جب وہ چپ تھے اور آپ راہ ہدایت پر چلے جب وہ رکے
وَقَفُوا، فَمَنِ اتَّبَعَکَ فَقَدِ اهْتَدیٰ، کُنْتَ أَوَّلَهُمْ کَلاماً، وَأَشَدَّهُمْ خِصاماً، وَأَصْوَبَهُمْ
ہوئے تھے پس جس نے آپ کی پیروی کی وہ ہدایت پا گیا کیونکہ آپ کلام میں ان سے بہتر مقابلے میں ان سے سخت تر گفتار میں
مَنْطِقاً وَأَسَدَّهُمْ رَأْیاً وَأَشْجَعَهُمْ قَلْباً وَأَکْثَرَهُمْ یَقِیناً، وَأَحْسَنَهُمْ عَمَلاً، وَأَعْرَفَهُمْ
ان سے خوب تر رائے میںان سے محکم تر دل کے سب سے بہادر ہیںیقین میں ان سے بڑھ کر عمل میں ان سے نیک تر اور
بِالْاَُمُورِ، کُنْتَ لِلْمُؤمِنِینَ أَباً رَحِیماً إذْ صارُوا عَلَیْکَ عِیالاً ، فَحَمَلْتَ أَ ثْقالَ مَا عَنْهُ
معاملات کو زیادہ جاننے والے ہیں آپ مومنوں کیلئے مہربان باپ جب آپکے ارد گرد جمع ہو گئے آپ نے وہ بوجھ اٹھاے جنکے
ضَعُفُوا، وَحَفِظْتَ مَا أَضاعُوا وَرَعَیْتَ مَا أَهْمَلُوا، وَشَمَّرْتَ إذْ جَبَنُوا، وَعَلَوْتَ إذْ
مقابل وہ ناتواں تھے آپ نے بچا لیا جو انہوں نے گنوایا آپ نے یاد رکھا جو انہوں نے بھلایا آپ نے جرأت کی جب وہ ڈر گئے
هَلِعُوا، وَصَبَرْتَ إذْ جَزِعُوا، کُنْتَ عَلَی الْکافِرِینَ عَذاباً صَبّاً
آپ غالب آئے جب وہ نالے کرتے تھے اور آپ جمے رہے جب وہ گھبرا گئے آپ کافروں کے لیے نہ رکنے والا عذاب ان کے
وَغِلْظَةً وَغَیْظاً، وَ لِلْمُؤْمِنِینَ غَیْثاً وَخِصْباً وَعِلْماً، لَمْ تُفْلَلْ حُجَّتُکَ،
لیے سختی اور قہر و غضب تھے اور مومنوں کے لیے ابر رحمت اور علم و نعمت کی فراوانی تھے کہ آپ کی دلیل کمزورنہ تھی آپ کا دل کج نہ ہوا
وَلَمْ یَزِغْ قَلْبُکَ وَلَمْ تَضْعُفْ بَصِیرَتُکَ وَلَمْ تَجْبُنْ نَفْسُکَ، کُنْتَ کَالْجَبَلِ لاَ تُحَرِّکُهُ
آپ کی سمجھ میں کمی نہ ہوئی اور آپ کا دل خوفزدہ نہ ہوا کہ آپ پہاڑ کی طرح جمے کہ جسے آندھیاں ہلا نہیں سکیں
الْعَواصِفُ، وَلاَ تُزِیلُهُ الْقَواصِفُ، کُنْتَ کَما قالَ رَسُولُ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
بجلی کی کڑک اسے گرا نہیں سکی آپ ایسے تھے جیسے رسول اللہ نے فرمایا تھا
قَوِیَّاً فِی بَدَنِکَ، مُتَواضِعاً فِی نَفْسِکَ، عَظِیماً عِنْدَ ﷲ، کَبِیراً فِی الْاََرْضِ، جَلِیلاً
کہ آپ قوی بدن والے اپنے آپ میں فروتنی کرنے والے خدا کے ہاں بلند مرتبے والے زمین میں بڑائی والے آسمان میں عزت
فِی السَّمائِ لَمْ یَکُنْ لاََِحَدٍ فِیکَ مَهْمَزٌ وَلاَ لِقائِلٍ فِیکَ مَغْمَزٌ وَلاَ لِخَلْقٍ فِیکَ مَطْمَعٌ
والے آپکے متعلق کسی کے لئے نکتہ چینی کا مقام نہیں کوئی بولنے والا آپ کی برائی نہیں بتا سکتا لوگوں کو آپ کی طرف داری میں کوئی
وَلاَ لاََِحَدٍ عِنْدَکَ هَوادَةٌ، یُوجَدُ الضَّعِیفُ الذَّلِیلُ عِنْدَکَ قَوِیَّاً عَزِیزاً حَتَّی تَأْخُذَ لَهُ
لالچ نہیںنہ آپ کے ہاں کسی کے لیے کچھ رعایت ہے ہر کمزور آپ کے نزدیک طاقتور ہے جب تک آپ اس کا حق اسے دلا نہ
بِحَقِّهِ وَالْقَوِیُّ الْعَزِیزُ عِنْدَکَ ضَعِیفاً حَتَّی تَأْخُذَ مِنْهُ الْحَقَّ، الْقَرِیبُ وَالْبَعِیدُ عِنْدَکَ
دیں اور ہر طاقتور شخص آپ کے نزدیک کمزور ہے جب تک اس سے حق وصول نہ کر لیں اس معاملے میں اپنا بیگانہ آپ کے
فِی ذلِکَ سَوائٌ شَأْنُکَ الْحَقُّ وَالصِّدْقُ وَالرِّفْقُ وَقَوْلُکَ حُکْمٌ وَحَتْمٌ ، وَأَمْرُکَ حِلْمٌ
نزدیک برابر ہے آپ کی روش حق سچائی اور ملائمت ہے آپ کے قول میں مضبوطی و استواری آپ کے حکم میں نرمی
وَعَزْمٌ، وَرَأْیُکَ عِلْمٌ وَحَزْمٌ، اعْتَدَلَ بِکَ الدِّینُ، وَسَهُلَ بِکَ الْعَسِیرُ، وَأُطْفِیَتْ بِکَ
و ثبات آپ کی رائے میںعلم و پختگی ہے کہ دین اسلام آپ کے ذریعے سنبھلا آپ کے ذریعے مشکل کام آسان ہوا آپکے ذریعے
النِّیرانُ، وَقَوِیَ بِکَ الْاِیمانُ، وَثَبَتَ بِکَ الْاِسْلامُ، وَهَدَّتْ مُصِیبَتُکَ الْاََنامَ،
فتنے کی آگ ٹھنڈی ہوئی آپکے ذریعے ایمان کو قوت ملی آپکے ذریعے اسلام کا نقش گہرا ہوا اور آپ کی مصیبت نے لوگوں کو متاثر کیا
فَ إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ، لَعَنَ ﷲ مَنْ قَتَلَکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ خالَفَکَ
پس ہم خدا ہی کیلئے ہیں اور اسی کیطرف پلٹیں گے خدا لعنت کرے آپکے قاتل پر خدا لعنت کرے آپکے مخالف پرخدا لعنت کرے
وَلَعَنَ ﷲ مَنِ افْتَریٰ عَلَیْکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ ظَلَمَکَ وَغَصَبَکَ حَقَّکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ
آپ پر جھوٹ باندھنے والے پرخدا لعنت کرے آپ سے ناانصافی کرنے والے اور آپ کا حق دبانے والے پراور خدا لعنت
بَلَغَهُ ذلِکَ فَرَضِیَ بِهِ، إنَّا إلَی ﷲ مِنْهُمْ بُرَائُ، لَعَنَ ﷲ أُمَّةً خالَفَتْکَ،
کرے اس معاملے پر خوش ہونے والے پر یقینا ہم آپکے سامنے ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں خدا لعنت کرے اس گروہ پر جس
وَجَحَدَتْ وِلایَتَکَ، وَتَظاهَرَتْ عَلَیْکَ وَقَتَلَتْکَ، وَحادَتْ عَنْکَ وَخَذَلَتْکَ،
نے آپکی مخالفت کی آپکی ولایت سے انکار کیا آپکے دشمن کا ساتھ دیا آپ سے جنگ کی آپکی جمعیت سے نکل گیا اور آپکو چھوڑ دیا
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی جَعَلَ النَّارَ مَثْواهُمْ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ أَشْهَدُ لَکَ یَا وَلِیَّ ﷲ
حمد ہے خدا کے لیے جس نے جہنم کو ان لوگوں کا ٹھکانہ بنایا اور وہ بڑاہی برا ٹھکانا ہے میں گواہی دیتا ہوں آپ کی اے خدا کے ولی
وَوَلِیَّ رَسُولِهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ بِالْبَلاغِ وَالْاََدائِ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ حَبِیبُ ﷲ وَبابُهُ
اور اس کے رسول کے کار تبلیغ میں معاون اور ادائے فرض میں معاون اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے دوست اور اس کا
وَأَنَّکَ جَنْبُ ﷲ وَوَجْهُهُ الَّذِی مِنْهُ یُؤْتیٰ، وَأَ نَّکَ سَبِیلُ ﷲ، وَأَنَّکَ عَبْدُ
دروازہ ہیں اور یہ کہ آپ خدا کے طرفدار اور مظہر ہیں جس کے ذریعے اس تک پہنچتے ہیں بے شک آپ خدا کا راستہ ہیں نیز آپ خدا
ﷲ، وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، أَتَیْتُکَ زائِراً لِعَظِیمِ حالِکَ وَمَنْزِلَتِکَ عِنْدَ
کے بندے اور اس کے رسول کے بھائی ہیں آپ کی زیارت کو آیا ہوں کہ خدا اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک آپ کا مقام
ﷲ وَعِنْدَ رَسُولِهِ، مُتَقَرِّباً إلَی ﷲ بِزِیارَتِکَ، راغِباً إلَیْکَ فِی الشَّفاعَةِ، أَبْتَغِی
ومرتبہ بلند ہے میں آپ کی زیارت سے خدا کا قرب چاہتاہوں شفاعت کے لیے آپ کی طرف مائل ہوا ہوں آپ کی شفاعت
بِشَفاعَتِکَ خَلاصَ نَفْسِی، مُتَعَوِّذاً بِکَ مِنَ النَّارِ، هارِباً مِنْ ذُ نُوبِیَ الَّتِی احْتَطَبْتُها
کے ذریعے اپنی نجات چاہتا ہوں خوف جہنم سے آپ کی پناہ لیتا ہوںاپنے گناہوں سے دور بھاگا ہوں جن کا بوجھ میری
عَلَی ظَهْرِی، فَزِعاً إلَیْکَ رَجائَ رَحْمَةِ رَبِّی، أَتَیْتُکَ أَسْتَشْفِعُ بِکَ یَا مَوْلایَ
پشت پر ہے اپنے رب کی رحمت کی امید میں آپ کے آگے روتا ہوں اے میرے آقا میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ خدا کے حضور میری
إلَی ﷲ وَأَتَقَرَّبُ بِکَ إلَیْهِ لِیَقْضِیَ بِکَ حَوائِجِی، فَاشْفَعْ لِی یَا أَمِیرَ
شفاعت کریں اور آپ کے وسیلے سے اس کاقرب چاہتا ہوں کہ آپ کے ذریعے وہ میری حاجات بر لائے پس اے مومنوں کے
الْمُؤْمِنِینَ إلَی ﷲ فَ إنِّی عَبْدُ ﷲ وَمَوْلاکَ وَزائِرُکَ وَلَکَ عِنْدَ ﷲ الْمَقامُ الْمَعْلُومُ
امیر خدا کیسامنے میری شفاعت کریں کہ میں خدا کا بندہ ہوں آپکا محب اور زائر ہوں جبکہ آپ خدا کے ہاں نمایاں مرتبہ رکھتے ہیں
وَالْجاهُ الْعَظِیمُ وَالشَّأْنُ الْکَبِیرُ، وَالشَّفاعَةُ الْمَقْبُولَةُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اس کے حضور بڑی عزت اور اونچی شان کے مالک ہیں آپ کی شفاعت قبول کی جاتی ہے اے معبود! رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام
مُحَمَّدٍ وَصَلِّ عَلَی عَبْدِکَ وَأَمِینِکَ الْاََوْفی وَعُرْوَتِکَ الْوُثْقی وَیَدِکَ الْعُلْیا وَکَلِمَتِکَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور رحمت نازل کر اپنے بندے پر جو تیرے اسرار کا بہترین امین مضبوط رسی تیرا اوپر والا ہاتھ تیرا کلمہ
الْحُسْنی وَحُجَّتِکَ عَلَی الْوَریٰ وَصِدِّیقِکَ الْاََکْبَرِ سَیِّدِ الْاََوْصِیائِ وَرُکْنِ الْاََوْلِیائِ
حسنہ مخلوقات پر تیری دلیل و حجت تیرا بنایا ہوا صدیق اکبر اوصیائ کا سردار اولیائ کا
وَعِمَادِ الْاََصْفِیائِ، أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَیَعْسُوبِ الْمُتَّقِینَ، وَقُدْوَةِ الصِّدِّیقِینَ، وَ إمامِ
مرکز پاکبازوں کا سہارا مومنوں کا امیرعليهالسلام نیکو کار سالار صدیقوں کا پیشوا خوش کرداروں کا
الصَّالِحِینَ ، الْمَعْصُومِ مِنَ الزَّلَلِ، وَالْمَفْطُومِ مِنَ الْخَلَلِ، وَالْمُهَذَّبِ مِنَ الْعَیْبِ،
امام لغزش سے محفوظ خطا سے دور عیب سے پاک
وَالْمُطَهَّرِ مِنَ الرَّیْبِ أَخِی نَبِیِّکَ وَوَصِیِّ رَسُولِکَ وَالْبآئِتِ عَلَی فِرَاشِهِ وَالْمُوَاسِی
شک سے دورتیرے نبی کا بھائی تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا وصی شب ہجرت ان کے بستر پر سونے والا ان پر جان قربان کرنے والا
لَهُ بِنَفْسِهِ وَکَاشِفِ الْکَرْبِ عَنْ وَجْهِهِ الَّذِی جَعَلْتَهُ سَیْفاً لِنُبُوَّتِهِ وَمُعْجِزاً لِرِسَالَتِهِ
اور ان کے غم و پریشانی کو دور کرنے والا کہ جسے تو نے ان کی نبوت کی تلوار بنایا ان کی رسالت کا معجزہ
وَدَلالَةً واضِحَةً لِحُجَّتِهِ، وَحامِلاً لِرایَتِهِ، وَوِقَایَةً لِمُهْجَتِهِ، وَهادِیاً لاَُِمَّتِهِ، وَیَداً
اور ان کی حجت کے لیے روشن دلیل جسے تو نے ان کے علم کو اٹھانے والا ان کی جان کا محافظ ان کی امت کا رہبر ان کا بازوئے شمشیر
لِبَأْسِهِ وَتاجاً لِرَأْسِهِ وَباباً لِنَصْرِهِ وَمِفْتاحاً لِظَفَرِهِ حَتَّی هَزَمَ جُنُودَ الشِّرْکِ بِأَیْدِکَ
ان کے سر کاتاج ان کی نصرت کا ذریعہ اور ان کی کامیابی کی کلید قرار دیا یہاں تک کہ تیری مدد سے شرک کے لشکرمات ہو گئے
وَأَبادَ عَساکِرَ الْکُفْرِ بِأَمْرِکَ وَبَذَلَ نَفْسَهُ فِی مَرْضاتِکَ وَمَرْضاةِ رَسُولِکَ وَجَعَلَها
اور کفر کی فوجیں تیرے حکم سے نابودہوگئیں تیرے بندے (علیعليهالسلام ) نے اپنی جان تیری اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رضا پر نثار کی اس نے خود کو
وَقْفاً عَلَی طاعَتِهِ، وَمَجِنّاً دُونَ نَکْبَتِهِ، حَتَّیٰ فاضَتْ نَفْسُهُ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
ان کی فرمانبرداری میں لگایا اور تکلیف میں ان کی ڈھال بنا رہا یہاں تک کہ حضور کی روح پرواز کر گئی جب کہ آپ
فِی کَفِّهِ وَاسْتَلَبَ بَرْدَها وَمَسَحَهُ عَلَی وَجْهِهِ وَأَعانَتْهُ مَلائِکَتُکَ عَلَی غُسْلِهِ
اسکی آغوش میں تھے اس نے جسد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ٹھنڈک محسوس کی اور آپ کے منہ پر ہاتھ پھیرا اور ان کے غسل و کفن میں تیرے فرشتوں
وَتَجْهِیزِهِ وَصَلَّی عَلَیْهِ وَواریٰ شَخْصَهُ، وَقَضی دَیْنَهُ وَأَنْجَزَ وَعْدَهُ وَلَزِمَ
نے اس کی اعانت کی اس نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفنا یا اس نے ان کے قرضے ادا کیے ان کے وعدے نبھائے ان کے
عَهْدَهُ وَاحْتَذی مِثالَهُ، وَحَفِظَ وَصِیَّتَهُ، وَحِینَ وَجَدَ أَنْصاراً نَهَضَ مُسْتَقِلاًّ بِأَعْبائِ
عہد پر قائم رہا انکے نقش قدم پر چلا انکی وصیت کا پابند رہا اور جب مددگار مل گئے تو بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ خلافت کی ذمہ داریاں
الْخِلافَةِ، مُضْطَلِعاً بِأَ ثْقالِ الْاِمامَةِ، فَنَصَبَ رایَةَ الْهُدَیٰ فِی عِبَادِکَ، وَنَشَرَ ثَوْبَ
سنبھالیں اور امامت کے بھاری فرائض قبول کیے پھر علی نے تیرے بندوں کے درمیان علم ہدایت بلند کیا تیرے شہرو دیہات میں
الْاََمْنِ فِی بِلادِکَ، وَبَسَطَ الْعَدْلَ فِی بَرِیَّتِکَ، وَحَکَمَ بِکِتَابِکَ فِی خَلِیقَتِکَ، وَأَقامَ
امن و امان قائم کیا تیری مخلوق میں عدل و انصاف رائج کیا اور تیری خلقت میں تیری کتاب کے مطابق فیصلے کئے دین کی حدود قائم
الْحُدُودَ وَقَمَعَ الْجُحُودَ وَقَوَّمَ الزَّیْغَ وَسَکَّنَ الْغَمْرَةَ وَأَبادَ الْفَتْرَةَ وَسَدَّ الْفُرْجَةَ
کیں اور کفر و انکار کی جڑیں کاٹیں کجرؤوں کو سیدھا کیا بے راہ روی کو ختم کیا بے خبری کو دور کیا دشمنوں کے رخنوں کو بند کیا عہد توڑنے
وَقَتَلَ النَّاکِثَةَ وَالْقاسِطَةَ وَالْمارِقَةَ، وَلَمْ یَزَلْ عَلَی مِنْهاجِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ
والوں پھوٹ ڈالنے والوں اور پھر جانے والوں کو قتل کیا اور ہمیشہ حضرت رسول کے طور طریقے پر قائم رہے
عَلَیْهِ وَآلِهِ وَوَتِیرَتِهِ، وَلُطْفِ شاکِلَتِهِ، وَجَمالِ سِیرَتِهِ، مُقْتَدِیاً بِسُنَّتِهِ، مُتَعَلِّقاً
ان کے چلن ان کے نیک افعال اور ان کی سیرت کی خوبی کو اختیار کیا ان کی سنت پر چلے
بِهِمَّتِهِ، مُباشِراً لِطَرِیقَتِهِ، وَأَمْثِلَتُهُ نَصْبُ عَیْنَیْهِ یَحْمِلُ عِبَادَکَ عَلَیْها وَیَدْعُوهُمْ
انکے مقصد کو نظر میں رکھا انکے طریقے آپنائے انکے نمونہ عمل پر نگاہ رکھے ہوئے تیرے بندوں کو ان پر چلایا اورانہیں اسی طرف
إلَیْها إلی أَنْ خُضِبَتْ شَیْبَتُهُ مِنْ دَمِ رَأْسِهِ اَللّٰهُمَّ فَکَما لَمْ یُؤْثِرْ فِی طاعَتِکَ شَکّاً
بلاتے رہے یہاں تک کہ ان کی داڑھی ان کی پیشانی کے خون سے رنگین ہو گئی خدایا جیسا کہ اس ذات(علیعليهالسلام ) نے تیری اطاعت
عَلَی یَقِینٍ، وَلَمْ یُشْرِکْ بِکَ طَرْفَةَ عَیْنٍ صَلِّ عَلَیْهِ صَلاةً زاکِیَةً نامِیَةً یَلْحَقُ بِهَا
میں شک کو یقین پر غلبہ نہ پانے دیا اور ایک لمحہ کے لیے تیرے ساتھ شریک قرار نہیں دیا تو بھی ان پررحمت فرما پاکیزہ رحمت جو بڑھتی
دَرَجَةَ النُّبُوَّةِ فِی جَنَّتِکَ، وَبَلِّغْهُ مِنَّا تَحِیَّةً وَسَلاماً، وَآتِنا مِنْ لَدُنْکَ فِی
جائے اسکے ذریعے انہیں اپنی جنت میں نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ملا دے ہماری طرف سے انہیں رحمت و سلام پہنچا دے اور ہمیں انکی محبت
مُوَالاتِهِ فَضْلاً وَ إحْساناً وَمَغْفِرَةً وَرِضْواناً، إنَّکَ ذُو الْفَضْلِ الْجَسِیمِ، بِرَحْمَتِکَ
کے باعث اپنی طرف سے فضیلت نیکی بخشش اور خوشنودی نصیب فرما دے بے شک تو بڑا فضل کرنے والا ہے بوجہ اپنی رحمت کے
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ رحم والے۔
اسکے بعد ضریح مبارک پر بوسہ دے‘ پہلے دایاں رخسار پھربایاں رخسار اس پررکھے اسکے ساتھ ہی قبلہ رخ ہو کر نماز زیارت بجا لائے نماز کے بعد جو چاہے دعا مانگے پھر تسبیح فاطمہ زہراعليهالسلام پڑھے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ إنَّکَ بَشَّرْتَنِی عَلَی لِسانِ نَبِیِّکَ وَرَسُولِکَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ فَقُلْتَ
اے معبود: بے شک تو نے اپنے نبی و رسول محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبانی ہمیں خوشخبری دی تیری رحمتیں ہوں ان پراور ان کی آلعليهالسلام پر پس تو نے فرمایا
وَبَشِّرِ الَّذِینَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ اَللّٰهُمَّ وَ إنِّی مُؤْمِنٌ بِجَمِیعِ أَنْبِیائِکَ
بشارت دے دو ایمان والوں کو کہ ان کے لیے پرودرگار کے ہاں کامرانی ہے اے معبود! میں بھی تیرے سبھی نبیوں
وَرُسُلِکَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِمْ، فَلاَ تَقِفْنِی بَعْدَ مَعْرِفَتِهِمْ مَوْقِفاً تَفْضَحُنِی فِیهِ عَلَی
اور رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں تیری رحمتیں ہوں ان پر جب میںان کی معرفت رکھتا ہوں تو مجھے اس جگہ کھڑا نہ رکھنا جہاں لوگوں کے
رُوَُوسِ الْاََشْهادِ، بَلْ قِفْنِی مَعَهُمْ وَتَوَفَّنِی عَلَی التَّصْدِیقِ بِهِمْ اَللّٰهُمَّ وَأَنْتَ
سامنے تو مجھے رسوا کرے بلکہ مجھے ان نبیوں کے ساتھ کھڑا کرنا اور مجھے ان کو ماننے کی حالت میں موت دینا اے معبود! تو نے ان کو
خَصَصْتَهُمْ بِکَرامَتِکَ، وَأَمَرْتَنِی بِاتِّباعِهِمْ، اَللّٰهُمَّ وَ إنِّی عَبْدُکَ وَزائِرُکَ مُتَقَرِّباً
اپنی طرف سے بزرگی دے کر خصوصیت عطا فرمائی اور انکی پیروی کا حکم فرمایا اے معبود! میں تیرا بندہ ہوں اور وہ زائرہوں جو تیرا
إلَیْکَ بِزِیارَةِ أَخِی رَسُولِکَ وَعَلَی کُلِّ مَأْتِیٍّ وَمَزُورٍ حَقٌّ لِمَنْ أَتاهُ وَزارَهُ
قرب حاصل کرتا ہے تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی کی زیارت سے اور ہر آنیوالے اور زائر کا حق ہے اس پر جسکی زیارت آکر کی جارہی ہے
وَأَنْتَ خَیْرُ مَأْتِیٍّ، وَأَکْرَمُ مَزُورٍ، فأَسْأَلُکَ
اور آپ بہترین میزبان ہیں کہ جسکے پاس آیا جائے اوران سب سے زیادہ کریم ہیں جن کی زیارت کی جائے پس میں سوالی ہوں
یَا ﷲ یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ یَا جَوادُ یَا ماجِدُ یَا أَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ
اے اللہ اے مہربان اے رحم کرنیوالے عطا کرنے والے اے بزرگی والے اے یکتا اے بے نیاز اے وہ جس نے نہ جنا
وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ وَلَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اور نہ جنا گیا اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے نہ اس نے کوئی بیوی رکھی نہ کسی کو اپنا بیٹا بنایا سوال ہے کہ تورحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل
مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَ تُحْفَتَکَ إیَّایَ مِنْ زِیارَتِی أَخا رَسُولِکَ فَکاکَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور یہ کہ میں نے جو تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی کی زیارت کی ہے اس پر مجھے تحفہ دے جو میری گردن کو آگ سے آزاد کرتا ہو
وَأَنْ تَجْعَلَنِی مِمَّنْ یُسارِ عُ فِی الْخَیْراتِ وَیَدْعُوکَ رَغَباً وَرَهَباً، وَتَجْعَلَنِی
نیز مجھے ان لوگوں میں قرار دے جو نیکیوں میںجلدی کرتے ہیں اور تجھے محبت اور خوف سے یاد کرتے ہیں اور مجھے ان لوگوں میں
لَکَ مِنَ الْخاشِعِینَ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ مَنَنْتَ عَلَیَّ بِزِیارَةِ مَوْلایَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ
شامل کر جو تجھ سے ڈرتے ہیں اے معبود! بے شک تو نے مجھ پر احسان فرمایا کہ مجھ کو میرے آقا علی بن ابی طالبعليهالسلام کی زیارت کرائی
وَوِلایَتِهِ وَمَعْرِفَتِهِ فَاجْعَلْنِی مِمَّنْ یَنْصُرُهُ وَیَنْتَصِرُ بِهِ، وَمُنَّ عَلَیَّ بِنَصْرِکَ
اور انکی ولایت و معرفت بخشی ہے پس مجھے ان میں قرار دے جو انکی مدد کرتے اور انکی مدد پاتے ہیں نیز مجھ پر اپنے دین میں مدد دے کر
لِدِینِکَ اَللّٰهُمَّ وَاجْعَلْنِی مِنْ شِیعَتِهِ، وَتَوَفَّنِی عَلَی دِینِهِ اَللّٰهُمَّ أَوْجِبْ لِی مِنَ
احسان فرما اے معبود!مجھے ان کے پیروکاروں میں شامل فرما اور ان کے دین پر موت دے اے معبود! واجب کر میرے لیے اپنی
الرَّحْمَةِ وَالرِّضْوانِ وَالْمَغْفِرَةِ وَالْاِحْسانِ وَالرِّزْقِ الْواسِعِ الْحَلالِ الطَّیِّبِ مَا أَنْتَ
رحمت خوشنودی بخشش احسان اور حلال و پاک زیادہ روزی عطا کر جس کا تو
أَهْلُهُ یَا أَرْحمَ الرَّاحِمِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ
اہل ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور حمد ہے خدا کے لیے جو جہانوں کا رب ہے۔
مولف کہتے ہیں معتبر روایتوں میں آیا ہے کہ حضرت علی - کی شہادت کے دن خضر - اِنَّا ﷲِپڑھتے اور روتے ہوئے آئے اور آنجنابعليهالسلام کے مکان کے دروازے پر آکر یہ کلمات کہے:
رَحِمَکَ ﷲ یَا أَبَاالْحَسَنِ، کُنْتَ أَوَّلَ الْقَوْمِ إسْلاماً، وَأَخْلَصَهُمْ إیماناً،
خدا رحمت کرے آپ پر اے ابوالحسن آپ امت میں سب سے پہلے اسلام لائے ایمان میں ان سب سے زیادہ مخلص یقین میں
وَأَشَدَّهُمْ یَقِیناً، وَأَخْوَفَهُمْ لِلّٰهِ
سب سے بڑھے ہوئے اور سب سے زیادہ خوف خدا والے تھے۔
حضرت خضر - نے امیر المومنین - کے بہت سے فضائل گنوائے جو اس زیارت میں مذکور ہیں پس اگر روزِ مبعث یہ زیارت بھی پڑھی جائے تو بہت مناسب ہے۔ اور ان کلمات کی اصل جو منزلہ زیارت روز شہادت ہے اسے ہم نے ہدیۃ الزائر میں ذکر کیا ہے۔ لہذا خواہشمند مومنین اس کی طرف رجوع کریں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اعمال شب مبعث کے ضمن میں ہم نے ابن بطوطہ کے سفر نامے کا اقتباس اور کلام نقل کیا ہے جو اس روضہ مشرفہ سے متعلق تھااور بہتر ہو گا کہ اس مقام پر انہیں بھی دیکھ لیا جائے۔
پانچویں فصل
شہر کوفہ اور مسجد کوفہ کی فضیلت اور حضرت مسلم بن عقیل کی زیارت
جاننا چاہیے کہ کوفہ ان چار شہروں میں سے ایک ہے جن کو حق تعالیٰ نے پسند فرمایا اور طور سینین سے تعبیر کیا ہے روایت میں آیا ہے کہ وہ چار مقامات حرمِ خدا حرمِ رسول اور حرمِ امیر المومنین- ہیں کہ ان جگہوں میں ایک درہم صدقہ کرنا کسی اورمقام پر سو درہم صدقہ کرنے کے برابر ہے اور ان شہروں میں دو رکعت نماز سو رکعت کے مساوی شمار ہوتی ہے۔
مسجد کوفہ کی فضیلت
مسجدِ کوفہ کی فضیلتیں بہت زیادہ ہیں تاہم اس کی فضیلت میں یہی کافی ہے کہ مسجد کوفہ ان چار مسجدوں میں سے ایک ہے کہ جہاں فیض و برکت حاصل کرنے کیلئے جانا مناسب ہے نیز یہ ان چار مقامات میں سے ایک ہے کہ جہاں مسافر کو قصر اور تمام نماز پڑھنے میں اختیار ہے اور وہاں ایک فریضہ نماز ایک حج مقبول اوراس ایک ہزارنماز کے برابر ہے جو کسی اور جگہ بجا لائی جائے اور روایتوں میں آیا ہے کہ مسجد کوفہ انبیائ کرامعليهالسلام اور قائم آل محمد کا مقام نماز ہے، ایک روایت میں آیا ہے کہ یہاں ایک ہزار پیغمبروں اور پیغمبروں کے ایک ہزار اوصیائ نے نماز پڑھی بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کوفہ بیت المقدس کی مسجد اقصیٰ سے افضل ہے۔
ابن قولویہرحمهالله نے حضرت امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:ا گر لوگوں کو مسجد کوفہ کی فضیلت معلوم ہوجائے تو پھر وہ دور دور کے مقامات سے سفر کر کے اس مسجد میں آئیں‘ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس مسجد میں ادا کردہ فریضہ نماز حج مقبول کے اور نافلہ نماز عمرہ کے برابر ہے ایک روایت کے مطابق مسجد کوفہ میں ادا کی جانے والی فریضہ اور نافلہ نماز اس حج و عمرہ کے برابر ہے جو رسول اللہ کی معیت میں بجا لائی گئی ہو۔
شیخ کلینیرحمهالله نے اپنے اساتذہ کرام کے واسطے سے ہارون بن خارجہ سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے ہارون: تمہارے گھر اور مسجد کوفہ کے مابین کتنا فاصلہ ہے، آیا ایک میل ہو گا؟ میں نے عرض کی نہیں حضور حضرت نے فرمایا کہ کیا تم اپنی تمام نمازیں وہاں پڑھتے ہو میں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا کہ اگر میں مسجد کوفہ کے نزدیک رہتا ہوتا تو میں توقع کرتاہوں کہ وہاںمیری ایک نمازبھی فوت نہ ہوتی کیا تم جانتے ہو کہ اس مسجد کی فضیلت کیا ہے؟ کوئی عبد صالح اور پیغمبر ایسا نہیں گزرا مگر یہ کہ اس نے یہاں نماز ادا کی ہے یہاں تک کہ جب شبِ معراج رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو لے جا رہے تھے تو جبرائیلعليهالسلام نے آپ سے عرض کی کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت آپ کس جگہ پر ہیں؟ اس وقت آپ مسجد کوفہ کے سامنے سے گزر رہے ہیں اس پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: کہ خدائے تعالیٰ سے اجازت مانگو تاکہ میں وہاں جا کر دو رکعت نماز ادا کروں‘ تب جبرائیلعليهالسلام نے حق تعالیٰ سے اجازت طلب کی اور اس نے اجازت عطا فرمائی پس آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم وہاں اترے اور دو رکعت نماز ادا کی بے شک اس مسجد کے دائیں طرف جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اسکے درمیان میں اور اسکے عقب میں بھی جنت کے باغوںمیں سے ایک باغ ہے بے شک اس میں ایک واجب نماز ہزار نمازوں کے برابر ہے اور ایک نافلہ نماز پانچ سو نمازوں کے برابر ہے اور اس میںبغیر تلاوت و ذکر محض بیٹھنا بھی عبادت ہے اگر لوگوں کو اسکی فضیلت کا علم ہو جائے تو وہ دنیا کے گوشے گوشے سے چل کر وہاں آئیں اگرچہ بچوں کی طرح گھٹنوں کے بل ہی کیوں نہ چلنا پڑے ایک اور روایت میں وارد ہے کہ مسجد کوفہ میں ادا کردہ واجب نماز حج کے مساوی اور ایک نافلہ نماز عمرہ کے مثل ہے حضرت امیر- کی ساتویں زیارت کے ذیل میں بھی اس مسجد کے متعلق اشارہ ہو چکا ہے، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کا داہنا حصہ اسکے بائیں حصے سے افضل و اعلیٰ ہے۔
اعمال مسجد کوفہ
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا
مصباح الزائر وغیرہ میں ہے کہ جب شہر کوفہ میںداخل ہو تو کہے:
بِسْمِ ﷲ، وَبِالله، وَفِی سَبِیلِ ﷲ، وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
خدا کے نام سے خدا کی ذات کے واسطے سے خدا کی راہ میں اور حضرت رسول خدا کے طریق پر
اَللّٰهُمَّ أَ نْزِلْنِی مُنْزَلاً مُبارَکاً وَأَ نْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِینَ ۔ پھر مسجد کوفہ کی طرف چلے اور چلتے ہوئے یہ کہتا جائے
اے معبود! مجھے بہترین جگہ پر اتار کہ تو سب سے بہتر میزبان ہے ۔
ﷲ أَکْبَرُ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَالْحَمْدُ ﷲِ، وَسُبْحانَ ﷲ، جب مسجد کے دروازے پر آئے تو اس کے
خدا بزرگتر ہے اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیںاورحمد خدا ہی کے لیے ہے کہ خدا پاک تر ہے ۔
نزدیک کھڑے ہو کر کہے:اَلسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِنا رَسُولِ ﷲ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ ﷲ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
سلام ہو ہمارے سردار خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن عبدﷲعليهالسلام پر اور ان کی آلعليهالسلام پر
اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ وَعَلَی مَجالِسِهِ
سلام ہو مومنوں کے امیر حضرت امام علیعليهالسلام بن ابی طالب پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ان کی مجالس
وَمَشاهِدِهِ وَمَقامِ حِکْمَتِهِ وَآثارِ آبائِهِ آدَمَ وَنُوحٍ وَ إبْراهِیمَ وَ إسْماعِیلَ وَتِبْیانِ بَیِّناتِهِ،
ان کے مظاہر اوران کی حکمت کے مقام پر سلام ہو ان کے بزرگوں آدمعليهالسلام و نوحعليهالسلام اور ابراہیمعليهالسلام و اسماعیلعليهالسلام پر اور سلام ان کے واضح دلائل پر
اَلسَّلَامُ عَلَی الْاِمامِ الْحَکِیمِ الْعَدْلِ الصِّدِّیقِ الْاَکْبَرِ الْفارُوقِ بِالْقِسْطِ الَّذِی فَرَّقَ ﷲ بِهِ
سلام ہو ان ائمہعليهالسلام پر جو حکیم عادل صدیق اکبر اور باانصاف فاروق ہیں کہ جن کے ذریعے خدائے تعالیٰ نے
بَیْنَ الْحَقِّ وَالْباطِلِ وَالْکُفْرِ وَالْاِیمانِ وَالشِّرْکِ وَالتَّوْحِیدِ لِیَهْلِکَ مَنْ هَلَکَ عَنْ بَیِّنَةٍ
حق و باطل کفر و ایمان اور شرک و توحید کا فرق واضح کیا تاکہ جو ہلاک ہواسکی ہلاکت پر حجت قائم ہو
وَیَحْییٰ مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَةٍ، أَشْهَدُ أَنَّکَ أَمِیرُ الْمُؤمِنِینَ، وَخاصَّةُ نَفْسِ الْمُنْتَجَبِینَ، وَزَیْنُ
اور جو زندہ رہے وہ حجت پرزندہ رہے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ مومنوں کے امیر پاک اصل لوگوں کی روحانی خاصیت صاحبان
الصِّدِّیقِینَ، وَصابِرُ الْمُمْتَحَنِینَ، وَأَنَّکَ حَکَمُ ﷲ فِی أَرْضِهِ، وَقاضِی أَمْرِهِ،
صدق کی زینت اورآزمودہ لوگوں میں زیادہ صابر ہیں نیز آپ خدا کی زمین میں اس کے منصف اس کے حکم کو جاری کرنے والے
وَبابُ حِکْمَتِهِ، وَعاقِدُ عَهْدِهِ، وَالنَّاطِقُ بِوَعْدِهِ، وَالْحَبْلُ الْمَوْصُولُ بَیْنَهُ وَبَیْنَ عِبادِهِ،
اس کی حکمت کا دروازہ اس کا پیمان باندھنے والے اس کا وعدہ بتانے والے اس کو اور اس کے بندوں کو باہم ملانے والی رسی نجات کا
وَکَهْفُ النَّجاةِ وَمِنْهاجُ التُّقیٰ وَالدَّرَجَةُ الْعُلْیا وَمُهَیْمِنُ الْقاضِی الْاَعْلی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ
مرکز تقویٰ کا راستہ بلند درجہ اور تسلط رکھنے والے منصف ہیں اے مومنوں کے امیر میں
بِکَ أَ تَقَرَّبُ إلَی ﷲ زُلْفی، أَ نْتَ وَ لِیِّی وَسَیِّدِی وَوَسِیلَتِی فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ ۔
آپ کے ذریعے بلند تر خدا کا قرب چاہتا ہوں کہ آپ میرے ولی میرے سردار اور میرا وسیلہ ہیں دنیا اور آخرت میں۔
اس کے بعد مسجد میں داخل ہو جائے‘ مولف کہتے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ مسجد کے عقب میں واقع دروازے سے داخل ہو جو باب الفیل کہلاتا ہے اور داخل ہو کر یہ کہے:
ﷲ أَکْبَرُ، ﷲ أَکْبَرُ، ﷲ أَکْبَرُ، هذَا مَقامُ الْعَاءِذِ بِالله، وَبِمُحَمَّدٍ حَبِیبِ ﷲ صَلَّی
خدا بزرگ تر ہے خدا بزرگ تر ہے خدا بزرگ تر ہے یہ اسکے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جو خدا کی اور خدا کے حبیب حضرت محمد
ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَبِوِلایَةِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَآلاَءِمَّةِ الْمَهْدِیِّینَ الصَّادِقِینَ النَّاطِقِینَ
کی پناہ لیتا ہے نیز پناہ لیتا ہے مومنوں کے امیرعليهالسلام کی ولایت کی اور ان ائمہعليهالسلام کی ولایت کی جو رہبر ہیں سچ بولنے والے حق کہنے والے اور
الرَّاشِدِینَ الَّذِینَ أَذْهَبَ ﷲ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِیراً، رَضِیتُ بِهِمْ أَئِمَّةً
سیدھے راستے والے ہیں جن سے خدا نے ہر نجاست کو دور رکھا اور ان کو پاک رکھا جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے میں خوش ہوں کہ
وَهُداةً وَمَوالِیَّ، سَلَّمْتُ لاََِمْرِ ﷲ، لاَ أُشْرِکُ بِهِ شَیْئاً، وَلاَ أَتَّخِذُ مَعَ ﷲ وَلِیّاً،
وہ میرے امام رہبر اور سردار ہیں میں حکم خداکو مانتا ہوں اسکے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا اورسوائے خدا کے کسی کو اپنا ولی نہیں بناتا وہ
کَذَبَ الْعادِلُونَ بِالله وَضَلُّوا ضَلالاً بَعِیداً، حَسْبِیَ ﷲ وَأَوْ لِیائُ ﷲ، أَشْهَدُ
لوگ جھوٹے ہیں جو خدا سے پھر گئے اور گمراہی میں بہت دورتک جا پڑے میرے لئے کافی ہے خدا اور خدا کے اولیائ میں گواہی دیتا ہوں
أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّی
کہ ﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یگانہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اس کے بندے
ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَأَنَّ عَلِیَّاً وَآلاَءِمَّةَ الْمَهْدِیِّینَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ أَوْلِیائِی
اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں نیز یہ کہ امام علیعليهالسلام اور ان کی اولاد میں سے ہدایت یافتہ ائمہعليهالسلام ان پر سلام ہو وہ میرے ولی
وَحُجَّةُ ﷲ عَلَی خَلْقِهِ ۔
اور خدا کی مخلوق پر حجت ہیں۔
چوتھے ستون کے اعمال
اس کے بعد چوتھے ستون کی طرف جائے جو باب انماط کے قریب اور پانچویں ستون کے سامنے ہے او ر ستون ابراہیم کے نام سے مشہور ہے وہاں چار رکعت نماز پڑھے جن میں سے دورکعت حمداور سورہ اخلاص کے ساتھ اور دو رکعت سورۂ حمدا ور سورہ قدر کے ساتھ بجا لائے اور نماز کے بعد تسبیح فاطمہعليهالسلام زہرائ پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے :
اَلسَّلَامُ عَلَی عِبادِ ﷲ الصَّالِحِینَ الرَّاشِدِینَ الَّذِینَ أَذْهَبَ ﷲ عَنْهُمُ الرِّجْسَ
سلام ہو خدا کے نیک بندوں پر جو ہدایت والے ہیں جن سے خدا نے ہر نا پاکی دور کی اور انہیں
وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِیراً وَجَعَلَهُمْ أَ نْبِیائَ مُرْسَلِینَ، وَحُجَّةً عَلَی الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ وَسَلامٌ
پاک رکھا جو پاک رکھنے کا حق ہے اس نے انہیں انبیائ مرسلین قرار دیا اور ان کو ساری مخلوق پر حجت بنایا سلام ہو
عَلَی الْمُرْسَلِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ ذلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ ۔ پھر سات مرتبہ کہے:
اس کے بھیجے ہوؤوں پر اور حمد ہے خدا کیلئے جو جہانوں کا پروردگار ہے یہ ہے اندازہ اس کا جو غالب ہے علم والا۔
سَلامٌ عَلَی نُوحٍ فِی الْعالَمِینَ اس کے بعد کہے:نَحْنُ عَلَی وَصِیَّتِکَ یَا وَلِیَّ الْمُؤْمِنِینَ الَّتِی
سلام ہو نوحعليهالسلام پر سب جہانوں میں ہم اس وصیت پر قائم ہیں اے مومنوں کے ولی جو
أَوْصَیْتَ بِها ذُرِّیَّتَکَ مِنَ الْمُرْسَلِینَ وَالصَّدِّیقِینَ، وَنَحْنُ مِنْ شِیعَتِکَ وَشِیعَةِ نَبِیِّنا
وصیت آپ نے اپنی اولاد میں سے خدا کے مامور کئے ہوئے حق گوؤوں سے کی ہم آپ کے پیروکاروں اور اپنے
مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلَیْکَ وَعَلَی جَمِیعِ الْمُرْسَلِینَ وَالاََنْبِیَائِ وَالصَّادِقِینَ
نبی محمد کے پیروکاروں میں سے ہیں ہم ایمان رکھتے ہیں آپ پر تمام رسولوں، پیغمبروں اور صادقین پر
وَنَحْنُ عَلَی مِلَّةِ إبْراهِیمَ وَدِینِ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاَُمِّیِّ، وَآلاَءِمَّةِ الْمَهْدِیِّینَ، وَوِلایَةِ
ہم ملت ابراہیم پر ہیں اور نبی امی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دین پر اور ہدایت یافتہ ائمہعليهالسلام کے دین اور مومنوں کے
مَوْلانا عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی الْبَشِیرِ النَّذِیرِ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ
امیر علیعليهالسلام کی ولایت پر جو ہمارے آقا ہیں سلام ہو بشارت دینے والے ڈرانے والے پر خدا کا سلام ہو
وَرَحْمَتُهُ وَرِضْوانُهُ وَبَرَکاتُهُ، وَعَلَی وَصِیِّهِ وَخَلِیفَتِهِ الشَّاهِدِ لِلّٰهِ مِنْ بَعْدِهِ عَلَی
ان پر اس کی رحمت اس کی خوشنودی اور برکات ہوں اور ان کے وصی و خلیفہ پر بھی جو ان کے بعد خدا کی مخلوق پر اس کے گواہ ہیں
خَلْقِهِ عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، الصِّدِّیقِ الْاَکْبَرِ، وَالْفارُوقِ الْمُبِینِ الَّذِی أَخَذْتَ بَیْعَتَهُ
اور مومنوں کے امیر علیعليهالسلام پر جو کہ صدیق اکبر اور فاروق ہیں واضح طور پر جن کی بیعت تونے اہل جہان پر واجب کی ہے
عَلَی الْعالَمِینَ، رَضِیتُ بِهِمْ أَوْ لِیائَ وَمَوالِیَّ وَحُکَّاماً فِی نَفْسِی وَوُلْدِی وَأَهْلِی
میں راضی ہوںکہ وہ میرے اور میری اولاد کے میرے خاندان اور میرے مال
وَمالِی وَقِسْمِی وَحِلِّی وَ إحْرامِی وَ إسْلامِی وَدِینِی وَدُنْیایَ وَآخِرَتِی وَمَحْیایَ
متاع کے نیز میرے حلال و احرام، اسلام و دین میری دنیا و آخرت اور میری زندگی
وَمَماتِی، أَنْتُمُ آلاَءِمَّةُ فِی الْکِتابِ، وَفَصْلُ الْمَقامِ، وَفَصْلُ الْخِطابِ، وَأَعْیُنُ الْحَیِّ
و موت میں میرے آقا اور حاکم ہیں آپ ہیں امام قرآن میں فصل مقام میں اور فصل خطاب میں آپ وہ کھلی آنکھیں ہیں جو
الَّذِی لاَ یَنامُ، وَأَنْتُمْ حُکَمائُ ﷲ، وَبِکُمْ حَکَمَ ﷲ، وَبِکُمْ عُرِفَ حَقُّ ﷲ، لاَ إلهَ إلاَّ
سوتی نہیں ہیں آپ ہی حکمائ الٰہی میں کہ خدا آپ کے ذریعے فیصلے کرتا ہے اور آپ کے ذریعے حق خدا معلوم ہوتا ہے ﷲ کے سوائ
ﷲ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ﷲ، أَنْتُمْ نُورُ ﷲ مِنْ بَیْنِ أَیْدِینا وَمِنْ خَلْفِنا، أَنْتُمْ سُنَّةُ ﷲ
کوئی معبود نہیں حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں آپ نور خدا ہیں جو ہمارے آگے اور پیچھے روشن رہتا ہے آپ خدا کا وہ طریقہ ہیں
الَّتِی بِها سَبَقَ الْقَضائُ، یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَ نَا لَکُمْ مُسَلِّمٌ تَسْلِیماً لاَ أُشْرِکُ بِالله
جس سے قضائ آگے چلتی ہے اے مومنوں کے امیر میں آپ کا ماننے والا ہوں جو ماننے کا حق ہے میں کسی کو خدا کا شریک نہیں سمجھتا
شَیْئاً، وَلاَ أَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ وَ لِیَّاً، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی هَدانِی بِکُمْ وَمَا کُنْتُ لاََِهْتَدِیَ
اور نہ اس کے سوا میرا کوئی مالک ہے حمد ہے خدا کی جس نے مجھے آپ کے ذریعے ہدایت دی اور میں ہدایت نہ پاتا اگر خدا مجھے
لَوْلا أَنْ هَدَانِیَ ﷲ، ﷲ أَکْبَرُ، ﷲ أَکْبَرُ، ﷲ أَکْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی مَا هَدَانا
ہدایت نہ کرتا خدا سب سے بڑا ہے خدا سب سے بڑا ہے حمد ہے خدا کی اس پر کہ اس نے ہمیں ہدایت کی۔
اعمال دکتہ القضائ و بیت الطشت
دکتہ القضائ مسجد کے اس چوبترے کا نام ہے جس پر بیٹھ کر امیر المؤمنین- فیصلے کیا کرتے تھے اس کے قریب ایک چھوٹا سا ستون بھی تھا جس پر یہ آیۃ کریمہ لکھی ہوئی تھی
اِنَّ ﷲ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ
بے شک خداحکم دیتا ہے انصاف اور نیکی کرنے کا ۔
بیت الطشت وہ جگہ ہے جہاں امیر المؤمنین- سے معجزہ ظاہر ہوا جو ایک کنواری لڑکی کے بارے میں تھا ہوا یہ کہ وہ لڑکی پانی میں اتری اور ایک جونک اس کے بیٹ میں چلی گئی پھر وہ خون چوس چوس کر بڑی ہوگئی جس سے اس لڑکی کا پیٹ بڑھ گیا اس لڑکی کے بھائی یہ گمان کرنے لگے کہ یہ کنواری ہوتے ہوئے حاملہ ہوگئی ہے لہذا وہ اسے قتل کرنے پر آمادہ ہو گئے پس وہ اس امر کا فیصلہ کرانے کیلئے اس لڑکی کو امیر المؤمنین- کی خدمت میں لے آئے حضرتعليهالسلام نے حکم دیا کہ مسجد میں پردہ بنایا جائے پھر اس لڑکی کو پردے میں بٹھایا اور ایک دایہ کو بلوا کر صحیح صورت حال معلوم کرنے کے لئے لڑکی کے پاس بھیجا دایہ نے اچھی طرح دیکھنے کے بعد عرض کیا یا امیر المؤمنین- یہ لڑکی حاملہ ہے اور اس کے شکم میں بچہ ہے اس پر آپعليهالسلام نے فرمایا کہ ایک طشت (تھال) کیچڑ سے بھر کر لایا جائے اور اس لڑکی کو اس میں بٹھایا جائے جب یہ عمل کیا گیا تو جونک کیچڑ کی بو پا کر اس کے پیٹ سے باہر نکل آئی ایک اور روایت کے مطابق حضرت نے ہاتھ بڑھا کر شام کے ایک پہاڑ سے برف کا ٹکڑا اٹھا کر تھال میں رکھا تو وہ جونک اس لڑکی کے پیٹ سے باہر نکل آئی اور اس لڑکی کا پاک دامن ہونا ثابت ہوگیا ۔
یاد رکھنا چاہئے کہ مسجد کوفہ کے اعمال کی مشہور ترتیب یہ ہے کہ چوتھے ستون کا عمل بجا لانے کے بعد وسطِ مسجد میں جاکر اسکے اعمال بجا لائیں پھر دکہ امام جعفر صادق - کے اعمال اور سب سے آخر میں دکتہ القضائ و بیت الطشت کے اعمال بجا لائیں لیکن ان اعمال کے بارے میں ہم نے وہ طریقہ اختیار کیا ہے جسے سید ابن طاؤس نے مصباح الزائر میں علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اور شیخ حضرمیرحمهالله نے مزار میں ذکر کیا ہے ہاں اگر کوئی شخص طریقہ مشہورہ کے مطابق اعمال کرنا چاہے تو وہ ستون چہارم کے بعد دکہ امام جعفر صادق - کے اعمال اور پھر دکتہ القضائ و بیت الطشت کے اعمال بجا لائے
دکۃ القضائ کے اعمال
ہم کہتے ہیں کہ دکۃ القضائ کے قریب جائے وہاں دو رکعت نماز پڑھے جس سورہ سے چاہے ادا کرے اور تسبیح فاطمہ زہرائعليهالسلام سے فارغ ہوکر یہ دعا پڑھے:
یَا مالِکِی وَمُمَلِّکِی وَمُتَغَمِّدِی بِالنِّعَمِ الْجِسامِ مِنْ غَیْرِ اسْتِحْقاقٍ، وَجْهِی خاضِعٌ
اے میرے مالک مجھے مالکیت دینے والے میرے حقدار ہونے کے بغیر مجھے بڑی بڑی نعمتوں سے نوازنے والے میرا چہرا جھکا ہوا ہے
لِمَا تَعْلُوهُ الْاََقْدامُ لِجَلالِ وَجْهِکَ الْکَرِیمِ لاَ تَجْعَلْ هذِهِ الشِّدَّةَ وَلاَ هذِهِ الْمِحْنَةَ
چونکہ تیرے با عزت اور با برکت جلوے نے اسے زیر کیا ہے اس سختی اور مصیبت کو لگا تار جاری نہ رکھ کہ وہ مجھے بالکل
مُتَّصِلَةً بِاسْتِیصالِ الشَّأْفَةِ، وَامْنَحْنِی مِنْ فَضْلِکَ مَا لَمْ تَمْنَحْ بِهِ أَحَداً مِنْ غَیْرِ
ہی تباہ و برباد کردے اور مجھے اپنے فضل سے وہ چیز دے جو تو نے کسی کو اس کی طلب کے بغیر
مَسْأَلَةٍ، أَ نْتَ الْقَدِیمُ الْاََوَّلُ الَّذِی لَمْ تَزَلْ وَلاَ تَزالُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
عطا نہ فرمائی ہو تو قدیم اور سابق ہے جو ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ سے ہے رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَاغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَزَکِّ عَمَلِی، وَبارِکْ لِی فِی أَجَلِی، وَاجْعَلْنِی مِنْ عُتَقائِکَ
اور میری پردہ پوشی کر مجھ پر رحم فرما میرا عمل پاکیزہ بنا میری عمر میں برکت دے اور مجھے ان لوگوں میں قرار دے جنہیں تونے
وَطُلَقائِکَ مِنَ النَّارِ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
جہنم سے آزاد کیا ہے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والا ۔
بیت الطشت کے اعمال
بیت الطشت جوکہ دکۃ القضائ کے ساتھ متصل ہے وہاں دو رکعت نماز ادا کرے، نماز کے بعد تسبیح فاطمہ الزہرائ = پڑھے اور پھر یہ کہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی ذَخَرْتُ تَوْحِیدِی إیَّاکَ، وَمَعْرِفَتِی بِکَ، وَ إخْلاصِی لَکَ، وَ إقْرارِی
اے معبود میں نے تیری وحدانیت کا اقرار کیا تیری ذات کو پہچانا تجھ پرخلوص کے ساتھ ایمان لایااپنا خالص ایمان اورتیری ربوبیت
بِرُبُوبِیَّتِکَ، وَذَخَرْتُ وِلایَةَ مَنْ أَ نْعَمْتَ عَلَیَّ بِمَعْرِفَتِهِمْ مِنْ بَرِیَّتِکَ مُحَمَّدٍ وَعِتْرَتِهِ
پروردگاری کا اعتقاد رکھا میں نے اس ولایت کو تسلیم کیا جو تونے مجھے عطا کی بوجہ ان کی شناخت کے جو تیری مخلوق میں سے ہیں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِمْ لِیَوْمِ فَزَعِی إلَیْکَ عاجِلاً وآجِلاً، وَقَدْ فَزِعْتُ إلَیْکَ وَ إلَیْهِمْ
ان کی عترتعليهالسلام خدا رحمت کرے ان پر جس دن تیرے سامنے خوفزدہ ہوں گا دنیا و آخرت میں پس میں فریاد کرتا ہوں تیرے اور ان
یَا مَوْلایَ فِی هذَا الْیَوْمِ وَفِی مَوْقِفِی هذَا وَسَأَلْتُکَ مَا زَکَیٰ مِنْ نِعْمَتِکَ وَ إزاحَةَ
کے آگے اے میرے آقا آج کے دن اور اسی جگہ جہاں کھڑا ہوں تجھ سے سوال کرتا ہوں مجھے اپنی نعمت میں سے حصہ دے اور تیری
مَا أَخْشاهُ مِنْ نِقْمَتِکَ، وَالْبَرَکَةَ فِیما رَزَقْتَنِیهِ، وَتَحْصِینَ صَدْرِی مِنْ کُلِّ هَمٍّ
جس سزا سے ڈرتا ہوں وہ مجھ سے دور کردے جو روزی مجھے دی اس میں برکت دے اور میرے دل کو ہر اندیشے سے محفوظ رکھ اور ہر
وَجائِحَةٍ وَمَعْصِیَةٍ فِی دِینِی وَدُنْیایَ وَآخِرَتِی، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ناگواری اور نا فرمانی سے جو میرے دین میری دنیا اور آخرت میں ہو اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
روایت کی گئی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے بیت الطشت کے مقام پر دو رکعت نماز پڑھی تھی۔
وسط مسجد کے اعمال
مسجد کے وسط میں دو رکعت نماز بجا لائے کہ اس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ اخلاص اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ کافرون کی تلاوت کرے، نماز کا سلام کہنے کے بعد تسبیح فاطمہ زہرائعليهالسلام اور پھر یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ أَ نْتَ اَلسَّلَامُ، وَمِنْکَ اَلسَّلَامُ، وَ إلَیْکَ یَعُودُ اَلسَّلَامُ، وَدارُکَ دارُ السَّلامِ
اے معبود تو سلامتی والا ہے اور سلامتی تجھ سے ملتی ہے اور سلامتی تیری طرف پلٹتی ہے تیری بارگاہ سلامتی کا مرکز ہے
حَیِّنا رَبَّنا مِنْکَ بِالسَّلامِ اَللّٰهُمَّ إنِّی صَلَّیْتُ هذِهِ الصَّلاةَ ابْتِغائَ رَحْمَتِکَ وَرِضْوانِکَ
ہمارے پروردگار ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ اے معبود بے شک میں نے نماز ادا کی یہ کہ میں تیری رحمت کا حصول چاہتا ہوں تیری
وَمَغْفِرَتِکَ وَتَعْظِیماً لِمَسْجِدِکَ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْفَعْها فِی
خوشنودی اور تجھ سے معافی طلب کرتا ہوں نیز تیری مسجد کی تعظیم کیلئے یہ نماز پڑھی ہے اے معبود تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما ان کو مقام
عِلِّیِّینَ وَتَقَبَّلْها مِنِّی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
علیین پر بلند کر اور میری نماز قبول فرما اے سب سے زیادہ رحم والے۔
مؤلف کہتے ہیں اس مقام کو دکۃ المعراج بھی کہا جاتا ہے اسکی وجہ شاید یہ ہو کہ شب معراج حضرت رسول ﷲ ﷲ تعالیٰ سے اجازت لیکریہیں اترے ہوں اور نماز بجالائے ہوں، اس ضمن میں پہلی فصل میں ایک روایت ذکر ہو چکی ہے ۔
ساتویں ستون کے اعمال
یہ وہی جگہ ہے جہاں خدائے تعالیٰ نے حضرت آدم - کو توبہ کی توفیق عنائت فرمائی تھی اس مقام پر قبلہ رخ کھڑے ہو کر یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ ﷲ، وَبِالله، وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے اور رسول خدا کی ملت پر ﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں
مُحَمَّدٌ رَسُولُ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِینا آدَمَ وَأُمِّنا حَوَّائَ اَلسَّلَامُ عَلَی هابِیلَ الْمَقْتُولِ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں سلام ہو ہمارے باپ آدمعليهالسلام پر اور ہماری ماں حوا پر سلام ہو ہابیل پر جو ظلم و عداوت کے
ظُلْماً وَعُدْواناً عَلَی مَواهِبِ ﷲ وَرِضْوانِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی شَیْثٍ صَفْوَةِ ﷲ الْمُخْتارِ
ساتھ قتل کئے گئے جب کہ وہ خدا کی بخششوں اور رضاؤں والے تھے سلام ہو شیثعليهالسلام پر جو خدا کے چنے ہوئے اور پسندیدہ امین
الْاََمِینِ وَعَلَی الصَّفْوَةِ الصَّادِقِینَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِ الطَّیِّبِینَ أَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ
تھے اور سلام ہو صاحبان صدق اور برگزیدہ افراد پر جو ان کی پاکیزہ ذریت میں سے ہیں سلام ہو خواہ وہ پہلے ہوں یا آخری ہوں
اَلسَّلَامُ عَلَی إبْراهِیمَ وَ إسْماعِیلَ وَ إسْحاقَ وَیَعْقُوبَ وَعَلَی ذُرِّیَّتِهِمُ الْمُخْتارِینَ
سلام ہو ابراہیمعليهالسلام و اسماعیلعليهالسلام پر اور اسحاقعليهالسلام و یعقوبعليهالسلام پر اور ان کی اولاد میں جو پسندیدہ ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَی مُوسی کَلِیمِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی عِیسی رُوحِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدِ
سلام ہو موسیٰعليهالسلام پر جو خدا کے کلیم ہیں سلام ہو عیسیٰعليهالسلام پر جو خدا کی روح ہیں سلام ہو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
بْنِ عَبْدِ ﷲ خاتَِمِ النَّبِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَذُرِّیَّتِهِ الطَّیِّبِینَ وَرَحْمَةُ
بن عبدﷲ پر جوخاتم الانبیائ ہیں سلام ہو مومنوں کے امیر پر اور آپ کی پاکیزہ ذریت پر اور اللہ کی
ﷲ وَبَرَکاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ فِی الْاََوَّلِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ فِی الْاَخِرینِ، اَلسَّلَامُ
رحمت ہو اور برکات ہوں آپ پر سلام ہو پہلے والوںمیں آپ پر سلام ہو آخرین میں سلام ہو
عَلَی فاطِمَةَ الزَّهْرائِ اَلسَّلَامُ عَلَی آلاَءِمَّةِ الْهادِینَ شُهَدائِ ﷲ عَلَی خَلْقِهِ، اَلسَّلَامُ
فاطمہعليهالسلام زہرائ پر سلام ہو ہدایت دینے والے ائمہعليهالسلام پر جو خدا کی مخلوق پر اس کے گواہ ہیں سلام ہو
عَلَی الرَّقِیبِ الشَّاهِدِ عَلَی الْاَُمَمِ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اس پر جو اس خدا کی خاطر قوموں پر نگہبان اور گواہ ہے جو عالمین کا رب ہے۔
پھر اس ستون کے پاس چار رکعت نماز دو دو رکعت کرکے بجا لائے اس طرح کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ قدر اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ اخلاص پڑھے اور دوسری دو رکعت بھی اسی طرح بجالائے اسی کے بعد تسبیح حضرت فاطمہ زہرائ = کا ورد کرے اور اس کے بعد اس دعا کو پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنْ کُنْتُ قَدْ عَصَیْتُکَ فَ إنِّی قَدْ أَطَعْتُکَ فِی الْاِیمانِ مِنِّی بِکَ مَنّاً مِنْکَ عَلَیَّ لاَ
اے معبود ! اگر تیری نا فرمانی کرتا رہا ہوں تو بھی میں نے تجھ پر ایمان رکھنے میں تیری اطاعت کی ہے یہ بھی مجھ پر تیرا احسان ہے نہ
مَنّاً مِنِّی عَلَیْکَ، وَأَطَعْتُکَ فِی أَحَبِّ الْاََشْیَائِ لَکَ لَمْ أَتَّخِذْ لَکَ وَلَداً، وَلَمْ أَدْعُ لَکَ
تجھ پر میرا احسان، میں نے تیری پسندیدہ چیزوں میں تیری اطاعت کی ہے کہ تیرے لئے کوئی بیٹا قرار نہیں دیا نہ کسی کو تیرا شریک
شَرِیکاً وَقَدْ عَصَیْتُکَ فِی أَشْیائَ کَثِیرَةٍ عَلَی غَیْرِ وَجْهِ الْمُکابَرَةِ لَکَ وَلاَ الْخُرُوجِ عَنْ
ٹھہرایا ہے میں نے بہت سی چیزوں میں جو تیری نا فرمانی کی تو اس میں تیرے سامنے بڑائی نہیں کی نہ میں تیری بندگی
عُبُودِیَّتِکَ، وَلاَ الْجُحُودِ لِرُبُوبِیَّتِکَ، وَلَکِنِ اتَّبَعْتُ هَوایَ وَأَزَلَّنِی الشَّیْطانُ بَعْدَ
سے باہر نکلا اور نہ میں نے تیری ربوبیت سے انکار کیا لیکن یہ کہ میں اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور مجھے شیطان نے پھسلایا
الْحُجَّةِ عَلَیَّ وَالْبَیانِ، فَ إنْ تُعَذِّبْنِی فَبِذُ نُوبِی غَیْرَ ظالِمٍ لِی، وَ إنْ تَعْفُ عَنِّی
جبکہ مجھ پر حجت ظاہر تھی پس تو اگر مجھے عذاب کرے تو وہ ظلم نہیں میرے گناہوں کا بدلہ ہے اور اگر مجھے معاف کرے
وَتَرْحَمْنِی فَبِجُودِکَ وَکَرَمِکَ یَا کَرِیمُ اَللّٰهُمَّ إنَّ ذُ نُوبِی لَمْ یَبْقَ لَها إلاَّ رَجائُ عَفْوِکَ
اور رحم فرمائے تو وہ تیرا لطف اور کرم ہے اے مہربان اے معبود ! بے شک میرے گناہوں کا کوئی علاج نہیں سوائے تیری پردہ پوشی
وَقَدْ قَدَّمْتُ آلَةَ الْحِرْمانِ، فَأَنَا أَسْأَلُکَ اللَّهُمَّ مَا لاَ أَسْتَوْجِبُهُ، وَأَطْلُبُ
کے جبکہ میں نے محرومی کا سامان کیا ہے تو بھی تجھ سے سوال کرتا ہوں اے معبود! اس چیز کا جس کا حقدار نہیں ہوں اور خواہش کرتا
مِنْکَ مَا لاَ أَسْتَحِقُّهُ اَللّٰهُمَّ إنْ تُعَذِّبْنِی فَبِذُ نُوبِی وَلَمْ تَظْلِمْنِی شَیْئاً، وَ إنْ تَغْفِرْلِی
ہوں اس چیز کی جس کا اہل نہیں ہوں اے معبود ! اگر تو مجھے سزا دے تو وہ میرے گناہوں کا بدلہ ہے وہ ظلم نہیں ہوگا اور اگر مجھے بخش
فَخَیْرُ راحِمٍ أَنْتَ یَا سَیِّدِی اَللّٰهُمَّ أَنْتَ أَنْتَ وَأَنَا أَنَا، أَنْتَ الْعَوَّادُ بِالْمَغْفِرَةِ، وَأَنَا
دے تو بھی تو بہترین رحم کرنے والا ہے اے میرے مالک اے معبود! تو تو ہے اور میں میں ہوں تو بار بار بخشنے والا ہے اور میں بار بار
الْعَوَّادُ بِالذُّنُوبِ، وَأَنْتَ الْمُتَفَضِّلُ بِالْحِلْمِ، وَأَنَا الْعَوَّادُ بِالْجَهْلِ اَللّٰهُمَّ فَ إنِّی
گناہ کرنے والا ہوں تو حلم کے ساتھ احسان کرنے والا ہے اور میں نادانی میں خطا کرنے والا ہوں اے معبود! میں
أَسْأَلُکَ یَا کَنْزَ الضُّعَفائِ، یَا عَظِیمَ الرَّجائِ، یَا مُنْقِذَ الْغَرْقیٰ ، یَا مُنْجِیَ الْهَلْکیٰ، یَا
تیرا سوالی ہوں اے کمزوروں کے خزانہ اے بڑی امید گاہ اے ڈوبتوں کو بچانے والے اے تباہی سے نجات دینے والے اے
مُمِیتَ الْاََحْیائِ، یَا مُحْیِیَ الْمَوْتیٰ، أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، أَنْتَ الَّذِی سَجَدَ لَکَ
زندوں کو مارنے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے تو وہ ﷲ ہے کہ نہیں کوئی معبود سوائے تیرے تو وہ ذات ہے جسکو سجدہ کرتے
شُعاعُ الشَّمْسِ وَدَوِیُّ الْمائِ وَحَفِیفُ الشَّجَرِ، وَنُورُ الْقَمَرِ، وَظُلْمَةُ اللَّیْلِ، وَضَوْئُ
ہیں سورج کی کرن، پانی کی آواز،پتوں کی کھڑکھڑاہٹ، چاند کی چاندنی ،رات کی تاریکیاں ،دن کی روشنی
النَّهارِ وَخَفَقانُ الطَّیْرِ فأَسْأَلُکَ اللَّهُمَّ یَا عَظِیمُ بِحَقِّکَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الصَّادِقِینَ،
اور پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ پس سوال کرتا ہوں اے معبود، اے عظمت والے اس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی راستگو آلعليهالسلام پر
وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الصَّادِقِینَ عَلَیْکَ وَبِحَقِّکَ عَلَی عَلِیٍّ وَبِحَقِّ عَلِیٍّ عَلَیْکَ
اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی راست گو آل کے حق کے واسطے سے جو تجھ پر ہے اور تیرے حق کے واسطے سے جو علیعليهالسلام پر ہے اور علیعليهالسلام کے حق کے واسطے
وَبِحَقِّکَ عَلَی فاطِمَةَ وَبِحَقِّ فاطِمَةَ عَلَیْکَ، وَبِحَقِّکَ عَلَی الْحَسَنِ، وَبِحَقِّ الْحَسَنِ
جو تجھ پر ہے تیرے حق کے واسطے جو فاطمہعليهالسلام پر ہے اور فاطمہعليهالسلام کے حق کے واسطے جو تجھ پر ہے تیرے حق کے واسطے جو حسنعليهالسلام پر ہے اور حسن
عَلَیْکَ، وَبِحَقِّکَ عَلَی الْحُسَیْنِ، وَبِحَقِّ الْحُسَیْنِ عَلَیْکَ، فَ إنَّ حُقُوقَهُمْ عَلَیْکَ مِنْ
کے حق کے واسطے جوتجھ پر ہے تیرے حق کے واسطے جو حسینعليهالسلام پر ہے اور حسینعليهالسلام کے حق کے واسطے جو تجھ پر ہے یقینا ان کے جو حقوق تجھ
أَفْضَلِ إنْعامِکَ عَلَیْهِمْ، وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَکَ عِنْدَهُمْ، وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَهُمْ عِنْدَکَ،
پر ہیں وہ ان پر تیرے بہترین انعامات ہیں واسطہ تیری شٲن کا جو ان کے نزدیک ہے اور واسطہ انکی عزت کا جو تیرے نزدیک ہے
صَلِّ عَلَیْهِمْ یَا رَبِّ صَلاةً دائِمَةً مُنْتَهیٰ رِضاکَ، وَاغْفِرْ لِی بِهِمُ الذُّنُوبَ الَّتِی
ان پر رحمت فرما اے پروردگار ہمیشہ ہمیشہ کی رحمت اپنی پوری خوشنودی اوران کی خاطر میرے گناہ بخش دے جو میرے اور تیرے
بَیْنِی وَبَیْنَکَ، وَأَرْضِ عَنِّی خَلْقَکَ، وَأَتْمِمْ عَلَیَّ نِعْمَتَکَ کَما أَتْمَمْتَها عَلَی آبائِی مِنْ
درمیان حائل ہیں مجھ پر اپنی مخلوق کو راضی کردے مجھ پر اپنی نعمت تمام فرما جیسے تونے میرے بزرگوں پر اس سے پہلے نعمت تمام کی
قَبْلُ، وَلاَ تَجْعَلْ لاََِحَدٍ مِنَ الْمَخْلُوقِینَ عَلَیَّ فِیهَا امْتِناناً، وَامْنُنْ عَلَیَّ کَما مَنَنْتَ
اور اس بارے مجھ کو مخلوق میں سے کسی کا احسان مند نہ بنا بلکہ خود تو مجھ پر احسان فرما جیسے قبل ازیں
عَلَی آبائِی مِنْ قَبْلُ یَا کَهیعَصَ اَللّٰهُمَّ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فَاسْتَجِبْ لِی
میرے بزرگوں پر احسان کیا اے کھٰیٰعص اے معبود! جیسے تونے رحمت کی ہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اب
دُعَاءِی فِیما سَأَلتُ یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ ۔ پھر سجدہ میں جائے اور اسی حالت میں کہے: یَا
میری دعا بھی قبول کر جو کچھ مانگا ہے عطا کردے اے کریم اے کریم اے
مَنْ یَقْدِرُ عَلَی حَوائِجِ السَّائِلِینَ، وَیَعْلَمُ مَا فِی ضَمِیرِ الصَّامِتِینَ، یَا مَنْ لاَ یَحْتاجُ
وہ جو مانگنے والوں کی حاجت پر قادر ہے اور خاموش رہنے والوں کے مدعا کو جانتا ہے اے وہ جسے تفصیل کی کچھ
إلَی التَّفْسِیرِ، یَا مَنْ یَعْلَمُ خائِنَةَ الْاََعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ، یَا مَنْ أَ نْزَلَ الْعَذابَ
حاجت نہیں اے وہ جو آنکھوں کی خیانت کو اور دلوں کی باتوںکو جانتا ہے اے وہ جس نے قوم
عَلَی قَوْمِ یُونُسَ وَهُوَ یُرِیدُ أَنْ یُعَذِّبَهُمْ فَدَعَوْهُ وَتَضَرَّعُوا إلَیْهِ فَکَشَفَ عَنْهُمُ
یونسعليهالسلام کیلئے عذاب آمادہ کیا کہ وہ ان پر عذاب کی دعا کر چکے تھے پس انہوں نے اسے پکارا اور زاری کی تو اس نے ان پر سے
الْعَذابَ وَمَتَّعَهُمْ إلی حِینٍ قَدْ تَریٰ مَکانِی وَتَسْمَعُ دُعائِی وَتَعْلَمُ سِرِّی وَعَلانِیَتِی
عذاب ٹال دیا اور انہیں کچھ مدت تک زندگی دی تومجھے کھڑے دیکھ رہا ہے میری پکار سن رہا ہے میرے اندر باہر کو اور میرے حالات کو
وَحالِی صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاکْفِنِی مَا أَهَمَّنِی مِنْ أَمْرِ دِینِی وَدُنْیایَ وَآخِرَتِی
جانتا ہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میری مدد کر ان مشکلوں میں جو مجھے دین و دنیا اورآخرت میں در پیش ہیں
پھر ستر مرتبہ کہے:یَا سَیِّدِی اسکے بعد سجدے سے سر اٹھائے اور کہے: یَا رَبِّ ٲَسْٲَلُکَ بَرَکَۃَ ھذَا
اے میرے مولا اے پرودگار تجھ سے مانگتا ہوں اس جگہ
الْمَوْضِعِ وَبَرَکَةَ أَهْلِهِ، وأَسْأَلُکَ اَنْ تَرْزُقَنِی مِنْ رِزْقِکَ رِزْقاً حَلالاً طَیِّباً
کی برکت اور یہاں کے رہنے والوں کی برکت اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپنے ہاں سے حلال و پاک روزی عطا فرما اپنی
تَسُوقُهُ إلَیَّ بِحَوْ لِکَ وَقُوَّتِکَ وَأَنَا خَائِضٌ فِی عافِیَةٍ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
قدرت سے اس کو میری طرف راہ دے تاکہ میں عافیت میں رہوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
مولف کہتے ہیں : صاحب مزار قدیم فرماتے ہیں کہ اس موقع پریَا کَرِیْمُ یَا کَرِیْمُ یَا کَرِیْمُ
اے کریم اے کریم اے کریم
کہنے کے بعد اور سجدے میں جانے سے پہلے یہ دعا پڑھے:اَللَّهُمَّ یَا مَنْ تُحَلُّ بِهٰ عُقَدُ الْمَکَارِهٰ
اے معبود! اے وہ جس سے مکروہات کی گرہیں کھل جاتی ہیں۔
یہ صحیفہ سجادیہ کی دعائوں میں سے ایک ہے جو باب اول میں ذکر ہو چکی ہے، صاحب مزار قدیم فرماتے ہیں کہ اس دعا کے بعد کہے:
اَللَّهُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ وَ لاَ اَعْلَمُ وَتَقْدِرُ وَلاَ اَقْدِرُ وَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ صَلِّ
اے معبود ! بے شک تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا تو قدرت رکھتا ہے اور میں نہیں رکھتا اور تو تمام چھپی باتوں کا جانتا ہے رحمت فرما
اَللّٰهُمَّ عَلَیٰ مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَتَجَاوَزْ عَنِّیْ وَتَصَدَّقْ عَلَیٰ مَآ اَنْتَ
اے معبود ! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر مجھے معافی عطا فرما اور مجھے اتنا دے جو
اَهْلُهُ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ اسکے بعد سجدے میں جائے اور کہے:یَا مَنْ یَّقْدِرُعَلَیٰ حَوَائِجِ السَّآئِلِیْنَ ۔
تیرے شایان شان ہو اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ اے وہ جو مانگنے والوں کی حاجت پر قادر ہے۔
جو اوپر نقل ہو چکی ہے ۔
جاننا چاہئے کہ اس مقام کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں ، شیخ کلینیرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ امیر المومنین- اسی ستون کے قریب نماز پڑھتے تھے جبکہ اس ستون اور آپ کے درمیان اتنا کم فاصلہ ہوتا کہ جس میں سے بمشکل بکری گذر سکتی تھی دوسری معتبر روایتوں میں آیا ہے کہ ہر رات ساٹھ ہزار فرشتے آسمان سے آتے ہیں اور ساتویں ستون کے نزدیک نماز ادا کرتے ہیں اور اس سے اگلی رات اتنی ہی تعداد میں اور فرشتے آتے ہیں اس طرح جو فرشتے یہاں ایک بار آچکے ہوں وہ قیامت تک دوبارہ اس جگہ نہیں آئیں گے ۔ ایک معتبر روایت میں امام جعفر صادق - سے نقل ہوا ہے کہ ساتواں ستون حضرت ابراہیم - کا مقام ہے ۔ نیز شیخ کلینیرحمهالله نے کافی میں صحیح سند کے ساتھ ابی اسماعیل سراج سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا میرا ہاتھ معاویہ بن وہب نے پکڑا، اس نے کہا میرا ہاتھ ابو حمزہ ثمالی نے پکڑا اور اس نے کہا میرا ہاتھ اصبغ بن نباتہ نے پکڑا اور مجھے ساتواں ستون دکھلایا اور کہا کہ یہ ستون حضرت امیر المومنین- کا مقام ہے کہ اسکے قریب آپ نماز پڑھا کرتے تھے ۔ نیز حضرت امام حسن- پانچویں ستون کے نزدیک نماز پڑھتے تھے جب حضرت امیر المومنین- موجود نہ ہوتے تھے اس وقت حضرت امام حسن- وہاں نماز پڑھا کرتے تھے ۔ اس جگہ کا نام باب کندہ ہے ، مختصر یہ کہ اس کی فضیلت میں بہت سی روایات ہیں اور ہم نے ان میں سے چند ایک کے ذکر پر ہی اکتفا کیا ہے۔
پانچویں ستون کے اعمال
پانچواں ستون مسجد کوفہ کے ممتاز مقاموں میں سے ہے ۔ لہذا وہاں نماز و دعا پڑھنا اور حق تعالیٰ سے اپنی حاجات طلب کرنا چاہیے۔ کیونکہ معتبر روایتوں میں مذکور ہے کہ یہ حضرت ابراہیم - کا مقام نماز ہے۔ تاہم دیگرر وایات کے ہوتے ہوئے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کیونکہ ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم - نے ان سبھی مقامات پر نماز پڑھی ہو۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ پانچواں ستون حضرت جبرئیل - کا مقام نماز ہے۔ جب کہ سابقہ روایت بتاتی ہے کہ یہ امام حسن - کا مقام ہے‘ مختصر یہ کہ ان روایتوں سے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ساتویں اور پانچویں ستون کی جگہ اس مسجد کے دوسرے مقامات سے افضل و اعلیٰ ہے۔ سید بن طاؤس نے فرمایا ہے کہ پانچویں ستون کے قریب دو رکعت نماز حمد کے بعدجس سورہ کے ساتھ چاہے پڑھے اور نماز کا سلام پھیرنے کے بعد جب تسبیح فاطمہ زہراعليهالسلام ئ سے فارغ ہو تو یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِجَمِیعِ أَسْمائِکَ کُلِّها مَا عَلِمْنا مِنْها وَمَا لاَ نَعْلَمُ، وأَسْئَلُکَ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے تمام ناموں کے واسطے سے جن کا ہمیں علم ہے اور جن کا ہمیں علم نہیں ہے اور سوال کرتا
بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ الْاََعْظَمِ الْکَبِیرِ الْاََکْبَرِ الَّذِی مَنْ دَعاکَ بِهِ أَجَبْتَهُ
ہوں تجھ سے تیرے اس نام کے واسطے سے جوعظیم اور سب سے بڑا ہے کہ جو تجھے اس کے ذریعے پکارے اس کی دعا قبول کرتا ہے
وَمَنْ سَأَلَکَ بِهِ أَعْطَیْتَهُ، وَمَنِ اسْتَنْصَرَکَ بِهِ نَصَرْتَهُ، وَمَنِ اسْتَغْفَرَکَ
جو اسکے ذریعے تجھ سے سوال کرے اسے عطا کرتا ہے جو اسکے ذریعے مدد مانگے تو اسکی مدد کرتا ہے جو اسکے ذریعے تجھ سے بخشش
بِهِ غَفَرْتَ لَهُ وَمَنِ اسْتَعانَکَ بِهِ أَعَنْتَهُ، وَمَنِ اسْتَرْزَقَکَ بِهِ رَزَقْتَهُ
چاہے اسے بخش دیتا ہے جو اس کے ذریعے تجھ سے مدد چاہے اسکی مدد کرتا ہے جو اس کے ذریعے رزق مانگے اسے رزق دیتا ہے
وَمَنِ اسْتَغاثَکَ بِهِ أَغَثْتَهُ، وَمَنِ اسْتَرْحَمَکَ بِهِ رَحِمْتَهُ، وَمَنِ اسْتَجارَکَ
جو اس کے ذریعے فریاد کرے اس کی فریاد سنتا ہے جو اس کے ذریعے رحمت طلب کرے اس پر رحمت کرتا ہے جو اس کے ذریعے پناہ
بِهِ أَجَرْتَهُ وَمَنْ تَوَکَّلَ عَلَیْکَ بِهِ کَفَیْتَهُ وَمَنِ اسْتَعْصَمَکَ بِهِ عَصَمْتَهُ
چاہے اسے پناہ دیتا ہے جو اس کے ذریعے تجھ پر بھروسہ کرے اس کی مدد فرماتا ہے جو اس کے ذریعے نگہداری چاہے اس کی نگہداری
وَمَنِ اسْتَنْقَذَکَ بِهِ مِنَ النَّارِ أَنْقَذْتَهُ، وَمَنِ اسْتَعْطَفَکَ بِهِ تَعَطَّفْتَ لَهُ
کرتا ہے جو اس کے ذریعے جہنم سے نجات چاہے اسے نجات عطا فرماتا ہے جو اس کے ذریعے تیری توجہ کا طالب ہو اس پر توجہ کرتا
وَمَنْ أَمَّلَکَ بِهِ أَعْطَیْتَهُ، الَّذِی اتَّخَذْتَ بِهِ آدَمَ صَفِیّاً، وَنُوحاً نَجِیّاً
ہے اور جو اس کے ذریعے تجھ سے امید باندھے اس کی امید بر لاتا ہے وہی نام جس کے ذریعے تو نے آدم کو برگزیدہ کیا نوحعليهالسلام کو ہمراز
وَ إبْراهِیمَ خَلِیلاً، وَمُوسی کَلِیماً، وَعِیسی رُوحاً، وَمُحَمَّداً حَبِیباً، وَعَلِیّاً وَصِیّاً
بنایا ابراہیم کو خلیل بنایا موسیٰعليهالسلام کو کلیم بنایا عیسیٰعليهالسلام کو اپنی روح بنایا محمد مصطفےصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنا حبیب قرار دیا اور علی کو وصی بنایا
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ أَنْ تَقْضِیَ لِی حَوائِجِی وَتَعْفُوَ عَمَّا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِی
خدا رحمت نازل کرے ان سب پر کہ تو میری حاجات بھی پوری کرے میرے تمام سابقہ گناہوں کو معاف فرمائے
وَتَتَفَضَّلَ عَلَیَّ بِما أَ نْتَ أَهْلُهُ وَ لِجَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ لِلدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، یَا
اور مجھ پر ایسی بخشش کرے جو تیری شان کے لائق ہو تو تمام مومنین و مومنات پر بھی دنیا و آخرت میں فضل و کرم کرے اے
مُفَرِّجَ هَمِّ الْمَهْمُومِینَ، وَیَا غِیاثَ الْمَلْهُوفِینَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ
گرفتاروں کی مشکلیںحل کرنے والے اور اے شکستہ دلوں کی داد رسی کرنے والے تیرے سوائ کوئی معبود نہیں تو پاک تر ہے
یَا رَبَّ الْعالَمِینَ ۔
اے جہانوںکے پروردگار۔
مولف کہتے ہیں امام جعفر صادق - سے روایت کی گی ہے کہ آپ نے اپنے بعض اصحاب سے فرمایا کہ پانچویں ستون کے نزدیک دو رکعت نماز پڑھو کہ یہ حضرت ابراہیم - کا مقامِ نماز ہے اور نماز کے بعد یہ دعا پڑھو:
اَلسَّلُامُ عَلیٰ اَبِیْنَا آدَمَ وَاُمَّنَا حَوَّائَ الخ
سلام ہو ہمارے باپ آدمعليهالسلام پر اور ہماری ماں حواعليهالسلام پر .آخر تک
یہ تقریباً وہی دعا ہے جو ساتویں ستون کے قریب پڑھی جاتی ہے(یہ دعا قبلہ رخ ہو کر پڑھے)
تیسرے ستون کے اعمال
یہ مقام حضرت امام زین العابدین- ہے پانچویں ستون سے فارغ ہوکر مقام امام زین العابدین- کی طرف جائے جو باب کندہ سے متصل تیسرے ستون کے نزدیک ہے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ مقام قبلہ رخ کی طرف سے دکہ باب امیر المؤمنین- کے مقابل اور مغرب کی طرف سے باب کندہ کے مقابل ہے جواب بند کردیا گیا ہے یہ بھی کہا گیاہے کہ بہتر یہ ہے کہ اس ستون سے پانچ ذراع دور ہٹ کر نماز ادا کرے کیونکہ اصل دکہ اتنے ہی فاصلہ پر واقع تھا۔ بہر حال اس مقام پر دو رکعت نماز حمد کے بعد جس سورہ سے چاہے بجالائے‘ سلام کے بعد تسبیح ٰفاطمہ زہرا = پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ اَللّٰهُمَّ إنَّ ذُ نُوبِی قَدْ کَثُرَتْ وَلَمْ یَبْقَ لَها إلاَّ رَجائُ
خدا کے نام سے جو بڑا مہربان رحم والا ہے اے معبود! بے شک میرے گناہ بہت بڑھ چکے ہیں اور تیری طرف سے بخشش کی امید
عَفْوِکَ وَقَدْ قَدَّمْتُ آلَةَ الْحِرْمانِ إلَیْکَ، فَأَنَا أَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ مَا لاَ أَسْتَوْجِبُهُ،
کے سوا کوئی چارہ نہیں میں نے تیرے ہاں محروم رہنے کا سامان کیا پس میں سوال کرتا ہوں اس کااے معبود کہ جس کا میں اہل نہیں
وَأَطْلُبُ مِنْکَ مَا لاَ أَسْتَحِقُّهُ اَللّٰهُمَّ إنْ تُعَذِّبْنِی فَبِذُنُوبِی وَلَمْ تَظْلِمْنِی
ہوں اور مانگتاہوں تجھ سے وہ چیز جس کا حقدار نہیںہوں اے معبود! اگر تو مجھے عذاب دے تو یہ میرے گناہوں کا بدلہ ہے اور یہ مجھ
شَیْئاً، وَ إنْ تَغْفِرْ لِی فَخَیْرُ راحِمٍ أَنْتَ یَا سَیِّدِی اَللّٰهُمَّ أَنْتَ أَنْتَ وَأَنَا أَنَا، أَنْتَ
پر کوئی ظلم نہ ہوگا اور اگر تو مجھے بخش دے تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اے میرے مالک اے معبود تو تو ہے اور میں میں ہوں تو
الْعَوَّادُ بِالْمَغْفِرَةِ وَأَنَا الْعَوَّادُ بِالذُّنُوبِ وَأَنْتَ الْمُتَفَضِّلُ بِالْحِلْمِ وَأَنَا الْعَوَّادُ بِالْجَهْلِ
بار بار بخش دینے والا ہے اور میں باربار گناہ کرنے والا ہوں توحلم کے ساتھ فضل کرنے والا اور میں نادانی سے گناہ کرنے والاہوں
اَللّٰهُمَّ فَ إنِّی أَسْأَلُکَ یَا کَنْزَ الضُّعَفَائِ، یَا عَظِیمَ الرَّجَائِ، یَا مُنْقِذَ الْغَرْقَیٰ، یَا مُنْجِیٰ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اے کمزوروں کے خزانہ اے بہت امید دلانے والے اے ڈوبتوں کو بچانے والے اے تباہی
الْهَلْکیٰ، یَا مُمِیتَ الْاََحْیَائِ، یَا مُحْیِیَ الْمَوْتیٰ، أَنْتَ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، أَنْتَ
سے نجات دینے والے اے زندوں کو مارنے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے تو وہ اللہ ہے کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں تو ہی
الَّذِی سَجَدَ لَکَ شُعاعُ الشَّمْسِ وَنُورُ الْقَمَرِ وَظُلْمَةُ اللَّیْلِ وَضَوْئُ النَّهارِ وَخَفَقانُ
ہے جس کو سجدہ کرتی ہے سورج کی کرن ،چاند کی چاندنی ،رات کی تاریکی ،دن کی روشنی اور پرندوں کی
الطَّیْرِ فأَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ یَا عَظِیمُ بِحَقِّکَ یَا کَرِیمُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الصَّادِقِینَ
پھڑپھڑاہٹ پس سوال کرتا ہوں اے معبود! اے بزرگ تر تیرے حق کے واسطے سے اے عطا کرنے والے جو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی سچی آلعليهالسلام پر
وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الصَّادِقِینَ عَلَیْکَ، وَبِحَقِّکَ عَلَی عَلِیٍّ، وَبِحَقِّ عَلِیٍّ عَلَیْکَ
ہے اور اس حق کے واسطے جو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی سچی آل کا تجھ پر ہے نیز واسطہ تیرے اس حق کا جو علی پر ہے اور واسطہ علی کے اس حق کا جو تجھ پر ہے
وَبِحَقِّکَ عَلَی فاطِمَةَ وَبِحَقِّ فاطِمَةَ عَلَیْکَ، وَبِحَقِّکَ عَلَی الْحَسَنِ، وَبِحَقِّ الْحَسَنِ
واسطہ تیرے حق کا جو فاطمہعليهالسلام پر ہے واسطہ فاطمہعليهالسلام کے حق کا جو تجھ پر ہے واسطہ تیرے حق کا جوحسنعليهالسلام پر ہے واسطہ حسنعليهالسلام کے حق کا جو تجھ پر
عَلَیْکَ، وَبِحَقِّکَ عَلَی الْحُسَیْنِ، وَبِحَقِّ الْحُسَیْنِ عَلَیْکَ، فَ إنَّ حُقُوقَهُمْ مِنْ أَ فْضَلِ
ہے اور واسطہ تیرے حق کا جو حسینعليهالسلام پر ہے اور واسطہ حسینعليهالسلام کے حق کا جو تجھ پر ہے بے شک ان کے حقوق ان پر تیرے بہترین
إنْعامِکَ عَلَیْهِمْ، وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَکَ عِنْدَهُمْ، وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَهُمْ عِنْدَکَ، صَلِّ یَا
انعامات میں سے ہیں واسطہ تیری اس شان کا جو ان کے نزدیک ہے اور واسطہ ان کی عزت کا جو تیرے نزدیک ہے کہ اے پروردگار
رَبِّ عَلَیْهِمْ صَلاةً دا،ِمَةً مُنْتَهَیٰ رِضاکَ، وَاغْفِرْ لِی بِهِمُ الذُّنُوبَ الَّتِی بَیْنِی وَبَیْنَکَ
ان پر رحمت نازل فرماہمیشہ ہمیشہ کی رحمت اپنی پوری کی پوری خوشنودی اور انکے واسطے سے میرے وہ گناہ بخش دے جو میرے اور تیرے درمیان حائل ہیں
وَأَتْمِمْ نِعْمَتَکَ عَلَیَّ کَما أَتْمَمْتَها عَلَی آبائِی مِنْ قَبْلُ یَا کَهیعَصَ اَللّٰهُمَّ کَما صَلَّیْتَ
اور مجھ پر اپنی نعمتیں تمام فرما جنہیں تو نے اس سے پہلے میرے بزرگوں پرتمام کیا اے کہیعص اے معبود! جسطرح تو نے رحمت نازل
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ فَاسْتَجِبْ لِی دُعَاءِی فِیمَا سَأَلْتُکَ ۔پھر سجدے میں جاکر اپنا دایاں
کی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اسی طرح میری دعا قبول فرما جو میں نے تجھ سے مانگی ہے۔
رخسار زمین پر رکھے اور کہے:یَا سَیِّدِی یَا سَیِّدِی یَا سَیِّدِی صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے میرے مالک اے میرے مالک اے میرے مالک محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما
وَاغْفِرْ لِی وَاغْفِرْ لِی ،
اور مجھے بخش دے مجھے بخش دے۔
ان کلمات کو عجز وگریہ کے ساتھ باربار دہرائے اور پھر بایاں رخسار زمین پر رکھے اور یہی کلمات کہے اورجو دعا چاہے مانگے۔
مؤلف کہتے ہیں :بعض غیر معتبر کتب جو لوگوں کے درمیان معروف ہیں ان میں یہ کہا گیا ہے کہ اسی مقام پر وہ عمل بھی بجالائے جو امام صادق - نے اپنے بعض اصحاب کو تعلیم کیا تھا لیکن وہ عمل اس مقام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے لہذا اسے جہاں چاہیں بجا لائیںچنانچہ آپ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا کیا صبح تم کام پر نہیں جائو گے کہ تمہارا گزر مسجد کوفہ سے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں مجھے جانا تو ہے تب آپ نے فرمایا کہ تم مسجد کوفہ میں چار رکعت نماز بجالانا اور پھر یہ دعا پڑھنا:
إلهِی إنْ کُنْتُ قَدْ عَصَیْتُکَ فَ إنِّی قَدْ أَطَعْتُکَ فِی أَحَبِّ الْاََشْیائِ إلَیْکَ لَمْ أَتَّخِذْ لَکَ
میرے معبود! اگر میں نے تیری نافرمانی کی ہے تو میں نے تیری پسندیدہ چیزوں میں تیری اطاعت بھی کی ہے کہ میں نے تیرا کوئی
وَلَداً وَلَمْ أَدْعُ لَکَ شَرِیکاً، وَقَدْ عَصَیْتُکَ فِی أَشْیائَ کَثِیرَةٍ عَلَی غَیْرِ وَجْهِ الْمُکابَرَةِ
بیٹا نہیں بنایا نہ تیرے ساتھ کسی کو پکارا ہے میں نے بہت سی چیزوں میں جو تیری نافرمانی کی ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں نے تیرے
لَکَ وَلاَ الاسْتِکْبارِ عَنْ عِبادَتِکَ وَلاَ الْجُحُودِ لِرُبُوبِیَّتِکَ، وَلاَ الْخُرُوجِ عَنِ الْعُبُودِیَّةِ
سامنے بڑای جتائی اور نہ یہ کہ میںنے تیری عبادت سے سرکشی کی نہ تیری ربوبیت کا انکار کیا اور نہ تیری بندگی سے باہر نکلا ہوں تاہم ہوا
لَکَ وَلَکِنِ اتَّبَعْتُ هَوایَ وَأَزَلَّنِیَ الشَّیْطانُ بَعْدَ الْحُجَّةِ وَالْبَیانِ فَ إنْ تُعَذِّبْنِی فَبِذُنُوبِی
یہ کہ میں اپنی خواہش کے پیچھے چلا مجھے شیطان نے پھسلایا جب کہ مجھ پر حجت ظاہر اور حقیقت عیاں تھی پس اگر تو مجھے عذاب کرے
غَیْرَ ظالِمٍ أَ نْتَ لِی، وَ إنْ تَعْفُ عَنِّی وَتَرْحَمْنِی فَبِجُودِکَ وَکَرَمِکَ یَا کَرِیمُ پھر پڑھے:
تو وہ میرے گناہوں کا بدلہ ہے مجھ پر ظلم نہیں اگر تو مجھے معاف کردے اور مجھ پر رحم کرے تو یہ تیرا لطف وکرم ہوگا اے کریم
غَدَوْتُ بِحَوْلِ ﷲ وَقُوَّتِهِ، غَدَوْتُ بِغَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلاَ قُوَّةٍ، وَلَکِنْ بِحَوْلِ ﷲ
میں نے خدا کی طاقت اور قوت سے صبح کی میں نے اپنی طاقت وقوت کے بغیر صبح نہیں کی بلکہ اللہ کی طاقت
وَقُوَّتِهِ، یَا رَبِّ أَسْأَلُکَ بَرَکَةَ هذَا الْبَیْتِ وَبَرَکَةَ أَهْلِهِ، وَأَسْأَ لُکَ أَنْ تَرْزُقَنِی رِزْقاً
اور قوت سے اے پروردگار تجھ سے مانگتاہوں اس گھر کی برکت اور یہاں رہنے والوں کی برکت اور سوال کرتاہوں کہ تو مجھے حلال
حَلالاً طَیِّباً تَسُوقُهُ إلَیَّ بِحَوْلِکَ وَقُوَّتِکَ وَأَنَا خائِضٌ فِی عَافِیَتِکَ ۔
اور پاکیزہ رزق دے اور اسے میری طرف اپنی طاقت وقوت سے پہنچا دے تاکہ میں امن و چین سے رہوں۔
شیخ شہیدرحمهالله اور محمد بن مشہدی نے اس عمل کو صحن مسجدکے ستون چہارم کے بعد ذکر کیا ہے اور وہ چار رکعت اس طرح بجالانے کو کہا ہے کہ اس کی پہلی دو رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورہ اخلاص اور دوسری دو رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورہ قدر کی تلاوت کرے اورسلام کے بعد تسبیح حضرت فاطمہ زہرائ = پڑھے: ایک معتبر حدیث میں ابو حمزہ ثمالی سے منقول ہے کہ ایک روز میں مسجد کوفہ میں بیٹھا تھا اچانک ایک صاحب جو تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھے اور ان کے جسم سے خوشبو آرہی تھی۔ بہترین لباس میں ملبوس‘ سر پر عمامہ جسم پر زرہ اور عربی جوتے پہنے ہوئے تھے وہ باب کندہ سے مسجد میں آئے اپنے جوتے ا تارے ساتویں ستون کے قریب کھڑے ہوئے اور ہاتھوں کو کانوں تک لے جاکر تکبیر کہی۔ ان کی تکبیر کی دہشت سے میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے چار رکعت نماز ادا کی اور بڑے بہترین طریقے سے رکوع وسجود کیا۔ بعد میں یہ دعا پڑھیاِلٰهِیْ اِنْ کُنْتَ قَدْ عَصَیتُّکَ ۔۔ جب یَا کَرِیْمُ تک پہنچے تو سجدے میں گئے اسے اتنی بار پڑھا کہ سانس رکنے لگی ۔سجدے ہی میں آپ نے یہ دعا پڑھی۔یَا مَنْ یَقْدِرُ عَلیٰ حَوَائِجِ السَائِلِیْنَ اوریَاسَیِّدیْ کو ستر بار دہرایا۔ یہ دعا ساتویں ستون کے اعمال میں ذکر ہوچکی ہے جب آپ نے سر سجدے سے اٹھایا تو میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ آپ امام زین العابدین- ہیں ان کی خدمت میں حاضر ہوا دست بوسی کی اور عرض گزار ہوا کہ آپ یہاں کس کام کے لیے تشریف لائے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اسی کام کے لیے آیاہوں جس میں تم نے مجھے ابھی مشغول پایا تھا یعنی مسجد کوفہ میں نماز پڑھنے آیا ہوں۔یہ روایت اس سے پہلے زیارت ہفتم کے ذیل میں ذکر ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے بعد ابو حمزہ ثمالی آنجناب کے ہمراہ حضرت امیر المؤمنین- کی زیارت کو گئے تھے۔
باب فرج یعنی مقام نوحعليهالسلام کے اعمال
جب تیسرے ستون کے اعمال کرچکے تو دکہ امیر المؤمنین- کی طرف جائے وہ ایک چبوترا سا ہے اور اس دروازے کے قریب ہے جو مسجد سے حضرت امیرالمؤمنین- کے گھر کی طرف کھلتا تھا وہاں چار رکعت نماز حمد اور کی جس سورہ سے چاہے پڑھے: نماز کے بعد تسبیح حضرت فاطمۃ الزہرائ = پڑھے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْضِ حاجَتِی یَا ﷲ یَا مَنْ لاَ یَخِیبُ سائِلُهُ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور میری حاجت برلا اے اللہ اے وہ جس کا سوالی مایوس نہیں ہوتا
وَلاَ یَنْفَدُ نائِلُهُ یَا قاضِیَ الْحاجاتِ یَا مُجِیبَ الدَّعَواتِ یَا رَبَّ الْاََرَضِینَ وَالسَّمٰوَاتِ
اور جسکی عطا ختم نہیں ہوتی اے حاجات پوری کرنے والے اے دعائیں قبول کرنے والے اے زمینوں اور آسمانوں کے پروردگار
یَا کاشِفَ الْکُرُباتِ، یَا واسِعَ الْعَطِیَّاتِ، یَا دافِعَ النَّقِماتِ، یَا مُبَدِّلَ السَّیِّئاتِ
اے مصائب دور کرنے والے اے زیادہ سے زیادہ عطا کرنے والے اے سزائیں ہٹانے والے اے برائیوںکو نیکیوں میں بدلنے
حَسَناتٍ، عُدْ عَلَیَّ بِطَوْ لِکَ وَفَضْلِکَ وَ إحْسانِکَ، وَاسْتَجِبْ دُعائِی فِیما سَأَلْتُکَ
والے مجھ پر توجہ فرما اپنی بخشش اپنے فضل اور اپنے احسان سے میری دعا قبول کر جو میں نے تجھ سے کی ہے اور جو چیز تجھ سے مانگی ہے
وَطَلَبْتُ مِنْکَ بِحَقِّ نَبِیِّکَ وَوَصِیِّکَ وَأَوْ لِیائِکَ الصَّالِحِینَ ۔
وہ عطا کر اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اپنے وصی کے واسطے اور اپنے نیک اولیائ کے واسطے سے ۔
اس مقام کی ایک اور نماز
ایک اور نماز اسی جگہ پڑھی جاتی ہے جو دو رکعت ہے اسے جس سورہ کے ساتھ چاہے پڑھے نماز کے بعد تسبیح فاطمہعليهالسلام زہرائ پڑھے اور اسکے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی حَلَلْتُ بِساحَتِکَ لِعِلْمِی بوَحْدانِیَّتِکَ وَصَمَدانِیَّتِکَ وَأَ نَّهُ لاَ قادِرَ عَلَی
اے معبود! میں تیرے آستانے پر آیاہوںتا کہ تیری یکتائی اور تیری بے نیازی کیساتھ وابستہ ہو جائوں کیونکہ تیرے سوا کوئی میری
قَضائِ حاجَتِی غَیْرُکَ، وَقَدْ عَلِمْتُ یَا رَبِّ أَ نَّهُ کُلَّما شاهَدْتُ نِعْمَتَکَ عَلَیَّ اشْتَدَّتْ
حاجت پوری نہیں کرسکتاا ور میں جانتا ہوں اے پروردگار کہ جب بھی میں تیری نعمتوں کو دیکھتا ہوں تو تیری درگاہ میں
فاقَتِی إلَیْکَ، وَقَدْ طَرَقَنِی یَا رَبِّ مِنْ مُهِمِّ أَمْرِی مَا قَدْ عَرَفْتَهُ لاََِنَّکَ عالِمٌ غَیْرُ مُعَلَّمٍ
میری حاجت بڑھ جاتی ہے میرے سر پہ آگیا اے پروردگار ایک مشکل کام کہ جسے تو خوب جانتا ہے کیونکہ تو وہ عالم ہے جسے کسی نے
وأَسْأَلُکَ بِالاسْمِ الَّذِی وَضَعْتَهُ عَلَی السَّمٰوَاتِ فَانْشَقَّتْ، وَعَلَی الْاََرَضِینَ
نہیں پڑھایا اور سوال کرتا ہوں تجھ سے اس نام کے واسطے جسے تو نے آسمانوں پر نازل کیا تو وہ پھٹ گئے زمینوں پر نازل کیا
فَانْبَسَطَتْ وَعَلَی النُّجُومِ فَانْتَشَرَتْ، وَعَلَی الْجِبالِ فَاسْتَقَرَّتْ، وَأَسْأَ لُکَ بِالاسْمِ
تو وہ پھیل گئیں ستاروں پر نازل کیا تو وہ بکھر گئے اورپہاڑوں پر نازل کیا تو وہ اپنی جگہ جم گئے اور سوالی ہوںاس نام کے واسطے سے
الَّذِی جَعَلْتَهُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ وَعِنْدَ عَلِیٍّ وَعِنْدَ الْحَسَنِ وَعِنْدَ الْحُسَیْنِ وَعِنْدَ آلاَءِمَّةِ
جو تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خاطر بنایا اور علیعليهالسلام کی خاطر حسنعليهالسلام کی خاطر حسینعليهالسلام کی خاطر اور تمام ائمہ کی خاطر قرار دیا
کُلِّهِمْ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَقْضِیَ
خدا کی رحمت ہو ان سب پر یہ کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور یہ کہ میری حاجت
لِی یَا رَبِّ حاجَتِی وَتُیَسِّرَ عَسِیرَها وَتَکْفِیَنِی مُهِمَّها وَتَفْتَحَ لِی قُفْلَها فَ إنْ فَعَلْتَ ذلِکَ
پوری فرما اے پروردگار سختی کو آسانی میں بدل دے دشواریوں میں میری مدد فرما اور بند تا لے کھول دے اگر تو ایسا کرے
فَلَکَ الْحَمْدُ وَ إنْ لَمْ تَفْعَلْ فَلَکَ الْحَمْدُ غَیْرَ جائِرٍ فِی حُکْمِکَ وَلاَ خائِفٍ فِی عَدْلِکَ
تو تیرے لیے حمدہے اور ایسا نہ کرے تو بھی تیرے لیے حمد ہے تواپنے فیصلے میں ستم نہیں کرتا اور نہ عدل کرنے میں خائف ہے۔
پھر دایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے:اَللّٰهُمَّ إنَّ یُونُسَ بْنَ مَتّی عَبْدَکَ وَنَبِیَّکَ دَعاکَ فِی
اے معبود! بے شک یونسعليهالسلام بن متی تیرے عبد خاص اورتیرے پیغمبر تھے انہوں نے تجھے مچھلی کے
بَطْنِ الْحُوتِ فَاسْتَجَبْتَ لَهُ، وَأَ نَا أَدْعُوکَ فَاسْتَجِبْ لِی بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
پیٹ میں پکارا پس تو نے ان کی دعا قبول کی میں بھی تجھے پکار رہاہوں پس میری دعا قبول فرمامحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے واسطہ سے۔
اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے پھر اپنا بایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ إنَّکَ أَمَرْتَ بِالدُّعائِ وَتَکَفَّلْتَ بِالْاِجابَةِ، وَأَ نَا أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی
اے معبود! بے شک تو نے دعا کرنے کا حکم دیا اور دعا کی قبولیت کی ضمانت بھی دی ہے اب میں نے تجھے پکارا جیسا کہ تونے حکم فرمایا ہے
فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاسْتَجِبْ لِی کَمَا وَعَدْتَنِی یَا کَرِیمُ اس کے بعد سر سجدہ میں
لہٰذا محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میری دعا قبول فرما جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے اے کریم
رکھے اور کھے: یَا مُعِزَّ کُلِّ ذَلِیلٍوَیَا مُذِلَّ کُلِّ عَزِیزٍ، تَعْلَمُ کُرْبَتِی فَصَلِّ
اے ہر ذلیل کو عزت دینے والے اور ہر صاحب عزت کو ذلیل کرنے والے تو میری مصیبت کو جانتا ہے پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ،وَفَرِّجْ عَنِّی یَا کَرِیمُ ۔
ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور میری مصیبت دور کر اے بزرگی والے۔
مقام نوح - پر نماز حاجت
اس مقام پر نماز حاجت کے طور پر چار رکعت نماز ادا کرے اور جب تسبیح فاطمہعليهالسلام زہرائ سے فارغ ہوجائے تو یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ یَا مَنْ لاَ تَرَاهُ الْعُیُونُ وَلاَ تُحِیطُ بِهِ الظُّنُونُ وَلاَ یَصِفُهُ الْواصِفُونَ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اے وہ جسے آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں جسے خیالات پا نہیں سکتے تعریف کرنے والے تعریف نہیں
وَلاَ تُغَیِّرُهُ الْحَوادِثُ، وَلاَ تُفْنِیهِ الدُّهُورُ، تَعْلَمُ مَثاقِیلَ الْجِبالِ، وَمَکائِیلَ الْبِحارِ
کرسکتے جس پر حادثے اثر انداز نہیں ہوتے اور زمانے اس کو فنا نہیں کرسکتے تو جانتا ہے پہاڑوں کے وزن سمندروں کے اندازے
وَوَرَقَ الْاََشْجارِ، وَرَمْلَ الْقِفارِ، وَمَا أَضائَتْ بِهِ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، وَأَظْلَمَ عَلَیْهِ
درختوں کے پتوں کی تعداد اور صحرائوں کی ریت کے پیمانہ کو تو اس چیز کو بھی جانتا ہے جس پر سورج اور چاند چمکتے ہیں تو جانتا ہے جن
اللَّیْلُ، وَوَضَحَ عَلَیْهِ النَّهارُ، وَلاَ تُوارِی مِنْکَ سَمائٌ سَمائً، وَلاَ أَرْضٌ أَرْضاً، وَلاَ
چیزوں پر رات چھا جاتی ہے اور دن عیاں ہوتا ہے تجھ سے ایک آسمان دوسرے آسمان کو نہیں چھپاتا اور نہ ایک زمین دوسری زمین کو
جَبَلٌ مَا فِی أَصْلِهِ، وَلاَ بَحْرٌ مَا فِی قَعْرِهِ، أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اور نہ پہاڑ تجھ سے اسکو چھپاتا ہے جو اسکی تہہ میں ہے اور نہ سمندر جو کچھ اسکی گہرائی میں ہے سوال کرتا ہوں تجھ سے یہ کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ خَیْرَ أَمْرِی آخِرَهُ، وَخَیْرَ أَعْمالِی خَواتِیمَها، وَخَیْرَ أَیَّامِی یَوْمَ
رحمت نازل کر اور یہ کہ میرے انجام کار کو بہترین قرار دے میرے اعمال کا اختتام بہترین فرما اور خود سے میری ملاقات کے دن کو
أَلْقاکَ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ مَنْ أَرادَنِی بِسُوئٍ فَأَرِدْهُ، وَمَنْ کادَنِی فَکِدْهُ
بہترین بنا بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود! جو میرے لیے برا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے ایسا ہی کر جو مجھے دھوکہ دیتا
وَمَنْ بَغانِی بِهَلَکَةٍ فَأَهْلِکْهُ، وَاکْفِنِی مَا أَهَمَّنِی مِمَّنْ دَخَلَ هَمُّهُ
ہے اسے دھوکہ دے اور جو مجھے ہلاک کرنا چاہتا ہے اسے ہلاک کردے میری مدد کر اس میں جس سے پریشان ہوں کہ اس پریشانی
عَلَیَّ اَللّٰهُمَّ أَدْخِلْنِی فِی دِرْعِکَ الْحَصِینَةِ، وَاسْتُرْنِی بِسِتْرِکَ الْواقِی، یَا مَنْ
نے مجھے گھیرا ہے اے معبود! داخل کر مجھ کو اپنے مضبوط ترین قلعے میں اور مجھے اپنی پہچان والی ڈھال میں پناہ دے اے وہ جو ہرچیز
یَکْفِی مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلاَ یَکْفِی مِنْهُ شَیْئٌ اکْفِنِی مَا أَهَمَّنِی مِنْ أَمْرِ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ
کی مدد وکفالت کرتا ہے اور کوئی چیز تیری مدد نہیں کرتی میری مدد کر ہر مشکل میں جو دنیا اور آخرت کے بارے میں ہے اور میرے قول
وَصَدِّقْ قَوْلِی وَفِعْلِی، یَا شَفِیقُ یَا رَفِیقُ، فَرِّجْ عَنِّی الْمَضِیقَ، وَلاَ تُحَمِّلْنِی مَا
وفعل کی تصدیق فرما اے مہربان اے مددگار دور کردے میری تنگی اور مجھ پر میری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈال
لاَ أُطِیقُ اَللّٰهُمَّ احْرُسْنِی بِعَیْنِکَ الَّتِی لاَ تَنامُ، وَارْحَمْنِی بِقُدْرَتِکَ عَلَیَّ یَا أَرْحَمَ
اے مبعود! میری حفاظت کر اس آنکھ سے جو سوتی نہیں ہے اور مجھ پر رحم کر اپنی قدرت کے ساتھ اے سب سے زیادہ
الرَّاحِمِینَ، یَا عَلِیُّ یَا عَظِیمُ، أَنْتَ عالِمٌ بِحاجَتِی وَعَلَی قَضائِها قَدِیرٌ، وَهِیَ لَدَیْکَ
رحم کرنے والے اے بلند عظمت والے تو میری حاجت کو جانتا ہے اور اسے برلانے کی قدرت رکھتا ہے اور یہ امر تیرے لیے آسان
یَسِیرٌ، وَأَنَا إلَیْکَ فَقِیرٌ، فَمُنَّ بِها عَلَیَّ یَا کَرِیمُ، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ۔ پھر سجدے
ہے اور میں تیرا نیاز مند ہوں تو مجھ پر احسان کر اے بلند بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
میں جا کر پڑھے:إلهِی قَدْ عَلِمْتَ حَوائِجِی فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْضِها وَقَدْ
میرے معبود یقینا تو میری حاجتوں کو جانتا ہے پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور حاجات برلانیز تو
أَحْصَیْتَ ذُ نُوبِی فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاغْفِرْها یَا کَرِیمُ اس کے بعد اپنا دایاں رخسار زمین
میرے گناہوں کو جانتا ہے پس محمد اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور میرے گناہ بخش دے اے بخشنے والے
پر رکھے اور کہے:إنْ کُنْتُ بِئْسَ الْعَبْدُ فَأَنْتَ نِعْمَ الرَّبُّ، افْعَلْ بِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ وَلاَ
اگر میں ایک برا بندہ ہوں تو توبہت اچھا رب ہے لہذا میرے ساتھ وہ برتائو کر جوتیرے لائق ہے اور مجھ
تَفْعَلْ بِی مَا أَ نَا أَهْلُهُ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔ پھر اپنا بایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے:اَللّٰهُمَّ
سے وہ برتائو نہ کر جس کا میں سزاوار ہوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے معبود!
إنْ عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِکَ فَلْیَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِکَ یَا کَرِیمُ ، پھر اپنی پیشانی زمین پر
اگر تیرا یہ بندہ بڑے گناہ کر چکا ہے تو بہترین پردہ پوشی کرنے والا ہے اے بخشنے والے
رکھے اور کہے:ارْحَمْ مَنْ أَسائَ وَاقَتَرَفَ وَاسْتَکانَ وَاعْتَرَفَ ۔
رحم فرما اس پر جس نے گناہ اور برائی کی اور اب بے چار گی میں اس کا اقرار کر رہا ہے۔
مؤلف کہتے ہیں یہ دعاوَاغْفِرْهَا یَا کَرِیْمُ تک وہی دعا ہے جو مزار قدیم میں صحن مسجد سہلہ کے اعمال میں مقام امام زین العابدین - کے ضمن میں نقل ہوئی ہے
محراب امیر المؤمنین- کے اعمال
جس مقام پر امیر المؤمنین- کو ضربت لگی تھی وہاں دو رکعت نماز حمد جس سورہ کے ساتھ چاہے ادا کرے اس کے بعد تسبیح فاطمہعليهالسلام زہرا پڑھے اور پھر کہے:
یَا مَنْ أَظْهَرَ الْجَمِیلَ، وَسَتَرَ الْقَبِیحَ، یَا مَنْ لَمْ یُؤاخِذْ بِالْجَرِیرَةِ، وَلَمْ یَهْتِکِ السِّتْرَ
اے وہ جواچھائی کو ظاہر کرتا اور برائی کو ڈھانپتا ہے اے وہ جو جرم پر گرفت نہیں کرتا اور نہ پردہ فاش کرتا ہے
وَالسَّرِیرَةَ، یَا عَظِیمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ، یَا واسِعَ الْمَغْفِرَةِ، یَا باسِطَ
نہ چھپی باتیں عیاں کرتا ہے اے بہت معاف کرنے والے اے بہترین درگذر کرنے والے اے بہت زیادہ بخشنے والے اے رحمت
الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَةِ، یَا صاحِبَ کُلِّ نَجْویٰ، یَا مُنْتَهیٰ کُلِّ شَکْویٰ، یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ
کے لیے دونوں ہاتھ کھلے رکھنے والے اے ہر راز کے راز دار اے ہر شکایت کیلئے آخری قرار گاہ
یَا عَظِیمَ الرَّجائِ یَا سَیِّدِی صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِی مَا أَنْتَ
اے بزرگ معاف کرنے والے اے بڑی امید گاہ اے میرے آقا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میرے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے
أَهْلُهُ یَا کَرِیمُ
شایاں شان ہے اے مہربان۔
مناجات حضرت امیر المؤمنین-
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ الْاََمانَ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مالٌ وَلاَ بَنُونَ إلاَّ مَنْ أَ تَی ﷲ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ
خدایا! میں اس دن تیری پناہ چاہتا ہوں کہ جس میں مال وفرزند کام نہ آئیں گے سوائے اسکے جو خدا کے حضور پاک دل لے کے آئے
وأَسْأَلُکَ الْاََمانَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْهِ یَقُولُ یَا لَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ
میں اس روز پناہ چاہتا ہوں جب ظالم اپنے ہاتھوں کو چباتے ہوئے کہے گا ہاے افسوس کہ میں نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا راستہ اختیار کیا ہوتا‘ میں
سَبِیلاً وأَسْأَلُکَ الْاََمانَ یَوْمَ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِیماهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّواصِی وَالْاََقْدامِ
اس روز تیری پناہ چاہتا ہوں جب گناہگار اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے اور ان کو بالوں اور پیروں کی طرف سے پکڑا جائے گا
وَأَسْأَ لُکَ الْاََمانَ یَوْمَ لاَ یَجْزِی والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلاَ مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَیْئاً
میں اس روز تیری پناہ چاہتا ہوں جس میں باپ بیٹے کے جرم کی اور بیٹا باپ کے جرم کی سزا نہ پائے گا
إنَّ وَعْدَ ﷲ حَقٌّ، وأَسْأَلُکَ الْاََمانَ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ الظَّالِمِینَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ
بے شک خدا کا وعدہ حق ہے میں اس روز تیری پناہ چاہتاہوں جس میں ظالموں کا عذر ان کے کام نہ آئے گا اور ان کے لیے لعنت
وَلَهُمْ سُوئُ الدَّارِ وأَسْأَلُکَ الْاََمانَ یَوْمَ لاَ تَمْلِکُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَیْئاً وَالْاََمْرُ یَوْمَیِذٍ ﷲِ
اور برا ٹھکانا ہوگا میں اس روز تیری پناہ چاہتا ہوں جب کوئی کسی کے کام نہ آئے گا اور اس دن سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہوگا
وأَسْأَلُکَ الْاََمانَ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ أَخِیهِ وَأُمِّهِ وَأَبِیهِ وَصاحِبَتِهِ وَبَنِیهِ لِکُلِّ امْرِیًَ
میں اس روز تیری پناہ چاہتا ہوں جب انسان اپنے بھائی اپنی ماں اپنے باپ اپنی بیوی اور بیٹے سے دور بھاگے گا کیونکہ
مِنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَأْنٌ یُغْنِیهِ، وَأَسْأَ لُکَ الْاََمانَ یَوْمَ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِی مِنْ عَذابِ
اس دن ہر آدمی کو اپنی ہی فکر ہوگی میں اس روز تیری پناہ چاہتا ہوں جس میں مجرم چاہے گا کہ آج کے عذاب سے بچنے کیلئے وہ آگے کردے
یَوْمَئِذٍ بِبَنِیهِ وَصاحِبَتِهِ وَأَخِیهِ وَفَصِیلَتِهِ الَّتِی تُؤْوِیهِ وَمَنْ فِی الْاََرْضِ جَمِیعاً ثُمَّ
اپنے بیٹے کو اپنی بیوی کو اپنے بھائی کو اور اپنے عزیزوں کو جو اس کی پناہ بنیں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ دے ڈالے اور
یُنْجِیهِ کَلاَّ إنَّها لَظیٰ نَزَّاعَةً لِلشَّویٰ مَوْلایَ یَامَوْلایَ أَنْتَ الْمَوْلی وَأَنَا الْعَبْدُ وَهَلْ
نجات حاصل کرے لیکن یہ نہ ہوگا وہ شعلہ ہے سیخ سے کباب کو گرادینے والا میرے مولیٰ تو مولیٰ ہے اور میں بندہ ہوں بندے پر مولیٰ
یَرْحَمُ الْعَبْدَ إلاَّ الْمَوْلی، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْمالِکُ وَأَنَا الْمَمْلُوکُ وَهَلْ یَرْحَمُ
کے علاوہ کون رحم کرے گا میرے آقا تو میرا مالک ہے اور میں تیرا غلام ہوں غلام پر سوائے اس کے مالک کے کون رحم کرے گا
الْمَمْلُوکَ إلاَّ الْمالِکُ مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْعَزِیزُ وَأَنَا الذَّلِیلُ وَهَلْ یَرْحَمُ الذَّلِیلَ
میرے سردار اے میرے سردار تو صاحب عزت ہے اور میں پست ہوں پست پر صاحب عزت کے علاوہ کون
إلاَّ الْعَزِیزُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْخالِقُ وَأَنَا الْمَخْلُوقُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَخْلُوقَ
رحم کرے گا میرے حاکم اے میرے حاکم تو میرا خالق ہے اور میں تیری مخلوق ہوں مخلوق پر اس کے خالق کے سوا
إلاَّ الْخالِقُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْعَظِیمُ وَأَنَا الْحَقِیرُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْحَقِیرَ إلاَّ
کون رحم کرے گا میرے مالک اے میرے مالک تو عظمت والا ہے اور میں ناچیز ہوں ایک ناچیر پر سوائے عظمت والے کے
الْعَظِیمُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْقَوِیُّ وَأَنَا الضَّعِیفُ وَهَلْ یَرْحَمُ الضَّعِیفَ إلاَّ
کون رحم کرے گا میرے مددگار اے میرے مددگار توصاحب قوت ہے اور میں ناتواں ہوں ایک ناتواںپر سوائے صاحب قوت
الْقَوِیُّ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَ نْتَ الْغَنِیُّ وَأَ نَا الْفَقِیرُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْفَقِیرَ إلاَّ
کے کون رحم کرے گا میرے سرپرست اے میرے سرپرست تو بے نیاز ہے اور میں نیاز مند ہوں ایک نیاز مند پر سوائے بے نیاز کے
الْغَنِیُّ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْمُعْطِی وَأَنَا السَّائِلُ وَهَلْ یَرْحَمُ السَّائِلَ إلاَّ
کون رحم کرے گا میرے آقا اے میرے آقا تو عطا کرنے والا ہے اور میں سوالی ہوںایک سوالی پر سوائے عطا وبخشش
الْمُعْطِی، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْحَیُّ وَأَنَا الْمَیِّتُ وَهَلْ یَرْحَمُ
والے کے کون رحم کرے گا میرے سردار اے میرے سردار تو زندہ رہنے والا ہے اور میں مرجانے والاہوں ایک مرجانے والے پر
الْمَیِّتَ إلاَّ الْحَیُّ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَ نْتَ الْباقِی وَأَ نَا الْفانِی وَهَلْ یَرْحَمُ الْفانِیَ
سوائے زندہ رہنے والے کے کون رحم کرے گا میرے آقا تو باقی رہنے والا اور میں فنا ہونے والا ہوں فنا ہونے والے پر سوائے باقی
إلاَّ الْباقِی مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الدَّائِمُ وَأَنَا الزَّائِلُ وَهَلْ
رہنے والے کے کون رحم کرے گا میرے مالک اے میرے مالک تو ہمشہ رہنے والا ہے اور میں مٹ جانے والا ہوں مٹ جانے
یَرْحَمُ الزَّائِلَ إلاَّ الدَّائِمُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الرَّازِقُ وَأَنَا الْمَرْزُوقُ
والے پر سوائے ہمشیہ رہنے والے کے کون رحم کرے گا میرے مالک اے میرے مالک تو رزق دینے والا اور میں رزق لینے والا
وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَرْزُوقَ إلاَّ الرَّازِقُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَ نْتَ الْجَوادُ
ہوں رزق لینے والے پر سوائے رزق دینے والے کے سوا کون رحم کرے گا میرے حاکم اے میرے حاکم تو سخاوت کرنے والا ہے
وَأَنَا الْبَخِیلُ وَهَلْ یَرْحَمُ الْبَخِیلَ إلاَّ الْجَوادُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَ نْتَ الْمُعافِی وَأَنَا
اور میں بخیل ہوںبخیل پر سخاوت کرنے والے کے سوا کون رحم کرے گا میرے سردار اے میرے سردار تو بچانے والا ہے اور میں
الْمُبْتَلیٰ وَهَلْ یَرْحَمُ الْمُبْتَلیٰ إلاَّ الْمُعافِی، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْکَبِیرُ وَأَنَا
گرفتار بلاہوں ایک گرفتار بلا پر سوائے بچانے والے کے کون رحم کرے گا میرے مولیٰ اے میرے مولیٰ تو بزرگی کا مالک ہے اور میں
الصَّغِیرُ وَهَلْ یَرْحَمُ الصَّغِیرَ إلاَّ الْکَبِیرُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْهادِی وَأَنَا
کمترین ہوں ایک کمترین پر سوائے بزرگی کے مالک کے کون رحم کرے گا میرے مددگار اے میرے مددگار تو راہنما ہے اور میں گمراہ
الضَّالُّ وَهَلْ یَرْحَمُ الضَّالَّ إلاَّ الْهادِی مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الرَّحْمٰنُ وَأَنَا الْمَرْحُومُ
ہوں ایک گمراہ پر سوائے راہنما کے کون رحم کریگامیرے سرپرست اے میرے سرپرست تو بہت رحم کرنے والا ہے اور میں قابل رحم ہوں
وَهَلْ یَرْحَمُ الْمَرْحُومَ إلاَّ الرَّحْمٰنُ مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ السُّلْطانُ وَأَنَا الْمُمْتَحَنُ
ایک قابل رحم پرسوائے بہت رحم کرنے والے کے کون رحم کریگا میرے مولااے میرے مولا تو بادشاہ ہے اور میں مصیبت زدہ ہوں
وَهَلْ یَرْحَمُ الْمُمْتَحَنَ إلاَّ السُّلْطانُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الدَّلِیلُ وَأَنَا الْمُتَحَیِّرُ
ایک مصیبت زدہ پر سوائے بادشاہ کے کون رحم کرے گا میرے آقااے میرے آقا تو راہنما ہے اور میں سرگرداں ہوں
وَهَلْ یَرْحَمُ الْمُتَحَیِّرَ إلاَّ الدَّلِیلُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْغَفُورُ وَأَنَا الْمُذْنِبُ وَهَلْ
ایک سرگرداں پر سوائے راہنما کے کون رحم کریگا میرے سردار اے میرے سردارتو بہت بخشنے والا ہے اور میں گناہگار ہوں ایک گناہگار
یَرْحَمُ الْمُذْنِبَ إلاَّ الْغَفُورُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْغالِبُ وَأَنَا الْمَغْلُوبُ وَهَلْ
پر سوائے بخشنے والے کے کون رحم کریگا میرے مالک اے میرے مالک تو بالادست ہے اور میں زیردست ہوں ایک زیر دست پر
یَرْحَمُ الْمَغْلُوبَ إلاَّ الْغالِبُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الرَّبُّ وَأَنَا الْمَرْبُوبُ وَهَلْ
سوائے بالادست کے کون رحم کریگامیرے حاکم اے میرے حاکم تو پروردگارہے اور میں پروردہ ہوں اک پروردہ پر سوائے پروردگار
یَرْحَمُ الْمَرْبُوبَ إلاَّ الرَّبُّ مَوْلایَ یَا مَوْلایَ أَنْتَ الْمُتَکَبِّرُ وَأَنَا الْخاشِعُ
کے کون رحم کرے گا میرے والی اے میرے والی توصاحب کبریائی ہے اور میں عاجزی کرنے والا ہوں عاجزی کرنے والے پر
وَهَلْ یَرْحَمُ الْخاشِعَ إلاَّ الْمُتَکَبِّرُ، مَوْلایَ یَا مَوْلایَ ارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ، وَارْضَ
سوائے صاحب کبریائی کے کون رحم کرے گا میرے مولا اے میرے مولا مجھ پر رحم کر اپنی رحمت سے اور مجھ سے راضی ہو اپنی عطا اور
عَنِّی بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ وَفَضْلِکَ، یَا ذَا الْجُودِ وَالْاِحْسانِ وَالطَّوْلِ وَالامْتِنانِ
سخاوت کے ساتھ اور اپنے فضل کے اے صاحب عطا صاحب مروت صاحب سخاوت صاحب احسان اپنی رحمت
بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
کے واسطے سے اے سب سے زیادہ رحم والے۔
مؤلف کہتے ہیں: سید ابن طائو س نے اس مناجات کے بعدآنحضرتعليهالسلام سے ایک طویل دعا نقل کی ہے جو دعائے امان کے نام سے موسوم ہے ‘ جسے ہم نے طوالت کے باعث نقل نہیں کیا۔ نیز اس مقام پر وہ دعائ بھی پڑھے جسے ہم مسجد زید کے اعمال میں نقل کریں گے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ہدیۃ الزائرین میں ہم نے محراب امیر المؤمنین-، جہاں حضرت کو ضربت لگی تھی، کے بارے میں جو اختلاف ذکر کیا ہے کہ کیا آنجنابعليهالسلام کا محراب وہی ہے جو اب معروف ہے (ان دنوں جس پر ضریح نما جالی لگا کر خدام بیٹھے ہیں)یا حضرتعليهالسلام کا محراب وہ ہے جو آج کل ترک شدہ ہے(جو مسلمعليهالسلام بن عقیلعليهالسلام کے روضہ کی سمت مسجد میں واقع ہے کہ جسکی محرابی شکل اب بھی باقی رکھی گئی ہے)ان دونوں میں جو بھی ہو احتیاط کو مد نظر رکھتے ہوئے زائر کو ان دونوں جگہوں پر اعمال کرلینا چاہیں۔
دکۂ امام جعفر صادق - کے اعمال
محراب کے اعمال کے بعد مقام امام جعفر صادق - کی طرف جائے ( جوکہ حضرت مسلمعليهالسلام بن عقیلعليهالسلام کے روضہ کی دیوار سے متصل ہے) وہاںد و رکعت نماز ادا کرے اور تسبیح فاطمۃ الزہرائعليهالسلام کے بعد یہ دعا پڑھے:
یَا صانِعَ کُلِّ مَصْنُوعٍ وَیَا جابِرَ کُلِّ کَسِیرٍ وَیَا حاضِرَ کُلِّ مَلاًََ وَیَا شاهِدَ کُلِّ نَجْویٰ
اے ہر بنائی گئی چیز کے بنانے والے اے ٹوٹے ہوئے کو جوڑنے والے اے ہرگروہ میں حاضر رہنے والے اے ہر راز کو دیکھنے والے
وَیَا عالِمَ کُلِّ خَفِیَّةٍ، وَیَا شاهِداً غَیْرَ غائِبٍ، وَیَا غالِباً غَیْرَ مَغْلُوبٍ، وَیَا قَرِیباً غیْرَ
اے ہر چھپی چیز کو جاننے والے اور اے وہ حاضر جو غائب نہیں ہوتا اے وہ بالادست جو زیر دست نہیں ہوتا اے وہ قریب جو دور نہیں
بَعِیدٍ، وَیَا مُؤْنِسَ کُلِّ وَحِیدٍ، وَیَا حَیَّاً حِینَ لاَ حَیَّ غَیْرُهُ، یَا مُحْیِیَ الْمَوْتیٰ وَمُمِیتَ
ہوتا اور اے ہر تنہا کے ہمدم اے زندہ رہنے والے جب کوئی زندہ نہ ہوگا اے مردوں کو زندہ کرنے والے اورزندوں کو موت
الْاََحْیائِ الْقائِمَ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ بِما کَسَبَتْ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
دینے والے ہر نفس کو اس کے کردارکے ساتھ باقی رکھنے والے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پررحمت نازل فرما اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔
مؤلف کہتے ہیں ہم نے اس مسجد کے اعمال کی ترتیب میں اختلاف کا پہلے بھی ذکر کیا اور یہاں بھی اس کو بیان کر رہے ہیں کہ لوگوں میں مشہور ترتیب جو مزار قدیم میں بھی مذکور ہے‘ وہ یہ ہے کہ مقام امام جعفر صادق - کے اعمال بجالانے کے بعد دکۃ القضا اور بیت الطشت کے اعمال کو بجالانا چاہیے جس کو ہم نے مصباح الزائر اور بحار وغیرہ کے مطابق چوتھے ستون کے اعمال کے بعد ذکر کیا ہے لہٰذااگر زائر اس طریقے پر عمل کرنا چاہے تو مقام امام جعفر صادق - کے اعمال کے بعد دکۃ القصا وبیت الطشت کے اعمال بجالائے۔
مسجد کوفہ میں نماز حاجت
امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ جو آدمی مسجد کوفہ میں دو رکعت نماز ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ فلق‘ سورئہ ناس‘ سورۂ اخلاص‘ سورۂ کافرون‘ سورۂ نصر‘ سورئہ قدر اور سورئہ اعلی پڑھے: سلام کے بعد تسبیح فاطمۃ الزہرائ پڑھے اور پھر جو حاجت بھی رکھتا ہوطلب کرے تو حق تعالیٰ اس کی دعا قبول اور حاجت پوری کرے گا۔
مؤلف کہتے ہیںمذکورہ بالا دو رکعت نماز میں سورتوں کی جو ترتیب ہم نے لکھی ہے وہ سید کی کتاب مصباح میں درج ترتیب کے مطابق ہے لیکن شیخ طوسی نے امالی میں سورئہ قدر کو سورئہ اعلی کے بعد رکھا ہے اوریہ بھی ممکن ہے کہ ان سورتوں کی قرائت میں کوئی خاص ترتیب رکھنا ضروری نہ ہواور سورہ حمد کے بعد ان سات سورتوں کو کسی بھی ترتیب سے پڑھ لیناکافی ہو۔ وﷲ اعلم۔
زیارت حضرت مسلمعليهالسلام بن عقیلعليهالسلام
مسجد کوفہ کے اعمال سے فارغ ہوکر حضرت مسلمعليهالسلام بن عقیلعليهالسلام کے روضہ مبارک کی طرف جائے اور کھڑے ہوکر یہ دعا پڑھے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الْمَلِکِ الْحَقِّ الْمُبِینِ، الْمُتَصاغِرِ لِعَظَمَتِهِ جَبَابِرَةُ الطَّاغِینَ، الْمُعْتَرِفِ
حمد ہے اس خدا کے لیے جو بادشاہ ہے حق ہے آشکارہے اس کی عظمت کے سامنے تمام سرکش مغرور ذلیل ہیں اس کی ربوبیت کا
بِرُبُوبِیَّتِهِ جَمِیعُ أَهْلِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرَضِینَ الْمُقِرِّ بِتَوْحِیدِهِ سائِرُ الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ
آسمانوں اور زمینوں میں رہنے والے اقرارکرتے ہیں اس کی وحدانیت کا تمام مخلوق نے اقرار کیا ہے
وَصَلَّی ﷲ عَلَی سَیِّدِ الْاََنامِ وَأَهْلِ بَیْتِهِ الْکِرامِ صَلاةً تَقَرُّ بِها أَعْیُنُهُمْ وَیَرْغَمُ بِها
خدا رحمت کرے تمام مخلوق کے سردار اور ان کے بلند مرتبہ اہل بیت پر ایسی رحمت جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کے
أَنْفُ شانِئِهِمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ أَجْمَعِینَ، سَلامُ ﷲ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ وَسَلامُ
دشمن ذلیل و خوار ہوں جو جنوں اور انسانوں میں سے ہیں سلام ہو خدائے بلند بزرگ کا سلام ہو اس کے مقرب
مَلائِکَتِهِ الْمُقَرَّبِینَ، وَأَنْبِیائِهِ الْمُرْسَلِینَ، وَأَئِمَّتِهِ الْمُنْتَجَبِینَ، وَعِبادِهِ الصَّالِحِینَ،
فرشتوں کا اس کے بھیجے ہوئے نبیوں کا اس کے چنے ہوئے اماموں کا اس کے نیک بندوں کا
وَجَمِیعِ الشُّهَدائِ وَالصِّدِّیقِینَ، وَالزَّاکِیاتُ الطَّیِّباتُ فِیما تَغْتَدِی وَتَرُوحُ عَلَیْکَ یَا
اور سلام ہو سب شہیدوںاور صدیقوں کا اور پاکیزہ وخوش کن رحمتیں ہوں آپ پرہر صبح وشام اے
مُسْلِمَ بْنَ عَقِیلِ بْنِ أَبِی طالِبٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ أَشْهَدُ أَنَّکَ أَقَمْتَ الصَّلاةَ،
مسلمعليهالسلام بن عقیلعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام آپ پر خدا کی رحمت اور برکتیں ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی
وَآتَیْتَ الزَّکاةَ وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَجاهَدْتَ فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ
اور زکوۃ دیتے رہے آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برے کاموں سے روکا آپ نے خدا کیلئے جہاد کیا جو جہاد کرنے کا حق ہے
وَقُتِلْتَ عَلَی مِنْهاجِ الْمُجاهِدِینَ فِی سَبِیلِهِ حَتَّی لَقِیتَ ﷲ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَنْکَ راضٍ
آپ نے خدا کی راہ میں مجاہدوں کی روش پر جنگ کی یہاں تک کہ آپ خدائے عزوجل سے جاملے جب کہ وہ آپ سے راضی تھا
وَأَشْهَدُ أَ نَّکَ وَفَیْتَ بِعَهْدِ ﷲ وَبَذَلْتَ نَفْسَکَ فِی نُصْرَةِ حُجَّةِ ﷲ وَابْنِ حُجَّتِهِ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کا عہدپورا کیا اور آپ نے اپنی جان قربان کردی حجت خدا اور حجت خدا کے فرزند کی نصرت میں
حَتَّی أَتاکَ الْیَقِینُ أَشْهَدُ لَکَ بِالتَّسْلِیمِ وَالْوَفائِ وَالنَّصِیحَةِ لِخَلَفِ النَّبِیِّ الْمُرْسَلِ،
حتی کہ آپ شہید ہوگئے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کی فرمانبرداری اور خیر خواہی کی جو آپ نے نبی مرسلصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند سے کی جو
وَالسِّبْطِ الْمُنْتَجَبِ وَالدَّلِیلِ الْعالِمِ وَالْوَصِیِّ الْمُبَلِّغِ، وَالْمَظْلُومِ الْمُهْتَضَمِ فَجَزاکَ
باشرف نواسہ صاحب علم رہنما آگاہ کرنے والا وصی اور پامال شدہ مظلوم تھا پس خدا
ﷲ عَنْ رَسُو لِهِ، وَعَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَعَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ أَفْضَلَ الْجَزائِ
جزا دے آپ کو اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے امیر المؤمنینعليهالسلام کی طرف سے اور حسنعليهالسلام وحسینعليهالسلام کی طرف سے بہترین جزا اس لیے کہ
بِمَا صَبَرْتَ وَأَحْتَسَبْتَ وَأَعَنْتَ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ، لَعَنَ ﷲ مَنْ قَتَلَکَ،
آپ نے صبر کیا امید ثواب رکھی اور ساتھ دیا پس کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپکو قتل کیا خدا لعنت
وَلَعَنَ ﷲ مَنْ أَمَرَ بِقَتْلِکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ ظَلَمَکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنِ افْتَریٰ
کرے اس پر جس نے آپ کے قتل کا حکم دیا خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ پر ظلم کیا خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ پر
عَلَیْکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ جَهِلَ حَقَّکَ وَاسْتَخَفَّ بِحُرْمَتِکَ ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ
بہتان لگایا خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ کے حق کونہ پہچانا اورآپ کی حرمت کو کمتر سمجھا خدالعنت کرے اس پر جس نے آپ
بائَعَکَ وَغَشَّکَ وَخَذَلَکَ وَأَسْلَمَکَ وَمَنْ أَلَبَّ عَلَیْکَ وَلَمْ
کی بیعت میںآپ کو دھوکہ دیا آپ کو تنہا چھوڑا اور دشمن کے حوالے کیا اور لعنت ہو اس پرجس نے آپ کے مقابلے میں دشمن کا
یُعِنْکَ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی جَعَلَ النَّارَ مَثْواهُمْ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ أَشْهَدُ أَ نَّکَ
ساتھ دیا اور آپ کی مدد نہ کی حمد ہے خدا کی جس نے جہنم کو ان کا ٹھکانہ بنایا اور وہ کیسے برے ٹھکانے میں پہنچے میں گواہی دیتا ہوں کہ
قُتِلْتَ مَظْلُوماً، وَأَنَّ ﷲ مُنْجِزٌ لَکُمْ مَا وَعَدَکُمْ ، جِئْتُکَ زَائِراً عارِفاً
آپ مظلومیت کی حالت میں قتل ہوئے ﷲ آپ کو جزادے گا جس کا اس نے وعدہ کیا ہے میں آیاہوں آپکی زیارت کو آپ کے
بِحَقِّکُمْ، مُسَلِّماً لَکُمْ، تابِعاً لِسُنَّتِکُمْ، وَنُصْرَتِی لَکُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّی یَحْکُمَ ﷲ وَهُوَ
حق کو پہچانتا ہوں آپ کو مانتا ہوںآپ کی روش پرچلتا ہوں میری مدد ونصرت آپ کیلئے مخصوص ہے یہاں تک کہ خدا اس کا فیصلہ
خَیْرُ الْحاکِمِینَ، فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لاَ مَعَ عَدُوِّکُمْ صَلواتُ ﷲ عَلَیْکُمْ وَعَلَی
کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ہم آپ کیساتھ ہیں آپ کے دشمن کے ساتھ نہیں ہیں خدا کی رحمتیں ہوں آپ لوگوں پر
أَرْواحِکُمْ وَأَجْسادِکُمْ وَشاهِدِکُمْ وَغائِبِکُمْ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
آپ کی روحوں پر آپ کے جسموں پر آپ کے حاضر اور غائب پر سلام ہوآپ سب پر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں خدا تباہ
قَتَلَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکُمْ بِالْاََیْدِی وَالْاَلْسُنِ
وبرباد کرے اس گروہ کو جس نے آپ سے جنگ کی ہاتھوں اور زبانوں سے۔
مزارکبیر میں ان کلمات کو بطور اذن دخول بیان کیاگیا ہے اور لکھا ہے کہ اس اذن کے بعد داخل ہو جائے خود کو قبر سے لپٹائے اور سابقہ روایت کے مطابق قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِیعُ لِلّٰهِ وَ لِرَسُولِهِ وَلاََِمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ
سلام ہو آپ پر اے بندہ نیکوکار کہ آپ اطاعت گذار ہیں اللہ اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تابع ہیں امیر المؤمنینعليهالسلام کے
وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلامٌ عَلَی عِبادِهِ الَّذِینَ اصْطَفیٰ
حسنعليهالسلام وحسینعليهالسلام کے ان سب پر سلام ہو حمد ہے خدا کے لیے اور سلام ہو اس کے بندوں پر جو چنے ہوئے ہیں
مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ وَعَلَی رُوحِکَ
اور وہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام ہیں آپ پر سلام ہو خدا کی رحمت اور اس کی برکات ہوں اور اس کی طرف سے بخشش ہوسلام ہو آپ کی روح
وَبَدَنِکَ أَشْهَدُ أَ نَّکَ مَضَیْتَ عَلَی مَا مَضَیٰ عَلَیْهِ الْبَدْرِیُّونَ الْمُجَاهِدُونَ فِی
اور آپ کے بدن پر میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اس عقیدے پر دنیا سے گئے ہیں جس پر اصحاب بدر دنیا سے گزرے کہ جو خدا کی راہ
سَبِیلِ ﷲ، الْمُبالِغُونَ فِی جِهَادِ أَعْدَائِهِ وَنُصْرَةِ أَوْلِیائِهِ، فَجَزاکَ ﷲ أَفْضَلَ
میں جہاد کرنے والے اس کے دشموں سے لڑنے والے اور اس کے دوستوں کی مدد کرنے والے تھے پس خدا جزادے آپ کو
الْجَزائِ، وَأَکْثَرَ الْجَزائِ، وَأَوْفَرَ جَزائِ أَحَدٍ مِمَّنْ وَفی بِبَیْعَتِهِ، وَاسْتَجابَ لَهُ دَعْوَتَهُ،
بہترین جزا بہت زیادہ جزا اور وہ بے حساب جزا جو اسکو دی کہ جس نے اسکی بیعت کا حق ادا کیا اسکی پکار پر حاضر ہوا اور اس کے مقرر
وَأَطاعَ وُلاةَ أَمْرِهِ، أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بالَغْتَ فِی النَّصِیحَةِ، وَأَعْطَیْتَ غایَةَ الْمَجْهُودِ
کردہ حاکموں کی اطاعت کی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ان کی بہت خیر خواہی کی اور ان کے حق میں جان کی بازی لگائی
حَتَّی بَعَثَکَ ﷲ فِی الشُّهَدائِ، وَجَعَلَ رُوحَکَ مَعَ أَرْواحِ السُّعَدائِ، وَأَعْطاکَ مِنْ
حتی کہ خدا نے آپ کو شہیدوں میں شامل کردیا اور آپ کی روح کو خوش بختوں کی روحوں کے ساتھ رکھا اس نے آپ کو اپنی جنت
جِنانِهِ أَفْسَحَها مَنْزِلاً، وَأَفْضَلَها غُرَفاً، وَرَفَعَ ذِکْرَکَ فِی الْعِلِّیِّینَ، وَحَشَرَکَ مَعَ
میں کشادہ محل اور بڑا اونچا بالاخانہ عطا فرمایا مقام علیین میں آپ کو جگہ دی آپ کو نبیوں کے
النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّهَدائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولئِکَ رَفِیقاً، أَشْهَدُ أَنَّکَ لَمْ
صدیقوں، شہیدوں اور نیکو کاروں کے ساتھ محشور کیا اور یہ لوگ کتنے اچھے ہمدم ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نہ
تَهِنْ وَلَمْ تَنْکُلْ وَأَنَّکَ قَدْ مَضَیْتَ عَلَی بَصِیرَةٍ مِنْ أَمْرِکَ مُقْتَدِیاً بِالصَّالِحِینَ وَمُتَّبِعاً
سستی دکھائی نہ منہ موڑا بے شک آپ دنیاسے گذرے تو اپنے عمل کا شعور رکھتے ہوئے نیکو کاروں کی پیروی اور نبیوں کا اتباع
لِلنَّبِیِّینَ فَجَمَعَ ﷲ بَیْنَنا وَبَیْنَکَ وَبَیْنَ رَسُولِهِ وَأَوْ لِیائِهِ فِی مَنازِلِ الْمُخْبِتِینَ
کرتے ہوئے پس خدا یکجا کرے ہمیں اور آپکو اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اپنے دوستوں کیساتھ خدا سے محبت رکھنے والوں کے مقامات پر کہ
فَ إنَّهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
یقینا وہ سب سے زیادہ رحم والا ہے۔
اس کے بعد سرہانے کیطرف جاکر دو رکعت نماز بجالائے اور وہ حضرت مسلمعليهالسلام کو ہدیہ کرے اور کہے:
اَللَّهُمَّ صِلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلَا تَدَعْ لِیْ ذَنْباً.
اے معبود! رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور مجھ پر کوئی گناہ نہ رہنے دے۔
یہ وہی دعا ہے جو حرم حضرت عباسعليهالسلام میں پڑھی جاتی ہے تاہم یہاں نماز کے بعد یہی دعا پڑھے اور بعد میں حضرت مسلمعليهالسلام بن عقیلعليهالسلام کا وداع بھی اسی وداع کے ساتھ کرے جو حضرت عباسعليهالسلام کی زیارت میں آئے گا۔
زیارت حضرت ہانی بن عروہ(رض)
حضرت مسلمعليهالسلام بن عقیلعليهالسلام کی زیارت کے بعد حضرت ہانی بن عروہ(رض) کی قبر مبارک کے سامنے کھڑا ہو جائے اور ان کی یہ زیارت پڑھے:
سَلامُ ﷲ الْعَظِیمِ وَصَلَواتُهُ عَلَیْکَ یَا هانِیََ بْنَ عُرْوَةَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْعَبْدُ
سلام ہو عظمت والے خدا کا اور اس کی رحمتیں ہوں آپ پر اے ہانی بن عروہ سلام ہو آپ پر اے نیک بندے
الصَّالِحُ النَّاصِحُ لِلّٰهِ وَ لِرَسُو لِهِ وَلاََِمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ عَلَیْهِمُ
جو خدا اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیے امیر المؤمنینعليهالسلام کے لیے اور حسن وحسین کے لیے خیر خواہ تھے
اَلسَّلَامُ، أَشْهَدُ أَنَّکَ قُتِلْتَ مَظْلُوماً، فَلَعَنَ ﷲ مَنْ قَتَلَکَ، وَاسْتَحَلَّ
سلام ہو ان سب پر میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کو مظلوم قتل کیا گیا پس خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ کو قتل کیا اور آپکے خون
دَمَکَ، وَحَشیٰ قُبُورَهُمْ ناراً أَشْهَدُ أَ نَّکَ لَقِیتَ ﷲ وَهُوَ رَاضٍ عَنْکَ بِما فَعَلْتَ
کو مباح جانا‘ خدا ظالموں کی قبروں کو آگ سے بھرے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا سے ملاقات کی تو وہ آپ سے راضی تھا
وَنَصَحْتَ، وَأَشْهَدُ أَ نَّکَ قَدْ بَلَغْتَ دَرَجَةَ الشُّهَدائِ، وَجُعِلَ رُوحُکَ مَعَ
کیونکہ آپ نے اچھا عمل اور خیر خواہی کی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ شہیدوں کے زمرے میں داخل ہوئے اور آپکی روح خوش
أَرْواحِ السُّعَدائِ بِما نَصَحْتَ لِلّٰهِ وَ لِرَسُو لِهِ مُجْتَهِداً، وَبَذَلْتَ نَفْسَکَ فِی
بختوں کی روحوں کے ساتھ رکھی گئی کیونکہ آپ خدا ورسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خیر خواہی میں پوری طرح کو شاں ہوئے اور آپ نے جان قربان
ذاتِ ﷲ وَمَرْضاتِهِ فَرَحِمَکَ ﷲ وَرَضِیَ عَنْکَ وَحَشَرَکَ مَعَ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
کردی ذات خدا اور اسکی رضائوں میں خدا آپ پر رحمت کرے آپ سے راضی رہے اور آپکو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی پاکیزہ آلعليهالسلام کیساتھ
وَجَمَعَنا وَ إیَّاکُمْ مَعَهُمْ فِی دارِ النَّعِیمِ، وَسَلامٌ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
محشور کرے وہ اکٹھا کرے ہمیں اور آپکو انکے ساتھ نعمت والے گھر میں سلام ہو آپ پر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں۔
پھر دو رکعت نماز پڑھ کر جناب ہانی بن عروہ کی روح کو ہدیہ کرے اور اپنے لئے جو دعا چاہے کرے اور اسی دعا کے ساتھ وداع کرے جو جناب مسلمعليهالسلام بن عقیلعليهالسلام کے وداع میں ذکر ہے ۔
چھٹی فصل
فضیلت واعمال مسجد سہلہ مسجد زید اور مسجد صعصعہ
مسجد کوفہ کے بعد وہاں کوئی مسجد فضیلت میں مسجد سہلہ سے بڑھ کر نہیں ہے( مسجد سہلہ اب کوفہ سے کچھ فاصلے پر موجود ہے۔) در اصل یہ حضرت ادریس- اور حضرت ابراہیم - کا گھر حضرت خضر - کی آمد کا مقام اور ان کی جائے سکونت ہے۔ امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ آپ نے ابو بصیر سے فرمایا: اے ابو محمد؟! گویا میں یہ دیکھتا ہوں کہ امام صاحب الزمان ا پنے اہل وعیال سمیت مسجد سہلہ میں اتر تے ہیں اور یہ انکا مسکن ہے خدا نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا جس نے مسجد سہلہ میں نماز نہ پڑھی ہو جو شخص اس مسجد میں ٹھہرے وہ ایسے ہے جیسے اسنے رسول اکرم کے خیمے میں قیام کیا ہوہر مؤمن مرد اور مومنہ عورت کا دل اس مسجد کی طرف مائل ہے اس مسجد میں ایک پتھر ہے کہ جس پر ہر پیغمبر کی صورت نقش ہے پس جو شخص بھی خالص نیت کے ساتھ اس مسجد میں نماز ادا کرے اور دعا مانگے تو مسجد سے باہر نکلنے سے پہلے اس کی حاجت پوری ہوجاتی ہے جو شخص اس مسجد میں امان طلب کرے تو اسے ہر خوف سے امان مل جاتی ہے ۔ ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ کیااس مسجد کی فضیلت یہی ہے؟ آپ نے فرمایا اس کی فضیلت بہت زیادہ ہے اس سے جو میں نے تمہیں بتائی ہے۔ہاں تو یہ و ہ مقام ہے جسے خدا تعالی پسند فرماتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے اس مسجد میں یاد کیا جائے اور اس سے سوال کیا جائے چنانچہ کوئی رات دن نہیں گزرتا سوائے اس کے کہ ملائکہ اس مسجد کی زیارت کو آتے ہیں۔ اور یہاں خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اے ابو محمد! اگر تمہاری طرح میں بھی ا س مسجد کے نزدیک رہنے والا ہوتا تو یہیںتمام نمازیں پڑھا کرتا۔ پھر فرمایا کہ اے ابو محمد! میں نے اس مسجد کے جو خصائص نہیں بتائے وہ ان سے زیادہ ہیں جو تمہیں بتائے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ پر قربان ہوجائوں! کیا قائم آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہمیشہ اس مسجد میںہوں گے۔ تو آپ نے فرمایا ہاں!
مسجد سہلہ کے اعمال
مغربین اور سونے کے درمیانی وقت میں دو رکعت نماز مسجد سہلہ میں بجالانا مستحب ہے امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ جو شخص یہ نماز پڑھے اور پھر دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا غم دور کردے گا بعض کتب زیارت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مسجد سہلہ میں داخل ہونے لگے تو دروازے پر کھڑے ہوکر کہے:
بِسْمِ ﷲ، وَبِالله، وَمِنَ ﷲ، وَ إلَی ﷲ، وَمَا شائَ ﷲ، وَخَیْرُ الْاََسْمائِ ﷲِ، تَوَکَّلْتُ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے خدا کی طرف اور جو کچھ خدا چاہے اور خدا کے بہترین نام سے بھروسہ کرتا ہوں خدا پر
عَلَی ﷲ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ عُمّارِ
اس علی وعظیم کے سوا کوئی حرکت و قوت نہیں ہے اے معبود!مجھے ان میں سے قرار دے جو تیری
مَساجِدِکَ وَبُیُوتِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأُقَدِّمُهُمْ بَیْنَ یَدَیْ
مسجدوں اور تیرے گھروں کو آباد کرتے ہیں اے معبود! میں آیا ہوں تیری طرف محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے واسطے سے اور انہیں وسیلہ بناتاہوں
حَوائِجِی فَاجْعَلْنِی اَللّٰهُمَّ بِهِمْ عِنْدَکَ وَجِیهاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ
اپنی حاجات میں پس اے معبود! مجھے اپنے نزدیک دنیا اور آخرت میں با عزت قراردے اور اپنے نزدیکوں میں رکھ
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ صَلاتِی بِهِمْ مَقْبُولَهً، وَذَ نْبِی بِهِمْ مَغْفُوراً، وَرِزْقِی بِهِمْ مَبْسُوطاً
اے معبود!میری نمازکو انکے واسطے سے قبول فرما اور میرے گناہ کو انکے ذریعہ سے بخش دے میرے رزق میں انکے واسطے سے وسعت دے
وَدُعائِی بِهِمْ مُسْتَجاباً، وَحَوائِجِی بِهِمْ مَقْضِیَّةً وَانْظُرْ إلَیَّ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ نَظْرَةً
اور میری دعا کو انکے واسطے سے قبول فرما میری حاجات پوری کردے بواسطہ ان کے اور نظر فرما مجھ پر بواسطہ اپنی ذات کریم کے وہ نظر
رَحِیمَةً أَسْتَوْجِبُ بِهَا الْکَرامَةَ عِنْدَکَ، ثُمَّ لاَ تَصْرِفْهُ عَنِّی أَبَداً، بِرَحْمَتِکَ
جو مہربان ہو لازم فرما اسکے ذریعے اپنے حضور میرے لیے عزت اور پھر یہ نظر رحمت مجھ سے نہ ہٹا ہمیشہ تک اپنی رحمت کے واسطے
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْاََ بْصارِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ وَدِینِ
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور اے دلوں اور آنکھوں کو پلٹا نے والے ثابت قدم رکھ میرے دل کو اپنے دین پر اپنے نبی
نَبِیِّکَ وَوَلِیِّکَ وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنِی وَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَنْتَ
کے دین پر اور اپنے ولیعليهالسلام کے دین پر اورمیرے دل کو نہ بھٹکا جب کہ مجھے ہدایت دی ہے مجھ پر رحمت فرما اپنی جناب سے کہ بیشک تو
الْوَهَّابُ اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ تَوَجَّهْتُ، وَمَرْضاتَکَ طَلَبْتُ، وَثَوابَکَ ابْتَغَیْتُ، وَبِکَ
بہت بخشش کرنے والا ہے اے معبود! تیری طرف مائل ہوا ہوں تیری رضائوں کا طالب ہوں اور تجھ سے ثواب چاہتاہوں تجھ پر
آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ اَللّٰهُمَّ فَأَ قْبِلْ بِوَجْهِکَ إلَیَّ، وَأَ قْبِلْ بِوَجْهِی إلَیْکَ
ایمان رکھتا ہوں اور تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں اے معبود! پس اپنا رخ میری طرف کر اور میرا رخ اپنی طرف موڑدے۔
اس کے بعد آیۃ الکرسی‘ سورئہ فلق‘ اور سورئہ ناس کی قرائت کرے اور پھر سات مرتبہ سُبْحانَ ﷲ، سات مرتبہ وَالْحَمْدُ ﷲِ، سات مرتبہوَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، سات مرتبه وﷲ أَکْبَرُ،
پاک تر ہے ﷲ حمد ﷲ کیلئے ہے ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ﷲ سب سے بڑا ہے۔
پھر کہے:
اَللّٰهُمَّ لَکَالْحَمْدُ عَلَی مَا هَدَیْتَنِی وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی مَا فَضَّلْتَنِی وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی
اے معبود! تیرے لیے حمد ہے کہ تو نے مجھ کو ہدایت دی تیرے لیے حمد ہے کہ تو نے مجھ کو برتری بخشی تیرے لیے حمد ہے کہ تو نے مجھ کو
مَا شَرَّفْتَنِی وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی کُلِّ بَلائٍ حَسَنٍ ابْتَلَیْتَنِی اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ صَلاتِی وَدُعائِی،
بڑائی عطا کی اور تیرے لیے حمد ہے کہ تو نے مجھ کو ہر اچھی آزمائش میں ڈالا اے معبود! قبول فرما میری نماز اور میری دعا پاک کر
وَطَهِّرْقَلْبِی، وَاشْرَحْ لِی صَدْرِی، وَتُبْ عَلَیَّ، إنَّکَ أَ نْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ
میرے دل کو کھول دے میرے سینے کو اور میری توبہ قبول کر کہ یقینا تو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔
سید بن طائوسرحمهالله نے فرمایا ہے کہ جب مسجد سہلہ جانے کا ارادہ ہو تو بدھ کی رات مغرب وعشائ کے درمیان اس مسجد میں آئے کہ یہ وقت بقیہ اوقات سے افضل ہے جب مسجد میں آئے تو پہلے نماز مغرب اور اس کے نافلہ ادا کرے ۔
اور پھر کھڑے ہوکر دو رکعت نماز تحیت مسجد قربت الی اللہ کی نیت سے بجا لائے اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرکے یہ دعا پڑھے:
أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ مُبْدئُ الْخَلْقِ وَمُعِیدُهُمْ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ
تو وہ اللہ ہے کہ جسکے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو خلق کا آغاز کرنے اور اسے لوٹانے والا ہے تو وہ اللہ ہے کہ جسکے سوائ کوئی معبود نہیں
أَنْتَ خالِقُ الْخَلْقِ وَرَازِقُهُمْ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْقَابِضُ الْباسِطُ، وَأَنْتَ
جو مخلوق کو پیدا کرنے اور رزق دینے والا ہے تو وہ اللہ ہے تیرے سوائ کوئی معبود نہیں تو روکنے والا اور عطا کرنے والا ہے تو
ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ مُدَبِّرُ الْاَُمُورِ وَباعِثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ، أَنْتَ وارِثُ الْاََرْضِ وَمَنْ
وہ اللہ ہے کہ جس کے سوائ کوئی معبود نہیں جو معاملات کو چلانے والا اور قبروں میں سے زندہ اٹھانے والا ہے تو وارث ہے زمین کا اور
عَلَیْها أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الْمَخْزُونِ الْمَکْنُونِ الْحَیِّ الْقَیُّومِ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ
جو کچھ اس پر ہے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے محفوظ پوشیدہ زندہ وپائیندہ نام کے واسطے سے تو وہ اللہ ہے کہ جس کے سوائ کوئی
إلاَّ أَنْتَ عالِمُ السِّرِّ وَأَخْفیٰ أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی إذا دُعِیتَ بِهِ
معبود نہیں جو پوشیدہ اور مخفی چیزوں کو جاننے والا ہے سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے اس نام سے کہ جب تجھے اس سے پکارا جائے تو
أَجَبْتَ، وَ إذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَیْتَ ، وأَسْأَلُکَ بِحَقِّکَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ،
جواب دیتا ہے جب اسکے ذریعے مانگا جائے تو عطا کرتا ہے سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیرے حق کے جو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکے اہل بیتعليهالسلام پر ہے
وَبِحَقِّهِمُ الَّذِی أَوْجَبْتَهُ عَلَی نَفْسِکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَقْضِیَ
اور بواسطہ ان کے حق کے جو تونے اپنی ذات پر لازم کیا ہے یہ کہ تو رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما نیز یہ کہ تو میری
لِی حَاجَتِی، السَّاعَةَ السَّاعَةَ، یَا سامِعَ الدُّعائِ، یَا سَیِّداهُ یَا مَوْلاهُ یَا غِیَاثَاهُ،
حاجت پوری فرما ابھی اسی وقت اسی گھڑی اے دعا کے سننے والے اے میرے سردار اے میرے مالک اے میرے فریاد رس
أَسْأَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَکَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ
سوال کرتا ہوں تیرے تمام ناموں کے ذریعے جن سے تو نے خود کو موسوم کیا یا اسے اپنے لیے خاص کیا علم غیب میں جو تیرے پاس
أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُعَجِّلَ فَرَجَنَا السَّاعَةَ، یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ
ہے سوالی ہوں کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور یہ کہ جلدی فرما ہماری گشائش میں اسی وقت اے دلوں اور آنکھوں
وَالْاََ بْصَارِ، یَا سَمِیعَ الدُّعَاءِ
کو پلٹانے والے اے دعا کے سننے والے۔
اس کے بعد سجدے میں جائے اور بہت زیادہ عاجزی وفروتنی کرے پھر جو چیز بھی چاہے خدا سے مانگے اس کے بعد اس گوشے میں چلا جائے جو شمال ومغرب کی طرف ہے حضرت ابراہیمعليهالسلام کا گھر اسی گوشے میں تھا اور یہیں سے آپ عمالقہ سے جنگ کرنے گئے تھے اس مقام پر دو رکعت نماز بجالائے بعد میں تسبیح فاطمہعليهالسلام زہرائ پڑھے اور پھر کہے:
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذِهِ الْبُقْعَةِ الشَّرِیفَةِ، وَبِحَقِّ مَنْ تَعَبَّدَ لَکَ فِیها، قَدْ عَلِمْتَ حَوَائِجِی
اے معبود! اس شرف وبرکت والے مکان کے واسطے سے اور اسکے واسطے سے جو اس میں تیری عبادت کرتا ہے تو میری حاجتوںکو جانتا ہے
فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْضِها، وَقَدْ أَحْصَیْتَ ذُنُوبِی فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت کر اور میری حاجات پوری فرما تو میرے گناہوں کو جانتا ہے پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْها اَللّٰهُمَّ أَحْیِنِی مَا إذا کانَتِ الْحَیَاةُ خَیْراً لِی، وَأَمِتْنِی إذا
رحمت نازل فرما اور میرے گناہ بخش دے اے معبود! مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے اور مجھے موت دے
کانَتِالْوَفاةُ خَیْراً لِی عَلَی مُوالاةِ أَوْلِیائِکَ وَمُعاداةِ أَعْدائِکَ، وَافْعَلْ بِی مَا أَنْتَ
جب موت میرے لیے بہتر ہو کہ وہ تیرے دوستو کی محبت پر اورتیرے دشمنوںسے عداوت پر ہو اور میرے ساتھ وہ سلوک کر جو
أَهْلُهُ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
تیرے لائق ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
اس کے بعد مغرب وقبلہ والے گوشے کی طرف میں دو رکعت نماز بجالائے اور پھر ہاتھوں کو اٹھا کر یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی صَلَّیْتُ هذِهِ الصَّلاةَ ابْتِغائَ مَرْضاتِکَ وَطَلَبَ نائِلِکَ وَرَجائَ رِفْدِکَ
اے معبود! میں نے یہ نماز تیری رضائوں کے حصول کی خاطر پڑھی ہے تیری عطا کی طلب میں تیری طرف سے امید قبولیت
وَجَوائِزِکَ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْها مِنِّی بِأَحْسَنِ قَبُولٍ، وَبَلِّغْنِی
اور تیرے انعامات کے لیے پڑھی ہے پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اوراچھی طر ح سے قبول کرے اور مجھے پہنچا اپنی رحمت
بِرَحْمَتِکَ الْمَأْمُولَ، وَافْعَلْ بِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
تک جو میں نے چاہی ہے مجھ سے وہ سلوک کر جو تیرے شایان ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
پھر سجدے میں جائے اور دونوں رخساروں کو زمین پر لگائے۔ پھر اس گوشے میں جائے جو مشرق کی طرف ہے وہاں دو رکعت نماز ادا کرے اور ہاتھوں کو پھیلا کر یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنْ کانَتِ الذُّنُوبُ وَالْخَطایا قَدْ أَخْلَقَتْ وَجْهِی عِنْدَکَ فَلَمْ تَرْفَعْ لِی إلَیْکَ
اے معبود! اگر میرے گناہوں اور لغزشوں کے باعث میرا چہر ہ تیرے سامنے آلودہ ہے میری آواز تجھ تک نہیں پہنچ رہی ہے
صَوْتاً وَلَمْ تَسْتَجِبْ لِی دَعْوَةً فَ إنِّی أَسْأَلُکَ بِکَ یَا ﷲ فَ إنَّهُ لَیْسَ مِثْلَکَ أَحَدٌ
اور تو میری دعا قبول نہیں کررہا ہے تو بھی میں سوال کرتا ہوں تیرا واسطہ دے کر اے اللہ کہ نہیں ہے تیرے جیسا کوئی اور نیز میں وسیلہ
وَأَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ وأَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُقْبِلَ
بناتا ہوں تیرے حضور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آل کو اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور یہ کہ توجہ فرما
إلَیَّ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ وَتُقْبِلَ بِوَجْهِی إلَیْکَ وَلاَ تُخَیِّبْنِی حیِنَ أَدْعُوکَ، وَلاَ تَحْرِمْنِی
مجھ پر بواسطہ اپنی ذات کریم کے اور میرا رخ اپنی طرف کردے مجھے مایوس نہ کر جب کہ تجھے پکارتا ہوں اور مجھے ناکام نہ کر جب کہ
حیِنَ أَرْجُوکَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
تجھ سے امید رکھتا ہوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
مؤلف کہتے ہیں: بعض زیارات کی غیر معروف کتب سے نقل ہوا ہے کہ اس کے بعد مشرق کی طرف واقع دوسرے گوشے میں جائے وہاں دو رکعت ادا کرے اور پھر یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ یَا ﷲ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے نام کے ذریعے اے ا للہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر یہ رحمت نازل فرمااور یہ کہ میری آخری عمر
خَیْرَ عُمْرِی آخِرَهُ، وَخَیْرَ أَعْمَالِی خَواتِیمَها، وَخَیْرَ أَیَّامِی یَوْمَ أَلْقاکَ فِیهِ، إنَّکَ
کو بہتر قراردے میرے اعمال کا انجام بخیر فرما میرے دنوں میں وہ دن بہتر بنا جس میں تجھ سے ملوں بے شک تو
عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ دُعائِی وَاسْمَعْ نَجْوایَ، یَا عَلِیُّ یَا عَظِیمُ، یَا قادِرُ
ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود! میری دعا قبول کر اور میری مناجات سن لے اے بلند اے بزرگ اے قدرت والے
یَا قاهِرُ یَا حَیّاً لاَ یَمُوتُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی بَیْنِی
اے زندہ جسے موت نہیںمحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور میرے گناہ معاف کردے جو میرے
وَبَیْنَکَ، وَلاَ تَفْضَحْنِی عَلَی رُوَُوسِ الْاََشْهادِ، وَاحْرُسْنِی بِعَیْنِکَ الَّتِی لاَ تَنامُ
اور تیرے درمیان ہیں مجھے لوگوں کے سامنے رسوا نہ کر میری نگہداری کر ان آنکھوں سے جو سوتی نہیںہیں
وَارْحَمْنِی بِقُدْرَتِکَ عَلَیَّ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَصَلَّی ﷲ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
اور رحم کر اپنی قدرت سے جو تو مجھ پر رکھتاہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور خدا رحم فرمائے ہمارے سردار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کی
الطَّاهِرِینَ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ
پاکیزہ آلعليهالسلام پر اے جہانوں کے پروردگار۔
اس کے بعد اس مقام پر جو مسجد کے وسط میں واقع ہے دو رکعت نماز بجالائے اور پھر یہ دعا پڑھے:
یَا مَنْ هُوَ أَ قْرَبُ إلَیَّ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ، یَا فَعَّالاً لِما یُرِیدُ، یَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ
اے وہ کہ جو میری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اے وہ جو چاہتا ہے کردیتا ہے اے وہ جو انسان کے
وَقَلْبِهِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَحُلْ بَیْنَنا وَبَیْنَ مَنْ یُؤْذِینا بِحَوْلِکَ
اور اسکے دل کے درمیان حائل ہے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور ہمارے اور ہمیں اذیت دینے والوں کے درمیان حائل ہو جا
وَقُوَّتِکَ یَا کافِیاً مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلاَ یَکْفِی مِنْهُ شَیْئٌ اکْفِنَا الْمُهِمَّ مِنْ أَمْرِ الدُّنْیا
اپنی حرکت وقوت کے ساتھ اے ہر چیز سے بے نیاز کرنے والے جس سے کوئی چیز بے نیاز نہیں کرسکتی دنیاوآخرت میں پیش آنے
وَالْاَخِرَةِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
والی مشکلوں میں ہماری مدد فرما اے سب سے زیادہ رحم والے۔
پھر اپنے دونوں رخسارے زمین پر لگائے:
مؤلف کہتے ہیں: وسط مسجد کے جس مقام کا ذکر ہوا ہے وہ آج کل مقام حضرت امام علی ابن الحسین - کے نام سے معروف ہے مزار قدیم میں اس مقام پر دو رکعت نماز ادا کرنے اور یہ دعا پڑھنے کو کہا گیا ہے: اَللَّھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ یَا مَنْ لَا تَرَاہُ الْعُیُونْ. الخ جو دکّہ امیر المؤمنین- کے اعمال میں گزر چکی ہے اس مقام کے قریب ایک حجرہ ہے اور یہ مقام امام زمانہ (عج) کے نام سے مشہور ہے لہذا یہاں امام زمانہ(عج ) کی زیارت پڑھنا مناسب ہے، بعض کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر کھڑے ہوکر حضرت کی زیارت یوں پڑھے: سَلَامُ ﷲ الْکَاْمِلُ التَّامُ الشَّامِلُ ۔۔۔الخ یہ وہی استغاثہ ہے جو باب اول کی ساتویں فصل میں گزر چکا ہے ہم نے اسے کلم طیب سے نقل کیا ہے اب اسکا تکرار نہیں کرنا چاہتے سید ابن طائوس نے دور کعت نماز کے بعد اسے سر داب میں پڑھی جانے والی زیارتوں میں شمار کیا ہے۔
مسجد زیدرحمهالله میں نماز ودعا
مسجد سہلہ کے نزدیک ایک اور مسجد زیدرحمهالله کے نام سے موسوم ہے وہاں دو رکعت نماز ادا کرے اور بعد میں ہاتھوں کو پھیلا کر یہ دعا پڑھے:
إلهِی قَدْ مَدَّ إلَیْکَ الْخَاطئُ الْمُذْنِبُ یَدَیْهِ بِحُسْنِ ظَنِّهِ بِکَ إلهِی قَدْ جَلَسَ الْمُسِیئُ
میرے معبود یہ خطا کار گنہگار تیرے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے کہ وہ تجھ سے حسن ظن رکھتا ہے میرے معبود! یہ بد کردار تیرے
بَیْنَ یَدَیْکَ مُقِرَّاً لَکَ بِسُوئِ عَمَلِهِ وَراجِیاً مِنْکَ الصَّفْحَ عَنْ زَلَلِهٰٓ إلهِی قَدْ رَفَعَ إلَیْکَ
حضور آبیٹھا ہے جو اپنی بد عملی کا اقرار کرتے ہوئے تجھ سے اپنی لغزشوں پر چشم پوشی کی امید رکھتا ہے میرے معبود! یہ ناروا کام کرنے
الظَّالِمُ کَفَّیْهِ رَاجِیاً لِما لَدَیْکَ فَلاَ تُخَیِّبْهُ بِرَحْمَتِکَ مِنْ فَضْلِکَ
والا تیرے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اس رحمت کا امید وار ہے جو تیرے پاس ہے اسے اپنے فضل سے ناامیدنہ کر بواسطہ اپنی
إلهِی قَدْ جَثَا الْعائِدُ إلَی الْمَعَاصِی بَیْنَ یَدَیْکَ خائِفاً مِنْ یَوْمٍ تَجْثُو فِیهِ الْخَلائِقُ
رحمت کے میرے معبود باربار گناہ کرنے والا تیرے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہے ڈر رہا ہے اس دن سے جب لوگ تیرے سامنے
بَیْنَ یَدَیْکَ إلهِی جَاءَکَ الْعَبْدُ الْخَاطئُ فَزِعاً مُشْفِقاً وَرَفَعَ إلَیْکَ طَرْفَهُ حَذِراً راجِیاً
گھٹنے ٹیکے ہوئے ہوں گے میرے معبود خطاکار بندہ تیرے پاس آیا ہے گھبرایا سہما ہوا تیری طرف نیچی نظروں سے دیکھتا ہے امید کیساتھ
وَفاضَتْ عَبْرَتُهُ مُسْتَغْفِراً نادِماً، وَعِزَّتِکَ وَجَلالِکَ مَا أَرَدْتُ بِمَعْصِیَتِی
بخشش کی طلب میں شرمندگی سے اسکے آنسو نکل رہے ہیں قسم ہے تیری بڑائی اور مرتبے کی کہ نافرمانی کرتے وقت میں تیری مخالفت
مُخالَفَتَکَ، وَمَا عَصَیْتُکَ إذْ عَصَیْتُکَ وَأَ نَا بِکَ جاهِلٌ، وَلاَ لِعُقُوبَتِکَ
کا ارادہ نہ رکھتا تھا جب میں نے نافرمانی کی تو وہ نافرمانی اس لیے نہ تھی کہ میں تجھے جانتا نہیں تھا اور نہ ہی اس لیے تھی کہ میں تیری سزا
مُتَعَرِّضٌ، وَلاَ لِنَظَرِکَ مُسْتَخِفٌّ، وَلکِنْ سَوَّلَتْ لِی نَفْسِی، وَأَعانَتْنِی عَلَی ذلِکَ
کو روک لوں گا اور نہ اس لیے تھی کہ میں تیری نظر کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ میرے نفس نے مجھے دھوکہ دیا میری بدبختی نے مجھے
شِقْوَتِی وَغَرَّنِی سِتْرُکَ الْمُرْخیٰ عَلَیَّ فَمِنَ الْاَنَ مِنْ عَذابِکَ مَنْ یَسْتَنْقِذُنِی وَبَحَبْلِ
اکسایا اور تیری پردہ پوشی نے مجھے دلیر کر دیا پس اب مجھے تیرے عذاب سے کون چھڑائے گا جس رسی کو میں
مَنْ أَعْتَصِمُ إنْ قَطَعْتَ حَبْلَکَ عَنِّی فَیا سَوْأَتاهُ غَداً مِنَ الْوُقُوفِ بَیْنَ یَدَیْکَ إذا قِیلَ
پکڑ ے ہوئے ہوں اگر تو اس رسی کو کاٹ دے تو ہائے افسوس کل تیرے سامنے پیش ہونے کے وقت میرا کیا حال ہوگا جب نیک لوگوں
لِلْمُخِفِّینَ جُوزُوا، ولِلْمُثْقِلِینَ حُطُّوا، أَ فَمَعَ الْمُخِفِّینَ أَجُوزُ أَمْ مَعَ الْمُثْقِلِینَ
سے کہا جائے گا گزر جائو اور گنہگاروں سے کہا جائے گاجہنم میں جائو کیا میں نیک افرادکے ہمراہ گزروں گا یا گنہگاروں کیساتھ جہنم میں
أَحُطُّ وَیْلِی کُلَّما کَبُرَ سِنِّی کَثُرَتْ ذُ نُوبِی وَیْلِی کُلَّما طالَ عُمْرِی کَثُرَتْ مَعَاصِیَّ
جائونگا ہائے میری ہلاکت کہ جوں جوں میری عمر بڑھتی جارہی ہے میرے گناہ بڑھ رہے ہیں ہائے میری مصیبت کہ میری عمر جتنی لمبی ہورہی ہے
فَکَمْ أَتُوبُ وَکَمْ أَعُودُ أَمَا آنَ لِی أَنْ أَسْتَحْیِیَ مِنْ رَبِّی اللّهُمَ فَبِحَقِّ
میرے گناہ بڑھتے جاتے ہیں کہاں تک توبہ کروں اور کتنی بار لوٹ آؤں کیا وہ وقت نہیں آیا کہ اپنے رب سے حیا کروں اے معبود! پس بواسطہ
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَخَیْرَ الْغَافِرِینَ
محمد وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور سب سے زیادہ معاف کرنے والے۔
پھر گریہ کرے چہرہ خاک پر رکھے اور کہے:اِرْحَمْ مَنْ اَسٰآئَ وَاقْتَرَفَ وَاسْتَکٰانَ وَاعْتَرَفَ
رحم کر اس گنہگار پر جس نے گناہ کئے جو بے چارہ ہے اور اپنے گناہوں کااعتراف کرتا ہے
اب دایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے:اِنْ کُنْتُ بِئْسَ الْعَبْدُ فَاَنْتَ نِعْمَ الرَّبُّ پھر بایاںرخسار
اگر میں برا بندہ ہوں توبہترین پروردگار ہے
زمین پر رکھے اور کہے:عَظُمَ الذَّنْبَ مِنْ عَبْدِکَ فَلْیَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِکَ یَا کَری ٰم اب
تیرے بندے کے گناہ عظیم ہیںتو تیری بخشش بھی حسین اے کرم کرنے والے خدا اے بخشنے والے
دوبارہ سجدہ کرے اور سو مرتبہ کہے :اَلْعَفْوَ اَلْعَفْوَ
بخش دے بخش دے۔
اعمال مسجد صعصعہ
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ کوفہ کی مساجد میں سے ایک ہے اور زید بن صوحان کی طرف منسوب ہے۔ زید بن صوحان امیر المومنین- کے بزرگ اصحاب میں سے تھے اور ان کو ابدال تصور کیا جاتا ہے۔ وہ جنگ جمل میں امیر المومنین- کی نصرت کرتے ہوئے مقام شہادت پر سرفراز ہوئے جو دعا اوپر ذکر ہوئی ہے وہ انہی کی دعاہے جسے وہ نماز تہجد میں پڑھتے تھے۔ حضرت زید کی مسجد کے قریب ان کے بھائی صعصعہ بن صوحان کی مسجد بھی ہے اور وہ بھی امیر المومنین- کے اصحاب میں سے تھے کہ صاحبان ایمان اور حق امیر المومنین- کے عارف سمجھے جاتے تھے وہ اس قدر فصیح و بلیغ تھے کہ امیر المومنین- انہیں خطیب شحشح (وسعت بیان والا مقرر) کہا کرتے تھے اور ان کی خطابت و فصاحت کو بہت سراہا کرتے تھے امیر المؤمنین- نے انہیں کم خرچ اور زیادہ مدد کرنے والے کا لقب دیا جس رات آپ نے دنیا سے رحلت فرمائی اور آپ کے فرزند آپ کے جنازے کو کوفہ سے نجف لے جارہے تھے تو صعصعہ تشییع جنازہ کرنے والوں میں سے تھے جب آنجنابعليهالسلام کو دفن کیا جا چکا تو صعصعہ نے حضرت کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر ایک مٹھی خاک لی اور اسے اپنے سر میںڈالتے ہوئے کہا کہ امیر المومنین-! میرے ماں باپ آپ پر قربان! خدا کی دی ہوئی بڑائیاں آپ کو مبارک ہوں بے شک آپ کی پیدائش پاکیزہ اور آپ کا صبر عظیم تھا۔ آپ کا جہاد شاندار تھا اورجس چیز کی آرزو کی اسے حاصل کرلیا ہے۔ آپ نے بہت نفع بخش تجارت کی اور اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔ آپ ایسے بہت سے کلمات کہتے اورگر یہ کرتے رہے اور وہاں موجود افراد کو رلاتے رہے حقیقت یہ ہے کہ امیر المومنین- کی قبر پر پہلی مجلس رات کے اندھیرے میں برپا ہوئی‘ جس میں صعصعہ بن صوحان ذاکر تھے اور سامعین میں امام حسن‘ امام حسین‘ حضرت محمد بن حنفیہ‘ حضرت عباس اور مولا علی کے دیگر فرزندان اور آپ کے متعلقین تھے جب مجلس میں بیان کیے جانے والے یہ کلمات اختتام کو پہنچے تو صعصعہ امام حسن اور امام حسین + اور تمام فرزندوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو والد گرامی کا پرسہ دیا۔ ان کی دلجوئی کی اور پھرسب کے سب کوفہ لوٹ آئے۔ مختصر یہ کہ مسجد صعصعہ بن صوحان کوفہ کی محترم مسجدوں میں سے ہے اور ایک گروہ نے ماہ رجب میں اسی مسجد میں امام العصر- کو دیکھا کہ آپ نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی جس کے بعد آپ یہ دعا پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔
اَللَّهُمَّ یَا ذَالْمِنَنِ السَّابِغَةِ وَالْاَ لآَئِ الوَازِعَةِالخ
اے معبود! اے بڑے بڑے احسان کرنے اور گراں تر نعمتیں دینے والے۔
امام العصر - کے اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعا اس بابرکت مسجد سے مخصوص اور اس میں انجام دیے جانے والے اعمال میں شامل ہے۔ جیسا کہ مسجد سہلہ و مسجد زید کی مخصوص دعائیں نقل ہوئی ہیں لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ حضرتعليهالسلام کو رجب کے مہینے میں وہاں دیکھا گیا تھا لہذا ممکن ہے کہ یہ ماہ رجب کی دعائوں میں سے ہو۔ چنانچہ بہت سے علمائ نے اس دعا کو ماہ رجب کے اعمال میں ذکر کیا ہے اور ہم نے بھی اسے رجب کے اعمال میں نقل کیا ہے پس خواہشمند مومنین اسے ماہ رجب کی دعائوں میں ہی ملاحظہ فرمائیں۔ہم یہاں تکرار نہیں کرتے ۔
ساتویں فصل
اس فصل میں تین مقصد ہیں۔
ابو عبدا للہ امام حسین- کی زیارت کی فضلیت اسکے آداب کہ جن کا لحاظ زائر کو راستے،حرم مطہر میں کرنا چاہیے اور زیارت کی کیفیت کے بارے میںملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ۔
اس فصل میں تین مقصد ہیں۔
پہلا مقصد
امام حسین- کی زیارت کی فضلیت۔
واضح رہے کہ حضرت امام حسین- کی زیارت کی فضلیت احاطہ بیان سے باہر ہے اور بہت سی احادیث میںآیا ہے کہ شہید نینوا کی زیارت حج‘ عمرہ اور جہاد کے برابر ہے بلکہ اس سے بھی کئی درجے افضل ‘ مغفرت کا سبب‘ حساب و کتاب میں آسانی، درجات کی بلندی‘ قبولیت دعا‘ طول عمر‘ حفظ جان و مال‘ روزی میں فراوانی‘ حاجات کے پورا ہونے اور غم و اندیشے کے دور ہونے کا موجب ہے اسی طرح آپ کی زیارت کا ترک کرنا دین و ایمان میں نقص اور حضرت رسول کے حقوق میں سے ایک انتہائی اہم حق کے چھوڑ دینے کا سبب ہے۔ وہ جو حضرت امام حسین- کے زائر کا کمترین ثواب ہے یہ ہے کہ اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی جان و مال کی حفاظت اس وقت تک فرماتا ہے جب تک وہ اپنے اہل خانہ میں واپس نہیں آجاتا اور قیامت میں تو خدائے تعالیٰ دنیا کی نسبت اس کی زیادہ حفاظت فرمائے گا۔ بہت سی روایتوں میں مذکور ہے کہ آپ کی زیارت غموں کو دور کرتی ہے جان کنی کی سختی اورقبر کی ہولناکی سے بچاتی ہے زیارت کرنے میں جو مال زائر خرچ کرتا ہے اس کے ہر درہم کے بدلے میں ایک ہزار بلکہ دس ہزار درہم لکھے جاتے ہیں۔ جب زائر آپ کے روضہ مبارک کی طرف روانہ ہوتا ہے تو چار ہزار فرشتے اس کے استقبال کو بڑھتے ہیں اور جب وہ واپس جاتا ہے تو اتنے ہی فرشتے اسے رخصت کرنے آتے ہیں۔ تمام پیغمبر اوصیائ‘ ائمہ طاہرین اور ملائکہ امام حسین- کی زیارت کے لیے آتے ہیں اور آپ کے زائروں کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ ان پر نظر رحمت کرنے میںانہیںعرفات والوں پر اولیت دیتا ہے قیامت کے دن ان کی عزت وتکریم کو دیکھ کر ہر شخص یہ تمنا کرے گا کہ اے کاش میں بھی زائرین حسین- میں سے ہوتا اس بارے میں بہت سے روایات وارد ہوئی ہیں جن کی طرف ہم آپ کی مخصوص زیارات کی فضلیت کے بیان میں اشارہ کریں گے فی الحال ہم ایک روایت نقل کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ابن قولویہرحمهالله شیخ کلینیرحمهالله اور سید ابن طائوس وغیرہم نے ثقہ جلیل القدر معاویہ بن وہب بجلی کوفی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک موقع پر میں امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو مصلے پر مشغول عبادت دیکھا‘ میں وہاں بیٹھا رہا یہاں تک کہ آپعليهالسلام نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ کو اپنے پروردگار سے راز و نیاز فرماتے ہوئے سنا کہ اے پروردگار! تو نے ہمیں اپنی طرف سے خاص بزرگیاں عطا فرمائیں اور ہمیں یہ وعدہ دیا کہ ہم شفاعت کریں گے۔ ہمیں علوم نبوت دیے اور پیغمبروں کا وارث بنایا اور ہماری آمد پر سابقہ امت کا دور ختم کر دیا تو نے ہمیں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا وصی بنایا اور گزشتہ و آئندہ کا علم بخشا اور لوگوں کے دل ہماری طرف مائل کر دیے مجھے میرے بھائیوں اور امام حسین- کے زائروں کو بخش دے اور ان لوگوں کو بھی بخش دے جو اپنا مال صرف کر کے اور اپنے شہروں کو چھوڑ کر حضرت کی زیارت کو آئے ہیں وہ ہم سے نیکی طلب کرنے تجھ سے ثواب حاصل کرنے ہم سے متصل ہونے تیرے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کوخوشنود کرنے اور ہمارے حکم کی اطاعت کرنے آئے ہیں‘ جس کے باعث ہمارے دشمن ان کے دشمن ہو گئے۔ حالانکہ وہ اپنے اس عمل میں تیرے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو راضی و خوش کرناچاہتے تھے۔ اے اللہ! تو ہی اس کے بدلے میں انہیں ہماری خوشنودی عطا فرما‘ دن اور رات میں ان کی حفاظت کر‘ ان کے خاندان اور اولاد کا نگہبان رہنا کہ جن کو وہ اپنے وطن میں چھوڑ آئے ہیں‘ ان کی اعانت کر ہر جابر و دشمن ناتواں و توانا اور جن وانس کے شرکو ان سے دور رکھ۔ ان کو اس سے کہیںزیادہ عطا فرما جس کی وہ تجھ سے امید رکھتے ہیں ‘ جب وہ اپنے وطن‘ اپنے خاندان اور اپنی اولاد کو ہماری خاطر چھوڑ کر آ رہے تھے تو ہمارے دشمن ان کو طعن و ملامت کر رہے تھے۔ خدایا جب وہ ہماری طرف آ رہے تھے تو ان کی ملامت پر وہ ہماری طرف آنے سے رکے نہیں ہیں‘ خدایا! انکے چہروں پر رحم فرما جن کو سفر میں سورج کی گرمی نے متغیر کر دیا‘ ان رخساروں پر رحم فرما جو قبر حسین- پر ملے جا رہے تھے۔ ان آنکھوں پر رحم فرما جو ہمارے مصائب پر رو رہی ہیں‘ ان دلوں پر رحم فرما جو ہماری مصیبتوں پر رنج و غم ظاہر کر رہے ہیں اور ہمارے دکھ میں دکھی ہیں اور ان آہوں اور چیخوں پر رحم فرما جو ہماری مصیبتوں پر بلند ہوتی ہیں۔ خدایا! میں ان کے جسموں اور جانوں کو تیرے حوالے کر رہا ہوں کہ تو انہیں حوض کوثر سے سیراب کرے جب لوگ پیاسے ہوں گے‘ آپ بار بار یہی دعا سجدے کی حالت میں کرتے رہے۔ جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ جو دعا آپ فرما رہے تھے اگر یہ اس شخص کیلئے بھی کی جائے جو اللہ تعالیٰ کو نہ جانتا ہو تو بھی میرا گمان ہے کہ جہنم کی آگ اسے نہ چھوئے گی۔ قسم بخدا اس وقت میں نے آرزو کی کاش میں نے بھی امام حسین- کی زیارت کی ہوتی اور حج پرنہ آتا اس پر آپ نے فرمایا کہ تم حضرت کے روضہ اطہر کے نزدیک ہی رہتے ہو۔ پس تمہیں ان کی زیارت کرنے میں کیا رکاوٹ ہے‘ اے معاویہ ابن وھب! تم آنجناب کی زیارت ترک نہ کیا کرو۔ تب میںنے عرض کیا کہ میں آپ پر قربان ہو جائوں!میں یہ نہ جانتا تھا کہ آپ حضرات کی زیارت کی فضلیت اس قدر ہے‘ آپ نے فرمایا کہ اے معاویہ! جو لوگ امام حسین- کے زائرین کے لیے زمین میں دعا کرتے ہیں ان سے کہیں زیادہ مخلوق ہے جو آسمان میں ان کے لیے دعا کرتی ہے ۔ اے معاویہ! زیارت حسین- کو کسی خوف کی وجہ سے ترک نہ کیا کرو۔ کیونکہ جو شخص کسی کے خوف کی وجہ سے آپ کی زیارت ترک کرے گا اسے اس قدر حسرت اور شرمندگی ہو گی کہ وہ تمنا کرے گا کہ کاش میں ہمیشہ آپ کے روضہ پر رہتا اور وہیں دفن ہوتا۔ کیا تجھے یہ بات پسند نہیں کہ حق تعالیٰ تجھ کو ان لوگوں کے درمیان دیکھے جن کے لیے حضرت رسول مولا امیر المومنین‘ سیدہ فاطمہ زہر ااور ائمہ طاہرین دعا کر رہے ہیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو کہ جن سے روز قیامت فرشتے مصافحہ کریں‘ کیا تم نہیں چاہتے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو کہ‘ جو قیامت میں آئیں تو ان کے ذمہ کوئی گناہ نہ ہو گا آیا تم نہیں چاہتے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو کہ جن سے حضرت رسول قیامت کے دن مصافحہ کریں گے۔
دوسرا مقصد
زیارت امام حسین- کے آداب
اس میں زیارت کے ان آداب کا ذکر ہے کہ زائرین کو دوران سفر اور حرم مطہر میں جن کا لحاظ رکھنا چاہیے اور وہ چند امور ہیں۔
( ۱ )زیارت کیلئے جانے سے قبل تین دن روزہ رکھے اور تیسرے دن غسل کرے جیسا کہ امام جعفر صادق - نے اسکا حکم صفوان کو دیاتھا جسکا ذکر ساتویں زیارت کے تحت آئے گا شیخ محمد بن مشہدی نے عیدین کی زیارت کے مقدمہ میں کہا ہے کہ جب زیارت کو جانے کا قصد کرے تو پہلے تین دن روزہ رکھے اور تیسرے دن غسل کرے اور اپنے اہل و عیال کو اپنے پاس جمع کر کے یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَوْدِعُکَ الْیَوْمَ نَفْسِی وَأَهْلِی وَمالِی وَوَلَدِی وَکُلَّ مَنْ کانَ مِنِّی
اے معبود میں آج تیرے سپرد کرتا ہوں اپنی جان اپنا خاندان اپنا مال اور اولاد اور وہ سب کچھ جو میرے ساتھ متعلق ہے
بِسَبِیلٍ الشَّاهِدَ مِنْهُمْ وَالْغائِبَ اَللّٰهُمَّ احْفَظْنا بِحِفْظِ الْاِیمَانِ وَاحْفَظْ عَلَیْنا اَللّٰهُمَّ
وہ اس وقت حاضر ہے یا غائب اے معبود! ہماری حفاظت کر اپنی نگہبانی سے ہمارے ایمان کی اور ہماری حفاظت فرما‘ اے معبود‘
اجْعَلْنا فِی حِرْزِکَ وَلاَ تَسْلُبْنا نِعْمَتَکَ وَ لاَ تُغَیِّرْ مَا بِنا مِنْ نِعْمَةٍ وَعافِیَةٍ، وَزِدْنا مِنْ
ہمیں اپنی پناہ میں رکھ ہم سے اپنی نعمت واپس نہ لے اور تبدیلی نہ کر اس میں جو نعمت اور سکھ ہمیں دیا ہے اور ہم پر زیادہ
فَضْلِکَ إنَّا إلَیْکَ راغِبُونَ
فضل فرما کہ ہم نے تیری طرف رغبت کی ہے۔
اس کے بعد نہایت عاجزی اور فروتنی کے ساتھ گھر سے نکلے اور یہ کلمات کثرت سے دہراتا جائے:
لَا اِلَهَ اِلَّاﷲ ُوَﷲ اَکْبَرُ وَالْحَمْدُ ﷲِ
اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں اللہ بزرگتر ہے اور حمد اللہ ہی کیلئے ہے۔
پھر خدائے تعالیٰ کی ثنا حضرت رسول اور انکی آل پر درود پڑھتے ہوئے بڑے وقار اور آہستگی سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے چلے۔ ایک روایت میں ہے کہ حق تعالیٰ امام حسین- کے زائر کے پسینے کے ہر قطرے سے ایک ہزار فرشتے پیدا فرماتا ہے۔ جو خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور خود اس شخص کے لیے اور ہر زائر کے لیے قیامت تک استغفار کرتے رہتے ہیں۔
( ۲ )حضرت امام جعفر صادق - سے روایت ہوئی ہے کہ جب حضرت امام حسین- کی زیارت کو جائے تو اسکے سر کے بال الجھے ہوئے اور گرد آلود ہوں اور زائر بھوکا پیاسا ہو کہ آنجناب اسی حالت میں شہید کیے گئے تھے پس وہاں اپنی حاجات طلب کر ے پھر اپنے گھر لوٹ آئے اور کربلا کو اپنا وطن نہ بنائے۔
( ۳ )زیارت پر جاتے ہوئے لذیذ غذائیں جیسے حلوہ اور بریانی کو اپنا زاد راہ نہ بنائے بلکہ روٹی دودھ اور دہی وغیرہ کو اپنی غذا قرار دے‘ امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : میں سن رہا ہوں کہ بعض لوگ امام حسین- کی زیارت کے لیے جاتے ہیں جو اپنے ساتھ ایسی غذارکھتے ہیں جس میں بکرے کی بھنی ہوئی ران اور حلوہ ہوتا ہے حالانکہ یہی لوگ جب باپ یا رشتے داروں کی قبروں پر جاتے ہیں تو ایسی غذائیں ساتھ نہیں لے جاتے ایک اور معتبر روایت میں ہے کہ امام صادق - نے مفضل بن عمر سے فرمایا کہ حضرت امام حسین- کی اس طرح سے زیارت کرنے سے بہتر ہے کہ آپ کی زیارت نہ کی جائے امام حسین- کی زیارت نہ کر نے کی بجائے بہتر ہے۔ کہ تم ان کی زیارت کرو(یعنی امام مظلوم کی زیارت کرو) مفضل کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور آپ نے میری کمر توڑ دی ہے! آپ نے فرمایا کہ قسم بخدا اگر تم اپنے باپ دادا کی قبروں پر جائو تو حالت رنج و غم میں جاتے ہواور امام مظلوم کے مزار پر جاتے وقت اپنے ہمراہ بہترین غذائیں لے کر جاتے ہو۔ حالانکہ تمہیں وہاں پریشان بال اور خاک آلودہ حالت میں جانا چاہیے۔
مولف کہتے ہیں: مالدار آدمی کے لیے کس قدر شا ئستہ ہے کہ اس حدیث کا مطالعہ کرے اور کربلا جاتے وقت راستے میں جب اس کے احباب اس کی ضیافت کریں اور عمدہ غذائیں اس کے سامنے رکھیں تو اس کو قبول نہیں کرنا چاہیں اور کہنا چاہیے کہ ہم تو کربلا کے مسافر ہیں اس طرح کی غذائیں ہمارے لیے مناسب نہیں ہیں۔
شیخ کلینیرحمهالله نے روایت کی ہے۔ کہ امام حسین- کی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ کلبیہ نے آپ کا ماتم بپا کیا۔ وہ خود بھی روئیں اور دیگر عورتوں اور باندیوں کو بھی رلایا یہاں تک کہ ان کے آنسو خشک ہو گئے۔ ایک دفعہ کسی نے ان بی بی کے لیے جونی نام کا ایک حلال پرندہ بھیجا تا کہ وہ اسے کھائیں تو ان کے جسم میں اتنی طاقت آ جائے کہ وہ امام حسین- کو روسکیں جب انہوں نے اس پرندے کو دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟انہیں بتایا گیا کہ یہ ہدیہ ہے جو فلاں شخص نے آپ کیلئے بھیجا ہے کہ آپ اسے کھائیں اور اس سے آپ کے بدن میں امام حسین- کو رونے کی طاقت آ جائے تب ان بی بی نے فرمایا کہ ہم کسی شادی میں مشغول نہیں ہیں کہ اس طرح کے کھانے کھائیں۔ پھر بی بی نے حکم دیا کہ اس پرندے کو یہاں سے لے جائیں۔
( ۴ )سفر زیارت کے دوران مستحب ہے کہ انسان عاجزی ،انکساری ،خضوع، خشوع اور ذلیل غلام کی طرح راستہ طے کرے۔ پس آج کل جو لوگ جدید ذرائع جیسے ریل گاڑی اور ہوائی جہاز میں سوار ہو کر جاتے ہیں انہیں بطور خاص یہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ دوسرے زائرین پر اپنی بڑائی نہ جتائیں جو بڑی مشقتوں کے ساتھ کر بلا معلی پہنچتے ہیں۔ علمائ کرام نے اصحاب کہف کے حالات میں نقل کیا ہے کہ وہ دقیانوس کے ہم نشین اور وزیر تھے۔ جب اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے شامل حال ہوئی تو وہ عبادت الہٰی اور اصلاح نفس کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنی بہتری اسی میں دیکھی کہ لوگوں سے کنارہ کشی کر کے ایک غار میں پناہ لیں اور وہاں خدا کی عبادت کیا کریں۔ پس وہ گھوڑوں پر سوار ہو کر شہر سے نکل پڑے اور جب تین میل کا فاصلہ طے کر چکے تو ان میں سے ایک جس کا نام تملیخا تھا اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اے میرے بھائیو! دنیا کی بادشاہی چلی گئی اور آخرت کی منزل آ پہنچی ہے اب اپنے گھوڑوں سے اترو اور پاپیادہ اللہ کے حضور چلو‘ شاید کہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کشادگی کی راہ نکالے۔تب وہ گھوڑوں سے اترے اور سات فرسخ ( ۵۲ میل) پیدل سفر کیا جس سے ان کے پائوں زخمی ہو گئے اور ان سے خون بہنے لگا۔ اسی طرح امام حسین- کے زائرین کو بھی اس امر کی طرف متوجہ رہنا چاہیے۔ وہ اس بات کو سمجھیں کہ وہ اس راستے میں جس قدر تواضع اور انکساری اختیار کریں گے وہ ان کی بلندی کا موجب ہو گی۔ چنانچہ امام حسین- کی زیارت کے آداب کے بارے میں امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ جو شخص امام مظلوم کی زیارت کرنے پاپیادہ جائے تو خدا تعالیٰ اس کے ہر قدم پر ایک ہزار نیکیاں لکھے گا اس کے ایک ہزار گناہ مٹا دے گا اور جنت میں اس کے ایک ہزار درجے بلند فرمائے گا جب زائر نہر فرات پہنچے تو وہاں غسل کرے اور جوتے اٹھائے ننگے پائوں ایک ذلیل غلام کی طرح حرم مطہر کی طرف روانہ ہو۔
( ۵ )اگر راستے میں دیکھے کہ امام حسین- کے زائر تھکے ہوئے ہیں اور دوسروں سے پیچھے رہ گئے ہیں تو جہاں تک ہو سکے ان کی مدد و خدمت کرے اور ان کو منزل پر پہنچانے کی کوشش کرے‘ یاد رہے کہ نہ ان کو کمتر سمجھے اور نہ ہی ان کو نظر انداز کرے۔ شیخ کلینیرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ ہارون سے روایت کی ہے کہ میں امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ نے وہاں بیٹھے ہوئے ایک آدمی سے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ہمارا استخفاف یعنی ہم سے بے پروائی کرتے ہو؟ ان میں سے ایک آدمی جو خراسان کا رہنے والا تھا کھڑا ہو گیا اور عرض کیا ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں اس سے کہ آپ کا یا آپ کے حکم کا استخفاف کریں اور اسے حقیر سمجھیں۔ آپعليهالسلام نے فرمایا کہ ہاں تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو جنہوں نے میری پرواہ نہیں کی اور بے توجہی برتی‘ اس نے کہا میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ آپ کو کمتر گردانوں۔ آپ نے فرمایا تمہارا برا ہو کیا وہ تمہیں نہیں تھے کہ جب ہم حجفہ کے قریب پہنچے تو ایک شخص نے تم سے کہا کہ مجھے تھوڑی دور تک اپنی سواری پر لیے چلو کہ میں تھک گیا ہوں۔ لیکن تم نے اس کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا اس کی کچھ پروا نہ کی اور آگے نکل آئے۔ پس جو آدمی کسی مومن کو پست سمجھے وہ ہمیں ذلیل و خوار کرتا ہے اور خدائے تعالیٰ کے احترام کو ضائع و برباد کرتا ہے۔
مولف کہتے ہیں: ہم نے تیسرے باب کی پہلی فصل میں آداب زیارت میں سے نویں ادب میں علی بن یقطین کی ایک روایت تحریر کی ہے جو اس مقام سے مناسبت رکھتی ہے۔ پس زائر اسے پڑھے اور اس میں بہترین نصیحت ہے۔ یہ پانچواں ادب جو ہم نے ابھی ذکر کیا ہے اگرچہ امام حسین- کی زیارت کے لیے خاص نہیں ہے‘ لیکن اس زیارت کے سفر سے بھی اس کا بہت زیادہ تعلق ہے۔ لہذا ہم نے یہاں اس کا ذکر کیا ہے۔
( ۶ )ثقہ جلیل محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میںنے امام محمد باقر - کی خدمت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کے جد بزرگوار امام حسین- کی زیارت کو جائیں تو کیا یہ حج پر جانے کے مترادف نہیں ہے آپ نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہے ! میں نے عرض کی تو پھر ہمارے لیے وہی امور ضروری ہیں جو حج کے سفر میں ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا! ہاں تم پر لازم ہے کہ اپنے رفیق سفر کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو‘ اچھی بات اور ذکر الہٰی کے سوا کوئی بات نہ کرو‘ تمہارا لباس پاک و پاکیزہ ہونا چاہیے‘ زائر حرم میں جانے سے پہلے غسل کرے اورعاجزی وانکساری کے ساتھ چلے بہت زیادہ نماز یں پڑھے اور محمد و آل محمد پر کثرت سے درود و سلام بھیجے۔ اپنے آپ کو نامناسب و ناروا باتوں اور کاموں سے روکے‘ آنکھوں کو حرام اور شبہ والی چیزوں کی طرف سے بند رکھے‘ پریشان حال برادر مومن کے ساتھ احسان و نیکی کرے اور اگر کسی کے مصارف کم پڑ گئے ہوں تو اس کی مالی امدار کرے اور اپنے مصارف کی رقم خود اس پر تقسیم کر دے‘ تقیہ کرتا رہے کہ دین کی حفاظت تقیہ میں ہے جن چیزوں سے خدائے تعالیٰ نے روکا ہے ان سے بچتا رہے ۔ قسم نہ کھائے اور کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرے کہ جس میں اسے قسم اٹھانا پڑے۔ پس اگر تم ان باتوں پر عمل کرو تو زیارت حسینعليهالسلام میں تمہیں حج و عمرہ کا ثواب حاصل ہو گا اور تم کو اس شخص کی طرف سے بھی ثواب ملے گا‘ جس کے لیے تم نے اپنا مال خرچ کیااور اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر آئے ہو۔ وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں اپنی رحمت و خوشنودی سے ہم کنار کر دے گا۔
( ۷ ) ابو حمزہ ثمالی نے امام جعفر صادق - سے زیارت امام حسین- کے بارے میں نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: زائر جب کر بلا معلی پہنچے تو اپنا سامان اتار دے‘تیل اور سرمہ نہ لگائے گوشت نہ کھائے جب تک وہاں رہے۔
( ۸ )فرات کے پانی سے غسل کرے کہ اس کی فضلیت میںبہت سی روایات آئی ہیں اور امام جعفر صادق - کی ایک حدیث ہے کہ جو شخص فرات سے غسل کر کے امام حسین- کی زیارت کرے تو گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جیسے اپنی پیدائش کے دن گناہوں سے پاک تھا۔ اگرچہ گناہ کبیرہ بھی کئے ہوں۔ روایت میں ہے کہ آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اکثر اوقات ہم امام حسین- کی زیارت کو جاتے ہیں۔ لیکن سردی وغیرہ کے باعث غسل نہیں کر پاتے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ جو شخص آب فرات سے غسل کر کے امام حسین- کی زیارت کرے اس کے لیے اتنا ثواب لکھا جائے گا جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ بشیر دہان سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا کہ جو شخص امام حسین- کی زیارت کو جائے اور آب فرات سے غسل ووضو کر لے تو جتنے قدم اٹھا کر وہاں سے روضہ مبار ک پر جائے اور آئے گا خدائے تعالیٰ ہر قدم پر اس کے لیے ایک حج و عمرہ کا ثواب لکھے گا بعض روایتوں میں ہے فرات کے اس حصے میں غسل کرے جو روضہ امام حسین- کے مقابل ہے اور بہتر یہ ہے۔ جیسا کہ بعض روایتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے جب فرات پر پہنچے تو سو مرتبہ اللہ اکبر اور سو مرتبہ لا الہ الا اللہ اور سو مرتبہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیجے۔
( ۹ )جب حائر یعنی روضہ اقدس کے اندر داخل ہونا چاہے تو مشرق والے دروازے سے داخل ہو جیسا کہ امام جعفر صادق - نے یوسف کناسی کو حکم دیا تھا۔
(۱۰)ابن قولویہ سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق - نے مفضل بن عمر کو کہا کہ اے مفضل! جب تم امام حسین- کے روضہ مبارک کے دروازہ پر پہنچو تو رک جاؤ اور یہ کلمات پڑھنا اگر تم نے یہ کلمات کہے تو ہرکلمے کے بدلے تجھے اللہ تعالیٰ کی رحمت نصیب ہوگی اور وہ کلمات یہ ہیں:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے آدمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے برگزیدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے نوحعليهالسلام کے وارث جو خدا کے نبی ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے ابراہیمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے خلیل ہیں سلام ہو آپ پر اے موسیٰ کے وارث جو خدا کے کلیم ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِیسَی رُوحِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے عیسیٰعليهالسلام کے وارث جو روح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وارث جو خدا کے حبیب ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ عَلِیٍّ وَصِیِّ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ الْحَسَنِ
آپ پر سلام ہواے علی کے وارث جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی ہیںآپ پر سلام ہو اے حسنعليهالسلام کے وارث
الرَّضِیِّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ فاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا
جو پسندیدہ خدا ہیں‘ آپ پر سلام ہو اے فاطمہعليهالسلام کے وارث جو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی دختر ہیں آپ پر سلام ہو اے وہ
الشَّهِیدُ الصِّدِّیقُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْوَصِیُّ الْبارُّ التَّقِیُّ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْاََرْواحِ
شہید جو صدیق ہے‘ آپ پر سلام ہو اے وہ وصی جو نیک اور پرہیز گار ہے سلام ہو ان روحوں پر
الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ وَأَناخَتْ بِرَحْلِکَ، اَلسَّلَامُ عَلَی مَلائِکَةِ ﷲ الْمُحْدِقِینَ بِکَ
جو آپ کے آستانہ پر اتریں اور اپنی سواریاں یہاں باندھیں سلام ہو خدا کے فرشتوں پر جو آپ کے گرد رہتے ہیں
أَشْهَدُ أَ نَّکَ قَدْ أَ قَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برے
الْمُنْکَرِ وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
کاموں سے روکا آپ نے خدا کی بندگی کی حتیٰ کہ آپ شہید ہو گئے آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
اس کے بعد چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے قبر شریف کی طرف چلے تاکہ اسے اس شخص کا ثواب ملے جو خدا کی راہ میں اپنے خون میں غلطاںہو۔ جب قبر مبارک کے قریب پہنچے تو اپنے ہاتھوں کو اس سے مس کرے اور کہے:
السَلَّامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ فِیْ اَرْضِهٰ وَسَمَآئِهٰ
آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اس کی زمین و آسمان میں۔
اب دو رکعت نماز پڑھے حضرتعليهالسلام کے قرب میںپڑھی گئی ایک رکعت کے بدلے میں اسے ہزار حج و عمرہ ، ہزار غلاموں کی آزادی اور ہزار مرتبہ پیغمبر اکرم کے ساتھ رہ کر جہاد کرنے کا ثواب ملے گا۔
( ۱۱ )ابو سعید مدائنی کہتے ہیں کہ میں امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ آیا میں امام حسین- کی زیارت کرنے جائوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہمارے جد رسول ﷲ کے فرزند کی زیارت کو جائو اور جب تم زیارت کرو تو آپ کے سر مبارک کی طرف ہزار مرتبہ تسبیح امیر المؤمنین- اور پاؤں کی طرف ہزار مرتبہ تسبیح سیدہ فاطمہ =پڑھنا پھر دو رکعت نماز پڑھنا جس کی پہلی رکعت میں سورہ یاسین اور دوسری رکعت میں سورہ رحمن پڑھنا جب ایسا کروگے تو تمہارے لیئے بہت عظیم اجر ہوگامیں نے عرض کی آپ پر فدا ہو جائوں مجھے امیر المؤمنین- اور سیدہ فاطمہ = کی تسبیح تعلیم فرمائیے کہ وہ کس طرح ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں اے ابو سعید! امیر المومنین- کی تسبیح یہ ہے:
سُبْحانَ الَّذِی لاَ تَنْفَدُ خَزَائِنُهُ سُبْحانَ الَّذِی لاَ تَبِیدُ مَعَالِمُهُ سُبْحَانَ الَّذِی لاَ
پاک ہے وہ جس کے خزانے ختم نہیں ہوئے پاک ہے وہ جس کی نشانیاں مٹتی نہیں پاک ہے وہ کہ جو کچھ اس کے پاس ہے
یَفْنی مَا عِنْدَهُ سُبْحَانَ الَّذِی لاَ یُشْرِکُ أَحَداً فِی حُکْمِهِ سُبْحانَ الَّذِی لاَ اضْمِحْلالَ
فنا نہیں ہوتا پاک ہے وہ جس کے حکم میں کوئی اس کا شریک نہیں پاک ہے وہ جس کا افتخار
لِفَخْرِهِ سُبْحانَ الَّذِی لاَ انْقِطاعَ لِمُدَّتِهِ سُبْحانَ الَّذِی لاَ إلهَ غَیْرُهُ ۔ اور تسبیح حضرت
کم نہیں ہوتا پاک ہے وہ جس کی بزندگی کا سلسلہ نہیںٹوٹتا پاک ہے وہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں
زہرائ = یہ ہے:سُبْحانَ ذِی الْجَلالِ الْبَاذِخِ الْعَظِیمِ سُبْحَانَ ذِی الْعِزِّ الشَّامِخِ الْمُنِیفِ
پاک ہے وہ جو بڑے جلال و بزرگی کا مالک ہے پاک ہے وہ جو بڑی بلند عزت کا مالک ہے
سُبْحانَ ذِی الْمُلْکِ الْفَاخِرِ الْقَدِیمِ سُبْحَانَ ذِی الْبَهْجَةِ وَالْجَمَالِ سُبْحانَ مَنْ
پاک ہے وہ جو قدیم ملک و افتخار والا ہے پاک ہے وہ جو حسنعليهالسلام و جمال والا ہے پاک ہے وہ جس نے
تَرَدَّیٰ بِالنُّورِ وَالْوَقارِ سُبْحانَ مَنْ یَریٰ أَ ثَرَ النَّمْلِ فِی الصَّفَا وَوَقْعَ الطَّیْرِ فِی الْهَوَائِ ۔
نور اور وقارکی ردا پہنی پاک ہے وہ جوپتھر پر چلتی چیونٹی کا نقش پا اور ہوا میں اڑتے پرندے کو دیکھتا ہے۔
(۱۲)اپنی فریضہ و نافلہ نمازیں امام حسین- کے تعویذقبر کے قریب ادا کرے کہ وہاں نماز قبول ہوتی ہے‘ سید ابن طائوس نے فرمایا ہے کہ زائر کوشش کرے کہ حائرحسینی میں اس کی کوئی فریضہ اور نافلہ نماز فوت نہ ہو ۔ کیونکہ روایت میں ہے کہ قبر امام حسین- کے نزدیک فریضہ نماز کا ثواب حج کے برابر اور نافلہ کا ثواب عمرہ کے برابر ہے۔
مؤلف کہتے ہیں:مفضل بن عمر کی روایت میں حائرحسینی میں نماز کے لئے زیادہ ثواب ذکر ہو چکا ہے معتبر روایت میں امام جعفر صادق - سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص امام حسین- کی زیارت کرے اور ان کے قرب میں دو یا چار رکعت نماز بجا لائے تو اس کے نامہ اعمال میں حج و عمرہ کا ثواب لکھا جائے گا۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز زیارت یا کوئی اور نماز آپ کی قبر مبارک کے پیچھے یا سرہانے کی طرف جہاں بھی ادا کرے بہت بہتر ہے‘ اگر سرہانے کی طرف نماز پڑھنا چاہے تو ذرا پیچھے ہٹ کر پڑھے کہ اس کے کھڑے ہونے کی جگہ ٹھیک قبر کے سامنے نہ ہو کہ اس صورت میں نماز باطل ہوجاتی ہے۔ جبکہ ہمارے بہت سے زائرین اس مسئلے سے لاعلم ہیں امام جعفر صادق - سے ابو حمزہ ثمالی روایت کرتے ہیں کہ حضرت کے سر کی طرف دو رکعت نماز اس طرح بجا لائے کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ یاسین اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ رحمن پڑھے اگر چاہے تو حضرت کی قبر کے پیچھے بھی نماز پڑھ لے لیکن بالائے سر نماز پڑھنا زہادہ بہتر ہے۔ جب اس نماز سے فارغ ہو جائے تو پھر جو نماز چاہے‘ وہاںبجائے لائے لیکن یہ دو رکعت نماز بجا لانا ضروری ہے ہر اس قبر کے پاس جس کی زیارت کر رہا ہے۔ ابن قولویہرحمهالله نے امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایک شخص سے فرمایا: اے فلاں جب تمہیں کوئی حاجت درپیش ہو تو امام حسین- کی قبر شریف کے نزدیک جا کر چاررکعت نماز بجا لائو اور پھر اپنی حاجت طلب کرو۔ کیونکہ وہاں فریضہ نماز کا پڑھنا حج کے برابر اور نافلہ نماز کا پڑھنا عمرہ کے برابر ہے۔
حرم امام حسینعليهالسلام کے اعمال
( ۱ )جاننا چاہیے کہ حرم امام حسین- میں سب سے بہتر عمل دعا مانگنا ہے کہ آپ کے قبہ مبارک کے نیچے دعا کا قبول ہونا ان خصائص میں سے ہے۔ جو خدا وند کریم نے امام حسین- کو شہادت کے عوض میں عطا فرمائے ہیں۔ لہذا ہر زائر کو چاہیے کہ وہ اسے غنیمت سمجھے اور وہاں بہت زیادہ توبہ و استغفار اور گریہ و زاری کرے اور اپنی حاجات خداکے سامنے پیش کرے۔اس مقصد کیلئے بہت سی دعائیں وارد ہوئی ہیں ‘ اگر اختصار کی مشکل دامن گیر نہ ہوتی تو ہم یہاں ان میں سے چند ایک دعائیں نقل کرتے‘ بہرحال ان میں سب سے بہتر صحیفہ کاملہ کی دعائوں کا پڑھنا ہے اس باب کے آخر میں زیارت جامعہ کے بعد ایک دعا نقل کریں گے جس کو ہر امام کے حرم مبارک میں پڑھا جا سکتا ہے البتہ یہ نہ کہا جائے کہ ہم نے یہاں دعا نہیں لکھی۔
ہم ایک مختصر دعا جو بعض زیارتوں کے ذیل میںنقل ہو چکی ہے وہ یہاں درج کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ قَدْ تَریٰ مَکَانِی، وَتَسْمَعُ کَلامِی، وَتَریٰ مَقَامِی وَتَضَرُّعِی وَمَلاذِی بِقَبْرِ
اے معبود! تو میری جگہ دیکھ رہا ہے میری بات سن رہا ہے میرا مقام دیکھ رہا ہے میری زاری اورپناہ طلبی کو بھی
حُجَّتِکَ وَابْنِ نَبِیِّکَ، وَقَدْ عَلِمْتَ یَا سَیِّدِی حَوَائِجِی وَلاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ
جو تیری حجت اور تیرے نبی کے فرزند کی قبر کے ذریعے کرتا ہوں تو جانتا ہے اے میرے سردار میری حاجات کو جانتا ہے اور میری
حالِی وَقَدْ تَوَجَّهْتُ إلَیْکَ بِابْنِ رَسُولِکَ وَحُجَّتِکَ وَأَمِینِکَ وَقَدْ أَ تَیْتُکَ مُتَقَرِّباً بِهِ
حالت تجھ سے پوشیدہ نہیں میں تیری طرف متوجہ ہوں تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند تیری حجت اور تیرے امین کے ذریعے سے تیرا
إلَیْکَ وَ إلی رَسُو لِکَ فَاجْعَلْنِی بِهِ عِنْدَکَ وَجِیهاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ
اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قرب چاہتا ہوں پس انکے واسطے سے مجھے اپنے حضور عزت دار بنا دنیا و آخرت میں اور مقربین میں سے قرار دے
وَأَعْطِنِی بِزِیارَتِی أَمَلِی وَهَبْ لِی مُنَایَ وَتَفَضَّلْ عَلَیَّ بِشَهْوَتِی وَرَغْبَتِی وَاقْضِ
پس اس زیارت کے واسطے میری آرزو برلا میری تمنا پوری فرما میری خواہش اور شوق کے مطابق احسان فرما میری
لِی حَوآئِجِی، وَلاَ تَرُدَّنِی خائِباً، وَلاَ تَقْطَعْ رَجائِی، وَلاَ تُخَیِّبْ دُعائِی، وَعَرِّفْنِی
حاجات پوری کر مجھے نا امید نہ پلٹا میری امید نہ توڑ میری دعا کو رد نہ کر میری تمام دعائوں
الْاِجابَةَ فِی جَمِیعِ مَا دَعَوْتُکَ مِنْ أَمْرِ الدِّینِ وَالدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَاجْعَلْنِی مِنْ عِبادِکَ
کو قبول فرما جو میں نے دین و دنیا کے بارے میں اور آخرت سے متعلق تجھ سے مانگی ہیں مجھے اپنے ان بندوں میں
الَّذِینَ صَرَفْتَ عَنْهُمُ الْبَلایا وَالْاََمْراضَ وَالْفِتَنَ وَالْاََعْراضَ مِنَ الَّذِینَ تُحْیِیهِمْ فِی
قرار دے جن سے تو نے مصیبتیں، بیماریاں‘ آزمائشیں اور تکلیفیں دور کیں جن کو امن کی زندگی
عافِیَةٍ وَتُمِیتُهمْ فِی عافِیَةٍ، وَتُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ فِی عافِیَةٍ وَتُجِیرُهُمْ مِنَ النَّارِ فِی عافِیَةٍ
دی ہے اور آسان موت دے گا پھر جنت میں آسائش دے گا اور جہنم سے اچھی طرح پناہ دے گا
وَوَفِّقْ لِی بِمَنٍّ مِنْکَ صَلاحَ مَا أُؤَمِّلُ فِی نَفْسِی وَأَهْلِی وَوُلْدِی وَ إخْوانِی
مجھے بھی اپنی طرف سے بہتری عطا فرما جسکی امید کرتا ہوں اپنے لیے اپنے کنبے کے لیے اپنی اولاد کے لیے اپنے بھائیوں کے لیے
وَمالِی وَجَمِیعِ مَا أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَیَّ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور اپنے مال کے لیے اور ان نعمتوں میں اضافہ کر جو مجھے دی ہیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
( ۲ )حرم امام حسین- کا ایک اور عمل حضرت پر درود و صلوات کاپڑھنا ہے روایت میں ہے کہ آپ کے کندھے کے برابر کھڑے ہو کر حضرت رسول اور امام حسین- پر درود و صلوات پڑھے سید بن طائوس نے مصباح الزائرین میں ایک زیارت کے ذیل میں آپ کیلئے یہ صلوات ذکر کی ہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَصَلِّ عَلَی الْحُسَیْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهِیدِ قَتِیل
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور رحمت فرما حسینعليهالسلام پر جو شہید مظلوم ہیں
الْعَبَرَاتِ وَأَسِیرِ الْکُرُبَاتِ صَلاةً نَامِیَةً زَاکِیَةً مُبارَکَةً یَصْعَدُ أَوَّلُها وَلاَ یَنْفَدُ آخِرُها
جن پر لوگ روتے ہیں کہ ان پر بڑی سختیاں ہوئیں ان پر وہ پاک اور بابرکت رحمت نازل فرماجو شروع ہی سے بلند ہونے لگے اور
أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَوْلادِ الْاََ نْبِیائِ وَالْمُرْسَلِینَ یَا رَبَّ الْعَالَمِینَ اَللّٰهُمَّ
کبھی ختم نہ ہونے پائے وہ بہترین رحمت جو تو نے نبیوں اور رسولوں کی اولاد پر کی ہو اے جہانوں کے پروردگار اے معبود!
صَلِّ عَلَی الْاِمامِ الشَّهِیدِ الْمَقْتُولِ الْمَظْلُومِ الْمَخْذُولِ وَالسَّیِّدِ الْقائِدِ وَالْعابِدِ الزَّاهِدِ
اس امام پر رحمت فرما جو شہید ہیں ان کو قتل کیا گیا ان پر ظلم ہوا ان کا ساتھ چھوڑا گیا وہ سردار سالار عبادت گزار قناعت
وَالْوَصِیِّ الْخَلِیفَةِ الْاِمامِ الصِّدِّیقِ الطُّهْرِ الطَّاهِرِ الطَّیِّبِ الْمُبَارَکِ، وَالرَّضِیِّ
کرنے والے وصی وجانشین امام صدیق پاک پاکیزہ نیک بابرکت پسندیدہ
الْمَرْضِیِّ، وَالتَّقِیِّ الْهادِی الْمَهْدِیِّ الزَّاهِدِ الذَّائِدِ الْمُجَاهِدِ الْعالِمِ، إمامِ الْهُدَی،
پسند کردہ پرہیز گار رہبر راہ یافتہ قناعت والے مدافعت کرنے والے جہادکرنے والے صاحب علم ہدایت کے
سِبْطِ الرَّسُولِ وَقُرَّةِ عَیْنِ الْبَتُولِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِیوَمَوْلایَ کَما عَمِلَ بِطاعَتِکَ،
امام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نواسے اور بتولعليهالسلام کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں اے معبود! میرے سردار اور میرے مولا پر رحمت نازل فرما جیسا کہ انہوں
وَنَهَیٰ عَنْ مَعْصِیَتِکَ وَبالَغَ فِی رِضْوانِکَ، وَأَ قْبَلَ عَلَی إیمانِکَ
نے تیری اطاعت کی تیری نافرمانی کرنے سے منع کیا تیری رضا مندی میں کوشاں رہے وہ تجھ پر ایمان کی طرف بڑھے
غَیْرَ قابِلٍ فِیکَ عُذْراً سِرَّاً وَعَلانِیَةً یَدْعُو الْعِبادَ إلَیْکَ وَیَدُلُّهُمْ عَلَیْکَ
انہوں نے نہاں و عیاں طور پر تیرے بارے میں عذر نہ مانا لوگوں کو تیری طرف بلاتے اور تیری طرف ان کی رہنمائی
وَقامَ بَیْنَ یَدَیْکَ یَهْدِمُ الْجَوْرَ بِالصَّوابِ، وَیُحْیِی السُّنَّةَ بِالْکِتابِ، فَعاشَ فِی
کرتے رہے وہ تیرے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ظلم کو اچھی طرح مٹایا سنت کو قرآن کے ساتھ ساتھ زندہ کیا تیری رضا میں تنگی کے
رِضْوانِکَ مَکْدُوداً، وَمَضیٰ عَلَی طاعَتِکَ وَفِی أَوْلِیائِکَ مَکْدُوحاً، وَقَضی إلَیْکَ
ساتھ زندگی گزاری اور تیری فرمانبرداری میں دنیا سے اٹھے اورتیرے دوستوں کے ساتھ سختی جھیلی جان سے گزر کر
مَفْقُوداً، لَمْ یَعْصِکَ فِی لَیْلٍ وَلاَ نَهارٍ، بَلْ جاهَدَ فِیکَ الْمُنافِقِینَ وَالْکُفَّارَ اَللّٰهُمَّ
تیرے پاس آئے انہوں نے شب و روز میں تیری نافرمانی نہیں کی بلکہ تیری خاطر منافقوں اور کافروں سے لڑتے رہے اے معبود!
فَاجْزِهِ خَیْرَ جَزائِ الصَّادِقِینَ الْاََ بْرارِ، وَضاعِفْ عَلَیْهِمُ الْعَذابَ وَ لِقاتِلِیهِ الْعِقابَ،
اس امام کو جزا دے بہترین جزا جو نیکو کار سچے لوگوں کے لیے ہے اور ان کے قاتلوں کے عذاب میں اضافہ کرتا رہ کہ امام
فَقَدْ قاتَلَ کَرِیماً، وَقُتِلَ مَظْلُوماً، وَمَضیٰ مَرْحُوماً، یَقُولُ أَ نَا ابْنُ رَسُولِ ﷲ
اچھے انداز سے لڑے اور ظلم سے قتل کیے گئے وہ رحمت پا کر دنیا سے گزرے جب کہہ رہے تھے میں خدا کے رسول
مُحَمَّدٍ وَابْنُ مَنْ زَکّیٰ وَعَبَدَ فَقَتَلُوهُ بِالْعَمْدِ الْمُعْتَمَدِ، قَتَلُوهُ عَلَی الْاِیمَانِ وَأَطَاعُوا
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا بیٹا ہوں زکوٰۃ دینے والے کا بیٹا ہوںآپ عبادت میں مشغول تھے کہ انہوں نے آپ کو جان بوجھ کر قتل کیا انہوں نے قتل کیا تو
فِی قَتْلِهِ الشَّیْطَانَ، وَلَمْ یُراقِبُوا فِیهِ الرَّحْمَٰنَ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی سَیِّدِی وَمَوْلایَ
آپ ایمان پر تھے انہوں نے آپ کے قتل میں شیطان کی اطاعت کی اور خدائے رحمن کا لحاظ نہ کیا اے معبود! میرے آقا اور میرے
صَلاةً تَرْفَعُ بِهَا ذِکْرَهُ وَتُظْهِرُ بِهَا أَمْرَهُ، وَتُعَجِّلُ بِهَا نَصْرَهُ، وَاخْصُصْهُ بِأَفْضَلِقِسَمِ
مولا حسینعليهالسلام پر رحمت فرما وہ رحمت جس سے انکا ذکر بلند ہو ان کا مقصد عیاں ہو ان کی کامیابی میں جلدی ہو اور ان کو
الْفَضائِلِ یَوْمَ الْقِیامَةِ، وَزِدْهُ شَرَفاً فِی أَعْلَیٰ عِلِّیِّینَ، وَبَلِّغْهُ أَعْلَی شَرَفِ
قیامت کے دن بہترین فضیلتیں دے کر ممتاز فرما مقام اعلیٰ علیین میں ان کامرتبہ بڑھا ان کو عزت داروں میں بڑی عزت دے
الْمُکَرَّمِینَ، وَارْفَعْهُ مِنْ شَرَفِ رَحْمَتِکَ فِی شَرَفِ الْمُقَرَّبِینَ فِی الرَّفِیعِ الْاََعْلَیٰ
ان کو اپنی رحمت سے بزرگی دے کر مقرب لوگوں میں بڑائی عطا کر اور بلند سے بلند مقام پر پہنچا
وَبَلِّغْهُ الْوَسِیلَةَ، وَالْمَنْزِلَةَ الْجَلِیلَةَ، وَالْفَضْلَ وَالْفَضِیلَةَ، وَالْکَرامَةَ الْجَزِیلَةَ
ان کو وسیلے سے ہمکنار کر اور بلند ترمقام سے سرفراز فرما اور ان کو بلندی بڑائی اور ہمیشہ رہنے والی پائیدار بزرگی دے
اَللّٰهُمَّ فَاجْزِهِ عَنَّا أَفْضَلَ مَا جازَیْتَ إماماً عَنْ رَعِیَّتِهِ وَصَلِّ عَلَی سَیِّدِی وَمَوْلایَ
اے معبود! ہماری طرف سے ان کو کسی امام کے پیروکاروں کی طرف سے دی جانے والی بہترین جزا دے اور آقاو مولا پر رحمت فرما
کُلَّما ذُکِرَ وَکُلَّما لَمْ یُذْکَرْ، یَا سَیِّدِی وَمَوْلایَ أَدْخِلْنِی فِی حِزْبِکَ وَزُمْرَتِکَ، وَ
اس وقت جب انہیں یاد کیا جائے اور جب یاد نہ کیا جائے اے میرے سردار میرے مولا مجھے اپنے گروہ اور اپنی جماعت میں داخل
اسْتَوْهِبْنِی مِنْ رَبِّکَ وَرَبِّی فَ إنَّ لَکَ عِنْدَ ﷲ جاهاً وَقَدْراً وَمَنْزِلَةً
فرمائیں اور میرے لیے اپنے اور میرے رب سے بخشش طلب کریں کہ خدا کے ہاں آپ کا مرتبہ بلندہے قدر وشرف والے ہیں
رَفِیعَةً، إنْ سَأَلْتَ أُعْطِیتَ، وَ إنْ شَفَعْتَ شُفِّعْتَ، ﷲ ﷲ فِی عَبْدِکَ وَمَوْلاکَ لاَ
اور اونچا مقام ہے اگر آپ طلب کریں تو عطا کیا جائے گا اگر شفاعت کریں تو قبول ہو گی خدا کے لیے اپنے اس غلام بندے کو نظر
تُخَلِّنِی عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْاََهْوَالِ لِسُوئِ عَمَلِی، وَقَبِیحِ فِعْلِی، وَعَظِیمِ جُرْمِی، فَ إنَّکَ
انداز نہ کریں یعنی مجھے ان مشکلوںاور اندیشوں میں اس لیے نہ چھوڑیں کہ میرا عمل برا کام ناروا اور جرم بڑا ہے کیونکہ
أَمَلِی وَرَجَائِی وَثِقَتِی وَمُعْتَمَدِی وَوَسِیلَتِی إلَی ﷲ رَبِّی وَرَبِّکَ لَمْ یَتَوَسَّلِ
آپ میری امید میری آرزو‘ میرا سہارا میرا بھروسہ اور میرا وسیلہ ہیں خدا کے حضور جو میرا اور آپ کا رب ہے
الْمُتَوَسِّلُونَ إلَی ﷲ بِوَسِیلَةٍ هِیَ أَعْظَمُ حَقّاً، وَلاَ أَوْجَبُ حُرْمَةً، وَلاَ أَجَلُّ قَدْراً
کسی وسیلہ بنانے والے نے ایسا وسیلہ نہیں بنایا جسکا خدا کیطرف سے زیادہ عظیم حق رہا ہو جسکی حرمت واجب ہو اور جسکی شان بلند ہو
عِنْدَهُ مِنْکُمْ أَهْلَ الْبَیْتِ لاَ خَلَّفَنِیَ ﷲ عَنْکُمْ بِذُنوُبِی، وَجَمَعَنِی وَ إیَّاکُمْ فِی
خدا کے نزدیک سوائے آپکے اے اہلبیتعليهالسلام اللہ مجھے میرے گناہوں کی وجہ سے آپ سے جدا نہ کرے اور آپ کیساتھ رکھے جنت کے باغوں
جَنَّةِ عَدْنٍ الَّتِی أَعَدَّها لَکُمْ وَلاََِوْلِیائِکُمْ إنَّهُ خَیْرُ الْغافِرِینَ وَأَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
میں جو اس نے آپ کیلئے تیار کیے اور آپ کے دوستوں کے لیے بے شک وہ بہترین بخشنے والا اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
اَللّٰهُمَّ أَبْلِغْ سَیِّدِی وَمَوْلایَ تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً وَارْدُدْ عَلَیْنا مِنْهُ السَّلامَ إنَّکَ
اے معبود!میرے سردا ر اور مولا کو بہت بہت درود و سلام پہنچا اور ان کی طرف سے ہم پر سلام وارد فرما بے شک
جَوادٌ کَرِیمٌ، وَصَلِّ عَلَیْهِ کُلَّما ذُکِرَ اَلسَّلَامُ وَکُلَّما لَمْ یُذْکَرْ یَا رَبَّ الْعالَمِینَ
تو دینے والا ہے بڑا سخی اور ان پر رحمت فرما جب ان کا ذکر ہو اور جب ان کا ذکر نہ ہو اے جہانوں کے پروردگار۔
مولف کہتے ہیں:ہم نے اس زیارت کویوم عاشورہ کے اعمال میں ذکر کیا ہے اور ائمہ کیلئے صلوات جو اس باب کے آخر میں نقل کریں گے ان میں ایک مختصر صلوات امام حسین- کے لیے بھی درج کی جائے گی۔ حرم مبارک میں اس کا پڑھنا بھی ترک نہ کرے۔
( ۳ )اس روضہ مقدس کے اعمال میں مظلوم کی ظالم کے خلاف ایک دعا بھی ہے یعنی جو شخص ظالم سے پریشان اور مضطر ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس حرم میں یہ دعا پڑھے جسے، شیخ الطائفہرحمهالله نے مصباح المتہجد میں روز جمعہ کے اعمال میں ذکر فرمایا ہے اس دعا کا قبر امام حسین- کے پاس پڑھنا مستحب ہے اور وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعْتَزُّ بِدِینِکَ، وَأکْرُمُ بِهِدایَتِکَ، وَفُلانٌ یُذِلُّنِی بِشَرِّهِ، وَیُهِینُنِی بِأَذِیَّتِهِ،
اے معبود! مجھے تیرے دین کے ذریعے عزت ملی اور اس روضہ سے شرف ملا لیکن فلاں نے اپنی بدی سے مجھے خوار کیااپنی اذیت سے مجھے رسوا کیا
وَیُعِیبُنِی بِوَلائِ أَوْلِیَائِکَ، وَیَبْهَتُنِی بِدَعْواهُ وَقَدْ جِئْتُ إلی مَوْضِعِ الدُّعَاءِ وَضَمَانِکَ
تیرے اولیائ کی ولایت کے باعث مجھے معیوب کیا اور ناروا باتوں سے مجھے مبہوت کر دیا ہے اب میں دعا مانگنے اس جگہ آیاہوں جہاں پر قبول کرنے کی
الْاِجَابَةَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَعِدْنِی عَلَیْهِ، السَّاعَةَ السَّاعَةَ ۔ پھر خود کو
تو نے ضمانت دی ہے اے معبود! محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور مجھے اس ظالم پر غلبہ دے ابھی اسی وقت
قبر شریف پر گرائے اور کہے:مَوْلایَ إمامِی مَظْلُومٌ اسْتَعْدی عَلَی ظَالِمِهِ، النَّصْرَ النَّصْرَ
میرا مولا و امامعليهالسلام ہے جس پر ظلم ہوا میں ان پر ظلم کرنے والے کی شکایت کرتا ہوں مدد فرما مدد فرما ۔
کلمہ النصرکو اس وقت تک دہرائے جب تک سانس نہ ٹوٹے۔
( ۴ )روضہ امام حسین- کے اعمال میں ایک وہ دعا ہے جسے ابن فہدرحمهالله نے عدۃ الداعی میں امام جعفر صادق - سے روایت کیا ہے کہ جو شخص خدا وند عالم سے کوئی حاجت رکھتا ہو تو وہ روضہ امام حسین- پر سرہانے کی طرف کھڑے ہو کر یہ کہے:
یَا ٲَبا عَبْدِﷲ، ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ تَشْھَدُ مَقَامِی، وَتَسْمَعُ کَلامِی، وَٲَنَّکَ حَیٌّ عِنْدَ رَبِّکَ
اے ابو عبداللہ میںگواہ ہوں کہ آپ میرے کھڑے ہونے کی جگہ کو دیکھ رہے ہیں اورمیری بات سن رہے ہیں آپ اپنے رب کے
تُرْزَقُ،فَاسْأَلْ رَبَّکَ وَرَبِّی فِی قَضَائِ حَوَائِجِی
ہاں زندہ ہیں رزق پاتے ہیں پس اپنے اور میرے رب سے میری حاجات پوری ہونے کی دعا کریں۔
پس اس کی حاجت پوری ہو جائے گی۔
( ۵ ) اس حرم محترم کے اعمال میں دو رکعت نماز ہے جو سر اقدس کے پاس پڑھی جاتی ہے پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ رحمن اور دوسری رکعت میںسورہ حمد کے بعد سورہ ملک پڑھے سید ابن طائوس نے روایت کی ہے کہ جو شخص یہ نماز بجا لائے خدائے تعالیٰ اس کیلئے پچیس حج مقبولہ لکھے گا جو اس نے حضرت رسول کے ہمراہ کیے ہوں۔
( ۶ )اس حرم مبارک کے اعمال میں استخارہ بھی ہے اور اس کی کیفیت جیسا کہ علامہ مجلسیرحمهالله نے نقل فرمائی اور اصل روایت قرب الاسناد میں ہے کہ بہ سند صحیح حضرت امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جو شخص قبر امام حسین- کے سرہانے کھڑے ہو کر اپنے کسی مشکل کام میں سو مرتبہ طلب خیر کرے اور کہے:
وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلاَِ الَهَ اِلَّا ﷲ وَسُبْحَانَ ﷲ ۔
اور حمد ہے خدا کیلئے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں اور خدا پاک و پاکیزہ ہے۔
اس کے بعد خدائے تعالیٰ کی بڑائی اور ثنائ کے ساتھ اس کا ذکر کرے اور سو مرتبہ طلب خیر یعنی اپنی بہتری کی دعا کرے تو خدائے تعالیٰ ضرور وہ امر انجام دے گا جو اس شخص کے لیے مفید و بہتر ہو گا‘ ایک روایت میں آیا ہے کہ خدا سے طلب خیر اس طرح کرے۔
اَسْتَخِیْرُ ﷲ بِرَحْمَتِهٰ خِیِّرَةً فِیْ عَافِیَةٍ ۔
خدا سے بہتری کا طالب ہوں اس کی رحمت سے وہ بہتری جس میں آسائش ہو۔
( ۷ )شیخ اجل کامل ابوا القاسم جعفر بن قولویہ قمیرحمهالله نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:جب امام حسین- کی زیارت کیلئے جائے تو خیر اور بھلائی کے سوا کوئی کلام نہ کرے کیونکہ رات دن ملائکہ حفظہ ان فرشتوں کے پاس آتے ہیں جو امام حسین- کے روضہ اقدس پر مقیم ہیں وہ یہاں آ کر ان مقیم فرشتوں سے مصافحہ کرتے ہیں لیکن یہ ان کو شدت گریہ کی وجہ سے جواب نہیں دیتے اوروہ ہر وقت گریہ کرتے رہتے ہیں مگر زوال آفتاب اور طلوع فجر کے وقت خاموش ہوتے ہیں لہذا ملائکہ حفظہ ظہر کا انتظار کرتے ہیں اور طلوع فجر کے ظاہر ہونے تک انتظار کرتے ہیں اور ان دو اوقات میں ان سے کلام کرتے ہیں اور یہ آسمانی معاملات کے متعلق گفتگو کریں لیکن ان دو اوقات کے علاوہ قبر پر مقیم ملائکہ گفتگو نہیں کرتے اور گریہ اور دعا میں مشغول رہتے ہیں ۔ نیز آنجناب ہی سے روایت ہے کہ حق تعالیٰ چار ہزارفرشتے روضہ امام حسین- پر معین کرتا ہے کہ وہ صبح سے ظہر تک بال کھلے غبار آلود ،مصیبت والوں کیطرح گریہ کرتے رہتے ہیں اور ظہر کے وقت دوسرے چار ہزار بھیجے جاتے ہیں جو اگلی صبح تک حضرت پر روتے ہیں اور فرشتوں کے اس طرح بدل کر آنے جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس مضمون کی احادیث بہت زیادہ ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین- کے حرم پاک میں آپ پر رونا بڑا پسندیدہ فعل ہے بلکہ اسے اس حرم کے اعمال میں شمار کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ محبان اہلبیتعليهالسلام کے لیے رنج و غم کی جگہ اور مرثیہ پڑھنے کا مقام ہے ایک حدیث میں صفوان نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائکہ کا خدا کی بارگاہ میں اس طرح گریہ کرنا دراصل امیر المومنین- اور امام حسین- کے قاتلوں پر لعنت کرنے کے مترادف ہے ‘ اسی طرح جنات کے نوحہ کرنے اورامام حسین- کی ضریح کے اردگرد موجود ملائکہ کے گریہ کرنے اور اس قدر غم زدہ حال میں ہونے کی حالت کو اگر کوئی شخص دیکھ لے تو وہ کھانا پینا اور سونا چھوڑ دے۔ عبد اللہ بن حماد بصری نے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے مجھ سے فرمایا: میں نے سنا ہے کہ بعض اہل کوفہ اور دیگر مقامات کے لوگوں میں مرد و زن کی ایک تعداد ۵۱ شعبان کو قبر امام حسین- پر آکر بعض قرآن خوانی کرتے ہیں‘ بعض امام حسین- کی مصیبتوں کا ذکر کرتے ہیں اور ان پر نوحہ و مرثیہ پڑھتے ہیں۔
کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں آپ پر قربان ہو جائوں واقعاً ایسا ہی ہوتا ہے اور خود میں نے بھی ان چیزوں کو دیکھا ہے تب آپ نے فرمایا: حمد ہے ذات کر دگار کے لیے کہ جس نے لوگوں میں ایسے افراد پیدا کیے ہیں جو ہمارے پاس آتے ہیں ہماری مدح کرتے ہیں اور ہم پر نوحہ کرتے ہیں اور ہمارے دشمنوں پر لعن طعن کرتے ہیں ان کے فعل کو برا سمجھتے ہیں اور اس پر انہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں اسی حدیث کے آغاز میں فرمایا گیا ہے کہ ایسے افراد بھی ہیں جو امام حسین- کی زیارت کو جاتے ہیں اور ان پر روتے ہیں ان میں سے جو حضرت کی زیارت کو نہیں جاتا وہ بھی ان کی مصیبتوں پر رنجیدہ ہوتا ہے اور جب آپ کو یاد کرتا ہے تومارے غم کے اس کا دل جلتا ہے زیارت کو گیا ہوا شخص جب آپ کے فرزند کی قبر کو دیکھتا ہے جو آپ کی پائنتی میں واقع ہے تو وہ یاد کرتا ہے کہ آپ کا یہ فرزند صحرا میں پڑا ہے لوگوں نے ان کا حق غصب کیا اور چند کافر و مرتد افراد نے باہم مل کر ان کو شہید کر دیا اور انہیں دفن تک نہیں کیا فرات کا پانی ان پر بند کیا جب کہ جنگلی جانور اس سے سیراب ہوتے رہے اس طرح انہوں نے ان کے حق کو پامال کیا اور حضرت رسول کے حق اور وصیت کو ضائع کیا جو آنحضرت نے اپنے اہلبیعليهالسلام ت کیلئے کی تھی (مدعا یہ ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو اہل بیت کے حقوق کو پہنچانتے ہیں اور نہ پہنچاننے والے بھی موجود ہیں)۔
نیز ابن قولویہرحمهالله نے حارث اعور سے روایت کی ہے کہ حضرت امیر المومنین- نے فرمایا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں حضرت امام حسین- پر کہ جو پشت کوفہ میں شہید ہوں گے قسم بخدا گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بیابان کے حیوان شام سے صبح تک ان کی قبر کے اردگرد جمع ہو کر ان پر گریہ کر رہے ہیں:
پس جب یہ صورت ہے تو تمہیں ان پر جفا نہ کرنا چاہیے۔
( ۸ )سید بن طائوس نے فرمایا: مستحب ہے کہ جب زائر آنجناب کی زیارت سے فارغ ہو کر باہر آنا چاہے تو خود کو ضریح مبارک سے لپٹائے اس پر بوسہ دے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفْوَةَ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے میرے مولا آپ پر سلام ہواسے خدا کی حجت آپ پر سلام ہو اے خدا کے پسند یدہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَالِصَةَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قَتِیلَ الظَّمائِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا غَرِیبَ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے مقرب خاص آپ پر سلام ہو اے تشنہ لب مقتول آپ پر سلام ہو اے تنہائوں سے
الْغُرَبائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ سَلامَ مُوَدِّعٍ لاَ سَئِمٍ وَلاَ قَالٍ، فَ إنْ أَمْضِ فَلا عَنْ مَلالَةٍ وَ
تنہا آپ پر سلام ہواس وداع کرنے والے کا جو نہ تھکا ہے نہ اکتایا ہے پس اگر میں جائوں تو ا س کی وجہ کوئی رنج نہیں اور اگر ٹھہروں
إنْ أُقِمْ فَلا عَنْ سُوئِ ظَنٍّ بِما وَعَدَ ﷲ الصَّابِرِینَ، لاَ جَعَلَهُ ﷲ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی
تو مجھے کوئی بدگمانی نہیں اس وعدے پر جو خدا نے صابروں سے کررکھا ہے خدا اس زیارت کو میرے لیے آپ کی آخری
لِزِیارَتِکَ ، وَرَزَقَنِیَ ﷲ الْعَوْدَ إلی مَشْهَدِکَ، وَالْمَقامَ بِفِنائِکَ، وَالْقِیامَ فِی حَرَمِکَ،
زیارت قرار نہ دے اور خدا مجھے نصیب کرے آپکی زیارت گاہ پر دوبارہ آنا آپکے آستان پر حاضر ہونا اور آپکے حرم میں قیام کرنا
وَ إیَّاهُ أَسْأَلُ أَنْ یُسْعِدَنِی بِکُمْ، وَیَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ
اور اس سے سوال کرتا ہوںکہ مجھے آپ کے وسیلے سے خوش بخت بنائے اور دنیاو آخرت میں مجھ کو آپ کے ساتھ رکھے ۔
تیسرا مقصد
کیفیت زیارت امام حسین- و حضرت عباس-
واضح رہے کہ حضرت امام حسین- کی جو زیارات نقل ہوئی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں ان میں سے پہلی قسم وہ ہیں جن کے پڑھنے کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے انسان انہیں جس وقت چاہے پڑھ سکتا ہے ان کو زیارات مطلقہ کہا جاتا ہے دوسری قسم وہ زیارات ہیں جن کے پڑھنے کا مخصوص دن اور وقت مقرر ہے ان کو زیارات مخصوصہ کا نام دیا گیا ہے۔ان زیارتوں کا تذکرہ تین مطالب کے ضمن میں آرہا ہے ۔
پہلا مطلب
امام حسین- کی زیارات مطلقہ
یہاں امام حسین- کی بہت سی زیارات مطلقہ منقول ہیں ہم چند ایک کے تذکرے پر اکتفا کریں گے ۔
پہلی زیارت
شیخ کلینیرحمهالله نے کافی میں حسین بن ثویر سے روایت کی ہے کہ وہ کہہ رہے تھے میں یونس بن ظبیان،مفضل بن عمر اور ابو سلمہ سراج امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر تھے یونس بن ظبیان اور میرے درمیان گفتگو ہو رہی تھی جو عمر میں ہم سے بڑے تھے، انہوں نے امام کی خدمت میں گزارش کی کہ آپ پر قربان جائوں! کبھی کبھار میں بنی عباس کی مجلس میں جا بیٹھتا ہوں لہذا اس وقت مجھ کو کیا پڑھنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا کہ جب تم انکے ہاں جائو اور وہاں ہمیں یاد کرو تو یہ پڑھو:
اَللّٰهُمَّ اَرِنَا الرَّخَآئَ وَالسُّرُوْرَ
اے معبود! ہمیں آسائش و مسرت کا وقت دکھا۔
تاکہ جو ثواب تم چاہتے ہو وہ ہماری رجعت میں حاصل کر لو‘ اس نے کہا میں آپ پر فدا ہو جائوں! میں امام حسین- کو بہت یاد کرتا ہوں، اس وقت مجھے کیا پڑھنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا کہ اس وقت یہ پڑھا کرو:
صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ یَا اَبَا عَبْدِ ﷲں
خدا رحمت کرے آپ پر اے ابو عبداعليهالسلام للہ۔
کیونکہ امامعليهالسلام پر دور و نزدیک سے سلام پہنچ جاتا ہے پھر ارشاد فرمایا کہ جس زمانے میں امام حسین- کو شہید کیا گیا تو آپ پر سات آسمانوں‘ سات زمینوں اور ہراس شے نے گریہ کیا جو، ان میں ہے اور جو ان کے درمیان ہے نیز جو چیزیں جنت میں اور جو جہنم میں خلق کی گئی ہیں حتیٰ کہ جو چیزیں دیکھی جا سکتی ہیںاور جو چیزیں نہیں دیکھی جا سکتیں سب نے آپ پر گریہ و بکا کی سوائے تین چیزوں کے جنہوں نے آپ پر گریہ نہیں کیا میںنے عرض کی آپ پر قربان ہو جائوں! وہ کون سی تین چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ بصرہ ، دمشق اور آل عثمان ہیں اسکے ساتھ ہی میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان جائوں! میں امام حسین- کی زیارت کو جانا چاہتا ہوں تو وہاں جا کر کیا کروں اور کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا کہ جب آنجنابعليهالسلام کی زیارت کو جائو تو پہلے دریائے فرات پر غسل کرو‘ پاکیزہ لباس پہنو اور حرم پاک کی طرف ننگے پائوں چلو کہ تم خدا اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حرموں میں سے ایک حرم کی طرف جا رہے ہو‘ حرم کی جانب جاتے ہوئے بار بار یہ پڑھتے ہوئے چلو:
ﷲ اَکْبَرُ وَ لاَ اِلٰهَ اِلاَّ ﷲ وَ سُبْحَانَ ﷲ
خدا بزرگتر ہے اور خدا کے سوائ کوئی معبود نہیںخدا پاک و منزہ ہے ۔
اس کے علاوہ ہروہ ذکر دہرائو جس میں خدائے تعالیٰ کی بزرگی اور بڑائی کا بیان ہو‘ نیز محمد و آل محمد پر درود بھیجتے جائو یہاں تک کہ حرم حسینی کے دروازے پر پہنچ جائو پس اس وقت یہ کہو:
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ وَ ابْنَ حُجَّتِهٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا مَلآئِکَةَ ﷲ وَ زُوَّارِقَبْرِ
آپ پر سلام ہو اے حجت خدا کے فرزند سلام ہوتم پر اے خدا کے فرشتواور نبی خدا کے فرزند کی قبر
ابْنِ نَبِیِّ ﷲ اسکے بعد دس قدم چل کر رک جائو اور تیس بار یہ کہو: ﷲ اَکْبَرُ پھر قبر مبارک کی طرف جاؤ
پر حاضری دینے والو خدا بزرگتر ہے۔
قبلہ کو اپنے دونوں کندھوں کے درمیان قرار دو یعنی پشت قبلہ کھڑے ہو جاؤ اور اپنا چہرہ قبر مبارک کی طرف کر کے پڑھو :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ وَابْنَ حُجَّتِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قَتِیلَ ﷲ وَابْنَ قَتِیلِهِ
آپ پر سلام ہو اے حجت خدا اور حجت خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے کشتہ راہ خدا اور کشتہ راہ خدا کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثَارَ ﷲ وَابْنَ ثَارِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وِتْرَ ﷲ الْمَوْتُورَ فِی
آپ پر سلام ہوجن کے خون کا بدلہ خدا لے گا اور ایسے خون والے کے فرزند آپ پر سلام ہو اے مقتول راہ خدا کہ آپ کا خون
السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ أَشْهَدُ أَنَّ دَمَکَ سَکَنَ فِی الْخُلْدِ وَاقْشَعَرَّتْ لَهُ أَظِلَّةُ الْعَرْشِ
آسمانوں اور زمین پر برسا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا خون بہشت میں ٹھہرا جس سے عرش کے پردے لرزنے لگے
وَبَکَیٰ لَهُ جَمِیْعُ الْخَلائِقِ وَبَکَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْاََرَضُونَ السَّبْعُ وَمَا فِیهِنَّ
اس خون پر کائنات روئی اور اس پر ساتوں آسمان ساتوں زمینیں روئیں اور جو کچھ ان میں ہے
وَمَا بَیْنَهُنَّ، وَمَنْ یَتَقَلَّبُ فِی الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مِنْ خَلْقِ رَبِّنا، وَمَا یُریٰ وَمَا لاَ یُریٰ
اور جو ان کے درمیان ہے اور جو کچھ جنت و جہنم میں حرکت کرتا ہے وہ رویا ہمارے رب کی مخلوق سے وہ نظر آتا ہے یا نطر نہیں آتا
أَشْهَدُ أَنَّکَ حُجَّةُ ﷲ وَابْنُ حُجَّتِهِ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ قَتِیلُ ﷲ وَابْنُ قَتِیلِهِ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ حجت خدا اور حجت خدا کے فرزند ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کشتہ راہ خدا ور کشتہ راہ خدا کے فرزند ہیں
وَأَشْهَدُ أَنَّکَ ثارُ ﷲ وَابْنُ ثارِهِ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ وِتْرُ ﷲ الْمَوْتُورُ فِی السَّمٰوَاتِ
میں گواہی دیتا ہوں خدا آپکے اور آپکے والد کے خون کا بدلہ لے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ راہ خدا کے مقتول ہیں جسکا خون آسمانوں
وَالْاََرْضِ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَنَصَحْتَ وَوَفَیْتَ وَأَوْفَیْتَ، وَجاهَدْتَ فِی سَبِیلِ
اور زمینوں میں برسا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے تبلیغ فرمائی خیر اندیشی کی آپ نے وفا کی حق ادا کیا اور خدا کی راہ میں پوری
ﷲ، وَمَضَیْتَ لِلَّذِی کُنْتَ عَلَیْهِ شَهِیداً وَمُسْتَشْهِداً وَشاهِداً وَمَشْهُوداً أَنَا عَبْدُﷲ
طرح جہاد کیا آپ اس ذات کے مطیع رہے جس پر آپ گواہ رہے اس پر گواہی لیتے رہے اسکے شاہد ہیں اور مشہود تھے میں خدا کا بندہ ہوں
وَمَوْلاکَ وَفِی طاعَتِکَ وَالْوافِدُ إلَیْکَ أَلْتَمِسُ کَمالَ الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ ﷲ، وَثَباتَ
آپکا محب ہوں آپکی خدمت میں حاضر ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ میں خدا کے ہاں بلند مرتبے کی خواہش رکھتا ہوںآپ کی طرف
الْقَدَمِ فِی الْهِجْرَةِ إلَیْکَ، وَالسَّبِیلَ الَّذِی لاَ یَخْتَلِجُ دُونَکَ مِنَ الدُّخُولِ فِی کِفالَتِک
سفر کرنے میں ثابت قدمی چاہتا ہوں اور وہ راستہ پانا چاہتا ہوں جس میں آپ کی قربت اور کفالت
الَّتِی أُمِرْتَ بِها مَنْ أَرادَ ﷲ بَدَأ بِکُمْ، بِکُمْ یُبَیِّنُ ﷲ الْکَذِبَ
کے حصول میں رکاوٹ نہ ہو جس کا آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ خدا اپنا ارادہ آپ کے ذریعے ظاہر کرتا ہے آپ کے ذریعے جھوٹ کو
وَبِکُمْ یُبَاعِدُ ﷲ الزَّمَانَ الْکَلِبَ، وَبِکُمْ فَتَحَ ﷲ، وَبِکُمْ
آشکار کرتا ہے آپ کے وسیلے سے خدا نے برے وقت سے نجات دی خدا نے آپ کے ذریعے ﷲ نے افتتاح کیااور آپ ہی پر
یَخْتِمُ ﷲ، وَبِکُمْ یَمْحُو مَا یَشائُ وَیُثْبِتُ، وَبِکُمْ یَفُکُّ الذُّلَّ مِنْ رِقابِنا، وَبِکُمْ یُدْرِکُ
اختتام کریگا آپکے ذریعے جو چاہے لکھتا اور مٹاتا ہے اور آپ کے وسیلے سے ہمیں ذلت سے نکالتا ہے اور آپکے وسیلے سے ہی خدا
ﷲ تِرَةَ کُلِّ مُؤْمِنٍ یُطْلَبُ بِها وَبِکُمْ تُنْبِتُ الْاََرْضُ أَشْجارَها وَبِکُمْ تُخْرِجُ الْاََرْضُ
ہر مومن کے خون ناحق کا بدلہ لیتا ہے اور آپ کے وسیلے سے زمین درختوں کو اگاتی ہے آپ ہی کے وسیلے سے زمین اپنے خزانے
ثِمارَها وَبِکُمْ تُنْزِلُ السَّمائُ قَطْرَها وَرِزْقَها، وَبِکُمْ یَکْشِفُ ﷲ الْکَرْبَ، وَبِکُمْ
ظاہر کرتی ہے آپکے وسیلے سے آسمان سے بارش اور رزق نازل ہوتا ہے آپکے وسیلے سے خد امصیبت دور کرتا ہے آپکے وسیلے سے
یُنَزِّلُ ﷲ الْغَیْثَ، وَبِکُمْ تُسَبِّحُ الْاََرْضُ الَّتِی تَحْمِلُ أَبْدانَکُمْ وَتَسْتَقِرُّ جِبَالُها عَلَی
خدا بارش برساتا ہے اور آپکے وسیلے سے زمین تسبیح کرتی ہے جس نے آپکے بدن اٹھا رکھے ہیں آپ کے ذریعے پہاڑ اپنی قرار گاہ پر
مَراسِیها إرادَةُ الرَّبِّ فِی مَقادِیرِ أُمُورِهِ تَهْبِطُ إلَیْکُمْ وَتَصْدُرُ مِنْ بُیُوتِکُمْ وَالصَّادِرُ
قائم ہیں خدا کا ارادہ اس کے امور کی تقدیر میں ہے جو تمہاری طرف آتے ہیں اور تمہارے گھروں میں صادر ہوتے ہیں
عَمَّا فُصِّلَ مِنْ أَحْکامِ الْعِبادِ، لُعِنَتْ أُمَّةٌ قَتَلَتْکُمْ، وَأُمَّةٌ
اور وہ فیصلے نافذ ہوتے ہیں جو خدا بندوں کے بارے میں کرتا ہے لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیا لعنت ہو اس گروہ پر جو
خالَفَتْکُمْ، وَأُمَّةٌ جَحَدَتْ وِلایَتَکُمْ، وَأُمَّةٌ ظَاهَرَتْ عَلَیْکُمْ، وَأُمَّةٌ
آپ کا مخالف ہوا لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ کی ولایت کو نہ مانا لعنت ہو اس گروہ پر جو آپ کے دشمن کا معاون بنا لعنت ہو
شَهِدَتْ وَلَمْ تُسْتَشْهَدْ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی جَعَلَ النَّارَ مَأْوَاهُمْ، وَبِئْسَ وِرْدُ
اس گروہ پر جو وہاں موجود تھا اور آپکے ساتھ شہید نہ ہوا تعریف اس خدا کیلئے ہے جس نے جہنم میں ان کا ٹھکانہ بنایا اور وہ آنے والوں
الْوَارِدِینَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ ۔ پھر تین مرتبہ کہے:صَلَّیٰ
کے لئے کتنی بری جگہ ہے اور وہاں آنا کتنا برا ہے پس حمد خدا کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے خدا کی
ﷲ عَلَیْکَ یَا اَبَا عَبْدِﷲ تین مرتبہ یہ کہے:اِنَّا اِلیٰ ﷲ مِمَّنْ خَالَفَکَ بَرِیٌ ۔
رحمت ہو آپ پر اے ابو عبدعليهالسلام ﷲ میں خدا کے سامنے الگ ہوں آپکے مخالف سے ۔
اس کے بعد امام حسین- کے فرزند جناب علی اکبرعليهالسلام کی قبر شریف کی طرف جائے جو آپ کے پائوں کی جانب ہے ‘ وہاں کھڑے ہو کر یہ زیارت پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
سلام ہوآپ پر اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیر المومنینعليهالسلام کے فرزند آپ پر سلام ہو
یَابْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خَدِیجَةَ وَفاطِمَةَ، صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ،
اے حضرات حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کے فرزند سلام ہو آپ اے خدیجہ الکبری و فاطمہعليهالسلام کے فرزند خدا رحمت کرے آپ پر
صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ، لَعَنَ ﷲ مَنْ قَتَلَکَ اس فقرے کو بھی تین مرتبہ دہرائے
خدا رحمت کرے آپ پر خدا رحمت کرے آپ پر، خدا لعنت کرے آپ کے قاتل پر۔
اور پھر تین مرتبہ کہے:أَنَا إلَی ﷲ مِنْهُمْ بَرِیئٌ ۔
میں خدا کے سامنے ان سے بری ہوں۔
اس کے بعد گنج شہیداں میں شہدا کی طرف اشارہ کر کے انکی زیارات اسطرح پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، فُزْتُمْ وَﷲ، فُزْتُمْ وَﷲ، فُزْتُمْ
سلام ہو تم پر سلام ہو تم سب پر سلام ہو تم پر کہ تم کامیاب ہوئے بخدا تم کامیاب ہوئے بخدا تم کامیاب ہوئے
وَﷲ، فَلَیْتَ أَ نِّی مَعَکُمْ فَأَ فُوزَ فَوْزاً عَظِیماً
بخدااگر میں بھی تمہارے ساتھ ہوتا تو مجھے بھی عظیم کامیابی نصیب ہوتی ۔
پھر امام حسین- کی ضریح مبارک پر آئے اور اسکی پشت کیطرف کھڑے ہو کر چھ رکعت نماز زیارت اداکرے یعنی دو رکعت نماز زیارت امام حسین- دو رکعت نماز زیارت جناب علی اکبرعليهالسلام اور دو رکعت نماز زیارت شہدائ رضوان اللہ علیہم کیلئے ادا کرے پس یہ نماز ادا کرنے سے زیارت کے اعمال مکمل ہو جائینگے‘ اسکے بعد چاہے واپس چلا جائے اور چاہے تو وہاں چند روز مزیدقیام کرے۔
مؤلف کہتے ہیں شیخ طوسیرحمهالله نے تہذیب الاحکام میں اور شیخ صدوقرحمهالله نے من لا یحضرہ الفقیہ میں یہ زیارت نقل کی ہے شیخ صدوقرحمهالله نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے مقتل اور مزار کی کتاب میں کئی ایک زیارتیں نقل کی ہیں لیکن یہاں یہ زیارت اس لیے درج کی ہے کہ یہ سند کے اعتبار سے دیگر زیارتوں کی نسبت زیادہ معتبر ہے اور میں اسے کافی سمجھتا ہوں۔
دوسری زیارت
شیخ کلینیرحمهالله نے امام علی نقی - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا امام حسین- کی قبر شریف کے پاس یہ زیارت پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ فِی أَرْضِهِ وَشَاهِدَهُ عَلَی
آپ پر سلام ہو اے ابو عبد اللہ آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین پر اس کی حجت اور اس کی مخلوق پر
خَلْقِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ عَلِیٍّ الْمُرْتَضی اَلسَّلَامُ
اس کے گواہ آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند آپ پر سلام ہواے علی مرتضیعليهالسلام کے فرزند آپ پر
عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ، أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ أَ قَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ
سلام ہو اے فاطمہعليهالسلام زہرا کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی زکوٰۃ دی نیک کاموں کا
بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَجاهَدْتَ فِی سَبِیلِ ﷲ حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ فَصَلَّی
حکم دیا اور برے کاموں سے روکا اور آپ خدا کی راہ میں مصروف جہادرہے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے پس آپ پر خدا
ﷲ عَلَیْکَ حَیّاً وَمَیِّتاً ۔ پھر قبر مبارک پر دایاں رخسار رکھے اور کہے:أَشْهَدُ أَ نَّکَ عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ
رحمت کرے دوران زندگی اور بعد موت میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اپنی روش میں اپنے رب کی روشن دلیل
رَبِّکَ، جِیْتُ مُقِرّاً بِالذُّنُوبِ لِتَشْفَعَ لِی عِنْدَ رَبِّکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ ۔پھر ائمہ اطہار کا
پر ہیں میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے حاضر ہوں کہ آپ اپنے رب کے حضور میری سفارش کریں اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا
نام لے اور کہے:أَشْهَدُ أَ نَّکُمْ حُجَجُ ﷲ ۔ پھر کہے:اکْتُبْ لِی عِنْدَکَ مِیثاقاً وَعَهْداً إنِّی
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سب خدا کی حجت ہیں۔ آپ میرے لیے اپنے ہاںاقرار و پیمان لکھیں کہ میں حاضر
أَتَیْتُکَ مُجَدِّداً الْمِیثاقَ فَاشْهَدْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ إنَّکَ أَنْتَ الشَّاهِدُ ۔
ہوا پیمان تازہ کرنے کے لیے پس آپ اپنے رب کے حضور میرے گواہ بنیں کیونکہ آپ ہی میرے گواہ ہیں۔
تیسری زیارت
یہ ایک مختصر زیارت ہے جسے سید بن طائوسرحمهالله نے مزار میں نقل کیا اور فرمایا ہے کہ اس زیارت کی فضلیت بہت زیادہ ہے‘ جابر جعفیرحمهالله نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:تمہارے اور امام حسین- کی قبر مبارک کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے؟ میں نے عرض کی کہ ایک دن کی مسافت سے کچھ زیادہ ہے! آپ نے فرمایا کیا تم آنجناب کی زیارت کرنے جایا کرتے ہو؟ میں نے عرض کی کہ ہاںجاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کیا میں تجھے اس کے ثواب کی خوشخبری نہ دوں؟ میں نے عرض کی ہاں میں آپ پر فدا ہو جائوں بشارت دیجئے! آپ نے فرمایا کہ بے شک جب تم میں سے کوئی شخص امام حسین- کی زیارت کیلئے تیار ہوتا ہے تو آسمان میں فرشتے ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں جب وہ سوار یا پیادہ اپنے گھر سے روانہ ہوتا ہے تو حق تعالیٰ ایک ہزار فرشتے اس پر مقرر کرتا ہے جو روضہ امام حسین- پر پہنچنے تک اس کے لیے طلب رحمت کرتے رہتے ہیں پھر فرمایا کہ جب وہ شخص روضہ امام حسین- کے دروازے پر پہنچتا ہے تو وہاں کھڑے ہو کر یہ کلمات زبان سے ادا کرتاہے تو خدائے تعالیٰ ہر کلمے کے بدلے میں اس پر رحمت بھیجتا ہے، میں نے عرض کی کہ وہ کلمات کون سے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ وہ کلمات یہ ہیں:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے آدمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے چنے ہوئے ہیں آپ پر سلام ہو اے نوحعليهالسلام کے وارث جو خدا کے نبی ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ مُوسی کَلِیمِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے ابراہیمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے خلیل ہیں سلام ہو آپ پراے موسیٰعليهالسلام کے وارث جو خدا کے کلیم ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِیسی رُوحِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ سَیِّدِ رُسُلِ
آپ پر سلام ہو اے عیسیٰعليهالسلام کے وارث جو خدا کی روح ہیں سلام ہوآپ پر اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وارث جو خدا کے رسولوں کے
ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَخَیْرِ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
سردار ہیں سلام ہو آپ پر اے علیعليهالسلام کے وارث جو مومنوں کے امیر اور اوصیائ میں سب سے بہتر ہیں آپ پر سلام ہو
یَا وارِثَ الْحَسَنِ الرَّضِیِّ الطَّاهِرِ الرَّاضِی الْمَرْضِیِّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الصِّدِّیقُ
اے حسنعليهالسلام کے وارث جو پسندیدہ پاک راضی شدہ پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ ہی صدیق
الْاََکْبَرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْوَصِیُّ الْبَرُّ التَّقِیُّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْاََرْواحِ الَّتِی
اکبر ہیں آپ پر سلام ہو اے وصی جو نیک کردارپرہیز گار ہیں سلام ہو آپ پر اور ان روحوں پر جو آپ کے آستانے پر
حَلَّتْ بِفِنائِکَ وَأَناخَتْ بِرَحْلِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْمَلائِکَةِ الْحَافِّینَ بِکَ أَشْهَدُ
حاضر ہوتی ہیں اور یہاں اپنی سواریاں کھڑی کرتی ہیں سلام ہو آپ پر اور ان فرشتوں پر جو آپکے گرد رہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں
أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ،
کہ آپ نے نماز قائم کی زکوٰۃ ادا کی ہے نیک کاموں کا حکم فرمایا اور برے کاموں سے منع کیا
وَجاهَدْتَ الْمُلْحِدِینَ، وَعَبَدْتَ ﷲ حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ
آپ نے بے دینوں سے جہاد کیا اور خدا کی بندگی میں رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت
ﷲ وَبَرَکاتُهُ
ہو اور اس کی برکات ہوں۔
پھر ضریح مبارک کی طرف چلے کہ اس کے اٹھائے جانے اور رکھے جانے والے ہر قدم کے بدلے میں اس کو ایسے شہید راہ خدا کا ثواب ملے گا جو اپنے خون میں غلطان ہو جب ضریح پاک کے قریب پہنچے تو رک جائے اور اپنا ہاتھ قبر شریف سے مس کرتے ہوئے یہ کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ فِیْ اَرْضِهٰ
آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین پر اس کی حجت۔
اسکے بعد نماز پڑھے کہ وہاں بجا لائی گئی ہر رکعت کے عوض اسے اس شخص جتنا ثواب ملے گا جو ہزار حج و عمرہ بجا لا چکا ہو ہزار غلام آزاد کیا ہو اور کسی پیغمبر مرسل کے ہمراہ رہ کر ہزار مرتبہ جہاد کیا ہو تھوڑے سے فرق کیساتھ اس روایت کا مضمون مفضل بن عمر کی روایت میں ذکر ہو چکا ہے۔
چوتھی زیارت
معاویہ بن عمار سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے امام جعفر صادق - سے عرض کی کہ جب میں امام حسین- کی زیارت کرنے جائوں تو وہاں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا کہ جب تم حضرت کی قبر مبارک پر جائو تو وہاںیہ زیارت پڑھو:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ رَحِمَکَ ﷲ یَا أَبا عَبْدِ
آپ پر سلام ہو اے ابو عبداعليهالسلام ﷲ خدا آپ پر درود بھیجے اے ابو عبدﷲعليهالسلام خدا آپ پر رحمت فرمائے اے ابو عبد
ﷲ، لَعَنَ ﷲ مَنْ قَتَلَکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ شَرِکَ فِی دَمِکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ
ﷲ، خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ کو قتل کیا خدا لعنت کرے اس پر جو آپ کا خون بہانے میں شریک ہواخدا لعنت کرے اس
بَلَغَهُ ذلِکَ فَرَضِیَ بِهِ، أَنَا إلَی ﷲ مِنْ ذلِکَ بَرِیئٌ
پر جو آپ کی شہادت کا سن کر خوش ہوا میں خدا کے سامنے اس جرم سے اظہار بے زاری کرتا ہوں۔
پانچویں زیارت
معبتر سند سے نقل ہوا ہے کہ امام موسیٰ کاظم - نے ابراہیم بن ابی البلاد سے فرمایا کہ جب تم امام حسین- کی زیارت کو جاتے ہو تو وہاں کیا پڑھتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں یہ کہا کرتا ہوں:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ
آپ پر سلام ہو اے ابو عبداعليهالسلام للہ آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ خدا کے فرزند میں گواہی دیتا ہوںکہ آپ نے نماز
الصَّلاةَ وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَدَعَوْتَ إلی سَبِیلِ
قائم کی زکوٰۃ ادا کی ہے آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برائیوں سے منع فرمایا آپ نے لوگوں کو اپنے رب کے راستے
رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ الَّذِینَ سَفَکُوا دَمَکَ وَاسْتَحَلُّوا
کی طرف بلایا دانشمندی اور بہترین نصیحت کے ساتھ میں گواہی دیتا ہوں یقیناً ان لوگوں نے آپ کا خون بہایا اور آپ کی
حُرْمَتَکَ مَلْعُونُونَ مُعَذَّبُونَ عَلَی لِسانِ داوُدَ وَعِیسَی بْنِ مَرْیَمَ ذلِکَ بِما عَصَوْا
بے احترامی کی وہ لعنتی اورعذاب والے ہیں دائودعليهالسلام اورعیسیٰعليهالسلام بن مریم(س) کی زبان مبارک پر نافرمانی
وَکانُوا یَعْتَدُونَ ۔اس پر حضرت نے فرمایا یہ صحیح ہے۔
اور ظلم کی وجہ سے۔
چھٹی زیارت
امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ آپ نے عمار ساباطی سے ارشاد فرمایا کہ جب تم امام حسین- کی ضریح مبارک کے پاس پہنچو تو یہ زیارت پڑھو:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیر المومنینعليهالسلام کے فرزند آپ پر سلام ہو
یَا أَبا عَبْدِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
اے ابو عبداللہ آپ پر سلام ہو اے جنت کے جوانوں کے سردار خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ رِضَاهُ مِنْ رِضَی الرَّحْمَٰنِ وَسَخَطُهُ مِنْ سَخَطِ الرَّحْمَٰنِ
آپ پر سلام ہو اے خدا کی رضا سے راضی اور خدا کی ناراضگی میں ناراض ہونے والے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ ﷲ، وَحُجَّةَ ﷲ، وَبابَ ﷲ، وَالدَّلِیلَ عَلَی ﷲ، وَالدَّاعِیَ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے امانتدار خدا کی حجت دروازہ خدا کی طرف لے جانے والے اور خدا کی طرف بلانے والے
إلَی ﷲ، أَشْهَدُ أَ نَّکَ قَدْ حَلَّلْتَ حَلالَ ﷲ، وَحَرَّمْتَ حَرامَ ﷲ، وَأَ قَمْتَ الصَّلاةَ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے حلال خدا کو حلال بتایا اور حرام خداکو حرام قرار دیا آپ نے نماز قائم کی
وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَدَعَوْتَ إلَی سَبِیلِ رَبِّکَ
زکوٰۃ دی ہے آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برے کاموں سے منع فرمایا آپ نے اپنے رب کے راستے کی
بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ وَمَنْ قُتِلَ مَعَکَ شُهَدائُ أَحْیائٌ عِنْدَ
طرف دانش مندی اور بہترین نصیحت کے ساتھ دعوت دی میںگواہی دیتا ہوں کہ جو افراد آپ کے ساتھ قتل ہوئے وہ شہیدہیں رب
رَبِّکُمْ تُرْزَقُونَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ قاتِلَکَ فِی النَّارِ، أَدِینُ ﷲ بِالْبَرائَةِ مِمَّنْ قَتَلَکَ
کے ہاں زندہ ہیں رزق پاتے ہیں میں گواہی دیتا ہوںکہ آپ کے قاتل جہنم میں ہیں میں خدا کے دین پر ہوں اس سے بیزار ہوں
وَمِمَّنْ قاتَلَکَ وَشایَعَ عَلَیْکَ وَمِمَّنْ جَمَعَ عَلَیْکَ، وَمِمَّنْ سَمِعَ صَوْتَکَ
جس نے آپکو قتل کیا جو آپ سے لڑا آپ کے دشمنوں کے ساتھ رہا جس نے آپ پر چڑھائی کی اور وہ بھی جس نے آپ کی پکار سنی
وَلَمْ یُعِنْکَ، یَا لَیْتَنِی کُنْتُ مَعَکُمْ فَأَ فُوزَ فَوْزاً عَظِیماً
اور آپ کی مدد نہ کی اے کاش کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا اور عظیم کامیابی حاصل کرتا۔
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ زیارت مزار ابن قولویہ سے نقل کی گئی ہے۔
ساتویں زیارت
شیخ نے مصباح میں صفوان جمال (ساربان) سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں: میں نے امام جعفر صادق - سے امام حسین- کی زیارت کیلئے اجازت مانگی اور یہ خواہش بھی کی آپ مجھے زیارت کے آداب اور طریقے تعلیم فرمائیں تب آپ نے فرمایا کہ اے صفوان زیارت کو جانے سے تین دن پہلے روزہ رکھو اور جب تیسرا روزہ رکھو تو اس دن غسل کرو اور اپنے اہل و عیال کو اکھٹا کر کے یہ دعا پڑھو:
اَللَّهُمَّ اِنِّیِ اَسْتَوْدِعُکَ ...تا آخر اور جب دریائے فرات کے کنارے پہنچو تو وہاں غسل کرو۔
اے معبود بے شک میں نے انہیں تیرے سپرد کیا ہے ۔
کیونکہ میرے پدر گرامی نے اپنے والد ماجد سے اور انہوں نے حضرت رسول سے خبر دی ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: میرا بیٹا حسین- میرے بعد فرات کے کنارے شہید کیا جائے گا۔
پس جو شخص ان کی زیارت کو جائے اور فرات میں غسل کرے تو اس کے گناہ اس طرح دھل جائیں گے جیسا کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ جب وہ دریائے فرات پر غسل کرے تواس دوران یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ نُوراً وَطَهُوراً وَحِرْزاً وَشِفائً مِنْ کُلِّ دائٍ وَسُقْمٍ
خدا کے نام اور خدا کی ذات سے اے معبود! قرار دے اس غسل کو روشن پاکیزہ اور شفا دینے والا ہر مرض ہر بیماری ہر آفت اور ہر
وآفَةٍ وَعاهَةٍ، اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ بِهِ قَلْبِی، وَاشْرَحْ بِهِ صَدْرِی، وَسَهِّلْ لِی بِهِ أَمْرِی
برائی سے بچانے والا اے معبود! پاک کر دے اس سے میرے دل کو کھول دے اس سے میرے سینے کو اور آسان کردے اسکے ذریعے میرا کام۔
جب غسل کر چکے تو پاکیزہ لباس پہنے اور اس گھاٹ کے قریب دو رکعت نماز بجا لائے کہ یہ وہی زمین ہے جس کی شان خدا نے بیان کی ہے اورزمین کے کئی حصے آپس میں ملے ہوئے ہوتے ہیں‘ انگور کے باغ کھیتی اور کھجور کے درخت کہ بعض کی ایک جڑ دو شاخیں اور بعض کی ایک شاخ جبکہ وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب کیے جاتے ہیںاور میوئوں میں سے بعض کو بعض پر ہم فوقیت دیتے ہیں جب نماز پڑھ لے تو امام حسین- کے حرم مبارک کی طرف آہستہ آہستہ چل کر جائے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ ایک ایک قدم کے بدلے میں حج و عمرہ کا ثواب عطا کرے گا چلتے ہوئے نہایت عاجز و انکساری کے ساتھ ذکر خدا اور گریہ و زاری کرتا جائے اور بہ کثرت یہ کہے:
ﷲ اَکْبَرُ وَ لاَ اِلٰهَ اِلاَّ ﷲ
خدا بزرگتر ہے اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں۔
نیز خدائے تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا جائے رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم اور امام حسین- پر درود وسلام پڑھتا ہوا چلے امام حسین- کے قاتلوں پر لعنت بھیجے اور ان پر بیزاری ظاہر کرے جنہوں نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ظلم کی ابتدائ کی جب حرم شریف کے دروازے پر پہنچے تو یہ کلمات کہے:
ﷲ أَکْبَرُ کَبِیراً، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ کَثِیراً، وَسُبْحانَ ﷲ بُکْرَةً وَأَصِیلاً، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی
خدا بزرگتر ہے خدا کے لیے بہت زیادہ حمد ثنائ ہے اور خدا پاک ومنزہ ہے ہر صبح و شام حمد ہے خدا کے لیے جس نے
هَدَانا لِهذا وَمَا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْلاَ أَنْ هَدَانَا ﷲ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنا بِالْحَقِّ پھر کہے:
ہمیں یہ راہ دکھائی اور ہم راہ نہ پاتے اگر خدا ہمیں راستہ نہ دکھاتابے شک خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم حق کے ساتھ آئے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خاتَمَ النَّبِیِّینَ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سلام ہو آپ پر اے خدا کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ پر سلام ہو اے نبیوں کے خاتم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْمُرْسَلِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ
آپ پر سلام ہو اے رسولوں کے سردار آپ پر سلام ہو اے خدا کے حبیب سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے
الْمُوَمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قَائِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ
امیر آپ پر سلام ہو اے اوصیائ کے سرکردہ آپ پر سلام ہو اے چمکتے ہوئے چہروں والوں کے پیشوا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی آلاَءِمَّةِ مِنْ
آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہراعليهالسلام ئ کے فرزند جو تمام عورتوں کی سردار ہیں آپ پر سلام ہواور ان ائمہعليهالسلام پر جو آپ کی
وُلْدِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَصِیَّ أَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الصِّدِّیقُ الشَّهِیدُ
اولاد سے ہیں سلام ہو آپ پر اے امیر المومنینعليهالسلام کے جانشین آپ پر سلام ہوجو کہ صدیق و شہید ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا مَلائِکَةَ ﷲ الْمُقِیمِینَ فِی هذَا الْمَقامِ الشَّرِیفِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے فرشتو جو اس بابرکت مقام پر رہتے ہو آپ پر سلام ہو
یَا مَلائِکَةَ رَبِّی الْمُحْدِقِینَ بِقَبْرِ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ مِنِّی أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ
اے خدا کے وہ فرشتو جو قبر حسینعليهالسلام کے ارد گرد کھڑے ہو سلام ہو اس امام پر سلام ہو تم پر میری طرف سے جب تک زندہ ہوں اور جب
اللَّیْلُ وَالنَّهارُ ۔ پھر کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ
تک دن رات باقی ہیں آپ پر سلام ہو اے ابو عبدﷲعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ، وَابْنُ أَمَتِکَ ، الْمُقِرُّ بِالرِّقِّ
آپ پر سلام ہو اے امیر المومنینعليهالسلام کے فرزند آپ کا غلام آپ کے غلام کا بیٹا اور آپ کی کنیز کابیٹا غلامی کا اقرار کرتا ہے
وَالتَّارِکُ لِلْخِلافِ عَلَیْکُمْ، وَالْمُوالِی لِوَ لِیِّکُمْ، وَالْمُعَادِی لِعَدُوِّکُمْ، قَصَدَ حَرَمَکَ
اور آپ کی مخالفت ترک کر رہا ہے یہ آپ کے دوستوں کا دوست اور آپ کے دشمنوں کادشمن ہے آپ کے آستان پر آیا
وَاسْتَجارَ بِمَشْهَدِکَ، وَتَقَرَّبَ إلَیْکَ بِقَصْدِکَ، ئَ أَدْخُلُ یَا رَسُولَ ﷲ
اور آپ کے روضہ کی پناہ لیے ہوئے ہے آپ کے قریب ہوا ہے آپ کی تمنا کرتے ہوئے کیا اندرآجائوں اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا
ئَ أَدْخُلُ یَا نَبِیَّ ﷲ ئَ أَدْخُلُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ئَ أَدْخُلُ یَا سَیِّدَ الْوَصِیِّینَ ئَ أَدْخُلُ
میں اندر آجائوں اے نبی کیا میں اندر آجائوں اے مومنوں کے امیر کیا اندر آ جائوںاے اوصیائ کے سردار کیا اندر آ جائوں
یَا فاطِمَةُ سَیِّدَةَ نِسائِ الْعَالَمِینَ ئَ أَدْخُلُ یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ ئَ أَدْخُلُ یَا مَوْلایَ
اے فاطمہعليهالسلام دو جہانوں کی عورتوں کی سردار کیا اندر آ جائوں اے میرے آقااے ابو عبدﷲعليهالسلام کیا اندر آ جائوں اے میرے مولا
یَابْنَ رَسُولِ ﷲ
اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خداکے فرزند۔
اس مرحلے پر اگر زائر کے دل میں سوز اور آنکھوںمیں آنسو آجائیںتو اسکو داخل ہونے کی اجازت تصور کرے اور حرم شریف کے اندر داخل ہو جائے ‘ داخل ہوتے ہوئے یہ کلمات کہے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الْواحِدِ الْاََحَدِ الْفَرْدِ الصَّمَدِ الَّذِی هَدانِی لِوِلایَتِکَ، وَخَصَّنِی بِزِیارَتِکَ
خدا کی حمد ہے جو یکتا ہے یگانہ ہے اکیلا ہے بے نیاز ہے جس نے مجھے آپ کی ولایت کا راستہ بتایا مجھ کو آپ کی زیارت کیلئے مخصوص
وَسَهَّلَ لِی قَصْدَکَ ۔ پھر قبر پاک کے قریب جائے اور سرہانے کھڑے ہوکر کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
کیا اور آپ کی طرف آنے میں سہولت دی آپ پر سلام ہو
یَا وَارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا
اے آدمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے چنے ہوئے ہیں سلام ہو آپ پر اے نوحعليهالسلام کے وارث جو خدا کے نبی ہیں آپ پر سلام ہو اے
وارِثَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
ابراہیمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے خلیل ہیں سلام ہو آپ پراے موسیٰعليهالسلام کے وارث جو خدا کے کلیم ہیں آپ پر سلام ہو
یَا وارِثَ عِیسی رُوحِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
اے عیسیٰعليهالسلام کے وارث جو خدا کی روح ہیں سلام ہوآپ پر اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وارث جو خدا کے حبیب ہیں آپ پر سلام ہو
یَا وارِثَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ
اے امیر المومنین - کے وارث و جانشین آپ پر سلام ہو اے محمدمصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند آپ پر سلام ہو اے علی مرتضیعليهالسلام
عَلِیٍّ الْمُرْتَضی، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خَدِیجَةَ
کے فرزند آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہراعليهالسلام ئ کے فرزند آپ پر سلام ہو اے خدیجہ الکبریٰعليهالسلام
الْکُبْری اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ ﷲ وَابْنَ ثارِهِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ، أَشْهَدُ
فرزند آپ پر سلام ہو اے خدا کے نام پر قربان ہونے والے اور قربان ہونے والے کے فرزند اے ناحق بہائے گئے خون میں گواہی
أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ
دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اوربرے کاموں سے منع فرمایا
وَأَطَعْتَ ﷲ وَرَسُولَهُ حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ
آپ خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت میں رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے پس خدا کی لعنت اس گروہ پر جس نے آپ کو قتل کیا خدا کی لعنت ہو
أُمَّةً ظَلَمَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِهِ، یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ
اس گروہ پر جس نے آپ پر ظلم ڈھایا اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے یہ واقعہ سنا تو وہ اس پر خوش ہوا اے میرے آقا اے ابو عبدﷲعليهالسلام
أَشْهَدُ أَنَّکَ کُنْتَ نُوراً فِی الْاََصْلابِ الشَّامِخَةِ وَالْاََرْحامِ الْمُطَهَّرَةِ، لَمْ تُنَجِّسْکَ
میں گواہی دیتا ہوں بے شک آپ وہ نور ہیں جو بلند مرتبہ صلبوں اور پاک و پاکیزہ رحموں میںمنتقل ہوتا آیا آپ زمانہ جاہلیت کی
الْجَاهِلِیَّةُ بِأَنْجَاسِها وَلَمْ تُلْبِسْکَ مِنْ مُدْلَهِمَّاتِ ثِیَابِها وَأَشْهَدُ أَنَّکَ مِنْ دَعائِمِ الدِّینِ
ناپاکیوں سے آلودہ نہ ہوئے اور اس زمانے کے ناپاک لباسوں میں ملبوس نہ ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دین کے نگہبان اور مومنوں
وَأَرْکانِ الْمُؤْمِنِینَ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ الْاِمامُ الْبَرُّ التَّقِیُّ الرَّضِیُّ الزَّکِیُّ الْهادِی الْمَهْدِیُّ،
کے رکن ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہ امام ہیں جو نیک کردار پرہیز گار پسندیدہ پاکیزہ ہدایت دینے والے اور ہدایت پائے ہوئے ہیں
وَأَشْهَدُ أَنَّ آلاَءِمَّةَ مِنْ وُلْدِکَ کَلِمَةُ التَّقْوی وَأَعْلامُ الْهُدی وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقی
میں گواہی دیتا ہوں کہ جو امام آپ کی اولاد سے ہوئے ہیں وہ پرہیز گاری کے مظہر ہدایت کے نشان مضبوط و محکم رسی
وَالْحُجَّةُ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا وَأُشْهِدُ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ وَأَنْبِیائَهُ وَرُسُلَه، أَنِّی بِکُمْ مُؤْمِنٌ
اور دنیا والوں پر خدا کی دلیل و حجت ہیں میںگواہ بناتا ہوں اس کے فرشتوں کو اور اس کے نبیوں اور رسولوںکو کہ میں آپ پر اور آپ
وَبِ إیَابِکُمْ مُوقِنٌ، بِشَرائِعِ دِینِی، وَخَواتِیمِ عَمَلِی، وَقَلْبِی لِقَلْبِکُمْ سِلْمٌ، وَأَمْرِی
کے باپ دادا پرایمان رکھتا ہوں اپنے دین کے احکام اور اپنے عمل کے انجام پر میرا دل آپ کے دل کے ساتھ ہے اور میرا کام
لاََِمْرِکُمْ مُتَّبِعٌ، صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکُمْ، وَعَلَی أَرْواحِکُمْ، وَعَلَی أَجْسادِکُمْ، وَعَلَی
آپ کی پیروی ہے خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر آپ کی روحوں پر آپ کے پاک وجودوں پر
أَجْسامِکُمْ، وَعَلَی شاهِدِکُمْ، وَعَلَی غائِبکُمْ وَ عَلَی ظاهِرِکُمْ وَعَلَی باطِنِکُمْ
اور ر حمت ہو آپ میں سے حاضر پر اور غائب پر رحمت ہو آپ کے ظاہر و عیاں اور آپ کے باطن پر۔
اس کے بعد اپنے آپ کو قبر سے لپٹائے اس پر بوسہ دے اور کہے:
بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا أَبا عَبْدِ ﷲ، لَقَدْ عَظُمَتِ
میرے ماں باپ آپ پر قربان اے رسولخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند میرے ماں باپ آپ پر قربان اے ابو عبداللہعليهالسلام بے شک ہمارے لیے آپ کا
الرَّزِیَّةُ، وَجَلَّتِ الْمُصِیبَةُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلَی جَمِیعِ أَهْلِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ، فَلَعَنَ
سوگ بہت زیادہ اور آپ کی مصیبت ہمارے لیے بہت بڑی اور بھاری ہے سب آسمانوں میں رہنے والوںاور زمین والوں پر پس
ﷲ أُمَّةً أَسْرَجَتْ وَأَلْجَمَتْ وَتَهَیَّأَتْ لِقِتالِکَ، یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِ ﷲ، قَصَدْتُ
خدا کی لعنت اس گروہ پر جس نے گھوڑے کو لگام لگائی، زین کسی اور آپ سے لڑنے کو تیار ہوئے اے میرے مولا اے ابو عبدﷲعليهالسلام میں
حَرَمَکَ، وَأَ تَیْتُ إلی مَشْهَدِکَ، أَسْأَلُ ﷲ بِالشَّأْنِ الَّذِی لَکَ عِنْدَهُ
آپ کی بارگاہ میں چل کر آیا ہوں اور آپ کے روضے کے قریب پہنچا ہوںسوال کرتا ہوںخدا سے آپ کی شان کے واسطے
وَبِالْمَحَلِّ الَّذِی لَکَ لَدَیْهِ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ
جو اس کے ہاں ہے اور آپ کے مقام کے واسطے جو اس کے حضور میں ہے کہ وہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت کرے نیز یہ کہ وہ مجھ کو دنیا اور
فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ
آخرت میں آپ کے ساتھ رکھے۔
اب دو رکعت نماز زیارت قبر مبارک کے سرہانے کی طرف ادا کرے کہ اس میں حمد کے ساتھ جو سورہ چاہے پڑھا کرے اور نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی صَلَّیْتُ وَرَکَعْتُ وَسَجَدْتُ لَکَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لاََِنَّ الصَّلاةَ وَالرُّکُوعَ
اے معبود! بے شک میں نے تیرے لیے نماز پڑھی رکوع کیا اور سجدہ کیا ہے کہ تو یگانہ ہے تیرا کوئی شریک نہیںیہی وجہ ہے کہ نماز رکوع
وَالسُّجُودَ لاَ تَکُونُ إلاَّ لَکَ، لاََِنَّکَ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
اور سجدہ نہیں ہوتا مگر صرف تیرے ہی لیے کہ بے شک تو وہ اللہ ہے کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَبْلِغْهُمْ عَنِّی أَفْضَلَ السَّلامِ وَالتَّحِیَّةِ وَارْدُدْ عَلَیَّ مِنْهُمُ السَّلامَ اَللّٰهُمَّ
درود بھیج اور ان کو میری طرف سے بہترین سلام اور دعا پہنچا اور لوٹا مجھ پر ان کی طرف سے دعا سلامتی اے معبود!
وَهَاتَانِ الرَّکْعَتانِ هَدِیَّةٌ مِنِّی إلی مَوْلایَ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ عَلَیْهِمَا اَلسَّلَامُ اَللّٰهُمَّ
یہ دو رکعت نماز ہدیہ ہے میری طرف سے میرے مولا حسین ابن علی + کی خدمت میں اے معبود!
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَیْهِ وَتَقَبَّلْ مِنِّی وَأْجِرْنِی عَلَی ذلِکَ بِأَ فْضَلِ أَمَلِی وَرَجائِی
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور حسینعليهالسلام پر رحمت فرما اور میرا یہ عمل قبول فرما اور مجھ کو اس پر وہ بہترین اجر دے جسکی میں تجھ سے امید کرتا ہوں جب تیرے اس
فِیکَ وَفِی وَلِیِّکَ یَا وَلِیَّ الْمُؤْمِنِینَ
ولی اور مومنوں کے مولا کے دربار میںہوں۔
اس کے بعد امام حسین- کی پائنتی کی طرف جائے اور جناب علی اکبرعليهالسلام کی زیارت ان کی قبر کے نزدیک کھڑے ہو کر اس طرح پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ نَبِیِّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ
آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے نبی خدا کے فرزند سلام ہو آپ پر اے امیر المومنینعليهالسلام
أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْحُسَیْنِ الشَّهِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الشَّهِیدُ
کے فرزند آپ پر سلام ہو اے حسینعليهالسلام شہید کے فرزند سلام ہو آپ پر کہ آپ شہید ہیں شہید کے فرزند ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَ یُّهَا الْمَظْلُومُ وَابْنُ الْمَظْلُومِ، لَعَنَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً
آپ پر سلام ہو کہ آپ مظلوم اور مظلوم کے فرزند ہیں خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپکو قتل کیا خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے
ظَلَمَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِهِ ۔ پھر اپنے آپ کو قبر سے لپٹائے بوسہ
آپ پر ظلم کیا خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے یہ واقعہ سنا تو اس پر خوش ہوئے
دے اور کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَ لِیَّ ﷲ وَابْنَ وَ لِیِّهِ، لَقَدْ عَظُمَتِ الْمُصِیبَةُ وَجَلَّتِ
سلام ہو آپ پر اے ولی خدا کے فرزند یقیناً آپ کے دکھ اور آپ کا سوگ
الرَّزِیَّةُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلَی جَمِیعِ الْمُسْلِمِینَ، فَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ، وَأَبْرَأُ إلَی ﷲ
ہمارے لیے اورتمام مسلمانوں کیلئے ناقابل برداشت ہے پس خدا کی لعنت ہو آپ کو قتل کرنے والوں پر اور میں آپکے اور خداکے
وَ إلَیْکَ مِنْهُمْ
سامنے ان سے بیزار ہوں۔
اب حضرت علی اکبرعليهالسلام کے قریب گنج شہیداں کی طرف رخ کرے کہ جہاں کربلا کے دیگر شہدائ دفن ہیں پس ان سب کی زیارت اس طرح پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَوْلِیائَ ﷲ وَأَحِبَّائَهُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَصْفِیائَ ﷲ وَأَوِدَّائَهُ
اے! اولیا اللہ آپ پر سلام ہو اور اے ﷲ کے پیارو آپ پر سلام ہو اے خدا کے برگزیدہ اور منتخب لوگو
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَنْصارَ دِینِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَنْصارَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے دین خدا کی مدد کرنے والو آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی نصرت کرنے والو
عَلَیْکُمْ یَا أَ نْصارَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَ نْصارَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ
آپ پر سلام ہو اے امیر المومنینعليهالسلام کی امداد کرنے والو آپ پر سلام ہو اے فاطمہ کی حمایت کرنے والو جو تمام عورتوں
الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَ نْصارَ أَبِی مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْوَ لِیِّ النَّاصِحِ
کی سردار ہیں آپ پر سلام ہو اے ابو محمدعليهالسلام حسن بن علی کے مددگاروکہ جو خدا کے ولی اور نصیحت کرنے والے ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَنْصارَ أَبِی عَبْدِ ﷲ، بِأَبِی أَ نْتُمْ وَأُمِّی طِبْتُمْ وَطابَتِ الْاََرْضُ
سلام ہوآپ پر اے ابو عبدا للہ حسینعليهالسلام کی نصرت کرنے والومیرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں تم پاکیزہ ہو اور وہ زمین بھی پاک ہے
الَّتِی فِیها دُفِنْتُمْ وَفُزْتُمْ فَوْزاً عَظِیماً، فَیالَیْتَنِی کُنْتُ مَعَکُمْ فَأَ فُوزَ مَعَکُمْ
جس میں آپعليهالسلام مدفون ہیںآپ نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی اے کاش کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا تو یہ کامیابی حاصل کرتا۔
اس کے بعد امام حسین- کے سرہانے کی طرف آ جائے اور وہاں اپنے فرزندوں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لیے بہت زیادہ دعائیں مانگے کیونکہ امام حسین- کے روضہ مبارک پر دعا کرنے والے کی دعا اور سوال کرنے والے کا سوال رد نہیں کیا جاتا۔
زیارت وارث اور زائد جملے
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ زیارت، زیارت وارث کے نام سے معروف ہے اسکا ماخذ شیخ طوسیرحمهالله کی کتاب مصباح المتھجد ہے جوکہ عطائ کے نزدیک مشہور اور متعبر کتب میں سے شمار ہوتی ہے۔یہاں ہم نے اسے براہ راست مصباح ہی سے نقل کیا ہے۔ اورزیارت شہدائ میں اس کے آخری جملے یہی تھے جو ہم نے ذکر کیے ہیں یعنی فیالیتنی معکم فا فوز معکم پس وہ زائد جملے جو بعض لوگوں نے ان کے ساتھ تحریر کیے ہیں۔ مثلاً فی الجنان مع النبیین و الصدیقین و الشھدآئ والصالحین و حسن أولئک رفیقا السلام علی من کان فی الحآئر منکم و علی من لم یکن فی الحائر معکم۔الخ یہ سب زائد اور بے جوڑ جملے ہیں جن کا اس زیارت سے کوئی ربط نہیں ہے۔چنانچہ ہمارے شیخ معظم نے اپنی کتاب لؤلؤ والمرجان میں فرمایا ہے کہ ان کلمات میں کئی ایک جھوٹ ہیں ان میں ارتکاب بدعت کے علاوہ فرمان امامعليهالسلام پر زیادتی کی جسارت بھی کی گئی ہے یہ اس طرح معروف ہو گئے ہیںکہ ابا عبد اللہ -کے نورانی مرقد فرشتوں کے اترنے کی جگہ اور انبیا و مرسلین کی اس جائے طواف کے سامنے ہزاروں مرتبہ دوہرائے جا رہے ہیں لیکن کوئی بھی اس پر اعتراض نہیں کرتا اس جھوٹ کو دہرانے اور گناہ کا ارتکاب کرنے سے مانع نہیں ہوتا اس کے ساتھ ساتھ یہ کلمات عوام میں سے بے خبر افراد کے مرتب کردہ دعا و زیارت کے مجموعوں میں جگہ پاگئے ہیں جو کسی نہ کسی نام سے چھپ کر عوام کے ہاتھوں تک پہنچ گئے ہیں اور پھر ایک بے خبر کی کتاب سے دوسرے بے خبر کی کتاب میں نقل ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان ادعیہ و زیارات کی حیثیت طلبائ دینی پر بھی مشتبہ ہو گئی اور وہ درست و نا درست میں امیتاز نہیں کر پاتے مثلاً ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک طالب علم ان جھوٹے کلمات کو شہدائ کربلا کے حضور پڑھ رہا تھا میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ میری طرف متوجہ ہوا میں نے کہا کہ کیا اہل علم کے لئے یہ بات قبیح نہیں ہے کہ وہ ان مقدسین کے سامنے ایسے جھوٹے کلمات دوہرائے؟ اس نے کہا کیا یہ روایت شدہ نہیں؟ میں نے تعجب کیا اور کہا کہ نہیں یہ روایت شدہ نہیں ہیں۔ اس نے کہا کہ میں نے اسے کتاب میںدیکھا ہے میں نے کہا کون سی کتاب میں دیکھا ہے؟ وہ بولا کہ مفتاح الجنان میں اس پر میں خاموش ہو گیا کیونکہ جو شخص اس قدر بے اطلاع و بے خبر ہو کہ ایک عام آدمی کے تالیف کردہ مجموعے کو کتاب کہے اور اسے مستند سمجھے تو وہ اس قابل نہیں کہ اس سے بات کی جائے۔ اس مقام پرشیخ مرحوم نے اور بھی بہت کچھ فرمایا ہے یعنی عوام کو ان جزئی امور اور چھوٹی چھوٹی بدعتوں جیسے غسل اویس قرنی یا ابو دردائ کی آش جو معاویہ کا تابع اور مخلص ساتھی تھا‘ یا چپ کا روزہ کہ جس میں دن بھر بات نہ کی جائے اور دیگر ایسی چیزیں کہ جن سے کوئی عوام کو منع نہ کرے تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ ہر مہینے اور ہر سال کوئی نہ کوئی نیا پیغمبر یا امام پیدا ہو گا اور لوگ گروہ گروہ ہو کر دین خدا سے نکل جائیں گے یہاں شیخ مرحوم کا کلام اختتام کو پہنچا۔
اب یہ فقیر عرض کرتا ہے کہ اس عالم جلیل کے کلام پر بہت زیادہ غور و فکر کریں کہ جو شرع مقدس کی روش سے واقف ہیں‘ ان کے دل میں یہ غم انگیز بات اس لیے آئی کہ وہ اس سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو ان لوگوں کی نسبت بہتر طور پر جانتے تھے جو علوم اہل بیت سے بے بہرہ اور بے اطلاع ہیں۔ جنہوں نے چند اصطلاحوں اور چند الفاظ کے جاننے کو کافی سمجھ رکھا ہے وہ اس طرح کی باتوں کی خرابی کا احساس نہیں کرتے بلکہ ان کو درست قرار دیتے اور بہتر تصور کرتے ہوئے انہی کے موافق عمل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصباح المتہجد الاقبال‘ مہج الدعوات‘ جمال الاسبوع‘ مصباح الزائر‘ بلد الامین‘ جنۃ الواقیہ‘ مفتاح الفلاح مقباس‘ ربیع الا سابیع‘ تحفہ اور زاد المعاد جیسی بلند پایہ کتابیں نظر انداز اور فراموش ہو گئی اور ان کی جگہ یہ احمقانہ و جاہلانہ مجموعے رائج ہو گئے ہیں کہ جن میں دعائے مجیر جو کہ ایک مستند دعاہے اس میںاسی ( ۰۸ ) جگہوں پر لفظ ’’بعفوک‘‘ بڑھایا گیا ہے اور اس پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی اسی طرح دعائے جوشن جو سو فصلوں پر مشتمل ہے اس کی ہر فصل کے لیے الگ الگ خاصیت گھڑی گئی ہے اور منقولہ زیارات کے ہوتے ہوئے زیارت مفجعہ بنائی گئی ہے یعنی جعلی زیارتیں گھڑی گئی ہیں دعا حبّی جعلی ہے ۔
معتبر دعائیں جو روایت شدہ ہیں ان کے مضامین بلند اور کلمات شفاف و پر معنی ہیں۔ ان کی موجودگی میں ایک بے ربط اور بے سوز دعا وضع کی گئی اور اس کا نام حبی رکھا گیا ہے اسے عرش سے نازل شدہ بتایاگیا ہے اوراسکے اتنے فضائل گنائے گئے ہیں کہ انسان حیرت میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ مثلاً اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ معاذ اللہ جبرائیلعليهالسلام نے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حق تعالیٰ کا یہ پیغام دیا کہ جو شخص اس دعا کو اپنے پاس رکھے گا میں اسے عذاب نہ کروں گا۔ اگرچہ وہ جہنم کا مستحق ہو اس نے اپنی زندگی گناہوں میں بسر کی ہو اور کبھی بھی مجھے سجدہ نہ کیا ہو میں اس شخص کو ستر ہزار نبیوں کا ثواب عطا کروںگا۔ ستر ہزار زاہد ۔اور ستر ہزار شہید ستر ہزار نماز گزاروں کا ثواب دوں گا اس کو ستر ہزار بے لباس افراد کو لباس پہنانے کا ثواب دوں گا‘ ستر ہزار بھوکے افراد کو کھانا کھلانے کا ثواب عنایت کروں گا۔ اور اسے صحرائوں کی ریت کے ذروں کی تعداد جتنا ثواب بخشوں گا نیز اس کو زمین کی ستر ہزار بارگاہوں کا ثواب نبی اکرم کی مہر نبوت کا ثواب‘ عیسیٰعليهالسلام روح اللہ‘ ابراہیمعليهالسلام خلیل اللہ ‘ اسماعیلعليهالسلام ذبیح اللہ‘ موسیٰعليهالسلام کلیم اللہ‘ یعقوبعليهالسلام نبی اللہ و آدمعليهالسلام صفی اللہ اور جبرائیلعليهالسلام ، میکائلعليهالسلام ، اسرافیلعليهالسلام اور عزرائیلعليهالسلام اور تمام فرشتوں کا ثواب دوں گا۔ اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم جو بھی شخص اس عالی شان دعا کو پڑھے یا اپنے پاس رکھے گا تو میں اسے بخش دوں گا اور مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس کو عذاب کروں۔
تاآخر اور مناسب تو یہ ہے کہ انسان ان مضامین کو سن کر ہنسنے کی بجائے روئے۔
کتب اخبار و حدیث میں تصرف
دعائوں اور زیارتوں کی شیعہ کتب جو اس قدر یقینی اور محفوظ تھیںکہ ان کے اکثر مؤلفین اہل علم و فضل تھے وہ ان کی تطبیق ایسے نسخے سے کیا کرتے تھے جو اہل علم کا جمع کردہ اور علمائ کا تصیح شدہ ہوتا تھا اگر کہیں تفاوت ہوتا تو حاشیے میں اس کی طرف اشارہ کردیتے جیسا کہ دعائ مکارم الاخلاق میں حاشیے پر وضاحت کر دیتے ہیں کہ جملہ و بلغ بایمانی ابن اشناس کے نسخے میں و ابلغ بایمانی کی صورت میں ہے اور ابن شاذان کی روایت میں اس کی بجائے اَللّٰھُمَّ ابْلغ ایمانی آیا ہے۔ یا فلاں لفظ ابن سکون کے قلم سے یوں لکھا گیا ہے اور شہید نے اسے یوں تحریر کیا ہے اور اسی طرح دیگر مقامات پر بھی وضاحت کی گئی ہے لیکن اب حال یہ ہو گیا ہے کہ سب معتبر کتابیں ترک کر کے محض مفتاح الجنان پر انحصار کر لیا گیا ہے جس کا مختصر ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ اب یہ کتاب خواص و عوام اور عرب و عجم کی نگاہوں کا مرکز بن چکی ہے اس کا سبب کتب اخبار و حدیث سے علمائ کی بے توجہی تعلیمات اہل بیت اطہار کے حامل علمائ و فقہائ کی کتب سے عدم التفات اور ایسی بدعتوں اور اضافوں کی راہ نہ روکنے‘ دعائیں گھڑنے والوںکی آمیزش اور جاہل افراد کی تحریف کو عیاں نہ کرنے نا اہل اور بے عقل لوگوں کو تصرفات سے باز نہ رکھنے سے معاملہ یہاں تک آ پہنچا ہے کہ دعائیں اپنے رجحان کے موافق جمع کی گئی ہیں نیز زیارات مفجعات اور صلوات اختراع کی گئی ہیں۔ چنانچہ ایسی دعائیں جن میں اضافے کیے گئے ہیں ان پر مشتمل بہت سے مجموعے طبع ہو گئے ہیں جو گویا کتاب مفتاح الجنان کے بچے ہیں پھر آہستہ آہستہ وضع و تحریف کی یہ روش دیگر عناوین کی کتب میں بھی سرایت کر چکی ہے اور اب اس کا رواج عام ہو گیا ہے جیسا کہ احقر مولف کی کتاب منتہی الآمال اشاعت جدید میں بعض کاتب حضرات نے اپنے سلیقہ و مذاق کے مطابق اس میں تصرفات کیے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مالک ابن یسر ملعون کے حالات میں لکھا ہے کہ امام حسین- کی دعا سے اس کے دونوں ہاتھ شل ہو گئے تھے۔ الحمد للہ‘ جو گرمیوں میں دو سوکھی لکڑیوں کی مانند ہو جاتے ہیں۔ الحمدللہ سردی کے دنوں میں ان سے خون ٹپکتا رہتا تھا۔ الحمد للہ اور وہ اسی بدترین حال میں رہا الحمد للہ۔ پس ان دو سطروں میں کاتب نے اپنی پسند کے مطابق عبارت میں چار جگہوں پر جملہ الحمد للہ کا اضافہ کیا ہے نیز بعض مقامات پر جناب زینبعليهالسلام یاام کلثومعليهالسلام کے ناموں کے آگے اپنی چاہت کے موافق لفظ خانم لکھ دیا ہے تاکہ زینب خانم اور ام کلثوم خانم کہا جائے تاکہ اس سے ان مخدرات کا احترام ظاہر ہو‘ پھر حمیدابن قحطبہ کو چونکہ وہ دشمن تصور کرتا تھا۔ لہذا اس کی برائی کے پیش نظر اسے حمید ابن قحبہ لکھا لیکن احتیاط کرتے ہوئے قحطبہ کو بھی نسخہ بدل کے طور پر لکھ دیا ہے۔ عبدربہ کا نام دیکھ کر کاتب کو خیال ہوا کہ یہاں عبدا للہ لکھا جانا چاہیے۔ اور زحر ابن قیس کا نام جو کہ حائ مہملہ سے ہے اس کو ہر جگہ جیم کے ساتھ زجر ابن قیس لکھ دیا ہے اسی طرح ام سلمہ کی ترکیب کو غلط تصور کرتے ہوئے جہاں تک ہو سکا اس کا نام ام السلمہ کی صورت میں لکھا ہے اور اسی طرح کئی مقامات پر تصرف کیا ہے یہاں اس بات کا ذکر کرنے میں میری غرض دو چیزیں تھیں، ایک یہ کہ اس شخص نے یہ جو تصرفات کیے ہیں‘ اپنی من پسندی اور فہم کے مطابق، تو اس نے اسے کمال سمجھا اور دوسری صورت کو نقص تصور کیا جب کہ جس چیز کو اس نے کمال جانا وہی باعث نقص ہو گئی ہے پس اس پر قیاس کریں کہ ہم جہالت کے باعث دعائوں میں جن چیزوں کا اضافہ کرتے ہیں یا اپنے ناقص خیال سے ان میں بعض تصرفات کرتے ہیں اور اسے کمال تصور کہتے ہیں تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہی چیزیں اہل علم و فن کے نزدیک وجہ نقص اور اس کی دعایا زیارت کی بے اعتباری کا سبب بن جاتی ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ ہم اس معاملے میں دخل نہ دیں اور جو دستور العمل ہمیں دیا گیا ہے اس پر عمل کریں اور اس سے آگے قدم نہ بڑھائیں دوسری غرض یہ تھی کہ یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ وہ کتاب جس کا مؤلف زندہ اور اس کا نگہبان ہے اور اس کتاب کی یہ حالت بنائی گئی ہے تو پھر ان کتابوں کی کیا حالت ہوئی ہو گی جن کے مؤلف گزر چکے ہیںنیز جو کتابیں چھپ چکی ہیں ان پر کیونکر اعتبار کیا جا سکتا ہے سوائے اس کتاب کے جو معروف علمائ کے مصنفات میں سے ہو اور اس فن کے علمائ میں سے کسی ثقہ عالم کی نظر سے گزر چکی ہو اور انہوں نے اس کی توثیق فرمائی ہو۔ ایک قدیم عالم ثقہ جلیل یونس بن عبدالرحمان کے حالات میں روایت ہوئی ہے کہ انہوں نے شب و روز کے اعمال میں ایک کتاب مرتب کی تو جناب ابوہاشم جعفری نے یہ کتاب امام حسن عسکری - کے حضور پیش کی پس حضرت نے پوری کتاب کا بہ غور مطالعہ کیا اور فرمایا ھذا دینی و دین ابائی کلہ و ھو الحق کلہ یعنی یہ سب میرا دین ‘ میرے آبائ کا دین اور سب کا سب درست ہے‘ آپ دیکھیں کہ اگرچہ ابو ہاشم جعفری جناب یونس بن عبدالرحمن کی وسیع فقاہت اورا ن کی دیانت و منزلت سے آگاہ تھے پھر بھی ان کی کتاب کے تحت عمل کرنا شروع نہیں کیا جب تک وہ کتاب امام کے حضور پیش کر کے اس کی توثیق نہ کرالی نیز روایت کی گئی ہے کہ بورق شنجانی ہراتی جو سچائی نیکی اور پرہیز گاری میں معروف تھے وہ سامرہ میں امام حسن عسکری - کی خدمت میںآئے اور فضل ابن شاذان نیشا پوری کی کتاب ’’یوم ولیلہ‘‘ حضرت کے سامنے پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ میںآپ پر قربان ہو جائوں میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کتاب کو ملاحظہ فرمائیں‘ تب آپ نے فرمایا ھذا صحیح ینبغی ان تعمل بہ یعنی یہ کتاب صحیح ہے اور اس پر عمل کیا جانا چاہیے اگرچہ یہ احقر آج کے دور کے لوگوں کے مذاق سے آشنا تھا کہ یہ ان امور میں کسی تحقیق و توثیق کا اہتمام نہیں کرتے لیکن اپنی طرف سے حجت تمام کرنے کی خاطر میں نے انتہائی کوشش کی ہے کہ جو زیارتیں اور دعائیں اس کتاب میں شامل ہوں وہ تاحد امکان اصل کتابوں سے نقل کی جائیں دیگر نسخوں سے ان کا تقابل کیا جائے اور جہاں تک ہو سکے ان کی تصحیح کروں تاکہ میری ذمہ داری پوری ہو جائے اور اس کے مطابق عمل بجا لانے والے اطمینان کے ساتھ عمل کر سکیں‘ بشرطیکہ کاتب حضرات اس میں تصرف نہ کریںاور پڑھنے والے بھی اپنی خواہش پر اس میں اختراع کرنے سے پرہیز کریں۔ شیخ کلینیرحمهالله نے عبدالرحیم قصیر سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا امام جعفر صادق - کی خدمت میں پہنچا اور عرض کی کہ آپ پر قربان ہو جائوں میں نے ایک دعا وضع کی ہے! حضرت نے فرمایا مجھے اپنی اختراعوں سے معاف رکھو اور وہ دعامجھے نہ سنائو پس حضرت نے اسے یہ اجازت بھی نہ دی کہ وہ اپنی بنائی ہوئی دعا سنائے بلکہ آپ نے اس کو اپنی طرف سے دستور عمل تعلیم فرمایا۔ شیخ صدوق نے عبداللہ ابن سنان سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا امام جعفر صادق - نے فرمایا کہ وہ وقت قریب ہے جب تم شبہ کا شکار ہوجائو گے اور رہبر و پیشوا کے بغیر سرگرداں ہوجاؤ گے‘ اس شبہ کے دور میں کوئی شخص نجات نہ پائے گا مگر وہ شخص جو دعائے غریق پڑھے۔ میں نے عرض کی دعا غریق کیا ہے آپ نے فرمایا کہ تم یہ کہو:
یَا ﷲ یَا رَحَمٰنُ یَا رَحِیْمُ یَامُقَّلِبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلَیٰ دِیْنِکَ میںنے کہہ دیا : یَا
اے معبود!اے بہت رحم کرنے والے اے مہربان اے دلوں کو پلٹا دینے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ اے
مُقَّلِبَ الْقُلُوْبِ وَالْاَبْصَارِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلَیٰ دِیْنِکَ ۔
دلوں اور آنکھوں کو پلٹا دینے والے میرے دل کو اپنے دین پرقائم رکھ۔
حضرت نے فرمایا یہ درست ہے کہ خدائے تعالیٰ دلوں اور آنکھوں کو پلٹا دینے والا ہے لیکن تم اسی طرح کہو‘جیسے میں نے کہا ہے:
یَامُقَّلِبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلَیٰ دِیْنِکَ
اے دلوں کو پلٹا دینے والے میرے دل کو اپنے دین پرثابت رکھ ۔
ان دونوں حدیثوں پر غوروفکر کرنا ان افراد کے لیے کافی ہے جو اپنی پسند کے مطابق دعائوں اور زیارتوں میں بعض الفاظ کا اضافہ کر کے تصرف کے مرتکب ہوتے ہیں۔
وَﷲ الْعَاصِمُ
اور خدا ہی بچانے والا ہے۔
دوسرا مطلب
زیارت حضرت عباس بن امیرالمومنین علی
شیخ اجل جعفر ابن قولویہ قمی نے معتبر سند کے ساتھ ابو حمزہ ثمالی سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا:جب تم عباس بن امیر المومنین کی قبر مبارک کی زیارت کا ارادہ کرو کہ جو دریائے فرات کے کنارے حائر حسینی کے مقابل واقع ہے تو آپ کے روضئہ پاک کے دروازے پر کھڑے ہو کر یوں کہو:
سَلامُ ﷲ وَسَلامُ مَلائِکَتِهِ الْمُقَرَّبِینَ، وَأَنْبِیائِهِ الْمُرْسَلِینَ،وَعِبادِهِ الصَّالِحِینَ
سلام ہو خدا کا اور سلام ہو اس کے مقرب فرشتوں کا اس کے بھیجے ہوئے نبیوں کااس کے نیک بندوں کا
وَجَمِیعِ الشُّهَدائِ وَالصِّدِّیقِینَ وَالزَّاکِیاتُ الطَّیِّباتُ فِیما تَغْتَدِی وَتَرُوحُ عَلَیْکَ یَابْنَ
اور تمام شہیدوں اور صدیقوں کا سلام ہو اور بہترین رحمتیں ہوں ہر صبح اور ہرشام آپ پر اے امیرالمومنینعليهالسلام
أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، أَشْهَدُ لَکَ بِالتَّسْلِیمِ وَالتَّصْدِیقِ وَالْوَفائِ وَالنَّصِیحَةِ لِخَلَفِ النَّبِیِّ
کے نور چشم میں گواہی دیتا ہوں آپ کی اس اطاعت تائید وفاداری اور خیر خواہی پر جو آپ نے نبی اکرم کے جانشین سے
الْمُرْسَلِ وَالسِّبْطِ الْمُنْتَجَبِ وَالدَّلِیلِ الْعالِمِ وَالْوَصِیِّ الْمُبَلِّغِ وَالْمَظْلُومِ الْمُهْتَضَمِ
کی ہے کہ جو نیک اصل نواسے صاحب علم رہبر تبلیغ کرنے ولے قائم مقام اور وہ ستم دیدہ ہیںجن کو
فَجَزاکَ ﷲ عَنْ رَسُولِهِ وَعَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَعَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ صَلَواتُ
تنگ کیاگیا پس خدا جزادے آپ کو اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے امیر المؤمنینعليهالسلام کی طرف سے اور حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کی طرف سے
ﷲ عَلَیْهِمْ أَفْضَلَ الْجَزائِ بِمَا صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ وَأَعَنْتَ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ، لَعَنَ
ان سب پر خدا کی رحمتیں ہوں آپکو بہترین جزا دے کہ آپ نے صبر کیا خیر خواہی کی اور مدد و نصرت کی کیا ہی اچھا ہے آپکا انجام خدا
ﷲ مَنْ قَتَلَکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ جَهِلَ حَقَّکَ، وَاسْتَخَفَّ بِحُرْمَتِکَ، وَلَعَنَ ﷲ مَنْ
لعنت کرے آپ کے قاتل پر خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ کا حق نہ پہچانااور آپ کی بے احترامی کی خدا لعنت کرے اس پر
حالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ مائِ الْفُراتِ أَشْهَدُ أَنَّکَ قُتِلْتَ مَظْلُوماً وَأَنَّ ﷲ مُنْجِزٌ
جو آپ کے اور فرات کے پانی کے درمیان رکاوٹ بنامیںگواہی دیتا ہوں کہ آپ مظلومی میں قتل ہوئے اور خدا آپ کو وہ جزا دے
لَکُمْ مَا وَعَدَکُمْ جِیْتُکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وافِداً إلَیْکُمْ وَقَلْبِی مُسَلِّمٌ لَکُمْ
گا جس کا آپ لوگوں سے وعدہ کیا ہے آپ کے ہاں آیا ہوںاے امیرالمومنینعليهالسلام کے فرزند آپ کا مہمان ہوں میرادل آپ کے
وَتابِعٌ، وَأَنَا لَکُمْ تابِعٌ، وَنُصْرَتِی لَکُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّی یَحْکُمَ ﷲ وَهُوَ خَیْرُ الْحاکِمِینَ
حوالے اور تابع ہے اور میں آپکا پیروکارہوں میں آپکی نصرت پر آمادہ ہوں یہاں تک کہ خدا فیصلہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لاَ مَعَ عَدُوِّکُمْ، إنِّی بِکُمْ وَبِ إیابِکُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ، وَبِمَنْ
آپکے ساتھ ہوں آپ کے ساتھ نہ کہ آپ کے دشمن کے ساتھ بے شک میں آپ پر اور آپکے وآپس آنے پر ایمان رکھتا ہوں اور
خالَفَکُمْ وَقَتَلَکُمْ مِنَ الْکافِرِینَ، قَتَلَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکُمْ بِالْاََیْدِی وَالْاََلْسُنِ
آپکے مخالف اور آپکے قاتل سے میرا کوئی تعلق نہیں خدا قتل کرے اس گروہ کو جس نے ہاتھ اور زبان سے آپکے ساتھ جنگ کی ۔
پھر روضۂ مبارک کے اندر داخل ہوجائے خود کو قبر شریف سے لپٹائے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِیعُ لِلّٰهِ وَلِرَسُولِهِ وَلاََِمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْحَسَنِ
سلام ہو آپ پرکہ آپ خدا کے پارسا بندے ہیں آپ ﷲ کے اطاعت گذار ہیں اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اور امیرالمومنینعليهالسلام کے اور حسنعليهالسلام
وَالْحُسَیْنِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِمْ وَسَلَّمَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ
و حسینعليهالسلام کے خدا ان پر رحمت کرے اور درود بھیجے آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں اس کی بخشش
وَرِضْوانُهُ وَعَلَی رُوحِکَ وَبَدَنِکَ، أَشْهَدُ وَأُشْهِدُ ﷲ أَنَّکَ مَضَیْتَ عَلَی مَا
اور خوشنودی حاصل ہو آپکی روح اور بدن پر رحمت ہو میں گواہی دیتا ہوں اور خدا کو گواہ بناتا ہوںکہ آپ نے اس مقصد کیلئے جان دی
مَضی بِهِ الْبَدْرِیُّونَ وَالْمُجاهِدُونَ فِی سَبِیلِ ﷲ الْمُناصِحُونَ لَهُ فِی جِهادِ أَعْدائِهِ
جس کے لیے شہدائے بدر اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدوں نے جانیں دیں وہ اس کے دشمنوں سے لڑنے میں مخلص اس
الْمُبالِغُونَ فِی نُصْرَةِ أَوْلِیائِهِ، الذَّابُّونَ عَنْ أَحِبَّائِهِ، فَجَزاکَ ﷲ أَفْضَلَ الْجَزائِ
کے حامیوں کی مدد کرنے میں آگے اور اس کے دوستوں کادفاع کرتے تھے پس خدا آپ کو جزا دے بہترین جزا
وَأَکْثَرَ الْجَزائِ، وَأَوْفَرَ الْجَزائِ، وَأَوْفی جَزائِ أَحَدٍ مِمَّنْ وَفی بِبَیْعَتِهِ، وَاسْتَجابَ لَهُ
بہت زیادہ جزا فراواں تر جزا اور کامل تر جزا دے جو اس شخص کو دی جس نے اس کی بیعت کا حق ادا کیا اس کے بلانے پرحاضر ہوا اور
دَعْوَتَهُ، وَأَطاعَ وُلاةَ أَمْرِهِ أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بالَغْتَ فِی النَّصِیحَةِ، وَأَعْطَیْتَ غایَةَ
اسکے صاحبان امر کی اطاعت کی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے دلی طور پر پوری طرح خیر خواہی کی اور اس میںاپنی انتہائی کوشش
الْمَجْهُودِ، فَبَعَثَکَ ﷲ فِی الشُّهَدائِ، وَجَعَلَ رُوحَکَ مَعَ أَرْواحِ السُّعَدائِ، وَأَعْطاکَ
سے کام لیا لہذا خدا نے آپ کو شہیدوں میں جگہ دی آپ کی روح کو خوش بختوں کی روحوں کے ساتھ رکھااور آپ کو اپنی
مِنْ جِنانِهِ أَفْسَحَها مَنْزِلاً، وَأَفْضَلَها غُرَفاً، وَرَفَعَ ذِکْرَکَ فِی عِلِّیِّینَ، وَحَشَرَکَ مَعَ
جنت میں سب سے بڑا محل عطا کیا اور بلند تر بالا خانہ نیز اس نے مقام علیین میں آپ کو شہرت بخشی اور میدان حشر میں
النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّهَدائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولئِکَ رَفِیقاً أَشْهَدُ أَنَّکَ لَمْ
آپ کو نبیوں صدیقوں شہیدوں اور نیکوکار کے ساتھ رکھے گااور وہ لوگ کیسے اچھے ساتھی ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نہ
تَهِنْ وَلَمْ تَنْکُلْ، وَأَنَّکَ مَضَیْتَ عَلَی بَصِیرَةٍ مِنْ أَمْرِکَ، مُقْتَدِیاً بِالصَّالِحِینَ وَمُتَّبِعاً
ہمت ہاری نہ پیٹھ دکھائی اور بے شک آپ اپنے عمل کا شعور رکھتے ہوئے گامزن رہے اس میں آپ نیکوکاروںکا پیروی
لِلنَّبِیِّینَ، فَجَمَعَ ﷲ بَیْنَنا وَبَیْنَکَ وَبَیْنَ رَسُولِهِ وَأَوْلِیائِهِ فِی مَنازِلِ الْمُخْبِتِینَ فَ إنَّهُ
اور نبیوں کی اتباع کر رہے تھے پس خدا ہمیں آپکے ساتھ اور اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اپنے ولیوں کیساتھ جمع کرے اہل حق کی منزلوں میںکہ وہ
أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
سب سے زیادہ رحم والا ہے۔
مولف کہتے ہیں بہتر یہ ہے کہ اس زیارت کو پشت قبر کی طرف قبلہ رو کھڑے ہو کر پڑھے جیسے شیخرحمهالله نے تہذیب میں تحریر فرمایا ہے کہ حرم مبارک میں داخل ہو کر خود کو قبر شریف سے لپٹائے اور قبلے کی طرف منہ کر کے کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیَّهَاالعَبْدُ الصَّالِحُ...الخ
سلام آپ پر کہ آپ خدا کے پارسا بندے ہیں۔
نیز یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے ذکر شدہ روایت کے مطابق حضرت عباس- کی زیارت یہی ہے جو ہم نے ابھی لکھی ہے لیکن سید ابن طائوس شیخ مفید اور دیگر بزرگ علما کا ارشادہے کہ یہ زیارت پڑھنے کے بعد ضریح مقدس کے سرہانے جا کر دو رکعت نماز بجا لائے اور اور اس کے بعد وہاں مزید جس قدر چاہے نماز ادا کرے اور دعائیں مانگے اور بعد از نماز یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلاَ تَدَعْ لِی فِی هذَا الْمَکانِ الْمُکَرَّمِ وَالْمَشْهَدِ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور اس عزو شرف والے مقام اور محترم زیارت گاہ میں
الْمُعَظَّمِ ذَنْباً إلاَّ غَفَرْتَهُ، وَلاَ هَمّاً إلاَّ فَرَّجْتَهُ، وَلاَ مَرَضاً إلاَّ
اب میرا کوئی گناہ نہ رہنے دے کہ تونے اسے نہ بخش دیا ہو کوئی اندیشہ نہ ہو کہ اسے دورنہ کر دیا ہو کوئی بیماری نہ ہو کہ اس سے صحت
شَفَیْتَهُ وَلاَ عَیْباً إلاَّ سَتَرْتَهُ، وَلاَ رِزْقاً إلاَّ بَسَطْتَهُ، وَلاَ خَوْفاً إلاَّ آمَنْتَهُ، وَلاَ شَمْلاً
یاب نہ کر دیا ہو کوئی عیب نہ ہو کہ اسے ڈھانپ نہ لیا ہو کوئی رزق نہ ہو کہ تو نے اسے بڑھا نہ دیا ہو کوئی خوف نہ ہو اس سے امن نہ دیا ہو
إلاَّ جَمَعْتَهُ، وَلاَ غائِباً إلاَّ حَفِظْتَهُ وَأَدْنَیْتَهُ، وَلاَ حاجَةً مِنْ حَوائِجِ الدُّنْیا
کوئی پریشانی نہ ہو کہ اسے مٹانہ دیا ہو کوئی غائب نہ ہو کہ تو اس پر نظر نہ رکھے اور قریب نہ کئے ہو اور دنیا و آخرت کی حاجتوں میں کوئی
وَالْاَخِرَة ِلَکَ فِیها رِضیً وَلِیَ فِیها صَلاحٌ إلاَّ قَضَیْتَها یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
حاجت نہ ہو کہ جس میں تیری خوشنودی نہ اور میرے لیے مفید نہ ہو مگر یہ کہ تو اسے برلائے اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے۔
پھر ضریح پاک کی پائیتی میں جائے اور وہاں کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَاالْفَضْلِ الْعَبَّاسَ ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ
آپ پر سلام ہو اے ابا الفضل عباسعليهالسلام فرزند امیر المومنینعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے سردار اوصیائ
الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَوَّل الْقَوْمِ إسْلاماً، وَأَقْدَمِهِمْ إیماناً، وَأَقْوَمِهِمْ
کے فرزند سلام ہو آپ پر اے اسکے فرزند جو اسلام لانے میں امت سے اول، ایمان میں سے ان سے مقدم دین خدا میںان سے
بِدِینِ ﷲ، وَأَحْوَطِهِمْ عَلَی الْاِسْلامِ أَشْهَدُ لَقَدْ نَصَحْتَ لِلّٰهِ وَلِرَسُولِهِ
بڑھ کر ثابت قدم اور اسلام کی ان سے زیادہ حفاظت کرنے والے تھے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خیر خواہی کی خدا کی اور اس
وَلاََِخِیکَ فَنِعْمَ الْاََخُ الْمُواسِی، فَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً
کے رسول کی اور اپنے برادر حسینعليهالسلام کی پس آپ بڑے ہی ہمدرد بھائی تھے خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیا خدا کی لعنت ہو
ظَلَمَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً اسْتَحَلَّتْ مِنْکَ الْمَحارِمَ، وَانْتَهَکَتْ حُرْمَةَ
اس گروہ پرجس نے آپ پر ستم ڈھایا اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکی بے احترامی کو جائز سمجھا اور اسلام کی حرمت کو بھی
الْاِسْلامِ فَنِعْمَ الصَّابِرُ الْمُجاهِدُ الْمُحَامِی النَّاصِرُ وَالْاََخُ الدَّافِعُ عَنْ أَخِیهِ
پامال کیا پس وہ کیسے صابر جہاد کرنے والے حمایت کرنے والے نصرت کرنے والے اور اپنے بھائی کیطرف سے لڑنے والے اچھے
الْمُجِیبُ إلی طاعَةِ رَبِّهِ، الرَّاغِبُ فِیما زَهِدَ فِیهِ غَیْرُهُ مِنَ الثَّوابِ الْجَزِیلِ، وَالثَّنَائِ
بھائی تھے وہ اپنے پروردگار کی فرمانبرداری پر آمادہ اس عمل کے شائق جسکے بڑے اجر و ثواب اور تعریف و توصیف سے دوسروں نے منہ موڑا
الْجَمِیلِ، وَأَلْحَقَکَ ﷲ بِدَرَجَةِ آبائِکَ فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ اَللّٰهُمَّ إنِّی تَعَرَّضْتُ لِزِیارَةِ
اور محروم رہے خدا آپ کو ان بزرگوں کے مقام پر پہنچائے نعمتوں بھری جنت میں اے معبود! بے شک میں تیرے ولیوں کی زیارت
أَوْلِیائِکَ رَغْبَةً فِی ثَوابِکَ، وَرَجائً لِمَغْفِرَتِکَ وَجَزِیلِ إحْسانِکَ، فأَسْأَلُکَ
کو آیا تیرے ہاں سے ملنے والے ثواب کے شوق تیری طرف سے بخشش کی امید اور تیرے عظیم احسان کی خواہش سے پس سوال کرتا ہوں تجھ سے
أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ، وَأَنْ تَجْعَلَ رِزْقِی بِهِمْ دارّاً، وَعَیْشِی بِهِمْ
کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی پاکیزہ آلعليهالسلام پر رحمت فرما نیز یہ کہ ان کے واسطے سے میرارزق بڑھا دے ان کے ذریعے میری زندگی
قارّاً، وَزِیارَتِی بِهِمْ مَقْبُولَةً، وَحَیَاتِی بِهِمْ طَیِّبَةً، وَأَدْرِجْنِی إدْراجَ الْمُکْرَمِینَ
برقرار رکھ میری یہ زیارت قبول کر میری حیات میں پاکیزگی پیدا فرما اور مجھ کو عزت والوں کے مقام پر پہنچا دے
وَاجْعَلْنِی مِمَّنْ یَنْقَلِبُ مِنْ زِیارَةِ مَشاهِدِ أَحِبَّائِکَ مُفْلِحاً مُنْجِحاً قَدِ اسْتَوْجَبَ
مجھے ان لوگوں میں رکھ جو تیرے دوستوں کے مشاہد کی زیارت سے فلاح و کامرانی کے ساتھ واپس ہوئے ہیں جب ان کے گناہوں
غُفْرانَ الذُّنُوبِ وَسَتْرَ الْعُیُوبِ وَکَشْفَ الْکُرُوبِ إنَّکَ أَهْلُ التَّقْویٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ
کی بخشش واجب ان کے عیب پوشیدہ اور مصیبتیں دور کر دی جاتی ہیں بے شک تو بچانے والا اور بخشنے والا ہے۔
جب حضرت عباس- سے وداع کرناچاہے تو قبر مبارک کے قریب جائے اور وہ دعا پڑھے جو ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہوئی اور علمائ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے:
أَسْتَوْدِعُکَ ﷲ وَأَسْتَرْعِیکَ وَأَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلامَ، آمَنَّا بِالله وَبِرَسُولِهِ وَبِکِتابِهِ
آپ کو سپرد خدا کرتا ہوں آپ کا التفاف چاہتا ہوں اور آپ کو سلام کہتا ہوں ہمارا ایمان ہے خدا پر اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اس کی کتاب پر
وَبِمَا جائَ بِهِ مِنْ عِنْدِ ﷲ، اَللّٰهُمَّ فَاکْتُبْنا مَعَ الشَّاهِدِینَ، اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ
او رجو کچھ خدا کی طرف سے ان پر نازل ہوا پس اے معبود! ہمیں گواہی دینے والوںمیں لکھ دے اے معبود! میری اس زیارت کو
مِنْ زِیارَتِی قَبْرَ ابْنِ أَخِی رَسُولِکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَارْزُقْنِی زِیارَتَهُ أَبَداً مَا
آخری زیارت قرار نہ دے جو میں نے تیرے رسول کے بھائی کے فرزند پر کی ہے جب تک تو مجھے زندہ رکھے اس قبر کی
أَبْقَیْتَنِی وَاحْشُرْنِی مَعَهُ وَمَعَ آبائِهِ فِی الْجِنانِ وَعَرِّفْ بَیْنِی وَبَیْنَهُ وَبَیْنَ رَسُولِکَ
زیارت نصیب کرتے رہنا اور مجھے انکے اور انکے بزرگوں کیساتھ جنت میں رکھنا میرے اور انکے درمیان اور اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اپنے دوستوں
وَأَوْلِیائِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَوَفَّنِی عَلَی الْاِیمانِ بِکَ وَالتَّصْدِیقِ
کے درمیان جان پہچا ن کرا دینااے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدپر رحمت فرما اور اس وقت جب میری موت واقع ہو تجھ پر ایمان اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
بِرَسُولِکَ، وَالْوِلایَةِ لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ وَآلاَءِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ، وَالْبَرائَةِ مِنْ عَدُوِّهِمْ،
عقیدہ اور میرا یقین ہو علیعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام کی ولایت پر اور انکی اولاد سے ائمہعليهالسلام کی ولایت پر ان سب پر سلام ہواورا نکے دشمنوں سے میرا کوئی واسطہ نہ ہو
فَ إنِّی قَدْ رَضِیتُ یَا رَبِّی بِذلِکَ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
پس میں یقیناً راضی ہوں اے میرے رب اس صورت میں اور خدا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پررحمت فرمائے۔
اس کے بعد اپنے لیے اور مومنین و مسلمین کے لیے دعائیں مانگے اور پھر منقولہ دعائوں میں سے جو دعا چاہے پڑھے:
فضائل حضرت عباس
مولف کہتے ہیں کہ امام علی بن الحسین سے ایک روایت ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: خدائے تعالیٰ حضرت عباس- پر رحمت کرے کہ جنہوں نے اپنی کچھ پروا نہ کی اور اپنی جان اپنے بھائی امام حسین- پر قربان کردی۔ یہاں تک کہ بھائی کی نصرت کرتے ہوے ان کے دونوں بازو قلم ہو گئے۔ تاہم حق تعالیٰ نے ان کو کٹے ہوئے بازوئوں کے بدلے میں دو پر عطا کر دیئے ہیںکہ جن سے وہ جنت میں جعفر طیارعليهالسلام کی طرح فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں۔ نیز خداوند عالم کے ہاں حضرت عباسعليهالسلام کی اتنی قدر و عزت ہے کہ جس کو دیکھ کر دیگر شہدائ قیامت میں ان پر رشک کریں گے اور ان کے مقام و مرتبہ کی خواہش کریں گے۔ بیان کیا گیا ہے کہ وقت شہادت حضرت عباسعليهالسلام کی عمر چونتیس برس تھی اورجناب ام البنین = جو ان کی والدہ تھیں وہ مدینہ کے باہر قبرستان بقیع میںآ کر حضرت عباس- اور ان کے دیگر تین بھائیوں کا ماتم کرتے ہوئے اس طرح روتیں اور بین کرتی تھیں کہ جو بھی وہاں سے گزرتا وہ آنسو بہانے لگتا تھا دوستوں اور چاہنے والوں کا رونا تو کوئی بڑی بات نہیں ان بی بی کا نوحہ و ماتم سن کر تو مروان بن الحکم بھی رو دیتا تھا جو خاندان رسول کا سخت ترین دشمن تھا حضرت عباس- اور انکے بھائیوں کے مرثیہ میں یہ اشعار بی بی ام البنین = سے نقل ہوئے ہیں:
یَامَنْ رَأیٰ الْعَبّاسَ کَرَّعَلی جَماهِیرِالنَّقَد
وَوَراهُ مِنْ أَبْنائِ حَیْدَرَکُلُّ لَیْثٍ ذِی لَبَد
اے وہ جس نے عباسعليهالسلام کو دیکھا جب بزدلوں پر حملہ کرتا تھا
ان کے پیچھے حیدر کرار کے بیٹے تھے جو ببر شیروں کی طرح تھے
أُنْبِیْتُ أَنَّ ابْنِی أُصِیبَ بِرَأْسِهِ مَقْطُوعَ یَد
وَیْلِی عَلیٰ شِبْلِی أَمالَ بِرَأْسِهِ ضَرْبُ الْعَمَد
مجھے خبر ملی کہ میرا بیٹا سر کے بل گرا اور اس کے بازو کٹے ہوئے تھے
ہائے میری مصیبت کہ گرز کی ضرب سے میرے بیٹے کا سرکٹ گیا
لَوْ کانَ سَیْفُکَ فِی یَدَیْکَ لَمَا دَنا مِنْهُ أَحَد
بیٹے اگر تیری تلوار تیرے ہاتھ میں ہوتی تو کوئی قریب نہ آ سکتا۔
نیز یہ اشعار بھی جناب ام البنین= کی طرف منسوب ہیں۔
لاَ تَدْعُوِنِّی وَیْکِ أُمَّ الْبَنِین
تُذَکِّرِینِی بِلُیُوثِ الْعَرِین
اب مجھے بیٹوں کی ماں نہ کہا کرو
کہ تم مجھے شیر دل بہادروں کی یاد دلاتے ہو
کانَتْ بَنُونَ لِی أُدْعی بِهِمْ
وَالْیَوْمَ أَصْبَحْتُ وَلاَ مِنْ بَنِین
میرے بیٹے تھے تو مجھے بیٹوں والی کہا جاتا تھا
اب جو صبح ہوتی ہے تو میرے بیٹے کہیں نظر نہیں آتے
أَرْبَعَةٌ مِثْلُ نُسُورِ الرُّبیٰ
قَدْ وا صَلُوا الْمَوْتَ بِقَطْعِ الْوَتِین
میرے چاروں بیٹے پہاڑوں کے شہباز تھے
وہ باری باری شہید ہوئے ان کی گردنیں کٹ گئیں
تَنازَعَ الْخِرْصانُ أَشْلائَهُمْ
فَکُلُّهُمْ أَمْسی صَرِیعاً طَعِین
ان پر نیزہ برداروں نے ہر طرف سے ہجوم کیا
تو وہ زخموں سے چور ہو کر زمین پر گر گئے
یَا لَیْتَ شِعْرِی أَکَما أَخْبَرُوا
بِأَنَّ عَبّاساً قَطِیعُ الْیَمِین
ہائے افسوس میں سمجھ پاتی جیسے لوگوں نے کہا
کہ عباس کا دایاں بازو پہلے کٹا تھ
تیسرا مطلب
حضرت ابی عبداللہ الحسین- کی مخصوص زیارات
آپ کی زیارت مخصوصہ کئی ایک ہیں
پہلی زیارت
یہ یکم رجب‘ پندرہ رجب اور پندرہ شعبان کی زیارت ہے‘ امام جعفر صادق -سے روایت کی گئی ہے کہ جو شخص یکم رجب کو امام حسین- کی زیارت کرے گا تو خدائے تعالیٰ ضرور اس کے گناہ معاف کر دے گا ابن ابی نصر سے منقول ہے کہ میں نے امام علی رضا- سے پوچھا کہ میں امام حسین - کی زیارت کس وقت کروں تو زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا کہ پندرہ رجب اور پندرہ شعبان کو زیارت کرو تو بہتر ہے۔
شیخرحمهالله مفیدرحمهالله اور سید ابن طائوسرحمهالله کہتے ہیں کہ یہ زیارت جس کا ذکر ہورہا ہے یکم رجب کے دن اور پندرہ شعبان کی رات کیلئے ہے۔ لیکن شہیدرحمهالله نے اس پر اضافہ فرمایا ہے کہ یہی زیارت رجب کی پہلی رات، پندرہ رجب کی رات اور دن اور پندرہ شعبان کے دن کیلئے ہے۔ گویا ان کے فرمان کے مطابق یہ زیارت چھ وقتوں کیلئے ہے۔ یعنی رجب کی پہلی رات اور یکم رجب کا دن، پندرہ رجب کی رات اور دن، پندرہ شعبان کی رات اور دن ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص ان اوقات میںامام حسین- کی زیارت کرنا چاہے تو غسل کرے، پاکیزہ لباس پہنے اور حضرت کے قبہ مبارکہ کے دروازے پرقبلہ رخ کھڑا ہو جائے حضرت رسول ﷲ اور حضرت امیر المومنین- پر سلام بھیجے اور واضح رہے کہ ان بزرگوں پر سلام کرنے کا طریقہ آئندہ صفحات میں زیارت عرفہ کے اذن دخول کے ساتھ ذکر ہو گا چنانچہ سلام کرنے کے بعد روضہ پاک کے اندر داخل ہو کر ضریح مبارک کے نزدیک کھڑے ہو کر سو مرتبہ کہے:ﷲ اَکبَر(خدا بزرگ تر ہے)پھر یہ زیارت پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو اے رسول خدا کے فرزند سلام ہوآپ پر اے خاتم الانبیائ کے فرزند سلام ہو آپ پر
یَابْنَ سَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا
اے رسولوں کے سردار کے فرزند سلام ہو آپ پر اے اوصیائ کے سردار کے فرزند آپ پر سلام ہو اے ابا
عَبْدِﷲاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ
عبداللہ آپ پر سلام ہو اے حسینعليهالسلام ابن علیعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے فرزند فاطمہ جو جہانوں کی عورتوں کی
الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَابْنَ وَلِیِّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ وَابْنَ
سردار ہیں سلام ہوآپ پر اے ولی خدا اور ولی خدا کے فرزند سلام ہو آپ پر اے پسندیدہ خدا اور پسندیدہ
صَفِیِّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ وَابْنَ حُجَّتِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ وَابْنَ
خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے حجت خدا اور حجت خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے حبیب خدا اور حبیب خدا
حَبِیبِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَفِیرَ ﷲ وَابْنَ سَفِیرِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خازِنَ الْکِتابِ
کے فرزند آپ پر سلام ہو اے نمائندہ خدا اور نمائندہ خدا کے فرزند سلام ہوآپ پر اے کتاب مسطور
الْمَسْطُورِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ التَّوْراةِ وَالْاِنْجِیلِ وَالزَّبُورِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ
کے حامل آپ پر سلام ہو اے توریت انجیل اور زبور کے وارث آپ پر سلام ہو اے رحمن کے
الرَّحْمنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَرِیکَ الْقُرْآنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَمُودَ الدِّینِ، اَلسَّلَامُ
امین آپ پر سلام ہو اے ہم مرتبہ قرآن آپ پر سلام ہو اے دین کے ستون آپ پر
عَلَیْکَ یَا بابَ حِکْمَةِ رَبِّ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بابَ حِطَّةٍ الَّذِی مَنْ دَخَلَهُ کانَ
سلام ہو اے جہانوںکے رب کی حکمت کے دروازہ سلام ہو آپ پر اے باب حطہ کہ جو اس سے گزرے وہ
مِنَ الْاَمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَیْبَةَ عِلْمِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْضِعَ سِرِّ ﷲ،
امن پانے والوں میں ہے آپ پر سلام ہواے علم الہٰی کے خزینہ آپ پر سلام ہو اے راز الہٰی کے مقام
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ ﷲ وَابْنَ ثارِهِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی
سلام ہو آپ پر اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزند اور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے آپ پر سلام ہواور ان کی
الْاََرْواحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ وَأَناخَتْ بِرَحْلِکَ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی وَنَفْسِی
روحوں پر کہ جو آپکے آستان پر آتریں اور آپ کے احاطے میں جن کی سواریاں بیٹھیں قربان آپ پر میرے ماں باپ اور میں بھی
یَا أَبا عَبْدِﷲ لَقَدْ عَظُمَتِ الْمُصِیبَةُ وَجَلَّتِ الرَّزِیَّةُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلَی جَمِیعِ أَهْلِ
اے ابا عبداللہ کہ آپ کے مصائب بہت بڑے اور آپ کا سوگ بہت زیادہ ہے ہمارے ہاں اور تمام انسانوں
الْاِسْلامِ فَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَساسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ أَهْلَ الْبَیْتِ، وَلَعَنَ
کے ہاں پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے ظلم و ستم کی بنیاد رکھی آپ اہل بیت نبوت پر اور خدا کی
ﷲ أُمَّةً دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ، وَأَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتِی رَتَّبَکُمُ ﷲ فِیها
لعنت ہو اس گروہ پرجس نے ہٹائے رکھا آپکو آپکے مقام سے اور دور رکھا آپکو ان مرتبوں سے جو خدا نے آپ کیلئے مقرر کیے تھے
بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی وَنَفْسِی یَا أَبا عَبْدِﷲ أَشْهَدُ لَقَدِ اقْشَعَرَّتْ لِدِمائِکُمْ أَظِلَّةُ الْعَرْشِ
قربان ہوں آپ پر میرے ماں باپ اور میں بھی اے ابا عبداللہعليهالسلام میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ حضرات کے خون بہائے جانے پر
مَعَ أَظِلَّةِ الْخَلائِقِ، وَبَکَتْکُمُ السَّمائُ وَالْاََرْضُ وَسُکَّانُ الْجِنانِ وَالْبَرِّ
لرز گئے عرش کے سائے اور تھرا گئے موجودات کے سائے آپ پر آسمان و زمین، اہل جنت اور خشکیوں اور سمندروںکے رہنے
وَالْبَحْرِ، صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ عَدَدَ مَا فِی عِلْمِ ﷲ، لَبَّیْکَ داعِیَ ﷲ، إنْ
کے رہنے والے روئے ہیں آپ پر خدا رحمت کرے اتنی جتنی اس کے علم میں ہے حاضر ہوں اے خدا کی طرف بلانے والے اگرچہ
کانَ لَمْ یُجِبْکَ بَدَنِی عِنْدَ اسْتِغاثَتِکَ وَلِسانِی عِنْدَ اسْتِنْصارِکَ، فَقَدْ أَجابَکَ
میرے جسم نے آپ کے استغاثے کے وقت لبیک نہیں کہی اور میری زبان نے آپ کی طلب نصرت کے وقت جواب نہیں دیا لیکن
قَلْبِی وَسَمْعِی وَبَصَرِی، سُبْحانَ رَبِّنا إنْ کانَ وَعْدُ رَبِّنا لَمَفْعُولاً أَشْهَدُ
آپکو میرے دل میرے کان اور آنکھ نے لبیک کہی پاک ہے ہمارا رب کیونکہ ہمارے رب کا وعدہ ضرور پورا ہو گا میں گواہی دیتا ہوں
أَنَّکَ طُهْرٌ طاهِرٌ مُطَهَّرٌ مِنْ طُهْرٍ طاهِرٍ مُطَهَّرٍ، طَهُرْتَ وَطَهُرَتْ بِکَ الْبِلادُ، وَطَهُرَتْ
کہ آپ پاک پاکیزہ ہیں پاک پاکیزہ خاندان سے ہیں اصل سے آپ پاک ہیں آپکے ذریعے پاک ہوئے ہیں شہراور پاک ہوئی
أَرْضٌ أَنْتَ بِها وَطَهُرَ حَرَمُکَ أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ أَمَرْتَ بِالْقِسْطِ وَالْعَدْلِ وَدَعَوْتَ إلَیْهِما
زمین جس میں آپ ہیں اور پاک ہے آپکا یہ حرم میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ نے حکم دیا ہے برابری اور انصاف کا اور لوگوں کو اسی طرف بلایا
وَأَنَّکَ صادِقٌ صِدِّیقٌ صَدَقْتَ فِیما دَعَوْتَ إلَیْهِ، وَأَنَّکَ ثارُ ﷲ فِی
بے شک آپ سچے ہیں بہت ہی سچے جو دعوت آپ نے دی اس میں آپ سچے ہیں اور بے شک زمین میں آپکا ہی خون ہے جسکا
الْاََرْضِ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ عَنِ ﷲ، وَعَنْ جَدِّکَ رَسُولِ ﷲ، وَعَنْ أَبِیکَ
بدلہ خدا لے گا میں گواہی دیتا ہوںکہ آپ نے تبلیغ کی خدا کی طرف سے اپنے نانا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی طرف سے اپنے والد
أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَعَنْ أَخِیکَ الْحَسَنِ، وَنَصَحْتَ وَجاهَدْتَ فِی سَبِیلِ ﷲ، وَعَبَدْتَهُ
امیر المومنینعليهالسلام کی طرف سے اور اپنے بھائی حسنعليهالسلام کی طرف سے خیر اندیشی فرمائی اور خدا کی راہ میں جہاد کیا اور اس کی عبادت کی
مُخْلِصاً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَجَزاکَ ﷲ خَیْرَ جَزائِ السَّابِقِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلَیْکَ
خالص ہو کر یہاں تک کہ شہید ہوگئے پس خد آپ کو جزا دے اس سے بڑھ کر جو پہلے والوں کی دی خدا درود بھیجے آپ پر اور سلام
وَسَلَّمَ تَسْلِیماً اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصَلِّ عَلَی الْحُسَیْنِ الْمَظْلُومِ
بھیجے جو سلام کا حق ہے اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور رحمت فرما حسینعليهالسلام پر جو ستم رسیدہ
الشَّهِیدِ الرَّشِیدِ قَتِیلِ الْعَبَراتِ وَأَسِیرِ الْکُرُباتِ صَلاةً نامِیَةً زاکِیَةً مُبارَکَةً یَصْعَدُ
شہید دانشمند ہیں وہ مقتول ہیں جن پر آنسو بہائے گئے اور جو مشکلوں میں گھر گئے رحمت کر بڑھنے والی پاکیزہ برکت والی کہ آغاز ہی
أَوَّلُها وَلاَ یَنْفَدُ آخِرُها أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَوْلادِ أَنْبِیائِکَ الْمُرْسَلِینَ
سے بڑھنے لگے اوروہ کبھی ختم نہ ہو ایسی برتر رحمت جو تو نے اپنے نبیوں کی اولاد میں سے کسی فرد پر کی ہو
یَا إلهَ الْعالَمِینَ
اے جہانوں کے معبود۔
پس اب قبر شریف پر بوسہ دے اپنا دایاں رخسار اس پر رکھے پھر بایاں رخسار رکھے اس کے بعد قبر کے گرد چکر لگائے اور چاروں گوشوں پر بوسہ دے شیخ مفیدرحمهالله فرماتے ہیں کہ اس کے بعد شہزادہ علی اکبرابن الحسین کی ضریح کی طرف جائے اور اس کے نزدیک کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الصِّدِّیقُ الطَّیِّبُ الزَّکِیُّ الْحَبِیبُ الْمُقَرَّبُ وَابْنَ رَیْحانَةِ رَسُولِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے صدیق پاکیزہ مطہر دوست مقرب خدا، حسینعليهالسلام کے فرزند جو خوشبو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ﷲ ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مِنْ شَهِیدٍ مُحْتَسِبٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، مَا أَکْرَمَ مَقامَکَ وَأَشْرَفَ
آپ پر سلام ہو اے شہید خیر اندیش خدا کی رحمت اور اس کی برکات ہوں کس قدر بلند ہے آپ کا مقام اور کتنااعلیٰ ہے
مُنْقَلَبَکَ، أَشْهَدُ لَقَدْ شَکَرَ ﷲ سَعْیَکَ، وَأَجْزَلَ ثَوابَکَ، وَأَلْحَقَکَ بِالذِّرْوَةِ الْعالِیَةِ
آپ کی بازگشت میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً خدا نے آپ کی کوشش پسند فرمائی آپ کاثواب بڑھایا اور پہنچا دیا آپ کو بہت
حَیْثُ الشَّرَفُ کُلُّ الشَّرَفِ وَفِی الْغُرَفِ السَّامِیَةِ کَمَا مَنَّ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَکَ مِنْ
اونچے مقام پر کہ جہاں ہرشرف موجود ہے اور آپ کو بلند ترین قصر عطا فرمایاہو جیسا کہ اس نے پہلے بھی آپ پر احسان کیا اور آپ کو
أَهْلِ الْبَیْتِ الَّذِینَ أَذْهَبَ ﷲ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِیراً، صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکَ
اہلعليهالسلام بیت میں قرار دیا کہ جن سے خدا نے ہر ناپاکی کو دوررکھا اور انہیں پاک و پاکیزہ رکھاجیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے خدا کا درود ہو آپ پراسکی
وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ وَرِضْوانُهُ فَاشْفَعْ أَیُّهَا السَّیِّدُ الطَّاهِرُ إلی رَبِّکَ فِی حَطِّ
رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں اور خوشنودی پس میری سفارش کریں اے سید پاک اپنے رب سے تاکہ وہ میری پشت سے گناہوں
الْاََثْقالِ عَنْ ظَهْرِی وَتَخْفِیفِها عَنِّی وَارْحَمْ ذُلِّی وَخُضُوعِی لَکَ وَلِلسَّیِّدِ أَبِیکَ
کا بوجھ اتارے اور میرا بوجھ ہلکا کر دے اور رحم کریں میری ذلت و عاجزی پر جو آپکے اور آپ کے والد بزرگوار کے سامنے کی ہے
صَلَّی ﷲ عَلَیْکُما۔ پھر اپنے آپ کو قبر شریف سے لپٹائے اور کہے:زادَ ﷲ فِی شَرَفِکُمْ فِی
خدا رحمت کرے آپ دونوں پر اضافہ کرے خدا آپ کے شرف میں یوم
الْاَخِرَةِ کَمَا شَرَّفَکُمْ فِی الدُّنْیا وَأَسْعَدَکُمْ کَما أَسْعَدَ بِکُمْ وَأَشْهَدُ أَنَّکُمْ
آخرت میں جیسا کہ شرف بخشا اس نے آپکو دنیا میں اور سعادت بخشے جیسی آپ کو یہاںسعادت بخشی میں گواہی دیتا ہوںکہ آپ
أَعْلامُ الدِّینِ وَنُجُومُ الْعالَمِینَ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ ۔اس کے بعد
دین کے پرچم اور جہانوں کے ستارے ہیں اور آپ پر سلام ہوخداکی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
دیگر شہدائ کی طرف رخ کرے اور کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَنْصارَ ﷲ، وَأَنْصارَ رَسُولِهِ،
سلام ہو تم سب پر اے خدا کے حامیو اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدد گار
وَأَنْصارَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ وَأَنْصارَ فاطِمَةَ وَأَنْصارَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَأَنْصارَ
علیعليهالسلام ابن ابی طالبعليهالسلام کے طرفدار سیدہ فاطمہعليهالسلام کے خادمو اور حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کا ساتھ دینے والو اور اسلام کی حمایت
الْاِسْلامِ، أَشْهَدُ أَنَّکُمْ لَقَدْ نَصَحْتُمْ لِلّٰهِ وَجاهَدْتُمْ فِی سَبِیلِهِ فَجَزاکُمُ ﷲ عَنِ
کرنے والو میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے خدا کی خاطر خیر خواہی کی اور اس کی راہ میں جہاد کیاپس خدا جزا دے
الْاِسْلامِ وَأَهْلِهِ أَفْضَلَ الْجَزائِ، فُزْتُمْ وَﷲ فَوْزاً عَظِیماً، یَا لَیْتَنِی کُنْتُ مَعَکُمْ
آپکواسلام و اہل اسلام کیطرف سے بہترین جزا قسم بخدا کہ تم سب بڑی کامیابی حاصل کر گئے ہو اے کاش کہ میں بھی تمہارے ہمراہ ہوتا
فَأَفُوزَ فَوْزاً عَظِیماً، أَشْهَدُ أَنَّکُمْ أَحْیائٌ عِنْدَ رَبِّکُمْ تُرْزَقُونَ، أَشْهَدُ أَنَّکُمُ الشُّهَدائُ
تو بڑی کامیابی پالیتا میں گواہی دیتا ہوںکہ تم سب اپنے رب کے ہاں زندہ ہو رزق پاتے ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ تم شہید ہو
وَالسُّعَدائُ وَأَنَّکُمُ الْفائِزُونَ فِی دَرَجاتِ الْعُلی وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
اور خوش بخت ہو اور بے شک تم لوگ بڑے بلند درجوں تک پہنچے ہوئے ہو اورسلام ہو تم سب پر خدا کی رحمت ہو اوراسکی برکات ہوں۔
اس کے بعد امام حسین- کے سرہانے کی طرف چلا جائے وہاں نماز زیارت بجا لائے اور پھر اپنے لیے اپنے والدین اور مومن بھائی بہنوں کیلئے دعائیں مانگے۔
یاد رہے کہ سید ابن طائوسرحمهالله نے حضرت علی اکبرعليهالسلام اور دیگر شہدا کیلئے ایک اور زیارت نقل کی ہے جس میں ان کے نام ذکر ہوئے ہیں لیکن ہم نے بغرض اختصار اور مذکورہ زیارت کی شہرت عام کے پیش نظر اسے یہاں نقل نہیں کیا۔
دوسری زیارت
برائے پندرہ رجب
یہ اس زیارت کے علاوہ ہے جو ابھی نقل کی گئی ہے اور اس زیارت کے بارے میں شیخ مفیدرحمهالله نے مزار میں فرمایا ہے کہ یہ پندرہ رجب کی زیارات مخصوصہ میں سے ہے پندرہ رجب کو غفیلہ کہتے ہیں یعنی نیمہ رجب کو غفیلہ کہتے ہیں زیارت کا نام غفیلہ نہیں ہے۔ کیونکہ عام لوگ اس کی فضیلت سے واقف نہیں ہیں پس جب اس تاریخ کو امام حسین- کی زیارت کا ارادہ کرے اور صحن شریف کے دروازے پر پہنچے تو حرم مقدس میں داخل ہو کر تین مرتبہ کہے: ﷲاکبر پھر ضریح مبارک کے نزدیک کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا آلَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا صَفْوَةَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا خِیَرَةَ
آپ پر سلام ہو اے خانودہ الہٰی ،آپ پر سلام ہو اے خدا کے پسند کیے ہوئے ،سلام ہو آپ پر اے خلق میں
ﷲ مِنْ خَلْقِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا سادَةَ السَّاداتِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا لُیُوثَ الْغاباتِ
اس کے چنے ہوئے، آپ پر سلام ہو اے سرداروں کے سردارو، آپ پر سلام ہو اے میدان شجاعت کے شیرو،
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا سُفُنَ النَّجاةِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے نجات کی کشتیو، آپ پر سلام ہو اے ابا عبداللہ حسینعليهالسلام ، آپ پر
عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِلْمِ الْاََنْبِیائِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ
سلام ہو اے علم انبیائ کے وارث خدا کی رحمت ہو اور ا س کی برکات ہوں سلام ہو آپ پر اے وارث آدمعليهالسلام جو خدا کے
ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ
برگزیدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے نوحعليهالسلام کے وارث جو خدا کے نبی ہیں سلام ہو آپ پر اے ابراہیمعليهالسلام کے وارث جو خدا
ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إسْماعِیلَ ذَبِیحِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسیٰ
کے خلیل ہیں آپ پر سلام ہو اے اسماعیلعليهالسلام کے وارث جو ذبیح ﷲ ہیں آپ پر سلام ہو اے موسیٰعليهالسلام کے وارث جو
کَلِیمِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِیسی رُوحِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ
خد کے کلیم ہیں سلام ہو آپ اے عیسیٰعليهالسلام کے وارث جو روح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وارث جو خدا کے
حَبِیبِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ عَلِیٍّ الْمُرْتَضیٰ
حبیب ہیں سلام ہوآپ پر اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم مصطفی کے فرزند آپ پر سلام ہو اے علیعليهالسلام مرتضی کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خَدِیجَةَ الْکُبْرَی، اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے فاطمہعليهالسلام زہرائ کے فرزند سلام ہو آپ پر اے ام المومنین خدیجہ الکبریٰعليهالسلام کے فرزند آپ پر
عَلَیْکَ یَا شَهِیدُ ابْنَ الشَّهِیدِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا قَتِیلُ ابْنَ الْقَتِیلِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ
سلام ہو اے شہید فرزند شہید آپ پر سلام ہو اے مقتول فرزند مقتول آپ پر سلام ہو اے ولی
ﷲ وَابْنَ وَلِیِّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ وَابْنَ حُجَّتِهِ عَلَی خَلْقِهِ، أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ
خدا اور ولی خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے حجت خدا اور اس کی مخلوق پر اس کی رحمت کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ
أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَرُزِیْتَ
نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیااور برے کاموں سے روکا آپ اپنے والدین کے سوگوار ہوئے
بِوالِدَیْکَ وَجاهَدْتَ عَدُوَّکَ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ تَسْمَعُ الْکَلامَ وَتَرُدُّ الْجَوابَ وَأَنَّکَ حَبِیبُ
اور اپنے دشمنوں سے جہاد و قتال کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بات سنتے اور جواب دیتے ہیں اور یہ کہ آپ خدا کے حبیب اس کے
ﷲ وَخَلِیلُهُ وَنَجِیبُهُ وَصَفِیُّهُ وَابْنُ صَفِیِّهِ، یَا مَوْلایَ وَابْنَ مَوْلایَ زُرْتُکَ مُشْتاقاً
دوست اسکی پاک اصل اس کے برگزیدہ اور اسکے برگزیدہ کے فرزند ہیں اے میرے مولا اور میرے مولا کے فرزند میں نے شوق
فَکُنْ لِی شَفِیعاً إلَی ﷲ یَا سَیِّدِی وَأَسْتَشْفِعُ إلَی ﷲ بِجَدِّکَ سَیِّدِ
سے آپ کی زیارت کی ہے پس خدا کے ہاں میرے سفارشی بنیں اے میرے آقا شفاعت چاہتا ہوں خدا کے ہاں آپ کے نانا
النَّبِیِّینَ وَبِأَبِیکَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، وَبِأُمِّکَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ
نبیوں کے سردار کے ذریعے آپکے بابااوصیائ کے سردار کے ذریعے اور آپ کی والدہ فاطمہعليهالسلام ، زنان عالمین کی سردار کے ذریعے سے
أَلا لَعَنَ ﷲ قاتِلِیکَ وَلَعَنَ ﷲ ظالِمِیکَ وَلَعَنَ ﷲ سَالِبِیکَ وَمُبْغِضِیکَ
ہاں خدا لعنت کرے آپکے قاتلوں پر خدا لعنت کرے آپ پر ظلم کرنے والوںپر اورخدا لعنت کرے آپکا حق لوٹنے والوں پر اور آپ
مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ
کے دشمنوں پر جو اولین و آخرین میں سے ہیں اور خدا رحمت کرے ہمارے آقا و مولا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کی پاک و پاکیزہ آلعليهالسلام پر۔
اب ضریح پاک پر بوسہ دے اور حضرت علی اکبر - کی قبر شریف کی طرف متوجہ ہو کر ان کی زیارت یوں پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَابْنَ مَوْلایَ، لَعَنَ ﷲ قاتِلِیکَ، وَلَعَنَ ﷲ ظالِمِیکَ، إنِّی
آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اور میرے آقا کے فرزند خدا لعنت کرے آپکے قاتلوں پر اور خدا لعنت کرے آپ پرظلم کرنے والوں پر بے شک
أَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ بِزِیارَتِکُمْ وَبِمَحَبَّتِکُمْ وَأَبْرَأُ إلَی ﷲ مِنْ أَعْدَائِکُمْ وَاَلسَّلَامُ
میںخدا کا قرب چاہتا ہوں آپکی زیارت اور آپکی محبت کے وسیلے سے اورخدا کے ہاں آپکے دشمنوں سے بیزاری کرتا ہوں آپ پر
عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ پھر دیگر شہدائ کی قبور پر جائے اور کھڑے ہو کر کہے:
سلام ہو اے میرے مولا خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں
اَلسَّلَامُ عَلَی الْاََرْواحِ الْمُنِیخَةِ بِقَبْرِ أَبِی عَبْدِﷲ الْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا طَاهِرِینَ
سلام ہو ان روحوں پر جو مقیم ہیں ابی عبدا للہ حسین - کے روضہ پاک میں آپ پر سلام ہو اے وہ افرادجو آلودگی سے
مِنَ الدَّنَسِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا مَهْدِیُّونَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَبْرارَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ
پاک ہیں سلام ہوآپ پر اے وہ افراد جو راہ حق پا چکے ہیں سلام ہوآپ پر اے خدا کے نیک بندو آپ پر سلام ہو
وَعَلَی الْمَلائِکَةِ الْحَافِّینَ بِقُبُورِکُمْ أَجْمَعِینَ جَمَعَنَا ﷲ وَ إیَّاکُمْ فِی مُسْتَقَرِّ رَحْمَتِهِ
اور ان سب فرشتوں پر جو تمہاری قبروں کے اردگرد رہتے ہیں خدا اکٹھا کرے ہمیں اورآپ کواپنی رحمت کے مقام میں
وَتَحْتَ عَرْشِهِ إنَّهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ
اور اپنے عرش کے نیچے بے شک وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اور سلام ہو تم پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
اس کے بعد حضرت عباس فرزند امیر المومنین کے حرم مبارک کیطرف جائے اور وہاں حضرت کے قبہ کے دروازے پر رک جائے اور کہے:سَلَاْمُ ﷲ وَ سَلَاْمُ مَلآئِکَتِهٰ الْمُقَرَّبِیْنَ ۔۔۔ تا آخر زیارت کہ جو مطلب دوم کے تحت زیارت حضرت عباس- کے عنوان سے نقل ہوچکی ہے۔
تیسری زیارت
برائے پندرہ شعبان
جاننا چاہئیے کہ پندرہ شعبان کو امام حسین- کی زیارت کرنے کی فضلیت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں اس بارے میںبس اتنا ہی کافی ہے کہ بہت سی قابل اعتبار اسناد کے ساتھ امام زین العابدین اور امام جعفر صادق سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس سے مصافحہ کریں تو پندرہ شعبان کو ابی عبدا للہ الحسین- کی زیارت کرے کیونکہ اس دن فرشتے اور ارواح انبیاعليهالسلام ئ خدا سے اجازت لیکرحضرتعليهالسلام کی زیارت کے لیے آتے ہیں پس نیک بخت ہے وہ شخص جوان سے مصافحہ کرے اور وہ اس سے مصافحہ کریں۔ جب کہ ان میں پانچ اولو العزم پیغمبر یعنی حضرت نوحعليهالسلام ‘ حضرت ابراہیمعليهالسلام ‘ حضرت موسیٰعليهالسلام ‘ حضرت عیسیٰعليهالسلام اور حضرت محمد شامل ہیں راوی کا بیان ہے کہ میں نے پوچھا کیوں ان کو اولو العزم کہا جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو مشرق و مغرب اورجن وانس کے لیے بھیجا گیا ہے اس زیارت کے الفاظ دو طریقوں سے نقل ہوئے ہیں چنانچہ ایک متن وہ ہے جو یکم رجب کیلئے نقل ہو چکا ہے اور دوسرا متن وہ ہے جس کو شیخ کفعمیرحمهالله نے کتاب بلد الامین میں امام جعفر صادق - سے روایت کیا ہے کہ امام حسین- کی ضریح پاک کے نزدیک کھڑے ہو کر یوں کہے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الزَّکِیُّ أُودِعُکَ شَهادَةً
حمد ہے خدا کیلئے جو بلند و بزرگ ہے اور آپ پر سلام ہو اے خدا کے بندہ خوش کردار پاکیزہ میں اپنی طرف سے ایک گواہی آپکے سپرد
مِنِّی لَکَ تُقَرِّبُنِی إلَیْکَ فِی یَوْمِ شَفاعَتِکَ أَشْهَدُ أَنَّکَ قُتِلْتَ وَلَمْ تَمُتْ
کرتا ہوں تاکہ وہ مجھے آپکے قریب کرے جس دن آپ شفاعت کرتے ہوں گے میں گواہی دیتاہوں کہ آپ قتل ہوئے تو آپ مرے
بَلْ بِرَجائِ حَیَاتِکَ حَیِیَتْ قُلُوبُ شِیعَتِکَ، وَبِضیائِ نُورِکَ اهْتَدَی الطَّالِبُونَ
نہیں بلکہ آپکے زندہ ہونے کے تصور سے آپکے پیروکاروں کے دل زندہ ہیںاور آپکی روشنی کی کرنوں کے ذریعے چاہنے والے
إلَیْکَ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ نُورُ ﷲ الَّذِی لَمْ یُطْفأْ وَلاَ یُطْفَأُ أَبَداً، وَأَنَّکَ وَجْهُ ﷲ
آپ تک پہنچتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کا وہ نور ہیں جو بجھتا نہیں اور نہ ہی وہ کبھی بجھے گا اور بے شک آپ خدا کا وہ چہرہ
الَّذِی لَمْ یَهْلِکْ وَلاَ یُهْلَکُ أَبَداً وَأَشْهَدُ أَنَّ هذِهِ التُّرْبَةَ تُرْبَتُکَ وَهذَا الْحَرَمَ حَرَمُکَ
ہیں جو ختم نہیں ہوتا ور نہ ہی یہ کبھی ختم ہو گا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ قبر آپ کی قبر ہے یہ روضہ آپ کا روضہ ہے
وَهذَاالْمَصْرَعَ مَصْرَعُ بَدَنِکَ، لاَ ذَلِیلَ وَﷲ مُعِزُّکَ، وَلاَ مَغْلُوبَ وَﷲ ناصِرُکَ
اور یہ قتل گاہ آپکے بدن کی قتل گاہ ہے آپ پست نہیں کہ خدا نے آپکو عزت دی اور آپ شکست خوردہ نہیں ہیں کہ خدا نے آپکی مدد فرمائی
هذِهِ شَهَادَةٌ لِی عِنْدَکَ إلی یَوْمِ قَبْضِ رُوحِی بِحَضْرَتِکَ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ
آپ کے سامنے میری گواہی اس دن تک ہے جب آپ کی موجودگی میں میری روح قبض ہوگی اور آپ پر سلام ہو خدا کی
ﷲ وَبَرَکاتُهُ
رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
چوتھی زیارت
شب ہائے قدر میں امام حسین- کی زیارت
جاننا چاہیے کہ امام حسین- کی زیارت ماہ رمضان میں کرنے اور خاص کر اس کی پہلی، پندرھویں اور آخری رات میں اور شب ہائے قدر میں آپ کی زیارت کرنے کی فضلیت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں‘ امام محمد تقی - سے روایت ہے کہ: ماہ رمضان کی تیئسویں رات وہ رات ہے جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شب قدر ہے اسی رات میں ہرا مرمحکم اور مقدر ہوتا ہے۔ پس جو شخص اس شب میں امام حسین- کی زیارت کرے تو چوبیس ہزار پیغمبر اور فرشتے اس کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں کیونکہ وہ اس رات حضرت کی زیارت کرنے کے لیے خدائے تعالیٰ سے اجازت لے کر آتے ہیں ایک اور معبتر حدیث میں امام جعفر صادق - سے روایت کی گئی ہے کہ جب شب قدر آتی ہے تو ساتویں آسمان پر عرش کے اندرونی حصے میں ایک منادی ندا دیتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ہر ایسے شخص کو بخش دیا جو حسین ابن علی کی زیارت کیلئے آیا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص شب قدر میں قبر امام حسین- پر ہو اور اسکے قریب تر یا اس کے پاس جہاں بھی جگہ ملے دو رکعت نماز بجا لائے پھر حق تعالیٰ سے بہشت کا سوال کرے اور آتش جہنم سے پناہ طلب کرے تو اس کا سوال جنت پورا کرے گا اور جہنم سے پناہ عطا فرمائے گا ابن قولویہ نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جو شخص ماہ مبارک میں امام حسین- کی زیارت کرے اور اثنائے راہ میں مر جائے تو اس کاحساب وغیرہ نہیں ہو گا اور اس سے کہاجائے گا کہ بے خوف و خطر جنت میں داخل ہو جا باقی رہا اس زیارت کا متن یعنی اس کے الفاظ و کلمات جو شب قدر میں امام حسین- کیلئے پڑھی جاتی ہے اور اس کا ذکر شیخ مفیدرحمهالله شیخ محمد بن المشہدیرحمهالله ‘ سیدابن طائوس او رشہیدرحمهالله نے کتب مزار میں کیا ہے اور اس زیارت کوشب قدر،عید الفطر و عید الاضحی کے لیے مخصوص قرار دیا ہے نیز شیخ محمد بن المشہدیرحمهالله نے اپنی معتبر اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جب تم ابی عبداللہ الحسین- کی زیارت کا ارادہ کرو تو غسل کر کے پاکیزہ لباس پہنو‘ پھر حضرت کی ضریح پاک کی طرف جائو اور اس کے نزدیک کھڑے ہو کر حضرت کی طرف رخ کرو اس طرح کہ قبلہ کو اپنے دونوں کندھوں کے درمیان قرار دو اور یہ کہو:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خداکے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیرالمومنینعليهالسلام کے فرزند آپ پر سلام ہو
یَابْنَ الصِّدِّیقَةِ الطَّاهِرَةِ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا
اے فاطمہعليهالسلام کے فرزند جو بہت سچی پاکیزہ اور تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے
أَبا عَبْدِﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ،
ابا عبداللہ خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں میں گواہی دیتا ہوںکہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی
وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَتَلَوْتَ الْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِهِ، وَجاهَدْتَ فِی
آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برے کاموں سے منع کیا آپ نے تلاوت قرآن کی جو تلاوت کا حق ہے آپ نے خدا کی راہ میں
ﷲ حَقَّ جِهادِهِ وَصَبَرْتَ عَلَی الْاََذی فیْ جَنْبِهِ مُحْتَسِباً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ أَشْهَدُ
جہاد کیا جو جہاد کا حق ہے اور آپ نے خدا کی خاطر دکھوں پر صبر کیا امید اجر میں حتی کہ آپ نے شہادت پائی میں گواہی دیتا ہوں
أَنَّ الَّذِینَ خالَفُوکَ وَحارَبُوکَ وَالَّذِینَ خَذَلُوکَ وَالَّذِینَ قَتَلُوکَ مَلْعُونُونَ عَلَی
کہ جنہوںنے آپکی مخالفت کی اور آپ سے لڑے نیز جنہوں نے آپکا ساتھ نہ دیا اور جنہوں نے آپکو قتل کیاوہ سب ملعون قرار
لِسانِ النَّبِیِّ الْاَُمِیِّ وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَریٰ، لَعَنَ ﷲ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاََوَّلِینَ
دیئے گئے نبی امی کی زبان سے یقینا وہ ناکام رہا جس نے جھوٹا دعویٰ کیا خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ہے اولین و
وَالْاَخِرِینَ وَضاعَفَ عَلَیْهِمُ الْعَذابَ الْاََلِیمَ أَتَیْتُکَ یَا مَوْلایَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ زائِراً
آخرین میں سے اور دگنا ہو ان پر درد ناک عذاب میںآیا آپ کے ہاں اے میرے مولا اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند زیارت کرنے
عارِفاً بِحَقِّکَ، مُوالِیاً لاََِوْلِیائِکَ، مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ، مُسْتَبْصِراً بِالْهُدَیٰ
آپکاحق پہنچاتے ہوئے آپکے دوستوں سے دوستی آپکے دشمن سے دشمنی رکھتے ہوئے اس راستے کو درست ہدایت جانتے ہوئے
الَّذِی أَنْتَ عَلَیْهِ، عارِفاً بِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکَ، فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ
جس پر آپ چلے اور اسے گمراہ سمجھتے ہوئے جس نے آپ سے مخالفت کی پس اپنے رب کے ہاں میری سفارش کریں ۔
اس کے بعد زائر خود کو قبر مبارک سے لپٹائے اور اپنا منہ اس پر رکھے پھر سرہانے کی طرف جائے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ فِی أَرْضِهِ وَسَمائِهِ، صَلَّی ﷲ عَلَی رُوحِکَ الطَّیِّبِ
آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اس کی زمین اور اسکے آسمان میں خدا رحمت کرے آپ کی پاکیزہ روح پر
وَجَسَدِکَ الطَّاهِرِ، وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ یَا مَوْلایَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
اور آپ کے جسم پاک پراور آپ پر سلام ہو اے میرے مولا خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہو۔
اب پھر سے خود کو قبر شریف سے لپٹائے اس پر بوسہ دے اور اپنا چہرہ اس پر رکھ دے‘ اس کے بعد سرہانے کیطرف چلا جائے اور دو رکعت نماز زیارت ادا کرے اسکے بعد وہاںمزید جتنی چاہے نماز پڑھے پھر قبر مبارک کی پائنتی کی طرف جائے اور حضرت علی اکبر - کی زیارت کرے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَابْنَ مَوْلایَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، لَعَنَ ﷲ مَنْ ظَلَمَکَ
آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اور میرے مولا کے فرزندخداکی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ پر ظلم کیا
وَلَعَنَ ﷲ مَنْ قَتَلَکَ، وَضاعَفَ عَلَیْهِمُ الْعَذابَ الْاََلِیمَ
اور خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ کو قتل کیا نیز ان کے درد ناک عذاب میں کئی گنااضافہ کرے۔
اب جو دعا چاہے مانگے اور پھر دیگر شہدائ کربلائ کی طرف متوجہ ہو جب کہ قبر کی پائنتی سے قبلہ کی طرف ہو پس یوں کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّهَا الصِّدِیقُونَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّهَا الشُّهَدائُ الصَّابِرُونَ، أَشْهَدُ
سلام ہو آپ سب پر اے سچو سلام ہو آپ پر اے شہیدو جو بہت صبر کرنے والے ہومیں گواہی دیتا ہوں
أَنَّکُمْ جاهَدْتُمْ فِی سَبِیلِ ﷲ، وَصَبَرْتُمْ عَلَی الْاََذی فِی جَنْبِ ﷲ، وَنَصَحْتُمْ لِلّٰهِ
کہ یقیناً آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا اور خدا کی خاطر دکھ تکلیف پر صبرسے کام لیا آپ نے خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے
وَلِرَسُولِهِ حَتَّی أَتَاکُمُ الْیَقِینُ، أَشْهَدُ أَنَّکُمْ أَحْیائٌ عِنْدَ رَبِّکُمْ تُرْزَقُونَ، فَجَزاکُمُ
خلوص برتا حتیٰ کہ دنیا سے گزر گئے میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور آپ اپنے رب کی ہاں زندہ ہیں رزق پاتے ہیں پس خدا تمہیں جزا دے
ﷲ عَنِ الْاَسْلامِ وَأَهْلِهِ أَفْضَلَ جَزائِ الْمُحْسِنِینَ، وَجَمَعَ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْ فِی مَحَلِّ النَّعِیمِ
اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے بہترین جزائ جو نیکو کاروں کے لیے ہے اور یکجا کرے ہمیں اور تم کونعمتوں والی جنت کے مکانوں میں۔
اب حضرت عباس ابن امیر المومنین کی زیارت کیلئے جائے اور جب وہاں پہنچے تو حضرت کی ضریح مبارک کے پاس کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِیعُ لِلّٰهِ
آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین کے فرزند آپ پر سلام ہو اے بندہ خوش کردار خدا اوراس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَلِرَسُولِهِ، أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ جاهَدْتَ وَنَصَحْتَ وَصَبَرْتَ حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ،
کے اطاعت گزار میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور آپ نے جہاد کیا خیر اندیشی کی اور صبر سے کام لیا حتی کہ آپ دنیا سے چل بسے
لَعَنَ ﷲ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَأَلْحَقَهُمْ بِدَرْکِ الْجَحِیمِ
خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم ڈھایا اولین و آخرین میںسے اور خدا ان کو جہنم کے نچلے درجے میں پھینکے۔
پھر حضرت کی مسجد میں جس قدر چاہے مستحبی نماز ادا کرے اور باہر آ جائے
پانچویں زیارت
عید الفطر و عیدالاضحی میں امام حسین- کی زیارت
یہ امام حسین- کی وہ زیارت ہے جو عید الفطر اور عید قربان میں پڑھی جاتی ہے۔ معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص تین راتوںمیں سے کسی ایک رات کوروضہ امام حسین- کی زیارت کرے تو اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور وہ عید الفطر کی رات‘ عید قربان کی رات اور پندرہ شعبان کی رات ہے۔ معتبر روایت میں امام موسیٰ کاظم - سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص تین راتوں میں سے کسی ایک رات امام حسین- کی زیارت کرے تو اس کے گزشتہ و آئندہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ راتیں پندرہ شعبان‘ تیئیس رمضان اور عید الفطر کی رات ہیں امام جعفر صادق - سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص ایک ہی سال میں پندرہ شعبان‘ عید الفطر اور شب عرفہ (نویں ذوالحجہ کی شب) میں امام حسین- کی زیارت کرے تو حق تعالیٰ اس کیلئے ایک ہزار حج مقبول اور ایک ہزار عمرہ مقبولہ کا ثواب لکھتا ہے دنیا و آخرت میں اس کی ایک ہزار حاجات پوری ہوتی ہیں۔
امام محمد باقر - سے منقول ہے کہ جو شخص شب عرفہ سرزمین کربلا میں ہو اور روز عید قربان تک وہیں رہے اور پھر واپس چلا جائے تو خدائے تعالیٰ اس سال میں رونما ہونے والے شر سے اس کو محفوظ فرمائے گا یاد رہے کہ علمائ نے ان دو بلند مرتبہ عیدوں کے لیے دو زیارتیں نقل کی ہیں ان میں سے ایک تو وہی ہے جو قبل ازیں شب ہائے قدر کے لیے لکھی گئی ہے اور دوسری یہ ہے کہ جو ابھی نقل کی جارہی ہے علمائ کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اول الذکر زیارت عیدین کے دنوں کیلئے اور درج ذیل زیارات عیدین کی راتوں میں پڑھنے کیلئے ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص ان راتوں میں امام حسین- کی زیارت کا ارادہ کرے تو حضرت کے قبہ مبارکہ کے دروازے پر کھڑا ہو جائے ضریح پاک پر نظر رکھے اور داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے ہوئے یوں کہے:
یا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، یَابْنَ رَسُولِ ﷲ عَبْدُکَ وَابْنُ أَمَتِکَ الذَّلِیلُ بَیْنَ یَدَیْکَ
اے میرے آقا اے ابا عبداللہعليهالسلام اے رسول خدا کے فرزند آپ کا غلام اور آپ کی کنیز کا بیٹاآپ کے سامنے
وَالْمُصَغَّرُ فِی عُلوِّ قَدْرِکَ وَالْمُعْتَرِفُ بِحَقِّکَ جائَ کَ مُسْتَجِیراً بِکَ قاصِداً إلی حَرَمِکَ
بے حیثیت آپکے بلند مرتبہ کے مقابل ناچیز اور آپکے حق کا اقرار کرنے والا آپکے پاس پناہ لینے آیا ہے آپکے حرم کی طرف سفر کرکے
مُتَوَجِّهاً إلی مَقامِکَ مُتَوَسِّلاً إلَی ﷲ تَعالی بِکَ ئَ أَدْخُلُ یَا مَوْلایَ ئَ أَدْخُلُ یا وَلِیَّ
پہنچا آپکے مقام کی طرف رخ کیے ہوئے خدا کے حضور آپکو اپنا وسیلہ بناتا ہے اندر آ جائوں اے میرے مولا کیا اندر آجائوں اے ولی
ﷲ ئَ أَدْخُلُ یَا مَلائِکَةَ ﷲ الْمُحْدِقِینَ بِهذَا الْحَرَمِ، الْمُقِیمِینَ فِی هذَا الْمَشْهَدِ
خدا کیا اندر آ جائوں اے فرشتو جو اس حرم کے گرد موجود ہو اس زیارت گاہ میں اقامت رکھتے ہو۔
پس اگر زائر کے دل میں خوف پیدا ہوجائے اور آنکھوں میں آنسو آ جائیں تو سمجھے کہ اجازت مل گئی پس اندر داخل ہو جائے پہلے دایاں پائوں اندر رکھے اور پھر بایاں اور کہے:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَفِی سَبِیلِ ﷲ وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ اَللّٰهُمَّ أَنْزِلْنِی مُنْزَلاً مُبارَکاً
خدا نے نام سے خدا کی ذات سے خدا کی راہ میں اور رسول خدا کے دین و آئین پر اے معبود! جگہ دے مجھ کو بابرکت مکان میں
وَأَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِینَ پهر کهي: ﷲ أَکْبَرُ کَبِیراً وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ کَثِیراً، وَسُبْحانَ ﷲ بُکْرَةً
اور تو ہے بہترین میزبان خدا بزرگتر ہے بزرگی کے ساتھ اور حمد ہے خدا کے لیے بہت بہت پاک تر ہے خدا ہر صبح اور ہر شام
وَأَصِیلاً، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الْفَرْدِ الصَّمَدِ، الْمَاجِدِ الْاََحَدِ، الْمُتَفَضِّلِ الْمَنَّانِ، الْمُتَطَوِّلِ
اور حمد ہے خدا کے لیے جو تنہا بے نیاز بزرگی والا یگانہ فضل کرنے والااحسان کے ساتھ بہت عطا کرنے والا محبت
الْحَنَّانِ، الَّذِی مِنْ تَطَوُّلِهِ سَهَّلَ لِی زِیارَةَ مَوْلایَ بِ إحْسانِهِ، وَلَمْ یَجْعَلْنِی عَنْ
کے ساتھ وہ جس کی عطا اور احسان سے میرے مولا کی زیارت میرے لیے آسان ہوئی اس نے مجھے انکی زیارت
زِیارَتِهِ مَمْنُوعاً، وَلاَ عَنْ ذِمَّتِهِ مَدْفُوعاً، بَلْ تَطَوَّلَ وَمَنَحَ
کرنے سے نہیںروکا اور ان کی پناہ سے محروم نہیں کیا بلکہ اس نے عطا و بخشش سے کام لیا۔
اب اندر جائے اور جب روضہ کے درمیان پہنچے تو قبرکے سامنے گریہ کرتے ہوئے عاجزی سے کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاوارِثَ نُوحٍ أَمِینِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے آدمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے چنے ہوئے ہیں آپ پر سلام ہو اے نوحعليهالسلام کے وارث جو خدا کے امین ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ ﷲ
سلام ہوآپ پر اے ابراہیمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے خلیل ہیں سلام ہو آپ پر اے موسیٰعليهالسلام کے وارث جو خدا کے کلیم ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِیسی رُوحِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍحَبِیبِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے عیسیٰ کے وارث جو خدا کی روح ہیں آپ پر سلام ہو اے محمد کے وارث جو خدا کے حبیب ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عَلِیٍّ حُجَّةِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْوَصِیُّ الْبَرُّ التَّقِیُّ
سلام ہوآپ پر اے علیعليهالسلام کے وارث جو حجت خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے وصی نیک پرہیز گار
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ ﷲ وَابْنَ ثارِهِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ
آپ پر سلام ہو اے قربان خدااور قربان خدا کے فرزند اور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی
وَآتَیْتَ الزَّکاةَ وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَجاهَدْتَ فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ
اور زکوٰۃ ادا کی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیابرے کاموں سے منع کیا اور راہ خدا میں جہاد کیا جو جہاد کرنے کاحق ہے یہاں تک کہ
حَتَّی اسْتُبِیحَ حَرَمُکَ، وَقُتِلْتَ مَظْلُوماً
آپ کی بے احترامی ہوئی اور مظلومی میں قتل ہو گئے۔
پھر حضرت - کے روضۃ مبارک کے سرہانے رقت دل اور روتی آنکھوں کے ساتھ کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ
آپ پر سلام ہو اے ابا عبداللہ آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند سلام ہو آپ پر اے اوصیا کے
سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ
سردار کے فرزند سلام ہو آپ پر اے فاطمہ زہرا کے فرزند جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں آپ پر
عَلَیْکَ یَا بَطَلَ الْمُسْلِمِینَ، یَامَوْلایَ أَشْهَدُ أَنَّکَ کُنْتَ نُوراً فِی الْاََصْلابِ الشَّامِخَةِ
سلام ہو اے مسلمانوں میں بڑے بہادراے میرے مولا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نور کی صورت میں رہے عزت والی پشتوں اور
وَالْاََرْحامِ الْمُطَهَّرَةِ، لَمْ تُنَجِّسْکَ الْجاهِلِیَّةُ بِأَنْجَاسِها، وَلَمْ تُلْبِسْکَ مِنْ مُدْلَهِمَّاتِ
پاکیزہ رحموں میں جاہلیت نے آپ کو اپنی نجاستوں سے آلودہ نہیں کیا اور نہ اس نے آپ پر برے اثرات
ثِیابِها وَأَشْهَدُ أَنَّکَ مِنْ دَعائِمِ الدِّینِ وَأَرْکانِ الْمُسْلِمِینَ، وَمَعْقِلِ الْمُؤْمِنِینَ وَأَشْهَدُ
ڈالے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دین کے ستونوںمسلمانوں کے سرداروں اور مومنوں کے قلعوں میں سے ہیں میں گواہی دیتا ہوں
أَنَّکَ الْاِمامُ الْبَرُّ التَّقِیُّ الرَّضِیُّ الزَّکِیُّ الْهادِی الْمَهْدِیُّ، وَأَشْهَدُ أَنَّ آلاَءِمَّةَ مِنْ
کہ آپ امام نیکو کارپرہیز گارپسندیدہ پاکیزہ رہبر راہ یافتہ ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جوائمہ آپ کی اولاد میں
وُلْدِکَ کَلِمَةُ التَّقْویٰ، وَأَعْلامُ الْهُدیٰ، وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقی، وَالْحُجَّةُ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا
سے ہیں وہ پرہیز گاری کے پیام ہدایت کے نشان خدا کی مضبوط رسی اور اہل دنیا پر اس کی حجت ہیں۔
اب خود کو قبر مبارک کے ساتھ لپٹائے اور کہے:
إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ، یَا مَوْلایَ، أَنَا مُوالٍ لِوَلِیِّکُمْ، وَمُعادٍ لِعَدُوِّکُمْ، وَأَنَا بِکُمْ
یقینا ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف پلٹنے والے ہیں اے میرے مولا میں آپ کے دوست کا دوست اور آپ کے دشمن کا دشمن ہوں
مُؤْمِنٌ، وَبِ إیابِکُمْ مُوقِنٌ، بِشَرایِعِ دِینِی، وَخَواتِیمِ عَمَلِی، وَقَلْبِی لِقَلْبِکُمْ سِلْمٌ،
آپکا اور آپکی رجعت کا معتقد ہوں میں یقین رکھتاہوں اپنے دین کے احکام اور اپنے عمل کے بدلے پر میرا دل آپکے دل سے پیوستہ
وَأَمْرِی لاََِمْرِکُمْ مُتَّبِعٌ، یَا مَوْلایَ، أَتَیْتُکَ خائِفاً فَآمِنِّی، وَأَتَیْتُکَ مُسْتَجِیراً
اور میرا مقصد آپکے مقصد کی پیروی ہے اے میرے مولا آپکے پاس ڈرتا ہوا آیا ہوں مجھے تسلی دیں آپ کے پاس پناہ لینے آیا ہوں
فَأَجِرْنِی وَأَتَیْتُکَ فَقِیراً فَأَغْنِنِی، سَیِّدِی وَمَوْلایَ أَنْتَ مَوْلایَ حُجَّةُ ﷲ عَلَی
مجھے پناہ دیں اور آپ کے پاس محتاج ہو کر آیا ہوں مالا مال کریں اے میرے آقا اے میرے مولا آپ میرے وہ مولا ہیں جو خدا کی
الخَلْقِ أَجْمَعِینَ، آمَنْتُ بِسِرِّکُمْ وَعَلانِیَتِکُمْ، وَبِظاهِرِکُمْ وَباطِنِکُمْ، وَأَوَّلِکُمْ
ساری مخلوق پر اسکی حجت ہیں میں ایمان رکھتا ہوںآپکے نہاں و عیاں پر آپ کے ظاہر پر اور آپ کے باطن پر اور آپ کے اول پر
وَآخِرِکُمْ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ التَّالِی لِکِتابِ ﷲ وَأَمِینُ ﷲ الدَّاعِی إلَی ﷲ بِالْحِکْمَةِ
اور آخر پر میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کتاب خدا کی تلاوت کرنے والے خدا کے امین ہیں اور بہترین
وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، لَعَنَ ﷲ أُمَّةً ظَلَمَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ
نصیحت کیساتھ خدا کی طرف بلانے والے ہیںخدا لعنت کرے اس گروہ پر جس نے آپ پر ظلم کیا اور جس نے آپکو قتل کیا
وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِهِ
اور خدا لعنت کرے اس گروہ پر جس نے یہ بات سنی تو اور اس پر خوش ہوا ۔
پھر حضرت -کے سرہانے کی طرف دو رکعت نماز بجالائے اور نماز کا سلام دینے کے بعد کہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی لَکَ صَلَّیْتُ وَلَکَ رَکَعْتُ وَلَکَ سَجَدْتُ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ
اے معبود! بے شک میں نے تیرے لیے نماز پڑھی تیرے لیے رکوع کیااور تیرے لیے سجدہ کیا تو یکتا ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں
فَ إنَّهُ لا تَجُوزُ الصَّلاةُ وَالرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ إلاَّ لَکَ لاََِنَّکَ أَنْتَ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ
پس نہیں ہے جائز نماز پڑھنا اور رکوع کرنااور سجدہ کرنا مگر تیرے ہی واسطے اس لیے کہ تو وہ اللہ ہے کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَبْلِغْهُمْ عَنِّی أَفْضَلَ السَّلامِ وَالتَّحِیَّةِ، وَارْدُدْ
اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور پہنچا ان کو میری طرف سے بہترین سلام اور درود اور پلٹا مجھ پر ان
عَلَیَّ مِنْهُمُ السَّلامَ اَللّٰهُمَّ وَهاتانِ الرَّکْعَتانِ هَدِیَّةٌ مِنِّی إلی سَیِّدِی الْحُسَیْنِ بْنِ
کی طرف سے دعا سلامتی اے معبود! میری یہ دو رکعت نماز ہدیہ ہے میری طرف سے میرے سردار حسینعليهالسلام کیلئے جو فرزند ہیں علیعليهالسلام کے
عَلِیٍّ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَیْهِ وَتَقَبَّلْهُما مِنِّی وَاجْزِنِی عَلَیْهِما أَفْضَلَ أَمَلِی
ان دونوں پر سلام اے معبود حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور حسینعليهالسلام پر رحمت فرما اور بوسہ دے ان کو میری طرف سے اور پوری کران کی خاطر میری
وَرَجائِی فِیکَ وَفِی وَلِیِّکَ یَا وَلِیَّ الْمُؤْمِنِینَ ۔ پھر اپنے آپ کو قبر مبارک سے لپٹاکر بوسہ دیے اور کہے:
بہترین آرزو اور امید جو میں تجھ سے اور تیرے اس ولی سے رکھتا ہوں اے مومنوں کے سرپرست۔
اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ الْمَظْلُومِ الشَّهِیدِ قَتِیلِ الْعَبَراتِ، وَأَسِیرِ الْکُرُباتِ
سلام ہو حسینعليهالسلام ابن علیعليهالسلام پر کہ جو ستم رسیدہ شہید ہیںایسے مقتول ہیں جن پر آنسو بہائے گئے اور جن پر مصیبتیں آ پڑیں
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَشْهَدُ أَنَّهُ وَلِیُّکَ وَابْنُ وَلِیِّکَ وَصَفِیُّکَ الثَّائِرُ بِحَقِّکَ
اے معبود بے شک میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور وہ تیرے ولی اور تیرے ولی کے بیٹے اور تیرے پسندیدہ تیری خاطر انتقام لینے والے ہیں
أَکْرَمْتَهُ بِکَرامَتِکَ، وَخَتَمْتَ لَهُ بِالشَّهادَةِ، وَجَعَلْتَهُ سَیِّداً مِنَ السَّادَةِ، وَقائِداً مِنَ
جن کو تو نے اپنی عزت سے عزت دی اور انہیں شہادت کی موت نصیب فرمائی اور انہیں سرداروں کا سردار اور رہنماؤں کا
الْقادَةِ، وَأَکْرَمْتَهُ بِطِیبِ الْوِلادَةِ، وَأَعْطَیْتَهُ مَوارِیثَ الْاََنْبِیائِ، وَجَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَی
رہنما بنایا تو نے بزرگی دی ان کو پاکیزہ پیدائش سے اور عطا فرمائے ان کو نبیوں کے ورثے، تو نے قرار دیا ان کو اپنی مخلوق پر
خَلْقِکَ مِنَ الْاََوْصِیائِ، فَأَعْذَرَ فِی الدُّعائِ، وَمَنَحَ النَّصِیحَةَ وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیکَ حَتَّی
حجت اوصیائ میںسے پس انہوں نے دعوت حق میں حجت تمام کی لگا تار نصیحت کرتے رہے اور تیرے نام پر گردن کٹا دی تاکہ تیرے
اسْتَنْقَذَ عِبادَکَ مِنَ الْجَهالَةِ، وَحَیْرَةِ الضَّلالَةِ، وَقَدْ تَوازَرَ عَلَیْهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْیا،
بندوں کو جہالت کے اندھیروں اور گمراہی کی پریشانیوں سے نکالیں جب کہ ان کے خلاف وہ لوگ جمع تھے جن کو دنیا نے دھوکہ دیا
وَباعَ حَظَّهُ مِنَ الْاَخِرَةِ بِالْاََدْنی، وَتَرَدَّی فِی هَواهُ، وَأَسْخَطَکَ وَأَسْخَطَ نَبِیَّکَ،
انہوں نے آخرت کو دنیا کے بدلے فروخت کر دیاا ور خواہش کے پیچھے چل پڑے انہوں نے تجھے اور تیرے نبی کو ناراض کیا
وَأَطاعَ مِنْ عِبادِکَ أُولِی الشِّقاقِ وَالنِّفاقِ، وَحَمَلَةَ الْاََوْزارِ، الْمُسْتَوْجِبِینَ النَّارَ،
تیرے ان بندوں کا کہنا مانا جو فسادی اور بے ایمان تھے اور ان گناہوں کا بوجھ اٹھا لیا کہ ان کا جہنم میں جانا لازم ٹھہرا پس حسینعليهالسلام نے
فَجاهَدَهُمْ فِیکَ صابِراً مُحْتَسِباً، مُقْبِلاً غَیْرَ مُدْبِرٍ، لاَ تَأْخُذُهُ فِی ﷲ لَوْمَةُ لائِمٍ
تیرے لیے ان سے صبر و احتیاط کے ساتھ جہاد کیا پیچھے نہیں ہٹے خدا کے بارے میں انہوں نے کسی ملامت کرنے والے کواہمیت نہ دی
حَتَّی سُفِکَ فِی طاعَتِکَ دَمُهُ وَاسْتُبِیحَ حَرِیمُهُ اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ لَعْناً وَبِیلاً، وَعَذِّبْهُمْ
حتی کہ تیری فرمانبرداری میں انکا خون بہا دیا گیااور انکی حرمت پامال کی گئی اے معبود! ان ظالموں پر لعنت کہ وہ لعنت جو سخت ہو اور جھونک دے
عَذاباً أَلِیماً ۔ پھر حضرت علی اکبر جو امام حسین کی پائنتی میں ہیں ان کی طرف جائے اور کہے: اَلسَّلَامُ
ان کو درد ناک عذاب میں آپ پر
عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ
سلام ہو اے ولی خدا آپ پر سلام ہو اے خاتم الانبیائ کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ
آپ پر سلام ہو اے فرزند فاطمہعليهالسلام جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں آپ پر سلام ہو اے امیر المومنینعليهالسلام کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْمَظْلُومُ الشَّهِیدُ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی عِشْتَ سَعِیداً وَقُتِلْتَ مَظْلُوماً
آپ پر سلام ہو اے کہجو ستم رسیدہ شہید ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ نے سعادت مندی کی زندگی گزاری اور مظلوم
شَھِیداً۔ اب دیگر شہدائ کی طرف منہ کرے اور کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّهَا الذَّابُّونَ عَنْ تَوْحِیدِ
شہید قتل کئے گئے آپ پر سلام ہو اے خدا کی توحید کی خاطر جنگ کرنے والو آپ پر سلام ہو کہ
ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ بِما صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی فُزْتُمْ فَوْزاً عَظِیماً
آپ نے بڑا صبر کیاہاں کیا ہی اچھا ہے آپ کا آخرت کا گھر میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔
اس کے بعد حضرت عباس بن حضرت علی المرتضی کے مزار پر جائے اورضریح پاک کے نزدیک کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَالصِّدِّیقُ الْمُواسِی، أَشْهَدُ أَنَّکَ آمَنْتَ بِالله
آپ پر سلام ہو اے بندہ نیک و پرہیز گار صاحب صدق اور فدا کار میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے پر ایمان رکھتے تھے
وَنَصَرْتَ ابْنَ رَسُولِ ﷲ وَدَعَوْتَ إلَی سَبِیلِ ﷲ وَواسَیْتَ بِنَفْسِکَ فَعَلَیْکَ مِنَ ﷲ
آپ نے رسول خدا کے فرزند کا ساتھ دیا لوگوں کو راہ خدا کی طرف بلایا اور آپ نے ہمدردی میں جان قربان کر دی پس آپ پر خدا
أَفْضَلُ التَّحِیَّةِ وَالسَّلامِ ۔ پھر اپنے آپ کو قبر شریف سے لپٹائے اور کہے:بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا
کی طرف سے بہترین رحمت اور سلام ہو قربان آپ پر میرے ماں باپ اے
ناصِرَ دِینِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ناصِرَ الْحُسَیْنِ الصِّدِّیقِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ناصِرَ
دین خدا کے ناصر سلام ہو آپ پر اے حسینعليهالسلام کی مدد کرنے والے جو صدیق ہیں آپ پر سلام ہو حسینعليهالسلام کے
الْحُسَیْنِ الشَّهِیدِ، عَلَیْکَ مِنِّی اَلسَّلَامُ مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ
مددگار جو شہید ہیں آپ پر میری طرف سے سلام ہوجب تک باقی ہوں اور جب تک رات دن باقی ہیں۔
پھر حضرت کے سرہانے کی طرف جائے اور دو رکعت نماز ادا کرے اور اس کے بعد وہ دعا پڑھے جو امام حسین- کے سرہانے پڑھی تھی۔ یعنیاَللّٰهُمَّ اِنِّیْ صَلَیْتُ ۔۔۔۔ تاآخر جوحضرت امام حسین- کی زیارت مطلقہ میں ساتویں زیارت کے ہمراہ نقل ہو چکی ہے جب یہ دعا پڑھ لے توضریح حضرت امام حسین- پر آ جائے اور جب تک چاہے حضرت کے پاس رہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس مقدس جگہ کو اپنی خواب گاہ نہ بنائے جب حضرت امام حسین- سے وداع کرنا چاہے تو آپ کے سرہانے کے نزدیک کھڑا ہو جائے اور روتے ہوئے کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ سَلامَ مُوَدِّعٍ لاَ قالٍ وَلاَ سَئِمٍ، فَ إنْ أَنْصَرِفْ فَلاَ عَنْ
آپ پر سلام ہو اے میرے آقا وداع کرنے والے کا سلام اس کا جو دل تنگ نہیں اور نہ تھکا ہوا ہے پس اگر میں پلٹ جائوںتو اسکی وجہ
مَلالَةٍ وَ إنْ أُقِمْ فَلا عَنْ سُوئِ ظَنٍّ بِمَا وَعَدَ ﷲ الصَّابِرِینَ، یَا مَوْلایَ لاَ جَعَلَهُ ﷲ
رنجش نہیں اور اگر ٹھہروں تو اس کی وجہ بد گمانی نہیں اس وعدے سے جو خدا نے صابروں سے کیا ہے اے میرے آقا خدا اس زیارت
آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی لِزِیارَتِکَ وَرَزَقَنِی الْعَوْدَ إلَیْکَ وَالْمَقَامَ فِی حَرَمِکَ وَالْکَوْنَ فِی
کو میرے لیے آخری زیارت قرار نہ دے وہ مجھے آپکے حضور دوبارہ آنا نصیب کرے آپکے حرم میں ٹھہرنے کا موقع دے اور آپ کے
مَشْهَدِکَ آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
روضہ پر حاضری کی سعادت بخشے ایسا ہی ہو اے جہانوں کے رب۔
اب حضرت امام حسین- کی ضریح مقدس کو بوسہ دے اور اپنے سارے بدن کو اس سے مس کرے کہ بے شک یہ اس کیلئے حفظ و امان کا باعث ہے پھر حضرت امام حسین- کے ہاں سے نکل پڑے لیکن اس طرح کہ اس کا منہ قبر کی طرف ہو او رپشت اس کی طرف نہ کرے اس وقت یہ کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بابَ الْمَقامِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَرِیکَ الْقُرْآنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا
آپ پر سلام ہو اے اہل ایمان کے مقام کے دروازہ آپ پر سلام ہو اے ہم مرتبہ قرآن آپ پر سلام ہو اے
حُجَّةَ الْخِصامِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَفِینَةَ النَّجاةِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا مَلائِکَةَ رَبِّی
دشمنوں پر حجت آپ پر سلام ہو اے کشتی نجات آپ پر سلام ہو اے میرے رب کے فرشتو جو اس حرم
الْمُقِیمِینَ فِی هذَا الْحَرَمِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ ۔ پھر یہ کہے:
میں اقامت رکھتے ہیں سلام ہو آپ پر ہمیشہ ہمیشہ جب تک میںباقی ہوں اور رات دن باقی ہیں
إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ رَاجِعُونَ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف پلٹنے والے ہیں اور نہیںحرکت اور نہیں قوت مگر وہ جو خدا ئے بلند و بزرگ سے ملتی ہے۔
اسکے ساتھ حرم پاک سے باہر آجائے سید ابن طائوس اور شیخ محمد بن المشہدی فرماتے ہیں کہ جو زائر اسطرح عمل کرے گا تو گویا وہ اس شخص کی مثل ہے جس نے خدائے تعالیٰ کی عرش پر زیارت کی ہو۔
چھٹی زیارت
عرفہ کے دن امام حسین- کی زیارت
جاننا چاہیے کہ اہل بیت اطہار سے زیارت عرفہ سے متعلق بہت زیادہ روایات اور جو کچھ اس کی فضلیت و ثواب میں وارد ہوا ہے وہ حد شمار سے باہر ہے لیکن یہاں ہم زائرین کا شوق بڑھانے کیلئے ان میں سے چند حدیثیں نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں معتبر سند کے ساتھ بشیر دھان سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں میں نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں گزارش کی کہ بعض موقعوں پر حج مجھ سے ترک ہو جاتا ہے اور میں عرفہ کا دن ضریح امام حسین- کے پاس گزارتا ہوں آپ نے فرمایا کہ اے بشیر یہ تو بہت اچھا عمل کرتا ہے کیونکہ جو مومن امام حسین- کے حق کی معرفت رکھتے ہوئے روز عید کے علاوہ کسی دن آپ کی زیارت کرے تو اس کیلئے بیس حج اور بیس عمرہ مقبولہ اور بیس جہاد کا ثواب لکھا جاتا ہے جو اس نے کسی پیغمبر یا امام عادل کی ہمراہی میں کیے ہوں۔ پھر جو شخص عیدکے دن آپ کی زیارت کرے تو اس کے نامہ اعمال میںسو حج‘سو عمرہ مقبولہ اور سو جہاد کا ثواب تحریر کیا جاتا ہے جو اس نے کسی نبی مرسل یا امام عادل کے ہم رکاب کیے ہوں اور جو شخص عرفہ کے دن امام حسین- کی معرفت کے ساتھ آپ کی زیارت کرے تو اس کے نامہ اعمال میں ہزار حج ،ہزار عمرہ مقبولہ اور ہزار جہاد کا ثواب تحریر کیا جاتا ہے جو اس نے کسی نبی مرسل یا امام عادل کے ساتھ کئے ہوں میں نے عرض کی کہ مجھ کو وقوف عرفات کا ثواب کہا ںمل سکتا ہے؟ پس حضرت نے غضب کی نظر سے دیکھتے ہوئے فرمایا کہ اے بشیر جب کوئی شخص روز عرفہ امام حسین- کی زیارت کرنے جائے اور نہر فرات میںغسل کرے اس کے بعد حضرت کی قبر شریف کی طرف چلے تو خدا اس کے ہر قدم کے لیے جو وہ اٹھاتا ہے اس کے نام ایک حج کا ثواب لکھے گا جو وہ تمام مناسک کے ساتھ بجا لائے راوی کاکہنا ہے کہ میرے خیال میں حضرت نے حج کے ساتھ عمرہ اور غزوہ کا ذکر بھی فرمایا ہے چنانچہ بہت سی معتبر احادیث میںموجود ہے کہ خدائے تعالیٰ روز عرفہ اہل عرفات کی طرف نظرکرنے سے پہلے زائرین قبر امام حسین- پر نظر رحمت کرتا ہے ایک معتبر حدیث میں رفاعہ سے منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے اس سال حج کیا ہے رفاعہ نے عرض کی کہ آپ پر قربان ہو جائوں میرے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ حج کے لیے جاتا تاہم میں نے عرفہ کا دن امام حسین- کے روضہ مبارک پر گزاراہے‘ تب آپ نے فرمایا کہ اے رفاعہ!تم نے ان اعمال میںکوئی کمی نہیں کی جو اہل منیٰ نے وہاں انجام دیے ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں کہ لوگ حج کو ترک کر دیں تو ضرور تم کو ایسی حدیث سناتا کہ تم حضرت کی زیارت کبھی ترک نہ کرتے کچھ دیر تک خاموش رہنے کے بعد فرمایا کہ مجھے میرے والد گرامیعليهالسلام نے خبر دی ہے کہ جو امام حسین- کے حرم مبارک کی طرف جائے جب کہ حضرت کے حق کو پہچانتا ہو اور بڑائی جتانے کے لیے بھی نہ جا رہا ہو تو اس کے ساتھ ایک ہزار فرشتے دائیں جانب اور ایک ہزار فرشتے بائیں جانب ہوتے ہیں نیز اس کے لیے ہزار حج اور ہزار عمرہ کا ثواب تحریر کیا جاتا ہے جو اس نے کسی پیغمبر یاوصی پیغمبر کے ساتھ ادا کیے ہوں۔
کیفیت زیارت
باقی رہی حضرت کی زیارت کی کیفیت تو جیسا کہ بزرگ علمائ اور رؤسائے مذہب نے فرمایا ہے وہ یوں ہے کہ جب کوئی شخص امام حسین- کی زیارت کرنا چاہے تو اگر اس کے لیے ممکن ہو تو نہر فرات میں غسل کرے وگرنہ جس پاک پانی سے ہو سکے غسل کرے اور پاکیزہ لباس پہنے اور سنجیدگی و وقار کے ساتھ چلے‘ جب حائر کے دروازہ پر پہنچ جائے تو کہے: ﷲ ٲَکْبَرپھر کہے:
ﷲ أَکْبَرُ کَبِیراً وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ کَثِیراً، وَسُبْحانَ ﷲ بُکْرَةً وَأَصِیلاً، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی
خدا بزرگتر ہے بزرگی کے ساتھ اور حمد ہے خدا کیلئے پاک و منزہ ہے خدا ہر صبح اور شام اور حمد ہے خدا کے لیے جس نے اس طرف
هَدَانا لِهَذَا وَمَا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْلا أَنْ هَدَانَا ﷲ لَقَدْ جائَتْ رُسُلُ رَبِّنا بِالْحَقِّ
ہماری رہنمائی کی اور ہم راہ نہ پا سکتے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ فرماتا ضرور آئے ہیں ہمارے رب کے سبھی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم حق کے ساتھ
اَلسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی فاطِمَةَ الزَّهْرائِ
سلام ہو خدا کے رسول پر سلام ہو مومنوں کے امیر پر سلام ہو فاطمہ زہراعليهالسلام پر
سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ
جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہو حضرات حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام پر سلام ہو حضرت علیعليهالسلام بن
الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ، اَلسَّلَامُ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، اَلسَّلَامُ
الحسینعليهالسلام پر سلام ہو حضرت محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام سلام ہو حضرت جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام پر سلام ہو
عَلَی مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ اَلسَّلَامُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُوسی اَلسَّلَامُ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ
حضرت موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام پرسلام ہو حضرت علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام پر سلام ہو حضرت محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر
اَلسَّلَامُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ اَلسَّلَامُ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْخَلَفِ
سلام ہو حضرت علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام پر سلام ہو حضرت حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر سلام ہو ان خلف
الصَّالِحِ الْمُنْتَظَرِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ
صالح پر جو منتظر ہیں آپ پر سلام ہو اے ابا عبداللہ آپ پر سلام ہو اے رسول خدا کے فرزند
عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ، الْمُوالِی لِوَلِیِّکَ، الْمُعادِی لِعَدُوِّکَ اسْتَجارَ
آپکا یہ غلام جو آپکے غلام اور آپ کی کنیز کا بیٹا ہے آپ کے دوست سے دوستی رکھنے والاآپکے دشمن سے دشمنی رکھنے والا پناہ لیتا ہے
بِمَشْهَدِکَ وَتَقَرَّبَ إلَی ﷲ بِقَصْدِکَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی هَدَانِی لِوِلایَتِکَ، وَخَصَّنِی
آپکے روضہ کی اور آپکی طرف آنے میں خدا کا قرب چاہتا ہے حمد ہے خدا کیلئے جس نے مجھے آپکی ولایت کا راستہ دکھایا مجھے آپکی
بِزِیارَتِکَ، وَسَهَّلَ لِی قَصْدَکَ
زیارت کیلئے مخصوص کیا اور آپ کی طرف آنے میں آسانی دی ۔
پس حضرت امام حسین- کے روضہ مقدسہ میںداخل ہوجائے اور آپ کے سر کے مقابل کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے آدمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے نوحعليهالسلام کے وارث جو خدا کے نبی ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے ابراہیمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے خلیل ہیں سلام ہوآپ پر اے موسیٰ کے وارث جو خدا کے کلیم ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِیسی رُوحِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ حَبِیبِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے عیسیٰعليهالسلام کے وارث جو خدا کی روح ہیں آپ پر سلام ہو اے محمد کے وارث جو خدا کے محبوب ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ
سلام ہو آپ پر اے امیر المومنین علیعليهالسلام کے وارث سلام ہو آپ پر اے فاطمہ زہراعليهالسلام کے وارث
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ عَلِیٍّ الْمُرْتَضی اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند آپ پر سلام ہو اے علی مرتضیٰعليهالسلام کے فرزند آپ پر
عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خَدِیجَةَ الْکُبْری، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
سلام ہو اے فاطمہ زہراعليهالسلام کے فرزند آپ پر سلام ہو اے خدیجہعليهالسلام کبریٰ کے فرزند آپ پر سلام ہو
یَا ثارَ ﷲ وَابْنَ ثارِهِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ
اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزند اور وہ خون جس کابدلہ لیا جائے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی
وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَأَطَعْتَ ﷲ حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَلَعَنَ ﷲ
آپ نے نیک کاموں کا حکم دیابرے کاموں سے منع کیا اور خدا کی اطاعت کرتے رہے حتیٰ کہ شہید ہو گئے پس خدا لعنت کرے
أُمَّةً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً ظَلَمَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِکَ
اس گروہ پرجس نے آپکو قتل کیا خدا لعنت کرے اس گروہ پر جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس گروہ پر جس نے یہ واقعہ سنا
فَرَضِیَتْ بِهِ، یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، أُشْهِدُ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ وَأَنْبِیائَهُ وَرُسُلَهُ أَنِّی
تو اس پر خوش ہوا اے میرے آقا اے ابا عبداللہعليهالسلام میں گواہ کرتا ہوں خدا کو اس کے فرشتوں کو اس کے نبیوں اور سولوں کو اس پر کہ میں
بِکُمْ مُؤْمِنٌ، وَبِ إیَابِکُمْ مُوقِنٌ، بِشَرائِعِ دِینِی، وَخَواتِیمِ عَمَلِی، وَمُنْقَلَبِی إلَی رَبِّی
آپ پر اور آپ کی رجعت پر ایمان رکھتا اور یقین رکھتا ہوں احکام دین پراپنے عمل کی جزا پر اور خدا کی طرف اپنی واپسی پر
فَصَلَواتُ ﷲ عَلَیْکُمْ، وَعَلَی أَرْواحِکُمْ وَعَلَی أَجْسادِکُمْ، وَعَلَی شاهِدِکُمْ وَعَلَی
پس خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر آپ کی روحوں پر آپ کے بدنوں پر اور آپ میں سے حاضر پر اور آپ کے
غائِبِکُمْ، وَظاهِرِکُمْ وَباطِنِکُمْ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَابْنَ سَیِّدِ
غائب پر آپ کے ظاہر پر اور باطن پر رحمتیں ہوں سلام ہو آپ پر اے خاتم الانبیائ کے فرزند اوصیائ کے سردار
الْوَصِیِّینَ وَابْنَ إمامِ الْمُتَّقِینَ وَابْنَ قائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ إلی جَنَّاتِ النَّعِیمِ وَکَیْفَ
کے فرزند پرہیز گاروں کے امام کے فرزند چمکتے چہرے والوں کے پیشوا کے فرزند نعمتوں والی جنت میں داخلے تک سلام اور ایسا
لاَ تَکُونُ کَذلِکَ وَأَنْتَ بابُ الْهُدیٰ، وَ إمامُ التُّقیٰ، وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقیٰ، وَالْحُجَّةُ عَلَی
کیوں نہ ہو جب کہ آپ ہدایت کا دروازہ ہیں پرہیزگاروں کے امام ہیں خدا کی مضبوط رسی ہیں اہل دنیا پر خدا کی
أَهْلِ الدُّنْیا وَخامِسُ أَصْحابِ الْکِسائِ غَذَتْکَ یَدُ الرَّحْمَةِ، وَرَضَعْتَ مِنْ ثَدْیِ الْاِیمانِ
حجت ہیں اور آپ اہل کسائ کے پانچویں فرد ہیں آپ نے دست رحمت سے غذا کھائی سرچشمہ ایمان سے دودھ پیا
وَرُبِّیتَ فِی حِجْرِ الْاِسْلامِ، فَالنَّفْسُ غَیْرُ راضِیَةٍ بِفِراقِکَ، وَلاَ شَاکَّةٍ فِی حَیَاتِکَ
اور آپ نے اسلام کی آغوش میں پرورش پائی پس یہ دل آپکی جدائی میں ناخوش ہے اور اسے آپ کے زندہ ہونے میںکوئی شبہ نہیں
صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی آبائِکَ وَأَبْنائِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَرِیعَ الْعَبَرَةِ السَّاکِبَةِ
خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر آپ کے بزرگان پر اور آپ کے فرزندوں پر سلام ہو آپ پر اے وہ شہید جس پر آنسو بہائے گئے
وَقَرِینَ الْمُصِیبَةِ الرَّاتِبَةِ،لَعَنَ ﷲ أُمَّةً اسْتَحَلَّتْ مِنْکَ الْمَحارِمَ، فَقُتِلْتَ صَلَّی ﷲ
اور جس پر مصیبت پہ مصیبت آتی رہی خدا لعنت کرے اس گروہ پرجس نے آپ کی حرمت کو ملحوظ نہ رکھا پس خدا کی رحمت ہو
عَلَیْکَ مَقْهُوراً، وَأَصْبَحَ رَسُولُ ﷲ بِکَ مَوْتُوراً، وَأَصْبَحَ کِتابُ ﷲ بِفَقْدِکَ
آپ پر کہ آپ ظلم و ستم سے شہید کیے گئے رسول عربی آپکے خون کا بدلہ لینے کے دعویدار بنے اور آپکی شہادت سے کتاب خدا
مَهْجُوراً اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی جَدِّکَ وَأَبِیکَ وَأُمِّکَ وَأَخِیکَ وَعَلَی آلاَءِمَّةِ مِنْ بَنِیکَ
متروک ہو گئی آپ پر سلام ہواور آپ کے نانا پر آپ کے والد پر آپ کی والدہ پراور آپ کے بھائی پر سلام ہو آپ کی اولاد میں ائمہعليهالسلام
وَعَلَی الْمُسْتَشْهَدِینَ مَعَکَ، وَعَلَی الْمَلائِکَةِ الْحافِّینَ بِقَبْرِکَ، وَالشَّاهِدِینَ لِزُوَّارِکَ
پر اور سلام ہو آپکے ہمراہ شہید ہونے والوں پر سلام ہو ان فرشتوں پر جو آپکی قبر کے گرد رہتے ہیں وہ آپکے زائروں کے گواہ ہیں اور
الْمُؤَمِّنِینَ بِالْقَبُولِ عَلَی دُعائِ شِیعَتِکَ، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، بِأَبِی
آپکے حبداروں کی دعائوں کی قبولیت کیلئے آمین کہتے ہیں اور سلام ہو آپ پراور خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہو قربان آپ پر
أَنْتَ وَأُمِّی یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا أَبا عَبْدِﷲ، لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّةُ
میرے ماں باپ اے رسول خدا کے فرزند قربان آپ پر میرے ماں باپ اے ابا عبداللہعليهالسلام یقینا آپ کی سوگواری اور آپ کی
وَجَلَّتِ الْمُصِیبَةُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلَی جَمِیعِ أَهْلِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ، فَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً
مصیبت بہت بھاری ہے ہم پر اور ان سب پر جو آسمانوں اور زمین میں رہتے ہیں پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر
أَسْرَجَتْ وَأَلْجَمَتْ وَتَهَیَّأَتْ لِقِتالِکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِﷲ قَصَدْتُ حَرَمَکَ وَأَتَیْتُ
جس نے زین کسا لگام دی اور آپ سے لڑنے کیلئے گھوڑے تیار کیے اے میرے آقا اے ابا عبداللہ میں نے آپکے حرم کا ارادہ کیا اور آپ کے مزار پر
مَشْهَدَکَ أَسْأَلُ ﷲ بِالشَّأْنِ الَّذِی لَکَ عِنْدَهُ وَبِالْمحَلِّ الَّذِی لَکَ لَدَیْهِ
حاضر ہوا سوال کرتاہوں خدا سے آپ کی شان کے وسیلے سے جو اس کے ہاں ہے اورآپ کے مرتبے کے واسطے سے جو اس کے
أَنْ یُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ بِمَنِّهِ
حضور ہے یہ کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمد پر رحمت نازل کرے اور یہ کہ مجھے آپ کے ساتھ رکھے دنیا اور آخرت میں اپنے احسان
وَجُودِهِ وَکَرَمِهِ
بخشش اورعطا سے کام لے کر۔
پھر ضریح مبارک پر بوسہ دے اور سرہانے کی طرف ہو کر دو رکعت نمازالحمد کے ساتھ جو سورہ چاہے پڑھ کر ادا کرے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی صَلَّیْتُ وَرَکَعْتُ وَسَجَدْتُ لَکَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لاََِنَّ الصَّلاةُ وَالرُّکُوعَ
اے معبود! بے شک میں نے تیرے لیے نماز پڑھی رکوع کیا اور سجدہ کیا ہے تو یگانہ ہے تیرا کوئی شریک نہیں یہی وجہ ہے کہ نماز رکوع
وَالسُّجُودَ لاَ تَکُونُ إلاَّ لَکَ، لاََِنَّکَ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
اور سجدہ نہیںہوتا مگر صرف تیرے لیے کہ بے شک تو وہ اللہ ہے کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں ہے اے معبود درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَبْلِغْهُمْ عَنِّی أَفْضَلَ التَّحِیَّةِ وَالسَّلامِ وَارْدُدْ عَلَیَّ مِنْهُمُ التَّحِیَّةَ وَالسَّلامَ
و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور پہنچا ان کومیری طرف سے بہترین دعااور سلام اور لوٹا مجھ پر ان کی طرف سے دعائے امن و سلامتی
اَللّٰهُمَّ وَهَاتَانِ الرَّکْعَتانِ هَدِیَّةٌ مِنِّی إلی مَوْلایَ وَسَیِّدِی وَ إمامِی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ
اے معبود! یہ دو رکعت نماز ہدیہ ہے میری طرف سے میرے مولا میرے آقا اور میرے امام حسین بن علی
عَلَیْهِمَا اَلسَّلَامُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْ ذلِکَ مِنِّی، وَاجْزِنِی
+ کی خدمت میںاے معبود محمد و آل محمد پر رحمت فرما اور میرا یہ عمل قبول فرما اور مجھے اس پر
عَلَی ذلِکَ أَفْضَلَ أَمَلِی وَرَجائِی فِیکَ وَفِی وَلِیِّکَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
بہترین اجر دے جس کی امید و تمنا کرتا ہوں تجھ سے اور تیرے اس ولی سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اب اٹھے اور امام حسین- کی پائنتی میں حضرت علی اکبرعليهالسلام کی زیارت کرے کہ جن کا سر اپنے پدر گرامی کے پائوں کے قریب ہے پس آپ کی قبر مبارک کے نزدیک کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ نَبِیِّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ
آپ پر سلام ہو اے رسول خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے نبی خدا کے فرزندسلام ہوآپ پر اے امیر المومنینعليهالسلام
أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْحُسَیْنِ الشَّهِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الشَّهِیدُ
کے فرزند آپ پر سلام ہو اے حسینعليهالسلام شہید کے فرزند آپ پر سلام ہو کہ آپ شہید ہیں
ابْنُ الشَّهِیدِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْمَظْلُومُ ابْنُ الْمَظْلُومِ، لَعَنَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ
شہید کے فرزند ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ مظلوم ہیں مظلوم کے فرزند ہیںخدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیا خدا کی
ﷲ أُمَّةً ظَلَمَتْکَ وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ
لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم کیا اورخدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے یہ واقعہ سنا تو اس پر خوش ہوا آپ پر سلام ہو اے میرے مولا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَابْنَ وَلِیِّهِ لَقَدْ عَظُمَتِ الْمُصِیبَةُ وَجَلَّتِ الرَّزِیَّةُ بِکَ عَلَیْنا
آپ پر سلام ہو اے میرے مولاآپ پر سلام ہو اے ولی خدا اورولی خدا کے فرزند یقیناً آپ کا دکھ اور آپ کا سوگ ہمارے لیے اور
وَعَلَی جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ، فَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ، وَأَبْرَأُ إلَی ﷲ وَ إلَیْکَ
تمام مسلمانوں کیلئے ناقابل برداشت ہے پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیا اور انکے اس عمل پر میں بیزار ہوں آپ
مِنْهُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ ۔ پھر دیگر شہدائ کربلا کی طرف متوجہ ہوکر ان کی زیارت کرے اور کہے:
اور خدا کے سامنے دنیا و آخرت میں۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَوْلِیائَ ﷲ وَأَحِبَّائَهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَصْفِیائَ ﷲ وَأَوِدَّائَهُ اَلسَّلَامُ
سلام ہو تم پر اے اولیائ خدا اور اس کے پیارو آپ پر سلام ہو اے خدا کے برگزیدو اور اس کے خاص بندو آپ پر
عَلَیْکُمْ یَا أَنْصارَ دِینِ ﷲ وَأَنْصارَ نَبِیِّهِ وَأَنْصارَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَأَنْصارَ فاطِمَةَ
سلام ہو اے دین خدا کی مدد کرنے والو اور اسکے نبی کی نصرت کرنے والو امیر المومنینعليهالسلام کی امداد کرنے والواور فاطمہعليهالسلام کی حمایت کرنے والو
سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَنْصارَ أَبِی مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ الْوَلِیِّ النَّاصِحِ
جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں سلام ہوآپ پر اے ابو محمد حسنعليهالسلام کے مدد گار جو خدا کے ولی ہیں نصیحت کرنے والے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَنْصارَ أَبِی عَبْدِﷲ الْحُسَیْنِ الشَّهِیدِ الْمَظْلُومِ صَلَواتُ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے ابو عبداللہ حسینعليهالسلام کی نصرت کرنے والو جو ایسے شہید ہیں کہ جن پر ظلم کیا گیا خدا کی رحمتیں ہوں
عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ، بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی طِبْتُمْ وَطَابَتِ الْاََرْضُ الَّتِی فِیها دُفِنْتُمْ وَفُزْتُمْ
ان سب پر قربان میرے ماں باپ آپ پر آپ پاکیزہ ہیں اور وہ زمین بھی پاک ہے جس میں آپ دفن کیے گئے قسم بخدا کہ آپ
وَﷲ فَوْزاً عَظِیماً، یَا لَیْتَنِی کُنْتُ مَعَکُمْ فَأَفُوزَ مَعَکُمْ فِی الْجِنانِ مَعَ الشُّهَدائِ
نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی اے کاش کہ میں بھی آپ کیساتھ ہوتا تو پہنچتا آپ کے ہمراہ جنت میں جو شہیدوں اور
وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَیِکَ رَفِیقاً، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
نیک لوگوںکا مقام ہے اور وہ کیا ہی اچھے ہمراہی ہیں اور سلام ہوآپ پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
اس کے بعد حضرت امام حسین- کے سرہانے کی طرف آ جائے اور وہاں اپنے لیے اپنی اولاد کے لئے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لئے بہت زیادہ دعائیں مانگے ۔
سید ابن طائوس اور شہیدرحمهالله نے فرمایا ہے کہ اس کے بعدروضہ حضرت عباس- پر جائے وہاں پہنچ کر قبر شریف کے نزدیک کھڑا ہو جائے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْفَضْلِ الْعَبَّاسَ بْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ
آپ پر سلام ہو اے اباالفضل عباسعليهالسلام فرزند امیر المومنینعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے سید
الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَوَّلِ الْقَوْمِ إسْلاماً وَأَقْدَمِهِمْ إیماناً وَأَقْوَمِهِمْ بِدِینِ
اوصیائ کے فرزند آپ پر سلام ہو اے اس کے فرزند جو لوگوں میں پہلا مسلمان ایمان میں سب سے آگے ہے خدا کے
ﷲ، وَأَحْوَطِهِمْ عَلَی الْاِسْلامِ، أَشْهَدُ لَقَدْ نَصَحْتَ لِلّٰهِ وَلِرَسُولِهِ
دین پر ان سب سے محکم تر اورسب سے زیادہ اسلام کی حفاظت کرنے والا تھا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَلاََِخِیکَ فَنِعْمَ الْاََخُ الْمُواسِی، فَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ
اور اپنے بھائی کی بڑی خیر خواہی کی تو آپ کیا ہی فدا کار بھائی ہیں پس خدا کی لعنت ہو آپ کو قتل کرنے والوں پرخدا کی لعنت ہو اس
أُمَّةً ظَلَمَتْکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً اسْتَحَلَّتْ مِنْکَ الْمَحارِمَ، وَانْتَهَکَتْ فِی قَتْلِکَ حُرْمَةَ
پر جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا کی لعنت ہو آپ کی حرمتوں کو ضائع کرنے والوں پر اور لعنت ہو آپ کے قتل سے اسلام کی بے حرمتی
الْاِسْلامِ، فَنِعْمَ الْاََخُ الصَّابِرُ الْمُجاهِدُ الْمُحامِی النَّاصِرُ، وَالْاََخُ الدَّافِعُ عَنْ أَخِیهِ
کرنیوالوں پر پس وہ اچھے بھائی ہیں صبروالے جہاد کرنے والے حمایت کرنے نصرت کرنے والے اور وہ بھائی ہیں جو اپنے بھائی کا
الْمُجِیبُ إلی طاعَةِ رَبِّهِ، الرَّاغِبُ فِیمَا زَهِدَ فِیهِ غَیْرُهُ مِنَ الثَّوَابِ
دفاع کرنے والے ہیں خدا کی اطاعت میں حاضر ہونے والے اور اس چیز کی طرف بڑھنے والے ہیں جس سے دوسروں نے منہ
الْجَزِیلِ وَالثَّنَائِ الْجَمِیلِ، وَأَلْحَقَکَ ﷲ بِدَرَجَةِ آبائِکَ فِی دارِ النَّعِیمِ إنَّهُ حَمِیدٌ
موڑا وہ ہے بہت بڑا ثواب اور بہترین تعریف پس خدا آپکو اپنے بزرگوں کے مقام پر پہنچائے نعمتوں بھری جنت میں کہ وہ ہے
مَجِیدٌ پھر خود کو قبر مبارک سے لپٹائے اور کہے:اَللّٰهُمَّ لَکَ تَعَرَّضْتُ وَلِزِیارَةِ أَوْلِیائِکَ قَصَدْتُ
تعریف والا بزرگی والا اے معبود تیرے سامنے حاضر ہوا ہوں تیرے پیاروں کی زیارت کے لیے چل کے آیا ہوں
رَغْبَةً فِی ثَوَابِکَ، وَرَجَائً لِمَغْفِرَتِکَ، وَجَزِیلِ إحْسَانِکَ، فأَسْأَلُکَ أَنْ
تیری طرف سے ثواب کی خواہش میں تیری طرف سے مغفرت کی آرزو اور تیری مہربانی کی امید میں پس سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ
تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَ رِزْقِی بِهِمْ دارَّاً، وَعَیْشِی بِهِمْ قَارَّاً،
محمد و آل محمد پررحمت فرما اور ان کے وسیلے سے میرے رزق میں اضافہ فرما میری زندگی کو پر سکون
وَزِیارَتِی بِهِمْ مَقْبُولَةً، وَذَنْبِی بِهِمْ مَغْفُوراً، وَاقْلِبْنِی بِهِمْ مُفْلِحاً مُنْجِحاً
میری زیارت کو قبول اور میرے گناہوں کو معاف فرما دے اور ان کے واسطے سے مجھے کامیاب و کامران لوٹا قبول دعا
مُسْتَجاباً دُعائِی بِأَفْضَلِ مَا یَنْقَلِبُ بِهِ أَحَدٌ مِنْ زُوَّارِهِ وَالْقَاصِدِینَ إلَیْهِ، بِرَحْمَتِکَ
کے ساتھ کہ جس بہترین صورت میں تو نے ان کے زائروں اور انکی طرف آنے والوں میں سے کسی کو لوٹا یا اپنی رحمت کے ساتھ
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
پھر ضریح مبارک پر بوسہ دے اور دو رکعت نماز زیارت ادا کرے بعد میں جو ذکر و دعا چاہے پڑھے جب آپعليهالسلام سے وداع کرنا چاہے تو وہ زیارت پڑھے جو مطلب دوم میں حضرت کے وداع میں نقل ہوئی ہے کہ جس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہےاَسْتَوْ دِعُکَ ﷲ وَاَسْتَرْعِیْکَ ۔۔۔ تا آخر۔
فضیلت زیارت یوم عاشورا
ساتویں زیارت
عاشورا کے دن زیارت امام حسین-
معلوم ہونا چاہیئے کہ عاشورہ کے دن کے لیے امام حسین- کی بہت سی زیارتیں نقل ہوئی ہیں اور ہم بغرض اختصار دو زیارتوں کے نقل پر اکتفا کریں گے قبل ازیں دوسرے باب میں روز عاشورا کے اعمال میں ایک زیارت لکھی گئی ہے اور وہ مطالب بھی وہاں ذکر ہوئے ہیں جو اس مقام کے ساتھ مناسب ہیں اب رہیں دو زیارتیں تو ان میں سے ایک وہی زیارت عاشورا ہے جو معروف ہے اور دو ر و نزدیک سے پڑھی جاتی ہے اس کی تفصیل جیسا کہ شیخ ابو جعفر طوسی نے کتاب مصباح میں فرمائی کچھ اس طرح ہے کہ محمد بن اسماعیل بن بزیع نے صالح بن عقبہ سے اسنے اپنے باپ سے اور اسنے امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص دسویں محرم کے دن امام حسین- کی زیارت کرے اور اسکے ساتھ وہاں گر یہ بھی کرے تو روز قیامت وہ خدا سے ملاقات کریگا دو ہزار حج دو ہزار عمرہ دو ہزار غزوہ کے ثواب کے ساتھ اس شخص جس نے حج‘ عمرہ اور جہادحضرت رسول ﷲ اور ائمہ طاہرینکیساتھ مل کر کیا ہو راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کی آپ پر قربان ہو جائوں ایسے شخص کے لیے کیا ثواب ہے جو کربلا سے دور دراز کے شہروں میں رہتا ہو اور اس کیلئے عاشورہ کے دن مزار امام حسین- کی زیارت کو آنا ممکن نہ ہو؟ آپ نے فرمایا اس صورت میں وہ شخص صحرا میں چلا جائے گا یا اپنے گھر کی سب سے اونچی چھت پر چڑھے اور حضرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلام کرے اور آپ کے قاتلوں پر جتنی ہو سکے لعنت بھیجے پھر دو رکعت نماز پڑھے اور یہ عمل دن کے پہلے حصے میں زوال سے قبل بجا لائے بعد میں امام حسین- کیلئے روئے اور فریاد بلند کرے نیز گھر میں جو افراد ہوں اگر ان سے تقیہ نہ کرنا ہو تو انہیں بھی کہے کہ وہ گریہ کریں۔
اس طرح وہ اپنے گھر میں سوگواری اور گریہ زاری کی صورت بنائے اور حضرت کے مصائب پر باآواز بلند روتے ہوئے وہ لوگ ایک دوسرے سے تعزیت کریں تو میں خدا کی طرف سے ان لوگوں کیلئے ضامن ہوں کہ اگر وہ اس طرح عمل کریں تو ان کو بھی وہی ثواب ملے گا میں نے عرض کی کہ آپ پر قربان ہو جائوں ! کیا آپ اس ثواب کے ضامن و کفیل ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں میں ہر اس شخص کیلئے اس ثواب کا ضامن و کفیل ہوں جو یہ عمل انجام دے تب میں نے عرض کی کہ وہ لوگ کس طرح ایک دوسرے سے تعزیت کریں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ ایک دوسرے سے یہ کہیں:
أَعْظَمَ ﷲ أُجُورَنا بِمُصابِنا بِالْحُسَیْنِ، وَجَعَلَنا وَ إیَّاکُمْ مِنَ الطَّالِبِینَ
خدا ہماری جزائوں میں اضافہ کرے اس سوگواری پر جو ہم نے امام حسین- کیلئے کی اور ہمیں تمہیں انکے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار دے
بِثارِهِ مَعَ وَلِیِّهِ الْاِمامِ الْمَهْدِیِّ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ
ان کے وارث امام مہدیعليهالسلام کی ہمراہی میں جو آل محمد میں سے ہیں۔
اگر ایسا ممکن ہو تو دسویں محرم کے دن کوئی شخص اپنے ذاتی اغراض کیلئے کہیں نہ جائے کیونکہ یہ دن نحس ہے جس میںکسی مومن کی حاجت پوری نہیں ہوتی اور اگر حاجت پوری ہو بھی جائے تو وہ اس مومن کیلئے بابرکت نہ ہو گی اور وہ اس میں بھلائی نہ دیکھے گا نیز کوئی مومن اس دن اپنے گھر کے لیے ذخیرہ نہ کرے کہ جو شخص اس دن کوئی چیز ذخیرہ کرے گا اس میں برکت نہ ہو گی۔ اور وہ اس کیلئے مفید ثابت نہ ہو گی نہ ان افراد کے لیے جن کی خاطر اس نے ذخیرہ کیا ہے۔ پس جو لوگ یہ عمل بجا لائیں گے تو خدا تعالیٰ ان کے نام ہزار حج ہزار عمرہ اور ہزار جہاد کا ثواب لکھے گا جو انہوں نے رسولا ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہمراہی میںکیا ہو۔ اسکے علاوہ ان کیلئے ہر پیغمبر رسول وصی اور شہید کی مصیبت کا ثواب ہو گا خواہ وہ طبعی موت سے فوت ہوا ہو یا شہید کیا گیا ہو اس وقت سے جب سے خدا نے اس دنیا کو پیدا کیا اور اس وقت تک جب قیامت بپا ہو گی صالح ابن عقبہ اور سیف ابن عمیرہ کا بیان ہے کہ علقمہ ابن محمد خضرمی نے کہا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر - سے عرض کی کہ مجھے ا یسی دعا تعلیم فرمائیں جسے میں دسویں محرم کے دن امام حسین- کی نزدیک سے زیارت کرتے وقت پڑھوں اور ایسی دعا بھی تعلیم فرمائیں کہ جو میں اس وقت پڑھوں جب نزدیک سے حضرت کی زیارت نہ کر سکوں اور میں دور کے شہروں اور اپنے گھر سے اشارے کیساتھ امام حسین- کو سلام پیش کروں۔ آپ نے فرمایا کہ اے عقلمہ! جب تم دو رکعت نماز ادا کر لو اور اس کے بعد سلام کیلئے حضرت کی طرف اشارہ کرو تو اشارہ کرتے وقت تکبیر کہنے کے بعدمندرجہ ذیل دعا پڑھو۔ کیونکہ جب تم یہ دعا پڑھو گے تو بے شک تم نے ان الفاظ میں دعا کی ہے کہ جن الفاظ میں وہ فرشتے دعا کرتے ہیں جو امام حسین- کی زیارت کرنے آتے ہیں‘ چنانچہ خدا تمہارے لیے دس لاکھ درجے لکھے گا اور تم اس شخص کی مانند ہو گے جو حضرت کے ہمراہ شہید ہوا ہو اور تم اس کے درجات میں حصہ دار بن جائو گے نیز تم ان افراد میں شمار کیے جائو گے جو امام حسین- کے ساتھ شہید ہوئے ہیں نیز تمہارے لیے ہر نبی و رسول اور امام مظلوم کے ہر اس زائر کا ثواب لکھا جائے گا جس نے اس دن سے کہ جب سے آپ شہید ہوئے ہیں آپکی زیارت کی ہو۔ آپ پر سلام ہواور آپکے خاندان پر پس وہ زیارت عاشورہ یہ ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ
آپ پر سلام ہو اے ابا عبداعليهالسلام للہ آپ پر سلام ہو اے رسول خدا کے فرزند سلام ہوآپ پر اے امیر المومنین
أَمِیرِالْمُوَْمِنِینَ وَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ
عليهالسلام کے فرزند اور اوصیائ کے سردار کے فرزند سلام ہوآپ پر اے فرزند فاطمہعليهالسلام جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاثارَ ﷲ وَابْنَ ثارِهِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْاََرْواحِ
آپ پر سلام ہو اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزنداور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے آپ پر سلام ہواور ان روحوں پر
الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ عَلَیْکُمْ مِنِّی جَمِیعاً سَلامُ ﷲ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ
جو آپ کے آستانوں میں اتری ہیں آپ سب پرمیری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ جب تک میں باقی ہوں اور رات دن باقی ہیں
یَا أَبا عَبْدِﷲ، لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّةُ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتِ الْمُصِیبَةُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلَی جَمِیعِ
اے ابا عبدﷲعليهالسلام آپ کا سوگ بہت بھاری اور بہت بڑا ہے اور آپ کی مصیبت بہت بڑی ہے ہمارے لیے اور تمام اہل اسلام
أَهْلِ الْاِسْلامِ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتْ مُصِیبَتُکَ فِی السَّمٰوَاتِ عَلَی جَمِیعِ أَهْلِ السَّمٰوَاتِ
کے لیے اور بہت بڑی اور بھاری ہے آپ کی مصیبت آسمانوں میں تمام آسمان والوں کے لیے
فَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ أَهْلَ الْبَیْتِ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً
پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم و ستم کرنے کی بنیاد ڈالی اے اہلبیت اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر
دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ وَأَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتِی رَتَّبَکُمُ ﷲ فِیها، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً
جس نے آپکو آپکے مقام سے ہٹایا اور آپ کو اس مرتبے سے گرایا جو خدا نے آپ کو دیا خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ کو
قَتَلَتْکُمْ وَلَعَنَ ﷲ الْمُمَهِّدِینَ لَهُمْ بِالتَّمْکِینِ مِنْ قِتالِکُمْ بَرِیْتُ إلَی ﷲ وَ إلَیْکُمْ مِنْهُمْ
قتل کیا اور خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے انکو آپکے ساتھ جنگ کرنے کی قوت فراہم کی میں بری ہوں خدا کیسامنے اور آپکے سامنے ان
وَأَشْیاعِهِمْ وَأَتْباعِهِمْ وَأَوْلِیائِهِمْ، یَا أَبا عَبْدِﷲ، إنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَحَرْبٌ
سے انکے مددگاروں انکے پیروکاروں اور انکے ساتھیوں سے اے ابا عبداللہ میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے
لِمَنْ حارَبَکُمْ إلی یَوْمِ الْقِیامَةِ، وَلَعَنَ ﷲ آلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ، وَلَعَنَ ﷲ بَنِی
آپ سے جنگ کرنے والے سے روز قیامت تک اور خدا لعنت کرے اولاد زیاداور اولاد مروان پر خدا اظہار بیزاری کرے تمام بنی امیہ سے
أُمَیَّةَ قاطِبَةً، وَلَعَنَ ﷲ ابْنَ مَرْجانَةَ، وَلَعَنَ ﷲ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ، وَلَعَنَ ﷲ شِمْراً،
خدا لعنت کرے ابن مرجانہ پر خدا لعنت کرے عمر بن سعد پر خدا لعنت کرے شمر پر
وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً أَسْرَجَتْ وَأَلْجَمَتْ وَتَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی،
اور خدا لعنت کرے جنہوں نے زین کسا لگام دی گھوڑوں کو اور لوگوں کو آپ سے لڑنے کیلئے ابھارا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں
لَقَدْ عَظُمَ مُصابِی بِکَ، فَأَسْأَلُ ﷲ الَّذِی أَکْرَمَ مَقامَکَ، وَأَکْرَمَنِی بِکَ، أَنْ یَرْزُقَنِی
یقینا آپکی خاطر میرا غم بڑھ گیا ہے پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے آپکو شان عطا کی اور آپکے ذریعے مجھے عزت دی یہ کہ وہ
طَلَبَ ثارِکَ مَعَ إمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَللّٰهُمَّ
مجھے آپ کے خون کا بدلہ لینے کا موقع دے ان امام منصورعليهالسلام کے ساتھ جو اہل بیت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میں سے ہوں گے اے معبود!
اجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیهاً بِالْحُسَیْنِ فِی الدُّنْیا وَالآخِرَةِ یَا أَبا عَبْدِﷲ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَی
مجھ کو اپنے ہاں آبرومند بنا حسین - کے واسطے سے دنیا و آخرت میں اے ابا عبداللہ بے شک میں قرب چاہتا ہوں
ﷲ، وَ إلی رَسُولِهِ، وَ إلی أَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ، وَ إلی فاطِمَةَ، وَ إلَی الْحَسَنِ، وَ إلَیْکَ
خدا کا اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا امیر المومنینعليهالسلام کا فاطمۃ زہراعليهالسلام کا حسن مجتبیٰعليهالسلام کا اور آپ کا قرب آپکی حبداری
بِمُوَالاتِکَ وَبِالْبَرائَةِ مِمَّنْ قَاتَلَکَ وَنَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ وَبِالْبَرائَةِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ
سے اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے آپکو قتل کیا اور آتش جنگ بھڑکائی اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے تم پر ظلم وستم
الْظُلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ وَأَبْرَأُ إلَی ﷲ وَ إلی رَسُولِهِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَساسَ ذلِکَ وَبَنی
کی بنیاد رکھی اور میں بری الذمہ ہوں ﷲ اور اس کے رسول کے سامنے اس سے جس نے ایسی بنیاد قائم کی اور اس پر عمارت اٹھائی
عَلَیْهِ بُنْیانَهُ، وَجَریٰ فِی ظُلْمِهِ وَجَوْرِهِ عَلَیْکُمْ وَعَلَی أَشْیاعِکُمْ، بَرِیْتُ إلَی ﷲ
اور پھر ظلم و ستم کرنا شروع کیا اور آپ پر اور آپ کے پیروکاروں پر میں بیزاری ظاہر کرتا ہوں خدا
وَ إلَیْکُمْ مِنْهُمْ، وَأَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ ثُمَّ إلَیْکُمْ بِمُوالاتِکُمْ وَمُوالاةِ وَلِیِّکُمْ، وَبِالْبَرائَةِ
اور آپ کے سامنے ان ظالموں سے اور قرب چاہتا ہوں خدا کا پھر آپ کا آپ سے محبت کی وجہ سے اور آپ کے ولیوں سے محبت
مِنْ أَعْدائِکُمْ، وَالنَّاصِبِینَ لَکُمُ الْحَرْبَ، وَبِالْبَرائَةِ مِنْ أَشْیَاعِهِمْ وَأَتْبَاعِهِمْ، إنِّی
کے ذریعے آپکے دشمنوں اور آپکے خلاف جنگ برپا کرنے والوں سے بیزاری کے ذریعے اور انکے طرف داروں اورپیروکاروں سے بیزاری کے ذریعے
سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ، وَوَلِیٌّ لِمَنْ والاکُمْ،
میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے میں آپکے دوست کا دوست اور
وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداکُمْ، فَأَسْأَلُ ﷲ الَّذِی أَکْرَمَنِی بِمَعْرِفَتِکُمْ، وَمَعْرِفَةِ أَوْلِیَائِکُمْ،
آپکے دشمن کا دشمن ہوں پس سوال کرتاہوںخدا سے جس نے عزت دی مجھے آپ کی پہچان اور آپکے ولیوں کی پہچان کے ذریعے
وَرَزَقَنِی الْبَرائَةَ مِنْ أَعْدائِکُمْ، أَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَأَنْ یُثَبِّتَ
اور مجھے آپ کے دشمنوں سے بیزاری کی توفیق دی یہ کہ مجھے آپ کے ساتھ رکھے دنیا اور آخرت میں اور یہ کہ مجھے آپ کے
لِی عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَأَسْأَلُهُ أَنْ یُبَلِّغَنِی الْمَقامَ الْمَحْمُودَ
حضور سچائی کے ساتھ ثابت قدم رکھے دنیا اور آخرت میں اور اس سے سوال کرتا ہے کہ مجھے بھی خدا کے ہاں آپ کے پسندیدہ مقام
لَکُمْ عِنْدَ ﷲ، وَأَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِی مَعَ إمامِ هُدیً ظَاهِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ
پر پہنچائے نیز مجھے نصیب کرے آپکے خون کا بدلہ لینا اس امام کیساتھ جو ہدایت دینے والا مدد گار رہبرحق بات زبان پر لانے والا ہے
مِنْکُمْ، وَأَسْأَلُ ﷲ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَهُ أَنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی
تم میں سے اور سوال کرتا ہوں خدا سے آپکے حق کے واسطے اور آپکی شان کے واسطے جوآپ اسکے ہاں رکھتے ہیں یہ کہ وہ مجھ کو عطا
بِکُمْ أَفْضَلَ مَا یُعْطِی مُصاباً بِمُصِیبَتِهِ، مُصِیبَةً مَا أَعْظَمَها وَأَعْظَمَ
کرے آپکی سوگواری پر ایسا بہترین اجر جو اس نے آپکے کسی سوگوار کو دیاہواس مصیبت پر کہ جو بہت بڑی مصیبت ہے اور اسکا رنج و
رَزِیَّتَها فِی الْاِسْلامِ وَفِی جَمِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی فِی مَقَامِی
غم بہت زیادہ ہے اسلام میں اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں اے معبود قرار دے مجھے اس جگہ پر
هذَا مِمَّنْ تَنالُهُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَرَحْمَةٌ وَمَغْفِرَةٌ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیا مُحَمَّدٍ وَآلِ
ان فراد میں سے جن کو نصیب ہوں تیرے درود تیری رحمت اور بخشش اے معبود قرار دے میرا جینا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل
مُحَمَّدٍ وَمَماتِی مَماتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَللّٰهُمَّ إنَّ هذَا یَوْمٌ تَبَرَّکَتْ بِهِ بَنُو أُمَیَّةَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا سا جینا اور میری موت کو محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی موت کی مانند بنا اے معبود بے شک یہ وہ دن ہے کہ جس کو نبی امیہ اور کلیجے کھانے والی
وَابْنُ آکِلَةِ الْاََکْبادِ، اللَّعِینُ ابْنُ اللَّعِینِ عَلَی لِسانِکَ وَلِسانِ نَبِیِّکَ فِی کُلِّ مَوْطِنٍ
کے بیٹے نے بابرکت جانتا جو ملعون ابن ملعون ہے تیری زبان پراور تیرے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان پر ہر شہر میں جہاں رہے
وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فِیهِ نَبِیُّکَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ أَبا سُفْیانَ وَمُعَاوِیَةَ وَیَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَةَ عَلَیْهِمْ
اور ہر جگہ کہ جہاں تیرانبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ٹھہرے اے معبود اظہار بیزاری کر ابو سفیان اور معاویہ اور یزید بن معاویہ سے کہ ان سے اظہار بیزاری ہو
مِنْکَ اللَّعْنَةُ أَبَدَ الْاَبِدِینَ، وَهذَا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زِیادٍ وَآلُ مَرْوانَ بِقَتْلِهِمُ الْحُسَیْنَ
تیری طرف سے ہمیشہ ہمیشہ اور یہ وہ دن ہے جس میں خوش ہوئی اولاد زیاد اور اولاد مروان کہ انہوں نے قتل کیا حسین
صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ، اَللّٰهُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْهِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ الْاََلِیمَ اَللّٰهُمَّ إنِّی
صلوات ﷲ علیہ کو اے معبود پس توزیادہ کر دے ان پر اپنی طرف سے لعنت اور عذاب کو اے معبود بے شک
أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ فِی هذَا الْیَوْمِ وَفِی مَوْقِفِی هذَا، وَأَیَّامِ حَیَاتِی بِالْبَرَائَةِ مِنْهُمْ،
میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ آج کے دن میں اس جگہ پر جہاں کھڑا ہوں اور اپنی زندگی کے دنوں میں ان سے بیزاری کرنے کے ذریعے
وَاللَّعْنَةِ عَلَیْهِمْ، وَبِالْمُوَالاةِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ ۔ پھر سو مرتبہ کہے:
اور ان پر نفرین بھیجنے کے ذریعے اور بوسیلہ اس دوستی کے جو مجھے تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آلعليهالسلام سے ہے سلام ہو تیرے نبی اور ان کی آلعليهالسلام پر
اَللّٰهُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَآخِرَ تَابِعٍ لَهُ عَلَی ذلِکَ
اے معبود محروم کر اپنی رحمت سے اس پہلے ظالم کو جس نے ضائع کیا محمد و آل محمد کا حق اوراسکو بھی جس نے آخر میں اس کی پیروی کی
اَللّٰهُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِی جاهَدَتِ الْحُسَیْنَ وَشایَعَتْ وَبایَعَتْ وَتابَعَتْ عَلَی قَتْلِهِ
اے معبود لعنت کر اس جماعت پر جنہوں نے جنگ کی حسینعليهالسلام سے نیز ان پربھی جو قتل حسینعليهالسلام میں ان کے شریک اور ہم رائے تھے
اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمِیعاً اب سو مرتبہ کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ وَعَلَی الْاََرْواحِ الَّتِی
اے معبود ان سب پر لعنت بھیج سلام ہو آپ پراے ابا عبد اللہ اور سلام ان روحوں پر جو آپ کے
حَلَّتْ بِفِنائِکَ، عَلَیْکَ مِنِّی سَلامُ ﷲ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، وَلاَ جَعَلَهُ
روضے پر آتی ہیں آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہو ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور جب تک رات دن باقی ہیں اورخدا قرار نہ
ﷲ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی لِزِیارَتِکُمْ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ، وَعَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ،
دے اس کو میرے لیے آپ کی زیارت کا آخری موقع سلام ہو حسینعليهالسلام پر اور شہزادہ علیعليهالسلام فرزند حسینعليهالسلام پر
وَعَلَی أَوْلادِ الْحُسَیْنِ، وَعَلَی أَصْحابِ الْحُسَیْنِ ۔ پھر کہے:اَللّٰهُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ
سلام ہو حسینعليهالسلام کی اولاد اور حسینعليهالسلام کے اصحاب پر اے معبود!تو مخصوص فرما پہلے ظالم کو
ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّی، وَابْدَأْ بِهِ أَوَّلاً، ثُمَّ الْعَن الثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ
میری طرف سے لعنت کیساتھ تو اب اسی لعنت کا آغاز فرماپھرلعنت بھیج دوسرے اور تیسرے اور پھر چوتھے پر لعنت بھیج اے معبود!
اَللّٰهُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ خامِساً، وَالْعَنْ عُبَیْدَﷲ بْنَ زِیادٍ وَابْنَ مَرْجانَةَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ
لعنت کر یزید پر جو پانچواں ہے اور لعنت کرعبیداللہ فرزند زیاد پر اور فرزند مرجانہ پر عمر فرزند سعد پر
وَشِمْراً وَآلَ أَبِی سُفْیانَ وَآلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوَانَ إلی یَوْمِ الْقِیَامَةِ ۔ اس کے بعد سجدے
اور شمر پر اور اولاد ابوسفیان کواور اولاد زیاد کو اور اولاد مروان کو رحمت سے دور کر قیامت کے دن تک
میں جائے اور کہے:اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاکِرِینَ لَکَ عَلَی مُصَابِهِمْ الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی
اے معبود! تیرے لیے حمد ہے شکر کرنے والوں کی حمد ،حمد ہے خدا کے لیے جس نے مجھے
عَظِیمِ رَزِیَّتِی، اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ، وَثَبِّتْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ
عزاداری نصیب کی اے معبود حشر میں آنے کے دن مجھے حسینعليهالسلام کی شفاعت سے بہرہ مند فرما اور میرے قدم کو سیدھا اور پکا بنا جب
عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَأَصْحابِ الْحُسَیْنِ الَّذِینَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ
میں تیرے پاس آئوں حسینعليهالسلام کے ساتھ اور اصحاب حسینعليهالسلام کے ساتھ جنہوں نے حسینعليهالسلام کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں ۔
علقمہ کابیان ہے کہ امام محمد باقر - نے فرمایا: اگر ممکن ہو تو یہی زیارت ہر روز اپنے گھر میں بیٹھ کرپڑھے، اور اسے وہ سارے ثواب ملیں گے جن کا پہلے ذکر ہوا ہے۔
محمد ابن خالد طیالسی نے سیف ابن عمیر سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا :میں صفوان ابن مہران اور اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ نجف اشرف کی طرف نکلا جب کہ امام جعفر صادق - حیرہ سے مدینہ روانہ ہو چکے تھے وہاں جب ہم امیر المومنین- کی زیارت سے فارغ ہوئے تو صفوان نے اپنا رخ ابو عبد اللہ الحسین- کے روضہ مبارک کیطرف کیا اور کہنے لگے اس مقام یعنی امیر المومنین- کے سر اقدس کے قریب سے امام حسین- کی زیارت کرو۔ کیونکہ امام جعفر صادق - نے اسی جگہ سے اشارہ کرتے ہوئے حضرت کو سلام پیش کیا تھا جب کہ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ سیف کا کہنا ہے کہ صفوان نے وہی زیارت پڑھی جو علقمہ ابن محمد حضرمی نے امام محمد باقر - سے روز عاشورہ کے لیے روایت کی تھی چنانچہ اس نے امیر المومنین- کے سرہانے دو رکعت نماز اد اکی اور اس کے بعد حضرت سے وداع کیا۔
زیارت عاشورا کے بعد کی دعا
یہ روایت جو نقل کی جا رہی ہے اس کے سلسلہ بیان میں یہ بھی ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب + سے وداع کے بعد صفوان نے حضرت امام حسین- کو سلام پیش کیا۔ جب کہ اس نے اپنا چہرہ ان کے روضہ اقدس کی سمت کیا ہوا تھا زیارت کے بعد اس نے حضرت کا وداع بھی کیا اور جو دعائیں اس نے نماز کے بعد پڑھیں ان میں سے ایک دعا یہ تھی:
یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ، یَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، یَا کاشِفَ کُرَبِ الْمَکْرُوبِینَ، یَا
اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے بے چاروں کی دعا قبول کرنے والے اے مشکلوں والوں کی مشکلیں حل کرنے والے اے
غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ، وَیَا مَنْ هُوَ أَقْرَبُ إلَیَّ مِنْ حَبْلِ
داد خواہوں کی داد رسی کرنے والے اے فریادیوں کی فریاد کو پہنچنے والے اور اے وہ جو شہ رگ سے بھی زیادہ میرے
الْوَرِیدِ، وَیَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَقَلْبِهِ، وَیَا مَنْ هُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاََعْلَی، وَبِالْاُفُقِ
قریب ہے اے وہ جو انسان اور اسکے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور وہ جو نظر سے بالا تر جگہ اور روشن تر
الْمُبِینِ، وَیَا مَنْ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ، وَیَا مَنْ یَعْلَمُ خَائِنَةَ
کنارے میں ہے اے وہ جو بڑامہربان نہایت رحم والا عرش پرحاوی ہے اے وہ جو آنکھوں کی ناروا
الْاََعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ، وَیَا مَنْ لا یَخْفیٰ عَلَیْهِ خافِیَةٌ، یَا مَنْ لاَ تَشْتَبِهُ عَلَیْهِ
حرکت اور دلوں کی باتوں کو جانتا ہے اے وہ جس پر کوئی راز پوشیدہ نہیں اے وہ جس پر آوازیں
الْاََصْواتُ وَیَا مَنْ لاَ تُغَلِّطُهُ الْحاجاتُ، وَیَا مَنْ لاَ یُبْرِمُهُ إلْحَاحُ الْمُلِحِّینَ یَا مُدْرِکَ
گڈمڈ نہیں ہویں اے وہ جس کو حاجتوں میںبھول نہیں پڑتی اے وہ جس کو مانگنے والوں کا اصرار بیزار نہیں کرتا اے ہر گمشدہ
کُلِّ فَوْتٍ، وَیَا جامِعَ کُلِّ شَمْلٍ، وَیَا بارِیََ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ، یَا مَنْ هُوَ کُلَّ یَوْمٍ
کو پالینے والے اے بکھروں کو اکٹھاکرنے والے اور اے لوگوں کو موت کے بعد زندہ کرنے والے اے وہ جس کی ہر روز
فِی شَأْنٍ، یَا قاضِیَ الْحاجاتِ، یَا مُنَفِّسَ الْکُرُباتِ، یَا مُعْطِیَ السُّؤُلاتِ، یَا وَلِیَّ
نئی شان ہے اے حاجتوں کے پورا کرنے والے اے مصیبتوں کو دور کرنے والے اے سوالوں کے پورا کرنے والے اے خواہشوں
الرَّغَباتِ، یَا کافِیَ الْمُهِمَّاتِ، یَا مَنْ یَکْفِی مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلاَ یَکْفِی مِنْهُ شَیْئٌ فِی
پر مختار اے مشکلوں میںمددگار اے وہ جو ہر امر میں مدد گار ہے اور جس کے سوا زمین اور آسمانوں
السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ، أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَعَلِیٍّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ،
میں کوئی چیز مدد نہیںکرتی سوال کرتا ہوں تجھ سے نبیوں کے خاتم محمد کے حق کے واسطے اور مومنوں کے امیر علی مرتضیعليهالسلام کے حق کے واسطے
وَبِحَقِّ فاطِمَةَ بِنْتِ نَبِیِّکَ، وَبِحَقِّ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ، فَ إنِّی بِهِمْ أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ فِی
تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دختر فاطمہعليهالسلام کے حق کے واسطے اور حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کے حق کے واسطے کیونکہ میں نے انہی کے وسیلے سے تیری طرف رخ کیا
مَقامِی هذَا، وَبِهِمْ أَتَوَسَّلُ، وَبِهِمْ أَتَشَفَّعُ إلَیْکَ، وَبِحَقِّهِمْ أَسْأَلُکَ وَأُقْسِمُ وَأَعْزِمُ
اس جگہ جہاں کھڑا ہوں انکو اپناوسیلہ بنایا انہی کو تیرے ہاں سفارشی بنایا اور انکے حق کے واسطے تیرا سوالی ہوںاسی کی قسم دیتا ہوں اور تجھ سے
عَلَیْکَ، وَبِالشَّأْنِ الَّذِی لَهُمْ عِنْدَکَ وَبِالْقَدْرِ الَّذِی لَهُمْ عِنْدَکَ، وَبِالَّذِی فَضَّلْتَهُمْ
طلب کرتا ہوں انکی شان کے واسطے جووہ تیرے ہاں رکھتے ہیں اس مرتبے کا واسطہ جو وہ تیرے حضور رکھتے ہیں کہ جس سے تو نے
عَلَی الْعَالَمِینَ، وَبِاسْمِکَ الَّذِی جَعَلْتَهُ عِنْدَهُمْ، وَبِهِ خَصَصْتَهُمْ دُونَ الْعَالَمِینَ،
انکو جہانوںمیں بڑائی دی اورتیرے اس نام کے واسطے سے جو تو نے انکے ہاں قرار دیا اور اسکے ذریعے ان کو جہانوںمیں خصوصیت عطا فرمائی
وَبِهِ أَبَنْتَهُمْ وَأَبَنْتَ فَضْلَهُمْ مِنْ فَضْلِ الْعَالَمِینَ حَتَّی فاقَ فَضْلُهُمْ فَضْلَ الْعَالَمِینَ
ان کو ممتاز کیا اور انکی فضیلت کو جہانوں میں سب سے بڑھا دیا یہاں تک کہ ان کی فضلیت تمام جہانوں میں سب سے
جَمِیعاً، أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَهَمِّی
زیادہ ہو گئی سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور یہ کہ دور فرما دے میرا ہر غم ہر اندیشہ اور
وَکَرْبِی، وَتَکْفِیَنِی الْمُهِمَّ مِنْ أُمُورِی، وَتَقْضِیَ عَنِّی دَیْنِی، وَتُجِیرَنِی مِنَ الْفَقْرِ،
ہر دکھ اور میری مدد کر ہر دشوار کام میں میرا قرضہ ادا کر دے پناہ دے مجھ کو تنگدستی سے بچا
وَتُجِیرَنِی مِنَ الْفاقَةِ، وَتُغْنِیَنِی عَنِ الْمَسْأَلَةِ إلَی الْمَخْلُوقِینَ، وَتَکْفِیَنِی هَمَّ مَنْ
مجھ کو ناداری سے اور بے نیاز کر دے مجھ کو لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے اور میری مدد فرما اس
أَخافُ هَمَّهُ، وَعُسْرَ مَنْ أَخافُ عُسْرَهُ، وَحُزُونَةَ مَنْ أَخافُ حُزُونَتَهُ، وَشَرَّ مَنْ
اندیشے میں جس سے میں ڈرتا ہوں اور اس تنگی میں جس سے پریشان ہوں اس غم میں جس سے گھبراتا ہوں اس تکلیف میں جس
أَخافُ شَرَّهُ، وَمَکْرَ مَنْ أَخافُ مَکْرَهُ، وَبَغْیَ مَنْ أَخافُ بَغْیَهُ، وَجَوْرَ مَنْ أَخافُ
سے خوف کھاتا ہوں اس بری تدبیر سے جس سے ڈرتا رہتا ہوں اس ظلم سے جس سے سہما ہوا ہوں اس بے گھر ہونے سے جس سے
جَوْرَهُ، وَسُلْطانَ مَنْ أَخافُ سُلْطانَهُ، وَکَیْدَ مَنْ أَخافُ کَیْدَهُ، وَمَقْدُرَةَ مَنْ أَخافُ
ترساں ہوں اسکے تسلط سے جس سے ہراساں ہوںاس فریب سے جس سے خائف ہوں اس کی قدرت سے جس سے ڈرتا ہوں
مَقْدُرَتَهُ عَلَیَّ، وَتَرُدَّ عَنِّی کَیْدَ الْکَیَدَةِ، وَمَکْرَ الْمَکَرَةِ اَللّٰهُمَّ مَنْ أَرادَنِی فَأَرِدْهُ،
دور کر مجھ سے دھوکہ دینے والوں کے دھوکے اور فریب کاروں کے فریب کو اے معبود جو میرے لیے جیسا قصد کرے تو اسکے ساتھ ویسا قصد کر
وَمَنْ کادَنِی فَکِدْهُ، وَاصْرِفْ عَنِّی کَیْدَهُ وَمَکْرَهُ وَبَأْسَهُ وَأَمانِیَّهُ وَامْنَعْهُ عَنِّی کَیْفَ
جو مجھے دھوکہ دے تو اسے دھوکہ دے اور دور کر دے مجھ سے اس کے دھوکے فریب سختی اور اسکی بد اندیشی کو روک دے اسے مجھ سے
شِئْتَ وَأَنَّیٰ شِئْتَ اَللّٰهُمَّ اشْغَلْهُ عَنِّی بِفَقْرٍ لاَ تَجْبُرُهُ، وَبِبَلائٍ لاَ تَسْتُرُهُ
جسطرح تو چاہے اور جہاں چاہے اے معبود اس کو میرا خیال بھلا دے ایسے فاقے سے جو دور نہ ہو ایسی مصیبت سے جسے تو نہ ٹالے
وَبِفاقَةٍ لاَ تَسُدُّها، وَبِسُقْمٍ لاَ تُعافِیهِ، وَذُلٍّ لاَ تُعِزُّهُ، وَبِمَسْکَنَةٍ
ایسی تنگدستی سے جسے تو نہ ہٹائے ایسی بیماری سے جس سے تو نہ بچائے ایسی ذلت سے جس میں توعزت نہ دے اور ایسی بے کسی سے
لاَتَجْبُرُها اَللّٰهُمَّ اضْرِبْ بِالذُّلِّ نَصْبَ عَیْنَیْهِ، وَأَدْخِلْ عَلَیْهِ الْفَقْرَ فِی مَنْزِلِهِ
جسے تو دور نہ کرے اے معبود میرے دشمن کی خواری اسکے سامنے ظاہر کر دے اسکے گھر میں فقر و فاقہ کو داخل کردے اور اسکے بدن میں
وَالْعِلَّةَ وَالسُّقْمَ فِی بَدَنِهِ حَتَّی تَشْغَلَهُ عَنِّی بِشُغْلٍ شاغِلٍ لاَ فَراغَ لَهُ، وَأَنْسِهِ
دکھ اور بیماری پیدا کر دے یہاں تک کہ مجھے بھول کر اسے اپنی ہی پڑ جائے کہ اسے برائی کاموقع نہ ملے اسے میری یاد بھلا دے جیسے
ذِکْرِی کَما أَنْسَیْتَهُ ذِکْرَکَ وَخُذْ عَنِّی بِسَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَلِسانِهِ وَیَدِهِ وَرِجْلِهِ وَقَلْبِهِ
اس نے تیری یاد بھلا رکھی ہے اور میری طرف سے اس کے کان اس کی آنکھیں اس کی زبان اس کے ہاتھ اس کے پائوں اس کا دل
وَجَمِیعِ جَوارِحِهِ وَأَدْخِلْ عَلَیْهِ فِی جَمِیعِ ذلِکَ السُّقْمَ وَلاَ تَشْفِهِ حَتَّی تَجْعَلَ ذلِکَ
اور اس کے تمام اعضائ کو روک دے اور وارد کر دے ان سب پر بیماری اور اس سے اسے شفا نہ دے یہاں تک کہ بنا دے اس کے
لَهُ شُغْلاً شاغِلاً بِهِ عَنِّی وَعَنْ ذِکْرِی، وَاکْفِنِی یَا کافِیَ مَا لاَ یَکْفِی سِواکَ
لیے ایسی سختی جس میں وہ پڑا رہے کہ مجھ سے اور میری یاد سے غافل ہو جائے اور میری مدد کر اے مدد گار کہ تیرے سواکوئی مدد گار نہیں
فَ إنَّکَ الْکافِی لاَ کافِیَ سِواکَ، وَمُفَرِّجٌ لاَ مُفَرِّجَ سِواکَ، وَمُغِیثٌ
کیونکہ تو میرے لیے کافی ہے تیرے سوا کوئی کافی نہیں تو کشائش دینے والا ہے تیرے سوا کشائش دینے والا نہیں تو فریاد رس ہے
لاَ مُغِیثَ سِواکَ، وَجارٌ لاَ جارَ سِواکَ، خابَ مَنْ کانَ جَارُهُ سِواکَ، وَمُغِیثُهُ
تیرے سوا فریاد رس نہیں تو پناہ دینے والا ہے کوئی اور نہیں نا امید ہوا جسکا تو پناہ دینے والا نہیں جس کا فریاد رس تو نہیں وہ تیرے علاوہ
سِواکَ وَمَفْزَعُهُ إلی سِواکَ وَمَهْرَبُهُ إلی سِواکَ وَمَلْجَأهُ إلی غَیْرِکَ، وَمَنْجَاهُ مِنْ
کس سے فریاد کرے اورتیرے علاوہ کس کی طرف بھاگے جو سوائے تیرے کس کی پناہ لے اور جسے بچانے والا
مَخْلُوقٍ غَیْرِکَ، فَأَنْتَ ثِقَتِی وَرَجائِی وَمَفْزَعِی وَمَهْرَبِی وَمَلْجَأی
سوائے تیرے کوئی اور ہو کیونکہ تو ہی میرا سہارا میری امید گاہ میری جائے فریاد میرے قرار کی جگہ اور میری پناہ گاہ ہے تو
وَمَنْجایَ، فَبِکَ أَسْتَفْتِحُ، وَبِکَ أَسْتَنْجِحُ، وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ
مجھے نجات دینے والا ہے پس تجھی سے نجات کا طالب ہوں اور کامیابی چاہتا ہوں میں محمد و آل محمد کے واسطے سے تیری طرف آیا
وَأَتَوَسَّلُ وَأَتَشَفَّعُ، فأَسْأَلُکَ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ،فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ وَ إلَیْکَ
اور انہیں وسیلہ بنانا اور شفاعت چاہتا ہوں پس سوال ہے تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ پس حمد و شکر تیرے ہی لیے ہے تجھی سے
الْمُشْتَکَیٰ وَأَنْتَ الْمُسْتَعانُ، فأَسْأَلُکَ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
شکایت کی جاتی ہے اور تو ہی مدد کرنے والا ہے پس سوال کرتا ہوں تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے واسطے سے کہ
أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَهَمِّی وَکَرْبِی فِی
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور دور کر دے تومیرا غم میرا اندیشہ اور میرا دکھ اس جگہ جہاں
مَقامِی هذَا کَما کَشَفْتَ عَنْ نَبِیِّکَ هَمَّهُ وَغَمَّهُ وَکَرْبَهُ، وَکَفَیْتَهُ هَوْلَ عَدُوِّهِ، فَاکْشِفْ
کھڑا ہوں جیسے تو نے دور کیا تھا اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اندیشہ ان کا غم اور ان کی تنگی اور دشمن سے خوف میں ان کی مدد فرمائی تھی پس دور کر میری
عَنِّی کَما کَشَفْتَ عَنْهُ، وَفَرِّجْ عَنِّی کَما فَرَّجْتَ عَنْهُ، وَاکْفِنِی کَما کَفَیْتَهُ، وَاصْرِفْ
مشکل جیسے ان کی مشکل دور کی تھی اور کشائش دے مجھ کو جیسے ان کو کشائش دی تھی اور میری مدد کر جیسے ان کی مدد فرمائی تھی میرا خوف
عَنِّی هَوْلَ مَا أَخافُ هَوْلَهُ، وَمَؤُونَةَ مَا أَخافُ مَؤُونَتَهُ، وَهَمَّ مَا أَخافُ هَمَّهُ، بِلا
دور کر جیسے ان کا خوف دور فرمایا تھا میری تکلیف دور کر جیسے انکی تکلیف دور فرمائی تھی اور وہ اندیشہ مٹا جس سے ڈرتا ہوں بغیر اس کے
مَؤُونَةٍ عَلَی نَفْسِی مِنْ ذلِکَ، وَاصْرِفْنِی بِقَضائِ حَوائِجِی، وَکِفَایَةِ مَا أَهَمَّنِی هَمُّهُ
کہ اس سے مجھے کوئی زحمت اٹھانی پڑے مجھے پلٹا جبکہ میری حاجات پوری ہو جائیں جس امر کا اندیشہ ہے اس میں مدد دے
مِنْ أَمْرِ آخِرَتِی وَدُنْیَایَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَیَا أَبا عَبْدِﷲ، عَلَیْکُما مِنِّی سَلامُ ﷲ
میرے دنیا و آخرت کے تمام تر معاملات میں اے مومنوں کے امیر اور اے ابا عبدﷲعليهالسلام آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام
أَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ والنَّهارُ وَلاَ جَعَلَهُ ﷲ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِکُما وَلاَ فَرَّقَ
ہمیشہ ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور رات دن باقی ہیں اور خدا میری اس زیارت کو آپ دونوں کے لیے میری آخری زیارت نہ
ﷲ بَیْنِی وَبَیْنَکُما اَللّٰهُمَّ أَحْیِنِی حَیَاةَ مُحَمَّدٍ وَذُرِّیَّتِهِ، وَأَمِتْنِی مَمَاتَهُمْ، وَتَوَفَّنِی
بنائے اور میرے اور آپ کے درمیان جدائی نہ ڈالے اے معبودمجھے زندہ رکھ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی اولاد کی طرح مجھے انہی جیسی موت دے
عَلَی مِلَّتِهِمْ، وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَتِهِمْ، وَلاَ تُفَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَهُمْ طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً فِی
مجھے ان کی روش پر وفات دے مجھے ان کے گروہ میں محشور فرما اور میرے اور ان کے درمیان جدائی نہ ڈال ایک پل کی کبھی بھی
الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَیَا أَبا عَبْدِﷲ، أَتَیْتُکُما زائِراً وَمُتَوَسِّلاً إلَی
دنیا اور آخرت میں اے امیر المومنینعليهالسلام اور اے ابا عبداللہعليهالسلام میں آپ دونوں کی زیارت کو آیا کہاس کو خدا کے ہاںوسیلہ بنائوں جو میرا
ﷲ رَبِّی وَرَبِّکُما وَمُتَوَجِّهاً إلَیْهِ بِکُما وَمُسْتَشْفِعاً بِکُما إلَی ﷲ تَعالی فِی حاجَتِی
اور آپ کا رب ہے میں آپ کے ذریعے اس کی طرف متوجہ ہوا ہوں اور آپ دونوں کو خدا کے ہاں سفارشی بناتا ہوں اپنی حاجت
هذِهِ فَاشْفَعا لِی فَ إنَّ لَکُما عِنْدَ ﷲ الْمَقامَ الْمَحْمُودَ، وَالْجاهَ الْوَجِیهَ، وَالْمَنْزِلَ
کے بارے میں پس میری شفاعت کریں کہ آپ دونوں خدا کے حضور پسندیدہ مقام بہت زیادہ آبرو بہت اونچا مرتبہ اور
الرَّفِیعَ وَالْوَسِیلَةَ، إنِّی أَنْقَلِبُ عَنْکُما مُنْتَظِراً لِتَنَجُّزِ الْحاجَةِ وَقَضائِها وَنَجاحِها
محکم تعلق رکھتے ہیں بے شک میں پلٹ رہا ہوں آپ دونوں کے ہاں سے اس انتظار میں کہ میری حاجت پوری ہو اور مراد برآئے
مِنَ ﷲ بِشَفاعَتِکُما لِی إلَی ﷲ فِی ذلِکَ فَلا أَخِیبُ، وَلاَ یَکونُ مُنْقَلَبِی
خدا کے ہاں آپکی شفاعت کے ذریعے جو میرے حق میں آپ خدا کے ہاں ندا کریں گے لہذا میں مایوس نہیںاور میری واپسی ایسی واپسی نہیں ہے
مُنْقَلَباً خائِباً خاسِراً، بَلْ یَکُونُ مُنْقَلَبِی مُنْقَلَباً راجِحاً مُفْلِحاًمُنْجِحاً مُسْتَجاباً
جس میں ناامیدی و ناکامی ہو بلکہ میری واپسی ایسی جو بہترین نفع مند کامیاب قبول دعا کی حامل میری تمام حاجتیں پوری
بِقَضائِ جَمِیعِ حَوائِجِی وَتَشَفَّعا لِی إلَی ﷲ انْقَلَبْتُ عَلَی مَا شائَ ﷲ وَلاَ حَوْلَ
ہونے کے ساتھ ہے جبکہ آپ خدا کے ہاں میرے سفارشی ہیںمیں پلٹ رہا ہوں اس امر پر جو خدا چاہے اور نہیں طاقت
وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله، مُفَوِّضاً أَمْرِی إلَی ﷲ، مُلْجِئاً ظَهْرِی إلَی ﷲ، مُتَوَکِّلاً عَلَی
و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں نے اپنا معاملہ خدا کے سپردکر دیا اس کا سہارا لے کر خدا پر ہی
ﷲ، وَأَقُولُ حَسْبِیَ ﷲ وَکَفیٰ، سَمِعَ ﷲ لِمَنْ دَعا، لَیْسَ لِی وَرائَ ﷲ
بھروسہ رکھتا ہوں اور کہتا ہوں خدا میرا ذمہ دار اور مجھے کافی ہے خدا سنتا ہے جو اسے پکارے میرا کوئی ٹھکانہ نہیں سوائے خدا کے
وَوَرائَکُمْ یَا سادَتِی مُنْتَهیٰ، مَا شائَ رَبِّی کانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ
اور سوائے آپ کے اے میرے سردار جو میرا رب چاہے وہ ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے نہیں ہوتا اور نہیں ہے طاقت
قُوَّةَ إلاَّ بِالله أَسْتَوْدِعُکُمَا ﷲ، وَلاَ جَعَلَهُ ﷲ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی إلَیْکُما، انْصَرَفْتُ
و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں آپ دونوں کو سپرد خدا کرتا ہوں اور خدا اسکوآپکے ہاں میری آخری حاضری قرار نہ دے میں واپس جاتا ہوں
یَا سَیِّدِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَمَوْلایَ وَأَنْتَ اُبْتُ یَاأَبا عَبْدِﷲ یَا سَیِّدِی وَسَلامِی
اے میرے آقا اے مومنوں کے امیر اورمیرے مدد گار اور آپ ہیں اے ابا عبداللہعليهالسلام اے میرے سردار میرا سلام ہو
عَلَیْکُما مُتَّصِلٌ مَا اتَّصَلَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، واصِلٌ ذلِکَ إلَیْکُما غَیْرُ مَحْجُوبٍ عَنْکُما
آپ دونوں پر متواتر جب تک رات اور دن باقی ہیں یہ سلام آپ دونوں کو پہنچتا رہے کبھی رکنے نہ پائے آپ پر میرا
سَلامِی إنْ شَائَ ﷲ، وَأَسْأَلُهُ بِحَقِّکُما أَنْ یَشائَ ذلِکَ وَیَفْعَلَ فَ إنَّهُ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
یہ سلام اگر خدا چاہے تو سوال کرتا ہوں اس سے آپ کے واسطے کہ وہ یہی چاہے اور یہ کرے کیونکہ وہ ہے حمد والا بزرگی والا میں آپ
انْقَلَبْتُ یَا سَیِّدَیَّ عَنْکُما تائِباً حامِداً لِلّٰهِ شاکِراً راجِیاً لِلاِِْجابَةِ، غَیْرَ آیِسٍ وَلاَ
کے ہاں سے جاتا ہوں اے میرے سردار ا ور خدا سے توبہ کرتا ہوں اسکی حمد کرتا ہوں شکر کرتا ہوں قبولیت کا امید وار ہوں مجھے نا امید و مایوس
قَانِطٍ، آئِباً عائِداً راجِعاً إلی زِیارَتِکُما، غَیْرَ راغِبٍ عَنْکُما وَلاَ عَنْ زِیارَتِکُما بَلْ
نہ کرنا پھر آنے کی زیارت کرنے کے ارادے سے نہ کہ آپ سے اور نہ آپ کی زیارت سے
راجِعٌ عائِدٌ إنْ شَائَ ﷲ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله، یَا سادَتِی رَغِبْتُ إلَیْکُما
منہ موڑے ہوئے بلکہ دوبارہ آنے کے لیے اگر خدا چاہے اورنہیں طاقت و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے اے میرے سردار میں شائق
وَ إلی زِیارَتِکُما بَعْدَ أَنْ زَهِدَ فِیکُما وَفِی زِیارَتِکُما أَهْلُ الدُّنْیا، فَلا خَیَّبَنِیَ
ہوں آپ کا اور آپ کی زیارت کا جبکہ بے رغبت ہو گئے ہیں آپ سے اور آپ دونوں کی زیارت کرنے سے یہ دنیا والے پس خدا
ﷲ مِمَّا رَجَوْتُ وَمَا أَمَّلْتُ فِی زِیارَتِکُما إنَّهُ قَرِیبٌ مُجِیبٌ
مجھے نا امید نہ کرے اس سے جسکی امید و آرزو رکھتا ہوں آپکی زیارت کے واسطے بے شک وہ نزدیک تر ہے قبول کرنے والا ہے۔
زیارت عاشورا کے فوائد
سیف ابن عمیر کہتا ہے کہ میں نے صفوان سے کہا کہ علقمہ ابن محمد نے امام محمد باقر -سے یہ دعا ہمارے لیے نقل نہیں کی بلکہ اس نے صرف زیارت عاشورہ ہی بیان کی ہے صفوان نے کہا کہ میں اپنے سردار امام جعفر صادق - کے ساتھ اس مقام پر آیا تھا تو آپ نے یہی عمل کیا جو ہم نے کیا ہے یعنی اس طرح زیارت پڑھی اور پھر دو رکعت نماز بجا لانے کے بعد یہی دعائے وداع پڑھی تھی جیسا کہ ہم نے نماز پڑھی اور وداع کیا ہے صفوان نے مزید کہا کہ امام جعفر صادق - نے مجھ سے فرمایا کہ اس زیارت اور دعا کا پڑھنا اپنا شیوہ بنا لو اور اسی طرح زیارت کیا کرو پس ضرور میں ضامن ہوں خدا کی جانب سے ہر اس شخص کے لیے جو اس طرح زیارت کرے اور اسی طرح دور یا نزدیک سے دعا پڑھے تو اس کی زیارت قبول ہو گی اس کا سلام حضرت تک پہنچے گا اور نا مقبول نہ ہو گا جب بھی وہ خدا سے حاجت طلب کرے گاوہ پوری ہوگی اور خدائے تعالیٰ اسے مایوسی کے عالم میں واپس نہ پلٹائے گا۔ اے صفوان میں نے اسی ضمانت کے ساتھ یہ زیارت اپنے والد گرامی امام علی ابن الحسین + سے سنی انہوں نے اسی ضمانت کے ساتھ امام حسین- سے انہوں نے اسی ضمانت کے ساتھ اپنے برادر امام حسن- سے انہوں نے اسی ضمانت کے ساتھ اپنے والد بزرگوار امیر المومنین- سے انہوں نے اسی ضمانت کیساتھ حضرت رسول سے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسی ضمانت کے ساتھ جبرائیلعليهالسلام سے اور جبرائیلعليهالسلام نے اسی ضمانت کے ساتھ یہ زیارت خدا وند عالم سے سنی کہ یقیناً حق تعالیٰ نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھائی ہے کہ جو شخص یہ زیارت پڑھ کر امام حسین- کی دور یا نزدیک سے زیارت کرے اور پھر یہی دعا پڑھے تو میں اس کی زیارت قبول کروں گا۔
اس کی ہر خواہش پوری کروں گا وہ جتنی بھی ہو اس کا سوال پورا کروں گا اور وہ میری بارگاہ سے مایوس و ناکام نہیں پلٹے گا بلکہ وہ بہ چشم روشن واپس جائے گا کہ اس کی حاجت پوری ہو چکی ہو گی وہ حصول جنت میں کامیاب او رجہنم سے آزاد ہو چکا ہو گا میں اس کی شفاعت قبول کروں گا سوائے دشمن اہل بیت کے اس حق میں اس کی شفاعت قبول نہ ہو گی خدائے تعالیٰ نے اپنی ذات برحق کی قسم کھائی اور ہمیں اس پر گواہ بنایا ہے کہ جس کی اس کے ملائکہ نے گواہی دی ہے جبرائعليهالسلام یل نے بھی یہ کہا کہ یا رسول اللہ ! خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ آپ کو بشارت دوں اور مسرور کروں نیز اس لیے بھیجا ہے کہ علی و فاطمہ و حسن و حسین اور آپ کی اولاد سے دیگر ائمہ معصومین کو بشارت دو کہ یہ خوشی اور شادمانی تا قیامت قائم رہے لہذا آپ کی خوشی علی، فاطمہ،حسن، حسین،اور دیگر ائمہ اور آپکے شعیوں کی یہ مسرت و شادمانی تا قیامت بحال و قائم رہے اس کے بعد صفوان نے کہا کہ امام جعفر صادق - نے مجھ سے فرمایا کہ اے صفوان جب بھی بارگاہ الہٰی میں تجھے کوئی حاجت در پیش ہوا کرے تو تم جس جگہ پر بھی ہو وہاں یہ زیارت اور یہ دعا پڑھو اور پھر جو حاجت بھی خدا سے طلب کرو گے وہ پوری کی جائے گی اور حق تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ سے عطا وبخشش کا جووعدہ کر رکھا ہے وہ اس کے خلاف نہیں کرے گا والحمد للہ!
مولف کہتے ہیں نجم الثاقب میں حاج سید احمد رشتی کے سفر حج کے ذیل میں حضرت صاحب العصر ارواحنافداہ سے ان کے شرف ملاقات کی حکایت درج ہے جس میں امام العصر(عج) کا یہ فرمان نقل ہوا ہے کہ تم زیارت عاشورہ کیوں نہیں پڑھتے عاشورہ عاشورہ عاشورہ اور انشائ اللہ ہم یہ حکایت زیارت جامعہ کبیرہ کے ساتھ نقل کریں گے تاہم ہمارے استاد ثقتہ الاسلام نوریرحمهالله کا ارشاد ہے کہ زیارت عاشورہ کے مرتبہ و فضلیت میںاتنا ہی کافی ہے کہ یہ زیارت دیگر زیارتوں کی طرح معصوم کی طرف سے صرف ظاہری املائ و انشائ نہیں گو کہ ان کے پاک دلوں سے جو بات نکلتی ہے وہ عالم بالاسے آتی ہے لیکن یہ زیارت احادیث قدسیہ میں سے ہے جو اسی ترتیب سے زیارت و لعنت اورسلام و دعائ کے ساتھ ذات احدیت سے جبرائیل امینعليهالسلام تک اور ان سے حضرت خاتم النبیینصلىاللهعليهوآلهوسلم تک پہنچی ہے اس کے تجربہ و آزمائش کے مطابق چالیس روز یا اس سے کم دنوں تک اس کو روزانہ پڑھنا حاجتوں کے پورا ہونے اور مقاصد کے برآنے اوردفعیہ دشمن کے لیے بے خطا اور بے نظیر ہے لیکن سب سے بڑا فائدہ جو اس کے متواتر پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے وہ وہی ہے جسے میں نے کتاب دارالسلام میں درج کیا ہے جو مختصراً یوں ہے کہ ثقہ صالح متقی حاج ملا حسن یزدیرحمهالله جو پارسا افراد میں سے تھے اور نجف اشرف میں عبادت و زیارت میںمصروف رہاکرتے تھے انہوں نے ثقہ امین حاج محمد علی یزدیرحمهالله سے نقل کیا ہے جو مرد فاضل و صالح تھے اور یزد میں ہمیشہ آخرت کی بھلائی کی خاطر مشغول عبادت رہتے ہیں یزد کے باہر واقع مقبرہ جس میں بہت سے صالحین مدفون ہیں اور اسے مزار کہتے ہیں اس میں راتیں گزارتے تھے ان کا ایک ہمسایہ تھا جو ان کے ساتھ پلا بڑھا تھا اور وہ دونوں ایک ہی استادکی شاگردی میں رہے جب وہ جوان ہوا تو اس نے وصولی عشر کا شغل اختیار کیا اور پھر اسی کام میں دنیا سے چل بسا وہ اسی جگہ کے قریب دفن ہوا جہاں یہ مرد صالح راتوں کو عبادت کرتے تھے اس کی مرگ پر ابھی ایک ماہ نہ گزرا تھا کہ اس نیک شخص نے اسے عمدہ لباس اور بہترین حالت میں دیکھا تب وہ اس کے قریب گئے اور اس سے کہا کہ میں تمہارے آغاز و انجام زندگی سے واقف ہوں اور تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہوں کہ تم ایسے لوگوں میں سے نہ تھے جن کے بارے میں یہ خیال کیا جائے کہ ان کا باطن صاف ہے نیز جو پیشہ تم نے اختیار کر رکھا تھا اس کا تقاضا بھی یہ تھا کہ تم عذاب میں پڑے رہو پس وہ کون سا عمل ہے جس کے ذریعے تم اس مرتبے پر پہنچے ہو؟اس نے کہا کہ معاملہ ایسا ہی تھا جیسے آپ نے فرمایا ہے اور جب سے قبر میں آیا ہوں بڑے ہی سخت عذاب میںرہا ہوں یہاں تک کہ ہمارے استاد اشرف لوہار کی بیوی یہاں دفن کی گئی اور اس کے ساتھ ہی اس کی جائے دفن کی طرف اشارہ بھی کیا جو وہاں سے سو گز کے فاصلے پر تھی پھر بتایا کہ دفن کی رات میں امام ابو عبداللہ الحسین- نے تین بار اس خاتون کی خبر گیری فرمائی جب تیسری دفعہ تشریف لائے تو آپ نے حکم فرمایا کہ اس قبرستان پر سے عذاب اٹھا دیا جائے چنانچہ اس وقت سے ہم سبھی اہل قبور کی حالت بہتر ہو گئی اور ہم نعمت و رحمت میں بسر کر رہے ہیں اس پر وہ صالح حیرت زدہ ہو کر بیدار ہوئے جب کہ وہ نہ اس لوہار کو جانتے تھے نہ اس گھر کی جائے وقوع سے واقف تھے پس وہ لوہاروں کے بازار گئے اور جستجو کی تو اس عورت کا خاوند انہیں مل گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہاری کوئی بیوی تھی اس نے کہا ہاں وہ کل فوت ہو گئی اور اسے فلاں جگہ دفن کیاگیا ہے‘ ان بزرگ نے پوچھا کہ آیا وہ امام حسین- کی زیارت کو گئی تھی اس نے کہا نہیں کیا وہ ذکر و مصائب کیا کرتی تھی؟ اس نے کہا نہیں انہوںنے دریافت کیا آیا وہ مجلس عزا برپا کرتی تھی اس نے کہا نہیں تب وہ لوہار کہنے لگا کہ آپ کس بات کی جستجو میں ہیں؟ اب بزرگ نے اسے اپنا خواب سنایا تو وہ کہنے لگا کہ میری بیوی ہمیشہ زیارت عاشورہ پڑھا کرتی تھی۔
دوسری زیارت عاشورہ
یہ زیارت عاشورہ غیر معروف ہے جو زیارت مشہورہ ہی کیطرح اجر و ثواب کی حامل ہے اس میں سو مرتبہ لعنت کرنا اور سو مرتبہ سلام کرنا بھی نہیں ہے یہ ان لوگوں کیلئے فوز عظیم کی حیثیت رکھتی ہے جو اہم کاموں میں مشغول رہتے ہیں مزار قدیم میں اسکا جو طریقہ درج ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص دور یا نزدیک سے حضرت امام حسین- کی زیارت کرنا چاہے تو وہ غسل کرے اور صحرا یااپنے گھر کی چھت پر جائے دو رکعت نماز بجا لائے اور الحمد کے بعد سورہ اخلاص پڑھے اور جب سلام پھیرلے تو آنحضرت کی طرف سلام کے ساتھ اشارہ کرے اور اسی سلام ،اشارے اور نیت کے ساتھ اسی جہت کیطرف متوجہ ہو جس میں وہ ہے یعنی حضرت امام حسین- کے مزار کربلا معلی کیطرف رخ کرے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ یہ سلام پڑھے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْبَشِیرِ النَّذِیرِ وَابْنَ سَیِّدِ
آپ پر سلام ہو اے رسول خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے خوشخبری دینے والے ڈرانے والے کے فرزنداور اوصیائ کے سردار کے
الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا
فرزند آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہراعليهالسلام کے فرزند جوجہانوں کی عورتوں کی سردار ہیںآپ پر سلام ہو اے
خِیَرَةَ ﷲ وَابْنَ خِیَرَتِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ ﷲ وَابْنَ ثَارِهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا
پسندیدہ خدا اور پسندیدہ خدا کے فرزند سلام ہو آپ پراے قربان خدااور قربان خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے
الْوِتْرُ الْمَوْتُورُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْاِمامُ الْهَادِی الزَّکِیُّ وَعَلَی أَرْوَاح
وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے سلام ہوآپ پر اے وہ امام کہ جورہبر ہے پاک و پاکیزہ ہے اور سلام ہو ان روحوں پر جو
حَلَّتْ بِفِنائِکَ وَأَقامَتْ فِی جِوارِکَ، وَوَفَدَتْ مَعَ زُوَّارِکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مِنِّی مَا
آپ کی بارگاہ میں اترتی ہیں آپ کے قرب میں ٹھہرتی اور آپ کے زائروں کے ہمراہ آتی ہیں سلام ہو آپ پر
بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ فَلَقَدْ عَظُمَتْ بِکَ الرَّزِیَّةُ وَجَلَّتْ فِی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ
میری طرف سے جب تک زندہ ہوں اور رات دن کی آمد جاری ہے یقینا آپ کا سوگ بہت زیادہ اور بہت بھاری ہے
وَفِی أَهْل السَّمٰوَاتِ وَأَهْلِ الْاََرَضِینَ أَجْمَعِینَ فَ إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ صَلَواتُ
مومنوں اور مسلمانوں کے لیے اور ان سب پر بھاری ہے جو آسمانوں پر اورزمینوں میں ہیں پس ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف
ﷲ وَبَرَکاتُهُ وَتَحِیَّاتُهُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ الْحُسَیْنِ وَعَلَی آبائِکَ الطَّیِّبِینَ
لوٹیں گے خدا کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں اور سلام ہوں آپ پر اے ابا عبداللہ حسینعليهالسلام اور سلام ہو آپ کے بزرگوں پر جو پاکیزہ
الْمُنْتَجَبِینَ وَعَلَی ذُرِّیَّاتِکُمُ الْهُداةِ الْمَهْدِیِّینَ لَعَنَ ﷲ أُمَّةً خَذَلَتْکَ وَتَرَکَتْ نُصْرَتَکَ
اور منتخب ہیں اور سلام آپکے فرزندوں پر جو ہدایت یافتہ رہبر ہیں خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکا ساتھ چھوڑاآپ کی مدد نہ کی
وَمَعُونَتَکَ وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَساسَ الظُّلْمِ لَکُمْ وَمَهَّدَتِ الْجَوْرَ عَلَیْکُمْ وَطَرَّقَتْ
اور کمک نہ پہنچائی اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ پر ظلم کرنے کی بنیاد ڈالی آپ پرستم کرنے کا سامان فراہم کیا آپ کو
إلی أَذِیَّتِکُمْ وَتَحَیُّفِکُمْ وَجارَتْ ذلِکَ فِی دِیارِکُمْ وَأَشْیاعِکُمْ، بَرِیْتُ إلَی ﷲ
آزار پہنچانے اور آپ کو بے گھر کرنے کی راہ نکالی اس ظلم و ستم کو آپ کے گھروں اورآپ کے ساتھیوں تک بڑھایا میں اظہار
عَزَّوَجَلَّ وَ إلَیْکُمْ یَا سَادَاتِی وَمَوَالِیَّ وَأَیِمَّتِی مِنْهُمْ وَمِنْ أَشْیاعِهِمْ وَأَتْباعِهِمْ،
بیزاری کرتا ہوں خدائے تعالیٰ کے اور آپکے سامنے اے میرے سردارمیرے آقا اور میرے امام ان سے انکے ساتھیوں سے انکے پیروکاروں سے
وَأَسْأَلُ ﷲ الَّذِی أَکْرَمَ یَا مَوالِیَّ مَقامَکُمْ وَشَرَّفَ مَنْزِلَتَکُمْ وَشَأْنَکُمْ أَنْ یُکْرِمَنِی
اور سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے اے میرے آقا بلند کیا آپ کا مقام بڑھائی آپ کی عزت اور شان یہ کہ وہ مجھے بزرگی دے
بِوِلایَتِکُمْ وَمَحَبَّتِکُمْ وَالائْتِمامِ بِکُمْ، وَبِالْبَرائَةِ مِنْ أَعْدَائِکُمْ، وَأَسْأَلُ ﷲ الْبَرَّ
آپ کی ولایت آپ کی محبت آپ کی پیروی اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعے سے اور سوال کرتا ہوں خدا سے جو بڑا
الرَّحِیمَ أَنْ یَرْزُقَنِی مَوَدَّتَکُمْ وَأَنْ یُوَفِّقَنِی لِلطَّلَبِ بِثارِکُمْ مَعَ الْاِمامِ الْمُنْتَظَرِ
مہربان ہے یہ کہ وہ مجھے آپ کی مودّت نصیب کرے اور مجھے توفیق دے کہ آپ کے خون کابدلہ لوں اس امام کے ہمراہ
الْهادِی مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَأَنْ یُبَلِّغَنِی
جو آنے والے رہبر ہیں آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میں سے ہیں اور یہ کہ وہ قرار دے مجھ کو آپ کے ساتھ دنیا وآخرت میں نیزمجھے بھی اس مقام محمود پر
الْمَقامَ الْمَحْمُودَ لَکُمْ عِنْدَ ﷲ، وَأَسْأَلُ ﷲ عَزَّوَجَلَّ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّأْنِ الَّذِی جَعَلَ
پہنچائے جو اس نے آپ کیلئے خاص کیا ہے پھر سوال کرتا ہوں خدائے عزو جل سے آپ کے حق اور مرتبے کے واسطے سے جو خدا
ﷲ لَکُمْ أَنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی بِکُمْ أَفْضَلَ مَا أَعْطیٰ مُصاباً بِمُصِیبَةٍ،
نے آپ کیلئے قرار دیا ہے کہ وہ آپ کی عزا داری کے بدلے میں مجھے بہترین اجر دے جو اس نے آپ کے کسی عز دار کو عنایت کیا ہو
إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ، یَا لَها مِنْ مُصِیبَةٍ مَا أَفْجَعَها وَأَنْکاها لِقُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ
یقیناً ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے افسوس ہے کہ آپ کی اس مصیبت پر جوکتنی دلگداز اور گہری ہے مومنوں اور مسلمانوں
وَالْمُسْلِمِینَ فَ إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی
کے دلوں کے لیے پس ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ جائیں گے اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھے اس جگہ قرار دے
فِی مَقامِی مِمَّنْ تَنالُهُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَرَحْمَةٌ وَمَغْفِرَةٌ، وَاجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیهاً فِی
جہاں پر کھڑا ہوں ان افراد میں جن پر تیری سلامتی، رحمت اور بخشش ہوئی ہے اور مجھے قرار دے اپنے حضور باعزت
الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ فَ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ
اور مقربین میں سے دنیا اور آخرت میں کیونکہ میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صدقے ان پر
وَعَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ اَللّٰهُمَّ وَ إنِّی أَتَوَسَّلُ وَأَتَوَجَّهُ بِصَفْوَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ
اور انکی ساری آل پر تیری رحمتیں ہوں اے معبود! بے شک میں نے وسیلہ بنایا اور تیری طرف آیا بواسطہ مخلوق میں سے تیرے
وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَالطَّیِّبِینَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا، اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
پسندیدہ کے اور کائنات میں تیرے چنے ہوئوں یعنی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و حضرت علیعليهالسلام اور ان دونوں کی پاکیزہ اولاد کو وسیلہ بنایا پس اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیاهُمْ، وَمَماتِی مَماتَهُمْ، وَلاَ تُفَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَهُمْ فِی
و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور بنا دے میری زندگی انکی زندگی جیسی اور میری موت انکی موت جیسی اور جدائی نہ ڈال مجھ میں اور ان میں دنیا
الدُّنْیا وَالْاَخِرةِ، إنَّکَ سَمِیعُ الدُّعائِ اَللّٰهُمَّ وَهذَا یَوْمٌ تَجَدَّدَ فِیهِ النِّقْمَةُ، وَتَنَزَّلَ فِیهِ
وآخرت میں بے شک تو دعا کا سننے والا ہے اے معبود آج وہ دن ہے جس میں نیا عذاب آتا ہے اور برستی ہے
اللَّعْنَةُ عَلَی اللَّعِینِ یَزِیدَ وَعَلَی آلِ یَزِیدَ وَعَلَی آلِ زِیادٍ وَعُمَرَ بْنِ سَعْدٍ وَالشِّمْرِ
لعنت پر لعنت ملعون ولعنتی یزید پر اور اولاد یزید پر اور زیاد پر اور لعنت ہے عمر بن سعد اور شمر پر
اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ وَالْعَنْ مَنْ رَضِیَ بِقَوْلِهِمْ وَفِعْلِهِمْ مِنْ أَوَّلٍ وَآخِرٍ لَعْناً کَثِیراً وَأَصْلِهِمْ
اے معبود لعنت بھیج ان پر لعنت بھیج اس پر جو انکے قول و فعل پر راضی ہو اولین و آخرین میں سے بہت بہت لعنت ڈال دے انکا اپنی
حَرَّنارِکَ وَأَسْکِنْهُمْ جَهَنَّمَ وَسَائَتْ مَصِیراً وَأَوْجِبْ عَلَیْهِمْ وَعَلَی کُلِّ مَنْ شایَعَهُمْ
آگ کے شعلوں میں ٹھکانہ بنا ان کو جہنم میں ٹھہرا اور وہ کتنا برا ٹھکانہ ہے ضرور لعنت کر ان پر اور ان کے ساتھیوں پر
وَبایَعَهُمْ وَتابَعَهُمْ وَساعَدَهُمْ وَرَضِیَ بِفِعْلِهِمْ وَافْتَحْ لَهُمْ وَعَلَیْهِمْ وَعَلَی کُلِّ مَنْ
جنہوں نے ان سے پیمان باندھے انکی پیروی کی اور انکی مدد کرتے رہے اور انکے فعل پر راضی رہے کھول دے ان کیلئے اپنی ہر لعنت کا
رَضِیَ بِذلِکَ لَعَناتِکَ الَّتِی لَعَنْتَبِها کُلَّ ظالِمٍ، وَکُلَّ غاصِبٍ، وَکُلَّ جاحِدٍ،
راستہ اور ان پر بھی جو ان کے ظلم کو پسند کرتے ہیں اپنی طرف سے وہ لعنت کر جو لعنت کی ہے تو نے ہر ظالم پر ہر غاصب پرہر منکر پر ہر
وَکُلَّ کافِرٍ، وَکُلَّ مُشْرِکٍ، وَکُلَّ شَیْطانٍ رَجِیمٍ، وَکُلَّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ
کافر پر ہر مشرک پر اور جو لعنت کی ہے تو نے ہر مردود شیطان پر اور ہر ضدی ستمگار پر اے معبود لعنت بھیج یزید پر
وَآلَ یَزِیدَ وَبَنِی مَرْوانَ جَمِیعاً اَللّٰهُمَّ وَضَعِّفْ غَضَبَکَ وَسَخَطَکَ وَعَذابَکَ وَنَقِمَتَکَ
اولاد یزید پر اور اولاد مروان سب پر اے معبود دگنا کر دے اپنا غضب اپنا غصہ اپنا عذاب اور اپنی سزا
عَلَی أَوَّلِ ظالِمٍ ظَلَمَ أَهْلَ بَیْتِ نَبِیِّکَ، اَللّٰهُمَّ وَالْعَنْ جَمِیعَ الظَّالِمِینَ لَهُمْ وَانْتَقِمْ
اس پہلے ظالم پر جس نے تیرے نبی کے خاندان پر ظلم کاآغاز کیا اے معبود لعنت کر ان سب پر جنہوں نے اہل بیتعليهالسلام پر ظلم کیا اور تو ان
مِنْهُمْ إنَّکَ ذُو نِقْمَةٍ مِنَ الْمُجْرِمِینَ، اَللّٰهُمَّ وَالْعَنْ أَوَّلَ ظالِمٍ ظَلَمَ آلَ بَیْتِ مُحَمَّدٍ،
سے انتقام لے کیونکہ تو مجرموں کو سزا دینے والا ہے اے معبود تو لعنت کر ان پہلے ظالموں پر جنہوں نے اہل بیت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ظلم کیا
وَالْعَنْ أَرْواحَهُمْ وَدِیارَهُمْ وَقُبُورَهُمْ وَالْعَنِ اَللّٰهُمَّ الْعِصابَةَ الَّتِی نازَلَتِ الْحُسَیْنَ
اورلعنت بھیج ان کی روحوں پر ان کے گھروں پر اور انکی قبروں پر نیز لعنت کر اے معبود اس گروہ پر جنہوں نے حسینعليهالسلام سے جنگ کی جو
بْنَ بِنْتِ نَبِیِّکَ وَحارَبَتْهُ وَقَتَلَتْ أَصْحابَهُ وَأَنْصارَهُ وَأَعْوَانَهُ وَأَوْلِیَائَهُ وَشِیعَتَهُ
تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دختر کے فرزند ہیں لعنت کر ان پر جس نے ان سے جنگ کی اور قتل کیا انکے ساتھیوں اور مدد گاروں کو اورقتل کیاانکے حامیوں انکے دوستوں
وَمُحِبِّیهِ وَأَهْلَ بَیْتِهِ وَذُرِّیَّتَهُ، وَالْعَنِ اَللّٰهُمَّ الَّذِینَ نَهَبُوا مالَهُ،وَسَلَبُوا
انکے پیروکاروں اور محبوں کو اور قتل کیا ان کے خاندان اور انکی اولاد کو اے معبود لعنت بھیج ان کا مال لوٹنے والوںاور ان کے خیمے
حَرِیْمُهَُ، وَلَمْ یَسْمَعُوا کَلامَهُ وَلاَ مَقالَهُ، اَللّٰهُمَّ وَالْعَنْ کُلَّ مَنْ بَلَغَهُ ذلِکَ فَرَضِیَ
تاراج کرنے والوں پر جنہوں نے توجہ نہ کی انکی گفتار اور ان کی پکار پراے معبود لعنت کر ان سب پر جنہوں نے یہ واقعہ سنا اور وہ اس
بِهِ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَالْخَلائِقِ أَجْمَعِینَ إلی یَوْمِ الدِّینِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
پر خوش ہوئے اولین و آخرین میں سے اور ساری مخلوق میں سے سب پر قیامت کے دن تک، سلام ہو آپ پر
یَا أَبا عَبْدِﷲ الْحُسَیْنَ وَعَلَی مَنْ سَاعَدَکَ وَعاوَنَکَ وَوَاسَاکَ بِنَفْسِهِ، وَبَذَلَ
اے ابا عبداللہ الحسینعليهالسلام اور ان پر جنہوں نے آپ کا ساتھ دیاآپ کی مدد کی آپ کے لیے اپنی جانیں حاضر کر دیں اور آپ کا دفاع
مُهْجَتَهُ فِی الذَّبِّ عَنْکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَعَلَیْهِمْ، وَعَلَی رُوحِکَ وَعَلَی
کرتے ہوئے اپنے خون میں نہا گئے سلام ہو آپ پر اے میرے آقا اور ان پر سلام آپ کی روح پر اور ان کی
أَرْواحِهِمْ، وَعَلَی تُرْبَتِکَ وَعَلَی تُرْبَتِهِمْ اَللّٰهُمَّ لَقِّهِمْ رَحْمَةً وَرِضْواناً وَرَوْحاً
روحوں پر اور سلام آپ کی قبر پر اور ان کی قبروں پر اے معبود ملاقات کر ان سے رحمت و خوشنودی سے اور راحت و
وَرَیْحاناً، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَیَابْنَ سَیِّدِ
مسرت سے آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اے اباعبدﷲعليهالسلام اے خاتم الانبیائ کے فرزند اے اوصیائ کے
الْوَصِیِّینَ، وَیَابْنَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَهِیدُ یَابْنَ الشَّهِیدِ
سردار کے فرزند اے جہانوں کی عورتوں کی سردار کے فرزند آپ پر سلام ہو اے شہید ابن شہید
اَللّٰهُمَّ بَلِّغْهُ عَنِّی فِی هذِهِ السَّاعَةِ وَفِی هذَا الْیَوْمِ وَفِی هذَا الْوَقْتِ وَکُلِّ وَقْتٍ تَحِیَّةً
اے معبود! پہنچا ان کو میری طرف سے اس گھڑی آج کے دن اور اسی وقت اور ہر وقت بہت بہت درود
وَسَلاماً، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْعالَمِینَ، وَعَلَی الْمُسْتَشْهَدِینَ مَعَکَ سَلاماً
اور سلام، سلام ہو آپ پر اے جہانوں کے سردار کے فرزند اور ان پر جوآپ کے ہمراہ شہید ہوئے سلام ہو مسلسل
مُتَّصِلاً مَا اتَّصَلَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ الشَّهِیدِ، اَلسَّلَامُ
جب تک رات اور دن باقی رہیں سلام ہو حسینعليهالسلام شہید پر جو علیعليهالسلام کے فرزند ہیں سلام ہو
عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ الشَّهِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ الشَّهِیدِ
شہید علیعليهالسلام پر جو حسینعليهالسلام کے فرزند ہیں سلام ہو شہید عباسعليهالسلام پر جو امیر المومنینعليهالسلام کے فرزند ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّهَدائِ مِنْ وُلْدِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی الشُّهَدائِ مِنْ وُلْدِ
سلام ہو ان شہیدوں پر جو امیر المومنینعليهالسلام کی اولاد سے ہیں سلام ہو ان شہیدوں پر جو جعفرعليهالسلام اور عقیلعليهالسلام کی
جَعْفَرٍ وَعَقِیلٍ، اَلسَّلَامُ عَلَی کُلِّ مُسْتَشْهَدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
اولاد سے ہیں سلام ہو ان سب شہیدوں پر جو مومنوں میں سے ہیں اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْهُمْ عَنِّی تَحِیَّةً وَسَلاماً اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ وَعَلَیْکَ
و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور ان کو میرا درود اور سلام پہنچا آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَحْسَنَ ﷲ لَکَ الْعَزائَ فِی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ ں ،
سلام ہو خدا کی رحمت ہو اور برکات ہوں خدا آپ کو اس غم کا بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے فرزند حسین - کے بارے میں پایا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
آپ پر سلام ہو اے ابا الحسنعليهالسلام اے مومنوں کے امیر اور آپ پرسلام خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں خدا آپ کو
أَحْسَنَ ﷲ لَکَ الْعَزائَ فِی وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَةُ یَا بِنْتَ رَسُولِ
اس غم پر بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے فرزند حسینعليهالسلام کے بارے میں پایا آپ پر سلام ہو اے فاطمہعليهالسلام اے جہانوں کے پرودگار کے
رَبِّ الْعالَمِینَ وَعَلَیْکِ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ أَحْسَنَ ﷲ لَکِ الْعَزائَ فِی وَلَدِکِ
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دخترآپ پر سلام خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں خدا آپکو اس غم پر بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے فرزند حسینعليهالسلام کے
الْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
بارے میں دیکھا آپ پر سلام ہو اے ابا محمد الحسنعليهالسلام آپ پر سلام ہو اور خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں
أَحْسَنَ ﷲ لَکَ الْعَزائَ فِی أَخِیکَ الْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَی أَرْواحِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ
خدا آپ کو اس غم پر بہترین اجر دے جو آپ نے اپنے بھائی حسینعليهالسلام کے بارے میں پایا سلام ہو مومنین و مومنات کی روحوں پر
الْاََحْیائِ مِنْهُمْ وَالْاََمْواتِ، وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَحْسَنَ ﷲ لَهُمُ
کہ جو ان میں زندہ ہیں اور جو مر چکے ہیں ان سب پر سلام ہو خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوںخدا ان کو اس غم پر بہترین اجر
الْعَزائَ فِی مَوْلاهُمُ الْحُسَیْنِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنا مِنَ الطَّالِبِینَ بِثارِهِ مَعَ إمامٍ عَدْلٍ
دے جو انہیں اپنے مولا حسینعليهالسلام کے بارے میں ہے اے معبود! ہمیں ان کے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار دے اس امام عادل
تُعِزُّ بِهِ الْاِسْلامَ وَأَهْلَهُ یَارَبَّ الْعالَمِینَ
کے ہمراہ جن کے ذریعے تو اسلام و مسلمانوں کو عزت دے گا اے جہانوں کے پروردگار۔
پھر سجدے میں جاکر پڑھے:اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی جَمِیعِ مَا نابَ مِنْ خَطْبٍ وَلَکَ الْحَمْدُ
اے معبود تیرے لیے حمد ہے بوجہ اس بڑی مصیبت کے جو پیش آئی تیرے لیے حمد ہے
عَلَی کُلِّ أَمْرٍ، وَ إلَیْکَ الْمُشْتَکیٰ فِی عَظِیمِ الْمُشْتَکیٰ فِی عَظِیمِ الْمُهِمَّاتِ بِخِیَرَتِکَ
ہر معاملے میں اور تیری بارگاہ میں شکایت ہے ان بڑی مصیبتوں پر جو تیرے برگزیدہ دوستوں
وَأَوْلِیائِکَ وَذلِکَ لِما أَوْجَبْتَ لَهُمْ مِنَ الْکَرَامَةِ وَالْفَضْلِ الْکَثِیرِ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی
پر گزریں اس وجہ سے کہ تو نے لازم فرمائی ان کے لیے بزرگواری اور بہت زیادہ فضلیت پس اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْزُقْنِی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ وَالْمَقامِ الْمَشْهُودِ
پر رحمت فرما اور مجھے نصیب کر حسین - کی شفاعت و سفارش جس دن آنا ہے مقام معین حوض کوثر پر جو وارد
وَالْحَوْضِ الْمَوْرُودِ، وَاجْعَلْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَأَصْحابِ
ہونے کی جگہ ہے اور قرار دے میری اپنے حضور کی بہترین آمد جو حسنعليهالسلام اور حسینعليهالسلام کے اصحاب
الْحُسَیْنِ الَّذِینَ وَاسَوْهُ بِأَنْفُسِهِمْ، وَبَذَلُوا دُونَهُ مُهَجَهُمْ، وَجاهَدُوا مَعَهُ أَعْدائَکَ
کے ہمراہ وہم رکاب ہو جنہوں نے ان پر اپنی جانیں قربان کیں انکے سامنے گردنیں کٹوا دیںاور انکے ساتھ ہو کرتیرے دشمنوں سے
ابْتِغائَ مَرْضاتِکَ وَرَجَائِکَ، وَتَصْدِیقاً بِوَعْدِکَ، وَخَوْفاً مِنْ وَعِیدِکَ، إنَّکَ
لڑے کہ تیری رضا پائیں اور امید لگائیں تجھ سے انہوں نے تیرے وعدے کو سچا جانا اور تیری سخت گیری سے ڈرے بے شک تو
لَطِیفٌ لِمَا تَشائُ یَاأَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
مہربان ہے اس کے لیے جسے تو چاہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
آٹھویں زیارت
زیارت اربعین
یہ وہ زیارت ہے جو امام حسین- کے چہلم کے دن یعنی بیس صفر کو پڑھی جاتی ہے شیخرحمهالله نے تہذیب میں اور مصباح میں امام حسن عسکری - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا مومن کی پانچ علامات ہیں ( ۱ )ہر شب و روز میںاکاون رکعت نماز پڑھنا کہ اس سے مراد سترہ رکعت فریضہ اور چونتیس رکعت نافلہ ہے ( ۲ )زیارت اربعین کا پڑھنا،( ۳ ) دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، ( ۴ )سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی خاک پر رکھنا ( ۵ )نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنا:
پہلی زیارت
بیس صفر کو امام حسین- کی زیارت کے دو طریقے ہیں پہلا طریقہ وہ ہے جسے شیخ نے تہذیب اور مصباح میں صفوان جمال (ساربان) سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا مجھ کو میرے آقا امام جعفر صادق - نے زیارت اربعین کے بارے میں ہدایت فرمائی کہ جب سورج بلند ہو جائے تو حضرت کی زیارت کرو اور کہو:
اَلسَّلَامُ عَلَی وَلِیِّ ﷲ وَحَبِیبِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی خَلِیلِ ﷲ وَنَجِیبِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی
سلام ہو خدا کے ولی اور اس کے پیارے پر سلام ہو خدا کے سچے دوست اور چنے ہوئے پر سلام ہو خدا کے
صَفِیِّ ﷲ وَابْنِ صَفِیِّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهِیدِ، اَلسَّلَامُ عَلَی
پسندیدہ اور اس کے پسندیدہ کے فرزند پر سلام ہو حسینعليهالسلام پر جو ستم دیدہ شہید ہیں سلام ہو حسینعليهالسلام پر
أَسِیرِ الْکُرُباتِ وَقَتِیلِ الْعَبَرَاتِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَشْهَدُ أَنَّهُ وَلِیُّکَ وَابْنُ وَلِیِّکَ، وَصَفِیُّکَ
جو مشکلوں میں پڑے اور انکی شہادت پر آنسو بہے اے معبود میں گواہی دیتا ہوںکہ وہ تیرے ولی اور تیرے ولی کے فرزند تیرے پسندیدہ
وَابْنُ صَفِیِّکَ، الْفَائِزُ بِکَرَامَتِکَ، أَکْرَمْتَهُ بِالشَّهَادَةِ، وَحَبَوْتَهُ بِالسَّعَادَةِ، وَاجْتَبَیْتَهُ
اور تیرے پسندیدہ کے فرزند ہیں جنہوں نے تجھ سے عزت پائی تونے انہیں شہادت کی عزت دی انکو خوش بختی نصیب کی اور انہیں
بِطِیبِ الْوِلادَةِ، وَجَعَلْتَهُ سَیِّداً مِنَ السَّادَةِ، وَقَائِداً مِنَ الْقَادَةِ، وَذَائِداً مِنَ الذَّادَةِ،
پاک گھرانے میں پیدا کیا تو نے قرار دیاانہیں سرداروںمیں سردار پیشوائوں میں پیشوا مجاہدوں میں مجاہداور انہیں
وَأَعْطَیْتَهُ مَوَارِیثَ الْاََنْبِیَائِ، وَجَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَی خَلْقِکَ مِنَ الْاََوْصِیَائِ، فَأَعْذَرَ فِی
نبیوں کے ورثے عنایت کیے تو نے قرار دیاان کو اوصیائ میں سے اپنی مخلوقات پر حجت پس انہوں نے تبلیغ کا
الدُّعَاءِ، وَمَنَحَ النُّصْحَ، وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیکَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبَادَکَ مِنَ الْجَهَالَةِ، وَحَیْرَةِ
حق ادا کیابہترین خیر خواہی کی اور تیری خاطر اپنی جان قربان کی تاکہ تیرے بندوں کو نجات دلائیں نادانی وگمرا ہی کی پریشانیوں سے
الضَّلالَةِ، وَقَدْ تَوَازَرَ عَلَیْهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْیا، وَبَاعَ حَظَّهُ بِالْاََرْذَلِ الْاََدْنیٰ، وَشَرَیٰ
جب کہ ان پر ان لوگوں نے ظلم کیا جنہیں دنیا نے مغرور بنا دیا تھا جنہوں نے اپنی جانیں معمولی چیز کے بدلے بیچ دیں اور اپنی
آخِرَتَهُ بِالثَّمَنِ الْاََوْکَسِ، وَتَغَطْرَسَ وَتَرَدَّیٰ فِی هَوَاهُ، وَأَسْخَطَکَ وَأَسْخَطَ نَبِیَّکَ
آخرت کے لیے گھاٹے کا سودا کیا انہوں نے سرکشی کی اور لالچ کے پیچھے چل پڑے انہوں نے تجھے غضب ناک اور تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو
وَأَطَاعَ مِنْ عِبادِکَ أَهْلَ الشِّقاقِ وَالنِّفاقِ، وَحَمَلَةَ الْاََوْزارِ، الْمُسْتَوْجِبِینَ النَّارَ،
ناراض کیا انہوںنے تیرے بندوں میں سے انکی بات مانی جو ضدی اور بے ایمان تھے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ لے کرجہنم کیطرف چلے گئے
فَجاهَدَهُمْ فِیکَ صابِراً مُحْتَسِباً حَتَّی سُفِکَ فِی طَاعَتِکَ دَمُهُ وَاسْتُبِیحَ حَرِیمُهُ
پس حسینعليهالسلام ان سے تیرے لیے لڑے جم کرہوشمندی کیساتھ یہاں تک کہ تیری فرمانبرداری کرنے پر انکا خون بہایا گیا اور انکے اہل حرم کو لوٹا گیا
اَللّٰهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْناً وَبِیلاً، وَعَذِّبْهُمْ عَذاباً أَلِیماً اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ،
اے معبود لعنت کر ان ظالموں پر سختی کے ساتھ اور عذاب دے ان کو درد ناک عذاب آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْاََوْصِیائِ أَشْهَدُ أَنَّکَ أَمِینُ ﷲ وَابْنُ أَمِینِهِ عِشْتَ سَعِیداً
آپ پر سلام ہو اے سردار اوصیائ کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے امین اور اسکے امین کے فرزند ہیں آپ نیک بختی میں زندہ رہے
وَمَضَیْتَ حَمِیداً، وَمُتَّ فَقِیداً، مَظْلُوماً شَهِیداً، وَأَشْهَدُ أَنَّ ﷲ مُنْجِزٌ
قابل تعریف حال میںگزرے اور وفات پائی وطن سے دور کہ آپ ستم زدہ شہید ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا آپ کو جزا دے گا
مَا وَعَدَکَ، وَمُهْلِکٌ مَنْ خَذَلَکَ، وَمُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَکَ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ
جسکا اس نے وعدہ کیا اور اسکو تباہ کریگا وہ جس نے آپکا ساتھ چھوڑا اور اسکو عذاب دیگا جس نے آپکو قتل کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ
وَفَیْتَ بِعَهْدِ ﷲ، وَجاهَدْتَ فِی سَبِیلِهِ حَتّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَلَعَنَ ﷲ مَنْ قَتَلَکَ،
آپ نے خدا کی دی ہوئی ذمہ داری نبھائی آپ نے اسکی راہ میں جہاد کیا حتی کہ شہیدہو گئے پس خدا لعنت کرے جس نے آپکو قتل کیا
وَلَعَنَ ﷲ مَنْ ظَلَمَکَ، وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِکَ فَرَضِیَتْ بِهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی
خدا لعنت کرے جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس قوم پرجس نے یہ واقعہ شہادت سنا تو اس پر خوشی ظاہر کی اے معبود میں
أُشْهِدُکَ أَنِّی وَلِیٌّ لِمَنْ والاهُ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداهُ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَابْنَ رَسُولِ ﷲ
تجھے گواہ بناتا ہوں کہ ان کے دوست کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں میرے ماں باپ قربان آپ پراے فرزند رسول خدا
أَشْهَدُ أَنَّکَ کُنْتَ نُوراً فِی الْاََصْلابِ الشَّامِخَةِ، وَالْاََرْحامِ الْمُطَهَّرَةِ، لَمْ تُنَجِّسْکَ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نور کی شکل میںرہے صاحب عزت صلبوں میں اور پاکیزہ رحموں میں جنہیں جاہلیت نے اپنی نجاست
الْجاهِلِیَّةُ بِأَنْجاسِها وَلَمْ تُلْبِسْکَ الْمُدْلَهِمَّاتُ مِنْ ثِیابِها وَأَشْهَدُ أَنَّکَ مِنْ دَعائِمِ الدِّینِ
سے آلودہ نہ کیا اور نہ ہی اس نے اپنے بے ہنگم لباس آپ کو پہنائے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دین کے ستون ہیں
وَأَرْکانِ الْمُسْلِمِینَ، وَمَعْقِلِ الْمُؤْمِنِینَ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ الْاِمامُ الْبَرُّ التَّقِیُّ الرَّضِیُّ
مسلمانوں کے سردار ہیں اور مومنوں کی پناہ گاہ ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امامعليهالسلام ہیں نیک و پرہیز گار پسندیدہ
الزَّکِیُّ الْهادِی الْمَهْدِیُّ وَأَشْهَدُ أَنَّ آلاَءِمَّةَ مِنْ وُلْدِکَ کَلِمَةُ التَّقْوی وَأَعْلامُ الْهُدیٰ
پاک رہبر راہ یافتہ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جو امام آپ کی اولاد میں سے ہیں وہ پرہیز گاری کے ترجمان ہدایت کے
وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقی وَالْحُجَّةُ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا وَأَشْهَدُ أَنِّی بِکُمْ مُؤْمِنٌ وَبِ إیابِکُمْ مُوقِنٌ
نشان محکم تر سلسلہ اور دنیا والوںپر خدا کی دلیل و حجت ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا اور آپ کے بزرگوں کا ماننے والا
بِشَرائِعِ دِینِی وَخَواتِیمِ عَمَلِی وَقَلْبِی لِقَلْبِکُمْ سِلْمٌ وَ أَمْرِی لاََِمْرِکُمْ مُتَّبِعٌ
اپنے دینی احکام اور عمل کی جزا پر یقین رکھنے والا ہوں میرا دل آپکے دل کیساتھ پیوستہ میرا معاملہ آپ کے معاملے کے تابع اور میری
وَنُصْرَتِی لَکُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّی یَأْذَنَ ﷲ لَکُمْ فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لاَ مَعَ عَدُّوِکُمْ صَلَواتُ
مدد آپ کیلئے حاضر ہے حتی کہ خدا آپکو اذن قیام دے پس آپکے ساتھ ہوں آپکے ساتھ نہ کہ آپکے دشمن کیساتھ خدا کی رحمتیں ہوں
ﷲعَلَیْکُمْ وَعَلَی أَرْواحِکُمْ وَ أَجْسادِکُمْ وَشاهِدِکُمْ وَغَائِبِکُمْ وَظَاهِرِکُمْ وَبَاطِنِکُمْ
آپ پر آپ کی پاک روحوں پر آپ کے جسموں پر آپ کے حاضر پر آپ کے غائب پر آپ کے ظاہر اور آپ کے باطن پر
آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
ایسا ہی ہو جہانوں کے پروردگار۔
اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اپنی حاجات طلب کرے اور پھر وہاں سے واپس چلا آئے
دوسری زیارت اربعین
یہ زیارت جابربن عبدا للہ انصاری سے منقول ہے اور اس کی کیفیت و طریقے کے بارے میں عطا سے روایت ہے کہ اس نے کہا میں جابر کے ساتھ تھا ہم بیس صفر کو غاضریہ پہنچے جابر نے دریائے فرات میں غسل کیا اور پاکیزہ لباس پہنا جو ان کے پاس تھا پھر مجھ سے کہا اے عطا تمہارے پاس کوئی خوشبو ہے؟ میںنے کہا کہ ہاں میرے پا س ُسعد ہے پس انہوں نے وہ تھوڑی سی لے لی اور اپنے سر اور بدن پر چھڑک دی پھر ننگے پائوں چل پڑے یہاں تک کہ امام حسین- کے سرہانے جا ٹھہرے تب انہوں نے تین بار ﷲ اَکْبَرُ کہا اور بے ہوش ہر کر گر پڑے جب ہوش آیا تو میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھےاَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا آلَ ﷲ..الخ جو بعینہ وہی پندرہ رجب والی زیارت ہے کہ جسے ہم نے اعمال رجب میں نقل کر چکے ہیں اور سوائے چند ایک کلمات کے اس میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ بھی جیسا کہ شیخ مرحوم نے احتمال دیا ہے کہ نقل در نقل (اختلاف نسخ ) ہونے کی وجہ سے ہوا ہے پس اگر کوئی شخص روز اربعین یہ زیارت بھی پڑھنا چاہے تو وہ پندرہ رجب کی زیارت کے صفحات میں سے پڑھ لے۔
امام حسین- کی زیارت کے خاص اوقات
مؤلف لکھتے ہیں کہ ان اوقات کے علاوہ جو ذکر ہوئے ہیں امام حسین- کی زیارت کے دیگر اوقات اور بابرکت شب و روز بھی ہیں جن میں آپ کی زیارت کرنا افضل ہے خصوصاً وہ دن اور راتیں جو حضرت کے ساتھ نسبت رکھتی ہیں۔ مثلاً روز مباہلہ ’’آیہ ھل اتی‘‘ کے نزول کا دن، آپ کی ولادت کی رات اور جمعہ کی راتیں ہیںجیساکہ ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا ئے تعالیٰ ہر شب جمعہ میںامام حسین- پر نظر کرم فرماتا ہے اور تمام نبیوں اور ان کے وصیوں کو آپ کی زیارت کرنے کے لیے بھیجتا ہے ابن قولویہ نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ فرمایا جو شخص شب جمعہ میں روضہ امام حسین- کی زیارت کرے تو وہ ضرور بخشا جائے گا اور وہ دنیا سے مایوسی و شرمندگی کی حالت میں نہیں جائے گا اور جنت میں اس کا گھر امام حسین- کے ساتھ ہو گا اعمش کی خبر میں آیا ہے کہ اس کے ہمسائے نے اس سے کہا میں نے خواب میںدیکھا کہ آسمان سے اوراق گر رہے ہیں جن پر ہر اس شخص کیلئے امان نامہ لکھا ہوا ہے جو شب جمعہ میں امام حسین- کی زیارت کرے آئندہ صفحات میں کاظمین کے اعمال کے ذیل میں حاجی علی بغدادی کی حکایت میںاس امر کی طرف اشارہ کیا جائے گا اور ان اوقات زیارت کے علاوہ دیگر بہترین اوقات کا ذکر بھی آئیگا ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے امام جعفر صادق - سے پوچھا کہ امام حسین- کی زیارت کا کوئی ایسا وقت ہے جو دوسرے اوقات سے بہتر ہو؟ آپ نے فرمایا حضرت کی زیارت ہر وقت اور زمانے میں کرو کہ آپ کی زیارت ایک عمل خیر ہے جو اس کو جتنا زیادہ بجا لائے گا وہ اتنی ہی زیادہ نیکی حاصل کرے گا اور جو اسے کم بجا لائے گا وہ کم نیکی حاصل کر سکے گا۔ پس تم کوشش کرو کہ حضرت کی زیارت ان بابرکت اوقات میں کرو جن میں اعمال خیر کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے انہی مبارک اوقات میں ملائکہ آسمان سے اتر کر حضرت کی زیارت کرتے ہیں لیکن ان اوقات کے لیے کوئی زیارت مخصوصہ منقول نہیں ہے البتہ تین شعبان کو جو امام حسین- کا یوم ولادت ہے اس کیلئے ناحیہ مقدسہ سے ایک دعا صادر ہوئی ہے جو اس دن پڑھناچاہیے اورہم وہ دعا شعبان کے اعمال میں نقل کرچکے ہیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ حضرت کی زیارت کربلائے معلی میںپڑھنے کے علاوہ دوسرے شہروں میں پڑھنے کی بھی بڑی فضلیت ہے اس ضمن میں یہاں ہم صرف دو روایتیں نقل کرتے ہیں جو کافی تہذیب اور فقیہ میں آئی ہیں۔
پہلی روایت
ابن ابی عمیر نے ہشام سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا تم میں سے جس کا راستہ دور دراز ہو اور اس کے گھر سے ہمارے مزاروں تک سفر زیادہ ہو تو وہ اپنے مکان کی سب سے اونچی چھت پر جائے اور دو رکعت نماز بجا لاکر ہماری قبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہم پر سلام بھیجے تو یقیناً اس کا سلام ہم تک پہنچ جاتا ہے۔
دوسری روایت
حنان ابن سدیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق - نے مجھ سے فرمایا کہ اے سدیر کیا تم ہر روز قبر حسین- کی زیارت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں کہ میں آپ پر قربان ہو جائوں اس پر آپ نے فرمایا کہ تم لوگ کس قدر جفا کار ہو کیا ہر جمعہ کو زیارت کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیںآپ نے فرمایا کیا ہر ماہ زیارت کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا تو کیا ہر سال زیارت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ کچھ سال ایسے تھے جن میں میں نے زیارت کی ہے تب آپ نے فرمایا کہ اے سدیر تم لوگ امام حسین- کے ساتھ کیسی جفا کرتے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ خدائے تعالیٰ نے دو ہزار فرشتے مقرر کیے ہیں اور تہذیب و فقیہ میں ہے کہ وہ دس لاکھ فرشتے ہیں کہ جن کے بال بکھرے ہوئے اور خاک آلود ہیں۔ وہ حضرت پر گریہ کرتے ہیں آپ کی زیارت کرتے ہیں اور کبھی کوتاہی نہیں کرتے پس اے سدیر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ہر جمعہ کو پانچ مرتبہ اور دن میں ایک مرتبہ روضہ امام حسین- کی زیارت نہیں کرتے؟ میں نے عرض کی کہ آپ پر فدا ہو جائوں ہمارے اور حضرت کے روضہ کے درمیان کئی فرسخ کا فاصلہ ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے گھر کی چھت پر جائو پھر دائیں بائیں نظر کرو تو اپنا سر آسمان کی طرف بلند کرو اور حضرت کے روضہ اقدس کی سمت اشارہ کر کے کہو’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا اَبَا عَبْدِﷲ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَةُ ﷲوَ بَرَکَاتُه‘‘ پس اس سے تمہارے لیے ایک زیارت لکھی جائے گی اور وہ زیارت حج و عمرہ کے برابر ہو گی سدیر کا بیان ہے کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ میں مہینے میںبیس مرتبہ سے بھی زیادہ یہ عمل کیا کرتا تھااور زیارت مطلقہ کے آغاز میں وہ امور گزر چکے ہیںجو یہاں کیلئے مناسب تھے۔
اضافی بیان
قبر حسینعليهالسلام کی خاک کے فوائد
جاننا چاہیے کہ ایسی بہت سی روایات آئی ہیں کہ جن کے مطابق امام حسین- کی قبر مبارک کی خاک میں سوائے موت کے ہر تکلیف اور مرض سے شفا ہے اس میں ہر بلا و مصیبت سے امان اور ہر خوف خطر سے تحفظ کی تاثیر ہے اس سلسلے میں اخبار و روایات متواتر ہیں اور اس مقدس خاک کی جو کرامتیں ظاہر ہوئیں ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ یہاں ان سب کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ میری کتاب فوائد الرضوّیہ کہ جو علمائ امامیہ کے حالات میں ہے میں نے اس میں محدث جلیل القدیر آقا سید نعمت اللہ جزائری کے حالات میں لکھا ہے کہ انہوں حصول علم میں بڑی زحمت اٹھائی اور بہت تکالیف برداشت کی ہیں۔ آغاز تعلیم میں چونکہ ان میں چراغ کے خریدنے کی سکت نہ تھی لہذا وہ چاند کی چاندنی میں بیٹھ کر لکھتے پڑھتے تھے چاند کی چاندنی میںبیٹھ کر اتنا زیادہ لکھنے پڑھنے کے نتیجے میں ان کی آنکھوں کی بینائی کمزور ہو گئی چنانچہ وہ اپنی بینائی کی بحالی کیلئے امام حسین- کی قبر شریف کی خاک اور عراق میں واقع دیگر ائمہ معصومین کی قبور کی خاک بطور سرمہ استعمال فرماتے تھے پس اس خاک کی برکت سے ان کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے لکھا ہے کہ ہمارے زمانے کے لوگ جن کا کفار و مشرکین کے ساتھ رہن سہن ہے ممکن ہے وہ اس کرامت پر تعجب کریں کمال الدین دمیری نے حیات العیون میں نقل کیا ہے کہ اژدھا جب ہزار سال کا ہو جاتا ہے تو اس کی آنکھیں اندھی اور بے نور ہو جاتی ہیں تب خدائے تعالیٰ اسے یہ سوجھ عطا کرتا ہے کہ وہ اپنے اندھے پن کو دور کرنے کے لیے اپنی آنکھیں راز یا نج (ایک قسم کی گھاس) پر ملے‘ اس وقت وہ اژدھا اندھا ہونے کے باوجودبیابان سے نکل کر ان باغوں اور جگہوں کی طرف جاتا ہے جہاں راز یا نج گھاس پیدا ہوتی ہے پس وہ طویل راہیں طے کر کے اس گھاس کے پاس پہنچتا اور اپنی آنکھیں اس پر ملتا ہے تو اسکی بینائی پلٹ آتی ہے اس بات کو زمخشری وغیرہ نے بھی نقل کیا ہے ہاں اگرخدائے قدیر نے ایک گھاس میں یہ تاثیر رکھی ہے کہ اندھا اژدھا اس کی تلاش میںجائے تو اس کی آنکھیں پھر سے روشن ہو جائیں تو اس میں کیا تعجب ہو سکتا ہے فرزندان رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم جو خدا کی راہ میں شہید ہو گئے ہیں ان کی قبور کی خاک میں وہ تمام بیماریوں سے شفا قراردے اور ان کو برکات دینے والی بنا دے تاکہ محبان اہل بیت ان سے فائدہ اٹھائیں اور آرام و راحت حاصل کریں یہاں ہم اس مضمون کی چند روایات نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
پہلی روایت
اس روایت میں کہا گیا ہے کہ جنت کی حوریں جب دیکھتی ہیں کوئی فرشتہ کسی مقصد سے زمین پر جا رہا ہے تو وہ اس سے عرض کرتی ہیں کہ ان کیلئے قبر حسین- سے خاک شفا اور تسبیح بطور سوغات لے کر آئے
دوسری روایت
معتبر سند کے ساتھ منقول ہے کہ ایک شخص نے بیان کیا امام علی رضا - نے میرے لیے خراسان سے کچھ چیزیں ایک پوٹلی میں باندھ کر بھیجیں میں نے اسے کھولا تو اس سے کچھ خاک ملی تب میں نے اسے لے کرآنے والے آدمی سے پوچھا کہ یہ کیسی خاک ہے اس نے کہا یہ امام حسین- کی قبر شریف کی خاک ہے امام علی رضا- جب بھی کسی کیطرف کوئی چیز یا کپڑا وغیرہ بھیجتے ہیں تو یہ خاک بھی اس کیساتھ رکھ دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ خدا کے اذن و مشیت سے یہ خاک بلائوں سے امان کا ذریعہ ہے۔
تیسری روایت
عبداللہ ابن ابی یعفور نے امام جعفر صادق - سے عرض کی کہ ایک شخص امام حسین- کی قبر سے خاک اٹھاتا ہے تو اسے اس سے برکت حاصل ہوتی ہے لیکن دوسرا شخص وہاں سے خاک اٹھاتا ہے تو اسے اس سے کچھ بھی نفع و برکت حاصل نہیں ہوتی حضرت نے فرمایا کہ بات یوں نہیں ہے بخدا جو بھی شخص یہ خاک اٹھائے اوریہ عقیدہ رکھے کہ اسے نفع دے گی تو اس کو ضرور نفع و برکت حاصل ہوتی ہے۔
چوتھی روایت
ابوحمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں عرض کی کہ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے بعض ساتھی امام حسین- کی قبر مبارک سے خاک اٹھاتے ہیں اور اس سے شفا حاصل کرتے ہیں آیا اس خاک میں شفا کی تاثیر رکھی گئی ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت کی قبر اطہر اردگردکے چار میل تک کی خاک سے شفا حاصل ہو سکتی ہے اور اسی طرح ہمارے جد بزرگو ار حضرت رسول کی قبر شریف کی خاک، امام حسن-، امام زین العابدین- اور امام محمدباقر - کی قبور کی خاک میں بھی یہ تاثیر موجود ہے پس تم بھی ان قبور سے خاک لیا کرو کہ وہ ہر دکھ کی دوا اور ہر خوف سے امان کا ذریعہ ہے نیز یہ کہ سوائے اس دعا کے جس سے شفا ملتی ہے کوئی اور چیز اس خاک کی برابری نہیں کر سکتی اسے ناپاک جگہ یا ناپاک برتن میںنہ رکھا جائے کہ اس طرح خاک شفا کا اثر زائل ہو جاتا ہے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اسے شفا کی خاطر تو استعمال کرتے ہیں لیکن اس بات پر انہیں بہت کم یقین ہوتا ہے اور اگر کسی کو یقین ہو جائے کہ اس خاک میں شفا ہے تو وہ اس کے لیے کافی ہے اور اسے کسی اور دوا کی حاجت نہیں رہتی اس خاک کے اثر کو کافر جنات زائل کر دیتے ہیں جو خود کو اس سے مس کر لیتے ہیں اس خاک کو جس چیز پررکھا جائے وہ اسے سونگھتے ہیں جس سے اسکی پاکیزہ خوشبو ختم ہو جاتی ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ کافر جنات انسانوں سے حسد کرتے ہیں جب بھی کوئی شخص حائر حسینی سے خاک اٹھاتا ہے تو وہ کافر جنات خود کو اس سے مس کرنے کیلئے اکھٹے ہو جاتے ہیں جنکی تعداد کو خدا کے علاوہ کو ئی نہیں جانتا حالانکہ فرشتے ان کو روضہ پاک کے قریب آنے سے روکتے رہتے ہیں پس اگر یہ خاک ان کافر جنات کے مس کر لینے سے محفوظ رہ جائے تو جس بیماری کے علاج میں اسے کام میں لایا جائے اس سے ضرور شفا حاصل ہو گی لہذا جب اس خاک کو وہاں سے اٹھائے تو اسے چھپائے رکھے اور اس پر اللہ کا نام زیادہ سے زیادہ پڑھے:
میں نے یہ بھی سنا ہے کہ جو لوگ اس خاک شفا کو وہاں سے لیتے ہیں وہ اسے کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور بعض افراد تواسے جانوروں پر لادے ہوئے بورے میں یا کسی ایسے برتن میںرکھ دیتے ہیں جس کوناپاک ہاتھ لگتے رہتے ہیں پس کیونکر ایسے شخص کو اس سے شفا ملے گی جو اسکا جائز احترام نہیں کرتا اور جو چیز اس کیلئے فائدہ مند ہے اسکو معمولی سمجھے تو وہ اپنے عمل کو فاسد کر دیتا ہے۔
پانچویں روایت
اس روایت میں کہاگیا ہے کہ جو شخص خاک کربلا کو اٹھانا چاہے وہ اسے انگلیوں کے پوروںکیساتھ اٹھائے اور اسکی مقدار چنے کے دانے کے برابر ہو پھر اسے اپنی آنکھوں اور جسم کے دیگر حصوں پر ملے اوریہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ هذِهِ التُّرْبَةِ وَبِحَقِّ مَنْ حَلَّ بِها وَثَوَیٰ فِیها وَبِحَقِّ جَدِّهِ وَأَبِیهِ وَأُمِّهِ وَأَخِیهِ
اے معبود اس خاک کے واسطے سے اور اس کے واسطے سے جو اس میں دفن اور مقیم ہے اور اسکے نانا اسکے بابا اسکی ماں اور اسکے بھائی کے واسطے سے
وَآلاَءِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ وَبِحَقِّ الْمَلائِکَةِ الْحافِّینَ بِهِ إلاَّ جَعَلْتَها شِفائً مِنْ کُلِّ دائٍ وَبُرْئاً
ان ائمہعليهالسلام کے واسطے سے جو اسکی اولاد میں ہوئے اور ان فرشتوںکے واسطے سے جو اسکے اردگرد ہیں اس خاک کو ہر درد کی دوا بنادے
مِنْ کُلِّ مَرَضٍ، وَنَجاةً مِنْ کُلِّ آفَةٍ، وَحِرْزاً مِمَّا أَخافُ وَأَحْذَرُ
اسے ہر بیماری سے ذریعہ صحت اور ہر مصیبت سے بچنے کا ذریعہ بنا نیز اسے میری سپر بنااس چیز سے جس کا مجھے خوف و خطرہ ہے۔
اسکے بعد اس خاک شفا کو استعمال میں لائے روایت میں آیا ہے کہ امام حسین- کی خاک قبر کو مہر کرنے کا طریقہ یہ ہے۔کہ اس پر سورہ قدر پڑھے نیز روایت ہوئی ہے کہ جب خاک شفا خود کھائے یا کسی کو کھلائے تو اس وقت کہے:
بِسْمِ ﷲ وَبِﷲ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ رِزْقاً واسِعاً وَعِلْماً نَافِعاً وَشِفائً مِنْ کُلِّ دائٍ إنَّکَ عَلَ
خدا کے نام سے اور خدا کی ذات سے اے معبود اس خاک کورزق کی فراوانی علم میں نفع اور ہر بیماری سے شفاکاذریعہ بنا بے شک تو
کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
ہر چیز پر اختیار رکھتا ہے۔
مؤلف کہتے ہیں امام حسین- کی خاک قبرکے بہت سے فائدے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کو میت کے ساتھ قبر میں رکھنا‘ اس سے کفن پر لکھنا اور اس پر سجدہ کرنا مستحب ہے روایت ہے کہ اس پر سجدہ کرنا سات پردوں کو ہٹا دیتا ہے یعنی یہ قبول نماز کا سبب بن جاتا ہے اور وہ نماز آسمان کی طرف بلند ہو جاتی ہے نیز اس خاک سے تسبیح بنانا‘ اس تسبیح سے ذکر الہی کرنا اور اسے ہاتھ میں رکھنا بڑی فضلیت کا موجب ہے اس خاک سے بنائی گئی تسبیح کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کے ہاتھ میں تسبیح کرتی رہتی ہے اگرچہ وہ تسبیح نہ بھی پڑھ رہا ہو اور اس کا یہ تسبیح کرنا اور اس تسبیح کے علاوہ ہے جسے دنیا کی ہر چیز انجام دیتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٰ وَلَکِنْ لاَ تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ
اور کوئی ایسی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ اس کی تسبیح کرتی ہے حمد سے لیکن تم ان چیزوں کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔
اس مفہوم کو مولانا رومیرحمهالله نے یوں ادا کیا ہے:
( ۱ )گر ترا از غیب چشمی باز شد
با تو ذات جہاں ہم راز شد
( ۲ )نطق خاک و نطق آب و نطق گل
ہست محسوس حواس اہل دل
( ۳ )جملہ ذرات در عالم نہاں
باتو میگویند روزان و شبان
( ۴ )ماسمیعیم و بصیر و باشیم
باشما نامحرماں ما خامشیم
( ۵ )از جمادی سوی جان جان شوید
غلغل اجزای عالم بشنوید
( ۶ )فاش تسبیح جمادات آیدت
وسوسہ تادیلہا بزوایدت
ترجمہ:
( ۱ ) اگر تمہارے باطن کی آنکھ کھل جائے توتم دنیا کے ذر ے ذرے کے رازداں بن جائو گے۔
( ۲ )مٹی پانی اور پھول کی گفتگو کو اہل باطن کے کان ہی سنتے ہیں۔
( ۳ )اس دنیا کا ذرہ ذرہ دن رات تم سے سرگوشی کرتے ہوئے کہہ رہا ہے۔
( ۴ )کہ ہم میں سے ہر ایک سنتا، دیکھتا اور سمجھتا ہے لیکن تم نامحرموں کیسامنے ہم چپ رہتے ہیں۔
( ۵ )تم اپنی جان لکڑی پتھر وغیرہ کی جان سے ملا دو اور دنیا کے ہر ذرے کی آواز سنو۔
( ۶ )اس طرح تم جمادات کی تسبیح سنو گے اور تمہارا تخیل تمہیں اس تسبیح کے معنی سے آشنا کرے گا۔
خلاصہ یہ کہ اس روایت میں قبر حسین- کی مٹی سے بنائی گئی تسبیح کا جوتسبیح کرنا بیان ہوا ہے وہ اس پاک خاک کی ایک خصوصیت ہے۔
چھٹی روایت
امام علی رضا - سے منقول ہے کہ جو شخص خاک شفا کی تسبیح ہاتھ میں لے کر ہر دانے پر یہ پڑھے:
سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ ﷲِ وَلاَ اِلَهَ اِلاَّ ﷲ وَﷲ اَکْبَرُ
پاک تر ہے خدا حمد ہے خدا کے لیے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں اور خدا بزرگتر ہے۔
پس خدائے تعالی تسبیح کے ہر ہر دانے کے عوض اس کے لیے چھ ہزار نیکیاں لکھے گا اس کے چھ ہزار گناہ معاف کر دے گا ۔ اس کے چھ ہزار درجے بلند کرے گا اور اس کیلئے چھ ہزار شفاعتیں لکھے گا۔ امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ جو شخص خاک کربلا سے بنائی ہوئی پختہ تسبیح پھیرے اور ایک بار استغفار کرے تو حق تعالیٰ اس کیلئے ستر بار استغفار لکھے گا اور اگر اس تسبیح کو محض ہاتھ میں لیے رہے تو بھی اس کے ہر دانے کے عوض اس شخص کیلئے سات بار استعفار لکھی جائے گی۔
ساتویں روایت
یہ ایک معتبر روایت ہے جس میں منقول ہے کہ جب امام جعفر صادق - عراق آئے تو لوگوں کا ایک گروہ آپکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ہمیں اس بات کا تو علم ہے کہ امام حسین- کی خاک قبر ہر درد کی دوا ہے تو کیا یہ خاک پاک ہرخوف وخطر سے امن کا موجب بھی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ایسا ہی ہے اور جو شخص یہ چاہے کہ ہر خطرے سے امان میں رہے تو وہ خاک شفا کی بنی ہوئی تسبیح ہاتھ میں پکڑتے ہوئے تین بار یہ دعا پڑھے:
أَصْبَحْتُ اَللّٰهُمَّ مُعْتَصِماً بِذِمامِکَ وَجِوَارِکَ الْمَنِیعِ الَّذِی لاَ یُطاوَلُ وَلاَ یُحاوَلُ مِنْ
صبح کی میں نے اے معبود کہ محفوظ ہوں تیری نگہداری وتیری پناہ میں جو بچائو کرتی ہے کہ نہ دست درازی کرتا ہے نہ گھیرتا ہے کوئی
شَرِّ کُلِّ غَاشِمٍ وَطَارِقٍ مِنْ سائِرِ مَنْ خَلَقْتَ وَمَا خَلَقْتَ مِنْ خَلْقِکَ الصَّامِتِ
فریب کار اور تاریکی میں آزار پہنچانے والا تیری تمام مخلوقات میں سے اور نہ وہ جو مخلوق میں سے تو نے پیدا کیا چپ رہنے
وَالنَّاطِقِ فِی جُنَّةٍ مِنْ کُلِّ مَخُوفٍ بِلِباسٍ سابِغَةٍ حَصِینَةٍ وَهِیَ وَلائُ أَهْلِ بَیْتِ
اور بولنے والے میں ہر خطرے سے حفاظت میں ہوں کہ پہنے ہوئے ہوںزرہ جو محکم ہے اور وہ ہے محبت ان اہلعليهالسلام بیت کی
نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ مُحْتَجِزاًمِنْ کُلِّ قاصِدٍ لِی إلَی أَذِیَّةٍ بِجِدارٍ حَصِینٍ الْاِخْلاصِ فِی
جو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خاندان ہیں محفوظ ہوں ہراذیت پہنچانے والے سے محکم دیوار کے پیچھے کہ وہ ہے تہ دل سے ماننا
الاعْتِرافِ بِحَقِّهِمْ، وَالتَّمَسُّکِ بِحَبْلِهِمْ جَمِیعاً، مُوقِناً أَنَّ الْحَقَّ لَهُمْ وَمَعَهُمْ وَمِنْهُمْ
ان کے حق کو اور تعلق رکھنا ان کے مضبوط سلسلے سے اس یقین کے ساتھ کہ حق ان کا ہے ان کے ساتھ ہے ان سے ہے اور ان سے
وَفِیهِمْ وَبِهِمْ، أُوَالِی مَنْ والَوْا، وَأُعَادِی مَنْ عادَوْا، وَأُجانِبُ مَنْ جانَبُوا،
محبت کرتا ہوں جو ان سے محبت کریں ان سے دشمنی رکھتا ہو ں جو ان سے دشمنی رکھیں اور ان سے دور ہوں جو ان سے دوری کریں
فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَأَعِذْنِی اَللّٰهُمَّ بِهِمْ مِنْ شَرِّ کُلِّ مَا أَتَّقِیهِ، یَا عَظِیمُ
پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور پناہ دے اے معبود بواسطہ انکے ہر چیز کے شر سے جس سے ڈرتا ہوںاے بزرگی والے
حَجَزْتُ الْاََعادِیَ عنِّی بِبَدِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ، إنَّا جَعَلْنا مِنْ بَیْنِ أَیْدِیهِمْ سَدَّاً
دور کر دے دشمنوں کو مجھ سے بواسطہ آسمانوں اور زمین کی پرورش کے اور ہم نے ایک دیوار ان کے آگے اور ایک دیوار
وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدَّاً فَأَغْشَیْناهُمْ فَهُمْ لاَیُبْصِرُونَ ۔ پھر تسبیح پر بوسہ دے اور دونوں آنکھوں پر
ان کے پیچھے بنا دی ہے پس ہم نے ڈھانپ دیا ان کو تو وہ کچھ دیکھ نہیں سکتے
ملے اور کہے:اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ هذِهِ التُّرْبَةِ الْمُبَارَکَةِ، وَبِحَقِّ صَاحِبِها، وَبِحَقِّ
اے معبود میں سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ اس برکت والی خاک کے بواسطہ اس قبر والے کے بواسطہ
جَدِّهِ وَبِحَقِّ أَبِیهِ وَبِحَقِّ أُمِّهِ وَبِحَقِّ أَخِیهِ وَبِحَقِّ وُلْدِهِ الطَّاهِرِینَ اجْعَلْها شِفائً مِنْ
اسکے نانااور بابا کے اور بواسطہ اسکی ماں اور بھائی کے اور اسکے پاک فرزندوں کے واسطے سے اس خاک کو ہردرد کی دوا
کُلِّ دَاءٍ، وَأَمَاناً مِنْ کُلِّ خَوْفٍ، وَحِفْظاً مِنْ کُلِّ سُوئٍ
ہر خطرے سے امان اور ہر تکلیف سے حفاظت کرنے والی بنا دے۔
اس کے بعد تسبیح کو اپنی پیشانی پر ملے چنانچہ اگر یہ عمل صبح کے وقت کرے تو اس دن شام تک اور اگر شام کو کرے تو صبح تک وہ شخص خدا کی پناہ و امن میں رہے گا ایک روایت میں ہے کہ جس شخص کو کسی حاکم یا کسی اورشخص سے خوف لاحق ہو تو وہ جب گھر سے باہر جائے تو یہ عمل کرے پس وہ اس حاکم وغیرہ کے شروآزار سے محفوظ رہے گا۔
مولف کہتے ہیں کہ علمائ کے ہاں مشہور یہ ہے کہ خاک کا کھانا اگرچہ جائز نہیں ہے لیکن امام حسین- کی قبر مطہر کی خاک کو حصول شفا کی خاطر چنے کے دانے کی مقدار میںکھایا جاسکتا ہے بلکہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مسور کے دانے جتنی ہی کھائے اور بہتر یہ ہے کہ خاک شفا کو منہ میں ڈال کر اوپر سے پانی پیئے اور یہ پڑھے:
اَللَّهُمَّ اجْعَلْهُ رِزْقاً وَاسِعاً وَعِلْماً نَافِعاً وَشِفَاء مِنْ کُلِ دَاءٍ وَسُقْمٍ
اے معبود اسے بنا دے رزق واسع، علم نافع اور ہر بیماری سے شفا اور ہر دکھ کی دوری کا ذریعہ۔
علامہ مجلسی کا ارشاد ہے کہ احتیاط اسی میں ہے کہ خاک کربلا سے جو تسبیح اور سجدہ گاہ بنائی جائے اسے بیچا اور خریدا نہ جائے بلکہ بطور ہدیہ و سوغات دیا جائے لیکن پہلے سے شرط کیے بغیر اگر بعد میں ایک دوسرے کو راضی کر لیں یعنی کچھ رقم سے لین دین کر دیں تو بہت بہتر ہوگا جیسا کہ ایک معتبر حدیث میں امام جعفر صادق - سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص امام حسین- کی خاک قبر کو بیچے تو یہ فعل ایسا ہے جیسے اس نے حضرت کی ہڈی اور گوشت کی خرید و فروخت کی ہے۔
مولف کہتے ہیں میرے استاد محترم ثقتہ الاسلام محدث نوری نے اپنی کتاب دارالسلام میں تحریر فرمایا ہے کہ ایک دن میرے بھائیوں میں سے ایک والدہ مرحومہ کی خدمت میں حاضر ہوا والدہ مرحومہ نے دیکھا کہ اس نے سجدہ گاہ اپنی قبا کی اس جیب میںرکھی ہے جو پہلو کی طرف ہوتی ہے پس انہوں نے اسے یہ بے ادبی کرنے پر ڈانٹا کیونکہ اس کی جیب میں رکھنے سے سجدہ گاہ کبھی ران تلے دب کر ٹوٹ جاتی ہے تب میرے بھائی نے تسلیم کیا کہ بے شک آپ درست فرماتی ہیں کہ اب تک دو سجدہ گاہیں مجھ سے اسی طرح ٹوٹ چکی ہیں لہذا اب میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد ایسی جیب میں سجدہ گاہ نہیں رکھوں گا اس بات کو کئی دن ہو گئے تھے کہ میرے والد علامہ مرحوم نے خواب دیکھا جن کو اس واقعہ کی خبر نہ تھی کہ آقا و مولا امام حسین- ان کے پاس تشریف لائے اور کتاب خانے میں اکھٹے بیٹھے ہیں‘ آپ نے والد مرحوم سے فرمایا کہ اپنے بیٹوں کوبلائیں کہ میں ان سے بھی ملاقات کروں چنانچہ میرے والد نے ہم پانچ بھائیوں کو وہاں بلایا اور ہم سب حضرت کے سامنے آ کھڑے ہوئے‘ آپ کے پاس ملبوسات اور ایک خاص چیز تھی جو ہم میں سے ہر ایک کو باری باری بلا کر عنایت فرماتے تھے جب میرے اس مذکورہ بھائی کی باری آئی تو حضرت نے اس پر غصے کی نظر ڈالی اور میرے والد سے فرمایا کہ اس نے میری خاک قبر سے بنی ہوئی دو سجدہ گاہیں توڑی ہیں۔ چنانچہ آپ نے وہ خاص چیز اسکی طرف پھینک دی اور دوسروں کی طرح اپنے پاس بلا کر عنایت نہیں فرمائی اور جہاں تک مجھے یاد ہے وہ شال بننے کی کنگھی تھی۔
اس وقت میرے والد کی آنکھ کھل گئی اور انہوں نے اپنا یہ خواب میری والدہ مرحومہ کو سنایا تو انہوں نے سجدہ گاہ کے بارے میں میرے اس بھائی سے اپنی گفتگو کا قصہ بیان کیاتو وہ اس خواب کی صداقت پر متعجب ہو کر رہ گئے۔
آٹھویں فصل
فضیلت وکیفیت زیارت کاظمین
اس فصل میں زیارت کاظمین یعنی امام موسی کاظم وامام محمد تقی + کی زیارت کی فضیلت وکیفیت، مسجد براثا، نواب اربعہرحمهالله اور حضرت سلمان کی زیارت کا بیان ہے اور اس میں چند مطالب ہیں
پہلا مطلب
زیارت کاظمین کے فضائل
معلوم ہونا چاہیئے کہ امام موسی کاظم وامام محمد تقی + کی زیارت کے فضائل بہت زیادہ ہیں کئی اخبار وروایات میں وارد ہوا ہے کہ امام موسی کاظم - کی زیارت حضرت رسول اور امیرالمؤمنین- کی زیارت کے برابرہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ گویا امام حسین- کی زیارت کے ہم مرتبہ ہے ایک روایت میں ہے کہ جو شخص امام موسی کاظم - کی زیارت کرے گویا اس نے رسول ﷲ کی زیارت کی ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو امام موسیٰ کاظم - کی زیارت کرے بہشت اس کیلئے واجب ہوجاتی ہے۔ محمد بن شہر آشوب نے اپنی کتاب مناقب میں لکھا ہے کہ تاریخ بغداد کے مولف خطیب بغدادی نے اپنے استاد سے اور انہوں نے علی بن خلال سے نقل کیا ہے کہ جب بھی مجھے کوئی مشکل کام پیش آیا تو میں نے امام موسی کاظم - کے روضہ مبارک پر جاکر انہیں اپنا وسیلہ بنایا تو خدائے تعالیٰ نے وہ کام مجھ پر آسان کردیا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بغداد کی ایک عورت کو دوڑ کر جاتے دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ کہاں جارہی ہو؟ اس نے کہا کہ میں امام موسی کاظم - کے روضہ مبارک پر جارہی ہوں تاکہ وہاں اپنے لڑکے کی رہائی کے لیے دعا کروں جس کو قید میں ڈال دیا گیا ہے اس جگہ ایک حنبلی شخص کھڑا تھا اس نے اس عورت سے طنز کرتے ہوئے کہا کہ تمہارا لڑکا قید خانے میں مرگیا ہے۔
اس عو رت نے وہیں کھڑے ہو کر دعا مانگی کہ اے میر ے رب !میں اس ہستی کا واسطہ دیتی ہوں کہ جسے قید خانے میں شہید کیا گیا اور اس کی مرا د امام موسٰی کاظم - تھے ۔ میں دعا کرتی ہوں کہ یہاں تو اپنی قدرت کاملہ کو ظا ہر فرما ‘ اچانک دیکھا گیا کہ اس عورت کے لڑکے کو آزا د کر دیا گیا اور اس ہنسی اڑا نے وا لے حنبلی کے لڑ کے کو اس کے جر م میں گرفتارکر لیا ہے ۔شیخ صدوقرحمهالله نے ابرا ہیم بن عقبہ سے روایت کی ہے ۔ کہ اس نے کہا : میں نے ایک عریضہ امام علی نقی - کی خدمت میں بھیجا اور اس میں یہ سوال پو چھا کہ امام حسین امام مو سٰی کا ظم اور امام محمد تقی کی زیارت میں سے کونسی مقدم ہے جواب میں فرمایا کہ زیارت امام حسین- مقدم ہے ‘ لیکن مذکورہ دو معصوموں کی زیارت کا اجر و ثوا ب بھی بہت زیادہ ہے ۔
زیا رت اما م مو سٰی کا ظم -
واضح ہو کہ کا ظمین کے حرم شریف کی زیارتو ں میں سے بعض زیا رتیں وہا ں مد فو ن معصوموں کیلئے مشترک ہیں اور بعض زیارتیں ان دو نو ں میں سے کسی ایک امام کیلئے مختص ہیں ۔ اور جو زیا رت امام مو سٰی کا ظم - سے مختص ہے جیسا کہ سید ابن طا ئو سرحمهالله نے مزار میں نقل کیا ہے اسکی کیفیت یہ ہے کہ جب کو ئی شخص آپکی زیا رت کر نا چاہے تو پہلے غسل کرے اور پھر آرام اور و قا ر کیساتھ آہستہ آہستہ حضرت کے حرم مبا ر ک کی طرف چلے اور جب دروازے پرپہنچے تو یہ کہے :
ﷲ أَکْبَرُ، ﷲ أَکْبَرُ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی هِدایَتِهِ لِدِینِهِ، وَالتَّوْفِیقِ
خدا بزر گتر ہے خدا بزر گتر ہے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں خدا بزر گتر ہے حمد ہے خدا کیلئے کہ اس نے اپنے دین کی راہنما ئی کی اور
لِمَا دَعا إلَیْهِ مِنْ سَبِیلِهِ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ أَکْرَمُ مَقْصُودٍ، وَأَکْرَمُ مَأْتِیٍّ،
اپنے جس راستے کی طرف بلا یا اس پر چلنے کی توفیق دی اے معبود بے شک تو بہترین مقصود ہے اور تو بہت اچھا مہمان نواز ہے پس
وَقَدْ أَتَیْتُکَ مُتَقَرِّباً إلَیْکَ بِابْنِ بِنْتِ نَبِیِّکَ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ وَعَلَی آبائِهِ الطَّاهِرِینَ
میں تیری بارگاہ میں آیا کہ تیرا قرب حاصل کروں تیر ے نبی کی دختر کے فرزند کے واسطے سے ان پر تیری رحمتیں ہوں اور انکے پاکیزہ
وَأَبْنائِهِ الطَّیِّبِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَلاَ تُخَیِّبْ سَعْیِی وَلاَ تَقْطَعْ رَجائِی
آبائ پر اور انکے پاکیزہ فرزندوں پر اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اس کی پاک آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور میری کوشش ناکام نہ بنا میری امید نہ توڑ
وَاجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیهاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ ۔ پھر حرم شریف کے اندر جائے
اور مجھے اپنے حضور باعزت مقربوں میں سے قرار دے اس دنیا میں اور عالم آخرت میں۔
جب کہ پہلے دایاں پاؤں رکھے اور کہے:بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَفِی سَبِیلِ ﷲ وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ اَللّٰهُمَّ
خدا کے نام سے خدا کی ذات کے واسطے سے خدا کی راہ میں اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے دین پر خدا رحمت کرے ان پر اور انکی آلعليهالسلام پراے معبود
اغْفِرْ لِی وَلِوالِدَیَّ وَلِجَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ ۔ جب روضہ پاک کے دروازے پر پہنچے تو
بخش دے مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین و مومنات کو
وہاں کھڑے ہو کر اجازت مانگے اور کہے:ئَ أَدْخُلُ یَا رَسُولَ ﷲ ئَ أَدْخُلُ یَا نَبِیَّ ﷲ ئَ أَدْخُلُ یَا
کیا میں اند ر آجا ئو ں اے خدا کے رسو لصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا میں اندر آجاؤں اے خدا کے نبی کیامیں اند ر آجا ئو ں
مُحَمَّدَ بنَ عَبْدِ ﷲ ئَ أَدْخُلُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ئَ أَدْخُلُ یَا أَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ ئَ أَدْخُلُ یَا
اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن عبدا للہعليهالسلام کیا میںاند ر آجائوں اے مو منو ں کے امیرعليهالسلام کیا میں اندر آجا ئو ں اے ابو محمد حسنعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے
أَبا عَبْدِﷲ الْحُسَیْنَ ئَ أَدْخُلُ یَا أَبا مُحَمَّدٍ عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ ئَ أَدْخُلُ یَا أَبا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ ابْنَ
ابو عبداللہ الحسینعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں ابو محمدعليهالسلام علیعليهالسلام ابن الحسینعليهالسلام کیا میں اندر آجائوں اے ابوجعفرعليهالسلام محمدعليهالسلام بن
عَلِیٍّ ئَ أَدْخُلُ یَا أَبا عَبْدِﷲ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ ئَ أَدْخُلُ یَا مَوْلایَ یَا أَبَا الْحَسَنِ مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ
علیعليهالسلام کیا میں اندر آجائوں اے ابو عبدﷲعليهالسلام جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے میرے مولیٰ موسیٰعليهالسلام ابن جعفرعليهالسلام
ئَ أَدْخُلُ یَا مَوْلایَ یَا أَبا جَعْفَرٍ ئَ أَدْخُلُ یا مَوْلایَ مُحَمَّدَ ابْنَ عَلِیٍّ
کیا میں داخل ہو جاؤں اے میرے مولا اے ابوجعفرعليهالسلام کیا میں داخل ہو جاؤں اے میرے مولا محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام ۔
پھر اندر داخل ہوجائے اور چار مرتبہ کہے: ﷲ ٲکْبَرُ۔ اب قبر مبارک کے سامنے قبلہ کو اپنے کندھے کے پیچھے رکھے ہوئے کھڑے ہو کر یہ زیارت پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَابْنَ وَلِیِّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ وَابْنَ حُجَّتِهِ، اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو ولی خدا اور ولی خدا کے فرزند سلام ہو آپ پر اے حجت خدا اور حجت خداعليهالسلام کے فرزند آپ پر
عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ وَابْنَ صَفِیِّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یا أَمِینَ ﷲ وَابْنَ أَمِینِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
سلام ہو اے برگزیدہ خدا و برگزیدہ خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے امین خدا اورامین خد اکے فرزند سلام ہو آپ پر جو زمین کی
یَا نُورَ ﷲ فِی ظُلُماتِ الْاََرْضِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا إمامَ الْهُدی، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلَمَ
تاریکیوں میں خدا کے نور ہیں آپ پر سلام ہو اے ہدایت دینے والے امام آپ پر سلام ہو اے دین
الدِّینِ وَالتُّقی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خازِنَ عِلْمِ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خازِنَ عِلْمِ الْمُرْسَلِینَ
و تقویٰ کے نشان آپ پر سلام ہو اے نبیوں کے علم کے خزینہ دار سلام ہو آپ پر اے رسولوںکے علم کے خزینہ آپ پر سلام ہو اے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نائِبَ الْاََوْصِیائِ السَّابِقِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَعْدِنَ الْوَحْیِ الْمُبِینِ
گزرے ہوئے اوصیائ کے قائم مقام آپ پر سلام ہو اے روشنی دینے والی وحی کے ممتاز عالم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صاحِبَ الْعِلْمِ الْیَقِینِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَیْبَةَ عِلْمِ الْمُرْسَلِینَ،
آپ پر سلام ہو اے علم و یقین کے مالک آپ پر سلام ہو اے رسولوں کے علم کے خزینے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْاِمامُ الصَّالِحُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْاِمامُ الزَّاهِدُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو اے نیک امام آپ پر سلام ہوکہ آپ پرہیزگار امام ہیں آپ پر سلام ہو
أَیُّهَا الْاِمامُ الْعابِدُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْاِمامُ السَّیِّدُ الرَّشِیدُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْمَقْتُولُ
کہ آپ عبادت گزار امام ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ امام ہیں سردار ہیں ہدایت دینے والے ہیں آپ پر سلام ہو اے قتل ہونے والے
الشَّهِیدُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ وَابْنَ وَصِیِّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ مُوسَی
اور شہید ہونے والے سلام ہو آپ پر اے رسول خدا کے فرزند اور انکے وصی کے فرزند آپ پر سلام ہو اے میرے آقاموسیٰعليهالسلام
بْنَ جَعْفَرٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ عَنِ ﷲ مَا حَمَّلَکَ، وَحَفِظْتَ مَا
عليهالسلام بن جعفرعليهالسلام خدا کی رحمت ہو اوراسکی برکا ت ہوں میں گوا ہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ نے وہ احکا م پہنچا ئے جو آپکے پا س تھے ان علوم کی
اسْتَوْدَعَکَ وَحَلَّلْتَ حَلالَ ﷲ وَحَرَّمْتَ حَرامَ ﷲ، وَأَقَمْتَ أَحْکامَ ﷲ، وَتَلَوْتَ کِتابَ
حفاظت کی جو آپ کے سپرد ہوئے آپ نے حلال خدا کو حلال اور حرام خدا کو حرام جانا اور احکام الٰہی پہنچائے اور کتاب خدا کی
ﷲ، وَصَبَرْتَ عَلَی الْاََذی فِی جَنْبِ ﷲ، وَجاهَدْتَ فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ حَتَّی أَتَاکَ
تلاوت کی، خدا کی خاطر مصیبتوں پر صبر کیا راہ خدا میں جہاد کرنے کا حق ادا کیا یہاں تک کہ آپ شہید ہوگئے
الْیَقِینُ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ مَضَیْتَ عَلَی مَا مَضی عَلَیْهِ آباؤُکَ الطَّاهِرُونَ وَأَجْدادُکَ الطَّیِّبُونَ
میں گواہ ہوں کہ آپ اس راستے پر چلے جس پر آپ کے پاک ابائ اجداد چلے اور خوش کردار باپ دادا جو اوصیائ میں
الْاَوْصِیائُ الْهادُونَ آلاَءِمَّةُ الْمَهْدِیُّونَ، لَمْ تُؤْثِرْ عَمیً عَلَی هُدیً، وَلَمْ تَمِلْ مِنْ حَقٍّ إلی
ہدایت دینے والے امام ہیں ہدایت یافتہ آپ نے گمراہی کو ہدایت پر ترجیح نہ دی اور حق سے باطل
باطِلٍ، وَأَشْهَدُ أَنَّکَ نَصَحْتَ لِلّٰهِ وَلِرَسُولِهِ وَلاََِمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَأَنَّکَ أَدَّیْتَ الْاََمانَةَ،
کی طرف نہیں گئے میں گواہ ہوں کہ آپ نے خدا اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور امیرالمومنینعليهالسلام کی خیرخواہی کی نیز آپ نے امانت پہنچائی
وَاجْتَنَبْتَ الْخِیانَةَ، وَأَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ
اور خیانت سے بچے رہے آپ نے نماز قائم رکھی اور زکوۃ دیتے رہے آپ نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے
الْمُنْکَرِ، وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً مُجْتَهِداً مُحْتَسِباً حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ، فَجَزاکَ ﷲ عَنِ
منع کیا اور آپ نے خدا کی عبادت کی سچے دل اور پوری کوشش وہوش مندی سے یہاں تک کہ آپ شہید ہوگئے پس خدا جزا دے
الْاِسْلامِ وَأَهْلِهِ أَفْضَلَ الْجَزائِ وَأَشْرَفَ الْجَزائِ، أَتَیْتُکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ زائِراً، عارِفاً
آپکو اسلام ومسلمانوں کی طرف سے بہترین جزا اور اعلیٰ ترین جزا میں حاضر ہوں اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند زیارت کرنے
بِحَقِّکَ مُقِرّاً بِفَضْلِکَ، مُحْتَمِلاً لِعِلْمِکَ، مُحْتَجِباً بِذِمَّتِکَ، عائِذاً بِقَبْرِکَ،
آپکے حق کو پہچانتے ہوئے آپکی بڑائی کو مانتے ہوئے آپکے علم سے بہرہ ور آپکی ذمہ داری کے ماتحت آپ کے روضہ کی پناہ لے کر
لائِذاً بِضَرِیحِکَ، مُسْتَشْفِعاً بِکَ إلَی ﷲ، مُوالِیاً لاََِوْلِیائِکَ، مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ
آپکی ضریح کا اسرا لئے ہوئے خدا کے حضور آپ سے شفاعت کی خواہش میں آپکے دوستوں سے دوستی آپکے دشمنوں سے دشمنی رکھتے ہوئے
مُسْتَبْصِراً بِشَأْنِکَ وَبِالْهُدَیٰ الَّذِی أَنْتَ عَلَیْهِ، عالِماً بِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکَ وَبِالْعَمَی
آپکے شان اور مرتبے کو سمجھتے اور اس ہدایت کو جانتے ہوئے جس پر آپ کار بند رہے آپکے مخالفوں کی گمراہی سے آگاہ اور انکی بے
الَّذِی هُمْ عَلَیْهِ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی وَنَفْسِی وَأَهْلِی وَمالِی وَوَلَدِی یَابْنَ
سمجھی کو جانتے ہوئے جس میں وہ گرفتار تھے قربان آپ پر میرے ماں باپ میری جان میرا کنبہ میرا مال اور میری اولاد اے رسول
رَسُولِ ﷲ أَتَیْتُکَ مُتَقَرِّباً بِزِیارَتِکَ إلَی ﷲ تَعَالی، وَمُسْتَشْفِعاً بِکَ إلَیْهِ فَاشْفَعْ
خدا کے فرزند آپکے پاس آیا ہوں آپکی زیا رت سے خدا کا قرب حاصل کر نے اور اسکے حضور آپ سے شفا عت کرانے کیلئے پس
لِی عِنْدَ رَبِّکَ لِیَغْفِرَ لِی ذُنُوبِی، وَیَعْفُوَ عَنْ جُرْمِی، وَیَتَجاوَزَ عَنْ سَیِّئاتِی،
میری شفاعت کیجیے اپنے رب کے سامنے تاکہ وہ میرے گناہ بخش دے میرا جرم معاف فرما دے میری برائیوں کو نظر انداز کر دے
وَیَمْحُوَ عَنِّی خَطِیئاتِی، وَیُدْخِلَنِی الْجَنَّةَ، وَیَتَفَضَّلَ عَلَیَّ بِما هُوَ أَهْلُهُ، وَیَغْفِرَ لِی وَلاَِبائِی
اور میری غلطیوں کو مٹا ڈالے وہ مجھ کو جنت میں داخل کرے مجھ پر ایسی مہربانی کرے جو اسکے لائق ہے اور بخش دے مجھے اور میرے بزرگوں
وَلاِِِخْوانِی وَأَخَواتِی وَلِجَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی مَشارِقِ الْاََرْضِ وَمَغَارِبِهَا
اور میرے بھائیوں اور میری بہنوں اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو بخش دے جو زمین کے مشرق و مغرب میں ہیں اپنے
بِفَضْلِهِ وَجُودِهِ وَمَنِّهِ
کرم اپنی عطا اور اپنے احسان کے سا تھ۔
پھر خود کو قبر پرگرا ئے اس پر بوسہ دے اپنے دونوں رخسا ر باری بار ی اس پر رکھے اور جو دعا مانگنا چا ہے ما نگے اس کے بعد حضرت کے سرہانے کھڑے ہو کرکہے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَشْهَدُ أَنَّکَ الْاِمامُ
آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے موسیعليهالسلام ٰ بن جعفرعليهالسلام خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوںمیں گواہی دیتا ہو ں کہ آپ ہدایت دینے
الْهادِی وَالْوَلِیُّ الْمُرْشِدُ، وَأَنَّکَ مَعْدِنُ التَّنْزِیلِ، وَصَاحِبُ التَّأْوِیلِ، وَحَامِلُ التَّوْرَاةِ
والے امام اور را ہ بتا نے وا لے مدگار ہیں بے شک آپ قرآن کریم کے حامل آیات کی تاویل و مراد سے واقف اور تورات
وَالاِِنْجِیلِ، وَالْعَالِمُ الْعَادِلُ، وَالصَّادِقُ الْعَامِلُ، یَا مَوْلایَ أَنَا أَبْرَأُ إلَی ﷲ
و انجیل کے عالم ہیں آپ صاحب انصاف دانشمند اور سچ بولنے والے عمل کرنیوالے ہیں اے میرے آقا خدا کے سامنے آپکے
مِنْ أَعْدائِکَ، وَأَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ بِمُوالاتِکَ، فَصَلَّی ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی آبائِکَ
دشمنوں سے بیزاری ظاہر کرتا ہوںاور آپ سے محبت کے وسیلے خدا کا قرب چاہتا ہوںاور خدا رحمت کرے آپ پر آپکے باپ
وَأَجْدادِکَ وَأَبْنائِکَ وَشِیعَتِکَ وَمُحِبِّیکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
دادا پرآپ کے بزرگوں پر آپ کے فرزندوں پر اور آپ کے پیر کا رو ں اور محبوں پرخدا کی رحمت ہو اور اس کی برکا ت ہوں۔
پھر دو رکعت نما ز زیارت بجا لا ئے جس کی پہلی رکعت میں سو رہ حمد کے بعد سورۃ یٰسین اوردوسری رکعت میں سو ر ئہ رحمٰن پڑھے یا جو سورہ اسییا د ہو وہی پڑھ لے اس کے بعدخدا سے جو دعا چا ہے مانگے ۔
امام موسٰی کاظم -کی ایک اور زیارت
شیخ مفید، شہید اور محمد بن المشہدی نے فرما یا ہے کہ جب کا ظمین میں امام موسٰی کا ظم - کی زیارت کرنا چاہے تو پہلے غسل زیارت کرے اور پھر حرم شریف کیطرف روانہ ہو دروازے پر پہنچے تو وہاں کھڑے ہو کر اذن دخول پڑھے اور حرم مطہر میں داخل ہوتے وقت پڑھے :
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَفِی سَبِیلِ ﷲ، وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَاَلسَّلَامُ عَلَی
خدا کے نام سے خدا کی ذات کے واسطے سے خدا کی راہ میں اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے دین پر خدا رحمت کے ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر اور سلا م ہو
أَوْلِیَائِ ﷲ
خدا کے اولیائ پر۔
اس کے بعدحضرت امام موسٰی کاظم - کی قبر مبارک کے سامنے کھڑے ہو کر یہ زیارت پڑھے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نُورَ ﷲ فِی ظُلُماتِ الْاََرْضِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے زمین کی تاریکیوں میں خدا کے نور آپ پر سلام ہو اے خدا کے ولی آپ پر
عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بابَ ﷲ، أَشْهَدُ أَنَّکَ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ
سلام ہو اے خدا کی حجت آپ پر سلام ہو اے دروازہ خدا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور
الزَّکَاةَ وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَتَلَوْتَ الْکِتَابَ حَقَّ تِلاوَتِهِ وَجَاهَدْتَ
زکوۃ دی آپ نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا آ پ نے تلا وت قرآن کی جیسے تلاوت کرنے کا حق ہے آپ نے راہ خدا میں
فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ وَصَبَرْتَ عَلَی الْاََذَیٰ فِی جَنْبِهِ مُحْتَسِباً، وَعَبَدْتَهُ مُخْلِصاً حَتَّی أَتَاکَ
جہاد کا حق ادا کیا خدا کی خاطر تکلیفوں پر صبر کرتے رہے ہوشمندی سے آپ مخلصانہ عبادت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ شہید
الْیَقِینُ، أَشْهَدُ أَنَّکَ أَوْلَیٰ بِالله وَبِرَسُولِهِ، وَأَنَّکَ ابْنُ رَسُولِ ﷲ حَقَّاً، أَبْرَأُ إلَی ﷲ مِنْ
ہو گئے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا اور اس کے رسو ل کے ہا ں بلند درجہ رکھتے ہیں اور یقینا آپ رسول خد ا کے فر زند ہیں میں خدا
أَعْدائِکَ، وَأَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ بِمُوالاتِکَ، أَتَیْتُکَ یَا مَوْلایَ عارِفاً بِحَقِّکَ، مُوالِیاً
کیسامنے آپکے دشمنوں سے بیزار ہو ں اورآپکی محبت کے ذریعے خدا کا قرب چاہتا ہوں میں آپکے پاس آیا ہوں اے میرے آقا آپکے
لاََِوْلِیائِکَ، مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ، فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ
حق سے واقف آپ کے دوستوں کا دوست اور آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں پس اپنے رب کے حضور میر ی شفا عت کریں ۔
پھر اپنے آپ کو قبر مبارک پر گرائے اس پر بوسہ دے اور اپنے دونوں رخسار باری باری اس پر رکھے اس کے بعد وہاںسے سرہانے کی طرف آئے اور کھڑے ہو کر کہے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، أَشْهَدُ أَنَّکَ صادِقٌ،أَدَّیْتَ ناصِحاً، وَقُلْتَ أَمِیناً
آپ پر سلام ہو اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں آپ نے نصیحت کا حق ادا کیا آپ قول میں امانتدار ہیں
وَمَضَیْتَ شَهِیداً، لَمْ تُؤْثِرْ عَمیً عَلَی الْهُدیٰ، وَلَمْ تَمِلْ مِنْ حَقٍّ إلی باطِلٍ، صَلَّی ﷲ
اور آپ دنیا سے شہادت پاکر گزرے آپ نے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح نہ دی اور حق سے باطل کی طرف مائل نہ ہوئے خدا آپ پر
عَلَیْکَ وَعَلَی آبائِکَ وَأَبْنائِکَ الطَّاهِرِینَ
آپ کے باپ دادا پر رحمت کرے اور آپ کے پاکیزہ فرزندوں پر۔
پھر قبر مبارک پر بوسہ دے اور بعد میں دو رکعت نماز زیارت بجالائے اس کے علاوہ بھی وہاں جس قدر چاہے نماز پڑھے اور جب فارغ ہوتو سجدے میں جائے اور یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ اعْتَمَدْتُ وَ إلَیْکَ قَصَدْتُ وَبِفَضْلِکَ رَجَوْتُ وَقَبْرَ إمامِیَ الَّذِی أَوْجَبْتَ
اے معبود! میں نے تیرا سہارا لیا ہے تیری طرف بڑھا ہوں اور تیرے کرم کا امیدوار ہوں یہ میرے امام کی قبر ہے جن کی پیروی
عَلَیَّ طاعَتَهُ زُرْتُ، وَبِهِ إلَیْکَ تَوَسَّلْتُ، فَبِحَقِّهِمُ الَّذِی أَوْجَبْتَ عَلَی
تونے مجھ پر لازم فرمائی ہے میں نے اس کی زیارت کی اور تیرے حضور اپنا وسیلہ بنایا پس ان کے حق کے واسطے سے جو تو نے اپنے
نَفْسِکَ اغْفِرْ لِی وَلِوالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَا کَرِیمُ ۔اب دایاں رخسار قبر پر رکھے اور کہے: اَللّٰھُمَّ
اوپر واجب کر رکھا ہے بخش دے مجھے اور میرے والدین کو اور سبھی مومنوں کو اے کریم اے معبود
قَدْ عَلِمْتَ حَوائِجِی فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْضِها ۔اب بایاں رخسار قبر مبارک پر
یقینا تو میری حاجتوں کو جانتا ہے پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور حاجات پوری فرما۔
رکھے اور کہے:اَللّٰهُمَّ قَدْ أَحْصَیْتَ ذُنُوبِی فَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اے معبودیقینا تو میرے گناہوںکو جانتا ہے پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حق کے واسطے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمد پر
مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْها وَتَصَدَّقْ عَلَیَّ بِما أَنْتَ أَهْلُهُ
رحمت فرما اور ان گناہوں کو بخش دے مجھے عطا کر اس قدر جو تیری شان کے لائق ہے ۔
اب سجدے کی حالت میں ہوجائے اور سو مرتبہ کہے: شُکْراًشُکْراً پس سجدے سے سر اٹھائے اور ہر اس چیز کے لیے دعا مانگے جس کی خواہش رکھتا ہے۔
صلوات امام موسیٰ کاظم
مؤلف کہتے ہیں:ابن طائوس نے مصباح الزائر میں امام موسیٰ کاظم - کی زیارت کے ساتھ ایک صلوات نقل فرمائی ہے جس میں حضرت- کے فضائل عبادت اور آپکی مصیبت کا ذکر موجود ہے لہذا آپکی زیارت کرنے والے کو اس صلوات کے فیض سے محروم نہیں رہنا چاہئے اور وہ صلوات یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ، وَصَلِّ عَلَی مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ وَصِیِّ الْاَبْرارِ، وَ إمامِ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے خاندان پر رحمت نازل کر اور موسیعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام پر رحمت فرما جو نیکوکاروں کے قائمقام خوش کرداروں کے پیشوا
الْاَخْیارِ، وَعَیْبَةِ الْاََنْوارِ، وَوارِثِ السَّکِینَةِ وَالْوَقارِ، وَالْحِکَمِ وَالْاَثارِ، الَّذِی کانَ یُحْیِی
انوار کے خزینہ صبر واطمینان کے مالک اور علوم واعمال کے جاننے والے کہ جو رات کو جاگ
اللَّیْلَ بِالسَّهَرِ إلَی السَّحَرِ بِمُواصَلَةِ الاسْتِغْفارِ، حَلِیفِ السَّجْدَةِ الطَّوِیلَةِ، وَالدُمُوعِ
کر گزارتے کہ صبح ہونے تک متواتر استغفار کرتے تھے دیر تک سجدے میں رہتے بہت آنسو بہاتے
الْغَزِیرَةِ ، وَالْمُناجاةِ الْکَثِیرَةِ، وَالضَّراعاتِ الْمُتَّصِلَةِ، وَمَقَرِّ النُّهی وَالْعَدْلِ، وَالْخَیْرِ
بہت زیادہ دعا و مناجات کرتے اور برابر آہ وزاری فرماتے وہ مقام عقل وعدالت ہیں اور مقام نیکی
وَالْفَضْلِ وَالنَّدی وَالْبَذْلِ وَمَأْلَفِ الْبَلْویٰ وَالصَّبْرِ وَالْمُضْطَهَدِ بِالظُّلْمِ وَالْمَقْبُورِ بِالْجَوْرِ
وفضیلت اور عطا وسخاوت کا مرکز ہیں وہ صبر وآزمائش سے مانوس ہیں ایذا دی گئی ان کو ظلم کے ساتھ رکھا گیا قید سخت میں تنگی دی گئی
وَالْمُعَذَّبِ فِی قَعْرِ السُّجُونِ وَظُلَمِ الْمَطَامِیرِ، ذِی السَّاقِ الْمَرْضُوضِ بِحَلَقِ الْقُیُودِ،
ان کو زندان کے تہہ خانے کی کال کوٹھڑیوں میں تنگ وسخت بیڑیوں سے ان کی پنڈلیاں لہولہان رہیں
وَالْجَنازَةِ الْمُنَادیٰ عَلَیْها بِذُلِّ الاسْتِخْفافِ وَالْوارِدِ عَلَی جَدِّهِ الْمُصْطَفی وَأَبِیهِ الْمُرْتَضی
ان کے جنارے پر توہین وتذلیل کے ساتھ آوازیں کسی گئیں وہ اپنے نانا محمد مصطفی اپنے باپ علی مرتضیعليهالسلام
وَأُمِّهِ سَیِّدَةِ النِّسائِ بِ إرْثٍ مَغْصُوبٍ، وَوَلائٍ مَسْلُوبٍ، وَأَمْرٍ مَغْلُوبٍ، وَدَمٍ مَطْلُوبٍ، وَسَمٍّ
اور اپنی ماں سیدہ زہراعليهالسلام کے پاس پہنچے جب کہ انکا حق غصب کیا گیا حکومت چھین لی گئی مقصد دبا دیا گیا انتقام خون باقی ہے اور آپکو
مَشْرُوبٍ اَللّٰهُمَّ وَکَمَا صَبَرَ عَلَی غَلِیظِ الْمِحَنِ، وَتَجَرَّعَ غُصَصَ الْکُرَبِ، وَاسْتَسْلَمَ
جام زہر پلایا گیا تھا اے معبود! جیسے انہوں نے سخت اذیت میں صبر کیا دکھوں کے گھونٹ حلق سے اتارے تیری رضا کے آگے جھک
لِرِضاکَ، وَأَخْلَصَ الطَّاعَةَ لَکَ، وَمَحَضَ الْخُشُوعَ، وَاسْتَشْعَرَ الْخُضُوعَ، وَعادَیٰ
گئے سچے دل سے تیری اطاعت میں رہے تیرے سامنے فروتن ہوئے تیری جناب میں عاجز رہے بد عت واہل بدعت کے مخالف
الْبِدْعَةَ وَأَهْلَها، وَلَمْ یَلْحَقْهُ فِی شَیْئٍ مِنْ أَوامِرِکَ وَنَواهِیکَ لَوْمَةُ لائِمٍ، صَلِّ عَلَیْهِ
رہے اور انہوں نے تیرے امرو نہی میں سے کسی چیز میں کسی ملامت کرنے والے کی کچھ پروا نہ کی ان پر ایسی رحمت کر جو بڑھنے والی
صَلاةً نامِیَةً مُنِیفَةً زاکِیَةً تُوجِبُ لَهُ بِها شَفاعَةَ أُمَمٍ مِنْ خَلْقِکَ، وَقُرُونٍ مِنْ بَرایاکَ،
بلند تر پاک تر ہو اسکے ذریعے انکو شفاعت کا حق دے کہ وہ تیری مخلوق میں سے قوموں کی اور تیرے بندوں میں سے گروہوں کی شفاعت کریں
وَبَلِّغْهُ عَنَّا تَحِیَّةً وَسَلاماً وَآتِنا مِنْ لَدُنْکَ فِی مُوالاتِهِ فَضْلاً وَ إحْساناً وَمَغْفِرَةً وَرِضْواناً،
اور ان کو ہمارا درود اور سلام پہنچا ہمیں ان سے محبت کرنے پر اپنی طرف سے فضیلت بھلائی مغفرت اور رضوان خوشنودی عطا فرما
إنَّکَ ذُوالْفَضْلِ الْعَمِیمِ، وَالتَّجاوُزِ الْعَظِیمِ، بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
کیونکہ تو بہت زیادہ کرم کرنے والا اور بڑا درگزر کرنے والا ہے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحمت کرنے والے۔
امام محمد تقی - کی مخصوص زیارت
شیخ مفید شیخرحمهالله شہیدرحمهالله اور محمد بن المشہدی نے فرمایا ہے کہ زائر جب امام موسی کاظم - کی زیارت سے فارغ ہوتو پھر امام محمد تقی - کی طرف متوجہ ہو کہ جو اپنے جد بزرگوار امام موسی کاظم - کی پشت کی جانب مدفون ہیں۔ پس ان کی قبر شریف کے سامنے کھڑے ہو کر یہ زیارت پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یا نُورَ ﷲ فِی
آپ پر سلام ہو اے ولی خدا آپ پر سلام ہو اے حجت خدا آپ پر سلام ہو کہ آپ زمین کی
ظُلُماتِ الْاََرْضِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی آبائِکَ،
تاریکیوں میں خدا کا نور ہیں آپ پر سلام ہو اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند آپ پر سلام ہو اور آپ کے پاکیزہ آبائ پر
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی أَبْنائِکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی أَوْلِیائِکَ، أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ
آپ پر سلام ہواور آپ کے فرزندوں پر آپ پر اور آپ کے اولیائ پر میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ نے
أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَتَلَوْتَ
نماز قائم کی اور زکوۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اوربرے کاموں سے روکا آپ نے تلاوت
الْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِهِ، وَجاهَدْتَ فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ، وَصَبَرْتَ عَلَی الْاََذیٰ فِی جَنْبِهِ حَتَّی
قران کا حق ادا کردیا آپ نے خدا کے لیے جہاد کیا جو حق جہاد ہے اور خدا کی خاطر تکلیفوں پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ شہید
أَتَاکَ الْیَقِینُ، أَتَیْتُکَ زائِراً، عارِفاً بِحَقِّکَ، مُوالِیاً لاََِوْلِیائِکَ، مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ
ہوگئے میں آپ کی زیارت کو آیا ہوں آپ کا حق پہچانتا ہوں آپ کے دوستوں سے دوستی آپ کے دشمن سے دشمنی رکھتا ہوں
فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ
پس اپنے رب کے ہاں میری شفاعت کریں۔
پھر اپنے چہرے کو قبرمطہر سے مس کرے اس پر بوسہ دے بعدمیں دو رکعت نماززیارت بجالائے اسکے بعد وہاں جس قدر چاہے نماز پڑھے جب فارغ ہو تو سجدے میں جائے اور کہے:
اِرْحَمْ مَنْ اَسَائَ وَاقْتَرَفَ وَاسْتَکَانَ وَاعْتَرَفَ اب دایاں رخسار زمین پر رکھے اور پڑھے:اِنْ
رحم فرما اس پر جس نے گناہ اور جرم کیا اور اب بے چارگی میں اس کا اعتراف کیا ہے۔ اگر میں ایک
کُنْتُ بِئْسَ الْعَبْدُ فَاَنْتَ نِعْمَ الرَّبُّ پھر بایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے:عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِکَ
بد ترین بندہ ہوں تو تو کیا ہی اچھا رب ہے۔ تیرے بندے نے بہت گناہ کیے ہیں
فَلْیَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِکَ یَاکَرِیْمُ اب سر سجدے میں رکھے اور سو مرتبہ کہے:شُکْراً شُکْراً
لیکن تیری طرف سے درگذر ہی مناسب ہے اے بخشنے والے شکر ہے شکر ہے۔
اور اس کے بعد اپنے کاموں میں مصروف ہو جائے ۔
امام محمد تقی - کی دوسری زیارت
سید ابن طائوسرحمهالله نے مزار میں فرمایا ہے کہ امام موسی کاظم - کی زیارت کرنے کے بعد امام محمد تقی - کی قبر شریف پر بوسہ دے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ الْبَرَّ التَّقِیَّ الْاِمامَ الْوَفِیَّ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو اے ابو جعفر محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام نیکوکار پرہیزگار امام وفا شعار آپ پر سلام ہو
أَیُّهَا الرَّضِیُّ الزَّکِیُّ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَجِیَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ
کہ آپ پسندیدہ وپاکیزہ ہیں آپ پر سلام ہو اے ولی خدا آپ پر سلام ہو اے خدا کے رازداں آپ پر
عَلَیْکَ یَا سَفِیرَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سِرَّ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ضِیائَ ﷲ، اَلسَّلَامُ
سلام ہو اے نمائندئہ خدا سلام ہوآپ پر اے راز الہی آپ پر سلام ہو اے خدا کی روشنی آپ پر
عَلَیْکَ یَا سَنائَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا کَلِمَةَ ﷲ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَحْمَةَ ﷲ، اَلسَّلَامُ
سلام ہو اے خدا سے روشن شدہ آپ پر سلام ہو اے کلام خدا آپ پر سلام ہو اے رحمت خدا آپ پر
عَلَیْکَ أَیُّهَا النُّورُ السَّاطِعُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْبَدْرُ الطَّالِعُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا
سلام ہو کہ آپ چمکتا ہوا نور ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ چودھویں کا چاند ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ پاک ہیں
الطَّیِّبُ مِنَ الطَّیِّبِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الطَّاهِرُ مِنَ الْمُطَهَّرِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا
پاکیزہ لوگوں میں سے ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ پاک شدہ اور پاک شدگان میں سے ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ بہت
الْاَیَةُ الْعُظْمیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْحُجَّةُ الْکُبْریٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَاالْمُطَهَّرُ مِنَ
بڑی نشانی ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ بہت بڑی دلیل ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ خطا ولغزش سے پاک ہیں
الزَّلاَّتِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْمُنَزَّهُ عَنِ الْمُعْضِلاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْعَلِیُّ عَنْ
آپ پر سلام ہو کہ آپ منزہ ہیں اس سے کہ مشکل مسئلہ حل نہ کر پائیں سلام ہو آپ پر کہ آپ بلند ہیں اس سے کہ اوصاف میں کچھ کمی
نَقْصِ الْاََوْصافِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الرَّضِیُّ عِنْدَ الْاََشْرافِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَمُودَ
پائی جائے آپ پر سلام ہو کہ آپ صاحبان مرتبہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے دین کے
الدِّینِ أَشْهَدُ أَنَّکَ وَلِیُّ ﷲ وَحُجَّتُهُ فِی أَرْضِهِ وَأَنَّکَ جَنْبُ ﷲ وَخِیَرَةُ ﷲ وَمُسْتَوْدَعُ
ستون میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے ولی اور زمین میں اس کی حجت ہیں آپ خدا کے طرفدار اوراس کے چنے ہوئے ہیں آپ
عِلْمِ ﷲ وَعِلْمِ الْاََنْبِیائِ، وَرُکْنُ الْاِیمانِ، وَتَرْجُمانُ الْقُرْآنِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مَنِ اتَّبَعَکَ عَلَی
علم الہی اورعلم انبیائ کے امانتدار ہیں او رآپ ایمان کا پایہ اور قرآن کے شارح ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ کا پیرو حق
الْحَقِّ وَالْهُدیٰ وَأَنَّ مَنْ أَنْکَرَکَ وَنَصَبَ لَکَ الْعَداوَةَ عَلَی الضَّلالَةِ وَالرَّدی أَبْرَأُ إلَی
وہدایت پر گامزن ہے اور آپکا انکار کرنے والا اورآپ سے عداوت رکھنے والا گمراہی اور ہلا کت میں پڑا ہے میں آپکے او رخدا کے
ﷲ وَ إلَیْکَ مِنْهُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ
سامنے ایسے لوگوں سے دنیا وآخرت میں بیزار ہوں آپ پر سلام ہوجب تک میں باقی رہوں اور شب و روز باقی ہیں۔
پھر حضرت پر اس طرح صلوات بھیجے:اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ
اے معبود!حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے خاندان پر رحمت فرما اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن علیعليهالسلام پر
بْنِ عَلِیٍّ الزَّکِیِّ التَّقِیِّ وَالْبَرِّ الْوَفِیِّ وَالْمُهَذَّبِ النَّقِیِّ هادِی الْاَُمَّةِ وَوارِثِ آلاَءِمَّةِ وَخازِنِ
رحمت فرما کہ جو پاکیزہ پرہیزگار نیکوکار وفادار نیک اطوار برگزیدہ امت کے رہبر ائمہعليهالسلام کے جانشین رحمت کے
الرَّحْمَةِ وَیَنْبُوعِ الْحِکْمَةِ، وَقائِدِ الْبَرَکَةِ، وَعَدِیلِ الْقُرْآنِ فِی الطَّاعَةِ، وَواحِدِ الْاََوْصِیائِ
خزینہ دار حکمت کے سرچشمہ بابرکت رہنما پیروی کے لحاظ سے قرآن کے ہم پلہ اخلاص و عبادت کے اعتبار سے اوصیائ میں
فِی الْاِخْلاصِ وَ الْعِبادَةِ، وَحُجَّتِکَ الْعُلْیا، وَمَثَلِکَ الْاََعْلیٰ، وَکَلِمَتِکَ الْحُسْنیٰ،
صاحب مرتبہ تیری بلند تر حجت تیرا بنایا ہوا بہترین نمونہ تیرا خوشترین کلام تیری طرف بلانے والے
الدَّاعِی إلَیْکَ، وَالدَّالِّ عَلَیْکَ، الَّذِی نَصَبْتَهُ عَلَماً لِعِبادِکَ، وَمُتَرْجِماً لِکِتابِکَ،
اور تیری طرف رہنمائی کرنے والے ہیں جن کو تو نے اپنے بندوں کے لیے نشان قرار دیا اپنی کتاب کا ترجمان گردانا اپنے حکم
وَصادِعاً بِأَمْرِکَ، وَناصِراً لِدِینِکَ، وَحُجَّةً عَلَی خَلْقِکَ، وَنُوراً تَخْرُقُ بِهِ الظُّلَمَ،
کا بیان گر ٹھہرایا ہے اپنے دین کا مددگار مقرر کیا اپنی مخلوق پر حجت بنایا اور وہ نور قرار دیا جس سے تاریکیاں دور ہوتی ہیں
وَقُدْوَةً تُدْرَکُ بِهَا الْهِدایَةُ، وَشَفِیعاً تُنالُ بِهِ الْجَنَّةُ اَللّٰهُمَّ وَکَما أَخَذَ فِی خُشُوعِهِ لَکَ
وہ پیشوا بنایا جسکے ذریعے ہدایت ملتی ہے اور وہ شفاعت کنندہ جو جنت میں پہنچاتا ہے پس اے معبود جس طرح انہوں نے تیرے
حَظَّهُ، وَاسْتَوْفیٰ مِنْ خَشْیَتِکَ نَصِیبَهُ فَصَلِّ عَلَیْهِ أَضْعافَ مَا
سامنے عاجزی میں اپنا حصہ حاصل کیا اور تجھ سے ڈرنے میں اپنا حصہ حاصل کیا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحمت فرما دگنی رحمت فرما
صَلَّیْتَ عَلَی وَلِیٍّ ارْتَضَیْتَ طاعَتَهُ، وَقَبِلْتَ خِدْمَتَهُ، وَبَلِّغْهُ مِنَّا تَحِیَّةً وَسَلاماً، وَآتِنا فِی
کہ جیسی رحمت تو نے اپنے کسی ولی پر کی ہو کہ جسکی بندگی کو تو نے پسند کیا اور جسکی محنت کو قبول فرمایا اور انکو ہمارا درود و سلام پہنچا اور ہمیں
مُوالاتِهِ مِنْ لَدُنْکَ فَضْلاً وَ إحْساناً وَمَغْفِرَةً وَرِضْواناً، إنَّکَ ذُوالْمَنِّ الْقَدِیمِ، وَالصَّفْحِ
انکی محبت عطا کر جس میں تیری طرف سے بزرگی بھلائی اور بخشش ہو ہم سے خوشنود ہوجا کہ بے شک تو قدیمی احسان کرنے والا
الْجَمِیلِ۔ اب دو رکعت نماز زیارت پڑھے اور اسکے بعد کہے:اَللَّهُمَ اَنْتَ الرَّبُّ وَاَنَا الْمَرْبُوْبُ ۔
بہترین درگزر کرنے والا ہے۔ اے معبود تو پالنے والا اور میں تیرا پالا ہوا ہوں۔
امام محمد تقی - کی ایک اور مخصوص زیارت
شیخ صدوقرحمهالله نے فقیہ میں روایت کی ہے کہ جب حضرت کی زیارت کرنا چاہے تو غسل کرے پاکیزہ لباس پہنے اور یہ زیارت پڑھے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ ابْنِ عَلِیٍّ الْاِمامِ التَّقِیِّ النَّقِیِّ، الرَّضِیِّ الْمَرْضِیِّ، وَحُجَّتِکَ عَلَی
اے معبود! محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر رحمت فرما جو امام ہیں پرہیزگار برگزیدہ پسندیدہ پسند شدہ اور تیری حجت ہیں
مَنْ فَوْقَ الْاََرْضِ وَمَنْ تَحْتَ الثَّریٰ، صَلاةً کَثِیرَةً نامِیَةً زاکِیَةً مُبارَکَةً مُتَواصِلَةً مُتَرادِفَةً
ان سب پر جو زمین کے اوپر اور زمین کے نیچے رہتے ہیں ایسی رحمت جو بہت زیادہ بڑھنے والی پاک تر برکت والی لگا تار مسلسل
مُتَواتِرَةً کَأَفْضَلِ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَوْلِیائِکَ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ اَلسَّلَامُ
متواتر ہو کہ جس طرح بہترین رحمت کی ہے تو نے اپنے اولیائ میں سے کسی ایک پر اور آپ پر سلام ہو اے ولی خدا آپ پر
عَلَیْکَ یَا نُورَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا إمامَ الْمُؤْمِنِینَ وَوارِثَ
سلام ہو اے نور خدا آپ پر سلام ہو اے حجت خدا سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے امام نبیوں کے
عِلْمِ النَّبِیِّینَ، وَسُلالَةَ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نُورَ ﷲ فِی ظُلُماتِ الْاََرْضِ أَتَیْتُکَ
علوم کے وارث اور اوصیائ کے فرزند آپ پر سلام ہوکہ آپ زمین کی تاریکیوں میں خدا کا نورہیں میں آیا آپکی زیارت کرنے آپکے
زائِراً، عارِفاً بِحَقِّکَ مُعادِیاً لاََِعْدایِکَ مُوالِیاً لاََِوْلِیائِکَ فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ
حق سے واقف آپ کے دشمنوں کا دشمن آپ کے دوستوں کا دوست ہوںپس اپنے رب کے حضور میری شفاعت کریں۔
اس کے بعد اپنی حاجات طلب کرے اور پھر چار رکعت نماز یعنی دو رکعت امام محمد تقی - کیلئے اور دو رکعت امام موسیٰ کاظم - کیلئے اس گنبد کے نیچے پڑھے جس میں امام محمد تقی - کی قبر شریف ہے یاد رہے کہ امام موسیٰ کاظم -کے سرہانے کی طرف ہو کر نماز نہ پڑھے۔ کیونکہ ادھر بعض قریش کی قبریں ہیں کہ جن کو قبلہ بنانا درست نہیں ہے۔
مؤلف کہتے ہیں: شیخ صدوقرحمهالله کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دور میں امام موسیٰ کاظم - کی قبر مبارک امام محمد تقی - کی قبر شریف سے علیحدہ بنی ہوئی تھی اور اس کا قبہ الگ تھا اور ان کے دروازے بھی جدا جدا تھے اور زائرین امام موسی کاظم - کی قبر اطہر کی زیارت کے بعدباہر تشریف لاتے امام محمد تقی - کی زیارت گاہ کی طرف جاتے تھے اس وقت وہ جدا گانہ مزار مبارک تھی لیکن آج کل ان دونوں ائمہعليهالسلام کی قبریں ایک ہی قبہ میں ہیں۔
کاظمین کی مشترک زیارت
امام موسٰی کاظم اور امام محمد تقیعليهالسلام کی مشترک زیارتیں دو ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جو ان دونوں میں سے ہر امام کیلئے علیحدہ پڑھی جاتی ہے چنانچہ شیخ قولویہ قمی نے کامل الزیارات میں امام علی نقی - سے روایت کی ہے کہ ان دونوں ائمہ میں سے ہر ایک کی زیارت اس طرح پڑھے:
پہلی زیارت
یہ بہت معتبر زیارت ہے جسے شیخ صدوقرحمهالله ، شیخ کلینیرحمهالله اور شیخ طوسیرحمهالله نے بھی معمولی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے جو اس طرح ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نُورَ ﷲ فِی
آپ پر سلام ہو اے ولی خدا آپ پر سلام ہو اے حجت خدا آپ پر سلام ہو اے زمین کی تاریکیوں
ظُلُماتِ الْاََرضِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنْ بَدَا لِلّٰهِ فِی شَأْنِهِ أَتَیْتُکَ زائِراً عارِفاً بِحَقِّکَ
میں خدا کے نور سلام ہوآپ پر اے وہ جن کی شان خدا نے ظاہر فرمائی آپ کی زیارت کو آیا ہوں آپ کے حق سے واقف آپ کے
مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ مُوالِیاً لاََِوْلِیائِکَ فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ یَا مَوْلایَ
دشمنوں کا دشمن آپ کے دوستوں کا دوست پس میری شفاعت کریں اپنے رب کے حضور اے میرے آقا۔
دوسری زیارت
یہ وہ زیارت ہے جس کے پڑھنے سے ہر دو ائمہعليهالسلام کی زیارت ہوجائیگی جیسا کہ شیخ مفیدرحمهالله شہیدرحمهالله اور محمد بن مشہدی نے فرمایا ہے کہ ضریح پاک کے سامنے کھڑے ہوکر ان دونوں بزرگواروں کی زیارت یوں پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا وَلِیَّیِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا حُجَّتَیِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا نُورَیِ ﷲ
سلام ہو آپ دونوں پر اے اولیائ ﷲ سلام ہو آپ دونوں پر اے حجت خدا سلام ہو آپ دونوں پر کہ آپ زمین کی تاریکیوں میں
فِی ظُلُمَاتِ الْاََرْضِ أَشْهَدُ أَنَّکُما قَدْ بَلَّغْتُما عَنِ ﷲ مَا حَمَّلَکُما وَحَفِظْتُما مَا اسْتُودِعْتُما
دو نور ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ دونوں نے خدا کا پیغام پہنچایا جو آپکو ملا آپ نے حفاظت کی اسکی جو آپ کو دیا گیا آپ نے
وَحَلَّلْتُما حَلالَ ﷲ، وَحَرَّمْتُما حَرامَ ﷲ، وَأَقَمْتُما حُدُودَ ﷲ، وَتَلَوْتُما کِتابَ ﷲ،
حلال خدا کو حلال بتایا حرام خدا کو حرام کہاآپ دونوں نے حدود خدا جاری کیں آپ دونوں قرآن کی تلاوت کرتے رہے
وَصَبَرْتُما عَلَی الْاََذیٰ فِی جَنْبِ ﷲ مُحْتَسِبَیْنَ حَتَّی أَتَاکُمَا الْیَقِینُ، أَبْرَأُ إلَی ﷲ مِنْ
اور آپ دونوںنے خدا کی خاطر مصائب اور اذیت پر صبر کیا ہوشمندی سے یہاں تک کہ شہید ہوگئے میں خدا کے سامنے آپ کے
أَعْدائِکُما وَأَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ بِوِلایَتِکُما أَتَیْتُکُما زائِراً، عارِفاً بِحَقِّکُما، مُوالِیاً
دشمنوں سے بیزاری کرتا ہوں اور آپ سے محبت کے ذریعے خداکا قرب چاہتاہوں ہوں آپکی زیارت کو آیا ہوں آپکے حق سے
لاََِوْلِیائِکُما، مُعادِیاً لاََِعْدائِکُما، مُسْتَبْصِراً بِالْهُدَیٰ الَّذِی أَنْتُما عَلَیْهِ، عارِفاً
واقف آپ دونوں کے دوستوں کا دوست آپ دونوں کے دشمنوں کا دشمن اس ہدایت کو سمجھتاہوں جس پر آپ دونوں قائم ہیں آپ
بِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکُما، فَاشْفَعا لِی عِنْدَ رَبِّکُما، فَ إنَّ لَکُما عِنْدَ ﷲ جاهاً عَظِیماً،
دونوں کے مخالف کی گمراہی کو جانتا ہوں پس آپ دنوں میری شفاعت کریں اپنے رب سے کہ آپ دونوں کا خدا کے ہاں بڑا مرتبہ
وَمَقاماً مَحْمُوداً
اور بہترین مقام ہے۔
اس کے بعد ان قبور مبارکہ پر بوسہ دے۔ اپنا دایاں رخسار ان پر رکھے اور پھر سرہانے کی طرف جائے اور یہ پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا حُجَّتَیِ ﷲ فِی أَرْضِهِ وَسَمائِهِ، عَبْدُکُما وَوَلِیُّکُما زَائِرُکُما مُتَقَرِّباً إلَی
سلام ہو آپ دونوں پر اے حجت خدا اسکی زمین اور آسمان میں آپ دونوں کا غلام آپ کا محب آپ کا زائر جو آپ کی زیارت کے
ﷲ بِزِیارَتِکُما اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی لِسانَ صِدْقٍ فِی أَوْلِیائِکَ الْمُصْطَفَیْنَ، وَحَبِّبْ إلَیَّ
ذریعے خدا کا قرب چاہتا ہے اے معبود مجھے اپنے ان دونوں چنے ہوئے ولیوںکے بارے میں سچ کہنے والا بنادے مجھے انکے
مَشاهِدَهُمْ، وَاجْعَلْنِی مَعَهُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
مزاروں کی محبت عطا فرما اور مجھ کو دنیا وآخرت میں ان کے ساتھ رکھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اس کے بعد چار رکعت نماز ادا کرے یعنی دو رکعت امام موسیٰ کاظم - کی زیارت کیلئے اور دو رکعت امام محمد تقی - کی زیارت کیلئے پڑھے اور پھر خدائے تعالیٰ سے جو دعا چاہے مانگے۔
مؤلف کہتے ہیں : چونکہ ان دو ائمہعليهالسلام کے زمانے میں تقیہ کی ضرورت بہت زیادہ تھی لہذا انہوں نے اپنے پیروکاروں کو مختصر زیارت تعلیم فرمائی ہے۔ تاکہ شیعہ مؤمنین ظالم حکام کے ظلم سے محفوظ رہیں۔ لیکن آج کل اگر کوئی زائر طویل زیارت پڑھنا چاہے تو وہ زیارت جامعہ پڑھے کہ یہ انکی بہترین زیارت ہے خصوصاً وہ زیارت جو حدیث کی رو سے امام موسیٰ کاظم -سے مختص ہے وہ زیارت جامعہ کے باب میں پہلی زیارت کے طور پر نقل کی جائے گی۔
جب زائر ان دو ائمہعليهالسلام کے شہر سے جانا چاہے تو اسے ان بزرگواروں سے دواع کرنا چاہیے اور جیسا کہ شیخ طوسیرحمهالله نے تہذیب الاحکام میں فرمایا ہے کہ جب امام موسی کاظم - سے وداع کرنا چاہے تو قبر مبارک کے قریب کھڑے ہوکر یوں کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبَا الْحَسَنِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَسْتَوْدِعُکَ ﷲ وَأَقْرَأُ
آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اے ابو الحسنعليهالسلام خد اکی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں آپ کو حوالہ خدا کرتا ہوں اور آپ کو سلام
عَلَیْکَ السَّلامَ، آمَنَّا بِالله وَبِالرَّسُولِ وَبِما جِئْتَ بِهِ وَدَلَلْتَ عَلَیْهِ، اَللّٰهُمَّ اکْتُبْنا مَعَ
پیش کرتا ہوں ایمان رکھتا ہوں خدا ورسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور اس پر جو آپ لائے اور جسکی طرف راہنمائی فرمائی اے معبود ہمیں یہ گواہی دینے
الشَّاهِدِین َ۔امام محمد تقی - سے وداع کرتے ہوئے یہ کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَابْنَ رَسُولِ
والوں میں لکھ دے آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند
ﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَسْتَوْدِعُکَ ﷲ وَأَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلامَ، آمَنَّا بِالله وَبِرَسُولِهِ
اور خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں میں آپکو حوالہ خدا کرتا ہوں اور آپکو سلام پیش کرتا ہوں ایمان رکھتا ہوں خدا اور اسکے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَبِما جِئْتَ بِهِ وَدَلَلْتَ عَلَیْهِ، اَللّٰهُمَّ اکْتُبْنا مَعَ الشَّاهِدِینَ
پراور اس پر جو آپ لائے اور اس کی طرف راہنمائی کی ہے اے معبود ہمیں یہ گواہی دینے والوں میں لکھ دے۔
اس کے بعد حق تعالیٰ سے دعامانگے کہ یہ کاظمین میں اس کا آخری وداع نہ ہو اور وہ اسے دوبارہ یہاں آکر زیارت کرنے کی توفیق عطا فرمائے پھر ہر دوائمہ کی قبور پر بوسہ دے اور باری باری اپنے دونوں رخساران سے مس کرے۔
حاجی علی بغدادی کا واقعہ
مؤلف کہتے ہیں: ان زیارتوں کی مناسبت سے یہاں سعید ،صالح،برگزیدہ،اور متقی حاجی علی بغدادی کے واقعہ کا ذکر کردینا مفید ہوگا جیسے میرے استاد مرحوم نے اپنی دو کتابوں جنۃ الماوی ونجم الثاقب میں تحریر فرمایا ہے چنانچہ انہوں نے نجم الثاقب میں لکھا ہے اگر اس کتاب میں دیگر واقعات درج نہ کئے جاتے اور صرف یہی واقعہ مذکور ہوتا جو ھنوز تازہ ہے اورصحیح ہے نیز اس میں بہت سے فوائد بھی ہیں تو اس کتاب کی قدرو قیمت کیلئے اس میں صرف یہی کافی تھا اس تمہید کے بعد فرمایا کہ حاجی علی بغدادی کہ خدا ان کی تائید کرے انہوں نے ذکر کیا ہے کہ میرے ذمے( ۰۸ ) اسی تومان مال امام تھا کہ( جو ایک ایرانی سکہ ہے )میں نجف اشرف گیا اور اسی تو مان میں سے بیس تومان علم الہدی شیخ مرتضی اعلی ﷲ مقامہ کی خدمت میں بیس تو مان شیخ محمد حسین مجتہد کاظمینی اور بیس تومان شیخ محمد حسن شروقی کی خدمت میں پیش کیے اور بقایا بیس تومان جو میرے ذمہ رہ گئے ان کے بارے میں یہ خیال تھا کہ بغداد واپس پہنچ کر یہ رقم شیخ محمد حسن کاظمینی آلعليهالسلام یاسین کی خدمت میں پیش کروں گا اور میری خواہش تھی کہ اس کام میں ہر ممکن عجلت سے کام لوں پھر جمعرات کے روز میں نے امامین کاظمینعليهالسلام کی زیارت کا قصد کیا اور زیارت سے مشرف ہونے کے بعد میں جناب شیخ سلمہ کے پاس گیا اور ان بیس تومان میں سے کچھ ان کی خدمت میں پیش کیے اور جو باقی رہ گئے ان کے بارے میں عرض کی کہ یہ میرے پاس رہنے دیں یہ میں بعض اجناس کی فروخت کے بعد آپ کی ہدایت کے مطابق حقداروں تک پہنچادوں گا۔ ان کے ہاں سے فارغ ہوکر میں نے اسی روز عصر کے وقت بغداد واپس جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو شیخ موصوف نے فرمایا کہ آج یہیں قیام کریں! میں نے عرض کی آج جاکر مجھے کارخانے کے مزدوروں کی اجرت ادا کرنا ہے کیونکہ ہمارے ہاں ہفتہ بھر کی مزدوری جمعرات کی عصر کے وقت ادا کی جاتی تھی پس میں وہاں سے چل پڑا اور ابھی میں نے ایک تہائی سفر طے کیا ہوگا کہ میری نظر ایک سید جلیل پر پڑی جو بغداد سے آرہے تھے ۔ جب وہ میرے قریب پہنچے تو سلام کیا اور مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا خوش آمدید کہا اور مجھے سینے سے لگا کر معانقہ کیا پھر ہم نے رواج عرب کے مطابق ایک دوسرے کا بوسہ لیا‘ ان کے سرمبارک پر سبز عمامہ تھا اور رخسار پر بڑاسا سیاہ تل تھا انہوں نے فرمایا حاجی علی! آپ کا کیا حال ہے اور آپ کہاں جارہے ہیں؟ میں نے عرض کی کاظمین کی زیارت کرکے واپس بغداد جارہاہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ آج شب جمعہ ہے لہذا آپ زیارت کاظمین کے لیے واپس ہوچلیں ‘ میں نے عرض کی کہ میرے سردار میں ایسا نہیں کرسکتا! انہوں نے فرمایا کہ نہیں آپ ایسا کرسکتے ہیں۔ واپس چلیں تاکہ میں گواہ بنوں کہ آپ میرے جد بزرگوارامیر المؤمنین- کے موالیوں اور میرے محبوں میں سے ہیں نیز شیخ بھی اس بات کی گواہی دیں کیونکہ حق تعالی نے فرمایا ہے کہ اپنے لیے گواہ وشاہد بنائو۔ ان کی اس بات میں در اصل ایک اشارہ اس خیال کی طرف تھا کہ جو میرے دل میں تھا اور وہ یہ کہ شیخ مکرم ومحترم سے درخواست کروں کہ وہ مجھے ایک تحریر لکھ دیں جس میں یہ ذکر ہو کہ میں امیر المؤمنین- کے محبوں میں سے ہوں اور پھر اس تحریر کو کفن میں اپنے ساتھ رکھوں۔ میں نے کہا کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا اور آپ میرے لیے کس طرح کی شہادت دیں گے؟ انہوں نے فرمایا کہ جو شخص کسی کا حق اس تک پہنچاتا ہے تو حق وصول کرنے والے کو اس کے متعلق کیوں علم نہ ہو گا‘ میں نے عرض کیا کہ کونسا حق؟ انہوں نے فرمایا وہ جو آپ نے میرے وکیل کو دیا ہے میں نے کہا آپ کے کونسے وکیل کو؟ انہوں نے فرمایا وہی شیخ محمد حسن میں نے کہا کہ وہ آپ کے وکیل ہیں تو انہوں نے فرمایا ہاں وہ میرے وکیل ہیں اور جناب سید محمد بھی میرے وکیل ہیں میرے دل میں یہ بات آئی کہ ان سید جلیل نے مجھے میرے نام سے پکارا ہے حالانکہ وہ مجھے پہنچاتے نہیں ہیں پھر خیال آیا کہ وہ مجھے جانتے ہوں گے لیکن مجھے اس کی خبر نہ ہوئی ہوگی۔ پھر خیال آیا کہ یہ سید بزرگوار مجھ سے حق سادات میں سے کچھ لینا چاہتے ہیں اور چاہتے ہوں کہ انہیں مال امام میں سے کچھ دوں پس میں نے عرض کی کہ اے بزرگوار! آپ کے حق میں سے میرے پاس کچھ سہم امام موجود ہے اور میں نے آقا شیخ محمد حسن سے اجازت بھی لی ہوئی ہے تو کیا وہ آپ کو دے دوں؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے ہمارے حق میں سے کچھ نجف اشرف میں وکیلوں کو دے دیا ہے۔ میں نے عرض کی کہ جو کچھ میں ادا کرچکا ہوں کیا وہ قبول ہے؟ انہوں نے کہا ہاں قبول ہے‘ میرے دل میں آیا کہ یہ بزرگوار علمائ کرام کو اپنا وکیل بتا رہے ہیں اور یہ بات مجھے کچھ اچھی معلوم نہ ہوئی تب میں نے پوچھا کہ کیا علمائ کرام سہم سادات وصول کرنے میں وکیل ہوسکتے ہیں؟ اس کے بعد مجھ پر غفلت سی طاری ہوگئی اور میں اس سوال کا جواب دریافت نہ کرسکا۔ اس اثنائ میں انہوں نے فرمایا کہ میرے جد بزرگوار کی زیارت کے لیے واپس چلے چلیں پس میں زیارت کیلئے ان کے ساتھ واپس پلٹا اور وہ میرا ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر چل پڑے میں نے راہ چلتے میں دیکھا کہ ایک نہر ہے جس میں صاف شفاف پانی جاری ہے اور لیموں نارنگی اور انگور کے درخت اور بیلیں موجود ہیں جن کا موسم نہیں ہے میں نے ان سے پوچھا کہ یہ نہر اور دخت کیسے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے محبوں میں سے جو شخص ہمارے جد بزرگوار کی اور ہماری زیارت کے لئے جائے یہ ان کے لیے ہیں۔ اس پر میں نے عرض کی کہ میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں پوچھیں میں نے کہا کہ شیخ عبد الرزاق مرحوم ایک عالم ومدرس تھے ایک دن میں ان کے پاس گیا تو سنا وہ فرمارہے تھے! کہ جو شخص زندگی بھر راتوں کو عبادت کرتا رہے اور دنوں میں روزے رکھے چالیس حج وعمرہ بجالا ئے اور صفاو مروہ کے درمیان فوت ہوجائے لیکن اگر وہ امیر المؤمنین- کے محبوں میں سے نہ ہو تو اسے ان عبادتوں کا کچھ بھی اجر نہیں ملے گا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں قسم بخدا اسے کچھ نہیں ملے گا‘ پھر میں نے اپنے عزیزوں میں سے ایک کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ امیر المؤمنین- کے محبوں میں سے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں اور وہ بھی جو آپ کے متعلقین میں سے ہیں میں نے کہا کہ میرے سردار ایک مسئلہ پوچھتاہوں آپ نے فرمایا پوچھیں تب میں نے عرض کی کہ امام حسین - کی روضہ خوانی کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سلیمان اعمش کے پاس آیا اور اس نے امام حسین- کی زیارت کے متعلق پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ یہ بدعت ہے ۔ اس نے خواب میں زمین وآسمان کے درمیان ایک ہودج ( نور کی عماری )دیکھا تو پوچھا کہ اس میں کون ہے؟ اسے بتایا گیا کہ اس میں بی بی فاطمہ زہراعليهالسلام اور بی بی خدیجۃ الکبریعليهالسلام ہیں اس نے پوچھا کہ یہ کہاں جارہی ہیں؟ جواب ملا کہ آج شب جمعہ ہے تو یہ اپنے فرزند امام حسین- کی زیارت کرنے جارہی ہیں پھر اس نے دیکھا کہ ہودج ( نور کی عماری)میں سے بہت سے کاغذ گر رہے ہیں جن پر تحریر ہے کہ شب جمعہ میں امام حسین- کی زیارت کرنے والے کے لیے قیامت کے روز آگ سے امان ہے تو کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں یہ بالکل صحیح ہے میں نے عرض کی میرے آقا کیا یہ صحیح ہے کہ جو شخص شب جمعہ میں امام حسین- کی زیارت کرے اس کیلئے آگ سے امان ہے انہوں نے فرمایا ہاں قسم بخدا یہ بالکل صحیح ہے میں نے دیکھا کہ اس وقت ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور وہ گر یہ کر رہے ہیں میں نے کہا مجھے کچھ اور بھی پوچھنا ہے تو انہوں نے فرمایا ہاں پوچھیں میں نے کہا کہ ہم نے ۹۶۲۱ ھ میں امام علی رضا - کی زیارت کی تو مقام درود پر ایک عرب سے ہماری ملاقات ہوئی جو نجف اشرف کی مشرقی جانب کے دیہاتیوںمیں سے تھا۔ ہم نے اسے اپنا مہمان بنایا اور دوران گفتگو اس سے پوچھا کہ امام علی رضا - کا ملک کیسا ہے؟ اسنے کہا کہ یہ توجنت ہے مجھے یہاں رہتے ہوئے آج پندرہ دن ہو رہے ہیں اور میں حضرت کے مہمان خانے سے کھانا کھا رہا ہوں تو منکر نکیر کی کیا جرات ہے کہ وہ میری قبر میں آئیں جب کہ میرا گوشت پوست امام علی رضا - کے مہمان خانے کے کھانے سے پرورش پا چکا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے کہ امام علی رضا - اس کے پاس قبر میں تشریف لا کر اس کو منکر نکیر سے چھڑا لیں گے؟ انہوں نے فرمایا ہاں قسم بخدا کہ میرے جد اس شخص کے ضامن ہیں‘ میں نے کہا ایک چھوٹا سا سوال اور بھی ہے انہوں نے کہا کہ پوچھیں میں نے عرض کی کہ میری وہ زیارت امام علی رضا - قبول ہے تو فرمایا کہ قبول ہے انشائ اللہ! میں نے کہا اے میرے مولا ایک اور سوال ہے تو فرمایا بسم اللہ پوچھیں‘ میں نے عرض کی کہ حاجی محمد حسین بزاز باشی ولد حاجی احمد بزاز باشی مرحوم جو اس زیارت میں میرے ہمراہی اور ہم خرچ تھے کیا ان کی زیارت قبول ہے یا نہیں انہوں نے فرمایا ہاں اس عبد صالح کی زیارت بھی قبول ہے ۔ میں نے پوچھا کہ بغداد کا فلاں شخص جو ہمارا ہمسفر تھا کیا اس کی زیارت قبول ہے یا نہیں تو وہ خاموش ہو گئے میں نے دوبارہ پوچھا کہ اس کی زیارت قبول ہے یا نہیں تو بھی انہوں نے کچھ جواب نہ دیا‘ حاجی علی بغدادی کا بیان ہے کہ وہ شخص بغداد کے مالدار افراد میں سے ایک تھا جو سفر زیارت میں کھیل تفریح کے کاموں میں مصروف رہتا تھا اور میں نے جس کے بارے میں سوال کیا تھا اس نے اپنی ماں کو قتل بھی کیا ہوا تھا۔ اس کے بعد ہم ایک کھلی سڑک پر پہنچے جس کے دونوں طرف باغات ہیں اور یہ کاظمین کے قریب وہ جگہ ہے جہاں بغداد کے باغات ان باغوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں وہ جگہ ایک یتیم سید کی تھی جس کو حکومت نے سڑک میں شامل کر لیا تھا اور کاظمین کے متقی و پرہیزگار لوگ سڑک کے اس حصے پر نہیں چلتے تھے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ وہ بزرگ اس جگہ پر چل رہے تھے میں نے عرض کی کہ اے میرے آقا یہ ایک یتیم سید کی جگہ ہے جسے استعمال کرنا درست نہیں ہے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ جگہ میرے جد امیر المومنین- کی ان کی اولاد اور ہماری اولاد کی ہے لہذا ہمارے محبوں کے لیے اس کا استعمال حلال ہے۔ اس جگہ کے نزدیک حاجی میرزا ہادی کا ایک باغ تھا جو عجم کے معروف مالداروں میں سے ہیں اور آجکل بغداد میں سکونت پذیر ہیں ‘ میں نے اس باغ کے بارے میں پوچھا کہ مشہور ہے کہ یہ امام موسیٰ کاظم - کا ہے کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے فرمایا آپ کو اس سے کیا غرض اور اس بارے میں مزید کچھ نہ کہا‘ اتنے میں ہم دجلہ کے اس مقام پر پہنچ گئے جہاں سے باغوں اور کھیتوں کے لیے پانی لیا جاتا ہے۔ وہاں سے دو راستے شہر کاظمین کو جاتے ہیں کہ ایک سلطانی اور دوسرا سادات کے نام سے مشہور ہے‘ انہوں نے سادات کے راستے پر چلنا شروع کیا تو میں نے کہا سلطانی راستے سے چلیں اس پر انہوں نے فرمایا کہ ہم اسی راستے سے جائیں گے‘ تھوڑا سا راستہ ہی چلے تھے کہ ہم صحن مبارک میں جہاں جوتے اتارے جاتے ہیں اس کے پاس پہنچ گئے جب کہ ہم کسی کوچہ و بازار سے نہ گزرے تھے۔ ہم مشرق کی جانب واقع باب المراد سے ایوان مبارک میں داخل ہوئے‘ وہ بزرگ رواق میں نہیں ٹھہرے اور اذن دخول بھی نہیں پڑھا بلکہ سیدھے حرم میں داخل ہوگئے‘ اور مجھ سے فرمایا کہ زیارت پڑھیں میں نے عرض کی کہ میں پڑھا ہوا نہیں تو انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کو زیارت پڑھائوں؟ میں نے کہا ہاں پڑھایئے تب آپ نے فرمایا:
ئَ أَدْخُلُ یَاﷲ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ ﷲ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا اَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ
کیا میں داخل ہوجائوں اے اللہ آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسول آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے امیر۔
اسی طرح انہوں نے ائمہ میں سے ہر امام کا نام لے کر انہیں سلام کیا یہاں تک کہ امام حسن عسکری - کی نوبت آئی تو فرمایا:
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا اَبَا مُحَمَّدِ الْحَسَنَ الْعَسْکَرِی
آپ پر سلام ہو اے ابو محمد حسن العسکریعليهالسلام ۔
پھر مجھ سے کہا کہ آیا آپ اپنے زمانے کے امام کو پہنچاتے ہو؟ میں نے کہا کیوں نہ پہچانوں گا انہوں نے فرمایاامام زمان (عج)کو سلام پیش کریں چنانچہ میں نے کہا:
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ یَا بْنَ الْحَسَنِ
آپ پر سلام ہو اے حجت خدا اے صاحب زمان اے حسنعليهالسلام کے فرزند۔
اس پر وہ بزرگ مسکرائے اور فرمایا:عَلَیْکَ اَلسَّلاَمُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُه ،
تم پر بھی سلام ہو خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
اس کے بعد ہم حرم مطہر میں داخل ہوگئے ضریح مقدس کو سینے سے لگایا اور اس پر بوسہ دیا‘ ان بزرگ نے مجھ سے کہا کہ زیارت پڑھیں میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘ انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کو زیارت پڑھائوں؟ میںنے عرض کی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ آپ کونسی زیارت پڑھنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا کہ جو زیارت افضل ہے مجھے وہی پڑھوائیں‘ انہوں نے فرمایا کہ زیارت امین ﷲ افضل ہے اور پھر زیارت پڑھنے میں مشغول ہوگئے اور فرمایا:
اَلسََّلاَمُ عَلَیْکُمَا یَااَمِیْنَیِ ﷲ فِیْ اَرْضِهٰ وَحُجَّتَیْه عَلَیٰ عِبَادِهِ الخ
سلام ہو آپ دونوں پر اے خدا کی زمین میں اس کے امانتدارو اور اس کے بندوں پر اس کی حجت۔
تاآخر زیات امین ﷲ پڑھی اور عین اسی وقت حرم شریف کے چراغ جلادئے گئے میں دیکھ رہا تھا کہ شمعیں روشن ہیں لیکن حرم مطہر کسی اور نور سے جگمگا رہا تھا۔ جو سورج کی روشنی کی مانند تھا کہ جو شمعیں جل رہی تھیں وہ یوں لگتی تھیں جیسے سورج کے سامنے چراغ جلایا گیا ہو‘ لیکن مجھ پر اتنی غفلت چھائی ہوئی تھی کہ میں ان علامات کی طرف متوجہ نہ ہو رہا تھا۔ جب وہ بزرگ زیارت سے فارغ ہوئے تو پائنتی کی جانب مشرق کی سمت کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ آپ میرے جد بزرگوار امام حسین- کی زیارت کرنا چاہتے ہیں میں نے کہا شب جمعہ ہے لہذا میں حضرت کی زیارت کرنا چاہتا ہوں تب آپ نے زیارت وارث پڑھی اور اس اثنائ میں مؤذن مغرب کی اذان دے چکے تھے آپ نے مجھ سے فرمایا کہ جائیں اور جماعت کے ساتھ نماز مغرب ادا کریں‘ وہ اس وقت اس مسجد میں آئے جو روضہ مبارک کے سرہانے کی طرف ہے وہاں جماعت ہورہی تھی اور انہوں نے امام کے دائیں پہلو ہوکر فرادیٰ نماز پڑھی ۔ میں پہلی صف میں جماعت کے ساتھ شامل ہوگیا جب میں نماز سے فارغ ہوا تو ان کو وہاں نہیں دیکھا میںمسجد سے نکلا اور حرم مبارک میں انہیں ڈھونڈنے لگا لیکن انہیں نہ پایا جب کہ میرا خیال تھا ان سے مل کر انہیں کچھ رقم دوں اور رات کو انہیں اپنے پاس ٹھہرائوں تاہم اس وقت میری آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹا اور میں ان بزرگوار کے سبھی معجزوں کی طرف توجہ کرنے لگا کہ کیسے میں ان کی اطاعت کرتے ہوئے اپنا کام چھوڑ کر بغداد سے واپس آیا‘ ان کا مجھے نام لے کر پکارنااپنے محبوںکی شہادت دینا اس نہر او ر درختوں پر بے موسم کے میوؤں کا دیکھاجانا وغیرہ کہ جن کے باعث مجھے یقین ہوگیا کہ وہ میرے امام مہدی(عج) تھے پھر اذن دخول میں امام حسن عسکری - کے بعد ان کا مجھ سے پوچھنا کہ اپنے زمانے کے امام کو جانتے ہو؟ اور یہ فرمانا کہ ان کو سلام کرو اور میرے سلام پیش کرنے کے بعد ان کا مسکرانا اور جواب میں وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ کہنا وغیرہ تمام علامات میرے امام العصر (عج)ہی کی تھیں میں جوتے رکھنے کی جگہ پر آیا اور ان لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ باہر چلے گئے ہیں اور پوچھا کہ کیا وہ بزرگوار سید آپ کے ہمراہی تھے؟ میں نے کہ ہاں۔ اس کے بعد میں نے وہ شب اپنے سابق میزبان کے ہاں آکر گزاری اور صبح ہوئی تو میں شیخ محمد حسن قبلہ کی خدمت میں پہنچا اور جو واقعات گزرے تھے وہ سب ان کے گوش گزار کیے تو انہوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر مجھے اس قصہ اور اس راز کو اظہار کرنے سے منع فرمایا اور کہا کہ خدا آپ کو توفیق دے۔ چنانچہ اس واقعہ کے ایک ماہ بعد تک میں نے اس واقعہ سے کسی کو مطلع نہیں کیا تھا لیکن ایک روز جب میں حرم کاظمین میں دوبارہ گیا تو وہاں ایک سید بزرگوار کو دیکھا اور انہوں نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ فلاں دن کیا واقعہ ہوا تھا؟ میں نے عرض کی کہ میں نے تو اس روز کوئی چیز نہیں دیکھی تھی‘ انہوں نے پھر پوچھا تو بھی میں نے واضح طو پر انکار کیا تب وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہوگئے اور اس کے بعد میں نے انہیں کہیں نہیں دیکھا۔
دوسرا مطلب
مسجد براثا میں جانا اور وہاں نمازپڑھنا
واضح ہو کہ مسجد براثا ایک مشہور اور بابرکت مسجد ہے جو بغداد اور کاظمین کے درمیان زائرین کے راستے میںواقع ہے لیکن اکثر زائرین اس کے فیض وبرکت سے محروم رہ جاتے ہیں حالانکہ اس کے بہت سے فضائل وخصائص نقل ہوئے ہیں ۶۰۰ ھ کے مورخین میں سے حموی نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ براثا بغداد کا ایک محلہ تھا جوباب محول کے جنوب میں واقع تھااور محلہ کرخ سے قبلہ کی جانب تھا۔ اس میں شیعوں کی ایک مسجد تھی جس میں وہ نما زپنجگانہ ادا کرتے تھے تا ہم بعد میں وہی مسجد غیر آباد ہو گئی عباسی خلیفہ راضی باللہ کے زمانے سے پہلے شیعہ یہاں جمع ہو تے اور تبرا کرتے تھے یہاں تک کہ راضی باللہ کے حکم سے فوجی اس مسجد پر چڑھ دوڑے اور جسے وہاں پایا گرفتار کرلیا اور قید میں ڈال دیا اورمسجد کو گراکر زمین کے برابر کردیا شیعوں نے اس واقعہ سے بغداد کے حاکم حکم ماکانی کو مطلع کیا تو اس نے حکم دیا کہ اس مسجد کو وسیع ومضبوط شکل میں دوبارہ تعمیر کیا جائے چنانچہ مسجد تعمیر ہوگئی اور اس نے اس کے صدر دروازے پر خلفیہ راضی باللہ کا نام نقش کرادیا‘ اس وقت سے لے کر ۴۵۰ھ تک یہ مسجد آباد رہی اور اس میں نماز با جماعت ادا کی جاتی تھی لیکن ۴۵۰ھ کے بعدیہ مسجد پھر مسمار وغیر آباد ہوگئی آجکل یہ مسجدعالیشان عمارت کے ساتھ دوبارہ تعمیر ہوچکی ہے شیعہ مسلمانوں نے اسے بطریق احسن آباد کیا ہوا ہے اور بہت سے زائروہاں جاکر اعمال بجالاتے ہیں )
براثا شہر بغداد کے آباد ہونے سے پہلے ایک گاؤں تھا جس کے بارے میں لوگوں کا گمان ہے کہ خوارج سے جنگ کیلئے نہروان جاتے ہوئے امیر المؤمنین- یہاں سے گزرے اور آپ نے اس مسجد میں نماز ادا فرمائی نیز اس آبادی کے حمام میں آپ نے غسل بھی کیا تھا۔ مقام براثا ابو شعیب براثی سے منسوب ہے جو ایک عابد وزاہد شخص تھے اور وہی پہلے شخص ہیں جو براثا میں ایک جھونپڑی ڈال کر یہاں سکونت پذیر ہوئے اور اپنے وقت آخر تک یہاں عبادت کرتے رہے۔ ایک بہت ہی دولت مند شخص کی بیٹی جو عالیشان محلوں میں پلی بڑھی تھی‘ وہ اس جھونپڑی کے پاس سے گزری تو اسے ابو شعیب کی یہ حالت وکیفیت بڑی پسند آئی اور ان کی محبت اس کے دل میں جاگزیں ہوئی کہ وہ ان کی محبت کی اسیر ہوکر ان کے قریب آبیٹھی اور کہنے لگی کہ میں آپ کی خدمت میں رہنا چاہتی ہوں انہوں نے کہا میں تجھے اس شرط پر قبول کرتا ہوں کہ اپنی اس موجودہ شان وشوکت کو ترک کردے پس اس نیک بخت خاتون نے اس بات کو منظور کرتے ہوئے عبادت گزاروں کا لباس اختیار کیا تب ابو شعیب نے اس سے نکاح کرلیا جب وہ خاتون جھونپڑی میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ ابو شعیب نے نمی کے اثر سے بچنے کے لیے نیچے ایک چٹائی بچھا رکھی ہے وہ کہنے لگی کہ اگر آپ نے اس چٹائی کو اپنے نیچے سے ہٹا کر باہر نہ پھینکا تو میں آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی کیونکہ میں نے آپ ہی کی زبانی سن رکھا ہے کہ زمین کہتی ہے اے آدم کے بیٹے! تو میرے اور اپنے درمیان پردہ وحجاب ڈالتا ہے جب کہ کل کو تو میرے ہی پیٹ میں آنے والا ہے پس ابو شعیب نے وہ چٹائی اٹھا کر باہر پھینک دی اور پھر اپنی وفات تک اس نیک دل خاتون کے ساتھ بسر کرتے رہے جب کہ اس عرصے میں وہ دونوں بہترین طریقے سے خدا کی عبادت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ دونوں کی وفات ہو گئی ۔
مؤلف کہتے ہیں: ہم نے ہدیۃ الزائرین میں اس مسجد کے فضائل میں بہت سی روایتیں نقل کی ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ ان اخبار وروایات سے اس مسجد کی ایسی بہت سی فضیلتیں معلوم ہوتی ہیں کہ اگر کسی مسجد میں یہ فضلیتیں پائی جائیں تو وہ اس لائق ہوجاتی ہے کہ انسان دور دراز کی مسافتیں طے کرکے اس مسجد میں نماز ودعا سے فیض یاب ہو اور یہ مسجد براثا درج ذیل بہت سی فضیلتیں رکھتی ہے۔
( ۱ ) خدا کی طرف سے یہ مقرر کیا گیا ہے کہ سوائے پیغمبر اور وصی پیغمبر کے کوئی اور بادشاہ لشکر کے ہمراہ اس سرزمین پر نہیں اترے گا۔
( ۲ )حضرت مریم صدیقہ = کے گھر کا اس جگہ واقع ہونا۔
( ۳ ) یہ حضرت عیسی ٰ - کی سرزمین ہے۔
( ۴ )یہ وہی جگہ ہے جہاں بی بی مریم =کیلئے چشمہ ظاہر ہوا۔
( ۵ )اس چشمے کو امیر المؤمنین- کا دوبارہ ظاہر کرنا۔
( ۶ ) یہاں ایک بابرکت سفید پتھر کا ہونا جس پر حضرت مریم = نے حضرت عیسیٰ - کو لٹایا تھا۔
( ۷ ) اسی پتھر کا امیر المؤمنین- کے معجزے سے دوبارہ نکالنا آپ کا اسے قبلہ کی سمت نصب کرنا اور اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا۔
( ۸ ) امیر المؤمنین- اور آپ کے دو فرزند ان امام حسن وامام حسینعليهالسلام کا اس مسجد میں نماز ادا کرنا ۔
( ۹ )اس مقام کی بزرگی وتقدس کے پیش نظر امیر المؤمنین- کا یہاں چار دن تک ٹھہرنا۔
(۱۰)پیغمبروں کا یہاں نماز ادا کرنا اور خصوصا حضرت ابراہیم - کا اس مسجد میں نماز پڑھنا۔
( ۱۱ )یہاں ایک پیغمبر کی قبر کا واقع ہونا اور شاید وہ حضرت یوشع -کی قبر ہے کیونکہ شیخ مرحوم کا ارشاد ہے کہ آپ کی قبر کاظمین کے باہر براثا کے سامنے ہے۔
(۱۲)اسی مقام پر حضرت امیرالمؤمنین- کیلئے سورج پلٹا اس مسجد کی اتنی فضیلتوں اور یہاں خدا کی اتنی نشانیوں کے ظہور اور اس مقام پر امیر المؤمنین- سے اس قدر معجزوں کے ظاہرہونے کے باوجودمعلوم نہیں کہ ہزاروں زائرین میں سے کوئی ایک اس مسجد میں جاتا ہو حالانکہ یہ ان کے راستے میں ہے اور وہ آنے جانے میں دو مرتبہ اس مسجد کے پاس سے گزرتے ہیں۔ اگر کوئی زائر اس مسجد سے فیض حاصل کرنے وہاں چلا جائے اور وہاں جاکر دروازہ مسجد کو بند پائے تو دروازہ کھلوانے کیلئے تھوڑی سی رقم خرچ کرنے سے کتراتا ہے اور خود کو بہت سے فیوض وبرکات سے محروم رکھتا ہے لیکن بغداد اور اس میں واقع ظالموں کی بنائی ہوئی عمارتوں کی سیر کرنے اور نجس وناپاک لوگوں سے فضول چیزیں خرید نے کو اپنے سفر زیارت کا حصہ تصور کرتا ہے اور ان کا موں میں بے باکی سے مال خرچ کرتا ہے اللہ ہی نیکیوں کی توفیق دینے والا ہے۔
تیسرا مطلب
نوابِ اربعہ کی زیارت
امام العصر (عج ) کے چار خاص نمائندے و نائب ہیں انہیں نواب اربعہ کہا جاتا ہے اور وہ ابو عمر عثمان بن سعید اسدی‘ ابو جعفر محمد بن عثمان اسدی‘ ابو القاسم حسین بن روح نوبختی اور شیخ ابوالحسن علی بن محمد سمری ہیں۔ زائرین جب تک کاظمین شریفین کے حرم میں رہیں ان پر امام العصر -کے ان نواب اربعہ کی زیارت کے لیے بغداد جانا ضروری ہے کیونکہ ان میں سے ہر نائب خاص اگر دور کے شہروں میں سے کسی شہر میں دفن ہوتا تو بھی سفر کی تکالیف اٹھا کر ان کی زیارت سے فیض خاص کرنے کے لیے وہاں جانا چاہئے تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آئمہ کے خاص صحابہ میں سے کوئی بھی ان کی بزرگی اور مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا کیونکہ تقریباستر سال کی مدت تک یہ نیابت و سفارت کے مقام پر فائز رہ کر امام اور مومنین کے درمیان واسطہ بنے رہے اور ان کے ہاتھوں بہت سی کرامات ظاہر ہوئیں یہاں تک کہ بعض علمائ کرام ان نائبین خاص کی عصمت کے بھی قائل ہو گئے ہیں۔ یہ بات مخفی نہ رہے کہ جب یہ بزرگان اپنی دنیاوی زندگی میں امام العصر (عج) اور ان کی رعایا کے دمیان واسطہ و وسیلہ تھے اور ان کے ذریعے لوگوں کے عریضے اور حاجت سرکار کے سامنے پیش ہوتے تھے تو اب موت کے بعد بھی وہ اس اعلیٰ منصب پر فائزہیں اور انہیں وہی مقام حاصل ہے لہذا اب بھی حاجات و مشکلات کے بارے میں مومنوں کے خطوط و عرائض امام الزمان - تک پہنچا سکتے ہیں اور یہ چیز اپنے مقام پر مسلم و ثابت ہے۔ المختصر ان کے فضائل اور مناقب بہت زیادہ اور قابل ذکر ہیں لیکن زائرین محترم کو ان کی زیارت کی طرف رغبت دلانے کے لئے اتنی مقدار کافی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے ۔
نواب اربعہ کی زیارت کا طریقہ
جیسا کہ شیخ طوسیرحمهالله نے تہذیب اور سید بن طائوسرحمهالله نے مصباح الزائر میں تحریر فرمایا ہے اور انہوں نے نواب اربعہ کی زیارت کے اس طریقے کی نسبت ابوالقاسم حسین بن روح کی طرف دی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ان نائبین کی زیارت میں سب سے پہلے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ پر سلام بھیجے اور اسکے بعد امیر المومنین- بی بی خدیجہ الکبریٰ ،بی بی فاطمۃ الزہرا، امام حسن و امام حسین پر اور پھر ہر امام پر سلام بھیجے یہاں تک کہ امام العصر پر سلام بھیجے پھر آپ کے چار نائبین پر سلام بھیجے کہے السلام علیک یا فلان بن فلان اور فلان بن فلاں کی بجائے ہر نائب کا نام اور اسکے والد کا نام لے اور پھر کہے:
السَّلام ُعَلَیْکَ یَا فُلانَ بْنَ فُلانٍ أَشْهَدُ أَنَّکَ بَابُ الْمَوْلَی، أَدَّیْتَ عَنْهُ وَأَدَّیْتَ إلَیْهِ، مَا
سلام ہو فلان بن فلان میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ مولا کا دروازہ ہیں آپ نے ان کا فرمان پہنچایا اور ان تک بات پہنچائی آپ نے
خَالَفْتَهُ وَلاَ خَالَفْتَ عَلَیْهِ، قُمْتَ خاصّاً، وَانْصَرَفْتَ سابِقاً، جِئْتُکَ عارِفاً بِالْحَقِّ الَّذِی
انکی مخالفت نہ کی اور انکے نام پر غلط بات نہ کہی آپ نیابت خاصہ پر قائم ہوئے اور رہبرو رہنما بنے آپکے ہاں آیا ہوں اس حق کو
أَنْتَ عَلَیْهِ وَأَنَّکَ مَا خُنْتَ فِی التَّأْدِیَةِ وَالسَّفارَةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مِنْ بابٍ مَا أَوْسَعَکَ
پہنچانتے ہوئے جس پر آپ تھے اور بے شک آپ نے کمی نہ کی پیغام رسانی و نمائندگی میں آپ پر سلام ہو اے وسیع و کشادہ باب
وَمِنْ سَفِیرٍ مَا آمَنَکَ، وَمِنْ ثِقَةٍ مَا أَمْکَنَکَ، أَشْهَدُ أَنَّ ﷲ اخْتَصَّکَ بِنُورِهِ حَتَّی
اور وہ نمائندے جو امانتدارو بااعتبار ہیں ثابت قدم ہیں میں گواہی دیتا ہوںکہ خدا نے آپ کو خاص نور دیا جس سے
عَایَنْتَ الشَّخْصَ فَأَدَّیْتَ عَنْهُ وَأَدَّیْتَ إلَیْهِ ۔پھر حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے امام العصر (عج) تک دوبارہ
آپ نے امام کو دیکھا پس ان کی طرف سے بات پہنچائی اور ان تک غرضیں پہنچائیں
سلام بھیجے اور کہے:جِئْتُکَ مُخْلِصاً بِتَوْحِیدِ ﷲ، وَمُوالاةِ أَوْلِیَائِهِ، وَالْبَرَائَةِ مِنْ أَعْدَائِهِ وَمِنَ
آپکے ہاں آیا ہوں جب خدا کی توحید پر خالص ایمان ہے اسکے دوستوں سے سچی دوستی ان کے دشمنوں سے بیزاری اور آپ
الَّذِینَ خالَفُوکَ، یَا حُجَّةَ الْمَوْلیٰ وَبِکَ إلَیْهِمْ تَوَجُّهِی، وَبِهِمْ إلَی ﷲ تَوَسُّلِی
کے مخالفوں سے دوری رکھتا ہوں اے مولا کی حجت میں آپکے ذریعے ان کی طرف مڑا ہوں اور ان کو خدا کے حضور وسیلہ بنایا ہے۔
اس کے بعد دعا مانگے اور جو حاجت بھی رکھتا ہو خدا سے طلب کرے کہ انشائ اللہ پوری ہوگی۔
مؤلف کہتے ہیں: بہت ضروری اور مناسب ہے کہ بغداد میں شیخ اجل ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینیرحمهالله (خدا ان کی قبر کو معطر کرے) کی زیارت بھی کی جائے کہ یہ شیعوں کے وہ عالی مرتبہ محدث ہیں جن کو شیخ اور رئیس الشیعہ کہا جاتا ہے‘ وہ مقام روایت میں بہت معتبر اور پختہ ہیں۔ انہوں نے بیس برس کی طویل محنت کر کے کتب اصول کافی و فروع کافی تالیف کیں جو شیعہ مسلمانوں کے لیے نور بصارت کی حیثیت رکھتی ہیں‘ یقینا ان بزرگوار نے شیعہ افراد اور خاص کر شیعہ علمائ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ ہم نے اپنی کتاب ہدیۃ الزائرین میں ان بہت سارے علمائ کا ذکر کیا ہے جو ائمہ طاہرین کے روضہ ہائے مبارکہ کے جوار میں مدفون ہیں پس جو حضرات ان کے اسمائ گرامی سے واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہوں وہ مذکورہ کتاب کا مطالعہ کریں۔
چوتھا مطلب
حضرت سلمان فارسی کی زیارت
جاننا چاہئے کہ جو زائرین کاظمین جائیںانہیں وہاں سے مدائن جا کر خدا کے نیک و صالح بندے جناب سلمان محمدی کی زیارت کرنا چاہئے جو چار ارکان میں سے پہلے اور صاحب عظمت و بزرگی ہیں جن کے حق میں حضرت رسول اللہ نے فرمایا کہ سلمان(رض) ہم اہل بیتعليهالسلام نبوت میں سے ہیں۔ اور مسلک اہل بیت و نبوت سے وابستہ ہیں آپ کی فضیلت میں نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ بھی فرمایا سلمان(رض) (علم کا) ایک سمندر ہے جو خشک نہ ہو گا اور وہ (علم و ایمان کا) ایک خزانہ ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے یعنی سلمان ہم اہل بیتعليهالسلام میں سے ہیں وہ علم و حکمت بانٹتے اور لوگوں کو دلیل و برہان سے آشنا کرتے ہیں۔ امیر المومنین- نے ان کو لقمان حکیم قرار دیا ہے بلکہ امام جعفر صادق -نے انہیں لقمان حکیم سے افضل شمار فرمایا اور امام محمد باقر - نے ان کو متوسمین یعنی ایمان و جنت کے لیے نشان زدہ افراد میں شامل بتایا ہے‘ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت سلمان اسم اعظم کے حامل اور ان بزرگ ہستیوں میں سے تھے جن کے ساتھ فرشتے ہمکلام ہوتے ہیں نیز وہ ایمان کے دس درجوں میں دسویں درجے پر فائز تھے بلکہ انہیں غیب کی باتوں اور موت آنے کے اوقات کو جاننے میں بھی قدرت تھی۔ جناب سلمان(رض) نے اسی دنیا میں جنت کے میوے تناول کیے‘ جنت ان کی عاشق اور مشتاق تھی۔ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کو بہت عزیز رکھتے تھے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کوجن چار انسانوں سے محبت رکھنے کا حکم ملا تھا جناب سلمانصلىاللهعليهوآلهوسلم ان چار میں سے ایک مردتھے‘ قرآن پاک کی بہت سی آیات ان کی تعریف و توصیف میں نازل ہوئیں‘ جبریلعليهالسلام جب بھی حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کی خدمت میں آتے تو ان سے عرض کرتے کہ سلمان(رض) کو خدائے رحمن کا سلام پہنچائیں انہیں موت آنے کے اوقات اور سختیوں کی آمد کا علم عطا فرمائیں۔ بعض راتیں ایسی ہوتیں جن میں آپ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ خلوت میں رہا کرتے‘ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور امیر المومنین- نے انہیں ایسے اسرار الٰہی کی تعلیم دی تھی جن کو ان کے علاوہ کوئی سنبھال نہ سکتا تھا‘ وہ اس بلند تر درجے پر پہنچ گئے تھے کہ انکے متعلق امام جعفر صادق - نے فرمایا کہ سلمان پاک(رض) نے علم اول و آخر حاصل کر لیا ہے اور وہ ایک ایسا سمندر ہے جو کبھی خشک نہ ہو گا اور یہ کہ وہ ہم اہل بیتعليهالسلام میں سے ہے یہاں ہم نے حضرت سلمان(رض) کے جو تھوڑے سے فضائل نقل کیے ہیں وہ اہل ایمان کو ان کی زیارت کا شوق دلانے کے لیے کافی ہیں‘ تمام صحابہ کرام میں ان کو ایک خاص امتیاز ملا ہے کہ امیر المومنین- ان کے غسل و کفن کے لیے معجزانہ طور پر مدینہ منورہ سے مدائن تشریف لے گئے اوراپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں غسل و کفن دیا ان کی نماز جنازہ پڑھائی جب کہ فرشتوں کی ان گنت صفیں آپ کے پیچھے کھڑی تھیں جبکہ اسی شب آپ واپس مدینہ لوٹ آئے ان کی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدعليهالسلام کے ساتھ محبت و مودت اور ان کے اقوال و افعال کی سچی پیروی کا ثمرہ دیکھیں کہ حضرت سلمان (رض) کو کتنا بلند و بالا مرتبہ حاصل ہو گیا۔
کیفیت زیارت سلمان فارسی(رض)
سید بن طائوسرحمهالله نے مصباح الزائر میں حضرت سلمان(رض) کی چار زیارتیں نقل کی ہیں ‘ یہاں ہم ان بزگوار کے لیے ان میں سے پہلی زیارت نقل کر رہے ہیں اور ہم نے ہدیہ میں چوتھی زیارت نقل کی ہے جس کو شیخ نے تہذیب میں نقل کیا ہے پس جب اس مقدس صحابی کی زیارت کرنا چاہے تو ان کی قبر شریف کے قریب قبلہ رخ کھڑے ہو کر یہ زیارت پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ ﷲ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِﷲ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ
سلام ہو خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت محمد بن عبداللہ پر جو خاتم الانبیائ ہیں سلام ہو مومنوں کے امیر پر جو
سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی آلاَءِمَّةِ الْمَعْصُومِینَ الرَّاشِدِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْمَلائِکَةِ
اوصیائ کے سردار ہیں سلام ہو معصوم اماموں پر جو ہدایت دینے والے ہیں سلام ہو خدا کے مقرب
الْمُقَرَّبِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَاحِبَ رَسُولِ ﷲ الْاََمِینِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ أَمِیرِ
فرشتوں پر سلام ہو آپ پر اے خدا کے امین رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی و ساتھی آپ پر سلام ہو اے امیر المومنینعليهالسلام کے
الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُودَعَ أَسْرَارِ السَّادَةِ الْمَیامِینِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بَقِیَّةَ ﷲ
دوست آپ پر سلام ہوکہ جن کو بابرکت آقائوں نے صاحب اسرار بنایا سلام ہو آپ پر کہ زمانہ ماضی کے نیکور کاروں میں سے
مِنَ الْبَرَرَةِ الْمَاضِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ، أَشْهَدُ أَنَّکَ
خدا کے مخصوص ہیں آپ پر سلام ہو اے ابو عبدﷲعليهالسلام خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی
أَطَعْتَ ﷲ کَما أَمَرَکَ، وَاتَّبَعْتَ الرَّسُولَ کَمَا نَدَبَکَ، وَتَوَلَّیْتَ خَلِیفَتَهُ کَما أَلْزَمَکَ،
اطاعت کی جیسے اس نے حکم فرمایا آپ نے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ایسی پیروی کی جیسی چاہیے تھی آپ نے خلیفہ رسول کی ولایت قبول کی جو لازم تھی
وَدَعَوْتَ إلَی الاهْتِمامِ بِذُرِّیَّتِهِ کَمَا وَقَفَکَ وَعَلِمْتَ الْحَقَّ یَقِیناً وَاعْتَمَدْتَهُ کَمَا أَمَرَکَ
آپ نے اولاد رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقام بیان کیا جو انہوں نے آپکو بتایا تھا آپ نے حق کویقین کیساتھ سمجھا اور اس پر بھروسہ کیا جیسے آپکو حکم ہوا تھا
وأَشْهَدُ أَنَّکَ بابُ وَصِیِّ الْمُصْطَفیٰ وَطَرِیقُ حُجَّةِ ﷲ الْمُرْتَضیٰ وَأَمِینُ ﷲ فِیمَا
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وصی مصطفی سے تعلق کا ذریعہ ہیں خدا کی پسندیدہ حجت تک پہنچنے کا راستہ ہیں اور آپ خدا کے امانتدار ہیں
اسْتُوْدِعْتَ مِنْ عُلُومِ الْاََصْفِیَائِ أَشْهَدُ أَنَّکَ مِنْ أَهْلِ بَیْتِ النَّبِیِّ النُّجَبَائِ الْمُخْتَارِینَ
پاکبازوں کے علوم میں جو آپ کے سپرد ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ان اہل بیت میں سے ہیں جو نسل واصل میں بلند اور وصی رسول کی
لِنُصْرَةِ الْوَصِیِّ ، أَشْهَدُ أَنَّکَ صاحِبُ الْعاشِرَةِ ، وَالْبَراهِینِ وَالدَّلایِلِ الْقاهِرَةِ،
نصرت کیلئے چنے گئے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ایمان کے دس درجوں کے مالک اور اسکی قوی دلیلوں اور ثبوتوں کے حامل ہیں
وَأَقَمْتَ الصَّلاةَ ، وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَأَدَّیْتَ
آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا آپ نے امانت
الْاََمانَةَ، وَنَصَحْتَ لِلّٰهِ وَلِرَسُولِهِ، وَصَبَرْتَ عَلَی الْاََذیٰ فِی جَنْبِهِ حَتَّی أَتَاکَ
ادا کی آپ نے خدا اور اسکے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کیلئے خیر اندیشی کی اور انکی خاطر تکلیفوں پر صبرکرتے رہے یہاں تک کہ آپ کی
الْیَقِینُ لَعَنَ ﷲ مَنْ جَحَدَکَ حَقَّکَ وَحَطَّ مِنْ قَدْرِکَ لَعَنَ ﷲ مَنْ آذاکَ
وفات ہو گئی خدا کی لعنت اس پر جس نے آپکے حق کا انکار کیا اور آپکی شان کم تصور کی خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپکے دوستوں
فِی مَوالِیکَ لَعَنَ ﷲ مَنْ أَعْنَتَکَ فِی أَهْلِ بَیْتِکَ، لَعَنَ ﷲ مَنْ لامَکَ فِی
کے بارے میں آپ کو ایذا دی خدا لعنت کرے اس پرجس نے آپ کے خاندان کے متعلق آپ کو رنجیدہ کیا خدا لعنت کرے اس پر
سَادَاتِکَ، لَعَنَ ﷲ عَدُوَّ آلِ مُحَمَّدٍ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنَ
جس نے آپکے سرداروں کے بارے میں آپکو طعنہ دیا خدالعنت کرے آلعليهالسلام محمد کے دشمن پر جو جنوں اور انسانوں میں سے ہیں اور
الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَضاعَفَ عَلَیْهِمُ الْعَذابَ الْاََلِیمَ صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ،
اولین و آخرین میں سے ہیں اور دگنا کرے ان پر دردناک عذاب کو آپ پر خدا رحمت کرے اے ابو عبداللہ آپ پر
صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ یَا صاحِبَ رَسُولِ ﷲ وَعَلَیْکَ یَا مَوْلی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ،
خدا رحمت کرے اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھی ان پر خدا رحمت کرے اور انکی آلعليهالسلام پر خدا رحمت کرے اے امیر المومنینعليهالسلام کے دوست
وَصَلَّی ﷲ عَلَی رُوحِکَ الطَّیِّبَةِ، وَجَسَدِکَ الطَّاهِرِ، وَأَلْحَقَنا بِمَنِّهِ
اور آپکی شفاف روح پر خدا رحمت کرے اور آپکے پاکیزہ بدن پر خدا رحمت کرے اور اپنے احسان و کرم سے ہمیں آپ سے ملا دے
وَرَأْفَتِهِ إذا تَوَفَّانا بِکَ وَبِمَحَلِّ السَّادَةِ الْمَیامِینِ وَجَمَعَنا مَعَهُمْ بِجِوارِهِمْ فِی جَنَّاتِ
دے جب ہم مریں اور ہمیں برکت والے آقائوں کے مکان میں پہنچائے ہمیں ان کے ساتھ ان کے قریب نعمتوں والی جنت میں
النَّعِیمِ صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی إخْوانِکَ الشِّیعَةِ الْبَرَرَةِ مِنَ
ملا دے آپ پر خدا رحمت کرے اے ابو عبداللہ اور آپ کے نیک اطوار شیعہ بھائیوں پر خدا رحمت کرے جو پہلے والے بابرکت
السَّلَفِ الْمَیامِینِ، وَأَدْخَلَ الرَّوْحَ وَالرِّضْوانَ عَلَی الْخَلَفِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ، وَأَلْحَقَنا
لوگوں میں سے ہیں اور خدا مسرت و خوشنودی نصیب کرے بعد میں آنے والے مومنوں کو اور ہمیں
وَ إیَّاهُمْ بِمَنْ تَوَلاَّهُ مِنَ الْعِتْرَةِ الطَّاهِرِینَ وَعَلَیْکَ وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
اور انہیں ان تک پہنچائے جو پاکیزہ عزت میں اسکے پیارے ہیں پس آپ پر اور ان پر سلام ہو خدا کی رحمت اور اسکی برکات ہوں۔
اس کے بعد سات مرتبہ سورہ قدر پڑھے اور جس قدر چاہے مستحب نمازیں بجا لائے:
مؤلف کہتے ہیں: جب حضرت سلمان(رض) کے مزار سے واپس جانا چاہے تو قبر مبارک کے قریب جائے اور وداع کرتے ہوئے وہ دعائے وداع پڑھے جسے سید نے زیارت چہارم کے آخر میں لکھا ہے وہ یہ ہے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ، أَنْتَ بابُ ﷲ الْمُؤْتیٰ مِنْهُ وَالْمَأْخُوذُ عَنْهُ، أَشْهَدُ أَنَّکَ
آپ پر سلام ہو اے ابو عبداللہ آپ وہ دروازہ ہیں جس سے خدا دیتا ہے اور وہاں سے لیا جاتاہے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے حق
قُلْتَ حَقّاً، وَنَطَقْتَ صِدْقاً، وَدَعَوْتَ إلی مَوْلایَ وَمَوْلاکَ عَلانِیَةً وَسِرّاً، أَتَیْتُکَ زائِراً
بیان کیا آپ نے ہمیشہ سچ بولا اور میرے اور اپنے مولا کیطرف بلاتے رہے ظاہرا و پوشیدہ طور پر میں آیا ہوں آپکی زیارت کرنے
وَحَاجَاتِی لَکَ مُسْتَوْدِعاً، وَهَاأَنَاذَا مُوَدِّعُکَ، أَسْتَوْدِعُکَ دِینِی وَأَمانَتِی وَخَواتِیمَ
اور اپنی حاجات آپ کے سپرد کرنے کیلئے اب میں آپ سے وداع ہوتا ہوں آپ کے سپرد کیا میں نے اپنا دین اپنی امانت اپنے
عَمَلِی وَجَوَامِعَ أَمَلِی إلی مُنْتَهیٰ أَجَلِی، وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُﷲ وَبَرَکاتُهُ، وَصَلَّی
عمل کا انجام اور اپنی سب آرزوئیں یہاں تک کہ مجھے موت آجائے آپ پر سلام ہوخدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الْاََخْیَارِ
اور ان کی نیک آلعليهالسلام پر خدا رحمت فرمائے ۔
اس کے بعد خدا کے حضور بہت دعا کرے اور پھر وہاں سے لوٹ آئے:
امیر ـ کا ایوان کسریٰ جان
مؤلف کہتے ہیں: یاد رہے کہ جب زائر مدائن آئے اور حضرت سلمان فارسی(رض) کی زیارت کر چکے تو وہاں اسے دو اور کام بھی کرنا چاہیں اور وہ یہ ہیں ایوان کسریٰ میں جانا اور حضرت حذیفہ یمانی کی زیارت کرنا۔ پس ہر زائر کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایوان کسریٰ میں جائے اور وہاں دو رکعت یا اس سے زیادہ نماز ادا کرے کیونکہ اس جگہ امیرالمؤمنین- نے نماز پڑھی تھی۔
عمار ساباطی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین- مدائن تشریف لائے اور ایوان کسریٰ میں گئے اور دلف بن بحیر آپ کے ہمراہ تھے‘ یہاں آپ نے نماز ادا کی اور دلف بن بحیر سے فرمایا کہ میرے ساتھ چلو اور آپ بھی چل پڑے۔ جب کہ اہلِ ساباط میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ تھا۔ آپ کسریٰ کے محل میں داخل ہوئے اور دلف بن بحیر سے فرماتے جا رہے تھے کہ یہاں کسریٰ کی فلاں چیز اور وہاں فلاں چیز ہوتی تھی‘ دلف کہتے تھے قسم بخدا کہ جو کچھ آپ فرما رہے ہیں وہ درست اور سچ ہے۔ آپ اس گروہ کے ساتھ کسریٰ کے محل میں چلنے پھرنے کے دوران اس کے بارے میں حقائق بیان کرتے جاتے تھے‘ دلف کہتے تھے کہ اے میرے مولا! آپ تو اس محل کی ہر خاص بات کو جانتے ہیں گویا کہ آپ نے اس کی ہر چیز کو اپنے ہاتھ سے رکھا ہے۔
روایت ہے کہ اس وقت آپ مدائن پر نگاہ ڈالتے ہوئے کسریٰ کے برباد شدہ محل اور اس کے آثار کو ملاحظہ فرما رہے تھے ایسے میں آپ کے ساتھیوں میں سے کسی ایک نے عبرت کے لیے یہ شعر پڑھا:
جَرَتِ الرِّیاحُ عَلَیٰ رُسُومِ دِیارِهِمْ
فَکَأَنَّهُمْ کانُوا عَلیٰ مِیعادِ
ان کے ویران محلوں پر ہوائیں خاک اڑاتی ہیں
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا وقت مقرر تھا جو گزر گیا۔
حضرت نے اس شخص سے فرمایا کہ یہاں تم یہ آیات کیوں نہیں پڑھتے:
کَمْ تَرَکُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ کَرِیمٍ وَنَعْمَةٍ کَانُوا فِیها فَاکِهِینَ کَذَلِکَ
وہ کتنے ہی باغات چھوڑ گئے چشمے کھیتیاں اور اونچے مرتبے اور وہ نعمتیں جن میں خوش تھے اسی طرح ہم
وَأَوْرَثْناها قَوْماً آخَرِینَ فَمَا بَکَتْ عَلَیْهِمُ السَّمائُ وَالْاََرْضُ وَمَا کَانُوا مُنْظَرِین ۔اسکے بعد
نے وہ چیزیں بعد والوں کو دے دیں پس ان پر آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ان کو مہلت ملی
آپ نے فرمایا:إنَّ هَؤُلائِ کانُوا وَارِثِینَ فَأَصْبَحُوا مَوْرُوثِینَ، لَمْ یَشْکُرُوا النِّعْمَةَ فَسُلِبُوا
بے شک یہ وارث ہوئے پھروراثت چھوڑ گئے انہوں نے نعمتوں پر شکر نہ کیاان کی دنیا چھن گئی،
دُنْیاهُمْ بِالْمَعْصِیَةِ، إیَّاکُمْ وَکُفْرَ النِّعَمِ لاَ تَحُلُّ بِکُمُ النِّقَمُ
نافرمانی کی وجہ سے اس لیے کہ تم نعمتوں پر ناشکری نہ کرو اور تم پر سختی نہ آئے۔
اس واقعہ کوحکیم خاقانی نے ان اشعار میں بیان فرمایا ہے:
ہان ای دل عبرت بین ازدیدہ نظر کن ہان
ایوان مدائن را آئینہ عبرت دان
پرویز کہ بنہادی برخوان ترہ زرین
زرین ترہ کو برخوان؟ روکم تر کوبر خوان
اے عبرت پکڑنے والے دل! مدائن کے اجڑے محل پر نظر کر اور عبرت کا ذریعہ سمجھ کہ پرویز جو اپنے دستر خوان پر سنہری پارچہ ڈالتا تھا اب اس کا وہ دستر خوان کہاں ہے؟ اس کے حال پر آیہ ’’کَمْ تَرَکُوا‘‘پڑھ کہ وہ مر گیا اور اس کا محل کھنڈر بن چکا ہے۔ دوسری جگہ جہاں زائر کو لازماً جانا چاہیے وہ حضرت حذیفہ یمانی کا مزار ہے کہ جو رسول اللہ کے عالی قدر صحابہ میں سے تھے اور وہ امیر المومنین- کے خاص رفقائ میں سے تھے۔ تمام صحابہ میں جناب حذیفہ کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ انہیں منافقوں کے نام معلوم تھے اور آپ ان کو پہنچانتے تھے اس لیے جب ان میں سے کوئی ایک مرتا تھا تو آپ اس کے جنازے پر نہیں جاتے تھے اور آپ کی دیکھا دیکھی خلیفہ ثانی بھی اس کے جنازے میں شریک نہ ہوتے تھے۔ خلیفہ دوم نے حضرت حذیفہ کو مدائن کا والی مقرر کیا بعد میں انہیں معزول کر کے ان کی جگہ حضرت سلمان فارسی کو والی بنایا اور جب ان کی وفات ہو گئی تو دوبارہ جناب حذیفہ ہی کو والی مدائن مقرر کر دیا۔ امیر المومنین- کے ظاہری خلافت پر متمکن ہونے تک آپ اس منصب پر فائز رہے‘ حضرت نے اہل مدائن کو اپنی خلافت سے آگاہ کیا اور حضرت حذیفہ کو اس عہدے پر بحال رکھا‘ جب آپ جنگ جمل کیلئے مدینہ سے روانہ ہوئے تو آپ کے لشکر کی مدائن آمد سے قبل حذیفہ کی وفات ہو گئی اور آپ کواس شہر میں دفن کر دیا گیا۔ ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ جب حضرت حذیفہ کا وقت آخر آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو اپنے پاس بلایا اور اسے ان اچھی باتوں پر عمل کرنے کی وصیت فرمائی اور کہا: اے فرزند! ہر اس چیز سے اپنی امید قطع کر لے جو دوسروں کے ہاتھ میں ہے کیونکہ اسی میں توانگری و بے نیازی ہے‘ اپنی حاجات کیلئے لوگوں کے پاس نہ جا کہ یہ فقر و محتاجی ہے‘ ہر دن اس طرح بسر کر کہ تیرا آج کا دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ہو۔ جب نماز پڑھے تو یہ تصور کر کہ یہ تیری آخری نماز ہے اور کوئی ایسا کام نہ کر جس پر تجھے معافی مانگنا پڑے۔ یہ بھی یاد رہے کہ حضرت سلمان کے حرم کے قریب مدائن کی جامعہ مسجد ہے جو امام حسن عسکری - کی طرف منسوب ہے کہ یہ آپ نے تعمیر کروائی اور اس میں نماز ادا کی تھی پس زائر اس مسجد میں دو رکعت نماز تحیت مسجد بجا لانے کے اجر و ثواب سے محروم نہ رہنے پائے۔
نویں فصل
زیارت امام علی رضا -
امام الانس والجنۃ المدفون بالارض الغربۃ بضعہ سید الوریٰ مولانا ابوالحسن علی ابن موسٰی ا لرضا کی زیارت کے فضائل احصائ وشمار سے زیادہ ہیں یہاں ہم آپ کی زیارت کے فضائل میں چند حدیثیں نقل کر رہے ہیں: ان میں اکثر حدیثیںتحفت الزائر سے منقول ہیں ۔
( ۱ )حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منقول ہے کہ فرمایا تھوڑی مدت کے بعد میرے جسم کا ایک ٹکڑا سر زمین خراسان میں دفن کیا جائے گا تو جو مومن ان کی زیارت کرنے جائے گا خدائے تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب کر دے گا اس کے بدن کے لیے آتش جہنم کو حرام کر دے گا۔ ایک اور حدیث معتبر میں کہا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا میرا ایک جگر گوشہ خراسان میں دفن کیا جائے گا پس جو شخص غمزدہ حالت میں اس کی زیارت کرے گا‘ خدا تعالیٰ اس کے رنج و غم دور کر دے گا اور جو گناہگار اس کی زیارت کرنے جائے گا حق تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔
( ۲ )حدیث دیگر میں امام موسیٰ کاظم - سے روایت ہوئی ہے کہ فرمایا جو شخص میرے بیٹے علی رضاعليهالسلام کی زیارت کرے گا حق تعالیٰ اس کو ستر حج مقبول کا ثواب عطا کرے گا تو راوی نے اس ثواب کو کچھ زیادہ تصور کیا اور کہا کہ کیا ان کے زائر کے لئے ستر حج مقبولہ کا ثواب ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ستر ہزار حج! اس نے کہا ستر ہزار قبول شدہ حج؟ آپ نے فرمایا ہاں ستر ہزار حج جبکہ بہت سے لوگوں کے حج تو قبول بھی نہیں ہوتے۔ نیز جو شخص حضرت کی زیارت کرے یا ایک رات ان کے قریب بسر کرے تو وہ ایسا ہے گویا اس نے عرش معلی پر انوار الٰہی کا مشاہدہ کیا‘ اس نے کہا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے عرش پر نور خدا کی زیارت کی ہے آپ نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہے اور جب قیامت ہو گی تو چار انسان پہلے زمانے کے اور چار انسان موجودہ زمانے کے عرش معلیٰ پر موجود ہوں گے‘ سابقہ زمانے کے چار انسان حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ہو نگے اور موجودہ زمانے کے چار انسان حضرت محمد مصطفی ،حضرت علی مرتضی، حضرت امام حسن اور امام حسین ہونگے۔ عرش عظیم پر ہمارے ساتھ وہ لوگ بیٹھیں گے جنہوں نے ائمہ طاہرین کی قبروں کی زیارت کی ہو گی لیکن ان سب میں سے میرے فرزند علی رضا - کے زائروں کا رتبہ بلند ہو گا اور انہیں اجر و انعام بھی سب سے زیادہ عطا کیا جائے گا۔
( ۳ )امام علی رضا - سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: خراسان میں ایک قبہ ہے کہ جس پر ایک زمانے میں فرشتوں کی آمدورفت ہو گی اور صور اسرافیل کے پھونکے جانے تک ہمیشہ ملائکہ کی ایک فوج زمین پر اترتی اور ایک فوج آسمان پر چڑھتی رہے گی‘ آپ سے پوچھا گیا کہ اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم وہ کونسا قبہ ہو گا؟ فرمایا کہ وہ قبہ زمین طوس میں ہو گا اور خدا کی قسم! وہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہو گا پس جو شخص وہاں میری زیارت کرے گا تو وہ ایسا ہو گا گویا اس نے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی
زیارت کی ہو‘ خدائے تعالیٰ اس زیارت کے بدلے میں اس کیلئے ایک ہزار حج اور ایک ہزار قبول شدہ عمرہ کا ثواب لکھے گا نیز میں اور میرے آبائ طاہرین قیامت میں اسکی شفاعت کریں گے۔
( ۴ )چند ایک معتبر اسناد کے ساتھ ابن ابی نصر سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے وہ خط پڑھا جو امام علی رضا - نے اپنے شیعوں کے لیے لکھا تھا‘ اس میں تحریر تھا یہ بات میرے شیعوں کو بتا دو کہ میری زیارت حق تعالیٰ کی نظر میں ایک ہزار حج کے مساوی ہے.
میں نے یہ حدیث امام محمد تقی - کی خدمت میں پیش کی تو فرمایا قسم بخدا کہ جو شخص حضرت کو امام برحق مانتا ہو وہ آپ کی زیارت کرے تو اس کا یہ عمل ایک لاکھ حج کے برابر ہے۔
( ۵ )دو معتبر سندوں سے نقل ہوا ہے کہ امام علی رضا - نے فرمایا:
جو شخص بہت دور ہونے کے باوجود میری قبر کی زیارت کرے گا تو میں قیامت میں تین وقتوں میں اس کے پاس آئوں گا تاکہ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دلائوں۔ پہلا وقت وہ ہے جب نیکوکاروں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں اور بدکاروں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے‘ دوسرا وقت وہ ہے جب لوگ پل صراط سے گزر رہے ہونگے اور تیسرا وہ وقت جب اعمال کا وزن کیا جائے گا۔
( ۶ )ایک معتبر حدیث میں ہے کہ آپ -نے فرمایا:
تھوڑے عرصے کے بعد میں زہر کے ساتھ ظلم سے شہید کر دیا جائوں گا اور مجھ کو ہارون الرشید کے پہلومیں دفن کیا جائے گا پس خدائے تعالیٰ میری قبر کو میرے شیعوں اور محبوں کا مرکز بنا دے گا پس جو شخص اس غربت و مسافرت کی جگہ میں میری زیارت کرے گا تو میرے لیے واجب ہوجائے گا کہ میں روز قیامت اس شخص کی زیارت کروں‘ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس نے حضرت محمد مصطفی کو نبی و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم بنایا اور انہیں تمام کائنات میں سے چنا کہ تم شیعوں میں سے جو بھی میری قبر کے قریب آکر دو رکعت نماز پڑھے تو وہ اس بات کا حقدار ہو گا خدا روزِ قیامت اس کے گناہ معاف کر ے قسم اس ذات کی جس نے ہم کو بعد از رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم امامت کے لیے چنا ہے اور ہمیں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا وصی قرار دیا ہے میں قسم سے کہتا ہوں کہ میری زیارت کرنے والے افراد خداوند عالم کے نزدیک ہر گروہ سے زیادہ عزیز و پسندیدہ ہوں گے۔ اور جو بھی مومن میری زیارت کرے اور راستے میں اس کے بدن پر بارش کا ایک ہی قطرہ گرے تو خدائے تعالیٰ اس کے بدن کو جہنم کی آگ پر حرام ٹھہرائے گا۔
( ۷ )معتبر سند کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ محمد بن سلیمان نے امام محمد تقی - سے پوچھا کہ ایک شخص نے حج ادا کیاجو اس پر واجب تھا اس کے بعد وہ مدینہ گیا اور حضرت رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت کا شرف حاصل کیا پھر نجف اشرف گیا اور امیر المومنین- کی زیارت کی جب کہ وہ آپ کو حجت خدا و امام برحق اور خداوند عالم کا بنایا ہوا خلیفہ رسول سمجھتا تھا‘ پھر کربلا معلیٰ گیا وہاں امام حسین- کی زیارت سے مشرف ہوا اور بغداد پہنچ کر امام موسیٰ کاظم - کی زیارت بھی کی اور پھر اپنے گھر لوٹ آیا۔
اب خدائے تعالیٰ نے اسے بہت مال عطا کیاہوا ہے اور وہ حج کو جا سکتا ہے‘ کیا اس شخص کیلئے بہتر ہے کہ وہ حج ادا کرے حالانکہ وہ واجب حج کا فریضہ ادا کر چکا ہے یا اس کو آپ کے والد گرامی کی زیارت کیلئے خراسان جانا چاہیے؟۔
آپ نے فرمایا کہ اسے میرے پدر بزرگوار کے سلام کے لیے خراسان جانا چاہیے کہ یہ عمل افضل ہے لیکن وہ ان ایام میں وہاں نہ جائے کہ میرے اور تمہارے لیے خلیفہ وقت سے ملامت کا خوف ہے لہذا وہ وہاں رجب کے مہینے میں جائے۔
( ۸ ) شیخ صدوقرحمهالله نے من لا یحضرہ الفقیہ میں امام محمد تقی - سے روایت کی ہے کہ طوس کے دو پہاڑوں کے درمیان زمین کا ایک ٹکڑا ہے جو بہشت سے لایا گیا ہے تو جو بھی زمین کے اس خطے میں داخل ہو وہ قیامت میں دوزخ کی آگ سے آزاد ہو گا۔
( ۹ )امام محمد تقی - ہی سے روایت ہے کہ فرمایا میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے جنت کا ضامن ہوں اس شخص کیلئے جو طوس جا کر میرے والد گرامی کی زیارت کرے اور آپ کو امام برحق بھی تسلیم کرتا ہو۔
(۱۰)شیخ صدوقرحمهالله نے عیون الاخبار میں روایت کی ہے کہ ایک نیک و صالح شخص نے خواب میں حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کو دیکھا تو عرض کیا یارسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ! میں آپ کے فرزندان میں سے کس کی زیارت کروں؟۔
آپ نے فرمایا کہ میرے کچھ فرزند زہر سے شہادت پا کر اور بعض تلوار سے شہادت پا کر میرے پاس آئے ہیں‘ میں نے عرض کی کہ یہ مختلف مقامات پر دفن ہیں تو ان میں سے کس کی زیارت کروں؟۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ان میں سے اس کی زیارت کرو جو تمہارے گھر سے زیادہ دور نہیں اور عالم مسافرت میں دفن شدہ ہے‘ میں نے عرض کیا یارسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ! آپ کی مراد امام علی رضا - ہیں؟ تو فرمایا کہ صرف امام علی رضا نہ کہو ان کے نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ کہو صلی اللہ علیہ کہو صلی اللہ علیہ کہو یعنی آپ نے یہ جملہ تین بار دوہرایا۔
مؤلف کہتے ہیں: وسائل اور مستدرک میں ایک باب ہے جس کا نام ہے استحباب تبرک بمشھد امام رضا و مشاہد ائمہ طاہرین۔ اس میں کہا گیا ہے مستحب ہے کہ امام علی رضا - کی زیارت کو امام حسین- اور دیگر ائمہ طاہرین کی زیارت نیز حج مندوب و عمرہ مندوبہ پر ترجیح دے اور اسے پہلے انجام دے اس بارے میں منقول احادیث کو ہم نے طوالت کے خوف سے یہاں ذکر نہیں کیا اور صرف مذکورہ بالا دس احادیث پر ہی اکتفا کیا ہے۔
کیفیتِ زیارتِ امام علی رضا
واضح ہو کہ امام علی رضا - کیلئے بہت سی زیارتیں ہیں‘ آپکی مشہور زیارت وہی ہے جو معتبر کتب میں ہے اور اسکو شیخ محمد بن حسن بن ولید کیطرف نسبت دی گئی ہے جو شیخ صدوقرحمهالله کے اساتذہ میں سے تھے، ابن قولویہرحمهالله کی کتاب المزار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زیارت ائمہعليهالسلام سے بھی روایت ہوئی ہے اور کتاب من لا یحضرہ الفقیہ کے مطابق اسکی کیفیت اسطرح ہے کہ جب امام علی رضا - کی زیارت کا ارادہ ہو تو گھر سے سفر زیارت پر جانے سے قبل غسل کرے اور غسل کرتے وقت یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ طَهِّرْنِی وَطَهِّرْ لِی قَلْبِی وَاشْرَحْ لِی صَدْرِی، وَأَجْرِ عَلَی لِسانِی مِدْحَتَکَ وَالثَّنائَ
اے معبود! مجھے پاک کر دے میرا دل پاک کر دے اور میرے سینے کو کھول دے میری زبان پر اپنی مدح و ستائش جاری کر دے
عَلَیْکَ، فَ إنَّهُ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِکَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لِی طَهُوراً وَشِفائً ۔ جب گھر سے سفر زیارت پر
کیونکہ نہیں ہے قوت مگر تجھی سے اے معبود اس غسل کومیرے لیے پاکیزگی وشفا کا ذریعہ بنا
روانہ ہو تو یہ کہے:بِسْمِ ﷲ، وَبِالله وَ إلَی ﷲ وَ إلَی ابْنِ رَسُولِ ﷲ حَسْبِیَ ﷲ
خدا کے نام سے خدا کی ذات کے واسطے سے چلا ہوں خداکی طرف اور رسول خدا کے فرزند کی طرف میرے لیے خدا کافی ہے
تَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ تَوَجَّهْتُ وَ إلَیْکَ قَصَدْتُ وَمَا عِنْدَکَ أَرَدْتُ
بھروسہ کیا ہے میں نے خدا پر اے معبود میں نے تیری طرف رخ کیا اور تیری طرف چلا ہوں اور جو کچھ تیرے ہاں ہے اسکی خواہش رکھتا ہوں۔
اپنے گھر کے دروازے سے باہر آکر یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ وَجَّهْتُ وَجْهِی وَعَلَیْکَ خَلَّفْتُ أَهْلِی وَمالِی وَمَا خَوَّلْتَنِی وَبِکَ وَثِقْتُ
اے معبود میں نے اپنا رخ تیری طرف کیا اور میں نے اپنا مال اپنا کنبہ اور جو کچھ تو نے دیا ہے سب کچھ تیرے سپرد کیا اور تجھ پر بھروسہ
فَلاَ تُخَیِّبْنِی یَا مَنْ لاَ یُخَیِّبُ مَنْ أَرَادَهُ وَلاَ یُضَیِّعُ مَنْ حَفِظَهُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
کیا ہے‘ پس تہی دست نہ کر اے وہ جو تہی دست نہیں کرتا جو اسکی طرف آئے وہ گم نہیں ہوتا جسکی وہ حفاظت کرے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل
وَآلِ مَحُمَّدٍ وَاحْفَظْنِی بِحِفْظِکَ فَ إنَّهُ لاَ یَضِیعُ مَنْ حَفِظْتَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھ کو اپنی نگرانی میں رکھ کیونکہ جو تیری حفاظت میں ہو وہ ضائع نہیں ہوتا۔
جب خیریت کے ساتھ مشہد مقدس پہنچ جائے اور جب وہاں زیارت کرنے کا قصد کرلے تو پہلے غسل کرے اور اس وقت یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ طَهِّرْنِی وَطَهِّرْ لِی قَلْبِی وَاشْرَحْ لِی صَدْرِی وَأَجْرِ عَلَی لِسانِی مِدْحَتَکَ
اے معبود مجھے پاک کر دے میرے دل کو پاک کر دے اور میرے سینے کو کھول دے میری زبان پر اپنی ستائش
وَمَحَبَّتَکَ وَالثَّنائَ عَلَیْکَ فَ إنَّهُ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِکَ وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ قَِوامَ دِینِی التَّسْلِیمُ
محبت اور تعریف جاری فرما دے کہ یقینا نہیں کوئی قوت مگر جو تجھ سے ملتی ہے اور میں جانتا ہوں کہ میرے دین کی اصل
لاََِمْرِکَ وَالاتِّباعُ لِسُنَّةِ نَبِیِّکَ وَالشَّهَادَةُ عَلَی جَمِیعِ خَلْقِکَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لِی شِفائً
تیرے حکم کا ماننا تیری نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت کی پیروی کرنا اور تیری مخلوقات پر گواہ بننا ہے اے معبود اس غسل کو میرے لیے شفا و
وَنُوراً إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
روشنی کا ذریعہ بنا کیونکہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اس کے بعد پاک و پاکیزہ لباس پہنے اور ننگے پائوں خدا کو یاد کرتے ہوئے آرام ووقار سے حرم مبارک کیطرف چلے اور یہ پڑھتا جائے:
ﷲ اَکْبَرُ لاَ اِلٰهَ اِلاَّ ﷲ وَ سُبْحَانَ ﷲوَالْحَمْدُ ﷲِ
خدا بزرگتر ہے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں خدا پاک تر ہے اور ہر تعریف خدا کے لیے ہے۔
چلتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے اور روضہ اقدس میں داخل ہو تو یہ پڑھے:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ أَشْهَدُ أَنْلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ
خدا کے نام سے خدا کی ذات کے واسطے سے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے طریقے پر خدا رحمت کرے ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر میں گواہی دیتا ہوں کہ
وَحْدَهُ لا شَرِیکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عَلِیَّاً وَلِیُّ ﷲ
اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اسکا شریک نہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اسکے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ علیعليهالسلام خدا کے ولی ہیں
پھر ضریح پاک کے قریب جائے پشت بہ قبلہ ہو کر حضرت امام رضا - کیطرف رخ کرے اور کہے:
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اسکے بندے اور رسول ہیں
وَأَنَّهُ سَیِّدُ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَأَنَّهُ سَیِّدُ الْاََنْبِیائِ وَالْمُرْسَلِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
وہ اولین کے اور آخرین کے سردار ہیں اور وہ سب نبیوںاور رسولوں کے سردار ہیں اے معبود حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت کر
عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ وَنَبِیِّکَ وَسَیِّدِ خَلْقِکَ أَجْمَعِینَ صَلاةً لاَ یَقْوَی عَلَی إحْصَائِها
جو تیرے بندے تیرے رسول تیرے نبی اور تیری ساری مخلوق کے سردار ہیں ایسی رحمت جس کا حساب تیرے سوا کوئی
غَیْرُکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ عَبْدِکَ وَأَخِی رَسُولِکَ
نہ لگا سکے اے معبود! حضرت امیرالمومنین علیعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام پر رحمت فرما جو تیرے بندے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی ہیں
الَّذِی انْتَجَبْتَهُ بِعِلْمِکَ وَجَعَلْتَهُ هادِیاً لِمَنْ شِئْتَ مِنْ خَلْقِکَ وَالدَّلِیلَ عَلَی مَنْ بَعَثْتَهُ
کہ انہیں خاص کیا تو نے علم دے کر اور انکو رہبر بنایا اس کیلئے جسے تو نے اپنی مخلوق میں سے چاہا اور رہنما بنایا اسکی طرف جسکو تو نے اپنا
بِرِسالاتِکَ وَدَیَّانَ الدِّینِ بِعَدْلِکَ وَفَصْلِ قَضائِکَ بَیْنَ خَلْقِکَ وَالْمُهَیْمِنَ عَلَی
پیغام دے کر بھیجا اور انکو مقرر کیا کہ تیرے عدل کے مطابق جزائے عمل دیں اور تیری مخلوق میں تیری مرضی سے فیصلے دیں اور وہ ان
ذلِکَ کُلِّهِ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْهِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُاَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی فاطِمَةَ بِنْتِ نَبِیِّکَ
تمام کاموں کے ذمہ دار ہیں سلام ہو ان پراور خدا کی رحمت ہو اوراسکی برکات ہو اے معبود فاطمہعليهالسلام پر رحمت نازل کر جو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دختر
وَزَوْجَةِ وَلِیِّکَ وَأُمِّ السِّبْطَیْنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سَیِّدَیْ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الطُّهْرَةِ
اور تیرے ولی کی زوجہ ہیں نیز وہ نبی کے دو نواسوں حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کی ماں ہیں جو جوانان جنت کے سردار ہیں وہ بی بی پاک
الطَّاهِرَةِ الْمُطَهَّرَةِ التَّقِیَّةِ النَّقِیَّةِ الرَّضِیَّةِ الزَّکِیَّةِ سَیِّدَةِ نِسائِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَجْمَعِینَ صَلاةً لاَ
پاکیزہ پاک شدہ پرہیزگار باصفا پسندیدہ بے عیب نیز جنت میں تمام عورتوںکی سردار ہیںاتنی رحمت فرما جسے تیرے سوائ
یَقْوٰی عَلَی إحْصائِها غَیْرُکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ سِبْطَیْ نَبِیِّکَ وَسَیِّدَیْ
کوئی شمار نہ کر سکتا ہو اے معبود! دونوں بھائیوں حسنعليهالسلام اور حسینعليهالسلام پر رحمت فرماجو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دو نواسے اور جوانان جن
شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْقائِمَیْنِ فِی خَلْقِکَ وَالدَّلِیلَیْنِ عَلَی مَنْ بَعَثْتَ بِرِسالاتِکَ
جنت کے سید و سردار ہیں تیری مخلوق میں قائم و نگران ہیں اور رہنمائی کرتے ہیں اس ذات کی طرف جسے تو نے پیغمبر بنا کے بھیجا وہ
وَدَیَّانَیِ الدِّینِ بِعَدْلِکَ وَفَصْلَیْ قَضائِکَ بَیْنَ خَلْقِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ
تیرے عدل کے تحت اعمال کی جزا دینے والے اور تیری مخلوق میں تیرے احکام کے مطابق فیصلے دینے والے ہیں اے معبود علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام پر
الْحُسَیْنِ عَبْدِکَ الْقائِمِ فِی خَلْقِکَ وَالدَّلِیلِ عَلَی مَنْ بَعَثْتَ بِرِسَالاتِکَ
رحمت فرما جو تیرے بندے ہیں تیری مخلوق کی نگہداری اور رہنمائی کرتے ہیں اس ذات کی طرف جسے تو نے پیغمبر بنا کے بھیجا
وَدَیَّانِ الدِّینِ بِعَدْلِکَ وَفَصْلِ قَضائِکَ بَیْنَ خَلْقِکَ سَیِّدِ الْعَابِدِینَ
وہ تیرے عدل کے تحت اعمال کی جزا دینے والے اور تیری مخلوق میں تیری مرضی سے فیصلے دینے والے عبادت گزاروں کے سردار ہیں
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ عَبْدِکَ وَخَلِیفَتِکَ فِی أَرْضِکَ باقِرِ عِلْمِ النَّبِیِّینَ
اے معبود! محمد بن علیعليهالسلام پر رحمت فرما جو تیرے بندے اور تیری زمین میں تیرے نائب ہیں نبیوں کے علوم کی اشاعت کرنے والے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ عَبْدِکَ وَوَلِیِّ دِینِکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی
اے معبود جعفرعليهالسلام صادق بن محمد پر رحمت فرما جو تیرے بندے ہیں تیرے دین کے مددگار اور تیری مخلوق پر
خَلْقِکَ أَجْمَعِینَ الصَّادِقِ الْبارِّ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ عَبْدِکَ الصَّالِحِ
تیری طرف سے حجت ہیں وہ صادق اور نیک ہیں اے معبود موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام پر رحمت فرما جو تیرے نیک بندے اور تیری مخلوق میں
وَلِسَانِکَ فِی خَلْقِکَ النَّاطِقِ بِحُکْمِکَ وَالْحُجَّةِ عَلَی بَرِیَّتِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ
تیرے حکم سے بولنے والی زبان ہیںاور تیری مخلوق پر تیری حجت ہیں اے معبود! علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام پر
بْنِ مُوسَی الرِّضَا الْمُرْتَضیٰ عَبْدِکَ وَوَلِیِّ دِینِکَ الْقائِمِ بِعَدْلِکَ وَالدَّاعِی إلی دِینِکَ
رحمت فرما جو تجھ سے راضی ہیںتیرے پسندیدہ بندے ہیں تیرے دین کے مددگار تیرے عدل پر کاربند اور تیرے دین کی طرف بلانے والے ہیں
وَدِینِ آبائِهِ الصَّادِقِینَ صَلاةً لاَیَقْوٰی عَلَی إحْصائِها غَیْرُکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ
جو ان کے صاحب صدق بزرگوں کا دین ہے اتنی رحمت کر جس کا شمار سوائے تیرے کوئی نہ کر سکتا ہو اے معبودمحمد بن علیعليهالسلام پر رحمت فرما
عَلِیٍّ عَبْدِکَ وَوَلِیِّکَ الْقائِمِ بِأَمْرِکَ وَالدَّاعِی إلی سَبِیلِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ
جو تیرے بندے اور تیرے ولی ہیں تیرا حکم پہنچانے والے اور تیرے راستے کی طرف بلانے والے اے معبود! علیعليهالسلام بن محمد پر رحمت
مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَوَلِیِّ دِینِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْعامِلِ بِأَمْرِکَ الْقائِمِ
نازل کر جو تیرے بندہ اور تیرے دین کے ولی ہیں اے معبودحسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر رحمت نازل فرما جو تیرے حکم پر عمل کرنے والے
فِی خَلْقِکَ وَحُجَّتِکَ الْمُؤَدِّی عَنْ نَبِیِّکَ وَشاهِدِکَ عَلَی خَلْقِکَ الْمَخْصُوصِ
تیری مخلوق میں نگران تیرے نبی کی طرف حجت پیش کرنے والے تیری مخلوق پر تیرے گواہ تیری طرف سے بزرگی
بِکَرامَتِکَ الدَّاعِی إلی طاعَتِکَ وَطاعَةِ رَسُولِکَ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ اَللّٰهُمَّ
میں منتخب شدہ تیری اطاعت اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی فرمانبرداری کا حکم دینے والے تیری رحمتیں ہوں ان سب پر اے معبود
صَلِّ عَلَی حُجَّتِکَ وَوَلِیِّکَ الْقائِمِ فِی خَلْقِکَ صَلاةً تَامَّةً نَامِیَةً بَاقِیَةً تُعَجِّلُ بِها فَرَجَهُ
اپنی حجت اور اپنے ولی پر رحمت نازل فرما جو تیری مخلوق میں نگہبان ہیں وہ رحمت جو کامل بڑھنے والی باقی رہنے والی ہے اس سے انہیں کشادگی دے
وَتَنْصُرُهُ بِها وَتَجْعَلُنا مَعَهُ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِحُبِّهِمْ
اور انکی مدد فرما اور ہمیں انکے ساتھ رکھ دنیا اور آخرت میں اے معبود!میں تیرا قرب چاہتا ہوں انکی محبت کے واسطے سے انکے
وَأُوَالِی وَلِیَّهُمْ وَأُعادِی عَدُوَّهُمْ فَارْزُقْنِی بِهِمْ خَیْرَ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَاصْرِفْ عَنِّی بِهِمْ شَرَّ
دوستوں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں پس عطاکر ان کے صدقے دنیا کی بھلائی اور آخرت کی فلاح اور ان کے واسطے
الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ وَأَهْوالَ یَوْمِ الْقِیامَةِ ۔ پھر حضرت کے سرہانے کی طرف بیٹھ جائے اور کہے:
سے دنیا و آخرت کی تنگی سے مجھے بچائے رکھ اورقیامت میں ہر خوف سے محفوظ فرما۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نُورَ ﷲ فِی
آپ پر سلام ہو اے خدا کے ولی آپ پر سلام ہو اے حجت خدا آپ پر سلام ہو اے وہ جو زمین کی تاریکیوں میں
ظُلُماتِ الْاََرْضِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَمُودَ الدِّینِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ
نور خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے دین کے ستون آپ پر سلام ہو اے آدمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے برگزیدہ ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے نوحعليهالسلام کے وارث جو نبی خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے ابراہیمعليهالسلام کے وارث جو خدا کے خلیل ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ إسْماعِیلَ ذَبِیحِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسی کَلِیمِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے اسماعیلعليهالسلام کے وارث جو ذبیح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے موسیٰعليهالسلام کے وارث جو خدا کے کلیم ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عِیسی رُوحِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے عیسیٰعليهالسلام کے وارث جو خدا کی روح ہیں آپ پر سلام ہو اے محمد کے وارث جو خدا کے رسول ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیٍّ وَلِیِّ ﷲ وَوَصِیِّ رَسُولِ رَبِّ الْعَالَمِینَ
آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین علیعليهالسلام کے وارث جو خدا کے ولی اور رب کائنات کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جانشین ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ
آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہراعليهالسلام کے وارث آپ پر سلام ہو اے وارث حسنعليهالسلام وحسینعليهالسلام جو جوانان بہشت کے
سَیِّدَیْ شَبابِ أَهْلِ الجَنَّةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ زَیْنِ الْعابِدِینَ اَلسَّلَامُ
سید و سردار ہیں سلام ہو آپ پر اے علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام کے وارث جو عبادت گذاروں کی زینت ہیں آپ پر
عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ باقِرِ عِلْمِ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ
سلام ہو اے محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام کے وارث جو ظاہر کرنے والے ہیں اولین و آخرین کے علم کو سلام ہو آپ پر اے
جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ الْبارِّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وارِثَ مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کے وارث جو صاحب صدق اور نیک ہیں آپ پر سلام ہو اے وارث موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام آپ پر سلام ہو
أَیُّهَا الصِّدِّیقُ الشَّهِیدُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْوَصِیُّ الْبَارُّ التَّقِیُّ أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ
اے صاحب صدق شہید سلام ہو آپ پر اے وصی نیک اور پرہیزگار میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز
الصَّلاةُ وَآتَیْتَ الزَّکَاةَوَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً حَتّی
قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے منع کیا آپ خدا کی بندکی کرتے رہے یہاں تکعليهالسلام
أَتَاکَ الْیَقِینُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْحَسَنِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ ۔ پھر خود کو ضریح پاک سے
کہ شہید ہو گئے آپ پر سلام ہو اے ابوالحسن اور خدا کی رحمت اور اس کی برکات ہوں
لپٹائے اور کہے:اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ صَمَدْتُ مِنْ أَرْضِی وَقَطَعْتُ الْبِلادَ رَجائَ رَحْمَتِکَ فَلاَ
اے معبود! میں تیری طرف آیا ہوں اپنا وطن چھوڑ کر اور کئی شہروںسے گزر کر تیری رحمت کی آرزو میں پس مجھے
تُخَیِّبْنِی وَلاَ تَرُدَّنِی بِغَیْرِ قَضائِ حاجَتِی وَارْحَمْ تَقَلُّبِی عَلَی قَبْرِ ابْنِ أَخِی رَسُولِکَ
ناامید نہ کر اور مجھے میری حاجت روائی کے بغیر نہ پلٹا اور رحم فرماجبکہ میں تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھائی کے فرزند کی قبر پر پڑا تڑپتا ہوں
صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا مَوْلایَ أَتَیْتُکَ زائِراً وافِداً عائِذاً مِمَّا جَنَیْتُ
ان پر اور انکی آل پر تیری رحمتیں ہوں قربان آپ پر میرے ماں باپ اے میرے آقا آپکی زیارت کرنے حاضر ہوا ہوں پناہ لینے
عَلَی نَفْسِی وَاحْتَطَبْتُ عَلَی ظَهْرِی فَکُنْ لِی شافِعاً إلَی ﷲ یَوْمَ
اس جرم سے جو میں نے اپنی جان پر کیا اور اس کا بار میری گردن پر ہے پس بن جائیں میرے لئے شفاعت کرنے والے خدا کے
فَقْرِی وَفاقَتِی فَلَکَ عِنْدَ ﷲ مَقامٌ مَحْمُودٌ وَأَنْتَ عِنْدَهُ وَجِیهٌ
سامنے میری غربت و ناداری کے دن کیونکہ آپ خدا کے ہاں بلند مرتبہ رکھتے ہیں اور اس کے نزدیک آپ باعزت ہیں۔
پس اپنا دایاں ہاتھ بلند کرے بایاں ہاتھ قبر مبارک پر رکھے اور یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِحُبِّهِمْ وَبِوِلایَتِهِمْ أَتَوَلَّیٰ آخِرَهُمْ بِمَا تَوَلَّیْتُ بِهِ
اے معبود میں تیرا قرب چاہتا ہوں انکی محبت اور انکی ولایت کے ذریعے محب ہوں ان میں سے آخری کا جیسے محب تھا ان میں سے
أَوَّلَهُمْ وَأَبْرَأُ مِنْ کُلِّ وَلِیجَةٍ دُونَهُمْ اَللّٰهُمَّ الْعَنِ الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعْمَتَکَ وَاتَّهَمُوا
پہلے کا اور بیزار ہوں ہر گروہ سے سوائے انکے اے معبود لعنت بھیج ان لوگوںپر جنہوں نے تیری نعمت کو اسکی جگہ سے ہٹایا تیرے پیغمبر
نَبِیَّکَ وَجَحَدُوا بِآیاتِکَ وَسَخِرُوا بِ إمامِکَ وَحَمَلُوا النَّاسَ عَلَی أَکْتافِ آلِ مُحَمَّدٍ
کو الزام دیا تیری آیتوں کا انکار کیا تیرے مقرر کردہ امام کا مذاق اڑایا اور دوسرے لوگوں کو آلِ محمد پر حاکم و مختار بنایا
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِاللَّعْنَةِ عَلَیْهِمْ وَالْبَرائَةِ مِنْهُمْ فِی الدُّنْیا وَالآخِرَةِ یَا رَحْمنُ ۔ پھر
اے معبود میں تیرا قرب چاہتا ہوں ظالموں پر لعنت کر کے اور ان سے بیزاری کرتے ہوئے دنیا اور آخرت میں اے بہت رحم والے
حضرت کی پائنتی کی طرف جائے اور کہے:صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْحَسَنِ صَلَّی ﷲ عَلَی
خدا آپ پر رحمت کرے اے ابوالحسنعليهالسلام خدا آپ کی روح پر رحمت فرمائے
رُوحِکَ وَبَدَنِکَ صَبَرْتَ وَأَنْتَ الصَّادِقُ المُصَدَّقُ قَتَلَ ﷲ مَنْ قَتَلَکَ بِالْاََیْدِی
اور آپکے بدن پر کہ آپ نے صبر کیا اور آپ ہیں تصدیق کرنے والے تصدیق شدہ خدا قتل کرے اسے جس نے آپکے قتل میں ہاتھ
وَالْاََلْسُنِ
اور زبان سے کام لیا۔
اس کے بعد بہت گریہ و زاری کرے اور امیر المومنین، امام حسن، امام حسین اور دیگر افراد اہلبیت کے قاتلوں پر بے شمار لعنت کرے۔ پھر حضرت کے سرہانے کی طرف ہو کر دو رکعت نماز زیارت بجا لائے کہ پہلی رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ یٰسین اور دوسری رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سورئہ رحمن پڑھے جب نماز سے فارغ ہو جائے تو خدا کے حضور گریہ و زاری کرتے ہوئے اپنے لیے اپنے والدین اور تمام مومنوں کے لیے زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگے اور اس کے بعد جب تک چاہے وہاں ذکر الٰہی میں مشغول رہے اور مناسب ہو گا کہ اپنی واجب نمازیں بھی حضرت کے روضہ مبارک کے نزدیک ہی بجا لائے۔
مؤلف کہتے ہیں مندرجہ بالا زیارت حضرت کی تمام زیارتوں میں سے بہتر ہے جو آپ کیلئے نقل ہوئی ہیں من لا یحضرہ الفقیہ ‘ عیون الاخبار اور علامہ مجلسی کی کتابوں میںسَخِرُوْا بِاِمَامِکَ کا جملہ آیا ہے ‘ جو زیارت کے آخر میں ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ خدایا لعنت کر ان لوگوں پر جنہوں نے اپنی زندگی میں تیرے معین کردہ امام کا مذاق اڑایا۔ لیکن مصباح الزائر میں یہ جملہ اس طرح ہے وَسَخِرُوْا بِاَیَّامِک تاہم یہ بھی معنی کے لحاظ سے درست ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہ زیادہ بہتر ہو کیونکہ ایام سے بھی امام ہی مراد ہیں۔ جیسا کہ پہلے باب کی پانچویں فصل میں صقر بن ابی دلف سے مروی ایک حدیث گزر چکی ہے۔ یہ بات بھی واضح رہنا چاہئے کہ ائمہعليهالسلام کے قاتلوں پر جس زبان میں بھی لعنت کی جائے وہ درست ہے۔ ذیل کے جملے جو بعض دعاؤں سے ماخوذ ہیں اگر ائمہعليهالسلام کے قاتلوں پر لعنت کرنے میں یہ جملے دوہرائے جائیں تو اور بھی بہتر ہے۔
اَللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ وَقَتَلَةَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ وَقَتَلَةَ أَهْلِ بَیْتِ
اے معبود امیر المومنینعليهالسلام کے قاتلوں پر لعنت بھیج اور حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کے قاتلوں پر لعنت بھیج اور اپنے نبی کے اہلبیتعليهالسلام
نَبِیِّکَ اَللّٰهُمَّ الْعَنْ أَعْدائَ آلِ مُحَمَّدٍ وَقَتَلَتَهُمْ وَزِدْهُمْ عَذاباً فَوْقَ الْعَذَابِ وَهَوَاناً فَوْقَ
کے قاتلوں پر لعنت بھیج اے معبود آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دشمنوں اور ان کے قاتلوں پر لعنت بھیج ان کیلئے عذاب پر عذاب بڑھا خواری پر
هَوَانٍ وَذُلاًّ فَوْقَ ذُلٍّ وَخِزْیاً فَوْقَ خِزْیٍ اَللّٰهُمَّ دُعَّهُمْ إلَی النَّارِ دَعّاً وَأَرْکِسْهُمْ فِی أَلِیمِ
خواری ذلت پر ذلت اور رسوائی پر رسوائی دے اے معبود! ان کو آگ میں سختی سے جھونک دے اور انہیں سخت
عَذابِکَ رَکْساً وَاحْشُرْهمْ وَأَتْباعَهُمْ إلی جَهَنَّمَ زُمَراً
عذاب میں اوندھے منہ ڈال دے اور ان کو اور ان کے پیروکاروں کو جہنم میں اکٹھا کر دے۔
دعابعد اززیارت اما رضا ـ
تحفۃ الزائر میں ہے کہ شیخ مفیدرحمهالله کا ارشاد ہے کہ امام علی رضا -کی نماز زیارت ادا کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ یَا ﷲ الدَّائِمُ فِی مُلْکِهِ الْقَائِمُ فِی عِزِّهِ الْمُطاعُ فِی سُلْطانِهِ الْمُتَفَرِّدُ فِی
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ جو ہمیشہ سے حکمران اور ہمیشہ سے عزت دار ہے اپنی حکومت میںاسکا حکم مانا جاتا ہے
کِبْرِیائِهِ الْمُتَوَحِّدُ فِی دَیْمُومِیَّةِ بَقائِهِ الْعادِلُ فِی بَرِیَّتِهِ الْعالِمُ فِی قَضِیَّتِهِ الْکَرِیمُ فِی تَأْخِیرِ
اپنی بڑائی میں یگانہ ہے ہمیشہ باقی رہنے میں یکتا ہے اپنی مخلوق میں عدل کرنے والا اپنے فیصلے میں علم والا اپنی طرف سے سزا دینے
عُقُوبَتِهِ إلهِی حَاجَاتِی مَصْرُوفَةٌ إلَیْکَ وَآمالِی مَوْقُوفَةٌ لَدَیْکَ وَکُلَّما
میں دیر کرنے والا بزرگوار ہے میرے معبود میری حاجات تیری بارگاہ میں پہنچ رہی ہیں میری تمنائیں تیرے سامنے جا ٹھہری ہیں اور
وَفَّقْتَنِی مِنْ خَیْرٍ فَأَنْتَ دَلِیلِی عَلَیْهِ وَطَرِیقِی إلَیْهِ یَا قَدِیراً لاَ تَؤُودُهُ الْمَطالِبُ
جب تو مجھے نیکی کی توفیق دیتا ہے پس تو ہی اس میں میرا رہبر اور تو ہی میرا راستہ ہے اے قدرت والے حاجات تجھے تھکاتے نہیں
یَا مَلِیّاً یَلْجَأُ إلَیْهِ کُلُّ راغِبٍ ما زِلْتُ مَصْحُوباً مِنْکَ بِالنِّعَمِ جارِیاً عَلَی عَادَاتِ الْاِحْسانِ
اے وہ مختار کہ ہر مشتاق جس کی پناہ لیتا ہے تو نے ہمیشہ ہی مجھے اپنی نعمتوں سے ہمکنار کیا تو نے ہمیشہ احسان و کرم کا سلسلہ جاری
وَالْکَرَمِ أَسْأَلُکَ بِالْقُدْرَةِ النَّافِذَةِ فِی جَمِیعِ الْاََشْیائِ وَقَضائِکَ الْمُبْرَمِ الَّذِی تَحْجُبُهُ
رکھا ہے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری قدرت کے واسطے سے جو سب چیزوں پر حاوی ہے تیرے محکم فیصلے کے واسطے سے جسے
بِأَیْسَرِ الدُّعائِ وَبِالنَّظْرَةِ الَّتِی نَظَرْتَ بِها إلَی الْجِبالِ فَتَشامَخَتْ وَ إلَی الْاََرَضِینَ
تھوڑی سی دعا بھی روک دیتی ہے اور تیری نظر کے واسطے سے جو تو نے پہاڑوں پر ڈالی تو وہ بلند ہو گئے زمینوں پر ڈالی تو وہ بچھتی چلی گئیں
فَتَسَطَّحَتْ وَ إلَی السَّمَواتِ فَارْتَفَعَتْ وَ إلَی الْبِحارِ فَتَفَجَّرَتْ یَا مَنْ جَلَّ عَنْ أَدَوَاتِ
وہ نظر آسمانوں پر کی تو وہ بالاتر ہو گئے سمندروں پر کی تو وہ پھٹ گئے کہ جو انسان کی نظروں میں آنے سے
لَحَظَاتِ الْبَشَرِ وَلَطُفَ عَنْ دَقائِقِ خَطَراتِ الْفِکَرِ لاَ تُحْمَدُ یَا سَیِّدِی إلاَّ بِتَوْفِیقٍ
بلند تر ہے اور ذہن میں آنے والے خیالات کی رسائی سے دور ہے تیری حمد نہیں ہو سکتی اے میرے مالک لیکن تیری دی ہوئی توفیق
مِنْکَ یَقْتَضِی حَمْداً وَلاَ تُشْکَرُ عَلَی أَصْغَرِ مِنَّةٍ إلاَّ اسْتَوْجَبْتَ بِها شُکْراً فَمَتیٰ تُحْصیٰ
سے کہ جس پر تیری حمد ہے اورنہ تیرے چھوٹے سے احسان کا شکر ادا ہو سکتا ہے لیکن یہ کہ تو نے اس کا شکر واجب کیا پس کیسے شمار ہو
نَعْماؤُکَ یَا إلهِی وَتُجازیٰ آلاؤُکَ یَا مَوْلایَ وَتُکافَأُ صَنَائِعُکَ یَا
تیری نعمتوں کا اے میرے معبود کیسے بدلہ ہو تیری مہربانیوں کااے میرے آقا اور کس طرح حساب ہو تیرے احسانوں کا اے
سَیِّدِی وَمِنْ نِعَمِکَ یَحْمَدُ الْحَامِدُونَ وَمِنْ شُکْرِکَ یَشْکُرُ الشَّاکِرُونَ
میرے سردار یہ بھی تیری نعمت ہے جو حمد کرتے ہیں حمد کرنے والے اور تیری قدر دانی سے شکر کرنیوالے شکر کرتے ہیں اور تو ہی ہے
وَأَنْتَ الْمُعْتَمَدُ لِلذُّنُوبِ فِی عَفْوِکَ وَالنَّاشِرُ عَلَی الْخَاطِئِینَ جَنَاحَ سِتْرِکَ وَأَنْتَ الْکاشِفُ
کہ گناہوں میں اپنے عفو کا سہارا دیتا ہے اور خطا کاروں کو اپنی پردہ پوشی سے ڈھانپ لیتا ہے تو اپنے دست قدرت سے
لِلضُّرِّ بِیَدِکَ فَکَمْ مِنْ سَیِّئَةٍ أَخْفاها حِلْمُکَ حَتَّی دَخِلَتْ وَحَسَنَةٍ
سختیاں دور کر دیتا ہے پس کتنے ہی گناہ ہیں جن کو تیری نرمی چھپائے رکھتی ہے وہ معدوم ہو جاتے ہیںاور کتنی ہی نیکیاں ہیں
ضاعَفَها فَضْلُکَ حَتَّی عَظُمَتْ عَلَیْهَا مُجَازَاتُکَ جَلَلْتَ أَنْ یُخافَ مِنْکَ إلاَّالْعَدْلُ
کہ تیرا احسان انہیں دگنا کردیتا ہے ان پر تو بہت زیادہ جزا دیتا ہے تو بلند ہے اس سے کہ تجھ سے ڈریں سوائے تیرے عدل کے
وَأَنْ یُرْجیٰ مِنْکَ إلاَّ الْاِحْسانُ وَالْفَضْلُ فَامْنُنْ عَلَیَّ بِمَاأَوْجَبَهُ فَضْلُکَ وَلاَ تَخْذُلْنِی
اور یہ کہ آرزو رکھیں تجھ سے سوائے تیرے احسان اور بخشش کے پس احسان فرما مجھ پر جسے تیرا فضل لازم کرے اور مجھے نظر انداز نہ کر
بِما یَحْکُمُ بِهِ عَدْلُکَ سَیِّدِی لَوْ عَلِمَتِ الْاََرْضُ بِذُنُوبِی لَساخَتْ بِی أَوِ الْجِبالُ لَهَدَّتْنِی
اس فیصلے پر جو تیرے عدل نے کیا ہو میرے مالک اگر زمین میرے گناہوں کو جان جاتی تو مجھے نیچے دبا دیتی یا پہاڑ مجھے پیس ڈالتے
أَوِ السَّمَوَاتُ لاَخْتَطَفَتْنِی أَوِ الْبِحارُ لاَََغْرَقَتْنِی سَیِّدِی سَیِّدِی سَیِّدِی مَوْلایَ مَوْلایَ
یا آسمان مجھے کھینچ لیتے یا سمندر مجھ کو ڈبو دیتے میرے مالک میرے مالک میرے مالک میرے آقا میرے آقا
مَوْلایَ قَدْ تَکَرَّرَ وُقُوفِی لِضِیافَتِکَ فَلاَ تَحْرِمْنِی مَا وَعَدْتَ الْمُتَعَرِّضِینَ
میرے آقا یقینا بار دیگر میں تیری مہمانی میں کھڑا ہوں پس مجھے اس چیز سے محروم نہ رکھ جس کا وعدہ مانگنے والوں سے تو نے کیا ہے جو
لِمَسْأَلَتِکَ یَا مَعْرُوفَ الْعارِفِینَ یَا مَعْبُودَ الْعابِدِینَ یَامَشْکُورَ الشَّاکِرِینَ یَا جَلِیسَ الذَّاکِرِینَ
تیرے ہاں آئیں اے عرفائ کے پہچانے ہوئے اے عبادتگزاروں کے معبود اے شاکرین کے مشکور اے ذکر کرنے والوں کے ہم
یَا مَحْمُودَ مَنْ حَمِدَهُ یَا مَوْجُودَ مَنْ طَلَبَهُ یَا مَوْصُوفَ مَنْ وَحَّدَهُ یَا مَحْبُوبَ مَنْ أَحَبَّهُ
دم اے حمد کرنے والوں کے محمود جو حمد کرے اے موجود ہر طلبگار کے لیے اے توصیف شدہ کہ جو یگانہ ہے اے محبوں کے محبوب
یَا غَوْثَ مَنْ أَرَادَهُ یَا مَقْصُودَ مَنْ أَنَابَ إلَیْهِ یَا مَنْ لاَ یَعْلَمُ الْغَیْبَ إلاَّ هُوَ یَا مَنْ لاَ یَصْرِفُ
اے پکارنے والوں کے داد رس اے توبہ کرنے والوںکے مرکز نگاہ اے وہ کہ جس کے سوائ کوئی غیب کا جاننے والا نہیں اے وہ کہ
السُّوئَ إلاَّ هُوَ یَا مَنْ لاَ یُدَبِّرُ الْاََمْرَ إلاَّ هُوَ یَا مَنْ لاَ یَغْفِرُ الذَّنْبَ
جس کے سوا کوئی بدی کا معاف کرنے والانہیں اے وہ کہ جس کے سوا کوئی کام بنانے والا نہیں اے وہ کہ جس کے سوا کوئی گناہ کا
إلاَّ هُوَ یَا مَنْ لاَ یَخْلُقُ الْخَلْقَ إلاَّ هُوَ یَا مَنْ لا یُنَزِّلُ الْغَیْثَ إلاَّ هُوَ صَلِّ
معاف کرنے والا نہیں اے وہ کہ جس کے سوا کوئی خلق کرنے والا نہیں اے وہ کہ جس کے سوا کوئی بارش برسانے والا نہیں ہے محمد
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی یَا خَیْرَ الْغافِرِینَ رَبِّ إنِّی أَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفارَ حَیائٍ
وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھ کو بخش دے اے سب سے بڑھ کر بخشنے والے اے پروردگار میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوںحیا درانہ بخشش
وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفارَ رَجائٍ وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفارَ إنَابَةٍ وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفارَ رَغْبَةٍ
تجھ سے بخشش چاہتا ہوں امیدوارانہ بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں توبہ کی سی بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں رغبت کی سی بخشش تجھ
وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفارَ رَهْبَةٍ وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفارَ طَاعَةٍ وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفارَ إیمانٍ
سے بخشش چاہتا ہوں خائفانہ بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوںفرمانبردارانہ بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں ایمان والی
وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفارَ إقْرارٍ وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفَارَ إخْلاصٍ وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفارَ تَقْوی
بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اقرار والی بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں خلوص والی بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں پرہیزگارانہ بخشش
وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفَارَ تَوَکُّلٍ وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفَارَ ذِلَّةٍ وَأَسْتَغْفِرُکَ اسْتِغْفارَ عَامِلٍ
تجھ سے بخشش چاہتا ہوں توکل والی بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں عاجزانہ بخشش تجھ سے بخشش چاہتا ہوں بخشش چاہتا ہوں خدمتگار
لَکَ هَارِبٍ مِنْکَ إلَیْکَ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتُبْ عَلَیَّ وَعَلَی والِدَیَّ بِما
کیطرح جو تجھ سے ڈر کے تیری طرف بھاگا آئے پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمد پر رحمت نازل کر اور میری توبہ قبول فرما اور میرے والدین کی توبہ
تُبْتَ وَتَتُوبُ عَلَی جَمِیعِ خَلْقِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ یَا مَنْ یُسَمَّی
قبول فرما جیسے تو قبول کرتا ہے توبہ اور تمام بندوں کی توبہ بھی قبول فرمااے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے وہ جسے کہا جاتا ہے
بِالْغَفوُرِ الرَّحِیمِ یَا مَنْ یُسَمَّی بِالْغَفُورِ الرَّحِیمِ یَا مَنْ یُسَمَّی بِالْغَفُورِ الرَّحِیمِ صَلِّ عَلَی
بخشنے والا مہربان اے وہ جسے کہا جاتا ہے بخشنے والا مہربان اے وہ جسے کہا جاتا ہے بخشنے والا مہربان محمد وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْبَلْ تَوْبَتِی وَزَکِّ عَمَلِی وَاشْکُرْ سَعْیِی وَارْحَمْ ضَراعَتِی وَلاَ
رحمت نازل کر اور قبول کر میری توبہ میرے عمل کو پاک بنا میری کوشش کو قبول فرما اور میری زاری پر رحم کر اور میری
تَحْجُبْ صَوْتِی وَلاَ تُخَیِّبْ مَسْأَلَتِی یَا غَوْثَ الْمُسْتَغِیثِینَ وَأَبْلِغْ أَئِمَّتِی سَلامِی وَدُعائِی
آواز نہ روک اور میری حاجت رد نہ فرما اے فریادیوں کی فریاد سننے والے میرے ائمہعليهالسلام کو میرا سلام اور دعا پہنچا
وَشَفِّعْهُمْ فِی جَمِیعِ مَا سَأَلْتُکَ وَأَوْصِلْ هَدِیَّتِی إلَیْهِمْ کَما یَنْبَغِی لَهُمْ
اور ان کو میرا شفاعت کرنے والا بنا سبھی حاجات میں جو میں نے طلب کیں اور میرے ہدیہ کو ان تک اس طرح پہنچا دے جس طرح
وزِدْهُمْ مِنْ ذلِکَ مَا یَنْبَغِی لَکَ بِأَضْعَافٍ لاَ یُحْصِیها غَیْرُکَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ
انکو پسند ہو اور یہ تحفہ جسطرح تو پسند کرتا ہے اسے اتنے گنا بڑھا کر قبول فرما کہ تیرے سوا اسکا شمار کوئی نہ کر سکے کوئی طاقت وقوت نہیں ہے
إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ وَصَلَّی ﷲ عَلَی أَطْیَبِ الْمُرْسَلِینَ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
مگر خدا کی طرف سے ملتی ہے جو بلند و برتر ہے اور خدا مرسلوں میں سے پاکیزہ تر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کے پاک خاندان پر رحمت کرے ۔
مؤلف کہتے ہیں: علامہ مجلسیرحمهالله نے بحار الانوار میں بعض بزرگان سے امام رضا - کیلئے ایک زیارت نقل کی ہے جو زیارتِ جوادیہ کے نام سے معروف ہے اسکے آخر میں تحریر فرمایا ہے کہ یہ زیارت پڑھنے کے بعد نماز زیارت بجا لائے تسبیح پڑھے اور اسے حضرت کیلئے ہدیہ کرے اور اسکے بعد یہ دعا پڑھے:اَللَّهُمَّ اِنَّیْ اَسْئَلُکَ یَا ﷲ الدَآئِمُ یہ وہی دعا ہے جو ہم نے ابھی اوپر نقل کی ہے لہذا جو بھی زائر مشہد مقدس میں زیارتِ جواد یہ پڑھے تو وہ اس دعا کا پڑھنا ہرگز ترک نہ کرے۔
امام علی رضا - کی ایک اور زیارت
ابن قولویہرحمهالله نے ائمہ سے روایت کی ہے کہ جب زائر امام رضا - کی قبر شریف کے قریب جائے تو یہ زیارت پڑھے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُوسَی الرِّضَا الْمُرْتَضَی الْاِمامِ التَّقِیِّ النَّقِیِّ وَحُجَّتِکَ عَلَی مَنْ
اے معبود علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام پر رحمت نازل کر جو صاحب رضا پسندیدہ اور امام ہیں پارسا پاکیزہ ہیں اور تیری حجت ہیں اس پر جو
فَوْقَ الْاََرْضِ وَمَنْ تَحْتَ الثَّریٰ الصِّدِیقِ الشَّهِیدِ صَلاةً کَثِیرَةً تامَّةً زاکِیَةً مُتَواصِلَةً
زمین پر اور زیر زمین ہے وہ صاحب صدق شہید ہیںان پر رحمت کر بہت زیادہ کامل پاکیزہ
مُتَواتِرَةً مُتَرادِفَةً کَأَفْضَلِ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَوْلِیَائِکَ
پے در پے لگا تار مسلسل جیسے تو نے بہترین رحمت کی ہو اپنے دوستوں میں سے کسی ایک پر۔
زیارتِ دیگر
یہ وہ زیارت ہے جو شیخ مفیدرحمهالله نے مقنعہ میں نقل فرمائی اور کہا ہے کہ غسل زیارت کرنے اور پاکیزہ لباس پہننے کے بعد امام علی رضا - کی قبر اطہر کے نزدیک کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَابْنَ وَلِیِّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَﷲ وَابْنَ حُجَّتِهِ اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے ولی خدا اور ولی خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے حجت خدا اور حجت خدا کے فرزند آپ پر
عَلَیْکَ یَا إمامَ الْهُدیٰ وَالْعُرْوَةَ الْوُثْقیٰ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ أَشْهَدُ أَنَّکَ مَضَیْتَ عَلَی مَا
سلام ہو اے ہدایت والے امام اور سلسلہ محکم خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اسی عقیدے پر دنیا سے
مَضیٰ عَلَیْهِ آباؤُکَ الطَّاهِرُونَ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ لَمْ تُؤْثِرْ عَمیً عَلَی هُدیً وَلَمْ تَمِلْ
گئے جس پر آپ کے پاک بزرگ رخصت ہوئے خدا کی رحمتیں ہوں ان پر آپ نے گمراہی کو نور ہدایت پر ترجیح نہ دی اور حق سے
مِنْ حَقٍّ إلی باطِلٍ وَأَنَّکَ نَصَحْتَ لِلّٰهِ وَلِرَسُولِهِ وَأَدَّیْتَ الْاََمانَةَ فَجَزاکَ ﷲ عَنِ
باطل کی طرف نہ پھرے بلکہ آپ خدا اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خیر اندیش رہے اور امانتداری کا حق ادا کیا پس خدا جزا دے آپ کو
الْاِسْلامِ وَأَهْلِهِ خَیْرَ الْجَزَائِ أَتَیْتُکَ بِأَبِی وَأُمِّی زَائِراً عَارِفاً بِحَقِّکَ مُوالِیاً
اسلام و اہل اسلام کیطرف سے بہترین جزا میں آیا ہوں قربان میرے ماں باپ آپکی زیارت کرنے آپکے حق سے واقف آپکے
لاََِوْلِیائِکَ مُعادِیاً لاََِعْدائِکَ فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ
دوستوں کا دوست آپ کے دشمنوں کا دشمن ہوں پس اپنے رب کے ہاں میری سفارش کریں۔
پھر خود کو قبر شریف سے لپٹائے اس پر بوسہ دے اپنے دونوں رخسار باری باری اس پر رکھے اور پھر سرہانے کی طرف مڑے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ أَشْهَدُ أَنَّکَ الْاِمامُ الْهادِی
آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزند خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امام رہبر
وَالْوَلِیُّ الْمُرْشِدُ أَبْرَأُ إلَی ﷲ مِنْ أَعْدائِکَ وَأَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ بِوِلایَتِکَ صَلَّی ﷲ
سرپرست رہنما ہیں میں خدا کے سامنے آپکے دشمنوں سے بیزاری کرتا ہوں اور آپکی ولایت سے اسکا قرب چاہتا ہوں خدا درود بھیجے
عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
آپ پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت بجا لائے اور اس کے علاوہ جو نمازیں چاہے وہاں ادا کرے۔ پھر حضرت کی پائنتی کی طرف آ جائے اور جس قدر چاہے دعائیں مانگے۔
مؤلف کہتے ہیں: خاص ایام میں آپ کی زیارت کی بہت زیادہ فضیلت ہے خصوصاً ماہ رجب میں نیز تیسویں اور پچیسویں ذیقعد اور چھٹی رمضان کو جیسا کہ مختلف مہینوں کے اعمال میں ذکر ہو چکا ہے اس کے علاوہ وہ دن جو حضرت کے ساتھ خصوصیت رکھتے ہیں ان میں بھی آپ کی زیارت بہت فضیلت رکھتی ہے۔ جب حضرت سے وداع کرنا چاہے تو وہ وداع پڑھے۔ جو حضرت رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم سے وداع کرتے وقت پڑھا جاتا ہے وہ پڑھے اور وہ یہ ہے:
لاَ جَعَلَهُ ﷲ آخِرَ تَسْلِیمِی عَلَیْکَ اگر چاہے تو یہ وداع بھی پڑھے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ
خدا اسے آپ پر میرا آخری سلام قرار نہ دے سلام ہوآپ پر اے ولی خدا
وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُاَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِی ابْنَ نَبِیِّکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی
رحمت خدا ہو اور اس کی برکات اے معبود اس کو میرے لیے آخری موقع قرار نہ دے جو زیارت کی میں نے تیر ے نبی کے فرزند اور
خَلْقِکَ وَاجْمَعْنِی وَ إیَّاهُ فِی جَنَّتِکَ وَاحْشُرْنِی مَعَهُ وَفِی حِزْبِهِ مَعَ الشُّهَدائِ
تیری مخلوق پر تیری حجت کی مجھے اور انہیں اپنی جنت میں یکجا کردے مجھے محشور کر ان کے ساتھ ان کے گروہ میں شہیدوں اور نیکوں
وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَیِکَ رَفِیقاًوَأَسْتَوْدِعُکَ ﷲ وَأَسْتَرْعِیکَ وَأَقْرَأُعَلَیْکَ السَّلامَ
کے ساتھ اور یہ کتنے اچھے ہم نشین ہیں آپ کو سپرد خدا کرتا ہوں آپ کی توجہ چاہتا ہوں اورآپ کو سلام پیش کرتا ہوں
آمَنَّا بِالله وَبِالرَّسُولِ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ وَدَلَلْتَ عَلَیْهِ فَاکْتُبْنا مَعَ الشَّاهِدِینَ
ہم ایمان رکھتے ہیں خدا و ر رسول پر اور اس پر جو آپ لائے اور اس کی طرف رہبری کی پس اے خدا ہمیںگواہوں میں لکھ دے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ یہاں چند ایک مطالب کا بیان کر دینا بہت مناسب ہے:
سفر امام رضا بہ خراسان
( ۱ )معتبر سند کے ساتھ امام علی نقی - سے نقل ہوا ہے کہ جس شخص کو خدائے تعالیٰ سے کوئی حاجت ہو تو اسے طوس میں میرے جد بزرگوا کی زیارت کرنا چاہئے‘ وہ غسل کرے اور حضرت کے سرہانے کی طرف ہو کر دو رکعت نماز پڑھے اور اس نماز کی قنوت میں اپنی حاجت طلب کرے تو وہ لازماً پوری ہو گی سوائے اس کے کہ اس میں کسی گناہ یا قطع رحم کا دخل ہو کیونکہ امام علی رضا - کی قبر شریف جنت کے گھروں میں سے ایک گھر ہے پس کوئی مومن اس کی زیارت نہیں کرے گا مگر یہ کہ حق تعالیٰ اس کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا۔
( ۲ )علامہ مجلسیرحمهالله نے شیخ جلیل حسین بن عبد الصمد (شیخ بہائیرحمهالله کے والد) کا ایک مکتوب نقل کیا ہے جس میں تحریر ہے کہ شیخ ابوالطیب حسین بن احمدرحمهالله فقیہ رازی نے فرمایا ہے کہ جو شخص امام علی رضا - یا ائمہ معصومین میں سے کسی امام کی بھی زیارت کرے اور ان کی قبر مبارک کے نزدیک نماز جعفر طیارعليهالسلام بجا لائے تو اس کے لیے ہر رکعت کے بدلے ایک ہزار حج ایک ہزارہ عمرہ کا ثواب ہے نیز خدا کے نام پر ایک ہزار غلام آزادکرنے اور ایک ہزار جہاد کا ثواب لکھا جاتا ہے جو اس نے کسی نبی مرسل کی معیت میں کیا ہو.
مزید برآں اس کیلئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور سو گناہ محو کر دیے جائیں گے نماز جعفر طیار(رض) کا طریقہ روز جمعہ کے اعمال میں گذر ہو چکا ہے بوقت ضرورت وہاں مراجعہ فرمائیں۔
( ۳ )محول سجستانی سے روایت ہے کہ جب ماموں الرشید عباسی نے امام علی رضا - کو مدینہ منورہ سے خراسان بلایا تو حضرت اپنے جد بزرگوار نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے وداع کرنے مسجد نبوی میں گئے‘ آپ بار بار آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی قبر مبارک سے وداع کر کے باہر آتے اور پھر پلٹ جاتے اور ہر بار آپ کے گریہ کی آواز بلند تر ہوتی جاتی تھی۔ راوی کا بیان ہے کہ اسوقت میں حضرت کے نزدیک گیا سلام کیا آپ نے جواب سلام دیا اور میں نے انہیں اس سفر کی مبارکباد پیش کی‘ تب حضرت نے فرمایاکہ ابھی تم میری زیارت کر لو جب کہ میں اپنے جد بزرگوار سے بچھڑ کر دور جا رہا ہوں اور میں اسی سفر میں تنہائی کی حالت میں دنیا سے گزر جائوں گا اور مجھ کو ہارون الرشید کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔
شیخ یوسف بن حاتم شامی نے در النظیم میں فرمایا ہے کہ امام علی رضا - کے چند اصحاب نے مجھے بتایا ہے کہ حضرت نے فرمایا: جب میں مدینہ منورہ سے روانہ ہونے لگا تو میں نے اپنے اہل و عیال کو جمع کر کے انہیں حکم دیا کہ وہ مجھ پر گریہ و بکا کریں کہ اسے میں خود سنوں‘ میں نے بارہ ہزاردینار ان میں تقسیم کیے اور یہ بھی کہا کہ میں اس سفر سے لوٹ کر تمہارے پاس نہ آسکوں گا نیز میں نے اپنے فرزند ابو جعفر جوادعليهالسلام کا ہاتھ پکڑا انہیں اپنے جد بزرگوار کی قبر شریف پر لے گیا اور ان کا ہاتھ اس پر رکھوا کر انہیں اس سے لپٹا دیا اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ان کی حفاظت کرنے کی درخواست کی اپنے تمام خدام و وکلائ کوابو جعفر جوادعليهالسلام کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ان کی مخالفت سے منع کیا اور ان سب کو بتلایا کہ یہ میرے قائم مقام و جانشین ہیں۔
( ۴ )سید عبدالکریم بن طائوسرحمهالله نے روایت کی ہے کہ جب مامون الرشید نے امام علی رضا - کو مدینہ سے خراسان بلایا تو آپ مدینہ سے بصرہ اور وہاں سے کوفہ ہوتے ہوئے بغداد اور وہاں سے قم پہنچے‘ جب آپ قم میں داخل ہوئے تو لوگ آپ کا استقبال کرنے آئے ان میں سے ہر ایک یہ اصرار کرتاتھا کہ حضرت میرے مہمان ہوں آپ نے فرمایا کہ میرا اونٹ اس پر مامور ہے اور وہ جہاں بیٹھے گا میں اسی کے ہاں مہمان ہوں گا چنانچہ وہ اونٹ چلتے چلتے ایک ایسے شخص کے گھر کے سامنے بیٹھ گیا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ کل امام علی رضا - اس کے مہمان بنیں گے۔ زیادہ مدت نہ گزری کہ وہ جگہ ایک بلند مرتبہ مقام قرار پا گئی اور اب ہمارے زمانے میں اس مکان میں ایک دینی مدرسہ قائم ہے۔
( ۵ )شیخ صدوقرحمهالله نے اسحاق بن راہویہ سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا: جب امام علی رضا - نیشا پور پہنچے اور وہاں سے آگے روانہ ہونا چاہا تو وہاں کے علمائ محدثین حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے اور عرض کی کہ اے فرزند رسول ! آپ ہمارے ہاں سے جا رہے ہیں تو کیا آپ ہمیں کوئی حدیث سنائیں گے کہ جس سے ہم استفادہ کریں؟ آپ اس وقت عماری (کجاوے) میں بیٹھے تھے پس آپ نے اپنا سر مبارک عماری سے باہر نکالا اور فرمایا: میں نے اپنے والد بزرگوار امام موسیٰ کاظم - سے سنا انہوں نے اپنے والد گرامی امام جعفر صادق -سے‘ انہوں نے اپنے والد امام محمد باقر - سے انہوں نے اپنے والد بزگوار امام علی بن الحسین سے اور انہوں نے اپنے والدگرامی امام حسین- سے انہوں نے اپنے پدرگرامی امام علی بن ابی طالب سے اور انہوں نے نبی کریم سے سنا کہ آپ نے فرمایا۔ میں نے حضرت جبرائیل - سے اور انہوں نے خدائے عزوجل سے سنا کہ اس نے فرمایا:
لاَ اِلَهَ اِلاَّ ﷲ حِصْنِیْ فَمَنْ دَخَلَ حِصْنِیْ اَمِنَ مِنْ عَذَابِیْ یعنی کلمہلاَ اِلَهَ اِلاَّ ﷲ میرا قلعہ ہے اور جو بھی میرے اس قلعے میں داخل ہو جائے وہ میرے عذاب سے محفوظ رہے گا۔ آپ نے یہ فرمایا اور روانگی کا حکم دے دیا جب آپ کا اونٹ چل پڑا تو آپ نے ہمیں پکارا اور فرمایا بِشُرُوطِھَا۔۔۔۔ وَاَنَا مِنْ شُرُوطِھَا یعنی یہ حکم اپنی شرط اور شروط کے ساتھ ہے اور میں بھی اس قلعہ کی ایک شرط ہوں یعنی مجھ کو امام برحق ماننا بھی اس قلعہ میں داخل ہونے کی ایک شرط ہے۔
( ۶ )ابوالصلت سے روایت ہے کہ اس سفر میں جب امام علی رضا - سرخ نامی گائوں میں پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے عرض کی کہ اے فرزند رسول ! وقت ظہر ہو چکا ہے کیا آپ یہاں نماز ادا نہیں فرماتے؟ اس پر آپ وہیں اتر پڑے اور وضو کے لیے پانی طلب فرمایا تو وہ لوگ کہنے لگے کہ پانی تو ہمارے ہاں نہیں ہے! یہ سن کر آپ نے اپنے دست مبارک سے زمین کو کھوداپس وہاں سے اتنا پانی ابل پڑا کہ آپ نے اور آپ کے تمام ساتھیوں نے اس سے وضو کیا اور پانی کا یہ چشمہ اب بھی وہاں موجود ہے۔ پھر جب آپ سنا آباد شہر میں آئے تو آپ نے پشت مبارک سے ایک پہاڑی کے ساتھ ٹیک لگائی اور اس کے پتھر سے اب تک ہانڈیاں تراشی جاتی تھیں‘ آپ نے فرمایا تھا کہ خداوند! اس پہاڑی کو نفع بخش بنا دے اور ہر اس چیز میں برکت دے جو اس کے پتھر سے بنے ہوئے برتن میں رکھی جائے‘ راوی کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اس پتھر سے ہنڈیاں تراش کر کے خود حضرت کی خدمت میں بھی پیش کیں اور آپ نے حکم دیا تھا کہ میرے لیے اس ہنڈیا میں کھانا پکایا جائے۔ چنانچہ اسی دن سے وہاں کے لوگوں نے اس پہاڑی کے پتھر سے برتن بنانے شروع کیے اور انہیں بابرکت پایا۔
( ۷ )صاحب مطلع الشمس نے نقل کیا ہے کہ پچیس ذوالحجہ ۱۰۰۶ھ میں شاہ عباس اول مشہد آئے اور دیکھا کہ عبدالمومن خان اوزبکی نے حرم مبارک کو لوٹ لیا اورحجرہ طلا کے سوا وہاں کچھ نہیں چھوڑا شاہ عباس اٹھائیس ذوالحجہ کو ہرات گئے اور اسے فتح کر لیا وہاں کا انتظام مکمل کرنے کے بعد مشہد مقدس آگئے اور ایک مہینہ وہیںٹھہرے اس دوران میں صحن مبارک کی مرمت کروائی خدام حرم کو انعام و اکرام سے نوازا اور عراق چلے گئے۔ پھر ۱۰۰۸ھ کے اواخرمیں شاہ عباس بار دیگرمشہد مقدس گئے اور پورا موسم سرما وہیں گزارا‘ اس عرصے میں آستان قدس کے خادم کی حیثیت سے بہ نفس نفیس تمام خدمات انجام دیتے رہے یہاں تک کہ شمع کی صفائی خود کرتے اور قینچی سے اسکی بتی کاٹ کر درست کرتے تھے چنانچہ شاہ کے اس عمل کو دیکھتے ہوئے شیخ بہائیرحمهالله نے فی البدیہہ یہ اشعار کہے:
پیوستہ بود ملائک علیین
پروانہ شمع روضہ خلد آئین
مقراض باحتیاط زن ایخادم
ترسم ببری شہپر جبریل آمین
عالم بالا کے فرشتے ہمیشہ اس جنت جیسے روضہ کی شمع پر مثل پروانوں کے پرواز کرتے ہیں‘ اے اس آستان کے خدمتگار یہ قینچی ذرا احتیاط سے چلائو کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں تم جبریل کا پر ہی نہ کاٹ دو۔
شاہ عباس نے نذر مان رکھی تھی کہ وہ پاپیادہ مشہد مقدس جا کر امام علی رضا - کی زیارت کریں گے چنانچہ اپنی اس نذر کو پورا کرنے کے لیے ۱۰۰۹ھ میں پیدل یہاں آئے اور یہ سفر اٹھائیس دنوں میں طے کیا‘ اس موقع کی مناسبت سے صاحب تاریخ عالم آرا نے یہ اشعار کہے:
غلام شاہ مردان شاہ عباس
شہ والا گہر خاقان امجد
بطوف مرقد شاہ خراسان
پیادہ رفت باخلاص بے حد
پیادہ رفت شد تاریخ رفتن
زاصفاہان پیادہ تابمشہد ۱۰۰۹
شاہ عباس کا پیدل مشہد جانا
شہ مردان علی مرتضیٰ - کا غلام شاہ عباس کہ جو نیک خصلت شہنشاہ ہے۔
وہ شاہ خراسان امام علی رضا - کے روضہ پر حاضری دینے کے لیے خلوص و محبت کے ساتھ پیدل چل کر گیا۔ شاہ عباس کے پا پیادہ جانے کی تاریخ یہ ہے کہ وہ اصفہان سے مشہد تک پیدل چلا یہ ۱۰۰۹ھ کا واقعہ ہے۔ چنانچہ ۱۰۰۹ھ میں جب شاہ عباس مشہد مقدس آئے تو انہوں نے صحن مبارک کو کشادہ کیا اور ایوان علی شیر کودرمیان میں رکھا کہ جو پہلے روضہ پاک کے ایک طرف صحن میں واقع تھا اور کچھ بھلا نہ لگتا تھا‘ جو ایوان اس کے سامنے تھا اسے دوسری طرف بنوایا‘ ایک سڑک شہر کے مغربی دروازے سے مشرقی دروازے تک بنائی جو ہر طرف سے صحن مبارک تک جاتی تھی۔ شہر مشہد کے لیے نہریں اور چشمے بنائے ایک نہر اس سڑک کے وسط سے نکالی جو صحن مبارک سے گزرتی ہوئی باہر چلی جاتی تھی‘ صحن کے درمیان میں ایک حوض بنوایا کہ پانی اس میں سے گزر کر مشرق میں سڑک کی طرف نکل جاتا ہے۔ پھر ہر نئی تعمیر پر کتبے لگوائے جو میرزا محمد رضائی صدر الکتاب ‘ علی رضا عباسی اور محمد رضا امامی کے خط میں ہیں‘ شاہ عباس نے ہی امام علی رضا - کا قبہ سونے کی اینٹوں سے بنوایا اور اس کے لیے جو کتبہ لکھا گیا ہے اس کا مضمون یہ ہے۔
اس خدا کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے ۔
خدا کی عظیم تو فیقات سے ہے کہ اس نے توفیق دی کہ بادشاہ اعظم ،عرب و عجم کے بادشاہوں کے آقا ،پاکیزہ نسبت والے ،روشن علوی حسب والے حرم مطہر کے خادموں کے قدموں کی خاک ، اس روضہ منورہ کے زائرین کی جو تیوں کا غبار ،اپنے معصوم اجداد کے آثار کے مروج بادشاہ ابن بادشاہ ابو مظفر شاہ عباس حسین موسوی صفوی بہادر خان اپنے دارالسلطنت اصفہان سے پیدل چلنے کے لئے آمادہ ہوئے اس کی زیارت کیلئے اور وہ اس قبہ کی زینت کی اپنے خالص مال کے ساتھ مشرف ہوا اور یہ کام ۱۰۱۰ھجری میں شروع ہوا اور ۱۰۱۶ھجری میں مکمل ہوا ۔
معجزات امام رضا
( ۸ )شیخ طبرسی نے اعلام الوری میں امام علی رضا - کے بہت سے معجزات تحریر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ حضرت کی شہادت سے لے کر ہمارے زمانے تک حضرت کے بہت زیادہ عجیب و غریب معجزے ظاہر ہوئے ہیںان معجزات کو ہر مخالف و موافق نے دیکھا اور ان کی تصدیق کی ہے، چنانچہ یہ مسلم بات ہے کہ یہاں پیدائشی اندھوں اور کوڑھ کے مریضوں کو شفا حاصل ہوئی، لوگوں کی دعائیں قبول ہوئیں، ان کی حاجات بر آئیں اور بہت سے لوگوں کی سختیاں اور مصیبتیں دور ہوئی ہیں۔ ان میں سے بہت سے واقعات کو ہم نے خود مشاہدہ کیا ہے جس سے یقین ہو گیا کہ یہ واقعات سچے ہیںاور ان میں شک کی گنجائش نہیںہے شیخ حر عاملی نے اثبات الہدی میں شیخ طبرسی کے اس کلام کو نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ ان میں سے بہت سارے معجزات کا خود میں نے بھی مشاہدہ کیا ہے جیسا کہ شیخ طبرسی نے ان کو دیکھا اور مجھے ان کے بارے میں ویسا ہی یقین ہوا ہے جیسا انہیں ہوا تھا مشہد مقدس میں میری مجاورت جو چھبیس برس پر محیط ہے اس زمانے میں میں امام علی رضا- کے روضہ مبارک سے ظاہر ہونے والی کرامات و برکات کے بارے میں اتنے واقعات سننے میں آئے کہ جو حد تواتر سے بڑھے ہوئے ہیں اور مجھے کوئی ایسا موقع یاد نہیں کہ میں نے اس آستان پر دعا مانگی یا حاجت طلب کی ہو اور وہ پوری نہ ہوئی ہو ۔ یہ مقام تفصیل کی گنجائش نہیں رکھتا لہٰذا ہم اسی پر اکتفائ کرتے ہیں۔
مؤلف کہتے ہیں ہر زمانے میں اس روضہ مطہرہ سے اس قدر معجزات ظاہر ہوئے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے گزشتہ معجزوں کو نقل کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ہم ستائیس رجب کی رات کے اعمال میں کچھ مناسب حال چیزیں نقل کر آئے ہیں لہٰذا عدم گنجائش کے پیش نظر یہاں ہم نے مزید واقعات درج نہیں کیے چنانچہ اس فصل کو تمام کرتے ہوئے ہم امام علی رضا - کی مدح میں ملاں جامی کے چند اشعار نقل کرتے ہیں:
سَلامٌ عَلی آلِ طه وَیٓسَ
سَلامٌ عَلی آلِ النَّبِیِّین
سلام ہو طٰہٰ و یاسین کی آلعليهالسلام پر
سلام ہو نبیوں میں سے بہترین کی آلعليهالسلام پر
سَلامٌ عَلی رَوْضَةٍ حَلَّ فِیها
إمامٌ یُباهِی بِهِ الْمُلْکُ وَالدِّین
سلام ہو اس روضہ پر جس میں دفن ہے
وہ امام کہ جس پر ملک و دین کو فخرہے
امام بحق شاہ مطلق کہ آمد
حریم درش قبلہ گاہ سلاطین
شہ کاخ عرفان گل شاخ احسان
دُر درج امکان مہ برج تمکین
علی ابن موسٰی الرضا کز خدایش
رضا شد لقب چون رضا بودش آئین
زفضل و شرف بینی او راجہانی اگر
نبودت تیرہ چشم جہان بین
پئی عطر رو بند حوران جنت
غبار درشر ابگسیوی مشگین
اگر خواہی آری بکف دامن او
برو دامن از ہر چہ جز اوست برچین
امام علی رضا- جو سچے امام اور با اختیار بادشاہ ہیں ان کے حرم پاک کی چوکھٹ دنیا کے بادشاہوں کے جھکنے کی جگہ ہے ۔وہ مرکز معرفت کے فرمانروا اور نیکی کی ٹہنی پر کھلے ہوئے پھول ہیں کائنات کی لڑی کے موتی اور آسمان عزت کے چاند ہیں وہ علی ابن موسٰی الرضا ہیں کہ ان کے خدا نے انہیں رضا کے لقب سے سرفراز کیا کہ خدا کی رضا پر راضی رہنا ان کا شیوا ہے ،اگر دنیا کو دیکھنے والی تمہاری آنکھ بے نور نہ ہو تو تم دیکھو گے کہ یہ امام فضیلت و بڑائی میں اس دنیا پر بھاری ہیں ایسا کیوں نہ ہو جنت کی حوریں اپنی سیاہ زلفوں میں، خوشبو بسانے کے لئے ان کے دروازے کی دھول اپنے سر پر ملتی ہیں ،اگر تم پاک امام کا دامن پکڑنا چاہتے ہو تو جاؤ ان کے علاوہ ہر ایک سے اپنا دامن بچا کر ان کی طرف بڑھو ۔
دسویں فصل
زیارت سامرہ
یہ فصل سامرہ میں مدفون ائمہ کی زیارت اور سرداب مطہرہ کے اعمال پر مشتمل ہے اور اس میں دو مقام میں۔
پہلا مقام
امام علی نقی و امام حسن عسکری کی زیارت
جب زائر سامرہ(سرمن رای) جائے اور وہاںان دو اماموں کی زیارت کرنا چاہے، تو پہلے غسل کرے پھر آرام و وقار کیساتھ چلے اور حرم کے دروازے پر کھڑے ہو کر وہ عام اذن دخول پڑھے جو باب زیارات کی دوسری فصل کے شروع میں ذکر ہو چکا ہے ،اسکے بعد حرم شریف میں داخل ہو کر ان دونوں اماموں کی یہ مشترکہ زیارت پڑھے جو سب زیارتوں میں سے صحیح تر ہے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمَا یَا وَلِیَّیِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا حُجَّتَیِ ﷲاَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا نُورَیِ ﷲ فِی
سلام ہو آپ دونوں پر اے اولیائ خدا، سلام ہو آپ دونوں پر اے حجت خدا، سلام ہو آپ دونوں پر جو زمین کی
ظُلُماتِ الْاََرْضِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا مَنْ بَدا لِلّٰهِ فِی شَأْنِکُما أَتَیْتُکُما زائِراً عارِفاً بِحَقِّکُما
تاریکیوں میں خدا کے دو نور ہیں سلام آپ دونوں پر خدا نے جنکی شان ظاہر فرمائی آیا ہوں آپکی زیارت کرنے، آپکا حق پہچانتا ہوں
مُعادِیاً لاََِعْدائِکُما مُوالِیاً لاََِوْلِیَائِکُما مُؤْمِناً بِمَا آمَنْتُما بِهِ کافِراً بِما
آپ دونوں کے دشمنوں کا دشمن، آپکے دوستوں کا دوست ہوں ایمان رکھتا ہوں جس پر آپکا ایمان ہے اسکا انکار کرتا ہوں جس کا
کَفَرْتُما بِهِ مُحَقِّقاً لِمَا حَقَّقْتُما مُبْطِلاً لِمَا أَبْطَلْتُما أَسْأَلُ ﷲ رَبِّی
آپ انکار کرتے ہیں اس کو حق سمجھتا ہوں جسے آپ نے حق سمجھا اسکو جھٹلاتا ہوں جسے آپ نے جھٹلایا سوال کرتا ہوں اللہ سے جو میرا
وَرَبَّکُما أَنْ یَجْعَلَ حَظِّی مِنْ زِیارَتِکُمَا الصَّلاةَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ یَرْزُقَنِی مُرافَقَتَکُما
اور آپکا پروردگار ہے یہ کہ وہ قرار دے آپکی زیارت میں میرا حصہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آلعليهالسلام پر درود اور یہ کہ مجھے نصیب کرے آپ دونوں کی
فِی الْجِنانِ مَعَ آبائِکُمَا الصَّالِحِینَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ یُعْتِقَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ وَیَرْزُقَنِی شَفاعَتَکُما
جنت میں کہ آپکے صالح آبائ کیساتھ نیز اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ میری گردن آگ سے آزاد کردے مجھے آپ دونوں کی شفاعت
وَمُصاحَبَتَکُما وَیُعَرِّفَ بَیْنِی وَبَیْنَکُما وَلاَ یَسْلُبَنِی حُبَّکُما وَحُبَّ آبائِکُمَا الصَّالِحِینَ
اور ہم نشینی عطا فرمائے اور میرے اور آپکے درمیان آشنائی پیدا کرے نیز مجھ سے آپ دونوں کی اور آپکے صالح آبائ کی محبت واپس نہ لے
وَأَنْ لاَ یَجْعَلَهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِکُمَا وَیَحْشُرَنِی مَعَکُمَا فِی الْجَنَّةِ بِرَحْمَتِهِ
اس زیارت کو میرے لئے آپ دونوں کی آخری زیارت نہ بنائے مجھ کو جنت میں آپ دونوں کے ساتھ ٹھہرائے اپنی رحمت سے
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی حُبَّهُمَا وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِهِمَا اَللّٰهُمَّ الْعَنْ ظَالِمِی آلِ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ وَانْتَقِمْ
اے معبود مجھے ان دونوں کی محبت عطا کر اور ان کے دین پر وفات دے اے معبود آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا حق چھیننے والوں پر لعنت کر اور ان سے
مِنْهُمْ اَللّٰهُمَّ الْعَنِ الْاََوَّلِینَ مِنْهُمْ وَالْاَخِرِینَ وَضَاعِفْ عَلَیْهِمُ الْعَذَابَ وَابْلُغْ بِهِمْ وَبِأَشْیَاعِهِمْ
اس ظلم کا بدلہ لے اے معبود ان میں سے پہلے اور آخری ظالم پر لعنت کر اور دگنا کر دے ان پر اپنا عذاب اور انکو اور انکے ساتھیوں کو
وَمُحِبِّیهِمْ وَمُتَّبِعِیهِمْ أَسْفَلَ دَرَکٍ مِنَ الْجَحِیمِ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ عَجِّلْ
انکے دوستوں کو اور انکے پیروکاروں کو دوزخ کے سب سے گہرے گڑھے میں پہنچا کہ یقینا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود تیرا
فَرَجَ وَلِیِّکَ وَابْنِ وَلِیِّکَ وَاجْعَلْ فَرَجَنَا مَعَ فَرَجِهِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ولی جو تیرے ولی کا فرزند ہے اس کے ظہور میں جلدی کر اس کی کشائش میں ہماری بھی کشائش فرما اے سب سے زیادہ رحم والے ۔
اس کے بعد اپنے، اپنے والدین، اپنے بھائی بہنوں اور تمام مومنین و مومنات کیلئے جو بھی جائز دعائیں چاہے مانگے ،اس کے علاوہ جس قدر ہو سکے وہاں دعائیں اور مناجات کرے اگر ممکن ہو تو ان ضریحوں کے نزدیک دو رکعت نماز ادا کرے اگر یہاں نہ پڑھ سکے تو قریبی مسجد میں جاکر یہ نماز پڑھے اس کے بعد جو دعا بھی مانگے گا وہ قبول کی جائے گی وہ مسجد ان دونوں ائمہعليهالسلام یعنی امام علی نقی، امام حسن عسکری کے گھر کے قریب ہے ،جس میں وہ نماز پڑھا کرتے تھے ۔
مؤلف کہتے ہیں :جو زیارت ہم نے ابھی نقل کی ہے یہ کامل الزیارات کی روایت کے مطابق ہے اور شیخ محمد بن المشہدی، شیخ مفید اور شہید نے بھی معمولی اختلاف کے ساتھ اپنی کتب مزار میں درج کیا ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ جملہ ’’فِی الْجَنَّۃِ بِرَحْمَتِہٰ‘‘ کے بعد خود کو ان دونوں قبروں کیساتھ لپٹائے ان پر بوسہ دے اور اپنے دونوں رخسار باری باری ان قبروں پر رکھے پھر سر اوپر اٹھائے اور یہ پڑھے:اَللَّهُمَّ اُرْزُقْنِیْ حُبُّهُمْ وَتَوَّفَنِیْ عَلیٰ مِلَّتِهِمْ اور زیارت کے آخر تک کے باقی جملے بھی پڑھے انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ زیارت کے بعد سرہانے کیطرف کھڑے ہو کر دو دو کر کے چار رکعت نماز زیارت پڑھے پھرچاہے تو وہاں اور بھی نمازیں پڑھے :
واضح رہے کہ یہ دونوں ائمہعليهالسلام اپنے گھر میں دفن ہیں اس گھر کا ایک دروازہ تھا جو بعض اوقات شیعوں اور محبوں کی خاطر کھولا جاتا تھا اور وہ ان دونوں قبور کی زیارت کرتے تھے اور اکثر اوقات اس جالی سے بھی زیارت کی جاتی تھی جو سامنے کی دیوار میں لگی ہوئی تھی کیونکہ وہ دروازہ بند رکھا جاتا تھا ،اسی سابقہ حدیث کی ابتدا میں یہ ذکر آیا ہے کہ غسل کرنے کے بعد اگر ممکن ہو تو اندر جا کر زیارت کرے بصورت دیگر اسی جالی سے ہی سلام پیش کرے جو قبر کے سامنے کی دیوار میں ہے جالی سے زیارت کرنے والے کو چاہیے کہ نماز زیارت نزدیک والی مسجد میں ادا کرے تاہم یہ بہت پہلے کی صورت حال تھی چنانچہ بعدمیں شیعیان علیعليهالسلام نے ہمت سے کام لیا اور اس گھر کی قدیمی عمارت کو گرا کر اسکی بجائے گنبد، محراب اور کشادہ ایوان تعمیر کردیئے نیز مذکورہ مسجد کو حرم میں شامل کرکے اسے بھی حرم کا ایک حصہ بنادیا ،آج کل اس مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ضریح مبارک کی پشت کی جانب جو مستطیل عمارت بنی ہوئی تھی وہ مسجد اسی جگہ پر ہوتی تھی بہرحال اب زائرین کو نماز اور زیارت میں پہلے کیطرح ادھر ادھر نہیں جانا پڑتا اور وہ جہاں چاہیں نماز زیارت بجالا سکتے ہیں۔
ان دونوں ائمہعليهالسلام کیلئے الگ الگ زیارتیں بھی منقول ہیں اگر کوئی زائر اس کیلئے آمادہ ہو تو یہاں زیارت جامعہ کبیرہ پڑھنی چاہیے جو آئندہ صفحات میں نقل کی جائے گی اس زیارت کے جملوں میں ائمہعليهالسلام کی بزرگی و بڑائی کا ذکر اور انکی بندگی کا اقرار موجود ہے نیز یہ زیارت امام علی نقی - سے صادر شدہ ہے علاوہ ازیں سید ابن طاؤس نے مصباح الزائرین میںان دونوں ائمہعليهالسلام کیلئے الگ الگ مفصل زیارت مع صلوات اور مخصوص دعا کے ساتھ نقل کی ہے لہذا ہم بھی فوائد اور ثواب کثیرہ کے پیش نظر وہ زیارتیں یہاں درج کیے دیتے ہیں سید ابن طاؤس نے فرمایا ہے کہ زائرین جب سرمن رای (سامرہ)پہنچیں تو سب سے پہلے غسل کریں پاکیزہ لباس پہنیں اور پھر وقار کے ساتھ زیارت کیلئے روانہ ہوں جب حرم شریف کے دروازے پر پہنچیں تو وہاں کھڑے ہو کر اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے ہوئے یہ پڑھیں :
أَأَدْخُلُ یَا نَبِیَّ ﷲ أَأَدْخُلُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَأَدْخُلُ یَا فاطِمَةُ الزَّهْرائُ سَیِّدَةَ نِسائِ الْعالَمِینَ
کیا میں اندر آجاؤں اے خدا کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا میں اندر آجاؤں اے مومنوں کے امیرعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے سیدہ فاطمہ زہراعليهالسلام اے تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار
أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ
کیا میں اندر آجاؤں اے میرے آقا حسنعليهالسلام ابن علیعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے میرے آقا حسینعليهالسلام ابن علیعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے میرے آقا
عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ أَأَدْخُلُ یا مَوْلایَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ
علیعليهالسلام ابن الحسینعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے میرے آقا محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے میرے آقا جعفرعليهالسلام ابن محمدعليهالسلام
أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ عَلِیَّ بْنَ مُوسَی أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ
کیا میں اندر آجاؤں اے میرے آقاموسٰیعليهالسلام ابن جعفرعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے میرے آقاعلیعليهالسلام بن موسٰیعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے میرے آقا
مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ یَا أَبَا الْحَسَنِ عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ أَأَدْخُلُ یَا مَوْلایَ یَا أَبا
محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے میرے آقااے ابولحسن علیعليهالسلام ابن محمد کیا میں اندر آجاؤں اے میرے آقا ابو
مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ أَأَدْخُلُ یَا مَلائِکَةَ ﷲ الْمُوَکَّلِینَ بِهذَا الْحَرَمِ الشَّرِیفِ
محمد حسنعليهالسلام ابن علیعليهالسلام کیا میں اندر آجاؤں اے خدا کے فرشتو کہ جو اس حرم شریف پر مقرر کیے گئے ہو ۔
زیارت امام علی نقی
اس کے بعد حرم کے اندر داخل ہو جائے مگر داخل ہوتے ہوئے پہلے دایاں پاؤں اندر رکھے پھر امام علی نقی - کی ضریح پاک کی طرف منہ کرئے، پشت قبلے کی جانب کرکے کھڑا ہو جائے اور سو مرتبہ کہے :
ﷲ أکْبَر پھر آپ کیلئے یہ زیارت پڑھے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْحَسَنِ عَلِیَّ بن مُحَمَّدٍ الزَّکِیَّ
خدا بزرگتر ہے آپ پر سلام ہو اے ابولحسن علیعليهالسلام ابن محمدعليهالسلام آپ پاک، ہدایت یافتہ
الرَّاشِدَ النُّورَ الثَّاقِبَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا
اور چمکتا ہوا نور ہیں آپ پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں آپ پر سلام ہو اے خدا کے برگزیدہ آپ پر سلام ہو اے
سِرَّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبْلَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا آلَﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خِیَرَةَ ﷲ
خدا کے راز دان سلام ہو آپ پر اے خدا کی مضبوط رسی آپ پر سلام ہو اے خدا کے پیارے آپ پر سلام ہو اے خدا کے چنے ہوئے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفْوَةَ ﷲاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِینَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَقَّ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے برگزیدہ آپ پر سلام ہو اے خدا کے امانتدار سلام ہو آپ پر اے خدا کے بھیجے ہوئے حق
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیبَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نُورَ الْاَنوَارِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَازَیْنَ الْاََبْرَارِ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے حبیب آپ پر سلام ہو اے روشنیوں کی روشنی آپ پر سلام ہو اے نیکوں کی زینت
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَلِیلَ الْاََخْیَارِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاعُنْصُرَ الْاََطْهارِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا
آپ پر سلام ہو اے نیکوکاران آپ پر سلام ہو اے جزو پاکاں آپ پر سلام ہو اے
حُجَّةَ الرَّحْمٰنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارُکْنَ الْاِیمانِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ
خدائے رحمن کی حجت آپ پر سلام ہو اے جزو ایمان آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے مولا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ الصَّالِحِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یا عَلَمَ الْهُدَیٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا
آپ پر سلام ہو اے نیکوںکے مددگار آپ پر سلام ہو اے نشان ہدایت آپ پر سلام ہو اے
حَلِیفَ التُّقی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَمُودَ الدِّینِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ
تقوی کے ساتھی آپ پر سلام ہو اے دین کے ستون آپ پر سلام ہو اے خاتم انبیائ کے فرزند آپ پر
عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ سَیِّدَةِ نِسَائِ الْعالَمِینَ
سلام ہو اے اوصیائ کے سردار کے فرزند آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہراعليهالسلام کے فرزند جو زنان عالم کی سردار ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْاََمِینُ الْوَفِیُّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْعَلَمُ الرَّضِیُّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو کہ آپ باوفا اور امانتدار ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ پسندیدہ نشان ہیں آپ پر سلام ہو
أَیُّهَا الزَّاهِدُ التَّقِیُّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْحُجَّةُ عَلَی الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا
کہ آپ سیر چشم پرہیزگار ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ ساری مخلوق پر خدا کی حجت ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ
التَّالِی لِلْقُرْآنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْمُبَیِّنُ لِلْحَلالِ مِنَ الْحَرامِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا
عظیم قرآن خوان ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ حلال و حرام کو بیان کر نے والے ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ
الْوَلِیُّ النَّاصِحُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الطَّرِیقُ الْواضِحُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا النَّجْمُ اللاَّئِحُ
خیر خواہ اور مددگار ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ واضح راستہ ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ چمکتا ستارہ ہیں
أَشْهَدُ یَا مَوْلایَ یَا أَبَا الْحَسَنِ أَنَّکَ حُجَّةُ ﷲ عَلَی خَلْقِهِ وَخَلِیفَتُهُ فِی بَرِیَّتِهِ وَأَمِینُهُ فِی
میں گواہ ہوں اے میرے آقا اے ابوالحسنعليهالسلام کہ آپ خلق خدا پر اس کی حجت، اس کی مخلوق پر اس کے خلیفہ، اس کے شہروں میں
بِلادِهِ وَشَاهِدُهُ عَلَی عِبَادِهِ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ کَلِمَةُ التَّقْوَی وَبَابُ الْهُدَیٰ وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقیٰ
اسکے نمائندہ اور اس کے بندوں پر اس کے گواہ ہیں میں گواہ ہوں کہ آپ روح پرہیزگاری، ہدایت کے دروازہ، مضبوط ترین وسیلہ
وَالْحُجَّةُ عَلَی مَنْ فَوْقَ الْاََرْضِ وَمَنْ تَحْتَ الثَّرَی وَأَشْهَدُ أَنَّکَ الْمُطَهَّرُ مِنَ الذُّنُوبِ
اور حجت ہیں ہر چیز پر جو زمین کے اوپر اور جو اس کے نیچے ہے میں گواہ ہوں اس پر کہ آپ گناہ و خطا سے پاک،
الْمُبَرَّأُ مِنَ الْعُیُوبِ وَالْمُخْتَصُّ بِکَرامَةِ ﷲ وَالْمَحْبُوُّ بِ حُجَّةِ ﷲ وَالْمَوْهُوبُ لَهُ کَلِمَةُ ﷲ
نقص و عیب سے بری، خدا کی دی ہوئی بزرگی میں خاص، خدا کی طرف سے حجت اور خدا کے کلام سے مشرف ہیں
وَالرُّکْنُ الَّذِی یَلْجَأُ إلَیْهِ الْعِبادُ وَتُحْیی بِهِ الْبِلادُ وَأَشْهَدُ یَا مَوْلایَ أَنِّی بِکَ وَبِآبائِکَ
آپ وہ ستون ہیں کہ لوگ جس کی پناہ لیتے ہیں اور شہر جس سے آباد رہتے ہیں میں گواہ ہوں اے میرے آقا میں آپ پر، آپ کے بزرگوں پر
وَأَبْنَائِکَ مُوقِنٌ مُقِرٌّ وَلَکُمْ تَابِعٌ فِی ذَاتِ نَفْسِی وَشَرَائِعِ دِینِی وَخَاتِمَةِ عَمَلِی وَمُنْقَلَبِی
اور فرزندوں پر اعتقاد رکھتا ہوں میں تابع ہوں آپ کا اپنی ذات میں، دینی احکام میں، اپنے عمل کے انجام میں اور لوٹ کر جانے کی
وَمَثْوَایَ وَأَنِّی وَلِیٌّ لِمَنْ وَالاکُمْ وَعَدُوٌّلِمَنْ عَادَاکُمْ مُؤْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَعَلانِیَتِکُمْ وَأَوَّلِکُمْ
جگہ میں اور میں دوست ہوں آپکے دوستوں کا اور دشمن ہوں آپکے دشمنوں کا، ایمان رکھتا ہوںآپ کے باطن و ظاہر پر اور آپ کے
وَآخِرِکُمْ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
اوّل و آخر پر قربان آپ پر میرے ماں باپ اور آپ پر سلام ہو خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
پھر قبر مبارک پر بوسہ دے پہلے دایاں پھر بایاں رخسار اس پر رکھے، اس کے بعد کھڑے ہو کر کہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصَلِّ عَلَی حُجَّتِکَ الْوَفِیِّ وَوَلِیِّکَ الزَّکِیِّ وَأَمِینِکَ
اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور اپنی اس باوفا حجت اور اپنے اس پاکباز ولی پر رحمت فرما، اپنے پسندیدہ
الْمُرْتَضی وَصَفِیِّکَ الْهَادِی وَصِرَاطِکَ الْمُسْتَقِیمِ وَالْجَادَّةِ الْعُظْمیٰ وَالطَّرِیقَةِ الْوُسْطیٰ
امانتدار اور باصفا رہبر پر رحمت کر، اپنے مقرر کردہ سیدھے راستے پر رحمت کر ،عظیم تر شاہراہ اور راہ و روشِ عدل پر رحمت کر ،کہ جو
نُورِ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ وَوَلِیِّ الْمُتَّقِینَ وَصاحِبِ الْمُخْلِصِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ
مومنوں کے دلوں کی روشنی، پرہیزگاروں کے دوست اور خلوص والوں کے ہمدم ہیں اے معبود رحمت نازل فرما ہمارے آقا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَصَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّاشِدِ الْمَعْصُومِ مِنَ الزَّلَلِ وَالطَّاهِرِ
اور انکے خاندان پر اور امام علیعليهالسلام نقیعليهالسلام بن امام محمد تقیعليهالسلام پر رحمت فرما جو ہدایت والے، خطا ولغزش سے محفوظ، پریشان خیالی سے پاک سب
مِنَ الْخَلَلِ وَالْمُنْقَطِعِ إلَیْکَ بِالْاََمَلِ الْمَبْلُوِّ بِالْفِتَنِ وَالْمُخْتَبَرِ بِالْمِحَنِ وَالْمُمْتَحَنِ بِحُسْنِ
سے پاک، سب سے کٹ کر تیری آرزو رکھنے والے، آزمائشوں میں پڑنے والے، مشکلوں میں گھرنے
الْبَلْوَیٰ وَصَبْرِ الشَّکْوَیٰ مُرْشِدِ عِبَادِکَ وَبَرَکَةِ بِلادِکَ وَمَحَلِّ رَحْمَتِکَ
والے، سختیوں میں آزمائے ہوئے اور رنج میں صبر کرنے والے امام تیرے بندوں کے رہبر، تیرے شہروں کی برکت، تیری رحمت کی
وَمُسْتَوْدَعِ حِکْمَتِکَ وَالْقَائِدِ إلَی جَنَّتِکَ الْعَالِمِ فِی بَرِیَّتِکَ وَالْهَادِی فِی خَلِیقَتِکَ
قرار گاہ، تیری حکمت کے حامل، تیری جنت میں لے جانے والے، تیری مخلوق میں صاحب علم اور تیری خلق کے رہنما ہیں
الَّذِی ارْتَضَیْتَهُ وَانْتَجَبْتَهُ وَاخْتَرْتَهُ لِمَقَامِ رَسُولِکَ فِی أُمَّتِهِ وَأَلْزَمْتَهُ حِفْظَ شَرِیعَتِهِ فَاسْتَقَلَّ
کہ جن کو تو نے پسند فرمایا، برگزیدہ بنایا اور امت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم میں ان کا جانشین قرار دیا اور ان کی شریعت کا ذمہ دار ٹھہرایا پس انہوں نے
بِأَعْبَائِ الْوَصِیَّةِ ناهِضاً بِهَا وَمُضْطَلِعاً بِحَمْلِها لَمْ یَعْثُرْ فِی مُشْکِلٍ وَلاَ هَفَا فِی مُعْضِلٍ بَلْ
وصیت کا بار اٹھا لیا اور اسے بلند کیا اور وہ اسے اٹھانے کی طاقت بھی رکھتے تھے کسی مسئلہ میں غلطی نہ کی اور کسی الجھن میں عاجز نہ ہوئے بلکہ
کَشَفَ الْغُمَّةَ وَسَدَّ الْفُرْجَةَ وَأَدَّیٰ الْمُفْتَرَضَ اَللّٰهُمَّ فَکَما أَقْرَرْتَ ناظِرَ نَبِیِّکَ بِهِ فَرَقِّهِ
ہر پردہ ہٹایا، ہر رخنہ بند کیا اور ہر ذمہ داری پوری فرمائی اے معبود جس طرح تو نے ان کو اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آنکھوں کا نور بنایا پس انہیں بلند
دَرَجَتَهُ وَأَجْزِلْ لَدَیْکَ مَثُوبَتَهُ وَصَلِّ عَلَیْهِ وَبَلِّغْهُ مِنَّا تَحِیَّةً وَسَلاماً وَآتِنا مِنْ لَدُنْکَ فِی
درجہ بھی دے انہیں اپنے حضور ثواب کثیر عطا کران پر رحمت کر ہماری طرف سے انکو درود و سلام پہنچا اور انکی محبت کے ذریعے ہم پر
مُوالاتِهٰ فَضْلاً وَ إحْساناً وَمَغْفِرَةً وَرِضْواناً إنَّکَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ ۔اس کے بعد نماز زیارت
فضل و احسان فرما ہمیں بخش دے اور ہم سے راضی ہو جا کہ یقینا تو بڑا ہی فضل کرنے والا ہے ۔
بجالائے پھر یہ کہے:یَا ذَا الْقُدْرَةِ الْجامِعَةِ وَالرَّحْمَةِ الْواسِعَةِ وَالْمِنَنِ الْمُتَتابِعَةِ وَالْاَلائِ
اے تمام تر قدرت کے مالک وسیع رحمت والے، لگاتار احسان کرنے والے، پے درپے
الْمُتَوَاتِرَةِ وَالْاََیادِی الْجَلِیلَةِ وَالْمَواهِبِ الْجَزِیلَةِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِینَ
عطا کرنے والے، بڑی بڑی نعمتوں کے مالک اور بھاری انعام دینے والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما جو سچے ہیں
وَأَعْطِنِی سُؤْلِی وَاجْمَعْ شَمْلِی وَلُمَّ شَعَثِی وَزَکِّ عَمَلِی وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ
اور میری مراد پوری کر، مجھے سکون بخش، پریشانی دور کر اور میرے عمل کو پاک فرما نیز میرے دل کو ٹیڑھا نہ ہونے دے جب مجھے
هَدَیْتَنِی وَلاَ تُزِلْ قَدَمِی وَلاَ تَکِلْنِی إلَی نَفْسِی طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً وَلاَ تُخَیِّبْ طَمَعِی وَلاَ تُبْدِ
ہدایت دے دی ہے، میرے قدم نہ اکھڑنے دے، مجھے ایک لمحہ بھر بھی اپنے نفس پر نہ چھوڑ نا، مجھے بری خواہش سے بچا، میری چھپی
عَوْرَتِی وَلاَ تَهْتِکْ سِتْرِی وَلاَ تُوحِشْنِی وَلاَ تُؤْیِسْنِی وَکُنْ بِی رَؤُوفاً رَحِیماً وَاهْدِنِی
باتیں ظاہر نہ کر، میرا پردہ فاش نہ ہونے دے، مجھے خوفزدہ نہ کر اور ناامید نہ ہونے دے مجھ پر نرمی اور مہربانی فرما مجھے ہدایت دے
وَزَکِّنِی وَطَهِّرْنِی وَصَفِّنِی وَاصْطَفِنِی وَخَلِّصْنِی وَاسْتَخْلِصْنِی وَاصْنَعْنِی وَاصْطَنِعْنِی
اور پاک و صاف رکھ مجھے پسندیدہ بنا اور اپنا بنالے مخلص بنا اور نجات عطا فرما مجھے نیک بنا اور خاص کر
وَقَرِّبْنِی إلَیْکَ وَلاَ تُباعِدْنِی مِنْکَ وَالْطُفْ بِی وَلاَتَجْفُنِی وَأَکْرِمْنِی وَلاَ تُهِنِّی وَمَا
مجھے اپنا قرب عطا کر اور خود سے دور نہ کر مجھ پر مہربانی فرما اور سختی نہ کر مجھے عزت دے اور خوار نہ کر جو کچھ میں نے
أَسْأَلُکَ فَلاَ تَحْرِمْنِی وَمَا لاأَسْأَلُکَ فَاجْمَعْهُ لِی بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
مانگا ہے اس سے محروم نہ رکھ جو تجھ سے مانگا ہے وہ عطا فرما اپنی رحمت کے واسطے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
وأَسْأَلُکَ بِحُرْمَةِ وَجْهِکَ الْکَرِیمِ وَبِحُرْمَةِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ
میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری کریم ذات کے واسطے سے، تیرے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے واسطے سے کہ، ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر تیری رحمتیں ہوں
وَبِحُرْمَةِ أَهْلِ بَیْتِ رَسُولِکَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ
تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیتعليهالسلام کے واسطے سے کہ وہ ہیں امیر المؤمنین علیعليهالسلام ، حسنعليهالسلام ، حسینعليهالسلام ، علیعليهالسلام ، محمدعليهالسلام ،
وَجَعْفَرٍ وَمُوسی وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْخَلَفِ الْباقِی صَلَواتُکَ وَبَرَکاتُکَ
جعفرعليهالسلام ، موسیٰعليهالسلام ،علیعليهالسلام ، محمدعليهالسلام ، علیعليهالسلام ، حسنعليهالسلام اور خلف باقی و قائم (عج)ان پر تیری رحمتیں اور برکتیں ہوں
عَلَیْهِمْ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ وَتُعَجِّلَ فَرَجَ قائِمِهِمْ بِأَمْرِکَ وَتَنْصُرَهُ وَتَنْتَصِرَ بِهِ
کہ تو ان سب پر رحمت نازل فرما اور اپنے حکم سے قائم کے ظہور میں جلدی کر، ان کی مدد فرما، ان کے ذریعے اپنے دین کی نصرت کر،
لِدِینِکَ وَتَجْعَلَنِی فِی جُمْلَةِ النَّاجِینَ بِهِ وَ الْمُخْلِصِینَ فِی طاعَتِهِ وأَسْأَلُکَ بِحَقِّهِمْ لَمَّا
مجھے ان کے پیروکاروں اور ان کے سچے فرمانبرداروں میں قرار دے۔ میں سوال کرتا ہوں تجھ سے ان کے حق کے واسطے سے میری
اسْتَجَبْتَ لِی دَعْوَتِی وَقَضَیْتَ لِی حاجَتِی وَأَعْطَیْتَنِی سُؤْلِی وَکَفَیْتَنِی مَا أَهَمَّنِی مِنْ أَمْرِ
دعا قبول کر، میری حاجت پوری فرما،جو مانگا ہے عطا کر، جس کا ڈر ہے اس میں مدد فرما، دنیا و آخرت کے
دُنْیایَ وَآخِرَتِی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ یَا نُورُ یا بُرْهانُ یَا مُنِیرُ یَا مُبِینُ یَارَبِّ اکْفِنِی شَرَّ
بارے میں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے نور اے دلیل اے تابندہ اے بیان والے اے پروردگار میری مددکر سختیوں کے
الشُّرُورِ وَآفاتِ الدُّهُورِ وأَسْأَلُکَ النَّجاةَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ ۔ پھر اس مطلب کیلئے جو
حملے اور زمانے کی مصیبتوں میں سوالی ہوں نجات کا جس دن صور پھونکا جائے گا۔
چاہے دعا کرے اور بہت زیادہ پڑھے:یا عُدَّتِی عِنْدَ الْعُدَدِ وَیَا رَجائِی وَالْمُعْتَمَدَ وَیَا کَهْفِی
اے ذخیروں کے شمار میں میرے ذخیرہ اے میری امید اے میرے سہارے اے میری پناہ
وَالسَّنَدَ یَا واحِدُ یَا أَحَدُ وَیَا قُلْ هُوَ ﷲ أَحَدٌ أَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ مَنْ خَلَقْتَ مِنْ
و نگہبان اے یکتا اے یگانہ اے وہ جو خدائے یگانہ ہے سوال کرتاہوں اے معبودان کے واسطے سے جنہیں تو نے اپنی مخلوق میں پیدا
خَلْقِکَ وَلَمْ تَجْعَلْ فِی خَلْقِکَ مِثْلَهُمْ أَحَداً صَلِّ عَلَی جَماعَتِهِم ْوَافْعَلْ بِی کَذا وَکَذا
کیا اور مخلوق میں کسی کوان جیسا نہیں بنایا ان سب پر رحمت فرما اور میری فلاں فلاں حاجت پوری کر ۔
روایت ہے کہ حضرتعليهالسلام نے فرمایا:میں نے خدا سے درخواست کی ہے کہ وہ ایسے کسی شخص کو مایوس نہ کرے جو میرے انتقال کے بعد میرے روضے پر یہ دعا پڑھے جو اوپر ذکر ہوئی ہے۔
زیارت امام حسن عسکری
شیخ نے معتبر سند کے ساتھ امام حسن عسکری - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: سرمن رائے میں میری قبر دونوں جانب کے لوگوں کیلئے آفات و عذاب الہی سے امان کا ذریعہ ہے مجلسی اول نے دو جانب سے شیعہ و سنی مراد لئے ہیں یعنی حضرت کا وجود پاک اپنے اور بیگانے، ہرکسی کیلئے باعث برکت ہے جیسا کہ کاظمین کا مزار اقدس اہل بغداد کیلئے امان کا ذریعہ ہے سید ابن طاؤس کا ارشاد ہے کہ جو شخص امام حسن عسکری - کی زیارت کا ارادہ کرے اسے وہ سب عمل کرنا چاہییںجو ان کے والد گرامی کی زیارت سے قبل انجام دیئے جاتے ہیں پھر ضریح مبارک کے نزدیک کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا مُحَمَّدٍالْحَسَنِ بْنَ عَلِیٍّ الْهادِی الْمُهْتَدِی وَرَحْمَةُ ﷲ
آپ پر سلام ہو اے میرے آقا اے ابو محمدعليهالسلام حسنعليهالسلام ابن علیعليهالسلام الہادی جو ہدایت یافتہ ہیں آپ پر خدا کی رحمت
وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ وَابْنَ أَوْلِیَائِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ وَابْنَ حُجَجِهِ
و برکات ہوں آپ پر سلام ہو اے ولی خدا اور اولیائ خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے حجت خدا و حجت ہائے خدا کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ وَابْنَ أَصْفِیَائِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیفَةَ ﷲ وَابْنَ خُلَفائِهِ
آپ پر سلام ہو اے پسندیدہ خدا پسندیدگان خدا کے فرزند آپ پر سلام ہو اے خلیفہ خدا خلفائ خدا کے فرزند
وَأَبا خَلِیفَتِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ خاتَمِ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ
اور خلیفۂ خدا کے والد آپ پر سلام ہو اے خاتم انبیائصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند آپ پر سلام ہو اے سردار اوصیائ کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدَةِ نِسَائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے امیرالمؤمنینعليهالسلام کے فرزند آپ پر سلام ہواے زنان عالم کی سردار کے فرزند آپ پر
عَلَیْکَ یَابْنَ آلاَءِمَّةِ الْهَادِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْاََوْصِیَائِ الرَّاشِدِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
سلام ہو اے ہدایت کرنے والے ائمہ کے فرزند آپ پر سلام ہو اے ہدایت کرنے والے اوصیائ کے فرزند آپ پر سلام ہو
یَا عِصْمَةَ الْمُتَّقِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا إمامَ الْفائِزِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رُکْنَ الْمُؤْمِنِینَ
اے پرہیزگاروں کے محافظ آپ پر سلام ہو اے کامیاب لوگوں کے امام آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے ستون
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا فَرَجَ الْمَلْهُوفِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ الْاََنْبِیائِ الْمُنْتَجَبِینَ اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے دکھیوں کے دکھ دور کرنے والے آپ پر سلام ہو اے برگزیدہ نبیوںعليهالسلام کے وارث آپ پر
عَلَیْکَ یَا خَازِنَ عِلْمِ وَصِیِّ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الدَّاعِی بِحُکْمِ ﷲ اَلسَّلَامُ
سلام ہو اے وصی رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے علم کے خزینہ دار آپ پر سلام ہوکہ آپ حکم خدا سے تبلیغ کرنے والے ہیں آپ پر
عَلَیْکَ أَیُّهَا النَّاطِقُ بِکِتَابِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ الْحُجَجِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا هَادِیَ
سلام ہو کہ آپ قرآن کریم کی تشریح کرنے والے ہیں آپ پر سلام ہو اے حجتوں کی حجت آپ پر سلام ہو اے قوموں کے
الْاَُمَمِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ النِّعَمِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَیْبَةَ الْعِلْمِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
رہنما آپ پر سلام ہو اے نعمتوں کے وسیلے آپ پر سلام ہو اے گنجینہ علوم آپ پر سلام ہو
یَا سَفِینَةَ الْحِلْمِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْاِمامِ الْمُنْتَظَرِ الظَّاهِرَةِ لِلْعاقِلِ حُجَّتُهُ وَالثَّابِتَةِ فِی
اے بردباری کے جامع آپ پر سلام ہو اے امام منتظرعليهالسلام کے والد کہ اہل عقل کے لئے ان کی حجت ظاہر ہے یقین والوں کو
الْیَقِینِ مَعْرِفَتُهُ الْمُحْتَجَبِ عَنْ أَعْیُنِ الظَّالِمِینَ وَالْمُغَیَّبِ عَنْ دَوْلَةِ الْفَاسِقِینَ وَالْمُعِیدِ
ان کی معرفت حاصل ہے وہ ستمگاروں کی آنکھوں سے اوجھل اور بے دین حکمرانوں سے پوشیدہ ہیں
رَبُّنا بِهِ الْاِسْلامَ جَدِیداً بَعْدَ الانْطِماسِ وَالْقُرْآنَ غَضَّاً بَعْدَ الانْدِرَاسِ أَشْهَدُ
ہمارا پروردگار انکے ذریعے اسلام کو زندہ کرئیگا، فراموش ہونے کے بعداور قرآن کو زندہ کرے گا، ترک ہو نے کے بعد میں گواہ ہوں
یامَوْلایَ أَنَّکَ أَقَمْتَ الصَّلاةَ وَآتَیْتَ الزَّکَاةَ وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَ نَهَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ
اے میرے آقا کہ یقینا آپ نے نماز قائم کی اور زکوۃ ادا کرتے رہے آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اوربرے کاموں سے منع فرمایا
وَدَعَوْتَ إلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً
آپ نے لوگوں کو اپنے رب کے دین کیطرف بلایا دانشمندی اور بہترین نصیحت سے اور آپ نے خدا کی عبادت کی خلوص کیساتھ
حَتَّی أَتَاکَ الْیَقِینُ أَسْأَلُ ﷲ بِالشَّأْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَهُ أَنْ یَتَقَبَّلَ
یہاں تک کہ آپ انتقال فرماگئے سوال کرتا ہوں خدا سے اس شان کے واسطے سے جو آپ، اس کے ہاں رکھتے ہیں یہ کہ میری
زِیَارَتِی لَکُمْ وَیَشْکُرَ سَعْیِی إلَیْکُمْ وَیَسْتَجِیبَ دُعَاءِی بِکُمْ وَیَجْعَلَنِی مِنْ أَنْصَارِ الْحَقِّ
زیارت قبول فرمائے میری آپکے ہاں حاضری کو پسند کرے آپ کے واسطے سے میری دعا قبول کرے اور مجھے حق کے مددگاروں
وَأَتْباعِهِ وَأَشْیاعِهِ وَمَوالِیهِ وَمُحِبِّیهِ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
پیروکاروں، حق کے ساتھیوں، دوستوں اور چاہنے والوں میں قرار دے اورسلام ہو آپ پر، خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں۔
اب ضریح پاک پر بوسہ دے اور اپنا دایاں بایاں رخسار باری باری قبر مبارک پر رکھے اس کے بعد یہ پڑھے :
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَصَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْهادِی إلَی دِینِکَ
اے معبود! ہمارے سردار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کے خاندان پر رحمت فرما اور رحمت بھیج حسنعليهالسلام ابن علیعليهالسلام پر جو تیرے دین کی طرف رہبری کرنے والے،
وَالدَّاعِی إلی سَبِیلِکَ عَلَمِ الْهُدٰی وَمَنارِ التُّقیٰ وَمَعْدِنِ الْحِجیٰ وَمأْوَیٰ النُّهَیٰ وَغَیْثِ
تیرے سیدھے راستے پر بلانے والے، ہدایت کے نشان، تقوی کے مینار، عقل و خرد کے خزانے، دانائی کے مرکز، لوگوں کے لئے
الْوَرَیٰ وَسَحَابِ الْحِکْمَةِ وَبَحْرِ الْمَوْعِظَةِ وَوَارِثِ آلاَءِمَّةِ وَالشَّهِیدِ عَلَی الْاَُمَّةِ الْمَعْصُومِ
باران رحمت، دانش کے بادل، نصیحت کے سمندر، ائمہ حق کے وارث، امت پر گواہ و شاہد، گناہوں سے محفوظ،
الْمُهَذَّبِ وَالْفاضِلِ الْمُقَرَّبِ وَالْمُطَهَّرِ مِنَ الرِّجْسِ الَّذِی وَرَّثْتَهُ عِلْمَ الْکِتابِ وَأَلْهَمْتَهُ
نیک کردار، صاحب فضیلت، مقربِ خدا اور ہر آلائش سے پاک ہیں وہی کہ جن کو تو نے علم کتاب کا وارث بنایا ان کو فیصلہ کرنے کا
فَصْلَ الْخِطابِ وَنَصَبْتَهُ عَلَماً لاََِهْلِ قِبْلَتِکَ وَقَرَنْتَ طاعَتَهُ بِطاعَتِکَ وَفَرَضْتَ مَوَدَّتَهُ
طریقہ بتایا انہیں اہل قبلہ کے لئے نشان قرار دیا اور ان کی پیروی کو اپنی پیروی کے ساتھ لازم رکھا اور ان کی محبت
عَلَی جَمِیعِ خَلِیقَتِکَ اللَّهُمَّ فَکَما أَنابَ بِحُسْنِ الْاِخْلاصِ فِی تَوْحِیدِکَ وَأَرْدَیٰ
ساری مخلوق پر واجب کی ہے پس اے معبود جیسے وہ دنیا سے گئے تیری توحید میں خلوص کے ساتھ تجھے کسی چیز سے تشبیہ دینے والوں کی
مَنْ خَاضَ فِی تَشْبِیهِکَ وَحامیٰ عَنْ أَهْلِ الْاِیمانِ بِکَ فَصَلِّ یَارَبَّ عَلَیْهِ صَلاةً یَلْحَقُ
تردید کرتے ہوئے اور تجھ پر ایمان رکھنے والوں کی حمایت کرتے ہوئے اسی طرح اے پروردگار ان پر رحمت کر ایسی رحمت کہ جس
بِها مَحَلَّ الْخاشِعِینَ وَیَعْلُو فِی الْجَنَّةِ بِدَرَجَةِ جَدِّهِ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَبَلِّغْهُ مِنَّا
سے وہ تجھ سے ڈرنے والوں میں جا ملیں جنت میں ان کا درجہ بلند ہو کہ وہ اپنے نانا خاتم الانبیائصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس پہنچ جائیں اور ہماری طرف
تَحِیَّةً وَسَلاماً وَآتِنا مِنْ لَدُنْکَ فِی مُوالاتِهِ فَضْلاً وَ إحْساناً وَمَغْفِرَةً وَرِضْواناً إنَّکَ ذُو
سے ان کو درود و سلام پہنچا اور ان کی محبت کی وجہ سے ہم پر احسان و فضل فرما اور نجات و خوشنودی نصیب کر کہ بے شک
فَضْلٍ عَظِیمٍ وَمَنٍّ جَسِیمٍ ۔ پھر نماز زیارت بجا لائے اور اس سے فارغ ہونے کے بعد یہ کہے: یَا
تو بڑے فضل و احسان والا ہے اے
دائِمُ یَا دَیْمُومُ یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ یَا کاشِفَ الْکَرْبِ وَالْهَمِّ وَیَا فارِجَ الْغَمِّ وَیَا باعِثَ الرُّسُلِ
ہمیشگی والے اے ہمیشہ رہنے والے اے زندہ اے پائندہ اے تکلیف و پریشانی دور کرنے والے اے غم مٹانے والے اے رسولوں
وَیَا صادِقَ الْوَعْدِ وَیَا حَیُّ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ أَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِحَبِیبِکَ مُحَمَّدٍ
کو مامور کرنے والے اور اے وعدے میں سچے اے زندہ کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں، وسیلہ بناتا ہوں تیرے حضور تیرے حبیب محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو
وَوَصِیِّهِ عَلِیٍّ ابْنِ عَمِّهِ وَصِهْرِهِ عَلَی ابْنَتِهِ الَّذِین خَتَمْتَ بِهِمَا الشَّرائِعَ وَفَتَحْتَ بِهِمَا
ان کے وصی و چچا زاد علیعليهالسلام کو جو ان کے داماد ہیں ان دونوں کی ذات پر تو نے شریعتیں تمام کیں اور ان کے ذریعے تشریح قرآن و پیش
التَّأْوِیلَ وَالطَّلایِعَ فَصَلِّ عَلَیْهِما صَلاةً یَشْهَدُ بِهَا الْاََوَّلُونَ وَالْاَخِرُونَ وَیَنْجُو بِهَا الْاََوْلِیائُ
گوئیوں کا آغاز کیا پس ان دونوں پر رحمت کر وہ رحمت جسے سب اولین و آخرین اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور تیرے دوستوں اور
وَالصَّالِحُونَ وَأَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِفَاطِمَةَ الزَّهْرائِ والِدَةِ آلاَءِمَّةِ الْمَهْدِیِّینَ وَسَیِّدَةِ نِسائِ
نیکوں کی نجات کا باعث ہو وسیلہ بناتا ہوں تیرے حضور فاطمہ زہراعليهالسلام کو جو ہدایت یافتہ ائمہ کی والدہ اور زنان عالم
الْعالَمِینَ الْمُشَفَّعَةِ فِی شِیعَةِ أَوْلادِهَا الطَّیِّبِینَ فَصَلِّ عَلَیْها صَلاةً دَائِمَةً أَبَدَ
کی سردار ہیں اپنے پاک و پاکیزہ فرزندوں کے شیعوں کے بارے میں انکی شفاعت قبول ہے پس ان بی بی پر رحمت کر وہ رحمت جو ہمیشہ
الْاَبِدِینَ وَدَهْرَ الدَّاهِرِینَ وَأَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِالْحَسَنِ الرَّضِیِّ الطَّاهِرِ الزَّکِیِّ وَالْحُسَیْنِ
ہمیشہ رہے جب تک زمانہ قائم و باقی ہے وسیلہ بناتا ہوں تیرے سامنے حسنعليهالسلام کو جو پسندیدہ، پاکیزہ اور خوش کردار ہیں اور حسینعليهالسلام کو جو
الْمَظْلُومِ الْمَرْضِیِّ الْبَرِّ التَّقِیِّ سَیِّدَیْ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْاِمامَیْنِ الْخَیِّرَیْنِ الطَّیِّبَیْنِ
ستم رسیدہ، پسند شدہ اور نیک پرہیزگار ہیں یہ دونوں جوانان جنت کے سید و سردار ہیں دونوں امام ہیں پسند کردہ، پاک پاکیزہ،
التَّقِیَّیْنِ النَّقِیَّیْنِ الطَّاهِرَیْنِ الشَّهِیدَیْنِ الْمَظْلُومَیْنِ الْمَقْتُولَیْنِ فَصَلِّ عَلَیْهِما مَا طَلَعَتْ
پرہیزگار پاک شدہ اور پاکیزہ ہیں دونوں شہید ہیں ستم دیدہ ہیں قتل شدہ پر ان دونوں پر رحمت کر جب تک سورج
شَمْسٌ وَمَا غَرَبَتْ صَلاةً مُتَوالِیَةً مُتَتالِیَةً وَأَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ سَیِّدِ
چڑھتا ڈوبتا رہے ایسی رحمت جو پے در پے ہو لگاتار ہو میں وسیلہ بناتا ہوں تیرے حضور علیعليهالسلام ابن الحسینعليهالسلام کو جو عبادت گزاروں
الْعابِدِینَ الْمَحْجُوبِ مِنْ خَوْفِ الظَّالِمِینَ وَبِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْباقِرِ الطَّاهِرِ النُّورِ
کے سید و سردار ہیں کہ ستمگاروں کے ڈر سے گوشہ نشین ہو گئے اور وسیلہ بناتا ہوں محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام کو جو علم پھیلانے والے پاکیزہ ہیں چمکتا ہوا
الزَّاهِرِ الْاِمامَیْنِ السَّیِّدَیْنِ مِفْتاحَیِ الْبَرَکاتِ وَ مِصْباحَیِ الظُّلُماتِ فَصَلِّ عَلَیْهِما مَا سَریٰ
نور یہ دونوں امامعليهالسلام ہیں دونوں سردار ہیں برکتوں کا ذریعہ اور تاریکیوں کے چراغ ہیں پس ان دونوں پر رحمت کر
لَیْلٌ وَمَا أَضائَ نَهارٌ صَلاةً تَغْدُو وَتَرُوحُ وَأَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ عَنِ
جب تک رات ہوتی اور دن آتا رہے ایسی رحمت جو صبح و شام جاری رہے وسیلہ بناتا ہوں تیرے حضور جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کو جو خدا کی طرف
ﷲ وَالنَّاطِقِ فِی عِلْمِ ﷲ وَبِمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ الْعَبْدِ الصَّالِحِ فِی نَفْسِهِ وَالْوَصِیِّ
سے سچ کیساتھ آئے اور خدائی علوم ظاہر کرتے رہے اور وسیلہ بناتا ہوں موسٰیعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام جو بندہ نیک ہیں اپنی ذات میں اور وصی ہیں
النَّاصِحِ الْاِمامَیْنِ الْهادِیَیْنِ الْمَهْدِیَّیْنِ الْوافِیَیْنِ الْکافِیَیْنِ فَصَلِّ
نصیحت گو یہ دونوں امامعليهالسلام ہیں ہدایت دینے والے، ہدایت پائے ہوئے، وفا کرنے والے اور پوری طرح رہبری کرنے والے پس
عَلَیْهِما مَا سَبَّحَ لَکَ مَلَکٌ وَتَحَرَّکَ لَکَ فَلَکٌ صَلاةً تُنْمیٰ وَتَزِیدُ
ان دونوں پر رحمت کر جب تک فرشتے تیری تسبیح کریں اور آسمان تیرے حکم سے حرکت میں رہیں ایسی رحمت جو بڑھے اور زیادہ ہو،
وَلاَ تَفْنی وَلاَ تَبِیدُ وَأَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِعَلِیِّ بْنِ مُوسَی الرِّضا وَبِمُحَّمَدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُرْتَضَی
ختم نہ ہو او ر نابود نہ ہو وسیلہ بناتا ہوں تیرے سامنے علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام کو جو رضا ہیں اور محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام کوجو پسند شدہ ہیں
الْاِمامَیْنِ الْمُطَهَّرَیْنِ الْمُنْتَجَبَیْنِ فَصَلِّ عَلَیْهِما مَا أَضائَ صُبْحٌ وَدامَ صَلاةً تُرَقِّیهِما إلَی
یہ دونوں امامعليهالسلام ہیں دونوں پاک ہیں دونوں پاک اصل ہیں پس ان دونوں پر رحمت کر جب تک صبح روشن ہوتی رہے وہ رحمت جو ان کو
رِضْوانِکَ فِی الْعِلِّیِّینَ مِنْ جِنانِکَ وَأَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِعَلیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّاشِدِ وَالْحَسَنِ
بلند کرے تیری خوشنودی کی طرف تیرے جنت کے مقام علیین میں وسیلہ بناتا ہوں تیرے حضور علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کو جو ہدایت یافتہ ہیں اور
بْنِ عَلِیٍّ الْهادِی الْقائِمَیْنِ بِأَمْرِ عِبادِکَ الْمُخْتَبَرَیْنِ بِالْمِحَنِ الْهائِلَةِ وَالصَّابِرَیْنِ فِی
حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام کو جو رہبر ہیں یہ دونوں تیرے بندوں کے معاملات میں مستعد ہیں یہ دونوں سخت آزمائشوں میں پڑے اور وہ دونوں
الْاِحَنِ الْمائِلَةِ فَصَلِّ عَلَیْهِما کِفائَ أَجْرِ الصَّابِرِینَ وَ إزائَ ثَوابِ الْفائِزِینَ صَلاةً
مصیبتوں پر صبر کرتے رہے پس ان دونوں پر رحمت کر صبر کرنے والوں کے اجر اور کامیاب ہونے والوں کے ثواب کے مساوی و
تُمَهِّدُ لَهُما الرِّفْعَةَ وَأَتَوَسَّلُ إلَیْکَ یَارَبَّ بِ إمامِناوَمُحَقِّقِ زَمانِنَا
برابر ایسی رحمت جو انکی بلندی کا ذریعہ بنے اور وسیلہ بناتا ہوں تیری بارگاہ میں اے پروردگار انکو جو ہمارے امام، ہمارے آج کے
الْیَوْمِ الْمَوْعُودِ وَالشَّاهِدِ الْمَشْهُودِ وَالنُّورِ الْاََزْهَرِ وَالضِّیائِ الْاََنْوَرِ الْمَنْصُورِ بِالرُّعْبِ
زمانے میں حق نما ہیں وعدہ شدہ اور شاہد و مشہود ہیں وہ چمکتی ہوئی روشنی اور روشن تر اجالا ہیں رعب و دبدبہ والے خوش بخت
وَالْمُظَفَّرِ بِالسَّعادَةِ فَصَلِّ عَلَیْهِ عَدَدَ الثَّمَرِ وَأَوْراقِ الشَّجَرِ وَأَجْزائِ الْمَدَرِ وَعَدَدَ الشَّعْرِ
و کامیاب ہیں پس ان پر رحمت فرما درختوں کے پھلوں اور انکے پتوں کی تعداد کے برابر ریت کے ذرات اور جانوروں کے بالوں اور
وَالْوَبَرِ وَعَدَدَ مَا أَحاطَ بِهِ عِلْمُکَ وَأَحْصاهُ کِتابُکَ صَلاةً یَغْبِطُهُ بِهَا الْاََوَّلُونَ وَالْاَخِرُونَ
انکے پروں کے برابر ان چیزوں کی تعداد میں جو تیرے علم میں ہیں اور تیری کتاب میں درج ہیں ایسی رحمت جس پر سبھی پہلے اور پچھلے رشک کریں
اَللّٰهُمَّ وَاحْشُرْنا فِی زُمْرَتِهِ وَاحْفَظْنا عَلَی طاعَتِهِ وَاحْرُسْنا بِدَوْلَتِهِ وَأَتْحِفْنا بِوِلایَتِهِ
اے معبود ہمیں ان کی جماعت میں اٹھانا ہمیں انکی اطاعت پر قائم رکھناہمیں انکی حکومت آنے تک باقی رکھنا انکی سلطنت دکھانا انکی
وَانْصُرْنا عَلَی أَعْدائِنا بِعِزَّتِهِ وَاجْعَلْنا یَارَبِّ مِنَ التَّوابِینَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
عزت کے واسطے سے ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد کرنا اور اے پروردگار ہمیں توبہ کرنے والوں میں قرار دینا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
اَللّٰهُمَّ وَ إنَّ إبْلِیسَ الْمُتَمَرِّدَ اللَّعِینَ قَدِ اسْتَنْظَرَکَ لاِِِغْوائِ خَلْقِکَ فَأَنْظَرْتَه
اے معبود بے شک ابلیس جو سرکش اور ملعون ہے اس نے تجھ سے زندگی مانگی کہ تیری مخلوق کو گمراہ کرے پس تو نے اسے زندگی دی
اسْتَمْهَلَکَ لاِِِضْلالِ عَبِیدِکَ فَأَمْهَلْتَهُ بِسابِقِ عِلْمِکَ فِیهِ وَقَدْ عَشَّشَ وَکَثُرَتْ جُنُودُهُ
اس نے تیرے بندوں کو بہکانے کے لئے مہلت مانگی تو نے دی کہ تو پہلے ہی سے جانتا تھا اس نے یہاں ٹھکانہ بنایا اور اس کے لشکر
وَازْدَحَمَتْ جُیُوشُهُ وَانْتَشَرَتْ دُعاتُهُ فِی أَقْطارِ الْاََرْضِ فَأَضَلُّوا عِبادَکَ وَأَفْسَدُوا
بہت بڑھ گئے اس کی فوج اکٹھی ہو گئی اور اس کے گماشتے ساری زمین میں پھیل گئے پس انہوں نے تیرے بندوں کو بہکایا تیرے
دِینَکَ وَحَرَّفُوا الْکَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ وَجَعَلُوا عِبادَکَ شِیَعاً مُتَفَرِّقِینَ وأَحْزاباً مُتَمَرِّدِینَ
دین میں بگاڑ پیدا کیا، تیرے کلام و احکام کو تبدیل کیا اور تیرے بندوں کو دھڑوں میں بانٹ دیا اور سرکش گروہوں میں تقسیم کردیا
وَقَدْ وَعَدْتَ نَقْضَ بُنْیانِهِ وَتَمْزِیقَ شَأْنِهِ فَأَهْلِکْ أَوْلادَهُ وَجُیُوشَهُ وَطَهِّرْ بِلادَکَ مِنِ
لیکن تو نے وعدہ کیا تھا کہ جڑ سے اکھاڑے گا اور اس کا زور توڑے گا پس تباہ کر ابلیس کی اولاد اور اس کی فوجوں کو اپنے شہروں
اخْتِراعاتِهِ وَاخْتِلافاتِهِ وَأَرِحْ عِبادَکَ مِنْ مَذاهِبِهِ وَقِیاساتِهِ وَاجْعَلْ دائِرَةَ السَّوْئِ عَلَیْهِمْ
کو انکی بدعتوں اور جھگڑوں سے پاک کردے اور اپنے بندوں کو ان کے غلط عقیدوں اور خیالوں سے بچا لے شیطانوں کا گھیرا تنگ کر
وَابْسُطْ عَدْلَکَ وَأَظْهِرْ دِینَکَ وَقَوِّ أَوْلِیائَکَ وَأَوْهِنْ أَعْدائَکَ وَأَوْرِثْ دِیارَ إبْلِیسَ
اور اپنے عدل کا سلسلہ جاری فرما، اپنے دین کو عیاں کر، اپنے دوستوں کو قوت دے، اپنے دشمنوں کو بے بس کردے اور ابلیس اور اس
وَدِیارَ أَوْلِیائِهِ أَوْلِیائَکَ وَخَلِّدْهُمْ فِی الْجَحِیمِ وَأَذِقْهُمْ مِنَ الْعَذابِ الْاََلِیمِ وَاجْعَلْ
کے دوستوں کے مقبوضہ شہر، اپنے دوستوں کو دلا ابلیس اور اسکے دوستوں کو ہمیشہ دوزخ میں رکھ اور انہیں سخت عذاب کا مزا چکھا اور قرار دے
لَعائِنَکَ الْمُسْتَوْدَعَةَ فِی مَناحِسِ الْخِلْقَةِ وَمَشاوِیهِ الْفِطْرَةِ دائِرَةً عَلَیْهِمْ وَمُوَکَّلَةً بِهِمْ
ان پر اپنی لعنتیں جو تو نے مخلوق میں سے نجس چیزوں کیلئے قرار دے رکھی ہیں اور فطری بدیاں بھی انکے سروں پر ڈال دے جو ان پر
وَجارِیَةً فِیهِمْ کُلَّ صَباحٍ وَمَسائٍ وَغُدُوٍّ وَرَواحٍ رَبَّنا آتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الْاَخِرَةِ
چھائی رہیں اور ہر صبح و شام اور ہرچاشت و ظہر میں ان پر پھٹکاریں پڑتی رہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں فلاح اور آخرت میں
حَسَنَةً وَقِنَا بِرَحْمَتِکَ عَذَابَ النَّارِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
کامیابی دے اور اپنی رحمت سے ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اسکے بعد اپنے بھائی بہنوں اور مومنوں کے لئے جو دعا چاہے مانگے ۔
زیارت والدہ امام مہدی عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف
پھر دنیا و آخرت کی شہزادی امام العصرعليهالسلام کی والدہ کی زیارت کرے ان معظمہ کی قبر شریف امام عسکری - کی ضریح کی پشت پر واقع ہے ،پس جب ان بی بی کی قبر پر پہنچے تو یہ زیارت پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ ﷲ الصَّادِقِ الْاََمِینِ اَلسَّلَامُ عَلَی مَوْلانا أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی
سلام ہو خدا کے رسول پر کہ جو صادق و امین ہیں سلام ہو ہمارے آقا امیرالمؤمنینعليهالسلام پر سلام ہو ان
آلاَءِمَّةِ الطَّاهِرِینَ الْحُجَجِ الْمَیامِینِ اَلسَّلَامُ عَلَی والِدَةِ الْاِمامِ وَالْمُودَعَةِ أَسْرارَ الْمَلِکِ
ائمہعليهالسلام پر جو پاک و پاکیزہ ہیں خدا کی بابرکت حجتیں ہیں سلام ہو امام (عج) کی والدہ(س) پر کہ بادشاہ علوم خدا نے اپنے اسرار، ان
الْعَلاَّمِ وَالْحامِلَةِ لاََِشْرَفِ الْاََنامِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الصِّدِّیقَةُ الْمَرضِیَّةُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ
کے سپرد کیے انہوں نے لوگوں میں سے افضل کو اٹھایا آپ پر سلام ہوکہ آپ صدیقہ ہیں خدا کی رضا یافتہ آپ پر سلام ہوکہ
یَا شَبِیهَةَ أُمِّ مُوسی وَابْنَةَ حَوارِیِّ عِیسیٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا التَّقِیَّةُ النَّقِیَّةُ اَلسَّلَامُ
آپ زچگی میں حضرت موسٰیعليهالسلام کی والدہ جیسی اور حواری عیسیٰعليهالسلام کی بیٹی کی مانند ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ پرہیز گار ہیںپاک شدہ آپ پر
عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الرَّضِیَّةُ الْمَرْضِیَّةُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الْمَنْعُوتَةُ فِی الْاِنْجِیلِ الْمَخْطُوبَةُ
سلام ہو کہ آپ پسندیدہ و پسند شدہ ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ انجیل میں توصیف شدہ ہیں جن کی نسبت جبرائیلعليهالسلام امین کی زبانی طے
مِنْ رُوحِ ﷲ الْاََمِینِ وَمَنْ رَغِبَ فِی وُصْلَتِها مُحَمَّدٌ سَیِّدُ الْمُرْسَلِینَ وَالْمُسْتَوْدَعَةُ أَسْرَارَ
ہوئی اور جس نے ان کے ذریعے سے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم سردار مرسلین سے رشتہ و تعلق جوڑا اس کو پروردگار جہان کے اسرار
رَبِّ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ وَعَلَی آبائِکِ الْحَوارِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ وَ عَلَی بَعْلِکِ
کا حامل بنایا گیا آپ پر سلام ہواور آپ کے بزرگوں پر جو حواری ہیں آپ پر سلام ہو اور آپ کے شوہر پر اور آپ کے
وَوَلَدِکِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ وَعَلَی رُوحِکِ وَبَدَنِکِ الطَّاهِرِ أَشْهَدُ أَنَّکِ أَحْسَنْتِ الْکَفالَةَ
فرزند پر آپ پر سلام ہو اور آپ کی روح پر اور آپ کے پاک بدن پر میں گواہ ہوں کہ آپ نے ذمہ داری خوب نبھائی امانتداری کا
وَأَدَّیْتِ الْاََمانَةَ وَاجْتَهَدْتِ فِی مَرْضاةِ ﷲ وَصَبَرْتِ فِی ذاتِ ﷲوَحَفِظْتِ سِرَّ ﷲ وَحَمَلْتِ
حق ادا کیا، آپ نے رضائے الہی کی خاطر بڑی جدو جہد کی، راہ خدا میں صبر سے کام لیا، خدا کے راز کی حفاظت کی، ولیِ خدا کو
وَلِیَّ ﷲ وَبالَغْتِ فِی حِفْظِ حُجَّةِ ﷲ وَرَغِبْتِ فِی وُصْلَةِ أَبْنائِ رَسُولِ ﷲ عارِفَةً بِحَقِّهِمْ
بطن میں رکھا، حجت خداعليهالسلام کو بچانے میں کوشاں ہوئیں، آپ نے فرزندان رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے رشتہ جوڑا ان کے حق کو پہچان کر ان کی
مُؤْمِنَةً بِصِدْقِهِمْ مُعْتَرِفَةً بِمَنْزِلَتِهِمْ مُسْتَبْصِرَةً بِأَمْرِهِمْ مُشْفِقَةً عَلَیْهِمْ مُؤْثِرَةً هَواهُمْ
صداقت کو تسلیم کرتے ہوئے، انکے مقام کو جانتے ہوئے انکے فریضے کو سمجھنے والی، ان کیلئے مہربان، ان کی خاطر نرم دل، نرم خو،
وَأَشْهَدُ أَنَّکِ مَضَیْتِ عَلَی بَصِیرَةٍ مِنْ أَمْرِکِ مُقْتَدِیَةً بِالصَّالِحِینَ راضِیَةً مَرْضِیَّةً تَقِیَّةً
میں گواہ ہوں کہ آپ اپنے عمل کے شعور کے ساتھ دنیا سے گزریں جب نیکوں کی پیروی میں تھیں راضی و پسندیدہ، پارسا، پاکیزہ،
نَقِیَّةً زَکِیَّةً فَرَضِیَ ﷲ عَنْکِ وَأَرْضاکِ وَجَعَلَ الْجَنَّةَ مَنْزِلَکِ وَمَأْوَاکِ فَلَقَدْ أَوْلاکِ
پاک شدہ پس خدا راضی ہوا آپ سے اور آپ کو راضی کرے گا جنت میں آپ کو مقام و مکان عطا کریگا کہ اس نے
مِنَ الْخَیْراتِ مَا أَوْلاکِ وَأَعْطاکِ مِنَ الشَّرَفِ مَا بِهِ أَغْناکِ فَهَنَّأکِ ﷲ بِما مَنَحَکِ
آپکو جو نیکیاں اور خوبیاں دیں و ہ بہت ہیں اور آپکو ایسی عزت دی کہ جسکی حد نہیں پس خدا مبارک کرے آپ کیلئے وہ عطیہ و انعام
مِنَ الْکَرامَةِ وَأَمْرَاکِ ۔ پھر اپنے سر کو بلند کرے اور کہے:اَللّٰهُمَّ إیَّاکَ اعْتَمَدْتُ وَلِرِضاکَ
جو اس نے آپ کو دیا ہے ۔ اے معبود تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں تیری خوشنودی چاہتا ہوں
طَلَبْتُ وَبِأَوْلِیائِکَ إلَیْکَ تَوَسَّلْتُ وَعَلَی غُفْرانِکَ وَحِلْمِکَ اتَّکَلْتُ وَبِکَ اعْتَصَمْتُ
تیرے حضور تیرے دوستوں کو وسیلہ بناتا ہوں تیری پردہ پوشی اور تیری نرمی کا سہارا لیتا ہوں اور تیرا دامن پکڑتا ہوں اور تیرے ولیعليهالسلام کی
وَبِقَبْرِ أُمِّ وَلِیِّکَ لُذْتُ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَانْفَعْنِی بِزِیارَتِهاوَثَبِّتْنِی عَلَی
والدہ کی قبر کی پناہ لیتا ہوں پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور مجھے ان بی بی(س) کی زیارت کا اجر دے مجھے ان کی
مَحَبَّتِها وَلاَ تَحْرِمْنِی شَفاعَتَها وَشَفاعَةَ وَلَدِها وَارْزُقْنِی مُرافَقَتَها وَاحْشُرْنِی
محبت پر قائم رکھ مجھے ان بی بی(س) کی شفاعت اور ان کے فرزند کی شفاعت سے محروم نہ فرما مجھے انکی رفاقت نصیب کر مجھے انکے
مَعَها وَمَعَ وَلَدِها کَما وَفَّقْتَنِی لِزِیارَةِ وَلَدِها وَزِیارَتِها اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ بِآلاَءِمَّةِ
اور انکے فرزند کے ہمراہ محشور فرما جیسا کہ تو نے مجھے ان بی بی(س) اور ان کے فرزند کی زیارت کی توفیق دی ہے اے معبود میں پاک
الطَّاهِرِینَ وَأَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِالْحُجَجِ الْمَیامِینِ مِنْ آلِ طهَ وَیسَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
ائمہعليهالسلام کے واسطے سے تیرے پاس آیا ہوں اور میں نے تیرے حضور بابرکت حجتوں کا وسیلہ پکڑا ہے جو آلعليهالسلام طٰہٰ و یاسین سے ہیں ہاں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّیِّبِینَ وَأَنْ تَجْعَلَنِی مِنَ الْمُطْمَئِنِّینَ الْفائِزِینَ الْفَرِحِینَ الْمُسْتَبْشِرِینَ
اور انکے پاکیزہ خاندان پر رحمت فرما نیز قرار دے مجھ کو ان افراد میں سے جو پرسکون، کامیاب، خوشدل اور بشارت پانے والے ہیں
الَّذِینَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَ هُمْ یَحْزَنُونَ وَاجْعَلْنِی مِمَّنْ قَبِلْتَ سَعْیَهُ وَیَسَّرْتَ أَمْرَهُ
کہ جن کو نہ خوف لاحق ہوگا اور نہ ہی غمگین ہوں گے اور مجھ کو ان لوگوں میں قراردے جنکی کوشش مقبول ہے، جنکے امور آسان ہوئے
وَکَشَفْتَ ضُرَّهُ وَآمَنْتَ خَوْفَهُ اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
جن کے دکھ دور ہوئے اور جن کو تو نے خوف سے امان دی اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حق کے واسطے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
مُحَمَّدٍ وَلاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِی إیَّاها وَارْزُقْنِی الْعَوْدَ إلَیْها أَبَداً
رحمت فرما اور میری اس زیارت کو اس بی بی کے ہاں آخری حاضری قرار نہ دے اور بار بار یہاں آنے کا موقع دے جب تک مجھے
مَا أَبْقَیْتَنِی وَ إذا تَوَفَّیْتَنِی فَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَتِها وَأَدْخِلْنِی فِی شَفاعَةِ وَلَدِها وَشَفَاعَتِها
زندہ رکھے اور جب مجھے موت دے تو مجھے انکے گروہ میں اٹھانا اور مجھے انکی اور انکے فرزند مہدیعليهالسلام کی شفاعت میں داخل کرنا مجھے
وَاغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الْاَخِرَةِ حَسَنَةً
میرے والدین اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دینا ہم سب کو اس دنیا میں فلاح اور آخرت میں کامیابی عطا کرنا
وَقِنَا بِرَحْمَتِکَ عَذَابَ النَّارِوَاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا سَادَاتِی وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
اور اپنی رحمت کے ساتھ آگ کے عذاب سے بچانا پس آپ پر سلام ہو اے میرے سردار خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
زیارت جناب حکیمہ خاتون
مؤلف کہتے ہیں:زید شحام نے امام جعفر صادق -کی خدمت میں عرض کی کہ آپ (ائمہعليهالسلام )حضرات میں سے کسی کی زیارت کرنے والے شخص کیلئے کیا اجر و ثواب ہے حضرت نے فرمایا کہ وہ ایسا ہی ہو گا جیسے اس نے رسول خدا کی زیارت کی ہو قبل ازیں ہم نے امام جعفر صادق - سے ایک روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص واجب الاطاعت امام یعنی خدا کی طرف سے مقرر کیے ہوئے امام کی زیارت کرے اور قبر مبارک کے پاس چار رکعت نماز ادا کرے تو اس کیلئے حج و عمرہ کا ثواب لکھا جائے گا۔
ہدیۃ الزائرین میںجناب حکیمہ خاتون کے فصائل ذکر کیے ہیں جن کی قبر امام علی نقی و امام حسن عسکری کی پائنتی میں ہے لیکن انکے بلند مرتبے کے باوجود ان کیلئے کوئی خصوصی زیارت وارد نہیں ہوئی لہذا مناسب یہی ہے کہ وہ زیارت پڑھی جائے جوائمہ کی اولاد کیلئے مطلق طور پر نقل ہوئی ہے یا وہ زیارت پڑھی جائے جو ان بی بی کی پھوپھی اور امام موسیٰ کاظم -عليهالسلام کی دختر حضرت معصومہ(س) قم کیلئے وارد ہے اور وہ زیارت یہ ہے قبلہ رخ ہو کر پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَی آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ
سلام ہو آدم پر جو خدا کے بزگزیدہ ہیں سلام ہو نوحعليهالسلام پر جو خدا کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں سلام ہو ابراہیمعليهالسلام پر جوخدا کے خلیل ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَی مُوسی کَلِیمِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی عِیسی رُوحِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ
سلام ہو موسیٰعليهالسلام پرجو خدا کے ساتھ کلام کرنے والے ہیں سلام ہوعیسیٰعليهالسلام پر جو روح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ خَلْقِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدَ
آپ پر سلام ہو اے خلق خدا میں بہترین آپ پر سلام ہو اے خدا کے پسند کردہ آپ پر سلام ہو اے محمد
بْنَ عَبْدِﷲ خاتَمَ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طالِبٍ وَصِیَّ
بن عبداعليهالسلام للہ اے نبیوں کے خاتم آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے سردار علیعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام اے رسول خداعليهالسلام
رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَةُ سَیِّدَةَ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا سِبْطَیِ
کے وصی آپ پر سلام ہو اے فاطمہ(س) اے تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار سلام ہو آپ پر اے حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم رحمت کے
الرَّحْمَةِ وَسَیِّدَیْ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ سَیِّدَ الْعابِدِینَ
دونوں نواسو اور جوانان جنت کے سردارو سلام ہو آپ پر اے علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام عبادت گزاروں کے سردار
وَقُرَّةَ عَیْنِ النَّاظِرِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ باقِرَ الْعِلْمِ بَعْدَ النَّبِیِّ اَلسَّلَامُ
دیکھنے والوں کی آنکھ کی ٹھنڈک سلام ہو آپ پر اے محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد علم و حکمت کے پھیلانے والے آپ پر
عَلَیْکَ یَا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الصَّادِقَ الْبارَّ الْاََمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ
سلام ہو اے جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام اے صادقعليهالسلام نیک خو امانتدار سلام ہو آپ پر اے موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام
الطَّاهِرَ الطُّهْرَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُوسَی الرِّضَا الْمُرْتَضی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا
اے پاک وپاکیزہ آپ پر سلام ہو اے علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام اے راضی و پسندیدہ سلام ہو آپ پر اے
مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ التَّقِیَّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ النَّقِیَّ النَّاصِحَ الْاََمِینَ اَلسَّلَامُ
محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام اے صاحب تقوی آپ پر سلام ہو اے علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام اے پاکیزہ خیر خواہ امانتدار سلام ہو
عَلَیْکَ یَا حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَی الْوَصِیِّ مِنْ بَعْدِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی نُورِکَ
آپ پر اے حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام سلام ہو اس پر جو ان کے بعد وصی ہے اے معبود اپنے نور امامت و چراغ
وَسِراجِکَ وَوَلِیِّ وَلِیِّکَ وَوَصِیِّ وَصِّیِکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ
ہدایت پر رحمت فرما جو تیرے ولی کے ولی تیرے وصی کے وصی اورتیری مخلوق پر تیری حجت ہیں آپ پر سلام ہو
یَا بِنْتَ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ فاطِمَةَ وَخَدِیجَةَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ أَمِیرِ
اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دختر آپ پر سلام ہو اے فاطمہ(س) و خدیجہ(س) کی دختر آپ پر سلام ہو اے امیر المومنینعليهالسلام
الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ وَلِیِّ ﷲ
کی دختر، آپ پر سلام ہو اے دختر حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام سلام ہو آپ پر اے ولی خدا کی دختر
اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا أُخْتَ وَلِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا عَمَّةَ وَلِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا
آپ پر سلام ہو اے ولی خدا کی خواہر آپ پر سلام ہو اے ولی خدا کی پھوپھی آپ پر سلام ہو اے
بِنْتَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ التَّقِیِّ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ عَرَّفَ ﷲ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْ
امام محمدعليهالسلام تقی بن علیعليهالسلام کی دختر اور آپ پر خدا کی رحمت و برکات ہوں آپ پر سلام ہوکہ اللہ ہمارے اور آپ اہل بیتعليهالسلام کے درمیان
فِی الْجَنَّةِ وَحَشَرَنا فِی زُمْرَتِکُمْ وَأَوْرَدَنا حَوْضَ نَبِیِّکُمْ وَسَقانا بِکَأْسِ
جنت میںارتباط و معرفت کا رشتہ مقرر فرمائے ہمیں آپ کے ساتھ محشور فرمائے ہمیں آپ کے نبی کے حوض پر پہنچائے اور آپ کے
جَدِّکُمْ مِنْ یَدِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکُمْ أَسْأَلُ ﷲ أَنْ
نانا کے جام سے، ساتھ علیعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام کے ہاتھوں ہمیں سیراب فرمائے آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں میں سوال کرتا ہوں خدا سے کہ
یُرِیَنا فِیکُمُ السُّرُورَ وَالْفَرَجَ وَأَنْ یَجْمَعَنا وَ إیَّاکُمْ فِی زُمْرَةِ جَدِّکُمْ مُحَمَّدٍ وَأَنْ
وہ ہمیں آپ کے بارے میں سرورو خوشی دکھائے نیز ہمیں اور آپ کو آپ کے ناناحضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گروہ میں اکھٹے کر دے اور ہم سے
لاَ یَسْلُبَنا مَعْرِفَتَکُمْ إنَّهُ وَلِیٌّ قَدِیرٌ أَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ بِحُبِّکُمْ وَالْبَرائَةِ مِنْ
آپکی معرفت سلب نہ فرمائے کیونکہ وہ صاحب اقتدار و قدرت ہے میں خدا کا قرب چاہتا ہوں آپکی محبت اور آپکے دشمنوں سے
أَعْدائِکُمْ وَالتَّسْلِیمِ إلَی ﷲ راضِیاً بِهِ غَیْرَ مُنْکِرٍ وَلاَ مُسْتَکْبِرٍ وَعَلَی یَقِینِ مَا أَتَی بِهِ
بیزاری کے ذریعے ﷲ کا تقرب چاہتا ہوں اور خدا کی رضا پر اس طرح راضی ہوں جس میں انکار اور تکبر نہ ہو جو کچھ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم لے کے آئے
مُحَمَّدٌ وَبِهِ راضٍ نَطْلُبُ بِذلِکَ وَجْهَکَ یَا سَیِّدِی اَللّٰهُمَّ وَرِضاکَ وَالدَّارَ
ہم اس پر یقین رکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں اسطرح ہم تیری توجہ کے طالب ہیں اے میرے سردار اے معبود تیری رضا اور آخرت کا گھر
الْآخِرَةَ یَا حَکِیمَةُ اشْفَعِی لِی فِی الْجَنَّةِ فَ إنَّ لَکِ عِنْدَ ﷲ شَأْناً مِنَ الشَّأْنِ
طلب کرتے ہیںاے بی بی حکیمہ مجھے جنت دلانے میںمیری شفاعت کریںکیونکہ خدا کے ہاں آپ بڑی شان و مرتبہ رکھتی ہیں
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ تَخْتِمَ لِی بِالسَّعادَةِ فَلاَ تَسْلُبْ مِنِّی مَا أَنَا فِیهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرا انجام سعادت پر فرما میں جس عقیدے پر ہوں وہ مجھ سے سلب نہ کراور نہیں کوئی قوت و طاقت مگر
بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ اَللّٰهُمَّ اسْتَجِبْ لَنا وَتَقَبَّلْهُ بِکَرَمِکَ وَعِزَّتِکَ وَبِرَحْمَتِکَ وَعافِیَتِکَ
وہ جو خدائے بزرگ و برتر سے ہے اے معبود ہماری دعائیں اپنی بزرگی اپنی عزت اپنی رحمت اور پردہ پوشی کے واسطے منظور و مقبول فرما
وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً یَاأَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور خدا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی تمام آلعليهالسلام پر رحمت فرمائے اور درود بھیجے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
فضائل سید حسین بن امام علی نقی
مولف لکھتے ہیں کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ امام علی نقی و امام حسن عسکری کے مرقد مبارک کے نزدیک بہت سے سادات عظام کی قبور ہیں ان میں ایک جناب حسین بن امام علیعليهالسلام نقی ہیں جو وہاں دفن ہیں اگرچہ مجھ کو جناب حسین کے حالات تفصیل سے معلوم نہیں ہیں تو بھی یہ ضرور جانتا ہوں کہ آپ ایک با مرتبہ اور بزرگ سید تھے‘ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ امام حسن عسکری - اور آپ کے بھائی جناب حسین کو سبطین کہا جاتا تھا اور دونوں بزرگوں کو اپنے دو بزرگان امام حسن اور امام حسین کے ساتھ تشبیہہ دی جاتی تھی نیز ابوالطیب سے مروی ہے کہ حجۃ بن الحسنعليهالسلام کی آواز اپنے انہی چچا جناب حسین کی آوازجیسی تھی شجرۃ الاولیا (جو فقیہ و محدث حکیم سید احمد اردکانی یزدی کی تالیف ہے) میں مذکور ہے کہ امام علی نقی - کی اولاد میں جناب حسین تھے کہ جو بڑے عابد و زاہد اور اپنے بھائی امام حسن عسکری - کی امامت کے معتقد تھے تاہم اگر کوئی شخص کچھ اور جستجو کرے تو شاید وہ ان کے مزید اوصاف و فضائل دریافت کر پائے جو ان کی بزرگی کو زیادہ واضح کریں گے۔
فضائل سید محمد بن امام علی نقی
امام علی نقی - کے فرزند سید محمد کا مزار بغداد و سامرہ کے درمیان مقام بلدمیں ہے کہ جو آج کل انہی کی نسبت سے سید محمد کے نام سے مشہور ہے آپ بڑے صاحب کرامات بزرگ ہیں اور ان کی جلالت و کرامت کا ذکر ہر خاص و عام کی زبان پر ہے۔ اکثر لوگ آپ کی زیارت کو آتے ہیں اور وہاں بہت زیادہ نذرانے پیش کرتے اور چڑھاوے دیتے ہیں پھر آپ کو اپنا وسیلہ بنا کر خدائے تعالیٰ سے اپنی حاجات طلب کرتے ہیں ان کی جلالت کا یہ عالم ہے کہ اسی علاقے میں رہنے والے عرب ان سے خوف کھاتے ہیں اور آپ کے صحن مبارک میں بطور ہدیہ پیش کردہ چیزوں میں سے کوئی چیز اٹھا کرلے جانے کی جرات نہیں کرتے بہر حال ان کی بہت زیادہ کرامات ہیں لیکن یہ ان کے بیان کرنے کا مقام نہیں ہے سید محمد، امام علی نقی - کے بڑے بیٹے اور امامت و ولایت کی صلاحیت سے بہرہ ور تھے‘ ان کی جلالت قدر کیلئے اتناہی کافی ہے کہ ان کی وفات پرامام حسن عسکری - ایسے معصوم بزرگوار نے اپنا گریبان چاک کیا۔ ہمارے استاد ثقہ الاسلام نوری‘ (خدا ان کی قبر کو منور کرے) جناب سید محمد کی زیارت کے معتقد تھے آپ ہی نے ان کی ضریح اور اس سے متصل مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں سعی و کوشش فرمائی‘ آپ نے ان کی ضریح مبارک پر جو کتبہ لگایا اس کی عبارت یہ ہے۔
یہ قبر ہے سید و سردار ابو جعفر محمد بن امام ابوالحسن علی نقی ہادی کی جو بڑی شان و عزت رکھتے ہیں شیعہ یہ گمان کرتے تھے کہ وہ اپنے والد کے بعدامام ہوں گے پھر جب وہ فوت ہوگئے تو ان کے والد نے ان کے بھائی ابو محمد کی امامت کا علان کیا اور ان سے کہا کہ خدا کا شکر کرو خدا نے تمہارے لیے حکم جاری کیا والد نے انہیں بچپنے میں مدینہ میں چھوڑا وہ جوان ہوئے تو ان کے پاس سامرہ آئے وہ حجاز واپس جا رہے تھے جب نوفر سخ چل کر کربلا پہنچے تو بیمار ہوئے اور فوت ہوگئے ان کی قبر اسی جگہ ہے آپ کی وفات پر امام حسن عسکری - نے گریبان چاک کیاتب بعض لوگوں کے جواب میں فرمایا کہ موسیٰعليهالسلام نے اپنے بھائی ہارونعليهالسلام کی وفات پر گریبان چاک کیا تھا سید محمد نے دو سو باون ہجری میں وفات پائی۔ان بزرگوار سید محمدکیلئے کوئی خاص زیارت وارد نہیں ہوئی (تاہم ان کی زیارت کو جانا چاہیے اور اولاد ائمہ کیلئے منقول زیارت مطلقہ پڑھنی چاہیے) جب سامرہ میں عسکریین سے وداع کرنا چاہے تو انکی ضریح پاک کے نزدیک کھڑے ہو کر یہ وداع پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا وَلِیَّیِ ﷲ أسْتَوْدِعُکُمَا ﷲ وَأقْرَأُ عَلَیْکُمَا اَلسَّلَامُ آمَنَّا بِالله وَبِالرَّسُولِ
سلام ہو آپ دونوں پر اے اولیائ خدامیں نے آپ دونوں کو حوالہ خدا کیا اور آپ کو سلام کہتا ہوں ہم ایمان رکھتے ہیں خدا و ررسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَبِما جِیْتُما بِهِ وَدَلَلْتُما عَلَیْهِ اَللّٰهُمَّ اکْتُبْنا مَعَ الشَّاهِدِینَ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ
اور جو کچھ آپ لائے اور اس پر جسکی طرف آپعليهالسلام نے رہبری فرمائی اے معبود ہمیں گواہوں میں مرقوم فرما اے معبود ان دونوں کے
آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِی إیَّاهُما وَارْزُقْنِی الْعَوْدَ إلَیْهِما وَاحْشُرْنِی مَعَهُما وَمَعَ
لیے میری اس زیارت کو آخری زیارت قرار نہ دے مجھے بار دیگر ان کے ہاںحاضر ہونے کا موقع عنایت فرما مجھے ان دونوں اور ان
آبائِهِمَا الطَّاهِرِینَ وَالْقائِمِ الْحُجَّةِ مِنْ ذُرِّیَتِهِما یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
کے پاک بزرگان کے ساتھ اور ان کی اولاد میں سے حجتعليهالسلام قائم کے ساتھ محشور فرما اے سب سے زیادہ رحم والے۔
دوسرا مقام
سرداب کے آداب اور حضرت حجۃ القائم (عج)کی زیارت
اصل بات شروع کرنے سے پہلے یہ بتا دینا ضروری ہے جو کتاب ہدیہ میں کتاب تحیہ سے منقول ہے کہ یہ سرداب پہلے امام حسن عسکری اور امام علی نقی کے گھر میں تھا یہ تہہ خانہ یا سرداب جو امامعليهالسلام کے گھر میں تھا موجودہ عمارت کی تعمیر سے قبل اس تک پہنچنے کا راستہ اس گھر کے اندر ہی تھا جوجناب نرجس خاتون(س) کی قبر کے نزدیک سے ہو کر گزرتا تھا اور ممکن ہے کہ اب وہ جگہ رواق میں آ گئی ہو اس سے پہلے زائرین اس گھر کے اندر والے راستے سے جاتے تھے تو ایک تاریک برآمدے میں سے گزر کر سرداب میں اس جگہ پر پہنچتے تھے جہاں امام العصر (عج) غائب ہوئے تھے جسے آج کل آئینہ کاری اور بجلی کے قمقموں سے سجا دیا گیا ہے۔ نیز وہ جالیاں جو سرداب میںسورج کی روشنی آنے کے لیے لگائی گئی تھیں وہ قبلہ کی سمت عسکریینعليهالسلام کے صحن مبارک میںتھیں جن کو اب محرابی شکل دے کر منقش کر دیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ قبل ازیں لوگ امام علی نقی اور امام حسن عسکری کے حرم مبارک ہی سے تینوں زیارتیں یعنی دونوں ائمہعليهالسلام کی زیارت اور سرداب کے اعمال بجا لاتے تھے( یعنی دونوں ائمہعليهالسلام کی زیارت کے بعد زینے بند کر دیے گئے ہیں اور ائمہعليهالسلام کی زیارت کے بعد مسجد کے اندر بنائے گئے زینے کے ذریعے سرداب میں جاتے ہیں) اسی لیے شہید اولرحمهالله نے عسکریینعليهالسلام کی زیارت کے بعد سرداب اور پھر جناب نرجس خاتون(س) کی زیارت نقل فرمائی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سو سال سے کچھ پہلے جناب احمد خاںد نبلی نے ایک بہت بڑی رقم اکٹھی کر کے ان دونوںآئمہعليهالسلام کے صحن اورقبہ کو موجودہ شکل میںتعمیر کرایااس میں روضہ ، رواق اور قبہ بلند بنایا اور سرداب کے لیے الگ صحن بنایاا ور حرم کے اندر سے سرداب کو جانے والا راستہ بند کر کے مسجد کے اندر سے نیا راستہ بنوایا نیز سرداب میں عورتوں کیلئے علیٰحدہ برآمدہ بنایا جیسا کہ وہ آج کل موجود ہے لہٰذا پہلا راستہ اور سرداب کا دروازہ بالکل بند ہوگیا ہے اور اس کا اب نشان بھی باقی نہیں ہے لہذا حرم کی قدیمی عمارت کے لحاظ سے جو آداب وارد ہوئے ہیں ان کے انجام دینے کی کوئی صورت نہیں نکل سکتی کیونکہ دو الگ الگ قبے بن چکے ہیں اور آمدورفت کے پرانے راستے بند کر دیے گئے ہیں سرداب میں پڑھنے کے لیے جو زیارتیں نقل ہوئی ہیںان کے پڑھے جانے میں اس تبدیلی سے کوئی فرق نہیں آیا۔
کیفیت زیارت سرداب
علمائ اعلام کی تصریح اور استقرائ کے مطابق ہر دروازے پر اذن دخول کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور ہر امامعليهالسلام کی زیارت کے وقت جس دروازے سے ممکن ہوا ذن دخول لینا ضروری ہے لہذا اب جو نئے دروازے بنائے گئے ہیں انہی دروازوں پررک کر اذن دخول پڑھنا اور پھر اندر جانا چاہیے اور اذن و خول پڑھے بغیر کسی زائر کو نہیں جانا چاہیے۔
سرداب کے اندر جانے کا اذن دخول وہ زیارت ہے جو اگلے صفحات پر زیارت دیگر کے عنوان سے آئیگی اور اسکی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا خَلِیْفَةَ ﷲ ‘‘ اور اس کے آخر میں اذن و خول کے جملے ہیں لہذا سرداب میں اترنے سے پہلے یہی زیارت دروازے پر کھڑے ہو کر پڑھنی چاہیے۔
سید بن طائوس نے بھی سرداب میں جانے کیلئے ایک اذن دخول نقل کیا ہے جس کا مضمون اس اذن دخول جیسا ہے جو ہر امامعليهالسلام کے حرم میں داخل ہونے سے پہلے پڑھا جاتا ہے جسے ہم نے باب زیارت کی دوسری فصل کے شروع میں نقل کیا ہے۔ نیز سرداب میں داخل ہونے کیلئے علامہ مجلسیرحمهالله نے بھی ایک اذن د خول نقل فرمایا ہے جس کا آغاز ان جملوں سے ہوتا ہے’’اَللّٰهُمَّ اِنَّ هَذِهٰ بُقْعَةُ، طَهَّرْتَهَا وَعَقْوَةُ، شَرَّفْتَهَا ‘‘ اسے بھی ہم زیارات کی دوسری فصل کے آغاز میں نقل کر آئے ہیں پس جب اذن دخول پڑھ چکے تو سرداب کے اندر چلا جائے اور حضرت صاحب العصرعليهالسلام کی زیارت اس طرح پڑھے۔ جیسے انہوں نے خود فرمایا ہے‘ چنانچہ شیخ احمد بن ابی طالب طبرسیرحمهالله نے الاحتجاج میں روایت کی ہے کہ کسی شخص نے حضرت سے چند سوال کیے تو ناحیہ مقدسہ سے ان کا جواب محمدحمیری کے پاس آیا جو یوں تھا:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ لاَ لاََِمْرِهِ تَعْقِلُونَ وَلاَ مِنْ أَوْلِیائِهِ تَقْبَلُونَ حِکْمَةٌ بالِغَةٌ فَمَا تُغْنِی
خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان رحم والا ہے نہ وہ اس کے فعل پر غور کرتے ہیں اور نہ اس کے دوستوں کی بتائی ہوئی دانائی کی
النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لاَ یُوَْمِنُونَ اَلسَّلَامُ عَلَیْنا وَعَلَی عِبادِ ﷲ الصَّالِحِینَ
باتیں قبول کرتے ہیں تو کیا ڈرانے والے کافی نہیں ہیں سلام ہو ہم پر اور خدا کے نیک بندوں پر۔
زیارت امام آخر الزمان عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف
اس ضمن میں آپ (عج)نے یہ بھی فرمایا کہ جب تم لوگ ہمیں وسیلہ بنا کر خدا کی طرف یا ہماری طرف متوجہ ہونا چاہو تو اس طرح کہو جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
سَلامٌ عَلَی آلِ یسَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا داعِیَ ﷲ وَرَبَّانِیَّ آیاتِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بابَ ﷲ
سلام ہو اولاد پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم پر آپ پر سلام ہو اے خدا کے داعی اور اس کے کلام کے نگہبان سلام ہوآپ پر اے خدا کے باب
وَدَیَّانَ دِینِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیفَةَ ﷲ وَناصِرَ حَقِّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ
اور اس کے دین کی حفاظت کرنے والے آپ پر سلام ہو اے خدا کے نائب اور حق کے مددگار آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اور
وَدَلِیلَ إرادَتِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا تالِیَ کِتابِ ﷲ وَتَرْجُمانِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ فِی آنائِ
اس کے ارادے کے مظہر سلام ہو آپ پراے قرآن کے قاری اور اس کی تشریح کرنے والے آپ پر سلام ہو رات کے
لَیْلِکَ وَأَطْرافِ نَهارِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بَقِیَّةَ ﷲ فِی أَرْضِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مِیثاقَ
اوقات میں اور دن کی ہر گھڑی میں آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین میں اس کے نمائندہ آپ پر سلام ہو اے خدا کے وہ
ﷲ الَّذِی أَخَذَهُ وَوَکَّدَهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَعْدَ ﷲ الَّذِی ضَمِنَهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا
عہد جو اس نے باندھا اور پکا کیا آپ پر سلام ہو اے خدا کے وعدہ جس کا وہ ضامن ہے آپ پر سلام ہو کہ آپ ہیں
الْعَلَمُ الْمَنْصُوبُ وَالْعِلْمُ الْمَصْبُوبُ والْغَوْثُ وَالرَّحْمَةُ الْواسِعَةُ وَعْداً غَیْرَ مَکْذُوبٍ
گاڑا ہوا علم، ہیں سپرد شدہ دانش، دادرس کشادہ تر رحمت اور وہ وعدہ ہیں جو جھوٹا نہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیکَ حِینَ تَقُومُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِینَ تَقْعُدُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِینَ تَقْرَأُ وَتُبَیِّنُ
آپ پر سلام ہوجب آپ قیام کریں گے آپ پر سلام ہو جب منتظربیٹھے ہیں آپ پر سلام ہو جب آپ قرآن پڑھیں اور تفسیر کریں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِینَ تُصَلِّی وَتَقْنُتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِینَ تَرْکَعُ وَتَسْجُدُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
آپ پر سلام ہو جب آپ نماز گزاریں اور قنوت پڑھیں آپ پر سلام ہو جب آپ رکوع اور سجدہ کرتے ہیں آپ پر سلام ہو
حِینَ تُهَلِّلُ وَتُکَبِّرُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِین تَحْمَدُ وَتَسْتَغْفِرُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ حِینَ تُصْبِحُ وَ
جب آپ ذکر الہیٰ کریں آپ پر سلام ہوجب حمد و استغفار کریں آپ پر سلام ہوجب آپ صبح اور
تُمْسِی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ فِی اللَّیْلِ إذا یَغْشیٰ وَالنَّهارِ إذا تَجَلَّیٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْاِمامُ
شام کریں اورتسبیح بجا لائیں آپ پر سلام ہو رات میں جب وہ چھا جائے اور دن میں جب روشن ہو جائے آپ پر سلام ہو اے محفوظ
الْمَأْمُونُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْمُقَدَّمُ الْمَأْمُولُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ بِجَوامِعِ السَّلامِ أُشْهِدُکَ
امام آپ پر سلام ہو جس کے آنے کی آرزو ہے آپ پر سلام ہو ہر طبقے کی طرف سے سلام، میں آپ کوگواہ قرار دیتا ہوں
یَا مَوْلایَ أَنِّی أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ
اے میرے آقا اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یگانہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اسکے بندے
وَرَسُولُهُ لاَ حَبِیبَ إلاَّ هُوَ وَأَهْلُهُ وَأُشْهِدُکَ یَا مَوْلایَ أَنَّ عَلِیّاً أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ
اوررسول ہیں سوائے انکے کوئی حبیب نہیں اور ان کے اہلبیتعليهالسلام کے آپ کو گواہ بناتا ہوں اے میرے آقا اس پر کہ علیعليهالسلام امیر المؤمنین اور
حُجَّتُهُ وَالْحَسَنَ حُجَّتُهُ وَالْحُسَیْنَ حُجَّتُهُ وَعَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ حُجَّتُهُ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ
اس کی حجت ہیں حسنعليهالسلام اس کی حجت ہیں حسینعليهالسلام اس کی حجت ہیںاور علیعليهالسلام ابن الحسینعليهالسلام اس کی حجت اور محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام
حُجَّتُهُ وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ وَمُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ حُجَّتُهُ وَعَلِیَّ بْنَ مُوسی حُجَّتُهُ
اس کی حجت اور جعفرعليهالسلام ابن محمدعليهالسلام اس کی حجت ہیں موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام اس کی حجت ہیں علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام اس کی حجت ہیں
وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ حُجَّتُهُ وَعَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ حُجَّتُهُ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ
محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام اس کی حجت ہیں علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام اس کی حجت ہیں حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام اس کی حجت ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپعليهالسلام
حُجَّةُ ﷲ أَنْتُمُ الْاََوَّلُ وَالْاَخِرُ وَأَنَّ رَجْعَتَکُمْ حَقٌّ لاَ رَیْبَ فِیها یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ نَفْساً
خدا کی حجت ہیں آپعليهالسلام ہی ہیں اول و آخر اور آپعليهالسلام کی رجعت حق ہے اس میں کوئی شک نہیں اس دن ایمان لانا کچھ نفع نہ دیگا جو اس سے
إیمانُها لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِی إیمانِها خَیْراً وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّوَأَنَّ ناکِراً
پہلے ایمان نہ لایا ہوگا یا ایمان کے تحت نیکی کے کام نہ کیئے ہوں اور یقیناً موت حق ہے منکر
وَنَکِیراً حَقٌّ وَأَشْهَدُ أَنَّ النَّشْرَ حَقٌّ وَالْبَعْثَ حَقٌّ وَأَنَّ الصِّراطَ حَقٌّ وَالْمِرْصادَ حَقٌّ
و نکیر حق ہیں میں گواہی دیتا ہوںکہ قبر سے باہر آنا حق اور مردوں کا اٹھنا حق ہے، بے شک صراط سے گزرنا حق، نگرانی ہونا حق اور
وَالْمِیزانَ حَقٌّ وَالْحَشْرَ حَقٌّوَالْحِسابَ حَقٌّ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَقٌّ وَالْوَعْدَ وَالْوَعِیدَ بِهِما حَقٌّ
اعمال کا تولا جانا حق ہے، حشر حق ہے، حساب کتاب حق ہے جنت و جہنم حق ہے ان کے بارے میں وعدہ اور وعید حق ہے
یَا مَوْلایَ شَقِیَ مَنْ خالَفَکُمْ وَسَعِدَ مَنْ أَطَاعَکُمْ فَاشْهَدْ عَلَی مَا أَشْهَدْتُکَ عَلَیْهِ
اے میرے سردار آپعليهالسلام کا مخالف بد بخت ہے اور آپعليهالسلام کا پیروکار نیک بخت ہے پس میںگواہی دیتا ہوںاسکی جسکی آپ نے گواہی دی
وَأَنَا وَلِیٌّ لَکَ بَرِیٌٔمِنْ عَدُوِّکَ فَالْحَقُّ مَا رَضِیتُمُوهُ وَالْباطِلُ مَا أَسْخَطْتُمُوهُ
میں آپعليهالسلام کا حبدار اور آپعليهالسلام کے دشمن سے بیزار ہوں پس حق وہ ہے جسے آپعليهالسلام پسند کریں او رباطل وہ ہے جس سے آپعليهالسلام ناخوش ہوں
وَالْمَعْرُوفُ مَا أَمَرْتُمْ بِهِ وَالْمُنْکَرُ مَا نَهَیْتُمْ عَنْهُ فَنَفْسِی مُؤْمِنَةٌ بِالله وَحْدَهُ
نیکی وہ ہے جس کا آپعليهالسلام حکم دیں اور برائی وہ ہے جس سے آپعليهالسلام منع کریں پس میرا دل ایمان رکھتا ہے خدا پر جو یگانہ ہے
لاَ شَرِیکَ لَهُ وَبِرَسُولِهِ وَبِأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَبِکُمْ یَامَوْلایَ أَوَّلِکُمْ
اسکا کوئی شریک نہیں ہے اور اسکے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اورامیر المومنینعليهالسلام پر اور آپعليهالسلام پر اے میرے آقا ایمان رکھتا ہوں اسی طرح آپعليهالسلام کے پہلے اور
وَآخِرِکُمْ وَنُصْرَتِی مُعَدَّةٌ لَکُمْ وَمَوَدَّتِی خَالِصَةٌلَکُمْ آمِینَ آمِینَ ۔اس زیارت کے بعد یہ دعا
آخری پر اور میری نصرت آپعليهالسلام کے لیے حاضر ہے میری دوستی آپعليهالسلام کے لیے خالص ہے قبول فرما، قبول فرما۔
پڑھے:اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ نَبِیِّ رَحْمَتِکَ وَکَلِمَةِ نُورِکَ وَأَنْ
اے معبود یقیناً میں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ اپنے نبی محمد پر رحمت فرما جو رحمت و برکت والے اور تیرا نورانی کلمہ ہیںاور یہ کہ
تَمْلَأَ قَلْبِی نُورَ الْیَقِینِ وَصَدْرِی نُورَ الْاِیمانِ وَفِکْرِی نُورَ النِّیَّاتِ وَعَزْمِی نُورَ الْعِلْمِ
میرے دل کو نور یقین اور سینے کو نور ایمان سے بھردے اور میرے ذہن کو روشن نیتوں میرے ارادے کو نور علم میری قوت کو نور عمل
وَقُوَّتِی نُورَ الْعَمَلِ وَلِسانِی نُورَ الصِّدْقِ وَدِینِی نُورَ الْبَصائِرِ مِنْ عِنْدِکَ وَبَصَرِی نُورَ الضِّیائِ
میری زبان کو نور صداقت اور میرے دین کو اپنی طرف سے بصیرتوں کے نورسے پر کر دے میری آنکھ کو نور ضیائ سے
وَسَمْعِی نُورَ الْحِکْمَةِ وَمَوَدَّتِی نُورَ الْمُوالاةِ لِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ حَتَّی أَلْقَاکَ
میرے کان کو نور دانش اور میری دوستی کو محمد و آل محمد کی محبت کے نور سے بھر دے حتی کہ تجھ سے ملاقات کروں
وَقَدْ وَفَیْتُ بِعَهْدِکَ وَمِیثاقِکَ فَتُغَشِّیْنِی رَحْمَتَکَ یَا وَلِیُّ یَا حَمِیدُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی
جبکہ تیرے عہد و پیماں کو پورا کیا ہو پس تیری رحمت مجھے گھیر لے اے ولی اے تعریف والے اے معبود محمد مہدیعليهالسلام پر درود
مُحَمَّدٍ حُجَّتِکَ فِی أَرْضِکَ وَخَلِیفَتِکَ فِی بِلادِکَ وَالدَّاعِی إلَی سَبِیلِکَ وَالْقائِمِ
و رحمت فرما جو تیری زمین میں تیری حجت ،تیرے شہروں میں تیرے خلیفہ تیرے راستے کی طرف بلانے والے، تیری عدالت پر قائم
بِقِسْطِکَ وَالثَّائِرِ بِأَمْرِکَ وَلِیِّ الْمُؤْمِنِینَ وَبَوَارِ الْکافِرِینَ وَمُجَلِّی الظُّلْمَةِ وَمُنِیرِ الْحَقِّ
رہنے والے، تیرے حکم سے بدلہ لینے والے، مومنوں کے ولی، کافروں کے لیے پیام موت، تاریکی میں روشنی کرنے والے حق کو
وَالنَّاطِقِ بِالْحِکْمَةِ وَالصِّدْقِ وَکَلِمَتِکَ التَّآمَّةِ فِی أَرْضِکَ الْمُرْتَقِبِ
عیاں کرنے والے حکمت و سچائی سے کلام کرنے والے جو تیری زمین میں تیرا کلمہ کامل وہ تیرے فرامین کے نگہبان اور تیرے
الْخائِفِ وَالْوَلِیِّ النَّاصِحِ سَفِینَةِ النَّجَاةِ وَعَلَمِ الْهُدَیٰ وَنُورِ أَبْصارِ الْوَرَیٰ وَخَیْرِ مَنْ تَقَمَّصَ
جبروت سے خوف زدہ ہیں، خیر خواہ ولی،نجات دلانے والی کشتی، ہدایت کے پرچم اور لوگوں کی آنکھوں کا نور ہیں قمیص اور چادر پہننے والوں میں
وَارْتَدیٰ وَمُجَلِّی الْعَمَی الَّذِی یَمْلاََُ الْاََرْضَ عَدْلاً وَقِسْطاً کَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَجَوْراً
بہترین اور اندھوں کو آنکھیں دینے والے ہیں جو زمین کوعدل و انصاف سے پرکریںگے جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی
إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی وَلِیِّکَ وَابْنِ أَوْلِیَائِکَ الَّذِینَ فَرَضْتَ
بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود اپنے ولی اور اپنے اولیائ کے(نسل در نسل) فرزند پر رحمت نازل فرما جن کی
طَاعَتَهُمْ وَأَوْجَبْتَ حَقَّهُمْ وَأَذْهَبْتَ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرْتَهُمْ تَطْهِیراً اَللّٰهُمَّ انْصُرْهُ وَانْتَصِرْ
اطاعت تو نے لازم فرمائی انکا حق واجب کیا اور ان سے پلیدی کو دور کیا انہیں پاک رکھا اور خوب پاک۔ اے معبود امام زمانعليهالسلام کی مدد کر
بِهِ لِدِینِکَ وَانْصُرْ بِهِ أَوْلِیائَکَ وَأَوْلِیَائَهُ وَشِیعَتَهُ وَأَنْصارَهُ وَاجْعَلْنا مِنْهُمْ
انکے ذریعے اپنے دین کو غلبہ دے اور انکے ذریعے اپنے دوستوں، انکے دوستوں شیعوں اور مدد گاروں کو قوت دے اور ہمیں ان میں سے قرار دے
اَللّٰهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ شَرِّ کُلِّ باغٍ وَطاغٍ وَمِنْ شَرِّ جَمِیعِ خَلْقِکَ وَاحْفَظْهُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ
اے معبود بچائے رکھ ان کو ہرباغی اور سرکش کے شر سے اور اپنی مخلوقات کے شر سے ان کو محفوظ رکھ ان کے آگے سے ان کے
خَلْفِهِ وَعَنْ یَمِینِهِ وَعَنْ شِمالِهِ وَاحْرُسْهُ وَامْنَعْهُ مِنْ أَنْ یُوصَلَ إلَیْهِ بِسُوئٍ وَاحْفَظْ فِیهِ
پیچھے سے انکے دائیں سے اور انکے بائیں سے ان کی نگہبانی کر ان کو بچائے رکھ اس سے کہ انہیں کوئی اذیت پہنچے ان کی حفاظت کر
رَسُولَکَ وَآلَ رَسُولِکَ وَأَظْهِرْ بِهِ الْعَدْلَ وَأَیِّدْهُ بِالنَّصْرِ وَانْصُرْ ناصِرِیهِ وَاخْذُلْ
کے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آلعليهالسلام کی حفاطت کر ان امام آخرعليهالسلام کے ذریعے عدل کوظاہر کر اور نصرت دے کر ان کو قوی بنا ان کے ناصروں کی
خاذِلِیهِ وَاقْصِمْ قاصِمِیهِ وَاقْصِمْ بِهِ جَبابِرَةَ الْکُفْرِ وَاقْتُلْ بِهِ الْکُفَّارَ
مدد فرما انکو چھوڑ دے جو انکو چھوڑ گئے انکو کمزور کرنیوالوں کی کمر توڑ دے انکے ہاتھوں کفر کے سرداروں کو زیر کر انکی تلوار سے کافروں،
وَالْمُنافِقِینَ وَجَمِیعَ الْمُلْحِدِینَ حَیْثُ کانُوا مِنْ مَشارِقِ الْاََرْضِ وَمَغَارِبِها بَرِّها وَبَحْرِها
منافقوں اور سارے بے دینوں کو قتل کرا دے وہ جہاں جہاں ہیں زمین کے مشرقوں اور اسکے مغربوں میں میدانوں اور سمندروں میں
وَامْلَأَ بِهِ الْاََرْضَ عَدْلاً وَأَظْهِرْ بِهِ دِینَ نَبِیِّکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وآلِهِ وَسَلَّمْ وَاجْعَلْنِی اَللّٰهُمَّ
ان کے ذریعے زمین کو عدل سے بھر دے اور اپنے نبی کے دین کو غالب کر دے اور اے معبود مجھے
مِنْ أَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ وَأَتْباعِهِ وَشِیعَتِهِ وَأَرِنِی فِی آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ
امام مہدیعليهالسلام کے مدد گاروں، ان کے ساتھیوں، ان کے پیروکاروں اور ان کے شیعوں میں سے قرار دے اورآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے
مَا یَأْمُلُونَ وَفِی عَدُوِّهِمْ مَا یَحْذَرُونَ إلهَ الْحَقِّ آمِینَ
بارے میں جسکی وہ تمنا رکھتے ہیں اور ان کے دشمنوں میں جس سے وہ دور رہتے ہیں میرے لیے آشکار فرما اے سچے معبود ایسا ہی ہوا
یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے صاحب جلال و بزرگی اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
زیارت دیگر امام آخر الزماں(عج)
علما حق نے معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ زیارت دروازے پر کھڑے ہو کر پڑھے کہ یہ بہ منزلہ اذن دخول کے ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیفَةَ ﷲ وَخَلِیفَةَ آبائِهِ الْمَهْدِیِّیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَصِیَّ الْاََوْصِیائِ
سلام ہو آپعليهالسلام پر اے خدا کے نائب اور اپنے ہدایت یافتہ بزرگان کے نائب سلام ہو آپعليهالسلام پر اے تمام گزشتہ اوصیائ کے
الْماضِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حافِظَ أَسْرَارِ رَبِّ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بَقِیَّةَ ﷲ مِنَ
وصی سلام ہو آپ پر اے پروردگار جہاں کے اسرار کے محافظ سلام ہو آپ پر کہ خدا نے اپنے نیک برگزیدہ بندوں
الصَّفْوَةِ الْمُنْتَجَبِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْاََنْوَارِ الزَّاهِرَةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْاََعْلامِ
میں سے آپ کو باقی رکھا آپعليهالسلام پر سلام ہو اے ان کے فرزند جو چمکتے ہوئے نور ہیں سلام ہو آپ پر اے ان کے فرزند جو لہراتے
الْباهِرَةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْعِتْرَةِ الطَّاهِرَةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَعْدِنَ الْعُلُومِ النَّبَوِیَّةِ
ہوئے جھنڈے ہیں آپ پر سلام ہو اے ان کے فرزند جن کی عترت پاک ہے آپ پر سلام ہو اے علوم نبوی کے گنج گراں مایہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بابَ ﷲ الَّذِی لاَ یُؤْتیٰ إلاَّ مِنْهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَبِیلَ ﷲ الَّذِی مَنْ
آپ پر سلام ہو اے دروازہ الہی کہ جس کے بغیر کوئی اندر نہیں آ سکتا سلام ہو آپ پر اے خدا کی وہ راہ جو اسے چھوڑ کے
سَلَکَ غَیْرَهُ هَلَکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ناظِرَ شَجَرَةِ طُوبیٰ وَسِدْرَةِ الْمُنْتَهی اَلسَّلَامُ
چلے وہ تباہ ہو جاتا ہے آپ پر سلام ہو اے درخت طوبی اور سدرۃ المنتہیٰ کو دیکھنے والے آپ پر
عَلَیْکَ یَا نُورَ ﷲ الَّذِی لاَ یُطْفَأُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ ﷲ الَّتِی لاَ تَخْفیٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
سلام ہو اے خدا کے وہ نور جو بجھتا نہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کی وہ حجت جو چھپتی نہیں آپ پر سلام ہو
یَا حُجَّةَ ﷲ عَلَی مَنْ فِی الْاََرْضِ وَالسَّمائِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ سَلامَ مَنْ عَرَفَکَ بِما عَرَّفَکَ
جو خدا کی حجت ہیں ہر موجود پر جو زمین و آسمان میں ہے آپ پر سلام ہو اسکا سلام جس نے آپکو پہچاناایسے جیسے خدا نے آپکی معرفت کرائی
بِهِ ﷲ وَنَعَتَکَ بِبَعْضِ نُعُوتِکَ الَّتِی أَنْتَ أَهْلُها وَفَوْقَها أَشْهَدُ أَنَّکَ الْحُجَّةُ عَلَی مَنْ
اور آپ کے وہ اوصاف گنوائے جن کے آپ اہل ہیں بلکہ ان سے بلند ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ حجت ہیں اس پر
مَضَیٰ وَمَنْ بَقِیَ وَأَنَّ حِزْبَکَ هُمُ الْغالِبُونَ وَأَوْلِیائَکَ هُمُ الْفائِزُونَ وَأَعْدَائَکَ هُمُ الْخاسِرُونَ
جو گزر گئے اور جو باقی ہیں بے شک آپکا گروہ فتح مند ہے آپکے دوست کامیابی پانے والے اور آپکے دشمن نقصان اٹھانے والے ہیں
وَأَنَّکَ خازِنُ کُلِّ عِلْمٍ وَفاتِقُ کُلِّ رَتْقٍ وَمُحَقِّقُ کُلِّ حَقٍّ وَمُبْطِلُ کُلِّ باطِلٍ رَضِیتُکَ یَا
یقیناً آپ تمام علوم کے خزینہ دار، ہر گتھی سلجھانے والے، ہر حق کو ظاہر کرنے والے، ہر باطل کو غلط ثابت کرنے والے ہیں میں خوش ہوں
مَوْلایَ إماماً وَهادِیاً وَوَلِیَّاً وَمُرْشِداً لاَ أَبْتَغِی بِکَ بَدَلاً وَلاَ أَتَّخِذُ
اے میرے آقا کہ آپ امامعليهالسلام ہیں رہبر ہیںولی ہیں اور رہنما ہیں میں آپکے سوا کسی کا خواہش مند نہیں ہوں اور آپ کے علاوہ کسی کو
مِنْ دُونِکَ وَلِیّاً أَشْهَدُ أَنَّکَ الْحَقُّ الثَّابِتُ الَّذِی لاَ عَیْبَ فِیهِ وَأَنَّ وَعْدَ ﷲ فِیکَ حَقُّ
اپنا سرپرست نہیں بناتا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہ محکم حق ہیں جس میں کوئی خامی نہیں اور آپکے بارے میں خدا کا وہ وعدہ سچا ہے
لاَ أَرْتابُ لِطُولِ الْغَیْبَةِ وَبُعْدِ الْاََمَدِ وَلاَ أَتَحَیَّرُ مَعَ مَنْ جَهِلَکَ وَجَهِلَ بِکَ
اور میں آپکی طویل غیبت اور مدت دراز میں شک نہیں لاتا اور میں سرگرداں نہیں اس طرح جو آپ کو اور آپ کے مقام کو نہیں جانتا
مُنْتَظِرٌ مُتَوَقِّعٌ لِاَیَّامِکَ وَأَنْتَ الشَّافِعُ الَّذِی لاَ تُنازَعُ وَالْوَلِیُّ الَّذِی لاَ تُدافَعُ ذَخَرَکَ
بلکہ میں آپکے عہد کی امید و انتظار رکھتا ہوں آپ شفاعت کرنے والے ہیں اس میں اختلاف نہیں اور وہ ولی ہیں جو دور نہیں ہوتے
ﷲ لِنُصْرَةِ الدِّینِ وَ إعْزَازِ الْمُؤْمِنِینَ وَالانْتِقامِ مِنَ الْجاحِدِینَ الْمارِقِینَ أَشْهَدُ أَنَّ
خدا نے آپکو اپنے دین کی نصرت، مومنوں کی عزت و حرمت اور ضدی جاہل دشمنوں سے انتقام لینے کیلئے محفوظ کر رکھا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ
بِوِلایَتِکَ تُقْبَلُ الْاََعْمالُ وَتُزَکَّیٰ الْاَفْعالُ وَتُضاعَفُ الْحَسَناتُ وَتُمْحَی السَّیِّئاتُ
آپکی ولایت کے ذریعے اعمال قبول ہوتے ہیں، کاموں میں پاکیزگی آتی ہے، نیکیاں دگنی ہو جاتی ہیں اور برائیاں مٹ جاتی ہیں
فَمَنْ جائَ بِوِلایَتِکَ وَاعْتَرَفَ بِ إمامَتِکَ قُبِلَتْ أَعْمالُهُ وَصُدِّقَتْ أَقْوالُهُ
پس جو آپکی ولایت پر اعتقاد اور آپکی امامت پر یقین کیساتھ آئے اسکے اعمال قبول ہوتے ہیں اسکے اقوال میں سچائی آتی ہے
وَتَضاعَفَتْ حَسَناتُهُ وَمُحِیَتْ سَیِّئاتُهُ وَمَنْ عَدَلَ عَنْ وِلایَتِکَ وَجَهِلَ مَعْرِفَتَکَ وَاسْتَبْدَلَ
اسکی نیکیاں دگنی ہو جاتی ہیں اور اسکی بدیاں مٹ جاتی ہیںمگر جو آپکی ولایت سے برگشتہ ہو آپکی معرفت نہ رکھتا ہو اور آپکی جگہ کسی
بِکَ غَیْرَکَ کَبَّهُ ﷲ عَلَی مَِنْخَرِهِ فِی النَّارِ وَلَمْ یَقْبَلِ ﷲ لَهُ عَمَلاً وَلَمْ یُقِمْ لَهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ
اور کو مانتا ہو تو خدا اسے منہ کے بل آگ میں ڈالے گاخدا س کے اعمال قبول نہیں کرے گا اور روز قیامت اس کے اعمال کا
وَزْناً أُشْهِدُ ﷲ وَأُشْهِدُ مَلائِکَتَهُ وَأُشْهِدُکَ یَا مَوْلایَ بِهَذَا ظاهِرُهُ کَباطِنِهِ
وزن نہیں کریگا میں گواہ بناتا ہوںخدا کو اور گواہ بناتا ہوں اسکے فرشتوں کو اور گواہ بناتا ہوں آپکو اے میرے آقا اس پر کہ میرا ظاہر میرے باطن
وَسِرُّهُ کَعَلانِیَتِهِ وَأَنْتَ الشَّاهِدُ عَلَی ذلِکَ وَهُوَ عَهْدِی إلَیْکَ وَمِیثاقِی لَدَیْکَ إذْ أَنْتَ
جیسااور پوشیدہ آشکار جیسا ہے اور آپ اس بات کے گواہ ہیں اور وہ آپ سے میرا عہد اور آپ کے سامنے میرا پیمان ہے کیونکہ آپ
نِظامُ الدِّینِ وَیَعْسُوبُ الْمُتَّقِینَ وَعِزُّ الْمُوَحِّدِینَ وَبِذلِکَ أَمَرَنِی رَبُّ الْعالَمِینَ فَلَوْ
دین کے نگہدار پرہیز گاروں کے سردار اور توحید پرستوں کی عزت ہیں اس کا حکم مجھے جہانوں کے پروردگار نے دیا پس اگر زمانے
تَطاوَلَتِ الدُّهُورُ وَتَمادَتِ الْاََعْمارُ لَمْ أَزْدَدْ فِیکَ إلاَّ یَقِیناً وَلَکَ إلاَّ حُبّاً وَعَلَیْکَ إلاَّ
دراز ہوجائیں اور عمریں طویل ہو جائیں تو بھی آپ کے بارے میں یقین بڑھے گا اور آپ کی محبت زیادہ ہو گی
مُتَّکَلاً وَمُعْتَمَداًوَلِظُهُورِکَ إلاَّ مُتَوَقَّعاًوَمُنْتَظَراً وَلِجِهادِی بَیْنَ یَدَیْکَ مُتَرَقَّباً فَأَبْذُلْ
آپ پر بھروسہ اور اعتماد بڑھے گا میںآپکے ظہور کی امیدو انتظا ر کروں گا میں آپکی معیت میںجہاد کیلئے آمادہ رہوں گا تاکہ میں اپنی
نَفْسِی وَمالِی وَوَلَدِی وَأَهْلِی وَجَمِیعَ مَا خَوَّلَنِی رَبِّی بَیْنَ یَدَیْکَ وَالتَّصَرُّفَ بَیْنَ أَمْرِکَ
جان اپنا مال اپنی اولاد اپنا کنبہ اور جو کچھ خدا نے دیا ہے وہ آپ کے سامنے پیش کروں اور آپ کے امر اور نہی کی
وَنَهْیِکَ مَوْلایَ فَ إنْ أَدْرَکْتُ أَیَّامَکَ الزَّاهِرَةَ وَأَعْلامَکَ الْباهِرَةَ فَها أَنَاذَا عَبْدُکَ
حد میں رہوں اے میرے آقا پس اگر میں نے پالیا آپ کے روشن دنوں اور آپ کے لہراتے جھنڈوں کو تو میں آپ کا غلام ہوں
الْمُتَصَرِّفُ بَیْنَ أَمْرِکَ وَنَهْیِکَ أَرْجُو بِهِ الشَّهادَةَ بَیْنَ یَدَیْکَ وَالْفَوْزَ لَدَیْکَ مَوْلایَ
آپ کا امر اور نہی کو ماننے والااور اس بات کا خواہاں کہ آپ کے سامنے شہادت پائوں اور آپ کے حضور کامیاب ہوں میرے مولا
فَ إنْ أَدْرَکَنِی الْمَوْتُ قَبْلَ ظُهُورِکَ فَ إنِّی أَتَوَسَّلُ بِکَ وَبِآبائِکَ الطَّاهِرِینَ إلَی ﷲ تَعالی
اگر آپ کے ظہور سے پہلے مجھے موت آ جائے تو بے شک میں وسیلہ بناتا ہوں آپ کو اورآپ کے پاک بزرگان کو خدا کے حضور اور
وَأَسْأَلُهُ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ یَجْعَلَ لِی کَرَّةً فِی ظُهُورِکَ وَرَجْعَةً فِی
اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرمائے اور یہ کہ آپکے ظہور کے وقت مجھے زندہ کرے اور آپکے دور میں مجھے واپس لائے
أَیَّامِکَ لِاَبْلُغَ مِنْ طاعَتِکَ مُرادِی وَأَشْفِیَ مِنْ أَعْدَائِکَ فُؤَادِی مَوْلایَ وَقَفْتُ فِی
تاکہ آپکی اطاعت سے اپنی مراد کو پہنچوں اور دشمنوں کی نابودی سے اپنا دل ٹھنڈا کروں میرے مولا آپ کی زیارت کیلئے کھڑا ہوں
زِیارَتِکَ مَوْقِفَ الْخاطِئِینَ النَّادِمِینَ الْخائِفِینَ مِنْ عِقابِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَقَدِ اتَّکَلْتُ
جیسے کھڑے ہوتے ہیں خطا کار شرمسار کہ جو جہانوں کے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے ہیں یقینا میں اعتماد کرتا ہوں
عَلَی شَفاعَتِکَ وَرَجَوْتُ بِمُوالاتِکَ وَشَفاعَتِکَ مَحْوَ ذُنُوبِی وَسَتْرَ عُیُوبِی
آپکی شفاعت پر اورامید وار ہوں بوجہ آپکی محبت کے اور آپکی شفاعت سے میرے گناہ مٹ جائیں گے میرے عیب چھپ جائینگے
وَ مَغْفِرَةَ زَلَلِی فَکُنْ لِوَلِیِّکَ یَا مَوْلایَ عِنْدَ تَحْقِیقِ أَمَلِهِ وَاسْأَلِ ﷲ
اور میری خطائیں معاف ہو جائیں گی اپنے موالی کا ساتھ دیں اے میرے مولا تاکہ اس کی آرزو بر آئے اور خدا سے دعا کریں کہ
غُفْرانَ زَلَلِهِ فَقَدْ تَعَلَّقَ بِحَبْلِکَ وَتَمَسَّکَ بِوِلایَتِکَ وَتَبَرَّأَ مِنْ أَعْدائِکَ
خدا اسکی خطائیں معاف کرے کہ وہ آپکے دامن سے وابستہ ہے آپکی ولایت کا سہارا لیتا ہے اور آپکے دشمنوں سے بیزار ہے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْجِزْ لِوَلِیِّکَ مَا وَعَدْتَهُ اَللّٰهُمَّ أَظْهِرْ کَلِمَتَهُ وَأَعْلِ
اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور تو نے اپنے ولی سے جو وعدہ کیا ہے پورا فرما اے معبود عیاں فرما ان کے قول کو اور عام کر
دَعْوَتَهُ وَانْصُرْهُ عَلَی عَدُوِّهِ وَعَدُوِّکَ یَارَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
ان کی دعوت کو مدد دے انہیں ان کے اور اپنے دشمن کے خلاف اے جہانوں کے پرودگار اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
مُحَمَّدٍ وَأَظْهِرْ کَلِمَتَکَ التَّامَّةَ وَمُغَیَّبَکَ فِی أَرْضِکَ الْخائِفَ الْمُتَرَقِّبَ اَللّٰهُمَّ انْصُرْهُ
رحمت نازل فرما اور ظاہر فرما اپنے کامل تر کلمہ کوجو تیری زمین پر پوشیدہ و غائب اور حالت خوف میںمنتظر ہے اے معبود اس کی مدد کر
نَصْراً عَزِیزاً وَافْتَحْ لَهُ فَتْحاً یَسِیراً اَللّٰهُمَّ وَأَعِزَّ بِهِ الدِّینَ بَعْدَ الْخُمُولِ وَأَطْلِعْ
جس سے وہ غالب رہے اور اسے کامیابی دے آسانی کیساتھ اے معبود اسکے ہاتھوں دین کوغلبہ دے جب وہ کمزور ہو اسکے ذریعے
بِهِ الْحَقَّ بَعْدَ الْاَُفُولِ وَأَجْلِ بِهِ الظُّلْمَةَ وَاکْشِفْ بِهِ الْغُمَّةَ اَللّٰهُمَّ وَآمِنْ
حق کو ظاہر فرما جب وہ پوشیدہ ہو اسکے ذریعے تاریکی کو روشنی میں بدل دے اسکے ذریعے باطل کا پردہ ہٹا دے اے معبود امام العصرعليهالسلام
بِهِ الْبِلادَ وَاهْدِبِهِ الْعِبادَ اَللّٰهُمَّ امْلَأْ بِهِ الْاََرْضَ عَدْلاً وَقِسْطاً کَما مُلِئَتْ ظُلْماً
کے ذریعے شہروں کو امن عطا کر اور بندوں کو ہدایت دے اے معبود انکے ذریعے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے جیسے وہ ظلم و
وَجَوْراً إنَّکَ سَمِیعٌ مُجِیبٌ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ ﷲ ائْذَنْ لِوَلِیِّکَ فِی الدُّخُولِ إلَی
زیادتی سے بھر چکی ہے بے شک تو سننے والا قبول کرنے والا ہے آپ پر سلام ہو اے ولی خدا اجازت دیں اپنے محب کو کہ وہ آپ کے
حَرَمِکَ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی آبائِکَ الطَّاهِرِینَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
حرم میں داخل ہو خدا کا درود ہو آپ پر اور آپ کے پاک و پاکیزہ آبائ پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں ۔
اس کے بعد اس سرداب میںداخل ہوجائے جہاں امام العصرعليهالسلام غائب ہوئے تھے دونوں دروازوںکے درمیان کھڑے ہو کر دروازوں کو اپنے ہاتھ سے پکڑے اور اس طرح کھانسے جیسے اندر آنے کی اجازت لینے والا شخص کھانسا کرتا ہے بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھے اور نیچے کی طرف سرداب میں آہستہ سے اترتا جائے جب ایک برآمدہ نما کھلی جگہ پر پہنچے تو وہاں دو رکعت نماز بجا لائے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے:
ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ وَﷲِ الْحَمْدُالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی
خدا بزرگتر ہے خدا بزرگتر ہے خدا بزرگتر ہے اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں اللہ بزرگتر ہے اور اللہ کیلئے ہی حمد ہے حمد ہے خدا کیلئے جس
هَدانا لِهَذا وَعَرَّفَنا أَوْلِیائَهُ وَأَعْدآئَهُ وَوَفَّقَنا لِزِیارَةِ أَئِمَّتِنا وَلَمْ یَجْعَلْنا مِنَ
نے ہمیں یہ راہ دکھائی ہمیں اپنے دوستوں اور اپنے دشمنوں کی پہچان کرائی اور ہمیں ائمہعليهالسلام کی زیارت کی توفیق دی اس نے ہمیں ان
الْمُعانِدِینَ النَّاصِبِینَ وَلاَ مِنَ الْغُلاةِ الْمُفَوِّضِینَ وَلاَ مِنَ الْمُرْتابِینَ الْمُقَصِّرِینَ اَلسَّلَامُ
کے دشمنوں اور مخالفوں میں نہیں رکھا نہ غالیوں اور مفوّضہ میں داخل کیا اور نہ شک کرنے والوں شان گھٹانے والوں میں قرار دیا سلام
عَلَی وَلِیِّ ﷲ وَابْنِ أَوْلِیائِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمُدَّخَرِ لِکَرامَةِ أَوْلِیائِ ﷲ وَبَوارِ أَعْدائِهِ اَلسَّلَامُ
ہو ولی خدا اور اولیائ خدا کے فرزند پر سلام ہو اس ذخیرہ پر جو دوستان خدا کی عزت اور دشمنوں کی نابودی کا ذریعہ ہے سلام ہو
عَلَی النُّورِ الَّذِی أَرادَ أَهْلُ الْکُفْرِ إطْفائَهُ فَأَبَی ﷲ إلاَّ أَنْ یُتِمَّ نُورَهُ بِکُرْهِهِمْ وَأَیَّدَهُ بِالْحَیَاةِ
اس نور پر کہ اہل کفر جسے بجھانے پر آمادہ ہوئے تو خدا نے انہیں روکاتاکہ انکی کراہت کے باوجود اس نور کو کامل کرے اسے زندہ رکھ کر قوت دے
حَتَّی یُظْهِرَ عَلَی یَدِهِ الْحَقَّ بِرَغْمِهِمْ أَشْهَدُ أَنَّ ﷲ اصْطَفَاکَ صَغِیراً وَأَکْمَلَ لَکَ عُلُومَهُ
حتی کہ اسکے ہاتھ پر اور دشمنوں کے باوجود حق ظاہر ہومیں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً خدا نے آپ کو بچپن ہی میںچنا اور اپنے تمام علوم
کَبِیراً وَأَنَّکَ حَیٌّ لاَ تَمُوتُ حَتّی تُبْطِلَ الْجِبْتَ وَالطَّاغُوتَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیْهِ وَعَلَی
آپکو عطا کیے اور بے شک آپ زندہ ہیں مریں گے نہیں جب تک بت پرست و سرکش کو تباہ نہ کر دیں اے معبود مہدیعليهالسلام پر رحمت فرما
خُدَّامِهِ وَأَعْوانِهِ عَلَی غَیْبَتِهِ وَنَأْیِهِ وَاسْتُرْهُ سَتْراً عَزِیزاً وَاجْعَلْ لَهُ مَعْقِلاً حَرِیزاً وَاشْدُدِ
ان کے خدمتگاروں پر ان کے ساتھیوں پر اور ان کی غیبت و دوری پر ان کوعزت کے ساتھ پوشیدہ رکھ اور انہیں محفوظ جگہ پر پناہ دے
اَللّٰهُمَّ وَطْأَتَکَ عَلَی مُعانِدِیهِ وَاحْرُسْ مَوالِیهِ وَزائِرِیهِ اَللّٰهُمَّ کَما جَعَلْتَ قَلْبِی بِذِکْرِهِ
اور اے معبود انکے ہاتھوں انکے دشمنوں پر سختی کر اور انکے دوستوں اور زائروں کو تحفظ دے اے معبود جسطرح تو نے میرے دل کو ان
مَعْمُوراً فَاجْعَلْ سِلاحِی بِنُصْرَتِهِ مَشْهُوراً وَ إنْ حالَ بَیْنِی وَبَیْنَ لِقائِهِ الْمَوْتُ الَّذِی
کے ذکر سے آباد کیا پس میرے ہتھیاروں کو انکی مدد میں رواں کر دے اور اگر میری موت مجھے ان سے نہ ملنے دے جسے تو نے اپنے
جَعَلْتَهُ عَلَی عِبادِکَ حَتْماً وَأَقْدَرْتَ بِهِ عَلَی خَلِیقَتِکَ رَغْماً فَابْعَثْنِی عِنْدَ خُرُوجِهِ ظاهِراً
بندوں کے لیے لازم بنا رکھا اور تو نے مخلوق کی مرضی کے خلاف موت کو اس پرحاوی کیا ہے تو بھی امامعليهالسلام کے خروج کے وقت مجھے کفن
مِنْ حُفْرَتِی مُؤْتَزِراً کَفَنِی حَتَّی أُجاهِدَ بَیْنَ یَدَیْهِ فِی الصَّفِّ الَّذِی أَثْنَیْتَ عَلَی أَهْلِهِ فِی
سمیت میری قبر سے اٹھانا تاکہ میں ان کے رو برو اس صف میں جہاد کروں جس کی تو نے اپنی کتاب میں تعریف فرمائی ہے جسے تو
کِتابِکَ فَقُلْتَ کَأَنَّهُمْ بُنْیانٌ مَرْصُوصٌ اَللّٰهُمَّ طالَ الانْتِظارُوَشَمِتَ بِنَا الْفُجَّارُ وَصَعُبَ
نے کہا کہ وہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح ثابت قدم ہیں اے معبود انتظار طویل ہو گیا بدکار ہم پر زیادتی کرتے ہیں جن سے بدلہ لینا
عَلَیْنَا الانْتِصارُ اَللّٰهُمَّ أَرِنا وَجْهَ وَلِیِّکَ الْمَیْمُون فِی حَیاتِنا وَبَعْدَ الْمَنُونِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَدِینُ
ہمارے لیے مشکل ہے اے معبود ہمیں اس زندگی میں اور موت کے بعد اپنے ولیعليهالسلام کا مبارک چہرہ دکھا دے اے معبود میں معتقد ہوں
لَکَ بِالرَّجْعَةِ بَیْنَ یَدَیْ صاحِبِ هذِهِ الْبُقْعَةِ الْغَوْثَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ
کہ رجعت واقع ہو گی اس صاحب بار گاہ کے عہد میں المدد المدد المدد اے امامعليهالسلام وقت
قَطَعْتُ فِی وُصْلَتِکَ الْخُلاَّنَ وَهَجَرْتُ لِزِیارَتِکَ الْاََوْطانَ وَأَخْفَیْتُ أَمْرِی عَنْ أَهْلِ
آپ سے ملاقات کی خاطر میں دوستوں سے جدا ہوا ہوںآپکی زیارت کیلئے وطن چھوڑا ہے اور اپنے معاملے کو شہروں کے لوگوں
الْبُلْدانِ لِتَکُونَ شَفِیعاً عِنْدَ رَبِّکَ وَرَبِّی وَ إلَی آبائِکَ وَمَوالِیَّ فِی حُسْنِ
سے پوشیدہ رکھا ہے تاکہ آپ اپنے اور میرے رب کیسامنے میری شفاعت کریں اپنے بزرگوںاور میرے آقائوں سے سفارش کریں
التَّوْفِیقِ لِی وَ إسْباغِ النِّعْمَةِ عَلَیَّ وَسَوْقِ الْاِحْسانِ إلَیَّ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
کہ میرے لیے بہترین توفیق بالا تر نعمتوں اور لگا تار مہربانیوں کی دعا کریں اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
مُحَمَّدٍ أَصْحابِ الْحَقِّ وَقادَةِ الْخَلْقِ وَاسْتَجِبْ مِنِّی مَا دَعَوْتُکَ وَأَعْطِنِی مَا لَمْ أَنْطِقْ بِهِ
رحمت فرما جو حق کے حامل اور مخلوق کے رہبر ہیں اور جو دعا میں نے مانگی ہے قبول فرما وہ بھی عطا کر جو میں نے اپنی دعا
فِی دُعائِی مِنْ صَلاحِ دِینِی وَدُنْیایَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
میںطلب نہیں کیا دین و دنیا کی بہتری میں سے کہ بے شک تو تعریف والا شان والا ہے اور خدا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی پاک آلعليهالسلام پر رحمت کرے
اب صفہ میں چلا جائے وہاں دو رکعت نماز ادا کرے اور یہ دعا پڑھے:اَللّٰهُمَّ عَبْدُکَ الزَّائِرُ فِی فِنائِ
اے معبود تیرا یہ بندہ تیرے ولیعليهالسلام کے آستان کی
وَلِیِّکَ الْمَزُورِ الَّذِی فَرَضْتَ طاعَتَهُ عَلَی الْعَبِیدِ وَالْاََحْرارِ وَأَنْقَذْتَ بِهِ أَوْلِیائَکَ مِنْ
زیارت کر رہا ہے اس امامعليهالسلام کی زیارت جس کی اطاعت تو نے ہر غلام و آزاد پرفرض کی اور جن کے ذریعے تیرے دوست عذاب جہنم
عَذابِ النَّارِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْها زِیارَةً مَقْبُولَةً ذاتَ دُعائٍ مُسْتَجابٍ مِنْ مُصَدِّقٍ بِوَلِیِّکَ غَیْرِ
سے چھوٹیں گے اے معبود اسے میری مقبول زیارت قرار دے جس میں دعا قبول ہو جائے جو تیرے ولی کی تصدیق کرنے والے نے کی ہے
مُرْتابٍ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ بِهِ وَلاَ بِزِیارَتِهِ وَلاَ تَقْطَعْ أَثَرِی مِنْ
جس میں کوئی شک نہیں اے معبود اسے میری آخری حاضری و زیارت قرار نہ دے اور اس کی زیارت گاہ سے میرا نشان قدم قطع نہ کر
مَشْهَدِهِ وَزِیارَةِ أَبِیهِ وَجَدِّهِ اَللّٰهُمَّ أَخْلِفْ عَلَیَّ نَفَقَتِی وَانْفَعْنِی بِما رَزَقْتَنِی فِی
کہ میں نے انکے باپ دادا کی زیارت بھی کی ہے میں نے جو خرچ کیا ہے اس کا بدلہ دے دنیا وآخرت میںجو روزی دی ہے اسے
دُنْیایَ وَآخِرَتِی لِی وَلاِِِخْوانِی وَأَبَوَیَّ وَجَمِیعِ عِتْرَتِی أَسْتَوْدِعُکَ ﷲ أَیُّهَا
مفید بنا میرے لیے میرے بھائیوںاور والدین کے لیے اور میرے سارے خاندان کے لیے میں نے آپ کو سپرد خدا کیا اے وہ
الْاِمامُ الَّذِی یَفُوزُ بِهِ الْمُؤْمِنُونَ وَیَهْلِکُ عَلَی یَدَیْهِ الْکافِرُونَ الْمُکَذِّبُونَ یَا مَوْلایَ
امامعليهالسلام جس کے ذریعے مومنین کامیاب ہوں گے اور جس کے ہاتھوں کافر اور جھٹلانے والے لوگ ہلاک ہوں گے اے میرے مولا
یَابْنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ جِئْتُکَ زائِراً لَکَ وَلِاَبِیْکَ وَجَدِّکَ مُتَیَقِّناً الْفَوْزَ
اے حسن عسکریعليهالسلام بن علی نقیعليهالسلام کے فرزند حاضر ہوا ہوں آپکی زیارت کرنے اورآپکے باپ داد کی زیارت کرنے مجھے یقین ہے کہ آپکے
بِکُمْ مُعْتَقِداً إمامَتَکُمْ اَللّٰهُمَّ اکْتُبْ هذِهِ الشَّهادَةَ وَالزِّیارَةَ لِی عِنْدَکَ فِی عِلِّیِّینَ
ذریعے کامیاب ہو جائوں گا میرا ایمان ہے کہ آپ امام ہیں اے معبود میرے نام پر یہ گواہی لکھ لے اور یہ زیارت اپنے ہاں علیین
وَبَلِّغْنِی بَلاغَ الصَّالِحِینَ وَانْفَعْنِی بِحُبِّهِمْ یَارَبَّ الْعالَمِینَ
میں مجھے صالحین کے مقام و منزل پر پہنچا اور ان سے محبت کا اجر دے اے جہانوں کے پرودگار
زیارت دیگر امام آخرالزمان عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف
یہ زیارت سید بن طائوس نے نقل کی ہے جو یوں ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَی الْحَقِّ الْجَدِیدِ وَالْعالِمِ الَّذِی عِلْمُهُ لاَ یَبِیدُ اَلسَّلَامُ عَلَی مُحْیِی الْمُؤْمِنِینَ
سلام ہو اس پر جو امام بر حق اور مجددہے زندہ اورایسا عالم ہے جس کا علم ختم نہیں ہوتا سلام ہو مؤمنوں کو زندہ کرنے والے
وَمُبِیرِ الْکافِرِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی مَهْدِیِّ الْاَُمَمِ وَجامِعِ الْکَلِمِ اَلسَّلَامُ عَلَی خَلَفِ السَّلَفِ
اور کافروں کو نابود کرنے والے پر سلام ہو قوموں کے رہبر اور تمام کلمات الہی کے عالم پر سلام ہو تمام گذشتگان کے جانشین
وَصاحِبِ الشَّرَفِ اَلسَّلَامُ عَلَی حُجَّةِ الْمَعْبُودِ وَکَلِمَةِ الْمَحْمُودِ اَلسَّلَامُ عَلَی مُعِزِّ الْاََوْلِیائِ
اور بزرگیوں کے مالک پر سلام ہو خدا کی حجت اور تعریف کیے ہوئے کلمے پر سلام ہو دوستوں کی عزت بڑھانے والے
وَمُذِلِّ الْاََعْدائِ اَلسَّلَامُ عَلَی وارِثِ الْاََنْبِیائِ وَخاتِمِ الْاََوْصِیائِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْقائِمِ الْمُنْتَظَرِ
اور دشمنوں کو پست کرنے والے پر سلام ہو اس پر جو نبیوں کا وارث اور او صیائ میں آخر ہے سلام ہو اس قائم پرجس کا انتظار ہے
وَالْعَدْلِ الْمُشْتَهَرِ اَلسَّلَامُ عَلَی السَّیْفِ الشَّاهِرِ وَالْقَمَرِ الزَّاهِرِ وَالنُّورِ الْباهِرِ اَلسَّلَامُ
اور جو عدل میں مشہور ہے سلام ہو اس پر جو تلوار سونتے ہوئے ہے چمکتا ہوا چاند اور روشن تر نور ہے سلام ہو
عَلَی شَمْسِ الظَّلامِ وَبَدْرِ التَّمامِ اَلسَّلَامُ عَلَی رَبِیعِ الْاََنامِ وَنَضْرَةِ الْاَیَّامِ اَلسَّلَامُ
اس پر جو تاریکیوں میں سورج اور چودھویں کا چاند ہے سلام ہو اس پر جو لوگوں میں نشان بہار اور زمانے کی تازگی ہے سلام ہو
عَلَی صاحِبِ الصَّمْصامِ وَفَلاَّقِ الْهامِ اَلسَّلَامُ عَلَی الدِّینِ الْمَأْثُورِ وَالْکِتابِ الْمَسْطُورِ
اس پر جو شمشیر بکف اور متکبروں کی کھوپڑیاں توڑنے والا ہے سلام ہو اس پر جو مقرر شدہ دین اور قلم قدرت کی لکھی ہوئی کتاب ہے
اَلسَّلَامُ عَلَی بَقِیَّةِ ﷲ فِی بِلادِهِ وَحُجَّتِهِ عَلَی عِبَادِهِ الْمُنْتَهیٰ إلَیْهِ مَوارِیثُ الْاَنْبِیائِ وَلَدَیْهِ
سلام ہو جو خدا کے شہروں میں اس کا آخری نمائندہ اور لوگوں پر اس کی حجت ہے نبیوں کی وراثتیں اس تک پہنچیں اور وہ برگزیدوں
مَوْجُودٌ آثارُ الْاََصْفِیائِ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمُؤْتَمَنِ عَلَی السِّرِّ وَالْوَلِیِّ لِلاََْمْرِ اَلسَّلَامُ عَلَی
کے آثار و نقوش کا حامل ہے وہ راز الہی کا امانتدار اور صاحب حکومت ہے سلام ہو اس
الْمَهْدِیِّ الَّذِی وَعَدَ ﷲ عَزَّوَجَلَّ بِهِ الْاَُمَمَ أَنْ یَجْمَعَ بِهِ الْکَلِمَ وَیَلُمَّ بِهِ الشَّعَثَ
امام مہدیعليهالسلام پر جنکا وعدہ خدا نے قوموں سے کیا کہ وہ انکے درمیان وحدت کلمہ پیدا کریں گے بے اتفاقی کو دور کریںگے اور زمین کو
وَیَمْلَأَ بِهِ الْاََرْضَ قِسْطاً وَعَدْلاًوَیُمَکِّنَ لَهُ وَیُنْجِزَ بِهِ وَعْدَ الْمُؤْمِنِینَ أَشْهَدُ یَا مَوْلایَ
عدل و انصاف سے پر کر دیں گے وہ انہیں مقتدر بنائے گا اور مومنوں سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا میں گواہی دیتا ہوں اے میرے آقا کہ
أَنَّکَ وَآلاَءِمَّةَ مِنْ آبائِکَ أَئِمَّتِی وَمَوالِیَّ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیا وَیَوْمَ یَقُومُ الْاََشْهادُ
بے شک آپ اور وہ ائمہعليهالسلام جو آپعليهالسلام کے بزرگان میں سے ہیں میرے امام اور حاکم ہیں دنیاوی زندگی میں اور قیامت کے دن بھی
أَسْأَلُکَ یَا مَوْلایَ أَنْ تَسْأَلَ ﷲ تَبارَکَ وَتَعالی فِی صَلاحِ شَأْنِی وَقَضائِ
سوال کرتا ہوں آپعليهالسلام سے اے میرے آقا یہ کہ آپ خدائے بزرگ و برترکے حضور دعا فرمائیں کہ میری حالت سدھر جائے میری
حَوائِجِی وَغُفْرانِ ذُنُوبِی وَالْاَخْذِ بِیَدِی فِی دِینِی وَدُنْیایَ وَآخِرَتِی لِی وَلاِِِخْوانِی
حاجات پوری ہوں میرے گناہ بخش دیے جائیں میری دستگیری کی جائے دین میں، دنیا میں اور آخرت میں نیز میرے سبھی مومن بھائیوں
وَأَخَواتِی الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ کافَّةً إنَّهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ
اور میری مومنہ بہنوں کی دستگیری بھی ہو بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اس کے بعد بارہ رکعت نماز زیارت دو دو کر کے بجا لائے‘ ہر دو رکعت کا سلام دے کر تسبیح بی بی فاطمہعليهالسلام پڑھے اور اس عمل کو امام زمانہ کیلئے ہدیہ کرتا جائے جب نماز سے فارغ ہو چکے تو یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی حُجَّتِکَ فِی أَرْضِکَ وَخَلِیفَتِکَ فِی بِلادِکَ الدَّاعِی إلَی سَبِیلِکَ
اے معبود رحمت فرما زمین میں اپنی حجت پر اور شہروں میں اپنے خلیفہ و نائب پر جو تیرے راستے کی طرف بلانے والے
وَالْقائِمِ بِقِسْطِکَ وَالْفائِزِ بِأَمْرِکَ وَلِیِّ الْمُؤْمِنِینَ وَمُبِیرِ الْکافِرِینَ وَمُجَلِّی الظُّلْمَةِ
تیرے اصول عدل پر کار بند اور تیرے حکم سے کامیاب ہیں وہ مومنوں کے ولی کافروں کو نابود کرنے والے تاریکی کو روشنی میں تبدیل
وَمُنِیرِ الْحَقِّ وَالصَّادِعِ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَالصِّدْقِ وَکَلِمَتِکَ وَعَیْبَتِکَ
کرنے والے حق کو عیاں کرنے والے اور حکمت و سچائی اور موعظہ حسنۃکی دعوت دینے والے ہیں وہ تیرا کلمہ تیرا گنجینہ
وَعَیْنِکَ فِی أَرْضِکَ الْمُتَرَقِّبِ الْخائِفِ الْوَلِیِّ النَّاصِحِ سَفِینَةِ النَّجاةِ وَعَلَمِ الْهُدَیٰ
اور زمین میں تیری چشم بینا ہیں وہ محو انتظام ہیں،(تیرے جلال و جبروت سے) ہراسان، خیر خواہ، ولی، کشتی نجات، نشان ہدایت
وَنُورِ أَبْصارِ الْوَرَیٰ وَخَیْرِ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدیٰ وَالْوِتْرِ الْمَوْتُورِ وَمُفَرِّجِ الْکَرْبِ وَمُزِیلِ
اور مخلوق کی آنکھوں کا نور ہیں وہ لباس پہننے والوں میں سب سے بہتر، انتقام لینے والے، مشکل حل کرنے والے،پریشانی دور
الْهَمِّ وَکاشِفِ الْبَلْوَیٰ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَی آبائِهِ آلاَءِمَّةِ الْهادِینَ وَالْقادَةِ الْمَیامِینِ
کرنے والے اور مصیبت ہٹانے والے ہیں ان پر اور انکے بزرگان پر خدا کی رحمتیں ہوں جو ہدایت دینے والے امامعليهالسلام اور بابرکت پیشوا ہیں
مَا طَلَعَتْ کَواکِبُ الْاََسْحارِ وَأَوْرَقَتِ الْاََشْجارُ وَأَیْنَعَتِ الْاََثْمارُ وَاخْتَلَفَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ
جب تک صبح کے ستارے چمکتے رہیں درختوں پر پتے آتے رہیں پھل پکتے رہیں دن اور رات آتے جاتے رہیں
وَغَرَّدَتِ الْاََطْیارُ اَللّٰهُمَّ انْفَعْنا بِحُبِّهِ وَاحْشُرْنا فِی زُمْرَتِهِ وَتَحْتَ لِوائِهِ إلهَ الْحَقِّ آمِینَ
اور پرندے چہچہاتے رہیں اے معبود ہمیں انکی محبت سے نفع دے اور ہمیں انکے گروہ اور انکے جھنڈے تلے محشور فرما ایسا ہی ہو اے سچے معبود
یَا رَبَّ الْعالَمِینَ
اے جہانوں کے پرودگار۔
صلوات برائے امام آخر الزمان عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَصَلِّ عَلَی وَلِیِّ الْحَسَنِ وَوَصِیِّهِ وَوارِثِهِ الْقائِمِ
اے معبود حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہلبعليهالسلام یت پر رحمت فرما اور حسن عسکریعليهالسلام کے ولی وصی اور وارث پر رحمت کر جو تیرے امر پر قیام کرنے
بِأَمْرِکَ وَالْغائِبِ فِی خَلْقِکَ وَالْمُنْتَظِرِ لاِِِذْنِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیْهِ وَقَرِّبْ بُعْدَهُ وَأَنْجِزْ
والے تیری مخلوق کی نظروں سے پوشیدہ اور تیرے حکم کے انتطار میں ہیں اے معبود ان پر رحمت فرما انکو دور سے نزدیک کر ان کا وعدہ
وَعْدَهُ وَأَوْفِ عَهْدَهُ وَاکْشِفْ عَنْ بَأْسِهِ حِجابَ الْغَیْبَةِ وَأَظْهِرْ بِظُهُورِهِ صَحائِفَ الْمِحْنَةِ
وفا کر انکا پیمان پورا کر ان کی سختی دور کر غیبت کا پردہ ہٹا دے ان کے ظہور سے مشکلوں کا دور ختم کر دے دشمنوں پر ان کا رعب بٹھا دے
وَقَدِّمْ أَمامَهُ الرُّعْبَ وَثَبِّتْ بِهِ الْقَلْبَ وَأَقِمْ بِهِ الْحَرْبَ وَأَیِّدْهُ بِجُنْدٍ مِنَ الْمَلائِکَةِ مُسَوِّمِینَ
انکے ذریعے دلوں کو مضبوط کر دے انکے ہاتھوں جہاد شروع کرا دے انکو مدد دے ان فرشتوں کیساتھ جنکے ساتھ نشان قدرت الہی ہو
وَسَلِّطْهُ عَلَی أَعْدائِ دِینِکَ أَجْمَعِینَ وَأَلْهِمْهُ أَنْ لاَ یَدَعَ مِنْهُمْ رُکْناً إلاَّ هَدَّهُ وَلاَ هاماً إلاَّ
اور ان کو اپنے دین کے دشمنوںپر غلبہ عطا فرما اور ان کو حکم دے کہ ان کے ہر سردار کو زیر کریں ان کے شر کو دبا دیں
قَدَّهُ وَلاَ کَیْداً إلاَّ رَدَّهُ وَلاَ فاسِقاً إلاَّ حَدَّهُ وَلاَ فِرْعَوْناً إلاَّ أَهْلَکَهُ وَلاَ سِتْراً إلاَّ هَتَکَهُ وَلاَ
انکے مکر کو توڑ دیں ہر بدکار پر حد جاری کریں ہر سرکش فرعون کوہلاک کر ڈالیں ان کے پردے چاک کر دیں ان کے جھنڈے گرا دیں
عَلَماً إلاَّ نَکَّسَهُ وَلاَ سُلْطاناً إلاَّ کَسَبَهُ وَلاَ رُمْحاً إلاَّ قَصَفَهُ وَلاَ مِطْرَداً إلاَّ خَرَقَهُ وَلاَ جُنْداً
ان کی سلطنتوں کو زیر دست کرلیں، ان کے نیزوں کو توڑ ڈالیں، ان کے چھوٹے نیزوں کو پارہ کرڈالیں، ان کے لشکروں کو
إلاَّ فَرَّقَهُ وَلاَ مِنْبَراً إلاَّ أَحْرَقَهُ وَلاَ سَیْفاً إلاَّ کَسَرَهُ وَلاَ صَنَماً إلاَّ رَضَّهُ وَلاَ دَماً إلاَّ أَراقَهُ وَلاَ
پراگندہ کر دیں، ان کے منبر جلا دیں، ان کی تلواریں توڑ ڈالیں، ان کے بتوں کو چور کریں، ان کا خون بہا دیں، ان کے
جَوْراً إلاَّ أَبادَهُ وَلاَ حِصْناً إلاَّ هَدَمَهُ وَلاَ باباً إلاَّرَدَمَهُ وَلاَ قَصْراً إلاَّ خَرَّبَهُ وَلاَ مَسْکَناً إلاَّ
ظلم مٹا دیں، ان کے قلعوں کو گرا دیں، ان کے راستے بند کر دیں،ان کے محل تباہ کر دیں، ان کے مورچے
فَتَّشَهُ وَلاَ سَهْلاً إلاَّ أَوْطَأَهُ وَلاَ جَبَلاً إلاَّ صَعِدَهُ وَلاَ کَنْزاً إلاَّ أَخْرَجَهُ بِرَحْمَتِکَ
توڑ دیں، ان کے میدانوں پر قابض ہو جائیں،پہاڑوں پر تسلط جمائیں اور ان کے خزانوں پر قبضہ کر لیں تیری رحمت کے ساتھ
یَاأَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ رحم والے۔
مؤلف کہتے ہیں شیخ مفیدرحمهالله جب سابقہ زیارت نقل کر چکے جسکی ابتدائ اس طرح ہوتی ہےﷲ اَکْبَرُ ﷲ اَکْبَرُ لاَ اِلَهَ اِلاَّ ﷲ وَﷲ اَکْبَرُ اسکے بعد فرمایا کہ ایک اور روایت میں ہے کہ سرداب میں داخل ہو جائے تو یہ زیارت پڑھےاَلسَّلاَمُ عَلیٰ الْحَقِّ الْجَدِیْدِ ۔۔۔۔ تا آخر پھر بارہ رکعت نماز کا ذکر کیا اور ارشاد کیا کہ نماز سے فارغ ہو کر یہ دعا پڑھے جو خود حضرتعليهالسلام ہی سے منقول ہے:
اَللّٰهُمَّ عَظُمَ الْبَلائُ وَبَرِحَ الْخَفائُ وَانْکَشَفَ الْغِطائُ وَضاقَتِ الْاََرْضُ وَمَنَعَتِ السَّمائُ وَ إلَیْکَ
اے معبود مصیبت بڑھ گئی ہے اور رسوائی ہوچکی ہے پردہ فاش ہو گیا ہے زمین تنگ ہوگئی اور آسمان مخالف ہو گیا ہے
یَارَبَّ الْمُشْتَکیٰ وَعَلَیْکَ الْمُعَوَّلُ فِی الشِّدَّةِ وَالرَّخائِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
اے پروردگار تیرے حضور شکایت لایا ہوں اور تجھی پر میرا بھروسہ ہے تنگی اورفراخی میں اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما
الَّذِینَ فَرَضْتَ عَلَیْنا طاعَتَهُمْ فَعَرَّفْتَنا بِذلِکَ مَنْزِلَتَهُمْ فَرِّجْ عَنَّا بِحَقِّهِمْ فَرَجاً عاجِلاً
جنکی پیروی تو نے ہم پر واجب کی ہے پس اس طرح تو نے ان کے مرتبے کی پہچان کرائی ان کے حق کا واسطہ ہے ہمیں کشائش دے
کَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ مِنْ ذلِکَ یَا مُحَمَّدُ یَا عَلِیُّ یَا عَلِیُّ یَا مُحَمَّدُ انْصُرانِی
جلدی چشم زدن میں یا اس سے بھی کم وقت میں اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اے علیعليهالسلام ، اے علیعليهالسلام اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میری مدد کریں کہ
فَ إنَّکُما ناصِرایَ وَاکْفِیانِی فَ إنَّکُما کافِیایَ یَا مَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ الْغَوْثَ الْغَوْثَ
آپ دونوں میرے مدد گار ہیں میری نصرت کریں آپ دونوں میرے لیے کافی ہیںاے میرے آقا اے امام وقت اے دادرس، دادرس
الْغَوْثَ أَدْرِکْنِی أَدْرِکْنِی أَدْرِکْنِی
دادرس میری مدد کو آئیں میری مدد کو آئیں میری مدد کو آئیں ۔
مولف کہتے ہیں یہ انتہائی عمدہ دعا ہے اسے سرداب میں اور دیگر جگہوں پر پڑھتے رہنا چاہیے ہم تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ اس دعا کو پہلے باب میں نقل کر آئے ہیں
سید بن طائوس ناقل ہیں کہ دو رکعت نماز ادا کر کے یہ زیارت پڑھے: سَلاَمُ ﷲ الْکَامِلُ التَّامُ الشَامِلُتاآخر ہم نے یہ زیارت پہلے باب کی ساتویں فصل میں امام العصر(عج) سے استغاثہ کے عنوان سے بحوالہ کلم الطیب نقل کی ہے لہذا اس مقام پر ملاحظہ فرمائیں۔
دعائے ندبہ
مؤلف کہتے ہیں کہ سید بن طائوسرحمهالله نے مصباح الزائر میں اعمال سرداب کے بارے میں ایک فصل رقم کی ہے جس میں انہوں نے حضرت صاحب الزماں (عج) کی چھ زیارتیں درج کی ہیں اور پھر فرمایا ہے کہ اسی فصل سے دعا ندبہ ملحق کی جاتی ہے اور روزانہ نماز فجر کے بعد حضرتعليهالسلام کے لیے پڑھی جانے والی یہ زیارت ساتویں زیارت شمار ہوگی نیز دعا عہد بھی اس فصل میں شامل کی جا رہی ہے جسے غیبت امام کے زمانے میں پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور وہ دعا بھی ذکر ہوئی ہے جو حضرتعليهالسلام کے حرم شریف سے واپس جاتے وقت پڑھنا چاہیے اس کے بعد انہوں نے یہ چاروں چیزیں وہاں بیان کی ہیں۔
چنانچہ ہم ان کی پیروری کرتے ہوئے اس مقام پر وہی چارامور نقل کر رہے ہیں ان میں سے پہلی دعا ندبہ ہے جسے چار عیدوں یعنی عید الفطر عید الاضحی‘ عید غدیر اور روز جمعہ پڑھنا مستحب ہے اوروہ یہ ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَصَلَّی ﷲ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ نَبِیِّهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً
حمد ہے خدا کیلئے جو جہانوں کا پرودگار ہے اور خدا ہمارے سردار اور اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت کرے اور بہت بہت سلام بھیجے
اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی مَا جَریٰ بِهِ قَضاؤُکَ فِی أَوْلِیائِکَ الَّذِینَ اسْتَخْلَصْتَهُمْ
اے معبود حمد ہے تیرے لیے کہ جاری ہو گی تیری قضائ و قدر تیرے اولیائ کے بارے میںجن کو تو نے اپنے لیے
لِنَفْسِکَ وَدِینِکَ إذِ اخْتَرْتَ لَهُمْ جَزِیلَ مَا عِنْدَکَ مِنَ النَّعِیمِ الْمُقِیمِ الَّذِی لاَ زَوالَ لَهُ
اور اپنے دین کیلئے خاص کیا جب کہ انہیں اپنے ہاں سے وہ نعمتیں عطا کی ہیں جو باقی رہنے والی ہیں جو نہ ختم ہوتی ہیں نہ کمزور پڑتی ہیں
وَلاَ اضْمِحْلالَ بَعْدَ أَنْ شَرَطْتَ عَلَیْهِمُ الزُّهْدَ فِی دَرَجاتِ هذِهِ الدُّنْیَا الدَّنِیَّةِ وَزُخْرُفِها
اس کے بعد کہ تو نے ان پر اس دنیا کے بے حقیقت مناصب جھوٹی شان و شوکت اور زینت سے دور رہنا لازم کیا
وَزِبْرِجِها فَشَرَطُوا لَکَ ذلِکَ وَعَلِمْتَ مِنْهُمُ الْوَفائَ بِهِ فَقَبِلْتَهُمْ وَقَرَّبْتَهُمْ وَقَدَّمْتَ لَهُمُ
پس انہوں نے یہ شرط پوری کی اور ان کی وفا کو تو جانتا ہے تو نے انہیں قبول کیا مقرب بنایا ان کے ذکر کو بلند فرمایا
الذِّکْرَ الْعَلِیَّ وَالثَّنائَ الْجَلِیَّ وَأَهْبَطْتَ عَلَیْهِمْ مَلائِکَتَکَ وَکَرَّمْتَهُمْ بِوَحْیِکَ وَرَفَدْتَهُمْ
اور ان کی تعریفیں ظاہر کیں تو نے ان کی طرف اپنے فرشتے بھیجے ان کو وحی سے مشرف کیا
بِعِلْمِکَ وَجَعَلْتَهُمُ الذَّرِیعَةَ إلَیْکَ وَالْوَسِیلَةَ إلَی رِضْوانِکَ فَبَعْضٌ أَسْکَنْتَهُ جَنَّتَکَ
ان کو اپنے علوم سے نوازا اور ان کو وہ ذریعہ قرار دیا جوتجھ تک پہنچائے اور وہ وسیلہ جو تیری خوشنودی تک لے جائے پس ان میں کسی کو
إلَی أَنْ أَخْرَجْتَهُ مِنْها وَبَعْضٌ حَمَلْتَهُ فِی فُلْکِکَ وَنَجَّیْتَهُ وَمَنْ آمَنَ مَعَهُ مِنَ الْهَلَکَةِ
جنت میں رکھا یہاں تک کہ اس سے باہر بھیجا کسی کو اپنی کشتی میں سوار کیا اور بچا لیا اور جو ان کے ساتھ تھے انہیں موت سے بچایا
بِرَحْمَتِکَ وَبَعْضٌ اتَّخَذْتَهُ لِنَفْسِکَ خَلِیلاً وَسَأَلَکَ لِسانَ صِدْقٍ فِی الْاَخِرِینَ فَأَجَبْتَهُ
تو نے اپنی رحمت کے ساتھ اور کسی کو تو نے اپنا خلیل بنایا پھردوسرے سچی زبان والوں نے تجھ سے سوال کیا جسے تو نے پورا فرمایا
وَجَعَلْتَ ذلِکَ عَلِیّاًوَبَعْضٌ کَلَّمْتَهُ مِنْ شَجَرَةٍ تَکْلِیماً وَجَعَلْتَ لَهُ مِنْ أَخِیهِ رِدْئاً وَوَزِیْراً
اسے بلند وبالا قرار دیا کسی کے ساتھ تو نے درخت کے ذریعے کلام کیا اور اس کے بھائی کو اس کا مدد گار بنایا کسی کو تو نے نے بن باپ
وَبَعْضٌ أَوْلَدْتَهُ مِنْ غَیْرِ أَبٍ وَآتَیْتَهُ الْبَیِّناتِ وَأَیَّدْتَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ وَکُلٌّ شَرَعْتَ لَهُ شَرِیعَةً
کے پیدا فرمایا اسے بہت سے معجزات دئیے اور روح قدس سے اسے قوت دی تو نے ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت
وَنَهَجْتَ لَهُ مِنْهاجاً وَتَخَیَّرْتَ لَهُ أَوْصِیائَ مُسْتَحْفِظاً بَعْدَ مُسْتَحْفِظٍ مِنْ مُدَّةٍ إلَی مُدَّةٍ
اور راستہ مقرر کیا ان کے لیے اوصیائ چنے کہ تیرے دین کو قائم رکھنے کے لیے ایک کے بعد دوسرا نگہبان آیا
إقامَةً لِدِینِکَ وَحُجَّةً عَلَی عِبادِکَ وَلِئَلاَّ یَزُولَ الْحَقُّ عَنْ مَقَرِّهِ وَیَغْلِبَ الْباطِلُ عَلَی
جو تیرے بندوں پر حجت قرار پایا تاکہ حق اپنے مقام سے نہ ہٹے اور باطل کے حامی اہل حق پر غلبہ
أَهْلِهِ وَلاَ یَقُولَ أَحَدٌ لَوْلا أَرْسَلْتَ إلَیْنا رَسُولاً مُنْذِراًوَأَقَمْتَ لَنا عَلَماً هادِیاً فَنَتَّبِعَ آیاتِکَ
نہ پائیں اور کوئی یہ نہ کہے کہ کاش تو نے ہماری طرف ڈرانے والا رسول بھیجا ہوتا اور ہمارے لیے ہدایت کا جھنڈا بلند کیا ہوتا کہ تیری
مِنْ قَبْلِ أَنْ نَذِلَّ وَنَخْزٰی إلَی أَنِ انْتَهَیْتَ بِالْاََمْرِ إلی حَبِیبِکَ وَنَجِیبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی
آیتوںکی پیروی کرتے اس سے پہلے کہ ذلیل و رسوا ہوں یہاں تک کہ تو نے امر ہدایت اپنے حبیب اور پاکیزہ اصل محمد
ﷲ عَلَیْهِ وآلِهِ فَکانَ کَمَا انْتَجَبْتَهُ سَیِّدَ مَنْ خَلَقْتَهُ وَصَفْوَةَ مَنِ اصْطَفَیْتَهُ وَأَفْضَلَ مَنِ
کے سپرد کیا پس وہ ایسے سردار ہوئے جن کو تو نے مخلوق میں سے پسند کیا برگزیدوں میں سے برگزیدہ بنایا جن کو چنا ان میں سے
اجْتَبَیْتَهُ وَأَکْرَمَ مَنِ اعْتَمَدْتَهُ قَدَّمْتَهُ عَلَی أَنْبِیائِکَ وَبَعَثْتَهُ إلَی الثَّقَلَیْنِ مِنْ عِبادِکَ وَأَوْطَأْتَهُ
افضل بنایا اپنے خواص میںسے بزرگ قرار دیا انہیں نبیوں کا پیشوا بنایا اور ان کو اپنے بندوں میں سے جن وانس کی طرف بھیجا ان
مَشارِقَکَ وَمَغارِبَکَ وَسَخَّرْتَ لَهُ الْبُراقَ وَعَرَجْتَ بِرُوحِهِ إلَی سَمائِکَ وَأَوْدَعْتَهُ
کیلئے سارے مشرقوں مغربوں کو زیر کر دیا براق کو انکا مطیع بنایا اور انکو جسم و جان کیساتھ آسمان پربلایا اور تو نے انہیں سابقہ و آئندہ
عِلْمَ مَا کانَ وَمَا یَکُونُ إلَی انْقِضائِ خَلْقِکَ ثُمَّ نَصَرْتَهُ بِالرُّعْبِ وَحَفَفْتَهُ بِجَبْرَائِیلَ
باتوں کا علم دیا یہاں تک کہ تیری مخلوق ختم ہو جائے پھر ان کو دبدبہ عطا کیا اور ان کے گرد جبرائیلعليهالسلام
وَمِیکائِیلَ وَالْمُسَوِّمِینَ مِنْ مَلائِکَتِکَ وَوَعَدْتَهُ أَنْ تُظْهِرَ دِینَهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ
و میکائیلعليهالسلام اور نشان زدہ فرشتوں کوجمع فرمایا ان سے وعدہ کیا کہ آپکا دین تمام ادیان پر غالب آئے گا اگرچہ مشرک دل تنگ ہوں
الْمُشْرِکُونَ وَذلِکَ بَعْدَ أَنْ بَوَّأْتَهُ مُبَوَّأَ صِدْقٍ مِنْ أَهْلِهِ وَجَعَلْتَ لَهُ وَلَهُمْ أَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ
اور یہ اس وقت ہوا جب ہجرت کے بعد تو نے انکے خاندان کوسچائی کے مقام پر جگہ دی اور انکے اور انکے ساتھیوں کیلئے قبلہ بنایا پہلا
لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبارَکاً وَهُدیً لِلْعالَمِینَ فِیهِ آیاتٌ بَیِّناتٌ مَقامُ إبْراهِیمَ وَمَنْ دَخَلَهُ
گھر جو مکہ میں بنا یا گیا جو جہانوں کیلئے برکت و ہدایت کا مرکز ہے اس میں واضح نشانیاں اور مقام ابراہیمعليهالسلام ہے جو اس گھر میں داخل ہوا
کانَ آمِناً وَقُلْتَ إنَّما یُرِیدُ ﷲ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیراً ثُمَّ
اسے امان مل گئی نیز تو نے فرمایا ضرور خدا نے ارادہ کر لیا ہے کہ تم سے برائی کو دور کر دے اے اہلبیتعليهالسلام اور تمہیں پاک رکھے جسطرح پاک رکھنے کا حق ہے
جَعَلْتَ أَجْرَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ مَوَدَّتَهُمْ فِی کِتابِکَ فَقُلْتَ قُلْ لاَ أَسْأَلُکُمْ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور انکی آلعليهالسلام پر تیری رحمتیں ہوں تو نے اہل بیتعليهالسلام کی محبت کو انکا اجررسالت قرار دیا قرآن میں پس تو نے فرمایا کہہ دیں کہ میں تم
عَلَیْهِ أَجْراً إلاَّ الْمَوَدَّ ةَ فِی الْقُرْبیٰ وَقُلْتَ مَا سَأَلْتُکُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَکُمْ وَقُلْتَ ما
سے اجر رسالت نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اقربا سے محبت کرو اور تو نے کہا جو اجر میں نے تم سے مانگا ہے وہ تمہارے فائدے میں ہے
أَسْأَلُکُمْ عَلَیْهِ مِنْ أَجْرٍ إلاَّ مَنْ شَائَ أَنْ یَتَّخِذَ إلَی رَبِّهِ سَبِیلاً فَکانُوا هُمُ السَّبِیلَ
نیز تو نے فرمایا میں نے تم سے اجر رسالت نہیں مانگا سوائے اس کے کہ یہ راہ اس کے لیے جو خدا تک پہنچنا چاہے پس اہل بیت
إلَیْکَ وَالْمَسْلَکَ إلَی رِضْوانِکَ فَلَمَّا انْقَضَتْ أَیَّامُهُ أَقامَ وَلِیَّهُ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طالِبٍ
تیرا مقرر کردہ راستہ اور تیری خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہیں ہاں جب محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم رسول اللہ کا وقت پورا ہو گیا تو ان کی جگہ علیعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام نے لے لی
صَلَواتُکَ عَلَیْهِما وَآلِهِما هادِیاً إذْ کانَ هُوَ الْمُنْذِرَ وَلِکُلِّ قَوْمٍ هادٍ فَقالَ وَالْمَلاََُ
ان دونوں پر اور انکی آلعليهالسلام پر تیری رحمتیں ہوں علی رہبر ہیں جب کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ڈرانے والے اور ہر قوم کیلئے رہبر ہے پس فرمایا آپ نے
أَمامَهُ مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلاهُ اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ والاهُ وَعادِ مَنْ
جماعت صحابہ سے کہ جسکا میں مولا ہوں پس علیعليهالسلام بھی اسکے مولا ہیں اے معبود محبت کراس سے جو اس سے محبت کرے دشمنی کر اس سے
عاداهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ وَقالَ مَنْ کُنْتُ أَنَا نَبِیَّهُ فَعَلِیٌّ أَمِیرُهُ
جو اس سے دشمنی کرے مدد کر اسکی جو اسکی مدد کرے خوار کر اسکو جو اسے چھوڑے نیز فرمایا کہ جسکا میں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ہوں علیعليهالسلام اسکا امیر و حاکم ہے
وَقالَ أَنَا وَعَلِیٌّ مِنْ شَجَرَةٍ واحِدَةٍ وَسائِرُ النَّاسِ مِنْ شَجَرٍ شَتَّیٰ وَأَحَلَّهُ مَحَلَّ هَارُونَ مِنْ
اور فرمایا میں اور علیعليهالسلام ایک درخت سے ہیں اور دوسرے لوگ مختلف درختوں سے پیدا ہوئے ہیں اور علیعليهالسلام کو اپنا جانشین بنایا جیسے ہارونعليهالسلام
مُوسی فَقال لَهُ أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هارُونَ مِنْ مُوسی إلاَّ أَنَّهُ لاَ نَبِیَّ
موسیٰعليهالسلام کے جانشین ہوئے پس فرمایااے علیعليهالسلام تم میری نسبت وہی مقام رکھتے ہو جو ہارونعليهالسلام کو موسیٰعليهالسلام کی نسبت تھا مگر میرے بعد کوئی نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم
بَعْدِی وَزَوَّجَهُ ابْنَتَهُ سَیِّدَةَ نِسائِ الْعالَمِینَ وَأَحَلَّ لَهُ مِنْ مَسْجِدِهِ مَا
نہیںآپ نے علیعليهالسلام کا نکاح اپنی بیٹی سردار زنان عالم(س) سے کیا مسجد میں ان کیلئے وہ امر حلال رکھا جو آپ کیلئے تھا اور مسجد کی
حَلَّ لَهُ وَسَدَّ الْاََبْوابَ إلاَّ بابَهُ ثُمَّ أَوْدَعَهُ عِلْمَهُ وَحِکْمَتَهُ فَقالَ أَنَا مَدِینَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ
طرف سے سبھی دروازے بندکرائے سوائے علیعليهالسلام کے دروازے کے پھر اپنا علم و حکمت ان کے سپرد کیا تو فرمایا میں علم کاشہر ہوںاور علیعليهالسلام
بابُها فَمَنْ أَرادَ الْمَدِینَةَ وَالْحِکْمَةَ فَلْیَأْتِها مِنْ بابِها ثُمَّ قالَ أَنْتَ أَخِی وَوَصِیِّی وَوارِثِی
اس کا دروازہ ہیں لہذا جو علم و حکمت کا طالب ہے وہ اس در علم پر آئے نیز یہ کہا کہ اے علیعليهالسلام تم میرے بھائی جانشین اور وارث ہو
لَحْمُکَ مِنْ لَحْمِی وَدَمُکَ مِنْ دَمِی وَسِلْمُکَ سِلْمِی وَحَرْبُکَ حَرْبِی وَالْاِیمانُ
تمہارا گوشت میرا گوشت تمہارا خون میرا خون تمہاری صلح میری صلح تمہاری جنگ میری جنگ ہے اور ایمان
مُخالِطٌ لَحْمَکَ وَدَمَکَ کَمَا خالَطَ لَحْمِی وَدَمِی وَأَنْتَ غَداً عَلَی الْحَوْضِ خَلِیفَتِی
تمہاری رگوں میں شامل ہے جیسے وہ میرے رگوں میں شامل ہے قیامت میں تم حوض کوثر پر میرے خلیفہ ہوگے
وَأَنْتَ تَقْضِی دَیْنِی وَتُنْجِزُ عِداتِی وَشِیعَتُکَ عَلَی مَنابِرَ مِنْ نُورٍ مُبْیَضَّةً وُجُوهُهُمْ
تمہی میرے قرضے چکائو گے اور میرے وعدے نبھائو گے تمہارے شیعہ جنت میں چمکتے چہروں کیساتھ نورانی تختوں پرمیرے آس پاس
حَوْلِی فِی الْجَنَّةِ وَهُمْ جِیرانِی وَلَوْلا أَنْتَ یَا عَلِیُّ لَمْ یُعْرَفِ الْمُؤْمِنُونَ بَعْدِی وَکانَ بَعْدَهُ
میرے قرب میں ہوں گے اور اے علیعليهالسلام اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد مومنوں کی پہچان نہ ہو پاتی چنانچہ وہ آپ کے بعد گمراہی سے
هُدیً مِنَ الضَّلالِ وَنُوراً مِنَ الْعَمیٰ وَحَبْلَ ﷲ الْمَتِینَ وَصِراطَهُ الْمُسْتَقِیمَ لاَ یُسْبَقُ
ہدایت میں لانے والے تاریکی سے روشنی میںلانے والے خدا کا مضبوط سلسلہ اور اسکا سیدھا راستہ ہیں نہ قرابت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم میں کوئی ان
بِقَرابَةٍ فِی رَحِمٍ وَلاَ بِسابِقَةٍ فِی دِینٍ وَلاَ یُلْحَقُ فِی مَنْقَبَةٍ مِنْ مَناقِبِهِ یَحْذُو حَذْوَ الرَّسُولِ
سے بڑھا ہوا تھا نہ دین میں کوئی ان سے آگے تھا ان کے علاوہ کوئی بھی اوصاف میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مانند نہ تھاعلیعليهالسلام و نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِما وَآلِهِما وَیُقاتِلُ عَلَی التَّأْوِیلِ وَلاَ تَأْخُذُهُ فِی ﷲ لَوْمَةُ لائِمٍ قَدْ وَتَرَ فِیهِ
انکی آلعليهالسلام پر خدا کی رحمت ہو علیعليهالسلام نے تاویل قرآن پر جنگ کی اور خدا کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ
صَنادِیدَ الْعَرَبِ وَقَتَلَ أَبْطالَهُمْ وَناوَشَ ذُؤْبانَهُمْ فَأَوْدَعَ قُلُوبَهُمْ أَحْقاداً بَدْرِیَّةً وَخَیْبَرِیَّةً
کی عرب سرداروں کو ہلاک کیا انکے بہادروں کو قتل کیا اور انکے پہلوانوں کو پچھاڑا پس عربوں کے دلوں میں کینہ بھر گیا کہ بدر‘ خیبر‘
وَحُنَیْنِیَّةً وَغَیْرَهُنَّ فَأَضَبَّتْ عَلَی عَداوَتِهِ وَأَکَبَّتْ عَلَی مُنابَذَتِهِ حَتَّی قَتَلَ النَّاکِثِینَ
حنین وغیرہ میں انکے لوگ قتل ہو گئے پس وہ علیعليهالسلام کی دشمنی میں اکھٹے ہوئے اور انکی مخالفت پر آمادہ ہو گئے چنانچہ آپعليهالسلام نے بیعت توڑنے والوں
وَالْقاسِطِینَ وَالْمارِقِینَ وَلَمَّا قَضیٰ نَحْبَهُ وَقَتَلَهُ أَشْقَی الْاَخِرِینَ یَتْبَعُ أَشْقَی الْاََوَّلِینَ
تفرقہ ڈالنے والوں اور ہٹ دھرمی کرنے والوں کو قتل کیا جب آپکا وقت پورا ہوا تو بعد والوں میں سے بدبخت ترین نے آپ کو قتل کیا
لَمْ یُمْتَثَلْ أَمْرُ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ فِی الْهادِینَ بَعْدَ الْهادِینَ وَالْاَُمَّةُ مُصِرَّةٌ عَلَی
اس نے پہلے والے شقی ترین کی پیروی کی رسول اللہ کا فرمان پورا نہ ہوا جبکہ ایک رہبرکے بعد دوسرا رہبر آتا رہا اور امت اس
مَقْتِهِ مُجْتَمِعَةٌ عَلَی قَطِیعَةِ رَحِمِهِ وَ إقْصائِ وُلْدِهِ إلاَّ الْقَلِیلَ مِمَّنْ وَفَیٰ لِرِعایَةِ
کی دشمنی پر شدت سے کمر بستہ ہو کر اس پر ظلم ڈھاتی رہی اور اس کی اولاد کو پریشان کرتی رہی مگر تھوڑے سے لوگ وفادار تھے اور انکا
الْحَقِّ فِیهِمْ فَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ وَسُبِیَ مَنْ سُبِیَ وَأُقْصِیَ مَنْ أُقْصِیَ وَجَرَی الْقَضائُ لَهُمْ بِمَا
حق پہچانتے تھے پس ان میں سے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید میں ڈالے گئے اور کچھ بے وطن ہوئے ان پر قضا وارد ہو گئی
یُرْجیٰ لَهُ حُسْنُ الْمَثُوبَةِ إذْ کانَتِ الْاََرْضُ لِلّٰهِ یُورِثُها مَنْ یَشائُ مِنْ عِبادِهِ وَالْعاقِبَةُ
جس پروہ بہترین اجر کے امیدوار ہوئے کیونکہ زمین خدا کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اسکا وارث بناتا ہے اور انجام کار پرہیزگاروں
لِلْمُتَّقِینَ وَسُبْحانَ رَبِّنا إنْ کانَ وَعْدُ رَبِّنا لَمَفْعُولاً وَلَنْ یُخْلِفَ ﷲ وَعْدَهُ وَهُوَ الْعَزِیزُ
کیلئے ہے اور پاک ہے ہمارا رب کہ ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے ہاں خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا وہ زبر دست ہے
الْحَکِیمُ فَعَلَی الْاََطآئِبِ مِنْ أَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِما وَآلِهِما فَلْیَبْکِ
حکمت والا پس حضرت محمد و حضرت علیعليهالسلام کہ ان دونوں پر خدا کی رحمت ہو ان کے خاندان پران پر رونے والوں کو
الْباکُونَ وَ إیَّاهُمْ فَلْیَنْدُبِ النَّادِبُونَ وَلِمِثْلِهِمْ فَلْتَذْرِفِ الدُّمُوعُ وَلْیَصْرُخِ الصَّارِخُونَ
رونا چاہیے چنانچہ ان پر اور ان جیسوں پر دھاڑیں مار کر رونا چاہیے پس ان کیلئے آنسو بہائے جائیںرونے والے چیخ چیخ کر روئیں
وَیَضِجَّ الضَّاجُّونَ وَیَعِجَّ الْعاجُّونَ أَیْنَ الْحَسَنُ أَیْنَ الْحُسَیْنُ أَیْنَ أَبْنائُ الْحُسَیْنِ
نالہ و فریاد بلند کریں اور اونچی آوازوں میں رو کر کہیں کہاں ہیں حسنعليهالسلام کہاںہیں حسینعليهالسلام کہاں گئے فرزندان حسینعليهالسلام ایک نیک کردار کے
صالِحٌ بَعْدَ صالِحٍ وَصادِقٌ بَعْدَ صادِقٍ أَیْنَ السَّبِیلُ بَعْدَ السَّبِیلِ أَیْنَ الْخِیَرَةُ بَعْدَ
بعد دوسرا نیک کردار ایک سچے کے بعد دوسرا سچا کہاں گئے جو ایک کے بعد ایک راہ حق کے رہبر تھے کہاں گئے جو اپنے وقت میںخدا
الْخِیَرَةِ أَیْنَ الشُّمُوسُ الطَّالِعَةُ أَیْنَ الْاََقْمارُ الْمُنِیرَةُ أَیْنَ الاََنْجُمُ الزَّاهِرَةُ أَیْنَ أَعْلامُ الدِّینِ
کے برگزیدہ تھے کدھر گئے وہ چمکتے سورج کیا ہوئے وہ دمتے چاند کہاں گئے وہ جھلملاتے ستارے کدھر گئے وہ دین کے نشان اور علم
وَقَواعِدُ الْعِلْمِ أَیْنَ بَقِیَّةُ ﷲ الَّتِی لاَ تَخْلُو مِنَ الْعِتْرَةِ الْهادِیَةِ أَیْنَ الْمُعَدُّ لِقَطْعِ دابِرِ الظَّلَمَةِ
کے ستون کہاں ہے خدا کا آخری نمائندہ جو رہبروں کے اس خاندان سے باہر نہیں کہاں ہے وہ جو ظالموں کی جڑیں کاٹنے کیلئے آمادہ ہے
أَیْنَ الْمُنْتَظَرُ لاِِِقامَةِ الْاََمْتِ وَالْعِوَجِ أَیْنَ الْمُرْتَجیٰ لاِِِزالَةِ الْجَوْرِ وَالْعُدْوانِ أَیْنَ
کہاں ہے وہ جو انتظار میں ہے کہ کج کو سیدھا اور نا درست کو درست کرے کہاں ہے وہ امیدگاہ جو ظلم وستم کو مٹانے والا ہے کہاں ہے
الْمُدَّخَرُ لِتَجْدِیدِ الْفَرائِضِ وَالسُّنَنِ أَیْنَ الْمُتَخَیَّرُ لاِِِعادَةِ الْمِلَّةِ وَالشَّرِیعَةِ أَیْنَ الْمُؤَمَّلُ
وہ جو فرائض اور سنن کو زندہ کرنے والا امامعليهالسلام کہاں ہے وہ جو ملت اور شریعت کو راست کرنے والا کہاں ہے وہ جس کے ذریعے قرآن
لاِِِحْیائِ الْکِتابِ وَحُدُودِهِ أَیْنَ مُحْیِی مَعالِمِ الدِّینِ وَأَهْلِهِ أَیْنَ قاصِمُ شَوْکَةِ
اور اس کے احکام کے زندہ ہونے کی توقع ہے کہاں ہے وہ جو دین اور اہل دین کے طریقے روشن کرنے والا کہاں ہے وہ جو ظالموں
الْمُعْتَدِینَ أَیْنَ هادِمُ أَبْنِیَةِ الشِّرْکِ وَالنِّفاقِ أَیْنَ مُبِیدُ أَهْلِ الْفُسُوقِ وَالْعِصْیانِ وَالطُّغْیانِ
کا زور توڑنے والا کہاں ہے وہ جو شرک و نفاق کی بنیادیں ڈھانے والا کہاں ہے وہ جو بدکاروں نافرمانوں اور سرکشوں کو تباہ کرنے والا
أَیْنَ حاصِدُ فُرُوعِ الْغَیِّ وَالشِّقاقِ أَیْنَ طامِسُ آثارِ الزَّیْغِ وَالْاََهْوائِ أَیْنَ قاطِعُ
کہاں ہے وہ جو گمراہی اور تفرقے کی شاخیں کاٹنے والا کہاں ہے وہ جو کج دلی و نفس پرستی کے داغ مٹانے والا کہاں ہے وہ جو جھوٹ اور بہتان
حَبائِلِ الْکِذْبِ وَالْاِفْتِرائِ أَیْنَ مُبِیدُ الْعُتاةِ وَالْمَرَدَةِ أَیْنَ مُسْتَأْصِلُ أَهْلِ الْعِنادِ وَالتَّضْلِیلِ
کی رگیں کاٹنے والا کہاں ہے وہ جو سرکشوں اور مغروروں کو تباہ کرنے والا کہاں ہے وہ جو دشمنوں گمراہ کرنے والوں اور بے دینوں کی
وَالْاِ لْحادِ أَیْنَ مُعِزُّ الْاََوْلِیائِ وَمُذِلُّ الْاََعْدائِ أَیْنَ جامِعُ الْکَلِمَةِ عَلَی التَّقْوی
جڑیں اکھاڑنے والا کہاں ہے وہ جو دوستوں کو باعزت اور دشمنوں کو ذلیل کرنے والا کہاں ہے وہ جو سب کو تقویٰ پر جمع کرنے والا
أَیْنَ بابُ ﷲ الَّذِی مِنْهُ یُوَْتی أَیْنَ وَجْهُ ﷲ الَّذِی إلَیْهِ یَتَوَجَّهُ الْاََوْلِیائُ أَیْنَ السَّبَبُ الْمُتَّصِلُ
کہاں ہے وہ جو خدا کا دروازہ جس سے وارد ہوں کہاں ہے وہ جو مظہر خدا کہ جس کی طرف حبدار متوجہ ہوں کہاں ہے وہ جو زمین و
بَیْنَ الْاََرْضِ وَالسَّمائِ أَیْنَ صاحِبُ یَوْمِ الْفَتْحِ وَناشِرُ رایَةِ الْهُدی أَیْنَ مُوََلِّفُ شَمْلِ
آسمان کے پیوست رہنے کا وسیلہ کہاں ہے وہ جو یوم فتح کا حکمران اور ہدایت کا پرچم لہرانے والا کہاں ہے جو وہ نیکی
الصَّلاحِ وَالرِّضا أَیْنَ الطَّالِبُ بِذُحُولِ الْاََنْبِیائِ وَأَبْنائِ الْاََنْبِیائِ أَیْنَ الطَّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُولِ
و خوشنودی کا لباس پہننے والا کہاں ہے وہ جو نبیوں کے خون اور نبیوں کی اولاد کے خون کا دعویدار کہاں ہے وہ جو کربلا کے مقتول حسینعليهالسلام
بِکَرْبَلائَ أَیْنَ الْمَنْصُورُ عَلَی مَنِ اعْتَدی عَلَیْهِ وَافْتَری أَیْنَ الْمُضْطَرُّ الَّذِی یُجابُ إذا دَعا
کے خون کا مدعی کہاں ہے وہ جو اس پر غالب ہے جس نے زیادتی کی اور جھوٹ باندھا وہ پریشان کہ جب دعا مانگے قبول ہوتی ہے
أَیْنَ صَدْرُ الْخَلائِقِ ذُو الْبِرِّ وَالتَّقْوی أَیْنَ ابْنُ النَّبِیِّ الْمُصْطَفی وَابْنُ عَلِیٍّ الْمُرْتَضی وَابْنُ
کہاں ہے وہ جو مخلوق کا حاکم جو نیک و پرہیز گار ہے کہاں ہے وہ جو نبی مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم کا فرزند علی مرتضیعليهالسلام کا فرزند خدیجہ
خَدِیجَةَ الْغَرَّائِ وَابْنُ فاطِمَةَ الْکُبْرَی بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی وَنَفْسِی لَکَ الْوِقائُ وَالْحِمی یَابْنَ
پاکعليهالسلام کا فرزند اور فاطمہ کبریعليهالسلام کا فرزند مہدیعليهالسلام قربان آپ پر میرے ماں باپ اور میری جان آپ کیلئے فدا ہے اے خدا کے مقرب
السَّادَةِ الْمُقَرَّبِینَ یَابْنَ النُّجَبائِ الْاََکْرَمِینَ یَابْنَ الْهُداةِ الْمَهْدِیِّینَ یَابْنَ الْخِیَرَةِ الْمُهَذَّبِینَ
سرداروں کے فرزند اے پاک نسل بزرگواروں کے فرزند اے ہدایت یافتہ رہبروں کے فرزنداے برگزیدہ اور خوش اطوار بزرگوں
یَابْنَ الْغَطارِفَةِ الْاََنْجَبِینَ یَابْنَ الْاََطآئِبِ الْمُطَهَّرِینَ یَابْنَ الْخَضارِمَةِ الْمُنْتَجَبِینَ یَابْنَ
کے فرزند اے پاک نہاد سرداروں کے فرزند اے پاکبازوں پاک شدگان کے فرزند اے پاک نژاد و سادات کے فرزند
الْقَماقِمَةِ الْاََکْرَمِینَ یَابْنَ الْبُدُورِ الْمُنِیرَةِ یَابْنَ السُّرُجِ الْمُضِیْئَةِ یَابْنَ الشُّهُبِ الثَّاقِبَةِ
اے وسیع القلب عزت داروں کے فرزند اے روشن چاندوں کے فرزند اے روشن چراغوں کے فرزند اے روشن سیاروں کے فرزند
یَابْنَ الْاََنْجُمِ الزَّاهِرَةِ یَابْنَ السُّبُلِ الْواضِحَةِ یَابْنَ الْاََعْلامِ اللاَّئِحَةِ یَابْنَ الْعُلُومِ الْکامِلَةِ
اے چمکتے ستاروں کے فرزند اے روشن راہوںکے فرزند اے بلند مرتبے والوں کے فرزنداے حاملین علوم کے فرزند
یَابْنَ السُّنَنِ الْمَشْهُورَةِ یَابْنَ الْمَعالِمِ الْمَأْثُورَةِ یَابْنَ الْمُعْجِزاتِ الْمَوْجُودَةِ یَابْنَ الدَّلائِلِ
اے واضح روشوں کے فرزند اے مذکورہ علامتوں کے فرزند اے معجز نمائوںکے فرزند اے ظاہر دلائل کے فرزند
الْمَشْهُودَةِ یَابْنَ الصِّراطِ الْمُسْتَقِیمِ یَابْنَ النَّبَاََ الْعَظِیمِ یَابْنَ مَنْ هُوَ فِی أُمِّ الْکِتابِ لَدَی ﷲ
اے سیدھے راستے کے فرزند اے عظیم خبر کے فرزند اے اس ہستی کے فرزند جو خدا کے ہاں ام الکتاب میں
عَلِیٌّ حَکِیمٌ یَابْنَ الْآیاتِ وَالْبَیِّناتِ یَابْنَ الدَّلائِلِ الظَّاهِراتِ یَابْنَ الْبَراهِینِ الْواضِحاتِ
علی اور حکیم ہے اے واضح روشن آیات کے فرزند اے ظاہر اور دلائل کے فرزند اے واضح و روشن تر دلائل کے
الْباهِراتِ یَابْنَ الْحُجَجِ الْبالِغاتِ یَابْنَ النِّعَمِ السَّابِغاتِ یَا ابْنَ طه وَالْمُحْکَماتِ یَابْنَ یسَ
فرزند اے کامل حجتوں کے فرزند اے بہترین نعمتوں کے فرزند اے طۂ اور محکم آیتوں کے فرزند اے یا سین
وَالذَّارِیاتِ یَابْنَ الطُّورِ وَالْعادِیاتِ یَابْنَ مَنْ دَنیٰ فَتَدَلَّیٰ فَکانَ قابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنیٰ دُنُوّاً
و ذاریات کے فرزند اے طور اور عادیات کے فرزند اے اس ہستی کے فرزند جو نزدیک ہوئے تو اس سے مل گئے پس کمان کے دونوں سروں جتنے
وَاقْتِراباً مِنَ الْعَلِیِّ الْاََعْلی لَیْتَ شِعْرِی أَیْنَ اسْتَقَرَّتْ بِکَ النَّویٰ بَلْ أَیُّ أَرْضٍ تُقِلُّکَ
یا اس سے بھی نزدیک ہوئے علی اعلیٰ کے قریب ہو گئے اے کاش میں جانتا کہ اس دوری نے آپ کو کہاں جا ٹھہرایااور کس زمین میں اور کس خاک نے
أَوْ ثَریٰ أَبِرَضْویٰ أَوْ غَیْرِها أَمْ ذِی طُویٰ عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ أَرَی الْخَلْقَ وَلاَ تُریٰ
آپکو اٹھا رکھا ہے آپ مقام رضویٰ میں ہیں یا کسی اور پہاڑ پر ہیں یا وادی طویٰ میں یہ مجھ پر گراں ہے کہ مخلوق کو دیکھوں اور آپکو نہ دیکھ پائوں
وَلاَ أَسْمَعُ لَکَ حَسِیساً وَلاَ نَجْویٰ عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ تُحِیطَ بِکَ دُونِیَ الْبَلْوَیٰ وَلاَ
نہ آپکی آہٹ سنوں اور نہ سر گوشی، مجھے رنج ہے کہ آپ تنہا سختی میں پڑے ہیں میں آپکے ساتھ نہیں ہوں اور میری آہ و زاری آپ
یَنالُکَ مِنِّی ضَجِیجٌ وَلاَ شَکْویٰ بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ مُغَیَّبٍ لَمْ یَخْلُ مِنَّابِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ نازِحٍ
تک نہیں پہنچ پاتی میری جان آپ پر قربان کہ آپ غائب ہیں مگر ہم سے دور نہیں میں آپ پر قربان آپ وطن سے دور ہیں لیکن ہم
مَا نَزَحَ عَنَّا بِنَفْسِی أَنْتَ أُمْنِیَّةُ شائِقٍ یَتَمَنَّیٰ مِنْ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ ذَکَرا فَحَنَّا بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ
سے دور نہیں میں آپ پرقربان آپ ہر محب کی آرزو ہر مومن و مومنہ کی تمنا ہیںجس کیلئے وہ نالہ کرتے ہیں میں قربان آپ وہ عزت دار ہیں
عَقِیدِ عِزٍّ لاَ یُسَامیٰ بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ أَثِیلِ مَجْدٍ لاَ یُجارَیٰ بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ تِلادِ نِعَمٍ لاَ
جنکا کوئی ثانی نہیں میں قربان آپ وہ بلند مرتبہ ہیں جن کے برابر کوئی نہیں میں قربان آپ وہ قدیمی نعمت ہیں جس کی مثل نہیں میں
تُضاهیٰ بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ نَصِیفِ شَرَفٍ لاَ یُساوَیٰ إلی مَتَی أَحارُ فِیکَ یَا مَوْلایَ وَ إلَی
قربان آپ جو شرف رکھتے ہیں وہ کسی اور کو نہیں مل سکتا کب تک ہم آپ کے لیے بے چین رہیںگے اے میرے آقا اور کب تک
مَتَیٰ وَأَیَّ خِطابٍ أَصِفُ فِیکَ وَأَیَّ نَجْوَیٰ عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ أُجَابَ دُونَکَ وَأُناغَیٰ عَزِیزٌ
اور کسطرح آپ سے خطاب کروں اور سرگوشی کروں یہ مجھ پر گراں ہے کہ سوائے آپکے کسی سے جواب پائوں یا باتیں سنوں مجھ پر
عَلَیَّ أَنْ أَبْکِیَکَ وَیَخْذُلَکَ الْوَرَیٰ عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ یَجْرِیَ عَلَیْکَ دُونَهُمْ مَا جَرَیٰ هَلْ
گراں ہے کہ میں آپ کیلئے روئوں اور لوگ آپکو چھوڑے رہیں مجھ پر گراں ہے کہ لوگوں کیطرف سے آپ پر گزرے جو گزرے تو
مِنْ مُعِینٍ فَأُطِیلَ مَعَهُ الْعَوِیلَ وَالْبُکائَ هَلْ مِنْ جَزُوعٍ فَأُساعِدَ جَزَعَهُ إذا خَلا هَلْ قَذِیَتْ
کیا کوئی ساتھی ہے جسکے ساتھ مل کر آپ کے لیے گریہ وزاری کروں کیا کوئی بے تاب ہے کہ جب وہ تنہا ہو تو اس کے ہمراہ نالہ کروں
عَیْنٌ فَساعَدَتْها عَیْنِی عَلَی الْقَذَیٰ هَلْ إلَیْکَ یَابْنَ أَحْمَدَ سَبِیلٌ فَتُلْقیٰ هَلْ
آیا کوئی آنکھ ہے جسکے ساتھ مل کر میری آنکھ غم کے آنسو بہائے اے احمد مجتبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند آپ کے پاس آنے کا کوئی راستہ ہے کیا ہمارا
یَتَّصِلُ یَوْمُنا مِنْکَ بِعَدِهِ فَنَحْظیٰ مَتَی نَرِدُ مَناهِلَکَ الرَّوِیَّةَ فَنَرْوَیٰ مَتَی نَنْتَقِعُ
آج کا دن آپکے کل سے مل جائے گا کہ ہم خوش ہوں کب وہ وقت آئیگا کہ ہم آپکے چشمے سے سیراب ہونگے کب ہم آپ کے چشمہ ٔ
مِنْ عَذْبِ مائِکَ فَقَدْ طالَ الصَّدیٰ مَتیٰ نُغادِیکَ وَنُراوِحُکَ فَنُقِرَّ عَیْناً
شیریں سے پیاس بجھائیں گے اب تو پیاس طولانی ہو گئی کب ہماری صبح و شام آپکے ساتھ گزرے گی کہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہونگی
مَتی تَرانا وَنَراکَ وَقَدْ نَشَرْتَ لِوائَ النَّصْرِتُرَیٰ أَتَرَانا نَحُفُّ بِکَ وَأَنْتَ تَؤُمُّ الْمَلْأَ
کب آپ ہمیں اورہم آپکو دیکھیں گے جبکہ آپکی فتح کا پرچم لہراتا ہو گا ہم آپکے ارد گرد جمع ہونگے اور آپ سبھی لوگوں کے امام ہونگے
وَقَدْ مَلْأَتَ الْاََرْضَ عَدْلاً وَأَذَقْتَ أَعْدائَکَ هَواناً وَعِقاباً وَأَبَرْتَ الْعُتاةَ وَجَحَدَةَ الْحَقِّ
تب زمین آپکے ذریعے عدل و انصاف سے پر ہو گی آپ اپنے دشمنوں کو سختی و ذلت سے ہمکنار کرینگے آپ سرکشوں اور حق کے
وَقَطَعْتَ دابِرَ الْمُتَکَبِّرِینَ وَاجْتَثَثْتَ أُصُولَ الظَّالِمِینَ وَنَحْنُ نَقُولُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ
منکروں کو نابود کرینگے مغروروں کا زور توڑ دینگے اور ظلم کرنے والوں کی جڑیں کاٹ دینگے اس وقت ہم کہیں گے حمد ہے خدا کیلئے جو
الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ کَشَّافُ الْکَُرَْبِ وَالْبَلْوَیٰ وَ إلَیْکَ أَسْتَعْدِیٰ فَعِنْدَکَ الْعَدْوَیٰ
جہانوں کا رب ہے اے معبود تو دکھوں اور مصیبتوں کو دور کرنے والا ہے میں تیرے حضور شکایت لایا ہوں کہ تو مداوا کرتا ہے
وَأَنْتَ رَبُّ الْاَخِرَةِ وَالدُّنْیا فَأَغِثْ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ عُبَیْدَکَ الْمُبْتَلیٰ وَأَرِهِ سَیِّدَهُ
اور تو ہی دنیا و آخرت کا پروردگار ہے پس میری فریاد سن اے فریادیوں کی فریاد سننے والے اپنے اس حقیر اور دکھی بندے کو اس آقا کا دیدار کرا دے
یَا شَدِیدَ الْقُوَیٰ وَأَزِلْ عَنْهُ بِهِ الْاََسَیٰ وَالْجَوَیٰ وَبَرِّدْ غَلِیلَهُ یَا مَنْ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ
اے زبردست قوت والے انکے واسطے سے اسکے رنج و غم کو دور فرما اور اسکی پیاس بجھا دے اے وہ ذات جو عرش پر حاوی ہے کہ جسکی
وَمَنْ إلَیْهِ الرُّجْعیٰ وَالْمُنْتَهیٰ اَللّٰهُمَّ وَنَحْنُ عَبِیدُکَ التَّائِقُونَ إلی وَلِیِّکَ الْمُذَکِّرِ بِکَ
طرف واپسی اور آخری ٹھکانا ہے اور اے معبود ہم ہیں تیرے حقیر بندے جو تیرے ولی عصرعليهالسلام کے مشتاق ہیں جن کا ذکر تو نے
وَبِنَبِیِّکَ خَلَقْتَهُ لَنا عِصْمَةً وَمَلاذاً وَأَقَمْتَهُ لَنا قِواماً وَمَعاذاً وَجَعَلْتَهُ لِلْمُوَْمِنِینَ
اور تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کیا تو نے انہیں ہماری جائے پناہ بنایا ہمارا سہارا قرار دیا انکو ہماری زندگی کا ذریعہ اور پناہ گاہ بنایا اور انکو ہم میں سے
مِنَّا إماماً فَبَلِّغْهُ مِنَّا تَحِیَّةً وَسَلاماً وَزِدْنا بِذلِکَ یَارَبِّ إکْراماً وَاجْعَلْ مُسْتَقَرَّهُ لَنا
مومنوں کا امام قرار دیا پس انکو ہمارا درود و سلام پہنچا اور اے پروردگار انکے ذریعے ہماری عزت میں اضافہ فرما انکی قرار گاہ کو ہماری
مُسْتَقَرَّاً وَمُقاماً وَأَتْمِمْ نِعْمَتَکَ بِتَقْدِیمِکَ إیَّاهُ أَمامَنا حَتَّی تُورِدَنا جِنَانَکَ وَمُرافَقَةَ
قرار گاہ اور ٹھکانہ بنا دے ہم پر انکی امامت کے ذریعے ہمارے لیے اپنی نعمت پوری فرما یہاں تک کہ وہ ہمیں تیری جنت میں ان
الشُّهَدائِ مِنْ خُلَصائِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ جَدِّهِ
شہیدوں کے پاس لے جائینگے جو مقرب خاص ہیں اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور امام مہدیعليهالسلام کے نانا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما
وَرَسُولِکَ السَّیِّدِ الْاََکْبَرِ وَعَلَی أَبِیهِ السَّیِّدِ الْاََصْغَرِ وَجَدَّتِهِ الصِّدِّیقَةِ الْکُبْری فاطِمَةَ
جو تیرے رسول اور عظیم سردار ہیں اور مہدیعليهالسلام کے والد پر رحمت کر جو چھوٹے سردار ہیں ان کی دادی صدیقۂ کبری فاطمہعليهالسلام
بِنْتِ مُحَمَّدٍ صلَّی الله عَلیْهِ وآلِهِ وَعَلَی مَنِ اصْطَفَیْتَ مِنْ آبائِهِ الْبَرَرَةِ وَعَلَیْهِ أَفْضَلَ
بنت محمد پر رحمت فرما ان سب پر رحمت فرما جن کو تو نے ان کے نیک بزرگوں میں سے چنا اور القائم پر رحمت فرما بہترین کامل
وَأَکْمَلَ وَأَتَمَّ وَأَدْوَمَ وَأَکْثَرَ وَأَوْفَرَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَصْفِیائِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ
پوری ہمیشہ ہمیشہ بہت سی بہت زیادہ جو رحمت کی ہو تو نے اپنے برگزیدوں میں سے کسی پر اور مخلوق میں سے اپنے
خَلْقِکَ وَصَلِّ عَلَیْهِ صَلاةً لاَ غایَةَ لِعَدَدِها وَلاَ نِهایَةَ لِمَدَدِها وَلِاِنَفادَ لاََِمَدِها اَللّٰهُمَّ
پسند کردہ پر اور اس پر درود بھیج وہ درود جس کا شمار نہ ہوسکے جس کی مدت ختم نہ ہو اور جو کبھی منقطع نہ ہو اے معبود!
وَأَقِمْ بِهِ الْحَقَّ وَأَدْحِضْ بِهِ الْباطِلَ وَأَدِلْ بِهِ أَوْلِیائَکَ وَأَذْلِلْ بِهِ أَعْدائَکَ
انکے ذریعے حق کو قائم فرما انکے ہاتھوں باطل کو مٹا دے انکے وجود سے اپنے دوستوں کو عزت دے انکے ذریعے اپنے دشمنوں کو ذلت دے
وَصِلِ اَللّٰهُمَّ بَیْنَنا وَبَیْنَهُ وُصْلَةً تُوََدِّیٰ إلی مُرافَقَةِ سَلَفِهِ وَاجْعَلْنا مِمَّنْ
اور اے معبود ہمیں اور انکو اکٹھے کر دے ایسا اکٹھا کہ جو ہم کو انکے پہلے بزرگوں تک پہنچائے اور ہمیں ان میں قرار دے جنہوں نے ان
یَأْخُذُ بِحُجْزَتِهِمْ وَیَمْکُثُ فِی ظِلِّهِمْ وَأَعِنَّا عَلَی تَأْدِیَةِ حُقُوقِهِ إلَیْهِ وَالاجْتِهادِ فِی طاعَتِهِ
کا دامن پکڑا ہے ہمیں ان کے زیر سایہ رکھ ان کے حقوق ادا کرنے میں ہماری مدد فرما ان کی فرما نبرداری میں کوشاں بنا دے
وَاجْتِنابِ مَعْصِیَتِهِ وَامْنُنْ عَلَیْنا بِرِضاهُ وَهَبْ لَنا رَأْفَتَهُ وَرَحْمَتَهُ وَدُعائَهُ وَخَیْرَهُ
انکی نافرمانی سے بچائے رکھ انکی خوشنودی سے ہم پر احسان کر اور ہمیں انکی محبت عطا فرما انکی رحمت انکی دعا اور انکی برکت عطا فرما
مَا نَنالُ بِهِ سَعَةً مِنْ رَحْمَتِکَ وَفَوْزاً عِنْدَکَ وَاجْعَلْ صَلا تَنا بِهِ مَقبُولَةً وَذُنُوبَنا بِهِ
جسکے ذریعے ہم تیری وسیع رحمت اور تیرے ہاں کامیابی حاصل کریں ان کے ذریعے ہماری نماز قبول فرما ان کے وسیلے ہمارے گناہ
مَغْفُورَةً اوَدُعائَنا بِهِ مُسْتَجاباً وَاجْعَلْ أَرْزاقَنا بِهِ مَبْسُوطَةً وَهُمُومَنابِهِ مَکْفِیَّةً
بخش دے انکے واسطے سے ہماری دعا منظور فرما اور انکے ذریعے سے ہماری روزیاں فراخ کر دے ہماری پریشانیاں دور فرما اور انکے وسیلے سے
وَحَوَائِجَنا بِهِ مَقْضِیَّةً وَأَقْبِلْ إلَیْنا بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ وَاقْبَلْ تَقَرُّبَنا إلَیْکَ وَانْظُرْ إلَیْنا
ہماری حاجات کو پورا فرما اور توجہ کر ہماری طرف اپنی ذات کریم کے واسطے سے اور قبول فرما اپنی بار گاہ میں ہماری حاضری ہماری طرف نظر کر
نَظْرَةً رَحِیمَةً نَسْتَکْمِلُ بِهَا الْکَرامَةَ عِنْدَکَ ثُمَّ لاَ تَصْرِفْها عَنَّا بِجُودِکَ وَاسْقِنا مِنْ
مہربانی کی نظر کہ جس سے تیری درگاہ میں ہماری عزت بڑھ جائے پھر اپنے کرم کی وجہ سے وہ نظر ہم سے نہ ہٹا ہمیں القائمعليهالسلام کے نانا
حَوْضِ جَدِّهِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ بِکَأْسِهِ وَبِیَدِهِ رَیّاً رَوِیّاً هَنِیْئاً سَائِغاً
کے حوض سے سیراب فرما ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر خدا کی رحمت ہو انکے جام سے انکے ہاتھ سے سیر و سیراب کر جس میں مزہ آئے اور پھر
لاَ ظَمَأَ بَعْدَهُ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
پیاس نہ لگے اے سب سے زیادہ رحم والے ۔
اس کے بعد نماز زیارت پڑھے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور پھر جو دعا چاہے مانگے انشائ اللہ وہ قبول ہو گی۔
دوسرا امر
زیارت امام آخر الزمان عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف
یہ وہی زیارت ہے جو ہر روز نماز فجر کے بعد امام زمانہ(عج)کی یاد میں پڑھنی چاہیے اوروہ یہ ہے۔
اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مَوْلایَ صاحِبَ الزَّمانِ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ عَنْ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی
اے معبود پہنچا میرے آقا امام زمانہعليهالسلام کو، ان پر خدا کی رحمتیں ہوں تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی طرف سے
مَشارِقِ الْاََرْضِ وَمَغارِبِهاوَبَرِّها وَبَحْرِها وَسَهْلِها وَجَبَلِها حَیِّهِمْ وَمَیِّتِهِمْ وَعَنْ والِدَیَّ
جو زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں ہیں خشکیوں اور سمندروں میں میدانوں اور پہاڑوں میں ہیں زندہ اور مردہ اور میرے والدین
وَوُلْدِی وَعَنِّی مِنَ الصَّلَواتِ وَالتَّحِیَّاتِ زِنَةَ عَرْشِ ﷲ وَمِدادَ کَلِماتِهِ وَمُنْتَهیٰ رِضاهُ
اور میری اولاد اور میری طرف سے بہت درود اور بہت سلام ہو ہم وزن ہو عرش الہی کے اور اسکے کلمات کی روشنی اور اسکی پوری رضا کے
وَعَدَدَ مَا أَحْصاهُ کِتابُهُ وَأَحاطَ بِهِ عِلْمُهُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أُجَدِّدُ لَهُ فِی هذَا الْیَوْمِ وَفِی کُلِّ یَوْمٍ
اس تعداد میں جو اسکی کتاب میں ہے اور جو اسکے علم میں ہے اے معبود میں تازہ کرتا ہوں آج کے دن میں اور ہر دن میں یہ پیمان یہ
عَهْداً وَعَقْداً وَبَیْعَةً فِی رَقَبَتِی اَللّٰهُمَّ کَمَا شَرَّفْتَنِی بِهذَا التَّشْرِیفِ وَفَضَّلْتَنِی بِهذِهِ الْفَضِیلَةِ
بندھن اور بیعت جو میری گردن پر ہے اے معبود جیسے عزت دی تو نے مجھے اس عزت کے ساتھ بڑائی دی تو نے مجھے اس بڑائی کے ساتھ
وَخَصَصْتَنِی بِهذِهِ النِّعْمَةِ فَصَلِّ عَلَی مَوْلایَ وَسَیِّدِی صاحِبِ الزَّمانِ وَاجْعَلْنِی مِنْ
اور خصوصیت دی ہے اس نعمت کے ساتھ پس میرے مولاعليهالسلام میرے سردار امام زمانعليهالسلام پر رحمت کر اور مجھ کو انکے مدد گاروں انکے ساتھیوں
أَنْصارِهِ وَأَشْیاعِهِ وَالذَّابِّینَ عَنْهُ وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْهِ طائِعاً غَیْرَ مُکْرَهٍ فِی
اور انکا دفاع کرنے والوں میں قرار دے اور مجھے ان میں رکھ جو شہید ہوں گے انکے روبرو فرمانبرداری سے نہ زبردستی سے اس صف
الصَّفِّ الَّذِی نَعَتَّ أَهْلَهُ فِی کِتابِکَ فَقُلْتَ صَفّاً کَأَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ عَلَی طاعَتِکَ
میں جس صف والوں کی تو نے کتاب میں مدح کی پس فرمایا ایسی صف جیسے سیسہ پلائی دیوار ہو میرا یہ عمل تیری اطاعت تیرے
وَطاعَةِ رَسُولِکَ وَآلِهِ عَلَیهِمُ اَلسَّلَامُ اَللّٰهُمَّ هذِهِ بَیْعَةٌ لَهُ فِی عُنُقِی إلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام کی اطاعت میں ہو ان سب پر سلام ہوں اے معبود ان کی یہ بیعت روز قیامت تک میری گردن پر ہے۔
مولف کہتے ہیں بحارالانوار میں علامہ مجلسیرحمهالله نے فرمایا ہے کہ میںنے بعض قدیم کتابوں میں پڑھا ہے کہ اس زیارت کے بعد اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر اسطرح رکھے جیسے کسی کی بیعت کرتے وقت رکھا جاتا ہے یہ واضح رہے کہ ہم نے سرداب مقدس کے اعمال میں چار زیارتیں نقل کی ہیں اور یہ ہماری کتاب کی پانچویں زیارت شمار ہوگی اورہم نے زیارت ایام ہفتہ کے بیان میںجمعہ کے دن امام العصر (عج)کی ایک زیارت درج کی ہے لہذا روز جمعہ آپ کی وہ زیارت بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
تیسرا امر
دعائے عہد
امام جعفر صادق - سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص چالیس روز تک ہر صبح اس دعائے عہد کو پڑھے تو وہ امام (عج) کے مدد گاروں میں سے ہو گا اور اگر وہ امامعليهالسلام کے ظہور سے پہلے فوت ہو جائے تو خدا وند کریم اسے قبر سے اٹھائیگا تاکہ وہ امام کے ہمراہ ہو جائے اللہ تعالیٰ اس دعا کے ہر لفظ کے عوض اسے ایک ہزار نیکیاں عطا کرے گا اور اسکے ایک ہزار گناہ محو کر دے گا وہ دعائے عہد یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظِیمِ وَرَبَّ الْکُرْسِیِّ الرَّفِیعِ وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ
اے معبود اے عظیم نورکے پرودگار اے بلند کرسی کے پرودگار اے موجیں مارتے سمندر کے پرودگار اور اے توریت
وَالْاِنْجِیلِ وَالزَّبُورِ وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ وَمُنْزِلَ الْقُرْآنِ الْعَظِیمِ وَرَبَّ الْمَلائِکَةِ
اور انجیل اور زبور کے نازل کرنے والے اور اے سایہ اور دھوپ کے پرودگار اے قرآن عظیم کے نازل کرنے والے اے مقرب
الْمُقَرَّبِینَ وَالْاََنْبِیائِ وَالْمُرْسَلِینَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الْکَرِیمِ وَبِنُورِ
فرشتوں اور فرستادہ نبیوں اور رسولوں کے پروردگار اے معبود بے شک میں سوال کرتا ہوں تیری ذات کریم کے واسطے سے تیری
وَجْهِکَ الْمُنِیرِ وَمُلْکِکَ الْقَدِیمِ یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ
روشن ذات کے نور کے واسطے سے اور تیری قدیم بادشاہی کے واسطے سے اے زندہ اے پائندہ تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام
الَّذِی أَشْرَقَتْ بِهِ السَّمٰوَاتُ وَالْاََرَضُونَ وَبِاسْمِکَ الَّذِی یَصْلَحُ بِهِ الْاََوَّلُونَ
کے واسطے سے جس سے چمک رہے ہیں سارے آسمان اور ساری زمینیں تیرے نام کے واسطے سے جس سے اولین وآخرین نے
وَالْاَخِرُونَ یَا حَیّاً قَبْلَ کُلِّ حَیٍّ وَیَا حَیّاً بَعْدَ کُلِّ حَیٍّ وَیَا حَیّاً حِینَ لاَ
بھلائی پائی اے زندہ ہر زندہ سے پہلے اور اے زندہ ہر زندہ کے بعد اور اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا اے مردوں کو زندہ کرنے
حَیَّ یَا مُحْیِیَ الْمَوْتیٰ وَمُمِیتَ الْاََحْیائِ یَا حَیُّ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اَللّٰهُمَّ بَلِّغْ مَوْلانَا الْاِمامَ
والے اے زندوں کو موت دینے والے اے وہ زندہ کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں اے معبود ہمارے مولا امام
الْهادِیَ الْمَهْدِیَّ الْقائِمَ بِأَمْرِکَ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَی آبائِهِ الطَّاهِرِینَ عَنْ جَمِیعِ
ہادی مہدی کو جو تیرے حکم سے قائم ہیں ان پر اور ان کے پاک بزرگان پر خدا کی رحمتیں ہوں اور تمام مومن مردوں
الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ فِی مَشارِقِ الْاَرْضِ وَمَغارِبِها سَهْلِها وَجَبَلِها وَبَرِّها وَبَحْرِها
اور مومنہ عورتوں کی طرف سے جو زمین کے مشرقوںاور مغربوں میں ہیں میدانوں اور پہاڑوں اور خشکیوں اور سمندروںمیں
وَعَنِّی وَعَنْ وَالِدَیَّ مِنَ الصَّلَواتِ زِنَةَ عَرْشِ ﷲ وَمِدادَ کَلِماتِهِ وَمَا
میری طرف سے میرے والدین کیطرف سے بہت درود پہنچا دے جو ہم وزن ہو عرش اور اسکے کلمات کی روشنائی کے اور جو چیزیں
أَحْصاهُ عِلْمُهُ وَأَحاطَ بِهِ کِتابُهُ اَللّٰهُمَّ إنِّی أُجَدِّدُ لَهُ فِی صَبِیحَةِ یَوْمِی هذَا
اس کے علم میں ہیں اور اس کی کتاب میں درج ہیں اے معبود میں تازہ کرتا ہوں ان کے لیے آج کے دن کی صبح کو اور جب تک زندہ
وَمَا عِشْتُ مِنْ أَیَّامِی عَهْداً وَعَقْداً وَبَیْعَةً لَهُ فِی عُنُقِی لاَ أَحُولُ عَنْه وَلاَ أَزُولُ أَبَداً اَللّٰهُمَّ
ہوں باقی ہے یہ پیمان یہ بندھن اور ان کی بیعت جو میری گردن پر ہے نہ اس سے مکروں گانہ کبھی ترک کروں گا اے معبود
اجْعَلْنِی مِنْ أَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ وَالذَّابِّینَ عَنْهُ والْمُسارِعِینَ إلَیْهِ فِی قَضائِ حَوَائِجِهِ وَالْمُمْتَثِلِینَ
مجھے ان کے مدد گاروں ان کے ساتھیوں اور ان کا دفاع کرنے والوں قرار دے میں حاجت برآری کیلئے ان کی طرف بڑھنے والوں
لاََِوامِرِهِ وَالْمُحامِینَ عَنْهُ وَالسَّابِقِینَ إلی إرادَتِهِ وَالْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْهِ
انکے احکام پر عمل کرنے والوں انکی طرف سے دعوت دینے والوں انکے ارادوں کو جلد پورے کرنے والوں اور انکے سامنے شہید ہونے والوں میں قرار دے
اَللّٰهُمَّ إنْ حالَ بَیْنِی وَبَیْنَهُ الْمَوْتُ الَّذِی جَعَلْتَهُ عَلَی عِبادِکَ حَتْماً مَقْضِیّاً فَأَخْرِجْنِی مِنْ
اے معبود اگر میرے اور میرے امامعليهالسلام کے درمیان موت حائل ہو جائے جو تو نے اپنے بندوں کے لیے آمادہ کر رکھی ہے تو پھر مجھے قبر
قَبْرِی مُؤْتَزِراً کَفَنِی شاهِراً سَیْفِی مُجَرِّداً قَناتِی مُلَبِّیاً دَعْوَةَ الدَّاعِی فِی الْحاضِرِ وَالْبادِی
سے اس طرح نکالنا کہ کفن میرا لباس ہو میری تلوار بے نیام ہو میرا نیزہ بلند ہو داعی حق کی دعوت پر لبیک کہوں شہر اور گائوں میں
اَللّٰهُمَّ أَرِنِی الطَّلْعَةَ الرَّشِیدَةَ وَالْغُرَّةَ الْحَمِیدَةَ وَاکْحَُلْ ناظِرِی بِنَظْرَةٍ مِنِّی إلَیْهِ وَعَجِّلْ
اے معبود مجھے حضرت کا رخ زیبا آپ کی درخشاں پیشانی دکھا ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ بنا ان کی کشائش میں
فَرَجَهُ وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ وَأَوْسِعْ مَنْهَجَهُ وَاسْلُکْ بِی مَحَجَّتَهُ وَأَنْفِذْ أَمْرَهُ وَاشْدُدْ أَزْرَهُ
جلدی فرما ان کے ظہور کو آسان بنا ان کا راستہ وسیع کر دے اور مجھ کو ان کی راہ پر چلا ان کا حکم جاری فرما ان کی قوت کو بڑھا
وَاعْمُرِ اَللّٰهُمَّ بِهِ بِلادَکَ وَأَحْیِ بِهِ عِبادَکَ فَ إنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ ظَهَرَ الْفَسَادُ
اور اے معبود ان کے ذریعے اپنے شہر آباد کر اور اپنے بندوں کو عزت کی زندگی دے کیونکہ تو نے فرمایا اور تیرا قول حق ہے کہ ظاہر ہوا
فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ فَأَظْهِرِ اَللّٰهُمَّ لَنا وَلِیَّکَ وَابْنَ بِنْتِ نَبِیِّکَ
فساد خشکی اور سمندر میں یہ نتیجہ ہے لوگوں کے غلط اعمال و افعال کا پس اے معبود! ظہور کر ہمارے لیے اپنے ولیعليهالسلام اور اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دختر (س) کے فرزند کا
الْمُسَمَّیٰ بِاسْمِ رَسُولِکَ صَلَّی الله عَلَیْهِ وَآلِهِ حَتَّی لاَ یَظْفَرَ بِشَیْئٍ مِنَ الْباطِلِ إلاَّ
جن کا نام تیرے رسول کے نام پر ہے یہاں تک کہ وہ باطل کا نام و نشان مٹا ڈالیں
مَزَّقَهُ وَیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُحَقِّقَهُ وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبادِکَ وَناصِراً لِمَنْ لاَ یَجِدُ
حق کو حق کہیں اور اسے قائم کریں اے معبود قرار دے انکو اپنے مظلوم بندوں کیلئے جائے پناہ اور ان کے مددگار جن کا تیرے سوا کوئی
لَهُ ناصِراً غَیْرَکَ وَمُجَدِّداً لِمَا عُطِّلَ مِنْ أَحْکامِ کِتابِکَ وَمُشَیِّداً لِمَا وَرَدَ مِنْ أَعْلامِ
مدد گار نہیں بنا ان کو اپنی کتاب کے ان احکام کے زندہ کرنے والے جو بھلا دیئے گئے ان کو اپنے دین کے
دِینِکَ وَسُنَنِ نَبِیِّکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وآلِهِ وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَأْسِ
خاص احکام اور اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے طریقوں کو راسخ کرنے والے بنا ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر خدا کی رحمت ہو اور اے معبود انہیں ان لوگوں میں رکھ جنکو تو نے
الْمُعْتَدِینَ اَللّٰهُمَّ وَسُرَّ نَبِیَّکَ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وآلِهِ بِرُؤْیَتِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَی
ظالموں کے حملے سے بچایا اے معبود خوشنود کر اپنے نبی محمد کو ان کے دیدار سے اور جنہوں نے ان کی دعوت میں
دَعْوَتِهِ وَارْحَمِ اسْتِکانَتَنا بَعْدَهُ اللَّهُمَّ اکْشِفْ هذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هذِهِ الْاَُمَّةِ بِحُضُورِهِ وَ
انکا ساتھ دیا اور ان کے بعد ہماری حالت زار پر رحم فرما اے معبود ان کے ظہور سے امت کی اس مشکل اور مصیبت کو دور کر دے اور
عَجِّلْ لَنا ظُهُورَهُ إنَّهُمْ یَرَوْنَهُ بَعِیداً وَنَرَاهُ قَرِیباً بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ہمارے لیے جلد انکا ظہور فرما کہ لوگ انکو دور اور ہم انہیں نزدیک سمجھتے ہیں تیری رحمت کاواسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
پھر تین بار دائیں ران پر ہاتھ مارے اور ہر بار کہے:
الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَامَوْلایَ یَا صاحِبَ الزَّمانِ
جلد آئیے جلد آئیے اے میرے آقا اے زمانہ حاضر کے امامعليهالسلام
چوتھا امر
سید بن طائوسرحمهالله نے فرمایا ہے کہ جب حرم مبارک سے واپس ہونا چاہیے تو سرداب میں جا کر جس قدر چاہے نماز پڑھے اس کے بعد قبلہ رخ ہو کر یہ دعا پڑھے:اَللَّهُمَّ ادْفَعْ عَنْ وَلِیِّکَ اس دعا کو آخر تک نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اب جو چاہے خدائے تعالیٰ سے طلب کرے اور پھر یہاں سے پلٹ جائے۔
مولف کہتے ہیں مصباح میں شیخرحمهالله نے اس دعا کو بحوالہ امام علی رضا - روز جمعہ کے اعمال میں نقل کیا ہے اور جیسا کہ شیخرحمهالله نے یہ دعا نقل کی ہے ہم بھی اسے یہاں نقل کرتے ہیں یونس بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ امام علی رضا - نے امام العصر(عج) کیلئے یوں دعا کرنے کا حکم فرمایا:
اَللّٰهُمَّ ادْفَعْ عَنْ وَلِیِّکَ وَخَلِیفَتِکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ وَلِسانِکَ الْمُعَبِّرِ عَنْکَ
اے معبود دفاع کر اپنے ولی برحق کا جو تیرے نائب اور تیری مخلوق پر تیری حجت ہیں وہ تیری زبان ہیں جو تیری طرف سے
النَّاطِقِ بِحِکْمَتِکَ وَعَیْنِکَ النَّاظِرَةِ بِ إذْنِکَ وَشاهِدِکَ عَلَی عِبادِکَ الْجَحْجاحِ
علم و حکمت کا درس دیتی ہے وہ تیری آنکھ ہیں جو تیرے اذن سے دیکھتی ہے وہ تیرے بندوں پر تیرے گواہ اور بہت بڑے سردار ہیں
الْمُجاهِدِ الْعائِذِ بِکَ الْعابِدِ عِنْدَکَ وَأَعِذْهُ مِنْ شَرِّ جَمِیعِ مَا خَلَقْتَ وَبَرَأْتَ وَأَنْشَأْتَ
تجھ سے پناہ یافتہ پارسا اور تیری عبادت کرنے والے ہیں نیز بچا ان کو ہر چیز کے شر سے جو تو نے پیدا کی ہے اور بنائی ہے اور ظاہر کی
وَصَوَّرْتَ وَاحْفَظْهُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ یَمِینِهِ وَعَنْ شِمالِهِ وَمِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحْتِهِ
اور اسے صورت دی ہے حفاظت کر انکی انکے آگے اور انکے پیچھے سے انکے دائیں سے انکے بائیں سے انکے اوپر سے اور انکے نیچے سے
بِحِفْظِکَ الَّذِی لاَ یَضِیعُ مَنْ حَفِظْتَهُ بِهِ وَاحْفَظْ فِیهِ رَسُولَکَ وَآبائَهُ وَأَئِمَّتَکَ
اپنی حفاظت کے ذریعے کہ جسے تو بچائے وہ ضائع نہیںہوتا اور حفاظت کر انکے ذریعے اپنے رسول اور انکے دیگر بزرگوں کی جو امامعليهالسلام ہیں
وَدَعائِمَ دِینِکَ وَاجْعَلْهُ فِی وَدِیعَتِکَ الَّتِی لاَ تَضِیعُ وَفِی جِوارِکَ الَّذِی لاَ یُخْفَرُ وَفِی
اور تیرے دین کے ستون ہیں اور قرار دے انکو اپنی وہ امانت جسے تو ضائع نہیں کرتااپنی پناہ میں رکھ جو ختم نہیں ہوتی اور اپنی نگاہ و
مَنْعِکَ وَعِزِّکَ الَّذِی لاَ یُقْهَرُ وَآمِنْهُ بِأَمانِکَ الْوَثِیقِ الَّذِی لاَ یُخْذَلُ مَنْ آمَنْتَهُ بِهِ
نگہبانی میں قرار دے جہاں کسی کی رسائی نہیں ان کو اپنی محکم پناہ میں رکھ کہ جسے تو پناہ دے وہ بے کس نہیں ہوتا ان کو اپنے دامن میں
وَاجْعَلْهُ فِی کَنَفِکَ الَّذِی لاَ یُرامُ مَنْ کانَ فِیهِ وَانْصُرْهُ بِنَصْرِکَ الْعَزِیز وَأَیِّدْهُ بِجُنْدِکَ
قرار دے کہ جو وہاں ہو کوئی اس تک پہنچ نہیں پاتاانکی مدد کر اپنی محیط مدد کے ساتھ ان کو قوت دے غالب
الْغالِبِ وَقَوِّهِ بِقُوَّتِکَ وَأَرْدِفْهُ بِمَلائِکَتِکَ وَوالِ مَنْ والاهُ وَعادِ مَنْ عاداهُ وَأَلْبِسْهُ
لشکر اور اپنی زور مندی سے انکے ہمراہ کر اپنے فرشتوں کو دوست رکھ اسے جو اسکا دوست ہے دشمن رکھ اسے جو انکا دشمن ہے انکو اپنی
دِرْعَکَ الْحَصِینَةَ وَحُفَّهُ بِالْمَلائِکَةِ حَفّاً اَللّٰهُمَّ اشْعَبْ بِهِ الصَّدْعَ وَارْتُقْ بِهِ الْفَتْقَ
مضبوط زرہ پہنا دے اور ان کے گرد فرشتوںکو کھڑے کر دے اے معبود ان کے ذریعے تکلیف دور فرما،نا اتفاقیاں دور کر دے ان
وَأَمِتْ بِهِ الْجَوْرَ وَأَظْهِرْ بِهِ الْعَدْلَ وَزَیِّنْ بِطُولِ بَقائِهِ الْاََرْضَ وَأَیِّدْهُ بِالنَّصْرِ وَانْصُرْهُ
کے وسیلے سے ظلم مٹا اور عدل کو ظاہر کر انکے طول بقا سے زمین کو زینت دے انکو مدد کے ذریعے قوت دے اور دبدبے والی فتح دے
بِالرُّعْبِ وَقَوِّ ناصِرِیهِ وَاخْذُلْ خاذِلِیهِ وَدَمْدِمْ مَنْ نَصَبَ لَهُ وَدَمِّرْ مَنْ غَشَّهُ وَاقْتُلْ بِهِ
انکے حامیوں کو قوت اور باغیوں کو بے زور بنا ان سے دشمنی کرنے والوں کو ہلاک کر اور بے وفائوں کو تباہ کر دے انکے ہاتھوں کفر کے
جَبابِرَةَ الْکُفْرِ وَعُمُدَهَ وَدَعائِمَهُ وَاقْصِمْ بِهِ رُؤُوْسَ الضَّلالَةِوَشارِعَةَ الْبِدَعِ وَمُمِیْتَةَ
سرداروں حمایت کاروں اور مدد گاروں کو قتل کر ان کے ذریعے گمراہی کے پیشوائوں بدعت نکالنے والوں اور سنت کو مٹانے والوں اور
السُّنَّةِ وَمُقَوِّیَةَ الْباطِلِ وَذَلِّلْ بِهِ الْجَبَّارِینَ وَأَبِرْ بِهِ الْکافِرِینَ وَجَمِیعَ الْمُلْحِدِینَ فِی
باطل کا ساتھ دینے والوں کا زور توڑ دے انکے ہاتھوں سرکشوں کو ذلیل کافروں کو برباد اور بے دینوں کو تباہ کر دے جو زمین کے
مَشارِقِ الْاََرْضِ وَمَغارِبِها وَبَرِّها وَبَحْرِها وَسَهْلِها وَجَبَلِها حَتَّی لاَ تَدَعَ مِنْهُمْ دَیَّاراًوَلاَ
مشرقوں اور مغربوں میں اور خشکیوں سمندروں اور میدانوں اور پہاڑوں میں ہیں یہاں تک کہ ان کا کوئی شہر اور
تُبْقِیَ لَهُمْ آثاراً اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ مِنْهُمْ بِلادَکَ وَاشْفِ مِنْهُمْ عِبادَکَ وَأَعِزَّ بِهِ
کوئی بستی باقی نہ رہے اے معبود اپنے شہروں سے انکا نشان مٹا دے اور اپنے بندوں کو ان سے بچالے اپنے ولیعليهالسلام کے ذریعے
الْمُؤْمِنِینَ وَأَحْیِ بِهِ سُنَنَ الْمُرْسَلِینَ وَدارِسَ حُکْمِ النَّبِیِّینَ وَجَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحَیٰ مِنْ دِینِکَ
مومنوںکو غلبہ دے ان کے ذریعے نبیوں کی سنتوں کو زندہ کر پیغمبروںعليهالسلام کے احکام ظاہر فرما اور ان کے ذریعے اپنے دین کی وہ باتیں
وَبُدِّلَ مِنْ حُکْمِکَ حَتَّی تُعِیدَ دِینَکَ بِهِ وَعَلَی یَدَیْهِ جَدِیداً غَضّاً مَحْضاً
تازہ کر جو مٹ گئیں اور تیرے جو احکام بدل دیے گئے حتی کہ انکے ہاتھوں دین پلٹ آئے اور انکے ذریعے یہ زندہ خوشنما خالص اور
صَحِیحاً لاَ عِوَجَ فِیهِ وَلاَ بِدْعَةَ مَعَهُ وَحَتَّی تُنِیرَ بِعَدْلِهِ ظُلَمَ الْجَوْرِ وَتُطْفِیََ بِهِ نِیرانَ
درست ہو جائے کہ نہ اسکی کوئی کجی ہو اور نہ اسکی کوئی بدعت باقی رہے یہاںتک کہ انکے عدل سے ظلم کی تاریکیاں چھٹ جائیں انکے
الْکُفْرِ وَتُوضِحَ بِهِ مَعاقِدَ الْحَقِّ وَمَجْهُولَ الْعَدْلِ فَ إنَّهُ عَبْدُکَ الَّذِی
ہاتھوں کفر کی آگ بجھ جائے انکے وسیلے سے حق کی الجھنیں اورعدل کی گتھیاں سلجھ جائیں کیونکہ امام مہدیعليهالسلام تیرے ایسے بندے ہیں
اسْتَخْلَصْتَهُ لِنَفْسِکَ وَاصْطَفَیْتَهُ عَلَی غَیْبِکَ وَعَصَمْتَهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَبَرَّأْتَهُ مِنَ الْعُیُوبِ
جنکو تو نے اپنے لیے خالص کیا اور اپنے غیبی امور کیلئے چن رکھا ہے تو نے اپنے گناہوں سے پاک اور عیب و نقص سے دور قرار دیا ہے
وَطَهَّرْتَهُ مِنَ الرِّجْسِ وَسَلَّمْتَهُ مِنَ الدَّنَسِ اَللّٰهُمَّ فَ إنَّا نَشْهَدُ لَهُ یَوْمَ الْقِیامَةِ وَیَوْمَ حُلُولِ
نیز تو نے انہیں ناپاکی سے الگ اور برائی سے بچا کے رکھا ہے پس اے معبود ہم گواہ ہوں گے انکے قیامت کے روز اور جس دن بڑا
الطَّامَّةِ أَنَّهُ لَمْ یُذْنِبْ ذَنْباً وَلاَ أَتَیٰ حُوباً وَلَمْ یَرْتَکِبْ مَعْصِیَةً وَلَمْ یُضَیِّعْ لَکَ طاعَةً وَلَمْ
واقعہ رونما ہو گا اس پر کہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا دین کی مخالفت نہیں کی اور کوئی نافرمانی بھی نہیں کی وہ تیرے ہر حکم پر عمل پیرا رہے
یَهْتِکْ لَکَ حُرْمَةً وَلَمْ یُبَدِّلْ لَکَ فَرِیضَةً وَلَمْ یُغَیِّرْ لَکَ شَرِیعَةً وَأَنَّهُ الْهادِی
تیرے احترام میں کوئی کمی نہیں کی انہوں نے تیرے کسی فریضہ میں تبدیلی نہیں کی اور تیری شریعت میں کوئی تغیر نہیں کیا اور یہ کہ وہ
الْمُهْتَدِی الطَّاهِرُ التَّقِیُّ النَّقِیُّ الرَّضِیُّ الزَّکِیُّ اَللّٰهُمَّ أَعْطِهِ فِی نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ وَوَلَدِهِ
ہادی ہیں ہدایت یافتہ پاکیزہ پرہیز گار باصفا پسندیدہ پاک شدہ اے معبود ان کو خود اپنی ذات میں ان کے اہل میں انکی اولاد اور نسل
وَذُرِّیَّتِهِ وَأُمَّتِهِ وَجَمِیعِ رَعِیَّتِهِ مَا تُقِرُّ بِهِ عَیْنَهُ وَتَسُرُّ بِهِ نَفْسَهُ وَتَجْمَعُ
میں ان کی جماعت اور ان کی رعیت میں وہ نعمتیں دے جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ان کو خوشی حاصل ہو ان کی حکومت میں
لَهُ مُلْکَ الْمُمْلَکاتِ کُلِّها قَرِیبِهاوَبَعِیدِها وَعَزِیزِها وَذَلِیلِها حَتَّی تُجْرِیَ
تمام ملکوں کو جمع کر دے وہ ملک جو ان سے قریب ہیں اور جو دور ہیں وہ ملک بھی جو طاقتور ہیں اور جو کمزور ہیں یہاں تک کہ ان کا حکم
حُکْمَهُ عَلَی کُلِّ حُکْمٍ وَتَغْلِبَ بِحَقِّهِ کُلَّ باطِلٍ اَللّٰهُمَّ اسْلُکْ بِنا عَلَی یَدَیْهِ مِنْهاجَ
ہر حکم سے بالاتر ہو کر جاری ہو اور انکا حق ہر باطل کو زیر کر لے اے معبود ہمیں انکی معیت میں ہدایت کی راہ پر چلا کشادہ راستے پر ڈال
الْهُدَیٰ وَالْمَحَجَّةَ الْعُظْمَیٰ وَالطَّرِیقَةَ الْوُسْطَی الَّتِی یَرْجِعُ إلَیْهَا الْغالِی وَیَلْحَقُ بِها التَّالِی
دے اور سیدھی راہ پر گامزن فرما کہ آگے والا اس راہ پر پلٹ آئے اور پیچھے والا اس پر آ جائے ہمیں انکی فرمانبرداری کی ہمت دے
وَقَوِّنا عَلَی طاعَتِهِ وَثَبِّتْنا عَلَی مُشایَعَتِهِ وَامْنُنْ عَلَیْنا بِمُتابَعَتِهِ وَاجْعَلْنا فِی حِزْبِهِ الْقَوَّامِینَ
ہمیں ان کی ہمراہی میں ثابت قدم رکھ انکی پیروی کرا کے ہم پر احسان فرما اور ہمیں اس جماعت میں رکھ جو انکے ہمراہ ڈٹی رہے
بِأَمْرِهِ الصَّابِرِینَ مَعَهُ الطَّالِبِینَ رِضاکَ بِمُناصَحَتِهِ حَتَّی تَحْشُرَنا یَوْمَ الْقِیامَةِ فِی أَنْصارِهِ
انکے حکم پر مطمئن رہے اور انکے ساتھ ہو کر تیری خوشنودی چاہے اور انکی خیر خواہی کرے یہاں تک کہ قیامت کے روز انکے مددگاروں
وَأَعْوانِهِ وَمُقَوِّیَةِ سُلْطانِهِ اَللّٰهُمَّ وَاجْعَلْ ذلِکَ لَنا خالِصاً مِنْ کُلِّ
انکے ساتھیوں اور انکی حکومت کے طرفداروں میں اٹھائے اے معبود اس عقیدے کو ہمارے لیے خالص بنا دے کہ اس میں نہ ہمیں
شَکٍّ وَشُبْهَةٍ وَرِیائٍ وَسُمْعَةٍ حَتَّی لاَ نَعْتَمِدَ بِهِ غَیْرَکَ وَلاَ نَطْلُبَ بِهِ إلاَّ وَجْهَکَ وَحَتَّی
کوئی شک و شبہ ہو اور نہ نمائش و شہرت کی خواہش ہو تاکہ ہم سوائے تیرے کسی پر بھروسہ نہ کریں اور اس عقیدے میں صرف تیری
تُحِلَّنا مَحَلَّهُ وَتَجْعَلَنا فِی الْجَنَّةِ مَعَهُ وَأَعِذْنا مِنَ السَّأْمَةِ وَالْکَسَلِ
ذات کے مطیع ہوں اور ایسے میں تو ہمیںانکے پاس پہنچائے نیز جنت میں ہمیں انکے ساتھ رکھے تو ہمیں دل تنگی سستی اور درماندگی
وَ الْفَتْرَةِ وَاجْعَلْنا مِمَّنْ تَنْتَصِرُ بِهِ لِدِینِکَ وَتُعِزُّ بِهِ نَصْرَ وَلِیِّکَ وَلاَ تَسْتَبْدِلْ بِنا غَیْرَنا
سے محفوظ فرما اور ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو تیرے دین کی مدد کریں اور تیرے ولی کی نصرت کر کے عزت پائیں اور یہ مقام
فَ إنَّ اسْتِبْدالَکَ بِنا غَیْرَنا عَلَیْکَ یَسِیرٌ وَهُوَ عَلَیْنا کَثِیرٌ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی
ہمارے غیر کو نہ دے پس اگرتو ہماری جگہ دوسروں کو لے آئے تو یہ تجھ پر آسان لیکن ہمارے لیے گراں ہے اے معبود اپنے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے
وُلاةِ عَهْدِهِ وَآلاَءِمَّةِ مِنْ بَعْدِهِ وَبَلِّغْهُمْ آمالَهُمْ وَزِدْ فِی آجالِهِمْ وَأعِزَّ نَصْرَهُمْ وَتَمِّمْ لَهُمْ
والیاں امر پر رحمت فرما جو انکے بعد امامعليهالسلام ہوئے انکی آرزوئیں پوری فرما انکی عمروں میں اضافہ فرماانکے مدد گاروں کو قوت دے اپنا جو کام تو نے
مَا أَسْنَدْتَ إلَیْهِمْ مِنْ أَمْرِکَ لَهُمْ وَثَبِّتْ دَعائِمَهُمْ وَاجْعَلْنا لَهُمْ أَعْواناً وَعَلَی دِینِکَ
ان کے سپرد کیا ہے اسے انجام تک پہنچا اور ان کے ستون قائم رکھ ہمیں ان کے ساتھ بنا اور اپنے دین کے
أَنْصاراً فَ إنَّهُمْ مَعادِنُ کَلِماتِکَ وَخُزَّانُ عِلْمِکَ وَأَرْکانُ تَوْحِیدِکَ وَدَعَاءِمُ دِینِکَ
مدد گار قرار دے کیونکہ وہ تیرے کلمات کی حفاظت کرنے والے تیرے علوم کے خزینہ دار تیری توحید کے ستون تیرے دین کے ارکان
وَ وُلاةُ أَمْرِکَ وَخالِصَتُکَ مِنْ عِبادِکَ وَصَفْوَتُکَ مِنْ خَلْقِکَ وَأَوْلِیاؤُکَ وَسَلائِلُ
تیرے امر کے والی ہیں وہ تیرے بندوں میں تیرے خالص مخلص تیری مخلوق میں تیرے برگزیدہ تیرے محبوب اور تیرے محبوبوں کی
أَوْلِیائِکَ وَصَفْوَةُ أَوْلادِ نَبِیِّکَ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
نسل اور تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اولاد میں سے پسندیدہ ہیںسلام ہو مہدیعليهالسلام پر اور ان سب پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں۔
گیارہویں فصل
اس فصل میں زیارت جامعہ اور زیارت کے بعد پڑھی جانے والی دعا اور چہار دہ معصومین کیلئے صلوات کا بیان ہے یہ فصل چند مقامات پر مشتمل ہے۔
پہلا مقام
زیارات جامعہ
زیارت جامعہ کے بارے میں ہے کہ جسے ہر ایک امامعليهالسلام کی زیارت کے وقت پڑھا جا سکتا ہے اور چند ایک زیارتیں ہیںان میں سے بعض کے بیان کرنے پر اکتفائ کرتے ہیں۔
پہلی زیارت جامعہ صغیرہ
شیخ صدوقرحمهالله نے من لا یحضرہ الفقیہ میں روایت فرمائی ہے کہ بعض لوگوں نے امام رضا - سے دریافت کیا کہ امام موسیٰ کاظم - کی زیارت کس طرح کی جائے آپ نے فرمایا کہ حضرت کے روضہ پاک کے نزدیک جو مسجدیں ہیں ان میں نماز ادا کرو اور تمہارے لیے کافی ہو گا کہ تم جس بھی نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور وصیعليهالسلام یا امامعليهالسلام کی زیارت کو جائو تووہاں یہ زیارت پڑھو:
اَلسَّلَامُ عَلَی أَوْلِیائِ ﷲ وَأَصْفِیائِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی أُمَنائِ ﷲ وَأَحِبَّائِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی أَنْصارِ ﷲ
سلام ہو اولیائ خدا اور اس کے برگزیدہ پر سلام ہو خدا کے امانتداروں اور اس کے پیاروں پر سلام ہو خدا کے ناصروں
وَخُلَفائِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی مَحالِّ مَعْرِفَةِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی مَساکِنِ ذِکْرِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی
اور اس کے نائبوں پر سلام ہو خدا کی معرفت کے نشانوں پر سلام ہو ذکر الہی کے منزل گاہوں پر سلام ہو خدا کے
مُظْهِرِی أَمْرِ ﷲ وَنَهْیِهِ اَلسَّلَامُ عَلَی الدُّعاةِ إلَی ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمُسْتَقِرِّینَ فِی مَرْضاةِ
امرو نہی کے آشکار کرنے والوں پر سلام ہو خدا کی طرف بلانے والوں پر سلام ہو خدا کی رضائوں میں رہنے والوں پر
ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی الْمُخْلِصِینَ فِی طاعَةِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی الْاََدِلاَّئِ عَلَی ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی
سلام ہو خدا کے سچے اطاعت گزاروں پر سلام ہو خدا کی طرف رہنمائی کرنے والوں پر سلام ہو ان پر
الَّذِینَ مَنْ وَالاهُمْ فَقَدْ والَی ﷲ وَمَنْ عَادَاهُمْ فَقَدْ عادَی ﷲ وَمَنْ عَرَفَهُمْ
کہ جو ان سے محبت کرے تو خدا اس سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھے خدا اس سے دشمنی رکھتا ہے سلام ہو ان پر کہ جو انکی
فَقَدْ عَرَفَ ﷲ وَمَنْ جَهِلَهُمْ فَقَدْ جَهِلَ ﷲ وَمَنِ اعْتَصَمَ بِهِمْ فَقَدِ اعْتَصَمَ بِالله
معرفت کر لے وہ خدا کو پہچان لیتا ہے اور جو ان سے ناواقف ہو وہ خدا سے ناواقف ہوتا ہے جو ان سے تعلق رکھے وہ خدا سے تعلق رکھتا ہے
وَمَنْ تَخَلَّیٰ مِنْهُمْ فَقَدْ تَخَلَّیٰ مِنَ ﷲ عَزَّوَجَلَّ وَأُشْهِدُ ﷲ أَنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمْتُمْ وَحَرْبٌ
اور جو ان سے الگ رہے وہ خدا سے الگ رہ جاتا ہے میں خداکو گواہ بناتا ہوں کہ میری صلح ہے اس سے جس سے آپکی صلح ہو اور میری جنگ ہے
لِمَنْ حارَبْتُمْ مُؤْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَعَلانِیَتِکُمْ مُفَوِّضٌ فِی ذلِکَ کُلِّهِ إلَیْکُمْ لَعَنَ ﷲ عَدُوَّ
اس سے جس سے آپکی جنگ ہو میں آپکے ظاہر و باطن پر ایمان رکھتا ہوں اس بارے میں خود کو آپکے سپرد کرتا ہوں خدا لعنت کرے
آلِ مُحَمَّدٍ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَأَبْرَأُ إلَی ﷲ مِنْهُمْ وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
آل محمد کے دشمنوںپر جو جن وانس میں سے ہیں میں خدا کے سامنے ان سے بری ہوں اور خدا محمد اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت کرے ۔
یہ زیارت الکافی‘ تہذیب اور کامل الزیارات میںبھی نقل ہوئی ہے۔ ان کتابوں میں یہ بھی تحریر ہے کہ یہ زیارت ہر امامعليهالسلام کے روضہ پاک کی زیارت کے وقت پڑھی جا سکتی ہے یہ زیارت پڑھنے کے بعد محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر بہت زیادہ درود و سلام بھیجے اور معصومینعليهالسلام میں سے ہر ایک کا نام بھی لے اور انکے دشمنوں سے اظہار بیزاری کرے اور اپنے لیے اور دیگر مومنین و مومنات کیلئے دعائیں مانگے۔
مؤلف کہتے ہیں اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے آخری جملے بھی روایت ہی کا جز ہیں اور اگر یہ محدثین کااپنا قول ہو تو بھی بات یہی رہے گی کہ جب ان مشائخ عظام نے اسے ہر امامعليهالسلام کی زیارت کیلئے کافی شمار کیا ہے ہمارے لیے ان بزرگان کا فرمان بھی لائق اعتماد ہے۔ علاوہ ازیں ان علمائ کرام نے اس زیارت کو زیارت جامعہ کے باب میں شامل کیا ہے اور پھر زیارت میں ایسے اوصاف کا ذکرکیا ہے جو کسی ایک معصومعليهالسلام کے ساتھ مختص نہیں لہذا اس زیارت کو زیارت جامعہ تصور کرنا اور اسے تمام انبیائ و اوصیائ کے مشاہد مقدسہ میں پڑھنا بہت ہی مناسب و موزوں ہے ۔ جیسا کہ بعض علمائ نے اسے حضرت یونس- کے روضہ پر پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے۔ نیز اس زیارت کے آخر میں ہر معصوم پر صلوٰۃ کا خاص حکم وارد ہوا ہے اگر وہ صلوٰت پڑھی جائے جو ابوالحسن ضراب اصفہانی کی طرف منسوب ہے جو روز جمعہ کے اعمال کے آخر میں نقل ہوچکی ہے تو بہت بہتر ہے۔
دوسری زیارت جامعہ کبیرہ
شیخ صدوقرحمهالله نے من لایحضرہ الفقیہ اور عیون میں موسیٰ ابن عبد اللہ نخعی سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا میں نے امام علی نقی - سے عرض کی اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم مجھے ایک ایسی زیارت تعلیم فرمائیے کہ جب میں آپ حضراتعليهالسلام میں سے کسی کی زیارت کرنا چاہوں تو ہر مقام پر اسے پڑھ سکوں آپعليهالسلام نے فرمایا کہ جب بھی تم کسی امامعليهالسلام کی زیارت کے لیے وہاں پہنچو تو غسل کرنے کے بعد کھڑے ہو کر شہادتیں پڑھتے ہوئے کہو:
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں معبود سوائے اللہ کے وہ یگانہ ہے کوئی اس کاشریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد
عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
اس کے بندہ و رسول ہیں۔
جب حرم میں داخل ہو جاؤ اور قبر مبارک پر نظر پڑے تو رک جاؤ اور تیس مرتبہ کہو ’’اللہ اکبر‘‘ پھر آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے سکون و وقار کے ساتھ آگے چلو اور کچھ آگے جا کر ٹھہر جاؤ اور تیس مرتبہ کہو ’’اللہ اکبر‘‘ اس کے بعد قبر مبارک کے نزدیک پہنچ کر چالیس مرتبہ کہو ’’اللہ اکبر‘‘یہاں تک کہ سوتکبیر مکمل ہو جائے۔ جیسا کہ علامہ مجلسیرحمهالله نے فرمایا ہے ممکن ہے اس طرح سو مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہنے سے غرض یہ ہو کہ اکثر لوگ جو اہل بیتعليهالسلام کی محبت میں غلو کرتے ہیں وہ ان بزرگواروں کی زیارت کرنے میںکسی ناجائز عمل کی طرف مائل نہ ہونے پائیں یا خدائے تعالیٰ کی عظمت و بزرگی سے غافل نہ ہو جائیں۔ لہذا اس موقع پر ان کو تکبیر کہنے کا حکم دیا گیا تاکہ انہیں باری تعالیٰ کی کبریائی کی یاد دلائی جائے جب سو مرتبہ تکبیر کہہ چکے تو صاحب مزار امامعليهالسلام کی زیارت اس طرح پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَهْلَ بَیْتِ النُّبُوَّةِ وَمَوْضِعَ الرِّسالَةِ وَمُخْتَلَفَ الْمَلائِکَةِ وَمَهْبِطَ الْوَحْیِ
آپ پر سلام ہو اے خاندان نبوت اے پیغام الہی کے آنے کی جگہ اور ملائکہ کے آنے جانے کے مقام وحی نازل ہونے کی جگہ نزول
وَمَعْدِنَ الرَّحْمَةِ وَخُزَّانَ الْعِلْمِ وَمُنْتَهَی الْحِلْمِ وَأُصُولَ الْکَرَمِ وَقادَةَ الْاَُمَمِ وَأَوْلِیائَ النِّعَمِ
رحمت کے مرکز علوم کے خزینہ دار حد درجہ کے بردباراور بزرگواری کے حامل ہیں آپ قوموں کے پیشوا ،نعمتوں کے بانٹنے والے
وَعَناصِرَ الْاََبْرارِوَدَعائِمَ الْاََخْیارِ وَساسَةَ الْعِبادِ وَأَرْکانَ الْبِلادِ وَأَبْوابَ الْاِیمانِ وَأُمَنائَ
سرمایۂ نیکو کاران، پارسائوں کے ستون، بندوں کے لیے تدبیر کار، آبادیوں کے سردار، ایمان و اسلام کے دروازے،اور خدا کے
الرَّحْمنِ وَسُلالَةَ النَّبِیِّینَ وَصَفْوَةَ الْمُرْسَلِینَ وَعِتْرَةَ خِیَرَةِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَرَحْمَةُ ﷲ
امانتدار ہیں اور آپ نبیوں کی نسل و اولاد رسولوں کے پسندیدہ اور جہانوں کے رب کے پسند شد گان کی اولاد ہیں آپعليهالسلام پر سلام خدا کی رحمت ہو
وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی أَئِمَّةِ الْهُدَیٰ وَمَصابِیحِ الدُّجَیٰ وَأَعْلامِ التُّقَیٰ وَذَوِیٰ النُّهَیٰ وَأُولِی
اور اس کی برکات ہوں آپعليهالسلام پر جو ہدایت دینے والے امامعليهالسلام ہیں تاریکیوں کے چراغ ہیں پرہیز گاری کے نشان صاحبان عقل و خرد اور
الْحِجَیٰ وَکَهْفِ الْوَرَیٰ وَوَرَثَةِ الْاََنْبِیائِ وَالْمَثَلِ الْاََعْلَیٰ وَالدَّعْوَةِ الْحُسْنَیٰ وَحُجَجِ ﷲ
مالکان دانش ہیں آپ، لوگوں کی پناہ گاہ نبیوں کے وارث بلندترین نمونہ عمل اور بہترین دعوت دینے والے ہیں آپ دنیا والوں پر خدا
عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَالْاَُولَی وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی مَحالِّ مَعْرِفَةِ ﷲ
کی حجتیں ہیں آغاز و انجام میں آپعليهالسلام پر سلام خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو خد اکی معرفت کے
وَمَساکِنِ بَرَکَةِ ﷲوَمَعَادِنِ حِکْمَةِ ﷲ وَحَفَظَةِ سِرِّ ﷲ وَحَمَلَةِ کِتابِ ﷲ وَأَوْصِیائِ نَبِیِّ
ذریعوں پر جو خدا کی برکت کے مقام اور خدا کی حکمت کی کانیں ہیں خدا کے رازوں کے نگہبان خدا کی کتاب کے حامل خدا کے آخری نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم
ﷲ وَذُرِّیَّةِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وآلِهِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی
کے جانشین اور خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اولاد ہیں خدا ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر درود بھیجے اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوںسلام ہو خدا
الدُّعاةِ إلَی ﷲ وَالْاََدِلاَّئِ عَلَی مَرْضاةِ ﷲ وَالْمُسْتَقِرِّینَ فِی أَمْرِ ﷲ وَالتَّامِّینَ فِی مَحَبَّةِ ﷲ
کیطرف بلانے والوں پر اور خدا کی رضائوں سے آگاہ کرنے والوں پر جو خدا کے معاملے میں ایستادہ خدا کی محبت میں سب سے
وَالْمُخْلِصِینَ فِی تَوْحِیدِ ﷲ وَالْمُظْهِرِینَ لاََِمْرِ ﷲ وَنَهْیِهِ وَعِبادِهِ الْمُکْرَمِینَ الَّذِینَ لاَ
کامل اور خدا کی توحید کے عقیدے میںکھرے ہیں وہ خدا کے امرونہی کو بیان کرنے والے اور اس کے گرامی قدر بندے ہیں کہ جو
یَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بأَمْرِهِ یَعْمَلُونَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی
اسکے آگے بولنے میں پہل نہیں کرتے اور اسکے حکم پر عمل کرتے ہیں ان پر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں سلام ہو ان پر جو
آلاَءِمَّةِ الدُّعاةِ و َالْقادَةِ الْهُداةِ وَ السَّادَةِ الْوُلاةِ وَالذَّادَةِ الْحُماةِ وَأَهْلِ الذِّکْرِ وَأُولِی
دعوت دینے والے امام ہیں ہدایت دینے والے راہنما صاحب ولایت سردار حمایت کرنے والے نگہدار ذکر الہی کرنے والے اور والیانِ
الْاََمْرِ وَبَقِیَّةِ ﷲ وَخِیَرَتِهِ وَحِزْبِهِ وَعَیْبَةِ عِلْمِهِ وَحُجَّتِهِ وَصِراطِهِ وَنُورِهِ
امر ہیں وہ خدا کا سرمایہ اس کے پسندیدہ اس کی جماعت اور اس کے علوم کا خزانہ ہیں وہ خدا کی حجت اس کا راستہ اس کا نور اور
وَبُرْهانِهِ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ کَما
اسکی نشانی ہیں خداکی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اسکا شریک نہیں
شَهِدَ ﷲ لِنَفْسِهِ وَشَهِدَتْ لَهُ مَلائِکَتُهُ وَأُولُو الْعِلْمِ مِنْ خَلْقِهِ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ
جیسا کہ خدا نے اپنے لیے گواہی دی اسکے ساتھ اسکے فرشتے اور اسکی مخلوق میں سے صاحبان علم بھی گواہ ہیںکہ کوئی معبود نہیں مگر وہی
الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ الْمُنْتَجَبُ وَرَسُولُهُ الْمُرْتَضَی أَرْسَلَهُ بِالْهُدَی
جو زبردست ہے حکمت والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اسکے برگزیدہ بندے اور اسکے پسند کردہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں جن کو اس نے ہدایت
وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکوُنَ وَأَشْهَدُ أَنَّکُمُ آلاَءِمَّةُ
اور سچے دین کیساتھ بھیجاتا کہ وہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دیں اگر چہ مشرک پسند نہ بھی کریں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امام ہیں
الرَّاشِدُونَ الْمَهْدِیُّونَ الْمَعْصُومُونَ الْمُکَرَّمُونَ الْمُقَرَّبُونَ الْمُتَّقُونَ الصَّادِقُونَ
ہدایت والے سنورے ہوئے گناہ سے بچائے ہوئے بزرگیوں والے اس سے نزدیک تر پرہیز گار صدق والے چنے ہوئے
الْمُصْطَفُونَ الْمُطِیعُونَ لِلّٰهِ الْقَوَّامُونَ بِأَمْرِهِ الْعامِلونَ بِ إرَادَتِهِ الْفائِزُونَ بِکَرَامَتِهِ
خدا کے اطاعت گزار اس کے حکم پر کمر بستہ اس کے ارادے پر عمل کرنیوالے اور اس کی مہربانی سے کامیاب ہیں
اصْطَفاکُمْ بِعِلْمِهِ وَارْتَضاکُمْ لِغَیْبِهِ وَاخْتارَکُمْ لِسِرِّهِ وَاجْتَباکُمْ بِقُدْرَتِهِ وَأَعَزَّکُمْ
کہ اس نے اپنے علم کیلئے آپعليهالسلام کو چنا اپنے غیب کیلئے آپکو پسند کیا اپنے راز کیلئے آپکو منتخب کیا اپنی قدرت سے آپکو اپنا بنایا اپنی
بِهُداهُ وَخَصَّکُمْ بِبُرْهانِهِ وَانْتَجَبَکُمْ لِنُورِهِ وَأَیَّدَکُمْ بِرُوحِهِ وَرَضِیَکُمْ خُلَفائَ فِی أَرْضِهِ
ہدایت سے عزت دی اور اپنی دلیل کیلئے خاص کیااس نے آپکو اپنے نور کیلئے چنا روح القدس سے آپکو قوت دی اپنی زمین میں آپ کو اپنا نائب قرار دیا
وَحُجَجاً عَلَی بَرِیَّتِهِ وَأَنْصاراً لِدِینِهِ وَحَفَظَةً لِسِرِّهِ وَخَزَنَةً لِعِلْمِهِ وَمُسْتَوْدَعاً لِحِکْمَتِهِ
اپنی مخلوق پر اپنی حجتیں بنایا اپنے دین کے ناصر اور اپنے راز کے نگہدار اور اپنے علم کے خزینہ دار بنایا اپنی حکمت انکے سپرد کی آپعليهالسلام کو اپنی
وَتَرَاجِمَةً لِوَحْیِهِ وَأَرْکاناً لِتَوْحِیدِهِ وَشُهَدائَ عَلَی خَلْقِهِ وَأَعْلاماً لِعِبادِهِ وَمَناراً فِی بِلادِهِ
وحی کے ترجمان اور اپنی توحید کا مبلغ بنایا اس نے آپکو اپنی مخلوق پر گواہ قرار دیا اپنے بندوں کیلئے نشان منزل اپنے شہروں کی روشنی
وَأَدِلاَّئَ عَلَی صِرَاطِهِ عَصَمَکُمُ ﷲ مِنَ الزَّلَلِ وَآمَنَکُمْ مِنَ الْفِتَنِ وَطَهَّرَکُمْ مِنَ الدَّنَسِ
اور اپنے راستے کے رہبر قرار دیاخدا نے آپکو خطائوں سے بچایا فتنوں سے محفوظ کیا اور ہر آلودگی سے صاف رکھا آلائش آپ سے دور کر دی
وَأَذْهَبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَکُمْ تَطْهِیراً فَعَظَّمْتُمْ جَلالَهُ وَأَکْبَرْتُمْ شَأْنَهُ وَمَجَّدْتُمْ کَرَمَهُ
اور آپکو پاک رکھا جیسے پاک رکھنے کا حق ہے پس آپ نے اسکے جلال کی بڑائی کی اسکے مقام کو بلند جانااسکی بزرگی کی توصیف کی اس
وَأَدَمْتُمْ ذِکْرَهُ وَوَکَّدْتُمْ مِیثاقَهُ وَأَحْکَمْتُمْ عَقْدَ طاعَتِهِ وَنَصَحْتُمْ لَهُ فِی السِّرِّ وَالْعَلانِیَةِ
کے ذکر کو جاری رکھا اسکے عہد کوپختہ کیا اسکی فرمانبرداری کے عقیدے کو محکم بنایا آپ نے پوشیدہ و ظاہر اسکا ساتھ دیا اور اس کے
وَدَعَوْتُمْ إلَی سَبِیلِهِ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَبَذَلْتُمْ أَنْفُسَکُمْ فِی مَرْضاتِهِ وَصَبَرْتُمْ
سیدھے راستے کی طرف لوگوںکو دانشمندی اور بہترین نصیحت کے ذریعے بلایا آپ نے اس کی رضا کیلئے اپنی جانیں قربان کیں اور
عَلَی مَا أَصابَکُمْ فِی جَنْبِهِ وَأَقَمْتُمُ الصَّلاهَ وَآتَیْتُمُ الزَّکَاةَ وَأَمَرْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتُمْ عَنِ
اسکی راہ میں آپکو جو دکھ پہنچے انکو صبر سے جھیلا آپ نے نماز قائم کی اور زکواۃ دیتے رہے آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا برے کاموں
الْمُنْکَرِوَجاهَدْتُمْ فِی ﷲ حَقَّ جِهادِهِ حَتَّی أَعْلَنْتُمْ دَعْوَتَهُ وَبَیَّنْتُمْ فَرائِضَهُ وَأَقَمْتُمْ حُدُودَهُ
سے منع فرمایا اور خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا چنانچہ آپ نے اسکاپیغام عام کیا اسکے عائد کردہ فرائض بتائے اور اسکی مقررہ حدیں
وَنَشَرْتُمْ شَرائِعَ أَحْکامِهِ وَسَنَنْتُمْ سُنَّتَهُ وَصِرْتُمْ فِی ذلِکَ مِنْهُ إلَی الرِّضا وَسَلَّمْتُمْ لَهُ
جاری کیں آپعليهالسلام نے اسکے احکام بیان کیے اسکے طریقے رائج کیے اور اس میں آپ اسکی رضا کے طالب ہوئے آپعليهالسلام نے اسکے ہر فیصلے
الْقَضائَ وَصَدَّقْتُمْ مِنْ رُسُلِهِ مَنْ مَضَیٰ فَالرَّاغِبُ عَنْکُمْ مارِقٌ وَاللاَّزِمُ لَکُمْ لاحِقٌ
کو تسلیم کیا اور آپ نے اسکے گذشتہ پیغمبروں کی تصدیق کی پس آپ سے ہٹنے والا دین سے نکل گیا آپکا ہمراہی دیندار رہا اور آپکے
وَالْمُقَصِّرُ فِی حَقِّکُمْ زاهِقٌ وَالْحَقُّ مَعَکُمْ وَفِیکُمْ وَمِنْکُمْ وَ إلَیْکُمْ وَأَنْتُمْ
حق کو کم سمجھنے والا نابود ہواحق آپعليهالسلام کیساتھ ہے آپعليهالسلام میں ہے آپعليهالسلام کیطرف سے ہے آپعليهالسلام کیطرف آیا ہے آپ حق والے ہیں اور مرکز
أَهْلُهُ وَمَعْدِنُهُ وَمِیراثُ النُّبُوَّةِ عِنْدَکُمْ وَ إیابُ الْخَلْقِ إلَیْکُمْ وَحِسابُهُمْ عَلَیْکُمْ وَفَصْلُ
حق ہیں نبوت کا ترکہ آپعليهالسلام کے پاس ہے لوگوں کی واپسی آپعليهالسلام کی طرف اور ان کا حساب آپ کو لینا ہے آپ حق و باطل
الْخِطابِ عِنْدَکُمْ وَآیاتُ ﷲ لَدَیْکُمْ وَعَزائِمُهُ فِیکُمْ وَنُورُهُ وَبُرْهانُهُ عِنْدَکُمْ وَأَمْرُهُ إلَیْکُمْ
کا فیصلہ کرنے والے ہیں خدا کی آیتیں اور اسکے ارادے آپکے دلوں میں ہیں اسکا نور اور محکم دلیل آپکے پاس ہے اور اسکا حکم آپکی طرف آیا ہے
مَنْ والاکُمْ فَقَدْ والَی ﷲ وَمَنْ عاداکُمْ فَقَدْ عادَی ﷲ وَمَنْ أَحَبَّکُمْ فَقَدْ أَحَبَّ ﷲ وَمَنْ
آپکا دوست خدا کا دوست اور جو آپکا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے جس نے آپ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے
أَبْغَضَکُمْ فَقَدْ أَبْغَضَ ﷲ وَمَنِ اعْتَصَمَ بِکُمْ فَقَدِ اعْتَصَمَ بِالله أَنْتُمُ الصِّراطُ الْاََقْوَمُ وَشُهَدائُ
آپعليهالسلام سے نفرت کی اس نے خدا سے نفرت کی اور جو آپ سے وابستہ ہوا وہ خدا سے وابستہ ہوا کیونکہ آپ سیدھا راستہ دنیا میں لوگوں
دارِ الْفَنائِ وَشُفَعائُ دارِ الْبَقائِ وَالرَّحْمَةُ الْمَوْصُولَةُ وَالْاَیَةُ الْمَخْزُونَةُ وَالْاََمانَةُ الْمَحْفُوظَةُ
پر شاہد و گواہ اور آخرت میں شفاعت کرنے والے ہیں آپ ختم نہ ہونے والی رحمت محفوظ شدہ آیت سنبھالی ہوئی امانت
وَالْبابُ الْمُبْتَلَیٰ بِهِ النَّاسُ مَنْ أَتَاکُمْ نَجَا وَمَنْ لَمْ یَأْتِکُمْ هَلَکَ إلَی ﷲ تَدْعُونَ
اور وہ راستہ ہیں جس سے لوگ آزمائے جاتے ہیں جو آپکے پاس آیا نجات پاگیا اور جو ہٹا رہا وہ تباہ ہو گیا آپ خدا کیطرف بلانے والے
وَعَلَیْهِ تَدُلُّونَ وَبِهِ تُؤْمِنُونَ وَلَهُ تُسَلِّمُونَ وَبِأَمْرِهِ تَعْمَلُونَ وَ إلَی سَبِیلِهِ تُرْشِدُونَ
اور اسکی طرف رہبری کرنے والے ہیں آپ اس پر ایمان رکھتے اور اسکے فرمانبردار ہیں آپ اسکا حکم ماننے والے اسکے راستے کی طرف لے جانے والے
وَبِقَوْلِهِ تَحْکُمُونَ سَعَدَ مَنْ والاکُمْ وَهَلَکَ مَنْ عاداکُمْ وَخابَ مَنْ جَحَدَکُمْ
اور اسکے حکم سے فیصلہ دینے والے ہیں کامیاب ہوا وہ جو آپکا دوست ہے ہلاک ہوا وہ جو آپکا دشمن ہے اور خوار ہواوہ جس نے آپکا انکار کیا
وَضَلَّ مَنْ فارَقَکُمْ وَفازَ مَنْ تَمَسَّکَ بِکُمْ وأَمِنَ مَنْ لَجَأَ إلَیْکُمْ وَسَلِمَ مَنْ
گمراہ ہوا وہ جو آپعليهالسلام سے جدا ہوا اور بامراد ہوا وہ جو آپکے ہمراہ رہا اور اسے امن ملا جس نے آپکی پناہ لی سلامت رہا وہ جس نے
صَدَّقَکُمْ وَهُدِیَ مَنِ اعْتَصَمَ بِکُمْ مَنِ اتَّبَعَکُمْ فَالْجَنَّةُ مَأْواهُ وَمَنْ خالَفَکُمْ
آپکی تصدیق کی اور ہدایت پاگیا وہ جس نے آپکا دامن پکڑاجس نے آپکی اتباع کی اسکا مقام جنت ہے اور جس نے آپکی نافرمانی
فَالنَّارُ مَثْواهُ وَمَنْ جَحَدَکُمْ کافِرٌ وَمَنْ حارَبَکُمْ مُشْرِکٌ وَمَنْ رَدَّ عَلَیْکُمْ فِی أَسْفَلِ
کی اسکا ٹھکانا جہنم ہے جس نے آپکا انکار کیا وہ کافر ہے جس نے آپعليهالسلام سے جنگ کی وہ مشرک ہے اور جس نے آپکو غلط قرار دیا وہ
دَرَکٍ مِنَ الْجَحِیمِ أَشْهَدُ أَنَّ هذَا سابِقٌ لَکُمْ فِیما مَضیٰ وَجارٍ لَکُمْ فِیما بَقِیَ
جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ مقام آپکو گذشتہ زمانے میں حاصل تھااورآیندہ زمانے میں بھی حاصل رہے گا
وَأَنَّ أَرْواحَکُمْ وَنُورَکُمْ وَطِینَتَکُمْ واحِدَةٌ طابَتْ وَطَهُرَتْ بَعْضُها مِنْ بَعْضٍ
بے شک آپعليهالسلام سب کی روحیں آپکے نور اور آپکی اصل ایک ہے جو خوش آیند اور پاکیزہ ہے کہ آپعليهالسلام میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں
خَلَقَکُمُ ﷲ أَنْواراً فَجَعَلَکُمْ بِعَرْشِهِ مُحْدِقِینَ حَتّی مَنَّ عَلَیْنا بِکُمْ فَجَعَلَکُمْ فِی بُیُوتٍ أَذِنَ
خدا نے آپکو نور کی شکل میںپیدا کیا پھر آپعليهالسلام سب کو اپنے عرش کے اردگرد رکھا حتیٰ کہ ہم پر احسان کیا اور آپکو بھیجا پس آپکو ان
ﷲ أَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیهَا اسْمُهُ وَجَعَلَ صَلاتَناعَلَیْکُمْ وَمَا خَصَّنا بِهِ مِنْ
گھروں میں رکھا جنکو خدا نے بلند کیااور ان میں اسکا نام لیا جاتا ہے اس نے آپعليهالسلام پر ہمارے درود وسلام قرار دیئے اس سے ہمیں
وِلایَتِکُمْ طِیباً لِخَلْقِنا وَطَهارَةً لاََِنْفُسِنا وَتَزْکِیَةً لَنا وَکَفَّارَةً لِذُنُوبِنا
آپکی ولایت میں خصوصیت دی اسے ہماری پاکیزہ پیدائش ہمارے نفسوں کی صفائی ہمارے باطن کی درستی کا ذریعہ اور گناہوں کا کفارہ بنایا
فَکُنَّا عِنْدَهُ مُسَلِّمِینَ بِفَضْلِکُمْ وَمَعْرُوفِینَ بِتَصْدِیقِنا إیَّاکُمْ فَبَلَغَ ﷲ بِکُمْ أَشْرَفَ مَحَلِّ
پس ہم اسکے حضور آپکی فضیلت کو ماننے والے اور آپکی تصدیق کرنے والے قرار پاگئے ہیں ہاں خدا آپکو صاحبان عظمت کے بلند مقام پر پہنچائے
الْمُکَرَّمِینَ وَأَعْلَی مَنازِلِ المُقَرَّبِینَ وَأَرْفَعَ دَرَجاتِ الْمُرْسَلِینَ حَیْثُ لاَ یَلْحَقُهُ لاحِقٌ وَلاَ
اور اپنے مقربین کی بلند منزلوںتک لے جائے اور اپنے پیغمبروں کے اونچے مراتب عطا کرے اسطرح کہ پیچھے والا وہاں نہ پہنچے کوئی
یَفُوقُهُ فائِقٌ وَلاَ یَسْبِقُهُ سابِقٌ وَلاَ یَطْمَعُ فِی إدْرَاکِهِ طامِعٌ حَتَّی لاَ یَبْقَیٰ مَلَکٌ
اوپر والا اس مقام سے بلند نہ ہوا اور کوئی آگے والا آگے نہ بڑھے اور کوئی طمع کرنے والا اس مقام کی طمع نہ کرے یہاں تک کہ باقی نہ
مُقَرَّبٌ وَلاَ نَبِیٌّ مُرْسَلٌ وَلاَ صِدِّیقٌوَلاَ شَهِیدٌ وَلاَ عالِمٌ وَلاَ جاهِلٌ وَلاَ دَنِیٌّ وَلاَ فاضِلٌ وَلاَ
رہے کوئی مقرب فرشتہ نہ کوئی نبی مرسل نہ کوئی صدیق اور نہ شہید نہ کوئی عالم اور نہ جاہل نہ کوئی پست اور نہ کوئی بلند نہ کوئی
مُؤْمِنٌ صالِحٌ وَلاَ فاجِرٌ طالِحٌ وَلاَ جَبَّارٌ عَنِیدٌ وَلاَ شَیْطانٌ مَرِیدٌ وَلاَ خَلْقٌ فِیما بَیْنَ ذلِکَ
نیک مؤمن اور نہ کوئی فاسق و فاجر اور گناہ گار نہ کوئی ضدی سرکش اور نہ کوئی مغرور شیطان اور نہ ہی کوئی اور مخلوق گواہی دے سوائے
شَهِیدٌ إلاَّ عَرَّفَهُمْ جَلالَةَ أَمْرِکُمْ وَعِظَمَ خَطَرِکُمْ وَکِبَرَ شَأْنِکُمْ وَتَمامَ نُورِکُمْ وَصِدْقَ
اسکے کہ وہ انکو آپکی شان سے آگاہ کرے آپکے مقام کی بلندی آپکی شان کی بڑائی آپکے نور کی کاملیت آپکے درست درجات آپ
مَقاعِدِکُمْ وَثَباتَ مَقامِکُمْ وَشَرَفَ مَحَلِّکُمْ وَمَنْزِلَتِکُمْ عِنْدَهُ وَکرامَتَکُمْ عَلَیْهِ وَخاصَّتَکُمْ
کے مراتب کی ہمیشگی آپکے خاندانکی بزرگی اسکے ہاں آپکے مقام اس کے سامنے آپعليهالسلام کی بزرگواری اس کے ساتھ آپعليهالسلام کی خصوصیت
لَدَیْهِ وَقُرْبَ مَنْزِلَتِکُمْ مِنْهُ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی وَأَهْلِی وَمالِی وَأُسْرَتِی أُشْهِدُ ﷲ
اور اس سے آپکے مقام کے قرب کی گواہی دے میرے ماں باپ میرا گھر میرا مال اور میرا خاندان آپعليهالسلام پر قربان میں گواہ بناتا ہوں
وَأُشْهِدُکُمْ أَنِّی مُؤْمِنٌ بِکُمْ وَبِما آمَنْتُمْ بِهِ کافِرٌ بِعَدُوِّکُمْ وَبِما کَفَرْتُمْ بِهِ
خدا کو اور آپکو کہ اس پر میں ایمان رکھتا ہوں جس پر آپعليهالسلام ایمان رکھتے ہیں منکر ہوں آپکے دشمن کا اور جس چیز کا آپ انکار کرتے ہیں
مُسْتَبْصِرٌ بِشَأْنِکُمْ وَبِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکُمْ مُوالٍ لَکُمْ وَلاََِوْلِیائِکُمْ مُبْغِضٌ
آپکی شان کو جانتا ہوں اور آپکے مخالف کی گمراہی کو سمجھتا ہوں محبت رکھتا ہوں آپعليهالسلام سے اور آپکے دوستوںسے نفرت کرتا ہوں
لاََِعْدائِکُمْ وَمُعادٍ لَهُمْ سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ
آپکے دشمنوں سے اور انکا دشمن ہوں میری صلح ہے اس سے جو آپعليهالسلام سے صلح رکھے اورجنگ ہے اس سے جو آپعليهالسلام سے جنگ کرے
مُحَقِّقٌ لِما حَقَّقْتُمْ مُبْطِلٌ لِمَا أَبْطَلْتُمْ مُطِیعٌ لَکُمْ عارِفٌ بِحَقِّکُمْ
حق کہتا ہوں اسے جسکو آپعليهالسلام حق کہیں باطل کہتا ہوں اسے جسکو آپعليهالسلام باطل کہیں آپکا فرمانبردار ہوں آپکے حق کو پہچانتا ہوں آپکی بڑائی
مُقِرٌّ بِفَضْلِکُمْ مُحْتَمِلٌ لِعِلْمِکُمْ مُحْتَجِبٌ بِذِمَّتِکُمْ مُعْتَرِفٌ بِکُمْ مُؤْمِنٌ بِ إیابِکُمْ
کو مانتا ہوں آپکے علم کا معتقد ہوںآپکی ولایت میں پناہ گزین ہوں آپکی ذات کا اقرار کرتا ہوں آپکے بزرگان کا معتقد ہوں آپکی
مُصَدِّقٌ بِرَجْعَتِکُمْ مُنْتَظِرٌ لاََِمْرِکُمْ مُرْتَقِبٌ لِدَوْلَتِکُمْ آخِذٌ بِقَوْلِکُمْ عامِلٌ
رجعت کی تصدیق کرتا ہوں آپکے دور کا منتظر ہوں آپکی حکومت کا انتظار کرتا ہوں آپعليهالسلام کے قول کو قبول کرتا ہوں آپعليهالسلام کے حکم پر عمل
بِأَمْرِکُمْ مُسْتَجِیرٌ بِکُمْ زائِرٌ لَکُمْ لائِذٌ عائِذٌ بِقُبُورِکُمْ مُسْتَشْفِعٌ إلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ بِکُمْ
کرتا ہوں آپکی پناہ میں ہوںآپکی زیارت کو آیا ہوں آپکے مقبرے میں پوشیدہ ہو کر پناہ لی ہے خدا کے حضور آپکو اپنا سفارشی بناتا ہوں
وَمُتَقَرِّبٌ بِکُمْ إلَیْهِ وَمُقَدِّمُکُمْ أَمامَ طَلِبَتِی وَحَوَائِجِی وَ إرادَتِی فِی کُلِّ أَحْوالِی وَأُمُورِی
آپکے ذریعے اسکا قرب چاہتا ہوں آپکو اپنی ضرورتوں حاجتوں اور ارادوں کا وسیلہ بناتا ہوں اپنے ہر حال اور ہر کام میں اور ایمان
مُؤْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَعَلانِیَتِکُمْ وَشاهِدِکُمْ وَغائِبِکُمْ وَأَوَّلِکُمْ وَآخِرِکُمْ وَمُفَوِّضٌ فِی ذلِکَ
رکھتا ہوں آپعليهالسلام میں سے نہاں اور عیاں پر آپعليهالسلام میں سے ظاہر اور پوشیدہ پر آپعليهالسلام میں سے اول اور آخر پر ان تمام امور کیساتھ خود کو
کُلِّهِ إلَیْکُمْ وَمُسَلِّمٌ فِیهِ مَعَکُمْ وَقَلْبِی لَکُمْ مُسَلِّمٌ وَرَأْئِی لَکُمْ تَبَعٌ وَنُصْرَتِی
آپکے سپرد کرتا ہوں اوران میں آپکے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں میرا دل آپکا معتقد ہے میرا ارادہ آپکے تابع ہے میری مدد و نصرت
لَکُمْ مُعَدَّةٌ حَتَّی یُحْیِیَ ﷲ تَعَالی دِینَهُ بِکُمْ وَیَرُدَّکُمْ فِی أَیَّامِهِ وَیُظْهِرَکُمْ لِعَدْلِهِ
آپ کیلئے حاضر ہے یہاں تک کہ خدا آپکے ہاتھوں اپنے دین کو زندہ کرے آپکو اس زمانے میںلے جائے قیام عدل میں آپکی مدد کرے
وَیُمَکِّنَکُمْ فِی أَرْضِهِ فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لاَمَعَ غَیْرِکُمْ آمَنْتُ بِکُمْ وَتَوَلَّیْتُ آخِرَکُمْ
اور آپکو اپنی زمین میں اقتدار دے پس میں صرف آپکے ساتھ ہوں آپکے غیر کیساتھ نہیں آپکا معتقد ہوں اور آپعليهالسلام میں سے آخری کا محب ہوں
بِمَا تَوَلَّیْتُ بِهِ أَوَّلَکُمْ وَبَرِئْتُ إلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ مِنْ أَعْدائِکُمْ وَمِنَ الْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ
جیسے آپعليهالسلام میں سے اول کا محب ہوں میں خدائے عزو جل کیسامنے آپکے دشمنوں سے بیزاری کرتا ہوں اور بیزار ہوں بتوں سے سرکشوں سے
وَالشَّیاطِینِ وَحِزْبِهِمُ الظَّالِمِینَ لَکُمُ الْجاحِدِینَ لِحَقِّکُمْ وَالْمارِقِینَ مِنْ وِلایَتِکُمْ
شیطانوں سے اور انکے گروہ سے جو آپعليهالسلام پر ظلم کرنے والے آپعليهالسلام کے حق کا انکار کرنے والے آپعليهالسلام کی ولایت سے نکل جانے والے
وَالْغاصِبِینَ لاِِِرْثِکُمُ الشَّاکِّینَ فِیکُمُ الْمُنْحَرِفِینَ عَنْکُمْ وَمِنْ کُلِّ وَلِیجَةٍ دُونَکُمْ وَکُلِّ
آپکی وراثت غصب کرنے والے آپ پر شک لانے والے آپعليهالسلام سے پھر جانے والے ہیں اور بیزار ہوںمیں آپکے سوا ہر جماعت
مُطاعٍ سِواکُمْ وَمِنَ آلاَءِمَّةِ الَّذِینَ یَدْعُونَ إلَی النَّارِ فَثَبَّتَنِیَ ﷲ أَبَداً
سے آپکے سوا ہر اطاعت کئے والے سے اور ان پیشوائوں سے بیزار ہوں جو جہنم میںلے جانے والے ہیں پس جب تک زندہ ہوں
مَا حَیِیتُ عَلَی مُوالاتِکُمْ وَمَحَبَّتِکُمْ وَدِینِکُمْ وَوَفَّقَنِی لِطاعَتِکُمْ وَرَزَقَنِی شَفاعَتَکُمْ
خدا مجھے قائم رکھے آپکی دوستی پر آپکی محبت پر آپکے دین پر اور توفیق دے آپکی پیروی کرنے کی اور آپعليهالسلام کی شفاعت نصیب کرے
وَجَعَلَنِی مِنْ خِیارِ مَوالِیکُمُ التَّابِعِینَ لِما دَعَوْتُمْ إلَیْهِ وَجَعَلَنِی مِمَّنْ یَقْتَصُّ
خدا مجھ کو آپکے بہترین دوستوں میںرکھے جو اسکی پیروی کرنے والے ہوںجنکی طرف آپ نے دعوت دی اورمجھے ان میں سے قرار
آثارَکُمْ وَیَسْلُکُ سَبِیلَکُمْ وَیَهْتَدِی بِهُداکُمْ وَیُحْشَرُ فِی زُمْرَتِکُمْ وَیَکِرُّ فِی
دے جو آپکے اقوال نقل کرتے ہیں مجھے آپکی راہ پر چلائے آپکی ہدایت سے بہرہ ور کرے آپکے گروہ میں اٹھائے آپکی رجعت
رَجْعَتِکُمْ وَیُمَلَّکُ فِی دَوْلَتِکُمْ وَیُشَرَّفُ فِی عافِیَتِکُمْ وَیُمَکَّنُ فِی أَیَّامِکُمْ وَتَقِرُّ عَیْنُهُ غَداً
میں مجھے بھی لوٹائے آپکی حکومت میں آپکی ریاعا بنائے آپکے دامن میں عزت دے آپکے عہد میںاعلیٰ مقام دے اور ان میں رکھے
بِرُؤْیَتِکُمْ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی وَنَفْسِی وَأَهْلِی وَمالِی مَنْ أَرادَ ﷲ
جو کل آپکے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کریں گے میرے ماں باپ میری جان میرا خاندان اور مال آپعليهالسلام پر قربان جو خدا کو چاہے وہ
بَدَأَ بِکُمْ وَمَنْ وَحَّدَهُ قَبِلَ عَنْکُمْ وَمَنْ قَصَدَهُ تَوَجَّهَ بِکُمْ مَوالِیَّ لاَ أُحْصِی
آپعليهالسلام سے ملتا ہے جو اسے یکتا سمجھے وہ آپکی بات مانتا ہے جو اسکی طرف بڑھے وہ آپکا رخ کرتا ہے میرے سردارمیں آپکی تعریف کا
ثَنائَکُمْ وَلاَ أَبْلُغُ مِنَ الْمَدْحِ کُنْهَکُمْ وَمِنَ الْوَصْفِ قَدْرَکُمْ وَأَنْتُمْ نُورُ الْاََخْیارِ وَهُداةُ
اندازہ نہیں کر سکتا نہ آپکی مدح کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہوں اور نہ آپکی شان کا تصور کرسکتا ہوں آپ شرفائ کا نور نیکو ں کے رہبر خدائے
الْاَبْرارِ وَحُجَجُ الْجَبَّارِبِکُمْ فَتَحَ ﷲ وَبِکُمْ یَخْتِمُ وَبِکُمْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَبِکُمْ یُمْسِکُ
قادر کی حجتیں ہیں خدا نے آپعليهالسلام سے آغاز وانجام کیا ہے وہ آپعليهالسلام کے ذریعے بارش برساتا ہے آپ کے ذریعے آسمان کو
السَّمائَ أَنْ تَقَعَ عَلَی الْاََرْضِ إلاَّ بِ إذْنِهِ وَبِکُمْ یُنَفِّسُ الْهَمَّ وَیَکْشِفُ الضُّرَّوَعِنْدَکُمْ
روکے ہوئے ہے تاکہ زمین پرنہ آ گرے مگر اسکے حکم سے وہ آپعليهالسلام کے ذریعے غم دور کرتا اور سختی ہٹاتا ہے وہ پیغام آپعليهالسلام کے پاس ہے
مَا نَزَلَتْ بِهِ رُسُلُهُ وَهَبَطَتْ بِهِ مَلائِکَتُهُ وَ إلی جَدِّکُمْ اگر امیر المؤمنین- کی زیارت پڑھے تو
جو اس کے رسول لائے اور فرشتے جس کو لے کر اترے اور آپعليهالسلام کے نانا کی طرف
بجائے و إلی جدّکمکے کہے:وَ إلی أخیک بُعِثَ الرُّوحُ الْاََمِینُ آتاکُمُ ﷲ مَا لَمْ یُؤْتِ
اور آپعليهالسلام کے نانا کی طرف اور آپعليهالسلام کے بھائی کے پاس روح الامین آیا خدا نے آپ کو وہ نعمت دی جو جہانوں میں
أَحَداً مِنَ الْعالَمِینَ طَأْطَأَ کُلُّ شَرِیفٍ لِشَرَفِکُمْ وَبَخَعَ کُلُّ مُتَکَبِّرٍ لِطاعَتِکُمْ وَخَضَعَ کُلُّ
کسی کو نہ دی ہر بڑائی والا آپعليهالسلام کی بڑائی کے آگے جھکتا ہے ہر مغرور آپعليهالسلام کا حکم مانتا ہے ہر زبردست آپعليهالسلام کی فضلیت کے سامنے
جَبَّارٍ لِفَضْلِکُمْ وَذَلَّ کُلُّ شَیْئٍ لَکُمْ وَأَشْرَقَتِ الْاََرْضُ بِنُورِکُمْ وَفازَ الْفائِزُونَ بِوِلایَتِکُمْ
خم ہوتا ہے ہر چیز آپکے آگے پست ہے زمین آپعليهالسلام کے نور سے چمکتی ہے کامیابی پانے والے آپعليهالسلام کی ولایت سے کامیابی پاتے ہیں
بِکُمْ یُسْلَکُ إلَی الرِّضْوانِ وَعَلَی مَنْ جَحَدَ وِلایَتَکُمْ غَضَبُ الرَّحْمٰنِ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی
کہ آپعليهالسلام کے ذریعے رضائ الہی حاصل کرتے ہیں اور جو آپعليهالسلام کی ولایت کے منکر ہیں ان پر خدا کا غضب آتا ہے میرے ماں باپ
وَنَفْسِی وَأَهْلِی وَمَالِی ذِکْرُکُمْ فِی الذَّاکِرِینَ وَأَسْماؤُکُمْ فِی الْاََسْمائِ وَأَجْسادُکُمْ فِی
میری جان میرا خاندان اور مال آپعليهالسلام پر قربان آپکا ذکر ہے ذکر کرنے والوں میں ہے آپکے نام ناموں میں خاص ہیں آپکے جسم اعلیٰ ہیں
الْاَجْسادِ وَأَرْواحُکُمْ فِی الْاََرْواحِ وَأَنْفُسُکُمْ فِی النُّفُوسِ وَآثارُکُمْ فِی الْاَثارِ وَقُبُورُکُمْ
جسموں میں آپکی روحیںبہترین ہیں روحوں میں آپکے دل پاکیزہ ہیں دلوں میں آپعليهالسلام کے نشان عمدہ ہیں نشانوں میں اور آپعليهالسلام کی
فِی الْقُبُورِ فَمَا أَحْلَی أَسْمائَکُمْ وَأَکْرَمَ أَنْفُسَکُمْ وَأَعْظَمَ شَأْنَکُمْ وَأَجَلَّ خَطَرَکُمْ وَأَوْفَی
قبریں پاک ہیںقبروں میں پس کتنے پیارے ہیں آپکے نام کتنے گرامی ہیںآپکے نفوس آپکی شان بلند ہے آپکا مقام عظیم ہے آپکا
عَهْدَکُمْ وَأَصْدَقَ وَعْدَکُمْ کَلامُکُمْ نُورٌ وَأَمْرُکُمْ رُشْدٌ وَوَصِیَّتُکُمُ التَّقْوَی وَفِعْلُکُمُ الْخَیْرُ
پیمان پورا ہونے والا اور آپعليهالسلام کا وعدہ سچا ہے آپعليهالسلام کا کلام روشن آپعليهالسلام کے حکم میں ہدایت آپعليهالسلام کی وصیت پرہیز گاری آپعليهالسلام کا فعل عمدہ
وَعادَتُکُمُ الْاِحْسانُ وَسَجِیَّتُکُمُ الْکَرَمُ وَشَأْنُکُمُ الْحَقُّ وَالصِّدْقُ وَالرِّفْقُ وَقَوْلُکُمْ حُکْمٌ
آپعليهالسلام کی عادت پسندیدہ آپعليهالسلام کے اطوار میں بزرگواری آپعليهالسلام کی شان سچائی راستی اور ملائمت ہے آپعليهالسلام کا قول مضبوط و یقینی ہے
وَحَتْمٌ وَرَأْیُکُمْ عِلْمٌ وَحِلْمٌ وَحَزْمٌ إنْ ذُکِرَ الْخَیْرُ کُنْتُمْ أَوَّلَهُ وَأَصْلَهُ وَفَرْعَهُ وَمَعْدِنَهُ وَمَأْواهُ
آپکی رائے میں نرمی اور پختگی ہے اگر نیکی کا ذکر ہو تو آپعليهالسلام اس میں اول اسکی جڑ اسکی شاخ اس کا مرکز اس کا ٹھکانہ اور اس کی انتہا ہیں
وَمُنْتَهاهُ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی وَنَفْسِی کَیْفَ أَصِفُ حُسْنَ ثَنائِکُمْ وَأُحْصِی جَمِیلَ بَلائِکُمْ
قربان آپعليهالسلام پر میرے ماں باپ اور میری جان کسطرح میںآپکی زیبا تعریف و توصیف کروں اور آپکی بہترین آزمائشوں کا تصور کروں
وَبِکُمْ أَخْرَجَنَا ﷲ مِنَ الذُّلِّ وَفَرَّجَ عَنَّا غَمَراتِ الْکُرُوبِ وَأَنْقَذَنا مِنْ شَفا جُرُفِ الْهَلَکاتِ
کہ خدا نے آپکے ذریعے ہمیں خواری سے بچایا ہمارے رنج و غم کو دور فرمایا اور ہمیں تباہی کی وادی سے نکالا اور جہنم کی آگ سے آزاد
وَمِنَ النَّارِ بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی وَنَفْسِی بِمُوالاتِکُمْ عَلَّمَنَا ﷲ مَعالِمَ دِینِنا وَأَصْلَحَ مَا کانَ
کیا میرے ماں باپ اور میری جان آپعليهالسلام پر قربان آپعليهالسلام کی دوستی کے وسیلے سے خدا نے ہمیں دینی تعلیمات عطا کی اور ہماری دنیا کے
فَسَدَ مِنْ دُنْیانا وَبِمُوالاتِکُمْ تَمَّتِ الْکَلِمَةُ وَعَظُمَتِ النِّعْمَةُ وَایْتَلَفَتِ الْفُرْقَةُ وَ بِمُوالاتِکُمْ
بگڑے کام سنوار دیے آپعليهالسلام کی ولایت کی بدولت کلمہ مکمل ہوا نعمتیں بڑھ گئیں اور آپس کی دوریاں مٹ گئیں آپعليهالسلام کی دوستی کے
تُقْبَلُ الطَّاعَةُ الْمُفْتَرَضَةُ وَلَکُمُ الْمَوَدَّةُ الْواجِبَةُ وَالدَّرَجاتُ الرَّفِیعَةُ وَالْمَقامُ الْمَحْمُودُ
باعث اطاعت واجبہ قبول ہوتی ہے آپعليهالسلام سے محبت رکھنا واجب ہے خدائے عزو جل کے ہاں آپ کیلئے بلند درجے پسندیدہ مقام اور
وَالْمَکانُ الْمَعْلُومُ عِنْدَ ﷲ عَزَّ وَجَلَّ وَالْجاهُ الْعَظِیمُ وَالشَّأْنُ الْکَبِیرُ وَالشَّفاعَةُ الْمَقْبُولَةُ
اونچا مرتبہ ہے نیز اس کے حضور آپعليهالسلام کی بڑی عزت ہے بہت اونچی شان ہے اور آپعليهالسلام کی شفاعت قبول شدہ ہے
رَبَّنا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاکْتُبْنا مَعَ الشَّاهِدِینَ
اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے نازل کیا اور ہم نے رسول کی پیروی کی پس ہمیں گواہی دینے والوں میں لکھ لے
رَبَّنا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنا بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنا وَهَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَنْتَ
اے ہمارے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ ہونے دے جب کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہم کو اپنی طرف سے رحمت عطاکر بے شک تو
الْوَهَّابُ سُبْحانَ رَبِّنا إنْ کانَ وَعْدُ رَبِّنا لَمَفْعُولاً یَا وَلِیَّ ﷲ إنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ
بہت عطا کرنے والا ہے پاک تر ہے ہمارا رب یقینا ہمارے رب کاوعدہ پورا ہو گا اے ولی خدا بے شک میرے اور خدائے عز و جل
ﷲ عَزَّوَجَلَّ ذُنُوباً لاَ یَأْتِی عَلَیْها إلاَّ رِضاکُمْ فَبِحَقِّ مَنِ ائْتَمَنَکُمْ عَلَی سِرِّهِ وَاسْتَرْعاکُمْ
کے درمیان گناہ حائل ہیں جو آپعليهالسلام چاہیں تومعاف ہو سکتے ہیں پس واسطہ اس کا جس نے آپ کو اپنا راز داں بنایا اپنی مخلوق کا معاملہ
أَمْرَ خَلْقِهِ وَقَرَنَ طاعَتَکُمْ بِطاعَتِهِ لَمَّا اسْتَوْهَبْتُمْ ذُنُوبِی وَکُنْتُمْ شُفَعائِی
آپکو سونپا آپکی اطاعت اپنی اطاعت کیساتھ واجب قرار دی آپ میرے گناہ معاف کروائیں اور میرے سفارشی بن جائیں کہ
فَ إنِّی لَکُمْ مُطِیعٌ مَنْ أَطاعَکُمْ فَقدْ أَطاعَ ﷲ وَمَنْ عَصَاکُمْ فَقَدْ عَصَی ﷲ
یقیناً میں آپکا پیرو کارہوں جس نے آپکی پیروی کی تو اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جس نے آپکی نافرمانی کی خدا کی نافرمانی کی
وَمَنْ أَحَبَّکُمْ فَقَدْ أَحَبَّ ﷲ وَمَنْ أَبْغَضَکُمْ فَقَدْ أَبْغَضَ ﷲ اَللّٰهُمَّ إنِّی لَوْ
جس نے آپعليهالسلام سے محبت کی تو اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے آپعليهالسلام سے دشمنی کی اس نے خدا سے دشمنی کی اے معبود یقیناً جب
وَجَدْتُ شُفَعائَ أَقْرَبَ إلَیْکَ مِنْ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ الْاََخْیارِ آلاَءِمَّةِ الاََبْرارِ لَجَعَلْتُهُمْ
میں نے ایسے سفارشی پا لیے ہیں جو تیرے مقرب ہیںیعنی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکے اہلبیتعليهالسلام جو نیک اور خوش کردار امامعليهالسلام ہیں ضرور میں نے
شُفَعائِی فَبِحَقِّهِمْ الَّذِی أوْجَبْتَ لَهُم عَلَیْکَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُدْخِلَنِی فِی
انہیں اپنے سفارشی بنایا ہے پس انکے حق کے واسطے سے جو تو نے خود پر لازم کرر کھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں
جُمْلَةِ الْعارِفِینَ بِهِمْ وَبِحَقِّهِمْ وَفِی زُمْرَةِ الْمَرْحُومِینَ بِشَفاعَتِهِمْ إنَّکَ
داخل فرما جو انکی اور انکے حق کی معرفت رکھتے ہیںاور مجھے اس گروہ میں رکھ جس پر انکی سفارش سے رحم کیا گیا ہے بے شک تو
أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراًوَحَسْبُنَا
سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اور خدا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور انکی پاکیزہ آلعليهالسلام پر درود بھیجے اور بہت بہت سلام بھیجے سلام اور کافی ہے ہمارے لیے
ﷲ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ
خدا جو بہترین کارساز ہے۔
مولف کہتے ہیں یہ زیارت شیخ نے بھی تہذیب میںنقل کی ہے اور اس کے بعد ایک دعائے وداع بھی درج کی ہے جسے ہم نے اختصار کی وجہ سے یہاںنقل نہیں کیا علامہ مجلسیرحمهالله کے بقول یہ بہترین زیارت جامعہ ہے جو سند متن اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بہت خوب ہے علامہ مجلسی کے والد ماجد نے الفقیہ کی شرح میں فرمایا ہے کہ یہ زیارت دیگر تمام زیارتوں کی نسبت بہتر اور کامل تر ہے اور یہ کہ میں جب تک عتبات عالیات میںرہا ہوں اس زیارت کے علاوہ میں نے کوئی زیارت نہیں پڑھی۔
سید رشتی کا واقعہ
ہمارے استاد محترم نے نجم الثاقب میں ایک واقعہ بیان کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زیارت کو ہمیشہ پابندی کے ساتھ پڑھتے رہنا چاہئیے اور اس میں غفلت نہیں کرنا چاہئیے وہ واقعہ یہ ہے کہ جناب سید احمد بن ہاشم بن سید حسن موسوی رشتی ایک تاجرتھے جو رشت میں رہائش رکھتے تھے سترہ برس قبل وہ زیارت کیلئے نجف اشرف آئے اور عالم ربانی فاضل صمدانی شیخ علی رشتی کے ہمراہ میرے مکان پر بھی تشریف لائے وہ میرے ہاں سے روانہ ہونے لگے تو شیخ علی رشتی نے ان سید کی جلالت و صالحیت کی طرف اشارہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کو ایک عجیب و غریب واقعہ بھی پیش آ چکا ہے تاہم اس کو بیان کرنے کے لیے وقت نہیں تھا لہذا وہ چلے گئے۔ چند دنوں کے بعد جب شیخ مذکور سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ سید موصوف تو چلے گئے ہیں مگر ان کو پیش آیا ہوا واقعہ انہوں نے مجھے سنا دیا تھا۔ اس واقعہ کو سننے کے بعد مجھے افسوس ہوا کہ کیوں یہ واقعہ میں خود ان کی زبانی نہ سن سکا؟ اگرچہ شیخ محترم کے مقام و مرتبہ کودیکھتے ہوئے مجھے پورا یقین تھا کہ انہوں نے اس واقعہ کو نقل کرنے میں کوئی کمی بیشی نہیں کی ہے چنانچہ اس دن سے یہ واقعہ میرے ذہن میں جا گزیں رہا۔ یہاںتک کہ میں اس سال میںماہ جمادی آلاخر میں نجف اشرف سے کاظمین آ گیا وہاں ان سید محترم سے میری ملاقات ہو گئی جو سامرہ کی زیارت سے لوٹے تھے اور ایران جانے کا ارادہ رکھتے تھے تب میں نے وہ سنا ہوا واقعہ پھر ان سے بھی سننے کی خواہش کی تو انہوں نے پورا واقعہ نقل کیا جیسا کہ شیخ مرحوم نے مجھے سنایا تھا اس کا خلاصہ یوں ہے۔
ان سید محترم نے فرمایا کہ میں ۱۲۸۰ھ میںحج بیت اللہ کے قصد سے اپنے شہر رشت سے تبریز آیا اور وہاں کے معروف تاجر حاجی صفر علی تبریزی کے گھر میں قیام کیا وہاں مجھے حج کو جانے والا کوئی قافلہ نہیںمل رہا تھا۔ لہذا میں بہت پریشان خاطر تھا اسی اثنا میںحاجی جبار اصفہانی آ گئے جو سامان لے کر طرابوزن کی طرف جا رہے تھے چنانچہ ان سے سواری کرایہ پر لے کر میںبھی ان کے ساتھ چل پڑا جب ہم پہلی منزل پر اترے تو حاجی صفر علی تبریزی کی ترغیب و تشویق سے تین اور آدمی وہاں سے ہمارے ساتھ آملے ان میں سے ایک تو حاجی ملا باقر تبریزی تھے‘ دوسرے حاجی سید حسین تبریزی کہ جوتا جرتھے اور تیسرے حاجی علی تھے۔ چانچہ ہم چاروں قافلے کے ہمراہ روانہ ہو کرارزنتہ الروم آئے اور وہاں سے طرابوزن کی طرف گامزن ہوئے۔ ان دونوں شہروںکے درمیان کی ایک منزل پر سالار قافلہ حاجی جبارجلودار ہمارے پاس آئے اور کہا کہ آگے کی منزل بہت پر خطر ہے لہذا آج ذرا جلدی تیار ہو جانا تاکہ آپ یہ منزل قافلے کے ہمراہ طے کر لیں‘ اس سے پہلے ہم چاروں رفقائ قافلے کے پیچھے کچھ فاصلے پر چلتے آ رہے تھے۔ حاجی جبار کے کہنے پر ہم آج بہت جلد تیار ہوئے اور طلوع فجر سے تقریباً تین گھنٹے قبل سفر شروع کر دیا‘ ابھی ہم تین ہی میل آگے بڑھے ہونگے کہ بادل گھر آئے اور برف باری بھی ہونے لگی‘ چنانچہ قافلے والوں میں سے ہر ایک نے تیزی سے چلنا شروع کر دیا۔ میں نے ان کے برابر چلنے کی بڑی کوشش کی لیکن میں ایسا نہ کر سکا اور وہ لوگ بہت دور نکل گئے اور میں ان سے بچھڑ گیا۔ میں گھوڑے سے اتر کر سرراہ ایک طرف بیٹھ گیا۔ جب کہ گبھراہٹ اور پریشانی مجھ پر چھائی ہوئی تھی‘ کیونکہ سفر خرچ کی چھ سو تومان کی رقم میرے پاس تھی میں نے سوچا کہ سورج نکلنے تک یہاں بیٹھا رہوں اور پھر پچھلی منزل پر جائوں جہاں سے آج ہم روانہ ہوئے تھے‘ میں چاہتا تھا کہ اس منزل سے چند محافظ ساتھ لے کر قافلے سے جاملوں گا۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ سامنے ایک باغ ہے اور اس کا مالی بیلچہ لیے درختوں پر گری ہوئی برف ہٹا رہا ہے تھوڑی دیر کے بعد وہ میرے قریب آ کر کھڑا ہو گیا اور فارسی زبان میں پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا میرے قافلے والے آگے نکل گئے ہیں اور میں ان سے جدا ہو کر رہ گیا ہوں۔ جبکہ میں ان راستوں سے واقف نہیں ہوں۔ اس بزرگ نے فرمایا کہ اتنے میں نماز تہجد ادا کرو تاکہ تمہیں راستہ معلوم ہو جائے میں نا فلہ شب ادا کرنے لگا اور وہ چلے گئے‘ جب میں نماز شب پڑھ چکا تو وہ دوبارہ میرے پاس آئے اور کہا کہ تم ابھی تک گئے نہیں۔ میں نے عرض کی کہ ابھی تک مجھے راستہ معلوم نہیں ہوا! تب فرمایا کہ زیارت جامعہ پڑھو‘ لیکن مجھے زیارت جامعہ یاد نہ تھی اور کئی مرتبہ زیارت کو آنے کے باوجود وہ اب بھی یاد نہیں ہے‘ لیکن اس وقت میں نے زیارت جامعہ زبانی پڑھنا شروع کر دی‘وہ کچھ دیر بعد پھر میرے پاس آئے اور فرمایا کہ تم ابھی تک گئے نہیں اور اس جگہ بیٹھے ہو؟ اس مرتبہ مجھے بے اختیار رونا آگیا اور عرض کی کہ ابھی تک مجھے راستے کا علم نہیںہوا‘ تب آپ نے فرمایا کہ زیارت عاشورا پڑھو اور مجھے یہ زیارت بھی یاد نہ تھی اور نہ ہی اب یاد ہے۔ تا ہم میں نے یہ زیارت زبانی پڑھنا شروع کر دی اور اس کے ساتھ صلوات، لعنت اور دعائے علقمہ بھی پڑھ ڈالی۔ آپ پھر وہاں آئے اور فرمایا کہ تم ابھی تک گئے نہیں ہو؟ تب میں نے عرض کی کہ میں سورج نکلنے تک یہیں رہوں گا! آپ نے فرمایا میں تمہیں قافلے تک پہنچا آتا ہوں تب آپ خچر پر سوار ہو کر بیلچہ کندھے پر رکھے ہوئے میرے قریب آگئے اور فرمایا میرے پیچھے سوار ہو جائو اور میں آپ کے پیچھے سوار ہو گیا اور اپنے گھوڑے کی لگام ہاتھ میں لے لی‘ میں نے اسے آگے چلانے کی بہت کوشش کی مگر وہ رکا رہا‘ اس پر آپ نے بیلچہ بائیں کندھے پر رکھا اور میرے گھوڑے کی لگام پکڑ کر اسے چلایا تو وہ چلنے لگا چلتے چلتے آپ نے اپنا ہاتھ میری ران پر رکھا اور فرمایا کہ تم نافلہ تہجد کیوں نہیں پڑھتے؟ پھر تین بار فرمایا نافلہ نافلہ نافلہ۔ پھر فرمایا کہ تم زیارت عاشورا کیوں نہیں پڑھتے اور تین بار فرمایا عاشورا‘ عاشورا‘ عاشورا۔ پھر فرمایا کہ زیارت جامعہ کیوں نہیں پڑھتے اور تین بار فرمایا جامعہ جامعہ جامعہ۔ آپ سفر طے کرنے میں خچر کو اس قدر تیز چلارہے تھے کہ تھوڑی ہی دیر میں گردن موڑ کر مجھ سے فرمایا کہ وہ دیکھو تمھارے قافلے والے نہر پر اترے ہوئے ہیں اور نماز فجر کیلئے وضو کر رہے ہیں۔ میں نے آپ کی سواری سے اتر کر اپنے گھوڑے پر سوار ہونا چاہا تو سوار نہ ہو سکا‘ آپ نے اپنی سواری سے اتر کر اپنا بیلچہ برف میں گاڑدیا اور مجھے گھوڑے پر سوار کرادیا۔ اسکے ساتھ ہی اس کا رخ قافلے کی طرف موڑدیا اس وقت میں دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ یہ بزرگ کون ہیں جو مجھ سے فارسی زبان میں گفتگو کرتے رہے جب کہ اس علاقہ میں ترکی زبان بولنے والوں کے علاوہ کوئی نہیں رہتا اور یہاں اکثر عیسائی لوگ رہائش پذیر ہیں۔ پھر یہ کہ انہوں نے اتنی جلدی قافلے تک پہنچا دیا ہے‘ میں نے انہیں خیالوں میں جو پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاںکوئی بھی نظر نہ آیا اور نہ ان کا کوئی نشان دکھائی دیا‘اسکے بعد میں قافلے والوں سے جا ملا۔
تیسری زیارت جامعہ
تحفت الزائرین میں علامہ مجلسیرحمهالله نے اس زیارت کو آٹھویں زیارت جامعہ شمار کیا اور فرمایا ہے کہ سید بن طائوسرحمهالله نے اس زیارت کو امام جعفر صادق - کے حوالے سے روز عرفہ کی دعائوں میں روایت کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسے ہر وقت اور ہرمقام پر اور خاص کر عرفہ کے دن پڑھے اور وہ زیارت یہ ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خِیَرَةَ ﷲ مِنْ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ پر سلام ہو اے خدا کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم سلام ہو آپ پر اے خلق خدا میں اس کے
خَلْقِهِ وَأَمِینَهُ عَلَی وَحْیِهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامَوْلایَ یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
برگزیدہ اور اس کی وحی کے امانتدار آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے مومنوں کے امیر آپ پر سلام ہو
یَا مَوْلایَ أَنْتَ حُجَّةُ ﷲ عَلَی خَلْقِهِ وَبابُ عِلْمِهِ وَوَصِیُّ نَبِیِّهِ وَالْخَلِیفَةُ مِنْ بَعْدِهِ فِی أُمَّتِهِ
اے میرے مولاعليهالسلام آپ خلق خدا پر اسکی حجت اسکے علم کا دروازہ اسکے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جانشین اور ان کے بعد ان کی امت میں ان کے خلیفہ ہیں
لَعَنَ ﷲ أُمَّةً غَصَبَتْکَ حَقَّکَ وَقَعَدَتْ مَقْعَدَکَ أَنَا بَرِیئٌ مِنْهُمْ وَمِنْ شِیعَتِهِمْ إلَیْکَ
خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکا حق چھینا اور آپکی جگہ پر حاکم بن بیٹھا میں آپکے سامنے ان سے اور انکے پیروکاروں سے لاتعلقی کا اظہار کرتا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَةُ الْبَتُولُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا زَیْنَ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ
ہوں سلام ہو آپعليهالسلام پر اے فاطمہ(س) کہ آپ بتول(س) ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ زنان جہان کی زینت ہیں آپ پر سلام ہو
یَا بِنْتَ رَسُولِ رَبِّ الْعالَمِینَ صَلَّی ﷲ عَلَیْکِ وَعَلَیْهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا أُمَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ
کہ آپ عالمین کے پرودگارکے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دختر ہیں آپ پر اور ان پر خدا رحمت کرے آپ پر سلام ہو کہ آپ حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کی والدہ ہیں
لَعَنَ ﷲ أُمَّةً غَصَبَتْکِ حَقَّکِ وَمَنَعَتْکِ مَا جَعَلَهُ ﷲ لَکِ حَلالاً أَنَا بَرِیئٌ إلَیْکِ
خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکا حق غصب کیا اور آپکو اس چیز سے محروم کیا جو خدا نے آپ کیلئے حلال کی میں آپکے سامنے
مِنْهُمْ وَمِنْ شِیعَتِهِمْ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ الزَّکِیَّ اَلسَّلَامُ
ان سے اور انکے پیروکاروں سے لا تعلقی کا اظہار کرتا ہوں سلام ہو آپعليهالسلام پر اے میرے آقا اے ابومحمد حسن کہ آپعليهالسلام پاک ہیں آپعليهالسلام پر
عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ لَعَنَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ وَبایَعَتْ فِی أَمْرِکَ وَشایَعَتْ أَنَا بَرِیئٌ
سلام ہو اے میرے مولاعليهالسلام خدا کی لعنت اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیاآپکے خلاف بیعت کی اور مدد گار بنے میں آپکے سامنے ان سے
إلَیْکَ مِنْهُمْ وَمِنْ شِیعَتِهِمْ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِﷲ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ
اور ان کے پیروکاروں سے دوری اختیار کرتا ہوں سلام ہوآپ پر اے میرے مولا اے ابو عبدﷲعليهالسلام حسینعليهالسلام بن علیعليهالسلام
صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی أَبِیکَ وَجَدِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ لَعَنَ ﷲ أُمَّةً
آپ پر آپکے بابا پر اور آپکے نانا محمد پر خدا کی رحمتیں ہوں خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر
اسْتَحَلَّتْ دَمَکَ وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ وَاسْتَباحَتْ حَرِیمَکَ وَلَعَنَ ﷲ أَشْیاعَهُمْ
جس نے آپکا خون حلال جانا خدا کی لعنت اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیا اور آپکے اہل حرم کو بے پردہ کیاخدا کی لعنت ہو انکے ساتھیوں پر
وَأَتْباعَهُمْ وَلَعَنَ ﷲ الْمُمَهِّدِینَ لَهُمْ بِالتَّمْکِینِ مِنْ قِتالِکُمْ أَنَا بَرِیئٌ إلَی ﷲ وَ إلَیْکَ مِنْهُمْ
اور پیروکاروں پر خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپکے قتل کی بساط قتل بچھائی میںخدا کے اور آپکے سامنے آپکے قاتلوں سے اظہار بیزاری کرتا ہوں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا مُحَمَّدٍ عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا
سلام ہو آپعليهالسلام پر اے میرے مولااے ابو محمدعليهالسلام علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے میرے مولاعليهالسلام اے ابو
جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یا مَوْلایَ یَا أَبا عَبْدِﷲ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ اَلسَّلَامُ
جعفرعليهالسلام محمد بن علیعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے میرے مولاعليهالسلام اے ابو عبداللہ جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام آپ پر
عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبَا الْحَسَنِ مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یا أَبَا الْحَسَنِ
سلام ہو اے میرے مولا اے ابوالحسن موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام سلام ہو آپ پر اے میرے مولا اے ابوالحسن
عَلِیَّ بْنَ مُوسَی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام آپ پر سلام ہو میرے مولا اے ابو جعفر محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام آپ پر سلام ہو
یَا مَوْلایَ یَا أَبَا الْحَسَنِ عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبا مُحَمَّدٍ الْحَسَنَ
اے میرے مولا اے ابو الحسن علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے ابو محمد حسنعليهالسلام
بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَبَا الْقاسِمِ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ صاحِبَ الزَّمانِ صَلَّی
بن علیعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے ابوالقاسم محمد بن الحسنعليهالسلام اے امام زمانہ آپعليهالسلام پر
ﷲ عَلَیْکَ وَعَلَی عِتْرَتِکَ الطَّاهِرَةِ الطَّیِّبَةِ یَا مَوالِیَّ کُونُوا شُفَعائِی فِی حَطِّ وِزْرِیٰ
اور آپعليهالسلام کی اولاد پر خدا رحمت کرے جو پاک شدہ ہیں پسندیدہ اے میرے سرداران میری شفاعت کریںکہ میرے گناہوں اور
وَخَطایایَ آمَنْتُ بِالله وَبِما أُنْزِلَ إلَیْکُمْ وَأَتَوالیٰ آخِرَکُمْ بِما
خطائوں کا بوجھ ختم ہو جائے ایمان رکھتا ہوں خدا پر اور اس پر جو کچھ آپعليهالسلام پر نازل ہو ادوست رکھتا ہوںآپعليهالسلام کے آخری کو جیسے
أَتَوالی أَوَّلَکُمْ وَبَرِئْتُ مِنَ الْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَاللاَّتِ وَالْعُزَّیٰ یَا مَوالِیَّ أَنَا
دوست رکھتا ہوں آپعليهالسلام کے اول کو ، میں بیزار ہوں بتوں سے شیطانوں سے اور بیزار ہوں لات و عزی سے اے میرے آئمہعليهالسلام میری
سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداکُمْ وَوَلِیٌّ
صلح ہے اس سے جو آپ سے صلح رکھے اور میری جنگ ہے اس سے جو آپ سے جنگ کرے میں دشمن ہوں آپکے دشمن کا اور دوست ہوں
لِمَنْ والاکُمْ إلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ وَلَعَنَ ﷲ ظالِمِیکُمْ وَغاصِبِیکُمْ وَلَعَنَ ﷲ أَشْیاعَهُمْ
آپکے دوست کا روز قیامت تک آپ پر ظلم کرنے والوں پر خدا لعنت کرے اور آپکا حق غصب کرنے والوں پر خدا کی لعنت ہو انکے ساتھیوں
وَأَتْباعَهُمْ وَأَهْلَ مَذْهَبِهِمْ وَأَبْرَأُ إلَی ﷲ وَ إلَیْکُمْ مِنْهُمْ
ان کے پیروکاروں اور ان کا مذہب رکھنے والوں پر بھی خدا کے سامنے اور آپ کے سامنے ان سے بیزاری کرتا ہوں۔
چوتھی اور پانچویں زیارت جامعہ
چوتھی زیارت جامعہ
یہ زیارت امین اللہ کے نام سے معروف ہے اور اس کا آغاز یوںہوتا ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أمِینَ ﷲ فِی أرْضِهِ وَحُجَّتَهُ عَلَی عِبادِهِ أشْهَدُ أنَّکَ جاهَدْتَ فِی ﷲ ..الاخ
سلام ہو آپعليهالسلام پر کہ آپعليهالسلام خدا کی زمین میں اسکے امانتدار اور اسکے بندوں پر اسکی حجت ہیں میں گواہ ہوں کہ آپ نے راہ خدا میں جہاد کیا
جیسا کہ زیارت امیر المومنین- میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم نے اس زیارت کو امیر المومنین- کی زیارت دوم کے طور پر نقل کیا ہے۔
پانچویں زیارت جامعہ
یہ وہی زیارت ہے جو اعمال رجب میں نقل ہو چکی ہے اس زیارت سمیت اس کتاب میںکل پانچ زیارتیں ہیںجو انشائ ﷲ پڑھنے والوں کیلئے کافی ہوں گی اس زیارت کی ابتدا اسطرح ہے:
اَلْحَمْدُ ﷲِ الَّذِیْ اَشْهَدَنَا مَشْهَدَ اَوْلِیَآئِهٰ فِیْ رَجَبْ
حمد ہے خدا کیلئے جس نے ماہ رجب میں ہمیںاپنے اولیائ کی زیارت گاہ پر پہنچایا۔
دوسرا مقام
دعا بعد از زیارت
یہ وہ دعا ہے جو ہر امامعليهالسلام کی زیارت کے بعد پڑھی جاتی ہے ‘ سید بن طائوسرحمهالله فرماتے ہیں کہ تمام ائمہعليهالسلام کی زیارت کے بعد اس دعا کا پڑھنا مستحب ہے:
اَللّهُمَّ إنْ کانَتْ ذُنُوبِی قَدْ أَخْلَقَتْ وَجْهِی عِنْدَکَ وَحَجَبَتْ دُعائِی عَنْکَ وَحالَتْ
اے معبود اگر میرے گناہوں نے مجھے تیرے سامنے رسوا کر دیا میری دعا کو تیرے حضور جانے سے روک دیا ہے اور وہ میرے اور تیرے درمیان
بَیْنِی وَبَیْنَکَ فأَسْأَلُکَ أَنْ تُقْبِلَ عَلَیَّ بِوَجْهِکَ الْکَرِیم ِوَتَنْشُرَ عَلَیَّ رَحْمَتَکَ وَتُنَزِّلَ
رکاوٹ بن گئے ہیں تو بھی سوال کرتا ہوں کہ تو اپنی ذات کریم کے صدقے میری طرف توجہ کرے مجھ پر اپنی رحمت کا سایہ ڈال دے
عَلَیَّ بَرَکاتِکَ وَ إنْ کانَتْ قَدْ مَنَعَتْ أَنْ تَرْفَعَ لِی إلَیْکَ صَوْتاً أَوْ تَغْفِرَ لِی ذَنْباً أَوْ
اور مجھ پر برکتیں نازل کر اگرچہ وہ گناہ رکاوٹ ہیں اس سے کہ میری آواز تیری بارگاہ میں پہنچے یا تو میرے گناہ بخشے یا تو میری
تَتَجاوَزَ عَنْ خَطِیئَةٍ مُهْلِکَةٍ فَهاأَنَا ذَا مُسْتَجِیرٌ بِکَرَمِ وَجْهِکَ وَعِزِّ جَلالِکَ مُتَوَسِّلٌ
خطائیں معاف کرے جو تباہ کرنے والی ہیں پس میں پناہ لیتا ہوں تیری ذات کریم اور تیری عزت و جلال کی تجھ سے تعلق بناتاہوں
إلَیْکَ مُتَقَرِّبٌ إلَیْکَ بِأَحَبِّ خَلْقِکَ إلَیْکَ وَأَکْرَمِهِمْ عَلَیْکَ وَأَوْلاهُمْ بِکَ
تیرے قریب ہوتا ہوں ان کے ذریعے جو مخلوق میں تیرے محبوب ہیں تیرے ہاں سب سے معزز ہیں تیرے نزدیک سب سے
وَأَطْوَعِهِمْ لَکَ وَأَعْظَمِهِمْ مَنْزِلَةً وَمَکاناً عِنْدَکَ مُحَمَّدٍ وَبِعِتْرَتِهِ
بہتر ہیں سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں وہ شان میں سب سے بلند اورتیرے ہاں عزت والے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور بذریعہ ان کی پاک اولادعليهالسلام
الطَّاهِرِینَ آلاَءِمَّةِ الْهُداةِ الْمَهْدِیِّینَ الَّذِینَ فَرَضْتَ عَلَی خَلْقِکَ طاعَتَهُمْ وَأَمَرْتَ
کے جو امامعليهالسلام ہیں ہدایت دینے والے ہدایت یافتہ کہ جن کی اطاعت تو نے اپنے بندوں پر واجب کی ہے ان سے محبت
بِمَوَدَّتِهِمْ وَجَعَلْتَهُمْ وُلاةَ الْاََمْرِ مِنْ بَعْدِ رَسُولِکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ یَا مُذِلَّ
رکھنے کا حکم دیا اور انہیں اپنے رسول کے بعد ولایت و حکومت دی ہے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر خدا رحمت کرے اے ہر دشمنی
کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ وَیَا مُعِزَّ الْمُؤْمِنِینَ بَلَغَ مَجْهُودِی فَهَبْ لِی نَفْسِیَ السَّاعَةَ
کرنے والے سرکش کو ذلیل کرنے والے اے مومنوںکو عزت دینے والے میری ہمت تمام ہوگئی ہے پس اسی گھڑی مجھے معافی دے
وَرَحْمَةً مِنْکَ تَمُنُّ بِها عَلَیَّ یا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور مجھ پر رحمت فرما اور مجھ پر احسان کر اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اب حضرت کی ضریح مبارک پر بوسہ دے اور باری باری اپنے دونوں رخسار اس پر رکھے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ إنَّ هذَا مَشْهَدٌ لاَ یَرْجُو مَنْ فاتَتْهُ فِیهِ رَحْمَتُکَ أَنْ یَنالَها فِی غَیْرِهِ وَلاَ أَحَدٌ أَشْقیٰ
اے معبود بے شک یہ وہ بارگاہ ہے کہ جو یہاں تیری رحمت حاصل نہ کر سکا کہیں حاصل نہ کر پائے گا اور اس سے بڑا بد بخت کوئی نہیں
مِنِ امْرِیًَ قَصَدَهُ مؤَمِّلاً فَآبَ عَنْهُ خائِباً اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ الْاِیَابِ وَخَیْبَةِ
جو یہاں امید لے کر آیا تو ناکام پلٹ گیا اے معبود یقیناً میں تیری پناہ لیتا ہوں بری طرح پلٹنے نا امیدی کے ساتھ
الْمُنْقَلَبِ وَالْمُناقَشَةِ عِنْدَ الْحِسابِ وَحاشَاکَ یَارَبِّ أَنْ تَقْرِنَ طَاعَةَ وَلِیِّکَ بِطاعَتِکَ
لوٹ کر جانے سے اور حساب میں سختی سے اور اے پروردگار ایسا نہ ہو کہ تو اپنے ولی کی اطاعت اپنی اطاعت کے ساتھ
وَمُوالاتَهُ بِمُوالاتِکَ وَمَعْصِیَتَهُ بِمَعْصِیَتِکَ ثُمَّ تُؤْیِسَ زائِرَهُ وَالْمُتَحَمِّلَ مِنْ بُعْدِ
انکی دوستی اپنی دوستی کے ساتھ اور ان کی نا فرمانی اپنی نا فرمانی کے ساتھ لازم کر دے پھر ان کے زائر اور دور کے شہروںسے بہ مشکل
الْبِلادِ إلَی قَبْرِهِ وَعِزَّتِکَ یَارَبَّ لاَ یَنْعَقِدُ عَلَی ذلِکَ ضَمِیرِی إذْ کانَتِ
ان کی قبر پر آنے والے کو مایوس کرے اے پروردگار تیری عزت کی قسم کہ میرا دل اس بات پر یقین نہیں رکھتاکیونکہ دل تو تیری
الْقُلُوبُ إلَیْکَ بِالْجَمِیلِ تُشِیرُ
مہربانی اور اچھائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اس کے بعد نماز زیارت ادا کرے اور جب وہاں سے واپس ہونا چاہے تو اس طرح و داع کرے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَهْلَ بَیْتِ النُّبُوَّةِ وَمَعْدِنَ الرِّسالَةِ سَلامَ مُوَدِّعٍ لاَ سَئِمٍ وَلاَ قالٍ
سلام ہو آپعليهالسلام پر اے خانوادئہ نبوت اور رسالت کے سر چشمہ سلام ہو وداع کرنے والے کا جو نہ دل تنگ ہے اور نہ جھگڑالو آپعليهالسلام پر
وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
رحمت خدا ہو اور اس کی برکات ہوں۔
مذکورہ بالا دعا شیخ مفیدرحمهالله نے بھی نقل کی ہے لیکن’’ بِالْجَمِیْلِ تُشِیْرُ‘‘کے بعد یہ بھی تحریر فرمایا ہے:
یَا وَلِیَّ ﷲ إنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ ﷲ عَزَّوَجَلَّ ذُنُوباً لاَ یَأْتِی عَلَیْها إلاَّرِضاکَ فَبِحَقِّ
اے ولی خدا یقینا میرے اور خدائے عزوجل کے درمیان گناہ حائل ہیں جو آپکی مرضی کے بغیر معاف نہیں ہوتے پس اس حق کا
مَنِ ائْتَمَنَکَ عَلَی سِرِّهِ وَاسْتَرْعاکَ أَمْرَ خَلْقِهِ وَقَرَنَ طاعَتَکَ بِطاعَتِهِ وَمُوالاتَکَ
واسطہ جس نے آپکو اسکا راز دار بنایا اپنی مخلوق کا معاملہ آپکے سپرد کیا آپکی اطاعت اپنی اطاعت کیساتھ اور آپعليهالسلام کی دوستی اپنی دوستی
بِمُوالاتِهِ تَوَلَّ صَلاحَ حالِی مَعَ ﷲ عَزَّ وَجَلَّ وَاجْعَلْ حَظِّی مِنْ زِیارَتِکَ تَخْلِیطِی
کیساتھ رکھی خدائے عزوجل کے ساتھ ہو کر میری بہتری کے ذمہ دار بنیںاپنی زیارت میں میرا حصہ قرار دیں اور مجھے اپنے مخلص
بِخالِصِی زُوَّارِکَ الَّذِینَ تَسْأَلُ ﷲ عَزَّوَجَلَّ فِی عِتْقِ رِقابِهِمْ وَتَرْغَبُ إلَیْهِ فِی حُسْنِ
زائرین میں شامل کریں کہ جنکو جہنم سے چھٹکارا دلانے کیلئے آپعليهالسلام نے خدائے عزوجل سے سوال کیا اور آپعليهالسلام انکو زیارت کا بہترین
ثَوابِهِمْ وَهَاأَنَا الْیَوْمَ بِقَبْرِکَ لائِذٌ وَبِحُسْنِ دِفاعِکَ عَنِّی عائِذٌ فَتَلافَنِی
اجر دلانے کے خواہاں ہیں اور یہ میںہوں جو آج آپکی قبر پر پناہ لیے ہوں اور آپکی طرف سے اپنے بچائو کی امید رکھتا ہوں پس مجھے بچائیں
یَا مَوْلایَ وَأَدْرِکْنِی وَاسْأَلِ ﷲ عَزَّوَجَلَّ فِی أَمْرِی فَ إنَّ لَکَ عِنْدَ ﷲ مَقاماً کَرِیماً وَجاهاً
اے میرے مولا او مدد کو پہنچیںمیرے لیے خدائے عزوجل سے دعا خیر فرمائیں کیونکہ آپعليهالسلام خدا کے ہاں بہترین مقام اور بلند تر مرتبہ
عَظِیماً صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً
رکھتے ہیں آپ پر خدا درود بھیجے اور سلام بہت بہت سلام۔
مولف کہتے ہیں: جب کوئی زائر مقامات مقدسہ میں دعا مانگے یا کوئی شخص کسی بھی مقام پر طلب خیر کرے تو سب سے پہلے اسے امام العصرعليهالسلام کی حفظ و امان کیلئے دعا کرنا چاہئے یہ ایک بہت ہی اہم معاملہ ہے اور اسکے بہت ہی فوائد ہیں جسکی تشریح اس مقام پر نہیں کی جاسکتی‘ لیکن شیخ مرحوم نے نجم الثاقب کے باب دہم میں اس موضوع کی تفصیل بیان کی ہے اور اس کیلئے چند دعائیں بھی تحریر فرمائی ہیں۔ پس جو شخص یہ عمل انجام دینا چاہے وہ مذکورہ کتاب کی طرف رجوع کرے اس سلسلے میں ایک مختصر دعا وہ ہے جو رمضان المبارک کی تیئیسویں رات کے اعمال میں نقل کی گئی ہے اور ہم نے بھی زائر کے آداب میں ایک دعا تحریر کی ہے جسے تمام مشاہد میں پڑھا جا سکتا ہے۔
تیسرا مقام
چہاردہ معصومین پر صلوات
ائمہ طاہرین پر صلوات کے ضمن میں شیخ طوسیرحمهالله نے مصباح میں اعمال روز جمعہ میں فرمایا ہے کہ ہمارے رواۃ نے ابوالمُفضل شیبانی سے ایک خبر نقل کی ہے وہ کہتے ہیں: مجھے ابو محمد عبداللہ بن محمد عابد بدالیہ نے بتایا کہ میں ۲۵۵ھ میں اپنے مولا امام حسن عسکری - سے سامرہ میںان کے مقام پر حاضر ہو کر یہ سوال کیا کہ آپ مجھے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اوصیائ ائمہ معصومین میں سے ہر ایک کیلئے صلوات لکھوائیں میں قلم، دوات اور کاغذ ہمراہ لے کر گیا آپ نے کسی کتاب سے دیکھے بغیر مجھے یہ صلوات زبانی لکھوائی:
حضرت رسول اللہ پر صلوات
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَما حَمَلَ وَحْیَکَ وَبَلَّغَ رِسالاتِکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَما
اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج کہ انہوں نے تیری وحی کو سنبھالا اور تیرے پیغام پہنچائے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج
أَحَلَّ حَلالَکَ وَحَرَّمَ حَرَامَکَ وَعَلَّمَ کِتابَکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَما أَقامَ الصَّلاةَ
کہ انہوں نے تیرے حلال کو حلال اور حرام کو حرام بتایا اور تیری کتاب کی تعلیم دی خدایا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج کہ انہوں نے نماز قائم کی
وَآتَیٰ الزَّکَاةَ وَدَعا إلی دِینِکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَمَا صَدَّقَ بِوَعْدِکَ وَأَشْفَقَ مِنْ
اور زکوۃ دیتے رہے اور تیرے دین کی طرف دعوت دی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج کہانہوں نے تیرے وعدے کی تصدیق کی اور تیری
وَعِیدِکَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَمَا غَفَرْتَ بِهِ الذُّنُوبَ وَسَتَرْتَ بِهِ الْعُیُوبَ وَفَرَّجْتَ بِهِ
دھمکی سے لوگوں کو ڈرایا خدایا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج کہ جنکے ذریعے تو نے لوگوں کے گناہ معاف کیے انکے عیبوں کو چھپایا اور انکے ذریعے
الْکُرُوبَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَمَا دَفَعْتَ بِهِ الشَّقائَ وَکَشَفْتَ بِهِ الْغَمَّائَ وَأَجَبْتَ بِهِ
لوگوں کی مشکلات دور کیں خدایا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج کہ تو نے انکے ذریعے بد بختی دور کی انکے ذریعے رنج دور کیے انکے ذریعے دعائیں
الدُّعائَ وَنَجَّیْتَ بِهِ مِنَ الْبَلائِ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَما رَحِمْتَ بِهِ الْعِبادَ وَأَحْیَیْتَ بِهِ الْبِلادَ
قبول کیں اور انکے وسیلے مصیبتوں سے نجات دی خدایا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج کہ تو نے ان کے ذریعے بندوں پر رحم کیا اور شہروں کو آباد کیا
وَقَصَمْتَ بِهِ الْجَبابِرَةَ وَأَهْلَکْتَ بِهِ الْفَراعِنَةَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ کَما أَضْعَفْتَ بِهِ الْاََمْوالَ
اور انکے ذریعے سرکشوں کی کمر توڑی اور انکے ذریعے مغرور بادشاہوں کو قتل کیاخدا یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود نازل فرما تو نے انکے ذریعے اموال زیادہ کیے
وَأَحْرَزْتَ بِهِ مِنَ الْاََهْوَالِ وَکَسَرْتَ بِهِ الْاََصْنامَ وَرَحِمْتَ بِهِ الْاََنامَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
انکے ذریعے خوف وہراس سے محفوظ کیا انکے ہاتھوں بتوں کو توڑا انکے وسیلے سے لوگوں پر رحم فرمایا خدایا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج
کَمَا بَعَثْتَهُ بِخَیْرِ الْاََدْیانِ وَأَعْزَزْتَ بِهِ الْاِیمانَ وَتَبَّرْتَ بِهِ الْاََوْثانَ وَعَظَّمْتَ بِهِ الْبَیْتَ
کہ تو نے انکو بہترین دین کیساتھ بھیجا ان کے ذریعے ایمان کو قوت دی ان کے ہاتھوں بتوں کو تباہ کیا اور ان کے ذریعے بیت الحرام
الْحَرامَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ الطَّاهِرِینَ الْاََخْیارِ وَسَلِّمْ تَسْلِیماً
کو بزرگی دی خدایا حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج اور ان کے اہل بیتعليهالسلام پر جو پاک ہیں پسندشدہ اور سلام بھیج بہت بہت سلام ۔
امیرالمومنین- پر صلوات
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ أَخِی نَبِیِّکَ وَوَلِیِّهِ وَصَفِیِّهِ وَوَزِیرِهِ
اے معبود! مومنوں کے امیر علیعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام پر درود بھیج کہ جو تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے برادر ان کے وارث ان کے پسندیدہ ان کے معاون
وَمُسْتَوْدَعِ عِلْمِهِ وَمَوْضِعِ سِرِّهِ وَبابِ حِکْمَتِهِ وَالنَّاطِقِ بِحُجَّتِهِ وَالدَّاعِی إلَی شَرِیعَتِهِ
انکے علم کے امانتدار ان کے راز کے امین انکے حکمت کے مظہر انکی حجت بیان کرنے والے، انکی شریعت کیطرف دعوت دینے والے
وَخَلِیفَتِهِ فِی أُمَّتِهِ وَمُفَرِّجِ الْکُرَبِ عَنْ وَجْهِهِ قاصِمِ الْکَفَرَةِ وَمُرْغِمِ الْفَجَرَةِ
انکی امت میں انکے خلیفہ ان کی ذات سے مشکلوں کو دور کرنے والے کافروں کی قوت توڑنے والے اور فسادیوں کو زیر کرنے والے
الَّذِی جَعَلْتَهُ مِنْ نَبِیِّکَ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَی اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ والاهُ
کہ جن کو تو نے اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ وہ مقام دیا جو ہارونعليهالسلام کا موسیعليهالسلام کے ساتھ تھا اے معبود! اسے دوست رکھ جو ان کو دوست رکھے
وَعادِ مَنْ عاداهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ وَالْعَنْ مَنْ نَصَبَ لَهُ مِنَ
دشمن رکھے اس کو جو ان کا دشمن ہو مدد دے اس کو جوان کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو ان کو چھوڑ جائے اور اس پر لعنت بھیج جس
الْاَوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَصَلِّ عَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ
نے ان کی مخالفت کی اولین وآخرین میں سے اور ان پر رحمت فرما وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے نبیوں کے جانشینوں میں سے
أَوْصِیائِ أَنْبِیائِکَ یَارَبَّ الْعالَمِینَ
کسی پر فرمائی ہو اے جہانوں کے پرودگار۔
حضرت فاطمہ زہرا = پر صلوات
اَللّهُمَّ صَلِّ عَلَی الصِّدِّیقَةِ فاطِمَةَ الزَّکِیَّةِ حَبِیبَةِ حَبِیبِکَ وَنَبِیِّکَ وَأُمِّ أَحِبَّائِکَ
اے معبود درود بھیج صدیقہ کائنات سیدہ فاطمہ(س) پر جو پاکیزہ ہیں تیرے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور تیرے محبوب کی پیاری بیٹی ہیںاور تیرے محبوب
وَأَصْفِیائِکَ الَّتِی انْتَجَبْتَها وَفَضَّلْتَها وَاخْتَرْتَها عَلَی نِسائِ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ
اور برگزیدوں کی والدہ ہیں وہی بی بی(س) جہانوں کی عورتوں میں سے جنکو تو نے چن لیا عظمت دی اور پسندیدہ بنایا اے معبود
کُنِ الطَّالِبَ لَها مِمَّنْ ظَلَمَها وَاسْتَخَفَّ بِحَقِّها وَکُنِ الثَّائِرَ اَللّٰهُمَّ بِدَمِ أَوْلادِها
جنہوں نے ان پر ظلم ڈھایا ان سے بدلہ لے اور انکے حق کی پرواہ نہ کی ان سے بدلہ لے اور اے معبود انکی اولاد کے خون کا انتقام لے
اَللّٰهُمَّ وَکَما جَعَلْتَها أُمَّ أَئِمَّةِ الْهُدیٰ وَحَلِیلَةَ صاحِبِ الِلَّوائِ وَالْکَرِیمَةَ عِنْدَ
اور اے معبود جیسا کہ تو نے انکوبنایا ہدایت والے اماموں کی ماں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے علمبردار کی زوجہ محترمہ اور عالم بالاعرش و کرسی کے مقام میں
الْمَلاَ الْاََعْلی فَصَلِّ عَلَیْها وَعَلَی أُمِّها صَلاةً تُکْرِمُ بِها وَجْهَ مُحَمَّدٍ وَتُقِرُّ بِها أَعْیُنَ
عزت والی قرار دیا پس ان پر اور انکی والدہ(س) پر رحمت فرما جس سے تیرے نبی محمد کا چہرہ مبارک چمک اٹھے اور ان بی بی(س)
ذُرِّیَّتِها وَأَبْلِغْهُمْ عَنِّی فِی هذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلَ التَّحِیَّةِ وَالسَّلامِ
کی اولاد کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور پہنچا ان سب کو اس وقت میرا بہترین درود اور آداب و سلام۔
امام حسن و حسین پر صلوات
اَللّهُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ عَبْدَیْکَ وَوَلِیَّیْکَ وَابْنَیْ رَسُولِکَ وَسِبْطَیِ الرَّحْمَةِ
اے معبود حسنعليهالسلام اور حسینعليهالسلام پر درود بھیج جو دونوں تیرے بندے محبوب تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیٹے رحمت والے نواسے
وَسَیِّدَیْ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَوْلادِ النَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ
اور جوانان جنت کے سید و سردار ہیں ان پر بہترین رحمت فرما جیسی رحمت تو نے نبیوں اور رسولوں کی اولاد میں سے کسی پر بھیجی ہو
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ سَیِّدِ النَّبِیِّینَ وَوَصِیِّ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ
اے معبود امام حسنعليهالسلام پر درود بھیج جو نبیوں کے سردار کے فرزند ہیں اور مومنوں کے امیرعليهالسلام کے جانشین ہیں آپ پر سلام ہو اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ أَشْهَدُ أَنَّکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ أَمِینُ ﷲ
کے فرزند آپ پر سلام ہو اے اوصیائ کے سردار کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ مومنوں کے امیر کے فرزند خدا کے امانتدار اور
وَابْنُ أَمِینِهِ عِشْتَ مَظْلُوماً وَمَضَیْتَ شَهِیداً وَأَشْهَدُ أَنَّکَ الْاِمامُ الزَّکِیُّ الْهادِی
اسکے امین کے فرزند ہیں آپ دنیا میں مظلوم جیے اور شہید ہو کر گزرے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امامعليهالسلام ہیں پاک شدہ ہدایت دینے
الْمَهْدِیُّ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیْهِ وَبَلِّغْ رُوحَهُ وَجَسَدَهُ عَنِّی فِی هذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلَ التَّحِیَّةِ
والے ہدایت یافتہ اے معبود ان پر رحمت نازل کر اور انکی روح اور انکے جسم کو میری طرف سے اس لمحے میں بہترین درود و سلام اور
وَالسَّلامِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ الْمَظْلُومِ الشَّهِیدِ قَتِیلِ الْکَفَرَةِ
آداب پہنچا دے اے معبود امام حسینعليهالسلام فرزند علیعليهالسلام پر درود بھیج جو مظلومیت کی حالت میں شہید ہوئے بے دینوں نے انہیں قتل کیا
وَطَرِیحِ الْفَجَرَةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ
اور بدکاروں نے ساتھ چھوڑدیا آپ پر سلام ہو اے ابو عبدﷲعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرزند آپ پر
عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ أَشْهَدُ مُوقِناً أَنَّکَ أَمِینُ ﷲ وَابْنُ أَمِینِهِ قُتِلْتَ
سلام ہو اے مومنوں کے امیرعليهالسلام کے فرزند میں گواہی دیتا ہوں یقین کیساتھ کہ آپ خدا کے امانتدار اور اسکے امین کے فرزند ہیںآپ
مَظْلُوماً وَمَضَیْتَ شَهِیداً وَأَشْهَدُ أَنَّ ﷲ تَعالَی الطَّالِبُ بِثارِکَ وَمُنْجِزٌ مَا وَعَدَکَ مِنَ
مظلومی میں قتل ہوئے اور شہادت پا کر گزرے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ آپکے خون کا بدلہ لے گا اور وہ آپ سے کیا
النَّصْرِ وَالتَّأْیِیدِ فِی هَلاکِ عَدُوِّکَ وَ إظْهارِ دَعْوَتِکَ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ
ہوا وعدہ پورا کرتے ہوئے آپکے دشمن کی تباہی اور آپکی دعوت کے اظہار کیلئے مدد اور قوت دے گامیں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے
وَفَیْتَ بِعَهْدِ ﷲ وَجاهَدْتَ فِی سَبِیلِ ﷲ وَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً حَتَّی أَتاکَ الْیَقِینُ لَعَنَ
خدا سے کیا ہوا پیمان پورا کیا خدا کی راہ میں جہاد کیا اور خدا کی پر خلوص عبادت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے خد اکی
ﷲ أُمَّةً قَتَلَتْکَ وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً خَذَلَتْکَ وَلَعَنَ ﷲ أُمَّةً أَلَّبَتْ عَلَیْکَ
لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو قتل کیا خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپکا ساتھ نہ دیا خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے
وَأَبْرَأُ إلَی ﷲ تَعالی مِمَّنْ أَکْذَبَکَ وَاسْتَخَفَّ بِحَقِّکَ وَاسْتَحَلَّ دَمَکَ بِأَبِی أَنْتَ
آپ پر گھیرا ڈالا اور میں خدا کے سامنے بیزار ہوں اس سے جس نے آپکو جھٹلایا آپکے حق کی پرواہ نہ کی اور آپکا خون بہایا میرے ماں
وَأُمِّی یَاأَبا عَبْدِﷲ لَعَنَ ﷲ قاتِلَکَ وَلَعَنَ ﷲ خاذِلَکَ وَلَعَنَ ﷲ
باپ آپ پر قربان اے ابوعبد ﷲعليهالسلام خدا لعنت کرے آپکے قاتل پر خدا لعنت کرے آپ کو چھوڑ جانے والے پر اور خدا لعنت کرے
مَنْ سَمِعَ وَاعِیَتَکَ فَلَمْ یُجِبْکَ وَلَمْ یَنْصُرْکَ وَلَعَنَ ﷲ مَنْ سَبَیٰ نِسائَکَ أَنَا إلَی ﷲ
اس پر جس نے آپکی پکار سنی تو جواب نہ دیا اور آپکی مدد نہ کی اور خدا لعنت کرے جس نے آپ کی عورتوں کو اسیر کیا میں خدا کے
مِنْهُمْ بَرِیئٌ وَمِمَّنْ والاهُمْ وَمالأََهُمْ وَأَعانَهُمْ عَلَیْهِ وَأَشْهَدُ أَنَّکَ وَآلاَءِمَّةَ مِنْ وُلْدِکَ
سامنے ان سے بیزار ہوں اور ان سے بھی جو انکے دوست انکے ساتھی اور انکے مددگار ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپعليهالسلام اور آپکی اولاد
کَلِمَةُ التَّقْوَیٰ وَبابُ الْهُدَیٰ وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقیٰ وَالْحُجَّةُ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا وَأَشْهَدُ
میں سے ائمہعليهالسلام پرہیز گاری کی علامت ہدایت کا ذریعہ پائیدار سلسلہ اور دنیا والوں پر خد اکی حجت ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں
أَنِّی بِکُمْ مُؤْمِنٌوَبِمَنْزِلَتِکُمْ مُوقِنٌ وَلَکُمْ تابِعٌ بِذاتِ نَفْسِی وَشَرایِعِ دِینِی وَخَواتِیمِ عَمَلِی
کہ میں آپ کا معتقد ہوں اور آپ کے مرتبے کا یقین رکھتا ہوں میں دل سے آپ کا تابع ہوں میں احکام دین اور عمل کی پاداش
وَمُنْقَلَبِی فِی دُنْیایَ وَآخِرَتِی
اور بازگشت میں آپعليهالسلام کاتابع ہوںدنیا و آخرت میں۔
صلوات امام سجاد وامام باقر
امام زین العابدین - پر صلوات
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ سَیِّدِ الْعابِدِینَ الَّذِی اسْتَخْلَصْتَهُ لِنَفْسِکَ وَجَعَلْتَ
اے معبود امام علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام پر درود بھیج جو عبادت گزاروں کے سردار ہیںجن کو تو نے اپنے لیے مخصوص کیا اور ان کی اولاد میں تو نے
مِنْهُ أَئِمَّةَ الْهُدَی الَّذِینَ یَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ یَعْدِلُونَ اخْتَرْتَهُ لِنَفْسِکَ وَطَهَّرْتَهُ مِنَ الرِّجْسِ
ائمہ ہدایت قرار دئیے جو حق کیساتھ ہدایت کرتے اور عدل سے فیصلے کرتے ہیں تو نے انکو اپنے لیے چنا ان کو آلودگی سے پاک رکھا
وَاصْطَفَیْتَهُ وَجَعَلْتَهُ هادِیاً مَهْدِیّاً اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ ذُرِّیَّةِ
ان کو پسند کیا اور ان کو ہدایت یافتہ رہبر بنایا پس اے معبود امامعليهالسلام چہارم پر رحمت فرما وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے نبیوں کی اولاد
أَنْبِیائِکَ حَتَّی تَبْلُغَ بِهِ مَا تَقَرُّ بِهِ عَیْنُهُ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ إنَّکَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ
میں سے کسی پر کی ہو حتی کہ انکو اس مقام پر پہنچا جس سے انکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں دنیا اور آخرت میںبے شک تو زبردست ہے حکمت والا۔
امام محمد باقر - پر صلوات
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ باقِرِ الْعِلْمِ وَ إمامِ الْهُدیٰ وَقائِدِ أَهْلِ التَّقْویٰ وَالْمُنْتَجَبِ
اے معبود محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام پر درود بھیج جو علم پھیلانے والے امامعليهالسلام ہدایت پرہیز گاروں کے پیشوا اور تیرے بندوںمیں سے
مِنْ عِبادِکَ اَللّٰهُمَّ وَکَما جَعَلْتَهُ عَلَماً لِعِبادِکَ وَمَناراً لِبِلادِکَ وَمُسْتَوْدَعاً لِحِکْمَتِکَ
برگزیدہ ہیں اے معبود جیسے تو نے قرار دیا انکو اپنے بندوں کے لیے نشان ہدایت اپنے شہروں کے لیے روشنی اپنی حکمت کا امین
وَمُتَرْجِماً لِوَحْیِکَ وَأَمَرْتَ بِطاعَتِهِ وَحَذَّرْتَ مِنْ مَعْصِیَتِهِ فَصَلِّ عَلَیْهِ یَارَبِّ أَفْضَلَ مَا
اور اپنی وحی کا ترجمان بنایانیز ان کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کی نافرمانی سے منع کیا ہے پس ان پر رحمت فرما اے پروردگار وہ بہترین
صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ ذُرِّیَّةِ أَنْبِیائِکَ وَأَصْفِیائِکَ وَرُسُلِکَ وَأُمَنائِکَ یَارَبَّ الْعالَمِینَ
رحمت جو تونے اپنے نبیوں اپنے بر گزیدوں اپنے رسولوں اور اپنے امانتداروں میں سے کسی کی اولادپر کی ہے اے جہانوں کے پروردگار۔
صلوات امام صادق وامام کاظم
امام جعفر صادق - پر صلوات
اَللّهُمَّ صَلِّ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ خازِنِ الْعِلْمِ الدَّاعِی إلَیْکَ بِالْحَقِّ النُّورِ
اے معبود جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام پر درود بھیج جو صادقعليهالسلام ہیں وہ علم کے خزینہ دار حق کے ساتھ تیری طرف بلانے والے اور نور
الْمُبِینِ اَللّٰهُمَّ وَکَما جَعَلْتَهُ مَعْدِنَ کَلامِکَ وَوَحْیِکَ وَخازِنَ عِلْمِکَ وَلِسانَ تَوْحِیدِکَ
آشکارا ہیں اے معبود جیسے تو نے اپنے کلام اور وحی کا سنبھالنے والا قرار دیا اپنے علم کا خزینہ دار اپنی توحید کا ترجمان
وَوَلِیَّ أَمْرِکَ وَمُسْتَحْفِظَ دِینِکَ فَصَلِّ عَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَصْفِیائِکَ
اپنے حکم کا نگہدار اور اپنے دین کا رکھوالا بنایا ہے اسی طرح ان پر رحمت فرما وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے برگزیدوں
وَحُجَجِکَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
اور اپنی حجتوں میں سے کسی پر کی ہے بے شک تو تعریف والا ہے بزرگوار۔
امام موسیٰ کاظم - پر صلوات
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْاََمِینِ الْمُؤْتَمَنِ مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ الْبَرِّ الْوَفِیِّ الطَّاهِرِ الزَّکِیِّ النُّورِ الْمُبِینِ
اے معبود امانت دار اور امانت دار بنائے گئے موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام پر درود بھیج جو نیک وفا دار پاک شدہ پاکباز نور درخشاں
الْمُجْتَهِدِ الْمُحْتَسِبِ الصَّابِرِ عَلَی الْاََذیٰ فِیکَ اَللّٰهُمَّ وَکَما بَلَّغَ عَنْ آبائِهِ مَا اسْتُودِعَ
ساعی و کوشاں خیر چاہنے والے تیرے لیے تکلیف پر صبر کرنے والے ہیں اے معبود جیسے انہوں نے اپنے بزرگان کیطرف سے سپرد
مِنْ أَمْرِکَ وَنَهْیِکَ وَحَمَلَ عَلَی الْمَحَجَّةِ وَکابَدَ أَهْلَ الْعِزَّةِ وَالشِّدَّةِ فِیما کانَ یَلْقیٰ
شدہ تیرے امر و نہی کو بیان کیالوگوں کو سیدھی راہ پر ڈالا اور سامنا کیا اہل کبر و غرور کے سخت برتاؤ کا ان باتوں میںجو آپ کی قوم کے
مِنْ جُهَّالِ قَوْمِهِ رَبِّ فَصَلِّ عَلَیْهِ أَفْضَلَ وَأَکْمَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِمَّنْ أَطاعَکَ
جاہلوں نے پھیلائیں پس اے پرودگار حضرت پر رحمت کر بہترین و کامل ترین رحمت جو تو نے کسی ایسے شخص پر کی جس نے تیری اطاعت
وَنَصَحَ لِعِبادِکَ إنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ
اور تیرے بندوں کی خیر خواہی کی بے شک تو پردہ پوش ہے مہربان۔
صلوات امام رضا امام محمد تقی
امام علی رضا - پر صلوات
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُوسَی الَّذِی ارْتَضَیْتَهُ وَرَضَّیْتَ بِهِ مَنْ شِئْتَ مِنْ خَلْقِکَ
اے معبود علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام پر درود بھیج کہ جن کو تو نے پسند فرمایا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے پسند کر لیتا ہے
اَللّٰهُمَّ وَکَمَا جَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَی خَلْقِکَ وَقائِماً بِأَمْرِکَ وَناصِراً لِدِینِکَ وَشاهِداً عَلَی
اے معبود جس طرح تو نے قرار دیا ان کو اپنی مخلوق پر حجت قائم کیا اپنے امر پرمدد گار بنایا اپنے دین کا اور گواہ بنایا
عِبادِکَ وَکَمَا نَصَحَ لَهُمْ فِی السِّرِّ وَالْعَلانِیَةِ وَدَعا إلَی سَبِیلِکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ
اپنے بندوں پر اور جس طرح انہوں نے عیاں و نہاں ان کی خیر خواہی کی اور ان کو دانش مندی اور بہترین نصیحت کے ساتھ تیرے
الْحَسَنَةِ فَصَلِّ عَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَوْلِیائِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ
راستے کیطرف بلایا اسیطرح تو بھی ان پر رحمت کر وہ بہترین رحمت جو تو نے مخلوقات میں سے اپنے والیوںاور برگزیدوں میں سے
خَلْقِکَ إنَّکَ جَوادٌ کَرِیمٌ
کسی ایک پر کی ہیبے شک تو بہت دینے والا ہے سخی۔
امام محمد تقی - پر صلوات
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ مُوسَیٰ عَلَمِ التُّقیٰ وَنُورِالْهُدَیٰ وَمَعْدِنِ الْوَفائِ وَفَرْعِ
اے معبود محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام پر درود بھیج جو پرہیز گاری کے نشان ہدایت کے نور وفا کے مرکز و محور پاکبازوں کی شاخ
الْاََزْکِیائِ وَخَلِیفَةِ الْاََوْصِیائِ وَأَمِینِکَ عَلَی وَحْیِکَ اَللّٰهُمَّ فَکَما هَدَیْتَ بِهِ مِنَ الضَّلالَةِ
اور اوصیائ پیغمبر کے جانشین اور تیری وحی کے امانتدار ہیں پس اے معبود جیسے تو نے ان کے ذریعے گمراہی سے نکال کر ہدایت دی ان
وَاسْتَنْقَذْتَ بِهِ مِنَ الْحَیْرَةِ وَأَرْشَدْتَ بِهِ مَنِ اهْتَدیٰ وَزَکَّیْتَ بِهِ مَنْ تَزَکَّیٰ فَصَلِّ
کے وسیلے سے پریشانی و سرگردانی سے بچایا انکے ذریعے راہ دکھائی اسے جس نے ہدایت چاہی اور انکے ذریعے پاک کیا اسے جو پاک ہوا
عَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَوْلِیائِکَ وَبَقِیَّةِ أَوْصِیائِکَ إنَّکَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ
ایسے ہی ان پر رحمت کر بہترین رحمت جو تو نے کسی پر کی ہے اپنے اولیائ میں سے اور اوصیائ میں سے موجود وصی پر بے شک تو زبردست ہے حکمت والا۔
امام علی نقی - پر صلوات
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَصِیِّ الْاََوْصِیائِ وَ إمامِ الْاََتْقِیائِ وَخَلَفِ أَئِمَّةِ الدِّینِ
اے معبود علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام پر درود بھیج جو اوصیائ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی پرہیز گاروں کے پیشوا ائمہعليهالسلام دین کے قائمقام
وَالْحُجَّةِ عَلَی الْخَلائِقِ أَجْمَعِینَ اَللّٰهُمَّ کَما جَعَلْتَهُ نُوراً یَسْتَضِیئُ بِهِ الْمُؤْمِنُونَ فَبَشَّرَ
اور ساری مخلوقات پر تیری حجت ہیں اے معبود جیسے تو نے ان کو ایسا نور بنایا کہ جس سے مومنین روشنی حاصل کرتے ہیں پس انہوں
بِالْجَزِیلِ مِنْ ثَوابِکَ وَأَنْذَرَ بِالْاََلِیمِ مِنْ عِقابِکَ وَحَذَّرَ بَأْسَکَ وَذَکَّرَ بِآیاتِکَ وَأَحَلَّ
نے تیرے ثواب عظیم کی خوشخبری سنائی تیرے سخت ترین عذاب سے خوف دلایا تیرے غضب سے آگاہ کیا تیری آیتوں کے ذریعے
حَلالَکَ وَحَرَّمَ حَرامَکَ وَبَیَّنَ شَرایِعَکَ وَفَرائِضَکَ وَحَضَّ عَلَی عِبادَتِکَ وَأَمَرَ
نصیحت کی تیرے حلال کو حلال کہا تیرے حرام کو حرام بتایا تیرے قوانین اور احکام کو کھول کر بیان کیا تیری عبادت کا شوق دلایا تیری
بِطاعَتِکَ وَنَهیٰ عَنْ مَعْصِیَتِکَ فَصَلِّ عَلَیْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ أَوْلِیائِکَ
فرمانبرداری کا حکم دیا اور تیری نافرمانی سے منع کیا پس ان پر رحمت کر وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے اولیائ
وَذُرِّیَّةِ أَنْبِیائِکَ یَا إلهَ الْعالَمِینَ
اور اپنے نبیوں کی اولاد میں سے کسی پر کی ہے اے جہانوں کے معبود۔
اس صلوات کا راوی ابو محمد یمنی بیان کرتا ہے کہ جب امام حسن عسکری - اپنے آبائ طاہرین میںسے ہر ایک کیلئے صلوات تعلیم فرما چکے اور نوبت اپنی ذات تک پہنچی تو آپ خاموش ہو گئے میں نے عرض کی اے فرزند رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم باقی کے لیے بھی صلوات لکھوائیں۔آپ نے فرمایا یہ صلوات دین کے نشانوں میںسے نہ ہوتی اور خدائے تعالیٰ نے اس کا حکم نہ دیا ہوتا کہ ہم یہ چیزیں لائق و موزوں افراد تک پہنچائیں تو میں خاموشی کو بہتر سمجھتا خود اپنے لیے صلوات کا ذکر نہ کرتالیکن یہ دین کا معاملہ ہے لہذا آگے یہ لکھو۔
امام حسن عسکری - پر صلوات
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَرِّ التَّقِیِّ الصَّادِقِ الْوَفِیِّ النُّورِ الْمُضِیئِ
اے معبود حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام پر درود بھیج جو خوش کردار پرہیز گار صادق وفادار چمکتا ہوں نور
خازِنِ عِلْمِکَ وَالْمُذَکِّرِ بِتَوْحِیدِکَ وَوَلِیِّ أَمْرِکَ وَخَلَفِ أَئِمَّةِ الدِّینِ الْهُداةِ
اور تیرے علوم کے خزینہ دار ہیں وہ تیری توحید کا اعلان کرنے والے تیرے حکم کے پاسدار دین کے ان اماموں کے جانشین
الرَّاشِدِینَ وَالْحُجَّةِ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا فَصَلِّ عَلَیْهِ یَارَبِّ أَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلَی أَحَدٍ مِنْ
کہ جو رہبر اور راہ یافتہ ہیںاور دنیا والوں پر تیری حجت ہیںپس ان پر رحمت فرما اے پرودگار بہترین رحمت جو تو نے اپنے برگزیدوں
أَصْفِیائِکَ وَحُجَجِکَ وَأَوْلادِ رُسُلِکَ یَا إلهَ الْعالَمِینَ
اپنی حجتوں اور اپنے نبیوںکی اولاد میں سے کسی پر کی ہے اے جہانوں کے معبود
امام العصر عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف پر صلوات
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی وَلِیِّکَ وَابْنِ أَوْلِیائِکَ الَّذِینَ فَرَضْتَ طاعَتَهُمْ وَ أَوْجَبْتَ حَقَّهُمْ
اے معبود اپنے ولیعليهالسلام پر رحمت فرما جو تیرے ان اولیائ کے فرزند ہیں جن کی اطاعت تو نے لازم ٹھہرائی ان کا حق واجب کیا
وَأَذْهَبْتَ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرْتَهُمْ تَطْهِیراً اَللّٰهُمَّ انْصُرْهُ وَانْتَصِرْ بِهِ لِدِینِکَ وَانْصُرْ بِهِ
آلودگی کو ان سے دور رکھا اور ان کو پاک کیا بہت پاک اے معبود مہدیعليهالسلام کی مدد فرما ان کے ذریعے اپنے دین کی مدد کر اور ان کے
أَوْلِیائَکَ وَأَوْلِیائَهُ وَشِیعَتَهُ وَأَنْصارَهُ وَاجْعَلْنا مِنْهُمْ اَللّٰهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ شَرِّ کُلِّ باغٍ وَطاغٍ
ہاتھوں اپنے اور انکے دوستوں انکے پیروکاروں اور ساتھیوں کو کامیاب فرما اور ہمیں ان میں شامل کر اے معبود امام عصرعليهالسلام کو ہرستمگار
وَمِنْ شَرِّ جَمِیعِ خَلْقِکَ وَاحْفَظْهُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ یَمِینِهِ وَعَنْ
اور سرکش کے شر سے بچائے رکھ اور اپنی مخلوق کے شر سے بچا ان کی نگہبانی فرما انکے آگے سے ان کے پیچھے سے انکے دائیں سے اور
شِمالِهِ وَاحْرُسْهُ وَامْنَعْهُ أَنْ یُوصَلَ إلَیْهِ بِسُوئٍ وَاحْفَظْ فِیهِ رَسُولَکَ وَ آلَ رَسُولِکَ
انکے بائیں سے انکی نگہداشت کر اور محفوظ رکھ کہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے انکی حفاظت کے ذریعے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آلعليهالسلام کی حفاظت فرما
وَأَظْهِرْ بِهِ الْعَدْلَ وَأَیِّدْهُ بِالنَّصْرِ وَانْصُرْ ناصِرِیهِ وَاخْذُل خاذِلِیهِ وَاقْصِمْ بِهِ جَبابِرَةَ الْکُفْرِ
انکے ہاتھوں عدل کو رائج کر اور انکو مدد دے کر قوی فرما انکے ساتھیوں کی مدد کر اور انکو چھوڑ جانے والوں کوپست کر د ے
وَاقْتُلْ بِهِ الْکُفَّارَ وَالْمُنافِقِینَ وَجَمِیعَ الْمُلْحِدِینَ حَیْثُ کانُوا مِنْ مَشارِقِ الْاََرْضِ
انکے ذریعے سخت دل کافروں کا زور توڑ دے انکے ہاتھوں تمام کافروں منافقوں اور بے دینوں کو قتل کرا دے چاہے وہ زمین کے
وَمَغارِبِها وَبَرِّها وَ بَحْرِها وَامْلاََْ بِهِ الْاََرْضَ عَدْلاً وَأَظْهِرْ بِهِ دِینَ
مشرقوں میں ہوں یا مغربوں میں اور میدانوں میں ہوں یا سمندروں میںامامعليهالسلام کے ذریعے زمین کوعدل سے بھر دے اور اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے
نَبِیِّکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَلسَّلَامُ وَاجْعَلْنِی اَللّٰهُمَّ مِنْ أَنْصارِهِ وَأَعْوانِهِ وَأَتْباعِهِ وَشِیعَتِهِ
دین کو غالب فرما کہ ان پر اور انکی آلعليهالسلام پر سلام ہو اور اے معبود ہمیں شامل فرما امامعليهالسلام کے مددگاروں کے ہمراہیوں انکے پیروکاروں
وَ أَرِنِی فِی آلِ مُحَمَّدٍ مَا یَأْمُلُونَ وَفِی عَدُوِّهِمْ مَا یَحْذَرُونَ
اور انکے اطاعت گزاروں میں اور مجھے آل محمدعليهالسلام کا وہ وقت دکھا جسکے وہ آرزو مند ہیں اور انکے دشمنوں کاوہ حال دکھا جس سے وہ ڈرتے ہیں
إلهَ الْحَقِّ آمِینَ
اے سچے معبود ایسا ہی ہو۔
خاتمہ
اس میںزیارت انبیائ زیارت امام زادگان عالی مقام اور زیارت قبور مومنین کا بیان ہے اور یہ تین مطالب پر مشتمل ہے۔
پہلا مطلب
زیارت انبیائ
واضح رہے کہ انبیائ کی تعظیم و تکریم عقلی و شرعی لحاظ سے واجب ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِنْ رُّسُلِہٰ یعنی اس سلسلے میں کسی نبی میں کوئی فرق نہیں ہے اور ان کی زیارت کرنا ایک پسندیدہ فعل ہے چنانچہ علمائ کرام نے ان کی زیارت کرنے کو یقینی طور پر مستحب قرار دیا ہے، انبیاعليهالسلام ئ کی تعداد اگرچہ بہت زیادہ ہے لیکن ہمیں ان میں سے بہت کم نبیوں کی قبریں معلوم ہیں اور جن انبیائعليهالسلام کی قبروں کا ہمیں علم ہے وہ یہ بزرگوار ہیں۔
حضرت آدم -‘ حضرت نوح - نجف اشرف میں امیر المؤمنین- کے روضہ مبارک میں دفن ہیں۔ حضرت ابراہیم - کی قبر قدس خلیل میں بیت المقدس کے قریب ہے ان کے نزدیک ہی ان کی زوجہ بی بی سارہ(س)‘ حضرت اسحاق -‘ حضرت یعقوب- اور حضرت یوسف- کی قبریں ہیں ‘حضرت اسماعیل - اور ان کی والدہ بی بی ہاجرہ(س) مسجد الحرام(کعبہ) میں حجر کے قریب مدفون ہیں اور یہاں دیگر پیغمبروں کی قبریں بھی ہیں۔ امام محمد باقر - سے مروی ہے کہ رکن اور مقام کا درمیانی حصہ انبیائ کی قبور سے بھرا ہوا ہے‘ امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان ستر پیغمبر دفن ہیں پھر بیت المقدس میں پیغمبروں کا ایک گروہ مثل حضرت دائود - و حضرت سلیمان- و غیرہ دفن ہیں اور ان بزرگان کی قبور مذکورہ مقامات کے لوگوں میں معروف ہیں۔ اسی طرح حضرت زکریا- کی قبر حلب میں اور حضرت یونس- کی قبر کوفہ کی نہر کے کنارے مشہور معروف ہے۔ نیز حضرت ہود- اور حضرت صالح - نجف اشرف کے قریب وادی السلام میں مدفون ہیں۔ حضرت ذوالکفل - کی قبر کوفہ کے نواح میں چند فرسخ کے فاصلے پر واقع ہے شہر موصل میںحضرت جرجیس- اور بیرون شہر حضرت شیث - کی قبر ہے شوش میں حضرت دانیال - اور کاظمین میں مسجد براثا کے نزدیک حضرت یوشع - مدفون ہیں۔
کیفیت زیارت
احادیث میں ان بزرگوں کیلئے کوئی مخصوص زیارت وارد نہیں ہوئی ہاں حضرت آدم - و حضرت نوح - کی زیارت امیر المومنین- کی زیارت کے ساتھ ذکر ہوئی ہے تاہم زیارت جامعہ کی روایت کے مطابق انبیائ کی زیارت میں بھی یہی پہلی زیارت جامعہ پڑھی جا سکتی ہے اور اس بات کی تائید یوں ہوتی ہے کہ شیخ محمد بن المشہدی نے مزار میں سید بن طائوس نے مصباح الزائر میں انکے علاوہ علمائ نے کوفہ میں داخل ہونے کے آداب میں حضرت یونسعليهالسلام کیلئے یہی زیارت مشہور نقل کی گئی ہے اور گمان یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس قاعدے کلیئے کے تحت ہی اس زیارت کو اس مقام پر نقل کیا ہے اور یہی سابقہ روایت سے بھی ظاہر ہوتا ہے لہذا اگر کوئی زائران انبیائ میں سے کسی ایک کی زیارت کے وقت اسی زیارت جامعہ کو پڑھے تو بہت مناسب اور موزوں ہے چونکہ قبل ازیںہم زیارت جامعہ کو نقل کر چکے ہیں لہذا یہاں اسے دوبارہ نقل کرنے کی ضرورت نہیںہے جو شخص اسکی تلاوت کرنا چاہتا ہے وہ پہلی زیارت جامعہ کیطرف رجوع کرکے اس سے مستفید ہو سکتا ہے۔
دوسرا مطلب
زیارت امام زادگان و شہزادگان
ان امام زادوں اور خانوادہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شہزادوں کی قبور فیض و برکت کا ذریعہ اور رحمت خداوندی و عنایت پروردگار کے نزول کا محل و مقام ہیں یہی وجہ ہے کہ علمائ اعلام نے ان کی زیارت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے اور شکر خدا کہ ہر شہر و قریہ بلکہ پہاڑوں کے دامن میںبھی ان سادات عظام کی قبور بے کسوں بے چاروں اور ستم دیدہ لوگوں کیلئے جائے پناہ اور بے چین دلوں کیلئے تا قیامت موجب تسلی بنی رہیں گیں۔ ان قبور سے اکثر کرامات و برکات کا ظہور دیکھنے میں آتا ہے لیکن یاد رہے کہ وہ امام زادگان جن کی زیارت کے لیے دور دراز کے سفر طے کر کے جانا ضروری ہے تو بھی سفر سے پہلے ان دو چیزوں کو نظر میں رکھے اولاً حسب و نسب کے علاوہ اس صاحب قبر کی عظمت و بزرگی کو کتب تاریخ سے معلوم کرے ثانیاً یہ کہ آیا واقعی وہ قبر اس امام زادے ہی کی ہے یا نہیں اگرچہ ان باتوں کا کسی ایک جگہ جمع ہونا قدرے مشکل ہے پھر بھی ہم نے ہدیۃ الزائرین میں ان میں سے بعض بزرگواروں کا ذکر کیا اور نفثۃ المصدور اور منتہی الآمال میں محسن بن حسین کے حالات کی طرف اشارہ کیا ہے مگر زیر نظر کتاب میں ان چیزوں کا ذکر کیے جانے کی گنجائش نہیں ہے لہذا یہاں میں ان میں سے صرف دو بزرگان کا تذکرہ کرتا ہوں کہ ان میں اول سیدہ جلیلہ جناب فاطمہ بنت موسیٰ بن جعفر ہیں جو حضرت معصومہ = کے نام سے معروف ہیں۔
فضلیت زیارت معصومہ = قم
یہ معظمہ جو امام موسیٰ کاظم - کی دختر اور امام رضا - کی خواہر ہیں ایران کے شہر قم میں دفن ہیں جہاں ان کا بہت بہترین سنہری گنبد اور ضریح ہے اور وسیع و عریض صحن بھی بنایا گیا ہے وہاں بہت زیادہ خدام ہیں اور وافر مقدار میں اموال و جائداد اس روضہ مبارک کیلئے وقف کیے گئے ہیں یہ بارگاہ دنیا بھر کے وابستگان اہل بیتعليهالسلام اور خصوصاً اہل قم کیلئے پناہ گاہ ہے چنانچہ دوران سال لوگ دور دور سے اس بی بی کی زیارت سے مستفید ہونے اور ان سے فیض و برکت حاصل کرنے آتے ہیں احادیث و اخبار سے معصومہ قم کی زیارت کی بہت زیادہ فضلیت ظاہر ہوتی ہے چنانچہ شیخ صدوق نے سند حسن کے ساتھ جو صحیح کے برابر ہے سعدبن سعد سے روایت کی ہے کہ امام علی رضا - سے جناب فاطمہ(س) بنت امام موسیٰ کاظمعليهالسلام کی زیارت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپعليهالسلام نے فرمایا جو شخص ان معصومہ(س) کی زیارت کرنے آئے تو جنت اس کیلئے واجب ہو گی معتبر سند کیساتھ امام محمد تقی - سے مروی ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا جو شخص قم میںمیری پھوپھی جناب فاطمہ(س) کی زیارت کرے وہ جنت کا حق دار ہے علامہ مجلسی نے بعض کتب زیارت میں علی بن ابراہیم سے اور انہوں نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے سعد اشعری قمی سے اور انہوں نے امام رضا - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا اے سعد تمہارے قرب میں ہماری ایک قبر ہے میں نے عرض کی آپ پر قربان ہو جائوں کیا آپ جناب فاطمہ(س) بنت موسیٰ کاظمعليهالسلام کی قبر کے بارے میں فرما رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں جو شخص انکے حق کو پہچانتے ہوئے انکی زیارت کرے تو جنت اس کیلئے واجب ہو گی جب تم ان کی قبر پر جائو تو سرہانے کی طرف قبلہ رخ کھڑے ہو کر ۳۴ مرتبہ ﷲاَکْبَرُ ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ ﷲ اور ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ ﷲِ کہو اور پھر یہ زیارت پڑھو:
زیارت معصومہ = قم
اَلسَّلَامُ عَلَی آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ
سلام ہو آدمعليهالسلام پر جو خدا کے برگزیدہ ہیں سلام ہو نوحعليهالسلام پر جو خدا کے نبی ہیں سلام ہو ابراہیمعليهالسلام پر جو خدا کے دوست خاص ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَی مُوسَی کَلِیمِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی عِیسی رُوحِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ
سلام ہو موسیٰعليهالسلام پر جو خدا کے کلیم ہیں سلام ہو عیسیٰعليهالسلام پر جو روح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ خَلْقِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدَ
آپ پر سلام ہو کہ آپ خلق خدا میں بہترین ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے پسند کردہ آپ پر سلام ہو اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
بْنَ عَبْدِﷲ خاتَمَ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طالِبٍ وَصِیَّ
بن عبدﷲعليهالسلام کہ آپ نبیوں کے خاتم ہیں سلام ہو آپ پر اے امیر المؤمنینعليهالسلام علیعليهالسلام ابن ابی طالبعليهالسلام رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَةُ سَیِّدَةَ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا سِبْطَیْ نَبِیِّ
کے وصی آپ پر سلام ہو اے فاطمہ(س) کہ آپ زنان عالم کی سردار ہیں سلام ہو آپ دونوں پر کہ آپ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم رحمت کے
الرَّحْمَةِ وَسَیِّدَیْ شَبابِ أَهْلِ الْجَّنَةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ سِیِّدَ الْعابِدِینَ
دو نواسےعليهالسلام اور جوانان اہل جنت کے دو سید و سردار ہیں آپ پر سلام ہو اے علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام کہ آپ عبادت گزاروں کے سردار اور اہل
وَ قُرَّةَ عَیْنِ النَّاظِرِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ باقِرَ الْعِلْمِ بَعْدَ النَّبِیِّ اَلسَّلَامُ
بصیرت کیلئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں سلام ہو آپ پر اے محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام کہ آپ بعد از نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم علم پھیلانے والے ہیں آپ پر
عَلَیْکَ یَا جَعْفَرَ ابْنَ مُحَمَّدٍ الصَّادِقَ الْبارَّ الْاََمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ
سلام ہو اے جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کہ آپ راستگو خوش کردار امانتدار ہیں آپ پر سلام ہو اے موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام
الطَّاهِرَ الطُّهْرِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُوسَی الرِّضَا الْمُرْتَضی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
کہ آپ پاک ہیں پاک شدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام کہ آپ رضا والے پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو
یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ التَّقِیَّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ النَّقِیَّ النَّاصِحَ الْاََمِینَ اَلسَّلَامُ
اے محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام کہ آپ پرہیز گار ہیں آپ پر سلام ہو اے علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کہ آپ باصفا خیر خواہ امانتدار ہیں آپ پر
عَلَیْکَ یَا حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَی الْوَصِیِّ مِنْ بَعْدِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی نُورِکَ وَسِراجِکَ
سلام ہو اے حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام اور سلام ہو اس امام پر جو ان کے قائم مقام ہوئے اے معبود اپنے نور پر رحمت فرما جو تیرا چراغ تیرے ولی
وَوَلِیِّ وَلِیِّکَ وَوَصِیِّ وَصِیِّکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ
کے وارث تیرے وصی کے جانشین اور تیری مخلوق پر حجت ہیں آپ پر سلام ہو اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ فاطِمَةَ وَخَدِیجَةَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ
کی دختر آپ پر سلام ہو اے فاطمہ زہرا(س) خدیجۃ الکبریٰ(س)کی دختر آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے امیرعليهالسلام کی دخترعليهالسلام
اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ وَلِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ
آپ پر سلام ہو اے حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام کی دخترعليهالسلام آپ پر سلام ہو اے ولی خداعليهالسلام کی دخترعليهالسلام آپ پر
عَلَیْکِ یَا أُخْتَ وَلِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا عَمَّةَ وَلِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا بِنْتَ مُوسَی
سلام ہو اے ولی خداعليهالسلام کی ہمشیرہ آپ پر سلام ہو اے ولی خداعليهالسلام کی پھوپھی سلام ہو آپعليهالسلام پر اے موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام کی
بْنِ جَعْفَرٍ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ عَرَّفَ ﷲ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْ فِی الْجَنَّةِ
دختر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں آپ پر سلام ہوکہ خدا جنت میںہمارے اور آپ کے درمیان شناسائی کرائے ہمیں آپ
وَحَشَرَنا فِی زُمْرَتِکُمْ وَأَوْرَدَنا حَوْضَ نَبِیِّکُمْ وَسَقَانا بِکَأْسِ جَدِّکُمْ مِنْ یَدِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی
کے گروہ میں اٹھائے ہمیں آپکے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حوض کوثر پر وارد کرے اور ہمیں آپکے نانا کے جام کیساتھ علیعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام کے ہاتھوں
طالِبٍ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکُمْ أَسْأَلُ ﷲ أَنْ یُرِیَنا فِیکُمُ السُّرُورَ وَالْفَرَجَ وَأَنْ یَجْمَعَنا
سیراب فرمائے آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمیںآپعليهالسلام لوگوں میں مسرت و خوشحالی دکھائے اور یہ کہ ہمیں اور آپعليهالسلام کو
وِ إیَّاکُمْ فِی زُمْرَةِ جَدِّکُمْ مُحَمَّدٍ وَأَنْ لاَ یَسْلُبَنا مَعْرِفَتَکُمْ إنَّهُ وَلِیٌّ قَدِیرٌ أَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ
آپکے نانا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گروہ میںاکٹھا کرے اور ہم سے آپعليهالسلام کی معرفت واپس نہ لے کہ وہ حاکم ہے قدرت والامیںقرب الہی چاہتا ہوں
بِحُبِّکُمْ وَالْبَرائَةِ مِنْ أَعْدائِکُمْ وَالتَّسْلِیمِ إلَی ﷲ راضِیاً بِهِ غَیْرَ مُنْکِرٍ وَلاَ مُسْتَکْبِرٍ وَعَلَی
آپعليهالسلام کی محبت اور آپعليهالسلام کے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعے ہم خدا کی رضا پر راضی ہو کر بغیر دل تنگ ہونے اور تکبر کے اور اس چیز پر
یَقِینِ مَا أَتیٰ بِهِ مُحَمَّدٌ وَبِهِ راضٍ نَطْلُبُ بِذلِکَ وَجْهَکَ یَا سَیِّدِی اَللّٰهُمَّ وَرِضاکَ
یقین سے جو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم لائے اور اس پر خوش رہ کر اس طرح ہم تیری توجہ چاہتے ہیں اے ہمارے خدا اے معبود میں تیری رضا اور آخرت
وَالدَّارَ الْاَخِرَةَ یَا فاطِمَةُ اشْفَعِی لِی فِی الْجَنَّةِ فَ إنَّ لَکِ عِنْدَ ﷲ شَأْناً مِنَ الشَّأْنِ
کی بہتری چاہتا ہوں اے فاطمہ(س) حصول جنت میں میری سفارش کریں کیونکہ آپ خدا کے ہاں بڑی عزت و شان رکھتی ہیں
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ تَخْتِمَ لِی بِالسَّعادَةِ فَلاَ تَسْلُبْ مِنِّی مَا أَنَا فِیهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ
اے معبود میں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ میرا انجام خوش بختی پر فرما میںجس گروہ میں ہوں اسی میں رہنے دے نہیں کوئی حرکت و قوت
إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ اَللّٰهُمَّ اسْتَجِبْ لَنا وَتَقَبَّلْهُ بِکَرَمِکَ وَعِزَّتِکَ وَبِرَحْمَتِکَ
مگر وہ جو خدائے بلند و بزرگ سے ملتی ہے اے معبود ہماری دعائیں منظور و مقبول فرما اپنی بزرگی اپنی عزت اپنی رحمت اور اپنی پناہ
وَعافِیَتِکَ وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
کے واسطے سے خدا حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی ساری آلعليهالسلام پر درود بھیجے اور سلام بھیجے بہت بہت سلام اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
فضلیت زیارت شاہ عبدالعظیم
ان امام زادگان میں سے دوسرے بزرگ شہزادہ عبد العظیم ہیں کہ ان کا سلسلہ نسب چار واسطوں سے امام حسن- تک پہنچتا ہے یعنی عبدالعظیم بن عبدﷲ بن علی بن الحسن بن زید بن الحسن بن علی ابن ابی طالب آپ کی قبر شریف تہران کے محلہ رے میں مشہور و معروف ہے (اور آج کل اس محلہ کو شاہ عبدالعظیم کے نام سے پکارا جاتا ہے اور تہران سے وہاں تک بسیں آتی جاتی ہیں) آپ کا روضہ مبارک عوام و خواص کی زیارت گاہ اور جائے پناہ ہے آپ کے مقام کی بلندی اور مرتبے کی بڑائی محتاج بیان نہیں کیونکہ آپ خاندان نبوت کے فرد ہونے کے علاوہ عظیم محدثین اور اجل علمائ میں سے ہیں آپ بڑے عابد و زاہد اور بہت متقی و پرہیز گار تھے اور امام محمد تقی اور امام نقیعليهالسلام کے خاص صحابہ میں سے تھے آپ کو ان ہر دو ائمہعليهالسلام کے حضور خصوصی تعلق و توسل حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ عبدالعظیم نے ان دونوں معصومینعليهالسلام سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں یہی بزرگ ’’خطب امیر المومنین- ‘‘ کے نام سے مشہور کتاب کے مؤلف ہیں نیز آپ نے ’’یوم ولیلہ‘‘ نامی کتاب میں اپنے عقائد درج فرمائے اور یہ کتاب امام علی نقی - کی خدمت میں پیش کی تھی۔ چنانچہ امامعليهالسلام نے اس کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا کہ اے اباالقاسم خدا کی قسم یہی وہ دین ہے جو خدائے تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے پسند کیا ہے پس خدا وند جہاں تمہیں دنیا و آخرت میں اس عقیدہ و دین پر قائم رکھے۔ صاحب بن عباد نے آپ کے حالات میں ایک مختصر رسالہ لکھا ہے جسے ہمارے استاد علامہ نوری مرحوم نے مستدرک الوسائل کے آخر میں نقل کر دیا ہے۔ اس رسالے اوررجال نجاشی میں یہ واقعہ منقول ہے کہ حضرت شاہ عبدالعظیمعليهالسلام بادشاہ وقت کے خوف سے جلا وطن ہو کر شہر بہ شہر پھرتے اور اپنے آپ کو ایک قاصد ظاہر کرتے رہے حتیٰ کہ آپ شہررے پہنچے اور خود کو ساربانوں میں شامل کر کے پوشیدہ ہو رہے لیکن بقول نجاشی سکۃ الموالی کے بعض شیعوں کے سرداب میں رہا کرتے کہ رات کو عبادت کرتے اور دن میں روزہ رکھتے تھے جب کبھی اس سرداب سے باہر آتے تو اس قبر کی زیارت کرتے تھے جو اب آپ کی قبر کے سامنے واقع ہے آپ فرماتے تھے کہ یہ امام موسیٰ کاظم - کے ایک فرزند کی قبر ہے شروع شروع میں تو آپ کو صرف چند ایک شیعہ بزرگ جانتے پہچانتے تھے لیکن کچھ عرصہ کے بعد عام لوگوں نے بھی آپ کو پہچان لیا انہی ایام میں ایک شیعہ بزرگ نے عالم خواب میں حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں کہ سکۃ الموالی سے جا کر میرے فرزند کو عبدالجبار کے باغ میںسیب کے درخت کے نیچے دفن کریں گے اور یہ وہی جگہ ہے جہاں اب شاہ عبدالعظیم مدفون ہیں یہ خواب دیکھ کر وہ شیعہ بزرگ اس باغ کے مالک کے پاس گئے تاکہ وہ باغ اوردرخت خرید لیں‘ باغ کے مالک نے پوچھا کہ آپ کس لیے باغ خرید کرتے ہیں؟ انہوں نے اپنا خواب باغ کے مالک سے بیان کیا تو اس نے بھی اپنا ایسا ہی خواب سنایا اور کہا کہ میں نے یہ باغ ان سید پاک اور دیگر شیعہ مومنین کیلئے وقف کر دیا ہے کہ وہ اپنے متوفیوں کو یہاں دفن کیا کریں۔ پھر انہی ایام میں شاہ عبدالعظیم بیمار پڑے اور کچھ دنوں بعد اللہ کو پیارے ہو گئے۔ جب غسل دینے کیلئے ان کا لباس اتارا گیا تو ان کی جیب میں سے ایک رقعہ نکلا جس میں آپ نے اپنا نام و نسب لکھا ہوا تھا کہ میں ابوالقاسم عبدالعظیم ہوں میں فرزند ہوں عبداللہ کا جو فرزند ہیں علی کے اور وہ فرزند ہیں حسن کے اور وہ فرزند ہیں زید کے اور وہ امام حسن- کے فرزند ہیں صاحب بن عباد نے شاہ عبدالعظیم کے علم و فضل کے بارے میں ابوتراب رویانی کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو حماد رازی سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے میں سامرہ میں ایک روز امام علی نقی - کی خدمت میں پہنچا اور حلال و حرام سے متعلق بہت سے مسائل آپ سے دریافت کیے اور آپ نے انکے جوابات ارشاد فرمائے جب میں رخصت ہونے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اے ابو حماد اگر اپنے شہررے میں تمہیں کوئی مشکل مسئلہ پیش آئے تو جناب عبدالعظیم بن عبداللہ حسنی کے پاس جا کر پوچھ لینا اور انکو میرا سلام بھی پہنچا دینا محقق میر دامادرحمهالله نے کتاب رواشح میں تحریر کیا ہے کہ شاہ عبدالعظیم کی فضلیت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں اور ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ جو شخص انکی زیارت کو جائے جنت اس کیلئے واجب ہے شیخ شہید ثانیرحمهالله نے حاشیہ میں بعض نسابین کے حوالے سے اسی روایت کا خلاصہ نقل کیا ہے ابن بابویہرحمهالله اور ابن قولویہ نے معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ شہررے کا ایک شخص امام علی نقی - کی خدمت میں آیا تو حضرت نے پوچھا کہ تم کہاں تھے؟ اس نے عرض کی کہ میں امام حسین- کی زیارت کرنے گیا ہوا تھا آپ نے فرمایا کہ تم اپنے شہر میں سید عبدالعظیم کی قبر کی زیارت کرتے تو اس شخص کی مانند ہوتے جس نے امام حسین- کی زیارت کی ہو۔
مولف کہتے ہیں علمائ کرام نے شاہ عبدالعظیم کیلئے کوئی مخصوص زیارت نقل نہیں کی تاہم فخر المحققین آقا جمال الدینرحمهالله نے اپنی کتاب مزار میں فرمایا ہے کہ انکی زیارت یوں پڑھنا چاہیے:
زیارت شاہ عبدالعظیم
اَلسَّلَامُ عَلَی آدَمَ صَفْوَةِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی نُوحٍ نَبِیِّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی إبْراهِیمَ خَلِیلِ ﷲ
سلام ہو آدم پر جو خدا کے بزگزیدہ ہیں سلام ہو نوحعليهالسلام پر جو خدا کے نبی ہیں سلام ہو ابراہیمعليهالسلام پرجو خدا کے دوست خاص ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَی مُوسَی کَلِیمِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَی عِیسَی رُوحِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ
سلام ہو موسیٰعليهالسلام پر جو خدا کے کلیم ہیں سلام ہو عیسیٰعليهالسلام پر جو روح خدا ہیں آپ پر سلام ہو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ خَلْقِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا صَفِیَّ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدَ
آپ پر سلام ہو اے مخلوق خدا میں بہترین سلام ہو آپ پر اے خدا کے پسند کردہ آپ پر سلام ہو اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
بْنَ عَبْدِﷲ خاتَمَ النَّبِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طالِبٍ وَصِیَّ
بن عبداللہعليهالسلام کہ آپ نبیوں کے خاتم ہیں سلام ہوآپ پر اے مومنوں کے امیر علیعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام کہ آپ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
رَسُولِ ﷲ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا فاطِمَةُ سَیِّدَةَ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُما یَا سِبْطَیِ
کے قائم مقام ہیں آپ پر سلام ہو اے فاطمہ(س) عالمین کی عورتوں کی سردار سلام ہو آپ دونوں پر اے پیغمبر رحمت کے
الرَّحْمَةِ وَسَیِّدَیْ شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ سَیِّدَ الْعابِدِینَ
نواسوعليهالسلام اور اہل جنت کے جوانوں کے سید و سردار آپ پر سلام ہو اے علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام کہ آپ عبادت گزاروںکے سردار اور بصیرت
وَقُرَّةَ عَیْنِ النَّاظِرِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ باقِرَ الْعِلْمِ بَعْدَ النَّبِیِّ اَلسَّلَامُ
والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں آپ پر سلام ہو اے محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام کہ آپ بعد پیغمبر علم کے پھیلانے والے ہیں آپ پر
عَلَیْکَ یَا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الصَّادِقَ الْبارَّ الْاََمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ
سلام ہو اے جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کہ آپ راستگو خوش کردارامانتدار ہیں سلام ہو آپ پر اے موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام
الطَّاهِرَ الْطُّهْرَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُوسَی الرِّضَا الْمُرْتَضی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
کہ آپ پاک ہیں پاک شدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام کہ آپ رضا والے ہیں پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو
یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ التَّقِیَّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ النَّقِیَّ النَّاصِحَ الْاََمِینَ اَلسَّلَامُ
اے محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام کہ آپ پرہیزگار ہیں آپ پر سلام ہو اے علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کہ آپ باصفا خیر خواہ امانتدار ہیں آپ پر
عَلَیْکَ یَا حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ اَلسَّلَامُ عَلَی الْوَصِیِّ مِنْ بَعْدِهِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی نُورِکَ
سلام ہو اے حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام اور سلام ہو اس امام پر جو ان کے بعد قائمعليهالسلام مقام ہوئے اے معبود اپنے نور پر رحمت فرما
وَسِراجِکَ وَوَلِیِّ وَلِیِّکَ وَوَصِیِّ وَصِیِّکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
جو تیرا چراغ تیرے ولیعليهالسلام کے وارث تیرے وصی کے جانشین اور تیری مخلوق پر حجت ہیں آپ پر سلام ہو
أَیُّهَا السَّیِّدُ الزَّکِیُّ وَالطَّاهِرُ الصَّفِیُّ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ السَّادَةِ الْاََطْهارِ اَلسَّلَامُ
کہ آپ سردار ہیں پاکباز پاک تر پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ پاک تر سرداروں کے فرزند ہیں آپ پر
عَلَیْکَ یَابْنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاََخْیارِ اَلسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ ﷲ وَعَلَی ذُرِّیَّةِ رَسُولِ ﷲ وَرَحْمَةُ
سلام ہو کہ آپ چنے ہوئے نیکو کاروں کے فرزند ہیں سلام ہو خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اولاد پر خدا کی
ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَی الْعَبْدِ الصَّالِحِ الْمُطِیعِ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَلِرَسُولِهِ وَلاََِمِیرِ
رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں سلام ہو خدا کے نیکوکار بندے پر جو تمام جہانوں کے پرودگار اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور امیر المومنینعليهالسلام کا
الْمُؤْمِنِینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْقاسِمِ ابْنَ السِّبْطِ الْمُنْتَجَبِ الْمُجْتَبَیٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
پیرو کار ہے آپ پر سلام ہو اے ابوالقاسم کہ آپ پیغمبروں کے نیک نواسے حسن مجتبیٰعليهالسلام کے فرزند ہیں آپ پر سلام ہو
یَا مَنْ بِزِیارَتِهِ ثَوابُ زِیارَةِ سَیِّدِ الشُّهَدائِ یُرْتَجیٰ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ عَرَّفَ ﷲ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْ
اے وہ کہ جن کی زیارت پر سید الشہدائ کی زیارت کے ثواب کی امید ہے سلام ہو آپ پر خدا جنت میں ہمارے اور آپ کے
فِی الْجَنَّةِ وَحَشَرَنا فِی زُمْرَتِکُمْ وَأَوْرَدَنا حَوْضَ نَبِیِّکُمْ وَسَقَانا بِکَأْسِ جَدِّکُمْ
درمیان شناسائی کرائے ہمیں آپکے گروہ میں اٹھائے اور آپ میںسے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حوض کوثر پر وارد کرے اور ہمیںآپکے ناناصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جام کیساتھ
مِنْ یَدِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ صَلَواتُ ﷲ عَلَیکُمْ أَسْأَلُ ﷲ أَنْ یُرِیَنا فِیکُمُ السُّرُورَ وَالْفَرَجَ
علیعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام کے ہاتھوں سیراب فرمائے آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں آپ لوگوں میں مسرت وخوشحالی دکھائے
وَأَنْ یَجْمَعَنا وَ إیَّاکُمْ فِی زُمْرَةِ جَدِّکُمْ مُحَمَّدٍ وَأَنْ لاَ یَسْلُبَنا مَعْرِفَتَکُمْ إنَّهُ وَلِیٌّ قَدِیرٌ
اور ہمیں اور آپکو آپ کے نانا حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گروہ میں اکٹھا کرے وہ ہم سے آپ کی معرفت واپس نہ لے کہ وہ حاکم ہے قدرت
أَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ بِحُبِّکُمْ وَالْبَرائَةِ مِنْ أَعْدائِکُمْ وَالتَّسْلِیمِ إلَی ﷲ راضِیاً بِهِ غَیْرَ مُنْکِرٍ وَلاَ
میں قرب خدا چاہتا ہوں بواسطہ آپکی محبت آپکے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعے اور رضا خدا پر راضی رہتے ہوئے بغیر دل تنگ ہوئے اور
مُسْتَکْبِرٍ وَعَلَی یَقِینِ مَا أَتیٰ بِهِ مُحَمَّدٌ نَطْلُبُ بِذلِکَ وَجْهَکَ یَا سَیِّدِی اَللّٰهُمَّ
تکبرکرنے اور اس چیز پر یقین رکھتے ہوئے جو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم لائے ہیں ان چیزوں کے ذریعے ہم تیری توجہ چاہتے ہیںاے میرے سردار اے معبود!
وَرِضاکَ وَالدَّارَ الْاَخِرَةَ یَا سَیِّدِی وَابْنَ سَیِّدِی اشْفَعْ لِی فِی الْجَنَّةِ فَ إنَّ
تیری رضا اور آخرت کی بہتری چاہتے ہیں اے میرے سردار اور میرے سردار کے فرزندحصول جنت میں میری سفارش کریں کیونکہ
لَکَ عِنْدَ ﷲ شَأْناً مِنَ الشَّأْنِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ تَخْتِمَ لِی بِالسَّعادَةِ فَلاَ تَسْلُبْ مِنِّی
آپ خدا کے ہاں بڑی عزت و شان رکھتے ہیں اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرا انجام سعادت پر فرما پس جس گروہ میں
مَا أَنَا فِیهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ اَللّٰهُمَّ اسْتَجِبْ لَنا وَتَقَبَّلْهُ بِکَرَمِکَ
ہوں اسی میں رہنے دے اور نہیں ہے طاقت و قوت مگر وہ جو بلند و بزرگ خدا سے ملتی ہے اے معبود ہماری دعائیں قبول و منظور فرما اپنی بزرگی
وَعِزَّتِکَ وَبِرَحْمَتِکَ وَعافِیَتِکَ وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً
اپنی عزت اپنی رحمت اور اپنی بخشش کے ذریعے اور خدا حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی ساری آلعليهالسلام پر درود بھیجے اور سلام بہت بہت سلام
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
زیارت امام زادہ حمزہرحمهالله
فخرالمحققین آقا جمال الدینرحمهالله نے فرمایا ہے کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ عبد العظیم جب رے میں مقیم تھے تو بعض اوقات پوشیدہ طور پر باہر آتے اور ان کی زیارت کرتے جو آپکی قبر کے مقابل ہے اور درمیان سے راستہ گزرتا ہے آپ فرماتے تھے کہ یہ امام کاظم - کی اولاد میں سے ایک بزرگ کی قبر ہے اس جگہ پر واقع قبر آج کل امامزادہ حمزہ بن امام کاظم - سے منسوب و مشہور ہے بظاہر یہی وہ قبر ہے جسکی زیارت شاہ عبدالعظیم کیا کرتے تھے لہذا مومنین بھی مذکورہ بالا زیارت پڑھ کر اس قبر کی زیارت کر سکتے ہیں اوراَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا اَبَا الْقَاسِمِ اور اسکے بعد کا جملہ نہ پڑھیں کہ یہ دونوں جملے شاہ عبدالعظیم کے نام سے خصوصیت رکھتے ہیں یہ بھی واضح ہو کہ امام زادہ حمزہرحمهالله کے صحن مبارک میں شیخ جلیل ابوالفتوح جمال الدین حسین بن علی خزاعی کی قبر بھی ہے جو مشہور تفسیر ابواالفتوح رازی کے مصنف و مولف ہیں شی خ صدوقرحمهالله معروف بہ ابن بابویہ کی قبر عبدالعظیم شہر کے قریب ہے اور ان بزرگ علمائ کی زیارت کرنے میں غفلت سے کام نہ لیا جائے۔
تیسرا مطلب
زیارت قبور مومنینرحمهالله
شیخ جلیل و ثقہ جعفر بن قولویہ قمیرحمهالله نے عمرو بن عثمان رازی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا میں نے امام کا ظم - سے سنا ہے کہ جو شخص ہماری زیارت کرنے سے قاصر ہو تو وہ ہمارے شیعوں میں سے صالح مومنوں کی زیارت کرے پس اس کیلئے وہی ثواب ہوگا جو ہماری زیارت کا ثواب ہے جو شخص ہمارے ساتھ صلہ و نیکی کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ ہمارے محبوں نیکوکار انسانوں کے ساتھ صلہ و نیکی کرے تاکہ اسکو وہی ثواب ملے جو ہمارے ساتھ صلہ و نیکی کرنے پر ملتا ہے انہوں نے صحیح سند کے ساتھ محمد بن احمد بن یحییٰ اشعری سے یہ روایت بھی کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا میں علی بن بلال کے ہمراہ راہ مکہ میں واقعہ مقام ’’فید‘‘ پر گیا اور ہم دونوں محمد بن اسماعیل ابن بزیع کی قبر پر پہنچے تب علی بن بلال نے مجھے کہا کہ اس صاحب قبر نے مجھ سے امام رضا - کا فرمان نقل کیا تھا کہ جو شخص اپنے مومن بھائی کی قبر پر آئے اور اسکی قبر پر ہاتھ رکھ کر سات بار سورہ’’انا انزلناہ‘‘ پڑھے تو وہ قیامت میں بڑے خوف (فزع اکبر) سے بچا رہیگا ایک اور روایت میں بھی یہی طریقہ نقل ہوا ہے مگر اس میں یہ بات زائد ہے کہ وہ شخص قبر پر ہاتھ رکھے ہوئے قبلہ رخ ہو کر بیٹھے۔
مولف کہتے ہیں فزع اکبر سے محفوظ رہنے کا جو ذکر روایت میں ہے شاید اس میں وہ سورہ کی تلاوت کرنے والا شخص مراد ہے اور روایت کا ظاہر بھی یہی ہے تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے وہ صاحب قبر مراد ہو‘ جیسا کہ وہ حدیث اس کی تائید کرتی ہے جو سید بن طائوس نے نقل کی ہے اور وہ آگے ذکر ہوگی کامل الزیارات میںمعتبر سند کے ساتھ منقول ہے کہ عبدالرحمان بن ابی عبداللہ نے امام جعفر صادق - سے عرض کی کہ میںمومنین کی قبروں پر ہاتھ کس طرح رکھوں تو آپ نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے زمین پر رکھا جبکہ آپ قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے تھے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ عبداللہ بن سنان نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں عرض کی کہ مومنوں کی قبروں پر سلام کس طرح کرنا چاہیے تو حضرت نے فرمایا کہ یوں کہا کرو:
اَلسَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّیارِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ أَنْتُمْ لَنا فَرَطٌ وَنَحْنُ إنْ شائَ ﷲ بِکُمْ
سلام ہو اہل قبر ستان میں سے مومنوں اور مسلمانوں پر آپ لوگ ہمارے پیش رو ہیں اورانشائ اللہ ہم بھی آپ سے
لاحِقُونَ
آ ملیں گے ۔
امام حسین- سے روایت ہے کہ جو شخص قبرستان میں جائے وہ وہاں جا کر یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ رَبَّ هذِهِ الْاََرْواحِ الْفانِیَةِ وَالْاََجْسادِ الْبالِیَةِ وَالْعِظامِ النَّخِرَةِ الَّتِی خَرَجَتْ مِنَ
اے معبود تو ہی پرودگار ہے ان گزری ہوئی روحوں کا ان بوسیدہ جسموں کا اور ان گلی ہوئی ہڈیوں کا جو دنیا سے باہر
الدُّنْیا وَهِیَ بِکَ مُؤْمِنَةٌ أَدْخِلْ عَلَیْهِمْ رَوْحاً مِنْکَ وَسَلاماً مِنِّی
نکل چکی ہیں لیکن یہ چیزیں تجھ پر ایمان رکھتی ہیں ان کو اپنی طرف سے آسائش دے اور میرا سلام پہنچا۔
خدااس شخص کے آدمعليهالسلام سے قیامت تک کے انسانوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھے گا ۔
امیر المومنین- سے منقول ہے کہ جب کوئی شخص قبر ستان میںجائے تو یہ کہے:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ اَلسَّلَامُ عَلَی أَهْلِ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مِنْ أَهْلِ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ یَا أَهْلَ لاَ
خدا کے نام سے شروع جو رحم والا مہربان ہے سلام ہو لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں پر ان کا جو لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں اے لا
إلهَ إلاَّ ﷲ بِحَقِّ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ کَیْفَ وَجَدْتُمْ قَوْلَ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مِنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ یَا لاَ إلهَ
الہ الا اللہ پر ایمان رکھنے والوں لا الہ الا اللہ کے حق کے واسطے ہمیںبتائو کہ تم نے عقیدہ لا الہ الا اللہ کیسے پایا لا الہ الا اللہ سے اے لا الہ
إلاَّ ﷲ بِحَقِّ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ اغْفِرْ لِمَنْ قَالَ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَاحْشُرْنا فِی زُمْرَةِ مَنْ قالَ لاَ إلهَ
الا اللہ والی ذات بحق لا الہ الا اللہ کے بخش دے ان کو جنہوں نے پڑھا لا الہ الا اللہ اور محشور کر ہمیں اس گروہ میں جنہوں نے پڑھا لا الہ
إلاَّ ﷲ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ﷲ عَلِیٌّ وَلِیُّ ﷲ
الا ﷲ محمد رسول ﷲ علی ولی ﷲ۔
پس حق تعالیٰ اس شخص کے لیے پچاس سال کی عبادت کا ثواب لکھے گا نیز اس کے اور اس کے ماں باپ کے پچاس سال کے گناہ محو کر دے گا۔ایک اور روایت میں ہے کہ قبر ستان میں پڑھنے کیلئے بہتر کام یہ ہے کہ جب وہاں سے گزرے تو کہے:
اَللَّهُمَّ وَلِّهُمْ مَا تَوَّلُوْا وَاحْشُرْهُمْ مَعْ مَنْ اَحَبُّوا
اے معبود ان کے دوستوں کو دوست رکھ اور انہیں ان کے ساتھ اٹھا جن سے وہ محبت رکھتے تھے۔
سید بن طائوسرحمهالله نے مصباح الزائر میں فرمایا ہے جب کوئی شخص قبور مومنین کی زیارت کا ارادہ کرے تو بہتر ہے کہ وہ جمعرات کا دن ہو یا کوئی اور دن ہو ۔ تو ان کی زیارت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر قبر پر ہاتھ رکھے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ غُرْبَتَهُ وَصِلْ وَحْدَتَهُ وَآنِسْ وَحْشَتَهُ وَآمِنْ رَوْعَتَهُ وَأَسْکِنْ إلَیْهِ مِنْ رَحْمَتِکَ
اے معبود اس کی تنہائی پر رحم فرما بے کسی میں اس کے ساتھ رہ خوف میں اس کا ہمدم بن اسے ڈر سے امان دے اور اپنی رحمت کے
رَحْمَةً یَسْتَغْنِی بِها عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِواکَ وَأَلْحِقْهُ بِمَنْ کانَ یَتَوَلاَّهُ
سائے میں قرار دے ایسی رحمت جس سے وہ سوائے تیرے کسی رحمت کا محتاج نہ رہے اور اسے ان سے ملا دے جن کا وہ پیرو تھا۔
اس کے بعد سات مرتبہ سورۃ ’’انا انزلناه ‘‘ پڑھے:
قبور مومنین کی زیارت اور اس کے ثوب میں فضیل سے ایک حدیث مروی ہے کہ جو شخص کسی مومن کی قبر پر سات بار سورۃ ’’انا انزلناه ‘‘ پڑھے تو خدائے تعالیٰ اس قبر پر ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس کے قریب عبادت کرتا رہتا ہے۔ پس حق تعالیٰ اس فرشتے کی عبادت کا ثواب اس قبر میںمدفون انسان کے نام سے لکھے گا اور جب وہ قبر سے اٹھے گا تو قیامت کے ہول و خوف میں سے کوئی خوف اسے لاحق نہ ہو گا یہاں تک کہ خدا اسے اس فرشتے کے عمل کی بدولت داخل جنت کر دے گا۔ سات مرتبہ سورۃ ’’انا انزلناہ‘‘ پڑھنے کے بعد سورہ حمد سورہ فلق سورہ ناس سورہ اخلاص او رآیۃ الکرسی میں سے ہر ایک تین تین مرتبہ پڑھے نیز قبور مومنین کی زیارت کے بارے میں محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں گزارش کی کہ آیا ہم فوت شدگان کی زیارت کیا کریں آپ نے فرمایا ہاں پھر میں نے کہا کہ کیا ان کو اس کی خبر بھی ہوتی ہے کہ ہم ان کی زیارت کرنے آتے ہیں ؟ حضرت نے فرمایا کہ بخداا ن کو اس کی خبر ہوتی ہے اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور وہ تم لوگوں کو پہچانتے ہیں میںنے کہا کہ ہم ان کی زیارت کرتے وقت کیا پڑھیں؟ آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّٰهُمَّ جافِ الْاََرْضَ عَنْ جُنُوبِهِمْ وَصاعِدْ إلَیْکَ أَرْواحَهُمْ وَلَقِّهِمْ مِنْکَ رِضْواناً
اے معبود زمین کو اس کے پہلوؤںسے خالی کر دے ان کی روحوں کو اپنی طرف بلند کر ان کو اپنی خوشنودی سے بہرہ ور فرما
وَأَسْکِنْ إلَیْهِمْ مِنْ رَحْمَتِکَ مَا تَصِلُ بِهِ وَحْدَتَهُمْ وَتُؤْنِسُ بِهِ وَحْشَتَهُمْ إنَّکَ عَلَی کُلِّ
اور اپنی رحمت کو ان کے ساتھ کر دے تاکہ تو ان کی تنہائی دور کردے اور ان کے خوف کو دور کر دے بے شک تو ہر
شَیْئ قَدِیرٌ
چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
مردوں کے لیے ہدیہ بھیجنا
اس کے بعد سیدرحمهالله نے فرمایا کہ جب کوئی شخص مومنوں کی قبور پر جائے تو سورہ قل ھواللہ احد گیارہ مرتبہ پڑھے اور ان کو ہدیہ کرے کیونکہ روایت میں آیا ہے کہ یقیناً خدائے تعالیٰ اسکے عوض مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا فرماتا ہے کامل الزیارات میں امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ طلوع آفتاب سے پہلے مردوں کی زیارت کی جائے تو وہ سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیںاور اگر سورج نکلنے کے بعد زیارت کی جائے تو وہ سنتے ہیں مگر جواب نہیںدیتے۔ دعوات راوندی میں حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک حدیث روایت ہوئی ہے جس میں رات کے وقت زیارت قبور کے نا پسندیدہ ہونے کا ذکر ہے جیسا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابوذر غفاری سے فرمایا کبھی بھی رات کے وقت قبور مومنین کی زیارت نہ کرو نیز شیخ شہیدرحمهالله کے مجموعہ میں بھی حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل ہوا ہے کہ کوئی شخص کسی میت کی قبر پر تین بار یہ دعائیہ جملہ کہے تو خدائے تعالیٰ قیامت کے دن ضرور اس سے عذاب دور کر دے گا اور وہ دعائیہ جملہ یہ ہے:
اَللَّهُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَنْ لاَ تُعَذِّبَ هَذَا الْمَیِّتَ
اے معبود میں سوال کرتا ہوں تجھ سے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے واسطے کہ اس قبر والے پر عذاب نہ کر۔
جامع الاخبار میں بعض صحابہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل ہوا ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا اپنے مردوں کیلئے ہدیہ دیا کرو۔ ہم نے عرض کی کہ ان کیلئے ہدیہ کیا ہے؟ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ ان کیلئے ہدید صدقہ اور دعاہے نیز فرمایا کہ مومنوں کی روحیں ہر جمعہ کو آسمان دنیا پر اپنے اپنے گھروں کے سامنے آتی ہیں اور درد بھری آواز میںروتے ہوئے پکار کر کہتی ہیں اے میرے اہل و اولاد اے میرے ماں باپ اور رشتہ داروں۔ جو مال ہمارے ہاتھوں میں تھا اس میں سے ہم پر مہربانی کرو کہ اس مال کا حساب اور عذاب تو ہم پر ہے مگر اس سے فائدہ اور لوگ حاصل کر رہے ہیں اسی طرح ہر ایک روح اپنے خویش و اقربائ سے فریاد کرتی اور کہتی ہے کہ ایک روپیہ یا ایک روٹی یا ایک کپڑا خدا کی راہ میں دے کر ہم پر مہربانی کرو تاکہ خدا بھی آپ پر مہربانی کریں۔ اس کے بعد حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے گریہ فرمایا اور ہم بھی گریہ کرنے لگے جب کہ آپ جوش گریہ کی وجہ سے بات نہ کر سکتے تھے اس وقت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے دینی بھائی ہیں جن کو مٹی نے ڈھانپ رکھا ہے کہ وہ اس سے پہلے نعمت و مسرت سے جی رہے تھے۔ ان کی جانوں پر جو عذاب او رسختی وارد ہو رہی ہے اس کے باعث وہ فریاد کرتے اور کہتے ہیں کہ ہائے افسوس کیاہی اچھا ہوتا کہ ہم اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے تو آج تم لوگوں کے محتاج نہ ہوتے اور پھر وہ حسرت و ندامت کے ساتھ واپس ہو جاتے ہیں۔ بنا بریں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہدایت فرمائی کہ مردوں کے لیے صدقہ دینے میں جلدی کیا کرو۔ نیز آنحضرت نے فرمایا ہے کہ کسی میت کیلئے جو صدقہ دیا جائے اسے ایک فرشتہ نورکے طشت میں رکھ لیتا ہے کہ جس کی شعائیں ساتویں آسمان تک پہنچتی ہیں پس وہ فرشتہ یہ طشت لے کر اس میت کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر آواز دیتا ہے۔
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا اَهْلَ الْقُبُوْرِ
سلام ہو تم پر اے قبروں میں رہنے والو۔
تمہارے اہل و عیال نے تمہارے لیے یہ ہدیہ بھیجا ہے تب وہ ہدیہ لے کر قبر میں رکھ لیتا ہے اور اس کی بدولت وہاں اس کے لیٹنے کی جگہ زیادہ کھلی ہو جاتی ہے اس کے بعد حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص کسی میت کے لیے صدقہ دے کر اس پر مہربانی کرے تو خود اس کے لیے خدائے تعالیٰ کی طرف سے احد کے پہاڑ کے برابر اجرلکھا جائے گا اور روز قیامت وہ عرش الٰہی کے سایہ میں ہو گا حالانکہ اس دن سوائے عرش کے کہیں سایہ نہ ہو گا معلوم ہوا کہ اس صدقے کے وسیلے سے زندہ و مردہ دونوں ہی نجات حاصل کر تے ہیں یہ حکایت بھی بیان ہوئی ہے کہ کسی نے خراسان کے گورنر کو خواب میں دیکھا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ میرے لیے صدقہ کرو اگر چہ وہ ایسی چیز ہو جو تم اپنے کتوں کے آگے پھینکتے ہو کہ مجھے اس کی بھی ضرورت ہے۔
مردوں سے عبرت حاصل کرنا
واضح رہے کہ مومنین کی قبروں کی زیارت کے بہت زیادہ ثواب اور بہت سے فوائد کے علاوہ یہ عبرت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے اس سے دنیا میں زہد و قناعت اور آخرت کیطرف میلان اور توجہ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے پس ایک عاقل انسان کو قبرستان میں جا کر عبرت حاصل کرنا چاہیے تاکہ دنیا کی رغبت اس کے دل میں کم ہو دنیا کے مال ودولت کی مٹھاس اس کے حلق میں کڑوی معلوم ہو اور وہ دنیا کے فنا ہونے اور اس میںتغیر حال کے پہلو پر غور و فکر کرے کہ تھوڑے عرصے کے بعد میں بھی ان اہل قبور میں شامل ہو جائوں گا تب وہ عمل سے عاجز اور دوسروں کیلئے سامان عبرت ہو گا اس مضمون کونظامی نے بڑے عبرت آموز انداز میںبیان کیا ہے۔
زندہ دلی در صف افسر دگان
رفت بہ ہمسائیگی مردگان
حرف فنا خواندز ہر لوح پاک
روح بقا جست زہر روح پاک
کارشناسی پی تفتیش حال
کرداز اوبر سرراہی سوال
کین ہمہ از زندہ رمیدن چراست
رخت سوی مردہ کشیدن چراست
گفت پلیدان بمغاک اندر ند
پاک نہادان تہ خاک اندرند
مردہ دلانند بروی زمین
بہر چہ با مردہ شوم ہم نشین
ہمدمی مردہ د ہد مردگی
صحبت افسردہ دل افسردگی
زیر گل آنانکہ پراگندہ اند
گرچہ بتن مردہ بدل زندہ اند
مردہ دلی بود مرا پیش از این
بستہ ہر چون و چراپیش ازاین
زندہ شدم از نظر پاک شان
آب حیات است مرا خاک شان
ترجمہ اشعار: ایک زندہ دل غمگین لوگوں کے ہجوم میں اہل قبور کا ہمسایہ بننے کے لیے جا رہا تھا اس نے ہر پاک کتبے پر فنا کا پیغام پڑھا اور اس کی روح نے ہر پاک روح سے بقا کا راز دریافت کیا۔
ایک مرد عارف نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے راہ چلتے میںاس سے پوچھاان زندہ لوگوں کو چھوڑ کے جانے کا کیا سبب ہے اور مرے ہوئے لوگوں کی طرف روانگی کی کیا وجہ ہے؟
اس نے جواب دیا کہ بد باطن لوگ تاریکی کے گڑھے میں پڑے ہیں اور پاک دل اشخاص زیر خاک سو رہے ہیں۔روئے زمین پر مردہ لوگوں کا اجتماع ہے پھر کس لیے میں ان سیاہ دل افراد کی صحبت میں رہوں۔
جب کہ مردہ دل ہم نشیں سے مردہ دلی ملتی ہے اور رنجیدہ آدمی سے رنج و غصہ حاصل ہوتا ہے مگر وہ افراد جو زیر زمین بکھرے ہوئے ہیں اگر چہ ان کے جسم مردہ ہیں تو بھی ان کے دل زندہ ہیں۔
آج سے قبل مجھ پر مردہ دلی چھائی ہوئی تھی اور میں کیوں اور کیسے کے چکر میں پھنسا ہوا تھا۔
تاہم آج میں ان اہل قبور کی ہمسائیگی میں آ کر ان کی نگاہ پاک سے زندہ دل بن گیا ہوں گویا ان کی خاک میرے لیے آب حیات ہے۔
اختتام مفاتیح عرض مؤلف
رُوِیَ اَنَّهُ اَوْحَی ﷲ تَعَالیٰٓ اِلیٰ عِیسیٰ یَا عِیسیٰ هَبْ لِی مِنْ عَیْنِکَ الدُّمُوعَ وَمِنْ قَلْبِکَ
روایت ہوئی ہے کہ خدا ئے تعالیٰ نے حضرت عیسیٰعليهالسلام کی طرف وحی فرمائی اے عیسیٰعليهالسلام مجھے دے اپنی آنکھوں سے آنسو اپنے قلب سے خوف اور
الْخُشُوعَ وَاکْحَلْ عَیْنَیْکَ بِمِیلِ الْحُزْنِ إذا ضَحِکَ الْبَطَّالُونَ وَقُمْ عَلَی قُبُورِ الْاََمْواتِ
رنج و غم کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا جب کہ بدکار لوگ ہنستے ہیںاور مردوں کی قبروں پر جاکے کھڑا ہو
فَنادِهِمْ بِالصَّوْتِ الرَّفِیعِ لَعَلَّکَ تَأْخُذُ مَوْعِظَتَکَ مِنْهُمْ وَقُلْ إنِّی لاحِقٌ بِهِمْ فِی اللاَّحِقِینَ
پس ان کو بلند آواز سے پکار کر شاید تو ان سے نصیحت وعبرت حاصل کر لے نیز خود سے کہہ کہ میں بھی جلد ان سے جا ملوں گا۔
اس مرحلے پر وہ تمام اعمال و عبادات اور ادعیہ و ز یارات تکمیل کو پہنچیں جن کا اس با برکت کتاب میں درج کیا جانا ضروری تھا۔ چنانچہ یہ کتاب آج بروز اتوار ۱۰ ذی القعدہ ۱۳۴۴ھ کی شام کو مکمل ہوئی ہے کہ جو ثامن الائمہ امام رضا - کی شب ولادت ہے۔ چونکہ آج ہی مجھے اپنی والدہ محترمہ کی وفات کا اطلاع نامہ موصول ہوا ہے لہذا جو برادران ایمانی اس کتاب سے مستفید ہوں گے ان سے التماس ہے کہ وہ ان مرحومہ مغفورہ کیلئے دعائے مغفرت کریں نیز میرے لیئے اور میرے والد مکرم کیلئے ہماری زندگی میں اور بعد از وفات بھی دعا خیر فرمائیں۔
والحمد ﷲاولا وآخرا وصلی ﷲ علی محمد وآله الطاهرین
ملحقات اول مفاتیح الجنان
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے۔
اَلْحَمْدُ ﷲِ وَسَلاَمٌ عَلیٰ عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفَیٰ
حمد ہے خدا کیلئے اور سلام ہو اس کے بندوں پر جو برگزیدہ ہیں ۔
مؤلف کہتے :جب میں کتاب ’’مفاتیح الجنان ‘‘ مکمل کر چکا تو وہ اطراف عالم میں مشہور ومقبول ہوگئی تب مجھے خیال آیا کہ اس کی دوسری اشاعت میں مزید آٹھ مطالب کو بھی شامل کرنا ضروری ہے جو مفاتیح میں شامل کرنا چاہیے تھے مثلا
( ۱ )ماہ رمضان کی دعا ودع( ۲ ) خطبہ عید الفطر( ۳ ) ( ۴ ) زیارت ائمہعليهالسلام کے بعد کی دعا ( ۵ ) زیارت دوم ائمہعليهالسلام طاہرین ( ۶ ) دعائ رفع حاجت ( ۷ ) غیبت امام عصرعليهالسلام میں دعا ( ۸ ) ۔
لیکن اس کے ساتھ ہی خیال آیا کہ اس طرح اضافے کی راہ کھل جائے گی کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اضافی چیزیں مفاتیح کے نام پر شائع کردے گا۔ اور اس میں بہت سی غیر مستند دعائیں اور زیارتیں آجائیں گی جیسا کہ مفتاح الجنان کا یہی حشر کیا جاچکا ہے ۔چنانچہ اس خدشے کے تحت میں نے مفاتیح اسی صورت میں رہنے دی جو تالیف وطبع ہوچکی تھی اور ان آٹھ مطالب کو ملحقات کے عنوان سے مفاتیح کے ساتھ شائع کردیا ہے پس خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ائمہعليهالسلام کی طرف سے اس شخص پر لعنت ونفرین ہے جو اپنی طرف سے کچھ اضافہ کر کے اسے مفاتیح الجنان میں داخل کرے۔
ہاں تو وہ آٹھ مطالب جو خود میں نے مفاتیح کے ساتھ ملحق کیے ہیں وہ یہ ہیں ۔
(پہلا مطلب )
( ۱ ) (دعا وداع رمضان )
شیخ کلینیرحمهالله نے کتاب کافی میں ابوبصیر سے روایت کی ہے کہ جنہوں نے امام جعفرصادق - سے وداع رمضان المبارک کے لیے یہ دعا نقل کی ہے :
اَللّٰهُمَّ إنَّکَ قُلْتَ فِی کِتابِکَ الْمُنْزَلِ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنْزِلَ فِیهِ
اے معبود! بے شک تو نے اپنی بھیجی ہوئی کتاب میں فرمایا ہے کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں
الْقُرْآنُ وَهذَا شَهْرُ رَمَضانَ وَقَدْ تَصَرَّمَ فأَسْأَلُکَ بِوَجْهِکَ
قرآن نازل ہوا اور یہ ماہ رمضان ہی ہے جو یقینا گزر گیا ہے تو میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری ذات
الْکَرِیمِ وَکَلِماتِکَ التَّامَّةِ إنْ کانَ بَقِیَ عَلَیَّ ذَنْبٌ لَمْ تَغْفِرْهُ لِی أَوْ تُرِیدُ أَنْ تُعَذِّبَنِی عَلَیْهِ
کریم اور تیرے کامل کلمات کے واسطے سے اگر میرا کوئی گناہ رہ گیا ہے جو تونے نہیں بخشا یا تو نے مجھے اس پر عذاب دینا ہے یا مجھ پر
أَوْ تُقایِسَنِی بِهِ أَنْ لاَ یَطْلُعَ فَجْرُ هذِهِ اللَّیْلَةِ أَوْ یَتَصَرَّمَ هذَا الشَّهْرُ إلاَّ
سختی کرنا چاہتا ہے تو بھی اس رات کی صبح ہونے یا اس ماہ مبارک کے ختم ہونے سے پہلے میرا وہ گناہ
وَقَدْ غَفَرْتَهُ لِی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ بِمَحامِدِکَ
معاف کردے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے معبود !تیرے لیے حمد ہے ان تمام تعریفوں کے
کُلِّها أَوَّلِها وَآخِرِها مَا قُلْتَ لِنَفْسِکَ مِنْها وَمَا قالَ الْخَلائِقُ الْحَامِدُونَ
اول وآخر کے ساتھ جو تو نے اپنے لیے بیان کیں ہیں اور جو تیرے بندوں میںسے حمد کرنے والوں
الْمُجْتَهِدُونَ الْمَعْدُودُونَ الْمُوَفِّرُونَ ذِکْرَکَ وَالشُّکْرَ لَکَ الَّذِینَ أَعَنْتَهُمْ عَلَی أَدائِ
عبادت کرنے والوں نے شمار کی ہیں جو تیرا بہت زیادہ ذکر اور شکر کرتے ہیں یہ وہلوگ ہے جنکی تو نے مدد کی تاکہ
حَقِّکَ مِنْ أَصْنافِ خَلْقِکَ مِنَ الْمَلائِکَةِ الْمُقَرَّبِینَ وَالنَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ وَأَصْنافِ
وہ تیرا حق ادا کریں وہ تیرے بندوں کے مختلف طبقوں یعنی وہ تیرے مقرب فرشتوں نبیوں اور رسولوں میں سے ہیں اور ذکر کرنے
النَّاطِقِینَ وَالْمُسَبِّحِینَ لَکَ مِنْ جَمِیعِ الْعالَمِینَ عَلَی أَنَّکَ بَلَّغْتَنا شَهْرَ رَمَضانَ
والوں اور تیری تسبیح کرنے والوں میںسے ہیں جو سارے جہانوں میں موجود ہیں یہ شکر اس لیے ہے کہ تو نے ہم کو ماہ رمضان پہچنایا
وَعَلَیْنا مِنْ نِعَمِکَ وَعِنْدَنا مِنْ قِسَمِکَ وَ إحْسانِکَ وَتَظاهُرِ امْتِنانِکَ فَبِذلِکَ لَکَ
جو ہم پر تیری نعمت ہے یہ تیری طرف سے ہمارا حصہ تیری عنایت اور بہت بڑا احسان ہے پس اس وجہ سے تیرے لیے
مُنْتَهَیٰ الْحَمْدِ الْخالِدِ الدَّایِمِ الرَّاکِدِ الْمُخَلَّدِ السَّرْمَدِ الَّذِی لاَ یَنْفَدُ
حمد ہے تمام تر ہمیشہ ہمیشہ کبھی ختم نہ ہونے والی لگا تار کہ جو زمانے کے طول میں سدا جاری
طُولَ الْاََبَدِ جَلَّ ثَناؤُکَ أَعَنْتَنا عَلَیْهِ حَتَّی قَضَیْتَ عَنَّا صِیامَهُ وَقِیامَهُ مِنْ صَلاةٍ وَمَا
رہے تو بڑی تعریف والا ہے کہ تو نے ہماری مدد کی تو ہم نے اس مہینے کے روزے رکھے اور واجبی وسنتی نمازیں ادا کیں اور ہم
کانَ مِنَّا فِیهِ مِنْ بِرٍّ أَوْ شُکْرٍ أَوْ ذِکْرٍ اَللّٰهُمَّ فَتَقَبَّلْهُ مِنَّا بِأَحْسَنِ
نے اس ماہ میں نیک عمل انجام دئییاور شکر اور ذکر کیا اے معبود! ہمارے روزے اور عبادتیں بہترین
قَبُولِکَ وَتَجاوُزِکَ وَعَفْوِکَ وَصَفْحِکَ وَغُفْرانِکَ وَحَقِیقَةِ رِضْوانِکَ حَتَّی
انداز سے قبول فرما ہم سے در گذر کر معاف فرما چشم پوشی کربخشش عطا کر اور ہمیں اپنی خوشنودی سے نواز
تُظَفِّرَنا فِیهِ بِکُلِّ خَیْرٍ مَطْلُوبٍ وَجَزِیلِ عَطائٍ مَوْهُوبٍ وَتُوقِیَنا فِیهِ مِنْ کُلِّ مَرْهُوبٍ أَوْ
تاکہ اس مہینے میں ہم نیک عمل انجام دیں اور ہر بڑی عطا حاصل کر لے تو ہمیں ہر خوفناک مقام سخت ترین
بَلائٍ مَجْلُوبٍ أَوْ ذَنْبٍ مَکْسُوبٍ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِعَظِیمِ مَا سَأَلَکَ بِهِ أَحَدٌ
مصیبت اور ہر جرم وگناہ سے بچائے رکھ اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس عظیم چیز کے واسطے سے جس کے ذریعے
مِنْ خَلْقِکَ مِنْ کَرِیمِأَسْمائِکَ وَجَمِیلِ ثَنائِکَ وَخاصَّةِ دُعائِکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی
تیری مخلوق میں سے کسی نے سوال کیا ہو تیرے بہترین ناموں تیری بہترین ثنائ اور تیرے حضور خاص دعا کے واسطے سے کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ شَهْرَنا هذَا أَعْظَمَ شَهْرِ رَمَضانَ مَرَّ عَلَیْنا مُنْذُ أَنْزَلْتَنا إلَی
پر رحمت نازل فرما اور ہمارے اس ماہ رمضان کو عظیم بنا ہر رمضان سے جو ہم نے دنیا میں آنے کے بعد گزارا ہے لہذا
الدُّنْیا بَرَکَةً فِی عِصْمَةِ دِینِی وَخَلاصِ نَفْسِی وَقَضائِ حَوَائِجِی وَتُشَفِّعَنِی فِی مَسائِلِی
میرے دین میں زیادہ برکت دے مجھے عذاب سے نجات دے میری حاجتیں پوری فرما میرے معاملوں میں شفاعت
وَتَمامِ النِّعْمَةِ عَلَیَّ وَصَرْفِ السُّوئِ عَنِّی وَلِباسِ الْعافِیَةِ لِی فِیهِ وَأَنْ تَجْعَلَنِی بِرَحْمَتِکَ
قبول کر مجھے زیادہ نعمتیں دے ہر برائی کو مجھ سے دور رکھ اور مجھے اس سے بچنے کا سامان عطا فرما مجھے اپنی اس رحمت میں خاص
مِمَّنْ خِرْتَ لَهُ لَیْلَةَ الْقَدْرِ وَجَعَلْتَها لَهُ خَیْراً مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ فِی أَعْظَمِ
کر جس کیلئے تو نے شب قدر کوپسند کیا اور اس کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیاکہ اس میں
الْاََجْرِ وَکَرائِمِ الذُّخْرِ وَحُسْنِ الشُّکْرِ وَطُولِ الْعُمْرِ وَدَوامِ الْیُسْرِ اَللّٰهُمَّ
اجرزیادہ ہے نیکیاں جمع ہوتی ہیں شکر بہترین قرار پاتا ہے عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور ہمیشہ کی خوشحالی ملتی ہے اور اے معبود
وأَسْأَلُکَ بِرَحْمَتِکَ وَطَوْلِکَ وَعَفْوِکَ وَنَعْمائِکَ وَجَلالِکَ وَقَدِیمِ إحْسانِکَ
تیری رحمت تیری بخشش تیری پردہ پوشی تیری نعمات تیرے رعب وجلال اور تیرے قدیمی احسان اور عطا
وَامْتِنانِکَ أَنْ لاَ تَجْعَلَهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنَّا لِشَهْرِ رَمَضانَ حَتَّی تُبَلِّغَناهُ مِنْ قابِلٍ عَلَی أَحْسَنِ
کے واسطے سے سوالی ہوں کہ ماہ رمضان کو ہمارے لیے آخری رمضان قرار نہ دے یہاں تک کہ تو ہمیں آیندہ رمضان بہترین حال
حالٍ وَتُعَرِّفَنِی هِلالَهُ مَعَ النَّاظِرِینَ إلَیْهِ وَالْمُعْتَرِفِینَ لَهُ فِی أَعْفیٰ عافِیَتِکَ وَأَنْعَمِ
میں دکھائے نیز مجھے دوسروں کے ہمراہ آئندہ رمضان کاچاند دیکھنے کا موقع دے جو اسے تیری طرف سے بہترین عافیت والا
نِعْمَتِکَ وَأَوْسَعِ رَحْمَتِکَ وَأَجْزَلِ قِسَمِکَ یَا رَبِّیَ الَّذِی لَیْسَ لِی رَبٌّ غَیْرُهُ لاَ
نعمتیں دلانے والا تیری رحمت میں وسعت کا باعث اور تیری طرف سے زیادہ ملنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اے میرے وہ رب کہ جسکے سوا
یَکُونُ هذَا الْوَداعُ مِنِّی لَهُ وَداعَ فَنائٍ وَلاَ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی لِلِقائٍ حَتّی تُرِیَنِیهِ مِنْ
میراکوئی پروردگار نہیں میرا یہ وداع رمضان سے آخری وداع نہ ہو اور نہ یہ میرے لیے آخری رمضان ہویہاں تک کہ تو مجھے آئندہ
قابِلٍ فِی أَوْسَعِ النِّعَمِ وَأَفْضَلِ الرَّجائِ وَأَنَا لَکَ عَلَی أَحْسَنِ الْوَفائِ إنَّکَ سَمِیعُ
رمضان دکھائے جس میں وسیع نعمتیں اور بہترین امیدیں ہوں اور میں اس میں تیرا بہترین وفادار بنوں بے شک تو دعا کا سننے والا ہے
الدُّعائِ اَللّٰهُمَّ اسْمَعْ دُعائِی وَارْحَمْ تَضَرُّعِی وَتَذَلُّلِی لَکَ وَاسْتِکانَتِی وَتَوَکُّلِی عَلَیْکَ وَأَنَا
اے معبود ! میری دعا سن لے اور میری زاری وخواری پر رحم فرما اور میری مسکینی پر رحم کر اور اس پر کہ میں تیرا سہارا لیتا ہوں میں تجھ پر
لَکَ مُسَلِّمٌ لاَ أَرْجُو نَجاحاً وَلاَ مُعافاةً وَلاَ تَشْرِیفاً وَلاَ تَبْلِیغاً إلاَّ بِکَ وَمِنْکَ وَامْنُنْ عَلَیَّ جَلَّ ثَناؤُکَ
ایمان رکھتا ہوں میں کامیابی کی امید پردہ پوشی کی خواہش عزت کی تمنا اور مقام بلند کی آرزو نہیں کرتا مگر تجھ سے اور تیری طرف سے لہذا مجھ پر احسان کر کہ تیری تعریف
وَتَقَدَّسَتْ أَسْماؤُکَ بِتَبْلِیغِی شَهْرَ رَمَضانَ وَأَنَا مُعافیً مِنْ کُلِّ مَکْرُوهٍ وَمَحْذُورٍ وَمِنْ
روشن اور تیرے نام پاکیزہ ہیں مجھے آئندہ رمضان کادیکھنا نصیب کرجب میں ہر بدی سے محفوظ اور اس سے پناہ یافتہ اور تمام غلط
جَمِیعِ الْبَوائِقِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَعانَنا عَلَی صِیامِ هذَا الشَّهْرِ وَقِیامِهِ حَتَّی بَلَّغَنِی
کاموں سے دور ہوںحمد ہے خدا کیلئے جس نے ہمیں ماہ رمضان میں روزے اور نماز کی ہمت وتوفیق دی میں اس کی
آخِرَ لَیْلَةٍ مِنْهُ
آخری رات دیکھ رہا ہوں۔
(دوسرا مطلب)
( ۲ ) عید الفطر کا پہلا خطبہ
امام جماعت نماز عید پڑھانے کے بعد یہ خطبہ حاضرین کو سناتا ہے۔
،شیخ صدوقرحمهالله نے ’’من لا یحضرہ الفقیہ ‘‘ میں امیر المؤمنین- سے یہ خطبہ اس طرح نقل کیا ہے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضَ وَجَعَلَ
حمد ہے خدا کے لیے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیااور تاریکی و روشنی کو
الظُّلُماتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُونَ لاَ نُشْرِکُ بِالله شَیْئاً
ایجاد کیا پھر بھی وہ لوگ اپنےرب کا انکار کرتے اور منہ موڑتے ہیں لیکن ہم کسی کو خدا کاشریک نہیں سمجھتے اور نہ اسکے سوا
وَلاَ نَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ وَلِیّاً وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیلَهُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی
کسی کو سرپرست بناتے ہیں اور حمدہے خدا کیلئے کہ اسی کا ہےجو کچھ آسمانوں اور زمین میں حمد ہے اس کیلئے روز آخرت
الْاََرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِی الْاَخِرَةِ وَهُوَ الْحَکِیمُ الْخَبِیرُ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی
میں کہ وہ حکمت والا ہےآگاہ ہے اور وہ جانتا ہے اسے جو زمین میں داخل ہوتا اور باہر آتا ہے
الْاََرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْها وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمائِ وَمَا یَعْرُجُ فِیها وَهُوَ الرَّحِیمُ
اور اسے بھی جوآسمان سےاترتا اور اس کی طرف چڑھتاہے اور وہ بڑامہربان ہے اوربہت بخشش والا خدا
الْغَفُورُ کَذَلِکَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ إلَیْهِ الْمَصِیرُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی یُمْسِکُ
ایسا ہی ہے کوئی معبود نہیں سوائے اسکے آخر اسی کے ہاں پہنچنا ہے حمد ہے خدا کیلئے جس نے آسمانوں کو
السَّمائَ أَنْ تَقَعَ عَلَی الْاََرْضِ إلاَّ بِ إذْنِهِ إنَّ ﷲ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَحِیمٌ
روکا ہے کہ زمین پر نہ آگریں مگر جب وہ اسے حکم دے بے شک خدا انسانوں کیلئے محبت رکھنے والا اورمہربان ہے
اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنا بِرَحْمَتِکَ وَ اعْمُمْنا بِمَغْفِرَتِکَ إنَّکَ أَنْتَ الْعَلِیُّ
اے معبود ! ہم پر رحم کر اپنی رحمت سے اور ہمیں اپنی بخشش سے بہرور فرمابے شک تو بلند تر اور بزرگ تر ہے اور
الْکَبِیرُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی لاَ مَقْنُوطٌ مِنْ رَحْمَتِهِ وَلاَ مَخْلُوٌّ مِنْ نِعْمَتِهِ وَلاَ
حمد ہے خدا کے لئے کہ جس کی رحمت سے ناامیدی نہیں ہوتی، ہاتھ اسکی نعمت سے خالی نہیں رہتا، اسکی مہربانی
مُؤْیَسٌ مِنْ رَوْحِهِ وَلاَ مُسْتَنْکَفٌ عَنْ عِبادَتِهِ بِکَلِمَتِهِ قامَتِ
مایوس نہیں ہونے دیتی اورنہ اسکی عبادت سے منہ موڑا جاتا ہے اس کے فرمان سے سات
السَّموَاتُ السَّبْعُ وَاسْتَقَرَّتِ الْاََرْضُ الْمِهادُ وَثَبَتَتِ الْجِبالُ الرَّواسِی
آسمان قائم ہیں پھیلی ہوئی زمین برقرار ہے بڑےبڑے پہاڑ اپنے پاؤں پرکھڑے ہیں ابر کو بھاری
وَجَرَتِ الرِّیاحُ اللَّواقِحُ وَسارَ فِی جَوِّ السَّمائِ السَّحاب ُ وَقامَتْ عَلَی حُدُودِهَ
کرنے والی ہوائیں جاری ہیں فضا میں بادل تیرتے پھر رہے ہیں اور سمند ر اپنےکناروں کے اندر ٹھہرے
ا الْبِحارُ وَهُوَ إلهٌلَهَا لَها وَقاهِرٌ یَذِلُّ لَهُ الْمُتَعَزِّزُونَ وَیَتَضائَلُ لَهُ الْمُتَکَبِّرُونَ وَیَدِینُ
ہوئے ہیں وہی ان سب کا معبود ہے وہ زبردست ہے کہ عزت والے اسکے آگے جھکتے ہیں، بڑائی والے اسکے سامنے عاجز ہیں اور
لَهُ طَوْعاً وَکَرْهاً الْعالَمُونَ نَحْمَدُهُ کَمَا حَمِدَ نَفْسَهُ وَ
اہل جہان خوشی و نا خوشی اس کےفرمانبردار ہیں ہم اس کی حمد کرتےہیں جیسے خود اس نے کی اور جو اسکے
کَما هُوَ أَهْلُهُ وَنَسْتَعِینُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَسْتَهْدِیهِ
شایاں ہے ہم اس سے مدد چاہتے ہیں بخشش مانگتے ہیں اور ہدایت
وَنَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ یَعْلَمُ
چاہتے ہیں ہم گواہ ہیں کہ خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یگانہ ہے ،کوئی اسکاشریک نہیں وہ جانتا ہے
مَا تُخْفِی النُّفُوسُ وَ مَا تُجِنُّ الْبِحارُ وَمَا تُوارٰی مِنْهُ ظُلْمَةٌ وَ لاَ تَغِیبُ عَنْهُ غائِبَةٌ وَ
جو دلوں میں پوشیدہ جو سمندروں کی تہوں میںہے تاریکی کسی چیز کو اس سے نہاں نہیں کر سکتی کوئی
مَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ مِنْ شَجَرَةٍ وَلاَ حَبَّةٍ فِی ظُلْمَةٍ إلاَّ یَعْلَمُها لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ وَلاَ رَطْبٍ
اس سے اوجھل نہیں، درخت کا کوئی پتہ اور میوہ تاریکی میں نہیں گرتا مگر وہ اس سے باخبر ہے اس کے سوائ کوئی معبود نہیں اور
وَلاَیابِسٍ إلاَّ فِی کِتابٍ مُبِینٍ وَیَعْلَمُ مَا یَعْمَلُ الْعامِلُونَ وَأَیَّ مَجْرَیً یَجْرُونَ وَ إلَی أَیِّ
نہیں کوئی خشک و تر مگر وہ روشن کتاب میں مذکور ہے وہ جانتا ہے عمل کرنے والے جو کچھ کرتے ہیں کس راہ پر چلتے ہیں اور کس
مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُونَ وَنَسْتَهْدِی ﷲ بِالْهُدَی وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَنَبِیُّهُ
جگہ ان کی بازگشت ہوتی ہےہم خدا سے ہدایت کے طالب ہیں اور گواہ ہیں کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے بندے اس کے نبی اور رسول ہیں
وَرَسُولُهُ إلَی خَلْقِهِ وَأَمِینُهُ عَلَی وَحْیِهِ وَأَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ رِسالاتِ رَبِّهِ
اس کی مخلوق کیلئے وہ اسکی وحی کے امین ہیں اور یقینا انہوں نے اپنے رب کا پیغام پہنچایا،انہوں نے خدا کیلئے مشرکوں اور گمراہوں
وَجاهَدَ فِی ﷲ الْحائِدِینَ عَنْهُ الْعادِلِینَ بِهِ وَعَبَدَ ﷲ حَتَّی أَتاهُ الْیَقِینُ
سے کامل جہاد کیا اور خدا کی عبادت کرتے رہے یہاں تک کہ وفات پاگئے خدا ان پر اور انکی آل
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُوصِیکُمْ بِتَقْوَی ﷲ
عليهالسلام پر درود و سلام بھجیے میں تم کو خداسے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں کہ
الَّذِی لاَ تَبْرَحُ مِنْهُ نِعْمَةٌ وَلاَ تَنْفَدُ مِنْهُ رَحْمَةٌ وَلاَ یَسْتَغْنِی الْعِبادُ عَنْهُ وَلاَ یَجْزِی أَنْعُمَهُ الْاَعْمالُ
جسکی نعمت کو زوال نہیں جس کی رحمت کی انتہا نہیں بندے اسسے بے نیاز نہیں ہو سکتے اور ان کے اعمال اس کی نعمتوں کا بدلہ نہیں بن سکتے
الَّذِی رَغَّبَ فِی التَّقْوَیٰ وَزَهَّدَ فِی الدُّنْیاوَحَذَّرَ الْمَعاصِیَ وَتَعَزَّزَ
اسی نے تقویٰ کیطرف متوجہ کیا دنیا سے تعلق نہ جوڑےکا حکم فرمایا گناہوں سے بچنےکی تعلیم دی وہ بقا کیساتھ معزز ہے اس کی
بِالْبَقائِ وَ ذَلَّلَ خَلْقَهُ بِالْمَوْتِ وَالْفَنائِ وَالْمَوْتُ غایَةُ الْمَخْلُوقِینَ
مخلوق موت اور فنا کے آگے پست ہے ہر مخلوق کی منزل آخر موت
وَسَبِیلُ الْعالَمِینَ وَمَعْقُودٌ بِنَواصِی الْباقِینَ لاَ یُعْجِزُهُ إباقُ الْهارِبِینَ
ہے یہ اہل جہان کا راستہ ہے موت زندوں کی پیشانی پر ثبت ہے بھاگنے والےاس کے قابو سے نکل نہیں
وَعِنْدَ حُلُولِهِ یَأْسِرُ أَهْلَ الْهَوَیٰ یَهْدِمُ کُلَّ لَذَّةٍ وَیُزِیلُ کُلَّ نِعْمَةٍ وَیَقْطَعُ
سکتے موت کے وقت اہل حرص ذلیل ہوں گے موت ہرلذت چھین لے گی ،ہر نعمت سے محروم کردے گی اور ہر
کُلَّ بَهْجَةٍ وَالدُّنْیا دارٌ کَتَبَ ﷲ لَهَا الْفَنائَ وَلاََِهْلِها مِنْهَا الْجَلائَ فَأَکْثَرُهُمْ
خوشی کا خاتمہ کردے گی دنیا ایسا گھر ہے جس کیلئے خدا نے فنا لکھ دی اور دنیا والوں کو دنیا چھوڑ جانا ہے پھر بھی بہت سے
یَنْوِی بَقائَها وَیُعَظِّمُ بِنائَهاوَهِیَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ قَدْ عُجِّلَتْ لِلطَّالِبِ وَالْتَبَسَتْ
لوگ ہمیشہ یہاں رہنا چاہتےہیں وہ بڑے محل بناتے ہیں طالب دنیا،دنیا کیلئے شیریں ہے اور جلد گزر جاتی ہےلیکن صاحبان نظر کیلئے یہ مقام فریب ہے یہاں
بِقَلْبِ النَّاظِرِ وَیُضْنِی ذوالثَّرْوَةِ الضَّعِیفَ وَیَحْتَوِیهَا الْخائِفُ الْوَجِلُ
مالدار غریبوں سے ہاتھ کھینچتے ہیں لیکن خداترس لوگ دنیا سے نفرت کرتے ہیں پس جلد دنیا
فَارْتَحِلُوا مِنْها یَرْحَمُکُمُ ﷲ بِأَحْسَنِ مَا بِحَضْرَتِکُمْ وَلاَ تَطْلُبُوا مِنْها أَکْثَرَ مِنَ الْقَلِیلِ وَلاَ
چھوڑ جاؤ خدا رحم کرے تم پر کہ بہترین عمل کرتے ہو اس کمتر دنیا سے زیادہ کی طلب نہ کرو اپنی ضرورت سےزیادہ کا سوال
تَسْأَلُوا مِنْها فَوْقَ الْکَفافِ وَارْضَوْا مِنْها بِالْیَسِیرِ وَلاَ تَمُدُّنَّ أَعْیُنَکُمْ مِنْها
نہ کرو اور کم مقدار پر راضی رہوت مہاری آنکھیں دنیا کی ان چیزوں پر نہ لگیں جو سرمایہ داروں نے فراہم کیں ہیں تم
إلی مَا مُتِّعَ الْمُتْرَفُونَ بِهِ وَاسْتَهِینُوا بِها وَلاَ تُوَطِّنُوها وَأَضِرُّوا بِأَنْفُسِکُمْ فِیها وَ إیَّاکُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَ
انہیں کچھ اہمیت نہ دو بلکہ تم اس کو اپنا وطن نہ بناؤ کہ یہاں خسارہ اٹھاؤ گےاور ایسا نہ ہوکہ اس کی نعمتوں اور رونقوں میں محو ہوجاؤ
التَّلَهِّیَ وَالْفاکِهاتِ فَ إنَّ فِی ذلِکَ غَفْلَةً وَاغْتِراراً أَلا إنَّ الدُّنْیا قَدْ تَنَکَّرَتْ
کیونکہ وہ غفلت اور دھوکے کی جگہ ہے آگاہ رہوکہ دنیا نے اپنے چاہنے والوں سے بے وفائی کی ان سے منہ موڑ لیا ان کو
وَأَدْبَرَتْ وَاحْلَوْلَتْ وَآذَنَتْ بِوَداعٍ أَلا وَ إنَّ الْاَخِرَةَ قَدْ رَحَلَتْ فَأَقْبَلَتْ وَأَشْرَفَتْ
چلتا کیا اور وداع کردیاسمجھ لو کہ بے شک آخرت تمہاری طرف بڑھی تمہیں خوش آمدید کہا تمہیں عزت
وَآذَنَتْ بِاطِّلاعٍ أَلا وَ إنَّ الْمِضْمارَ الْیَوْمَ وَالسِّباقَ غَداً أَلا وَ إنَّ السُّبْقَةَ الْجَنَّةُ
دی اور تمہارے پہنچنے کا اعلان کیا یاد رکھو آج آزمائش کا دن ہے اور کل ایک دوسرےسے سبقت لے جانے کا دن
وَالْغایَةَ النَّارُ أَلا أَفَلا تائِبٌ مِنْ خَطِیئَتِهِ قَبْلَ یَوْمِ مَنِیَّتِهِ أَلا عامِلٌ لِنَفْسِهِ قَبْلَ یَوْمِ
ہوگا جان لو اطاعت میں سبقت سے جنت اورنافرمانی میں جہنم ہے ہاں تو کوئی ایسا نہیں جو موت سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ
بُؤْسِهِ وَفَقْرِهِ جَعَلَنَا ﷲ وَ إیَّاکُمْ مِمَّنْ یَخافُهُ وَیَرْجُو ثَوابَهُ أَلا إنَّ هذَا الْیَوْمَ
کرلے آیا کوئی نہیں جو تنگی اور بے کسی کے دن سے پہلے اپنے لیے نیک عمل کرےخدا نے ہمیں اور تمہیں ان لوگوں
یَوْمٌ جَعَلَهُ ﷲ لَکُمْ عِیداً وَجَعَلَکُمْ لَهُ أَهْلاً فَاذْکُرُوا ﷲ یَذْکُرْکُمْ وَادْعُوهُ
میں رکھا جو اس سے ڈرتے اور امید ثواب رکھتے ہیں بے شک آج کا دن خدا نے تمہارے لیے یوم عید بنایا اور تم کو عید کا حقدار قرار دیا ہے پس خداکویاد کرو کہ وہ بھی تمہیں
یَسْتَجِبْ لَکُمْ وَأَدُّوا فِطْرَتَکُمْ فَ إنَّها سُنَّةُ نَبِیِّکُمْ وَفَرِیضَةٌ واجِبَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ فَلْیُؤَدِّها کُلُّ
یاد کرے اس سے دعا مانگو کہ وہ اسے قبول فرمائے اپنا اپنا فطرہ ادا کرو کہ یہ تمہارے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت اور تمہارے رب کی طرف سے
امْرِیًَ مِنْکُمْ عَنْ نَفْسِهِ وَعَنْ عِیالِهِ کُلِّهِمْ ذَکَرِهِمْ وَأُنْثاهُمْ وَصَغِیرِهِمْ
لازم کردہ فرض ہے پس تم میں سے ہر شخص زکاۃ فطرہ ادا کرے اپنی طرف سے اپنے سبھی اہل خانہ کی طرف سے ہر مرد
وَکَبِیرِهِمْ وَحُرِّهِمْ وَمَمْلُوکِهِمْ عَنْ کُلِّ إنْسانٍ مِنْهُمْ صاعاً مِنْ بُرٍّ
اور عورت ہر چھوٹے بڑے اوران میں سے ہر آزاد اور غلام کی طرف سے فی کس تین کلو کی مقدار میں گندم یا تین کلو کھجوریں
أَوْ صاعاً مِنْ تَمْرٍ أَوْ صاعاً مِنْ شَعِیرٍ وَأَطِیعُوا ﷲ فِیما فَرَضَ عَلَیْکُمْ
یا تین کلو جَو ضرور دےاور خدا کی اطاعت کرو اس میں جو اس نے تم پر لازم کیا ہے
وَأَمَرَکُمْ بِهِ مِنْ إقامِ الصَّلاةِ وَ إیتآئِ الزَّکَاةِ وَحِجِّ الْبَیْتِ وَصَوْمِ شَهْرِ رَمَضانَ
اور حکم دیا جیسے پابندیِٔ نماز ادائے ِزکوٰۃ حجِ بیت ﷲاور ماہ رمضان کے روزے
وَالْاََمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْاِحْسانِ إلی نِسائِکُمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمانُکُمْ وَأَطِیعُوا
نیزنیکی کی ترغیب دینا اور بدی سے روکنا مزید برآں اپنی عورتوں اور اپنے مملوکہ غلاموں سے اچھا برتاؤ کرنا
ﷲ فِیما نَهاکُمْ عَنْهُ مِنْ قَذْفِ الْمُحْصَنَةِ وَ إتْیانِ الْفاحِشَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ وَ بَخْسِ الْمِکْیالِ وَ
اور خدا کی اطاعت کروجن چیزوں سے اس نے روکا ہے یعنی شریف عورت پر تہمت لگانے، برے کام انجام دینے، شراب خوری کرنے، ،
نَقْصِ الْمِیزانِ وَشَهادَةِ الزُّورِوَالْفِرارِ مِنَ الزَّحْفِ عَصَمَنَا ﷲ وَ إیَّاکُمْ بِالتَّقْویٰ وَجَعَلَ
چیزیں کم ناپنے اور کم تولنے نیز جھوٹی گواہی دینے اور جنگ سے فرار کوخدا نے روکا ہے خدا ہمیں اور تمہیں تقویٰ کا پابند بنائے اور
الْاَخِرَةَ خَیْراً لَنا وَلَکُمْ مِنَ الْاَُولَیٰ إنَّ أَحْسَنَ الْحَدِیثِ وَأَبْلَغَ مَوْعِظَةِ
ہمارے تمہارے لیے آخرت کو دنیا سے بہتر قراردے بے شک پرہیزگاروںکے لیے عمدہ کلام اور دلنشین نصیحت اس خدا کی
الْمُتَّقِینَ کِتابُ ﷲ
الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ أَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّیْطانِ الرَّجِیمِ بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ
کتاب ہے جو زبردست اورحکمت والا ہے میں پناہ لیتا ہوں خدا کی راندےہوئے شیطان سے خدا کے نام سے جو بڑے رحم والا
الرَّحِیمِ قُلْ هُوَ ﷲ أَحَدٌ ﷲ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ ۔
مہربان ہے کہہ دو کہ وہ ﷲ ایک ہے ﷲ بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔
(دوسرا مطلب)
عید الفطر کا دوسرا خطبہ
پہلا خطبہ تمام کرنے کے بعد بیٹھ جائے لیکن فوراً ہی اٹھ کھڑا ہو اور دوسرا خطبہ پڑھنا شروع کردے یہ وہی خطبہ جسے حضرت علی - جمعہ کے روز پہلے خطبے کے بعد پڑھتے تھے اور وہ یہ ہے :
الْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِینُهُ وَنُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَشْهَدُ أَنْ لاَ
حمد خدا کیلئے ہے ہم اس کی حمدکرتے ہیں اس سے مدد مانگتے ہیں ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی پر بھروسہ
إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَواتُ
کرتے ہیں اور ہم گواہ ہیں کہﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس
ﷲ وَسَلامُهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَمَغْفِرَتُهُ وَرِضْوانُهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
کے بندے و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر خدا کادرود وسلام ہو نیز اس کی بخشش اور خوشنودی حاصل رہے
عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ وَنَبِیِّکَ صَلاةً نامِیَةً زاکِیَةً تَرْفَعُ بِها
اے معبود! حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما جو تیرے بندے تیرے رسول اور تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ایسی رحمت
دَرَجَتَهُ وَتُبَیِّنُ بِها فَضْلَهُ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبارِکْ
جو بڑھنے والی اورپاکیزہ ہوجس سے ان کا مرتبہ بلندہو اور ان کی بڑائی ظاہر ہو اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ کَما صَلَّیْتَ وَبارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَی إبْراهِیمَ وَآلِ
پر رحمت فرما اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر برکت نازل کر جیسے تو نے رحمت فرمائی،برکت نازل کی اور مہربانی
إبْراهِیمَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ اَللّٰهُمَّ عَذِّبْ کَفَرَةَ أَهْلِ الْکِتابِ الَّذِینَ
کی ابراہیمعليهالسلام اور آل ابراہیمعليهالسلام پربے شک تو تعریف والا ہےاور شان والاہے اے معبود!اہل کتاب میںسے کافروں
یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِکَ وَیَجْحَدُونَ آیاتِکَ وَیُکَذِّبُونَ رُسُلَکَ اَللّٰهُمَّ خالِفْ بَیْنَ
پر عذاب بھیج کہ جو تیرے راستےپر آنے والوں کو روکتے ہیں تیری آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور تیرے پیغمبروعليهالسلام ں کوجھٹلاتے ہیں
کَلِمَتِهِمْ وَأَلْقِ الرُّعْبَ فِی قُلُوبِهِمْ وَأَنْزِلْ عَلَیْهِمْ رِجْزَکَ وَنَقِْمَتَکَ
اے معبود ! ان کے عقائد میں اختلاف ڈال دے ان کے دلوںپر مسلمانوں کا رعب جمادےاور ان کو سزا دے ان سے بدلہ لے
وَبَأْسَکَ الَّذِی لاَ تَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِینَ اَللّٰهُمَّ انْصُرْ جُیُوشَ الْمُسْلِمِینَ وَ
اور ان پر سختی لے آ کہ جسے تو گناہگار لوگوں سے ہر گزدور نہیں کرتا اے معبود!مسلمانوں کے لشکروں ان کے فوجی دستوں اور
سَرَایاهُمْ وَمُرابِطِیهِمْ فِی مَشارِقِ الْاََرْضِ وَمَغارِبِها إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ
سرحدوں کے نگہبانوں کی زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں مدد فرما بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود! مومن مردوں
لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ وَالْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِماتِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلِ التَّقْویٰ
اور مومنہ عورتوں کو بخش دے اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دےاے معبود تقویٰ کو ان کا
زادَهُمْ وَالْاِیمانَ وَالْحِکْمَةَ فِی قُلُوبِهِمْ وَأَوْزِعْهُمْ أَنْ یَشْکُرُوا نِعْمَتَکَ الَّتِی
توشہ قرار دے ایمان و حکمت،ان کے دلوں میں محکم کردے اور ان کو توفیق دے کہ وہ تیری نعمتوں پر شکرکریں جو تو نے ان
أَنْعَمْتَ عَلَیْهِم ْوَأَنْ یُوفُوا بِعَهْدِکَ الَّذِی عاهَدْتَهُمْ عَلَیْهِ إلهَ الْحَقِّ وَخالِقَ الْخَلْقِ
کو دی ہیں وہ اس عہد وپیمان کو پورا کریںجو تو نے ان سے کر رکھا ہے تو سچا معبود اور مخلوقات کاپیدا کرنے والا ہے
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِمَنْ تُوُفِّیَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ وَالْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِماتِ وَلِمَنْ
اے معبود ! ان کے گناہ معاف کردے جو مومن مردوں اور مومنہ عورتوں اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں
هُوَ لاحِقٌ بِهِمْ مِنْ بَعْدِهِمْ مِنْهُمْ إنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ إنَّ ﷲ
میں سے وفات کرگئے اور ان کے بھی جوان کے بعد وفات پاکر ان سے جاملیں گے بے شک توغلبے والااور حکمت والا ہے
یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحسانِ وَ إیتائِ ذِی الْقُرْبی وَیَنْهی عَنِ الْفَحْشائِ وَالْمُنْکَرِ
بے شک ﷲ حکم دیتا ہے قریبی انصاف اور نیکی کا اور عزیزوں کا حق دینے کا اور وہ روکتا بے حیائی،ناروا کاموں اور
وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ اذْکُرُوا ﷲ یَذْکُرْکُمْ فَ إنَّهُ ذاکِرٌ لِمَنْ
سرکشی سے وہ تمہیں سمجھاتا ہے شاید کہ تم نصیحت پکڑو تم خداکویاد کرو کہ وہ تمہیں یاد کرے کہ وہ اسے یاد کرتا ہے جو
ذَکَرَهُ وَاسْأَلُوا ﷲ مِنْ رَحْمَتِهِ وَ فَضْلِهِ فَ إنَّهُ لاَیَخِیبُعَلَیْهِ
اسے یاد کرے خداسے سوال کرو اسکی رحمت اور عنایت کا کیونکہ وہ اسے ناکام نہیں کرتا جو اسے
داعٍ دَعاهُ رَبَّنا آتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الْاَخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنا عَذابَ النَّارِ
پکارتا ہے اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بہترین زندگی دے آخرت میں بہترین جزا دے اور ہمیں عذاب جہنم سے بچالے۔
(تیسرا مطلب)
( ۳ ) زیارت جامعہ ائمہ معصومین
یہ وہ زیارت جامعہ ہے جس کے ذریعے کسی وقت کسی دن اور کسی بھی مہینے میں ائمہ معصومین میں سے کسی بھی بزرگوار کی زیارت پڑھی جاسکتی ہے اس زیارت کو سید بن طاؤوس نے مصباح الزائر میں ائمہ کرامعليهالسلام سے روایت کیا ہے اور اس
کے کچھ مقدمات یعنی زیارت کیلئے روانگی کے وقت کی دعا اور غسل وغیرہ بھی تحریر فرمائے ہیں چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب زیارت کیلئے غسل کرے تو کہے :
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَفِی سَبِیلِ ﷲ وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ اَللّٰهُمَّ اغْسِلْ عَنِّی دَرَنَ
خدا کے نام سے، خداکی ذات کے واسطے سے، خداکے مقرر راستے پر اور رسول خدا کے دین پر چلتے ہوئے اے معبود! مجھ سے
الذُّنُوبِ وَوَسَخَ الْعُیُوبِ وَطَهِّرْنِی بِمائِ التَّوْبَةِ وَأَلْبِسْنِی رِدائَ الْعِصْمَةِ وَأَیِّدْنِی
گناہوں کامیل اور عیبوں کی کثافت دور کر دے مجھے توبہ کے پانی سے پاک فرما مجھے حفاظت کی چادراوڑھا دے اپنے لطف وکرم سے
بِلُطْفٍ مِنْکَ یُوَفِّقُنِی لِصالِحِ الْاََعْمالِ إنَّکَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ
میری تائید کر اور مجھ کو اعمال صالح کی توفیق عطا فرما بے شک تو بڑے فضل اور بزرگی والا ہے۔
جب حرم مبارک کے قریب پہنچے تو یہ کہے : الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی وَفَّقَنِی لِقَصْدِ وَلِیِّهِ وَ زِیارَةِ حُجَّتِهِ وَ
حمد اس خدا کے لیے ہے جس نے اپنے ولی کے پاس آنے اور اپنی حجت کی زیارت کرنے کی توفیق
أَوْرَدَنِی حَرَمَهُ وَلَمْ یَبْخَسْنِی حَظِّی مِنْ زِیارَةِ قَبْرِهِ وَالنُّزُولِ بِعَقْوَةِ مُغَیَّبِهِ وَساحَةِ
دی اور مجھے ان کے حرم تک پہنچایا اور اس نے ان کی قبر کی زیارت ،آستانہ مقدسہ پر حاضری اور دربار عالی پر آمد میں میرا حصہ کم
تُرْبَتِهِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی لَمْ یَسِمْنِی بِحِرْمانِ مَا أَمَّلْتُهُ وَلاَ صَرَفَ عَنِّی مَا
نہیں کیا حمد اس خدا کے لیےجس نے مجھ کو میری آرزو میں محروم نہیں کیا مجھے میری امید سے پلٹایا نہیں اور نہ اس
رَجَوْتُهُ وَلاَ قَطَعَ رَجائِی فِیمَا تَوَقَّعْتُهُ بَلْ أَلْبَسَنِی عافِیَتَهُ وَأَفادَنِی نِعْمَتَهُ
تمنا میں ناکام کیا جو میں لے کے آیا تھا بلکہ اس نے مجھے لباس امن پہنایا، اپنی نعمت سے فائدہ دیا اور مجھے اپنی طرف
وَآتانِی کَرامَتَهُ
سے عزت دی۔
جب حرم پاک میں داخل ہوجائے تو ضریح مقدس کے مقابل کھڑے ہوکر کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَئِمَّةَ
آپ پر سلام ہوکہ آپ مومنوں
الْمُؤْمِنِینَ وَسادَةَ الْمُتَّقِینَ وَکُبَرائَ الصِّدِّیقِینَ وَأُمَرائَ الصَّالِحِینَ وَقادَةَ
کے پیشوا، پرہیزگاروں کے سردار صدیقوں کے بزرگ، نیکوکاروں کے حاکم، خوش کرداروں کے سالار اور ہدایت یافتگاں کے نشان
الْمُحْسِنِینَ وَأَعْلامَ الْمُهْتَدِینَ وَأَنْوارَ الْعارِفِینَ وَوَرَثَةَ الْاََنْبِیائِ وَصَفْوَةَ
عارفوں کو روشنی دینے والے،نبیوں کے وارث ،اوصیائ میں پسندیدہ، خدا ترسوں کے آفتاب، خلفائ میں روشن چاند ،خدائے
الْاََوْصِیائِ وَشُمُوسَ الْاََتْقِیائِ وَبُدُورَ الْخُلَفائِ وَعِبادَ الرَّحْمَانِ وَشُرَکائَ
رحمن کے بندے، قرآن کے ہم پایہ، ایمان کا راستہ حقیقتوں کے خزانے اور لوگوں کی شفاعت کرنے والے ہیں
الْقُرْآنِ وَمَنْهَجَ الْاِیمانِ وَمَعادِنَ الْحَقایِقِ وَشُفَعائَ الْخَلائِقِ وَرَحْمَةُ
آپ پر سلام خدا کی رحمت اور اس کی برکات ہوںمیں گواہ ہوں کہ آپ خدا کے دروازے ،اس کی
ﷲ وَبَرَکاتُهُ أَشْهَدُ أَنَّکُمْ أَبْوابُ ﷲ وَمَفاتِیحُ رَحْمَتِهِ وَمَقالِیدُ مَغْفِرَتِهِ
رحمت کی کلیدیں، اس کی طرف سے بخشش کے وسیلے،اس کی خوشنودی کے بادل، اس کی جنت کے چراغ،
وَسَحائِبُ رِضْوانِهِ وَمَصابِیحُ جِنانِهِ وَحَمَلَةُ فُرْقانِهِ وَخَزَنَةُ عِلْمِهِ وَحَفَظَةُ سِرِّهِ
اس کے قرآن کے حامل، اس کے علم کے خزانے ،اس کے راز کے نگہبان اور اس کی وحی کے مقام ہیںنبوت کی امانتیں اور
وَمَهْبِطُ وَحْیِهِ وَعِنْدَکُمْ أَماناتُ النُّبُوَّةِ وَوَدائِعُ الرِّسالَةِ أَنْتُمْ أُمَنائُ
رسالت کے علوم آپ ہی کے پاس ہیں آپ خدا کےامین، اس کے پیارے،اس کے بندے ،اس کے
ﷲ وَأَحِبَّاؤُهُ وَعِبادُهُ وَأَصْفِیاؤُهُ وَأَنْصارُ تَوْحِیدِهِ وَأَرْکانُ تَمْجِیدِهِ وَدُعاتُهُ
چنے ہوئے ،اس کی توحید کےچنے ہوئے ،اس کی توحید کے مدد گار، اس کی بزرگی کےنشان، اس کی کتب
إلی کُتُبِهِ وَحَرَسَةُ خَلائِقِهِ وَحَفَظَةُ وَدَائِعِهِ لاَ یَسْبِقُکُمْ ثَنائُ الْمَلائِکَةِ فِی
کی طرف بلانے والے، اس کی مخلوق کے نگہدار اور اس کے علوم کے پاسدار ہیں ثنائ الہی میں خلوص و خوف
الْاِخْلاصِ وَالْخُشُوعِ وَ لاَ یُضادُّکُمْ ذُوابْتِهالٍ وَخُضُوعٍ أَنَّی وَلَکُمُ الْقُلُوبُ
کے لحاظ سے فرشتے آپ سے بڑھ نہیں سکتے اور نہ کوئی رازی و عاجزی کرنے والا آپ سے آگے نکل سکتا ہے یہ کیسے ہو
الَّتِی تَوَلَّی ﷲ رِیاضَتَها بِالْخَوْفِ وَالرَّجائِ وَجَعَلَها أَوْعِیَةً لِلشُّکْرِ
جب کہ آپ کے دل وہ ہیں کہ خوف ورجا میں خدا ان کی سرپرستی کرتا رہا اور ان کو شکر اور ثنائ کے مرکز اور مقام قرار دیا ان
وَالثَّنائِ وَآمَنَها مِنْ عَوارِضِ الْغَفْلَةِ وَصَفَّاها مِنْ سُوئِ الْفَتْرَةِ بَلْ یَتَقَرَّبُ
کو کاہلی کے اثرات سے بچائےرکھا اور فطری برائی سے پاک کردیا بلکہ اہل آسمان آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے
أَهْلُ السَّمائِ بِحُبِّکُمْ وَبِالْبَرائَةِ مِنْ أَعْدائِکُمْ وَتَوَاتُرِ الْبُکائِ عَلَی مُصابِکُمْ
بیزاری، آپ کے مصائب پرلگاتار گریہ کرنے اور آپ کے شیعوں اور دوستوں کےلیے طلب مغفرت کو قرب الہٰی کا وسیلہ
وَالاسْتِغْفارِ لِشِیعَتِکُمْ وَ مُحِبِّیکُمْ فَأَنَا أُشْهِدُ ﷲ خالِقِی وَأُشْهِدُ مَلائِکَتَهُ وَأَنْبِیائَهُ
بناتے ہیں پس میں خدا کوگواہ بناتا ہوں اس کے فرشتوں اور نبیوں کو گواہ بناتا ہوں اور اے میرے سردارآپ کو
وَأُشْهِدُکُمْ یَا مَوالِیَّ أَنِّی مُؤْمِنٌ بِوِلایَتِکُمْ مُعْتَقِدٌ لاِِِمامَتِکُمْ
گواہ قرار دیتا ہوں کہ میں آپ کی ولایت کو مانتا ہوں آپ کی امانت کا عقیدہ رکھتا ہوں آپ کی خلافت کااقرار کرتا
مُقِرٌّ بِخِلافَتِکُمْ عارِفٌ بِمَنْزِلَتِکُمْ مُوقِنٌ بِعِصْمَتِکُمْ خاضِعٌ لِوِلایَتِکُمْ
ہوں آپ کے مرتبے کو پہچانتاہوں آپ کی عصمت پر یقین رکھتا ہوں اور آپ کی ولایت کے سامنے جھکتا ہوں آپ کی
مُتَقَرِّبٌ إلَی ﷲ بِحُبِّکُمْ وَبِالْبَرائَةِ مِنْ أَعْدائِکُمْ عالِمٌ بِأَنَّ ﷲ قَدْ
محبت اور آپ کے دشمنوں سے نفرت کے ذریعے خدا کا قرب چاہتا ہوں میں جانتا ہوں کہ ﷲ نے آپ کو
طَهَّرَکُمْ مِنَ الْفَوَاحِشِ مَا ظَهَرَ مِنْها وَمَا بَطَنَ وَمِنْ کُلِّ رِیبَةٍ وَنَجاسَةٍ
برائیوں سے پاک رکھا ہے جو ان میں سے ظاہر ہیں اورجو پوشیدہ ہیں اس نے آپ کوہر شک ،ہر آلودگی، ہر پستی
وَدَنِیَّةٍ وَرَجاسَةٍ وَمَنَحَکُمْ رایَةَ الْحَقِّ الَّتِی مَنْ تَقَدَّمَها ضَلَّ وَمَنْ
اور ہر ناپاکی سے بچایا اور آپ کو حق کا علم بردار بنایا کہ جو اس سے آگے بڑھا گمراہ ہوا اورجو اس سے پیچھے رہا وہ
تَأَخَّرَ عَنْها زَلَّ وَفَرَضَ طاعَتَکُمْ عَلَی کُلِّ أَسْوَدَ وَأَبْیَضَ وَأَشْهَدُ أَنَّکُمْ قَدْ وَفَیْتُمْ
پھسل گیا نیز اس نے ہر سیاہ و سفیدپر آپ کی پیروی واجب قرار دی میں گواہ ہوں کہ آپ نے خدا کاعہد وپیمان اور ذمہ داری
بِعَهْدِ ﷲ وَذِمَّتِهِ وَبِکُلِّ مَا اشْتَرَطَ عَلَیْکُمْ فِی کِتابِهِ وَدَعَوْتُمْ إلی سَبِیلِهِ
وری کی اور ہر بات نبھائی جو پاس کی کتاب میں آپ پرعائد کی گئی آپ نے اس کےراستے کی طرف بلایا اور اس کی
وَأَنْفَذْتُمْ طاقَتَکُمْ فِی مَرْضاتِهِ وَحَمَلْتُمُ الْخَلائِقَ عَلَی مِنْهاجِ النُّبُوَّةِ
رضا میں پوری قوت صرف کردی آپ نے لوگوں کونبوت کے روشن راستےاور رسالت کی گزر گاہ سے
وَمَسالِکِ الرِّسالَةِ وَسِرْتُمْ فِیهِ بِسِیرَةِ الْاََنْبِیائِ وَمَذاهِبِ الْاََوْصِیائِ فَلَمْ یُطَعْ
باخبر کیا اور آپ نے اس عمل میں نبیوں کی روش اوراوصیائ کا طریقہ اختیار کیاتاہم انہوں نے آپ کی
لَکُمْ أَمْرٌوَلَمْ تُصْغَ إلَیْکُمْ أُذُنٌ فَصَلَواتُ ﷲ عَلَی أَرْواحِکُمْ وَأَجْسادِکُمْ
بات نہ مانی اور آپ کی طرف دھیان نہ دیاپس آپ کی روحوں اور آپ کے جسموں پر خدا کی رحمتیں ہوں۔
اس کے بعد خود کو قبر مبارک سے لپٹائے اور کہے:
بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا حُجَّةَ ﷲ لَقَدْ أُرْضِعْتَ بِثَدْیِ الْاِیمانِ وَفُطِمْتَ
میرے ماں باپ آپ پرقربان اے حجت خدا یقینا آپ نے سر چشمہ ایمان سےدودھ پیا، نور اسلام کے بدلے
بِنُورِ الْاِسْلامِ وَغُذِّیتَ بِبَرْدِ الْیَقِینِ وَأُلْبِسْتَ
آپ کی دودھ بڑھائی ہوئی،یقین کی خنکی سے آپ نے غذا پائی عصمت کے پیراہنوں کا لباس پہنا
حُلَلَ الْعِصْمَةِ وَاصْطُفِیتَ وَوُرِّثْتَ عِلْمَ الْکِتابِ وَلُقِّنْتَ فَصْلَ الْخِطابِ وَأُوضِحَ
آپ چنے گئے اور علم کتاب کے وارث بنےآپ کو بے لاگ فیصلے کرنےکا علم دیا گیا آپ کی ذات سے قرآن کے حقائق واضح
بِمَکانِکَ مَعارِفُ التَّنْزِیلِ وَغَوامِضُ التَّأْوِیلِ وَسُلِّمَتْ إلَیْکَ رایَةُ الْحَقِّ
ہوئے اور تاویل وتشریح کی باریکیاں عیاں ہوئیں حق کا جھنڈا آپ کے سپرد کیاگیا آپ کو مخلوق کی ہدایت کی ذمہ
وَکُلِّفْتَ هِدایَةَ الْخَلْقِ وَنُبِذَ إلَیْکَ عَهْدُ الْاِمامَةِ وَأُلْزِمْتَ حِفْظَ
داری سونپی گئی امامت کافرمان آپ کے نام لکھا گیااور شریعیت کی حفاظت آپ کے ذمہ ڈالی گئی
الشَّرِیعَةِ وَأَشْهَدُ یَا مَوْلایَ أَنَّکَ وَفَیْتَ بِشَرائِطِ الْوَصِیَّةِ وَقَضَیْتَ مَا
اور میں گواہ ہوں اے میرےآقا کہ آپ نے قائم مقامی کے فرائض پورے کیے اطاعت کی جو حد آپ کے لیے
لَزِمَکَ مِنْ حَدِّ الطَّاعَةِ وَنَهَضْتَ بِأَعْبَائِ الْاِمامَةِ
مقرر تھی وہ پوری کی اور امامت کا سنگین بار اپنے کندھوں پر لیااور ایک حامل نبوت کی
وَاحْتَذَیْتَ مِثالَ النُّبُوَّةِ فِی الصَّبْرِ وَالاجْتِهادِ وَالنَّصِیحَةِ
مانند نظر آئے صبر وقرار میں، سعی و کوشش میں، لوگوں کی نصیحت وخیرخواہی میں، غصے پر
لِلْعِبادِ وَکَظْمِ الْغَیْظِ وَالْعَفْوِ عَنِ النَّاسِ وَعَزَمْتَ عَلَی الْعَدْلِ فِی
قابو رکھنے، لوگوں کی خطائیں معاف کرنے،انسانوں کے درمیان عدل قائم کرنے، فیصلہ دیتے
الْبَرِیَّةِ وَالنَّصَفَةِ فِی الْقَضِیَّةِوَوَکَّدْتَ الْحُجَجَ عَلَی الْاَُمَّةِ
ہوئے انصاف برتنے میں نیز آپ نے امت پر حجت قائم کی سچے اور قوی دلائل اور
بِالدَّلائِلِ الصَّادِقَةِ وَالشَّرِیعَةِ النَّاطِقَةِ وَدَعَوْتَ إلَی ﷲ
زندہ پائندہ شریعت کے ساتھ اور آپ نے خدا کی طرف انتہائی دانشمندی اور عمدہ
بِالْحِکْمَةِ الْبالِغَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ فَمُنِعْتَ مِنْ
نصیحت کے ساتھ بلایا لیکن کجی کے دور کرنے ،رخنےبند کرنے برائیوں کی
تَقْوِیمِ الزَّیْغِ وَسَدِّ الثُّلَمِ وَ إصْلاحِ الْفاسِدِوَکَسْرِ الْمُعانِدِ وَ إحْیائِ
اصلاح، دشمن کی سر کوبی،سنتوں کو قائم کرنے اوربدعتوں کو مٹانے سے آپ کو روکا گیا، یہاں
السُّنَنِ وَ إماتَةِ الْبِدَعِ حَتَّی فارَقْتَ الدُّنْیا وَأَنْتَ شَهِیدٌ وَلَقِیتَ رَسُولَ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
تک کہ آپ دنیا سے چلے گئے اور درجہ شہادت پاکر حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کےپاس پہنچے ان پراور ان کی آلعليهالسلام پر خدا
وَأَنْتَ حَمِیدٌ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْکَ تَتَرادَفُ وَتَزِیدُ
رحمت کرے اور آپ تعریف والے ہیں آپ پر خدا کی رحمت ہو لگاتاراور بڑھنے والی
اس کے بعد پاؤں مبارک کی طرف ہوکر کہے:
یا سادَتِی یَا آلَ رَسُولِ ﷲ إنِّی بِکُمْ أَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ جَلَّ
اے میرے سرداران اےرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے فرزندانعليهالسلام میں آپ کے ذریعے خدا ئے
وَعَلاَ بِالْخِلافِ عَلَی الَّذِینَ غَدَرُوا بِکُمْ وَنَکَثُوا بَیْعَتَکُمْ وَجَحَدُوا وِلایَتَکُمْ وَأَنْکَرُوا مَنْزِلَتَکُمْ
بزرگ وبرتر کا تقرب چاہتاہوں ان کی مخالفت کرتے ہوئے جنہوں نےآپ سے بے وفائی کی آپ کی بیعت توڑی آپ کی ولایت سے انکار
وَخَلَعُوا رِبْقَةَ طاعَتِکُمْ وَهَجَرُوا أَسْبابَ مَوَدَّتِکُمْ وَتَقَرَّبُوا إلی
کیا آپ کے مقام پر حسد کیا آپ کی پیروی کے حلقے سےنکل گئے آپ سے دوستی کے طریقے چھوڑ دیے اور
فَراعِنَتِهِمْ بِالْبَرائَةِ مِنْکُمْ وَالْاِعْرَاضِ عَنْکُمْ وَمَنَعُوکُمْ مِنْ إقامَةِ الْحُدُودِ
آپ سے علیحدہ ہوکر اور آپ سے رو گردانی کرکے سرکش حکمرانوں سےمل گئے انہوں نے آپ کو
وَاسْتِیْصالِ الْجُحُودِ وَشَعْبِ الصَّدْعِ وَلَمِّ الشَّعَثِ وَسَدِّ
حدود الہی قائم کرنے، منکروں کی جڑیں کاٹنے ،شکستگی دور کرنے ،اتحاد مسلمین کے
الْخَلَلِ وَتَثْقِیفِ الْأَوَدِ وَ إمْضائِ الْاََحْکامِ وَتَهْذِیبِ الْاِسْلامِ وَقَمْعِ
قیام ،تفرقہ مٹانے، ٹیڑھاپن کو دور کرنے ،احکام دین کے رائج کرنے، اسلام کوخالص بنانے اور بتوں کو
الْآثامِ وَأَرْهَجُوا عَلَیْکُمْ نَقْعَ الْحُرُوبِ وَالْفِتَنِ وَأَنْحَوْا عَلَیْکُمْ
توڑنے سے روکا ان لوگوں نے آپ پر جنگیں مسلط کیں فساد مچایا اور آپ پر حسدو کینے کی تلواریں
سُیُوفَ الْاََحْقادِ وَهَتَکُوا مِنْکُمُ السُّتُورَ وَابْتاعُوا بِخُمْسِکُمُ الْخُمُورَ
کھینچ لیں انہوں نے آپ کی عزت کا پاس نہ کیا اور آپ کے حق (خمس )کو شراب پر خرچ کیا محتاجوں کیلئے
وَصَرَفُوا صَدَقاتِ الْمَساکِینِ إلَی الْمُضْحِکِینَ وَالسَّاخِرِینَ وَذلِکَ بِما طَرَّقَتْ
صدقات کی رقمیں مسخروں اور ظالم افراد کو دے دیں یہ سب اس لیے ہواکہ نافرمانوں، گمراہوں،
لَهُمُ الْفَسَقَةُ الْغُواةُ وَالْحَسَدَةُ الْبُغاةُ أَهْلُ النَّکْثِ وَالْغَدْرِ وَالْخِلافِ وَالْمَکْرِ
حاسدوں اور باغیوں نےاس راہ کو کھولا جو بیعت توڑنے والے، دھوکہ دینے والے، وعدہ خلافی کرنے والے،
وَالْقُلُوبِ الْمُنْتِنَةِ مِنْ قَذَرِ الشِّرْکِ وَالْاََجْسادِ الْمُشْحَنَةِ مِنْ دَرَنِ الْکُفْرِ الَّذِینَ أَضَبُّوا
دغا دینے والے تھے اور انکے دل شرک کی ناپاکی سےبھرے ہوئے اور ان کے جسم کفر کی آلودگی میں لتھڑے
عَلَی النِّفاقِ وَأَکَبُّوا عَلَی عَلائِقِ الشِّقاقِ فَلَمَّا مَضَی الْمُصْطَفی
ہوئے تھے وہ نفاق میں محفوظ اور بدبختی کی راہوں میں دور نکل گئے پس جونہی حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا وصال ہوا
صَلَوات ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ اخْتَطَفُوا الْغِرَّةَ وَانْتَهَزُوا الْفُرْصَةَ وَانْتَهَکُوا الْحُرْمَةَ
ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر،خدا کی رحمتیں ہوں تو دھوکے باز جمع ہوگئے انہوں نے اس کو موقع کو غنیمت جانا
وَغَادَرُوهُ عَلَی فِرَاشِ الْوَفاةِ وَ أَسْرَعُوا لِنَقْضِ الْبَیْعَةِ وَمُخالَفَةِ
انہوں نے آپ کا احترام نہ کیااور آپ کی میت چھوڑکے چل دیے انہوں نےبیعت توڑنے میں جلدی کی،
الْمَوَاثِیقِ الْمُؤَکَّدَةِ وَخِیانَةِ الْاََمانَةِ الْمَعْرُوضَةِ عَلَی الْجِبالِ الرَّاسِیَةِ
تاکید شدہ پیمان کی مخالفت کرنے اور اس امانت کو ضائع کرنے میں سرعت دکھائی جو بلند پہاڑوں
وَأَبَتْ أَنْ تَحْمِلَها وَحَمَلَهَا الْاِنْسانُ الظَّلُومُ الْجَهُولُ ذُو
کے سامنے لائی گئی تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کیااور انسان نے اسے اٹھا لیا جو
الشِّقاقِ وَالْعِزَّةِ بِالْآثامِ الْمُؤْلِمَةِ وَ الْاََنَفَةِ عَنِ الانْقِیادِ
ستم گار ،نادان ،تفرقہ باز، گناہوں میں ڈوبا ہوا ، دل تنگ اور اچھے انجام کی خاطر
لِحَمِیدِ الْعاقِبَةِ فَحُشِرَ سفْلَةُ الْاََعْرابِ وَبَقایَا الْاََحْزابِ إلَی دارِ النُّبُوَّةِ وَ
فرمانبرداری کرنے سے سرکش پس بّدو عرب اور دیگر قبائل نبوت ورسالت کے گھرپر اور وحی اور فرشتوں
الرِّسالَةِ وَمَهْبِطِ الْوَحْیِ وَالْمَلائِکَةِ وَمُسْتَقَرِّ سُلْطانِ الْوِلایَةِ وَمَعْدِنِ
کے اترنے کی جگہ پرچڑھ دوڑے اور حکومت اسلامی کے مرکز پر جانشینی خلافت اور امامت کے حامل
الْوَصِیَّةِ وَالْخِلافَةِ وَالْاِمامَةِ حَتَّی نَقَضُوا عَهْدَ
علیعليهالسلام پر حملہ آور ہوئے یہاں تک کہ اپنے بھائی کے بارےمصطفےٰ کا پیمان توڑ دیا جو ہدایت
الْمُصْطَفَی فِی أَخِیهِ عَلَمِ الْهُدَی وَالْمُبَیِّنِ طَرِیقَ النَّجاةِ مِنْ طُرُقِ
کا نشان اور ہلاکت کےراستوں سے راہ نجات کیطرف لانے والے تھے نیزانہوں نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا
الرَّدَیٰ وَجَرَحُوا کَبِدَ خَیْرِ الْوَرَیٰ فِی ظُلْمِ ابْنَتِهِ وَاضْطِهادِ حَبِیبَتِهِ وَاهْتِضامِ
جگر زخمی کیا جب انکی دخترپر ظلم کیا ان کی پیاری کا دل جلایا ان کی نظروں میں عزت والی کو دکھی کیا جو
عَزِیزَتِهِ بَضْعَةِ لَحْمِهِ وَفِلْذَةِ کَبِدِهِ وَخَذَلُوابَعْلَهاوَصَغَّرُوا قَدْرَهُ وَاسْتَحَلُّوا
ان کے جسم کا حصہ اور انکے جگر کا ٹکڑا تھیں پھر ان کے شوہر کا ساتھ چھوڑدیا ان کی عزت کم تر سمجھی
مَحارِمَهُ وَقَطَعُوا رَحِمَهُ وَأَنْکَرُوا أُخُوَّتَهُ وَهَجَرُوا مَوَدَّتَهُ وَنَقَضُوا طاعَتَهُ
ان کی حرمتوں کو پامال کیاان سے رشتہ داری کا لحاظ نہ کیا ان کو مومن بھائی نہ جاناان کی محبت ترک کر دی
وَجَحَدُوا وِلایَتَهُ وَأَطْمَعُوا الْعَبِیدَ فِی خِلافَتِهِ وَقادُوهُ إلی بَیْعَتِهِمْ مُصْلِتَةً
ان کی اطاعت سے نکل گئےان کی ولایت سے انکار کیاغلاموں کو ان کے حق خلافت پر حریص بنایا اور
سُیُوفَها مُشْرِعَةً أَسِنَّتَها وَهُوَ ساخِطُ الْقَلْبِ هَائِجُ الْغَضَبِ شَدِیدُ
انہیں اپنی بیعت کیلئےکھینچ لائے جب کہ ان پرتلواریں اٹھائے نیزے تانے ہوئے تھے ایسے میں ان کا
الصَّبْرِ کاظِمُ الْغَیْظِ یَدْعُونَهُ إلَی بَیْعَتِهِمُ الَّتِی عَمَّ شُؤْمُهَا الْاِسْلامَ
دل رنجیدہ تھا سینے میں غضب بھرا تھا لیکن صبر سے کام لے رہے تھے غصے کو پی رہے تھے وہ آپ سے
وَزَرَعَتْ فِی قُلُوبِ أَهْلِهَا الْآثامَ وَعَقَّتْ سَلْمانَها وَطَرَدَتْ مِقْدَادَها
اپنی بیعت کراتے تھےوہ بیعت جس سے اسلام کی جگ ہنسائی ہوئی اوروہ بیعت جس نے لوگوں کے
وَنَفَتْ جُنْدُبَها وَفَتَقَتْ بَطْنَ عَمَّارِها وَحَرَّفَتِ الْقُرْآنَ وَبَدَّلَتِ
دلوں میں بتوں کی محبت پیدا کردی سلمان ِمحمدیصلىاللهعليهوآلهوسلم کونظر انداز کیا مقداد کوگھر سے نکال دیا ابوذر
الْاََحْکامَ وَغَیَّرَتِ الْمَقامَ وَأَباحَتِ الْخُمْسَ لِلطُّلَقائِ وَسَلَّطَتْ أَوْلادَ اللُّعَنائِ عَلَی الْفُرُوجِ وَالدِّمائِ وَ
کو دیس سے نکال دیا، عمار کے پیٹ پر لاتیں ماریں ،قرآن میں تحریف کردی،احکام دین بدل دیے،خلافت غیروں نے لے لی،
خمس مکہ میں آزاد کئے ہؤوں
خَلَطَتِ الْحَلالَ بِالْحَرامِ وَاسْتَخَفَّتْ بِالْاِیمانِ وَالْاِسْلامِ وَهَدَمَتِ الْکَعْبَةَ
کے لیے مباح کردیا، ملعونوں کی اولاد لوگوں کی عزت وناموس پر مسلط ہوگئی حلال کو حرام کے ساتھ ملایا
وَأَغارَتْ عَلَی دارِ الْهِجْرَةِ یَوْمَ الْحَرَّةِ وَأَبْرَزَتْ بَناتِ الْمُهاجِرِینَ
دیا، ایمان اور اسلام کو بےاہمیت بنا دیا،عمارت کعبہ کوڈھا دیا اور مقام ہجرت مدینہ میں حرّہ کے دن لوٹ
وَالْاََنْصارِ لِلنَّکالِ وَالسَّوْرَةِوَأَلْبَسَتْهُنَّ ثَوْبَ الْعارِ وَالْفَضِیحَةِ وَرَخَّصَتْ لاََِهْلِ
مار کی مہاجرین و انصارکی عورتوں کی بے حرمتی کی اور ان کو سزائیں دیں اس طرح ان کو بے عزت اور
الشُّبْهَةِ فِی قَتْلِ أَهْلِ بَیْتِ الصَّفْوَةِ وَ إبَادَةِ نَسْلِهِ وَ اسْتِیْصالِ شَأْفَتِهِ
رسوا کر دیا منافق افراد کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پاک اولاد کو قتل کرنے ،آپ کی پاک وپاکیزہ نسل کو ختم کرنے،ان کی اصل
وَسَبْیِ حَرَمِهِ وَقَتْلِ أَنْصارِهِ وَکَسْرِ مِنْبَرِهِ وَقَلْبِ مَفْخَرِهِ وَ إخْفائِ دِینِهِ
و نسل کاٹ ڈالنے ،ان کے اہل حرم کو قید کرنے، ان کے انصار کو قتل کرنے ،ان کے منبر کو ویران کرنے،
وَقَطْعِ ذِکْرِهِ یَا مَوالِیَّ فَلَوْ عایَنَکُمُ الْمُصْطَفَی وَسِهامُ الْاَُمَّةِ مُغْرَقَةٌ فِی
ان کے افتخار کو مٹانے ،ان کے دین کو چھپانے اور ان کے ذکر کو بند کرنے پر لگایااے میرے آقایان پس اگر
أَکْبادِکُمْ وَرِماحُهُمْ مُشْرَعَةٌ فِی نُحُورِکُمْ وَسُیُوفُها مُولَغَةٌ فِی دِمائِکُمْ
جناب مصطفےٰ آپعليهالسلام کو دیکھیں کہ امت کے تیر آپ کے سینوں میں پیوست ہیں ان کے نیزے آپ کی
یَشْفِی أَبْنائُ الْعَوَاهِرِ غَلِیلَ الْفِسْقِ مِنْ وَرَعِکُمْ وَغَیْظَ الْکُفْرِ مِنْ إیمَانِکُمْ
گردنوں میں گڑے ہیں ان کی تلواریں بے دریغ آپ کے خون کو بہا رہی ہیں زنازادوں کے بد کار بیٹے
وَأَنْتُمْ بَیْنَ صَرِیعٍ فِی الْمِحْرَابِ قَدْ فَلَقَ السَّیْفُ هامَتَهُ وَ شَهِیدٍ فَوْقَ
آپ کے تقوے ٰ سے پیاس بجھا رہے ہیں کفر کا غصہ آپ کے ایمان سے ٹھنڈا کررہےہیں اور آپعليهالسلام محراب میں قتل ہوئے پڑے ہیں ان کی سخت تلوار نے
الْجَنَازَةِ قَدْ شُکَّتْ أَکْفانُهُ بِالسِّهامِ وَقَتِیلٍ بِالْعَرائِ قَدْ رُفِعَ فَوْقَ الْقَناةِ رَأْسُهُ وَمُکَبَّلٍ فِی
آپ کا سر زخمی کیا اور آپ شہید ہوکر جنازے پر پڑے ہیں کسی کے کفن میں تیروں کی انیاں گڑی ہیں یا لاش بیانان
السِّجْنِ قَدْ رُضَّتْ بِالْحَدِیدِ أَعْضاؤُهُ وَمَسْمُومٍ قَدْ قُطِّعَتْ بِجُرَعِ
میں پڑی ہے کٹا ہوا سر نیزے پر چڑھایا ہوا ہے یا زندان میں بند کر رکھاہے کہ اعضائ بند لوہے کی زہر سے زخم زخم
السَّمِّ أَمْعاؤُهُ وَ شَمْلُکُمْ عَبَادِیدُ تُفْنِیهِمُ الْعَبِیدُ وَأَبْنائُ الْعَبِیدِ فَهَلِ الْمِحَنُ
ہیں جبکہ دل وجگر جام زہر سے ٹکڑے ٹکڑے ہیں آپ کےافراد خاندان آوارہ وطن ہیں جن کو غلاموں اور غلام زادوں
یَا سادَتِی إلاَّ الَّتِی لَزِمَتْکُمْ وَالْمَصائِبُ إلاَّ الَّتِی عَمَّتْکُمْ وَالْفَجَائِعُ إلاَّ
نے قتل کیا پس اے میرےسرداران ! آیا کوئی سختی رہ گئی ہے جو آپ پر نہیں آئی اور کوئی مصیبت ہے جو آپ پر نہیں
الَّتِی خَصَّتْکُمْ وَالْقَوارِعُ إلاَّ الَّتِی طَرَقَتْکُمْ صَلَوَاتُ ﷲ عَلَیْکُمْ وَ عَلَی أَرْواحِکُمْ
گزری کوئی افتاد ہے جو آپ کیلئے لازم نہ ٹھہری ہو اور کوئی تکلیف ہے جو آپ کو نہیں پہنچی ہو آپ پر آپ کی پاک روحوں
وَأَجْسادِکُمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
اور آپ کے طاہر بدنوں پر خدا کا درود ہوخدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں
پھر قبر مبارک پر بوسہ دے اور کہے:
بِأَبِی أَنْتُمْ وَأُمِّی یَا آلَ الْمُصْطَفَی إنَّا لاَ نَمْلِکُ إلاَّ أَنْ
میرے ماں باپ آپ پرقربان اے اولاد مصطفےٰ ہم کچھ نہیں کرسکتے سوائے اس کے
نَطُوفَ حَوْلَ مَشاهِدِکُمْ وَنُعَزِّیَ فِیها أَرْواحَکُمْ عَلَی هذِهِ الْمَصَائِبِ
کہ آپ کے نورانی مقبروں کا طواف کرتےرہیں آپ کی روحوں کو تسلیت پیش کرتے رہیں ان بڑی
الْعَظِیمَةِ الْحَالَّةِ بِفِنائِکُمْ وَالرَّزایَا الْجَلِیلَةِ النَّازِلَةِ بِساحَتِکُمُ الَّتِی أَثْبَتَتْ فِی قُلُوبِ
بڑی مصیبتوں پر جو آپکے آستان پر آئیں اوربھاری سختیاں جو آپ کو پیش آئیں جن سے آپ کےمحبوں کے دل زخمی ہوگئے
شِیعَتِکُمُ الْقُرُوحَ وَأَوْرَثَتْ أَکْبادَهُمُ الْجُرُوحَ وَزَرَعَتْ فِی صُدُورِهِمُ
ان کے جگر خون ہو کر رہ گئےاور ان کے سینے غم واندوہ سے بھرے ہوئے ہیں پس ہم خدا کو گواہ بناتے ہیں کہ
الْغُصَصَ فَنَحْنُ نُشْهِدُ ﷲ أَنَّا قَد شارَکْناأَوْلِیائَکُمْ وَأَنْصَارَکُمُ الْمُتَقَدِّمِینَ فِی
ضرور ہم شریک ہیں آپکے جنگ آزما دوستوں اور مددگاروں کے ساتھ بیعت توڑنےوالوں تفرقہ ڈالنے
إرَاقَةِ دِمائِ النَّاکِثِینَ وَالْقَاسِطِینَ وَ الْمَارِقِینَ وَقَتَلَةِ أَبِی عَبْدِﷲ سَیِّدِ
والوں اور ضدی خارجیوں کا خون بہانے اور قاتلان حسینعليهالسلام سے بدلہ لینےمیں کہ جو سردار ہیں
شَبابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ عَلَیْهِ اَلسَّلَامُ یَوْمَ کَرْبَلائَ بِالنِّیَّاتِ وَالْقُلُوبِ وَالتَّأَسُّفِ
جوانان جنت کے ان پرہمارا سلام ہوہماری نیتوں اور دلوں میں افسوس ہے کہ ہم ان
عَلَی فَوْتِ تِلْکَ الْمَواقِفِ الَّتِی حَضَرُوا لِنُصْرَتِکُمْ وَعَلَیْکُمْ مِنَّا اَلسَّلَامُ وَرَحْمَةُ
موقعوں پر موجود نہ تھےجب آپ کے محب آپ کی مدد کررہے تھےآپ پر ہماراسلام ہو خد اکی رحمت
ﷲ وَبَرَکاتُهُ
ہو اور اس کی برکات ہوں
اب قبر کو اپنے اور قبلہ کے درمیان قرار دے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ یَا ذَاالْقُدْرَةِ الَّتِی صَدَرَ عَنْهَا الْعَالَمُ مُکَوَّناً مَبْرُوئاً عَلَیْها مَفْطُوراً
اے معبود! اے ایسی قدرت کے مالک جس سے یہ کائنات وجود میں آئی اور یہ پیدا ہوئی اس نے ایسی عظیم
تَحْتَ ظِلِّ الْعَظَمَةِ فَنَطَقَتْ شَوَاهِدُ صُنْعِکَ فِیهِ بِأَنَّکَ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ
قدرت کے سائے میں قرارپکڑا پس تیری کاریگری کے نشان جو دنیا میں ہیں وہ گواہی دیتے ہیں کہ تو
أَنْتَ مُکَوِّنُهُ وَبَارِئُهُ وَفاطِرُهُ ابْتَدَعْتَهُ لاَ مِنْ شَیْئٍ وَلاَ عَلَی شَیْئٍ وَلاَ فِی شَیْئٍ
ہی ﷲ ہے کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں جس نے دنیا بنائی اسے صورت دی، اسے پیدا کیا، اسے ایجاد
وَلاَ لِوَحْشَةٍ دَخَلَتْ عَلَیْکَ إذْ لاَ غَیْرُکَ وَلاَ حاجَةٍ بَدَتْ لَکَ فِی
کیا نہ کسی چیزسے نہ کسی چیزکے بعد نہ کسی چیز کے اندراور نہ اسے بوجہ خوف کے بنایا جو تجھ پر طاری
تَکْوِینِهِ وَلاَ لاِسْتِعانَةٍ مِنْکَ عَلَی الْخَلْقِ بَعْدَهُ بَلْ أَنْشَأْتَهُ لِیَکُونَ دَلِیلاً عَلَیْکَ بِأَنَّکَ
ہوا ہو کہ تیرے سوا کوئی موجود نہ تھا نہ تجھے اسکے پید اکرنے کی حاجت و ضرورت تھی نہ تونے دنیا اس لیے بنائی
بائِنٌ مِنَ الصُّنْعِ فَلا یُطِیقُ الْمُنْصِفُ لِعَقْلِهِ إنْکارَکَ وَ الْمَوْسُومُ بِصِحَّةِ الْمَعْرِفَةِ جُحُودَکَ
کہ بعد میں مخلوق تیری مددکرے گی بلکہ تو نے یہ اس لیےپیدا کی کہ یہ تیری ذات کی دلیل ٹھہرے کہ تو اس مخلوق سے جدا والگ ہے پس
أَسْأَلُکَ بِشَرَفِ الْاِخْلاصِ فِی تَوْحِیدِکَ وَحُرْمَةِ التَّعَلُّقِ بِکِتابِکَ
کوئی باانصاف عاقل تیری ذات کا ،مکر نہیں ہوسکتا اور کوئی صحیح معرفت رکھنے والا شخص تیرا انکار نہیں کرسکتا سوال
وَأَهْلِ بَیْتِ نَبِیِّکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی آدَمَ بَدِیعِ فِطْرَتِکَ وَ بِکْرِ حُجَّتِکَ
کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیری توحید میں خلوص کے شرف تیری کتاب اور تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیعليهالسلام ت سے تعلقِ حرمت
وَلِسَانِ قُدْرَتِکَ وَالْخَلِیفَةِ فِی بَسِیطَتِکَ وَعَلَی مُحَمَّدٍ الْخالِصِ مِنْ صَفْوَتِکَ وَ
کے ذریعے کہ تو حضرت آدمعليهالسلام پر رحمت فرما جو تیری مخلوق میں نقش اوّل ،تیری اولین حجت تیری قدرت کے بیان گر اور تیری وسیع
الْفاحِصِ عَنْ مَعْرِفَتِکَ وَالْغائِصِ الْمَأْمُونِ عَلَی مَکْنُونِ سَرِیرَتِکَ
زمین میں تیرے نائب ہیں اورمحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت کر جو تیرےخاص برگزیدہ ،تیری معرفت میں پوری طرح کوشاں اور
بِمَا أَوْلَیْتَهُ مِنْ نِعْمَتِکَ بِمَعُونَتِکَ وَعَلَی مَنْ بَیْنَهُما مِنَ النَّبِیِّینَ
تیرے راز تک پہنچنے والےامانتدار اور تلاش کار ہیں کیونکہ تو نے ان کو اپنی نعمت اورمدد عطا کی ہے اور ان پیغمبروںعليهالسلام
وَالْمُکَرَّمِینَ وَالْاََوْصِیائِ وَالصِّدِّیقِینَ
پر رحمت کر اور صاحبان کرامت اوصیائ پر اور صدیقوں پر رحمت کر جو آدمعليهالسلام ومحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے درمیان گزرے
وَأَنْ تَهَبَنِی لاِِِمامِی هذَا
ہیں اور میرے اس امامعليهالسلام کے واسطے مجھے بخش دے
پھر اپنا رخسار ضریح مبارک پر رکھے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ بِمَحَلِّ هذَا السَّیِّدِ مِنْ طاعَتِکَ وَبِمَنْزِلَتِهِ عِنْدَکَ لاَ تُمِتْنِی فُجَاءَةً وَلاَ
اے معبود! اس سردار نے تیری جو اطاعت کی اس کے واسطے سے اور ان کی جو عزت تیرے ہاں ہے
تَحْرِمْنِی تَوْبَةً وَارْزُقْنِی الْوَرَعَ عَنْ مَحارِمِکَ دِیناً وَدُنْیا وَاشْغَلْنِی
اس کے واسطے سے مجھے حادثاتی موت سے بچا توبہ سے محروم نہ کر مجھے دین و دنیا میں اپنے حرام کردہ کاموں
بِالْاَخِرَةِ عَنْ طَلَبِ الْاَُولی وَوَفِّقْنِی لِما تُحِبُّ وَتَرْضی وَجَنِّبْنِی اتِّباعَ
سے پرہیز کی توفیق دےمجھے دنیا کی جگہ آخرت میں مشغول رکھ مجھے ان کاموں کی توفیق دے جو
الْهَوَیٰ وَالاغْتِرارَ بِالْاََباطِیلِ وَالْمُنَی اَللّٰهُمَّ اجْعَلِ السَّدادَ فِی قَوْلِی وَ
تجھے پسند ہیں اور مجھ کو خواہش پرستی اور جھوٹی باتوں اور بے جاتمناؤں کے دھوکے سےبچا اے معبود! میرے قول میں
الصَّوابَ فِی فِعْلِی وَالصِّدْقَ وَالْوَفائَ فِی ضَمانِی وَ وَعْدِی وَالْحِفْظَ
درستی، میرے فعل میں راستی،قرار دے میرے عہد و پیمان اور وعدے میں صدق ووفا، قرار دے میرے عہدو
وَالْاِیناسَ مَقْرُونَیْنَ بِعَهْدِی وَوَعْدِی وَالْبِرَّ وَالْاِحْسانَ مِنْ شَأْنِی وَخُلْقِی
پیمان میں پائداری اور قوت اور میرے اخلاق وکردار میں نیکی و عمدگی پیدا فرما اور سلامتی کو میرے شامل حال فرما
وَاجْعَلِ السَّلامَةَ لِی شامِلَةً وَالْعافِیَةَ بِی مُحِیطَةً مُلْتَفَّةً وَلَطِیفَ صُنْعِکَ
اور آسائش کو میرے چاروں طرف جگہ دےاپنی بہترین کاریگری اورمددگاری کا رخ میری
وَعَوْنِکَ مَصْرُوفاً إلَیَّ وَحُسْنَ تَوْفِیقِکَ وَیُسْرِکَ مَوْفُوراً
طرف کردے اپنی طرفسے بہترین توفیق اورآسانی مجھے عطا فرما اور اے پروردگارمجھے نیک بختی کی زندگی اور
عَلَیَّ وَأَحْیِنِی یَارَبِّ سَعِیداًوَتَوَفَّنِی شَهِیداً وَطَهِّرْنِی لِلْمَوْتِ وَمَا بَعْدَهُ
شہادت کی موت دے اوراس کے بعد پاک رکھ اے معبود !میرے کانوں اور آنکھوں میں صحت اور نور پیدا فرما
اَللّٰهُمَّ وَاجْعَلِ الصِّحَّةَ وَالنُّورَ فِی سَمْعِی وَبَصَرِی وَالْجِدَةَ وَالْخَیْرَ فِی طُرُقِی وَالْهُدی
میری راہوں کو بہتر وبارونق کرمجھ کو دین ومذہب میں ہدایت اور فہم دےعدل کا ترازو ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رکھ کہ
وَالْبَصِیرَةَ فِی دِینِی وَمَذْهَبِی وَالْمِیزانَ أَبَداً نَصْبَ عَیْنِی وَالذِّکْرَ وَالْمَوْعِظَةَ شِعارِیٰ وَدِثارِیٰ
ذکر اور نصیحت میرا شیوہ و عادت ہو فکر و عبرت کو میرے لیے تسلی واعتمادکا ذریعہ بنا اور یقین کو میرے دل میں جاگزیں
وَالْفِکْرَةَ وَالْعِبْرَةَ أُنْسِی وَعِمادِی وَمَکِّنِ الْیَقِینَ فِی قَلْبِی وَاجْعَلْهُ
کر دے اس کو میرے لیےذریعہ اعتماد بنا اور اسےمیری عقل اور ارادے پرغالب کردے میرے عمل میں
أَوْثَقَ الْاََشْیائِ فِی نَفْسِی وَاغْلِبْهُ عَلَی رَأْئِی وَعَزْمِی وَاجْعَلِالْاِرشادَ فِی عَمَلِی وَالتَّسْلِیمَ
ہدایت کو جگہ دے اپنےحکم کے سامنے جھکنا میرے لیے وجہ قراربنا اپنے قضاوقدر پرمجھے مطمئن رکھ اور وہی
اَ أَتَّقِیَ أَحَداً مِنْ اََِمْرِکَ مِهادِی وَسَنَدِی وَالرِّضا بِقَضائِکَ وَ قَدَرِک أَقْصَی عَزْمِی
میرے ارادے کی انتہااور میری ہمت ومقصد کاآخر ہو یہاں تک کہ میں اپنے دین کے بارےمیں کسی مخلوق سے نہ
وَنِهایَتِی وَأَبْعَدَ هَمِّی وَغایَتِی حَتَّی خَلْقِکَ بِدِینِی وَلاَ أَطْلُبَ بِهِ غَیْرَ آخِرَتِی وَلاَ
ڈروں اور سوائے آخرتکے کچھ طلب نہ کروں دین کو اپنی تعریف وستائش کا ذریعہ نہ بناؤں اورمیری عاقبت کو بہترین
أَسْتَدْعِیَ مِنْهُ إطْرائِی وَمَدْحِی وَاجْعَلْ خَیْرَ الْعَواقِبِ عاقِبَتِی وَخَیْرَ
عاقبت، قرار دے میرےٹھکانے کو بہترین ٹھکانااور میری زندگی اور میری ہدایت کو بہترین ہدایت
الْمَصایِرِ مَصِیرِی وَأَنْعَمَ الْعَیْشِ عَیْشِی وَأَفْضَلَ الْهُدی هُدایَ
اور میرے حصے کو بڑا حصہ اور میری قسمت کو اونچی قسمت اور نصیب بنادے اے پرودگار ہر برائی
وَأَوْفَرَ الْحُظُوظِ حَظِّی وَأَجْزَلَ الْاََقْسامِ قِسْمِی وَنَصِیبِی وَکُنْ لِی یَارَبِّ مِنْ کُلِّ سُوئٍ
سے میرا نگہبان بن، ہر نیکی کی طرف رہنمائی اورہبری فرما ، ہر ظالم اور حاسد کے مقابل میرا مددگار اور محافظ بن
وَلِیّاً وَ إلی کُلِّ خَیْرٍ دَلِیلاً وَقائِداً وَمِنْ کُلِّ باغٍ وَحَسُودٍ ظَهِیراً وَمانِعاً اَللّٰهُمَّ بِکَ
اے معبود! تو ہی میرا سہارا ہے تو میری پناہ تو میرا یقین توہی میرا مددگار ،محرک اور میری قوت ہے تیرے لیے
اعْتِدادِی وَعِصْمَتِی وَثِقَتِی وَتَوْفِیقِی وَحَوْلِی وَقُوَّتِی وَلَکَ مَحْیایَ وَمَماتِی وَفِی قَبْضَتِکَ سُکُونِی
ہے میری زندگی و موت تیرے ہاتھ میں ہے میرا ٹھہراؤ اور میری حرکت اور بے شک تیرے محکم سلسلے سے تعلق رکھتا اور اس سے جڑا ہوا
وَحَرَکَتِی وَ إنَّ بِعُرْوَتِکَ الْوُثْقی اسْتِمْساکِیوَوُصْلَتِی وَعَلَیْکَ فِی الْاَُمُورِ کُلِّها اعْتِمادِی وَ
ہوں تمام معاملوں میں تجھ پر مجھے بچانے اورچھڑانے والا ہے تیرےامن اور عزت والے گھرمیں میرا ٹھکانا
تَوَکُّلِی وَمِنْ عَذابِ جَهَنَّمَ وَمَسِّ سَقَرَ نَجاتِی وَخَلاصِی وَفِی دارِ أَمْنِکَ وَکَرامَتِکَ مَثْوایَ
اور میری بازگشت ہے اور اولاد مصطفےٰصلىاللهعليهوآلهوسلم میں سے میرے سرداران و آقایان کے ہاتھوں میری
وَمُنْقَلَبِی وَعَلَی أَیْدِی سادَتِی وَمَوالِیَّ آلِ الْمُصْطَفَی فَوْزِی وَفَرَجِی اَللّٰهُمَّ صَلِّ
کامیابی و کشائش ہے اے معبود ! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدعليهالسلام پر رحمت فرما اور مومن مردوں اور مومنہ عورتوں
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنات ِ وَالْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِماتِ
کو بخش دے اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دے اور میرے ماں باپ
وَاغْفِرْ لِی وَلِوالِدَیَّ وَمَا وَلَدا وَأَهْلِ بَیْتِی وَجِیرانِی وَلِکُلِّ مَنْ قَلَّدَنِی یَداً مِنَ الْمُؤْمِنِینَ
کو اور ان کی اولاد کونیز میرے گھر والوں،میرے ہمسایوں اوران مومنوں اور مومنات کو بخش دے جن کا حق
وَالْمُؤْمِناتِ إنَّکَ ذُوفَضْلٍ عَظِیمٍ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکَاتُه،
میری گردن پر ہےاس میں شک نہیں کہ توبڑے فضل وکرم والا ہے ۔اورتجھ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکتیں ہوں
(چوتھا مطلب)
( ۴ ) زیارت ائمہ کے بعد دعا
یہ دعا مضامین عالیہ پر مشتمل ہے اور اسے ہر اما معليهالسلام کی زیارت کے بعد پڑھا جاسکتا ہے سید بن طاؤس نے اس دعا کو مصباح الزائر میں اسی زیارت جامعہ کے بعد فرمایا ہے اور وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی زُرْتُ هذَا الْاِمامَ مُقِرَّاً بِ إمامَتِهِ مُعْتَقِداً لِفَرْضِ طاعَتِهِ فقَصَدْتُ مَشْهَدَهُ
اے معبود ! میں نے اس امامعليهالسلام کی زیارت کی ہے جبکہ ان کی امامت کا اقرار کرتا ہوں ان کی اطاعت واجب
بِذُنُوبِی وَعُیُوبِی وَمُوبِقاتِ آثامِی وَکَثْرَةِ سَیِّئاتِی وَ خَطایایَ وَمَا تَعْرِفُهُ مِنِّی مُسْتَجِیراً
ہونے کا اعتقاد رکھتا ہوں پس میں نے ان کی بارگاہ کاارادہ کیا اگرچہ میرے گناہ میرے عیب اور جرائم بہت ہیں نیز میری برائیاں
بِعَفْوِکَ مُسْتَعِیذاً بِحِلْمِکَ راجِیاً رَحْمَتَکَ لاجِیاً إلَی رُکْنِکَ عائِذاً بِرَأْفَتِکَ مُسْتَشْفِعاً
اور غلطیاں بہت زیادہ ہیں جن کو تو خوب جانتا ہے پناہ لیتا ہوں، تیری درگزر کی آڑ لیتا ہوں تیری نرمی کی امید رکھتا
بِوَلِیِّکَ وَابْنِ أَوْلِیائِکَ وَصَفِیِّکَ وَابْنِ أَصْفِیائِکَ وَ أَمِینِکَ وَابْنِ أُمَنائِکَ وَخَلِیفَتِکَ وَابْنِ
ہوں ،تیری رحمت کا سہارا لیتا ہوں،تیری رحمت کے ستون کا آسرا لیتا ہوں ، تیری مہربانی کوسفارشی بناتا ہوں، تیرے وصی کو جو تیرے
خُلَفائِکَ الَّذِینَ جَعَلْتَهُمُ الْوَسِیلَةَ إلی رَحْمَتِکَ وَرِضْوانِکَ وَالذَّرِیعَةَ إلی رَأْفَتِکَوَغُفْرانِکَ اَللّٰهُمَّ وَأَوَّلُ
اولیائ کا فرزند ہے تیرے برگزیدہ کو جو تیرے برگزیدوں کا فرزند ہے تیرے امانتدار کو جو تیرے امانت داروں کا فرزند ہے تیرے خلیفہ کو
حاجَتِی إلَیْکَ أَنْ تَغْفِرَ لِی مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِی عَلَی کَثْرَتِها وَأَنْ
جو تیرے خلفائ کا فرزند ہے اپناشفیع بناتا ہوں جن کو تو نے اپنی رحمت کا وسیلہ قراردیا اپنی رحمت اور خوشنودی کی طرف
تَعْصِمَنِی فِیما بَقِیَ مِنْ عُمْرِی وَتُطَهِّرَ دِینِی مِمَّا یُدَنِّسُهُ
اور اپنی نوازش اور بخشش کی طرف ذریعہ بنایا ہے اور اے معبود تجھ سے میری پہلی حاجت یہ ہے کہ تو
وَیَشِینُهُ وَیُزْرِی بِهِ وَتَحْمِیَهُ مِنَ الرَّیْبِ وَالشَّکِّ وَالْفَسادِ
میرے پچھلے گناہ بخش دے اگرچہ وہ بہت زیادہ ہیں اور یہ کہ میری بقایا زندگی میں مجھے گناہوں سے محفوظ
وَالشِّرْکِ وَتُثَبِّتَنِی عَلَی طاعَتِکَ وَ طاعَةِ رَسُولِکَ وَذُرِّیَّتِهِ النُّجَبائِ
فرما میرے دین کو پاک رکھ ان باتوں سے جو اسے آلودہ، ناپسندیدہاور بد نما بناتی ہیں میرے دین کو ہر طرح کی آمیزش، شک ،
السُّعَدائِ صَلَواتُک عَلَیْهِمْ وَرَحْمَتُکَ وَسَلامُکَ وَ بَرَکاتُکَ وَتُحْیِیَنِ مَا أَحْیَیْتَنِی عَلَی
بگاڑ اور شرک سے بچائے رکھ مجھ کو اپنی اور اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت پر قائم واستوار فرما نیز ان کے فرزندان کی اطاعت پر جو پاک اصل اور باسعادت ہیں
طاعَتِهِمْ وَتُمِیتَنِی إذا أَمَتَّنِی عَلَی طاعَتِهِمْ وَأَنْ لاَ تَمْحُوَ مِنْ قَلْبِی
ان پر تیرا درود ہو اور تیری رحمت تیرا سلام اور تیری برکات ہوں جب تک تو مجھے زندہ رکھے زندہ رکھ ان کی اطاعت پر اور جب مجھے موت
مَوَدَّتَهُمْ وَمَحَبَّتَهُمْ وَبُغْضَ أَعْدائِهِمْ وَمُرافَقَةَ أَوْلِیائِهِمْ
دے تو موت دے ان کی اطاعت میں اور میرے دل سے ان کی دوستی ومحبت ان کے دشمنوں سے دشمنی ان
وَبِرَّهُمْ وأَسْأَلُکَ یَارَبِّ أَنْ تَقْبَلَ ذلِکَ مِنِّی وَ تُحَبِّبَ إلَیَّ
کے دوستوں سے دوستی اور ان سے دور نہ ہونے دےاور اے پرودگار سوال کرتا ہوںکہ میری یہ دعا قبول فرما میرے لیے
عِبادَتَکَ وَالْمُواظَبَةَ عَلَیْها وَتُنَشِّطَنِی لَها وَتُبَغِّضَ إلَیَّ مَعاصِیَکَ
اپنی عبادت اور اس کے جاری رکھنے کو پسندیدہ اور میرے لیے خوشی کا ذریعہ بنا اپنی نافرمانی اور حرام چیزوں کو میرے لیے
وَمَحارِمَکَ وَتَدْفَعَنِی عَنْها وَتُجَنِّبَنِی التَّقْصِیرَ فِی صَلَواتِی
ناپسندیدہ بنا دےاور ان سے بچائے رکھ مجھ کوادائے نماز میں کوتاہی وسستی کرنے اور اسے بے اہمیت
وَالاسْتِهانَةَ بِها وَالتَّرَاخِیَ عَنْها وَتُوَفِّقَنِی لِتَأْدِیَتِها کَما فَرَضْتَ
سمجھنے سے محفوظ فرمانیز مجھ کو ادائے نماز کی توفیق دے جیسے تو نے اسےواجب کیا اور اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے
وَأَمَرْتَ بِهِ عَلَی سُنَّةِرَسُولِکَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ
طریقے پر ، اْسے عاجزی وخوف سے ادا کرنیکا حکم دیا ہے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر
وَآلِهِ وَرَحْمَتُکَ وَبَرَکاتُکَ خُضُوعاً وَخُشُوعاً وَتَشْرَحَ صَدْرِی
تیرا درود ہو اور تیری رحمتیں ہوں اور تیری برکتیں ہوں اور میرا سینہ کھول دے تاکہ بخوشی زکوٰۃ دوں اور
لاِِِیتائِ الزَّکَاةِ وَ إعْطائِ الصَّدَقاتِ وَبَذْلِالْمَعْرُوفِ وَالْاِحْسانِ إلی
صدقات ادا کروں نیز آل محمد علیہم السلام کے پیروکاروں اور ان کے ہمدردوں کے ساتھ اچھا برتاؤ
شِیعَةِ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ وَمُواساتِهِمْ وَلاَ تَتَوَفَّانِی إلاَّ بَعْدَ أَنْ
کروں اور ان سے نیکی وبھلائی میں کوشاں رہوں اور مجھے موت نہ دے جب تک تو مجھے اپنے حرمت والے گھر کا حج نہ
تَرْزُقَنِی حَجَّ بَیْتِکَ الْحَرامِ وَزِیارَةَ قَبْرِ نَبِیِّکَ وَقُبُورِ
کرا دے اور اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے روضۂ پاک اور ائمہ علیہم السلام کے مقبروں کی زیارت کا
آلاَءِمَّةِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ وأَسْأَلُکَ یَارَبِّ تَوْبَةً نَصُوحاً
شرف نہ بخش دے اور تجھ سے سوال کرتا ہوں اے پرودگار سچی توبہ کا جسے تو قبول کرے
تَرْضاها وَنِیَّةً تَحْمَدُها وَعَمَلاً صالِحاً تَقْبَلُهُ وَأَنْ تَغْفِرَ لِیوَتَرْحَمَنِی
ایسی نیت کا جسے تو پسند کرے اور ایسے نیک عمل کا جسے تو مقبول فرمائے اور یہ کہ تو مجھے بخش دےاور مجھ پر رحم کرے جب تو
إذا تَوَفَّیْتَنِی وَتُهَوِّنَ عَلَیَّ سَکَراتِ الْمَوْتِ وَتَحْشُرَنِی
مجھے موت دے مجھ پر موت کی سختیوں کو آسان کرے اور مجھے محمد مصطفےٰصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گروہ
فِی زُمْرَةِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ وَتُدْخِلَنِی الْجَنَّةَ
میں اٹھائے انصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ائمہ کرامعليهالسلام پر خدا کی رحمتیں ہوں نیز یہ کہ تومجھے اپنی رحمت سے داخل جنت فرمائے اور اپنی اطاعت
بِرَحْمَتِکَ وَتَجْعَلَ دَمْعِی غَزِیراً فِی طاعَتِکَ وَعَبْرَتِی جارِیَةً فِیمَا یُقَرِّبُنِی مِنْکَ وَقَلْبِی
میں میرے آنسو جاری کردےاس عمل میں میرے آنسو نکلیں جو مجھے تیرے قریب کردیں اور اپنے دوستوں کے لیے میرے دل کو نرم
عَطُوفاً عَلَی أَوْلِیائِکَ وَتَصُونَنِی فِی هذِهِ الدُّنْیامِنَ الْعَاهاتِ وَالْآفاتِ وَ
بنادے مجھے اس دنیا میں بچائے رکھ سختیوں اورمصیبتوں سے شدید بیماریوں اور پرانے دکھوں سےاور ہر قسم کی تنگیوں اور نا گہانی
الْاََمْراضِ الشَّدِیدَةِ وَالْاََسْقامِ الْمُزْمِنَةِ وَجَمِیعِ أَنْواعِ الْبَلائِ وَالْحَوادِثِ
تکلیفوں سے محفوظ فرما میرے دل کو حرام سے دور رکھ اپنی نافرمانی کو میرے لیے ناپسند بناحلال کو میرے
وَتَصْرِفَ قَلْبِی عَنِ الْحَرامِ وَتُبَغِّضَ إلَیَّ مَعاصِیَکَ وَتُحَبِّبَ إلَیَّ الْحَلالَ وَتَفْتَحَ
لیے پسندیدہ بنا اور مجھ پراس کی راہیں کھول دے میری نیت اور میرے کردار کو اس پر قائم رکھ مجھے طویل عمر دے
لِی أَبْوابَهُ وَتُثَبِّتَ نِیَّتِی وَفِعْلِی عَلَیْهِ وَتَمُدَّ فِی عُمْرِی وَتُغْلِقَ أَبْوابَ
اور مجھ سے سختی کے دروازے بندکر دے جو چیزیں مجھےعطا کی ہیں واپس نہ لے جن چیزوں کا مجھ پر احسان کیا ہے
الْمِحَنِ عَنِّی وَلاَ تَسْلُبَنِی مَا مَنَنْتَ بِهِ عَلَیَّ وَلاَ تَسْتَرِدَّ شَیْئاً مِمَّا أَحْسَنْتَ
ان سے محروم نہ کر جو نعمتیں تو نے مجھے عطا فرمائی ہیں وہ نہ چھین بلکہ جو کچھ مجھےعنایت کیا ہے اس میں
بِهِ إلَیَّ وَلاَ تَنْزِعْ مِنِّی النِّعَمَ الَّتِی أَنْعَمْتَ بِها عَلَیَّ
اضافہ فرما، اضافے پر اضافہ کرتا رہ اور مجھ کو دولت دے بہت زیادہ ،کشادہ تر، بہترین
وَتَزِیدَ فِیما خَوَّلْتَنِی وَتُضاعِفَهُ أَضْعافاً مُضاعَفَةً وَتَرْزُقَنِی مالاً کَثِیراً واسِعاً
پسندیدہ، بڑھنے والی،ختم نہ ہونے والی ، عزت دے قائم رہنے والی،آبرو دے بہت زیادہ اور
سائِغاً هَنِیئاً نامِیاً وافِیاً وَعِزَّاً باقِیاً کافِیاً وَجاهاً عَرِیضاً مَنِیعاً وَنِعْمَةً
محکم نعمت دے عمدہ و زیادہ اور اس طرح مجھے مالا مال کردے کہ بچ جاؤں سخت محنتوں اور مشکل وقتوں
سابِغَةً عامَّةً وَتُغْنِیَنِی بِذلِکَ عَنِ الْمَطالِبِ الْمُنَکَّدَةِ وَالْمَوارِدِ
سے اور چھٹکارا دےان سے تاکہ محفوظ رہےمیرا دین ، میری جان،میری اولاد اور جو کچھ تو نے
الصَّعْبَةِ وَتُخَلِّصَنِی مِنْها مُعافیً فِی دِینِی وَنَفْسِی وَوَلَدِی وَمَا
مجھے عطا کیا اور بخشا ہےمیرے دل کو میرے لیے محفوظ فرما اور وہ سب کچھ جو مجھے دیا ہے نیز ظالموں
أَعْطَیْتَنِی وَمَنَحْتَنِی وَتَحْفَظَ عَلَیَّ مالِی وَجَمِیعَ ما خَوَّلْتَنِی وَتَقْبِضَ عَنِّی أَیْدِیَ
کے ہاتھ مجھ سے روکے رکھ،مجھے اپنے وطن پہنچا دےاور دنیا و آخرت میں میری آرزوئیں پوری فرما
الْجَبابِرَةِ وَتَرُدَّنِی إلی وَطَنِی وَتُبَلِّغَنِی نِهایَةَ أَمَلِی فِی دُنْیایَ وَآخِرَتِی وَتَجْعَلَ عاقِبَةَ أَمْرِی
میرا انجام قابل تعریف،نیک اور باسلامتی قراردے مجھ کو فراخ دل خوشحال اور خوش اخلاق بنا نیز مجھ کو کنجوسی ،مال بند
مَحْمُودَةً حَسَنَةً سَلِیمَةً وَتَجْعَلَنِی رَحِیبَ الصَّدْرِ واسِعَ الْحالِ حَسَنَ
رکھنے ،دو رخی، جھوٹ،الزام تراشی اور ناحق بات کہنے سے بچا میرے دل میں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدعليهالسلام
الْخُلْقِ بَعِیداً مِنَ الْبُخْلِ وَالْمَنْعِ وَالنِّفاقِ وَالْکِذْبِ وَالْبَهْتِ وَقَوْلِ الزُّورِ وَتُرْسِخَ فِی قَلْبِی مَحَبَّةَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اور ان کے پیروکاروں کی محبت پیدا کر دے اے پروردگار میری جان،میرے کنبے ،میرے مال،میری اولاد ،میرے خاندان، میرے برادران دینی، میرے دوستوں اور
وَشِیعَتِهِمْ وَ تَحْرُسَنِی یَارَبِّ فِی نَفْسِی وَأَهْلِی وَمالِی وَوَلَدِی وَ أَهْلِ حُزانَتِی
میری نسل کی اپنی رحمت اور عطا کے ساتھ نگہبانی فرما اے معبود ! میری یہ حاجتیں تیرے سامنے پیش ہیں کہ میں ان کو اپنی
وَ إخْوانِی وَأَهْلِ مَوَدَّتِی وَذُرِّیَّتِی بِرَحْمَتِکَ وَ جُودِکَ اَللّٰهُمَّ هذِهِ حاجاتِی
پستی وکمی کے باعث بہت زیادہ تصور کرتا ہوں لیکن تیرے لیے یہ بہت کم اور بے وزن ہیں تیرے لیے یہ آسان اور ہلکی ہیں
عِنْدَکَ وَقَدِ اسْتَکْثَرتُها لِلُؤْمِی وَشُحِّی وَهِیَ عِنْدَکَ صَغِیرَةٌ حَقِیرَةٌ وَعَلَیْکَ
پس تجھ سے سوال کرتا ہوں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عزت کے واسطے سے جو تیرے ہاں ہے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آل پر سلام بواسطہ ان کے حق
سَهْلَةٌ یَسِیرَةٌ فأَسْأَلُکَ بِجاهِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ عِنْدَکَ
کے جو تجھ پر ہے اور بواسطہ اس کے جو تو نے ان پر واجب کیا اور بواسطہ اپنے نبیوں، رسولوں، برگزیدوں،
وَبِحَقِّهِمْ عَلَیْکَ وَبِمَا أَوْجَبْتَ لَهُمْ وَ بِسائِرِ أَنْبِیائِکَ وَ رُسُلِکَ وَ أَصْفِیائِکَ وَ أَوْلِیائِکَ
اپنے دوستوں اور اپنے پاک دل بندوں کے اور بواسطہ اپنے اس نام کے جو بڑے سے بڑا ہے میری سبھی حاجات پوری فرما، مرادیں برلا
الْمُخْلَصِینَ مِنْ عِبادِکَ وَ بِاسْمِکَ الْاََعْظَمِ الْاََعْظَمِ لَمَّا قَضَیْتَها کُلَّها وَأَسْعَفْتَنِی بِها وَلَمْ تُخَیِّبْ أَمَلِی وَ
اور میری آرزؤں اورامیدوں کو ناتمام نہ چھوڑاے معبود! میرے حق میں اس صاحب قبر کی شفاعت قبول فرما اے میرے آقااے ولی خدا اے امین خدا
رَجائِی اَللّٰهُمَّ وَشَفِّعْ صاحِبَ هذَا الْقَبْرِ فِیَّ یَا سَیِّدِی یَا وَلِیَّ ﷲ یَا أَمِینَ
میں سوال کرتا ہوں کہ خدائےعز وجل کے حضور کہ وہ میری شفاعت کریں ان تمام حاجتوں کے
ﷲ أَسْأَلُکَ أَنْ تَشْفَعَ لِی إلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ فِی هذِهِ الْحاجاتِ کُلِّها بِحَقِّ آبائِکَ
بارے میں واسطہ ہے آپ کے پاک اصل بزرگان اور آپ کے پاک نسل فرزندان کا کیونکہ آپ کے لیے پاک وپاکیزہ
الطَّاهِرِینَ وَبِحَقِّ أَوْلادِکَ الْمُنْتَجَبِین َ فَ إنَّ لَکَ عِنْدَ ﷲ تَقَدَّسَتْ أَسْماؤُهُ
ناموں والے خدا کے ہاں بڑا بلند مقام بہت بڑا مرتبہ اور ظاہر ونمایاں عزت وآبروہے اے معبود!
الْمَنْزِلَةَ الشَّرِیفَةَ وَالْمَرْتَبَةَ الْجَلِیلَةَ وَ الْجاهَ الْعَرِیضَ اَللّٰهُمَّ لَوْ عَرَفْتُ مَنْ
اگر میں یہ جانتا کہ دوسرے لوگ تیرے ہاں زیادہ عزت رکھتے ہیں بہ نسبت اس امامعليهالسلام اور اس کے پاک بزرگوں
هُوَ أَوْجَهُ عِنْدَکَ مِنْ هذَا الْاِمامِ وَمِنْ آبائِهِ وَأَبْنائِهِ الطَّاهِرِینَ عَلَیْهِمُ
اور فرزندوں کے ان پر درود وسلام ہو تو ضرور میں ان لوگوں کو اپنے سفارشی بناتا ہوں اپنی یہ حاجتیں
اَلسَّلَامُ وَالصَّلاةُ لَجَعَلْتُهُمْ شُفَعائِی وَقَدَّمْتُهُمْ أَمامَ حاجَتِی وَطَلِباتِی
پوری کرانے کے لیے ان کاواسطہ دیتا ہوں پس میری پکار سن ،میری دعا قبول فرمااور مجھ سے وہ برتاؤ کر جو
هذِهِ فَاسْمَعْ مِنِّی وَ اسْتَجِبْ لِی وَافْعَلْ بِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
تیرے شایان ہے اے سبسے زیادہ رحم کرنے والے اے معبود جو حاجات میں نے طلب
اَللّٰهُمَّ وَمَا قَصُرَتْ عَنْهُ مَسْأَلَتِی وَ عَجَزَتْ عَنْهُ قُوَّتِی وَ لَمْ تَبْلُغْهُ فِطْنَتِی مِنْ صالِحِ دِینِی وَدُنْیایَ وَآخِرَتِی
کیں وہ اس سے بہت کمتر ہیں میری قوت ِطلب اس سے عاجز ہےاور میری عقل ان تک نہیں پہنچتی کہ جو چیزیں میرے دین ودنیا اور
فَامْنُنْ بِهِ عَلَیَّ وَ احْفَظْنِی وَاحْرُسْنِی وَ هَبْ لِی وَاغْفِرْ لِی وَمَنْ أَرادَنِی
میری آخرت کے لیے بہترین ہیں پس مجھ پر احسان کراور وہ چیزیں عطا فرمااور میری نگہبانی اور پاسبانی
بِسُوئٍ أَوْ مَکْرُوهٍ مِنْ شَیْطانٍ مَرِیدٍ أَوْ سُلْطانٍ عَنِیدٍ أَوْ مُخالِفٍ فِی دِینٍ أَوْ
کر مجھ پر کرم اور مجھے بخش دے اور جو میرے لیے برائی اورغلط کام کا ارادہ کرے وہ اکڑ باز شیطان ہو یا دشمنی
مُنَازِعٍ فِی دُنْیا أَوْ حاسِدٍ عَلَیَّ نِعْمَةً أَوْ ظالِمٍ أَوْباغٍ فَاقْبِضْ عَنِّی یَدَهُ وَاصْرِفْ
کرنے والا بادشاہ یادین میں مخالف یا دنیا کےبارے میں جھگڑا کرنے والایا میری نعمت پر حسد
عَنِّی کَیْدَهُ وَاشْغَلْهُ عَنِّی بِنَفْسِهِ وَاکْفِنِی شَرَّهُ وَشَرَّ أَتْباعِهِ وَشَیاطِینِهِ وَأَجِرْنِی
کرنے والا یا ظالم اورفسادی ہو پس اس کا ہاتھ مجھ سے روک دےہاتھ مجھ سے روک دے اس
مِنْ کُلِّ مَا یَضُرُّنِی وَ یُجْحِفُ بِی وَ أَعْطِنِی جَمِیعَ الْخَیْرِ کُلِّهِ مِمَّاأَعْلَمُ
کا فریب مجھ سے دور رکھ اور میری بجائے اسے اپنی مصیبت ہی میں ڈال دے مجھے اس کے شر سے
وَمِمَّا لاَ أَعْلَمُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ
بچالے اور اس کے ہمراہیوں اور ساتھیوں کے شر سے بچا اور مجھ کو ہر اس چیز سے جو تکلیف دیتی
لِی وَلِوالِدَیَّ وَ لاِِِخْوانِی وَأَخَواتِی وَ أَعْمامِی وَعَمَّاتِی وَأَخْوالِی وَخالاتِی
پناہ دے اور مجھے دباتی ہےاور مجھ کو تمام بھلائیاں عطا فرما جن کو میں جانتا ہوں اور جن کو میں نہیں جانتا اے معبود !
وَ أَجْدادِی وَجَدَّاتِی وَأَوْلادِهِمْ وَذَرارِیهِمْ وَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلِ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور مجھ کو میرے ماں باپ کو میرے بھائیوں بہنوں کو میرے چچاؤں
أَزْواجِی وَذُرِّیَّاتِی وَأَقْرِبائِی وَ أَصْدِقائِی وَجِیرانِی وَ إخْوانِی فِیکَ
اور چچیوں کو بخش دے میرے ماموؤں اورمیری خالاؤں کو بخش دے اور میرے دادا اور دادیوں کو ان کی اولاد اور ان کی
مِنْ أَهْلِ الشَّرْقِ وَالْغَرْبِ وَلِجَمِیعِ أَهْلِ مَوَدَّتِی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَ
نسلوں کو بخش دے اور میری بیوی اور بچوں کو نیز میرے عزیزوں میرے دوستوں میرے ہمسایوں اور میرے دینی بھائیوں کو
الْمُؤْمِناتِ الْاََحْیائِ مِنْهُمْ وَالْاََمْواتِ وَلِجَمِیعِ مَنْ عَلَّمَنِی
بخش دے جو مشرق ومغرب میں آباد ہیں اور ان مومن بھائی بہنوں کو بخش دے جو مجھ سے محبت رکھتے
خَیْراً أَوْ تَعَلَّمَ مِنِّی عِلْماً اَللّٰهُمَّ أَشْرِکْهُمْ فِی صالِحِ
ہیں جو زندہ ہیں اور جو مر چکے ہیں سب کو بخش دے ان سب کو بھی بخش دے جن سے میں نے علم سیکھا
دُعائِی وَزِیارَتِی لِمَشْهَدِ حُجَّتِکَ وَوَلِیِّکَ وَأَشْرِکْنِی فِی صالِحِ أَدْعِیَتِهِمْ
اور جنہوں نے مجھ سے علم حاصل کیا اے معبود ! ان سب کو میری بہترین دعاؤں اور میری زیارت میں شریک فرما جو میں نے تیری حجتعليهالسلام
بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَبَلِّغْ وَلِیَّکَ مِنْهُمُ
اور تیرے ولیعليهالسلام کے مزار پر کی ہے اور مجھے بھی ان کی بہترین دعاؤں میں شامل رکھ اپنی رحمت سے اے سب
السَّلامَ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَ بَرَکاتُهُ یَا سَیِّدِی
سے زیادہ رحم کرنے والے اور ان سب کی طرف سے اپنے اس ولی کو سلام اور آپ پر سلام ہوخدا کی
یَا مَوْلایَ یَا فلان بن فلان صَلَّی ﷲ عَلَیْکَ وَ عَلَی رُوحِکَ وَبَدَنِکَ
رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں اے میرے آقا، اے میرے مولا، اے فلاں بن فلاں خدا رحمت کرے آپ پر، آپ کی روح پر
أَنْتَ وَسِیلَتِی إلَی ﷲ وَذَرِیعَتِی إلَیْهِ وَلِی حَقُّ مُوالاتِی وَ
اور آپ کے بدن پر آپ خدا کے حضور میرا وسیلہ اور اس کی طرف میرا ذریعہ ہیں اور مجھے آپ کی
تَأْمِیلِی فَکُنْ شَفِیعِی إلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ فِی الْوُقُوفِ عَلَی قِصَّتِی هذِهِ وَ
محبت میں آرزو کا حق پہنچتا ہے پس خدائے بلند وبرتر کے ہاں میرے سفارشی بنیں میری یہ داستان اس تک پہنچانے میں تاکہ وہ مجھے
صَرْفِی عَنْ مَوْقِفِی هذَا بِالنُّجْحِ بِمَا سَأَلْتُهُ کُلِّهِ بِرَحْمَتِهِ وَ قُدْرَتِهِ اَللّٰهُمَّ
اس جگہ سے تمام حاجتوں اور مرادوں میں کامیاب کر کے پلٹائے اپنی رحمت اور قدرت کے ساتھ اے
ارْزُقْنِی عَقْلاً کامِلاً وَلُبَّاً راجِحاً وَعِزَّاً باقِیاً وَقَلْباً زَکِیَّاً وَ عَمَلاً کَثِیراً وَأَدَباً بارِعاً وَاجْعَلْ
معبود! مجھ کو عقل کامل عطا فرما اور فہم رسا اور ہمیشہ کی عزت، پاکیزہ دل ،بہت زیادہ عمل اور بہترین اخلاق دے اور یہ سب
ذلِکَ کُلَّهُ لِی وَلاَ تَجْعَلْهُ عَلَیَّ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اوصاف مجھ کو عنایت کر اور مجھ پر تکلیف نہ آنےدے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
(پانچواں مطلب)
(زیارت وداع ائمہ طاہرینعليهالسلام
یہ وہ وداع ہے جس کے ذریعے ہر امامعليهالسلام سے
وداع کیا جاسکتا ہے معلوم ہو کہ آداب زیارت جو اپنی جگہ پر ذکر ہوچکے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ جب کسی بھی امامعليهالسلام کی زیارت کے بعد اپنے وطن واپس جانا چاہے تو ان کا وداع پڑھے جیسا کہ ہم نے بھی ہر امامعليهالسلام کی زیارت کے ساتھ ہی ان کا وداع بھی تحریر کیا ہے اور امام حسین- کے وداع کے سلسلے میں اس وداع پر اکتفائ کیا ہے جو اعمال حرم امام حسینعليهالسلام میں صفحہ نمبر ۰۸۷ پ گزر چکا ہے یہاں ہم اس وداع کو نقل کرتے ہیں جسے شیخ محمد بن المشہدیرحمهالله نے اپنی کتاب مزار کبیر میں باب وداع کے ذیل میں لکھا ہے جب کہ سید بن طاؤسرحمهالله نے اسے سابقہ
زیارت جامعہ کے بعد نقل فرمایا ہے اور ہم اسے مصباح الزائر سے نقل کررہے ہیں پس جب کوئی زائر کسی بھی امامعليهالسلام کے شہر سے واپس ہونا چاہے تو اس وقت مزار پر حاضر ہوکر یہ دعا پڑھے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَهْلَ بَیْتِ النُّبُوَّةِ وَمَعْدِنَ الرِّسالَةِ سَلامَ مُوَدِّعٍ لاَ سَئِمٍ وَلاَ قالٍ وَ
آپ پر سلام ہو اے اہل بعليهالسلام یت نبوت اور خزینہ داران رسالت سلام ہو وداع کرنے والے کا جو نہ تھکا، نہ اکتایا خدا کی رحمت
رَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ عَلَیْکُمْ أَهْلَ الْبَیْتِ إنَّهُ حَمِیدٌ مَجِیدٌ سَلامَ وَلِیٍّ غَیْرِ رَاغِبٍ عَنْکُمْ وَلاَ
ہو اور اس کی برکات ہوں آپ پر اے اہل بیتعليهالسلام بے شک وہ تعریف والا شان والا ہے سلام ہو اس محب کا جو
آپ سے روگرداں نہیں
مُنْحَرِفٍ عَنْکُمْ وَلاَ مُسْتَبْدِلٍ بِکُمْ وَلاَ مُؤْثِرٍ عَلَیْکُمْ وَلاَ زاهِدٍ فِی قُرْبِکُمْ لاَ
ہے نہ آپ سے پھرا ہے نہہی اس نے آپ کی جگہ کسی کو قرار دیا نہ کسی کو آپ پر مقدم رکھا اور نہ آپ کے
جَعَلَهُ ﷲ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَةِ قُبُورِکُمْ وَ إتْیانِ مَشاهِدِکُمْ وَ
قرب میں بے توجہ ہوا خدا اس کے لیے اسے آپ کے مقبروں کی زیارت اور آپ کی بارگاہوں میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ حَشَرَنِیَ ﷲ فِی زُمْرَتِکُمْ وَأَوْرَدَنِی حَوْضَکُمْ وَ أَرْضاکُم
حاضری کا آخری موقع قرارنہ دے آپ پر سلام ہواورخدا مجھے آپ کے گروہ میں اٹھائے آپ کے حوض کوثر
عَنِّی وَ مَکَّنَنِی فِی دَوْلَتِکُمْ وَأَحْیَانِی فِی رَجْعَتِکُمْ وَ مَلَّکَنِی فِی أَیَّامِکُمْ
پر اتارے آپ کو مجھ سےخوشنود فرمائے مجھے آپ کی حکومت میں عزت دےآپ کی رجعت میں زندہ
وَ شَکَرَ سَعْیِی لَکُمْ وَ غَفَرَ ذُنُوبِی بِشَفاعَتِکُمْ وَأَقالَ عَثْرَتِی بِحُبِّکُمْ وَ أَعْلَی کَعْبِی بِمُوالاتِکُم
کرے مجھے آپ کے دورمیں اقتدار بخشے آپ کی خاطر میری اس کوشش کو قبول کرے آپ کی شفاعت سے میرے گناہ بخش دے آپ
وَ شَرَّفَنِی بِطاعَتِکُمْ وَ أَعَزَّنِی بِهُدَاکُمْ وَ جَعَلَنِی مِمَّنْ یَنْقَلِبُ مُفْلِحاً مُنْجِحاً سالِماً
سے محبت کے ذریعےخطائیں معاف کرے آپ کی محبت کے طفیل مجھے بلند مقام بخشے مجھے آپ کی پیروی
غانِماً مُعافیً غَنِیّاً فائِزاً بِرِضْوانِ ﷲ وَفَضْلِهِ وَکِفایَتِهِ بِأَفْضَلِ مَا یَنْقَلِبُ بِهِ
سے آبرو عطا کرے اورآپ کی رہبری سے معزز بنائے مجھے ان لوگوں میں رکھے جو لوٹتے ہیں کامیاب
أَحَدٌ مِنْ زُوَّارِکُمْ وَ مَوالِیکُمْ وَمُحِبِّیکُمْ وَشِیعَتِکُمْ وَرَزَقَنِیَ ﷲ الْعَوْدَ ثُمَّ الْعَوْدَ
کامگار، سلامت ،بہرمند ،باامن ،تو نگر، کامران، خدا کی خوشنودی اور اس کے فضل وکمک کے ساتھ ایسے بہترین انداز
ثُمَّ الْعَوْدَ مَا أَبْقانِی رَبِّی بِنِیَّةٍ صادِقَةٍ وَ إیمانٍ وَتَقْوَی وَ إخْباتٍ وَرِزْقٍ
میں جس طرح پلٹتا ہے کوئی ایک آپ کے زائروں، آپ کے غلاموں، آپ کے دوستوں اور آپ کے شیعوں میں سے اور خدا
واسِعٍ حَلالٍ طَیِّبٍ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنْ زِیارَتِهِمْ وَذِکْرِهِمْ
مجھے نصیب کرے یہاں دوبارہ اور سہ بارہ آن جب تک میرا رب مجھے زندہ رکھے خالص نیت ،ایمان وتقویٰ اور عاجزی کے ساتھ آنے
وَالصَّلاةِ عَلَیْهِمْ وَ أَوْجِبْ لِیَ الْمَغْفِرَةَ وَ الرَّحْمَةَ وَالْخَیْرَ وَ الْبَرَکَةَ وَالنُّورَ
کا موقع دے اور کشادہ اور حلال وپاکیزہ روزی دے اے معبود اس کو میرے لیے ان کی آخری زیارت ان کی آخری یاد اور ان پر
وَالْاِیمانَ وَحُسْنَ الْاِجابَةِ کَما أَوْجَبْتَ لِاَوْلِیائِکَ الْعارِفِینَ بِحَقِّهِم
آخری درود قرار نہ دے اور میرے لیے بخشش لازم فرما رحمت اور سلامتی اور اضافہ روشنی اور ایمان اور بہترین قبولیت
الْمُوجِبِینَ طاعَتَهُمْ وَ الرَّاغِبِینَ فِی زِیارَتِهِمْ الْمُتَقَرِّبِینَ إلَیْکَ وَ إلَیْهِمْ بِأَبِی
جیسے تو نے اپنے ان پیاروں کیلئے لازم کیا جو ان کے حق کی پہچان والے ان کی پیروی کو واجب سمجھنے والے
أَنْتُمْ وَأُمِّی وَنَفْسِی وَ مالِی وَأَهْلِی اجْعَلُونِی مِنْ هَمِّکُمْ وَصَیِّرُونِی فِی
اور زیارت کا شوق رکھنے والے تھے کہ وہ تیرا اور ان کاقرب چاہتے تھے قربان قربان آپعليهالسلام پر میرے ماں
حِزْبِکُمْ وَأَدْخِلُونِی فِی شَفاعَتِکُمْ وَ اذْکُرُونِی عِنْدَ رَبِّکُمْ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
باپ میری جان ومال اور میراکنبہ مجھے اپنے زیر توجہ رکھیں اور اپنے گروہ میں داخل کریں اپنی شفاعت میں شامل
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَبْلِغْ أَرْواحَهُمْ وَ أَجْسادَهُمْ عَنِّی تَحِیَّةً کَثِیرَةً و
فرمائیں اور اپنے رب کے ہاں میرا نام پیش کریں اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج اور پہنچا ان کی روحوں اور ان کے جسموں کو میری طرف سے بہت
َسَلاماً وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
بہت درود وسلام اور آپ پر سلام ہو خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں
(چھٹا مطلب)
( ۶ ) رقعہ حاجت )
تحفتہ الزائر میں امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ کسی مومن کو جب کوئی حاجت در پیش ہو یا کسی معاملے میں خوف لاحق ہو تو وہ ایک سفید کاغذ پر یہ عبارت لکھے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَوجَّهُ إلَیْکَ بِأَحَبِّ الْاََسْمائِ إلَیْکَ وَأَعْظَمِها لَدَیْکَ وَأَتَقَرَّبُ وَ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا رحم والا مہربان ہے اے معبود میں تیری طرف آیا ہوں بوسطہ تیرے سب سے پسندیدہ نام
کے جو تیرے نزدیک سبناموں سے عظیم ہے تیرا قرب
أَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِمَنْ أَوْجَبْتَ حَقَّهُ عَلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَ فاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ وَعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدِ
چاہا اور تیرے حضور وسیلہ بنایاہے اس کو جس کا حق تو نےخود پر لازم ٹھہرایا وسیلہ بنایا ہے محمد ، علیعليهالسلام ، فاطمہعليهالسلام ، حسنعليهالسلام ، حسینعليهالسلام ، کو اور وسیلہ بنایا ہے علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام ، محمدعليهالسلام
بْنِ عَلِیٍّ وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍوَعَلِیِّ بْنِ مُوسی وَمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ وَعَلِیِّ بْنِ
بن علیعليهالسلام ، جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کو اور موعليهالسلام سیٰ بن جعفرعليهالسلام ، علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام ،محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام ،علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام اور حسنعليهالسلام بن
مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَالْحُجَّةِ الْمُنْتَظَرِ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ اکْفِنِی کَذا وَکَذا
علیعليهالسلام کو اور وسیلہ بنایا ہےحجت منتظرعليهالسلام کو خدا کادرود ہو ان سبمعصومینعليهالسلام پر خدایا میرا یہاور یہ کام بنا دے
لفظ کذا کذا کی بجائے اپنی حاجت کا تذکرہ کرے پھر اس کاغذ کو مٹی میں لپیٹ کر آب جاری یا کنویں میں ڈال دے انشائ ﷲ خداوند کریم جلد ہی یہ حاجت پوری فرمادے گا۔
(ساتوں مطلب)
( ۷ ) (غیبت امام العصرعليهالسلام میں دعا )
معتبر سند کے ساتھ روایت ہوئی ہے کہ امام العصرعليهالسلام کے پہلے وکیل شیخ ابو عمرو نے یہ دعا ابو علی محمد بن ہمام کو لکھوائی اور اس
کے پڑھنے کی ہدایت بھی فرمائی ۔سید بن طاؤس نے جمال الاسبوع میں روز جمعہ کی نماز عصر کے بعد پڑھنے کی دعائیں نقل کیں اور اس دعا کو بھی ان میں ذکر کیا اور فرمایا ہے کہ جو دعائیں ہم نے نقل کی ہیں ۔ اگر ان سب کو پڑھنے میں تمہیں کوئی عذر ہو تو بھی اس دعا کو ترک کرنے سے ڈرنا کیونکہ اسے ہم نے ﷲ تعالیٰ کا خاص فضل تصور کیا ہے جو اس نے ہمارے لیے مخصوص فرمایا ہے ۔پس اس دعا پر اعتماد کرنا اور اسے پڑھنا وہ دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ أَعْرِفْ
اے معبود مجھ کو اپنی ذات کی معرفت کرا کہ یقینا اگر تو نے مجھے اپنی معرفت نہ کرائی تو میں تیرے
رَسُولَکَ اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَکَ فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ
رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نہ پہچان سکوں گااے معبود مجھے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی معرفت کرا کہ یقینا اگر تو نے مجھے اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَکَ اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی
کی معرفت نہ کرائی تو میں تیری حجت کو نہ پہچان پاؤں گا اے معبود مجھے اپنی حجتعليهالسلام کی معرفت
حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِینِی اَللّٰهُمَّ لاَ تُمِتْنِی مِیْتَةً جاهِلِیَّةً وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ
کرا یقینا اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی معرفت نہ کرائی تو میں دین سے بھٹک جاؤں گا اے معبود مجھے
إذْ هَدَیْتَنِی اَللّٰهُمَّ فَکَما هَدَیْتَنِی لِوِلایَةِ مَنْ فَرَضْتَ عَلَیَّ طاعَتَهُ مِنْ
جاہلیت کی موت نہ دےاور میرے دل کو ٹیڑھا نہ ہونے دے جب کہ تو نےمجھے ہدایت دی اے
وِلایَةِ وُلاةِ أَمْرِک بَعْدَ رَسُولِکَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَ آلِهِ حَتَّی والَیْتُ وُلاةَ
معبود جیسے تو نے مجھے ان کی ولایت سے آگاہ کیاجن کی پیروی مجھ پر واجب کی ہے انکی ولایت جو تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم
أَمْرِکَ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طالِبٍ وَ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ
کے بعد تیرے والیان امرعليهالسلام ہیں تیری رحمتیں ہوں ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر یہ اس لیے کیا کہ میں تیرے
والیان امرعليهالسلام کی ولایت قبول کروں
وَعَلِیّاً وَمُحَمَّداً وَ جَعْفَراً وَمُوسَی وَ عَلِیّاً وَمُحَمَّداً وَ
اور وہ ہیں امیر المومنین علیعليهالسلام بن ابی طالبعليهالسلام اور حسنعليهالسلام ،حسینعليهالسلام ،علیعليهالسلام ، محمدعليهالسلام ، جعفرعليهالسلام ، موسیٰعليهالسلام ،
عَلِیّاً وَالْحَسَنَ وَ الْحُجَّةَ الْقائِمَ الْمَهْدِیَّ صَلَواتُکَ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ
علیعليهالسلام ، محمدعليهالسلام ، علیعليهالسلام ، حسنعليهالسلام اور حجۃ القائم مہدی ہادیعليهالسلام ان سب پر تیری رحمتیں
اَللّٰهُمَّ فَثَبِّتْنِی عَلَی دِینِکَ وَاسْتَعْمِلْنِی بِطاعَتِکَ وَلَیِّنْ قَلْبِی لِوَلِیِّ أَمْرِکَ
ہوں اے معبود مجھے اپنے دین پر ثابت وقائم رکھ مجھے اپنی اطاعت میں لگا دے اپنے ولی امرعليهالسلام کیلئے میرے دل کو نرم
وَ عافِنِی مِمَّا امْتَحَنْتَ بِهِ خَلْقَکَ وَثَبِّتْنِی عَلَی طاعَةِ وَلِیِّ
کردے مجھے اس چیز سےبچا کہ جس سے تو اپنی مخلوق کو آزماتا ہے مجھے اپنی ولی امرعليهالسلام کی پیروی پر قائم
أَمْرِکَ الَّذِی سَتَرْتَهُ عَنْ خَلْقِکَ وَ بِ إذْنِکَ غابَ عَنْ بَرِیَّتِکَ وَ
رکھ جسے تو نے اپنی مخلوق سے پوشیدہ کردیا اسے اپنے حکم سے خلق کی نگاہوں سےاوجھل کیا اور وہ تیرے
أَمْرَکَ یَنْتَظِرُ وَ أَنْتَ الْعالِمُ غَیْرُ الْمُعَلَّمِ بِالْوَقْتِ الَّذِی فِیهِ صَلاحُ
فرمان کا منتظر ہے اور توبغیر بتانے والے کےاس وقت کو جانتا ہےجس میں تیرے ولی امرعليهالسلام
أَمْرِ وَلِیِّکَ فِی الْاِذْنِ لَهُ بِ إظْهارِ أَمْرِهِ وَکَشْفِ سِتْرِهِ
کیلئے بہتری ہے کہ تو اسے اپنے امر کو ظاہر کرنے کا حکم دے اسے پردے سے
فَصَبِّرْنِی عَلَی ذلِکَ حَتَّی لاَ أُحِبَّ تَعْجِیلَ مَا أَخَّرْتَ وَلاَ تَأْخِیرَ
باہر لائے پس مجھے اس معاملے میں صبر عطا فرماتا کہ جس کام میں تو دیر کرے میں جلدی نہ کروں اور جس
مَا عَجَّلْتَ وَلاَ کَشْفَ مَا سَتَرْتَ وَ لاَ الْبَحْثَ عَمَّا کَتَمْتَ وَلاَ
میں تو جلدی کرے اس میں دیر نہ کروں جسے تو پوشدہ رکھے اسے ظاہر نہ کروں اورجسے تو چھپائے اس کا ذکر نہ کروں
أُنازِعَکَ فِی تَدْبِیرِکَ وَلاَ أَقُولَ لِمَ وَکَیْفَ وَما بالُ وَلِیِّ الْاََمْرِ لاَ یَظْهَرُ
تیرے طریق کار میں تکرارنہ کروں اور کیوں اور کیسےکا سوال نہ کروں کہ کیوں ولی امرعليهالسلام ظہور نہیں فرماتے
وَ قَدِ امْتَلاَََتِ الْاََرْضُ مِنَ الْجَوْرِ وَ أُفَوِّضُ أُمُورِی کُلَّها إلَیْکَ اَللّٰهُمَّ
جب کہ زمین ظلم وجورسے بھری ہوئی ہے بلکہ میں اپنے تمام امور تیرے سپرد کردوں اے معبود تجھ سے
إنِّی أَسْأَلُکَ أَنْ تُرِیَنِی وَلِیَّ أَمْرِکَ ظاهِراً نافِذَ الْاََمْرِ مَعَ عِلْمِی بِأَنَّ لَکَ
سوال ہے کہ اپنے ولی امرعليهالسلام کا دیدار کرا ظاہر بظاہرجب اس کا حکم جاری ہو اور مجھے اس کاعلم ہو کیونکہ
السُّلْطانَ وَ الْقُدْرَةَوَالْبُرْهانَ وَالْحُجَّةَ وَالْمَشِیَّةَ وَ الْحَوْلَ وَالْقُوَّةَ
تو ہی ہے اختیار وقوت والااور تو مالک ہے دلیل حجت ارادے حرکت اور قوت کا پس ایسا ہی کر میرے
فَافْعَلْ ذلِکَ بِی وَ بِجَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ حَتَّی نَنْظُرَ إلٰی وَلِیِّ أَمْرِکَ صَلَواتُکَ
لیے اور تمام مومنوں کیلئےتاکہ ہم ولی امرعليهالسلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں تیری رحمتیں ہوں اس پر جب
عَلَیْهِ ظاهِرَ الْمَقالَةِ واضِحَ الدَّلالَةِهادِیاً مِنَ الضَّلالَةِ شافِیاً مِنَ الْجَهالَةِ أَبْرِزْ
وہ ظاہراً گفتگو کرے روشن دلائل دے گمراہی سے نکالےاورجہالت سے بچائے اے پروردگار اس کا کھلا
یَارَبِّ مُشاهَدَتَهُ وَ ثَبِّتْ قَواعِدَهُ وَ اجْعَلْنا مِمَّنْ تَقِرُّعَیْنُهُ بِرُؤْیَتِهِ وَ
دیدار کرا ان کے قانون کو محکم بنااور ہمیں ان لوگوں میں قرار دےجن کی آنکھیں ان کے دیدار
أَقِمْنا بِخِدْمَتِهِ وَ تَوَفَّنا عَلَی مِلَّتِهِ وَ احْشُرْنا فِی زُمْرَتِهِ اَللّٰهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ شَرِّ
سے ٹھنڈی ہوں ہمیں ان کی خدمت میں کمر بستہ رکھ ہمیں ان کے دین پر موت دے اور ہمیں ان کے گروہ میں
جَمِیعِ مَا خَلَقْتَ وَ ذَرَأْتَ وَبَرَأْتَ وَ أَنْشَأْتَ وَصَوَّرْتَ وَ
محشور فرما اے معبود امامعليهالسلام کو ہر چیز کے شر سے بچا جو تو نے پیدا فرمائی جسے رواں کیا جسے
احْفَظْهُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ یَمِینِهِ وَعَنْ شِمالِهِ وَ
برآمد کیا جسے ایجاد کیا اور جسے صورت دی ہے اور امامعليهالسلام کی حفاظت کر سامنے سے پیچھے سے اس کے
مِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحْتِهِ بِحِفْظِکَ الَّذِی لاَ یَضِیعُ مَنْ حَفِظْتَهُ بِهِ وَاحْفَظْ فِیه
دائیں سے اس کے بائیں سے اس کے اوپر سے اور اس کے پاؤں کے نیچے سے اپنی حفاظت کے ساتھ کہ جس کی تو حفاظت
رَسُولَکَ وَوَصِیَّ رَسُولِکَ عَلَیْهِ وَ آلِهِ اَلسَّلَامُ اَللّٰهُمَّ وَ مُدَّ فِی عُمْرِهِ وَزِدْ فِی أَجَلِهِ وَأَعِنْهُ عَلَی
کرے وہ ضائع نہیں ہوتاامامعليهالسلام کی ذات میں اپنے رسول اور اپنے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی کی حفاظت فرما ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر سلام اے معبود امام عصرعليهالسلام کی عمر دراز کر
مَا وَلَّیْتَهُ وَاسْتَرْعَیْتَهُ وَ زِدْ فِی کَرامَتِکَ لَهُ فَ إنَّهُ الْهادِی
ان کے عہد کو طول دے اس کی مدد کر اس کام میں جس کیلئے اسےوالی وحاکم بنایا ہے اور اس پر اپنی
الْمَهْدِیُّ وَالْقائِمُ الْمُهْتَدِی وَالطَّاهِرُ التَّقِیُّ الزَّکِیُّ النَّقِیُّ
مہربانیوں میں اضافہ کر کہ بے شک وہ رہبرہے، راہ یافتہ ،قائمعليهالسلام ، ہدایت پایا ہوا، پاکیزہ ہے ،باتقویٰ
الرَّضِیُّ الْمَرْضِیُّ الصَّابِرُ الشَّکُورُ الْمُجْتَهِدُ اَللّٰهُمَّ
پاک شدہ ہے، باصفا ، راضی ہے، راضی کیا ہوا، صبر والا ہے، شکر گزار اور کوشش کرنے والا اے
وَلاَ تَسْلُبْنَا الْیَقِینَ لِطُولِ الْاََمَدِ فِی غَیْبَتِهِ وَانْقِطاعِ
معبود امامعليهالسلام پر ہمارا یقین زائل نہ ہو اس کی غیبت کی مدت طول پکڑنے اور ہم تک اس کی خبر نہ آنے کی
خَبَرِهِ عَنَّا وَلاَ تُنْسِنا ذِکْرَهُ وَانْتِظارَهُ وَ الاْیمانَ بِهِ وَقُوَّةَ الْیَقِینِ فِی ظُهُورِهِ وَ
وجہ سے ہم بھول نہ جائیں اس کا ذکر اس کا انتظار اوراس پر ایمان رکھنا اس کے ظہور پر ہمارا یقین محکم رہے ہم اس
الدُّعائَ لَهُ وَالصَّلاةَ عَلَیْهِ حَتَّی لاَ یُقَنِّطَنا طُولُ غَیْبَتِهِ مِنْ قِیامِهِ وَیَکُونَ یَقِینُنا
کیلئے دعا کریں اور اس پر درود بھیجیں تا کہ ہم ان کےطول غیبت کے باعث ان کے قیام سے مایوس نہ ہوں اور
فِی ذلِکَ کَیَقِینِنا فِی قِیامِ رَسُولِکَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَ
اس پر ہمارا یقین ایسا ہی ہو جیسے تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قیام پر یقین ہے اور اس کلام پر بھی
آلِهِ وَمَا جائَ بِهِ مِنْ وَحْیِکَ وَ تَنْزِیلِکَ فَقَوِّ قُلُوبَنا عَلَی
جو تیری وحی و تنزیل کے ذریعے ان پر اترا ہے تیرا ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر درود و سلام ہو پس ہمارے دلوں
الْاِیمانِ بِهِ حَتَّی تَسْلُکَ بِنا عَلَی یَدَیْهِ مِنْهاجَ الْهُدَی وَ الْمَحَجَّةَالْعُظْمَی
کو امامعليهالسلام پر ایمان میں محکم کر دے تاکہ تم ہمیں ان کے ذریعےسے راہ ہدایت پر رواں کرے، کشادہ تر شاہراہ پر اور
وَ الطَّرِیقَةَ الْوُسْطَی وَقَوِّنا عَلَی طاعَتِهِ وَ ثَبِّتْنا عَلَی مُتابَعَتِهِ وَ
درمیانی راستے پر نیز ہمیں امامعليهالسلام کی پیروی کی ہمت دے اوراس کے نقش قدم پر قائم رکھ اور
اجْعَلْنا فِی حِزْبِهِ وَ أَعْوانِهِ وَأَنْصارِهِ وَ الرَّاضِینَ بِفِعْلِهِ وَلاَ
ہمیں اس کے گروہ میں قرار دے اور اس کے ساتھیوں میں ،اس کے مددگاروں میں اور اس کے فعل
تَسْلُبْنا ذلِکَ فِی حَیَاتِنا وَلاَ عِنْدَ وَ فاتِنا حَتَّی تَتَوَفَّانا وَ نَحْنُ عَلَی ذلِکَ لاَ
کو پسند کرنے والوں میں قرار دے اور یہ عقیدہ ہم سے نہ چھوٹے ہماری زندگی میں اور نہ ہماری موت کے وقت یہاں تک
شاکِّینَ وَلاَ ناکِثِینَ وَ لاَ مُرْتابِینَ وَلاَ مُکَذِّبِینَ اَللّٰهُمَّ عَجِّلْ فَرَجَهُ وَأَیِّدْهُ
کہ تو ہمیں وفات دے اور ہم اسی عقیدے پر ہوں نہ اسمیں شک لائیں نہ عہد کو توڑیں نہ اس میں آمیزش کریں اور
بِالنَّصْرِ وَانْصُرْ ناصِرِیهِ وَاخْذُلْ خاذِلِیهِ وَدَمْدِمْ عَلَی
نہ ہی جھٹلائیں اے معبود ! امامعليهالسلام کی جلد کشائش فرما مدد دے کر اس کوطاقتوربنا اس کے دوستوں کی
مَنْ نَصَبَ لَهُ وَ کَذَّبَ بِهِ وَأَظْهِرْ بِهِ الْحَقَّ وَأَمِتْ بِهِ
مدد فرما اسے چھوڑ جانے والوں کو چھوڑ دے عذاب بھیج اس پرجو اس سے دشمنی کرے اور اسے
الْجَوْرَ وَاسْتَنْقِذْ بِهِ عِبادَکَ الْمُؤْمِنِینَ مِنَ الذُّلِّ وَانْعَشْ بِهِ
جھٹلائے اس کے ہاتھوں حق کو ظاہر کر اس کے ذریعے ظلم کو مٹا دے اور اس کے وسیلے سے
الْبِلادَ وَاقْتُلْ بِهِ جَبابِرَةَ الْکُفْرِ وَ اقْصِمْ بِهِ رُؤُوسَ
اپنے باایمان بندوں کو ذلت اور پستی سے نجات دلا اور شہروں کو آباد کر اس کی تلوار سے کفر
الضَّلالَةِ وَذَلِّلْ بِهِ الْجَبَّارِینَ وَ الْکافِرِینَ وَأَبِرْ بِهِ
کے سرداروں کو قتل کرا اور گمراہی کے سالاروں کا زور توڑ دے امامعليهالسلام کے ہاتھوں سرکشوں اور
الْمُنافِقِینَ وَ النَّاکِثِینَ وَجَمِیعَ الُمخالِفِینَ وَ الْمُلْحِدِینَ فِی
کافروں کو ذلت دے اس کے ذریعے منافقوں کی جڑ کاٹ دے عہد شکنوں کی اور تمام مخالفوں اور
مَشارِقِ الْاََرْضِ وَ مَغارِبِهاوَبَرِّها وَ بَحْرِها وَسَهْلِها وَ جَبَلِها حَتَّی لاَ تَدَعَ
بے دینوں کی بیخ کنی کر جو موجود ہیں زمین کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں میدانوں میں سمندروں میں
مِنْهُمْ دَیَّاراً وَلاَ تُبْقِیَ لَهُمْ آثاراً طَهِّرْ مِنْهُمْ بِلادَکَ وَ اشْفِ مِنْهُمْ صُدُورَ
جنگلوںاور پہاڑوں میں یہاں تک کہ ان کی کوئی بستی نہ رہنے دے اور ان کا نشان تک نہ چھوڑ یعنی اپنے شہروں کو ان سے
عِبادِکَ وَجَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحی مِنْ دِینِکَ وَأَصْلِحْ بِهِ
پاک کر اور ان کی نابودی سے اپنے بندوں کے دل ٹھنڈے کردے امامعليهالسلام کے ذریعے اس چیز کو
مَا بُدِّلَ مِنْ حُکْمِکَ وَغُیِّرَ مِنْ سُنَّتِکَ حَتَّی یَعُودَ
زندہ کر جو تیرے دین میں سے مٹ گئی اور درستی کر اس کی جو تیرے حکم
دِینُکَ بِهِ وَعَلَی یَدَیْهِ غَضّاً جَدِیداً صَحِیحاً لاَ عِوَجَ
اور تیرے طریقے میں سے رد وبدل ہوا ہے یہاں تک کہ امامعليهالسلام کے ذریعے تیرا دین پلٹ آئے اور
فِیهِ وَلاَ بِدْعَةَ مَعَهُ حَتَّی تُطْفِیََ بِعَدْلِهِ نِیرانَ الْکافِرِینَ فَ إنَّهُ
وہ تازہ و درست و صحیح ہو جائےکہ جس میں نہ کوئی کجی ہو اور نہ کوئی بدعت ہو یہاں تک کہ تو امامعليهالسلام کے
عَبْدُکَ الَّذِی اسْتَخْلَصْتَهُ لِنَفْسِکَ وَارْتَضَیْتَهُ لِنَصْرِ دِینِکَ
ہاتھوں کافروں کی بھڑکائی ہو ئیآگ بجھا دے کیونکہ وہتیرا ایسا بندہ ہے کہ جس کو تو نے اپنے لئے خاص اور مخصوص کیا ہے
وَاصْطَفَیْتَهُ بِعِلْمِکَ وَعَصَمْتَهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَبَرَّأْتَهُ
اسے اپنے دین کی نصرت کے لئےپسند کیا اور اپنے علوم دے کر برگزیدہ بنایا تو نے اس کو
مِنَ الْعُیُوبِ وَ أَطْلَعْتَهُ عَلَی الْغُیُوبِ وَأَنْعَمْتَ عَلَیْهِ وَطَهَّرْتَهُ مِنَ
گناہوں سے محفوظ کیانقائص سے پاک و صاف رکھا اور اپنے رازوں سے مطلع کیا تو نے اس پر انعام کیا پلیدی کو اس سے
الرِّجْسِ وَنَقَّیْتَهُ مِنَ الدَّنَسِ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَیْهِ وَعَلَی آبائِهِ آلاَءِمَّةِ
دور رکھا اور آلودگی سے پاک فرمایا پس اے معبود! اس پر اور اس کے بزرگان پاک ائمہعليهالسلام پر رحمت بھیج اس کے پاک
الطَّاهِرِینَ وَعَلَی شِیعَتِهِ الْمُنْتَجَبِینَ وَ بَلِّغْهُمْ مِنْ آمالِهِمْ مَا
دل شیعوں پر رحمت کر اوران کی وہ آرزوئیں پوری کر جو وہ رکھتے ہیں ہماری
یَأْمُلُونَ وَاجْعَلْ ذلِکَ مِنَّا خالِصاً مِنْ کُلِّ شَکٍّ وَ
اس دعا کو پاک و خالص رکھ ہر طرح کے شک وآمیزیش اور دکھاوے اور شہرت
شُبْهَةٍ وَرِیائٍ وَسُمْعَةٍ حَتَّی لاَ نُرِیدَ بِهِ غَیْرَکَ وَلاَ نَطْلُبَ بِهِ إلاَّ وَجْهَکَ
طلبی سے یہاں کہ ہم صرف تجھی کو مانیں اور اس میں تیرے سوا کسی کا تصور نہ کریں اے معبود! ہم تجھ سے فریاد کرتے
اَللّٰهُمَّ إنَّا نَشْکُو إلَیْکَ فَقْدَ نَبِیِّنا وَ غَیْبَةَ إمامِنا وَشِدَّةَ
ہیں کہ ہمارا پیغمبر ہو گزرا ہمارا امامعليهالسلام پوشیدہ ہے زمانہ ہم پر سختیاں کر رہا ہے فتنوں نے گھیر رکھا
الزَّمانِ عَلَیْنا وَ وُقُوعَ الْفِتَنِ بِنا وَ تَظاهُرَ الْاََعْدائِ
ہے اور دشمن ہم پر حاوی ہوئے جاتے ہیں جب کہ ہمارے دشمن زیادہ اور دوست کم
عَلَیْنا وَکَثْرَةَ عَدُوِّناوَقِلَّةَ عَدَدِنا اَللّٰهُمَّ فَافْرُجْ ذلِکَ
ہیں پس اے معبود! ہماری یہ مصیبتیں دور فرما اپنی طرف سے فتح کے ساتھ اس میں جلدی کر
عَنَّا بِفَتْحٍ مِنْکَ تُعَجِّلُهُ وَنَصْرٍ مِنْکَ تُعِزُّهُ وَ إمامِ عَدْلٍ تُظْهِرُهُ إلهَ
اپنی مدد سے اسے غلبہ دے اور امامعليهالسلام عادل کو ظاہر فرمااے سچے معبود ایسا ہی ہو اے معبود! ہم تجھ سے عرض کرتے
الْحَقِّ آمِینَ اَللّٰهُمَّ إنَّا نَسْأَلُکَ أَنْ تَأْذَنَ لِوَلِیِّکَ فِی إظْهارِ عَدْلِکَ فِی
ہیںکہ تو اپنے ولیعليهالسلام کو اجازت دے تاکہ وہ تیرے بندوں میں اصول ِعدل کو رائج کرے اور تیرے شہروں میں جو لوگ
عِبادِکَ وَقَتْلِ أَعْدائِکَ فِی بِلادِکَ حَتَّی لاَ تَدَعَ لِلْجَوْرِ یَا رَبِّ
تیرے دشمن ہیں ان کو قتل کرے تاکہ اے پروردگا رتوکسی ستم کرنے والے کو نہ چھوڑے مگر یہ کہ اس کی کمر
دِعامَةً إلاَّ قَصَمْتَها وَ لاَ بَقِیَّةً إلاَّ أَفْنَیْتَها وَلاَ قُوَّةً إلاَّ أَوْهَنْتَها وَلاَ رُکْناً إلاَّ هَدَمْتَهُ
توڑ دے نہ کوئی باقی رہے مگرتو اسے نابود کردے کوئی طاقتور نہ ہو مگر تو اسے پست کردے کوئی عمارت نہ ہو مگر تو اسے
وَلاَ حَدّاً إلاَّ فَلَلْتَهُ وَلاَ سِلاحاً إلاَّ أَکْلَلْتَهُ وَلاَ رایَةً إلاَّ
ویران کردے کوئی تلوار نہ ہومگر تو اسے ناکارہ بنادے کوئی ہتھیار نہ ہو مگر تو اسے بیکار
نَکَّسْتَها وَلاَ شُجاعاً إلاَّ قَتَلْتَهُ وَلاَ جَیْشاً إلاَّ خَذَلْتَهُ وَارْمِهِمْ یَا رَبِّ بِحَجَرِکَ
کردے کوئی جھنڈانہ ہو مگرتو اسے گرا دے کوئی بہادر نہ ہو مگر تو اسے قتل کردے کوئی لشکر نہ ہو ،مگر تو اسے تباہ کردے
الدَّامِغِ وَاضْرِبْهُمْ بِسَیْفِکَ الْقاطِعِ وَ بَأْسِکَ الَّذِی لاَ
اور اے پروردگار اپنی قدر ت سے ان پر بڑے بڑے پتھر برساان لوگوں کو اپنی کاٹ دھار تلوار
تَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِینَ وَعَذِّبْ أَعْدائَکَ وَأَعْدائَ
سے مار اور ان کی سخت گرفت کرکہ جس سے کوئی بدکار گروہ بچ نہیں سکتا پروردگار اپنے دشمنوں کو
وَلِیِّکَ وَأَعْدائَ رَسُولِکَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَ آلِهِ بِیَدِ وَلِیِّکَ وَ
اور اپنے ولی اور اپنےرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم (تیرا درود ہو ان پراور ان کی آل پر ) کے دشمنوں کو اپنے ولیعليهالسلام اور مومن
أَیْدِی عِبادِکَ الْمُؤْمِنِینَ اَللّٰهُمَّ اکْفِ وَلِیَّکَ وَ حُجَّتَکَ فِی
بندوںکے ہاتھوں سخت عذاب دے اے معبود! اپنے ولی حفاظت فرما اوراپنی حجتعليهالسلام کی حفاظت فرما
أَرْضِکَ هَوْلَ عَدُوِّهِ وَکَیْدَ مَنْ أَرادَهُ وَامْکُرْ بِمَنْ مَکَرَ بِهِ وَاجْعَلْ
روئے زمین پر دشمنوں کے خوف اور فریب کاروں کے فریب سے اور دھوکا دینے والوں کو دھوکے میں رکھ جو
دائِرَةَ السَّوْئِ عَلَی مَنْ أَرادَ بِهِ سُوئاً وَ اقْطَعْ عَنْهُ مادَّتَهُمْ وَأَرْعِبْ لَهُ قُلُوبَهُمْ
اس سے بدی کا ارادہ کرے اس کو بدیوں میں پھنسا دےامامعليهالسلام کے ذریعے انہیں اپنے مرکز سے جدا کردے اس کا رعب
وَ زَلْزِلْ أَقْدامَهُمْ وَخُذْهُمْ جَهْرَةً وَ بَغْتَةً وَشَدِّدْ عَلَیْهِمْ عَذابَکَ وَأَخْزِهِمْ
ان کے دلوںپر جمادے ان کے قدم اکھیڑ دے ان کو بیچ میدان اچانک پکڑ اور انکو سخت ترین عذاب دے ان کو
فِی عِبادِکَ وَ الْعَنْهُمْ فِی بِلادِکَ وَ أَسْکِنْهُمْ أَسْفَلَ نارِکَ وَأَحِطْ بِهِمْ
اپنے بندوں کے روبرو رسوا کر ان کے شہروں میں ان پر لعنت بھیج ان کو دوزخ کے نچلے طبقے میںڈال
أَشَدَّ عَذابِکَ وَأَصْلِهِمْ ناراً وَاحْشُ قُبُورَ مَوْتاهُمْ ناراً وَ أَصْلِهِمْ حَرَّ نارِکَ
ان پر سخت عذاب مسلط کر دے ان کو آگ میں پھینک دےان کے مردوں کی قبریں آگ سے بھر دے کہ آگ کے شعلے ان کو جلائیں کیونکہ انہوں
فَ إنَّهُمْ أَضاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَواتِ وَأَضَلُّوا عِبادَکَ وَأَخْرَبُوا
نے نماز کی پروا نہ کی خواہشوں کے پیچھے چلتے رہے تیرے بندوں کو بھٹکاتے پھرتےاور تیرے شہروں کو اجاڑتے
بِلادَکَ اَللّٰهُمَّ وَأَحْیِ بِوَلِیِّکَ الْقُرْآنَ وَأَرِنا نُورَهُ
رہے اور اے معبود اپنے ولیعليهالسلام کے ذریعے قرآن کو زندہ کرامامعليهالسلام کے دائمی نور کا دیدار کرا
سَرْمَداً لاَ لَیْلَ فِیهِ وَ أَحْیِ بِهِ الْقُلُوبَ الْمَیِّتَةَوَاشْفِ بِهِ الصُّدُورَ الْوَغِرَةَ وَ
کہ پھر وہ اوجھل نہ ہو اسکے ذریعے بے نور دلوں کو زندہ کر اس سے دلوں میں بھرے کینے کو دور فرما
اجْمَعْ بِهِ الْاََهْوائَ الْمُخْتَلِفَةَ عَلَی الْحَقِّ وَأَقِمْ بِهِ الْحُدُودَ الْمُعَطَّلَةَ وَ
امام کی برکت سے مختلف آرائ کو حق پر متفق کردےاس کے ہاتھوں ترک شدہ حدیں قائم فرمااور بھولے
الْاََحْکامَ الْمُهْمَلَةَ حَتَّی لاَ یَبْقی حَقٌّ إلاَّ ظَهَرَ وَلاَ عَدْلٌ إلاَّ زَهَرَ وَاجْعَلْنا یَا
ہوئے احکام نافذ کرادےیہاں تک کہ ہر حق ظاہر ہوجائے اور ہر عادلانہ حکم عیاں ہو کر رہے اور
رَبِّ مِنْ أَعْوانِهِ وَ مُقَوِّیَةِ سُلْطانِهِ وَ الْمُؤْتَمِرِینَ لاََِمْرِهِ وَ الرَّاضِینَ بِفِعْلِهِ وَ
اے پروردگار ہمیں اس کے ساتھیوں اس کی حکومت کو محکم کرنے والوں اس کے حکم پر عمل کرنے والوں
الْمُسَلِّمِینَ لاََِحْکامِهِ وَمِمَّنْ لاَ حاجَةَ بِهِ إلَی التَّقِیَّةِ مِنْ خَلْقِکَ وَأَنْتَ یَا رَبِّ الَّذِی
اس کے فعل پر راضی ہونے والوں اس کے احکام کو تسلیم کرنے والوں میں قرار دے اور ان لوگوں میں قرار دے جن
تَکْشِفُ الضُّرَّ وَ تُجِیبُ الْمُضْطَرَّ إذا دَعاکَ وَتُنْجِی مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیمِ فَاکْشِفْ الضُّرَّ عَنْ
کو مخلوق کے سامنے تقیہ کی حاجت نہیں اور اے پروردگار وہ تو ہی ہے جو سختی دور کرتا ہے اور بے چارے کی دعا قبول کرتا
وَلِیِّکَ وَاجْعَلْهُ خَلِیفَةً فِی أَرْضِکَ کَما ضَمِنْتَ لَهُ اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِی
ہے جب وہ تجھے پکارے اور اسے بہت بڑی مصیبت سےنجات دیتا ہے پس اپنےولی سے سختی دور فرما اور
مِنْ خُصَمائِ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ وَلاَ تَجْعَلْنِی مِنْ أَعْدائِ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ
اس کو زمین میں اپنا خلیفہ قرار دے جیسے تو نے اس کا ذمہ لیا ہے اے معبود! مجھے آل محمد کے مخالفوں میں سے قرار نہ د ے مجھے آل
اَلسَّلَامُ وَلاَ تَجَعَلْنِی مِنْ أَهْلِ الْحَنَقِ وَ الْغَیْظِ عَلَی آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ فَ إنِّی أَعُوذُ
محمد علیہم السلام کے دشمنوں میں سے قرار نہ دے اور مجھے آل محمد علیہم السلام کے ساتھ کینہ رکھنے اور ان پر غصہ کرنے والوں
بِکَ مِنْ ذلِکَ فَأَعِذْنِی وَأَسْتَجِیرُ بِکَ فَأَجِرْنِی اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنِی بِهِمْ فائِزاً
میں سے قرار نہ دے پس میں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیج اور ان کےواسطے سے مجھے اپنے ہاں کامیاب بنا دے دنیا اور
عِنْدَکَ فِی الدُّنْیاوَالْاَخِرَةِوَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ
آخرت میں اور اپنے نزدیکیوں میں رکھ ایسا ہی ہو اے جہانوں کے پروردگار
(آٹھواں مطلب)
( ۸ ) آداب زیارت نیابت
اس عنوان کے تحت کسی کی نیابت میں زیارت کرنے کے آداب بیان ہوئے ہیں واضح ہو کہ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آئمہعليهالسلام کی زیارت کا ثواب خود ان کیلئے بھی ہدیہ کیا جاسکتا ہے اور دیگر مرحوم مومنین کی روحوں کو بھی ہدیہ ہوسکتا ہے اور مومنوں کی نیابت میں بھی ائمہعليهالسلام کی زیارت کی جاسکتی ہے جیسا کہ معتبر سند کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ داؤد صرمی نے امام علی نقی - کی خدمت میں گزارش کی کہ میں نے آپ کے والد گرامی کی زیارت کی اور اس کا ثواب آپ کیلئے ہدیہ کردیا ہے اس پر آپ نے فرمایا کہ تم کو ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ سے اجر عظیم دیا جائے گا اور ہماری طرف سے شکریہ بھی ہے ایک اور حدیث میں مذکور ہے کہ امام علی نقی - نے ایک شخص کو امام حسین- کی زیارت کرنے کیلئے کربلا معلی بھیجا تاکہ وہ
وہاں ان کیلئے زیارت اور دعا کرے نیز امام موسیٰ کاظم - سے نقل ہوا ہے کہ جب کوئی زائر حضرت رسول ا ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کے روضۂ مبارک کی زیارت کرنے جائے تو زیارت سے فارغ ہونے کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور پھر آنحضرت کے سرہانے کی طرف کھڑا ہو کر یہ کہے :
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ ﷲ مِنْ أَبِی وَ أُمِّی وَزَوْجَتِی وَ وَلَدِی وَحامَّتِی وَ
آپ پر سلام ہو اے نبی خدا میرے ماں باپ، میری زوجہ ،میری اولاد، میرے دوستوں اور میرے شہر کے
مِنْ جَمِیعِ أَهْلِ بَلَدِی حُرِّهِمْ وَ عَبْدِهِمْ وَأَبْیَضِهِمْ وَ أَسْوَدِهِمْ
لوگوں کی طرف سے ان میں سے آزاد اور غلام اورہر گورے اور کالے کاسلام ہو
پھر جب وہ اپنے شہر واپس آئے تو شہر والوں سے کہے کہ میں تمہاری طرف سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت کر آیا ہوں تب وہ اپنے اس قول میں سچا ہوگا بعض روایتوں میں ہے کہ ائمہعليهالسلام عليهالسلام میں سے کسی بزگوار سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو دو رکعت نماز بجالاتا ہے یا ایک دن کا روزہ رکھتا ہے یا حج وعمرہ ادا کرتا ہے یا حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت کرے یا ائمہعليهالسلام میں سے کسی ایک کی زیارت بجا لائے اور اپنے اس عمل کا ثواب اپنے ماں باپ یا کسی مومن بھائی کیلئے ہدیہ کرے تو کیا خود اس
کیلئے بھی ثواب ہوگا یا نہیں؟ اس پر امامعليهالسلام نے فرمایا کہ اس عمل کا ثواب جسے ہدیہ کیا گیا ہے اسے تو پہنچے گا لیکن اس عمل کرنے والے کیلئے بھی اس کا پورا پورا ثواب لکھا جائے گا ۔
تہذیب میں شیخ طوسیرحمهالله کا ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص اجرت لے کر کسی مومن کی طرف سے زیارت کرنے جائے تو جب غسل زیارت کرچکے اور بعض روایات کے مطابق جب وہ زیارت سے فارغ ہو تو یوں کہے :
اَللّٰهُمَّ مَا أَصابَنِی مِنْ تَعَبٍ أَوْ نَصَبٍ أَوْ شَعَثٍ أَوْ لُغُوبٍ فَأْجُرْ فُلانَ ابْنَ
اے معبود! اس سفر میں جو تکلیف یا سختی مجھے پہنچی جو گرد و غبار پڑا یا تھکن ہوئی ہے اس کااجر فلاںبن فلاں کو دے
فُلانٍ فِیهِ وَأْجُرْنِی فِی قَضائِی عَنْهُ
اور مجھے بھی اس کی طرف سے یہ عمل بجالانے کا ثواب عطا فرما
جب زیارت کر چکے تو آخر میں یہ کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ عَنْ فُلانِ ابْنِ فُلانٍ أَتَیْتُکَ زائِراً عَنْهُ فَاشْفَعْ لَهُ عِنْدَ رَبِّکَ
آپ پر سلام ہو اے میرےآقا فلاں بن فلاں کی طرفسے میں نے اس کی طرف سے آپ کی زیارت کی پس اپنے رب کے ہاں اس کی شفاعت کریں
اب اس شخص کیلئے جو دعا چاہے مانگے کہ جس کی نیابت میں زیارت کی ہے ،نیز یہ بھی فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کی نیابت میں زیارت کررہا ہو تو یوں کہے :
اَللّٰهُمَّ إنَّ فُلانَ ابْنَ فُلانٍ أَوْفَدَنِی إلی مَوالِیهِ وَمَوالِیَّ لاََِزُورَ عَنْهُ رَجائً
اے معبود بے شک فلاں بن فلاں نے مجھے بھیجا ہے اپنے آقاؤں اور میرےآقاؤں کی طرف کہ اس کی طرف
لِجَزِیلِ الثَّوابِ وَفِراراً مِنْ سُوئِ الْحِسابِ اَللّٰهُمَّ إنَّهُ یَتَوَجَّهُ إلَیْکَ
سے زیارت کروں بہت بڑے ثواب کی امید میں اور سخت ترین حساب سے بچنے کے لئے اے معبود وہ متوجہ ہوا ہے
بِأَوْلِیائِهِ الدَّالِّینَ عَلَیْکَ فِی غُفْرانِکَ ذُنُوبَهُ وَ حَطِّ سَیِّئاتِهِ وَ یَتَوَسَّلُ إلَیْکَ بِهِمْ
تیری طرف اپنے سرداروں کے واسطے جو تیری جانب رہنمائی کرتے ہیں تاکہ تواس کے گناہ بخش دے اور اس کی برائیاں مٹا دے
عِنْدَ مَشْهَدِ إمامِهِ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ اَللّٰهُمَّ فَتَقَبَّلْ مِنْهُ وَاقْبَلْ شَفاعَةَ
اس نے ان کو تیرے ہاں وسیلہ بنایا ہے اپنے اس امامعليهالسلام کے روضہ کے قرب میں ان سب پر خدا کی رحمتیں ہوں
أَوْلِیائِهِ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ فِیهِ اَللّٰهُمَّ جازِهِ عَلَی حُسْنِ نِیَّتِهِ وَصَحِیحِ
اے معبود اس کی طرف سے زیارت قبول فرما اور اسکے حق میں اس کے سرداروں کی شفاعت منظور کر لے ان
عَقِیدَتِهِ وَصِحَّةِ مُوالاتِهِ أَحْسَنَ مَا جازَیْتَ أَحَداً مِنْ
پر خدا کی رحمتیں ہوں اے معبود اس کو جزا دے اس کے حسن نیت پر اور صحیح عقیدہ رکھنے اور
عَبِیدِکَ الْمُؤْمِنِینَ وَ أَدِمْ لَهُ مَا خَوَّلْتَهُ وَاسْتَعْمِلْهُ صالِحاً
درست محبت پر بہترین جزا جو تو نےاپنے صاحب ایمان بندوں میں سے کسی کو دی ہو جو کچھ
فِیما آتَیْتَهُ وَلاَ تَجْعَلْنِی آخِرَ وافِدٍ لَهُ یُوفِدُهُ اَللّٰهُمَّ أَعْتِقْ رَقَبَتَهُ مِنَ النَّارِ
تو نے اسے دیا وہ ہمیشہ رہے اور جو توفیق اسے ملی ہے اس سے نیک اعمال بجا لائے اورمجھے وہ آخری فرد نہ بنا جو
وَ أَوْسِعْ عَلَیْهِ مِنْ رِزْقِکَ الْحَلالِ الطَّیِّبِ وَاجْعَلْهُ مِنْ
اس کی طرف سے زیارت کوآیا اے معبود اسے دوزخ سے آزادی عطا فرما اس کیلئے اپنا حلال و پاک رزق
رُفَقائِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبارِکْ لَهُ فِی وُلْدِهِ وَمالِهِ وَ
اور کشادہ کر دے اسے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے محبوں میں قرار دے نیز اس کی اولاد اس کے مال اس کے خاندان
أَهْلِهِ وَما مَلَکَتْ یَمِینُهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اور ان افراد میں برکت دےجو اس کے زیردست ہیں اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پررحمت نازل کر
مُحَمَّدٍ وَحُلْ بَیْنَهُ وَ بَیْنَ مَعاصِیکَ حَتَّی لاَ یَعْصِیَکَ وَ أَعِنْهُ عَلَی طاعَتِکَ
اور اس نے تیرے جو گناہ کیے ہیں ان کو ڈھانپ لے تاکہ پھر وہ تیری نافرمانی نہ کرے نیز اس کی مدد فرما کہ وہ تیری
وَ طاعَةِ أَوْلِیائِکَ حَتَّی لاَ تَفْقِدَهُ حَیْثُ أَمَرْتَهُ وَلاَ
فرمانبرداری اور تیرے دوستوں کی پیروی کرے یہاں تک کہ تو اسے فرماں پذیری میں ناکام اور
تَراهُ حَیْثُ نَهَیْتَهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
باز رہنے کے مقام پر موجودنہ پائے اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور اس شخص
وَ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَ اعْفُ عَنْهُ وَعَنْ جَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِناتِ اَللّٰهُمَّ
کو بخش دے اس پر رحم کراسے معاف کردے اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو بھی معاف کردے اے معبود
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَأَعِذْهُ مِنْ هَوْلِ الْمُطَّلَعِ وَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کراور پناہ دے مجھے نائب بنانے والے کو موت کی سختیوں
مِنْ فَزَعِ یَوْمِ الْقِیامَةِ وَسُوئِ الْمُنْقَلَبِ وَ مِنْ ظُلْمَةِ الْقَبْرِ وَ وَحْشَتِهِ وَمِنْ
روز قیامت کی پریشانیوں اور برے انجام سے نیز پناہ دےاسے قبر کی تاریکی اور تنہائی سےاور پناہ دے اس کو دنیا اور
مَواقِفِ الْخِزْیِ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی
آخرت کی خواری اور رسوائی سے اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور قرار دے
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَ اجْعَلْ جایِزَتَهُ فِی مَوْقِفِی هذَا
اس شخص کیلئے جزا اس پاک مقام پر اپنی طرف سے بخشش اور اس مقدس جگہ پر میرے
غُفْرانَکَ وَتُحْفَتَهُ فِی مَقامِی هذَا عِنْدَ إمامِی صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ أَنْ تُقِیلَ عَثْرَتَهُ
اس امامعليهالسلام کے قرب میں ان پر خدا کی رحمت ہو اسے تحفہ دےکہ تو اس کی خطائیں معاف فرمائے اس کا عذر قبول کرے
وَ تَقْبَلَ مَعْذِرَتَهُ وَ تَتَجاوَزَ عَنْ خَطِیئَتِهِ وَ تَجْعَلَ التَّقْوَی زادَهُ وَمَا عِنْدَکَ
اور اس کی غلطیوں سے در گذر کرے نیز یہ کہ تو پرہیز گاری اور اپنی طرف سے بھلائی کو قیامت میں اس کا سامان
خَیْراً لَهُ فِی مَعادِهِ وَ تَحْشُرَهُ فِی زُمْرَةِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
بنائے اور اس کو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدعليهالسلام کے گروہ میں اٹھائے ان پراور ان کی آل پر خدا رحمت
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَ تَغْفِرَ لَهُ وَلِوالِدَیْهِ فَ إنَّکَ خَیْرُ
کرئے مزید یہ کہ تو اسے اوراس کے والدین کو بخش دے کیونکہ تو وہ بہتر ذات ہے لوگ
مَرْغُوبٍ إلَیْهِ وَأَکْرَمُ مَسْؤُولٍ اعْتَمَدَ الْعِبادُ عَلَیْهِ اَللّٰهُمَّ
جس کی طرف آتے ہیں توسب سے زیادہ مہربان ہے بندے جس سے سوال کرتے اور جس پر
وَ لِکُلِّ مُوفِدٍ جائِزَةٌ وَ لِکُلِّ زائِرٍ کَرامَةٌ فَاجْعَلْ جائِزَتَهُ فِی
بھروسہ رکھتے ہیں اور اے معبود ہر نیابت کرنے والے کیلئے اجر اورہر زائر کیلئے انعام ہے پس اس کیلئے
مَوْقِفِی هذَا غُفْرانَکَ وَالْجَنَّةَ لَهُ وَلِجَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِناتِ اَللّٰهُمَّ
اسی پاک جگہ پر اپنی طرف سے گناہوں کی بخشش اور جنت لازم قرار دے اور تمام مومنین ومومنات کوبھی اس میں شامل فرما اور اے
وَأَنَا عَبْدُکَ الْخاطئُ الْمُذْنِبُ الْمُقِرُّ بِذُنُوبِهِ فأَسْأَلُکَ یَا ﷲ
معبود میں ہوں تیرا وہ خطا کار بندہ جو اپنے گناہگار ہونے کااقرار کرتا ہے پس سوال کرتاہوں تجھ سے اے خدا
بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَنْ لاَ تَحْرِمَنِی بَعْدَ ذلِکَ الْاََجْرَ وَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے واسطے سے یہ کہ مجھے اس زیارت کے بعد ملنے والے اجر وثواب سے محروم نہ
الثَّوابَ مِنْ فَضْلِ عَطائِکَ وَکَرَمِ تَفَضُّلِکَ
رکھنا اپنی عطا میں اضافے اور اپنی عنایت میں زیادتی کے ساتھ
پھر ضریح مبارک کے نزدیک جائے اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرے اور قبلہ رخ ہو کر کہے :
یَا مَوْلایَ یَا إمامِی عَبْدُکَ فُلانُ ابْنُ فُلانٍ أَوْفَدَنِی زائِراً
اے میرے مولاعليهالسلام اے میرے امامعليهالسلام آپ کے غلام فلاں بن فلاں نے مجھے بھیجا ہے آپ کے حرم
لِمَشْهَدِکَ یَتَقَرَّبُ إلَی ﷲ عَزَّوَجَلَّ بِذَلِکَ وَ إلَی رَسُولِهِ وَ إلَیْکَ
کی زیارت کرنے کیلئے وہ اس زیارت کے ذریعے بزرگ وبرتر ﷲ کا اور اسکے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قرب چاہتا ہے
یَرْجُو بِذلِکَ فَکاکَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ مِنَ الْعُقُوبَةِ فَاغْفِرْ لَهُ وَلِجَمِیعِ
اور اس کی بدولت امید وار ہےکہ تو اسے جہنم کے عذاب سے آزادی وخلاصی عطا کرے گاپس اسے بخش دے اور
الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِناتِ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ یَاﷲ لاَ
تمام مومن مردوں اورمومنہ عورتوں کو بخش دے اے ا ﷲ، اے ا ﷲ، اے ا ﷲ ،اے ا ﷲ، اے ا ﷲ، اے ا ﷲ ،اے ا ﷲ
إلهَ إلاَّ ﷲ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ أَسْأَلُکَ أَنْ تُصِلِّیَ
ﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں کہ جو نرمی کرنے والااورعطا فرمانے والا ہے ﷲ کے سوائ کوئی معبود نہیں کہ جو بلند تر
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَسْتَجِیبَ لِی فِیهِ وَفِی جَمِیعِ إخْوانِی وَأَخَوَاتِی
اوربزرگ تر ہے سوال کرتا ہوں کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیجے اور اس شخص کے حق میں میری دعا قبول فرمائے نیز میرے تمام بھائیوں ،
وَوَلَدِی وَأَهْلِی بِجُودِکَ وَ کَرَمِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
بہنوں، میری اولاد اور میرے خاندان کے حق میں دعا قبول کر اپنی بخشش اور مہربانی سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
بسمہ تعالیٰ
قارئین محترم سے گذارش ہے کہ مؤلف کتاب حضرت خاتم المحدثین مرحوم شیخ عباس قمیرحمهالله نے اپنی طرف سے مفاتیح الجنان کے اختتام پر بعض ادعیہ وزیارات کا اضافہ کیا ہے ملحقات کے نام سے ہم نے اسے باقیات صالحات کے اختتام پر صفحہ ۹۱۱ سے ۱۰۶۳ تک ذکر کیا ہے ۔
ملحقا ت دوم مفاتیح الجنان
واضح رہے کہ یہ نسخہ، کتابت، طباعت اور صحت کے اعتبار سے تمام مطبوعات سے زیادہ ممتاز ہے ۔
مؤلف محترم نے مفا تیح الجنا ن میں چند ایک دعائو ں کاذکر فر ما تے ہو ئے ان میں سے ہر ایک کا ابتد ائی جملہ تحریر کر دیا ہے لیکن ان دعا ئو ں کا مکمل متن نقل نہیں کیا لہذا ہم اول سے آخر تک یہاں درج کر رہے ہیں تاکہ قا رئین و زائر ین کو کسی دوسر ی کتا ب کی طرف رجو ع کر نے کی حا جت نہ رہے علاوہ ازیں زیا را ت مؤ لف نے امام زاد گان کیلئے کوئی مخصو ص زیارات بھی نقل نہیں کی چنا نچہ ہم ان کیلئے ایک زیا رت تحریر کر رہے ہیں اور یہ چیزیں ملحقات دوم کے عنو ان سے شامل کی جا رہی ہیںامید ہے کہ اہل نظر کیلئے پسندیدہ ہوںگی اور اس کی قدر کو پہچانتے ہوئے مؤلف، (مترجم) کاتب اور طابع کا شکریہ ادا کریں گے۔
( ۱ )نما ز امام حسین- کے بعد کی دعا
اعما ل روز جمعہ میں چہا ردہ معصو مین کی نمازو ں کے تذکر ہ میں امام حسین- کی نماز کے بعداس دعا کے پڑ ھنے کا ذکر ہو اہے لیکن اُس مقام پر یہ دعا پو ری نقل نہیں کی گئی پس وہ دعا یوں ہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
خدا کے نام سے شروع جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الَّذِی اسْتَجَبْتَ لِآدَمَ وَحَوَّائَ إذْ قالاَ رَبَّنا ظَلَمْناأَنْفُسَنا
اے معبو د تو وہی ذات ہے جس نے آدمعليهالسلام و حو ا(س) کی دعا قبو ل کی جب دونو ں نے کہااے پر ورد گا ر ہم نے خود پر ستم کیا ہے
وَ إنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنا وَتَرْحَمْنا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخاسِرِینَ وَناداکَ نُوحٌ
اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فر مائے تو ضرور ہم گھا ٹا پا نیوالوں میں سے ہو جا ئیں گے اور نوحعليهالسلام نے تجھے پکارا
فَاسْتَجَبْتَ لَهُ وَنَجَّیْتَهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیمِ وَأَطْفَأْتَ نارَ نُمْرُودَ
پس تونے ان کی دعا قبو ل کی اور ان کو اور ان کے ہمراہیو ں کو بڑی مصیبت سے نجات دی تو ہی نے اپنے سچے دوست
عَنْ خَلِیلِکَ إبْراهِیمَ فَجَعَلْتَها بَرْداً وَسَلاماً وَأَنْتَ الَّذِی اسْتَجَبْتَ
ابراہیمعليهالسلام کیلئے نمرود کی جلائی ہوئی آگ بجھائی پھر اسے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنایا تو ہے جس نے ایو بعليهالسلام کی دعا
لاََِیُّوبَ إذْ نادَی إنِّی مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ فَکَشَفْتَ
قبو ل کی جب وہ پکا را کہ مجھے سختی نے گھیر لیا ہے اور تو ہے سب سے زیا دہ رحم کر نے والا تب تو نے سختی کو
مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ وَآتَیْتَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِکَ وَذِکْریٰ
ان سے دور کر دیا اور ان کی اولاد ان کو پلٹا دی اور اپنی مہر بانی سے اتنی ہی اور اولاد بھی عطا کر دی تاکہ صاحبان عقل کے لیے
لاَُِولِی الْاََلْبابِ وَأَنْتَ الَّذِی اسْتَجَبْتَ لِذِی النُّونِ حِینَ ناداکَ فِی
ایک مثال رہے تو وہی ہے جس نے مچھلی والے یو نسعليهالسلام کی دعا قبو ل فر مائی جب انہو ں نے تجھے
الظُّلُماتِ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَنَجَّیْتَهُ
تا ریکیو ں میں پکارا کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں تو پاک و پا کیز ہ ہے بے شک میںہی قصو ر وار ہوں پس تو نے ان کو
مِنَ الْغَمِّ وَأَنْتَ الَّذِی اسْتَجَبْتَ لِمُوسی وَهارُونَ دَعْوَتَهُما حِینَ
پریشانی سے بچا لیا تو ہی وہ جس نے موسیٰعليهالسلام اور ہارونعليهالسلام کی دعا قبول کی انہوں نے تجھے پکارا اس پر تو نے
قُلْتَ قَدْ أُجِیبَتْ دَعْوَتُکُما فَاسْتَقِیما وَأَغْرَقْتَ فِرعَوْنَ وَقَوْمَهُ
فرمایا کہ ضرور میںنے تمہاری دعا قبول کی کہ تم قائم رہے ہو اور تو نے فرعو ن اور اس کی قوم
وَغَفَرْتَ لِداوُدَ ذَنْبَهُ وَتُبْتَ عَلَیْهِ رَحْمَةً مِنْکَ وَذِکْرَیٰ وَفَدَیْتَ
کو ڈبو دیا تو نے داؤدعليهالسلام کا ترک اولیٰ معاف فر مایااور ان کی مغفرت قبو ل کرتے ہو ئے ان پر رحمت کی اور نصیحت دی تو نے اسماعیلعليهالسلام
إسْماعِیلَ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ وَتَلَّهُ لِلْجَبِینِ فَنادَیْتَهُ بِالْفَرَجِ
کے بدلے بڑ ی قر بانی قرا ر دی جب کہ انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور منہ کے بل لیٹ گئے پس تو نے انہیں گشادگی
وَالرَّوْحِ وَأَنْتَ الَّذِی ناداکَ زَکَرِیَّا نِدائً خَفِیّاً فَقالَ رَبِّ إنِّی وَهَنَ
اور راحت کی نو ید دی تو ہی ہے جس کوذکر یا نے چپکے چپکے پکا را تو یہ کہا کہ اے میر ے پر ورد گا ر میری ہڈیا ں کمزور پڑ گئیں
الْعَظْمُ مِنِّی وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَیْباً وَلَمْ أَکُنْ بِدُعائِکَ رَبِّ شَقِیَّاً
اور بڑھاپے سے سر کے بال سفید ہوگئے ہیں لیکن اے پر ورد گا ر تجھے پا کر کبھی میں بے نصیب نہیں رہا
وَقُلْتَ یَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً وَکانُوا لَنا خاشِعِینَ وَأَنْتَ الَّذِی
اور تو نے فرمایا ہے وہ ہمیں پکارتے ہیں شوق و خوف سے اور وہ ہم سے ڈر تے رہتے ہیں اور تو ہی ہے
اسْتَجَبْتَ لِلَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ لِتَزِیدَهُمْ مِنْ فَضْلِکَ فَلاَ
کہ ان کی دعا ئیں قبو ل کرتا ہے جو ایمان لا ئے اور انہوں نے اچھے اچھے کام کیے تاکہ ان پر اور بھی فضل و کر م فر ما ئے پس مجھے
تَجْعَلْنِی مِنْ أَهْوَنِ الدَّاعِینَ لَکَ وَالرَّاغِبِینَ إلَیْکَ وَاسْتَجِبْ لِی کَمَا
ان لو گو ں میں نہ رکھ جو خو ار ہوئے ہیں تیرے حضو ر دعا کرنے اور تیری طر ف بڑ ھنے و الو ںمیں سے اور میری دعا قبو ل کر
اسْتَجَبْتَ لَهُمْ بِحَقِّهِمْ عَلَیْکَ فَطَهِّرْنِی بِتَطْهِیرِکَ وَتَقَبَّلْ صَلاتِی
تو نے ان کی دعا قبو ل کی ان کے حق کے واسطے سے جو تجھ پر ہے پس مجھے پاک کر اپنی پا کیزگی کے واسطے سے اور میری
وَدُعائِی بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَطَیِّبْ بَقِیَّةَ حَیاتِی وَطَیِّبْ وَفاتِی وَاخْلُفْنِی
نماز اورمیری دعا قبول فرما بہترین قبولیت سے میری بقایا زندگی کو بہتر بنا دے اور مجھے اچھی موت دے میرے بعد
فِیمَنْ أَخْلُفُ وَاحْفَظْنِی یَارَبِّ بِدُعائِی وَاجْعَلْ ذُرِّیَّتِی ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً
میرے عیال کا نگران بن جا اے میرے پروردگار مجھے دعا پر قائم رکھ میری اولاد کو پاکیزہ قرار دے
تَحُوطُها بِحِیاطَتِکَ بِکُلِّ مَا حُطْتَ بِهِ ذُرِّیَّةَ أَحَدٍ مِنْ أَوْلِیائِکَ وَأَهْلِ
اسے اپنے اسی احاطے میں رکھ کر کہ جس میں تو نے اپنے دوستو ں اور اپنے فرمانبرداروں میں سے کسی کی اولاد کو
طاعَتِکَ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ یَا مَنْ هُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ
رکھا ہے اپنی رحمت کے ساتھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے وہ جو ہر چیز کا نگہبان و نگہدار ہے اپنی مخلوق
رَقِیبٌ وَلِکُلِّ داعٍ مِنْ خَلْقِکَ مُجِیبٌ وَمِنْ کُلِّ سائِلٍ قَرِیبٌ أَسْأَلُکَ
میں سے ہر ایک کی دعا قبول کرتا ہے اور ہر ایک سوالی کے قریب و نزدیک ہے تجھ سے سوال کرتا ہے
یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الْاََحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ
اے کہ تیرے سوائ کوئی معبود نہیں ہے تو زندہ و پابندہ یکتا و بے نیاز کہ جسے کسی نے نہیں جنا نہ اس نے کسی کو جنا
وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ وَبِکُلِّ اسْمٍ رَفَعْتَ بِهِ سَمائَکَ وَفَرَشْتَ بِهِ
اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے واسطہ ہر اس نام کا جس سے تو نے آسمان کو بلند کیا جس سے اپنی زمین کا فرش بچھایا
أَرْضَکَ وَأَرْسَیْتَ بِهِ الْجِبالَ وَأَجْرَیْتَ بِهِ الْمائَ وَسَخَّرْتَ بِهِ السَّحابَ
جس سے پہاڑوں کو ٹھہرایا جس سے پانی کو رواں کیا جس سے بادلوں کو بند کیا
وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ وَاللَّیْلَ وَالنَّهارَ وَخَلَقْتَ الْخَلائِقَ کُلَّها
اور جس سے سورج چاند ستاروں اور رات دن کو مطیع بنایا اور جس سے ساری مخلوقات کو پیدا کیا
أَسْأَلُکَ بِعَظَمَةِوَجْهِکَ الْعَظِیمِ الَّذِی أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمٰوَاتُ
تجھ سے سوال ہے بواسطہ تیری ذات کی بزرگی کے جس سے آسمانوں اور زمین میں روشنی
وَالْاََرْضُ فَأَضائَتْ بِهِ الظُّلُماتُ إلاَّ صَلَّیْتَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
ہوئی پھر اس سے تاریکیاں چمک اٹھیں سوال یہ ہے کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرمائے
وَکَفَیْتَنِی أَمْرَ مَعاشِی وَمَعادِی وَأَصْلَحْتَ لِی شَأْنِی کُلَّهُ وَلَمْ تَکِلْنِی
اور دنیا و آخرت میں میری کفایت کر اور میرے حالات میں بہتری فرما ئے نیز مجھے ایک پل کے لیے
إلی نَفْسِی طَرْفَةَ عَیْنٍ وَأَصْلَحْتَ أَمْرِی وَأَمْرَ عِیالِی وَکَفَیْتَنِی
بھی میری خواہش کے سپرد نہ کر میرے اور میرے کنبے کے معاملات بہتر بنا دے مجھے ان کے
هَمَّهُمْ وَأَغْنَیْتَنِی وَ إیَّاهُمْ مِنْ کَنْزِکَ وَخَزائِنِکَ وَسَعَةِ فَضْلِکَ الَّذِی لاَ
غم سے بچا اور مجھ کو اور ان کو اپنے ذخیروں اور خزانوں سے ما لدار بنا اور ہم پر فضل کر کہ جو کبھی ختم نہ ہوگا میرے
یَنْفَدُ أَبَداً وَأَثْبِتْ فِی قَلْبِی یَنابِیعَ الْحِکْمَةِ الَّتِی تَنْفَعُنِی بِها وَتَنْفَعُ
دل میں دانش کے چشمے جاری کر کہ جن سے تو مجھے فائدہ پہنچائے اور اسے بھی
بِها مَنِ ارْتَضَیْتَ مِنْ عِبادِکَ وَاجْعَلْ لِی مِنَ الْمُتَّقِینَ فِی آخِرِ الزَّمانِ
فائدہ پہنچائے جسے تو اپنے بندوں میں سے پسند کرتا ہے میرے لیے آخری زمانے میں پرہیزگاروں میں سے ایک امامعليهالسلام
إماماً کَما جَعَلْتَ إبْراهِیمَ الْخَلِیلَ إماماً فَ إنَّ بِتَوْفِیقِکَ یَفُوزُ الْفائِزُونَ
قرار دے جیسا کہ تو نے ابراہیم خلیلعليهالسلام کوا مامعليهالسلام بنایاتھا اس لئے کہ تیری توفیق کے ذریعے کامیاب ہونے والے
وَیَتُوبُ التَّائِبُونَ وَیَعْبُدُکَ الْعابِدُونَ وَبِتَسْدِیدِکَ یَصْلُحُ الصَّالِحُونَ
کامیاب ہوتے ہیں اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول ہوتی ہے عبادت کرنے والے عبادت کرتے ہیں نیز تیری دی ہوئی ہمت سے
الْمُحْسِنُونَ الْمُخْبِتُونَ الْعابِدُونَ لَکَ الْخائِفُونَ مِنْکَ وَبِ إرْشادِکَ نَجَیٰ
نیکی کرتے ہیں نیکوکار خوشکردار تیرے عبادت گزار جو تجھ سے خوف رکھتے ہیں اور تیری ہدایت کے ذریعے
النَّاجُونَ مِنْ نارِکَ وَأَشْفَقَ مِنْهَا الْمُشْفِقُونَ مِنْ خَلْقِکَ وَبِخِذْلانِکَ
نجات پاتے ہیں تیری آگ سے نجات پانے والے ہیں اور اس آگ سے گبھراتے ہیں تیری مخلوق میںسے گبھرانے والے
خَسِرَ الْمُبْطِلُونَ وَهَلَکَ الظَّالِمُونَ وَغَفَلَ الْغافِلُونَ اَللّٰهُمَّ آتِ نَفْسِی
اور تجھے چھو ڑ دینے سے گھا ٹا پا تے ہیں بد عمل تبا ہ ہو جا تے ہیں ستمگار اور بے خبر ہو جاتے ہیں بے خبر لو گ اے معبو د میر ے نفس کو
تَقْوَاها فَأَنْتَ وَلِیُّها وَمَوْلاها وَأَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاهَا اَللّٰهُمَّ بَیِّنْ لَهَا
پرہیزگار بنا کہ تو ہی اس کا نگہبان اور مالک ہے اور تو ہی اسے بہترین پاک کرنے والا ہے اے معبود ہدایت اس پر
هُدَاهَا وَأَلْهِمْهَا تَقْوَاهَا وَبَشِّرْهَا بِرَحْمَتِکَ حِینَ تَتَوَفَّاهَا وَنَزِّلْهَا مِنَ
عیاں فرما اسے تقویٰ سے با خبر کر اور اپنی رحمت سے اس کی موت کے وقت اسے بشارت دے اور جنت میں اسے
الْجِنَانِ عُلْیَاهَا وَطَیِّبْ وَفَاتَهَا وَمَحْیَاهَا وَأَکْرِمْ مُنْقَلَبَهَا وَمَثْوَاهَا
بلند مقام پر جگہ دے نیز اس کی موت اور زندگی کو پاکیزہ بنا اس کی بازگشت سکونت قرار گاہ
وَمُسْتَقَرَّهَا وَمَأْوَاهَا فَأَنْتَ وَلِیُّهَا وَمَوْلاَهَا
اور اسکے ٹھکانے کو بابرکت بنا کہ تو ہی اس کا نگہبان اور مالک ہے
( ۲ ) نماز زیار ت امام محمد تقی - کے بعد کی دعا
یہ دعا امام محمد تقی - کی نما ز زیا رت کے بعد پڑ ھنی چا ہئیے او ر وہ یہ ہے
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الرَّبُّ وَأَنَا الْمَرْبُوبُ وَأَنْتَ الْخالِقُ وَأَنَا الْمَخْلُوقُ وَأَنْتَ
اے معبود تو پروردگار ہے اور میں پروردہ ہوں تو پیدا کرنے والا ہے اور میں پیدا شدہ ہوں تو
الْمالِکُ وَأَنَا الْمَمْلُوکُ وَأَنْتَ الْمُعْطِی وَأَنَا السَّائِلُ وَأَنْتَ الرَّازِقُ
مالک ہے اور میں تیر ی ملکیت ہوں تو عطا کرنے والاہے اور میں مانگنے والا ہوں تو رزق دینے والا ہے
وَأَنَا الْمَرْزُوقُ وَأَنْتَ الْقادِرُ وَأَنَا الْعاجِزُوَأَنْتَ الْقَوِیُّ وَأَنَا
اور میں لینے والا ہوں تو قدرت والا ہے اور میں ناتواں ہوں اور تو طاقت والا ہے اور میں
الضَّعِیفُ وَأَنْتَ الْمُغِیثُ وَأَنَا الْمُسْتَغِیثُ وَأَنْتَ الدَّائِمُ وَأَنَا الزَّائِلُ
بے زور ہوں اور تو فریاد سننے والا ہے اور میں فریاد کرنے والا ہوں تو ہمیشہ رہنے والااور میں نابود ہونے والا
وَأَنْتَ الْکَبِیرُ وَأَنَا الْحَقِیرُوَأَنْتَ الْعَظِیمُ وَأَنَا الصَّغِیرُ وَأَنْتَ الْمَوْلیٰ
اور تو بڑائی والا ہے اور میں کمترین ہوں تو بزرگی والا اور میں بے حیثیت ہوں تو آقا ہے
وَأَنَا الْعَبْدُ وَأَنْتَ الْعَزِیزُ وَأَنَا الذَّلِیلُ وَأَنْتَ الرَّفِیعُ وَأَنَا الْوَضِیعُ
اور میں غلام ہو ں اور تو عزت والا ہے اور میں پست ہوں تو بلندی والا ہے اور میں گرا پڑا ہوں
وَأَنْتَ الْمُدَبِّرُ وَأَنَا الْمُدَبَّرُ وَأَنْتَ الْباقِی وَأَنَا الْفانِی وَأَنْتَ الدَّیَّانُ
تو تدبیر کرنے والا ہے اور میں تدبیر شدہ ہوں تو باقی رہنے والا ہے اور میں فنا ہونے والا ہوں اور تو جزا دینے والا
وَأَنَا الْمُدانُ وَأَنْتَ الْباعِثُ وَأَنَا المَبْعُوثُ وَأَنْتَ الغَنِیُّ وَأَنَا الْفَقِیرُ
اور میں جزا لینے والا ہوں اور تو بھیجنے والا ہے اور میں بھیجا ہوا ہوں اور تو مالک اموال اور میں تہی دست ہوں
وَأَنْتَ الْحَیُّ وَأَنَا الْمَیِّتُ تَجِدُ مَنْ تُعَذِّبُ یَا رَبِّ غَیْرِی وَلاَ أَجِدُ مَنْ
اور تو زندہ رہنے والا اور میں مرنے والا ہوں تو میرے سوا کسی اور کو عذاب کر سکتا ہے اے پروردگار لیکن مجھے تیرے
یَرْحَمُنِی غَیْرَکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَقَرِّبْ فَرَجَهُمْ
سوا کوئی رحم کرنے والانہیں ملتا اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمد پر رحمت نازل فرما اور ان کی کشائش میں جلدی فرما
وَارْحَمْ ذُلِّی بَیْنَ یَدَیْکَ وَتَضَرُّعِی إلَیْکَ وَوَحْشَتِی مِنَ النَّاسِ
رحم کر اپنے حضور میری پستی پر اپنے ہاں میری زاری پر اور رحم کر مجھ پر کہ میں لوگوں سے دور
وَأُنْسِی بِکَ یَا کَرِیمُ تَصَدَّقْ عَلَیَّ فِی هذِهِ السَّاعَةِ بِرَحْمَةٍ مِنْ عِنْدِکَ
اور تیرے قریب ہوں اے داتا و سخی بخشش فرما مجھ پر اس گھڑی میں اپنی خاص رحمت سے کہ تو اس سے میرے دل کو
تَهْدِی بِها قَلْبِی وَتَجْمَعُ بِها أَمْرِی وَتَلُمُّ بِها شَعَثِی وَتُبَیِّضُ بِها
ہدایت دے میرے سارے کام سنوار دے میری پریشانی کو دور فرما میرا چہرہ
وَجْهِی وَتُکْرِمُ بِها مَقامِی وَتَحُطُّ بِها عَنِّی وِزْرِی وَتَغْفِرُ بِها مَا
روشن فرما دے میری عزت بڑھا دے میرے گناہوں کا بوجھ ہلکا کر دے میرے پچھلے گناہوں
مَضیٰ مِنْ ذُنُوبِی وَتَعْصِمُنِی فِیما بَقِیَ مِنْ عُمْرِی وَتَسْتَعْمِلُنِی فِی
کی پردہ پوشی کر دے اور آئندہ زندگی میںگناہوں سے بچائے رکھ نیز ان باتوں میں مجھے
ذلِکَ کُلِّهِ بِطاعَتِکَ وَما یُرْضِیکَ عَنِّی وَتَخْتِمُ عَمَلِی بِأَحْسَنِهِ وَتَجْعَلُ
اپنی فرمانبرداری دے کہ جس سے تو مجھ پر راضی ہے میرے عمل کا انجام بہتر کردے اور اس کا بدلے
لِی ثَوابَهُ الْجَنَّةَ وَتَسْلُکُ بِی سَبِیلَ الصَّالِحِینَ وَتُعِینُنِی عَلَی صالِحِ
جنت عطا کر مجھ کو نیکوں کی راہ پر ڈال دے جس نیکی کی مجھے توفیق دی ہے
مَا أَعْطَیْتَنِی کَما أَعَنْتَ الصَّالِحِینَ عَلَی صالِحِ مَا أَعْطَیْتَهُمْ وَلاَ تَنْزِعْ
اس میں میری مدد فرما جیسے تو نے ان نیکوکاروں کی مدد فرمائی جن کو نیکی کی توفیق دی اس نیک روی
مِنِّی صالِحاً أَبَداً وَلاَ تَرُدَّنِی فِی سُوئٍ اسْتَنْقَذْتَنِی مِنْهُ أَبَداً وَلاَ
کو مجھ سے نہ چھین اور مجھے اس برائی میں نہ ڈال جس سے مجھ کو نکالا ہے میرے دشمن
تُشْمِتْ بِی عَدُوّاً وَلاَ حاسِداً أَبَداً وَلاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی طَرْفَةَ
اور حاسد کو مجھ پر ہنسنے کا مو قع نہ دے اور مجھے ایک پل کے لیے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر
عَیْنٍ أَبَداً وَلاَ أَقَلَّ مِنْ ذلِکَ وَلاَ أَکْثَرَ یَارَبَّ الْعالَمِینَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
نہ اس سے کم اور زیا دہ وقت کے لیے ایسا ہونے دے اے جہانوں کے پروردگار اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اسکی آلعليهالسلام پر
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَرِنِی الْحَقَّ حَقّاً فَأَتَّبِعَهُ وَالْباطِلَ باطِلاً
رحمت نازل کر اور مجھے حق کو حقیقت کی طرح دکھا کہ اس کی پیروی کروں اور دکھا مجھے باطل کو باطل
فَأَجْتَنِبَهُ وَلاَ تَجْعَلْهُ عَلَیَّ مُتَشابِهاً فَأَتَّبِعَ هَوایَ بِغَیْرِ هُدیً
کہ اس سے بچوں اور ان کے بارے میں مجھ کو شبہہ میں نہ رکھ تاکہ میں تیری ہدایت کے بجائے
مِنْکَ وَاجْعَلْ هَوایَ تَبَعاً لِطاعَتِکَ وَخُذْ رِضا نَفْسِکَ مِنْ
خواہش کے پیچھے نہ چلوں بلکہ میری خواہش کو اپنی اطاعت کے طابع کر دے میرے نفس کو اپنی رضا
نَفْسِی وَاهْدِنِی لِمَا اخْتُلِفَ فِیهِ مِنَ الْحَقِّ بِ إذْنِکَ إنَّکَ تَهْدِی مَنْ
کا تابع بنا اور مقام اختلاف میں اپنے حکم کے موافق مجھے راہ حق کی ہدایت فرما بے شک تو جسے چاہے راہ راست
تَشائُ إلی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ
کی ہدایت کرتا ہے
اس کے بعد اپنی حا جا ت طلب کرے کہ انشا ئ اللہ وہ پو ری ہوجا ئیں گی ۔
امام محمد تقی - کی ایک اور زیا رت
حضر ت کیلئے یہ زیا رت بھی روا یت ہوئی ہے جو یوں ہے ۔
اَلسَّلَامُ عَلَی الْبابِ الْاََقْصَدِ وَالطَّرِیقِ الْاََرْشَدِ وَالْعالِمِ الْمُؤَیَّدِ یَنْبُوعِ
سلام ہو قریب ترین دروازہ الہی پر راہ درست و راست پراور تائید شدہ عالم پر سلام ہو جو دانش کا چشمہ
الْحِکَمِ وَمِصْباحِ الظُّلَمِ سَیِّدِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ الْهادِی إلَی الرَّشادِ
تاریکیوں کے چراغ عرب و عجم کے سید و سردار سچائی کی طرف ہدایت کرنے والے
أَلْمُوَفَّقِ بِالتَّأْئِیدِ وَالسَّدادِ مَوْلایَ أَبِی جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْجَوادِ
تائید الہی اور صداقت کی توفیق والے پر اے آقا ابو جعفرعليهالسلام محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام الجواد
أَشْهَدُ یَا وَلِیَّ ﷲ أَنَّکَ أَقَمْتَ الصَّلاةَ وَآتَیْتَ الزَّکاةَ وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ
میں گواہ ہوں اے ولی خدا کہ یقینا آپ نے نماز قائم رکھی اور زکواۃ ادا کرتے رہےآپ نے نیکیوں کا حکم دیا اور برا ئیوں سے
عَنِ الْمُنْکَرِ وَجاهَدْتَ فِی سَبِیلِ ﷲ حَقَّ جِهادِهِوَعَبَدْتَ ﷲ مُخْلِصاً حَتَّی أَتاکَ الْیَقِینُ
منع کیا آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا جو جہاد کرنے کا حق ہے اور خدا کی پر خلوص عبادت کی یہا ں تک کہ آپ شہید ہوگئے
فَعِشْتَ سَعِیداً وَمَضَیْتَ شَهِیداً یَا لَیْتَنِی کُنْتُ مَعَکُمْ فَأَفُوزَ فَوْزاً
پس آپ نے سعادت مندی کی زندگی گزاری اور شہادت پاکر گزرے ہائے افسوس کہ میں آپ کے ہمراہ ہوتا تو عظیم کامیابی
عَظِیماًوَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
حاصل کرتا خدا کی آپ پر رحمت اور اس کی برکات ہوں۔
اس کے بعد قبر مبارک پر بو سہ دے اور اپنے دائیں رخسا ر کو اس سے مس کرے پھر دو رکعت نماز زیا رت ادا کرے اور بعد میں جو دعاچاہے ما نگے۔
( ۳ )زیا رت برا ئے امام زاد گا ن
سید اجل علی بن طائوس نے مصباح الزائر میں امام زادگان کیلئے دو زیارتیں نقل فرمائی ہیں کہ انکی زیا رت کرتے وقت یہ زیارت پڑھی جا سکتی ہیں لہذا مناسب ہے کہ انکو یہا ں درج کر دیا جا ئے ۔
پس جب کو ئی امامزادو ں میں سے کسی ایک کی زیا رت کر نا چاہے جیسے حضرت قاسمعليهالسلام بن امام مو سی کا ظمعليهالسلام یا حضرت عبا سعليهالسلام بن امیر المو منینعليهالسلام یاحضرت علیعليهالسلام بن الحسینعليهالسلام المعروف بہ علی اکبر شہید کربلا یا ہر وہ بزرگوار جو ان کی مانند ہیں تو زائر کو ان کی قبر شریف کے نزدیک کھڑے ہو کر اس طرح زیا رت پڑھنی چا ہیے ۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا السَّیِّدُ الزَّکِیُّ الطَّاهِرُ الْوَلِیُّ وَالدَّاعِی الْحَفِیُّ
آپ پر سلام ہو اے کہ آپ سردار خوش کردار پاکیزہ نگہبان داعی حق اور مہربان ہیں
أَشْهَدُ أَنَّکَ قُلْتَ حَقّاً وَنَطَقْتَ حَقّاً وَصِدْقاً وَدَعَوْتَ إلی مَوْلایَ
میں گواہ ہوں یقینا آپ نے حق کہا حق اور سچ کے ساتھ کلام فرمایا اور آپ نے بلایا میرے
وَمَوْلاکَ عَلانِیَةً وَسِرّاً فازَ مُتَّبِعُکَ وَنَجیٰ مُصَدِّقُکَ وَخابَ وَخَسِرَ
اور اپنے مولا کی طرف عیاں و نہاں آپ کا پیرو کامیاب ہوا اور آپ کا ماننے والا نجات پاگیا ناکام اور زیان کار ہے
مُکَذِّبُکَ وَالْمُتَخَلِّفُ عَنْکَ اشْهَدْ لِی بِهذِهِ الشَّهادَةِ لِأَکُونَ مِنَ الْفائِزِینَ
آپکو جھٹلانے والا اور آپ کی مخالفت کرنے والا آپ اس شہادت پر میرے گواہ ہیں تاکہ میں ان میں سے ہو جا ئو ں جو کامیاب ہیں
بِمَعْرِفَتِکَ وَطاعَتِکَ وَتَصْدِیقِکَ وَاتِّباعِکَ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدِی وَابْنَ
آپ کی معرفت آپ کی فرمانبرداری آپ کی تصدیق اور آپ کی پیروی کے ذریعے اور سلام ہو آپ پر اے میرے سردار اور
سَیِّدِی أَنْتَ بابُ ﷲ الْمُؤْتیٰ مِنْهُ وَالْمَأْخُوذُ عَنْهُ أَتَیْتُکَ
میرے سرادار کے فرزند آپ خدا کا دروازہ ہیں جس سے داخل ہوا جاتا ہے اور اس سے اخذ کیا جاتا ہے ہیں میں آپ کی زیارت کو
زائِراً وَحاجاتِی لَکَ مُسْتَوْدِعاً وَهاأَنَاذا أَسْتَوْدِعُکَ دِینِی وَأَمانَتِی وَخَواتِیمَ عَمَلِی
آیا ہوں اور اپنی حاجات آپ کے سپرد کر رہا ہوں اور اب میں آپعليهالسلام کے سپرد کر رہا ہوں اپنا دین اور اپنی امانت اپنا انجام عمل
وَجَوامِعَ أَمَلِی إلی مُنْتَهیٰ أَجَلِی وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ
اور اپنی تمام آرزوئیں اپنے وقت آخر تک اور سلام ہو آپعليهالسلام پر خدا کی رحمت ہو اور اس کی بر کا ت ہوں۔
دوسر ی زیا رت برا ئے امام زاد گا ن
اَلسَّلَامُ عَلَی جَدِّکَ الْمُصْطَفَی اَلسَّلَامُ عَلَی أَبِیکَ الْمُرْتَضَی الرِّضا اَلسَّلَامُ عَلَی
سلام ہو آپ کے نانا مصطفی پر سلام ہو آپ کے بابا مرتضیعليهالسلام پر جو پسندیدہ ہیں سلام ہو
السَّیِّدَیْنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ اَلسَّلَامُ عَلَی خَدِیجَةَ أُمِّ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی
دونوں سرداروں حسنعليهالسلام اور حسینعليهالسلام پر سلام ہو بی بی خدیجہ(س) جو سردار جنان عالم کی والدہ ہیں سلام ہو
فاطِمَةَ أُمِّ آلاَءِمَّةِ الطَّاهِرِینَ اَلسَّلَامُ عَلَی النُّفُوسِ الْفاخِرَةِ بُحُورِ الْعُلُومِ الزَّاخِرَةِ شُفَعائِی
فاطمہ زہرا(س) پر جو پاک ائمہعليهالسلام کی ماں ہیںسلام ہو صاحب فخر اشخاص پر جو علوم کے چھلکتے سمندر ہیں جو آخرت میں
فِی الْاَخِرَةِ وَأَوْلِیائِی عِنْدَ عَوْدِ الرُّوْحِ إلَی الْعِظامِ النَّاخِرَةِ أَئِمَّةِ الْخَلْقِ وَوُلاةِ الْحَقِّ اَلسَّلَامُ
میرے سفارشی اور بوسیدہ ہڈیوں میں روح کی واپسی کے وقت میرے مدد گار ہیں وہ لوگوں کے امامعليهالسلام اور حق کے ولیعليهالسلام ہیں آپ پر
عَلیْکَ أَیُّهَا الشَّخْصُ الشَّرِیفُ الطَّاهِرُ الْکَرِیمُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَأَنَّ مُحَمَّداً
سلام ہو اے وہ جو بزرگ شخصیت پاک ہیں عزت والے ہیں میں گواہ ہوں کہ اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد
عَبْدُهُ وَمُصْطَفاهُ وَأَنَّ عَلِیّاً وَلِیُّهُ وَمُجْتَباهُ وَأَنَّ الْاِمامَةَ فِی وُلْدِهِ إلی یَوْمِ الدِّینِ نَعْلَمُ
اس کے برگزیدہ بندے ہیں نیز علیعليهالسلام اس کے ولیعليهالسلام اور پسندیدہ ہیں یقینا تا قیامت امامت ان کی اولاد میں رہے گی ہم یہ با ت
ذلِکَ عِلْمَ الْیَقِینِ وَنَحْنُ لِذَلِکَ مُعْتَقِدُونَ وَفِی نَصْرِهِمْ مُجْتَهِدُونَ
یقینی طو ر پر جانتے ہیں ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی مدد کے لیے کو شا ں ہیں ۔
( ۴ )رو زعر فہ کی تسبیحا ت
اعما ل روز عر فہ میں امام جعفر صا دق - سے منقول صلوات کے بعد دعا ام داود پڑھنے کا کہا گیا ہے اور پھر یہ تسبیحات پڑھنے کی تاکید ہے کہ جن کا ثواب شمار سے باہر ہے لیکن وہاں ان تسبیحات کا پہلا حصہ ہی درج ہے جو سُبْحَانَ ﷲ ہے اور باقی تین حصے جو الحمد ﷲلا الہ الﷲاور ﷲاکبرکی تسبیحو ں کے سا تھ یہ مکمل ہوتا ہے وہ وہاں نقل نہیں کیے گئے لہذا ہم یہ تین حصے یہا ں تحریر کر رہے ہیں تاکہ جو قارئین ان تسبیحات کا پہلا حصہ اعمال روزعرفہ میں پڑھیں گے وہ بقیہ تین حصے زیر نظر مقام سے پڑھ کر یہ تسبیحات مکمل کرسکیں اور ان کا پورا پورا ثواب حاصل کر کے فلاح پائیں ان تسبیحات کے وہ تین حصے یہ ہیں ۔سُبْحانَ ﷲ قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَسُبْحانَ ﷲ بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ سے آخر تسبیح تکتَبَارَکَ ﷲ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ ۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ مَعَ کُلِّ أَحَدٍ وَالْحَمْدُ
حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز سے پہلے حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز کے بعد اور حمد ہے خدا کے لیے ہر چیز کے ساتھ حمد ہے خدا کے لیے
لِلّٰهِ یَبْقیٰ رَبُّنا وَیَفْنیٰ کُلُّ أَحَدٍ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْداً یَفْضُلُ حَمْدَ الْحامِدِینَ
کہ ہما را پر ور دگا ر ہے گا جب کہ ہر چیز مٹ جا ئے گی حمد ہے خدا کے لیے وہ حمد جو بر تر ہے حمد کر نے والو ں کی حمد سے
حَمْداً کَثِیراً قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْداً یَفْضُلُ حَمْدَ الْحامِدِینَ
بہت زیادہ حمد ہر چیز کے پہلے حمد ہے خدا کے لیے وہ حمد جو بر تر ہے حمد کرنے والوں کی حمد سے
حَمْداً کَثِیراً بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْداً یَفْضُلُ حَمْدَ الْحامِدِینَ
بہت زیادہ حمد ہر چیز کے بعد حمد ہے خدا کے لیے وہ حمد جو بر تر ہے حمد کر نے والو ں کی حمد سے
حَمْداً کَثِیراً مَعَ کُلِّ أَحَدٍ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْداً یَفْضُلُ حَمْدَ الْحامِدِینَ
بہت زیادہ حمد ہر چیز کے ساتھ حمد ہے خدا کے لیے وہ حمد جو حمد کر نے والو ں کے لیے حمد سے بر تر ہے
حَمْداً کَثِیراً لِرَبِّنَا الْباقِی وَیَفْنیٰ کُلُّ أَحَدٍوَالْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْداً لاَ یُحْصَیٰ
بہت زیا دہ حمد ہما رے رب کے لیے جو باقی رہے گا جب کہ ہر چیز فنا ہو جائے گی حمد ہے خد اکے لیے وہ حمد جسکا شما ر نہیں
وَلاَ یُدْرَیٰ وَلاَ یُنْسَیٰ وَلاَ یَبْلَیٰ وَلاَ یَفْنَیٰ وَلَیْسَ لَهُ مُنْتَهیٰ وَالْحَمْدُ
جو سمجھ نہیں آتی یا د سے نہیں اترتی پر انی نہیں ہو تی اور ختم نہیں ہو تی اور اس حمد کی کوئی حد نہیں اور حمد ہے
لِلّٰهِ حَمْداً یَدُومُ بِدَوامِهِ وَیَبْقَیٰ بِبَقائِهِ فِی سِنِی الْعالَمِینَ وَشُهُورِ
خد اکے لئے وہ حمد جو اس کی ہمیشگی کے ساتھ ہمیشہ اور اس کی بقا سے با قی ہے اہل جہا ن کے بر سو ں مہینو ں
الدُّهُورِ وَأَیَّامِ الدُّنْیا وَساعاتِ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ أَبَدَ الْاََبَدِ وَمَعَ الْاََبَدِ
زمانوں دنیا کی مدت اور دن رات کی ساعتوں میں حمد ہے خد اکے لئے ہمیشہ ہمیشہ کی ہمیشگی کے ساتھ جس
مِمَّا لاَ یُحْصِیهِ الْعَدَدُ وَلاَ یُفْنِیهِ الْاََمَدُ وَلاَ یَقْطَعُهُ الْاَبَدُ وَتَبارَکَ ﷲ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ
کا شما ر نہیں ہو سکتا زما نہ اس حمد کو ختم نہیں کرسکتا ہمیشگی اسے قطع نہیں کرتی اور با برکت ہے وہ اللہ جو بہتر ین خلق کرنے والا ہے۔
اور اس کے بعد کہے:
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مَعَ کُلِّ
خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں ہر چیز سے پہلے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیںہر چیز کے بعد اللہ کے سوائ کوئی معبود نہیںہر چیز کے سا تھ اللہ
أَحَدٍ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ یَبْقیٰ رَبُّنا وَیَفْنیٰ کُلُّ أَحَدٍ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ تَهْلِیلاً یَفْضُلُ
کے سوائ کوئی معبود نہیںہر چیز کے سا تھ خدا کے سوائ کوئی معبود نہیںلیے کہ ہمار ا رب باقی ہے جب کہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے خدا کے
تَهْلِیلَ الْمُهَلِّلِینَ فَضْلاً کَثِیراً قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ تَهْلِیلاً
سوائ کوئی معبود نہیںایسی تہلیل میں جو برتر ہے تہلیل کرنے والوں کی تہلیل سے بہت ہی برتر ہر چیز سے پہلے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں
یَفْضُلُ تَهْلِیلَ الْمُهَلِّلِینَ فَضْلاً کَثِیراً بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ
ایسی تہلیل میں جو برتر ہے تہلیل کرنے والوں کی تہلیل سے بہت ہی برتر ہر چیز کے بعد خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں
تَهْلِیلاً یَفْضُلُ تَهْلِیلَ الْمُهَلِّلِینَ فَضْلاً کَثِیراً مَعَ کُلِّ أَحَدٍ وَلاَ إلهَ إلاَّ
ایسی تہلیل میں جو برتر ہے تہلیل کرنے والوں کی تہلیل سے بہت ہی برتر ہر چیز کے ساتھ خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں
ﷲ تَهْلِیلاً یَفْضُلُ تَهْلِیلَ الْمُهَلِّلِینَ فَضْلاً کَثِیراً لِرَبِّنَا الْباقِی وَیَفْنَیٰ
ایسی تہلیل میں جو برتر ہے تہلیل کرنے والوں کی تہلیل سے بہت ہی برتر ہے ہمارا رب کہ جو باقی ہے جب کہ ہر چیز
کُلُّ أَحَدٍ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ تَهْلِیلاً لاَ یُحْصَیٰ وَلاَ یُدْرَیٰ وَلاَ یُنْسَیٰ وَلاَ
فنا ہونے والی ہے خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں ایسی تہلیل میں جس کا شمار نہیں جو سمجھ سے بالا ہے جو یاد سے نہیں اترتی
یَبْلَیٰ وَلاَ یَفْنَیٰ وَلَیْسَ لَهُ مُنْتَهیٰ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ تَهْلِیلاً یَدُومُ بِدَوامِهِ
پرانی نہیں ہوتی مٹ نہیں سکتی اور کبھی ختم ہونے والی نہیں ،خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں ایسی تہلیل میں جو اس کی ہمیشگی سے ہمیشہ
وَیَبْقَیٰ بِبَقائِهِ فِی سِنِی الْعالَمِینَ وَشُهُورِ الدُّهُورِ وَأَیَّامِ الدُّنْیا
اور اس کی بقا سے باقی ہے جہان والوں کے برسوں میں مہینوں کے زمانوں میں دنیا کی مدت
وَساعاتِ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ أَبَدَ الْاََبَدِ وَمَعَ الْاََبَدِ مِمَّا لاَ
اور رات دن کی ساعتوں میں خدا کے سوائ کوئی معبود نہیں ہمیشہ ہمیشہ ہے ہمیشگی کے ساتھ جس کا شمار نہیں
یُحْصِیهِ الْعَدَدُ وَلاَ یُفْنِیهِ الْاََمَدُ وَلاَ یَقْطَعُهُ الْاََبَدُ وَتَبارَکَ ﷲ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ
ہوسکتا ہندسوں میں زمانہ اس تہلیل کو ختم نہیں کرسکتا ہمیشگی اسے قطع نہیں کرتی اور بابرکت ہے ﷲ جو بہترین خلق کرنے والا ہے۔
اور اس کے بعد کہے:
وَﷲ أَکْبَرُ قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَﷲ أَکْبَرُ بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ وَﷲ أَکْبَرُ مَعَ کُلِّ أَحَدٍ وَﷲ أَکْبَرُ
خدا بزرگتر ہے ہر چیز سے پہلے خدا بزرگتر ہے ہر چیز کے بعدخدا بزرگتر ہے ہر چیز کے ساتھ خدا بزرگتر ہے
یَبْقَیٰ رَبُّنا وَیَفْنَیٰ کُلُّ أَحَدٍ وَﷲ أَکْبَرُ تَکْبِیراً یَفْضُلُ تَکْبِیرَ الْمُکَبِّرِینَ فَضْلاً کَثِیراً
کہ ہمارا وہ رب باقی جب کہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے خدا بزرگتر ہے تکبیر کے ساتھ جو برتر ہے تکبیر کہنے والوں کی تکبیر سے بہت ہی
قَبْلَ کُلِّ أَحَدٍ وَﷲ أَکْبَرُ تَکْبِیراً یَفْضُلُ تَکْبِیرَ الْمُکَبِّرِینَ فَضْلاً کَثِیراً بَعْدَ کُلِّ أَحَدٍ
برتر ہے ہر چیز سے پہلے خدا بزرگ تر ہے تکبیر کے ساتھ جو برتر ہے تکبیر کہنے والوں کی تکبیر سے بہت ہی برتر ہے ہر چیز کے بعد
وَﷲ أَکْبَرُ تَکْبِیراً یَفْضُلُ تَکْبِیرَ الْمُکَبِّرِینَ فَضْلاً کَثِیراً مَعَ کُلِّ أَحَدٍ
خدا بزرگتر ہے تکبیر کے ساتھ جوبرتر ہے تکبیر کہنے والوں کی تکبیر سے بہت ہی برتر ہے ہر چیز کے ساتھ
وَﷲ أَکْبَرُ تَکْبِیراً یَفْضُلُ تَکْبِیرَ الْمُکَبِّرِینَ فَضْلاً کَثِیراً لِرَبِّنَا الْباقِی
خدا بزرگتر ہے تکبیر کے ساتھ جو برتر ہے تکبیر کہنے والوں کی تکبیر سے بہت ہی برتر ہے ہمارا رب
وَیَفْنَیٰ کُلُّ أَحَدٍ وَﷲ أَکْبَرُ تَکْبِیراً لاَ یُحْصَیٰ وَلاَ یُدْرَیٰ وَلاَ یُنْسَیٰ
باقی ہے جب کہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے خدا بزرگتر ہے تکبیر کے ساتھ کہ جس کا شمار نہیں جو سمجھ سے بالا ہے جو یاد
وَلاَ یَبْلَیٰ وَلاَ یَفْنَیٰ وَلَیْسَ لَهُ مُنْتَهیٰ وَﷲ أَکْبَرُ تَکْبِیراً یَدُومُ بِدَوامِهِ
سے نہیں اترتی پرانی نہیں ہوتی اور مٹتی نہیں اور نہ ختم ہونے والی ہے خدا بزرگتر ہے تکبیر کے ساتھ
وَیَبْقَیٰ بِبَقائِهِ فِی سِنِی الْعالَمِینَ وَشُهُورِ الدُّهُورِ وَأَیَّامِ الدُّنْیا
جو اس کی ہمیشگی سے ہمیشہ اور اس کی بقا سے باقی ہے اہل جہان کے برسوں میں مہینوں کے زمانوں
وَساعاتِ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَﷲ أَکْبَرُ أَبَدَ الْاََبَدِ وَمَعَ الْاََبَدِ مِمَّا لاَ
اور دنیا کی مدت میں اور رات دن کی ساعتوں میں خدا بزرگتر ہے ہمیشہ ہمیشہ کی ہمیشگی کے ساتھ
یُحْصِیهِ الْعَدَدُ وَلاَ یُفْنِیهِ الْاََمَدُ وَلاَ یَقْطَعُهُ الْاََبَدُ وَتَبارَکَ
جو شمار نہیں ہوسکتی ہندسوں میں زمانہ اس کو ختم نہیں کرسکتا نہ ہمیشگی اسے قطع کرتی ہے اور بابرکت ہے
ﷲ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ
ﷲ جو بہترین خلق کرنے والا ہے
دعای مکارم اخلاق
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَبَلِّغْ بِ إیمانِی أَکْمَلَ الْاِیمانِ وَاجْعَلْ
اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما اور میرے ایمان کو سب سے اعلیٰ درجے پر پہنچا
یَقِینِی أَفْضَلَ الْیَقِینِ وَانْتَهِ بِنِیَّتِی إلَی أَحْسَنِ النِّیَّاتِ وَبِعَمَلِی إلی
میرے یقین کو بہترین یقین بنا دے میری نیت کو بہترین نیتوں کی حد تک پہنچا دے اور میرے عمل کو بہترین
أَحْسَنِ الْاََعْمالِ اَللّٰهُمَّ وَفِّرْ بِلُطْفِکَ نِیَّتِی وَصَحِّحْ بِمَا عِنْدَکَ
اعمال کے ساتھ ملا دے اے معبود اپنی مہربانی سے میری نیت کو بڑھا دے میرے یقین کو اپنے ہاں
یَقِینِی وَاسْتَصْلِحْ بِقُدْرَتِکَ مَا فَسَدَ مِنِّی اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
درست قرار دے اور جو کچھ میں نے بگاڑ دیا اسے اپنی قدرت سے بہتر بنا دے اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر
وَآلِهِ وَاکْفِنِی مَا یَشْغَلُنِی الاهْتِمامُ بِهِ وَاسْتَعْمِلْنِی بِما تَسْأَلُنِی غَداً
رحمت نازل فرما اور جس چیز کی طرف میں نے توجہ کی ہے اس میں میری مدد فرما مجھے اس عمل پر کاربند کر دے جس کے بارے
عَنْهُ وَاسْتَفْرِغْ أَیَّامِی فِیمَا خَلَقْتَنِی لَهُ وَأَغْنِنِی وَأَوْسِعْ عَلَیَّ فِی
کل تو مجھ سے بازپرس کرے گا وہ کام کرنے کی مہلت دے جس کے لیے مجھے پیدا کیا ہے مجھے مال عطا کر
رِزْقِکَ وَلاَ تَفْتِنِّی بِالنَّظَرِ وَأَعِزَّنِی وَلاَ تَبْتَلِیَنِّی بِالْکِبْرِ وَعَبِّدْنِی لَکَ
اور میرے رزق میں فراوانی کر دے مجھے بے خبری میں نہ ڈال اور عزت دار بنا مجھ کو خود پسندی سے بچا اپنا عبادت گذار بنا
وَلاَ تُفْسِدْ عِبادَتِی بِالْعُجْبِ وَأَجْرِ لِلنَّاسِ عَلَی یَدَیَّ الْخَیْرَ وَلاَ
اور غرور سے میری عبادت ضائع نہ ہونے دے لوگوں کے لیے میرے ہاتھوں سے بھلائی کرا اور اسے
تَمْحَقْهُ بِالْمَنِّ وَهَبْ لِی مَعالِیَ الْاََخْلاقِ وَاعْصِمْنِی مِنَ الْفَخْرِ اَللّٰهُمَّ
احسان جتانے سے غارت نہ ہونے دے مجھے بلندی اخلاق عطا فرما اور گھمنڈ کرنے سے محفوظ رکھ اے معبود
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَلاَ تَرْفَعْنِی فِی النَّاسِ دَرَجَةً إلاَّ حَطَطْتَنِی
محمد اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل کر مجھے لوگوں میں بلند مرتبہ نہ کر مگر یہ کہ میں خود کو اتنا ہی کمتر
عِنْدَ نَفْسِی مِثْلَها وَلاَ تُحْدِثْ لِی عِزّاً ظاهِراً إلاَّ أَحْدَثْتَ لِی ذِلَّةً
بنادوں مجھے ظاہری طور پر بڑائی نہ دے مگر یہ کہ مجھ کو باطنی طور پر اپنے نفس
باطِنَةً عِنْدَ نَفْسِی بِقَدَرِها اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
کے نزدیک اتنا ہی پست کردے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر
وَمَتِّعْنِی بِهُدَیً صالِحٍ لاَ أَسْتَبْدِلُ بِهِ وَطَرِیقَةِ حَقٍّ لاَ أَزِیغُ عَنْهاوَنِیَّةِ
اور میری بہترین رہنمائی فرما کہ اس میں تبدیل نہ کروں درست روش پر رکھ کہ اس سے ہٹوں نہیں اچھی نیت
رُشْدٍ لاَ أَشُکُّ فِیها وَعَمِّرْنِی مَا کانَ عُمْرِی بِذْلَةً فِی طاعَتِکَ فَ إذا
عطا کر کہ اس میں شک نہ کروں مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیری فرمانبرداری میں رہوں اور جب
کانَ عُمْرِی مَرْتَعاً لِلشَّیْطانِ فَاقْبِضْنِی إلَیْکَ قَبْلَ أَنْ یَسْبِقَ مَقْتُکَ إلَیَّ
میری زندگی پر شیطان حاوی ہوجائے تو مجھے اپنی طرف اٹھالے اس سے پہلے کہ تو مجھ سے ناخوش ہو یامیں
أَوْ یَسْتَحْکِمَ غَضَبُکَ عَلَیَّ اَللّٰهُمَّ لاَ تَدَعْ خَصْلَةً تُعَابُ مِنِّی إلاَّ
تیرے غضب کے تحت آجائوں اے معبود میرے اندر کوئی بری عادت نہ رہنے دے مگر یہ کہ تو اسے
أَصْلَحْتَها وَلاَ عایِبَةً أُؤَنَّبُ بِها إلاَّ حَسَّنْتَها وَلاَ أُکْرُومَةً فِیَّ ناقِصَةً
بہتر بنا دے نہ کوئی عیب رہنے دے جس پر مجھے پکڑا جائے مگر یہ کہ تو اسے خوبی میں بدل دے اور نہ مجھے ادھورہ مرتبہ دے
إلاَّ أَتْمَمْتَها اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَبْدِلْنِی مِنْ بُغْضَةِ
مگر یہ کہ اسے کامل کر دے اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور دشمنی کرنے والوں کو میرے انیس
أَهْلِ الشَّنآنِ الْمَحَبَّةَ وَمِنْ حَسَدِ أَهْلِ الْبَغْیِ الْمَوَدَّةَ وَمِنْ ظِنَّةِ أَهْلِ
اور محبت کرنے والے بنادے سرکشوں کے حسد کو میرے لیے دوستی میں بدل دے نیک لوگوں کی بدگمانی
الصَّلاحِ الثِّقَةَ وَمِنْ عَداوَةِ الْاََدْنَیْنَ الْوَلایَةَ وَمِنْ عُقُوقِ ذَوِی
کو میرے لیے حسن ظن میں تبدیل کردے جن و انس کی عداوت کو دوستی میں بدل دے مجھے رشتہ داروں کی بد سلوکی
الْاَرْحامِ الْمَبَرَّةَ وَمِنْ خِذْلانِ الْاََقْرَبِینَ النُّصْرَةَ وَمِنْ حُبِّ الْمُدارِینَ
سے بچائے رکھ اور قریبی عزیزوں کی علیٰحدگی کو یاوری میں تبدیل کر دے اچھا برتائوں کرنے والوں کی محبت
تَصْحِیحَ الْمِقَةِ وَمِنْ رَدِّ الْمُلابِسِینَ کَرَمَ الْعِشْرَةِ وَمِنْ مَرارَةِ خَوْفِ
کو دفاع کا ذریعہ بنا مکاروں کی کنارہ کشی کو بہترین دوستی میں بدل دے ظالموں سے خوف کی کڑواہٹ
الظَّالِمِینَ حَلاوَةَ الْاََمَنَةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاجْعَلْ لِی
کو امن کی مٹھاس سے تبدیل فرما دے اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھ کو ظلم کرنے والے پر
یَداً عَلَی مَنْ ظَلَمَنِی وَلِساناً عَلَی مَنْ خاصَمَنِی وَظَفَراً بِمَنْ
غلبہ عطا فرما دشمن کے خلاف بولنے کی ہمت دے مخالف پر فتح نصیب فرما
عانَدَنِی وَهَبْ لِی مَکْراً عَلَی مَنْ کایَدَنِی وَقُدْرَةً عَلَی مَنِ
بری تدبیر کرنے والے کا توڑ کرنے کی قوت دے زیر کرنے والے پر مجھ کوغلبہ دے
اضْطَهَدَنِی وَتَکْذِیباً لِمَنْ قَصَبَنِی وَسَلامَةً مِمَّنْ تَوَعَّدَنِی وَوَفِّقْنِی
عیب جوئی کرنے والے کو جھٹلانے کی ہمت دے دھمکی دینے والے سے
لِطاعَةِ مَنْ سَدَّدَنِی وَمُتابَعَةِ مَنْ أَرْشَدَنِی اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
بچائے رکھ سیدھی راہ پر چلانے والے کی اطاعت کی توفیق دے اور رہنمائی کر نے والے کی پیروی کی ہمت دے اے معبود
وَآلِهِ وَسَدِّدْنِی لِأَنْ أُعارِضَ مَنْ غَشَّنِی بِالنُّصْحِ وَأَجْزِیَ مَنْ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور دھو کہ دینے والے شخص کی خیر خواہی کرنے میں میری مدد کر جو دوری کرے اس سے
هَجَرَنِی بِالْبِرِّ وَأُثِیبَ مَنْحَرَمَنِی بِالْبَذْلِ وَأُکافِیََ مَنْ قَطَعَنِی
نیکی کرنے کی ہمت دے جو مجھے محروم کرے اس پر بخشش کرنے کا حوصلہ دے قطع تعلق کرنے والوں کے نزدیک ہونے اور
بِالصِّلَةِوَأُخالِفَ مَنِ اغْتابَنِی إلی حُسْنِ الذِّکْرِ وَأَنْ أَشْکُرَ
غیبت کرنے والوں کو اچھائی سے یاد کرنے کی توفیق دے نیز نیکی پر شکریہ اور
الْحَسَنَةَ وَأُغْضِیَ عَنِ السَّیِّئَةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَحَلِّنِی
بدی پر چشم پوشی کی ہمت دے اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت کر مجھے نیکوکاروں کے
بِحِلْیَةِ الصَّالِحِینَ وَأَلْبِسْنِی زِینَةَ الْمُتَّقِینَ فِی بَسْطِ الْعَدْلِ
اخلاق سے آراستہ کر اور پرہیزگاروں کے اطوار کا لباس پہنا عدل کو پھیلانے میں غصے کو
وَکَظْمِ الْغَیْظِ وَ إطْفائِ النَّائِرَةِ وَضَمِّ أَهْلِ الْفُرْقَةِ وَ إصْلاحِ ذاتِ الْبَیْنِ وَ إفْشائِ
پینے میں جھگڑا ختم کرانے میں بکھرے ہوئوں کو اکٹھا کرنے میں دشمنوں میں صلح کرانے میں
الْعارِفَةِ وَسِتْرِ الْعائِبَةِ وَلِینِ الْعَرِیکَةِ وَخَفْضِ
نیکی کو فروغ دینے میں عیبوں کی پردہ پوشی کرنے میں نیز نرم روی اور خاطر داری میں
الْجَناحِ وَحُسْنِ السِّیرَةِ وَسُکُونِ الرِّیحِ وَطِیبِ الْمُخالَقَةِ وَالسَّبْقِ إلَی
خوش کرداری اور کسر نفسی کرنے میں اچھے اطوار اختیار کرنے نیکی و خوبی میں آگے رہنے
الْفَضِیلَةِ وَ إیثارِ التَّفَضُّلِ وَتَرْکِ التَّعْیِیرِ وَالْاِفْضالِ عَلَی غَیْرِ
اور زیادہ بخشش کرنے کی توفیق دے کسی کو شرمندہ کرنے اور غیر مستحق کو
الْمُسْتَحِقِّ وَالْقَوْلِ بِالْحَقِّ وَ إنْ عَزَّ وَاسْتِقْلالِ الْخَیْرِ وَ إنْ کَثُرَ مِنْ
دینے سے بچا اور سچی بات کہنے کی ہمت دے اگر چہ یہ مشکل ہواپنی نیکی کو کم تر سمجھوں اگر چہ وہ زیادہ
قَوْلِی وَفِعْلِی وَأَکْمِلْ ذلِکَ لِی بِدَوامِ الطَّاعَةِ وَلُزُومِ الْجَماعَةِوَرَفْضِ
ہو میرے قول و فعل میں تو بھی میری نیکی میں اضافہ کر کہ ہمیشہ تیری اطاعت کروں امت اسلامی کے ساتھ رہوں
أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُسْتَعْمِلِی الرَّأْیِ الْمُخْتَرَعِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
اہل بدعت سے الگ ہو جائوں اور نئی باتیں گھڑنے والوں سے بے تعلق ہوں اے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما
وَاجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِکَ عَلَیَّ إذا کَبِرْتُ وَأَقْوَی قُوَّتِکَ فِیَّ إذا
اور قرار دے میرے لیے وسیع رزق جب میں بوڑھا ہوجائوں زیادہ طاقت دے جب میں ناتواں ہوجائوں
نَصِبْتُ وَلاَ تَبْتَلِیَنِّی بِالْکَسَلِ عَنْ عِبادَتِکَ وَلاَ الْعَمَیٰ عَنْ سَبِیلِکَ وَلاَ
اور مجھے اپنی عبادت میں سست نہ ہونے دے اور مجھ کو راہ راست سے گمراہ نہ ہونے دے تا کہ
بِالتَّعَرُّضِ لِخِلافِ مَحَبَّتِکَ وَلاَ مُجامَعَةِ مَنْ تَفَرَّقَ عَنْکَ وَلاَ مُفارَقَةِ
تیری محبت کے خلاف کام نہ کروں جو تجھ سے دور ہو اس سے نہ ملوں اور جو تیرے قریب ہو اس سے
مَنِ اجْتَمَعَ إلَیْکَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی أَصُولُ بِکَ عِنْدَ الضَّرُورَةِ وأَسْأَلُکَ
دور نہ ہو جاؤں اے معبود! مجھے ایسا بنا کہ ضرورت کے وقت تیری طرف آئوں اپنی حاجت تجھ سے
عِنْدَ الْحاجَةِ وَأَتَضَرَّعُ إلَیْکَ عِنْدَ الْمَسْکَنَةِ وَلاَ تَفْتِنِّی بِالاسْتِعانَةِ
طلب کروں بے چارگی میں تیرے آگے زاری کروں اور مجھ کو اپنے سوا کسی سے مدد مانگنے کی
بِغَیْرِکَ إذَا اضْطُرِرْتُ وَلاَ بِالْخُضُوعِ بِسُؤالِ غَیْرِکَ إذَا افْتَقَرْتُ وَلاَ
الجھن میں نہ ڈال جب مجھے پریشانی ہو حاجت کے وقت اپنے سوا کسی سے سوال کی ذلت نہ دکھا خوف کی حالت میں
بِالتَّضَرُّعِ إلی مَنْ دُونَکَ إذا رَهِبْتُ فَأَسْتَحِقَّ بِذَلِکَ خِذْلانَکَ وَمَنْعَکَ
اپنے سوا کسی کے آگے زاری نہ کرنے دے کہ اس طرح کہیں تیری بے توجہی تیری نعمت کی بندش اور تیری بے رخی کا
وَ إعْراضَکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مَا یُلْقِی الشَّیْطانُ فِی
سزاوار نہ بن جائوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے معبود! ایسا کر کہ شیطان میرے دل میں جو جھوٹی آرزوئیں
رُوعِی مِنَ التَّمَنِّی وَالتَّظَنِّی وَالْحَسَدِ ذِکْراً لِعَظَمَتِکَ وَتَفَکُّراً فِی
بدگمانیاں اور حسد پیدا کرتا ہے وہ تیری بڑائی کی یاد تیری قدرت میں غور اور تیرے دشمن
قُدْرَتِکَ وَتَدْبِیراً عَلَی عَدُوِّکَ وَما أَجْریٰ عَلَی لِسانِی مِنْ لَفْظَةِ
کے خلاف اقدام کا ذریعہ بن جائیں اور میری زبان پر جو دشنام دگالی آئے یا فضول بات
فُحْشٍ أَوْ هَجْرٍ أَوْ شَتْمِ عِرْضٍ أَوْ شَهادَةِ باطِلٍ أَوِ اغْتِیابِ مُؤْمِنٍ
یا بد گوئی یا جھوٹی گواہی یا کسی غیر حاضر مومن کی غیبت یا کسی حاضر کے لیے گالی زبان
غائِبٍ أَوْ سَبِّ حاضِرٍ وَما أَشْبَهَ ذلِکَ نُطْقاً بِالْحَمْدِ لَکَ وَ إغْراقاً فِی
پر آئے اور ایسی کوئی اور بات کروں تو اس کی بجائے تیری حمد کرنے لگوں تیری
الثَّنائِ عَلَیْکَ وَذَهاباً فِی تَمْجِیدِکَ وَشُکْراً لِنِعْمَتِکَ وَاعْتِرافاً
تعریف میں مگن ہو جائوں تیری بزرگی بیان کروں اور نعمتوں پر شکر بجالائوں تیری مہربانیوں کا
بِ إحْسانِکَ وَ إحْصائً لِمِنَنِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَلاَ أُظْلَمَنَّ
اقرار کروں اور تیرے احسان گنائوں اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل کر اور لوگ مجھ پر ستم نہ کریں
وَأَنْتَ مُطِیقٌ لِلدَّفْعِ عَنِّی وَلاَ أَظْلِمَنَّ وَأَنْتَ الْقادِرُ عَلَی الْقَبْضِ مِنِّی
کہ تو ان کو مجھ سے دور کر سکتا ہے میں بے انصافی نہ کروں کہ مجھے اس سے روک سکتا ہے میں
وَلاَ أَضِلَّنَّ وَقَدْ أَمْکَنَتْکَ هِدایَتِی وَلاَ أَفْتَقِرَنَّ وَمِنْ عِنْدِکَ وُسْعِی وَلاَ
گمراہی میں نہ پڑوں کہ تو مجھے ہدایت دے سکتا ہے میں محتاج نہ رہوں کہ تو کشادگی دے سکتا ہے میں سرکشی نہ
أَطْغَیَنَّ وَمِنْ عِنْدِکَ وُجْدِی اَللّٰهُمَّ إلَی مَغْفِرَتِکَ وَفَدْتُ وَ إلَی عَفْوِکَ
کروں کہ مجھے سب کچھ تو نے دیا ہے اے معبود! بخشش کی خواہش لے آیا ہوں معافی لینے کو حاضر ہوا ہوں
قَصَدْتُ وَ إلَی تَجاوُزِکَ اشْتَقْتُ وَبِفَضْلِکَ وَثِقْتُ وَلَیْسَ عِنْدِی مَا
تیری طرف سے درگذر چاہتا ہوں تیرے کرم پر بھروسہ رکھتا ہوں اور میرے پاس
یُوجِبُ لِی مَغْفِرَتَکَ وَلاَ فِی عَمَلِی مَا أَسْتَحِقُّ بِهِ عَفْوَکَ وَمَا لِی بَعْدَ
کوئی ذریعہ نہیں کہ جس سے تو مجھے بخشے میرا عمل ایسا نہیں کہ تو مجھے معافی دے اور جب میں خود کو قابل سزا سمجھتا ہوں
أَنْ حَکَمْتُ عَلَی نَفْسِی إلاَّ فَضْلُکَ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَتَفَضَّلْ
تو پھر تیرے فضل کا سہارا ہے پس محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھ پر اپنا فضل و کرم کر
عَلَیَّ اَللّٰهُمَّ وَأَنْطِقْنِی بِالْهُدَیٰ وَأَلْهِمْنِی التَّقْوَی وَوَفِّقْنِی لِلَّتِی هِیَ
اور اے معبود میری زبان کوہدایت سے گویافرما مجھے پرہیزگاری سکھا دے مجھے اس کام کی
أَزْکَی وَاسْتَعْمِلْنِی بِمَا هُوَ أَرْضی اَللّٰهُمَّ اسْلُکْ بِیَ الطَّرِیقَةَ الْمُثْلَی
توفیق دے جو پسندیدہ ہے اور اس عمل کی ہمت دے جس پر تو راضی ہو اے معبود مجھ کو سیدھی راہ پر ڈال دے
وَاجْعَلْنِی عَلَی مِلَّتِکَ أَمُوتُ وَأَحْیا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
مجھے اپنے دین پر رکھ کہ اسی پر مروں اور جیوں اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما
وَمَتِّعْنِی بِالاقْتِصادِوَاجْعَلْنِی مِنْ أَهْلِ السَّدادِ وَمِنْ أَدِلَّةِ الرَّشادِ وَمِنْ
اور مجھے میانہ روی کی توفیق دے مجھے ان لوگوں میں رکھ جو نیک کردار ہدایت کے رہنما اور لوگوں میں سب
صَالِحِی الْعِبادِ وَارْزُقْنِی فَوْزَ الْمَعادِ وَسَلامَةَ الْمِرْصادِ اَللّٰهُمَّ خُذْ
سے زیادہ خوش اطوار ہیں نیز مجھے آخرت میں کامیابی اور قیامت میں امن عطا کر اے معبود میرے نفس
لِنَفْسِکَ مِنْ نَفْسِی مَا یُخَلِّصُها وَأَبْقِ لِنَفْسِی مِنْ نَفْسِی مَا یُصْلِحُها
میں سے وہ حصہ لے لے جو پاکیزہ و خالص ہے اور میرے لیے نفس کا وہ حصہ رہنے دے جیسے سنوارے
فَ إنَّ نَفْسِی هالِکَةٌ أَوْ تَعْصِمَها اَللّٰهُمَّ أَنْتَ عُدَّتِی إنْ حَزِنْتُ وَأَنْتَ
میرا نفس خرابی میں پڑنے دالاہے مگر تو اُسے بچانے والا ہے اے معبود! تو میرا آسرا ہے اگر مجھے غم آئے تو مجھے
مُنْتَجَعِی إنْ حُرِمْتُ وَبِکَ اسْتِغاثَتِی إنْ کَرَثْتُ وَعِنْدَکَ مِمَّا فاتَ
دینے والا ہے اگر میں محروم رہ جائوں تجھ سے فریاد کرتا ہوں اگر مصیبت آپڑے اور تو دیتا ہے اس کی بجائے جو کچھ ضائع ہو جائے
خَلَفٌ وَلِمَا فَسَدَ صَلاحٌ وَفِیما أَنْکَرْتَ تَغْیِیرٌ فَامْنُنْ عَلَیَّ قَبْلَ الْبَلائِ
اور تو بناتا ہے وہ کام جو بگڑ جائے اور جو ناپسند ہو اسے بدل دیتا ہے پس مجھ پر احسان فرما کہ بلا آنے سے پہلے
بِالْعافِیَةِ وَقَبْلَ الطَّلَبِ بِالْجِدَةِ وَقَبْلَ الضَّلالِ بِالرَّشادِ وَاکْفِنِی مَؤُونَةَ
امان دے مانگنے سے پہلے عطا کر دے گمراہی سے پہلے ہدایت بخش دے لوگوں کے سامنے شرمندگی
مَعَرَّةَ الْعِبادِ وَهَبْ لِی أَمْنَ یَوْمِ الْمَعادِ وَامْنِحْنِی حُسْنَ الْاِرْشادِ
سے بچائے رکھ قیامت کے دن آسائش عطا فرما اور بہترین رہبری سے بہرہ ور کر دے
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَادْرَأْ عَنِّی بِلُطْفِکَ وَاغْذُنِی بِنِعْمَتِکَ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور اپنے کرم سے میری تکلیف دور کر اپنی نعمتوں سے رزق دے
وَأَصْلِحْنِی بِکَرَمِکَ وَداوِنِی بِصُنْعِکَ وَأَظِلَّنِی فِی ذَراکَ وَجَلِّلْنِی
اپنی مہربانی سے بھلائی عطا کر اپنی توجہ سے شفا عطا کر اپنے بلند مقام کے سائے میں رکھ اپنی رضا کا
رِضاکَ وَوَفِّقْنِی إذَا اشْتَکَلَتْ عَلَیَّ الْاَُمُورُ لِأَهْداها وَ إذا تَشابَهَتِ
لباس پہنا اور مشکل کاموں میں مجھے صحیح راہ اختیار کرنے کی توفیق دے جب اعمال میں شک ہو تو
الْاَعْمالُ لِأِزْکاها وَ إذا تَنَاقَضَتِ الْمِلَلُ لِأَرْضَاهَا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی
ان میں بہترین عمل کی ہمت دے اور گروہوں کے اختلاف میں بہترین گروہ کے ساتھ رکھ اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر
مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَتَوِّجْنِی بِالْکِفایَةِ وَسُمْنِی حُسْنَ الْوِلایَةِ وَهَبْ لِی
رحمت نازل کر اور مجھے کفایت کی عزت دے مجھے اچھی دوستداری عطا کر مجھے بہترین ہدایت سے
صِدْقَ الْهِدایَةِ وَلاَ تَفْتِنِّی بِالسَّعَةِوَامْنِحْنِی حُسْنَ الدَّعَةِ وَلاَ تَجْعَلْ
بہرہ مند فرما مجھے وسعت رزق سے نہ آزما مجھے آسانی و سہولت دے اور میری زندگی کو سخت و دشوار
عَیْشِی کَدّاً کَدّاً وَلاَ تَرُدَّ دُعائِی عَلَیَّ رَدّاًفَ إنِّی لاَ أَجْعَلُ لَکَ ضِدّاً وَلاَ
نہ بنا میری دعا کو عدم قبول سے میری طرف نہ پلٹا کیونکہ میںکسی کو تیرا مقابل نہیں ٹھہراتا
أَدْعُو مَعَکَ نِدّاً اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَامْنَعْنِی مِنَ السَّرَفِ
اور تیرے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتا اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے فضول خرچی سے روکے رکھ
وَحَصِّنْ رِزْقِی مِنَ التَّلَفِ وَوَفِّرْ مَلَکَتِی بِالْبَرَکَةِ فِیهِ وَأَصِبْ بِی
میرے رزق کو ضائع ہونے سے محفوظ فرما میری ملکیتی چیزوں میں برکت عطا کر اور مجھے راہ ہدایت پر چلا
سَبِیلَ الْهِدایَةِ لِلْبِرِّ فِیما أُنْفِقُ مِنْهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
کہ اپنے مال کو تیرے نام پر خرچ کروں اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت نازل فرما
وَاکْفِنِی مَؤُونَةَ الاکْتِسابِ وَارْزُقْنِی مِنْ غَیْرِ احْتِسابٍ فَلاَ أَشْتَغِلَ
اور مجھے روزی کمانے میں سختی سے بچا مجھے بے حساب رزق عنایت فرما کہ اس کی طلب میں تیری عبادت کو نہ بھول
عَنْ عِبادَتِکَ بِالطَّلَبِ وَلاَ أَحْتَمِلَ إصْرَ تَبِعاتِ الْمَکْسَبِ اَللّٰهُمَّ
جائوں اور نہ یہ کہ حصول مال کی سختیوں میں گھرا رہو ں اے معبود! جس چیزکی مجھے طلب ہے
فَأَطْلِبْنِی بِقُدْرَتِکَ مَا أَطْلُبُ وَأَجِرْنِی بِعِزَّتِکَ مِمَّا أَرْهَبُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ
وہ اپنی قدرت سے مجھے عطا کر اور جس چیز سے ڈرتا ہوں اس سے اپنے غلبے کے ساتھ پناہ دے اے معبود!
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصُنْ وَجْهِی بِالْیَسارِ وَلاَ تَبْتَذِلْ جاهِی بِالْاِقْتارِ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرمااور فراخی دے کر میری عزت کو بچا اور تنگدستی سے میری آبرو کو بٹہ نہ لگنے دے
فَأَسْتَرْزِقَ أَهْلَ رِزْقِکَ وَأَسْتَعْطِیَ شِرارَ خَلْقِکَ فَأَفْتَتِنَ بِحَمْدِ مَنْ
کہ مبادا تیرے رزق خوروں سے مانگوں اور تیری مخلوق میں بُرے لوگوں سے سوال کروں تو دینے والے کی تعریف کرنے اور نہ
أَعْطانِی وَأُبْتَلی بِذَمِّ مَنْ مَنَعَنِی وَأَنْتَ مِنْ دُونِهِمْ وَلِیُّ الْاِعْطائِ
دینے والے کی بڑائی کرنے میں پھنسا رہوں جب کہ تو دینے اور نہ دینے میں ان سے زیادہ بااختیار ہے
وَالْمَنْعِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَارْزُقْنِی صِحَّةً فِی عِبادَةٍ
اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور مجھے نصیب کر عبادت میں صحت وسلامتی
وَفَراغاً فِی زَهادَةٍ وَعِلْماً فِی اسْتِعْمالٍ وَوَرَعاً فِی إجْمالٍ اَللّٰهُمَّ اخْتِمْ بِعَفْوِکَ
زہد وقناعت میں خوشحالی علم کے ساتھ عمل کی ہمت اور امور دنیا میں پرہیزگاری عطا فرما. اے معبود!
أَجَلِی وَحَقِّقْ فِی رَجائِ رَحْمَتِکَ أَمَلِی وَسَهِّلْ إلی بُلُوغِ
میری زندگی کا خاتمہ بخشش پر کر میری آرزو اپنی رحمت کی طرف لگا دے اپنی رضا تک پہنچنے کی راہیں
رِضاکَ سُبُلِی وَحَسِّنْ فِی جَمِیعِ أَحْوالِی عَمَلِی اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی
آسان بنا دے اور میرے تمام اعمال میں بہتری پیدا کر دے اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما
مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَنَبِّهْنِی لِذِکْرِکَ فِی أَوْقاتِ الْغَفْلَةِ وَاسْتَعْمِلْنِی بِطاعَتِکَ
اور غفلت کی گھڑیوں میں مجھے اپنے ذکر کے لیے ہوشیار بنا اور زندگی کے ایام میں مجھے اپنی فرمانبرداری
فِی أَیَّامِ الْمُهْلَةِ وَانْهَجْ لِی إلَی مَحَبَّتِکَ سَبِیلاً سَهْلَةً أَکْمِلْ لِی
میں لگا ،مجھے اپنی محبّت کی طرف آسان راستے پر چلا اور اس سے مجھے دنیا وآخرت کی بھلائی
بِها خَیْرَ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ کَأَفْضَلِ مَا صَلَّیْتَ
عطا کر اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما وہ بہترین رحمت جو تو نے
عَلَی أَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ قَبْلَهُ وَأَنْتَ مُصَلٍّ عَلَی أَحَدٍ بَعْدَهُ وَآتِنا
ان سے پہلے اپنی مخلوق میں سے کسی ایک پر فرمائی ہو اور جو ان کے بعد کسی پر فرمائے اور ہمیں بھلائی نصیب کر
فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الْاَخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنِی بِرَحْمَتِکَ عَذابَ النَّارِ
دنیا میں اور بھلائی عطا کر آخرت میں اور مجھے اپنی رحمت کے ساتھ آتش جہنم سے بچائے رکھ۔
حدیث شریف کسائ
صاحب عوالم نے اپنی صحیح سند کے ساتھ جابر بن عبدﷲ انصاری سے نقل کیاہے کہ:
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْرائِ عَلَیْهَا اَلسَّلَامُ بِنْتِ رَسُولِ ﷲ قالَ سَمِعْتُ فاطِمَةَ أَنَّها
جابر بن عبدﷲ انصاری بی بی فاطمہ زہرا =بنت رسول ﷲ سے روایت کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ میں
قالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ أَبِی رَسُولُ ﷲ فِی بَعْضِ الْاََیَّامِ فَقالَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا
جناب فاطمۃا لزہرائ = سے سنا ہے کہ وہ فرما رہی تھیں کہ ایک دن میرے بابا جان جناب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا میرے گھر تشریف
فاطِمَةُ فَقُلْتُ عَلَیْکَ اَلسَّلَامُ قالَ إنِّی أَجِدُ فِی بَدَنِی ضَعْفاً فَقُلْتُ لَهُ أُعِیذُکَ
لائے اور فرمانے لگے:’’ سلام ہو تم پر اے فاطمہعليهالسلام ‘‘ میں نے جواب دیا:’’آپ پر بھی سلام ہو‘‘. پھر آپ نے فرمایا:’’ میں
بِالله یَا أَبَتاهُ مِنَ الضَّعْفِ فَقالَ یَا فاطِمَةُ ایتِینِی بِالْکِسائِ الْیََمانِی فَغَطَّینِی
اپنے جسم میں کمزوری محسوس کررہا ہوں‘‘ میں نے عرض کی:’’ باباجان خدا نہ کرے جو آپ میں کمزوری آئے‘‘ آپ نے
بِه ِفَأَتَیْتُهُ بِالْکِسائِ الْیََمانِی فَغَطَّیْتُهُ بِهِ وَصِرْتُ أَنْظُرُ إلَیْهِ وَ إذا وَجْهُهُ یَتَلَأْلَأُ
فرمایا:’’اے فاطمہعليهالسلام ! مجھے ایک یمنی چادر لاکر اوڑھا دو‘‘ تب میں یمنی چادر لے آئی اور میں نے وہ بابا جان کو اوڑھادی اور
کَأَنَّهُ الْبَدْرُ فِی لَیْلَةِ تَمامِهِ وَکَمالِهِ فَمَا کانَتْ إلاَّساعَةً وَ إذا بِوَلَدِیَ الْحَسَنِ
میں دیکھ رہی تھی کہ آپکاچہرہ مبارک چمک رہا ہے جس طرح چودھویں رات کو چاند پوری طرح چمک رہا ہو ، پھر ایک ساعت
ں قَدْ أَقْبَلَ وَقالَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا أُمَّاهُ فَقُلْتُ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ یَا
ہی گزری تھی کہ میرے بیٹے حسن- وہاں آگئے اور وہ بولے سلام ہو آپ پر اے والدہ محترمہعليهالسلام ! میں نے کہا اور تم پر سلام ہو
قُرَّةَ عَیْنِی وَثَمَرَةَ فُؤَادِی فَقَالَ یَا أُمَّاهُ إنَّی أَشَمُّ عِنْدَکِ رائِحَةً طَیِّبَةً کَأَنَّها
اے میری آنکھ کے تارے اور میرے دل کے ٹکڑے. وہ کہنے لگے امی جانعليهالسلام ! میں آپکے ہاں پاکیزہ خوشبو محسوس کر رہا ہوں
رائِحَةُ جَدِّی رَسُولِ ﷲ فَقُلْتُ نَعَمْ إنَّ جَدَّکَ تَحْتَ الْکِسائِ فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ
جیسے وہ میرے نانا جان رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خوشبو ہو. میں نے کہا ہاں وہ تمہارے نانا جان چادر اوڑھے ہوئے ہیں. اس پر حسنعليهالسلام
نَحْوَ الْکِسائِ وَقالَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا جَدَّاهُ یَا رَسُولَ ﷲ أَتَأْذَنُ لِی أَنْ أَدْخُلَ
چادر کی طرف بڑھے اور کہا سلا م ہو آپ پر اے نانا جان، اے خدا کے رسول ! کیا مجھے اجازت ہے کہ آپ کے
مَعَکَ تَحْتَ الْکِسائِ فَقالَ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ یَا وَلَدِی وَیَا صاحِبَ حَوْضِی قَدْ
پاس چادر میں آجائوں؟ آپ نے فرمایا تم پر بھی سلام ہو اے میرے بیٹے اور اے میرے حوض کے مالک میں
أَذِنْتُ لَکَ فَدَخَلَ مَعَهُ تَحْتَ الْکِسائِ فَمَا کانَتْ إلاَّ ساعَةً وَ إذا بِوَلَدِیَ الْحُسَیْنِ
تمہیں اجازت دیتا ہوںپس حسنعليهالسلام آپکے ساتھ چادر میں پہنچ گئے پھر ایک ساعت ہی گزری ہوگی کہ میرے بیٹے حسینعليهالسلام بھی
قَدْ أَقْبَلَ وَقالَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا أُمَّاهُ فَقُلْتُ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ یَا وَلَدِی
وہاں آگئے اورکہنے لگے: سلام ہو آپ پر اے والدہ محترمہعليهالسلام . تب میں نے کہا اور تم پربھی سلام ہو اے میرے بیٹے، میرے
وَیَا قُرَّةَ عَیْنِی وَثَمَرَةَ فُؤَادِی فَقَالَ لِی یَا أُمَّاهُ إنَّی أَشَمُّ عِنْدَکِ رائِحَةً طَیِّبَةً کَأَنَّها
آنکھ کے تارے اور میرے لخت جگر. اس پردہ مجھ سے کہنے لگے:امی جانعليهالسلام ! میں آپ کے ہاں پاکیزہ خوشبو محسوس کررہا ہوں
رائِحَةُ جَدِّی رَسُولِ ﷲ فَقُلْتُ نَعَمْ إنَّ جَدَّکَ وَأَخاکَ تَحْتَ الْکِسائِ فَدَنَا
جیسے میرے نانا جان رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی خوشبو ہو. میں نے کہا: ہاں تمہارے نانا جان اور بھائی جان اس چادرمیں ہیں. پس
الْحُسَیْنُ نَحْوَ الْکِسائِ وَقالَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا جَدَّاهُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَنِ
حسینعليهالسلام چادر کے نزدیک آئے اور بولے: سلام ہو آپ پر اے نانا جان ! سلام ہو آپ پر اے وہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم جسے خدانے منتخب کیا
اخْتارَهُ ﷲ أَتَأْذَنُ لِی أَنْ أَکُونَ مَعَکُما تَحْتَ الْکِسائِ فَقالَ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ یَا
ہے. کیا مجھے اجازت ہے کہ آپ دونوں کیساتھ چادر میں داخل ہوجائوں؟ آپ نے فرمایا اور تم پر بھی سلام ہو اے میرے
وَلَدِی وَیَا شافِعَ أُمَّتِی قَدْ أَذِنْتُ لَکَ فَدَخَلَ مَعَهُما تَحْتَ الْکِسائِ فَأَ قْبَلَ عِنْدَ
بیٹے اوراے میری امت کی شفاعت کرنے والے ہیں. تمہیں اجازت دیتا ہوں تب حسینعليهالسلام ان دونوں کے پاس چادر میں
ذلِکَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طالِبٍ وَقالَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَابِنْتَ رَسُولِ ﷲ
چلے گئے اس کے بعد ابوالحسنعليهالسلام علی بن ابیطالبعليهالسلام بھی وہاں آگئے اور بولے سلام ہو آپ پر اے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی دختر!
فَقُلْتُ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ یَا أَبَاالْحَسَنِ وَیَاأَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَقالَ یَا فاطِمَةُ إنِّی
میں نے کہا آپ پر بھی سلام ہو اے اورابولحسنعليهالسلام ، اے مومنوں کے امیر وہ کہنے لگے اے فاطمہعليهالسلام ! میں آپ کے
أَشَمُّ عِنْدَکِ رائِحَةً طَیِّبَةً کَأَنَّها رائِحَةُ أَخِی وَابْنِ عَمِّی رَسُولِ ﷲ فَقُلْتُ
ہاں پاکیزہ خوشبو محسوس کر رہا ہوں جیسے میرے برادر اور میرے چچا زاد ،رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خوشبو ہو میں نے جواب دیا
نَعَمْ هَا هُوَ مَعَ وَلَدَیْکَ تَحْتَ الْکِسائِ فَأَقْبَلَ عَلِیٌّ نَحْوَ الْکِسائِ وَقالَ اَلسَّلَامُ
ہاں وہ آپ کے دونوں بیٹوں سمیت چادر کے اندر ہیں پھر علی چادرعليهالسلام کے قریب ہوئے اور کہا سلام ہو
عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ أَتَأْذَنُ لِی أَنْ أَکُونَ مَعَکُمْ تَحْتَ الْکِسائِ قالَ لَهُ وَعَلَیْکَ
آپ پر اے خدا کے رسول کیا مجھے اجازت ہے کہ میں بھی آپ تینوں کے پاس چادر میں آجائوں؟ آپ نے ان سے کہا
اَلسَّلَامُ یَا أَخِی ویَا وَصِیِّی وَخَلِیفَتِی وَصاحِبَ لِوَائِی قَدْ أَذِنْتُ لَکَ فَدَخَلَ
اور تم پر بھی سلام ہو، اے میرے بھائی، میرے ،قائم مقام ،میرے جانشین اور میرے علم بردار میں تمہیں اجازت دیتا ہوں
عَلِیٌّ تَحْتَ الْکِسائِ ثُمَّ أَتَیْتُ نَحْوَ الْکِسائِ وَقُلْتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَتاهُ یَا
.پس علیعليهالسلام بھی چادر میں پہنچ گئے. پھر میں چادر کے نزدیک آئی اور میں نے کہا: سلام ہو آپ پر اے بابا جان، اے
رَسُولَ ﷲ أَتَأْذَنُ لِی أَنْ أَکُونَ مَعَکُمْ تَحْتَ الْکِسائِ قالَ! وَعَلَیْکِ اَلسَّلَامُ یَا
خدا کے رسول کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کے پاس چادر میں آجائوں؟ آپ نے فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو
بِنْتِی وَیَا بِضْعَتِی قَدْ أَذِنْتُ لَکِ فَدَخَلْتُ تَحْتَ الْکِسائِ فَلَمَّا اکْتَمَلْنا جَمِیعاً
میری بیٹی اور میری پارہ اے جگر، میں نے تمہیں اجازت دی تب میں بھی چادر میں داخل ہوگئی. جب ہم سب چادر
تَحْتَ الْکِسائِ أَخَذَ أَبِی رَسُولُ ﷲ بِطَرَفَی الْکِسائِ وَأَوْمَأَ بِیَدِهِ الْیُمْنَی إلَی
میں اکٹھے ہوگئے تو میرے والد گرامی رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم نے چادر کے دونوں کنارے پکڑے اور دائیں ہاتھ سے آسمان کی طرف
السَّمائِ وَقالَ اَللّٰهُمَّ إنَّ هَؤُلائِ أَهْلُ بَیْتِی وَخاصَّتِی وَحامَّتِی
اشارہ کر کے فرمایا: اے خدا! یقیناً یہ ہیں میرے اہل بیتعليهالسلام ، میرے خاص لوگ، اور میرے حامی،
لَحْمُهُمْ لَحْمِی وَدَمُهُمْ دَمِی یُؤْلِمُنِی مَا یُؤْلِمُهُمْ وَیَحْزُنُنِی مَا یَحْزُنُهُمْ أَنَا
ان کا گوشت میرا گوشت اور ان کا خون میرا خون ہے جو انہیں ستائے وہ مجھے ستاتا ہے اور جو انہیں رنجیدہ کرے وہ مجھے
حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَهُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سالَمَهُمْ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عَاداهُمْ وَمُحِبٌّ لِمَنْ
رنجیدہ کرتا ہے. جو ان سے لڑے میں بھی اس سے لڑوں گا جو ان سے صلح رکھے میں بھی اس سے صلح رکھوں گا، میں ان کے
أَحَبَّهُمْ إنَّهُمْ مِنِّی وَأَنَا مِنْهُمْ فَاجْعَلْ صَلَواتِکَ وَبَرَکاتِکَ وَرَحْمَتَکَ وَغُفْرانَکَ
دشمن کا دشمن اور ان کے دوست کا دوست ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں. پس اے خدا تو اپنی عنائتیں اور
وَرِضْوانَکَ عَلَیَّ وَعَلَیْهِمْ وَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِیراً فَقالَ ﷲ
اپنی برکتیں اور اپنی رحمت اور اپنی بخشش اور اپنی خوشنودی میرے اور ان کیلئے قرار دے، ان سے ناپاکی کو دور رکھ، انکو پاک
عَزَّ وَجَلَّ یَا مَلائِکَتِی وَیَا سُکَّانَ سَمٰوَاتِی إنَِّی مَا خَلَقْتُ سَمائً مَبْنِیَّةً وَلاَ
کر، بہت ہی پاک اس پر خدائے بزرگ و برتر نے فرمایا: اے میرے فرشتو اور اے آسمان میں رہنے والو بے شک میں
أَرْضاً مَدْحِیَّةً وَلاَ قَمَراً مُنِیراً وَلاَ شَمْساً مُضِییَةً وَلاَ فَلَکاً یَدُورُ وَلاَ بَحْراً
نے یہ مضبوط آسمان پیدا نہیں کیا اور نہ پھیلی ہوئی زمین، نہ چمکتا ہوا چاند، نہ روشن تر سورج، نہ گھومتے ہوئے سیارے، نہ
یَجْرِی وَلاَ فُلْکاً یَسْرِی إلاَّ فِی مَحَبَّةِ هَؤلائِ الْخَمْسَةِ الَّذِینَ هُمْ تَحْتَ
تھلکتا ہوا سمندر اور نہ تیرتی ہوئی کشتی، مگر یہ سب چیزیں ان پانچ نفوس کی محبت میں پیدا کی ہیں جو اس چادر کے نیچے ہیں.
الْکِسائِ فَقالَ الْاََمِینُ جَبْرائِیلُ یَارَبِّ وَمَنْ تَحْتَ الْکِسائِ فَقالَ عَزَّ وَجَلَّ هُمْ
اس پر جبرائیلعليهالسلام امین نے پوچھا اے پروردگار! اس چادر میں کون لوگ ہیں؟ خدائے عز وجل نے فرمایاکہ وہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہلبعليهالسلام یت
أَهْلُ بَیْتِ النُّبُوَّةِ وَمَعْدِنُ الرِّسالَةِ هُمْ فاطِمَةُ وَأَبُوها وَبَعْلُها وَبَنُوها فَقالَ
اور رسالت کا خزینہ ہیں. یہ فاطمہعليهالسلام اور ان کے بابا ، ان کے شوہرعليهالسلام ، اور ان کے دو بیٹےعليهالسلام ہیں. تب جبرئیلعليهالسلام نے کہااے پروردگار!
جَبْرائِیلُ یَارَبِّ أَتَأْذَنُ لِی أَنْ أَهْبِطَ إلَی الْاََرْضِ لاََِکُونَ مَعَهُمْ سادِساً فَقالَ
کیا مجھے اجازت ہے کہ زمین پر اتر جائوں تا کہ ان میں شامل ہوکر چھٹا فردبن جائوں؟ خدائے تعالیٰ نے فرمایا:
قَدْ أَذِنْتُ لَکَ فَهَبَطَ الْاََمِینُ جَبْرائِیلُ وَقالَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ ﷲ الْعَلِیُّ
ہاں ہم نے تجھے اجازت دی، پس جبرئیل امین زمین پر اتر آئے اور عرض کی: سلام ہو آپ پر اے خدا کے رسول ! خدا ئے
الْاَعْلی یُقْرِئُکَ السَّلامَ وَیَخُصُّکَ بِالتَّحِیَّةِ وَالْاِکْرامِ وَیَقُولُ لَکَ وَعِزَّتِی
بلند و برتر آپ کو سلام کہتا ہے، آپ کو درود اور بزرگواری سے خاص کرتا ہے، اور آپ سے کہتا ہے مجھے اپنے عزت و جلال
وَجَلالِی إنَّی مَا خَلَقْتُ سَمائً مَبْنِیَّةً وَلاَ أَرْضاً مَدْحِیَّةً وَلاَ قَمَراً مُنِیراً وَلاَ
کی قسم کہ بے شک میں نے نہیں پیدا کیا مضبوط آسمان اور نہ پھیلی ہوئی زمین، نہ چمکتا ہوا چاند، نہ
شَمْساً مُضِیئَةً وَلاَ فَلَکاً یَدُورُ وَلاَ بَحْراً یَجْرِی وَلاَ فُلْکاً یَسْرِی إلاَّ لاََِجْلِکُمْ
روشن تر سورج نہ گھومتے ہوئے سیارے، نہ تھلکتا ہوا سمندر اور نہ تیرتی ہوئی کشتی مگر سب چیزیں تم پانچوں کی محبت
وَمَحَبَّتِکُمْ وَقَدْ أَذِنَ لِی أَنْ أَدْخُلَ مَعَکُمْ فَهَلْ تَأْذَنُ لِی یَا رَسُولَ ﷲ فَقالَ
میں پیدا کی ہیں اور خدا نے مجھے اجازت دی ہے کہ آپ کے ساتھ چادر میں داخل ہو جائوں تو اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا آپ
رَسُولُ ﷲ وَعَلَیْکَ اَلسَّلَامُ یَا أَمِینَ وَحْی ﷲ إنَّهُ نَعَمْ قَدْ أَذِنْتُ لَکَ فَدَخَلَ
بھی اجازت دیتے ہیں؟ تب رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے فرمایاکہ تم پر بھی سلام ہو اے خدا کی وحی کے امینعليهالسلام ! ہاں میں تجھے اجازت دیتا
جَبْرائِیلُ مَعَنا تَحْتَ الْکِسائِ فَقالَ لاََِبِی إنَّ ﷲ قَدْ أَوْحَی إلَیْکُمْ یَقُولُ إنَّمَا
ہوں پھر جبرائیلعليهالسلام بھی ہمارے ساتھ چادر میں داخل ہوگئے اور میرے باباجان سے کہا کہ یقیناً خدا آپ لوگوں کو وحی بھیجتا
یُرِیدُ ﷲ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیراًفَقالَ عَلِیٌّ
اور کہتا ہے واقعی خدا نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ آپ لوگوں سے ناپاکی کو دور کرے اے اہل بیتعليهالسلام اور آپ کو پاک و پاکیزہ
لاََِبِی یَا رَسُولَ ﷲ أَخْبِرْنِی مَا لِجُلُوسِنا هذَا تَحْتَ الْکِسائِ مِنَ الْفَضْلِ عِنْدَ
رکھے تب علیعليهالسلام نے میرے باباجان سے کہا:اے خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم مجھے بتایئے کہ ہم لوگوں کا اس چادر کے اندر آجانا خدا کے
ﷲ فَقالَ النَّبِیُّ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَالَّذِی بَعَثَنِی بِالْحَقِّ نَبِیَّاًوَاصْطَفانِی
ہاں کیا فضیلت رکھتا ہے؟ تب حضرت رسول خدا نے فرمایا اس خدا کی قسم جس نے مجھے سچا نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم بنایااور لوگوں کی نجات کی
بِالرِّسالَةِ نَجِیّاً مَا ذُکِرَ خَبَرُنا هذَا فِی مَحْفِلٍ مِنْ مَحافِلِ أَهْلِ الْاََرْضِ وَفِیهِِ
خاطر مجھے رسالت کے لیے چنا۔ اہل زمین کی محفلوں میں سے جس محفل میں ہماری یہ حدیث بیان کی جائے گی اور اس
جَمْعٌ مِنْ شِیعَتِنا وَمُحِّبِینا إلاَّ وَنَزَلَتْ عَلَیْهِمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْ بِهِمُ الْمَلائِکَةُ
میں ہمارے شیعہ اوردوست دار جمع ہونگے تو ان پر خدا کی رحمت نازل ہوگی فرشتے ان کو حلقے میں لے لیں گے اور جب
وَاسْتَغْفَرَتْ لَهُمْ إلی أَنْ یَتَفَرَّقُوا فَقالَ عَلِیٌّ ں إذنْ وَﷲ فُزْنَا
تک وہ لوگ محفل سے رخصت نہ ہونگے وہ ان کے لیے بخشش کی دعا کریں گے. اس پر علیعليهالسلام بولے: خدا کی قسم ہم کامیاب
وَفازَ شِیعَتُنا وَرَبِّ الْکَعْبَةِ فَقالَ أَبِی رَسُولُ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ یَا
ہوگئے اور رب کعبہ کی قسم ہمارے شیعہ بھی کامیاب ہوں گے تب حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دوبارہ فرمایا:اے علیعليهالسلام اس خدا کی قسم
عَلِیُّ وَالَّذِی بَعَثَنِی بِالْحَقِّ نَبِیّاً وَاصْطَفَانِی بِالرِّسالَةِ نَجِیّاً مَا ذُکِرَ خَبَرُنا هذَا
جس نے مجھے سچا نبی بنایا اور لوگوں کی نجات کی خاطر مجھے رسالت کے لیے چنا، اہل زمین کی محفلوں میں
فِی مَحْفِلٍ مِنْ مَحَافِلِ أَهْلِ الْاََرْضِ وَفِیهِِ جَمْعٌ مِنْ شِیعَتِنا وَمُحِبِّینا وَفِیهِمْ
سے جس محفل میں ہماری یہ حدیث بیان کی جائے گی اور اس میں ہمارے شیعہ اور دوستدار جمع ہوں گے تو ان میں جو کوئی
مَهْمُومٌ إلاَّ وَفَرَّجَ ﷲ هَمَّهُ وَلاَ مَغْمُومٌ إلاَّ وَکَشَفَ ﷲ غَمَّهُ وَلاَ طالِبُ حاجَةٍ
دکھی ہوگا خدا اس کا دکھ دور کر دے گا جو کوئی غمز دہ ہوگا، خدا اس کو غم سے چھٹکارا دے گا، جو کوئی حاجت مند ہوگا خدا اس کی
إلاَّ وَقَضَی ﷲ حاجَتَهُ فَقالَ عَلِیٌّ ں إذن وَﷲ فُزْنا وَسُعِدْنا
حاجت پوری کرے گا تب علیعليهالسلام کہنے لگے بخدا ہم نے کامیابی اور برکت پائی اور رب کعبہ کی قسم کہ اسی طرح ہمارے شیعہ
وَکَذلِکَ شِیعَتُنا فازُوا وَسُعِدُوا فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ
بھی دنیا و آخرت میں کامیاب و سعادت مند ہوں گے۔
تَمَّت بِتُوْفِیْقِ ﷲ تَعَالیٰ
(الباقیات الصالحات )
(مقدمہ)
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحْیمِ الْحَمْدُ ﷲِ الَّذِی سَمَکَ السَّمَائَ وَنَدَبَ عِبَادَهُ إلَی الدُّعائِ
خدا کے نام سے (شروع کرتا ہوں)جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے حمد ہے اس خدا کیلئے جس نے آسمان کو بلند کیا اور اپنے
وَالصَّلاةُ وَاَلسَّلاَمُ عَلَی مَنْ قَدَّمَهُ فِی الْاِصْطِفَائِ مُحَمَّدٍ خاتَمِ الْاِنبِیَائِ وَعَلَی آلِهِ
بندوں کو دعا کی طرف رغبت دلائی۔ درود و سلام ہو اس ذات پر جسے اس نے برگذیدوںکا پیشوا قرار دیا کہ وہ نبیوں کے خاتم محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور
الطَّاهِرِینَ مَصابِیحِ الدُّجی سِیَّما عَلَی قَائِمِهِمْ خاتَمِ الاَوْصِیائِ
ان کی پاک اولاد پر سلام ہو۔جو تاریکی کے چراغ ہیں خصوصاً ان میں سے قائم پرسلام ہو، جو آخری وصی ہیں
اس کے بعد یہ روسیاہ، گناہگار، خدا کی بارگاہ میں کوتاہی کرنے والا عباس بن محمد رضا القمی (خدا ان دونوں سے در گذر فرمائے)عرض کرتا ہے کہ میں نے اس کتاب میں دن اور رات کے اعمال، بعض منقول نمازیں، چند تعویذ، حرز، مختصر اذکار اور دعائیں بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص اور تجہیز و تکفین کے مسائل جمع کرکے اسے مفاتیح الجنان کا ضمیمہ بنایا ہے تا کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے مکمل اور مفید بن جائے۔ میں نے اس مختصر کتاب کا نام ’’باقیات الصالحات فی ادعیہ و صلوات قرار دیا ہے جب کہ خدا وندمتعال نے فرمایا ہے:وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْر’‘ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَاباً وَخَیْرٌ أَمَلاً
اور باقی رہنے والے نیک کام تمھارے ربّ کے ہاں ثواب میں بہتر اور آرزومیں عمدہ ہیں
میں نے اس کتاب کو چھ ابواب اور ایک خاتمہ پر مرتب کیا ہے ۔
(پہلا باب:) دن رات کے مختصر اعمال۔
(دوسراباب:) بعض مستحب نمازیں ۔
(تیسرا باب :) بیماری اور درد کے تعویذات اور دعائیں
(چوتھا باب:) کتاب کافی سے منتخب شدہ دعائیں
(پانچواں باب:) مہج الدعوات سے منتخب احراز اور دعائیں
(چھٹا باب:) چند سورتوں اور آیتوں کے خواص
(خاتمہ ) اموات کے متعلق مختصر احکام کے بیان میں ہے ۔
برادران ایمانی و شیعیان حیدر کرارعليهالسلام سے امید واثق ہے کہ مؤلف جو مجرم و عاصی ہے وہ اسے اسکی زندگی میں اور موت کے بعد بھی دعا و طلب مغفرت کے وقت فراموش نہ فرمائینگے ۔ شیخ عباس قمی النجفی
(پہلا باب )
(شب و روز کے اعمال)
اسمیں شب وروز کے مختصر اعمال کا ذکر ہے اسکی چند فصلیں ہیں۔
(پہلی فصل):اعمال مابین طلوعین
اس فصل میں ان اعمال کا بیان ہے جو طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک کے وقت سے تعلق رکھتے ہیں۔ جاننا چاہیے کہ طلوع فجر اور طلوع آفتاب کا درمیانی وقت اوقات شریفہ میں سے ہے۔ اس وقت کی فضیلت اور اس میں عبادت اور ذکر الٰہی کرنے کی ترغیب و تحریص میں اہل بیتعليهالسلام سے بہت زیادہ رو ایات بیان ہوئی ہیں ، بعض اخبار میں اس وقت کو غفلت کی ساعت کانام دیا گیا ہے۔ جیسا کہ امام محمدعليهالسلام باقر سے نقل ہوا ہے کہ ابلیس ملعون دو وقتوں میں اپنے لشکروں کوپوری دنیا میں پھیلاتاہے وہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے اوقات ہیں۔ لہذا تم ان دو وقتوں میں خدا کو بہت یاد کیا کرو ،ابلیس اور اس کے لشکروں کے شر سے پناہ طلب کرو اور ان اوقات میں اپنے بچّوں کو خدا کی امان میں قرار دیا کرو کہ یہ دونوں وقت غفلت کی ساعتیں ہیں یاد رکھو کہ ان دونوں وقتوں میں سونا مکروہ ہے۔ جیسا کہ امام باقر - ہی سے مروی ہے کہ صبح کے وقت سونا بدبختی اور نحوست ہے ، اس وقت کا سونا رزق کو روکتا اور بدن کی رنگت کو زرد کر دیتا ہے اس وقت میں سونا بدقسمی کا موجب ہے کیونکہ حق تعالیٰ طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک رزق کی تقسیم فرماتا ہے پس ایسے وقت میں سونے سے پرہیز کرو۔ شیخ طوسی نے مصباح میں نقل فرمایا ہے کہ صبح صادق کے نمودار ہونے کے وقت یہ دُعا پڑھی جائے ۔
اَللَّهُمَّ أَنْتَ صاحِبُنا فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَفْضِلْ عَلَیْنا اَللّٰهُمَّ بِنِعْمَتِکَ تَتِمُّ الصَّالِحات
اے معبود تو ہمارا مالک ہے پس محمد اور اُن کی آلعليهالسلام پر رحمت فرما اور ہمیںبخش دے اے معبود تیری نعمت سینیکیوں کی تکمیل ہوتی ہے
ُ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِوَأَتْمِمْها عَلَیْنا عائِذاً بِالله مِن النَّارِ، عائِذاً بِالله مِنَ النَّارِعائِذاً
پس درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر ور ہمیں نعمتوں سے نواز،آتش جہنمسے خداکی پناہ ،آتش جہنم سے خدا کی پناہ، آتش جہنم سے خدا
بِالله مِنَ النَّارِ پهر کهیں:یَا فالِقَهُ مِنْ حَیْثُ لاَ أَری، وَمُخْرِجَهُ مِنْ أَری، وَمُخْرِجَهُ مِنْ
کی پناہ ،اے صبح کی اس جگہ سے ایجادکرنے والے جسے میں دیکھتا نہیں اور اس جگہ سے نکالنے والے جسے میںدیکھتا ہوں تو
حَیْثُ أَری صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاجْعَلْ أَوَّلَ یَوْمِنا هذَا صَلاحاً، وَأَوْسَطَهُ فَلاحاً
رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر اور آج کے دن کے پہلے حصے کو ہمارے لیے بہتری والادرمیانی کو فائدے والا اور آخری حصے کو
وَآخِرَهُ نَجاحاً ۔اس کے بعد دس مرتبہ کہے:اَللّٰهُمَّ إنِّی أُشْهِدُکَ أَنّهَُ مَا أَصْبَحَ بِی مِنْ نِعْمَةٍ
کامیابی والا بنا ۔اے معبود! میں تجھے گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ مجھے صبح کے وقت دینی و دنیوی جو بھی نعمت و راحت ملتی ہے وہ تیری
َوْعافِیَةٍ فِی دِینٍ أَوْ دُنْیا فَمِنْکَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ، لَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ
طرف سے ہے و یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہر نعمت و راحت پر تیری حمد و شکر کرنا
الشُّکْرُ بِها عَلَیَّ حَتَّی تَرْضَی وَبَعْدَالرِّضا ۔علاوہ ازیں اس وقت کیلئے کئی ایک اذکار بیان
مجھ پر واجب ہے ، حتیٰ کہ تو راضی ہو جائے اور راضی رہے
ہوئے ہیں ان میں بہتر ذکر یہ ہے:سُبْحانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ ،اوراس
پاک ہے ﷲ حمد خدا ہی کے لیے ہے نہیں کوئی معبود سواے ﷲ کے اور ﷲ بزرگ تر ہے ۔
ذکر کو باقیات الصالحات سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس دعا کا پڑھنا بھی مناسب ہے ۔
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ یُحْیِ وَیُمِیتُ وَیُمِیتُ وَیُحْیِی
ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں حکومت اور حمد اسی کے لیے ہے وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور موت دیتا اورزندہ کرتا
وَهُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُوَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِْیرٌ ۔ جب صبح کی اذان سُنیں تو کہیں:
ہے اور وہ ایسا زندہ ہے کہ جسے موت نہیں ہر نیکی اس کے اختیار میں ہے اور وہ ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے ۔
اَللَّهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِ إقْبالِ نَهارِکَ وَ إدْبارِ لَیْلِکَ وَحُضُورِ صَلَواتِکَ وَأَصْواتِ
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے دن کے آنے، تیری رات کے جانے اورتیری نماز کا وقت ہونے
دُعائِکَ وَتَسْبِیحِ مَلائِکَتِکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَتُوبَ عَلَیَّ
تجھے پکارنے والی آوازوں اور تیرے فرشتوں کی تسبیح کے واسطے سے کہ تو رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر اور یہ کہ میری توبہ قبول کر کہ بیشک تو ہی
إنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ
توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
(آداب تخلی )
جب نماز کی تیاری کرنے لگیں اور بیت الخلائ میں جانے کی حاجت بھی ہو توپہلے بیت الخلائ جائیں اور پہلے بایاں پائوں اندر رکھیں (بیت الخلا کے آداب بہت زیادہ ہیں جن میں چند ایک یہاں ذکر کئے جا رہے ہیں۔) چنانچہ جب اپنا بایاں پائوں اندر رکھیں تو یہ دُعا پڑھیں:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله أَعُوذُ بِالله مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ الْخَبِیثِ الْمُخْبِث الشَّیْطانِ الرَّجِیمِ
خدا کے نام اور خدا کی ذات کے ذریعے خدا کی پناہ لیتا ہوں ناپاک غلیظ، گندے اور گندہ کرنے والے راندے ہوئے شیطان سے ۔
جب اپنا کپڑا ہٹاے تو بسم ﷲ پڑھے، اس حالت میں بلکہ ہر حالت میں اپنی شرمگاہ کو ہر محترم ناظر سے چھپائے بیت الخلا میں قبلہ رخ و پشت بہ قبلہ بیٹھنا حرام ہے اور مستحب ہے کہ رفع حاجت کے وقت یہ پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ أَطْعِمْنِی طَیِّباً فِی عافِیَةٍ وَأَخْرِجْهُ مِنِّی خَبِیثاً فِی عافِیَةٍ ۔ اور جب پاخانے پر نظر پڑے تو کہیں :
اے معبود !مجھے پاک غذا آسائش کیساتھ نصیب فرمااورجب وہ ناپاک ہو جائے تو بھی اسے آسائش سے باہر نکال دے
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی الْحَلالَ وَجَنِّبْنِی الْحَرَامَ استنجائ سے پہلے استبرا کریں اور جب وضو کیلئے پانی پر نظر پڑے تو کہیں
اے معبود! مجھے رزق حلال عطا فرما اور حرام سے بچائے رکھ۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی جَعَلَ الْمائَ طَهُوراً وَلَمْ یَجْعَلْهُ نَجِساً ۔ استنجا کرتے وقت یہ دعا پڑھیں:
حمد ہے خدا کے لیے جس نے پانی کو پاکیزہ بنایا اور اسے ناپاک نہیں بنایا
اَللَّهُمَّ حَصِّنْ فَرْجِی وَأَعِفَّهُ وَاسْتُرْ عَوْرَتِی وَحَرِّمْنِی عَلَی النَّارِ ۔ جب اٹھ کھڑے ہوں تو اپنا دایاں
خدایا میری شرم گاہ کو محفوظ اور بے عیب رکھ میری پردہ پوشی فرما اور میرے بدن کو جہنم پر حرام کردے
ہاتھ پیٹ پر پھیرتے ہوئے یہ کہیں:الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی أَماطَ عَنِّی الْاَذیٰ وَهَنَّأَنِی طَعامِی وَشَرابِی
حمد ہے خدا کیلئے جس نے آزار کو مجھ سے دور کیا میرے کھانے پینے کو میرے لیے خوشگوار بنایا
وَعافانِی مِنَ الْبَلْوٰی ۔ جب بیت الخلائ سے باہر نکلے تو پہلے دایاں پاؤں باہر رکھے اور یہ دعا پڑھے :
اور مجھے تکلیفوں سے بچایا۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی عَرَّفَنِی لَذَّتَهُ وَأَبْقَی فِی جَسَدِی قُوَّتَهُ وَأَخْرَجَ عَنِّی أَذاهُ یَا لَها نِعْمَةً
حمد ہے خدا کیلئے کہ جس نے مجھے غذاکی لذت بخشی اس کی قوت میرے بدن میں باقی رکھی اور اس کے آزار کو مجھ سے دور کیا ،کیا خوب نعمت ہے
یَا لَها نِعْمَةً یَا لَها نِعْمَةً، لاَ یُقَدِّرُ الْقادِرُونَ قَدْرَهَا
کیا خوب نعمت ہے ،کیا خوب نعمت ہے کہ اندازہ لگانے والے اس کی خوبی کا اندازہ نہیں کرسکتے ۔
(آداب وضو )
(فضیلت مسواک )
جب وضو کا ارادہ کرے تو پہلے مسواک کرے کہ اس سے منہ پاکیزہ اور خوشبودار ہو جاتا ہے ،بلغم خارج ہو جاتی ہے قوت حافظہ میں اضافہ ہوتا ہے نیکیاں بڑھ جاتی ہیں اور اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے مسواک کے ساتھ ادا کی جانے والی دو رکعتیں مسواک کے بغیر پڑھی جانے والی ستر رکعتوں سے افضل ہیں اگر مسواک نہ مل سکے تو دانتوں کو انگلی سے صاف کرنا بھی کافی ہے بہتر ہے کہ وضو کرتے وقت قبلہ رخ ہوکر بیٹھے پانی کا برتن داہنی طرف رکھے اور جب پانی پر نگاہ پڑے تو یہ دعا پڑھے :
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی جَعَلَ الْمائَ طَهُوراً وَلَمْ یَجْعَلْهُ نَجِساً ۔ پانی کے برتن کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہاتھوں کو
حمد ہے خدا کے لیے جس نے پانی کو پاکیزہ بنایا اور اسے ناپاک نہیںبنایا۔
دھوئے اور یہ دعا پڑھے:بِسْمِ ﷲ وَبِالله اَللَّهُمَّ اجْعَلْنِی مِنَ التَّوَّابِینَ وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَهِّرِینَ ۔
خدا کے نام سے اور اس کی ذات کے سہارے سے خدایا تو مجھے توبہ کرنے اور پاک وپاکیزہ رہنے والوں میں قرار دے۔
اب تین چلو پانی سے تین مرتبہ کلی کرے اور کہے:اَللّٰهُمَّ لَقِّنِی حُجَّتِی یَوْمَ أَلْقاکَ، وَأَطْلِقْ لِسانِی بِذِکْراکَ
خدایا قیامت میں پیشی کے وقت مجھے میری حجت بتا دینا اور میری زبانکو اپنے ذکر میں رواں کر دینا۔
پھر تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے اور کہے:اَللّٰهُمَّ لاَ تُحَرِّمْ عَلَیَّ رِیحَ الْجَنَّةِ وَاجْعَلْنِی مِمَّنْ یَشَمُّ
خدایا مجھ پر جنت کی خوشبو حرام نہ فرمااور مجھے ان لوگوں میں رکھ ،راحت اور ہوا جوجنت کی خوشبوسے
رِیحَهَا وَرَوْحَهَا وَطِیبَها ۔ منہ دھوئے اور کہے:اَللّٰهُمَّ بَیِّضْ وَجْهِی یَوْمَ تَسْوَدُّ الْوُجُوھُ وَلاَ بہرہ یاب ہوں گے۔ اے معبود میرے چہرے کو اس دن سفید کرنا جب چہرے سیاہ ہونگے اور میرے چہرے کو اس دن سیاہ نہ
تُسَوِّدْ وَجْهِی یَوْمَ تَبْیَضُّ الْوُجُوهُ ۔ پھر چلو میں پانی لیکر دائیں ہاتھ کو دھوئے اور اس وقت یہ کہے
کرنا جب چہرے سفید ہونگے۔
اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِی کِتَابِی بِیَمِینِی وَالْخُلْدَ فِی الْجِنانِ بِیَسارِی وَحاسِبْنِی حِساباً یَسِیراً ۔
خدایا میرا نامہ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دینا مجھے ہمشہ جنت میں رہنے کا اختیار دینا اور میرا حساب سہولت کے ساتھ لینا۔
اب بائیں ہاتھ کو دھوئے اور یہ کہے :اَللَّهُمَّ لاَ تُعْطِنِی کِتَابِی بِشِمَالِی وَلاَ مِنْ وَرَائِ ظَهْرِی
خدایا میرا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں نہ دینا اور نہ پیٹھ پیچھے سے دینا اور نہ
وَلاَ تَجْعَلْها مَغْلُولَةً إلَی عُنُقِی وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ مُقَطَّعَاتِ النِّیرانِ ۔ اسکے بعد دائیں ہاتھ کی
اس کو میرے گلے میں لٹکانا اور میں جہنم کے انگاروں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
تری سے سر کے اگلے حصے کا مسح کرے اور کہے:اَللّٰهُمَّ غَشِّنِی رَحْمَتَکَ وَبَرَکاتِکَ ۔
خدایا مجھے اپنی رحمت اور برکتوں سے ڈھانپ دے
پھر دونوں پیروں کا مسح کرے اور یہ دعا پڑھے :اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْنِی عَلَی الصِّراطِ یَوْمَ تَزِلُّ فِیْهِ الْاَقْدَامُ
خدایا اس دن مجھے صراط پر ثابت قدم رکھنا جب قدم پھسل رہے ہوں گے
وَاجْعَلْ سَعْیِی فِیما یُرْضِیکَ عَنِّی یَا ذَاالْجَلالِ وَالْاِکرام جب وضو کر چکے تو یہ کہے:الّھُمَّ
اور میری کوشش کو ان کاموں میں قرار دے جو تجھے پسند ہیں اے جلال واکرام کے مالک ۔ اے معبود!
إنِّی أَسْأَلُکَ تَمَامَ الْوُضُوئِ وَتَمَامَ ا لصَّلاةِ وَتَمامَ رِضْوَانِکَ وَالْجَنَّةَ ۔ اسکے بعد کہے:
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرا وضو کامل ہو نماز مکمل ہو اور مجھے تیری خوشنودی اور جنت حاصل ہو ۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ ۔
حمد ہے خدا کے لیے جو جہانوں کا رب ہے۔
اور اسکے بعد تین مرتبہ ’’سورہ قدر‘‘ پڑھے وضو کے بعد خوشبو لگائے اور مسجد کی طرف سکون و وقار سے چل پڑے۔
مسجد میں جاتے وقت کی دعا
مسجد کیطرف چلتے ہوئے کہے:بِسْمِ ﷲ الَّذِی خَلَقَنِی فَهُوَ یَهْدِینِی
اس خدا کے نام سے جس نے مجھے پیدا کیا پس وہی ہدایت دیتا ہے
وَالَّذِی هُوَ یُطْعِمُنِی وَیَسْقِینِی وَ إذا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِینِی وَالَّذِی یُمِیتُنِی ثُمَّ یُحْیِینِی
وہی مجھے کھلاتا پلاتا ہے اور بیمار ہو جائوں تو مجھے شفا بخشتا ہے وہی مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا اور اسی سے امید ہے کہ روز قیامت
وَالَّذِی أَطْمَعُ أَنْ یَغْفِرَلِی خَطِیئَتِی یَوْمَ الدِّینِ رَبِّ هَبْ لِی حُکْماً وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ
میری خطائیں معاف کرے گا پالنے والے مجھے حکمت عطا فرما اور نیکو کاروں میں شامل کردے بعد میں آنے والوں میں میرے حق میں سچ
وَاجْعَلْ لِی لِسانَ صِدْقٍ فِی الاَْخِرِینَ، وَاجْعَلْنِی مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیمِ وَاغْفِرْ لاََِبِی
بولنے والی زبان قرار دے مجھے نعمتوں بھری جنت کے وارثوں میں شامل کر اور میرے والد کوبخش دے ۔
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا
جب مسجد میں داخل ہونے لگے تو اپنے جوتوں کے تلووں کو اچھی طرح دیکھ لے کہ ان پر نجاست نہ لگی ہو پھر پہلے دایاں پائوں اندر رکھے اور یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَمِنَ ﷲ وَ إلَی ﷲ وَخَیْرُ الْاَسْمائِ کُلِّها لِلّٰهِ تَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ وَلاَ حَوْلَ
خدا کے نام سے اور خدا کے سہارے سے، خدا کی طرف سے تمام بہترین نام خدا کے لیے ہیں میں خدا پر بھر وسہ کرتا ہوں نہیں کوئی حرکت و قوت
وَلاَ قُوَّةَ إلاَّبِالله اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْتَحْ لِی أَبْوابَ رَحْمَتِکَ
مگر خدا ہی کیطرف سے ہے اے معبود! رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمد پر میرے لیے اپنی رحمت اور توبہ کے
وَتَوْبَتِکَ وَأَغْلِقْ عَنِّی أَبْوابَ مَعْصِیَتِکَ وَاجْعَلْنِی مِنْ زُوَّارِکَ وَعُمَّارِ مَساجِدِکَ،
دروازے کھول دے اورمیرے لیے نافرمانی کے دروازے بند کردے مجھے اپنے پاک گھر کے زائروں اور مسجدیں آباد کرنے
وَمِمَّنْ یُناجِیکَ فِی اللَّیْلِ وَالنَّهارِ، وَمِنَ الَّذِینَ هُمْ فِی صَلاتِهِمْ خاشِعُون وَادْحَرْ عَنِّی
والوں میں رکھ اور ان میں جو رات دن تجھ سے دعا کرتے ہیں ان میں سے جو نماز میں عاجزی و خوف کا اظہار کرتے ہیں اور
الشَّیْطانَ الرَّجِیمَ وَجُنُودَ إبْلِیسَ أَجْمَعِینَ
راندے ہوئے شیطان اور اس کے تمام لشکروں کومجھ سے دور کر دے۔
آداب نماز
جب نماز کا ارادہ کرے تو کہے:
اَللَّهُمَّ إنِّی أُقَدِّمُ إلَیْک مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ بَیْنَ یَدَیْ حاجَتِی وَ َأَتَوَجَّهُ بِهِ إلَیْکَ
اے معبود! میں اپنی حاجات بیان کرنے سے پہلے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیرے حضور پیش کرتاہوںاور ان کے ذریعے حاضر ہوتا
فَاجْعَلْنِی بِهِ وَجِْیهاً عِنْدَکَ فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ وَاجْعَلْ صَلاتِی بِهِ
ہوں پس ان کے واسطے مجھے اپنے حضور دنیا و آخرت میں باعزت اور مقربوں میں قرار دیاور ان کے وسیلے میری نماز
مَقْبُولَةًوَذَنْبِی بِهِ مَغْفُوراًوَدُعائِی بِهِ مُسْتَجاباً إنَّکَ أَنْت الْغَفُورُ الرَّحِیمُ
کو قبول فرما ان کے واسطے میرے گناہ بخش دے ان کی خاطر میری دعا قبول کرلے بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے.
اذان واقامت کے درمیان کی دعا
پھر نماز کیلئے اذان و اقامت کہے اور ان کے درمیان ایک سجدہ یا ایک نشست کا فاصلہ دے اور یہ دُعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ قَلْبِی بَارّاً وَعَیْشِی قَارّاً وَرِزْقِی دَارّاً وَاجْعَلْ لِی عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِکَ صَلَّی
اے معبود! میرے دل کو نیک میریزندگی کو آسودہ اور میرے رزق کومسلسل کر دے اور میرے لیے اپنے رسول
ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ مُسْتَقَرّاً وَقَرَاراً
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ پاک کے نزدیک ٹھکانا اور قرارگاہ بنا دے ۔
اس وقت خدا سے جو دُعا چاہے مانگے اور جو حاجت چاہے طلب کرے کیونکہ اذان و اقامت کے درمیان مانگی ہوئی دُعا رد نہیں ہوتی، اقامت کے بعد یہ کہے:
اَللَّهُمَّ إلَیْکَ تَوَجَّهْتُ وَمَرْضَاتَک طَلَبْتُ وَثَوابَکَ ابْتَغَیْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْک
اے معبود !میں تیری طرف متوجہ ہوں تیری خوشنودی کاطالب تیرے ثواب کا خواہش مند تجھ پر ایمان رکھتا ہوں اور تجھ پر
تَوَکَّلْتُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِی لِذِکْرِکَ وَثَبِّتْنِی
بھروسہ کرتا ہوں اے معبودمحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور اپنے ذکر کیلئے میرے دل کے کان کھول دے اور مجھ کو اپنے اور
عَلَی دِینِکَ وَدِینِ نَبِیِّکَ وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنِی وَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً
اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دین پرقائم رکھ ہدایت کے بعد میرے دل میں کجی نہ آنے دے اور مجھ پر اپنی خاص رحمت فرماکہ بیشک تو
إنَّکَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
بہت عطا کرنے والا ہے ۔
پس اب نماز کے لیے تیار ہوجاے، اپنے دل کو حاضر کرے، اپنی پستی اور اپنے مولا کی عظمت کو دل میں لائے کہ اس ذات کے سامنے مناجات کررہا ہے اپنے آپ کو اس کیفیت میں لائے کہ گویا اسکو دیکھ رہا ہے لہذا اس بات سے حیا کرے کہ کلام تو اس ذات سے کر رہا ہو لیکن اس کا دل کسی اور طرف متوجہ ہو پھر سنجیدگی اور خوف کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور اپنے دونوں ہاتھ رانوں کے اوپر گھٹنوں کے مقابل رکھے اور دونوں پیروں کے درمیان کم از کم تین انگلیوں اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت کا فاصلہ ہو اور نگاہ مقام سجدہ پر ہو ۔ پھر فریضہ صبح کی نیت قربت الی ﷲ کرکے تکبیرۃ الاحرام کہے اور مستحب ہے کہ اس پر مزید چھ تکبیروں کا اضافہ بھی کرے۔ ہر تکبیر کے موقع پر ہاتھوں کو کانوں کی لؤ تک اسطرح اٹھائے کہ ہتھیلیوں کا رُخ قبلہ کی طرف ہو اور انگوٹھے کے سوا باقی تمام انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہوں۔
دعائے تکبیرات
اس دوران دعائے تکبیرات پڑھے اور وہ یوں کہ تیسری تکبیر کے بعد کہے:
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ الْحَقُّالْمُبینُ،لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَک إنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِر
اے معبود ! تو ہی سچا اورآشکار بادشاہ ہے نہیں کوئی معبود مگر تو ہے پاک وپاکیزہ بے شک میں نے خود پر ظلم کیا
ْ لِی ذَنْبِی إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلاَّ أَنْتَ
پس میرے گناہ بخش دے کہ تیرے سوا کوئی معاف نہیں کر سکتا۔مگر تیری ذات۔
پانچویں تکبیر کے بعد کہے:لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُفِی یَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إلَیْکَ
خدایا میں حاضر ہوں ہماری بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے شرکا تجھ سے کوئی تعلق نہیں
وَالْمَهْدِیُّ مَنْ هَدَیْتَ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدَیْکَ ذَلِیلٌ بَیْنَ یَدَیْکَ مِنْکَ وَبِکَ وَلَکَ
جسے تو ہدایت د ے وہ ہدایت یافتہ ہے تیرا بندہ اور تیرے بندے کا فرزند تیرے حضورپست تجھ سے تیرے ذریعے
وَ إلَیْکَ لاَمَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَی وَلاَ مَفَرَّ مِنْکَ إلاَّ إلَیْکَ سُبْحانَکَ وَحَنانَیْکَ تبَارَکْتَ
تیرے لیے اور تیری طرف اور تیرے سوا کوئی پناہ و نجات اورفرار کی جگہ نہیں تو پاک ہے مہربان ہے بلند ہے اور
وَتَعَالَیْتَ سُبْحانَکَ رَبَّ الْبَیْتِ الْحَرَامِ ساتویں تکبیر کے بعد یہ کہے:وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی
برتر ہے تو پاک ہے اور حرمت والے گھر کا مالک ہے ۔ میںنے اپنا رُخ اس خدا کی طرف
فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ عالِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهادَةِ حَنِیفاً مُسْلِماً وَمَا أَنَا مِن الْمُشْرِکِینَ
کیا جو آسمانوں اور زمین کا خالق غائب و حاضر کا جاننے والا ہے باطل سے کٹا ہوافرمانبردار ہوں اورمشرکوں سے نہیں ہوں بے شک میری
إنَّ صَلوٰتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَ بِذَلِکَ
نماز میری عبادت اور میری زندگی اور میری موت خدا کی لیے ہے جو جہانوں کا ربّ ہے اس کا کوئی ثانی نہیں
أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ
مجھے یہی حکم ملا اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں
نما زبجالانے کے آداب
جب قرأت کا ارادہ کرے تو آہستہ ’’اعوذ بﷲ من الشیطان الرّجیم ‘‘ کہے اور اس کے بعد پورے آداب، حضور قلب اور معانی پر غور کرتے ہوئے سورہ فاتحہ کی تلاوت کرے، اسے مکمل کر کے ایک سانس کی مقدار خاموش رہنے کے بعد قرآن کریم کی کوئی سورت پڑھے لیکن بہتر ہے کہ سورہ عمّ،یا هَل اَتیٰ یا لَا اُقسِمُ پڑھے پھر ایک سانس کی مقدار خاموش رہنے کے بعد قبل ازیں بتائے گئے طریقے سے ہاتھوں کو بلند کرکے تکبیر کہے۔ پھر رکوع میں جائے اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھنے سے پہلے دائیں ہاتھ کو دائیں گھٹنے پررکھے. جب کہ ہاتھوں کی انگلیوں کو گھٹنوں پر پھیلا کے رکھے کمر کو جھکاے رہے اور گردن کو لمبا کرکے کمر کے برابر اور نگاہیںقدموں کے درمیان رکھے اور کہے :سُبْحانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِه (پاک ہے میرا رب عظمت والا اور میں حمد کرتا ہوں ) بہتر ہے کہ یہ ذکر تین یا پانچ یاسات مرتبہ کرے اور مناسب ہوگا کہ اس ذکر سے پہلے یہ دُعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَأَنْتَ رَبِّی خَشَعَ
اے معبود میں نے تیرے لیے رکوع کیا تیرے سامنے جھکا ہوں اور تجھ پر ایمان رکھتا ہوںتجھ پر بھروسہ کرتا ہوں اور تو میرا رب ہے میرے کان،
لَکَ سَمْعِی وَبَصَرِی وَشَعْرِی وَبَشَرِی وَلَحْمِی وَدَمِی وَمُخِّی وَعَصَبِی وَعِظَامِی وَمَا
میری آنکھیں، میرے بال،میری کھال،میرا گوشت، میرا خون، میرا مغز،میرے پٹھے، میری ہڈیاںاور میراسارا وجود تیرے آگے جھکا
أَقَلَّتْهُ قَدَمَایَ غَیْرَ مُسْتَنْکِفٍ وَلاَ مُسْتَکْبِرٍوَلاَ مُسْتَحْسِرٍ
ہے نہ مجھے اس سے انکار ہے نہ کوئی غرور اور نہ ہی تھکا وٹ ہے ۔
اب رکوع سے سر اٹھائے اور سیدھا کھڑے ہوکر کہے:سَمِعَ ﷲ لِمَنْ حَمِدَهُ (خدانے حمد کرنے والے کی حمد سنی۔) پھر تکبیر کہہ کر کھلے ہاتھوں کے ساتھ نہایت عاجزی اور خوف سے ہتھیلیاں زمین پر رکھے اور پھر سجدے میں جائے ،پیشانی خاک کربلا سے بنے ہوئے سجدہ گاہ پر رکھے اور تین، پانچ یا سات مرتبہسُبحان رَبِّیَ الاَعلیٰ وَ بِحَمدِهِ کہے : بہتر ہے کہ اس ذکر سے پہلے یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ لَکَ سَجَدْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَأَنْتَ رَبِّی
اے معبود میں نے تیرے لیے سجدہ کیا تجھ پر ایمان رکھتا ہوں تیرے حوالے ہوں اور تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں تو میرا ربّ ہے
سَجَدَ وَجْهِی لِلَّذِی خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِینَ تَبارَکَ
میرے چہرے نے اسے سجدہ کیا جو اس کا خالق ہے جس نے اس کے کان اور آنکھیں کھولیں حمد ہے خدا کے لیے جوجہانوں کا رب ہے بابرکت
ﷲ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ
ہے خدا جو بہترین خالق ہے ۔
اب ذکر سجود کرے سر سجدہ سے اٹھائے، اور بیٹھنے کے بعد مستحب ہے کہ تکبیر کہے اور بیٹھنے کی مستحب کیفیت کے ساتھ بیٹھے (جو فقہی کتب میںمذکور ہے) اور کہے:
أَسْتَغْفِرُﷲ رَبِّی وَأَتُوبُ إلَیْهاور نیز یه کهي:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاجْبُرْنِی وَادْفَعْ عَنِّی
میں ﷲ سے مغفرت مانگتا ہوں جو میرا رب ہے ، اور توبہ کرتا ہوںاے معبود مجھے بخش دے مجھ پررحم فرما میری ضرورتیںپوری کر، بلائیں دور رکھ
وَعافِنِی إنِّی لِمَاأَنْزَلْتَ إلَیَّ مِنْ خَیْرٍفَقِیرٌ تَبَارَکَ ﷲ رَبُّ الْعالَمِینَ
اور عافیت دے یقیناً میں تیری عطا کامحتاج ہوں جو تو کرتا ہے بابرکت ہے ﷲ جو جہانوں کا رب ہے
پھر تکبیر کہہ کر دوسرے سجدے میں جائے اور سابقہ طریقہ سے سجدہ بجالائے اسکے بعد تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر قیام کیلئے کھڑا ہوتے ہوئے کہے :بِحَوْلِ ﷲ وَقُوَّتِهِ أَقُومُ وَأَقْعُدُ ۔(میں خدا کی دی ہوئی قوّت سے ہی اُٹھتا بیٹھتا ہوں .) جب سیدھا کھڑا ہو جائے تو سورہ حمد کے ساتھ کوئی دوسری سورت پڑھے لیکن بہتر ہے کہ سورہ توحید(قل ھو ﷲ) پڑھے۔ مستحب ہے کہ سورہ توحید پڑھنے کے بعد تین مرتبہ کہے:کَذلِکَ ﷲ رَبِّی (ﷲ ایسا ہی ہے جو میرا ربّ ہے ۔) اسکے بعد تکبیر کہے اور قنوت پڑھنے کیلئے دونوں ہاتھ اُٹھا کر منہ کے سامنے لائے ہتھیلیوں کا رُخ آسمان کی طرف کرے اور انگوٹھوں کے سوا ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم ملائے رکھے بہتر ہے کہ قنوت میں کلمات فرج (لاَ اِلٰهَ اِلّا ﷲ الحَلیمُ الکَریم ُ ) پڑھے اور اسکے بعد کہے :
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَناوَارْحَمْنَاوَعافِناوَاعْفُ عَنَّافِی الدُّنْیاوَالْآخِرَةِ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
اے معبود! ہمیں بخش دے،ہم پر رحم فرما، بلائوں سے بچا اور دُنیا وآخرت میں ہم سے درگزر فرما بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اسکے ساتھ ہی یہ دُعا پڑھے :اَللّٰهُمَّ مَنْ کانَ أَصْبَحَ وَلَهُ ثِقَةٌ أَوْ رَجائٌ غَیْرُکَ فَأَنْتَ ثِقَتِی
اے معبود! اگر کوئی صبح کرے جب کہ اس کا بھر وسہ اور امید تیرے غیر سے ہے تب بھی میرابھر وسہ اور امیدتجھ سے ہے اے وہ
وَرَجائِی یَا أَجْوَدَ مَنْ سُئِلَ، وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
بہترین سخی جس سے مانگا جاتا ہے اور اے وہ رحیم جس سے رحم کا سوال ہوتا ہے تومحمد و آلعليهالسلام محمد پر درود بھیج اور میری
وَارْحَمْ ضَعْفِی وَمَسْکَنَتِی وَقِلَّةَحِیلَتِی، وَامْنُنْ عَلَیَّ بِالْجَنَّةِ طَوْلاً مِنْک وَفُکَّ رَقَبَتِی
کمزوری اور میری عاجزی اور بے چارگی پر رحم فرما مجھے اپنے احسان و کرم سے جنت عطا کرمجھے
مِنَ النَّارِوعاَفنِی نَفْسِی وَفِی جَمِیع امُورِی بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
جہنم سے آزاد کر دے اپنی خاص رحمت سے مجھے میرے معاملات میں تحفظ دے اے سب سے زیادہ رحم کرنیوالے۔
بہتر یہ ہے کہ قنوت کو طول دیا جائے۔ کیونکہ قنوت میں پڑھی جانے والی دعائیں بہت ہیں۔ قنوت کے بعد تکبیر کہے اور پہلے کی طرح رکوع و سجود بجا لائے اور دونوں سجدوں سے فارغ ہوکرتشہد و سلام کے لیے بیٹھے (جیسے فقہی کتب میں مذکور ہے) اور تشہد سے پہلے کہے :بِسْمِ ﷲ، وَبِالله وَالْحَمْدُ ﷲِ، وَخَیْرُالْاَسْمائِ ﷲِ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ
خدا کے نام اور اس کی ذات کے ساتھ خدا کے لیے ہے حمد اور اچھے اچھے نام میں گواہ ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں
فضائل تعقیبات
جب نماز سے فارغ ہو تو تعقیبات میں مشغول ہو جائے کیونکہ اس بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے جیسا حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔فَ إذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَ إلی رَبِّکَ فَارْغَبْ (پس نماز کے بعد کمر ہمّت باندھ کے خدا کی یاد میں لگ جا) اس آیت کی تفسیرمیں مذکور ہے کہ جب تم نماز سے فارغ ہو جائو تو اپنے آپ کو پابند کرو اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوجائو اس سے اپنی حاجت طلب کرو اس کے علاوہ ہر ایک سے امیدیں منقطع کرلو حضرت امیر المومنین- سے منقول ہے کہ تم میں سے جو شخص نماز سے فارغ ہو ، وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرے اور دعا مانگتے مانگتے اپنے آپ کو تھکا دے روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی تعقیبات رزق میں اضافے کا سبب بنتی ہیں اور مومن اس وقت تک حالت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے جب تک کہ ذکر و دُعا میں لگا رہے نیز اس حال میں وہ نماز ہی کے ثواب کا حامل ہوتا ہے واجب نماز کے بعد مانگی جانے والی دُعا مستحب نماز کے بعد مانگی جانے والی دُعا سے بہتر ہوتی ہے۔ علّامہ مجلسیرحمهالله فرماتے ہیں. ظاہر یہ ہے کہ تلاوت، ذکر اور دُعا جو عرف میں نماز کے ساتھ متصل ہوں وہ ’’تعقیبات نماز‘‘ کہلاتے ہیں لیکن افضل یہ ہے کہ با وضو ہو کرقبلہ رُخ بیٹھ کر اور بہتر ہے کہ تشہد کے انداز میں بیٹھ کر تعقیبات بجا لائے اور تعقیبات کے دوران خصوصاً نماز عشائ کی تعقیبات کے دوران کسی سے بات نہ کرے۔بعض بزرگان کا یہ ارشاد بھی ہے کہ تعقیبات میں بھی تمام شرائط نماز کو پیش نظر رکھے .نماز کے بعد خواہ چلتے ہوئے ہی قرآن، ذکر اور دعا میں مشغول رہے اس کو تعقیبات کا ثواب مل جائے گا۔مؤلف کہتے ہیں: آئمہ اطہار سے تعقیبات نماز کے ضمن میں دین و دنیا سے متعلق بہت سی دُعائیں منقول ہیں۔ کیونکہ بدنی عبادات میں سب سے زیادہ باشرف عبادت نماز ہے اور تعقیبات ماثورہ تکمیل نماز میں بہت زیادہ دخل رکھتی ہیں، ان کے ذریعے حاجات بر آتی ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ دُعاگو مؤلف کے دل میں یہ بات آئی ہے کہ ان تعقیبات میں سے بعض کا ذکر اس رسالے میں کرے چنانچہ یہ تعقیبات علامہ مجلسیرحمهالله کی کتاب ’’بحار الانوار ‘‘اور ’’مقیاس‘‘ سے نقل کی جا رہی ہیں۔عرض تعقیبات کی دو قسمیں ہیں مشترکہ اور مختصہ۔
(مشترکہ تعقیبات)
مشترکہ تعقیبات وہ ہیں جو ہر نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہے یہاں ہم ان سے چند ایک کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں چنانچہ ان میں سے سب سے اوّل، تسبیح فاطمہ زہرا = ہے۔
( ۱ )تسبیح فاطمہ زہراعليهالسلام )
اس کی فضیلت میں بے حدّ و حساب احادیث وارد ہوئی ہیں حضرت امام جعفر صادق - فرماتے ہیں ہم اپنے بچوں کو حضرت زہراعليهالسلام کی تسبیح کا حکم بھی ویسے ہی دیتے ہیں جسطرح نماز کا حکم دیتے ہیں لہذا اسے کسی حال میں بھی ترک نہ کرو۔ جو شخص پابندی کیساتھ جناب زہراعليهالسلام کی تسبیح پڑھتا ہے وہ کبھی بدبخت اور شقی نہیں ہوگا۔ معتبر روایات میں واردہوا ہے کہ قرآن مجید میں خداوند عالم نے جس ’’ذکرکثیر‘‘کا حکم دیا ہے وہ تسبیح حضرت زہراعليهالسلام ہے۔ چنانچہ جو شخص ہر نماز کے بعد حضرت زہراعليهالسلام کی تسبیح پڑھتا ہے وہ ذکر کثیر کرتا اور خدا کو بہت یاد کرتا ہے۔ گویا وہ اس آیتِ مجیدہ میں موجود حکم (وَاذْکُرُوا ﷲ ذِکْراً کَثِیراً )(’’ﷲ تعالیٰ کو بہت یاد کیا کرو‘‘)پر عمل پیرا ہوتا ہے معتبر سند کے ساتھ امام محمد باقر - سے مروی ہے کہ جو شخص حضرت فاطمہ زہراعليهالسلام کی تسبیح پڑھنے کے بعد استغفار کریگا توﷲ تعالیٰ اسے بخش دے گا۔ زبان پر تو اس تسبیح کے سوالفاظ لانا ہوتے ہیں لیکن میزان عمل میں ہزار کے برابر ہیں اسی سے شیطان دور ہوتا ہے اور رحمان راضی ہوتا ہے ۔امام جعفر صادق - سے صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہے کہ جو شخص نماز کے بعد اپنے پائوں کو نماز کی کیفیت سے ہٹانے سے پہلے حضرت فاطمہ زہراعليهالسلام کی تسبیح پڑھے تو اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جنّت اس کیلئے واجب ہوجاتی ہے ایک اور معتبر حدیث میں فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک ہر نماز کے بعد حضرت فاطمہ زہراعليهالسلام کی تسبیح پڑھنا، روزانہ ہزار رکعت نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۔
معتبر روایات کے مطابق حضرت امام محمد باقر -سے مروی ہے کہ جناب زہرا = کی تسبیح سے بہتر کوئی اور تسبیح و تمجید نہیں ہے ، جس سے عبادت الٰہی کی جائے کیونکہ اگر اس سے بہتر کوئی اور چیز ہوتی تو رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا حضرت فاطمہ زہراعليهالسلام کو وہی عطا فرماتے اس کی فضیلت میں اتنی زیادہ احادیث منقول ہیں کہ ان سب کو اس مختصر سے رسالہ میں ذکر نہیں کیا جا سکتا اس تسبیح کی کیفیت کے متعلق احادیث میں اختلاف ہے، لیکن ان میں سے زیادہ مشہور اور ظاہر یہ ہے کہ چونتیس مرتبہ:(ﷲ اکبر ) (اللہ بزرگ تر ہے) تینتیس مرتبہ: (الحمد ﷲ ) (حمد اللہ کے لئے ہے) تینتیس مرتبہ: (سُبْحَانَ ﷲ ) (خدا پاک ومنزہ ہے) بعض روایات میں ’’سُبحانَ ﷲ ‘‘ کو ’’الحَمدُﷲ ‘‘ سے پہلے ذکر کیا گیا ہے جب کہ بعض علمائ نے ان دونوں طریقوں کو اس طرح جمع کیا ہے کہ نماز کے بعد پہلے طریقہ کے مطابق پڑھے اور سونے کے وقت دوسرے طریقہ کے مطابق پڑھے اور ظاہراً دونوں صورتوں میں پہلا طریقہ ہی مشہور اور اولیٰ ہے اور سنت ہے کہ تسبیح مکمل کرنے کے بعد ایک مرتبہ کہے:’’لآ الٰه اَلَّاا ﷲ ‘‘ چنانچہ امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جو شخص ہر نماز کے بعد حضرت فاطمہ زہراعليهالسلام کی تسبیح پڑھے اور اس کے آخر میںلَا اِلٰهَ اِلّا ﷲ کہے تو خدا اسے بخش دے گا۔
خاک شفاء کی تسبیح
بہتر یہ ہے کہ خاک شفا کی تسبیح کے دانوں پر اس تعداد کو شمار کرے تمام ذکر واذکار میں خاک شفا کی تسبیح کا استعمال سنت ہے اور خاک شفا کی تسبیح ہر وقت اپنے پاس رکھنا مستحب ہے یہ تمام بلائوں کا حرز ہے اور بے انتہا ثواب کا موجب ہے منقول ہے کہ ابتدائ میں حضرت فاطمہ زہراعليهالسلام نے پشم کے دھاگوں پر گانٹھیں لگائی ہوئی تھیں اور وہ انہی پر یہ تسبیح پڑھا کرتی تھیں جب جناب حمزہ بن عبد المطلب شہید ہو گئے تو حضرت زہرا =نے اس شھید بزرگوار کی قبر کی مٹی سے تسبیح بنائی اور اس پر پڑھا کرتی تھیں تب دوسرے لوگوں نے بھی اس طریقے کو اختیار کر لیا لیکن جب سید الشہدائ حضرت امام حسین- شھید کر دیئے گے تو سنت قرار پایا کہ اس شہید مظلومعليهالسلام کی قبر کی مٹی (خاک شفا) سے تسبیح تیار کرکے اس کے ذریعے ذکر واذکار پڑھا جائے۔ امام زمانہ (عج) فرماتے ہیں کہ جس شخص کے ہاتھ میں خاک شفا کی تسبیح ہو اور وہ ذکر پڑھنا فراموش کر بیٹھے تو بھی اس کیلئے ذکر کا ثواب لکھا جائے گاامام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ خاک شفا کی تسبیح خود بخود ذکر اور تسبیح پڑھتی رہتی ہے خواہ آدمی نہ بھی پڑھے، یہ بھی فرمایا کہ ایک ذکر یا استغفار جو اس تسبیح سے انجام پائے وہ دوسری تسبیحوں کے ساتھ انجام پانے والے ستر ذکر اور استغفار کے برابر ہے۔ اگر کوئی کسی ذکر کے بغیر بھی اس کے دانوں کو پھراتا رہے تو بھی اس کیلئے ہر دانہ کے بدلے سات تسبیحوں کا ثواب لکھا جاتا ہے ایک دوسری روایت کے مطابق ذکر کے ساتھ پھرائے جانے والے ہر دانے کا ثواب چالیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ایک روایت میں ہے کہ حوران جنّت جب کسی فرشتے کو زمین پر آتے دیکھتی ہیں تو اس سے التماس کرتی ہیں کہ وہ ان کے لیے تربت سید الشہدائ(خاک شفا) کی تسبیح لیتا آئے حدیث صحیح میں امام موسیٰ کاظم - فرماتے ہیں کہ مومن کو پانچ چیزوں سے خالی نہیں ہونا چاہیئے مسواک، کنگھی، جائے نماز، عقیق کی انگوٹھی اور چونتیس دانوں کی تسبیح اس سلسلے میں خام اور پختہ دونوں بہتر ہیں لیکن خام زیادہ بہتر ہے ۔ امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جو شخص خاک شفا سے ایک تسبیح پڑھتا ہے ﷲ اس کیلئے چار سونیکیاں لکھ دیتا ہے، چار سوگناہ مٹا دیتا ہے چار سو حاجات پوری کرتا ہے اور چار سو درجات بلند کرتا ہے روایت میں یہ بھی ہے کہ اس تسبیح کا دھاگا نیلے رنگ کا ہونا چاہیئے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کیلئے اپنی انگلیوں پر تسبیح پڑھنا فضیلت رکھتا ہے لیکن خاک شفا کی فضیلت والی احادیث مطلقاً زیادہ اور قوی ہیں ۔
( ۲ ) مستحب ہے کہ فریضہ نماز کے بعد ہاتھوں کو تین مرتبہ اُٹھا کر چہرے کے سامنے کانوں کی لوؤں تک لے جائے اور پھررانوں پر ہاتھ رکھے اور ہر مرتبہ’’ﷲ اَکبَرُ‘‘ کہے چنانچہ علی بن ابراہیم، سیّد ابن طاوس اور ابن بابویہ نے معتبر اسناد کیساتھ روایت کی ہے کہ مفضل بن عمر نے امام جعفر صادق - سے پوچھا کہ نمازی کس بنا پر نماز کے بعدتین مرتبہ تکبیر کہتا ہے تو آنجنابعليهالسلام نے فرمایا: اس لیے کہ جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مکّہ کو فتح کیا تو حجر اسود کے پاس اپنے ساتھیوں سمیت نماز ظہر ادا کی اور جب نماز کا سلام کہہ چکے تو تین مرتبہ تکبیر کہی اور ہاتھوں کے اٹھانے کے وقت کہا:
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ وَحْدَهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ جُنْدَهُ وَغَلَبَ
نہیں کوئی معبود مگر ﷲ، وہ دیکتاہے، یکتا ہے ،یکتا ہے اس نے وعدہ پورا کیا اپنے بندے کی مدد کی اپنے لشکرکو عزت دی اور گروہوں پرغالب
الْاَحْزابَ وَحْدَهُ، فَلَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَهُوَعَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
آیا وہ یکتا ہے حکومت اسی کی اور حمد اسی کے لیے ہے وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے۔
پھر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا رُخ اصحاب کی طرف کیا اور فرمایا: اس تکبیر اور اس دُعا کو ہر فریضہ نماز کے بعد دہراتے رہنا اور اسے ترک نہ کرنا ،جو شخص یہ عمل کرے گا وہ اسلام اور لشکر اسلام کی تقویت پر خدا کے حضور اس نعمت کا شکر ادا کرے گا صحیح حدیث میں منقول ہے کہ جب حضرت صادق آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نماز سے فارغ ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو سر مبارک تک بلند کرکے دعا مانگتے تھے۔ امام محمد باقر - سے مروی ہے کہ جب کوئی بندہ اپنے ہاتھ خدا کی طرف بلند کر کے دُعا مانگتا ہے تو خدا کو اس امر سے حیا آجاتی ہے کہ اسے خالی ہاتھ پلٹائے اس لیے دُعا مانگو، ہاتھوں کو نیچے کرتے وقت انہیں اپنے سر اور چہرے پر پھیر لو۔
( ۳ )شیخ کلینیرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ حضرت امام محمدباقر - سے روایت کی ہے کہ جو شخص فریضہ نماز کے بعد پائوں کو پلٹا نے سے پہلے تین مرتبہ یہ دُعا پڑھے تو خداوند اس کے تمام گناہ معاف کر دیگا خواہ وہ گناہ کثرت میں سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں اور وہ دُعا یہ ہے :
أَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ذُوالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ وَأَتُوبُ إلَیْهِ
اس خدا سے بخشش چاہتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ پائندہ عزت و دبدبے والا ہے اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں
ایک روایت کے مطابق جو شخص ہر روز یہ دعائے استغفار پڑھے تو خدا اس کے چالیس گناہ کبیرہ معاف کر دیگا۔
(ہر فریضہ نماز کے بعد کی دعا)
( ۴ )شیخ کلینی معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا: اس دعاکو ہر فریضہ کے بعد پڑھو اور ہرگز ترک نہ کرو:
أُعِیذُ نَفْسِی وَما رَزَقَنِی رَبِّی بِالِلّٰهِ الْواحِدِ الصَّمَدِ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدوَلَمْ یَکُنْ لَهُ
میں نے اپنی جان اورخدا سے ملی نعمتوں کو پناہ خدا میں دیا وہ واحد و بے نیازجس نے نہ کسی کو جنا نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی
کُفُواً أَحَدٌوَأُعِیذُ نَفْسِی وَمَارَزَقَنِی رَبِّی بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِنْ شَرِّغَاسِقٍ إذَا
اس کا ہم پلا ہے میں نے اپنی جان اور خدا سے ملی نعمتوں کوصبح کرنے والے ربّ کی پناہ میں دیا اس کی مخلوق کیشر سے اور تاریکی کے شر سے جب وہ
وَقَبَ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّثٰتِ فِی الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّحاسِدٍ إذا حَسَدَ وَأُعِیذُ نَفْسِی وَمَا رَزَقَنِی رَبِّی
چھاجائے گانٹھوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے حاسدکے شرسے جب وہ حسد کرے میں نے اپنی جان اور خدا سے ملی نعمتوں کو انسانوں کے ربّ کی
بِرَبِّ النَّاسِ مَلِکِ النَّاسِ إله النَّاسِ مِنْ شَرِّالْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِی یُوَسْوِسُ فِی
پناہ میں دیا جو انسانوں کا بادشاہ اور معبود ہے گھات لگانے وسوسے ڈالنے والے کے شرسے جو انسانوں کے دلوںمیں وسوسے ڈالتاہے وہ
صُدُورِ النَّاسِ مِن َالْجِنَّةِ وَالنَّاسِ
جنوں سے یا انسانوں سے ہو۔
(دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا )
( ۵ ) شیخ کلینیرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ علی بن مہزیار سے روایت کی ہے کہ محمد بن ابراہیم نے امام علی نقی - کی خدمت میں تحریر کیا کہ مولا اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے ایک ایسی دعا تعلیم فرمائیں جو میں ہر نماز کے بعد پڑھوں اور اس سے مجھے دُنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو جائے اس کے جواب میں امام نے تحریر فرمایا کہ تم ہر نماز کے بعد یہ دُعا پڑھا کرو :
أَعُوْذُ بِوَجْهِکَ الْکَرِیمِ وَعِزَّتِکَ الَّتِی لاَتُرَام وَقُدْرَتِکَ الَّتِی لاَ یَمْتَنِع ُمِنْها شَیْئٌ مِنْ
پناہ لیتا ہوں تیری ذات کریم اورتیری عزت کی جس کا کوئی قصد نہیںکر سکتا ُتیری قدرت کی پناہ جس سے کوئی چیز انکار نہیں کر سکتی ۔ دنیا اور
شَرِّالدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ وَمِن ْشَرِّالْاَوْجاعِ کُلِّها وَلاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِاللّهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
آخرت کے شر سے اور ہر قسم کے دکھوں دردوں سے اور نہیں اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کوئی حرکت اور قوت مگر جوبلند و بزرگ خداسے ملتی ہے ۔
نماز واجبہ کے بعد دعا
( ۶ )کلینیرحمهالله اور ابن بابویہرحمهالله نے صحیح و غیر صحیح اسناد کے ساتھ امام محمد باقرو امام جعفر صادق + سے روایت کی ہے کہ نماز واجبہ کے بعد کم سے کم دُعا جو کافی ہو سکتی ہے وہ یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ کُلِّ خَیْرٍ أَحَاطَ بِهِ عِلْمُکَ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ کُلِّ شَرٍّ أَحَاطَ بِهِ
اے معبود! میں تجھ سے ہرخیر کا سوال کرتا ہوں جوتیرے علم کے احاطے میںہے اور ہر شر سے تیری پناہ لیتا ہوں
عِلْمُکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ عَافِیَتَکَ فِی أُمُورِی کُلِّها وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ خِزْیِ الدُّنْیا وَ
جو تیرے علم کے احاطے میں ہے اے معبود! میں اپنے تمام امور میں تجھ سے سہولت کاسوال کرتا ہوں اور دُنیا و آخرت کی ہر رسوائی سے تیری
عَذابِ الاَْخِرَةِ
پناہ طلب کرتا ہوں ۔
ابن بابویہرحمهالله کی روایت کے مطابق یہ دُعایوں ہے:اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
اے معبود!درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ..تا آخر دعا
نماز کے بعد طلب بہشت اور ترک دوزخ کی دعا
( ۷ )سنت ہے کہ جب نماز سے فارغ ہو جائے تو کہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَجِرْنِی مِنَ النَّارِ وَأَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ وَزَوِّجْنِی الْحُوْرَ الْعِینَ
اے معبود! درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور مجھے جہنم کی آگ سے بچااور جنّت میںداخل فرما اور حورالعین سے میری تزویج کر دے۔
جیسا کہ امیر المومنین- سے روایت ہے کہ جب کوئی بندہ نماز سے فارغ ہو جائے تو خدا تعالیٰ سے بہشت کی دُعا کرے دوزخ سے خدا کی پناہ مانگے اور حور العین کے ساتھ تزویج کی درخواست کرے۔
نماز کے بعد آیات اور سور کی فضیلت
( ۸ ) موثق سند کے ساتھ امام محمد باقر - سے روایت ہے کہ جب حق تعالیٰ نے درج ذیل آیات کے زمین پر نازل کرنے کا حکم دیا تو ان آیات نے عرش الٰہی کے ساتھ لگ کر کہا: پروردگارا تو ہمیں گناہکاروں اور خطا کاروں کی طرف بھیج رہا ہے تب ذاتِ حق نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ تم روئے زمین پر چلی جائو ، مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! تمہیں آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکے شیعوں میں سے جو بھی تلاوت کرے گا میں اس پر ہر روز پوشیدگی میں ستر مرتبہ نظر رحمت کروں گا اور ہر نظر میں اس کی ستر حاجتیں پوری کروں گا چاہے اس نے بہت سے گناہ بھی کئے ہوں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص ہر نماز کے بعد ان آیات کو پڑھے تو میں اسے حظیرہ قدس میں ٹھہرائوں گا، خواہ وہ کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو اگر اُسے حظیرہ قدس میں نہ ٹھہرائوں تو بھی ہر روز ستّر مرتبہ اس پر اپنی خاص نظر رحمت کروں گا اگر یہ نہ کروں تو پھر ہر روز اس کی ستّر حاجتیں پوری کروں گا کہ جن میں کم سے کم یہ ہے کہ اس کے گناہ معاف کروں گا اگر یہ نہ کروں تو اسے شر شیطان اور ہر دشمن کے شر سے اپنی پناہ میں رکھوں گا اور اسے ان پر غلبہ عطا کروں گا اور موت کے علاوہ کوئی چیز اس کو جنت میں جانے سے نہ روک سکے اور وہ آیات یہ ہیں :
سورہ فاتحہ کی تمام آیات آیۃ الکرسی ھم فیہا خالدون تک ، نیز آیت شہادت اور آیت ملک۔
آیت شہادت
شَهِدَ ﷲ أَنَّهُ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ وَالْمَلائِکَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِماً بِالْقِسْطِ لا إلهَ إلاَّ هُوَ الْعَزِیزُ
خدا نے گواہی دی کہ نہیں کوئی معبود مگر وہ ہے نیز ملائکہ اور صاحبان علم نے گواہی دی کہ وہ عدل قائم کیے ہوئے ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں
الْحَکِیمُ إنَّ الدِّینَ عِنْدَ ﷲ الْاِسْلامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ إلاَّ مِنْ بَعْدِ مَا
وہ غالب و حکیم ہے یقیناً ﷲ کے نزدیک دین فقط اسلام ہی ہے اہل کتاب نے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد جب ان کے پاس علم آگیا انہوں
جائَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیاً بَیْنَهُمْ وَمَنْ یَکْفُرْ بِآیاتِ ﷲ فَ إنَّ ﷲ سَرِیعُ الْحِسَاب
نے باہم اختلاف و نزاع کھڑا کیا اور جو شخص آیات الٰہی کا انکار کرے تو یقیناً ﷲ جلد حساب لینے والا ہے
(آیت ملک)
قُلِ اَللّٰهُمَّ مالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَائُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَائُ وَتُعِزُّ
کہو اے ﷲ ! اے حکومت کے مالک تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے حکومت واپس لے لے تو جسے چاہے عزت
مَنْ تَشَائُ َوَتُذِلُّ مَنْ تَشَائُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ تُولِجُ اللَّیْلَ فِی
دے اور جسے چاہے ذلت دے بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے یقیناً تو ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے تورات کو دن
النَّهارِ وَتُولِجُ النَّهارَ فِی اللَّیْلِ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ و َتُخْرِجُ الْمیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ
میںداخل کرتا ہے اور دن کو رات میںداخل کرتا ہے تو مردہ میں سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ میں سے مردہ کو نکالتا ہے
تَرْزُقُ مَنْ تَشَآئُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
اور جسے چاہے بغیر حساب کے روزی دیتا ہے ۔
(آیت الکرسی کے فضائل)
معتبر سند کے ساتھ امام موسیٰ کاظم - سے منقول ہے کہ جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے تو کوئی کاٹنے والی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکے گی ایک اور معتبر حدیث میں فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ نے فرمایا: یاعلیعليهالسلام تمہارے لیے ہر فریضہ نماز کے بعد آیۃالکرسی تلاوت کرنا ضروری ہے کیونکہ پیغمبر یا صدیق یا شہید کے علاوہ کوئی اس عمل کو ہمیشہ جاری نہیں رکھ سکتا رسول ﷲ سے منقول ہے کہ جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد آیۃ الکرسی کی تلاوت کرے تو سوائے موت کے کوئی چیز اسے بہشت میں جانے سے نہیں روک سکے گی ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد آیۃ الکرسی کی تلاوت کرے تو اسکی نماز قبول ہوگی وہ خدا کی پناہ میں رہیگا اور خدا اسے گناہوں اور بلائوں سے محفوظ رکھے گا۔
جو زیادہ اعمال بجا نہ لا سکتا ہو وہ یہ دعا پڑھے
( ۹ )شیخ کلینیرحمهالله ،ابن بابویہرحمهالله اور دیگر محدّثین نے معتبر اسناد کے ساتھ امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ شیبہ ہذلی نے رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں عرض کیا: یارسول ﷲ ! میں بوڑھا ہو چکا ہوں، میرے اعضائ اب ان اعمال کے بجا لانے سے عاجز ہو گئے جن کا میں پہلے سے عادی تھا، یعنی نماز، روزہ، حج اور جہاد و غیرہ تو اب آپ مجھے ایسا کلام تعلیم فرمائیں جو میرے لیے آسان ہو اور مفید بھی ہو اس پر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ پھر کہو تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ تب اس نے اپنے الفاظ کو دوتین مرتبہ دہرایا، یہ سُن کر حضور نے فرمایا تیر ے سا تھ ہمدردی کے لئے اردگرد کے تمام درخت اور مٹی کے ڈھیلے روپڑے ہیں۔ پس جب تم نماز فجر سے فارغ ہو جائو تو دس مرتبہ کہو:
سُبْحانَ ﷲ العَظِیمِ وَبِحَمْدِهِ وَلاَحَوْلَ وَ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِا ﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
پاک ہے بزرگ تر ﷲ اور حمد اسی کے لیے ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہی جو خدائے بلند و بزرگ سے ہے ۔
اس کلام کی برکت سے خدا تم کو اندھے پن، دیوانگی، برص، جذام، پریشانی اور فضول گوئی سے نجات دے گا ۔ شیبہ نے کہا یا رسول ﷲ ! یہ تو میری دُنیا کے لیے ہے، میری آخرت کے لیے بھی تو کچھ فرمائیں تب حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد یہ کہا کرو:
اَللّٰهُمَّ اهْدِنِی مِنْ عِنْدِک وَأَفِضْ عَلَیَّ مِن فَضْلِکَ وَانْشُرْ عَلَیَّ مِنْ رَحْمَتِکَ وَأَنْزِلْ
اے معبود! تو مجھے اپنی طرف سے ہدایت دے مجھ پر اپنا فضل و کرم جاری رکھ مجھ پر اپنی رحمت کی چادر تان دے
عَلَیَّ مِنْ بَرَکاتِکَ
اور مجھ پر اپنی برکتیں نازل فرما۔
آنحضرت نے یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی شخص اس دُعا کو پا بندی کیساتھ پڑھتا رہے اور مرتے دم تک اسے جان بوجھ کر ترک نہ کرے تو جب وہ میدان حشر میں آئیگا تو اس کیلئے بہشت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اسے یہ اختیار دیا جائیگا کہ وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے یہ آخری دُعا دیگر معتبر اسناد کیساتھ بھی روایت کی گئی ہے
((۱۰)فضیلت تسبیحات اربعہ)
شیخ طوسیرحمهالله ، ابن بابویہرحمهالله اور حمیری نے صحیح اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت رسول ﷲ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: اگر تم اپنے تمام مال و اسباب اور اشیائ و ظروف میں سے ہر ایک کو دوسرے پر رکھتے چلے جائو تو کیا وہ آسمان تک پہنچ جائیں گے؟انہوں نے جواب دیا: نہیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:آیا تم چاہیتے ہو کہ میں تمہیں ایسی چیز تعلیم کروں کہ جس کی جڑیں زمین اور شاخیں آسمان تک گئی ہوں؟سب نے عرض کیا: ضرور! یارسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ﷲ! اس وقت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایاکہ ہر نماز کے بعد تیس مرتبہ کہو:
سُبْحانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ
ﷲ پاک ہے حمد ﷲ ہی کیلئے ہے ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ﷲ بزرگ ہے ۔
ہاں یہ وہ کلام ہے کہ جسکی جڑیں زمین میں اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ یہ انسان کو چھت تلے دبنے، پانی میں ڈوبنے، کنوئیں میں گرنے درندوں کے چیرنے پھاڑنے، بدتر موت اور آسمان سے آنے والی بلائوں سے بچاتا ہے یہی ان باقیات الصالحات میں ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے ۔دیگر صحیح اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد اپنی جگہ چھوڑنے سے پہلے ان تسبیحات اربعہ کو چالیس مرتبہ پڑھے تو وہ خدا سے جو کچھ مانگے وہ اسے عطا فرمائے گا صحیح سند کے ساتھ امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ جو شخص فریضہ نماز کے بعد تیس مرتبہ سُبْحانَ ﷲ کہے تو اس کے بدن پر موجود ہر گناہ ساقط ہو جائے گا ایک اور صحیح حدیث میں آنجناب ہی سے منقول ہے کہ خدا نے قرآن مجید میں جس ’’ذکر کثیر‘‘ کا ذکر فرمایا ہے اور اس کی ستائش کی ہے وہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد تیسں مرتبہ سُبْحانَ ﷲ کہا جائے ۔
قطب راوندی نے روایت کی ہے کہ امیر المومنین- نے برائ بن عاذب سے فرمایا: آیا چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایسی بات بتائوں کہ جسے بجالانے سے تم خدا کے پکے اور سچّے دوست بن جائو؟ اس نے کہا کہ ضرور فرمائیے!آپ نے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ تسبیحات اربعہ پڑھ لیا کرو!جب تم ایسا کرو گے تو دنیا میں تم سے ایک ہزار بلائیں دور ہوں گی جن میں سے ایک مرتد ہونا بھی ہے نیز تمہارے لیے آخرت میں ہزار مرتبے ذخیرہ کر دیئے جائیں گے جن میں سے ایک مرتبہ یہ بھی ہے کہ تم نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہمسائیگی میں ہوگے۔
(حاجت ملنے کی دعا)
( ۱۱ )شیخ کلینیرحمهالله نے سندحسن کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جو شخص فریضہ نماز کے بعد تین مرتبہ کہے :
یَا مَنْ یَفْعَلُ مَا یَشائُ وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشائُ أَحَدٌ غَیْرُهُ
اے وہ کہ جو چاہے کرتا ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی جو چاہے نہیں کر پاتا
یہ دعا پڑھنے والا خدا سے جو کچھ بھی مانگے مِل جائے گا۔
(گناہوں سے معافی کی دعا)
(۱۲)شیخ برقی نے موثق سند کیساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ نماز سے فارغ ہو کر اپنے زانوئوں کو حرکت دینے سے پہلے جو بھی شخص اس تہلیل کو دس مرتبہ پڑھے تو حق تعالیٰ اس کے چار کروڑ گناہوں کو مٹادے گا اور اس کے لیے چار کروڑ نیکیاں لکھ دے گا۔ اس کے پڑھنے کا اتنا ثواب ہے کہ گویا اس شخص نے بارہ مرتبہ قرآن مجیدختم کیا ہے پھر فرمایا کہ میں تو سو مرتبہ پڑھتا ہوں لیکن تمہارے لیے اس کا دس مرتبہ پڑھنا ہی کافی ہے اور وہ تحلیل یہ ہے :
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ إلهاً وَاحِداً أَحَداً صَمَداً لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً
میںگواہ ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں وہ معبود تنہا ،اکیلا اور بے نیازہے نہ اس نے کوئی بیوی کی نہ کسی کو بیٹا بنایا.
اس تہلیل کی فضیلت میں بہت کچھ بیان کیا گیا ہے خصوصاً اسے صبح و شام کی نمازوں کی تعقیبات میں اور طلوع و غروب کے وقت پڑھنا چاہیئے۔
(ہر نماز کے بعد کی دعا)
(۱۳)شیخ کلینیرحمهالله ، ابن بابویہرحمهالله اور دیگر علما نے صحیح اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جبرائیلعليهالسلام زندان میں حضرت یوسف- کے پاس آئے اور کہا: ہر نماز کے بعد یہ دُعا پڑھا کریں :
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی فَرَجاً وَمَخْرَجاً وَارْزُقْنِی مِنْ حَیْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَسِبُ
اے معبود! میرے لیے کشائش اور بچ نکلنے کا سامان پیدا کر اور مجھے روزی دے جہاں سے مجھے توقع ہے. اور جہاں سے توقع نہیں ہے
(قیامت میںرو سفیدی کی دعا)
(۱۴) بلد الامین میں رسول ﷲ سے روایت ہوئی ہے کہ جو یہ چاہتا ہے کہ قیامت میں خداوند عالم کسی کو اس کے برے اعمال پر مطلع نہ ہونے دے اور اس کے گناہوں کی فہرست کسی کے سامنے نہ کھولے تو اسے ہر نماز کے بعد یہ کلام پڑھنا چاہیئے:
اَللَّهُمَّ اِنَّ مَغْفِرَتِکَ أَرْجَی مِنْ عَمَلِی وَ إنَّ رَحْمَتَکَ أَوْسَعُ مِنْ ذَنْبِی اَللّٰهُمَّ إنْ کانَ ذَنْبِی
اے معبود! تیری بخشش میرے اعمال سے زیادہ امید افزا ہے اور تیری رحمت میرے گناہوں سے زیادہ وسیع ہے اے معبود! اگر
عِنْدَکَ عَظِیماً فَعَفْوُکَ أَعْظَمُ مِنْ ذَنْبِی اَللّٰهُمَّ إنْ لَمْ أَکُنْ أَهْلاً أَنْ تَرْحَمَنِی فَرَحْمَتُکَ
میرے گناہ تیرے نزدیک بڑے ہیں تو تیری درگزر میرے گناہوں سے بہت بڑی ہے اے معبود! اگر میں تیری رحمت کے لائق نہیں تو تیری رحمت
أَهْلٌ أَنْ تَبْلُغَنِی وَتَسَعَنِی لاََِنَّها وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اس لائق ہے کہ مجھ تک پہنچ جائے اور مجھے گھیر لے کیونکہ وہ ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
بیمار اور تنگدستی کیلئے دعا
(۱۵)کفعمیرحمهالله نے حضرت رسول ﷲ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں اپنی بیماری اور تنگدستی کی شکایت کی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے فرمایاکہ ہر فریضہ نماز کے بعد یہ دُعا پڑھا کرو :
تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ
میں نے اس پر بھر وسہ کیا جو زندہ ہے اسے موت نہیں حمد ہے خدا کے لیے جس نے نہ کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی
وَلَداً وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً
بیٹا نہ بادشاہت میں کوئی اس کاشریک ہے نہ بوجہ کمزوری کوئی اس کا مددگار ہے اور اسکی بہت زیادہ بڑائی کرو ۔
ایک اور روایت کے مطابق آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: جب بھی مجھے کوئی مشکل امر درپیش ہوتا تو جبرائیلعليهالسلام میرے پاس آتے اور کہتے کہ اس (مذکورہ بالا)دعا کو پڑھیں. معتبر احادیث میں آیا ہے کہ دل کے وسوسوں، قرض، پریشانی اور بیماری دور کرنے کیلئے یہ دُعا بار بار پڑھی جائے بعض روایات میں ہے کہ اس کے شروع میں لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِﷲ بھی پڑھا جائے
ہر نماز کے بعد دعا
(۱۶)شیخ مفیدرحمهالله نے مقنعہ میں تعقیبات نماز کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ہر نماز کے بعد یہ دُعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ انْفَعْنا بالْعِلْمِ وَزَیِّنَابِالْحِلْمِ وَجَمِّلْنا بِالْعافِیَةِ وَاَکَرِّمْنَا بِالتَّقْوی إنَّ وَلِیِّیَ ﷲ الَّذِی
اے معبود !ہمیں علم کے ذریعے فائدہ دے ،حلم سے مزین فرما ،عافیت کی زیبائی بخش اور تقویٰ کے ذریعے معزز فرما یقیناً میرا مددگار وہ
نَزَّل َالْکِتابَ وَهُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ
ﷲ ہے جس نے کتاب نازل فرمائی اور وہ نیکوکاروں کی مدد کرتا ہے
(پنجگانہ نماز کے بعد کی دعا)
ابن بابویہرحمهالله ، شیخ طوسیرحمهالله ، اور دیگر علمائ نے معتبر اسناد کے ساتھ امیر المومنین- سے روایت کی ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا سے اس حال میں رخصت ہو کہ گناہوں سے اسطرح پاک ہو جیسے سونا کندن بنا ہوا ہو اور وہ یہ بھی چاہتا ہو کہ قیامت والے دن کوئی شخص اس سے ظلم کی دادخواہی نہ کرے تو اسے چاہیے کہ پنجگانہ نمازوں کے بعد سورہ قُل ھوَ ﷲ اَحَد بارہ مرتبہ پڑھے اورپھر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے درج ذیل دُعا پڑھے:اور حضرت نے فرمایا کہ یہ دعا اس پوشیدہ رازوں میں سے ہے کہ جسے رسول اللہ نے مجھے تعلیم دی اور مجھے حکم دیا کہ حسنعليهالسلام اور حسینعليهالسلام کو تعلم دوں اور وہ دعا یہ ہے ۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الْمَکْنُونِ الْمَخْزُونِ الطَّاهِرِ الطُّهْرِ الْمُبارَکِ وَأَسْأَلُکَ
اے معبود ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بواسطہ تیرے اس نام کے جو پوشیدہ محفوظ پاک و پاکیزہ اور برکت والاہے میں تجھ سے
ِباسْمِکَ الْعَظِیمِ وَسُلْطانِکَ الْقَدِیمِ یَا واهِبَ الْعَطایَا یَامُطْلِقَ الْاُسَارَیٰ یَافَکَّاکَ
سوال کرتا ہوں بابواسطہ تیرے عظیم نام اور تیری قدیم حکومت کے اے عطیہ دینے والے اے قیدیوں کو رہائی دینے والے اے
الرِّقَابِ مِنَ النَّارِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وآلَ مُحَمَّد وَفُکَّ رَقَبَتِی مِن النَّارِ وَأَخْرِجْنِی
لوگوں کو جہنم سے آزاد کرنے والے درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پرمیری گردن جہنم سے آزاد کر دے مجھے دُنیا سے امان
مِنَ الدُّنْیاآمِناً وَأَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ سالِماً وَاجْعَلْ دُعائِی أَوَّلَهُ فَلاحاً وَأَوْسَطَهُ نَجاحاً وَآخِرَه
کے ساتھ اٹھانا اور جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل کرنا میرے دعا کو اول کے فلاح بنا دے اس کے وسط کو نجات بنا اور اس کے
صَلاحاً إنَّکَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ۔بعض معتبر نسخوں میں یہ دعایوں درج ہے :یَا فَکَّاکَ الرِّقابِ
آخر کو بہتری قرار دے بے شک تو ہر غیب کا جاننے والا ہے ۔ اے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرنے
مِنَ النَّارِ أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُعْتِقَ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ وَأَن
والے میں سوال کرتا ہوں کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما میری گردن کو جہنم کی آگ سے آزاد کر
ْ تُخْرِجَنِی مِنَ الدُّنْیا سالِماً وَتُدْخِلَنِی الْجَنَّةَ آمِناً وَأَنْ تَجْعَلَ دُعائِی أَوَّلَهُ فلاحاً وَاَوْسَطُهُ
دے مجھے دنیا سے سلامتی کے ساتھ اٹھاناجنت میں امن کے ساتھ داخل کرنا نیز میری دعا کے اول کو فلاح قرار دے وسط َکو نجات بنا اور آخر کو
نَجَاحا وَ آخِرَهُ صَلاحاً إنَّکَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ
بہتر بنا دے بے شک تو ہر غائب کا جاننے والا ہے۔
ہر نماز کے بعد سور توحید کی تلاوت
شیخ کلینیرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جو شخص خدااور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے ہر فریضہ نماز کے بعد سورہ ’’قُل هُو ﷲ اَحَدُ ‘‘کا پڑھنا ترک نہیں کرنا چاہیئے. کیونکہ جو شخص اس سورہ کی تلاوت کرے گا تو ﷲ تعالیٰ اس کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی جمع کر دے گا پس وہ اس کو ،اس کے والدین کو اور اسکے رشتہ داروں کوبخش دیگا ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعدسورہ’’قُلْ هُوَﷲ اَحَد ‘‘ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کی تزویج سیاہ چشم حور کے ساتھ کریگا سید ابن طاووس نے رسول خدا سے روایت کی ہے کہ جو شخص ہر نماز کے بعد سورہ ’’قُلْ هُوَﷲ اَحَد ‘‘ پڑھے گا آسمان سے اس پر رحمت نازل ہوگی اور اسے تسکین حاصل ہوگی اور ﷲ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت فرمائے گا نیز وہ اس کے گناہ معاف کردے گا اور جو بھی حاجت طلب کریگا خدا اسے پوری کرے گا۔
(گناہوں سے بخشش کی دعا)
(۱۸)شیخ کلینیرحمهالله اور دیگر علما نے معتبر سند کیساتھ اہلبعليهالسلام یت سے روایت کی ہے کہ جو شخص ہر نماز کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی داڑھی پکڑے ہوئے بائیں ہاتھ کو آسمان کی طرف بلند کر کے تین مرتبہ کہے:
یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ ارْحَمْنِی مِنَ النَّارِ اور پھر تین مرتبہ کہے :أَجِرْنِی من ْ الْعَذابِ الْاَلِیمِ
اے دبدبہ و عزت کے مالک آگ کے مقابل مجھ پر رحم فرما مجھ کو دردناک عذاب سے بچالے
اسکے بعد دائیں ہاتھ کو داڑھی سے ہٹا کر دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر تین مرتبہ کہے :یَا عَزِیزُیَا کَرِیمُ یَا
اے غالب اے سخی اے رحم والے
رَحْمٰنُ یَا غَفُورُ یَا رَحِیمُ پھر ہاتھوں کو پلٹا کر یعنی ہتھیلیاں نیچے کی طرف کر کے ہاتھ آسمان کی طرف
اے بخشنے والے اے مہربان ۔
بلندکر کے تین مرتبہ کہے:أَجِرْنِی مِنَ العَذابِ الْاَلِیمِ ۔اور پھر یہ کہے :وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
مجھ کو دردناک عذاب سے بچالے ۔ خدا حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کی آلعليهالسلام پر رحمت کرے
وَالْمَلائِکَةُ وَ الرُّوْحُ
اور فرشتوں اور روح پر بھی
پھر فرمایا کہ جو شخص اس دعا کو مذکورہ طریقے سے پڑھے گا ﷲ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش د ے گا اور اس سے خوشنود ہوگا، جن و انس کے علاوہ دیگر مخلوقات بھی اسکی موت تک اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے ۔
رنماز کے بعد گناہوں سے بخشش کی دعا
(۱۹) شیخ مفیدرحمهالله نے کتاب ’’مجالس‘‘میں جناب محمد بن حنفیہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:ایک دن میرے والد گرامی امیر المومنین- خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ اچانک ایک شخص کو دیکھا کہ جو غلاف کعبہ کو پکڑ کر یہ دُعا پڑھ رہا تھا امیر المومنین- نے اس سے پوچھا: یہی تمہاری دعا تھی اس نے کہا : جی ہاں ! کیا وہ دُعا آپعليهالسلام نے سُن لی ہے ؟آپعليهالسلام نے فرمایا :ہاں! اس نے کہا اس دعا کو ہر نماز کے بعد پڑھا کریں ، قسم بخدا کہ جو بھی مومن نماز کے بعد یہ دُعا پڑھے گا ، ﷲ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دے گا خواہ وہ تعداد میں آسمان کے ستاروں ، بارش کے قطروں، ریت کے ذرّوں اور غبار خاک کے مانند ہی کیوں نہ ہوں حضرت امیر المومنین- نے فرمایا: میں اس دعا کو جانتا ہوں، یقیناً حق تعالیٰ کی بخشش بڑی وسیع ہے اور وہ بڑاہی کریم ہے تب اس شخص نے کہا :اے امیر المومنینعليهالسلام ! آپعليهالسلام نے سچ فرمایا اور ہر عالم سے بڑھ کر ایک عالم ہوتا ہے وہ مرد حضرت خضر - (بات کرنے والا شخص خود حضرت خضر- ) تھے کفعمی نے بلد الامین میں اسی دعاکو ذکر کیا ہے جو یہ ہے :
یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُهُ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ، یَا مَنْ لاَ یُغَلِّطُهُ السَّائِلُونَ وَیَا مَنْ لاَ یُبْرِمُهُ إلْحَاحُ
اے وہ جسے ایک آواز دوسری سے غافل نہیں کرتی، اے وہ سوالی جسے مغالطہ میں نہیں ڈالتے اے وہ جسے فریادیوں کی
الْمُلِحِّینَ أَذِقْنِی بَرْدَ عَفْوِکَ وَمَغْفِرَتِکَ وَحَلاوَةَ رَحْمَتِکَ
فریادیں تھکاتی نہیں مجھے اپنے عفو اور بخشش کی ٹھنڈک اوراپنی رحمت کی مٹھاس نصیب فرما۔
گذشتہ دن کا ضائع ثواب حاصل کرنے کی دعا
(۲۰) دیلمیرحمهالله نے اعلام الدین میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول پاک نے فرمایا:جو شخص مغرب کی نماز کے بعد ان آیات کو تین مرتبہ پڑھے تو وہ گذشتہ دن کا ضائع ہو جانے والا ثواب حاصل کر لے گا اس کی نماز قبول ہو گی اگر ہر فریضہ اور سنتی نماز کے بعد پڑھے تو اس کے لیے آسمان کے ستاروں، بارش کے قطروں، درختوں کے پتوں اور زمین کے ذرّوں کی تعداد کے مطابق نیکیاں لکھی جائیں گی جب وہ مرے گا تو قبر میں اسے ہر نیکی کے عوض دس نیکیاں مزید عطا ہوں گی۔ وہ آیات یہ ہیں
فَسُبْحانَ ﷲ حِینَ تُمْسُون وَحِینَ تُصْبِحُونَ وَلَه الْحَمْدُ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
ﷲ پاک ہے جب تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو اس کے لیے حمد ہے آسمانوں اورزمین میں اور رات میں بھی ہے
وَعَشِیَّاً وَحِینَ تُظْهِرُون یُخْرِج الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَیُحْیِی
اور جب تم ظہر کرتے ہو وہ مردہ میں سے زندہ کواور زندہ میں سے مردہ کو باہرنکالتا ہے وہ زمین کو اس کے مردہ
الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها وَکَذلِکَ تُخْرَجُونَ سُبْحانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ ان عَمَّا یَصِفُونَ
ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم بھی نکالے جائو گے پاک ہے تیرا صاحب عزّت رب باتوںسے جودہ اس کے لیے کہتے
وَسَلامٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ وَالْحَمْد لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ
ہیں اور سلام ہے سب نبیوں پر اور حمد بس ُخدا کیلئے ہے جو جہانوں کا رب ہے
لمبی عمر کیلئے دعا
(۲۱) سیدا بن طاووسرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ جمیل بن دراج سے روایت کی ہے کہ ایک شخص امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مولا! میری عمر زیادہ ہوگئی ہے میرے رشتہ دار مر چکے ہیں کوئی مونس اور ہمدم نہیں ملتا مجھے ڈرہے کہ میں خود بھی مر جائوں گا حضرت نے فرمایا: اپنے رشتہ داروں کی نسبت صالح مومن بھائی اُنس کیلئے بہتر ہیں اگر تم اپنی اور عزیز و اقارب اور دوستوں کی لمبی عمر چاہتے ہو تو ہر نماز کے بعد اس دُعا کو پڑھا کرو:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍاَللّٰهُمَّ إنَّ رَسُولَکَ الصَّادِقَ الْمُصَدَّقَ صَلَوٰتُکَ
اے معبود رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر، اے معبودبے شک تیرے سچّے اور سچا قرار دیئے ہوئے رسول تیری رحمتیں ہوں ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر نے فرمایا
عَلَیْه وَآلِهِ قالَ إنَّکَ قُلْتَ مَا تَرَدَّدْتُ فِی شَیْئٍ أَنَا فاعِلُهُ کَتَرَدُّدِی فِی قَبْضِ رُوحِ
کہ یقیناً تو نے ارشاد کیا کہ میں جو کچھ کرنا چاہوں اس میں کوئی تردد نہیں ہوتا مگر اس وقت جب میں کسی ایسے مومن کی روح قبض
عَبْدِیَ الْمُؤْمِنِ یَکْرَهُ الْمَوْتَ وَأَکْرَهُ مَسائَتَهُ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
کرنے لگوں جو موت کو پسند نہ کرے اور میں اس کی ناراضگی کو پسند نہیں کرتا اور اے معبود درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور اپنے آخری ولی
وَعَجِّلْ لِوَلِیِّکَ الْفَرَجَ وَالْعافِیَةَ وَالنَّصْرَ وَلاَ تَسُؤْنِی فِی نَفْسِی وَلاَ فِی أَحَدٍ مِنْ أَحِبَّتِی
کی کشائش میں جلدی کر انہیں محفوظ رکھ کامیابی عطا فرما اور مجھے اپنے اور اپنے دوستوں کے بارے میں کسی برائی سے دوچار نہ کرنا۔
اگر چاہو تو اپنے ایک ایک دوست کا نام لو اور کہو :نہ فلاں کے بارے میں نہ فلاں کے بارے میں برائی سے دو چار نہ کرنا، راوی کہتا ہے کہ جب میں نے یہ دُعا پابندی کے ساتھ پڑھنا شروع کی تو مجھے اس قدر زندگی نصیب ہوئی کہ میں اس سے اکتا گیا۔ یہ دُعا نہایت ہی معتبر ہے اور دعائوں کی تمام کتابوں میں منقول ہے۔
(تعقیبات مختصہ)
ہر نماز کی مخصوص تعقیبات
نماز فجر کی مخصوص تعقیبات:
جاننا چاہیے کہ نماز فجر کی تعقیبات دیگر تمام نمازوں کی بہ نسبت زیادہ ہیں اور اس نماز کی خصوصی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں حضرت امیر المومنین - سے منقول ہے کہ تلاش رزق میں روئے زمین پر سفر کرنے کے مقابل نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک ذکر الٰہی میں مشغول رہنا زیادہ کامل ہے حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منقول ہے کہ جو شخص طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک اپنے مصلّے پر بیٹھ کر تعقیبات میں مشغول رہے تو خدا اسے آتش جہنم سے محفوظ رکھے گا۔ امام محمد باقر - سے منقول ہے کہ شیطان اپنے دن کے لشکر کو طلوع صبح صادق سے طلوع آفتاب تک اور اپنے رات کے لشکر کو غروب آفتاب سے سرخی زائل ہونے تک زمین پر پھیلا دیتا ہے لہذا ان دو ساعتوں میں خدا کو بہت یاد کرو کہ ان دو وقتوں میں شیطان انسانوں کو غافل کر دیتا ہے، صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ خراسان میں امام رضا- جب نماز فجر پڑھتے تو طلوع آفتاب تک اپنے مصلّے پر بیٹھ کر تعقیبات میں مشغول رہتے تھے اس کے بعد ایک تھیلی آپعليهالسلام کے پاس لائی جاتی جس میں مسواک ہوتے اور ان میں سے ایک ایک مسواک استعمال فرماتے تھے پھر آپعليهالسلام تھوڑا ساکندر چباتے اور اس کے بعد قرآن مجید لے کر تلاوت میں لگ جاتے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے منقول ہے کہ جو شخص طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک تعقیبات میں مشغول رہے تو خداے تعالیٰ اس کیلئے حج کا ثواب لکھ دیتا ہے حدیث قدسی میں ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے : اے فرزند آدم! تو مجھے صبح کے بعدایک ساعت اور عصر کے بعدایک ساعت تک یاد کیا کر تاکہ میں تیری تمام مشکلیں آسان اور حاجتیں پوری کردوں نماز فجر کی بعض مخصوص تعقیبات یہ ہیں ۔
گناہوں سے بخشش کی دعا
( ۱ ) ابن بابویہرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص نماز فجر کے بعد ستر مرتبہاَسْتَغْفِرُ ﷲ رَبِّی وَاَتُوْبُ اِلِیْهِ ( اپنے رب اللہ سے بخشش مانگتا اور توبہ کرتا ہوں)کہے تو ﷲ تعالیٰ اس کے ستر ہزار گناہ معاف کر دیتا ہے ، ایک اور روایت کے مطابق سات سو گناہ معاف کر دیتا ہے ۔
شیطان کے چال سے بچانے کی دعا
( ۲ ) ابن بابویہرحمهالله نے صحیح اور معتبر اسناد کے ساتھ حضرت امیر المومنینعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص نماز فجر کے بعد گیارہ مرتبہ سورہقُلْ هُوَ ﷲ اَحَد پڑھے تو شیطان کی چاہت کے برخلاف اس دن میں اس کا کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا بلد الامین میں حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے روایت ہے کہ جوشخص روزانہ دس مرتبہ سورہقُلْ هُوَ ﷲ اَحَد پڑھے تو اس دن اس کے گناہ نہیں لکھے جائیں گے ہر چند کہ شیطان اس بارے میں کتنی ہی کوشش کرے۔
ناگوار امر سے بچانے والی دعا
( ۳ )شیخ کلینیرحمهالله نے صحیح سند کے ساتھ امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص نماز فجر کے بعد ایک سو مرتبہمَا شَائَ ﷲ کَانَ لاَ حَوْلَ وَ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِاللَّهِ العَلِیِّ العَظِیمِ (جو خدا چاہے وہی ہوتا ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ خداے بلند و بزرگ سے ہے )کہے تو اس روز اسے کوئی ناگوار امر در پیش نہیں ہوگا ،شیخ طوسیرحمهالله اور دیگر علما نے بھی دعائوں کی کتابوں میں اس کا ذکر کیا ہے۔
بہت زیادہ اہمیت والی دعا
( ۴ ) کفعمیرحمهالله اور دیگر علما نے امام محمد باقرعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص نماز فجر کے بعد زوال آفتاب کے وقت اور بعد از عصردس دس مرتبہ سورہاِنّا اَنْزَلْناهُ فِیْ لَیْلَةِ القَدْر پڑھے تو اس کا ثواب لکھنے والے تیس سال تک مشقت میں پڑے رہیں گے نیز آنجنابعليهالسلام ہی سے مروی ہے کہ جو شخص اس سورہ کو طلوع فجر کے بعد سات مرتبہ پڑھے تو اس کے لیے فرشتوں کی ستر صفیں ستر مرتبہ صلوات پڑھتی ہیں اور ستر مرتبہ اس کے لیے رحمت طلب کرتی ہیں۔ امام محمد تقیعليهالسلام سے اس شخص کے لیے بہت زیادہ ثواب منقول ہے جو دن رات میں چھہتر مرتبہ سورہاِنّا اَنْزَلْناهُ فِیْ لَیْلَةِ القَدْر پڑھے اور اس کی ترتیب یوں ہے: طلوع فجر کے بعد اور نماز فجر سے پہلے سات مرتبہ، نماز فجر کے بعد دس مرتبہ زوال آفتاب کے بعد اور نافلہ ظہر سے پہلے دس مرتبہ ، نافلہ ظہر کے بعد اکیس مرتبہ،نماز عصر کے بعد دس مرتبہ، نماز عشائ کے بعد سات مرتبہ اور سونے کے وقت گیارہ مرتبہ. اس کے جملہ ثواب میں سے یہ بھی ہے کہ ﷲ تعالیٰ ایک ہزار فرشتے خلق فرماتا ہے جو اس شخص کے لیے چھتیس ہزار سال تک اس عمل کا ثواب لکھتے رہتے ہیں۔
دعائے عافیت
( ۵ ) ابن بابویہرحمهالله اور دیگر علمائ نے معتبر سند کے ساتھ امام محمد باقرعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص ہر روز نماز فجر کے بعد دس مرتبہسُبْحانَ ﷲ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِهِ وَلاَ حَوْل وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالِلّٰهِ َ پاک ہے بزرگ ﷲ اسی کیلئے حمدہے اور نہیں کوئی طا قت و قوت مگر جو بلند و بزرگ تر خدا سے ہے کہے تو حق تعالیٰ اس کو عافیت عطا فرمائے گا یعنی اسے دیوانگی، برص، جذام، پریشانی، چھت تلے دبنے اور بڑھا پے کی فضول گوئی سے بچائے گا۔
تین مصیبتوں سے بچانے والی دعا
( ۶ )بلد الامین میں حضرت امیر المومنینعليهالسلام سے مروی ہے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا نے فرمایا :جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ﷲ تعالیٰ اس کی موت میں ڈھیل دے دشمنوں پر غلبہ عطا کرے اور بدتر موت سے بچائے تو اسے صبح و شام پابندی کیساتھ یہ دعا پڑھنا چاہیئے اور وہ اس طرح کہ تین مرتبہ کہے :
سُبْحانَ ﷲ مِلْئَ الْمِیزانِ وَمُنْتَهَی الْعِلْمِ وَمَبْلَغَ الرِّضاوَزِنَةَ الْعَرْشِ وَسَعَةَ الْکُرْسِیِّ
ﷲ پاک ہے جو بہترین وزن کرنے والا، علم و دانش کامرکز ،رضائوں کی حد عرش کاوزن اور کرسی کی وسعت ہے ۔
اورتین مرتبہ کہے:الْحَمْدُ لِلّٰهِ مِلْئَ الْمِیزانِ وَمُنْتَهَی الْعِلْمِ وَمَبْلَغَ الرِّضا وَزِنَةَ الْعَرْشِ وَسَعَةَ
حمد ہے ﷲکیلئے جو بہترین وزن کرنے والا، علم و دانش کامرکز ،رضائوں کی حد عرش کاوزن اور کرسی کی
الْکُرْسِیِّ۔اورتین مرتبہ کہے :لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مِلْئَ الْمِیزَانِ وَمُنْتَهَی الْعِلْمِ وَمَبْلَغَ الرِّضا وَزِنَةَ
وسعت ہے ۔ نہیں کوئی معبود سوائے ﷲ کے جو بہترین وزن کرنے والا، علم و دانش کا مرکز ،رضائوں کی حد
الْعَرْشِ،وَسَعَةَ الْکُرْسِیِّ ۔اورتین مرتبہ کہے :ﷲ اَکْبَرُ مِلْئَ الْمِیزَانِ وَمُنْتَهَی الْعِلْمِ وَمَبْلَغَ
عرش کا وزن اور کرسی کی وسعت ہے ۔ ﷲ بزرگ تر ہے جو بہترین وزن کرنے والا، علم و دانش کا
الرِّضَا وَزِنَةَ الْعَرْشِ وَسَعَةَ الْکُرْسِیِّ
مرکز ،رضائوں کی حد عرش کاوزن اور کرسی کی وسعت ہے ۔
شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا
( ۷ )سیدا بن طاووسرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ امام علی رضاعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص نماز فجر کے بعد سو مرتبہ یہ پڑھے:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ لاَ حَوْلَ وَلاَقُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
خدا کے نام سے جو بڑارحم کرنے والامہربان ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر جو خدائے بلند و بزرگ سے ہے
تو ﷲ تعالیٰ کے اسم اعظم کے اتناقریب پہنچ جائے گا کہ آنکھ کی سیاہی اس کی سفیدی کے اتنی قریب نہیں ہے معتبر اسناد کے ساتھ امام جعفر صادقعليهالسلام اور امام موسیٰ کاظمعليهالسلام سے منقول ہے کہ جو شخص فجر اور مغرب کی نماز کے بعد کسی سے بات کرنے اور اپنی جگہ سے حرکت سے پہلے یہ دعا سات مرتبہ پڑھے تو ستر قسم کی بلائیں اس سے دور ہوجائیں گی جن میںکم سے کم یہ ہے کہ وہ برص، جذام ، شر شیطان اور شر حاکم سے محفوظ رہے گا بعض روایات میں اسے پڑھنے کی تعداد تین مرتبہ اور بعض میں دس مرتبہ بتائی گئی ہے گویا کم از کم تعداد تین مرتبہ اور زیادہ سے زیادہ سو مرتبہ ہے تا ہم جتنا زیادہ مرتبہ پڑھے اتنا ہی زیادہ ثواب حاصل کرے گا۔
رزق میں برکت کی دعا
( ۸ )شیخ احمد بن فہد اور دیگر علما نے روایت کی ہے کہ ایک شخص امام موسیٰ کاظمعليهالسلام کی خدمت میں آیا اور شکایت کی کہ میرا کاروبار بند ہوچکا ہے جدھر کا رُخ کرتا ہوں ناکام رہتا ہوں اورجو حاجت پیش آتی ہے وہ پوری نہیں ہوتی اس پر حضرت نے فرمایا کہ نماز فجر کے بعد دس مرتبہ یہ پڑھے:
سُبْحانَ ﷲ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ ﷲ وَأَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلِه
پاک ہے خدائے بزرگ و برتر اپنی حمد کے ساتھ خدا سے بخشش ما نگتا ہوں اور اس کا فضل چاہتا ہوں۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے تھوڑے ہی عرصہ تک یہ دُعا پابندی کے ساتھ پڑھی تھی کہ کچھ لوگ کسی گائوں سے آئے اور کہنے لگے کہ تمہارا ایک رشتہ دار فوت ہو گیا ہے اور سوائے تمہارے اس کا کوئی وارث نہیں ہے پس اس طرح مجھ کو بہت سامال وزر مل گیا اور اب میں کسی کا محتاج نہیں ہوں کتاب کافی اور مکارم میں روایت ہوئی ہے کہ ہلقام نامی ایک شخص حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم فرمائیںجو میری دنیا اور آخر ت کے لئے جامع و یکساں مفید ہو اور آسان بھی ہو حضرت نے اسے یہی مذکورہ بالا دُعا تعلیم فرمائی اور کہا کہ اسے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک پڑھا کرو ، اس نے یہ دعا پابندی کے ساتھ پڑھنا شروع کردی تو اس کے حالات بہتر ہوگئے۔
قرضوں کی ادائیگی کی دعا
( ۹ ) عیاشی نے عبدﷲ بن سنان سے روایت کی ہے کہ میں امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت نے فرمایا :آیا میں ایسی دعا تعلیم کروں کہ جب تم اسے پڑھو تو ﷲ تمہارے قرضے ادا کرے اور تمہارے حالات بہتر ہو جائیں ؟میں نے عرض کیا: مجھے تو اس دعا کی سخت ضرورت ہے، تب آپعليهالسلام نے فرمایا کہ نماز فجر کے بعد یہ پڑھا کرو :
تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الْقَیُّومِ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً وَلَمْ یَکُنْ
میں اس زندہ و پائندہ پر بھر وسا کرتا ہوں جس کو موت نہیں حمد ﷲ ہی کیلئے ہے جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا نہ حکومت میں کوئی اسکا
لَه ُشَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَم ْیَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ
شریک ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ کوئی اس کامددگار ہو اس کی بہت بڑی بڑائی کرو اے معبود میں تیری پناہ لیتا ہوں
مِنَ الْبُؤْسِ وَالْفَقْرِ وَمِنْ غَلَبَةِ الدَّیْنِ وَالسُّقْمِ وَأَسْأَلُکَ أَنْ تُعِینَنِی عَلَی أَدائِ حَقِّکَ
تنگدستی بے مائیگی قرض کی زیادتی اور مرض و بیماری سے اورسوال کرتا ہوں کہ تو اپنے حق کی ادائیگی میں میری مدد فرما جو
إلَیْکَ وَ إلَی النَّاسِ شیخ طوسیرحمهالله اور دیگر علمائ کی روایت کے مطابق دعایوں ہے : وَمِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ فَصَلِّ
تیرے اور لوگوں کیلئے ہے۔ اور قرض کی زیادتی سے پس رحمت
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَعِنِّی عَلَی أَدائِ حَقِّک إلَیْکَ وَ إلَی النَّاسِ
فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر اور اپنے حق کی ادائیگی میں میری مدد فرما جو تیرے اور لوگوںکے لیے ہے ۔
تنگدستی اور بیماری سے دوری کی دعا
(۱۰) کفعمیرحمهالله نے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے رسول ﷲ سے تنگدستی پریشانی اور بیماری کی شکایت کی تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :یہ دُعا صبح و شام دس مرتبہ پڑھا کرو چنانچہ اس نے تین روز تک باقاعدگی سے یہ دعا پڑھی تو اس کے تمام حالات سدھر گئے شیخ طوسیرحمهالله اوردیگر علما نے یہ دُعا فجر کی تعقیبات میں ذکر کی ہے اور وہ دُعا یہ ہے :
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ
کوئی طاقت وقوت نہیں مگر جو ﷲ سے ہے میں اس زندہ پر بھر وسا کرتا ہوں جسے موت نہیںحمد ﷲ کیلئے ہے جس نے
صَاحِبةً وَلاَوَلَداً وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً
کسی کو بیٹا نہیں بنایا نہ حکومت میں کوئی اس کا شریک ہے نہ وہ کمزور ہے کہ اس کاکوئی مددگار ہو اور اس کی بہت بڑائی کرو ۔
خدا سے عہد کی دعا
( ۱۱ ) شیخ طوسیرحمهالله ،کفعمیرحمهالله اور دیگر علما نے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا سے روایت کی ہے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا :آیا تم اس بات سے عاجز ہوکہ ہر صبح و شام خداے تعالیٰ سے عہد لے لو؟انہوں نے عرض کیا کہ ہم کس طرح عہد لیں؟آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ یہ دُعا پڑھا کرو کیونکہ جو شخص یہ دعا پڑھے تو اس پر مہر لگادی جاتی ہے اور اسے عرش الٰہی کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے پس جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی آواز دے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے خدا سے عہد لیا ہے تا کہ وہ عہد انہیں دیا جائے اور اسی کے ساتھ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ شیخ طوسیرحمهالله نے یہ دعا نماز فجر کی تعقیبات میں ذکر کی ہے اور وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ فاطِرَ السَّمَواتِ وَالْاَرْضِ عالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّهادَةِ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیمَ أَعْهَدُ إلَیْکَ
اے معبود! اے آسمانوںاور زمین کے خالق، اے نہاں و عیاں کے جاننے والے بڑے رحم والے مہربان میں اس دنیا میں
فِی هذِهِ الدُّنْیَا أَنَّکَ أَنْتَلاَ ﷲ إلهَ إلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ وَأَنَّ مُحَمَّداً صلی
تیرے ساتھ عہد کرتا ہوں یقیناً تو وہ ﷲ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد صلی
ﷲ علیه وآله وسلم عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَلاَ تَکِلْنِی إلَی
ﷲ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں پس اے معبود رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر اور تو مجھے پلک جھپکنے تک بھی کبھی میرے
نَفْسِی طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً وَلاَ إلی أَحَدٍ مِنْ خَلْقِکَ فَ إنَّکَ إنْ وَکَلْتَنِی إلَیْها تُباعِدْنِی مِنَ
نفس کے حوالے نہ کراور نہ مخلوق میںسے کسی کے سپرد کر پس اگر تو نے مجھے ان کے حوالے کیا تو مجھے خیر ونیکی سے دور اور شرو بدی کے قریب
الْخَیْروَتُقَرِّبْنِی مِنَ الشَّرِّأَیْ رَبِّ لاَ أَثِقُ إلاَّبِرَحْمَتِکَ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ طَیِّبِیْنَ
کر دے گا اے پروردگار تیری رحمت کے سوا مجھے کسی پر بھر وسا نہیں پس رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی پاک اولادعليهالسلام پر اور میرا
وَاجْعَلْلِی عِنْدَکَ عَهْداً تُؤَدِّیه إلَیَّ یَوْمََ الْقِیامَةِ إنَّکَ لا تُخْلِفُ الْمِیعادَ
عہد اپنے پاس رکھ جوتو روز قیامت مجھے واپس کرے بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔
جہنم کی آگ سے بچنے کی دعا
(۱۲)عدّۃ الدّاعی میں امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت ہے کہ جو شخص نماز فجر کے بعد کسی سے بات کرنے سے پہلے یہ کہے :رَبِّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍوآل محمد و َٲَھْلِ بَیْت محمد (پروردگارا !محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اہل بیت پر رحمت فرما ۔)تو حق تعالیٰ اس کے چہرے کو آتش جہنم سے دور رکھے گا ۔ابن بابویہرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ ثواب الاعمال میں روایت کی ہے کہ نماز فجر کے بعد سو مرتبہ کہا کرو:اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ (اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما !) تا کہ خدا تعالیٰ تمہیں جہنم سے محفوظ رکھے۔ ایک اور روایت کے مطابق کسی سے بات کرنے سے پہلے سو مرتبہ کہو:یَارَبِّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍوَٲَعْتِقْ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ (اے پروردگار! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اورمیری گردن جہنم سے آزاد کر دے )
(سجدہ شکر )
جب تعقیبات نماز سے فارغ ہوتو سجدہ شکر بجالائے، اس بات پر علمائ شیعہ کا اجماع ہے کہ سجدہ شکر کسی نعمت کے حاصل ہونے یا کسی مصیبت کے دور ہونے کے وقت بجالایا جائے اور اس کی بہترین قسم نماز کے بعد ادائے نماز کی یہ توفیق ملنے پر سجدہ شکر کی ادائیگی ہے امام محمد باقرصلىاللهعليهوآلهوسلم بہ سند معتبر ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے والد بزرگوار امام زین العابدینعليهالسلام جب بھی خدا کی کسی نعمت کو یاد کرتے تو اس کے شکرانے میں سجدہ شکر بجالاتے ، جو بھی آیہ سجدہ تلاوت فرماتے تو سجدہ بجالاتے ، کسی شر سے خوف کھاتے اور خدا اسے دور کر دیتا تو بھی سجدہ شکر ادا فرماتے ، جب بھی واجب نماز سے فارغ ہوتے تو سجدہ بجالاتے اور جب دو آدمیوں میں صلح کر واتے تو اس کے لیے بھی سجدہ شکر ادا کرتے آنجنابعليهالسلام کے تمام اعضائے سجدہ پر سجدے کے نشان موجود تھے ، اسی لیے آپعليهالسلام کو ’’سجاد‘‘کہا جاتا ہے صحیح سند کے ساتھ امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت ہے کہ جو شخص علاوہ نماز کے کسی نعمت کے ملنے پر خدا کے لیے سجدہ شکر بجالائے تو ﷲ تعالیٰ اس کے نام دس نیکیاں لکھ دیتا ہے، دس برائیاں مٹا دیتا ہے اور بہشت میں اس کے دس درجے بلند کر دیتا ہے دیگر بہت سی معتبر اسناد کے ساتھ آنجنابعليهالسلام ہی سے منقول ہے کہ بندے کا خدا سے نزدیک تر مقام اس وقت ہوتا ہے جب وہ حالت سجدہ میں ہو اور گریہ کررہا ہو۔ ایک اور صحیح حدیث میں فرماتے ہیں کہ سجدہ شکر ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس سے نماز مکمل ہوتی ہے ، پروردگار عالم راضی ہوتا ہے اور ملائکہ کو ایسی عبادت پرتعجب ہوتا ہے اس لیے کہ جب بندہ نماز ادا کر لیتاہے اور اس کے بعد سجدہ شکر بجالاتا ہے تو خداوند عالم اس کے اور فرشتوں کے درمیان سے پردے ہٹا دیتا ہے، پھر کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو! میرے بندے کی طرف نگاہ کرو کہ اس نے میرا فرض ادا کر دیا ہے میرے عہد کو پورا کر دیا ہے. اس کے بعد اس بات پر میرے لیے سجدہ شکر اداکیا ہے کہ میں نے اسے اس نعمت سے نوازا ہے اے میرے فرشتو! اب تم ہی بتائو کہ اسے کیا انعام دیا جاے؟ وہ کہتے ہیں خداوندا! اپنی رحمت ،پھر فرماتا ہے اور کیا دوں؟ وہ عرض کرتے ہیں اپنی جنت پھر پوچھتا ہے اسے اور کیا دوں ؟وہ عرض کرتے ہیں: اس کے مشکل امور کی کفایت اور حاجات کی برآوری ۔ اسی طرح خداے تعالیٰ سوال کرتاجاتا ہے اور ملائکہ جواب دیتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ملائکہ تھک جاتے ہیں اور کہتے ہیں: پروردگارا! ہمیں اب کچھ معلوم نہیں اس پر خالق اکبر فرماتا ہے :میں بھی اس کا اسی طرح شکریہ ادا کرتاہوں جس طرح اس نے میرا شکر ادا کیا ہے اور میں روز قیامت اپنے فضل اور عظیم رحمت کے ساتھ اس کی طرف نظر کروں گا صحیح سند کے ساتھ امام جعفر صادقعليهالسلام سے منقول ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمعليهالسلام کو اس لیے اپنا خلیل بنایا کہ وہ زمین پر بہت زیادہ سجدے کیا کرتے تھے، ایک اور معتبر حدیث میں فرماتے ہیں :جب بھی تم خدا کی کسی نعمت کو یاد کرو اور تم ایسی جگہ ہو کہ جہاں مخالفین تمھیں دیکھ نہ رہے ہوں تو اپنا رخسار زمین پر رکھ کر اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔ اگر مخالفین وہاں موجود ہوں اور تم سجدہ نہیں کر سکتے تو اپنا ہاتھ پیٹ کے نچلے حصّے پر رکھ کر تواضع کے طور پر جھک جائو تا کہ مخالفین یہ سمجھیں کہ تمہیں درد شکم ہوگیا ہے بہت سی روایات میں وارد ہے کہ ﷲ تعالےٰ نے حضرت موسیٰعليهالسلام سے فرمایا:جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کس لیے منتخب کیا اور ساری مخلوق میں سے کلیم بنایا ہے ؟موسیٰعليهالسلام نے عرض کیا: پروردگارا! میں نہیں جانتا !ﷲ تعالیٰ نے فرمایا: اس لیے کہ میں نے اپنی ساری مخلوقات کے حالات دیکھے اور تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں پایا کہ جس کا نفس میرے سامنے تمہارے نفس سے زیادہ عاجز و درماندہ ہو کیونکہ جب تم نماز سے فارغ ہوتے ہو تو اپنے دونوں رخساخاک پر رکھ دیتے ہو سند موثق کے ساتھ امام علی رضاعليهالسلام سے منقول ہے کہ واجب نماز کے بعد سجدہ شکر اس امر پر خدا کے شکر کی ادائیگی ہے کہ اس نے اپنے بندے کو یہ توفیق دی ہے کہ وہ اس کا عائد کردہ فرض ادا کر سکے اس سجدے میں کم از کم ذکر یہ ہے کہ تین مرتبہ ’’شکراً لِلّٰہِ‘‘کہا جائے۔ راوی نے پوچھا کہ ’’شکراً لِلّٰہِ‘‘ کے کیا معنی ہیں ؟ امامعليهالسلام نے فرمایا اس کے معنی یہ ہیںکہ میں یہ سجدہ اس لیے کر رہا ہوں کہ ﷲ نے مجھے اس عمل کی توفیق دی ہے کہ میں اس کے لیے کھڑا ہوا اور اپنا فرض ادا کیا، میں یہ سجدہ اسی بات کے شکرانے کے طور پر کر رہا ہوں خدا کا شکر مزید نعمت اور اطاعت کی توفیق کا موجب ہوتا ہے اور اگر نماز میں کوئی ایسی خامی رہ گئی ہو جو نافلہ کے ذریعے پوری نہ ہو پائی ہو تو وہ اس سجدے کے ذریعے پوری ہوجاتی ہے۔
(سجدہ شکر کی کیفیت)
سجدہ شکر کی کیفیت یہ ہے کہ اسے جس طرح بھی بجالایا جائے ، ادا ہو جاتا ہے اور احوط یہ ہے کہ انسان زمین پر ہو اور نماز کے سجدے کی مانند سات اعضا پر سجدہ کرے نیز اپنی پیشانی اس چیز پر رکھے جس پر نماز میں پیشانی رکھنا صحیح ہوتا ہے، لیکن افضل یہ ہے کہ سجدہ نماز کے بر عکس ہاتھوں کو زمین پر دراز کر دے اور پیٹ کو زمین سے ملادے اور سنت ہے کہ پہلے پیشانی کو زمین پر رکھے پھر دائیں رخسار کو اس کے بعد بائیں رخسار کو زمین پر رکھے، پھر پیشانی کو دوبارہ زمین پر رکھے اور یہی وجہ ہے کہ اس سجدے کو شکر کے دو سجدے کہا جاتا ہے بظاہر یہ سجدہ ذکر کے بغیر بھی ادا ہو جاتا ہے لیکن سنت ہے کہ ذکر بھی کرے اور بہتر ہے کہ ان اذکار اور دعائوں کے ذریعے ذکر کیا جائے جو بعد میں نقل کی جائیں گی اور مستحب ہے کہ اس سجدے کو طول دیا جائے چنانچہ منقول ہے کہ امام موسیٰ کاظمعليهالسلام طلوع آفتاب کے بعد سجدے کو اس قدر طول دیتے کہ زوال آفتاب ہوجاتا اور عصر کے بعد سجدے کو اس قدر طول دیتے کہ مغرب کا وقت ہوجاتا ایک اور حدیث میں ہے کہ آنجنابعليهالسلام دس سال تک روزانہ طلوع آفتاب سے زوال آفتاب تک سجدے میں رہا کرتے تھے صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ امام علی رضاعليهالسلام اتنی اتنی دیر تک سجدے میں پڑے رہتے کہ مسجد کے سنگریزے آپعليهالسلام کے پسینے سے تر ہوجاتے اور آپعليهالسلام اپنے دونوں رخسار زمین پر رکھے رہتے رجال کشی میں مذکور ہے کہ فضل بن شاذان، ابن ابی عمیر کے پاس آئے تو وہ حالت سجدہ میں تھے اور انہوں نے اسے بہت طول دیا ، جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھا یا تو ان کے اس سجدے کے طولانی ہونے کا ذکر کیا گیا تو ابن ابی عمیر نے کہا:اگر تم لوگ جمیل بن دراج کے سجود کو دیکھتے تو میرے سجدے کو طولانی نہ سمجھتے ، اس کے بعد کہا: ایک روز میں جمیل بن دراج کے پاس گیا تو انہوں نے بہت ہی طویل سجدہ کیا، جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھایا تو میں نے کہا: آپ نے تو بہت ہی طویل سجدہ کیا ہے انہوں نے جواب دیا: اگر تم معروف بن خرتوذ کے سجدے کو دیکھتے تو میرے اس سجدے کو مختصر ہی سمجھتے. فضل بن شاذان ہی روایت کرتے ہیں کہ حسن بن علی بن فضال عبادت کے لیے صحرا میں چلے جاتے اور اپنے سجدے کو اتنا طول دیتے ہیں کہ صحرا کے پرندے کپڑا سمجھ کران کی پشت پر آن بیٹھتے، وحشی جانوران کے اردگرد چلتے پھرتے رہتے اور ان سے کسی قسم کی وحشت محسوس نہ کرتے نیز روایت ہوئی ہے کہ علی بن مہزیار طلوع آفتاب کے ساتھ ہی سجدہ الٰہی میں چلے جاتے اور جب تک اپنے ایک ہزار (مومن)بھائیوں کے لیے دعا نہ کر لیتے سجدے سے سر نہ اٹھاتے اور طویل سجدوں کی وجہ سے ان کی پیشانی پریوں محراب پڑچکے تھے جیسے اونٹ کے زانوئوں پر ہوتے ہیں روایت ہوئی ہے کہ ابن ابی عمیر نماز فجر کے بعد سجدہ شکر میں سر رکھتے اور ظہر تک نہیں اٹھاتے تھے افضل یہ ہے کہ سجدہ شکر تمام تعقیبات کے بعد اور نوافل سے پہلے کیا جائے ۔ اکثر علمائ کہتے ہیں کہ سجدہ شکر نماز مغرب کے نوافل کے بعد بجالایا جائے اور بعض دیگر علمائ کہتے ہیں کہ سجدہ شکر نوافل سے پہلے کیا جائے. ظاہراً دونوں صورتیں بہترہیں اور اس کا نوافل سے پہلے بجالانا افضل ہے البتہ حمیریرحمهالله نے امام زمانہ عجل ﷲفرجہ سے روایت کی ہے کہ اگر دونوں طرح سے ادا کیا جائے تو شاید زیادہ بہتر ہو اب رہ گئیں سجدہ شکر میں پڑھی جانے والی دعائیں تو وہ بہت زیادہ ہیں ان میں سے چند ایک آسان ترین ہیں اور وہ یہ ہیں ۔
( ۱ ) معتبر سند کے ساتھ امام علی رضاعليهالسلام سے منقول ہے کہ اگر تم چاہو تو سو مرتبہ کہا کرو شکراً شکراً اور چاہو تو سو مرتبہ کہا کرو عفواً عفواً اور عیون اخبار الرضا میں رجائ بن ابی ضحاک روایت کرتے ہیں کہ امام علی رضاعليهالسلام خراسان میں جب نماز ظہر کی تعقیبات سے فارغ ہوتے تو سر سجدے میں رکھ کر سو مرتبہ کہے:شکراً ﷲ۔(خدا کا شکر ہے۔)اور جب عصر کی تعقیبات سے فارغ ہوتے تو سجدے میں سو مرتبہ کہے:حمداً ﷲ۔(خدا کی حمد ہے )
( ۲ ) شیخ کلینیرحمهالله معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کرتے ہیں کہ بندہ اس وقت اپنے خدا کے زیادہ نزدیک ہوتا ہے جب وہ حالت سجدہ میں ہواور اسے پکارے پس جب سجدہ شکر میں جائے تو کہے :
یَارَبَّ الْاَرْبابِ، وَیَا مَلِکَ الْمُلُوکِ وَیَا سَیِّدَالسَّاداتِ وَیَا جَبَّارالْجَبابِرَةِ وَیَا إلهَ الاَْلِهَةِ
اے پروردگاروں کے پروردگار! اے بادشاہوں کے بادشاہ !اے سرداروں کے سردار!اے جابروں کے جابراور اے معبودوں کے معبود! تو
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
سرکار محمد و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما
اب اپنی حاجات طلب کرے اور کہے :فَ إنِّی عَبْدُکَ ناصِیَتِی فِی قَبْضَتِکَ ۔(بے شک میں تیرا بندہ ہوں میری مہار تیرے ہاتھ میں ہے .) پھر جو دعا چاہے مانگے کہ خداعطا کرنے والا ہے اور کوئی بھی حاجت پوری کرنا اس کیلئے مشکل نہیں۔
( ۳ ) شیخ کلینیرحمهالله نے موثق سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا کہ ایک رات میں نے سنا کہ میرے والد گرامی مسجد میں حالت سجدہ میں روتے ہوئے یہ دعا پڑھ رہے تھے:
سُبْحانَکَ اَللّٰهُمَّ أَنْت رَبِّی حَقّاً حَقّاً سَجَدْتُ لَکَ یَارَبِّ تَعَبُّداً وَرِقّاً اَللّٰهُمَّ إنَّ عَمَلِی ضَعِیفٌ
اے معبود تو پاک ہے تو میرا پکا سچا رب ہے یا رب میں نے تجھے عبادت وبندگی کیلئے سجدہ کیا ہے اے معبود بیشک میرا عمل کمزور ہے اے معبود اس
فَضاعِفْهُ لِی اَللّٰهُمَّ قِنِی عَذابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبادَکَ، وَتُبْ عَلَیَّ إنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ
دن اسے میرے لیے دگنا کردے مجھے اپنے عذاب سے بچانا جب تو لوگوں کو زندہ کریگااورمیری توبہ قبول فرما کہ بیشک تو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
( ۴ )شیخ کلینیرحمهالله نے معتبر سند کیساتھ امام موسیٰ کاظمعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ آنجنابعليهالسلام سجدے میں یہ دعا پڑھتے تھے۔
أَعُوذُ بِکَ مِنْ نَارٍ حَرُّهَالاَ یُطْفیٰ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ نارٍ جَدِیدُها لاَ یَبْلی وَأَعُوذُ بِکَ
خدایا اس آگ سے تیری پناہ لیتا ہوںجوبجھے گی نہیں تیری پناہ لیتا ہوں اس آگ سے جو ہمیشہ نئی ہے پرانی نہ ہوگی تیری پناہ لیتا ہوں اس
مِنْ نارٍ عَطْشانُها لاَ یُرْوی وَأَعُوذُ بِکَ ٍ مِنْ نَارٍ مَسْلُوْبُهَا لَا يُکْسیٰ
آگ سے جس میں پیا سے کبھی سیراب نہ ہونگے اور تیری پناہ لیتا ہوںاس آگ سے جس میں برہنوں کو لباس نہ ملے گا
( ۵ )شیخ کلینیرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ ایک شخص اما م جعفر صادقعليهالسلام خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شکایت کی کہ میری ایک ام ولد لونڈی ہے جو بیماررہتی ہے. حضرت نے فرمایا: اس سے کہو کہ ہر واجب نماز کے بعد سجدہ شکر میں یہ کہا کرے:
یَا رَؤُوفُ یَا رَحِیمُ یَارَبِّ یَا سَیِّدِی (اے مہربان اے رحم والے اے رب اے میرے سردار )پھر اپنی حاجات طلب کرے
( ۶ )بہت ہی معتبر روایات میں منقول ہے کہ امام جعفر صادقعليهالسلام اور امام موسیٰ کاظمعليهالسلام سجدہ شکر میں بکثرت یہ کہا کرتے تھے ۔
أَسْأَلُکَ الرَّاحَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ وَالْعَفْوَ عِنْدَ الْحِسابِ
خدایا میں تجھ سے موت کے وقت راحت اور حساب کے وقت درگزر کاسوالی ہوں
( ۷ )صحیح سند کیساتھ منقول ہے کہ امام جعفر صادقعليهالسلام سجدہ شکر میں یہ کہا کرتے تھے۔
سَجَدَ وَجْهِیَ اللَّئِیمُ لِوَجْهِ رَبِّیَ الْکَرِیمِ
میرے پست چہرے نے تیری کریم ذات کو سجدہ کیا ہے
( ۸ ) بعض معتبر کتابوں میں امیر المومنین- سے مروی ہے کہ ﷲ کے نزدیک بہترین کلام یہ ہے کہ سجدے میں تین مرتبہ کہیں:
إنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی
یقیناً میں نے خود پر ظلم کیا ہے پس مجھے بخش دے
( ۹ ) جعفریات (مجموعہ اقوال حضرت امام جعفر صادق -) میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول خدا جب سجدے میں سر رکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے:
اَللّٰهُمَّ مَغْفِرَتُکَ أَوْسَعُ مِنْ ذُنُوبِی وَرَحْمَتُکَ أَرْجَی عِنْدِی مِنْ عَمَلِی فَاغْفِرْ لِی
اے معبود! تیری بخشش میرے گناہوں سے زیادہ وسیع ہے اور تیری رحمت میرے عمل کی نسبت زیادہ امید افزا ہے پس میرے
ذُنُوبِی یَا حَیّاً لاَ یَمُوتُ
گناہ بخش دے اے وہ زندہ جو مرے گا نہیں
( ۰۱ ) قطب راوندی نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جب تمہیں کوئی سخت مصیبت درپیش ہویا انتہائی غم و اندوہ لاحق ہوتو زمین پر سجدے میں جاکر کہو :
یَا مُذِلَّ کُلِّ جَبَّارٍ یَا مُعِزَّکُلِّ ذَلِیلٍ، قَدْ وَحَقِّکَ بَلَغَ مَجْهُودِی فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اے ہر جبار کو ذلیل کرنے والے ہرذلیل کو عزت دینے والے تیرے حق کی قسم کہ میں بے بس ہوگیا پس تومحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام
مُحَمَّدوَفَرِّجْ عَنِّی
محمد پر رحمت نازل فرما اور مجھے کشادگی عطا فرما
عدۃ الداعی میں آپعليهالسلام ہی سے روایت ہے کہ جب کسی شخص کو کوئی مصیبت آپڑے یا کوئی مشکل پیش آجائے یا کوئی رنج و غم پریشان کرنے لگے تو وہ اپنے گھٹنوں تک اور کہنیوں تک کپڑا ہٹائے اور ان کو زمین پر لگادے اپنا سینہ زمین سے لگا دے اور خدا سے اپنی حاجات طلب کرے۔
( ۱۱ ) ابن بابویہرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ جب بندہ سجدے میں تین مرتبہ یہ کہے :
یَا ﷲ یَا رَبّاهُ یَا سَیِّداهُ (اے ﷲ اے پروردگار اے سردار ) تو خدا تعالیٰ جواب میں کہتا ہے لبیک (ہاں) اے میرے بندے مجھ سے اپنی حاجات بیان کر ۔مکارم الاخلاق میں ہے کہ جب کوئی شخص سجدے میں ۔یَا رَبَّاھُ یَا سَیِّداھُ (اے پروردگار اے سردار .) کہتا ہے یہاں تک کہ اس کی سانس رک جائے تو خدا فرماتا ہے کہ اے بندے اپنی حاجات بیان کر ۔
(۱۲)مکارم الاخلاق میں امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ رسول خدا کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو سجدے میں کہہ رہا تھا۔
یَارَبِّ مَاذا عَلَیْکَ أَنْ تُرْضِیَ عَنِّی کُلَّ مَنْ کانَ لَهُ عِنْدِی تَبِعَةٌ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِی ذُنُوبِی
اے پروردگارتجھے کیا فرق پڑے گاکہ تو ہر ایسے شخص کو مجھ سے راضی کردے جس کا کوئی حق میرے ذمہ ہے اور یہ کہ تو میرے گناہ معاف کر
وَأَنْ تُدْخِلَنِی الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِکَ فَ إنَّمَا عَفْوُکَ عَنِ الظَّالِمِینَ، وَأَنَا مِنَ الظَّالِمِینَ،
دے اور اپنی رحمت سے مجھ کو جنت میں داخل کر دے کیونکہ یقینا تو ظالموں کو معاف کرتا ہے اور میں بھی ظالموںمیں سے ہوں تو تیریرحمت مجھ
فَلْتَسَعْنِی رَحْمَتُکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
پر چھا جائے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
اس وقت آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس شخص سے فرمایا کہ اپنا سر اٹھا لو کہ تمہاری دعا قبول ہو گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے اس پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعا پڑھی ہے جو قوم عاد میں آئے تھے مؤلف کہتے ہیں :ہم نے مسجد کوفہ اور مسجد زید کے اعمال میں بعض دعائیں نقل کی ہیں جو سجدے میں پڑھی جاتی ہیں۔ شیخ طوسیرحمهالله نے مصباح المتہجد میں سجدہ شکر کے بیان میں ذکر کیا ہے، مستحب ہے کہ انسان اپنے بھائیوں کے لیے سجدے میں یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ رَبَّ الْفَجْرِوَاللَّیَالِی الْعَشْرِ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَاللَّیْلِ إذا یَسْرِ وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ وَ إلهَ
اے معبود ! ایک فجر،دس راتوں شفع، وتر اور رات کے پروردگار جب وہ گزر جائے اے ہر چیز کے پروردگار، اے ہر
کُلِّ شَیْئٍ وَخَالِقَ کُلِّ شَیْئٍ، وَمَلِکَ کُلِّ شَیْئٍ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَافْعَلْ بِی و
چیز کے معبود اے ہر چیز کے پیدا کرنے والے اور اے ہر چیز کے مالک!سرکار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پررحمت نازل فرما اور میرے ساتھ اور
َبِفُلانٍ وَفُلانٍ مَا أَنْتَ أَهْلُهُ وَلاَ تَفْعَلْ بِنَا مَا نَحْنُ أَهْلُهُ فَ إنَّکَ أَهْلُ التَّقْوَی وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ
فلاں فلاں کے ساتھ وہ برتائو کر جس کا تو اہل ہے اور ہمارے ساتھ وہ برتائو نہ کر جس کے ہم اہل ہیں کیونکہ یقیناً تو بچانے اور بخش دینے کا اہل ہے ۔
جب سر سجدے سے اٹھاے تو اپنے ہاتھوں کو مقام سجدہ سے مس کرے اور پھر انہیں اپنے چہرے کے بائیں طرف پھیرے ، پھر پیشانی پر اور پھر چہرے کی دائیں طرف تین مرتبہ پھیرے اور ہر بار یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، عَالِمُ الْغَیْب وَالشَّهادَةِ الرَّحْمنُ الرَّحِیمُ اَللّٰهُمَّ
اے معبود حمد تیرے ہی لیے ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہی حاضر و غائب کا جاننے والا بڑے رحم والا مہربان ہے
أَذْهِبْ عَنِّی الهَمَّ وَالْحَزَنَ وَالْغِیَرَ وَالْفِتَنَ مَا ظَهَرَ مِنْها وَمَا بَطَنَ
اے معبود! مجھ سے ہر طرح کی ایذا یعنی غم تکلیفیں اوربلائیں دور کر دے خوہ اوہ ظاہر یاہیں باطن ہیں
(دوسری فصل ):
طلوع و غروب آفتاب کے درمیان کے اعمال
جب سورج طلوع ہونے کے قریب ہوتو اس وقت وہ دعائیں پڑھی جائیں جو انشائ ﷲ پانچویں فصل میںذکر ہوں گی اور بہتر ہے کہ دن کا آغاز صدقے سے کیا جائے چاہے وہ کوئی تھوڑی سی چیز ہی کیوں نہ ہو، پھر ظہر سے پہلے قیلولہ (دوپہر کا سونا) کر لیا جائے اور اس کے بعد نماز ظہر کی تیاری شروع کردی جائے۔ دو پہر کا سونا (قیلولہ) رات کی عبادت اور دن میں روزے کے لیے مفید ہے اس بات کی کوشش کرے کہ ظہر کے وقت نیند سے بیدار ہوجائے اور وضو کر کے مسجد کی طرف چل پڑے۔ مسجد میں جاکر نماز تحیہ مسجد پڑھنا چاہیئے اگر نماز کا وقت نہیں ہوا تو اس کا انتظار کیا جائے اور مستحب ہے کہ نماز اس کے اول وقت میں ادا کی جائے۔ جب یقینی طور پر وقت زوال داخل ہو جائے تو ہر کام سے پہلے یہ دعا پڑھی جائے ۔
سُبْحانَ ﷲ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلاَ وَلَداً وَلَمْ یَکُنْ لَهُ
ﷲ پاک ہے ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں حمد خدا کے لیے ہے جس نے نہ کوئی بیوی کی نہ کوئی بیٹا بنایا نہ اس کی بادشاہت
شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً
میں کوئی اس کا شریک ہے نہ وہ کمزور ہے کہ کوئی اس کا مددگار ہو اور اس کیبہت بڑائی کرو
ایک روایت میں ہے کہ امام محمدباقرعليهالسلام نے محمد بن مسلم سے فرمایا: اس دعا کی ایسے حفاظت کرو جیسے اپنی آنکھوں کی حفاظت کرتے ہو اگر یہ دعا پڑھنے تک وضو نہ کیا ہو تو اب جلدی سے وضو کر لیا جائے اور وضو کے جو آداب پہلے ذکر ہو چکے ہیں انہیں ملحوظ رکھا جائے .اسکے بعد ظہر کے نوافل پڑھے جائیں اور وہ آٹھ رکعت ہیں پہلے دو رکعت کی نیت کر کے مذکورہ طریقے سے سات تکبیریں کہتے ہوئے انکے ساتھ مذکورہ دعائیں پڑھی جائیں پھر ’’اَعُوذُ بِﷲ مِنَ الشَّیْطانِ الرَّجِیمِْ‘‘ کہہ کر پہلی رکعت میں سورہ حمد و سورہ قُلْ ھُوَﷲ اَحَدْ اور دوسری رکعت میں سورہ حمد و سورہ کافروں پڑھی جائیں ان دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد تین تکبیریں کہی جائیں جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے اسکے بعد تسبیح جناب زہراعليهالسلام اور پھر یہ دعا پڑھی جائے ۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی ضَعِیفٌ فَقَوِّ فِی رِضاکَ ضَعْفِی وَخُذْ إلَی الْخَیْرِ بِنَاصِیَتِی وَاجْعَلِ الْاِیمانَ
اے معبود! میں کمزور ہوں پس تو میری کمزوری کو اپنی رضا کیلئے قوت میںبدل دے میری مہار پکڑ کر مجھے نیکی کی طرف لے جا ایمان کو میری رضا
مُنْتَهی رِضائِی وَبَارِکْ لِی فِیَما قَسَمْتَ لِی وَبَلِّغْنِی بِرَحْمَتِکَ کُلَّ الَّذِی أَرْجُو مِنْکَ
کا مقصود بنا دے تو نے جو حصہ مجھے دیاہے اس میں برکت عطا فرما اپنی رحمت سے مجھے ہر مراد تک پہنچا جسکی تجھ
وَاجْعَلْ لِی وُدّاً وَسُرُوراً لِلْمُؤْمِنِینَ وَعَهْداً عِنْدَکَ
سے امید رکھتا ہوں مجھے مومنوں کیلئے محبت و مسرت کا مرکز بنا اور اپنے حضور میرے لیے عہد قرار دے
اس کے بعد دوسری دو رکعتیں مذکورہ طریقے سے پڑھے. البتہ شروع کی چھ تکبیریں نہ کہے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت ادا کرے اور حسب سابق تسبیح اور دعا پڑھے ، اس کے بعد د و رکعت نماز اذان اور اقامت کے درمیان بجا لائے اور اقامت کے بعد یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ رَبَّ هذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاةِ الْقَائِمَةِ بَلِّغْ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
اے معبود! اے اس دعوت کامل کے رب اور قائم ہونے والی نماز کے رب تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو درجہ، وسیلہ،
الدَّرَجَةَ وََالْوَسِیلَةَ وَالْفَضْلَ وََالْفَضِیلَةَ بِالله أَسْتَفْتِحُ وَبِالله أَسْتَنْجِحُ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ
فضل اور فضیلت تک پہنچا دے خدا کے نام سے نماز کا آغاز اور خدا ہی سے کامیابی کا طالب ہوں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
عَلَیْهِ وَآلِهِ أَتَوَجَّهُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَ َاجْعَلْنِی بِهِمْ عِنْدَکَ وَجِیهاً
کے ذریعے توجہ کررہا ہوںاے معبود محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور ان کے صدقے میں اپنے ہاں مجھے دنیا اور آخرت
فِی الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ
میں آبرومند اور مقربین میں قرار دے
(نماز ظہر و عصر کے آداب)
پس اب نماز ظہر ادا کرنے میں مشغول ہو جائے اور جن باتوں کو نماز فجر میں ملحوظ رکھا تھا ، اس نماز میں بھی ان کا لحاظ رکھے البتہ’’بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ‘‘کے علاوہ باقی سب چیزیں آہستہ سے پڑھے۔ بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ قدر اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ توحید پڑھے، جب دوسری رکعت کا تشہد پڑھ چکے تو صلوات کے بعد کہے :
وَتَقَبَّلْ شَفاعَتَهُ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ
تو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شفاعت قبول فرما اور انہیں بلند درجے دے
پھر کھڑے ہو کر درج ذیل تسبیحات اربعہ پڑھے:
سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْد ﷲِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ
ﷲ پاک ہے حمد ﷲ کے لیے ہے نہیں کوئی معبود سوائے ﷲ کے اور ﷲ بزرگ تر ہے ۔
انہیں تین مرتبہ پڑھے اور اگر قصد قربت سے استغفار کا اضافہ بھی کرے تو بہت ہی بہتر ہے. اس کے بعد رکوع و سجود انہی آداب کیساتھ بجالائے جو ذکر ہو چکے ہیں۔ تیسری رکعت کے بعد چوتھی رکعت بھی اسی کے مطابق پوری کرے اور تشہد و سلام پڑھ کر نماز کو تمام کرے نماز کے بعد تعقیبات پڑھے اور وہ تین تکبیریں کہے جو تعقیبات میں مذکور ہیں پھر لآ اِلٰہَ الّا ﷲ اِلہاً واحِداً ..تا آخر پڑھے: بعد میں تسبیح حضرت زہراعليهالسلام اور تعقیبات مشترکہ جو ذکر ہو چکے ہیں ان میں سے دعائیں پڑھے اس کے بعد نماز ظہر کی مختص تعقیبات پڑھے اور ظہر کی تعقیبات بہت زیادہ ہیں، ان میں سے بعض کو ہم نے کتاب ہدیہ اور مفاتیح الجنان میں ذکر کیا ہے اور اس مختصر رسالے میں انہیں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ تعقیبات کے بعد سجدہ شکر بجالاے اور اس کے ساتھ ہی نماز عصر کے لیے تیاری کرے اور سب سے پہلے آٹھ رکعت نماز نافلہ عصر بجالائے اور اس کے بعد فریضہ عصر مذکورہ آداب کے ساتھ ادا کرے بہتر ہوگا کہ پہلی رکعت میںسورہ حمد کے بعدسورہ نصر یا سورہ تکاثر یا ایسی ہی کوئی سورت پڑھے دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ توحید پڑھے اور پھر نماز ظہر کی طرح عصر کی چار رکعتیں پوری کرے۔ ادائے نماز کے بعد تعقیبات مشترکہ اور نماز عصر کی مختصر تعقیبات بھی پڑھے کہ جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ستر مرتبہ استغفار پڑھے دس مرتبہ سورہ قدر پڑھے اور پھر سجدہ شکر بجا لائے جب مسجد سے باہر نکلنا چاہے تو یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ دَعَوْتَنِی فَأَجَبْتُ دَعْوَتَکَ،وَصَلَّیْتُ مَکْتُوبَتَک وَانْتَشَرْتُ فِی أَرْضِکَ کَمَا
اے معبود! تو نے مجھے بلایا تو میں نے اس پر لبیک کہامیں نے تیری فرض شدہ نماز پڑھی اور زمین پر چلنے
أَمَرْتَنِی فَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِک َالْعَمَلَ بِطَاعَتِکَ وَاجْتِنَابَ مَعْصِیَتِکَ وَالْکَفَافَ
پھر نے لگاہوں جیسے تو نے حکم دیاہے پس تیرا فضل چاہتا ہوں کہ تیری فرمانبرداری میں عمل انجام دوں نافرمانی سے پرہیز کروں اور تیری
مِنَ الرِّزْقِ بِرَحْمَتِکَ
رحمت سے اتنا ملے جو کافی ہو.
(تیسری فصل) :
غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک کے اعمال
جاننا چاہیئے کہ انسان کے لیے بہتر یہ ہے کہ غروب آفتاب کے قریب مسجد میں جانے کے لیے جلدی کرے اور جب سورج پر زردی آجاے تو یہ دعا پڑھے:
أَمْسَیٰ ظُلْمِی مُسْتَجِیراً بِعَفْوِکَ وَأَمْسَتْ ذُنُوبِی مُسْتَجِیرَاً بِمَغْفِرَتِکَ وَأَمْسیٰ خَوْفِی
وقت شام میرا ظلم تیرے عفو کی پناہ میں آیا ہے وقت شام میرے گناہ تیری بخشش کی پناہ میں آئے ہیں وقت شام میرا خوف
مُسْتَجِیراً بِأَمانِکَ وَأَمْسَیٰ ذُلِّی مُسْتَجِیراً بِعِزِّکَ وَأَمْسَی فَقْرِی مُسْتَجِیراً بِغِنَاکَ
تیری امان کی پناہ میں آیا ہے وقت شام میری ذلت تیری عزت کی پناہ میں آئی ہے وقت شام میری محتاجی تیری بے نیازی کی پناہ میں
وَأَمْسَیٰ وَجْهِیَ الْبالِی مُسْتَجِیراً بِوَجْهِکَ الدَّائِمِ الْباقِیاَللّٰهُمَّ أَلْبِسْنِی عافِیَتَکَ
آئی ہے وقت شام میرا بوسیدہ چہرہ تیرے باقی رہنے والے چہرے کی پناہ میں آیا ہے اے معبود مجھے اپنی عافیت کا لباس
وَغَشِّنِی بِرَحْمَتِکَ وَجَلِّلْنِی کَرامَتَکَ وَقِنِی شَرَّ خَلْقِکَ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ یَا ﷲ
پہنا مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ دے اور اپنی کرامت کے ذریعے روشن کردے اور اپنی مخلوق میں جن و انس کے شر سے بچالے
یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ
اے ﷲ اے رحم والے اے مہربان.
بہت ہی اچھا ہوگا اگر اس وقت تسبیح و استغفار میں مشغول رہے کیونکہ اس وقت کی بھی وہی فضیلت ہے جو طلوع آفتاب سے پہلے کے وقت کی فضیلت ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ
سورج کے طلوع و غروب ہونے سے قبل حمد کے ساتھ اپنے رب کی تسبیح کرو۔
امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جب سورج غروب ہونے پر آجاے تو ذکر خدا میں مصروف ہو جائے اور اگر لوگوں میں بیٹھا ہو کہ وہ اسے ذکر الٰہی سے غافل کر دیں تو فوراً ان کے پاس سے اُٹھ جائے اور ذکر و دعامیں لگ جائے پس غروب آفتاب کے وقت یہ دعا پڑھے:
یَا مَنْ خَتَمَ النُّبُوَّةَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ اخْتِمْ لِی فِی یَوْمِی هذَا بِخَیْرٍ،وَشَهْرِی
اے وہ جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت ختم فرمائی میرے آج کے دن کو خیر پر ختم کر، اس مہینے کو اس
بِخَیْرٍ وَسَنَتِی بِخَیْرٍ وَعُمْرِی بِخَیْرٍ
سال کو اور میری زندگی خیر پر ختم فرمانا۔
نیز صبح و شام کی ماثورہ دعائیں پڑھے جو بعد میں مذکور ہوں گی۔ اس کے بعد اپنا سر پھیرے وہاں سے منہ پرلے آئے اور اپنی داڑھی پکڑکر یہ دعا پڑھے :
أَحَطْتُ عَلَی نَفْسِی وَ َأَهْلِی وَمالِی وَوَلَدِی مِنْ غائِبٍ وَشاهِدٍ بِالله الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عالِمُ
احاطہ کیا میں نے اپنے نفس پر اپنے اہل اپنے مال اور اولاد میں غائب اور حاضر پر اس ﷲ کا جس کے سوا کوئی معبود نہیں
الْغَیْبِ وَالشَّهادَةِ الرَّحْمنُ الرَّحِیمُ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ
وہ ظاہر و پوشیدہ سے واقف رحم والا مہربان زندہ وپائندہ ہے اسے اونگھ اور نیند نہیں آتی
آیت الکرسی کو تا آخرالْعَلِیُّ الْعَظِیمُتک پڑھے
(آداب نماز مغرب )
پھر نماز مغرب کی ادائیگی میں جلدی کرے اور یہ مناسب نہیں کہ اسے اول وقت کے بعد ادا کرے، بہت سی احادیث میں تاکید کی گئی ہے کہ نماز مغرب کو اول وقت کے بعد تاخیر سے نہ پڑھا جائے جب نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو بیشتر ذکر کیے گئے طریقے سے اذان و اقامت کہے اور ان دونوں کے درمیان یہ دعا پڑھے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِ إقْبالِ لَیْلِکَ وَ إدْبارِ نَهارِکَ، وَحُضُورِ صَلَوَاتِکَ وَأَصْواتِ
اے معبود تجھ سے سوال کرتا ہوں بواسطہ تیری رات کے آنے تیرے دن کے جانے تیری نماز کا وقت ہونے تجھے
دُعاتِکَ، وَتَسْبِیحِ مَلائِکَتِکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَتُوْبَ عَلَیَّ إنَّکَ
پکارنے کی آوازوں اور تیرے فرشتوں کی تسبیح کے واسطے سے یہ کہ تو رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور میری توبہ قبول فرما بے شک تو بہت
أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ
توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
پھر کھڑے ہو کر آداب و شرائط کیساتھ نماز مغرب بجا لاے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد تین تکبیریں اور تسبیح زہراعليهالسلام پڑھے اور پھر کہے :
إنَّ ﷲ وَمَلائِکَتَهُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیماً اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
یقیناً ﷲ اور اس کے فرشتے نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیجتے ہیں تو اے ایمان دارلوگو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو بہت بہت سلام اے معبود! رحمت نازل فرما
النَّبِیِّ وَعَلَی ذُرِّیَّتِهِ وعلیالنَّبِیِّ ِأَهْل بَیْتِهِ
نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کی اولاد پراور ان کے اہل بیتعليهالسلام پر
اس کے بعد سات مرتبہ کہے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والامہربان ہے اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو بلند و بزرگ خدا سے
الْعَظِیمِ پھر تین مرتبہ کہے:
ملتی ہے ۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی یَفْعَلُ مَا یَشائُ وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشائُ غَیْرُهَُ
حمد اللہ کیلئے ہے وہ جو چا ہیکرتا ہےاور اس کے علاوہ کوئی بھی جو چاہے نہیں کر پا تا
اس کے بعد کہے :
سُبْحانَک لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اغْفِرْ لِی ذُنُوبِی جَمِیعاً فَ إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ کُلَّها
تو پاک ہے تیرے سوا کو ئی معبود نہیں میرے سارے گنا ہ بخش دے کیو نکہ کوئی بھی سارےگناہ نہیں بخشسکتا مگر صرف
جَمِیعاً إلاَّ أَنْتَ
تو ایسا کر سکتا ہے
اگر اس سے زیادہ تعقیبات پڑھنا چاہے تو نافلہ مغرب کے بعد پڑھنا افضل ہے ،لہذا نافلہ مغرب ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے اور یہ دو سلام کے ساتھ چار رکعت ہیں پس ان کو دودورکعت کر کے پڑھے، نماز مغرب اور اس کے نافلہ کے درمیان کسی سے بات کرنا مکروہ ہے اس نافلہ کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ توحید پڑھے آخری دو رکعتوں میں حمد کے بعد جو سورت چاہے پڑھ سکتا ہے ، لیکن مناسب ہے کہ تیسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حدید کی پہلی آیات ’’عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ‘‘تک پڑھے اورچو تھی رکعت میں سو رہ حشر کے آخر سے لو انزلنا ھذا القرآن کو آکر تک پڑھے اگر صرف حمد پر اکتفا کرے تو بھی جائز ہے جیسے دیگر نوافل میں جائز ہوتا ہے نیز مناسب ہے کہ یہ نوافل اور رات کے دیگر نوافل بلند آواز سے پڑھے جائیں۔ جب نوافل سے فراغت پاے تو تعقیبات مشترکہ میں سے پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے پھر بطریق سابق سجدہ شکر بجالاے اور اس کے لیے کم سے کم جو ذکر کافی ہو سکتا ہے وہ یہ ہے تین مرتبہ’’شُکْراًکہے ، شیخ کلینیرحمهالله نے حضرت امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جب نماز مغرب سے فارغ ہوجائو تو اپنا ہاتھ پیشانی پر پھیر کر تین مرتبہ کہو :
بِسْمِ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاهُوَ عالِمُ الْغَیْب وَالشَّهادَةِ الرَّحْمَٰنُ
خدا کے نام سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عیاں و نہاں کا جاننے والا بڑے رحم والا
الرَّحِیمُ اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنِّی الْهَمَّ وَالْحَزَنَ
مہربان ہے اے معبود! تو ہر اندیشہ و غم کو مجھ سے دورکردے ۔
بہتر ہے کہ اس کے بعدنماز غفیلہ پڑھے کہ جس کی ترکیب مفاتیح الجنان اور دیگر کتب میں درج ہے پھر جب مغرب کی سرخی زائل ہو جائے تو مذکورہ آداب و شرائط کے ساتھ نماز عشا کے لیے اذان و اقامت کہے اور آداب و شرائط کی پابندی کرتے ہوئے نماز عشا ادا کرے ، مناسب ہے کہ اس نماز کے قنوت اور اس کی تعقیبات کو بھی طول دے کہ اس کیلئے وقت کے دامن میں خاصی وسعت ہوتی ہے۔ لہذا تعقیبات میں صبح سے شام تک کے درمیانی وقت کیلئے مشترکہ تعقیبات اور دعائیںپڑھے ، پھر نماز عشائ کی مختصر دعائیں پڑھے کہ ان کی قدر و قیمت بہت زیادہ ہے ان میں وہ دعا بھی ہے جو طلب رزق کیلئے ہے اور مفاتیح الجنان میں منقول ہے یہ بھی مستحب ہے کہ سات مرتبہ سورہ قدر کی تلاوت کرے اور پھر کہے:
اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ وَرَبَّ الْاَرَضِینَ السَّبْعِ وَمَا أَقَلَّتْ وَرَبَّ الشَّیاطِینِ
اے معبود! اے سات آسمانوں اور انکے تلے موجود چیزوں کے رب اے سات زمینوں اور جو چیزیں ان پر ہیں ان کے پروردگار اے شیطانوں
وَما أَضَلَّتْ وَرَبَّ الرِّیاحِ وَما ذَرَتْ اَللّٰهُمَّ رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ وَ إلهَ کُلِّ
کے رب اور جن کو وہ بہکاتے ہیںاےہوائوں کے رب اور جنہیں وہ لاتی ہیں اے معبود! اے سب چیزوں کے
شَیْئٍ وَمَلِیکَ کُلِّ شَیْئٍ أَنْتَ ﷲ الْمُقْتَدِرُ عَلَی کُلِّ
رب اے سب چیزوں کے معبود اور سب چیزوں کے مالک تو ہی وہ ﷲ ہے جس کا ہر چیز پر اقتدار ہے
شَیْئٍ أَنْتَ ﷲ الْاَوَّلُ فَلا شَیْئَ قَبْلَکَ وَأَنْتَ الاَْخِرُ فَلا شَیْئَ
تو وہ ﷲ ہے کہ سب سے پہلے ہےتجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تو سب سے آخر ہے کہ تیرے بعد
بَعْدَکَ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلا شَیْئَ فَوْقَکَ وَأَنْتَ الْباطِنُ فَلا شَیْئَ دُونَکَ، رَبَّ
کوئی چیز نہیں تو ظاہرہے کوئی چیز تجھ سے بالا نہیں تو باطن ہے کوئی چیز تیرے نیچے نہیں اے
جَبْرَائِیلَ وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَ إلهَ إبْراهِیمَ وَ إسْماعِیلَ وَ إسْحٰق َوَیَعْقُوبَ
جبرائیلعليهالسلام ، میکائیلعليهالسلام اور اسرافیلعليهالسلام کے پروردگار اور اے ابراہیمعليهالسلام اسماعیلعليهالسلام اسحٰقعليهالسلام و یعقوبعليهالسلام
وَالْاَسْباطِ أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ
کے معبود میں سوال کرتا ہوں کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور اپنی رحمت سے میری نگہبانی کر اپنی
تَوَلاَّنِی بِرَحْمَتِکَ وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَیَّ أَحَداً مِنْ خَلْقِکَ مِمَّنْ لاَ طاقَةَ
مخلوق میں سے کسی کو مجھ پر تسلط نہ دے کہ مجھ میں جس کے برداشت کی طاقت نہ ہو ، اے معبود!میں تجھ
أَتَحَبَّبُ إلَیْکَ فَحَبِّبْنِی وَفِی النَّاسِ فَعَزِّزْنِی وَمِنْ شَرِّ شَّیاطِینِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فَسَلِّمْنِی
سے محبت کرتا ہوں تو بھی مجھے اپنا محبوب اور لوگوں میں عزت دار بنا اور مجھے جنوں اور انسانوں میں سے شیطانوں کے شرسے محفوظ فرما
یَارَبَّ الْعالَمِینَ وَصَلّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
اے جہانوں کے پروردگار اور رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر۔
اس کے بعد جو دعا چاہے مانگے اور پھر سجدہ شکر بجالاے، اس کے بعد دو رکعت نماز وتیرہ ادا کرے اور وہ دو رکعت نافلہ ہے جو فریضہ عشا کے بعد بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے. مستحب ہے کہ نماز وتیرہ میں قرآن مجید کی ایک صد آیات پڑھی جائیں اور بہتر ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ واقعہ اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ توحید پڑھے اور نماز کا سلام دینے کے بعد جو چاہے دعا مانگے.
(سونے کے آداب)
جب سونے کا ارادہ کر لے تو بہتر ہے کہ موت کی تیاری کر کے سوئے یعنی باطہارت ہو اور گناہوں سے توبہ کرے ، اپنے دل کو دنیا کے جھمیلوں سے آزاد کرے ، موت کے وقت کو یاد کرے اور اس وقت کو بھی یاد کرے کہ جب قبر میں تنہا و بے کس ہوگا اپنی وصیت لکھ کر سرہانے تلے رکھے اور یہ قصد کرکے سوئے کہ نماز تہجد کیلئے اُٹھے گا۔ کیونکہ مومن کا فخر اور اس کی دنیا و آخرت کی زینت رات کے آخری حصے میں نماز کی ادائیگی ہے سوتے وقت سورہ توحید ،سورہ تکاثراور آیۃالکرسی پڑھے اور بعد میں یہ دعا تین مرتبہ پڑھے :
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی عَلا فَقَهَرَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی بَطَنَ فَخَبَرَ
حمد خدا کے لیے ہے جو بلند و غالب ہے حمد خدا کے لیے ہے جو باطن و باخبر ہے
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی مَلَکَ فَقَدَرَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی یُحْیِی الْمَوْتَی وَیُمِیتُ الْاَحْیائَ وَهُوَ
حمد خدا کے لیے ہے جو مالک اور قادر ہے حمد خدا کے لیے ہے جو مردوں کو زندہ کرتا اور زندوںکو موت دیتا ہے اور وہ ہر
عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
چیز پرقدرت رکھتا ہے۔
اس کے بعد تسبیح حضرت زہراعليهالسلام پڑھے۔ دائیں پہلو پر لیٹ کر سوئے جیسے میت کو قبر میں لٹایا جاتا ہے کہ رہی جانکنی کے انداز میں سونے کی بات تو اس بارے میں ثقۃ الاسلام نوریرحمهالله کتاب دار السلام میں فرماتے ہیں کہ مجھے کسی حدیث و روایت میں اس چیز کا ذکر نظر نہیں ملا البتہ غزالی نے یہ بات تحریر کی ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ سونے میں یہ انداز اختیار نہ کیا جائے اگر نماز تہجد کیلئے بیدار ہونا چاہتا ہے لیکن نیند کے غلبے کا اندیشہ ہوتو سورہ کہف کی یہ آخری آیت پڑھ کر سو جائے۔
قُلْ إنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یُوحیٰ إلَیَّ أَنَّما إلهُکُمْ إلهٌ واحِدٌ فَمَنْ کَانَ یَرْجُو لِقائَ
کہو بس کہ میں تمہارے جیسا بشر ہوں مجھ پر وحی آتی ہے ، یقینا تمہارا معبود خداے یکتا ہے جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی
رَبِّهِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صالِحاً وَلاَ یُشْرِکْ عِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَداً
تمنا رکھتا ہے پس وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بناے۔
امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ جو شخص بھی سوتے وقت اس آیت کی تلاوت کرے تو جس وقت بیدار ہونے کا ارادہ کرے وہ ٹھیک اسی وقت بیدار ہوگا اگر بچھو یا کسی دوسرے جاندار سے ڈسے جانے کاخوف ہوتو یہ دعا پڑھے، امام محمد باقرعليهالسلام نے اس دعا کے پڑھنے والے ہر شخص کو رات سے صبح تک بچھو اور دوسرے حشرات سے ڈسے نہ جانے کی ضمانت دی ہے اور وہ دعا یہ ہے :
أَعُوذُ بِکَلِماتِ ﷲ التَّامَّاتِ الَّتِی لاَ یُجاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلاَ فاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا ذَرَأ وَمِنْ
میں خدا کے کامل کلمات کے ذریعےپناہ لیتا ہوں کہ جن سےکوئی نیک وکار و بدکار آگےنہیں نکل سکتا ہر مخلوق کے
شَرِّ مَا بَرَأ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دَابَّةٍ هُوَ آخِذٌ بِناصِیَتِها إنَّ رَبِّی
شر ہر متحرک چیز کے شر اور ہر زمین پرچلنے والے کے شر سے کہ ان کی مہار خدا کے ہاتھ میں ہے یقیناً میرے
عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ
رب کا راستہ صراط مستقیم ہے
اگر احتلام ہونے کا اندیشہ ہوتو یہ دعا پڑھے اور سو جائے ۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْاِحْتِلامِ وَمِنْ سُوئِ الْاَحْلامِ وَمِنْ أَنْ یَتَلاعَبَ بِی الشَّیْطانُ
اے معبود! میں تیری پناہ لیتا ہوں احتلام اور برے خیالات سے اور اس بات سے کہ شیطان سوتے جاگتے میں میری
فِی الْیَقَظَةِ وَالْمَنامِ
زندگی کو کھیل بنائے
اگر اس بات کا ڈر ہو کہ مکان گر جائے گا یا چھت گر پڑے گی تو یہ دعا پڑھے:
إنَّ ﷲ یُمْسِکُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ أَنْ تَزُووَلَئِنْ زالَتالا إنْ أَمْسَکَهُما مِنْ أَحَدٍ مِنْ
بے شک ﷲ نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے کہ سرک نہ جائیں اگر وہ سرک جائیں تو پھر ان کو سوائے اس کے کوئی بھی نہیں تھام
بَعْدِهِ إنَّهُ کانَ حَلِیماً غَفُوراً
سکتا یقیناً وہ بڑا بردبار بہت بخشنے والا ہے۔
اگر گھر میں چوری ہونے کا خطرہ ہوتو سورہ بنی اسرائیل کی یہ آیت پڑھ کر سوئے جس کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔
قُلِ ادْعُوا ﷲ أَوِ ادْعُوا لرَّحْمٰنَ
کہہ دو کہ اللہ کو پکارو ۔اور رحمن کو پکارو
سوتے وقت آنکھو ں میں سرمہ لگا کر سونا چاہیے چار سلائیاں دائیں آنکھ میں اور تین سلائیاں بائیں آنکھ میں لگائے اور سرمہ لگاتے وقت یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
اے معبود میں بواسطہ محمد و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ سرکار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ النُّوْرَ فِی بَصَرِی وَالْبَصِیرَةَ فِی دِینِی وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی
پر رحمت کا ن زول فرما اور یہ کہ میری آنکھوں میں نور میرے دین میں دانش اور میرے دل میں یقین اور میرے
وَالْاِخْلاصَ فِی عَمَلِی وَالسَّلامَةَ فِی نَفْسِی وَالسَّعَةَ فِی رِزْقِی وَالشُّکْرَ لَکَ أَبَداً مَا أَبْقَیْتَنِی، إنَّکَ
عمل میں اخلاص اورمیرے نفس میں سلامتی میری روزی میں کشائش قرار دےاور تا دم آخر مجھے اپنا شکرگزار بنا دے بیشک تو
عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
بہتر یہ کہ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک کے درمیانی وقت اور عصر کے بعد سونے سے اجتناب کرے اور جب رات کو سونے لگے تو چراغ گل کر کے قبلہ رخ ہو کر سوئے جس چھت کے اطراف میں جنگلہ نہ بنا ہو اس پر نہ سوئے اور جو خواب بھی دیکھے ہر کسی کو نہ بتا ئے بلکہ صرف عالم ،خیر خواہ اور مہربان شخص ہی سے بیان کرے۔
(چوتھی فصل :)
نیند سے بیداری اور نماز تہجد
جاننا چاہیئے کہ شب بیداری اور اسکی فضیلت میں صاحبان عصمت و طہارتسے بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ شب بیداری مومن کا شرف ہے اور نماز تہجد بدن کی صحت اور دن کے گناہوں کا کفارہ ہے اور وحشت قبر کے دور ہونے کا سبب نیز چہرے کی رونق، بدن میں خوشبو اور روزی میں اضافے کا ذریعہ ہے ، جس طرح مال اور اولاد دنیا وی زندگی کی زینت ہیں اسی طرح رات کے آخری حصے میں آٹھ رکعت تہجد اور وتر آخرت کی زینت ہیں اور بعض اوقات حق تعالیٰ ان ہر دو زینتوں کو اپنے کچھ بندوں کے ہاں یکجا بھی کر دیتا ہے پس جھوٹا ہے وہ شخص کہ جو یہ کہتا ہے کہ میں نماز تہجد پڑھتا ہوں اور دن کو بھو کارہ جاتا ہوں ، کیونکہ نماز تہجد روزی کی ضامن ہے۔
امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت ہے کہ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امیرالمومنین- سے فرمایا: یا علی میں تمہارے ہی بارے میں تمہیں چند وصیتیں کرتا ہوں اور چند ایسے خصائل بتاتا ہوں کہ انہیں تم ضرور یاد رکھنا :اس کے بعد کہا کہ خداوندا! علی کی مدد فرما،پھر وہ چند خصائل بتانے کے بعد ارشاد کیا:
وعَلَیْکَ بِصَلاةِ اللیْلِ وَعَلَیْکَ بِصَلاةِ اللیْلِ وَعَلَیْکَ بِصَلاةِ اللیْلِ وَعَلَیْکَ بِصَلاةِ الزَّوالِ
تم پر نماز تہجد کی ادائیگی لازم ہے تم پرنماز تہجدکی ادائیگی لازم ہے تم پر نماز تہجد کی ادائیگی لازم ہے تم پر نماز
زوال کی ادائیگی لازم ہے تم پر
وَعَلَیْکَ بِصَلاةِ الزَّوالِ وَعَلَیْکَ بِصَلاةِ الزَّوالِ
نماز زوال کی ادائیگی لازم ہے۔ نماز زوال کی ادائیگی لازم ہے اور تم پر
اس سے ظاہر ہے کہ یہاں نماز شب سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مراد تیرہ رکعت نماز تہجد اور نماز زوال سے مراد ظہر کے نوافل ہیں جو زوال کے وقت پڑھے جاتے ہیں انس نے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ فرماتے سنا: رات کی تاریکی میں دو رکعت نماز میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے بہتر ہے ایک روایت میں ہے کہ کسی نے امام زین العابدین- سے پوچھا: آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ جو لوگ نماز شب ادا کرتے ہیں ان کے چہرے دوسروں سے زیادہ نورانی ہوتے ہیں؟ اس پر آپ نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ خداے تعالیٰ کے ساتھ خلوت کرتے ہیں اور ﷲ تعالیٰ انہیں اپنے نور سے ڈھانپ دیتا ہے اس بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں اور رات کو بیدار نہ ہونا مکروہ ہے، شیخ نے صحیح سند کے ساتھ امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: کوئی بھی بندہ ایسا نہیںہے جو رات کو ایک دو یا اس سے زیادہ مرتبہ بیدار نہ ہوتا ہو ، اگر وہ اُٹھ کھڑا ہوتو بہتر ورنہ شیطان اپنے پائوں پھیلا کر اس کے کانوں میں پیشاب کر دیتا ہے. آیا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جو نماز شب کے لیے نہیں اُٹھتے وہ جب صبح کو بیدار ہوتے تو بوجھل سست اور پریشان طبیعت کے ساتھ اٹھتے ہیں شیخ برقی نے معتبر سند کے ساتھ امام محمدباقرعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ فرمایا: رات کا ایک شیطان ہوتا ہے کہ جس کو’’رہا‘‘کہا جاتا ہے پس جب انسان نیند سے بیدار ہوتا اور نماز شب ادا کرنے کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ شیطان اس سے کہتا ہے کہ ابھی تمہارے اٹھنے کا وقت نہیں ہوا، تب وہ سو جاتا ہے اور جب وہ دوبارہ جاگتا ہے تو یہ اس سے کہتا ہے کہ اتنی بھی کیا جلدی ہے ، ابھی بہت وقت ہے .اسی طرح وہ مسلسل اسے روکتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح صادق طلوع ہوجاتی ہے، اس وقت وہ ملعون اس شخص کے کان میں پیشاب کر کے بڑے ناز و انداز کے ساتھ دم ہلاتا ہوا چلاجاتا ہے ابن ابی جمہور نے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تم میں سے جو بھی شخص رات کو سوتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے میں تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک دیتا ہے ’’علیک لیل طویل فارقد‘‘ یعنی رات بہت لمبی ہے. سوتے رہو. پھر جب وہ شخص بیدار ہوتا اور خدا کو یاد کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے تب وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کی طبیعت بشاش اور پاک و پاکیزہ ہوتی ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ سستی اور خباثت کے ساتھ صبح کرتا ہے ، یہ روایت اہل سنت علمائ نے بھی نقل کی ہے. قطب راوندی نے روایت کی ہے کہ امیر المومنین- نے فرمایا: تین چیزوں کے ساتھ تین چیزوں کی آرزو نہ کرو شکم سیری کے ساتھ شب بیداری کی آرزو نہ کرو رات بھر سوتے رہنے کے ساتھ سفید روئی کی آرزو نہ کرو اور فاسقوں کے ساتھ دوستی میں دنیا کے امن و سکون کی آرزو نہ کرو نیز قطب الدین راوندی ہی سے روایت ہے کہ جب حضرت مریمعليهالسلام کی وفات ہوگئی تو ان کے فرزند حضرت عیسیٰعليهالسلام نے ان سے کہا والدہ گرامی! میرے ساتھ بات کریں ، آیا آپ چاہتی ہیں کہ دنیا میں واپس آجائیں؟ انہوں نے کہا: ہاں! مگر اس لیے کہ سخت سردی کی راتوں میں نمازتہجد ادا کروں اور سخت گرمی کے دنوں میں روزے رکھوں! اے فرزند عزیز! یہ بڑا ہی کٹھن راستہ ہے۔
(نماز تہجد کی کیفیت:
نماز تہجد کی کیفیت نہایت ہی آسان ہے کہ جسے ہر شخص بجالا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو نہی نیند سے بیدار ہوتو خدا کیلئے سر سجدے میں رکھ دے، بہتر ہے کہ اسی حال میں یا سجدے سے سر اٹھاتے وقت یہ دعا پڑھے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی أَحْیانِی بَعْدَ ما أَمَاتَنِی وَ إلَیْهِ النُّشُور ُالْحَمْدُ
خدا کے لیے حمد ہے ، جس نے مجھ کو موت کے بعد زندگی دی ہے اور اسی کے ہاں حاضر ہونا ہے .خدا کے لیے
لِلّٰهِ الَّذِی رَدَّ عَلَیَّ رُوحِی لاََِحْمَدَهُ وَأَعْبُدَهُ
حمد ہے جس نے میری روح پلٹائی کہ اس کی حمد و عبادت کروں۔
پس جب اٹھ کر کھڑا ہوجائے تو یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ أَعِنِّی عَلَی هَوْلِ الْمُطَّلَعِ، وَوَسِّعْ عَلَیَّ الْمَضْجَعَ وَارْزُقْنِی خَیْرَ مَا بَعْدَ الْمَوْتِ
اے معبود! قیامت کے پر خوف منظر میں میری مدد فرما میری قبر میں فراخی کر دے اور مجھے مرنے کے بعد بھلائی عطا فرما
جب مرغ کی اذان سنے تو کہے:
سُبُّوْحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلائِکَةِ وَالرُّوحِ سَبَقَتْ رَحْمَتُکَ غَضَبَکَ، لاَ إلهَ إلاَّ
بڑا پاک و پاکیزہ ہے ملائکہ اور روح کا پروردگار، خدایا تیری رحمت تیرے غضب سے آگے ہے نہیں
أَنْتَ، عَمِلْتُ سُوئاً وَظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی إنَّهُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ
کوئی معبود سواے تیرے میں نے برائی اور خود پر ستم کیا ہے پس مجھے بخش دے کہ تیرے سوا گناہوں کا
إلاَّ أَنْتَ فَتُبْ عَلَیَّ إنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ
بخشے والا کوئی نہیں ہے میری توبہ قبول کر کہ یقیناً تو بڑاہی تو بہ قبول کرنے والا ہے۔
جب آسمان کی طرف دیکھے تو کہے:
اَللّٰهُمَّ إنَّهُ لاَ یُوَارِی مِنْکَ لَیْلٌ ساجٍ وَلاَ سَمَائٌ ذَاتُ أَبْرَاجٍ وَلاَ أَرْضٌ ذَاتُ
اے معبود! تاریک رات تجھ سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتی نہ بر جوں والاآسمان اور نہ پھیلی ہوئی زمین
مِهادٍ، وَلاَ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ وَلاَ بَحْرٌ لُجِّیٌّ تُدْلِجُ بَیْنَ یَدَیِ الْمُدْلِجِ
نہ ہی سے تاریکیوں کے تلےاوپر تہیں تجھ کچھ چھپا سکتی ہیں نہ موجیں مارتا ہوا سمندر جو راتوں کو چلنے
مِنْ خَلْقِکَ تُدْلِجُ الرَّحْمَةَ عَلَی مَنْ تَشائُ مِنْ خَلْقِک تَعْلَمُ خایِنَةَ الْاَعْیُنِ وَما تُخْفِی
والوں کے سامنے بپھر جاتا ہے تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے رحمت سے نوازتا ہے تو آنکھوں کی غلط حرکت کو جانتا
الصُّدُورُ غارَتِ النُّجُومُ وَنامَتِ الْعُیُونُ وَأَنْتَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لاَ تَأْخُذُکَ سِنَةٌ وَلاَ
ہے اور سینوں میں چھپے راز دل کو بھی، خدایا ستارے ڈوب گئے اور تو زندہ پائندہ ہے کہ تجھ کو نہ اونگھ آتی ہے نہ
نَوْمٌ سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ وَ إلهِ الْمُرْسَلِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ
نیند گھیرتی ہے۔ ﷲ پاک ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے اور پیغمبروں کا معبود ہے اور حمد ہے ﷲ کے لیے جو جہانوں کا رب ہے۔
پھر سورہ آلعليهالسلام عمران کی یہ پانچ آیات پڑھے:
إنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ لاََیَاتٍ لاَُِولِی الْاَلْبَابِ الَّذِینَ
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے آنے جانے میں صاحبان عقل کے لیے نشانیاں ہیں جو
یَذْکُرُونَ ﷲ قِیاماً وَقُعُوداً وَعَلی فِی جُنُوبِهِمْ وَیَتَفَکَّرُونَ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
خدا کو یاد کیا کرتے ہیں کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے بھی، وہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (کہتے ہیں )
رَبَّنا مَا خَلَقْتَ هَذا باطِلاً سُبْحانَکَ فَقِنا عَذَابَ النَّارِ رَبَّنا إنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ
اے ہمارے رب تو نے ان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا تیری ذات پاک ہے پس ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا ہمارے رب جسے تو جہنم میں
النَّارَ فَقَدْ أَخْزَیْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِینَ مِنْ أَنْصارٍ رَبَّنا إنَّنا سَمِعْنا مُنادِیاً
داخل کرے گا اسے رسوا کرے گا اور ظالموں کا تو کوئی مددگار بھی نہیں ہے ہمارے رب ہم نے ایمان کی منادی
یُنادِی لِلاِِْیمانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا رَبَّنا فَاغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا
کرنے والے کی آواز سنی ہے کہ اپنے رب پر ایمان لائو تو ہم لے آئے پس ہمارے رب تو ہمارے
وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّئَاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الْاَبْرَارِ رَبَّنا وَآتِنا مَا وَلاَ
گناہ بخش دے ہماری برائیوں کو مٹادے اور ہمیں نیک لوگوں جیسی موت دے ہمارے رب ہمیں وہ چیز دے
تُخْزِنا یَوْمَ وَعَدْتَنا عَلَی رُسُلِکَ مالْقِیامَةِ اِنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ
سکا تو نے رسولوں کے ذریعے وعدہ کیا اور ہمیں قیامت میں رسوا نہ کرنا بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
پس جب عبادت کی طرف متوجہ ہو اور بیت الخلا جانے کی ضرورت بھی ہوتو پہلے بیت الخلائ جائے. جب وہاں سے نکلے تو پہلے مسواک کرے۔ کامل طور پر وضو کرے، خوشبو لگائے اور پھر نماز شب کی ادائیگی کیلئے مصلے پر آجائے۔ اس نماز کا اول وقت آدھی رات سے شروع ہوتا ہے اور صبح صادق کے طلوع ہونے سے جتنا نزدیک ہو بہتر ہے اگر صبح صادق طلوع ہو جائے تو پھر چار رکعت نماز شب ادا کرے اور باقی رکعتوں کو صرف سورۃ حمد کے ساتھ پڑھے تو سب سے پہلے آٹھ رکعت نماز شب کی نیت سے دودورکعت کرکے پڑھے اور ہر دوسری رکعت پر سلام کہے اور بہتر ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں سورہ حمد کے بعد ساٹھ مرتبہ سورہ توحید پڑھے یعنی ہر رکعت میںحمد کے بعد تیس تیس مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور جب یہ مکمل کر لے گا تو اس پر کوئی گناہ نہیں رہے گا۔ یا یہ کہ پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورہ توحید اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ کافرون پڑھے باقی چھ رکعتوں میں سورہ حمد پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہے جس طرح ہر واجبی نماز میں قنوت مستحب ہے اسی طرح نوافل کی ہر دوسری رکعت میں بھی قنوت مستحب ہے اور قنوت میں صرف تین بارسبحان اللہ (خدا پاک ہے)کہنا بھی کافی ہے یا یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنا وَارْحَمْنا وَعافِنا وَاعْفُ عَنَّا فِی الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئ قَدِیرٌ
اے معبود! ہمیں بخش دے ہم پر رحم فرما ،محفوظ رکھ ،ہم سے درگزر فرما دنیااور آخرت میں بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔
یا یہ دعا پڑھے:
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إنَّکَ أَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَجَلُّ الْاَکْرَمُ
یا رب بخش دے رحم فرما اور معاف کر دے جو تو جانتاہے بے شک تو بڑی عزت والا شان والا عطا کرنے والا ہے
ایک روایت میں ہے کہ جب امام موسیٰ کاظمعليهالسلام محراب عبادت میں کھڑے ہوتے تو صحیفہ کاملہ کی پچاسویں دعا پڑھا کرتے تھے کہ جس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے :
اَللّٰهُمَّ إنَّک خَلَقْتَنِی سَوِیّاً
اے معبود تونے مجھے بہترین صورت میں پیدا کیا
جب نماز شب کی آٹھ رکعتوں سے فارغ ہو جائے تو دو رکعت نماز شفع اور ایک رکعت وتر پڑھے .ان تینوں رکعتوں میں سورہ حمد کے بعد سورہ توحید پڑھے، یہ ایسا ہے گویا اس نے قرآن مجید کا ایک ختم کیا ہے، کیونکہ سورہ توحید ایک تہائی قرآن کے برابر ہے یا یہ کہ نماز شفع کی پہلی رکعت میں حمد اور سورہ والناس پڑھے اور دوسری رکعت میں حمد اور سورہ فلق پڑھے جب نماز شفع سے فارغ ہوجاے تو مستحب ہے کہ یہ دعا پڑھے :
إلهِی تَعَرَّضَ لَکَ فِی هذ اللَّیْلِ الْمُتَعَرِّضُونَ
الٰہی تیرے حضور اس رات حاجت مند اپنی حاجات پیش کرتے ہیں۔
یہ وہ دعا ہے جو مفاتیح الجناں میں پندرہ شعبان کی رات کے اعمال میں مذکور ہے نماز شفع کی دو رکعتیں پڑھنے کے بعد نماز وتر کی ایک رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے ، اس میں سورہ حمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ توحید پڑھے یا سورہ توحید تین مرتبہ اور اس کے بعد سورہ فلق اور سورہ والناس پڑھے پھر قنوت کیلئے ہاتھ اٹھاے اور جو دعا چاہے مانگے شیخ طوسیرحمهالله فرماتے ہیں اس موقع پر پڑھی جانے ولی دعائیں بہت زیادہ ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس میں کوئی خاص دعا پڑھی جائے اور کوئی دوسری دعا نہ پڑھی جا سکے. مستحب ہے کہ انسان نماز وتر کے قنوت میں خدا کے خوف اور اس کے عذاب کے ڈرسے گریہ کرے یا رونے کی شکل بنائے اور مومن بھائیوں کیلئے دعا مانگے مستحب ہے کہ چالیس مومنوں کے نام لے کر دعا مانگے کیونکہ جو شخص چالیس مومنین کیلئے دعا مانگتا ہے اسکی دعا یقیناً قبول ہوتی ہے. پھر جو دعا چاہے مانگے شیخ صدوقرحمهالله نے ’’کتاب الفقیہ‘‘میں لکھا ہے کہ حضرت رسول ﷲ نماز وتر کے قنوت میں یہ دعا پڑھتے تھے:
دعا نماز وتراَلَّهُمَّ وَعَافِنِی فِیمَنْ عَافَیْتَ اهْدِنِی فِیمَنْ هَدَیْتَ وَتَوَلَّنِی فِیمَن تَوَلَّیْتَ وَبارِکْ لِی فِیما
اے معبود!مجھے ہدایت دے اس کے ساتھ جسے تو نے ہدایت دی محفوظ رکھ اس کے ساتھ جسے محفوظ رکھا سر پرستی کر اس کے ساتھ جس کی
أَعْطَیْتَ وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَ إنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی اَلَیْکَ رَبَّ َسُبْحَانَک الْبَیْتِ
سر پرستی کی اور برکت دے اس میں جو تو نے عطا کیا ،بچا مجھے اس شر سے جو تو نے مقدر کیا کیونکہ توحکم کرتا ہے اور تجھ پر حکم نہیں کیا جاتا تو پاک ہے
أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إلَیْکَ وَأُوَْمِنُ بِک وَأَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ
اے رب کعبہ!تجھ سے بخشش چاہتا ہوں تیرے آگے تو بہ کرتا ہوں تجھ پر عقیدہ رکھتا ہوں تجھ پر بھر وسہ کرتا ہوں اور نہیں طاقت و قوت مگر جو تجھ
بِکَ یَا رَحِیمُ
سے ہے اے مہربان
اور بہتر ہے کہ ستر مرتبہ کہے :أَسْتَغْفِرُ ﷲ رَبِّی وَأَتُوبُ إلَیْهِ
اپنے رب ﷲ سے بخشش چاہتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں
مناسب یہ ہے کہ استغفارکے لیے بائیں ہاتھ کو بلند کرے اور دائیں ہاتھ سے استغفار کو شمار کرے ایک روایت میں ہے کہ رسول ﷲ نماز وتر میں ستر مرتبہ استغفار کرتے اور سات مرتبہ یہ کہتے:
هذَا مَقَامُ الْعَاءِذِ بِکَ مِنَ النَّارِ
جہنم سے تیری پناہ لینے والا یہ کھڑاہے ۔
نیز یہ بھی مروی ہے کہ امام زین العابدین- نماز تہجد کے وتر تین سومرتبہ کہا کرتے تھے
الْعَفْوَ الْعَفْوَ
معافی دے معافی دے۔
اس کے بعد کہتے تھےرَبِّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی تُبْ عَلَیَّ إنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ لرَّحِیمُ
اے رب مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر اورمیری توبہ قبول فرما بے شک تو بڑاتوبہ قبول کرنے والا معاف کرنے والا مہربان ہے۔
مناسب یہ ہے کہ اس قنوت کو طول دے جب اس سے فارغ ہوتو رکوع کرے اور اس سے سر اٹھا نے کے بعد وہ دعا پڑھے جو شیخ طوسیرحمهالله نے تہذیب الاحکام میں امام موسیٰ کاظمعليهالسلام سے نقل کی ہے اوروہ دعا یہ ہے :
هذَا مَقَامُ مَنْ حَسَناتُهُ نِعْمَةٌ مِنْکَ وَشُکْرُهُ ضَعِیفٌ وَذَنْبُهُ عَظِیمٌ
یہ کھڑا ہے وہ شخص جس کی نیکیاں تیری نعمت ہیں اس کا شکر کم تر اور اس کے گناہ زیادہ ہیں اور اس کے
وَلَیْسَ لِذلِکَ إلاَّ رِفْقُکَ وَرَحْمَتُکَ فَ إنَّکَ قُلْتَ فِی کِتابِکَ
لیے تیری مہربانی اور رحمت کے سوا کوئی سہارا نہیں بے شک تو نے اپنی اس کتاب میں کہا جو تیرے
الْمُنْزَلِ عَلَی نَبِیِّکَ الْمُرْسَلِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ کانُوا قَلِیلاً
فرستادنبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اتری خدا کی رحمت ہو ان پراور ان کی آلعليهالسلام پر خدا کے نیک بندے رات کو کم
مِنَ اللَّیْلِ مَا یَهْجَعُونَ وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ یسْتَغْفِرُونَ ُوطَالَ هُجُوعِی وَقَلَّ قِیامِی وَهذَا
سوتے ہیں اور وقت سحر اس سے بخشش مانگتے ہیں جب کہ میرا سونا زیادہ اور عبادت کم ہے یہ وقت سحر ہے میں تجھ سے
السَّحَرُ و أَنَا أَسْتَغْفِرُکَ لِذُنُوبِی اسْتِغْفارَ مَنْ لاَ یَجِدُ لِنَفْسِهِ ضَرَّاً وَلاَ نَفْعَاً وَلاَ مَوْتاً وَلاَ حَیاةً وَلاَ نُشُوراً
گناہوں کی معافی مانگتا ہوں یہ معافی مانگنے والاوہ ہے جواپنے نفع و نقصان اور اپنی زندگی اور موت اور حشر پراختیارنہیںرکھتا
پھر سجدے میں جائے اور نماز وتر کو مکمل کرے اور سلام کے بعد تسبیح فاطمہ زہراعليهالسلام پڑھے اور پھر کہے:
الْحَمْدُ لِرَب الصَّباحِ الْحَمْدُ لِفالِق الْاِصْباحِ
حمد ہے صبح کے رب کے لیے حمد ہے صبح کو ظاہر کر نے والے کیلئے۔
اسکے بعد تین مرتبہ کہے:سُبْحانَ رَبِّیَ الْمَلِکِ الْقُدُّوس الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ پهر کهي: یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ یَا بَرُّ یَا رَحِیمُ
پاک ہے میرا رب جو بادشاہ پاک تر غالب ہے حکمت والا ۔اے زندہ اے پائندہ اے نیک اے مہربان اے بے
یَا غَنِیُّ یَا کَرِیمُ ارْزُقْنِی مِنَ التِّجارَةِ اَعْظَمُهَا فَضْلاًوَأَوْسَعَها رِزْقاً وَخَیْرَها لِی عاقِبَةً
نیاز اے سخی مجھے وہ تجارتنصیب کر جو فضیلت میں بڑھی ہوئی ہو رزق میںوسعت لانے والی اور انجام کار میرے لیے
فَ إنَّهُ لاَ خَیْرَ فِیما لاَ عاقِبَةَ لَهُ
بہتر ہو کیونکہ وہ بھلائی نہیں جس کا انجام اچھا نہ ہو
مناسب ہے کہ اس کے بعد دعاے حزین پڑھے کہ جس کا آغاز’’اُنَاجِیْکَ یَا مَوْجُوْدُ فِیْ کُلِّ مَکَانٍ‘‘ سے ہوتا ہے یہ دعا باقیات و الصالحات کے ملحقات میں آئے گی پھر سجدے میں جائے اور پانچ مرتبہ کہے:
سُبُّوح قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلائِکَة وَالرُّوح
پاک و پاکیزہ ہے فرشتوں اور روح کا پروردگار۔
اب بیٹھ کر آیت الکرسی پڑھے، پھر سجدے میں جائے اور ذکر ’’سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ...‘‘ پانچ مرتبہ کرے اس کے بعد نماز فجر کے نافلہ کے لیے کھڑا ہو جائے ،نافلہ صبح دو رکعت ہے اس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ توحید پڑھے نماز کا سلام دینے کے بعد پہلو کے بل روبہ قبلہ ہو کریوں لیٹ جائے جیسے میّت کو قبر میںلٹا یاجاتا ہے ، پس اپنا دایاں رخسارہ اپنے دائیں ہاتھ پر رکھے اوریہ پڑھے :
اسْتَمْسَکْتُ بِعُرْوَةِ ﷲ الْوُثْقیٰ الَّتِی لاَ انْفِصامَ لَها وَاعْتَصَمْتُ بِحَبْلِ ﷲ الْمَتِینِ وَأَعُوذُ
میں وابستہ ہوا ہوں خدا کی مضبوط زنجیر سے جو ٹوٹنے والی نہیں ہے اور تھامے ہوئے خدا کی محکم تر رسّی کو اور خدا کی
بِالله مِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ وَأَعُوذُ بِالله مِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ
پناہ لیتا ہوں عرب و عجم کے بدکاروں کے شر سے اور خداکی پناہ لیتا ہوںجن و انس کے بدکاروں کے شر سے
پھر تین مرتبہ کہے:سُبْحَاَنَ رَبِّ الصَّباحِ فالِق الْاِصْباحِ
پاک ہے صبح کا پروردگار جو صبح کو وجود میں لاتا ہے۔
اس کے بعد سورہ آلعليهالسلام عمران کی وہ پانچ آیات پڑھے جن کا شروع یہ ہے اِنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ بعدمیں بیٹھ کر تسبیح حضرت زہراعليهالسلام پڑھے کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں روایت ہوئی ہے کہ جو شخص صبح کے نافلہ اور فریضہ کے درمیان محمد و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سومرتبہ درود بھیجے تو ﷲ اسے جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے گا اور جو شخص سو مرتبہ کہے :
سُبْحانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ وَبِحَمْدِهٰٓ اَسْتَغْفِرُﷲ رَبِّیْ وَاَتُوْبُ اِلَیْهِ
پاک ہے میرا عظیم رب اور میں اس کی حمد کرتا ہوں میں اپنے ﷲ سے معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہوں
تو حق تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا جو شخص اکیس مرتبہ سورہ توحید پڑھے تو ﷲ تعالی اس کیلئے بھی جنت میں ایک گھر بنائے گااور اگر چالیس مرتبہ سورہ توحید پڑھے توخدا تعالےٰ اسے بخش دے گا بہتر ہے کہ نماز شب یعنی نماز تہجد کے بعدصحیفہ کاملہ کی بتیسویں دعا پڑھے:جس کا آغازیوں ہوتا ہے :
اَللّٰهُمَّ َیا ذَاالْمُلْکِ الْمُتَأَبِّدِ بِالْخُلُودِ
اے ﷲ! اے دائمی وابدی بادشاہی والے ۔
پھر سجدہ شکر بجالاے اور بہتر ہے کہ اس میں مومن بھائیوں کے لیے دعا کرے اور اسی حالت سجدہ میں۔
اَللّٰهُمَّ رَب الْفَجْرِ
اے معبود! اے فجر کے رب ۔
سے شروع ہونے والی دعا پڑھے جو سجدہ شکر کے بیان میں ذکر ہو چکی ہے مؤلف کو اپنے مؤمن بھائیوں سے قوی امید ہے کہ وہ حالت سجدہ میں اس کے لیے بھی دعا کریں گے کیونکہ اسے ان کی دعائوں کی سخت ضرورت ہے اور خداوند عالم ہی سب کو توفیق دینے والا ہے۔
(پانچویں فصل )
صبح و شام کے اذکار اور دعائیں
یہ جاننا چاہیئے اور خدا آپ کو توفیق دے کہ ان دونوں اوقات کا خاص خیال رکھنے کے بارے میں بہت سی روایات بیان ہوئی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ائمہ طاہرینعليهالسلام سے ان دونوں اوقات کے لیے بہت سی دعائیں اور اذکار منقول ہیں اور یہاں ہم تبرکاً ان میں سے چند ایک کا تذکرہ کرتے ہیں
(طلوع آفتاب سے پہلے سورہ توحید،قدر،اور آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت )
( ۱ ) ابن بابویہرحمهالله نے معتبر سند کیساتھ امیر المومنین- سے روایت کی ہے کہ جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے سورہ توحید، سورہ قدر اور آیت الکرسی گیارہ گیارہ مرتبہ پڑھے تو خداے تعالیٰ اس کے مال سے ہر ایسی چیز کو دور رکھے گا جسکا اسے خوف لاحق ہوتا ہے نیز فرمایا کہ جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے سورہ توحید اور سورہ قدر کو پڑھے تو شیطان کی کوشش کے باوجود اس دن گناہ اسے اپنی گرفت میں نہیں لے سکیں گا۔
(طلوع و غروب آفتاب سے پہلے پڑھے والی دعا)
( ۲ )شیخ کلینیرحمهالله ابن بابویہرحمهالله ، شیخ طوسیرحمهالله اور دیگر علمائ نے معتبر اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ طلوع و غروب آفتاب سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھے:
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَه لاَ شَرِیکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِ
ُنہیں کوئی معبود سواے ﷲ کے وہ یکتا ہے ، کوئی اس کا شریک نہیں حکومت اسی کی اور حمد اسی کے لیے
وَ يُمِيْتُ هُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ کُلِّ وهُوَ عَلَی شَیْئٍ قَدِیرٌ
ہے وہ زندہ کرنے اور موت دینے والا ہے اور وہ زندہ ہے اسے موت نہیں، بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
بعض روایات کے مطابق یوں ہے :یُحْیِی وَیُمِیتُ وَیُمِیتُ وَیُحیِی
زندہ کرنے موت دینے والا اور موت دینے والا اور زندہ کر نے والا ہے ۔
اور بعض روایات میں مندرجہ ذیل کلمات نہیں ہیں اور بعض میں موجود ہیں ۔وَهُوَحَیٌّ لاَ یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ
وہ زندہ ہے اسے موت نہیں بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے۔
اور ظاہراً یہ تمام صورتیں مناسب ہیں اور اگر ان سبھی جملوں کو ادا کرے تو بہت بہتر ہے بعض روایتوں میں ہے کہ اگر اس دعا کا پڑھنا ترک ہوجاے تو قضائ کرے کہ اس کا پڑھنا لازم ہے اور بعض روایات کے مطابق یہ انسان کے اس دن کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
(شام کے وقت سو مرتبہ اللہ اکبر کہنے کی فضیلت )
( ۳ ) ابن بابویہرحمهالله اور دیگر علمائ نے نہایت ہی معتبر اسناد کے ساتھ امام زین العابدین- اور امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جو شخص شام کے وقت سو مرتبہ ﷲ اکبر کہے تو وہ ایسا ہے کہ اس نے سو غلام آزاد کیے ہیں دیگر صحیح سند کے ساتھ امام محمد باقر - سے منقول ہے کہ جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے سوسو مرتبہ ﷲ اکبر کہے تو خداے تعالیٰ اس کے لیے سو غلام آزاد کرنے کا ثواب لکھ دے گا جو شخص دس مرتبہ
سُبْحانَ ﷲ وَبِحَمْدِهِ
خدا پاک ہے میں اس کی حمد کرتا ہوں
کہے تو حق تعالیٰ اس کے نام دس نیکیاں لکھ دے گا اور جو اس سے زیادہ مرتبہ کہے تو اس کیلئے زیادہ ثواب لکھا جائے گا۔
( صبح و شام تسبیحات اربعہ پڑھنے کی فضیلت)
( ۴ )ابن بابویہرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ حضرت رسول ﷲ نے فرمایا: بہشت میں چند مکان ایسے ہیں کہ جن کابیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نمایاں ہے، ان میں جا کر میری امت کے وہ لوگ رہیں گے جو اچھی باتیں کہتے ہیں لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں ، جس سے بھی ملتے ہیں اسے سلام کرتے ہیں اور رات کو جب سبھی لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو وہ اٹھ کر نماز پڑھتے ہیں پھر فرمایا کہ اچھی باتیں یہ ہیں کہ صبح و شام دس دس مرتبہ کہا جاے:
سُبْحانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلا إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ
ﷲ پاک ہے حمد ﷲ ہی کیلئے ہےنہیں کوئی معبود سوائے ﷲ کے اور ﷲ بزرگ تر ہے
محاسن برقیرحمهالله میں صحیح سند کیساتھ حضرت امام محمد باقر - سے منقول ہے کہ رسول ﷲ ایک شخص کے پاس سے گزرے کہ جو باغ لگا رہا تھا ، آپ وہاں کھڑے ہوگئے اور اس سے فرمایا: آیا میں تمہیں ایسے باغ کے بارے میں نہ بتائوں کہ جس کی جڑیں اس باغ سے زیادہ مضبوط جس کے میوے اس سے جلدی پکنے والے زیادہ اچھے اور دیر تک رہنے والے ہوں ؟اس نے عرض کیا: یا رسول ﷲ! ضرور فرمایئے تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح و شام کہا کرو:
سُبْحَانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ وَلا إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ
ﷲ پاک ہے حمد ﷲ ہی کیلئے ہےنہیں کوئی معبود سوائے ﷲ کے اور ﷲ بزرگ تر ہے
تو ہر تسبیح کی تعداد کے برابر بہشت میں تمہارے لیے انواع و اقسام کے میوہ دار درخت لگاے جائیں گے یہی بہتر تسبیحات وہ باقیات الصالحات ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے اور یہ مال دنیا سے زیادہ بہتر اور پائیدار ہیں :
(صبح و شام کے وقت یا شام کے بعد اس آیہ کی فضیلت)
( ۵ ) ابن بابویہرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ امیر المومنین- سے روایت کی ہے کہ جو شخص شام کے قریب یا شام کے بعد تین مرتبہ یہ آیت پڑھے تو اس رات اس سے کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی اور ہر قسم کے شر اور برائیاں اس سے دور ہونگی صبح کے وقت یہ آیت پڑھے تو بھی ایسا ہی اجر ملے گا اور وہ آیت یہ ہے :
فَسُبْحانَ ﷲ حِینَ تُمْسُونَ وَحِینَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیّاً وَحِینَ تُظْهِرُونَ
پس ﷲ پاک ہے جب تم شام کرتے ہوا اور جب تم صبح کرتے ہو حمد اسی کیلیے ہے آسمانوں اور زمین میں جب تم عشا کرتے ہو اور جب ظہر کرتے ہو۔
(ہر صبح و شام اس ذکر کی اہمیت )
( ۶ ) برقیرحمهالله نے محاسن میں موثق سند کے ساتھ امام علی رضاعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص ہر صبح و شام تین مرتبہ یہ پڑھے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّبِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
ﷲ کے نام سے رحمٰن و رحیم ہے کوئیقوت و طاقت نہیں ہے سواے ﷲ بزرگ و برتر کے
تو اسے شیطان سے ڈرنا چاہیئے نہ کسی حکومت سے اور نہ برص و جذام سے خوف کھانا چاہیئے پھر آپعليهالسلام نے فرمایا: میں تو یہ کلمات سو مرتبہ کہتا ہوں تا ہم نماز فجر اور مغرب کی تعقیبات میں انہیں سات مرتبہ پڑھنے کا ذکر بھی آیا ہے۔
( بیماری اور تنگ دستی سے بچنے کی دعا )
( ۷ ) معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادقعليهالسلام سے منقول ہے کہ انصار میں ایک شخص چند روز تک حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے پوچھا کس وجہ سے چند روز تک ہمارے پاس نہیں آئے؟ اس نے عرض کیا: تنگدستی اور طویل بیماری کی وجہ سے حاضر خدمت نہ ہوسکا اس پر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے فرمایاکہ تم صبح و شام یہ دعا پڑھا کرو:
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ
نہیں کوئی طاقت و قوت مگرجو خدا سے ہے میں زندہ خدا پربھروسہ کرتا ہوں جسے موت نہیں آئے گی حمد ہے ﷲ کے لیے
وَلَداً وَلَمْ یَکُن لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً
جس کا کوئی فرزند نہیں اور نہ حکومت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وہ کمزور کہ کوئی اس کامددگار ہو اور اس کی بہت بڑائی کرو
(طلو آفتاب اور غروب آفتا ب کی دعا )
( ۸ ) بہت سی معتبر روایات میں امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ آفتاب کے طلوع و غروب ہونے سے پہلے دس مرتبہ کہا کرو:
أَعُوذُ بِالله السَّمِیع الْعَلِیمِ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَعُوذُ بِالله أَنْ یَحْضُرُونِ إنَّ ﷲ
میں سننے جاننے والے ﷲ کی پناہ لیتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں سے اورﷲ کی پناہ لیتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں بے شک
هُوالسَّمِیعُ الْعَلِیمُ
ﷲ سننے جاننے والا ہے
بعض روایات میں یوں مذکور ہے :وَأَعُوذُ بِکَ رَبِّ أنْ یَحْضُرُون
یا رب میں تیری پناہ لیتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں
جب کہ دیگر روایات میں یوں آیا ہے :أسْتَعِیذُ بِالله السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ وَأَعُوذُ بِالله
میں پناہ لیتا ہوں سننے جاننے والے ﷲ کی راندے ہوئے شیطان سے اور پناہ لیتا ہوں ﷲ کی کہ وہ
أنْ یَحْضُرُونِتا اخر دعا
میرے قریب آئیں
(صبح و شام کی دعا)
( ۹ ) فلاح السائل میں امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ فرمایا: تمہیں ہر صبح و شام یہ دعا تین مرتبہ پڑھنے سے کس نے روکا ہے ۔
اَللّٰهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ وَالْاَبْصَارِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ وَلاَ تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ إذْ هَدَیْتَنِی وَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ
اے معبود! اے دلوں اور نگاہوں کو بدلنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جمادے. جب ہدایت وہی ہے تو میرے دل کو ٹیڑھا نہ ہونے دے مجھ کو اپنی
رَحْمَة إنَّکَ أَنْتَ الْوَهَّابُ وَأَجِرْنِی مِنَ النَّارِ بِرَحْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ امْدُدْ لِی فِی عُمْرِی
طرف سے رحمت عطا فرماکہ بے شک تو بہت عطا کرنے والاہےاور بواسطہ اپنی رحمت کےمجھے بچاے رکھ اے معبود! میری عمر
وَأَوْسِعْ عَلَیَّ فِی رِزْقِی وَانْشُرْ عَلَیَّ مِنْ رَحْمَتِکَ وَ إنْ کُنْتُ عِنْدَکَ فِی أُمِّ الْکِتاب
میںاضافہ فرما میرے رزق میں وسعت پیدا کر اور مجھے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے اگر میں تیرے نزدیک لوح محفوظ میں
شَقِیّاً فَاجْعَلْنِی سَعِیداً فَ إنَّکَ تَمْحُو مَا تَشائُ وَتُثْبِتُ وَعِنْدَکَ أُمُّ الْکِتابِ
بدبخت ہوں تو مجھے خوش بخت بنادے کیونکہ تو جو چاہیمٹاتا اور جو چاہے لکھتا ہے اور لوح محفوظ تیرے قبضے میں ہے۔
(صبح و شام بہت زیادہ اہمیت والا ذکر)
(۱۰) شیخ طوسیرحمهالله اور سید ابن طاووسرحمهالله نے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی ہے کہ جو شخص روزانہ صبح وشام ایک مرتبہ کہے
سُبْحانَ ﷲ وَبِحَمْدِهِ سُبْحانَ ﷲ الْعَظِیمِ
ﷲ پاک ہے میں اس کی حمد کرتا ہوں ا ﷲ پاک ہے بڑی عظمت والا
تو خداوند کریم بہشت کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے جس کے ہاتھ میں چاندی کا بیلچہ ہوتا ہے وہ فرشتہ بہشت کی زمین جس کی مٹی خالص مشک ہے اس میں درخت لگاتا ہے، اس کے گرد دیوار بناتا ہے اور اس کے دروازے پر لکھ دیتا ہے کہ یہ فلاں بن فلاں کا باغ ہے کہ جس نے مذکورہ بالا تسبیح پڑھی ہوتی ہے سیدرحمهالله نے ایک اور معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جو شخص یہ تسبیح پڑھے تو تعجب نہیں کرنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ اس کے ہزار گناہ مٹا دے گا اس کے نام ہزار نیکیاں لکھ دے گا اورقیامت والے دن ہزار آدمیوں کی شفاعت کا حق رکھتا ہوگااور اس کے ہزار درجے بلند کر دے گا ان کلمات کی برکت سے وہ اس کیلئے ایک سفید پرندہ خلق فرمائے گا جو قیامت تک تسبیح پڑھتا رہے گا اور اس کا ثواب اسی شخص کیلئے لکھا جاتا رہے گا۔
(روزانہ چار نعمتوکا ذکرکرنا ضروری ہے )
( ۱۱ ) قطب راوندیرحمهالله نے امیر المومنینعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ اس نے خدا کی چار نعمتوں کو یاد نہ کیا تو مجھے خوف ہے کہ نعمتیں اس سے چھن جائیں گی پس ان چار نعمتوں کی یاد اس طرح کرے :
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی عَرَّفَنِی نَفْسَهُ وَلَمْ یَتْرُکْنِی عَمْیانَ الْقَلْب الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی جَعَلَنِی مِنْ
حمد خدا کے لیے ہے جس نے مجھ کو اپنی معرفت کرائی اوردل کا اندھا نہیں رہنے دیا حمدﷲ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے
أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی جَعَلَ رِزْقِی فِی یَدَیْهِ وَلَمْ یَجْعَلْ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں قرار دیا حمد ﷲ کے لیے ہے جس نے میری روزی اپنے ہاتھوں میں رکھی اور اسے
رِزْقِی فِی أَیْدِی النَّاسِ الْحَمْدُ ﷲِ الَّذِی سَتَرَ عُیُوبِی وَلَمْ یَفْضَحْنِی بَیْنَ الْخَلائِقِ
لوگوں کے اختیار میں نہیں دیاحمد خدا کے لیے ہے جس نے میرے گناہ اور نقائص چھپاے اور مجھے لوگوں میں رسوا نہیں کیا
(ستر بلائیں دور ہونے کی دعا)
(۱۲) بلد الامین میں سلمان فارسیرحمهالله سے روا یت کی گئی ہے کہ جو شخص وقت صبح کو دیکھے اور تین مرتبہ یہ کہے :
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ حَمْداً کَثِیراً طَیِّباً مُبارَکاً فِیهِ
حمد ﷲ کے لیے ہےجو جہانوں کا رب ہے حمد ﷲ کے لیے ہے بہت زیادہ حمد پاک و پاکیزہ بابرکت حمد۔
تو حق تعالیٰ اس سے ستر بلائیں دور کرے گا جن میں سب سے کم تر رنج و غم کا دور کرنا ہے۔
( صبح کے وقت کی دعا)
(۱۳) شیخ کلینیرحمهالله نے معتبر سند کیساتھ امام باقر - سے روایت کی ہے کہ فرمایا:جب تم صبح کرو تو یہ دعا پڑھو:
أَصْبَحْتُ بِالله مُؤْمِناً عَلَی دِینِ مُحَمَّدٍ َسُنَّتِهِ وَدِینِ عَلِیٍّ وَسُنَّتِهِ وَدِینِ
میں نے صبح کی خدا پر ایمان کے ساتھ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دین اور ان کی سنت پر علیعليهالسلام کے دین اور ان کی سنت پر ان
الْاَوْصِیائِ وَسُنَّتِهِمْ آمَنْتُ بِسِرِّهِمْ وَعَلانِیَتِهِمْ و َشاهِدِهِمْ
کے اوصیائ کے دین اور ان کی سنت پر میں ان کے نہاں اور عیاں اور ان کے حاضر و غائب پر ایمان رکھتا ہوں
وَغائِبِهِمْ وَأَعُوذُ بِالله مِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ رَسُول ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَالِهٰ
اور پناہ لیتا ہوں خدا کی اس چیز سے جس سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم حضرت علیعليهالسلام اور ان کے
وَعَلِیٌّ الْاَوْصِیائ وَأَرْغَبُ إلَی ﷲ فِیَما رَغِبُوا إلَیْهِ وَلاَ حَوْلَ
اوصیائ نے خدا کی پناہ طلب کیاور ان چیزوں کی خدا سے رغبت کرتا ہوں جن میں انہوں نے رغبت کی. نہیں
وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله
کوئی طاقت و قوت مگر جو خداسے ہے
(صبح صادق کے وقت کی دعا)
(۱۴) شیخ کلینیرحمهالله نے امام محمد باقر - کی طرف سے اس دعا کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی ہے کہ اسے صبح صادق کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے پڑھے:
ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ کَبِیراً وَسُبْحانَ ﷲ بُکْرَةً وَأَصِیلاً وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ
ﷲ بزرگ تر ہے ﷲ بزرگ تر ہے، کبریائی میں پاک و پاکیزہ ہے ﷲ ہر صبح و شام اور حمد ﷲ کے لیے بہت
رَبِّ الْعالَمِینَ کَثِیراً لا شَرِیکَ لَهُ وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
حمد جو جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور خدا رحمت فرمائے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر۔
(مصیبتوں سے حفاظت کی دعا)
(۱۵) بلد الامین میں امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت ہے کہ جو شخص صبح کو یہ دعا پڑھے تو شام تک اسے کوئی مصیبت درپیش نہ ہو گی اور شام کوپڑھے تو اگلی صبح تک اسے کوئی مصیبت پیش نہ آئے گی اور وہ دعا یہ ہے کہ جس کوتین مرتبہ پڑھنا چاہیئے:
بِسْمِ ﷲ الَّذِی لاَ یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمائِ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ
خدا کے نام سے کہ جس کے نام کی معیت میں زمین اور آسمان میں کوئی چیزنقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے جاننے والا ہے۔
(اللہ کا شکر بجا لانے کی دعا)
(۱۶) شیخ کلینیرحمهالله ، ابن بابویہرحمهالله اور دیگر علمائ نے امام محمد باقر -سے روایت کی ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے حضرت نوحعليهالسلام کو عبد شکور (بہت شکر کرنے والا بندہ) کہہ کر یاد کیا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہر صبح و شام یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أُشْهِدُکَ أَنَّهُ مَا أَمْسی وَأَصْبَحَ بِی مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ عافِیَةٍ
اے معبود! میں تجھے گواہ بناتا ہوں اس پر کہ مجھے صبح و شام جو نعمت و عافیت ملتی ہے وہ دنیا کی نعمت و
فِی دِینٍ أَوْ دُنْیا فَمِنْکَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ
عافیت ہو یا دین کی پس تیری طرف سے ہے تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ان چیزوں میں مجھ پر تیری حمد
الشُّکْرُ بِها عَلَیَّ حَتَّی تَرْضی إلهَنَا
شکر لازم ہے حتیٰ کہ تو راضی ہو جائے اے ہمارے معبود
بعض روایات میں یوں ہےاَللّٰهُمَّ إنَّهُ مَا أَصْبَحَ بِی مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ عافِیَةٍ فِی دِینٍ أَوْ دُنْیا فَمِنْکَ
اے معبود! مجھے دین و دنیا میں جو بھی نعمت و عافیت ملتی ہےوہ تیر ی طرف سے ہے تو یکتا ہے
وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ، لَکَ الْحَمْدُ وَلَک الشُّکْرُ بِها عَلَیَّ حَتَّی تَرْضَی وَبَعْدَ الرِّضا
تیرا کوئی شریک نہیں ہے ان چیزوں میں مجھ پر تیری حمد و شکر لازم ہے حتیٰ کہ توراضی ہو جائے اور رضاکے بعد بھی تیری حمد۔
یہ دعا دونوں صورتوں میں بہتر ہے اور اسے دس مرتبہ پڑھنا چاہیئے۔
(شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا)
(۱۷) شیخ کلینیرحمهالله و برقیرحمهالله نے معتبر اسناد کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق -اور امام موسیٰ کا ظم - سے روایت کی ہے کہ جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوتو یہ دعا پڑھو تاکہ ہر درندے، ہر شیطان لعین اور اس کی اولاد کے شر سے اور ہر کاٹنے والے زہریلے جانور نیز چوروں اور جنوں سے محفوظ رہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً وَلَمْ یَکُنْ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے حمد ﷲ کے لیے ہے جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا نہ
لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی یَصِفُ وَلاَ یُوصَفُ وَیَعْلَمُ وَلاَ یُعْلَمُ یَعْلَمُ
ادشاہت میں کوئی اس کا شریک ہے حمد ﷲ کے لیے ہے جو صفت کرتا ہے اس کی صفت نہیں ہو سکتی وہ جانتا ہے اسے
خائِنَةَ الْاَعْیُنِ وَما تُخْفِی الصُّدُورُ أَعُوذُ بِوَجْهِ ﷲ الْکَرِیمِ
کوئی نہیں جان سکتا وہ آنکھوں کی غلط نگاہی اور دلوں کے رازوں کو جانتا ہے پناہ لیتا ہوں اس
وَبِاسْمِ ﷲ الْعَظِیمِ مِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ وَبَرَأَوَمِنْ شَرِّ مَا تَحْتَ الثَّرَی
بزرگ نام کی ہر چیز کے شر سے جو کی ذات کریم کی اور اس کے اس نے پیدا اورظاہر کی اس کے شر
وَمِنْ شَرِّ مَا ظَهَرَ وَما بَطَنَ، وَمِنْ شَرِّ مَا کانَ فِی اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَمِنْ
سے جو زیر زمین ہے اس کے شر سے جو عیان اور نہاں ہے اس کے شر سیجو رات اور دن میں ہو
شَرِّ أَبِی قِتْرَةَ وَما وَلَد وَمِن شَرِّ الرَّسِیسِ وَمِنْ شَرِّ مَا وَصَفْتُ
ابی قترہ شیطان اور اس کی اولاد کے شر سے شیطان رسیس کے شر سے اس کے شرسے جس کا میں نے ذکر کیا
وَما لَمْ أَصِفْ،وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ
اور جس ذکر نہیں کیا حمد ہےجہانوں کے رب ﷲ کیلئے۔
(دن ،رات امان میں رہنے کی دعا)
(۱۸) شیخ کلینیرحمهالله نے معتبر سند کیساتھ امام محمد باقرعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص صبح کو یہ دعا پڑھے تو انشائ ﷲ دن بھر کوئی چیز اسے نقصان نہ پہنچا سکے گی اور اگر کوئی شام کو پڑھے تو رات بھر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکے گی اور وہ دعا یہ ہے۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَصْبَحْتُ فِی ذَمَّتِکَ وَجِوَارِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَوْدِعُکَ دِینِی وَنَفْسِی وَدُنْیایَ
اے معبود ! میں نے تیری امان اور تیری پناہ میں صبح کی ہےاے معبود میں نے تیرے سپردکر دیا اپنا دین اور اپنی
وَآخِرَتِی وَأَهْلِی وَمالِی وَأَعُوذُ بِکَ یَا عَظِیمُ مِنْ شَرِّ خَلْقِکَ
جان اپنی دنیا اپنی آخرت اپنے عیال اپنا مال اور تیری پناہ لیتا ہوں اے عظمت والے تیری تمام
جَمِیعاً وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ ما یُبْلِسُ بِهِ إبْلِیسُ وَجُنُودُهُ
مخلوق کے شر سے اور تیری پناہ لیتا ہوں اس شر سے جس کے ساتھ ابلیس اور اسکے لشکر دھوکہ دیتے ہیں
(صبح و شام کو پڑھنے کی دعا)
(۱۹) شیخ کلینیرحمهالله نے قریب صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے ایسی دعا تعلیم فرمائیں جو میں صبح و شام پڑھا کروں حضرت نے فرمایا یہ دعا پڑھا کرو:
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی یَفْعَلُ مَا یَشائُ وَلاَ یَفْعَلُ مَا یَشائُ غَیْرُهُ
حمد ﷲ کے لیے ہے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہےاور اس کے سوا کوئی جو چاہے نہیں کر
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ کَمَا یُحِبُّ ﷲ أَنْ یُحْمَدَ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ کَمَا هُوَ أَهْلُهُ اَللّٰهُمَّ
پاتا حمد ﷲ کے لیے ہے جائے ، حمد ﷲ کے لیے ہے جیسا کہ جیسے ﷲ چاہتا ہے اس کی حمد کی وہ
أَدْخِلْنِی فِی کُلِّ خَیْرٍ أَدْخَلْتَ فِیهِ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ وَأَخْرِجْنِی
اس کا اہل ہے اے معبود مجھے ہر اس نیکی میں داخل کر جس میں تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو داخل فرمایا اور
مِنْ کُلِّ سُوئٍ أَخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
مجھے ہر بدی سے دوررکھ جس سے تو نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دور رکھا خدارحمت فرمائے محمد و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر۔
(دن کی بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا)
(۲۰) بلد الامین میں رسول ﷲ سے روایت کی گئی ہے کہ جو شخص صبح کے وقت سات مرتبہ یہ دعا پڑھے تو وہ اس دن کی بلائوں سے محفوظ رہے گا۔
فَﷲ خَیْرٌ حَافِظاً وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ، إنَّ وَلِیِّیَ ﷲ الَّذِی نَزَّلَ
پس ﷲ بہترین نگہبان ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے بے شک میرا سر پرست ﷲ ہے
الْکِتابَ وَهُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ فَ إنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ ﷲ لاَ
جس نے قرآن اتارا اور وہ نیکوکاروں کا سرپرست ہے پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہو میرے لیے ﷲ
إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ
کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں اس پر بھر وسہ کرتا ہوں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
(اہم حاجات بر لانے والی دعا )
(۲۱) بعض معتبر کتب میں مروی ہے کہ جو شخص تین بار صبح کے وقت اور تین بار دن کے آخر میں صلوات پڑھے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اس کی دعا قبول ہوگی ، روزی کشادہ ہوگی دشمن پر غالب رہیگا اور بہشت میں حضرت رسول ﷲ کے دوستوں میں سے ہو گا وہ صلوات یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ فِی الْاَوَّلِینَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
اے معبود! درود بھیج محمد و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اولین میں اور درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام
وَآلِ مُحَمَّدٍ فِی الاَْخِرِینَ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ فِی الْمَلاََ الْاَعْلَی وَصَلِّ عَلَی
حمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر آخرین میں درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر آسمانوں اور عرش پر اور درود بھیج
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ فِی الْمُرْسَلِینَ اَللّٰهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً الْوَسِیلَةَ وَالشَّرَفَ وَالْفَضِیلَةَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اپنے فرستادوں میں اے معبود! عنایت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو وسیلہ شرف فضیلت اور
وَالدَّرَجَةَ الْکَبِیرَةَ اَللّٰهُمَّ إنِّی آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَلَمْ أَرَهُ فَلا تَحْرِمْنِی یَوْمَ الْقِیامَةِ
بلند تر درجہ. اےمعبود! میں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پرایمان لایا اور انہیں دیکھا نہیں پس قیامت میں مجھے ان کے
رُؤْیَتَهُ وَارْزُقْنِی صُحْبَتَهُ وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِه وَاسْقِنِی مِنْ حَوْضِهِ
دیدار سے نہ روکنامجھے ان کی صحبت نصیب کرنا ان کے آئین پر موت دینا اور ان کے حوض کوثر پر
مَشْرَباً رَوِیّاً سَائغاً هَنِیئاً لاَ أَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَداً إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ اَللّٰهُمَّ
مجھے بھرا ہوا مزیدار جام پلانا کہ اس کے بعد مجھے کبھی بھی پیاس نہ لگے بے شک تو ہر چیزپر قدرت رکھتا ہے اے معبود
کَمَا آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلَمْ أَرَهُ فَأَرِنِی فِی الْجِنانِ وَجْهَهُ اَللّٰهُمَّ
جیسے میں حضرت محمد پر ایمان لایا اورانہیں دیکھا نہیں پس تومجھے جنت میں ان کا دیدار کرانا اے معبود!
بَلِّغْ رُوحَ مُحَمَّدٍ عَنِّی تَحِیَّةً کَثِیرَةً وَسَلاماً
روح محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو میری طرف سے بہت درود و سلام پہنچانا۔
مولف کہتے ہیں :یہ وہی صلوات ہے جسے کفعمیرحمهالله نے امام جعفر صادق - سے نقل کیا ہے ، آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص صلوات بھیج کر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمد کو خوشنود کرنا چاہے تو وہ یہی مذکورہ صلوات پڑھے ، ہم نے اسے مفاتیح الجنان میں اعمال عرفہ کے ذیل میں درج کیا ہے یہ بھی یاد رہے کہ صبح و شام کے وقت پڑھی جانے والی دعائیں بہت زیادہ ہیں کہ جن کا ذکر اس مختصر کتاب میں ممکن نہیں ہے تا ہم چوتھے باب میں کتاب کافی سے دس دعائیں نقل کی جائیں گی جو صبح و شام پڑھی جاتی ہیں اگر آپ کے پاس وقت ہے تو دعاے یستشیر دعاے عشرات دعاے نور اور دعاے عہد پڑھیں ، جس کا آغاز یوں ہوتا ہے۔
اَللّٰهُمَّ رَبَّ النُّوْرِ الْعَظِیمِ
اے معبود! اے عظیم نور کے پروردگار۔
نیز یہ دعائیں ہم نے مفاتیح الجنان میں بھی نقل کی ہیں اور خاک شفا کی تسبیح کے آداب میں یہ دعا بھی درج ہے۔
أَصْبَحْتُ اَللّٰهُمَّ مُعْتَصِماً بِذِمامِکَ
اے معبود! میں نے صبح کی جب کہ تیری امان لیے ہوں
ہر خوف سے رہائی کے لیے صبح و شام خاک شفا کی تسبیح پڑھی جاتی ہے۔
(چھٹی فصل:)
وہ دعائیں جو دن کی بعض ساعتوں میں پڑھی جاتی ہیں اور وہ دعائیں جو دن کی کسی خاص ساعت سے تعلق نہیں رکھتیں۔
جاننا چاہیئے کہ شیخ طوسیرحمهالله سید ابن باقی اور شیخ کفعمیرحمهالله نے دن کو بارہ ساعتوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر ساعت کو بارہ آئمہعليهالسلام میں سے ایک امامعليهالسلام کی طرف نسبت دی ہے لہذاہر دعا کسی ایک ساعت سے مخصوص ہے جو انہی امامعليهالسلام سے توسل پر مشتمل ہے جن کیطرف اس ساعت کو نسبت دی گئی ہے اگرچہ انہوں نے اس ضمن میں کوئی خاص روایت نقل نہیں کی تو بھی یہ امر معلوم ہے کہ وہ اس قسم کی باتیں روایت کو مد نظر رکھ کر کرتے ہیں اور اس کتاب میں ہم اسی بیان پر اکتفا کریں گے جو مصباح المتہجد میں ہے کہ فرماتے ہیں:
(پہلی ساعت:)
پہلی ساعت طلوع صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ہے اور یہ امیر المومنین-عليهالسلام کی طرف منسوب ہے اور اس کی دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ رَبَّ الْبَهَائِ وَالْعَظَمَةِ وَالْکِبْرِیائِ وَالسُّلْطانِ أَظْهَرْتَ الْقُدْرَةَ کَیْفَ شِئْتَ
اے معبود! اے شان و بزرگی اور بڑائیاور اقتدار کے مالک تو نے جس طرح چاہا اپنی قدرت کو ظاہر
وَمَنَنْتَ عَلَی عِبادِکَ بِمَغْفِرَتِکَ وَتَسَلَّطْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَرُوتِکَ
کیاتو نے اپنی معرفت کرا کے اپنے بندوں پر احسان کیا اور اپنی طاقت کے ذریعے ان پر غالب آیا اور
وَعَلَّمْتَهُمْ شُکْرَ نِعْمَتِکَ اَللّٰهُمَّ فَبِحَقّ عَلِیٍّ الْمُرْتَضَی لِلدِّینِ وَالْعَالِمِ بِالْحُکْمِ
انہیں شکر نعمت کی تعلیم دی پس اے معبود بواسطہ علی کے جن کو دین کے لیے چنا گیا جو فیصلے کرنے میں دانا
وَمَجَارِی التُّقَی إمامِ الْمُتَّقِینَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ فِی الْاَوَّلِینَ
اور راہ تقوےٰ سے واقف اور متقیوں کے امام ہیں رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آل پر اولین
وَالاَْخِرِینَ وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ یَدَیْ حَوائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍوَأَنْ
وآخرین لوگوں میں اور میںانہیں اپنی حاجتوں میں وسیلہ بناتا ہوں کہ تو رحمت فرما سرکار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمد پر اور
تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما ۔
(کَذَا وَ کَذَا کی بجاے اپنی حاجات بیان کرے).
(دوسری ساعت:)
یہ طلوع آفتاب سے اس کی سرخی دور ہونے تک ہے، یہ امام حسن مجتبیٰ - سے منسوب ہے اور اس کی دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ لَبِسْتَ بَهائَکَ فِی أَعْظَمِ قُدْرَتِکَ وَصَفا نُورُکَ فِی أَنْوَرِ ضَوْئِکَ وَفاضَ عِلْمُکَ حِجَابَکَ
اے معبود! تو نے اپنی عظیم قدرت میں شان و بزرگی کا لباس پہنا تیری روشن شعاعوں میں تیرا نور تابان ہے تیرا علم حجاب پر حاوی ہے جس
وَخَلَّصْتَ فِیهِ أَهْلَ الثِّقَةِ بِکَ عِنْدَ جُودِکَ فَتَعالَیْتَ فِی کِبْرِیائِکَ عُلُوّاً عَظُمَتْ فِیهِ مِنَّتُکَ عَلَی
سے تو نے ان کو بخشش میں خاص کیا جو تجھ پر بھر وسہ رکھتے ہیں تو اپنی کبریائی میں اتنا بلندہے کہ اس میں تو نے اپنے فرمانبردار بندوں پر
أَهْلِ طٰاعَتِکَ فَبٰاهَیْتَ بِهِمْ أَهْلَ سَمٰوَاتِکَ بِمِنَّتِکَ عَلَیْهِمْ اَللّٰهُمَّ فَبِحَقِّ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ عَلَیْکَ
احسان فرمایا ہے پس ان کے ذریعے تو نے آسمان والوں کے سامنے اس احسان پر فخر کیا پس اے معبود! بواسطہ حسن بن علیعليهالسلام کے حق
أَسْأَلُکَ وَبِهِ أَسْتَغِیثُ إلَیْکَ وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ یَدَیْ حَوَائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ
کے جو تجھ پر ہے میں سوال کرتا ہوں اور ان کے ذریعے تجھے پکارتا ہوں اور ان کو اپنی حاجتوں کیلئے وسیلہ
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
بناتا ہوں کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما
(تیسری ساعت:)
یہ سورج کی شعاعوں کے پھیلنے سے لے کر قدرے بلند ہونے تک ہے یہ امام حسین- کے ساتھ منسوب ہے اور اس کی دعا یہ ہے :
یَا مَنْ تَجَبَّرَ فَلا عَیْنٌ تَراهُ یَا مَنْ تَعَظَّمَ فَلا تَخْطُرُ الْقُلُوبُ
اے وہ جو اتنا حاوی ہے کہ آنکھ اسے دیکھ نہیں پاتی اے وہ جو اتنا عظیم ہے کہ اس کی حقیقیت دلوں
بِکُنْهِهِ یَا حَسَنَ الْمَنِّ یَا حَسَنَ التَّجاوُزِ یَا حَسَنَ الْعَفْوِ یَا جَوادُ
میں سما نہیںسکتی اے بہترین احسان کرنے والے اے بہترین درگزر کرنے والے اے بہترین
یَا کَرِیمُ یَا مَنْ لاَ یُشْبِهُهُ شَیْئٌ مِنْ خَلْقِهِ یَا مَنْ مَنَّ عَلَی
معاف کرنے والے اے بہت دینے والے اے عطا کرنے والے اے وہ جس کی مخلوق میں کوئی اس
خَلْقِهِ بِأَوْلِیائِهِ إذِ ارْتَضیٰ هُمْ لِدِینِهِ وَأَدَّبَ بِهِمْ عِبادَهُ وَجَعَلَهُمْ حُجَجاً مَنّاً مِنْهُ عَلَی
جیسا نہیں اے وہ جس نے اپنے اولیائ سے اپنی مخلوق پر احسان کیا جن کو اپنے دین کیلئے پسند کیا انکے ذریعے اپنے بندوں کو مطیع کیا
خَلْقِهِ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ السِّبْطِ
اور ان کو اپنی حجتیں بناکر اپنی مخلوق پر مہربانی فرمائی میں حسینعليهالسلام بن علیعليهالسلام کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں
التَّابِعِ لِمَرْضَاتِکَ وَالنَّاصِحِ فِی دِینِکَ وَالدَّلِیلِ عَلَی ذَاتِکَ
جو نواسہعليهالسلام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں کہ تیری رضاؤں کے تابع رہے تیرے دین کے خیرخواہ رہے اور تیری طرف رہنمائی
أَسْأَلُکَ بِحَقِّهِ وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ یَدَیْ حَوَائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
کرتے رہے انکے حق کے ذریعے سوال کرتا ہوں ان کو اپنی حاجات میں وسیلہ بناتا ہوں یہ کہ تو رحمت فرما
وآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اوران کی آلعليهالسلام پر اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما۔
(چوتھی ساعت:)
یہ سورج کے بلند ہونے سے وقت زوال تک ہے، یہ امام زین العابدین- سے منسوب ہے اور اس کی دعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ صَفَا نُورُکَ فِی أَتَمِّ عَظَمَتِکَ وَعَلا ضِیَاؤُکَ فِی
اے معبود! تیرا نور تیری کامل عظمتمیں روشن ہے تیری تیز چمک تیری واضح روشنی میں ہے میں
أَبْهَی ضَوْئِکَ أَسْأَلُکَ بِنُورِکَ الَّذِی نَوَّرْتَ بِهِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرَضِینَ
تیرے نور کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جس سے تو نے آسمانوں اور زمینوں کو منورکیا اور ظالموں کی
وَقَصَمْتَ بِهِ الْجَبابِرَةَ وَأَحْیَیْتَ بِهِ الْاَمْوَاتَ وَأَمَتَّ بِهِ الْاَحْیائَ وَجَمَعْتَ
گردنیں توڑیں جس سے تو نے مردوں کو زندہ کیا اورزندوں کو موت دی جس سے تو نے منتشر
بِهِ الْمُتَفَرِّقَ وَفَرَّقْتَ بِهِ الْمُجْتَمِعَ وَأَتْمَمْتَ بِهِ الْکَلِماتِ وَأَقَمْتَ بِهِ
چیزوں کو جمع کیا اورجمع شدہ کو بکھیر دیا اور جس سے تو نے کلمات کو مکمل کیا اور آسمانوں کو کھڑا کیا ہے میں
السَّمٰوَاتِ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ وَلِیِّکَ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ عَلَیْهِمَا اَلسَّلاَمُ الذَّابِّ
تیرے ولی علیعليهالسلام بن حسین کے حق کے ذریعے سوال کرتا ہوں جنہوں نے تیرے دین کا دفاع کیا
عَنْ دِینِکَ وَالْمُجَاهِدِ فِی سَبِیلِکَ وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ یَدَیْ حَوَائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ
اور تیری راہ میں جہاد کیا میں انھیں اپنی حاجات میں وسیلہ بناتا ہوں یہ کہ تو سرکار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
نازل کر اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما
(پانچویں ساعت:)
یہ زوال آفتاب سے چار رکعت نماز ادا کرنے کے وقت تک ہے، یہ امام محمد باقر - سے منسوب ہے اور اس کی دعا یہ ہے :
اَللّٰهُمَّ رَبَّ الضِّیَائِ وَالْعَظَمَةِ وَالنُّوْرِ وَالْکِبْرِیائِ وَالسُّلْطانِ
اے معبود! اے روشنی، بڑائی، نور، بزرگی اور بادشاہت کے مالک ! تو اپنی بلند شان سے سب پر غالب
تَجَبَّرْتَ بِعَظَمَةِ بَهائِکَ وَمَنَنْتَ عَلَی عِبادِکَ
ہے تو نے اپنی مہربانی اور رحمت کی بدولت اپنے بندوں پر
بِرَأْفَتِکَ وَرَحْمَتِکَ وَدَلَلْتَهُمْ عَلَی مَوجُودِ رِضاکَ وَجَعَلْتَ لَهُم دَلِیلاً یَدُلُّهُمْ عَلَی
انہیں اپنی رضا کے احسان کیا موجود ہونے کی خبر دی انکے لیے رہنما بنایا جو انہیں تیری محبت کی طرف لاتا ہے
مَحَبَّتِکَ وَیُعَلِّمُهُمْ مَحابَّکَ، وَیَدُلُّهُمْ عَلَی مَشِیئَتِکَ اَللّٰهُمَّ فَبِحَقِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ
انہیں محبت کا طریقہ بتاتا ہے اور تیری مشیت کی طرف متوجہ کرتا ہے پس اے معبود! محمدبن علیعليهالسلام کے حق کی
عَلَیْهِمَااَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ یَدَیْ حَوَائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ َآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
خاطر جو تجھ پر ہے اور میں اپنی حاجات میں ان کو وسیلہ بناتا ہوںکہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور میری یہ اور یہ میری حاجت پوری فرما .کَذَا وَ کَذَا کی بجاے اپنی حاجات بیان کرے۔
(چھٹی ساعت:)
یہ زوال سے چار رکعت کے وقت کی مقدار کے بعد سے ظہر تک ہے یہ امام جعفر صادقعليهالسلام سے منسوب ہے اور اسکی دعا یہ ہے ۔
یَا مَنْ لَطُفَ عَنْ إدْراکِ الْاَوْهامِ، یَا مَنْ کَبُرَ عَن مَوْجُودِ الْبَصَرِ، یَا مَنْ تَعَالَی
اے معبودہ ! جو وہم و خیال کی رسائی سے بلند ہے اے وہ جو نگاہوں کی رسائی سے ہے بالا تر ہے اے وہ جو تمام
عَنِ الصِّفاتِ کُلِّها یَا مَنْ جَلَّ عَنْ مَعانِی اللُّطْفِ، وَلَطُفَ عَنْ مَعانِی الْجَلالِ أَسْأَلُکَ بِنُورِ وَجْهِکَ وَضِیائِ
صفات سے عالی تر ہے اے وہ جو لطف کے معانی سے بہت بلند ہے اور اے وہ جو جلال معانی سے لطیف ہےمیں تیرے نور، ذات
کِبْرِیائِکَ وَأَسْأَلُکَ بِحَقِّ عَظَمَتِکَ الْعافِیَةَ مِنْ نارِکَ وَأَسْأَلُکَ بِحَقِّ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَیْکَ وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ
اور تیری کبریائی کی روشنی کے ذریعے سوال کرتا ہوں. تیری بڑی عظمت کے واسطے جہنم سے بچائوکاسوال کرتا ہوں اور جعفر بن محمدعليهالسلام کے تجھ پر حق کی خاطر سوال کرتا
یَدَیْ حَوائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
ہوںاور اپنی حاجتوں میں ان کووسیلہ بناتا ہوں یہ کہ تو رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اورمیری یہ اور یہ حاجت پوری فرما
(ساتویں ساعت)
یہ ظہرسے لے کر عصر سے پہلے چار رکعت کی ادائیگی کے وقت تک ہے، یہ امام موسیٰ کاظم - سے منسوب ہے اور اس کی دعا یہ ہے ۔
یَا مَنْ تَکَبَّرَ عَنِ الْاَوْهامِ صُورَتُهُ یَا مَنْ تَعَالَی عَنِ الصِّفاتِ
اے وہ جس کی صورت وہم و گمان میں آنے سے بلند تر ہے اے وہ جس کا نور صفات سے بالا تر ہے
نُورُهُ یَا مَنْ قَرُبَ عِنْدَ دُعَاءِ خَلْقِهِ یَا مَنْ دَعَاهُ الْمُضْطَرُّوْنَ وَلَجَأَ إلَیْهِ
اے وہ جو اپنی مخلوق کی دعائوں کے قریب ہے اے وہ جسے بیچارے پکارتے ہیں ڈرے ہوئے جس کی
الْخَائِفُونَ وَسَأَلَهُ الْمُؤْمِنوْنَ وَعَبَدَهُ الشَّاکِرُونَ وَحَمِدَهُ
پناہ لیتے ہیں ایمان والے جس سےمانگتے ہیں شکر کرنے والے جس کی عبادت کرتے ہیں اور مخلص لوگ
الْمُخْلِصُونَ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ نُورِکَ الْمُضِیئِ وَبِحَقِّ مُوسَی بْنِ
جس کی حمد کرتے ہیں میں تیرے چمکتے ہوئے نور کے واسطے سے اورتجھ پر موسیٰ بن جعفرعليهالسلام کے حق کے
جَعْفَرٍ عَلَیْکَ وَأَتَقَرَّبُ بِهِ إلَیْکَ وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ یَدَیْ حَوَائِجِی أَنْ
ذریعے سوال کرتا ہوں ان کے وسیلے تیرا تقرب چاہتا ہوں اور ان کواپنی حاجتوں میں وسیلہ بناتا
تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
وں کہو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما۔
(آٹھویں ساعت)
یہ ظہرکے بعد چار رکعت کی ادائیگی کے وقت سے عصر تک ہے یہ امام علی رضا- سے منسوب ہے اور اس کی دعا یہ ہے :
یَا خَیْرَ مَدْعُوٍّ یَا خَیْرَ مَنْ أَعْطَی، یَا خَیْرَ مَنْ سُئِلَ یَا مَنْ أَضَائَ
اے بہترین پکارنے جانے والے اے بہترین عطا کرنے والے اے بہترین سوال کیے جانے والے
بِاسْمِهِ ضَوْئُ النَّهٰارِ، وَأَظْلَمَ بِهِ ظُلْمَةُ اللَّیْلِ وَسَالَ بِاسْمِهِ وَابِلُ
اے وہ جس کے نام سے دن کی روشنی چمکتی ہے اور رات کی تاریکی کو سیاہی ملتی ہے جس کے نام سے
السَّیْلِ وَرَزَقَ أَوْلِیائَهُ کُلَّ خَیْرٍ یَا مَنْ عَلاَ السَّمٰوَاتِ نُورُهُ وَالْاَرْضَ
سیلابوں کو روانی ملتی ہے اور جس نے اپنے اولیائ کو ہر بھلائی دی اے وہ جس کا نور آسمانوں سے بلند ہے
ضَوْؤُهُ وَالشَّرْقَ وَالْغَرْبَ رَحْمَتُهُ یَا واسِعَ الْجُودِ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ عَلِیِّ بْنِ مُوسَی الرِّضا وَأُقَدِّمُهُ
جس کی روشنی زمین سے بالا ہے جس کی رحمت شرق و غرب پر چھائی ہے اے بہت دینے والے میں تجھ سے علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام کے حق کے واسطے
بَیْنَ یَدَیْ حَوَائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ
سے سوال کرتا ہوں اور حاجتوں میں ان کووسیلہ بناتا ہوں کہ تو رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور میری یہ اور یہ
بِی کَذا وَکَذا
حاجت پوری فرما
(نویں ساعت)
یہ ساعت نماز عصرسے دو گھنٹے بعد تک ہے یہ امام محمدتقی - سے منسوب ہے اور اسکی دعا یہ ہے :
یَا مَنْ دَعاهُ الْمُضْطَرُّونَ فَأَجابَهُمْ وَالْتَجَأَ إلَیْهِ الْخائِفُونَ فَآمَنَهُمْ وَعَبَدَهُ
اے وہ جسے بے چارے پکارتےہیں تو جواب دیتا ہے خوف زدہ پناہ مانگتے ہیں تو انہیں امان دیتا ہے
الطَّائِعُونَ فَشَکَرَهُمْ وَشَکَرَهُ الْمُؤْمِنُونَ فَحَباهُمْ وَأَطاعُوهُ
فرماں بردار عبادت کرتے ہیں تو قبول کرتا ہے اور ایماندار جس کا شکر کرتے ہیں تو انہیں اور دیتا ہے
فَعَصَمَهُمْ وَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ وَنَسُوا نِعْمَتَهُ فَلَمْ یُخْلِ شُکْرَهُ مِنْ
اطاعت کرتے ہیں تو انہیں بچاتا ہے مانگتے ہیں تو انہیں دیتا ہے وہ نعمتوں کو بھول جائیں تو ان کے
قُلُوبِهِمْ وَامْتَنَّ عَلَیْهِمْ فَلَمْ یَجْعَلِ اسْمَهُ مَنْسِیّاً عِنْدَهُمْ أَسْأَلُکَ
دلوں کو شکر سے خالی نہیں ہونے دیتا ان پر احسان کیا تو ان کو اپنا نام نہیں بھولنے دیا تجھ سے سوال کرتا ہوں
بِحَقِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ حُجَّتِکَ الْبالِغَةِ وَنِعْمَتِکَ السَّابِغَةِ وَمَحَجَّتِکَ
محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام کے واسطے جو تیری کامل حجت ہیں تیری مکمل نعمت ہیں اور تیرا واضح راستہ ہیں
الْوَاضِحَةِ، وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ یَدَیْ حَوَائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
میں اپنی حاجتوں میں ان کو وسیلہ بناتا ہوں یہ کہ تو سرکار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
نازل کر اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما ۔
(دسویں ساعت)
یہ نماز عصر کے دو گھنٹے بعد سے سورج کے زرد ہونے سے پہلے تک ہے یہ امام علی نقیعليهالسلام سے منسوب ہے۔
اور اسکی دعا یہ ہے۔
یَا مَنْ عَلا فَعَظُمَ یَا مَنْ تَسَلَّطَ فَتَجَبَّرَ وَتَجَبَّرَ فَتَسَلَّطَ یَا مَنْ عَزَّ فَاسْتَکْبَرَ فِی عِزِّهِ
اے وہ جو بلند ہے تو بزرگ بھی ہے اے جو حاوی ہے تو غالب بھی ہے اور غالب ہے تو حاوی بھی ہے اے جو معزز ہے تو عزت میں بڑا
یَا مَنْ مَدَّ الظِّلَّ عَلَی خَلْقِهِ، یَا مَنِ امْتَنَّ بِالْمَعْرُوفِ عَلَی عِبادِهِ یَا عَزِیزاً ذَاانْتِقامٍ یَا
بھی ہے اے وہ جس کا سایہ ساری مخلوق پر ہے اے وہ جس نے اپنے بندوں پرنیکیوں سے احسان کیا اے انتقام لینے والے غالب اے
مُنْتَقِماً بِعِزَّتِهِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْکِ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمَا
اپنے غلبے کے ساتھ مشرکوں سےانتقام لینے والے میں تجھ سے علیعليهالسلام بن محمدعليهالسلام کے حق کے
اَلسَّلاَمُ وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ یَدَیْ حَوَائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ
ساتھ سوال کرتا ہوں اور انہیں حاجتوں میں وسیلہ بناتا ہوں کہ تو محمد و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور میری یہ اور یہ حاجت
بِی کَذا وَکَذا
پوری فرما ۔
(گیارھویں ساعت)
یہ آفتاب کے زرد ہونے سے پہلے سے لے کر اس کے مکمل زرد ہونے تک ہے یہ امام حسن عسکریعليهالسلام سے منسوب ہے اور اس کی دعا یہ ہے :
یَا أَوَّلاً بِلا أَوَّلِیَّةٍ وَیَا آخِراً بِلا آخِرِیَّةٍ یَا قَیُّوْما بِلا مُنْتَهی لِقِدَمِهِ، یَا
اے اول جس سے پہلے کوئی نہیں اے آخر جس کے بعد کوئی نہیں ائے وہ قائم جس کی قدامت کی کوئی حد
عَزِیزاً بِلا انْقِطاعٍ لِعِزَّتِهِ یَا مُتَسَلِّطاً بِلا ضَعْفٍ مِنْ سُلْطانِهِ یَا
نہیں اے غالب جس کی عزت ختم نہیں ہوتی اے وہ حکمران جس کی حکومت میں کمزوری نہیں اے وہ
کَرِیماً بِدَوامِ نِعْمَتِهِ یَا جَبَّاراً وَمُعِزّاً لاََِوْلِیائِهِ یَا خَبِیراً بِعِلْمِهِ یَا عَلِیماً
عطا کرنے والے جس کی نعمت دائمی ہے اے جبروت والے اور اپنےاولیائ کو عزت دینے والے اے علم
بِقُدْرَتِهِ، یَا قَدِیراً بِذاتِهِ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ عَلَیْهِمَا
کے ساتھ باخبر اے قدرت کے ساتھ عالم اے ذاتی قدرت والے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں حسنعليهالسلام بن
اَلسَّلاَمُ وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ یَدَیْ حَوائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
علیعليهالسلام کے حق کے ذریعے اور اپنی حاجتوں میں انہیں وسیلہ بناتا ہوں کہ تو رحمت نازل کر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور
وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما ۔
(بارھویں ساعت)
یہ آفتاب کے زرد ہونے سے لے کر اس کے غروب تک ہے. یہ امام العصرعليهالسلام سے منسوب ہے اور اس کی دعا یہ ہے :
یَا مَنْ تَوَحَّدَ بِنَفْسِهِ عَن خَلْقِهِ یَا مَنْ غَنِیَ عَنْ خَلْقِهِ بِصُنْعِهِ، یَا مَنْ
اے وہ جو بذات خود اپنی مخلوق سے یگانہ ہے اے وہ جو اپنے کام میں مخلوق سے بے نیاز ہے اے وہ جس نے
عَرَّفَ نَفْسَهُ خَلْقَهُ بِلُطْفِهِ یَا مَنْ سَلَکَ بِأَهْلِ طاعَتِهِ مَرْضاتَهُ
مہربانی سے مخلوق کو اپنا تعارف کرایا اے وہ جو فرمانبرداروں کو اپنی رضا کی طرف لے جاتا ہے اے وہ جو
یَا مَنْ أَعانَ أَهْلَ مَحَبَّتِهِ عَلَی شُکْرِهِمْ یَا مَنْ مَنَّ عَلَیْهِمْ بِدِینِهِ وَلَطُفَ
ادائے شکر میں اپنے محبّوں کی مدد کرتا ہے اے وہ جس نے اپنے دین سے ان پر احسان کیا
لَهُمْ بِنائِلِهِ أَسْأَلُکَ بِحَقِّ الْخَلَفِ الصَّالِحِ ں عَلَیْکَ
اور اپنے کرم سے انہیں نوازا میں تجھ پرخلف صالح (مہدی (عج))کے حق کا واسطہ دے
وَأَتَضَرَّعُ إلَیْکَ بِهِ وَأُقَدِّمُهُ بَیْنَ یَدَیْ حَوائِجِی أَنْ تُصَلِّیَ
کر سوالی اور تیری بارگاہ میں فریاد کرتا ہوں اور اپنی حاجتوں میں ان کو وسیلہ بناتا ہوں
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا اَللّٰهُمَّ صَلِّ
کہ تو سرکار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل کر اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أُولِی الْاَمْرِ الَّذِینَ أَمَرْتَ بِطاعَتِهِمْ وَأُولِی الْاَرْحامِ الَّذِینَ
پر رحمت نازل فرما کہ وہ صاحبان امر ہیں جن کیاطاعت کا تو نے حکم دیا ہے وہ پیغمبر کے ایسے رشتہ دار ہیں جس سے وابستگی کا تو
أَمَرْتَ بِصِلَتِهِمْ وَذَوِی الْقُرْبَی الَّذِینَ أَمَرْتَ بِمَوَدَّتِهِمْ وَالْمَوَالِی
نے حکم دیا اور وہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ایسے قرابت دار ہیں جن کی مودّت کا تو نے حکم دیا وہ ایسے مولیٰ
الَّذِینَ أَمَرْتَ بِعِرْفانِ حَقِّهِمْ وَأَهْلِ الْبَیْتِ الَّذِینَ أَذْهَبْتَ عَنْهُمُ
ہیں جن کا حق پہنچاننے کا تو نے حکم دیا اور ایسے اہل بیتعليهالسلام ہیں جن سے تو نے نجاست کو دوررکھا اور انہیں
الرِّجْسَ وَطَهَّرْتَهُمْ تَطْهِیراً، أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
پاک رکھا جو پاک رکھنے کا حق ہے یہ کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت نازل فرما اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما
(روزو شب کی دعائیں)
مقباس المصابیح میں علامہ مجلسیرحمهالله فرماتے ہیں کہ معتبر اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ دن کی تین ساعتوں میں اور رات کی تین ساعتوں میں اپنی ذات کی بزرگی اور بڑائی بیان فرماتا ہے ان میں دن کی تین ساعتیں ، وقت چاشت سے اول ظہر تک اور رات کی تین ساعتیں کی آخری تہائی سے صبح تک ہیں پس جو بندہ مومن ان مذکورہ ساعتوں میں درج ذیل تمجید پڑھے اور اس کا دل خدا سے لگا ہو تو ﷲ تعالیٰ اس کی حاجات پوری فرماے گا اگر وہ بد بخت و بد انجام ہے تو خوش بخت و نیک انجام ہو جائے گا ۔
مؤلف کہتے ہیں: اگر ان ساعتوں میں یہ دعا پڑھے تو بہت مناسب ہے اور وہ دعا یہ ہے :
أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ رَبُّ الْعالَمِینَ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الرَّحْمٰنُ
تو معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر تو کہ جہانوں کا پروردگار ہے تو معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر تو کہ بڑے رحم
الرَّحِیمُ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ، أَنْتَ ﷲ لاَ
والا مہربان ہے تو معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر تو کہ بلند تر و بزرگ تر ہے تو معبود ہے نہیں
إلهَ إلاَّ أَنْتَ مَلِکُ یَوْمِ الدِّینِ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ
کوئی معبود مگر تو قیامت کے دنکا مالک ہے تو معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر تو کہ مہربان پردہ پوش
أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ مِنْکَ بَدْئُ
ہے تو معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر تو کہ غلبے والا اور حکمت والاہے تو معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر تو کہ تجھ
کُلِّ شَیْئٍ وَ إلَیْکَ یَعُودُ کُلُّ شَیْئٍ أَنْتَ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ لَمْ تَزَلْ
سے ہر چیز کی ابتدائ اور تیری ہی طرف بازگشت ہے ، تو معبود ہے وہ کہ نہیں کوئی معبود مگر تو کہ ہمیشہ
وَلاَ تَزالُ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ خالِقُ الْخَیْرِ وَالشَّرِّ، أَنْتَ ﷲ لاَ
سے ہے ہمیشہ رہے گا تو وہ معبود ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر تو ہے جو خیر و شر کا خالق ہے تو معبود ہے نہیں
إلهَ إلاَّ أَنْتَ خالِقُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ
کوئی معبود مگر تو ہے جو جنت و جہنم کاخالق ہے تو معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر توجو یگانہ و بے نیاز ہے جس نے نہ
وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْمَلِکُ
جنا اور نہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہم پلہ ہے تو معبود ہے نہیں کوئی معبودمگر تو کہ بادشاہ ہے
الْقُدُّوسُ اَلسَّلاَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیمِنُ الْعَزِیزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ سُبْحانَ
پاک صفات سلامتی والا امن دینے والا نگہبان عزت والا زبر دست بڑائی والا ﷲ پاک ہر
ﷲ عَمَّا یُشْرِکُونَ أَنْتَ ﷲ الْخالِقُ الْبارئُ الْمصَوِّرُ لَکَ
اس چیز سے جسے اسکا شریک بناتے ہیں تو معبود ہے جو پیدا کرنے والا سنوارنے والا صورت بنانے والا
الْاَسْمائُ الْحُسْنَی یُسَبِّحُ لَکَ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
تیرے لیے اچھے اچھے نام ہیں تیری تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں
وَأَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْکَبِیرُ الْمُتَعالِی وَالْکِبْرِیائُ رِدَاؤُکَ
اور تو غلبے والا حکمت والا ہےتو معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر توکہ بڑائی بلندی اور بزرگی تیرا لباس ہے ۔
(جہنم سے بچانے والی دعا)
ابن بابویہرحمهالله نے صحیح سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جو شخص ہر روز سات مرتبہ یہ دعا پڑھے:
أَسْأَلُ ﷲ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِالله مِنَ النَّارِ
میں خدا سے جنت مانگتا ہوں اور جہنم سے خدا کی پناہ لیتا ہوں ۔
تو جہنم کہتی ہے کہ خدا یا تو اسے مجھ سے بچالے، دیگر معتبر سند کے ساتھ آپ سے روایت کی گئی ہے کہ اگر کوئی مومن روزانہ چالیس گناہ کبیرہ کرے اور پھر پشیمان ہو کر یہ کلمات پڑھے تو خداے تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا۔
أَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ بَدِئعُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ذُوالْجَلالِ وَالْاِکْرَامِ
اس خدا سے معافی مانگتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر وہ زندہ پائندہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا جلال و اکرام کا مالک
وَأَسْأَلُهُ أَنْ یَتُوبَ عَلَیَّ
اور سوال کرتا ہوں کہ وہ میری تو بہ قبول کر لے۔
(گذشتہ اور آئندہ نعمتوں کا شکر بجا لانے کی دعا )
ایک اور معتبر سند کے ساتھ آنجنابعليهالسلام سے روایت ہے کہ جو شخص روزانہ سات مرتبہ یہ کہے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ عَلَی کُلِّ نِعْمَةٍ کانَتْ أَوْ هِیَ کائِنَةٌ
خدا کی حمد ہے ہر اس نعمت پر جو پہلے ملی تھی یا اب ملی ہے۔تو اس نے گذشتہ اور آئندہ نعمتوں کا شکر ادا کیا ،
(نیکیوں کی کثرت اور گناہوں سے بخشش کی دعا)
معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق - ہی سے روایت ہے کہ جو شخص ہر روز پچیس مرتبہ یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ وَالْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِماتِ
اے ﷲ بخش دے تمام مومنین و مومنات کو اور تمام مسلمین و مسلمات کو۔
تو حق تعالیٰ اس کے لیے تمام گزرے ہوئے اور آئندہ قیامت تک آنے والے مومنوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دیگا، اتنی ہی تعداد میں اسکے گناہ بخش دیگا اور بہشت میں اسکے اتنے ہی درجات بلند کر دیگا
(سترقسم کی بلاؤں سے دوری کی دعا)
. معتبر سند کے ساتھ آپ ہی سے روایت ہے کہ جو شخص روزانہ سو مرتبہ کہے:
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله
نہیں طاقت و قوت مگر جو ﷲسے ہے۔
تو خدائے تعالیٰ اس سے ستر قسم کی بلائیں دور کر دے گا جن میں سب سے کم تر رنج و غم دور کر دینا ہے اور ایک دوسری روایت کے مطابق اس شخص کو فقر کبھی دامن گیر نہ ہو گا ۔
شیخ کلینیرحمهالله ،طبرسیرحمهالله اور دیگر علمائ نے حسن اور معتبر اسناد کیساتھ امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم روزانہ ستر مرتبہأسْتَغْفِرُ ﷲ اور ستر مرتبہأَتُوبُ إلَی ﷲ
میں خدا سے معافی مانگتا ہوں۔خدا کے حضور توبہ کرتا ہوں ۔کہا کرتے تھے۔
(فقر و غربت اور وحشت قبر سے امان والی دعا)
کشف الغمہ اور امالی شیخ طوسیرحمهالله میں معتبر سند کے ساتھ روایت کی گئی ہے کہ حضرت رسول نے فرمایا کہ جو شخص روزانہ سو مرتبہ کہے:
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ
نہیں ہے کوئی معبود سوائے ﷲ کے جو واضح حق کا بادشاہ ہے۔
تو وہ فقر و غربت اور وحشت قبر سے امان پا جائے گا ، تو انگری کا رخ اس کی طرف ہوجا ئے گا اور اس کے لیے جنت کے دروازے کھل جائیں گے امالی میںلَاٰ اِلٰهَ اِلَّا ﷲ الحَقُّ الْمُبِیْنَ نقل ہوا ہے اور ثواب الاعمال و محاسن برقیرحمهالله میں سوکی بجاے تیس مرتبہ پڑھنے کا ذکر آیا ہے
(اہم حاجات بر لانے والی دعا )
. قطب راوندیرحمهالله نے کتاب دعوات میں امام علی رضاعليهالسلام سے روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ملا اعلیٰ میں اسکی مجاہدین سے بھی زیادہ تعریف کی جائے تو اسے روزانہ یہ دعا پڑھنی چاہیئے. پس اگر اسے کوئی حاجت درپیش ہوگی تو وہ پوری کی جائیگی، اگر اس کا کوئی دشمن ہوگا تو یہ اس پر غالب آئیگا، اگر مقروض ہوگا تو اسکا قرض ادا ہو جائیگااور اگر رنج و غم میں مبتلا ہوگا تو وہ دور ہوجا ئیگا یہ دعا ساتوں آسمانوں سے گزر کر لوح محفوظ تک جا پہنچتی ہے اور وہاں اس کیلئے لکھ دی جاتی ہے ، وہ دعا یہ ہے :
سُبْحانَ ﷲ کَما یَنْبَغِی ﷲِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ کَما یَنْبَغِی لِلّٰهِ، وَلاَ إلهَ إلاَّ
ﷲ پاک و پاکیزہ ہے جیسےاسے ہونا چاہیئے حمد خدا کے لیے ہے جیسی کہ ہونی چاہیئے نہیں کوئی
ﷲ کَما یَنْبَغِی لِلّٰهِ وَﷲ أَکْبَرُ کَما یَنْبَغِی ﷲِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ
معبود مگر ﷲ جیسا کہ ہونا چاہیئےﷲ بزرگ تر ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیئے نہیں کوئی حرکت و قوت
إلاَّ بِالله وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ وَجَمِیعِ
مگر جو ﷲ سے ہے اور خدا رحمت فرماے اپنے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اوران کے اہل بیتعليهالسلام پر اور وہ رحمت
الْمُرْسَلِین وَالنَّبِیِّینَ حَتَّی یَرْضَی ﷲ
کرے تمام رسولوں اور نبیوں پر اس قدر کہ وہ راضی ہو جائے۔
(خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والی دعا )
معتبر سند کے ساتھ امام علی رضا- سے روایت ہے کہ اصحاب پیغمبر میں سے ایک شخص کو کہیں سے ایک خط ملا جسے وہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں لے آیا آپ نے حکم فرمایا کہ تمام اصحاب اکٹھے ہوں ، جب وہ اکٹھے ہو گئے تو حضرت رسول اکرم منبر پر تشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا :یہ وہ خط ہے جو حضرت موسیٰعليهالسلام کے وصی یوشع بن نون نے لکھا اور اس کا مضمون یہ ہے: بسم ﷲالرحمٰن الرحیم یقینا تمہارا پروردگار تمہارا دوست اور مہربان ہے ، یقینا خدا کے بہترین بندے گمنام پرہیز گار ہیں اور خدا کی بد ترین مخلوق وہ لوگ ہیں جو جھوٹی ریاست و حکومت کے طلب گار اور لوگوں میں معروف ہیں پس جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کامل اور پورا ثواب ملے اور خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرے تو اسے چاہیئے کہ ہر روز یہ دعا پڑھے :
سُبْحانَ ﷲ کَما یَنْبَغِی ﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ کَما یَنْبَغِی لِلّٰهِ وَلاَ إلهَ إلاَّ
ﷲپاک و پاکیزہ ہے جیسے اسے ہونا چاہیئے حمد خدا کے لیے ہے جیسی کہ ہونی چاہیئے کوئی معبود نہیں مگر
ﷲ کَما یَنْبَغِی لِلّٰهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله، وَصَلَّی ﷲ
ﷲ جیسا کہ اسے ہونا چاہیئے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو ﷲ سے ہے اور خدا رحمت
عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ النَّبِیِّ الاَُْمِّیِّ وَعَلَی جَمِیعِ الْمُرْسَلِینَ
فرماے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جو نبی امی ہیں اور ان کے اہل بیت پر خدا کرے تمام رسولوںعليهالسلام اور نبیوںعليهالسلام پر
وَالنَّبِیِّینَ حَتَّ یَرْضَی ﷲ
اس قدر کہ وہ راضی ہو جائے۔
(گناہوں سے پاکیزگی کی دعا)
بلد الامین میں رسول اللہ سے منقول ہے کہ جو شخص روزانہ دس مرتبہ
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ لْعَظِیمِ
خدا کے نام سے بڑا رحم والا مہربان ہے نہیں کوئی حرکت و قوتمگر وہ جو بلند و بزرگ خدا سے ہے
کہے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا کہ گویا آج ہی شکم مادر سے پیدا ہوا ہے ، خدا اس سے ستر قسم کی بلائیں دور کر دیگا، جن میں دیوانگی ،برص ، جذام اور فالج بھی شامل ہیں اور خدا ستر ہزار فرشتے بھیج دے گا جو اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے۔
(فقر و فاقہ سے بچانے والی دعا)
امام جعفر صادقعليهالسلام فرماتے ہیں جو شخص روزانہ سو مرتبہ کہے:
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله تو کبھی فقروفاقہ کا شکار نہ ہوگا
نہیں کوئی طاقت و قوت مگر جو خدا سے ہے
(جہنم کی آگ سے بچانے والی دعا)
جو روزانہ سو مرتبہ کہے:
سُبْحانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ
ﷲ پاک تر ہے حمد خدا ہی کے لیے ہے ، نہیں کوئی معبود سوائے ﷲ کے اور ﷲ بزرگ تر ہے۔
تو خداے تعالیٰ اس کے بدن کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا.
(چار ہزار گناہ کبیرہ معاف ہو جانے کی دعا)
بلد الامین میں حضرت رسول اکرم سے روایت ہوئی ہے کہ جو شخص روزانہ دس مرتبہ یہ دعا پڑھے تو حق تعالیٰ اس کے چار ہزار گناہان کبیرہ معاف کر دے گا، اسے سکرات موت ، فشار قبر اور قیامت کے ایک لاکھ ہولناک مناظر سے بچا لے گا، اسے شیطان اور اس کے لشکروں سے محفوظ رکھے گا۔ اس کا قرض ادا فرمائے گا اور اس کے تمام رنج وغم دور کرے گا وہ یہ دعا ہے ۔
أَعْدَدْتُ لِکُلِّ هَوْلٍ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَلِکُلِّ هَمٍّ وَغَمٍّ مَا شائَ ﷲ وَلِکُلِّ
میں تیار ہوں کہ ہر دہشت پر رکہوں نہیں کوئی معبود سوائے ﷲ کے ہر غم و اندیشے میں کہوں جو چاہے ﷲ ہر
نِعْمَةٍ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلِکُلِّ رَخائٍ الشُّکْرُ لِلّٰهِِ وَلِکُلِّ أُعْجُوبَةٍ سُبْحانَ ﷲ
نعمت پر کہوں حمد ہے ﷲ کے لیے ہر راحت میں کہوں شکر ہے خدا کاہر عجیب امر پر کہوں پاک تر ہے
وَلِکُلِّ ذَنْبٍ أَسْتَغْفِرُ ﷲ وَلِکُلِّ مُصِیبَةٍ إنَّا لِلّٰهِِ وَ إنَّا إلَیْهِ راجِعُونَ
ﷲ ہر گناہ پر کہوں ﷲ سے معافی مانگتا ہوں ہر مصیبت پر کہوں ہم ﷲ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ
وَلِکُلِّ ضِیقٍ حَسْبِیَ ﷲ وَلِکُلِّ قَضائٍ وَقَدَرٍ تَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ وَلِکُلِّ عَدُوٍّ اعْتَصَمْتُ بِالله
جائیں گے ہر تکلیف میں کہوں مجھے ﷲ کافی ہے ہر ہونی شدنی پر کہوں میں ﷲ ہی پر بھر وسہ کرتا ہوں ہر دشمن کیلئے کہوں میں خدا کی
وَلِکُلِّ طاعَةٍ وَمَعْصِیَةٍ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
ناہ لیتاہوں اور ہر اطاعت اور نافرمانی پر کہوں نہیں کوئی طاقت و قوت مگروہ جو ﷲ بلند و بزرگ سے ہے۔
(کثرت سے نیکیاں ملنے اور شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا)
شیخ کلینیرحمهالله ، ابن بابویہرحمهالله اور برقیرحمهالله نے معتبر اسناد کے ساتھ امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص روزانہ دس مرتبہ یہ دعا پڑھے تو ﷲ تعالیٰ اس کیلئے پینتالیس ہزار نیکیاں لکھ دے گا اس کی پینتالیس ہزار برائیاں مٹا دے گا اور بہشت میں اس کے پینتالیس ہزار درجے بلند کر دے گا. اس کو شیطانوں اور ظالموں کے شر سے محفوظ رکھے گا اور گناہ کبیرہ کا اس پر کوئی بس نہ چل سکے گا۔
ایک اور روایت کے مطابق وہ شخص ایسا ہو گا جیسے اس نے قرآن مجید کے بارہ ختم کیے ہوں اور خدا بہشت میں اس کے لیے مکان تیار کرے گا ، البتہ ابن بابویہرحمهالله کی روایت میں دس مرتبہ پڑھنے کا ذکر نہیں آیا اور وہ دعا یہ ہے۔
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ إلهاً واحِداً أَحَداً
میں گواہی دیتا ہو ں کہ کوئی نہیں معبود سوائے ﷲ کے وہ یکتا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں وہ معبود ہے
صَمَداً لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً
اکیلا یگانہ بے نیاز کہ جس کی نہ کوئی زوجہ ہے اور نہ کوئی فرزند۔
(نگاہ رحمت الہی حاصل ہونے کی دعا)
ثواب الاعمال، کافی اور محاسن میں امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت ہے کہ ، حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :جو شخص روزانہ پندرہ مرتبہ کہے:
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ حَقّاً حَقّاً لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ إیِماناً وَتَصْدِیقاً لاَ
ﷲ کے سوائے کوئی معبود نہیںاور یہی حق ہے ﷲ کے سوائے کوئی معبود نہیں وہ ایمان بھی ہے اور تصدیق بھی ﷲ
إلهَ إلاَّ ﷲ عُبُودِیَّةً وَرِقّاً
کے سوائے کوئی معبود نہیں اُسی کی عبدیت اور غلامی ہے۔
تو خدا نگاہ رحمت اس سے نہ پھیرے گا یہاں تک کہ اسے بہشت میں پہنچا دے گا
(بہت زیادہ اجر ثواب ملنے کی دعا)
. محاسن برقی میں حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت کی گئی ہے کہ جو شخص روزانہ سو مرتبہ’’سُبْحَانَ ﷲ‘‘کہے تو اس کا ثواب کعبہ میں سو اونٹ قربانی کرنے سے زیادہ ہے جو شخص سو مرتبہ ’’اَلْحَمْدُ ﷲِ‘‘ کہے تو یہ اس کے لیے سو غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے، جو شخص سو مرتبہ’’ﷲ اَکْبَرُ‘‘ کہے تو اس کا ثواب زین ولگام سمیت سو گھوڑے جہاد میں بھیجنے سے زیادہ ہے اور جو شخص سو مرتبہ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا ﷲ‘‘ کہے تو اس کے عمل سے کسی کا عمل بہتر و بیشتر نہیں ہوگا مگر اس کا جو یہ کلمہ اس سے زیادہ تعداد میں پڑھے گا ۔
عبادت اور خلوص نیت
بنی اسرائیل کے عابد کا واقعہ
قطب راوندیرحمهالله نے روایت کی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا کہ جس نے سالہا سال تک خدا کی عبادت کی تھی .ایک دن اس نے ﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ پروردگارا! میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تیرے نزدیک میری کیفیت کیا ہے ؟اگر تو نے میرے اعمال کو پسند کر لیا ہے، پھر میں ایسے اعمال میں اور اضافہ کروں ورنہ مرنے سے پہلے تو بہ کروں! اس پر حق تعالےٰ نے اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا، جس نے آکر کہا: تیرا کوئی بھی عمل خدا کے نزدیک قبول نہیں ہے! اس نے پوچھا: میری اتنی ساری عبادت کیا ہوئی؟فرشتے نے کہا: تو نیکی کا جو بھی کام کرتا تھا لوگوں کو بتاتا رہتا تھا. اس طرح تو یہ چاہتا تھا کہ لوگ تیری تعریف کریں اور تجھے نیک و پارسا جانیں تو اب تمہارا اجر وہی ہے جو تو چاہتا تھا یہ سن کر وہ عابد بہت پریشان ہوا اور گریہ کرنے لگا ، فرشتہ دوبارہ اس کے پاس آیااور کہا حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب تو خود کو مجھ سے خرید لے اور اپنے بدن کی رگوںکے برابر صدقہ دیا کر! اس نے عرض کیا ، میں کیسے یہ کام کر سکتا ہوں فرمایا: روزانہ اپنی رگوں کی تعدادیعنی تین سو ساٹھ مرتبہ یہ کہا کرو:
سُبْحانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَﷲ أَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله
ﷲ پاک تر ہے حمد ﷲ ہی کے لیے ہے نہیں کوئی معبود سواے ﷲ کے اور ﷲ بزرگ تر ہے نہیں کوئی طاقت و قوت مگر جو خدا سے ہے۔
اس نے کہا: پالنے والے! اس سے کچھ زیادہ عطا فرما! حکم ہوا کہ اگر اس سے زیادہ مرتبہ پڑھو گے تو زیادہ ثواب حاصل کرو گے۔
کلینیرحمهالله نے معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادقعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے بدن کی رگوں کی تعداد کے مطابق یعنی تین سو ساٹھ مرتبہ یہ کہا کرتے تھے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ کَثِیراً عَلَی کُلِّ حَالٍ
حمد ہے ﷲ کیلئے جو جہانوں کا رب ہے ہر حال میں بہت بہت حمد۔
(کثرت علم ومال کی دعا)
ایک اور روایت کے مطابق آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منقول ہے کہ جو شخص لگاتار دو مہینے تک روزانہ چار سو مرتبہ یہ دعا پڑھے: تو خداوند عالم اسے بہت زیادہ علم عطا کرے گا یا بہت زیادہ مال و عنایت فرماے گا۔
وہ یہ دعا ہے:
أَسْتَغْفِرُ ﷲ الَّذِی لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ بَدِیعُ
معافی مانگتا ہوں ﷲ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ و پائندہ بڑا رحم والا مہربان آسمانوں
السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ مِنْ جَمِیعِ ظُلْمِی وَجُرْمِی وَ إسْرافِی عَلَی
اور زمین کا ایجاد کرنے والا ہے معافی مانگتا ہوں اپنے ہر ظلم ، جرم اور زیادتی پر جو اپنے اوپر کیااور اس
نَفْسِی وَأَتُوبُ إلَیْهِ
کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
شیخ طوسیرحمهالله اور دیگر علما نے روایت کی ہے، سنت ہے کہ روزانہ یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِنُورِ وَجْهِکَ الْمُشْرِقِ الْحَیِّ الْباقِی الْکَرِیمِ
اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری ذات کے نور کا واسطہ دے کر جو روشن زندہ باقی اور بزرگی
وَأَسْأَلُکَ بِنُورِ وَجْهِکَ الْقُدُّوْسِ الَّذِی أَشْرَقَتْ بِهِ السَّمٰوَاتُ وَانْکَشَفَتْ
والا ہے اور سوال کرتا ہوں بواسطہ تیری ذات کے نور کے جو پاکیزہ ہے جس سے آسمان روشن ہوگئے
بِهِ الظُّلُماتُ وَصَلُحَ عَلَیْهِ أَمْرُ الْاَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ أَنْ تُصَلِّیَ
جس سے تاریکیاں چھٹ گیئں اور اولین آخرین کے معاملات سنور گئے یہ سوال کہ تو رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْ تُصْلِحَ لِی شَأْنِی کُلَّهُ
ان کی آلعليهالسلام پر اور میرے تمام امور کو بہتر بنادے
( دنیاوی و اخروی امور خدا کے سپرد کرنے کی دعا)
کفعمیرحمهالله نے امام محمد باقرعليهالسلام سے روایت کی ہے کہ جو شخص روزانہ یہ دعا پڑھے تو ﷲ تعالیٰ اسکے دنیاوی اور اخروی امور کو خود سنبھا لے گا۔
بِسْمِ ﷲ حَسْبِیَ ﷲ تَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
خدا کے نام سے میرے لیے ﷲ کافی ہے میں ﷲ پر بھر وسہ کرتا ہوں اے معبود! میں تجھ سے اپنے
خَیْرَ أُمُورِی کُلِّها، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ خِزْیِ الدُّنْیا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ
تمام امور کی بہتری کا سوال کرتا ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے۔
(بہشت میں اپنا مقام دیکھنے کی دعا)
روایت ہے کہ جو شخص یہ دعا روزانہ سات مرتبہ پڑھے تو اس کے دنیا و عقبیٰ کے امور کی کفایت کی جائے گی۔
حَسْبِیَ ﷲ رَبِّیَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ
مجھے ﷲ کافی ہے ﷲ میرا رب ہے نہیں کوئی معبود مگر وہی میں اس پر بھر وسہ کرتا ہوں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے
روا یت ہے کہ جو شخص سال بھر تک روزانہ ایک مرتبہ یہ دعا پڑھے تو وہ اس وقت دنیا سے نہیں جائے گا جب تک کہ بہشت میں اپنا مقام دیکھ نہیں لے گا۔
سُبْحانَ الدَّائِمِ الْقائِمِ سُبْحانَ الْقائِمِ الدَّائِمِ سُبْحانَ الْواحِدِ الْاَحَدِ سُبْحانَ الْفَرْدِ الصَّمَدِ
پاک تر ہے وہ جو دائم و قائم ہے پاک ہے وہ جو قائم و دائم ہے پاک ہے وہ جوتنہا دیکتا ہے پاک ہے وہ جو یگانہ و بے نیاز ہے
سُبْحانَ الْحَیِّ الْقَیُّوْمِ سُبْحانَ ﷲ وَبِحَمْدِهِ سُبْحانَ الْحَیِّ الَّذِی لاَ
پاک ہے جو زندہ و پائندہ ہے ﷲ پاک ہے میں اسکی حمد کرتا ہوں پاک ہے وہ زندہ جس کو موت نہیں
یَمُوتُ سُبْحانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ سُبْحانَ رَبِّ الْمَلائِکَةِ وَالرُّوْح سُبْحان الْعَلِیِّ الْاَعْلَی سُبْحانَهُ وَتَعَالی
آئے گی پاک ہے وہ جو بادشاہ ہے باصفا پاک ہے وہ جو ملائکہ اور روح کارب ہے پاک ہے وہ جو بلندوبلندتر ہے وہی پاک و بلند ہے ۔
(دوسرا باب)
ان مستحبی نمازوں کا بیان جو مفاتیح الجنان میں ذکر نہیں۔
(نماز اعرابی)
سید ابن طائوسرحمهالله نے جمال الاسبوع میں شیخ تلعکبریرحمهالله سے نقل کیا انہوں نے اپنی سند کے ساتھ زید بن ثابت سے روایت کی ہے کہ کسی دور کے گائوں سے ایک شخص رسول خدا کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں ہم لوگ دیہات میں رہتے ہیں مدینہ سے بہت دور ہیں لہذاہم ہرنماز جمعہ میں حاضر نہیں ہوسکتے لہذا آپ ہمیں کوئی ایسا عمل بتایں کہ جس کے بجا لانے سے ہمیں نماز جمعہ کی فضیلت حاصل ہو جاے اور میں جب اپنے قبیلے میں جائوں تو ان لوگوں کو بتائوں آنحضرت نے فرمایا جب دن چڑھ جائے تو دو رکعت نماز پڑھو پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ سور ہ فلق اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ سورہ ناس پڑھو:
سلام نماز کے بعد سات مرتبہ آیت الکرسی پڑھو آٹھ رکعت نماز بجا لائو پھر چار چار رکعت کر کے اور دوسری رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور چوتھی رکعت پر سلام کہو پھر دوسری چار رکعتیں بھی اسی طرح ادا کرو اور ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ نصر اور پچیس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھو جب تشہد اور سلام ختم ہو جائے تو یہ دعا سات مرتبہ پڑھے :
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا إلهَ الْاَوَّلِینَ وَالاَْخِرِینَ یَا
اے زندہ اے پائندہ اے دبدبے اور بزرگیوں کے مالک اے اولین وآخرین کے معبود اے سب سے
أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ یَا رَحْمٰنَ الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ وَرَحِیمَهُما یَارَبِّ
زیادہ رحم کرنے والے اے دنیا و آخرت میں بڑے رحم والے اور دنیا وآخرت میں مہربان یا رب
یَارَبِّ یَارَبِّ یَارَبِّ یَارَبِّ یَارَبِّ یَارَبِّ یَا ﷲ یَاﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
یارب یا رب یا رب یارب یارب یارب یااللہ یااللہ یااللہ یااللہ یاﷲیا اللہ یااللہ یااللہ رحمت فرمامحمد پر اور ان کی آل پر
مُحَمّدٍ وَاغْفِرْ لِی
اور مجھے بخش دے۔
پھر اپنی حاجات کو بیان کرو بعد میں ستر مرتبہ کہو:
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
نہیں کوئی طاقت وقوت مگر وہ جو بلند وبزرگ خدا سے ہے اور پاک
اور کہو :سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعَرْشِ الْکَرِیمِ
ہے اللہ جو عزت والے عرش کا مالک ہے ۔
اس کے بعد رسول ﷲ نے فرمایا ،قسم ہے اس خدا کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے جو بھی مومن مرد یاعورت جمعہ کے دن یہ نماز پڑھے تو میں اس کیلئے بہشت کا ضامن ہوں وہ ابھی اپنی جگہ سے نہ اٹھا ہوگا کہ اس کے اور اس کے والدین کے گناہ معاف ہو چکے ہوں گے اللہ تعالی اس کو مسلمانوں کے شہر وں میں اس دن نماز پڑھنے والوں کی تعداد کے برابر ثواب عنایت فرماے گا اور اس دن کائنات کے تمام روزہ دار نمازیوں کے برابر اجر دیا جائے گا حق تعالیٰ اس کو وہ کچھ عنایت فرماے گا جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ہوگا مؤلف کہتے ہیں شیخ طوسیرحمهالله نے بھی مصباح میں اس نماز کا ذکر کیا ہے لیکن ان کی روایت مذکورہ میں دعا موجود نہیں ہے بلکہ انہوں نے فرمایا ہے کہ جب نماز سے فارغ ہو جائو تو ستر مرتبہ یہ دعا پڑھو:
سُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعَرْشِ الْکَرِیمِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
اللہ پاک ہے جو عزت والے عرش کا مالک ہے اور نہیں کوئی طاقت وقوت مگر جو بلند وبزرگ خدا سے ہے۔
(( ۲ )نماز ہدیہ)
معصومین سے روایت کی گئی ہے کہ انسان کو جمعہ کے دن آٹھ رکعت نماز ادا کرنا چاہیے کہ جس میں دوسری رکعت پر سلام دے پہلی چار رکعتیں رسول خدا کو ہدیہ کرے اور دوسری چار رکعتیں جناب الزہرا = کو ہدیہ کرے اسی طرح ہفتے کے روز چاررکعت نماز پڑھ کر حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب + کو ہدیہ کرے نیز ہر روز چار رکعت نماز پڑھے ،اور ترتیب کے ساتھ ایک ایک امامعليهالسلام کوہدیہ کرتا رہے یہاں تک کہ جمعرات کے دن نماز پڑھ کر حضرت امام جعفر صادق - کیلئے ہدیہ کرے پھر روز جمعہ آٹھ رکعت نماز ادا کرے اور پہلے کی طرح رسول خدا اور حضرت فاطمہ الزہرا = کو ہدیہ پیش کرے۔
اگلے روز یعنی ہفتہ کے دن چاررکعت نماز پڑھ کر حضرت امام موسیٰ کاظم - کو ہدیہ پیش کرے اور اسی طرح روزانہ چار ررکعت نماز پڑھ کر ترتیب کے ساتھ ہر امام کو ہدیہ کرتا جائے چنانچہ جمعرات کے دن چار رکعت نماز بجا لاکر حضرت امام العصرعليهالسلام عجل فرجہ ،کیلئے ہدیہ کرے اور ہر دوسری رکعت کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ اَلسَّلاَمُ وَمِنْکَ اَلسَّلاَمُ وَ إلَیْکَ یَعُودُ اَلسَّلاَمُ حَیِّنا رَبَّنا
اے معبود تو سلام ہے سلامتی تیری طرف ہے اور سلامتی تیری ہی طرف پلٹتی ہے اے ہمارے پروردگار ہمیں
مِنْکَ بِالسَّلاَمِ اَللّٰهُمَّ إنَّ هذِهِ الرَّکَعَاتِ هَدِیَّةٌ مِنَّا إلی وَلِیِّکَ فَصَلِّ
سلامتی میں رکھ اے معبود یقینایہ چند رکعتیں ہماری طرف سے ہدیہ ہیں تیرے فلاں ولی کیلئے پس رحمت
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَبَلِّغْهُ إیَّاها وَأَعْطِنِی أَفْضَلَ أَمَلِی وَرَجَائِی
فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی آلعليهالسلام پر اور میری طرف بھی پہنچا دے، مجھے اس سے زیادہ عطا فرما جو امیدو آرزو تجھ سے
فِیکَ وَفِی رَسُولِکَ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ
تیرے رسول اور اس معصومعليهالسلام سے ہے تیری رحمت ہو انصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور انکی آلعليهالسلام پر۔
اس کے بعد جو دعا مانگے اور فلاں کی جگہ اس معصومعليهالسلام کا نام لے جس کے لئے نماز پڑھی ہے
(( ۳ )نماز وحشت)
یہ نماز دو رکعت ہے جس کی کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ قدر پڑھی جاتی ہے پس جب اس نماز کا سلام دے چکے تو کہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْ ثَوابَها إلی قَبْرِفُلَانٍ
اے معبود رحمت فرما سرکار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمد پر اس نماز کا ثواب فلاں کی قبر کو پہنچا دے۔
فلاں کی بجاے میت کا نام لے۔
(دوسری نماز وحشت کی کیفیت )
سید ابن طائوس نے رسول اکرم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا میت کی پہلی رات سے زیادہ سخت وقت اور کوئی نہیں ہوتا لہذا تم اپنے مرنے والوں پر صدقہ دے کر رحم کرو اگر صدقہ نہیں دے سکتے تو تم میں سے کوئی شخص دو رکعت نماز پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ توحید دو مرتبہ اور دوسری رکعت میں سور ہ فاتحہ کے بعد سورہ تکاثر دس مرتبہ پڑھے پھر نماز کو سلام کیساتھ مکمل کرنے کے بعد یوں کہے:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْ ثَوابَها إلی قَبْرِ ذلِکَ الْمَیِّتِ ﴿فُلانِ ابْنِ فُلانٍ﴾
اے معبود رحمت فرما سرکار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اس کی آلعليهالسلام پر اور اس نماز کا ثواب اس میت (فلاں بن فلاں ) کی قبر کو پہنچا دے ۔
فلاں بن فلاں کی بجائے میت اور اس کے باپ کا نام لے پس اسی وقت حق تعالی ایک ہزار فرشتہ اس قبر پر بھیج دیتا ہے کہ ان میں سے ہرایک کے پاس ایک لباس ہوتا ہے اوروہ اس میت کی قبر کو صور پھونکے جانے تک کشادہ کرتے رہیں گے نیز اس نماز پڑھنے والے کو ان تمام چیزوں کی تعداد کے برابر اجر ملتا ہے جن پر سورج طلوع کرتا ہے اور اس کے لئے چالیس درجے بلند کیے جاتے ہیں مؤلف کہتے ہیں کفعمیرحمهالله نے بھی یہ نماز اسی کیفیت کے ساتھ ذکر کی ہے اس کے بعد فرمایا ہے کہ میں نے بعض کتابوں میں دیکھا ہے۔
پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد آیت الکرسی ایک مرتبہ اور سورہ توحید دو مرتبہ پڑھتے ہیں نیز علامہ مجلسیرحمهالله نے زاد المعاد میں فرمایا ہے کہ مرنے والوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ خود تو اعمال خیر انجام نہیں دے پاتے وہ صرف اپنی اولاد رشتہ داروں اور مومن بھائیوں سے آس لگائے ہوئے ہیں اور ان کی نیکیوں کیلئے چشم براہ ہیں پس خاص طور پہ نماز تہجد ، فریضہ نمازوں کے بعد اور مقامات مقدسہ کی زیارت کے موقعہ پر ان کیلئے دعا کرنا چاہیے اور والدین کیلئے دوسروں سے کچھ زیادہ دعا کرنا چاہیے نیز ان کیلئے اعمال خیر بجا لانے چاہیے ایک اور روایت میں آیا ہے کہ بہت سی اولادیں ایسی ہوتی ہیں کہ والدین کی موجودگی میں ان کی نافرمان ہوتی ہیں لیکن ان کے مرنے کے بعد ان کیلئے اعمال خیر بجا لانے کے باعث فرماں بردار بن جاتی ہیں اور اسی طرح بہت سی اولادیں ایسی ہیں جو والدین کی زندگی میں ان کی فرمان بردار ہوتی ہیں۔
لیکن ان کے مرنے بعد ان کے لئے اعمال خیر بجانہ لانے یا کم بجا لانے سے نافرمان ہو جاتی ہیں اپنے فوت شدہ والدین اور رشتہ داروںکے لئے سب سے بہتر اور عمدہ نیکی یہ ہے کہ ان کے واجب قرضے ادا کیے جائیں اور انہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد سے چھٹکارا دلایا جائے اور ان پر حج یا دوسری عبادات کی جو ادئیگی واجب تھی وہ خود یا اجرت دے کر ادا کرائی جائے صحیح حدیث میں منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - ہر شب اپنے فرزند کیلئے اور ہر روز اپنے والدین کیلئے دو رکعت نماز پڑھتے تھے کہ پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورہ قدر اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ کوثر پڑھا کرتے تھے صحیح سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق -سے منقول ہے کہ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک میت تنگی اور سختی میں ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اسے آسائش وکشائش عطا کردیتا ہے پھر میت سے کہا جاتا کہ تجھے یہ آسانی اس لئے میسر آئی کہ تیرے فلاں مومن بھائی نے تیرے لئے نماز پڑھی ہے راوی نے پوچھا آیا ایک نماز میں دو میتوں کو بھی شریک کیا جاسکتا ہے ؟ فرمایا۔
ہاں ؛ایسا کیا جاسکتا ہے پھر فرمایا کہ میت کو خوشی حاصل ہوتی ہے اور وہ دعا اور استغفار کی وجہ سے مسرور ہوتی ہے جو اس کے لئے کی جاتی ہے اسے ویسے ہی خوشی ملتی ہے جیسے زندہ شخص کو ہدیہ سے خوشی ہوتی ہے نیز فرمایا کہ میت کیلئے نماز، روزہ، حج، صدقات، دوسرے جو بھی اعمال خیر بجا لائے جائیں اوراس کیلئے دعا کی جائے ان تمام چیزوںکا ثواب قبر میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے یہ ثواب میت کے لئے بھی لکھا جاتا ہے اور میت کے لئے اعمال بجا لانے والے شخص کیلئے بھی لکھا جاتا ہے ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں کہ جو مسلمان کسی مرنے والے کے لئے کوئی نیک عمل انجام دیتا ہے اللہ اس کے ثواب کو دگنا کر دیتا ہے اور مرنے والا اس سے فائدہ اٹھاتا رہتا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جب کوئی شخص کسی مرنے والے کو ثواب پہچانے کیلئے صدقہ کرتا ہے تو حق تعالیٰ حضرت جبرائیلعليهالسلام کو حکم دیتا ہے تو وہ ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ اس کی قبر پر جاتے ہیں جن میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں نعمت الہی کا طبق ہوتا ہے ہر فرشتہ اس کو السلام علیک یا ولی اللہ کہتا ہے اور بتاتا ہے کہ اے خدا کے بندے تمہارے لئے یہ ہدیہ فلاں مومن نے بھیجا ہے اس کی قبر منور ہوجاتی ہے اور حق تعالیٰ بہشت میں اسے ایک ہزار شہر عطا فرمائے گا ہزار حوروں سے اس کا ازدواج کرے گا اسے ہزار پوشاکیں پہناے گا اور اس کی ہزار حاجات پوری فرمائے گا۔
(( ۴ ) والدین کیلئے فرزند کی نماز:)
یہ دو رکعت ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد اور دس مرتبہ یہ کہے:
رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِوالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسابُ
پروردگار! مجھے ،میرے والدین اور مومنین کوبخش دے جب حساب کا دن آئے گا ۔
اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد دس مرتبہ پڑھے:
رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِوالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِناً وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ
پروردگار مجھے میرے والدین کو اور جومومن میرے گھر آیا ہے اسے بخش دے اور مومنین اور مومنات کو بھی اور سلام کے بعد دس مرتبہ کہے :
رَبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً
رب میرے والدین پر رحم فرما جیسے بچپن میں انہوں نے مجھے پالا ۔
(( ۵ ) نما ز گرسنہ:)
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جو شخص بھوکا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ وضوکر کے دو رکعت نماز اداکرے اور کہے:
یَا رَبِّ إنِّی جائِعٌ فَأَطْعِمْنِی
پرور دگار میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے ۔
ایک اور روایت کے مطابق یوں کہے: رَبِّ أَطْعِمْنِی فَ إنِّی جائِعٌ
پروردگار مجھے کھانا دے کہ میں بھوکا ہوں۔
(( ۶ )نماز حدیث نفس)
امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ کوئی مومن ایسا نہیں ہے کہ جس کے چالیس دن گزاریں اور اسے حدیث نفس عارض نہ ہو لہذا جب کسی مومن کوحدیث نفس عارض ہو تو اسے چاہیے کہ دورکعت نماز ادا کرے اور خدا کی پناہ طلب کرے آپ ہی سے منقول ہے کہ جب حضرت آدم -نے خدا سے حدیث نفس کی شکایت کی تو حضرت جبرائیلعليهالسلام نازل ہوئے اور انہیں بتا یا کہ آپ کہا کریں۔
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله
نہیں کوئی طاقت وقوت مگر جو خدا سے ہے
چنانچہ حضرت آدم - نے یہی ذکر پڑھا اور حدیث نفس ان سے دور ہوگئی حضرت نے فرمایا
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله
نہیں کوئی طاقت وقوت مگر جو خدا سے ہے۔
اس جملہ کوحضرت امام محمد باقر - سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم کی خدمت میں آکر وسوسے ، حدیث نفس اور قرض وغربت کی شکایت کی تو آنحضرت نے فرمایا تم یہ دعا پڑھا کرو:
تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً وَلَمْ
اس زندہ پر بھروسہ کرتا ہوں جسے موت نہیں آئے گی حمد اللہ کے لئے جس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایانہ
یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً
بادشاہت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وہ کمزور ہے اس کوئی مدد گار بنے اور اس کی بہت بڑائی کرو۔
اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ دعا بار بار پڑھا کرو اور خدا کی اس قدر بڑائی بیان کرو کہ جو اس کا حق ہے چنانچہ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ وہ شخص آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ! اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وسوسے دور کر دئیے میرا قرض ادا کرا دیا اور میری غربت ہٹا دی نیز روایت ہے کہ جب شیطانی وسوسوں سے تمہارا سینہ تنگ ہونے لگے اور شکوک پیدا ہونے لگیں تو یہ کہا کرو۔
هُوَ الْاَوَّلُ وَالاَْخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیمٌ
وہی اول ہے وہی آخر ہے وہ عیاں ہے اور نہاں بھی اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
نیز حضرت امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ شیطانی وسوسوں کو دور کرنے کے لئے اپنے جسم پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہو:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله مُحَمَّدٌ رَسُولُ ﷲ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله
خدا کے نام اور اس کی ذات کے ساتھ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اللہ کے رسول ہیں اور نہیں
کوئی طاقت وقوت مگر جو بلند
الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ اَللّٰهُمَّ امْسَحْ عَنِّی مَا أَحْذَرُ
وبزرگ خدا سے ہے اے معبود مجھ سے وہ چیز دور کر جس سے ڈرتا ہوں ۔
پھر اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیر کر یہی دعا تین مرتبہ پڑھو انشائ اللہ وسوسے دور ہوجائیں گے علاوہ ازیں شیطانی وسوسوں کو دور کرنے کے لئے سر کو بیری کے پتوں سے دھونا، مسواک کرنا، انار کھانا، آب نیساں پینا اور ہر ماہ کی پہلی اور آخری جمعرات اور درمیانی بدھ کے روزے رکھنا بھی نافع ہے نیز یہ دعا پڑھنا بھی مفید ہے۔
أَعُوذُ بِالله الْقَوِیِّ مِنَ الشَّیْطانِ الْغَوِیِّ وَأَعُوذُ بِمُحَمَّدٍالرَّضِیِّ مِنْ شَرِّ
پناہ لیتا ہوں طاقت ور خدا کی گمراہ کرنے والے شیطان سے پناہ لیتا ہوں پسند شدہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی امو ر بست
مَا قُدِّرَ وَقُضِیَ وَأَعُوذُ بِ إلهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ
کشاد کے شر سے اور پناہ لیتا ہوں انسانوں کے معبود کی تمام جنوں اور انسانوں کی شر سے ۔
(( ۷ )نماز استخارہ ذات الرقاع :)
اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب آپ کوئی کام کرنا چاہیں تو خدا سے استخارہ کرنے کیلئے کاغذ کے چھ ٹکڑے لیں ان میں سے تین ٹکڑوں پر لکھیں:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ خِیرَةٌ مِنَ ﷲ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ لِفُلانِ ابْنِ فُلانِ افْعَلْ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے طلب خیر ہے اللہ سے جو غلبہ وحکمت والا ہے فلاں ابن فلاں کے لئے یہ کام کروں
اور دوسرے تین ٹکڑوں پر اس جگہلاَتَفْعَلْ
یہ کام نہ کروں
لکھیں جہاں پہلے ٹکڑوں پر افْعَلْ۔لکھا ہے اب یہ کام کروں
کاغذ کے ان چھ ٹکڑوں کو مصلے کے نیچے رکھ دیں اور دو رکعت نماز ادا کرے اور بعد از نماز سجدے میں جاکر سو مرتبہ کہے:
أَسْتَخِیرُ ﷲ بِرَحْمَتِهِ خِیرَةً فِی عافِیَةٍ
خدا کی رحمت کے واسطے سے اس سےخیر طلب کرتا ہوں اور آسانی بھی ۔
پھر سجدے سے سر اٹھا کر بیٹھ جائے اور کہے:
اَللّٰهُمَّ خِرْ لِی وَاخْتَرْ لِی فِی جَمِیعِ أُموْرِی فِی یُسْرٍ مِنْکَ وَعافِیَةٍ
اے معبود مجھے خیر عطا کر میرے تمام امور میں بہتری پیدا فرما جس میں سہولت اور آسانی ہو۔
اس کے بعد کا غذ کے ان ٹکڑوں کو ہاتھ سے باہم ملا دے اور پھر ایک ایک کر کے باہر نکالے پس اگر یکے بعد دیگرے تین ایسے ٹکڑے نکلیں جن پر’’افعل‘‘ لکھا ہو یہ کام انجام دے اور اگر متواتر ایسے تین ٹکڑے نکلیں کہ جن پر ’’لاتفعل‘‘ لکھا ہو اس کام کو انجام نہ دیں اگر ایک ٹکڑے پر افعل اور دوسرے ٹکڑے پر لاتفعل لکھا ہو تو پھر یکبارہ پانچ ٹکڑے باہر نکالے اور دیکھے اگر تین پر افعل ہے اور دو پر لا تفعل تو ا س کا م کو انجام دے اور اگر بر عکس ہو تو انجام نہ دے۔
مؤلف کہتے ہیں: استخارہ کے معنی خیر طلب کرنا، لہذا جو کام انجام دینا چاہے اس میں خدا کی خیر طلب کرے اور روایت ہوئی ہے کہ نماز شب کے آخری سجدے میں سومرتبہ اَسْتَخِےْرُ اللّٰہَ برحمتہ کہے نافلہ صبح کے آخری سجدے میں اور نافلہ اول کی ہر رکعت میں بھی اسی طرح خدا سے خیر طلب کرنا مستحب ہے یہ بھی جاننا چاہیے کہ علامہ مجلسی نے اپنے والد ماجد سے نقل کیا ہے انہوںنے اپنے استاد شیخ بہائیرحمهالله سے روایت کی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے اساتذہ سے سنا ہے کہ جو حضرت قائم آلعليهالسلام محمد عجل اللہ فرجہ کے استخارے کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے جو تسبیح پر کیا جاتا ہے وہ یوں کہ تسبیح کو ہاتھ میں لے کر تین مرتبہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیجے پھر تسبیح کے دانوں کو اپنی مٹھی میں لے کر دو دو کر کے شمار کرے پس اگر ایک دانہ بچ جائے تو اس کام کو انجام دے اور اگر دو دانے بچ جائیں تو انجام نہ دے فقیہ اجل صاحب جواہرنے جواہر الکلام میں نقل فرمایا ہے کہ ہمارے معاصرین میں ایک استخارہ زیر عمل ہے جسے قائم آلعليهالسلام محمد عجل اللہ فرجہ کی طرف نسبت دی جاتی ہے اس کی کیفیت یوں ہے کہ دعا پڑھنے کے بعد تسبیح ہاتھ میں لے کر اس کے کچھ دانے مٹھی میں لے کرپھر انہیں آٹھ آٹھ کر کے شمار کرے اگر ایک دانہ بچے تو اچھا ہے اگر دو بچیں تو یہ ایک مرتبہ منع ہے اگر تین بچ جائیں تو اس کیلئے اختیا ر ہے کہ ان میں فعل اور ترک برابر ہے اگر چار دانے بچ جائیں تو یہ دوبار منع ہے اگر پانچ بچیں تو بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس میں رنج اور مشقت ہے بعض کے نزدیک اس میں ملامت ہے اگر چھ بچیں تو خوب اور اس کا کام انجام دینے میں جلدی کی جائے اگر سات دانے رہ جائیں تو اس کا حکم پانچ دانے بچ جانے کا ہے اگر آٹھ دانے بچ جائیں تو یہ چوتھی منع ہے۔
یاد رہے کہ اس کتاب کے چھٹے باب میں ہم بعض استخاروں کا ذکر کریں گے نیز یہ بھی یاد رہے کہ محدث کاشانیرحمهالله نے تقویم المحسنین میں قرآن مجید سے استخارہ کرنے کیلئے ایام ہفتہ کی ساعتوں کا ذکر کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی فرمایا ہے کہ یہ مشہور طریقے کی بنا پر ہے اور اہل بیت اطہارعليهالسلام سے اس بارے کوئی حدیث دستیاب نہیں ہوئی چنانچہ فرماتے ہیں استخارہ کرنے کے سلسلے میں اتوار کا دن نیک ہے ظہر تک پھر عصر سے مغرب تک پیر کا دن نیک ہے طلوع آفتاب تک پھر دوپہر سے ظہر تک اور عصر سے عشائ کے آخری وقت تک منگل کا دن نیک ہے دوپہر سے ظہر تک اور عصر سے عشائ کے آخر تک بدھ کا دن نیک ہے ظہر تک اور عصر سے عشائ کے آخر تک جمعرات کادن نیک ہے طلوع آفتاب تک اورظہر سے عشائ کے آخر تک جمعہ کا دن نیک ہے طلوع آفتاب تک اور زوال سے عصر تک اور ہفتے کا دن نیک ہے دوپہر تک اور زوال سے عصر تک یہ جدول محقق طوسیرحمهالله کی کتاب مدخل منظوم سے نقل کیا گیا ہے
(( ۸ ) نماز اداے قرض وکفایت از ظلم سلطان: )
شیخ طوسیرحمهالله نے روایت کی ہے کہ ایک شخص امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ؛مولاعليهالسلام میں حاضر ہوا ہوں کہ اپنے قرض اور بادشاہ کے ظلم کی شکایت کروں حضرتعليهالسلام نے فرمایا ؛جب رات کی تاریکی چھا جائے تو دو رکعت نماز پڑھو کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ حشر کی آیت لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل سے سورۃ کے اختتام تک پڑھو قرآن سر پر رکھ کر کہو:
بِحَقِّ هذَا الْقُرْآنِ وَبِحَقِّ مَنْ أَرْسَلْتَهُ بِهِ وَبِحَقِّ کُلِّ مُؤْمِنٍ مَدَحْتَهُ فِیهِ
اس قرآن کا واسطہ جسے تو نے قرآن دیا اس کا اور اس کاواسطہ جس مومن کی مدح تو نے قرآن میں کی
وَبِحَقِّکَ عَلَیْهِمْ فَلا أَحَدَ أَعْرَفُ بِحَقِّکَ مِنْکَ بِکَ یَا ﷲ
تیرے حق کا واسطہ جو ان پر ہے اور تیرے سوا اس حق کو جاننے والا کوئی نہیں یا اللہ تیرا واسطہ ۔
دس مرتبہ ہر معصوم - کا نام دس دس مرتبہ کہے:یَا مُحَمَّدُ یَا عَلِیُّ یَا فاطِمَةُ یَا حَسَنُ یَا حُسَیْنُ یَا عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ
یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم یا علیعليهالسلام یا فاطمۃ یا حسنعليهالسلام یا حسینعليهالسلام یا علیعليهالسلام ابن الحسین
یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ یَا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ یَا عَلِیَّ بْنَ مُوسیٰ یَا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ
یا محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام یا جعفرعليهالسلام ابن محمد یا موسیٰعليهالسلام ابن جعفرعليهالسلام یا علیعليهالسلام ابن موسیٰعليهالسلام یا محمدعليهالسلام بن علیعليهالسلام
یَا عَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ یَا حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ یَا أیُّهَا الْحُجَّةُ
یا علیعليهالسلام ابن محمدعليهالسلام یا حسنعليهالسلام ابن علی یاالحجۃعليهالسلام یا ایھاعليهالسلام ۔
اس کے بعد اپنی حاجات طلب کرو راوی کا بیان ہے کہ وہ شخص چلا گیا اور ایک مدت کے بعد واپس آیا جب اس کا قرض ادا ہو چکا تھا بادشاہ کی طرف سے اس کے حا لا ت بہتر ہوچکے تھے اور اس کا مال بھی زیادہ ہوچکا تھا مؤلف کہتے ہیں کہ ظاہر ہے یہ عمل نماز ادا کرنے کے بعد بجا لانا چاہیے۔
(( ۹ ) نماز حاجت )
دعوات راوندیرحمهالله سے نقل کیا گیا ہے کہ ایک دن امام زین العابدین- کسی شخص کے پاس سے گذرے جو ایک گھر کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا حضرتعليهالسلام نے اس سے پوچھا کہ اس ظالم وجابر کے دروازے پر کیوں بیٹھے ہو اس نے کہا مجھے ایک سخت ضرورت پیش ہے امام نے فرمایا اٹھو میں تمہیں ایک ایسا دروازہ بتاتا ہوں جو تمہارے لئے ستم گا ر کے دروازے سے کہیں بہتر ہے پس آپ نے اس کا ہاتھ پکڑا اسے مسجد نبوی کے دروازے پر لے آئے اور فرمایا یہاں قبلہ رخ ہو کردو رکعت نماز پڑھو پھر خدا کی حمد وثنا کرو اور حضرت رسول اکرم پر درود بھیجو اس کے بعد سورہ حشر کی آخری آیت سورہ حدید کی پہلی چھ آیات اور سورہ آلعليهالسلام عمران کی دو آیات پڑھو اور خدا سے سوال کرو کہ وہ تمہاری حاجت روائی فرماے خدا تمہیں سب کچھ عنایت فرماے گا۔
راوندیرحمهالله فرماتے ہیں کہ سورہ آلعليهالسلام عمران کی دو آیات شایدقُلْ اَللّٰهُمَّ مَالِکَ الْمُلْکَ سے بغیر حساب تک ہیں جب کہ علامہ مجلسی کا ارشاد ہے کہ اس سے مرادشایدقُلْ اَللّٰهُمَّ اور شَهِدَا ﷲُ ہو جاننا چاہیے کہ حضرت علیعليهالسلام ابن ابی طالب- سے روایت ہوئی ہے کہ فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی حاجت در پیش آئے تو اسے چاہیے کہ اسے پورا کرنے کے لئے جمعرات کی صبح باہر چلا جائے اور جب گھر سے نکلنے لگے تو سورہ آلعليهالسلام عمران کی آخری آیات آیت الکرسی ،سورہ قدر اور سورہ حمد کی تلاوت کرے کیونکہ ان آیات سے دنیا اور آخرت کی ہر حاجت بر آتی ہے ۔
((۱۰)نماز حل مہمات)
مشکل وقت آپڑے تو چار رکعت نماز بجا لائی جائے اسکی قنوت اور دیگر ارکان کو اچھی طرح سے ادا کیا جائے اس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ کہے:
حَسْبُنَا ﷲ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ
اللہ ہمارے لئے کافی ہے وہ اچھا مدد گار ہے ۔
دوسری رکعت میں حمد کے بعد سات مرتبہ پڑھے:
مَا شائَ ﷲ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله اِنْ تَرَنِ اَنَا أَقَلَّ مِنْکَ مَالاً وَوَلَدا
وہی ہوتاہے جو ﷲ چاہے نہیں کوئی قوت مگر اللہ ہے؟ اگر تو مجھے دیکھے تو میں تجھ سے مال میں اور اولاد میں بھی کم ہوں
،تیسری رکعت میں حمد کے بعد سات مرتبہلا إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ
نہیں کوئی معبود سوائے تیرے تو پاک تر ہے بے شک میں ظالموں میں سے ہوں ۔
پڑھے ،اور چوتھی رکعت میں حمد کے بعد سات مرتبہ کہے :وَأُفَوِّضُ أَمْرِی إلَی ﷲ إنَّ ﷲ بَصِیرٌ بِالْعِباد
میں اپنے معاملے خدا کے سپرد کرتاہوں یقینا وہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہےاور پھر اپنی حاجات پیش کریں۔
(( ۱۱ )نماز ر فع عسرت)
امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جب تم پر کوئی مشکل کام آجاے اور کام دشوار ہو جائیں تو زوال آفتا ب کے وقت دو رکعت نماز پڑھو پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ توحید سورہ فتح کی پہلی تین آیات نَصْراً عَزِیزاً تک اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ توحید اور سورہ ٲَلَمْ نَشْرَحْ پڑھو اور یہ نماز اس مقصد کیلئے بار بار آزمائی ہوئی ہے۔
((۱۲)نماز اضافہ رزق)
روایت ہوئی ہے کہ ایک شخص حضرت رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم میں ایک عیالدار آدمی ہوں اور حالات خراب ہیں آپ مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم فرمایں کہ جس کے ذریعہ خدا کو پکاروں تا کہ وہ مجھے اتنا رزق دے کہ میں اپنا قرض اتارو ں اور اپنے عیال کے اخراجات میں اس سے مدد حاصل کروں حضرت رسالت مآ ب نے فرمایا؛ صحیح طریقہ سے وضو کر کے دو رکعت نماز بجا لائو کہ جس کے رکوع و سجود کامل ہوں اس کے بعد یہ دعا پڑھو؛
یَا ماجِدُ یَا واحِدُ یَا کَرِیمُ أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ نَبِیِّ
اے بزرگی والے اے یگانہ اے عطاکرنے والے میں نے تیری طرف رخ کیا ہے تیرے نبی نبی
الرَّحْمَةِ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ یَا مُحَمَّدُ یَا رَسُولَ
رحمت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے یا محمدیا رسول
ﷲ إنِّی أَتَوَجَّهُ بِکَ إلَی ﷲ رَبِّی وَرَبِّکَ
ﷲ بے شک میں نے آپ کے وسیلے سے اللہ کیطرف رخ کیا ہے جو میرا رب
وَرَبِّ کُلِّ شَیْئٍ وَأَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
آپ کا رب اور ہر چیز کا رب ہے سوال کرتا ہوں اے معبود یہ کہ تو رحمت نازل فرما محمداور انکی اہل
وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَأَسْأَلُکَ نَفْحَةً کَرِیمَةً مِنْ
بیتعليهالسلام پر اور سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ تیرے الطاف کریمانہ میں سے
نَفَحَاتِکَ وَفَتْحاً یَسِیراً وَرِزْقاً واسِعاً أَلُمُّ بِهِ شَعَثِی وَأَقْضِی
لطف خاص کا بآسانی کامیابی اور وسیع رزق کا سوال ہے جس سے میری پریشانی دور ہو اور میرا قرض
بِهِ دَیْنِی وَأَسْتَعِینُ بِهِ عَلَی عِیَالِی
ادا ہو جائے اور اسکے ذریعے اپنے عیال کی کفالت کروں۔
(نماز دیگر اضافہ رزق)
جب دوکان پر جانے لگو تو پہلے مسجد میں جائو اور وہاں دو یا چار رکعت نماز ادا کرنے کے بعد یہ دعا پڑھو:
غَدَوْ بِحَوْلِ ﷲ وَقُوَّتِهِ وَغَدَوْ بِلا حَوْلٍ مِنِّی وَلاَ قُوَّةٍ وَلکِنْ
میں خدا کی قوت کے ساتھ صبح کی میں نے اپنی طاقت وقوت کے بغیر صبح نہیں کی بلکہ تیری طرف سے
بِحَوْلِکَ وَقُوَّتِکَ یَا رَبِّ اَللّٰهُمَّ إنِّی عَبْدُکَ أَلْتَمِسُ مِنْ
طاقت و قوت کے ساتھ کی یا رب اے معبود! بے شک میں تیرا بندہ ہوں تجھ سے فضل مانگتا ہوں
فَضْلِکَ کَما أَمَرْتَنِی فَیَسِّرْ لِی ذلِکَ وَأَنَا خَافِضٌ فِی عَافِیَتِکَ
جیسا کہ تو نے مجھے حکم دیا ہے پس مجھے عطا فرما اور میں تیری پناہ میں آسودہ ہوں ۔
(نماز دیگر اضافہ رزق)
یہ نماز دو رکعت پہلی رکعت میں سورہ حمدکے بعد تین مرتبہ سورہ کوثر اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ فلق و سورہ اوروالناس تین تین مرتبہ پڑھے :
((۱۳) نماز حاجت)
مکارم اخلاق سے نقل کیا گیا ہے کہ جب آدھی رات ہوجاے تو اٹھ کر غسل کر ے اور دو رکعت نماز حاجت بجا لائے کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد پانچ سو مرتبہ سورہ تو حید پڑھے اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد پانچ سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے لیکن اس کے بعد سورہ حشر کی آخری آیتلَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا القُرْآنَ عَلَیٰ جَبَلٍ سے تا آخر آیت پڑھے پھر سورہ حدید کے پہلی چھ آیات پڑھے اور اسی حالت میں قیام میں ایک ہزار مرتبہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِےَّاکَ نَسْتَعےٰن کہے اور رکوع و سجود کر کے نماز تمام کرے اس کے بعد خدا تعالیٰ کی حمد وثنائ بجا لائے پس اگر اسی روز حاجت پوری ہو جائے تو بہتر ورنہ دوسرے روز بھی یہی عمل کرے اگر اب بھی حاجت بر نہ آئے تو تیسرے دن اسی عمل کو دہراے انشا ئ اللہ حاجت پوری ہوگی۔
(ایک اور نماز ۔)
ثقتہ الاسلام شیخ کلینی نے معتبر سند کیساتھ عبد الرحیم قصیر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہاہے کہ میں امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ قربان جائوں میں نے اپنی طرف سے ایک دعا اختراع کی ہے حضرت نے فرمایا اپنی اس اختراع کو رہنے دو بلکہ جب بھی کوئی حاجت درپیش ہو تو رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پنا ہ تلاش کرو اور یوں کہ دو رکعت نماز پڑھ کر آنحضرت کیلئے ہدیہ کروں میں نے عرض کیا یہ نماز کیسے پڑھوں فرمایا غسل کرو اور پھر دو رکعت نماز فریضہ کی مانند ادا کرو اور نماز کا سلام دینے کے بعد یہ کہو:
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ اَلسَّلاَمُ وَمِنْکَ اَلسَّلاَمُ وَ إلَیْکَ یَرْجِعُ اَلسَّلاَمُ اَللّٰهُمَّ
اے معبود تو سلامتی والا ہےاور سلامتی تجھ ہی سے ہے سلامتی تیری ہی طرف لوٹتی ہے اے معبود
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْ رُوحَ مُحَمَّدٍ مِنِّی السَّلامَ
رحمت نازل کر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمد پر اور میری طرف سے سلام پہنچا روح محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور سچے
وَأَرْواحَ آلاَءِمَّةِ الصَّادِقِینَ سَلامِی وَارْدُدْ عَلَیَّ مِنْهُمُ السَّلامَ، وَاَلسَّلاَمُ
اماموںعليهالسلام کی پاکیزہ روحوں پراور ان کی طرف سے مجھ پر سلام پلٹا سلام ہو ان سب پر
عَلَیْهِمْ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُهُ اَللّٰهُمَّ إنَّ هاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ هَدِیَّةٌ
خدا کی رحمت اور اس کی برکات اے معبود یقینا یہ دورکعتیں ہدیہ ہیں میری طرف
مِنِّی إلی رَسُولِ ﷲ صلی ﷲ علیه وآله وسلم فَأَثِبْنِی عَلَیْهِما مَا
سے حضرت رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پس مجھے ان کا ثواب دے جس کی امید
أَمَّلْتُ وَرَجَوْتُ فِیکَ وَفِی رَسُولِکَ یَا وَلِیَّ الْمُؤْمِنِینَ
و آرزو تجھ سے ہے اور تیرے رسول سے ہےاے مومنوں کے مددگار،
پھر سجدے میں جائے اور چالیس مرتبہ پڑھے
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ یَا حَیّاً لاَ یَمُوتُ یَا حَیّاً لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ یَا ذَا
اے زندہ پائندہ، اے زندہ جسے موت نہیں، اے زندہ نہیں کوئی معبود مگر تو ہے، اے دبدبے اور
اْلجَلاَلِ وَالْاِکْرَامِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
عزت والے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
پھر اپنا دایاں رخسار زمین پر رکھو ۔
اور یہی دعا چالیس مرتبہ پڑھو پھر بایاں رخسار زمین پر رکھو اور چالیس مرتبہ یہی دعا پڑھو اس کے بعد سر سجدے سے اٹھا کر ہاتھوں کو بلند کر کے یہی دعا چالیس مرتبہ پڑھو پھر ہاتھوں کو گردن میں ڈال کر اور انگشت شہادت بلند کر کے التجا کرو اور چالیس مرتبہ یہی دعا پڑھو بعد میں اپنی داڑھی بائیں ہاتھ میں لے کر روتے ہوئے یا رونے کی صورت بناتے ہوئے یہ دعا پڑھو:
یَا مُحَمَّدُ یَا رَسُولَ ﷲ أَشْکُو إلَی ﷲ وَ إلَیْکَ حاجَتِی وَ إلَی أَهْلِ بَیْتِکَ الرَّاشِدِینَ
یامحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم یا رسول اللہ میں اپنی حاجت اللہ کے اور آپ کے اور آپ کے ہدایت یافتہ اہلبیتعليهالسلام کے حضور پیش کر رہاہوں
حَاجَتِی وَبِکُمْ أَتَوَجَّهُ إلَی ﷲ فِی حاجَتِی
اور آپ کے وسیلے سے اپنی حاجت خدا کے سامنے پیش کرتا ہوں
پھر سجدے میں جاکرہ یَا ﷲ یاﷲ کہو جب تک کہ سانس نہ رک جائے اس کے بعد کہو
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِیْ کَذَا وَکَذَا
رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل محمد پر اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما ۔
کذا کذا کے بجاے اپنی حاجات بیان کرو اس کے ساتھ ہی حضرت امام جعفر صادق - نے فرمایا کہ میں خدا کے ہاں اس بات کا ضامن ہوں کہ ابھی تم نے اپنی جگہ سے حرکت بھی نہ کی ہوگی تمہاری حاجت پوری ہوجاے گی مؤلف کہتے ہیں چوتھے باب میں ہم دین و دنیا کی حاجات کیلئے بہت سی دعایں نقل کرینگے شیخ کفعمیرحمهالله نے بلد الامین میں ذکر فرمایا ہے کہ جب سخت مشکل در پیش ہو تو درج ذیل کلمات کا غذ پر لکھ کر اسے بہتے پانی میں بہا دے ۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ مِنَ الْعَبْدِ الذَّلِیلِ إلَی الْمَوْلَی الْجَلِیلِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے اس ناچیز بندے کیطرف سے عظمت والے مالک کے حضور
رَبِّ إنِّی مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ صَلِّ
پروردگار مجھے سخت مصیبت نے گھیر لیا ہے اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے تجھے واسطہ ہے محمد اور ان کی آلعليهالسلام
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاکْشِفْ هَمِّی وَفَرِّجْ عَنِّی غَمِّی بِرَحْمَتِکَ
کا رحمت کر محمد اور ان کی آلعليهالسلام پرمیرا رنج دور کر اورغم مٹا دے اپنی رحمت سے
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
(دیگر نماز حاجت)
سیدابن طائوسرحمهالله نے اپنی کتاب ’’المزار ‘‘ میں مسجد کوفہ میں محراب امیر المومنین- کے اعمال میں ایک نماز حاجت کا ذکر فرمایا ہے جو خصوصی طور پر وہیں ادا کی جاتی ہے اور وہ چاررکعت جو کہ دو سلام کے ساتھ بجا لائی جاتی ہے اس کی پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد اکیس مرتبہ سورہ توحید تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد اکتیس مرتبہ سورہ توحید اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد اکتالیس مرتبہ سورہ تو حید پڑھی جاتی ہے سلام کے بعد تسبیح پڑھے پھر اکیاون مرتبہ سورہ تو حید پڑھے اور پچاس مرتبہ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ وَاَتُوْبُ اِلِیْہ کہے پھر پچاس مرتبہ سرکار محمد وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات بھیجے اور پچاس مرتبہ کہے:
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ پھر کہےیَا ﷲ الْمانِعُ قُدْرَتَهُ خَلْقَهُ وَالْمالِکُ بِها سُلْطانَهُ
نہیں کوئی طاقت و قوت مگر جو بلند وبزرگ خدا سے ہے اے وہ اللہ جس کی قدرت مخلوق کو سنبھالے ہوئے ہے جس کے
وَالْمُتَسَلِّطُ بِما فِی یَدَیْهِ عَلَی کُلِّ مَوْجُودٍ وَغَیْرُکَ یَخِیبُ رَجائُ
ذریعے وہ اپنے اقتدار کا مالک ہے جسکے ذریعے وہ اپنے زیر قبضہ ہر موجود چیز پر قابو رکھتا ہے تیرا غیر اپنے
راجِیهِ وَراجِیکَ مَسْرُورٌ لاَ یَخِیبُ، أَسْأَلُکَ بِکُلِّ رِضیً
امید وار کو مایوس کرتا ہے اور تجھ سے امید رکھنے والا مسرور ہے ناکام نہیں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری
لَکَ وَبِکُلِّ شَیْئٍ أَنْتَ فِیهِ وَبِکُلِّ شَیْئٍ تُحِبُّ أَنْ تُذْکَرَ بِهِ
ہر رضا اور ہر چیز کے ذریعےجس میں تیرا جلوہ ہے جسے تو پسند کرتا ہے کہ اس کے ساتھ تیرا
وَبِکَ یَا ﷲ فَلَیْسَ یَعْدِلُکَ شَیْئٌ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
ذکر ہو اور اے اللہ تیری ذات کے ذریعے کہ کوئی چیز تیر ے برابر نہیں یہ کہ تو رحمت کرے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَحْفَظَنِی وَوَلَدِی وَأَهْلِی وَمالِی وَتَحْفَظَنِی بِحِفْظِکَ
آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور حفاظت فرما میری ،میری اولاد، خاندان اور مال کیاور مجھے اپنی امان میں رکھ
وَأَنْ تَقْضِیَ حَاجَتِی فِی کَذا وَکَذا
اور یہ کہ میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما۔
کذا کذا کی بجائے اپنی حاجات گنوائے۔
(دیگر نماز حاجت )
روایت ہے کہ جس شخص کو خدا سے کوئی حاجت ہو اور وہ چاہتا ہے کہ یہ پوری ہوجائے تو اسے چار رکعت نماز ادا کرنا چاہیے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ انعام پڑھے اور نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا عَظِیمُ یَا اَعْظَمُ مِنْ کُلِّ عَظِیمٍ
اے کر یم ،اے کریم، اے کریم، اے عظیم، اے عظیم ،اے عظیم، اے سب عظمت والوں سے عظیم
یَا سَمِیعَ الدُّعائِ، یَا مَنْ لاَ تُغَیِّرُهُ اللَّیالِی وَالْاَیَّامُ صَلِّ عَلَی
تر، اے دعا کو سننے والے، اے وہ جس پر رات دن کے بدلنے کا اثر نہیں ہوتا رحمت فرما
مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَارْحَمْ ضَعْفِی وَفَقْرِی وَفاقَتِی وَمَسْکَنَتِی
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحم کر میری کمزوری ناداری تنگی اور عاجزی پر
فَ إنَّکَ أَعْلَمُ بِها مِنِّی وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِحاجَتِی یَا مَنْ رَحِمَ الشَّیْخَ
کہ تو ان کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور تو میری حاجت سے واقف ہے اے جس نے بوڑھے
یَعْقُوبَ حِینَ رَدَّ عَلَیْهِ یُوسُفَ قُرَّةَ عَیْنِهِ، یَا مَنْ رَحِمَ أَیُّوْبَ بَعْدَ
یعقوبعليهالسلام پر رحم کیا جب انکے نور نظریوسف - کو ان سے ملوادیا، اے وہ جس نے لمبی
طُولِ بَلائِهِ، یَا مَنْ رَحِمَ مُحَمَّداً وَمِنَ الْیُتْمِ آواهُ وَنَصَرَهُ
مصیبت کے بعد ایوبعليهالسلام پر رحم فرمایا، اے وہ جس نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحم فرمایا اور یتیمی میں ان کو پناہ دی
عَلَی جَبابِرَةِ قُرَیْش وَطَواغِیتِها وَأَمْکَنَهُ مِنْهُمْ، یَا مُغِیثُ یَا مُغِیثُ یَا مُغِیثُ
قریش کے جابر وخود سر رئیسوں کے مقابل ان کو فتح دی اورحکومت عطا کی، اے فریاد رس، اے فریاد رس اے فریاد رس ۔
اس کو مقرر پڑھے پھر خدا سے اپنی حاجت طلب کرے خدا اس کو عطا فرماے گ
(دیگر نماز حاجت )
سید ابن طائوس نے روایت کی ہے کہ جمعہ کی رات اور عید قربان کی رات دو رکعت نماز ادا کرو ہر رکعت میں سورہ حمد پڑھو اور جب إیَّاکَ نَعْبُدُ وَ إیَّاکَ نَسْتَعِینُ پر پہنچو تو اسے سو مرتبہ دہرائو حمد کو تمام کرو پھر سورہ توحید دو سو مرتبہ پڑھو اور نماز کا سلام دینے کے بعد ستر مرتبہ کہو
لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
نہیں کوئی طاقت و قوت مگر جو بلند و بزرگ خدا سے ہے۔
پھر سجدہ میں جاکر دوسومرتبہ کہو
یَارَبِّ یَارَبِّ
اے رب، اے رب ۔
اور پھر اپنی حاجات پیش کرو کہ انشائ اللہ پوری ہوں گی ۔
(دیگر نماز حاجت)
اسے شیخ مفیدرحمهالله ،شیخ طوسیرحمهالله اور سید ابن طائوسرحمهالله جیسے بہت سے بزرگ علمائ نے حضرت امام جعفر صادق - سے نقل کیا ہے ۔
چنانچہ سید ابن طائوسرحمهالله کی روایت کے مطابق اس کی کیفیت یوں ہے کہ جب تمہیںکوئی مشکل در پیش ہو اور اس میں خدا کی مدد مطلوب ہو تو مسلسل تین دن یعنی بدھ جمعرات جمعہ کے روزے رکھو، جمعہ کے روز غسل کرو پاک وپاکیزہ لباس پہنو اور گھر کی سب سے اونچی چھت پر جاکر دو رکعت نماز بجا لائو اور پھر ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے کہو:
اَللّٰهُمَّ إنِّی حَلَلْتُ بِساحَتِکَ لِمَعْرِفَتِی بِوَحْدانِیَّتِکَ وَصَمَدانِیَّتِکَ
اے معبود میں یقینا تیری بارگاہ میں حاضر ہوں کہ تیری وحدانیت اور تیری بے نیازی کو جانتا ہوں اور یہ
وَأَنَّهُ لاَ قادِراً عَلَی قَضائِ حاجَتِی غَیْرُکَ وَقَدْ عَلِمْتُ یَارَبِّ أَنَّهُ کُلَّما
بھی کہ تیرے علاوہ کوئی میری حاجت بر آہی نہیں کر سکتا اور اے پروردگار میں جانتا ہوں کہ جوں
تَظاهَرَتْ نِعْمَتُکَ عَلَیَّ اشْتَدَّتْ فاقَتِی إلَیْکَ وَقَدْ طَرَقَنِی
جوں تیری نعمتیں بڑھتی ہیں تیری طرف میری احتیاج بڑھتی جاتی ہے اب مجھے یہ اور یہ مشکل آن
هَمُّ کَذا وَکَذا
پڑی ہے ۔
کذ کذا کی جگہ اپنی حاجات بیان کرو اور پھر کہو :
وَأَنْتَ بِکَشْفِهِ عالِمٌ غَیْرُ مُعَلَّمٍ واسِعٌ غَیْرُ مُتَکَلِّفٍ، فَأَسْأَلُکَ
اور تو اسے پورا کرنا جانتا ہے بتانے کی ضرورت نہیں تو وسعت رکھتا ہے تجھے زحمت نہیں پس سوا ل کرتا
بِاسْمِکَ الَّذِی وَضَعْتَهُ عَلَی الْجِبالِ فَنُسِفَتْ وَوَضَعْتَهُ عَلَی السَّمٰوَاتِ
ہوں تیرے نام کے واسطے سے کہ جسے تو پہاڑوں پر رکھے تو ریزہ ریزہ ہوجائیں آسمانوں پر رکھے تو پاش
فَانْشَقَّتْ وَعَلَی النُّجُومِ فَانْتَشَرَتْ، وَعَلَی الْاَرْضِ فَسُطِحَتْ
پاش ہو جائیں ستاروں پر رکھےتوگرنے لگ جائیں زمین پر رکھے تو چٹیل ہو جائے سوال کرتا ہوں
وَأَسْأَلُکَ بِالْحَقِّ الَّذِی جَعَلْتَهُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
اس حق کے واسطے سے جسے تو نے قرار دیا ہے حضرت محمد مصطفی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم
وَعِنْدَ عَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَجَعْفَرٍ
اور حضرت علیعليهالسلام ، حضرت حسنعليهالسلام ،حضرت حسینعليهالسلام ، حضرت علیعليهالسلام ، حضرت محمدعليهالسلام ، حضرت جعفرعليهالسلام ،
وَمُوسی وَعَلِیٍّ وَمُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُجَّةِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلاَمُ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
حضرت موسیٰعليهالسلام ، حضرت علیعليهالسلام ،حضرت محمدعليهالسلام ، حضرت علیعليهالسلام ،حضرت حسنعليهالسلام اور حضرت حجت کے ساتھ یہ کہ تو رحمت فرما محمد - اور ان کی
وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَأَنْ تَقْضِیَ لِی حاجَتِی، وَتُیَسِّرَ لِی عَسِیرَها وَتَکْفِیَنِی
اہلبیت - پر اور یہ کہ میری حاجت پوری کر جو مشکل ہے آسان فرما اور سختیوں میں مدد کر
مُهِمَّها، فَ إنْ فَعَلْتَ فَلَکَ الْحَمْدُ وَ إنْ لَمْ تَفْعَلْ فَلَکَ الْحَمْدُ غَیْرَ
پس اگر تو ایسا کرےتو تیرے لئے حمد ہے اور نہ کرےتو بھی تیرے لئے حمد ہے کہ تیرے
جائِرٍ فِی حُکْمِکَ وَلاَ مُتَّهَمٍ فِی قَضائِکَ وَلاَ حائِفٍ فِی عَدْلِکَ
فیصلے میں ظلم کا گزر نہیں تیری قضائ میں غلطی نہیں اور تیرے عدل میں خامی نہیں ہے۔
پھر اپنے رخسار کو زمین پر رکھ کر کہو:
اَللّٰهُمَّ إنَّ یُونُسَ بْنَ مَتَّی عَبْدَکَ دَعاکَ فِی بَطْنِ الْحُوتِ وَهُوَ
اے معبود بے شک تیرے بندے یونسعليهالسلام بن متی نے مچھلی کے پیٹ میں تجھ کو پکار ا تھا وہ تیرا بندہ تھا پس
عَبْدُکَ فَاسْتَجَبْتَ لَهُ وَأَنَا عَبْدُکَ أَدْعُوکَ فَاسْتَجِبْ لِی
تو نے اس کی دعا قبول فرمائی اور میں بھی تیرا بندہ ہوں تجھ سے دعا کرتا ہوں پس میری دعا قبول فرما۔
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ بعض اوقات مجھے کوئی حاجت در پیش ہوتی ہے تو میں اس دعا کو پڑھتا ہوں اور جب واپس آتا ہوں تو میری دعا قبول ہوچکی ہوتی ہے۔
مؤلف کہتے ہیں؛ سید ابن طائوسرحمهالله نے اپنی کتاب جمال الاسبوع میں ایک گفتگو درج فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تم خدا سے کو ئی حاجت طلب کرو تو تمہاری حالت کم از کم ایسی ہونی چاہیے جیسی کسی دنیاوی حاکم کے پاس کوئی اہم حاجت لے جاتے ہو وہ اس طرح جب تمہیں بادشاہ حاکم سے کوئی حاجت ہوتی ہے تو تم اس کی ہر ممکن رضا وخوشنودی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہو۔ اسی طرح خدا سے حاجت طلب کرتے وقت بھی اس کی رضا وخوشنودی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرو ایسا نہ ہو کہ دنیاوی حاکم کی طرف تو تمہاری توجہ زیادہ ہو اور خدائے تعا لیٰ کی طرف کم ہو اگر ایسا کرو گے تو پھر خدا تعالیٰ سے مذاق کر رہے ہو گے جس کا نتیجہ ہلاکت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا کی رضا کیلئے تو کم تر کوشش کی جائے اور مخلوق خدا کیلئے زیادہ کوشش کی جائے پس جب تمہارے نزدیک خدا کی قدر ومنزلت اس کے بندوں کی بہ نسبت کم ہوگی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں خدا کی عظمت وجلالت کا کوئی لحاظ و پاس نہیں اور تم خدا کے بندوں کو اس پر ترجیح دیتے ہو اور خدا کو کم تر گردانتے ہو اس طرح تو بہت ہی مشکل ہوگا کہ تم نماز یا روزے کے ذریعے بھی حاجت روائی کرو اور حاجت روائی کیلئے تم نماز یا روزہ بجا لائو تو یہ آزمائش اور تجربے کے لئے نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آزمائش اس کی ہوا کرتی ہے جس کے بارے میں بد گمانی ہوتی ہے ۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو اس کے بارے میں بد گمانی کرتے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے:
یَظَنَّونَ بِالله ظَنَّ السَّوْئِٓ عَلَیْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْئِٓ
یہ لوگ خدا سے بد گمانی کرتے ہیں بد گمانی تو انہیں کی طرف پلٹی ہے ۔
ہاں تو پورے اطمینان اور مکمل اعتماد کے ساتھ اس کی رحمت اور وعدوں پر بھروسہ کیاجائے نیز جانے رہو کہ خدا کے نزدیک تمہاری امیدوں کی حیثیت ایسی ہے جیسی حاتم سے ایک قیراط (حقیر سی رقم)لینے کی ہو اس لئے کہ اگر تم ایک قیراط کے لئے حاتم کے پاس جائو گے تو تمہیں یقین ہوگا کہ خواہ کچھ بھی ہو حاتم جیسا سخی ایک قیراط تو دے ہی دے گا پس معلوم ہونا چاہیے تمہاری خدا سے حاجت حاتم سے ایک قیراط کی طلب سے کم تر نہیں ہونی چاہیے ۔
لہذا خبردار کہ خدا پر تمہار ا اعتماد اس سے کم نہ ہوجائے جتنا کہ تم حاتم پر رکھتے ہو نیز یہ بات بھی مناسب ہے کہ جب تمہیں کسی حاجت کیلئے نمازاور روزے کا عمل بجا لانا ہو تو یہ تمہاری دینی حاجات اور ان میں سے بھی اہم سے اہم تر کے لئے ہونا چاہیے ہم سب کی اہم ترین حاجت وہ عظیم شخصیت ہے جن کی ہدایت اور حمایت کی پناہ میں ہم سب رہتے ہیں اور وہ ہیںہمارے امام العصر (عج) لہذا تمہارا روزہ اور نماز مرتبہ اول پر تو آنجنابعليهالسلام کی قضائ حاجات کیلئے مرتبہ دوم میں اپنی دینی حاجات کیلئے اور مرتبہ سوم میں تمہاری دیگر حاجات کیلئے ہو مثلا جب کوئی ظالم تمہیں قتل کرنے کے درپے ہو اور تم اس کی شر سے بچنے کیلئے روزہ رکھو لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے بڑھ کر کے تمہاری یہ دینی حاجت ہے کہ تمہیں خدا کی رضا و مغفرت حاصل ہو اور وہ تمہاری طرف توجہ فرمائے اور تمہارے اعمال کو قبولیت سے نوازے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ظالم بادشاہ و حاکم تمہیں قتل کر دے تو اس سے تمہارا دنیاوی نقصان ہوگا اورتمہاری دنیا خراب ہوگی لیکن تمہارا دین محفوظ رہے گا پھر یہ بات بھی ہے کہ اگر ظالم حاکم تمہیں قتل نہ بھی کرے تو بھی تمہیں مرنا ہے اور ایک دن موت کو آنا ہی ہے لیکن اگر تمہیں خدا کی خوشنودی اور مغفرت حاصل نہ ہو تو اس صورت میں تمہاری دنیا وآخرت دونوں برباد ہیں اور پھر تمہیں ایسے بھیانک اور ہولناک حالات سے دو چار ہونا پڑے گا جو کہ تمہارے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا یہ جو پہلے ہم نے بتا یا ہے کہ اپنی حاجات پر امام العصر (عج) کی حاجات کو مقدم رکھو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیااور اہل دنیا کی بقا آپ ہی کے وجود مبارک سے ہے جب تمہاری زندگی کسی اور کی زندگی پر موقوف ہو تو پھر اپنی حاجات کو اس کی حاجات پر کیسے مقدم کر سکتے ہو بلکہ واجب ہوتا ہے کہ اس کی حاجات کو اپنی حاجات پر فوقیت دی جائے اور اس کی مراد کو اپنی مراد پر مقدم کیا جائے پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مخدوم کائنات تمہارے روزے نماز کا محتاج نہیں ہے لیکن بندگی کا تقاضا اور شرافت کا لازمہ یہی ہے کہ تم ایسا کرو لہذا اپنی ہر حاجت کے بیان سے پہلے اس خاندان عصمت وطہارت پر صلوات بھیجو امام العصر(عج) کی سلامتی کیلئے دعا کرو اور پھر خدا سے اپنی حاجات طلب کرو ۔
(نماز استغاثہ)
مکارم اخلاق میں ہے کہ جب تم رات کو سونے لگو تو ایک پاک صاف برتن میں پانی بھر کے اپنے پاس رکھو اور پاک کپڑے سے اس کا منہ باندھ دو جب رات کے آخری حصے میں نماز تہجد کے لئے اٹھو تو اس برتن سے تین گھونٹ پانی پیو اور بقایا پانی سے وضو کر کے قبلہ رخ ہوکر اذان و اقامت کہو اور دو رکعت نماز ادا کرو ان دو رکعتوں میں سورہ حمد کے بعد جو سورہ چاہو پڑھو جب حمد اور سورہ پڑھ لو تو رکوع میں جا کر پچیس مر تبہ کہو:
یَاغِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ
اے فریاد کرنے والوں کے فریاد رس۔
پھر رکوع سے سر اٹھا کر یہی ذکر پچیس مرتبہ کرو اور سجدے میں جاکر بھی یہی کہو پھر دوسرے سجدے میں جاکر پچیس مرتبہ یہی کہو اور سجدے سے سر اٹھا کر پچیس مرتبہ یہی کہو اسکے بعد دوسری رکعت کیلئے کھڑے ہو جائو اور اسے بھی مذ کورہ طریقے سے پورا کرو اس طرح ذکر کی مجموعی تعداد تین سو ہوجاتی ہے پھر تشہد و سلام پڑھ کر نماز کو تمام کرو سلام کے بعد اپنا سر آسمان کی طرف بلند کر کے تیس مرتبہ کہو :
مِنَ الْعَبْدِ الذَّلِیلِ إلَی الْمَوْلَی الْجَلِیلِ
ناچیز بندے کی طرف سے مرتبے والے مولیٰ کی خدمت میں۔
اس کے بعد خدا سے اپنی حاجات طلب کرو انشائ اللہ وہ بھی پوری ہونگی
(نمازاستغاثہ حضرت فاطمہ الزہرائ =)
ایک روایت میں ہے کہ جب تمہیں کوئی حاجت در پیش ہو اور اس سے تمہار ا دل گھبرا رہا ہو تو دو رکعت نماز ادا کرو تشہد و سلام کے بعدتین مرتبہ اللہ اکبر کہے اور تسبیح حضرت زہرا = پڑھے اور پھر سجدے میں سر رکھ کر سو مرتبہ کہو:
یَا مَوْلاتِی یَا فاطِمَةُ أَغِیثِینِی
اے میری مخدومہ اے فاطمہعليهالسلام میری فریاد کو پہنچیں۔
پھر اپنا دایاں رخسارزمین پر رکھ کر سو مرتبہ یہی کہو،
اور پھر اپنا بایاں رخسار زمین پر رکھ کر سو مرتبہ یہی کہو پھر سر سجدے میں رکھو اور سو مرتبہ یہی کہو اس کے بعد اپنی حاجات بیان کرو، یقینا خدا وند عالم یہ دعائیں ضرور قبول فرمائے گا۔
مؤلف کہتے ہیں شیخ حسن بن فضل طبرسیرحمهالله مکارم اخلاق میں فرماتے ہیں کہ نماز استغاثہ جناب زہرائعليهالسلام کی ترتیب یہ ہے کہ دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد سر سجدے میں رکھ کر سو مرتبہ یا فاطمۃ کہو پھر دایاں رخسار زمین پر رکھ کر سو مرتبہ یہی کہو پھر بایاں رخسار زمین پر رکھو اور سو مرتبہ یہی کہو اب بار دیگر سجدے میں سر رکھ کر ایک سو دس مرتبہ یہی کہو اور پھریہ دعا پڑھو :
یَا آمِناً مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَکُلُّ شَیْئٍ مِنْکَ خائِفٌ حَذِرٌ أَسْأَلُکَ
اے ہر چیز سے امان میں رکھنے والے اور ہر چیز تجھ سے خوف کھاتی ہے اور ڈرتی ہے تجھ
بِأَمْنِکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَخَوْفِ کُلِّ شَیْئٍ مِنْکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی
سے سوال کرتا ہوں کہ تو ہر چیز سے امن میں ہے اور ہر چیز تجھ سے خوف کھاتی ہے یہ کہ تو رحمت فرما
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُعْطِیَنِی أَماناً لِنَفْسِی وَأَهْلِی وَمالِی وَوَلَدِی
سرکار محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آل محمدعليهالسلام پراور یہ کہ تو امان میں رکھ مجھ کو میرے خاندان میرے مال اور
حَتَّی لاَ أَخَافَ أَحَداً وَلاَ أَحْذَرَ مِنْ شَیْئٍ أَبَداً إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
اولاد کو یہاں تک کہ کسی سے نہ ڈروں نہ کبھی کسی چیز کا خوف کھائوں ہمیشہ تک بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔
نیز اسی کتاب میں امام جعفر صادق - سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا جب بھی تم میں سے کوئی شخص خدا کی بارگاہ میں استغاثہ کرے تو اسے دو رکعت نماز ادا کرنا چاہیے اور نماز کے بعد سر سجدے میں رکھ کر یہ دعا پڑھے :
یَا مُحَمَّدُ یَا رَسُولَ ﷲ یَا عَلِیُّ یَا سَیِّدَیِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ، بِکُما
یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم یا رسول اللہ یا علیعليهالسلام اے مومنین و مومنات کے سردار ومیں آپ کے واسطہ سے خدا
أَسْتَغِیثُ إلَی ﷲ تَعالی یَا مُحَمَّدُ یَا عَلِیُّ أَسْتَغِیثُ بِکُما یَا غَوْثاهُ بِالله وَبِمُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَفاطِمَةَ
کے حضور استغاثہ کرتا ہو ں یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم یا علیعليهالسلام آپ دونوں سے استغاثہ کرتا ہوں اے فریادرس بواسطہ خدا بواسطہ محمد مصطفی و علیعليهالسلام و فاطمہعليهالسلام میں۔
یہاں پر ہر امام کا نام لئے اور پھر کہے:
بِکُمْ أَتَوَسَّلُ إلَی ﷲ تَعالی
خدا کے سامنے آپ کو وسیلہ بناتا ہوں
یقینا یہ ذوات مقدسہ اسی وقت تمہاری مدد کو پہنچیں گے انشائ اللہ
(نماز حضرت حجت (عج))
یہ نماز مسجد جمکران میں ادا کی جاتی ہے جو قم المقدس سے تقریباً چار میل کے فاصلے پر ہے شیخ نے اپنی کتاب نجم الثاقب کے باب ہفتم کی پہلی حکایت میں نقل کیا ہے کہ مذکورہ مسجد امام العصر (عج) کے حکم سے تعمیر کی گئی ہے اس سلسلے میں انہوں نے لکھا کہ امام العصر (عج)نے حسن مثلہ جمکرانی سے فرمایا لوگوں سے کہو کہ وہ اس جگہ کی طرف توجہ کریں اس کا احترام کریں اور یہاں چار رکعت نماز بجا لایا کریں ان میں سے دو رکعت تحیۃ المسجد کی ہو ں کہ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ سورہ
توحید پڑھے اور رکوع و سجود کے اذکار بھی سات سات مرتبہ پڑھے اس کے بعد دو رکعت نماز امام صاحب الزمان (عج) کے لئے اس طرح پڑھے کہ سورہ حمد کی قرأت میں ’’ إیَّاکَ نَعْبُدُ وَ إیَّاکَ نَسْتَعِینُ‘‘ کو سو مرتبہ پڑھے اور پھر سورہ حمد تا آخر پڑھے رکوع سجود کے اذکار سات سات مرتبہ پڑھے اور پھر دوسری رکعت کو بھی اسی طرح بجا لائے ۔
جب نماز تمام ہو جائے تو لا الہ الا اللہ کہے اور تسبیح حضرت زہرا = پڑھے اس کے بعد سر سجدے میں رکھ کر محمد و آل محمد پر سو مرتبہ صلوات بھیجے اس بارے میں خود امام زمان (عج) کا فرمان ہے ۔
فَمَنْ صَلَّهُمَا فَکَأَنَّمَا صَلَّی فِی الْبَیْتِ الْعَتِیقِ
پس جس نے اس مسجد میں دو رکعت نمازپڑھی گویا اس نے خانہ کعبہ میں پڑھی
(دیگر نماز حضرت حجتعليهالسلام )
شیخ طبرسیرحمهالله نے نجم الثاقب میں کتاب کنوز النجا ح سے نقل فرمایا ہے کہ حضور امام الزمان عجل اللہ فرجہ کی طرف سے یہ حکم صادر ہوا ہے کہ جسے درگاہ الہی میں کوئی حاجت پیش کرنا ہو تو وہ شب جمعہ کی آدھی رات کو بعد غسل کرے اور جائے نماز پر جاکر دو رکعت نماز ادا کرے پہلی رکعت میں سورہ حمد پڑھے اور جب إیَّاکَ نَعْبُدُ وَ إیَّاکَ نَسْتَعِینُ پر پہنچے تو اسے سو مرتبہ دہرائے اور پھر سورہ حمد تا آخر پڑھے اسکے بعدایک مرتبہ سورہ تو حید کی تلاوت کرے اور رکوع سجود بجا لائے اور رکوع میں سات مرتبہ کہے :
سُبْحانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِهِ
پاک ہے میرا رب عظمت والا ہے اس کی حمد کرتا ہوں ۔
اور دونوں سجدوں میں کہے:
سُبْحانَ رَبِّیَ الْاَعْلَی وَبِحَمْدِهِ
پاک ہے میرا رب بلند تر ہے میں اس کی حمد کرتا ہوں ۔
سات سات مرتبہ پڑھے اسی طرح دوسری رکعت بجا لائے اور نماز تمام کرنے کے بعد درج ذیل دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ یقینا اسکی دعا قبول فرمائیگا بشرطیکہ وہ قطع رحمی کیلئے نہ ہو وہ دعا یہ ہے ۔
اَللّٰهُمَّ إنْ أَطَعْتُکَ فَالَْمحْمَدَةُ لَکَ وَ إنْ عَصَیْتُکَ فَالْحُجَّةُ لَکَ مِنْکَ الرَّوْحُ وَمِنْکَ
اے معبود! اگر میں تیری اطاعت کروں تو تیرے لئے حمد ہے اگر تیرے لئے نافرمانی کروں تو تیری حجت مجھ پر قائم ہے تیری طرف
الْفَرَجُ، سُبْحانَ مَنْ أَنْعَمَ وَشَکَرَ سُبْحانَ مَنْ قَدَّرَ وَغَفَرَ اَللّٰهُمَّ
سے راحت اور تیری طرف سے کشائش ہے پاک ہے وہ جو نعمت دیتا ہے اور قدر کرتا ہے پاک ہے
إنْ کُنْتُ عَصَیْتُکَ فَ إنِّی قَدْ أَطَعْتُکَ فِی أَحَبِّ الْاَشْیائِ إلَیْکَ وَهُوَ الْاِیمانُ بِکَ لَمْ أَتَّخِذْ
وہ کہ مقدر کرتا ہے اور معافی دیتا ہے اے معبود! اگر میں نے نافرمانی کی ہے تو بھی ان باتوں میں تیری اطاعت کی ہے جو تیرے ہاں
لَکَ وَلَداً وَلَمْ أَدْعُ لَکَ شَرِیکاً مَنّاً مِنْکَ بِهِ عَلَیَّ لاَ مَنّاً مِنِّی بِهِ
پسندیدہ ہیں اور وہ تجھ پر ایمان رکھنا اور تیرے لئے فرزند قرار نہ دینا اور کسی کو تیرا شریک نہ بنانا ہے یہ مجھ
عَلَیْکَ وَقَدْ عَصَیْتُکَ یَا إلهِی عَلَی غَیْرِ وَجْهِ الْمُکابَرَةِ، وَلاَ
پر تیرا احسان ہے ان باتوں میں تجھ پر میرا احسان نہیں اے معبود ؛ میں تیری جو نافرمانی کی ہے تو وہ خود کو
الْخُرُوجِ عَنْ عُبُودِیَّتِکَ وَلاَ الْجُحُودِ لِرُبُوبِیَّتِکَ وَلکِنْ أَطَعْتُ هَوایَ
بڑا سمجھنے اور تیری بندگی سے نکل جانے کی وجہ سے نہیں اور نہ تیری ذات کے انکار کی وجہ سے ہے بلکہ
وَأَزَلَّنِی الشَّیْطانُ، فَلَکَ الْحُجَّةُ عَلَیَّ وَالْبَیانُ فَ إنْ تُعَذِّبْنِی
میں اپنی خواہشات کے پیچھے چلا اور شیطان نے مجھے پھسلا دیا پس تیری حجت اور بیان مجھ پر تمام ہے اگر تو
فَبِذُنُوبِی غَیْرُ ظالِمٍ لِی، وَ إنْ تَغْفِرْ لِی وَتَرْحَمْنِی فَ إنَّکَ جَوادٌ
مجھے عذاب کرے تو یہ میرے گناہوں کا بدلہ ہے ظلم نہیں اور مجھے بخش دے تو یہ تیرا رحم ہوگا کیونکہ تو
کَرِیمٌ پھر اس وقت تک یَاکَرِیمُ یَا کَرِیمُ ۔ کہے
سخی و کریم ہے یا کریم یا کریم
جب تک سانس نہ رک جائے اس کے بعد کہے:
یَا آمِناً مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَکُلُّ شَیْئٍ مِنْکَ خائِفٌ حَذِرٌ أَسْأَلُکَ بِأَمْنِکَ
اے ہر چیز سے امان میں رکھنے والےکہ ہر چیز تجھ سے خوف کرتی ہے اورڈرتی ہے سوال کرتا ہوں اس لئے
مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَخَوْفِ کُلِّ شَیْئٍ مِنْکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
کہ تو ہر چیز سے امن میں ہے اورہر چیز تجھ سے خوف کھاتی ہے یہ کہ تو سرکار محمد وآل محمد
وَ أَنْ تُعطِیَنِی أَماناً لِنَفْسِی وَأَهْلِی وَوَلَدِی وَسائِرِ مَا أَنْعَمْتَ بِهِ
پر رحمت فرما اور یہ کہ امان میں رکھ جھ کو میرے خاندان اور اولاد کو اور جو نعمتیں تو نے مجھے دی
عَلَیَّ حَتَّی لاَ أَخافَ وَلاَ أَحْذَرَ مِنْ شَیْئٍ أَبَداً إنَّکَ عَلَی کُلِّ
ان کو بھی حتی کہ نہ کسی سے خوف کھائوں نہ کسی چیز سے ڈروں ہمیشہ تک ،بے شک تو ہر چیز پر قدرت
شَیْ ئ قَدِیرٌوَحَسْبُنَا ﷲ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ یَاکَافِیَ اَبْرَاهِیْمَ نَمْرُوْدَ وَیَا
رکھتا ہے ہمیں کافی ہے ﷲ جو بہترین کارساز ہے اے نمرود کے مقابل ابراہیم کو کافی اور اے
کافِیَ مُوسی فِرْعَوْنَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
فرعون کے مقابل موسیٰعليهالسلام کو کافی تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو رحمت فرما محمد وآل محمد
وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَّ اَنْ تَکْفِیَنِیْ شَرَّ فُلانِ ابْن ِفُلان
پر اور میری مدد فرما فلاں بن فلاں کے شر میں ۔
فلاں بن فلاں کی بجائے اس شخص کانام لے جس سے نقصان کا اندیشہ ہو حق تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ اسکے نقصان سے بچائے تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے اس شخص سے پہنچنے والے نقصان سے محفوظ رکھے گا اسکے بعد سر سجدے میں رکھ دے خدا کے حضور گڑ گڑاے اور اپنی حاجات طلب کرے پس جو مؤمن مرد و زن یہ دعا پڑھے تو اسکی حاجت برآری کیلئے اسی دن اور اسی رات آسمان کے دروازے کھل جائیں گے اس کی دعا قبول ہوگی خواہ وہ کسی بھی حاجت کیلئے ہو یہ کشادگی ہم پر اور سب لوگوں پر خدا وند عالم کے احسان و کرم کی وجہ سے ہے ۔
مؤلف کہتے ہیں فاضل شیخ طبرسیرحمهالله نے بھی مکارم اخلاق میں یہ دعا نقل کی ہے لیکن اس کے آغاز میںاَللّٰهُمَّ اِنْ کُنْتُ عَصَيْتُک کی بجائےاِنْ کُنْتُ قَدْ عَصَيْتُکَ آیا ہے حَتّٰی لَاَاخَافُ کے بعد اَحدًا کا اضافہ ہے فرعون کے بعد اَسْئَلُکَ ہے اور باقی دعا وہی ہے جو ابھی نقل کی گئی ہے ۔
(نماز خوف از ظالم )
یہ نماز مکارم اخلاق سے منقول ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ غسل کرے اور پھر دورکعت نماز ادا کرے اس کے بعد زانوئوں سے کپڑا ہٹا کر جائے نماز پر بیٹھے کر سومرتبہ کہے:
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ یَا حَیّاً لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیثُ فَصَلِّ عَلَی
اے زندہ،اے پائندہ، اے زندہ، نہیں معبودمگر تو ہے بواسطہ تیری رحمت کے فریاد کرتا ہوں کہ رحمت
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَغِثْنِی السَّاعَةَ السَّاعَةَ
فرما محمد وآل محمد پر اور میری مدد کر اسی وقت اسی گھڑی
مندرجہ بالا دعا کے بعد یہ کہے:أَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّد وَأَنْ تَلْطُفَ لِی، وَأَنْ تَغْلِبَ لِی
تجھ سے سوال کرتا ہوں اے معبود : کہ رحمت فرما محمدوآل محمد پر اور مجھ پر مہربانی کرنیز یہ کہ میری خاطر اس پر غلبہ کر
وَأَنْ تَمْکُرَ لِی،وَأَنْ تَخْدَعَ لِی وَأَنْ تَکِیدَ لِی، وَأَنْ تَکْفِیَنِی مَؤونَةَ فلان ابن فلان
اس کے لئے تدبیر جوڑ، اسے دھوکے میں ڈال، اسے غلط فہمی میں رکھ اور میرے فلاں بن فلاں دشمن کے خلاف میری مدد فرما
فلاں بن فلاں بن کی بجاے اپنے دشمن کا نام لے یہ وہ دعا ہے جو حضور اکرم نے جنگ احد کے دن پڑھی تھی ۔
(تیزی ذہن و قوت حافظہ کی نماز:)
کتاب مکارم اخلاق میں امام محمد باقر وامام جعفر صادق + سے روایت ہے کہ قوت حافظہ کے لئے ایک پاک صاف برتن پر زعفران کے ساتھ سورہ حمد، آیت الکرسی سورہ قدر، سورہ یٰسینٓ، واقعہ، حشر، ملک، توحید، فلق، اور الناس لکھے پھر اس کو آب زم زم، آب باراں یا پاک پانی سے دھو کر اس میں دو مثقال کندردس مثقال چینی اور دس مثقال شہد ملائے اس برتن کو رات کے وقت کھلے آسمان تلے رکھے اور اس پر لوہا رکھ دے پھر جب رات کا آخری حصہ آجائے تو دورکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید قرأت کرے نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس پانی کو پی لے یہ عمل حافظہ کے لئے بہتر اور مجرب ہے انشائ اللہ مزید بریں چھٹے باب کے آخر میں ہم بہت سی ایسی چیزوں کا ذکر کریں گے جو قوت حافظہ کا سبب بنتی ہیں ۔
(نماز برائے بخشش گناہاں :)
دو رکعت نماز بجا لائے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد ساٹھ مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھے جب نماز سے فارغ ہوگا تو اس کے سبھی گناہ بخشے جا چکے ہوں گے۔
(نماز دیگر :)
شیخ طوسیرحمهالله نے مصبا ح میں اعمال روز جمعہ کے ذیل میں ذکر کیا کہ عبد اللہ بن مسعود (رض) نے رسول خدا سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص روز جمعہ نماز عصر کے بعد دو رکعت نماز بجا لائے کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد، آیت الکرسی اور سورہ فلق پچیس مرتبہ پڑھے اور دوسری رکعت میں سورہ حمد، سورہ توحید اور سورہ قل اعوذ برب الناس پچیس مرتبہ پڑھے جب نماز سے فارغ ہو تو پچیس مرتبہ کہے:
لاَ حَوْلَ وَلاقُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ
نہیں کوئی طاقت وقوت مگر جو خدا سے ملتی ہے۔
پس حق تعالیٰ اسے خواب میں بہشت کی زیارت کرایگا اور وہ بہشت میں اپنا مکان بھی دیکھ لیگا۔
مؤ لف کہتے ہیں سید ابن طائوسرحمهالله نے جمال الاسبوع کی فصل ۳۳ میں نماز بخشش گناہان نقل کی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ نماز بڑی جلیل القدر اور عظیم الشان ہے جس کی معرفت اسرار الہی کے حامل کو حاصل ہو سکتی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس نماز کے حق میں سستی کرو اسکے خواہشمند حضرات کو مذکورہ کتاب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
(نماز وصیت) :
اس بارے میں رسول خدا نے وصیت فرمائی ہے اور یہ دو رکعت ہے جو مغرب و عشائ کے درمیان پڑھی جاتی ہے پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد تیرہ مرتبہ سورہ زلزال اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد پندرہ مرتبہ
سو رہ تو حید پڑھے اگر اس نماز کو اپنا معمول بنا یا جائے اور اسے روزانہ ادا کیا جائے تو پھر اس کے ثواب کوخدا کے سوا کوئی بھی شمار نہیں کر سکتا ۔
(نماز عفو:)
یہ دو رکعتی نماز ہے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد و سورہ قدر کے بعد پندرہ مرتبہ رب عفوک عفوک کہے پھر رکوع میں جا کر دس مرتبہ رب عفوک عفوک کہے رکوع سے سر اٹھا کر بھی دس مرتبہ یہی کہے سجدے میں جاکر دس مرتبہ، سجدے سے سر اٹھانے کے بعد دس مرتبہ دوسرے سجدے میں دس مرتبہ اور سجدے سے سر اٹھانے کے بعد دس مرتبہ یہی کہے پس دوسری رکعت کو بھی اسی طرح ادا کرے جیسا کے نماز جعفر طیارعليهالسلام پڑھی جاتی ہے۔
مؤلف کہتے ہیں نماز استغفار بھی مثل نماز عفو کے ہے اتنا فرق ہے کہ رب عفوک کی بجائے استغفرﷲ کہا جائے گا یہ نماز وسعت رزق کیلئے بھی مفید ہے انشائ اللہ ۔
(ایام ہفتہ کی نمازیں )
(ہفتہ کے دن کی نماز )
سید ابن طائوسرحمهالله نے امام حسن عسکری - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا میں نے اپنے آباو اجداد کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ جو شخص ہفتہ کے دن چار رکعت نماز ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد ،آیت الکرسی اور سورہ توحید کی تلاوت کرے تو اللہ تعالیٰ اسے انبیائ ،شہدائ اور صالحین کے درجے میں رکھے گا اور یہ لوگ کیا ہی اچھے ہمدم ہیں ۔
(اتوارکے دن کی نماز)
آپ ہی نے فرمایا جو شخص اتوار کے دن چار رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ ملک کی تلاوت کرے تو اللہ تعالیٰ بہشت میں اسے اسکا دل پسند محل عطا کر ے گا.
(پیر کے دن کی نماز)
آپ ہی نے فرمایاجو شخص پیر کے دن دس رکعت نماز پڑھے اور ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید پڑھے تو خدائے تعالیٰ قیامت کے دن اس کیلئے ایک نور مقرر فرمائے گا جو اس کے کھڑے ہونے کی جگہ کو روشن کر دے گا اور سبھی اہل محشر اس پر رشک کریں گے۔
(منگل کے دن کی نماز)
یہ بھی آپعليهالسلام ہی سے روایت ہوئی ہے کہ جو شخص منگل کے دن چھ رکعت نماز بجا لائے اور ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سور ہ آلعليهالسلام عمران کے آخری آیات امن رسول سے سورہ کے آخر تک اور پھر سورہ زلزال پڑھے تو رب کریم اسکے تمام گناہ معاف کر دیگا اور وہ گناہوں سے اس طرح دور ہوجائے گا جیسے شکم مادر سے پیدا ہوا تھا۔
(بدھ کے دن کی نماز)
آپعليهالسلام ہی نے فرمایا ہے جو شخص بدھ کے دن چار رکعت نماز ادا کرے تو رب العزت ہر گناہ پر اس کی توبہ قبول فرمائے گا اور بہشت میں ایک حور سے اس کی تزویج کر دے گا ۔
(جمعرات کے دن کی نماز )
آپعليهالسلام کا ارشاد ہے کہ جو شخص جمعرات کے دن دو رکعت نماز بجا لائے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد اور سورہ توحید دس مرتبہ پڑھے تو فرشتے اس سے کہیں گے کہ تمہاری جو بھی حاجت ہے بیان کرو کہ وہ پوری کی جائیگی۔
(جمعہ کے دن کی نماز )
آپعليهالسلام ہی کا فرمان ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن چار رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ حمد ،ملک اور حٰم سجدہ کی تلاوت کرے تو حق تعالیٰ اسے بہشت میں داخل کرے گا اس کے اہل خاندان کیلئے اس کی شفاعت قبول فرمائے گا اور اس کی قبر کو تنگی اور حشر کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھے گا راوی نے آنجنابعليهالسلام سے پوچھا کہ یہ نماز دن کے کس وقت بجا لائی جائے آپ نے فرمایا طلوع آفتاب سے زوال آفتاب تک کے درمیانی اوقات میں ادا کی جائے۔
(تیسرا باب )
اعضا کے دردوں، بیماریوں اور بخار دور کرنے کی دعائیں اور تعویذات
سید ابن طائوسرحمهالله نے مہج الدعوات میں سعید ابن ابو الفتح قمی الواسطی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا مجھے ایک شدید بیماری لا حق ہوگئی ہے جس کے علا ج سے حکیم و طبیب عاجز آچکے ہیں چنانچہ میرے والد مجھے شفا خانے لے گئے تو وہاں کے اطبائ کے علاوہ ایک ماہرنصرانی طبیب کو بھی بلوایا گیا سب نے میرے بارے خوب سوچ و بچار کیاور آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ اس بیماری کا علاج سوائے خدا کے کسی کے بس میں نہیں ہے یہ سن کر میں بہت ہی شکستہ دل اور غمگین ہوگیا اور میرے والد کی جو کتابیں میرے قریب پڑی تھیں ان میں سے اٹھا کر ایک کا مطالعہ کرنے لگ گیا اس اثنا میں ایک کتاب کی پشت پر تحریر دیکھی کہ امام جعفر صادق - نے حضرت رسول خدا سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جس شخص کو کوئی بیماری لاحق ہو تو وہ نماز فجر کے بعد چالیس مرتبہ پڑھے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، الْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ حَسْبُنَا ﷲ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے حمد ہے اللہ کے لئے جوجہانوں کا رب ہمیں اللہ کافی ہے وہ بہترین کار ساز ہے
تَبَارَکَ ﷲ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
با برکت ہے جو سب سے اچھا خالق ہے اور نہیں ہے طاقت وقوت مگر جو خدائے بلند وبزرگ سے ہے۔
اس دوران درد اور بیماری کی جگہ ہاتھ پھیرتا رہے پس خدا وند عالم اسے صحت عطا فرمائے گا اس پر میں نے صبح کا انتظار کیا صبح ہوئی تو فریضہ نماز بجالانے کے بعد چالیس مرتبہ یہ دعا پڑھی اور پڑھتے وقت بیماری کی جگہ ہاتھ پھیرتا رہا چنانچہ اللہ نے میری بیماری دور کر دی میں بیٹھا بیٹھا ڈر رہا تھا کہ وہ بیماری کہیں پھر سے نہ پلٹ آئے لیکن جب تین دن گزر گئے تو میں نے یہ ماجرا اپنے والد کو سنایا انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا اور پھر یہ ماجرا ایک طبیب سے بیان کیا کہ جو کافر ذمی تھا وہ میرے پاس آیا اور دیکھا کہ واقعی بیماری دور ہو چکی تھی اس پر اس نے اس وقت کلمہ شہادت زبان پر جاری کیا اور صحیح معنوں میں مسلمان ہو گیا مصباح میں شیخ کفعمیرحمهالله فرماتے ہیں کہ جب تمہیں کوئی بیماری لاحق ہو تو ہر فریضہ نماز کے بعد اپنا ہاتھ مقام سجدہ پر لگا کر دردو بیماری کی جگہ پر پھیرو اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھو ؛
یَا مَنْ کَبَسَ الْاَرْضَ عَلَی الْمائِ وَسَدَّ الْهَوائَ بِالسَّمائِ وَاخْتارَ
اے وہ خدا جس نے زمین کو پانی پرجمایا ہوا کو آسمان کے ساتھ روکا اور اپنی ذات کے لئے
لِنَفْسِهِ أَحْسَنَ الاسْمائ ِصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِی کَذا
اچھے اچھے نام پسند فرمائے تو رحمت فرما محمد پر اور آلعليهالسلام محمد اور میری یہ حاجت پوری کر
وَکَذا وَارْزُقْنِی وَعافِنِی مِنْ کَذا وَکَذا
اور مجھیاس بیماری سے صحت و سلامتی عطا فرما۔یہاں کذا کذا کی جگہ اپنی بیماری کا نام لے ۔
(دعا ئے عافیت) :
شیخ کفعمیرحمهالله نے مصباح المتہجد سے نقل کیا ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے درد سے چھٹکارا مل جائے تو وہ نماز تہجد کی ابتدائی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت کے دوسرے سجدے میں یہ دعا پڑھے:
یَا عَلِیُّ یَا عَظِیمُ، یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیمُ، یَا سَمِیعَ الدَّعَواتِ، یَا مُعْطِیَ الْخَیْراتِ صَلِّ
اے بلند، اے بزرگ، اے رحم والے ،اے مہربان، اے دعائیں سننے والے، اےبھلایاں عطا کرنے والے رحمت
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَعْطِنِی مِنْ خَیْرِ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ مَا أَنْتَ أَهْلُهُ وَاصْرِفْ عَنِّی مِنْ شَرِّ
فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آلعليهالسلام محمد پر اور مجھے دنیا وآخرت کی بھلائی عطا فرما جس کا تو اہل ہے مجھے دنیا و آخرت کے شر
الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ مَا أَنْتَ أَهْلُهُ وَأَذْهِبْ عَنِّی هذَا الْوَجَع
سے بچا جیسا کہ تو اس کا اہل ہے اور اس درد و بیماری کو مجھ سے دور کر دے ۔
اس مرحلے پر اپنے درد اور بیماری کا نام لے اور کہے :
فَ إنَّهُ قَدْ غاظَنِی وَأَحْزَنَنِی
کیونکہ وہ مجھے تکلیف دیتا ہے اور غمگین کرتا ہے۔
دعاکے پڑھنے میں آہ و زاری کرے کہ اس سے صحت حاصل ہونے میں جلدی ہوگی نیز کتاب عدۃ الداعی میں امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جب تمہیں کوئی درد و تکلیف ہو تو زیر آسمان آکر دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ دعا پڑھے۔
اَللّٰهُمَّ إنَّکَ عَیَّرْت أَقْواماً فِی کِتابِکَ فَقُلْتَ قُلِ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُمْ
اے معبود تو نے قرآن میں بعض قوموں کی سر زنش کی اور فرمایااے پیغمبران سے کہو کہ پکارو ان کو
مِنْ دُونِهِ فَلا یَمْلِکُونَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنْکُمْ وَلا تَحْوِیلاً فَیامَنْ لاَ یَمْلِک
جنہیں تم خدا کے علاوہ معبود سمجھتے ہو کہ وہ تم سے کوئی تکلیف دور نہیں کرسکتے نہ کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں
کَشْفَ ضُرِّیْ وَلَا تَحْوِیلَهُ عَنِّی أَحَدٌ غَیْرُهُ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
پس اے وہ جس کے علاوہ میری کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتا نہ میری حالت بدل سکتا ہے تو رحمت فرما محمد
وَّاٰلِهٰ وَاکْشِفْ ضُرِّی وَحَوِّلْهُ إلی مَنْ یَدْعُوَ مَعَکَ إلهاً آخَرَ
اور ا سکی آلعليهالسلام پر میری تکلیف دور کر اور اسے اس کی طرف منتقل کر دے جو تیرے ساتھ کسی اور کو معبود پکارتا
فَ إنِّی أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ غَیْرُک
ہے پس میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کو ئی معبود نہیں ۔
ایک اور رروایت میں ہے کہ جس مؤمن کو بیماری یا کوئی درد لاحق ہو تو درد کی جگہ ہاتھ پھیرتے ہوئے خلوص نیت سے کہے:
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفائٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ وَلاَ یَزِید الظَّالِمِینَ إلاَّ خَساراً شِفائٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ
اور ہم نے قرآن میں نازل کیا جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کو کچھ نہیں ملتا مگر نقصان و خسارہ۔تو اسے شفا حاصل ہوگی چاہے بیماری کوئی بھی ہو اس کیلئےمومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے کا حکم آچکا ہے۔
(دفع مرض کی ایک اوردعا )
ایک صاع (تین کلو) گندم لے اور پیٹھ کے بل چت لیٹ کر وہ گندم اپنے سینے پر ڈال لے اور کہے :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی إذا سَأَلَکَ بِهِ الْمُضْطَرُّ
اے معبود تجھ سے سوال کرتا ہوں بواسطہ تیرے اس نام کے جس کے ذریعے کو ئی پریشان حال سوال
کَشَفْتَ مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ وَمَکَّنْتَ لَهُ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْتَهُ خَلِیفَتَکَ عَلَی
کرے تو تو اس کی تکلیف دور کرتا ہے اسے زمین پر اقتدار دیتا ہے اور اسے اپنی مخلوق پر اپنا نائب بناتا ہے
خَلْقِکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی أهْلِ بَیْتِهِ وَأَنْ تُعافِیَنِی مِنْ عِلَّتِی
سوال کرتا ہوں تو رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی اہل بیتعليهالسلام پر اور مجھ کو اس بیماری سے صحت عطا فرما ۔
پھر اٹھ کر بیٹھ جائے اور اپنے ارد گرد سے گندم کے دانے اکھٹے کرے اور یہی دعا پڑھے اس گندم کے چار حصے کر کے چار مسکینوں کو دے اور یہی دعا پڑھے انشا ئ اللہ اس بیماری سے شفا یاب ہو جائے گا ۔
(ایک اور دعا :)
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب + سے منقول ہے کہ جسم کے جس حصے میں درد ہو ہاتھ رکھ کر یہ دعا تین مرتبہ پڑھو :
ﷲ ﷲ ﷲ رَبِّی حَقّاً لاَ أُشْرِکُ بِهِ شَیْئاً اَللّٰهُمَّ أَنْتَ لَها وَلِکُلِّ
اللہ اللہ اللہ میرا سچا رب ہے میں کسی کو اسکا شریک نہیں بناتا اے معبوداس درد اور ہر مصیبت میں تو
عَظِیمَةٍ فَفَرِّجْها عَنِّیْ
ہی حکیم ہے پس میرا یہ درد دور فرما ۔
نیز حضرت امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ درد کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر کہو بسم اللہ کہے پھر اس جگہ پر ہا تھ پھیرتے ہوئے سات مر تبہ کہو:
أَعُوذُ بِعِزَّةِ ﷲ وَأَعُوذُ بِقُدْرَةِ ﷲ وَأَعُوذُ بِجَلالِ ﷲ، وَأَعُوذُ
پناہ لیتا ہوں عزت خدا کی ، پناہ لیتا ہوں قدرت خدا کی ،پناہ لیتا ہوں جلال خدا کی، پناہ لیتا ہوں عظمت
بِعَظَمَةِ ﷲ، وَأَعُوذُ بِجَمْعِ ﷲ، وَأَعُوذُ بِرَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَأَعُوذُ بِأَسْمائِ
خدا کی اور پناہ لیتا ہوں ذات خدا کی ،پناہ لیتا ہوں حضرت رسول خدا کی اور پناہ لیتا ہوں اسماے الہی
ﷲ مِنْ شَرِّ مَا أَحْذَرُ وَمِنْ شَرِّ مَا أَخافُ عَلَی نَفْسِی
کی اس کے شر سے کہ جس سے اپنی جان کے لئے ڈرتا ہوں اور خوف کھاتا ہو ں ۔
ایک روایت ہے کہ جب کوئی بچہ بیمار ہو تو اس کی ماں گھر کی چھت پر جاکر سر سے چادراتار دے اور زیر آسمان بال بکھرا کر سر سجدے میں رکھ دے اور یہ دعا پڑھے
اَللّٰهُمَّ رَبِّ أَنْتَ أَعْطَیْتَنِیهِ وَأَنْتَ وَهَبْتَهُ لِی، اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ
اے معبود اے پالنے والے تونے ہی مجھے عطا کیا اور تو نے ہی مجھے یہ دیا تھا پس اے معبود اپنی اس بخشش
هِبَتَکَ الْیَوْمَ جَدِیدَةً إنَّکَ قادِرٌ مُقْتَدِرٌ
کو آج پھر تازہ کردے کہ تو ہی قدرت و اختیار والا ہے۔
اور پھر اس وقت تک سر سجدے سے نہ اٹھائے جب تک بچے کو آرام نہ ہو جائے۔
شیخ شہیدرحمهالله نے نقل فرمایا ہے کہ جسے کوئی شدید درد لاحق ہو جائے تو وہ ایک برتن میں کچھ گندم ڈال کر اپنے پاس رکھے اور پانی کا ایک جام پر چالیس مرتبہ سور ہ فاتحہ پڑھے پھر وہ پانی اپنے اوپر چھڑک لے بعد میں اپنے پاس رکھی ہوئی گندم کسی سائل کو دے اور اسے کہے کہ وہ اس کیلئے بیماری سے شفا یابی کی دعا کرے انشائ اللہ شفا حاصل ہوجاے گی اور معتبر اسناد کے ساتھ یہ بات ہم تک پہنچی ہے کہ اپنی بیماروں کا علاج صدقہ سے کرو ۔
نیز شیخ شہیدرحمهالله نے دفع مرض کے لئے یہ بھی نقل کیا ہے کہ انسان اپنا ہاتھ بیمار کے دایں بازو پر رکھے اور سات مرتبہ سورہ حمد کی تلاوت کرے اور پھر یہ د عا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ أَزِلْ عَنْهُ الْعِلَلَ وَالدَّائَ، وَأَعِدْهُ إلَی الصِّحَّةِ وَالشِّفائِ،
اے معبود اس سے بیماری اوراسباب دور کر دے اسے صحت اورشفا کی طرف لوٹا دے بہترین
وَأَمِدَّهُ بِحُسْنِ الْوِقایَةِ، وَرُدَّهُ إلی حُسْنِ الْعافِیَةِ وَاجْعَلْ
حفاظت سے اس کی مدد کر اور اسےاچھی حالت کی طرف پلٹا دے اس بیماری میں اسے جو تکلیف پہنچی ہے
مَا نالَهُ فِی مَرَضِهِ هذَا مادَّةً لِحَیاتِهِ وَکَفَّارَةً لِسَیِّئَاتِهِ اَللّٰهُمَّ وَصَلِّ
اس کو اس کی زندگی کا سبب اور اسکے گناہوں کا کفارہ بنا دے اےمعبود رحمت نازل فرما محمد اور آلعليهالسلام محمد
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
پر۔
اگر یہ دعا اسکے تندرست ہونے کے سلسلے میں کوئی اثر نہ دکھائے تو دوبارہ یہی عمل کرے لیکن اس دفعہ سورہ حمد ستر مرتبہ پڑھے انشا ئ اللہ دعا اثر کرے گی امام محمد باقر - سے روایت ہے کہ جس کو سورہ حمد اور سورہ توحید صحت یاب نہ کریں تو پھر کوئی چیز اس کو صحت یاب نہیں کر سکتی جب کہ یہ دو سورتیں ہر مرض وبیماری کو دور کرتی ہیں امام جعفر صادق - سے منقول ہے جس مؤمن کو کوئی درد یا بیماری لا حق ہو تو خلوص نیت کے ساتھ یہ دعا وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفائٌ وَرَحْمَۃٌ لِلْمُؤْمِنِینَ۔
اور جو نازل کیاگیا قرآن سے اور وہ مومنین کے لئے شفا و رحمت ہے ۔
پڑھے اور درد و بیماری کی جگہ ہاتھ پھیرے تو حق تعالیٰ اسے شفا عطا فرمائے گا۔
امام علی رضا - سے مروی ہے کہ ہر طرح کی درد و بیماری پر یہ دعا پڑھے:
یَا مُنْزِلَ الشِّفائِ وَمُذْهِبَ الدَّائِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَنْزِلْ عَلَی
اے شفا کے نازل کرنے والے اور بیماری کے دور کرنے والے رحمت فرما محمد اور ان کی آلعليهالسلام پر اور میرے
وَجَعِی الشِّفائَ
اس درد کی شفا ناز ل کر۔
سید ابن طائوسرحمهالله نے کتاب مہج میں ابن عباس(رض) سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا میں امیر المومنین- کے پاس بیٹھا تھا کہ اچانک وہاں ایک شخص آگیا کہ اس کا رنگ فق تھا اس نے عرض کیا اے امیر المومنین- میں ہمیشہ بیمار رہتا ہوں مجھے کئی بیماریاں لاحق ہیں لہذا مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم فرمائیں کہ جس سے میں اپنی بیماریوں کے مقابل مدد کر سکوں آنجنابعليهالسلام نے فرمایا کہ میں تجھے وہ دعا تعلیم کرتا ہوں جو جبرائیلعليهالسلام نے حسنینعليهالسلام کی بیماری کے وقت حضرت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بتائی تھی اور وہ دعا یہ ہے۔
إلهِی کُلَّما أَنْعَمْتَ عَلَیَّ نِعْمَةً قَلَّ لَکَ عِنْدَها شُکْرِی وَکُلَّمَا ابْتَلَیْتَنِی بِبَلِیَّةٍ قَلَّ لَکَ
اے معبود جو نعمتیں تو نے مجھے دی میں ان کے مقابل میرا شکر بہت ہی کم ہے اور جو سختیاں تو نے مجھ پر بھیجی ہیں
عِنْدَها صَبْرِی فَیا مَنْ قلَّ شُکْرِی عِنْدَ نِعَمِهِ فَلَمْ یَحْرِمْنِی وَیامَنْ قَلَّ صَبْرِی عِنْدَ بَلائِهِ
ان کے مقابل میرا صبر بہت کم ہے پس اے وہ کہ جس کی نعمتوں پر میرا شکر بہت کم ہے تو اس نے مجھے محروم نہیں کیا اے وہ جس کی سختی پر
فَلَمْ یَخْذُلْنِی وَیَا مَنْ رَآنِی عَلَی الْمَعَاصِی فَلَمْ یَفْضَحْنِی وَیَا مَنْ
میرا صبر بہت کم ہے تو اس نے مجھ چھوڑ نہیں دیا اے وہ جس نے مجھےگناہ میں دیکھا تو مجھے رسوا نہیں کیا
رَآنِی عَلَی الْخَطایَا فَلَمْ یُعاقِبْنِی عَلَیْها صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اور اے وہ جس نے مجھے خطا میں دیکھا تو اس نے مجھ کو سزا نہیں دی رحمت فرما محمد اور آلعليهالسلام محمد
مُحَمَّدٍ، وَاغْفِرْ لِی ذَنْبِی، وَاشْفِنِی مِنْ مَرَضِی إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
پر اور میرے گناہ بخش دے اور مجھے اس بیماری سے شفا بخش دے کیو نکہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتاہے۔
ابن عباس (رض) کہتے ہیں میں اس شخص کو ایک سال کے بعد دیکھا تو اس کا رنگ سرخ و سفید ہو چکا ہے وہ کہنے لگا میں نے اس دعا کو جس درد و بیماری پر پڑھا اس سے شفا یاب ہوگیا اور جس حاکم کے پاس گیا اس سے خائف تھا خدا نے مجھے اس کے شر سے بچا لیا منقول ہے کہ نجاشی کو اپنے آبا سے چار سو سال پرانی ایک ٹوپی ورثے میں ملی تھی کہ اسے جس درد و بیماری پر رکھی جاتی وہ درد و بیماری دور ہوجاتی جب اس ٹوپی کو ادھیڑا گیا کہ دیکھیں کہ اس میں کیا ہے تو دیکھا اس میں یہ لکھا ہوا تھا۔
بِسْمِ ﷲ الْمَلِکِ الْحَقِّ الْمُبِینِ شَهِدَ ﷲ أَنَّهُ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ وَالْمَلائِکَةُ
خدا کے نام سے جو حقیقی اور سچا بادشاہ ہے خدا گواہی دیتا ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر وہی ہے ملائکہ اورصاحبان علم
وَأُولُو الْعِلْمِ قائِماً بِالْقِسْطِ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ إنَّ
بھی یہی گواہی دیتے ہیں کہ وہ عدل قائم کیے ہوئے ہے نہیں کوئیمعبود مگر وہ کہ عزت و حکمت والا ہے بے
الدِّینَ عِنْدَ ﷲ الْاِسْلامُ لِلّٰهِِ نُورٌ وَحِکْمَةٌ وَحَوْلٌ وَقُوَّةٌ وَقُدْرَةٌ وَسُلْطانٌ
شک صرف خدا کا پسندیدہ دین اسلام ہے اللہ کیلئے ہے نور وحکمت طاقت و قوت قدرت و اقتدار اور
وَبُرْهانٌ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ آدَمُ صَفِیُّ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ إبْراهِیمُ خَلِیلُ
محکم دلیل نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے آدم - خدا کے چنے ہوئے ہیں نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے ابراہیم-
ﷲ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مُوسَی کَلِیمُ ﷲ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مُحَمَّدٌ
اس کے مخلص دوست ہیں نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے موسیٰ - اسکےکلیم ہیں .نہیںکوئی معبود سوائے اللہ
الْعَرَبِیُّ رَسُولُ ﷲ وَحَبِیبُهُ وَخِیَرَتُهُ مِنْ خَلْقِهِ اسْکُنْ یَا جَمِیعَ
کے .محمد عربی اللہ کے رسول ہیں اسکے حبیب اور اسکی مخلوق ہیں اسکے پسندیدہ ہیں ٹھہر جائوں اے
الْاَوْجاعِ وَالْاَسْقامِ وَالْاَمْراضِ وَجَمِیعَ الْعِلَلِ وَجَمِیعَ الْحُمَیَّاتِ سَکَّنْتُکَ
تمام دکھوں اور ددردوں تمام تکلیفوں اور تمام بیماریوں تمام علالتوں اور تمام بیماریوں کہ میں نے تمہیں ان کے
بِالَّذِی سَکَنَ لَهُ مَا فِی اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ وَصَلَّی ﷲ عَلَی خَیْرِ
نام سے روکا جس کے حکم سے رات دن میں ہر چیز ٹھہر جاتی ہے اور وہ سننے اور جاننے والا ہے اور خدا رحمت نازل کرے
خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِینَ
مخلوق میں بہتر محمد اور ان کی ساری آلعليهالسلام پر۔
مکارم اخلاق میں آیا ہے کہ نجاشی کو سر درد کی شکایت رہتی تھی اس نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں حضور کی خدمت اقدس میں عریضہ روانہ کیا تو حضور اکرم نے اسکو یہ حرز بھیجا اس نے اپنی ٹوپی میں رکھا تو اس کا سر درد جاتا رہا وہ حرز یہ ہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِینُ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والامہربان ہے نہیں کوئی معبود سواےاللہ کے جو حقیقی اور سچا بادشاہ ہے
شَهِدَ ﷲتا آخر آیتلِلّٰهِ نُورٌ وَحِکْمَةٌ وَعِزٌّ وَقُوَّةٌ وَبُرْهانٌ وَقُدْرَةٌ وَسُلْطانٌ وَرَحْمَةٌ یَا مَنْ لاَ یَنامُ
خدا گواہی دیتا ہے اللہ کیلئےنور وحکمت، عزت، قوت، دلیل،قدرت اور قتدار اور رحمت اے وہ جو سوتا نہیں نہیں کوئی معبود سواے
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ إبْراهِیمُ خَلِیلُ ﷲ، لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مُوسی کَلِیمُ ﷲ
اللہ کے ابراہیم اس کے سچے دوست ہیں نہیں کوئی معبود سواے اللہ کے موسیٰ -اس کے کلیم ہیں نہیں
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عِیسی رُوحُ ﷲ وَکَلِمَتُهُ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مُحَمَّدٌ
کوئی معبود سواے اللہ کے عیسیٰ اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں نہیں کوئی معبود سواے اللہ کے محمد خدا
رَسُول ﷲ وَصَفِیُّهُ وَصِفْوَتُهُ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
کے رسول اور اس کے پسندیدہ اور پسندیدہ ہیں خدا رحمت فرماے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر اور سلام اے درد
اسْکُنْ سَکَّنْتُکَ بِمَنْ یَسْکُنُ لَهُ مَا فِی السَّمَوٰاتِ وَالْاَرْضِ
ٹھہر جا میں ٹھیراتا ہوں اس کے نامسے جس کے ذریعے زمین وآسمان کی ہر چیز اس کے سامنے
وَبِمَنْ سَکَنَ لَهُ مَا فِی اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ
ٹھہری ہے اور جس سے رات دن میں ہر چیز اس کے سامنے ساکن ہے اور وہ سننے والاہے جاننے والا
فَسَخَّرْنا لَهُ الرِّیحَ تَجْرِی بِأَمْرِهِ رُخَائً حَیْثُ أَصابَ وَالشَّیاطِینَ
ہے پس ہم نے ہوا پر اسے اختیاردیاکہ اس کے حکم پر چلتی ہے جہاں وہ جاتا ہے اور شیطانوں کو بھی جو معمار
کُلَّ بَنَّائٍ وَغَوَّاصٍ أَلاَ إلَی ﷲ تَصِیرُ الاَُْمُورُ
بھی تھے اور غوطہ خور بھی آگاہ ہو کہ امور کی بازگشت خدا کیطرف ہے۔
(سر درد اور کان درد کا تعویذ:)
امام محمد باقر - سے مروی ہے کہ سر درد کو روکنے کیلئے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سات مرتبہ یہ دعا پڑھے :
أَعُوذُ بِالله الَّذِی سَکَنَ لَهُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا فِی السَّمَوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ
پناہ لیتا ہوں خدا کی جس کے حکم سے ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے جو خشکی و تری آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ سننے جاننے والا ہے
امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ کان کے درد کیلئے بھی یہی دعا سات مرتبہ پڑھی جائے نیز آپ سے منقول ہے کہ بہت پرانا پنیر لے کر اسے باریک پیس کر دودھ میں ملاے پھر آگ پر گرم اور نرم کرے پس جس کے کان میں درد ہو اسکے چند قطرے اس میں ٹپکائے ۔
(سر درد کا تعویذ:)
ایک برتن میں پانی لے اور اس پر یہ آیت پڑھے:
أَوَلَمْ یَرَ الَّذینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَوٰاتِ وَالاَْرْضَ کانَتا رَتْقاً فَفَتَقْنَاهُمَا
آیا کافروں نے نہیں دیکھا ہے کہ زمین و آسمان باہم جڑے ہوئے تھے تو ہم نے ایک دوسرے سے
وَجَعَلْنا مِنَ الْمائِ کُلَّ شَیْئٍ حَیٍّ أَفَلاَ یُؤْمِنُونَ
الگ کیا اور ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا کیا وہ اب بھی ایمان نہ لائیں گے۔
اور پھر وہ پانی پی لے روایت ہوئی ہے کہ جب بھی رسول اکرم کو کوئی درد یا تکلیف ہوتی تو آپ اپنے ہاتھ پھیلا کر سورہ فاتحہ و معوذتین پڑھتے اور پھر ہاتھوں کو اپنے چہرہ اقدس پر پھیر لیتے جس سے ساری تکلیفیں دور ہوجاتیں تھیں نیز سر درد دور کرنے کیلئے انسان سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہے:
إنَّ ﷲ یُمْسِکُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ أَنْ تَزُولا وَلَیِنْ زَالَتَا إنْ أَمْسَکَهُما مِنْ
یقینا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو روکے ہو ئے ہے کہ جگہ سے ہٹنے نہ پائیں اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے
أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إنَّهُ کانَ حَلِیماً غَفُوراً
علاوہ کوئی انہیں روک نہیں سکتا یقینا وہ برد بار اور بخشنے والا ہے۔
ربیع الابرار سے نقل کیا گیا ہے کہ مقام طرطوس میں مامون الرشید کو سر درد دشروع ہوگیا جس کاا س نے بہت علاج کیا مگر افاقہ نہ ہوا تب قیصر روم نے اس کیلئے ایک ٹوپی بھجوائی اور لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کو سر درد کا عارضہ ہے میں یہ ٹوپی بھیج رہا ہوں اسے سر پر پہنیئے درد جاتا رہے گا۔
مامون کو اندیشہ ہوا کہ کہیں اس ٹوپی میں زہر نہ رکھ دی گئی ہو لہذا حکم دیا کہ اسی لانے والے کے سر پر رکھا جائے اور جب دیکھا اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچی تو پھر وہ ٹوپی ایک ایسے شخص کے سر پر رکھی گئی جسکے سر میں درد تھا
چنانچہ اس کا درد دور ہوگیا اس کے بعد مامون نے وہ ٹوپی اپنے سر پر رکھی تو درد ٹھیک ہوگیا اس پر اسے تعجب ہوا اور اس نے وہ ٹوپی ادھیڑ کر دیکھی تو اس میں یہ لکھا ہوا پایا۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ کَمْ مِنْ نِعْمَةٍ لِلّٰهِِ فِی عِرْقٍ ساکِنٍ حمَ عَسَق لاَ یُصَدَّعُونَ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے اللہ کی کتنی ہی نعمتیں رگ میں رکی ہوئی ہیں حٰم عٓسٓق اس سے انہیں نہ سر
عَنْها وَلاَ یُنْزِفُونَ مِنْ کَلامِ الرَّحْمٰنِ خَمَدَتِ النِّیرَانُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ
درد ہوتا ہے نہ ان کا خون بہتا ہے خدا کے کلام سے جلتی ہوئی آگ ٹھنڈی ہوجاتی ہے نہیں کوئی حرکت
قُوَّةَ إلاَّ بِالله، وَجالَ نَفْعُ الدَّوَائِ فِیکَ کَما یَجُولُ مائُ الرَّبِیعِ فِی الْغُصْنِ
و قوت مگر خدا سے اور دوا کا نفع تمہارے اندر یوں جارہی ہے جیسے موسم بہار کی بارش کا پانی شاخوں میں۔
(درد شقیقہ کا تعویذ )
درد شقیقہ یا آدھے سر کے درد کیلئے درد کی جگہ پر ہاتھ رکھے اور تین مرتبہ یہ پڑھے:
یَا ظاهِراً مَوْجُوداً وَیَا باطِناً غَیْرَ مَفْقُودٍ ارْدُدْ عَلَی عَبْدِکَ الضَّعِیفِ أَیادِیَکَ الْجَمِیلَةَ عِنْدَهُ
اے ظاہر میں موجود جو باطن میں بھی ناپدید ہے اپنے ناتواں بندے کی طرف اپنی اچھی اچھی نعمتیں پلٹا دے اور اس سے ہر قسم
وَأَذْهِبْ عَنْهُ مَا بِهِ مِنْ أَذیً إنَّکَ رَحِیمٌ قَدِیرٌ
کی تکلیف اور اذیت دور کر دے یقینا تو مہربان ہے قدرت والا ۔
(بہرے پن کا تعویذ)
امام محمد باقر - فرماتے ہیں کہ بہرے پن کو دور کرنے کیلئے ہاتھ کو کان پر رکھے اورلَوْاَنْزَلْنٰا هَذَا الْقُرْآنَ عَلیٰ جَبَل تا آخر پڑھے جو سورہ حشر کی آیت ہے ۔
(منہ کے درد کا تعویذ)
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ منہ کا درد ختم کرنے کے لئے مقام درد پر ہاتھ رکھے
اور یہ دعا پڑھے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ بِسْمِ ﷲ الَّذِی لاَ یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ دائٌ أَعُوذُ بِکَلِماتِ ﷲ الَّتِی
خدا کے نام سے جو بڑارحم والا مہربان ہے خدا کے نام سے جس کے نام کے ہوتے ہوئے بیماری تکلیف نہیں دے سکتی پناہ لیتا ہوں خدا کے کلمات کے ساتھ جس کے
لاَ یَضُرُّ مَعَها شَیْئٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ أَسْأَلُکَ یَارَبِّ بِاسْمِکَ
ہوتے ہوئے کوئی چیز نقصان نہیں دے سکتی وہ پاک ہے پاک ہے پاک ہے سوال کرتا ہوں اے
الطَّاهِرِ الْمُقَدَّسِ الْمُبارَکِ الَّذِی مَنْ سَأَلَکَ بِهِ أَعْطَیْتَهُ وَمَنْ دَعَاکَ
پروردگار تیرے نام پر جو پاک سے پاکیزہ اور برکت والا ہے کہ جو اس کے ذریعے تجھ سے مانگے تو عطا
بِهِ أَجَبْتَهُ أَسْأَلُکَ یَا ﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
کرتا ہے جو تجھے اس کے ذریعے پکارے تو اس کی سنتا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں یا للہ یا اللہ یا اللہ یہ
النَّبِیِّ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَأَنْ تُعافِیَنِی مِمَّا أَجِدُ فِی فَمِی وَفِی رَأْسِی وَفِی
کہ تو رحمت نازل فرما اپنے نبی محمد اور ان کی اہلبیت پر اور یہ کہ تو مجھے بچا لے ان بیماریوں سے
سَمْعِی وَفِی بَصَرِی وَفِی بَطْنِی وَفَِی ظَهْرِی وَفِی یَدِی
جو میرے منہ میں ہیں میرے سر میں ہیں کان آنکھوں اور پیٹ میں اور کمر میں ہیں اور میرے ہاتھوں
وَفِی رِجْلی وَفِی جَوَارِحِی کُلِّها
پیروں اور میرے تمام اعضا میں ہیں ۔
انشا ئ اللہ شفا ملے گی۔
(دانتوں کے درد کا تعویذ )
امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ درد والے دانت پر ہاتھ رکھ کر سورہ حمد ،سورہ توحید اور سورہ قدر پڑھے اور کہے:
وَتَرَی الْجِبالَ تَحْسَبُها جامِدَةً وَهِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحابِ صُنْعَ ﷲ الَّذِی أَتْقَنَ کُلَّ
اور تو دیکھے گا پہاڑوں کا تو گمان کرے گا ٹھہرے ہیں جب کے یہ بادلوں کی طرح چل رہیں ہیں یہ خدا کام ہے جس نے ہر چیز کو محکم
شَیْئٍ إنَّهُ خَبِیرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ
بنایا ہے یقینا وہ باخبر ہے اس سے جو کچھ تم کر رہے ہو ۔
(ایک اور تعویذ: )
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب + سے مروی ہے کہ سجدے کی جگہ پر ہاتھ پھیر کر اسے درد والے دانت پر لگائے اور یہ پڑھے:
بِسْمِ ﷲ وَالشَّافِی ﷲ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
خدا کے نام کے ساتھ اور اللہ شفا دینے والا ہے اور نہیں کوئی طاقت و قوت مگر جو بلند و بزرگ خدا سے ہے۔
(دانتوں کے درد کا ایک مجرب تعویذ :)
دانتوں کے درد کے خاتمے کیلئے سور ہ حمد، سورہ فلق، سورہ الناس اور سورہ توحید اور ہر سورہ کے ساتھ۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے۔
پڑھے اور پھر یہ کہے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ وَلَهُ مَا سَکَنَ فِی اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَهُوَ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے اور اس کے لئے ہے جو رات اور دن میں ٹھہرا ہوا ہے اور وہ
السَّمِیعُ الْعَلِیمُ قُلْنا یَا نَارُ کُونِی بَرْداً وَسَلاماً عَلَی إبْرَاهِیمَ وَأَرادُوا
سننے جاننے والا ہے. آگ ابراہیمعليهالسلام کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا انہوں نے اسے فریب دینا چاہا تو
بِهِ کَیْداً فَجَعَلْناهُمُ الْاَخْسَرِینَ نُودِیَ أَنْ بُورِکَ مَنْ فِی النَّارِ
ہم نے ان کو زبوں حال کر دیا ندا ہوئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے اطراف میں
وَمَنْ حَوْلَها وَسُبْحانَ ﷲ رَبِّ الْعالَمِینَ
ہے اور پاک ہے اللہ جہانوں کا رب ہے ۔
اس کے بعد کہے:
اَللّٰهُمَّ یَا کافِیاً مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلاَ یَکْفِی مِنْکَ شَیْئٌ اکْفِ عَبْدَکَ
اے معبود اے جو ہر چیز کی نسبتکافی ہے اور کوئی چیز تیری نسبت کافی نہیں کفایت کر اپنے بندے
وَابْنَ أَمَتِکَ مِنْ شَرِّ مَا یَخافُ وَیَحْذَرُ وَمِنْ شَرِّ الْوَجَعِ الَّذِی یَشْکُوهُ إلَیْکَ
اور اپنی باندی کے بیٹے کی جس کےشر سے خوف کھاتا اورڈرتا ہےاور اس دردسے جس کی شکایت تجھ سے کر رہا ہے ۔
نیز روایت ہوئی ہے کہ چھری یا کھجور کا پیالہ لے کر اس جگہ پر پھیرے جہاں درد ہوتا ہو تا ہے اور سات مرتبہ کہے:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، بِسْمِ ﷲ وَبِالله مُحَمَّدٌ رَسُولُ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم ولا مہربان ہے خدا کے نام سے خدا کی ذات سے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں اور
ﷲ وَ إبْراهِیمُ خَلِیلُ ﷲ، اسْکُنْ بِالَّذِی سَکَنَ لَهُ مَا فِی اللَّیْلِ
ابراہیم خدا کے سچے دوست ہیں اے درد رک جا اس کے حکم سے جس کے اذن سے رات دن میں
وَالنَّهارِ بِ إذْنِهِ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
(ایک اور تعویذ )
روایت میں ہے کہ جس دانت میں درد ہو اس پر کوئی لکڑی یا لوہا رکھ کر سات مرتبہ کہے:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ الْعَجَبُ کُلُّ الْعَجَبِ دُودَةٌ تَکُونُ فِی الْفَمِ تَأْکُلُ الْعَظْمَ
خدا کے نام سے جوبڑا رحم والا مہربان ہے تعجب ہے بڑا ہی تعجب ہے کہ کیڑامنہ میںوہ کھائے ہڈی کو
وَتُنْزِلُ الدَّمَ أَنَا الرَّاقِی وَﷲ الشَّافِی وَالْکَافِی لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ
اور نکالے خون میں دعا کرتا ہوں اور اللہ شفا دیتا ہے اور کفایت کرتا ہے نہیں کوئی معبود مگر اللہ ہے حمد ہے
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَ إذْ قَتَلْتُمْ نَفْساً فَادَّارَأْتُمْ فِیها
اللہ کے لئے جو جہانوں کا رب ہے اور جب تم نے ایک انسان کو قتل کیا تو خون گردن میں چھو ڑ دیا شائد کہ
اس آیت کولَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ ۔ تک سات مرتبہ پڑھے
تم عقل سے کام لو ۔
(درد سینہ کا تعویذ :)
وارد ہواہے کہ اس کیلئے سورہ بقرہ کی یہ آیت
وَ إذْ قَتَلْتُمْ نَفْساً فَادَّارَأْتُمْ لَعَلَّکُمْ
اور جب تم نے ایک انسان کو قتل کیا تو خون گردن میں چھوڑ دیا شاید کہ
تَعْقِلُونَ تک پڑھے :
تم عقل سے کام لو
روایت ہوئی ہے کہ قرآن مجید سے شفا طلب کرو کہ خدا فرماتا ہے۔
فِیهِ شِفَاء لِمَا فِی الصُّدُورِ
اس میں شفا ہے اس کے لئے جو کچھ سینوں میں ہے۔
نیز کھانسی کیلئے ایک جامع دعا ہے جو یہ ہے ،
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَجَائِی وَأَنْتَ ثِقَتِی و عِمٰادِیْ
اے معبود تو ہی میری امید ہے اور تو ہی میرا بھروسا اور سہارا ہے ۔
یہ دعا طویل ہے پس خواہشمند مؤمنین بحار الانوار کتاب الدعا کی طرف رجوع فرمائیں ۔
(پیٹ درد کا تعویذ)
رسول خدا سے مروی ہے کہ پیٹ درد کیلئے گرم پانی میں چھید ڈال کر اس کا شربت بنا کر پئے اور سات مرتبہ سورہ حمد پڑھے نیز امیرالمومنین علی ابن ابی طالب + سے مروی ہے کہ پیٹ درد میں گرم پانی پئے اور کہے:
یَاﷲ یَاﷲ یَاﷲ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیمُ یَارَبَّ الْاَرْبابِ
یا اللہ ،یا اللہ، یااللہ، اے بہت رحم کرنے والے اے مہربان، اے پالنے والوں کے پالنے والے
یَا إلهَ اَلاَْلِهَةِ، یَا مَلِکَ الْمُلُوکِ یَا سَیِّدَ السَّادَةِ، اشْفِنِی
اے معبودوں کے معبود ،اے بادشاہوں کے بادشاہ اے سرداروں کے سردار مجھے شفا دے
بِشِفائِکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ وَسُقْمٍ فَ إنِّی عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدَیْکَ أَتَقَلَّبُ فِی قَبْضَتِکَ
اپنی شفا سے ہر بیماری اور تکلیف سے کیونکہ میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے دو بندوں کا بیٹا ہوں اور تیرے قبضے میں ادھر ادھر ہوتا ہوں
نیز پیٹ درد میں اس پر ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ کہے:
أَعُوذُ بِعِزَّةِ ﷲ وَجَلالِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ
پناہ لیتا ہوں خدا کی عزت و جلال کی اس درد سے جو مجھے لاحق ہے۔
پھر اپنا دایاں ہاتھ درد کی جگہ رکھ کر تین مرتبہ کہے:
بِسْمِ ﷲ
خدا کے نام سے۔
(درد قولنج کا تعویذ )
کسی تختی یا پتری پر سورہ حمد سورہ توحید سورہ فلق اور سورہ الناس لکھے اور ان کے نیچے یہ دعا تحریر کرے
أَعُوذُ بِوَجْهِ ﷲ الْعَظِیم وَبِعِزَّتِهِ الَّتِی لاَ تُرامُ وَبِقُدْرَتِهِ الَّتِی لاَ یَمْتَنِعُ
پناہ لیتا ہوں خدا بزرگ ذات اور عزت کی جس تک رسائی نہیں اور اس کی قدرت کی
مِنْها شَیْئٌ، مِنْ شَرِّ هذَا الْوَجَعِ وَمِنْ شَرِّ مَا فِیهِ
پناہ جسے کوئی چیز نہیں روکسکتی اس درد کی تنگی سے جو کچھ اس میں ہے اس کی ذیت سے اور جو
وَمِنْ شَرِّمَا أَجِدُ مِنْهُ
محسوس کررہا ہوں اس کی تکلیف سے
پھر اسے بارش کے پانی سے دھوئے اور اس دھون کو ناشتے کے وقت اور رات کو سوتے وقت پئے کہ انشا ئ اللہ بابرکت اور مفید ہو گا ۔
(پیٹ درد اور قولنج کا تعویذ :)
روایت میں آیا ہے ایک شخص حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بھائی کے پیٹ درد کی شکایت کی تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے فرمایا اپنے بھائی سے کہو کہ گرم پانی میں شہد کا شربت بنا کر پیئے وہ شخص چلا گیا اوردوسرے دن آنجنابصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا میں نے اسے وہ شربت پلایا ہے کوئی افاقہ نہیں ہوا حضرت نے فرمایا:
صَدَقَ ﷲ وَکَذَبَ بَطْنُ اَخِیْکَ
خدا نے سچ فرمایا اور تیرے بھائی کے شکم نے جھوٹ بولا
جاؤ اسے شہد کا شربت دواور سات مرتبہ سورہ حمد پڑھ کر پلائو جب وہ شخص چلا گیا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی المرتضی - سے فرمایا. یا علیعليهالسلام اس کا بھائی منافقوں میں سے ہے اس لئے اس شربت نے اسے فائدہ نہیں پہنچایا ۔
(دھدرکا تعویذ)
یہ عموما ہاتھ پر نکل آتے ہیں اس کیلئے روایت میں آیا ہے کہ ہر ایک دھدر کیلئے جو کے سات دانے لے اور ہر دانے پر سورہ واقعہ شروع سےهَبَائً مُنْبَثّاً تک اور
وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الْجِبالِ فَقُلْ یَنْسِفُها رَبِّی نَسْفاً فَیَذَرُها قَاعاً صَفْصَفاً
وہ تم سے پہاڑوں کے متعلق پوچھتے ہیں تو کہہ دو کہ میرا رب انہیں ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا اور زمین کو
لاَ تَری فِیهَا عِوَجاً وَلاَ أَمْتاً
ہموار بنا دے گا کہ نہ اس میں کجی ہوگی اور نہ اونچائی ۔
پھر جو کے ان دانوں میں ایک ایک اٹھائے اور دھدر پر لگائے اور انہیں ایک کپڑے میں اکٹھا کرتا جائے پھر ان کے ساتھ ایک پتھر باندھ کر ان کو کنویں میں ڈال دے بعض بزرگوں نے کہا ہے کہ یہ عمل چاند کی آخری تاریخوں میں کرے کہ جب چاند چھپا ہوتا ہے نیز یہ بھی منقول ہے کہ انسان نمک کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لے کر اس دھدر پر ملے اور سورہ حشر کی آیت لُوانزلنا ھٰذا القُرآن .تا آخر پڑھے اور پھر وہ نمک تنور میں ڈال دے انشا ئ اللہ دھدر جلد ختم ہوجائیں گے کتاب خزائن میں ہے کہ دھدر پر نورہ لگانا بھی اسے ختم کر دیتا ہے ۔
(بدن کے ورم اور سوجن کا تعویذ:)
روایت میں آیا ہے کہ جب بدن پر کہیں ورم آجائے فریضہ نماز کے لئے وضو کرنے کے بعد سورہ حشر کی آیت لُوانزلنا ھٰذا القُرآن تا آخر پڑھے اور پھر نماز کے بعد بھی اسے پڑھے اور اس پر خوب غور کرے انشائ اللہ ورم جاتا رہے گا۔
(وضع حمل میں آسانی کا تعویذ :)
چمڑے کے ایک ٹکڑے پر یہ آیات لکھے اور اس عورت کی دائیں ران پر باندھے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ، کَأَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوعَدُونَ لَمْ یَلْبَثُوا إلاَّ ساعَةً مِنْ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے جب یہ لوگ وعدہ شدہ قیامت دیکھیں گے وہ سمجھیں گے کہ یہاں دن کا کچھ حصہ رہے ہیں
نَهارٍ کَأَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَها لَمْ یَلْبَثُوا إلاَّ عَشِیَّةً أَوْ ضُحاها، إذْ قالَتِ امْرَأَةُ عِمْرانَ
جب وہ اس دن کو دیکھیں گے تو جانیں گے کہ یہاں ایک صبح یا شام رہے ہیں جب عمران کی زوجہ نے کہا کہ پروردگار ا میرے پیٹ میں
رَبِّ إنِّی نَذَرْتُ لَکَ مَا فِی بَطْنِی مُحَرَّراً فَتَقَبَّلْ مِنِّی إنَّکَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ
جو بچہ ہے میں اسے آزاد کر کےتیری نذر کرتی ہوں پس میری طرف سے قبول فرما کہ بے شک تو سننے والا ہے۔
جب بچہ پیدا ہو جائے تو یہ تعویذ اتار دے نیز یہ بھی مروی ہے کہ وضع حمل کے وقت اس عورت پر یہ آیات پڑھے:
فَأَجَاءَهَاالَمخاضُ إلی جِذْعِ النَّخْلَةِ رُطَباً جَنِیّاً
پس مریمعليهالسلام کو درد زہ کھجور کے تنے تک لے آیا تازہ خرمے ۔
تک اس کے بعد با آواز بلند یہ آیت پڑھے.وَﷲ أَخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهاتِکُمْ لاَ تَعْلَمُونَ شَیْئاً وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ
اور اللہ نے تمہیں تمہاری مائوں کے شکموں سے نکالا کہ اس وقت تم کچھ بھی نہ جانتے تھے اور اس نے تمہیں
وَالْاَبْصارَ وَالْاَفْئِدَةَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون﴾َ پھر کہےکَذَلِکَ اُخْرُجْ اَیُّهَا الْطَلْقُ اُخْرُجْ بِاِذْنِ ﷲ
کان دئیے آنکھیں عطا کیں اور دل عطا کیا تا کہ تم اس کا شکر ادا کرو اسی طرح پیٹ میں رہنے والے بچے تو حکم خدا سے باہر آجا ۔
اس ضمن میں حضرت امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ وضع حمل کی آسانی کے لئے چمڑے یا کا غذ پر یہ لکھے
اَللّٰهُمَّ فارِجَ الْهَمِّ وَکاشِفَ الْغَمِّ رَحْمٰنَ الدُّنْیا َوالاَْخِرَةِ
اے معبود اے رنج دور کرنے والے اے غم کو بر طرف کرنے والے اے دنیا اور آخرت میں بہت رحم
و رحیمهما ارحم فلانة بنت فلانة رَحْمَةً تُغْنِیها بِهَا عَنْ
کرنے والے مہربان رحم کرفلاں بنت فلاں پر رحمت کے ساتھ اسے اپنی رحمت سے
رَحْمَتِ جَمِیْعِ خَلْقِهِ تَفْرُجُ بِها کُرْبَتَها وَ تَکْشِفُ بِهَا غمُّهَا وَتُیَسِّرُ وِلادَتَها
تمام اپنی مخلوق سےبے نیاز کر دے اسکی تکلیف دور فرما اس کا غم مٹا دے ولادت کو آسان
وَقُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لاَ یُظْلَمُونَ وَقیل الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ
بنا دے اور ان میں بر حق فیصلہ ہو چکا ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا اور کہا گیا ہے کہ حمد خدا کے لئے ہے جو جہانوں کا رب ہے ۔
(جماع نہ کر سکنے والے کا تعویذ)
ایسے باندھے ہوئے شخص کوکھولنے کیلئے کسی کاغذ پر سورہ فتح کی پہلی دو آیات یعنی اِنَّا فتَحْنَا سے مُسْتَقِےْمًا تک اور، سورہ اذاجائ نصر ﷲ اور ذیل کی آیات لکھے:
وَمِنْ آیَاتِهِ أَنْ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِتَسْکُنُوا إلَیْهَا
اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہاری بیویاں بنائیں کہ ان سے
وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إنَّ فِی ذلِک لاََیَاتٍ لِقَوْمٍ َتتَفَکَّرُونَ ثُمَّ
سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان پیارو محبت پیدا کیا یقینا اس میں صاحبان عقل کے لئے نشانیاں
ادْخُلُوا عَلَیْهِمُ الْبَابَ فَ إذَا دَخَلْتُمُوهُ فَ إنَّکُمْ غَالِبُونَ فَفَتَحْنا أَبْوَابَ
ہیں پھر تم اس دروازے سے داخل ہونا تو جب اس میں سے دا خل ہو گے تو غالب آجائو گے پس ہم نے
السَّمَائِ بِمَائٍ مُنْهَمِرْ وَفَجَّرْنَاالْاَرْضَ عُیُوناً فَالْتَقَی الْمَائُ عَلَی أَمْرٍ
آسمان کے دروازے کھول دئیے زور کی بارش سے اور زمین پر چشمے جاری کیے ہیں تو پانی مقررہ حکم کے
قَدْ قُدِرَ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَیَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدَةً
مطابق باہم مل گیا میرا رب میرا سینہ کشادہ کر دے میرا معاملہ آسان بنا دے میری زبان کی
مِنْ لِسَانِی یَفْقَهُوا قَوْلِی وَتَرَکْنا بَعْضَهُمْ یَوْمَیِذٍ یَمُوجُ فِی بَعْضٍ
گرہیں کھول دے کہ وہ میری بات کوسمجھیں اس دن ہم ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں گے کہ باہم گڈ مڈ
وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَجَمَعْناهُمْ جَمْعاً کذٰلک حَلَلْتُ فُلَانْ بِن ْفُلاَن
ہوں اور صور پھو نکا جائے گا تو ہم سبھی کو اکٹھا کریں گے اس طرح میں نے فلاں بن فلاں کو بنت
عَنْ بِنْتِ فُلَانَة لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْهِ مَا
فلاں کے لئے کھول دیا ہے یقینا تمہارے پاس رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آچکے ہیں جو تم میں سے ہے اس پر شاق ہے کہ
عَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤمِنِینَ رَؤُوفٌ رَحِیمٌ فَ إنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ
تم تکلیف اٹھائو وہ تمہاری بھلائی چاہتا ہے مومنوں کے لئے شفیق اور مہر بان ہے اگر وہ منہ موڑیں تو کہو
حَسْبِیَ ﷲ لاَ إلهَ إلا هُوَا عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ
مجھے اللہ کافی ہے جس کے سوا کوئی َّ معبود نہیں مجھے اسی پر بھروسہ ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے ۔
پس یہ تعویذ اپنے پاس رکھے اور اپنی خواب گاہ کے اوپر لٹکائے فلاں بن فلاں کی جگہ مرد کا اور اس کے باپ کا نام لے اور بنت فلاں کی جگہ عورت کا اور اس کی ماں کا نام لے نیز طب الائمہ میں بھی حضرت امام موسیٰ کاظم - سے ایک دعا نقل ہوئی ہے جو آپعليهالسلام نے اسحاق صحاف کو تعلیم فرمائی تھی وہ دعا بہت طویل ہے لہذا ہم نے یہاں نقل نہیں کی ہے ۔
(بخار کا تعویذ:)
( ۱ )یہ وہ تعویذ ہے جو رسول اعظم نے حضرت علی -کو تعلیم فرمایا تھا اسے پڑھے :
اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ جِلْدِیَ الرَّقِیق وَعَظْمِیَ الدَّقِیقَ وَأَعُوذبِکَ
اے معبود رحم فرما میری نازک جلد پر اور میری کمزور ہڈیوں پر تیری پناہ
مِنْ فَوْرَةِ الْحَرِیقِ یَا أُمَّ مِلْدَمٍ إنْ کُنْت آمَنْتِ
لیتا ہوں تپش کے جوش سے اے بخار وتپ کی بیماری اگر تو خدا پر
بِالله فَلا تَأْکُلِی اللَّحْم وَلاَ تَشْرَبِی الدَّمَ وَلاَ
ایمان رکھتی ہے تو میرا گوشت نہ کھا میرا خون نہ پی اور نہ میرے منہ میں
تَفُورِی مِنَ الْفَمِ وَانْتَقِلِی إلی مَنْ یَزْعَمُ أَنَّ مَعَ ﷲ إلهاً آخَرَ فَ إنِّی أَشْهَدُ
جوش کر تو اس شخص کی طرف چلی جا جو سمجھتا ہے کہ خدا کے ساتھ کوئی معبود ہے کیونکہ میں گواہی دیتا ہوں
أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً
کہ نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اورگواہی دیتا ہوں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے
عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
بندے اوررسول ہیں۔
( ۲ )صبح شام دعا ئے نور پڑھتا رہے کہ جسے جناب سلمان فارسی (رض) نے حضرت زہرا = سے نقل کیا ہے اور وہ مفاتیح الجنان میں مذکور ہے انشائ اللہ بخار اور تپ جاتا رہے گا۔
( ۳ ) روایت میں آیا ہے کہ آئمہ بخار کا علاج ٹھنڈے پانی سے کیا کرتے تھے اور ایک کپڑا تر کر کے بدن پر لپیٹتے تھے۔
( ۴ ) امام علی رضا- کے خط سے معلوم ہوا ہے کہ بخار دور کرنے کے لئے کاغذ کے تین ٹکڑوں پر لکھے پہلے ٹکڑے پر یہ لکھے ۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ لاَ تَخَفْ إنَّکَ أَنْتَ الْاَعْلَی
خدا کے نام سے جو بڑا رحم ولا مہربان ہے ڈرو نہیں بے شک تمہیں بر تر ہو۔
دوسرے ٹکڑے پر لکھے:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ لاَ تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِین
خدا کے نام سے جو بڑا رحم ولا مہربان ہے ڈرو نہیں کہ ظالموں سے نجات پائو گے۔
تیسرے ٹکڑے پر لکھے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ أَلا لَهُ الْخَلْقُ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے آگاہ رہو کہ خلق و امر
وَالْاَمْرُ تَبارَکَ ﷲ رَبُّ الْعالَمِینَ
اسی کے لئے ہے بابرکت ہے خدا جو جہانوں کا رب ہے ۔
ان تین ٹکڑوں میں سے ہر ایک پر تین مرتبہ سورہ توحید پڑھ کر روزانہ ایک ٹکڑا نگل لیا کرے انشائ اللہ بخار دور ہو جائے گا۔
( ۵ )قمیض کے بٹن کھول کر سر اندر کر لے اور اذان اقامت کہے پھر سات مرتبہ سورہ حمد پڑھے تو انشائ اللہ بخار اتر جائے گا ۔
( ۶ )ایک روایت میں آیا ہے کہ چمڑے کے ٹکڑے پر یہ تعویذ لکھے اور بیمار کے گلے میں باندھے۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِعِزَّتِکَ وَقُدْرَتِک وَسُلْطانِک وَمَا أَحاطَ
اے معبود میں سوال کرتا ہوں تیری عزت و قدرت اور اقتدار کے واسطے اور جیسے
بِهِ عِلْمُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ لاَ تُسَلِّطَ
تیرا علم گھیرے ہوئے ہے یہ کہ تورحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور یہ کہ فلاں بن فلاں
عَلَی فُلان ابْنِ فُلان شَیْئاً مِمَّا خَلَقْتَ بِسُوئ وَارْحَمْ جِلْدَهُ
پر اپنی مخلوق سے کوئی چیز مسلط نہ کر جو کہ اسے تکلیف پہنچائے اور رحم کر
الرَّقِیقَ، وَعَظْمَهُ الدَّقِیقَ مِنْ فَوْرَةِ الْحَرِیقِ اخْرُجِی یَا أُمَّ
نازک جلد اور کمزورہڈیوں پرکہ بخار ان کو تپش نہ چڑھائےٹل جا اے بخار اے گوشت
مِلْدَمٍ یَا آکِلَةَ اللَّحْم وَشارِبَة الدم حَرُّ هَاوَبَرْدُها مِنْ جَهَنَّم الدَّمِحَرُّها
کھانے والے اور خون پینے والے جس کی سردی اور گرمی جہنم میں سے ہے
إنْ کُنْتِ آمَنْتِ بِالله الْاَعْظَمِ أَنْ لاَ تَأْکُلِی لِفُلان بْن فُلان لَحْماً
اے بیماری اگر تو ایمان رکھتی ہے عظیم تر اللہ پر تو فلاں بن فلاں کا گوشت نہ کھا
وَلاَ تَمُصِّی لَهُ دَماً وَلاَ تُنْهِکِی لَهُ عَظْماً وَلاَ تُثَوِّرِی عَلَیْهِ غَمّاً
اور اس کا خون نہ پی اور اس کی ہڈیاں کھوکھلی نہ کر اس کے لئے غم کے ساے نہ بڑھا
وَلاَ تُهَیِّجِی عَلَیْهِ صُداعاً وَانْتَقِلِی عَنْ شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ وَلَحْمِهِ
اور اس کو درد سے پریشان نہ کر تو چھوڑ جا اس کے بالوں کو جلد کو گوشت اور خون کو
وَدَمِهِ إلی مَنْ زَعَمَ اَنَّ مَعَ ﷲ إلهاً آخَرَ، لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ سُبْحانَهُ
اور اس کو پکڑلے جو یہ سمجھتا ہےکہ خدا کے ساتھ کوئی معبود ہے نہیں کوئی معبود سواے اس کے وہ پاک
وَتَعَالی عَمَّا یُشْرِکُونَ َیشْرِکُوْن
ہے بلند ہے اس سے جو اس کا شریک نہ بناتے ہوں ۔
اس کے بعد کسی کافر، خدا کے دشمن کانام لکھے۔
( ۷ )بخار کو دور کرنے لئے ذیل کے کلمات لکھے اور مریض کے دائیں بازوپر باندھے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ الْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے حمد ہے خدا کے لئے جو
الْعالَمِینَ تا آخر سور ہ
جہانوں کا رب ہے۔
بِسْمِ ﷲ وَبِالله أَعُوذُ بِکَلِماتِ ﷲ التَّامّاتِ کُلِّهَا الَّتِی لاَ یُجاوِزُهُنَّ
خدا کے نام اور ذات سے پنا ہ لیتا ہوں خدا کے تمام تر کامل اور مکمل کلمات کی جن سے کوئی نیک و بد
بَرٌّ وَلاَ فاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ الْهامَّةِ وَالسَّامَّةِ وَالْعامَّةِ
آگے نہیں بڑھ سکتا ان چیزوں کی شر سے جن کو اس نے پیدا اور ظاہر کیا ہر ڈسنے والے زہر والے بری نیت والے
وَاللاَّمَّةِ،وَمِنْ شَرِّ طَوَارِقِ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَمِنْ شَرِّ فُسَّاقِ الْعَرَبِ
ملامت کرنے والے کے شر سے اور رات دن میں ہونے والے حادثوں کے شر سے عرب
وَالْعَجَمِ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطانِ
و عجم کے بد کارلوگوں کے شر سے جنوں اور انسانوں میں بدکاروں کی شر سے شیطان
وَشِرْهِ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دابَّةٍ هُوَ آخِذٌ
اور اس کے جال کے شر ہر شر والے کی شر سے اور ہر زمین پر چلنے والے کے شر سے کہ ان سب کی
بِناصِیَتِها إنَّ رَبِّی عَلَی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ رَبَّنا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنا
مہار خدا کے ہاتھ میں ہے یقینا میرا رب صراط مستقیم پر قائم ہے اے ہمارے رب ہم نے تجھ پر بھروسہ
وَ إلَیْکَ أَنَبْنا وَ إلَیْکَ الْمَصِیرُ یَا نارُ کُونِی
کیا تیری طرف پلٹ آئے اور تیریہی طرف پلٹنا ہے اے آگ ابراہیمعليهالسلام
بَرْداً وَسَلاماً عَلَی إبْراهِیمَ، وَأَرادُوا بِهِ کَیْداً فَجَعَلْناهُمُ
کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا انہوں نے اس کے خلاف سازش کی اور ہم نے ان کو زبوں
الْاَخْسَرِینَ؛ بَرْداً وَسَلاماً عَلَی فُلانِ بْن فُلانَة رَبَّنا لاَ تُؤاخِذْنا
حال کر دیا ٹھنڈی اور آرام دہ بن جا فلاں ابن فلاں کے لئے اے ہمارے رب ہماری گرفت نہ کر اگر
إنْ نَسِینا أَوْ أَخْطَأْنَا تا آخر سورہ بقرہحَسبِیَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ
ہم بھول جائیں یاخطا کریں مجھے کافی ہے وہ اللہ کہ جس کے سوا
هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَکِیلاً وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَسَبِّحْ
کوئی معبود نہیں اسے اپنا سہارا بنائو اور اس زندہ پر بھروسہ کرو جس کو موت نہیں آئے گی حمد کے ساتھ
بِحَمْدِهِ وَکَفی بِهِ بِذُنُوبِ عِبادِهِ خَبِیراً بَصِیراً، لاَ إلهَ إلاَّ
اس کی تسبیح کرو کہ وہ کافی ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو جانتا ہے اور بوجھتا ہے نہیں کوئی معبود
ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ
سواے اللہ کے وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اس نے سچا وعدہ کیا اپنے بندے کی مدد فرمائی اور
الْاَحْزَابَ وَحْدهُ مَا شائَ ﷲ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله کَتَبَ ﷲ
گروہوں کو شکست دی وہ یکتا ہے جو خدا چاہے وہ ہوتا ہے نہیں کوئی قوت مگر خدا سے خدا نے لکھ دیا ہے
لاَََغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی إنَّ ﷲ قَوِیٌّ عَزِیزٌ، إنَّ حِزْبَ ﷲ هُمُ
کہ میں اور میرے رسول ضرورغالب ہوں گے بے شک اللہ قوت و عزت والا ہے بے شک خدا کا
الْغالِبُونَ وَمَنْ یَعْتَصِمْ بِالله فَقَدْ هُدِیَ إلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ
گروہ ہی غالب اور بھاری ہے اور جو خدا سے وابستہ ہو جائے اسے سیدھے راستے کی ہدایت نصیب
وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ
ہوجاتی ہے اور خدا درود بھیجے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر جو پاک اور پاکیزہ افراد ہیں۔
( ۸ ) مصری کی تین ڈلیاں لے کر ان پر ذیل کے کلمات لکھے اور روزانہ ایک ڈلی کھائے تو بخار سے شفا ہو جائے گی پہلی ڈلی پر لکھے
عَقَدْتُ بِ إذْنِ ﷲ
میں نے خدا کے حکم سے باندھ دیا ۔
دوسری پر لکھے :شَدَدْتُ بِ إذْنِ ﷲ ۔ اور تیسری ڈلی پر لکھے کہسَکَنْتُ بِ إذْنِ ﷲ ۔
خدا کے حکم سے پختہ تر کر دیا۔میں نے خدا کے حکم سے روک دیا ۔
(پیچش دور کرنے کی دعا:)
مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت امام موسیٰ کاظم - کی خدمت میں پیچش کی شکایت کی اور کہا کہ یہ رکنے نہیں پاتی آپعليهالسلام نے فرمایا جب نماز تہجد سے فارغ ہو جائو تو یہ دعا پڑھو:
اللَّهُمَّ مَا کانَ مِنْ خَیْرٍ فَمِنْک لاَ حَمْدَ لِی ُفِیهِ، وَمَا عَمِلْت مِنْ
اے معبود جو اچھائی ہے تیری طرف سے ہے اس میں میری کوئی خوبی نہیں اور جو برائی مجھ سے سر زد ہوتی
سُوئٍ فَقَدْ حَذَّرْتَنِیهِ لاَ عُذْرَ لِی فِیهِ اللَّهُمَّ
ہے تو نے پہلے مجھے اس سے ڈرایا ہے اس کے لئے میں کوئی عذ ر نہیں رکھتا اے معبود
إنِّی أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَتَّکِلَ عَلَی مَا لاَ حَمْدَ لِی فِیهِ، أَوْ آمَن
میں بیشک تیری پناہ لیتا ہوں کہ اس بات پر بھروسہ کروں جو میرے لئے وجہ تعریف نہیں ہے یا اس پر مطمئن
مِمَّا لاَ عُذْرَ لِی فِیهِ
رہوں جس کے لئے میں کوئی عذر نہیں رکھت
(پیٹ کی ہوا کیلئے دعا:)
روایت ہوئی ہے کہ ایک شخص نے امام موسیٰ کاظم - کے حضور شکایت کی کہ اس کے پیٹ میں سے ہوا کے حرکت کرنے کی آواز رہتی ہے مجھے لوگوں کے ساتھ بات کرتے وقت شرم آتی ہے کیونکہ ہوا میرے پیٹ سے خارج ہوتی ہے اور لوگ اسے سنتے ہیں آپعليهالسلام میرے لئے ہوا کی اس تکلیف کے دور کرنے کی دعا تعلیم فرمائیں امام موسیٰ کاظم - نے فرمایا جب نماز تہجد پڑھ چکو تو یہ کہو:
اللَّهُمَّ مَا عَمِلْتُ مِنْ خَیْرٍ فَهُوَ مِنْکَ لاَ حَمْدَ لِی
اے معبود میں جواچھائی کرتا ہوں وہ تیری طرف سے ہے اس میں میری کوئی خوبی نہیں۔
دعا کے آخر تک جو اوپر نقل ہوئی ہے نیز امام جعفر صادق - سے بھی اس بارے میں منقول ہے کہ ہر مل کو شہد میں ملا کر کھائے ۔
(برص کے لئے دعا)
یونس کا بیان ہے کہ میری آنکھوں کے درمیان برص کی سفیدی ظاہر ہوئی تو میں نے اس کی شکایت امام جعفر صادق - سے کی تو آپ نے فرمایا وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھو اور پھر کہو:
یَا ﷲ یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ، یَا سَمِیعَ الدَّعَواتِ، یَا مُعْطِیَ
اے اللہ اے بڑے رحم والے مہر بان اے دعائوں کے سننے والے اے بھلایاں عطا کرنے والے
الدُّنْیا وَخَیْرَ الاَْخِرَةِ وَقِنِی شَرَّ الدُّنْیا وَشَرَّ الاَْخِرَةِ وَأَذْهِبْ عَنِّی
مجھے دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور مجھے دنیا وآخرت کے شر و برائی سے بچا لے میری وہ بیماری
مَا أَجِدُ فَقَدْ غاظَنِی الْاَمْرُ وَأَحْزَنَنِی
دور کر جسے محسوس کرتا ہوں اس نے میرا کام خراب کیا اور غم لگا دیا۔
یونس کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا اور خدا تعالیٰ نے مجھ سے برص کی بیماری دور کر دی الحمد للہ کتاب عدۃ الداعی میں روایت ہے کہ امامعليهالسلام نے اس سے فرمایا جب رات کا تیسرا حصہ آجائے تو اٹھ کر وضو کرو اور نماز تہجد بجا لائو تو پہلی رکعت کے دوسرے سجدے میں کہو ۔
یَا عَلِیُّ یَا عَظِیمُ، یَا رَحْمنُ یَا رَحِیمُ، یَا سَامِعَ الدَّعَوَات یا معطی الخیرات ِ
اے بلند اے بزرگ اے بڑے رحم والے اے مہربان اے دعا ئوں کے سننے والے اے
اَللّٰهُمَّ صلیعَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍوَأَعْطِنِی مِنْ خَیْرِ الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ مَا أَنْتَ أَهْلُهُ
بھلایاں عطا کرنے والے رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور مجھ کو دنیا وآخرت کی بھلائی عطا کر جیسی کہ
وَاصْرِفْ عَنِّی مِنْ شَر الدُّنْیَا وَالاَْخِرَةِ مَا أَنْت أَهْلُهُ، وَأَذْهِبْ عَنِّی
تیری شان ہے مجھ سے دنیا و آخرت کی شر و برائی دور رکھ جیسے تیری شان کے لائق ہے اور میری
هذَا الْوَجَعَ فَ إنَّهُ قَدْ غَاظَنِی وَأَحْزَنَنِی
یہ تکلیف دور کر دے کہ اس نے مجھے غم زدہ بنا رکھا ہے ۔
اور دعا پڑھتے ہوئے خوب گڑ گڑائو یونس کہتے ہیں کہ میں نے امامعليهالسلام کے فرمان کے مطابق عمل کیا تو ابھی کوفہ نہیں پہنچ پایا تھا کہ شفا یاب ہو گیا نیز برص کے لئے یہ بھی وارد ہوا ہے کہ کسی برتن پر شہد سے سورہ یٰسین لکھے اور اسے دھو کر پیے جیسا کہ بواسیر کے لئے بھی یہی وارد ہوا ہے اسی طرح تربت امام حسین- (خاک شفا ) کو بارش کے پانی میں گھول کر پینا بھی برص کے لئے مفید بتا یا گیا ہے نیز مہندی میں نورہ ملا کر ملنا بھی مروی ہے ۔
(بادی وخونی خارش اور پھوڑوں کا تعویذ)
خشک خارش اور خونی خارش (داد) اور پھوڑوں وغیرہ سے متعلق روایت ہے کہ مریض پر یہ دعا پڑھی جائے اور لکھ کر اسکے گلے میں ڈال دی جائے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ وَمَثَلُ کَلِمَةٍ خَبِیثَةٍ کَشَجَرَة خَبِیثَةٍ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے اور کلمہ خبیثہ کی مثال شجرہ خبیثہ جیسی ہے کہ جس کی جڑ زمین
اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْض مَالَهَا مِنْ قَرَارٍمِنْهَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیهَا نُعِیدُکُم
کے اوپر ہوتی ہے اور اس لئے وہ ِ محکم اور بر قرار نہیں ہے ہم نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی
وَمِنْها نُخْرِجُکُمْ تَارَةً أُخْریٰ ﷲ أَکْبَرُ وَأَنْتَ لاَ تُکَبَّرُ ﷲ یَبْقَی وَأَنْتَ
میں پلٹایں گے اور اسی میں سے دوبارہ تمہیں نکالیں گے اللہ بزرگ تر ہے اور تو بڑائی والی نہیں خدا باقی
لاَتَبْقَیٰ وَﷲ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قدِیرٌ
رہے گا اور تو باقی رہنے والی نہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
(شرمگاہ کے درد کی دعا)
روایت ہوئی ہے کہ آئمہعليهالسلام کے ایک صحابی کے بدن میں ایسی جگہ درد لا حق ہوا کہ جس کا ذکر مناسب نہیں ہوتا اس نے امام جعفر صادق - کی خدمت اقدس میں اسکی شکایت کی تو آپعليهالسلام نے اسے یہ تعویذ تعلیم فرمایا اور ہدایت کی کہ اپنا بایاں ہاتھ اس جگہ پر رکھو اور یہ کہو:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله بَلیٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلّٰهِِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَه
خدا کے نام اور اس کی ذات سے ہاں جو شخص خدا کی طرف جھک جائے اور نیکو کار بھی ہو تو اس کا اجر
أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَ هُمْ یَحْزَنُونَ اللَّهُمَّ إنِّی
اس کے رب کے پاس ہے ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ غمگین ہونگے اے معبود میں اپنا سر تیرے
أَسْلَمْتُ وَجْهِی إلَیْکَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِی إلَیْکَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَی مِنْکَ إلاَّ إلَیْکَ
آگے جھکا چکا ہوں اپنے معاملے تیرے سپرد کیے ہوئے ہوں تیرے بغیر کوئی جائے پناہ اور مقام نجات نہیں۔
اس کو تین مرتبہ کہے انشائ اللہ عافیت پائے گا
(پائوں کے درد کا تعویذ:)
طب الائمہ میں نقل ہوا ہے کہ جابر جعفی نے امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا میں امام حسین- کی خدمت میں حاضر تھا کہ ان کے پیرو کاروں میں سے بنی امیہ کا ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ اے فرزند رسول میں پائوں کے درد کی وجہ سے آپ کے حضور حاضر نہیں ہو سکتا حضرت نے فرمایا کیو ں تم امام حسن- کے تعویذ سے غافل ہو اس نے کہا فرزند رسول وہ تعویذکیاہے آپعليهالسلام نے فرمایااِنَّا فَتَحَّنَا لَکَ فَتْحاً مُبِيْنَا سے لے کر و کَانَ ﷲعَزِےْزَا حَکِیْمَا تک پڑھو جس طرح حضرتعليهالسلام نے فرمایا تھا اس نے عمل کیا اور اس کا پائوں کا درد جاتا رہا ۔
(گھٹنے کا درد:
گھٹنے کے درد کے لئے وارد ہوا ہے کہ جب نماز پڑھ چکے تو کہے۔
یاأَجْوَدَ مَنْ أَعْطَیٰ، یَا خَیْرَ مَنْ سُئِلَ، وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ
اے ہر دینے والے سے زیادہ سخی اے بہترین ذات جس سے مانگا جاتا ہے اے بہت رحم والے جس
ارْحَمْ ضَعْفِی وَقِلَّةَ حِیلَتِی، وَأَعْفِنِ مِنْ وَجَعِی
سے رحم مانگا جاتا ہے رحم کر میری کمزوری اور بے بسی پر اور مجھے اس درد سے عافیت دے ۔
(پنڈلی کا درد :)
اس درد کے لئے وارد ہے کہ سات مرتبہ یہ آیت پڑھے :
وَاتْلُ مَا أُوحِیَ إلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِهِ وَلَنْ
اور تلاوت کرو اس کی جو تمہارے رب کی کتاب سے تم پر وحی کی گئی اے اس کے کلمات کو بدلنے والا کوئینہ
تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَداً
اسکے بغیر کسی کو اپنا پشت پناہ پائو گے ۔
(آنکھ کا درد:)
بہت سی روایات میں ہے کہ آنکھ کا درد ختم کرنے کے لئے فجر اور مغرب کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
اللَّهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ ُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْکَ أَنْ
اے معبود میں سوال کرتا ہوں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمد کے اس حق کے واسطے سے
تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآل مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَجْعَلَ ا لنُّورَفِی بَصَرِی وَالْبَصِیرَةَ فِی
جو تجھ پر ہے کہ تو رحمت فرما ئے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور یہ کہ میری آنکھوں میں روشنی قرار دے میرے دین
دِینِی وَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی وَالْاِخْلاصَ فِی عَمَلِی وَالسَّلامَةَ فِی نَفْسِی
میں سمجھ عطا کر میرے دل میں یقین پیدا فرما عمل میں خلوص دے میرے دل کو مطمئن رکھ میرے
وَالسَّعَةَ فِی رِزْقِی وَالشُّکْرَ لَکَ أَبَداً مَا أَبْقَیْتَنِی
رزق میں کشادگی دے اور جب تک زندہ ہوں مجھے اپناشکر گزار بنائے رکھ۔
نیز بزنطی نے یونس بن ظبیان سے روایت کی ہے کہ ہم امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپعليهالسلام کی آنکھوں میں شدید درد تھا یہ حالت دیکھ کر ہم بہت افسردہ ہوئے مگر دوسرے روز جب ہم آپعليهالسلام کے پاس آئے تو دیکھا آنکھیں بالکل ٹھیک ہوچکی ہیں ہم نے عرض کی ہم آپعليهالسلام پر قربان ہوجائیں آپعليهالسلام نے کس چیز سے آنکھوں کا علاج کیا ہے فرمایا ہم نے معالجے کی چیزوں میں سے ایک چیز سے علاج کیا ہے ہم نے پو چھا کہ وہ کیا ہے فرمایا کہ وہ ایک تعویذ تھا جسے ہم نے لکھا اور وہ یہ ہے ۔
أَعُوذُ بِعِزَّةِ ﷲ،وَأَعُوذ بِقُوَّةِ ﷲ وَأَعُوذُ بِقُدْرَةِ
پنا ہ لیتا ہوں خدا کی عزت کی پناہ لیتا ُ ہوں خدا کی قوت کی پناہ لیتا ہوں
ﷲ، وَأَعُوذُ بِنُورِ ﷲ وَأَعُوذُ بِعَظَمَةِ ﷲ وَأَعُوذُ بِجَلالِ ﷲ
خدا کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں خدا کے نور کی پناہ لیتا ہوں خدا کی بزرگی کی خدا کے دبدبے کی پناہ لیتا ہوں
وَأَعُوذُ بِجَمالِ ﷲ وَأَعُوذُ بِبَهائِ ﷲ وَأَعُوذُ بِجَمْعِ ﷲ
خدا کی زیبائی کی پناہ لیتا ہوں خدا کی تابانی کی اور پناہ لیتا ہوں خدا کے سب کچھ کی ۔
ہم نے پوچھا کہ خدا کا سب کچھ کیا ہے آپعليهالسلام نے فرمایا ،
بِکُلِّ ﷲ وَأَعُوذُ بِعَفْوِ ﷲ، وَأَعُوذُ بِغُفْرَانِ ﷲ، وَأَعُوذُ بِرَسُولِ
اللہ کی ہرچیز کے ساتھ پناہ لیتا ہوں خدا کے در گزر کی پناہ لیتا ہوں خدا کی بخشش کی پناہ لیتا ہوں خدا رسول
ﷲ وَأَعُوذُ بِآلاَءِمَّةِ
کی پناہ لیتا ہوں اور آئمہ کہ پناہ لیتا ہوں
یہاں پر ہر امام کا نام لیا اور پھر فرمایا.
عَلَی مَا تَشَائُ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ، اللَّهُمَّ رَبَّ الْمُطِیعِینَ
اس پر کہ جو تکلیف محسوس کرتا ہوں پناہ لیتا ہوں اے معبود اطاعت گزاروں کے رب کی ۔
علاوہ ازیں آنکھ کے درد کیلئے یہ بھی وارد ہوا ہے کہ آنکھ پر آیت الکرسی پڑھے اور دل میں اس بات کا یقین رکھے کہ دور ہو جائیگا اگر آیت الکرسی پڑھنے سے پہلے آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھے تو بھی صحیح ہے ۔
أُعِیذُ نُورَ بَصَرِی بِنُورِ ﷲ الَّذِی لاَ یُطْفَأ
میں اپنی آنکھوں کے نور کو خدا کے نور کی پناہ میں دیتا ہوں جو بجھتا نہیں ۔
اور یہ نظر کی کمزوری کے لئے بھی فائدہ مند ہے نیز نظر کی کمزوری اور توندھے کو دور کرنے کے لئے آیت نور متعدد بار کسی برتن پر لکھ کر دھوئے اور اس پانی کو کسی شیشی میں ڈال کر پھر اس کو سلائی سے آنکھوں میں لگاتا رہے نیز روایت میں ہے کہ جو شخص قرآن دیکھ کر (ناظرہ) پڑھے تو اس کی آنکھوں کو اس سے فائدہ پہنچے گا اور نظر ٹھیک رہے گی اور جو شخص روزانہ ۔
فَجَعَلْنَاهُ سَمِیْعاً بَصِيْراً
پس ہم نے اسے سننے دیکھنے والا بنایا
کہے تو اس کی آنکھیں ہر آفت سے محفوظ رہیں گی شیخ کفعمیرحمهالله فرماتے ہیں کہ اس بات کا تجربہ اور آزمائش کی جاچکی ہے کہ آنکھ کے درد اور جسم کے تمام اعضا کے دروں کیلئے امام موسیٰ کاظم - سے توسل کیا جائے ۔
(نکسیر کا پھوٹنا:)
اگر کسی کے نکسیر پھوٹ پڑے اور رکنے میں نہ آئے تو اپنے سر اور پیشانی پر برف کا پانی ڈالے ۔
(جادو کے توڑ کا تعویذ :))
حضرت امیر المومنین علیعليهالسلام ابن ابی طالب + سے مروی ہے کہ جادو کا توڑ کرنے کے لئے یہ تعویذ ہرن کی کھال پر لکھ کر اپنے پاس رکھے ۔
بِسْمِ ﷲ وَبِالله بِسْمِ ﷲ وَمَا شائَ ﷲ، بِسْمِ ﷲ وَلاَ
خدا کے نام سے اور خدا کی ذات سے خدا کے نام سے اور جو خدا چاہے اور خدا کے نام سے اور نہیں
حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله قالَ مُوسی مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ إنَّ ﷲ سَیُبْطِلُهُ إنَّ ﷲ لا یُصْلِحُ عَمَلَ
طاقت وقوت مگر جو خدا سے ہے موسیٰعليهالسلام نے کہا تم جو جادو لے کر آئے ہو یقینا خدا اس کو باطل کر دے گا بے شک خدا فساد کرنے والوں کا
الْمُفْسِدِینَ، فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا کانُوا یَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِک وَانْقَلَبُوا صَاغِرِینَ
بھلا نہیں کرتا پس حق غالب آیا اور جو کچھ انہوں نے کیا برباد ہوگیا تو وہیں شکست کھا گئے اور ذلیل ہو کر واپس چلے گئے ۔
نیز شیطانوں اور جادوگروں کے دفعیہ کے ضمن میں حضرت رسول خدا سے مروی ہے کہ آیت سخرہ پڑھے اور وہ یہ ہے۔
إنَّ رَبَّکُمُ ﷲ الَّذِی خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ فِی سِتَّةِ
بے شک تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پھر وہ عرش کی طرف
أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّهارَ یَطْلُبُهُ حَثِیثاً
متوجہ ہوگیا وہ رات کو دن کا لباس پہناتا ہے جسے وہ جلدی میں ڈھونڈتی ہے اور سورج چاند
والشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مَسَخَّراتٍ بِأَمْرِهِ أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبَارَکَ
ستاروں کو پیدا کیا جو اس کے حکم کے تابع ہیں آگاہ رہوں خلق وامر اسی کے ہاتھ میں ہے بابرکت ہے
ﷲ رَبُّ الْعَالَمِینَ أُدْعُوا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَةً إنَّهُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ
اللہ جو جہانوں کا رب ہے پکارو اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو
وَلاَ تُفْسِدُوا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ إصْلاحِها وَادْعُوهُ خَوْفاً
پسند نہیں کرتا اور زمین میں فسادنہ پھیلائو جب اس کی اصلاح ہوچکی اور خدا کو خوف و طمع کے ساتھ پکارو
وَطَمَعاً إنَّ رَحْمَةَ ﷲ قَرِیبٌ مِنَ الْمُحْسِنِینَ
بیشک خدا رحمت نیکو کاروں کے قریب تر ہے۔
بعض روایات میں ہے کہ اسے َتبَارَکَ ﷲ رَبُّ الْعَالَمِیْن ۔
بابرکت ہے اللہ جو جہانوں کا رب ہے
تک پڑھے حضرت رسول خدا سے منقول ہے کہ ہرمل کے ایک پتے اور ایک ایک دانے کے ساتھایک ملک مؤکل ہوتا ہے اور یہ اس پودے کے ختم ہونے تک اس کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کی جڑیں اور شاخیں غم اور جادو کو دور کرتیں ہیں اور اس کا دانہ ستر بیماریوں سے شفا کا موجب ہے لہذا تم لوگ ہرمل اور کندر جوایک قسم کی گوندھے اس کے ساتھ اپنا علاج کرو.
(مرگی کا تعویذ:)
امام علی رضا- کے بارے میں مروی ہے کہ آپعليهالسلام نے مرگی کے ایک مریض کو دیکھا جس پر دورہ پڑا ہوا تھا تب آپ نے پانی کا ایک جام طلب فرمایا اور اس پر سورہ حمد ،سورہ فلق اور سورہ والناس پڑھ کر دم کیا پھر حکم دیا کہ یہ پانی اس کے سر اور چہرے پر چھڑکا جائے اس طرح وہ شخص ہوش میں آگیا آپ نے اس سے فرمایا کہ اب یہ کبھی تمہارے پاس نہیں آئے گی ۔
(جنات کے سنگباری کا تعویذ:)
رسول خدا سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا اگر جن پتھر پھینکتا ہوتو وہی پتھر اٹھا کر ادھر پھینکے کہ جدھر سے آیا ہو اور یہ کہے:
حَسْبِیَ ﷲ وَکَفَی وَسَمِعَ ﷲ لِمَنْ دَعا لَیْسَ وَرائَ ﷲ مُنْتَهَی
مجھے اللہ کافی اور بہت ہے خدا نے اس کی سنی جس نے اسے پکارا اورخداسے بلند تر کی کوئی حد نہیں ۔
(جنات کے شر سے بچائو:)
جنات کے شر سے بچنے کے لئے گھر میں مرغ کبوتر اور بھیڑ بکری کا بچہ رکھنا مفید ہے نیز سفر میں بیابانوں اور خوفناک جگہوں میں جنات کے شر سے بچائو کیلئے بھی مفید ہیں امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر بہ آواز بلند کہے :
أَفَغَیْرَ دِینِ ﷲ یَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ طَوْعاً وَکَرْهاً وَ إلَیْهِ
کیا وہ دین کے سوا کوئی دین تلاش کرتے ہیں جب کہ آسمانوں اور زمین کے رہنے والے خواہی نخواہی اس کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور
یُرْجَعُونَ
اس طرف پلٹیں گے ۔
اس طرح بیابانوں جنگلوں اور خوف ناک مقامات کے بارے میں روایت ہے کہ وہاں بہ آواز بلند اذان کہی جائے تو جنات سے بچائو ہوسکتا ہے ۔
(نظر بدکا تعویذ:)
روایت میں آیا ہے کہ نظر بد کا تعویذ کے اثرات دور کرنے کیلئے آیت اِنْ یَکَادُوْ پڑھے کہ یہ سور ہ قلم کی آیت ۸۵ ہے نیز امام جعفر صاق - سے مروی ہے کہ جب کسی کو یہ خوف ہو کہ کسی کو نظر لگ جائے گی یا اسے کسی کی نظر لگ جائے تو تین مرتبہ کہے:
مَا شائَ ﷲ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
وہی ہوتا ہے جو خدا چاہے نہیں کوئی قوت مگر جو خدائے بلند بزرگ تر سے ہے
روایت میں آیا ہے کہ جب کوئی اپنے آپ کو بنا سنوار کر باہر نکلے تو سورہ فلق وسورہ والناس پڑھ لے انشا ئ اللہ کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچائے گی نیز نظر بد سے بچنے کیلئے دونوں ہاتھ چہرے کے سامنے بلند کر کے سورہ حمد، سورہ توحید، سورہ فلق، سورہ والناس کو پڑھ کر ہاتھوں کو سر کے اگلے حصے پر پھیرے
(نظر بد کا ایک اور تعویذ:)
اَللّٰهُمَّ رَبَّ مَطَرٍ حابِسٍ وَ حَجَرَ يَابِسِ وَ لَیْلِ دَامِسِِِ وَرَطْبٍ وَیابِسٍ رُدَّ عَیْنَ الْعایِنِ
اے معبود اے رکی ہوئی بارش خشک پتھر تاریک رات اور ہر خشک و تر چیزکے پروردگار نظر لگانے والے کی
عَلَیْهِ فِی کَبِدِهِ وَنَحْرِهِ وَمالِهِ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَری مِنْفطُور ثُمَّ ارْجِعِ
نظر کو اس کے جگر اس کی گردن اوراس کے مال پر لوٹا دے پس نظر اٹھاکے دیکھ بھلا تجھے شگاف نظر آتا ہے
الْبَصَرَکَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ إلَیْکالْبَصَرُخاسِئا وَهوحَسِیرٌ
پھر دوبارہ آنکھ اٹھا کے دیکھ ہر بارتیری نظر تھک ہار کر تیری طرف ُپلٹ آئے گی.
(نظر بد سے بچنے کیلئے ایک اور تعویذ )
نظر بد سے بچنے کیلئے یہ پڑھے:
اللَّهُمَّ ذَا السُّلْطانِ الْعَظِیمِ وَالْمَنِّ الْقَدِیمِ وَالْوَجْهِ الْکَرِیمِ ذَا
اے معبود اے بڑی سلطنت کے مالک قدیم احسان والے اے عطا کرنے والی ذات اے کامل و مکمل
الْکَلِماتِ التَّامَّاتِ و الدَّعَواتِ الْمُسْتَجَابَاتِ عافِ فُلانَ مِنْ أَنْفُسِ
کلمات اور قبول شدہ دعائوں کے صاحب و مالک فلاں شخص کو جنات کی پھونکوں اور
الْجِنِّ وَأَعْیُنِ الْاِنْسِ
انسانوں کی نظروں سے بچا ۔
یہ وہ تعویذ ہے جو سرکار رسالت مآبصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حسنین + کے لئے پڑھا تھا نیز اپنے اصحاب سے فرمایا تم بھی اپنی اولاد کو اسی تعویذ کے ساتھ حتمی طور پر محفوظ رکھو ۔
(جانوروں کی نظر بد سے بچائو ۔)
جانوروں کو نظر بد سے بچانے کا یہ تعویذ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب + سے مروی ہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ بِسْمِ ﷲ العظیم عَبَسَ عَابِسٍ وَشَهَابَ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہر بان ہے خدا بزرگ کے نام سے تند رو کی تندروئی جلتے ہوئے انگارے
قَابِسٍ وَحَجَرَ یَابِسٍ رَدَدْتُ عَیْنَ الْعَایِنِ عَلَیْهِ مِنْ رَأسِهِ إلٰی
اور خشک پتھر پر دے ماری ہے میں نظر لگانے والے کی آنکھ اس کے سر سے اس کے پائو ں تک پکڑ لیں اس
قَدَمَیْهِ، أَخْذَ عَیْناهُ قَابِضٌ بِکِلاَهُ وَعَلٰی جَارِهٰ وأَقَارِبِهٰ جَلْدُهُ
کی دونوں آنکھیں جس نے ان کو پکڑ لیا ان کو پلٹا دیا اس کے ہمساے اور عزیزوں پر اس کی کمزورجلد اور
دَقِیْْقٌ، وَدَمُهُ رَقِیِقٌ وَبَابُ الْمَکْرُوْهِ تَلِیْقٌ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ
پتلے خون پر اور بدی کے دروازے پر جو اس کے لئے ہے پس نظر اٹھا کے دیکھ کیا تجھے کوئی شگاف نظر آتا
تَریٰ مِنْ فُطُورٍ، ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ إلَیْکَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوحَسِیر
ہے پھر باربار نظر اٹھا کر اوپر کو دیکھتا رہ لیکن تیری نگاہیں بری طرح سے تھکی ہاری ہوئی تیری طرف پلٹ آئیں گی ۔
(شیطانی وسوسے دور کرنے کا تعویذ:)
روایت ہے کہ اس بارے میں خدا سے پناہ مانگے اور کہے:
آمَنْتُ بِالله وَبِرَسُولِه مُخْلِصاً لَهُ الدِّینَ
ایمان لایا ہوں خدا اور اس کے ِرسول پر اور اسی کے لئے دین کو خالص رکھتا ہوں ۔
شیخ مفیدرحمهالله نے حضرت رسول خدا سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا شیطان دو قسم کے ہیں پہلا جناتی شیطان ہے کہ جو
وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
نہیں ہے ہے کوئی طاقت و قوت مگرجو خدائے بلند و بر تر سے ملتی ہے۔
کہنے سے دور ہوجاتا ہے دوسرا انسانی شیطان ہے جو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمد پر درود بھیجنے سے بھاگ اٹھتا ہے ۔
مؤلف کہتے ہیں نماز میں وسوسوں کو دور کرنے لئے نماز حدیث نفس اور بعض دیگر دعائیں نقل ہو چکی ہیں ان کی طرف رجوع کریں ۔
(چور سے بچنے کا تعویذ:)
دروازے کے تالے اور زنجیرکڑیوں پر یہ پڑھے : قُلِ ادعُوا ﷲ أَو ادْعُوا الرَّحْمنَ
کہہ دو کہ اللہ کو پکارو یا رحمن کو پکارو۔تاآخر سورہ بنی اسرائیل
(بچھو سے بچنے کا تعویذ)
روایت ہوئی ہے کہ ستارہ ’’سہیٰ ‘‘ جو نبات النعش کے درمیانی ستارے کے ساتھ ہوتا ہے اس کی طرف خوب غور سے دیکھے اور تین مرتبہ یہ دعا پڑھے:
اللَّهُمَّ رَبَّ أَسْلَمَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ
اے معبود اے بہت سلامتی والے رب رحمت فرما سرکار محمد اور آلعليهالسلام محمد پر ان کی کشائش میں جلدی کر اور
وَسَلِّمْنا مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ
ہمیں ہر تکلیف دینے والے کے شر سے بچا۔
نیز روایت ہوئی ہے کہ مذکورہ ستارے پر نظر ڈالے اور تین مرتبہ کہے:
اللَّهُمَّ رَبَّ هُودِ بْنِ أُسَیَّةَ آمِنِّی شَرَّ کُلِّ عَقْرَبٍ وَحَیَّةٍ
اے معبود اے ہودعليهالسلام بن آسیہ کے پر وردگار مجھے امان میں رکھ ہر بچھو اور سانپ کے شر سے۔
پس جس رات بھی یہ عمل کرے گا اس میں سانپ بچھو کو ڈسنے سے محفوظ رہے گا ۔
(سانپ بچھو سے بچنے کا ایک تعویذ )
امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ رات کے شروع ہونے کے وقت یہ پڑھے :
بِسْمِ ﷲ وَبِالله َصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَخَذْتُ الْعَقارِبَ
خدا کے نام سے اور اس کی ذات سےاور خدا رحمت فرماے محمد اور ان کی آلعليهالسلام پرپکڑ لیا میں نے تمام بچھوئوں اور سانپوں کو
وَالْحَیَّاتِ کُلَّها بِ إذْنِ ﷲ تَبَارَکَ وَتَعَالَی بِأَفْوَاهِها وَأَذْنَابِهاو
خدا کے اذن سے جو بابرکت اور بلندی والا ہے ان کے مو ہنوں سے ان کی دمو ں سے ان کے کانوں
أَسْمَاعِها وَأَبْصَارِها وَقُوَاها عَنِّی وَعَمَّنْ أَحْبَبْتُ إلَی ضَحْوَةِ النَّهارِ إنْ شائَ ﷲ تَعَالَی
سے ان کی آنکھوں سے اور ان کی قوتوں کو خود سے اور ان سے جن کو پیارا سمجھتا کے طلوع کرنے تک اگر اللہ تعالیٰ یہ چا ہے ۔
(بچھو سے بچنے کا تعویذ)
بچھو کے شر سے بچنے کے لئے پڑھے:
سَلامٌ عَلَی نُوحٍ فِی الْعالَمِینَ إنَّا کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ إنَّهُ مِنْ عِبادِنَا
سلام ہو نوحعليهالسلام پر اور تمام جہانوں میں بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں یقینا وہ ہمارے صاحب ایمان
الْمُؤمِنِینَ
بندوں میں تھا۔
روایت ہوئی ہے کہ جب حضرت نوحعليهالسلام کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں نے بچھو کو کشتی میں سوار ہونے سے روک دیا تب بچھو نے کہا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جوشخص
سَلامٌ عَلَی مُحَمَّدٍ و َآلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَی نُوحٍ فِی الْعالَمِینَ
سلام ہو حضرت محمد مصطفی پر اور ان کی آلعليهالسلام پر اور حضرت نوحعليهالسلام پر تمام دنیا ئوں جہانوں میں‘‘
کہے اسے کبھی نہ ڈسوں گا
نیز بعض حدیثو ں میں وارد ہوا ہے کہ بچھو یا کسی زہریلے جانور کے ڈسنے کی جگہ پر نمک ملنے سے زہر کا اثر دور ہوجاتا ہے۔
(چوتھا باب )
وہ دعائیں جو کتاب الکافی سے منتخب کی گئی ہیں ۔
اس باب میں چند ایک فصلیں ہیں
(پہلی فصل :)
بعض دعائیں جو صبح و شام پڑھنے کیلئے بیان ہوئی ہیں اور یہ ان دعائوں کے علاوہ ہیں جو اس سے پہلے ذکر ہوچکی ہیں اور یہ دس دعائیں ہیں ۔
(پہلی دعا:)
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جب صبح ہوتی تھی تو امام زین العابدین- یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اَبْتَدُِٔ یُوْمِیْ هَذَا بَیْنَ یَدَیْ نِسْیَانِیْ وَعَجَلَتِیْ بِسْمِ ﷲ مَا شَآئَ ﷲ
میں اپنے اس دن کا آغاز فراموشی اورجلد بازی کے درمیان کرتا ہوں خدا کے نام کیساتھ جو خدا چا ہتا ہے
(دوسری دعا :)
امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جو شخص آغاز شب کے وقت ذیل کے کلمات تین مرتبہ پڑھے تو جبرائیل - کے پروں میں سے ایک پر میں پوشیدہ رہیگا یہاں تک کہ صبح ہوجاے گی ۔
أَسْتَوْدِعُ ﷲ الْعَلِی الْاَعْلَی الْجَلِیلَ الْعَظِیمَ نَفْسِی وَمَنْ یَعْنِینِی
میں اپنے آپ کو اور جن کے امور کیطرف میری تو جہ ہے ان کو خدا ئے بلند تر اور صاحب جلالت کے سپرد
أَمْرُهُ، أَسْتَوْدِعُ ﷲ نَفْسِی الْمَرْهُوبَ الْمَخُوفَ الْمُتَضَعْضِعَ لِعَظَمَتِه کُلُّ شَیْئٍ
کرتا ہوں میں اپنے خائف وتر ساں نفس کو خدا کے سپرد کرتا ہوں جس کی عظمت کے سامنے ہر چیز ِ ڈرتی کانپتی ہے ۔
(تیسری دعا:)
آپعليهالسلام کا ارشاد ہے کہ جب شام ہوجائے تو کہو:
اللَّهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ عِنْدَ إقْبالِ لَیْلِکَ وَ إدْبارِ نَهارِک وَحُضُور
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رات کے آنے اور تیرے دن کے جانے کے وقت اور
صَلَواتِکَ وَأَصْواتِ دُعائِکَ أَنْ صَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
تیری نمازوں کے وقت آنے پر اورتجھے پکارنے کی آوازوں کے وقت یہ کہ تو رحمت فرما محمد و آلعليهالسلام محمد پر
اس کے بعدجو چاہے دعا مانگے
(چوتھی دعا :)
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جب صبح ہوتی تو میرے والد یہ دعا پڑھتے تھے :
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَ إلَی ﷲ وَفِی سَبِیلِ ﷲ وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے خدا کی طرف خدا کی راہ و سبیل میں اور حضرت رسول خدا
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَللَّهُمَ اِلَیْکَ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ وَاِلَیْکَ فَوَّضْتُ
صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دین پر اے معبود میں نے خود کو تیرے سپردکرد یا اپنے معاملات تیرے حوالے
اَمْرِیْ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ اللَّهُمَّ احْفَظْنِی بِحِفْظِ
کر دئیے اور تجھ پر بھروسہ رکھتا ہوںاے جہانوں کے رب اے معبود تو میری حفاظت فرما
الْاِیمَانِ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی، وَعَنْ یَمِینِی وَعَنْ شِمَالِی
ایمان کی سلامتی کے ساتھ میرے سامنے سے میرے پیچھے سے میرے دایں سے میرے بایں سے
وَمِنْ فَوْقِی، وَمِنْ تَحْتِی وَمِنْ قِبَلِی، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ لاَ حَوْلَ
میرے اوپر سے میرے نیچے سے اور میرے آگے سے نہیں کوئی معبود مگر تو ہے نہیں کوئی طاقت
و لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِا ﷲِ نَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعافِیَةَ مِنْ کُلِّ سُوئٍ وَشَرٍّ فِی
و قوت مگر جو اللہ سے ہے ہم مانگتے ہیں تجھ سے در گذر اور عافیت ہر برائی سے اور دنیا و آخرت کی
الدُّنْیا وَالاَْخِرَةِ اللَّهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ عَذابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ ضَغْطَةِ الْقَبْرِ، وَمِنْ
تکلیف سے اے معبود میں تیری پناہ لیتا ہوں قبر کےعذاب سے قبر کے فشاراور سکیڑ سے اور قبر کی
ضِیقِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ سَطَوَاتِ اللَّیْلِ وَالنَّهارِ اللَّهُمَّ رَبَّ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَرَبَّ
تنگی سے تیری پناہ لیتا ہوںرات اور دن کی یورشوں سے اے معبود مشعر الحرام کے مالک اے بلد
الْبَلَدِ الْحَرامِ، وَرَبَّ الْحِلِّ وَالْاِحْرامِ أَبْلِغْ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ عَنِّی السَّلامَ اللَّهُمَّ
الحرام کے مالک اے حلال و حرام کے مالک پہنچا دےمحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمد کو میرا سلام، اے معبود
إنِّی أَعُوذُ بِدِرْعِکَ الْحَصِینَةِ، وَأَعُوذُ بِجَمْعِکَ أَنْ تُمِیتَنِی غَرَقاً، أَوْ حَرَقاً، أَوْ
پناہ لیتا ہوںتیری محکم ذرہ کے ساتھ پناہ لیتاہوں تیری معیت سے کہ مجھے موت نہ دے ڈوبنے یا جلنے یا
شَرَقاً، أَوْ قَوَداً، أَوْ صَبْراً، أَوْ مُسَمّاً، أَوْ تَرَدِّیاً فِی بِیْرٍ أَوْ أَکِیلَ السَّبُعِ أَوْ مَوْتَ الْفُجَاءَةِ
پھانسی یا قصاص یا دست بستہ یا زہر خوارنی یا کنویں میں گرنے یادرندے کے پھاڑ کھانے یا مرگ ناگہانی
أَوْ بِشَیْئٍ مِنْ مِیْتاتِ السَّوئ وَلکِنْ أَمِتْنِی عَلَی فِراشِی فِی طاعَتِکَ وَطاعَةِ
یا کسی بری چیز کے ذریعے آنے والی موت سے لیکن یہ کہ مجھے موت دینا اپنے بستر پر جب میں تیری اورتیرے
رَسُولِکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ، مُصِیباً لِلْحَقِّ غَیْرَ مُخْطِیًَ أَوْ فِی الصَّفِّ الَّذِینَ نَعَتَّهُمْ
رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں ہوںحق سے بہرہ ور اور خطا سے بری ہوں یا ان لوگوں کی صف میں ہوں جن کی
فِی کِتابِکَ کَأَنَّهُمْ بُنْیانٌ مَرْصُوصٌ، أُعِیذُ نَفْسِی وَوَلَدِی وَما رَزَقَنِی رَبِّی، بِقُلْ
تعریف تو نے اپنی کتاب میں کی کہ سیسہ پلائی دیوار کی مانندہیں اپنے رب کی پناہ میں دیتا ہوںخود کو اپنی اولاد کو اور جو تو نے مجھے دیا بذریعہ
أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ تا اخر سورہ اور کہےوَأُعِیذُ نَفْسِی وَوَلَدِی وَمَا رَزَقَنِی رَبِّی بِقُلْ أَعُوذُ
کہو پناہ لیتا ہوں صبح کے رب کی اور اپنے رب کی پناہ میں دیتا ہوں خود کو اپنی اولاد کو اور جو کچھ تو نے دیا ہےبذریعہ کہو پناہ لیتا ہوں لوگوں کے
بِرَبِّ النَّاس (تاآخرسورہ)الْحَمْدُ لِلّٰهِِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ مِثْلَ مَا خَلَقَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ
رب کی اور کہے ۔حمد ہے خدا کے لئے خدا کی تعداد کے برابر حمد ہے خدا کے لئے جتنی اس کی مخلوق ہے حمد ہے خدا کیلئے
مِلْئَ مَا خَلَق وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ مِدادَ کَلِماتِهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ زِنَةَ عَرْشِهِ
ساری کائنات کے برابر حمد خدا کے لئے اس کے کلمات کی طوالت جتنی حمد ہے خدا کے لئے عرش کے وزن
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ رِضا نَفْسِهِ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ
جتنی حمد ہے خدا کے لئے اس کی رضا جتنی نہیں کوئی معبود مگر اللہ جو بردبار و سخی ہے اور نہیں کوئی معبود مگر
الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ سُبْحانَ ﷲ رَبِّ السَّمٰوَات ِوَالْاَرَضِین وَمَا بَیْنَهُما
اللہ جو بزرگ بلند ہے پاک ہےاللہ جو رب ہے آسمانوں اور زمینوں کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے
وَرَبِّ الْعَرْش الْعَظِیمِ اللَّهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِک مِنْ دَرَکِ الشَّقَائِ وَمِنْ
اور عرش عظیم کا مالک ہے اے معبود میں پناہ لیتا ہوں بد بختی کے آئینے
شَمَاتَةِ الْاَعْدَائ وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْفَقْرِ َالْوَقْرِوَ أَعُوذُ بِکَ مِنْ سُوئِ الْمَنْظَرِ فِی
سے اور دشمنوں کے طعنوں سے تیری پناہ لیتاہوں تنگدستی اور بھاری بوجھ سے تیری پناہ لیتا ہوں اپنے
الْاَهْلِ وَالْمالِ وَالْوَلَدِ
خاندان مال اور اولاد میں خرابی سے
اس کے بعد محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آلعليهالسلام محمد پر دس مرتبہ درود بھیجے ۔
(پانچویں دعا:)
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ فجر اور مغرب کی نماز کے بعد یہ دعا سات مرتبہ پڑھو:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے نہیں کوئی طاقت وقوت مگر جو بلند بزرگ ہے خدا سے ہے
پس جو شخص یہ دعا پڑھے وہ جذام ،برص اور دیوانگی سے محفوظ رہے گا اور ستر بلایں اس سے دور رہیں گی جب صبح و شام ہو تو یہ کہو:
الْحَمْدُ لِرَبِّ الصَّباحِ الْحَمْدُ لِفالِقِ الْاِصْبا
حمد ہے صبح کے رب کے لئے اور حمد ہے صبح کو ظاہر کرنے والے کیلئے
پھردو مرتبہ کہے :
الْحَمْدُ لِلّٰهِِ الَّذِی أَذْهَبَ اللَّیْلَ بِقُدْرَتِهِ وَجائَ بِالنَّهارِ بِرَحْمَتِهِ وَنَحْنُ فِی عافِیَة
حمد ہے خدا کے لئے جس کی قدرت سے رات جاتی ہے اور اس کی رحمت سے دن آتا ہے اور ہم تندرست رہتے ہیں۔
نیز آیت الکرسی اور سورہ حشر کی آخری آیت اور سورہ صافات کی دس آیات پڑھے پھر یہ کہے :
وَسُبْحانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُونَ وَسَلامٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ
اور پاک ہے تیرا رب مالکعزت اس سے جو وہ اس کے بارے میں کہتے ہیں سلام ہو رسولوں پر
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِِ رَبِّ الْعالَمِینَ فَسُبْحانَ ﷲ حِینَ تُمْسُون وَحِینَ
اور حمدہے خدا کیلئے جو جہانوں کا رب ہےپس پاک ہے اللہ جب تم شام کرتے ہو اور جب تم
تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوَات ِو الْاََرْضِ وَعَشِیّاً وَحِینَ تُظْهِرُونَ یُخْرِجُ الْحَیَّ
صبح کرتے اسی کے لئے حمد آسمانوں اور زمین میں جب عشا ئ اور جب ظہر کرتے وہ نکالتا ہے زندہ کو
مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَیُحْیِی الْاََرْضَ بَعْدَ مَوْتِها
مردہ میں سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ میں سے زندہ کرتا ہے زمین کو اس کی موت کے
وَکذَلِکَ تُخْرَجُونَ سُبُّوْحٌ قُدُّوسٌ رَبُّنا وَرَبُّ الْمَلائِکَةِ وَالرُّوحِ،
بعد اسی طرح تمہیں زمین سے نکالے گا پاک و پا کیزہ ہے ہمارا رب جو فرشتوں اور روح کا رب
سَبَقَتْ رَحْمَتُکَ غَضَبَکَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی
ہے تیری رحمت تیرے غضب سے پہلے ہے نہیں ہے معبود تو ہی تو پاک ہے میں نے
ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ عَلَیَّ إنَّکَ وَارْحَمْنِی وَتُبْ ُأَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِیمُ
خود پر ظلم کیا پس مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر میری توبہ قبول فرما کہ تو بڑا تو بہ قبول کرنے والا ہے ۔
(چھٹی دعا )
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ صبح کے وقت یہ دعا پڑھے:
اللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَحْمَدُکَ وَأَسْتَعِینُکَ وَأَنْتَ رَبِّی وَأَنَا
اے معبود تیرے لئے ہے حمد میں تیری حمد کرتا ہوں تجھ سے مدد چا ہتا ہوں کہ تو میرا رب ہے اور میں تیرا
عَبْدُکَ أَصْبَحْتُ عَلَی عَهْدِکَ وَوَعْدِکَ وَأُؤْمِنُ بِوَعْدِکَ وَأُوفِی
بندہ ہوں میں نے تیرے عہد ووعدے پر صبح کی میں تیرے وعدے پر ایمان رکھتا ہوں اور
بِعَهْدِکَ مَااسْتَطَعْتُ وَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ
تیرے عہد کو پورا کرتا ہوں جہاں تک کر سکتا ہوں اور نہیں طاقت وقوت مگر اللہ سے وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک
لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَصْبَحْتُ عَلَی فِطْرَةِ
نہیں میں گواہ ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں میں نے صبح کی ہے اسلام کی
الْاِسْلامِ وَکَلِمَةِ الْاِخْلاص وَمِلَّةِ إبْراهِیمَ وَدِینِ مُحَمَّد صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِما
فطرت پراور بے ملاوٹ عقیدے پر ابراہیم کے گروہ اور محمد کے دین پر خدا کی رحمت ہو دونوں
وَآلِهِما عَلَی ذلِک أَحْیی وَأَمُوْتُ إنْ شائَ ﷲ اَللّٰهُمَّ أَحْیِنِی مَا أَحْیَیْتَنِی
پر اور دونوں کی آلعليهالسلام پر اسی پر زندہ ہوں اور اسی پر مروں گا اگر خدا نے چاہا خدایا جب تک مجھے زندہ رکھے
وَأَمِتْنِی إذا أَمَتَّنِی عَلَی ذلِکَ وَابْعَثْنِی إذا بَعَثْتَنِی عَلَی ذلِکَ، أَبْتَغِی بِذَلِکَ رِضْوانَکَ
اور جب موت دے تو مجھے اسی راہ پراور جب تو مجھے دوبارہ اٹھا ئے اسی عقیدے پر اٹھانا اسی کے ذریعے میں تیری رضا
وَاتِّباعَ سَبِیلِکَ و إلَیْکَ أَلْجَأْتُ ظَهْرِی وَ إلَیْکَ فَوَّضْتُ أَمْرِی آلُ
اور تجھ تک پہنچانے والے راستے پر چلنا چاہتاہوں تیری ذات پر تکیہ ہے اپنا معاملہ تیرے سپرد کردیا ہے
مُحَمَّدٍ أَئِمَّتِی لَیْسَ لِی أَئِمَّةٌ غَیْرُهُمْ بِهِمْ وَ إیَّاهُمْ أَتَوَلَّی وَبِهِمْ
آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میرے امام ہیں ان کے علاوہ کوئی میرا امامعليهالسلام نہیں انہی کو امام مانتا ہوں انہی کا محب ہوں ان کی
أَقْتَدِی اللّٰهُمَّ اجْعَلْهُمْ أَوْلِیائِی فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَاجْعَلْنِی أُوالِی أَوْلِیائَهُمْ
پیروی کرتا ہوں اے معبود ان کو دنیا وآخرت میں میرا سید و سردار قرار دے مجھ کو ان کے دوستوں سے دوستی
وَأُعادِی أَعْدائَهُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ وَآبائِی مَعَهُمْ
اور دشمنوں سے دشمنی رکھنے والا بنا اس دنیا اور آخرت میں اور مجھے اور میرے بزرگوں کو ان کے ساتھ ملا دے ۔
(ساتویں دعا )
امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ اگر کچھ اور نہ پڑھو تو اس دعا کو صبح و شام پڑھنا ترک نہ کرو۔
اللّٰهُمَّ إنِّی أَصْبَحْتُ أسْتَغْفِرُکَ فِی هذَا الصَّباحِ هذَا الْیَوْمِ لاََِجْلِ رَحْمَتِکَ وَأَبْرَأُ إلَیْک مِنْ أَهْلِ
اے معبود میں نے صبح کی کہ آج اس کی اس صبح میں اور آج کے اس دن میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں ان کے لئے جن پر تیری رحمت ہے
لَعْنَتِکَ اللّٰهُمَّ إنِّی أَصْبَحْتُ أَبْرَأُ إلَیْکَ فِی هذَا الْیَوْمِ وَفِی
اور بیزاری کرتا ہوں ان سے جن پر تیری لعنت ہے اے معبود میں نے صبح کی ہے تیرے سامنے بیزاری
هذَا الصَّباحِ مِمَّنْ نَحْنُ بَیْنَ ظَهْرانیْهِمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ، وَمِمَّا
کرتا ہوں آج کے دن اور آج کی صبح ان سے کہ جن کے درمیان ہم ہیں یعنی مشرک لوگ اور وہ بت جن
کانُوا یَعْبُدُونَ، إنَّهُمْ کانُوا قَوْمَ سَوْئٍ فاسِقِینَ اللّٰهُمَّ اجْعَلْ
کی وہ پرستش کرتے ہیں کیونکہ وہ برے اور بد کار لوگ ہیں اے معبود تو نے جوکچھ آسمان سے زمین پر
مَا أَنْزَلْتَ مِنَ السَّمَائِ إلَی الْاََرْضِ فِی هذَا الصَّباحِ وَفِی هذَا
نازل کیا آج کی صبح اور آج کے دن اسے اپنے دوستوں کے لئے برکت اور اپنے دشمنوں کے لئے
الْیَوْمِ بَرَکَةً عَلَی أَوْلِیائِکَ وَعِقاباً عَلَی أَعْدائِکَ اللّٰهُمَّ والِ مَنْ
سزا قرار دے اے معبود دوست رکھ اسے جو تجھ سے دوستی کرے دشمن رکھ اسے جو تجھ سے دشمنی
مَنْ والاک وَعادِ مَنْ عَادَاکَ اللّٰهُمَّ اخْتِمْ لِی بِالْاََمْنِ وَالْاِیمانِ کُلَّما طَلَعَتْ
کرے اے معبود ہر سورج کو طلوع ہونے والے سورج کو میرے لئے امن ایمان کے ساتھ غروب کر اے
شَمْسٌ أَوْ غَرَبَتْ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی وَلِوالِدَیَّ وَارْحَمْهُما کَما رَبَّیانِی
معبود مجھے اور میرے والدین کو بخش دے اور رحم فرما ان پر کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ،اے معبودبخش
صَغِیراً اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ وَالْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِماتِ
دے مؤمنوںکواورمومنات کو، مسلموں اور مسلمات کو جو ان میں سے زندہ اور مردہ ہیں بے شک تو
الْاََحْیائِ مِنْهُمْ وَالْاََمْوَاتِ اللَّهُمَّ إنَّکَ تَعْلَمُ مُنْقَلَبَهُمْ وَ مَثْواهُمْ اللّٰهُمَّ احْفَظْ إمامَ
ان کی حرکت کرنے اور ٹھہر نے کی جگہ کو جانتا ہے اے معبود حفا ظت کر مسلمانوں کے امامعليهالسلام کی سلامتی ایمان
الْمُسْلِمِینَ بِحِفْظِ الْاِیمانِ وَانْصُرْهُ نَصْراً عَزِیزاً وَافْتَحْ لَهُ فَتْحاً یَسِیراً
کے ساتھ اور اسکی مدد فرما زبر دست قوت سے اور اسے کامیابی دے آسانی کے ساتھ اور اس کے ،
وَاجْعَلْ لَهُ وَلَنَا مِنْ لَدُنْکَ سُلْطاناً نَصِیراً اللّٰهُمَّ الْعَن فُلاناً وَفُلاناً
اور ہمارے لئے اپنی طرف سے مدد کرنے والا قاہر بھیج اے معبود لعنت کر فلاں اور فلاں پر اور ان
وَالْفِرَقَ الُْمخْتَلِفَةَ عَلَی رَسُولِکَ وَوُلاةِ الْاََمْرِ بَعْدَ رَسُولِکَ وَآلاَءِمَّةِ
گروہوں پر جس نے اختلاف کیا تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اور تیرے رسول کے بعد والیان امر اماموںعليهالسلام سے اور
اِنْ بَعْدِهِ، وَشِیعَتِهِمْ وأَسْأَلُکَ الزِّیادَةَ مِنْ فَضْلِکَ وَالْاِقْرَارَ بِمَا
ان کے شیعوں سے میں سوال کرتا ہوں تیرے فضل میں اضافے اور اس کے اقرار کا جو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم تیری طرف
جائَ بِهِ مِنْ عِنْدِکَ وَالتَّسْلِیمَ لاََِمْرِکَ و الْمُحافَظَةَ عَلَی ما
سے لے آئے ہیں تیر ے امر کےآگے جھکنے کا اور جو حکم تو نے دیا اس پر کار بند رہنے کا میں اس کی بجائے
أَمَرْتَ بِه لاَ أَبْتَغِی بِهِ بَدَلاً وَلاَ أَشْتَرِی بِهِ ثَمَناً قَلِیلاً اللّٰهُمَّ
کچھ اور نہیں چاہتا کہ کم تر چیز کے بدلے اسے بیچتا ہوں اے معبود جن کو تونے ہدایت دی مجھ کو
اهْدِنِی فِیمَنْ هَدَیْتَ وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ إنَّکَ تَقْضِی وَلایُقْضیٰ
ان میں رکھ مجھے اپنی قضا کی سختی سے بچا کیونکہ تو فیصلے کرتا ہے تیرے لئے کوئی بھی فیصلہ نہیں کر سکتا اور تجھ
عَلَیْکَ، وَلاَ یُذَلُّ مَنْ وَالَیْتَ تَبارَکْتَ وَتَعالَیْتَ سُبْحانَکَ رَبَّ الْبَیْتِ
سے محبت کرنے والا ذلیل نہیں ہوسکتا تو بابر کت اور بلند تر ہے توپاک ہے اے کعبہ کے مالک
تَقَبَّلْ مِنِّی دُعائِی وَمَا تَقَرَّبْتُ بِهِ إلَیْکَ مِنْ خَیْرٍ فَضاعِفْهُ لِی
میری دعا قبول فرما جو نیکی لے کر تیرے قریب ہوا ہوں اسے میرے حق میں بڑھا دے بہت زیادہ بڑھا
أَضْعافاً کَثِیرَةً وَآتِنا مِنْ لَدُنْکَ أَجْراً عَظِیماً رَبِّ مَا أَحْسَنَ مَا أَبْلَیْتَنِی
دے اور اس پر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرما، یا رب وہ کیا ہی خوب ہے جس سے تو نے میری آزمائش
وَأَعْظَمَ مَا أَعْطَیْتَنِی وَأَطْوَلَ مَا عافَیْتَنِی وَأَکْثَرَ مَا سَتَرْتَ عَلَیَّ فَلَکَ
کی کتنی بڑی عطا ہے جو تو نے کی کتنی ہی طویل سلامتی دی اور میری بہت پردہ پوشی کی ہے پس حمد تیرے لئے
الْحَمْدُ یَا إلهِی کَثِیراً طَیِّباً مُبارَکاً عَلَیْهِ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْاََرْضِ وَمِلْئَ مَا شائَ رَبِّی
ہے اے اللہ بہت زیادہ پاکیزہ برکت والی جو برابرہے آسمانوں کے اور برابر ہے زمین کے برابر اس کے میرے رب جتنی چاہے اور
وَرَضِیَ وَکَمایَنْبَغِی لِوَجْهِ رَبِّی ذِالْجَلالِ وَالْاِکْرَامِ
پسند کرے کہ جو تیری ذات کے لائق ہے میرے رب اے دبدبےاور عزت کے مالک۔
(آٹھویں دعا)
امام محمد باقر - فرماتے ہیں کہ جو شخص طلوع فجر کے وقت دس مرتبہ کہے:
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیِی
نہیں کوئی معبود مگر اللہ ہے وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اس کی اور حمد اسی کے لئے ہے وہ
وَیُمِیتُ وَهُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
بعد میں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمد پر دس مرتبہ درود بھیجے پھر پینتیس مرتبہ سبحان ﷲ اور پیتیس مرتبہ لا الہ الا ﷲ اور پینتیس مرتبہ الحمد ﷲ کہے تو اسے اس دن غافلوں کی فہرست میں نہیں لکھا جائے گا اگر رات کو پڑھے تو اس رات اسے غافلوں کی فہرست میں نہیں لکھا جائے گا ۔
(نویں دعا)
محمد بن فضیل سے روایت ہے کہ حضرت امام محمد تقی - کی خدمت میں تحریر ی طور پر عرض کیا کہ مجھے کوئی دعا تعلیم فرمائیں تو آپعليهالسلام نے تحریر فرمایا کہ صبح وشام یہ دعا پڑھا کرو ۔
ﷲ ﷲ ﷲ رَبِّیَ الرَّحْمٰنُ الرَّحیٰمُ لٰآ اُشْرِکُ بِهٰ شَیْئاً
اللہ اللہ اللہ میرا رب جو رحم والا مہربان ہے میں کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا ۔
پھر اپنی حاجات کے پورا ہونے کی دعا مانگو کیونکہ یہ کلمات ہر حاجت کے طلب کرنے کا ذریعہ ہے ۔
(دسویں دعا )
منقول ہے کہ امام جعفر صادق - نے دائو رقی سے فرمایا کہ ہر راز صبح و شام یہ دعا پڑھا کرو کہ میرے والد گرامی کا فرمان ہے کہ خدا کے خزانوں میں سے ایک خزانہ یہ دعا ہے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنٰی فٰی دِرْعِکَ الْحَصیٰنَةِ اَلَّتٰی تَجْعَلُ فٰیهٰا مَنْ تُریٰدُ
اے معبود تو مجھے اپنے مضبوط قلعے میں داخل کر لےکہ جس میں جسے تو چاہے داخل کرتا ہے ۔
(دوسری فصل )
سونے اور جاگنے کے وقت کی بعض دعائیں یہ سات دعا ئیں ہیں ۔
(پہلی دعا )
امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ جو شخص سوتے وقت یہ دعا تین مرتبہ پڑھے :
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی عَلا فَقَهَرَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی بَطَنَ فَخَبَر وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ
حمد ہے خداکے لئے جو بلند ہوا تو غالب رہا حمد ہے خدا کے لئے جو پوشیدہ ہے تو باخبر ہے حمد ہے خدا
الَّذِی مَلَکَ فَقَدَرَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی یُحْیِی الْمَوْتی وَیُمِیتُ
کے لئے جو مالک ہے تو قدرت رکھتا ہے اور حمد ہے خدا کے لئے جو مردوں کو زندہ کرتا ہے اور زندوں کو
الْاََحْیائَ، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر
موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
تو وہ گناہوں سے اس طرح باہر آجاے گا جیسے ابھی شکم مادر سے پیدا ہوا ہو ۔ صدوقرحمهالله اور شیخرحمهالله نے یہ روایت نقل فرمائی ہے عدۃالداعی میں امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ یہ مختصرترین دعا ہے جو حمد الہی میں کافی ہو جاتی ہے لیکن اس روایت میں دوسری حمد تیسری حمد کے بعد ہے ۔
(دوسری دعا )
آنجنابعليهالسلام سے روایت ہے کہ حضور رسالت مآبصلىاللهعليهوآلهوسلم بستر پر تشریف لے جاتے تو آیت الکرسی کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے۔
بِسْمِ ﷲ آمَنْتُ بِالله وَکَفَرْتُ بِالطَّاغُوتِ اللّٰهُمَّ احْفَظْنِی فِی مَنامِی وَفِی یَقَظَتِی
خدا کے نام سے میں خدا پر ایمان لایا ہوں اور طاغوت کاا نکار کیا ہے اے معبود تو نیند اور بیداری میں میری حفاظت فرما ۔
(تیسری دعا )
مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق - نے مجھ سے فرمایا اگر کر سکتے ہو تو ایسا کرو کہ رات کے وقت گیارہ حرفوں کے ساتھ خود کو خدا کے کی پناہ میں دے دو میں نے عرض کیا وہ کونسے حروف ہیں آپعليهالسلام نے فر مایا وہ حروف یہ ہیں ۔
أَعُوذُ بِعِزَّةِ ﷲ وَأَعُوذُ بِقُدْرَةِ ﷲ، وَأَعُوذُ بِجَلالِ ﷲ، وَأَعُوذُ
پناہ لیتا ہوں عزت خدا کی، پناہ لیتا ہوں قدرت خدا کی، پناہ لیتا ہوں دبدبہ خدا کی، پناہ لیتا ہوں
بِسُلْطانِ ﷲ،وَأَعُوذُ بِجَمالِ ﷲ وَأَعُوذُ بِدَفْع ﷲ وَأَعُوذُ بِمَنْعِ ﷲ،وَأَعُوذُ بِجَمْعِ
اقتدار خداکی، پناہ لیتا ہوںزیبائی خدا کی، پناہ لیتا ہوں دفاع خدا کی پناہ لیتا ہوں حفظ خدا کی، پناہ لیتا ہوں گروہ خدا
ﷲ وَأَعُوذُ بِمُلْکِ ﷲ وَأَعُوذُ بِوَجْهِ ﷲ وَأَعُوذُ بِرَسُولِ ﷲ
کی، پناہ لیتا ہوں ملکیت خداکی پناہ لیتا ہوں ذات خدا کی پناہ لیتا ہوں خدا کے رسول صلی اللہ
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأ وَذَرَأَ
علیہ وآلہ وسلم کی ہر چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور پھلائی ۔پس جب بھی خدا کی پناہ حاصل کرنا چاہو تو اسی دعا کو پڑھ لیا کرو ۔
(چوتھی دعا )
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں جو شخص سوتے وقت سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے تو اس کے پچاس سال کے گناہ بخش دئے جائیں گے نیز آپعليهالسلام ہی سے منقول ہے کہ جو شخص بستر پر سوتے وقت سو رہ کافرون اور سورہ تو حید پڑھے تو حق تعالیٰ اس کے لئے شرک سے بیزاری لکھ دے گا ۔
(پانچویں دعا )
امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم نے فرمایا جو شخص یہ چا ہتا ہو کہ وہ نماز تہجد کے لئے جا گ اٹھے تو وہ سوتے وقت یہ دعا پڑ ھے :
اللّٰهُمَّ لاَ تُؤْمِنِّی مَکْرَکَ وَلاَ تُنْسِنِی ذِکْرَکَ وَلاَ تَجْعَلْنِی مِنَ الْغافِلِینَ، أَقُومُ
اے معبود تو مجھے اپنی تدبیر سے بے خوف نہ ہونے دے اپنا ذکر فراموش نہ کرا اور مجھے غافلوں میں سے قرار نہ دے کہ میں فلاں فلاں
ساعَةَ کَذا وَکَذا
وقت جاگ اٹھوں ۔
جب یہ پڑھ کر سوئے گا تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو مقرر فرماے گا جو اس کے مطلوبہ وقت پر بیدار کرے گا ۔
(چھٹی دعا)
آنجنابعليهالسلام سے مروی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص رات کو جب نیند سے بیدار ہو تو یہ کہے:
سُبْحانَ ﷲ رَبِّ النَّبِیِّین الْمُرْسَلِین وَرَبِّ الْمُسْتَضْعَفِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی یُحْیی
پاک ہے اللہ جو نبییوں کا رب ہے رسولوں کا معبود اور دبےہوئے لوگوں کا پالنے والا حمد ہے خدا کے لئے جو مردوں کو
الْمَوْتی، وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ جب وہ یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اور میرا شکر ادا کر دیا۔
(ساتویں دعا )
عبد الرحمن بن حجاج سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق - جب رات کے آخری حصے میں بیدار ہوکر اٹھ کھڑے ہوتے تو یہ دعا اتنی بلند آواز سے پڑھتے کہ گھر کے تمام افراد سن لیتے۔
اللّٰهُمَّ أَعِنِّی عَلَی هَوْلِ الْمُطَّلَعِ وَوَسِّعْ عَلَیَّ ضیق الْمَضْجَعِ وَارْزُقْنِی خَیْرَ مَا قَبْلَ الْمَوْتِ
اے معبود پیش آمدہ ہولناکیوں میںمدد فرما میری قبر کی تنگی کو کشادگی میں بدل دینا اور موت سے پہلے مجھے بھلائی عطا
وَارْزُقْنِی خَیْرَ مَا بَعْدَ الْمَوْتِ
کرنا اور موت کے بعد بھی بھلائی نصیب فرمانا۔
(تیسری فصل)
گھر سے نکلتے وقت پڑھنے کی چند دعائیں یہ آٹھ دعایں ہیں ۔
(پہلی دعا )
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے گھر سے باہر جانے کا اردہ کرے تو تین مرتبہ کہے:
ﷲ أَکْبَرُ
اللہ بزرگ تر ہے۔
تین مرتبہ کہے :بِالله أَخْرُجُ وَبِالله أَدْخُلُ وَعَلَی ﷲ أَتَوَکَّلُ
خدا کے ساتھ با ہر نکلتا ہوں خدا کے ساتھ اندر آتا ہوں اور خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں ۔
پھر یہ کہے:اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِی فِی وَجْهِی هذَابِخَیْرٍ وَاخْتِمْ لِی بِخَیْرٍ وَقِنِی شَرَّ کُلِّ
اے معبود میرے اس کام میں بھلائی کی راہ کھول دے اور اس کا انجام بہتر کر دے اور مجھے ہر حرکت
دَابَّةٍ أَنْتَ آخِدٌ بِنَاصِیَتِها إنَّ رَبِّی عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ
کرنے والے کی شر سے بچا جس کی مہار تیرے ہاتھ میں ہے بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔
پس وہ شخص اس وقت تک خدا کی بہتر ضمانت میں رہے گا جب تک کہ وہاں واپس نہ پہنچ جائے کہ جہاں سے روانہ ہوا تھا ۔
(دوسری دعا)
امام زین العابدین- سے منقول ہے کہ انسان گھر سے نکلتے وقت دروازے پر یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله تَوکَّلْتُ عَلَی ﷲ
خدا کے نام سے میں خدا پر ایمان لایا اور خدا پر بھروسا کرتا ہوں ۔
(تیسری دعا )
امام محمد باقر - سے منقول ہے کہ جو شخص گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ ﷲ حَسْبِیَ ﷲ وتَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ اللَّهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ خَیْرَ أُمُورِی
خدا کے نام سے میرے لئے اللہ کافی ہےمیں نے اللہ پر بھروسہ کیا اے معبود میں تجھ اپنے تمام امور میں خیر چاہتا
کُلِّها وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ
ہوں اور تیری پناہ لیتا ہوں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے ۔
پس اللہ تعالیٰ دنیاوی اور اخروی امر میں اس کی مدد کرے گا جس سے اسے خطرہ ہو ۔
(چوتھی دعا)
جب گھر سے باہر جانے لگے تو یہ کہے:
بِسْمِ ﷲ تَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله اَللَّهُمَّ اِنِّیْ
خدا کے نام سے میں نے خدا پر بھروسہ کیا نہیں کوئی حرکت وقوت مگر جو خدا سے ہے اے معبود میں تجھ سے بہتری
اَسْئَلُکَ خَيْرَ مَا خَرَجْتُ لَهُ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا خَرَجْتُ لَهُ
چاہتا ہوں جس کام لئے جارہا ہوں تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے جس کام کے لئے نکلا ہوں اے
اَللّٰهُمَّ أَوْسِعْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ وَأَتْمِمْ عَلَیَّ نِعْمَتَکَ وَاسْتَعْمِلْنِی فِی طاعَتِک
معبود مجھ پر اپنے فضل میں اضافہ فرما اور مجھے تمام نعمتیں عطا فرما مجھے اپنی فرمانبرداری میں لگا دے
وَاجْعَلْ رَغْبَتِی فِیما عِنْدَک وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِکَ وَمِلَّةِ رَسُولِکَ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
مجھے اس میں رغبت دلا جو کچھ تیرے ہاں ہے اور مجھ کو اپنےدین اور اپنے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ کے دین پر موت دینا ۔
(پانچویں دعا)
امام علی رضا- فرماتے ہیں کہ جب میرے والد گرامی گھر سے نکلتے تو اپنی زبان پر یہ کلمات جاری فرماتے تھے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیم خَرَجْتُ بِحَوْلِ ﷲ وَقُوَّتِهِ لاَ بِحَوْل
خدا کے نام سے جو بڑارحم والا مہربان ہے میں نکل رہا ہوں خدا کی طاقت و قوت سے نہ اپنی
مِنِّی وَقُوَّتِی بَلْ بِحَوْلِکَ وَقُوَّتِکَ یَارَبِّ مُتَعَرِّضاً لِرِزْقِکَ فَأْتِنِی بِهِ فِی عافِیَةٍ
طاقت وقوت کے ساتھ بلکہ تیری طاقت و قوت سے اے میرے مالک تیرے رزق کے حصولکے لئے پس وہ مجھےآسانی کے ساتھ عطا فرما ۔
(چھٹی دعا )
امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ جو شخص گھر سے نکلتے وقت دس مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت کرے تو واپس آنے تک خدا کی حفظ و امان میں رہے گا ۔
( ساتویں دعا )
امام موسیٰ کاظم - سے مروی ہے کہ جب تم سفر پر جانے لگو تو گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر سورہ فاتحہ اپنے سامنے دایں بایں طرف پڑھو اسی طرح سورہ توحید اور سورہ فلق اور سورہ والناس کو بھی باری باری اپنے سامنے دایں اور بایں طرف پڑھو اور پھر کہو:
اَللَّهُمَّ احْفَظْنِی وَاحْفَظْمَا مَعِیَ وَسَلِّمْنِی وَسَلِّمْ مَا
اے معبود میری حفا ظت فرما اور جو کچھ میرے پاس ہے اس کی بھی اور جو کچھ میرے پاس ہے اسے سالم
مَعِیَ وَبَلِّغْنِی وَبَلِّغْ مَا مَعِیَ بَلاغاً حَسَناً
رکھ اور مجھے جو کچھ میرے ہمراہ ہے اسے اچھی طرح اپنی منزل پر پہنچا دے ۔
(آٹھویں دعا)
آنجنابعليهالسلام ہی سے مروی ہے کہ جب گھر سے باہر نکلنے لگو خواہ سفر میں ہو یا وطن میں تو یہ کہو:
بِسْمِ ﷲ آمَنْتُ بِالله وَتَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ مَا شائَ ﷲ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله
خدا کے نام سے میں خدا پر ایمان لایا اور خدا پر بھروسہ کیا آگے جو اللہ چاہے نہیں کوئی طاقت وقوت مگر جو اللہ سے ہے۔
(چوتھی فصل )
بعض دعائیں جو نماز سے پہلے اور اسکے بعد پڑھی جاتی ہیں یہ پانچ دعائیں ہیں ۔
(پہلی دعا)
امام جعفر صادق - سے منقول ہے کی امیر المومنین علیعليهالسلام ابن ابی طالب+ نے فرمایا جو شخص نماز کیلئے اٹھتے وقت اور نماز شروع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھے وہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمد کے ساتھ ہوگا ۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأُقَدِّمُهُمْ بَیْنَ یَدَیْ
اے معبود میں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمد کے ذریعے سے تیری طرف رخ کر رہا ہوں میں نے انہیں نماز کے آگے
صَلَواتِی وَأَتَقَرَّبُ بِهِمْ إلَیْکَ فَاجْعَلْنِی بِهِمْ وَجِیهاً فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ
رکھا اور ان کے وسیلے سےتیرا قرب چاہتا ہوں پس انکے واسطے سے مجھ کو دنیا آخرت میں
وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ مَنَنْتَ عَلَیَّ بِمَعْرِفَتِهِمْ فَاخْتِم لِی بِطاعَتِهِمْ وَمَعْرِفَتِهِمْ
عزت دار اور مقرب قرار دے اور ان کیمعرفت کرا کے تو نے مجھ پر احسان کیاہے پس میرا خاتمہ ان کی
وَوِلایَتِهِمْ فَ إنَّهَا السَّعادَةُ وَاخْتِمْ لِی بِهَا فَ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
پیروی ان کی معرفت اور ولایت میں فرما کہ یہ خوش بختی ہے تو میرا خاتمہ اس پر کر یقینا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔
پس نماز بجا لائے اور اس کے بعد کہے:اَللَّهُمَّ اجْعَلْنِی مَعَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ فِی کُلِّ عافِیَةٍ
اے معبود تو مجھ کو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آلعليهالسلام محمد کے ساتھ رکھ ہر سہولت
وَبَلائٍ وَاجْعَلْنِی مَعَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ فِی کُلِّ مَثْوی وَمُنْقَلَبٍ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ
اور مشکل میں اور ہرمقام و منزل میں مجھ کو انہی کے ساتھ قراردے اے معبود میری زندگی ان کی
مَحْیَایَ مَحْیَاهُمْ وَمَمَاتِی مَمَاتَهُمْ وَاجْعَلْنِی مَعَهُمْ فِی الْمَوَاطِنِ کُلِّها
زندگی جیسی اور میری موت ان کی موت جیسی بنا دے اور ہر مقام پر مجھ کو ان کے ساتھ کر دے میرے
وَلاَ تُفَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَهُمْ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
اور ان کے درمیان دورینہ ڈال یقینا تو ہر چیز پر قدرترکھتا ہے ۔
(دوسری دعا)
صفوان جمال سے روایت ہے کہ میںنے امام جعفر صادق - کو دیکھا کی آپعليهالسلام قبلہ رخ ہوئے اور تکبیر سے پہلے یہ دعا پڑھی:
اَللّٰهُمَّ لاَ تُؤْیِسْنِی مِنْ رَوْحِکَ وَلاَ تُقَنِّطْنِی مِنْ رَحْمَتِکَ وَلاَ
اے معبود مجھے اپنی مہربانی سے ناامید نہ کر اپنی رحمت سےبے آس نہ فرما اور مجھے اپنی تدبیر
تُؤْمِنِّی مَکْرَکَ فَ إنَّهُ لاَ یَأْمَنُ مَکْرَ ﷲ إلاَّ الْقَوْمُ الْخاسِرُونَ
سے بے خطر نہ ہونے دے کہ خدا کی تدبیر سے بے خطر ریاکار ہی ہوتے ہیں ۔
(تیسری دعا)
امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ امیر المومنین علیعليهالسلام ابن ابی طالب + جب زوال سے فارغ ہوجاتے تو کہا کرتے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِجُودِکَ وَکَرَمِکَ وَأَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ
اے معبودمیں تیرا قرب چاہتا ہوں تیریعطا و بخشش کے ذریعے تیرا قرب چاہتا ہوں تیرے
عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ وَأَتَقَرَّبُ إلَیْکَ بِمَلائِکَتِکَ الْمُقَرَّبِینَ
بندے اور رسول محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعے سےاور تیرا قرب چاہتا ہوں تیرے مقرب فرشتوں سے
وَأَنْبِیَائِکَ الْمُرْسَلِینَ وَبِکَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْغَنِیُّ وَبِی عَنِّیَ الْفاقَةُ إلَیْکَ
اور تیرے بھیجے ہوئے نبییوںعليهالسلام سے اور تیرے ذریعے سے اے معبود تو مجھ سے بے نیازہے اور میں تیرا محتاج ہوں
أَنْتَ الْغَنِیُّ وَأَنَا الْفَقِیرُ إلَیْکَ أَقَلْتَنِی عَثْرَتِی وَسَتَرْتَ عَلَیَّ ذُنُوبِی
تو صاحب مال اور میں تجھ سے مانگنے والا ہوں تونے میری خطائوں سے در گزر کی اورمیرے گناہوں کو ڈھانپا
فَاقْضِ الْیَوْمَ حاجَتِی وَلاَ تُعَذِّبْنِی بِقَبِیحِ مَا تَعْلَمُ مِنِّی بَلْ عَفْوُکَ
پس آج میری حاجت پوری فرما تو میری جس برائی کوجانتا ہے اس کی سزا نہ دے کہ تیری
وَجُودُکَ یَسَعُنِی
معافی اور عطا نے گھیراہوا ہے۔
پھر حضرت سر سجدے میں رکھتے اور کہتے:
يَاأَهْلَ التَّقْوَی وَیَا أَهْلَ الْمَغْفِرَةِ یَا بَرُّ یَا رَحِیمُ أَنْتَ أَبَرُّ بِی مِنْ أَبِی وَأُمِّی
اے بچانے والے اے بخشش دینے والے اے نیکیوں والے اے مہربان توپر میرے ماں باپ پر اور ساری مخلوق
وَمِنْ جَمِیعِ الْخَلائِقِ اقْلِبْنِی بِقَضائِ حاجَتِی مُجاباً دُعائِی مَرْحُوماً صَوْتِی قَد
سے بڑھ کر مہربان ہے مجھے پلٹا حاجت بر آری کے ساتھ میری دعا قبول فرما میری آواز پر رحم کر کہ تو نے طرح طرح
کَشَفْتَ أَنْوَاعَ الْبَلائِ عَنِّی
کی بلائیں مجھ سے دور کی ہیں۔
(چوتھی دعا)
حضرت امام محمد تقی - فرماتے ہیں جب فریضہ نماز سے فا رغ ہو جائے تو یہ کہے:
رَضِیتُ بِالله رَبّاً وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیّاً وَبِالْاِسْلامِ دِیناً وَبِالْقُرْآنِ کِتاباً وَبِعَلیٍّ
میں راضی ہوں کہ اللہ میرا رب ہے محمدمیرے نبی ہیں اسلام میرا دین ہے اور قرآن میرا کتاب ہے اور علیعليهالسلام
وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وعَلیٍّ وَمُحَمَّدٍ وجعفرٍ وموسَی وعَلِیٍّ ومُحمَّدٍ وعَلِیٍّ والحَسَنِ والحجّةِ
حسنعليهالسلام ، حسینعليهالسلام ، علیعليهالسلام محمدعليهالسلام ، جعفر،عليهالسلام موسیٰعليهالسلام علیعليهالسلام ، محمدعليهالسلام ، علیعليهالسلام حسنعليهالسلام ، اور حجۃعليهالسلام میرے امامعليهالسلام ہیں
اَللّٰهُمَّ وَلِیُّکَ الحُجَّةُ الْقَآئِمَ فَاحْفَظْهُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ
اے معبود تیرا ولی حجۃ القائم ہے پس اس کی حفاظت اس کے آگے سے اس کے پیچھے سے اس کے
یَمِینِهِ وَعَنْ شِمالِهِ وَمِنْ فَوْقِهِ وَمِنْ تَحْتِهِ وَامْدُدْ لَهُ فِی عُمْرِهِ وَاجْعَلْهُ الْقائِمَ بِأَمْرِکَ
دائیں سے اس کے بائیں سے اس کے اوپر سے اور اس کے نیچے سے اسکی زندگی میں طول دے اسے قرار دے جو تیرے حکم سے قائم ہے تیرے
وَالْمُنْتَصِرَ لِدِینِکَ وَأَرِهِ مَا یُحِبُّ وَما تَقَرُّ بِهِ عَیْنُهُ فِی نَفْسِهِ وَذُرِّیَّتِهِ
دین کا مدد گار ہو اسے وہ دکھا جو اسے پسند ہے جس سے اسکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اس کی ذات میں اس
وَفِی أَهْلِهِ وَمالِهِ وَفِی شِیعَتِهِ وَفِی عَدُوِّهِ وَأَرِحِمْ مِنْهُ مَا یَحْذَرُونَ
کی اولاد میں اس کے خاندان میں مال میں اسکے دوستوں اور دشمنوں میں دشمنوں کو اس سے وہی دکھا جس سے ڈرتے
وَأَرِهِ فِیهِمْ مَا یُحِبُّ وَتُقِرُّ بِهِ عَیْنَهُ وَاشْفِ بِه صُدُورَنا وَصُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ
ہیں اسے دن میں وہی دکھا جو اسے پسند ہے جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ہماریاور مومنوں کےدلوں میں شفا دے ۔
اور فرمایا کہ جب رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نماز سے فارغ ہوتے تو کہا کرتے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَما أَخَّرْتُ وَما أَسْرَرْتُ وَما أَعْلَنْتُ وَ إسْرَافِی
اے معبود معاف کردے جو گناہ میں نےپہلے کیے ہیں اور جو بعد میں کیے اور جومیں نے چھپ کر کیے اور جو بظاہر کیے
عَلَی نَفْسِی وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّی اللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ
میں نے اپنی جان پر جوظلم کیا وہ بھی جسےتو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اے معبود توآگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا
بِعِلْمِکَ الْغَیْب وَبِقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ، مَا
ہے نہیں کوئی معبود مگر تو ہے تو ہی غیب کوجانتا ہے اور ساری مخلوقات پر قدرت رکھتا ہے جب تک تو میرا زندہ رہنا
عَلِمْتَ الْحَیاةَ خَیْرَاً لِی فَأَحْیِنِی وَتَوَفَّنِی إذا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَیْراً لِی
بہترسمجھے مجھ کو زندہ رکھ اور جب تو میری موت کو مناسب سمجھے مجھے موت دے دے
اللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ خَشْیَتَکَ فِی السِّرِّ وَالْعَلانِیَةِ وَکَلِمَةَ الْحَقِّ
اے معبود میں سوال کرتا ہوں کہ مجھ پر پوشیدہ اور ظاہر ا تیرا خوف طاری رہے میں حق بات کہوں
فِی الْغَضَبِ وَالرِّضا وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنَی وأَسْأَلُکَ نَعِیماً لاَ
خوشی و ناخو شی میں اور میانہ روی رکھوں غربت و امارت میں تجھ سے مانگتا ہوں ایسی نعمتیں
یَنْفَدُ، وَقُرَّةَ عَیْنٍ لاَ تَنْقَطِع وأَسْئَلُکَ الرِّضَا بِالْقَضائِ وَبَرَکَةَ
جو ختم نہ ہوں اور آنکھوں کی ٹھنڈ ک جو زائل نہ ہو تجھ سے سوال کرتا ہو ں قضا پر راضی رہنے کا اور زندگی
الْمَوْتِ بَعْدَ الْعَیْش وَبَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَلَذَّةَ الْمَنْظَرِ إلَی وَجْهِکَ
کے بعد اچھی طرح کی موت کا موت کے بعد خوشگوار زندگی تیرے جمال کا نظارہ کرنے کی لذت
وَشَوْقاً إلَی رُؤْیَتِکَ وَلِقائِک مِنْ غَیْرِ ضَرَّائَ مُضِرَّةٍ وَلاَ فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اَللّٰهُمَّ زَیِّنَّا
اور تیر ے دیدار و ملاقات کا سوال کرتاہوں جس میں نقصان و ضرر نہ ہو اور گمراہ کن فتنہ بھی نہ ہو اے معبود ہمیں
بِزِینَةِ الْاِیمانِ وَاجْعَلْنا هُدَاةً مُهْتَدِینَ اَللّٰهُمَّ اهْدِنا فِیمَنْ هَدَیْتَ اَللّٰهُمَّ
ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ رہنما بنا دے اے معبود ہمیں ہدایت پانے والوں میں شامل فرما اے
إنِّی أَسْأَلُکَ عَزِیمَةَ الرَّشادِ وَالثَّباتِ فِی الْاََمْرِ وَالرُّشْد وأَسْأَلُکَ شُکْرَ
معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں راہ پانےکے اردے امر دین میں ثابت قدمی اور پختگی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری
نِعْمَتِک وَحُسْنَ عافِیَتِکَ وَأَدَائَ حَقِّکَ وأَسْئَلُکَ یَارَبِّ قَلْباً سَلِیماً وَلِساناً
نعمتوں کے شکر کا بہترین آسائش کا اور تیرے حق کی ادائیگی کا اور سوال کرتا ہوں یارب کہ حق کو قبول کرنے والا دل اور سچ بولنے
صادِقاً، اَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ وَأَسْئَلُکَ خَیْرَ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ
والی زبان دے اور معافی مانگتا ہوں اپنے گناہوں کی جو تیرے علم میں ہیں اور سوال کرتا ہوں اس بھلائی کا جو تیرے علم میں ہے تیری
بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ فَ إنَّکَ تَعْلَمُ وَلاَ نَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ
پناہ لیتاہوں اس شر سے جو تیرے علم میں ہے کیونکہ تو جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے اور تو ہی غیب کی باتیں جاننے والا ہے ۔
(پانچویں دعا)
امام جعفر صادق - سے روایت ہے جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد یہ کلمات پڑھے تو وہ خود اس کا گھر اسکا مال اور اولاد محفو ظ رہیں گے۔
أُجِیرُ نَفْسِی وَمالِی وَوَلَدِی وَأَهْلِی وَدَارِی وَکُلَّ مَا هُوَ مِنِّی بِالله الْواحِدِ الْاََحَدِ
میں اپنے آپ کو اپنے مال اپنی اولاد اور اپنیمیںگھر اپنے خاندان اور اپنی ہر ایک چیز کو خدائے واحد و یکتا و
الصَّمَدِ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ وَأُجِیرُ نَفْسِی وَمَالِی
بے نیاز کی پناہ میں دیتا ہوں کہ جو نہ جنا گیا اور نہ اسنے جنا اور نہ کوئی اس کا ہم پلہ ہے میں اپنے آپ کو اپنے مال
وَوَلَدِی وَکُلَّ مَا هُوَ مِنِّی بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ تا آخر سورہ
اور اولاد اور ہر چیز کو رب صبح کی پناہ میں دیتا ہوں اس کی مخلوق کے شر سے میں اپنے
وَأُجِیرُ نَفْسِی وَمالِی وَوَلَدِی وَکُلَّ مَا هُوَ مِنِّی بِرَبِّ النَّاسِ مَلِکِ النَّاسِ
آپ کو اپنے مال و اولاد اور اپنی ہر چیز کو لوگوں کے رب کی پناہ میں دیتا ہوں جو لوگوں کا بادشاہ ہے
تا آخر سورہوَأُجِیرُ نَفْسِی وَمَالِی وَوَلَدِی وَکُلَّ مَا هُوَ مِنِّی بِالله لاَ إلهَ إلاَّ
میں اپنے آپ کو اپنے مال واولاد اور اپنی ہر چیز کو اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود
هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ ﴿تاآخر آیة الکرسی﴾
نہیں وہ زندہ پائندہ ہے نہ اسے اونگھ آتی اور نہ اسے نیند آتی ہے۔
(پانچویں فصل)
وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں ۔
یہ پانچ دعائیں ہیں ۔
( پہلی دعا )
معاویہ بن عمار سے منقول ہے کہ میں نے امام جعفر صادق - سے عرض کیا کہ مجھے وسعت رزق کی کوئی دعا تعلیم فرمائیں تو آپعليهالسلام نے مجھ کو یہ دعا تعلیم فرمائی اور میں نے وسعت رزق کے لئے اس سے بہتر کسی چیز کو نہیں پایا ۔
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِکَ الْوَاسِعِ الْحَلالِ الطَّیِّبِ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَیِّباً
اے معبود مجھے عطا فرما اپنے بے حسابفضل سے حلا ل و پاکیزہ فراوں روزیجو حلال و پاکیزہ اور کافی ہو دنیا و آخرت
بَلاغاً لِلدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ صَبّاً صَبّاً هَنِیئاً مَرِیئاً مِنْ غَیْرِ کَدٍّ وَلاَ مَنٍّ مِنْ أَحَدٍ مِنْ
کیلئے وہ جاری رہے مناسب اور خوش ذائقہ بغیر کسی تکلیف کے اور اس میں تیری مخلوق میں سے کسی کا احسان نہ ہو
خَلْقِکَ إلاَّ سَعَةً مِنْ فَضْلِکَ الْوَاسِعِ فَ إنَّکَ قُلْتَ وَ اسْأَلُوا ﷲ مِنْ فَضْلِهِ فَمِنْ فَضْلِکَ
مگر یہ کہ تیرے وسیع فضل سے فراوانی ملے کیو نکہ تو نے فرمایا ہے کہ اللہ کےفضل سے مانگو پس میں تیرے فضل سے
أَسْأَلُ وَمِنْ عَطِیَّتِکَ أَسْأَلُ وَمِنْ یَدِکَ الْمَلاََْیٰ أَسْأَلُ
مانگتا ہوں تیری عطا میں طلب کرتا ہوںاور تیرے بھرے ہاتھ سے لینا چاہتا ہوں ۔
(دوسری دعا )
امام محمد باقر - نے زید شحام سے فرمایا کہ کشائش رزق کیلئے ہر فریضہ نماز کے سجدے میں کہو:
یَا خَیْرَ الْمَسْؤُولِینَ وَیَا خَیْرَ الْمُعْطِینَ اُرْزُقْنِی وَارْزُقْ
اے بہترین ذات جس سے مانگا جاتا ہے اور بہترین عطا کرنے والے مجھے رزق دے اور میرے
عِیَالِی مِنْ فَضْلِکَ فَ إنَّکَ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیمِ
عیال کو رزق دے اپنے فضل سے کیونکہ یقینا تو بڑے فضل کا مالک ہے ۔
(تیسری دعا )
ابو بصیر سے منقول ہے کہ میں نے امام جعفر صادق - سے اپنی حاجات کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ مجھے وسعت رزق کی کوئی دعا تعلیم فرمائیں پس آپ نے مجھے یہ دعا تعلیم فرمائی اور میں نے جب اس کو پڑھنا شروع کیا کبھی محتاج نہیں ہوا آپعليهالسلام نے فرمایا کہ نماز تہجد میں سجدے کی حالت میں کہو:
یَا خَیْرَ مَدْعُوٍّ، وَیَا خَیْرَ مَسْؤُولٍ وَیَا أَوْسَعَ مَنْ أَعْطَیٰ وَیَا
اے بہترین ذات جسے پکارا اور جس سے سوال کیا جاتا ہے اے سب سے زیادہ عطا کرنے والے
خَیْرَ مُرْتَجیً اُرْزُقْنِی وَأَوْسِعْ عَلَیَّ مِنْ رِزْقِکَ وَسَبِّبْ لِی
اے بہترین آرزدشدہ مجھے رزق دے اپنا رزق میرے لئے فراواں کر دے اور اپنی طرف سے میری
رِزْقاً مِنْ قِبَلِکَ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر
روزی کے وسیلے مہیا فرمایا کیو نکہ یقینا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
مؤلف کہتے ہیں شیخ طوسیرحمهالله نے مصباح میں اس دعا کو نماز تہجد کی آٹھویں رکعت کے سجدہ آخر میں پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے ۔
(چوتھی دعا )
روایت ہوئی ہے کہ رسول خدا نے وسعت رزق کے لئے یہ دعا تعلیم فرمائی:
ٌیَا رَازِقَ الْمُقِلِّین وَیَا رَاحِمَ الْمَساکِینِ وَیَا وَلِیَّ الْمُؤْمِنِین
اے ناداروں کو روزی دینے والے اے بے سہاروں پر رحم کرنے والے اے مومنوں کی سر پر ستی کرنے والے
وَیَا ذَاالْقُوَّةِ الْمَتِینِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وَارْزُقْنِی وَعافِنِی وَاکْفِنِی مَا
اے محکم قوت کے مالک رحمت فرما محمد اور ان کی اہلبےعليهالسلام ت پر اور مجھے رزق دے آسائش عطا کر مشکلوں میں میری
أَهَمَّنِی
مدد فرما۔
( پانچویں دعا )
یہ دعا ابو بصیر نے امام جعفر صادق - سے نقل کی ہے کہ امامعليهالسلام نے فرمایا یہ وہ دعا ہے جو امام زین العابدین- اپنے رب کے حضور پڑھا کرتے تھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُک حُسْنَ الْمَعِیشَةِ مَعِیشَةً أَتَقَوَّیٰ بِهَا عَلَی جَمِیعِ حَوَائِجِی
اے معبود میں تجھ سے مانگتا ہوں بہترین معاش کہ جس سے میں اپنی تمام حاجات و ضروریات
وَأَتَوَصَّلُ بِها فِی الْحَیاةِ إلَی آخِرَتِی مِنْ غَیْرِ أَنْ تُتْرِفَنِی فِیها فَأَطْغَیٰ أَوْ تُقَتِّرَ
پوری کر سکوںاور اسی کے ذریعے زندگی میں آخرت کو پائوں ایسی روزی نہ ہو کہ فروانی ہو تو سر کشی کرنے
بِها عَلَیَّ فَأَشْقی أَوْسِعْ عَلَیَّ مِنْ حَلالِ رِزْقِکَ وَأَفْضِلْ عَلَیَّ مِنْ
لگو یا اتنی تنگی ہو کہ بد بخت ہو جائوں وسعت عطا کر مجھے اپنی طرف سے رزق حلال میں اور مجھ پر اپنے فضل سے
سَیْبِ فَضْلِکَ نِعْمَةً مِنْکَ سابِغَةً وَعَطائً غَیْرَ مَمْنُون ثُمَّ لاَ تَشْغَلْنِی عَنْ
مہربانی کی بارش برسا اپنی بہترین نعمتیں دے اور وہ عطا کر کہ جو کبھی ختم نہ ہو اور اس کے بعد مجھے دی ہوئی
شُکْرِ نِعْمَتِک بِ إکْثارٍ مِنْها تُلْهِینِی بَهْجَتُهُ وَتَفْتِنُنِی زَهَراتُ زَهْوَتِهِ، وَلاَ
نعمتوں پر اداے شکر سے غافل نہ ہونے دے کہ کہیں کثرت نعمت مجھے خوشی میں مست نہ کر دے اور اس
بِ إقْلالٍ عَلَیَّ مِنْها یَقْصُرُ بِعَمَلِی کَدُّهُ وَیَمْلَاُ صَدْرِی هَمُّهُ أَعْطِنِی مِنْ ذلِکَ
کی تازگی مجھے فتنے میں نہ ڈالے اور نہ اسے اتنا کم کردے کہ اس کا حصول میرے عمل کو گھٹا دے اور دل اس کی
یَا إلهِی غِنیً عَنْ شِرَارِ خَلْقِکَ وَبَلاغاً أَنالُ بِهِ رِضْوانَکَ
پریشانی میں مبتلا رہے اے میرے اللہ اس بارے میں مجھے اپنی مخلوق کے شر سے بے خوف کردے اور میں اس رزق
وَأَعُوذُ بِکَ یَا إلهِی مِنْ شَرِّ الدُّنْیا وَشَرِّ مَا فِیهاوَلاَ تَجْعَلْ عَلَیَّ الدُّنْیا
سے تیری رضاحاصل کروں الہی میں تیری پناہ لیتا ہوںدنیااور اس کی چیزوں کے شر سے اس دنیا کو میرے لئے قید خانہ قرار نہ
سِجْناً وَلاَ فِراقَها عَلَیَّ حُزْناً اَخْرِجْنیٰ مِنْ فِتْنَتِهَا مَرْضٰیاً عَنّٰی مَقْبُولاً فِیها عَمَلِی إلَی دَارِ
دے مجھے اس کیچھوڑے جانے پر غم زدہ ہونے دے مجھے اس کے فتنوں سے نکال جب کہ تو مجھ سے راضی ہو میرا یہاں کیا
الْحَیَوانِ وَمَساکِنِ الْاََخْیَار وَأَبْدِلْنِی بِالدُّنْیَا الْفانِیَةِ نَعِیمَ
ہوا عمل مقبول ہو کہ زندگی کے گھراور نیکوں کے ٹھکانے پرپہنچوں اس دنیا فانی کے بدلے میں مجھے ہمیشہ
الدَّارِ الْباقِیَةِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ أَزْلِها وَزِلْزالِها
کی نعمتوں والا گھر عطا فرما اے معبود میں تیری پناہ لیتا ہوں اس دنیا کی سختی اور زلزلوں
وَمِنْ سَطَوَاتِ شَیاطِینِها وَسَلاطِینِهاوَنَکالِها وَمِنْ بَغْیِ مَنْ بَغَی
سے یہاں کے شیطانوں اور حکمرانوں کے حملوں سے دنیا کی تنگی سے زیادتی اور یہاں کے
عَلَیَّ فِیها اَللّٰهُمَّ مَنْ کادَنِی فَکِدْهُ وَمَنْ أَرادَنِی فَأَرِدْهُ
زیادتی کرنیوالوں سے اے معبودجو مجھے دھوکادے اسے دھوکے میں ڈال جو مجھ سے میرے لئے
وَفُلَّ عَنِّی حَدَّ مَنْ نَصَبَ لِی حَدَّهُ وَأَطْفِأَ عَنِّی نارَ مَنْ شَبَّ لِی وَقُودَهُ
برا ارادہ کرے تو اس سے ایسا ہی کر جو میرے لئے تلوار تیز کرے تو اسے کند کر دے جو میرے لئے آگ
وَاکْفِنِی مَکْرَ الْمَکَرَةِ وَافْقَأْ عَنِّی عُیُون الْکَفَرَةِ وَاکْفِنِی هَمَّ
بھڑکاے اسے بجھا دے مکر کرنے والے کے مقابل میری مد د فرما مکار کی آنکھیں میری طرف سے بند
مَنْ أَدْخَلَ عَلَیَّ هَمَّهُ وَادْفَعْ عَنِّی شَرَّ الْحَسَدَةِ وَاعْصِمْنِی مِنْ ذلِکَ بِالسَّکِینَةِ
کردے جو میرے دل میں غم ڈالے تو میری کفایت کر مجھ سے حاسدوں کے حسد کو دور کر میری حفاظت فرما مجھے مطمئن رکھ
وَأَلْبِسْنِی دِرْعَکَ الْحَصِینَةَ وَأَحْیِنِی فِی سِتْرِکَ الْوَاقِی وَأَصْلِحْ لِی حالِی وَصَدِّقْ قَوْلِی
مجھے اپنی محکم زرہ میں محفوظ کر دے مجھے اپنے بچانے والے پردوں میںزندہ رکھ میرے حالات بہتر بنا
بِفِعالِی وَبَارِکْ لِی فِی أَهْلِی وَمَاْلِی
دے میرے قول و فعل کو یکساں کر دے اور میرے خاندان اور مال میں برکت دے۔
مؤلف کہتے ہیں دوسرے باب میں نمازوں کے ذیل میں وسعت رزق کے لئے بعض نمازوں کا ذکر کیا جا چکا ہے ۔
(چھٹی فصل )
اداے قرض کیلئے دعائیں ۔
(پہلی دعا )
امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ ادائے قرض کیلئے یہ دعا پڑھو:
اَللّٰهُمَّ لَحْظَةً مِنْ لَحَظاتِکَ تُیَسِّرُ عَلَی غُرَمائِی بِهَا الْقَضائَ وَتُیَسِّرُ لِی
اے معبود تیری نظروں میں سے ایک ہی نظر میرے قرض خواہوں کا قر ض ادا کر دے گی اور ان لوگوں کے تقاضے کو مجھ پر
بِهَا الاقْتِضائَ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
ہلکا کر دے گی کیونکہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔
(دوسری دعا )
یہ دعا حضرت امام موسیٰ کاظم - سے مروی ہے ۔
اَللّٰهُمَّ ارْدُدْ إلی جَمِیعِ خَلْقِکَ مَظالِمَهُمُ الَّتِی قِبَلِی صَغِیرَها وَکَبِیرَها
اے معبود لوٹا دے ساری مخلوق کو ان کے ڈوبے ہوئے قرضے جو مجھ پر ہیں چھوٹے ہیں یا بڑے
فِی یُسْرٍ مِنْکَ وَعافِیَةٍ وَمالَمْ تَبْلُغْهُ قُوَّتِی وَلَمْ تَسَعْهُ ذاتُ
اپنی طرف سے آسانی و سہولت کے ساتھ کہ جن کی ادایئگی میری طاقت و وسعت سے باہر ہے جن
یَدِی وَلَمْ یَقْوَ عَلَیْهِ بَدَنِی وَیَقِینِی وَنَفْسِی فَأَدِّهِ عَنِّی مِنْ جَزِیلِ ما عِنْدَکَ
کو ادا کرنا میرے بدن میری جان کے لئے دشوار ہے پس وہ میری طرف سے ادا کر دے اور اپنے
مِنْ فَضْلِکَ ثُمَّ لاَ تُخَلِّفْ عَلَیَّ مِنْهُ شَیْئاً تَقْضِیهِ مِنْ حَسَناتِی، یَا أَرْحَمَ
فضل سے اتنا زیادہ دے کہ پھر مجھ پر کسی کاکچھ بھی باقی نہ رہے کہ جسے تو میری نیکیوں سے ادا کر ے اے سب
الرَّاحِمِینَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَشْهَدُ
سے زیادہ رحم کرنے والے میں گواہ ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر اللہ ہے وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور
أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ الدِّینَ کَما شَرَعَ وَأَنَّ الْاِسْلامَ
میں گواہ ہو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے بندے اور رسول ہیں یہ کہ دین وہ ہے جو اس نے مقرر کیا اسلام وہی ہے جیسے اس
کَما وَصَفَ وَأَنَّ الْکِتَابَ کَمَا أَنْزَلَ وَأَنَّ الْقَوْلَ کَما حَدَّث
نے بتا یا کتاب وہی ہے جیسے اس نے نازل کی اور قول وہی ہے جو اس نے فرمایا اور یہ کہ خدا وہی
وَأَنَّ ﷲ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِینُ، ذَکَرَ ﷲ مُحَمَّداً وَأَهْلَ بَیْتِهِ
آشکار حق ہے جس نے محمد اور ان کی اہلبیت کو خوبی سے یاد کیا اور
بِخَیْرٍ وَحَیَّا مُحَمَّداً وَأَهْلَ بَیْتِهِ بِالسَّلامِ
درود بھیجتا ہے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکی اہلبےعليهالسلام ت پر سلام کے ساتھ۔
( ساتویں فصل)
غم و اندیشے اور خوف دور کرنے کی بعض دعائیں۔
اس فصل میں بارہ دعائیںہیں ۔
(پہلی دعا )
امام محمد باقر - سے روایت ہے کہ جب تمہیں کوئی ایسا معاملہ پیش آئے کہ جو تمہارے لئے خوف کا باعث ہو تو قبلہ رخ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرو اور اس کے بعد یہ کہو:
یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ وَیَا أَسْمَعَ السَّامِعِینَ وَیَا أَسْرَعَ الْحاسِبِینَ
اے سب سے زیادہ دیکھنے والے اور اے سب سے زیادہ سننے والے اور سب سے تیز تر حساب لینے والے
وَیَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اور سب سے زیادہ رحم کرنے والے
یہ کلمات ستر مرتبہ دہرائیں اور جب ایک مرتبہ یہ کلمات کہہ چکیں تو اپنی حاجات بیان کریں حتیٰ کہ ستر کی تعداد پوری ہوجائے ۔
(دوسری دعا )
رسول خدا فرماتے ہیں کہ جس شخص کوکسی رنج و تکلیف کا سامنا ہو تو وہ یہ دعا پڑھے:
ﷲ رَبِّی لاَ أُشْرِکُ بِهِ شَیْئاً، تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ
اللہ میرا رب ہے میں کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا میرا بھروسہ اس زندہ پر ہے جسے موت نہیں ۔
(تیسری دعا )
جب بھائیوں نے حضرت یوسف - کو کنویں میں پھینکا تو جبرائیل آپعليهالسلام کے پاس آئے اور پوچھا آپ یہاں کیا کر رہے ہیں آپعليهالسلام نے بتایا کہ میرے بھائیوں نے مجھے اس کنویں میں پھینک دیا ہے جبرائیلعليهالسلام نے کہا آیا آپ چاہتے ہیں کہ اس کنویں سے باہر نکل جائیں حضرتعليهالسلام نے فرمایا یہ تو مشیت خدا ہی سے ممکن ہے کہ وہ مجھے اس سے نکال دے جبرائیلعليهالسلام نے کہا حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ یہ دعا پڑھیں تاکہ میں آپ کو کنویں سے باہر نکالوں دو ں آپعليهالسلام نے پو چھا کونسی دعا جبرائیلعليهالسلام نے کہا وہ دعا یہ ہے ۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْمَنَّانُ
اے معبود میں تجھ سے سوا ل کرتا ہوں کیونکہ حمد تیرے لئے ہی ہے نہیں کوئی معبود مگر تو، تو ہے بڑا محسن
بَدِیعُ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ ذُوالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
آسمانوں اور زمین ا پیدا کرنے والا دبدبے اور بزرگی کا مالک یہ کہ تو رحمت فرما محمد و آلعليهالسلام محمد اور
مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَجْعَلَ لِی مِمَّا أَنَا فِیهِ فَرَجاً وَمَخْرَجاً
میں جس تکلیف و مشکل میں ہوں میرے لئے اس سے نکلنے کیراہ بنا دے ۔
حضرت یوسف- نے یہ دعا پڑھی تو ایک قافلہ ادھر آیا جس نے ان کو کنویں سے نکالا جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے ۔
(چوتھی دعا)
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جب تمہیں کوئی خوف لاحق ہو تو یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّٰهُمَّ إنَّکَ لاَ یَکْفِی مِنْکَ أَحَدٌ وَأَنْتَ تَکْفِی مِنْ کُلِّ أَحَدٍ مِنْ خَلْقِک َفَاکْفِنِی
اے معبود حق یہ ہے کہ تیری مدد کرنے والا کوئی نہیں اور تو وہ ہے جو ہر ایک کی مدد کرتا ہے اپنی مخلوق میں سے پس میری
کَذاوَکَذا یَا کافِیاً مِنْ کُلِّ شَیْئٍ
مدد فرما فلاں فلاں امر میں
فلاں فلاں کی بجاے اپنی حاجات گنواے ایک اور حدیث میں یوں ہے:
اے ہر چیز سے کفایت کرنے والے
وَلاَ یَکْفِی مِنْکَ شَیْئٌ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ اِکْفِنِی ما أَهَمَّنِی مِنْ أَمْرِ الدُّنْیا
اور کوئی چیز تیری کفایت نہیں کرتی اور جوآسمانوں اور زمینوں میں ہے میری کفایت فرما ہر اندیشے میں جو دنیا و
وَالْاَخِرَةِ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
آخرت کے بارے میں ہے اور رحمت کر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر ۔
امام جعفر صادق - نے فرمایا کہ جو شخص کسی ایسے حاکم اور بادشاہ کے سامنے جائے کہ جس سے خائف ہے تو وہ یہ دعا پڑھے:
بِالله أَسْتَفْتِحُ، وَبِالله أَسْتَنْجِحُ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
میں خدا کے ساتھ آغاز کرتا ہوں اور اسی سے کامیابی کاطالب ہوں میں محمد مصطفی
أَتَوَجَّهُ اَللّٰهُمَّ ذَلِّلْ لِی صُعُوبَتَهُ وَسَهِّلْ لِی حُزُونَتَهُ فَ إنَّکَ
کے ذریعے متوجہ ہوا ہوں اے معبود میرے لئے اس کی سختی نرم کر دےاسکی طرف سے غم کو ہلکا کر دے کہ تو
تَمْحُو مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ وَعِنْدَکَ أُمُّ الْکِتَابِ
جو چاہے مٹا تا اور لکھتا ہے اور کل کا کل دفتر تیرے ہی پاس ہے۔
نیز یہ بھی کہے:
حَسْبِیَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ
کافی ہے مجھے اللہ نہیں کوئی معبود مگر وہ ہے میں نے اس پر بھروسہ کیااور وہ عظمت والے عرش کا مالک
الْعظِیمِ وَأَمْتَنِعُ بِحَوْلِ ﷲ وَقُوَّتِهِ مِنْ حَوْلِهِمْ وَقُوَّتِهِمْ وَأَمْتَنِعُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ
ہے میں روکتا ہوں خدا کی قوت وحرکت کے ساتھ ان لوگوں کی حرکت و قوت کو روکتاہوں صبح کے رب کے ساتھ اس
مَا خَلَقَ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله
مخلوق کے شر کو اور نہیں کوئی طاقت وقوت مگر جوخدا سے ہے ۔
(پانچویں دعا)
روایت میں ہے کہ ہر مشکل وقت میں حضرت امام محمد باقر - کی یہ دعا پڑھو:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی
اے معبود رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمد پراور مجھے بخش دے مجھ پر رحمت کر
وَزَکِّ عَمَلِی وَیَسِّرْ مُنْقَلَبِی وَاهْدِ قَلْبِی وَآمِنْ خَوْفِی
اور میرے عمل کو پاکیز ہ بنا دے میری بازگشت آسان فرما میرے دل کو ہدایت دے مجھے خوف سے
وَعافِنِی فِی عُمْرِی کُلِّهِ، وَثَبِّتْ حُجَّتِی وَاغْفِرْ خَطایایَ
بچا زندگی بھر مجھے تندرستی سےرکھ میری حجت کو بر قرار رکھ میری خطائیں معاف فرما
وَبَیِّضْ وَجْهِی وَاعْصِمْنِی فِی دِینِی وَسَهِّلْ مَطْلَبِی وَوَسِّعْ عَلَیَّ فِی
میرا چہرہ روشن کر دے میرے دین کی حفاظت کر میرے کام سنوار دے اور اپنا رزق فراوانی کے
رِزْقِی فَ إنِّی ضَعِیفٌ وَتَجاوَزْ عَنْ سَیِّئِ مَا عِنْدِی بِحُسْنِ
ساتھ دے کیونکہ میں ناتواں ہوں اور میری برائیوں سے در گزر فرمااور اپنی طرف سے بھلایئاں عطا کر
مَا عِنْدَکَ، وَلاَ تَفْجَعْنِی بِنَفْسِی وَلاَ تَفْجَعْ لِی حَمِیماً وَهَبْ لِی یَا إلهِی لَحْظَةً مِنْ لَحَظاتِکَ
دے مجھ کو اور میرے رشتہ داروں کو غم سے بچاے رکھ اور اے معبود مجھے اس نظر کرم سے بہرہ مند فرما
تَکْشِفُ بِها عَنِّی جَمِیعَ مَا بِهِ ابْتَلَیْتَنِی وَتَرُدُّ بِها عَلَیَّ مَا
جس سے میری وہ سبھی سختیاں ٹل جائیں جو تیری طرف سے ہیں اور میرے لئے تیرا بہترین فضل و
هُوَ أَحْسَنُ عادَتِکَ عِنْدِی فَقَدْ ضَعُفَتْ قُوَّتِی وَقَلَّتْ حِیلَتِی
عنایت پلٹ کے آجاے کہ میری طاقت کمزور ہو چکی ہے میری تدبیر ناکام ہو چکی ہے تیری مخلوق سے
وَانْقَطَعَ مِنْ خَلْقِکَ رَجائِی وَلَمْ یَبْقَ إلاَّ رَجاؤُکَ وَتَوَکُّلِی عَلَیْکَ وَقُدْرَتُکَ
میری آرزو کٹ چکی ہے اور تجھ سے امید باندھنے اور تجھ پر بھروسے کے سوا کچھ نہیں رہا تجھے مجھ پر قابو حاصل ہے
عَلَیَّ یَارَبِّ أَنْ تَرْحَمَنِی وَتُعافِیَنِی کَقُدْرَتِکَ عَلَیَّ أَنْ تُعَذِّبَنِی
یا رب تو مجھ پر رحم فرما مجھے عافیت دے جیسا کہ تو مجھ پر عذب لانے اور سختی کرنے کی قدرت رکھتا ہے
وَتَبْتَلِیَنِی إلهِی ذِکْرُ عَوَائِدِکَ یُؤْنِسُنِی وَالرَّجائُ لاِِِنْعامِکَ یُقَوِّینِی، وَلَمْ أَخْلُ
خدا یا تیری نعمتوں کی یاد مجھے مانوس رکھتی ہے اورتیرے انعاموں کی امید مجھے سہارا دیتی ہے کیو نکہ جب سے تو نے
مِنْ نِعَمِکَ مُنْذُ خَلَقْتَنِی، فَأَنْتَ رَبِّی وَسَیِّدِی وَمَفْزَعِی وَمَلْجَأی وَالْحافِظُ
مجھے پیدا کیاہے میں تیری نعمتوں سے محروم نہیں رہاپس تو میرا رب ہے اور میرا سردار میری پناہ میرا فریاد رس میرا نگہبان
لِی وَالذَّابُّ عَنِّی وَالرَّحِیمُ بِی وَالْمُتَکَفِّلُ بِرِزْقِی وَفِی قَضائِکَ وَقُدْرَتِکَ کُلُّ مَا
مجھ سے سختی دور کرنے والا مجھ پر مہربان اورمیری روزی کا ذمہ دار ہے جن پریشانیوں نے مجھے گھیرا ہو اہے وہ تیری بست
أَنَا فِیهِ، فَلْیَکُنْ یَا سَیِّدِی وَمَوْلایَ فِیما قَضَیْتَ وَقَدَّرْتَ
و کشاد میں ہے پس وہی ہو گا اےمیرے سردار اور میرے مولا جو کچھ تو نے کھولا اور روکا ہے
وَحَتَمْتَ تَعْجِیلُ خَلاصِی مِمَّا أَنَا فِیهِ جَمِیعِهِ، وَالْعافِیَةُ لِی
جو یقینی فیصلہ کیا ہے مجھے تمام سختیوں سے نکالنے کا جن میںپڑا ہوا ہوں ان سے مجھے عافیت
فَ إنِّی لاَ أَجِدُ لِدَفْعِ ذلِکَ أَحَداً غَیْرَکَ وَلاَ أَعْتَمِدُ فِیهِ إلاَّ
دینے کے لئے کہ ان کو دور کرنے والا میں تیرے سواکسی اور کو نہیں پاتا اس بارے میں تیرے
عَلَیْکَ فَکُنْ یَا ذَاالْجَلالِ وَالْاِکْرامِ عِنْدَ أَحْسَنِ ظَنِّی
سوا کسی پر اعتبار نہیں کرتا اے دبدبے اور بزرگی کا مالک تو ویسارہ جیسے میں تجھ سے حسن
بِکَ وَرَجائِی لَکَ وَارْحَمْ تَضَرُّعِی وَاسْتِکانَتِی وَضَعْف
ظن رکھتا ہوں اور امید باندھتا ہوںرحم فرما میری بے کسی اور میرے جسم کی کمزوری پر
رکنی وامْنُنْ بِذٰلِکَ عَلَیَّ وَعَلَی کُلِّ دَاعٍ دَعاکَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَصَلَّی ﷲ
اور اس طرح احسان کر مجھ پر اور ان پرجو تجھے پکارتے ہیں اے سب سےزیادہ رحم کرنے والے اور خدا رحمت
عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
کرے محمد اور ان کی آلعليهالسلام پر ۔
(چھٹی دعا )
امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ امام زین العابدین- فرمایا کرتے تھے کہ جب میں یہ کلمات پڑھ لیتا ہوں تو پھر اس سے کچھ خوف نہیں ہوتا کہ تمام جن و انس مجھے نقصان پہچانے کے لئے جمع بھی کیوں نہ ہو جائیں اور وہ کلمات یہ ہیں ۔
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَمِنَ ﷲ وَ إلَی ﷲ وَفِی سَبِیلِ ﷲ وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ
خدا کے نام سے، خدا کی ذات سے خداسے خدا کی طرف ،خدا ہی کی راہ میں اور خدا کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دین
عَلَیْهِ وَآلِهِ اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ أَسْلَمْتُ نَفْسِی وَ إلَیْکَ وَجَّهْتُ وَجْهِی وَ إلَیْکَ أَلْجَأْتُ
اور آئین پر اے معبود میں نے خود کو تیرے سپرد کیا ہے اپنا رخ تیری طرف کر لیا ہے تجھے اپنا پشت پناہ
ظَهْرِی وَ إلَیْکَ فَوَّضْتُ أَمْرِی اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِی بِحِفْظِ الْاِیمانِ مِنْ
بنایا ہے اور اپنے معاملے تیرے حوالے کر دیے ہیں اے معبود میری حفاظت فرما سلامتی اور ایمان کے
بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ یَمِینِی وَعَنْ شِمالِی وَمِنْ فَوْقِی
ساتھ میرے آگے سے میرے پیچھے سے میرے دائیں سے میرے بائیں سے میرے اوپر سے میرے
وَمِنْ تَحْتِی وَما قِبَلِی وَادْفَعْ عَنِّی بِحَوْلِکَ وَقُوَّتِکَ فَ إنَّهُ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِکَ
نیچے سے اور جو میرے پہلو میں ہے اور مجھ سے بلائیںدور کر اپنے حکم و قوت سے کیو نکہ نہیں کوئی طاقت و قوت مگر تجھی سے ہے
(ساتویں دعا )
رنج، تکلیف اور بادشاہ و حاکم کے خوف کو دور کرنے کے لئے دعا ئے اہل بیتعليهالسلام پڑھنی چاہیے اور وہ یہ ہے ۔
یَا کائِناً قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ وَیَا مُکَوِّنَ کُلِّ شَیْئٍ وَیَا باقِیاً بَعْدَ کُلِّ شَیْئٍ
اے وہ ہر چیز سے پہلے موجود تھا اے وہ کہ ہر چیز کو وجود دینے والا ہےاے وہ ہر چیز کے بعد باقی رہنے والا ہے
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بِی کَذا وَکَذا
رحمت نازل فرما محمدو آلعليهالسلام محمد پر اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما ۔
کذا کذا کی بجاے اپنی حاجات کو بیان کرے۔
( آٹھویں دعا )
امام محمد تقی - فرماتے ہیں کہ حل مشکلات کے لئے یہ دعا پڑھتے رہنا چاہیے:
یَا مَنْ یَکْفِی مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلاَ یَکْفِی مِنْهُ شَیْئٌ اکْفِنِی مَا أَهَمَّنِی
اے وہ کہ ہر چیز سے بے نیاز کرتا ہےاور کوئی چیز اس سے بے نیاز نہیں کرتی مشکلو ں میں میری مدد فرما ۔
(نو یں دعا)
منقول ہے کہ اما م زین العا بدین- اپنے فرزند سے فرما رہے تھے اے فرزند عزیز جب تم میں سے کسی ایک پر کو ئی مصیبت آئے تو لازم ہے کہ وہ و ضو کرے اور پھر دو رکعت نماز یا چار رکعت نماز بجا لائے پس نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
یَا مَوْضِعَ کُلِّ شَکْوَیٰ وَیَا سامِعَ کُلِّ نَجْوَیٰ وَیَا شاهِدَ کُلِّ مَلاَ
اے ہر شکا یت سنا ئے جا نے کے مقام اے ہر زائر کی بات سننے والے اے ہراجتما ع میں موجود
وَیَا عالِمَ کُلِّ خَفِیَّةٍ وَیَا دافِعَ مَا یَشائُ مِنْ بَلِیَّةٍ یَا خَلِیلَ إبْرَاهِیمَ
اے ہر پوشیدہ بات کے جاننے والےاے بلا ئو ں میں سے جسے چا ہے دور کر نے والے اے ابراہیم-
وَیَا نَجِیَّ مُوسَی وَیَا مُصْطَفِیَ مُحَمَّدٍ
کے سچے دوست اے موسیٰ - کے رازداں اے محمد مصطفی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ أَدْعُوکَ دُعائَ مَنِ اشْتَدَّتْ فاقَتُهُ وَقَلَّتْ
کو بر گزیدہ بنانے والے میں تجھے پکا رتا ہوں جیسے شدید حاجت والا پکارتا ہے جس کی تدبیر ناکام
حِیلَتُهُ وَضَعُفَتْ قُوَّتُهُ دُعائَ الْغَرِیبِ الْغَرِیقِ الْمُضْطَرِّ الَّذِی
ہو چکی ہو اور طاقت جوابدے گئی ہواس پر دیسی کی طرح پکارتاہوں جو ڈوبتے ہو ئے بیتاب
لاَ یَجِدُ لِکَشْفِ مَا هُوَ فِیهِ إلاَّ أَنْتَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ہو جسے اس مشکل کا کوئی حل کرنے والا نہیں ملتاسواے تیرے اے سب سے زیا دہ رحم کر نے والے۔
پس جو بھی اور جب بھی یہ دعا پڑھے خدا فورا اسکی مشکل حل کر دیگا ۔
(دسویں دعا )
اما م جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ رنج و غم کو دور کر نے کے لئے غسل کرکے دو رکعت نماز ادا کر ے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے:
یَا فارِجَ الْهَمِّ وَیَا کاشِفَ الْغَمِّ یَا رَحْمنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ
اے رنج دور کرنے والے اے غم سے چھڑانے والے اے رحمن دنیا و آخرت میں بہت
وَرَحِیمَهُما فَرِّجْ هَمِّی وَاکْشِفْ غَمِّی یَا ﷲ الْواحِدُ الْاََحَدُ
حم کرنے والے مہربان میرےرنج و غم کو دور کر دے اے اللہ جو اکیلا اوریکتا ہے
الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ
اور بے نیا ز ہے جس نے نہ جنااور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہم پلہ ہے
اعْصِمْنِی وَطَهِّرْنِی اَذْهَبْ بِبَلِیَّتِی
تومجھے پاک کر دے اور میری مصیبت دور کر دے ۔
اس کے بعد آیت الکر سی اور سورہ فلق اور سورہ والناس پڑھیں ۔
(گیا ر ہویں دعا)
روایت ہوئی ہے کہ رنج و غم کو دور کر نے کے لئے حالت سجدہ میں سو مر تبہ یہ دعا پڑھو:
یَاحَیُّ یَا قَیُّومُ یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیثُ فَاکْفِنِی ما
اے زندہ اے پا ئندہ اے کہ نہیں معبود سواے تیرے بوا سطہ تیری رحمت کےفریا د کر تا ہوں پس مشکل میں میری
أَهَمَّنِی، وَلاَ تَکِلْنِی إلَی نَفْسِی
مددفرما اور مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر ۔
(با رہو یں دعا)
منقول ہے کہ امام موسیٰ کاظم - نے سما عہ سے فرمایا۔ اے سماعہ جب بھی تمہیں کو ئی مشکل پیش آئے تو یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ فَ إنَّ لَهُما عِنْدَکَ
اے معبود میں تجھ سے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و علیعليهالسلام کے حق کے ذریعے سوال کرتا ہوں کہ تیرے حضور ان
شَأْناً مِنَ الشَّأْنِ وَقَدْراً مِنَ الْقَدْرِ فَبِحَقِّ ذلِکَ الشَّأْنِ وَبِحَقِّ ذلِکَ
دونوں کا خاص مرتبہ اور بلندمنزلت ہے پس ان کے اس مر تبے اور ان کی منزلت کے
الْقَدْرِ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
واسطے سے سوال کرتاہوں کہ تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور یہ کہ میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما۔
کذا کذا کی جگہ اپنی حاجات پیش کرے کیونکہ قیامت کے روز ہر مقرب فرشتے ہر نبی مرسل اور ہر رنج زدہ مومن کو محمد مصطفی اور حضرت علی - کی ضرورت ہو گی۔
مؤلف کہتے ہیں کہ ابن ابی الحدید نے حضرت امیر المومنین- سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرما یا جب میں نے رسول خدا سے عر ض کیا کہ آپ میری مغفرت کیلئے دعا فرمائیں تو آنحضرت نے ارشا د فرمایا ہاں ضرور دعا کرو ں گا پھر آپ کھڑے ہو گئے اور نماز ادا کر نے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھا ئے میں نے حضور کی دعا پر کان لگا ئے اور سنا کہ آپ فر ما رہے تھے۔
اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ عَلِیٍّ عِنْدَک إغْفِرْ لِعَلِیٍّ
اے معبود علیعليهالسلام کا واسطہ جو تیرے ہا ں صاحب مقام ہیں ان کی خاطر مجھے بخش دے
اس پر میں نے کہا یا رسول اللہ یہ کیسی دعا ہے؟ جو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مانگی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا، یا علیعليهالسلام آیا اللہ کے نزدیک کو ئی تم سے زیا دہ منزلت وا لا ہے کہ میں اس کے وسیلے سے دعاکرو ں۔
مؤلف کہتے ہیں کہ ہم نے پہلے باب میں سجدہ شکر کی دعا ئو ں میں بعض ایسی دعا ئیں نقل کی ہیں جو اس دعا سے منا سبت ر کھتی ہیں ۔
(آٹھو یں فصل )
بیماریوں کیلئے چند دعائیں۔
(پہلی دعا)
منقول ہے کہ امام جعفر صادق - نے فر ما یا کہ درد کے لئے یہ دعا پڑھو:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله کَمْ مِنْ نِعْمَةٍ لِلّٰهِ، فِی عِرْقٍ ساکِنٍ وَغَیْرِ ساکِنٍ، عَلَی عَبْدٍ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے خدا کی کتنی نعمتیں جو ساکن اور متحرک رگوںمیں ہیں شکر کرنے والے اور ناشکرے
شاکِرٍ وَغَیْرِ شاکِرٍ
بندوں پر۔
پھر فریضہ نماز کے بعد اپنی دا ڑھی کو پکڑے اور تین مر تبہ کہے:
اَللّٰهُمَّ فَرِّجْ عَنِّی کُرْبَتِی وَعَجِّلْ عافِیَتِیْ وَاکْشِفْ ضُرِّی
اے معبود میری مصیبت دور کر دے جلد عا فیت عطا کر اور میرا غم مٹا دے۔
اس میں کوشش کرے کہ یہ عمل گریہ اور آنسوئوں کے ساتھ انجام پائے ۔
(دوسری دعا)
امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ درد کی جگہ پر ہا تھ رکھے اور کہے:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَمُحَمَّدٌ رَسُولُ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے اور خدا کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور نہیںکو ئی طاقت و قوت مگر جو خدا
بِالله اَللّٰهُمَّ امْسَحْ عنِّی مَا أَجِدُ
کی ہے اے معبو د وہ درد ہٹا دے جسے محسوس کرتاہوں۔
اس کے بعد اپنا دایاں ہاتھ تین مر تبہ درد کے مقام پر پھیرے ۔
(تیسری دعا)
امام محمد باقر - سے مروی ہے کہ حضرت امیر المومنین- بیمار ہوئے تو رسول خدا ان کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لا ئے اور فرمایا کہ اے علیعليهالسلام یہ دعا پڑھو:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ تَعْجِیلَ عافِیَتِکَ وَصَبْراً عَلَی بَلِیَّتِکَ وَخُرُوجاً إلَی رَحْمَتِکَ
اے معبود تجھ سے مانگتا ہوں تیری طرف سے جلد صحت تیری طرف سے آئی مصیبت پر صبر اور تیری رحمت کی طرف جا نے کی توفیق ۔
(چو تھی دعا)
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ درد کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ یہ دعا پڑھو :
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُک بِحَقِّ الْقُرْآنِ الْعَظِیمِ الَّذِی نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاََمِینُ وَهُوَ عِنْدَکَ
اے معبو د میں تجھ سے سوال کرتا ہوں قرآن عظیم کے حق کا وا سطہ دے کر کہ جس کو لے کر رو ح الامین نا زں ہوتے رہے اور
فِی أُمِّ الْکِتابِ عَلِیٌّ حَکِیمٌ، أَنْ تَشْفِیَنِی بِشِفائِکَ وَتُدَاوِیَنِی
تیرے ہا ں دفتر کل مو جو د ہےبلند مر تبہ حکمت و ا لا ہے یہ کہ تو مجھے اپنی طرف سے شفا دے اور دوا سے
بِدَوَائِکَ وَتُعافِیَنِی مِنْ بَلائِکَ
میری چارہ گری فرما اور اپنی بلائوں سے محفوظ و مامو ن رکھ ۔
اس کے بعد آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیجے ۔
(پا نچویں دعا)
ابو حمزہ سے روایت ہے کہ میرے گھٹنے میں درد ہو گیا تو میں نے امام محمد باقر - سے اس کا ذکر کیا پس آ پ نے فرما یا کہ جب نماز ادا کر چکو تو یہ دعا پڑھا کرو:
یَا أَجْوَدَ مَنْ أَعْطَیٰ وَیَا خَیْرَ مَنْ سُئِلَ وَیَا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ
اے سب سے دینے والوں سے زیادہ سخی اے سوا ل کیے جا نے وا لو ں میں بہترین اور اے رحم مانگے جا نے والوں میں زیادہ
اِرْحَمْ ضَعْفِی وَقِلَّةَ حِیلَتِی، وَاعْفِنِی مِنْ وَجَعِی
رحم والے رحم فرما میری کمزوری اور میری ناکام تد بیروں پر اور مجھ کو اس درد سے نجا ت دے۔
ابو حمزہ کہتے ہیں میں نے یہ دعا پڑھی اور اس درد سے شفا پا ئی ۔
مؤ لف کہتے ہیں اس کتاب کے تیسرے باب کے شروع میں امراض اور بیماریوں کو دور کر نے کی بہت سے دعایں ذکر کی جا چکی ہیں۔
(نو یں فصل )
چند حرزوں اور تعویذوں کا ذکر ۔
اس فصل میں پا نچ چیزوں کا ذکر ہو گا ۔
رات دن میں وحشت وتنہائی سے بچنے کی دعا
( ۱ )روایت ہوئی ہے کہ ایک شخص نے امام جعفر صادق - سے اپنی وحشت وتنہائی کی شکا یت کی تو آپ نے فرمایاآیا میں تمہیںوہ چیز نہ بتاؤں کہ جسے تم پڑھو تو رات یادن میں کسی بھی وقت تمہیںڈرنہ لگے پس وہ دعا یہ ہے۔
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَتَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ إنَّهُ مَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے میرا بھروسہ خدا پر ہے یقینا جو بھی خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو
ﷲ فَهُوَ حَسْبُهُ إنَّ ﷲ بالِغُ أَمْرِهِقَدْ جَعَلَ ﷲ لِکُلِّشَیْئٍ قَدْراً
وہ اس کے لئے کافی ہو رہتا ہے ضرور خدا اپنے کام پر حاوی ہے یقینا خدا نے قرار دیا ہے ہر چیز
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِیْ فِیْ کَنَفِکَ وَفِی جِوارِکَ وَاجْعَلْنِی فِی أَمانِکَ وَفِی مَنْعِکَ
اندازہ اے معبود مجھے اپنے آستانےپر اور اپنے قریب رکھ اور مجھ کواپنی پناہ اور حفاظت میں قرار دے۔
روایت میں آیا ہے ایک شخص متواتر تیس برس تک یہ دعا پڑھتا رہا لیکن ایک رات اسے نہ پڑھا تو بچھو نے اسے ڈس لیا۔
تنہائی میں سوتے وقت کی دعا
( ۲ ) جو شخص کسی مکان یا کمرے میں رات کو تنہا سوتا ہو تو ضروری ہے کہ وہ آیت الکرسی کے بعد یہ دعا پڑ ھا کرے:
اَللّٰهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِی وَآمِنْ رَوْعَتِی وَأَعِنِّی عَلَی وَحْدَتِی
اے معبو د تو تنہا ئی میں میرا رفیق بن اورمیرا خو ف دور کر دے اور اس تنہائی میں میری مدد فر ما۔
تعویذ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم حسنین کیلئے
( ۳ ) روایت ہے کہ رسول اکرم نے جناب حسنین+ کو ان کلمات پر مشتمل تعو یذ پہنا یا:
أُعِیذُکُما بِکَلِماتِ ﷲ التَّامَّةِ وَأَسْمَائِهِ الْحُسْنَیٰ کُلِّها عامَّةً
میں نے تم دو نوں کے کا مل کلمات کی پنا ہ میں اور اس کے سبھی بہترین نا موں کی پناہمیں دیا عمو ما ہر ڈ سنے
مِنْ شَرِّ السَّامَّةِ وَالْهامَّةِ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ عَیْنٍ لامَّةٍ، وَمِنْ شَرِّ حاسِدٍ إذا حَسَدَ
وا لے اور کاٹ کھانے وا لے سے بر ی نظر ڈ النے وا لی ہرآنکھ کے شر سے اور حسد کر نے وا لے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ بھی فر ما یا کہ حضرت ابرا ہیمعليهالسلام نے اپنے فر زندان اسماعیلعليهالسلام اور اسحاقعليهالسلام کو اسی طرح سے خدا کی پنا ہ میں دیا تھا ۔
کھٹمل، پسو اور لال بیگ کی اذیت سے بچنے والی دعا
( ۴ ) روا یت ہوئی ہے کہ کسی غزوہ میں صحابہ کرام نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کھٹمل، پسو اور لال بیگ سے پہنچنے والی اذیت سے شکایت کی تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا رات کو سوتے وقت یہ دعا پڑھا کرو ۔
أَیُّهَا الْاََسْوَدُ الْوَثَّابُ الَّذِی لاَ یُبالِی غَلَقاً وَلاَ باباً، عَزَمْتُ عَلَیْکَ بِأُمِّ الْکِتابِ
اے جھپٹنے وا لے سیا ہ کیڑ ے کہ جو نہ قفل سے اور نہ دروا زے سے ڈ رتا ہے میں تجھے ام الکتا ب کی قسم دیتا ہوں کہ نہ مجھے اذیت دے اور نہ
أَنْ لاَ تُؤْذِیَنِی وَأَصْحابِی إلَی أَنْ یَذْهَبَ اللَّیْلُ وَیَجِیئَ الصُّبْحُ بِمَا جَاءَ
میرے اصحاب کواس وقت تک کہ رات چلی جائے اور صبح آ جائے کہ جس کے ساتھ صبح آ تی ہے۔
چیرنے پھاڑنے والے جانور کو دیکھتے وقت کی دعا
( ۵ ) حضرت امیرلمو منین علی ابن ابی طا لب+ سے ر و ا یت ہے کہ فر ما یا جب کسی چیر نے پھا ڑ نے و ا لے جا نو ر مثلا شیر چیتے ا ور بھیڑئیے کو دیکھو تو یہ پڑھو:
أَعُوذُ بِرَبِّ دانْیالَ وَالْجُبِّ مِنْ کُلِّ أَسَدٍ مُسْتَأْسِد
پناہ لیتا ہوں دانیال کے رب اورکنویںکے رب کی ہر چیر نے پھاڑنے والے شیر سے ۔
امام جعفرصادق - فرماتے ہیں کہ جب کسی درندے کو دیکھوتو اس کے منہ پر آیت الکرسی اوریہ دعا پڑھ کرپھونکو:
عَزَمْتُ عَلَیْکَ بِعَزِیمَةِ ﷲ وَعَزِیمَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ
میں نے تجھے باندھ دیاخدا کے ارادے سے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ارادے سے
وَعَزِیمَةِ سُلَیَْمانَ بْنِ داوُدَ وَعَزِیمَةِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ عَلَیْهِ
اورسیلمان بن داود کے ارادے سے مومنوںکے امیر علی ابن ابی طالب +
اَلسَّلَامُ، وَآلاَءِمَّةِ الطَّاهِرِینَ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ مِنْ بَعْدِهِ
اور ان کے بعد ہونے والےآئمہ طاہرین کے ارادے کے ساتھ ۔
پس وہ درندہ واپس چلا جائے گا۔
مشکل مصیبت دور ہونے کی دعا
( ۶ ) حضور نے فرمایا یاعلیعليهالسلام جب تم کسی مشکل یا مصیبت میں پھنس جا ئو تو یہ دعا پڑھو:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ وَلاَ حَوْلَ وَ لاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم و الا مہربان ہے اور نہیں کوئیطاقت و قوت مگر جو خداے بلند و بزرگ کی ہے ۔
تو خدا وند عالم تم سے جس مصیبت کو چاہیگا دور کردے گا
(دسویں فصل)
دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے چند مختصر دعائیں۔
اس فصل میں تیس دعائوں کا ذکر کیا جائیگا۔
(پہلی دعا)
امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ مشکل کے و قت یہ د عا پڑھو:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی أَخْشَاکَ کَأَنِّی أَرَاکَ وَأَسْعِدْنِی بِتَقْوَاکَ وَلاَ تُشْقِنِی
اے معبود مجھے ایسا بنا دے گو یا تجھےدیکھ رہا ہو ں مجھے اپنی حفا ظت میں نیک بخت بنا اور اپنی نافرمانیوں
بِنَشْطِی لِمَعاصِیکَ وَخِرْ لِی فِی قَضائِکَ وَبارِکْ لِی فِی
کے نشے میں مجھے بد بخت نہ بنا اپنے فیصلے میں میرے لیے بہتری فرما اپنی تقدیر کو میرے لیے
قَدَرِکَ حَتَّی لاَ أُحِبَّ تَأْخِیرَ مَا عَجَّلْتَ وَلاَ تَعْجِیلَ مَا أَخَّرْتَ، وَاجْعَلْ
بابرکت بنا یہاںتک کہ جن باتوں میں تو جلدی کرتا ان میں تاخیر اور جن میں تیزی کرتا ہے ان میں جلدی نہ کر
غِنَایَ فِی نَفْسِی وَمَتِّعْنِی بِسَمْعِی وَبَصَرِی وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَیْنِ مِنِّی وَانْصُرْنِی
میرے نفس کو سیری عطا فرما مجھے میرے کانوں آنکھوں سے فا ئدہ دے ان دونوں کو میرا وارث بنا دے ظلم کرنے
عَلَی مَنْ ظَلَمَنِی وَأَرِنِی فِیهِ قُدْرَتَکَ یَارَبِّ وَأَقِرَّ بِفَضْلِکَ عَیْنِی
والوں کے خلا ف میری مدد کر اے ب اس میں مجھے اپنی قدرت دکھااور اس سے میری آنکھیں ٹھنڈی کر۔
(دوسری دعا)
امام جعفر صادق - ہی سے روایت ہے کہ یہ دعا پڑھا کرو۔
اَللّٰهُمَّ أَعِنِّی عَلَی هَوْلِ یَوْمِ الْقِیامَةِ وَأَخْرِجْنِی مِنَ الدُّنْیا
اے معبود روز قیامت کے خطروں میںمیری مدد فرمانا مجھے دنیا سے سلامتی کے
سالِماً وَزَوِّجْنِی مِنَ ایمان الْحُورِ الْعِینِ وَاکْفِنِی مَؤُونَتِی وَمَؤُونَةَ عِیٰالِیْ
ساتھ اٹھانا حور العین کےساتھ میرا نکاح کرانا میرے اخراجات میرے عیال کے اخراجات اور لوگوں کے
وَمَؤُونَةَ النَّاسِ وَأَدْخِلْنِی بِرَحْمَتِکَ فِی عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ
اخراجات میں میری مدد فرما اور مجھےاپنی رحمت کے ساتھ اپنے نیک بندوں میں داخل فرما ۔
( تیسری دعا)
یہ وہ دعا ہے جوانسانوںکو گناہوں سے بچاتی ہے اور دنیا وآخرت کیلئے برابر کی مفید ہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم یَا مَنْ أَظْهَرَ الْجَمِیلَ وَسَتَرَ الْقَبِیحَ وَلَمْ یَهْتِکِ
خدا کے نام سے جوبڑا رحم والا مہربان ہے اے وہ ذات جسں نے نیکی کو ظاہر کیا اور بدی کو ڈھانپ دیا اور میری پردہ دری
السِّتْرَ عَنِّی یَا کَرِیمَ الْعَفْوِ یَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ یَا واسِعَ الْمَغْفِرَةِ وَیَا باسِطَ الْیَدَیْنِ
نہیں کی اے معا فی د ینے میں سخی بہترین درگذر کرنے والے اے بہت بخشنے والے اے رحمت کرنے میں کھلے ہاتھوں والے
بِالرَّحْمَةِ یَا صاحِبَ کُلِّ نَجْوَیٰ وَیَا مُنْتَهی کُلِّ شَکْوَیٰ یَا کَرِیمَ الصَّفْحِ یَا عَظِیمَ الْمَنِّ
اے سرگوشی کے وقت حاضراور اے ہر شکایت کے پہنچنے کےمقام اے در گزر میں دریا دل اے بڑے احسان والے اے حق داری
یَا مُبْتَدِیََ کُلِّ نِعْمَةٍ قَبْلَ اسْتِحْقاقِها، یَا رَبَّاهُ یَا سَیِّداهُ یَا مَوْلاهُ
سے پہلے نعمت عطا کر دینے والے اے پالنے والے اے سردار اے مالک اے مقصود
یَا غایَتَاهُ یَا غِیَاثاهُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وأَسْأَلُکَ أَنْ لاَ تَجْعَلَنِی فِی النَّارِ
اے فریاد رس رحمت فرما محمد وآل محمدپراورتجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے جہنممیں نہ ڈالنا ۔
(چوتھی دعا)
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ حاجتوں میں یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِی فِی کُلِّ کُرْبَةٍ وَأَنْتَ رَجائِی فِی کُلِّ شِدَّةٍ
اے معبود تو ہر مصیبت میں میرا سہارا ہے ہر سختی میں تو ہی میری امیدکی جگہ ہے ہر تنگی جو مجھ پر آتی
وَأَنْتَ لِی فِی کُلِّ أَمْرٍ نَزَلَ بِی ثِقَةٌ وَعُدَّةٌ کَمْ مِنْ کَرْبٍ یَضْعُفُ
ہے اس میں تو ہی میرا آسرا ہےاور پونجی ہے کتنی ہی مشکلیںہیں جن سے میرا دل کمزور ہوجاتا ہے
عَنْهُ الْفُؤادُ وَتَقِلُّ فِیهِ الْحِیلَةُ وَیَخْذُلُ عَنْهُ الْقَرِیبُ وَالْبَعِیدُ وَیَشْمَتُ بِهِ الْعَدُوُّ
تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں اوراپنے بیگانے سا تھ چھوڑ جاتے ہیں دشمن طعنے دیتے ہیں اور ہرکام پڑا رہ جاتا ہے
وَتُعْیِینِی فِیهِ الْاَُمُورُ أَنْزَلْتُهُ بِکَ وَشَکَوْتُهُ إلَیْکَ راغِباً فِیهِ
جب تیر ے حضور آ تا ہوں تجھ سے عرض کرتا ہوں تیرے سوا دوسروں سے منہ موڑ لیتا ہوں
عَمَّنْ سِوَاکَ فَفَرَّجْتَهُ وَکَشَفْتَهُ وَکَفَیْتَنِیهِ فَأَنْتَ وَلِیُّ کُلِّ نِعْمَةٍ
پس تو مشکل حل کرتا ہے سختی دور کرتا ہے اور میری سر پر ستی کرتا ہے اور تو ہی ہر نعمت کا مالک ہے ہر
وَصاحِبُ کُلِّ حاجَةٍ وَمُنْتَهَیٰ کُلِّ رَغْبَةٍ فَلَکَ الْحَمْدُ کَثِیراً وَلَکَ الْمَنُّ فاضِلاً
حاجت میں مدد گار ہے اور ہر خوہش پوری کرنے وا لا ہے پس تیرے لئے حمد ہے بہت بہت اور تو ہی احسان میں بڑھا ہوا ہے۔
مؤ لف کہتے ہیں یہ وہی دعا ہے جو حضرت رسول خدا نے بدر اور خندق کی جنگو ں کے مو قعہ پر پڑ ھی تھی اور سید الشھداعليهالسلام ئ نے عا شورا کے دن پڑھی تھی علا وہ ازیں دو اور دعا ئیں بھی ہیں جو آپ نے یوم عاشور کو پڑھیں ان میں سے ایک وہ ہے جو آپ نے امام زین العابدین- کو تعلیم فرمائی جب کہ آپعليهالسلام کے بدن سے خون بہہ رہا تھا پس آپعليهالسلام نے امام سجا د - کو سینہ سے لگا یا اور یہ دعا تعلیم فرمائی جو اہم حاجتوں اور سخت مصیبتوں اور غم اندیشوں کو دور کر نے کے لئے ہے ۔
بِحَقِّ یسَ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ وَبِحَقِّ طه وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ
واسطہ دیتا ہو ں یٰسین اور قرآن حکیم کا اور واسطہ دیتا ہوں طہٰ و القرآن عظیم کا
یَا مَنْ یَقْدِرُ عَلَی حَوائِجِ السَّائِلِینَ یَا مَنْ یَعْلَمُ ما فِی الضَّمِیرِ یَا مُنَفِّساً عَنِ الْمَکْرُوبِینَ
اے وہ جو سوال کرنے والوں کی حاجتوں پر قادر ہے اے وہ کہ دلوں کی باتیں جانتاہے اور دکھیا روں کے دکھ دور کرتا ہے
یَا مُفَرِّجاً عَنِ الْمَغْمُوْمِْینَ یَا مُفَرِّجاً راحِمَ الشَّیخِ الْکَبِیرِ یَا رازِقَ الطِّفْلِ
اورغم زدوں کے غم مٹاتا ہےاے بوڑ ہوںپر رحم کرنے والےعليهالسلام اے چھوٹے بچوں کوروزی دینے
یا من لا یحتاج الیٰ تفسیر صلی علیٰ محمد و اٰل محمد وفعل بی کذا کذا
والے اے وہ جسے شرح بیان کی ضرورت نہیں رحمت فرما سر کار محمد و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور میری یہ حاجات پوری فرما۔
کذ اکذا کی جگہ اپنی حاجات گنا ئے ۔
(پانچویں دعا)
منقو ل ہے کہ ا مام جعفر صادق - نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیئے اور پھر اس طرح دعا مانگی:
رَبِّ لاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً لاَ أَقَلَّ مِنْ ذلِکَ وَلاَ أَکْثَرَ
پالنے والے مجھے کبھی پلک جھپکنے کے وقت کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا نہ ہی اس سے کم یا زیا د ہ وقت کے لیے
( چھٹی دعا )
امام جعفر صا د ق - ہی کے بارے میں منقول ہے کہ آپ یہ دعا کیا کرتے تھے:
ارْحَمْنِی مِمَّا لاَ طاقَةَ لِی بِهِ وَلاَ صَبْرَ لِی عَلَیْهِ
رحم کر مجھ پر ان تکلیفوں میں جن کیلئے مجھ میں طا قت ہے نہ صبر کا یا را
(سا تو یں دعا)
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ حا جا ت میں اس طرح دعا مانگو:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِجَلالِکَ وَجَمالِکَ وَکَرَمِکَ أَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
اے معبود میںتجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے دبدے تیری زیبائی اورتیری عطا کا واسطہ دے کر کہ میری یہ ا ور یہ حاجات پوری فرما۔
کذوا کذ اکی بجا ئے اپنی حا جا ت بیان کرے۔
(آٹھویں دعا)
افضل بن یونس کہتے ہیں کہ امام موسی کاظم - نے مجھ سے فرمایا کہ یہ دعا کثرت سے پڑھا کرو
اَللّٰهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِی مِنَ الْمُعَارِینَ وَلاَ تُخْرِجْنِی مِنَ التَّقْصِیرِ
اے معبود مجھے ان لوگوںمیں نہ رکھ جن کا ایمان کچا ہے اور مجھے کوتاہی کرنے والوں میں سے شمار نہ کر۔
یعنی اے پروردگار مجھے ان لوگوں میں نہ رکھ جن کا ایمان عاریہ وبے ثبات ہے یا ایسے لوگ کہ جن کو تو نے شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا ہے کہ جہاں چاہیں چرتے پھریں اور جہاں چاہیں چلے جائیں اور مجھ کو تقصیر سے باہر نہ نکا ل یعنی مجھے ایسا نہ بنا دے کہ خود کو قصور وار نہ سمجھوں بلکہ ایسا بنا کہ ہمیشہ خودکو تیرے حضور کوتاہی کرنے والا اورناقص عمل والا تصور کروں۔
( نویں دعا)
امام محمد باقر - سے مروی ہے کہ حق تعالیٰ نے ایک دیہاتی کو ان کلموں کے سبب بخش دیا کہ جن کے ذریعے وہ دعا کیا کرتا تھا ۔
اَللّٰهُمَّ إنْ تُعَذِّبْنِی فَأَهْلٌ لِذلِکَ أَنَا وَ إنْ تَغْفِرْ لِی فَأَهْلٌ لِذلِکَ أَنْتَ
اے معبود اگر تو مجھے عذاب دے تو میں اسی لائق ہوں اگر تو مجھے بخش دے تو یہ تیرے شایان ہے۔
(دسویں دعا )
دائود رقی سے مروی ہے کہ امام جعفر صادق - کو سنا آپ دعا میں جس چیز کے ساتھ زاری کر رہے تھے وہ پنجتن پاک یعنی محمد و علی و فاطمہ اور حسنین کا واسطہ دیتے اور دعا مانگ رہے تھے۔
(گیارہویںدعا)
یزید صائغ سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے لیے خدا سے دعا کریں تب آپ نے ہمارے لئے یہ دعا فرمائی۔
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْهُمْ صِدْقَ الْحَدِیثِ وَأَدائَ الْاََمانَةِ وَالْمُحَافَظَةَ عَلَی
اے معبود تو ان لوگوں کوسچی بات کہنے امانت ادا کرنے اور نماز قائم رکھنے کی توفیق دے اے معبود وہ
الصَّلَوَاتِ اَللّٰهُمَّ إنَّهُمْ أَحَقُّ خَلْقِکَ أَنْ تَفْعَلَهُ بِهِمْ اَللّٰهُمَّ افْعَلْهُ بِهِمْ
تیری مخلوق میں سے اس کے زیادہ مستحق ہیں تو ایسا کرے اے معبود تو ان کےلیے ایسا ہی کر۔
(بارہویں دعا)
امیر المومنین- کی یہ دعا پڑ ھے:
اَللّٰهُمَّ مُنَّ عَلَیَّ بِالتَّوَکُّلِ عَلَیْکَ وَالتَّفوِیضِ إلَیْکَ، وَالرِّضا
اے معبود مجھ پر یہ احسان فرما کہ تجھ پربھروسہ رکھوں اپنے معاملے کو تیرے حوالہ کردوں
بِقَدَرِکَ وَالتَّسْلِیمِ لِاَِمْرِکَ حَتَّی لاَ أُحِبَّ تَعْجِیلَ
تیری تقدیر پر راضی رہوںا ور تیرے حکم کے آگے جھکوں وہ یوں کہ تیری تاخیر میں جلدی نہ
مَا أَخَّرْتَ وَلاَ تَأْخِیرَ مَا عَجَّلْتَ یَارَبَّ الْعالَمِینَ
چاہوں اورتیری جلدی میں تاخیر نہ چاہوں اے جہانوں کے رب ۔
( تیرہویںدعا )
روایت ہوئی ہے کہ جبرائیل امین آئے حضرت رسالت مآبصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں عرض کیا آپ کا پروردگار فرمارہا ہے کہ ا گر آپ شب و روزمیں میری عبادت کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ہاتھ میرے حضور پھیلا کر یہ کہا کریں ۔
اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً خالِداً مَعَ خُلُودِکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْداً لاَ
اے معبود تیرے لیے حمد ہےہمیشہ تیری ہمیشگی کے ساتھ،تیرے لیے حمد ہے ایسی حمد کہ جس کی انتہا نہیں سوائے
مُنْتَهَیٰ لَهُ دُونَ عِلْمِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْداً لاَ أَمَدَ لَهُ دُونَ مَشِیئَتِکَ وَلَکَ
تیرے علم کے تیرے لیے حمد ہے ایسی حمد کہ جس کے لیے مدت نہیں سوائے تیری مرضی کے اورتیرے لیے حمد ہے
الْحَمْدُ حَمْداً لاَ جَزائَ لِقائِلِهِ إلاَّ رِضاکَ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّهُ
ایسی حمد کہ حمد کرنے والے کی جزا نہیں سواے تیری خشنودی کے اے معبود تیرے لیے حمد ہے کل کی
وَلَکَ الْمَنُّ کُلُّهُ وَلَکَ الْفَخْرُ کُلُّهُ وَلَکَ الْبَهائُ کُلُّهُ
کل تیرے لیے ہے احسان تمام تر تیرے لیے ہے فخرتمام تر تیرے لیے ہے زیبائی تمام تر
وَلَکَ النُّورُ کُلُّهُ وَلَکَ الْعِزَّةُ کُلُّها وَلَکَ الْجَبَرُوتُ
تیرے لیے ہے نور تمام تر تیرے لیے ہے عزت تمام تر تیرے لیے ہے بلندی تمام تر
کُلُّها وَلَکَ الْعَظَمَةُ کُلُّها، وَلَکَ الدُّنْیا کُلُّها وَلَکَ الْاَخِرَةُ
تیرے لیے ہے بڑائی تمام تر تیرے لیے ہے دنیا تمام تر تیرے لیے ہے آخرت تمام تر
کُلُّها وَلَکَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ کُلُّهُ وَلَکَ الْخَلْقُ کُلُّهُ وَبِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّهُ وَ إلَیْکَ
تیرے لیے ہے رات اور دن تمام تر تیرے لیےہے مخلوق تمام تر تیرے ہاتھ ہے بھلائی تمام تر اور تیری طرف
یَرْجِعُ الْاََمْرُ کُلُّهُ عَلانِیَتُهُ وَسِرُّهُ اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْداً أَبَداً أَنْتَ حَسَنُ
لوٹتے ہیں تمام معاملے وہ ظاہر ہوں یا باطنی اے معبود تیرے لیے حمد ہے ہمیشہ کی حمد کہ توبہتر طریقے سے آزماتا
الْبَلائِ جَلِیلُ الثَّنائِ سابِغُ النَّعْمائِ عَدْلُ الْقَضائِ جَزِیلُ الْعَطائ
ہے۔ بہترین تعریف والا ہےتیری نعمت وسیع ہے تیرا فیصلہ عدل ہے تیری عطا عظیم ہے
حَسَنُ الْاَلائ إلهٌ فِی الْاََرْضِ وَ إلهٌ فِی السَّمائِ اَللّٰهُمَّ لَکَ
تیری نعمتیں عمدہ ہیں تو زمین میں معبود ہے اور آسمان میں معبود ہے۔ اے معبود تیرے لیے
الْحَمْدُ فِی السَّبْعِ الشِّدادِ وَلَکَ الْحَمْدُ فِی الْاََرْضِ الْمِهادِ وَلَکَ الْحَمْدُ طاقَةَ
حمد ہے ساتوں آسمانوں میں اور تیرے لیے حمد ہےبچھی ہوی زمین میں تیرے لیے حمد ہے بندوں کی
الْعِبادِ وَلَکَ الْحَمْدُ سَعَةَ الْبِلادِ وَلَکَ الْحَمْدُ فِی الْجِبالِ الْاَوْتَادِ وَلَکَ الْحَمْدُ
طاقت اور شہروں کی وسعت کے مطابق اور تیرے لیے حمد ہے گڑھے ہوے پہاڑوں میں اور تیرے لیے حمد ہے
فِی اللَّیْلِ إذا یَغْشَیٰ وَلَکَ الْحَمْدُ فِی النَّهارِ إذا تَجَلَّیٰ وَلَکَ الْحَمْدُ فِی
رات میں جب وہ چھا جائےاور تیرے لیے حمد ہے دن میں جب وہ روشن ہو جائے تیرے لیے حمد ہے
الْآخِرَةِ وَالْاَُولی وَلَکَ الْحَمْدُ فِی الْمَثَانِی وَالْقُرْآنِ الْعَظِیمِ، وَسُبْحانَ ﷲ
آخرت اور دنیا میں تیرے لیے حمد ہے سورۃ حمد اور عظمت والے قرآن میں اور پاک تر ہے
وَبِحَمْدِهِ، وَالْاََرْضُ جَمِیعاً قَبْضَتُهُ یَوْمَ الْقِیامَةِ وَالسَّمٰوَاتُ
اللہ اپنی حمد کے ساتھ قیامت کےروز ساری زمین پر اس کا قبضہ ہوگا اور اس کے دست
مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِهِ سُبْحانَهُ وَتَعالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ، سُبْحانَ ﷲ
قدرت سے آسمان لپیٹ دئیے جائیں گے وہ پاک اور بلند ہے مشرکوں کی باتوں سے پاک تر ہے اللہ
وَبِحَمْدِهِ کُلُّ شَیْئٍ هالِکٌ إلاَّ وَجْهَهُ سُبْحانَکَ رَبَّنا
اپنی حمد کیساتھ ہر چیزتباہ ہو جائیگی سوائے اس کی ذات کے تو پاک ہے ہمارے رب
وَتَعالَیْتَ وَتَبارَکْتَ وَتَقَدَّسْتَ، خَلَقْتَ کُلَّ شَیْئٍ بِقُدْرَتِکَ
تو بلند ہے بابرکت ہےاور پاکیزہ ہے تو نے ہر چیز کو اپنی قدرت سے پیدا کیا تو اپنی بلندی
وَقَهَرْتَ کُلَّ شَیْئٍ بِعِزَّتِکَ وَعَلَوْتَ فَوْقَ کُلِّ شَیْئٍ بِارْتِفاعِکَ وَغَلَبْتَ
کے ساتھ ہر چیز پر غالب ہوا تو اپنی اونچائی کے ساتھ ہر چیز سے بلند تر ہو گیاتو اپنی قوت کے ساتھ
کُلَّ شَیْئٍ بِقُوَّتِکَ وَابْتَدَعْتَ کُلَّ شَیْئٍ بِحِکْمَتِک وَعِلْمِکَ، وَبَعَثْتَ
ہر چیز پر حاوی ہوا تو نے ہر چیز کو اپنی حکمت وعلم کے ساتھ ایجاد وموجود کیاتو نے رسولوں کو کتا بیں دے کر بھیجا
الرُّسُلَ بِکُتُبِکَ وَهَدَیْتَ الصَّالِحِینَ بِ إذْنِکَ، وَأَیَّدْتَ الْمُؤْمِنِینَ بِنَصْرِکَ
اور اپنے حکم کے ساتھ نیک دل افراد کو ہدایت دی اور اپنی نصرت کے ساتھ مومنوں کی تائیدکی اور اپنی حکومت
وَقَهَرْتَ الْخَلْقَ بِسُلْطانِکَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ، لاَ
سے مخلوق پر غالب ہوا نہیں معبود سوائے تیرےتو یکتا ہے تیرا کوئی ثانی نہیں ہم تیرے غیر کی عبادت نہیں کرتے
نَعْبُدُ غَیْرَکَ، وَلاَ نَسْأَلُ إلاَّ إیَّاکَ وَلاَ نَرْغَبُ إلاَّ إلَیْکَ
ہم تیرے علاوہ کسی سے نہیں مانگتے اور تیرے علاوہ کسی کی طرف نہیں جھکتے تو ہی ہماری شکائتیں
أَنْتَ مَوْضِعُ شَکْوَانا وَمُنْتَهَیٰ رَغْبَتِنا وَ إلهُنا وَمَلِیکُنا
سننے والا ہماری رغبت کا آخری مقام ہمارا معبود اورہمارا مالک ہے ۔
( چودہویں دعا)
روایت ہوئی ہے کہ ایک شخص نے امیر المومنین- سے اپنی دعاؤں کے دیر سے قبول ہونے کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا تم دعا سریع الاجابتہ‘‘جلد قبول ہونے والی دعا کیوں نہیں پڑھتے اس نے پوچھا کہ وہ کونسی دعاہے آپعليهالسلام نے فرمایا وہ دعا یہ ہے۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ الْاََعْظَمِ الْاََجَلِّ الْاََکْرَمِ الَْمخْزُونِ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے عظیم سے عظیم تر نام کے ساتھ کہ جو دبدبہ وعزت والا خزانوں میں چھپا ہوا
الْمَکْنُونِ النُّورِ الْحَقِّ الْبُرْهانِ الْمُبِینِ الَّذِی هُوَ نُورٌ مَعَ نُورٍ وَنُورٌ مِنْ نُورٍ وَنُورٌ فِی نُورٍ وَنُورعَلَی کُلِّ
حق کا نور اور کھلی ہوئی محکم دلیل ہے تیرا وہ نام جو نور کے ساتھ نورمیں سے نور، نور میں نور ،ہر نور پر دوسرا نور،
نُورٍ، وَنُورٌ فَوْقَ کُلِّ نُورٍ وَنُورٌ تُضِیئُ بِهِ کُلَّ ظُلْمَةٍ، وَیُکْسَرُ بِهِ کُلُّ شِدَّةٍ، وَکُلُّ
ہر نور کے اوپر ایک اور نور ہےوہ نورکے جس سے ہر تاریکی روشن ہو جاتی ہے وہ نام ہر سختی کو توڑتا ہے ہر
شَیْطانٍ مَرِیدٍ وَکُلُّ جَبَّارٍ عَنِید لاَ تَقِرُّ بِهِ أَرْضٌوَلاَ تَقُومُ بِهِ سَمائٌ وَیَأْمَنُ بِهِ کُلُّ
سرکش انسان کو دباتا ہے ہر سخت گیر کو نرم بنا تا اس نام کوزمین سہار نہیں سکتی اور آسمان اسے اٹھا نہیں سکتا اس کے
خائِفٍ وَیَبْطُلُ بِه سِحْر کُلِّ ساحِرٍ وَبَغْی کُلِّ باغٍ حَسَدُ کُل حاسِدٍ وَیَتَصَدَّعُ لِعَظَمَتِهِ الْبَرُّ
ذریعے ہر خائف امن پاتا ہے ہر جادو گر کا جادو ٹوٹتا ہے سرکش کی سرکشی ختم ہوتی ہے حاسد کا حسد مٹ جاتا ہے اس نام کی عظمت
وَالْبَحْرُ وَیَسْتَقِلُّ بِهِ الْفُلْکُ حِینَ یَتَکَلَّمُ بِهِ الْمَلَکُ فَلا یَکُونُ لِلْمَوجِ عَلَیْهِ سَبِیلٌ
سے میدان وسمندر کانپتے ہیں اس کے ذریعے کشتیاں ٹھہر جاتی ہیں جب فرشتہ اسے زبان پر لاتاہے پھر لہریں اس کشتی پر کچھ اثر نہیںکر
وَهُوَ اسْمُکَ الْاََعْظَم الْاََعْظَمُ الْاََجَلُّ الْاََجَلُّ النُّورُ الْاََکْبَرُ الَّذِی
پاتیں اور وہ ہے تیراعظیم سے عظیم تر نام کہ جو روشن سے روشن تر سب سے بڑا نور ہے وہی
سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَکَ وَاسْتَوَیْتَ بِهِ عَلَی عَرْشِکَ وَأَتَوَجَّهُ
جس سے تو نے اپنی ذات کو موسوم کیا اور اسی کے ذریعے تو نے اپنے عرش کو سنوارا ہے
إلَیْکَ بِمُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَیْتِهِ وأَسْأَلُکَ بِک وَبِهِمْ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
میں محمد اور ان کی اہل بیت کے ذریعے تیری طرف آیا ہوں اور سوال کرتا ہوںتیرے اور ان کے واسطے سے کہ تو رحمت نازل فرما
مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآل محمد پر اور یہ کہ میرا یہ اور یہ کام بنادے۔
کذا وکذا کی بجاے اپنی حاجات بیان کرے۔
(پندرھویںدعا)
عمر بن ابی مقدام سے روایت ہے کہ انہوںنے کہا حضرت امام جعفر صادق - نے یہ دعا مجھے لکھوائی کہ جو دنیا اور آخرت کیلئے جامع دعا ہے دعا اس طرح ہے کہ پہلے خداے تعالیٰ کی حمد ثنا کی جائے اور پھر اسے پڑھا جاے۔
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْت الْحَلِیمُ الْکَرِیم وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْعَزِیزُ
اے معبود تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر تو کہ جو بردبارو سخی ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو غالب و
الْحَکِیمُ، وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْت الْواحِدُ الْقَهَّارُ وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ
حکمت والا ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیںکوئی معبود مگر تو کہ جو تنہا سب پر چھایا ہوا ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں
إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْمَلِکُ الْجَبَّارُ، وَأَنْتَ ﷲ لا إلهَ إلاَّ أَنْت الرَّحِیمُ
کوئی معبود مگر تو کہ جو قابو یافتہ بادشاہ ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر جو بخشنے والا
الْغَفَّارُ وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الشَّدِیدُ الْمِحالُ وَأَنْتَ ﷲ
مہربان ہے۔ تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر جو سخت تر بدلہ لینے والا ہے تو ہی وہ اللہ ہے
لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْکَبِیرُ الْمُتَعالِ وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ السَّمِیعُ
کہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو بڑائی والا بلند ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر جو سننے،
الْبَصِیرُ وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْمَنِیعُ الْقَدِیرُ، وَأَنْتَ ﷲ
دیکھنے والا ہے تو ہی وہ ﷲ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو قدرت والا اور روکنے والا ہے تو ہی وہ اللہ ہے
لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْغَفُورُ الشَّکُورُ وَأَنْت اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْحَمِیدُ
کہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو معاف کرنے والا قدردان ہے تو ہی وہ اللہ ہےکہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو خوبیوں
الْمَجِیدُ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْغَنِیُّ الْحَمِیدُ وَأَنْتَ اللّٰهُ
والا شان والا ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر تو جو بے نیاز و تعریف والا ہے۔ تو ہی وہ اللہ ہے
لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْغَفُورُ الْوَدُودُوَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْحَنَّانُ
ہے کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو پردہ ڈالنےاور محبت کرنے والا ہے تو ہی وہ اللہ ہےکہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو احسان کرنے
الْمَنَّانُ وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْحَلِیمُ الدَّیَّانُ وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ
والا مہربان ہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو جزا دینے والا بردبارہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں
إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْجَوادُ الْماجِدُ وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْواحِدُ
کوئی معبودمگرتوجو بڑا سخی و بزرگ ہے تو ہی وہ ﷲ ہے ہے کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو یگانہ
الْاََحَدُ، وَأَنْتَ اللّٰهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْغائِبُ الشَّاهِدُ وَأَنْتَ اللّٰهُ
و یکتاہے تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو نہاں و عیاں ہے تو ہی وہ اللہ ہے
لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الظَّاهِرُ الْباطِنُ، وَأَنْتَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ بِکُلِّ
کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو پو شیدہ وآشکار ہے۔ تو ہی وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی معبود مگرتوجو ہر
شَیْئٍ عَلِیمٌ تَمَّ نُورُکَ فَهَدَیْتَ، وَبَسَطْتَ یَدَکَ فَأَعْطَیْتَ رَبَّنا
چیز کا علم رکھتا ہے تیرا نور کامل ہے کہ تو نے ہدایت دی تیرا ہاتھ کھلا ہے کہ عطا فرماتا ہے اے ہمارے رب
وَجْهُکَ أَکْرَمُ الْوُجُوهِ وَجِهَتُکَ خَیْرُ الْجِهاتِ وَعَطِیَّتُکَ أَفْضَلُ
تیری ذات سب سے زیادہ عزت والی ہے تیری سمت سب سمتوں سے بہتر ہے تیری عطا سب عطائوں سے افضل
الْعَطایَا وَأَهْنَأُها تُطاعُ رَبَّنا فَتَشْکُرُ وَتُعْصیٰ رَبَّنا فَتَغْفِرُ لِمَنْ شِئْتَ
اور خوشگوار ہے اے ہمارے رب تو اطاعت پر قدر دانی کرتا ہے اے ہمارے رب تو نافرمانی پر جسے
تُجِیبُ الْمُضْطَرِّینَ وَتَکْشِفُ السُّوئَ وَتَقْبَلُ التَّوْبَةَ وَتَعْفُو
چاہے بخش دیتاہے تو بے کسوں کی دعائیں سنتا ہے تکلیفیں دور کرتا ہے توبہ قبول فرماتاہے گناہوں
عَنِ الذُّنُوبِ لاَ تُجَازَی أَیادِیکَ وَلاَ تُحْصی نِعَمُکَ، وَلاَ یَبْلُغُ
کی معافی دیتا ہے تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دیا جاسکتا تیری نعمتوں کا شمار نہیں ہو سکتا اور کسی بولنے
مِدْحَتَکَ قَوْلُ قائِلٍ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
والے کی گفتگو تیری تعریف نہیں کر سکتی اے معبود رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر
وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ وَرَوْحَهُمْ وَراحَتَهُمْ وَسُرُورَهُمْ، وَأَذِقْنِی طَعْمَ فَرَجِهِمْ وَأَهْلِکْ
ان کو جلد کشادگی دے ان کو جلد خوشی واطمینان اور مسرت عطا فرما اور مجھے ان کی کشا ئش کا زمانہ دکھا اور ان کے
أَعْدائَهُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ، وَآتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الْاَخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا
دشمنوں کو تباہ کر دے جو جنوں اور انسانوں میں ہیں ہمیں دنیا میں بہتری اور آخرت میں فلا ح عطا فرما ہمیں جہنم کی سختی
عَذَابَ النَّارِ وَاجْعَلْنا مِنَ الَّذِینَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَ هُمْ یَحْزَنُونَ
سے امان دے اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جن کو نہ خوف آتا ہےنہ انہیں غم ستاتا ہے مجھے ان لوگوں
وَاجْعَلْنِی مِنَ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ وَثَبِّتْنِی
میں رکھ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے رہے۔ مجھے اچھی باتوں پر قائم رکھ دنیاوی
بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَفِی الْاَخِرَةِ وَبارِکْ لِی فِی الْمَحْیَا وَالْمَماتِ
زندگی اورآخرت کی زندگی میں میرے لئے زندگی اور موت کو بابرکت بنا نیز پیشی کی جگہ دوبارہ اٹھنے حساب دینے
وَالْمَوْقِفِ وَالنُّشُورِ وَالْحِسابِ وَالْمِیزانِ وَأَهْوَالِ یَوْمِ الْقِیامَةِ وَسَلِّمْنِی عَلَی الصِّراطِ
اعمال کے تلنے اور قیامت کے خطرات میں بہتری عطا کرنا مجھے پل صراط پر قائم رکھنا اور اس سے پار کردینا
وَأَجِزْنِی عَلَیْهِ وَارْزُقْنِی عِلْماً نافِعاً وَیَقِیناً صادِقاً، وَتُقیً وَبِرّاً وَوَرَعاً وَخَوْفاً مِنْکَ
نیز مجھ کو نفع بخش علم اور پکار اور سچا یقین ، پرہیزگاری نیکی قناعت اور اپنا خوف عطا کر مجھے ایسی تڑپ
وَفَرَقاً یُبَلِّغُنِی مِنْکَ زُلْفَیٰ وَلاَ یُبَاعِدُنِی عَنْکَ وَأَحْبِبْنِی وَلاَ تُبْغِضْنِی وَتَوَلَّنِی
دے جو مجھے تیرے قریب کرے اور تجھ سے دورنہ ہٹاے۔ مجھے دوست رکھ اور مجھ سے ناراض نہ ہو میری سرپرستی کر
وَلاَ تَخْذُلْنِی وَأَعْطِنِی مِنْ جَمِیعِ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْاَخِرَةِ مَا عَلِمْتُ
اور تنہا نہ چھوڑ مجھے دنیا اور آخرت کی بھلایوں میں سے ہربھلائی سے نواز کہ جسے میں جانتا ہوں اور جسے
مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ وَأَجِرْنِی مِنَ السُّوئِ کُلِّهِ بِحَذَافِیرِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ
نہیں جانتا اور مجھے ہر طرح کی برایوں سے پوری طرح بچاے رکھ کہ جنہیں میں جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا۔
(سولہویں دعا)
معاویہ بن عمار سے منقول ہے کہ میں نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں عرض کیا کہ آیا آپ مجھے تعلیم دعا کے ساتھ مخصوص نہیں فرمائیں گے حضرتعليهالسلام نے فرمایا کیوں نہیں تم یہ دعا پڑھا کرو ۔
یَا واحِدُ یَا ماجِدُ یَا أَحَدُ یَا صَمَدُ، یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ
اے یگانہ اے بزرگوار اے یکتا اے بے نیاز اے وہ جس نے نہ جنا نہ وہ جنا گیا اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے
یَا عَزِیزُ یَا کَرِیمُ یَا حَنَّانُ، یَا سامِعَ الدَّعَوَاتِ، یَا أَجْوَدَ
اے با عزت اے سخی اے مہربان اے دعائوںکے سننے والے اے سب سے سخی جن سے سوال
مَنْ سُئِلَ وَیَا خَیْرَ مَنْ أَعْطَیٰ یَا اَللّٰهُ یَا ﷲ یَا ﷲ، قُلْتَ وَلَقَدْ نَادَانا نُوحٌ
ہوتا ہے اے عطا کرنے والوں میں بہتر یا اللہ یا اللہ یا اللہ تو نے فرمایا ہے کہ نوحعليهالسلام نے ہمیں پکارا تو ہم کیا
فَلَنِعْمَ الْمُجِیبُونَ
ہی اچھے قبول کرنے والے ہیں ۔
پھر آپعليهالسلام نے فرمایا کہ رسول خدا یہ بھی کہا کرتے تھے:
نَعَمْ لَنِعْمَ الْمُجِیبُ أَنْتَ وَنِعْم الْمَدْعُوُّ وَنِعْمَ الْمَسْؤُولُ أَسْأَلُکَ
ہاں ضرور تو اچھا کرنے والا ہے تو اچھا پکارا جانے والا ہے اور اچھا سوال کیے جانے والا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں
بِنُورِ وَجْهِکَ وأَسْأَلُکَ بِعِزَّتِکَ وَقُدْرَتِکَ وَجَبَرُوتِکَ وَأَسْأَلُک َبِمَلَکُوتِکَ
تیرے نور ذات کے واسطے سے سوال کرتا ہوں تیری عزت تیری قدرت اور اقتدار کے واسطے سے سوال کرتا ہوں تیری بادشاہی
وَدِرْعِکَ الْحَصِینَةِ وَبِجَمْعِکَ وَأَرْکانِکَ کُلِّها وَبِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَبِحَقِّ الْاََوْصِیائِ بَعْدَ
تیری محکم زرہ تیری تمام چیزوں اور تیرے پیدا کردہ عناصر کے واسطے سے اور حضرت محمد اور انکے اوصیاعليهالسلام کے حق کے واسطے سے
مُحَمَّدٍ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تَفْعَل بِی کَذا کَذا
یہ کہ تو درود بھیج محمد و آلعليهالسلام عليهالسلام محمد پر اور میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما
کذا کذا کی بجاے اپنی حاجات گنواے ۔
(سترہویں دعا )
روایت ہوئی ہے کہ کوفہ کا ایک شخص جس کا نام ابو جعفر تھا وہ حضرت امام جعفر صادق - کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی دعا بتائیں جو میں پڑھا کروں تو آپعليهالسلام نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو ۔
یَا مَنْ أَرْجُوهُ لِکُلِّ خَیْرٍ وَیَا مَنْ آمَنُ سَخَطَهُ عِنْدَ کُلِّ عَثْرَةٍ وَیَا مَنْ یُعْطِی بِالْقَلِیلِ
اے وہ جس سے ہر بھلائیکا امید وار ہوں اے وہ کہ ہر تنگی میں جس کی ناراضگی سے محفوظ ہوں اے وہ جو کم عمل پر زیادہ اجر
الْکَثِیرَ یَا مَنْ أَعْطَیٰ مَنْ سَأَلَهُ تَحَنُّناً مِنْهُ وَرَحْمَةً یَا مَنْ أَعْطَیٰ
دیتا ہے اے وہ کہ جو سوال کرے اسے مہربانی و رحم کے ساتھ عطا کرتا ہے اے وہ جو اسے بھی دیتا
مَنْ لَمْ یَسْأَلْهُ وَلَمْ یَعْرِفْهُ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَعْطِنِی بِمَسْأَلتِی
ہے جو نہ اس سے مانگتا ہے نہ اسے پہچانتا ہے تو درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور میری ہر وہ حاجت
مِنْ جَمِیعِ خَیْرِ الدُّنْیا وَجَمِیعِ خَیْرِ الْاَخِرَةِ فَ إنَّهُ غَیْرُ مَنْقُوصٍ
پوری کر جو دنیا و آخرت کی بہتری کے لئے مجھے در پیش ہیں کیونکہ جو کچھ تو عطا کرتا ہے وہ کم
مَا أَعْطَیْتَنِی، وَزِدْنِی مِنْ سَعَةِ فَضْلِکَ یَا کَرِیمُ
نہیں ہوتااور مجھے اپنے وسیع فضل میں سے عطا فرما اے سخی ۔
(اٹھارہویں دعا)
روایت ہے کہ یہ دعا حضرت امام محمد باقر - نے اپنے بھائی عبد اللہ بن علی کو تعلیم فرمائی تھی ۔
اَللّٰهُمَّ ارْفَعْ ظَنِّی صاعِداً وَلاَ تُطْمِعْ فِیَّ عَدُوّاً وَلاَ حاسِداً
اے معبود میرے گمان کو بلند کر دے اور دشمن اور حاسد کو میرے متعلق ارادہ نہ کرنے دے
وَاحْفَظْنِی قائِماً وَقاعِداً وَیَقْظاناً وَرَاقِداً اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی
اور میری حفاظت فرما جب کھڑا ہوں بیٹھا ہوں بیدار اور سویا ہوا ہوں اے معبود مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر
وَاهْدِنِی سَبِیلَکَ الاَقْوَمَ وَقِنِی حَرَّ جَهَنَّمَ وَاحْطُطْ عَنِّی الْمَغْرَمَ
اور مجھے اپنے سیدھے راستے پر لگا دے مجھے آتش جہنم سے بچا اور مجھ پر قرض اور گناہوں کا بوجھ
وَالْمَأْثَمَ وَاجْعَلْنِی مِنْ خِیارِ الْعالَمِ
اتار دے اور مجھے دنیا کے اچھے لوگوں میں قرار دے ۔
(انیسویں دعا )
روایت میں ہے کہ یہ عاجزی و انکساری والی دعا ہے :
اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَما بَیْنَهُنَّ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیم ِوَرَبَّ
اے معبود اے ساتوں آسمانوں اور اسکے درمیان کی چیز کے رب اے عظمت والے عرش کے رب اے
جَبْرَائِیلَ وَمِیکائِیلَ وَ إسْرافِیلَ وَرَبَّ الْقُرْآنِ الْعَظِیمِ وَرَبَّ
جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے بڑی شان والے قرآن کے
مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ إنِّی أَسْأَلُکَ بِالَّذِی تَقُومُ بِهِ السَّمائُ وَبِهِ
رب اے نبیوں کے خاتم محمد مصطفے کے رب میں اسکے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس سے آسمان قائم اور زمین
تَقُومُ الْاََرْضُ، وَبِهِ تُفَرِّقُ بَیْنَ الْجَمْع وَبِهِ تَجْمَعُ بَیْنَ الْمُتَفَرِّقِ
ٹھہری ہوئی ہے جس کے ذریعےتو لشکروں کو منتشر کرتاہے اور بچھڑےہوؤں کو ملاتا ہے جس کے ذریعے
وَبِهِ تَرْزُقُ الْاََحْیائَ وَبِهِ أَحْصَیْتَ عَدَدَ الرِّمالِ وَوَزْنَ الْجِبالِ وَکَیْلَ الْبُحُور
زندہ کو تو روزی دیتا ہے جسکے ذریعے توریت کے ذرات، پہاڑ کے وزن اور سمند ر کے پانی کا حساب کرتا ہے ۔
پھر محمد و آل محمد پر درود بھیجے عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا مانگے اور اپنی حاجات پر اصرار طلب کرے ۔
(بیسویں دعا)
ثقہ جلیل ابن ابی یعفور سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق - یہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔
اَللّٰهُمَّ امْلاََْ قَلْبِی حُبّاً لَکَ وَخَشْیَةً مِنْکَ وَتَصْدِیقاً وَ إیماناً
اے معبود میرے دل کو ایسا کر دے کہ اس میں تیری محبت ہو میرا دل تجھ سے ڈرے تیری تصدیق
بِکَ وَفَرَقاً مِنْکَ وَشَوْقاً إلَیْکَ، یَا ذَاالْجَلالِ وَالْاِکْرَامِ
کرے اور تجھ پر ایمان رکھے یہ تجھ سے سہما رہے اور تیری چاہت کرے اے دبدبے اور بزرگی کے مالک
اَللّٰهُمَّ حَبِّبْ إلَیَّ لِقائَکَ وَاجْعَلْ لِی فِی لِقائِکَ خَیْرَ
اے معبود مجھے ایسا بناکہ تیری ملاقات کی تمنا کروں اور تیری ملاقات میں میرے لئے بہترین
الرَّحْمَةِ وَالْبَرَکَةِ وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ وَلاَ تُؤَخِّرْنِی مَعَ الْاََشْرَارِ وَأَلْحِقْنِی بِصالِحِ مَن
رحمت و برکت ہو کہ تو مجھے نیکو کاروں میں شامل کرے مجھے بد کاروں میں نہ رہنے دے بلکہ مجھے گزرے ہوئے
مَضَیٰ وَاجْعَلْنِی مَعَ صالِحِ مَنْ بَقِیَ وَخُذْ بِی سَبِیلَ الصَّالِحِینَ
نیکو کاروں میں شامل کرے موجودہ نیکو کاروں کے ساتھ مجھے قرار دے مجھے نیک لوگوں کے راستے پر لگا
وَأَعِنِّی عَلَی نَفْسِی بِما تُعِینُ بِهِ الصَّالِحِینَ عَلَی أَنْفُسِهِمْ وَلاَ تَرُدَّنِی
دے میری مدد اس طرح کر جس طرح تو نیکو کروں کی مدد کرتا رہتا ہے مجھے برائی کی طرف نہ پلٹا کہ
فِی سُوئٍ اسْتَنْقَذْتَنِی مِنْهُ یَارَبَّ الْعالَمِینَ أَسْأَلُکَ إیماناً لاَ أَجَلَ
جس سے تو نے مجھے نکالا ہے۔اے جہانوں کے پر ور دگار میں تجھ سے ایمان مانگتا ہوں جو
لَهُ دُونَ لِقائِک تُحْیِینِی وَتُمِیتُنِی عَلَیْهِ وَتَبْعَثُنِی عَلَیْهِ إذا
تیرے پاس آنے تک قائم رہے تومجھے اسی پر زندہ رکھ اور اسی پر موت دے جب تو مجھے قبر سے اٹھاے
بَعَثْتَنِی وَأَبْریَْ قَلْبِی مِنَ الرِّیائِ وَالسُّمْعَةِ وَالشَّکِّ فِی دِینِکَ
تو اسی ایمان پر اٹھوں میرےدل کو نمائش خود پسندی اور دین میں شک لانے سے بچاے رکھ
اَللّٰهُمَّ أَعْطِنِی نَصْراً فِی دِینِکَ وَقُوَّةً فِی عِبادَتِکَ، وَفَهْماً
اے معبود مجھے دین میں کامیابی دے عبادت کرنے کی قوت عطا فرما تخلیق میں غور کرنے کی
فِی خَلْقِکَ وَکِفْلَیْنِ مِنْ رَحْمَتِکَ وَبَیِّضْ وَجْهِی بِنُورِکَ وَاجْعَل
توفیق دے اپنی رحمت کے دو حصے نصیب کر اور میرے چہرے کو اپنے نور سے چمکا دے مجھے اس چیز کا
رَغْبَتِی فِیما عِنْدَکَ وَتَوَفَّنِی فِی سَبِیلِکَ عَلَی مِلَّتِکَ وَمِلَّةِ
شوق دے جو تیرے ہاں ہے اور میرا خاتمہ تیری راہ تیرےدین اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے
رَسُولِکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْن وَالْبُخْلِ وَالْغَفْلَةِ
دین پر ہو۔ اے معبود میں تیری پناہ لیتا ہوں سستی و کاہلی اور بڑھاپے، بزدلی،کنجوسی، بے توجہی
وَالْقَسْوَة وَالْفَتْرَةِ وَالْمَسْکَنَةِ وَأَعُوُ بِک یَارَبِّ مِنْ نَفْسٍ لاتَشْبَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَ
سخت دلی، بے ہوشی اور بے چارگی سے یا رب پناہ لیتا سیر نہ ہونے والے نفس، خوف نہ کھانے والے دل،
یَخْشَعُ وَمِنْ دُعائٍ لاَ یُسْمَعُ وَمِنْ صَلاةٍ لاَ تَنْفَعُ وَأُعِیذُ بِکَ نَفْسِی وَأَهْلِی وَذُرِّیَّتِی
سنی نہ جانے والی دعا اور نفع نہ دینے والی نماز سے اور تیری پناہ میں دیتا ہوں اپنی جان خاندان اور اولاد کو
مِنَ الشَّیْطانِ الرَّجِیمِ اَللّٰهُمَّ إنَّهُ لاَ یُجِیرُنِی مِنْکَ أَحَدٌ وَلاَ أَجِدُ مِنْ دُونِکَ مُلْتَحَداً
راندے ہوئے شیطان سےاے معبود حق یہ ہے کہ مجھے کوئی بھی تجھ سے نہیں بچا سکتا اور تیرے بغیر کوئی بھی مجھے امن آسائش
فَلا تَخْذُلْنِی وَلاَ تَرُدَّنِی فِی هَلَکَةٍ وَلاَ تَرُدَّنِی بِعََذاب أَسْأَلُک
نہیں دے سکتا پس مجھے تنہا نہ چھوڑ ہلاکت میں نہ ڈال اور اور مجھے عذاب میں نہ پلٹا میں دعا کرتا ہو ں
الثَّبَاتَ عَلَی دِینِکَ وَالتَّصْدِیقَ بِکِتابِکَ وَاتِّبَاعَ رَسُولِکَ اَللّٰهُمَّ اذْکُرْنِی بِرَحْمَتِکَ
کی میں تیرے دین پر قائم رہوں تیری کتاب کو سچی سمجھوں اور تیرے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پیروی کروں اے معبود تو مجھے رحمت میں یاد فرما
وَلاَ تَذْکُرْنِی بِخَطِیئَتِی وَتَقَبَّلْ مِنِّی، وَزِدْنِی مِنْ فَضْلِکَ، إنِّی إلَیْکَ راغِبٌ اَللّٰهُمَّ
میری خطاؤں کو سامنے نہ لا میرا عمل قبول فرما اور مجھ پر اپنا بہت زیادہ فضل کر کہ میں تیری طرف جھک پڑا ہوں ۔اے معبود
اجْعَلْ ثَوَابَ مَنْطِقِی وَثَوَابَ مَجْلِسِی رِضاکَ عَنِّی وَاجْعَلْ عَمَلِی وَدُعائِی
میری اس پکار اور نشست کے ثواب میں مجھے اپنی خوشنودی عطا فرما اور میرے عمل اور میری دعا کو
خالِصاً لَکَ وَاجْعَلْ ثَوابِیَ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِکَ وَاجْمَعْ لِی جَمِیعَ مَا سَأَلْتُکَ وَزِدْنِی مِنْ
خاص اپنے لئے قرار دے اپنی رحمت سے مجھے ثواب میں جنت کا مستحق ٹھہراجن چیزوں کا میں نے تجھ سے سوال کیا ہے وہ سبھی عطا کر اور مجھ
فَضْلِکَ إنِّی إلَیْکَ راغِبٌ اَللّٰهُمَّ غارَتِ النُّجُومُ وَنامَتِ الْعُیُونُ
پر بہت زیادہ فضل فرما کہ میں تیری طرف جھک پڑاہوں اے معبود ستارے ڈوب گئے آنکھیں مندھ گئیں
وَأَنْتَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لاَ یُوَارِی مِنْکَ لَیْلٌ ساجٍ وَلاَ سَمائٌ ذاتُ أَبْراجٍ وَلاَ أَرْضٌ
اور تو زندہ پائندہ ہے کہ تاریک رات تجھ سے کچھ چھپا نہیں سکتی نہ بر جوں والا آسمان پوشیدہ رکھ سکتا ہے نہ بچھی ہوئی زمین مخفی
ذاتُ مِهادٍ وَلاَ بَحْرٌ لُجِیٌّ وَلاَ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ تُدْلِجُ الرَّحْمَةَ عَلَی
رکھ سکتی ہے نہ گہرا سمندر نہ تاریکیوں کی تہیں کچھ اوجھل رکھ سکتی ہیں تو شب میں جس مخلوق پر چاہے اپنی رحمت کر دیتا ہے
مَنْ تَشائُ مِنْ خَلْقِکَ تَعْلَمُ خائِنَةَ الْاََعْیُن وَما تُخْفِی الصُّدُورُ أَشْهَدُ بِما شَهِدْت بِهِ عَلَی نَفْسِکَ
تو آنکھ کے اشاروں کو جانتا ہے اور سینے کے رازوں سے واقف ہے ۔میں وہی گواہی دیتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لئے دی
وَشَهِدَتْ مَلائِکَتُکَ وَأُولُو الْعِلْم لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ
جو گواہی تیرے فرشتوں نے اور صاحبان علم نے دی ہیں نہیں کوئی معبود مگر تو باعزت ہے حکمت والا
وَمَنْ لَمْ یَشْهَدْ عَلَی مَا شَهِدْتَ عَلَی نَفْسِکَ وَشَهِدَتْ مَلائِکَتُکَ وَأُولُو الْعِلْمِ فَاکْتُبْ
اور جو شخص وہ گواہی نہیں دیتا جو تو نے اپنی ذات کے لئے دی جو تیرے فرشتوں اور صاحبان علم نے دی ہے تو اس کی
شَهادَتِی مَکانَ شَهادَتِهِ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ اَلسَّلَامُ وَمِنْکَ اَلسَّلَامُ
بجاے میری یہ گواہی تحریر فرما دے اے معبود تو سلامتی والا ہے اور سلامتی تجھی سے ملتی ہے
أَسْأَلُکَ یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرَامِ أَنْ تَفُکَّ رَقَبَتِی مِنَ النَّارِ
اے دبدبے اور بزر گی کے مالک میں سوال کرتا ہوں کہ میری گردن آگ سے آزاد کر دے۔
مؤلف کہتے ہیں شیخ طوسیرحمهالله نے مصباح المتہجد میں لکھا ہے کہ یہ دعا نا فلہ شب کی چوتھی رکعت میں پڑھی جائے نیز علامہ مجلسیرحمهالله نے حضرت امام جعفر صادق - سے ایک روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا اس دعا کو نماز وتر میں پڑھا جائے
(اکیسویں دعا)
روایت ہوئی ہے کہ یہ دعا ئے ابوذر ہے اور جبرائیل نے حضرت رسول اکرم کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ دعا اہل آسمان میں بہت مشہور ہے ۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ الْاََمْنَ وَالْاِیمانَ وَالتَّصْدِیقَ بِنَبِیِّکَ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے امن وایمان عطا کر یہ کہ میں تیرے نبی کو سچا مانتا رہوں
وَالْعافِیَةَ مِنْ جَمِیعِ الْبَلائِ، وَالشُّکْرَ عَلَی الْعافِیَةِ وَالْغِنَی عَنْ شِرَارِ النَّاسِ
نیز مجھے تمام بلائوں سے امان دے اور مجھے سلامتی اور برے لوگوں سے بے نیازی پر شکر کی توفیق عطا فرما ۔
(بائیسویں دعا)
ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ میں نے یہ دعا امام محمد باقر - سے حاصل کی اور آنجنابعليهالسلام نے فرمایا یہ جامع دعا ہے۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیم أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ اللّهُ، وَحْدَهُ
خدا کے نام سے جو بڑا مہربان رحم والاہے میں گواہی دیتا ہوںنہیں معبود مگر اللہ جو یکتا ہے کوئی اس
لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ آمَنْتُ بِالله
کا شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے بندے اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ایمان رکھتا ہوں اللہ پر
وَبِجَمِیعِ رُسُلِهِ وَبِجَمِیعِ ما أُنْزِلَ بِهِ عَلَی جَمِیعِ الرُّسُلِ وَأَنَّ وَعْدَ ﷲ
اس کے تمام نبیوں پر اور اس چیز پر جو اس نے اپنے تمام نبیوں پر نازل فرمائی اور یہ کہ اللہ کا وعدہ حق ہے
حَقٌّ وَلِقائَهُ حَقٌّ وَصَدَقَ اللّهُ وَبَلَّغَ الْمُرْسَلُونَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ
اور اس سیملاقات حق ہے اللہ نے سچ فرمایا اور نبیوں نے سچ پہنچایا حمد ہے اللہ کے لئے جو جہانوں کا
الْعالَمِینَ، وَسُبْحانَ ﷲ کُلَّما سَبَّحَ اللّٰهَ شَیْئٌ، وَکَما یُحِبُّ
رب ہے اللہ تعالیٰ پاک ہے جب بھی کوئی چیز اس کی پاکی بیان کرتی ہے جیسے وہ چاہتا
ﷲ أَنْ یُسَبَّحَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ کُلَّما حَمِدَ اللّٰهَ شَیْئٌ، وَکَما یُحِبُّ
ہے کہ اسکی پاکی بیان ہو اور حمد ہے ﷲ کیلئے جب کوئی چیز اس کی حمد کرئے جیسے وہ چاہتا ہے کہ اس کی
اللّهُ أَنْ یُحْمَدَ وَلاَ إلهَ إلاَّ اللّٰهُ کُلَّما هَلَّلَ اللّٰهَ شَیْئٌ وَکَما
حمد ہو نہیں کوئی معبود سواےاللہ کے جب بھی کوئی چیز خدا کومعبود کہے جیسے وہ چاہتاہے کہ اسے
یُحِبُّ اللّهُ أَنْ یُهَلَّلَ وَﷲ أَکْبَرُ کُلَّما کَبَّرَ اللّهَ شَیْئٌ وَکَما
معبود کہا جائے اللہ بزرگ ترہے جب کوئی چیز اس کی بزرگی بیان کرے جیسے وہ چاہتا ہے
یُحِبُّ اللّهُ أَنْ یُکَبَّرَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مَفاتِیحَ الْخَیْرِ وَخَوَاتِیمَهُ
کہ اسے بزرگ کہا جائے اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بھلائیوں کی کنجیوں کا ان کے
وَسَوَابِغَهُ وَفَوَائِدَهُ وَبَرَکاتِهِ وَما بَلَغَ عِلْمَهُ عِلْمِی وَما قَصَرَ
انجام ان کے کامل ہونے اور ان کے فائدوں اور بر کتوں کا جن کومیرا علم جان نہ سکے اور میری یاد
عَنْ إحْصائِهِ حِفْظِی اَللّٰهُمَّ انْهَجْ لِی أَسْبابَ مَعْرِفَتِهِ وَافْتَحْ لِی أَبْوَابَهُ
ان کو شمار نہ کر سکتی ہو۔ اے معبود میرے لئے خیر کو جاننے کے وسیلے فراہم کر دے اور مجھ پر
وَغَشِّنِی بَرَکاتِ رَحْمَتِکَ وَمُنَّ عَلَیَّ بِعِصْمَةٍ عَنِ الْاِزالَةِ
اس کی راہیں کھول دے مجھے اپنی رحمت کی چھائوں میں رکھ مجھ پر یہ احسان فرما کہ میں تیرے دین سے
عَنْ دِینِک َوَطَهِّرْ قَلْبِی مِنَ الشَّکِّ وَلاَ تَشْغَلْ قَلْبِی بِدُنْیایَ
ہٹنے نہ پائوں میرے دل سے شک ور کر دے میرے دل کو اس دنیا اور عارضی زندگی میں نہ لگنے دے
وَعاجِلِ مَعاشِی عَنْ آجِلِ ثَوابِ آخِرَتِی وَاشْغَلْ قَلْبِی بِحِفْظِ
کہ وہ آخرت کے دائمی ثواب کو بھول نہ جائے میرے دل کو اس چیز میں لگا دے کہ جس کا نہ جاننا تجھے
مَا لاَ تَقْبَلُ مِنِّی جَهْلَهُ وَذَلِّلْ لِکُلِّ خَیْرٍ لِسانِی وَطَهِّرْ قَلْبِی مِنَ الرِّیائِ
منظور نہیں میری زبان کو ہر اچھائی کو نرم کر دے میرے دل کو نمائش سے پاک کر اور اسے میرے اعضائ میں
وَلاَ تُجْرِهِ فِی مَفاصِلِی وَاجْعَلْ عَمَلِی خالِصاً لَکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ
ہ آنے دے اور ایسا کر کہ میرا عمل خاص تیرے لئے ہواے معبود میں تیری پناہ لیتا ہوں برائی اور ہر
وَأَنْواعِ الْفَواحِشِ کُلِّها ظاهِرِها وَباطِنِها وَغَفَلاتِها وَجَمِیعِ مَا یُرِیدُنِی بِهِ الشَّیْطانُ
طرح کی بے حیائی سے جو عیاں و نہاں ہے اور وہ جو یاد میں نہیں ان باتوں سے جن میں راندے ہوئے شیطان نے
الرَّجِیمُ وَما یُرِیدُنِی بِهِ السُّلْطانُ الْعَنِیدُ مِمَّا أَحَطْتَ بِعِلْمِهِ
میرا ارادہ کیا اور جن باتوں میں دشمنی رکھنے والے حاکم نے میرا قصد کیا کہ جو تیرے علم میں نہیں
وَأَنْتَ الْقادِرُ عَلَی صَرْفِهِ عَنِّی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ طَوارِقِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ
ہے اور انہیں مجھ سے دور کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اے معبودمیں تیری پناہ لیتا ہوں جن و انس کے حملوں سے
وَزَوَابِعِهِمْ وَبَوائِقِهِمْ وَمَکائِدِهِمْ وَمَشاهِدِ الْفَسَقَةِ مِنَ الْجِنِّ
اور ان کے پیروکاروں ان کی بد مستیوں ان کے حیلوں اور جن انس میں سے آٹپکنے والے بدکاروں
وَالْاِنْسِ وَأَنْ أُسْتَزَلَّ عَنْ دِینِی فَتَفْسُدُ عَلَیَّ آخِرَتِی، وَأَنْ یَکُونَ
سے اور اس سے کہ دین میں لغزش کھا جائوں اور میری آخرت خراب ہوجاے ایسا نہ ہو
ذلِکَ مِنْهُمْ ضَرَراً عَلَیَّ فِی مَعاشِی، أَوْ یَعْرِضَ بَلائٌ یُصِیبُنِی
کے اس کی طرف سے میری زندگی کونقصان پہنچ جائے یا ان کے ہاتھوں میں کسی سختی میں پڑ
مِنْهُمْ لاَ قُوَّةَ لِی بِهِ وَلاَ صَبْرَ لِی عَلَی احْتِمَالِهِ فَلا تَبْتَلِیَنِّی یَا إلهِی بِمُقَاسَاتِهِ
ائوں کہ اسے برداشت نہ کر سکوں اور اس میں صبر نہ کر پائوں پس اے اللہ تو مجھے اس سختی میں نہ ڈالیوکہ وہ مجھ
فَیَمْنَعُنِی ذلِکَ عَنْ ذِکْرِکَ،وَیَشْغَلُنِی عَنْ عِبادَتِکَ، أَنْتَ الْعاصِمُ الْمانِعُ الدَّافِعُ الْواقِی مِنْ ذلِکَ
کو تیری یاد سے روک دے اور تیری بندگی سے ہٹا دے ہاں تو ہی اس سے بچانے والا سے روکنے والا دورکرنے والا اور اس سے بچانے
کُلِّهِ أَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ الرَّفاهِیَّةَ فِی مَعِیشَتِی عَلَی مَا أَبْقَیْتَنِی مَعِیشَةً أَقْویٰ بِها عَلَی طاعَتِکَ
والاہے سوال کرتا ہوں۔ اے معبود کہ میری زندگی میں ایسی معاشی آسودگی عطا فرما کہ جس سے میں تیری اطاعت کرنے کی طاقت
وَأَبْلُغُ بِها رِضْوَانَکَ وَأَصِیرُ بِها إلَی دَارِ الْحَیَوانِ غَداً، وَلاَ
پائوں اور یوں تیری خوشنودی حاصل کروں پھر کل کو ابدی زندگی تک جا پہنچوں مجھے ایسی روزی نہ
تَرْزُقْنِی رِزْقاً یُطْغِینِی وَلاَ تَبْتَلِیَنِّی بِفَقْرٍ أَشْقَی بِهِ، مُضَیَّقاً عَلَیَّ، أَعْطِنِی حَظّاً وافِراً فِی آخِرَتِی
دے کہ سر کش بنوں اور نہ ہی ایسے فقر میں مبتلا کر کہ تنگی میں پڑ کے بدبخت ہوجائوں تو مجھے آخرت میں زیادہ حصہ دے دنیا میں
وَمَعاشاً واسِعاً هَنِیئاً مَرِیئاً فِی دُنْیایَ وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْیا عَلَیَّ سِجْناً وَلاَ تَجْعَلْ فِراقَها عَلَیَّ حُزْناً
کشادہ خوشگوار اور بہتر روزی نصیب فرما اور دنیا کو میرے لئے قید خانہ نہ بنا نہ ہی اس سے جدائی میرے لئے غم کا موجب بنے
أَجِرْنِی مِنْ فِتْنَتِها وَاجْعَلْ عَمَلِی فِیها مَقْبُولاً وَسَعْیِی فِیها
مجھے اس کے فتنوں سے بچا اس میں میرے عمل کو قبول فرما اور میری کوشش کو پسندیدہ
مَشْکُوراً اَللّٰهُمَّ وَمَنْ أَرادَنِی بِسُوئٍ فَأَرِدْهُ بِمِثْلِهِ، وَمَنْ کادَنِی
قرار دے اے معبود جو مجھ سے برائی کا ارادہ کرے تو بھی اس سے ایسا ہی کر جو مجھے فریب دیتا ہے تو
فِیها فَکِدْهُ وَاصْرِفْ عَنِّی هَمَّ مَنْ أَدْخَلَ عَلَیَّ هَمَّهُ وَامْکُرْ
بھی اسے فریب میں ڈال جومجھے ڈراتا ہے اس کا ڈرمیرے دل سے نکال دے اورجو مجھے
بِمَنْ مَکَرَ بِی فَ إنَّکَ خَیْرُ الْماکِرِینَ وَافْقَأْعَنِّی عُیُونَ الْکَفَرَةِ الظَّلَمَةِ، وَالطُّغاةِ
پھنسا دے کہ یقینا تو اچھی تدبیر والا ہےتو میری طرف سے کافروں ظالموں اور سرکشوں،حاسدوں
ا لْحَسَدَةِ اَللّٰهُمَّ وَأَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْکَ السَّکِینَةَ وَأَلْبِسْنِی
کی آنکھیں نکال دے۔اے معبودمجھ پر اپنی طرف سے تسلی کا نزول فرما مجھ کو اپنی محکم تر زرہ
دِرْعَکَ الْحَصِینَةَ وَاْحفَظْنِی بِسِرِّکَ الْوَاقِی، وَجَلِّلْنِی عافِیَتَکَ النَّافِعَةَ
پہنادے اپنے باطنی امر کے ساتھ میری حفاظت فرمامجھے اپنی بہترین عافیت میں چھپا دے میرے
وَصَدِّقْ قَوْلِی وَفِعالِی وَبارِکْ لِی فِی وَلَدِی وَأَهْلِی وَمالِی اَللّٰهُمَّ
قول و فعل کو سچا ثابت کر دےمیری اولاد میرے خاندان اورمال میں برکت دے اے معبود
مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَغْفَلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ وَمَا تَوَانَیْتُ وَمَا
جو میں بھیج چکا ہوں جو بھیج رہا ہوں جس سے غفلت برتی ہے جو دانستہ کیا جس میں سستی دکھائی ہے جو
أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ فَاغْفِرْهُ لِی، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
کچھ ظاہر اً کیا جو چھپ کر کیا وہ بخش دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
(تیئسویں دعا )
محمد بن مسلم سے منقول ہے کہ امام محمد باقر - نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو ۔
اَللّٰهُمَّ أَوْسِعْ عَلَیَّ فِی رِزْقِی وَامْدُدْ لِی فِی عُمُرِی وَاغْفِرْلِی ذَنْبِی وَاجْعَلْنِی مِمَّنْ
اے معبود میرا رزق فراواں کر دے میری عمر میں طوالت دے میرے گناہ معاف کردے اور مجھے ان لوگوں میں رکھ
تَنْتَصِرُ بِهِ لِدِینِکَ وَلاَ تَسْتَبْدِلْ بِی غَیْرِی
جنکے ذریعے تو دین کی مدد کرتا ہے اور میری جگہ کسی اور کو نہ لایو ۔
(چو بیسویں دعا )
روایت ہوئی ہے کہ امام جعفر صادق - یہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔
یَا مَنْ یَشْکُرُ الْیَسِیرَ وَیَعْفُو عَنِ الْکَثِیرِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ
اے وہ جو تھوڑے عمل کی قدر کرتاہے بہت سے گناہ معاف کر دیتا ہے اور بڑا بخشنے والا مہربان ہے میرے وہ گناہ بخش دے
الَّتِی ذَهَبَتْ لَذَّتُها وَبَقِیَتْ تَبِعَتُها
جن کی لذت توختم ہو چکی ہے مگران کا برا انجام باقی ہے ۔
(پچیسویں دعا )
یہ روایت بھی ہے کہ آنجنابعليهالسلام یہ پڑھا کرتے تھے:
یَا نُورُ یَا قُدُّوْسُ یَا أَوَّلَ الْاََوَّلِینَ، وَیَا آخِرَ الْاَخِرِینَ، یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیمُ
اے روشن کرنے والے اے پاک تر اے پہلوں سے پہلے اور پچھلوں سے پچھلے اے بڑے رحم والے اے مہربان
اغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُغَیِّرُ النِّعَمَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُحِلُّ النِّقَمَ
میرے وہ گناہ بخش دے جو نعمتوں سے محرومی کا باعث ہیں میرے وہ گناہ بخش دے جو عذاب کا موجب ہیں
وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَهْتِکُ الْعِصَمَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُنْزِلُ الْبَلائَ
اور میرے وہ گناہ بخش دے جو پردہ فاش کرنے کا سبب ہیں اور میرے وہ گناہ بخش دے جو نزول ہلکا سبب ہیں
وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُدِیلُ الْاََعْدائَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُعَجِّلُ الْفَنائَ
اور میرے وہ گناہ بخش دے جو دشمنوں کو جرأت دلاتے ہیں میرے وہ گناہ بخش دے جو تباہی میں جلدی کا موجب ہیں
وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَقْطَعُ الرَّجائَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تُظْلِمُ الْهَوائَ
میرے وہ گناہ بخش دے جو امیدیں قطع کر دیتے ہیں میرے وہ گناہ بخش دے جو ما حول کو بگاڑتے ہیں
وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَکْشِفُ الْغِطائَ وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَرُدُّ الدُّعائَ
میرے وہ گناہ بخش دے جو شرم کا پردہ چاک کرتے ہیں میرے وہ گناہ بخش دے جو دعاؤں کو رد کراتے ہیں
وَاغْفِرْ لِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَرُدُّ غَیْثَ السَّمائِ
اور میرے وہ گناہ بخش دے جوبارش میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ۔
(چھبیسویں دعا)
یہ دعا بھی آنجنابعليهالسلام سے منقول ہے:
یَاعُدَّتِی فِی کُرْبَتِی وَیَا صاحِبِی فِی شِدَّتِی وَیَا وَلِیِّی فِی نِعْمَتِی وَیَا غِیاثِی فِی رَغْبَتِی
اے دکھ میں میرے سہارے اے سختی میں میرے ساتھی اے نعمت دینے والے مالک اے میری پکار پر فریاد رسی کرنے والے ۔
یہ بھی فرمایا کہ یہ امیر المومنین- کی دعا ہے َ
اَللّٰهُمَّ کَتَبْتَ الْاَثارَ وَعَلِمْتَ الْاََخْبارَ وَاطَّلَعْتَ عَلَی الْاََسْرَارِ فَحُلْتَ بَیْنَنا وَبَیْنَ
اے معبود تو نے اعمال لکھ لیے تو خبروں کو جانتا ہے ہر راز تجھ پر عیاں ہے تو ہمارے اور ہمارے دلوں کے
الْقُلُوبِ فَالسِّرُّ عِنْدَکَ عَلانِیَةٌ وَالْقُلُوبِ إلَیْکَ مُفْضاةٌ وَ إنَّما أَمْرُکَ
درمیان حائل ہے پس ہمارا ہر راز تجھ پر عیاں ہے اور دل تیرے آگے سر نگوں ہیں بے شک کسی چیز کیلئے حکم یہ ہے کہ
لِشَیْئٍ إذا أَرَدْتَهُ أَنْ تَقُولَ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ فَقُلْ بِرَحْمَتِکَ لِطاعَتِکَ أَنْ تَدْخُلَ
جب تو ارادہ کرے اور تو اس سے کہتا ہے تو ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے پس اپنی رحمت کے ساتھ طاعت سے کہہ دے کہ وہ
فِی کُلِّ عُضْوٍ مِنْ أَعْضائِی وَلاَ تُفارِقَنِی حَتَّی أَلْقَاکَ،وَقُلْ
میرے اعضائ میں سے ہر عضو میں داخل ہو جا ئے اور مجھ سے دور نہ ہوحتیٰ کہ تجھ سے جاملوں اپنی رحمت
بِرَحْمَتِکَ لِمَعْصِیَتِکَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ کُلِّ عُضْوٍ مِنْ أَعْضائِی
کے ساتھ نافرمانی سے کہہ دے کہ وہ میرے اعضائ میں سے ہر عضو سے نکل جائے
فَلا تُقَرِّبَنِی حَتَّی أَلْقَاکَ وَارْزُقْنِی مِنَ الدُّنْیا وَزَهِّدْنِی فِیها، وَلاَ تَزْوِها عَنِّی وَرَغْبَتِی
اور میرے قریب نہ آئے حتیٰ کہ تجھ سے جا ملوں مجھے مال و دنیا دے اور اس سے بے پروا کر دے اور مجھ سے دور نہ کر جب میں
فِیها یَا رَحْمنُ
اسے چاہوں اے بڑے رحم والے
(ستائیسویں دعا )
علی بن ابراہیم اپنے والد سے وہ ابن محبوب سے وہ علائ بن رزین سے اور وہ عبد الرحمن بن سیابہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق - نے مجھے یہ دعا تعلیم فرمائی:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلِیِّ الْحَمْدِ وَأَهْلِهِ وَمُنْتَهاهُ وَمَحَلِّهِ أَخْلَصَ مَنْ وَحَّدَهُ
حمد اللہ کے لئے جو حمد کا مالک ہے وہ اسکا اہل ہے اسکی انتہا اور مقام ہے وہ کھرا ہے جو اسے یکتا جانے وہ
وَاهْتَدَیٰ مَنْ عَبَدَهُ وَفازَ مَنْ أَطاعَهُ وَأَمِنَ الْمُعْتَصِمُ بِهِ اَللّٰهُمَّ
ہدایت پا گیا جس نے اسکی عبادت کی کامیاب ہوا جس نے اطاعت کی اس نے امان پائی جو اس کی پنا ہ میں آیا اے معبود
یَاذَاالْجُودِ وَالْمَجْدِ وَالثَّنائِ الْجَمِیلِ وَالْحَمْدِ، أَسْأَلُکَ
تو سخاوت شان اور بہترین تعریف و خوبی کا مالک ہے۔ تجھ سے سوال کرتا ہوں اس سوالی کی
مَسْأَلَةَ مَنْ خَضَعَ لَکَ بِرَقَبَتِهِ، وَرَغَمَ لَکَ أَنْفَهُ وَعَفَّرَ لَکَ وَجْهَهُ، وَذَلَّلَ لَکَ
طرح جو تیرے آگے پوریطرح جھکا ہوا ہے تیرے سامنے ناک رگڑتا ہے تیرے لئے منہ پر خاک ملی ہے تیرے
نَفْسَهُ، وَفاضَتْ مِنْ خَوْفِکَ دُمُوعُهُ وَتَرَدَّدَتْ عَبْرَتُهُ
سامنے پست ہوا تیرے خوف سے اس کے آنسو نکل کر اس کے رخساروں پر بہہ رہے ہیں تیرے
وَاعْتَرَفَ لَکَ بِذُنُوبِهِ وَفَضَحَتْهُ عِنْدَکَ خَطِیئَتُهُ
سامنے اپنے گناہوں کا اقراری ہے اس کی خطائوں نے اس کو تیرے سامنے رسوا کیا اس کے جرائم نے
وَشَأَنَتْهُ عِنْدَکَ جَرِیرَتُهُ فَضَعُفَتْ عِنْدَ ذلِکَ ُقُوَّتُه وَقَلَّتْ حِیلَتُهُ
اسے تیرے سامنے داغدار کیا تو ایسے میں اس کی طاقت جواب دے گئی اس کی تدبیریں
وَانْقَطَعَتْ عَنْهُ أَسْبابُ خَدَائِعِهِ، وَاضْمَحَلَّ عَنْهُ کُلُّ باطِلٍ وَأَلْجَأَتُهُ
ناکام ہوئیں اس کے قریب کے اسباب قطع ہوگئے اس کا ہر باطل عمل ماند پڑ گیا اس کے
ذُنُوبُهُ إلَی ذُلِّ مَقامِهِ بَیْنَ یَدَیْکَ وَخُضُوعِهِ لَدَیْکَ وَابْتِهَالِهِ
ناہوں نے اس کو پست مقام پر پھینک دیا جہاں تیرے سامنے پڑا ہے اسکی زاری نے اسے تیرے آگے
إلَیْکَ أَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ سُؤالَ مَنْ هُوَ بِمَنْزِلَتِهِ أَرْغَبُ إلَیْکَ
جھکا دیا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں اے معبود اس کی مانند جو ایسے شخص کی جگہ پر ہو تیری طرف رغبت کرتا
کَرَغْبَتِهِ وَأَتَضَرَّعُ إلَیْکَ کَتَضَرُّعِهِ وَأَبْتَهِلُ إلَیْکَ کَأَشَدِّ ابْتِهالِهِ اَللّٰهُمَّ فَارْحَمِ
ہوں تیرے آگے اس سے زیادہ نالہ کرتا ہوں تیرے سامنے اس سے زیادہ گڑ گڑاتا ہوں اے معبود پس رحم فرما میری
اسْتِکانَةَ مَنْطِقِی وَذُلَّ مَقامِی وَمَجْلِسِی وَخُضُوعِی إلَیْکَ
گفتار کی کمزوری پر میرے مقام کی پستی پر میری نشست پر اور تیرے آگے جو عاجزی کی ہے اس پر رحم کر
بِرَقَبَتِی أَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ الْهُدَیٰ مِن الضَّلالَةِ وَالْبَصِیرَةَ مِنَ الْعَمَیٰ، وَالرُّشْدَ
سوال کرتا ہوں تجھ سےاے معبود کہ گمراہی میں ہدایت دے کم نظری میں بینائی عطا کر اور بے راہی میں سیدھی راہ پہ ڈال
مِنَ الْغِوَایَةِ وأَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ أَکْثَرَ الْحَمْدِ عِنْدَ الرَّخائِ وَأَجْمَلَ الصَّبْرِ عِنْدَ الْمُصِیبَةِ
دے سوال کرتا ہوں اے معبود کہ خوشحالی میں تیریزیادہ حمد کروں مصیبت کے وقت اچھے طریقے سے صبر کروں شکر کے
وَأَفْضَلَ الشُّکْرِ عِنْدَ مَوْضِع الشُّکْرِ وَالتَّسْلِیمَ عِنْدَ الشُّبُهاتِ وأَسْأَلُکَ
موقع پر بہتر سے بہتر انداز میں شکر ادا کروں شبہ کے وقت تیرے آگے جھک جائوں۔میں تیری بندگی کے لئے طاقت
الْقُوَّةَ فِی طاعَتِکَ وَالضَّعْفَ عَنْ مَعْصِیَتِکَ وَالْهَرَبَ إلَیْکَ مِنْکَ وَالتَّقَرُّبَ إلَیْکَ
مانگتا ہوں گناہوں میں کمزوری چاہتا ہوں تجھ سے ڈر کے تیری طرف آنا چاہتا ہوں تیرے نزدیک آنا چاہتا ہوں
رَبِّ لِتَرْضَی وَالتَّحَرِّیَ لِکُلِّ مَا یُرْضِیکَ عَنِّی فِی إسْخاطِ
اے پروردگار ایسی جستجو مانگتا ہوں جو اس چیز کیلئے ہو جو تجھ کو مجھ سےخوشنود کرے جب کہ دوسرے لوگ
خَلْقِکَ اِلْتِماساً لِرِضَاکَ، رَبِّ مَنْ أَرْجُوهُ إنْ لَمْ تَرْحَمْنِی أَوْ مَنْ یَعُودُ
مجھ پر ناراض ہوں تیری خوشنودی کا طالب ہوں پروردگار اگر تو مجھ پر رحم نہ کرے تو کس سے امید رکھو ںیا اگر دھتکاردے تو
عَلَیَّ إنْ أَقْصَیْتَنِی أَوْ مَنْ یَنْفَعُنِی عَفْوُهُ إنْ عاقَبْتَنِی أَوْ مَنْ آمُلُ
کون میری طرف توجہ کرے گا یا اگر تو مجھے سزا دے تو کس کی معافی میرے کام آئے گی یا اگر تومجھے
عَطایاهُ إنْ حَرَمْتَنِی أَوْ مَنْ یَمْلِکُ کَرَامَتِی إنْ أَهَنْتَنِی أَوْ مَنْ
محروم کرے توکس کی عطائوں کی آرزو کروں گا یا اگر تو مجھے پست کرے تو کون مجھے عزت دار بنایگا
یَضُرُّنِی هَوانُهُ إنْ أَکْرَمْتَنِی رَبِّ مَا أَسْوَأَ فِعْلِی، وَأَقْبَحَ
یا اگر تو مجھے عزت بخشے توکون میری توہین کر سکتا ہے پروردگار میرےفعل کتنے برے ہیں میرا عمل کتنا
عَمَلِی وَأَقْسَیٰ قَلْبِی وَأَطْوَلَ أَمَلِی وَأَقْصَرَ أَجَلِی وَأَجْرَأَنِی عَلَی
اپسندیدہ ہے میرا دل کیسا سخت ہے میری آرزو کتنی لمبی ہے میری مدت عمر کتنی کم ہے پیدا کرنے والے
عِصْیانِ مَنْ خَلَقَنِی رَبِّ وَما أَحْسَنَ بَلائَکَ عِنْدِی
مجھے گناہوں پر کتنادلیر بنا دیا ہے۔ پروردگار میری طرف تیری آزمائش کیسی اچھی ہے مجھ پر تیری
وَأَظْهَرَ نَعْمائَکَ عَلَیَّ کَثُرَتْ عَلَیَّ مِنْکَ النِّعَمُ فَمَا
نعمتیں کس قدر نمایا ں ہیں مجھ پر تیریاتنی زیادہ نعمتیں ہیں کہ میں انہیں شمار نہیںکر سکتا اور ان پر میرا
أُحْصِیها، وَقَلَّ مِنِّیِ الشُّکْرُ فِیما أَوْلَیْتَنِیهِ فَبَطِرْتُ بِالنِّعَمِ وَتَعَرَّضْتُ
شکر کتنا کم ہے اس لئے میں نعمتوں پر مغرور ہو گیا ہوں عذاب کے سامنے آکھڑا ہوں میں تیری
لِلنِّقَمِ وَسَهَوْتُ عَنِ الذِّکْرِ وَرَکِبْتُ الْجَهْلَ بَعْدَ الْعِلْمِ، وَجُزْتُ
یاد چھوڑ بیٹھا ہوں میں علم رکھتے ہوئے نادانی کی سواری پر سوار ہوگیا ہوں میں عدل سے منہ موڑ
مِنَ الْعَدْلِ إلَی الظُّلْمِ وَجاوَزْتُ الْبِرَّ إلَی الْاِثْمِ، وَصِرْتُ إلَی اللَّهْوِ مِنَ الْخَوْفِ
کر ظلم کی طرف چل نکلاہوں نیکی سے گزر کر گناہوں تک پہنچ گیاہوں اور خوف اور اندیشہ چھوڑ کر خوش وقتی میں لگ گیا
وَالْحُزْنِ فَما أَصْغَرَ حَسَناتِی وَأَقَلَّها أَعْظَمَها عَلَی قَدْرِ
گیا ہوں پس کتنی چھوٹی اور کمترہیں میری نیکیاں جب کہ میرے گناہ بہت زیادہ ہیں کتنے بڑے ہیں میرے گناہ جب کہ
صِغَرِ خَلْقِی، وَضَعْفِ رُکْنِی رَبِّ وَما أَطْوَلَ أَمَلِی فِی قِصَرِ
میری عمر کم ہے اور اعضائ بدن کمزور ہیں پروردگار میری مدت عمرکتنی کم ہے اور میری
أَجَلِی وَأَقْصَرَ أَجَلِی فِی بُعْدِ أَمَلِی وَما أَقْبَحَ سَرِیرَتِی فِی
آرزو کتنی لمبی ہے میری عمر کی کوتا ہی میں بھی آرزو کتنی لمبی ہے۔ میرے ظاہر کے مقابل میرا باطن کس قدر آلودہ
عَلانِیَتِی رَبِّ لاَ حُجَّةَ لِی إنِ احْتَجَجْتُ وَلاَ عُذْرَ لِی إنِ
ہے پروردگار اگر میں اس پر دلیل لاوںتو میرے پاس کوئی دلیل نہیں اور اگر عذر کرنے لگوں تو میرے پاس
اعْتَذَرْتُ وَلاَ شُکْرَ عِنْدِی إنِ ابْتَلَیْتُ وَأُوْلِیتُ إنْ لَمْ تُعِنِّی
کوئی عذر نہیں اگر سختی میں پڑوں تو میں اس پر شکر نہیں کرتا اور اگر تو مجھے شکر کرنے کی تو فیق نہ دے تو
عَلَی شُکْرِ مَا أَوْلَیْتَ رَبِّی مَا أَخَفَّ مِیزانِی غَداً إنْ لَمْ تُرَجِّحْهُ
میں تیرا شکر ادا نہیں کر پاتا ۔میرے پروردگار کل قیامت میں میرامیزان عمل کتنا ہلکا ہوگا اور اگر تو اسے
وَأَزَلَّ لِسانِی إنْ لَمْ تُثَبِّتْهُ وَأَسْوَدَ وَجْهِی إنْ لَمْ تُبَیِّضْهُ رَبِّ
بھاری نہ بنائے میری زبان تتلائے گی اگر تو اسے ثابت نہ رک ہے اور کتنا سیاہ ہو گا میراچہرہ اگر تو اسے
کَیْفَ لِی بِذُنُوبِیَ الَّتِی سَلَفَتْ مِنِّی؟ قَدْ هُدَّتْ لَها أَرْکانِی
روشن نہ کرے پالنے والے میرے ان گناہوں کا کیا بنے گا جو میں کر چکا ہوں جن کے بوجھ سے
رَبِّ کَیْفَ أَطْلُبُ شَهَوَاتِ الدُّنْیا وَأَبْکِی عَلَی خَیْبَتِی فِیها
میرے اعضائ ٹوٹ گئے ہیں پالنے والے میں دنیاوی خواہشوں کے پیچھے کیونکر جاتا ہوں جب کہ ان
وَلاَ أَبْکِی وَتَشْتَدُّ حَسَراتِی عَلَی عِصْیانِی وَتَفْرِیطِی
میں ناکامی پر رو رہا ہوں مگر میں اپنےگناہوں اورنافرمانیوں کی حسرت رکھتا ہوں اور ان پر گریہ و زاری
رَبِّ دَعَتْنِی دَواعِی الدُّنْیا فَأَجَبْتُها سَرِیعاً وَرَکَنْتُ
نہیں کرتا پالنے والے دنیاکی خواہشوں نے پکارا تو میں ان کی طرف لپک کر چلا گیا ان کا کہنا مانا
إلَیْها طائِعاً وَدَعَتْنِی دَواعِی الْاَخِرَةِ فَتَثَبَّطْتُ عَنْها وَأَبْطَأْتُ فِی
اور ان کی طرف جھک پڑا اور آخرت کی حاجات نے آواز دی تو میں ڈھیلا ہوگیا اور انہیں قبول
الْاِجابَةِ وَالْمُسارَعَةِ إلَیْها کَما سارَعْتُ إلی دَواعِی الدُّنْیا
کرنے میں سستی سے کاملیا جب کہ دنیا کی پکار پر اس طرف جانے میں جلدی کی تھی۔ میں دنیا
وَحُطامِهَا الْهامِدِ وَهَشِیمِهَا الْبَائِدِ وَسَرابِهَا الذَّاهِبِ
کی رنگینیوں اور ناپائیدار سامان ٹوٹی ہوئی بے کار شاخ اور جھوٹے سراب پر ریجھ گیا
رَبِّ خَوَّفْتَنِی وَشَوَّقْتَنِی وَاحْتَجَجْتَ عَلَیَّ بِرِقِّی وَتَکَفَّلْتَ لِی
اے پروردگار تونے مجھے ڈرایا اورشوق بھی دلایا تو نے میرے بندے ہونے پر دلیل ٹھہرائی میری
بِرِزْقِی فَأَمِنْتُ خَوْفَکَ وَتَثَبَّطْتُ عَنْ تَشْوِیقِکَ وَلَمْ أَتَّکِلْ عَلَی ضَمانِکَ
روزی کا ذمہ داربنا لیکن میں نے تیرا خوف بھلا دیا تیرے شوق کی طرف سے منہ موڑ لیا تیری ذمہ
وَتَهاوَنْتُ بِاحْتِجاجِکَ اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ أَمْنِی مِنْکَ فِی هذِهِ الدُّنْیا
داری پر بھروسہ نہ کیا تیری قائم کی ہوئی دلیل کو کم جانا پس اے معبوداس دنیا میں جو میں تیری طرف سے
خَوْفاً وَحَوِّلْ تَثَبُّطِی شَوْقاً وَتَهاوُنِی بِحُجَّتِکَ فَرَقاً
مطمئن ہوں تو اسے خوف میں بدل دے میری سستی کو شوق میں بدل دے میں نے تیری دلیل کو کمتر جانا
مِنْکَ ثُمَّ رَضِّنِی بِما قَسَمْتَ لِی مِنْ رِزْقِکَ یَا کَرِیمُ
تو اسے لحاظ میں بدل دے پھر مجھے رزق کی تقسیم پرراضی فرما جو تو نے کی ہے۔ اے سخی میں تیرے
أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الْعَظِیمِ رِضاکَ عِنْدَ السُّخْطَةِ وَالْفُرْجَةَ عِنْدَ الْکُرْبَةِ، وَالنُورَ
باعظمت نام پر تیری خوشنودی مانگتا ہوں تیری ناراضگی کے وقت اورکشائش چاہتا ہوں سختی میں سوال ہے تاریکی
عِنْدَ الظُّلْمَةِ وَالْبَصِیرَةَ عِنْدَ تَشَبُّهِ الْفِتْنَةِ رَبِّ اجْعَلْ جُنَّتِی مِنْ خَطَایَایَ حَصِینَةً
کے وقت نور کا اور شبہ کے فتنے میں سمجھ داری کا پروردگار میری خطائوں کے لئے محکم ڈھال بنا دے
وَدَرَجاتِی فِی الْجِنانِ رَفِیعَةً وَأَعْمالِی کُلَّها مُتَقَبَّلَةً وَحَسَناتِی
جنت میں میرے درجات بلند کر دے میرے تمام اعمال قبول فرما اور میری نیکیوں کو دگنا اور
مُضٰاعَفَةً زَاکِیَةً أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ کُلِّها مَا ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ
خالص بنا دے میں تیری پناہ لیتا ہوں تمام فتنوں میں جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پنہاں ہیں
وَمِنْ رَفِیعِ الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ وَمِنْ شَرِّ مَا أَعْلَمُ وَمِنْ شَرِّ مَا لاَ أَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِکَ
حد سے بڑھ کر کھانے پینے سے ہر اس چیز کے شر سے جسے جانتا ہوں اور جسے نہیں جانتاتیری پناہ لیتا ہوں اس
مِنْ أَنْ أَشْتَرِیَ الْجَهْلَ بِالْعِلْمِ وَالْجَفائَ بِالْحِلْمِ وَالْجَوْرَ بِالْعَدْلِ
سے کہ علم کے بدلے جہالت حاصل کروں برد باری کے بدلے سختی عدل کے بدلے ظلم خوش
وَالْقَطِیعَةَ بِالْبِرِّ وَالْجَزَعَ بِالصَّبْرِ وَالْهُدَیٰ بِالضَّلالَةِ وَالْکُفْرَ بِالْاِیمانِ
کرداری کے بدلے بد سلوکی صبر کے بدلے بے تابی یا ہدایت کے بدلے گمراہی یا ایمان کے بدلے کفر خرید کروں ۔
مؤلف کہتے ہیں یہ دعا بہت ہی قیمتی مضامین پر مشتمل ہے عبد الرحمن بن سیابہ وہی شخص ہیں جن کو امام جعفر صادق - نے ایک مفید نصیحت فرمائی تھی بہتر ہو گا کہ یہاں بھی اس نصیحت کا ذکر کر دیا جائے اور وہ نصیحت یوں ہے کہ عبد الرحمن کا بیان ہے میرے والد جناب سیابہ فوت ہوگئے تو ان کے دوستوں میں سے ایک میرے پاس آیا اس نے دروازے پر دستک دی تو میں باہر نکلا اس شخص نے میرے والد کی وفات پر تعزیت کی اور پھر پوچھا آیا تمہارے والد نے تمہارے لئے کوئی مال چھوڑا ہے میں نے کہا نہیں تب اس نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں ایک ہزار درہم تھے اس کے ساتھ ہی وہ مجھ سے کہنے لگا کہ اس کا خاص خیال رکھنا اور اس سے اپنا کوئی کاروبار شروع کر لو میں خوش ہو کر اپنی والدہ کے پاس آیا اور یہ سارا ماجرا کہہ سنایا ۔اسی روز شام کے وقت میں اپنے والد کے ایک اور دوست کے ہاں گیا اور ان سے کہا کہ میرے لئے کسی کاروبار کا بندو بست کریں چنانچہ انہوں نے میرے لئے ’’سابری کپڑے‘‘خرید کیے اور میں ان کپڑوں کو دکان میں رکھ کر کاروبار کرنے لگا جس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت منافع عطا کیا اسی دوران موسم حج آگیا میرے دل نے کہا کہ میں حج کو جائوں میں اپنی والدہ کے پاس آیا اور انہیں اپنے اس ارادے سے مطلع کیا تو میری والدہ نے ہدایت کی کہ میں مذکورہ شخص کے ایک ہزار درہم اسے ادا کروں میں ایک ہزار درہم لے کر اس شخص کے پاس گیا تو وہ بہت خوش ہوا گویا کہ میں نے اسے یہ رقم بخشی ہو اس نے کہا ہو سکتا ہے کہ یہ رقم تمہارے لئے کم ہو پس اگر تم کہو تو تمہیں اور رقم دے دوں میں نے کہا ایسی بات نہیں بلکہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ حج کو جائوں۔ لہذا میں آپ کی رقم واپس کرنے آیا ہوں چنانچہ میں مکہ چلا گیا اور اعمال حج بجالانے کے بعد مدینہ منورہ پہنچا اور چند افراد کی ہمراہی میں امام جعفر صادق - کی خدمت میں حاضر ہوا کہ اس زمانے میں حضرت سے ملاقات کی عام اجازت تھی پس میں لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا اور میں ان دنوں نوجوان تھا حاضرین نے حضرتعليهالسلام سے سوالات پوچھنا شروع کر دئیے اور سرکار ہر ایک کے سوال کا جواب دیتے رہے جب لوگوں کی تعداد کم ہوگئی تو حضرتعليهالسلام نے مجھے اشارے سے بلا یا اور میں آپعليهالسلام کے نزدیک جا بیٹھا آپ نے فرمایا تمہاری کوئی حاجت ہے میں نے عرض کیا قربان جائوں۔ میں عبد الرحمن بن سیابہ ہوں امامعليهالسلام نے میرے والد کا حال دریافت کیا تو میں نے عرض کیا کہ حضور وہ تو وفات پا چکے ہیں اس سے حضرت اتنے غم زدہ ہوئے کہ جیسے آپعليهالسلام کو کوئی درد عارض ہوگیا ہو پھر فرمایا خد ا اس پر رحم کرے اس کے ساتھ ہی آپعليهالسلام نے پوچھا کیا اس نے تمہارے لئے کوئی مال و ترکہ چھوڑا ہے۔ میں نے عرض کیا نہیں آپعليهالسلام نے فرمایا پھر حج پر کیسے آئے ہو اس پر میں نے ایک ہزار درہم دینے والے شخص کا ماجرا بیان کرنا شروع کیا حضرتعليهالسلام نے پوچھا تم حج پر تو آگئے لیکن اس کے ایک ہزار درہم کا کیا کیا؟میں نے عرض کیا میں اسے وہ واپس کر کے یہاں آیاہوں۔ تب امامعليهالسلام نے بہت اچھا کہہ کر مجھے شاباش دی پھر فرمایا کیا میں تمہیں ایک نصیحت نہ کرو ںمیں نے عرض کیا ضرور ارشاد فرمایے پس آپعليهالسلام نے فرمایا ؛یاد رکھو کہ ہمیشہ سچی بات کہو اور امانت ادا کیا کرو ایسا کرنے سے تم لوگوں کے اموال میں اس طرح شریک رہو گے اس وقت آپ نے اپنی دو انگلیاں ملا کر دکھائیں وہ یوں کہ اگر تم سچ کہو گے اور جھوٹ نہیں بولو گے وعدہ خلافی نہیں کرو گے اور اپنے قرض خواہ کے ساتھ ادائیگی کی جو تاریخ مقرر کرو گے اسے اس پر قرض واپس کرو گے اور لوگوں کا مال نہیں کھاجائو گے تو پھر تم ان سے جو کچھ بھی مانگو گے وہ تمہیں دے دیا کریں گے اس طرح تم ان کے اموال میں شریک ہوجائوگے اور یہ تمہاری اس دیانت داری اور صداقت کا نتیجہ ہو گا ۔ عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے امامعليهالسلام کی اس نصیحت کو پلے باندھ لیا یعنی جیسے انہوں نے ارشاد فرمایا تھا میں نے اس پر پوری طرح عمل کیا اس کے نتیجے میں مجھے اتنا مال حاصل ہوا کہ میں نے اس میں سے تین لاکھ درہم زکواۃ میں دے دیے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ امام سجاد- کی دعا ہے اور اس کے آخر میں
آمین یا رب العالمین
ایسا ہی ہو اے جہانوں کے پروردگار
کا اضافہ ہے ۔
(اٹھا ئیسویں دعا )
ابن محبوب سے روایت ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے ایک شخص کو یہ دعا تعلیم فرمائی:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِی لاَ تُنالُ مِنْکَ إلاَّ بِرِضاکَ وَالْخُرُوجَ من جمیع
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتاہوں تیری رحمت کا جس تک سواے تیری رضاکےپہنچ نہیں سکتا تیری ہر طرح کی
مَعاصِیکَ وَالدُّخُولَ فِی کُلِّ مَا یُرْضِیکَ وَالنَّجاةَ مِنْ کُلِّ وَرْطَةٍ وَالْمَخْرَجَ مِنْ کُلِّ
نافرمانی سے باہر نکلنے کا سوال ہر اس کام میں داخل ہونے کا جس میں تیری رضا ہے ہر گردش سے چھٹکارے کا ہر
کَبِیرَةٍ أَتَیٰ بِها مِنِّی عَمْدٌ، أَوْ زَلَّ بِها مِنِّی خَطَأٌ، أَوْ خَطَرَ
کبیرہ گناہ سے بچاؤ کے راستے کا جو میں نے دانستہ کیا اور جو میری بھول چوک سے ہوا
بِها عَلَیَّ خَطَراتُ الشَّیْطانِ أَسْأَلُکَ خَوْفاً تُوقِفُنِی بِهِ عَلَی
شیطانی خیالوں نے مجھے اس کے کرنے پر آمادہ کیا تجھ سے سوال کرتا ہوں ایسے خوف کا جس کے
حُدُودِ رِضاکَ وَتَشَعَّبَ بِهِ عَنِّی کُلُّ شَهْوَةٍ خَطَرَ بِها هَوایَ
ذریعے میں رضائوں تک پہنچ پائوں ہر اس نفسانی خواہش کے دور کرنے کاجس کی ہوس میرے دل میں آئے
وَاسْتُزِلَّ بِها رَأْیِیِ یُجاوِزَ حَدَّ حَلالِکَ أَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ الْاََخْذَ
جس سے میری عقل ہل جائے اور اور تیرے حلال کی حد سے با ہر نکل پڑوں سوال کرتا ہوں اے معبود وہ
بِأَحْسَنِ مَا تَعْلَمُ وَتَرْکَ سَیِّئِ کُلِّ مَا تَعْلَمُ أَوْ أُخْطِیَ مِنْ حَیْثُ لاَ أَعْلَمُ
اچھائی اختیار کرنے کا اور اس برائی کو چھوڑنے کا جن کو تو جانتا ہے یا ایسی خطا جو انجانے میں کروں یاجانتے
أَوْ مِنْ حَیْثُ أَعْلَمُ أَسْأَلُکَ السَّعَةَ فِی الرِّزْقِ، وَالزُّهْدَ فِی الْکَفافِ،وَالْمَخْرَجَ
بوجھتے ہوئے کروں سوال کرتا ہوں رزق میں کشادگی کا کافی و وافی معاش میں قناعت کا ہر شبھے سے واضح
بِالْبَیانِ مِنْ کُلِّ شُبْهَةٍ وَالصَّوَابَ فِی کُلِّ حُجَّةٍ وَالصِّدْقَ فِی جَمِیعِ الْمَواطِنِ
طور پر نکلنے کا ہر دلیل میں درستی کا لحاظ رکھنے کا ہرموقع و محل میں سچی بات کہنے کا لوگوں کے ساتھ
وَ إنْصافَ النَّاسِ مِنْ نَفْسِی فِیما عَلَیَّ وَلِی والتَّذَلُّلَ فِی إعْطائِ النَّصَفِمِنْ جَمِیعِ
انصاف کا خواہ وہ میرے خلاف اور میرے حق میں ہو انصاف بہم پہچانے میںا نکساری کا خواہ وہ غصے کا عالم ہو
مَواطِنِ السَّخَطِ وَالرِّضا وَتَرْکَ قَلِیلِ الْبَغْیِ وَکَثِیرِهِ، فِی الْقَوْلِ مِنِّی وَالْفِعْلِ
یا خوشی کی کیفیت ہو اور سر کشی کو ترک کرنے کا وہ کم ہو یا زیادہ اورمیرے قول میں ہو یا فعل میں سب
وَتَمامَ نِعَمِکَ فِی جَمِیعِ الْاََشْیائِ وَالشُّکْرَ لَکَ عَلَیْها، لِکَیْ تَرْضَیٰ وَبَعْدَ الرِّضا
چیزوں میں تیری نعمتوں کے تمام ہونے کا ان پر تیرا شکرکرنے کا تجھے راضی کرنے اور تیرے راضی ہونے کے بعد بھی
وأَسْأَلُکَ الْخِیرَةَ فِی کُلِّ مَا یَکُونُ فِیهِ الْخِیرَةُ بِمَیْسُورِ الْاَُمُورِ کُلِّها
تجھ سے سوال کرتا ہوں بھلائی کا ہر چیز میں کہ جس میں بھلائی ہوتی ہے۔ سب امور میں آسانی
لاَبِمَعْسُورِها یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ یَا کَرِیمُ وَافْتَحْ لِی بابَ الْاََمْرِ الَّذِی فِیهِ الْعافِیَة
کے ساتھ نہ مشکل کے ساتھ اے سخی اے سخی اے سخی میرے لئے ہر اس امر کا دروازہ کھول دے جس میں سلامتی
وَالْفَرَجُ، وَافْتَحْ لِی بابَهُ، وَیَسِّرْ لِی مَخْرَجَهُ وَمَنْ قَدَّرْتَ
اور کشائش ہوتی ہے میرے لئے اس کا دروازہ کھول اور گزرنا سہل بنا دے تو نے اپنی مخلوق میں سے جس
لَهُ عَلَیَّ مَقْدِرَةً مِن ْخَلْقِکَ، فَخُذْ عَنِّی بِسَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَلِسانِهِ وَیَدِهِ وَخُذْهُ عَنْ یَمِینِهِ
کے لئے مجھ پر غلبہ مقرر کر رکھا ہے۔ پس میری طرف سے تو اس کے کان آنکھ زبان اور ہاتھ پکڑلے اور اسے پکڑ لے اس
وَعَنْ یَسارِهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ وَمِنْ قُدَّامِهِ وَامْنَعْهُ أَنْ یَصِلَ إلَیَّ
کے دائیں سے بائیں سے اس کے پیچھے سے اور اس کے آگے سے اسے روک دے کہ مجھے کوئی دکھ نہ
بِسُوئٍ عَزَّ جارُکَ وَجَلَّ ثَنائُ وَجْهِکَ وَلاَ إلهَ غَیْرُکَ أَنْتَ
دینے پائے تیری پناہ والا بلند ہے اور تیری ذات کی تعریف ظاہر ہے نہیں کوئی معبود سوائے تیرے تو
رَبِّی وَأَنَا عَبْدُکَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَجَائِی فِی کُلِّ کُرْبَةٍ وَأَنْتَ ثِقَتِی
میرا رب اور میں تیرا بندہ ہوں اے معبود توہی میری امید گاہ ہے ہر سختی و مشکل میں تو ہی ہر کڑے
فِی کُلِّ شِدَّةٍ وَأَنْتَ لِی فِی کُلِّ أَمْرٍ نَزَلَ بِی ثِقَةٌ وَعُدَّةٌ، فَکَمْ مِنْ کَرْبٍ یَضْعُفُ
وقت میں میرا سہارا ہے جو بھی معاملہ مجھے پیش آئے تو اس میں میرا آسرا اور پونجی ہے پس کتنے ہی دکھ ہیں جن میں دل
عَنْهُ الْفُؤادُ وَتَقِلُّ فِیهِ الْحِیلَةُ وَیَشْمَتُ بِهِ الْعَدُوُّ وَتَعْیی فِیهِ الْاَُمُورُ أَنْزَلْتُهُ بِکَ
کمزور پڑ جاتا ہے تدبیریں ناکام ہوجاتی ہیں دشمن اس پر خوش ہوتے ہیں وسائل کچھ کام نہیں دیتے میں تیرے
وَشَکَوْتُهُ إلَیْکَ راغِباً إلَیْکَ فِیهِ عَمَّنْ سِوَاکَ قَدْ فَرَّجْتَهُ
پاس آتا اورتجھ سے شکایت کرتا ہوں ان تکلیفوں میں تیرے سوا کسی سے فریا د نہیں کرتا تو تکلیفیں
وَکَفَیْتَهُ، فَأَنْتَ وَلِیُّ کُلِّ نِعْمَةٍ وَصاحِبُ کُلِّ حاجَةٍ، وَمُنْتَهَیٰ
دور کرتا اورانکی جزا دیتا ہے پس تو ہی ہر نعمت دیتا ہے تو ہی ہر حاجت بر لاتا ہے اور ہر شوق کا آخری مقام
کُلِّ رَغْبَةٍ فَلَکَ الْحَمْدُ کَثِیراً، وَلَکَ الْمَنُّ فاضِلاً
ہے ہاں حمد ہے تیرے لئے بہت زیادہ اور تیرا ہی احسان بیشتر ہے ۔
(انتیسویں دعا )
معتبر سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے یہ دعا ابو بصیر کو تعلیم فرمائی اور انہیں ہدایت کی کہ اسے پڑھا کریں ۔
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ قَوْلَ التَّوَّابِینَ وَعَمَلَهُمْ وَنُورَ الْاََنْبِیائِ وَصِدْقَهُمْ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں توبہ کرنے والے کے قول و عمل کا نبیوں کی ہدایت اور ان کی سچائی کا
وَنَجاةَ الْمُجاهِدِینَ وَثَوابَهُمْ وَشُکْرَ الْمُصْطَفَیْنَ وَنَصِیحَتَهُمْ وَعَمَلَ الذَّاکِرِینَ
مجاہدین جیسی نجات اور اجر و ثواب کا برگزیدوں جیسے شکر اور خیر خواہی کا تیرا ذکر کرنے والوں جیسے عمل
وَیَقِینَهُمْ وَ إیمانَ الْعُلَمائِ وَفِقْهَهُمْ وَتَعَبُّدَ الْخاشِعِینَ وَتَواضُعَهُمْ،وَحُکْمَ الْفُقَهائِ وَسِیرَتَهُمْ
اور یقین کا علما جیسے ایمان اور ان جیسی سمجھ کا تجھ سے ڈرنے والوں جیسی عبادت اور فروتنی کافقیہوں جیسا حکم لگانے اور ان کی
وَخَشْیَةَ الْمُتَّقِینَ وَرَغْبَتَهُمْ،وَتَصْدِیقَ الْمُؤْمِنِینَ وَتَوَکُّلَهُمْ وَرَجائَ الْمُحْسِنِینَ
سیرت اپنانے کا پر ہیز گاروں جیسے خوف اور ان جیسے شوق کا مومنوں جیسی تصدیق اور ان جیسے توکل کا نیکو کاروں جیسی امید اور ان جیسی
وَبِرَّهُمْ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ ثَوابَ الشَّاکِرِینَ، وَمَنْزِلَةَ الْمُقَرَّبِینَ، وَمُرافَقَةَ
نیکیوں کا اے معبود میں سوال کرتا ہوں شکر کرنے والوں جیسے ثواب کا مقربوں جیسی عز ت کا اور نبیوں کی ہمسائیگی اور
النَّبِیِّینَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ خَوْفَ الْعامِلِینَ لَکَ وَعَملَ الْخائِفِینَ
رفاقت کا۔ اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تجھ سے ڈرنے والوں جیسے خوف کا تجھ سے خوف رکھنے والوں
مِنْکَ وَخُشُوعَ الْعابِدِینَ لَکَ وَیَقِینَ الْمُتَوَکِّلِینَ عَلَیْکَ، وَتَوَکُّلَ
جیسے عمل کا تیری عبادت کرنے والوں جیسیدھڑکے کا تجھ پر بھروسا کرنے والوں جیسے یقین کا اور تجھ پر ایمان رکھنے والوں
الْمُؤْمِنِینَ بِکَ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ بِحاجَتِی عالِمٌ غَیْرُ مُعَلَّمٍ وَأَنْتَ لَها واسِعٌ غَیْرُ مُتَکَلِّفٍ
جیسے بھروسے کا اے معبودتو میری حاجتوں کو جانتا ہے کہ بتانے کی ضرورت نہیں تو انہیں بر لانے کا اہل ہے بغیر دشواری کے
وَأَنْتَ الَّذِی لاَ یُحْفِیکَ سائِلٌ وَلاَ یَنْقُصُکَ نائِلٌ وَلاَ یَبْلُغُ مِدْحَتَکَ
تو وہی ہے جسے کوئی سائل تھکا نہیں سکتا کوئی لینے والا کمی پیدا نہیں کر سکتاتعریف کرنے والوں کی زبانیں تیری
قَوْلُ قائِلٍ أَنْتَ کَما تَقُولُ وَفَوْقَ مَا نَقُولُ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی فَرَجَاً
تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتیں تو ویسا ہےجو تو نے کہا اور اس سے بلند ہے جو ہم کہتے ہیں اے معبود میرے لئے قرار دے
قَرِیباً وَأَجْراً عَظِیماً وَسَتْراً جَمِیلاً اَللّٰهُمَّ إنَّکَ تَعْلَمُ أَنِّی عَلَی ظُلْمِی
جلد تر کشائش بہت بڑا اجر و ثواب اور میری بہتر پردہ پوشی فرما اے معبود یقینا تو جانتا ہے کہ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا
لِنَفْسِی وَ إسْرافِی عَلَیْها لَمْ أَتَّخِذْ لَکَ ضِدّاً وَلاَ نِدّاً وَلاَ
اور اس میں حد سے بڑھ گیا توبھی نہ میں نے کسی کو تیرا مقابل بنایا نہ شریک ٹھہرایا نہ تیرے لئے بیوی
صاحِبَةً وَلاَ وَلَداً، یَا مَنْ لاَ تُغَلِّطُهُ الْمَسائِلُ وَیَا مَنْ لاَ یَشْغَلُهُ
قرار دی نہ اولاد اے وہ جسے سوالات مغالطے میں نہیں ڈالتے اے وہ جسے ایک چیز دوسری چیز
شَیْئٌ عَنْ شَیْئٍ وَلاَ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ وَلاَ بَصَرٌ عَنْ بَصَرٍ وَلاَ یُبْرِمُهُ إلْحاحُ
سے غافل نہیں کرتی ایک آوازدوسری آواز میں رکاوٹ نہیں بنتی ایک کو دیکھنا دوسرے سے با ز نہیں کرتا اور فریادیوں کی فریادیں پریشان
الْمُلِحِّینَ، أَسْأَلُک أَنْ تُفَرِّجَ عَنِّی فِی ساعَتِی هذِهِ مِنْ حَیْثُ
نہیں کرتیں۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اسی ساعت میں مجھے کشائش عطا فرما جہاں سے توقع
أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَیْثُ لاَ أَحْتَسِبُ، إنَّکَ تُحْیِی الْعِظامَ وَهِیَ رَمِیمٌ إنَّکَ عَلَیٰ
رکھتا ہوں اور جہاں سے توقع نہیں رکھتا ہوں بے شک تو ہی ہڈیوں کو زندہ کرتا ہے جو بوسیدہ ہوں کیونکہ تو ہر
کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ یَا مَنْ قَلَّ شُکْرِی لَهُ فَلَمْ یَحْرِمْنِی وَعَظُمَتْ خَطِیئَتِی فَلَمْ یَفْضَحْنِی
چیز پر قدرت رکھتا ہے اے وہ جس کے لئے میرا شکر کم ہے تو بھی مجھے محروم نہیں کرتا میں بڑے بڑے گناہ کرتا
وَرَآنِی عَلَی الْمَعاصِی فَلَمْ یَجْبَهْنِی وَخَلَقَنِی لِلَّذِی خَلَقَنِی لَه
ہوں تو بھی مجھے رسوا نہیں کرتا مجھے حالت گناہ میں دیکھتا ہے تو بھی منہ پرنہیں مارتا اس نے مجھے پیدا کیا تو
فَصَنَعْتُ غَیْرَ الَّذِی خَلَقَنِی لَهُ، فَنِعْمَ الْمَوْلَی أَنْتَ یَا
اپنے لئے پیدا کیا لیکن میں نے وہ کام کیا جس کیلئے اس نے مجھے پیدا نہیں کیا پس تو کتنا اچھا مالک ہے اے
سَیِّدِی وَبِئْسَ الْعَبْدُ أَنَا وَجَدْتَنِی وَنِعْمَ الطَّالِبُ أَنْتَ رَبِّی
میرے آقا اور میں کیسا برا بندہ ہوں جیسا کہ تو مجھے پاتا ہے تو کیا ہی اچھا طلب کرنے والا ہے۔ میرے رب اور
وَبِئْسَ الْمَطْلُوبُ أَلْفَیْتَنِی عَبْدُکَ ابْنُ عَبْدِکَ، ابْنُ أَمَتِکَ بَیْنَ یَدَیْکَ
میں کیسا برا مطلوب ہوں تو نے مجھے دیکھا پس میں تیرا بندہ تیرے بندے کا بیٹا اور تیری باندی کا بیٹا تیرے سامنے حاضر
مَا شِئْتَ صَنَعْتَ بِی اَللّٰهُمَّ هَدَأَتِ الْاََصْواتُ وَسَکَنَتِ الْحَرَکاتُ، وَخَلا
ہوں تو میرے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہے اے معبود آوازیں خاموش ہو چکی ہیں حرکتیں رک گئیں ہیں ہر دوست
کُلُّ حَبِیبٍ بِحَبِیبِهِ وَخَلَوْتُ بِکَ أَنْتَ الْمَحْبُوبُ إلَیَّ
اپنے دوست سے خلوت کررہا ہے اور میں تیرے ساتھ خلوت میں ہوں کہ تو ہی میرا محبوب ہے
فَاجْعَلْ خَلْوَتِی مِنْکَ اللَّیْلَةَ الْعِتْقَ مِنَ النَّارِ یَا مَنْ لَیْسَتْ لِعالِمٍ
پس آج رات کی خلوت میں میری گردن آتش جہنم سے آزاد کر دے اے وہ کہ کوئی عالم جس کی صفت
فَوْقَهُ صِفَةٌ یَا مَنْ لَیْسَ لَِمخْلُوقٍ دُونَهُ مَنْعَةٌ یَا أَوَّلَ اَقَبْلَ
بیان نہیں کر سکتا اے وہ جس کے سوا مخلوق کو روکنے والا کوئی نہیں اے اول جو ہر چیز سے
کُلِّ شَیْئٍ وَیَا آخِراً بَعْدَ کُلِّ شَیْئٍ یَا مَنْ لَیْسَ لَهُ عُنْصُرٌ وَیَا مَنْ لَیْسَ لِاَخِرِهِ
پہلے موجود تھا اورآخر جو ہر چیز کے بعد رہے گا۔ اےوہ جس کیلئے کوئی مادہ موجود نہ تھااے وہ جس کے لئے آخر میں کوئی
فَنائٌ وَیَا أَکْمَلَ مَنْعُوتٍ وَیَا أَسْمَحَ الْمُعْطِینَ وَیَا مَنْ یَفْقَهُ بِکُلِّ
فنا نہیں اے کامل ترین صفت شدہ اور اے عطا کرنے والوں میں زیادہ سخی اے وہ جو ہر زبان کو سمجھتا ہے جس
لُغَةٍ یُدْعَیٰ بِها، وَیَا مَنْ عَفْوُهُ قَدِیمٌ وَبَطْشُهُ شَدِیدٌ وَمُلْکُهُ مُسْتَقِیمٌ
کے ذریعے بھی پکارا جائے اے وہ جسکی بخشش قدیم ہے گرفت بڑی سخت ہے اور حکومت محکم و پایدار ہے
أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الَّذِی شافَهْتَ بِهِ مُوسَی یَا اللّٰهُ یَا رَحْمنُ
تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے اس نام پر جس کے ذریعے موسیٰ نے تجھ سے کلام کیا یا اللہ یا رحمن
یَا رَحِیمُ، یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّمَدُ، أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ
یا رحیم اے وہ کہ نہیں کوئی معبود سواے تیرے اے معبود تو بے نیاز ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ درود بھیج محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم
وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تُدْخِلَنِی الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِکَ
آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور اپنی رحمت سے مجھے جنت میں داخل فرما ۔
(تیسویں دعا )
یونس سے روایت ہے کہ حضرت امام علی رضا- کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے کوئی مختصر سی دعا تعلیم فرمایں تو آپعليهالسلام نے فرمایا کہ یو ں کہا کرو ؛
یَا مَنْ دَلَّنِی عَلَی نَفْسِہِ وَذَلَّلَ قَلْبِی بِتَصْدِیقِہِ ٲَسْٲَلُکَ الْاََمْنَ وَالْاِیمانَ۔
اے وہ جس نے اپنی طرف میری رہنمائی فرمائی جسکی تصدیق سے میرا دل رام ہوا تجھ سے سوال کرتا ہوں امن و ایمان کا۔
(پانچواں باب )
بعض حرز اور مختصر دعائیں ۔
دعاء حل مشکلات
یہ حرز اور دعائیں رضی الدین سید ابن طاؤس قدس سرہ کی کتابوں مہج الدعوات اور مجتبیٰ سے منتخب کی گئی ہیں اور وہ چند ایک ہیں۔
( ۱ )امام موسیٰ کاظم - سے مروی ہے کہ حضرت رسول خدا نے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب + سے فرمایا کہ جب تمہیں کوئی مشکل معاملہ پیش آئے تو یہ پڑھا کرو:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں محمد وآلعليهالسلام محمد کے حق کے ساتھ کہ تو رحمتنازل فرما
مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَن تُنْجِیَنِی مِنْ هذَا الْغَمِّ
محمد و آلعليهالسلام محمد پر اور یہ کہ مجھے اس غم و اندوہ سے نجات عطا فرما ۔
(( ۲ )حرز حضرت فاطمۃ الزہرا =)
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیثُ فَأَغِثْنِی
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے اے زندہ اے پائندہ تیری رحمت کے ذریعے فریاد کر رہا ہوں پس میری فریاد سن
وَلاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً، وَأَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّهُ
اور مجھے پلک جھپکنے کے لئے بھی کبھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا اور تمام حالات میں بہتری پیدا کر دے ۔
(( ۳ )حرز امام سجاد -
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم بِسْمِ ﷲ وَبِالله سَدَدْتُ أَفْواهَ الْجِنِّ َ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے خدا کے نام سے خدا کی ذات سے میں نے منہ بند کر
الْاِنْسِ وَالشَّیاطِینِ وَالسَّحَرَةِ وَالْاََبالِسَةِ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالسَّلاطِینِ وَمَنْ
دیاہے جنوں انسانوں شیطانوں اور جادو گروں کااور ابلیسوں کا جو جنوں انسانوں اور حاکموں میں سے ہیں اور جو
یَلُوذُ بِهِمْ، بِالله الْعَزِیزِ الْاََعَزِّ وَبِالله الْکَبِیرِ الْاََکْبَرِ بِسْمِ
ان کی پناہ میں ہیں ﷲ کے ساتھ جو غالب اور غالب تر ہے اور ﷲ کیساتھ جو بزرگ اور بزرگ تر ہے
ﷲ الظَّاهِرِ الْباطِنِ الْمَکْنُونِ الْمَخْزُونِ الَّذِی أَقامَ بِهِ السَّمٰوَاتِ
خدا کے اس نام سے جو ظاہر وباطن اور پوشیدہ خزانہ ہے جس سے اس نے آسمانوں اور زمین کو
وَالْاََرْضَثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ
قائم فرمایا پھر عرش کی طرف متوجہ ہوا خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے اور ان پرحکم عذاب پورا ہو گیا
بِما ظَلَمُوا فَهُمْ لاَ یَنْطِقُونَ قالَ اخْسَیُوا فِیها وَلاَ تُکَلِّمُونِ وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَیِّ
کہ وہ ظالم تھے پھر وہ بول بھی نہ سکیں گے خدا فرمائے گا اس میں جا پڑو اور زبان نہ کھولو اور سب کے چہرے اسی زندہ
الْقَیُّوْمِ، وَقَدْ خابَ مَنْ حمل ظُلْماً وَخَشَعَتِ الْأَصواتُ لِلرَّحْمنِ فَلا تَسْمَعُ
و پائندہ کی طرف جھک گئے وہ ناکام رہا جو ظلم کا بوجھ لایاآوازیں لرزاں ہیں خدائے رحمن کے سامنے ۔ پس تو نہیں سنے گا مگر
إلاَّ هَمْساً وَجَعَلْنا عَلَی قُلُوبِهِمْ أَکِنَّةً أَنْ یَفْقَهُوهُ وَفِی آذانِهِمْ وَقْراً، وَ إذا
گنگناہٹ اور رکھ دیے ہم نے ان کے دلوں پر سرپوش تاکہ سمجھ نہ پائیں اور کانوں کو بہرا کردیا جب
ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَی أَدْبارِهِمْ نُفُوراً
تم قرآن میں اپنے یکتا خدا کا ذکر کیا کرتے ہو تو کافر لوگ نفرت سے الٹے پائوں بھاگ جاتے ہیں
وَ إذا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالْاَخِرَةِ حِجاباً
اور جب تم قرآن پڑھتے ہوتو ہم تمہارے اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک بھاری پردہ ڈال
مَسْتُوراً وَجَعَلْنا مِنْ بَیْنِ أَیْدِیهِمْ سَدّاً وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدّاً فَأَغْشَیْناهُم
دیتے ہیں ایک دیوار ہم نے ان کے آگے اور ایک دیوار ان کے پیچھے کھڑی کر دی ہے پھر انہیں اوپر
فَهُمْ لاَ یُبْصِرُونَ الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلَی أَفْواهِهِمْ وَتُکَلِّمُنا أَیْدِیهِمْ فَهُمْ لاَ یَنْطِقُونَ لَوْ
سے ڈھانپ دیا کہ وہ نہیں دیکھ سکتے آج کے دن ہم ان کے ہونٹوں پر مہر لگادینگے اور انکے ہاتھ ہمیں سب کچھ بتائیں گے کہ وہ خود بول نہ سکیں گے
أَنْفَقْتَ مَا فِی الْاََرْضِ جَمِیعاً مَا أَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِهِمْ، وَلَکِنَّ اللّٰهَ
اگر تم وہ سب کچھ خرچ کرو جو زمین میں ہے تو بھی ان لوگوں کے دلوں میں الفت نہیں ڈال سکتے مگر ﷲ ہی نے ان
أَلَّفَ بَیْنَهُمْ إنَّهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ وَصَلَّی اللّٰهُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِین
میں الفت پیدا کردی بے شک وہ زبردست ہے حکمت والا اور اے ﷲ رحمت نازل کر محمد اور ان کی پاکیزہ اولاد پر۔
(( ۴ )حرز حضرت امام جعفر صادق -)
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ یَا خالِقَ الْخَلْقِ وَیَا باسِطَ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے اے مخلوق کے پیدا کرنے والے اے روزی
الرِّزْقِ وَیَا فالِقَ الْحَبِّ وَیَا بارِیَٔ النَّسَمِ وَمُحْیِیَ
کشادہ کرنے والے اے دانے کو چیرنے والے اے جاندار کو پیداکر نے والے اے مردوں کو
الْمَوْتَیٰ وَمُمِیتَ الْاََحْیائِ وَدائِمَ الثَّباتِ وَمُخْرِجَ
زندہ کرنے والے اور زندوں کو موت دینے والے اے ہمیشہ قائم رہنے والے اورسبزے کو
النَّباتِ، افْعَلْ بِی مَا أَنْتَ أَهْلُهُ وَلاَ تَفْعَلْ بِی مَا أَنَا أَهْلُهُ وَأَنْتَ
اگانے والے میرے ساتھ وہ برتائو کر جو تیرے شایان ہے اور وہ نہ کرجس کا میں مستحق ہوں اور تو ہی
أَهْلُ التَّقْوَی وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ
عذاب سے بچانے اور بخشنے والا ہے ۔
(( ۵ )حزر حضرت امام موسیٰ کاظم -)
علی بن یقطین سے روایت ہے کہ امام موسی کاظم - کے چند رشتہ دار آپ کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے یہ خبر پہنچائی کہ خلیفہ موسی بن مہدی امام کو گرفتار کرنا چاہتا ہے امامعليهالسلام نے اپنے رشتہ داروں سے پوچھا کہ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا ہماری رائے ہے کہ آپعليهالسلام اس کی دسترس سے باہر ہوکر کہیں پوشیدہ ہو جائیں تاکہ اس کے شر سے محفوظ رہیں، اس پر حضرتعليهالسلام مسکرائے اور کعب بن مالک کے شعر سے متمسک ہوئے:
زَعَمَتْ سَخِینَةَ أَنْ سَتَغْلِبُ رَبَّهٰا ! فَلَیَغْلِبَنَّ مَغالِبَ الْغُلاَّبِ
سخینہ کا گمان یہ تھا کہ وہ اپنے رب پر غالب رہے گی!لیکن خدا تو ہر غالب پر غالب رہتا ہے۔
پھر آپ نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور کہا ۔
إلهِی کَمْ مِن عَدُوٍّ شَحَذَ لِی ظُبَةَ مُدْیَتِهِ وَأَرْهَفَ لِی شَبا حَدِّهِ
میرے ﷲ کتنے ہی دشمنوں نے میرے لیے چھری کی دھار تیز کی اور میرے لیے ہر تلوار کھینچی اور میرے لیے
وَدافَ لِی قَواتِلَ سُمُومِه وَلَمْ تَنَمْ عَنِّی عَیْنُ حِراسَتِهِ فَلَمَّا رَأَیْتَ ضَعْفِی عَنِ
زہر قاتل گھول کر تیار کی لیکن میری نگہبانی کرنے والی آنکھ نہیں سوئی پس تو نے جب میری کمزوری دیکھی کہ میں ان ناگواریوں کو سہہ
احْتِمالِ الْفَوادِحِ وَعَجْزِی عَنْ مُلِمَّاتِ الْجَوائِحِ صَرَفْتَ ذلِکَ
نہیں سکتا ان تباہ کن سختیوں کے سامنے عاجز ہوں تو نے ان سب کو اپنی ان کو اپنی طاقت سے برطرف
عَنِّی بِحَوْلِکَ وَقُوَّتِکَ لاَ بِحَوْلٍ مِنِّی وَلاَ قُوَّةٍ فَأَلْقَیْتَهُ فِی الْحَفِیرِ الَّذِی احْتَفَرَهُ لِی خائِباً
کر دیا مجھ میں اتنی قوت وطاقت نہیں تھی پھر تو نے اسے اس گڑھے میں پھینکا جو اس نے میرے لیے کھودا
مِمَّا أَمَّلَهُ فِی الدُّنْیا مُتَباعِداً مِمَّا رَجاهُ فِی الْاَخِرَةِ، فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی ذلِکَ
وہ اپنی بات میں ناکام رہا اس دنیا میں اور آخرت میں بھی نامراد ہی رہا پس تیرےلیے حمد ہے اس مہربانی پر اے
قَدْرَ اسْتِحْقاقِکَ سَیِّدِی اَللّٰهُمَّ فَخُذْهُ بِعِزَّتِکَ وَافْلُلْ حَدَّهُ
میرے آقا جتنی حمد تیری شان کے لائق ہے اے معبود اپنے غلبے کے ساتھ اسے پکڑے اور اپنی قدرت
عَنِّی بِقُدْرَتِکَ وَاجْعَلْ لَهُ شُغْلاً فِیما یَلِیهِ وَعَجْزاً عَمَّا یُناوِیهِ
سے اسکی تلوار کو مجھ سے ہٹادے تو اسےکسی طرف لگا دے کہ اسی میں لگا رہے اور اس چیز میں عاجز کر دے جو وہ چاہتا ہے
اَللّٰهُمَّ وَأَعْدِنِی عَلَیْهِ عَدْوَیً حاضِرَةً، تَکُونُ مِنْ غَیْظِی شِفائً
اے معبود تو میری طرف سے اس پر فوری شورش مسلط کر دے کہ جس سے میرا غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور وہ
وَمِنْ حَنَقِی عَلَیْهِ وقائً وَصِلِ اَللّٰهُمَّ دُعائِی بِالْاِجابَةِ، وَانْظِمْ شِکایَتِی بِالتَّغْیِیرِ
مجھے دبوچنے سے باز آ جائے اے معبود میری دعا کو قبولیت سے ہمکنار فرما دے میری شکایت کے دور ہونے کابندوبست فرما اسے
وَعَرِّفْهُ عَمَّا قَلِیلٍ مَا أَوْعَدْتَ الظَّالِمِینَ وَعَرِّفْنِی وَعَدْتَ
جلد اس چیز سے آشناکر دے جس کی تو نے ظالموں کو دھمکی دی ہےاور مجھے اس چیز سے آگاہ کرجس کے ذریعے
فِی إجابَةِ الْمُضْطَرِّینَ إنَّکَ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیم وَالْمَنِّ الْکَرِیمِ
تو نے بے چاروں کی دعا قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے بے شک تو بڑے فضل کا مالک اوربہترین احسان کرنے والا ہے۔
پس وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے اور دوبارہ جمع نہ ہوئے مگر اس مقصد سے کہ موسی بن مہدی کی خبر مرگ کا پروانہ پڑھیں :
( ۶: رقعۃالحبیب )
یہ امام علی رضا - کا حرز ہے خلیفہ مامون کے خدمت گار یاسر سے روایت ہے جب امام حمید بن قحطبہ کے محل میں تشریف لے گئے تو وہاں اپنا لباس اتارا اور حمید کے حوالے کیا حمید نے وہ لباس اپنی لونڈی کو دے دیا کہ اسے دھوئے تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آئی جب کہ اس کے ہاتھ میں ایک رقعہ تھا جو اس نے حمید کو دیا اور کہا کہ یہ رقعہ میں نے ابوالحسن- کی جیب سے نکالا ہے اس پر حمید نے آں جنابعليهالسلام سے کہا قربان جائوں اس لونڈی کو آپعليهالسلام کے لباس میں سے ایک رقعہ ملا ہے آپعليهالسلام نے فرمایا یہ وہ تعویذ ہے جسے میں ہمیشہ اپنے پاس میں رکھتا ہوں حمید نے عرض کیا کیا ممکن ہے کہ آپعليهالسلام ہمیں بھی اس سے شرف عطا فرمائیں حضرت نے فرمایا یہ وہ تعویذ ہے کہ جو شخص اسے اپنے گردن میں رکھے گا بلائیں اس سے دور ہو جائیں گی یہ تعویذ راندے ہوئے شیطان سے بچانے والا ہے پھر آپعليهالسلام نے حمید کے سامنے اس تعویذ کو پڑھا اور وہ تعویذ یہ ہے ۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ بِسْمِ ﷲ إنِّی أَعُوذُ بِالرَّحْمٰن
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والامہربان ہے خدا کے نام سے بے شک میں تجھ سے خدا کی پناہ لیتا
مِنْکَ إنْ کُنْتَ تَقِیّاً أَوْ غَیْرَ تَقِیٍّ أَخَذْتُ بِالله السَّمِیعِ الْبَصِیرِ
ہوں اگر تو پرہیزگا رہے یا پرہیزگار نہیں ہے میں نے سننے دیکھنے والے خدا کے ذریعے سے
عَلَی سَمْعِکَ وَبَصَرِکَ لاَ سُلْطانَ لَکَ عَلَیَّ وَلاَ عَلَی سَمْعِی وَلاَ
تیرے کانوں اور آنکھوں کو باندھ دیا ہے اب نہ مجھ پر تیرا کوئی بس ہے نہ میرے کانوں پر نہ میری
عَلَی بَصَرِی وَلاَ عَلَی شَعْرِی وَلاَ عَلَی بَشَرِی وَلاَ عَلَی لَحْمِی وَلاَ عَلَی دَمِی، وَلاَ عَلَی
نکھوں پر نہ میرے بالوں پر نہ میرے پوست پر نہ میرے گوشت پر نہ میرے خون پر نہ میرے مغز پر
مُخِّی وَلاَ عَلَی عَصَبِی وَلاَ عَلَی عِظامِی وَلاَ عَلَی مالِی، وَلاَ عَلَی
نہ میرے پٹھوں پر نہ میری ہڈیوں پر تیرا بس ہے نہ میرے مال پر اور نہ میرے رب کی دی ہوئی چیزوں پر تیرا کوئی
مَا رَزَقَنِی رَبِّی سَتَرْتُ بَیْنِی وَبَیْنَکَ بِسِتْرِ النُّبُوَّةِ الَّذِی اسْتَتَرَ أَنْبِیائُ اللّٰهِ بِهِ مِنْ
بس ہے میں نے پردہ ڈال دیا ہے اپنے اور تیرے درمیان، نبوت کے پردے سے جس سے خدا کے نبیوں نے خود کو
سَطَواتِ الْجَبابِرَة ِوَالْفَراعِنَةِ جِبْرَآئِیْلُ عَنْ یَمِینِی وَمِیکائِیلُ
ڈھانپا تھا سخت گیروں اور فرعونوں کے حملوں سے چنانچہ جبرائیلعليهالسلام میری داہنی طرف اور میکائیلعليهالسلام میری
عَنْ یَسارِی وَ إسْرافِیلُ عَنْ وَرائِی،وَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللّهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ أَمامِی، وَﷲ مُطَّلِعٌ
بائیں طرف اسرافیلعليهالسلام میری پچھلی طرف اور محمد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و آلہ میرے آگے ہیں خدا میرا نگہدار
عَلَیَّ یَمْنَعُکَ مِنِّی وَیَمْنَعُ الشَّیْطانَ مِنِّی اَللّٰهُمَّ لاَ یَغْلِبُ جَهْلُهُ
ہے وہ مجھے تجھ سے دور کرے گا اور شیطان کو مجھ سے ہٹائے گا اے معبود اس کی نادانی تیرے حوصلے پر
أَناتَکَ أَنْی وَیَسْتَخِفَّنِی اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ الْتَجَأْتُ اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ الْتَجَأْتُ
غالب نہ ہو کہ وہ مجھ پر چڑھ آئے اور مجھے خوار کرے اے معبود میں تیری پناہ میں ہوں اے معبود میں تیری پناہ میں ہوں
اَللّٰهُمَّ إلَیْکَ الْتَجَأْتُ
اے معبود میں تیری پناہ میں ہوں ۔
اس حرز کیلئے ایک عجیب حکایت بیان کی گئی ہے جسے ابو صلت ہروی نے نقل کیا ہے ابو صلت کہتے ہیں ۔کہ میرے مولا امام علی رضا - ایک روز اپنے مکان میں تشریف رکھتے تھے کہ اتنے میں خلیفہ مامون کا قاصد آپعليهالسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ خلیفہ آپعليهالسلام کو بلا رہے ہیںامامعليهالسلام اٹھے اور مجھ سے فرمایا کہ اس وقت وہ مجھے ایک سخت امر کے لیے بلوا رہا ہے لیکن قسم بخدا کہ وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا بوجہ ان کلمات کے جو میرے جد بزرگوار حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملے ہیں ابو صلت کا بیان ہے کہ امامعليهالسلام کے ساتھ میں بھی خلیفہ مامون کے پاس گیا جب حضرت کی نگاہ مامون پر پڑی تو آپعليهالسلام نے یہ حرز تا آخر پڑھا پس جب آپعليهالسلام اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے تو مامون نے آپعليهالسلام کی طرف دیکھ کر کہا ابوالحسنعليهالسلام میں نے اپنے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آپعليهالسلام کو ایک لاکھ درہم دیں اور آپعليهالسلام اپنی مزید ضروریات بھی لکھ دیں پھر جب امامعليهالسلام واپس ہوئے تو مامون نے آپعليهالسلام کے پس گردن نگاہ ڈالی اور کہا میں نے ارادہ کیا اور خدا نے بھی ارادہ کیا تاہم خدا کا ارادہ بہت بہتر تھا ۔
(( ۷ )حرز امام حضرت محمد تقی جواد- )
یٰا نُورُ یَا بُرْهانُ، یَا مُبِینُ یَا مُنِیرُ یَارَبِّ اکْفِنِی الشُّرُورَ وَآفاتِ
اے نور اے برہان اے آشکار اے نور والے اے پروردگار تو تمام برائیوں اور زمانے کی
الدُّهُورِ وأَسْأَلُکَ النَّجاةَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ
سختیوں میں میری مدد کر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے نجات دینا جس دن صور پھونکا جائے ۔
(( ۸ ) حرز حضرت امام علی نقی -)
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ یَا عَزِیزَ الْعِزِّ فِی عِزِّهِ مَا أَعَزَّ عَزِیزَ
خدا کے نام سے جو رحم والا بڑا مہربان ہے اے اپنی عزت میں بڑی عزت والے تو اپنی عزت میں بڑا ہی
الْعِزِّ فِی عِزِّهِ یَا عَزِیزُ أَعِزَّنِی بِعِزِّکَ وَأَیِّدْنِی بِنَصْرِکَ وَادْفَعْ عَنِّی
عزت والا ہے اے عزت والے اپنی زت کے ذریعے مجھے عزت دے اپنی نصرت سے مجھے
هَمَزاتِ الشَّیاطِینِ وَادْفَعْ عَنِّی بِدَفْعِکَ وَامْنَعْ عَنِّی بِصُنْعِکَ
قوت دے مجھ سے شیطانوں کی بد کرداریاں دور رکھ اپنے دفاع کےساتھ میرا دفاع فرما اپنے فعل کے
وَاجْعَلْنِی مِنْ خِیارِ خَلْقِکَ یَا واحِدُ یَا أَحَدُ یَا فَرْدُ یَا صَمَدُ
ذریعے میرا بچاؤ کر اور مجھے اپنی بہترین مخلوق میں قرار دے اے یگانہ اے یکتا اے تنہا اے بے نیاز۔
(( ۹ ) حرز امام حسن عسکری - )
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ یَا عُدَّتِی عِنْدَ شِدَّتِی وَیَا غَوْثِی عِنْدَ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے اے سختیوں کے وقت میری پونجی اے مصیبت کے وقت
کُرْبَتِی وَیَا مُؤْنِسِی عِنْدَ وَحْدَتِی احْرُسْنِی بِعَیْنِکَ الَّتِی لاَ تَنامُ
میری جائے پناہ اے عالم تنہائی میں میرے ہم دم تو اپنی اس آنکھ سے میری نگہبانی کر جو سوتی نہیں اور
وَاکْنُفْنِی بِرُکْنِک الَّذِی لاَ یُرامُ
مجھے ایسی پناہ دے جس تک کسی کی رسائی نہ ہو ۔
((۱۰)حرز حضرت امام العصر (عج) )
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ یَا مالِکَ الرِّقابِ وَیَا هازِمَ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے اے لوگوں کی گردنوں کے مالک اے گروہوں کو شکست
الْاََحْزابِ، یَا مُفَتِّحَ الْاََبْوابِ یَا مُسَبِّبَ الْاََسْبابِ سَبِّبْ لَنا
دینے والے اے دروازوں کو کھولنے والے اے اسباب مہیا کرنے والے ہمارے لیے ایسے
سَبَباً لاَ نَسْتَطِیعُ لَهُ طَلَباً، بِحَقِّ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ مُحَمَّدٌ رَسُول ﷲ صَلَّی اللّهُ عَلَیْهِ وَعَلَی آلِهِ أَجْمَعِینَ
اسباب پیدا کر جو ہمارے بس میں نہیں تجھے واسطہ ہے لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ کا اے خدا رحمت فرما ان پر اور ان کی ساری اولاد پر۔
(( ۱۱ )قنوت حضرت امام حسین- )
اَللّٰهُمَّ مَنْ آوَی إلَی مَأْوَیً فَأَنْتَ مَأْوایَ وَمَنْ لَجَأَ إلی مَلْجَاًَ
اے معبود اگر کوئی شخص کسی طرف مائل ہوا ہے تو میں تیری طرف مائل ہوں اور اگر کوئی شخص کسی اور کی پناہ لے تو
فَأَنْتَ مَلْجَایَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاسْمَعْ نِدائِی
میں تیری پناہ لیتا ہوں اے معبود رحمت فرما محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور میری آواز سن
وَأَجِبْ دُعائِی وَاجْعَلْ مَآبِی عِنْدَکَ وَمَثْوایَ اَحْرُسْنِی فِی بَلْوایَ
اور میری دعا قبول فرما میری بازگشت اور ٹھکانہ اپنے ہاں قرار دے میری نگہبانی کر سخت آزمائشوں مشکل
مِنِ افْتِنانِ الامْتِحانِ وَلَمَّةِ الشَّیْطانِ بِعَظَمَتِکَ الَّتِی لاَ
وقتوں اور شیطان کی دخل انداذیوں میں اپنی عظمت کے ذریعے جس میں نفس کی خواہش کا شائبہ
یَشُوبُها وَلَعُ نَفْسٍ بِتَفْتِینٍ وَلاَ وارِدُ طَیْفٍ بِتَظْنِینٍ وَلاَ یَلُمُّ بِها فَرَحٌ حَتَّی تَقْلِبَنِی
نہیں نہ بد گمانی کے کسی خیال کا گزر ہے اور نہ مدہوشی کا خطرہ یہاں تک تو مجھے اپنی طرف پلٹائے
إلَیْکَ بِ إرادَتِکَ غَیْرَ ظَنِینٍ وَلاَ مَظْنُونٍ وَلاَ مُرابٍ وَلاَ مُرْتاب إنَّکَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
اپنے ارادے سے نہ بدگمانی اور نہ تہمت کے ساتھ نہ شک و شبہ کی حالت میں یقینا تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
مؤلف کہتے ہیں سید ابن طاؤس نے مہج الدعوات میں آئمہ طاہرین کی قنوتیں جمع کی ہیں چونکہ وہ بہت طولانی ہیں لہذا ہم نے اس کی ایک قنوت کے ذکر پر اکتفا کیا ہے ۔
جن وانس سے امان میں رہنے کیلئے دعا رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم
((۱۲)یہ حضرت رسول ﷲ کی وہ دعا ہے جو جن و انس سے امان میں رکھتی ہے۔)
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ عَلَیْهِ تَوَکَّلتُ وَهُوَ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے نہیں کوئی معبود مگر ﷲ میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ
رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ مَا شائَ ﷲ کانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ أَشْهَدُ
عظمت والے عرش کا مالک ہے جو ﷲ چاہے وہ ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے وہ نہیں ہوتا میں گواہ ہوں کہ
أَنَّ ﷲ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَأَنَّ ﷲ قَدْ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ
ﷲ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور ﷲ ہی کے علم نے ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے اے معبودمیں یقینا تیری پناہ لیتا ہوں
مِنْ شَرِّ نَفْسِی، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِناصِیَتِها إنَّ رَبِّی عَلَی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ
اپنے نفس کے شر اور ہر حرکت کرنے والے کی شرسے تو ہی اس کی مہا ر پکڑے ہوئے ہے بے شک میرا رب سیدھے رستے پر ملتا ہے ۔
((۱۳)دعائے مجرب )
انس سے روایت ہے اس نے کہا کہ حضرت رسول ﷲ نے فرمایا کہ جو شخص صبح و شام یہ دعا پڑھے تو حق تعالی چار فرشتے بھیجے گا جو اس کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں سے اس کی حفاظت کریں گے اور وہ خدا کی امان میں ہو گا۔ اگر جن و انس اسے نقصان پہنچانے کی سر توڑ کوشش کریں تو بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ا ور وہ دعا یہ ہے :
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ بِسْمِ ﷲ خَیْرِ الْاََسْمائِ بِسْمِ ﷲ رَبِّ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے ﷲ کے نام سے جو سب ناموں سے بہتر ہے ﷲ کے
الْاََرْضِ وَالسَّمائِ بِسمِ ﷲ الَّذِی لاَ یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ سَمٌّ
نام سے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے خدا کے نام سے جس کے ہوتے ہوئے کوئی زہر اوربیماری
وَلاَ دائٌ بِسْمِ ﷲ أَصْبَحْتُ وَعَلَی ﷲ تَوَکَّلْتُ بِسْمِ ﷲ عَلَی
ضرر نہیں پہنچاتی میں نے ﷲ کے نام سے صبح کی اور ﷲ ہی پر بھروسہ کیا ﷲ ہی کا نام ہے
قَلْبِی وَنَفْسِی بِسْمِ ﷲ عَلَی دِینِی وَعَقْلِی بِسْمِ ﷲ عَلَی أَهْلِی
میرے دل وجان پر ﷲ کے نام سے میں اپنے دین اور عقل پر ہوںﷲ ہی کانام ہے میرے اہل اور
وَمالِی بِسْمِ ﷲ عَلَی مَا أَعْطانِی رَبِّی بِسْمِ ﷲ الَّذِی لاَ یَضُرُّ مَعَ
میرے مال پر خدا کا نام ہے اس پر جو میرے رب نے مجھے دیا خدا کے نام سے جس کے ہوتے ہوئے
اسْمِهِ شَیْئٌ فِی الْاََرْضِ وَلاَ فِی السَّمائِ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ﷲ
زمین اورآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہسننے والا جاننے والا ہے ﷲ،
ﷲ رَبِّی لاَ أُشْرِکُ بِهِ شَیْئاً، ﷲ أَکْبَرُ ﷲ أَکْبَرُ وَأَعَزُّ وَأَجَلُّ
ﷲ میرا رب ہے میں کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا ﷲ بزرگ تر ہے ﷲ بزرگ تر ہے وہ عزت و دبدبے والا ہے
مِمَّا أَخافُ وَأَحْذَرُ عَزَّ جارُکَ وَجَلَّ ثَناؤُکَ وَلاَ إلهَ غَیْرُکَ
ر چیز سے جس سے میں ڈرتا، ہوں تیرا ساتھی غالب اورتیری تعریف روشن ہے نہیں کوئی معبود سوائے تیرے
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ کُلِّ سُلْطانٍ شَدِیدٍ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْطانٍ
اے معبود میں تیری پناہ لیتا ہوں پنے نفس کے شر سے ہر سخت گیر حاکم کے شر سے ہر قصدکرنے والے شیطان کے
مَرِیدٍ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ وَمِنْ شَرِّ قَضائِ السُّوئِ، وَمِنْ کُلِّ دابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ
ر و برائی سے ہر ضدی دشمن کے شر سے ہر بری قضائ و فیصلے کے شر سے اور ہر متحرک کے شر سے کہ اس کی
بِناصِیَتِها، إنَّکَ عَلَی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ حَفِیظٌ إنَّ وَلِیِّیَ ﷲ
مہار تیرے ہاتھ میں ہے بے شک تو سیدھی راہ پر ملتا ہے اورتو ہر چیز کی نگہبانی کرنے والا ہے میرا حاکم ﷲ ہے جس نے قرآن
الَّذِی نَزَّلَ الْکِتابَ وَهُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ فَ إنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ
نازل فرمایا اور وہ نیکوکاروں کا سرپرست ہے پس اگر وہ پھر جائیں تو کہو کہ مجھے ﷲ کافی ہے نہیں کوئی معبود مگر وہی میں اسی پر بھروسہ کرتا
تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ
ہوںاور وہ عظمت والے عرش کامالک ہے ۔
((۱۴)رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ایک اور دعا)
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَفْتَقِرَ فِی غِنَاکَ أَوْ أَضِلَّ فِی هُدَاکَ أَوْ أَذِلَّ فِی عِزِّکَ
اے معبود میں تیری پناہ لیتا ہوں کہ تیری تو نگری میں محتاج ہو جاؤں تیری ہدایت میں گمراہ ہو جاؤں تیری عزت میں ذلیل ہو جاؤں
أَوْ أُضامَ فِی سُلْطانِکَ أَوْ أُضْطَهَدَ وَالْاََمْرُ إلَیْکَ اَللّٰهُمَّ إنِّی
تیری حکومت میں مجھ پر ظلم ہویا تنگی میں پڑ جاؤں اور ہر کام تیرے ہاتھ میں ہے اے معبود ضرور میں تیری
أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَقُولَ زُوراً أَوْ أَغْشَی فُجُوراً أَوْ أَکُونَ بِکَ مَغْرُوراً
پناہ لیتا ہوں کہ جھو ٹ بولوں یا بدی میں ڈوب جاؤں یا تیرے آگے سرکشی کروں ۔
((۱۵)حضرت امام محمد باقر - کی دعا)
ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ میں نے امام محمد باقر - سے شرفیاب ہو نے کی اجازت طلب کی تو آپعليهالسلام گھر سے باہر آئے جب کہ آپعليهالسلام کے ہونٹ ہل رہے تھے آپعليهالسلام نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کیا پڑھ رہا تھا؟میں نے عرض کی جی ہاں قربان جاؤں ۔میں نے سن لیا ہے فرمایامیں وہ کلمات پڑھ رہا تھا کہ جو شخص بھی یہ کلمات زبان پر لائے تو حق تعالیٰ اسکی ہر مشکل آسان اور ہر حاجت پوری فرمائے گا۔ خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی ہو ۔میں نے عرض کیا قربان جاؤں وہ کلمات مجھے بھی بتائیے، آپعليهالسلام نے فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر سے نکلتے وقت یہ کلمات اپنی زبان پر جاری کرے تو اس کی سبھی مشکلیں حل ہوں گی۔ وہ دعا یہ ہے ۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ حَسْبِیَ ﷲ تَوَکَّلْتُ عَلَی ﷲ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے مجھے ﷲ کافی ہے میں ﷲ پر بھروسہ کرتا ہوں اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
خَیْرَ أُمُورِی کُلِّها وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ خِزْیِ الدُّنْیا وَعَذابِ الْآخِرَةِ
کہ میرے سب کام سنور جائیں اور تیری پناہ لیتا ہوں دنیاکی رسوائی اورآخرت کے عذاب سے۔
((۱۶) حاجات طلب کرنے کی مناجاتیں)
امام محمد تقی - کے خادم محمد بن حارث نوفلی نے روایت کی ہے کہ جب خلیفہ مامون نے اپنی بیٹی کا عقد امام محمد تقی - سے کردیا تو حضرتعليهالسلام نے اس کی طرف لکھا کہ ہر عورت کے لئے اس کے شوہر کی طرف سے حق مہر ہوتا ہے اور ﷲ تعالی نے ہمارا مال آخرت کیلئے ذخیرہ کردیا ہے ۔جیسے تمہارا مال دنیا ہی میں تمہیں دے دیا ہے پس میں نے تمہاری بیٹی کا حق مہر ’’وسائل الی المسائل ‘‘ مقرر کیا ہے اور یہ وہ مناجات ہے جو میرے پدر بزرگوار نے مجھے عطا فرمائی ہے ‘انہیں ان کے والد ماجد حضرت امام موسی کاظم - نے ‘انہیں ان کے والد محترم امام جعفر صادق - نے‘ انہیں ان کے والد مکرم امام محمدباقر - نے‘انہیں ان کے والد مقدس امام زین العابدین- نے‘ انہیں ان کے والد محترم امام حسین- نے‘ انہیں ان کے برادر مہربان امام حسن- نے، انہیں ان کے والد بزرگوار امام علیعليهالسلام ابن ابیطالب+ انہیں رسول خدا نے اور انہیں جبرائیل امین نے یہ پہنچائی۔پس انہوں نے کہا یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم حق تعالی آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ مناجاتیں دنیا وآخرت کے خزانوں کی کنجیاں ہیں لہذا انہیں اپنے مقاصد کے حصول کاذریعہ بنایئے تاکہ آپ اپنی مرادوں کو پہنچیں اور آپ کے تمام مقاصد پورے ہوں۔ ان کو دنیوی حاجات کیلئے بہت کم استعمال کیجئے تاکہ آخرت میں آپ کا حصہ کم نہ ہو نے پائے اور وہ دس وسیلے اور مناجاتیں ہیں کہ جن کے ذریعے رغبتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انہی کے ذریعے حاجتیں طلب کی جاتی ہیں اور وہ پوری ہوتی ہیں۔
(مناجات استخارہ)
طلب خیر کی مناجات
اَللّٰهُمَّ إنَّ خِیَرَتَکَ فِیَما اسْتَخَرْتُکَ فِیهِ تُنِیلُ الرَّغٰائِبَ
اے معبود تیری پسند وہ ہے جس کام کے لئے میں نے تجھ سے خیر طلب کی تو آرزؤں تک
وَتُجْزِلُ الْمَواهِبَ وَتُغْنِمُ الْمَطالِبَ وَتُطَیِّبُ الْمَکاسِبَ وَتَهْدِی إلَی أَجْمَلِ
پہنچاتا ہے بڑی بڑی عطائیں کرتا ہی مطالب میں فائدہ دیتا ہےکاروبار کو پاک کردیتا ہے بہترین راستے پر چلاتا ہے
الْمَذَاهِبِ وَتَسُوقُ إلَی أَحْمَدِ الْعَوَاقِبِ وَتَقِی مَخُوفَ النَّوَائِبِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَخِیرُکَ
قابل تعریف انجام تک لے جاتا ہے اور پر خطرمصیبتوں سے بچاتا ہے اے معبود تجھ سے طالب خیر ہوں
فِیما عَزَمَ رَأْیِی عَلَیْهِ وَقادَنِی عَقْلِی إلَیْهِ وَسَهِّلِ اَللّٰهُمَّ فِیهِ مَا
س کام کے لئے جس کا میں نے ارادہ کیا اور میری عقل مجھے اس تک لے گئی اے معبود اس میں جو
تَوَعَّرَ، وَیَسِّرْ مِنْهُ مَا تَعَسَّرَ وَاکْفِنِی فِیهِ الْمُهِمَّ وَادْفَعْ بِهِ عَنِّی کُلَّ مُلِمٍّ وَاجْعَلْ یَا
مشکل ہے آسان کردے جو د مشکل ہے ہموار کردے سخت کام میں میری مدد فرما برے انجام سے محفوظ رکھ اور اے
رَبِّ عَوَاقِبَهُ غُنْماً وَمَخُوفَهُ سِلْماً وَبُعْدَهُ قُرْباً وَجَدْبَهُ خِصْباً وَأَرْسِلِ اَللّٰهُمَّ إجابَتِی
پروردگار اس کے نتائج بہتر بنا ے خطرے میں سلامتی دے دور کو نزدیک اور تنگی کو آسانی میں بدل دے اے معبود میری دعا
وَأَنْجِحْ طَلِبَتِی وَاقْضِ حاجَتِی وَاقْطَعْ عَنِّی عَوَائِقَها وَامْنَعْ عَنِّی بَوَائِقَها وَأَعْطِنِی
قبول فرما میری خوا ہش پوری کر میری حاجت برلا اس کام کی تکلیفیں مجھ سے دور کر اس کی برائیوں کو دور فرما
اَللّٰهُمَّ لِوائَ الظَّفَرِ وَالْخِیَرَةَ فِیمَا اسْتَخَرْتُکَ وَوُفُورَ الْمُغْنِمَ فِیما
اور اے معبود اس میں مجھے کامیابی کے جھنڈے دے وہ بھلائی دے جو تجھ سے چاہی ہے جو دعا کی ہے
دَعَوْتُکَ وَعَوائِدَ الْاِفْضالِ فِیما رَجَوْتُکَ وَاقْرِنْهُ اَللّٰهُمَّ بِالنَّجاح وَخُصَّهُ بِالصَّلاح
اس میں زیادہ حصہ دے وہ فائدے عطا کر جن کی تجھ سے آرزو کی ہے اس مقصد میں کامیابی سے ہمکنار فرما اس میں بہتری
وَأَرِنِی أَسْبابَ الْخِیَرَةِ فِیهِ واضِحَةً وَأَعْلامَ غُنْمِها لائِحَةً وَاشْدُدْ خِناقَ تَعْسِیرِها وَانْعَشْ
پیدا کر اس میں مجھے خوشی کے اسباب نمایاں کر کے دکھا کہ ان میں بہرہ مندی کے نشان ہو یدا ہوں ان میں دشواری کا راستہ بند کر
صَرِیعَ تَیْسِیرِها وَبَیِّنِ اَللّٰهُمَّ مُلْتَبَسَها وَأَطْلِقْ مُحْتَبَسَها وَمَکِّنْ أُسَّهَا
دے اس کو آسانی کے قریب کر دے اس میں مدہم چیز کو روشن کر دے اس میں بندھے ہوئے کو
حَتَّی تَکُونَ خِیَرَةً مُقْبِلَةً بِالْغُنْمِ، مُزِیلَةً لِلْغُرْمِ عاجِلَةً لِلنَّفْعِ
کھول دے اس کی بنیاد مضبوط بنا کہ مجھے خیر ہی خیر حاصل ہو جس میں فوائد ہوں نقصان کو ہٹا جلد نفع
باقِیَةَ الصُّنْع إنَّکَ مَلِیئٌ بِالْمَزِیدِ مُبْتَدِیٌَ بِالْجُودِ
عطا فرما عمل میں پاکیزگی دے کیونکہ تو زیادہ دینے والا عطا میں پہل کرنے والا ہے ۔
(مناجات استقالہ)
گناہوں سے معافی کی مناجات
اَللّٰهُمَّ إنَّ الرَّجائَ لِسَعَةِ رَحْمَتِکَ اَنْطَقَنِی بِاسْتِقالَتِکَ وَالْاََمَلَ لاََِناتِکَ وَرِفْقِکَ
اے معبود تیری رحمت کی وسعت نے مجھے گناہوں کی معافی مانگنے کا یارا دیا ہے تیری طرف سے مہلت اور
شَجَّعَنِی عَلَی طَلَبِ أَمانِکَ وَعَفْوِکَ وَلِی یَارَبِّ ذُنُوبٌ
نرمی کی امید نے مجھے تجھ سے امان لینے اور معافی مانگنے کا حوصلہ دیا اے پروردگار میرے گناہ
قَدْ واجَهَتْها أَوْجُهُ الانْتِقامِ وَخَطَایَا قَدْ لاحَظَتْها أَعْیُنُ الاصْطِلامِ
ایسے ہیں جن کے سامنے انتقام کا چہرہ ہے میری ایسی خطائیں ہیں جو اچک لینے پر تیار ہیں جن کے
وَاسْتَوْجَبْتبِها عَلَی عَدْلِکَ أَلِیمَ الْعَذابِ وَاسْتَحْقَقْتُ بِاجْتِراحِها
باعث میں تیرے عدل کے پیش نظر سخت عذاب کے قابل ہوں اور تیری طرف سے سخت سزا کا
مُبِیرَ الْعِقابِ وَخِفْتُ تَعْوِیقَها لاِِِجابَتِی وَرَدَّها إیَّایَ عَنْ قَضائِ حاجَتِی
مستحق بن چکا ہوں مجھے ڈر ہے کہ یہ قبولیت دعا میں دیر کرائیں گی اور حاجتیں بر آنے میں
بِ إبْطالِها لِطَلِبَتِی وَقَطْعها لاََِسْبابِ رَغْبَتِی مِنْ أَجْلِ مَا قَدْ
رکاوٹ بنیں گی بوجہ میری طلب کرنے، فائدہ بنانے اور میرے شوق کو کم کرنے کے کیونکہ
أَنْقَضَ ظَهْرِی مِنْ ثِقْلِها وَبَهَظَنِی مِنَ الاسْتِقْلالِ بِحَمْلِهٰا ثُمَّ تَرَاجَعْتُ
گناہوں اور خطاؤں کے بوجھ سے میری کمر جھکی ہوئی ہے اور میں مجبوری سے ان کا بوجھ اٹھائے
رَبِّ إلی حِلْمِکَ عَنِ الْخاطِیِئنَ وَعَفْوِکَ عَنِ الْمُذْنِبِینَ وَرَحْمَتِکَ
ہوئے ہوں لیکن اے پروردگار جب میں نے خطا کاروں سے تیری نرمی، گنہگاروں کے بارے
لِلْعاصِینَ، فَأَقْبَلْتُ بِثِقَتِی مُتَوَکِّلاً عَلَیْکَ طَارِحاً نَفْسِی بَیْنَ
میں تیری معافی و در گزر اور نافرمانوں پر تیری مہربانی کو دیکھا تو میں تجھ پر اعتماد کے ساتھ تیری
یَدَیکَ، شاکِیاً بَثِّی إلَیْکَ سائِلاً رَبِّ مَا لاَ أَسْتَوْجِبُهُ مِنْ تَفْرِیجِ
طرف بڑھا اور خود کو تیرے آستانے پر ڈال دیا تجھ سے اپنا درد دل کہتے ہوئے ایسی چیز کا سوال
الْهَمِّ وَلاَ أَسْتَحِقُّهُ مِنْ تَنْفِیسِ الْغَمِّ مُسْتَقِیلاً لَکَ رَبِّ إیَّایَ واثِقاً
کیا جس کا اہل نہیں ہوں یعنی اندیشے مٹائے جانے کا اور وہ جس کا حقدار نہیں ہوں یعنی غم دور کیے
مَوْلایَ بِکَ اَللّٰهُمَّ فَامْنُنْ عَلَیَّ بِالْفَرَجِ وَتَطَوَّلْ عَلَیَّ بِسُهُولَةِ
جانے کا تجھ سے در گزر کا طالب ہوں میرے مولا مجھے تجھی پر بھروسہ ہے اے معبود پس مجھ پر احسان فرما
الْمَخْرَجِ، وَادْلُلْنِی بِرَأْفَتِکَ عَلَی سَمْتِ الْمَنْهَج وَأَزْلِقْنِی
کر کشائش دے مشکلوں سے آسانی کے ساتھ نکال اپنی مہربانی سے میری رہنمائی کر سیدھی راہ کی
بِقُدْرَتِکَ عَنِ الطَّرِیقِ الْاََعْوَجِ وَخَلِّصْنِی مِنْ سِجْنِ الْکَرْبِ
طرف اور اپنی قدرت سے مجھے گمراہی کے راستے سے ہٹا لے اپنی در گزر سے کام لے کر مجھے دکھوں کی
بِ إقالَتِکَ وَأَطْلِقْ أَسْرِی بِرَحْمَتِک وَطُلْ عَلَیَّ بِرِضْوانِکَ وَجُدْ عَلَیَّ بِ إحْسانِکَ
قید سے چھڑا دے اپنی رحمت سے میری اسیری کو ختم کر دے اپنی خشنودی عطا فرما مجھ پر اپنا احسان و کرم کر
وَأَقِلْنِی رَبِّ عَثْرَتِی وَفَرِّجْ کُرْبَتِی وَارْحَمْ عَبْرَتِی وَلاَ تَحْجُبْ
یرے گناہ بخش دے مصیبت دور کر دے میری زاری پر رحم عطا کر میری دعا کو نظر انداز نہ کر مجھے
دَعْوَتِی وَاشْدُدْ بِالْاِقَالَةِ أَزْرِی وَقَوِّ بِها ظَهْرِی وَأَصْلِحْ بِها أَمْرِی
معافی دے کر مجھے قوی بنا اس سے میری کمر مضبوط فرما اس سے میرے کام سنوار دے اس سے
وَأَطِلْ بِها عُمْرِی وَارْحَمْنِی یَوْمَ حَشْرِی وَوَقْتَ نَشْرِی إنَّکَ جَوادٌ کَرِیمٌ غَفُورٌ رَحِیمٌ وَصَلِّ عَلیٰ مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّدٍ
میری عمر میں طول دے روز حشر اور قبر سے اٹھنےکے وقت رحم فرما بے شک تو سخی، عطا کرنے والا، بخشنے والا اور مہربان ہے۔
(سفر کی مناجات )
اَللّٰهُمَّ إنِّی أُرِیدُ سَفَراً فَخِرْ لِی فِیهِ وَأَوْضِحْ لِی فِیهِ سَبِیلَ الرَّأْیِ وَفَهِّمْنِیهِ وَافْتَحْ لِی
اے معبود میں نے سفر کا ارادہ کیا ہے اس میں بہتری پیدا کر اس میں میرے لئے پختہ ارادے کی راہ کھول دے اور سمجھا دے اس
عَزْمِی بِالاسْتِقامَةِ وَاشْمُلْنِی فِی سَفَرِی بِالسَّلامَةِ، وَأَفِدْنِی جَزِیلَ الْحَظِّ وَالْکَرامَةِ
میں میرے لئے ثابت قدمی کا راستہ کھول مجھے اس سفر میں سلامتی سے بہرہ مند فرمامجھےبہت زیادہ آمدنی اور عزت عطا فرما
وَاکْلاََْنِی بِحُسْنِ الْحِفْظِ الْحِراسَةِ وَجَنِّبْنِی اَللّٰهُمَّ وَعْثَائَ الْاََسْفارِ وَسَهِّلْ لِی
مجھے اپنی بہترین حفاظت اور نگرانی میں قرار دے اے معبود مجھے سفر کی تھکاوٹوں سے محفوظ فرما بیابانوں
حُزُونَةَ الْاََوْعَارِ وَاطْوِ لِی بِساطَ الْمَراحِلِ وَقَرِّبْ مِنِّی بُعْدَ نَأْیِ الْمَناهِلِ
کی سختیاں میرے لئے آسان کردے دور کی منزلوں کو میرے لئے لپیٹ دے پانی کے دور کے گھاٹ میرے لئے
وَباعِدْ فِی الْمَسِیرِ بَیْنَ خُطَی الرَّوَاحِلِ حَتَّی تُقَرِّبَ نِیاطَ الْبَعِیدِ وَتُسَهِّلَ وُعُورَ
نزدیک کردے دوران سفر بارکشوں کے قدموں کو دراز فرماتا آنکہ دور کے فاصلے قریب اور بیابانوں کی سختیاں آسان ہو
الشَّدِیدِ وَلَقِّنِی اَللّٰهُمَّ فِی سَفَرِی نُجْحَ طائِرِ الْواقِیَةِ وَهَبْنِی فِیهِ غُنْمَ الْعافِیَةِ
جائیں اور اے معبود اس سفر میں بابرکت پرندے کو میرے ہمراہ کردے اس میں سلامتی سے بہرہ مند فرما ثابت قدمی کو نگہبان
وَخَفِیرَ الاسْتِقْلالِ وَدَلِیلَ مُجاوَزَةِ الْاََهْوَالِ وَباعِثَ وُفُورِ الْکِفایَةِ وَسانِحَ خَفِیرِ الْوِلایَةِ
بنا اور راستے کے خطروں کے لئے راہنما اور بہت زیادہ کفایت کا ذریعہ اورسر پرستی کرنے والا پاسدار
وَاجْعَلْهُ اَللّٰهُمَّ سَبَبَ عَظِیمِ السِّلْمِ حاصِلَ الْغُنْمِ وَاجْعَلِ اللَّیْلَ
عطا کر اے معبود میرے سفر کو سلامتی والا اور منافع بخش قرار دے رات کو میرے لئے آفتوں سے
عَلَیَّ سِتْراً مِنَ الْاَفاتِ وَالنَّهارَ مانِعاً مِنَ الْهَلَکاتِ، وَاقْطَعْ عَنِّی قِطَعَ لُصُوصِهِ
بچاؤ کی اوٹ اور دن کو خطرات میں رکاوٹ کا ذریعہ بنا دے اپنی قدرت سے راہزنوں کی ٹولیوں کو مجھ سے ہٹائے رکھ اپنی
بِقُدْرَتِکَ وَاحْرُسْنِی مِنْ وُحُوشِهِ بِقُوَّتِکَ حَتَّی تَکُونَ السَّلامَةُ فِیهِ مُصاحِبَتِی وَالْعافِیَةُ
طاقت سے مجھے درندوں سے بچائے رکھ یہاں تک کہ اس میں سلامتی میری ہمدم اورحفاظت میرے ساتھ ساتھ
فِیهِ مُقارِنَتِی وَالْیُمْنُ سائِقِی وَالْیُسْرُ مُعٰانِقِی وَالْعُسْرُ مُفارِقِی وَالْفَوْزُ مُوافِقِی وَالْاََمْنُ مُرافِقِی
رہے برکت میرے پیچھے،آسانی میرے ہمراہ، تنگی مجھ سے دور، کامیابی میرے ساتھ اور امن میرا ساتھی ہو
إنَّکَ ذُوالطَّوْلِ وَالْمَنِّ وَالْقُوَّةِ وَالْحَوْلِ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَبِعِبادِکَ بَصِیرٌ خَبِیرٌ
یشک تو بخشش و احسان کا مالک اور قوت و طاقت والا ہے تو ہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہےاور اپنے بندوں کو دیکھتا جانتاہے ۔
(طلب رزق کی مناجات )
اَللّٰهُمَّ أَرْسِلْ عَلَیَّ سِجالَ رِزْقِکَ مِدْراراً وَأَمْطِرْ عَلَیَّ سَحائِبَ إفْضالِکَ غِزَاراً وَأَدِمْ غَیْثَ نَیْلِکَ
اے معبود مجھ پر اپنے رزق کی لگاتار بارش برسا مجھ پراپنے فضل و کرم کا مینہ برسا مجھ پر اپنی عطا کی پے در پے بارش
إلَیَّ سِجالاً، وَأَسْبِلْ مَزِیدَ نِعَمِکَ عَلَی خَلَّتِی إسْبالاً وَأَفْقِرْنِی بِجُودِکَ إلَیْکَ
برسا میری ضرورتوں کے علاوہ اضافی نعمتوں کا سایہ کردے اپنی سخاوت سے مجھے اپنا ہی محتاج رکھ
وَأَغْنِنِی عَمَّنْ یَطْلُبُ مَا لَدَیْکَ وَداوِ دائَ فَقْرِی بِدَوائِ فَضْلِکَ وَانْعَشْ صَرْعَةَ عَیْلَتِی
مجھے اس شخص سے بے نیاز رکھ جو تجھ سے مانگتا ہے اپنے فضل کو میری ناداری کی دوا بنا اپنی عطا سے میری حاجت کو
بِطَوْلِکَ وَتَصَدَّقْ عَلَی إقْلالِی بِکَثْرَةِ عَطائِکَ وَعَلَی اخْتِلالِی بِکَرِیمِ حِبائِکَ وَسَهِّلْ
بیدار فرما میری تنگدستی کو اپنی بہت عطاؤں کا اور میری بے نوائی کو اپنی بخشش کا صدقہ دے اے پروردگارمیرے لئے رزق کی
رَبِّ سَبِیلَ الرِّزْقِ إلَیّ وَثَبِّتْ قَواعِدَهُ لَدَیَّ وَبَجِّسْ لِی عُیُونَ سَعَتِهِ بِرَحْمَتِکَ وَفَجِّرْ
راہ آسان کر دے میرے لئے اس کی بنیادیں مضبوط بنا دےاپنی زحمت سے میرے لئے فراوانی کے چشمے جاری کردے اپنی
أَنْهارَ رَغَدِ الْعَیْشِ قِبَلِی بِرَأْفَتِکَ وَأَجْدِبْ أَرْضَ فَقْرِی وَأَخْصِبْ جَدْبَ ضُرِّی وَاصْرِفْ
مہربانی سے میری زندگی میں خوشیوں کی نہریں رواں کردے میری فقر کی زمین کو بنجرکردے میری بدحالی کے قحط کو فراوانی میں
عَنِّی فِی الرِّزْقِ الْعَوائِقَ وَاقْطَعْ عَنِّی مِنَ الضِّیْقِ الْعَلائِقَ وَارْمِنِی مِنْ
بدل دے میری روزی میں جو رکاوٹیں ہیں وہ دور کردے مجھ سے تنگی کے نشان الگ کر دے اور مجھے
سَعَةِ الرِّزْقِ اَللّٰهُمَّ بِأَخْصَبِ سِهامِهِ وَاحْبُنِی مِنْ رَغَدِ الْعَیْشِ بِأَکْثَرِ دَوامِهِ وَاکْسُنِی اَللّٰهُمَّ
وسعت رزق کا ہدف بنا اے معبود روزی کی بوچھاڑ کردے میری زندگی کو زیادہ سے زیادہ پر مسرت بنا اور اے معبود
سَرابِیلَ السَّعَةِ وَجَلابِیبَ الدَّعَةِ فَ إنِّی یَارَبِّ مُنْتَظِرٌ لاِِِنْعامِکَ بِحَذْفِ المَضِیقِ
مجھ کو فراخی کا جامہ پہنا اور خوشی کی چادر اوڑھا دے پس اے پروردگار میں منتظر ہوں کی تنگی دور ہو اور مجھے تیری
وَلِتَطَوُّلِکَ بِقَطْعِ التَّعْوِیقِ وَلِتَفَضُّلِکَ بِ إزَالَةِ التَّقْتِیرِ لِوُصُولِ حَبْلِی بِکَرَمِکَ
نعمتیں نصیب ہوں تاخیر ختم ہو اور تیریعطا مل جائے روزی کی تنگی دور ہو اور تو فضل سے نواز دے میرا رشتہ تیرے کرم سے جڑے اور آسانی
بِالتَّیْسِیرِ وَأَمْطِرِ اَللّٰهُمَّ عَلَیَّ سَمائَ رِزْقِکَ بِسِجالِ الدِّیمِ وَأَغْنِنِی عَنْ خَلْقِکَ بِعَوائِدِ
نصیب ہو اور برسا دے اے معبود روزی کے آسمان سے لگاتار بارش مجھے نعمتوں سے وافر حصہ دے مخلوق
النِّعَمِ، وَارْمِ مَقاتِلَ الْاِقْتارِ مِنِّی وَاحْمِلْ کَشْفَ الضُّرِّ عَنِّی عَلَی مَطایَا الْاِعْجالِ
سے بے نیاز کردے میری ناداری کے گلے پر تیر مار دے اور میری تنگی دور کرکےاس کا بوجھ تیز تر بار کشوں
وَاضْرِبْ عَنِّی الضِّیقَ بِسَیْفِ الاسْتِئْصالِ وَأَتْحِفْنِی رَبِّ مِنْکَ بِسَعَةِ الْاِفْضالِ وَامْدُدْنِی
پر لاد دے میری عسرت کی گردن پر نابودی کی تلوار چلا دے اے پروردگار مجھے اپنی وسیع نعمتوں کا تحفہ عطا کر اور
بِنُمُوِّ الْاََمْوَالِ وَاحْرُسْنِی مِنْ ضِیقِ الْاِقْلالِ وَاقْبِضْ عَنِّی سُوئَ الْجَدْبِ وَابْسُطْ لِی
مال میں اضافے سے میری مدد کرمجھے تنگدستی کی اذیت سے محفوظ فرما اور قحط کی تکلیف مجھ سے دور رکھ میرے لئے
بِساطَ الْخِصْبِ وَاسْقِنِی مِنْ مائِ رِزْقِکَ غَدَقاً وَانْهَجْ لِی مِنْ عَمِیمِ بَذْلِکَ طُرُقاً وَفاجِئْنِی
نعمتوں کی بساط بچھا دے اور مجھے اپنی روزی کے خوشگوار پانی سے سیر کر میرے لئے اپنی عمومی عطا کے دروازے کھول دے
بِالثَّرْوَةِ وَالْمال وَانْعَشْنِی بِهِ مِن الْاِقْلالِ وَصَبِّحْنِی بِالاسْتِظْهارِ وَمَسِّنِی
ھے غیر متوقع دولت عنایت فرما اور اس کے ذریعے مجھے تنگی سے نکال صبح کے وقت میری مدد فرما اور
بِالتَّمَکُّنِ مِنَ الْیَسارِ إنَّکَ ذُوالطَّوْلِ الْعَظِیمِ وَالْفَضْلِ الْعَمِیمِ وَالْمَنِّ الْجَسِیمِ وَأَنْتَ الْجَوادُ الْکَرِیمُ
خوشحالی کا مالک بنادےبیشک تو بہت بڑی بخشش عام فضل وکرم، گراں قدر احسان کا مالک اور بہت دینے والا سخی ہے ۔
(طلب پناہ کی مناجات)
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ مُلِمَّاتِ نَوازِلِ الْبَلائِ وَأَهْوَالِ عَظائِمِ
اے معبود میں تیری پناہ لیتا ہوں نازل ہونے والی بلاؤں کے نازل ہونے اور بڑی بڑی تکلیفوں
الضَّرَّائِ فَأَعِذْنِی رَبِّ مِنْ صَرْعَةِ الْبَأْسائِ وَاحْجُبْنِی مِنْ سَطَواتِ
کی ہولناکیوں سے پس اے میرے رب مجھے پناہ دے بے سامانی کی سختیوں سے مجھے مصیبتوں کی
الْبَلائِ، وَنَجِّنِی مِنْ مُفاجَأةِ النِّقَمِ وَأَجِرْنِی مِنْ زَوالِ النِّعَمِ وَمِنْ زَلَلِ الْقَدَمِ
یورشوں سے بچائے رکھ مجھے ناگہانی عذاب سے نجات دے نعمتوں کے زوال اور قدموں کی لغزش سے پناہ
وَاجْعَلْنِی اَللّٰهُمَّ فِی حِیاطَةِ عِزِّکَ وَحِفاظِ حِرْزِکَ مِنْ مُباغَتَةِ الدَّوَائِرِ وَمُعاجَلَةِ الْبَوَادِرِ
دے مجھے اے معبود اپنی عزت کے احاطے اور بچاؤ کی حفاظت میں ناگہانی آفتوں سے اور جلد آنے والی پریشانیوں سے
اَللّٰهُمَّ رَبِّ وَأَرْضَ الْبَلائِ فَاخْسِفْها وَعَرْصَةَ الْمِحَنِ فَارْجُفْها وَشَمْسَ
اے معبود اے رب تو بلاؤں کی سرزمین کو نیچے دھنسا دے سختیوں کے میدان کو اکھاڑ دے مصیبتوں کے سورج کو
النَّوائِبِ فَاکْسِفْها وَجِبالَ السُّوئِ فَانْسِفْها وَکُرَبَ الدَّهْرِ فَاکْشِفْها وَعَوائِقَ الْاَُمُورِ فَاصْرِفْها
گہنا دے برائی کے پہاڑوں کو توڑدے زمانے کےکرب کو دور کردے کاموں کی رکاوٹوں کو ہٹا دے مجھے
وَأَوْرِدْنِی حِیاضَ السَّلامَةِ، وَاحْمِلْنِی عَلَی مَطایَا الْکَرامَةِ وَاصْحَبْنِی بِ إقالَةِ الْعَثْرَةِ
سلامتی کے حوضوں میں پہنچا دے مجھے آبرو کی سواریوں پر سوار کردے گناہوں سے بچنے میں میرا ساتھ دے
وَاشْمَلْنِی بِسَتْرِ الْعَوْرَةِ وَجُدْ عَلَیَّ یَارَبِّ بِآلائِکَ وَکَشْفِ بَلائِکَ وَدَفْعِ ضَرَّائِکَ
مجھے پردہ پوشی میں شامل کرلےمجھ پر سخاوت فرما اے رب اپنی نعمتوںکی بلائیں دور کرنے کی اور اپنی سختیاں دور رکھنے کی
وَادْفَعْ عَنِّی کَلاکِلَ عَذابِکَ، وَاصْرِفْ عَنِّی أَلِیمَ عِقابِکَ وَأَعِذْنِی مِنْ بَوَائِقِ الدُّهُورِ وَأَنْقِذْنِی
مجھ سے اپنے تمام عذاب دور فرما اپنی سخت سزاؤں کارخ موڑ دے مجھے زمانے کی بدحالیوں سے پناہ دے مجھے ہر کام کے برے
مِنْ سُوئِ عَواقِبِ الْاَُمُورِوَاحْرُسْنِی مِنْ جَمِیعِ الْمَحْذُورِ وَاصْدَعْ صَفاةَ الْبَلائِ عَنْ أَمْرِی وَاشْلُلْ
انجام سے نجات دے ہر خطرے سے میری حفاظت فرما میرے معاملوں میں ہر مصیبت کے پتھر توڑ دے اور جب تک زندہ
یَدَهُ عَنِّی مَدیٰ عُمْرِی إنَّکَ الرَّبُّ الْمَجِیدُ الْمُبْدئُ الْمُعِیدُ الْفَعَّالُ لِمَا تُرِیدُ
ہوں ان کے ہاتھ شل کردےے شک تو رب ہے بزرگی والا آغازکرنے والا لوٹانے والا جو چاہے کرنے والا۔
(طلب توبہ کی مناجات )
اَللّٰهُمَّ إنِّی قَصَدْتُ إلَیْکَ بِ إخْلاصِ تَوْبَة نَصُوحٍ وَتَثْبِیتِ عَقْدٍ صَحِیحٍ وَدُعائِ قَلْبٍ
اے معبود میں نے سچے دل سے پکی توبہ کرنے کے لئے تیری طرف رخ کیا پکا پیمان باندھنے رنجیدہ دل کے ساتھ
قَرِیحٍ، وَ إعْلانِ قَوْلٍ صَرِیحٍ اَللّٰهُمَّ فَتَقَبَّلْ مِنِّی مُخْلَصَ التَّوْبَةِ وَ إقْبالَ سَرِیعِ الْاََوْبَةِ
پکارنے اور واضح بات کرنے کے لئے اے معبود مجھ سےقبول فرما خالص توبہ،جلد باز آجانے، کا قول گناہوں
وَمَصارِع تَخَشُّعِ الْحَوْبَةِ، وَقابِلْ رَبِّ تَوْبَتِی بِجَزِیلِ الثَّوابِ وَکَرِیمِ الْمَآبِ وَحَطِّ
کے خوف سے گر پڑنے کو اے رب میری توبہ قبول کر بہت بڑے ثواب بہتر بازگشت کے ساتھ عذاب کی بخشش
الْعِقابِ وَصَرْفِ الْعَذابِ وَغُنْمِ الْاِیابِ وَسِتْرِ الْحِجابِ وَامْحُ اَللّٰهُمَّ مَا ثَبَتَ مِنْ ذُنُوبِی
سزا میں در گزر واپسی کی غنیمت گناہوں کی پردہ پوشی فرما اور اے معبود میرے جو گناہ تو نے لکھے وہ مٹا دے میری
وَاغْسِلْ بِقَبُولِها جَمِیعَ عُیُوبِی وَاجْعَلْها جالِیَةً لِقَلْبِی شاخِصَةً لِبَصِیرَةِ
توبہ قبول کرکے میرے گناہ دھو دے اس توبہ کو میرے دل میں روشن کرنے والی میری عقل کو بصیرت کا مقام
لُبِّی، غاسِلَةً لِدَرَنِی مُطَهِّرَةً لِنَجاسَةِ بَدَنِی مُصَحِّحَةً فِیها ضَمِیرِی
دینے والی میری میل کو دور کرنے والی میرے بدن سے ناپاکی ہٹانے والی میرے قلب وضمیر کو درست کرنے والی
عاجِلَةً إلَی الْوَفائِ بِها بَصِیرَتِی وَاقْبَلْ یَارَبِّ تَوْبَتِی فَ إنَّها تَصْدُرُ
میری عقل و سمجھ کو بصیرت سے ہمکنار کرنے والی بنادے اور اے پروردگار میری توبہ قبول فرما کہ یہ میری
مِنْ إخْلاصِ نِیَّتِی وَمَحْضٍ مِنْ تَصْحِیحِ بَصِیرَتِی وَاحْتِفالاً فِی طَوِیَّتِی وَاجْتِهاداً
خالص نیت اور سمجھ بوجھ کے ساتھ انجام پارہی ہے میرے باطن کیہر پہلو سے ہو رہی ہے دل کے چھپے گوشوں
فِی نَقائِ سَرِیرَتِی وَتَثْبِیتاً لاِِِنابَتِی وَمُسارِعَةً إلی أَمْرِکَ بِطاعَتِی
کی توجہ سے ہوئی ہے تیرےحضور میری بازگشت اور تیرےحکم پر جلد تر عمل کے ساتھ
وَاجْلُ اَللّٰهُمَّ بِالتَّوْبَةِ عَنِّی ظُلْمَةَ الْاِصْرارِ وَامْحُ بِها مَا قَدَّمْتُهُ
ہو رہی ہے اے معبود اس توبہ کے ذریعے مجھ سے گناہوں پر اصرار کی تاریکی دور کردے اور اس
مِنَ الْاََوْزارِ وَاکْسُنِی لِباسَ التَّقْوَی وَجَلابِیبَ الْهُدَی، فَقَدْ خَلَعْتُ
سے پہلے جو گناہ کرچکا ہوں وہ مٹا دے مجھے پرہیز گاری کا لباس پہنا اور ہدایت کی چادر اوڑھا دے
رِبْقَ الْمَعاصِی عَنْ جلدِی وَنَزَعْتُ سِرْبالَ الذُّنُوبِ عَنْ جَسَدِی مُسْتَمْسِکاً رَبِّ
کیونکہ میں نے اپنے اوپرسے گناہوں کا لبادہ اتار دیا اور خطاؤں کا پراہن اپنے بدن سے کاٹ پھینکا ہے اے پروردگار
بِقُدْرَتِکَ مُسْتَعِیناً عَلَی نَفْسِی بِعِزَّتِکَ مُسْتَوْدِعاً تَوْبَتِی مِنَ النَّکْثِ بِخَفْرَتِکَ
میں نے اپنے نفس کےخلاف تیری قدرت کا سہارا لیا ہے تیری عزت سے مدد حاصل کرکےاپنی توبہ کو بچانے کیلئے تیرے سپرد
مُعْتَصِماً مِنَ الْخِذْلانِ بِعِصْمَتِکَ مُقارِناً بِهِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِکَ
کررہا ہوں اسے رسوائی سے محفوظ رکھنے کیلئے تیری نگہبانی میں دے رہا ہوں یہ کہہ کر کہ نہیں ہے حرکت و قوت مگر تجھ سے۔
(طلب حج کی مناجات)
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی الحَجَّ الَّذِی افْتَرَضْتَهُ علی من استطاع الیه سَبِیلاً وَاجْعَلْ لِی فِیهِ هادِیاً
اے معبود مجھے وہ حج نصیب فرما جو تو نے ان لوگوں پر فرض کیا ہے جو آنے جانے کا خرچ اٹھا سکتے ہیں اس میں میری ہدایت کا
وَ إلَیْهِ دَلِیلاً،وَقَرِّبْ لِی بُعْدَ الْمَسالِکِ وَأَعِنِّی عَلَی تَأْدِیَةِ الْمَناسِکِ وَحَرِّمْ
وسیلہ قرار دے اسکی طرف رہنمائی فرما اور دور کے راستے میرے لیے قریب کر دے اعمال حج ادا کرنے
بِ إحْرامِی عَلَی النَّارِ جَسَدِی وَزِدْ لِلسَّفَرِ قُوَّتِی وَجَلَدِی وَارْزُقْنِی
میں میری اعانت فرما میرے احرام باندھنے سے میرے بدن کو آگ پر حرام کر دے سفر کیلئے میری ہمت و قوت بڑھا دے
رَبِّ الْوُقُوفَ بَیْنَ یَدَیْکَ، وَالْاِفاضَةَ إلَیْکَ وَأَظْفِرْنِی بِالنُّجْحِ بِوافِرِ الرِّبْحِ
اے معبود تو مجھے اپنے سامنے کھڑے ہونے اور وہاں تک آنے کی توفیق عطا فرما اس میں مجھے بہت سے
وَأَصْدِرْنِی رَبِّ مِنْ مَوْقِفِ الْحَجِّ الْاََکْبَرِ إلَی مُزْدَلَفَةِ الْمَشْعَرِ
فائدے اور کامیابی دے اور اے پروردگار مجھے حج اکبر کے وقوف سے مشعر میں مقام قرب تک پہنچا
وَاجْعَلْها زُلْفَةً إلَی رَحْمَتِکَ، وَطَرِیقاً إلَی جَنَّتِکَ وَقِفْنِی مَوْقِفَ الْمَشْعِرَ الْحَرامِ
جو مذدلفا میں ہے تیری رحمت سے قرب اور تیری رحمت میں جانے کا ذریعہ بنے مجھے مشعر الحرام کی جگہ
وَمَقامَ وُقُوفِ الْاِحْرامِ وَأَهِلَّنِی لِتَأْدِیَةِ الْمَناسِکَ وَنَحْرِ
اور وقوف حرام کے مقام پر کھڑا کر مجھے اس کا اہل بنا کہ اعمال حج ادا کروں اور ان
الْهَدْیِ التَّوامِکِ بِدَمٍ یَثُجُّ وَأَوْداجٍ تَمُجُّ وَ إراقَةِ الدِّمائِ الْمَسْفُوحَةِ وَالْهَدَایَا
اونٹوں کو ذبح کر کے جو بڑی کوہان والے، جوش مارتے خون والے اور بہتے خون والی رگیں رکھتے ہیں بہت سی قربانیاں کروں
الْمَذْبُوحَةِ، وَفَرْیِ أَوْداجِها عَلَی مَا أَمَرْتَ وَالتَّنَفُّلِ بِها کَما وَسَمْتَ وَأَحْضِرْنِی اَللّٰهُمَّ
اور ان کی شہ رگیں کاٹوں تیرے حکم کے مطابق وہ فریضہ ادا کروں جو تو نے عائد کیا اے معبود مجھے
صَلاةَ الْعِیدِ راجِیاً لِلْوَعْدِ خائِفاً مِنَ الْوَعِیدِ حالِقاً شَعْرَ رَأْسِی
توفیق دے کہ نمازعید ادا کروں تیرے وعدے کی امید پر تیری دھمکی سے ڈرتے ہوئے اپنے سر کے بالوں کو منڈوائے یا
وَمُقَصِّراً وَمُجْتَهِداً فِی طاعَتِکَ مُشَمِّراً رامِیاً لِلْجِمارِ بِسَبْعٍ
کم کیے ہوئے تیری فرمانبرداری کی کوشش پر کمر باندھے ہوئے جمروں کو سات سات کنکریاں مارتے
بَعْدَ سَبْعٍ مِنَ الْاََحْجارِ وَأَدْخِلْنِی اَللّٰهُمَّ عَرْصَةَ بَیْتِکَ وَعَقْوَتِکَ وَمَحَلَّ أَمْنِکَ وَکَعْبَتِکَ
ہوئے تیرا حکم بجا لاؤں اور مجھے داخل کر اے معبود اپنے گھر کے احاطہ و اطراف میں جو امن کی جگہ اور تیرا
وَمَساکِینِکَ وَسُؤّالِکَ وَمَحاوِیجِکَ وَجُدْ عَلَیَّ اَللّٰهُمَّ بِوافِرِ الْاََجْرِ مِنَ الانْکِفائِ
کعبہ ہے مجھے اپنے محتاجوں اور سائلوں میں رکھ اے معبود مجھے بہت زیادہ اجر دے میری واپسی اور میرے کوچ
وَالنَّفْرِ وَاخْتِمِ اَللّٰهُمَّ مَناسِکَ حَجِّی وَانْقِضائَ عَجِّی بِقَبُولٍ مِنْکَ لِی وَرَأْفَةٍ مِنْکَ بِی
کرنے پر اور کامل فرما اے معبود یرے اعمال حج کو اور آہ وزاری کو قبول کر اپنی بارگاہ میں مجھ پر عنایت کرتے ہوئے اے سب
یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
سے زیادہ رحم کرنے والے۔
(ظلم سے نجات کی مناجات)
اَللّٰهُمَّ إنَّ ظُلْمَ عِبادِکَ قَدْ تَمَکَّنَ فِی بِلادِکَ حَتَّی أَماتَ الْعَدْلَ
اے معبود تیرے شہروں میں تیرے بعض بندوں کا ظلم یوں پھیلا ہوا ہے کہ اس سے عدل ختم ہو گیا ہے
وَقَطَعَ السُّبُلَ وَمَحَقَ الْحَقَّ وَأَبْطَلَ الصِّدْقَ وَأَخْفَی الْبِرَّ وَأَظْهَرَ
راستے کٹ گئے حق مٹ گیا اور صدق باطل ہو گیاہےنیکی ماند پڑ گئی برائی
الشَّرَّ وَأَخْمَدَ التَّقْوَی وَأَزالَ الْهُدَیٰ وَأَزاحَ الْخَیْرَ وَأَثْبَتَ الضَّیْرَ
سامنے آ گئی پرہیز گاری ختم اور ہدایت نابود ہو گئی اچھائی مٹ گئی برائی ابھر آئی
وَأَنْمَیٰ الْفَسادَ وَقَوَّی الْعِنادَ وَبَسَطَ الْجَوْرَ وَعَدَی الطَّوْرَاَللّٰهُمَّ یَارَبِّ لاَ یَکْشِفُ
بگاڑ بڑھ گیا دشمنی عام ہو گئی ظلم پھیل گیا اورزیادتیحد سے بڑھ گئی ہے اے معبود اے رب اسے کوئی دور نہیں کر
ذلِکَ إلاَّ سُلْطانُکَ وَلاَ یُجِیرُ مِنْهُ إلاَّ امْتِنانُکَ اَللّٰهُمَّ رَبِّ فَابْتُرِ الظُّلْمَ وَبُثَّ
سکتا مگر تیری قوت کوئی اس سے بچا نہیں سکتا مگر تیرا احسان اے معبود میرے رب ظلم کی جڑ کاٹ دے ظلم کے
جِبالَ الْغَشْمِ وَأَخْمِدْ سُوقَ الْمُنْکَرِ وَأَعِزَّ مَنْ عَنْهُ یَنْزَجِرُوَاحْصُدْ شَأْفَةَ أَهْلِ الْجَوْرِ
پہاڑ ڈھا دے بدی کا بازار ٹھنڈا کر دے اور جو ظلم کوروکے اسیقوت دے ظلم کرنے والوں کے بازو توڑ دے انہیں
وَأَلْبِسْهُمُ الْحَوْرَ بَعْدَ الْکَوْرِوَعَجِّلِ اَللّٰهُمَّ إلَیْهِمُ الْبَیاتَ وَأَنْزِلْ عَلَیْهِمُ الْمَثُلاتِ وَأَمِتْ
منتشر کرنے کے بعد پریشانی میں ڈال دے اور اے معبود ان پر جلد تر دشمنوں کو چڑھا دے جو ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں
حَیاةَ الْمُنْکَرِ لِیُؤْمَنَ الْمَخُوفُ وَیَسْکُنَ الْمَلْهُوفُ، وَیَشْبَعَ الْجائِعُ وَیُحْفَظَ الضَّائِعُ
برائی کی مہلت ختم کر دے تاکہ خائف لوگ امن پائیں مظلوم کو راحت ملے بھوکوں کو طعام ملے اجڑے ہوئے آباد
وَیَأْوَیٰ الطَّرِیدُ وَیَعُودَ الشَّرِیدُ وَیُغْنَی الْفَقِیرُ وَیُجارَ الْمُسْتَجِیرُ
ہوں بے وطنوں کو پناہ ملے بھاگے ہوئےواپس آئیں بے نواؤں کو مال ملے اور پناہ لینے والے پناہ پائیں
وَیُوَقَّرَ الْکَبِیرُ وَیُرْحَمَ الصَّغِیرُوَیُعَزَّ الْمَظْلُومُ وَیُذَلَّ الظَّالِمُ وَیُفَرَّجَ الْمَغْمُومُ، وَتَنْفَرِجَ
بزرگوں کی عزت ہو اور چھوٹوں کو پیار ملے مظلوم کو قوت حاصل ہو اور ظالم پست ہو جائے غم
الْغَمَّائُ وَتَسْکُنَ الدَّهْمائُ، وَیَمُوتَ الاخْتِلافُ وَیَعْلُوَ الْعِلْمُ
زدہ کا غم مٹے اندھیر گردی ختم ہو جائے ہنگامہ ختم ہو اور بےاتفاقی ختم ہو جائے علم کا فروغ ہو
وَیَشْمُل السِّلْمُ وَیُجْمَعَ الشَّتاتُ وَیَقْوَی الْاِیمانُ وَیُتْلَی الْقُرْآنُ إنَّکَ أَنْتَ الدَّیَّانُ الْمُنْعِمُ الْمَنَّانُ
سلامتی عام ہو اختلاف دور ہو جائے ایمان کو بڑھاوا ملے اور قرآن پڑھا جائے بے شک تو جزا دینے والا نعمت عطا کرنے والا
احسان کرنے والا ہے۔
(شکر خدا کرنے کی مناجات)
اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی مَرَدِّ نَوازِلِ الْبَلائِ وَمُلِمَّاتِ الضَّرَّائِ
اے معبود تیرے لیے حمد ہے آنے والی بلاؤں کو دور کرنے پر ناگوار مصیبتیں ہٹانے پر
وَکَشْفِ نَوائِبِ اللاََْوائِ وَتَوالِی سُبُوغِ النَّعْمائِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی هَنِیئِ عَطائِکَ
در پیش آنے والے خطرات کو ٹالنے پراور پے در پے نعمتیں بخشنے پر تیرے لیے حمد ہے تیری بہترین عطاؤں پر
وَمَحْمُودِ بَلائِکَ وَجَلِیلِ آلائِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی إحْسانِکَ الْکَثِیرِ
تیری خوب تر آزمائش پر اور تیری شاندار نعمتوں پراور تیرے لیے حمد ہے تیرے بہت زیادہ احسان پر
وَخَیْرِکَ الْغَزِیرِ وَتَکْلِیفِکَ الْیَسِیرِ وَدَفْعِ الْعَسِیرِ وَلَکَ الْحَمْدُ یَارَبِّ عَلَی
تیری جوش مارتی خیر پر تیری طرف سے آسان فریضے پر اور تنگی دور رکھنے پر اور تیرےلیے حمد ہے اے رب کہ تو
تَثْمِیرِکَ قَلِیلَ الشُّکْرِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی وَ إعْطائِکَ وافِرَ الْاََجْرِ وَحَطِّکَ مُثْقَلَ
تھوڑے سے شکر کا پھل دیتا ہے تیرے لیے حمد ہے کہ زیادہ اجر عطا کرتا ہے گناہوں کا بوجھ اتار دیتا ہے بے موقع سا عذر
الْوِزْرِ وَقَبُولِکَ ضَیِّقَ الْعُذْرِ وَوَضْعِکَ باهِضَ الْاِصْرِ وَتَسْهِیلِکَ مَوْضِعَ الْوَعْرِ وَمَنْعِکَ
بھی قبول کرتا ہے تو سخت فریضے کا بوجھ اتارتا ہے تو دشواری کے مقام کو آسان کرتا ہےاوردل ہلا دینے والے امور کو
مُفْظِعَ الْاََمْرِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی الْبَلائِ الْمَصْرُوفِ وَوافِرِ الْمَعْرُوفِ وَدَفْعِ الْمَخُوفِ
روکے ہوئے ہے تیرے لیے حمد ہے اس پر جو بلا ٹل چکی ہے نیکی میں اضافے پر خوف دور ہونے پر
وَ إذْلالِ الْعَسُوفِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی قِلَّةِ التَّکْلِیفِ وَکَثْرَةِ التَّخْفِیفِ، وَتَقْوِیَةِ
سر کشی کو رام کرنے پراور تیرے لیے حمد ہے کم فریضہ عائد کرنے پر اور اس میں زیادہ کمی کرنے پر کمزور
الضَّعِیفِ، وَ إغاثَةِ اللَّهِیفِ وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی سَعَةِ إمْهالِکَ
کو قوت دینے پراور بے کس کی فریاد رسی پر اور تیرے لیے حمد ہے وسیع مہلت دینے پر ہمیشہ
وَدَوامِ إفْضالِکِ وَصَرْفِ إمْحالِکَ وَحَمِیدِ أَفْعالِکَ وَتَوالِی نَوَالِکَ
نعمتیں عطا کرنے پرعذاب کو ٹال دینے پر تیرے اچھے اچھے کاموں پر اور تیری لگاتار رعنائیوں پر
وَلَکَ الْحَمْدُ عَلَی تَأْخِیرِ مُعاجَلَةِ الْعِقابِ وَتَرْکِ مُغافَصَةِ الْعَذابِ وَتَسْهِیلِ طَرِیقِ الْمَآبِ
اور تیرے لیے حمد ہے، عذاب کی جلدی کو التوا میں ڈالنے پر اور عذاب میں جلدی نہ کرنے پر توبہ کی راہ کو آسان کرنے پر اور ابر
وَ إنْزالِ غَیْثِ السَّحابِ إنَّکَ الْمَنَّانُ الْوَهَّابُ
رحمت سے مینہ برسانے پر بے شک تو احسان و عطا کرنے والا ہے۔
(طلب حاجات کی مناجات)
جَدِیرٌ مَنْ أَمَرْتَهُ بِالدُّعائِ أَنْ یَدْعُوَکَ وَمَنْ وَعَدْتَهُ بِالْاِجابَةِ أَنْ
جس کو تو نے دعا کا حکم دیا وہ تجھ پکارنے کا حق دار ہے جس سے تو نے قبولیت کا وعدہ کیا وہ تجھ
یَرْجُوَکَ وَلِیَ اَللّٰهُمَّ حاجَةٌ قَدْ عَجَزَتْ عَنْها حِیلَتِی وَکَلَّتْ
سے امید لگا سکتا ہے اور اے معبود میری کچھ حاجات ہیں کہ ان میں میری ہمت جواب دے گئی میری
فِیهاطاقَتِی وَضَعُفَ عَنْ مَرامِها قُوَّتِی وَسَوَّلَتْ لِی نَفْسِی
طاقت کمزور ہو گئی اس کے حصول میں میری قوت نرم پڑگئی میرے مارنے والے نفس نے بدی کو میرے
الْاََمَّارَةُ بِالسُّوئِ وَعَدُوِّی الْغَرُورُ الَّذِی أَنَا مِنْهُ مَبْلُوٌّ أَنْ أَرْغَبَ إلَیْکَ
لیے آراستہ کیا اور فریب کار دشمن نے اسکے چنگل میں ہوں مجھے تیری طرف آنے سے روکا
فِیها اَللّٰهُمَّ وَأَنْجِحْها بِأَیْمَنِ النَّجاحِ وَاهْدِها سَبِیلَ الْفَلاحِ وَاشْرَحْ
ہوا ہے اے معبود میرے نفس کوامن کے ساتھ کامیابی دے اسےنجات پانے کا راستہ دیکھا میرے
بِالرَّجائِ لاِِِسْعافِکَ صَدْرِی وَیَسِّرْ فِی أَسْبابِ الْخَیْرِ أَمْرِی وَصَوِّرْ إلَیَّ الْفَوْزَ بِبُلُوغِ
سینے کو ان حاجات کے پوراہونے کی امید سے کشادہ فرما مجھے زیادہ اسباب عطا کر اور اس آرزو تک
مَا رَجَوْتُهُ بِالْوُصُولِ إلی مَا أَمَّلْتُهُ وَوَفِّقْنِی اَللّٰهُمَّ فِی قَضائِ حاجَتِی
پہنچنے کی صورت پیدا کر دے اور وہ چیز پاؤں جس کی امید ہے اے معبود حاجات کے پورا ہونے
بِبُلُوغِ أُمْنِیَّتِی وَتَصْدِیقِ رَغْبَتِی وَأَعِذْنِی اَللّٰهُمَّ بِکَرَمِکَ مِنَ الْخَیْبَةِ
میں میری مدد فرما میرے شوق کو سچا ثابت فرما اور اے معبودمجھے بچائے رکھ اپنے کرم سے کہ ناکامی مایوسی
والْقُنُوطِ وَالْاََناةِ وَالتَّثْبِیطِ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ مَلِیئٌ بِالْمَنائِحِ الْجَزِیلَةِ وَفِیٌّ
تاخیر اور درماندگی میں پڑ جاؤں اے معبود بے شک تو بہت بڑی عطاؤں کا مالک اور عطا کرنے والا
بِها وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ بِعِبادِکَ خَبِیرٌبَصِیرٌ
ہے تو ہی ہے جو ہر چیز پرقدرت رکھتا ہے تو اپنے بندوں کو جانتا دیکھتا ہے ۔
(۱۷: حجاب امام جعفر صادق - )
یَا مَنْ إذَا اسْتَعَذْتُ بِهِ أَعاذَنِی وَ إذَا اسْتَجَرْتُ بِهِ عِنْدَ الشَّدائِدِ أَجَارَنِی
اے وہ کہ جب میں نے اس سے پناہ مانگی تو مجھے پناہ دی جب سختیوں میں اس سے امان چاہی تو اس نے مجھے امان دی
وَ إذَا اسْتَغَثْتُ بِهِ عِنْدَ النَّوائِبِ أَغاثَنِی وَ إذَا اسْتَنْصَرْتُ بِهِ عَلَی
جب مصیبتوں میں اس سے حمایت چاہی تو اس نے میری حمایت کی جب دشمن کے خلاف اس
عَدُوِّی نَصَرَنِی وَأَعانَنِی إلَیْکَ الْمَفْزَعُ وَأَنْتَ الثِّقَةُ فَاقْمَعْ عَنِّی مَنْ
سے مدد مانگی تو اس نے میری مدد فرمائی اور کمک کی تیری بارگاہ میں میری جائے پناہ ہے تو میرا
أَرادَنِی، وَاغْلِبْ لِی مَنْ کادَنِی یَا مَنْ قالَ إنْ یَنْصُرْکُمُ ﷲ فَلا غالِبَ لَکُمْ یَا مَنْ نَجَّیٰ
سہارا ہے پس جو برا اردہ کرے اسے مجھ سے دور کر دے جو مجھے دھوکہ دے تو اسے زیر کر دے اے وہ جس نے کہا اگر خدا تمہاری مدد کرے تو کوئی
نُوحاً مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ یَا مَنْ نَجَّیٰ لُوطاً مِنَ الْقَوْمِ الْفاسِقِینَ، یَا مَنْ نَجَّیٰ هُوداً مِنَ
تم پر غلبہ نہیں پا سکتا اور وہ جس نے نوحعليهالسلام کو ستمگار قوم سے نجات دی اے وہ جس نے لوطعليهالسلام کو اس بدکار قوم سے بچائے رکھا اے وہ
الْقَوْمِ الْعادِینَ یَا مَنْ نَجَّیٰ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ مِنَ الْقَوْمِ
جس نے ہودعليهالسلام کو حد سے بڑھنے والی قوم سے چھڑایا اے وہ جس نے محمد کو کفر کرنے والی قوم سے
الْکافِرِینَ نَجِّنِی مِنْ أَعْدائِی وَأَعْدائِکَ بِأَسْمائِکَ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیمُ لاَ سَبِیلَ لَهُمْ
صاف بچا لیا مجھے میرےاور اپنے دشمنوں سے نجات دے اپنے ناموں کے واسطے سے اے بڑے رحم والے اے مہربان وہ اس پر راہ نہیں
عَلَی مَنْ تَعَوَّذَ بِالْقُرْآنِ وَاسْتَجارَکَ بِالرَّحِیمِ الرَّحْمٰنِ الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی
پاتے جو پناہ لے قرآن کی اور امان مانگے خدائے رحیم و رحمن سے وہ رحمن جو عرش پر حاوی ہے تیرے
إنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیدٌ إنَّهُ هُوَ یُبْدِیُٔ وَیُعِیدُ وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ
رب کی گرفت بڑی سخت ہے کیونکہ وہ آغاز کرنے اور لوٹانے والا ہے وہ بخشنے اور محبت کرنے والا ہے
ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیدِ فَعَّالٌ لِما یُرِیدُ، فَ إنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ
وہ شان والے عرش کا مالک جو چاہے کر سکتا ہے تو اگروہ منہ موڑیں تو کہومیرے لیے کافی ہے
ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ
ﷲ نہیں کوئی معبود مگر وہی میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ عظمت والے عرش کا مالک ہے۔
(۱۸: حجاب حضرت امام موسی کاظم -)
تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لاَ یَمُوتُ وَتَحَصَّنْتُ بِذِی الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ وَاسْتَعَنْت
میں بھروسہ کرتا ہوں اس زندہ پر جسے موت نہیں اس کی حفاظت میں ہوں جو عزت اور جبروت والا ہے اس سے مدد
بِذِی الْکِبْرِیائِ وَالْمَلَکُوتِ مَوْلایَ اسْتَسْلَمْتُ إلَیْکَ فَلا تُسْلِمْنِی
مانگتا ہوں جو بزرگی بڑائی اور اقتدار والا ہےمیرے مالک میں خود کو تیرے سپرد کرتا ہوں تو مجھے کسی کے سپرد نہ کرنا
وَتَوَکَّلْتُ عَلَیْک فَلا تَخْذُلْنِی وَلَجَأْتُ إلَی ظِلِّکَ الْبَسِیطِ فَلا تَطْرَحْنِی أَنْتَ
میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں پس مجھے چھوڑ نہ دینا تیرے پھیلے ہوئے سائے میں پناہ لی ہے مجھے دور نہ کرنا تو ہی
الْمَطْلَبُ وَ إلَیْکَ الْمَهْرَبُ تَعْلَمُ مَا أُخْفِی وَما أُعْلِنُ وَتَعْلَمُ خائِنَةَ الْاََعْیُنِ
میری طلب ہے تیری طرف بھاگ آیا ہوں توجانتا ہے جو میں چھپاتا اور ظاہر کرتا ہوں تو آنکھ کی خیانت کو جانتا ہے اور
وَما تُخْفِی الصُّدُورُ فَأَمْسِکْ عَنِّی اَللّٰهُمَّ أَیْدِی الظَّالِمِینَ مِنَ
اسے بھی جو سینوں میں پوشیدہ ہے پس مجھ سے روکے رکھ اے معبود سب ظالموں کے ہاتھوں کو جو
الْجِنِّ وَالْاِنْسِ أَجْمَعِینَ وَاشْفِنِی وَعافِنِی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
جنوں اور انسانوں میں سے ہیں تو مجھے شفا و عافیت دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
((۱۹)حجاب حضرت امام محمد تقی - )
الْخالِقُ أَعْظَمُ مِنَ الْمَخْلُوقِینَ وَالرَّازِقُ أَبْسَطُ یَداً مِنَ الْمَرْزُوقِینَ
وہ خالق تمام مخلوقات سے عظیم تر ہے وہ رازق ہے اس کاہاتھ رزق پانے والوں سے کشادہ ہے
وَنارُ ﷲ الْمُوصَدَةُ فِی عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ تَکِیدُ أَفْئِدَةَ الْمَرَدَةِ وَتَرُدُّ
خدا کی آگ شعلہ زن ہے اونچے ستونوں میں کہ پھانس لیتی ہے سرکشوں کے دلوں کو پلٹاتی ہے
کَیْدَ الْحَسَدَة ِبِالْاََقْسامِ بِالْاََحْکامِ بِاللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ وَالْحِجابِ
حاسدوں کی سازشوں کو جو قسموں اور حکموں سے کرتے ہیں اور لوح محفوظ تانے ہوئے پردے کے
الْمَضْرُوبِ بِعَرْشِ رَبِّنَا الْعَظِیمِ احْتَجَبْتُ وَاسْتَتَرْتُ وَاسْتَجَرْتُ
ساتھ ہے ہمارے عظمت والے رب کے عرش ساتھ میں نے پردہ بنا لیا چھپ گیا ہوں پناہ لے لی
وَاعْتَصَمْتُ وَتَحَصَّنْتُ بِالَمَ وَبِکَهیٰعَصَ وَبِطهٰ وَبِطٰسَمَ وَبِحٰمَ وَبِحٰمٓعٓسقٓ
خودکو بچایا ہے قلعہ بند ہو گیا ہوں الم کے ساتھ کھیعص کے ساتھ طہ کے ساتھ طسم کے ساتھ حم کے ساتھ حمعسق کے ساتھ
وَنوٓن وَبِطٰسٓیْن وٓبِقَ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیدِ وَ إنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِیمٌ وَﷲ وَلِیِّی وَنِعْمَ الْوَکِیلُ
نون کے ساتھ طسین کے ساتھ ق کے ساتھ قرآن مجید کے ساتھاور وہ ایک بڑی قسم ہے اگر تمہیں علم ہو اور خدا میرا سرپرست ہےاور وہ بہترین کارساز ہے ۔
مشکل وقت کا ورد
(۲۰) شیخ کلینی کی کتاب تعبیر الرویائ میں منقول ہے کہ وشائ کہتے ہیں امام علی رضا -سے روایت ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا میں نے اپنے والد گرامی کو خواب میں دیکھا اور انہوں نے مجھ سے فرمایا اے میرے فرزند جب کسی مشکل میں گھر جاؤ تو کثرت کے ساتھ کہا کرو
یَا رَؤُوفُ یَا رَحِیمُ
اے مہربان اے رحم والے ۔
پھر فرمایا کہ ہم خواب میں دیکھتے ہیں وہ ایسا ہی ہے جیسے بیداری کی حالت میں دیکھتے ہیں ۔
دعائے رزق
(۲۱)رزق وغیرہ کی دعا جو سید ابن طاؤس کی کتاب مجتنی سے منقول ہے ۔
اَللّٰهُمَّ إنَّ ذُنُوبِی لَمْ یَبْقَ لَها إلاَّ رَجائُ عَفْوِکَ وَقَدْ قَدَّمْتُ آلَةَ الْحِرْمانِ
اے معبود میرے گناہوں کا تیرے عفو کے سوا کوئی چارہ نہیں اور میں بھی اپنے سامنے محرومی کے اسباب
بَیْنَ یَدَیَّ فَأَنَا أَسْأَلُکَ مَا لاَ أَسْتَحِقُّهُ وَأَدْعُوکَ مَا لاَ أَسْتَوْجِبُهُ وَأَتَضَرَّعُ
دیکھ رہا ہوں پس میں تجھ سے وہ مانگتا ہوں جسکا حقدار نہیں ہوں اور اس چیز کی دعا کرتا ہوں جس کے لائق نہیں ہوں
إلَیْکَ بِما لاَ أَسْتَأْهِلُهُ وَلَمْ یَخْفَ عَلَیْکَ حالِی وَ إنْ خَفِیَ عَلَی
تیرے آگے اس چیز کیلئے نالہ کرتا ہوں جس کا سزاوار نہیں میرا حال تجھ سے پوشیدہ نہیں اگرچہ لوگوں کو میری
النَّاسِ کُنْهُ مَعْرِفَةِ أَمْرِی اَللّٰهُمَّ إنْ کانَ رِزْقِی فِی السَّمائِ فَأَهْبِطْهُ وَ إنْ کانَ فِی الْاََرْضِ
اصلی حالت کی واقفیت نہیں ہےاے معبود میرا رزق اگر آسمان میں ہے تو اسے زمین پہ اتار دے اگر وہ زمین میں ہے تو اسے ظاہر فرما دے
فَأَظْهِرْهُ وَ إنْ کانَ بَعِیداً فَقَرِّبْهُ، وَ إنْ کانَ قَرِیباً فَیَسِّرْهُ وَ إنْ کانَ قَلِیلاً فَکَثِّرْهُ وَبارِکْ لِی فِیهِ
اگر دور ہے تو اسے نزدیک کردےاگر نزدیک ہے تو اس میں آسانی پیدا کردے اور اگر تھوڑا ہے تو اسے زیادہ کردے اور میرے لئے اس میں برکت قرار دے ۔
ابلیس کا شر دور کرنے کی دعا
( ۲۲ )ابلیس کا شر دور کرنے کی دعا جو کتاب مجتنی سے منقول ہے ۔
اَللّٰهُمَّ إنَّ إبْلِیسَ عَبْدٌ مِنْ عَبِیدِکَ، یَرانِی مِنْ حَیْثُلاَ أَراهُ وَأَنْتَ تَراهُ مِنْ حَیْثُ لاَ
اے معبود یقینا ابلیس تیرے بندوں میں سے ہے وہ مجھے دیکھتا ہے جبکہ میں اسے نہیں دیکھتا اور تو اسے دیکھتا ہے جبکہ وہ تمہیںنہیں
یَراکَ وَأَنْتَ أَقْوَی عَلَی أَمْرِهِ کُلِّهِ وَهُوَ لاَ یَقْوَی عَلَی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِکَ اَللّٰهُمَّ
دیکھ سکتا تو اس کے سارے امورپر تسلط رکھتا ہے اور وہ تیرےامور میں سے کسی چیز پرقدرت نہیں رکھتا پس اے معبود
فَأَنَا أَسْتَعِینُ بِکَ عَلَیْهِ یَارَبِّ فَ إنِّی لاَ طاقَةَ لِی بِهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ لِی عَلَیْهِ إلاَّ
میں اس پر تجھ سے مدد کا طالب ہوں اے رب اس کے سامنے میرا بس نہیں چلتا اس کے خلاف میری قوت و طاقت تیرے ہی
بِکَ یَارَبِّ اَللّٰهُمَّ إنْ أَرادَنِی فَأَرِدْهُ وَ إنْ کادَنِی فَکِدْه
ساتھ ہے اے رب اے معبود اگر وہ میرے لئے برا قصد کرے تواسکا قصدکر اگر وہ مجھ سے فریب کرے تو بھی اسے
وَاکْفِنِی شَرَّهُ وَاجْعَلْ کَیْدَهُ فِی نَحْرِهِ بِرَحْمَتِکَیَا أَرْحَمَ
فریب میں ڈال مجھے اسکے شر سے بچا اور اس کی سازشوں کو اسی کے گلے میں ڈال دے واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ
الرَّاحِمِینَ، وَصَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِینَ
رحم والے اور اے خدارحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کی پاک اولادعليهالسلام پر
زندہ دل ہوجانے کی دعا
(۲۳) کتاب مجتنی ہی میں مذکور ہے کہ ایک شخص نے حضرت رسول ﷲ کو خواب میں دیکھا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے درخواست کی کہ مجھے ایسی دعا تعلیم فرمائیے کہ جس سے میرا دل زندہ ہو جائے پس حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے یہ کلمات تعلیم فرمائے :
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ یَا لاَ إلهَ إلاَّ أَنْت أَسْأَلُکَ أَنْ تُحْیِیَ قَلْبِی اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے زندہ اے پائندہ اے وہ کہ نہیں معبود سوائے تیرے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے دل کو زندہ کردے اےمعبود رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمد پر ۔
وہ شخص بیان کرتا ہے کہ میں نے یہ کلمات تین مرتبہ کہے تو ﷲ تعالی نے میرے دل کو زندہ کردیا ۔
ناگہانی موت سے بچنے کی دعا
(۲۴)رسول ﷲ سے منقول ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ اس کی موت میں تاخیر ہو جائے ،اسے دشمنوں پر غلبہ حاصل ہو اور ناگہانی موت سے بچارہے تو وہ آغاز صبح اور آغاز شام کے وقت تین تین مرتبہ یہ دعا پڑھا کرے :
سُبْحانَ ﷲ مِلْئَ الْمِیزانِ وَمُنْتَهَی الْحِلْمِ وَمَبْلَغَ الرِّضا وَزِنَةَ الْعَرْشِ
پاک تر ہے ﷲ میزان کے اندازے کے مطابق بردباری کی انتہا تک رضا کی رسائی تک اور عرش کے وزن تک
قرضے کی ادائیگی کیلئے دعا
(۲۵) سید سعید علی بن فضل ﷲ حسینی راوندی کی کتاب ’’نثرا للئا لی ‘‘ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت عیسی - سے اپنے مقروض ہو نے کی شکایت کی تو آنجنابعليهالسلام نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّٰهُمَّ یَا فارِجَ الْهَمِّ وَمُنَفِّسَ الْغَمِّ وَمُذْهِبَ الْاََحْزانِ، وَمُجِیبَ
اے معبود اے اندوہ ہٹانے والے اے غم کے دوفر کرنے والے اور اے رنج وغم کے مٹا دینے والے اے
دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ یَا رَحْمٰنَ الدُّنْیا وَالآخِرَةِ وَرَحِیمَهُما، أَنْتَ رَحْمانِی
ناچاروں کی دعائیں قبول کرنے والےاے دنیا وآخرت میں رحم کرنے والے اور دونوں میں مہربان تو مجھ پر رحم
وَرَحْمٰنُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ فَارْحَمْنِی رَحْمَةً تُغْنِینِی بِها عَنْ
کرنے والا اورہر چیز پر رحمت کرنے والا ہے پس مجھ پر ایسی رحمت عطا فرما کہ جس سے تو مجھے اپنے غیر کی
رَحْمَةِ مَنْ سِواکَ وَتَقْضِی بِها عَنِّی الدَّیْنَ
رحمت سے بے نیاز کردے اور اسکے ذریعے میرا قرض ادا کردے ۔
پس اگر زمین کے ہم وزن سونے جتنا قرضہ بھی ہو تو خدا ئے تعالی اسے ادا کردے گا۔
(چھٹا باب)
بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص اور دیگر دعائیں اور اعمال۔
یہ باب چالیس امور پر مشتمل ہے :
(پہلا امر)
شیخ کلینی نے کافی میں امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ جوشخص سونے سے پہلے سورہ ہائے مسبحات یعنی سورہ حدید‘ حشر‘صف ‘جمعہ‘ تغابن اور اعلی کی تلاوت کرکے سوئے تو وہ حضرت امام العصر - کی زیارت سے مشرف ہوئے بغیر نہیں مرے گا اور بغیر زیارت کئے مر جائے تو وہ حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جوار میں رہے گا۔
(دوسرا امر)
اسی کتاب میں ہے کہ رسول ﷲ نے فرمایا جو شخص سورہ بقرہ کی پہلی چار آیات آیۃ الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیات اور سورہ بقرہ کی آخری تین آیات تلاوت کیا کرے تو وہ اپنی جان و مال میں ایسی کوئی بات نہیںدیکھے گا جو اسے ناگوار گزرے شیطان اس کے قریب نہ پھٹکے گا اور نہ قرآن کو فراموش کرے گا۔
(تیسرا امر)
شیخ کلینیرحمهالله نے امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ جو شخص سورہ قدر کو بآواز بلند پڑھے گا وہ ایسے ہوگا جیسے بے نیام تلوار سے راہ خدا میں جہاد کررہا ہو جو اس سورت کو آہستہ سے پڑھے گا وہ ایسے ہو گا جیسے راہ خدا میں اپنے خون میں ڈوبا ہوا ہو۔ نیزجو شخص اس سورت کو دس مرتبہ پڑھے گا تو ﷲ تعالی اس کے گناہوں میں سے ایک ہزار گناہ مٹا دے گا۔
(چوتھا امر)
شیخ کلینی نے بھی امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا .میرے والد گرامی فرمایا کرتے تھے کہ سورہ اخلاص قرآن کا تیسرا حصہ ہے اور سورہ کافرون قرآن کا چوتھا حصہ ہے ۔
(پانچواں امر)
امام موسی کاظم - سے منقول ہے کہ جو شخص آیتہ الکرسی پڑھ کر سوئے تو فالج کے حملے سے محفوظ رہے گاانشائ ﷲ اور جو شخص اسے ہر فریضہ نماز کے بعد پڑھے تو زہریلا حیوان اس تک نہ پہنچ سکے گانیز فرمایا کہ جو شخص سورہ اخلاص کو اپنے اور ظالم شخص کے درمیان پڑھے گا تو حق تعالی اسے اس کے شر سے محفوظ رکھے گااس سورہ کو اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں پڑھے اور پھر اس ظالم و جابر کے سامنے جائے تو ﷲ تعالی اسے اس کی طرف سے اچھائی دکھائے گااور اس کی برائی سے بچائے گا‘یہ بھی فرمایا کہ جب تمہیں کسی بات کا خطرہ ہو تو قرآن مجید کی کوئی سی سو آیات پڑھو اور پھر تین مرتبہ کہو:
اکْشِفْ عَنِّی الْبَلائَ
اے معبود میری مصیبت دور کر دے
(چھٹا امر)
شیخ کلینی نے امام جعفرصادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا جو شخص خدا اورروز قیامت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہر فریضہ نماز کے بعد سورہ اخلاص کا پڑھنا ترک نہ کرے جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد اس سورے کو پڑھے تو خدائے تعالیٰ اس کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی جمع کر دے گا اور اس کو اس کے والدین اور اس کی اولاد کو بخش دے گا۔
(ساتواں امر)
آپعليهالسلام ہی سے روایت ہے کہ جو شخص سوتے وقت سورہ تکاثر کی تلاوت کرے گا وہ عذاب قبر سے محفوظ و مامون رہے گا ۔
(آٹھواں امر)
آپعليهالسلام ہی سے روایت ہے کہ اگر مردہ پر ستر مرتبہ سورہ حمد پڑھی جائے اور اس کی روح پلٹ آئے تو تعجب نہیں کرنا چاہیے
(نواں امر)
امام موسیٰ کاظم - سے روایت ہے کہ بچے پر ہر رات تین مرتبہ سورہ فلق تین مرتبہ سورہ والناس اور سو مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے اگر سورہ توحید سو مرتبہ نہ پڑھی جاسکے تو پچاس مرتبہ پڑھے اور اگر اس امر کی پابندی کی جائے تو وہ بچہ مرتے دم تک ہر قسم کی آفات سے امن میں رہے گا۔
(دسواں امر)
شیخ کلینی ہی نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليهالسلام نے مفضل سے فرمایا اے مفضل تم خود کو تمام لوگوں سے بچائے رکھو بسم ﷲ الرحمن الرحیم اور سورہ توحید کے ساتھ وہ یوں کہ تم یہ سورہ پڑھ کر اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے دم کر لیا کرو جب تم کسی جابر حاکم کے پاس جاؤ تو اسے دیکھتے ہی بائیں ہاتھ پر شمار کرتے ہوئے تین مرتبہ یہ سورہ پڑھو اور جب تک تم اس کے پاس رہو اپنے بائیں ہاتھ کی مٹھی کو بند رکھو جب باہر آ جاؤ تو اسے کھول دو بعض نے کہا ہے کہ جب تک اس کے پاس رہو یہ سورہ پڑھتے رہو ۔
(گیارہوں امر)
ایک حدیث میں حضرت امیر المؤمنین- سے منقول ہے کہ آگ میں جلنے اور پانی میں ڈوبنے سے محفوظ رہنے کے لیے یہ دعا پڑھے:
ﷲ الَّذِی نَزَّلَ الْکِتابَ وَهُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ وَمَا قَدَرُوا ﷲ حَقَّ قَدَرِهِ وَالْاََرْضُ جَمِیعاً
وہی ﷲ ہے جس نے قرآن نازل کی وہ نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے لوگوں نے خدا کی وہ قدر نہیں کی جو اسکا حق ہے ساری زمین اسکے قبضہ
قَبْضَتُهُ یَوْمَ الْقِیامَةِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّات بِیَمِینِهِ سُبْحانَهُ وَتَعال عَمَّا یُشْرِکُون
قدرت میں ہے روز قیامت اور آسمان بھی لپیٹے ہوئے اسکے دست قدرت میں ہیںوہ پاک و بلند ہے اس سے جسے اسکا شریک بناتے ہیں ۔
(سر کش گھوڑے کو مطیع کرنے کیلئے اس کے دائیں کان میں کہے:)
وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ طَوْعاً وَکَرْهاً وَ إلَیْهِ یُرْجَعُونَ
اور خدا کے سامنے جھکے ہوئے ہیں وہ سبھی جو آسمانوں اور زمین میں ہیںچارو ناچار اور اس کی طرف پلٹ جائیں گے۔
(درندوں کی سرزمین میں ان کی گزند سے بچنے کے لیے یہ پڑھے:)
لقد جَاءَکُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ
یقینا تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم آ چکا ہے کہ تم پر آنے والی سختی اسے ناگوار ہے وہ تمہیں
عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِینَ رَؤُوفٌ رَحِیمٌ، فَ إنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ
بہت چاہتا ہے مومنوں کیلئے نرم خو مہربان ہے پس اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہو کہ مجھے کافی ہے
ﷲ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ
ﷲ مگر نہیں معبود مگر وہی میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ عظمت والے عرش کا مالک ہے ۔
(گمشدہ بازیابی کے لیے دو رکعت نماز میں سورہ یٰسین پڑھے اور بعد میں یہ کہے:)
یَا هادِیَ الضَّالَّةِ رُدَّ عَلَیَّ ضالَّتِی
اے گمراہوں کو ہدایت دینے والے میری گمشدہ چیز مجھے لا دے ۔
(بھاگے ہوئے غلام کی واپسی کیلیے پڑھے:)
أَوْ کَظُلُمَاتٍ فِی بَحْرٍ لُجِّیٍّ یَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْج الی قول عز وجل
یا جیسے گہرے سمندر میں تاریکیاں کہ ا نہیں ڈھانپتی ہے پانی کی ایک کے بعد دوسری لہر
وَمَنْ لَمْ یَجْعَلِ ﷲ لَهُ نُوراً فَمَا لَهُ مِنْ نُور
اور جسے خدا نور عطا نہ کرے تو اس کے لیے کوئی نور نہیں ہوتا۔
(چور سے بچنے کے لیے بستر پر سوتے وقت پڑھے:)
قُلْ ادْعُوا ﷲ أَوِ ادْعُو الرَّحْمٰنَ تا وَکَبِّرْهُ تَکْبِیراً
کہہ دو کہ ﷲ کو پکارو یا رحمن کو پکارو اوراس کی بہت بڑائی کرو
(بارھواں امر)
شیخ کلینی نے امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایاسورہ زلزال کے پڑھنے میں تنگی محسوس نہ کرو کیونکہ جو شخص اسے نوافل میں پڑھے تو حق تعالی اسے زلزلے سے نقصان نہ پہنچنے دے گا۔ اور وہ مرتے دم تک زلزلے‘بجلی اور ہر قسم کی آفا ت سے محفوظ رہے گانیز اس شخص کی موت کے وقت ایک خوش جمال فرشتہ اس کے پاس آئے گاجو اس کے سرہانے بیٹھے گااور ملک الموت سے کہے گااے ملک الموت ﷲ تعالیٰ کے اس دوست کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرو تاآخر روایت کہ مذکور ہے ۔اس وقت اس شخص کی آنکھوں سے پردے ہٹائے جائیں گے اور وہ جنت میں اپنی منزلوں کو دیکھ لے گا پھر بڑی سہولت کے ساتھ اس کی روح قبض کی جائے گی۔ سترہزار فرشتے اس کے جنازے کے پیچھے چلیں گے اور اسے سیدھا جنت میں لے جائیں گے ۔
(تیرھواں امر)
شیخ کلینی نے ہی امام محمدباقر - سے روایت کی ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایاسورہ ملک ’’سورہ مانعہ ‘‘ ہے یعنی عذاب قبر کو روکتی ہے ۔
(چودھواں امر)
آنجنابعليهالسلام ہی سے روایت ہے کہ قرآن مجید کا ایک نسخہ دریا میں گر گیا اور جب اسے وہاں سے نکالا گیا تو اس کے تمام کلمات میں سے صرف یہ جملہ باقی تھا۔
أَلا إلَی ﷲ تَصِیرُ الْاَُمُور
خبر دار ہو کہ تمام معاملوں کی بازگشت ﷲ کی طرف ہے ۔
(پندرھواں امر)
شیخ کلینی نے زرارہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا ماہ رمضان کی دوسری تہائی میں قرآن کو کھول کر اپنے آگے رکھے اور پھر یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِکِتابِک الْمُنْزَلِ وَمَا فِیهِ وَفِیهِ اسْمُکَ الْاََعْظَمُ الْاََکْبَرُ وَأَسْمَاؤُکَ
اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بواسطہ تیری نازل کردہ کتاب کے اور جو اس میں ہے اس میں تیرا سب سے عظیم سب سے بڑا نام ہے
الْحُسْنَی وَمَا یُخافُ وَیُرْجَی أَنْ تَجْعَلَنِی مِنْ عُتَقائِکَ مِنَ النَّارِ
اور تیرے اچھے اچھے نام ہیں وہ چیز بھی جس سے خوف وامید ہے میرا سوال ہے کہ تو مجھے اپنے جہنم سے آزاد کردہ لوگوں میں رکھ۔
اس کے بعد خدا سے اپنی دیگر حاجات طلب کرے۔
(سولھواں امر)
شیخ کفعمی مصباح میں اور محدث فیض خلاصۃ الاذکار میں فرماتے ہیں میں نے بعض کتب امامیہ میں دیکھا ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ خواب میں پیغمبر یاامامعليهالسلام کی زیارت کرے یا اپنے کسی رشتہ دار یا اپنے والدین کو خواب میں دیکھے تو وہ باوضو ہو کر اپنے بستر پر دائیں پہلو پر لیٹے اور سورہ ہائے شمس‘لیل‘قدر‘کافرون‘ اخلاص‘ فلق اور والناس کی تلاوت کرنے کے بعد سومرتبہ سورہ اخلاص پڑھے اور سو مرتبہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پردرود بھیجے اور پھر دائیں پہلو سوجائے تو جس کا بھی ارادہ کیا ہو گاانشائ ﷲ اسے خواب میں دیکھے گااور اس سے جو بات کرناچاہے وہ بھی کر پائے گا ایک اور نسخے میں دیکھا گیا ہے کہ یہ عمل سات راتوں تک بجا لائے اور مذکورہ سورتیں پڑھنے سے قبل یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لاَ یُوصَفُ وَالْاِیمانُ یُعْرَفُ
اے معبود تو وہ زندہ ہے جسکا وصف بیان نہیں ہو سکتا وہی جس سے ایمان کی معرفت ہوئی تجھی سے
مِنْهُ، مِنْکَ بَدَتِ الْاََشْیائُ وَ إلَیْکَ تَعُودُ فَمَا أَقْبَلَ مِنْها
چیزوں کا آغاز ہوا اور وہ تیری طرف پلٹ جائیں گی پس جو تیری طرف آئے گا
کُنْتَ مَلْجَأَهُ وَمَنْجاهُ وَما أَدْبَرَ مِنْها لَمْ یَکُنْ لَهُ مَلْجَأٌ وَلاَ مَنْجَیً مِنْکَ إلاَّ
تو اس کو پناہ و نجات دے گا اور جو منہ پھیرے گااسکے لئے نہ تجھ سے پناہ ہے نہ نجات مگر تیری مگر تیری طرف سے
إلَیْکَ فأَسْأَلُکَ بِلا إلهَ إلاَّ أَنْتَ وأَسْأَلُکَ بِبِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ
پس میں تجھ سے سوال کرتا ہوں میرے بر حق معبود ہو نے کے واسطے سے سوال کرتا ہوں بسم ﷲ الرحمن الرحیم کے واسطے سے
وَبِحَقِّ حَبِیبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ سَیِّدِ النَّبِیِّینَ وَبِحَقِّ عَلِیٍّ خَیْرِ
اور تیرے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی ﷲعلیہ وآلہ کے حق کے واسطے سے جو نبیوں کے سردار ہیں اور اوصیا میں
الْوَصِیِّینَ وَبِحَقِّ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ وَبِحَقِّ الحَسَنِ
بہترحضرت علیعليهالسلام کے حق کے واسطے سے تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہعليهالسلام کے حق اور حسنعليهالسلام
وَالحُسَیْنِ اللَّذَیْنِ جَعَلْتَهُما سَیِّدَیْ شَبابِ أهْلِ الجَنَّةِ عَلَیْهِمْ
و حسینعليهالسلام کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ دونوں کو تو نے جوانان جنت کاسردار قرار دیا ہے ان سب
أجْمَعِینَ اَلسَّلَامُ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تُرِیَنِی مَیِّتِی فِی
پر درود و سلام ہو کہ تو رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور یہ کہ مجھے دکھا دے میرا فلاں مردہ
الْحالِ الَّتِی هُوَ فِیها
اس حال میں کہ جس میں وہ ہے ۔
(سترھواں امر)
خلاصۃ الاذکار میں ہے بعض کتب میں منقول ہے کہ میں نے محمد بن جریرطبری کی کتاب آداب الحمیدہ میں دیکھا ہے کہ حارث بن روح اپنے والد سے ناقل ہیں کہ میرے والد نے اپنی اولاد سے فرمایاکہ جب کوئی معاملہ تمہیں غمزدہ کرے تو تم میں سے ہرشخص اس طرح رات بسر کرے کہ پاکیزہ ہو کر پاک صاف بستر میں اپنی بیوی سے الگ ہو کے سوئے اور سوتے وقت سات مرتبہ سورہ شمس اور سات مرتبہ سورہ لیل پڑھے اور پھر کہے :
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِی مِنْ أَمْرِی هذَا فَرَجاً وَمَخْرَجاً
اے معبود تو میرے لئے اس معاملے کے سلجھانے اور اس سے نکلنے کا راستہ بنا دے۔
چنانچہ جب کوئی شخص یہ عمل کرے گاتو اسی شب ایک فرد خواب میں اس کے پاس آئے گا یا تیسری یا پانچویں رات اور میرا خیال ہے کہ ساتویں رات میں آنے کا بھی کہا ہے پس وہ شخص اسے اس مشکل سے نکلنے کا طریقہ بتائے گا۔
اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل
مؤلف کہتے ہیں بعض بزرگوں نے سورہ والضحی اور سورہ الم نشرح کے پڑھنے کا بھی ذکر کیا ہے ۔جواہر المنثورہ میں ہے کہ جو شخص اپنا مدعا خواب میں دیکھنا چاہے تو وہ سوتے وقت سات سات مرتبہ یہ سورتیں پڑھے’’ سورہ شمس‘ واللیل‘ والتین‘اخلاص‘ فلق‘ والناس ‘‘ پھر حالت وضو میں پاک لباس میں پاک جگہ پر قبلہ رخ ہو کر دائیں پہلو پر لیٹے جیسے میت کو قبر میں لٹایا جاتا ہے اس کے ساتھ ہی اپنے مقصد کے حصول کی نیت کرکے سو جائے اگر پہلی رات کوئی صورت نظر نہ آئے تو اس کے بعد کی راتوں میں ضرور نظر آجائے گی اور سات راتوں سے زیادہ وقت نہیں لگے گا نیز کہا جاتا ہے کہ یہ عمل مجرب ہے ۔
(اٹھارواں امر)
خلاصۃ الاذکار میں فاطمہ الزہرا = سے روایت ہے کہ میں سونے کے لئے بستر بچھا رہی تھی کہ میرے والد گرامی محمد مصطفی تشریف لائے اور فرمایا اے فاطمہعليهالسلام اس وقت تک نہ سوناجب تک چار عمل بجا نہ لاؤ ( ۱ )قرآن مجید کا ختم کرلو ( ۲ )انبیائ کو اپنا شفیع بنا لو ( ۳ )مومنین کو خود سے راضی کر لو۔
( ۴ )حج اور عمرہ کو بجا لاؤ۔
اس ارشاد کے بعد آنحضرت نماز میں مشغول ہو گئے پس میں نے نما ز سے آپ کے فارغ ہو نے کا انتظار کیا اور جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ نے چار چیزوں کا حکم دیا ہے لیکن یہ تو میرے بس سے باہر ہے کہ اسی وقت ان سب چیزوں کو بجا لاؤ؟تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا جب تم تین مرتبہ سورہ توحید پڑھو گی تو گویا قرآن ختم کیا‘جب مجھ پر اور مجھ سے پہلے انبیاعليهالسلام ئ پر صلوات بھیجو گی تو ہم سبھی انبیاعليهالسلام قیامت میں تمہارے شفیع بن جائیں گے جب تمام مؤمنین کے لئے مغفرت طلب کرو گی تو سب تم سے راضی ہو جائیں گے اور جب
سُبْحانَ ﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلاَ إلهَ إلاَّ ﷲ، وَﷲ أَکْبَرُ
پاک ہے ﷲ تو حمد ﷲ ہی کیلئے نہیں کوئی معبود مگر ﷲ اور جب ﷲ بزرگ تر ہے۔
کہو گی تو حج و عمرہ بجا لاؤ گی ۔
مؤلف کہتے ہیں کفعمی نے روایت نقل کی ہے کہ جو شخص سوتے وقت تین مرتبہ
یَفْعَلُ ﷲ مَا یَشائُ بِقُدْرَتِهِ وَیَحْکُمُ مَا یُرِیدُ بِعِزَّتِهِ
خدا جو چاہتا ہے اپنی قدرت سے انجام دیتا ہے اور جو ارادہ ہو اپنی عزت سے اس کا حکم جاری کرتا ہے۔
کہے گا تو وہ ایسا ہی ہے جیسے ایک ہزار رکعت نماز ادا کی ہو ۔
(انیسواں امر)
خلاصۃ الاذکار ہی میں مذکور ہے کہ وقت مطالعہ یہ دعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ أَخْرِجْنِی مِنْ ظُلُماتِ الْوَهْمِ وَأَکرِمْنِی بِنُورِ الْفَهْمِ اَللّٰهُمَّ
اے معبودتو مجھ کو وہم کی تاریکیوں سے نکال اور عقل و فہم کے نور سے مجھے شرف عطا فرمااے معبود تو
افْتَحْ عَلَیْنا أَبْوابَ رَحْمَتِکَ، وَانْشُرْ عَلَیْنا خَزایِنَ عُلُومِکَ
ہمارے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور اپنے علوم کے خزانے ہم پر نچھاور کردے اپنی
بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
رحمت کے ساتھ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
(بیسوا ں امر)
روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت امام محمد تقی - کی خدمت میں عریضہ بھیجاکہ میں بہت مقروض ہو گیا ہوں آنجنابعليهالسلام نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کرو اور اپنی زبان کو سورہ انا انزلنا ہ کی تلاوت کے ساتھ ہمیشہ تر رکھو۔
(اکیسواں امر)
ایک حدیث میں وارد ہے کہ مفضل نے امام جعفر صادق - کی خدمت میں سانس پھولنے کی شکایت کی اور بتایا کہ میں تھوڑی دور تک چلتاہوں تو سانس رکنے لگتی ہے اور میں دم لینے کو بیٹھ جاتا ہوں حضرتعليهالسلام نے فرمایا کہ تم اونٹ کا پیشاب پیو تو یہ تکلیف دور ہو جائیگی ایک اور حدیث میں ہے۔
کہ کسی شخص نے آنجنابعليهالسلام سے کھانسی کی شکایت کی تو آپعليهالسلام نے فرمایا کہ انجدان رومی اور اس کے ہم وزن مصری لے کر ان کا سفوف بنالو اور ایک دوروز تک اسے کھاؤ اس شخص کا کہنا ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا تو کھانسی دور ہو گئی
(بائیسواں امر)
امیر المؤمنین- سے منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ کا ایک شہر سے گزر ہوا جس کے تمام باشندوں کا رنگ زرد اور آنکھیں نیلی ہو چکی تھیں انہوں نے آپعليهالسلام سے بہت سی بیماریوں کی شکایت کی تو آپعليهالسلام نے فرمایاتم گوشت کو دھوے بغیر پکاتے ہو جب کہ کوئی بھی جانور اس دنیا سے نہیں جاتا جو حالت جنابت میں نہ ہو یہ سن کر ان لوگوں نے گوشت کو دھو کر پکانا شروع کر دیا اور ان کی تمام بیماریاں جاتی رہیں حضرت عیسٰی- ایک اورشہر سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں کے لوگوں کے دانت گر چکے تھے اور چہرے سوجے ہوئے تھے آپعليهالسلام نے ان سے فرمایا کہ تم سوتے وقت ایک مرتبہ اپنا منہ کھول کے پھر اسے بند کر کے سویا کرو پس انہوں نے ایسا کرنا شروع کر دیا اور ان کی یہ بیماری دور ہو گئی ۔
( تیئسواں امر )
امام محمد باقر - سے منقول ہے کہ جب تم کسی مصیبت زدہ کو دیکھو تو نہایت دھیمی آواز میں جسے وہ سن نہ سکے تین مرتبہ کہو :
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی عافانِی مِمَّا ابْتَلاکَ بِهِ وَلَوْ شائَ فَعَلَ
حمد ہے اس ﷲ کیلئے جس نے مجھے بچایا جس میں تجھے مبتلا کیا اگر وہ چاہتا تو ایسا کر دیتا۔
جو ایسا کرے وہ اس بلائ میں مبتلا نہ ہوگا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ نہایت دھیمی آواز میں جسے وہ سن نہ سکے تین مرتبہ یہ کہو:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی عافانِی مِمَّا ابْتَلاکَ بِهِ وَفَضَّلَنِی عَلَیْکَ وَعَلَی کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقَ
حمد اس ﷲ کیلئے جس نے مجھے بچایا جس نے تجھے مبتلا کیا اور مجھے تجھ پر اور اپنی بہت سی مخلوق پر بڑھائی دی ہے
(چوبیسواں امر)
امام جعفر صادق - کا ارشاد ہے کہ جب تمہاری زوجہ حاملہ ہو اور حمل پر چار مہینے گزر چکے ہوں تو اپنا منہ قبلہ رخ کر کے آیۃ الکرسی پڑھو اور پھر اس کے پہلو پر ہاتھ رکھ کر کہواَللّٰهُمَّ اِنِّی سَمْیِتَه، مُحَمَّد یعنی (اے معبود میں نے اس بچے کا نام محمد رکھا ہے) پس جو شخص بھی یہ عمل کرے گا ﷲ تعالی اسے بیٹا عطا فرمائے گا اگر وہ اس کا نام محمد رکھے گا تو وہ بچہ بڑا مبارک ہو گا اور اگر یہ نام نہیں رکھے گا تو خدا چاہے تو یہ بچہ اس سے لے لے گا اور چاہے تو اس کے پاس رہنے دے گا ۔
( پچیسواں امر)
روایت ہوئی ہے کہ عقیقہ کی بھیڑ بکری مینڈھا یا بکرا ذبح کرتے وقت یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله اَللّٰهُمَّ عَقِیقَةٌ عَنْ فُلانٍ
خدا کے نام خدا کی ذات سے اے معبود یہ عقیقہ فلاں کی طرف سے ہے
فلاں کی جگہ اس بچے کانام لیں۔
لَحْمُها بِلَحْمِهِ وَدَمُها بِدَمِهِ وَعَظْمُها بِعَظْمِهِاَللّٰهُمَّ اجْعَلْها
اس کا گوشت اس کے گوشت کا اسکا خون اسکے خون کا اسکی ہڈیاں اسکی ہڈیوں کا بدلہ ہے اے معبود تو اسے
وِقائً لاَِلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ وَآلِهِ السَّلام
آل محمد کیلئے حفاظت کا ذریعہ بنا ان پر اور ان کی آل پر سلام ہو۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ یہ دعا پڑھے:
یَا قَوْمِ إنِّی بَرِیئٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ إنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لَلَّذِی فَطَرَ
اے میری قوم میں بری ہوں اس سیجسے تم خدا کا شریک بناتے ہو میں نے اپنا رخ اس کی طرف کیا
السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضَ حَنِیفاً مُسْلِماً وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ
ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا میں نرا کھرا مسلمان ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں
إنَّ صَلاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیایَ وَمَماتِی لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِینَ لاَ
ہوں یقینا میری نماز میری عبادت میری زندگی میری موت ﷲ کیلئے ہے جوجہانوں کا رب ہے جس کا
شَرِیکَ لَهُ وَبِذلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ اَللّٰهُمَّ مِنْکَ وَلَکَ بِسْمِ
کوئی شریک نہیں یہی حکم مجھے دیا گیا ہے اور میں سر جھکانے والوں میں سے ہوں اے خدا تیرے لئے اور تجھ سے ہے خدا کے
ﷲ وَبِالله وَاللّهُ أَکْبَرُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَتَقَبَّلْ مِنْ فُلانِ ابْنِ فُلان
نام خدا کے ساتھ اور ﷲ بزرگ تر ہے اے معبود رحمت نازل فرمامحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور فلاں ابن فلاں سے قبول فرما۔
(یہاں بچے کا نام بمعہ ولدیت کے لے)پھر جانور کو ذبح کرے
(عقیقہ کابیان )
علامہ مجلسی فرماتے ہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اولاد کا عقیقہ کرنا سنت موکدہ ہے ہر اس شخص پر جو اس کیلئے وسعت رکھتا ہے اور بعض علمااسے واجب جانتے ہیں بہتر ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کیا جائے اگر اس میں تاخیر ہو جائے تو بچے کے بالغ ہونے سے قبل تک تو اس کے باپ پر سنت ہے اور اس کے بعد خود اس بچے پر آخر عمر تک سنت ہے بہت سی معتبر احادیث میں وارد ہے کہ جس شخص کو اولاد عطا ہو اس پر عقیقہ واجب ہے اور اکثر حدیثوں میں منقول ہے کہ ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی ہے یعنی اگر اس کا عقیقہ نہیں کیا جائے گا تو اس کے مر جانے یا طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جو شخص مالدار ہو اس پر عقیقہ واجب ہے اور جو مفلس ہے جب مالدار ہو جائے تو عقیقہ کرلے ورنہ اس کے ذمہ کچھ نہیں ہے اگر والدین بچے کا عقیقہ نہ کریں لیکن پھر جب اس کی طرف سے قربانی کریں تو وہی کافی ہو جاتی ہے ایک اور حدیث میں مذکور ہے کہ امام جعفر صادق - سے پوچھا گیا کہ عقیقہ کے لیے جانور کی بہت تلاش کی ہے لیکن مل نہیں سکا پس آپعليهالسلام اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ اس کی قیمت صدقہ کردی جائے آپعليهالسلام نے فرمایا پھرتلاش کرو اور کہیں سے حاصل کرو کیونکہ حق تعالی خون بہانے اور کھانا کھلانے کو دوست رکھتا ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ امامعليهالسلام سے پو چھا گیا کہ جو بچہ پیدائش کے ساتویں دن مرجا ئے تو کیا اس کاعقیقہ کرنا واجب ہے؟ فرمایا کہ اگر ظہر سے پہلے فوت ہوتو نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر ظہر کے بعد فوت ہو جائے تو اس کا عقیقہ کرنا چاہیے ایک معتبر حدیث میں عمر بن یزید سے منقول ہے کہ اس نے امامعليهالسلام کی خدمت میں عرض کیا مجھے نہیں معلوم کہ میرے والد نے میرا عقیقہ کیا ہے کہ نہیں؟ آپعليهالسلام نے فرمایا تم اپنا عقیقہ خود کروپس اس نے بڑھاپے میں اپنا عقیقہ کیا حدیث حسن میں آپعليهالسلام ہی سے منقول ہے کہ ساتویں دن بچے کا نام رکھا جائے عقیقہ کیا جائے اس کا سر منڈوایا جائے اور سر کے بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کی جائے عقیقہ کے جانور کے ران اور پایے دایہ کو دیے جائیں کہ جس نے بچے کی پیدائش میں خدمت انجا م دی ہے باقی گوشت لوگوں کو کھلایا جائے اور تصدق کیا جائے ایک اور موثق حدیث میں فرماتے ہیں جب تمہارے ہاں لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو ساتویں دن اس کا عقیقہ کرواس کا نام رکھو اور اس کا سر منڈوا دو اور اسی روز اس کے سر کے بالوں کے برابر سونا چاندی صدقہ کر دوعقیقہ کا جانور گوسفند یا اونٹ ہو ایک اور حدیث میں ہے کہ عقیقہ کے گوشت کا چوتھا حصہ دایہ کو دیا جائے اگر بچہ دایہ کے بغیر پیدا ہو اہے تو وہ گوشت بچے کی ماں کو دیا جائے وہ جسے چاہے دے دے عقیقہ کا گوشت کم ازکم دس مسلمانوں کو کھلایا جائے اور اگر اس سے زیادہ ہوں تو بہتر ہے لیکن یاد رہے کہ عقیقہ کے گوشت سے خود نہ کھائے اور دایہ اگر عیسائی ہے تو اسے چوتھائی گوشت کے بدلے اس کی قیمت دے دی جائے ایک اور روایت میں ہے کہ دایہ کو عقیقہ کے گوشت کی ایک تہائی دی جائے اور علمائ کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ عقیقہ کا جانور اونٹ‘ بھیڑ یا بکری ہو نی چاہیے .امام محمد باقر - سے منقول ہے کہ حضرات حسنین شریفین کی ولادت کے وقت رسول خدا نے ان کے کانوں میں اذان دی حضرت فاطمہ الزہرا = نے ساتویں دن ان کا عقیقہ کیا اور دایہ کو اس کے پائے اور ایک اشرفی عطا کی .ضروری ہے کہ عقیقہ کا جانور اگر اونٹ ہے توپانچ سال کا یا چھٹے سال میں یا اس سے زیادہ عمر کا ہو اگر بکری ہے تو ایک سال کی یا دوسرے سال میں یا اس سے زیادہ عمر کی ہو اور اگر بھیڑ ہے تو کم از کم چھ یا سات ماہ کی ہو نی چاہیے اور سات ماہ پورے ہو چکے ہوں تو بہتر ہے نیز جانور خصی نہ ہونا چاہیے اور سینگ ٹوٹا‘ کان کٹا‘ لاغر‘ اندھا اور لولاا لنگڑا نہ ہونا چاہیے اور اگر لنگڑا ہو تو ایسا نہ کہ چل پھر نہ سکے۔یاد رہے کہ امام جعفر صادق - کے فرمان کے مطابق عقیقہ کا شمار قربانی میں نہیں ہوتا جو بھی گوسفندمل جائے بہتر ہے ‘اصل چیز تو گوشت ہے اور جانور جتنا موٹا تازہ ہو مناسب ہے علمائ میں مشہور قول یہ ہے کہ لڑکے کیلئے عقیقہ کا جانور اور لڑکی کیلئے مادہ ہونا چاہیے اور یہ حقیر مؤلف گمان کرتا ہے کہ دونوں کے لئے نرجانور ہو تو بہتر ہے اور یہ بات بہت سی معتبر حدیثوں سے مطابقت رکھتی ہے تاہم دونوں کیلئے مادہ جانور ہو نے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے سنت یہ ہے کہ بچے کے والدین عقیقہ کا گوشت نہ کھائیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ جو چیز اس میں پکائی جائے وہ بھی نہ کھائیں اور بچے کی ماں کا اس گوشت سے کھانا اشد مکروہ ہے بہتر ہے کہ بچے کے والدین خاندان جو اس گھر میں رہتے ہیں وہ بھی یہ گوشت نہ کھائیں یہ بھی سنت ہے کہ گوشت پکا کر کھلایا جائے اور کچا گوشت صدقہ میں نہ دیا جائے اس کے پکانے کی کم ازکم حد یہ کہ اسے نمک کے پانی میں پکایا جائے اور احتمال یہ ہے کہ یہی صورت بہتر ہے لیکن اگر کچا گوشت ہی تصدق کردیا جائے تو بھی بہتر ہے اگر عقیقہ کا جانور نہ مل سکے تو اس کی قیمت صدقے میں دینا بے فائدہ ہے بلکہ صبر کرناچاہیے یہاں تک کہ جانور مل جائے اور عقیقہ کر دیا جائے۔ اس میں شرط نہیں کہ جو لوگ کھانے میں آئیں وہ سب محتاج ہی ہوں بلکہ فقیروں کے ساتھ نیکوکار افراد کو بھی بلانا چاہیے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ عقیقہ کے گو شت میں اس کی ہڈیوں کو توڑنے کی کراہت ایک مشہور بات ہے اور روایت ہے
یکسر عظمها و یقطع لحمها و تصنع بها بعد الذبح ما شئت
اس کی ہڈیاں توڑ دی جائیں گوشت کاٹا جائے اور ذبح کے بعد تم جیسے چاہو گوشت تیار کرو ۔
اس کراہت کے منافی نہیں ہے ‘صاحب جواہر الکلام فرماتے ہیں کہ یہ بات جو اہل عراق میں مشہور ہے کہ عقیقہ کی ہڈیاں اکٹھی کر کے انہیں کپڑے میں لپیٹ کر دفن کرنا مستحب ہے پس مجھے اس بارے میں کوئی نص نہیں مل سکی ‘خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔
(چھبیسواں امر)
امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ بچے کے ختنے کے وقت یہ دعا پڑھی جائے اگر اس وقت نہ پڑھی جاسکے تو لڑکے کے بالغ ہونے تک جب بھی موقع ملے دعا پڑھی جائے کہ اس طرح گرم لوہے سے مرنے اور اس سے پہنچنے والی دوسری تکلیفوں سے محفوظ رہتا ہے وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ هذِهِ سُنَّتُکَ وَسُنَّةُ نَبِیِّکَ صَلَواتُکَ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَاتِّباعٌ مِنَّا لَکَ وَلِنَبِیِّکَ
اے معبود یہ تیرا طریقہ ہے اورتیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت ہے تیری رحمت ہو انصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور ان کی آلعليهالسلام پر ہماری طرف سے تیری اور تیرے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی
بِمَشِیئَتِکَ وَبِ إرادَتِکَ وَقَضائِکَ اََِمْرٍ أَرَدْتَهُ وَقَضائٍ حَتَمْتَهُ وَأَمْرٍ
اتباع ہے تیری مشیت اور تیرے ارادے اور تیر احکم بجا لانے کے لئے جس کا تو نے ارادہ کیا
أَنْفَذْتَهُ وَأَذَقْتَهُ حَرَّ الْحَدِیدِ فِی خِتانِهِ وَحِجامَتِهِ بِأَمْرٍ أَنْتَ
فیصلے کو یقینی بنایا اور حکم جاری کردیا اور اس سے لوہے کی کاٹ اورزخم کی اذیت کا ذائقہ چکھایااس حکم سے
أَعْرَفُ بِهِ مِنِّی اَللّٰهُمَّ فَطَهِّرْهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَزِدْ فِی عُمْرِهِ وَادْفَع
جسے تو مجھ سے زیادہ پہچانتاہے اے معبود پس اسے گناہوں سے پاک کر اس کی عمر میں اضافہ فرما اس
ِالْأَفاتِ عَنْ بَدَنِهِ وَالْاََوْجاعَ عَنْ جِسْمِهِ وَزِدْهُ مِنَ الْغِنَیٰ وَادْفَعْ عَنْهُ الْفَقْرَ، فَ إنَّکَ تَعْلَمُ وَلاَ نَعْلَمُ
کے بدن سے آفتیں اور دکھ درد دورکردے اس کو زیادہ مال عطا کر اور محتاجی کو اس سےدور رکھ کہ یقینا تو جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے۔
(ستائیسواں امر)
سید ابن طاؤس نے خطیب مستغفری کی کتاب ’’دعوات‘‘ اور اس نے رسول ﷲصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کیا ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا جب تم کتاب ﷲ(قرآن ) سے فال لینا چاہو تو تین مرتبہ سورہ توحید پڑھو اور اس کے بعد محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر تین مرتبہ درود بھیجو اس کے بعد یہ کہو:
اَللّٰهُمَّ إنِّی تَفَأَّلْتُ بِکِتابِکَ وَتَوَکَّلْتُ عَلَیْکَ فَأَرِنِی مِنْ کِتابِکَ مَا هُوَ مَکْتُومٌ
اے معبود میں تیری کتاب سے فال لے رہا ہوں تجھی پر میرا بھروسہ ہے پس مجھے اپنی کتاب میں سے وہ چیز دکھا جو پوشیدہ ہے تیرے چھپے
مِنْ سِرِّکَ الْمَکْنُونِ فِی غَیْبِکَ
ہوئے راز سے تیرے پردہ غیب میں ۔
اس کے بعد کہ قرآن جامع کہ جس میں تمام سورتیں اور آیتیں ہوں اسے ہاتھ میں لے کر کھولو پھر صفحہ و سطر شمار کیے بغیرداہنی طرف کی پہلی سطر سے فال لو۔یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ علامہ مجلسی نے بعض علمائ کی تالیفات میں شیخ یوسف قطیفی کے خط سے اور انہوں نے آیۃ ﷲ علامہ کے خط سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا جب تم کتاب عزیز (قرآن)سے استخارہ کرنے کا ارادہ کرو تو بسم ﷲ الرحمن الرحیم کے بعد یہ کہو:
إنْ کانَ فِی قَضائِکَ وَقَدَرِکَ أَنْ تَمُنَّ عَلَی شِیعَةِ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِمُ
الہی اگر تیرے حکم اور فیصلے میں یہ بات ہے کہ شیعیان آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر احسان فرمائے کشائش دے کر
اَلسَّلَامُ بِفَرَجِ وَلِیِّکَ وَحُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ فَأَخْرِجْ إلَیْنا آیَةً
اپنے ولی اور اپنی حجت پر جو تیری مخلوق کے لئے ہے تو ظاہر فرما ہم پر ایسی آیت
مِنْ کِتابِکَ نَسْتَدِلُّ بِها عَلَی ذلِکَ
اپنی کتاب سے جو اس پر ہماری دلیل بن جائے۔
پھر قرآن مجید کھولے اورو ہاں سے چھ صفحے شمار کرے پس ساتویں صفحے کی سطر پر نظر کرے اور اس سے مطلب اخذ کرے۔شیخ شہیدرحمهالله نے اپنی کتاب ذکریٰ میں فرمایا ہے کہ استخاروں میں سے ایک استخارہ عدد ہے جو سید کبیر رضی الدین محمد بن محمدآلاوی مجاور روضہ امیر المؤمنینعليهالسلام سے قبل مشہور نہ تھا ہم اس استخارے کو تمام روایتوں کے ساتھ اپنے مشائخ میں سے شیخ کبیر فاضل جمال الدین بن مطہر سے اور وہ اپنے واالد گرامی سے اور وہ سید رضی الدین مذکور سے اور وہ حضرت صاحب العصرعليهالسلام سے روایت کرتے ہیں کہ سورہ فاتحہ دس مرتبہ اس سے کم تین مرتبہ اور کم ازکم ایک مرتبہ اور پھر سورہ قدر دس مرتبہ پڑھے اور اس کے بعد تین مرتبہ یہ دعا پڑھے:
اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَخِیرُکَ لِعِلْمِکَ بِعاقِبَةِ الْاَُمُورِ وَأَسْتَشِیرُکَ لِحُسْنِ
اے معبود میں تجھ سے خیر طلب کرتا ہوںکہ تو معاملوں کے انجام کو جانتا ہے تجھ سے مشورہ کرتا ہوں کہ
ظَنِّی بِکَ فِی الْمَأْمُولِ وَالَْمحْذُورِ اَللّٰهُمَّ إنْ کانَ الْاََمْرُ الْفُلانِیّ مِمَّا نِیطَتْ بِالْبَرَکَةِ
امیدوں اور خطروں میں تجھ ہی سے حسن ظن ہے اے معبود فلاں کام ان کاموں میں سے ہے کہ جن کے انجام میں برکت
أَعْجازُهُ وَبَوادِیهِ وَحُفَّتْ بِالْکَرامَةِ أَیَّامُهُ وَلَیالِیهِ فَخِرْ لِی اَللّٰهُمَّ فِیهِ خِیَرَةً
ہے اور آغاز میں بھی اور اس کے دن رات نفع سے بھر پورہیں تو اے معبود تو میرے لئے اس خیر کو
تَرُدُّ شَمُوسَهُ ذَلُولاً وَتَقْعَضُ أَیَّامَهُ سُرُوراً اَللّٰهُمَّ إمَّا أَمْرٌ فَأْتَمِرُ
اختیار کرجس سے سرکش مطیع ہو جائے اور دن خوشیوں سے بھر جائیں اے معبود اگر کرنے کا حکم ہے تو
وَ إمَّا نَهْیٌ فَأَنْتَهِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْتَخِیرُکَ بِرَحْمَتِکَ خِیَرَةً فِی عافِیَةٍ
کروں اور نہیں ہے تو رکا رہوں اے معبود میں تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں تیری رحمت سے ایسی خیر جس میں آرام ہو۔
پھر تسبیح کے کچھ دانے مٹھی میں لے کر اپنی حاجت دل میں لائے اگر مٹھی میں لئے ہوئے دانوں کی تعداد جفت ہے تو یہ ’’افعل ‘‘(اس کام کے کرنے کا حکم) اور طاق ہے تو یہ ’’لا تفعل‘‘(اس کام کے بجانہ لانے کا حکم )ہے یا اس کے برعکس کہ طاق بہتر ہے اور جفت بہتر نہیں ‘یہ استخارہ کرنے والوں کی نیت سے وابستہ ہے ۔مؤلف کہتے ہیں ’’تقعض‘‘ضاد معجمہ کے ساتھ ہے جس کے معنی ہیں لوٹ جائے پلٹ جائے اور ہم نے نمازوںکے باب میں استخارہ ذات الرقاع اور دیگر اقسام کے استخاروں کاذکر کیا ہے لہذا انکی طرف رجوع کیا جائے جانناچاہیے کہ سید ابن طاؤسرحمهالله فرماتے ہیں ان کاخلاصہ کلام یہ ہے کہ مجھے اس بار ے میں کوئی صریح حدیث نہیں ملی کہ انسان کسی اور کیلئے بھی استخارہ کرسکتا ہے؟ لیکن مجھے ایسی بہت سی احادیث میں یہ بات ضرور نظر آتی ہے کہ دعاؤں اور توسل کے دیگر ذریعوں کے ساتھ اپنے مؤمن بھائیوں کی حاجات پوری کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ روایات میں تو مؤمن بھائیوں کیلئے دعاکرنے کے اتنے فوائد بیان ہوئے ہیں کہ جن کے دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے چونکہ استخارے کا شمار بھی دعاؤں اور حاجتوں میں ہے اور جب کوئی شخص کسی سے استخارہ کرنے کو کہتا ہے تو گویااس کے سامنے اپنی حاجت پیش کر رہا ہوتا ہے اور جو استخارہ کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے لئے استخارہ کرتا ہے تاکہ اسے بتائے آیا اس میں مصلحت ہے کہ اس سے کہے یہ کام کرو یا نہ کرو وہ اسے بتانا چاہتا ہے کہ اس کام کے کرنے میں مصلحت ہے یا اس کے نہ کرنے میں مصلحت ہے پس اس بات کا تعلق استخاروں اور حاجتوں کے پورا کرنے کے ضمن میں نقل شدہ روایات سے ہے کہ علامہ مجلسیرحمهالله کا ارشاد ہے کہ سید کا کلام دوسروں کے لئے استخارہ کرنے کے جواز میں قوت سے خالی نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق عوامی ضرورتوں سے ہے خصوصا اس صورت میں جب استخارہ کرانے والے کا نائب اس چیز کا قصد کرے کہ وہ اس شخص کا نائب بن کر کہہ رہا ہے کہ اس کام کو انجام دو یا انجام نہ دو .جیسا کہ سیدرحمهالله نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے یہ استخارے کو خاص روایات و اخبار کے تحت لانے کا ایک ذریعہ ہے تاہم زیادہ احتیاط اور زیادہ بہتری اسی میں ہے کہ صاحب حاجت اپنے لئے خود استخارہ کرے کیونکہ ہمیں کوئی ایسی روایت نہیں ملی کہ جس میں استخارہ میں وکالت کو جائز قرار دیا گیا ہو اگر یہ عمل جائز یا قابل ترجیح ہوتا تو آئمہ کے اصحاب ان حضراتعليهالسلام سے اس بارہ میں ضرور پوچھتے اور اگر پوچھا گیا ہوتا تو ضرور ہم تک یہ بات پہنچ جاتی اور کم ازکم ایک ہی ایسی روایت مل جاتی ہے ماسوائے اس کے کہ مضطر اور پریشان حال قبولیت دعا کے سلسلے میں فوقیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کی دعا خلوص نیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔
(اٹھائیسواں امر)
رسول ﷲ نے فرمایاجو شخص کسی یہودی یا عیسائی مجوسی کو دیکھے وہ یہ دعاپڑھے تو ﷲتعالی اسے اور اس کافر کو جہنم میں اکٹھے نہیں کرے گا۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی فَضَّلَنِی عَلَیْکَ بِالْاِسْلامِ دِیناً وَبِالْقُرْآنِ کِتاباً وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیّاً وَبِعَلِیٍّ
حمد ہے ﷲ کے لئے جس نے مجھے تجھ پر فضیلت دی دین اسلام کے ساتھ کتاب قرآن کے ساتھ پیغمبرمحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ علیعليهالسلام ایسے امامعليهالسلام
إماما،ً وَبِالْمُؤْمِنِینَ إخْوانا وَبِالْکَعْبَةِ قِبْلَةً
کے ساتھ مومنوں کی برادری کے ساتھ اور کعبہ ایسے قبلہ کے ساتھ۔
مؤلف کہتے ہیں بہت سی آیات وروایات کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ کفار کے ساتھ محبت اور مشابہت پیدا نہ کریں اور نہ ہی ان کی روش کو اپنائیں ﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔
قَدْ کَانَ لَکُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِی إبْرَاهِیمَ وَالَّذِینَ مَعَهُ إذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إنَّا بُرَأٰٓؤُا مِنْکُمْ
جیسا کہ ﷲ تعالی کا فرمان ہے ضرور تمہارے لیے ابراہیمعليهالسلام اور ان کے ساتھیوں کے کردار میں بہترین نمونہ عمل ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ
وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ ﷲ وَبَدَا بَیْنَنا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَائُ أَبَداً
ہم تم لوگوں سے بری ہیں اور خدا کےعلاوہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اور ہمارے تمہارے درمیان ہمیشہ کی عداوت اور دشمنی ظاہر ہو چکی ہے۔
شیخ صدوقرحمهالله نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ ایک نبیعليهالسلام کی طرف یہ وحی آئی کہ اے نبی مومنوں سے کہہ دو کہ میرے دشمنوں کا جیسا لباس نہ پہنو میرے دشمنوں جیسی خوراک نہ کھاؤ اور میرے دشمنوں کی روش پر نہ چلو ورنہ تم لوگ بھی میرے دشمن تصور کیے جاؤ گے جیسے وہ میرے دشمن ہیں اسی وجہ سے بہت سی روایتوں میں مذکور ہے کہ فلاں عمل کو بجا لاؤاور خود کو کفار کے مشا بہ نہ کرومثلا وہ روایت جو حضرت رسول ﷲ سے منقول ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا مونچھیں منڈواؤ اور داڑھی بڑھاؤ بس خود کو یہود ونصاری کے مشابہ نہ بناؤ کیونکہ نصاری اپنی داڑھیوں کو منڈواتے ہیں اور مونچھوں کو بڑھاتے ہیں جب کہ ہم داڑھی کو بڑھاتے اور مونچھوں کو کٹواتے ہیں چنانچہ جب حضرت رسول ﷲ کے تبلیغی مکتوب مختلف ملکوں کے بادشاہوں کو موصول ہوئے تو کسریٰ (شاہ ایران)نے یمن میں اپنے گورنرباذان کو حکم بھیجا کہ وہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کے پاس روانہ کردے تب اس نے اپنے کاتب ۔بانویہ۔ اور ایک دوسرے شخص ۔خر۔خسک۔ کو مدینہ روانہ کیا ان دونوں نے داڑھیاں منڈوائی اور مونچھیں بڑھائی ہوئی تھیں ان کی یہ حالت آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نہایت ناگوار گزری اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انہیں دیکھنا بھی گوارا نہ کیا آپ نے ان سے فرمایا: افسوس ہے تم پر کس نے تمہیں ایسا کرنے کا حکم دیا؟ انہوں نے کہا ہمارے رب یعنی کسریٰ نے اس پر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا لیکن میرے رب (پروردگار) نے مجھے داڑھی رکھنے اور مونچھیں کاٹنے کاحکم دیا ہے نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ﷲ تعالی نے سورہ ہود میں فرمایا۔
وَلا تَرْکَنُوا إلَی الَّذیِنَ ظَلَمُوا َتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ ﷲ مِنْ أَوْلِیَائَ ثُمَّ لاَ تُنْصَرُونَ
ظالموں کی طرف میلان پیدا نہ کرو ورنہ جہنم کی آگ تمہیں لپیٹ میں لے گی اور خدا کے علاوہ تمہارا کوئی مدد گار نہ ہوگااور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے گی ۔
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا کہنا ہے کہ ظالموں کی طرف تھوڑا ساجھکاؤبھی پیدا نہ کرو چہ جا ئیکہ بہت سارا جھکاؤ پیدا کیا جائے کیونکہ اس سے جہنم کی آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی بعض مفسرین کا قول ہے کہ جس قسم کے جھکاؤ سے روکا گیا ہے وہ ظالموں کے ظلم میں شریک ہونا ان کاموں میں راضی اور ان سے محبت کااظہار کرنا ہے روایات اہل بیتعليهالسلام میں وارد ہے کہ ۔رکون۔ سے مرادان کے ساتھ محبت کرنا‘ان کی خیر خواہی اور ان کی اطاعت کرنا ہے :
(انتیسواں امر)
وہ انیس کلمات ہیں دعا مانگنے والے کی مصیبتوں کے دور ہونے کا سبب بنتے ہیں ‘یہ کلمات حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امیر المؤمنین- کو تعلیم فرمائے اور شیخ صدوقرحمهالله نے انہیں اپنی کتاب الخصال کے انیسویں باب میں ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہیں۔
یَا عِمادَ مَنْ لاَ عِمادَ لَهُ وَیَا ذُخْرَ مَنْ لاَ ذُخْرَ لَهُ وَیَا سَنَدَ مَنْ لا اَسَنَدَ لَهُ وَیَا حِرْزَ مَنْ لاَ حِرْزَ
اے اس کے سہارے ‘جس کا کوئی سہارا نہیں اے اس کی پونچی جس کی کوئی پونجی نہیں اے اسکے آسرے جس کا کوئی آسرا نہیں اے اس کی
لَهُ وَیَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَهُ وَیَا کَرِیمَ الْعَفْوِ وَیَا حَسَنَ الْبَلائِ وَیَا عَظِیمَ الرَّجائِ وَیَا
پناہ جس کی کوئی پناہ نہیں اے اس کے فریاد رس جس کا کوئی فریاد رس نہیں اے خوب معاف کرنے والے اے بہتر آزمائش کرنے والے
عِزَّ الضُّعَفائِ، وَیَا مُنْقِذَ الْغَرْقَیٰ وَیَا مُنْجِیَ الْهَلْکَیٰ یَا مُحْسِنُ یَا مُجْمِلُ
اے بڑے امید دلانے والے اےاے کمزوروں کی عزت اے ڈوبتوں کو بچانے والے اے ہلاکتوں سے بچانے والے احسان
یَا مُنْعِمُ یَا مُفْضِلُ أَنْتَ الَّذِی سَجَدَ لَکَ سَوادُ اللَّیْلِ وَنُورُ النَّهارِ، وَضَوْئُ
کرنے والے اے خوش رفتار اے نعمت دینے والے اے عطا کرنے والے تو وہ ہے جسے سجدہ کرتے ہیں رات کی سیاہی دن کی روشنی ،چاند
الْقَمَرِ وَشُعاعُ الشَّمْسِ وَدَوِیُّ الْمائِ وَحَفِیفُ الشَّجَرِ یَاﷲ یَا ﷲ یَا ﷲ أَنْتَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ
کی چاندنی، سورج کی شعاعیں، پانی کیلہریں اور درختوں کی حرکت یا ﷲ یا ﷲیا ﷲ تو ہی یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے
پھر کہے:
اَللّٰهُمَّ افْعَلْ بِی کَذا وَکَذا
اے معبود میری یہ اور یہ حاجت پوری فرما۔
(دعا میں کذا کذا کی بجائے اپنی حاجات بیان کرے)۔
ابھی وہ شخض اپنی جگہ سے اٹھا نہ ہو گا کہ دعا قبول ہو چکی ہوگی انشائ ﷲ:
(تیسواں امر)
شیخ کفعمی نے مفاتیح الغیب سے نقل کیا ہے کہ جو شخص اپنے گھر کے دروازے پر لفظ’’بسم ﷲ‘‘ لکھے وہ ہلاکتوں سے محفوظ رہے گاخواہ وہ کافر ہی ۔ہو کہا جاتا ہے کہ ﷲ تعالی نے فرعون کو اس لئے جلد ہلاک نہیں کیا اور اس کے دعویٰ ربوبیت کے باوجود اسے مہلت دی کہ اس نے اپنے محل کے بیرونی دروازے پر ’’بسم ﷲ‘‘ لکھی ہوئی تھی جب حضرت موسیٰٰ - نے اس کی ہلاکت کے لئے دعا کی تو ﷲ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے موسیعليهالسلام تم اس کے محل کو دیکھ رہے ہو اور میں اس کے دروازے پر نوشتے کو دیکھ رہا ہوں ۔
(اکتیسواں امر)
شیخ ابن فہد نے روایت کی ہے کہ ایک روز ابو دردائ کو بتایاگیا کہ تمہارا گھر جل گیا ہے اس نے کہا وہ نہیں جلا پھر ایک شخص نے بھی آکر یہی کہا اور اس نے وہی جواب دیا۔پھر ایک تیسرا شخص آیااور اس نے بھی گھر جلنے کی خبر دی لیکن ابو دردائ نے وہی جواب دیا بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے گھر کے اطراف میں سب گھر جل چکے تھے لیکن اس کا گھر محفوظ رہ گیا تھا لوگوں نے پوچھا تمہیں کہاں سے پتہ چلا کہ تمہاراگھر نہیں جلا؟ اس نے کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے حضرت رسول ﷲ سے سنا ہے کہ جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے گا تو دن میں اس کا اور اگر شام کو پڑھے گا تو رات کو اس کا کوئی نقصان نہیں ہو گااور میں آج صبح کو یہ دعا پڑھ چکا تھا:
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّی لا إلهَ إلاَّ أَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ وَلاَ
اے معبود تو میرا رب ہے نہیں کوئی معبود مگر تو ہے میںتجھ پربھروسہ کرتا ہوں توعظمت والے عرش کا مالک ہے نہیں ہے
حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّبِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ مَا شائَ ﷲ کانَ وَما لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ أَعْلَمُ أَنَّ ﷲ
طاقتت وقوت مگر جو بلند و بزرگ خدا سے ہے خدا جو چاہے ہو جاتا ہے اور جووہ نہ چاہے نہیں ہوتا میں جانتا ہوں
عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ وَأَنَّ ﷲ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْماً اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ
کہ ﷲ ہر چیز پر قادر ہےاور یقینا ﷲ کے علم نے ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے اے معبود میں تیری پناہ لیتا ہوں
شَرِّ نَفْسِی وَمِنْ شَرِّ قَضائِ السُّوئِ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ، وَ مِنْ شَرِّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ
اپنے نفس کے شر سے ہر بری شی کے شر سے ہر شریر کے شر سے جنوں اور انسانوں کے شر سے اور
وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِناصِیَتِها إنَّ رَبِّی عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ
ہرحیوان کے شر سے کہ جس کی مہار تیرے ہاتھ میں ہے یقینا میرا رب سیدھے راستے پر ملتا ہے ۔
(بتیسواں امر)
شیخ کلینیرحمهالله اور دیگر بزرگان نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ آپعليهالسلام نے زرارہ کو یہ دعا تعلیم فرمائی کہ ہمارے شیعہ امام العصرعليهالسلام کی غیبت میں اور پھر ان کی کشائش کے وقت یہ دعا پڑھا کریں:
اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ أَعْرِفْ
اے معبود تو مجھے اپنی معرفت عطا کر کہ یقینا اگر تو نے مجھے اپنی معرفت عطا نہ فرمائی تو میں تیرے نبی کو نہ پہچان
نَبِیَّکَ اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَکَ، فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ
پاؤ نگا اے معبود مجھے اپنے رسول کی معرفت عطاکر کہ یقینا اگر تو نے مجھے اپنے رسول کی معرفت نہ کرائی
لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَک اَللّٰهُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَ إنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی
تو میں تیری حجتعليهالسلام کو نہ پہچان پاؤنگااے معبود مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا کر کہ اگر تو نے مجھے اپنی حجت
حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِینِی
کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین سے گمرا ہ ہو جاؤں گا۔
(تینتیسواں امر)
کتاب:عدۃ الداعی میں ہے کہ امیر المؤمنین- سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو اپنادایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھے اور یہ کہے:
بِسْمِ ﷲ وَضَعْتُ جَنْبِی لِلّٰهِ، عَلَی مِلَّةِ إبْراهِیمَ وَدِینِ مُحَمَّدٍ
ﷲ کے نام سے میں نے اپنا پہلو ﷲ کے لئے رکھ دیا ہے ملت ابراہیم اور حضرت محمد صلی ﷲ
صلی ﷲ علیه وآله وسلم وَوِلایَةِ مَنِ افْتَرَضﷲ طاعَتَهُ مَا شَائَ ﷲکانَ وَما لَمْ
علیہ وآلہ وسلم کے دین پراور ان کی ولایت پرجن کی اطاعت ﷲ نے واجب ٹھہرائی ہے جو ﷲ چاہے ہو جاتا ہے اور جو وہ نہ چاہے
یَشَأْ لَمْ یَکُنْ
نہیں ہوتا۔
پس جو شخص سوتے وقت اس دعا کو پڑھے ﷲ تعالی اسے چور ڈاکو اور چھت تلے دبنے سے محفوظ رکھے گااور فرشتے اس کے لئے مغفرت طلب کریں گے۔
(چونتیسواں امر)
کتاب عدۃ الداعی میں ہے کہ ہر وہ چیز جو پوشیدہ طور پر استعمال کیلئے رکھی گئی ہے اس پر سورہ قدر کاپڑھنااسے ہر طرح سے محفوظ رکھتا ہے اور یہ بات آنجناب ہی سے روایت ہوئی ہے:
(پینتیسواں امر)
امیر المؤمنین- سے منقول ہے کہ جوشخص قرآن مجید میں سے کوئی سی سو آیات پڑھے پھر سات مرتبہ یا ﷲ کہے تو اگر وہ یہ عمل کسی پتھر پر بھی کرے گاتو اسے حق تعالی توڑ دے گا۔
(چھیتسواں امر)
امیرالمومنین- ہی سے منقول ہے کہ جو شخص سوتے وقت تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے گا تو ﷲ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لیے پچاس ہزار فرشتے بھیجے گا جو رات بھر اس کی پاسبانی کرتے رہیں گے. امام جعفر صادق - سے مروی ہے کہ جس شخص پر پورا دن گزر جائے اور وہ اپنی کسی بھی نماز میں سورہ اخلاص نہ پڑھے تو قیامت میں اس سے کہا جائے گا کہ اے بندے! تو نمازگذاروں میں سے نہیں تھا انہی جناب سے منقول ہے کہ جو شخص سات دنوں میں سورہ اخلاص (ایک مرتبہ بھی) نہ پڑھے اور مرجائے تو وہ ابولہب کے دین پر مرے گا۔ آپعليهالسلام ہی سے روایت ہے کہ جو شخص کسی مرض یا کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور اس وقت سورہ اخلاص نہ پڑھے تو وہ اہل جہنم سے ہوگا۔
( سینتیسواں امر)
عدۃ الداعی میں منقول ہے کہ اس تعویذ کو لکھ کر خربوزہ، خیار اور دوسری فصلوں کے لیے لٹکائے تو وہ کیڑے مکوڑوں اور جانوروں سے محفوظ رہیں گی اس کی کیفیت یہ ہے کہ اسے کپڑے کے چار ٹکڑوں پر لکھے اور لکڑی کے ساتھ باندھ کر کھیت کے چاروں کونوں پر نصب کر دے وہ تعویذ یہ ہے:
أَیُّهَا الْدُوْذُ أَیُّهَا الدَّوابُّ وَالْهَوامُّ وَالْحَیْواناتُ اخْرُجُوا مِنْ هذِهِ الْاََرْضِ وَالزَّرْعِ إلَی الْخَرابِ
اے کیڑے مکوڑو! اے جانوروں چرندو! اے جاندارو! اس زمین اور اس کھیت سے نکل کر ویرانے میںچلے جائو
کَما خَرَجَ ابْنُ مَتَّ مِنْ بَطْنِ الْحُوتِ فَ إنْ لَمْ تَخْرُجُو أَرْسَلْتُ عَلَیْکُمْ شُواظاً مِنْ نارٍ وَنُحاسٍ فَلا
جیسے یونس ابن متیٰ مچھلی کے پیٹ سے نکلے تھے پس اگر تم پر نہ نکلے تو میں پر آگ اور تابنےکے شعلے بھیجوں گا پھر
تَنْتَصِرانِ أَلَمْ تَرَ إلَی الَّذِینَ خَرَجُوا مِنْ دِیارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقالَ
تمہاری مدد نہیں کی جائے گی آیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو گھروں سے نکلے ہزاروں کی تعداد میں موت سے ڈر کے تو
لُهُمُ ﷲ مُوتُوا فَماتُوا اخْرُج مِنْها فَ إنَّکَ رَجِیمٌ، فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً یَتَرَقَّبُ سُبْحانَ
ﷲ نے ان سے فرمایا کہ مرجائوپس وہ مرگئے تم یہاں سے نکل جائو کیونکہ تم راندہ درگاہ ہو تو وہ وہاں سے ڈرتا ہوا نکلا پاک ہے وہ ﷲ
الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِد الْحَرَامِ إلَی الْمَسْجِد الْاََقْصَیکَأَنَّهُمْ یَوْم یَرَوْنَها لَمْ یَلْبَثُوا
جس نے اپنے بندے کو راتوں رات سیر کرائی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے تو نہیں ٹھہریں
إلاَّ عَشِیَّةً أَوْ ضُحَاهَا فَأَخْرَجْناهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ کَرِیمٍ، وَنَعْمَةٍ کانُوا فِیها فاکِهِینَ فَما
گے مگر شام یا ظہر تک پس ہم نے نکالا ان کو باغوں چشموں کھیتوں حویلیوں اور نعمتوں سے جن میں وہ خوش تھے تو نہ ان پر
بَکَتْ عَلَیْهِمُ السَّمائُ وَالْاََرْضُ وَما کانُوا مُنْظَرِینَ اُخْرُجْ مِنْها فَما یَکُونُ لَکَ أَنْ تَتَکَبَّر فِیها فَاخْرُجْ
آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ان کو مہلت ملی تو یہاں سے نکل جا تجھے یہ حق نہیں کہ اس میں تکبر کیا کرے پس نکل جا کہ
إنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِینَ اخْرُجْ مِنْها مَذْؤُوما مَدْحُوراً فَلَنَأْتِیَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لاَ قِبَلَ لَهُمْ
تو پست لوگوں میں سے ہےاس جگہ سے نکل جا بدحال و مردود ہوکر پس ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کا سامنا کر سکیں اور
وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِنْها أَذِلَّةً وَهُمْ صاغِرُونَ
ضرور ہم انہیں وہاں سے ذلیل و خوار کر کے نکالیں گے۔
(اڑتیسواں امر)
سید ابن طائوسرحمهالله نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ جو شخص ایسی حالت میں صبح کرے کہ اس کے دائیں ہاتھ میں عقیق کی انگوٹھی ہو تو وہ کسی اور چیز کی طرف نظر کرنے سے پہلے انگوٹھی کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف پھیرے اور اس پر نگاہ رکھ کر سورہ قدر کو پڑھے اور اس کے بعد کہے:
آمَنْتُ بِالله وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَکَفَرْتُ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَآمَنْتُ بِسِرِّ آلِ
میں ایمان رکھتا ہوں ﷲ پر جو یکتا ہے کوئی اس کاشریک نہیں انکار کرتا ہوں بت اور طاغوت کا ایمان رکھتا ہوںآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے
مُحَمَّدٍوَعَلانِیَتِهِمْ وَظاهِرِهِمْ وَباطِنِهِمْ وَأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ
نہاں و عیاں پر ان کے ظاہر پراور ان کے باطن پر ان کے اول پر اوران کے آخری پر۔
پس جو شخص یہ عمل کرے گا تو خدائے تعالیٰ اس دن کی شام تک آسمان سے اتر نے والی چیزوں اور آسمان کی طرف جانے والی چیزوں، زمین میں داخل ہونے والی چیزوں اور زمین سے نکلنے والی چیزوں کے شر سے محفوظ رکھے گا اور خدا اور دوستان خدا کی حفاظت میں رہے گا
(انتالیسواں امر)
شیخ کفعمیرحمهالله نے کتاب جمع الشتات سے امام جعفر صادق - سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: جب تم ہماری کوئی حدیث بیان کرنا چاہتے ہو ،لیکن شیطان تمہیں اس میں بھلا دیتا ہے پس اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھو اور یہ کہو:
صَلَّی ﷲ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ یَا مُذَکِّرَ الْخَیْرِ وَفاعِلَهُ
خدا رحمت کرے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پراے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں. اے خیر کو یاد دلانے اس پر عمل
وَالْاَمِرَ بِهِ ذَکِّرْنِی مَا أَنْسانِیهِ الشَّیْطانُ من لا یحضره
کرنے والے اور اس کا حکم دینے والے مجھے یاد دلا جو شیطان نے مجھے بھلا دیا ۔
نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا
. نیز کتاب ’’مَنْ لَا یَحضرہ الفقیہ‘‘ میں امام جعفر صادق - سے منقول ہے جو شخص نماز میں بہت زیادہ بھولتا ہو تو اسے چاہیئے کہ جب بیت الخلائ میں جائے تویہ دعا پڑھے:
بِسْمِ ﷲ أَعُوذُ بِالله مِنَ الرِّجْسِ النَّجِسِ الْخَبِیثِ الْمُخْبِثِ الشَّیْطانِ الرَّجِیمِ
خدا کے نام سے خدا کی پناہ لیتا ہوں پلید نجس خبیث آلودہ کرنے والے راندے ہوئے شیطان سے۔
قوت حافظہ کی دوا اور دعا
مولف کہتے ہیں جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا حافظہ زیادہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ مسوا ک کرے ، روزہ رکھے ، قرآن کی اور خاص کر آیت الکرسی کی تلاوت کرے، ناشتے میں کشمش خصوصاً سرخ کشمش کے اکیس دانے پابندی سے کھائے یہ چیز فہم حافظہ اور ذہن کے لیے بہت ہی مفید ہے اسی طرح حلوہ ، جانور کی گردن کے قریب کا گوشت ، شہد اور مسور کا کھانا بھی ترقی حافظہ کا موجب ہوتا ہے یہ بھی منقول ہے کہ تجربہ شدہ دوائوں میں سے ایک یہ ہے کہ کندر، سعد اور شکر مساوی مقدار میں لے کر آہستہ آہستہ کوٹ کر سفوف بنالیا جائے اور اسے پانچ درہم کی مقدار میں ہر روز کھائے لیکن اس طرح کہ لگا تار تین دن کھائے اور پانچ دن کا ناغہ کرے نیز صبح کی نماز کے بعد کسی سے بات کیے بغیر یہ کہے:
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ، فَلا یَفُوتُ شَیْئاً عِلْمُهُ وَلاَ یَؤُدُهُ
اے زندہ! اے پایندہ! جس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں پاتی نہ اسے تھکاتی ہے
نیز ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھے:
سُبْحانَ مَنْ لاَ یَعْتَدِی عَلَی أَهْلِ مَمْلِکَتِهِ
پاک ہے وہ اپنے زیر حکومت لوگوں پر زیادتی روا نہیں رکھتا۔
پھر وہ نماز پڑھے جو ہم نے دوسرے باب میں قوت حافظہ کے لیے لکھی ہے نیز ایسی چیزوں سے پرہیز کرے جو سہو و نسیان کا موجب ہوتی ہیں اور وہ یہ ہیں کھٹا سیب، سبز دھنیا، پنیر اور چوہے کا جھوٹا کھانا، کھڑے پانی میں پیشاب کرنا ، قبروں کی تختیوں کو پڑھنا ، دو عورتوں کے درمیان سے گزرنا، جو ئیں پکڑ کر زندہ چھوڑ دینا، ناخن نہ کٹوانا ، دنیوی امور میں بہ کثرت مشغول اور ان کے لیے مغموم رہنا ، سولی پر چڑھے ہوئے شخص کو دیکھنا اور اونٹوں کی قطار کے درمیان سے گزرنا۔
(چالیسواں امر)
شیخ ابن فہدرحمهالله نے امام جعفر صادق - سے نقل کیا ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا: ہر وہ دعا جس کے آغاز میں خدا کی تمجید و بزرگی اور ثنائ و تعریف نہ ہو وہ ابتر و ناکام ہوتی ہے پہلے خدا کی تمجید ہوتی ہے پھر ثنائ اور تعریف ہوتی ہے، راوی نے پوچھا کم سے کم تمجید کیا ہے جو کافی ہو سکتی ہے؟ آپعليهالسلام نے فرمایا:یوں کہا کرو:
اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْاََوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ وَأَنْتَ الْاَخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ
اے معبود! تو ایسا اول ہے کہ تجھ سے پہلے کوئی چیز نہ تھی توایسا آخر ہے کہ تیرے بعد کوئی چیز نہ ہوگی تو ایسا ظاہر
فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ وَأَنْتَ الْباطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْئٌ وَأَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ
ہے کہ تجھ سے اوپر کوئی چیز نہیں تو ایسا باطن ہے کہ تجھ سے نیچے کوئی چیز نہیں اور تو غالب ہے حکمت والا.
(خاتمہ)
(خاتمہ موت کے آداب اور اس سے متعلق چند دعائیں)
موت کے آثار رونما ہونے پر توبہ کرے
جاننا چاہیئے کہ جب کسی فرد پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگیں تو جسے سب سے پہلے مرنے والے کے حالات کو سنبھالنا چاہیئے وہ خود مرنے والا ہی ہے جس کو آخرت کا سفر در پیش ہے اور اسے اس سفر کے لیے زاد راہ کی ضرورت ہے پس سب سے پہلا اور ضروری کام جو اسے کرنا چاہیئے وہ اپنے گناہوں کا اعتراف اور کوتاہیوں کا اقرار ہے کہ گذشتہ پر ندامت کے ساتھ صدق دل سے توبہ کرے اور خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ و زاری کرے کہ وہ اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف کر دے اور پیش آمدہ حالات اور ہولناک واقعات میں اس کو نہ تو خود اس کے حوالے کرے اور نہ دوسروں کے سپرد کرے
حقوق ﷲ اور حقوق العباد کی طرف توجہ
پھر اپنی مصیبت کی طرف توجہ کرے اور حقوق ﷲ و حقوق العباد جو اس کے ذمے نکلتے ہیں انہیں خود ادا کرے اور دوسروں کے سپرد نہ کرے کیونکہ مرنے کے بعد اس کے سبھی اختیارات اوروں کے ہاتھ آجاتے ہیں اور اس کے پاس نہیں رہتے، پھر وہ اپنے مال و متاع کو حسرت کی نگاہوں سے دیکھتا رہتا ہے تب جن و انس میں سے شیطان اس مرنے والے کے وارثوں کے دلوں میں وسوے ڈالتے رہتے ہیں اور اس امر میں مانع ہوتے ہیں کہ وہ اس کے ذمے رہ جانے والے واجبات سے اس کو بری کریں اس وقت یہ بات اس کے بس سے باہر ہوتی ہے کہ کسی سے یہ کہے کہ اسے دنیا میں لوٹا یاجائے تا کہ وہ اپنے مال سے شائستہ اعمال بجا لائے اس وقت اس کی چیخ و پکار کوئی نہیں سنتا اور اس کی حسرت و پشیمانی بے سود ہوتی ہے لہذا وہ اپنے مال میں ایک تہائی کی وصیت کر دے کہ یہ اس کے قریبی رشتہ داروں کو دیاجائے اور اس میں سے صدقہ و خیرات اور جو اس کے مناسب حال ہے خرچ کیا جائے ،کیونکہ وہ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کا اختیار نہیں رکھتا پھر وہ اپنے مومن بھائیوں سے معافی مانگے کہ ان کے جو حقوق اس پر ہیں ان سے بری الذمہ ہو جائے مثلاً جس کی غیبت کی ہے یا توہین کی ہے یا کسی کو دکھ پہنچایا ہے وہ افراد موجود ہوں تو ان سے التماس کرے کہ وہ اسے معاف کر دیں اگر وہ موجود نہ ہوں تو مومن بھائیوں سے درخواست کرے کہ وہ اس کی معافی کے لیے دعا مانگیں تاکہ جو کچھ اس کے ذمہ ہے وہ اس سے بری اور سبکدوش ہو جائے پھر اپنے اہل و عیال اور اولاد کے معاملات کو خداوند کریم پر توکل کے بعد کسی امانت دار شخص کے سپرد کرے اور اپنے چھوٹے بچوں کے لیے کوئی وصی مقرر کرے اس کے بعد اپنا کفن منگوائے اور جو کچھ مفصل کتابوں میں درج ہے، یعنی کلمہ شہادتین ، اذکار، عقائد، دعائیں، اور آیات اس پر خاک شفا سے لکھوائے ، یہ اس صورت میں ہے کہ اس سے پہلے غفلت میں رہا اور اپنا کفن تیار کر کے نہ رکھا ہو ورنہ مومن کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اپنا کفن تیار کر کے رکھے ،جو ہر وقت اس کے پاس موجود رہے جیسا کہ امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جس شخص کا کفن اس کے گھر میں موجود ہوتا ہے اس کو غافلوں کی فہرست میں نہیں لکھا جاتا اور وہ جب بھی اپنے کفن پر نظر کرتا ہے تو اسے ثواب ملتا ہے اور اب اپنے بیوی بچوں سے بے فکر ہوکر پوری طرح سے بارگاہ رب العزت کی طرف متوجہ ہوجائے اور اس کی یاد میں لگ جائے یہ فکر کرے کہ یہ فانی امور اس کے کام نہیں آئیں گے اور پروردگار کی مہربانی اور اس کے لطف و کرم کے بغیر دنیا و آخرت میں کوئی چیز اسے فائدہ نہیں دے گی اور اس کی فریاد رسی نہیں کرے گی۔ اس بات کا یقین کرے کہ اگر حق تعالیٰ کی ذات پر توکل کرے گا تو اس کے پسماندگان کے تمام معاملات اچھے طریقے سے انجام پائیں گے اور یہ بھی ذہن میں رکھے کہ اگر وہ خود زندہ رہ جائے تو بھی مشیت الٰہی کے بغیر و ہ انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا نہ ان سے کسی ضرر کو دور کر سکے گا اور جس خدا نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان پر خود اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ،اس وقت اسے رحمت خداوندی کا بہت زیادہ امیدوار ہونا چاہیئے. نیز حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اکرم اور ائمہ معصومین کی شفاعت کی آس رکھنی چاہیئے ان کی تشریف آوری کا منتظر ہونا چاہیئے ، بلکہ اس بات کا یقین رکھنا چاہیئے کہ وہ ذوات مقدسہ اس وقت تشریف فرما ہوتی اور اپنے شیعوں کو خوشخبریاں دیتی ہیں اور ملک الموت سے ان کے بارے میں سفارشیں کرتی ہیں
تاکید در امر وصیت
شیخ طوسیرحمهالله مصباح المتہجد میں فرماتے ہیں کہ وصیت کرنا مستحب ہے اور انسان اسے ترک نہ کرے کیونکہ روایت میں ہے کہ انسان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کوئی ایسی رات بسر نہ کرے جس میں وصیت نامہ اس کے سر ہانے نہ پڑا ہو ، بیماری کی حالت میں اس کے بارے میں زیادہ تاکید کی گئی ہے اور ضروری ہے کہ اچھی سے اچھی وصیت کرے اپنے آپ کو حقوق ﷲسے عہدہ برآ کرے اور لوگوں پر کیے ہوئے، مظالم سے گلو خلاصی کرائے حضرت رسول ﷲ سے روایت ہے کہ جو شخص موت کے وقت اچھی وصیت نہ کرے تو اس کی عقل اور مروت میں نقص ہوتا ہے، لوگوں نے پوچھا یارسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ﷲ! کیسی وصیت اچھی ہوتی ہے؟ آپعليهالسلام نے فرمایا: جب انسان کا وقت وفات قریب ہو اور لوگ اس کے پاس جمع ہوں تو یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ فاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ عالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّهادَةِ الرَّحْمنَ
اے معبود! اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے نہاں و عیاں کے جاننے والے بڑے رحم والے
الرَّحِیمَ، إنِّی أَعْهَدُ إلَیْکَ أَنِّی أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحدَهُ
مہربان میں تجھ سے عہد کرتا ہوں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر ﷲ جو یکتا ہے
لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
کوئی اس کا شریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی ﷲ علیہ و آلہ اس کے بندے اور رسول ہیں
وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِیَةٌ لاَ رَیْبَ فِیها وَأَنَّ ﷲ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ
یقیناً قیامت آنے والی ہے ، اس میں کچھ شبہ نہیں ﷲ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں
وَأَنَّ الْحِسابَ حَقٌّ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَأَنَّ مَا وُعِدَ فِیها مِنَ النَّعِیمِ مِنَ الْمَأْکَلِ وَالْمَشْرَبِ
حساب و کتاب حق ہے، جنت اور وہ نعمتیں بھی جواس میں کھانے پینے کے لیے دی جائیں گی حق ہیں
وَالنِّکاحِ حَقٌّ وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ وَأَنَّ الْاِیمانَ حَقٌّ وَأَنَّ الدِّینَ کَما وَصَفَ وَأَنَّ الْاِسْلامَ کَما
نکاح حق ہے، جہنم حق ہے ایمان حق ہے، دین حق ہے، جیسے اس نے بتایا اسلام حق ہے جیسے اس
شَرَعَ وَأَنَّ الْقَوْلَ کَما قالَ وَأَنَّ الْقُرْآنَ کَما أَنْزَلَ، وَأَنَّ ﷲ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِین
نے حکم دیا حق بات وہی ہے جو اس نے کہی قرآن حق ہےجیسے اس نے نازل کیا اور ﷲ واضح حق ہے، میں اس دنیا
وَأَنِّی أَعْهَدُ إلَیْک فِی دارِ الدُّنْیا أَنِّی رَضِیتُ بِکَ رَبّاً وَبِالاِْسْلامِ دِیناً وَبِمُحَمَّدٍ
میں اس دنیا میں تیرے ساتھ عہد کرتا ہوں کہ یقینامیں راضی ہوں کہ تو میرا رب ہے اسلام میرا دین ہے ،حضرت محمد
صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ نَبِیّاً وَبِعَلِیٍّ وَلِیّاً وَبِالْقُرْآنِ کِتاباً وَأَنَّ أَهْلَ بَیْتِ نَبِیِّکَ عَلَیْهِ
صلی ﷲ علیہ و آلہ میرے نبی ہیں، علیعليهالسلام میرے ولی ہیں قرآن میری کتاب ہے اور اس پر کہ تیرے نبی کے اہل بیت میرے امام
وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ أَئِمَّتِی اَللّٰهُمَّ أَنْتَ ثِقَتِی عِنْدَ شِدَّتِی وَرَجائِی عِنْدَ
ہیںتیرے نبی اور ان اماموں پر سلام اے معبود! سختی کے وقت تو میرا سہارا ہے، پریشانی میں تو ہی میری
کُرْبَتِی وَعُدَّتِی عِنْدَ الْاَُمُورِ الَّتِی تَنْزِلُ بِی وَأَنْتَ وَلِیِّی فِی نِعْمَتِی
آس ہے تو ہی میرا ذخیرہ ہے، ان حادثوں میں جو مجھ پر آ پڑتے ہیں تو میرا نعمت دینے والا مولا ہے میرا
والهی واله ابائی صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَلاَ تَکِلْنِی إلی نَفْسِی
اور میرے بزرگوں کا معبود ہے رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پراور مجھے پلک چھبکنے تک بھی میرے
طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً وَآنِسْ فِی قَبْرِی وَحْشَتِی وَاجْعَلْ لِی عِنْدَکَ
نفس کے حوالے نہ کر قبر کی تنہائی میں میرا ہمدم بن اپنے ہاں میرے لیے عہد مقرر فرما جب حشر میں
عَهْداً یَوْمَ أَلْقاکَ مَنْشُوراًَ
تیرے سامنے حاضر ہوں گا ۔
عہد نامہ میت
پس یہی عہد میت ہے جس دن وہ اپنی حاجات کی وصیت کر رہا ہوتا ہے اور وصیت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ اس بات کی تصدیق خداوند عالم سورہ مریم میں فرما رہا ہے:’’ لَا یَمْلِکونَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّامَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْداً‘‘ یعنی شفاعت کے مالک نہیں ہوں گے مگر وہ لوگ جنہوں نے خدائے رحمن کے ہاں سے عہد لے لیا ہے اور یہ وہی عہد ہے حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امام علی بن ابیطالبعليهالسلام سے فرمایا: یہی چیز اپنے اہل بیت اور اپنے شیعوں کو بھی تعلیم کرو اور اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ یہی چیز مجھے جبرائیل نے بتائی ہے. پھر شیخ فرماتے ہیں کہ یہی چیز لکھ کر میت کے جرید تین کے ساتھ رکھی جاتی ہے اور اسے لکھنے سے پہلے یہ دعا پڑھی جائے:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام جو رحمن رحیم ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود مگر ﷲ جو یکتا ہے
شَرِیکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّی ﷲ
کوئی اس کا شریک نہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، خدا رحمت کرے ان
عَلَیْهِ وَآلِهِ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ حَقٌّ آتِیَةٌ لاَ رَیْبَ فِیها
پر اور ان کی آلعليهالسلام پر جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے،وہ آنے والی ہے ، اس میں شک نہیں
وَأَنَّ ﷲ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ پھر یہ لکھے:
کہ ﷲ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں ۔
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمن الرَّحِیمِ شَهِدَ الشُّهُودُ الْمُسَمَّوْنَ فِی هذَا الْکِتابِ أَنَّ أَخاهُمْ فِی ﷲ عَزَّوَجَلَّ فلان
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام جو رحمن رحیم ہے اس تحریر میں نام بردہ گواہی دیتے ہیں کہﷲ عزو جل کے دین میں ان کے بھائی نے (فلان
بن فلان أَشْهَدَ هُمْ وَاسْتَوْدَعَهُمْ وَأَقَرَّ عِنْدَهُمْ أَنَّهُ یَشْهَدُ
بن فلان)یہاں مرنے والے شخص کا نام لکھے۔انہیں گواہ بنایا ان کے سپرد کیا اور ان کے سامنے اقرار کیا کہ وہ گواہی دیتا
أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
ہے کہ نہیں معبود مگر ﷲ جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی ﷲ علیہ و آلہ اس کے بندے اور اس
وَأَنَّهُ مُقِرٌّ بِجَمِیعِ الْاََنْبِیَائِ وَالرُّسُلِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ، وَأَنَّ عَلِیّاً وَلِیُّ ﷲ وَ إمَامُهُ
کے رسول ہیں اور وہ تمام انبیائ و رسل کا اقرار کرتا ہے اور ﷲکے ولی علیعليهالسلام اس کے امام ہیں ، ان
وَأَنَّ آلاَءِمَّةَ مِنْ وُلْدِهِ أَئِمَّتُهُ وَأَنَّ أَوَّلَهُمُ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ وَعَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْن
کی اولاد سے ائمہ اسکے امام ہیں کہ ان میں اول حسنعليهالسلام ہیں اور حسینعليهالسلام علیعليهالسلام بن الحسین
وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُوسَی بْنُ جَعْفَرٍ وَعَلِیُّ بْنُ مُوسَی
محمدعليهالسلام ابن علیعليهالسلام ، جعفرعليهالسلام بن محمدعليهالسلام ،موسیٰعليهالسلام بن جعفرعليهالسلام ،علیعليهالسلام بن موسیٰعليهالسلام ،
وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ وَعَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ وَالْقائِمُ الْحُجَّةُ عَلَیْهِمُ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن علیعليهالسلام ، علیعليهالسلام بن محمد ، حسنعليهالسلام بن علیعليهالسلام اور حجت القائم علیہم
اَلسَّلَامُ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ وَالسَّاعَةَ آتِیَةٌ لاَ رَیْبَ فِیها
السلام امام ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے ،جہنم حق ہے، قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں
وَأَنَّ ﷲ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، جائَ
اور ﷲ انہیں اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی ﷲ علیہ و آلہ اس کے بندے اور رسول ہیں جو حق
بِالْحَقِّ وَأَنَّ عَلِیّاً وَلِیُّ ﷲ وَالْخَلِیفَةُ مِنْ بَعْدِ رَسُولِ ﷲ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَمُسْتَخْلَفُهُ فِی أُمَّتِهِ
لے کر آئے علی خدا کے ولی اور خدا کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد ان کے خلیفہ ہیں، خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلعليهالسلام پر
رسول نے انہیں اپنی امت میں
مُؤَدِّیاً لِاَمْرِ رَبِّه تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَأَنَّ فاطِمَةَ بِنْتُ رَسُولِ ﷲ وَابْنَیْهَا الْحَسَنَ
خلیفہ بنایا اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے حکم سے اور فاطمہ دختر رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ﷲ اور ان کے دو بیٹے حسن اور حسین
وَالْحُسَیْنَ إبْنَا رَسُولِ ﷲ وَسِبْطاهُ وَ إمَامَا الْهُدَی وَقائِدا الرَّحْمَةِ وَأَنَّ عَلِیّاً وَمُحَمَّداً
رسول ﷲ کے دو بیٹے ان کے دو نواسے دونوں ہدایت والے امام رحمت والے پیشوا ہیں اور علیعليهالسلام ، محمد ،
وَجَعْفَراً وَمُوسَی وَعَلِیّاً وَمُحَمَّداً وَعَلِیّاً وَحَسَناً وَالْحُجَّةَ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ أَئِمَّةٌ وَقادَةٌ وَدُعاةٌ إلَی ﷲ جَلَّ وَعَلا وَحُجَّةٌ عَلَی
جعفر، موسیٰ، علی، محمد ، علی، حسن اور حجت القائم علیہمالسلام امام سردار اور خدائے جل و علا کی طرف بلانے والے اور اس کے بندوں
عِبادِہِ پھر لکھے :یَا شُهُوْدُ
پر حجت ہیں.اے گواہو!
اے فلاں اے فلاں کہ جن کا اس تحریر میں نام لیا گیا ہے، اس شہادت کو میرے لیے اس وقت تک قائم رکھو، جب حوض کوثر پر مجھ سے ملوگے. پھر گواہ یہ کہیں کہ اے فلاں.
نَسْتَوْدِعُکَ ﷲ وَالشَّهادَةُ وَالْاِقْرارُ وَالْاِخائُ مَوْدُوعَةٌ عِنْدَ رَسُولِ ﷲ صَلَّی
ہم تجھے ﷲ کے حوالے کرتے ہیں اس گواہی، اقرار اور بھائی چارے کے ساتھ جورسول ﷲ صلی
ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَنَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلامَ وَرَحْمَةُ ﷲ وَبَرَکاتُه
ﷲ علیہ و آلہ کے پاس امانت ہے ،ہم کہتے ہیں تم پر سلام خدا کی رحمت اور برکتیں ہوں ۔
آداب محتضر اور تلقین کلمات فرج
اس کے بعد پرچے کو تہہ کر کے اس پر مہر لگائے نیز اس پر گواہوں کی مہریں اور خود میت کی بھی مہر لگائی جائے پھر اسے میت کی داہنی طرف جریدے کے ساتھ رکھ دیا جائے بہتر یہ ہے کہ یہ نوشتہ کافور یا لکڑی کی نوک سے لکھا جائے اور اسے خوشبو و غیرہ سے معطر نہ کیا جائے۔ بہتر ہے کہ قرب موت مرنے والے کے پیروں کے تلوے قبلہ کی طرف کیے جائیں اس کے ساتھ ایک ایسا شخص ہونا چاہیئے جو سورہ یاسین اور صافات کی تلاوت اور ذکر خدا کرے، مرنے والے کو شہادتین کی تلقین کرے ایک ایک امام کا نام لے کر اس سے اقرار کرائے اور اسے کلمات فرج کی تلقین کرے اور وہ یہ ہیں :
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ سُبْحانَ
نہیں ہے معبود مگر ﷲ جو بردبار اور سخی ہے، نہیں ہے معبود مگر ﷲ جو بلند و بزرگ تر ہے ، پاک تر ہے
ﷲ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْاََرَضِینَ السَّبْعِ وَمَا فِیهِنَّ وَمَا
ﷲ جو مالک ہے سات آسمانوں کا اور مالک ہے سات زمینوں کا اور جو کچھ ان میں ہے اور جو
بَیْنَهُنَّ وَمَا تَحْتَهُنَّ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ
کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ ان کے نیچے ہے اور عظمت والے عرش کا مالک ہے، حمد ہے، ﷲ کے
الْعالَمِینَ، وَالصَّلاةُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّیِّبِینَ
لیے جو عالمین کا رب ہے اور درود ہو حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی پاک آلعليهالسلام پر۔
یہ احتیاط کی جائے کہ مرنے والے کے پاس کوئی جنب یا حائض نہ آئے، جب اس کی روح پرواز کرجائے تو اسے سیدھا لٹا کر اس کی آنکھیں بند کردی جائیں باز و سیدھے کر کے پہلوئوں کے ساتھ لگا دیئے جائیں اس کا منہ بند کیا جائے پنڈلیاں کھینچ کر سیدھی کردی جائیں اور اس کی ٹھوڑی باندھ دی جائے اس کے بعد کفن کے حصول کی کوشش شروع کر دی جائے ۔کفن میں واجب تین کپڑے ہیں یعنی لنگ، کفنی اور بڑی چادر مستحب ہے کہ ان کپڑوں کے علاوہ یمنی چادر بھی ہو یا کوئی اور چادر ہو اس کے علاوہ ایک پانچواں کپڑا بھی ہے جسے ران پیچ کہتے ہیں اور یہ میت کی رانوں پر لپیٹا جاتا ہے نیز مستحب ہے کہ مذکورہ کپڑوں کے علاوہ اسے عمامہ بھی باندھا جائے پھر اس کے لیے کافور مہیا کیا جائے کہ جو آگ میں پکاہوا نہ ہو افضل یہ ہے کہ اس کا وزن تیرہ درہم اور ایک تہائی درہم ہو، اس کا اوسط وزن چار مثقال اور کم از کم ایک درہم ہو. اور اگر اتنا کافور ملنا بھی مشکل ہوتو پھر جتنا بھی ملے وہ حاصل کیا جائے، بہتر ہے کہ کفن میں سے ہرکپڑے پر یہ لکھا جائے میت کانام اور کہے:
یَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ ﷲ وَأَنَّ
گواہی دیتا ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر ﷲ جو یکتا ہے کوئی اس کاشریک نہیں ، یہ کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ﷲ کے رسول ہیں
عَلِیّاً أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ وَآلاَءِمَّةَ مِنْ وُلْدِهِ
حضرت علیعليهالسلام مومنوں کے امیر ہیں اور جو امام ان کی اولاد میں ہیں۔
یہاں ہر ایک امام کانام لکھا جائے بعد میں لکھیں۔
أَئِمَّتُهُ أَئِمَّةُ الْهُدَی الْاََبْرار
اس کے امام ہیں جو ہدایت و نیکی والے امام ہیں۔
مرنے کے بعد احکام
یہ سب کچھ خاک شفا سے یا انگلی سے لکھا جائے سیاہی سے نہیں پھر میت کو تین غسل دیئے جائیں۔ پہلا غسل بیری کے پتوں والے پانی سے دوسرا کافور ملے پانی سے اور تیسرا خالص پانی سے اس غسل کی کیفیت وہی ہے جو غسل جنابت کی ہے سب سے پہلے میت کے ہاتھ تین مرتبہ دھوئے جائیں پھر اس کی شرمگاہوں کو تھوڑی سی اشنان (خوشبودار بوٹی) کے ساتھ تین مرتبہ دھویا جائے، اس کے بعد غسل کی نیت سے اس کا سر بیری کے پتوں والے پانی سے تین مرتبہ دھویا جائے، پھر اس کے دائیں اور بائیں پہلوئوں کو بھی اسی طرح دھویا جائے۔
البتہ اس دوران میت کے سارے بدن پر ہاتھ پھیرا جائے گا یہ سب بیری کے پتوں والے پانی سے دھونا ہوگا اس کے بعد پانی والے برتن کو اچھی طرح دھویا جائے تا کہ بیری کا اثر زائل ہوجائے ، پھر برتن میں نیاپانی ڈال کر اس میں تھوڑا سا کافور ڈالا جائے اور اس سے میت کو اسی طرح غسل دیا جائے جس طرح بیری کے پانی سے دیا گیا تھا اگر پانی بچ جائے تو اسے انڈیل دیا جائے گا اور برتن کو اچھی طرح سے دھوکراس میں خالص پانی ڈال کر اس سے میت کو تیسرا غسل اسی ترتیب سے دیا جائے گا جو پہلے بیان ہو چکی ہے غسل دینے والے کو میت کے داہنی طرف ہونا چاہیئے اور جب بھی میت کے کسی عضو کو غسل دے تو عفواً عفواً کہے اور جب غسل دے چکے ایک صاف کپڑے سے میت کے بدن کو خشک کرے۔
نیز واجب ہے کہ غسل دینے والا اسی وقت یا اس کے بعد خود بھی غسل مس میت کرے اور مستحب ہے کہ غسل دینے سے پہلے وضو کرے ۔ غسل دینے کے بعد میت کو کفن پہنایا جائے پہلے ران پیچ لے کر اسے بچھایا جائے اس پر تھوڑی روئی رکھے اس پر زریرہ (خوشبودار بوٹی) چھڑکے اور یہ روئی میت کی اگلی پچھلی شرمگاہوں پر رکھ دے پھر اس کپڑے کو میت کی رانوں پر لیٹ دے اس کے بعد لنگ کو ناف سے لے کر پائوں کی طرف جہاں تک پہنچے باندھ دیا جائے اور کفن سے میت کے بدن کو ڈھانپا جائے اس کے اوپر بڑی چادر لپیٹی جائے اور اوپر سے جرہ یا کوئی اور چادر ڈالی جائے۔ میت کے ساتھ جرید تین، یعنی کھجور یا کسی اور درخت کی تازہ لکڑیاں رکھی جائیں، جن کی لمبائی ایک ہاتھ کے برابر ہو ان میں سے ایک میت کی داہنی جانب بدن سے ملاکر لنگ باندھنے کی جگہ پر رکھی جائے اور دوسری کو بائیں جانب چادر اور کفن کے درمیان رکھا جائے پھر میت کے سات اعضائے سجدہ یعنی پیشانی، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھنٹوں اور دونوں پیروں کے انگوٹھوں کے سروں پر کافور ملا جائے، اگر کافور بچ جائے تو وہ اس کے سینے پر چھڑک دیا جائے اس کے بعد میت کو کفن میں لپیٹ دیا جائے اور اس کے سراور پائوں کی طرف سے کفن کو بند لگا دیئے جائیں، لیکن جب اسے دفن کیا جانے لگے تو کفن کے بندکھول دیئے جائیں بہرحال جب تکفین میت سے فارغ ہوجائیں تو اسے ایک تابوت میں رکھ کر جنازہ گاہ لے جائیں تا کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔ علامہ مجلسیرحمهالله زاد المعاد میں نماز میت کے باب میں فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے نماز میت کا پڑھنا ہر ایسے مسلمان پر واجب ہے ۔
جسے کسی مومن مسلمان کے مرنے کی اطلاع ہوجائے اگر ان میں سے کوئی ایک مسلمان بھی یہ نماز ادا کردے تو یہ دوسرے تمام مسلمانوں سے ساقط ہوجاتی ہے بلا اختلاف یہ نماز ہر بالغ شیعہ اثنا عشری کے لیے پڑھنا واجب ہے اور زیادہ مشہور اور قوی امر یہی ہے کہ چھ ماہ کے بچے کی میت پر بھی یہ نماز پڑھنا واجب ہے ، ظاہر یہ ہے کہ اس نماز کو قربۃً الی ﷲ کے قصد سے ادا کرنے پر اکتفا کیا جائے اگر چھ ماہ سے کم عمر کا بچہ زندہ پیدا ہوا ہو اور مرجائے تو بعض علمائ اس پر نماز پڑھنا مستحب سمجھتے ہیں اور بعض اسے بدعت جانتے ہیں لیکن احوط یہ ہے کہ اس پر نماز نہ پڑھی جائے ،میت پر نماز پڑھنے کا زیادہ حقدار بنا بر قول مشہور اس کا وارث ہی ہے اور شوہر اپنی بیوی پر نماز پڑھنے میں زیادہ اولویت رکھتا ہے۔
واجب ہے کہ نماز پڑھنے والا قبلہ رخ کھڑا ہو میت کا سراس کی داہنی جانب ہو اور میت کو پشت کے بل لٹا یاجائے اس نماز میں حدث سے پاک ہونے کی شرط نہیں ہے چنانچہ جنب مرد، حیض والی عورت اور بے وضو شخص بھی یہ نماز پڑھ سکتا ہے ،لیکن سنت ہے کہ با وضو ہوکر پڑھی جائے اگر پانی نہ مل سکے یا پانی کے استعمال میں کوئی امر مانع ہویا وقت تنگ ہوتو سنت ہے کہ تیمم کیا جائے اور احادیث کے مطابق کسی عذر کے بغیر بھی تیمم کیا جا سکتا ہے نیز سنت ہے کہ اگر میت مرد کی ہوتو پیش نماز اس کی کمر کے مقابل کھڑا ہو اور اگر عورت کی ہے تو اس کے سینے کے مقابل کھڑے ہوکر نماز پڑھے اور سنت ہے کہ جوتے اتار کر نماز پڑھے اور واجب ہے کہ نماز کی نیت کر کے پانچ تکبیریں پڑھی جائیں سنت ہے کہ ہر تکبیر پر ہاتھوں کو کانوں کے برابر لایا جائے اور مشہور یہی ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد کہے:
أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ
میں گواہ ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر ﷲ
وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ ﷲ ۔ دوسری تکبیر کے بعد کہے:ِاَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ۔
اور میں گواہ ہوں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ﷲ کے رسول ہیں ۔اے معبود! رحمت فرما محمد و آلعليهالسلام محمد پر ۔
تیسری تکبیر کے بعد کہے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ ۔ چوتھی تکبیر کے بعد کہے:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِهذَا الْمَیِّتِ
اے معبود! بخش دے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو۔اے معبود! بخش دے اس میت کو۔
پھر پانچویں تکبیر کہہ کر نماز ختم کرے یہ نماز کافی ہے۔
لیکن قول مشہور کی بنا پر بہتر ہے کہ نمازیوں ادا کی جائے اور نیت کرنے کے بعد پہلی تکبیر میں کہے:
ﷲ أَکْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَشْهَدُ
ﷲ بزرگ تر ہے. میں گواہ ہوں کہ نہیں ہے معبود مگر ﷲ جو یکتا ہے کوئی اسکا شریک نہیں اور میں گواہ ہوں
أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِیراً وَنَذِیراً بَیْن
کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، ﷲ نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا، وہ تا قیامت خوشخبری
یَدَیِ السَّاعَةِ ﷲ أَکْبَرُ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
دینے اور ڈرانے والے ہیں .پھر دوسری تکبیر کہے:ﷲ بزرگ تر ہے اے معبود! رحمت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام
مُحَمَّدٍ وَبارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور برکت نازل فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پراور رحم فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام
مُحَمَّدٍ کَأَفْضَلِ مَا صَلَّیْتَ وَبارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَی إبْراهِیمَ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اس سے بیشتر جو رحمت کی تو نے اور برکت نازل کی تو نے اور رحم فرمایا تو نے ابراہیم
وَآلِ إبْراهِیمَ إنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ وَصَلِّ عَلَی جَمِیعِ الْاََنْبِیائِ وَالْمُرْسَلِینَ
اور آلعليهالسلام ابراہیمعليهالسلام پر. بے شک تو خوبی والا، شان والا ہے اور رحمت فرما تمام نبیوں اور رسولوں پر۔
پھر تیسری تکبیر کہے:
ﷲ أَکْبَرُ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ
ﷲ بزرگ تر ہے. اے معبود! بخش دے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو
وَالْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِماتِ الْاََحْیائِ مِنْهُمْ وَالْاََمْواتِ تابِعْ بَیْنَنا وَبَیْنَهُمْ
اور مسلمان مردوں اور مسلمہ عورتوں کوان میں جو زندہ ہیں اور جو مرگئے ہیںتو ہمیں اور ان کو نیکیوں
بِالْخَیْراتِ إنَّکَ مُجِیبُ الدَّعَواتِ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
میں باہم ملادے، بے شک تو دعائیں قبول کرنے والا ہےیقینا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔
پھرچوتھی تکبیر کہے:
ﷲ أَکْبَرُ اَللّٰهُمَّ إنَّ
ﷲ بزرگ تر ہے. اے معبود! بے شک
هذَا عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ نَزَلَ بِکَ وَأَنْتَ خَیْرُ
یہ تیرا بندہ،تیرے بندے کا بیٹا اور تیری کنیز کا بیٹا تیرا مہمان ہوا ہے اور تو سب
مَنْزُولٍ بِهِ اَللّٰهُمَّ إنَّا لاَ نَعْلَمُ مِنْهُ إلاَّ خَیْراً وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنَّا
سے بہتر مہمانواز ہے. اے معبود! یقیناً ہم نہیں جانتے اس سے متعلق مگر نیکی اور تو اسے ہم سے زیادہ جانتا ہے
اَللّٰهُمَّ إنْ کانَ مُحْسِناً فَزِدْ فِی إحْسانِهِ وَ إنْ کانَ مُسِیئاً فَتَجَاوَزْ
اے معبود! اگر یہ نیکو کار ہے تو اسکی نیکیوں میں اضافہ کر دے اور اگر یہ بدکار ہے تو اس سے درگذر فرما
عَنْهُ وَاغْفِرْ لَهُ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ عِنْدَکَ فِی أَعْلَی عِلِّیِّینَ وَاخْلُفْ
اور اسے بخش دے. اے معبود! تو اسے اپنے ہاں اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور اس کے عیال
عَلَی أَهْلِهِ فِی الْغابِرِینَ وَارْحَمْهُ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
میں اس کا جانشین ہو جا اور اس پر رحم فرما اپنی رحمت سےاے سب سے زیادہ رحم کرنے والے.
پھر پانچویں تکبیرکہے:
ﷲ أَکْبَر
ﷲ بزرگ تر ہے۔
اس پر نماز ختم کرے
اگر میت عورت کی ہے تو یوں کہے:
اَللّٰهُمَّ إنَّ هذِهِ أَمَتُکَ
اے معبود! بے شک یہ تیری کنیز
وَابْنَةُ عَبْدِکَ وَابْنَةُ أَمَتِکَ نَزَلَتْ بِکَ وَأَنْتَ خَیْرُ مَنْزُولٍ بِهاِ
تیرے بندے کی بیٹی اور تیری کنیز کی بیٹی تیری مہمان ہوئی ہے اور تو بہترین مہمانواز ہے۔
اَللّٰهُمَّ إنَّا لاَ نَعْلَمُ مِنْها إلاَّ خَیْراً وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِها مِنَّا اَللّٰهُمَّ إنْ ْکانَتْ
اے معبود! یقیناً ہم اسکے متعلق نہیں جانتے مگر نیکی اور تو اسے ہم سے زیادہ جانتا ہے. اے معبود! اگر یہ
مُحْسِنَةً فَزِدْ فِی إحْسانِها وَ إنْ کانَتْ مُسِیئَةً فَتَجاوَزْ عَنْها
نیکوکار رہی ہے تو اس کی نیکیوں میں اضافہ کردے اور اگر یہ بدکار رہی ہے تو اس سے درگذر فرما
وَاغْفِرْ لَها اَللّٰهُمَّ اجْعَلْها عِنْدَکَ فِی أَعْلَی عِلِّیِّینَ وَاخْلُفْ
اور اسے بخش دے. اے معبود! تو اپنے ہاں اسے اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور اس کے
عَلَی أَهْلِها فِی الْغابِرِینَ وَارْحَمْها بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
عیال میں اس کا جانشین بن جا، اس پر رحم فرما، اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اگر بے کس کی میت ہوتو کہے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلَّذِینَ تابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِیلَکَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیمِ
اے معبود! ان کو بخش دے، جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے تو ان کو جہنم کے عذاب سے بچا ۔
اگر نابالغ بچے کی میت ہوتو کہے:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لاََِبَوَیْهِ وَلَنَا سَلَفاً وَفَرَطاً وَأَجْراً
اے معبود! اسے قرار دے اس کے والدین کے لیے اور ہمارے لیے ہراول ذخیرہ اور اجر ۔
تشیع جنازہ اور دفن میت
اور سنت ہے کہ جب تک وہاں سے جنازہ نہ اٹھایا جائے خاص کر پیش نماز اور دوسرے لوگ بھی اسی جگہ کھڑے رہیں ایک اور روایت میں ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہے:
رَبَّنا آتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً وَفِی الْاَخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذابَ النَّارِ
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی عطا کر اور آخرت میں بھی نیکی عطا کر اورہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں: بہتر ہے کہ مرحوم کی خبر مرگ مومن بھائیوں کو دی جائے تا کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں ، اس پر نماز پڑھیں اس کے لیے استغفار کریں اور میت کو اور ان کو بھی ثواب ملے. ایک حسن حدیث میں امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جب مومن کو قبر میں لٹاتے ہیں تو اسے آواز آتی ہے کہ سب سے پہلی عطا جو ہم نے تم پر کی ہے وہ بہشت ہے اور جو لوگ تیرے جنازے کے ساتھ آئے ہیں ان پر ہم نے سب سے پہلی عطا یہ کی ہے کہ ان کے گناہ معاف کر دیئے ہیں۔
ایک اور حدیث میں آپعليهالسلام فرماتے ہیں کہ مومن کو قبر میں جو سب سے پہلا تحفہ دیا جاتا ہے ، وہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ آنے والے تمام لوگوں کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں جو شخص کس مومن کے جنازے کے ہمراہ جاتا اور اس کے دفن تک وہاں رہتا ہے تو خداوند تعالیٰ قیامت کے دن ستر ملائکہ کو حکم دے گا کہ وہ قبر سے اٹھائے جانے سے حساب کے موقع تک اس کے ساتھ رہ کر اس کے لیے استغفار کرتے رہیں۔ نیز فرماتے ہیں :جو شخص جنازے کے ایک کونے کو کندھا دے گا تو اس کے پچیس کبیرہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور جو شخص (بہ ترتیب) چاروں کونوں کو کندھا دے گا تو وہ گناہوں سے بری ہوجائے گا۔ جنازے کو چار افراد اٹھائیں اور جو شخص جنازے کے ساتھ ہو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ سب سے پہلے میت کے داہنے ہاتھ کی طرف آئے جو جنازے کا بایاں پہلو ہے وہاں اپنا دایاں کندھا دے پھر میت کے دائیں پائوں کی طرف آکر کندھا دے، اس کے بعد میت کے بائیں ہاتھ کی طرف آئے جو جنازے کا دایاں پہلو ہے، وہاں بایاں کندھا دے اور میت کے بائیں پائوں کی طرف آئے اور آکر اس کونے کو بائیں کندھے پر اٹھائے۔
اگر وہ دوسری مرتبہ چاروں اطراف کو کندھا دینا چاہے تو جنازے کے آگے سے پیچھے کی طرف آئے اور مذکورہ طریقے سے اسے کندھا دے اکثر علمائ اس کے برعکس فرماتے ہیں کہ جنازے کے داہنی طرف سے ابتدا کرے یعنی میت کے دائیں طرف سے کندھا دے۔
لیکن معتبر احادیث کے مطابق پہلا طریقہ اچھا ہے اور اگر دونوں طریقوں سے جنازے کو کندھا دے تو بہت بہتر ہے جنازے کے ساتھ چلنے میں افضل طریقہ یہ ہے کہ جنازے کے پیچھے چلے یا اسکے دائیں بائیں رہے، لیکن جنازے کے آگے ہرگز نہ چلے، اکثر حدیثوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر وہ جنازہ مومن کا ہوتو اس کے آگے چلنا بہتر ہے ورنہ پیچھے چلنا ہی مناسب ہے کیونکہ ملائکہ اس کیلئے عذاب لے کر آگے سے آتے ہیں جنازے کے ساتھ سوار ہوکر چلنا مکروہ ہے اور رسول ﷲ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی جنازے کو دیکھے وہ یہ دعا پڑھے:
ﷲ أَکْبَرُ هذَا مَا وَعَدَنَا ﷲ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ ﷲ وَرَسُولُهُ، اَللّٰهُمَّ
ﷲ بزرگ تر ہے یہی وہ چیز ہے جس کا ﷲ و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ہم سے وعدہ کیا ﷲاور اسکے رسول نے سچ فرمایا اے معبود!
زِدْنا إیماناً وَتَسْلِیماً الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی تَعَزَّزَ بِالْقُدْرَةِ وَقَهَرَ الْعِبادَ بِالْمَوْت
ہمارے ایمان و تسلیم میں اضافہ کر حمد ہے ﷲ کے لیے جو اپنی قدرت سے غالب ہوا اور موت کے ذریعے بندوں پر حاوی ہوا۔
کوئی فرشتہ آسمان میں نہیں مگر یہ کہ وہ گریہ کرے گا اور پڑھنے والے کے لیے رحمت چاہے گا۔
امام جعفر صادق - فرماتے ہیں کہ جنازہ اٹھاتے وقت یہ دعا پڑھی جائے:
ِبِسْمِ ﷲ وَبِالله اَللّٰهُمَّ
خدا کے نام سے خدا کی ذات سے اے معبود
صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ
رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو بخش دے ‘‘.
منقول ہے کہ امام زین العابدین- جب کسی جنازے کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی لَمْ یَجْعَلَنِی مِنَ السَّوادِ الْمُخْتَرَمِ
حمد ہے ﷲ کے لیے جس نے مجھے ہلاک ہونے والے گروہ میں نہیں رکھا ۔
عورتوں کے لیے جنازے کے ساتھ جانا سنت نہیں ہے، بعض علمائ کا قول ہے کہ جنازے کو تیز رفتاری کے ساتھ لے جانا مکروہ ہے اور جو لوگ جنازے کے ساتھ ہوں ان کے لیے ہنسنا اور فضول باتیں کرنا بھی مکروہ ہے۔
علامہ مجلسیرحمهالله حلیۃ المتقین میں لکھتے ہیں حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منقول ہے کہ جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھتا ہے اس پر ستر ہزار فرشتے نماز پڑھیں گے اور اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجائیں گے اگر جنازے کے ہمراہ جائے اور اس کی تدفین تک وہاں رہے تو اس کے ہر قدم کے بدلے اسے ایک قیراط ثواب دیا جائے گا اور یہ قیراط کوہ احد کے برابر ہوتا ہے۔
ایک اور حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں جو بھی مومن کسی کی نماز جنازہ پڑھے گا تو جنت اس کے لیے واجب ہوجائے گی، بشرطیکہ وہ منافق یا والدین کا نافرمان نہ ہو. معتبر سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ جب کوئی مومن مرتا ہے اور اس کے جنازے پر آکر چالیس مومن یہ کہتے ہیں:
اَللّٰهُمَّ اِنَّا لَا نَعْلَمُ مِنْهُ اِلَّاخَیْراً وَ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِِ مِنَّا.
یعنی اے معبود! ہم اس کے متعلق سوائے نیکی کے کچھ نہیں جانتے اور تو اسے ہم سے زیادہ جانتا ہے۔
تب خدائے تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تمہاری گواہی قبول کر لی اور اس کے گناہ معاف کر دیئے ہیں جن کو تم نہیں جانتے ہو اور میں جانتا ہوں۔
ایک اور معتبر حدیث میں رسول ﷲ سے منقول ہے کہ مومن کے مرنے کے بعد وہ پہلی چیز جو اس کے نامہ اعمال میں لکھتے ہیں وہ وہی ہوتی ہے جو بات لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں اگر نیک بات کہتے ہیں تو نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر بری بات کہتے ہیں تو برائی لکھی جاتی ہے۔
مولف کہتے ہیں: شیخ طوسیرحمهالله مصباح المتہجد میں فرماتے ہیں: مستحب ہے کہ جنازے کی تربیع کی جائے یعنی پہلے میت کے دائیں طرف کندھا دیا جائے اس کے بعد دائیں پاؤں کی طرف پھر بائیں پائوں کی طرف اور بعد میں میت کے بائیں ہاتھ کی طرف سے کندھا دیا جائے گویا جنازے کے چاروں اطراف کو اس طرح کندھا دیا جائے جس طرح چکی کو گھمایا جاتا ہے جب جنازے کو قبر کے نزدیک لائیں تو اگر میت مرد کی ہے تو اسے قبر کی پائنتی کی طرف لے جائیں اور قبر کے کنارے تک لے جاتے ہوئے تین مرتبہ اٹھائیں اور زمین پر رکھیں پھر قبر میں اتاریں، اگر میت عورت کی ہے تو اسے قبر کے کنارے قبلہ کی طرف لائیں پھر قبر میں اتاریں میت کا وارث یا کوئی اور شخص جس کو ولی نے اجازت دی ہو کہ وہ پائنتی کی طرف سے قبر میں اترے کہ یہی قبر کا دروازہ ہے اور جب وہ قبر میں اتر جائے تو یہ کہے:’’
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْها رَوْضَةً مِنْ رِیاضِ الْجَنَّةِ وَلاَ تَجْعَلْها حُفْرَةً مِنْ حُفَرِ النَّارِ
اے معبود! تو اسے جنت کے باغوں میں ایک باغ بنادے اور اسے جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا نہ بنا۔
اور مناسب ہے کہ قبر میں اتر نے والا وہ شخص سراور پائوں سے ننگاہو اور اپنے بٹن کھول دے وہ میت کو قبر میں اتار نے کے لیے اٹھائے اور سر کی طرف اسے قبر میں لے جائے اور یہ کہے:
بِسْمِ ﷲ وَبِالله وَفِی سَبِیلِ ﷲ وَعَلَی مِلَّةِ
ﷲ کے نام اور ﷲ کی ذات سے، ﷲ کی راہ میں اور رسول ﷲ کے
رَسُولِ ﷲ اَللّٰهُمَّ إیماناً بِکَ وَتصْدِیقاً بِکِتابِکَ هذَا مَا وَعَدَنَا
دین پر. اے معبود! تجھ پر ایمان اور تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے، یہی چیز ہے جس کا ﷲ
ﷲ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ ﷲ وَرَسُولُهُ اَللّٰهُمَّ زِدْنا إیماناً وَتَسْلِیماً
و رسول نے ہم سے وعدہ کیا اور ﷲ اور اسکے رسول نے سچ فرمایا. اے معبود!ہمارے ایمان و یقین میں اضافہ فرما۔
پس میت کو داہنی کروٹ پر لٹادے. اس کے بدن کا رخ قبلہ کی طرف کر کے کفن کے بند کھول دے اور اس کے رخسارے کو زمین پر ٹکادے مستحب ہے کہ اس کے ساتھ خاک شفا بھی رکھے اور پھر قبر پر اینٹیں چن دے اور اینٹیں چننے والا شخص یہ پڑھے:
اَللّٰهُمَّ صِلْ وَحْدَتَهُ،
اے معبود! اس کی تنہائی کا ساتھی رہ
وَآنِسْ وَحْشَتَهُ وَارْحَمْ غُرْبَتَهُ وَأَسْکِنْ إلَیْهِ مِنْ رَحْمَتِکَ رَحْمَةً
خوف میں ہمدم بن اور اس کی بے کسی پر رحم فرما اپنی رحمتوں سے خاص رحمت اس کے ساتھ کر دے،
یَسْتَغْنِی بِها عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِواکَ وَاحْشُرْهُ مَعَ مَنْ کانَ یَتَوَلاَّهُ مِنَ آلاَءِمَّةِ الطَّاهِرِینَ
اس کے ذریعے اسے اپنے غیرکی رحمت سے بے نیاز کر دے اس کو پاک ائمہ کے ساتھ محشورفرما جن سے وہ محبت رکھتا تھا ۔
تلقین میت
اور مستحب ہے کہ میت کو شہادتین اور ائمہ طاہرین کے ناموں کی اس وقت تلقین کی جائے، جب اسے قبر میں اتارا جا چکے اور قبر کو بند نہ کیا ہو پس تلقین کرنے والا کہے:یافلاں بن فلاں، یعنی میت کانام اور اس کے باپ کانام لے کر کہے:
اذْکُرِ الْعَهْدَ الَّذِی خَرَجْتَ عَلَیْهِ مِنْ دارِ الدُّنْیا شَهادَةَ أَنْ لاَ
اس عہد کو یاد کرو جس پر رہتے ہوئے اس دنیا سے جارہے ہو یہ گواہی کہ نہیں ہے
إلهَ إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
کوئی معبود مگر ﷲ جو یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کے بندے اور رسول ہیں
وَأَنَّ عَلِیّاً أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْحَسَنَ وَالْحُسَیْن أَئِمَّتُکَ أَئِمَّةُ الْهُدَیٰ الْاََبْرَارُ
نیز یہ کہ علی مومنون کے امیر ہیں اور حسنعليهالسلام اور حسینعليهالسلام اور بارہویں امام تک ہر ایک کانام لے۔
تیرے امام ہیں جو ہدایت والے خوش کردار ہیں۔
جب قبر پر اینٹیں چن لے تو پھر قبر پر مٹی ڈالیں اور مستحب ہے کہ جو لوگ وہاں موجود ہوں اور اپنے ہاتھوں کی پشت کے ساتھ اس پر مٹی ڈالیں اور اس حال میں یہ کہیں:
إنَّا لِلّٰهِ وَ إنَّا إلَیْهِ رَاجِعُونَ هذَا مَا وَعَدَنَا ﷲ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ ﷲ وَرَسُولُهُ اَللّٰهُمَّ زِدْنا إیماناً وَتَسْلِیما
یقیناً ہم ﷲ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے، یہی وہ چیز ہے جسکا وعدہ ہم سے ﷲ و رسول نے کیا
اور ﷲ اور اسکے رسول نے سچ فرمایااے معبود!ہمارے ایمان و یقین میں اضافہ فرما۔
پس جب میت کو قبر میں اتارنے والا اس سے باہر نکلے تو پائنتی کی طرف سے باہر آئے، پھر قبر کو بند کردے اور اسے زمین سے چار انگشت کے برابر بلند کرے. اس قبر کی مٹی کے علاوہ اس پر دوسری مٹی نہ ڈالے اور بہتر ہے کہ قبر کے سر ہانے کوئی اینٹ رکھ دی جائے یاتختی لگادی جائے۔
اس کے بعد قبر پر پانی چھڑکا جائے اور اس کی ابتدائ قبر کے سرہانے کی طرف سے کی جائے۔ پانی قبر کے چاروں طرف ڈالا جائے اور اس کا اختتام سرہانے کی طرف ہی کیا جائے جہاں سے شروع کیا تھا. اگر کچھ پانی بچ رہے تو اسے قبر کے درمیان گرادیا جائے، پس جب قبر مکمل طور پر بند کی جا چکی ہوتو جو بھی شخص چاہے اس پر اپنا ہاتھ رکھے اور انگلیوں کو پھیلا دے. پھر میت کے لیے اس طرح دعا مانگے:
ًاَللّٰهُمَّ آنِسْ وَحْشَتَهُ وَارْحَمْ غُرْبَتَهُ وَأَسْکِنْ رَوْعَتَهُ وَصِلْ وَحْدَتَهُ وَأَسْکِنْ إلَیْهِ مِنْ
اے معبود! اس کے خوف میں ہمدم بن اس کی بے کسی پر رحم کر اس کا ڈر دور کردے، اس کی تنہائی کا ساتھی رہ اور اپنی رحمتوں سے خاص رحمت اسکے
رَحْمَتِکَ رَحْمَةً یَسْتَغْنِی بِها عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِواکَ وَاحْشُرْهُ مَعَ مَنْ کانَ یَتَوَلاَّهُ
ساتھ کردے کراس کے ذریعے اسے اپنے غیر کی رحمت سے بے نیاز کردے اوراس کو ان کے ساتھ اٹھانا، جن سے محبت رکھتا تھا۔
پھر جب سارے لوگ اس کی قبر سے واپس چلے جائیں تو جو شخص میت کے امر کا زیادہ حقدار ہے، وہ واپس جانے میں جلدی نہ کرے اور اس پر احسان کرتے ہوئے بلند آواز سے تلقین پڑھے، اگر تقیہ مانع نہ ہو پس کہے:اے فلاں ابن فلاں( میت کا اور اس کے باپ کا نام لے) :
ﷲ رَبُّکَ وَمُحَمَّدٌ نَبِیُّکَ وَالْقُرْآنُ کِتابُکَ، وَالْکَعْبَةُ قِبْلَتُکَ وَعَلِیٌّ إمامُکَ
ﷲ تیرا رب ہے حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تیرے نبی ہیں اور قرآن تیری کتاب ہے، کعبہ تیرا قبلہ ہے، حضرت علی تیرے امام ہیں
وَالْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ أَئِمَّتُکَ أَئِمَّةُ الْهُدَی الْاََبْرَارُ
اور حسنعليهالسلام اور حسینعليهالسلام ۔اور بارہویں امام تک ہر ایک کا نام لےتیرے امام ہیں، وہ امام ہدایت والے خوش کردار ہیں ۔
مولف کہتے ہیں: احتضار (جان کنی) کے علاوہ دو اور مقامات ہیں، جہاں میت کو تلقین کرنا مستحب ہے، ایک وہ وقت جب میت کو قبر میں لٹایا جائے اور بہتر یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے اس کے داہنے شانے کو اور بائیں ہاتھ سے اس کے بائیں شانے کو پکڑ کر اسے ہلاتے ہوئے، تلقین پڑھی جائے اور اس کے پڑھنے کا دوسرا وقت وہ ہے، جب میت کو دفن کر چکیں، چنانچہ مستحب ہے کہ میت کا ولی یعنی سب سے قریبی رشتہ دار دوسرے لوگوں کے چلے جانے کے بعد قبر کے سرہانے بیٹھ کر بلند آواز سے تلقین پڑھے اور بہتر ہے کہ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں قبر پر رکھے اور اپنا مُنہ قبر کے قریب لے جا کر تلقین پڑھے اگر کسی کو اپنا نائب بنائے تو بھی مناسب ہے۔
روایات میں آیا ہے کہ میت کے لیے اس وقت جو تلقین پڑھی جاتی ہے تو منکر اپنے ہمراہ نکیر سے کہتا ہے کہ آئو واپس چلیں، کیونکہ اسے اس کی حجت کی تلقین کردی گئی ہے. لہذا اب اس سے سوال کرنے کی ضرورت نہیں رہی. چنانچہ وہ سوال نہیں کرتے اور لوٹ جاتے ہیں ۔
تلقین جامع میت
علامہ مجلسیرحمهالله کا ارشاد ہے کہ اگر تلقین اس طرح سے پڑھی جائے تو زیادہ جامع ہوگی۔
اسْمَعْ افْهَمْ یَا فُلانَ ابْنَ فُلانٍ هَلْ أَنْتَ عَلَی الْعَهْدِ الَّذِی فارَقْتَنا عَلَیْه مِنْ شَهادَةِ أَنْ لاَ إلهَ
تو سن اور سمجھ اے فلاں بن فلاں یہاں میت کا اور اس کے باپ کا نام لے اور کہے:
آیا تو اسی عہد پر قائم ہے جس پر تو ہمیں چھوڑ کر آیا ہے، یعنی یہ گواہی کہ نہیں ہے معبود
إلاَّ ﷲ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
مگر ﷲ جو یکتا ہے ، کوئی اس کا شریک نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ اس کے بندے اور رسول ہیں،
وَسَیِّدُ النَّبِیِّینَ وَخَاتَمُ الْمُرْسَلِینَوَأَنَّ عَلِیَّاً أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ وَسَیِّد الْوَصِیِّینَ وَ إمامٌ افْتَرَضَ
وہ نبیوں کے سردار اور پیغمبروں کے خاتم ہیں. اور یہ کہ حضرت علیعليهالسلام مومنوں کے امیر اوصیائ کے سردار اور ایسے امام ہیں کہ ﷲ نے انکی
ﷲ طاعَتَهُ عَلَی الْعالَمِین وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ وَعَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ
اطاعت تمام جہانوں پر فرض کردی ہے،نیز حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام ،علی زین العابدینعليهالسلام ، محمد باقرعليهالسلام ،جعفر صادقعليهالسلام ،موسیٰ کاظمعليهالسلام ،
وَعَلِیَّ بْنَ مُوسی وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ وَعَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ وَالْقَائِمَ الْحُجَّةَ الْمَهْدِیَّ صَلَواتُ ﷲ عَلَیْهِمْ
علی رضاعليهالسلام ، محمد تقیعليهالسلام ،علی نقیعليهالسلام ، حسن عسکریعليهالسلام ، اور حجت القائم مہدیعليهالسلام کہ ان سب پر خدا کی رحمت ہو،
أَئِمَّةُ الْمُؤْمِنِینَ وَحُجَجُ ﷲ عَلَی الْخَلْقِ أَجْمَعِینَ وَأَئِمَّتَکَ أَئِمَّةُ هُدیً أَبْرَارٌ، یَا فُلانَ ابْنَ
یہ مومنون کے امام اورﷲ کی ساری مخلوق پر اس کی حجتیں ہیں. تیرے یہ امام ہدایت والے خوش کردار ہیں. اے فلاں بن
فُلانٍ إذا أَتَاکَ الْمَلَکانِ الْمُقَرَّبانِ رَسُولَیْنِ مِنْ عِنْدِ ﷲ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَسَئَلَکَ عَنْ
فلاں، جب تیرے پاس دو مقرب فرشتے دو پیام بر ﷲ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے آئیں اور تجھ سے پوچھیں، تیرے رب
رَبِّکَ وَعَنْ نَبِیِّکَ وَعَنْ دِینِکَ وَعَنْ کِتابِکَ وَعَنْ قِبْلَتِکَ وَعَنْ أَئِمَّتِکَ فَلا تَخَفْ وَقُلْ فِی جَوابِهِما
تیرے نبی تیرے دین تیری کتاب تیرے قبلہ اور تیرے ائمہ کے متعلق تو ڈرمت اور ان کے جواب میں کہہ کہ ﷲ
ﷲ جَلَّ جَلالُهُ رَبِّی وَمُحَمَّدٌ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ نَبِیِّی وَالْاِسْلامُ دِینِی وَالْقُرْآنُ کِتابِی
جل و جلالہ میرا رب ہے.حضرت محمد صلی ﷲ علیہ و آلہ میرے نبی ہیں. اسلام میرا دین ہے، قرآن میری کتاب ہے،
وَالْکَعْبَةُ قِبْلَتِی وَأَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طالِبٍ إمامِی، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ
کعبہ میراقبلہ ہے. اور امیرالمومنین علیعليهالسلام بن ابیطالب میرے امام ہیں، ان کے بعد حسنعليهالسلام مجتبیٰ
الْمُجْتَبَی إمامِی وَالْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الشَّهِیدُ بِکَرْبَلائَ إمامِی وَعَلِیٌّ زَیْنُ الْعابِدِینَ
میرے امام ہیںاور حسینعليهالسلام بن علیعليهالسلام جو کربلا میں شہید ہوئے میرے امام ہیں، علیعليهالسلام بن زین العابدینعليهالسلام
إمامِی وَمُحَمَّدٌ باقِرُ عِلْمِ النَّبِیِینَ إمامِی وَجَعْفَرٌ الصَّادِقُ إمامِی
میرے امام ہیں، نبیوں کے علم پھیلانے والے اور محمد باقرعليهالسلام جو میرے امام ہیں جعفر صادقعليهالسلام میرے امام ہیں،
وَمُوسَی الْکاظِمُ إمامِی وَعَلِیٌّ الرِّضا إمامِی وَمُحَمَّدٌ الْجَوادُ إمامِی
موسیٰ کاظمعليهالسلام میرے امام ہیں، علیعليهالسلام رضا میرے امام ہیں، محمد تقیعليهالسلام جوادمیرے امام ہیں،
وَعَلِیٌّ الْهَادِی إمامِی وَالْحَسَنُ الْعَسْکَرِیُّ إمامِی وَالْحُجَّةُ الْمُنْتَظَرُ إمامِی هؤُلائِ صَلَواتُ
علی نقیعليهالسلام ہادی میرے امام ہیں، حسنعليهالسلام عسکریعليهالسلام میرے امام ہیںحجت منتظر میرے امام ہیں. ان سب پر خدا کی
ﷲ عَلَیْهِمْ أَجْمَعِینَ أَئِمَّتِی وَسادَتِی وَقادَتِی وَشُفَعائِی بِهِمْ أَتَوَلَّی وَمِنْ أَعْدائِهِمْ أَتَبَرَّأُ
رحمت ہو کہ یہی میرے مام میرے ردار ،میرے پیشوااور میرے شفیع ہیں، میں ان سے محبت کرتا ہوں، ان کے دشمنوں سے
فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ ثُمَّ اعْلَمْ یَا فُلانَ ابْنَ فُلانٍ أَنَّ ﷲ تَبارَکَ وَتَعالی نِعْمَ الرَّبُّ
نفرت کرتا ہوں، دنیا و آخرت میں پس جان لے اے فلاں بن فلاں یہ کہ ﷲ تبارک و تعالیٰ بہترین رب ہے
وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ نِعْمَ الرَّسُولُ وَأَنَّ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طالِبٍ وَأَوْلادَهُ
اور حضرت محمد صلی ﷲ علیہ و آلہ بہترین رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں، امیرالمومنین علی بن ابیطالب اور ان کی اولاد سے گیارہ
آلاَءِمَّةَ الْاََحَدَ عَشَر نِعْمَ آلاَءِمَّة وَأَنَّ مَاجائَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ حَقٌّ وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ وَسُؤَالَ مُنْکَرٍ وَنَکِیرٍ
امام بہترین ائمہ ہیں اور یہ کہ جس چیز کو لے کر حضرت محمد صلی ﷲ علیہ و آلہ آئے وہ حق ہے، موت حق ہے، قبر میں منکر و نکیر کا سوال کرنا حق
فِی الْقَبْرِ حَقٌّ وَالْبَعْثَ حَقٌّ وَالنُّشُورَ حَقٌّ وَالصِّراطَ حَقٌّ وَالْمِیزانَ حَقٌّ وَتَطایُرَ الْکُتُبِ
ہے، قبروں سے اٹھنا حق ہے، حشر و نشر حق ہے،صراط حق ہے، میزان عمل حق ہے نامہ اعمال کا کھولا جانا حق ہے،
حَقٌّ وَالْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِیَةٌ لاَ رَیْبَ فِیها، وَأَنَّ ﷲ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُور ۔ اس کے بعد کہے:
جنت حق ہے، جہنم حق ہے، اور یقیناًقیامت آکر رہے گی اس میں شک نہیں اور خدا انہیں اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔
أَفَهِمْتَ یَا فُلانُ؟ ثَبَّتَکَ ﷲ بالْقَوْل الثَّابِتِ هَدَاکَ ﷲ إلی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ
اے فلاں کیا تو نے سمجھ لیا ہے؟
حدیث میں ہے کہ اس کے جواب میں میت کہتی ہے کہ ہاں میں نے سمجھ لیا. پھر کہے:عَرَّفَ ﷲ بَیْنَکَ وَبَیْنَ أَوْلِیائِکَ فِی مُسْتَقَرٍّ مِنْ رَحْمَتِهِ اَللّٰهُمَّ جافِ الْاََرْضَ
خدا تجھے اس مضبوط قول پر قائم رکھے خدا تجھے صراط مستقیم کی ہدایت کرےخدا اپنی رحمت کی قرار گاہ میں تیرے اور تیرے اولیائ کے درمیان جان پہچان کرائے۔پھر کہے:اے معبود! اس کی قبر کی دونوں
عَنْ جَنْبَیْهِ وَاصْعَدْ بِرُوحِهِ إلَیْکَ وَلَقِّهِ مِنْکَ بُرْهاناً اَللّٰهُمَّ عَفْوَکَ عَفْوَکَ
اطراف کو کشادہ کر اس کی روح کو اپنی طرف اٹھالے اور اسے دلیل و برہان عطا فرما. اے معبود اسے معاف فرما، معاف فرما۔
( خاتمہ کتاب)
میں نے اس باشرف رسالے کے مضامین کو لفظ ’’عفو‘‘ پر ختم کیا ہے اور امید و اثق ہے کہ پروردگار عالم کا عفو و کرم اس روسیاہ کے اور ان لوگوں کے بھی شامل حال ہوگا جو اس رسالے پر عمل کریں گے. اس کی تالیف کا سلسلہ ۹۱ محرم الحرام ۵۴۳۱ ÷ ھ کو روز جمعہ کی آخری ساعتوں میں ہمارے مسموم امام ہمارے غریب اور مظلوم مولا امام ابوالحسن علی رضاعليهالسلام کے قرب میں اختتام کو پہنچا (ان پر اور ان کے بزرگان پر زندہ و پائندہ خدا کا سلام ہو)۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ اَوَّلاً وَّ آخِرًا وَّ صَلّیَ ﷲ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٰ
حمد ہے ﷲ کے لیے آغاز و انجام میں اور خدا کی رحمت ہومحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر۔
اس رسالے کو اپنے گناہکار ہاتھوں سے عباس بن محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم رضا قمی نے مرتب کیا(خدا ان دونوں کے گناہ معاف فرمائے). اس بابرکت رسالے باقیات الصالحات کی (پہلی) کتابت غلام رضا صفا بن مرحوم و مغفور حسین باقر آبادی نے ۶۰۴۱ ھ میں مکمل کی۔
(ملحقات باقیات الصالحات)
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے ۔
چند دعائیں اور تعویذات جنہیں بحار الانوار سے نقل کر کے باقیات الصالحات کے ساتھ ملحق کیا گیا ہے۔
اس میں بیس دعائیں ہیں
دعائے مختصراورمفید
( ۱ ) منقول ہے کہ امیرلمومنین- نے ایک شخص کو دیکھا جو کسی کتاب میں سے کوئی طویل دعا پڑھ رہاتھا. حضرت نے اس سے فرمایا: اے شخص جو خدا طویل دعا کوسنتا ہے، وہ قلیل دعا کا بھی جواب دیتا ہے اس نے عرض کیا میرے مولا! فرمایئے کہ میں کس طرح دعا کروں؟ آپعليهالسلام نے فرمایا یوں کہو:
الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی کُلِّ
حمد ہے ﷲ کیلئے ہر ایک نعمت پر میں
نِعْمَةٍ وَأَسْأَلُ ﷲ مِنْ کُلِّ خَیْر وَأَعُوذُ بِالله مِنْ کُلِّ شَرٍّ وَأَسْتَغْفِرُ ﷲ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ
خدا سے ہر بہتری کا سوال کرتا ہوں ہر ایک شر سے، خدا کی پناہ لیتا ہوں اور ہر گناہ پر معافی مانگتا ہوں۔
دعائے دوری ہر رنج وخوف
( ۲ ) یہ وہ دعا ہے جو امام جعفر صادق - نے اپنے بعض اصحاب کو تعلیم فرمائی کہ ہر رنج و خوف کو دور کرنے کیلئے اسے پڑھا کرے:
أَعْدَدْتُ لِکُلِّ عَظِیمَةٍ
میں نے تیار کیا ہر حادثے کے
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ وَلِکُلِّ هَمٍّ وَغَمٍّ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله مُحَمَّدٌ صلی ﷲ علی وآله النُّورُ الْاََوَّلُ، وَعَلِیٌّ
مقابل لا الٰہ الّا ﷲ اور ہر رنج و غم کے مقابل لا حول و لاقوۃ الّا بﷲ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نور اول ہیں، علی
النُّورُ الثَّانِی وَالائََمَّةُ الْاََبْرارُ عُدَّةٌ لِلِقائِ ﷲ وَحِجابٌ مِنْ أَعْدائِ
نور ثانی ہیںاور ان کے بعد ہونے والے آئمہ خوش کردار لقائے الٰہی کاذریعہ اور دشمنان خدا کے آگے
ﷲ ذَلَّ کُلُّ شَیْئٍ لِعَظَمَةِ ﷲ وَأَسْأَلُ ﷲ عَزَّ وجَلَّ الْکِفایَةَ
ڈھال ہیں، ہر چیز خدا کی بڑائی کے سامنے پست ہے اور میں خدا عز وجل سے سوال کرتا ہوں کہ کافی روزی دے۔
( ۳ ) بیماریوں اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا:
سید ابن طائوس فرماتے ہیں کہ ہم نے اسے آزمایا ہے. پس ایک کاغذ پر لکھے:
یَا مَنِ اسْمُهُ دَوائٌ
اے وہ جس کا نام دوا
وَذِکْرُهُ شِفائٌ، یَا مَنْ یَجْعَلُ الشِّفائَ فِیما یَشائُ مِنَ الْاََشْیائِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ
اور جس کا ذکر شفا ہے. اے وہ کہ چیزوں میں سے جس میں چاہے شفا رکھ دےرحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام
مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْ شِفائِی مِنْ هذَا الدَّائِ فِی اسْمِکَ هذَا ۔ دس مرتبہ لکھے:یَا ﷲ
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پراور اپنے اس نام میں میرے لیے اس بیماری سےشفا قرار دے۔اے ﷲ
دس مرتبہ لکھے:یَارَبِّ دس مرتبہ لکھے:یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔
اے رب اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا
( ۴ ) بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا امام جعفر صادق - سے روایت ہے کہ بدن پر چھالا دیکھے تو اس کے چاروں طرف انگشت شہادت کو پھراتے ہوئے ،سات مرتبہ یہ کہے:
لاَ إلهَ إلاَّ ﷲ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ
نہیں ہے معبود مگر ﷲ جو بردبار فیض رساں ہے۔ساتویں چکر پر انگلی چھالے پر رکھ کر اسے دبائے۔
خنازیر (ہجیروں )کو ختم کرنے کیلئے ورد
( ۵ ) روایت ہوئی ہے کہ خنازیر یعنی ہجیروں کو ختم کرنے کے لیے باربار پڑھے:
رَؤُوفُ یَا رَحِیمُ یَارَبِّ یَا سَیِّدِی
اے مہربان! اے رحم والے! اے رب! اے میرے مالک!۔
کمر درد دور کرنے کیلئے دعا
( ۶ ) کمردرد دور کرنے کے لیے مروی ہے کہ درد کے مقام پر ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ پڑھے:
وَما کانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إلاَّ بِ إذْنِ ﷲ کِتاباً مُؤَجَّلاً، وَمَنْ یُرِدْ ثَوابَ الدُّنْیا نُؤْتِهِ
کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ حکم الٰہی کے بغیر مرجائے اس کا وقت لکھا ہوا ہے جو شخص دنیا کا اجر چاہتا ہے ہم اسے
مِنْها وَمَنْ یُرِدْ ثَوابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْها وَسَنَجْزِی الشَّاکِرِینَ
دیتے ہیں اور جو آخرت کا اجر چاہے ہم اسے بھی دیتے ہیں اور ہم شکرگزاروں کو جلد جزا دیں گے۔
پھر سات مرتبہ سورہ قدر پڑھے، انشائ ﷲ صحت پائے گا۔
درد ناف دور کرنے کیلئے دعا
( ۷ )دردناف کے لیے مروی ہے کہ درد کے مقام پر ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ کہے:
وَ إنَّهُ لَکِتابٌ عَزِیزٌ لاَ یَأْتِیهِ الْباطِلُ مِنْ
اور یقیناً یہ ایسی با عزت کتاب ہے کہ نہ باطل اس کے سامنے سے
بَیْنِ یَدَیْهِ وَلاَ مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِیلٌ مِنْ حَکِیمٍ حَمِیدٍ
آ سکتا ہے نہ اس کے پیچھے سے یہ حکمت والے تعریف والے خدا کی بھیجی ہوئی ہے۔
ہر درد دور کرنے کا تعویذ
( ۸ ) یہ تعویذ ہر درد کے لیے ہے اور یہ امام علی رضا- کی طرف سے روایت ہوا ہے:
أُعِیذُ نَفْسِی بِرَبِّ الْاََرْضِ وَرَبِّ السَّمائِ
میں اپنے آپ کو زمین و آسمان کے رب کی پناہ میں لیتا ہوں، میں خود کو اس
أُعِیذُ نَفْسِی بِالَّذِی لاَ یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ دائٌ أُعِیذُ نَفْسِی بِالله الَّذِی اسْمُهُ بَرَکَةٌ وَشِفائٌ
کی پناہ لیتا ہوں جس کے نام سے کوئی بیماری نہیں لگتی،میں خود کو ﷲ کی پناہ میں دیتا ہوں جسکے نام میں برکت و شفا ہے۔
درد مقعد دور کرنے کا عمل
( ۹ ) روایت ہے کہ خاصرہ یعنی مقعد کے درد کے لیے نماز سے فراغت کے بعد سجدہ گاہ پر ہاتھ لگا کر درد کے مقام پر پھیرے اور سورہ مومنون کی آخری آیت’’اَفَحَسِبْتُمْ اِنَّمَا خَلَقْنٰٰکُمْ عَبَثاً سے تا آخر سورہ پڑھے:
درد شکم قولنج اور دوسرے دردوں کیلئے دعا
(۱۰) درد شکم، قولنج اور ایسے ہی دوسرے دردوں کے لیے پڑھے:بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحیْمِ. وَذَالنُّونِ اِذْ ذَهَبَ مَغَاضِباً تا آخر آیت پڑھے اس کے بعد سات مرتبہ سورہ حمد کی تلاوت کرے۔ یہ عمل مجرب ہے۔
رنج وغم میں گھیرے ہوے شخص کا دستور العمل
( ۱۱ ) رنج و غم میں گھرا ہوا انسان جو مختلف مصیبتوں میں مبتلا ہو چکا ہو اور ہر طرح سے بے بس اور ناچار ہوگیا ہو تو وہ شب جمعہ نماز عشائ سے فارغ ہونے کے بعد یہ آیت پڑھے:
لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ سُبْحانَکَ إنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ
نہیں ہے کوئی معبود مگر تو کہ پاک و منزہ ہے، یقیناً میں ہی ظالموں میں سے ہوگیا ہوں۔
دعائے خلاصی قید وزندان
(۲۱) قید و زندان سے خلاصی کے لیے امام موسیٰ کاظم - کی دعا:
یَا مُخَلِّصَ الشَّجَرِ مِنْ بَیْنِ رَمْلٍ وَطِینٍ وَمائٍ وَیَا مُخَلِّصَ اللَّبَنِ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ
اے درخت کو ریت مٹی اور پانی کے بیچ سےنکالنے والے!اے دودھ کو گوبراور خون کے بیچ سے
وَدَمٍ وَیَا مُخَلِّصَ الْوَلَدِ مِنْ بَیْنِ مَشِیمَةٍ وَرَحِمٍ وَیَا مُخَلِّصَ النَّارِ مِنْ بَیْنِ الْحَدِیدِ وَالْحَجَرِ
نکالنے والے! ایبچے کو جھلی اور رحم کے بیچ سے نکالنے والے!اے آگ کو لوہے اور پتھر کےبیچ سے نکالنے والے
وَیَا مُخَلِّصَ الرُّوْحِ مِنْ بَیْنِ الْاََحْشَائِ وَالْاََمْعائِ خَلِّصْنِی مِنْ یَدَیْ هارُونَ
اور اے روح کو پہلوئوں اور انتڑیوں کے بیچ سے نکالنے والے مجھ کو ہارون عباسی کے چنگل سے چھڑا دے۔
روایت ہوئی ہے کہ امام موسیٰ کاظم - نے یہ دعا اس وقت پڑھی، جب آپ خلیفہ ہارون عباسی کی قیدمیں تھے چنانچہ جب رات چھاگئی تو آپ نے وضو کیا چار رکعت نماز پڑھی اور پھر اس دعا کو پڑھا اسی رات خلیفہ ہارون نے ایک ہولناک خواب دیکھا جس سے وہ ڈرگیا اور اس نے حضرت کی رہائی کا حکم دے دیا۔
(۱۳) دعائے فرج:
اَللّٰهُمَّ إنْ کانَتْ ذُنُوبِی أَخْلَقَتوَجْهِی عِنْدَکَ فَ إنِّی أَتَوَجَّهُ إلَیْکَ بِنَبِیِّکَ نَبِیِّ الرَّحْمَةِ
اے معبود! اگر میرے گناہوں نے میرے چہرے کو تیرے سامنے بد نما کردیا ہےتو میں تیری طرف متوجہ ہوں،تیرے نبی کے وسلیے سے جو پیغمبر رحمت
مُحَمَّدٍ صَلَّی ﷲ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَعَلِیٍّ وَفاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَآلاَءِمَّةِ عَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ
حضرت محمد صلی ﷲ علیہ و آلہ ہیں اور علیعليهالسلام و فاطمہعليهالسلام عليهالسلام اور حسنعليهالسلام و حسینعليهالسلام اور بعد والے ائمہ کو وسیلہ بنایا ہے۔
اور معلوم ہونا چاہیئے کہ سختیوں اور مصیبتوں سے چھٹکارا پانے کے لیے بہت سی دعائیں ہیں اور ان میں سے ایک دعا یہ بھی ہے:’’اِلٰهِی طُوْحِ الاَمَال ُ قَدْ خَابَتْ اِلَّا لَدَیْکَ. الخ جو مفاتیح الجنان میں شب جمعہ کے اعمال میں ذکر ہوچکی ہے. وہاں ملاحظہ ہو۔
نماز وتر کی دعا
(۱۴) یہ وہی بابرکت دعا ہے جو نماز وتر میں پڑھی جاتی ہے، اسے علامہ مجلسیرحمهالله نے بحار میں کتاب ’’اختیار‘‘ سے نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا پڑھے:
إلهِی کَیْفَ أَصْدُر عَنْ بابِکَ بِخَیْبَةٍ مِنْکَ وَ قَصَدْتُهُ عَلَی ثِقَةٍ بِکَ إلهِی کَیْفَ
اے معبود! کیونکر تیرے درسے نامراد ہوکر پلٹ جائوں، جب کہ میں تجھ پر بھروسہ کر کے یہاں آیا تھا اے معبود ! تو کیونکر
تُؤْیِسُنِی مِنْ عَطائِکَ وَ أَمَرْتَنِی بِدُعائِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْنِی
مجھے اپنی عطا سے مایوس کرے گا َجب کہ تو نے مجھےدعا کا حکم دیاہےرحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم وآلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور مجھ پر رحم کر
إذَا اشْتَدَّ الْاََنِینُ وَحُظِرَ عَلَیَّ الْعَمَلُ وَانْقَطَعَ مِنِّی الْاََمَل وَأَفْضَیْتُ إلَی الْمَنُونِ
جب میں بہت زاری کروں معاملہ ہاتھ سے نکل جائے میری آس ٹوٹ گئی ہو موت کےدر ازے تک پہنچ جائوں
وَبَکَتْ عَلَیَّ الْعُیُون وَوَدَّعَنِی الْاََهْلُ وَالْاََحْبابُ وَحُثِیَ عَلَیَّ التُّرابُ وَنُسِیَ
انکھیں مجھ پر رو رہی ہوں، میرے اہل خاندان اور احباب مجھے چھوڑ چکے ہوں. مجھ پر مٹی ڈال دی گئی ہو میرا
اسْمِی وَبَلِیَ جِسْمِی وَانْطَمَسَ ذِکْرِی وَهُجِرَ قَبْرِی فَلَمْ یَزُرْنِی زائِرٌ وَلَمْ
نام بھلا دیا گیا ہو، میرا جسم گل چکا ہو، میرا ذکر مٹ چکا ہو، میری قبر نامعلوم ہو گئی ہو، کوئی اسے دیکھنے نہ آئے، نہ کوئی مجھے یاد
یَذْکُرْنِی ذاکِرٌ وَظَهَرَتْ مِنِّی الْمَآثِمُ وَاسْتَوْلَتْ عَلَیَّ الْمَظالِمُ وَطالَتْ شِکَایَةُ الْخُصُوم
کرے. میرے گناہ عیاں ہو چکے ہوں، میری ناانصافیاں مجھے گھیرے ہوئے ہوں. میرے خلاف شکایات طولانی ہوں.
وَأَتَّصَلَتْ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ صَلِّ اَللّٰهُمَّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَرْضِ
مظلوموں کے دعوے جاری ہوں، ایسے میں اے معبود! محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر رحمت فرما اور اپنے
خُصُومِی عَنِّی بِفَضْلِکَ وَ إحْسانِک َوَجُد عَلَیَّ بِعَفْوِکَ وَرِضْوانِکَ
فضل و کرم سے میرےدعویداروں کو مجھ سے راضی کر دے مجھے اپنی بخشش و خوشنودی عطا فرما،
إلهِی ذَهَبَتْ أَیَّام لَذَّاتِی وَبَقِیَتْ مَآثِمِی وَتَبِعاتِی، وَ أَتَیْتُکَ
میرے معبود میری لذتوں کے دن گزر گئے، میرے گناہ اور ان کا انجام رہ گیا ہے. اب میں توبہ کے
مُنِیباً تائِباً فَلا تَرُدَّنِی مَحْرُوماً وَلاَ خائِباً اَللّٰهُمَّ آمِنْ رَوْعَتِی
ساتھ تیرے پاس آیا ہوں، پس مجھےمحرومی و ناکامی کے ساتھ واپس نہ پلٹا.اے معبود! میرے خوف کو امن
وَاغْفِرْ زَلَّتِی وَتُبْ عَلَیَّ إنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ
میں بدل و خطائیں معاف فرمااور میری توبہ قبول کر بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
دعائے حزین
(۱۵) یہ دعائے حزیں ہے اور یہ وہ بابرکت دعا ہے جو نماز شب کے بعد پڑھی جاتی ہے.اور ہم اسے مصباح المتہجد سے نقل کرتے ہیں :
أُناجِیکَ یَا مَوْجُوداً فِی کُلِّ مَکانٍ لَعَلَّکَ
اے وہ ﷲ جو ہر جگہ موجود ہے میں تجھ سے مناجات کررہاہوں. شاید
تَسْمَعُ نِدائِی فَقد عَظُمَ جُرْمِی وَقَلَّ حَیائِی مَوْلایَ یَا مَوْلایَ،
کہ تو میری فریاد سن لے کیونکہ میرے جرائم زیادہ ہیں اور حیا گھٹ گئی ہے،میرے مولا اے میرے مولا! میں کس
أَیَّ الْاََهْوَالِ أَتَذَکَّرُ وَاَیُّهَا اَنْسٰی وَلَوْ لَمْ یَکُنْ إلاَّ الْمَوْتُ لَکَفَیٰ کَیْفَ وَما بَعْدَ الْمَوْتِ
کس خوف کو یاد کروں اور کس کس کو فراموش کروں، اگر موت کے سوا کوئی خوف نہ ہوتا تو یہی کافی تھا اور موت کے بعد کے
أَعْظَمُ وَأَدْهَیٰ یَا مَوْلایَ یَا مَوْلایَ یَا الْعُتْبَی مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَی ثُمَّ
حالات تو زیادہ پر خطر ہیں میرے مولا اے میرے مولا! کب تک اور کہاں تک تجھ سے کہتا رہوں ایک کے بعد
لاَ تَجِدُ عِنْدِی صِدْقاً وَلاَ وَفائً فَیا غَوْثاهُ ثُمَّ وا غَوْثاهُ بِکَ
دوسری بارعذر لائوں پھر بھی تو میری طرف سے اس میں سچائی اور پابندی نہیں پاتا ہائے فریاد، پھر ہائے فریاد ہے، تجھ سے
یَا ﷲ مِنْ هَوَیً غَلَبَنِی وَمِنْ عَدُوٍّ قَدِ اسْتَکْلَبَ عَلَیَّ وَمِنْ دُنْیا قد تَزَیَّنَتْ لِی وَمِنْ نَفْسٍ أَمَّارَةٍ بِالسُّوئِ، إلاَّ مَا رَحِمَ
اے ﷲ خواہش نفس سے جو مجھ پر حاوی ہے اور اس دشمن سے فریاد جو مجھ پر
جھپٹ پڑا ہے، اس دنیا پر فریاد جو میرے لیے سنور کر آگئی اور اس نفس پر جو برائی کا حکم دیتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم
رَبِّی مَوْلایَ یَا مَوْلایَ إنْ کُنْتَ رَحِمْتَ مِثْلِی فَارْحَمْنِی وَ إنْ
کرے میرے مولا! اے میرے مولا!اگر تو نے کسی مجھ جیسے پر رحم کیا ہے تو مجھ پر بھی رحم کر، اگر کسی مجھ جیسے کا عمل
کُنْتَ قَبِلْتَ مِثْلِی فَاقْبَلْنِی یَا قابِلَ السَّحَرَةِ اقْبَلْنِی یَا مَنْ لَمْ أَزَلْ أَتَعَرَّفُ مِنْهُ الْحُسْنَیٰ
قبول کیا ہے تو میرا بھی عمل قبول کر، اے ساحران مصر کو قبول کرنے والے مجھے بھی قبول کر، اے وہ جس سے میں نے ہمیشہ
یَا مَنْ یُغَذِّینِی بِالنِّعَمِ صَباحاً وَمَسائً ارْحَمْنِی یَوْمَ آتِیکَ فَرْداً شاخِصاً إلَیْک
اچھائی ہی کو پہچانا، اے وہ جو مجھے صبح و شام نعمتیں عطا فرماتا ہے، مجھ پر اس دن رحم فرمانا، جب تنہا ہوں گا اورتیری طرف
بَصَرِی مُقَلَّداً عَمَلِی قد تَبَرَّأَ جَمِیعُ الْخَلْقِ مِنِّی نَعَمْ وَأَبِی وَأُمِّی وَمَنْ کانَ لَهُ کَدِّی
آنکھ لگائے ہوں گا.اپنے اعمال گلے میں لٹکائے جب ساری مخلوق مجھ سے دوری اختیار کرے گی، ہاں میرے باپ بھی
وَسَعْیِی فَ إنْ لَمْ تَرْحَمْنِی فَمَنْ یَرْحَمُنِی، وَمَنْ یُؤْنِسُ فِی الْقَبْرِ وَحْشَتِی وَمَنْ یُنْطِقُ لِسانِی إذا
اور وہ بھی جن کیلئے میں دکھ جھیلتا رہا، پس اگر تو مجھ پر رحم نہ کرے تو کون کرے گاقبر کی تنہائی میں کون میرا ہمدم ہوگا، کون میری
خَلَوْتُ بِعَمَلِی وَسائَلْتَنِی عَمَّا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّی، فَ إنْ قُلْتُ نَعَمْ فَأَیْنَ الْمَهْرَبُ
زبان کو گویا کرے گا، جب تو عمل کے بارے میں مجھ سے سوال کرے گا، جب کہ تو اسے مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو اگر میں ہاں
مِنْ عَدْلِکَ؟ وَ إنْ قُلْتُ لَمْ أَفْعَلْ، قُلْتَ أَلَمْ أَکُنِ الشَّاهِدَ عَلَیْکَ
کہوں پھر تیرے عدل سے کدھر بھاگوں گا اور اگر کہوں، میں نے نہیں کیا تو تو کہے گا، کیا میں اس پر گواہ نہیں
فَعَفْوُکَ عَفْوُکَ یَا مَوْلایَ قَبْلَ سَرابِیلَ الْقَطِرانِ عَفْوُکَ عَفْوُکَ
تھا. پس بخش دے، بخش دے اے میرے مولا اس سے پہلے کہ تارکول کا جامہ پہنوں. بخش دے، بخش دے.
یَا مَوْلایَ قَبْلَ جَهَنَّمَ وَالنَّیْرَانِ عَفْوُکَ عَفْوُکَ یَا مَوْلایَ قَبْلَ أَنْ تُغَلَّ
اے میرے مولا! اس سے پہلے کہ جہنم کے شعلوں میں پڑوں بخش دے بخش دے اے میرے مولا، اس سے پہلے کہ میرے
الْاََیْدِی إلَی الْاََعْناقِ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ وَخَیْرَ الْغافِرِینَ
ہاتھ گردن میں باندھ دیئے جائیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور اے بہت بخشنے والے‘‘.
زیادتی علم وفہم کی دعا
(۱۶) ثقہ جلیل و عالم کبیر اور عابد و زاہد عبدﷲ بن جندب جو امام موسیٰ کاظم- اور امام علی رضا- کے اصحاب میں سے ان کے وکیل بھی تھے امام موسیٰ کاظم - کی خدمت میں عریضہ تحریر کیا کہ قربان جائوں! میں بوڑھا ہوچکا ہوں، کمزوری کی وجہ سے کئی ایسے کاموں سے عاجز ہوگیا ہوں جن کے انجام دینے کی طاقت رکھتا تھا قربان جائوں! مجھے کوئی ایسا کلام تعلیم فرمائیں جو مجھے خداوند تعالیٰ کے نزدیک کر دے اور میرے علم و فہم میں اضافے کا موجب بھی ہو، تب حضرت نے جواب میں انہیں حکم دیا کہ اس ذکر شریف کو زیادہ سے زیادہ پڑھا کرو:
بِسْمِ ﷲ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إلاَّ بِالله الْعَلِیِّ الْعَظِیمِ
خدا کے نام سے جو بڑا رحم والا مہربان ہے، نہیں ہے حرکت و قوت مگر جو بلند و بزرگ خدا سے ہے۔
قرب الہی کی دعا۔
(۱۷) حدیث قدسی میں ہے: اے محمد ! ان لوگوں سے کہہ دو جو میرا قرب حاصل کرنا چاہیئے ہیں یقین کے ساتھ سمجھ لو کہ یہ کلام ہر اس چیز سے افضل ہے جس کے ذریعے وہ میرا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں ، فرائض کی بجا آوری کے بعد یہی کلام ہے جس سے میرا قرب حاصل کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ إنَّهُ لَمْ یُمْسِ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِکَ أَنْتَ إلَیْهِ أَحْسَنُ
اے معبود! یقیناً تیری مخلوق میں کوئی ایسا نہیں جو شام کرے مجھ سے زیادہ اس پر تیرا احسان ہو
صَنِیعاً، وَلاَ لَهُ أَدْوَمُ کَرامَةً وَلاَ عَلَیْهِ أَبْیَنُ فَضْلاً وَلاَ بِهِ أَشَدُّ تَرَفُّقاً وَلاَ عَلَیْهِ أَشَدُّ
نہ اس کے لیے تیری لگاتار مہربانی ہے نہ اس پر تیرا کھلا ہو افضل ہے نہ اس کے ساتھ انتہائی نرمی ہے نہ اس کے لیے
حِیاطَةً وَلاَ عَلَیْهِ أَشَدُّ تَعَطُّفاً مِنْکَ عَلَیَّ وَ إنْ کانَ جَمِیعُ الْمَخْلُوقِینَ یُعَدِّدُونَ
بیشتر نگہبانی ہے اور نہ اس پر تیرا کچھ زیادہ کرم ہے جومجھ پر ہے اگر چہ ساری مخلوق اسی طرح شمار کرتی ہے
مِنْ ذلِکَ مِثْلَ تَعْدِیدی فَاشْهَدْ یَا کافِیَ الشَّهادَةِ بِأَنِّی أُشْهِدُکَ بِنِیَّةِ صِدْقٍ
جیسے میں نیان چیزوں کو شمار کیا ہے تو بھی گواہ رہنا.اے کافی گواہی والے اس بات پر کہ میں نے سچے دل سے تجھے گواہ
بِأَنَّ لَکَ الْفَضْلَ وَالطَّوْلَ فِی إنْعامِکَ عَلَیَّ مَعَ قِلَّةِ شُکْرِی لَکَ فِیها،یَا فاعِلَ
بنایا ہے اس پر کہ مجھے نعمتیں عنایت کرنے میں تیرا فضل و کرم بہت زیادہ ہے، جب کہ میں ان پر بہت کم شکر کرتا ہوں. اے ہر ارادے کو
کُلِّ إرادَةٍ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَطَوِّقْنِی أَماناً مِنْ حُلُولِ السَّخَطِ
انجام دینے والے رحمت فرمامحمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر اور میری کم شکری کے باعث نزول بلا سے بچانے
لِقِلَّةِ الشُّکْرِ وَأَوْجِبْ لِی زِیادَةً مِنْ إتْمامِ النِّعْمَةِ بِسَعَةِ الْمَغْفِرَةِ
کیلئے امان کا طوق میرے گلے میں ڈال دے اور اپنی وسیع معافی کی بددلت میرے لیے نعمتیں بڑھا دے مجھ پر
أَمْطِرْنِی خَیْرَکَ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ
اپنی طرف سے کرم کی بارش برسا پس رحمت فرما حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر میری بد
وَلاَ تُقایِسْنِی بِسُوئِ سَرِیرَتِی وَامْتَحِنْ قَلْبِی لِرِضاکَ وَاجْعَلْ مَا تَقَرَّبْتُ بِهِ إلَیْکَ
باطنی کے ساتھ میری جانچ نہ کر، بلکہ میرے دل کو اپنی رضا کے لیے آزما، جس چیز کے ذریعے میں تیرے دین کے
فِی دِینِکَ لَکَ خالِصاً، وَلاَ تَجْعَلْهُ لِلُزُومِ شُبْهَةٍ أَوْ فَخْرٍ أَوْ رِیائٍ، یَا کَرِیمُ
قریب آیا ہوں، اسے اپنے لیے خالص قرار دے اور اسے کسی شبہے فخر اور نمائش میں شمار نہ کر اے کرم کرنے والے۔
دعاء اسرار قدسیہ
مولف کہتے ہیں: یہ دعا پاک رازوں میں سے ہے اور یہ اسرار قدسیہ(پاک راز) اکتیس دعائوں پر مشتمل ہیں جو دنیا و آخرت کی حاجت روائی کے لیے ہیں کہ جن کو ہمارے بزرگ علمائ نے متصل سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے. ان میں سے بعض دعائیں مصباح المتہجد و مصباح کفعمیرحمهالله میں بھی مذکور ہیں، خواہشمند مومنین کتاب بلد الامین، بحار الانوار، کتاب الدعایا جواہر السینہ جیسی کتابوں کی طرف رجوع کریں اور یہاں ہم نے ان میں سے صرف ایک ہی دعا نقل کی ہے۔
(۱۸) یہ دعا بھی اسرار قدسیہ میں سے ہے۔ چنانچہ جو شخص کسی ضرورت یا سفر کے لیے نکلے اور اپنے اہل وعیال کو گھر چھوڑ جائے اور چاہتا ہو کہ اس کی حاجات پوری ہوں اور صحیح وسالم گھر وآپس لوٹ آئے تو وہ اپنے گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ ﷲ مَخْرَجِی وَبِ إذْنِهِ خَرَجْتُ وَ
خدا کے نام کے ساتھ نکلا اور اس کے اذن سے چلا ہوں وہ میرے
عَلِمَ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ وَ أَحْصَی عِلْمُهُ مَا فِی مَخْرَجِی ْوَمَرْجِعِی
گھر سے نکلنے سے پہلے ہی اس نکلنے کو جانتا ہے اس کا علم اسے شمار کر چکا ہے جو کچھ میرے جانے اور
تَوَکَّلْتُ عَلَی الْاِلهِ الْاََکْبَرِ تَوَکُّلَ مُفَوِّضٍ إلَیْهِ أَمْرَهُ وَمُسْتَعِینٍ
آنے میں ہے. میں نے معبود اکبر پر بھروسہ کیا ہے اس کی طرح جس نے اپنا کام اس کے سپرد کیا ہے.
بِهِ عَلَی شُؤُونِهِ مُسْتَزِیدٍ مِنْ فَضْلِهِ مُبْرِئٍ نَفْسَهُ مِنْ کُلِّ حَوْلٍ وَمِنْ کُلِّ قُوَّةٍ
اپنے سبھی کاموں میں اس سے مدد چاہتا ہے اس کے فضل کا زیادہ طلب گار ہے. اپنے نفس کو ہر حرکت و قوت سے خالی جانتا ہے مگر
إلاَّ بِهِ خُرُوجَ ضَرِیرٍ خَرَجَ بِضُرِّهِ إلی مَنْ یَکْشِفُهُ وَخُرُوجَ فَقِیرٍ خَرَجَ بِفَقْرِهِ إلی مَنْ
جو اس کی طرف سے ہو اس پریشان کی طرح نکلا ہوں جو پریشانی دور کرنے والے کی طرف چلتا ہے،اس محتاج کی طرح نکلا ہوں جو
یَسُدُّهُ وَخُرُوجَ عائِلٍ خَرَجَ بِعَیْلَتِهِ إلیٰ مَنْ یُغْنِیهاوَخُرُوجَ مَنْ
حاجت رواکی طرف جاتا ہے اس بے مال کی طرح نکلا ہوں جو اس کی طرف جائے جو اسے غنی کرنے والا
رَبُّهُ أَکْبَرُ ثِقَتِهِ وَأَعْظَمُ رَجائِهِ وَأَفْضَلُ أُمْنِیَّتِهِ ﷲ ثِقَتِی فِی جَمِیعِ
ہے اس کی طرح نکلا ہوں جس کا سہارا رب اکبر ہے، وہی اس کی بڑی امیدگاہ ہے اور اس کی آرزو
أُمُورِی کُلِّها، بِهِ فِیها جَمِیعاً أَسْتَعِینُ وَلاَ شَیْئَ إلاَّ مَا شائَ ﷲ
سے بلند ہے. تمام امور میں میرا سہارا ﷲ ہے، سبھی امور میں اسی سے مدد مانگتا ہوں، کچھ نہیں ہوتا مگر
فِی عِلْمِهِ أَسْأَلُ ﷲ خَیْرَ الْمَخْرَجِ وَالْمَدْخَلِ لاَ إلهَ إلاَّ هُوَ إلَیْهِ الْمَصِیرُ
جو ﷲ اپنے علم میں چاہتا ہے میں ﷲ سے بہترین روانگی اور واپسی کا سوالی ہوں نہیں ہے معبود مگر وہ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
(۱۹) شب زفاف کی نماز اور دعا:
امام محمد باقر - فرماتے ہیں کہ شادی کی پہلی رات جب دلہن کو تمہارے پاس لایا جائے تو اسے کہوکہ وضو کرے اور دو رکعت نماز بجالائے اور تم بھی وضو کر کے دورکعت نماز ادا کرو پھر خدا کی حمد و ثنائ کرو اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم و آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود بھیجو، اس کے بعد یہ دعا پڑھو اور دلہن کے ساتھ والی عورتوں سے کہو کہ وہ آمین کہتی جائیں:
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی إلْفَها وَوُدَّها وَرِضاها
اے معبود! تو مجھے اس کی الفت،محبت اوررضا مندی عطا فرما
وَأَرْضِنِی بِها وَاجْمَعْ بَیْنَنا بِأَحْسَنِ اجْتِماعٍ وَآنَسِ ایْتِلافٍ فَإنَّکَ تُحِبُّ الْحَلالَ وَتَکْرَهُ الْحَرامَ
مجھے اس سے راضی رکھ اور ہم دونوں میں یکجہتی پیدا کردے اور باہمی محبت عطا فرما کہ یقیناًتو حلال کو پسند اور حرام کونا پسند کرتا ہے۔
امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ شادی کی پہلی رات جب دلہن کے پاس جائو تو اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اس کو قبلہ رخ کرکے یہ دعا پڑھو :
اَللّٰهُمَّ بِأَمانَتِکَ أَخَذْتُها وَبِکَلِماتِکَ
اے معبود! میں نے اسے تیری امانت کے طور پر لیا اور تیرے
اسْتَحْلَلْتُها فَ إن قَضَیْتَ لِی مِنْها وَلَداً فَاجْعَلْهُ مُبارَکاً تَقِیّاً مِنْ شِیعَةِ
کلمات کے ساتھ اپنے لیے حلال بنایا پس اگر تو نے اس سے اولاد کا فیصلہ کیا ہے تو اسے بابرکت پرہیزگار
آلِ مُحَمَّدٍ وَلاَ تَجْعَلْ لِلشَّیْطانِ فِیهِ شِرْکاً وَلاَ نَصِیباً
اور آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شیعوں میں رکھنا اور ان بچوں میں شیطان کا کوئی حصہ قرار نہ دینا۔
(۲۰) دعائے رہبہ (خوف خدا)
مروی ہے کہ امام موسیٰ کاظم -رات کو جب محراب عبادت میں کھڑے ہوتے تو اسے پڑھا کرتے تھے اور یہ صحیفہ کاملہ کی پچاسویں دعا ہے:
اَللّٰهُمَّ إنَّکَ خَلَقْتَنِی سَوِیّاًوَرَبَّیْتَنِی صَغِیراً وَرَزَقْتَنِی مَکْفِیّاً اَللّٰهُمَّ إنِّی وَجَدْتُ
اے معبود! بے شک تو نے مجھے صحیح و سالم پیدا کیا کم سنی میں میری پرورش کی اور بلا زحمت رزق دیا۔اے معبود! تو نے جو کہ تو نے اپنے
فِیما أَنْزَلْتَ مِنْ کِتابِکَ وَبَشَّرْتَ بِهِ عِبادَکَ أَنْ قُلْتَ یَا عِبادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی
بندوں کو مژدہ دیا ہے، یہ کہہ کر کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے کتاب نازل کی میں نے اس میں دیکھا اپنے اوپر زیادتی کی ہے تم
أَنْفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ ﷲ اِنَّ ﷲ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعاً وَ تَقَدَّمَ مِنِّی مَا عَلِمْتَ
ﷲ کی رحمت سے نا امید نہ ہونا، یقیناً ﷲ تمہارے سبھی گناہ معاف کردے گا، مجھ سے ایسے گناہ ہوئے ہیں جن سے تو واقف ہے
وَما أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّی فَیا سَوْأَتَاهُ مِمَّا أَحْصَاهُ عَلَیَّ کِتابُکَ فَلَوْلاَ الْمَواقِفُ الَّتِی أُؤَمِّلُ
اور تو انہیں مجھ سے زیادہ جانتا ہے پس رسوائی ہے ان گناہوں سے جو تو نے میرے نام لکھے ہوئے ہیں، لہذا اگر تیرے اس عفو و
مِنْ عَفْوِکَ الَّذِی شَمِلَ کُلَّ شَیْئٍ لاَََلْقَیْتُ بِیَدِی وَلَوْ أَنَّ أَحَداً اسْتَطاعَ الْهَرَبَ مِنْ رَبِّهِ لَکُنْتُ أَنَا أَحَقُّ
درگذر کے واقع نہ ہوتے کہ جس نے ہر چیز کو گھیرا ہوا ہے تو میں خود کو ہلاک کرچکاتھا اگر کوئی اپنے رب کی گرفت سے نکل جانے پر
بِالْهَرَبِ مِنْکَ وَأَنْتَ لاَ تَخْفیٰ عَلَیْکَ خافِیَةٌ فِی الْاََرْضِ وَلاَ فِی السَّمائِ إلاَّ أَتَیْتَ بِها
قادر ہوتا تو میں تیرے ہاں سے بھاگنے کا زیادہ سزاوار تھا اور تو وہ ہے جس پر زمین و آسمان میں پوشیدہ کوئی چیز پنہاں و مخفی نہیں
وَکَفَی بِکَ جازِیاً وَکَفَی بِکَ حَسِیباً اَللّٰهُمَّ إنَّکَ طالِبِی
مگر تو اسے عیاں کر دیگا اور تو حساب لینے اور بدلہ دینے میں کافی ہےاے معبود! اگر میں بھاگوں تو بھی
إنْ أَنَا هَرَبْتُ وَمُدْرکِی إنْ أَنَا فَرَرْتُ فَها أَنَاذَا بَیْنَ یَدَیْکَ خاضِعٌ ذَلِیلٌ راغِمٌ إنْ تُعَذِّبْنِی
مجھے ڈھونڈلے گا اور دوڑ جائوں تو مجھے پا لے گا ،یہ ہوں میں، تیرے سامنے، عاجز، پست،سرنگوں، کھڑا ہوں اگر تو مجھے عذاب
فَ إنِّی لِذلِکَ أَهْلٌ وَهُوَ یَارَبِّ مِنْکَ عَدْلٌ وَ إنْ تَعْفُ عَنِّی
کرے تو میں اس کے لائق ہوں اور اے رب یہ تیرا عدل ہے اور اگر تو معاف کر دے تو ہمیشہ تیری
فَقَدِیماً شَمَلَنِی عَفْوُکَ وَأَلْبَسْتَنِی عافِیَتَکَ فأَسْأَلُکَ اَللّٰهُمَّ بِالْمَخْزُونِ مِنْ
معافی میرے لیے رہی ہے اور تو نے مجھے بچائے رکھا ہے پس سوال کرتا ہوں. اے معبود! تیرے پوشیدہ ناموں کے
أَسْمائِکَ وَبِما وارَتْهُ الْحُجُبُ مِنْ بَهَائِکَ إلاَّ رَحِمْتَ هذِهِ النَّفْسَ الْجَزُوعَةَ وَهذِهِ الرِّمَّةَ الْهَلُوعَةَ
وسیلے سےاور تیری بزرگی کےوسیلے جوپردوں میں چھپی ہےہاں رحم فرما اس بے قرار جان پر اور ہڈیوں کے اس کمزور ڈھانچے پر کہ
الَّتِی لاَ تَسْتَطِیعُ حَرَّ شَمْسِکَ، فَکَیْفَ تَسْتَطِیعُ حَرَّ نارِکَ وَالَّتِی لاَ تَسْتَطِیعُ
جو تیرے سورج کی تپش نہیں جھیل سکتا تو وہ کس طرح تیرے جہنم کی آگ کوبرداشت کرے گا اور وہ جو تیری بجلی کی
صَوْتَ رَعْدِکَ فَکَیْفَ تَسْتَطِیعُ صَوْتَ غَضَبِکَ فَارْحَمْنِی اَللّٰهُمَّ فَ إنِّی امْرِؤٌ حَقِیرٌ
کڑک کی تاب نہیں لاسکتا تو کس طرح تیرے غضب کی آواز سن سکے گا پس مجھ پر رحم کراے معبود! کہ میں حقیر فرد
وَخَطَرِی یَسِیرٌ وَلَیْسَ عَذابِی مِمَّا یَزِیدُ فِی مُلْکِکَ مِثْقالَ ذَرَّةٍ وَلَوْ أَنَّ عَذابِی لَسَأَلْتُکَ
ہوںمیرے قدم کوتاہ ہیں مجھ پر عذاب کرنے میں تیری حکومت میں ذرہ بھر اضافہ نہیں ہوگا اور اگر مجھے عذاب کرنے میں تیری
الصَّبْرَ عَلَیْهِ وَأَحْبَبْتُ أَنْ یَکُونَ ذلِکَ لَکَ وَلکِنْ سُلْطانُکَ
حکومت میں اضافہ ہوتا تو میں تجھ سے صبر مانگتا اور یہ چاہتاکہ تجھے یہ اضافہ حاصل ہوجائے، لیکن تیری حکومت
اَللّٰهُمَّ أَعْظَمُ وَمُلْکُکَ أَدْوَمُ مِنْ أَنْ تَزِیدَ فِیهِ طاعَةُ الْمُطِیعِینَ، أَوْ
اے معبود بہت بڑی ہے اور تیرا ملک بے نیاز ہے اس سے کہ حکم ماننے والوں کی اطاعت سے بڑھتا
تَنْقُصَ مِنْهُ مَعْصِیَةُ الْمُذْنِبِینَ فَارْحَمْنِی یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
ہویا گناہگاروں کی نافرمانی سے گھٹ جاتا ہو پس مجھ پر رحم فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
وَتَجاوَزْ عَنِّی یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ وَتُبْ عَلَیَّ إنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ
مجھے معاف کر دے اے دبدبے والے، عزت والے اور میری توبہ قبول کر کہ تو بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
ملحقات دوم باقیات الصالحات
حضرت امام سجاد زین العابدین- کی دعا جو توبہ اور اس کی طلب کے بارے میں ہے۔
اَللّٰهُمَّ یَا مَنْ لاَ یَصِفُهُ نَعْتُ الْواصِفِینَ وَیَا مَنْ لاَ یُجاوِزُهُ رَجائُ الرَّاجِینَ، وَیَا مَنْ لاَ
اے معبود اے وہ کہ تعریف کرنے والےجس کی تعریف سے قاصر ہیں اے وہ کہ امیدداروں کی امید اس سے آگے نہیں جاتی. اے وہ کہ جس
یَضِیعُ لَدَیْهِ أَجْرُ الْمُحْسِنِینَ وَیَا مَنْ هُوَ مُنْتَهَیٰ خَوْفِ الْعابِدِینَ وَیَا مَنْ هُوَ
کے ہاں نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں ہوتااے وہ جو عبادت گزاروں کے خوف کی آخری منزل ہے اور اے وہ جو پر
غایَةُ خَشْیَةِ الْمُتَّقِینَ هذَا مَقامُ مَنْ تَداوَلَتْهُ أَیْدِی الذُّنُوبِ وَقادَتْهُ
ہیزگار کے ہر اس کی حد آخر ہے. یہ کھڑا ہے وہ شخص جو گناہوں کے ہاتھوں میں کھیلتا ہے اور
أَزِمَّةُ الْخَطایَا وَاسْتَحْوَذَ عَلَیْهِ الشَّیْطانُ فَقَصَّرَ عَمَّا أَمَرْتَ بِهِ تَفْرِیطاً
خطائوں کی باگیں جسے کھینچ رہی ہیں. جس پر شیطان نے غلبہ کر لیا ہے، لہذا اس نے تیرے
وَتَعاطَی مَا نَهَیْتَ عَنْهُ تَعْزِیراً کَالْجاهِلِ بِقُدْرَتِکَ عَلَیْهِ أَوْ
حکم کی پروا نہ کی اور فرض پورا نہ کیا فریب خوردہ ہو کر تیری منہیات کا مرتکب ہوتا ہے، گویا خود کو تیرے
کَالْمُنْکِرِ فَضْلَ إحْسانِکَ إلَیْهِ حَتَّی إذَا انْفَتَحَ لَهُ بَصَرُ
قبضہ قدرت میں تصور نہیں کرتا یا جو احسان تو نے اس پر کیے وہ انہیں مانتا نہیں ہے مگر جب اس کی
الْهُدَیٰ وَتَقَشَّعَتْ عَنْهُ سَحائِبُ الْعَمَی أَحْصَی مَا ظَلَمَ بِهِ
بصیرت کی آنکھ کھلی اور اندھیرے کے با دل اس کے آگے سے ہٹے تو اس نے اپنے نفس پر کیے ہوئے
نَفْسَهُ وَفَکَّرَ فِیما خالَفَ بِهِ رَبَّهُ فَرَأَی کَبِیرَ عِصْیانِهِ کَبِیراً
مظالم کا جائزہ لیا اپنے پرورگار سے مخالفتوں پر نظر کی تو اس نے دیکھا کہ اس نے بڑے بڑے گناہ کیے
وَجَلِیلَ مُخالَفَتِهِ جَلِیلاً فَأَقْبَل نَحْوَکَ مُؤَمِّلاً لَکَ مُسْتَحْیِئاً مِنْکَ
اور کھلی ہوئی مخالفتیں کی ہیں پس وہ تیری طرف آیا جب کہ امیدوار ہے اور شرمسار بھی ہے وہ تیری طرف
وَوَجَّهَ رَغْبَتَهُ إلَیْکَ ثِقَةً بِکَ فَأَمَّکَ بِطَمَعِهِ یَقِیناً وَقَصَدَکَ بِخَوْفِهِ إخْلاصاً قد خَلا
بڑھا تجھ پر اعتماد کرتے ہوئے، تیری طرف جھک پڑا ہے یقین کے ساتھ اور ڈرتا ہوا سچے دل سے تیری طرف چلا جب کہ تیرے
طَمَعُهُ مِنْ کُلِّ مَطْمُوعٍ فِیهِ غَیْرُکَ وَأَفْرَخَ رَوْعُهُ مِنْ کُلِّ مَحْذُورٍ
علاوہ اسے کسی سے غرض و مطلب نہیں ہے اس نے تیرے سوا ہر ایک کا خوف دل سے نکال دیا جس
ٓمِنْهُ سِواکَ فَمَثَلَ بَیْنَ یَدَیْکَ مُتَضَرِّعاً وَغَمَّضَ بَصَرَهُ إلَی
سے خوف کرتا تھا. چنانچہ وہ تیرے سامنے عاجزا نہ طور پر آکھڑا ہے اس نے ڈرکے مارے اپنی نگاہیں
الْاََرْضِ مُتَخَشِّعاً وَطَأْطَأَ رَأْسَهُ لِعِزَّتِکَ مُتَذَلِّلاً وَأَبَثَّکَ مِنْ سِرِّهِ مَا
زمین پر گاڑدی ہیں تیری عزت کے سامنے عاجزی سے سر جھکا لیا ہے. اس نے عجزسے اپنے چھپے راز
أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُ خُضُوعاً، وَعَدَّدَ مِنْ ذُنُوبِهِ مَا أَنْتَ أَحْصَیٰ
تیرے آگے کھول دیئے جن کو تو اس سے زیادہ جانتا ہے عاجزی کے ساتھ اپنے وہ گناہ گنوائے جن کو تو
لَها خُشُوعاً وَاسْتَغاثَ بِکَ مِنْ عَظِیمِ مَا وَقَعَ بِهِ فِی عِلْمِکَ
نے خوب شمار کیا ہوا ہے. وہ تجھ سے فریاد کرتا ہے اپنے بڑے بڑے گناہوں پر جو تیرے علم میں ہیں
وَقَبِیحِ مَا فَضَحَهُ فِی حُکْمِکَ مِنْ ذُنُوبٍ أَدْبَرَتْ لَذَّاتُها فَذَهَبَتْ وَأَقامَتْ تَبِعاتها فَلَزِمَتْ
اورتیرے فیصلے میں اس کے لیے رسوا کن ہیں وہ گناہ جو اس نے کیے ان کی لذتیںجاتی رہیں اوران کا وبال اس کی گردنپر باقی رہ گیا ہے.
لاَ یُنْکِرُ یَا إلهِی عَدْلَکَ إنْ عاقَبْتَهُ وَلاَ یَسْتَعْظِمُ عَفْوَکَ إنْ عَفَوْتَ
اے معبود! اگر تو اسے سزادے تو وہ تیرے عدل سے منکر نہیں ہوگا اوراگر تو اسے معاف کردے اور
عَنْهُ وَرَحِمْتَهُ لاََِنَّکَ الرَّبُّ الْکَرِیمُ الَّذِی لاَ یَتَعاظَمُهُ غُفْرانُ
ترس کھائے. وہ تیرے عفو کو عیب نہیں سمجھے گا کیونکہ تو وہ رب کریم ہے جس کیلئے کسی بڑے سے بڑے گناہ کا
الذَّنْبِ العَظِیمِ اَللّٰهُمَّ فَها أَنَاذَا قَدْجِئْتُکَ مُطِیعاً لِاَمْرِکَ فِیما أَمَرْتَ بِهِ مِنَ الدُّعائِ
بخشنا کچھ مشکل نہیں تو اے معبود! یہ ہوں میں جو تیری بارگاہ میں آیا ہوں تیرے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے جس میں تو نے دعا کی تاکید
مُتَنَجِّزاً وَعْدَکَ فِیما وَعَدْتَ بِهِ مِنَ الْاِجابَةِ، إذْ تَقُولُ
کی ہے تیرے اس وعدے کا ایفائ چاہتا ہوں جس میں تو نے قبولیت دعا کایقین دلایا جب یہ فرمایا کہ مجھ
ادْعُونِی أَستَجِبْ لَکُمْ اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَالْقَنِی
سے دعا مانگ، میں اسے قبول کروں گا. اے معبود! پس رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر اور اپنی
بِمَغْفِرَتِکَ کَما لَقِیتُکَ بِ إقْرَارِی وَارْفَعْنِی عَنْ مَصارِعِ الذُّنُوبِ کَما وَضَعْتُ
مغفرت میرے شامل حال فرما جیسے میں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا ہے مجھے گناہوں کی قتل گاہ سے بچالے جیسا کہ میں نے خود
لَکَ نَفْسِی وَاسْتُرْنِی بِسِتْرِکَ کَما تَأَنَّیْتَنِی عَنِ الانْتِقامِ مِنِّی اَللّٰهُمَّ وَثَبِّتْ فِی
کو تیرے در پر لاڈالا ہے اپنے دامن سے میری پردہ پوشی فرما جیسے انتقام لینے میں صبر و تحمل کیا ہے. اے معبود! میری نیت کو
طاعَتِکَ نِیَّتِی وَأَحْکِمْ فِی عِبادَتِکَ بَصِیرَتِی وَوَفِّقْنِی مِنَ الْاََعْمالِ لِما تَغْسِلُ بِهِ دَنَسَ
اپنی اطاعت میں استوار کردے اور اپنی عبادت کو میری بصیرت میں محکم بنادے مجھے ان اعمال کی توفیق دے جن سے تو
الْخَطایَا عَنِّی وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِکَ الْخَطایَا عَنِّی وَتَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِکَ وَمِلَّةِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ اَلسَّلَامُ
میرے گناہوں کا میل کچیل دھو ڈالے اور جب تو مجھے اس دنیا سے اٹھائے تو اپنے دین اور اپنے نبی حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے آئین
إذا تَوَفَّیْتَنِی اَللّٰهُمَّ إنِّی أَتُوبُ إلَیْکَ فِی مَقامِی هذَا مِنْ کَبائِرِ ذُنُوبِی وَصَغائِرِها وَبَواطِنِ سَیِّئَاتِی
پر اٹھانا. اے معبود! میں اس مقام پر تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اپنے بڑے گناہوں اور چھوٹے گناہوں سے اپنی پوشیدہ
وَظَواهِرِها وَسَوَالِفِ زَلاَّتِی وَحَوَادِثِها، تَوْبَةَ مَنْ اَ یُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِمَعْصِیَةٍ، وَلاَ
برائیوں سے پچھلی غلطیوں سے اور موجودہ غلطیوں سے اس شخص کی سی توبہ جودل میں گناہ کا خیال بھی نہ لائے
یُضْمِرُ أَنْ یَعُودَ فِی خَطِیئَةٍ وَ قَدْقُلْتَ یَا إلهِی فِی مُحْکَمِ کِتابِکَ إنَّکَ تَقْبَلُ
اور گناہ کی طرف واپسی کاتصور بھی نہ کرے. اے میرے معبود یقیناً تو نے اپنی محکم کتاب میں فرمایا ہے کہ تو اپنے
التَّوْبَةَ عَنْ عِبادِکَ وَتَعْفُو عَنِ السَّیِّئاتِ وَتُحِبُّ التَّوَّابِینَ، فَاقْبَلْ تَوْبَتِی کَما
بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، ان کے گناہ معاف کرتا ہےاور توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہےپس میری توبہ قبول فرما جیسے
وَعَدْتَ وَاعْفُ عَنْ سَیِّئاتِی کَما ضَمِنْتَ وَأَوْجِبْ لِی مَحَبَّتَکَ کَما شَرَطْتَ وَلَکَ
تو نے وعدہ کیا ہے. میرے گناہ معاف فرما جیسے تونے ذمہ لیا ہے اور قرار داد کے مطابق اپنی محبت میرے لیے ضرورت فرما دے.
یَارَبِّ شَرْطِی أَلاَّ أَعُودَ فِی مَکْرُوهِکَ وَضَمانِی أَلاّ أَرْجِعَ
اے پروردگار! میں تجھ سے اقرار کرتا ہوں کہ تیری ناپسند چیزوں کی طرف رجوع نہیں کرونگا اور تیری نفرت کی
فِی مَذْمُومِکَ وَعَهْدِی أَنْ أَهْجُرَ جَمِیعَ مَعاصِیکَ اَللّٰهُمَّ إنَّکَ أَعْلَمُ
چیزوں کی طرف رخ نہیں کرو ں گا یہ عہد بھی کرتا ہوں کہ تیری نافرمانیاں چھوڑدوں گا اے معبود! تو میرے عمل سے اچھی
بِما عَمِلْتُ، فَاغْفِرْ لِی مَا عَلِمْتَ وَاصْرِفْنِی بِقُدْرَتِکَ إلی مَا
طرح آگاہ ہے پس جو کچھ تیرے علم میں ہے وہ معاف کردے اور اپنی قدرت سے مجھے اس عمل کی طرف موڑدے
أَحْبَبْتَ اَللّٰهُمَّ وَعَلَیَّ تَبِعاتٌ قَدْحَفِظْتُهُنَّ وَتَبِعاتٌ قَدْ نَسِیتُهُنَّ وَکُلُّهُنَّ
جو تجھے پسند ہے. اے معبود! مجھ پر کتنے ہی حقوق میں جو مجھے یاد ہیں اور کتنے ہی حقوق ہیں جو میں بھول گیا ہوں
بِعَیْنِکَ الَّتِی لاَ تَنامُ وَعِلْمِکَ الَّذِی لاَ یَنْسَیٰ فَعَوِّضْ مِنْها
وہ سب تیری آنکھ کے سامنے ہیں جو سوتی نہیں تیرے علم میں ہیں جو بھولتا نہیں، پس وہ میری طرف سے
أَهْلَها وَاحْطُطْ عَنِّی وِزْرَها وَخَفِّفْ عَنِّی ثِقْلَها وَاعْصِمْنِی مِنْ أَنْ أُقارِفَ مِثْلَها اَللّٰهُمَّ
حقداروں کو پہنچا دے. مجھ پر سےان کا بوجھ اتار دے، ان کا بارم مجھ سے ہلکا کر دے اور پھر مجھ کو ایسےگناہوں سے محفوظ فرما. اے معبود!
وَ إنَّهُ لاَ وَفائَ لِی بِالتَّوْبَةِ إلاَّ بِعِصْمَتِکَ وَلاَ اسْتِمْساکَ بِی عَنِ الْخَطایَا إلاَّ عَنْ قُوَّتِکَ
میں توبہ پر قائم نہیں رہ سکتا مگر تیری حفاظت و نگہبانی کے ساتھ اور میں گناہوں سے باز نہیں رہ سکتا مگر تیری دی ہوئی طاقت سے
فَقَوِّنِی بِقُوَّةٍ کافِیَةٍ، وَتَوَّلَنِی بِعِصْمَةٍ مانِعَةٍ اَللّٰهُمَّ أَیُّمَا عَبْدٍ تَابَ
مجھے اس کے لیے پوری قوت دے، مجھے گناہوں سے روکنے کا ذمہ لے اے معبود! وہ بندہ جو تیرے حضور
إلَیْکَ وَهُوَ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ فاسِخٌ لِتَوْبَتِهِ وَعائِدٌ فِی ذَنْبِهِ
توبہ کرلے، تیرے علم غیب میں وہ توبہ کو توڑ نے والا، اپنے گناہوں کی طرف واپس جانے اور خطائوں کی
وَخَطِیئَتِهِ فَ إنِّی أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَکُونَ کَذَلِکَ فَاجْعَلْ تَوْبَتِی هذِهِ تَوْبَةً لاَ أَحْتاجُ بَعْدَها
طرف پلٹنے والا ہو تو تیری پناہ لیتا ہوں کہ میں ویسا بن جائوں پس تو میری اس توبہ کو ایسا بنا دے کہ اسکے بعد توبہ کرنے کی ضرورت
إلی تَوْبَةٍ تَوْبَةً مُوجِبَةً لَِمحْوِ مَا سَلَفَ وَالسَّلامَةِ فِیما بَقِیَ اَللّٰهُمَّ إنِّی أَعْتَذِرُ إلَیْکَ
نہ پڑے یہ ایسی توبہ بن جائے جس سے پچھلے گناہ مٹ جائیں اور آیندہ اس سے مجھے بچائے رکھ.اے معبود! میں جہالت کا
مِنْ جَهْلِی وَأَسْتَوهِبُکَ سُوئَ فِعْلِی فَاضْمُمْنِی اِلیٰ کَنَفِ رَحْمَتِکَ
عذر لاتا ہوں اور اپنے گناہوں پر بخشش طلب کرتا ہوں پس اپنے کرم سے مجھے اپنے دامن رحمت میں
تَطَوَّلاًوَاسْتُرنِی لِسَتْرِ عَافِیْتِکَ تَفَضُّلاً اَللّٰهُمَّ وَاِنِّیأَتُوبُ إلَیْکَ مِنْ کُلِّ مَا خالَفَ إرادَتَکَ
پناہ دے، مجھے اپنی مہربانی سے عافیت کے پردے میں چھپالے اور اے معبود! میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ان باتوں سے جو تیرے
أَوْ زالَ عَنْ مَحَبَّتِکَ مِنْ خَطَرَاتِ قَلْبِی، وَلَحَظاتِ عَیْنِی، وَحِکایاتِ لِسانِی، تَوْبَةً تَسْلَمُ بِها کُلُّ
ارادہ کے خلاف ہوں اور ان خیالوں سے جو تیری محبت سے باہر نکالتے ہوں آنکھ کے اشاروں سے اور لغو باتوں سے
جارِحَةٍ عَلَی حِیالِها مِنْ تَبِعاتِکَ وَتَأْمَنُ مِمَّا یَخافُ الْمُعْتَدُونَ
توبہ کرتا ہوں جس سے میرا ہر عضو اپنی جگہ پر تیری سزائوں سے محفوظ رہے، ان سخت عذابوں سے بچا رہوں
مِنْ أَلِیمِ سَطَوَاتِکَ اَللّٰهُمَّ فَارْحَمْ وَحْدَتِی بَیْنَ یَدَیْکَ وَوَجِیبَ
جن سے سرکش لوگ بہت ڈرتے ہیں. پس اے معبود! رحم فرما کہ میں تیرے حضور تنہا ہوں،
قَلْبِی مِنْ خَشْیَتِکَ وَاضْطِرَابَ أَرْکانِی مِنْ هَیْبَتِکَ قَدْأَقامَتْنِی یَارَبِّ ذُنُوبِی مَقامَ
میرا دل تیرے خوف سے کا نپتا ہے. میرے اعضائ تیرے دبدبہ سے تھراتے ہیں پس اے پروردگار میرے گناہوں
الْخِزْیِ بِفِنائِکَ، فَ إنْ سَکَتُّ لَمْ یَنْطِقْ عَنِّی أَحَدٌ وَ إنْ شَفَعْتُ
نے مجھے تیرے سامنے رسوائی سے کھڑا کردیا ہے لہذا اگر چپ رہوں تو میری طرف سے کوئی بولنے والا
فَلَسْتُ بِأَهْلِ الشَّفاعَةِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَشَفِّعْ فِی خَطَایَایَ
نہیں، اگر وسیلہ لائوں تو اسکے لائق نہیں ہوںاے معبود! رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر اوراپنے کرم کو میری خطائوں
کَرَمَکَ وَعُدْ عَلَی سَیِّئاتِی بِعَفْوِکَ وَلاَ تُجْزِنِی جَزائِی مِنْ
کا سفارشی بنا. اپنے فضل سے میرے گناہ معاف کردے. جس سزا کے قابل ہوں ،مجھے وہ سزا نہ
عُقُوبَتِکَ وَابْسُطْ عَلَیَّ طَوْلَکَ وَجَلِّلْنِی بِسِتْرِکَ وَافْعَلْ بِی فِعْلَ عَزِیزٍ تَضَرَّعَ
دے، اپنا دامن کرم مجھ پرپھیلا دے اور مجھے اپنے عفو سے ڈھانپ لے. مجھ سے اس بااقتدار کی طرح برتائو کر کہ جس کے
إلَیْهِ عَبْدٌ ذَلِیلٌ فَرَحِمَهُ أَوْ غَنِیٍّ تَعَرَّضَ لَهُ عَبْدٌ فَقِیرٌ فَنَعَشَهُ
سامنے کوئی کمتر بندہ گڑ گڑائے تو رحم کرتا ہے یا اس مالدار کی طرح جس سے محتاج سوال کرے تو اسے سہارا دیتا ہے
اَللّٰهُمَّ لاَ خَفِیرَ لِی مِنْکَ فَلْیَخْفُرْنِی عِزُّکَ وَلاَ شَفِیعَ لِی إلَیْکَ فَلْیَشْفَعْ
اے معبود! تیرے عذاب سے میرے لیے کوئی پناہ نہیں ، تیری عزت ہی پناہ دے گی. تیرے حضور میرا کوئی شفیع نہیں پس اپنے کرم کو
لِی فَضْلُکَ وَ أَوْجَلَتْنِی خَطایایَ فَلْیُؤْمِنِّی عَفْوُکَ، فَما کُلُّ مَا نَطَقْتُ بِهِ عَنْ
میرا شفیع بنادے، میرے گناہوں نے مجھے ہراساں کر دیا ہےتو تیری درگزر ہی سکون دے گی یہ سب کچھ جو میں کہہ رہا ہوں
جَهْلٍ مِنِّی بِسُوئِ أَثَرِی وَلاَ نِسْیانٍ لِما سَبَقَ مِنْ ذَمِیمِ فِعْلِی لَکِنْ لِتَسْمَعَ سَمَاؤُکَ
اس لیینہیں کہ اپنی برائیوں سے ناواقف اور اپنے پچھلی بدیوں کو فراموش کیے ہوئے ہوں، بلکہ اس کے لیے تیراآسمان
وَمَنْ فِیها وَأَرْضُکَ وَمَنْ عَلَیْها مَا أَظْهَرْتُ لَکَ مِنَ النَّدَمِ، وَلَجَأْتُ إلَیْکَ فِیهِ
اور اس میں رہنے والے تیری زمین اور اس پر رہنے والے، میرے اظہار و ندامت کو تجھ سے جوپناہ مانگی ہے اسے
مِنَ التَّوْبَةِ، فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ بِرَحْمَتِکَ یَرْحَمُنِی لِسُوئِ مَوْقِفِی
اور میری توبہ کوبھی سن لیں تا کہ تیری رحمت سے کسی کو میرے حال پر رحم آجائے. یامیری پریشان حالی پر
أَوْ تُدْرِکُهُ الرِّقَّةُ عَلَیَّ لِسُوئِ حالِی فَیَنالَنِی مِنْهُ بِدَعْوَةٍ هِیَ أَسْمَعُ لَدَیْکَ مِنْ دُعائِی،
اس کا دل نرم پڑےتو میرے حق میں دعا کرے جس کی دعا تیرے ہاں میری دعا سے زیادہ مقبول ہو،
أَوْ شَفاعَةٍ أَوْکَدُ عِنْدَکَ مِنْ شَفاعَتِی تَکُونُ بِها نَجاتِی مِنْ غَضَبِکَ، وَفَوْزِی بِرِضاکَ
یا کوئی سفارش پائوں جو تیرے ہاں میری درخواست ہے زیادہ موثر ہو کہ غضب سے نجات اور تیری خوشنودی
اَللّٰهُمَّ إنْ یَکُنِ النَّدَمُ تَوْبَةً إلَیْکَ فَأَنَا أَنْدَمُ النَّادِمِینَ وَ إنْ یَکُنِ التَّرْکُ لِمَعْصِیَتِکَ
کا پروانہ لے لوں. اے معبود! اگر تیرے سامنے پشیمانی ہے تو یہ ہے تو میں پشیمان ہونے والوں میں ہوںاگر تیری نافرمانی کو چھوڑنا توبہ ہے
إنَابَةً فَأَنَا أَوَّلُ الْمُنِیبِینَ وَ إنْ یَکُنِ الاسْتِغْفارُ حِطَّةً لِلذُّنُوبِ فَ إنِّی
تو میں تیرے حضور توبہ کرنے والوں میں پہلا فرد ہوں اگر طلب بخشش گناہوں کو مٹاتی ہے تو میں تجھ سے بخشش
لَکَ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ اَللّٰهُمَّ فَکَما أَمَرْتَ بِالتَّوْبَةِ وَضَمِنْتَ الْقَبُولَ، وَحَثَثْتَ
طلب کرنے والوں میں ہوں. اے معبود! جب کہ تو نے توبہ کرنے کا حکم دیا اور قبول کرنے کا ذمہ لیا، دعا مانگنے پر آمادہ کیا
عَلَی الدُّعائِ وَوَعَدْتَ الْاِجابَةَ فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْبَلْ تَوْبَتِی، وَلاَ
اور اسے پورا کرنے کا وعدہ دیا ہے، تو رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اور آلعليهالسلام محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پراور قبول فرما میری توبہ اپنی
ٓتَرْجِعْنِی مَرْجِعَ الْخَیْبَةِ مِنْ رَحْمَتِکَ إنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ عَلَی الْمُذْنِبِینَ، وَالرَّحِیمُ
رحمت سے مجھے ناامیدی کے ساتھ نہ پلٹا کہ بے شکتو گناہگاروں کی توبہ قبول کرنے والا رجوع کرنے والے
لِلْخاطِیِئنَ الْمُنِیبِین اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ کَما هَدَیْتَنا بِهِ
خطاکاروں پر مہربان ہے.اے معبود! رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر جن کے ذریعے ہمیں ہدایت دی
وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ کَمَا اسْتَنْقَذْتَنا بِهِ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ
اور رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر جس طرح ان کے ذریعے گمراہی سے نکالا اور رحمت فرما محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کی آلعليهالسلام پر
وَآلِهِ صَلاةً تَشْفَعُ لَنا یَوْمَ الْقِیَامَةِ، وَیَوْمَ الْفاقَةِ إلَیْکَ إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر وَهُوَ عَلَیْکَ یَسِیرٌ
ایسی رحمت جو ہماری سفارش کرے جب ہم تیرہی محتاج ہوں گے. بے شک تو ہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور یہ تیرے لیے آسان ہے۔
تَمَّت بِتُوْفِیْقِ ﷲ تَعَالیٰ
فہرست
عرض ناشر ۴
مقدمہ ۶
مطلب اول:دعا کی اہمیت وفضیلت ، قبولیت دعا کے شرائط، آداب دعا، اور دعا کے مخصوص اوقات، حالات اور مقامات ۔ ۶
١۔ دعا کی اہمیت و فضیلت ۶
شرائط قبولیت دعا ۸
١۔ معرفت و شناخت خدا ۸
٢۔محرمات اور گناہ کا ترک کرنا ۸
٣۔کمائی اور غذا کا پاک و پاکیزہ ہونا ۸
٤۔حضور ورقت قلب ۹
٥۔اخلاص وعبودیت ۹
٦۔سعی و کوشش ۹
آداب دعا ۱۰
١۔بِسْم اللہ پڑھنا : ۱۰
٢۔تمجید ۱۰
٣۔صلوات بر محمد و آل محمد ۱۰
٤۔آ ئمہ معصومین کی امامت ولایت کا اعتقاد رکھنا اور انہیں واسطہ اور شفیع قرار دینا ۱۰
٥۔گناہوں کا اقرار کرنا ۱۱
٦۔خشوع و خضوع کے ساتھ اور غمگین حالت میں دعا مانگنا ۱۱
٧۔دو رکعت نماز پڑھنا ۱۲
٨۔ اپنی حاجت اور مطلوب کو زیادہ نہ سمجھو ۱۲
٩۔ دعا کو عمومیت دینا ۱۲
١٠۔قبولیت دعا کے بارے میں حسن ظن رکھنا ۱۲
مخصوص اوقات وحالات اور مقامات میں دعا کرنا ۔ ۱۲
١۔نماز کے بعد ۱۳
٢۔حالت سجدہ میں ۱۳
٣۔ قرآن مجید کی ایک سو آیات کی تلاوت کے بعد ۱۳
٤۔سحری کے وقت ۱۳
٥۔رات کی تاریکی میں مخصوصاً طلوع فجر کے قریب ۔ ۱۳
٦۔ شب و روز جمعہ ۔ ۱۳
٧۔ماہ مبارک رمضان ماہ رجب و ماہ شعبان ۔ ۱۳
٨۔شب ہای قدر (شب ١٩،٢١،٢٣،رمضان )۔ ۱۴
٩۔ماہ رمضان کا آخری عشرہ اور ماہ ذالحجہ کی پہلی دس راتیں ۔ ۱۴
١٠۔ عید میلاد پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم و آئمہ معصومین ۔عید فطر ۔عید قربان ،عید غدیر ۔ ۱۴
١١۔بارش کے وقت ۔ ۱۴
١٢۔عمرہ کرنے والے کی دعا واپسی کے وقت یا واپسی سے پہلے ۔ ۱۴
١٣۔جب اذان ہو رہی ہو ۔ ۱۴
١٤ تلاوت قرآن سننے کے وقت ۔ ۱۴
١٥ ۔حالت روزہ میں افطار کے وقت یا افطار سے پہلے ۔ ۱۴
دعا کے لئے مخصوص مقامات ۱۴
مقبول دعائیں ۱۵
دعا بے فائدہ نہیں ہوتی ۱۵
مومنین ومومنات کے لئے دعا کرنے کا فائدہ ۱۵
مطلب دوم :زیارت آیات اور روایات کی روشنی میں ۱۵
اولیاء خدا پر سلام و درود ۱۷
معصومین اور زیارت ۱۸
قرآنی آیات اور احادیث کے حوالہ جات ۱۹
مطلب سوم : ۲۰
مؤلف محترم کے مختصر حالات زندگی ۲۰
والد گرامی ۲۰
والدہ معظمہ ۲۰
تعلیمی مراحل ۲۰
عمدہ صفات ۲۱
مدرسہ و مؤسسہ امام المنتظر (عج) قم ۲۲
فضائل سورہ یٰس ۲۴
فضائل سورئہ رحمن ۳۱
فضائل سورئہ واقعہ ۳۵
فضیلت سورہ جمعہ ۳۹
فضائل سورہ ملک ۴۱
فضائل سورہ نبائ ۴۴
فضائل سورہ اعلی و سو رہ شمس ۴۶
سورہ اعلیٰ ۴۶
سورہ شمس ۴۷
فضیلت سو ر ہ قدر و سو رہ زلزال ۴۸
سورہ قدر ۴۸
سورہ زلزال ۴۸
فضیلت سورہ عادیات ۴۹
سورہ عادیات ۴۹
فضائل سورہ کا فرون، نصر، توحید، فلق اور ناس ۵۰
سورہ کافرون ۵۰
سورہ نصر ۵۱
سورہ توحید ۵۱
سورہ فلق ۵۱
سورہ ناس ۵۲
فضائل آیت الکرسی ۵۲
سورہ عنکبوت ۵۴
سورہ روم ۶۴
سورہ دخان ۷۲
مقدمہ تعارف ۷۶
باب اول ۷۷
پہلی فصل ۷۷
تعقیبات مشترکہ ۷۷
دوسری فصل ۸۵
تعقیبات مخصوص ۸۵
تعقیب نماز ظہر ۸۵
تعقیب نماز عصر منقول از متہجد ۸۶
تعقیب نمازِ مغرب منقول از مصباح متہجد ۸۷
تعقیب نماز عشائ منقول از متہجد ۸۹
تعقیب نمازصبح منقول از مصباح متہجد ۹۰
بعض ادعیہ صبح و شام ۹۵
تیسری فصل: ۹۸
ملحقات ِصحیفہ سجا دیہ سے منقو ل ایام ہفتہ کی دعائیں ۹۸
دعا ئے روز یک شنبہ( اتو ار) ۹۸
دعا ئے روز دو شنبہ (سو موا ر) ۹۹
دعائے روز سہ شنبہ (منگل) ۱۰۱
دعائے رو ز چہار شنبہ (بدھ) ۱۰۲
دعائے روز پنجشنبہ (جمعرات) ۱۰۳
دعائے روز آدینہ (جمعہ) ۱۰۵
دعائے روز شنبہ (ہفتہ) ۱۰۶
چوتھی فصل ۱۰۸
جمعرات وجمعہ کے فضائل واعمال ۱۰۸
جمعرات اور جمعہ کے فضائل ۱۰۸
شب جمعہ کے اعمال ۱۰۹
روز جمعہ کے اعما ل ۱۱۷
نماز حضرت رسول ﷲ ۱۲۳
نما ز حضرت ا میر المؤمنین ۱۲۴
نما ز حضرت فا طمہ ۱۲۸
حضر ت فا طمہ ز ہرا کی ایک اور نما ز ۱۲۹
نماز امام حسن و حسین ۱۳۰
نما زا مام حسن - ۱۳۰
نما ز اما م حسین - ۱۳۱
نما ز اما م زین العا بد ین - ۱۳۱
نما ز حضرت امام محمد با قر - ۱۳۲
نماز حضرت امام جعفر صادق - ۱۳۳
نماز حضرت امام موسٰی کاظم - ۱۳۴
نماز حضرت امام علی رضا- ۱۳۴
نماز حضرت امام محمد تقی - ۱۳۵
نماز حضرت امام علی نقی - ۱۳۶
نماز امام حسن عسکری - ۱۳۶
نمازِ حضرت صاحب الّزمان عجل اللہ تعالی فرجہ‘ ۱۳۷
نما ز حضرت جعفر طیا ر - ۱۳۸
زوال روز جمعہ کے اعمال ۱۴۱
عصر روز جمعہ کے اعمال ۱۴۴
پا نچویں فصل ۱۵۲
تعین ایام ہفتہ برائے معصومین ۱۵۲
زیارت حضرت امیرالمومنین ۱۵۶
زیارت حضرت فاطمہ ۱۵۷
زیارت دیگر حضرت فاطمہ = (دوسری روایت کی بنا پر) ۱۵۸
زیارت امام حسن و حسین روزپیر ۱۵۸
زیارت حضرت امام حسن - ۱۵۸
زیارت حضرت امام حسین - ۱۵۹
زیارت آئمہ بقیع روز منگل ۱۶۰
تینوں ائمہ عليهالسلام کی زیارت ۱۶۰
چار آئمہ کی زیارات بروز بدھ ۱۶۱
چاروںائمہ کی زیارت ۱۶۱
زیارت امام عسکری روز جمعرات ۱۶۲
زیارت امام العصر (عج)روز جمعہ ۱۶۳
زیا رت حضرت صا حب الزمان (عج) ۱۶۳
چھٹی فصل – ۱۶۵
اس میں بعض مشہو ر د عا ئو ں کا تذ کر ہ ہے۔ ۱۶۵
دعائے صبا ح ۱۶۵
دعائے کمیل بن زیاد رحمهالله ۱۷۰
دعائے عشرات ۱۸۱
دعا ئے سما ت ۱۸۸
دعا ئے مشلول ۱۹۶
دعائے یستشیر ۲۰۵
دعائے مجیر ۲۰۹
دعا عدیلہ ۲۱۸
دعائے جوشن کبیر ۲۲۳
دعائے جوشن صغیر ۲۵۳
دعائ سیفی صغیر یعنی دعائ قاموس ۲۶۷
ساتویں فصل ۲۶۹
بعض قرآنی آیات اور دعائیں ۲۶۹
( ۱ ) دعائ اسم اعظم ۲۶۹
( ۲ ) دعائ توسل ۲۷۰
( ۲ ) دعائے توسل دیگر ۲۷۵
( ۳ ) دعائے فرج ۲۷۸
( ۴ ) حرز حضرت فاطمہ الزہرائ اور قید سے رہائی کی دعا ۲۷۹
( ۵ )بخار سے شفا پانے کی دعائ ۲۷۹
( ۶ )حرز حضرت امام زین العابدین- ۲۸۰
( ۷ )دعائ امام زین العابدین- یا دعائ مقاتل بن سلیمان(رض) ۔ ۲۸۳
( ۸ )دعائے حضرت رسول ۲۸۴
( ۹ )دعائے سریع الاجابت ۲۸۴
(۱۰)دعا امن از بلاوغیرہ ۲۸۶
(۱۱)دعا فرج حضرت حجت(عج) ۲۸۸
(۱۲)دعا فرج حضرت حجت(عج) ۲۸۹
(۱۳)دعا فرج حضرت حجت(عج) ۲۹۰
(۱۴)استغاثہ بہ حضرت قائم (عج) ۲۹۰
آٹھویں فصل ۲۹۳
مناجات کے بیان میں ۲۹۳
حضرت امام زین العابدین -کی پندرہ مناجاتیں ۲۹۳
پہلی مناجات ۲۹۳
منا جات تائبین ۲۹۳
دوسری مناجات ۲۹۵
مناجات شاکین ۲۹۵
تیسری مناجات ۲۹۷
مناجات خائفین ۲۹۷
چوتھی مناجات ۲۹۸
مناجات راجین ۲۹۸
پانچویں مناجات ۳۰۰
مناجات راغبین ۳۰۰
چھٹی مناجات ۳۰۲
مناجات شاکرین ۳۰۲
ساتویں مناجات ۳۰۴
مناجات مطِیعِین للہ ۳۰۴
آٹھویں مناجات ۳۰۵
مناجات مریدین ۳۰۵
نویں مناجات ۳۰۷
مناجات محبین ۳۰۷
دسویں مناجات ۳۰۹
مناجات متوسلین ۳۰۹
گیارہویں مناجات ۳۱۰
مناجات مفتقرین ۳۱۰
بارہویں مناجات ۳۱۲
مناجات عارفین ۳۱۲
تیرہویں مناجات ۳۱۴
مناجات ذاکرین ۳۱۴
چودھویں مناجات ۳۱۵
مناجات معتصمین ۳۱۵
پندرہویں مناجات ۳۱۷
مناجات زاہدین ۳۱۷
مناجات منظومہ حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب - ۳۱۹
منقول از صحیفۂ علویہ ۳۱۹
حضرت علی -کے تین کلمات مناجات ۳۲۵
باب دوم ۳۲۶
سال کے مہینوں کے اعمال ۳۲۶
پہلی فصل ۳۲۶
ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال ۳۲۶
ماہ رجب کے مشترکہ اعمال ۳۲۷
دعایہ روزانہ ماہ رجب ۳۲۷
( ۱ ) ۳۲۷
( ۲ ) ۳۲۸
( ۳ ) ۳۲۸
( ۴ ) ۳۲۹
( ۵ ) ۳۳۱
( ۶ ) ۳۳۴
زیارت رجبیہ ۳۳۵
( ۷ ) ۳۳۵
ادامہ اعمال مشترکہ ماہ رجب ۳۳۷
( ۸ ) ۳۳۷
( ۹ ) ۳۳۸
(۱۰) ۳۳۸
( ۱۱ ) ۳۳۸
(۱۲) ۳۳۸
(۱۳) ۳۳۸
(۱۴) ۳۳۹
(۱۵) ۳۳۹
(۱۶) ۳۳۹
(۱۷) ۳۳۹
(۱۸) ۳۴۰
(۱۹) ۳۴۰
(۲۰) ۳۴۰
رجب میں دن رات کے مخصوص اعمال ۳۴۳
رجب کی پہلی رات ۳۴۳
پہلی رجب کا دن ۳۴۷
تیرھویں رجب کی رات ۳۴۸
تیرھویں رجب کا دن ۳۴۸
پندرھویں رجب کی رات ۳۴۹
پندرہ رجب کا دن ۳۴۹
اعمال ام داؤد ۳۵۱
پچیس رجب کا دن ۳۶۰
ستائیس رجب کی رات ۳۶۱
ستائیس رجب کا دن ۳۶۷
رجب کا آخری دن ۳۷۲
دوسری فصل ۳۷۳
ماہ شعبان کی فضیلت واعمال ۳۷۳
’’اعمال مشترکہ او راعمال مختصہ‘‘ ۳۷۴
ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال ۳۷۴
ماہ شعبان کے مخصوص اعمال ۳۸۵
فضیلت روز اول شعبان ۳۸۵
پہلی شعبان کی رات ۳۸۵
پہلی شعبان کا دن ۳۸۵
خلاصہ روایت ۳۸۵
تیسری شعبان کا دن ۳۸۹
تیرھویں شعبان کی رات ۳۹۲
فضیلت و اعمال نیمہ شعبان ۳۹۲
پندرھویں شعبان کی رات ۳۹۲
پندرہ شعبان کا دن ۴۰۳
ماہ شعبان کے باقی اعمال ۴۰۳
تیسری فصل ۴۰۷
ماہ رمضان کے فضائل و اعمال ۴۰۷
پہلا مطلب ۴۱۰
ماہ رمضان کے مشترکہ اعمال ۴۱۰
پہلی قسم:ماہِ رمضان میں شب روز کے اعمال ۴۱۰
دوسری قسم : ماہ رمضان کی راتوں کے اعمال ۴۱۴
دعائ افتتاح ۴۱۶
ادامہ دوسری قسم ۴۲۵
رمضان کی راتوں کے اعمال ۴۲۵
تیسری قسم ۴۲۸
ماہ رمضان میں سحری کے اعمال ۴۲۸
دعا ئے ابو حمزہ ثمالی ۴۳۲
دعا سحر یا عُدَتِیْ ۴۵۹
دعا سحر یا مفزعی عند کربتی ۴۶۶
چوتھی قسم ۴۶۹
ماہ رمضان میں دنوں کے اعمال ۴۶۹
دوسرا مطلب ۴۹۶
ماہ رمضان میں شب وروز کے مخصوص اعمال ۴۹۶
اعمال شب اول ماہ رمضان ۴۹۹
پہلی رمضان کادن ۵۰۵
چھٹی رم ضان کا دن ۵۱۱
اعمال شب ١٣ و ١٥ رمضان ۵۱۱
تیرھویں رمضان کی رات ۵۱۱
پندرہویں رمضان کی رات ۵۱۱
پندرہویں رمضان کا دن ۵۱۲
سترھویں رمضان کی رات ۵۱۲
انیسویں شب کی رات ۵۱۴
اعمال مشترکہ اور اعمال مخصوصہ ۔ ۵۱۵
اعمال مشترکہ شب ہای قدر ۵۱۵
اعمال مخصوص لیالی قدر ۵۱۸
اعمال مخصوصہ : ۵۱۸
اکیسویں رمضان کی رات ۵۱۹
رمضان کی ستائیسویں رات کی دعائ: ۵۲۹
اٹھائیسویں شب کی دعائ: ۵۳۰
تیسویں شب کی دعائ: ۵۳۲
اکیسویں رات کے باقی اعمال: ۵۳۳
اکیسویںرمضان کا دن ۵۳۵
تئیسویں رمضان کی رات ۵۳۵
ستائیسویں رمضان کی رات ۵۳۸
ماہ رمضان کی آخری رات ۵۳۸
تیسویں رمضان کا دن ۵۴۱
خاتمہ ۵۴۲
ماہ رمضان کی راتوں کی نمازیں اور دنوں کی دعائیں ۵۴۲
ماہ رمضان کی راتوں کی نمازیں ۵۴۲
ماہ رمضان کے دنوں کی دعائیں ۵۴۴
پہلے دن کی دعا: ۵۴۴
دوسرے دن کی دعا: ۵۴۴
تیسرے دن کی دعا: ۵۴۵
چوتھے دن کی دعا: ۵۴۵
پانچویں دن کی دعا: ۵۴۵
چھٹے دن کی دعا: ۵۴۵
ساتویں دن کی دعا: ۵۴۵
آٹھویں دن کی دعا: ۵۴۶
نویں دن کی دعا: ۵۴۶
دسویں دن کی دعا: ۵۴۶
گیارہویں دن کی دعا: ۵۴۶
بارہویں دن کی دعا: ۵۴۷
تیرہویں دن کی دعا: ۵۴۷
چودھویں دن کی دعا: ۵۴۷
پندرہویں دن کی دعا: ۵۴۷
سولہویں دن کی دعا: ۵۴۷
سترہویں دن کی دعا: ۵۴۸
اٹھارہویں دن کی دعا: ۵۴۸
انیسویں دن کی دعا: ۵۴۸
بیسویں دن کی دعا: ۵۴۸
اکیسویں دن کی دعا: ۵۴۹
بائیسویں دن کی دعا: ۵۴۹
تئیسویں دن کی دعا: ۵۴۹
چوبیسویں دن کی دعا: ۵۴۹
پچیسویں دن کی دعا: ۵۵۰
چھبیسویں دن کی دعا: ۵۵۰
ستائیسویں دن کی دعا: ۵۵۰
اٹھائیسویں دن کی دعا: ۵۵۰
انتیسویں دن کی دعا: ۵۵۱
تیسویں دن کی دعا: ۵۵۱
چوتھی فصل ۵۵۲
ماہ شوال کے اعمال ۵۵۲
اعمال شب عید فطر ۵۵۲
پہلی شوال کا دن ۵۵۷
پچیسویں شوال کا دن ۵۶۱
پانچویں فصل ۵۶۲
ماہ ذیقعد کے اعمال ۵۶۲
گیارہویں ذیقعد کا دن ۵۶۲
تئیسویں ذیقعد کا دن ۵۶۳
اعمال روز دحوالارض ۵۶۳
پچیسویں ذیقعد کی رات ۵۶۳
پچیسویں ذیقعد کا دن ۵۶۴
ذیقعد کا آخری دن ۵۶۷
چھٹی فصلماہ ذی الحجہ کے اعمال ۵۶۹
اعمال عشرہ اول ذی الحجہ ۵۶۹
ذالحجہ کا پہلا دن ۵۷۳
ساتویں ذی الحجہ کا دن ۵۷۴
آٹھویں ذی الحجہ کا دن ۵۷۴
نویں ذی الحجہ کی رات ۵۷۴
نویں ذی الحجہ کا دن ۵۸۴
دعائے عرفہ امام حسین ۵۸۹
اعمال شب وروز عید ضحی ۶۲۰
دسویں ذی الحجہ کی رات ۶۲۰
دسویں ذی الحجہ کا دن ۶۲۰
پندرھویں ذی الحجہ کا دن ۶۲۱
اعمال شب وروز عید غدیر ۶۲۱
اٹھارویں ذی الحجہ کی رات ۶۲۱
اٹھارویں ذی الحجہ کا دن ۶۲۱
چوبیسویں ذی الحجہ کا دن ۶۳۲
پچیسویں ذی الحجہ کا دن ۶۴۱
ذی الحجہ کا آخری دن ۶۴۱
ساتویں فصل ۶۴۳
ماہ محرم کے اعمال ۶۴۳
پہلی محرم کی رات ۶۴۳
پہلی محرم کا دن ۶۴۳
تیسری محرم کا دن ۶۴۵
نویں محرم کا دن ۶۴۵
دسویں محرم کی رات ۶۴۵
دسویں محرم کادن ۶۴۶
پچیسویں محرم کا دن ۶۵۵
آٹھویں فصل ۶۵۵
ماہ صفر کے اعمال ۶۵۵
پہلی صفر کادن ۶۵۵
تیسری صفر کا دن ۶۵۶
ساتویں صفر کا دن ۶۵۶
بیسویں صفر کا دن ۶۵۶
اٹھائیسویں صفر کا دن ۶۵۶
صفر کا آخری دن ۶۵۹
نویں فصل ۶۶۰
ماہ ربیع الاول کے اعمال ۶۶۰
پہلی ربیع الاول کی رات ۶۶۰
پہلی ربیع الاول کا دن ۶۶۰
آٹھویں ربیع الاول کا دن ۶۶۰
نویں ربیع الاول کا دن ۶۶۰
بارھویں ربیع الاول کا دن ۶۶۱
چودھویں ربیع الاول کا دن ۶۶۱
سترھویں ربیع الاول کی رات ۶۶۱
سترھویں ربیع الاول کادن ۶۶۱
دسویں فصل ۶۶۳
ربیع الثانی، جمادی الاول اور جمادی الثانی کے اعمال ۶۶۳
تیسری جمادی الثانی کا دن ۶۶۴
بیسویں جمادی الثانی کا دن ۶۶۵
گیارہویں فصل ۶۶۶
ہر نئے قمری مہینے ،عید نوروز اوررومی مہینوں کے اعمال ۶۶۶
اعمال عید نوروز ۶۶۷
رومی مہینوں کے اعمال ۶۶۹
خواص آب نیساں ۶۶۹
تیسرا باب ۶۷۲
باب زیارات ۶۷۲
مقدمہ ۶۷۲
پہلی فصل ۶۸۰
زیارات ائمہ کے آداب ۶۸۰
دوسری فصل ۶۸۸
تمام حرم ہائے مبارکہ کیلئے اذن دخول ۶۸۸
پہلا اذن دخول ۶۸۸
تیسری فصل ۶۹۳
مدینہ میں حضرت رسول ، فاطمہ زہرا اور ائمہ بقیع کی زیارات ۶۹۳
کیفیت زیارت حضرت رسول خدا ۶۹۴
زیارت حضرت رسول خدا ۶۹۵
کیفیت زیارت حضرت فاطمتہ الزہرا ۶۹۷
زیارت حضرت فاطمہ زہرا ۶۹۸
حضرت رسول کی دور سے پڑھنے کی زیارت ۷۰۲
ودعا رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم ۷۱۲
زیارت معصومین روز جمعہ ۷۱۳
صلواة رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم بزبان حضرت علی ۷۱۵
زیارات ائمہ بقیع ۷۱۶
قصیدہ ازریہ ۷۲۰
ذکر زیارات مدینہ منقول ازمصباح الزائر وغیرہ ۷۲۵
زیارت ابراہیم بن حضرت رسول ۷۲۵
زیارت جناب فاطمہ بنت اسد ۷۲۸
زیارت حضرت حمزہ عليهالسلام احد میں ۷۳۰
شہدائ أحد رضوان اللہ علیہم کی قبور کی زیارت ۷۳۴
مدینہ منورہ کی باعظمت مساجد کاتذکرہ ۷۳۶
مسجد قبائ ۷۳۶
مسجد فضیح ۷۳۶
مسجد فتح ۷۳۷
زیارت وداع ۷۳۷
وظائف زوار مدینہ ۷۳۸
چوتھی فصل ۷۴۱
زیارت امیرالمومنین - کی فضیلت وکیفیت ۷۴۱
مطلب اول ۷۴۱
فضیلت زیارت حضرت امیرالمومنین- ۷۴۱
مطلب دوم ۷۴۴
کیفیت زیارت حضرت امیرالمومنین ۷۴۴
مقصد اول ۷۴۵
نماز و زیارت آدم و نوح ۷۶۱
حرم امیر المومنین میں ہر نماز کے بعد کی دعا ۷۶۴
حرم امیر المومنین ـ میںزیارت امام حسین ـ ۷۶۶
زیارت امام حسین مسجد حنانہ ۷۶۷
دوسری زیارت ۷۶۸
تیسری زیارت ۷۷۱
چوتھی زیارت ۷۷۴
پانچویں زیارت ۷۷۵
چھٹی زیارت ۷۷۵
ساتویں زیارت ۷۸۲
مسجد کوفہ میں امام سجاد کی نماز ۷۸۸
امام سجاد اور زیارت امیر ـ ۷۸۹
ذکر وداع امیرالمؤمنین ۷۹۰
دوسرا مقصد ۷۹۲
زیارت مخصوصہ امیر المؤمنین- ۷۹۲
زیارت امیر ـ روز عید غدیر ۷۹۲
دعائے بعد از زیارت امیر ۸۱۴
دوسری مخصوص زیارت ۸۱۶
امیر المومنین ـ نفس پیغمبر ۸۲۳
ابیات قصیدہ ازریہ ۸۲۴
تیسری مخصوص زیارت ۸۲۶
پہلی زیارت رجبیہ ۸۲۶
دوسری زیارت ۸۲۶
تیسری زیارت ۸۲۷
پانچویں فصل ۸۳۸
شہر کوفہ اور مسجد کوفہ کی فضیلت اور حضرت مسلم بن عقیل کی زیارت ۸۳۸
مسجد کوفہ کی فضیلت ۸۳۸
اعمال مسجد کوفہ ۸۳۹
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا ۸۳۹
اعمال دکتہ القضائ و بیت الطشت ۸۴۳
دکۃ القضائ کے اعمال ۸۴۴
بیت الطشت کے اعمال ۸۴۵
وسط مسجد کے اعمال ۸۴۶
ساتویں ستون کے اعمال ۸۴۶
پانچویں ستون کے اعمال ۸۵۱
تیسرے ستون کے اعمال ۸۵۴
اس مقام کی ایک اور نماز ۸۵۸
مقام نوح - پر نماز حاجت ۸۶۰
محراب امیر المؤمنین- کے اعمال ۸۶۲
مناجات حضرت امیر المؤمنین- ۸۶۳
دکۂ امام جعفر صادق - کے اعمال ۸۶۷
مسجد کوفہ میں نماز حاجت ۸۶۸
زیارت حضرت مسلم عليهالسلام بن عقیل عليهالسلام ۸۶۸
زیارت حضرت ہانی بن عروہ(رض) ۸۷۲
چھٹی فصل ۸۷۴
فضیلت واعمال مسجد سہلہ مسجد زید اور مسجد صعصعہ ۸۷۴
مسجد سہلہ کے اعمال ۸۷۴
مسجد زید رحمهالله میں نماز ودعا ۸۸۱
اعمال مسجد صعصعہ ۸۸۳
ساتویں فصل ۸۸۵
اس فصل میں تین مقصد ہیں۔ ۸۸۵
پہلا مقصد ۸۸۵
امام حسین- کی زیارت کی فضلیت۔ ۸۸۵
دوسرا مقصد ۸۸۷
زیارت امام حسین- کے آداب ۸۸۷
حرم امام حسین عليهالسلام کے اعمال ۸۹۳
تیسرا مقصد ۹۰۱
کیفیت زیارت امام حسین- و حضرت عباس- ۹۰۱
پہلا مطلب ۹۰۲
امام حسین- کی زیارات مطلقہ ۹۰۲
پہلی زیارت ۹۰۲
دوسری زیارت ۹۰۶
تیسری زیارت ۹۰۷
چوتھی زیارت ۹۰۹
پانچویں زیارت ۹۰۹
چھٹی زیارت ۹۱۰
ساتویں زیارت ۹۱۱
زیارت وارث اور زائد جملے ۹۱۸
کتب اخبار و حدیث میں تصرف ۹۲۰
دوسرا مطلب ۹۲۴
زیارت حضرت عباس بن امیرالمومنین علی ۹۲۴
فضائل حضرت عباس ۹۳۰
تیسرا مطلب ۹۳۲
حضرت ابی عبداللہ الحسین- کی مخصوص زیارات ۹۳۲
پہلی زیارت ۹۳۲
دوسری زیارت ۹۳۷
برائے پندرہ رجب ۹۳۷
تیسری زیارت ۹۴۰
برائے پندرہ شعبان ۹۴۰
چوتھی زیارت ۹۴۱
شب ہائے قدر میں امام حسین- کی زیارت ۹۴۱
پانچویں زیارت ۹۴۴
عید الفطر و عیدالاضحی میں امام حسین- کی زیارت ۹۴۴
چھٹی زیارت ۹۵۳
عرفہ کے دن امام حسین- کی زیارت ۹۵۳
کیفیت زیارت ۹۵۴
فضیلت زیارت یوم عاشورا ۹۶۲
ساتویں زیارت ۹۶۲
عاشورا کے دن زیارت امام حسین- ۹۶۲
زیارت عاشورا کے بعد کی دعا ۹۶۹
زیارت عاشورا کے فوائد ۹۷۵
دوسری زیارت عاشورہ ۹۷۸
آٹھویں زیارت ۹۸۵
زیارت اربعین ۹۸۵
پہلی زیارت ۹۸۵
دوسری زیارت اربعین ۹۸۸
امام حسین- کی زیارت کے خاص اوقات ۹۸۹
پہلی روایت ۹۸۹
دوسری روایت ۹۸۹
اضافی بیان ۹۹۰
قبر حسین عليهالسلام کی خاک کے فوائد ۹۹۰
پہلی روایت ۹۹۱
دوسری روایت ۹۹۱
چوتھی روایت ۹۹۱
چھٹی روایت ۹۹۴
ساتویں روایت ۹۹۵
آٹھویں فصل ۹۹۸
فضیلت وکیفیت زیارت کاظمین ۹۹۸
پہلا مطلب ۹۹۸
زیارت کاظمین کے فضائل ۹۹۸
زیا رت اما م مو سٰی کا ظم - ۹۹۹
امام موسٰی کاظم -کی ایک اور زیارت ۱۰۰۳
صلوات امام موسیٰ کاظم ۱۰۰۶
امام محمد تقی - کی مخصوص زیارت ۱۰۰۷
امام محمد تقی - کی دوسری زیارت ۱۰۰۸
امام محمد تقی - کی ایک اور مخصوص زیارت ۱۰۱۱
کاظمین کی مشترک زیارت ۱۰۱۳
پہلی زیارت ۱۰۱۳
دوسری زیارت ۱۰۱۳
حاجی علی بغدادی کا واقعہ ۱۰۱۵
دوسرا مطلب ۱۰۲۰
مسجد براثا میں جانا اور وہاں نمازپڑھنا ۱۰۲۰
تیسرا مطلب ۱۰۲۲
نوابِ اربعہ کی زیارت ۱۰۲۲
نواب اربعہ کی زیارت کا طریقہ ۱۰۲۳
چوتھا مطلب ۱۰۲۴
حضرت سلمان فارسی کی زیارت ۱۰۲۴
کیفیت زیارت سلمان فارسی(رض) ۱۰۲۵
امیر ـ کا ایوان کسریٰ جان ۱۰۲۹
نویں فصل ۱۰۳۲
زیارت امام علی رضا - ۱۰۳۲
کیفیتِ زیارتِ امام علی رضا ۱۰۳۵
دعابعد اززیارت اما رضا ـ ۱۰۴۳
امام علی رضا - کی ایک اور زیارت ۱۰۴۷
زیارتِ دیگر ۱۰۴۷
سفر امام رضا بہ خراسان ۱۰۴۹
شاہ عباس کا پیدل مشہد جانا ۱۰۵۳
معجزات امام رضا ۱۰۵۳
دسویں فصل ۱۰۵۶
زیارت سامرہ ۱۰۵۶
پہلا مقام ۱۰۵۶
امام علی نقی و امام حسن عسکری کی زیارت ۱۰۵۶
زیارت امام علی نقی ۱۰۵۹
زیارت امام حسن عسکری ۱۰۶۵
زیارت والدہ امام مہدی عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف ۱۰۷۲
زیارت جناب حکیمہ خاتون ۱۰۷۵
فضائل سید حسین بن امام علی نقی ۱۰۷۸
فضائل سید محمد بن امام علی نقی ۱۰۷۸
دوسرا مقام ۱۰۸۰
سرداب کے آداب اور حضرت حجۃ القائم (عج)کی زیارت ۱۰۸۰
کیفیت زیارت سرداب ۱۰۸۰
زیارت امام آخر الزمان عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف ۱۰۸۱
زیارت دیگر امام آخر الزماں(عج) ۱۰۸۶
زیارت دیگر امام آخرالزمان عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف ۱۰۹۴
صلوات برائے امام آخر الزمان عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف ۱۰۹۷
دعائے ندبہ ۱۰۹۹
دوسرا امر ۱۱۱۲
زیارت امام آخر الزمان عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف ۱۱۱۲
تیسرا امر ۱۱۱۳
دعائے عہد ۱۱۱۳
چوتھا امر ۱۱۱۶
گیارہویں فصل ۱۱۲۲
پہلا مقام ۱۱۲۲
زیارات جامعہ ۱۱۲۲
پہلی زیارت جامعہ صغیرہ ۱۱۲۲
دوسری زیارت جامعہ کبیرہ ۱۱۲۴
سید رشتی کا واقعہ ۱۱۳۷
تیسری زیارت جامعہ ۱۱۳۹
چوتھی اور پانچویں زیارت جامعہ ۱۱۴۲
چوتھی زیارت جامعہ ۱۱۴۲
پانچویں زیارت جامعہ ۱۱۴۲
دوسرا مقام ۱۱۴۲
دعا بعد از زیارت ۱۱۴۲
تیسرا مقام ۱۱۴۵
چہاردہ معصومین پر صلوات ۱۱۴۵
حضرت رسول اللہ پر صلوات ۱۱۴۶
امیرالمومنین- پر صلوات ۱۱۴۷
حضرت فاطمہ زہرا = پر صلوات ۱۱۴۸
امام حسن و حسین پر صلوات ۱۱۴۹
صلوات امام سجاد وامام باقر ۱۱۵۱
امام زین العابدین - پر صلوات ۱۱۵۱
امام محمد باقر - پر صلوات ۱۱۵۱
صلوات امام صادق وامام کاظم ۱۱۵۲
امام جعفر صادق - پر صلوات ۱۱۵۲
امام موسیٰ کاظم - پر صلوات ۱۱۵۲
صلوات امام رضا امام محمد تقی ۱۱۵۳
امام علی رضا - پر صلوات ۱۱۵۳
امام محمد تقی - پر صلوات ۱۱۵۴
امام علی نقی - پر صلوات ۱۱۵۴
امام حسن عسکری - پر صلوات ۱۱۵۵
امام العصر عجل ﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف پر صلوات ۱۱۵۵
خاتمہ ۱۱۵۷
پہلا مطلب ۱۱۵۷
زیارت انبیائ ۱۱۵۷
کیفیت زیارت ۱۱۵۸
دوسرا مطلب ۱۱۵۸
زیارت امام زادگان و شہزادگان ۱۱۵۸
فضلیت زیارت معصومہ = قم ۱۱۵۹
زیارت معصومہ = قم ۱۱۵۹
فضلیت زیارت شاہ عبدالعظیم ۱۱۶۲
زیارت شاہ عبدالعظیم ۱۱۶۴
زیارت امام زادہ حمزہ رحمهالله ۱۱۶۷
تیسرا مطلب ۱۱۶۷
زیارت قبور مومنین رحمهالله ۱۱۶۷
مردوں کے لیے ہدیہ بھیجنا ۱۱۷۰
مردوں سے عبرت حاصل کرنا ۱۱۷۱
اختتام مفاتیح عرض مؤلف ۱۱۷۳
ملحقات اول مفاتیح الجنان ۱۱۷۵
(پہلا مطلب ) ۱۱۷۵
( ۱ ) (دعا وداع رمضان ) ۱۱۷۵
(دوسرا مطلب) ۱۱۷۹
( ۲ ) عید الفطر کا پہلا خطبہ ۱۱۷۹
(دوسرا مطلب) ۱۱۸۴
عید الفطر کا دوسرا خطبہ ۱۱۸۴
(تیسرا مطلب) ۱۱۸۶
( ۳ ) زیارت جامعہ ائمہ معصومین ۱۱۸۶
(چوتھا مطلب) ۱۱۹۸
( ۴ ) زیارت ائمہ کے بعد دعا ۱۱۹۸
(پانچواں مطلب) ۱۲۰۴
(زیارت وداع ائمہ طاہرین عليهالسلام ۱۲۰۴
(چھٹا مطلب) ۱۲۰۷
( ۶ ) رقعہ حاجت ) ۱۲۰۷
(ساتوں مطلب) ۱۲۰۷
( ۷ ) (غیبت امام العصر عليهالسلام میں دعا ) ۱۲۰۷
(آٹھواں مطلب) ۱۲۱۵
( ۸ ) آداب زیارت نیابت ۱۲۱۵
ملحقا ت دوم مفاتیح الجنان ۱۲۲۱
( ۱ )نما ز امام حسین- کے بعد کی دعا ۱۲۲۱
( ۲ ) نماز زیار ت امام محمد تقی - کے بعد کی دعا ۱۲۲۵
امام محمد تقی - کی ایک اور زیا رت ۱۲۲۷
( ۳ )زیا رت برا ئے امام زاد گا ن ۱۲۲۸
دوسر ی زیا رت برا ئے امام زاد گا ن ۱۲۲۹
( ۴ )رو زعر فہ کی تسبیحا ت ۱۲۳۰
دعای مکارم اخلاق ۱۲۳۳
حدیث شریف کسائ ۱۲۴۱
(الباقیات الصالحات ) ۱۲۴۷
(مقدمہ) ۱۲۴۷
(پہلا باب ) ۱۲۴۸
(شب و روز کے اعمال) ۱۲۴۸
(پہلی فصل):اعمال مابین طلوعین ۱۲۴۸
(آداب وضو ) ۱۲۵۱
(فضیلت مسواک ) ۱۲۵۱
مسجد میں جاتے وقت کی دعا ۱۲۵۲
مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا ۱۲۵۳
آداب نماز ۱۲۵۳
اذان واقامت کے درمیان کی دعا ۱۲۵۴
دعائے تکبیرات ۱۲۵۵
نما زبجالانے کے آداب ۱۲۵۶
فضائل تعقیبات ۱۲۵۸
(مشترکہ تعقیبات) ۱۲۵۹
( ۱ )تسبیح فاطمہ زہرا عليهالسلام ) ۱۲۵۹
خاک شفاء کی تسبیح ۱۲۶۰
(ہر فریضہ نماز کے بعد کی دعا) ۱۲۶۲
(دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا ) ۱۲۶۲
نماز واجبہ کے بعد دعا ۱۲۶۳
نماز کے بعد طلب بہشت اور ترک دوزخ کی دعا ۱۲۶۳
نماز کے بعد آیات اور سور کی فضیلت ۱۲۶۴
آیت شہادت ۱۲۶۴
(آیت ملک) ۱۲۶۵
(آیت الکرسی کے فضائل) ۱۲۶۵
((۱۰)فضیلت تسبیحات اربعہ) ۱۲۶۶
(حاجت ملنے کی دعا) ۱۲۶۷
(گناہوں سے معافی کی دعا) ۱۲۶۷
(ہر نماز کے بعد کی دعا) ۱۲۶۸
(قیامت میںرو سفیدی کی دعا) ۱۲۶۸
بیمار اور تنگدستی کیلئے دعا ۱۲۶۹
ہر نماز کے بعد دعا ۱۲۶۹
(پنجگانہ نماز کے بعد کی دعا) ۱۲۷۰
ہر نماز کے بعد سور توحید کی تلاوت ۱۲۷۱
(گناہوں سے بخشش کی دعا) ۱۲۷۱
رنماز کے بعد گناہوں سے بخشش کی دعا ۱۲۷۲
گذشتہ دن کا ضائع ثواب حاصل کرنے کی دعا ۱۲۷۲
لمبی عمر کیلئے دعا ۱۲۷۳
(تعقیبات مختصہ) ۱۲۷۴
ہر نماز کی مخصوص تعقیبات ۱۲۷۴
نماز فجر کی مخصوص تعقیبات: ۱۲۷۴
گناہوں سے بخشش کی دعا ۱۲۷۵
شیطان کے چال سے بچانے کی دعا ۱۲۷۵
ناگوار امر سے بچانے والی دعا ۱۲۷۵
بہت زیادہ اہمیت والی دعا ۱۲۷۵
دعائے عافیت ۱۲۷۶
تین مصیبتوں سے بچانے والی دعا ۱۲۷۶
شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا ۱۲۷۷
رزق میں برکت کی دعا ۱۲۷۷
قرضوں کی ادائیگی کی دعا ۱۲۷۸
تنگدستی اور بیماری سے دوری کی دعا ۱۲۷۸
خدا سے عہد کی دعا ۱۲۷۹
جہنم کی آگ سے بچنے کی دعا ۱۲۸۰
(سجدہ شکر ) ۱۲۸۰
(سجدہ شکر کی کیفیت) ۱۲۸۱
(دوسری فصل ): ۱۲۸۷
طلوع و غروب آفتاب کے درمیان کے اعمال ۱۲۸۷
(نماز ظہر و عصر کے آداب) ۱۲۸۸
(تیسری فصل) : ۱۲۹۰
غروب آفتاب سے سونے کے وقت تک کے اعمال ۱۲۹۰
(آداب نماز مغرب ) ۱۲۹۱
(سونے کے آداب) ۱۲۹۴
(چوتھی فصل :) ۱۲۹۷
نیند سے بیداری اور نماز تہجد ۱۲۹۷
(نماز تہجد کی کیفیت: ۱۲۹۸
(پانچویں فصل ) ۱۳۰۵
صبح و شام کے اذکار اور دعائیں ۱۳۰۵
(طلوع آفتاب سے پہلے سورہ توحید،قدر،اور آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت ) ۱۳۰۵
(طلوع و غروب آفتاب سے پہلے پڑھے والی دعا) ۱۳۰۵
(شام کے وقت سو مرتبہ اللہ اکبر کہنے کی فضیلت ) ۱۳۰۶
( صبح و شام تسبیحات اربعہ پڑھنے کی فضیلت) ۱۳۰۶
(صبح و شام کے وقت یا شام کے بعد اس آیہ کی فضیلت) ۱۳۰۷
(ہر صبح و شام اس ذکر کی اہمیت ) ۱۳۰۷
( بیماری اور تنگ دستی سے بچنے کی دعا ) ۱۳۰۸
(طلو آفتاب اور غروب آفتا ب کی دعا ) ۱۳۰۸
(صبح و شام کی دعا) ۱۳۰۹
(صبح و شام بہت زیادہ اہمیت والا ذکر) ۱۳۰۹
(روزانہ چار نعمتوکا ذکرکرنا ضروری ہے ) ۱۳۱۰
(ستر بلائیں دور ہونے کی دعا) ۱۳۱۰
( صبح کے وقت کی دعا) ۱۳۱۰
(صبح صادق کے وقت کی دعا) ۱۳۱۱
(مصیبتوں سے حفاظت کی دعا) ۱۳۱۱
(اللہ کا شکر بجا لانے کی دعا) ۱۳۱۲
(شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا) ۱۳۱۲
(دن ،رات امان میں رہنے کی دعا) ۱۳۱۳
(صبح و شام کو پڑھنے کی دعا) ۱۳۱۳
(دن کی بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا) ۱۳۱۴
(اہم حاجات بر لانے والی دعا ) ۱۳۱۴
(چھٹی فصل:) ۱۳۱۶
وہ دعائیں جو دن کی بعض ساعتوں میں پڑھی جاتی ہیں اور وہ دعائیں جو دن کی کسی خاص ساعت سے تعلق نہیں رکھتیں۔ ۱۳۱۶
(پہلی ساعت:) ۱۳۱۶
(دوسری ساعت:) ۱۳۱۷
(تیسری ساعت:) ۱۳۱۷
(چوتھی ساعت:) ۱۳۱۸
(پانچویں ساعت:) ۱۳۱۹
(چھٹی ساعت:) ۱۳۱۹
(ساتویں ساعت) ۱۳۲۰
(آٹھویں ساعت) ۱۳۲۱
(نویں ساعت) ۱۳۲۱
(دسویں ساعت) ۱۳۲۲
(گیارھویں ساعت) ۱۳۲۳
(بارھویں ساعت) ۱۳۲۳
(روزو شب کی دعائیں) ۱۳۲۴
(جہنم سے بچانے والی دعا) ۱۳۲۶
(گذشتہ اور آئندہ نعمتوں کا شکر بجا لانے کی دعا ) ۱۳۲۶
(نیکیوں کی کثرت اور گناہوں سے بخشش کی دعا) ۱۳۲۶
(سترقسم کی بلاؤں سے دوری کی دعا) ۱۳۲۶
(فقر و غربت اور وحشت قبر سے امان والی دعا) ۱۳۲۷
(اہم حاجات بر لانے والی دعا ) ۱۳۲۷
(خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والی دعا ) ۱۳۲۸
(گناہوں سے پاکیزگی کی دعا) ۱۳۲۹
(فقر و فاقہ سے بچانے والی دعا) ۱۳۲۹
(جہنم کی آگ سے بچانے والی دعا) ۱۳۲۹
(چار ہزار گناہ کبیرہ معاف ہو جانے کی دعا) ۱۳۲۹
(کثرت سے نیکیاں ملنے اور شر شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا) ۱۳۳۰
(نگاہ رحمت الہی حاصل ہونے کی دعا) ۱۳۳۰
(بہت زیادہ اجر ثواب ملنے کی دعا) ۱۳۳۱
عبادت اور خلوص نیت ۱۳۳۱
بنی اسرائیل کے عابد کا واقعہ ۱۳۳۱
(کثرت علم ومال کی دعا) ۱۳۳۲
( دنیاوی و اخروی امور خدا کے سپرد کرنے کی دعا) ۱۳۳۳
(بہشت میں اپنا مقام دیکھنے کی دعا) ۱۳۳۳
(دوسرا باب) ۱۳۳۴
ان مستحبی نمازوں کا بیان جو مفاتیح الجنان میں ذکر نہیں۔ ۱۳۳۴
(نماز اعرابی) ۱۳۳۴
(( ۲ )نماز ہدیہ) ۱۳۳۵
(( ۳ )نماز وحشت) ۱۳۳۶
(دوسری نماز وحشت کی کیفیت ) ۱۳۳۶
(( ۴ ) والدین کیلئے فرزند کی نماز:) ۱۳۳۸
(( ۵ ) نما ز گرسنہ:) ۱۳۳۸
(( ۶ )نماز حدیث نفس) ۱۳۳۹
(( ۷ )نماز استخارہ ذات الرقاع :) ۱۳۴۰
(( ۸ ) نماز اداے قرض وکفایت از ظلم سلطان: ) ۱۳۴۲
(( ۹ ) نماز حاجت ) ۱۳۴۲
((۱۰)نماز حل مہمات) ۱۳۴۳
(( ۱۱ )نماز ر فع عسرت) ۱۳۴۴
((۱۲)نماز اضافہ رزق) ۱۳۴۴
(نماز دیگر اضافہ رزق) ۱۳۴۵
(نماز دیگر اضافہ رزق) ۱۳۴۵
((۱۳) نماز حاجت) ۱۳۴۵
(ایک اور نماز ۔) ۱۳۴۵
(دیگر نماز حاجت) ۱۳۴۷
(دیگر نماز حاجت ) ۱۳۴۸
(دیگر نماز حاجت ) ۱۳۴۹
(دیگر نماز حاجت) ۱۳۴۹
(نماز استغاثہ) ۱۳۵۳
(نمازاستغاثہ حضرت فاطمہ الزہرائ =) ۱۳۵۳
(نماز حضرت حجت (عج)) ۱۳۵۴
(دیگر نماز حضرت حجت عليهالسلام ) ۱۳۵۵
(نماز خوف از ظالم ) ۱۳۵۷
(تیزی ذہن و قوت حافظہ کی نماز:) ۱۳۵۸
(نماز برائے بخشش گناہاں :) ۱۳۵۸
(نماز دیگر :) ۱۳۵۸
(نماز وصیت) : ۱۳۵۹
(نماز عفو:) ۱۳۵۹
(ایام ہفتہ کی نمازیں ) ۱۳۵۹
(ہفتہ کے دن کی نماز ) ۱۳۵۹
(اتوارکے دن کی نماز) ۱۳۵۹
(پیر کے دن کی نماز) ۱۳۶۰
(منگل کے دن کی نماز) ۱۳۶۰
(بدھ کے دن کی نماز) ۱۳۶۰
(جمعرات کے دن کی نماز ) ۱۳۶۰
(جمعہ کے دن کی نماز ) ۱۳۶۰
(تیسرا باب ) ۱۳۶۱
اعضا کے دردوں، بیماریوں اور بخار دور کرنے کی دعائیں اور تعویذات ۱۳۶۱
(دعا ئے عافیت) : ۱۳۶۲
(دفع مرض کی ایک اوردعا ) ۱۳۶۳
(ایک اور دعا :) ۱۳۶۳
(سر درد اور کان درد کا تعویذ:) ۱۳۶۸
(سر درد کا تعویذ:) ۱۳۶۸
(درد شقیقہ کا تعویذ ) ۱۳۶۹
(بہرے پن کا تعویذ) ۱۳۶۹
(منہ کے درد کا تعویذ) ۱۳۶۹
(دانتوں کے درد کا تعویذ ) ۱۳۷۰
(ایک اور تعویذ: ) ۱۳۷۱
(دانتوں کے درد کا ایک مجرب تعویذ :) ۱۳۷۱
(ایک اور تعویذ ) ۱۳۷۲
(درد سینہ کا تعویذ :) ۱۳۷۲
(پیٹ درد کا تعویذ) ۱۳۷۳
(درد قولنج کا تعویذ ) ۱۳۷۴
(پیٹ درد اور قولنج کا تعویذ :) ۱۳۷۴
(دھدرکا تعویذ) ۱۳۷۴
(بدن کے ورم اور سوجن کا تعویذ:) ۱۳۷۵
(وضع حمل میں آسانی کا تعویذ :) ۱۳۷۵
(جماع نہ کر سکنے والے کا تعویذ) ۱۳۷۶
(بخار کا تعویذ:) ۱۳۷۷
(پیچش دور کرنے کی دعا:) ۱۳۸۱
(پیٹ کی ہوا کیلئے دعا:) ۱۳۸۱
(برص کے لئے دعا) ۱۳۸۲
(بادی وخونی خارش اور پھوڑوں کا تعویذ) ۱۳۸۳
(شرمگاہ کے درد کی دعا) ۱۳۸۳
(پائوں کے درد کا تعویذ:) ۱۳۸۴
(گھٹنے کا درد: ۱۳۸۴
(پنڈلی کا درد :) ۱۳۸۵
(آنکھ کا درد:) ۱۳۸۵
(نکسیر کا پھوٹنا:) ۱۳۸۶
(جادو کے توڑ کا تعویذ :)) ۱۳۸۷
(مرگی کا تعویذ:) ۱۳۸۸
(جنات کے سنگباری کا تعویذ:) ۱۳۸۸
(جنات کے شر سے بچائو:) ۱۳۸۸
(نظر بدکا تعویذ:) ۱۳۸۸
(نظر بد کا ایک اور تعویذ:) ۱۳۸۹
(نظر بد سے بچنے کیلئے ایک اور تعویذ ) ۱۳۸۹
(جانوروں کی نظر بد سے بچائو ۔) ۱۳۹۰
(شیطانی وسوسے دور کرنے کا تعویذ:) ۱۳۹۰
(چور سے بچنے کا تعویذ:) ۱۳۹۰
(بچھو سے بچنے کا تعویذ) ۱۳۹۱
(سانپ بچھو سے بچنے کا ایک تعویذ ) ۱۳۹۱
(بچھو سے بچنے کا تعویذ) ۱۳۹۲
(چوتھا باب ) ۱۳۹۳
وہ دعائیں جو کتاب الکافی سے منتخب کی گئی ہیں ۔ ۱۳۹۳
(پہلی فصل :) ۱۳۹۳
(پہلی دعا:) ۱۳۹۳
(دوسری دعا :) ۱۳۹۳
(تیسری دعا:) ۱۳۹۳
(چوتھی دعا :) ۱۳۹۴
(پانچویں دعا:) ۱۳۹۶
(چھٹی دعا ) ۱۳۹۷
(ساتویں دعا ) ۱۳۹۸
(آٹھویں دعا) ۱۴۰۰
(نویں دعا) ۱۴۰۰
(دسویں دعا ) ۱۴۰۰
(دوسری فصل ) ۱۴۰۱
(پہلی دعا ) ۱۴۰۱
(دوسری دعا ) ۱۴۰۱
(تیسری دعا ) ۱۴۰۱
(چوتھی دعا ) ۱۴۰۲
(پانچویں دعا ) ۱۴۰۲
(چھٹی دعا) ۱۴۰۳
(ساتویں دعا ) ۱۴۰۳
(تیسری فصل) ۱۴۰۳
(پہلی دعا ) ۱۴۰۳
(دوسری دعا) ۱۴۰۴
(تیسری دعا ) ۱۴۰۴
(چوتھی دعا) ۱۴۰۴
(پانچویں دعا) ۱۴۰۵
(چھٹی دعا ) ۱۴۰۵
( ساتویں دعا ) ۱۴۰۵
(آٹھویں دعا) ۱۴۰۶
(چوتھی فصل ) ۱۴۰۷
(پہلی دعا) ۱۴۰۷
(دوسری دعا) ۱۴۰۷
(تیسری دعا) ۱۴۰۸
(چوتھی دعا) ۱۴۰۹
(پانچویں دعا) ۱۴۱۱
(پانچویں فصل) ۱۴۱۲
وسعت رزق کیلئے بعض دعائیں ۔ ۱۴۱۲
( پہلی دعا ) ۱۴۱۲
(دوسری دعا ) ۱۴۱۲
(تیسری دعا ) ۱۴۱۳
(چوتھی دعا ) ۱۴۱۳
( پانچویں دعا ) ۱۴۱۳
(چھٹی فصل ) ۱۴۱۵
اداے قرض کیلئے دعائیں ۔ ۱۴۱۵
(پہلی دعا ) ۱۴۱۵
(دوسری دعا ) ۱۴۱۵
( ساتویں فصل) ۱۴۱۶
غم و اندیشے اور خوف دور کرنے کی بعض دعائیں۔ ۱۴۱۶
(پہلی دعا ) ۱۴۱۶
(دوسری دعا ) ۱۴۱۷
(تیسری دعا ) ۱۴۱۷
(چوتھی دعا) ۱۴۱۸
(پانچویں دعا) ۱۴۱۹
(چھٹی دعا ) ۱۴۲۰
(ساتویں دعا ) ۱۴۲۱
( آٹھویں دعا ) ۱۴۲۱
(نو یں دعا) ۱۴۲۲
(دسویں دعا ) ۱۴۲۲
(گیا ر ہویں دعا) ۱۴۲۳
(با رہو یں دعا) ۱۴۲۳
(آٹھو یں فصل ) ۱۴۲۵
بیماریوں کیلئے چند دعائیں۔ ۱۴۲۵
(پہلی دعا) ۱۴۲۵
(دوسری دعا) ۱۴۲۵
(تیسری دعا) ۱۴۲۵
(چو تھی دعا) ۱۴۲۶
(پا نچویں دعا) ۱۴۲۶
(نو یں فصل ) ۱۴۲۷
چند حرزوں اور تعویذوں کا ذکر ۔ ۱۴۲۷
رات دن میں وحشت وتنہائی سے بچنے کی دعا ۱۴۲۷
تنہائی میں سوتے وقت کی دعا ۱۴۲۷
تعویذ پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم حسنین کیلئے ۱۴۲۷
کھٹمل، پسو اور لال بیگ کی اذیت سے بچنے والی دعا ۱۴۲۸
چیرنے پھاڑنے والے جانور کو دیکھتے وقت کی دعا ۱۴۲۸
مشکل مصیبت دور ہونے کی دعا ۱۴۲۹
(دسویں فصل) ۱۴۲۹
دنیا وآخرت کی حاجات کیلئے چند مختصر دعائیں۔ ۱۴۲۹
(پہلی دعا) ۱۴۲۹
(دوسری دعا) ۱۴۳۰
( تیسری دعا) ۱۴۳۰
(چوتھی دعا) ۱۴۳۱
(پانچویں دعا) ۱۴۳۲
( چھٹی دعا ) ۱۴۳۲
(سا تو یں دعا) ۱۴۳۲
(آٹھویں دعا) ۱۴۳۳
( نویں دعا) ۱۴۳۳
(دسویں دعا ) ۱۴۳۳
(گیارہویںدعا) ۱۴۳۳
(بارہویں دعا) ۱۴۳۴
( تیرہویںدعا ) ۱۴۳۴
( چودہویں دعا) ۱۴۳۶
(پندرھویںدعا) ۱۴۳۷
(سولہویں دعا) ۱۴۴۰
(سترہویں دعا ) ۱۴۴۱
(اٹھارہویں دعا) ۱۴۴۱
(انیسویں دعا ) ۱۴۴۲
(بیسویں دعا) ۱۴۴۳
(اکیسویں دعا) ۱۴۴۵
(بائیسویں دعا) ۱۴۴۵
(تیئسویں دعا ) ۱۴۴۹
(چو بیسویں دعا ) ۱۴۴۹
(پچیسویں دعا ) ۱۴۴۹
(چھبیسویں دعا) ۱۴۵۰
(ستائیسویں دعا ) ۱۴۵۱
(اٹھا ئیسویں دعا ) ۱۴۵۶
(انتیسویں دعا ) ۱۴۵۸
(تیسویں دعا ) ۱۴۶۱
(پانچواں باب ) ۱۴۶۲
بعض حرز اور مختصر دعائیں ۔ ۱۴۶۲
دعاء حل مشکلات ۱۴۶۲
(( ۲ )حرز حضرت فاطمۃ الزہرا =) ۱۴۶۲
(( ۳ )حرز امام سجاد - ۱۴۶۲
(( ۴ )حرز حضرت امام جعفر صادق -) ۱۴۶۴
(( ۵ )حزر حضرت امام موسیٰ کاظم -) ۱۴۶۴
( ۶: رقعۃالحبیب ) ۱۴۶۵
(( ۷ )حرز امام حضرت محمد تقی جواد- ) ۱۴۶۷
(( ۸ ) حرز حضرت امام علی نقی -) ۱۴۶۷
(( ۹ ) حرز امام حسن عسکری - ) ۱۴۶۸
((۱۰)حرز حضرت امام العصر (عج) ) ۱۴۶۸
(( ۱۱ )قنوت حضرت امام حسین- ) ۱۴۶۸
جن وانس سے امان میں رہنے کیلئے دعا رسول خدا صلىاللهعليهوآلهوسلم ۱۴۶۹
((۱۳)دعائے مجرب ) ۱۴۶۹
((۱۴)رسول ﷲ صلىاللهعليهوآلهوسلم کی ایک اور دعا) ۱۴۷۱
((۱۵)حضرت امام محمد باقر - کی دعا) ۱۴۷۱
((۱۶) حاجات طلب کرنے کی مناجاتیں) ۱۴۷۲
(مناجات استخارہ) ۱۴۷۲
طلب خیر کی مناجات ۱۴۷۲
(مناجات استقالہ) ۱۴۷۳
گناہوں سے معافی کی مناجات ۱۴۷۳
(سفر کی مناجات ) ۱۴۷۵
(طلب رزق کی مناجات ) ۱۴۷۶
(طلب پناہ کی مناجات) ۱۴۷۷
(طلب توبہ کی مناجات ) ۱۴۷۸
(طلب حج کی مناجات) ۱۴۸۰
(ظلم سے نجات کی مناجات) ۱۴۸۱
(شکر خدا کرنے کی مناجات) ۱۴۸۲
(طلب حاجات کی مناجات) ۱۴۸۳
(۱۷: حجاب امام جعفر صادق - ) ۱۴۸۵
(۱۸: حجاب حضرت امام موسی کاظم -) ۱۴۸۶
((۱۹)حجاب حضرت امام محمد تقی - ) ۱۴۸۶
مشکل وقت کا ورد ۱۴۸۷
دعائے رزق ۱۴۸۷
ابلیس کا شر دور کرنے کی دعا ۱۴۸۸
زندہ دل ہوجانے کی دعا ۱۴۸۸
ناگہانی موت سے بچنے کی دعا ۱۴۸۹
قرضے کی ادائیگی کیلئے دعا ۱۴۸۹
(چھٹا باب) ۱۴۹۰
بعض سورتوں اور آیتوں کے خواص اور دیگر دعائیں اور اعمال۔ ۱۴۹۰
(پہلا امر) ۱۴۹۰
(دوسرا امر) ۱۴۹۰
(تیسرا امر) ۱۴۹۰
(چوتھا امر) ۱۴۹۰
(پانچواں امر) ۱۴۹۰
(چھٹا امر) ۱۴۹۱
(ساتواں امر) ۱۴۹۱
(آٹھواں امر) ۱۴۹۱
(نواں امر) ۱۴۹۱
(دسواں امر) ۱۴۹۲
(گیارہوں امر) ۱۴۹۲
(بارھواں امر) ۱۴۹۳
(تیرھواں امر) ۱۴۹۴
(چودھواں امر) ۱۴۹۴
(پندرھواں امر) ۱۴۹۴
(سولھواں امر) ۱۴۹۵
(سترھواں امر) ۱۴۹۶
اپنے مدعا کو خواب میں دیکھنے کا دستور العمل ۱۴۹۶
(اٹھارواں امر) ۱۴۹۶
(انیسواں امر) ۱۴۹۷
(بیسوا ں امر) ۱۴۹۷
(اکیسواں امر) ۱۴۹۸
(بائیسواں امر) ۱۴۹۸
( تیئسواں امر ) ۱۴۹۸
(چوبیسواں امر) ۱۴۹۹
( پچیسواں امر) ۱۴۹۹
(عقیقہ کابیان ) ۱۵۰۰
(چھبیسواں امر) ۱۵۰۲
(ستائیسواں امر) ۱۵۰۲
(اٹھائیسواں امر) ۱۵۰۵
(انتیسواں امر) ۱۵۰۶
(تیسواں امر) ۱۵۰۷
(اکتیسواں امر) ۱۵۰۷
(بتیسواں امر) ۱۵۰۸
(تینتیسواں امر) ۱۵۰۹
(چونتیسواں امر) ۱۵۰۹
(پینتیسواں امر) ۱۵۰۹
(چھیتسواں امر) ۱۵۰۹
( سینتیسواں امر) ۱۵۱۰
(اڑتیسواں امر) ۱۵۱۱
(انتالیسواں امر) ۱۵۱۱
نماز میں بہت زیادہ نیسان ہونے کی دعا ۱۵۱۲
قوت حافظہ کی دوا اور دعا ۱۵۱۲
(چالیسواں امر) ۱۵۱۲
(خاتمہ) ۱۵۱۴
(خاتمہ موت کے آداب اور اس سے متعلق چند دعائیں) ۱۵۱۴
موت کے آثار رونما ہونے پر توبہ کرے ۱۵۱۴
حقوق ﷲ اور حقوق العباد کی طرف توجہ ۱۵۱۴
تاکید در امر وصیت ۱۵۱۵
عہد نامہ میت ۱۵۱۷
آداب محتضر اور تلقین کلمات فرج ۱۵۱۹
مرنے کے بعد احکام ۱۵۲۰
تشیع جنازہ اور دفن میت ۱۵۲۴
تلقین میت ۱۵۲۷
تلقین جامع میت ۱۵۲۹
( خاتمہ کتاب) ۱۵۳۱
(ملحقات باقیات الصالحات) ۱۵۳۳
دعائے مختصراورمفید ۱۵۳۳
دعائے دوری ہر رنج وخوف ۱۵۳۳
( ۳ ) بیماریوں اور تکلیفوں کو دور کرنے کی دعا: ۱۵۳۴
بدن پر نکلنے والے چھالے دور کرنے کی دعا ۱۵۳۴
خنازیر (ہجیروں )کو ختم کرنے کیلئے ورد ۱۵۳۴
کمر درد دور کرنے کیلئے دعا ۱۵۳۴
درد ناف دور کرنے کیلئے دعا ۱۵۳۵
ہر درد دور کرنے کا تعویذ ۱۵۳۵
درد مقعد دور کرنے کا عمل ۱۵۳۵
درد شکم قولنج اور دوسرے دردوں کیلئے دعا ۱۵۳۶
رنج وغم میں گھیرے ہوے شخص کا دستور العمل ۱۵۳۶
دعائے خلاصی قید وزندان ۱۵۳۶
(۱۳) دعائے فرج: ۱۵۳۶
نماز وتر کی دعا ۱۵۳۷
دعائے حزین ۱۵۳۸
زیادتی علم وفہم کی دعا ۱۵۴۰
قرب الہی کی دعا۔ ۱۵۴۰
دعاء اسرار قدسیہ ۱۵۴۱
(۱۹) شب زفاف کی نماز اور دعا: ۱۵۴۲
(۲۰) دعائے رہبہ (خوف خدا) ۱۵۴۳
ملحقات دوم باقیات الصالحات ۱۵۴۵