یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
محمدو آل محمدعلیهم السلام پر صلوات کے فوائد
مؤلف: حجہ ااسلام ولمسلمین عمار سالم سعد
مترجم: سید زائر حسین نقوی
مقدمه مؤلف
اللهم انی احدک حد الحامدین و اشکرک شکرالشاکرین و استعین بک یاخیر مستعان به، و اتوکل علیک یا خیر المتوکل علیه، و اشهد انک رسول رب العالمین، و اصلی علی رسول و حبیبک و نجیبک و خیرتک من خلقک محمد و علی آله المیامین المنتجبین الی قیام یوم الدین.
اما بعد:
عبد فقیر و گنهگار(عمار سالم) میں نے سوچا اپنے گناهوں کی کثرت اور اعمال صالحه کی قلت کے بارے میں تو میری مشکل میں اضافه هوگيا اور میرا خوف میری رجا و امید پر غالب آ گیا، پهر اسی اثنا میں الهام هوا که اس مرض کی دواء سوائے ختمی مرتبت کی طرف رجوع كے کچھ اور نهي هے ، پروردگار عالم فرماتا هے:( وابتغوا الیه الوسیلة ) اے خدا په ایمان لانے والو! الله سے ڈرتے رهو اور اس کا قرب تلاش کرو۔
اور سرکار ختمی مرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات گرامی هی پروردگار عالم کے نزدیک سب سے بڑا وسیله اور واسطه هے اور سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم هی تمامی مخلوقات میں سب سے اٖفضل، برتر و محبوب هیں ، تو پس میں نے اپنے اس عمل قلیل کے ذریعه سے جس کو ایک کتاب میں جمع کیا اور اس کا نام رکھامحمد ؐو آل محمدؐ پر صلوات کے فائدے) سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف رجوع کیا اس امید کے ساتھ که پروردگار عالم میرے اس عمل کو قیامت کے دن میرے اور میرے والدین کے لئے نور قرار دے ، اور پروردگار عالم مجھے اور میرے والدین کو محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی معرفت نصیب کرے۔(الهی آمین)
عمار سالم سعد
مقدمه مترجم
بسم الله الرحمن الرحیم، الحمد لله رب العالمین و صلی الله علی محمد و آله الطیبین الطاهرین، اما بعد:
خدائے وحدہ لا شریک کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس بات کی توفیق دی کہ ہم اس عظیم کتاب کا (جو کہ محمدو آل محمدعلیهم السلام پر صلوات کے فوائد کےعنوان سےتحریر کی گئی ہے) ترجمہ کرسکیں ۔بہر حال میں کسی اور کتاب کا انتخاب بھی کر سکتا تھا، لیکن اس کتاب کا انتخاب اس وجہ سے کیا کہ:
اولا: یہ کتاب فضائل محمدو آل محمد علیهم السلام کی عکاسی کررہی ہے جو کہ نا قابل انکار حقیقت ہے کہ محمد و آل محمد علیهم السلام سے افضل اس کائنات میں کوئی بھی نہیں، اور ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ ان ذوات مقدسہ سے افضل و اشرف بھی کوئی ہو کہ جن کے سبب سے خدائے رحمن و رحیم نے سب کچھ خلق فرمایا ہو؛
ثانیا: اس کتاب کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب قرآن و احادیث محمدو آل محمد علیهم السلام کی روشنی میں ہے کہ جس سے تمسک کا ہمیں حکم دیا گیا ہےورنہ ہلاکت یقینی ہے؛
ثالثاً: اہم ترین سبب جس کی وجہ سے اس کتاب کا انتخاب کیا وہ یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے عظیم راز اور ذکر اشرف و افضل و اعظم پر مشتمل ہے جو کہ حلال مشکلات ہے، اور جس کی طرف انسان کو بہت ہی زیادہ احتیاج و ضرورت ہے ، چونکہ انسان کی زندگی جو کہ مشکلات میں گھری ہوئی ہے خصوصا مؤمن کہ جس کے لئے یه حدیث ہی کافی ہے (سب سےسخت بلاء و آزمائش ابنیاءعلیهم السلام کی ہے پھر جسکاایمان جتنا زیادہ قوی ہو، جو ان سے زیادہ جتنا زیادہ نزدیک ہو، اس رتبہ و درجہ کے لحاظ سے بلاء و آزمائش بھی سخت ہوگی) اور پھر اس قید خانہ میں زندگی جو کہ دنیا کی شکل میں ہے کہ دنیا مؤمن کے لئے قید خانہ ہے اور بہر حال قید خانہ میں تصور آسائش ایک تعجب خیز شئی ہے ۔۔ لہذا انسان کو کسی ایسی شئی کی ضرورت ہے کہ جو انسان کو دنیاوی مشکلات اور اخروی مشکلات جو کہ زیادہ سخت ہے، اس سے نجات دلا دے، اور اس کیلئے بہت سی چیزیں متصور ہیں،لیکن ان سب میں اہم و افضل محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے پس اگر انسان چاہتا ہے کہ دنیا و آخرت کی مشکلات سے نجات حاصل کر ے تو اس کے لئے محمدو آل محمد (ع) پر صلوات سے سہارا لینا ضروری ہے جو کہ فقط مشکلات سے نجات یا باعث مغفرت ہی نہیں ہے بلکہ درجات و حسنات میں اضافہ کا باعث بھی ہے جیسا کہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعدیہ حقیقت واضح ہوتی ہے۔پس خدائے وحدہ لا شریک سے دعاء کرتے ہیں کہبحق فاطمة و ابیها و بعلها و بنیهاو السرالمستودع ینها ،
ہمارے اس عمل قلیل کو شرف قبولیت عطا فرما....(إلهی آمین)
سید زائر حسین نقوی
فوائدالصلاة علی النبی المختار و علی آله الاطهار علیهم السلام
رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت
تاریخ اسلام میں سب سے عظیم شخصیت بلکه تمام کائنات میں سب سے افضل و عظیم شخصیت همارے نبی محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی هے۔ که اس شخصیت میں تمامی فضیلتیں سمٹ گئی هیں۔
پروردگار عالم کا ارشاد هے:( لقد کان لک فی رسول الله اسوة حسنة ) (۱) اے مسلمانو! تم میں سے اس کے لئے رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زندگی نمونه عمل هے جو شخص بھی الله اور آخرت سے امیدٰن وابسته کئے هوئے هے اور الله کو بهت زیاده یاد کرتا هے؛ اور( وانک لعلی خلق عظیم ) اور آپ اخلاق کے بلند ترین درجه پر هیں۔
پس تمامی مسلمانوں کے لئے ضروی هے که سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت سے آگاه هوں تاکه اسلام کے عظیم آئین و قانون و اخلاق کو حاصل کر سکیں اور اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق گزار سکیں که سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت عظیم شخصیت هے جو که مجسم فضیلت هے۔
عبادت کی آخری منزل پر میں اور پروردگار سے سب سے زیاده قریب هیں جو که اک مثال هیں اپنے اهل خانه کے ساتھ نیک برتاؤ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی، جوکه صدق و صفا کی ایک عظیم مثال هے، پس کوئی ایسی فضیلت هے هی نهیں جو سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اندر نه پائی جائے، بلکه فضیلتیں یهیں سے متمسک هوکر باشرف هوتی هیں۔
پروردگار عالم کا یه ارشاد گرامی هے:( و انک لعلی خلق عظیم ) که آپ خلق عظیم پر فائز هیں۔ و قلم و بیان و زبان کو عاجز کر دیان که آپ کی توصیف کر سکے یا عظمت بیان کر سکے، پس یه آیهٔ کریمه پروردگار عالم کی جانب سے آپ کے اخلاق حسنه کی سند هے،(۲) چونکه اخلاق ایک ایسا مفهوم هے که جوانسان کی حیات کے سارے حصه کو شامل هے۔
روایت کی گئی هے که یهودیوں کا فصیح و بلیغ شخص مولائے کائنات علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا اور آپ سے کها:’’مجھے آپ اپنے اخلاق کے بارے میں بتائیں، تو امام علیه السلام نے فرمایا که دنیا کے مال و متاع کو بیان کرو تاکه میں سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اخلاق کو بتاؤں تو یهودی کهتا هے که یه میرے لئے ناممکن هے تو مولا نے فرماتے هیں: تو دنیا کے مال و متاع کی توصیف سے عاجز هے که جس کے بارے میں خود خد ا نے فرمایا:( قل متاع الدنیا قلیل ) آپ کهه دیجئے که زندگی کی سودمندی بهت کم هے لهذأ میں کیسے اس نبی کے اخلاق کی توصیف کرسکتا هوں که جس کے بارے میں خود خدا وحده لاشریک کا ارشاد هے’’وانک لعلی خلق عظیم‘‘۔
یه رسول گرامیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عظمت هے که انکی ذأت لوگوں کے لئے نمونه هے اور وه انسان کامل هیں۔ اور قرآن دوسرے مقام پر اس طرح سے بیان کرتا هے که:( لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة ) ۔
اسی طرح سے سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات نے بھی عرب کے سخت مزاج لوگوں کو اس بات کا مصداق بنایا که انھیں که خیر امت سے خطاب کیا جائے اور یه سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اخلاق کا نتیجه هے اور آپ کے صبر و تحمل کا نتیجه هے ۔ آپ کے نوری کلام کی دین کے هه قرآن کهه رها هے’’( لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ اَلْقَلْبِ لاَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ) ؛ اگر آپ سخت مزاج و سخت کلام هوتے تو یه لوگ بھاگ کھڑے هوتے۔
میں یه چاهتا هوں که یهاں پر قارئین محترم کے لئے سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات سے متعلق دو واقعه بیان کروں تاکه وه مومنین جو انسان کامل کی تلاش میں هيں اس پر عمل كر سکیں ۔
عدی بن حاتم روایت کرتا هے که سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم مسجد میں تشریف فرما تھے که میں حاضر هوا اور سلام کیا تو سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پوچھا که کون هے؟ تو میں نے جواب دیا که میں عدی بن حاتم هوں تو سرکار مجھے اپنے گھر کی طرف لیکر چلے تھے که اسی اثنا میں ایک خاتوں آئی جو که ضعیف و کمزور و اور سن رسیده تھیںاور اس نے سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کافی دیر تک روکے رکھا اور اپنی حاجت و ضرورت کے سلسله میں بات کرتی رهے تو میں کها که خدا کی قسم یه کوئی بادشاه نهیں هوسکتا، پھر سرکار ؐمجھے اپنے گھر لے گئے اور مجھے ایک فرش دیا که جس میں سوکھی گھاس بھری تھی اور خود زمین پر بیٹھ گئے تو میں نے کها که یه آپ لے لیں، تو اس پر سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا که نهیں ، تم بیٹھو تو میں نے کها که آپ کی خدا کی قسم یه هے که کوئی بادشاه نهیں هو سکتا۔(۳)
۲ ۔ ایک شخص نے سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کچھ مطالبه کیا تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اتنی بھیڑیں عطا فرمائیں که جو پهاڑوں کے درمیان کے خلاء کو پورا کردیں۔(کنایه هے کثرت عطا سے)۔ تو وه شخص خوش خوش اپنےگھر لوٹا اور اپنے لوگوں سے کها که اسلام لے آؤ مسلمان هو جاؤ اس لئے که محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ایسے انسان هیں جنکی عطا کے بعد خوف فاقه نهیں ره جاتا۔(۴)
اب مغربی لوگوں کا خیال اگر سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شان میں جاننا چاهیں تو بعض مغربی نے اس طرح سے بیان دیا هے:
میں سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تعجب خیز حیات و خصلت کی وجه سے انکے دین کا بهت احترام کرتا هوں که صرف و صرف یهی وه دین هے جو زندگی کے هر نشیب و فراز کے لئے هے اور تمامی ضرورتوں کو پورا کرتا هے اور هر زمانه کے لئے مفید هے میں نے اس عجیب شخص کیا حیات کا مطالعه کیا هےکه میرے خیال سے انهیں منجی بشریت کهنا چاهیئے۔(یعنی بشریت کو نجات دینے والا)۔
اب رجوع کرتے هیں قرآن مجید کی طرف که پروردگار عالم نےکس طرح سے همارے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو افضلیت بخشی هے که انکے ذکر کو دنیاو آخرت میں بلند فرمایا هے ۔پروردگار عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا هے( وَ رَفَعْنا لَكَ ذِكْرَكَ ) (۵)
‘‘پروردگار عالم کا ذکر توحید کے ذریعه سے هوتا هے اور همارے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ذکر رسالت و نبوت کے ذریعه سے هوتا هے
اگر هم قرآن مجید میں غور کریں اور اسکی آیات کو دیکھیں تو همیں پته چلے گا که خدا نے اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو انکےنام کے ذریعه کهیں بھی خطاب نهیں کیا بلکه جب خطاب کیا تو انکے بهترین صفات کے ذریعه کظاب کیا۔
پروردگار رب العزت اپنی پاک کتاب میں ارشاد فرماتا هے:( يا أَيُّهَا اَلرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ ربک ) (۶) اے پیغمبر اس حکم کو پهنچا دیں جو آپکے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا هے۔
دوسرے مقام پر فرمایا:( یا ایها النبی حسبک الله ) (۷) اے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اپکے لئے خدا اور وه مومنین کافی هیں جو آپکا اتباع کرنے والے هیں۔
جبکه پروردگار عالم نے اپنے دوسرے انبیاء و رسل کو انکے ناموں کے ذریعه خطاب کیا هے جیسا که کها:( یا نوح اهبط بسلام منا ) (۸) اے نوحؑ هماری جانب سے سلامتی کے ساتھ اُترو۔
اسی طرح جناب ابراهیمؑ کے بارے میں فرمایا:( یا ابراهیم اعرض عن هذا ) (۹) اے ابراهیمؑ! اس خیال کو چھوڑ دیجئے۔
پس هم پر ضروری هے که هم محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود و صلوات بھیجیں اس لئے که یه وه ذوات مقدسه هیں که جنھوں نے همارے لئے دین کے احکام کو بیان کیا اور قرآن کریم کی تفسیر کی اور توحید پر برهان و دلیل قائم کی اور وه دلائل بیان کئے که جو پروردگار رب العزت کو هر قسم کے عیوب و نقائص سے منزه کرتے هیں۔
اسی وجه سے میں نے چاها که میں یه کتاب لکھوں اور اس کتاب میں محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات کے بعض فوائد درج کروں اور یه تمامی فوائد جو اس کتاب میں بیان هوئے هیں وه احادیث و روایات سے لئے گئے هیں جن میں محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات کے فائدے اور فضائل بیان هوئے هیں اور میری یه کتاب آٹھ فصل اور ایک خاتمه پرمشتمل هے جو که اس طرح هے:
پهلی فصل:محمد و آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات کے فوائد؛
دوسری فصل: صلوات کا فائده نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پهنچتا هے یا خود صلوات بھیجنے والے کی طرف پلٹتا هے؛
تیسری فصل: صلوات واجب هے یا مستحب؛
چوتھی فصل:صلوات کے سلسله سے ایک جوان کا واقعه؛
پانچویں فصل: جناب آدمؑ و حوّا کا نکاح صلوات کے ذریعه سے؛
چھٹی فصل: بنی اسرائیل کی نجات صلوات کے ذریعه؛
ساتویں فصل: انبیاء علیهم السلام کا توسل کرنا محمد ؐو آل محمد علیهم السلام کے ذریعه؛
آٹھویں فصل: اهل کتاب کا استغاثه محمد ؐو آل محمد علیهم السلام کے ذریعه؛
خاتمه: ایک قصه اور صلوات دعاؤں میں۔
____________________
۱ احزاب،۲۱؛ قلم۴۰
۲ سوره نساء، آیه۷۳
۳ اخلاق النبیؐ و اهلبیت، ص۲۶؛ شیخ باقر الفرشی
۴ مذکوره حواله
۵ سوره الشرح، آیه ۴
۶ مائده، ۶۷
۷ سوره انفال آیه ۶۴
۸ هود،۴۸
۹ هود ۷۶
پهلی فصل
{صلوات کے بعض فوائد}
۱. صدائے خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر لبیک هے صلوات
پروردفار عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا هے:( ’’إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) (۱) بیشک الله اور اس کے ملائکه رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات بھیجتے هیں تو اے صاحبان ایمان تم بھی صلوات بھیجتے رهو اور سلام کرتے رهو محمد و آل محمد علیهم السلام پر۔
سب سے پهلے اس چیز کو طے کرتے هیں که محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے معنی کیا هیں:
روایات میں اس امر کی تاکید ملتی هے که اگر خدا صلوات بھیجے تو اس کا مطلب رحمت هے، ملائکه بھجیں تو تذکیه هے، مومنین بھیجیں تو اس کا مطلب دعا هے۔
پس اگر خدا نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات بھیجے تو اسکے معنی هیں که: خدایا همارے لئے محمدؐ و آل محمد علیهم السلام کے حقائق کو ظاهر کر اور انکے مراتب کو واضح کر۔
اور اگر ملائکه علیه السلام پر صلوات بھیجیں تو اس کے معنی هیں: محمدؐ و آل محمد علیهم السلام کے مراتب کی تقدیس و تذکیه؛ اور مومنین محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجیں تو اس کے معنی هیں:هم اپنی جگه سے بلند هو جائیں اور ان سے ملحق هو جائیں یعنی گویا یه کهتے هیں که خدایا میں محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجتا هوں تاکه میں ان کے ساتھ هو سکوں، انکی پیروی کر سکوں، انکے اخلاق و صفات سے مزین هو سکوں تاکه ظلمات و گمراهی سے باهر نکل سکوں؛ اس لئے که گمرای سے نجات محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے ذریعه سے ممکن هے۔
اگر هم قرآن مجید پر غور کریں تو پته چلے گا که خداوند عالم نے فرمایا هے:( یا ایها الذین آمنوا ) اے ایمان والو!؛ تو ه ان لوگوں کے لئے دعوت هے جو صفت ایمان سے متصف هو چکے هیں که وه اگر نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حق کو ادا کرنا چاهتے هیں تو صلوات پڑھیں۔
لهذأ اب اگر کوئی انسان نماز میں یا نماز کے علاوه کسی اور مقام پر صلوات بھیجتا هے تو گویا وه صدائے پروردگار پر لبیک کهتا هے؛ اور اسی طرح سے خود نبی اور ملائکه اور ائمه معصومین علیهم السلام نے بھی صلوات کے سلسله میں مومنین کو کافی تاکید کی هے چونکه آخرت میں شرف و عزت اور مقام بلند و بالا صلوات کے ذریعه سے حاصل هوگا۔
بعض مومنین ایسے هیں که جو صلوات کے ذریعه سے آخرت میں ثواب کے متمنی هیں یا دنیا میں یه چاهتے هیں که انکی حاجتیں پوری هوجائیں اور انھیں رزق حاصل هو اور ان میں سے بعض وه هیں که جو اس غرض سے صلوات پڑھتے هیں که اس کے ذریعه سے حکم پروردگار عالم کا امتثال(انجام دهی) کیا جا سکے اور وه کسی بھی قسم کی جزا کے متمنی نهیں هیں۔
پس وه دعوت جو پروردگار عالم نے صلوات کے ذریعه سے دی هے، یا جو حکم پروردگار نے اس کے سلسله سے دیا هے جب وه پورا هوجائے اور اسے انجام دے دیا جائے تو پروردگار عالم بھی اپنے بندوں کو جزائے خیر سے نوازتا هے اور انکی حاجتوں کو پورا کرتا هے۔
جو آیت اوپر گذری هے اس میں بهت سے اسرار هیں اگر ان میں سے کچھ کو جاننا چاهیں تو احادیث و روایات ائمه معصومین علیهم السلام کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ ایک روایت میں هے که ایک شخص امام صأدق علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا اور آپ سے کها که قرآن مجید کهه رها هے که( ’’یسبحون اللیل والنهار لا یفترون ) (۲) ؛ دن رات اسکے تسبیح کرتے هیں اورسستی کا بھی شکار نهیں هوتے هیں اور دوسری آیت میں هے:’’( إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) (۳) پس یه دونوں چیزیں کیسے ممکن هیں که فرشتے صبح و مساء تسبیح بھی کرتے رهتے هیں، ایک لمحه کے لئے تسبیح پروردگار سے غافل بھی نهیں هوتے، تسبیح ترک بھی نهیں کرتے اور محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھی بھیجتے هیں؟؟؟!!
تو امام صادق علیه السلام جواب دیتے هیں:’’جب پروردگار عالم نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خلق فرمایا تو فرشتوں کو حکم دیا که جتنا وقت صلوات بھیجنے میں لگتا هے اتنا میرے ذکر میں سے کم کرو ؛ پس اگر کوئی انسان نماز میں یه کهے که صل الله علی
محمد؛ تو گویا یه ایسا هے که اس نے کها هو ’’سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اکبر ‘‘(۴)
ایک روایت یه بھی کی گئی هے که سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کسی نے پوچھا که اس آیت( ’’إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) کا کیا مطلب هے۔؟؟؟
تو سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’یه شئ علم مکنون(مخفی علم) میں سے هے اور اگر تم اس کے بارے میں سوال نه کرتے تو میں بتاتا بھی نهیں، پروردگار عالم نے میرے لئے دو فرشتوں کو مقرر کیا هے که جب بھی مجھے کوئی مسلم یاد کرکے میرے اوپر صلوات بھیجتا هے تو وه دونوں فرشتے کهتے هیں که پروردگار تیری مغفرت کرے تو پروردگار اور اس کے دیگر فرشتے آمین کهتے هیں اور جب کسی مقام پر میرا تذکره هوتا هے اور کوئی میرے اوپر صلوات نهیں بھیجتا تو وه دونوں فرشتے کهتے هیں که خدا تیری مغفرت نه کرے تو خدا اور اسکے فرشتے آمین کهتے هیں۔(۵)
اور اسی طرح سے ایک روایت جناب علامه مجلسیؒ نے اپنی کتاب بحار میں امام صادق علیه السلام سے نقل فرمائی هے که امام علیه السلام اپنے آباء و اجدادسے اور وه امیرالمومنین علیه السلام سے نقل فرماتے هیں که مولائے کائنات علیه السلام نے اس یهودی کے جواب میں فرمایا جس نے آپ سے سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی فضیلت تمام انبیاء پر دریافت کی؛ یهودی کهتا هے که پروردگار عالم نے جناب آدم علیه السلام کے لئے فرشتوں سے سجده کرایا تو مولائے کائنات علیه السلام نےفرمایاکه پروردگار نے سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس بھی بهتر شئ عطاکی هے وه یه هے که پروردگار رب العزت نے خود سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات بھیجی هے اور فرشتوں کو حکم دیا هے که ان پر صلوات بھیجیں اور تمامی مخلوقات کو اس بات کا حکم دیا هے که ان کی ذات مقدسه پر قیامت تک صلوات بھیجیں ؛ پروردگار عالم نے فرمایا:( إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) پس اگر کوئی بھی سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبه میں یا بعد وفات صلوات بھیجتا هے تو پروردگار عالم اس کے اوپر دس مرتبه صلوات بھیجتا هے اور هر صلوات کے بدله میں دس نیکیاں عطا کرتا هے اور اگر کوئی سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد ان پر صلوات بھیجتا هے تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس کی خبر هوتی هے اور وه اس کو ویسی هی اس کے سلام کا جواب بھی
دیتے هیں اس لئے که پروردگار عالم آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی امت کی دعا کو اس وقت تک قبول نهیں فرماتا جب تک که وه آپ پر صلوات نه بھیجیں لهذأ یه فضیلت تو اس سے بھی افضل و اعظم هے جو که جناب آدم علیه السلام کو دی گئی هے۔(۶)
۲. صلوات حسنات و درجات میں اضافه کا سبب هے
سوال یه هے که صلوات کے ذریعه سے حسنات و درجات میں اضافه کیسے هوتا هے؟
اس کے جواب میں هم یه کهه سکتے هیں که والله العالم هر ذکر کی یه خاصیت هوتی هے که جب بھی انسان اس ذکر کو بجالاتا هےتو اس کے درجات بلند هوتے هیں، حسنات میں اضافه هوتا هے اور اس طرح سے همارا محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا گویا ایسا هے جیسے هم خدا کی عباست کررهے هوں، اسکا ذکر کیا هو، اور حکم پروردگار عالم کو انجام دیا هو۔
ایک حدیث سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے یوں نقل هوئی هےکه آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’اگر میرا امتی مجھ پر ایک مرتبه صلوات بھیجتا هے تو اس کے لئے دس( ۱۰) نیکیاں لکھی جاتی هیں اور دس گناه محو(مٹا) کر دیئے جاتےهیں۔‘‘
اسی طرح حضرت سے یه بھی روایت نقل کی گئی هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’جب میں شب معراج آسمان پر پهنچا تو میں نے ایک فرشته کو دیکھا که جس کے هزار هاتھ تھے اور هر هاتھ میں هزار انگلیاں تھیں جو که حساب و کتاب میں مشغول تھا تو میں نےجبرئیلؑ سے سوال کیا که یه فرشته کون هے؟ اور یه کیا شمار کر رها هے؟ تو جبرئیل نے جواب دیا که اس فرشته کو اس امر په مقرر کیا گیا هے که وه بارش کے قطرات کو شمار کرے که آسمان سے بارش کے کتنے قطرے زمین پر گرتے هیں۔پھر میں نے اس فرشته سے کها که: کیا تم جانتے هو که جب پروردگار رب العزت نے اس دنیا کو خلق فرمایا هے تب سے لیکر آج تک کتنے قطرے زمین پر گرے ؟ تو اس فرشته نے جواب دیا که یا رسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم اس خدائے وحده لا شریک کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس دنیا میں بھیجا هے آپ نے جو کها میں اس کو بھی جانتا هوں اور یه بھی جانتا هوں که کتنے قطرے آبادی میں گرے اور کتنے صحراء میں اور کتنے باغات میں گرے اور کتنے بنجر زمین پر اور کتنے قطرے قبروں (قبرستانوں) پر گرے هیں؛ تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: که مجھے اس فرشته کے حساب وکتاب اور اس کے حافظه پر تعجب هوا، فرشته کهتا هے یا رسول
اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم یه حق هے که مجھے یه سب یاد هے اور میرے اتنے هاتھ اور اتنی انگلیاں هیں لیکن اس کے باوجود ایک چیز ایسی هے جس کے حساب سے میں عاجز هوں که میں اس کا حساب نهیں لگا سکتا، تو میں نے کها: وه کون سی چیز هے ؟ تو فرشه نے جواب دیا که جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے امتی کسی مقام پر جمع هوتے هیں اور(وهاں پر) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا تذکره کرتے هیں اور جیسے هی انکے سامنے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا نام آتا هے تو وه (سب مل کر) آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات گرامی پر صلوات بھیجتے تو میں انکے ثوابکو شمار نهیں کر پاتا۔!‘‘(۷)
۳. صلوات تکمیل نماز کی باعث هے
یعنی جب تک نماز میں صلوات نه بھیجی جائے نماز مکمل نهیں هوتی۔
روایت میں اس طرح وارد هوا که محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نماز کی تکمیل کا باعث(یعنی بغیر صلوات نماز نامکمل هے)؛ جس طرح سے روزه بغیر زکات(فطره) کے نامکمل هے اور اگر کوئی عمداً زکات فطره ادا نه کرے اس کا روزه قابل قبول نهیں هے اسی طرح سے محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نماز کا اهم جزء هے که جسکی ادائگی کے بغیر نماز نامکمل هے، اس لئے که اگر کسی شخص نے نماز تو ادا کی لیکن عمداً محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نه بھیجی تو گویا اس کی نماز هی نهیں هوئی؛ اور ایسی صورت میں نماز قابل قبول نهیں هے اور اس کی(صلوات) تاکید امام صادق علیه السلام کی اس روایت سے هوتی هے که آپ علیه السلام نے فرمایا:’’روزه زکات فطره کی ادائگی سے مکمل هوتا هے جس طرح نماز محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات سے مکمل هوتی هے، پس اگر کوئی شخص روزه رکھے اور عمداً زکات فطره ادا نه کرے تو اس کا روزه قابل قبول هی نهیں هے اسی طرح سے اگر کوئی نماز پڑھے اور عمداً محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نه بھیجے تو اس کی نماز قابل قبول نهیں هے۔!‘‘(۸)
اور ایک روایت یوں بھی هے که امام زین العابدین علیه السلام سے کسی نے سوال که نماز کیسے مکمل هوتی هے تو آپ علیه السلام نے فرمایا: ’’محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے ذریعه۔‘‘(۹)
۴. صلوات سنگینی میزان کا باعث هے
روایات میں وارد هوا که میزان اعمال میں سب سے سنگین شئ جو هوگی وه محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هوگی۔
ایک حدیث میں هے که: قیامت کے دن ایک شخص کو جهنم میں جانے کا حکم دیا جائگا تووه کهے گا که میری شفاعت کریں تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کهیں گے که اس کو دوباره میزان کی طرف لے جاؤ اور جب وه میزان کی طرف پلٹایا جائےگا تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم میزان پر چونٹی جیسی کوئی شئ رکھیں گے اور وه شئ محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هوگی اور اس کا میزان اس کی نیکیوں (محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات) کی بنا پر سنگین هو جائے گااور ایک آواز آئے گی فلاں شخص کامیاب هو گیا۔
اسی طرح سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایکی روایت نقل هوئی هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’میں روز قیامت میزان کے پاس هوں گا تاکه اگر کسی کے گناه اس کی نیکوں پر غالب آجائیں (یعنی گناه زیاده هوئے) تو میں اس کی نیکیوں میں صلوات کا اضافه کر دوں گا که جس سے اس کی نیکیاں اور حسنات زیاده هو جائیں گی اور اس صلوات کی وجه سے اسکے حسنات کا پلڑا وزنی هو جائے گا۔‘‘
ایک اور روایت میں سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نےماه رمضان المبارک کے استقبال میں خطبه ارشاد فرمایا اور اس میں بیان کیا که:’’اگر کوئی شخص ماه رمضان میں میرے اوپر صلوات بھیجے گا تو جس دن(روز قیامت) تمام افراد کے میزان هلکے هوں گے ا دن اس کا میزان وزنی هوگا۔(یعنی جس دن لوگوں کے گناه انکے میزان میں زیاده هوں گے اس دن اس شخص کے میزان اعمال میں نیکیاں زیاده هوں گی اور اس کا نیکیوں والا پلڑا گنا ه والے پلڑے سے وزنی هوگا۔‘‘
۵. صلوات سب سے اٖفضل عمل هے
مستحب اعمال و اذکار کی فهرست بهت طولانی هے اور انھیں اذکار میں سے محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا بھی هے؛یهاں تک که روایات میں وارد هوا هے که هر جگه اور هر وقت صلوات بھیجا مستحب هے، یهاں تک که جب انسان گھر سے نکل رها هو یا داخل هو رها هو تو اس وقت بھی صلوات بھیجنا مستحب هے۔ اس لئے که جو امتیاز اور خصوصیت صلوات میں هے وه کسی ذکر میں نهیں هے۔
ایک روایت میں هے که ایک شخص طواف کر رها تھا اور اپنے طواف کو مکمل کرنے کے بعد امام علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا اور کهنے لگا که میں نے ذکر صلوات کے علاوه کوئی بھی ذکر ادا نهیں کیا تو امام علیه السلام نے فرمایا که کیا ذکر صلوات سے بھی افضل کوئی ذکر هے۔!
عبد السلام بن نعیم روایت نقل کرتے هیں که میں نے امام صادق علیه السلام سے کها که میں خانه خدا میں طواف کے لئے داخل هوا تو اس وقت سوائے ذکر صلوات کے مجھے کچھ اور یاد نهیں تھا تو امام علیه السلام نے فرمایا که تو سب سے افضل ذکر بجالایا هے۔
ایک عظیم مجتهد و مرجع جب فقهی بحث کے دوران اس حدیث سے گذرتے هیں تو کهتے هیں که اس حدیث کے سبب سے میں یه فتوی دیتا هوں که سب سے افضل عمل اور سب سے افضل ذکر اور سب سے افضل مستحب عمل، محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا هے اور یه ذکر اکسیر اعظم هے۔(۱۰)
اسی طرح ایک روایت سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم سےنقل هوئی هے که جس میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’میں نے خواب میں دیکھا که میں اپنے چچا جناب حمزه بن عبد المطلبؑ اور اپنے بھائی جعفر بن ابی طالبؑ کے ساتھ هوں اور انکے سامنے ایک ظرف میں بیر رکھی تھی، کچھ دیر اس کو کھاتے رهے پھر وه بیر انگور میں تبدیل هو گئی اور اسے بھی کچھ دیر کھاتے رهے پھر هر انگور انکے لئے کھجور میں تبدیل هو گیا اور اسے بھی کچھ دیر تک کھاتے رهے تو میں انکے قریب گیا اور ن سے کها که آپ کو میرے بابا کا واسطه یه بتائیں که آپ نے کس عمل کو سب سے افضل پایا؟ تو انھوں نے کها که همارے آباء و اجداد آپ پر فدا هوں سب سے افضل عمل آپ پر صلوات بھیجنا هے، اور پانی پلانا اور محبت علی بن ابی طالب علیهما السلام۔‘‘(۱۱)
سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک روایت نقل هوئی هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مولائے کائنات علیه السلام سے فرمایا که:
’’اے علیؑ کیا آپ کو معلوم هے که جس رات میں آسمان پر گیا تو آپ کے بارے میں ملأ اعلی میں کیا سنا؟! اے علیؑ میں نے سنا که اهل آسمان خدا کو آپ کی قسم دے رهے تھے اور آپ کے واسطه اور وسیله سے اپنی حاجتوں کو طلب کر رهے تھے اور آپ کی محبت کے ذریعه سے تقرب الهی کے خواهاں تھے اور سب سے بهتر چیز جس کے ذریعه سے وه خدا کی عبادت کر رهے تھے وه همارے اور آپ کے اوپر صلوات تھی۔‘‘(۱۲)
اگر دیکھا جائے تو حقیقت میں یه حدیث کتنی عظیم هے اور اس کے ذریعه سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مولائے کائنات علیه السلام کی عظمت واضح هوتی هے، پس همارے لئے ضروری هے که هم مولائے کائنات علیه السلام کے ذریعه سے پروردگار رب العزت سے سوال کریں که پروردگار همیں مولاؑ کے شیعه اور موالی میں قرار دے۔
ایک اور روایت میں هے که ایک شخص نے امام صادق علیه السلام سے پوچھا که سب سے افضل عمل کیا هے؟ تو آپ نے فرمایا:’’محمدؐ و آل محمد علیهم السلامپر سو مرتبه نماز عصر کے بعد صلوات بھیجنا سب سے افضل عمل هے؛ اور جتنا زیاده صلوات پڑھ سکتے هو اتنا بهتر هے۔‘‘
هو سکتا هے کوئی یهاں پر یه کهے که افضل اعمال کو کیسے معین کیا جائے؛ اس لئے که ایسی روایتیں بهت سی هیں جس میں الگ الگ چیزوں کو افضل عمل بتایا گیا هے۔
مثلاً ایک حدیث میں رسول اسلام سے اس طرح منقول هے که سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’میری امت کا سب سے افضل عمل امام عصر علیه السلام کا انتظار هے۔‘‘(۱۳)
دوسری روایت میں سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس طرح سے نقل کیا گیا هے که ’’افضل عمل ورعحرام سے اجتناب) هے۔‘‘(۱۴) اور بعض روایتوں میں اس طرح سے نقل هے که ابن عباس نے سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا که افضل عمل کیا هے؟ تو سرکار نے جواب دیا جس میں سختی اور مشقت زیاده هو۔(۱۵) اسی طرح امام صادق علیه السلام سے روایت هے که جس میں آپ علیه السلام نے فرمایا:’’سب سے افضل عمل امام حسین علیه السلام کی زیارت هے۔‘‘(۱۶)
اور ایک روایت امام محمد تقی علیه السلام سے هے که جس میں آپ سے سوال کیا گیا که امام رضا علیه السلام کی زیارت افضل هے یا امام حسین علیه السلام کی؟ تو آپ نے فرمایا: میرے بابا کی زیارت زیاده با فضیلت هے اور وه اس لئے که ابو عبد الله الحسین علیه السلام کی زیارت تمامی لوگ کرتے هیں، لیکن میرے بابا کی زیارت فقط مخلص شیعه هی کرتے هیں(یا فقط خاص شیعه هی کرتے هیں)۔‘‘(۱۷)
تو اس کا جواب یه هے که یه سارے اختلافات جو حدیث میں موجود هیں ان سب کاتعلق خودِ اس عمل هے اور اس عمل سے هے جو اس شئ سے متعلق هے۔
مثلاً انتظار فرج که جسے افضل عمل بتایا گیا وه اس زمانه غیبت اما م علیه السلام میں عملی لحاظ سے (یعنی غیبت کے زمانه میں سب سے افضل عمل انتظار فرج هے) اور ورع کو سب سے افضل قرر دیا گیا هے اعمال کے نتائج کے لحاظ سے ، اس لئے که برے اعمال کا نتیجه بهت سخت هوگا۔
اور یه جوذکر هوا که جس عمل میں زیاده مشقت و دشواری هو وه زیاده با فضیلت هے تو وه اس لئے هے که انسانی اعمال کو مد نظر رکھتے هوئے کها گیا هے انسانی اعمال کی به نسبت جن اعمال میں مشقت زیاده هو وه افضل هے۔
اور امام حسین علیه السلام کی زیارت ان سب سے زیاده افضل هے کیوں که آپ اور آپکے اهلبیت کو بے دردی کے ساتھ شهید کیا گیا۔
اور زیارت امام رضا علیه السلام سید الشهداء کی زیارت سے اس وجه سے افضل هے چونکه امام حسین علیه السلام کی زیارت کرنے والے بهت لوگ هیں لیکن امام رضا علیه السلام کے زوّار کی تعداد کم هے تو ائمه معصومین علیهم السلام نے یه سوچا که لوگوں کو زیارت امام رضا علیه السلام کی طرف متوجه کریں۔
اور اس تحریر و بیان کے بعد یه بات واضح هو جاتی هے که کیا سبب هے که محمد ؐو آل محمدعلیهم السلام پر صلوات سب سے افضل و با فضیلت عمل هے اور وه سبب یه هے که صلوات سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اور انکے اهلبیت علیهم السلام سے رابطه هے، اس لئے که صلوات عبد و معبود کے درمیان ایک طرح کا رابطه هے، چونکه صلوات دعا و مناجات هے، هم صلوات میں کهتے هیں: اللهم، اوراس کی اصل هے ’’یا الله‘‘، اور اس کے معنی یه هوئے که پروردگار محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر رحمت نازل کر اور انکے ذکر کو بلند کر....
اور اس کے بعد محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات اس رابطه و محبت و ولاء کو ظاهر کرتی هے جو انسان اور محمدؐ و آل محمد علیهم السلام کے درمیان هے ، یعنی صلوات انسان کی محمدؐ و آل محمد علیهم السلام سے محبت و ولاء کی دلیل هے۔
۶. صلوات گناهوں کا کفاره هے
انسان چونکه معصوم نهیں هے لهذ گناه کرتا هے، پروردگار قهار کی معصیت کرتا رهتا هے لهذأ اس کے نامه اعمال میں گناه بهت هیں۔ اور هو سکتا هے که اتنے زیاده گناه هوں که جنکی تلافی انسان کے لئے ممکن نه هو، لیکن سب سے آسان و بهتر طریقه گناهوں کی معافی کا اور گناهوں کا کفاره محمدؐ و آل محمدعلیهم السلام پر صلوات هے۔
اور اس سلسله میں امام رضا علیه السلام سے روایت بھی موجود هے که اگر کوئی انسان گناهوں کے کفاره کے قدرت نه رکھتا هو تو زیاده سے زیاده محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجے، کیونکه صلوات گناهوں کو منهدم کر دیتی هے۔(۱۸)
اور اسی ضمن میں ایک روایت مولائے کائنات علیه السلام سے بھی هے که جس میں آپ نے فرمایا:’’که جتنی جلدی پانی آگ کو خاموش کردیتا هے اس سے بھی تیز صلوات گناهوں کو محو کردیتی هے۔‘‘(۱۹)
اور ایک روایت سرکار دو عالم سے بھی هے که جس میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص میرے اوپرایک مرتبه بھی صلوات بھیجتا هے تو اس کے گناه ختم هو جاتے هیں(یعنی ذره برابر بھی اس کے گناه باقی نهیں ره جاتے۔)‘‘(۲۰)
اسی طرح ایک دوسری روایت میں سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت هے که’’اگر کوئی انسان مجھ پر صبح میں دس مرتبه صلوات بھیجتا هے تو اس کے چالیس سال کے گناه معاف هو جاتے هیں۔‘‘(۲۱)
اور ایک دوسری روایت میں کچھ اس طرح سے ذکر هے که:’’اگر کسی شخص نے میری محبت میں دن میں تین مرتبه مجھ پر صلوات بھیجاتو پروردگار عالم کے اوپر اس کا حق یه هے که اس کے اس دن و رات کے گناهوں کو معاف کر دے۔‘‘(۲۲)
جناب محمد نوریؒ فرماتے هیں که بلاواسطه جناب شیخ زین الدین نے نقل کیا هے که میں نے خواب میں امام زین العابدین علیه السلام کو دیکھا تو زاد آخرت کے سلسله میں شکوه کیا که اس کا انتظام کیسے کیا جائے؟ توبه و استغفار کی توفیق کیسے حاصل هو ؟ اعمال صالحه کیسے بجا لائے جائیں؟ تو امام سجاد علیه السلام نے جواب دیا که تمهاری ذمه داری هے که تم زیاده سے زیاده صلوات پڑھو اور هم اس کا عوض قیامت کے دن تم کو عطا کریں گے۔(۲۳)
ایک بهترین واقعه
ایک خاتون کا انتقال هوا اور وه گنهگار تھی اور اس کی قبر میں اس پر عذاب هوتا هے، لیکن بعض اولیاء اور صلوات پڑھنے والے لوگ قبرستان میں داخل هوئے اور اس کی قبر تک پهنچے اور صلوات بھیجا’’اللهم صل محمد و علی آل محمد ‘‘،تو انھوں نے خواب میں اس خاتون کو دیکھا که وه یه خوش خبری دے رهی تھی که ولو یه که عذاب بهت هی سخت تھا لیکن جیسے هی محمدو آل محمد علیهم السلام کا ذکر هواتو نداء آئی که اب اس پر عذأب نه کرو؛ کیا محمد و آل محمد علیهم السلام کا ذکر نهیں هوا!؟(۲۴)
پس نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور انکے اهلبیت علیهم السلام تمام عالمین اور ساری بشریت کے لئے رحمت بن کر آئے هیں؛پس هم اپنی ولایت اور طاعت اهلبیت علیهم السلام سے اور انکے دشمنوں کی برأت کے ذریعه سے دنیا و آخرت میں کامیاب هوکر بارگاه رب العزت سے قریب هو سکتے هیں اور فقط اتنا هی نهیں هے بلکه وه صلوات که جسے هم محمد و آل محمد علیهم السلام پر بھجتے هیں پروردگار عالم نے اسے همارے گناهوں کا کفاره قراردیا هے اور اسے هماری طهارت کی دلیل بنائی هے جیسا که زیارت جامعه میں ذکر هے جو که امام علی نقی علیه السلام سے نقل هوئی هے...
پس همارے لئے ضروری هے که هم هر وقت اور هر جگه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجیں۔
۷. صلوات محبت و قرب پروردگار اور نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کو کیئے هوئے سلام کے جواب کا ذریعه هے
صلوات انسان کی روحی طهارت کا سبب بھی هے، اور وه لوگ جو که پاک هیں وهی بارگاه خداوندی سے نزدیک هیں که پروردگار عالم نے فرمایا:( إِنَّ اَللّهَ يُحِبُّ اَلتَّوّابِينَ وَ يُحِبُّ اَلْمُتَطَهِّرِينَ ) (۲۵) خداوند توبه کرنے اور پاکیزه رهنے والوں کو دوست رکھتاهے۔
اور کتاب وسائل الشیعه میں امام علی نقی علیه السلام سے ایک روایت هے که آپ نے فرمایا:’’پروردگار عالم نے جناب ابراهیم علیه السلام کو خلیل اس لئے بنایا که وه محمد و آل محمد علیهم السلام پر بهت صلوات پڑھتے تھے۔‘‘(۲۶)
اور جناب عمار یاسر نقل فرماتے هیں که میں نے سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کو فرماتے سنا هے که ایک فرشته کو ان تمام مخلوقات کے اسماء دے دئے گئے هیں اور جب میں اس دنیا سے رخصت هو جاؤں گا تووه فرشته قیامت تک میری قبر پر هوگا، اور جب بھی کوئی مجھ پر صلوات پڑھے گا تو وه فرشته مجھے خبر دے گا که فلاں بن فلاں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایسے ایسے صلوات پڑھی هے ؛ اور میرے خدا نے اس بات کی ذمه داری لی هے که وه اس عبد پر هر صلوات کے بدلے دس مرتبه صلوات بھیجے(یعنی رحمت نازل کرے)؛(۲۷) اور جب بھی کوئی انسان سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سلام کرتا هے تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کا جواب دیتے هیں اور سرکار ختمی مرتبت کے سلام سے افضل کس کا سلام هوگا اوروه پروردگار کے سفیروں میں سب سے نزدیک ترین سفیر هیں۔
جیسا که ایک روایت محمد بن مروان سے نقل هوئی هے که امام صادق علیه السلام نے فرمایا:’’پروردگا ر عالم نے ظهیللنامی ایک فرشته قبر سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم پرمقرر کیا هے که جس کا کام یه هے که جب بھی تم میں سے کوئی انسان سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم پر درود و سلام بھیجتا هے تو وه فرشته سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کهتا هے که یا رسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم فلاں شخص نے آپ پر صلوات پڑھی هے اور سلام بھیجا هے تو امام علیه السلام کهتے هیں که نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کا جواب بھی دیتے هیں۔‘‘(۲۸)
۸. صلوات تاریکوں سے نکل کر نور کی طرف جانے کا ذریعه هے
بهت سی تاریکیاں ایسی هیں که جن میں انسان مبتلاء هے،گرفتار هے اور جس سے نجات بهت مشکل هے؛ مثلاً شیطانی افکار، برے اخلاق کی تاریکی،گناه کی تاریکی، اس لئے که انسان سے جب بھی کوئی گناه سرزد هوتا هے تو وه اس کے نامه اعمال کو سیاه کر دیتا هے اور اس کے دل کو بھی سیاه و تاریک کر دیتا هے؛ گویا انسان کا قلب ایک ورق کی مانند هے که انسان جتنا زیاده سےزیاده گناه کرتا هے وه ورق بھی اتنا هی سیاه هوتا جاتا هے۔
اور پروردگار عالم نے اپنے لطف و کرم و احسان سے همارے لئے ایک راسته ایسا بنایا هے که جس سے هم تاریکوں سے نکل سکتے هیں اور وه وسیله و راسته محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا هے۔
جیسا که ایک روایت وارد هوئی هے که جناب اسحاق بن فروغ سے امام صادق علیه السلام فرماتے هیں که’’سے اسحاق بن فروغ اگرکوئی شخص دس مرتبه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجتا هے تو خدا اور اسکے فرشتے اس کے اوپر هزار مرتبه صلوات بھیجتے هیں که تم نے پروردگار عالم کا یه فرمان نهیں سنا( هُوَ اَلَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَ مَلائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ اَلظُّلُماتِ إِلَى اَلنُّورِ وَ كانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيماً ) (۲۹) وہی وہ ہے جو تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی منزل تک لے آئے اور وہ صاحبان ایمان پر بہت زیادہ مہربان ہے۔
تو اس حدیث کا مطلب یه هے که محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنے والے کی شان عظیم هے اور وه یه هے که خود خدا اور ملائکه صلوات بھیجتے هیں اور جس کے اوپر خدا صلوات بھیجے قطعاً اسے تاریکیوں سے باهر نکال دے گا۔
سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک حدیث هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’میرے اوپر زیاده سے زیاده صلوات پڑھو اس لئے که میرے اوپر صلوات قبر و صراط و جنت کا نور هے۔‘‘(۳۰)
اور ایک روایت میں هے که سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص میرے اوپر صلوات پڑھتا هے تو پروردگار اس
کے سر پر دائیں جانب، بائیں جانب اور اوپر، نیچے نور خلق فرماتا هے بلکه اس کے هر عضو کے لئے نور خلق کر دیتاهے۔‘‘(۳۱)
۹. صلوات نفاق کے خاتمه کی باعث هے
محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کی ایک خصوصیت یه بھی هے که وه نفاق کو ختم کر دیتی هے، اس لئے که صلوات یعنی سرکاردوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اهلبیت علیهم السلام سے اعلان محبت و ولاء هے چونکه منافق یا صلوات نه پڑھے گا یا ایسی صلوات پڑھے گا جو فائده بخش نه هوگی (یعنی ایسی صلوات ناقص هوگی) اس لئے که وه یه نهیں چاهتا که نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم و آل نبی علیهم السلام کا ذکر عام هو، لهذأ وه ان عظیم هستیوں پر صلوات نهیں بھیج سکتا اور اس سلسله میں سرکار ختمی مرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت بھی نقل هوئی هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’اپنی آوازوں کو صلوات کے وقت بلندکرو(یعنی بلند آواز سے صلوات پڑھو) چونکه یه عمل نفاق کو ختم کرتا هے۔‘‘(۳۲)
۱۰. صلوات شیطان سے دوری کی باعث هے
هر وه شئ شریر و قبیح که جس کا تعلق جن و انس سےهو وه شیطان هے اور قرآن و حدیث اهلبیت علیهم السلام میں زیاده تر اس لفظ کا استعمال ابلیس واعوان و انصار و ذریت ابلیس کے لئے هوا هے جو که انسان کے بدن میں خون کی طرح سے دوڑتا هے اور بهترین طریقه شیطان کو دور کرنے کا محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے۔
جیسا که سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا که ’’شیطان دو طرح کے هیں : ایک جن کا تعلق صنف جن سے هے جو که ذکر(لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم ) کے ذریعه سے دور هوتاهے اور دوسرا وه هے که جس کا تعلق صنف انسان سے هے که جو محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنے کے ذریعه سے دور هوتا هے۔‘‘(۳۳)
اسی طرح ایک اور روایت سرکار ختمی مرتبت سے هے که جس میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’واما نفثاته(یعنی شیطان)‘‘ کیا تم جانتے هو که قرآن مجید کے بعد همارے ذکر کے علاوه (یعنی هم پر صلوات کے علاوه )که جو زیاده شفاء بخش هو پروردگار عالم نے هم اهلبیت علیهم السلام کے ذکر کو شفاء بنایا هے اور هم پر صلوات کو گناهوں کے مٹانے کا ذریعه قرار دیا هے اور عیوب سے پاکیزگی اور حسنات میں اضافه کا سبب قرار دیا هے۔(۳۴)
۱۱. قیامت کے هول ناک مناظر سے نجات کا راسته هے صلوات
سرکاردوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت هے که’’اگر کسی شخص نے مجھ پر ایک هزار مرتبه صلوات پڑھا تو اس کے مرنے سے پهلے اسے جنت کی بشارت هوگی۔‘‘(۳۵)
ایک اور حدیث میں هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’روز قیامت حوض کوثر پر ایسی قوم بھی وارد هوگی که جسے میں فقط و فقط کثرت صلوات کے ذریعه سے جانوں گا۔‘‘(۳۶)
اور ایک حدیث میں اس طرح سے هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا که ’’جو شخص مجھ پر هزار مرتبه صلوات پڑھے گا پروردگار عالم جهنم کو اس پر حرام کر دے گا اور دنیا و آخرت میں قول حق پر ثابت قدم رکھے گا، اور اسی طرح سوال و جواب کی پریشانی سے بھی نجات دےگا، اور پروردگار عالم اسے جنت میں داخل کرے گا، اور اس نے جو صلوات پڑھی هے وه پانچ سو سال کے فاصله پر پل صراط پر نور بنکر آئے گی اور اس نے جتنی بھی صلوات پڑھی هوگی پروردگار عالم هر صلوات کے عوض میں اسے جنت میں ایک محل عطا فرمائےگا، خواه صلوات کم پڑھی هو یا زیاده۔(۳۷)
۱۲. صلوات سے انسان دنیا و آخرت میں ایمان پر باقی ره سکتا هے
چونکه انسان کسی بھی وقت اضطراب و تردید و کج فکری کا شکار هو سکتا هے جو که اسے راه حق سے منحرف کر دے گی، اس لئے که صفت اطمینان بهت هی مشقتوں کے بعد حاصل هوتی هے اور پھر سب سے بڑا مسئله اس پر ثابت قدم رهنا هے، اس
لئے که تاریخ میں ایسی بهت سی شخصیات گذری هیں که جن کی ابتدا تو ایمان پر تھی اور زندگی کے ابتدائی مراحل میں راه حق پر تھے لیکن ان کی زندگی کا خاتمه کفرو نفاق پر هوا، جیسا که طلحه و زبیر و سامری وغیره۔
تو اگر هم یه چاهتے هیں که همارے دل ایمان پر ثابت رهیں اور هم اس دنیا سے مومن اٹھیں تو همارے لئے ضروری هے که هم محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھیں تاکه اس کے ذریعه سے دنیاو آخرت میں خوشبخت هو سکیں۔
۱۳. صلوات باعث شفاعت هے
یعنی محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات روز قیامت شفاعت کا ذریعه هے۔
جیسا که امام محمد باقر علیه السلام سے روایت هے که جسے آپ نے اپنے آباء و اجداد سے اور انھوں نے سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کی که سرکارختمی مرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص یه چاهتا هے که میں قیامت میں اس کی شفاعت کروں اور وه مجھ سے توسل کرنا چاهتا هے تو اس کے لئے ضروری هے که میرے اهلبیت پر صوالت پڑھے اور انھیں خوش رکھے۔‘‘(۳۸)
اور چونکه سب سے پهلے اور سب سے افضل شافع روز جزاء سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات گرامی هے، چونکه پروردگار عالم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مقام شفاعت عطا کیا هے( ولسوف یعطیک ربک فترضی ) (۳۹) اور عنقریب تمهارا پروردگار تمهیں اس قدر عطا کرے گا که تم خوش هو جاؤ۔
اور ایسی بهت سی روایات هیں که جن سے یه معلو م هوتا هے که اهلبیت علیهم السلام روز قیامت گناهگار شیعوں کی شفاعت کریں گے۔
جیسا که امام صادق علیه السلام سے ایک روایت هے که جس میں آپؑ نے فرمایا:’’خدا کی قسم هم قیامت کے دن اپنے گناهگار شیعوں کی شفاعت کریں گے یهاں تک که دشمن یه دیکھ کر کهے گا( فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم ) ‘‘(۴۰)
ایسی هی ایک حدیث سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے هے که جس میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے:’’عسی أن یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘ کے ضمن میں فرمایا که یه وه مقام هے که جس میں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا(یعنی مراد شفاعت هے)۔
جس طرح سے حق شفاعت سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حاصل هے اسی طرح حق شفاعت اهلبیت عصمت و طهاعت علیهم السلام کو بھی حاصل هے جو که روز قیامت مخلوقات پر گواه هوں گے اس لئے که یه سب ایک هی نفس هیں اور سب کے نور کو پروردگار عالم نے اپنے نور سےخلق فرمایا هے۔
اور ان میں صدیقه طاهره حضرت فاطمة الزهراء سلام الله علیها کی ذات گرامی بھی هے۔
ممکن هے که یه سوال کیا جائے که کیسے صلوات محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر موجب شفاعت هے!
تو اس کا جواب یه هوگا که ذکر صلوات سب سے افضل و بهتر هدیه هے که جو هم اهلبیت عصمت و طهارت علیهم السلام کی خدمت میں پیش کر سکتے هیں اور یه وه ذوات مقدسه هیں که جو معدن(کان) کرم هیں اور صلوات پڑھنے والے کو جس وقت سخت ضرورت هوگی (قیامت کے دن) اس وقت یه حضرات اسکی مدد کریں گے۔
۱۴. صلوات باعث قبولیت دعا هے
اگر هم یه چاهتے هیں که هماری دعائیں قبول هوں تو همارے لئے ضروری هے که هم محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجیں که محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات اور ان کے واسطه سے گذشته قوموں کی دعائیں قبول هوئی هیں اور انشاء الله اس کی تفصیل آنے والے مباحث میں ذکر کئے جائیں گے۔
موالائے کائنات علی بن ابی طالب علیهما السلام سے ایک روایت هے که آپؑ نے فرمایا:’’اگر بارگاه خداوندی میں تمهاری کوئی حاجت هے تو پهلے سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات پڑھو پراپنی حاجت طلب کرو، اس لئے که پروردگار عالم سے بعید هے که ایک حاجت کو پورا کرد ے لیکن دوسری حاجت کو پورا نه کرے۔‘‘(۴۱)
اسی طرح ایک اور روایت مولائے متقیان حضرت علی علیه السلام سے هے که آپؑ نے فرمایا:’’کوئی بھی دعا آسمان تک نهیں پهنچ سکتی مگر یه که محمدؐ و آل محمدعلیهم السلام پر صلوات پڑھی جائے۔‘‘(۴۲) (یعنی بغیر صلوات کے دعا قبول نهیں هوسکتی)۔
ایک اور روایت اسی باب میں سرکار ختمی مرتبتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’کوئی دعا ایسی نهیں هے جس دعا میں اور آسمان کے درمیان حجاب و مانع نه هو مگر یه که محمدؐ و آل محمدعلیهم السلام پر صلوات پڑھی جائے، جیسے هی صلوات پڑھی جائے گی وه حجاب اور مانع برطرف هو جائے گا اور اگر دعا کرنے والا صلوات نهیں پڑھتا تو اس کی دعا واپس هو جاتی هے(یعنی قبول نهیں هوگی۔)‘‘(۴۳)
ایک اور روایت صادق آل محمدؐ امام صادق علیه السلام سے هے که آپؑ نے فرمایا:’’ایک شخص سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر هوا اور کهنے لگا که یا رسول الله میری ایک تهائی دعا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم نےفرمایا که:خیر! پھر اس شخص نے کها که یا رسول الله میری نصف دعا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب دیا میں فرمایا که یه تو اور اچھا هے(افضل هے)، پھر اس نے کها میری ساری دعا آپ کے لئے تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: پس پروردگار عالم تمهارے دنیوی و اخروی امور و حاجات کو پورا کرے گا، پھر راوی نے کها که یه بتائیں که کیسے اس نے اپنی دعا کو سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نام کردیا؟ تو امامؑ نے جواب دیا که جب تک وه صلوات نهیں پڑھ لیتا تھا کوئی دعا مانگتا هی نهیں تھا۔‘‘(۴۴)
ایک روایت اور امام صادق علیه السلام سے هے که آپؑ نے فرمایا رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’مجھے سوار کے پیاله کے مانند قرار نه دو اس لئے که سوار(مسافر) اپنے کوزے کو بھرتاهے اور جب چاهتاهے پی لیتا هے، بلکه مجھے اول دعا،وسط دعااورآخر دعا میں یاد رکھو۔‘‘(۴۵) (یعنی جب ضرورت پڑے فقط تب یاد نه کرو بلکه همیشه یاد رکھو۔)
اور بهت سے علماء اهلسنت نے بھی ایسی روایتیں نقل کی هیں جنکا مفهوم یه هے که دعا بغیر محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پرصلوات کے قبول نهیں هو سکتی۔
جیسا که ابن حجر نے اپنی کتاب صواعق محرقه میں صفحه نمر ۸۸ پر ؛
متقی هندی اپنی کتاب کنز العمال ج ۱ ، ص ۲۱۴ پر؛
قندوزی نے ینابیع المودة میں صفحه ۲۹۵ پر؛
اسی طرح اگر کوئی مراجعه کرنا چاهتا هے تو کتاب احقاق الحق جلد ۹ ، صفحه ۶۶۵ کی طرف رجوع کر سکتا هے۔
۱۵. صلوات سے حاجتیں پوری هوتی هیں
روایات میں هے که محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے ذریعه سے حاجتیں پوری هوتی هیں ۔
ایک حدیث میں سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مروی هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا که اگر کوئی محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر ایک مرتبه صلوات پڑھے گا تو اس کی سو( ۱۰۰) حاجتیں پوری هوں گی۔(۴۶)
اور ایک روایت هے که جس میں سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’اگر کسی کی کوئی ایسی حاجت هو که جوپوری نه هو رهی هو تو اس کے لئے ضروری هے که زیاده سے زیاده محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھے، اس لئے که صلوات سے هم و غم برطرف هوتے هیں، رزق میں اضافه هوتا هے اور حاجتیں پوری هوتی هیں۔‘‘(۴۷)
اور طلب حاجت کے سلسله سے امام زین العابدین علیه السلام سے ایک دعا صحیفه سجادیه میں هے که آپؑ نے فرمایا:’’اللهم صل علی محمد وآل محمد صلاة دائمة نامیة لا انقطاع لأبدها ولا منتهی لأمدها، واجعل ذلک عوناً لي و سبباً لنجاح طلبتي انّک واسع کریم .‘‘
اور کتاب تحفةالرضویه میں یوں ذکر هے هوا هے که:دعا(اللهم صل علی فاطمة و ابیها و بعلها وبنیها بعدد ما احاط به علمک و احصاه ) مجربات میں سے هے که اسے اگر روزانه ستر مرتبه پڑھا جائے تو حاجتیں پوری هوتی هیں اور مریضوں کی شفا کا باعث هے۔(۴۸)
اور اسی طرح علماء کے نزدیک یه بھی مجرب هے که وه اپنی حاجتوں کے لئے صلوات کی نذر مانتے هیں۔
۱۶. صلوات صحت و سلامتی کی باعث هے
اگر کوئی شخص یه چاهتا هے که روحی امراض جیسے که کفر و شرک و نفاق و حسد و فسادروحانی امراض جسمانی امراض سے زیاده نقصان ده و ضرر رساں هیں چونکه یه امراض انسان کو سعادت سے محروم کردیتے هیں) وغیره اور جسمانی امراض سے محفوظ رهے تو اسے چاهئے که محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھے۔
سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مروی هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص ایک مرتبه صلوات پڑھتا هے تو پروردگار عالم اس پر عافیت و سلامتی کا دروازه کھول دیتا هے۔‘‘(۴۹)
سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک اور روایت هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’پروردگار عالم کے نزدیک سوال عافیت سے زیاده محبوب کوئی سوال نهیں هے۔‘‘(۵۰)
ایک اور حدیث میں آیا هے که کسی نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دریافت کیا که لیلة القدر میں کس شئ کے لئے دعا کریں تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا که پهلے عافیت کے لئے پھر قناعت کے لئے ۔(۵۱)
پس هر انسان کے لئے ضروری هے که پروردگار عالم سے دین و دنیا میں صحت و سلامتی کے لئے دعا کرے، اور اسی سبب سے صلوات ان اذکار میں سے هے جو که موجب عافیت و سلامتی هیں، اس لئے که مریض کا اهل بیت عصمت و طهارت علیهم السلام کا ذکر کرنا گویا جسمانی و روحانی طبیب سے رابطه کرنا هے اور بارگاه پروردگار میں توسل کرنا هے تاکه خدائے وحده لاشریک شفا عطار فرمائے اور اگر کوئی شخص خود معدن رحمت تک پهنچ جائے تو پروردگار اس کے لئے باب عافیت کو کھول دیتا هے۔
هم سب کی دعا بارگاه خداوندی میں هے که (یا ولی العافیة نسألک العافیة عافیة الدین و الدنیا والآخرة بحق محمد و عترته الطاهرة )۔
۱۷. صلوات کے ذریعه سے بھولی هوئی چیزوں کو یاد کیا جاسکتا هے
گناهوں کا ارتکاب انسان کے قلب و دماغ پر منفی اثر ڈالتا هے؛ گناه انسان کے دل کو فاسد کردیتا هے اور جو که باعث جهالت و نسیان هے اور اس کے علاج کا بهترین طریقه محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھنا هے۔
امام حسن مجتبی علیه السلام سے ایک روایت هے که جسے آپؑ نے ایک شخص کے اس سوال(که انسان کیسے چیزوں کو بھول جاتا هے، اور کیسے چیزیں یاد آتی هیں؟!) کے جواب میں فرمایا:’’انسان کا دل ایک ظرف میں هے اور اس پر پرده پڑا هوا هے پس اگر کوئی انسان محمد و آل محمد علیهم السلام پر کامل و تام صلوات پڑھتاهے تو اس سے وه پرده هٹ جاتا هے اور انسان کا دل منور هو جاتا هے تو انسان بھولی هوئی چیزوں کو یاد کرلیتا؛ یا بھولی هوئی چیزیں انسان کو یاد آجاتی هیں اور اگر اس نے صلوات نهیں پڑھی یا ناقص صلوات پڑھی تو وه پرده اس ظرف سے نهیں هٹتا اور دل تاریک هوجاتا هے جو که اس شئ کا سبب هے که انسان کو جو چیزیں یاد بھی هوتی هیں وه اسے بھی بھول جاتا هے۔‘‘(۵۲)
۱۸. صلوات فقر سے نجات کی باعث هے
انسان کی زندگی میں فقر و تنگدستی سے بهت هی سخت امتحان هوتا هے جس سے انسان گذرتا هے اور حضرت علی علیه السلام نے فرمایا: (لو کان الفقر رجلا لقتلته ) که اگر فقر انسانی شکل میں هوتا تو میں اسے قتل کر دیتا۔
اور اس سے نجات کا راسته و طریقه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے۔
ایک روایت سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے هے ایک شخص نے آپ سے فقر کا گلا و شکوه کیا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا که اگر تو چاهتاهے که پروردگار عالم تجھے غنی بنا دے تو تیرے لئے ضروری هے که تو مجھ پر اور میرے آل علیهم السلام پر صلوات پڑھے۔(۵۳)
اور چونکه بات فقر و تنگدستی کی هو رهی هے تو مناسب سمجھتا هوں که ایک دعا فقر سے نجات اور قرض کی ادائگی کے لئے بیان کردوں اور وه دعا بهت هی مجرب هے اور اس دعا کے سلسله سے علماء و فضلاء کا تجربه بھی هے روایت یه هے:
امام محمد باقر علیه السلام نے اپنے اباو اجداد سے انھوں نے مولائے کائنات علیه السلام سے نقل فرمایا که آپؑ نے فرمایا:’’میرے اوپر قرض تھا اور میں نے سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس کا تذکره کیا تو سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا که یه کهو:(اللهم اغنني بحلالک عن حرامک و بفضلک عمن سواک )‘‘ که اگر مانند صبیر بھی قرض هوگا تو پروردگار عالم اسے ادا کر دیگا۔(۵۴) صبر یمن میں ایک پهاڑ کانام هے که جس سے بڑا اور عظیم کوئی پهاڑ نهیں هے۔
جناب شیخ بهائی ؒ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے هیں که ایک مرتبه میرے اوپر قرض بهت هو گیا تھا جو ڈیڑ هزار مثقال سونے سے بھی زیاده تھا اور جن لوگوں سے میں نے قرض لیا تھا وه بهت زیاده تقاضا کر رهے تھے یهاں تک که میں اسکی وجه سے اپنا دوسرا کام بھی نهیں کر پایا رها تھا، اور اداء دین کے سلسله سے میرے پاس کوئی راسته بھی نهیں تھا تو میں روز نماز صبح کے بعد اس دعا کو پڑھتا تھا اور بعض اوقات دوسری نمازوں کے بعد بھی پڑھتا تھا پھر کچھ هی وقت گذرا تھا که نه جانے کیسے وه قرض ادا هوگیا میں سوچ هی نهیں سکتا تھا۔
اور اس دعا کے سلسله سے جناب سید محسن امین قدس سره فرماتے هیں که جیسے مجھے اس دعا کے سلسله سے خبر هوئی تو میں نے اس کو نمازوں میں پڑھنا شروع کردیا تو بجز بعض اوقات کے خدا کے شکر سے مجھے کبھی بھی تنگی رزق کی شکایت نهیں هوئی۔
اور بعض علماء کهتے هیں یه دعا قرض کی ادائگی کے لئے بهت هی موثر هے، جب بھی اس دعا کو پڑھا میرا قرض ایک هفته سے پهلے پهلے ادا هوگیا، اور بعض علماء کا کهنا هے که میرا سوچنا یه هے که یه سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے معجزات میں سے هے۔
۱۹. صلوات باعث رحمت الهی هے
جو بھی محمدؐ و آل محمد علیه السلام پر صلوات پڑھے گا رحمت خداوندی دنیا و آخرت میں اس کے شامل حال هوگی۔
جیسا که مولائے کائنات حضرت علی علیه السلام نے خطبه میں فرمایا که:’’شهادتین(اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد اً رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم )‘‘ کے ذریعه سے جنت میں جاؤ گے اور رحمت خداوندی شامل حال هوگی پس زیاده سے زیاده محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھو۔(۵۵)
۲۰. صلوات کے ذریعه خواب میں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ، امام علیه السلام یا مرده کی زیارت هوگی
یعنی صلوات کے ذریعه خواب میں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم اور کسی امام علیه السلام کی یا کسی میت کی زیارت کی جاسکتی هے۔جناب سید محمد باقر اصفهانی نقل کرتے هیں که عالم و فاضل جناب محمد بن سعید فرماتے هیں که میں نے یه عهد کیا که میں هر شب سونے سے پهلے محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھوں گا تو میں نے ایک شب خواب میں دیکھا که رسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم میرے کمره میں داخل هوئے تو پورا کمره حضرت کے نور سے منور هوگیا۔ اور سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کهنے لگے که وه هونٹ کهاں هے جس سے مجھ پر اور میری آل علیهم السلام پر صلوات پڑھی جاتی هے میں اس کا بوسه لینا چاهیتا هوں؛ او ر سرکار نے بوسه لیا اور چلے گئے اور جب میں بیدار هوا تو دیکھا که کمره خوشبو سے معطر هے تو میں بهت خوش هوا اور تقریباً یه خوشبو آٹھ دن تک میرے کمره میں رهی اور لوگ تعجب کے ساتھ اسے محسوس کرتے تھے۔
اسی طرح سے اگر کوئی چاهتا هے که کسی میت سے خواب میں ملاقات کرے تو اس کا راسته بھی محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے۔
جیسا که ایک روایت جناب ابو هشام سے هے که نقل کرتے هیں که ایک شخص امام محمد تقی علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا اور کهنے لگا که میرے والد کا انتقال هو گیا هے اور وه کچھ مال(ترکه) چھوڑ کر گئے هیں لیکن هم کو پته نهیں هے که وه مال کهاں هے اور مولاؑ میں آپ کے شیعوں میں سے هوں اور میرا خانواده بڑا هے میری مدد کریں تو امام علیه السلام نے فرمایا: نماز عشاء کےبعد تین مرتبه محمدؐ و آل محمد علیه السلام پر صلوات پڑھنا تو تمهارے بابا خواب میں آکر تمهیں بتائیں گے که مال کهاں هے۔ تو شخص نے ویسا که کیا جیسا امامؑ نے فرمایا تھا اور اس نے خواب میں اپنے باپ کو دیکھا که اس سے کهه رهے هیں که اے بیٹا مال فلاں جگه پر رکھا هے اسے لے لو اور امام علیه السلام کو جاکر بتا دو که میں نے تمهیں بتا دیا، تو اس شخص نے مال لیا اور اور امام علیه السلام کو جاکر بتا بھی دیا اور کها:’’الحمد لله الذی اکرمک و اصطفاک ‘‘ یعنی ساری تعریفیں اس خدا کے لئے هیں که جس نے آپ کو منتخب کیا۔(۵۶)
اسی طرح یه حکایت کی گئی هے که اگر کوئی شخص برابر اس صلوات(اللهم صل علی محمد و آله وسلم کما تحب و ترضی ) کو پڑھے گا تو اس کے ذریعه سے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت کرسکتا هے۔(۵۷)
صلوات کے فوائد بطور خلاصه
۱) پروردگار عالم صلوات پڑھنے والے کی احتیاج کو پورا کر دیتا هے۔
۲) غریبوں کے لئے صلوات بمقام صدقه هے۔
۳) صلوات سبب طهارت و تذکیه نفس هے۔
۴) صلوات مجلس کی برکت کی باعث هے ورنه وه مجلس و نشست قیامت کے دن اهل مجلس کے لئے بلاء و وبال هوگی جس میں صلوات نه پڑھی جائے۔
۵) اگر انسان سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذکر کے بعد صلوات پڑھے گا تو صفت بخل اس سے دور هوگی۔
۶) صلوات پڑھنے والے راه جنت پر گامزن هیں اور نه پڑھنے والے جنت کے راسته سے منحرف هیں۔
۷) صلوات پل صراط پر نور کا باعث هے۔
۸) صلوات پرھنے والا جفاکار نهیں هے، اور جو صلوات نهیں پڑھتا گویا اس نے سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جفا کیا۔
۹) صلوات پڑھنے والے کی تعریف پروردگار عالم زمین و آسمان والوں کے سامنے کرتا هے۔
۱۰) صلوات جنت میں باعث کثرت ازواج هے اور جنت میں اعلیٰ مقام کا باعث بھی هے۔
۱۱) صلوات عطش(پیاس) کو رفع کرنے والی هے۔
۱۲) ذکر صلوات بیس غزوات کے برابر هے، بلکه اس سے بھی کهیں زیاده بهتر هے۔
۱۳) صلوات علامت هے که صلوات پڑھنے والا سنت نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر عمل کرنے والا هے۔
۱۴) ثواب صلوات خود صلوات پڑھنے والے کو اور اس کی اولاد کو اور جس کے لئے صلوات ایصال کی جائے سب کو پهنچے گا۔
۱۵) بعض علماء کا کهنا هے که محمد و آل محمد علیهم السلام پرصلوات سے دس کرامتیں حاصل هوتی هیں:
۱) خود پروردگار صلوات بھیجتا هے؛
۲) سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کی شفاعت کریں گے؛
۳) صلوات عمل ملائکه کی پیروی هے؛
۴) صلوات منافقین و کفار کی مخالفت هے؛
۵) صلوات سے گناه مٹا دیئے جاتے هیں؛
۶) صلوات کے ذریعه حاجتیں پوری هوتی هیں؛
۷) انسان کا ظاهر و باطن منور هوتا هے؛
۸) قیامت کے هولناک مناظرسے نجات حاصل هوگی؛
۹) جنت میں داخله کا باعث هے؛
۱۰) موجب سلام پروردگار هے۔
____________________
۱ سوره احزاب، آیه ۵۶
۲ سوره انبیاء آیه ۲۰
۳ سوره احزاب، آیه ۵۶
۴ جمال الاسبوع، ۲۳۶؛ البحار ۹۴؛ ۷۲؛۶۶؛ موالی الالی۲، ۳۶؛ ۹۷
۵ ؟؟؟؟؟ ورقه میں نهیں هے۔۔۔
۶ ارشاد القلوب، ج۲، ص۳۰۲
۷ منازل الآخرة، ص۱۱۶
۸ مناقب آل ابھی طالب(ع)۳، ۱۴۳
۹ وسائل باب۱۰، من ابواب اشهداء، حدیث۲
۱۰ جیسا که بعض لوگوں کا ماننا هے که اکسیر ایسا شربت هے که جس سے حیات طولانی هوتی هے۔(معجم)
۱۱ منازل الآخرة، ص۱۱۵
۱۲ آثار و برکات امیرالمومنین(ع)، ۲۳۸
۱۳ الامتثال النبویة، ج۱، ۱۴۱
۱۴ عیوان اخبار الرضا(ع)، ۲، ۲۶۶
۱۵ الامتثال النبویة، ج۱، ۱۴۰
۱۶ کامل الزیارات،ص ۱۵۹
۱۷ کامل الزیارت، ص۳۲۲
۱۸ ثواب الاعمال و عقاب، الاعمال، ۲۴۴
۱۹ مذکوره حواله،۴۶
۲۰ جامع الاخبار، ۶۹،ج۵،۶،۷
۲۱ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،۴۵
۲۲ منازل الآخرة،۱۱۴
۲۳ دار السلام،۲، ۱۲
۲۴ القطرة، ج۱، باب الصلاة علی النبی واآله
۲۵ البقرة۲۲۲
۲۶ وسائل الشیعه باب۹،من ابواب الذکر، حدیث۳
۲۷ مستدر الوسائل باب۱۱، من ابواب الذکر، حدیث۵
۲۸ جمال الاسبوع، ۱۶۰
۲۹ احزاب۴۳
۳۰ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،۴۷
۳۱ المستدرک، باب۳۲، من ابواب الذکر، حدیث۲۰
۳۲ الوسائل، باب۳۹، من ابواب الصلاة علی محمد و آل محمد علیهم السلام، حدیث۱
۳۳ المستدرک، باب۳۱، نب ابواب الذکر، حدیث۴۱
۳۴ المسدترک، باب۲۳، من ابواب فعل لمصروف، حدیث۱
۳۵ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،۴۷
۳۶ مذکور حواله،ص۴۵
۳۷ ثواب اعمال و عقاب الاعمال، ص۴۵
۳۸ وسائل الشیعه، باب۴۳، من ابواب الذکر، حدیث۵
۳۹ سوره ضحی،۵
۴۰ میزان الحکمة،۵،۱۲۲
۴۱ الوسائل، باب۳۶، من ابواب الدعا، حدیث۱۸
۴۲ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص۴۶
۴۳ مذکوره حواله،۴۷
۴۴ الوسائل، باب۳۶، من ابواب الدعاء، حدیث۴
۴۵ مذکوره حواله، حدیث۷
۴۶ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص۵۰
۴۷ مذکوره حواله،ص۵۰
۴۸ التحفة الرضویة، ص۲۰۲
۴۹ المستدرک، باب۳۱، من ابواب الذکر، حدیث۱۱
۵۰ میزان الاعمال،ج۶، ص۳۸۳
۵۱ منتهی الاعمال، ج۲، ص۴۸۰
۵۲ الوسائل،۳۷، باب من ابواب الصلوات علی محمدؐ وآل محمد، حدیث۱
۵۳ لالی الدنیا،۳ ص۴۳۶
۵۴ التحفة الرضویة،۳۰
۵۵ بحارالانوار، ج۹۴، ص۴۸
۵۶ دارالسلام، ج۱، ص۳۳۸
۵۷ مذکور حواله،ج۳، ص۱۱۶
دوسری فصل
{صلوات کا فائده محمدو آل محمد علیهم السلام کو پهنچتا هے یا خود صلوات پڑھنے والے کو}
علماء کے درمیان یه مسئله مورد بحث هے که صلوات کا فائده کسے پهنچتا هے؟ خود صلوات پڑھنے والے کو یا محمدو آل محمد علیهم السلام کو؟!
اکثر علما ء کا نظریه هے که صلوات کا فائده فقط و فقط صلوات پڑھنے والے کو هی پهنچتا هے اور محمدو آل محمد علیهم السلام کو اس کاکوئی بھی فائده نهیں هوتا؛ اور جناب سید عبد الله شبّر کا بھی یهی نظریه هے، چونکه ان ذوات مقدسه کو جس منزل کمال په پهنچنا تھا وه پهنچ گئے هیں۔
لیکن بعض لوگوں کا کهنا هے که صلوات کا فائده خود محمدؐ و آل محمد علیهم السلام کو بھی پهنچتا هے اور یه صلوات انکے ان قرب و کمالات کی زیادتی کی باعث هے که جن پر آپ حضرات علیهم السلام فائز هیں۔
اور ایک روایت هے که سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’جنت میں وسیله سے بڑا کوئی درجه نهیں هے لهذا تم لوگ پروردگار عالم سے دعا کرو که یه درجه مجھے حاصل هو۔‘‘(۱)
یه حدیث اس شئ پر دلالت کر رهی هے که مومنین کی دعا سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کےلئے حصول وسیله کا باعث هے، جیسا که خود سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’پروردگار عالم نے مجھ سے ایک ایسے درجه کا وعده کیا هے که جو امت کی دعا کے ذریعه هی حاصل هو سکتا هے۔‘‘(۲)
محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنے کا طریقه
محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنے کا صحیح طریقه کیا هے؟ اس مطلب کے لئے ایک روایت کتاب امالی شیخ طوسیؒ سے نقل کرتےهیں:
کعب بن عجرة سے روایت هے که سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم جب هم لوگوں کے پاس تشریف لائے توهم لوگوں نے کها که یا رسول الله آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سلام کا طریقه تو سکھا دیا پر یه بتائیں که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات کیسے پڑھیں؟!
تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’ایسے کهو:اللهم صل علی محمد کما صلیت علی ابراهیم، وانک حمید مجید، و بارک علی آل محمد کما بارکت علی آل ابراهیم، انک حمید مجید. ‘‘
مترجم: اور صلوات کا صحیح طریقه جو که اهل سنت کی کتابوں سے بھی ثابت هے وه یه هےاللهم صل علی محمد و آل محمد )(۳)
____________________
۱ ریاض السالکین۱، ص۴۹۳؛ اهل البیت فی الکتاب والسنة لاشعری، ص۱۰۶؛ نقلاً عن صحیح بخاری، ج۱، ص۲۲۲، ح۵۸۹
۲ لالی الاخبار،ج۳، ص۴۴۲
۳ صواعق محرقه، ص۸۷؛ ینابیع المودة، ج۷، ص۲۹۵؛ تفسیر کبیر، ج۷، ص۳۹۱
تیسری فصل
{صلوات واجب هے یا مستحب؟}
علماء کے درمیان یه مسئله مورد اختلاف هے۔ بعض کا نظریه هے که صلوات تمام عصر مین ایک مرتبه واجب هے، اور بعض کا کهنا هے که هر نشست و مجلس میں ایک مرتبه واجب هے۔
لیکن مشهور علماء کا نظریه هے که صلوات مستحب هے۔
اور اهل سنت کے علماء نے اپنی کتابوں میں ایسی روایتیں بھی نقل کی هیں جو اس مطلب پر دلالت کرتی هیں که نماز میں صلوات پڑھنا واجب هے۔
جیسا که ایک روایت عائشه سے هے کهتی هیں که میں نے سنا هے که سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’نماز بغیر طهارت و صلوات کے قبول نهیں هو سکتی۔‘‘
اور اسی کی روشنی میں شافعی کے اشعار بھی واضح هو جاتے هیں که جو که دلالت کرتے هیں که نماز میں صلوات واجب هے۔
یا آل بیت رسول الله حبکم فرض من الله فی القرآن انزله
کفاکم من عظیم القدر انکم من لم یصل علیکم لا صلاة له
اے اهلبیت رسول علیهم السلام آپ کی محبت کو الله نے قرآن میں فرض قرار دیا هے اور آپ کی قدر و منزلت کے لئے یهی کافی هے که اگر کوئی نماز میں آپ پر صلوات نه پڑھے تو اس کی نماز هی نهیں هے(یعنی قبول نهیں هے)۔(۱)
اور علماء اهل سنت نے بھی اس مضمون کی حدیثیں نقل کی هیں:
۱. دار قطنی نے اپنی سنن میں صفحه ۱۳۶ پر، ابو مسعود انصاری سے روایت کی هے کهتا هے سرکار دعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: اگر کوئی نماز میں مجھ پر اور میرے اهلبیت علیهم السلام پر صلوات نه پڑھے تو اس کی نماز قبول نهیں هو سکتی هے۔
۲. بیهقی نے سنن کبری ج ۲ ، صفحه ۳۷۱
۳. ابن حجر هیثمی نے درمنصور میں صفحه ۱۲
اور اس کے علاوه دیگر علماء اهلسنت نے بھی اس طرح کی حدیثیں نقل کی هیں۔
تمام مخلوقات چاهے وه کوئی بھی هو کسی کا بھی عمل بغیر محبت اهلبیت علیهم السلام اور اعتراف و اقرار ولایت ائمه علیهم السلام کے قبول نهیں هو سکتا بلکه کالعدم هوگا۔
۱. وه مقامات جهاں صلوات پڑھنا مستحب هے
۱. جب سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ذکر هو:
سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: اصل میں بخیل وه شخص هے که جس کے سامنے میرا ذکر هو اور وه مجھ پر صلوات نه پڑھے۔
اور ایک روایت اور هے که جس میں سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا که سب سے زیاده جفا کار وه شخص هے جس کے سامنے میرا ذکر هو اور وه مجھ پر صلوات نه پڑھے۔(۲)
۲. رکوع و سجو د میں:
امام محمد باقر علیه السلام سے روایت هے که آ پ نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص حالت رکوع و سجود و قیام میں یه کهے(صلی الله علی محمد و آله) تو اس کو اس ذکر کے عوض رکوع، سجود و قیام کے مثل ثواب ملے گا۔‘‘(۳) (یعنی جو ثواب رکوع و سجود و قیام کا هوگا وهی ثواب صلوات کا بھی هوگا)۔
۳. قنوت میں:
امام جعفر صادق علیه السلام سے مروری هے که آپ سے دعا قنوت کے سلسله سےسوال کیا گیا (یعنی قنوت میں کیا پڑھا جائے) تو امام صادق علیه السلام نے جواب میں فرمایا: اپنے پروردگار کی حمد و ثنا کرو اور اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات بھیجو اور استغفار کرو۔(۴)
۴. بعد از نماز:
مولائے کائنات حضرت علی علیه السلام سے مروی هے که آپ نے فرمایا که چار چیزوں کو حق سماعت عطا کیا گیا هے(یعنی یه چیزیں سنتی هیں اور جواب بھی دیتی هیں):
۱) نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ؛
۲) جنت؛
۳) جهنم؛
۴) حورالعین.
جب انسان نماز سے فارغ هو جائے تو ضروری هے که محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھے، اور جنت طلب کرے، جهنم سے بچنے کی دعا کرے، اور حوروں کو طلب کرے۔(که خداوند رحمن جنت میں حوروں کو اسکی زوجه قرار دے) اس لئے که اگر کوئی صلوات پڑھتا هے تو اس کی دعا قبول هوتی هے، اگر جنت کا مطالبه کرتا هے تو جنت پروردگار سے کهتی هے که خدایا تیرے بندے نے جو سوال کیا هے اسے عطا کردے، اور اگر کوئی جهنم سے بچنے کی دعا کرتا هے تو جهنم پروردگار سے کهتی هے که خدایا تیرے بندے نے جس چیز سے بچنے کی دعا کی هے اس کو اس شئ سے محفوظ رکھ، اور جب حوروں کا مطالبه کرتا هے تو حوریں پروردگار سے کهتی هیں که خدایا تیرے بندے نے جو سوال کیا هے اسے عطا فرما۔(۵)
اور مولائے کائنات علیه السلام سے ایک حدیث هے که آپؑ نے فرمایا که اگر کوئی شخص نماز صبح اور نماز مغرب کے بعد کسی سے کلام کرنے سے پهلے اور پهلو بدلنے سے پهلے یه کهے( إنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) اور (اللهم صل علی محمد و ذریته علیهم السلام) تو پروردگار عالم اس کی سو( ۱۰۰) حاجتوں کو پورا کرے گا جس میں سے ستّر دنیا اور تیس آخرت سے متعلق هونگی۔(۶)
۵. سونے سے پهلے:
جناب فاطمة الزهرا سلام الله علیها سے روایت هے که آپ ؐ نے فرمایا:’’میں سونے کے لئے اپنا بستربچھا چکی تھی که سرکار
دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم داخل هوئے اور فرمایا: اے فاطمهؐ! جب تک چار عمل انجام نه دے لینا سونا نهیں اور چار عمل یه هیں:
۱) سونے سے پهلے قرآن ختم کر لینا؛
۲) انبیاء علیهم السلام کو شفیع بنا لینا؛
۳) مومنین کو راضی کر لینا؛
۴) حج و عمره انجام دے دینا.
سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم یه کهنے کے بعد نماز پڑھنے میں مشغول هو گئے توجناب زهرا سلام الله علیها فرماتی هیں که میں نے نماز کے بعد کها که: یا رسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ نے جن چار چیزوں کا حکم دیا هے ان کو سونے سے پهلے کیسے انجام دیا جائگا؟! تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم مسکرائے اور فرمایا: اگر تین مرتبه سوره توحید کی تلاوت کیا تو گویا پورا قرآن ختم کرلیا، اور اگر مجھ پر اور دوسرے انبیاء پر صلوات پڑھا تو هم قیامت کے دن شافع هونگے، اور اگر مومنین کے لئے استغفار کیا تو وه راضی هو جائیں گے اور اگر یه کها(سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اکبر) تو گویا حج و عمره کر لیا۔‘‘(۷)
۶. نماز صبح کے بعد:
امام جعفر صادق علیه السلام سے روایت هے که جس میں آپؑ نے فرمایا:’’جو شخص بھی بعد نماز صبح اور بعد نماز ظهر کهے(اللهم صل علی محمد وآل محمد و عجّل فرجهم) تو وه امام زمانه (عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے زمانے کو درک کرے گا۔‘‘(۸)
اسی طرح امام جعفر صادق علیه السلام سے روایت هے که آپؑ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا که نماز صبح کے بعد سو( ۱۰۰) مرتبه کهو:(اللهم صل علی محمد و آل محمد) تو پروردگار عالم تم کو جهنم کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔‘‘(۹)
۷. وقت استخاره صلوات مستحب هے:
علامه مجلسیؒ نے اپنے والد سے اور انھوں نے اپنے استاد شیخ بهائی سے نقل کیا هے که شیخ نے کها که میں نے اپنے اساتذه
سے سنا هے که وه امام عصر(عجل الله تعالی فرجه الشریف) سے نقل کرتے هیں تسبیح سے استخاره کے سلسله سے، که آپ تسبیح کو هاتھ میں لیتے تھے اور صلوات پڑھتے تھے تین مرتبه اور اس کے بعد هر تسبیح کے دانوں کو شمار کرتے تھے دو دو کرکے اور اگر آخر میں ایک دانه بچتا تھا تو اس اسکا مطلب تھا که اس کام کو انجام دو اور اگر دو دانه بچتا تھا تو منع هو تا تھا۔(۱۰)
۸. مسجد میں داخل هوتے اور نکلتے وقت صلوات مستحب هے:
امام صادق علیه السلام سے روایت هے که آپ نے فرمایا:’’مسجد میں جب داخل هو تو صلوات پڑھو اور جب نکلو تو صلوات پڑھو۔‘‘(۱۱)
ایک روایت امام محمد باقر علیه السلام سے هے که آپ نے فرمایا که جب مسجد میں بیٹھنے کی غرض سے داخل هو تو طهارت کے ساتھ داخل هو اور رخ قبله کی طرف کرو اور جب داخل هو تو دعا کرو اور حمد پرورد گار بجا لاؤ اور محمدو آل محمدعلیهم السلام پر صلوات پڑھو۔(۱۲)
۹. هر نشست و مجلس میں صلوات مستحب هے:
امام جعفر صادق علیه السلام سے روایت هے که آپ نے فرمایا: سرکار دوعالم نے فرمایا: جس مجلس و نشست میں ذکر پروردگار نه هو اور هم پر صلوات نه پڑھی جائے وه مجلس اهل مجلس کے لئے قیامت کے دن وبال و عذاب هوگی۔(۱۳)
۱۰. جب چھینک آئے تو صلوات مستحب هے:
روایت میں بهت زیاده تاکید کی گئی هے که اگر کسی کو چھینک آئے یا اس کے سامنے کوئی چھینکے تو صلوات پڑھنا مستحب هے۔
امام صادق علیه السلام سے ایک روایت هے که آپؑ نے فرمایا:’’اگر کسی کو چھینک آئے اور وه اپنا هاتھ ناک پر رکھ کر
یه کهےالحمد لله رب العالمین حمداً کثیراً کما هو اهله وصل الله علی محمد النبی وآله وسلم ‘‘تو اس کی ناک کے بائیں طرف سے ایک پرنده جو که ٹڈی سے چھوٹا اور مکھی سے بڑا هوگا نکلے گا اور عرش الهی کے نیچے جا ٹھهرے گا اور اسکے لئے قیامت تک استغفار کرے گا۔(۱۴)
۱۱. نزدیک غروب پنجشنبه و شب جمعه صلوات پڑھنا مستحب هے:
ابن سنان سے روایت هے که امام صادق علیه السلام نے فرمایا:’’پنجشنبه کو نزدیک غروب اور شب جمعه فرشتے نازل هوتے هیں اور انکے ساتھ سونے کے اقلام اور چاندی کے قرطاس هوتے هین که جس پر وه روز پنجشنبه نزدیک به غروب اور شب جمعه اور روز جمعه غروب تک سوائے محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے علاوه کچھ اور نهیں لکھتے۔‘‘(۱۵)
ایک اور روایت امام صادق علیه السلام سے هے که جس میں آپؑ نے فرمایا:’’ایک صدقه شب جمعه اور روز جمعه ایک هزار کے برابر هے اور شب جمعه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات سے هزار نیکیاں حاصل هوتی هیں، اور هزار گناه معاف هوتے هیں اور هزار درجات بلند هوتے هیں، اور شب جمعه صلوات بھیجنے والے کا نور قیامت تک آسمان پر چمکتا رهتا هے، اور ملائکه‘ اور وه فرشتے جو سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی قبر پر مقرر هیں قیامت تک اس کے لئے استغفار کرتے هیں۔‘‘(۱۶)
۱۲. روز جمعه صلوات مستحب هے:
سرکار دوعالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے رایت هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص روز جمعه سو مرتبه صلوات پڑھے گا تو اس کے ستّر سال کے گناه بخش دیئے جائیں گے۔‘‘(۱۷)
۲. سوال: کتنی صلوات کافی هے؟!
هو سکتا هے یه سوال کیا جائے که کتنی صلوات کافی هے؟ چونکه الگ الگ طریقه سے صلوات وارد هوئی هے که بعض چھوٹی اور بعض بڑی، تو کتنا حصه پڑھا جائے جو که کافی هو۔؟
تو اس کا جواب یه هے که جتنا حصه تشهد میں وارد هوا هے وه کافی هے۔(اللهم صل علی محمد وآل محمد )۔
اور علماء اهل سنت نے اپنی صحاح و سن میں اس صلوات کو نقل کیا هے:
جیسا که شافعی نے اپنی مسند میں صفحه ۹۷ پر، احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں اور انکے دیگر علماء نے بھی نقل کیا هے۔
۳. بچوں کی صلوات:
بچے بھی محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھتے هیں جیسا که سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت هے که آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:’’اگر تمهارے بچے گریه کریں تو تم ان کو مارنا نهیں، چونکه چار مهینه انکا گریه خدا کی وحدانیت کی گواهی هے، اور اس کے بعد کے چار مهینه انکا گریه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے اور چار مهینه والدین کے لئے دعا هے۔‘‘(۱۸)
____________________
۱ انسان کی نماز هی کیا بلکه اصل توحید بھی بغیر اهلبیت علیهم السلام کے قابل قبول نهیں چه جائے که دوسری عبادات اور صرف انسان هی نهیں۔
۲ الوسائل، باب۴۲، من ابواب الذکر، حدیث۱۸
۳ مذکوره حواله، حدیث۱۸
۴ من لا یحضره الفقیه، ج۱، ص۲۰۷
۵ الوسائل، باب۲۲، من ابواب التعقیب، حدیث۶
۶ سفینة البحار، مادة صل
۷ خلاصة الاذکار، ص۷۰
۸ سفینة البحار، ماده صل
۹ مذکوره حواله
۱۰ مفاتیح الجنان
۱۱ فروع الکافی،ج۳، ص۳۰۹
۱۲ الوسائل، باب۳۹، من ابواب احکام العابد، حدیث۲
۱۳ تفسیر الثقلین، ج۳، ص۳۰۱
۱۴ الوسائل، باب۶۳، من ابواب احکام الشرم حدیث۴
۱۵ الوسائل، باب۴۳، من ابواب صلاة الجمعه، ھدیث۱
۱۶ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص۴۸
۱۷ مذکوره حواله، ص۴۸
۱۸ التوحید، ۲۳۱
چوتھی فصل
{ایک جوان اور صلوات}
قرآن مجید خود اسرار و عظمت صلوات کو بیان کرتا هے:
امام حسن عسکری علیه السلام سے مروی هے که:
ایک تاریخی واقعه قوم بنی اسرائیل کا که بنی اسرائیل میں ایک خوبصورت لڑکی تھی جو که با اخلاق و شریف و با عظمت تھی و فاضله اور اچھے خاندان سے تھی اور اسکے بهت سے رشتے آتے تھے، اور اسکے تین چچا زاد بھائی تھے تو وه ان میں سے جو سب سے افضل و برتر تھا اس کے ساتھ شادی کرنے پر راضی هو گئی، لیکن اس کے اور جو دوسرے باقی چچازاد بھائی تھے وه بهت ناراض هوئے یهاں تک که اپنے تیسرے بھائی سے حسد کے شکار هو گئے تو ایک مرتبه انھوں نے اپنے اس تیسرے بھائی کو(جسی شادی اس لڑکی کے ساتھ هونے والی تھی) مدعو کیا اور جب وه انکے گھر آیا تو اسے قتل کرکے اسے بنی اسرائیل کے ایک ایسے محله میں پھینک دیا جو که کئی قبیلوں پر مشتمل تھا، جب صبح نمودار هوئی تو محله والوں نے لاش دیکھی اورپهچان گئےکه یه کون هے، اسی اثنا میں میت کے دونوں چچازاد بھائی جوکه قاتل تھے وه بھی آگئے، اور اپنا گریبان چاک کرکے رونے پیٹنے لگے اوریه بین کرنے لگےکه اس محله والوں نے همارے بھائی کو قتل کردیا، تو جناب موسی(علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے اس محله والوں کو بلایا اور ان سے حقیقت دریافت کی تو محله والوں نے کها که نه تو هم نے اسے قتل کیا هے اور نه هی هم اس کے قاتل کو جانتے هیں۔ تو جناب موسی علیه السلام نے کها که ٹھیک هے اگر تم نهیں جانتے هو تو جو حکم پروردگار هے اسے ماننا پڑے گا تو ان لوگوں نے کها اےموسی علیه السلام ایسی قسم سے همیں کیا فائده جو که سنگین جرمانه کو برطرف نه کرے اور اتنا سنگین جرمانه دینے سے کیا فائده جو که قسم کو برطرف نه کرے۔
تو جناب موسی علیه السلام نے فرمایا: فائده اطاعت خداوندی اور اس کے امر کے بجالانے میں هے، اور جس چیز سے اس نے روکا هے اس سے رکنے میں هے، تو ان لوگوں کها که اے نبی خدا جرمانه بهت سنگین هے جبکه هم نےکوئی خطا نهیں کی اور یه قسم بھی بهت سنگین و عظیم هے جبکه همارے اوپر کسی کاکوئی حق بھی نهیں هے، اور اگر پروردگار عالم قاتل کی نشان دهی کردے تو آپ دعا کریں که پروردگار قاتل کو مشخص کردے تاکه وه جس سزاء کا مستحق هے اسے دیا جائے، اور سب کے لئے حقیقت واضح هو جائے۔
جناب موسی علیه السلام نے کها که حکم خداوند عالم اس مسئله میں موجود هے اور دعا کی ضرورت نهیں هے اور نه اس کے حکم پر اعتراض کر سکتا هوں؛ کیا تم نے نهیں دیکھا که جب پروردگار عالم نے سنیچر کے دن هم پر کسب معاش حرام قرار دیا اور اسی طرح سے اونٹ کا گوشت حرام کیا تو همیں اصلا ً یه حق نهیں تھا که هم پروردگار عالم سے تبدیلی حکم کا مطالبه کرتے یا اس کے خلاف آواز اٹھاتے بلکه همارے لئے ضروری هے که هم اس کے حکم کو مانیں اور اس کی پابندی کریں۔
جناب موسی علیه السلام اس مسئله کا حکم بیان فرمانے والے هی تھے که وحی پروردگار نازل هوئی که اے موسی علیه السلام ان لوگوں نے جو کها هے اسے طلب کرو ، اور هم سے مطالبه کرو که هم بتائیں که قاتل کون هے تاکه وه قتل کیا جائے اور بےخطا قتل و جرمانه سے محفوظ رهے۔
میں ان کے دعا و سوال کے قبولیت کے ذریعہ سے تمہاری امت کے نیک افراد میں سے ایک شخص کے رزق میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں ، جسکا شیوہ یہ ہے وہ محمد و آل محمد (ع) پر صلوات پڑھتا ہے۔ اور کائنات میں سب سے افضل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے بعد علی علیہ السلام کو جانتا ہے ، میں اس واقعہ کے ذریعہ سے اس کو دنیا میں غنی بنانا چاہتا ہوں تا کہ اس کو محمد و آل محمد علیهم السلام کی تکریم و احترام کا کچھ ثواب دیدوں ۔
تو جناب موسی (علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا خدایا تو بتا کہ قاتل کون ہے ؟
تو پروردگار عالم نے وحی کی کہ بنی اسرائیل سے کہو اگر جاننا چاہتے ہیں کہ قاتل کون ہے تو گائے ذبح کریں اور اسکا ایک حصہ میت کے جسم پر ماریں تو وہ مقتول زندہ ہو جایئگا تو حکم پروردگار کو تسلیم کریں ورنہ سوال نہ کریں اور جو ظاہر حکم ہے اسی پر عمل کریں، جیسا کہ پروردگار نے کہا (( وَ إِذْ قَالَ مُوسىَ لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبحَواْ بَقَرَةً ) )۱) اور اس وقت کو یاد کرو جب موسی نے اپنی قوم سے کہا کہ پروردگار عالم نے تم کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے ۔
اگر تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ قاتل کون ہے ۔ اور پھر گائے کے ایک حصہ کو میت سے مس کرو ، تو وہ مقتول زندہ ہو جائیگا اور بتائیگا کہ قاتل کون ہے پھر قرآن نے کہا( قَالُواْ أَ تَتَّخِذُنَا هُزُوًا ) )۲) ان لوگوں نے کہا آپ ہمیں مذاق بنا رہے ہیں کیا ایسا ہو سکتا ہے اور یہ معقول ہے کہ پروردگار گائے ذبح کرنے کا حکم دے اور پھر یہ کہے کہ یک میت کے بعض حصہ کو دوسرے میت کے بعض حصہ سے مس کیا جائے تو ایک زندہ ہو جائیگا دوسرے سے ملنے کی وجہ سے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
تو جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا( اعوذ بالله ان اکون من الجاهلین ) کہ میں پرودگار کی طرف ایسی بات منسوب کروں جو اس نے کہا نہ ہو اور میں جاہلوں مین سے ہو جاؤں کہ میں قیاس کے ذریعہ سے حکم پروردگار کی مخالفت کروں، اور حکم پروردگار عالم کو رد کروں اور تسلیم نہ کروں۔
اس کے بعد جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا کیا ایسا نہیں ہے کہ مرد و عورت کی منی مردہ و میت ہے، اور ان کے آپس میں ملنے سے پروردگار انسان کو خلق کرتا ہے ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ بیج جو بے جان ہے جب تم اس کو زمین میں دفن کرتے ہو تو سڑ جاتی ہے ، خراب ہو جاتی ہے ، پھر پروردگار عالم اسی بیج سے درختوں کی پیدا کرتا ہے ، اناج اگاتا ہے ؟
جب جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے انھیں دلیل سے خاموش کر دیا تو انھوں نے کہا( قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ما هی ) ) ان لوگون نے کہا کہ اپنے پروردگار سے کہو کہ اس گائے کی صفت بیان کرے ۔
جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے اپنے پروردگار سے سوال کیاتو جواب آیا( إنها بقرة لا فارض ) ) نہ بوڑھی ہو( ولا بکر ) ) نہ ہی بچھیا ہو( عوان ) ) بلکہ اوسط عمر کی ہو پس جو پروردگار نے حکم دیا ہے اسے بجا لاؤ۔
تو ان لوگوں نے کہا اے موسیع) اپنے پروردٍگار سے پوچھو کہ اس کا رنگ بتائے کہ گائے کس رنگ کی ہونی چاہئے جسے ذبح کرنا ہے )
پھر جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے سوال و جواب کے بعد کہا( إنها بقرة صفراء فاقع ) ) کہ یہ گائے ہلکی پیلی رنگ کی ہو ، گاڑھا رنگ نہ ہو دیکھنے والے کا جی خوش ہو جائے اس کے طرگ کے سبب۔
پھر ان لوگوں نے کہا اپنے پروردگار سے اس کی مزید صفت دریافت کریں، تو جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا پروردگار کہہ رہا ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہئے جس سے خدمت نہ لی جاتی ہو نہ زمین جوتنے میں نہ پانی کھینچنے میں ، اور اس میں کسی قسم کا عیب بھی نہیں ہونا چاہئے اور بے داغ ہو۔
جب انھوں نے یہ سنا تو کہا اے موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) پروردگار عالم نے ایسی صفت کی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے جواب دیا ہاں۔
پھر فرماتے ہیں کہ جب وہ سمجھ گئے کہ کیسی گائے ہونی چاہئے تو اس کی تلاش مین نکلے تو وہ گائے بنی اسرائیل کے ایسے جوان کے پاس ملی جسکو پروردگار عالم نے خواب میں نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم و علی علیه السلام اور ان کے اولاد کی زیارت کرائی تو ان ذوات مقدسہ نے فرمایا کہ تم میرے ولی و دوست ہو اور ہمیں سب سے افضل مانتے ہو تو ہم تمہے اس کی بعض جزاء اسی دنیا میں دینا چاہتے ہیں ، جب وہ لوگ تم سے گائےخریدنے کےلئے آئیں تو اپنی ماں سے پوچھے بغیر گائے نہ بیچنا کہ پروردگار انکو ایسی چیز کی تلقین کریگا کہ جس سے تم اور تمہاری اولاد مالدار ہو جاؤ گے تو وہ جوان خوش ہو گیا۔
اور جب وہ لوگ گائے خریدنے آئے اور پوچھا کہ گائے کی قیمت کیا ہے؟ تو اس جوان نے جواب دیا دو دینا ر اور اس کے بعد میرے ماں کو اخیتار ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ ایک دینار کی خریدیں گے تو اس جوان نے اپنی ماں سے دریافت کیا تو ماں نے جواب دیا کہ چار دینار تو جوان نے ان لوگوں سے کہا چار دینار تو ان لوگوں نے کہا دو دینار پھر اس نے اپنی ماں کو بتایا تو ماں نے کہا آٹھ دینار یہاں تک کے اس کی ماں جتنا کہتی تھی اس کا آدھا وہ لوگ کہتے تھے، اور قیمت زیادہ ہوتی رہی یہاں تک کہ اس کی قیمت ایک بیل کے وزن کے برابر ہو گئی۔ پھر انھوں نے وہ گائے خریدی اور اسے ذبح کیا اور اس کے ایک حصہ کو لیا جو دم کا حصہ تھا کہ جس سے انسان پیدا ہوتا ہے اور جب دوبارہ زندہ کیا جائیگا تو وہیں سے خلقت ہو گی ، تو انھوں نے اس حصہ کو مقتول سے مس کیا اور کہااللهم بجاه محمد و آله الطیبین لما احییت هذا المیت ) خدایا تجھے محمد و آل محمدعلیهم السلام کا واسطہ اس میت کو زندہ اور گویا کر دے تا کہ وہ قاتل کی نشان دہی کرے ۔
تو وہ مقتول بالکل ٹھیک ٹھاک کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا کہ اے نبی خدا مجھے میرے ان دونوں چچازاد بھائیوں نے مجھ سے حسد کی وجہ سے چونکہ مجھے اپنی چچا کی بیٹی سے شادی کرنی تھی قتل کر دیا تھااور اس محلہ میں میری لاش ڈال دی تاکہ ان سے دیت لیں۔
تو جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے ان دونوں کو قتل کر دیا، اور اس مقتول کے زندہ ہونے سے پہلے جب اس گائے کے ایک حصہ کو مقتول سے مس کیا گیا تو وہ زندہ نهیں ہوا ، تو ان لوگوں نے کہا اے نبی خدا کہاں گیا خدا کا وعدہ جو آپ نے کیا تھا؟!
تو جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا کہ میں نے سچا وعدہ کیا تھا باقی خدا کے اختیار میں ہے، تو پروردگار عالم نے وحی کی اے موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) میں وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا، لیکن پہلے اس جوان کو اس گائے کی قیمت جو ایک بیل کے وزن کے برابر دینار ہے دیدیں پھر میں اس مقتول کو زندہ کرونگا تو ان لوگوں نے پیسوں کو جمع کیا اور پروردگار عالم نے بیل کی کھال کو اور وسیع کر دیا تو جب اس کو وزن کیا گیا تو اس میں پانچ ملینپچاس لالکھ) دینار تھے۔
تو بنی اسرائیل کے بعض لوگوں نے اس مقتول کی موجودگی میں اس کے زندہ ہونے کے بعد کہا کہ نہیں معلوم زیادہ تعجب خیز اس کا زندہ ہونا اور اس کا کلام کرنا هے، یا اس جوان کا اس طرح سے غنی و مالدار ہونا ہے۔
تو پروردگار عالم نے وحی کی اے موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کی زندگی خوشگوار ہو اور جنت میں بلند مرتبہ حاصل ہو ،اور محمد وآل محمد علیهم السلام کا رفیق ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہی کرے جو اس جوان کیا ہے، کہ اس نے محمد و آل محمد علیم السلام کا ذکر موسی ابن عمران علی نبینا وآله وعلیه السلام) سے سنا تھاتو یہ ان پر صلوات پڑھتا تھا ، اور ان کو تمامی مخلوقات جن و انس و ملائکہ سب سے افضل جانتا تھا، اس وجہ سے میں نے اس کو یہ مال عظیم عطاء کیا تا کہ بہترین زندگی بسر کرے، ھدیہ و تحفہ کے ذریعہ سے معزز ہو سکے اور اپنے دوستوں پر انفاق کر سکے ۔
پھر جوان نے جناب موسی ع) سے پوچھا کہ ائے نبی خدا اس مال کی حفاظت کیسے کریں؟ اور اپنے دشمنوں سے کیسے محفوظ رہیں، اور حاسدین کے حسد سے کیسے بچیں؟
تو جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کاد کہ اس کے لئے تمہیں محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھنا ہوگا جیسے پہلے پڑھتے تھے، اس لئے کہ جس ذات نے تم کو اس ذکر پر یقین کے ساتھ یہ رزق عطا کیا ہے، وہی ذات اسی یقین کے ذریعہ سے اسکی حفاظت بھی کریگی۔ پھر اس جوان نے صلوات پڑھی تو پھر کوئی بھی حاسد یا چور یا غاصب اسکو اذیت نہیں پہنچا سکا پروردگار عالم نے اسکو سب کے شر سے محفوظ رکھا یہاں تک کے اس پر نہ کوئی چاهتے هوئے ظلم کر سکا اور نه ناچاهتے هوئے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا کہ جب جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے اس جوان سے صلوات کے لئے کا اور پروردگار اسکا محافظ ہو گیا تو پھر وہ مقتول کہ جو زندہ ہوا تھا، اس نے کہا پروردگارا تجھے محمد و آل محمد علیهم السلام کا واسطہ کہ مجھے زندگی عطا کر اس دنیا میں تا کہ میں اپنے چچا کی بیٹی کے ساتھ زندگی گذار سکوں اور حاسدوں کے شر سے محفوظ رہوں اور مجھے بھی رزق کثیر عطا کر۔
تو پروردگار عالم نے جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) پر وحی کی، اے موسی، اس جوان کی عمر قتل کے وقت ساٹھ سال بچی تھی اور میں نے اسکو محمد و آل محمد علیهم السلام کےتوسل کی وجہ سے ستر سال کی زندگی اور عطا کی یعنی پورے ایک سو تیس سال بالکل صحیح و سالم اور تندرستی کے ساتھ اس دنیا میں زندہ رہے گا اور حلال دنیا سے استفادہ کریگا، اور اس کے اور اسکی زوجہ کے درمیان جدائی نہیں ہوگی، جب اسکی موت کا وقت ہوگا، تب اسکا بھی وقت اجل ہوگا اور دونوں ایک ساتھ اس دنیا سے رخصت ہونگے، اور ساتھ میں جنت میں داخل ہونگے،اور رزق جنت سےمستفیض ہونگے۔
اور موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) جسطرح سے اس جوان نے ہم سے توسل کیا اس عقیده کے ساتھ اگر اسی طرح سے یہ قاتل بھی توسل کرتے اسی عقیدہ کے ساتھ تو میں اسکو بھی حسد سے محفوظ رکھتا، اور اسکو بھی رزق ملک عظیم) عطاء کرتا،اور اگر ہم سے محمدوآل محمد علیهم السلام کے واسطہ سے دعاء کرتا تو بہ کرنے کے بعد کہ میں اسکو ذلیل و خوار نہ کروں اس کے قتل کے سبب تو میں اسکو اس چیز سے محفوظ رکھتا، اور پھر وہ لوگ بھی یہ سوال نہ کرتے کہ اس شخص کا قاتل
کون ہےاور میں اس جوان کو دوسرے راستہ سے مالدار بنا تا اور یہ مال کثیر عطا کرتا اور اگر یہ قاتل یہ سب کچھ ہو جانے کےبعدبھی مجھ سے محمد و آل محمدعلیهم السلام کے واسطہ سے دعا کرتا ،تو میں ان لوگوں کو سب بھلا دیتا کہ پھر اولیاء مقتول اسکے قصاس کو بھی معاف کر دیتے ، اور کوئی بھی اس فعل کی وجہ سے اسکی مذمت نہ کرتا اور کسی کو بھی یہ واقعہ یاد نہ رہتا، لیکن یہ ایسا فضل و نعمت ہے کہ جسے میں چاہتا ہوں اسے عطاء کرتا ہوں اور جسے نہیں دینا چاہتا اسے نہیں دیتا کہ میں عزیز و حکیم ہوں۔
تو جب ان لوگوں نے گائے ذبح کر لی تو پروردگار نے کہا کہ ان لوگوں نے گائے ذبح کی جبکہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہ رہے تھے۔۳) )چونکہ گا ئے کی قیمت بہت زیادہ تھی ، اس لئے وہ ذبح نهیں کرنا چاہ رہے تھے، لیکن ان کی کٹ حجتی اور جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) پر تہمت نے انکو ایسسا کرنے پر مجبور کیا ۔
اور یہاں پر ایک راز اور ہے وہ یہ ہے کہ یہود نے جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) سے شکوہ کیا انکی طرف رجوع کیا اور کہا کہ یہ قبیلہ فقیری کی وجہ سے گدائی پر مجبور ہو گیا ہے اور ہم اپنی کٹ حجتیوں کی وجہ سے رزق قلیل اور کثیر سے محروم ہو گئے ہیں ، ہمارے لئے دعاء کریئے کہ ہمارے رزق میں وسعت ہو۔تو جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا کہ وائے ہو تم پر کہ کیسے تمہارے دل اندھے ہو گئے ہیں! تمہاری بصیرت کہاں ہے تم نے اس گائے والے جوان کی دعا نہیں سنا ، اسکے بارے میں نہیں جانتے کہ پروردگار نے کیسے اسکو مالدار بنا دیا ؟ کیا تم نے اس مقتول کی جو کہ زندہ کیا گیا تھا دعا کو نہیں سنا کہ جسکےذریعہ سے طولانی عمر مل گئی اور اسکے تمام اعضاء جسم سالم رہے۔ جیسے ان دونوں نے دعا ء کی تھی ویسے دعا ء کیوں نہیں کرتے ، جیسے انھوں نے توسل کیا تھا ویسے تم توسل کیوں نہیں کرتے کہ تم کو فاقہ سے نجات مل جائے اور فقیری و گدائی سے نجات پا جاؤ ؟
تو ان لوگوں نے کہا !خدایا ہم تیری طرف متوجہ ہیں ، تیرے فضل پہ اعتماد کئے ہوئے ہیں کہ ہمیں فقر و فاقہ سے نجات دے، تجھے محمد ،علی و فاطمہ و حسن و حسین علیهما السلام کا اور انکی ذریت طیبہ کا واسطہ، تو پروردگار عالم نے جناب موسی ع) پر وحی کی کہ ائے موسی انکے روَساء سے کہو فلاں کے ویرانہ میں جائیں اور فلاں جگہ پر زمین تھوڑی سی کھودیں اور جو وہاں ہو اسے نکال لیں کہ وہ دس ملینایک کروڑ) دینار ہیں،تا که جس جس نےبھی اس گائے کے لئے مال دیا تھا سبکو واپس مل جائے ، تا کہ انکی حالت پہلے جیسی ہو جائے ، پھر جو اس میں سے بچے جو کہ پانچ ملین دینار ہیں وہ جس نے جتنا دیا تھا اسی اعتبار سے اسکو دیا جائے تاکہ اسکا حصہ دوگنا ہو جائے اور یہ سب کا سب محمد و آل محمد علیهم السلام سے توسل کا نتیجہ ہے اور اس عقیدہمحمد و آل محمد علیهم السلام سب سے افضل ہیں) کا نتیجہ ہے ۔۴) میرا کہنا یہ ہے کہ جب جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) کے عصا کی صفت یہ ہے کہ وہ پتھر کو شگافتہ کر سکتا ہے، چشموں کو جاری کر سکتا ہے ، اور رسّی اژدھوں میں بدل سکتی ہے اور اسکے علاوہ دوسرے معجزات، اور پتھر جناب صالح کے لئے شگافتہ ہو سکتا ہے اور اس سے ناقہ نکل سکتا ہے، تو جب اس عصا میں یہ تاثیر ہے ،پتھر میں یہ اثر ہے گائے کی دم میں وہ اثر تھا ، تو محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذکر کی کیا تاثیر ہوگی۔کہ محمد و آل محمد علیهم السلام کے اسماء مین بہت سے اسرار و راز ہیں اور یہ سارے کے سارے عالم ملکوت میں ہیں، جو کہ پروردگار عالم کی جانب سے عطاءہوئے ہیں۔
____________________
۱۔ بقرہ؍۶۷
۲۔ بقرہ؍ ۶۷
۳۔۷۱ /بقرہ.
۴۔ تفسیر منسوب امام عسکری ع)، ص ۲۸۱
پانچویں فصل
{جناب آدم و حوّا علیهما السلام کا نکاح}
جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) و حوّا ع) کا عقد نکاح کیسے ہوا ؟
ایک مخصوص صیغہ کی ضرورت ہوتی ہے عقد نکاح کیلئے اور اسی طرح سے مہر کا معین ہونا بھی ضروری هوتا ہے تو جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) کا مہر کیا تھا؟
تو اسکا جواب یہ ہے کہ وہی ذکر ملکوتیاللهم صل علی محمد و آل محمد ) جناب آدم ع)کا مہر تھا۔ کہ صلوات کے ذریعہ سے جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے جناب حوا ع) سے عقد کیا تھا ، جب جناب آدم نے جناب حوا کی طرف جانا چاہا تو ملائکہ نے کہا اے آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) ٹہرئیے تو جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا کہ کیوں ! کیا حواء ہمارے لئے خلق نہیں ہوئیں ہیں ؟
تو فرشتوں نے کہا کہ اس کے لئے اذن پروردگار ضروری ہے ، تو جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا کہ کیسے حاصل ہوگا اذن پروردگار۔ تو ملائکہ نے کہا کہ مہر کے ذریعہ سے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ جناب حواء آپکی زوجہ ہو جائیں تو مہر معین کرنا ضروری ہے ، جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا کہ انکا مہر کیا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ پروردگار عالم کی جانب سے دعاء ربانی اور وہ ہے تین مرتبہ:اللهم صل علی محمد و آل محمد ۔۱) یعنی اس بشریت کی تخلیق و ابتداء اس ذکر صلوات پر تھی۔
صلوات بتراء
صلوات تبراء یعنی دم کٹی صلوات آدھی و نا قص صلوات ) اس لئے نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات کے بعد آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھنا ضروری ہے کہ صلوات پڑھنے والا ایسے کہے :اللهم صل علی محمد وآل محمد ) اور فقط یہاللهم صل علی محمد ) نہ کہے اسلئے کہ یہ صلوات بتراء دم کٹی یا ناقص) ہے جو کہ قابل قبول نہیں ہے اور پروردگار عالم سے دوری کی باعث ہے اور اس صلوات کی مذمت میں فریقین نے روایتیں نقل کی ہیں۔
سب سے پہلے شیعوں کی روایتیں نقل کرتے ہیں: کتاب وسائل میں سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی کہےصل الله علی محمد وآله ) تو پروردگار کہتا ہےصل الله علیک ) پس زیادہ سے زیادہ صلوات پڑھی جائے ، لیکن اگر کسی نے میری آل پر صلوات نہیں پڑھا تو جنت کی خوشبو جو کہ پانچ سو سال کے فاصلہ سے بھی محسوس ہوگی، اس کو نصیب نہ ہوگی۔۲)
اور جناب ابان ابن تغلب نے ایک روایت امام محمد باقر علیه السلام سے نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ : جو مجھ پر صلوات پڑھے لیکن میری آل پر صلوات نہ پڑھے تو وہ جنت کی خوشبو محسوس نہیں کر سکتا، جو کہ پانچ سو سال کے فاصلہ سے بھی محسوس ہوگی۔۳)
اور ایک حدیث میں ہیکہ سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مولائے کائنات علیه السلام سے کہا کہ کیا آپ کو خوشخبری سنائیں؟
تو مولا نے جواب دیا کہ بیشک ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ، آپ ہمیشہ خوشخبری دینے والے ہیں، تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم فرمایا کہ : ابھی جبرئیل نے مجھے بہت تعجب خیز خبر دی ہے ، مولا نے کہا کہ کیا خبر دی ہے آپکو جبرئیل نے؟تو سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ مجھے خبر دی ہے کہ اگر میرا امتی مجھ پر اور میرے ساتھ ساتھ میری آل پر صلوات پڑھتا ہے تو اس کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور فرشتے اس پر ستر صلوات پڑھتے ہیں، اور انکی صلوات کا مطلب یعنی گناہوں کا ختم ہونا ہے اور گناہ ایسے ختم ہوتے ہیں جیسے درختوں سے پتے جھڑ تے ہیں، اور پروردگار کہتا ہےلبیک عبدی و سعیدک ) اے فرشتوں تم اس پر ستر صلوات پڑھتے ہو اور میں سات سو صلوات پڑھتا ہوں لیکن اگر مجھ پر تو صلوات پڑھے لیکن میری آل پر صلوات نہ پڑھے تو اسکے اور آسمان کے درمیان ستر حجاب ہو جاتے ہیں اور آواز پروردگار آتی ہےلا لبیک و لا سعیدک ) فرشتوں اسکی دعا کو اوپر مت لیجاؤ مگر یہ کہ یہ آل پر بھی صلوات پڑھے ، تو جب تک وہ صلوات میں میری آل کو مجھ سے ملحق نہیں کرتا وہ مانع و حجاب باقی رہتا ہے۔۴)
اور ایک روایت امام سجاد علیه السلام سے ہے آ پ نے اپنے بابا اور انھوں نے اپنے جد سے نقل کی ہے کہ اگر کوئی رسول خدا پر صلوات پڑھے اور ہمارے اوپر صلوات نہ پڑھے تو اسکی ملاقات پروردگار عالم سے اس حالت میں ہوگی کہ اس نے ناقص صلوات پڑھی اور حکم پروردگار کو ترک کیا ۔۵)
اور اب اس سلسلہ میں اہل سنت کی بعض روایتیں:
ابن حجر عسقلانی نے کتاب صواعق محرقہ میں صفحہ ۸۷ پر ، سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا صلوات بتراءدم کٹی اور ناقص صلوات) تو لوگوں نے پوچھا کہ صلوات بتراء کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اللهم صل علی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کہہ کر خاموش ہو جائے بلکہ ایسے کہو ۔اللهم صل علی محمد وآل محمد )
اور اسی طرح سے سلمان قندوزی نے کتاب ینابیع المودة میں جلد ۷ صفحہ ۲۹۵ پر اور دیگر لوگوں نے بھی اس طرح کی روایتیں نقل کی ہیں۔ اور اس سلسلہ سے کتاب احقاق الحق کا مراجعہ کیا جا سکتا ہے جلد ۹ صفحہ ۶۳۶ اور فخر رازی نے اپنی تفسیر میں جلد ۷ صفحہ ۳۹۱ پر اس طرح سے لکھا ہے کہ آل پر دعا بہت ہی بڑا منصب ہے اور اسی وجہ سے اس دعاء و صلوات سے نماز میں تشہد مکمل ہوتا ہے یعنی تشہد صلوات پر تمام ہوتا ہے ) اور وہ ہے اللهم صل علی محمد و آل محمد وارحم محمداً و آل محمد، اور یہ رتبہ و عظمت سوائے آل محمدعلیهم السلام کے کس کو حاصل نہیں ہے او ر یہ سب کا سب اسی چیز پر دلالت کرتا ہے کہ محبت آل واجب ہے ، اور اس نے کہا کہ اہلبیت رسول علیهم السلام رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ پانچ چیزوں میں مساوی و شریک ہیں : صلوات میں ، تشہد میں ، سلام میں ، صدقہ کی حرمت میں صدقہ سے طہارت) اور محبت میں ۔
اور نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں( قُل لَّا أَسْلُكمُْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فىِ الْقُرْبى ) ) آل محمدعلیهم السلام کے شرف کے لئے یہی کافی ہے کہ تشہد انکے ذکر پر تمام ہوتا ہے ، اور ہر نماز ان پر صلوات سے مکمل ہوتی ہے ۔
۲ ۔ توفیق اِلھی جناب شیخ انصاری رحمۃ اللہ علیہ کیلئے :
میں اس شخصیت کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہونکہ جو زہد و عبادت و علم میں بہت ہی عظیم شخصیت ہے اور وہ ہیں شیخ الفقهاء جناب مرتضی انصاریؒ کہ ان کے پاس جو علوم و فنون تھے وہ سب کے سب دو چیزوں کی وجہ سے تھے :
پہلا : مولائے کائنات علی علیه السلام کی زیارت کی پائبندی اور محمد و آل محمد علیهم السلام پر زیادہ سے زیادہ صلوات۔
دوسرا: ہر روز زیارت عاشورا کی پائبندی چونکہ اسمیں دشمنان آل محمد علیهم السلام سے برائت ہے اور ان پر لعنت ہے۔
۳ ۔ نشست اولیاء سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر :
اولیاءو انبیاءعلیهم السلام جب جمع ہوتے ہیں تو انکے درمیان سب سے اہم ذکر جو ہوتا تھا وہ تھا اللهم صل علی محمد و آل محمد) صبح و شام، رات و دن۔ اور اسی وجہ سے سب کو مشکلات سے نجات ملی ، چاہے وہ شکم ماھی میں ہو چاہے نار نمرود میں ہو ، اور چاہے آری سے کٹنے سے ہو انکا توسل فقط و فقط یہ تھا خدایا محمد و آل محمد علیهم السلام کے واسطے سے ہمیں مشکلات سے نجات دے۔
( وَ كَذَالِكَ نُجِى الْمُؤْمِنِين ) )۶) ائمہ علیهم السلام کے ذریعہ سے یعنی اسی طرح سے مومنین کو نجات دیتے ہیں ائمہ علیهم السلام کے ذریعہ۔
۴ ۔ آل علی علیه السلام کی تکبیریں:
ایک عارف کی بہت ہی تعجب خیز بات ، کہتے ہینکہ جب انبیاء و مرسلین آپس میں مل کر تکبیر کہتے ہیں ، تو ان سب کی تکبیر علی و آل علی علیه السلام کی ایک تکبیر کے برابر ہوتی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے اسلاف کو نجات کیسے ملتی تھی مشکلات سے ، فرعون سے کیسے بچتے ، کون سی مناجات کرتے تھے؟
جب بنی اسرائیل پر برا وقت آن پڑا تو جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) سے کہنے لگے کہ اس کی وجہ سے ہم لوگ قتل ہو رہے ہیں یا ذبح کئے جا رہے ہیں یا قید کئے جا رہے ہیں یا اسیر ، ہمیں اس مشکل سے نجات دلائیے ، تو حکم پروردگار آیا کہ سمندر کی طرف جاؤ جب وہ لوگ سمندر سے نزدیک ہوئے اور اس میں اترنا چاہا تو کہا کہ ہم سمندر کیسے پا کریں؟
تو انمیں سے ایک نے که جس کا نام کالب ابن یوحنا تھا ، جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) سے کہا کہ کس نے آپ سے کہا ہے کہ هم لوگ سمندر میں اتر جائیں ، جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کها کہ میرے خدا نے حکم دیا ہے تو کالب نے کہا کہ کیسے اتریں ؟ تو جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا کہ وحدانیت پروردگار کا اقرار کرو اور جو میرے بعد آئیں گے ان کا اقرار کرو که وہی اس کائنات کا راز ہیں ۔ تو کالب نے کہا کہ وہ راز کیا ہے؟
جناب موسی ع) نے کہا کہ کہواللهم بجاه محمد و آله الطیبین لما أعنتني بجواز البحر ) کہ خدایا تجھے محمد و آل محمد علیهم السلام کا واسطہ که سمندر کو پار کرنے میں ہماری مدد کر ۔ جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا کہ یہ ذکر نبی سے نبی اور اولی العزم سے اولی العزم تک منتقل ہوا ہے۔جب بھی ہم کسی مشکل میں گرفتار ہوتے تھے تو ذکر محمد و آل محمد علیهم السلام سے مدد لیتے تھے جو کہ سب سے افضل ہے ۔
اس طلسم ملکوتی کے ذریعہ سے پانی مٹی اور مٹی پانی ہوگئی، تو اس شخص نے کہا :اللهم بجاه محمد وآل الطیبین الطاهرین ، پھر پانی میں اتر گیا اور گویا کہ وہ پانی پر چلنے لگا ، پھر وہ کبھی اس طرف اور کبھی اس طرف کودنے لگا تو جب ان لوگوں نے دیکھا تو مطمئن ہو گئے ۔ تب جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا کہ اب سمندر کو پار کرو اور سب سے افضل و اشرف نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا نام لو اور پار کر جاؤ۔
پھر ان لوگوں نے کہا کہ اگر پانی خشک نہیں ہوتا تو هم پار نہیں کر سکتے ۔ تو جناب موسی ع) نے پروردگار سے پوچھا خوایاکیا کروں؟
تو آواز پروردگار آئی کہ سر اعظم جو کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں انکے ذریعہ سے دعا کرو۔اور جیسے ہی جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے نبی اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا نام لیا پانی خشک هوگیا۔ پھر ان لوگوں نے کہا کہ پم بارہ قبیلے ہیں ، اور ہر قبیلہ کے لئے الگ الگ راستہ بنائے اسلئے کہ اگر سب کے لئے ایک ہی راستہ ہوگا تو مشکلات پیش آئیگی اس لئے کہ ہر قبیلہ آگے نکلنا چاہیگا کہ جس کے نتیجہ میں دین سے خارج ہو جائیگا۔ تو جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ سے دعاء کی تو بارہ راستے بن گئے ۔
جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا کہ اب پار کرو تو انھوں نے کہا ہمارے لئے ایک سوراخ بنائیں تا کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکیں ، اس لئے کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں کسی کو کوئی مشکل پیش نہ آجائے ۔
پھر جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے دعاء کہ کہ سوراخ روشن دان ) بن جائے ، اور جب وہ بن گیا تو ان لوگوں نے سمندر پار کیا ۔اور جب وہ لوگ سمندر کے دوسری طرف پہنچ گئے ، اور فرعون اپنے لشکر کے ساتھ داخل ہوا تو جیسے ہی اس کے لشکر کے پہلے آدمی نے نکلنا چاہا اور آخری آدمی داخل ہوا تو پروردگار عالم نے سمندر کو بند ہو جانے کا حکم دیایعنی پانی ہو جائے تو سمندر اپنی پہلی حالت پر پلٹ گیا اور سب کے سب بنی اسرائیل کے سامنے غرق ہو گئے ، تو جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے ان لوگوں سے کهاکہ تم لوگ فقط و فقط محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے بچ گئے ہو ۔
تو جب وہ نجات پا گئے اور سمندر کو پار کر گئے تو اب طے یہ تھا کہ وہ خدا کی عبادت کرینگے، جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ میں پروردگار عالم سے کتاب لینے کے لئے جاونگا، اور ان سے کہا کہ تم میرا انتظار کرنا اور ایک مہینہ کے لئے جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) چلے گئے اور جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) کی غیبت چالیس دن تک کھینچی، یہاں تک کہ قوم بچھڑے کی عبادت کرنے لگی۔
تو جب جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) لوٹے اور انھوں نے دیکھا کہ یہ لوگ بچھڑے کی عبادت کر رہے ہیں ، تو جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے اسکا سبب جاننا چاہا کہ یہ لوگ کیسے بچھڑے کی عبادت کرنے لگے ، کیسے گمراہ ہو گئے جب کہ انھوں نے خدا کی نشانیوں کو دیکھا کہ سمندر میں راستہ بن گیا ، یہ لوگ گذر گئے اور قوم فرعون انکے سامنے غرق ہو گئی،تو آواز پروردگار آئی کہ اے موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) یہ لوگ فقط و فقط اس وجہ سے ذلیل و خوار ہوئے کہ ہماری عبادت کو ترک کر دیا چونکہ انھوں نے محمد وآل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھنے میں کوتاہی کی۔اس میں درس و عبرت یہ ہے جیسا کہ امام عسکری علیه السلام نے فرمایا کہ جب پروردگار عالم بچھڑا پرستوں کو محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھنے میں کوتاہی کے عوض ذلیل و خوار کر سکتا ہے تو تم کیوں نہیں ڈرتے محمد و آل محمد علیهم السلام کی دشمنی سے کہ جسکا نتیجہ سب سے بڑی ذلت و ناکامی ہے جبکہ تم آیات و نشانیوں اور دلیلوں کو دیکھ چکے ہو۔۷)
جب بھی کسی نبی کا ذکر آئے تو پہلے محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات پڑھے سوائے جناب ابراھیم علیه السلام کے
اس سلسلہ میں روایات و احادیث موجاد ہیں کہ جن سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جب بھی کسی نبی کا ذکر آئے سوائے جناب ابراھیم علیه السلام کے تو پہلے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات پڑھے پھر اس نبی پر۔
جناب معاویہ ابن عمار سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں امام صادق علیه السلام کے محضر میں بعض انبیاء کا ذکر کیا اور ان پر صلوات پڑھی تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ جب بھی کسی نبی کا ذکر ہو تو پہلے محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھو ہر اس نبی پر۔۸)
اور ایک روایت میں ہے کہ سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم جب اپنے اصحاب کے ساتھ فرمایا کہ جب بھی تم انبیاء و اولین میں سے کسی کا ذکر کرو تو پہلے مجھ پر صلوات پڑھو پھر ان پر، سوائے میرے جد ابراھیم علیه السلام کے ، کہ جب انکا ذکر کرنا تو پہلے ان پر صلوات پڑھنا پھر مجھ پر۔۹)
____________________
۱۔ القطرہ، ج ۱، باب فضل الصلاۃ علی محمد و آل محمد
۲۔ وسائل باب ۴۲ ،ابواب الصلاۃ علی محمد و آلہ، ح ۶
۳۔ وسائل باب ۴۲ ،ابواب الصلاۃ علی محمد و آلہ، ح ۷
۴۔ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص ۵۱
۵۔ احقاق الحق، ج ۳، ص ۲۷۴
۶۔ انبیاء، ۸۸
۷۔ تفسیر منسوب امام عسکری ع) ۱۲۱ ،۲۴۵
۸۔ وسائل، باب ۴۳ ابواب الصلاۃ علی محمد و آلہ ح ۱
۹۔ مجمع البحرین مادہ: شیع
ساتویں فصل
{انبیاء علیهم السلام کا محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے توسل}
انبیاء علیهم السلام محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے پروردگار سے توسل کرتے تھے اس کے لئے چند مثالیں پیش کرتے هیں:
۱ ۔ ایک روایت ابن عباس سے ہے کہ کہتے ہیں کہ جب پروردگار عالم نے جناب آدم ع) کو خلق کیا تو جناب آدمعلی نبینا وآله وعلیه السلام) چھیکنے چھینک آئی ) تو جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا ۔ الحمد للہ تو جواب پروردگار آیا ، یرحمک ربک تمہارا پروردگار تم پر رحمت نازل کرتا ہے ) تو جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے سوال کیا خدایا کیا تو نے مجھ سے افضل بھی کیس کو بنایا ہے ؟ آواز پروردگار آئی ہاں۔ اور اگر ان کو خلق نہ کرتا تو تمہیں بھی نہ بناتا۔جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا خدایا مجھے دکھا کہ وہ کون ہیں ۔تو پروردگار عالم نے فرشتوں کی طرف وحی کی کہ حجابوں کو اٹھائیں۔ جب حجاب بر طرف ہوئے تو جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے عرش کے پاس پانچ نور دیکھا تو سوال کیا کہ خدایا یہ کون ہیں ؟
تو پروردگار نے کہا کہ اے آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام)یہ میرا نبی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے اور یہ علی امیر المومنین علیه السلام ان کے وصی ۔ یہ فاطمہ سلام الله علیها میرے نبی کی بیٹی، اور یہ حسن و حسین علیهما السلام میرے نبی کے نواسے و علی علیه السلام کے بیٹے ہیں۔
پھر آواز پروردگار آئی کہ ائے آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) یہ تمہاری اولاد ہیں تو جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) خوش ہو گئے اور جب جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) سے ترک اولی ہوا تو جناب آدمعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے کہا:یا رب اسئلک بحق محمد و علی و فاطمة والحسن والحسین علیهم السلام خدایا محمد و آل محمد علیهم السلام کا واسطه کہ مجھے معاف کر دے ۔
تو پروردگار عالم نے معاف فرمایا، اور اسی چیز کو پروردگار عالم نے کہا ہے کہ( فتلقی آدم من ربه کلمات فتاب علیه انه هو التواب الرحیم ) )۔۱)
۲۔ جناب ابراھیم علیه السلام کو آگ میں پھینکا گیا تو جناب ابراھیم علیه السلام نے محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے توسل کیا کہ آگ ٹھنڈی ہو جائےکہ سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ جب جناب ابراھیم ع) کو آگ مین پھینکا گیا تو جناب ابراھیم علیه السلام نے کہا( اللهم انی اسئلک بحق محمد و آل محمد لما نجیتنی منها )خدایا میں محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے تجھ سے سوال کرتا هوں که مجھے اس مشکل سے نجات دے دے، تو وہ آگ ٹھنڈی ہو گئی)۔۲)
۳ ۔ جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ سے توسل کیا :
سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جب جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے اپنا عصا پھینکا اور خوف محسوس کیا تو کہا :خدایا میں تجھ سے محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے سوال کرتا ہوں مجھے امان بخش تو آواز قدرت آئیقلنا لا تخف انک انت الاعلی )۳) ہم نے کہا کہ موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) ڈرو نہیں تم بہر حال غالب رہنے والے ہو۔
۴ ۔ جناب عیسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے ان کے ذریعہ سے توسل کیا جب یہود انکو قتل کرنا چاہ رہے تھے امام رضا علیه السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب یہود جناب عیسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) کو قتل کرنا چاہ رہے تھے تو جناب عیسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے ہمارے ذریعہ خدا سے نجات طلب کی ، تو پروردگار عالم نے انھیں بچا لیا اور اوپر اٹھا لیا۔۴)
۵ ۔ پروردگار عالم نے ہمارے لئے سفینہ نوح علی نبینا وآله وعلیه السلام) میں عظیم نشانیاں اور عبرتیں رکھیں ہیں تا کہ ان کے ذریعہ محمد و آل محمد علیهم السلام کی عظمت و فضیلت پر استدلال کیا جا سکے ۔
کوہ جودی جو کہ ارارات کے نام سے مشہور ہے اور وہ ارمنستان کا سب سے بلند پہاڑ ہے اور یہ ترکی و ایران و ارمنستان
کے باڈر پر ہے وہاں پر جناب نوح علی نبینا وآله وعلیه السلام) کے سفینہ کا کچھ حصہ ملا ۔ اور ان لکڑی کے ٹکڑوں پر لکھا تھا کہ جناب نوح علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے اهلبیت علیهم السلام کے ذریعہ سے توسل کیا تھا۔
پروردگار عالم نے جناب نوح علی نبینا وآله وعلیه السلام) کے سفینہ کے لئے کہا ہے( وَ لَقَد تَّرَكْنَاهَا ءَايَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِر ) )۵) اور هم نے اسے ایک نشانی بنا کر چوڑ دیا ہے تو کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرےاور یہ بھی کہا( فَأَنجَيْنَاهُ وَ أَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَ جَعَلْنَاهَا ءَايَةً لِّلْعَالَمِين ) )۶) پھرہم نے نوح علی نبینا وآله وعلیه السلام) کو اور انکے ساتھ کشتی والوں کو نجات دیدی اور اسے عالمین کے لئے ایک نشانی بنا دیا ۔ اس کی تفصیل یوں ہے : دارالمعارف اسلامیہ لاهور نے ایک کتاب نشر کی تھی جسکا نام الیا) تھا اور اس کی ایک بحث کا ترجمہ جو کہ اس عنوان سے تھا : وہ اسماء مبارکہ کہ جن سے جناب نوح علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے توسل کیا تھا ۔ ایک رسالہ بنام جمعیّة خیریہ اسلامیہ جو کہ کربلا مقدسہ سے شائع ہوتا ہے اس میں نشر کیا اور اس کے حوالہ سے بذرہ نجفیہ نے اپنے رسالہ نمبر دو اور تین میں جو کہ ماہ شوال و ذیقعدہ سن ۱۳۸۵ ھجری میں شائع ہوا اس میں نشر کیا ۔
وه اسماء مبارکہ کہ جن کے ذریعہ سے جناب نوحعلی نبینا وآله وعلیه السلام) نے توسل کیا تھا ماہ تموز سن ۱۹۵۱ میلادی میں جب علماء سوفیت کی بہترین ٹیم و گروہ کہ جسکا کام آثار قدیمہ کی جستجو و بررسی تھا ، جب وہ تحقیق کی غرض سے وادی قاف) میں وارد ہوئے توانھیں وہاں لکڑی کے کچھ ٹکڑے بکھرے ہوئے ملے جو کہ بہت پرانے اور خستہ حال تھے اور یہ وہ چیز تھی کہ جس نے ان کی تحقیق کو اور دلچسپ بنا دیا ، انھیں اسی دوران اور بھی کچھ لکڑیاں ملیں کہ جن میں کچھ لکھا تھا جو زمین کے بہت اندر تھیں۔
اور اسی تحقیق میں ایک چوکور لکڑی ملی جو کہ چودہ لمبی اور دس چوڑی تھی ، جسے دیکھ کر وہ لوگ بہت تعجب میں پڑ گئے ، اس لئے کہ نہ تو وہ خراب ہوئی تھی اور نہ ہی اسکا رنگ بدلا تھا دوسری لکڑیوں کی طرح تھا۔
اور سن ۱۹۵۲ میلادی میں یہ تحقیق مکمل ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ لکڑی جناب نوح ع) کےکشتی کی تھی اور دوسری
لکڑیاں بھی اسی سفینہ کی تھیں ، اور اسمیں کچھ لکھا ہوا تھا جو کہ بہت ہی پرانی زبان میں تھا ۔
اور سن ۱۹۵۳ میلادی میں جبکہ اس کی کھدائی مکمل ہوگئی تو ملک سوفیتیہ نے ایک گروہ سات لوگوں پر مشتمل جو کہ زبان قدیمی میں مہارت رکھتے تھے مرتب کیا اور ان کے نام یہ ہیں:
۱ ۔ سولہ نوف: جو کہ موسکو میں یونیورسٹی میں زبان کے استاد ہیں ۔
۲ ۔ ایفاھان خنیو : جو کہ چین کے ایک کالج لولوھان میں پرانی زبانوں کے استاد ہیں ۔
۳ ۔ میشاتن لو : آثار قدیمہ کے مدیر۔
۴ ۔ تانمول کورف: جو کہ کینفزو کے کالج میں زبان کے استاد ہیں ۔
۵ ۔ دی راکن: جو کہ لینین کے اسکول میں آثار قدیمہ کے استاد تھے ۔
۶ ۔ ایم احمد کولاد: جو اس سلسلہ کی تحقیق کے مدیر تھے ۔
۷ ۔ میجر کولتوف: جو کہ ستالین یونیورسٹی کے مالک تھے ۔
اور اس لکڑی پر لکھے حروف کی تحقیق کے بعد جو کہ آٹھ مہینہ جاری رہی۔ انھوں نے یہ طے کیا کہ یہ لکڑی کا ٹکڑا اسی لکڑی کا ہے جس سے جناب نوح علی نبینا وآله وعلیه السلام) کی کشتی بنی تھی اور جناب نوح علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے اس لکڑی کو سفینہ کی حفاظت کے لئےرکھا تھا۔
اور اس لکڑی پر سامانی زبان میں کچھ لکھا تھا کہ جسکو برطانیہ کے ایک دانشور نے جسکا نام اف ماکس تھا جو که مانجستر کی یونیورسٹی میں زبان کے استاد تھے انھوں نے انگلش میں ترجمہ کیا ، اور عربی میں اسکا مطلب ہوا:
یا ِإلهی و یا معینی برحمتک و کرمک ساعدني و لاجل هذه النفوس المقدسة محمد ، إیلیا، شبر، شبیر، فاطمة الذین هم جمیعهم عظماء و مکرمون العالم قائم لاجلهم ساعدني لاجل اسمائهم انت فقط تستطیع ان توجهني نحو الطریق المستقیم )
اے میرے پروردگار ومدد گار میری مدد کر تجھے ان ذوات مقدسہ ،محمد و ایلیا و شبر و شبیر و فاطمہ علیهم السلام کا واسطہ کہ جن کے سبب یہ دنیا قائم ہے اور یہ تیرے با عظمت بندے ہیں ، خدایا تجھے انکا واسطہ کہ میری مدد کر فقط تو ہی راہ مستقیم کی طرف ہدایت کر سکتا ہے۔
اور آپ سے یہ مخفی نہ رہ جائے کہ ایلیا و شبر وشبیر سامانی زبان میں ہے جسکا معنی عربی میں علی و حسن و حسین علیهم السلام) ہے۔
اور وہ سارے دانشور بہت ہی تعجب میں پڑگئے چونکہ جناب نوح علی نبینا وآله وعلیه السلام) نے ان اسماء کے ذریعہ سے توسل کیا تھا۔اور سب سے اہم چیز جس نے انھیں تعجب میں ڈال دیا وہ یہ تھی کہ اتنے زمانے گذرنے کے بعد بھی یہ لکڑی خراب نہیں ہوئی ۔
____________________
۱۔ تفسیر برھان ج ۱ ص ۸۹ ۔ بحارالانوار ج ۲۶ ص ۳۲۵
۲۔ تفسیر برھان، ج ۱ ص ۳۱۹
۳۔ تفسیر برھان، ج ۱ ص ۳۱۹
۴۔ بحارالانوار ج ۶۶ ص ۳۲۵
۵۔ قمر؍ ۱۵
۶۔ عنکبوت؍ ۱۵
آٹھویں فصل
{محمد و آل محمدعلیهم السلام کے ذریعہ سے اہل کتاب کا
استغاثہ}
جس طرح سے بعد از اسلام لوگوں نے اہلبیت عصمت و اطہار علیهم السلام کے ذریعہ سے بارگاہ خداوندی میں استغاثہ کیا تھا اسی طرح سے قبل از اسلام بھی امتوں نے ان کے ذریعہ سے استغاثہ کیا تھا۔ جب بھی کسی مصیبت میں مبتلاء ہوئے انکو یاد کیا ، سوال یہ ہے کہ ان شریعتوں میں کیسے استغاثہ کیا جاتا تھا ؟ اس کی لفظیں کیا ہوتی تھیں ؟
قرآن کریم میں ہے( و لَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ وَ كاَنُواْ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلىَ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَمَّا جَاءَهُم مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلىَ الْكَفِرِين ) )۱) اور اب جو کتاب اللہ سبحانہ تعالی کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ، اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ تھا ؟ با وجود یہ کہ وہ اس کتا ب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے تھی ، با وجود یہ کہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ، مگر جب وہ چیز آگئی، جسے پہچان بھی گئے تو انھوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا ، خدا کی لعنت ہو کافروں پر ، تو سوال یہ ہے کہ وہ کفار کے مقابلے میں کیسے فتح و نصرت کی دعائیں مانگتے تھے ؟ یہود قبل از اسلام سختیاں اور امتحانات میں مبتلاء ہوئے ہیں ، اور قرآن اس چیز کو بیان بھی کرتا ہے ۔
اور ایک روایت امام عسکری علیه السلام سے ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک قبیلہ یہود کا جناب موسیعلی نبینا وآله وعلیه السلام) کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی بہت سے حملوں کا شکار ہوا ، جیسے کہ ایک قبیلہ جو جزیزہ عربیہ میں رہتا تھا اور ان پر دو قبیلہ بنام اسد و عطفان بہت ہی سخت حملے کرتے تھے کہ انھوں نے یہود کو مٹا دینے کی ٹھان لی تھی اور تین ہزار کے لشکر کے ساتھ چڑھائی کر دی اور ان یہود کی تعداد تین سو تھی جب ان دو قبیلوں نے یہود پر حملہ کیا اور ان کا محاصرہ کر لیا تو عنقریب تھا کہ یہود ختم ہو جاتے تو ان کے بزرگ حضرات آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ اب یہ قبیلے انھیں برباد کر دینگے تو انھوں نے کتابوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا کہ جب جناب موسی علی نبینا وآله وعلیه السلام) کے زمانے میں جب ان کے آباء و اجداد مشکلات کا شکار ہوتے تھے تو وہ کیسے استغاثہ کرتے تھے ، کیسے نجات حاصل کرتے تھے ، آخر میں اس نتیجہ پر پہنچے کہ وہ لوگ اس ذکر سے استغاثہ کرتے تھےاللهم بجاه محمد وآله الطیبین الطاهرین صل علیهم اجمعین، نسالکم کشف الغمه عنا ) تو پروردگار ان کی مشکلات کو برطرف کر دیتا تھا ۔
تو سارے یہود اس استغاثہ کے ذریعہ سے ان دونوں قبیلوں سے مقابلے کے لئے آمادہ ہو گئے ، اور انھوں نے پروردگار عالم کی بارگاہ میں ایسے استغاثہ کیااللهم بجاه محمد و آله المیامین إلا ما کشفت عنا هذه الظلمة ) تو جیسے ہی انھوں نے ایسے دعاء کی تو ان میں سے ہر آدمی کو سو مرد کی قوت مل گئی کہ ان کی عدد تین سو تھی اب بہت زیادہ ہو گئی ۔( إن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَبرِونَ يَغْلِبُواْ مِاْئَتَين ) ۔۲) اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے ۔) صبر و استقامت و ذکر محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے ۔
تو ان لوگوں نے تین ہزار کے لشکر کا مقابلہ کیا اور آخر میں بہت سخت جنگ کے بعد ناکامی ان دونوں قبیلوں کو ملی جنکی تعداد بہت زیادہ تھی ۔ پھر ان دونوں قبیلوں نے فکر کیا کہ آخر کیسے اتنے سخت حملہ کے بعد تین سو لوگ تین ہزار پر غالب آ گئے ، پھر انھوں نے آپس میں غور و فکر کی اور سب کے سب متحد ہو گئے یہاں تک کہ ان کی تعداد تیس ہزار جنگجو تک پہنچ گئی اور انھوں نے مل کر یہود پر حملہ کا ارادہ کر لیا اور دوبارہ ان کا محاصرہ کر لیا ، یہود نے جب اس تعداد کو دیکھا تو سوچا کیا کریں ؟ تو ان کے بعض بزرگوں نے کہا کہ وہ خدا کہ جس نے تم کو نجات دی جب تم تین سو تھے اور وہ تین ہزار تو وہی خدا قادر ہے کہ تم کو پھر ان کے مقابلے میں نجات دیدے ، جس نے تمکو اس وقت کامیابی عطاء کی وہی اس وقت بھی کامرانی عطاءکر یگا، پس محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے استغاثہ کرو کہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ اس شئی کے ذریعہ سے تمہیں نجات ملیگی اور اگر اس سے نجات نہ ملے تو پھر کوئی چیز بھی کام آنے والی نہیں ہے اس لئے کہ ہر شئی ان کے ذریعہ سے شروع ہوتی ہے اور انہی پر ختم ہو گی ۔( و عنده مفاتیح الغیب لا یعلمها الا هو ) )۳) اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں کہ جنھیں اس کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا۔
سوال کیا گیا یہاں پر مفاتیح الغیب سے کیا مراد ہے ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اہل بیت علیهم السلام تو انھوں نے استغاثہ کیاتو سخت گرمی میں بارش ہو گئی جس کی وجہ سے دشمن پریشان ہو گئے ، اور یہود بہت ہی اچھی حالات میں تھے ۔ میں یہ کہونگا کہ یہ محمد و آل محمد علیهم السلام کی صفت رحمانی ہے کہ بارش یہود کے لئے رحمت بن گئی چونکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا اس لئے کہ دشمن نے انکا محاصرہ کر لیا تھا اور ساری چیزوں کو روک لیا تھا ، نہروں کو بند کر دیا تھا تو بارش دو قسم کی ہو گئی ایک قسم دشمنوں کے لئے عذاب اور دوسری یہود کے لئے رحمت بن گئی جو کہ محمد و آل محمد ع) کی برکت کا نتیجہ ہے پھر جب یہود پانی کی مشکل سے باہر نکل آئے تو کہنے لگے کے کھانے کی مشکل سے کیسے نجات حاصل کریں تو انھوں نے کہا کہ کوئی چارہ نہیں ہے تو ان کے بزرگوں نے کہا کہ محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے استغاثہ کرو کہ پروردگار نے انھی سے استغاثہ کے سبب تمہیں تین سو اور پھر تین ہزار پر فتح عطا کی تو ان لوگوں نے محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے توسل کیا کہ خدایا جیسے ہمیں سیراب کیا ہے ویسے ہی غذا کا انتظام کردے اتنا کہنا تھا کہ دشمن کے اوپر نیند طاری ہو گئی اور وہ سو گئے ، اور ان کے گھوڑے ، گدھے ، اونٹ جو کہ گندم و چاول سے پر تھے انکا ایک بڑا حصہ یہود کی طرف آ گیا اور انھیں خبر بھی نہیں ہوئی ، اور محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے استغاثہ کرنے والوں تک پہنچ گیا ، جب صبح ہوئی تو دشمن نے کہا کہ اب ان بھوکے یہود پر حملہ کرینگے اور بہت ہی آسانی سے یہ مار دیئے جائینگے ، جب نکلنا چاہا تو اپنے مال و متاع کو دیکھا اور یہود جنگ کے منتظر تھے یہان تک کہ بہت ہی سخت جنگ ہوئی کہ جسمیں کامیابی یہود کو ملی کہ اس تین سو نے تین ہزار پر حملہ کیا کہ ان میں کا ہر ایک یا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم یا علی علیه السلام کہہ کر حملہ کرتا تھا ، یہاں تک کے انھوں نے اپنی آبائی زمین کو نکال پھینکا ، تو یہ تھی نصرت خدا۔
سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذکر کے ذریعہ سے یہود کی کامیابی مشرکین پر، اس کے سلسلہ سے کہا اے امت محمد وآل محمد علیهم السلام کو مصیبت و پریشانی کے وقت یاد کرو تا کہ ہم تمہارے فرشتوں کی مدد کریں شیاطین کے مقابلہ ، تم میں سے ہر ایک کے ساتھ دو فرشتے ہیں ایک دوئیں طرف کہ جو نیکیاں لکھتا ہے اور ایک بائیں طرف کہ جو برائیاں و گناہوں کو لکھتا ہے اور اسی طرح سے ابلیس کی جانب سے دو شیطان بھی ہوتے ہیں جنکا کام اس کو گمراہ کرنا ہوتا ہے ۔
تو جب شیطان وسوسہ پیدا کرتا ہے اور جیسے ہی بندہ خدا کا ذکر کرتا ہے ۔لا حول و لا قوة إلا بالله العلي العظیم ) اور محمد و آلہ محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھتا ہے تو شیطان اس سے دور ہو جاتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں ۔
تو اس واقعہ میں عبرت یہ ہے کہ تم لوگ کیسے مدد مانگتے ہو ؟ کہ وہ لوگ فتح و نصرت حاصل کرتے تھے ، ذکر محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے ، اور یہ ذکر تمہارے پاس ہے( فلما جاءهم ما عرفوا ) ) یعنی جس شئی سے نصرت ملتی تھی اسے جان گئے تو اس کا انکار کر دیا سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت کے بعد ، تو خدا کی لعنت ہو ظالمین پر جو حق کی معرفت کے بعد اس کا انکار کرتے ہیں ۔۴)
پس یہ بہت ہی عظیم عبرت ہے کہ جس سے ہمیں استفادہ کرنا چاہئیے ، گروہ و قبیلہ چاہے کتنا ہی منکر کیوں نہ ہو ، جب انھوں نے محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے استغاثہ کیا تو پروردگار عالم نے ان کی بھی مشکلات کو آسان کر دیا ، اور یہ سب کا سب محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کی وجہ سے ہے ۔
____________________
۱۔ بقرہ ؍ ۸۹
۲۔ انفال ؍۶۵
۳۔ انعام ؍ ۵۹
۴۔ تفسیر منسوب امام عسکری ع) ۳۹۴۔۴۰۱؍ ۲۶۹۔ ۲۷۱
{خاتمه}
اولا: ایک قصہ نقل کرتے ہیں بطور تبرک، بعض علماء نے نقل کیا ہے ، کہتے ہیں کہ ہم کشتی میں سوار تھے اور موسم خراب ہوا اور ایسا لگ رہا تھا کہ کشتی ڈوب جائیگی، یہاں تک کہ ہم لوگ زندگی اور نجات سے مایوس ہو گئے تھے کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں اپنی جگہ پر تھا کہ اچانک مجھے آنکھ میں حرارت محسوس ہوئی دیکھا کہ سرکار عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں کہہ رہے ہیں کہ ان لوگوں سے کہوکہ مجھ پر اور میری آل پر ہزار مرتبہ صلوات پڑھیں تو میں بیدار ہو گیا اور ان لوگوں کو خواب سے با خبر کیا تو ہم لوگ ایسے صلوات پڑھنے لگے ۔اللهم صل علی سیدنا محمد و آله، صلاة تنجینا به من جمیع الاهوال و الآفات، و تطهرنا به من جمیع السئیات و ترفعنا به عندک الدرجات ، و تبلغنا به اقصی الغایات من جمیع الخیرات فی الحیاة و بعد الصمات )
خدایا محمد و آل محمد علیهم السلام پر ایسی صلوات بھیج کہ جس کے ذریعہ سے ہمیں ہر آفت و بلاء سے نجات مل جائے ،اور ہر برائی اور گناہ سے پاک ہو جائیں ، ہمارے درجات کو بلند کر دے ، اور اس صلوات کے ذریعہ سے توفیق دے کہ ہم تمام اعمال صالحہ کو با خوبی انجام دے سکیں۔
ابھی تین سو کی عدد بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ ہوا رک گئی ، موجیں ٹہر گئیں۔ راستہ مل گیا اور ہم شام پہنچ گئے ۔تو ہم سب نے خدا کا شکر ادا کیا اور محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھا۔۱)
ثانیا: صلوات دعاؤں میں:
۱ ۔ ایک دعا امام صادق علیه السلام ہے کہ جس کا مضمون بہت ہی عالی ہے ، آپ فرماتے ہیں، خدایا ذات محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم جیسا کہ تو نے کہا ہے( لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيم ) )۲) دیکھو! تم لوگو ں کے پاس ایک رسول آیا جوخود تم ہی میں سے ہے ، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے ، تمہاری فلاح کا حریص ہے ، ایمان لانے والوں کے لئے وہ شفیق و رحیم ہے ، میں گواہی دیتا هوں کہ سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم ایسے ہی
ہیں اور تو نے خود اور تیرے فرشتوں نے صلوات پڑھی ہے تب تو نے ہمیں صلوات بھیجنے کا حکم اس طرح دیا ہےإِنَّ اللَّهَ وَ مَلَئكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلىَ النَّبىِِّ يَأَيهُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيْهِ وَ سَلِّمُواْ تَسْلِيمًا ) اور خدایا تیری صلوات کے بعد کسی کی بھی صلوات کی ضرورت نہیں ہے ۔
مگر یہ کہ صلوات خود صلوات پڑھنے والے کے لئے نفع بخش ہے ، لہذامخلوقات کے لئے ضروری ہے کہ وہ صلوات پڑھیں ، اس لئے کہ محمد و آل محمد علیهم السلام وہ دوازدہ ہیں کہ جس سے آنے کا تو نے حکم دیا ہے ۔
پس صلوات ہماری احتیاج و ضرورت ہے نہ کی محمد و آل محمد علیهم السلام کی ۔
۲ ۔ مولائے کائنات حضرت علی علیه السلام کی دعاء سرکار دو عالمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سلسلہ سے :
ساری تعریفیں عالمین کے پروردگار کے لئے ہیں، اور خدا کی پاکیزہ صلوات حضرت محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلبصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جو کہ منتخب بارگاہ خدا وندی هیں اور تمامی امور کو بنحو احسن انجام دینے والے ہیں۔
خدایا تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے شائستہ ذکر اور حوض کوثر سے مخصوص فرما، خدایا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو وسیلہ و مقام بلندتر عطا فرما، خدا تو محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے برگذیدہ بندوں کے درمیان محبت اور سب سے بلند و بالا درجہ عطا فرما،نعمتوں میں سے وسیع ترین نعمت، عطا میں سب سے افضل عطا، امور میں سب سے زیادہ آسانی ، اور نصیبوں میں سب سے اچھا نصیب عطا فرما، یہاں تک کہ کوئی مخلوق بھی تجھ سے بنیصلىاللهعليهوآلهوسلم سے قریب تر نہ ہو، تیرے نزدیک کسی کا بھی ذکر ان سے بلند نہ ہو، اور کسی کا درجہ بھی ان سے بلند نہ ہو،تیرے نزدیک ان سے زیادہ کسی کا حق عظیم نہ ہو،اورکسی کا بھی وسیلہ ان سے ان سے زیادہ تجھ سے قریب تر نہ ہو، وہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم خیر کے امام و رہبر اور لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دینے والے ، اور تیرے تمام بندگان اور شھروں کے لئےبرکت اور عالمین کےلئے رحمت تھے ،خدایا ہمیں محمد و آل محمد علیهم السلام کے ساتھ اعلی اور ارفع زندگی میں کہ تیرا درود و سلام ہو ان پر) نعمتوں میں ، خوشگواری میں ، لذات میں فضیلت و اطمئنان میں کرامت و خنکی چشم میں اور ایسی خوشحالی و نعمت کہ جسکے مثل دنیا میں خوشحالی و نعمت نہ ہو، جمع فرماہم گواہی دیتے ہیں کہ نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حق رسالت ادا کیا، اسے پہنچا دیا، امانت ادا کر دیا، امت کے لئے خیر خواہی کی ، اس امت کے لئے کوششیں کیں، تیری راہ میں جہاد کیایہان تک کہ اس دنیا سے گذر گئے، پس خدایا تو صلوات بھیج محمدوآل محمد علیهم السلام پر، خدایا اے پروردگار شھر محترم مکہ، اے رب رکن و مقام، اے رب مشعر الحرام و رب حل و حرم،روح محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تک ہمارا اسلام پہنچا،خدایا تو اپنے ملائکہ مقربین انبیاءو مرسلین پر صلوات۳)
بھیج، خدایا فرشتہ کرام الکاتبین اور تو اپنے اطاعت گذار مؤمن بندوں پر صلوات بھیج۔
۳ ۔ مولائے کائنات علی علیه السلام کے خطبہ کا ایک حصہ جس میں لوگوں کو صلوات کی تعلیم دی گئی ہے اور صفات خدا و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ذکر کیا گیا ہے ۔
اے خدا! اے فرش زمین کے بچھانے والے اور بلند ترین آسمانوں کو روکنے والے اور دلوں کو انکی نیک بخت یا بد بخت فطرتوں پر پیدا کرنے والے اپنی پاکیزہ ترین اور مسلسل بڑھنے والے برکات کو اپنے بندہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر قرار دے ، جو سابق نعمتوں کے ختم کرنے والے ، دل و دماغ کے بند دروازوں کو کھولنے والے ، حق کے ذریعہ حق کا علان کرنے والے ، باطل کے جوش و خروش کو دفع کرنے والے گمراہیوں کے حملوں کا سر کچلنے والے تھے جو بار جس طرح ان کے حوالے کیا گیا انھوں نے اٹھا لیا ، تیرے امر کے ساتھ قیام کیا ، تیری مرضی کی راہ میں تیز قدم بڑھاتے رہے ، نہ آگے بڑھنے سے انکار کیا نہ ان کے ارادوں میں کمزوری آئی ، تیری وحی کو محفوظ کیا ، تیرے عھد کی حفاظت کی ، تیرے حکم کے نفاذ کی راہ میں بڑھتے رہے ، یہاں تک کہ روشنی کی جستجو کرنے والوں کے لئے آگ روشن کر دی اور گمراہ کردہ راہ کے لئے راستہ واضح کر دیا ، ان کے ذریعہ سے دلوں نے فتنوں اور گناہوں میں غرق ہونے کے بعد بھی ہدایت پا لی ، اور انھوں نے راستہ دکھانے والے نشانات اور واضح احکام قائم کر دئے ، وہ تیرے امانتدار بندہ ، تیرے پوشیدہ علوم کے خزانہ دار ، روز قیامت تیرے گواہ حق کے ساتھ بھیجے ہوئے اور مخلوقات کی طرف تیرے نمائندہ تھے ۔
خدایا ان کے لئے اپنے سایئہ رحمت میں وسیع ترین منزل قرار دیدے ، اور ان کے خیر کو ان کے فضل سے دگنا و چوگنا کر دے ،خدایا انکی عمارت کو تمام عمارتوں سے بلند تر اور ان کی منزل کو اپنے پاس بزرگتر بنا دے ۔ ان کے نور کی تکمیل فرما اور اپنی رسالت کے صلہ میں انھیں مقبول شہادت اور پسندیدہ اقوال کا انعام عنایت کر کہ انکی گفتگو ہمیشہ عادلانہ اور انکا فیصلہ ہمیشہ حق و باطل کے درمیان حد فاصل رہا ہے ۔
خدایا ہمیں ان کے ساتھ خوشگوار زندگی ، نعمات کی منزل ، خواہشات و لذات کی تکمیل کے مرکز ، آرائش و طمانیئت کے مقام اور کرامت و شرافت کے تحفوں کی منزل پر جمع کر دے ۔۴)
۴ ۔ جناب فاطمہ زهرا سلام الله علیها سے منسوب دعا صلوات کے سلسلہ سے :
خدایا محمد وآل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیج ، اور محمد و آل محمد علیهم السلام پر برکت نازل کر ، اور محمد و آل محمد علیهم السلام پر رحمت نازل کر ۔
خدایا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو وسیلہ فضل و فضیلت عطاء کر ، مقام رفیع عطا فرما اور انکو اتنا عطا کر وہ راضی ہو جائیں، اور ان کے راضی ہو جانے کے بعد بھی انھیں عطاء کر کہ جسکا تو اہل ہے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
خدایا جیسے تو نے ہمیں صلوات بھیجنے کا حکم دیا ہے ویسے ہی محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیج ، خدایا جیسے ہمارے لئے سزاوار ہے کہ ہم صلوات بھیجیں تو بھی محمد وآل محمد علیهم السلام پرصلوات بھیج ، خدایا تو نے جو صلوات بھیجی ہے اس کے ہر ہر حرف کے عوض محمدوآل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیج ، خدا جنھوں نے صلوات بھیجی اور جنھوں نے صلوات نہیں بھیجی ان سب کی تعداد کے برابر محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیج ، خدایا صلوات بھیجنے والے اور نہ بھیجنے والے کے ہر بال ہر لفظ ہر لحظہ اور ہر سانس ہر صفت اور ہر جنبش کے برابر صلوات بھیج ، اور ان کے ہر گھنٹہ، منٹ، سکنڈ، جنبش، حقیقت و صفات و روز و مہینہ و سال ان کے بال و کھال اور ان کے ذرہ برابر عمل جو کر چکے ہیں یا کریں گے ، یا وہ عمل جو ان تک پہنچاہو یا جس کے بارہ میں انھیں گمان ہو ا ہو قیامت تک کے لئے اور اس سے کہیں زیادہ محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیج اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔۵)
۵ ۔امام جعفر صادق علیه السلام کی دعا صلوات کے سلسلہ سے :
امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو محمد و آل محمد علیهم السلام کو صلوات کے ذریعہ سے خوش کرنا چاہتا هے تو ایسے کہےاللهم صل علی محمد و آل محمد فی الاولین و صل علی محمد و آل محمد فی آخرین و صل علی محمد و آل محمد فی الملاء الاعلی و صل علی محمد و آل محمد فی المرسلین... )
خدایا محمد و آل محمد علیهم السلام پر اولین و آخرین و ملاء اعلی و مرسلین میں صلوات بھیج ، خدا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو وسیلہ عطاء فرما ، شرف و فضیلت و بلند مقام عطاء کر ، خدا میں محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اس حالت میں ایمان لایا ہوں کہ میں نے انھیں دیکھا نہیں ہے ۔ تو
خدایا قیامت کے دن مجھے ان کے دیدار سے محروم نہ کرنا ، اور ان کی صحبت عطاء فرما اور ان کی ملت پر موت دے اور حوض کوثر سے ایسے سیراب کر کہ پھر جس کے بعد کبھی پیاس کا احساس نہ ہو ، خدایا تو ہر شئی پر قادر ہے ، خدایا جیسے میں انھیں بغیر دیکھے ان پر ایمان لایا ہوں ویسے جنت میں مجھے ان کی زیارت کا شرف عطاء فرما۔ خدایا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو میری طرف سے سلام و درود کثیر ایصال فرما۔۶)
اور روایت کی گئی ہے کہ اگر کوئی اس صلوات کو صبح میں تین مرتبہ اور تین مرتبہ آخر نہار پڑھتا ہے تو اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، خوشیاں دائمی ہو جاتی ہیں ، دعائیں قبول ہوتی ہیں ، رزق وسیع ہو جاتا ہے ، دشمن سے محفوظ ہو جاتا ہے ، اور جنت مین محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کا رفیق ہوگا ۔۷)
۶ ۔ جناب حریز سے ایک روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیه السلام سے کہا کہ میں آپ پر فدا ہوں جاؤں یہ بتائیں کہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات کیسے بھیجی جائے تو امام علیہ السلام نے فرمایا ۔ کہو :اللهم صل علی محمد و اهل بیته الذین اذهب الله عنهم الرجس و طهرهم تطهیرا ۔ حریز کہتے ہیں تو میں نےدل میں کہا : اللهم صل علی محمد و اهل بیته۔ تو امام علیہ السلام نےکہا ایسے نہیں کہا تم سے تو امام علیه السلام نے مجھ سے کہا اے حریز تم تو حافظ هو ایسے کہو :اللهم صل علی محمد و اهل بیته الذین اذهب الله عنهم الرجس و طهرهم تطهیرا ۔ تو جیسے امام علیہ السلام نے کہا ویسے میں نے کہا ۔ پھر امام علیہ السلام نے کہا کہو :اللهم صل علی محمد و اهل بیته الذین الهمتهم علمک و استحفظتهم کتابک واسترعیتهم عبادک ، اللهم صل علی محمد و اهل بیته الذین امرت بطاعتهم و اجبت حبهم و مودتهم، اللهم صل علی محمد و اهل بیته الذین جعلتهم ولاة امرک بعد نبیک صلىاللهعليهوآلهوسلم ۔۸)
آخر میں پھر ایک بار کہوں گا کہ میری یہ کتاب اختصار پر مبنی ہے ورنہ محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے سلسلہ سے بہت سی حدیثیں ہیں جس کے لئے بہت مفصل کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے ، اس لئے کہ صلوات میں ایسے خزانے ہیں جنکو سوائے پروردگا ر کے کوئی اور نہیں جانتا ، اور میں پروردگار رب العزت و رحیم و کریم و رؤوف سے دعاء کرتا ہوں کہ
میرے اس عمل کو قبول فرمائے اور سرکارصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مجھ سے راضی فرمائے اور اس کے ذریعہ سے مجھے اورمیرے والدین کو اور اس کتاب کو عین رضا و قبول سے دیکھنے والوں کو اسی دنیا میں اور قیامت کے دن نفع پہنچائے۔
اور محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے ہماری عاقبت بخیر کر ، گناہ کو معاف فرما ۔ الهی آمین )
____________________
۱۔ خزینۃ الجواھر ۵۸۸
۲۔ توبہ؍ ۱۲۸
۳۔ تھذیب اللحکام ۷۳؍۸۲ ، صحیفہ علویہ ص ۸۷
۴۔ نہج البلاغہ ج ۱ ص ۱۷۲
۵۔ بحار الانوار ۸۳؍۱۶۷۔باب ۴۳
۶۔ بحار الانوار ۸۳؍۹۵ ۔ باب ۴۱
۷۔ باقیات الصالحات ۲۱
۸۔ مستدرک الوسائل ج ۵ ص ۳۴۴
منابع وماخذ
۱) قران كريم
۲) اثار و بركات امير المؤمنين سيد ناجى جزائرى)
۳) احقاق الحق قاضى نور الله شوسترى)
۴) أخلاق نبى و اهل بيت شيخ باقر قرشى)
۵) ارشاد القلوب شيخ مفيد)
۶) امالى طوسى شيخ طوسى)
۷) باقيات صالحات شيخ عباس قمى)
۸) بحارالانوارشيخ محمد باقر مجلسى)
۹) تحفہ رضويہ سيد محمد رضى رضوى)
۱۰) تفسير برهانسيد هاشم بحرانى)
۱۱) تفسير نور الثقلين شيخ عبد على حويزى)
۱۲) توحيدشيخ صدوق)
۱۳) ثواب الاعمال و عقاب الاعمال شيخ صدوق)
۱۴) جامع الاخبارتاج الدين شعيرى)
۱۵) جمال الاسبوع سيد على ابن طاؤوس)
۱۶) خزينة الجواهرعلى اكبر نهاوندی)
۱۷) دار السلام شيخ نورى)
۱۸) رياض السالكين سيد على خان حسينى)
۱۹) سفینة البحارشيخ عباس قمى)
۲۰) عوالى الالىءابن ابى جمهور احسائى)
۲۱) عيون اخبار رضا علیه السلام شيخ صدوق)
۲۲) فروع كافي شيخ كلينى)
۲۳) فضائل خمسہ صحاح ستہ سےسيد مرتضى فيروزآبادى)
۲۴) قطرہ سيد احمد مستنبط)
۲۵) لئالى الاخبارشيخ محمد نبى تويسركانى)
۲۶) مجمع البحرين طريحى)
۲۷) مسترك وسائل شيخ نورى)
۲۸) مكارم اخلاق شيخ طبرسى)
۲۹) من لا يحضره الفقيه شيخ صدوق)
۳۰) منازل اخرت شيخ عباس قمى)
۳۱) مناقب ال ابى طالب ابن شهر آشوب)
۳۲) منتهى الآمال شيخ عباس قمى)
۳۳) ميزان حكمت شيخ محمد رى شهرى)
۳۴) نهج البلاغه خطبے،خطوط،كلمات قصار).
۳۵) وسائل شيعه شيخ حر عاملى)
فہرست
مقدمه مؤلف ۴
مقدمه مترجم ۵
فوائدالصلاة علی النبی المختار و علی آله الاطهار علیهم السلام ۶
رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی شخصیت ۶
پهلی فصل ۱۰
{صلوات کے بعض فوائد} ۱۰
۱. صدائے خدا و رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم پر لبیک هے صلوات ۱۰
۲. صلوات حسنات و درجات میں اضافه کا سبب هے ۱۲
۳. صلوات تکمیل نماز کی باعث هے ۱۳
۴. صلوات سنگینی میزان کا باعث هے ۱۳
۵. صلوات سب سے اٖفضل عمل هے ۱۴
۶. صلوات گناهوں کا کفاره هے ۱۷
ایک بهترین واقعه ۱۷
۷. صلوات محبت و قرب پروردگار اور نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم کو کیئے هوئے سلام کے جواب کا ذریعه هے ۱۸
۸. صلوات تاریکوں سے نکل کر نور کی طرف جانے کا ذریعه هے ۱۹
۹. صلوات نفاق کے خاتمه کی باعث هے ۱۹
۱۰. صلوات شیطان سے دوری کی باعث هے ۲۰
۱۱. قیامت کے هول ناک مناظر سے نجات کا راسته هے صلوات ۲۰
۱۲. صلوات سے انسان دنیا و آخرت میں ایمان پر باقی ره سکتا هے ۲۱
۱۳. صلوات باعث شفاعت هے ۲۱
۱۴. صلوات باعث قبولیت دعا هے ۲۲
۱۵. صلوات سے حاجتیں پوری هوتی هیں ۲۳
۱۶. صلوات صحت و سلامتی کی باعث هے ۲۴
۱۷. صلوات کے ذریعه سے بھولی هوئی چیزوں کو یاد کیا جاسکتا هے ۲۴
۱۸. صلوات فقر سے نجات کی باعث هے ۲۵
۱۹. صلوات باعث رحمت الهی هے ۲۶
۲۰. صلوات کے ذریعه خواب میں نبی صلىاللهعليهوآلهوسلم ، امام علیه السلام یا مرده کی زیارت هوگی ۲۶
صلوات کے فوائد بطور خلاصه ۲۷
دوسری فصل ۳۱
{صلوات کا فائده محمدو آل محمد علیهم السلام کو پهنچتا هے یا خود صلوات پڑھنے والے کو} ۳۱
محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنے کا طریقه ۳۱
تیسری فصل ۳۳
{صلوات واجب هے یا مستحب؟} ۳۳
۱. وه مقامات جهاں صلوات پڑھنا مستحب هے ۳۴
۱. جب سرکار دوعالم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا ذکر هو: ۳۴
۲. رکوع و سجو د میں: ۳۴
۳. قنوت میں: ۳۴
۴. بعد از نماز: ۳۴
۵. سونے سے پهلے: ۳۵
۶. نماز صبح کے بعد: ۳۵
۷. وقت استخاره صلوات مستحب هے: ۳۶
۸. مسجد میں داخل هوتے اور نکلتے وقت صلوات مستحب هے: ۳۶
۹. هر نشست و مجلس میں صلوات مستحب هے: ۳۶
۱۰. جب چھینک آئے تو صلوات مستحب هے: ۳۶
۱۱. نزدیک غروب پنجشنبه و شب جمعه صلوات پڑھنا مستحب هے: ۳۷
۱۲. روز جمعه صلوات مستحب هے: ۳۷
۲. سوال: کتنی صلوات کافی هے؟! ۳۷
۳. بچوں کی صلوات: ۳۷
چوتھی فصل ۳۹
{ایک جوان اور صلوات} ۳۹
پانچویں فصل ۴۵
{جناب آدم و حوّا علیهما السلام کا نکاح} ۴۵
جناب آدم علی نبینا وآله وعلیه السلام) و حوّا ع) کا عقد نکاح کیسے ہوا ؟ ۴۵
صلوات بتراء ۴۵
۲ ۔ توفیق اِلھی جناب شیخ انصاری رحمۃ اللہ علیہ کیلئے : ۴۷
۳ ۔ نشست اولیاء سرکار دو عالم صلىاللهعليهوآلهوسلم پر : ۴۷
۴ ۔ آل علی علیه السلام کی تکبیریں: ۴۷
جب بھی کسی نبی کا ذکر آئے تو پہلے محمد صلىاللهعليهوآلهوسلم پر صلوات پڑھے سوائے جناب ابراھیم علیه السلام کے ۴۹
ساتویں فصل ۵۱
{انبیاء علیهم السلام کا محمد و آل محمد علیهم السلام کے ذریعہ سے توسل} ۵۱
آٹھویں فصل ۵۵
{محمد و آل محمدعلیهم السلام کے ذریعہ سے اہل کتاب کا ۵۵
استغاثہ} ۵۵
{خاتمه} ۵۹
ثانیا: صلوات دعاؤں میں: ۵۹
۴ ۔ جناب فاطمہ زهرا سلام الله علیها سے منسوب دعا صلوات کے سلسلہ سے : ۶۱
۵ ۔امام جعفر صادق علیه السلام کی دعا صلوات کے سلسلہ سے : ۶۲
منابع وماخذ ۶۴