امام محمد تقی علیہ السلام
تحریر: گروہ علمی ویکی شیعہ
محمد بن علی بن موسی (سنہ ۱۹۵-۲۲۰ھ)، امام محمد تقی ؑ اور امام جوادؑ کے نام سے مشہور شیعہ امامیہ کے نویں امام ہیں۔ آپ کی کنیت ابو جعفر اور لقب جواد اور ابن الرضا ہے۔
آپؑ کو جواد لقب ملنے کہ وجہ آپؑ کی بکثرت بخشش و عطا ہے۔ آپؑ نے دوران خلافت مامون عباسی اور معتصم عباسی ۱۷ سال امامت کے فرائض انجام دیے۔
اکثر منابع تاریخی کے مطابق امام محمد تقیؑ سنہ ۲۲۰ہجری ماہ ذی القعدہ کی آخری تاریخ کو ۲۵ سال کی عمر میں شہید ہوئے۔
شیعہ ائمہؑ میں آپ جوان ترین امام ہیں جنہیں شہید کیے گئے۔ آپؑ کو کاظمین میں اپنے جد امجد امام موسی کاظمؑ کے جوار میں مقبرہ قریش میں دفن کیا گیا۔
بچپن میں امامت ملنے کی وجہ سے امام رضاؑ کے بعض اصحاب آپ کی امامت کے سلسلے میں شک و تردید کا شکار ہوئے۔
امام رضاؑ کے بعض اصحاب عبدالله بن موسی کی امامت کے قائل ہوئے جبکہ بعض دیگر احمد بن موسی شاہچراغ کو امام ماننے لگے۔ بعض نے واقفیہ کا راستہ اختیار کیا۔ البتہ اکثریت نے آپؑ کی امامت کو قبول کیا۔
امام محمد تقیؑ کا وکالتی نظام کے تحت خط و کتابت کے ذریعے لوگوں سے رابطہ رہتا تھا۔ آپؑ کے دور امامت میں اہل حدیث، زیدیہ، واقفیہ اور غلات جیسے فرقے بہت سرگرم تھے اسی وجہ سے آپ اپنے ماننے والوں کو ان مذاہب کے باطل عقائد سے آگاہ کرتے، ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع کرتے اور غالیوں پر لعن کرتے تھے۔
امام جوادؑ کے دوسرے مکاتب فکر کے علماء اور دانشوروں کے ساتھ کلامی مناظرے جیسے شیخین (ابو بکر و عمر) کی خلافت کا مسئلہ، کےعلاوہ فقہی مناظرے ہوئے؛ جیسے چور کا ہاتھ کاٹنا اور احکام حج وغیر۔
امام محمد تقیؑ سے صرف ۲۵۰ احادیث نقل ہوئی ہیں۔
نقل حدیث کی قلت کہ یہ وجہ بتائی گئی ہےکہ :
اولا امام کم عمری میں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے ثانیا آپؑ کو اپنے ہم عصر خلفا نے اپنے تحت نظر رکھا۔ آپؑ سے روایت نقل کرنے والے راویوں اور اصحاب کی تعداد ۱۱۵ سے ۱۹۳ بتائی گئی ہے۔
احمد بن ابینصر بزنطی، صفوان بن یحیی اور عبد العظیم حسنی آپؑ کے اصحاب مہیں شمار ہوتے ہیں۔
شیعہ کتب میں آپؑ سےمنسوب کچھ کرامات کا تذکرہ ملتا ہے جن میں ولادت کے فورا بعد بات کرنا، طی الارض، مریضوں کو شفا دینا اور استجابت دعا شامل ہیں۔ اہل سنت کے علما بھی امام جوادؑ کے علمی اور روحانی مقام و مرتبے کے معترف ہیں لہذا وہ لوگ بھی آپؑ کی تعریف و تمجید اور احترام کرتے ہیں۔
نسب، کنیت اور القاب
محمد بن علی بن موسی بن جعفر شیعہ امامیہ کے نویں امام ہیں جو جواد الائمہ کے نام سے مشہور ہیں۔
آپ کا سلسلہ نسب ۶ واسطوں سے شیعوں کے پہلے امام، امام علی بن ابی طالب تک پہچتا ہے۔ آپ کے والد امام علی رضاؑ شیعوں کے آٹھویں امام ہیں۔[۱]
آپ کی والدہ ایک کنیز تھیں جن کا نام سبیکہ نوبیہ تھا۔[ ۲ ]
آپؑ کی کنیت ابو جعفر و ابو علی ہے۔[۳] منابع حدیث میں آپؑ کو ابو جعفر ثانی کہا جاتا ہے۔[۴]
تا کہ اسم کےلحاظ سے ابو جعفر اول امام محمد باقرؑ سے مشتبہ نہ ہو۔ [ ۵]
جواد اور ابن الرضا آپؑ کے مشہور القاب میں شمار ہوتے ہیں۔[۶] جبکہ تقی، زکی، قانع، رضی، مختار، متوکل،[۷]
مرتضی اور منتجَب[۸] آپؑ کے دوسرے القاب ہیں۔
سوانح حیات
آپؑ کی ولادت سنہ ۱۹۵ ہجری کو مدینہ میں ہوئی۔[۱۷]
لیکن آپؑ کی ولادت کے دن اور مہینے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔[۱۸]
زيادہ تر منابع نے آپ کی ولادت ماہ رمضان المبارک میں قرار دی ہے۔[۱۹]
بعض نے ۱۵ رمضان[۲۰] اور بعض دیگر نے ۱۹ رمضان[۲۱] نقل کی ہے۔[۲۲]
شیخ طوسی نے مصباح المتہجد میں آپ کی تاریخ ولادت ۱۰ رجب ذکر کی ہے۔[ ۲۳ ]
کتاب کافی کی روایت کےمطابق امام محمد تقیؑ کی ولادت سےقبل واقفی مذہب کے بعض افراد امام رضاؑ کے ہاں اولاد نہ ہونے کی وجہ سے آپؑ کی امامت میں شک و تردید کرنے لگے۔[۲۴]
یہی سبب ہے کہ جس وقت امام محمد تقیؑ کی ولادت ہوئی امام رضاؑ نے انہیں شیعوں کے لئے با برکت مولود قرار دیا۔[۲۵] ان کی ولادت کے باجود بھی بعض واقفیہ نے امام رضاؑ سے ان کے انتساب کا انکار کیا۔ وہ کہتے تھے کہ امام محمد تقیؑ شکل و صورت کے اعتبار سے اپنے والد امام رضاؑ سے شباہت نہیں رکھتے۔ یہاں تک کہ قیافہ شناس افراد کو بلایا گیا۔ ان کے کہنے سے آپ کو امام رضاؑ کا فرزند مانا گیا۔[۲۶]
آپ کی زندگی کے بارے میں تاریخی مصادر میں چندان معلومات ذکر نہیں ہوئے ہیں۔[۲۷]
اس کا سبب عباسی حکومت کی طرف سے سیاسی طور پر نظر بندی، تقیہ اور آپ کی کم عمری بتایا گیا ہے۔[۲۸]
آپ مدینہ میں قیام پذیر تھے۔ ابن بیھق کے نقل کے مطابق آپ نے ایک بار اپنے والد سے ملاقات کے لئے خراسان کا سفر کیا[۲۹]
اور امامت کے بعد کئی بار آپ کو عباسی خلفاء کی طرف سے بغداد طلب کیا گیا۔
ازدواجی زندگی
سنہ ۲۰۲ھ[۳۰] یا ۲۱۵ھ[۳۱] میں امام محمد تقی کی شادی مامون عباسی کی بیٹی ام فضل سے ہوئی۔[۳۲]
بعض مآخذ میں احتمال ظاہر کیا گیا ہے کہ امام محمد تقیؑ کی اپنے پدر امام رضاؑ سے خراسان میں ملاقات کے دوران مامون نے اپنی بیٹی کی شادی امام جوادؑ سے کرادی ہے۔[۳۳]
مخالف( اہل سنت) مورخ ابن کثیر((۷۰۱-۷۷۴ھ)) کے مطابق امام محمد تقیؑ کے ساتھ مامون کی بیٹی کا خطبۂ نکاح حضرت امام رضاؑ کی حیات میں پڑھا گیا لیکن شادی اور رخصتی سنہ ۲۱۵ ہجری میں عراق کے شہر تکریت میں ہوئی۔[ ۳۴ ]
تاریخی منابع کے مطابق یہ شادی مامون کی درخواست پر ہوئی۔[۳۵]
مامون کا مقصد یہ تھا کہ اس شادی کے نتیجے میں وہ پیغمبر اکرم (ص) و امام علی (ع) کی نسل سے پیدا ہونے والے بچے کا نانا قرار پائے گا۔[۳۶] کتاب الارشاد میں شیخ مفید کے نقل کے مطابھ، مامون نے امام محمد تقیؑ کے علم و فضل، دانش و حکمت، ادب و کمال اور امامؑ کی کم سنی کے باوجود بے مثال عقل کو دیکھ کر اپنی بیٹی کا عقد امام سے کیا۔[۳۷]
لیکن بعض محققین جیسے رسول جعفریان (پیدائش: ۱۳۴۳ہجری شمسی) کا ماننا ہے کہ مامون نے سیاسی مقصد کے حصول کے لیے یہ شادی کرادی تھی۔ منجملہ اس کا ایک مقصد یہ تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کے ذریعہ امامؑ اور شیعوں سے ان کے رابطے پر نظر رکھنا چاہتا تھا۔[۳۸]
یا خود کو علویوں کا چاہنے والا پیش کرے تاکہ وہ اس کے خلاف قیام نہ کریں۔[۳۹]
شیخ مفید کے نقل کے مطابق مامون کے قریبی بعض عباسیوں نے اس شادی پر اعتراض کیا۔ ان کے اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ انہیں ڈر محسوس ہوا کہ کہیں حکومت، عباسیوں کے ہاتھ سے نکل کر علویوں کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔[۴۰]
امامؑ نے اس ام الفضل کا حق مہر حضرت زہراءؑ کے حق مہر یعنی ۵۰۰ درہم رکھا۔[۴۱]
ام الفضل سے امامؑ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔[۴۲]
امام محمد تقیؑ کی دوسری زوجہ سمانہ مغربیہ تھیں[۴۳] وہ ایک کینز تھیں جنہیں خود امام کے حکم سے خریدی گئی تھی۔[۴۴]
امام کی تمام اولاد اسی زوجہ سے ہوئیں۔[۴۵]
اولاد
امام محمد تقیؑ
پیغمبر اکرمؐ
حضرت فاطمہؑ امام علیؑ
امام حسینؑ
امام سجادؑ
امام محمد باقرؑ
امام جعفر صادقؑ
امام موسی کاظمؑ
امام رضاؑ
سمانہ مغربیہ امام جوادؑ
امام علی نقی موسی مبرقع حکیمہ زینب فاطمہ خدیجہ
امامہ ام کلثوم ام محمد ابو احمد حسین ابو موسی عمران
شیخ مفید کی روایت کے مطابق امام محمد تقیؑ کی چار اولاد امام علی نقی، موسی مبرقع، فاطمہ اور اَمامہ ہیں۔[۴۶]
البتہ بعض راویوں نے آپؑ کی بیٹیوں کی تعداد تین بتائی ہے جو کہ حکیمہ ، خدیجہ و ام کلثوم تھیں۔[۴۷]
چودہویں صدی ہجری سے مربوط بعض مصادر میں ام محمد، زینب اور میمونہ کو بھی آپ کی بیٹیوں میں شامل کیا گیا ہے۔[۴۸] کتاب منتہی الآمال میں ضامن بن شدقم سے نقل ہوا ہے کہ امام محمد تقیؑ کے ۴ بیٹے تھے جن کے نام ابوالحسن، امام علی نقی(ع)، ابواحمد موسی مُبَرقَع، حسین، عمران اور ۴ بیٹیاں جن کے نام فاطمہ، حکیمہ، خدیجہ اور ام کلثوم بتائے گئے ہیں۔[۴۹]
بعض مورخین کے مطابق امامؑ کے ۳ بیٹے تھے بنام امام علی نقیؑ، موسی مبرقع اور یحیٰ جبکہ ۵ بیٹیاں تھیں بنام فاطمہ، حکیمہ، خدیجہ، بہجت اور بُرَیہہ۔[۵۰]
شہادت
عباسی حکومت میں آپ کو دو مرتبہ بغداد طلب کیا گیا۔ پہلا سفر مامون کا زمانہ تھا یہ سفر زیادہ طولانی نہیں تھا۔[۵۱]
دوسری مرتبہ ۲۸ محرم سنہ ۲۲۰ھ کو معتصم کے طلب کرنے پر آپؑ بغداد میں داخل ہوئے اور اسی سال ذی القعدہ[۵۲]
یا ذی الحجہ کے مہینے میں آپؑ کی شہادت ہوئی۔[۵۳]
زیادہ تر منابع میں آپ کی شہادت کا دن آخر ذی القعدہ ذکر ہوا ہے؛[۵۴]
البتہ بعض منابع میں امام کی شہادت کی تاریخ ۵ ذی الحجہ[۵۵] یا ۶ ذی الحجہ[۵۶]
ذکر ہوئی ہے۔ آپ کے جسد کو مقبرہ قریش کاظمین میں آپ کے جد امام موسی کاظم (ع) کے پہلو میں دفن کیا گیا۔[۵۷]
شہادت کے وقت آپ کی عمر ۲۵ برس نقل ہوئی ہے۔[۵۸] اس اعتبار سے آپ شہادت کے وقت جوان ترین شیعہ امام تھے۔
آپؑ کی شہادت کے اسباب کے حوالے سے مروی ہے کہ بغداد کے قاضی ابن ابی داؤد نے معتصم عباسی کے پاس چغل خوری کی اور اس سخن چینی کا اصل سبب یہ تھا کہ چور کا ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں امامؑ کی رائے پر عمل ہوا تھا اور یہ بات ابن ابی داؤد اور دیگر درباری فقہاء کی شرمندگی کا باعث ہوئی تھی۔[۵۹]
آپ کو کس طرح شہید کیا گیا؟ اس سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض منابع میں آیا ہے کہ معتصم نے اپنے ایک وزیر کے منشی کے توسط سے زہر دلوا کر امامؑ کو شہید کر دیا۔[۶۰]
البتہ بعض دوسروں کی رائے ہے کہ امامؑ کو ام الفضل بنت مامون نے زہر دیا تھا۔[۶۱]
تیسری صدی ہجری کے مورخ مسعودی (متوفی: ۳۴۶ھ) کا کہنا ہے: معتصم عباسی اور ام الفضل کا بھائی جعفر بن مامون مسلسل امامؑ کو زہر دینے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ چونکہ ام الفضل کی کوئی اولاد نہیں تھی اور امام علی نقی امام محمد تقی کی دوسری زوجہ سے تھے۔
جعفر نے اپنی بہن کو اکسایا کہ آپؑ کو زہر دے کر امام کو قتل کرے۔ چنانچہ اس نے زہرآلود انگور امامؑ کو کھلا دیا۔ مسعودی کے بقول ام الفضل امام کو زہر دینے کے بعد پشیمان ہوئی۔ امامؑ نے فرمایا وہ ایک لاعلاج بیماری میں مبتلا ہوجائے گی۔[۶۲]
ام الفضل کے ذریعہ آپ کی شہادت کی کیفیت کے سلسلہ میں دوسرےاقوال بھی نقل ہوئے ہیں۔[۶۳]
ایک دوسری روایت کے مطابھ، جب لوگوں نے معتصم کے ہاتھوں پر بیعت کر لی تو اس نے مدینہ کے گورنر عبد الملک زیات کو خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ وہ امام (ع) کو ام الفضل کے ہمراہ بغداد روانہ کرے۔ جب امام بغداد میں وارد ہوئے تو اس نے ظاہری طور پر امام کا احترام کیا اور امام اور ام الفضل کے لئے تحائف بھیجے۔
اس روایت کے مطابق معتصم نے سنگترے کا شربت اپنے اشناش نامی غلام کے ذریعہ امام کے پاس بھیجا۔ اس نے امام سے کہا کہ خلیفہ نے یہ شربت بعض بزرگان منجملہ احمد بن ابی داود و سعید بن خضیب کو پلایا ہے اور حکم دیا ہے کہ آپ بھی یہ شربت پی لیں۔
امام نے فرمایا: میں اسے شب میں نوش کروں گا۔ لیکن اس نے اصرار کیا کہ اسے ٹھنڈی حالت میں پیا جانا چاہیے، امام نے اسے نوش کر لیا اور اسی کی وجہ سے آپ کی شہادت واقع ہوئی۔[۶۴]
شیخ مفید (متوفی: ۴۱۳ھ) امام کے زہر سے شہید ہونے والے قول کو نہیں مانتے،ان کا کہنا ہے کہ یہ چیز میرے لئے ثابت نہیں ہے تا کہ میں اس کی شہادت دے سکوں۔[۶۵]
شیخ مفید نے اپنی کتاب تصحیح اعتقادات الامامیہ میں بھی لکھا ہے کہ بعض اماموں منجملہ امام جوادؑ کی شہادت ثابت نہیں ہے۔[۶۶] البتہ سید محمد صدر (شہادت: ۱۳۷۷ہجری شمسی) نے اپنی کتاب "تاریخ الغیبہ میں اس روایت
«ما مِنّا إلّا مقتولٌ شهیدٌ»
(ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ جسے قتل یا شہید نہ کیا گیا ہو)[۶۷]
سے استناد کرتے ہوئے امام محمد تقیؑ کی شہادت کے قائل ہوئے ہیں۔[۶۸] معاصر مورخ، رسول جعفریان بھی امام ؑ کی شہادت کے قائل ہیں اور اس سلسلے میں بعض شواہد بھی پیش کرتے ہیں۔[۶۹]
بعض مورخین منجملہ سید جعفر مرتضی عاملی شیخ مفید کے نظریے کی توجیہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں چونکہ وہ بغداد میں قیام پذیر تھے اور اس بات کے پیش نظر کہ عباسی حکومت میں مکتب اہل بیت (ع) اور شیعوں کے خلاف جو فضا حاکم تھی، اس میں شیخ صراحت کے ساتھ شیعہ عقاید اور امام محمد تقی (ع) کی شہادت کے بارے میں اظہار نظر نہیں کر سکتے تھے لہذا انہوں نے اس مورد میں تقیہ کیا ہے۔ یہ احتمال بھی ذکر ہوا ہے کہ زیادہ منابع ان کی دسترس میں نہ ہونے اور منابع اصلی تک رسائی حاصل کرنے میں سختی کی وجہ سے یہ مطالب ان تک نہیں پہچ سکے ہیں۔[۷۰]
مدت امامت
امام محمد تقی ؑ کی امامت کا دور امام رضا کی شہادت کے سال ۲۰۳ ھ سے شروع ہوتا ہے۔[۷۱]
آپؑ کی امامت کا زمانہ دو عباسی خلفاء کے معاصر ہے تقریبا ۱۵ سال مامون (۱۹۳۔۲۱۸ ھ) کی حکومت کے دور میں اور دو سال معتصم (۲۱۸۔۲۲۷ ھ) کی حکومت کے دور میں گزرے۔[۷۲]
آپ کی مدت امامت ۱۷ سال ہے۔ [۷۳]
سنہ ۲۲۰ ھ میں ان کی شہادت کے بعد منصب امامت ان کے فرزند امام علی نقی (ع) کی طرف منتقل ہوگیا۔[۷۴]
نصوص امامت
امام رضا (ع) نے متعدد موارد میں امام محمد تقی (ع) کی امامت کا اعلان اپنے اصحاب کے سامنے فرمایا تھا۔ کتاب الکافی،[۷۵] کتاب الارشاد،[۷۶] اعلام الوری[۷۷] و بحار الانوار[۷۸] میں سے تمام کتب میں امام محمد تقی (ع) کی امامت کے سلسلہ میں مستقل باب موجود ہے۔ ان میں بالترتیب ۱۴، ۱۱، ۹، ۲۶ روایات اس سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں۔
منجملہ ان روایات میں ایک روایت میں ایک صحابی نے امام رضاؑ سے آپؑ کے جانشین کے بارے میں پوچھا تو آپؑ نے ہاتھ سے اپنے بیٹے [ابو جعفر (امام تقی] کی طرف اشارہ کیا جو آپؑ کے سامنے کھڑے تھے۔[۷۹]
یا ایک روایت میں آپ نے فرمایا: یہ ابو جعفر ہیں جنہیں میں نے اپنا جانشین قرار دیا ہے اور میں نے عہدہ امامت ان کے سپرد کیا ہے۔[۸۰]
شیعوں عقیدہ کے مطابق امام فقط سابق امام کی نص سے تعیین ہوتا ہے۔[۸۱] یعنی ہر امام کو چاہئے کہ وہ واضح الفاط میں اپنے بعد کے امام کو معین کرے۔
بچپن میں امامت اور شیعوں کی آشفتگی
امام محمد تقی (ع) تقریبا آٹھ سال کی عمر میں امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔[۸۲]
آپ عمر کم ہونے کی وجہ سے امام رضا (ع) کے بعد آپ کی امامت میں اختلاف پیدا ہوگیا؛ بعض امام رضا کے بھائی عبد اللہ بن موسی کی طرف چلے گئے لیکن کچھ ہی مدت کے بعد انہیں احساس ہوگیا کہ ان میں امامت کی صلاحیت نہیں ہے لہذا ان سے روگردان ہوئے۔[۸۳]
بعض امام رضا کے دوسرے بھائی احمد بن موسی کی طرف مائل ہوگئے اور بعض واقفیہ سے ملحق ہوگئے۔[۸۴]
بہرحال امام رضا (ع) کے زیادہ تر اصحاب امام محمد تقی (ع) کی امامت کے معتقد رہے۔[۸۵]
منابع نے اس اختلاف کا سبب امام کی کم عمری ذکر کیا ہے۔ نوبختی کے بقول اس اختلاف کی علت یہ تھی کہ وہ لوگ امام کے لئے بالغ ہونے کو ضروری سمجھتے تھے۔[۸۶]
البتہ یہ مسئلہ امام رضا کی زندگی میں پیش آ چکا تھا۔ امام رضا نے اس کے جواب میں حضرت عیسی کو بچپن میں نبوت ملنے سے استناد کیا اور فرمایا: جب عیسی کو نبوت عطا ہوئی تو ان کی عمر میرے فرزند سے بھی کم تھی۔ [ ۸۷ ]
اسی طرح سے ان لوگوں کے جواب میں جو امام کے بچپن پر اعتراض ذکر کرتے تھے، قرآن کریم کی ان آیات سے جن میں حضرت یحیی کو بچپن میں نبوت ملنے[۸۸]
اور اسی طرح سے حضرت عیسی کے گہوارے میں گفتگو کرنے سے[۸۹] استناد کیا گیا ہے۔[۹۰]
خود امام محمد تقی (ع) نے اپنے اوپر کئے جانے والے اعتراض کے جواب میں حضرت داود کے جانشین حضرت سلیمان کی طرف اشارہ کیا ہے جنہیں بچپن میں نبوت عطا ہوئی اور فرمایا: انہیں اس وقت نبوت عطا ہوئی جب وہ بچے تھے اور گوسفند چرایا کرتے تھے حضرت داود نے انہیں اپنا جانشین قرار دیا حالانکہ علمائے بنی اسرائیل اس بات سے انکار کرتے تھے۔[۹۱]
شیعوں کے سوال و امام کے جواب
امام رضا (ع) متعدد مواقع پر امام محمد تقی (ع) کی امامت کی تصریح فرما چکے تھے۔[۹۲]
اس کے باوجود بعض شیعہ مزید اطمینان کی غرض سے آپ سے مختلف سوالات کرتے تھے۔[۹۳]
یہ آزمایش دوسرے ائمہ کے لئے بھی ہو چکی تھی۔[۹۴]
البتہ امام جواد کی عمر کم ہونے کی وجہ سے ان کے سلسلہ میں اس ضرورت کا زیادہ احساس کیا گیا۔[۹۵]
مورخ معاصر رسول جعفریان کے بقول، شیعوں کی طرف سے ایسا ہونے کی دلیل یہ تھی کہ کبھی بعض دلائل کی وجہ سے جیسے تقیہ و حفظ جان امام کے کئی افراد سے اس کی وصیت کی جاتی تھی۔[۹۶]
منابع روایی میں مختلف گزارشات ذکر ہوئی ہیں جن کے مطابق شیعوں نے امام محمد تقی (ع) سے سوالات کئے اور امام کے جوابات ان کی منزلت بڑھانے اور ان کی امامت کے قبول کرنے کا سبب بنے۔[۹۷]
البتہ یہ سوال پوچھنے کی روش امام تقی سے مخصوص نہیں تھی۔ وہ اسی طریقے سے دوسروں کے امتحان بھی لے چکے تھے۔[۹۸] روایات میں ذکر ہوا ہے کہ شیعوں کے مختلف گروہ جو بغداد اور مختلف شہروں سے حج کے لئے آئے تھے وہ امام جواد الائمہ کے دیدار کے لئے مدینہ گئے۔ انہوں نے مدینہ میں عبد بن موسی سے ملاقات کی اور ان سے سوالات پوچھے لیکن انہوں نے ان سوالوں کے غلظ جوابات دیئے۔ وہ لوگ حیران ہوگئے۔ اسی مجلس میں امام تقی (ع) وارد ہوئے تو انہوں نے ان ہی سوالات کو ان دریافت کیا اور امام (ع) کے جواب سے قانع ہوگئے۔[۹۹]
شیعوں سے رابطہ
امام جوادؑ دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں میں وکیلوں کے توسط سے شیعیان اہل بیتؑ سے رابطے میں تھے۔ بغداد، کوفہ، اہواز، بصرہ، ہمدان، قم، رے، سیستان اور بُست میں آپ کے نمائندے موجود تھے۔[۱۰۰]
آپ کے وکلاء کی تعداد ۱۳ نقل ہوئی ہے۔[۱۰۱]
وہ شیعوں سے موصول ہونے والی شرعی وجوہات کو امام تک پہچاتے تھے۔[۱۰۲]
ہمدان میں ابراہیم بن محمد ہمدانی[۱۰۳]
اور ابو حذاء بصرہ کے اطراف میں[۱۰۴]
آپ کے وکیل تھے۔ صالح بن محمد بن سہل قم میں امام کے موقوفات کی رسیدگی کرتے تھے۔[۱۰۵]
اسی طرح سے زکریا بن آدم قمی،[۱۰۶] عبد العزیز بن مهتدی اشعری قمی،[۱۰۷] صفوان بن یحیی،[۱۰۸] علی بن مهزیار[۱۰۹] و یحیی بن ابی عمران[۱۱۰] آپ کے وکلاء میں سے تھے۔
بعض اہل قلم نے بعض شواہد سے استناد کرتے ہوئے محمد بن فرج رخجی و ابو ہاشم جعفری کو بھی آپ کے وکلاء میں شمار کیا ہے۔[۱۱۱]
البتہ احمد بن محمد سیاری بھی وکالت کا دعوی کرتا تھا لیکن امام نے اس کے دعوی کو رد کرتے ہوئے انہیں شرعی وجوہات نہ دینے کا حکم دیا۔[۱۱۲]
آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنی ایک تحلیل میں کہتے ہیں کہ:
امام جوادؑ نے وکلائی نظام کے ذریعے امام مہدی(عج) کی غیبت کے لیے ماحول فراہم کیا حالانکہ امامؑ کے ہم عصر خلفا اس بات سے سخت خوف میں مبتلا تھے۔[۱۱۳]
نقل ہوا ہے کہ امام دو دلیل کی وجہ سے مستقیم رابطے کے بجائے وکیلوں کے ذریعے سے اپنے شیعوں سے رابطہ برقرار رکھتے تھے :
آپ حکومت وقت کے زیر نگرانی تھے۔
آپؑ لوگوں کو غیبت امام زمانہ (عج) کے لئے تیار کر رہے تھے۔[۱۱۴]
امامؑ حج کے ایام میں بھی شیعوں سے ملاقات اور گفتگو کرتے تھے۔ بعض محققین کا ماننا ہے کہ امام رضا (ع) کا سفر خراسان سبب بنا کہ شیعوں سے ائمہ کے ساتھ ارتباط میں وسعت پیدا ہو۔[۱۱۵]
اسی بناء پر شیعہ خراسان، ری، بست و سجستان سے ایام حج میں امام سے ملاقات کے لئے آتے تھے۔
آپ وکلا کے علاوہ خط و کتابت کے ذریعے بھی اپنے پیروکاروں کے ساتھ رابطے میں تھے۔
شیعہ اپنے سوالات خط و کتابت کے ذریعے بھجواتے تھے اور آپؑ ان کا جواب دیتے تھے جن میں سے اکثر کا تعلق فقہی مسائل سے ہوتا تھا۔[۱۱۶]
موسوعۃ الامام الجواد [۱۱۷] میں امامؑ کے والد اور فرزند کے علاوہ ۶۳ افراد کے نام حدیث و رجال کے مآخذ سے اکٹھے کئے گئے ہیں جن کا خط و کتابت کے ذریعے امامؑ کے ساتھ رابطہ رہتا تھا۔ البتہ امامؑ نے بعض خطوط اپنے پیروکاروں کے گروہوں کے نام تحریر فرمائے ہیں۔[۱۱۸]
دوسرے گروہوں سے مقابلہ
شیعہ منابع میں نقل ہونے والے شیعوں کے سوالات اور امام محمد تقی (ع) کے جوابات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دور امامت میں اہل حدیث، واقفیہ، زیدیہ و غلات جیسے فرقے سرگرم تھے۔ روایات کے مطابق امام کے زمانہ میں محدثین کے درمیان جو بحثیں ہوتی تھیں ان کے اعتبار سے بعض شیعہ خدا کے جسم ہونے کے بارے میں شک میں مبتلا ہو گئے تھے۔ امام نے خدا سے جسم و جسمانیت کی نسبت کو رد کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا جو خدا کے جسم ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے بلکہ ایسے لوگوں کو زکات دینے سے بھی منع فرمایا۔
امام نے ابو ہاشم جعفری کے اس آیت کریمہ
لا تُدْرِکهُ الْأَبْصارُ وَ هُوَ یدْرِک الْأَبْصار[۱۱۹]
کی تفسیر میں کئے گئے سوال کے جواب میں فرمایا: خداوند عالم کو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھنا (عقیدہ مجسمہ) ممکن نہیں ہے۔ دل کی آنکھوں سے دیکھنا ان آنکھوں سے زیادہ دقیق تر ہے۔
انسان نے جن چیزوں کو نہیں دیکھا ہے وہ ان کا تصور کر سکتا ہے لیکن انہیں دیکھ نہیں سکتا ہے۔ جب اوہام قلوب خدا کو درک نہیں کر سکتے ہیں تو آنکھیں جس طرح سے اسے درک کر پائیں گی؟[۱۲۰]
امام (ع) سے واقفیہ کی مذمت میں روایات نقل ہوئی ہیں۔[۱۲۱]
آپ نے واقفیہ و زیدیہ کو نواصب کی فہرست میں قرار دیا ہے۔[۱۲۲]
آپ فرماتے تھے: آیہ کریمہ:
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ۔
ترجمہ: اس دن کچھ چہرے تذلل کا منظر پیش کرنے والے ہوں گے (۲) بہت کام کیے ہوئے بڑی محنت و مشقت اٹھائے ہوئے ہیں (مگر بے سود)۔[۱۲۳] ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[۱۲۴] اسی طرح سے نے آپ نے اپنے اصحاب سے واقفیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [ ۱۲۵ ]
امام جواد (ع) غالیوں، ابو الخطاب اور اس کے ماننے والوں پر لعنت کیا کرتے تھے۔ اسی طرح سے آپ ان لوگوں پر بھی لعنت کرتے تھے جو ان پر لعنت میں شک و تردید کرتے تھے۔[۱۲۶]
آپ ابو الغمر، جعفر بن واقد و ہاشم بن ابی ہاشم جیسے افراد کو" ابو الخطاب" کا پیرو شمار کرتے تھے اور فرماتے تھے یہ لوگ ہم (اہل بیت) کے نام سے لوگوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔[۱۲۷]
اس روایت کے مطابق جو رجال کشی میں ذکر ہوئی ہے، آپ نے غلات میں سے ابو السَّمہری اور ابن ابی زرقاء نامی دو لوگوں کے قتل کو جائز قرار دیا تھا اور اس کی دلیل آپ نے شیعوں کو گمراہ کرنے میں ان کے کردار کو قرار دیا تھا۔[۱۲۸]
اسی طرح سے آپ نے اس دور کے غالیوں کے عقاید سے مقابلہ بھی کیا اور کوشش کی کہ ان کے عقاید کی تبیین سے شیعوں کو ان کی پیروی سے دور کریں۔[۱۲۹]
اسی طرح سے آپ نے محمد بن سنان کو خطاب کرتے ہوئے مفوضہ کے اس دعوی کو کہ اللہ نے تخلیق و تدبیر سب کچھ محمد و آل محمد کے حوالے کر دیا، رد کیا۔ البتہ احکام کو تفویض کرنے کے عقیدہ کو صحیح عقیدہ کے طور پر پیش کیا اور اسے مشیت االہی سے منسوب کیا اور فرمایا: یہ وہ عقیدہ ہے کہ جو بھی اس سے آگے بڑھے گا وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا، جو اس کو قبول نہیں کرے گا وہ (اس کا دین) نابود ہو جائے گا اور جو اسے قبول کرے گا وہ حق سے ملحق ہو جائے گا۔ [ ۱۳۰ ]
مناظرات و احادیث
امام محمد تقی (ع) سے تقریبا دو سو پچاس احادیث نقل ہوئی ہیں۔[۱۳۱]
یہ روایات فقہی، تفسیری و اعتقادی موضوعات پر مشتمل ہیں۔
دوسرے ائمہ (ع) کی بنسبت آپ سے کم احادیث نقل ہونے کا سبب، آپ کا تحت نظارت ہونا اور شہادت کے وقت آپ کی عمر کم ہونا ذکر ہوا ہے۔
سید بن طاووس نے اپنی کتاب مہج الدعوات میں آپ سے ایک حرز مامون عباسی کی حٖفاظت کے لئے نقل کیا ہے۔[۱۳۲]
اسی طرح سے یہ حرز:
يَا نُورُ يَا بُرْهَانُ يَا مُبِينُ يَا مُنِيرُ يَا رَبِّ اكْفِنِي الشُّرُورَ وَ آفَاتِ الدُّهُورِ
وَ أَسْأَلُكَ النَّجَاةَ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ،
آپ سے منسوب ہے۔[۱۳۳] حرز امام جواد اپنے ہمراہ رکھنا شیعوں کے درمیان متداول ہو چکا ہے۔[۱۳۴]
امام (ع) نے اپنے دور امامت میں متعدد مرتبہ مامون عباسی کے بعض درباری فقہاء کے ساتھ مناظرے کئے ہیں۔
تاریخی گزارشات کے مطابق ان میں سے بعض مناظرے مامون و معتصم کے درباریوں کی درخواست پر اور امام (ع) کو آزمانے کی غرض سے ہوتے ہیں اور اس کے نتائج حاضرین کے استعجاب و تحسین کا باعث بنتے تھے۔[۱۳۵]
مصادر میں امام جواد کے ۹ مناظروں و گفتگو کا تذکرہ ہوا ہے۔ جن میں چار بار یحیی بن اکثم کے ساتھ اور ایک بار قاضی القضاۃ بغداد احمد بن ابی داود کے ساتھ ہونے والا مناظرہ شامل ہے۔
اسی طرح سے عبد الله بن موسی، ابو ہاشم جعفری، عبد العظیم حسنی و معتصم کے ساتھ ہونے والی آپ کی گفتگو بھی نقل ہوئی ہے۔ ان بحثوں کا موضوع فقہی مباحث میں حج، طلاق، چوری کی سزا و دیگر مباحث میں امام زمانہ (ع) کے اصحاب کی خصوصیات، شیخین کے جعلی فضائل اور اسماء و صفات خداوند شامل ہیں۔[۱۳۶]
حج سے متعلق ایک فقہی مسئلے پر مناظرہ
جب مامون نے امام محمد تقیؑ سے اپنی بیٹی ام فضل کی شادی کا فیصلہ کیا تو بنی عباس کے بزرگوں نے اس فیصلے پر اعتراض کیا جس کے جواب میں مامون نے کہا تم ان (امام جواد) کا امتحان لے لو۔
انہوں نے قبول کیا اور دربار کے سب سے بڑے عالم اور فقیہ یحیی بن اکثم کو امام جوادؑ کے ساتھ مناظرے کے لئے انتخاب کیا۔
مناظرے کا دن آن پہنچا۔ یحیی بن اکثم نے مناظرے کا آغاز کرتے ہوئے امام سے سوال کیا:
اگر کوئی مُحرِم (وه شخص جو حج کے احرام کی حالت میں ہو) کسی حیوان کا شکار کرے تو حکم کیا ہوگا؟[۱۳۷]
امامؑ نے اس مسئلے کی مختلف صورتیں بیان کیں اور ابن اکثم سے کہا: تم کون سی صورت کے بارے میں جاننا چاہتے ہو؟
یحیی جواب نہ دے سکا۔ اس کے بعد امامؑ نے محرم کے شکار کی مختلف صورتوں کے احکام الگ الگ بیان کئے تو تمام اہل دربار اور عباسی علما نے آپؑ کے علم کا اعتراف کیا اور مامون ـ
جس پر اپنے انتخاب کے حوالے سے نشاط و سرور کی کیفیت طاری تھی ـ نے کہا: میں اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کیونکہ جو میں نے سوچا تھا وہی ہوا۔[۱۳۸]
تاریخی نقل کے مطابق مامون نے امام جوادؑ کے جوابات کو سننے کے بعد کہا کہ اس خاندان کے فضل و علم سب پر عیاں ہے ان کی کم عمری ان کے کمالات اور فضائل کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔ اس نے مزید کہا پیغمبرخداؐ نے امام علیؑ کو بلا کر اپنی تبلیغ کا آغاز کیا حالانکہ اس وقت علیؑ کی عمر صرف ۱۰ تھی۔[۱۳۹]
ایک روایتکے مطابق مامون نے اپنے اطرافیوں سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ خاندان رسولؐ کا معاملہ دوسروں سے بالکل الگ ہے۔ اسی لیے کہا تھا کہ ان سے سوال کر کے امتحان لے لیں۔[۱۴۰]
خلفاء کے بارے میں مناظرہ
امام جوادؑ نے مامون عباسی کی موجودگی میں بعض فقہاء اور درباریوں کے ساتھ مناظرہ کیا اور ابوبکر اور عمر کے فضائل کے بارے میں یحیی بن اکثم کے سوالات کا جواب دیا۔
یحیی نے کہا: جبرائیل نے خدا کی طرف سے رسول اللہ(ص) سے کہا: "میں ابوبکر سے راضی ہوں؛ آپ ان سے پوچھیں کہ کیا وہ مجھ سے راضی ہیں؟!
امامؑ نے فرمایا: میں ابوبکر کے فضائل کا منکر نہیں ہوں لیکن جس نے یہ حدیث نقل کی ہے اسے رسول اللہ(ص) سے منقولہ دوسری حدیثوں کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔
اور وہ یہ کہ آپ (ص) نے فرمایا: جب میری جانب سے کوئی حدیث تم تک پہنچے تو اس کا کتاب اللہ اور میری سنت کے ساتھ موازنہ کرو اور اگر خدا کی کتاب اور میری سنت کے موافق نہ ہو تو اسے رد کرو؛ اور بے شک یہ حدیث قرآن کریم سے ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ خداوند متعال نے ارشاد فرمایا ہے:
"وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
(سور ہ ق آیت ۱۶)
ترجمہ: اور ہم نے پیدا کیا ہے آدمی کو اور ہم جانتے ہیں جو اس کے دل میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں اور ہم اس سے رگ گردن سے زیادہ قریب ہیں۔ تو کیا خداوند متعال کو علم نہ تھا کہ کیا ابوبکر اس سے راضی ہیں یا نہیں؟
چنانچہ تمہاری بات درست نہیں ہے۔[۱۴۱]
بعد از اں یحیی نے اس روایت کا حوالہ دیا کہ
"أنّ مثل أبي بكر و عمر في الاَرض كمثل جبرئيل و ميكائيل في السماء
ترجمہ: بے شک روئے زمین پر ابوبکر اور عمر کی مثال، آسمان میں جبرائیل اور میکائیل کی مانند ہے۔[۱۴۲]
امامؑ نے جواب دیا: اس روایت کا مضمون درست نہیں کیونکہ جبرائیل و میکائیل ہمیشہ سے خدا کی بندگی میں مصروف رہے ہیں اور ایک لمحے کے لئے خطا اور اشتباہ کے مرتکب نہیں ہوئے جبکہ ابوبکر و عمر قبل از اسلام برسوں تک مشرک تھے۔[۱۴۳]
چور کے ہاتھ کاٹنےکی سزا کا مسئلہ
امام جوادؑ کے قیام بغداد کے دوران بعض واقعات پیش آئے جو لوگوں کے درمیان امامت کی منزلت سے آگہی کا سبب بنے۔
مثال کے طور پر چور کا ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں امامؑ کے فتوے کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ فقہا کے درمیان اختلاف اس بات پر رونما ہوا کہ کیا چور کا ہاتھ کلائی سے کاٹنا چاہئے یا پھر کہنی سے!!!
بعض فقہاء نے کلائی سے ہاتھ کاٹنے پر رائے دی اور بعض نے کہنی سے کاٹنے کے حکم کو اختیار کیا۔
عباسی خلیفہ معتصم نے اس سلسلے میں امام جوادؑ کی رائے پوچھی۔
امامؑ نے ابتدا میں معذرت کی لیکن معتصم نے اصرار کیا تو آپؑ نے فرمایا:
"چور کے ہاتھ کی چار انگلیاں کاٹی جاتی ہیں۔ آپؑ نے اس فتوی کی دلیل بیان کرتے ہوئے آیت کریمہ کا حوالہ دیا جہاں ارشاد ہوا ہے:
"وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَداً ۔ [۱۴۴]
ترجمہ: اور یہ کہ سجدے کے مقامات اللہ کے لئے مخصوص ہیں لہٰذا اللہ کے ساتھ کسی کو خدا نہ کہو۔ معتصم کو امامؑ کا جواب پسند آیا اور چور کی انگلیاں کاٹ دی گئیں۔[۱۴۵]
فضائل و کرامات
احادیث میں امام محمد تقیؑ کے بکثرت فضائل و کرامات منقول ہوئے ہیں۔
کثرت جود و بخشش
امام محمد تقیؑ کو جواد کا لقب اسی لیے ملا ہے کہ آپؑ نہایت درجہ جود و بخشش کے مالک تھے۔[۱۴۶]
جس وقت امام رضاؑ نے خراسان سے آپؑ کو جواد کے لقب دیکر ایک خط بھیجا اسی وقت سے ہی آپؑ کی بخشش و سخاوت زبان زد عام تھی۔ جس وقت آپ کے والد خراسان میں تھے، اصحاب آپ کو گھر کے پہلو والے دروازہ سے باہر لے جاتے تھے تا کہ آپ کا سامنا دروازے پر جمع نیازمند افراد سے کمتر ہو۔
اس روایت کے مطابق، امام رضاؑ نے آپ کو خط تحریر کیا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی بات پر عمل نہ کریں جو آپ کو اصلی دروازے کے بجائے پہلو والے دروازہ سے خارج ہونے کا مشورہ دیتے ہیں۔
جب بھی گھر سے باہر نکلنا چاہیں اپنے ساتھ کچھ درہم و دینار رکھا کریں۔ تاکہ جو بھی آپ سے سوال کرے اسے خالی ہاتھ کبھی جانے نہ دینا۔ [ ۱۴۷ ]
کثرت عبادت
عراقی مورخ باقر شریف قرشی نے جواد الائمہ کو اپنے زمانے کا سب سے بڑے عبادت گزار اور مخلص ترین شخص کے عنوان سے امام کا تعارف کرایا ہے۔ قرشی کہتے ہیں امام جوادؑ کثرت سے نافلہ نماز پڑھتے تھے۔
ان کے بقول امام جواد اپنی نافلہ نماز میں ہر رکعت میں حمد کے بعد ستر مرتبہ توحید کی تلاوت فرماتے تھے۔[۱۴۸]
سید بن طاووس نے منقول روایت کے مطابق جب بھی قمری مہینہ شروع ہوتا تھا، آپؑ دو رکعت نماز پڑھتے تھے جس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد تیس مرتبہ سورہ توحید اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد تیس بار سورہ قدر کی تلاوت کرتے تھے اور اس کے بعد صدقہ دیتے تھے۔[۱۴۹]
کرامات
شیعہ منابع حدیثی میں بعض کرامات کو امام محمد تقیؑ سے منسوب کیا گیا ہے؛
منجملہ ولادت کے دورا بعد بات کرنا، اپنے والد امام رضاؑ کی تدفین کے لیے مدینہ سے طی الارض کر کے خراسان پہنچنا، بیماروں کو شفا دینا، مستجاب الدعوۃ ہونا، لوگوں کے باطن کی خبر دینا اور آئندہ کی پیشنگوئی کرنا وغیرہ آپ کے کرامات میں سے ہیں۔[۱۵۰]
محدث قمی نے قُطب راوندی سے اور انہوں نے محمد بن میمون سے نقل کیا ہے، ابن میمون کہتا ہے:
"جس وقت امام رضاؑ خراسان نہیں گئے تھے، امام کو مکہ کی جانب ایک سفر پیش آیا، میں بھی امام کی خدمت میں تھا۔
جب میں واپس آنا چاہا تو امام سے عرض کیا کہ میں واپس مدینہ جارہا ہوں اگر اپنے بیٹے محمد تقیؑ کو کوئی خط بھیجنا ہے تو میں لے جاتا ہوں۔
امام رضاؑ نے ایک خط لکھا۔
میں وہ خط لیکر مدینہ کی طرف حرکت کی، جس وقت مدینہ پہنچا میری اپنی بینائی کھو چکا تھا۔
امام جوادؑ کے غلام موفق نے امام کو میری طرف رہنمائی کی۔
امام نے اپنے غلام سے خط کھولنے کا حکم دیا، پھر میری خبر لیتے ہوئے سوال کیا اے محمد! تماہری آنکھوں کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا یابن رسول اللہ! میں اپنی بینائی کھو چکا ہوں۔
امام نے اپنے دست مبارک کو میری آنکھوں پر پھیرا۔ میری بینائی لوٹ آئی اور میں شفایاب ہوگیا۔ " [۱۵۱]
نیز منقول ہے کہ جس وقت امام محمد تقیؑ بغداد سے مدینہ واپس آرہے تھے، بعض لوگوں نے آپ کو خداحافظی کی۔ مغرب کے وقت آپ نماز پڑھنے کے لیے کسی مسجد کے نزدیک میں میوہ سے خالی ایک بیری کے درخت کے پاس وضو کیا اور نماز پڑھ لی، امام کے ساتھ موجود لوگوں نے مشاہدہ کیا کہ بیری کے درخت پر میوے لگے ہوئے ہیں۔ لوگوں نے درخت سے کاٹ کر میٹھے اور بے دانہ میوے کھائے۔ لوگوں کو تعجب ہوا۔ شیخ مفید نے نقل کیا ہے چند سالوں کے بعد اس درخت کو دیکھا کہ اس سے میوہ تناول کیا تھا۔[۱۵۲]
صلوات مخصوص امام جوادؑ
اللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى عَلَمِ التُّقى، وَنُورِ الْهُدَى، وَمَعْدِنِ الْوَفاءِ، وَفَرْعِ الْأَزْكِياءِ، وَخَلِيفَةِ الْأَوْصِياءِ، وَأَمِينِكَ عَلَىوَحْيِكَ اللّهُمَّ فَكَما هَدَيْتَ بِهِ مِنَ الضَّلالَةِ، وَاسْتَنْقَذْتَ بِهِ مِنَ الْحَيْرَةِ، وَأَرْشَدْتَ بِهِ مَنِ اهْتَدى، وَزَكَّيْتَ بِهِ مَنْ تَزَكَّى، فَصَلِّ عَلَيْهِ أَفْضَلَ مَا صَلَّيْتَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَوْلِيائِكَ، وَبَقِيَّةِ أَوْصِيائِكَ، إِنَّكَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ. (مجلسی، بحارالانوار، ج۹۴، ص۷۷)
خدایا! درود بھیج محمد بن علی بن موسی پر جو علامت تقوا، نور ہدایت، وفا کا سرچشمہ، پاک طینت، اوصیاء کا جانشین اور تیری وحی کے امین ہیں۔ خدایا! چنانکہ تو ان کے وسیلے سے لوگوں کو گمراہی سے نجات دے کر وادی ہدایت کی طرف راہنمائی کی اور تحیر و سرگردانی سے انہیں نجات دی۔ اسی کے ذریعے ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت کی اور تربیت شدہ لوگوں کی تربیت کی، پس اس پر درود بھیج، وہ بہترین درود جسے تو نے اپنے اولیاء اور اوصیاء سے مخصوص کر رکھا ہے۔ بے شک تو غالب آنے والا اور با حکمت ہے
اصحاب
شیخ طوسی نے آپ کے تقریبا ۱۱۵ اصحاب کے نام ذکر کئے ہیں۔[۱۵۳] قرشی نے اپنی کتاب حیاۃ الامام محمد الجواد (ع) میں ۱۳۲،[۱۵۴] عبد الحسین شبستری نے کتاب " سُبُلُ الرَّشاد إلی اَصحاب الاِمام الجَواد " میں ۱۹۳ [۱۵۵]
افراد کو اصحاب کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ عطاردی نے مسند الامام الجواد میں آپ سے روایت نقل کرنے والے راویوں کی تعداد ۱۲۱ ذکر کی ہے۔[۱۵۶]
آپ کے بعض اصحاب، امام رضا (ع)[۱۵۷] و امام علی نقی (ع) کے ساتھ بھی مصاحبت رکھتے تھے اور انہوں نے ان دونوں اماموں سے بھی روایت نقل کی ہے۔[۱۵۸]
آپ سے روایت نقل کرنے والے راویوں میں دیگر فرقے منجملہ اہل سنت بھی موجود ہیں۔[۱۵۹] آپ سے نقل کرنے والے غیر امامی راویوں کی تعداد ۱۰ ذکر ہوئی ہے۔[۱۶۰]
عبد العظیم حسنی، احمد بن ابی نصر بزنطی، صفوان بن یحیی، حسن بن سعید اہوازی، احمد بن محمد برقی، زکریا بن آدم، احمد بن محمد بن عیسی اشعری، ابراہیم بن ہاشم اور ابو ہاشم جعفری آپ کے مشہور اصحاب میں سے ہیں۔[۱۶۱]
اہل سنت کے ہاں امام تقیؑ کا مقام و مرتبہ
اہل سنت علما امام محمد تقیؑ کا ایک عالم دین ہونے کے لحاظ سے احترام کرتے ہیں۔[۱۶۲] ان کے بعض علما نے جواد الائمہؑ کی علمی شخصیت کو ممتاز شمار کیا ہے۔: سبط بن جوزی، تذکرة الخواص، ۱۴۱۸ھ، ص۳۲۱
مامون امام جوادؑ کے زمان طفولیت میں علمی اور روحانی شخصیت کو دیکھ تحیر کا شکار ہوتا تھا۔[۱۶۳] علمائے اہل سنت امام کی دوسری خصوصیات جیسے زہد و تقوی، سخاوت وغیرہ میں بھی امام کو برتر و افضل سمجھتے ہیں۔[۱۶۴] بطور نمونہ؛ آٹھویں صدی ہجری کے اہل سنت محدث شمس الدین ذَهَبی[۱۶۵] اور ابنتیمیہ[۱۶۶] نے امامؑ کو جواد لقب ملنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ امام جواد ؑ سخاوت و بخشش میں مشہور تھے۔ دوسری صدی ہجری کےمعتزلی ادیب و متکلم جاحظ عثمان نے بھی محمد بن علیؑ کو عالم، زاہد، عبادت گزار، شجاع، سخی اور پاک طینت کے عنوان سے متعارف کرایا ہے۔[۱۶۷]
ساتویں صدی ہجری کے شافعی عالم دین محمد بن طلحہ شافعینے امام جوادؑ کے بارے میں یوں لکھا ہے: "وہ(امام تقیؑ) اگرچہ کم سن تھے لیکن بلند مرتبہ، اعلی مقام اور سب کے ہاں مشہور انسان تھے۔"۔[۱۶۸]
امام (ع) سے توسل
بعض شیعہ وسعت رزق اور مادی امور کی آسانی کے لئے بعض شیعہ علماء کی سفارشات کے مطابق امام محمد علیہ السلام سے توسل کرتے ہیں اور انہیں باب الحوائج مانتے ہیں۔ ان سفارشات کا ایک نمونہ علامہ مجلسی نے ابو الوفاء شیرازی سے نقل کیا ہے۔ جس میں انہوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے خواب میں انہیں مادی امور میں امام محمد تقی (ع) سے توسل کی سفارش کی ہے۔[۱۶۹]
اس روایت کے مطابق جسے داوود صیرفی نے امام علی نقی علیہ السلام سے نقل کیا ہے، جواد الائمہ کے روضہ کی زیارت کا بہت اجر و ثواب ہے۔[۱۷۰] اسی طرح سے ابراہیم بن عقبہ نے ایک نامہ میں امام علی نقی (ع) سے امام حسین علیہ السلام امام جواد و امام موسی کاظم (ع) کی زیارت کے بارے میں سوال کیا۔ امام علی نقی نے امام حسین کی زیارت کو مقدم و برتر شمار کرتے ہوئے فرمایا: تینوں زیارتیں کامل تر ہیں اور ان کا بہت ثواب ہے۔[۱۷۱] امام محمد تقی و امام موسی کاظم کا روضہ بغداد میں مسلمانوں خاص طور پر شیعوں کی زیارت گاہ ہے۔ وہ حرم کاظمین میں آپ کے مرقد کی زیارت کرتے ہیں۔ آپ سے توسل کرتے ہیں اور آپ کا زیارت نامہ پڑھتے ہیں۔[۱۷۲]
زیارت نامہ
(۱) السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ الْبِرَّ التَّقِيَّ الْإِمَامَ الْوَفِيَّ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الرَّضِيُّ الزَّكِيُّ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَجِيَّ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَفِيرَ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سِرَّ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ضِيَاءَ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَنَاءَ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا كَلِمَةَ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَحْمَةَ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النُّورُ السَّاطِعُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْبَدْرُ الطَّالِعُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الطَّيِّبُ ابْنُ الطَّيِّبِينَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الطَّاهِرُ ابْنُ الطَّاهِرِينَ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْآيَةُ الْعُظْمَى السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْحُجَّةُ الْكُبْرَى السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُطَهَّرُ مِنَ الزَّلَّاتِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُنَزَّهُ عَنِ الْمُعْضِلَاتِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْعَلِيُّ عَنْ نَقْصِ الْأَوْصَافِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الرَّضِيُّ عِنْدَ الْأَشْرَافِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا عَمُودَ الدِّينِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ الْأَئِمَّةِ الْمَعْصُومِينَ أَشْهَدُ أَنَّكَ وَلِيُّ اللهِ وَ حُجَّتُهُ فِي أَرْضِهِ وَ أَنَّكَ جَنْبُ اللهِ وَ خِيَرَةُ اللهِ وَ مُسْتَوْدَعُ عِلْمِ اللهِ وَ عِلْمِ الْأَنْبِيَاءِ وَ رُكْنُ الْإِيمَانِ وَ تَرْجُمَانُ الْقُرْآنِ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مَنِ اتَّبَعَكَ عَلَى الْحَقِّ وَ الْهُدَى وَ أَنَّ مَنْ أَنْكَرَكَ وَ نَصَبَ لَكَ الْعَدَاوَةَ عَلَى الضَّلَالَةِ وَ الرَّدَى أَبْرَأُ إِلَى اللهِ وَ إِلَيْكَ مِنْهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ السَّلَامُ عَلَيْكَ مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكَاتُهُ
(۲) ثم قبّل الضریح و قل : (۳) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ وَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الزَّكِيِّ التَّقِيِّ وَ الْبَرِّ الْوَفِيِّ وَ الْمُهَذَّبِ النَّقِيِّ هَادِي الْأُمَّةِ وَ وَارِثِ الْأَئِمَّةِ وَ خَازِنِ الرَّحْمَةِ وَ يَنْبُوعِ الْحِكْمَةِ وَ قَائِدِ الْبَرَكَةِ وَ صَاحِبِ الِاجْتِهَادِ وَ الطَّاعَةِ وَ وَاحِدِ الْأَوْصِيَاءِ فِي الْإِخْلَاصِ وَ الْعِبَادَةِ وَ حُجَّتِكَ الْعُلْيَا وَ مَثَلِكَ الْأَعْلَى وَ كَلِمَتِكَ الْحُسْنَى الدَّاعِي إِلَيْكَ وَ الدَّالِّ عَلَيْكَ الَّذِي نَصَبْتَهُ عَلَماً لِعِبَادِكَ وَ مُتَرْجِماً لِكِتَابِكَ وَ صَادِعاً بِأَمْرِكَ وَ نَاصِراً لِدِينِكَ وَ حُجَّةً عَلَى خَلْقِكَ وَ نُوراً تُخْرَقُ بِهِ الظُّلَمُ وَ قُدْوَةً تُدْرَكُ بِهِ الْهِدَايَةُ وَ شَفِيعاً تُنَالُ بِهِ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ وَ كَمَا أَخَذَ فِي خُشُوعِهِ لَكَ حَظَّهُ وَ اسْتَوْفَى مِنْ خَشْيَتِكَ نَصِيبَهُ فَصَلِّ عَلَيْهِ أَضْعَافَ مَا صَلَّيْتَ عَلَى وَلِيٍّ ارْتَضَيْتَ طَاعَتَهُ وَ قَبِلْتَ خِدْمَتَهُ وَ بَلِّغْهُ مِنَّا تَحِيَّةً وَ سَلَاماً وَ آتِنَا فِي مُوَالاتِهِ مِنْ لَدُنْكَ فَضْلًا وَ إِحْسَاناً وَ مَغْفِرَةً وَ رِضْوَاناً إِنَّكَ ذُو الْمَنِّ الْقَدِيمِ وَ الصَّفْحِ الْجَمِيلِ الْجَسِيمِ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.(مجلسی، زاد المعاد، ۱۴۲۳ ہ جری، ص۵۳۶-۵۳۷)
اردو ترجمہ :
(۱)آپ پر سلام ہو اے ابو جعفر محمد بن علی(ع) نیکوکار پرہیزگار امام وفا شعار، آپ پر سلام ہو کہ آپ پسندیدہ وپاکیزہ ہیں
آپ پر سلام ہو اے ولی خدا آپ پر سلام ہو اے خدا کے رازداں آپ پر سلام ہو اے نمائندہ خدا سلام ہوآپ پر اے راز الہی آپ پر سلام ہو اے خدا کی روشنی آپ پر سلام ہو اے خدا سے روشن شدہ آپ پر سلام ہو اے کلام خدا آپ پر سلام ہو اے رحمت خدا آپ پر سلام ہو کہ آپ چمکتا ہوا نور ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ چودھویں کا چاند ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ پاک ہیں پاکیزہ لوگوں میں سے ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ پاک شدہ اور پاک شدگان میں سے ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ بہت بڑی نشانی ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ بہت بڑی دلیل ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ خطا ولغزش سے پاک ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ منزہ ہیں اس سے کہ مشکل مسئلہ حل نہ کر پائیں سلام ہو آپ پر کہ آپ بلند ہیں اس سے کہ اوصاف میں کچھ کمی پائی جائے آپ پر سلام ہو کہ آپ صاحبان مرتبہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے دین کے ستون میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے ولی اور زمین میں اس کی حجت ہیں آپ خدا کے طرفدار اوراس کے چنے ہوئے ہیں آپ علم الہی اورعلم انبیاء کے امانتدار ہیں او رآپ ایمان کا پایہ اور قرآن کے شارح ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ کا پیرو حق وہدایت پر گامزن ہے اور آپکا انکار کرنے والا اورآپ سے عداوت رکھنے والا گمراہی اور ہلا کت میں پڑا ہے میں آپکے اورخدا کےسامنے ایسے لوگوں سے دنیا وآخرت میں بیزار ہوں آپ پر سلام ہوجب تک میں باقی رہوں اور شب و روز باقی ہیں۔
(۲)پھر ضریح کا بوسہ لیں اور کہیں :
(۳) اے معبود!حضرت محمد(ص) اور ان کے خاندان پر رحمت فرما اور محمد(ص) بن علی(ع) پر رحمت فرما کہ جو پاکیزہ پرہیزگار نیکوکار وفادار نیک اطوار برگزیدہ امت کے رہبر ائمہ(ع) کے جانشین رحمت کے خزینہ دار حکمت کے سرچشمہ بابرکت رہنما پیروی کے لحاظ سے قرآن کے ہم پلہ اخلاص و عبادت کے اعتبار سے اوصیاء میں صاحب مرتبہ تیری بلند تر حجت تیرا بنایا ہوا بہترین نمونہ تیرا خوشترین کلام تیری طرف بلانے والے اور تیری طرف رہنمائی کرنے والے ہیں جن کو تو نے اپنے بندوں کے لیے نشان قرار دیا اپنی کتاب کا ترجمان گردانا اپنے حکم کا بیان گر ٹھہرایا ہے اپنے دین کا مددگار مقرر کیا اپنی مخلوق پر حجت بنایا اور وہ نور قرار دیا جس سے تاریکیاں دور ہوتی ہیں وہ پیشوا بنایا جسکے ذریعے ہدایت ملتی ہے اور وہ شفاعت کنندہ جو جنت میں پہنچاتا ہے پس اے معبود جس طرح انہوں نے تیرےسامنے عاجزی میں اپنا حصہ حاصل کیا اور تجھ سے ڈرنے میں اپنا حصہ حاصل کیا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحمت فرما دگنی رحمت فرماکہ جیسی رحمت تو نے اپنے کسی ولی پر کی ہو کہ جسکی بندگی کو تو نے پسند کیا اور جسکی محنت کو قبول فرمایا اور انکو ہمارا درود و سلام پہنچا اور ہمیں انکی محبت عطا کر جس میں تیری طرف سے بزرگی بھلائی اور بخشش ہو ہم سے خوشنود ہوجا کہ بے شک تو قدیمی احسان کرنے والا بہترین درگزر کرنے والا ہے۔
حالات زندگی حضرت امام جواد علیہ السلام
مؤلف: شیعہ اسٹیڈیز ڈاٹ کام
نام ونسب اسم گرامی : محمد (ع)
لقب : جواد ، تقی
کنیت : ابو جعفر
والد کا نام : علی (ع)
والدہ کا نام : خیزران
تاریخ ولادت :
۱۰ / رجب ۱۵۹ ھء
جائے ولادت : مدینہ منورہ
مدت امامت:
۱۷/ سال
عمر :
۲۵/ سال
تاریخ شھادت : آخر ذیقعدہ
۲۲۰ ھء
شھادت کی وجہ : آپ کی زوجہ نے زہر دیکر شھیدکیا
روضہ اقدس : عراق ( کاظمین )
اولاد کی تعداد :
۲ / بیٹے اور ۲/ بیٹیاں
بیٹوں کے نام : (
۱) علی ( ۲) موسی مبرقع
بیٹیوں کے نام : (
۱) فاطمہ ( ۲) امامہ
بیویاں :
۲
انگوٹھی کے نگینے کا نقش : ” حسبی اللھ“
ولادت ۱۰
رجب ۱۹۵ ھ کو مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی اس وقت بغداد کے دارلسلطنت میں ارون رشید کابیٹا امین تخت حکومت پر تھا
نشو و نما اور تربیت
یہ ا یک حسرت ناک واقعہ ہے کہ امام محمدتقی علیہ السّلام کو نھایت کمسنی ھی کے زمانے میں مصائب اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوجانا پڑا .انہیں بہت کم ھی اطمینان اور سکون کے لمحات میں باپ کی محبت , شفقت اور تربیت کے سائے میں زندگی گزارنے کاموقع مل سکا .آپ کا صرف پانچواں برس تھا جب حضرت امام رضا علیہ السّلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفر کرنے پر مجبور ہوئے تو پہر زندگی میں ملاقات کا موقع نہ ملا امام محمدتقی علیہ السّلام سے جدا ہونے کے تیسرے سال امام رضا علیہ السّلام کی وفات ہوگئی دنیا سمجھتی ہوگی کہ امام محمدتقی علیہ السّلام کے لئے علمی وعملی بلندیوں تک پھنچنے کاکوئی ذریعہ نہیں رھا اس لئے اب امام جعفر صادق علیہ السّلام کی علمی مسند شاید خالی نظر آئے مگر خلق خدا کی حیرت کی انتھا نہ رہی جب اس کمسن بچے کو تہوڑے دن بعد مامون کے پھلو میں بیٹھ کر بڑے بڑے علماء سے فقہ حدیث، تفسیراور کلام پر مناظرے کرتے اور سب کو قائل ہوجاتے دیکھا اس کی حیرت اس وقت تک دور ہوناممکن نہ تھی , جب تک وہ مادی اسباب کے آگے ایک مخصوص خدا وندی مدرسہ تعلیم وتربیت کے قائل نہ ہوتے , جس کے بغیر یہ معمہ نہ حل ہوا اور نہ کبھی حل ہوسکتا ہے
عراق کاپہلاسفر
جب امام رضا علیہ السّلام کو مامون نے ولی عھد بنایا اور اس کی سیاست اس کی مقتضی ہوئی کہ بنی عباس کو چہوڑ کر بنی فاطمہ سے روابط قائم کئے جائیں اور اس طرح شیعیان اھل بیت علیہ السّلام کو اپنی جانب مائل کیا جائے تو اس نے ضرورت محسوس کی کہ خلوص واتحاد کے مظاہرے کے علاوہ اس قدیم رشتے کے جو ھاشمی خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے ہے , کچہ جدید رشتوں کی بنیاد بھی قائم کردی جائے چنانچہ اسی جلسہ میں جھاں ولی عھدی کی رسم ادا کی گئی،اس نے اپنی بھن ام حبیبہ کاعقد امام رضا علیہ السّلام کے ساتھ کیاا ور اپنی بیٹی ام الفضل کی نسبت کاامام محمد تقی علیہ السّلام کے ساتھ اعلان کیا غالباً اس کا خیال تھا کہ اس طرح امام رضا علیہ السّلام اپنے ھمنوا بنائے جا سکیں گے مگر جب اس نے محسوس کیا کہ یہ اپنے ان منصبی فرائض کو جو رسول کے ورثہ دار ہونے کی بنا پر ان کے ذمہ ہیں کسی قیمت پر چہوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتے اور اب عباسی سلطنت کارکن ہونے کے ساتھ ان اصول پر قائم رھنا مدینہ کے محلہ بنی ھاشم میں گوشہ نشینی کی زندگی بسرکرنے سے کہیں زیادہ خطر ناک ہے تو اسے اپنے مفاد سلطنت کے تحفظ کی خاطر اس کی ضرورت ہوئی کہ وہ زہر دے کر حضرت علیہ السّلام کی زندگی کاخاتمہ کردے مگر وہ مصلحت جوامام رضا علیہ السّلام کوولی عھد بنانے کی تھی یعنی ایرانی قوم اور جماعت شیعہ کو اپنے قبضے میں رکھنا وہ اب بھی باقی تھی اس لئے ایک طرف تو امام رضا علیہ السّلام کے انتقال پر اس نے غیر معمولی رنج وغم کااظھار کیا تاکہ وہ اپنے دامن کو حضرت کے خون ناحق سے الگ ثابت کرسکے اور دوسری طرف اس نے اپنے اعلان کی تکمیل ضروری سمجھی کہ جو وہ امام محمدتقی علیہ السّلام کے ساتھ اپنی لڑکی سے منسوب کرنے کا کرچکا تھا , اس نے اس مقصد سے امام محمدتقی علیہ السّلام کو مدینہ سے عراق کی طرف بلوایا اس لئے کہ امام رضا علیہ السّلام کی وفات کے بعد وہ خراسان سے اب اپنے خاندان کے پرانے دارالسلطنت بغداد میں آچکا تھا اور ا س نے یہ تھیّہ کرلیا کہ وہ ام الفضل کاعقد اس صاحبزادے کے ساتھ بہت جلد کردے
علماء سے مناظرہ
بنی عباس کو مامون کی طرف سے امام رضا علیہ السّلام کا ولی عھد بنایا جانا ھی ناقابل برداشت تھا امام رضا علیہ السّلام کی وفات سے ایک حد تک انہیں اطمینان حاصل ہوا تھا اور انہوں نے مامون سے اپنے حسبِ دلخواہ اس کے بھائی موتمن کی ولی عھدی کااعلان بھی کرادیا جو بعد میں معتصم بالله کے نام سے خلیفہ تسلیم کیا گیا اس کے علاوہ امام رضا علیہ السّلام کی ولی عھدی کے زمانہ میں عباسیوں کامخصوص شعار یعنی کالالباس تبدیل ہو کر سبز لباس کارواج ہورھا تھا اسے منسوخ کرکے پہر سیاہ لباس کی پابندی عائد کردی گئی , تاکہ بنی عباس کے روایات قدیمہ محفوظ رہیں یہ باتیں عباسیوں کو یقین دلا رہی تہیں کہ وہ مامون پر پورا قابو پاچکے ہیں مگر اب مامون یہ ارادہ کہ وہ امام محمد تقی علیہ السّلام کو اپنا داماد بنائے، ان لوگوں کے لئے پہر تشویش کاباعث بنا اس حد تک کہ وہ اپنے دلی رجحان کو دل میں نہ رکہ سکے اورایک وفد کی شکل میں مامون کے پاس آکر اپنے جذبات کااظھار کر دیا , انہوں نے صاف صاف کھا کہ امام رضا کے ساتھ جو آپ نے طریقہ کار استعمال کیا وھی ھم کو ناپسند تھا
مگر خیر وہ کم از کم اپنی عمر اور اوصاف وکمالات کے لحاظ سے قابلِ عزت سمجھے بھی جاسکتے ہیں مگر ان کے بیٹے محمد تو ابھی بالکل کم سن ہیں ایک بچے کو بڑے بڑے علماء اور معززین پر ترجیح دینا اور اس قدر اس کی عزت کرنا ہر گز خلیفہ کے لئے زیبا نہیں ہے پہر ام حبیبہ کانکاح جو امام رضا علیہ السّلام کے ساتھ کیا گیا تھا اس سے ھم کو کیا فائدہ پھنچا جو اب ام الفضل کانکاح محمد ابن علی علیہ السّلام کے ساتھ کیا جارھا ہے .
مامون نے ان تمام تقریر کا یہ جواب دیا کہ محمد کمسن ضرور ہیں مگر میں نے خوب اندازہ کرلیا ہے اوصاف وکمالات میں وہ اپنے باپ کے پورے جانشین ہیں اور عالم اسلام کے بڑے بڑے علماء جن کا تم حوالہ دے رھے ہو علم میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے .
اگر تم چاہو تو امتحان لے کر دیکہ لو پہر تمہیں بھی میرے فیصلے سے متفق ہونا پڑے گا یہ صرف منصفانہ جواب ھی نہیں بلکہ ایک طرح کا چیلنج تھا جس پر مجبوراً ان لوگوں کو مناظرے کی دعوت منظور کرنا پڑی حالانکہ خود مامون تمام سلاطین بنی عباس میں یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ مورخین اس کے لئے یہ الفاظ لکھ دیتے ہیں : کان بعد من کبار الفقھاء یعنی اس کا شمار بڑے فقیہوں میں ہے اس لئے اس کا فیصلہ خود کچہ کم وقعت نہ رکھتا تھا مگر ان لوگوں نے اس پر اکتفا نہیں کی بلکہ بغداد کے سب سے بڑے عالم یحییٰ بن اکثم کو امام محمدتقی علیہ السّلام سے بحث کے لئے منتخب کیا .
مامون نے ایک عظیم الشان جلسہ اس مناظرے کے لئے منعقد کیا اور عام اعلان کرادیا ہر شخص اس عجیب اور بظاہر غیر متوازی مقابلے کے دیکھنے کا مشتاق ہوگیا جس میں ایک طرف ایک اٹھ برس کابچہ تھا اور دوسری طرف ایک آزمود کار اور شہرۂ آفاق قاضی القضاة اسی کا نتیجہ تھا کہ ہر طرف سے خلائق کا ھجوم ہوگیا .مورخین کا بیان ہے کہ ارکان ُ دولت اور معززین کے علاوہ اس جلسے میں نوسوکرسیاں فقط علماء وفضلاء کے لئے مخصوص تہیں اور اس میں کوئی تعجب نہیں اس لئے کہ یہ زمانہ عباسی سلطنت کے شباب اوربالخصوص علمی ترقی کے اعتبار سے زریں دور تھا اور بغداد دارالسلطنت تھا جھاں تمام اطراف سے مختلف علوم وفنون کے ماہرین پہونچ کر جمع ہوگئے تھے اس اعتبار سے یہ تعداد کسی مبالغہ پر مبنی معلوم نہیں ہوتی-
مامون نے حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کے لئے اپنے پھلو میں مسند بچہوائی تھی اور حضرت کے سامنے یحییٰ ابن اکثم کے لئے بیٹھنے کی جگہ تھی- ہر طرف کامل سناٹا تھا- مجمع ھمہ تن چشم و گوش بنا ہوا گفتگو شروع ہونے کے وقت کا منتظر ھی تھا کہ اس خاموشی کو یحییٰ کے اس سوال نے توڑ دیا جو اس نے مامون کی طرف مخاطب ہو کر کھا تھا-
» حضور کیا مجھے اجازت ہے کہ میں ابو جعفر سے کوئی مسئلہ دریافت کروں؟
مامون نے کھا,
» تم کو خود ان ھی سے اجازت طلب کرنا چاھئے- «
یحیٰی امام کی طرف متوجہ ہوا اور کھا-
» کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ سے کچہ دریافت کروں؟
فرمایا-
» تم جو پوچھنا چاہو پوچھ سکتے ہو- «
یحیٰی نے پوچھا کہ
» حالت احرام میں اگر کوئی شخص شکار کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
« اس سوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ یحیٰی حضرت امام محمد تقی کی علمی بلندی سے بالکل واقف نہ تھا- وہ اپنے غرور علم اور جھالت سے یہ سمجھتا تھا کہ یہ کمسن صاحبزادےھی تو ہیں- روزمرہ روزے نماز کے مسائل سے واقف ہوں تو ہوں مگر حج وغیرہ کے احکام اور حالت احرام میں جن چیزوں کی ممانعت ہے ان کے کفاروں سے بھلا کھاں واقف ہوں گے-
امام علیہ السّلام نے اس کے جواب میں اس طرح سوال کے گوشوں کی الگ الگ تحلیل فرمائی, جس سے اصل مسئلے کا جواب دئے بغیر آپ کے علم کی گہرائیوں کا یحیٰی اور تمام اہل محفل کو اندازہ ہو گیا, یحیٰی خود بھی اپنے کو سبک پانے لگا اور تمام مجمع بھی اس کا سبک ہونا محسوس کرنے لگا- آپ نے جواب میں فرمایا کہ تمھارا سوال بالکل مبھم اور مجمل ہے-
یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ شکار حل میں تھا یا حرم میں، شکار کرنے والا مسئلے سے واقف تھا یا ناواقف، اس نے عمداً اس جانور کو مار ڈالا یا دہوکے سے قتل ہو گیا، وہ شخص آزاد تھا یا غلام، کمسن تھا یا بالغ، پھلی مرتبہ ایسا کیا تھا یا اس کے پھلے بھی ایسا کر چکا تھا، شکار پرندکا تھا یا کوئی اور، چہوٹا تھا یا بڑا ، وہ اپنے فعل پر اصرار رکھتا ہے یا پشیمان ہے، رات کو یا پوشیدہ طریقہ پر اس نے شکار کیا یا دن دھاڑے اورعلانیہ، احرام عمرہ کا تھا یا حج کا؟ جب تک یہ تمام تفصیلات نہ بتائی جائیں اس مسئلہ کا کوئی ایک معین حکم نہیں بتایا جا سکتا-
یحییٰ کتنا ھی ناقص کیوں نہ ہوتا بہرحال فقھی مسائل پربھی کچھ نہ کچھ اس کی نظر تھی- وہ ان کثیر التعداد شقوں کے پیدا کرنے ھی سے خوب سمجہ گیا کہ ان کا مقابلہ میرے لئے آسان نہیں ہے- اس کے چہرے پر ایسی شکستگی کے آثار پیداہوئے جن کاتمام دیکھنے والوں نے اندازہ کر لیا- اب اس کی زبان خاموش تھی اور وہ کچہ جواب نہ دیتا تھا-
مامون نے اس کی کیفیت کا صحیح اندازہ کر کے اس سے کچہ کھنا بیکار سمجھا اور حضرت علیہ السّلام سے عرض کیا کہ:
پھر آپ ہی ان تمام شقوں کے احکام بیان فرما دیجئے , تاکہ سب کو استفادہ کا موقع مل سکے- امام علیہ السّلام نے تفصیل کے ساتھ تمام صورتوں کے جداگانہ جو احکام تھے بیان فرمائے یحیٰی ھکا بکا امام علیہ السّلام کا منہ دیکہ رھا تھا اور بالکل خاموش تھا- مامون کو بھی ضد تھی کہ وہ اتمام حجت کو انتھائی درجے تک پھنچا دے اس لئے اس نے امام علیہ السّلام سے عرض کیا کہ اگر مناسب معلوم ہو تو آپ بھی یحییٰ سے کوئی سوال فرمائیں-
حضرت علیہ السّلام نے اخلاقاً یحییٰ سے یہ دریافت کیا کہ » کیا میں بھی تم سے کچہ پوچہ سکتا ہوں? « یحییٰ اب اپنے متعلق کسی دہوکے میں مبتلا نہ تھا, اپنا اور امام علیہ السّلام کا درجہ اسے خوب معلوم ہو چکا تھا- اس لئے طرز گفتگو اس کا اب دوسراھی تھا- اس نے کھا کہ حضور دریافت فرمائیں اگر مجھے معلوم ہو گا تو عرض کر دوں گا ورنہ خود حضور ھی سے معلوم کر لوں گا, حضرت نے سوال کیا- جس کے جواب میں یحییٰ نے کھلے لفظوں میں اپنی عاجزی کا اقرار کیا اور پہر امام نے خود اس سوال کا حل پیش فرما دیا- مامون کو اپنی بات کے بالا رھنے کی خوشی تھی- اس نے مجمع کی طرف مخاطب ہو کر کھا:
دیکہو میں نہ کھتا تھا کہ یہ وہ گہرانا ہے جو قدرت کی طرف سے علم کا مالک قرار دیا گیا ہے-
یہاں کے بچوں کا بھی کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا- مجمع میں جوش و خروش تھا-
سب نے یک زبان ہو کر کھا کہ بے شک جو آپ کی رائے ہے وہ بالکل ٹھیک ہے اور یقیناً ابو جعفر محمد ابن علی کا کوئی مثل نہیں ہے- مامون نے اس کے بعد ذرا بھی تاخیر مناسب نہیں سمجھی اور اسی جلسے میں امام محمد تقی علیہ السلام کے ساتھ ام الفضل کا عقد کر دیا- نکاح سے قبل جو خطبہ ہمارے یہاں عموماً پڑھا جاتا ہے وھی ہے جو کہ امام محمد تقی نے اس عقد کے موقع پر اپنی زبان مبارک پر جاری کیا تھا-
یہی بطور یادگار نکاح کے موقع پر باقی رکھا گیا ہے مامون نے اس شادی کی خوشی میں بڑی فیاضی سے کام لیا- لاکہوں روپیہ خیر و خیرات میں تقسیم کیا گیا اور تمام رعایا کو انعامات و عطیات کے ساتھ مالا مال کیا گیا-
مدینہ کی طرف واپسی
آپ شادی کے بعد تقریباً ایک سال تک بغداد میں مقیم رھے اس کے بعد مامون نے بہت اھتمام کے ساتھ ام الفضل کو حضرت کے ساتھ رخصت کر دیا اور امام مدینہ میں واپس تشریف لےآئے-
اخلاق و اوصاف امام محمد تقی علیہ السّلام
اخلاق واوصاف میں انسانیت کی اس بلندی پر تھے جس کی تکمیل رسول اور آل رسول کا طرہ امتیاز تھی کہ ہر ایک سے جھک کر ملنا، ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا، مساوات اور سادگی کو ہر حالت میں پیش نظر رکھنا، غربا کی پوشیدہ طور پر خبر لینا اور دوستوں کے علاوہ دشمنوں تک سے اچھا سلوک کرتے رھنا مھمانوں کی خاطر داری میں انھماک اور علمی اور مذھبی پیاسوں کے لئے فیصلہ کے چشموں کا جاری رکھنا آپ کی سیرت زندگی کا نمایاں پھلو تھا بالکل ویسا ھی جیسے اس سلسلہ عصمت کے دوسرے افراد کا تھا جس کے حالات اس سے پھلے لکھے جاچکے ہیں .
اھل دنیا کو جو کہ آپ کی بلندی نفس کا پورا اندازہ نہ رکھتے تھے ، یہ تصور ضرور ہوتا تھا کہ ایک کمسن بچے کا عظیم الشان مسلمان سلطنت کے شھنشاہ کا داماد ہوجانا یقیناً اس کے چال ڈھال اورطور طریقے کو بدل دے گا اور اس کی زندگی دوسرے سانچے میں ڈھل جائے گی.حقیقت میں یہ ایک بہت بڑا مقصد ہوسکتا ہے جو مامون کی کوتاہ نگاہ کے سامنے بھی تھا .بنی امیہ یابنی عباس کے بادشاہوں کا آل رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا کہ جتنا ان کے صفات سے ۔ وہ ھمیشہ اس کے درپے رھتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ میں قائم ہے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلے میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ہوا ہے ، کسی طرح ٹوٹ جائے اسی کے لئے گھبرا گھبرا کر وہ مختلف تدبیریں کرتے تھے. امام حسین علیہ السّلام سے بیعت طلب کرنا اسی کی ایک شکل تھی اورپہر امام رضا علیہ السّلام کو ولی عھد بنانا اسی کا دوسرا طریقہ , فقط ظاہری شکل وصورت میں ایک کا اندازہ معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ ارادات مندی کے روپ میں تھا مگر اصل حقیقت دونوں صورتوں میں ایک تھی جس طرح امام حسین علیہ السّلام نے بیعت نہ کی تو وہ شھید کر ڈالے گئے , اسی طرح امام رضا علیہ السّلام ولی عھد ہونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ ساتھ نہ چل سکے تو آپ کو زہر کے ذریعے سے ھمیشہ کے لئے خاموش کردیا گیا .
اب مامون کے نقطہ نظر سے یہ موقع انتھائی قیمتی تھا کہ امام رضا علیہ السّلام کا جانشین تقریباً آٹھ برس کابچہ ہے جو تین برس پھلے باپ سے چھڑا لیاجاچکا تھا حکومت وقت کی سیاسی سوجہ بوجہ کھہ رہی تھی کہ اس بچے کو اپنے طریقے پر لانا نھایت آسان ہے اوراس کے بعد وہ مرکز جو حکومت وقت کے خلاف ساکن اورخاموش مگر انتھائی خطرناک قائم ہے ھمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا .
مامون امام رضا علیہ السّلام کو ولی عھد ی کی مھم میں اپنی ناکامی کو مایوسی کاسبب نہیں تصور کرتا تھا ,ا س لئے کہ امام رضا علیہ السّلام کی زندگی ایک اصول پر قائم رہ چکی تھی .
ا س میں تبدیلی اگر نہیں ہوتی تو یہ ضروری نہیں کہ امام محمد تقی علیہ السّلام جو آٹہ برس کے سن میں قصر حکومت میں نشو نما پا کر بڑہیں وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پر بر قرا ر رھے .
سوائے ان لوگوں کے جوان مخصوص افراد کے خداداد کمالات کو جانتے تھے .اس وقت کا ہر شخص یقیناً مامون ھی کا ھم خیال ہوگا مگر دنیا تو حیران ہوگئی جب یہ دیکھا کہ وہ آٹھ برس کا بچہ جسے شہنشاہ اسلام کا داماد بنایا گیا ہے اس عمر میں اپنے خاندانی رکہ رکھاؤ اور اصول کااتنا پابند ہے کہ وہ شادی کے بعد شاھی محل میں قیام سے انکار کردیتا ہے اور اس وقت بھی کہ جب بغداد میں قیام رھتا ہے تو ایک علیحدہ مکان کرایہ پر لے کر اس میں قیام فرماتا ہے
اس سے بھی امام علیہ السّلام کی مستحکم قوتِ ارادی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے عموماً مالی اعتبار سے لڑکی والے کچہ بھی بڑا درجہ رکھتے ہوتے ہیں تو وہ یہ پسند کرتے ہیں کہ جھاں وہ رہیں وہیں داماد بھی رھے اس گہر میں نہ سھی تو کم از کم اسی شہر میں اس کا قیام رھے مگر امام محمد تقی علیہ السّلام نے شادی کے ایک سال بعد ھی مامون کو حجاز واپس جانے کی اجازت دینے پر مجبور کردیا یقیناً یہ امر ایک چاھنے والے باپ اور مامون ایسے بااقتدار کے لئے انتھائی ناگوار تھا مگر اسے لڑکی کی جدائی گوارا کرنا پڑی اور امام علیہ السّلام مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے .
مدینہ میں تشریف لانے کے بعد ڈیوڑھی کا وھی انداز رھا جو اس سے پھلے تھا نہ پہریدار نہ کوئی خاص روک ٹوک , نہ تزک واحتشام نہ اوقات ملاقات، نہ ملاقاتیوں کے ساتھ برتاؤں میں کوئی تفریق زیادہ تر نشست مسجد نبوی میں رھتی تھی جھاں مسلمان حضرات کی وعظ ونصیحت سے فائدہ اٹھاتے تھے راویان حدیث دریافت کرتے تھے طالب علم مسائل پوچھتے تھے صاف ظاہر تھا کہ آپ امام جعفرصادق علیہ السّلام ھی کے جانشین ہیں جو اسی مسند علم پر بیٹھے ہوئے ھدایت کاکام انجام دے رھے ہیں .
امور خانہ داری اور ازدواجی زندگی میں آپ کے بزرگوں نے ا پنی بیویوں کو جن حدود میں رکھا تھا ان ھی حدود میں آپ نے ام الفضل کو رکھا آپ نے اس کی مطلق پروا نہیں کی کہ آپ کی بیوی ایک شھنشاہ وقت کی بیٹی ہیں چنانچہ ام الفضل کے ہوتے آپ نے حضرت عمار یاسرکی نسل سے ایک محترم خاتون کے ساتھ عقد بھی کیا اور قدرت کو نسلِ امامت اسی خاتون سے باقی رکھنا منظور تھا یھی امام علی نقی علیہ السّلام کی ماں ہوئیں ام الفضل نے اس کی شکایت اپنے باپ کے پاس لکہ کر بھیجی مامون کے د ل کے لئے بھی یہ کچہ کم تکلیف دہ امر نہ تھا مگر اسے اب اپنے کیے کو نباھنا تھا اس نے ام الفضل کو جواب لکھا کہ میں نے تمھارا عقد ابو جعفر علیہ السّلام کے ساتھ اس لئے نہیں کیا ہے کہ ان پر کسی حلالِ خدا کو حرام کردوں مجھ سے اب اس قسم کی شکایت نہ کرنا.
جواب دے کر حقیقت میں اس نے اپنی خفت مٹائی ہے ہمارے سامنے اس کی نظیریں موجود ہیں کہ اگر مذھبی حیثیت سے کوئی بااحترام خاتون ہوئی ہے تو اس کی زندگی میں کسی دوسری بیوی سے نکاح نہیں کیا گیا جیسے پیغمبر کے لئے جناب خدیجة کبریٰ علیہ السّلام اور حضرت علی المرتضیٰ علیہ السّلام کے لئے جناب فاطمہ زہرا علیھا السّلام مگر شھنشاہ دنیا کی بیٹی کو یہ امتیاز دینا صرف اس لئے کہ وہ بادشاہ کی بیٹی ہے، اسلام کی اس روح کے خلاف تھا جس کے آل محمد محافظ تھے اس لئے امام محمدتقی علیہ السّلام نے اس کے خلاف طرزِ عمل اختیار کرنا اپنا فریضہ سمجھا .
تبلیغ وہدایت
آپ کی تقریر بہت دلکش اور پر تاثیر ہوتی تھی ایک مرتبہ زمانہ حج میں مکہ معظمہ میں مسلمانوں کے مجمع میں کھڑے ہو کر آپ نے احکام شرع کی تبلیغ فرمائی تو بڑے بڑے علماء دم بخود رہ گئے اور انہیں اقرار کرنا پڑا کہ ھم نے ایسی جامع تقریر کبھی نہیں سنی۔ امام رضا علیہ السّلام کے زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہوگیا تھا جو امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام پر توقف کرتا تھا
یعنی آپ کے بعد امام رضا علیہ السّلام کی امامت کاقائل نہیں تھا اور اسی لئے واقفیہ کھلاتا تھا امام محمد تقی نے اپنے کردار سے اس گروہ میں ایسی کامیاب تبلیغ فرمائی کہ سب اپنے عقیدے سے تائب ہوگئے اور آپ کے زمانہ ھی میں کوئی ایک شخص ایسا باقی نہ رہ گیا جو اس مسلک کا حامی ہو بہت سے بزرگ مرتبہ علماء نے آپ سے علوم اہل بیت علیہ السّلام کی تعلیم حاصل کی
آپ کے ایسے مختصر حکیمانہ اقوال کابھی ایک ذخیرہ ہے جیسے آپ کے جدِ بزرگوار حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السّلام کے کثرت سے پائے جاتے ہیں.
جناب امیر علیہ السّلام کے بعد امام محمدتقی علیہ السّلام کے اقوال کو ایک خاص درجہ حاصل ہے الٰھیات اور توحیدکے متعلق آپ کے بعض بلند پایہ خطبے بھی موجود ہیں
عراق کاآخری سفر
۲۱۸ ھ میں مامون نے دنیا کو خیر باد کھا .اب مامون کا بھائی اور ام الفضل کاچچا موتمن جو امام رضا کے بعد ولی عھد بنایاجاچکا تھا تخت سلطنت پر بیٹھا اور معتصم بالله عباسی کے نام سے مشہور ہوا اس کے بیٹھتے ھی امام محمد تقی علیہ السّلام سے متعلق ام الفضل کے اس طرح کے شکایتی خطوط کی رفتار بڑھ گئی جس طرح کہ اس نے اپنے باپ مامون کو بھیجے تھے مامون نے چونکہ تمام بنی عباس کی مخالفتوں کے بعد بھی اپنی لڑکی کا نکاح امام محمد تقی علیہ السّلام کے ساتھ کردیا تھا اس لئے اپنی بات اور کیے کی لآج رکھنے کی خاطر ا س نے ان شکایتوں پر کوئی خاص توجہ نہیں کی بلکہ مایوس کردینے والے جواب سے بیٹی کی زبان بند کردی تھی مگر معتصم کو جو امام رضا علیہ السّلام کی ولی عھدی کاداغ اپنے سینہ پراٹھائے ہوئے تھا اور امام محمدتقی علیہ السّلام کو داماد بنائے جانے سے تمام بنی عباس کے نمائندے کی حیثیت سے پھلے ھی اختلاف کرنے والوں میں پیش پیش رہ چکا تھا ، اب ام الفضل کے شکایتی خطوں کو اھمیت دے کر اپنے اس اختلاف کو جو اس نکاح سے تھا ، حق بجانب ثابت کرنا تھا , پہر سب سے زیادہ امام محمدتقی علیہ السّلام کی علمی مرجعیت، آپ کے اخلاقی اثر کی شہرت جو حجاز سے بڑھ کر عراق تک پہونچی ہوی تھی وہ بنائے مخاصمت جو معتصم کے بزرگوں کو امام محمد تقی علیہ السّلام کے بزرگوں سے رہ چکی تھی او ر پہر اس سیاست کی ناکامی اور منصوبے کی شکست کا محسوس ہوجانا جو اس عقد کامحرک ہوا تھا جس کی تشریح پھلے ہوچکی ہے یہ تمام باتیں تہیں کہ معتصم مخالفت کے لئے آمادہ ہوگیا اپنی سلطنت کے دوسرے ھی سال امام محمدتقی علیہ السّلام کو مدینہ سے بغداد کی طرف بلو ابھیجا حاکم مدینہ عبدالمالک کو اس بارے میں تاکید ی خط لکھا مجبوراً امام محمد تقی علیہ السّلام اپنے فرزند امام علی نقی علیہ السّلام اور ان کی والدہ کو مدینہ میں چہوڑ کر بغداد کی طرف روانہ ہوئے
شہادت
بغداد میں تشریف لانے کے بعد تقریباً ایک سال تک معتصم نے بظاہر آپ کے ساتھ کوئی سختی نہیں کی مگر آپ کا یہاں کا قیام خود ھی ایک جبری حیثیت رکھتا تھا جسے نظر بندی کے علاوہ اور کیا کھا جاسکتا ہے
اس کے بعد اسی خاموش حربے سے جو اکثر اس خاندان کے بزرگوں کے خلاف استعمال کیا جاچکا تھا، آپ کی زندگی کاخاتمہ کردیا گیا اور ۲۹ ذی القعدہ ۲۲۰ ھ میں زہر سے آپ کی شھادت ہوئی ۔ اپنے جدِ بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم کے پاس دفن ہوئے
آپ ہی کی شرکت کالحاظ کرکے عربی کے قاعدے سے اس شہر کانام کاظمین (دوکاظم یعنی غصہ کوضبط کرنے والے) مشہور ہوا ہے اس میں حضرت موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے لقب کوصراحةً سامنے رکھا گیا
جبکہ موجودہ زمانے میں اسٹیشن کانام جوادّین (دوجواد یعنی فیاض) درج ہے جس میں صراحةً حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کے لقب کو ظاہرکیاجارھا ہے چونکہ آپ کالقب تقی بھی تھا اور جواد بھی .
رضوی سیّد
یہ ایک حقیقت ہے کہ جتنے سادات رضوی کھلاتے ہیں وہ دراصل تقوی ہیں یعنی حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کی اولاد ہیں
اگر حضرت امام رضا علیہ السّلام کی اولاد امام تقی علیہ السّلام کے علاوہ کسی اور فرزند کے ذریعے سے بھی ہوتی تو امتیاز کے لئے وہ اپنے کو رضوی کھتی اور امام محمد تقی علیہ السّلام کی اولاد اپنے کو تقوی کھتی
مگر چونکہ امام رضا علیہ السّلام کی نسل صرف امام محمد تقی علیہ السّلام سے چلی اور حضرت امام رضا علیہ السّلام کی شخصی شہرت سلطنتِ عباسیہ کے ولی عھد ہونے کی وجہ سے جمہور مسلمین میں بہت ہوچکی تھی اس لئے تمام اولاد کاحضرت امام رضا علیہ السّلام کی طرف منسوب کرکے تعارف کیاجانے لگا اور رضوی کے نام سے مشہور ہوئے ۔
حوالہ جات
۱. طبری، دلائل الامامہ، ۱۴۱۳ھ، ص۳۹۶
۲. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۴۹۲؛ مسعودی، اثبات الوصیہ، ۱۴۲۶ھ، ص۲۱۶
۳. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، نشر علامہ، ج۴، ص۳۷۹
۴. کلینی، اصول کافی، ج۱، ص۳۱۵و۴۹۲۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۵۰، ص۱۔
۵. اربلی، کشف الغمہ، ۱۴۲۱ھ، ج۲، ص۸۵۷
۶. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۸۱
۷. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، نشر علامہ، ج۴، ص۳۷۹؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۵۰، ص۱۲، ۱۳
۸. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۹۵
۹. طوسی، مصباح المتہجد، المکتبۃ الاسلامیۃ، ص۸۰۵
۱۰. طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۴۱
۱۱. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۹۷
۱۲. بحرانی، عوالم العلوم و المعارف، قم، ج۲۳، ص۵۵۳
۱۳. مسعودی، اثبات الوصیۃ، ۱۴۲۶ق، ص۲۲۳
۱۴. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۸، ص۶۴۶
۱۵. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۹۵
۱۶. اشعری، المقالات و الفرق، ۱۳۶۱ش، ص۹۹؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۱۰۶
۱۷. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۷۳؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ھ، ج۲، ص۹۱
۱۸. نگاه کریں: طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ھ، ج۲، ص۹۱؛ ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ۱۳۷۹ھ، ج۴، ص۳۷۹
۱۹. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۷۳؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ھ، ج۲، ص۹۱
۲۰. برای نمونہ نگاه کریں: اشعری، المقالات و الفرھ، ۱۳۶۱یجری شمسی، ص۹۹
۲۱. اربلی، کشف الغمہ، ۱۴۲۱ھ، ج۲، ص۸۶۷؛ مسعودی، اثبات الوصیہ، ۱۴۲۶ھ، ص۲۱۶؛ ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ۱۳۷۹ھ، ج۴، ص۳۷۹
۲۲. ابن فتال، روضة الواعظین، ۱۳۷۵ھ، ج۱، ص۲۴۳
۲۳. طوسی، مصباح المتهجد، المکتبة الاسلامیة، ص۸۰۵
۲۴. نگاه کریں: کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۳۲۰
۲۵. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۵۰، ص۲۰،۲۳،۳۵
۲۶. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۳۲۳
۲۷. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱یجری شمسی، ص۴۷۶
۲۸. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱یجری شمسی، ص۴۷۶-۴۷۷
۲۹. بیهقی، تاریخ بیهھ، ۱۳۶۱یجری شمسی، ص۴۶
۳۰. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ھ، ج۸، ص۵۶۶
۳۱. مسعودی، اثبات الوصیة، ۱۴۲۶ھ، ص۲۲۳
۳۲. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعه، ۱۳۸۱ ش، ص ۴۷۸
۳۳. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱یجری شمسی، ص۴۷۸
۳۴. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج۱۰، ص۲۹۵۔
۳۵. برای نمونہ نگاه کریں: مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۸۱
۳۶. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دارصادر، ج۲، ص۴۵۵
۳۷. مفید، الارشاد، ۱۳۷۲یجری شمسی، ج۲، ص۲۸۱-۲۸۲
۳۸. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱یجری شمسی، ص۴۷۸
۳۹. پیشوایی، سیره پیشوایان، ۱۳۷۹یجری شمسی، ص۵۵۸
۴۰. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۸۱؛ ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ۱۳۷۹ھ، ج۴، ص۳۸۰-۳۸۱
۴۱. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۸۵
۴۲. ابنشهرآشوب، مناقب آل ابیطالب، نشر علامہ، ج۴، ص۳۸۰
۴۳. قمی، منتہی الامال، ج۲، ص۲۳۵۔
۴۴. حسّون، أعلام النساء المؤمنات، ۱۴۲۱ھ، ص۵۱۷
۴۵. قمی، منتهی الامال، ۱۳۸۶یجری شمسی، ج۲، ص۴۹۷
۴۶. مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۸۴۔
۴۷. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج ۴،ص ۳۸۰۔
۴۸. محلاتی، ریاحین الشریعہ، ج۴، ص۳۱۶؛ شیخ عباس قمی، منتهی الامال، ج۲، ص۴۳۲
۴۹. بحرالعلوم گیلانی، انوار پراکنده در ذکر احوال امامزادگان و بقاع متبرکه ایران، ۱۳۷۶یجری شمسی، ج۱، ص۳۷۸
۵۰. بحرالعلوم گیلانی، انوار پراکنده در ذکر احوال امامزادگان و بقاع متبرکه ایران، ۱۳۷۶یجری شمسی، ج۱، ص۳۷۸
۵۱. ملاحظہ کیجیے: ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، نشر علامہ، ج۴، ص۳۸۰
۵۲. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۹۵
۵۳. ابن ابی الثلج، تاریخ الائمة، ۱۴۰۶ھ، ص۱۳
۵۴. اشعری، المقالات و الفرھ، ۱۳۶۱یجری شمسی، ص۹۹؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ھ، ج۲، ص۱۰۶
۵۵. ابن ابی الثلج، تاریخ الائمة، ۱۴۰۶ھ، ص۱۳
۵۶. ابن فتال، روضة الواعظین، ۱۳۷۵ھ، ج۱، ص۲۴۳
۵۷. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۹۵
۵۸. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۷۳، ۲۹۵
۵۹. نگاه کریں: عیاشی، تفسیر، ۱۳۸۰ھ، ج۱، ص۳۲۰
۶۰. عیاشی، تفسیر، ج۱، ص۳۲۰۔
۶۱. عاملی، زندگانی سیاسی امام جواد، ص۱۵۳۔
۶۲. المسعودی، اثبات الوصیۃ للامام علی بن ابی طالب علیہ السلام، ص۱۹۲۔
۶۳. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، نشر علامہ، ج۴، ص۳۹۱
۶۴. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، نشر علامہ، ج۴، ص۳۸۴؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۵۰، ص۸
۶۵. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۹۵
۶۶. شیخ مفید، تصحیح اعتقادات الامامیہ، ۱۴۱۴ھ، ص۱۳۲
۶۷. صدوھ، من لا یحضره الفقیہ، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۵۸۵
۶۸. صدر، تاریخ الغیبه، ۱۴۱۲ھ، ج۱، ص۲۲۹-۲۳۷۔
۶۹. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱یجری شمسی، ص۴۸۱-۴۸۲
۷۰. نگاه کریں: عاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ۱۴۲۶ھ، ج۳۳، ص۱۸۱-۱۹۳۔
۷۱. طبری، دلائل الامامہ، ۱۴۱۳ھ، ص۳۹۴
۷۲. پیشوایی، سیره پیشوایان، ۱۳۷۹یجری شمسی، ص۵۳۰
۷۳. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۷۳
۷۴. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۹۵
۷۵. کلینی، الکافی، ج۱، ۱۴۰۷ھ، ص۳۲۰-۳۲۳
۷۶. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۷۴-۲۸۰
۷۷. طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ھ، ج۲، ص۹۲-۹۶
۷۸. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۵۰، ص۱۸-۳۷
۷۹. شیخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۶۵۔
۸۰. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۶۶
۸۱. نگاه کریں: جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱یجری شمسی، ص۴۷۶
۸۲. نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ھ، ص۸۸
۸۳. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، نشر علامہ، ج۴، ص۳۸۳
۸۴. نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ھ، ص۷۷-۷۸
۸۵. جاسم، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدهم، ۱۳۸۶یجری شمسی، ص۷۸
۸۶. نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ھ، ص۸۸
۸۷. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۳۲۲
۸۸. سوره مریم، آیہ ۱۲
۸۹. سوره مریم، آیات ۳۰-۳۲
۹۰. نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ھ، ص۹۰؛ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۳۸۲
۹۱. نگاه کریں: کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۳۸۳
۹۲. برای نمونہ نگاه کریں: کلینی، الکافی، ج۱، ۱۴۰۷ھ، ص۳۲۰-۳۲۳
۹۳. پیشوایی، سیره پیشوایان، ۱۳۷۹یجری شمسی، ص۵۳۹
۹۴. برای نمونہ نگاه کریں: کشّی، رجال، ص۲۸۲-۲۸۳
۹۵. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱یجری شمسی، ص۴۷۶
۹۶. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱یجری شمسی، ص۴۷۶
۹۷. جاسم، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدهم، ۱۳۸۶یجری شمسی، ص۷۸
۹۸. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، نشر علامہ، ج۴، ص۳۸۳
۹۹. طبری، دلائل الامامة، ۱۴۱۳ھ، ص۳۹۰-۳۸۹؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۵۰، ص۹۹-۱۰۰
۱۰۰. جاسم، حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ص۷۹۔
۱۰۱. جباری، سازمان وکالت، ۱۳۸۲یجری شمسی، ج۲، ص۴۲۷
۱۰۲. جباری، سازمان وکالت، ۱۳۸۲یجری شمسی، ج۲، ص۲۸۲
۱۰۳. جباری، سازمان وکالت، ۱۳۸۲یجری شمسی، ج۱، ص۱۲۳
۱۰۴. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۵، ص۳۱۶
۱۰۵. نگاه کریں: طوسی، الغیبہ، ۱۴۲۵ھ، ص۳۵۱
۱۰۶. طوسی، الغیبہ، ۱۴۲۵ھ، ص۳۴۸
۱۰۷. طوسی، الغیبہ، ۱۴۲۵ھ، ص۳۴۹
۱۰۸. نجاشی، رجال النجاشی، ۱۳۶۵یجری شمسی، ص۱۹۷
۱۰۹. نجاشی، رجال النجاشی، ۱۳۶۵یجری شمسی، ص۲۵۳؛ نگاه کریں: طوسی، الغیبہ، ۱۴۲۵ھ، ص۳۴۹
۱۱۰. راوندی، الخرائج و الجرائح، ۱۴۰۹ھ، ج۲، ص۷۱۷
۱۱۱. جباری، سازمان وکالت، ۱۳۸۲یجری شمسی، ج۲، ص۵۳۲
۱۱۲. کشی، رجال الکشی، ص۱۴۰۹ُ، ص۶۰۶
۱۱۳. « بیانات در سالروز شهادت امام جواد علیهالسلام در مهدیه تهران »
۱۱۴. دشتی، نقش سیاسی سازمان وکالت در عصر حضور ائمہ، ص۱۰۳
۱۱۵. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱یجری شمسی، ص۴۹۴
۱۱۶. رجوع کریں: كلینی، ج۳، ص۳۹۹، ج۴، ص۲۷۵، ۵۲۴، ج۵، ص۳۴۷۔ كشّی، الرجال، ص۶۱۰- ۶۱۱۔
۱۱۷. ج۲، ص۴۱۶ ـ ۵۰۸۔
۱۱۸. نمونے کے طور پر رجوع کریں: كلینی، الکافی، ج۳، ص۳۳۱، ۳۹۸، ج۵، ص۳۹۴، ج۷، ص۱۶۳۔ كشّی، رجال، ص۶۰۶، ۶۱۱۔
۱۱۹. سوره انعام، آیہ ۱۰۳
۱۲۰. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۹۹
۱۲۱. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۴۸ ص۲۶۷؛ عطاردی، مسند الامام الجواد، ۱۴۱۰ھ، ص۱۵۰
۱۲۲. کشی، رجال الکشی، ۱۴۰۹ھ، ص۴۶۰
۱۲۳. سوره غاشیہ، آیات ۲ و۳
۱۲۴. کشی، رجال الکشی، ۱۴۰۹ھ، ص۲۲۹، ۴۶۰
۱۲۵. صدوھ، من لا یحضر، ۱۴۱۳ھ، ج۱، ص۳۷۹؛ طوسی، تهذیب، ۱۴۰۷ھ، ج۳، ص۲۸
۱۲۶. کشی، رجال الکشی، ۱۴۰۹ھ، ص۵۲۹-۵۲۸
۱۲۷. کشی، رجال الکشی، ۱۴۰۹ھ، ص۵۲۹-۵۲۸
۱۲۸. کشی، رجال الکشی، ۱۴۰۹ھ، ص۵۲۹-۵۲۸
۱۲۹. نگاه کریں: حاجی زاده، « غالیان در دوره امام جواد(ع) و نوع برخورد حضرت با آنان » ، ص۲۲۶
۱۳۰. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۱، ص۴۴۱
۱۳۱. عطاردی، مسند الامام الجواد، ۱۴۱۰ھ، ص۲۴۹
۱۳۲. سید ابن طاووس، منهج الدعوات، ۱۴۱۱ھ، ص۳۹-۴۲
۱۳۳. سید ابن طاووس، منهج الدعوات، ۱۴۱۱ھ، ص۴۲
۱۳۴. نگاه کریں: دهخدا، لغت نامہ، ذیل « حرز جواد »
۱۳۵. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ص۴۴۳
۱۳۶. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ھ، ص۴۴۱-۴۴۹؛ میانجی، مکاتیب الائمہ (ع)، ج۵ ص۳۸۱٬۴۲۷ و
۱۳۷. تفصیل کے لئے رجوع کریں: | یحیی بن اکثم سے امام جواد (علیہ السلام) کا مناظرہ۔
۱۳۸. طبرسی، احتجاج، ص۴۴۳و۴۴۴۔ مسعودی، اثبات الوصیۃ للامام علی بن ابی طالب علیہ السلام، صص ۱۸۹-۱۹۱۔
۱۳۹. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۵۰، ص۷۸
۱۴۰. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۵۰، ص۷۵
۱۴۱. طبرسی، احتجاج، ج۲، ص۴۷۸۔
۱۴۲. سيوطی، الدر المنثور ج۴ ص۱۰۷۔ كنز العمال ج۱۱ ص۵۶۹ ح۳۲۶۹۵۔ ابو نعیم اصفہاني، حليۃ الاَولياء، ج۴ ص۳۰۴ اصبہانی یا اصفہانی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غیر مانوس اور غريب ہے اور اس کا واحد راوی رباح ہے جس نے اسے ابن عجلان سے نقل کیا ہے۔
۱۴۳. طبرسی، احتجاج، ج۲، ص۴۷۸۔ مناظرے کی تفصیل کے لئے رجوع کریں:| امام محمد تقی (علیہ السلام) اور جعلی احادیث کا مقابلہ۔
۱۴۴. سوره جن، آیت ۱۸۔
۱۴۵. عیاشی، کتاب التفسیر، ج۱،صص ۳۱۹و۳۲۰۔ مجلسی، بحار الانوار،ج۵۰، ص۵و۶۔
۱۴۶. قرشی، حیاة الامام محمد الجواد، ۱۴۱۸ھ، ص۷۰-۷۱
۱۴۷. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۴، ص۴۳۔
۱۴۸. قرشی، حیاة الامام محمد الجواد، ۱۴۱۸ھ، ص۶۷-۶۸
۱۴۹. سید ابن طاووس، ۱۴۱۵ھ، الدروع الواقیه، ص۴۴
۱۵۰. باغستانی، « الجواد، امام » ، ص۲۴۵ و ۲۴۶
۱۵۱. قمی، منتهی الآمال، ۱۳۸۶یجری شمسی، ج۲، ص۴۶۹-۴۷۰
۱۵۲. ابنشهرآشوب، مناقب آل ابیطالب، نشر علامه، ج۴، ص۳۹۰؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۲۷۸
۱۵۳. طوسی، رجال الطوسی، ۱۳۷۳یجری شمسی، ص۳۷۳-۳۸۳
۱۵۴. قرشی، حیاة الامام محمد الجواد، ۱۴۱۸ھ، ص۱۲۸-۱۷۸
۱۵۵. شبستری، سبل الرشاد، ۱۴۲۱ھ، ص۱۹-۲۸۹
۱۵۶. عطاردی، مسند الامام الجواد، ۱۴۱۰ھ، ص۲۴۹
۱۵۷. برقی، ص۵۷
۱۵۸. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱یجری شمسی، ص۴۹۱
۱۵۹. عطاردی، مسند الامام الجواد، ۱۴۱۰ھ، ص۳۱۴، ۳۱۵، ۲۶۲، ۲۸۳، ۳۱۹، ۲۷۱
۱۶۰. واردی، گونہ شناسی راویان امام جواد، ص۳۰-۳۱
۱۶۱. ملاحظہ کریں: طوسی، رجال الطوسی، ۱۴۱۵ھ، ص۳۷۳-۳۸۳
۱۶۲. نگاه کنید به طبسی، « امام جواد(ع) به روایت اهل سنت » ، فصلنامه فرهنگ کوثر
۱۶۳. هیثمی، الصواعق المحرقة، ۱۴۲۴ھ، ص۲۸۸
۱۶۴. سبط ابنجوزی، تذکرة الخواص، ۱۴۱۸ھ، ص۳۲۱
۱۶۵. ذهبی، تاریخ الاسلام، ۱۴۰۷ھ، ج۱۵، ص۳۸۵
۱۶۶. ابنتیمیه، منهاج السنه، ۱۴۰۶ھ، ج۴، ص۶۸-۶۹
۱۶۷. عاملی، الحیاة السیاسیة للامام الجواد، ۱۴۲۵ھ، ص۱۳۷
۱۶۸. نصیبی شافعی، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، مؤسسه البلاغ، ص۳۰۳
۱۶۹. راوندی، دعوات الراوندی، ۱۴۰۷ھ، ص۱۹۱، ح۵۳۰؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۹۱، ص۳۵
۱۷۰. مفید، المزار، ۱۴۱۳ھ، ص۲۰۷
۱۷۱. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۴، ص۵۸۳-۵۸۴
۱۷۲. « برپایی دسته عزای خادمان حرم حضرت معصومه (س) در سالروز شهادت امامجواد( ع)» ، ایسنا
مآخذ
· ابنشعبه حرانی، حسن بن علی، تحف العقول، تصحیح علیاکبر غفاری، قم، جامعه مدرسین، ۱۴۰۴ھ۔
· ابنابیالثلج، تاریخ الائمة، در مجموعه نفیسه فی تاریخ الائمه، چاپ محمود مرعشی، قم، کتابخانه آیتاللّه مرعشی نجفی، ۱۴۰۶ھ۔
· ابنتیمیه، احمد بن عبدالحلیم، منهاج السنة النبویة فی نقض کلام الشیعة القدریة، تحقیق محمد رشاد سالم، ریاض، جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامیة، چاپ اول، ۱۴۰۶ق-۱۹۸۶م
· ابنشهرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابیطالب، تحقیق هاشم رسولی، قم، نشر علامه، بیتا
· ابنکثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایة و النهایة، تحقیق علی شیری، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۸ھ۔
· احمدی میانجی، علی، مکاتیب الائمه(ع)، تحقیق مجتبی فرجی، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۶ھ۔
· اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمه فی معرفة الائمه، قم، رضی، ۱۴۲۱ھ۔
· اشعری، سعد بن عبدالله، المقالات و الفرھ، تهران، مرکز انتشارات علمی و فرهنگی، ۱۳۶۱ہجری شمسی۔
· انجمن تاریخ پژوهان حوزه، مجموعه مقالات همایش سیره و زمانه امام جواد علیهالسلام، به کوشش: حمیدرضا مطهری، قم، مرکز مدیریت حوزههای علمیه، ۱۳۹۵ہجری شمسی۔
· باغستانی، اسماعیل، « الجواد، امام » ، در دانشنامه جهان اسلام، ج۱۱، تهران، بنیاد دایرةالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۶ہجری شمسی۔
· بحرالعلوم گیلانی، محمدمهدی، انوار پراکنده در ذکر احوال امامزادگان و بقاع متبرکه ایران، قم، انتشارات مسجد مقدس جمکران، چاپ اول، ۱۳۷۶ہجری شمسی۔
· بحرانی، عبدالله، عوالم العلوم و المعارف، مستدرک- حضرت زهرا تا امام جواد(ع)، مؤسسة الإمام المهدی عجّل الله تعالی فرجه الشریف، قم
· « برپایی دسته عزای خادمان حرم حضرت معصومه (س) در سالروز شهادت امام جواد(ع) » ، ایسنا، تاریخ نشر: ۶ تیر ۱۴۰۱ہجری شمسی، تاریخ بازدید: ۹ تیر ۱۴۰۱ہجری شمسی۔
· « بیانات در سالروز شهادت امام جواد علیهالسلام در مهدیه تهران » ، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای، بازدید ۲۲ آبان ۱۴۰۲ہجری شمسی۔
· بیهقی، علی بن زید، تاریخ بیهھ، تحقیق احمد بهمنیار، تهران، انتشارات فروغی، ۱۳۶۱ہجری شمسی۔
· پیشوایی، مهدی، سیره پیشوایان، قم، مؤسسه امام صادھ، ۱۳۷۹ہجری شمسی۔
· جاسم، حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدهم، ترجمه محمدتقی آیت اللهی، تهران، مؤسسه انتشارات امیر کبیر، ۱۳۸۶ہجری شمسی۔
· جباری، محمدرضا، سازمان وکالت و نقش آن در عصر ائمه علیهمالسلام، قم، مؤسسه آموزشی پژوهشی امام خمینی،۱۳۸۲ش
· جعفریان، رسول، حیات فکری سیاسی امامان شیعه(ع)، قم، انصاریان، چاپ پنجم، ۱۳۸۱ہجری شمسی۔
· حاجیزاده، یدالله، « غالیان در دوره امام جواد(ع) و نوع برخورد حضرت با آنان » ، در مجلہ تاریخ اسلام، شماره۶۵، بهار۱۳۹۵ہجری شمسی۔
· حَسّون، محمد، أعلام النساء المؤمنات، تهران، دارالاسوه، ۱۴۲۱ھ۔
· خزعلی، ابوالقاسم، موسوعة الامام الجواد علیهالسلام، قم، مؤسسه ولی العصر علیهالسلام للدراسات الاسلامیه، ۱۴۱۹ھ۔
· دشتی، محمد، « نقش سیاسی سازمان وکالت در عصر حضور ائمه علیهمالسلام » ، فصلنامه فرهنگ جهاد، قم، وزارت جهاد کشاوزی، تابستان ۱۳۸۴
· ذهبی، شمسالدین، تاریخ الاسلام و وفیات المشاهیر و الأعلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، دار الکتاب العربی، چاپ اول، ۱۴۰۷ھ۔
· سبط بن جوزی، یوسف بن قزاوغلی، تذکرة الخواص، قم، الشریف الرضی، ۱۴۱۸ھ۔
· سید ابن طاووس، علی بن موسی، الدروع الواقیه، بیروت، مؤسسة آل البیت، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م
· سید ابن طاووس، علی بن موسی، مهج الدعوات و منهج العبادات، تصحیح ابوطالب کرمانی و محمدحسن محرر، قم، دار الذخائر، ۱۴۱۱ھ۔
· شبستری، عبدالحسین، سبل الرشاد الی اصحاب الامام الجواد علیهالسلام، قم، کتابخانه تخصصی تاریخ اسلام و ایران، ۱۴۲۱ھ۔
· شفیعی، علی، آثار و برکات دعا، تصحیح و تعلیق محمدحسین شفیعی شاهرودی، قم، مؤسسه میراث نبوت، چاپ اول، ۱۴۰۰ہجری شمسی۔
· صدر، سید محمد، تاریخ الغیبه، بیروت، دارالتعارف، ۱۴۱۲ھ۔
· صدوھ، محمد بن علی، التوحید، تصحیح: هاشم حسینی، قم، جامعه مدرسین، ۱۳۹۸ھ۔
· صدوھ، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا، ترجمه: علی اکبر غفاری، تهران، نشر صدوھ، ۱۳۷۳ہجری شمسی۔
· صدوھ، محمد بن علی، من لایحضره الفقیه، تصحیح: علی اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابسته به جامع مدرسین حوزه علمیه قم، چاپ دوم، ۱۴۱۳ھ۔
· طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، مشهد، نشر المرتضی، ۱۴۰۳ھ۔
· طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الهدی، قم، مؤسسة آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۱۷ھ۔
· طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراهیم، بیروت، دارالتراث، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م
· طبری، محمد بن جریر، دلائل الامامة، قم، تصحیح: قسم الدراسات الاسلامیة مؤسسة البعثة، قم، بعثت، ۱۴۱۳ھ۔
· طبسی، محمدمحسن، « امام جواد(ع) به روایت اهل سنت » ، فصلنامه فرهنگ کوثر، شماره ۶۵، بهار ۱۳۸۵ہجری شمسی۔
· طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفة الرجال، تصحیح: حسن مصطفوی، مشهد، دانشگاه مشهد، ۱۳۴۸ہجری شمسی۔
· طوسی، محمد بن حسن، تهذیب الاحکام، تصحیح: حسن موسوی خرسان، تهران، دارالکتب الاسلامیه، چاپ: چهارم، ۱۴۰۷ھ۔
· طوسی، محمد بن حسن، کتاب الغیبه، تحقیق: عبادالله تهرانی و علی احمد ناصح، قم، مؤسسة المعارف الاسلامیه، ۱۴۲۵ھ۔
· طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتهجد، قم، المکتبة الاسلامیة، بیتا
· عاملی، سید جعفر مرتضی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۶ھ۔
· عاملی، سید جعفر مرتضی، الحیاة السیاسیة للامام الجواد، بیروت، المرکز الاسلامی للدراسات، الطبعة الثالثة، ۱۴۲۵ھ۔
· عطاردی، عزیزالله، مسند الامام الجواد ابیجعفر محمد بن علی الرضا علیهماالسلام، مشهد، آستان قدس رضوی، ۱۴۱۰ھ۔
· عیاشی، محمد بن مسعود، التفسیر (تفسیر العیاشی)، تصحیح: هاشم رسولی محلاتی، تهران، المکتبة العلمیه الاسلامیه، ۱۳۸۰ھ۔
· فتال نیشابوری، محمد بن احمد، روضة الواعظین، قم، منشورات الشریف الرضی، ۱۳۷۵ھ۔
· قاضیزاهدی، احمد، پرسشهای مردم و پاسخهای امام جواد(ع)، قم، عصر ظهور، ۱۳۹۲ہجری شمسی۔
· قرشی، باقر شریف، حیاة الامام محمد الجواد علیهالسلام، بیجا، امیر، چاپ: دوم، ۱۴۱۸ھ۔
· قطب راوندی، سعید بن هبةالله، الخرائج و الجرائح، قم، مؤسسة الامام المهدی علیهالسلام، ۱۴۰۹ھ۔
· قطب راوندی، سعید بن هبةالله، دعوات الراوندی، قم، منشورات مدرسة الامام المهدی، ۱۴۰۷ھ۔
· قمی، شیخ عباس، منتهی الآمال، قم، موسسه انتشارات هجرت، چاپ هفدهم، ۱۳۸۶ہجری شمسی۔
· « کتابشناسی توصیفی امام جواد(ع) » ، وبگاه کتابخانه تخصصی علوم قرآن و حدیث، درج مطلب: ۱۴ بهمن ۱۳۹۷ہجری شمسی، بازدید: ۱۹ تیر ۱۴۰۰ہجری شمسی۔
· کشی، محمد بن عمر، اختیار معرفة الرجال، تحقیق مهدی رجائی، قم، موسسة آل البیت لإحیاء التراث، ۱۴۰۴ھ۔
· کشی، محمد بن عمر، رجال الکشی- اختیار معرفة الرجال، تلخیص محمد بن حسن طوسی، تصحیح: حسن مصطفوی، مشهد، مؤسسه نشر دانشگاه مشهد، ۱۴۰۹ھ۔
· کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق: علیاکبر غفاری، تهران، دارالکتب الاسلامیة، ۱۴۰۷ھ۔
· مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، داراحیاء التراث العربی، بیروت، الطبعة الثالثه، ۱۴۰۳ھ۔
· مجلسی، محمدباقر، زاد المعاد، تصحیح علاءالدین اعلمی، بیروت، مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۲۳ھ۔
· محلاتی، ذبیحالله، ریاحین الشریعه در ترجمه بانوان شیعه، تهران، دار الکتب الاسلامیه، ۱۳۶۸ہجری شمسی۔
· مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیة للامام علی بن ابیطالب علیهالسلام، قم، مؤسسة أنصاریان، الطبعة الثالثة، ۱۴۲۶ھ۔
· مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، قم، انتشارات کنگره جهانی شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
· مفید، تصحیح اعتقادات الامامیة، بیروت، دار المفید للطباعة و النشر، چاپ دوم، ۱۴۱۴ھ۔
· مفید، محمد بن محمد، کتاب المزار-مناسک المزار، تصحیح محمدباقر ابطحی، قم، کنگره جهانی هزاره شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
· نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، مؤسسة النشر الاسلامی التابعة لجامعة المدرسین بقم المشرفة، ۱۳۶۵ہجری شمسی۔
· نصر اصفهانی، اباذر، « کتابشناسی امام جواد » ، در مجموعه مقالات همایش سیره و زمانه امام جواد(ع)، ج۳، قم، مرکز مدیریت حوزه علمیه قم، چاپ اول، ۱۳۹۵ہجری شمسی۔
· نصیبی شافعی، محمد بن طلحه، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، تصحیح عبدالعزیز طباطبایی، بیروت، مؤسسه البلاغ، بیتا
· نوبختی، حسن بن موسی، فرق الشیعه، بیروت، دارالاضواء، چاپ:دوم، ۱۴۰۴ھ۔
· « همایش ابنالرضا، سیره و زمانه امام جواد(ع) در قم برگزار شد » ، خبرگزاری مهر، درج مطلب: ۳۰ فروردین ۱۳۹۵ہجری شمسی، بازدید: ۱۵ تیر ۱۴۰۰ہجری شمسی۔
· هیثمی، احمد بن حجر، الصواعق المحرقة، استانبول، مکتبة الحقیقة، ۱۴۲۴ھ۔
· یعقوبی، احمد بن ابییعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دارصادر، بیتا