شیعوں پر " غلو " کا الزام
مؤلف: شیخ عبد الکریم بہبہانیعقائد لائبریری
نوٹ:
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=458&view=download&format=pdf
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=458&view=download&format=doc
نیز اپنے مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہر قسم کےسوالات کو ادارہ کےایمیل ( ihcf.preach@gmail.com )
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
مشخصات کتاب
نام کتاب: غلو
موضوع : علم کلام
مولف : شیخ عبد الکریم بہبہانی
مترجم: شیخ محمد علی توحیدی
نظرثانی:شیخ سجاد حسین
کمپوزنگ:شیخ غلام حسن جعفری
اشاعت: اول،۲۰۱۷ء
جملہ حقوق محفوظ ہیں
اہل بیت رسول علیہم السلام ،قرآن کریم کے آئینے میں:
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا(سورۃ احزاب/۳۲ )
ترجمہ :اے اہل بیت!اللہ کا ارادہ تو بس یہی ہے کہ آپ سے ہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھےاور آپ کو ایسے پاک و پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔
اہل بیت رسول علیہم السلام،سنت نبوی کے آئینے میں:
تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں ۔وہ اللہ کی کتاب اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت ہیں۔ جب تک تم ان دونوں سے تمسک رکھوگے تب تک تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ۔(صحاح و مسانید)
ص۷
عرضِ مجلس
اہل بیت علیہم السلام کا علمی و فکری ورثہ جسے مکتب اہل بیت نے اپنے دامن میں سمیٹا ہے اور اہل بیت کے پیروکاروں نے اسے ضائع ہونے سے بچایا ہے ایک ایسے مکتب فکر کی تصویر پیش کرتا ہے جو معارف ِاسلامیہ کی مختلف جہات کو محیط ہے ۔اس مکتب فکر نے اسلامی معارف کے اس صاف سرچشمے سے سیراب ہونے کے لائق نفوس کی ایک کھیپ کو پروان چڑھایا ہے ۔اس مکتب فکر نے امت مسلمہ کو ایسے عظیم علماء سے نوازا ہے جو اہل بیت علیہم السلام کے نظریاتی نقش قدم پر چلے ہیں ۔اسلامی معاشرے کے اندر اور باہر سے تعلق رکھنے والے مختلف فکری مناہج اور مذاہب کی جانب سے اُٹھنے والے سوالات ،شبہات اور تحفظات پر ان علماء کی مکمل نظر رہی ہے ۔
یہ علماء اور دانشور مسلسل کئی صدیوں تک ان سوالات اور شبہات کے معقول ترین اور محکم ترین جوابات پیش کرتے رہے ہیں ۔ عالمی مجلس اہل بیت نے اپنی سنگین ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ان اسلامی تعلیمات و حقائق کی حفاظت کی خاطر قدم بڑھایا ہے جن پر مخالف فِرق و مذاہب اور اسلام دشمن مکاتب و مسالک کے اربابِ بست و کشاد نے معاندانہ توجہ مرکوز رکھی ہے ۔ عالمی مجلس اہل بیت نے اس سلسلے میں اہل بیت علیہم السلام اور مکتب اہلبیت کے ان پیروکاروں کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کی ہے جنہوں نے ہر دور کے مسلسل چیلنجوں سے معقول ،مناسب اور مطلوبہ انداز میں نمٹنے کی کوشش کی ہے ۔
اس سلسلے میں مکتب اہل بیت کے علماء کی کتابوں کے اندر محفوظ علمی تحقیقات بے نظیر اور اپنی مثال آپ ہیں کیونکہ یہ تحقیقات بلند علمی سطح کی حامل ہیں ،عقل و برہان کی بنیادوں پر استوار ہیں اور مذموم تعصبات و خواہشات سے پاک ہیں نیز یہ بلند پایہ علماء و مفکرین کو اس انداز میں اپنا مخاطب قرار دیتی ہیں جو عقل سلیم اور فطرت سلیمہ کے ہاں مقبول اور پسندیدہ ہے ۔
عالمی مجلس اہل بیت کی کوشش رہی ہے کہ حقیقت کے متلاشیوں کے سامنے ان پربار حقائق اور معلومات کے حوالے سے گفتگو ،ڈائیلاگ اور شبہات و اعتراضات کے بارے میں بے لاگ سوال و جواب کا ایک جدید اسلوب پیش کیا جائے ۔ اس قسم کے شبہات و عتراضات گذشتہ ادوار میں بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں اور آج بھی انہیں ہوا دی جارہی ہے ۔
اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھنے والے بعض حلقے اس سلسلے میں انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے بطور خاص جدو جہد کررہے ہیں ۔اس بارے میں مجلس اہل بیت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو مذموم طریقے سے بھڑکانے سے اجتناب برتا جائے جبکہ عقل و فکر اور طالبِ حق نفوس کو بیدار کیا جائے تاکہ وہ ان حقائق سے آگاہ ہوں جنہیں اہل بیت علیہم السلام کا نظریاتی مکتب پورے عالم کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ بھی اس عصر میں جب انسانی عقول کے تکامل اور نفوس و ارواح کے ارتباط کا سفر منفرد انداز میں تیزی کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔
یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ زیر نظر تحقیقی مباحث ممتاز علماء اور دانشوروں کی ایک خاص کمیٹی کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں ۔ہم ان تمام حضرات اور ان ارباب ِعلم و تحقیق کے شاکر اور قدر دان ہیں جن میں سے ہر ایک نے ان علمی مباحث کے مختلف حصوں کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں اپنے قیمتی ملاحظات سے نوازا ہے ۔
ہمیں امید ہے کہ ہم نے اپنی ان ذمہ داریوں میں سے بعض کو ادا کرنے میں ممکنہ کوشش سے کام لیا ہے جو ہمارے اس عظیم رب کے پیغام کو پہنچانے کے حوالے سے ہمارے اوپر عائد ہوتی ہیں جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور برحق دین کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے اور گواہی کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ۔
عالمی مجلس اہل بیت شعبہ ثقافت
ص۱۱
مکتب اہل بیت پر غلو کا الزام
غلو کا مفہوم
غلو اُن مفاہیم میں سے ایک ہے جن کے حدود بذات خود معین اور مشخص نہیں ہیں جس طرح درستی ،وسطیت اور اعتدال جیسے الفاظ کے مفاہیم کے حدود معین نہیں ہیں ۔
یہ مفا ہیم زیادہ سے زیادہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ان مفاہیم سے متصف ہوتی ہیں جبکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے معانی ان کے برعکس ہیں اور ان کی اضداد سے متصف ہوتی ہیں ۔
پس جب ہم ان اوصاف کو خارجی حقائق پر منطبق کرنا چاہیں تو ہمیں ایک ایسے معیار کی ضرورت پڑتی ہے جس کی بنیاد پر ہم کسی خاص حالت کو غلو سے متصف کریں اور اس کے برعکس کسی دوسری حالت کو اعتدال سے متصف کریں اور ایک تیسری حالت کو تفریط سے متصف کریں ۔مکتب ِ تشیع پر غلو کی جوتہمت لگائی جاتی ہے اس کے بارے میں ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ کوئی شخص ایسا نہیں جو اس بات کا انکا ر کرے کہ غلو کا کوئی مفہوم یقینا موجود ہے لیکن ہم تشیع اور مکتب اہل بیت کو غلو سے متصف کرنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ معیار یا بنیاد کیا ہے جس کی بنیاد پر وہ مکتب اہل بیت کو اس ظالمانہ صفت سے متصف کرتے ہیں ؟
ان کے پاس اس سوال کا جواب دینے کے چار ممکنہ فرضیے ہیں اور کوئی پانچواں فرضیہ موجود نہیں ۔
ص۱۲
پہلا فرضیہ : عرف
وہ یوں کہ کوئی کہے : بارہ اماموں علیہم السلام کی خصوصیات کے بارے میں مکتب اہل بیت کا عقیدہ ’’عرف‘‘ کے برخلاف ہے ۔ اس معیار کے مطابق غلو یہ ہے کہ’’ عرف ‘‘کے حدود کو پار کیا جائے ۔
دوسرا فرضیہ :صحابہ کے مقام و مرتبے کے ساتھ موازنہ
وہ یوں کہ کوئی کہے : مکتب اہل بیت میں بارہ اماموں کی جو خصوصیات بیان ہوئی ہیں ان پر ایمان صحابہ کے مقام ومرتبے پر ائمہ علیہم السلام کے مقام و مرتبے کی برتری پر منتج ہوتا ہے جو غلو ہے ۔
اس معیار کے مطابق غلو یہ ہے کہ کہ کسی کے مقام کو صحابہ کے مقام پر ترجیح دی جائے ۔
تیسرا فرضیہ :مکتب خلفا کا فہم
وہ یوں کہ کوئی کہے : مکتب اہل بیت بارہ ائمہ کی جن خصوصیات کا قائل ہے وہ مکتب خلفاء کے اس فہم کے برخلاف ہے جو وہ قرآن و سنت سے اخذ کرتے ہیں ۔
اس معیار کی روشنی میں مکتب خلفاء کے فہم و استنباط کی مخالفت غلو ہے ۔
چوتھا فرضیہ : کتاب و سنت
وہ یوں کہ کوئی کہے : مکتب اہل بیت بارہ اماموں کی جن خصوصیات کا قائل ہے ان کے اثبات کی کوئی دلیل قرآن و سنت کے اندر موجود نہیں ہے۔اس فرضیے کی روشنی میں غلو وہ ہے جو قرآن و سنت سے متصادم ہو ۔
یہ ہیں وہ ممکنہ معیارات اور بنیادیں جن کے سہارے مکتب اہل بیت پر ائمہ اطہار علیہم السلام کی تفضیل کے معاملے میں غلو کا الزام لگایا جا سکتا ہے ۔
واضح ہے کہ غلو کا الزام تب درست ثابت ہوگا جب اس کی وہ بنیاد یا وہ معیار برحق ہو جس کی بنیاد پر غلو کا حکم صادر کیا جاتا ہے ۔
ص۱۳
رہا پہلا فرضیہ
( یا پہلا معیار ) تو واضح ہو کہ کو ئی دیندار اور با ایمان آدمی اس کا سہارانہیں لے سکتا۔ اس معیار کی طرف صرف وہی رجوع کرسکتاہےجولادینی ثقافت کا طرفدار ہو اور دین کو تاریخ انسانی کا افسانوی اور تخیلاتی مرحلہ قرار دیتا ہو ۔اس قسم کے لوگ کسی انسان کے حق میں عصمت ، نصّ الہی اور الہام جیسی خصوصیات کو (جن کے بارے میں مکتب اہل بیت کا عقیدہ ہے کہ ائمہ طاہرین علیہم السلام ان خصوصیات سےمتصف ہیں ) قبول نہیں کرسکتے۔
یہ لوگ اس قسم کے اعتقاد کو غلو قرار دیتے ہیں جوان کی لا دینی اور افسانوی و تخیلاتی طرز َفکر کا نتیجہ ہے ۔اسی لیے مستشرقین نے اپنی تالیفات میں اس شبہہ انگیز طرز فکرکی تر یج کے لیے بہت اہم کردارادا کیا ہے۔ نہا یت افسوس کا مقام ہے کہ عالم اسلام کے بہت سےلکھاریوں نے اسلامی تاریخ کے بارے میں اپنی تحریروں کے مآخذ ومنابع کے طورپر ان مستشرقین کی تالیفات سے استفادہ کیا ہے۔ وہ انہی تالیفات کی روشنی میں ان مذہبی افکار پر حملہ کرتے ہیں جو انہیں پسند نہیں ہوتا۔
یہ بات واضح ہے کہ دین کا قیاس’’عرف ‘‘اورلوگوں کے درمیان رائج عادات ورسوم پر نہیں کیا جا سکتا (اور عرف کی کسوٹی پر دین کو نہیں پر کھا جاسکتا)۔ اگر اس معیارپرامامت کو پر کھا جائےتو پھر نبوت،انبیاء اورآسمانی کتابوں کی حقانیت کوبھی اسی معیارپر پرکھنا ہوگا۔ اس معیار کے طرفداروں کے ساتھ برتاؤ کا منطقی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے دین کی عظیم ترین حقیقت یعنی توحید پر گفتگو کی جائے اور جب مغرب کا یہ دعوی باطل ثابت ہوجائے کہ دین کسی ماورائے طبیعی یا آسمانی حقیقت کا آئینہ دار نہیں بلکہ اس تاریخی مرحلےکے انسان کی ترجمانی کرتا ہے جو افسانوی و تخیلاتی چیزوں کا پیاسا تھا اور دین اس خواہش کی تسکین کے لیے وجود میں آیا تھا
نیز جب کائناتی ،ماورائےطبیعی اور علوی حقیقت کے طور پر توحید ،دین اور وحی کا اثبات مکمل ہوجائے تو یہ واضح ہو گا کہ دین ہی عرف اور حالات کو تبدیل کرنے کا معیار ہے اور یہ درست نہیں کہ عرف یا حالات کو دینی حقائق کی شناخت کا معیار قرار دیا جائے ۔
ص۱۴
پس پہلی بنیاد (معیار) کا دار ومدار دین کے بارے میں تحقیقی گفتگو کے نتیجے پر ہے ۔اگر شروع میں دین کے بارے میں بحث و تحقیق نہ ہوتو پہلے معیار کی تطبیق اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا کسی منطقی دلیل پر مبنی نہیں ہوگا ۔
رہا دوسرا فرضیہ یا ممکنہ معیار تو وہ دعوے کو دلیل قرار دینے کی واضح ترین مثال ہے ۔پس جو یہ کہتا ہے کہ غلو مقام و مرتبے کے لحاظ سے اصحاب رسول پر دوسروں کو ترجیح دینے سے عبارت ہے وہ در حقیقت دو دعوؤں پر مشتمل قول سے تمسک کرتا ہے جبکہ اس معیار کی بنیاد پر غلو کا الزام لگانے سے پہلے ان دونوں دعوؤں کا اثبات ضروری ہے تاکہ غلو کے معیار کے طور پر اس بنیاد کا سہارا لینا درست ہو ۔
یہ دونوں دعوے درج ذیل ہیں :
۱۔ یہ کہ صحابہ کو وہ بلند مقام حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں ہوسکتا ۔
۲۔ غلو یہ ہے کہ صحابہ کے مقام جیسا یا اس سے بہتر مقام دوسروں سے منسوب کیا جائے ۔
جب تک یہ دونوں دعوے ثابت نہ ہوں تب تک غلو کے خارجی مصادیق کی نشاندہی اور حدبندی کے لئے دوسری بنیاد (یا دوسرے معیار ) کا سہارا لینا درست اور منطقی طریقہ نہیں کہلا سکتا۔ پھر مذکورہ دونوں دعوؤں کا اثبات تب قابل قبول ہوگا جب وہ قرآن و سنت شریفہ کی روشنی میں انجام پائے ۔
اگر کوئی یہ دلیل دے کہ مکتب خلفاء (جو چار مذاہب کی شکل میں جلوہ گر ہے ) کے فہم کے مطابق مذکورہ دونوں دعوے قرآن و سنت کی رو سے ثابت ہیں کیونکہ قرآن فرماتا ہے :
’’وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ ‘‘( توبہ،۱۰۰ )
اور مہاجرین و انصار میں سے جن لوگوں نے سب سے پہلے سبقت کی اور جو نیک چال چلن میں ان کے پیروکار ہوئے ان سے اللہ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے( جنت کے) باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔
ص۱۵
علاوہ ازیں اصحاب کی تعریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے :
خیر القرون - خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
(سب سے اچھی صدی میری صدی اور اس کے بعد والی صدی ہے ۔)
پس یہ وہی تیسرا فرضیہ (یا معیار )ہے ۔
(تیسرا فرضیہ یا معیار یہ تھا کہ قرآن و حدیث کے بارے میں مکتب خلفاء کا فہم ہی غلو کی تشخیص کا معیار ہے ۔مترجم)
اس معیار کے بارے میں منطقی موقف یہ ہے کہ ہم مکتب خلفاء کے ان دلائل کا جائزہ لیں جن کے سہارے وہ دوسروں کو غلو سے متصف کرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر اس مسئلے میں استدلال و برہان کی اصل بنیاد خود کتاب و سنت ہیں۔پس غلو کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ان دونوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔
چوتھا فرضیہ :
مذکورہ بالا مباحث کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ چوتھا فرضیہ ( یعنی چوتھا معیار ) ہی درست اور منطقی معیار ہے جس کی رو سے غلو وہ ہے جو خود قرآن و سنت کے برخلاف ہو ۔صرف اسی معیار کے مطابق ہم کسی خاص مکتب ِ فکر کو غلو یا اعتدال سے متصف کرسکتے ہیں ۔ مکتب اہل بیت پر ائمہ طاہرین علیہم السلام کے بارے میں غلو کا جو الزام لگایا جاتا ہے اسے بھی ہم اسی کسوٹی پر پرکھ سکتے ہیں۔ یہی وہ مفہوم ہے جو لغوی اور شرعی اصطلاح کے عین مطابق ہے ۔
ص۱۶
کیونکہ لغوی اصطلاح میں غلو سے مراد ہے : کسی معاملے میں حد سے بڑھنا اور افراط کا ثبوت دینا ۔( لسان العرب ،۱۵/۱۳۲ )
قرآن کریم میں یہ لفظ دوبار آیا ہے ۔
الف ۔ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَاتَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ انتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ (نساء: ۱۷۱)
ترجمہ : اے اہل کتاب! اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اللہ کے بارے میں سوائے حق کے کچھ نہ کہو ۔ مریم کا بیٹا عیسی مسیح تو بس اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اللہ نے مریم تک پہنچادیا۔وہ اس کی طرف سے ایک روح ہیں ۔لہذا اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤاور تین خداؤں کا عقیدہ نہ رکھو۔ اس سے باز آجاؤ کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے ۔
ب ۔ ’’ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا ‘‘مائد ہ :۷۷
کہہ دیجئے : اے اہل کتاب !اپنے دین میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو پہلے ہی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
محمد رشید رضا نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے : غلو کسی معاملے میں افراط اور حد سے تجاوز کرنے سے عبارت ہے ۔ دین میں غلو سے مراد ہے:خواہشات ِنفسانی کے باعث خدا کی طرف سے نازل شدہ وحی کی حدود سے تجاوز کرنا مثلا انبیاء اور صالح لوگوں کو رب سمجھنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ نفع اور نقصان ان کے ہاتھ میں ہیں اور اسی خاطر انہیں معبود قرار دے کر ان کی عبادت کرنا اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان سے مانگنا خواہ (یہ غالی انہیں) رب یا خدا کے نام سے پکاریں جس طرح نصاری کی روش رہی ہے یا نہ پکاریں نیز اس قسم کی عبادت کی داغ بیل ڈالنا جس کی اللہ نے اجازت دی ہو ۔( تفسیر المنار ۶: ۴۸۸۔۴۸۹ ،مطبوعہ دار المعرفۃ )
ص۱۷
بنابریں غلو شرع اور وحی کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنے اور ان میں افراط سے کام لینے کا نام ہے ۔جب یہ بات واضح ہوچکی تو اب آئیے دیکھتے ہیں کہ دومکاتب فکر ( مکتب اہل بیت اور مکتب خلفا) میں سے کس کے اوپر غلو کا مفہوم منطبق ہوتا ہے ؟
کیا مکتب اہل بیت غلو کا شکار ہے؟ وہ بارہ ائمہ علیہم السلام کی جن کی خصوصیات کا معتقد ہے کیا وہ غلو ہے ؟ یا مکتب خلفا غلو کا شکار ہے اور وہ صحابہ کی جن کی خصوصیات کا قائل ہے وہ غلو ہے ؟
دونوں مکاتب فکر کے درمیان غلو کی حقیقت
جب مذکورہ بالا عرائض کی روشنی میں غلو کا مفہوم واضح ہوچکا اور یہ معلوم ہوگیا کہ غلو شرع اور وحی کی مقرر کردہ حد کو پار کرنے سے عبارت ہے تو اب ہم عرض کریں گے کہ یہ حد عقیدے اور شریعت دونوں کو شامل ہے (اگرچہ غلو ا مفہوم وسیعتر ہے ) البتہ جو غلو موضوع بحث ہے ،جس کا الزام لگایا جاتا ہے اور جسے اہمیت دی جاتی وہ اعتقادی غلو ہے ۔
رہا شریعت میں غلو یعنی شرعی واجبات و محرمات میں حد سے گزرنا اور ان کی تطبیق میں مرسوم و معقول حد سے زیادہ شدت پسندی کا ثبوت دینا تو اس کے بارے میں بہت کم بحث ہوتی ہے ۔
اسلامی تاریخ نے آراء و افکار کے جن معرکوں کا مشاہدہ کیا ہے وہ تشریعی غلونہیں بلکہ اعتقادی غلو ہے ۔ہمارے موضوع ِبحث کا تعلق بھی اسی اعتقادی اور فکری معرکے سے ہے کیونکہ تشیع اور مکتب اہل بیت کے پیروکاروں پر ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں اعتقادی غلو کا الزام لگایا جاتا ہے ۔
ص۱۸
اس مسئلے کا عمیق ،ہمہ پہلو اور اطمینان بخش جائزہ لینے سے پہلے اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ اسلامی عقیدے سے مراد تین معروف دینی اصول یعنی توحید ،نبوت اور معاد ہیں ۔یہاں عقیدۂ معاد ہمارے موضوع بحث سے قطعاً خارج ہے کیونکہ اس میں غلو کی گنجائش نہیں ۔بنابریں عقائد میں سے صرف توحید اور نبوت کی بحث باقی رہتی ہے ۔
یہاں ہم پہلا سوال یہ کریں گے : کیا اس اعتراض (غلو کے الزام) کا یہ مطلب ہے کہ مکتب اہل بیت ائمہ طاہرین علیہم السلام کو خدا کا مقام دیتا ہے اور انہیں ربوبیت و الوہیت کی صفات سے متصف کرتا ہے ؟ یا اس الزام کا مقصود یہ ہے کہ مکتب اہل بیت ائمہ طاہرین علیہم السلام کے مرتبے کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و مرتبے کے برابر سمجھتا ہے یا یہ کہ ان کے ہاں ائمہ طاہرین علیہم السلام کا مقام رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام سے کمتر لیکن باقی امت سے برتر ہے ؟
واضح ہے کہ غلو تب ثابت ہوگا جب پہلا فرضیہ ثابت ہو کیونکہ توحید اور الوہیت کی خصوصیات سے کسی بشر کو متصف نہیں کیا جاسکتا ۔دوسرا فرضیہ بھی غلو کا باعث ہے کیونکہ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مخلوقات اور اولین و آخرین سے افضل ہیں ۔رہا تیسرا فرضیہ تو اس کے ثبوت سے غلو ثابت نہیں ہوتا ۔
پس اگر کوئی اسلامی مکتب فکر قرآن و سنت پر مشتمل دلائل کی روشنی میں اس بات کا معتقد ہو جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و مرتبے سے کمتر لیکن باقی امت کے مقام و مرتبے سے بالاتر کوئی درمیانی منزلت بھی ہے جو اللہ کی طرف سے بعض خاص افراد کو عطاہوئی ہے تو اس قسم کا اعتقاد غلو شمار نہیں ہوتا کیونکہ یہ نبوت اور توحید کے مقام کی برابری یا ان سے تجاوز پر مشتمل نہیں ہے ۔
اگر اس قسم کا ایمان غلو محسوب ہو تو پھر ہمیں تمام مسلمانوں کو غالی ماننا پڑے گا کیونکہ وہ سب اس درمیانی منزلت کے معتقد ہیں البتہ اس اختلاف کے ساتھ کہ یہ منزلت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو حاصل ہے یا آپ کی آل کو ؟
اس گفتگو کے بعد اب ہم مذکورہ تین احتمالی صورتوں (فرضیوں )کا ذرا تفصیل اور جامع انداز میں میں تحقیقی جائزہ لیں گے ۔
ص۱۹
پہلا اور دوسرا فرضیہ
اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ اسلامی تاریخ کی پہلی تین صدیوں کے دوران غلو پر مبنی کئی ایک فکری و اعتقادی تحریکیں ظہور پذیر ہوئیں جو درج ذیل بنیادوں پر استوار تھیں :
الف :بعض شخصیات کو الوہیت کی صفت سے متصف کرنا۔ بطور مثال بعض لوگ امام علی علیہ السلام کی الوہیت کے معتقد ہوئے ،بعض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی الوہیت کے اور بعض حضرت آدم علیہ السلام اور آپ کے بعد والے انبیاء علیہم السلام کی الوہیت کے معتقد ہوئے۔ کچھ لوگوں نے ائمہ اہل بیت کو خدا مان لیا جبکہ ایک جماعت محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق کو معبود مان بیٹھی۔
اسی طرح ایک گروہ نے کوفہ میں بنی اسد کے آزاد کردہ غلام ابو الخطاب محمد بن ابی زینب کو خدا مان لیا ۔ ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں کو بھی الوہیت کا درجہ دیا گیا جن کا ذکر ملل و نحل سے مختص مآخذ میں موجود ہے ۔( الفصل فی الملل و الاہواء و النحل ،ج۴ ص ۱۸۶۔۱۸۸ )
ب : بعض اشخاص کو نبوت کی صفت سے متصف کرنا ۔چنانچہ غرابی فرقے نے امام علی علیہ السلام کو نبی قرار دیا اور کہا کہ وحی علی کی بجائے غلطی سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی ۔ادھر ایک فرقے نے مغیرہ بن سعید کو نبی مان لیا جو کوفہ میں بجیلہ کا آزاد کردہ غلام تھا۔علاوہ ازیں ایک طبقہ بیان بن سمعان تمیمی کی نبوت کا معتقد ہوگیا ۔ ( الفصل فی الملل و الاہواء و النحل ،ج۴ ص ۱۸۳۔۱۸۶ )
ج : شرعی احکام کو ساقط کرنے کا عقیدہ : جیساکہ بعض اہل تصوف نے یہ طریقہ اپنایا ۔ ( الفصل فی الملل و الاہواء و النحل ،ج۴ ص۱۸۸ )
ص۲۰
یہ سب غلو کے واضح مصادیق ہیں ۔ائمہ اطہار علیہم السلام نے ان کے خلاف کسی رو رعایت کے بغیر بھر پور مقابلہ کیا اور ان کے علمبرداروں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے ان پر لعنت بھجی ۔ائمہ علیہم السلام نے دوسروں کو بھی ان سے بیزاری اختیار کرنے کی دعوت دی ۔ اس بارے میں ائمہ اہل بیت سے مروی احادیث سے امامیہ مآخذ و منابع لبریز نظر آتے ہیں ۔ ائمہ علیہم السلام نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے پیروکاروں کو ایسے قواعد و اصول عطا کیے جن کی کسوٹی پر وہ صحیح احادیث اور غلط احادیث کو پرکھ سکیں ۔
غالیوں نے جھوٹی اور غلط احادیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ علیہم السلام کے ساتھ منسوب کرکے حدیث کی کتابوں میں شامل کیا تھا ۔ہشام بن حکم نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ہماری طرف منسوب کسی حدیث کو قبول نہ کرو سوائے اس کے جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو یا تمہیں ہماری سابقہ احادیث میں ان کی تائید کرنے والی کوئی حدیث مل جائے کیونکہ مغیرہ بن سعید (اس پر خدا کی لعنت ہو ) نے میرے والد کے اصحاب کی کتابوں میں ایسی (جعلی ) احادیث داخل کی ہیں جنہیں میرے والد نے بیان نہیں کیاتھا ۔پس تم اللہ سے ڈرو اور ہم سے منسوب کوئی ایسی چیز قبول نہ کرو جو ہمارے رب کے قول اور ہمارے نبی کی سنت کے برخلاف ہو ۔( رجال کشی ،ج۳، ص ۴۸۹،ح۴۰۱ )
امامیہ فقہ کے مآخذ اپنی تدوین کے آغاز سے لے کر آج تک اس بات پر متفق القول ہیں کہ غلو اور تفویض کے طرفدار کافر اور نجس ہیں ۔
شیخ مفید نے تصحیح الاعتقاد ( تصحیح الاعتقاد ،ص ۲۳۸) میں ،شہید اول اور شہید ثانی نے لمعہ دمشقیہ اور شرح لمعہ میں ( شرح اللمعۃ الدمشقیہ،ج۳،ص ۱۸۰ )اورسید یزدی نے العروۃ الوثقیٰ میں ( العروۃ الوثقیٰ ،ج۱،ص ۶۸ )اس بات کی تصریح فرمائی ہے
ص۲۱
آیت اللہ سید حکیم نے مستمسک العروۃ الوثقیٰ میں نقل کیا ہے کہ اس بات پر اجماع قائم ہے ۔
پھر فرمایا ہے : انبیاء اور ائمہ کی صفات میں غلو اور حد سے گزرنے کا بھی یہی حکم ہے۔ بطور مثال یہ اعتقاد کہ وہ خالق یا رازق ہیں یا غافل نہیں ہوتے یا کسی کام کے باعث کسی دوسرے کام سے ان کی توجہ نہیں ہٹتی اور اس قسم کی دیگر صفات ۔( مستمسک العروۃ الوثقیٰ ،ج۱،ص ۳۸۶ )
اگر کوئی محقق امامیہ مآخذ کی فہرستوں مثلا شیخ آغا بزرگ تہرانی کی کتاب الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ کا جائزہ لے تو وہ ان میں پہلی تین صدیوں کے دوران ائمہ علیہم السلام کے اصحاب کی دسیوں تصنیفات و تالیفات کا مشاہدہ کرےگا جن میں غالیوں کی مذمت کی گئی ہے ،ان سے اظہار برائت کیا گیا ہے اور ان کے بارے میں شرعی حکم بیان ہوا ہے ۔
غلو اور غالیوں کے خلاف ائمہ طاہرین علیہم السلام ،ان کے اصحاب اور ان کے مکتبہ فکر کے قدیم و جدید علماء کے صریح اور فیصلہ کن موقف کے باوجود بعض جھوٹے اور نا اہل لکھاریوں نے تشیع کے ساتھ غلو اور غالیوں کا رشتہ جوڑنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں وہ امامیہ کتب ِ احادیث میں مذکور بعض ایسی روایات کا سہارا لیتے ہیں جن سے غلو کی بو آتی ہے ۔وہ اسے غلو کی قطعی دلیل قرار دیتے ہیں ۔یہ وہ روایا ت ہیں جن کے بارے میں دو احتمال پائے جاتے ہیں ۔
ص۲۲
ایک احتمال یہ ہے کہ یہ روایات ائمہ علیہم السلام کی عصمت اور اللہ کے ہاں ان کی عظیم منزلت کو بیان کرتی ہیں ۔اس مقام ومنزلت کا مرحلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و مرتبے کے بعد آتا ہے ۔ ائمہ کا یہ مقام ان خصوصیات کو شامل ہے جنہیں مکتب خلفاء تسلیم نہیں کرتا بلکہ غلو شمار کرتا ہے ۔مکتب خلفاء کا یہ رویہ دلیل سے عاری ہے جیسا کہ تیسرے فرضیے کے بارے میں ہماری تحقیقی و تنقیدی گفتگو سے واضح ہوگا۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ روایات غلو پر مبنی ہوں جو امامیہ اور غیر امامیہ مآخذ میں (دشمنوں کی طرف سے ) داخل کی گئی ہوں حالانکہ مکتب تشیع ان سے مکمل طور پر برائت کا اظہار کرتا ہے ۔
بنابریں سنی محققین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حقیقت کو مد نظر رکھیں کہ اسلام کے تمام فقہی اور کلامی (اعتقادی) مکاتب فکر کی کتب ِاحادیث میں یہ کمزوری اور اس قسم کی دیگر کمزوریاں لامحالہ موجود ہیں۔ مثلاً اسلامی فرقوں کے مآخذ میں بطور عام اسرائیلیات گھس آئی ہیں (جیسا کہ ہمارے سنی بھائیوں کی تفاسیر اور احادیث کی بڑی کتابوں میں بطور خاص اس کا مشاہدہ ہوتا ہے )۔
ہمارے سنی محققین اس حقیقت پر توجہ دیں کہ مکتب اہل بیت ہر اس حدیث کو صحیح اور معتبر قرار نہیں دیتا جو اس کے ذخیرۂ احادیث میں مذکور ہے بلکہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ ان میں صحیح اور معتبر احادیث بھی ہیں جن سے تمسک ضروری ہے نیز ضعیف اور غیر معتبر روایات بھی ہیں جو نہ علم کا موجب ہیں اور نہ عمل کا ۔
ص۲۳
یہ غیر معتبر احادیث نہ اصول دین کی دلیل بن سکتی ہیں نہ فروع دین کی ۔اس قسم کی صورتحال میں اسلامی عقائد و احکام پر ان ضعیف احادیث کے منفی اثرات کے پیش نظر مکتب اہل بیت کا اس بات پر ایمان ہے کہ اسلامی احادیث کو سخت نقد و تمحیص کے مرحلے سے گزارنا ضروری ہے تاکہ ان صحیح احادیث کو الگ کیا جاسکے جو خدا اور اس کے بندے کے درمیان دلیل کے طور پر قابل وثوق ہو ں ۔
مکتب تشیع کی نظر میں کسی حدیث کا الکافی یا التہذیب اور بحار الانوار وغیرہ میں مذکور ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ صحیح بھی ہے یہاں تک کہ مختلف مذاہب کے اکابر علماء و اقطاب کا کسی حدیث کو اپنی کتابوں میں جگہ دینا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اسےصحیح اورمعتبر گردانتے ہیں ۔
وہ ان احادیث کی جمع و تدوین اس مقصد کے تحت نہیں فرماتے تھے کہ سب احادیث صحیح ،حجت اور دلیل ہیں یا ان کے ذریعے استنباط یا برہان قائم کیا جاسکتا ہے ۔وہ ان روایات کو اس لئے جمع کرتے تھے تاکہ اسلام کے علمی ورثے کو ضائع اور محو ہونے سے بچایا جاسکے ۔بنابریں ممکن ہے کہ (احادیث کے مجموعوں میں ) اہل بیت علیہم السلام سے منسوب ایسی جعلی اور جھوٹی احادیث بھی نظر آئیں جو دشمنوں نے ان کتابوں میں داخل کی ہیں۔
اس قسم کی صورتحال میں یہ بات قرین انصاف نہیں کہ اس طرح کی بعض احادیث کو دلیل بناتے ہوئے مذہب اہل بیت پر غلو کا الزام لگایا جائے خاص کر اس حقیقت کے پیش نظر کہ مذاہب ِاربعہ کی کتب احادیث میں اسرائیلیات ،جعلی احادیث اور جھوٹی روایات کی مقدار کہیں زیادہ ہے ۔
ص۲۴
اگر ہم ان دونوں مکاتب فکر کا موازنہ کریں تو مکتب اہل بیت خفیہ ہاتھوں کے نفوذ اور تحریفات سے زیادہ محفوظ نظر آتا ہے کیونکہ اس مکتب فکر کی نظر میں کوئی کتاب یا احادیث کا کوئی ماخذ سو فیصد یا بطور مسلم صحیح نہیں ہے نیز ان میں سے کوئی کتاب یا حدیث تحقیق و تفحص،بحث و تمحیص اور تجزیہ و تنقید سے مستثنی نہیں ہے ۔مکتب اہل بیت کے ہاں صحیح حدیث وہ ہے جو نقد ونظر اور جانچ پرکھ کے مشکل مراحل سے گزرنے کے بعد درست ثابت ہو ۔
اس کے برخلاف مذاہب اربعہ پر مشتمل مکتب خلفاء نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو مسلمہ طور پر صحیح قرار دیا ہے حالانکہ ان کے اندر بہت ساری ضعیف روایات موجود ہیں جن کی ایک بڑی تعداد باطل اور بے بنیاد باتوں مثلا ً اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تجسیم و تشبیہ پر دلالت کرتی ہیں ۔
علاوہ ازیں ان دونوں کتابوں کے راویوں کی ایک کثیر تعداد ضعف،جعلسازی اور کذب میں معروف ہے ۔( دیکھئے : المظفر کی رجال السنۃ )
اگر بعض احادیث سند اور راوی کی وثاقت کے زاویے سے حجیت کی شرائط پر پوری اترتی ہوں لیکن ان کا مضمون کسی زاویے (مثلاً غلو وغیرہ کے لحاظ )سے قرآن کریم کی قطعی مخالفت کا حامل ہو اور اس کی کوئی درست اور معقول توجیہ ممکن نہ ہو تو ہمارے مذہب (مکتب اہل بیت ) کے مسلمہ اور قطعی قواعد کی رو سے اس قسم کی حدیث پر عمل درست نہیں ہے کیونکہ ہمارے ائمہ علیہم السلام نے فرمایا ہے :
مَالَمْ یُوَافِقْ کِتَابَ اللہِ فَھُوَ زُخْرُفٌ( اصول کافی ،ج۱،ص ۶۹،حدیث ۳ )
یعنی جو حدیث اللہ کی کتاب کی موافق نہ ہو وہ من گھڑت ہے ۔
ص۲۵
تیسرا فرضیہ
گزشتہ معروضات سے واضح ہوا کہ مکتب اہل بیت اور تشیع اس غلو سے جس سے مراد ائمہ علیہم السلام کو الوہیت یا نبوت کا مقام دینا یا انہیں شرعی احکام سے ماوراء قرار دینا ہو مکمل اور قطعی طور پر پاک اور منزہ ہے ۔
یہاں غلو کے ایک اور احتمالی معنی پر بحث و گفتگو کریں گے اور وہ یہ کہ کیا ائمہ علیہم السلام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ ان کا مقام و مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام و مرتبے سے کمتر لیکن باقی ساری امت کے مقام و مرتبے سے برتر ہے غلو محسوب ہوتا ہے ؟
غلو کے مفہوم پر غور کرنے سے اس سوال کا جواب خود بخود واضح ہوجاتا ہے ۔
چونکہ غلو شرعی حد سے آگے بڑھنے سے عبارت ہے اس لئے شرعی حد کی تعریف ضروری ہے تاکہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ اس حد سے بڑھنے کا مصداق کیا ہےجسے ہم غلو کہہ سکیں ۔اگر نبوت کی حد اور رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات واضح نہ ہوں تو ہم اس حد سے بڑھے ہوئے غلو کی تشخیص نہیں کر سکیں گے ۔ بنابریں شرعی حد کی سب سے نچلی سطح اور خصوصیات کی پہچان ضروری ہے تاکہ ہم اس حد کے اندر رہیں اور اس حد سے زائد کو غلو قرار دیں ۔
ص۲۶
واضح ہے کہ اس درجے کی حدود اور خصوصیات کو پہچاننے کا ذریعہ صرف قرآن اور سنت ہیں ۔یاد رہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منزلت سے کمتر لیکن باقی ساری امت کی منزلت سے بالاتر ایک درمیانی منزلت کی موجودگی پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور اس بارے میں ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ ان کےدرمیان دو زاویوں سے اختلاف واقع ہوا ہے :
الف : اس بارے میں کہ اس منزلت و مقام کے حامل افراد کون ہیں ؟
ب : اس مقام ومنزلت کی خصوصیات و علامات کیا ہیں ؟
بنابریں خود اس درمیانی منزلت پر ایمان رکھنا مذکورہ غلو کا مصداق نہیں ہوسکتا و گرنہ سارے مسلمان غالی بن جائیں گے ۔پس اس غلو کے ثبوت کا دار و مدار مذکورہ مقام و منزلت کے دو زاویوں پر ہوگا ۔مسلمانوں کے سواد اعظم کا ایمان ہے کہ صدر اسلام میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اصحاب کو آنحضرت کے بعد پوری امت میں پہلا مقام حاصل ہے ۔
۲۷
ان کی نظر میں سارے صحابہ عادل اور مجتہد ہیں اور انہیں باہمی مشورے کے ذریعے رسول کے جانشین کے انتخاب کا حق حاصل ہے ۔
وہ صحابہ کی اس برتری پر اس آیت سے استدلال کرتے ہیں :
’’ وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ ‘‘(توبه/۱۰۰)
اس آیت کا ذکر پہلے ہوچکا ہے ۔اس کے علاوہ وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے :
خیرالقرون قرنی والقرن الذی یلیه ۔
(بہترین صدی میری صدی اور اس کے بعد والی صدی ہے ) ۔
اس بنیاد پر اہل سنت کے سواد اعظم نے یہ عقیدہ اپنایا کہ یہ منزلت صرف صحابہ کو حاصل ہے اور کسی دوسرے کو یہ مقام دینا (اس پر اضافے کی تو بات ہی ایک طرف ) غلو ہے کیونکہ یہ دلیل سے عاری عقیدہ محسوب ہوگا۔ان کی نظر میں صحابہ کے علاوہ باقی امت کو اس مقام کا حامل سمجھنا شرعی حد سے تجاوز کا مصداق ہے کیونکہ (ان کے بقول ) باقی امت برابر ہیں اور ان میں سے بعض کی بعض پر برتری کے بارے میں کوئی نص
موجود نہیں ہے ۔
اسی بات کو دلیل بناکر انہوں نے مکتب اہل بیت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان پر غلو کی تہمت لگائی ہے ۔
ادھر مکتب اہل بیت کا ایمان ہے کہ ائمہ اہل بیت
علیہم السلام ہی اس درمیانی منزلت کے حامل ہیں کیونکہ وہی امامت کے ستون ہیں ،ہدف نبوت کا تسلسل ہیں ، ولایت کے ارکان ہیں ،معصوم ہیں ،رسول کے منصوص وصی اور جانشین ہیں ،مہدی انہی کا آخری فرد ہے اور وہ علم و عمل کے لحاظ سے اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے افضل ہیں ،اللہ الہام کے ذریعے ان کی رہنمائی فرماتا ہے اور اسی کے ذریعے انہیں دوسروں سے علم سیکھنے سے بے نیاز رکھتا ہے ۔پھر یہ سب باتیں قرآن و سنت سے ثابت ہیں ۔علم کلام کے امامیہ مآخذ ( جو اس مکتب فکر کے بزرگوں نے مرتب کیے ہیں ) کے اندر یہ سب مفصل طور پر مذکور ہیں ۔
ص۲۸
اس مسئلے کی تحقیق کرنے والے منصف مزاج محقق کو چاہیے کہ فریقین کے دلائل کا بے لاگ جائزہ لے اور دیکھے کہ ان دونوں مکاتب فکر میں سے کس مکتب فکر کا موقف قرآن و سنت کے ساتھ ہماہنگ ہے اور کون سا مکتب فکر اپنے مدعا کو ناقابل تردید دلیل وبرہان کے ساتھ ثابت کرتا ہے اور کون سا فریق کتاب و سنت کے ساتھ ہماہنگ نہیں ہے اور اس کے دلائل علمی استدلال اور برہانی نقد و نظر کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتے ۔اس صورت میں پہلا فریق حق پر ہوگا جبکہ دوسرا فریق غلو کے الزام کا حقدار ہوگا ۔
اگر کوئی محقق انصاف اور گہری تحقیق کے ساتھ اس مسئلے کی یوں چھان بین کرے تو وہ درج ذیل حقائق سے روبرو ہوگا :
۱۔ خلفا یا صحابہ کے مکتب فکر کے دلائل اس مکتب کے دعوے کو ثابت کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کی پیش کردہ آیت کریمہ :
’’ وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ ‘‘(توبه /۱۰۰)
(سب سے پہلے سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے اللہ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ۔اللہ نے ان کے لئے (جنت کے ) باغات تیار کر رکھے ہیں ) ان کے دعوے کی قوی ترین دلیل ہے۔ ان کے مدعا پر اس دلیل کی دلالت اس بات کے اثبات پر موقوف ہے کہ المہاجر ین والانصار سے پہلے مذکور ’’مِنْ‘‘ تبعیضیہ (جو بعض پر دلالت کرے ) نہ ہو بلکہ بیانیہ ہو
۔اگر مکتب خلفا اس بات کو ثابت کرے تو پھر وہ یہ دعوی کرسکیں گے کہ اس آیت کی رو سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرنے والے اور مدینہ میں آپ کی نصرت کرنے والے تمام اصحاب کو اللہ کی رضا اور جنت کے استحقاق کے باعث امتیازی مقام حاصل ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے ثابت کرنا تو درکنار کوئی اس کا دعوی بھی نہیں کرسکتا کیونکہ قرآن کی بعض دیگر آیات میں مذکور ہے کہ
ص۲۹
مہاجرین و انصار کے درمیان منافقین ،
( قرآن کریم میں ۳۸ مقامات پر ان کا ذکر ہوا ہے جبکہ ان کی اعلانیہ مذمت کرنے کے لئے ایک الگ اور کامل سورت سورہ منافقون نازل ہوئی )
دل کے مریض (جھوٹے )
( انفال /۴۹، احزاب / ۱۲، احزاب /۶۰ )
اور فاسق عناصر موجود ہیں نیز ان میں سے بعض کے عمل سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اظہار برائت کیا تھا ،
( حجرات/۶ )
بعض نے نبی کے خلاف سازش کی تھی اور آپ کو دھوکے سے قتل کرنے کی کوشش کی تھی ۔
( دلائل النبوۃ ،ج۵،ص ۲۵۶۔۲۵۹ )
اب اس قسم کی تاریخی اور قرآنی حقائق کی موجودگی میں ہم یہ دعوی کیسے کر سکتے ہیں کہ لفظ ’’مِنْ‘‘بیانیہ ہے (تبعضیہ نہیں ) اور اس کا مقصود وہ تمام لوگ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرنے والے اور آپ کی مدد کرنے والے کہلائیں ۔
بنابریں ہمارے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں رہتا کہ ہم اس ’’من‘‘ کو تبعیضیہ قرار دیں ۔
اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے : بہ تحقیق اللہ تعالی مہاجرین و انصار میں سے ان لوگوں سے راضی ہوا جنہوں نے خلوص کے ساتھ ہجرت کی اور نبی کی مدد کی اور جو اپنے عمل میں ثابت قدم رہے ۔
( مزید تفصیل کے لئے دیکھئے : تفسیر المیزان ،ج۹،ص ۳۹۱۔۳۹۶ )
یہ مفہوم اصحاب میں سے صرف بعض پر منطبق ہوتا ہے اور ان سب پر صادق نہیں آتا ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کا مقصود بعض مخصوص افراد ہوں جو نزول وحی کے وقت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود ہوں اور آیت نے عام مفہوم کے لبادے میں ان خاص افراد کی طرف اشارہ کیا ہو ۔
ص۳۰
رہی بات خیر القرون قرنی والی حدیث کی ،تو واضح ہوکہ یہ بھی مکتب خلفا کے مدعا کو ثابت نہیں کرتی ۔ ممکن ہے اس سے مراد یہ ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد دین کی پیشرفت اور لوگوں کے ایمان کا سفر روبہ تنزل ہوگا ۔اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ حدیث کا اشارہ اس بات کی طرف ہو کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کا مقام سب سے اعلی و ارفع ہے ۔
اب جب مکتب خلفا کی ان دوبنیادی دلیلوں سے ان کا مدعا ثابت نہیں ہوسکا تو تمام صحابہ کے لئے اس اعلی و ارفع مقام کے ثبوت کا دعوی دلیل سے عاری رہ جائے گا اور یہی غلو ہے ۔اس قسم کی صورتحال میں مکتب خلفا کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ صحابہ کے لئے جس مقام و منزلت کا دعوی کرتے ہیں اسے غلو کی تشخیص کا معیار اور پیمانہ قرار دیں اور یہ کہیں کہ کسی کے لئے اس سے برتر مقام کا قائل ہونا غلو ہے ۔
۲۔ مذہب اہل بیت کا بنیادی تشخص ہی یہی ہے کہ ائمہ علیہم السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منصوب فرمایا ہے نیز وہ آپ کی سنت کی تشریح کرنے والے اور آپ کے مشن کو آگے بڑھانے والے ہیں ۔یہ باتیں تمام مسلمانوں کے ہاں ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں برحق ہیں ۔ان حقائق میں حدیث غدیر ،
( مسند امام احمد ،ج۱،ص ۱۳۵ ،ح ۶۴۲ ،سنن ترمذی ،ج ۵،ص ۲،ح ۳۷۱،مستدرک علی الصحیحین ،ج ۳،ص ۱۱۱ )
حدیث منزلت
( صحیح بخاری ،ج ۵،ص ۸۹،ح ۲۰۲،صحیح مسلم،ج۴،ص ۱۸۷،ح ۲۴۰۴ (چھ اسناد کے ساتھ )،سنن ترمذی ،ج ۵،ح۰ ۳۷۳،الریاض النضرۃ ،ج۱،ص ۱۱۷،باب ۴،امیر المومنین علی کے مناقب )
ص۳۱
اور حدیث ثقلین
( صحیح مسلم ،ج۴،ص ۱۸۷۳،ح ۲۴۰۸(کئی اسناد کے ساتھ) نیز ج۵،ص ۶۶۳،ح ۳۷۸۸، ج۵،ص ۱۸۲،۱۸۹، ج۳،ص ۱۴،۱۷ ،مسند احمد ۱۹۰ ،ح ۴۸۱۶ ،مصابیح السنۃ ،ج۴،ص ۱۸۵ ،ح ۴۸۰۰،المستدرک علی الصحیحین ،ج۳،ص ۱۴۸ اور مشکل الآثار ،ج۴،ص ۱۶۸ )
شامل ہیں ۔
بنابریں ان کا مقام یقیناً رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام سے کمتر اور باقی امت کے مقام سے بالاتر ہوگا ۔ان دوسرحدوں کے درمیان کوئی ایسی چیز نہیں پائی جاتی جسے غلو کہا جائے ۔ائمہ علیہم السلام کی منزلت کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منزلت سے کمتر ہونا ہمارے مذہب کے مسلمات میں شامل ہے جبکہ ساری امت سے ان کا افضل ہونا امت پر ان کی امامت کا تقاضا ہے ۔ اگر انہیں یہ برتری حاصل نہ ہو تو ان کی امامت لایعنی ہوکر رہ جائے گی ۔
تاریخ اس بات کی بہترین گواہ ہے کہ سارے ائمہ اہل بیت علیہم السلام علم و عمل کے لحاظ سے اپنے تمام ہم عصر لوگوں سے افضل تھے ۔اس درمیانی منزلت کا تقاضا ہے کہ وہ غلو کی نفی اور مخالفت کریں اور غلو کو صراط مستقیم سے الگ سمجھیں ۔
رہی بات مکتب اہل بیت کی نظر میں ائمہ اثناعشر علیہم السلام کو حاصل خصوصیات مثلا ً عصمت ،نص ، وصیت ،الہام خداوندی اور ولایت وغیرہ کی تو انہیں عظیم شیعہ دانشوروں نے علم کلام سے مربوط اپنی قدیم و جدید کتابوں میں رقم کیا ہے ۔انہوں نے ائمہ علیہم السلام کی ان خصوصیات کو شیعہ و سنی مصادر ومآخذ میں مذکور متعدد احادیث نبوی اور آیات قرآنی کی روسے ثابت کیا ہے ۔
ص۳۲
ائمہ علیہم السلام کی عصمت کی واضح دلیل اللہ کا یہ فرمان ہے :
’’ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ‘‘(احزاب /۳۳)
( اے اہل بیت ! اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ آپ سے ناپاکی کو اس طرح دور کرے جس طرح دور کرنے کا حق ہے۔ )
واضح ہے کہ اس آیت کا مقصد اہل بیت علیہم السلام کی ایک خاص صفت کو بیان کرنا ہے (جو دوسروں کو حاصل نہیں ) ۔بنابریں ہم اس کی تفسیر قرآن کی ایک اور آیت کی طرح نہیں کرسکتے جو کہتی ہے :
’’ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ ‘‘(مائد ہ /۶)
(اللہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت کو کامل کرے ۔)
اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ تمام مومنین کی ایک عام صفت کو بیان کرے و گرنہ سابقہ آیت کا خاص اور تاکیدی مفہوم ختم ہوکر رہ جائے گا کیونکہ اہل بیت علیہم السلام بھی تمام مومنین میں شامل ہیں جن کے بارے میں دوسری آیت اتری ہے ۔پس ایک خاص خطاب کے ذریعے انہیں باقی امت سے الگ کرنے کا کیا مطلب ہے اور وہ بھی تطہیر کے بارے میں تین تاکیدی نکات کے ساتھ جو یہ ہیں :
» إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا «
لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ ، وَيُطَهِّرَكُمْ ، اور تَطْهِيرًا؟
ان دونوں آیتوں کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تطہیر کا ایک ادنی درجہ ہے جو اہل بیت کے بشمول پوری امت کو شامل ہے نیز اس کا ایک اعلی، تاکیدی اور خاص درجہ ہے جو اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ مختص ہے ۔
ص۳۳
تطہیر کا یہ خاص درجہ گناہوں سے اہل بیت علیہم السلام کی عصمت سے عبارت ہے۔گناہ پر قادر ہونے کے باوجود اس سے بچے رہنے کا نام عصمت ہے ۔
جب فخرالدین رازی اپنی تفسیر
( التفسیر الکبیر ،ج۱۰ ،ص ۱۴۴ )
میں اس بات کے معتقد ہیں کہ امت کے ارباب ِحل و عقد معصوم ہیں تو اہل بیت علیہم السلام کا معصوم ہونا بدرجہ ٔاولی ثابت ہے کیونکہ اللہ نے انہیں تطہیر کے بلند ترین درجے پر فائز کر کے خاص مقام عطاکیا ہے ۔ادھر فریقین کی صریح احادیث میں مذکور ہے کہ اہل بیت سے مراد علی ،فاطمہ ،حسن اور حسین علیہم السلام ہیں اور ان میں امہات المومنین شامل نہیں ۔
( دیکھئے : صحیح مسلم ، ح ۲۴۰۴،۲۴۰۸،۲۴۲۴(زید بن ارقم کی روایت اور حضرت عائشہ کی روایت) نیزسنن ترمذی :ح۳۲۰۵(ام سلمہ کی روایت) نیز واحدی کی اسباب النزول ،ص ۲۰۰ )
رہی بات اہل بیت کی امامت کے بارے میں نص اور وصیت کی تو اس کے دلائل واضح ہیں ۔ان میں سے حدیث غدیر ،حدیث ثقلین ،حدیث منزلت اور یہ حدیث کہ امام بارہ ہیں اور وہ سب قریشی ہیں وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔موخر الذکر حدیث نہ خلفائے راشدین پر منطبق ہوتی ہے ،نہ اموی خلفا پر اور نہ عباسی خلفا پر کیونکہ ۱۲ کا عدد خلفا کے ان تین مجموعوں میں سے کسی پر صادق نہیں آتا ۔یہی حال باقی خصائص کا ہے ۔
اس قسم کے موضوعات کے بارے میں تفصیلی مطالعے کے شائقین بزرگ شیعہ دانشوروں کی قدیم و جدید تالیفات کی طرف مراجعہ فرمائیں ۔ان کتابوں میں سرفہرست علامہ سید عبد الحسین شرف الدین عاملی کی کتاب المراجعات ہے ۔
ص۳۴
۳۔خلفا اور صحابہ کے مکتب فکر کی کتابوں میں تاریخ و حدیث سے مربوط بہت سی روایات ملتی ہیں جن میں صحابہ ،اولیا اور عام لوگوں سے رونما ہونے والے معجزات و کرامات کا ذکر ہوا ہے مثلاً زید بن خارجہ کا مرنے کے بعد بات کرنا ،
( الاستیعاب ،ج۱،ص ۱۹۲،تاریخ ابن کثیر ،ج۶،ص ۱۵۶ )
ایک انصاری کا قتل ہونے کے بعد گفتگو کرنا
( تاریخ ابن کثیر ،ج۶،ص ۱۵۸ )
اور اس طرح کے دیگر بہت سارے واقعات ۔
( علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر، ج۱۱،ص ۱۰۳۔تا۔۱۱۵ میں غلو کے عنوان سے ان میں سے بعض روایات کو جمع کیا ہے )
جب اس قسم کے معجزات و کرامات ممکن ہیں اور عملی طور پر عام لوگوں سے بھی صادر ہوچکے ہیں نیز انہیں ماننا غلو محسوب نہیں ہوتا تو پھر ائمہ اثناعشر علیہم السلام کی خصوصیات کے بارے میں مکتب اہل بیت کا اعتقاد کس لئے غلو محسوب ہوگا ؟
علاوہ ازیں مکتب اہل بیت کو اس میدان میں درج ذیل دوزاویوں سے ایک اور امتیازی خصوصیت حاصل ہے :
الف ۔ مکتب اہل بیت بارہ ائمہ علیہم السلام کی جن خصوصیات کا معتقد ہے وہ امامت کی خصوصیات ہیں ،وہی امامت جو بندوں کے ساتھ خدا کے رابطے اور عہد الہی کی پاسبان ہے ۔یہ خصوصیات لوگوں میں سے کسی کے اندر جمع نہیں ہوسکتیں ۔یہ صرف ان افراد میں جمع ہوسکتی ہیں جو امامت کی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے خاص طور سے تیار کیے گئے ہوں؛وہی امامت جو نبوت و رسالت کے مقاصد کو آگے بڑھانے کی ذمہ دار ہے ۔
ص۳۵
ب۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کی یہ خصوصیات قرآن کریم اور سنت نبوی سے ماخوذ دلائل کی مستحکم بنیادوں پر استوار ہیں جبکہ (دوسرے لوگوں کے بارے میں ) مذکور حکایات و روایات اس قسم کے دلائل سے عاری ہیں۔جب یہ روایات تاریخی سند سے بھی عاری ہیں تو ان پر اعتقاد کیسے درست ہے ؟
ائمہ طاہرین علیہم السلام کی مذکورہ خصوٰصیات اور ان تاریخی حکایات کے درمیان پائے جانے والے عظیم فرق کے پیش نظر کیا یہ بات قرین انصاف ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے ان خصائص پر اعتقاد رکھنا غلو محسوب ہو لیکن ان غلو آمیز حکایات پر ایمان غلو نہ ہو ؟
ص۳۶
غلو کی بحث کا خلاصہ
قرآن و سنت کے اندر اس بات کی کوئی دلیل موجود نہیں کہ ہر صحابیٔ رسول کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔یہ بات اس شریعت کے اندر کیسے ممکن ہے جس کے نزدیک برتری کا دائمی معیار ایمان ،عمل صالح اور تقوی ہیں ؟
اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی صحابی اپنی زندگی کے آخری وقت تک ان صفات کا حامل رہے تو وہ خداکے ہاں مکرّم ہے وگرنہ نہیں ۔پھر اس قسم کا مقام ہر صحابی کے لئے ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ نص قرآنی کی روسے یہ بات قطعی ہے کہ ان میں سے بعض اس مقام کے حقدار نہیں ہیں جیساکہ ذکر ہوچکا۔
۲۔ اگر کسی مستحق صحابی کو یہ مقام حاصل ہو تو یہ اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کا جانشین اور امت کا قائد بننے کا بھی حقدار ہے ۔بطور مثال ممکن ہے کہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی بعض خصوصیات کے باعث اس سے راضی ہو لیکن اس کے باوجود وہ اپنے بعد اسے اپنے گھرانے اور اموال کی ذمہ داریاں سونپنے کے لائق نہ سمجھتا ہو ۔
پس کسی شخص سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضامندی کا لازمہ یہ نہیں کہ وہ اس بات کا بھی اہل ہو کہ آنحضرت کے بعد آپ کے امور نیز امت مسلمہ اور دین کی ذمہ داریاں اس کے سپرد کی جائیں ۔
مکتب اہل بیت کا عقیدہ ہے کہ کچھ اصحاب رسول بعض فضائل کے یقینا حامل ہیں لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ہر صحابی ٔرسول ان فضائل سے متصف ہے ۔
ص۳۷
مکتب تشیع اس بات کو نہیں مانتا کہ صرف یہی فضائل امامت و خلافت کے استحقاق کا معیار ہیں۔
پس فضائل کے دائرے میں سب کو شامل سمجھنا افراط اور غلو ہے جبکہ ان فضائل کو امامت و خلافت کے استحقاق کی بنیاد قرار دینا تفریط ہے ۔
۳۔ مذکورہ دلائل کی روشنی میں مکتب اہل بیت کا ایمان ہے کہ امامت و خلافت کے استحقاق کا معیار صرف وہ عالی ترین خصوصیات ہیں جن کا حصول انسان کے لئے ممکن ہو اور آسمان والے کی طرف سے ان کا فیضان درست ہو ۔یہ خصوصیات عصمت ،نص ، وصیت اور علمی برتری وغیرہ سے عبارت ہیں ۔
پس ان معصوم ہستیوں کے فضائل میں کوئی غلو نہیں ہے بلکہ یہ آخری آسمانی رسالت کی عظیم حیثیت کے شدید تحفظ کی ضمانت ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اہل بیت علیہم السلام کے حق میں فرمایا ہے :
اس امت کے کسی شخص کا موازنہ آل محمد کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا اور امت کا کوئی فرد ان کی برابری نہیں کرسکتا ۔آل محمد دین کی اساس اور یقین کا ستون ہیں ۔وہ حق ِولایت کی خصوصیات کے حامل ہیں۔رسول کی وصیت اور وراثت انہی کے لئے ثابت ہیں ۔
( نہج البلاغہ ،خطبہ دوم کا آخری حصہ ۔)