امام حسين علیہ السلام دلُربائے قلوب
مؤلف: حضرت آيت اللہ العظميٰ خامنہ اي حَفَظَہُ اللّٰہُامام حسین(علیہ السلام)
یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب : امام حسین ، دلربائے قلوب
صاحب اثر : حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای حَفَظَہُ اللّٰہُ
تالیف : موسّسہ فرہنگی قدر ولایت ۔تہران
تاریخ اشاعت : شعبان ۱۴۲ ۸ ہجر ی اگست ۲ ۰۰۷ئ
ناشر : نشر ولایت پاکستان(مرکز حفظ و نشرآثار ولایت)
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں
انتساب!
عالم ہستی کے امام حریت،تا ریخ انسانیت کی سب سے شجاع انسان،میدان جنگ کے بطل جلیل،کائنات کے سب سے عظیم سُور ما،
عزت و آزادی کے عالمی علمبردار،حسین ابن علی کے نام؛کہ جس کیلئے آزاد انسانوں کی آنکھیں اشکبار، دل مصمم ارادوں کے مالک،عزم جواں ہیں!
عرض ناشر
’’امام حسین ،دلربائے قلوب‘‘ میں سیرت امام حسین کاحقیقی انداز سے جائزہ لیا گیا ہے۔
’’اما م حسین ،دلربائے قلوب ‘‘؛دراصل واقعہ کربلا کے پس پردہ حقیقی عوامل اوراہداف ونتائج پر مکتب کربلا کے ایک حقیقی پیروکار،سچے عاشق حسین ،مجاہد ومبارز،حضرت امام خمینی ۲ کے فرزند صادق،کربلائے عصر کے سورماودلیر انسان،بطل جلیل اورفرزنداسلام حضرت امام خامنہ ای دامت برکاتہ کے خطبات وتقاریر کا وہ نادر مجموعہ ہے جسے موسّسہ قدر ولایت تہران نے شائع کیا۔
’’امام حسین ،دلربائے قلوب ‘‘میں واقعہ کربلاسے ماقبل وبعد کے سیاسی اجتماعی اور ثقافتی حالات کاتحلیلی انداز سے جائزہ لے کر موجود ہ عصر کے تقاضوں سے اسے ہم آہنگ کرکے ذمہ داریوں کو مشخص کیا گیا ہے
نشرولایت پاکستان(مرکز حفظ ونشر آثار ولایت)کاقیام ۲۰۰۲ ئ م یں عمل میں لایا گیاہے۔اس ادارے کا مقصد رہبر معظم ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کے تمام مطبوع وغیر مطبوع آثار کی حفاظت اوران کی اردو زبان میں منتقلی ہے۔
امید ہے یہ کتاب یقینا قاری کے ذہن میں نئے دریچہ ہائے فکر کو کھولنے میں مددگار ثابت ہوگی تاکہ ہم اپنی اجتماعی ،سیاسی اورثقافتی ذمہ داریوںکو سمجھ کر بطریق احسن انہیں انجام دیں سکیں۔
نشرولایت پاکستان
(مرکز حفظ ونشر آثارولایت)
امام حسین اُسوہ انسانیت
امام حسین ،دلربائے قلوب
میرے عزیز دوستو! حسین ابن علی کا نام گرامی بہت ہی دلکش نام ہے ؛ جب ہم احساسات کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میں امام حسین کے نام کی خاصیت اورحقیقت و معرفت یہ ہے کہ یہ نام دلربائے قلوب ہے اور مقناطیس کی مانند دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ البتہ مسلمانوں میں بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جو ایسے نہیں ہیں اور امام حسین کی معرفت و شناخت سے بے بہرہ ہیں، دوسری طرف ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں کہ جن کا شمار اہل بیت کے شیعوں میں نہیں ہوتا لیکن اُن کے درمیان بہت سے ایسے افراد ہیںکہ حسین ابن علی کا مظلوم نام سنتے ہی اُن کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب جاری ہو جاتاہے ور اُن کے دل منقلب ہوجاتے ہیں۔ خداوند عالم نے امام حسین کے نام میں ایسی تاثیر رکھی ہے کہ جب اُن کا نام لیا جاتا ہے تو ہماری قوم سمیت دیگر ممالک کے شیعوں کے دل و جان پر ایک روحانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ یہ ہے حضرت امام حسین کی مقدس ذات سے احساساتی لگاو کی تفسیر۔
اہل بصیرت کے درمیان ہمیشہ سے یہی ہوتا رہا ہے جیسا کہ روایات اور تاریخ سے بھی معلوم ہوتا ہے ، حضرت ختمی مرتبت ۰ اور امیر المومنین کے گھر اور اِن بزرگوار ہستیوں کی زندگی میں بھی اِس عظیم ذات کو مر کزیت حاصل تھی اور یہ ہمیشہ اِن عظیم المرتبت ہستیوں کے عشق و محبت کا محور رہا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہے۔
امام حسین کی تعلیمات اور دعائیں
تعلیمات اور دعاوں کے لحاظ سے بھی یہ عظیم المرتبت ہستی اور اُن کا اسم شریف بھی کہ جو اُن کے عظیم القدر مسمّی(ذات) کی طرف اشارہ کرتا ہے، اِسی طرح ہے۔ آپ کے کلمات و ارشادات ، معرفت الٰہی کے گرانبہا گوہروں سے لبریز ہیں۔ آپ روز عرفہ ، امام حسین کی اِسی دعائے عرفہ کو ملاحظہ کیجئے تو آپ دیکھیں گے کہ یہ بھی زبور آل محمد ۰ ( صحیفہ سجادیہ)کی مانند عشق و معرفت الٰہی کے خزانوں اور اُس کے حسن و جمال کے حَسِین نغموں سے مالا مال ہے ۔ یہاں تک کہ انسان جب امام سجاد کی بعض دعاؤں کا دعائے عرفہ سے موازنہ کرتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ امام سجاد کی دعائیں در حقیقت امام حسین کی دعائے عرفہ کی ہی تشریح و توضیح ہیں، یعنی دعائے عرفہ ’’اصل ‘‘ ہے اور صحیفہ سجادیہ کی دعائیں اُس کی ’’فرع‘‘۔ عجیب و غریب دعائے عرفہ، واقعہ کربلا اور زندگی کے دیگر مواقع پر آپ کے ارشادات ،کلمات اور خطبات ایک عجیب معانی اور روح رکھتے ہیں اور عالم ملکوت کے حقائق اور عالی ترین معارف الہٰیہ کاایسا بحر بیکراں ہیں کہ آثار اہل بیت میں جن کی نظیر بہت کم ہے۔
سید الشہدا ، انسانوں کے آئیڈیل
بزرگ ہستیوں کی تآسّی وپیروی اور اولیائے خدا سے انتساب و نسبت، اہل عقل و خرد ہی کا شیوہ رہا ہے۔ دنیا کا ہر ذی حیات موجود، آئیڈیل کی تلاش اور اُسوہ و مثالی نمونے کی جستجو میں ہے ،لیکن یہ سب اپنے آئیڈیل کی تلاش میں صحیح راستے پر قدم نہیں اٹھاتے ہیں۔ اِس دنیا میں بعض افراد ایسے بھی ہیں کہ اگر اُن سے دریافت کیا جائے کہ وہ کون سی شخصیت ہے کہ جو آپ کے ذہن و قلب پر چھائی ہوئی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اُن حقیر اور پست انسانوں کا پتہ بتائیں گے کہ جنہوں نے اپنی زندگی خواہشات نفسانی کی بندگی و غلامی میں گزاری ہے۔ اِن آئیڈیل بننے والے افراد کی عادات و صفات ،غافل انسانوں کے سِوا کسی اورکو اچھی نہیں لگتیں اور یہ معمولی اور غافل انسانوں کو ہی صرف چند لمحوں کیلئے سرگرم کرتے ہیں اور دنیا کے معمولی انسانوں کے ایک گروہ کیلئے تصوّراتی شخصیت بن جاتے ہیں۔ بعض افراد اپنے آئیڈیل کی تلاش میں بڑے بڑے سیاستدانوں اور تاریخی ہیرووں کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور اُنہیں اپنے لیے مثالی نمونہ اور اُسوہ قرار دیتے ہیں لیکن عقلمند ترین انسان وہ ہیں جو اولیائے خدا کو اپنا اُسوہ اور آئیڈیل بناتے ہیںکیونکہ اولیائے الٰہی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اِ س حد تک شجاع ، قدرت مند اور صاحب ارادہ واختیار ہوتے ہیں کہ اپنے نفس اور جان و دل کے خود حاکم و امیر ہوتے ہیں یعنی اپنے نفس اور نفسانی خواہشات کے غلام اور اسیر نہیں بنتے۔
ایک حکیم (دانا)کا بے مثال جواب
قدیم حکمائ اور فلسفیوں میں سے کسی سے کیلئے منسوب ہے کہ اُس نے اسکندر رومی_ مقدونی_ سے کہا کہ ’’تم ہمارے غلاموں کے غلام ہو۔‘‘ اسکندر اعظم یہ بات سن کر برہم ہوگیا۔ اُس حکیم نے کہا کہ ’’غصہ نہ کرو، تم اپنے غصے اور شہوت کے غلام ہو۔ تم جب بھی کسی چیز کو حاصل کرتے ہوتو اُس وقت بھی بے تاب اور مضطرب ہوتے ہو اور جب غصہ کرتے ہو تو اُس وقت بھی پریشانی و بے کلی کی کیفیت تم پر سوار رہتی ہے اور یہ شہوت و غضب کے مقابلے میں تمہاری غلامی کی علامت ہے جبکہ میری شہوت و غضب میرے غلام ہیں‘‘۔
ممکن ہے کہ یہ قصہ صحیح ہو اور ممکن ہے کہ یہ بالکل حقیقت نہ رکھتا ہو لیکن اولیائے خدا ، پیغمبروں اور بشریت کیلئے خدائی ہدایت کی شاہراہ کے راہنماوں کیلئے یہ بات بالکل صادق آتی ہے۔ اِس کی زندہ مثالیں حضرت یوسف ، حضرت ابراہیم اور حضرت موسی ہیں اور اِ س کی متعدد مثالیں ہمیں اولیائے الٰہی کی زندگی میں نظر آتی ہیں۔ اہل عقل و خرد وہ انسان ہیں کہ جو اِن بزرگ ہستیوںاور اِن شجاع اور صاحب ارادہ و اختیار انسانوں کو اپنا آئیدیل قرار دیتے ہیں اور اِس راستے پر گامزن ہو کر اپنے باطن میں اپنے ارادے و اختیار کے مالک بن جاتے ہیں۔
واقعہ کربلا سے قبل امام حسین کی شخصیت و فعالیت
اِن بزرگ ہستیوں کے درمیان بھی بہت سی عظیم شخصیات پائی جاتی ہیں کہ جن میں سے ایک شخصیت حضرت امام حسین کی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ یہ کہنا چاہیے کہ ہم خاکی ، حقیر اور ناقابل انسان بلکہ تمام عوالم وجود ، بزرگان و اولیائ کی ارواح اور تمام ملائکہ مقربین اور اِن عوالم میں موجود تمام چیزوں کیلئے جو ہمارے لیے واضح و آشکار نہیں ہیں، امام حسین کا نورِ مبارک، آفتاب کی مانند تابناک و درخشاں ہے۔ اگر انسان اِس نورِ آفتاب کے زیر سایہ زندگی بسر کرے تو اُس کا یہ قدم بہت سود مند ہوگا۔
توجہ کیجئے کہ امام حسین نہ صرف یہ کہ فرزند پیغمبر ۰ تھے بلکہ علی ابن ابی طالب و فاطمہ زہرا ٭ کے بھی نور چشم تھے اور یہ وہ چیزیں ہیں کہ جو ایک انسان کو عظمت عطا کرتی ہیں۔ سید الشہدا عظیم خاندان نبوت، دامن ولایت و عصمت اور جنتی اور معنوی فضاو ماحول کے تربیت یافتہ تھے لیکن اُنہوں نے صرف اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ جب حضرت ختمی مرتبت ۰ کا وصال ہوا تو آپ کی عمر مبارک آٹھ ، نو برس کی تھی اور جب امیر المومنین نے جام شہادت نوش کیا تو آپ سینتیس یا اڑتیس سال کے نوجوان تھے۔ امیر المومنین کے زمانہ خلافت میں کہ جو امتحان و آزمایش اور محنت و جدوجہد کا زمانہ تھا، آپ نے اپنے پدر بزرگوار کے زیر سایہ اپنی صلاحیتوں اور استعداد کو پروان چڑھانے میں بھرپور محنت کی اور ایک مضبوط و مستحکم اور درخشاں و تابناک شخصیت کی حیثیت سے اُبھرے۔
اگر ایک انسان کا حوصلہ اور ہمت ہمارے جیسے انسانوں کی مانند ہو تو وہ کہے گا کہ بس اتنی ہمت و حوصلہ کافی ہے، بس اتنا ہی اچھا ہے اور خدا کی عبادت اور دین کی خدمت کیلئے ہمت و حوصلے کی اتنی مقدار ہمارے لیے کافی ہو گی لیکن یہ حسینی ہمت و حوصلہ نہیں ہے۔ امام حسین نے اپنے برادر بزگوار کے زمانہ امامت میں کہ آپ ماموم اور امام حسن امام تھے، اپنی پوری طاقت و توانائی کو اُن کیلئے وقف کردیا تاکہ اسلامی تحریک کو آگے بڑھایا جاسکے ؛ یہ دراصل اپنے برادر بزرگوار کے شانہ بشانہ وظائف کی انجام دہی ، پیشرفت اور اپنے امامِ زمانہ کی مطلق اطاعت ہے اور یہ سب ایک انسان کیلئے عظمت و فضیلت کا باعث ہے۔ آپ امام حسین کی زندگی میں ایک ایک لمحے پر غور کیجئے۔ شہادت امام حسن کے وقت اور اُس کے بعد جو ناگوار حالات پیش آئے ، آپ نے اُن سب کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور تمام مشکلات کو برداشت کیا۔ امام حسن کی شہادت کے بعد آپ تقریباً دس سال اور چند ماہ زندہ رہے؛ لہٰذا آپ توجہ کیجئے کہ امام حسین نے واقعہ کربلا سے دس سال قبل کیا کام انجام دیئے۔
دین میں ہونے والی تحریفات سے مقابلہ
امام حسین کی عبادت اورتضرّع وزاری، توسُّل ، حرم پیغمبر ۰ میں آپ کا اعتکاف اور آپ کی معنوی ریاضت اور سیر و سلوک؛ سب امام حسین کی حیات مبارک کا ایک رُخ ہے۔ آپ کی زندگی کا دوسرا رُخ علم اور تعلیمات اسلامی کے فروغ میںآپ کی خدمات اور تحریفات سے مقابلہ کیے جانے سے عبارت ہے۔ اُس زمانے میں ہونے والی تحریف دین درحقیقت اسلام کیلئے ایک بہت بڑی آفت و بلا تھی کہ جس نے برائیوں کے سیلاب کی مانند پورے اسلامی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب اسلامی سلطنت کے شہروں، ممالک اور مسلمان قوموں کے درمیان اِس بات کی تاکید کی جاتی تھی کہ اسلام کی سب سے عظیم ترین شخصیت پر لعن اور سبّ و شتم کریں۔ اگر کسی پر الزام ہوتا کہ یہ امیر المومنین کی ولایت و امامت کا طرفدار اور حمایتی ہے تو اُس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی، ’’اَلقَتلُ بِالظَنَّةِ وَالآَخذُ بِالتُّهمَةِ ‘‘،(صرف اِس گمان و خیال کی بنا پر کہ یہ امیرالمو منین کا حمایتی ہے ، قتل کردیا جاتا اور صرف الزام کی وجہ سے اُس کا مال و دولت لوٹ لیا جاتا اور بیت المال سے اُس کاوظیفہ بند کردیا جاتا)۔
اِن دشوار حالات میں امام حسین ایک مضبوط چٹان کی مانند جمے رہے اور آپ نے تیز اور برندہ تلوار کی مانند دین پر پڑے ہوئے تحریفات کے تمام پردوں کو چاک کردیا، (میدان منی میں) آپ کا وہ مشہور و معروف خطبہ اور علما سے آپ کے ارشادات یہ سب تاریخ میںمحفوظ ہیں اور اِس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امام حسین اِس سلسلے میں کتنی بڑی تحریک کے روح رواں تھے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر
آپ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی وسیع پیمانے پر انجام دیا اور یہ امر و نہی، معاویہ کے نام آپ کے خط کی صورت میں تاریخ کے اوراق کی ایک ناقابل انکار حقیقت اور قابل دید حصّہ ہیں۔ اتفاق کی بات تو یہ ہے کہ اِ س خط کو کہ جہاں تک میرے ذہن میں ہے، اہل سنت مورخین نے نقل کیا ہے، یعنی میں نے نہیں دیکھا کہ شیعہ مورخین نے اُسے نقل کیا ہویا اگر نقل بھی کیا ہے تو سنی مورخین سے نقل کیا ہے۔ آپ کا وہ عظیم الشّان خط اور آپ کا مجاہدانہ اور دلیرانہ انداز سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دینا دراصل یزید کے سلطنت پر قابض ہونے سے لے کر مدینے سے کربلا کیلئے آپ کی روانگی تک کے عرصے پر مشتمل ہے۔ اِس دوران آپ کے تمام اقدامات، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھے۔ آپ خود فرماتے ہیں کہ’’اُرِیدُ اَن آمُرَ باِلمَعرُوفِ و اَنهٰی عَنِ المُنکَرِ ‘‘، ’’میں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
زندگی کے تین میدانوں میں امام حسین کی جدوجہد
توجہ فرمائیے کہ ایک انسان مثلا امام حسین اپنی انفرادی زندگی _ تہذیب نفس اور تقوی_ میں بھی اتنی بڑی تحریک کے روح رواں ہیں اورساتھ ساتھ ثقافتی میدان میں بھی تحریفات سے مقابلہ، احکام الہی کی ترویج و اشاعت ، شاگردوں اور عظیم الشان انسانوں کی تربیت کو بھی انجام دیتے ہیںنیز سیاسی میدان میں بھی کہ جو اُن کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے عبارت ہے، عظیم جدوجہد اور تحریک کے پرچم کو بھی خود بلند کرتے ہیں۔ یہ عظیم انسان انفرادی ، ثقافتی اور سیاسی زندگی میں بھی اپنی خود سازی میں مصروف عمل ہے۔
امام حسین کی حیا ت طیبہ کا اجمالی جا ئزہ
امام حسین کی زندگی کے تین دور
سب سے پہلے مرحلے پر یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ واقعہ کتنا عظیم ہے تاکہ اِس کہ علل و اسباب کو تلاش کیا جائے۔ کوئی یہ نہ کہے کہ واقعہ کربلا میں صرف قتل ہوا ہے اور چند افراد قتل کردیے گئے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب زیارت عاشورا میں پڑھتے ہیں کہ ’’لَقَد عَظُمَتِ الرَّزِيَّةُ وَ جَلَّت وَ عَظُمَتِ المُصِیبَةُ ‘‘۔ یہ مصائب و مشکلات بہت بڑی تھیں۔ ’’رزیۃ‘‘ یعنی بہت عظیم حادثہ؛ یہ حادثہ اور واقعہ بہت عظیم اور کمر توڑ دینے والا اور اپنی نوعیت کا بے نظیر واقعہ ہے ۔ لہٰذا اِس واقعہ کی عظمت و بزرگی کا اندازہ لگانے کیلئے میں سید الشہدا کی حیات طیبہ سے تین ادوار کو اجمالی طور پر آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔ آپ ملاحظہ فرمائیے کہ سید الشہدا کی حیات کے اِن تین ادوار کا مطالعہ کرنے والا شخص اِن تینوں زمانوں میں ایک ایسی شخصیت کو سامنے پاتا ہے کہ جس کیلئے یہ گمان بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نوبت یہاں تک جا پہنچے گی کہ اِس شخصیت کے جدّ کی امت کے کچھ افراد روز عاشورا اُس کا محاصرہ کرلیں اور اُسے اور اُس کے اصحاب و اہل بیت کا نہایت سفاکانہ اور دردناک طریقے سے قتل عام کریں اور خواتین کو اسیر و قیدی بنالیں!
اِن تینوں زمانوں میں سے ایک دور پیغمبر اکرم ۰ کی حیات کا زمانہ ہے ، دوسرا زمانہ آپ کی جوانی یعنی رسول اکرم ۰ کے وصال کے بعد پچیس سال اور امیر المومنین کی حکومت تک کا زمانہ ہے جبکہ تیسرا زمانہ امیر المومنین کی شہادت کے بعد بیس سال کے عرصے پر محیط ہے۔
دورِ طفولیت
پیغمبر اکرم ۰ کی حیات طیبہ کے اِس نورانی دور میں امام حسین حضرت ختمی مرتبت ۰ کے نور چشم تھے۔ پیغمبر اکرم ۰ کی ایک صاحبزادی تھیں بنام فاطمہ کہ اُس زمانے کے تمام مسلمان جانتے تھے کہ پیغمبر اکرم ۰ نے اُن کے بارے میں فرمایا کہ ’’اِنَّ اللّٰهَ لِيَغضِبَ لِغَضَبِ فَاطِمَة وَ يَرضی لِرِضَاهَا ‘‘(۱) ، ’’اگر کس ی نے فاطمہ کو غضبناک کیا تو اُس نے غضب خدا کو دعوت دی ہے اور اگر کسی نے فاطمہ کو خوش کیا تو اُس نے خدا کو خوشنود کیا‘‘۔ توجہ فرمائیے کہ یہ صاحبزادی کتنی عظیم المرتبت ہے کہ حضرت ختمی مرتبت ۰ مجمع عام میں اور کثیر تعداد کے سامنے اپنی بیٹی کے بارے میں اِس طرح گفتگو فرماتے ہیں؛ یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔
پیغمبر اکرم ۰ نے اپنی اِس بیٹی کا ہاتھ اسلامی معاشرے کے اُس فرد کے ہاتھ میں دیا کہ جو عظمت و بلندی اور اپنی شجاعت و کارناموں کی وجہ سے بہت بلند درجے پر فائز تھا، یعنی علی ابن ابی طالب ۔ یہ جوان، شجاع ، شریف، سب سے زیادہ با ایمان، مسلمانوں میں سب سے زیادہ شاندار ماضی کاحامل، سب سے زیادہ شجاع اور تمام نبرد و میدان عمل میں آگے آگے تھا ۔ یہ وہ ہستی ہے کہ اسلام جس کی شمشیر کا مرہونِ منت ہے، یہ جوان ہر اُس جگہ آگے آگے نظر آتا ہے کہ جہاں سب (بڑے بڑے سورما اور دلیر)پیچھے رہ جاتے ہیں، اپنے مضبوط ہاتھوں سے گھتّیوں کو سلجھاتا ہے اور راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کوتہس نہس کردیتا ہے؛ یہ وہ عزیز ترین اور محبوب ترین داماد ہے کہ جسے خدا کے آخری رسول ۰ نے اپنی بیٹی دی ہے ۔ اُس کی یہ محبوبیت رشتہ داری اور اقربا پروری اور اِسی جیسے دیگر امور کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اُس شخصیت کی عظمت کی وجہ سے ہے۔ اِس عظیم جوان اور اِس عظیم المرتبت بیٹی سے ایک ایسا بچہ جنم لیتا ہے کہ جو حسین ابن علی کہلاتاہے۔
البتہ یہی تمام باتیں اور عظمتیں امام حسن کے بارے میں بھی ہیں لیکن ابھی ہماری بحث صرف سید الشہدا کے بارے میں ہے۔ حسین ابن علی ،پیغمبر اکرم ۰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ عزیزہیں۔ حضرت ختمی مرتبت ۰ جو دنیائے اسلام کے سربراہ ، اسلامی معاشرے کے حاکم اور تمام مسلمانوں کے محبوب رسول اور قائد ہیں، اِس بچے کو اپنی آغوش میں لیتے ہیں اور اُسے اپنے ساتھ مسجد میں لےجاتے ہیں۔ سب ہی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ بچہ ، تمام مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی کے دل کا چین، آنکھوں کا نور اور اُس کا محبوب ہے۔ رسول اکرم ۰ ، منبر پر خطبہ دینے میں مصروف ہیں، اِس بچے کا پیر کسی چیز سے الجھتا ہے اور زمین پر گر جاتا ہے ، پیغمبر اکرم ۰ منبر سے نیچے تشریف لاتے ہیں، اُسے اپنی گود میں اٹھا کر پیار اور نوازش کرتے ہیں؛ یہ ہے اِس بچے کی اہمیت و حقیقت!
پیغمبر اکرم ۰ نے چھ سات سال کے امام حسن اور امام حسین کے متعلق فرمایا کہ ’’سَيِّدی شَبَابِ اَهلِ الجَنَّةِ ‘‘(۲) یہ دونوں جوانان جنت کے سردار ہیں ۔ (یا رسول اللہ!) یہ تو ابھی بچے ہیں، ابھی تو سن بلوغ کوبھی نہیں پہنچے اور انہوں نے جوانی کی دہلیزمیں ابھی تک قدم نہیں رکھا ہے؛ لیکن رسول اکرم ۰ فرماتے ہیں کہ یہ جوانان جنت کے سردار ہیں یعنی یہ بچے چھ سات سال میں بھی ایک جوان کی مانند ہیں، یہ سمجھتے ہیں، ادراک رکھتے ہیں ،عملی اقدام کرتے ہیں اور شرافت و عظمت اِن کے وجود میں موجزن ہے۔ اگر اُسی زمانے میں کوئی یہ کہتا کہ یہ بچہ، اِسی پیغمبر کی اُمت کے ہاتھوں بغیر کسی جرم و خطا کے قتل کردیا جائے گا تو اُس معاشرے کا کوئی بھی شخص اِس بات کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا۔ جیسا کہ پیغمبر ۰ نے یہ فرمایا اور گریہ کیا تو سب افراد نے تعجب کیا کہ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟!
____________________
۱ بحار الانوار ، جلد ۴۳ صفحہ ۴۴
۲ بحار الانوار ، جلد۱۰، صفحہ ۳۵۳
امام حسین کا دورانِ جوانی
دوسرا دور پیغمبر اکرم ۰ کی وفات کے بعد سے امیر المومنین کی شہادت تک کا پچیس سالہ دور ہے۔ اِس میں یہ شخصیت، جوان، رشید، عالم اورشجاع ہے ، جنگوں میں آگے آگے ہے، عالم اسلام کے بڑے بڑے کاموں میں حصہ لیتا ہے اور اسلامی معاشرے کے تمام مسلمان اِس کی عظمت وبزرگی سے واقف ہیں۔ جب بھی کسی جواد و سخی کا نام آتا ہے تو سب کی نگاہیں اِسی پر متمرکز ہوتی ہیں، مکہ ومدینے کے مسلمانوں میں، ہر فضیلت میں اور جہاں جہاں اسلام کا نور پہنچا، یہ ہستی خورشید کی مانند جگمگا رہی ہے، سب ہی اُس کا احترام کرتے ہیں، خلفائے راشدین ۱ بھی امام حسن اور امام حسین کا احترام کرتے ہیں ، اِن دونوں کی عظمت و بزرگی کے قولاً و عملاً قائل ہیں، ان دونوں کے نام نہایت احترام اور عظمت سے لیے جاتے ہیں ، اپنے زمانے کے بے مثل و نظیر جوان اور سب کے نزدیک قابل احترام۔ اگر اُنہی ایام میں کوئی یہ کہتا کہ یہی جوان (کہ جس کی آج تم اتنی تعظیم کررہے ہو) کل اِسی امت کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا تو شاید کوئی یقین نہ کرتا۔
امام حسین کا دورانِ غربت
سید الشہدا کی حیات کا تیسرا دور، امیر المومنین کی شہادت کے بعد کا دور ہے، یعنی اہل بیت کی غربت و تنہائی کا دور۔ امیر المومنین کی شہادت کے بعد امام حسن اور امام حسین مدینے تشریف لے آئے۔حضرت علی کی شہادت کے بعد امام حسین بیس سال تک تمام مسلمانوں کے معنوی امام(۱) رہے اور آپ تمام مسلمانوں م یں ایک بزرگ مفتی کی حیثیت سے سب کیلئے قابل احترام تھے۔ آپ عالم اسلام میں داخل ہو نے والوںکی توجہ کا مرکز، اُن کی تعلیم وتر بیت کا محور اوراہل بیت سے اظہا رعقیدت و محبت رکھنے والے افراد کے توسل و تمسک کے نقطہ ارتکاز کی حیثیت سے مدینے میں زندگی بسر کرتے رہے ۔ آپ ، محبوب، بزرگ، شریف، نجیب اور عالم وآگاہ شخصیت کے مالک تھے۔
آپ نے معاویہ کو خط لکھا، امام حسین اگر کسی بھی حاکم کو تنبیہ کی غرض سے خط تحریر فرماتے تو عالم اسلام کے نزدیک اُس کی سزا موت تھی، معاویہ پو رے احترام کے ساتھ یہ خط وصول کرتاہے، اُسے پڑھتا ہے ، تحمل کرتا ہے اور کچھ نہیں کہتا۔ اگر اُسی زمانے میں کوئی یہ کہتا کہ آئندہ چند سالوں میں یہ محترم ، شریف اور نجیب و عزیز شخصیت کو کہ جو تمام مسلمانوں کی نگاہوں میں اسلام وقرآن کی جیتی جاگتی تصویر ہے، اسلام و قرآن کے اِنہی ماننے والوں کے ہاتھوں قتل کردیا جائے گا اور وہ بھی اُس دردناک طریقے سے کہ جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا
تھا تو کوئی بھی اِس بات پر یقین نہیں کرتا۔ لیکن اپنی نوعیت کا عجیب و غریب ، حیرت انگیز اور یہی ناقابل یقین واقعہ رونما ہوا اور کن افراد کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوا؟ وہی لوگ جو اُس کی خدمت میں دوڑ دوڑ کر آتے تھے، سلام کرتے تھے اور اپنے خلوص کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اِن (متضاد) باتوں کا کیا مطلب ہے؟ اِ س کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اِن پچاس سالوں میں معنویت اور اسلام کی حقیقت سے بالکل خالی ہوگیاتھا، یہ معاشرہ صرف نام کا اسلامی تھا لیکن باطن بالکل خالی اور پوچ اور یہی خطرے کی سب سے بڑی بات ہے۔ نمازیں ہورہی ہیں، نماز باجماعت میں لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے، لوگوں نے اپنے اوپرمسلمانی کا لیبل لگایا ہوا ہے اور کچھ لوگ تو اہل بیت کے طرفدار اور حمایتی بھی بنے ہوئے ہیں !!
رسول اللہ ۰ کے اہل بیت تمام عالم اسلام میں قابل احترام ہیں
میں آپ کی خدمت میں عرض کروں کہ پورے عالم اسلام میں سب ہی اہل بیت کو قبول کرتے ہیں اور کسی کو اِس میں کسی بھی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے ۔ اہل بیت کی محبت تمام عالم اسلام کے دلوں میں موجود ہے اور آج بھی یہی صورتحال ہے۔ آج بھی آپ دنیائے اسلام کے کسی بھی حصے میں جائیے، آپ دیکھیں گے کہ سب اہل بیت سے محبت کرتے ہیں۔ وہ مسجد جو امام حسین سے منسوب ہے اور وہ مسجد جو قاہرہ میں حضرت زینب سے منسوب ہے ، ہمیشہ زوّاروں سے پُر رہتی ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں ، قبر کی زیارت کرتے ہیں اور توسل کرتے ہیں۔
ابھی دو تین سال قبل(۲) ا یک نئی کتاب مجھے دی گئی ؛ چونکہ قدیمی کتابوں میں یہ مطالب بہت زیادہ ہیں، یہ کتاب’’ اہل بیت کون ہیں‘‘؟کے عنوان سے لکھی گئی ہے۔ سعودی عرب کے ایک محقق نے تحقیق کرکے اِس کتاب میں ثابت کیا ہے کہ اہل بیت سے مراد علی ، فاطمہ ٭اور حسن و حسین ہیں۔ یہ حقیقت تو ہم شیعوں کی جان روح کا حصہ ہے لیکن ہمارے اِس سنی مسلمان بھائی نے اس حقیقت کو لکھا اور طبع کیا ہے۔ یہ کتاب میرے پاس موجود ہے اور اِس کے ہزاروں نسخے چھپ ہو کر فروخت ہوچکے ہیں۔(۳)
____________________
۱ معنوی امام اس لحاظ سے کہ امیر المومنین کی شہادت کے بعد امامت ، امام حسن کو منتقل ہوئی اور آپ کی شہادت کے بعد امامت ، امام حسین کو منتقل ہوئی۔ امام حسن کی امامت کا زمانہ یا امام حسین کی اپنی امامت کا دور، دونوں زمانوں میں امام حسین ۲۰ سال تک تمام مسلمانوں کے معنوی امام رہے ۔ (مترجم)
۲ تقریباً ۱۹۹۸ میں کیونکہ یہ تقریر سن ۲۰۰۰ کی ہے۔
۳ خطبہ نماز جمعہ، ۸/۰۵/۲۰۰۰
ہدف کے حصول میں امام حسین کا عزم وحوصلہ اور شجا عت
دشمن کے خلاف جنگ کی بہترین حکمت عملی
میرے دوستو! ایسا انسان اسوہ عمل قرار دیئے جانے کا حقدار ہے۔ یہ تمام باتیں اور یہ (انفرادی ، ثقافتی اور سیاسی میدان اور اِن میں آپ کی فعالیت) واقعہ کربلا سے قبل ہے۔ ان تینوں مراحل میں امام حسین نے ایک لمحے کیلئے توقف نہیں فرمایا اور ہر آن و ہر لمحے اپنے ہدف کی جانب بڑھتے رہے۔ لہٰذا ہمیں بھی کسی بھی لمحے کو ضایع نہیں کرنا چاہیے ممکن ہے وہی ایک لمحے کا توقف و آرام دشمن کے تسلط کا باعث بن جائے۔ دشمن ہماری کمزوریوں اور فصیل کے غیر محفوظ حصوںکی تلاش میں ہے تاکہ اندر نفوذ کرسکے اور وہ اِس بات کا منتظر ہے کہ ہم رُکیں اور وہ حملہ کرے۔ دشمن کے حملے کو روکنے اور اُسے غافل گیر کرنے کا سب سے بہترین راستہ آپ کا حملہ ہے اور آپ کی اپنے مقصد کی طرف پیشقدمی اور پیشرفت دراصل دشمن پر کاری ضرب ہے۔
بعض افرا یہ خیال کرتے ہیں کہ دشمن پر حملے کا مطلب یہ ہے کہ انسان صرف توپ اور بندوق وغیرہ کو ہی دشمن کے خلاف استعمال کرے یا سیاسی میدان میں فریاد بلند کرے، البتہ یہ تمام امور اپنے اپنے مقام پر صحیح اور لازمی ہیں ؛جی بالکل لازمی ہے کہ انسان سیاسی میدان میں اپنی آواز دوسروں تک پہنچائے۔ بعض افراد یہ خیال نہ کریں کہ ہم ثقافت کی بات کرتے ہیں تو اِس کا مطلب دشمن کے خلاف فریاد بلند کرنا ہے تاکہ وہ اپنے ثقافتی حملوں کو روک دے،نہیں؛ البتہ یہ کام اپنی جگہ درست اور لازمی ہے لیکن راہ حل صرف یہ ایک عمل نہیں ہے۔
انسان کا اپنے لیے ، اپنی اولاد، ماتحت افراد اور امت مسلمہ کیلئے تعمیر نو کے حوالے سے کام کرنا دراصل عظیم ترین کاموں سے تعلق رکھتا ہے ۔ دشمن مسلسل کوششیں کررہا ہے تاکہ کسی طرح بھی ہو سکے ہم میں نفوذ کرے؛ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ دشمن ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے! ہمارا دشمن اپنی تمام تر ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ہمارے مقابلے پر ہے اور پورے مغربی استکبار اور اپنی منحرف شدہ جاہلانہ اور طاغوتی ثقافت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہ دشمن کئی صدیوں قبل وجود میں آچکا ہے اور اِس نے پوری دنیا کے اقتصادی، ثقافتی ، انسانی اور سیاسی وسائل پر اپنے ہاتھ پیر جمالیے ہیں۔ لیکن اب اِسے ایک اہم ترین مانع_سچے اور خالص اسلام _کا سامنا ہے۔ یہ اسلام کھوکھلا اور ظاہری و خشک اسلام نہیں ہے کہ جس نے دشمن کا راستہ روکا ہے؛ ہاں ایک ظاہری اور کھوکھلا اسلام بھی موجود ہے کہ جس کے پیروکاروں کا نام صرف مسلمان ہے۔ یہ عالم استکبار اِن نام نہاد مسلمانوں کے ساتھ ہم نوالہ و ہم پیالہ ہے ،یہ مل کر آپس میں گپ لگاتے ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ انہیں ایسے مسلمانوں اور اسلام سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
خالص اسلام کی نشانی
دشمن کی آنکھ کا کانٹا اور اُس کی راہ کی رکاوٹ دراصل وہ سچا اور خالص اسلام ہے کہ جسے قرآن روشناس کرتا ہے اور وہ ’’لَن يَجعَلَ اللّٰهُ لِلکَافِرِینَ عَلَی المُومنِینَ سَبِیلاً ‘‘ ،’’اللہ نے اہل ایمان پر کافروں کی برتری و فضیلت کی کوئی راہ قرار نہیں دی ہے‘‘ اور ’’اَن الحُکمُ اِلَّا لِلّٰهِ ‘‘ ،’’حکم صرف خدا ہی کا ہے‘‘ ،کا اسلام ہے۔ اگر آپ کسی دائرے کوتھوڑا سا کم کریں تو آپ دائرے کے مرکز سے نزدیک ہوجائیں گے، یعنی یہ واقعی اور خالص اسلام ’’اِنَّ اللّٰهَ اشتری مِنَ المُومِنِيْنَ اَنفُسَهُم و اَموالَهُم باَنَّ لَهُمُ الجَنَّةُ ‘‘ ،’’اللہ نے مومنین میں سے کچھ کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے اور اُن کیلئے جنت قرار دی ہے‘‘ ،کا اسلام ہے۔ یہ آپ لوگوںکا اسلام ہے کہ جن کے جسموں میں ابھی تک دشمن کی گولیاں موجود ہیں اورجو سرتاپا جہاد فی سبیل اللہ اور راہ خدا میں جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہیں، خواہ وہ جنگ میں زخمی و معلول ہونے والے افراد ہوں یا شہدائ کے گھر والے ہوں یا پھر وہ لوگ جو درجہ شہادت پر فائز ہوئے یا الحمد للہ غازی بن کر میدان جنگ سے لوٹے؛ دشمن کی راہ کی اصلی رکاوٹ یہ لوگ ہیں۔
دشمن سے ہر صورت میں مقابلہ
ہمارا دشمن اِس رکاوٹ سے ہرگز غافل نہیں ہے اُس کی مسلسل کوشش ہے کہ اِ س رکاوٹ کو اپنی راہ سے ہٹادے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی بہترین حکمت عملی اور زیرکی سے دشمن کا مقابلہ کریں۔ مسلسل حرکت اور جدوجہد ہر صورت میں لازمی ہے،خودسازی اور تعمیر ذات کے میدان میں بھی کہ یہ تمام امور پر مقدم ہے، بالکل میرے اور آپ کے سرور و آقا حسین کی مانند اورسیاسی میدان میںبھی مسلسل حرکت کا جاری رہنا بہت ضروری ہے کہ جو امر بالمروف اور نہی عن المنکر اور سیاسی میدان میں ہماری مسلسل جدّوجہد اور ثابت قدمی سے عبارت ہے۔ دنیائے استکبار کے مقابلے میں جہاں لازم ہو وہاں اپنے سیاسی موقف کو بیان کرنا اور اُس کی وضاحت کرنا چاہیے۔ اِسی طرح یہ مسلسل حرکت اور جدوجہد ثقافتی میدان میں بھی ضروری ہے یعنی انسان سازی، خودسازی، فکری تعمیر اور صحیح و سالم فکر و ثقافت کی ترویج؛ اُن تمام افراد کا وظیفہ ہے کہ جو امام حسین کو اپنے لئے اسوہ عمل قرار دیتے ہیں۔ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہماری قوم امام حسین کی بہت دلدادہ اور عاشق ہے اور امام حسین ہمارے نزدیک ایک عظیم المرتبت شخصیت کے مالک ہیں حتی غیر مسلم افرادکے نزدیک بھی ایسا ہی ہے۔
ظلمت و ظلم کے پورے جہان سے امام حسین کا مقابلہ
اب ہم واقعہ کربلا کی طرف رُخ کرتے ہیں ۔ واقعہ کربلا ایک جہت سے بہت اہم واقعہ ہے اورخود یہ مسئلہ اُن افراد کیلئے درس ہے کہ جو امام حسین کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔
میرے دوستو ! توجہ کیجئے کہ واقعہ کربلا آدھے دن یا اِس سے تھوڑی سی زیادہ مدت پر محیط ہے اور اُس میں بہتر (۷۲ ) کے قر یب افراد شہید ہوئے ہیں ۔ دنیا میں اور بھی سینکڑوں شہدائ ہیں لیکن واقعہ کربلا نے اپنی مختصر مدت اور شہدائ کی ایک مختصر سی جماعت کے ساتھ اتنی عظمت حاصل کی ہے اور حق بھی یہی ہے ؛ بلکہ یہ واقعہ اِ س سے بھی زیادہ عظیم ہے کیونکہ اِس واقعہ نے وجود بشر کی گہرائیوں میں نفوذ کیا ہے اور یہ سب صرف اور صرف اِس واقعہ کی روح کی وجہ سے ہے۔ یہ واقعہ اپنی کمیت و جسامت کے لحاظ سے بہت زیادہ پُر حجم نہیں ہے، دنیا میں بہت سے چھوٹے بچے قتل کیے گئے ہیں جبکہ کربلا میں صرف ایک شش ماہ کا بچہ قتل کیا گیا ہے، دشمنوں نے بہت سی جگہ قتل عام کا بازار گرم کیا ہے اور سینکڑوں بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے (جبکہ کربلا میں صرف ایک ہی بچہ قتل ہوا ہے اور یہ دوسرے بچوں کے قتل کی تعداد کے مقابلے میں ایک فیصد یا اس سے بھی کم ہے)؛ واقعہ کربلا اپنی کمیت کے لحاظ سے قابل توجہ نہیں بلکہ روح اور معنی کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔
روح کربلا
واقعہ کربلا کی روح و حقیقت یہ ہے کہ امام حسین اِ س واقعہ میں ایک لشکر یا انسانوں کی ایک گروہ کے مد مقابل نہیں تھے، ہرچند کہ وہ تعداد میںامام حسین کے چند سو برابر تھے،بلکہ آپ انحراف و ظلمات کی ایک دنیا کے مد مقابل کھڑے تھے اور اِ س واقعہ کی یہی بات قابل اہمیت ہے ۔ سالار شہیدان اُس وقت کج روی، ظلمت اور ظلم کی ایک پوری دنیا کے مقابلے میں کھڑے تھے اور یہ پوری دنیا تمام مادی اسباب و سائل کی مالک تھی یعنی مال و دولت، طاقت ، شعر، کتاب، جھوٹے راوی اور درباری ملا، سب ہی اُس کے ساتھ تھے اور جہان ظلم و ظلمت اور انحراف کی یہی چیزیں دوسروں کی وحشت کا سبب بنی ہوئی تھیں۔ایک معمولی انسان یا اُس سے ذرا بڑھ کر ایک اور انسان کا بدن اُس دنیا ئے ظلمت و ظلم کی ظاہری حشمت ، شان وشوکت اور رعب و دبدبہ کو دیکھ کر لرز اٹھتا تھا لیکن یہ سرور شہیداں تھے کہ آپ کے قدم و قلب اُس جہان شر کے مقابلے میں ہرگز نہیں لرزے ، آپ میں کسی بھی قسم کا ضعف و کمزوری نہیں آئی اور نہ ہی آپ نے (اپنی راہ کے حق اور مدمقابل گروہ کے باطل ہونے میں) کسی قسم کا شک وتردید کیا، (جب آپ نے انحرافات اور ظلم و زیادتی کا مشاہدہ کیا تو) آپ فوراً میدان میں اتر آئے۔ اس واقعہ کی عظمت کاپہلو یہی ہے کہ اس میں خالصتاً خدا ہی کیلئے قیام کیا گیا تھا۔
’’حُسَین مِنِّی وَاَنَا مِنَ الحُسَینِ ‘‘کا معنی
کربلا میں امام حسین کا کام بعثت میں آپ کے جد مطہر حضرت ختمی مرتبت ۰ کے کاموں سے قابل تشبیہ و قابل موازنہ ہے، یہ ہے حقیقت۔ جس طرح پیغمبر اکرم ۰ نے تن تنہا پوری ایک دنیا سے مقابلہ کیا تھا امام حسین بھی واقعہ کربلا میں جہانِ با طل کے مدمقابل تھے؛ حضرت رسول اکرم ۰ بھی ہرگز نہیں گھبرائے ، راہ حق میں ثابت قدم رہے اور منزل کی جانب پیشقدمی کرتے رہے، اسی طرح سید الشہدا بھی نہیں گھبرائے، ثابت قدم رہے اور آپ نے دشمن کے مقابل آکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ تحریک نبوی ۰ اور تحریک حسینی کا محور و مرکز ایک ہی ہے اور دونوں ایک ہی جہت کی طرف گامزن تھے۔ یہ وہ مقام ہے کہجهاں’’حُسَین مِنِّی وَاَنَا مِنَ الحُسَینِ ‘‘ کا معنی سمجھ میں آتا ہے ۔ یہ ہے امام حسین کے کام کی عظمت۔
قیام امام حسین کی عظمت!
امام حسین نے شب عاشور اپنے اصحاب و انصار سے فرمایا تھا کہ’’ آپ سب چلے جائیے اور یہاں کوئی نہ رہے ، میں اپنی بیعت تم سب پر سے اٹھالیتا ہوں اور میرے اہل بیت کو بھی اپنی ساتھ لے جاو، کیونکہ یہ میرے خون کے پیاسے ہیں‘‘۔ امام حسین کے یہ جملے کوئی مزاح نہیں تھے؛ فرض کیجئے کہ اگر اُن کے اصحاب قبول بھی کرلیتے اور امام حسین یکتا و تنہا یا دس افراد کے ساتھ میدان میں رہ جاتے تو آپ کے خیال میں کیا سید الشہدا کے کام کی عظمت کم ہوجاتی ؟ ہرگز نہیں ! وہ اُس وقت بھی اسی عظمت و اہمیت کے حامل ہوتے ۔ اگر اِن بہتر (۷۲ ) افراد ک ی جگہ بہتر ہزار افراد امام حسین کا ساتھ دیتے تو کیا اِن کے کام ا ور اُس تحریک کی عظمت کم ہوجاتی؟
امام حسین کی عظمت و شجاعت
امام حسین کے کام کی عظمت یہ تھی کہ آپ نے ظالم و جابر، خلافت رسول ۰ کے مدعی اور انحراف کے
پورے ایک جہان کے دباو کو قبول نہیں کیا۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں معمولی نوعیت کے انسان اپنے مد مقابل طاقت کے ظاہری روپ اور ظلم کو دیکھ کر شک و تردید کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ بارہا عرض کیا ہے کہ عبداللہ ابن عباس جو ایک بزرگ شخصیت ہیں اور اسی طرح خاندان قریش کے افراد اِس تمام صورتحال پر ناراض تھے۔ عبداللہ ابن زبیر ۱ ، عبدا للہ ابن عمر ۱ ، عبدالرحمان ابن ابی بکر ۱ ، بڑے بڑے اصحاب کے فرزند اور خود بعض اصحاب کی بھی یہی حالت تھی۔ مدینے میں صحابہ کرام کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی اور سب باغیرت تھے، ایسا نہیں ہے کہ آپ یہ خیال کریں کہ اُن میں غیرت نہیں تھی؛ یہ وہی اصحاب ہیں کہ جنہوں نے واقعہ کربلا کے بعد مدینہ میں رونما ہونے والے واقعہ حرّہ میں مسلم ابن عقبہ کے قتل عام کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور جنگ کی ۔ یہ خیال نہ کیجئے کہ یہ لوگ ڈر و خوف کا شکار ہوگئے، ہرگز نہیں بلکہ وہ بہترین شمشیر زن و شجاع تھے۔
لیکن میدان جنگ میں قدم رکھنے کیلئے شجاعت بذاتِ خود ایک موضوع ہے جبکہ ایک پورے جہان سے مقابلے کیلئے شجاعت کا حامل ہونا ایک الگ مسئلہ ہے۔ امام حسین اِس دوسری شجاعت کے مالک تھے؛ یہی وجہ ہے کہ ہم نے بارہا تاکید کی ہے کہ امام خمینی ۲ کی تحریک دراصل امام حسین کی تحریک کی مانند تھی اور اُن کی تحریک دراصل ہمارے زمانے میں امام حسین کی تحریک کی ایک جھلک تھی اگر بعض لوگ یہ کہیں کہ امام حسین توصحرائے کربلا میں تشنہ شہید ہوئے جبکہ امام خمینی ۲ نے عزت و سربلندی کے ساتھ حکومت کی، زندگی بسر کی اور جب آپ کا انتقال ہوا تو آپ کی بے مثال تشییع جنازہ ہوئی! لیکن ہماری مراد یہ پہلو نہیں ہے؛ اِس واقعہ کربلا کی عظمت کا پہلو یہ ہے کہ امام حسین ایک ایسی طاقت و قدرت کے مد مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے کہ جو تمام مادی اسباب و وسائل کی مالک تھی۔ قبلاً آپ کی خدمت میں عرض کیا ہے کہ امام حسین کے دشمن کے پاس مال و دولت تھی ، وہ قدرت و طاقت کا مالک تھا، اسلحہ سے لیس سپاہی اس کی فوج میں شامل تھے اور ثقافتی و معاشرتی میدانوں کو فتح کرنے والے مبلغ و مروج اورمخلص افراد کا لشکر بھی اُس کے ساتھ تھا۔ کربلا قیامت تک پوری دنیا پر محیط ہے ، کربلا صرف میدان کربلا کے چند سو میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی جگہ کا نام نہیں ہے۔ آج کی دنیائے استکبار و ظلم اسلامی جمہوریہ کے سامنے کھڑی ہے۔
امام حسین کا ہدف، اسلامی نظام اور اسلامی معاشرے کی تعمیر نو
آج میں نے نیت کی ہے روز عاشورا کے حوالے سے امام حسین کی تحریک کے بارے میں گفتگو کروں؛ امام حسین کی تحریک بہت ہی عجیب و غریب تحریک ہے۔ ہم سب کی زندگی سید الشہدا کی یادو ذکر سے لبریز و معطر ہے اور ہم اِس پر خدا کے شاکر ہیں ۔ اِس عظیم شخصیت کی تحریک کے متعلق بہت زیادہ باتیں کی گئی ہیں لیکن اِس کے باوجود انسان اِس بارے میں جتنا بھی غور وفکر کرتا ہے تو فکر و بحث اور تحقیق ومطالعہ کا میدان اتنا ہی وسعت پیدا کرتا جاتا ہے۔ اِس بے مثل و نظیر اورعظیم واقعہ کے متعلق بہت زیادہ گفتگو کی گئی ہے کہ جس کے بارے میں غوروفکرکرنا اور اُسے ایک دوسرے کیلئے بیان کرنا چاہیے۔
چند ماہ کی تحریک اور سو سے زیادہ درس
اِس واقعہ پر توجہ کیجئے؛ حضرت سید الشہدا اُس دن سے لے کے جب آپ نے مدینے سے اپنا سفر شروع کیا اور مکے کی جانب قدم بڑھائے، کربلا میں جام شہادت نوش کرنے تک اِن چند ماہ (۲۸ رجب تا ۱۰ محرم) م یں شاید انسان سو سے زیادہ درس عبرت کو شمار کرسکتا ہے؛ میں ہزاروں درس عبرت کہنا نہیں چاہتا اِس لئے کہ ہزاروں درس عبرت حاصل کیے جاسکتے ہیں کیونکہ ممکن ہے امام حسین کا ہر ہر اشارہ ایک درس ہو۔
یہ جو ہم نے بیان کیا ہے کہ سو سے زیادہ درس تو اِس کا مطلب ہے کہ ہم امام عالی مقام کے اِن تمام کاموں کا نہایت سنجیدگی اور توجہ سے مطالعہ کریں۔ اِسی طرح تحریک کربلا سے سو عنوان و سو باب اخذ کیے جاسکتے ہیں کہ جن میں سے ہر ایک باب، ایک قوم، ایک پوری تاریخ، ایک ملک ، ذاتی تربیت، معاشرتی اصلاح اور قرب خدا کیلئے اپنی جگہ ایک مکمل درس کی حیثیت رکھتاہے۔
اِن سب کی وجہ یہ ہے کہ حسین ابن علی کی شخصیت؛ ہماری جانیں اُن کے نام و ذکر پر فدا ہوں، دنیا کے تمام مقدس اور پاکیزہ افراد کے درمیان خورشید کی مانند روشن و درخشاں ہے، آپ ؛انبیائ، اولیائ ،آئمہ ، شہدائ اور صالحین کو دیکھئے اگر یہ ماہ و ستارے ہیں تو یہ بزرگوار شخصیت خورشید کی مانند روشن و تابناک ہے؛ لیکن یہ سو درسِ عبرت ایک طرف اور امام حسین کا اصلی اور اہم ترین درس ایک طرف۔
اصلی درس : سید الشہدا نے قیام کیوں کیا؟
میں آج کوشش کروں گا کہ اِس واقعہ کے اصلی درس کو آپ کے سامنے بیان کروں۔ ا س واقعہ کے دوسرے پہلوجانبی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ اِس اصلی درس کو مرکزیت حاصل ہے کہ امام حسین نے قیام کیوں فرما یا تھا؟
امام حسین ؛آپ کی شخصیت مدینہ اور مکہ میں قابل احترام ہے اور یمن میں بھی آپ کے شیعہ اور محبین موجود ہیں لہٰذا کسی بھی شہر تشریف لے جائیے؛ یزید سے سروکار رکھنے کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے اور اس طرح یزید بھی آپ کو تنگ نہیں کرے گا! آپ کے چاہنے والے شیعوں کی اتنی بڑی تعداد موجود ہے، جائیے اُن کے درمیان عزت و احترام سے زندگی بسر کیجئے اور دل کھول کر اسلام کی تبلیغ کیجئے ! آپ نے یزید کے خلاف قیام کیوں کیا؟ اِس واقعہ کی حقیقت کیا ہے؟
یہ ہے اِس تحریک کربلا کا اصلی اور بنیادی سوال اور یہی اِس واقعہ کا اصلی درس ہے۔ ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ کسی اور نے اِن مطالب کو بیان نہیں کیا ہے؛کیوں نہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اِس سلسلے میں بہت محنت سے کام کیا گیا ہے اور اس بارے میں نظریات کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ لیکن ہم جو مطالب آپ کی خدمت میں عرض کررہے ہیں یہ ہماری نظر میں اِس واقعہ کا ایک بالکل نیا پہلو ہے جو تازگی کا حامل اور اچھوتا پہلو ہے۔
امام حسین کے قیام اورمقصد شہادت سے متعلق مختلف نظریات
الف:کیا امام حسین کا قیام تشکیل حکومت کیلئے تھا؟
بہت سے افراد یہ کہتے ہیں کہ امام حسین ، یزید کی فاسد حکومت کو ختم کرکے خود ایک حکومت تشکیل دینے کے خواہش مند تھے؛ یہ ہے اِن افراد کی نگاہوں میں سید الشہدا کے قیام کا مقصد۔ یہ بات تقریباً آدھی درست ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ یہ غلط ہے۔ اگر اس نظریے کا مقصد یہ ہے کہ امام حسین نے تشکیل حکومت کیلئے اس طرح قیام کیا کہ اگر وہ دیکھتے کہ انسان اپنے نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا تو وہ یہ کہتے کہ ہم حکومت تو نہیں بنا سکے لہٰذا اِس تحریک کو یہیں ختم کرکے واپس لوٹ جاتے ہیں ! یہ بات غلط ہے۔
جی ہاں جو بھی حکومت بنانے کی غرض سے قدم اٹھاتا اور اُس کے لیے تحریک چلاتا ہے تو وہاں تک کوشش کرتا ہے کہ جہاں تک یہ کام ممکن اور شدنی ہے لیکن جیسے ہی اُسے اُس کام کے نہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے یا وہ عقلی طورپر مقصد تک جانے والی راہوں کو مسدود پاتا ہے تو اُس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوٹ آئے۔ اگر تشکیل حکومت ہی انسان کا مقصد ہے تو وہاں تک کوشش کرنا صحیح ہے کہ جہاں تک پیش رفت کرنا ممکن ہو اور جہاں اقدام کرنے کا امکان ختم ہوجائے تو اُسے لوٹ جانا چاہیے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اپنے قیام سے سید الشہدا کا مقصد امیر المومنین کی مانند ایک حکومت حق کی تشکیل تھی یہ بات درست نہیں ہے، اِس لئے کہ امام حسین کی پوری تحریک اس نظریے کی تائید نہیں کرتی ۔
اِس کے مقابل کچھ افراد کا نظریہ ہے کہ نہیں جناب، حکومت بنانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا؛ حضرت جانتے تھے کہ وہ حکومت نہیں بناسکتے ہیں، وہ تو کربلا اس لیے آئے تھے کہ قتل ہوں اور درجہ شہادت پر فائز ہوں! ایک زمانے میں بہت زیادہ افراد اِس نظریے کے حامی اور طرفدارتھے اور بہت سے شعرائ اِس نظریے کو اپنی خوبصورت شاعری کے قالب میں ڈھال کر عوام کیلئے بیان کرتے تھے ۔ بعد میں مَیں نے دیکھا کہ بعض بڑے علمائ نے بھی اِسی بات کو بیان کیا؛ یعنی حضرت امام حسین نے صرف اس لیے قیام کیا تھا کہ وہ شہید ہوجائیں لیکن درحقیقت یہ کوئی نئی بات اور نیا نظریہ نہیں ہے۔ لہٰذا اِن افراد کے نظریے کے مطابق سالار شہیداں نے یہ کہا کہ’’ ہمارے زندہ رہنے سے تو کوئی کام نہیں ہوسکتا پس ہم اپنی شہادت سے کوئی کام انجام دیتے ہیں‘‘!
ب:کیا امام حسین نے شہادت کیلئے قیام فرمایاتھا؟
قرآن واہل بیت کی تعلیمات میں ان باتوں کی کوئی سند و اعتبار نہیں ہے کہ ’’جاو اور بغیر کسی وجہ کے شہید ہوجاؤ‘‘؛ اسلامی تعلیمات میں ایسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی!
ہم شریعت مقدس اور قرآن وروایات میں جس شہادت کا ذکر پاتے ہیں اُس کا معنی یہ ہے کہ انسان ایک واجب یا راجح (عقلی) مقدس ہدف کے حصول کی راہ میں جدوجہد کرے اور اُس راہ میں قتل کیا جائے؛ یہ ہے صحیح اسلامی شہادت۔ لیکن اگر انسان صرف اس لیے قدم اٹھائے کہ میں جاوں اور بغیر کسی وجہ کے قتل ہوجاوں یا شاعرانہ اور ادیبانہ تعبیر کے مطابق میرے خون کا سیلاب ظالم کو بہاکر لے جائے اور وہ نیست و نابود ہوجائے! یہ تمام چیزیں ، واقعہ کربلا کے عظیم واقعہ سے کسی بھی طرح میل نہیں کھاتیں۔ صحیح ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ امام حسین کی شہادت نے یہ کام انجام دیا لیکن سید الشہدا کا مقصد یہ نہیں تھا۔
المختصر یہ کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سید الشہدا نے تشکیل حکومت کیلئے قیام کیا تھا اور اُن کا مقصد حکومت بنانا تھا اور نہ ہی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سید الشہدا نے شہید ہونے کیلئے قیام کیا تھا بلکہ آپ کا ہدف کوئی اور چیز تھی کہ جسے آپ کی خدمت میں بیان کرنا چا ہتا ہوں۔
حکومت و شہادت دونتیجے تھے نہ کہ ہدف!
میں تحقیق و مطالعہ سے اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ لوگ جو اس بات کے معتقد ہیں کہ امام حسین کا ہدف حکومت یا شہادت تھا، اُنہوں نے ہدف اور نتیجے کو آپس میں ملا دیا ہے، اِن میں سے کوئی ایک بھی سید الشہدا کا ہدف نہیں تھا بلکہ ایک دوسری ہی چیز سید الشہدا کا ہدف تھی۔ پس فرق یہ ہے کہ اُس ہدف کے حصول کیلئے ایک ایسی تحریک و جدوجہد کی ضرورت تھی کہ جس کا اِن دو میں سے ایک نتیجہ نکلنا تھا، یا حکومت ملتی یا شہادت۔ البتہ یہ بات ضروری ہے کہ سید الشہدا دونوں نتیجوں کیلئے پہلے سے آمادہ اور تیار تھے؛ اُنہوں نے حکومت کی تشکیل اور شہادت کیلئے مقدمات کو تیار کرلیا تھا اور دونوں کیلئے پہلے سے خود کو آمادہ کیا ہوا تھا؛ دونوں میں سے جو بھی نتیجہ سامنے آتا وہ اُن کی منصوبہ بندی کے مطابق صحیح ہوتا لیکن حکومت و شہادت میں سے کوئی ایک بھی اُن کا ہدف نہیں تھا بلکہ ایک تیسری ہی چیز اُن کا ہدف تھی۔
ہدف، ایسے عظیم واجب کو انجام دینا تھا کہ جس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا تھا!
سید الشہدا کا ہدف کیا تھا؟ پہلے اس ہدف کو مختصراً ایک جملے میں ذکر کروں گا اور اِس کے بعد اِس کی مختصر سی وضاحت کروں گا۔
اگر ہم امام حسین کے ہدف کو بیان کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اِس طرح کہنا چاہیے کہ اُن کا ہدف واجبات دین میں سے ایک عظیم ترین واجب کو انجام دینے سے عبارت تھا کہ جس کو سید الشہدا سے قبل کسی ایک نے ، حتی خود پیغمبر اکرم ۰ ، امیر المومنین اور امام حسن مجتبی نے بھی انجام نہیں دیا تھا۔
وہ ایسا واجب تھا کہ جو اسلام کے عملی اور فکری نظام میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے؛ یہ واجب بہت زیادہ قابل اہمیت اوربنیادی حیثیت کا حامل تھا لیکن اِس کے باوجود اُس پر عمل نہیں ہوا تھا ۔ میں آگے چل کر یہ عرض کروں گا کہ اِس واجب پر ابھی تک عمل کیوں نہیں ہوا تھا، امام حسین کو اِ س واجب پر عمل کرنا چاہیے تھا تاکہ تاریخ میں سب کیلئے ایک درس رہ جائے۔ جس طرح پیغمبر اکرم ۰ نے حکومت تشکیل دی تو آپ کا حکومت کو تشکیل دینا پوری تاریخ اسلام میں سب کیلئے درس بن گیا۔ رسول اللہ ۰ نے فقط احکام جاری نہیں کیے تھے بلکہ پوری ایک حکومت بنائی تھی یا حضرت ختمی مرتبت ۰ نے جہاد فی سبیل اللہ انجام دیا تو یہ تا ابد تاریخ بشریت اور تاریخ اسلام کیلئے ایک درس بن گیا۔ اِسی طرح اِس واجب کو بھی امام حسین کے وسیلے سے انجام پانا چاہیے تھا تاکہ پوری تاریخ کے مسلمانوں کیلئے ایک عملی درس بن سکے۔
امام حسین کے زمانے میں اِس واجب کو انجام دینے کی راہ ہموار ہوئی!
اب سوال یہ ہے کہ امام حسین ہی کیوں اِ س واجب پر عمل کریں؟چونکہ اِس واجب کو انجام دینے کی راہ امام حسین کے دور میں ہی ہموار ہوئی۔ اگر یہ حالات امام حسین کے زمانے میں پیش نہیں آتے مثلاً امام علی نقی کے زمانے میں یہ حالات پیش آتے تو امام علی نقی اِس کام کو انجام دیتے اورتاریخ اسلام میں عظیم ترین حادثے اور ذبح عظیم کا محور قرار پاتے؛ اگر یہ حالات امام حسن مجتبی یا امام جعفر صادق کے زمانے میں پیش آتے تو یہ دونوں ہستیاں اِسی طرح عمل کرتیں،چونکہ امام حسین سے قبل کسی اور معصوم کے زمانے میں یہ حالات پیش نہیں آئے تھے لہٰذا کسی معصوم نے اُس پر عمل نہیں کیا تھا اور اسی طرح امام حسین کے بعد بھی زمانہ غیبت تک تمام آئمہ طاہرین کے دور میں بھی یہ حالات پیش نہیں آئے۔
پس سید الشہدا کا ہدف اِ س عظیم ترین واجب کو انجام دینے سے عبارت ہے، اب میں اِس کی وضاحت کرتا ہوں کہ یہ واجب کیا ہے ؟ اُس وقت اِس واجب کی ادائیگی خود بخود اِن دو نتیجوں میں سے کسی ایک تک پہنچتی؛ یا اُس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ امام حسین کو قدرت و حکومت حاصل ہوجاتی،سبحان اللہ؛ بہت خوب، اور امام حسین اس کیلئے پہلے سے تیار تھے۔ اگر حکومت کی زمام سید الشہدا کے ہاتھ میں آجاتی تو آپ پوری طاقت و قدرت کے ساتھ اُسے اپنے ہاتھ میں لے لیتے اور اپنے معاشرے کو رسول اکرم ۰ و امیر المومنین کے زمانے کی مانند چلاتے ؛ ایک وقت اس واجب پر عمل پیر اہونے کا نتیجہ شہادت کی شکل میں نکلتا تو بھی امام حسین شہادت اور اس کے بعد کے حالات و واقعات کیلئے پہلے سے تیار تھے۔
خداوند عالم نے امام حسین سمیت دیگر آئمہ معصومین کو اِس طرح خلق فرمایا تھا کہ اِس امر عظیم کیلئے پیش آنے والی اُس خاص قسم کی شہادت کے بار سنگین کو اٹھا سکیں اور اِن ہستیوں نے اِن تمام مصائب و مشکلات کوبرداشت بھی کیا۔ البتہ کربلا میں مصائب کا پہلو اِس واقعہ کا ایک دوسرا عظیم رخ ہے۔
پیغمبر اکرم ۰ اسلامی احکامات کا مجموعہ لے کر آئے
اب میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کو تھوڑی وضاحت کے ساتھ بیان کروں۔
میرے محترم بہن بھائیو! پیغمبر اکرم ۰ یا کوئی رسول جب بھی خدا کی طرف سے آتا ہے تو اسلامی احکامات کا ایک مجموعہ لیکر آتا ہے۔ اِن میں سے بعض احکامات انفرادی ہوتے ہیں تاکہ انسان اپنی اصلاح کرے اور بعض اجتماعی ہوتے ہیں تاکہ دنیائے بشر کو آباد کرے، انسانوں کی صحیح سمت میں راہنمائی کرے اور انسانی معاشرے کو ایک صحیح نظام کے ذریعے قائم رکھے۔ یہ انفرادی و اجتماعی احکامات ایک مجموعے کی شکل میں ہوتے ہیں کہ جنہیں’’ اسلامی نظام ‘‘کہا جاتا ہے۔
قرآن؛ رسول اکرم ۰ کے قلب مقدس پر نازل ہوا اور حضرت ختمی مرتبت ۰ نماز ، روزہ، زکات، انفاق، حج، گھریلو زندگی کے احکامات، انفرادی رابطے و تعلقات ، جہاد فی سبیل اللہ ، تشکیل حکومت، اسلامی معیشت، حاکم اور عوام کا رابطہ اور حکومت کی نسبت عوام کے وظائف کے احکامات لے کر آئے اِن تمام احکامات کو ایک مجموعے کی شکل میں بشریت کے سامنے پیش کیا اور سب کے سامنے بیان فرمایا۔
’’مَا مِن شَی ئٍ يُقَرِّبُکُم مِنَ الجَنَّةِ وَ يُبَاعِدُکُم مِنَ النَّارِ اِلَّا وَقَد نَهَیتُکُم عَنهُ وَ اَمَر تُکُم بِهِ ‘‘(۱) ؛’’کوئ ی ایسی چیز نہیں جو تمہیں جنت سے قریب کرے اور جہنم سے دور کرے مگر یہ کہ میں نے تمہیں اُس کا حکم نہ دیا ہو اور اُس سے منع نہ کیا ہو‘‘ ۔ حضرت ختمی مرتبت ۰ نے اُن تمام چیزوں کو بیان کیا کہ جو انسان اور ایک انسانی معاشرے کو سعادت و خوش بختی تک پہنچا سکتی ہیں؛ نہ صرف یہ کہ بیان کیا بلکہ اُن پر عمل بھی کیا اور اُنہیں نافذ بھی کیا۔
اب جب پیغمبر اکرم ۰ کی حیات مبارکہ میں اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ تشکیل
پاگیا ،اسلامی اقتصادیات کو متعارف و نافذ کردیا گیا، اسلامی جہاد نے اپنی جڑیں مضبوط کرکے اسلامی حکومت کو دوام بخشا اور زکات نے معاشرے پر سایہ کرلیا اور یوں روئے زمین پر ایک حقیقی اسلامی ملک اور اسلامی نظام حکومت نے جنم لیا۔ اب اِس اسلامی نظام کا مدیر اور رسول اکرم ۰ کے چلائے ہوئے کارواں کا رہبرو ہادی وہ ہوگا جو اُن کی جگہ پر بیٹھے گا۔
پیغمبر اسلام ۰ کا بتایا ہوا راستہ
رسول اکرم ۰ کا بتایاہوا راستہ بہت واضح اور روشن ہے لہٰذا اِس معاشرے اور اِس سے تعلق رکھنے والے ہر ہر فرد کو چاہیے کہ اِسی راستے پر قدم اٹھائے ، اِسی راستے پر آگے بڑھے اور اِسی راستے سے اپنے ہدف و مقصد تک پہنچے۔ اگر اسلامی معاشرے کی حرکت اِسی راستے پر اور اسی سمت و سو میں ہو تو اُس وقت اُس معاشرے سے تعلق رکھنے والے تمام انسان اپنے کمال تک پہنچ جائیں گے؛وہ نیک اور فرشتہ صفت انسان بن جائیں گے ،
معاشرے سے ظلم و ستم کا خاتمہ ہوجائے گا ، معاشرے کو برائیوں ، فساد ، اختلافات ، فقر وافلاس اورجہالت کے
منحوس وجود سے نجات مل جائے گی، انسان اپنی کامل خوش بختی کو پالے گا اور خدا کامقرب بندہ بن جائے گا۔
رسول اکرم ۰ کے ذریعہ اسلام ایک ضابطہ حیات کی حیثیت سے لایا گیا اور اس زمانے کے معاشرے میں نافذ ہوا لیکن کہاں؟ ایک شہر میں کہ جسے مدینہ کہا جاتا ہے، اُس کے بعد مکہ اور دیگر چند شہروں میں اِس اسلامی نظام نے وسعت پائی۔
انحراف کی اقسام
یہاں ایک سوال ذہن میں اُبھرتا ہے کہ یہ کارواں جسے پیغمبر اکرم ۰ نے اُس کے معین شدہ راستے پرگامزن کیا تھا،اگر کسی حادثے کا شکار ہوجائے اور کوئی اُس کارواں کو اُس کے معین شدہ راستے سے ہٹا دے تو یہاں وظیفہ کیا ہے؟ اگر اسلامی معاشرہ انحراف کا شکار ہوجائے اور یہ بگاڑ اور انحراف اِ س حد تک آگے بڑھ جائے کہ پورے اسلام اور اسلامی تعلیمات کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو یہاں مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے؟
انحراف کی دو قسمیں ہیں؛ ایک انحراف وہ ہے کہ جس میں لوگ خراب ہوجاتے ہیں، اکثر اوقات ایسا ہی ہوتا ہے لیکن لوگوں کے منحرف ہونے اور بگڑنے سے اسلامی احکامات ختم نہیں ہوتے ۔ دوسری قسم کا انحراف یہ ہے کہ جب لوگ خرابی کا شکار ہوتے ہیں تو حکومتیں بھی خراب ہوجاتی ہیں اور علمائ اور خطبائ ومقررین بھی انحراف کا شکار ہوجاتے ہیں! ایسے منحرف شدہ افراد سے صحیح دین کی توقع نہیں رکھی جاسکتی کیونکہ انحراف کا شکار افراد قرآن اور دینی حقائق میں تحریف کرتے ہیں، اچھے کو برا، برے کو اچھا، منکر کو معروف اور معروف کو منکر بناکر پیش کرتے ہیں! اسلام کے بتائے ہوئے راستے کو ۱۸۰ ڈگر ی تبدیل کر دیتے ہیں! اگر اسلامی معاشرہ اور اسلامی نظام اِس مشکل سے دوچار ہوجائے تو یہاں ذمہ داری کیا ہے؟
شرعی ذمہ داری اوراُس کا حکم موجود تھا مگر عمل کیلئے حالات پیش نہیں آئے تھے
پیغمبر اکرم ۰ نے اس سلسلے میں ذمہ داری اور وظیفے کو بیان کردیا ہے اور قرآن نے بھی یہ فرمایا ہے کہ’’مَن يَرتَدَّ مِنکُم عَن دِینِهِ فَسَوفَ يَآتِيَ اللّٰهُ بقَومٍ يُحِبُّهُم و يُحِبُّونَه ‘ ‘‘(۲) ،’’تم م یں سے جو بھی اپنے
دین سے مرتد ہوجائے تو اللہ ایسی قوم لیکر آئے گا کہ اُس سے محبت کرے گا اور وہ قوم بھی اللہ سے محبت کرے
گی‘‘۔ اِ س بارے میں آیات و روایات بہت زیادہ ہیں لیکن میں اِسے امام حسین کے قول کی روشنی میں بیان کرناچاہتا ہوں۔
امام حسین نے پیغمبر اکرم ۰ کی اِس قول کو لوگوں کے سامنے بیان کیا کہ یہ پیغمبر ۰ نے فرمایا ہے تو کیا خود پیغمبر اکرم ۰ نے بھی اِس حکم الٰہی پر عمل کیا تھا؟ نہیں کیا تھا؛کیونکہ یہ حکم الٰہی اُس وقت قابل عمل ہے کہ جب معاشرہ منحرف ہوچکا ہو، اگرمعاشرہ انحراف کا شکار ہوجائے تو اُس کا علاج کرنا چاہیے اور اُس بارے میں خداوند عالم نے ایک خاص حکم جاری کیا ہے۔ ایسے معاشروں کیلئے کہ جہاں معاشرتی انحراف و بگاڑ اِس حد تک آگے بڑھ جائے کہ یہ اصل اسلام اور اُس کی تعلیمات سے انحراف کا سبب بنے تو اِس مقام پر خداوند عالم نے ایک حکم نازل کیا ہے ؛ خداوند عالم نے انسان کو کسی بھی مسئلے میں بغیر حکم کے نہیں چھوڑا ہے۔
حضرت ختمی مرتبت ۰ نے خود اِس حکم خدا کو بیان فرمایا ہے یعنی قرآن و حدیث نے اِس حکم کو بیان کیا ہے لیکن پیغمبر ۰ خود اِس حکم پر عمل درآمد نہیں کرسکے!آخر کیا وجوہات تھیں کہ پیغمبر ۰ نے خود جس حکم کوبیان فرمایا خود اُس پر عمل نہیں کرسکے ؟ وجہ یہ ہے کہ اس حکم الٰہی پر اُس وقت عمل کیا جاتا ہے کہ جب معاشرہ منحرف ہو جائے۔ رسول اکرم ۰ کے عہد رسالت اورامیر المومنین کے عہد ولایت و امامت میں مسلمان معاشرہ اتنا نہیں بگڑا تھا کہ اِس حکم پر عمل کرنے کی نوبت آئے۔ اِسی طرح امام حسن کے دورمیں بھی کہ جب ظاہری حکومت، معاویہ کے ہاتھ میں تھی اور اِس اجتماعی انحراف کی بہت سے نشانیاں ظہور پذیر ہوگئی تھیں لیکن اِس کے باوجود اِس مرحلے تک نہیں پہنچی تھیں کہ جہاں پورے اسلام کی نابودی کا خطرہ پیش آتا۔
یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک خاص زمانے میں ایسی کوئی صورتحال پیش آئی ہو لیکن اُس وقت اِس حکم الٰہی پر عمل کرنے کی فرصت نہ ملی ہو یا موقع مناسب نہ ہو۔ یہ حکم الٰہی جو اسلامی احکامات کا ایک جزئ ہے اور اِس کی اہمیت خود حکومت سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے؛ اِس لیے کہ حکومت کا مطلب ہے معاشرے کی مدیریت۔ اگر معاشرہ بتدریج اپنی راہ سے خارج ہوکر خرابی کا شکار ہوجائے اور حکم خدا تبدیل ہوجائے اور ہمارے پاس اِس خراب حالت کو بدلنے کیلئے کوئی حکم اور منصوبہ بندی موجود نہ ہو تو ایسی حکومت کا کیا فائدہ؟!
منحرف معاشرے کو اُس کی اصلی راہ پر پلٹانے کے حکم کی اہمیت
پس معلوم ہوا کہ منحرف معاشرے کو اُس کی اصلی راہ پر پلٹانے کے حکم کی اہمیت خود حکومت کے حکم ا ور اُس کی اہمیت سے کسی بھی طرح کم نہیں ہے ۔ شایدیہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اِس حکم کی اہمیت خود کفار سے جہا د کرنے سے بھی زیادہ ہے؛یہ بھی کہنا ممکن ہے کہ اِس حکم کی اہمیت ایک اسلامی معاشرے میں ایک معمولی قسم کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے بھی زیادہ ہے؛ حتی ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ شایدمنحرف معاشرے کو اُس کے راستے پر پلٹانے کا حکم خداوند عالم کی طرف سے عظیم فرائض اور واجبات اور حج سے بھی زیادہ ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اِس حکم کی اہمیت کیوں زیادہ ہے؟ جواب یہ ہے کہ درحقیقت یہ حکم اسلام کو کہ جب وہ فنا کے قریب ہو یا ختم ہوگیا ہو، زندہ کرنے کا ضامن ہے۔
اب یہاں ایک سوال اور ابھرتا ہے کہ کون ہے جو اِس اہم ترین حکم پر عمل کرے؟ اس عظیم حکم پر نبی اکرم ۰ کا کوئی جانشین ہی عمل کرسکتا ہے اور وہ ایسے زمانے میں موجود ہو کہ معاشرہ اِس انحراف کا شکار ہوگیا ہو؛ البتہ اِس کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ اِس حکم پر عمل درآمد کیلئے حالات مناسب ہوں؛ اِس لیے کہ خداوند عالم کسی ایسے عمل کو واجب نہیں کرتا کہ جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ لہٰذا اگر حالات نامناسب ہوں اوریہ جانشین نبی ۰ کتنی ہی محنت کیوں نہ کرے تو اُس کے عمل اور جدوجہد کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا لہٰذا عمل درآمد کرنے کیلئے حالات کو مناسب و موزوں ہونا چاہیے۔
اِس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ حالات کے مناسب ہونے کا معنی کچھ اور ہے؛ نہ یہ کہ ہم یہ کہیں کہ چونکہ اِس حکم کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں خطرات موجود ہیں لہٰذا حالات سازگار نہیں ہیں ! حالات کے سازگار ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے ۔ حالات و شرائط کو مناسب ہونا چاہیے یعنی انسان یہ جانے کہ اگر اُس نے عمل کو انجام دیا تو اِس کا ایک نتیجہ ظاہر ہوگا، یعنی لوگوں تک پیغام پہنچ جائے گا، عوام اِس نتیجے سے حقیقت کو سمجھیں گے اور شک و تردید کے تمام سیاہ بادل اُن کے سامنے سے ہٹ کر حقیقت کا اُفق اُن کیلئے روشن و صاف ہوجائے گا۔
امام حسین کے زمانے میں انحراف بھی تھااور حالات بھی مناسب تھے!
حضرت سید الشہدا کے زمانے میں یہ انحراف وجود میں آچکا تھا اور اِس انحراف کو ختم کرنے کے حکم الٰہی پر عمل درآمد کیلئے حالات بھی مناسب تھے۔ پس اِن حالات میں امام حسین کو قیام کرنا چاہیے تھا کیونکہ انحرافات اور بدعتوں نے اسلامی معاشرے کو مکمل طورسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ وہ مناسب حالات یہ ہیں کہ معاویہ کے بعد ایسا شخص حکومت کا مالک بن بیٹھا ہے (یا جسے پہلے سے تیار شدہ ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت ولی عہد بنایا گیا تھا تاکہ اسلام کو نابود کرنے کے بنو اُمیہ کے دیرینہ منصوبے پر عمل درآمد کیا جاسکے) جو اسلام کے ظاہری احکام و آداب کی ذرّہ برابر بھی رعایت نہیں کرتا ہے! وہ اایسا ( خودساختہ) خلیفہ مسلمین ہے جو شراب پیتا ہے اور اسلامی شریعت کی کھلم کھلا مخالفت اُس کا وطیرہ ہے ، جنسی گناہوں ، دیگر برائیوں اورقبیح ترین اعمال کا علی الاعلان ارتکاب اُس کا شیوہ ہے ، قرآن کے خلاف باتیں کرنا اُس کی عادت ہے، وہ قرآن کی مخالفت اور دین کی تحقیر و اہانت کیلئے اشعار باطلہ سے اپنی محفل کو زینت دیتا ہے؛ خلاصہ یہ کہ وہ اسلام کا کھلا ہوا دشمن ہے!
چونکہ وہ نام کا خلیفہ مسلمین ہے لہٰذا وہ اسلام کے نام کو مکمل طور سے ختم نہیں کرنا چاہتا ۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ نہ اسلام کا پیروکار ہے، نہ اُسے اسلام سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی اُس کا دل اسلام کیلئے دھڑکتا ہے بلکہ اپنے عمل میں اُس چشمے کی مانند ہے کہ جس سے مسلسل گند گی اور بدبو دار پانی اُبل اُبل کر پوری وادی کو خراب و بدبودار کررہا ہے اور اپنے وجود کے گندے اور بدبودار اعمال سے پورے اسلامی معاشرے کی فضا کو متعفّن و آلودہ کررہا ہے! ایک برا اور فاسد حاکم ایسا ہی ہوتا ہے ۔ چونکہ حاکم، معاشرے میں سب سے اونچے اور بلند ترین منصب کا حامل ہوتا ہے بالکل ایک بلند ترین چوٹی کی مانند، لہٰذا اُس سے جو بھی عمل صادر ہوگا اُس کے اثرات صرف اُسی چوٹی تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ اُس سے نیچے آکر اطراف کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے جبکہ عام عوام و افراد کا عمل اِس خاصیت کا حامل نہیں ہوتا ہے۔
عام افراد کا عمل صرف اُنہی کی چار دیواری اور ذات کے دائرے کے اندر رہتا ہے؛ لیکن جس کا مرتبہ و منصب جتنا بلند ہو اور وہ معاشرے میں جتنے بڑے درجے کا مالک ہو اُس کی برائیوں کا نقصان بھی اُسی نسبت سے زیادہ ہوتا ہے۔ عام آدمیوں کی برائیاں اور غلطیاں ممکن ہے کہ صرف اُنہی کیلئے یا اُن کے اطراف میں موجود چند افراد کیلئے نقصان دہ ہوں لیکن جو کسی بڑے عہدے اور درجے کا مالک ہے اگر برائیوں اور غلطیوں کا ارتکاب کرنے لگے تو اُس کے اعمال کے برے اثرات اطراف میں پھیل کر پورے معاشرتی ماحول کو آلودہ کردیں گے۔ اِسی طرح اگر معاشرے میں کسی اعلی منصب و مرتبے پر فائز ہونے والا شخص نیک ہوجائے تو اُس کے نیک اعمال کے اثرات اور خوشبو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیکر ماحول و فضا کو معطر کردے گی۔
معاویہ کے بعدایک ایسا ہی شخص منبر رسول ۰ پر بیٹھ کر خلیفہ مسلمین بن گیا ہے اور اپنے آپ کو جانشین پیغمبر ۰ کہتا ہے ! کیا اِس سے بڑھ کر بھی کوئی انحراف ہوگا؟! اب اِس حکم الٰہی پر عمل درآمد کرنے کے حالات و شرایط مہیا ہوگئے ہیں۔ حالات مناسب و سازگار ہیں، اِس کا مطلب کیا ہے؟ کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِس راہ میں کوئی خطرہ موجود نہیں ہے؟ کیوں نہیں، خطرہ موجود ہے۔ کیا یہ بات ممکن ہے کہ کسی اقتدار کا مالک اپنے مقابلے پر آنے والوں کیلئے خطرناک ثابت نہ ہو؟! یہ تو کھلی جنگ ہے؛ آپ چاہتے ہیں کہ اُس کا تخت و تاج اور اقتدار چھین لیں او ر وہ بیٹھ کر صرف تماشا دیکھے! واضح سی بات ہے کہ وہ بھی پلٹ کر آپ پر حملہ کرے گا، پس خطرہ ہر حال میں موجود ہے۔
سب آئمہ کا مقام امامت برابر ہے!
یہ جو ہم کہتے ہیں کہ حالات مناسب ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کا ماحول اور سیاسی و اجتماعی حالات ایسے ہیں کہ ممکن ہے کہ اِس زمانے میں اور پوری تاریخ میں انسانوں تک امام حسین کا پیغام پہنچ جائے۔ اگر معاویہ کے دور حکومت میں امام حسین قیام کرتے تو اُن کا پیغام دفن ہو جاتا۔ وجہ یہ ہے کہ معاویہ کے دور حکومت میں (اجتماعی و ثقافتی) حالات اور سیاست ایسی تھی کہ لوگ حق بات کو نہیں سن سکتے تھے (یا اُن میں حق و باطل میں تشخیص کی صلاحیت نہیں تھی)! یہی وجہ ہے کہ امام حسین معاویہ کی خلافت کے زمانے میں دس سال امام رہے لیکن آپ کچھ نہیں بولے اور کسی قیام و اقدام کیلئے کوئی کام انجام نہیں دیا چونکہ حالات مناسب نہیں تھے۔
امام حسین سے قبل امام حسن امام وقت تھے، اُنہوں نے بھی قیام نہیں کیا چونکہ اُن کے زمانے میں بھی اِس کام کیلئے حالات غیر مناسب تھے؛ نہ یہ کہ امام حسن و امام حسین میں کا م کو انجام دینے کی صلاحیت و قدرت نہیں تھی۔ امام حسن و امام حسین میں کوئی فرق نہیں ہے، اِسی طرح امام حسین اور امام سجاد اور امام علی نقی و امام حسن عسکری میں بھی کوئی فرق نہیں ہے! صحیح ہے کہ سید الشہدا نے چونکہ قیام کیا ہے لہٰذا اُن کا قیام و منزلت اُن آئمہ سے زیادہ ہے کہ جنہوں نے قیام نہیں کیا، لیکن مقام امامت کے لحاظ سے سب آئمہ برابر ہیں۔ آئمہ میں اگرکسی ایک کیلئے بھی کربلاجیسے کے حالات پیش آتے تو وہ قیام کرتے اور اُسی مقام پر فائز ہوتے۔
وظیفے کی ادائیگی ہمیشہ خطرے کے ساتھ ہے!
اب امام حسین انحراف و بدعت کے طوفان کے سامنے کھڑے ہیں پس انہیں اپنے وظیفے پر عمل کرنا چاہیے؛ حالات بھی مناسب ہیںلہٰذا اب کسی عذر کی گنجائش نہیںہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبداللہ ابن جعفر ، محمد ابن حنفیہ ۱ اور عبداللہ ابن عباس ۱ جیسی خاص، دین شناس ، عارف ، عالم، فہم وادراک رکھنے والی شخصیات نے امام حسین سے کہا کہ’’ اے مولا! اِس راہ میں خطرات ہیں، آپ نہ جائیے۔‘‘ یعنی وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ جب وظیفے کی انجام دہی میں خطرات ہوں تو وظیفے کی ادائیگی واجب نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اِس بات کو سمجھنے سے قاصر تھے کہ یہ وظیفہ کوئی ایسا وظیفہ نہیں ہے کہ جو خطرات کی موجودگی میں ساقط ہوجائے گا!(۳)
اِس وظیفے کی ادائیگی ہمیشہ خطرات کے درمیان گھری ہوئی ہے۔ کیا یہ بات ممکن ہے کہ انسان ایک بہت بڑے اقتدار اور ایک انتہائی مضبوط قسم کے نظام کے خلاف قیام کرے اور اُسے کسی قسم کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے؟ اِس واجب پر عمل پیرا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان خطرات کو دعوت دے رہا ہے ۔ یہ وہی واجب ہے کہ جسے حضرت امام خمینی ۲ نے انجام دیا؛ اِن کو بھی یہی کہا جاتا تھا کہ آغا! آپ تو شاہ ایران سے ٹکر لے رہے ہیں،آپ خطرات میں گھر جائیں گے ۔کیا امام خمینی ۲ نہیں جانتے تھے کہ اِس راہ میں خطرات ہیں؟ کیا امام خمینی ۲ اس بات سے بے خبر تھے کہ شاہ ایران کی خفیہ ایجنسی جب کسی کو گرفتار کرتی ہے تو اُسے شکنجہ و اذیت دیتی ہے ، اُسے قتل کرتی ہے ، اُس گرفتار ہونے والے انسان کے دوستوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے اور اُنہیں جِلا وطن کردیتی ہے؟! کیا امام خمینی ۲ یہ سب نہیں جانتے تھے؟!
وہ کام جو امام حسین کے زمانے میں انجام پایا، اُس کی ایک چھوٹی سی مثال ہمارے زمانے میں امام خمینی ۲ کے ذریعے سے سامنے آئی۔ فرق یہ ہے کہ اُس قیام کا نتیجہ شہادت کی صورت میں سامنے آیا اور امام خمینی ۲ کے جہاد و قیام کا نتیجہ حکومت کی صورت میں نکلا؛ یہ وہی کام ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ امام حسین اور امام خمینی ۲ کا ہدف، ایک ہی تھا۔ یہی مطلب، امام حسین کی تعلیمات کی اساس و جان ہے اور امام حسین کی تعلیمات ، شیعہ مذہب کی تعلیمات کا ایک بڑا حصہ ہیں؛ سید الشہدا کی تعلیمات مضبوط و محکم بنیاد ہیں اوراسلام کی بنیادوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
اسلامی معاشرے کو صحیح راہ پر لوٹانا، ہدف ہے!
پس ہدف یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کو اُس کے صحیح راستے کی طرف لوٹایا جائے ، مگر کون سے زمانے میں؟ اُس وقت کہ جب اسلام کا راستہ تبدیل کردیا گیا ہو اور خاص اورصاحب اثر و نفوذ افراد کی جہالت، ظلم و استبداد اور خیانت، مسلمانوں کو منحرف کردے اورقیام کی شرائط پوری ہوگئی ہوں۔
البتہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف زمانے آتے ہیں ،ایک وہ زمانہ ہے کہ جب شرائط پوری ہوں اور ایک وہ زمانہ ہے کہ جب حالات مناسب ہوں۔ امام حسین کے دور میں بھی حالات اور شرائط مناسب تھے اور ہمارے زمانے میں بھی۔ امام خمینی ۲ نے بھی وہی کام انجام دیا کہ جو امام حسین نے انجام دیا تھا کیونکہ دونوں کا ہدف ایک ہی تھا۔
جب ایک انسان ایک ہدف کے حصول کیلے قدم اٹھاتا ہے اور چاہتا ہے کہ ایک ظالم حکومت اور باطل کے خلاف قیام کرے؛ کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اسلام، اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کو اُس کے صحیح راستے پر لوٹا دے تو ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ قیام کرتا ہے تو اُسے حکومت مل جاتی ہے، یہ اِس قیام کی ایک صورت ہے کہ جو الحمدللہ ہمارے زمانے میں سامنے آئی۔ ایک وقت وہ ہے کہ جب وہ قیام کرتا ہے تو وہ حکومت تک نہیں پہنچتا لیکن درجہ شہادت پر فائز ہوتا ہے۔
کیا اِس دوسری صورت میں اِس وظیفے پر عمل کرنا واجب نہیں ہے؟ کیوں نہیں؛واجب ہے، گرچہ وہ شہید ہی کیوں نہ ہوجائے۔ یہاں ایک اور سوال پیش آتا ہے کہ کیا اِس صورت میں کہ جب وہ اپنے وظیفے کی ادائیگی میں درجہ شہادت کو پالے تو اُس کے قیام کا کیا فائدہ ہے؟ جواب یہ ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا؛ اِس قیام اور اِس حکومت کی دونوں صورتوں میں اُس کے قیام کا فائدہ ہے، خواہ وہ درجہ شہادت پر فائز ہو یااُسے حکومت ملے۔ فرق یہ ہے کہ دونوں کا فائدہ الگ الگ ہے لیکن ہر صورت میں قیام کرنا اور قدم اٹھانا چاہیے۔
سید الشہدا نے پہلی بار یہ قدم اٹھایا
یہ وہ کام تھا کہ جسے سید الشہدا نے انجام دیا اور آپ وہ پہلی شخصیت تھے کہ جس نے پہلی بار یہ قدم اٹھایا۔ آپ سے قبل یہ کام انجام نہیں دیا گیا تھا کیونکہ زمانہ رسالت میں نہ یہ بدعتیں تھیں اور نہ امیر المومنین کے دور امامت میں یہ انحرافات وجود میں آئے تھے یا اگر کچھ مقامات میں انحرافات تھے بھی تو اُن کے خلاف قیام کی شرائط پوری نہیں تھیں اور نہ ہی حالات مناسب تھے۔لیکن امام حسین کے دور امامت میں یہ دونوں چیزیں موجود تھیں۔ تحریک حسینی کی حقیقت یہی جاندار نکتہ ہے۔
پس ہم اِس طرح خلاصہ کرسکتے ہیں کہ امام حسین نے اِس لیے قیام کیا کہ اُس عظیم واجب کو انجام دے سکیں جو اسلامی نظام اور اسلامی معاشرے کو ازسر نو تعمیر کرنے یا اسلامی معاشرے میں انحرافات کے مقابلے میں قیام کرنے سے عبارت ہے۔ یہ عظیم کام؛ قیام اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعہ ممکن ہے بلکہ انحرفات کا راستہ روکنا خود امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا زندہ مصداق ہے۔ البتہ یہ کام کبھی حکومت و اقتدار پر اختتام پذیر ہوتا ہے کہ امام حسین اِس کیلئے تیار تھے اور کبھی انسان کو درجہ شہادت تک پہنچا دیتا ہے اور سید الشہدا نے خود کو اِس کیلئے بھی آمادہ کیا ہوا تھا۔
حکومت یزید سے اسلام کو زبردست خطرہ ہے
ہم کس دلیل کی بنا پر یہ بات کہہ رہے ہیں ؟ ہم نے اِن تمام باتوں کو خود سید الشہدا کے کلمات سے اخذ کیا ہے۔ ہم نے امام حسین کے کلمات و ارشادات میں سے چند عبارتوں کا انتخاب کیا ہے۔
جب مدینے میں وہاں کے حاکم ولیدنے حضرت کو اپنے پاس بلاکر کہا کہ ’’معاویہ کا انتقال ہوگیا ہے اور آپ کو (نئے خلیفہ کی) بیعت کرنی چاہیے‘‘۔ حضرت سید الشہدا نے اُسے جواب دیا : ’’نَنظُرُ وَ تَنظُرُونَ اَيُّنَا اَحَقُّ بِالبَیعَةِ وَ الخِلَافَةِ ‘‘(۴) ۔ آپ نے فرم ایا کہ’’ صبح تک انتظار کرو ، ہم فکر کرتے ہیں کہ ہم (حسین اور یزید )میں سے کون خلافت اور بیعت کے لئے شائستہ ہے‘‘!
اگلے دن مروان نے جب امام حسین کو دیکھا تو کہنے لگا: ’’اے ابا عبداللہ، آپ اپنے آپ کو ہلاکت میں کیوں ڈال رہے ہیں! خلیفہ وقت سے آکر بیعت کیوں نہیں کرلیتے؟ آپ اپنی موت کا سامان تیار نہ کریں!‘‘ سید الشہدا نے اُس کے جواب میں یہ جملہ ارشاد فرمایا: ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیهِ رَاجِعُونَ وَ عَلَی الاِسلَامِ السَّلَامُ، اِذ قَد بُلِيَتِ الاُمَّةُ بِرَاعٍ مِثلَ يَزِید ‘‘ ، ’’ہم اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور ہمیں لوٹ کر اُسی کی ہی طرف جانا ہے، جب یزید جیسا شخص امت مسلمہ کا خلیفہ بن جائے تو اسلام کو خدا حافظ کہہ دینا چاہیے‘‘، یعنی اسلام پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیے کہ جب یزید جیسا (فاسق و فاجر) شخص اقتدار کو سنبھال لے اور اسلام یزیدیت جیسی موذی بیماری میں مبتلا ہوجائے! یہاں یزید کی ذات کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ جو بھی یزید جیسا ہو(۵) ۔ حضرت س ید الشہدا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ۰ کے بعد سے لیکر اب تک جو ہوا وہ سب قابل تحمل تھا لیکن اب خود اصل دین اور اسلامی نظام (اور اُس کی بنیادیں) نشانے پر ہیں اور یزید جیسے کسی بھی شخص کی حکومت کرنے سے اسلام نابود ہوجائے گا۔یہی وجہ ہے کہ اس انحراف کا خطرہ بہت زیادہ ہے کیونکہ یہاں خود اسلام خطرے میں ہے۔
حضرت سید الشہدا نے مدینہ سے اور اِسی طرح مکہ سے اپنی روانگی کے وقت محمد ابن حنفیہ سے گفتگو کی ہے۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کی یہ وصیت مکہ سے آپ کی روانگی کے وقت کی ہے۔ ماہ ذی الحجہ میں محمد ابن حنفیہ بھی مکہ آچکے تھے اور انہوں نے کئی مرتبہ امام حسین سے گفتگو کی ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں حضرت نے اپنے بھائی کو اپنی تحریر وصیت کے عنوان سے دی۔
میرے قیام کا مقصد، امت محمدی ۰ کی اصلاح ہے
امام حسین خدا کی وحدانیت کی گواہی دینے اور مختلف امور کو بیان کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ
’’وَاِنِّی لَم اَخرُج اَشِرًا وَّلَا بَطَراً وَّلَا مُفسِدًا وَّلَا ظَالِماً ‘‘(۶) یعنی آپ فرماتے ہیں کہ لوگ غلطی کا شکار نہ ہوں اور دشمن کی پروپیگنڈا مشینری اُنہیں دھوکہ نہ دے کہ امام حسین بھی دوسروں کی مانند ہیں کہ جو مختلف جگہوں پر خروج کرتے ہیں، صرف اِس لئے کہ اقتدار کواپنے ہاتھ میں لیں، اپنی خودنمائی، عیاشی اور ظلم و فساد برپا کرنے کیلئے میدان جنگ میں قدم رکھتے ہیں؛ آپ فرماتے ہیں کہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ ’’وَ اِنَّمَا خَرَجتُ لِطَلَبِ الاِصلَاحِ فِی اُمَّةِ جَدِّی ‘‘(۷) ،’’م یں صرف اور صرف اپنے جد محمد ۰ کی امت کی اصلاح کیلئے میدان عمل میں آیا ہوں)۔ میں فقط اصلاح کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ یہ وہ واجب ہے کہ جو امام حسین سے قبل انجام نہیں دیا گیا تھا۔
یہ اصلاح ، ’’خروج‘‘ کے ذریعے انجام پائے گی؛ خروج یعنی قیام اور امام حسین نے اِس نکتے کو اپنی اِس وصیت میں تحریر فرمایا ہے اور صراحت کے ساتھ اِس معنی کو بیان کیا ہے۔ یعنی اولاً وہ قیام کرنا چاہتے ہیں اور یہ قیام اِس لیے ہے کہ ہم ’’اصلاح‘‘ کے طالب ہیں ، نہ یہ کہ حتماً حکومت و اقتدار ہمارے ہاتھ آجائے اور نہ اِس لیے کہ ہم جاکر صرف شہید ہونا چاہتے ہیں، نہیں ! ہمارا ہدف صرف اصلاحِ امت ہے۔ البتہ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اصلاح کا کام کوئی معمولی نوعیت کا کام نہیں ہے۔ اِسی اصلاح کے دوران کبھی حالات ایسے پیش آتے
ہیں کہ انسان حکومت تک پہنچتا ہے اور زمام قدرت کواپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے وہ یہ کام نہیں کرسکتا بلکہ یہ کام غیر ممکن ہوجاتاہے اور وہ درجہ شہادت پر فائز ہوتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں اُس کا قیام اصلاح کے عمل کیلئے ہوتاہے۔
اِس کے بعد امام حسین فرماتے ہیں کہ’’اُرِیدُ اَن آمُرَ بِالمَعرُوفِ وَاَنهٰی عَنِ المُنکَرِ وَاُسِیرُ بِسِیرَةِ جَدِّ وَ اَبِ ‘‘(۸) ۔’’م یں چاہتا ہوں کہ امر بالمعروف کروں اور نہی عن المنکر انجام دں اور میں اپنے نانا اور بابا کی سیرت پر قدم اٹھانا چاہتا ہوں‘‘۔ اصلاح کا ایک مصداق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔
سید الشہدا نے مکے میں دو گروہوں کو خط لکھے ، ایک بصرہ کی اہم شخصیات کو اور دوسرا کوفہ کے اہم افراد کو۔ بصرہ کی اہم شخصیات کے نام جو آپ نے خط لکھا ہے اُس میں اِ س طرح تحریر فرمایا ہے: ’’وقَد بَعَثَرَسُولِی اِلَیکُم بِهٰذَا الکِتَابِ وَاَنَا اَدعُوکُم اِلٰى کِتَابِ اللّٰهِ و سُنَّةِ نَبِيِّهِ فَاِنَّ سَنَّةَ قَد اُمِیتَت وَالبِدعَدَّ اُوحِيَت فَاِن تَسمَعُوا قَولِی اَهدِیکُم اِلٰی سَبِیلِ الرِّشَادِ ‘‘۔
’’میرا نمائندہ میرے خط کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اور میں تم لوگوں کو کتاب خدا اور اُس کے رسول ۰ کی سنت کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ بے شک سنتِ رسول ۰ کو زندہ درگور کردیا گیا ہے اور زمانہ جاہلیت کی بدعتوں و خرافات کو زندہ کردیا گیا ہے، اگر تم میری پیروی کرو تو میں تم کو راہِ راست کی ہدایت کروں گا۔‘‘ یعنی میں بدعتوں کو ختم کرنا اور سنتِ رسول ۰ کا احیائ چاہتا ہوں کیونکہ حاکمان وقت نے سنت کو مردہ اور بدعتوں کو زندہ کردیا ہے۔ اگر تم لوگ میری بات مانو اور میرے پیچھے قدم اٹھاو تو جان لو کہ ہدایت کا راستہ صرف میرے پاس ہے، میں ایک بہت بڑا فریضہ انجام دینا چاہتا ہوں کہ جو اسلام، سنتِ رسول ۰ اور اسلامی نظام کے احیائ سے عبارت ہے۔
اسلامی حاکم ، معاشرے میں کتاب خدا کو نافذ کرے
اہل کوفہ کے نام آپ نے اپنے مکتوب میں تحریر فرمایا:’’فلعمرِ ما الاِمَامُ اِلَّا الحَاکِمُ بِاالکِتَابِ وَالقَآئِمُ بِالقِسطِ الدَّآئِنُ بِدِینِ الحَقَّ وَالحَابِسُ نَفسِه عَلٰى ذَالِکَ لِلّٰهِ والسَّلَام ‘‘(۹) ، ’’امام فقط وہی ہے جو صرف کتاب الٰہی کے مطابق حکومت کرے، عدل و انصاف کو قائم کرے، ملک و معاشرے اور قانون کی حق کی طرف راہنمائی کرے اور صراطِ مستقیم پر ہر طرح سے اپنی حفاظت کرے‘‘۔ امام وپیشوا اور اسلامی معاشرے کا سربراہ اور حاکم ، اہل فسق و فجور، خائن، فسادی ، قبیح اعمال کاارتکاب کرنے والا شخص اور خدا سے دوری اختیار کرنے والا فرد نہیں ہوسکتا ہے ۔ اسلامی معاشرے کا حاکم اُسے ہونا چاہیے کہ جو کتاب خدا کے مطابق فیصلہ کرے، کتابِ الٰہی پر عمل پیرا ہو، معاشرے میں اپنی اجتماعی ذمہ داریوں اور فرائض سے کنارہ کشی اختیار نہ کرے؛ نہ یہ کہ ایک کمرے میں بیٹھ کر تنہائی میں عبادت خدا بجالائے؛ اسلامی حاکم کو چاہیے کہ معاشرے میں کتاب خدا کو زندہ کرے، عدل وانصاف کا بول بالا کرے اور ’’حق‘‘ کو معاشرے کا قانون قرار دے نہ کہ نفسانی خواہشات اور شخصی رائے کو۔
’’الدَّائِنُ بِدِینِ الحَقِّ ‘‘ یعنی اسلامی حاکم کو چاہیے کہ معاشرے کا قانون اور اُس کا راستہ صرف حق کے مطابق متعین کرے اور باطل افکار و نظریات اور شخصی رائے کو ترک کردے۔ ’’والحَابِسُ نَفسِهِ عَلٰى ذَالِکَ لِلّٰهِ ‘‘ اِس جملے کا ظاہری معنی یہ ہے کہ خدا کہ راستے میں جس طرح بھی ہو اپنی حفاظت کرے اور شیطانی اور مادّی جلووں اور رنگینیوں کا اسیر نہ ہو۔
پیغمبر ۰ نے ذمہ داری مشخص کردی ہے
سید الشہدا جب مکے سے باہر تشریف لے گئے تو راستے میں آپ نے مختلف مقامات پر مختلف انداز سے گفتگو فرمائی ۔ ’’بیضہ‘‘ نامی منزل پر، کہ جب حُرّ ابن یزید ریاحی کا لشکر آپ کے ساتھ ساتھ تھا، اُترنے کے بعد شاید آپ نے استراحت کرنے سے قبل یا تھوڑی استراحت کے بعد کھڑے ہو کر دشمن کے لشکر سے اِس طرح خطاب فرمایا:
’’اَيُّها النَّاسُ اِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ (صَلَّی اللّٰه عَلَیه وآلِه) قَالَ: مَن رَآَی سُلطَاناً جَآئِرًامُستَحِلًّا لِحَرامِ اللّٰهِ نَاکِثًا لِعَهدِ اللّٰهِ ، مُخَالِفًا لِسُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ يَعمَلُ فِی عِبَادِ اللّٰهِ بِالاِثمَ وَالعُدوَانِ ثُمَّ لَم يُغيِّر بِقَولٍ وَلَا فِعلٍ کَانَ حَقًّا عَلٰى اللّٰهِ اَن يَدخُلَهُ مَدخَلَهُ ‘‘(۱۰) ۔ ’’رسول اللہ ۰ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جو کسی جائر و ظالم حاکم کو دیکھے جو حرام خدا کو حلال جاننے والا، قانون خدا کو توڑنے والا، سنت رسول ۰ کا مخالف اور مخلوق خدا میں گناہ و سرکشی سے حکومت کرنے والا ہو تو یہ دیکھنے والا اپنے قول و فعل سے اُس کے خلاف حکمت عملی اختیار نہ کرے تو خداوند عالم اِس سکوت و جمود اور خاموشی اختیار کرنے والے شخص کو اُس ظالم سلطان کے ساتھ عذاب میں ڈالے گا‘‘۔ یعنی اگر کوئی یہ دیکھے کہ معاشرے میں کوئی حاکم برسر حکومت ہے اور ظلم و ستم کررہا ہے ، حرام خدا کو حلال قرار دے رہا ہے اور حلال خدا کو حرام بنارہا ہے، اُس نے حکم الٰہی کو پس پشت ڈال دیا ہے اور دوسرے افراد کو بھی عمل نہ کرنے کیلئے مجبور کررہا ہے، لوگوں میں گناہ اور ظلم و دشمنی سے حکومت کرے __ اُس زمانے میں ظالم اور جائر حاکم کا کامل مصداق یزید تھا ’’و لَم يُغيِّر بِقَولٍ وَلَا فِعلٍ ‘‘ ،’’ اپن ی زبان و عمل سے اُس کے خلاف اقدام نہ کرے‘‘۔ ’’کَانَ حَقًّا عَلٰى اللّٰهِ اَن يَدخُلَهُ مَدخَلَهُ ‘‘ ،’’توخداوند عالم روز قیامت سکوت وجمود اختیار کرنے والے بے طرف و بے عمل شخص کو اُسی ظالم کے ساتھ ایک ہی عذاب میں ڈالے گا‘‘۔
یہ پیغمبر ۰ کا قول ہے؛ یہ جو ہم نے کہا ہے کہ پیغمبر ۰ نے یہ فرمایا ہے تو یہ اُن کے اقوال کا ایک نمونہ ہے۔ پس حضرت ختمی مرتبت ۰ نے پہلے سے مشخص کردیا تھا کہ اگر اسلامی نظام انحراف کا شکار ہوجائے تو کیا کام کرنا چاہیے۔ امام حسین نے پیغمبر اکرم ۰ کے اِسی قول کو اپنی تحریک کی بنیاد قرار دیا۔
میں دوسروں سے زیادہ اِس قیام کیلئے سزاوار ہوں
پس اِن حالات میں ذمے داری کیا ہے؟اس حدیث نبوی ۰ کی روشنی میں ذمہ داری ’’يُغيِّر بِقَولٍ وَلَا فِعلٍ ‘‘ (اپنے زبان و عمل سے اقدام کرے) ہے۔ اگر انسان اِن حالات کا مشاہدہ کرے البتہ شرائط و حالات کا مناسب ہونا ضروری ہے، تو اُس پر واجب ہے کہ ظالم و جائر حاکم کے عمل کے جواب میں قیام و اقدام کرے۔ وہ اِس قیام و اقدام میں کسی بھی حالات سے دوچار ہو، قتل ہوجائے، زندہ رہے یا ظاہراً اُسے کامیابی نصیب ہو یا نہ ہو، اِن تمام حالات میں ’’قیام‘‘ اُس کا وظیفہ ہے۔ یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اِن حالات میں قیام و اقدام کرے اور یہ وہ ذمہ داری ہے کہ جسے حضرت ختمی مرتبت ۰ نے بیان فرمایا ہے۔
اِس کے بعد سید الشہدا نے فرمایا: ’’وَاِنِّی اَحَقُّ بِهٰذَا ‘‘ ،میں اِس قیام کیلئے بقیہ تمام مسلمانوں سے زیادہ سزاوار ہوں کیونکہ میں فرزند پیغمبر ۰ ہوں۔ اگر پیغمبر ۰ نے حالات کی تبدیلی یعنی اُس قیام کو ایک ایک مسلمان پر واجب کیا ہے تو ظاہرہے کہ حسین ابن علی جو فرزند پیغمبر ۰ ہیں اور اُن کے علم و حکمت کا وارث بھی ہیں، اِس قیام کیلئے دوسروں سے زیادہ مناسب ہیں۔ پس امام حسین فرماتے ہیں کہ میں نے اِسی لئے قیام کیا ہے اور وہ اپنے قیام کے علل و اسباب کو بیان فرما رہے ہیں۔
جو کچھ خدا نے ہمارے لئے چاہا ہے ، خیر ہے
’’اَزید‘‘ نامی منزل پر کہ جب چار افراد حضرت سے آملے ، آپ نے فرمایا: ’’اَمَّا وَاللّٰهِ اَنِّی لَاَرجُو اَن يَکُونَ مَا اَرَادَ اللّٰهُ بِنَا قُتلِنَا اَو ظَفُرنَا ‘‘’’جو کچھ اللہ نے ہمارے ل یے مقرر کیا ہے وہ ہمارے لیے صرف خیر وبرکت ہی ہے، خواہ قتل کردیے جائیں یا کامیاب ہوجائیں‘‘۔ کوئی فرق نہیںہے خواہ کامیابی ہمارے قدم چومے یا راہ خدا میں قتل کردیے جائیں، ذمے داری کو ہر صورت میں ادا کرنا ہے؛ آپ نے یہی فرمایا کہ خداوند عالم نے جس چیز کو ہمارے لئے مقرر فرمایا ہے، اُس میں ہمارے لیے بہتری اور بھلائی ہی ہے؛ ہم اپنی ذمہ داری کو ادا کررہے ہیں خواہ اِس راہ میں قتل کردیئے جائیں یا کامیاب ہوجائیں۔
سرزمین کربلا میں قدم رکھنے کے بعد آپ نے اپنے پہلے خطبے میں ارشاد فرمایا: ’’قَد نَزَلَ مِنَ الاَمرِ ما قَد تَرَونَ ‘‘(۱۱) ’’اَلَا تَرَونَ اِلَى الحَقِّ لَا يُعمَلُ بِهِ وَ اِلی البَاطِلِ لَا يُتَنَاهی عَنهُ لِيَرغَبِ المُومِن فِی لِقَآئِ اللّٰهِ مُحِقًّا ‘‘(۱۲) ، ’’ک یا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں کیا جارہا ہے اور باطل سے دوری اختیار نہیں کی جارہی ایسے وقت میں مومن کو چاہیے کہ وہ ملاقات خدا کے لیے تیار رہے۔‘‘
امام حسین نے اسلام کا بیمہ کیا
پس امام حسین نے ایک امر واجب کیلئے قیام فرمایا۔ یہ ایک ایسا واجب ہے کہ جو ہر زمانے اور ہر تاریخ میں تمام مسلمانوں کو اپنی طرف بلارہا ہے اور یہ واجب عبارت ہے اِس امر سے کہ مسلمان جب اِس بات کا مشاہدہ کریں کہ اسلامی معاشرے کا نظام ایک بُنیادی خرابی کا شکار ہوگیا ہے اور اُس سے تمام اسلامی احکامات کی خرابی کا خطرہ لاحق ہے تو اِن حالات میں ہر مسلمان کو قیام کرنا چاہیے۔
البتہ یہ قیام، مناسب حالات و شرائط میں واجب ہے (کہ جسے گذشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے ) کہ جب قیام کرنے والا یہ جانتاہو کہ یہ قیام اثر بخش ہوگا۔ اِن مناسب حالات کا قیام کرنے والے کے زندہ رہنے، قتل نہ ہونے یا مشکل و مصائب کا سامنا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسین نے قیام فرمایا اور عملاً اِس واجب کو انجام دیا تاکہ رہتی دنیا کیلئے ایک درس ہو۔
اِس بات کا بھی امکان ہے کہ تاریخ کے کسی بھی زمانے میں کوئی بھی شخص مناسب شرائط و حالات میں یہ کام انجام دے البتہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سید الشہدا کے بعد کسی بھی امام معصوم کے زمانے میں ایسے حالات پیش نہیں آئے ۔ خود یہ بات تجزیہ و تحلیل کا تقاضا کرتی ہے کہ ایسے حالات دوبارہ کیوں نہیں پیش آئے۔ چونکہ بہت سے اہم ترین کام تھے کہ جنہیں انجام دینا ضروری تھا اور کربلا کے قیام کے بعد سے امام حسن عسکری کی شہادت اور حضرت امام عصر کی غیبت کے ابتدائی زمانے تک اسلامی معاشرے میں ایسے حالات کبھی سامنے نہیں آئے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اِس قسم کے حالات اسلامی ممالک میں زیادہ ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں اور آج بھی دنیائے اسلام میں بہت سے مقامات پر اِس کام کیلئے زمین ہموار ہے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ اِس فریضے کو انجام دیں۔ اگر وہ اِس واجب کو انجام دیں تو اِس طرح وہ اپنی ذمہ داری کو ادا کرسکیں گے اور اسلام کی توسیع اور حفاظت کی زمین ہموار کریں گے۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ ایک دو افراد شکست کھائیں گے۔
جب معاشرتی حالات کی تبدیلی، قیام اور اصلاحی تحریک کیلئے بار بار اقدامات کیے جائیں تو برائیاں اور انحرافات یقینی طور پر ختم ہوجائیں گے۔ امام حسین سے قبل کوئی بھی اِس راستے سے واقف اور اِس کام سے آگاہ نہ تھا، چونکہ زمانہ پیغمبر ۰ میں یہ کام انجام نہیں دیا گیا تھا، خلفائ کے زمانے میں بھی ایسے حالات نہیں تھے اور امیر المومنین کہ جو معصوم تھے، نے بھی اِس کام کو انجام نہیں دیا تھا۔ یہ امام حسین ہی تھے کہ جنہوں نے عملی طور پر پوری تاریخ انسانیت کو ایک بہت بڑا درس دیا اور درحقیقت خود اپنے زمانے میں اور آنے والے زمانوں میں اسلام کا بیمہ کردیا ۔
سید الشہدا کی یاد اور کربلا کیوں زندہ رہے؟
جہاں بھی حالات اور برائیاں و انحرفات ، امام حسین کے زمانے جیسے ہوں، سید الشہدا وہاں زندہ ہیں اور آپ اپنے شیوہ اور عمل سے بتارہے ہیں کہ آپ لوگوں کو کیا کام انجام دینا چاہیے چنانچہ وہی ذمہ داری اور وظیفہ قرار پائے گی۔ لہٰذا سید الشہدا کی یاد اور ذکر کربلا کو ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے کیونکہ یہ ذکر کربلا ہی ہے جو اِس عمل کو ہمارے سامنے متجلّی کرتا ہے۔
افسو س کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلامی ممالک میں کربلا کو جس طرح پہچاننا چاہیے تھے ، پہچانا نہیں گیا۔ اقوام عالم کو چاہیے کہ اِسے پہچانیں، ہمارے ملک میں کربلا کی شناخت صحیح طور پر موجود ہے؛ ہماری عوام (کئی صدیوں سے) امام حسین کی شناخت رکھتی ہے اور اُن کے قیام سے واقف و آگاہ ہے۔ معاشرے میں حسینی روح موجود تھی لہٰذا جب امام خمینی ۲ نے فرمایا کہ محرم وہ مہینہ ہے کہ’’ جب خون، تلوار پر کامیاب ہوگیا ‘‘تو ہماری عوام نے کسی قسم کا تعجب نہیں کیا۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ خون اور مظلومیت، ظلم وشمشیر پر غالب آگئی۔
وہ درس جو طوطوں نے اسیر طوطے کودیا
میں نے کئی سال قبل البتہ قبل از انقلاب ، کسی محفل میں ایک مثال بیان کی تھی کہ جسے مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں بیان کیا ہے۔
یہ مَثَل ہے اور اِسے حقائق کوبیان کرنے کیلئے سنایا جاتا ہے۔ ایک تاجر نے اپنے گھر میں پنجرے میں ایک طوطے کو پالا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ جب اُس نے ہندوستان جانے کا ارادہ کیا تو اپنے اہل و عیال سے خدا حافظی کی اور اپنے اِس طوطے سے بھی خدا حافظی کی۔ اُس نے اپنے طوطے سے کہا کہ ’’میں ہندوستان جارہا ہوں جو تمہارا ملک اور تمہاری سرزمین ہے‘‘۔
طوطے نے کہا ’’تم ہندوستان میں فلاں جگہ جانا، وہاں میرے عزیز و اقارب اور دوست احباب ہیں ، اُن سے کہنا کہ تمہاری قوم کا ایک طوطا میرے گھر میں پنجرے میں ہے، یعنی میری حالت کو اُن کیلئے بیان کرنا؛ اِس کے علاوہ میں تم سے کسی اور چیز کا طلبگار نہیں ہوں‘‘۔
یہ شخص ہندوستان گیا اور ا س جگہ گیا کہ جہاں کا پتہ اُس کے طوطے نے دیا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ بہت سے طوطے درختوں پر بیٹھے ہیں، اُس نے اونچی آواز میں سب کو مخاطب کیا اور کہا کہ اے ’’پیارے اور اچھے طوطوں! میں تمہارے لیے ایک پیغام لایا ہوں۔ تمہاری قوم کا ایک طوطا میرے گھر میں ہے، وہ بہت اچھی حالت میں زندگی بسر کررہا ہے اور میں نے اُسے پنجرے میں قید کیا ہوا ہے، میں اُسے اچھی غذائیں دیتا ہوں اور اُس نے تم سب کو سلام کہا ہے‘‘۔ ابھی تاجر نے اتنا ہی کہا تھا کہ اُس نے دیکھا کہ وہ طوطے جو درختوں پر بیٹھے تھے ، اچانک اُنہوں نے اپنے پروں کو پھڑپھڑایا اور زمین پر گر پڑے ۔ یہ شخص آگے بڑھا تو دیکھا کہ یہ طوطے مرچکے ہیں، اُسے بہت افسوس ہوا کہ میں نے ایسی بات ہی کیوں کی کہ جس کو سُننے سے یہ سارے پرندے مثلاً پانچ دس طوطے اپنی جان گنوا بیٹھے۔ اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا اور اب کچھ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
تاجر جب اپنے وطن لوٹا اور اپنے گھر پہنچنے کے بعد طوطے کے پنجرے کے پاس گیا تو اُس نے کہا کہ ’’میں نے تمہارا پیغام انہیں پہنچادیا تھا‘‘ ۔ طوطے نے پوچھا کہ ’’اُنہوں نے کیا جواب دیا‘‘۔ تاجر نے کہا کہ ’’جب انہوں نے مجھ سے تمہارا پیغام سنا تو پروں کو پھڑپھڑایا اور زمین پر گر کر مرگئے‘‘۔ ابھی تاجر نے اتنا ہی کہا تھا کہ اُس نے دیکھا کہ طوطے نے پنجرے میں پر پھڑپھڑائے اور گر کر مرگیا۔ تاجر کو اُس کی موت کا بہت افسوس ہوا، اُس نے پنجرے کا دروازہ کھولا کیونکہ اِس مردہ طوطے کو پنجرے میں رکھنے کا اب کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اُس نے طوطے کو پنجوں سے پکڑا اور چھت کی طرف اچھال دیا۔ طوطا جیسے ہی ہوا میں اچھلا ، اُس نے فضا میں ہی اپنے پروں کو پھڑپھڑانا شروع کردیا اور دیوار پر جا بیٹھا اور کہنے لگا کہ ’’اے تاجر ، اے میرے دوست، میں تمہارا بہت احسان مند ہوں کہ تم نے خود میری رہائی کے اسباب فراہم کیے۔ میں مرا نہیں تھا بلکہ مردہ بن گیا تھا ! یہ وہ درس تھا کہ جسے ہندوستان کے طوطوں نے مجھے دیا ہے۔ جب وہ متوجہ ہوئے کہ میں یہاں پنجرے میں قید ہوں تو انہوں نے سوچا کہ وہ کس زبان سے کہیں کہ میں کیا کام کروں تاکہ قید سے رہائی حاصل کرسکوں؟ اُنہوں نے عملی طور پر مجھے بتایا کہ یہ کام انجام دوں تاکہ اسیری سے رہائی پاوں! مرجاو تاکہ زندہ ہوسکو ( اور آزادی کی زندگی گذارو)! میں نے اُن کے پیغام کو تمہارے ذریعہ سے سمجھ لیا۔ یہ وہ درس تھا کہ جو ہزاروں میل دور اُس جگہ سے مجھ تک پہنچا اور میں نے اُس درس سے اپنی نجات و آزادی کیلئے اقدام کیا‘‘۔
میں نے اُسی محفل میں تقریباً بیس بائیس سال قبل(۱۳۹۶ ہجر ی ) موجود مرد و خواتین سے عرض کیا کہ محترم سامعین، امام حسین کس زبان سے ہمیں سمجھائیں کہ تم سب کی ذمہ داری کیا ہے؟
امام حسین نے اپنے عظیم عمل سے ذمہ داری کو واضح کردیا
ہمارے زمانے کے حالات ، امام حسین کے زمانے کے حالات جیسے ہیں اور آج کی زندگی ، ویسی ہی زندگی ہے اور اسلام وہی اسلام ہے جو سید الشہدا کے زمانے میں تھا۔ اگر امام حسین سے ایک جملہ بھی نقل نہ کیا جاتا تب بھی ہمیں چاہیے تھا کہ ہم سمجھیں کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
وہ قوم جو اسیر اور غیر ملکی طاقتوں کی زنجیروں میں قید ہے، جس کے اعلی عہدیدار برائیوں کا علی الاعلان ارتکاب کررہے ہیں، وہ قوم کہ جس پر دُشمنان دین حکومت کررہے ہیں اور اُس کی قسمت اور زندگی کے فیصلوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا ہے، لہٰذا تاریخ سے سبق لینا چاہیے کہ اِن حالات میں ذمہ داری کیا ہے۔ چونکہ فرزند پیغمبر ۰ نے عملی طور پر یہ بتادیا ہے کہ اِس قسم کے حالات میں کیا کام کرنا چاہیے۔
یہ درس ، زبان سے نہیں دیا جاسکتا تھا؛ اگر امام حسین اِسی درس کو سو مرتبہ بھی زبان سے کہتے اور عملی طور پر خود تشریف نہیں لے جاتے تو ممکن ہی نہیں تھا کہ آپ کا یہ پیغام صدیوں پر محیط ہوجاتا؛ صرف نصیحت کرنے اور زبانی جمع خرچ سے یہ پیغام صدیوں کا فاصلہ طے نہیں کرپاتا اور تاریخ کے اُسی دور میں ہی دفن ہوجاتا۔ ایسے پیغام کو صدیوں تک پھیلانے اور تاریخ کا سفر طے کرنے کیلئے عمل کی ضرورت تھی اور وہ بھی ایسا عمل کہ جو بہت عظیم ہو، سخت مشکلات کا سامنا کرنے والا ہو، جو ایثار و فداکاری اور عظمت کے ساتھ ہو اور پُر درد بھی ہو کہ جسے صرف امام حسین نے ہی انجام دیا!
حقیقت تو یہ ہے کہ واقعہ کربلا میں روز عاشورا کے سے جو واقعات و حادثات ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں، اُن کیلئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ واقعات و حادثات ، پوری تاریخ بشریت میں اپنی نوعیت کے بے مثل و نظیر واقعات ہیں۔ جس طرح پیغمبر اکرم ۰ نے فرمایا، امیر المومنین نے فرمایا اور امام حسن مجتبی نے فرمایا اور جو کچھ واقعات میں آیا ہے کہ’’لَا يَومَ کَيَومِکَ يَا اَبَا عَبدِ اللّٰهِ ‘‘(۱۳) ،’’اے ابا عبداللہ ! (امام حس ین ) کوئی دن بھی آپ کے دن،( عاشورا، کربلا اور آپ کے اِس حادثے )کی طرح نہیں ہے‘‘۔(۱۴)
مختلف قسم کی ذمہ داریوں میں سے اصلی ذمے داری کی تشخیص
تحریک کربلا میں بہت سے نکات مضمر ہیں کہ اگر امت مسلمہ اور دانشور حضرات و مفکرین اِس سلسلے میں مختلف جہات سے تحقیق کریں جو اِس واقعہ اور اِس سے متعلق قبل و بعد کے امور ، مذہبی زندگی کی راہوں اور مختلف قسم کے حالات میں موجودہ اور آنے والی مسلمان نسلوں کیلئے اُن کے وظائف اور ذمہ داریوں کو مشخص کردیں گے۔
واقعہ کربلا کے درسوں میں سے ایک نہایت ہی اہم نکتہ یہ ہے کہ حضرت سید الشہدا نے تاریخ اسلام کے بہت ہی حساس دور میں مختلف قسم کی ذمہ داریوں میں سے اپنے اصلی اور حقیقی ذمہ داری کہ جو مختلف جہات سے قابل اہمیت تھی ، کو تشخیص دیا اور اُس ذمہ داری کو ادا بھی کیا اور ساتھ ہی آپ اُس امر کی شناخت میں شک وتردید اور توھّم کا شکار نہیں ہوئے کہ جس کی دنیائے اسلام کو اُس وقت اشد ضرورت تھی۔ خود یہ امر وہ چیز ہے کہ جو مختلف زمانوں میں مسلمانوں کی زندگی کیلئے باعث خطرہ بنا ہو اہے، یعنی یہ کہ ایک قوم کی اکثریت ، اُس کے سربراہ و حاکم اور امت مسلمہ کے چیدہ چیدہ اور خاص افراد خاص حالات میں اپنی اصلی ذمہ داری کی شناخت و تشخیص میں غلطی کر بیٹھیں اور وہ یہ نہ جانیں کہ کون سا کام اِس وقت لازمی ہے کہ جسے اِس وقت انجام دینا ضروری ہے اور دوسرے امور کو _ اگر لازمی ہوا_ اِس پر قربان کرنا چاہیے اور وہ یہ تشخیص نہ دے سکیں کہ کون سا امر ثانوی حیثیت کا حامل ہے اور وہ یہ سمجھ نہ سکیں کہ ہر قدم و ہرکام کو اُس کی حیثیت کے مطابق اہمیت دینی چاہیے اور اُسی کے مطابق اُس کیلئے جدوجہد کرنی چاہیے۔
امام حسین کی تحریک کے زمانے میں ایسے افراد بھی تھے کہ اگر اِس بارے میں اُن سے گفتگو کی جاتی کہ ہمیں ہر صورت میں قیام کرنا چاہیے تو وہ سمجھ جاتے کہ اِ س قیام کے نتیجے میں بہت سی مشکلات و مصائب اُن کا انتظار کررہے ہیں تو وہ ثانوی حیثیت والے امور کو توجہ دیتے اور دوسرے درجے کی ذمہ داریوں کی تلاش میں نکل پڑتے! بالکل ایسا ہی ہوا کہ ہم نے دیکھا کہ کچھ افراد نے عیناً یہی کام انجام دیا؛ امام حسین کے ساتھ نہ آنے والے افراد میں بہت سے مومن اور دیندار افراد موجود تھے ، ایسا نہیں تھا کہ نہ آنے والے سب کے سب دنیادارہوں۔
اُس زمانے میں دنیائے اسلام کے بڑے بڑے افراد اور خاص شخصیات میں اہل ایمان ، مومن اور اپنے وظیفے اور ذمہ داریوں پر عمل کرنے کے خواہشمند افراد بھی تھے لیکن وہ اپنی ذمہ داریوں کو تشخیص دینے والی صلاحیت سے عاری تھے اور اُن میں یہ قابلیت نہیں تھی کہ حالات کے دھارے کو سمجھیں یا نوشتہ دیوار پڑھیں اور اپنے اصلی اور حقیقی دشمن کو سمجھیں۔ یہ افراد جوبظاہر مومن اور دیندار تھے اپنے اصلی اور لازم الاجرائ امور اور دوسرے اور تیسرے درجے کے کاموں کی تشخیص میں غلطی کر بیٹھے اور یہ امر اُن بڑی آفت اور بلاؤں سے تعلق رکھتا ہے کہ جس میں امت مسلمہ ہمیشہ گرفتار رہی ہے۔
معاشرتی زندگی اور اُس کی بقا میں حقیقی ذمہ داری کی شناخت کی اہمیت
آج ممکن ہے کہ ہم بھی اِس بلا میں گرفتار ہوجائیں اور اہم ترین افر اور کم اہمیت والے امر کی تشخیص میں غلطی کر بیٹھیں۔ لہٰذا حقیقی ذمہ داری کی شناخت بہت ضروری ہے جو کسی بھی معاشرے کی حیات و بقا میں بہت اہمیت کی حامل ہو تی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ اِس ملک میں استعمار، استبداد اور طاغوتی نظام حکومت کے خلاف میدانِ مبارزہ موجود تھا لیکن بعض ایسے افراد بھی تھے جو اِ س مبارزے اور قیام کو اپنا وظیفہ نہیں سمجھتے تھے اور اُنہوں نے دوسرے امور کو اپنا ہدف بنایا ہوا تھا۔ اگر کوئی اُس وقت کسی جگہ تدریس علم میں مصروف عمل تھا یا کسی کتاب کی تالیف وجمع آوری میں کوشاں تھا ، یا اگر محدود پیمانے پر تبلیغ میں سرگرم عمل تھا یا اگر کسی نے دینی و مذہبی امور کے ساتھ ساتھ مختصر پیمانے پر عوام الناس کی ہدایت کو اپنے ذمہ لیے ہوا تھا تو وہ یہ سوچتا تھا کہ اگر وہ جہاد میں مصروف ہوجائے گا تو یہ سارے امور یونہی ادھورے پڑے رہ جائیں گے ! لہٰذا وہ اِس فکر و خیال کے نتیجے میں اُس عظیم اور اہمیت والے جہاد اور قیام کو ترک کردیتا تھا اور لازم و غیر ضروری یا اہم ترین اور اہم امور کی تشخیص میں غلطی کر بیٹھتا تھا۔
سید الشہدا نے اپنے بیانات سے ہمیں سمجھایا کہ ایسے حالات میں طاغوتی طاقتوں سے مقابلہ اور طاغوتی اور شیطانی قدرت و طاقتوں سے انسانوں کی نجات کیلئے اقدام کرنا دنیائے اسلام کیلئے واجب ترین کاموں میں سے ایک کام ہے۔ واضح ہے کہ سید الشہدا اگر مدینے میں ہی قیام پذیر رہتے تو عوام میں احکام الٰہی اور تعلیمات اہل بیت کی تبلیغ فرماتے اور کچھ افراد کی تربیت کرتے ؛لیکن اگر ایک حادثہ رُونما ہونے کی وجہ سے مثلاً عراق کی طرف حرکت فرماتے تو آپ کو اِن تمام کاموں کو خیر آباد کہنا پڑتا اور اِس حالت میں آپ لوگوں کو نماز اوراحادیث نبوی ۰ کی تعلیم نہیں دے سکتے تھے، آپ کو اپنے درس و مکتب اور تعلیمات کے بیان کو خدا حافظ کہنا پڑتا اور یتیموں ، مفلسوں اور فقرائ کی مدد کہ جو آپ مدینے میں انجام دیتے تھے، سب کو چھوڑنا پڑتا!
اِن تمام امور میں سے ہر ایک ایسا وظیفہ تھا کہ جسے سید الشہدا انجام دے رہے تھے لیکن آپ نے یہ تمام ذمہ داریاں ایک عظیم اور اہم ذمہ داری پر قربان کردی! یہاں تک کہ حج بیت اللہ کو اُس کے آغاز میں کہ جب مسلمان پوری دنیا سے حج کیلئے آرہے تھے، اِس عظیم ترین فریضے پر فدا کردیا، بالآخر وہ ذمہ داری کیا تھی؟
آج واجب ترین کام کیا ہے؟
جیسا کہ خود امام حسین نے۷ فرما یا کہ ظلم و فساد اوربرائی کے نظام سے مقابلہ واجبات میں سے ایک واجب ہے۔’’اُرِیدُ اَن آمُرَ بِالمَعرُوفِ وَ اَنهٰی عَنِ المُنکَرِ وَاُسِیرُ بِسِیرَةِ جَدَّ وَاَبِ ‘‘(۱۵) یا ایک اور خطبے میں آپ نے ارشاد فرمایا:’’اِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ قَد قَالَ فِی حَيَاتِهِ مَن رَآَی سُلطَاناً جَآئِرًا مُستَحِلًّا لِحَرامِ اللّٰهِ نَاکِثًا لِعَهدِ اللّٰهِ ، مُخَالِفًا لِسُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ يَعمَلُ فِی عِبَادِ اللّٰهِ بِالاِثمَ وَالعُدوَانِ ثُمَّ لَم يُغيِّر بِقَولٍ وَلَا فِعلٍ کَانَ حَقًّا عَلٰى اللّٰهِ اَن يَدخُلَهُ مَدخَلَهُ ‘‘(۱۶) یعنی وظیفہ ’’اِغَارَۃ‘‘ ہے یا بہ عبارت دیگر ایسے سلطان ظلم و جور کے خلاف حالات کو تبدیل کرنا کہ جو برائیوں کو عام کررہا ہے اور ایسے نظام حکومت کے خلاف قیام کرنا جو انسانوں کو نابودی اور مادی اور معنوی فنا کی طرف کھینچ رہا ہے۔
یہ تھی امام حسین اِس کی تحریک کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مصداق بھی قرار دیا گیا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری میں حتماً اِن نکات کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ سید الشہدا ایک اہم ترین واجب کی ادائیگی کیلئے اقدام کرتے ہیں اور دوسری بہت سی اہم ذمہ داریوں کو اِس اہم ترین ذمہ داری پر قربان کردیتے ہیں اور اِس بات کو تشخیص کرتے ہیں کہ آج کیا ذمہ داری ہے؟
آج اِس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ ہم دشمن کی شناخت اور اُس سے مقابلے کیلئے ضروری اقدامات میں غلطی کریں!
ہر زمانے میں اسلامی معاشرے کیلئے ایک خاص قسم کی ذمہ داری معین ہے کہ جب دشمن اور باطل قوتوں کا محاذ، عالم اسلام اور مسلمانوں کو اپنے نشانے پر لے آئے تو کیا کیا جا ئے؟ اگر ہم نے دشمن کی شناخت میں غلطی کی اور اُس جہت کو تشخیص نہیں دے سکے کہ جہاں سے اسلام اور مسلمانوں کو خسارہ اٹھانا پڑے گا اور جہاں سے اُن پر حملہ کیا جائے گا تو نتیجے میں ایسا نقصان و خسارہ سامنے آئے گا کہ جس کا ازالہ کرنا ممکن نہیں ہوگا اور بہت بڑی فرصت ہاتھ سے نکل جائے گی۔
بحیثیت امت مسلمہ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ پوری ملت اسلامیہ اور اپنی عوام کیلئے اپنی اِسی ہوشیاری، توجہ، دشمن شناسی اور وظیفے کی تشخیص کو ہر ممکن طریقے سے اعلی درجہ تک پہنچانے کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
آج اسلامی حکومت کی تشکیل اور پرچم اسلام کے لہرائے جانے کے بعد ایسے امکانات اور فرصت کے لمحات مسلمانوں کے اختیار میں ہیں کہ تاریخ اسلام میں اُس کے آغاز سے لے کر آج تک جس کی مثال نہیں ملتی۔ آج ہمیں کوئی حق نہیں کہ شناخت دشمن اور اُس کے حملے کی جہت سے آگاہی میں غلطی کریں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے لے کر آج تک امام خمینی ۲ اور اُن کی راہ پر قدم اٹھانے والی شخصیات کی یہی کوشش رہی ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ موجودہ دنیا میں مسلمانوں، ایران کے اسلامی معاشرے ، حق اور عدل و انصاف کو قائم کرنے میں دشمن کی کون سی سازش اور چال سب سے زیادہ خطرناک ہے!
گذشتہ سالوں کی طرح آج بھی (انقلاب اسلامی کو اُس کے بلند وبالا مقصد و ہدف کی طرف پیش قدمی سے روکنے کیلئے عالمی کفر و استکبار کی طرف سے دشمنی ، حملے اور تمام تر خطرات اپنے عروج پر ہیں! یہ وہ بزرگترین خطرہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو لاحق ہے۔ صحیح ہے کہ ایک معاشرے کے اندرونی اختلافات اور ضعف و کمزوری،دشمن کے حملے کی زمین ہموار کرتے ہیں لیکن دشمن اپنے مد مقابل افراد کی اِسی ضعف و کمزوری کو اپنے تمام تر وسائل اور امکانات کے ساتھ ایک صحیح و سالم معاشرے پر تھونپ دیتا ہے لہٰذا ہمیں اِس بارے میں ہرگز غلطی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ آج اسلامی معاشرے کی حرکت کی جہت کو عالمی استکبار سے مقابلے اور اُس کی بیخ کنی کی جہت میں ہونا چاہیے کہ جس نے اپنے پنجوں کو پوری دنیا ئے اسلام میں گاڑا ہو اہے۔(۱۷)
____________________
۱ بحارالانوار ، جلد ۲ ص ۱۷۰
۲ سورہ مائدہ / ۵۴
۳ جب یہ لوگ دین شناس اور صاحب فہم و ادرک تھے تو اتنی سی بات کیوں نہیں سمجھ سکے جو امام حسین نے سمجھی؟! جواب یہ ہے کہ صحیح ہے کہ یہ لوگ دین شناس تھے مگر چونکہ ایسے حالات کبھی پیش نہیں آئے تھے لہٰذا اُن کے ذہن میں وہ بات نہیں آئی کہ جو امام حسین کے ذہن میں آئی۔(مترجم)
۴ بحار الانوار ، جلد ۴۴، س ۳۲۵
۵ امام حسین نے یہ نہیں فرمایا کہ جب صرف ۶ ۱ ہجری کا یزید مسلمانوں پر مسلط ہوجائے بلکہ آپ نے فرمایا کہ مثل یزید، یعنی یزید جیسا کوئی بھی شخص خواہ وہ ۶ ۱ ہجری یزید ہو یا کسی بھی زمانے کا ظالم و ستمگر ۔واقعہ کربلا میں یزید کی ذات سے نہیں بلکہ یزیدی فکر اور یزیدیت سے جنگ تھی۔ (مترجم)
۶ و ۷ بحار الانوار، جلد ۴۴، ص ۳۲ ۹
۸ حوالہ سابق
۹ بحار الانوار جلد ۴۴، صفحہ ۲۳۵
۱۰ بحار الانوار جلد ۴۴ ، صفحہ ۳۸۲
۱۱ بحار الانوار ج ۴۴، صفحہ ۳۸۱
۱۲ حوالہ سابق
۱۳ بحار الانوار، جلد ۴۵ ، صفحہ ۲۱۸ ۱۴ خطبہ نماز جمعہ، ۱۰ محرم ۱۴۱ ۶ ہجری
۱۵ بحار الانوار، جلد ۴۴، صفحہ ۳۲ ۹ ۱۶ بحار الانوار، جلد ۴۴، صفحہ ۳۸۲
۱۷ علما سے خطاب، ۷/ ۵/۱۳۷۱
قیام کربلا کا فلسفہ
روز اربعین امام حسین کی زیارت میں ایک بہت ہی پُر معنٰی جملہ موجود ہے اور وہ یہ ہےکه’’ وَ بَذَلَ مُهجَتَهُ فِیکَ لِيَستَنقِذَ عِبَادَکَ مِنَ الجَهَالَةِ وَحَیرَةِ الضَّلَالَةِ ‘‘(۱) ،امام حس ین کی فدا کاری اور شہادت کے فلسفے کو اِس ایک جملے میں سمو دیا گیا ہے ۔اِس جملے میں ہم کہتے ہیں کہ ’’بار الھا! تیرے اِس بندے _ حسین ابن علی _ نے اپنے خون کو تیری راہ میں قربان کردیا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت سے باہر نکالے اوراُنہیں گمراہی میں حیرت و سردگردانی سے نجات دے‘‘۔ دیکھئے کہ یہ کتنا پُر معنٰی جملہ ہے اور کتنے ہی عظیم مفاہیم اِس ایک جملے میں موجود ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ بشریت ہمیشہ شیطانی ہاتھوں میں بازیچہ بنی رہی ہے، بڑے چھوٹے شیطانوں کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ اپنے مقاصد تک رسائی کیلئے انسانوں اور قوموں کو قربان کردیں۔ آپ نے تاریخ میں اِن تمام حالات و واقعات کو خود دیکھا ہے اور جابر و ستمگر سلاطین کے حالات زندگی ، قوموں سے اُن کی روش و برتاو ، موجودہ دنیا کی حالت زار اور بڑی طاقتوں کے سلوک کا آپ نے بہ چشم دید مشاہدہ کیا ہے۔ انسان ، شیطانی مکرو فریب کے نشانے پر ہے لہٰذا اِس انسان کی مدد کرنی چاہیے اور بندگان الٰہی کی فریاد رسی کے اسباب فراہم کرنے چاہئیں تاکہ وہ خود کو جہالت کے اندھیروں سے نجات دے سکیں اور حیرت و سرگردانی سے خود کو باہر نکال سکیں۔
وہ کون ہے کہ جو ہلاکت کی طرف گامزن بشریت کی نجات کیلئے اپنے دست نجات کو پھیلائے ؟ وہ لوگ تو اِس سلسلے میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھائیں گے جو اپنی خواہشات نفسانی اور شہوتوں کے اسیر و غلام ہیں کیونکہ یہ لوگ خود گمراہ ہیں،لہٰذا جو لوگ اپنی خواہشات کے اسیر و غلام ہوں وہ بشریت کو کیسے نجات دے سکتے ہیں؟! یہ نجات دہندہ کوئی ایسا فردہو جو اِن سب کو نجات سے ہمکنار کرے یا لطف الٰہی اُن کے شامل حامل ہو اور اُن کا ارادہ مستحکم ہوجائے تاکہ خود کو خواہشات و شہوات کی اسیری کی زنجیروں سے رہائی دلاسکیں۔ وہ ذات جو بشر کو نجات ورہائی دے اُسے درگذر کا مالک ہونا چاہیے تاکہ ایثار و فداکاری سے کام لے سکے اور اپنی شیطانی شہوت و خواہشات کو چھوڑ دے، اپنی انانیت ، خود پرستی، خود خواہی، حرص ، ہوا وہوس، حسد، بُخل اور دیگر برائیوں کی قید سے باہر آکر گمراہی میں سرگرداں بشریت کی نجات کیلئے شمع روشن کرسکے۔
امام حسین کا ہدف اور اُس کی راہ میں حائل رکا وٹیں
کربلا کا خورشید لازوال اگرچہ محرم اور کربلا اور اُس کے عظیم نتائج کے بارے میں بہت زیادہ قیمتی گفتگو کی گئی ہے لیکن زمانہ جتنا جتنا آگے بڑھتا رہتا ہے کربلا کا خورشیدِ منور کہ جسے خورشید شہادت اور غریبانہ و مظلومانہ جہاد کے خورشید سے تعبیرکیا جاسکتا ہے اور جسے حسین ابن علی اور اُن کے اصحاب باوفا نے روشنی بخشی ہے ، پہلے سے زیادہ آشکار ہوتا جاتا ہے اور کربلا کی برکتیں اور فوائد پہلے سے زیادہ جلوہ افروز ہوتے رہتے ہیں۔ جس دن یہ واقعہ رونما ہوا اُس دن سے لے کر آج تک اِس واقعہ کے بنیادی اثرات بتدریج آشکار ہوتے جارہے ہیں۔ اُسی زمانے میں کچھ لوگوں نے اِس بات کو محسوس کیا کہ اُن کے ذمے کچھ وظائف عائد ہوتے ہیں؛ قیام توّابین اور بنی ہاشم و بنی الحسن کے طولانی مقابلے کے واقعات سامنے آئے، یہاں تک کہ بنو امیہ کے خلاف چلائی جانے والی بنو عباس کی تحریک دوسری صدی ہجری کے وسط میں چلائی گئی اور اِس تحریک نے عالم اسلام میں خصوصاً مشرقی ایران و خراسان وغیرہ کی طرف اپنے مبلّغین بھیجے اور یوں اُنہوں نے بنو امیہ کی نسل پرست اور ظالم و مستکبر حکومت کے قلع قمع کیلئے زمین ہموار کی، بالآخر بنو عباس کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ بنو امیہ کے خلاف بنو عباس کی تحریک امام حسین کے نام اور اُن کی مظلومیت کے نام سے شروع کی گئی، آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو مشاہدہ کریں گے کہ جب بنو امیہ کے مبلغین عالم اسلام کے گوشہ و کنار میں گئے تو اُنہوں نے حسین ابن علی کے خون ، اُن کی مظلومیت و شہادت، فرزند پیغمبر ۰ کے خون کے انتقام اور جگر گوشہ فاطمہ زہرا٭ کے سفاکانہ قتل کو بطور حربہ استعمال کیا تاکہ عوام میں اپنی تبلیغ و پیغام کو موثر بناسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے اُن کی بات قبول کی۔ اِس کام کیلئے بنو عباس نے (نفسیاتی جنگ لڑی اور) پانچ سو سال تک اپنے رسمی لباس اور پرچم کا رنگ سیاہ قرار دیا، اُنہوں کالے رنگ کے لباس کو امام حسین کی عزاداری کا رسمی لباس قرار دیا؛ بنو عباس اُس وقت یہ نعرہ لگاتے تھے کہ ’’ھَذَا حِدَادُ آلِ مُحَمَّدٍ ‘‘ ،یہ آل محمد ۰ کی عزاداری کا لباس ہے،بنو عباس نے اپنی تحریک اِس طرح شروع کی اور ایک بڑی تبدیلی کا باعث بنے۔ البتہ یہ لوگ خود منحرف ہوگئے اور بعد میں خود ہی بنو امیہ کے کاموں کو آگے بڑھانے لگے ،یہ سب کربلا کے اثرات اور نتائج ہیںاور پوری تاریخ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ جو کچھ ہمارے زمانے میں وقوع پذیر ہوا وہ اِن سب سے زیادہ تھا، ہمارے زمانے میں ظلم و کفر پورے عالم پر مسلّط ہے اور قانون کی خلاف ورزی، عدل و انصاف کی پائمالی اور ظلم و ستم ایک قانون کی شکل میں بین الاقوامی سطح پر رائج ہے۔
معرفت کربلا، تعلیمات اسلامی کی اوج و بلندی اسلامی تعلیمات اور اقدار کا بہترین خزانہ یہاں ہے اور اِن اقدار و تعلیمات کی اُوج و بلندی ، معرفت کربلا ہے لہٰذا اِس کی قدر کرنی چاہیے اور ہماری خواہش ہے کہ ہم اِن تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ میرے دوستو! اور اے حسین ابن علی پر ایمان رکھنے والو! یہ امام حسین ہی ہیں جو دنیا کو نجات دے سکتے ہیں، صرف شرط یہ ہے کہ ہم کربلا کے چہرے اور اُس کی تعلیمات کو تحریف سے مسخ نہ کریں۔ آپ اِس بات کی ہرگز اجازت نہ دیں کہ تحریفی مفاہیم، خرافات اور بے منطق کام، لوگوں کے چشم و قلب کو سید الشہدا کے چہرہ پُرنور سے دور کردیں؛ ہمیں اِن تحریفات اور خرافات کا مقابلہ کرنا چا ہیے۔
میری مراد صرف دو جملے ہیں؛ ایک یہ کہ خود واقعہ کربلا اور سید الشہدا کی تحریک؛ منبر پر فضائل و مصائب بیان ہونے کی شکل میں اُسی قدیم وروایتی طور پر باقی رہے یعنی شب عاشورااور صبح و روز عاشورا کے واقعات کو بیان کیا جائے۔ عام نوعیت کے حادثات و واقعات حتی بڑے بڑے واقعات، زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تاثیر کھو بیٹھے ہیں لیکن واقعہ کربلا اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ اِسی منبر کی برکت سے آج تک باقی ہے، البتہ کربلا کے واقعات کو مستند طور پر بیان کرنا چاہیے۔ جیسا کہ مقاتل کی کتابوں مثلاً ابن طاوس کے مقتل ’’لہوف‘‘ اور شیخ مفید کی کتاب’’ ارشاد‘‘ میں بیان کیا گیا ہے، نہ کہ اپنی طرف سے جعلی، من گھڑت اور عقل و منطق سے دور (اور اہل بیت کی شان و منزلت کو کم کرنے والی) باتوں کے ذریعہ سے۔ مجلس اور حدیث و خطابت کو حقیقی معنی میں حدیث ۱ و خطابت ہونا چاہیے۔ خطابت، نوحہ خوانی، سلام و مرثیہ خوانی، ذکر مصائب اور ماتم زنی کے وقت کربلا کے واقعات اور سید الشہدا کے ہدف کو بیان کرنا چاہیے۔
امام حسین کے اہداف کا بیان وہ مطالب جو خود امام حسین کے کلمات میں موجود ہیں کہ
’’ما خَرَجتُ اَشِرًا وَلَا بَطَراً وَلَا ظَالِماً وَلَا مُفسِدًا بَل اِنَّمَا خَرَجتُ لِطَلَبِ الاِصلَاحِ فِی اُمَّةِ جَدِّی ‘‘، یا ی ہ جو آپ نے فرمایا کہ’’اَيُّها النَّاسُ اِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ (صَلَّی اللّٰه عَلَیه وآلِه) قَالَ: مَن رَآَی سُلطَاناً جَآئِرًا مُستَحِلًّا لِحَرامِ اللّٰهِ نَاکِثًا لِعَهدِ اللّٰهِ ، مُخَالِفًا لِسُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ يَعمَلُ فِی عِبَادِ اللّٰهِ بِالاِثمَ وَالعُدوَانِ ثُمَّ لَم يُغيِّر بِقَولٍ وَلَافِعلٍ کَانَ حَقًّا عَلٰى اللّٰهِ اَن يَدخُلَهُ مَدخَلَهُ ‘‘۔ آپ کا یہ حدیث نقل فرمانا خود ایک درس ہے یا یہ کہ آپ نے
نے یہ فر ما یا کہ ’’فمن کان با ذلاً فینا مھجتہ و موطناًعلی لقا ئِ اللہ نفسہ فلیر حل معنا‘‘،یہاں امام ملاقات خدا سے ملاقات کی گفتگو کررہے ہیں اور آپ کا ہدف،وہی خلقت بشر کا ہدف ہے یعنی ملاقات خدا۔’’یاَيُّهَا الاِنسَانُ اِنَّکَ کَادِح? اِلٰی رَبِّکَ کَدحًا فَمُلَا قِیهِ ‘‘،’’اے انسان!تجھے اپنے پرودگار کی
طرف سختیوں کے ساتھ سفر کرنا ہے اُس کے بعد تو اُس سے ملاقات کرے گا‘‘، اِن تمام زحمتوں اور سختیوں کا ہدف خدا سے ملاقات (فَمُلَاقِیہِ)ہے۔ جو بھی ملاقات خدا کیلئے تیار ہے اور اُس نے لقائ اللہ کیلئے اپنے نفس کو آمادہ کرلیا ہے،’’فَليَرحَل مَعَنَا ‘‘ ، ’’تو اُسے چاہیے کہ وہ ہمارے ساتھ چلے ‘‘؛اُسے حسین ابن علی کے ساتھ قدم بقدم ہوناچاہیے اور ایسا شخص گھر میں نہیں بیٹھ سکتا۔ اِن حالات میں دنیا اور اُس کی لذتوں سے لطف اندوز نہیں ہوا جاسکتا اور نہ ہی راہ حسین ابن علی سے غافل ہوا جاسکتا ہے لہٰذاہمیں ہر صورت میںامام حسین کے ساتھ ہمراہ ہونا پڑے گا۔ امام عالی مقام کے ساتھ ساتھ یہ قدم اٹھانااور اُن کے ہمراہ ہونا دراصل ہمارے اپنے اندرکی دنیایعنی نفس اور تہذیب نفس سے شروع ہوتا ہے اور اِس کا دائرہ معاشرے اور دنیا تک پھیل جاتا ہے لہٰذا اِن تمام باتوں کو بیان کرنا چاہیے۔ یہ سب سید الشہدا کے اہداف اور حسینی تحریک کا خلاصہ ہے۔(۲)
فداکاری اور بصیرت ، دفاع دین کے لازمی اصول
کربلا اپنے دامن میں بہت سے پیغاموں اور درسوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ کربلا کا درس یہ ہے کہ دین کی حفاظت کیلئے فداکاری سے کام لینا چاہیے اور راہ قرآن میں کسی چیز کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ کربلا ہمیں درس دیتی ہے کہ حق و باطل کے میدانِ نبرد میں سب کے سب، چھوٹے بڑے ، مردو زن، پیر وجوان، باشرف و حقیر، امام اور رعایا سب ایک ہی صف میں میں کھڑے ہوجائیں اور یہ جان لیں کہ دشمن اپنی تمام ترظاہری طاقت و اسلحے کے باوجود اندر سے بہت کمزور ہے۔ جیسا کہ بنو امیہ کے محاذ نے اسیرانِ کربلا کے قافلےکے ہاتھوں کوفہ، شام اور مدینے میں نقصان اٹھایا اور سفیانی محاذ کی مانند شکست و نابودی اُس کا مقدر بنی۔
کربلا ہمیں درس دیتی ہے کہ دفاعِ دین کے میدان میں انسان کیلئے سب سے زیادہ اہم اور ضروری چیز ’’لازمی بصیرت‘‘ ہے۔ بے بصیرت افراد دھوکہ و فریب کا شکار ہوکرباطل طاقتوں کا حصہ بن جاتے ہیں اور اُنہیں خودبھی اِس بات کا شعور نہیں ہوتا؛ جیسا کہ ابن زیاد کے ساتھ بہت سے ایسے افراد تھے کہ جو فاسق و فاجر نہیں تھے لیکن وہ بصیرت سے خالی تھے۔یہ سب کربلا کے درس ہیں؛ البتہ یہی تمام درس کافی ہیں کہ ایک قوم کو ذلت کی پستیوں سے نکال کر عزت کی بلندیوںتک پہنچادیں۔ اِن درسوں میں اتنی قدرت ہے کہ یہ کفر و استکبار کو شکست سے دوچار کرسکتے ہیںکیونکہ یہ سب تعمیر زندگی کے درس ہیں ۔(۳)
حسینی ثبات قدم ا ور استقامت
سید الشہدا کے ثبات قدم اور اُن کی استقامت کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اُنہوں نے اِس بات کا قطعی فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ یزید اور اُس کی ظالم و جابر حکومت کے سامنے ہرگز تسلیم نہیں ہوں گے۔ امام حسین کا مقابلہ یہیںسے شروع ہوتا ہے کہ ایک فاسق و فاجر نظام حکومت کے مقابل اپنے سر کو ہرگز خم نہ کیا جائے کہ جس نے دین کو بالکل تبدیل کردیا تھا۔ امام نے مدینے سے اِسی نیت و قصد کے ساتھ حرکت کی تھی؛ مکہ پہنچنے کے بعد جب آپ نے اِس بات کا احساس کیا کہ کچھ یار و مددگار آپ کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں تو آپ نے اپنے اِس قصد و نیت کے ساتھ ساتھ قیام کو بھی ہمراہ کرلیا۔ اگر آپ کویہ یارو اصحاب نہ بھی ملتے تب بھی آپ کی تحریک کا اصل مقصد ایک ایسی حکومت کے خلاف اعتراض کرنا اور اُس سے مقابلہ تھا کہ جو امام کے نزدیک اسلامی اصولوں کے مطابق ناقابل تحمل اور ناقابل قبول تھی۔ سید الشہدا کا سب سے پہلا اقدام یہ تھا کہ آپ اِس حکومت کے سامنے کھڑے ہوگئے؛ اِس قیام کے بعد امام حسین ایک کے بعد دوسری مشکلات کا سامنا کرنے لگے،چناچہ آپ کو ناگزیر طور پر مکہ سے نکلنا پڑا اور اِس کے بعد کربلا میں آپ کا محاصرہ کرلیا گیا۔ اِس کے بعد کربلا کا وہ دلخراش واقعہ پیس آیا کہ جس میں امام حسین کو مصائب نے سب سے زیادہ نشانہ بنایا۔
شرعی عذر، انسان کی راہ کی رکاوٹ
اُن من جملہ چیزوں میں سے جو انسان کو عظیم اہداف تک رسائی سے روک دیتے ہیں، ایک شرعی عذر ہے۔ انسان کو چاہیے کہ شرعی واجبات اور ذمہ داریوں کو انجام دے، لیکن جب ایک کام میں ایک بہت بڑا احتمال یا اعتراض واردہوجائے مثلاً اِس کام کی انجام دہی میں بہت سے افراد قتل کردیئے جائیں گے تو اِن حالات میں انسان یہ سوچتا ہے کہ اُس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے اِس لیے کہ درمیان میں سینکڑوں بے گناہ افراد کی جانوں کا معاملہ ہے۔ آپ ملاحظہ کیجئے کہ سید الشہدا کے سامنے بھی ایسے بہت سے شرعی عُذر ایک ایک کرکے ظاہر ہوتے رہے کہ جو ایک سطحی نگاہ رکھنے والے انسان کو اُس کے راستے سے ہٹانے کیلئے کافی تھے۔
سب سے پہلا شرعی عذر ، کوفہ کے لوگوں کا پلٹ جانا اور حضرت مسلم کا قتل تھا۔ یہاں امام حسین کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ اب شرعی عذر آگیا ہے اور جن لوگوں نے خود دعوت دی تھی اُنہوں نے خود ہی اپنا رُخ موڑ لیا لہٰذا اب کوئی کام واجب نہیں اور ذمہ داری ساقط ہو گئی ہے۔ ہم یہ چاہتے تھے کہ یزیدکی بیعت نہ کریں لیکن اب حالات کا رُخ کچھ اور ہے اور اِن اوضاع و احوال میں یہ کام انجام نہیں دیا جاسکتا اور لوگ بھی اِ س چیز کو برداشت نہیں کرسکتے، چنانچہ اب ہماری ذمہ داری ساقط ہے اور ہمارے پاس اب یزید کی بیعت کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں۔
دوسرا سامنے آنے والا شرعی عذرخود واقعہ کربلا ہے؛ اِس مقام پر بھی سید الشہدا ایک مسئلے کے روبرو ہونے کی بنا پر جذباتی انداز سے اس مسئلے کو حل کرسکتے تھے اور یہ کہتے کہ اِن خواتین اور بچوں میں اِس تپتے ہوئے صحرا کی گرمی اور سورج کی تمازت برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے ، لہٰذا اب اِن حالات میں ہم پرکوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے اور اُنہوں نے جس چیز کو ابھی تک قبول نہیں کیا تھا اِن حالات اور عذر شرعی کی بنا پر قبول کرلیتے۔
تیسر عذرشرعی اُس وقت سامنے آیا کہ جب خود واقعہ کربلا میں روز عاشورا کا سورج طلوع ہوا اور دشمن نے حملہ کرنا شروع کیا تو اِس جنگ میں امام حسین کے بہت سے اصحاب شہید ہوگئے۔ اِس مقام پر بھی بہت سی مشکلات نے امام حسین کو آگھیرا تو آپ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اب حالات نے رُخ موڑ لیا ہے اور اب اِس مقابلے کو جاری نہیں رکھا جاسکتا لہٰذا اب عقب نشینی کرنی چاہیے۔
چوتھا عذرشرعی اُس وقت پیش آیا کہ اُس وقت کہ جب آپ کو یقین ہوگیا کہ آپ شہید کر دیئے جائیں گے اورآپ کی شہادت کے بعد آل رسول ۰ اور آل علی کو نامحرموں کے درمیان قیدی بناکر صحرائے کربلا میں تنہا رہنا پڑے گا۔ یہاں عزت و ناموس کا مسئلہ پیش تھا لہٰذا سید الشہدا یہاں بھی ایک غیرت مند انسان کی طرح یہ کہہ سکتے تھے کہ اب عزت و ناموس کا مسئلہ درپیش ہے لہٰذا اب تو ذمہ داری بالکل ہی ساقط ہے اگر ہم اب بھی اِسی مقابلے کی راہ پر قدم اٹھائیں اور قتل ہوجائیں تو نتیجے میں خاندان نبوت اور آل علی کی خواتین اور بیٹیاں اور عالم اسلام کی پاکیزہ ترین ہستیاں ایسے دشمنوں کے ہاتھوں قیدی بن جائیں گی کہ جو عزت و شرف اورناموس کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں لہٰذا حالات میں ذمہ داری ساقط ہے۔
محترم بھائیو اور بہنو! توجہ کیجئے، یہ بہت ہی اہم مطلب ہے لہٰذا اِس نظر وزاویے سے واقعہ کربلا میں بہت سنجیدگی سے غوروفکر کرنا چاہیے کہ اگر امام حسین شہادت حضرت علی اصغر ، بچوں کی تشنگی، جوانان بنی ہاشم کے قتل ، خاندان رسول ۰ کی خواتینِ عصمت و طہارت کی اسیری جیسے دیگر تلخ اور دشوار حالات و مصائب کے مقابلے میں ایک معمولی دیندار انسان کی حیثیت سے بھی نگاہ کرتے تو اپنے عظیم ہدف اور پیغام کو فراموش کردیتے؛ وہ کوفہ میں حضرت مسلم کی شہادت اور اُس کے بعد رُونما ہونے حالات سے لے کر روزِ عاشورا کے مختلف حوادث تک قدم قدم پر عقب نشینی کرسکتے تھے اور وہ یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ اب ہماری کوئی شرعی ذمہ داری نہیں ہے، بس اب ہمارے پاس یزید کی بیعت کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ ’’اَلضَّرُورَاتُ تُبِیحُ المَعذُورَاتِ‘‘، وقت اور ضرورت ہر چیز کو اپنے لیے مباح اور جائز بنالیتے ہیں لیکن امام حسین نے ایسا ہرگز نہیں کیا ۔ یہ ہے امام حسین کا راہ خدا میں ثباتِ قدم او راستقامت !
شرعی عذر سے مقابلے میں استقامت کی ضرورت!
استقامت کا معنی یہ نہیں ہے کہ انسان ہر جگہ مشکلات و سختیوں کو برداشت کرے اور صبر سے کام لے۔ عظیم اور بڑے انسانوں کیلئے مشکلات کو تحمل کرنا اُن چیزوں کی نسبت آسان ہے جو شرعی، عرفی اور عقلی اصول ، قوانین کی روشنی میں ممکن ہے کہ مصلحت کے خلاف نظر آئیں لہٰذا ایسے امور کو تحمل اور برداشت کرنا عام نوعیت کی مشکلات اور سختیوں پر تحمل سے زیادہ دشوار اور مشکل ہے۔
ایک وقت ایک انسان سے کہا جاتا ہے کہ اِس راہ پر قدم نہ اٹھاو ورنہ تم کو شکنجہ کیا جائے اور تم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؛ وہ مضبوط ارادے کا مالک انسان یہ کہتا ہے کہ مجھے مختلف قسم کے شکنجوں کا سامنا کرنے پڑے گا تو اِس میں کیا بات ہے؟! اپنے سفر کو جاری رکھوں گا یا ایک آدمی سے کہا جاتا ہے کہ یہ کام نہ کرو ، ممکن ہے کہ اس کام کی انجام دہی کے نتیجے میں تم قتل کردیے جاو۔ مضبوط عزم و ارادے والایہ انسان کہتا ہے کہ قتل کردیا جاوں تو کردیا جاوں، اِس میں کیا خاص بات ہے؟ میں اپنے ہدف کی خاطر موت کو بھی خوشی خوشی گلے لگالوں گا لہٰذا میں اپنے سفر کو جاری رکھوں گا۔ ایک وقت انسان سے قتل ہونے ، شکنجہ ہونے اور مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے کی بات نہیں کی جاتی بلکہ اُ س سے کہا جاتا ہے کہ یہ کام انجام نہ دو کیونکہ ممکن ہے کہ تمہارے اِس فعل کی وجہ سے دسیوں لوگوں کا خون بہایا جائے، یہاں تمہاری اپنی ذات کا مسئلہ نہیں بلکہ دوسروں کی جانوں کا معاملہ درپیش ہے چنانچہ تم نہ جاو، ممکن ہے کہ تمہارے اِس فعل کے نتیجے میں بہت سی خواتین ، مرد اور بچے سختی اور پریشانیوں کا شکار ہوجائیں ۔ یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں اُن افراد کے پاوں لڑکھڑانے لگتے ہیں کہ جن کیلئے اپنے مقصد کے حصول کی راہ میں قتل ہونا کوئی اہم بات نہیں ہے۔ لہٰذا اِس مقام پر کسی کے پاوں نہیں لڑکھڑاتے تو اُسے سب سے پہلے مرحلے میں انتہائی اعلی درجے کی بصیرت کا مالک ہونا چاہیے اور وہ یہ سمجھے کہ وہ کیا بڑا کام انجام دے رہا ہے ۔ دوسرے مرحلے میں اُسے انتہائی قدرت نفس کا مالک ہونا چاہیے تاکہ اُس کا اندرونی خوف و ضُعف اُس کے پاوں کی زنجیر نہ بن جائے ۔ یہ وہ دو خصوصیات ہیں کہ جنہیں امام حسین نے کربلا میں عملی طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا ایک تابناک اور روشن خورشید کی مانند پوری تاریخ پر جگمگا رہا ہے، یہ خورشید آج بھی اپنی کرنیں بکھیررہا ہے اور تاقیامت اسی طرح نور افشانی کرتا رہے گا۔(۴)
___________________
۱ زیارت اربعین، مفاتیح الجنان
۲حدیث سے مراد نئی با ت؛یعنی مراد یہ ہے کہ حدیث اور خطابت میں تعلیمات وقرآن واہل بیت کے نئے علمی مطالب، گوشوں ،زاویوں اور نئے پہلووں کو سامعین کے سامنے بیان کرنا چاہیے،جو اُن کی دینی معلومات میں اضا فے کے ساتھ ساتھ اُ ن کے ایمان ویقین کی پختگی کا سبب بنے۔(مترجم)
۳ آمد محرم پر علما، مبلغین اور نوحہ خواں حضرات سے خطاب ۳/ ۳/ ۱۳۷۴
۴ کمانڈروں اور مقاومت فورس کے ماتمی دستوں سے خطاب ۲۲/ ۴/ ۱۳۷۱
کربلا اور عبرتیں
کربلا،جائے عبرت
کربلا درس وسبق لینے کے علاوہ ایک جائے عبرت بھی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اِس واقعہ کو غور سے دیکھے تاکہ وہ عبرت حاصل کرسکے۔ کربلا سے عبرت لینے کا کیا مطلب ہے؟ یعنی تاریخ کا قاری اپنے آپ کا اُن حالات اور نشیب و فراز سے موازنہ کرے تاکہ وہ دیکھے کس حال و وضع میں ہے، کون سا امر اُس کیلئے خطرے کا باعث ہے اور کس امر کی انجام دہی اُس کیلئے لازمی و ضروری ہے ؟ اِسے عبرت لینا کہتے ہیں۔ یعنی آپ ایک راستے سے گزر رہے ہیں تو آپ نے ایک گاڑی کو دیکھا کہ جو الٹ گئی ہے یا اُس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہے، وہ نقصان سے دوچار ہوئی ہے اور نتیجے میں اُس کے مسافر ہلاک ہوگئے ہیں۔ آپ وہاں رک کر نگاہ کرتے ہیں، اِ س لیے کہ اِس حادثے سے عبرت لیں تاکہ یہ معلوم ہو کہ تیز رفتاری اور غیر محتاط ڈرائیونگ کا انجام یہ حادثہ ہوتا ہے ۔ یہ بھی درس و سبق لینا ہے لیکن یہ درس از راہ عبرت ہے لہٰذا اِ س جہت سے واقعہ کربلا میں غور وفکر کرنا چاہیے۔(۱)
پہلی عبرت:مسلمانوں کے ہا تھوں نواسہ رسول ۰ کی شہادت!
واقعہ کربلا میں پہلی عبرت جو ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ پیغمبر اکرم ۰
کے وصال کے بعد اسلامی معاشرے میں وہ کون سے حالات وقوع پذیر ہوئے کہ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ امام حسین جیسی شخصیت، اسلامی معاشرے کی نجات کیلئے ایسی فدا کاری کی زندہ مثال قائم کرے۔ اگر ایسا ہوتا کہ امام حسین رسول اکرم ۰ کی وفات کے ایک ہزار سال بعد اسلامی ممالک میں اسلام کی مخالف و معاند اقوام کے اصلاح و تربیت کیلئے ایسی فداکاری کرتے تو یہ ایک الگ بات ہے لیکن یہاں امام حسین وحی کے مرکزیعنی مکہ و مدینہ جیسے عظیم اسلامی شہروںمیں انقطاعِ وحی کہ پچاس سال بعد ایسے اوضاع و حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ اُن کی اصلاح کیلئے اپنی جان کو فداکرنے اور قربانی دینے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں پاتے! مگر وہ کون سے حالات تھے کہ جن کیلئے امام حسین نے یہ احساس کیا کہ فقط اپنی جان کی قربانی ہی کے ذریعہ اسلام کو زندہ کرنا ممکن ہے واِلَّا سمجھو کہ پانی سر سے گزر گیا! عبرت کا مقام یہ ہے۔
ایسا اسلامی معاشرہ کہ جس کے رہبر اور پیغمبر ۰ مکۃ و مدینہ میں بیٹھ کر اسلام کے پرچم کو مسلمانوں کے ہاتھوں میں دیتے تھے اور وہ جزیرۃ العرب کے کونے کونے میں جاتے اور شام و ایران و روم اُن کے وجود سے کپکپاتے تھے اور انہیں دیکھتے ہی فرار کرجانے میں اپنی غنیمت سمجھتے تھے، یوں مسلمان فاتحانہ اندار میں واپس لوٹتے تھے؛ بالکل جنگ تبوک کی مانند۔ یہی اسلامی معاشرہ تھا کہ جس کی مسجدوں اور کوچہ و بازار میں تلاوت قرآن کی صدا ئیںبلند ہوتی تھی اور پیغمبر اکرم ۰ بہ نفس نفیس خود اپنی تاثیر گزار صدا اور لحن سے آیات الٰہی کو لوگوں کیلئے تلاوت کرتے تھے اور عوام کو ہدایت کے ذریعہ انہیں بہت تیزی سے راہ ہدایت پر گامزن کرتے تھے۔
اب پچاس سال بعد کیا ہوگیا کہ یہی معاشرہ اور یہی شہر، اسلام سے اتنے دور ہوگئے کہ حسین ابن علی جیسی ہستی یہ دیکھتی ہے کہ اس معاشرے کی اصلاح و معالجہ ، سوائے قربانی کے کسی اور چیز سے ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قربانی پوری تاریخ میں اپنی مثل و نظیر نہیں رکھتی ہے۔ آخر کیا وجوہات تھیں اور کیا علل و اسباب تھے کہ جو اِن حالات کا پیش خیمہ بنے؟ مقام عبرت یہ ہے ۔
دوسری عبرت :اسلامی معاشرے کی آفت وبیماری
موجودہ زمانے میں ہمیں چاہیے کہ اِس جہت و زاویے سے غور وفکر کریں۔ آج ہم بھی ایک اسلامی معاشرہ رکھتے ہیں،ہمیں تحقیق کرنی چاہیے کہ اُس اسلامی معاشرے کو کون سی آفت و بلا نے آگھیرا تھا کہ جس کے نتیجے میں یزید اُس کا حاکم بن بیٹھا تھا ( اور لوگ اُسے دیکھتے اور جانتے بوجھتے ہوئے بھی خاموش تھے)؟ آخر کیا ہوا کہ امیر المومنین کی شہادت کے بیس سال بعد اُسی شہر میں کہ جہاں امیر المومنین حکومت کرتے تھے اور جو آپ کی حکومت کا مرکز تھا، اولاد علی کے سروں کو نیزوں پر بلند کرکے پھرایا جاتا ہے (اور آل نبی ۰ کی خواتین کو قیدی بناکر اُسی شہر کے بازاروں اور درباروں میں لایا جاتا ہے)؟ !
کوفہ کو ئی دین سے بیگانہ شہر نہیں تھا، یہ کوفہ وہی شہر ہے کہ جہاں کے بازاروں میں امیر المومنین اپنے دور حکومت میں تازیانہ اٹھا کر چلتے تھے اور مسلمانوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کرتے تھے؛ رات کی تاریکی میں غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرتے ، پردئہ شب میں مسجد کوفہ میں علی کی مناجات اور صدائے تلاوت قرآن بلند ہوتی تھی اورآپ دن کی روشنی میں ایک مقتدر قاضی کی مانند حکومت کی باگ دوڑ کو سنبھالتے تھے۔ آج اکسٹھ ہجری میں یہ وہی کوفہ ہے کہ جہاں آل علی کی خواتین کو قیدی بناکر بازاروں میں پھرایا جارہا ہے!!اِن بیس سالوں میں یہ کیا ہوا تھا کہ حالات یہاں تک پہنچ گئے تھے!
۱۔ اصل ی عامل؛معاشرتی سطح پر پھیلنے والی گمراہی اور انحراف
اگر ایک معاشرے میں ایک بیماری موجود ہو تو وہ بیماری اُس معاشرے کوکہ جس کے حاکم پیغمبر اکرم ۰ اور امیر المومنین جیسی ہستیاںہیں، صرف چند دہائیوں میں اُن خاص حالات سے دوچار کردے تو سمجھنالیناچاہیے کہ یہ بیماری بہت ہی خطرناک ہے، لہٰذا ہمیں بھی اِس بیماری سے ڈرنا اور خوف کھانا چاہیے۔
امام خمینی ۲ جو خود کو پیغمبر اکرم ۰ کے شاگردوں میں سے ایک ادنی شاگرد سمجھتے تھے ، اُن کیلئے یہ با ت باعث فخر تھی کہ وہ پیغمبر اکرم ۰ کے احکامات کا ادراک کریں، اُن پر عمل کریں اور اُن کی تبلیغ کریں۔ امام خمینی ۲ کجا اور حضرت ختمی مرتبت ۰ کجا! اُس معاشرے کے موسس و بانی خود پیغمبر اکرم ۰ تھے کہ جو آپ ۰ کے وصال کے چند سالوں بعد ہی اِس بیماری میں مبتلا ہوگیا تھا۔ ہمارے معاشرے کو بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ کہیں اُس بیماری میں مبتلا نہ ہوجائے، یہ ہے عبرت کا مقام! ہمیں چاہیے کہ اُس بیماری کو پہچانیں (کہ اُس کی کیا علامات ہیں، اُس کے نتائج کیا ہیں اور بیمار بدن آخر میں کس حالت سے دوچار ہوتا ہے) اور اِس سے دوری و اجتناب کریں ۔
میری نظر میں کربلا کا یہ پیغام، کربلا کے دوسرے پیغاموں اورد رسوں سے زیادہ آج ہمارے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ہمیں اُن علل و اسباب کو تلاش کرنا چاہیے کہ جس کی وجہ سے اُس معاشرے پر ایسی بلا نازل ہوئی تھی کہ دنیائے اسلام کی عظیم ترین شخصیت اور خلیفہ مسلمین حضرت علی ابن ابیطالب کے فرزند حسین ابن علی کے بریدہ سر کو اُسی شہر میں کہ جہاں اُن کے والد حکومت کرتے تھے، پھرایا جائے اور کوئی بھی صدائے احتجاج بلند نہ کرے! اُسی شہر سے کچھ افراد کربلا جائیں اورنواسہ رسول ۰ اور اُس کے اہل بیت اصحاب کو تشنہ لب شہید کردیں اور حرم امیر المومنین کو قیدی بنائیں!
اِس موضوع میں بہت زیادہ گفتگو کی گنجائش موجود ہے۔ میں اِس سوال کے جواب میں صرف ایک آیت قرآن کی تلاوت کروں گا۔ قرآن نے اِس جواب کو اِس طرح بیان کیا ہے اور اُس بیماری کو مسلمانوں کیلئے اِس انداز سے پیش کیا ہے اور وہ آیت یہ ہے۔ ’’فَخَلَفَ مِن بَعدِهِم خَلف اَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهوَاتَ فَسَوفَ يَلقَونَ غَيًّا ‘‘(۲) ،’’اور اُن کے بعد ا یک ایسی نسل آئی کہ جس نے نماز کو ضایع کیا اور شہوات و خواہشات کی پیروی کی تو یہ لوگ بہت جلد اپنی گمراہی کا نتیجہ دیکھیں گے‘‘۔
گمراہی اور انحراف کی اصل وجہ؛
ذکرخدا ا ور معنویت سے دوری اور خواہشات کی پیروی
اِس گمراہی اورعمومی سطح کے انحراف کے دوعامل اور عنصر ہیں؛ ایک ذکرِ خد سے دوری کہ جس کا مظہر نماز ہے، یعنی خدا اور معنویت کو فراموش کرنا، معنویت و روحانیت کو زندگی سے نکال دینا، خدا کی طرف توجہ، ذکر ، دعا و
توسل ، خدا کی بارگاہ میں طلب و تضرّع و زاری، توکّل اور خدائی حساب کتاب کو زندگی سے باہر نکال پھینکنا اور دوسرا عنصر’’وَاتَّبَعُوا الشَّهوَاتَ ‘‘ شہوت رانی کے پیچھے جانا ، ہوا و ہوس اور خواہشات کی پیروی یا با الفاظ دیگر دنیا طلبی، مال وثروت کی جمع آوری کی فکر میں پڑنا اور لذات دنیوی سے لُطف اندو زہو کرخداو قیامت کو فراموش کردینااور اِن سب امور کو ’’اصل‘‘ جاننا اور ہدف و مقصد کو فراموش کردینا۔
اصلی اور بنیادی درد: ہدف کے حصول کی تڑپ کا دل سے نکل جانا
یہ ہے اُس معاشرے کا بنیادی اور اصلی درد و تکلیف ؛ ممکن ہے ہم بھی اِس درد و بیماری میں مبتلا ہوجائیں۔
اگر ہدف کے حصول کی لگن و تڑپ اسلامی معاشرے سے ختم ہوجائے یا ضعیف ہوجائے ،اگر ہم میں سے ہر شخص کی فکر یہ ہو کہ وہ اپنا اُلّو سیدھا کرے، ہم دنیا کی دوڑ میں دوسروں سے کہیں عقب نہ رہ جائیں، دوسروں نے اپنی جیبوں کو بھرا ہے اور ہم بھی دونوں ہاتھ پھیلا پھیلا کر جمع کریں گے جب معاشرے کے افراداپنے انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات پر ترجیح دیں توظاہر سی بات ہے کہ اِس قسم کی تاویلات سے معاشرہ اجتماعی سطح پر اِس قسم کی بلاوں سے دُچار ہوگا۔
اسلامی نظام، عمیق ایمانوں ، بلند ہمتوں ، آہنی عزموں ، بلند و بالا اہداف کی رہائی کیلئے با مقصد شِعَاروں کو بیان کرنے اور اُنہیں اہمیت دینے اور زندہ رکھنے سے وجود میں آتا ہے، اِنہی امور کے ذریعہ اُس کی حفاظت کی جاتی ہے اوروہ اِسی راہ کے ذریعہ ترقی و پیش رفت کرتا ہے۔ اِن شِعَاروں کو کم رنگ کرنے، اُنہیں کم اہمیت شمار کرنے، انقلاب و اسلام کے اصول و قوانین سے بے اعتنائی برتنے اور تمام امور اور چیزوں کو مادّیت کی نگاہ سے دیکھنے اور سمجھنے کے نتیجے میں معلوم ہے کہ معاشرہ ایسے مقام پر جا پہنچے گا کہ اُس کی اجتماعی صورتحال یہی ہوگی۔اوائلِ اسلام میں بھی معاشرہ اِسی حالت سے دوچار تھا۔
جب خلافت کے معیار و میزان تبدیل ہوجائیں!
ایک وہ زمانہ تھا کہ جب مسلمانوں کیلئے تمام شعبہ ہائے زندگی میں اسلام کی پیش رفت، ہر قیمت پر رضائے الٰہی کا حصول، اسلامی تعلیمات کا فروغ اور قرآن و قرآنی تعلیمات سے آشنائی ضروری و لازمی تھی۔ حکومتی نظام اور تمام محکمے و ادارے ، زھد و تقوی کے حصول میں کو شاںاور دنیا و مافیھا اور خواہشات نفسانی سے بے اعتنائی برتنے کے سائے میں پیش پیش تھے۔ اِنہی حالات میں علی ابن ابیطالب جیسی ہستی خلیفہ بنتی ہے اور حسین ابن علی ایک ممتاز شخصیت کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اِس لیے کہ اِن ہستیوں میں دوسروں سے زیادہ ہدایت و راہنمائی اور امامت و خلافت کے معیارات وجود رکھتے تھے۔
جب تقوی، دُنیا سے بے اعتنائی اور راہ خدا میں جہاد؛ امامت و خلافت کا معیار ہوں اور ایسے افراد جو اِن صلاحیتوں کے مالک ہوں ، حکومتی باگ ڈور سنبھالیں اور زمام کار کو اپنے ہاتھوں میں لیں تو معاشرہ، اسلامی معاشرہ ہوگا۔ لیکن جب امامت و خلافت کے انتخاب کے معیار ہی تبدیل ہوجائیں اور سب سے زیادہ دنیا طلب ، سب سے زیادہ شہوتوں اور خواہشات کا اسیر و غلام ، شخصی منافع کو جمع کرنے کیلئے سب سے زیادہ عیار و چالاک اور حیلہ گر اور دوسروں کی نسبت صداقت و سچائی سے بیگانہ و ناآشنا فرد حکومت کی باگ ڈور سنبھالے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ عمر ابن سعد، شمر اور عبید اللہ ابن زیاد جیسے افراد زیادہ ہوں گے اور حسین ابن علی جیسے افراد کو مقتل میں بے دردی سے قتل کردیا جائے گا۔
دلوں میں تڑپ رکھنے والے افراد، معیاروں کو تبدیل نہ ہونے دیں
یہ دو جمع دواور چار کا قاعدہ ہے ۔ لہٰذا دلوں میں میں تڑپ رکھنے والے افراد اِس بات کا موقع ہی نہ آنے دیں کہ معاشرے میں خدا کی طرف سے مقرر کیے گئے معیار اور اقدار تبدیل ہوں۔ اگر انتخابِ خلیفہ کیلئے تقوی کا معیار معاشرے میں تبدیل کردیا جائے تو ظاہر سی بات ہے کہ حسین ابن علی جیسی با تقوی ہستی کا خون آسانی سے بہایا جاسکتا ہے۔ اگر امّت کی زِعامت و ہدایت کیلئے دنیاوی امور میں عیاری ومکاری، چاپلوسی، کوتاہی، ناانصافی، دروغگوئی اور اسلامی اقدار سے بے اعتنائی ، معیار بن جائے تو معلوم ہے کہ یزید جیسا شخص تخت سلطنت پر براجمان ہوجائے گا اور عبید اللہ ابن زیاد جیسا انسان ، عراق کی شخصیت اوّل قرار پائے گا۔ اسلام کا کام ہی یہ تھا کہ (زمانہ جاہلیت کے) اِن معیاروں کو تبدیل کرے اور ہمارے اسلامی انقلاب کا بھی ایک مقصد یہ تھا کہ بین الاقوامی سطح پر معروف و رائج باطل ،غلط اورمادّی معیاروں کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے اور اُنہیں تبدیل کردے۔
آج کی دُنیا، کذب و دروغ، ظلم و ستم، شہوت پرستی اور معنوی اقدار پر مادی اقدار کو ترجیح دینے کی دُنیا ہے؛ یہ ہے آج کی دنیا اور اِس کی یہ روش صرف آج سے مخصوص نہیں ہے، دنیا میںصدیوں سے روحانیت رُوبہ زوال اور کمزور رہی ہے۔ اِس معنویت و روحانیت کو ختم کرنے کیلئے باقاعدہ کوششیں کی گئی ہیں؛صاحبانِ قدرت واقتدار، دولت پرستوں اور سرمایہ داروں نے مادی نظام کاایک جال پوری دنیا میں پھیلایا ہے کہ جس کی سربراہی امریکہ جیسی بڑی طاقت کررہی ہے۔ سب سے زیادہ جھوٹی، سب سے زیادہ مکّار، انسانی مقامات و درجات میں سب سے زیادہ بے اعتنائی برتنے والی،انسانی حقوق کو سب سے زیادہ پائمال کرنے والی اور دنیا کے انسانوں کیلئے سب سے زیادہ بے رحم حکومت اِس مادی نظام کا نظم و نسق سنبھالے ہو ئے ہے اور اِس کے بعد دوسری طاقتیں اپنے اپنے درجات کے لحاظ سے اِ س میں شریک ہیں؛ یہ ہے ہماری دنیا کی حالت۔(۳)
____________________
۱ وہ معاشرہ جس میں امام حسین پروان چڑھے اور سب نے پیغمبر اکرم ۰ کا عمل دیکھا کہ وہ امام حسین سے کتنا پیار کرتے تھے، حضرت علی و حضرت فاطمہ ٭ کی کیا کیا فضیلتیں ہیں! ۱۱ ہجری سے ۶۱ ہجری تک یہ کیا ہوگیا کہ یہی امت، حسین کو قتل کرنے کربلا آگئی۔ وہی لوگ جو کل تک امام حسین کی عظمتوں کے گن گاتے تھے آج اُن کے خون کے پیاسے بن گئے ہیں؟! ۵۰ سالوں میں یہ کون سا سیاسی، اجتماعی اور ثقافتی انقلاب آیا کہ حالات بالکل بدل گئے اور اسلام و قرآن پر ایمان رکھنے والے لوگ ، فرزند رسول ۰ کے قاتل بن گئے؟! لہٰذا واقعہ کربلا کو سیاسی اور ثقافتی حالات کے پس منظر میں دیکھناچاہیے کہ جوہم سب کیلئے درس عبرت ہو۔(مترجم)
۲ سورئہ مریم / ۵۹
۳ کمانڈروں اور بسیج مقاومت فورس کے ماتمی دستوں سے خطاب ۲۲/ ۴/۱۳۷۱
واقعہ کر بلا کے پس پردہ عوامل
کیا حالات پیش آئے تھے کہ کربلا کا واقعہ رونما ہوا؟
میں نے ایک مرتبہ عبرت ہائے کربلا کے عنوان پر کئی تقاریر کیں تھیں کہ جن میں مَیں نے کہا تھا کہ ہم اِس تاریخی حادثے سے سیکھے جا نے والے درسوں کے علاوہ عبرتیں بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ ’’درس‘‘ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے جبکہ ’’عبرتیں‘‘ ہم سے یہ کہتی ہیں کہ کیا حادثہ پیش آیا ہے اور کون سے واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کا امکان ہے۔
کربلاسے حاصل کی جانے والی عبرتیں یہ ہیں کہ انسان غور وفکر کرے کہ وہ اسلامی معاشرہ کہ جس کی سربراہی پیغمبر خدا ۰ جیسی ایک غیر معمولی ہستی کے پاس تھی اور آپ ۰ نے دس سال تک انسانی توان و طاقت سے مافوق اپنی قدرت اور وحی الٰہی کے بحر بیکراں سے متصل ہوتے ہوئے اور بے مثل و نظیر اور بے انتہا حکمت کے ساتھ دس سال تک اُس معاشرے کی راہنمائی فرمائی۔ آپ ۰ کے کچھ عرصے (پچیس سال) بعد ہی امیر المومنین حضرت علی نے اُسی معاشرے پر حکومت کی اور مدینہ اور کوفہ کو بالترتیب اپنی حکومت کا مرکز قرار دیا۔ اُس وقت وہ کیا حادثہ وقوع پذیر ہوا تھا اور بیماری کاکون سا جرثومہ اُس معاشرے کے بدن میں سرایت کر گیا تھا کہ حضرت ختمی مرتبت ۰ کے وصال کے نصف صدی اور امیر المومنین کی شہادت کے بیس سال بعد ہی اِسی معاشرے اور اِنہی لوگوں کے درمیان حسین ابن علی جیسی عظیم المرتبت ہستی کو اُس دردناک طریقے سے شہید کردیا جاتا ہے؟!
آخر وہ کون سے علل و اسباب تھے کہ جس کے با عث اتنا بڑا حادثہ رونما ہوا؟ یہ کوئی بے نام و نشان اور گمنام ہستی نہیں تھی بلکہ یہ اپنے بچپنے میں ایسا بچہ تھا کہ جسے پیغمبر اکرم ۰ اپنی آغوش میں لیتے تھے اوراُس کے ساتھ منبر پر تشریف لے کر اصحاب ۱ سے گفتگو فرماتے تھے۔
وہ ایک ایسا فرزند تھا کہ جس کے بارے میں خدا کے رسول ۰ نے یہ فرمایا کہ ’’حُسَینُ مِنِّی وَاَنَا مِنَ الحُسِینِ ‘‘،’’حسین مجھے سے ہے اور میں حسین سے ہوں‘‘ اور اِن پسر وپدر کے درمیان ایک مضبوط رشتہ اور رابطہ قائم تھا۔ یہ ایک ایسافرزند تھا کہ جس کا شمار امیر المومنین کے دورِحکومت کی جنگ و صلح کے زمانوں میں حکومت کے بنیادی ارکان میں ہوتا تھا اورجو میدان سیاست میں وہ ایک روشن و تابناک خورشید کی مانند جگمگاتا تھا ۔ اِس کے باوجود اُس اسلامی معاشرے کا حال یہ ہوجائے کہ پیغمبر اکرم ۰ کا یہی معروف نواسہ اپنے عمل، تقوی، باعظمت شخصیت، عزت و آبرو، شہرِ مدینہ میں اپنے حلقہ درس کہ جس میں آپ کے چاہنے والے، اصحاب اور دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شیعہ شرکت کرتے تھے، کے باوجودایسے حالات میں گرفتار ہوجائے کہ جس کا نہایت بدترین طریقے سے محاصرہ کر کے اُسے پیاسا قتل کردیا جائے۔نہ صرف یہ کہ اُسے قتل کرتے ہیں بلکہ اُس کے ساتھ تمام مردوں حتی اُس کے شش ماہ شیر خوار بچے کو بھی قتل کردیتے ہیںاور صرف اِسی قتل و غارت پر اکتفائ نہیں کرتے بلکہ اُس کے بیوی بچوں اور دیگر خواتین کو جنگی قیدیوں کی مانند اسیر بنا کر شہر شہر گھماتے ہیں؛آخر قصّہ کیا تھا اور کیا حالات رونما ہوئے تھے؟ یہ ہے مقام عبرت!
آپ ایسے معاشرے کا اُس نبوی معاشرے سے موازنہ کریں تاکہ آپ کو دونوں کا فرق معلوم ہوسکے۔ ہمارے معاشرے کے سربراہ اور حاکم ، امام خمینی ۲ تھے جو بلاشک و شبہ ہمارے زمانے کی عظیم ترین شخصیت میں شمار ہوتے تھے لیکن امام خمینی ۲ کجا اور پیغمبر اکرم ۰ کجا؟ حضرت ختمی مرتبت ۰ نے اُس وقت معاشرے میں ایک ایسی روح پھونکی تھی کہ اُن بزرگوار کی رحلت کے بعد بھی کئی دہائیوں تک پیغمبر ۰ کا چلایا ہوا کارواں اپنے راستے پر گامزن رہا۔ آپ یہ خیال نہ کریں کہ پیغمبر اکرم ۰ کے بعد ہونے والی فتوحات میں خود پیغمبر ۰ کی ذات اقدس کے روحانی وجود کا اثر باقی نہیں تھا؛ یہ رسول اکرم ۰ کے وجود ہی کی برکت تھی کہ جو آپ ۰ کی رحلت کے بعد بھی اسلامی معاشرے کو آگے بڑھارہی تھی۔ گویا پیغمبر اکرم ۰ اُس معاشرے کی فتوحات اور ہمارے معاشرے (اور انقلاب) میں تاثیر رکھتے تھے کہ جس کا نتیجہ اِس صورت میں نکلا ہے۔
میں ہمیشہ نوجوانوں ،یونیورسٹی اور دینی مدارس کے طالب علموں اور دیگر افراد سے یہی کہتا ہوں کہ نہایت سنجیدگی سے تاریخ کا مطالعہ کریں، بہت توجہ سے اِس میں غور وفکر کریں اور دیکھیں کہ کیا حادثہ رونما ہوا ہے!
’’تِلکَ اُمَّة قَد خَلَت ‘‘،’’وہ ایک اُمّت تھی جو گزر گئی‘‘، گذشتہ امتوں سے عبرت آموزی، قرآن ہی کی تعلیم اور درس کا حصہ ہے۔اِس حادثے کے بنیادی اسباب ، چند امور ہیں،مَیں اُن کا تجزیہ و تحلیل نہیں کرنا چاہتا بلکہ صرف اجمالی طور پر بیان کروںگا اور یہ محقق افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایک ایک جملے پرغور وفکر کریں۔
اصلی عامل: دنیا پرستی اور برائی و بے حسی کا رواج پانا
اِس تاریخی حادثے کا ایک اصلی سبب یہ ہے تھا کہ ’’دنیا پرستی اور برائی و بے حسی نے دینی غیرت اور ایمان کے احساسِ ذمہ داری کو چھین لیا تھا۔ یہ جو ہم اخلاقی ، اجتماعی ، اقتصادی ، سیاسی اور ثقافتی برائیوں سے مقابلے کیلئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے اتنی تاکید کرتے ہیںتو اِس کی ایک اصل وجہ یہ ہے کہ یہ تمام برائیاں معاشرے کو بے حس بنادیتی ہیں۔ وہ شہر مدینہ جو پہلی اسلامی حکومت کا پہلا مرکز تھا، کچھ مدت بعد بہترین موسیقاروں، گانا گانے والوں اور معروف ترین رقاصاوں کے مرکز میں تبدیل ہوگیا تھااور جب دربار شام میں بہترین مغنّیوں اور گویوں کو جمع کیا جاتا تو شہر مدینہ سے بہترین موسیقاروں اور خوبصورت آواز رکھنے والے مغنّیوںکو بلایا جاتا تھا!
یہ جسارت و گناہ، رسول اکرم ۰ کی رحلت کے سو یا دوسو سال بعد انجام نہیں دیئے گئے بلکہ جگر گوشہ حضرت زہرا ٭ اور نور چشم پیغمبر اکرم ۰ کی شہادت کے زمانے کے قریب حتی شہادت سے بھی قبل معاویہ کے زمانے میں انجام پائے۔ یہی وجہ ہے کہ مدینۃ الرسول ۰ برائیوں اور گناہان کبیرہ کا مرکز بن گیا اور بڑی بڑی شخصیات ، اصحاب اور تابعین کی اولاد حتی خاندان بنی ہاشم کے بعض نوجوان اِن برائیوں میں گرفتار ہوگئے! اِس فاسد حکومت کے سرکردہ افراد یہ جانتے تھے کہ اُنہیں کیا کام کرنا ہے ،اُنہیں مسلمانوں کے کن حساس اورکمزور نکات پر انگلی رکھنی ہے اور لوگوں کو حکومت اور اُس کی سیاست سے غافل رکھنے کیلئے کن چیزوں کی ترویج کرنی ہے۔یہ بلا اور کیفیت صرف شہر مدینہ سے ہی مخصوص نہیں تھی بلکہ دوسرے شہر بھی اِسی قسم کی برائیوں میں مبتلا تھے۔
برائیوں کی گندگی سے اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے دیں
دین کی پیروی ، تقوی سے تمسک، پاکدامنی کی اہمیت اور معنویت کی قدر وقیمت کا اندازہ یہاں ہوتا ہے۔ یہ جو ہم بارہا موجودہ زمانے کے بہترین نوجوانوں کو تاکید کرتے ہیں کہ آپ برائیوں کی گندگی سے اپنا دامن بچائے رکھیںتو اِس کی وجہ یہی ہے۔ آج اِن نوجوانوں کی طرح کون ہے جوانقلابِ اسلامی کے اُصولوں اور اہداف کا دفاع کرنے والے ہیں؟ یہ بسیجی (رضا کار) واقعاً بہترین نوجوان ہیں کہ جو علم، دین اور جہاد میں سب سے آگے آگے ہیں، دنیا میں ایسے نوجوان آپ کو کہاں نظر آئیں گے؟ یہ کم نظیر ہیں اور دنیا میں اتنی کثیر تعداد میں آپ کو کہیںنہیں ملیں گے؛بنابریں ، برائیوں کے سیلاب اور اُس کی اونچی اونچی موجوں سے ہوشیار رہیں۔
آج الحمد للہ خداوند عالم نے اِس انقلاب کی قداست و پاکیزگی ا ور معنویت کو محفوظ بنایا ہوا ہے، ہمارے نوجوان پاک و طاہر ہیں لیکن وہ اِس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ زن، زر اور زمین، عیش پرستی اور دنیا کی لذتیں بہت خطرناک چیزیں ہیں کہ جو مضبوط دلوں اور مستحکم ارادے والے انسانوںکے پائے ثبات میں لرزش پیدا کرنے کیلئے کافی ہیں لہٰذا اِن امور اور اِن کے وسوسوں کا مقابلہ کرنے کیلئے قیام کرنا چاہیے۔ وہ جہادِ اکبر کہ جس کی اتنی تاکید کی گئی ہے،یہی ہے؛ آپ نے جہادِ اصغر کو بطریق احسن انجام دیا ہے اور اب آپ اِس منزل پرآ پہنچے ہیں کہ جہادِ اکبر کو اچھی طرح انجام دے سکیں۔
الحمد للہ آج ہمارے نوجوان، مومن، حزب اللّٰہی اور بہترین نوجوان ہیں لہٰذا اِس نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔ دشمن چاہتا ہے کہ تمام مسلمان اقوام سے یہ نعمت چھین لے اور اُس کی خواہش ہے کہ مسلمان قومیں؛ عیاشی، ذلت و رسوائی اور غفلت کا شکار ہوجائیں، برائیوں اور گناہوں کا دریا اُنہیں اپنے اندر غرق کر دے اور بیرونی طاقتیں اُن پر اپنا تسلط جما لیں جیسا کہ انقلاب سے قبل ہمارے یہی حالات تھے اور آج بھی دنیا کے بہت سے ممالک میں یہی کچھ ہورہا ہے۔
دوسرا عامل: عالم اسلام کے مستقبل سے اہل حق کی بے اعتنائی
دوسرا عامل و سبب کہ جس کی وجہ سے یہ حالات پیش آئے اور جسے انسان آئمہ طاہرین کی زندگی میں بھی مشاہدہ کرتا ہے،وہ یہ تھا کہ اہل حق نے جو ولایت و تشیع کی بنیاد تصور کیے جاتے تھے ، دنیائے اسلام کی سرنوشت و مستقبل سے بے اعتنائی برتی، اِس سے غافل ہوئے اور اِس مسئلے کی اہمیت کو دل و دماغ سے نکال دیا۔ بعض افراد نے کچھ ایام کیلئے تھوڑی بہت بہادری اور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا کہ جس پر حکام وقت نے سخت گیری سے کام لیا۔ مثلاً یزید کے دور حکومت میں مدینۃ النبی پر حملہ ہوا، جس پر اہلِ مدینہ نے یزید کے خلاف آواز اٹھائی تویزید نے اِن لوگوں کو سرکوب کرنے کیلئے ایک ظالم شخص کو بھیجاکہ جس نے مدینہ میں قتل عام کیا،نتیجے میں اِن تمام افراد نے حالات سے سمجھوتہ کرلیا اور ہر قسم کی مزاحمتی تحریک کو روک کربگڑتے ہو ئے اجتماعی مسائل سے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ البتہ اِن افراد میں سب اہل مدینہ شامل نہیں ہیں بلکہ تھوڑے بہت ایسے افرادبھی تھے کہ جن کے درمیان خود اختلاف تھا۔ یزید کے خلاف مدینے میں اٹھنے والی تحریک میں اسلامی تعلیمات کے برخلاف عمل کیا گیا، یعنی نہ اُن میں اتحاد تھا، نہ اُن کے کام منظم تھے اور نہ ہی یہ گروہ اور طاقتیں آپس میں مکمل طورپرایک دوسرے سے مربوط و متصل تھیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دشمن نے بے رحمی اورنہایت سختی کے ساتھ اس تحریک کا سرکچل دیا اور پہلے ہی حملے میں اِن کی ہمتیں جواب دے گئیں اور اُنہوں نے عقب نشینی کرلی؛ یہ بہت اہم اور قابل توجہ نکتہ ہے۔
آپس میں مقابلہ کرنے اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے والی حق و باطل کی طاقتوں کی جد و جہد بہت واضح سی بات ہے، جس طرح حق ،باطل کو ختم کرنا چاہتا ہے اُسی طرح باطل بھی حق کی نابودی کیلئے کوشاںرہتا ہے۔ یہ حملے ہوتے رہتے ہیں اور قسمت کا فیصلہ اُس وقت ہوتا ہے کہ جب اِن طاقتوں میں سے کوئی ایک تھک جائے اور جو بھی پہلے کمزور پڑے گا تو شکست اُس کا مقدر بنے گی۔(۱)
____________________
۱ ۳ شعبان روز پاسدار کی مناسبت سے اندرون ملک نظم و نسق اور امن و امان برقرار کرنے والی نیروئے انتظامی اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے خطاب ۲۶/۲/۱۹۹۶
قیام کربلا کے اجتماعی پہلو
قیام امام حسین کی خصوصیات
سید الشہدا کا بہایا گیا خونِ ناحق تاریخ میںہمیشہ محفوظ ہے، چونکہ شہید یعنی وہ شخص جو اپنی جان کو خلوص کے طبق میں رکھ کر دین کے بلند ترین اہداف کیلئے پیش کرتا ہے اور ایک خاص قسم کی صداقت اور نورانیت کا حامل ہوتا ہے۔ کوئی کتنا ہی بڑا کاذب و مکار کیوں نہ ہو اور اپنی زبان و بیان سے خود کو حق کا کتنا ہی بڑا طرفدار بناکر کیوں نہ پیش کرے لیکن جب اُس کے شخصی منافع خصوصاً جب اُس کی اور اُس کے عزیز ترین افراد کی جان خطرے میں پڑتی ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور کسی بھی قیمت پر حاضر نہیں ہوتا کہ اُنہیں قربان کرے۔ لیکن وہ شخص جو ایثار و فداکاری کے میدان میں قدم رکھتا ہے اور مخلصانہ طور پر اپنی تمام ہستی کو راہ الٰہی میں پیش کرتا ہے تو ’’حق? عَلَی اللّٰہِ‘‘ تو اُس کا خدا پر حق ہے یعنی خدا اپنے ذمہ لیتا ہے کہ اُسے اور اُس کی یاد کوزندہ رکھے۔’’وَلاَ تَقُولُوا لِمَن يُّقتَلُ فِی سَبِیلِ اللّٰهِ اَموات ‘‘ ،’’ جو خدا کی راہ میں مارا جائے اُسے مردہ نہ کہو‘‘:’’وَلَا تَحسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللّٰهِ اَموَاتًا بَل اَحيَآئ? ‘ ،’’جو لوگ خدا کی راہ میں قتل کردیے جائیں اُنہیں ہرگز مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں‘‘؛ شہید فی سبیل اللہ زندہ رہتے ہیں۔ اُن کے زندہ رہنے کا ایک پہلو یہی ہے کہ اُن کی نشانیاں اور قدموں کے نشان، راہِ حق سے کبھی نہیں مٹتے اور اُن کا بلند کیا ہوا پرچم کبھی نہیں جھکتا۔ ممکن ہے چند روز کیلئے ظلم و ستم اور بڑی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے اُن کی قر با نی اورفدا کا ری کے رنگ کو پھیکا کر دیں لیکن خداوند عالم نے قانونِ طبیعت کو اِسی طرح قرار دیا ہے اور خدا کی سنت اور قانون یہ ہے کہ پاک و پاکیزہ اور صالح و مخلص افراد کا راستہ ہمیشہ باقی رہے۔ خلوص بہت ہی عجیب چیز ہے لہٰذا یہی وجہ ہے کہ امام حسین کی ذات گرامی ،اُن کے اور اُن کے اصحابِ با وفا کے بہائے گئے خونِ ناحق کی برکت سے آج دنیا میں دین باقی ہے اور تاقیامت باقی رہے گا۔
میں نے امام حسین کے تمام ارشادات میں کہ جن میں سے ہر ایک میں کوئی نہ کوئی تربیتی نکتہ موجود ہے اور میں آپ کی خدمت میں عرض کروں کہ لوگوں کی ہدایت و اصلاح کیلئے امام کے ارشادات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے، اِ س جملے کو اپنی آج کی اِس محفل کیلئے زینت قرار دیا ہے کہ جسے آپ کی خدمت میں عرض کررہا ہوں۔ امام سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا’’اَللَّهُمَّ اِنَّکَ تَعلَمُ اَنَّهُ لَم یکُن مِنَّا تَنَافُسًا سُلطَانِ وَلَا التِمَاسًا مِن فُضُولِ الحُطَامِ ‘‘(۱) ’’پروردگارا! یہ تحریک جو ہم نے چلائی ہے، جس امر کیلئے قیام کیا اورجس میںتجھ سے فیصلے کے طالب ہیں تو جانتا ہے کہ یہ سب ا قتدارکی خواہش کیلئے نہیں ہے؛ اقتدار کی خواہش ایک انسان کیلئے ہدف نہیں بن سکتی اور نہ ہی ہم چاہتے ہیں کہ زمام قدرت کو اپنے ہاتھ میں لیں؛ نہ ہی ہمارا قیام دنیوی مال و منال کے حصول کیلئے ہے کہ اُس کے ذریعہ سے دنیوی لذتوں سے لُطف اندوز ہوں، شکم پُری کے تقاضے پورے کریں اور مال ودولت جمع کریں؛اِن میںسے کوئی ایک بھی ہمارا ہدف و مقصد نہیں ہے‘‘۔
پس سید الشہدا کا قیام کس لیے تھا؟ امام حسین نے اِس بارے میں چند جملے ارشاد فرمائے ہیں کہ جو ہماری جہت کو واضح کرتے ہیں۔ پوری تاریخ میں اسلام کی تبلیغ کا مقصدیہ تھا، ’’وَلٰکِن لِنُرِيَ المَعَالِمَ مِن دِینِکَ ‘‘(۲) ، ’’ہم ت یرے دین کی نشانیوں کو واضح اور آشکار کرنا چاہتے ہیںاور دین کی خصوصیات کو لوگوں کیلئے بیان کرنے کے خواہاںہیں‘‘۔
اِن خصوصیات کا بیان بہت اہم ہے؛ شیطان ہمیشہ دیندار افراد کی گمراہی کیلئے غیر مر ئی و غیر محسوس انحراف کا راستہ اپناتا ہے اور صحیح راہ کو اِس انداز سے غلط بناکر پیش کرتا ہے( کہ ابتدائی مرحلے میں اگر انسان بصیرت کا ما لک نہ ہو تووہ اُس کی تشخیص نہیں کو سکتا) ۔ اگر اُس کا بس چلے تو یہ کہتا ہے کہ ’’دین کو چھوڑ دو‘‘؛ اگر اُس کے امکان میں ہوتو یہ کام ضرور انجام دیتا ہے اور یوں شہوت پرستی اور اپنے غلط پروپیگنڈے کے ذریعہ لوگوں کے ایمان کو اُن سے چھین لیتا ہے اور اگر یہ کام ممکن نہ ہو تو دین کی نشانیوں کوہی بدل دیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ ایک راستے پر حرکت کررہے ہوں تو سنگ میل یا راہنما سائن بورڈ آپ کی حرکت کو ایک خاص سمت میں ظاہر کرتے ہیں ،لیکن اگر کوئی خائن شخص آئے اور راستے کی سمت کو بتانے والے سائن بورڈوںپردرج شدہ علامات کو بدل دے کہ جو راستے کو ایک دوسری ہی طرف ظاہرکریں تو یقینا آپ کی حرکت کی سمت بھی تبدیل ہو جا ئے گی!
اصلاح معاشرہ اور برائیوں کا سدِّباب
امام حسین اِسی امر کو اپنے قیام کا پہلا ہدف قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں ’’لِنُرِيَ المَعَالِمَ مِن دِینِکَ و نُظهِرَ الاِصلَاحَ فِی بِلَادِکَ ‘‘(۳) ’’بارالٰہا!ہم چاہتے ہ یں کہ اسلامی ممالک میں برائیوں کی ریشہ کنی کریں اور معاشروں کی اصلاح کریں‘‘۔ یہاں امام حسین کس اصلاح کی بات کررہے ہیں؟ اِصلاح یعنی برائیوں کو نابود کرنا؛یہاں امام کن برائیوں کی بات کررہے ہیں؟ برائیوں کی مختلف انواع و اقسام ہیں؛ چوری بھی برائی ہے، خیانت بھی برائی ہے، بیرونی طاقتوں سے وابستگی بھی برائی کے زُمرے میں آتی ہے ، ظلم وستم
بھی برائی ہی کا مصداق ہے ، اخلاقی انحراف و بگاڑبھی برائیوں کی ہی ایک قسم ہے،مالی خردبُرد اور اقتصادی میدان میں انجام دیاجا نے والا کرپشن بھی اجتماعی برائیوں سے ہی تعلق رکھتا ہے، آپس میں دست و گریباں ہونا اور ایک دوسرے سے دشمنی رکھنا بھی برائی کی ہی ایک نوع اور قسم ہے، دشمنانِ دین کی طرف میل و رغبت اور جھکاو بھی برائیوں کا ہی حصہ ہے اور دین کی مخالف چیزوں سے اپنے شوق و رغبت کو ظاہر کرنا بھی گناہ ہے ؛(ایک اسلامی معاشرے میں یہ)تمام چیزیں دین کی آڑاور اُس کے سائے میں ہی وجود میں آتی ہیں(اور پیغمبر اکرم ۰ کے بعدیہ چیزیںدینی حکومت کی آڑمیں وجود میں آئیں )۔ سید الشہدا اِس کے بعد فرماتے ہیں کہ’’وَيَامَنَ المَظلُومُونَ مِن عِبَادِکَ ‘‘(۴) ،تا’’کہ ت یرے بندے امن و سکون پائیں‘‘؛ یہاں مظلوم سے امام کی مراد، معاشرے کے مظلوم افراد ہیں، نہ کہ ستمگراور ظلم کرنے والے؛نہ ظلم کے مدّاح اورنہ اُسے سرانے والے اورنہ ہی ظالموںکاساتھ دینے والے! ’’ مَظلُومُونَ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جو بے یارو مددگار ہیں اور جنہیں اپنی نجات کی کو ئی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ ہدف یہ ہے کہ معاشرے کے مستضعف اور کمزور افراد خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے کیوں نہ ہوں، امن و سکون کا سانس لیں،اُن کی حیثیت و آبروکی حفاظت اوراُن کیلئے عدل و انصاف کی فراہمی کا سامان ہواور وہ اقتصادی طور پر امن و سکون کا سانس لیں کہ آج ہماری دنیااِن ہی چیزوں کی بہت تشنہ ہے؛ چنا نچہ آپ غو رکیجئے کہ امام حسین نے کس طرح اُس زمانے میں طاغوتی حکومت کے بالکل نقطہ مقابل میں موجود چیز پر انگلی رکھی۔ آج آپ بین الاقوامی سطح پر نگاہ ڈالیے تو آپ یہی صورتحال سامنے اپنے سامنے موجود پائیں کہ دین کے پرچم کواُلٹا اور اسلامی تعلیمات کو غلط انداز سے پیش کیا جارہا ہے ، عالم استکبار اور لٹیرے خدا کے مظلوم بندوں پر پہلے سے زیادہ ظلم کررہے ہیں اوراِن ظالموں نے اپنے پنجوں کو مظلوموں کے جسموں میں گاڑا ہوا ہے۔
احکام الٰہی کا نفاذ
اِسی خطبے کے آخر میں سید الشہدا فرماتے ہیں کہ ’’و يُعمَل وَبِفَرَائِضِکَ اَحکَامِکَ وسُنَنِکَ ‘‘(۵) ،’’اورہمارا مقصد یہ ہے کہ تیرے فرائض وسنت اور احکام پر عمل کیا جائے‘‘؛ یہ ہے امام حسین کا ہدف! اب ایسے موقع پر ایک گوشے سے ایک شخص کھڑا ہو جو نہ صرف اسلامی تعلیمات سے آشنا نہیں ہے بلکہ امام حسین کے کلمات حتی عربی لغت کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہے، امام حسین کے ہدف کے بارے میں لب گشائی کرے کہ امام حسین نے فلاں ہدف کیلئے قیام کیا تھا(کہ جس کا امام حسین کے ہدف سے سرے ہی سے کو ئی تعلق نہیں ہے)! تم یہ بات کہاں سے اور کس دلیل کی بنا پرکہہ رہے ہو؟! یہ سید الشہدا کاا رشاد فرمایا ہوا جملہ ہے کہ ’’و يُعمَلَ وَبِفَرَائِضِکَ وَاَحکَامِکَ وسُنَنِکَ ‘‘ ، یعنی امام حسین اپنی اور اپنے زمانے کے پاکیزہ ترین اور صالح انسانوں کی جانوں کو صرف اِ س لیے قربان کررہے ہیں لوگ احکام دین پر عمل کریں، آخر کیوں؟ اِس لیے کہ دنیا و آخرت کی سعادت ،احکام دین پر عمل کرنے میں مضمر ہے ، اِس لیے کہ عدل وانصاف، احکام دین پر عمل کرنے سے ملتا ہے اور اِس لیے کہ حریت و آزادی، احکام دین پر عمل کرنے سے وابستہ ہے۔ اِن لوگوں کوآزادی کہاں سے نصیب ہوگی؟ انسان ،احکام دین کے سائے میں ہی اپنی تمام خواہشات کو پاسکتا ہے۔(۶)
____________________
۱ بحار الانوار ج۱۰۰، ص ۷۹
۲ و ۳ حوالہ سابق
۴ و ۵ حوالہ سابق
۶ محرم کی آمد سے قبل علمائ اور مبلغین سے خطاب ۱۲/۴/۲۰۰۰
کربلا میں پوشیدہ اسرار و رُموز
۱ ۔عوام کے سوئے ہوئے ضمیروں کی بیداری
امام حسین کی حیات مبارکہ میں ایک ایساپہلوموجو د ہے کہ جس نے ایک بہت ہی بلند وبالاپہاڑ کی مانند اطراف کی دیگر چیزوں کو اپنے دامن میں لیا ہوا ہے اور وہ’’ کربلا‘‘ ہے ۔ سید الشہدا کی زندگی میں اتنے اہم ترین واقعات ، مطالب ، احادیث ، خطبات اور پوری ایک تاریخ موجود ہے کہ اگر کربلا کا واقعہ رونمانہ بھی ہوتا توبھی آپ کی زندگی بقیہ دوسرے ہر معصوم کی مانند اسلامی احکامات اورروایات و احادیث کا منبع ہوتی لیکن واقعہ کربلا اتنا اہم ہے کہ آپ امام کی زندگی کے شاید ہی کسی اور پہلو یا واقعہ کو ذہن میں لائیں! واقعہ کربلا اتنا اہم ہے کہ آج روز ولادت باسعادت امام حسین کی زیارت یا دعا میں اُن کے بارے میں یوں نقل کیا گیا ہے کہ
’’بَکَتهُ السَمَآئُ وَمَن عَلیهَا‘‘ یا’’مَن فِیهَا ‘‘ اور ’’وَالاَرضُ وَمَن عَلَیهَا وَ لَمَّا يَطَآ لَا بَتَیهَا ‘‘(۱) ، ’’امام حس ین پر آسمان اور اہل آسمان و زمین اور اُس پر رہنے والوں نے گریہ کیا‘‘۔ سید الشہدا نے ابھی اِس جہان میں قدم نہیں رکھے ہیں لیکن زمین و آسمان نے اُن پر گریہ کیا، یہ واقعہ اتنی زیادہ اہمیت کا حامل ہے! یعنی تاریخ کے بے مثل و نظیر واقعہ کربلا اور شہادت عظمی کا درس اکسٹھ ہجری کے روزِ عاشورا سامنے آیالیکن یہ وہ واقعہ تھا کہ جس پرصدیوں سے زمین و آسمان کی نظریں جمی ہوئی تھیں، آخر یہ کیسا واقعہ تھا کہ جو پہلے سے مقدّر تھا؟ ’’اَلمَدعُوّ لِشَهادَتِهِ قَبلِ استِهلَا لِهِ وَ وِ لَادَتِهِ ‘‘ ،(۲) ’’قبل اِس کے کہ حس ین ابن علی دنیا میں قدم رکھیں اُنہیںدرجہ شہادت سے منسوب کیا جا تا اور شہید کے نام سے پکارا جاتا تھا‘‘۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسا راز پوشیدہ ہے کہ جو ہمارے لیے ایک عظیم درس کی حیثیت رکھتا ہے۔
حضرت امام حسین کی شہادت سے متعلق بہت زیادہ گفتگو کی گئی ہے، اچھی بھی اور صحیح بھی اور ہر ایک نے اپنے فہم و ادراک کے مطابق اِس واقعہ کو سمجھا ہے۔ بعض نے اُسے حکومت کے حصول کے ہدف تک محدود کیا ہے، بعض نے اُسے دیگر مختلف مسائل تک بہت چھوٹا اور کم اہمیت والا بنا کر پیش کیا ہے جبکہ بعض ایسے افراد ہیںکہ جنہوں نے واقعہ کربلا کے عظیم پہلووں کو پہچانا، اُس پر گفتگو کی اور قلم اٹھایا کہ اِن میں سے میں کسی کو بھی بیان نہیں کرنا چاہتا؛وہ مطلب کے جسے بیان کرنامیرے مدّ نظر ہے، یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ظہور کرنے والے اِس نئے مظہر ’’اسلام‘‘ کو اُس کے ظہور سے قبل یا ظہور کے آغاز سے لاحق خطرات کوپروردگار عالم کی طرف سے پہلے سے ہی بیان کردیا گیا تھا اور صرف یہی نہیں بلکہ اُن خطرات سے مقابلے کے وسائل کو بھی اسلام میںمدنظررکھاگیاتھا۔بالکل ایک صحیح وسالم بدن کی مانند کہ جس میں خداوند عالم نے اپنے دفاع کی قدرت اُس کے اندر رکھی ہے یا مثلاً ایک مشین کی مانند کہ جس کے موجد یا انجینئر نے اُس کی اصلاح کا وسیلہ اُس کے ساتھ رکھا ہے۔
دو قسم کے خطرات اور اُن سے مقابلے کی راہیں
اسلام اپنے ظہور سے ہی مختلف قسم کے خطرات کا سامنا کررہا ہے اور اُسے اِن خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے وسائل کی بھی ضرورت ہے ؛خداوند عالم نے اِن وسائل کو خود اسلام میں رکھا ہے۔
بیرونی دشمن
توجہ طلب بات یہ ہے کہ وہ خطرہ کیا ہے؟ دو بنیادی خطرے ہیں جو اسلام کو لاحق ہیں؛ اِن میں سے ایک بیرونی دشمنوں کا خطرہ ہے اور دوسرا اندرونی تباہی کا خطرہ۔بیرونی دشمن سے مراد یعنی سرحد پار مختلف قسم کے اسلحوں سے ایک نظام کے وجود، اُس کی فکر، اُس کی عقائدی بنیادوں، قوانین اور اُس کی تمام چیزوں کو اپنا نشانا بنانا۔ اِس خطرے کا آپ نے اسلامی جمہوریہ میں اپنی آنکھوں سے خود مشاہدہ کیا کہ دشمن نے یہ کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ کے نظام کو صفحہ ہستی سے نابود کردیںاور بہت سے بیرونی دشمن تھے کہ جنہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اِس اسلامی نظام کو ختم کردیںگے۔ بیرونی دشمنوں سے کیا مراد ہے؟ بیرونی دشمن سے مرادصرف مخالف ملک ہی نہیں بلکہ ملکی نظام کے مخالف افرادبھی دشمن کے زُمرے میں آتے ہیں خواہ وہ ملک کے اندر ہی کیوں نہ ہوں۔
بہت سے ایسے دشمن بھی ہیں جو اِس نظام سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور اِس کے مخالف ہیں؛ یہ افراد بھی بیرونی دشمن ہی کے زمرے میںآتے ہیں۔ ہر قسم کے جدید ترین اسلحے، پروپیگنڈے اور اپنی دولت اور اپنے پاس موجود ہر چیز اور وسیلے کے ذیعہ اِس نظام کو نابو د کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں،یہ بھی ایک قسم دشمن ہے۔
اندرونی دشمن
دوسرا دشمن اور دوسری آفت ایک نظام کی اندرونی سطح پر ٹوٹ پھوٹ اور نابودی ہے اور یہ غیروں کی طرف سے نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ نابودی ’’اپنوں‘‘ کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ ’’اپنے لوگ‘‘ ممکن ہے کہ ایک نظام میں رہتے ہوئے ذہنی اور فکری گمراہی ، صحیح راہ کی شناخت میںغلطی کا شکار ہونے، نفسانی خواہشات کے غالب آنے، مادی جلووں کو توجہ اور اہمیت دینے کی وجہ سے آفت کا شکار ہو جائیں، البتہ اِس کا خطرہ پہلے دشمن اور آفت کے خطرے سے بہت زیادہ ہے ۔ یہ دونوں قسم کے دشمن ? بیرونی اور اندرنی دشمن(آفت و بلا)? ہر نظام ومکتب کیلئے وجود رکھتے ہیں۔ اسلام نے اِن دونوں آفتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ’’جہاد‘‘ کو معین کیا ہے؛ جہاد صرف بیرونی دشمن کیلئے نہیں ہے۔’’جَاهِدِالکُفَّارَ وَالمُنَافِقِینَ ‘‘(۳) ،’’کفار اور منافق ین سے جہاد کرو‘‘،(کفار باہراور)منافق ہمیشہ ایک نظام و مکتب کے اندر رہ کر حملہ آور ہوتا ہے لہٰذا اِن سب سے جہاد کرنا چاہیے۔جہاد دراصل اُس دشمن سے مقابلہ ہے جو کسی بھی نظام پر یقین و اعتقاد نہ رکھنے اوراُس سے دشمنی کی وجہ سے اُس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اِسی طرح اندرونی سطح کی نابودی اور ٹوٹ پھوٹ کا مقابلہ کرنے کیلئے بہت ہی قیمتی اخلاقی تعلیمات موجود ہیں جو دُنیا کی حقیقت کو انسان کے سامنے کھل کر بیان کرتی ہیں،’’اِعلَمُوااَنَّمَا الحَيَاةُالدُّنيَالَعِب وَلَهو وَزِینَة و تَفَاخُر?بَینَکُم وَتَکَاثُر فِی الاَموَالِ وَاَولاَدِ ‘‘ (۴) ’’ جان لو کہ دن یا کی زندگی صرف کھیل تماشا، ظاہری زینت، آپس میں فخر کرنا اور مال و اولادکی کثرت پر دنیوی فخر و مباہات کرنا ہے‘‘۔
صحیح ہے کہ دنیوی مال و دولت ، مادی جلوے، یہ دنیوی لذات آپ کے لیے لازمی ہیں، آپ اِن سے استفادہ کرنے میں مجبور ہیں اور آپ کی زندگی اِن سے وابستہ ہے ؛نیز اِس بات میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ آپ کو چاہیے کہ اِ ن کو اپنے لیے حاصل کریں لیکن ساتھ ہی یہ بھی جان لیں کہ اِن تمام دنیوی لذتوںو جلووں کو اپنا ہدف قرار دینا، اپنی اِن ضرورتوں کے پیچھے چشم بستہ حرکت کرنا اور اِن کے حصول اور اِن سے بہرہ مند ہونے کیلئے اپنے ہدف کو فراموش کردینا بہت خطرناک ہے۔
میدانِ جنگ کے شجاع ترین اور شیر دل انسان، امیر المومنین جب گفتگو فرماتے ہیں تو انسان اِس انتظار میں ہوتا ہے کہ اُن کی آدھی سے زیادہ گفتگو جہاد و جنگ اور قوتِ بازو کے بارے میں ہوگی لیکن جب ہم روایات اور نہج البلاغہ کے خطبات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آپ کی زیادہ تر گفتگو اور نصیحتیں، زہدو تقوی،اخلاق، دنیا کی نفی اور اُس کی تحقیر اور بلند انسانی اور معنوی اقدار کی اہمیت اجاگر کرنے کے بارے میں ہیں۔
امام حسین کی حیات طیبہ خصوصاً واقعہ کربلا میں یہ دونوں پہلو یعنی جہاد و جنگ اور زہد و تقوی اور اخلاق، ایک ساتھ جلوہ افروز ہیں یعنی واقعہ کربلا میں دشمن اور نفس دونوں سے جہادنے سب سے بہترین صورت میں جلوہ کیا ہے۔ خداوند عالم اِس بات کو جانتا تھا کہ یہ واقعہ پیش آئے گا لہٰذا اِس کیلئے سب سے بہترین مثال پیش کرنا چاہتا تھاکہ جو سب کیلئے آئیڈیل بن سکے؛ جیسے کسی بھی شعبہ زندگی میں پہلے درجے پر آنے والے افراد اورچیمپیئن، اُسی شعبے میں دوسروں کی ترغیب کا باعث بنتے ہیں۔ البتہ یہ آپ کے ذہن کو حقیقت سے قریب کرنے کیلئے صرف ایک چھوٹی سی مثال ہے جبکہ عاشورا اور کربلابیرونی دشمن اور نفس کے دو محاذوں پر لڑی جانے والی عظیم ترین جنگ سے عبارت ہے۔ یعنی پہلا محاذ بیرونی دشمن سے مقابلے کا محاذ ہے جو عبارت ہے اُس زمانے کے بدترین نظام حکومت اور جونکوں کی مانند نظام قدرت و سلطنت سے چمٹے ہوئے دنیا طلب افراد سے ۔ یہ نظام حکومت و خلافت کہ جسے پیغمبر اکرم ۰ نے انسانوں کی نجات کیلئے ایک بہترین وسیلہ قرار دیا تھالیکن اِن دنیا طلب اور شہرت پرست افراد نے اسلام اور حضرت ختمی مرتبت ۰ کے بتائے ہوئے راستے کے بالکل مخالف سمت میں حرکت کی؛جبکہ دوسرا محاذ باطن کی برائیوں اور خواہشات نفسانی سے جہاد کا محاذ کہلاتا ہے کہ اُس معاشرے کی عمومی اور اجتماعی صورتحال یہ تھی کہ پورا معاشرا اپنی خواہشات نفسانی کے مطابق حرکت کررہا تھا۔
۲۔لوگوں کے خواب یدہ ضمیروں کو جگا نا
دوسرا نکتہ جو میری نظر میں پہلے نکتہ سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور وہ یہ کہ ایک طرف اگر حضرت ختمی مرتبت ۰ کے مبارک ہاتھوں اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کو کچھ عرصہ ہی ہوا تھا اور اِس سلسلے میں بنیادی اور اساسی ترین کاموں کا انجام دیا جاچکا تھاتودوسری جانب فتوحات نے اِسلامی مملکت کا دائرہ وسیع کردیا تھااور بیرونی دشمن اسلامی ممالک کے کونے کونے میں سرکوب کردیے گئے تھے ۔فتوحات کے نتیجے میں مسلمان فتح شدہ علاقوں سے آنے والے مالِ غنیمت کے سیلاب میں غوطہ ور ہونے لگے اوراِ س مالِ غنیمت کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں کچھ افراد مالدار اور ثروتمندبن گئے اور کچھ’’ طبقہ اشراف‘‘میں شمار کیے جانے لگے۔
بڑی اور بزرگ شخصیات کا دنیا داری میں مبتلا ہونا
یہ سب اُس وقت ہوا کہ جب اسلام نے اشرافیت ، طبقاتی نظام اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں امیر کے امیر تر اور غریب کے غریب تر ہونے کی روش کا قلع قمع کردیا تھا لیکن اِس اسلامی انقلاب کے کچھ عرصے بعد ہی ایک نئی ’’اشرافیت‘‘ نے دین کا لبادہ اوڑھ کر نئے تاسیس شدہ اسلامی معاشرے میں جنم لیا۔ بہت سے عناصر ، اسلام کا نام لے کر سامنے آئے، اُنہوں نے ’’فلاں صحابی ۱ کے بیٹے‘‘ اور’’ رسول اللہ ۰ کے فلاں رشتہ دار کے بیٹے‘‘ کے اسلامی عنوان سے ناشائستہ اور غیر مناسب کاموں کو انجام دیا کہ جن میں سے بعض افراد کے نام اُن کے سیاہ کرتوتوں کے ساتھ آج بھی تاریخ کے اوراق کو سیاہ کررہے ہیں۔ اِن حالات میں ایسے لوگ بھی سامنے آئے کہ جنہوںنے اپنی بیٹیوں کیلئے چار سو اسّی (۴۸۰ ) درہم کے مِہرُ السُّن ۃ (شرعی مہر) کہ جسے پیغمبر اکرم ۰ ، امیر المومنین اور اوائلِ اسلام کے دیگر مسلمانوں نے رائج کیا، کے بجائے دس لاکھ (ایک ملین) دینار اور ایک ملین مثقال خالص سونا قرار دیا!یہ کون لوگ تھے؟ رسول اکرم ۰ کے بڑے بڑے صحابیوں ۱ کے بیٹے، مثلاً مصعب ابن زیبر جیسے افراد۔ جب ہم کہتے ہیں کہ کسی نظام یا مکتب کا اندر سے خراب ہونا تو اُس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ جب معاشرے میں اسلامی اور اخلاقی اقدار بدل جائیں! یعنی معاشرے میں ایسے افراد جنم لیں کہ جو دنیا زدگی، شہوت پرستی اور خواہشات نفسانی کی پیروی جیسی سرایت کرنے والی اپنی مہلک اخلاقی بیماریوں کے زہرکو آہستہ آہستہ معاشرے کی رگوں میں اتار دیں۔
ایسے ماحول میں کون سُورماتھا جو سامنے آتا جو شہامت وشجاعت اور جرآت و حوصلے کے ساتھ یزید ابن معاویہ کی حکومت کے خلاف آواز حق بلند کرتا؟ اُس بیمار معاشرے کا ایسا کون سا شخص تھا جو اُس نظام حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی فکر کرتا؟! معاشرے کی اکثریت اوراُس کی عمومی فضا ایسی تھی جو عیش و نوش اورشراب و کباب میں مبتلا تھی تو اِن حالات میں کس کو فکر ہوتی کہ ظلم و برائی کی بنیا دوں پر قائم یزید کے اِس با طل نظامِ حکومت کے سامنے مقابلے کیلئے کھڑا ہو!
ایسے حالات میں امام حسین کے عظیم قیام کیلئے راہ ہموار ہوئی کہ جس میں ظاہری و بیرونی دشمن سے بھی مقابلہ کیا گیا اور عام مسلمانوں کو تباہی اور انحراف کی طرف لے جانے والی برائیوں اور عیاشی اور راحت طلبی سے بھی جنگ کی گئی! یہ بہت اہم بات ہے یعنی امام حسین نے ایسا کام انجام دیا کہ لوگوں کے سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کردیا۔ لہٰذا آپ توجہ فرمائیے کہ سید الشہدا کی شہادت کے بعد بہت سے اسلامی اور مذہبی قیام یکے بعد دیگرے وجود میں آتے رہے البتہ اِن قیاموں اور تحریکوں کو سرکوب کردیا گیا۔ اہم یہ بات نہیں ہے کہ کسی تحریک یا قیام کودشمن کی طرف سے سرکوب کردیا جائے البتہ یہ تلخ ضرور ہے لیکن اِس سے بھی زیادہ تلخ بات یہ ہے کہ ایک معاشرہ ایسی منزل پر پہنچ جائے کہ وہ اپنے دشمن کے مقابلے میں کسی بھی قسم کے ردعمل کو ظاہر کرنے کی صلاحیت و قدرت کو کھو بیٹھے اور یہ ایک معاشرے کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔
۳ ۔امام حس ین کا تا ریخی کار نا مہ
سید الشہدا نے ایک ایسا کام انجام دیا کہ طاغوتی حکومتوں کے دور میں کچھ ایسے افراد پیدا ہوئے کہ جواوائلِ اسلام سے زمانی فاصلہ رکھنے کے با وجود امام حسن مجتبی کے دور میں ظلم و ستم کی حکومت سے مقابلے کرنے والے افرادسے زیادہ عزم و ارادے کے مالک تھے۔ صحیح ہے کہ یہ قیام اور تحریکیں سرکوب کردی گئیں لیکن بہرحال اِن لوگوں نے ظالمانِ وقت کے خلاف قیام کیا۔ اہل مدینہ کے قیام سے جو ’’واقعہ حرّہ‘‘ کے نام سے معروف ہے ، شروع کیجئے اور بعد کے واقعات اور توابین و مختار کے قیام تک اور وہاں سے بنی امیہ اور بنی عباس کے زمانے تک مختلف قسم کے قیام مسلسل وجود میں آتے رہے ، اِن تمام قیاموں کا بانی کون تھا؟ حسین ابن علی ! اگر سید الشہدا قیام نہیں فر ماتے تومعاشرے کی سستی و کاہلی اور ذمہ داریوں سے فرارکی عادت، ظلم ستیزی اور ذمہ داری کو قبول کرنے میں تبدیل نہیں ہوتی۔ کیوںکہتے ہیں کہ اُس معاشرے میں ذمہ داریوں کو قبول کرنے کی حس مرچکی تھی؟ اُس کی دلیل یہ ہے کہ امام حسین ، اسلام کی عظیم اور بزرگ ہستیوں کے مرکز ’’شہر مدینہ‘‘ سے مکہ تشریف لے گئے؛ ’’ابن عباس ۱ ‘‘ ، ’’پسر زبیر ۱ ‘‘ ،’’ ابن عمر ۱ ‘‘ اور صدر اسلام کے خلفا ۱ کے بیٹے سب ہی مدینے میں موجود تھے لیکن کوئی ایک بھی اِس بات کیلئے تیار نہیں ہوا کہ اُس خونی اور تاریخی قیام میں امام حسین کی مدد کرے۔
پس قیام امام حسین کے شروع سے قبل عالم اسلام کے خاص الخاص افراد اور بزرگ ہستیاںبھی ایک قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں تھیں لیکن امام حسین کے قیام و تحریک کی ابتدائ کے بعد یہ روح زندہ ہوگئی۔ یہ وہ عظیم درس ہے کہ جو واقعہ کربلا میں دوسرے درسوں کے ساتھ موجود ہے اور یہ ہے اِس واقعہ کی عظمت! یہ جو کہا گیا ہے کہ ’’اَلمَدعُوّ لِشَهَادَتِهِ قَبلَ اِستِهلَالِهِ وَوِلَادَتِه ‘‘ِ یا اُن کی ولادت باسعادت سے قبل ’’بَکَتهُ السَّمَآئُ وَ مَن فِیهَا وَالاَرضُ وَمَن عَلَیهَا ‘‘ کہا گیا ہے اور لوگوں کو امام حسین کے اِس عظیم غم اور عزائ اور اُس کے خاص احترام کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور اِن دعاوں اور زیارت کی تعبیرات میں اُن پر گریہ کیا گیا ہے تو اِن سب کی وجہ یہی ہے ۔(۴)
۴۔واقعہ کربلا ک ی انفرادیت و عظمت!
کربلا ،تا ریخ کے اُفق سے کبھی نہ غروب ہونے والا سورج ہے!واقعہ کر بلاکے تاریخ میں اتنے انمٹ نقوش چھوڑے جانے کی کیا وجوہات ہیں؟ میری نظر میں واقعہ کربلا اِ س جہت سے اہمیت و کمال کا حامل ہے کیونکہ اِس واقعہ کی ایثار وفداکاری، ایک استثنائی اور مافوق نوعیت کی تھی۔ تاریخ اسلام اپنی ابتدائ سے آج تک بے شمار جنگوں، شہادتوں اور ایثار و فداکاری کی داستانوں سے پُر ہے۔ ہم نے اپنے زمانے میں خود مشاہدہ کیا کہ بہت سے افراد نے راہ خدا میں جہاد کیا، ایثار و فداکاری کی نئی داستانوں کو رقم کیا اور سخت سے سخت سے حالات کوتحمل کیا۔ماضی میں بھی ایسی مثالیں فراوان ہیں اور آپ نے تاریخ میں اِن کا مطالعہ کیا ہے لیکن اِن سب میں سے کوئی ایک بھی واقعہ ، واقعہ کربلا سے قابل موازنہ نہیں ہے حتی کہ بدر واحد اور اوائلِ اسلام کے دیگر شہدائ سے بھی۔ انسان جب غوروفکر سے کام لیتا ہے تو سمجھتا ہے کہ ہمارے چند آئمہ میں سے نقل کیا گیا ہے کہ اُنہوں نے سید الشہدا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’لَا يَومَ کَيَومِکَ يَا اَبَا عَبدِ اللّٰهِ ‘‘، یعنی ’’ اے ابا عبد
اللہ(امام حسین ) !کوئی واقعہ، آپ کے واقعہ کربلا اور کوئی دن آپ کے دن ’’عاشورا‘‘ کے جیسا نہیں ہے‘‘!
چونکہ واقعہ کربلا ایک استثنائی واقعہ ہے۔
واقعہ کربلا کا لبّ لباب یہ ہے کہ جب پوری دنیا ظلم و ستم اور برائیوں میں گھری ہوئی تھی تو یہ فقط امام حسین ہی تھے کہ جنہوں نے اسلام کی نجات کیلئے قیام کیا اور اتنی بڑی دنیا میں سے کسی بھی ایک (بزرگ و عظیم اسلامی شخصیت) نے اُن کی مدد نہیں کی! حتی آپ کے دوستوں نے بھی یعنی وہ افراد کہ جن میں سے ہر ایک کچھ افراد یا گروہ کو یزید سے مقابلہ کرنے کیلئے میدان میں لا سکتا تھا لیکن ہرکوئی کسی نہ کسی عذر و بہانے سے میدان سے فرار کرگیا۔ ابن عباس ۱ نے کوئی عذر تراشا، عبداللہ بن جعفر ۱ نے کوئی بہانہ بنایا، عبداللہ بن زبیر ۱ نے کسی اور شرعی حیلے کا سہارا لیا اور صحابہ ۱ او ر تابعین ۱ سے تعلق رکھنے والی باقی بزرگ ہستیوں نے کسی اور وسیلے سے اپنی جان بچانے میں ہی عافیت سمجھی، غرضیکہ مشہور و معروف شخصیات اور صاحبانِ مقام و منزلت نے میدانِ مبارزہ خالی کردیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب یہ سب افرادباتوں کی دنیا میں اسلام کے دفاع کو اہمیت دیتے اور اُسی کی بات کرتے تھے لیکن جب عمل کی منزل آئی اور دیکھا کہ یزیدی حکومت جو ظالم ہے، رحم نہیں کرتی اور سختی سے مخالف گروہوں اور افرادکو سرکوب کرتی ہے تو اِن سب میں سے ہر ایک نے میدان عمل سے فرار کیا اور کسی نہ کسی گوشہ و کنار میں جاکر پناہ لی اور امام حسین کو میدانِ جنگ میں یکتاو تنہا چھوڑ دیا۔ اور تو اور اپنے اِس کام کیلئے تو جیہات بھی کرنے لگے اور امام حسین کی خدمت میں آکر اُن سے اصرار کرنے لگے کہ ’’آقا! آپ یزید کے خلاف قیام و جنگ کا خیال دل سے نکال دیں اور یہ کام انجام نہ دیں‘‘۔
یہ درس کربلا کا ہے کہ خوف بس خدا کا ہے
یہ تاریخ کی ایک بڑی عجیب عبرت ہے کہ جہاں بڑی بڑی شخصیات خوف کا شکار ہو جا تی ہیں، جہاں دشمن اپنے تمام رُعب و دبدبے اور لاو لشکر کے ساتھ مقابلے پر آتا ہے ، جہاں سب اِس بات کا احساس کرتے ہیں کہ اگر اُنہوں نے میدان عمل میں قدم رکھا تو عالم غربت و تنہائی کا میدان جنگ اُنہیں ہضم کرجائے گا، وہ مقام کہ جہاں انسانوں کے باطن اور شخصیتوں کے جوہر پہچانے جاتے ہیں اور وہ وقت کہ جب وسیع و عریض عظیم اسلامی دنیا اپنی کثیر جمیعت و تعداد کے ساتھ موجود تھی توایسے میںمصمّم ارادوں کا مالک، آ ہنی عزم والا اور دشمن کے مقابلے میں جرآت و شہادت کا مظاہرہ کرنے والا صرف حسین ابن علی ہی تھا۔
واضح سی بات ہے کہ جب امام حسین جیسی معروف اسلامی شخصیت کوئی تحریک چلاتی یا قیام کرتی توکچھ افراد اُن کے گرد جمع ہوجاتے اور جمع بھی ہوئے۔ لیکن جب اُنہیں معلوم ہوا کہ یہ کام کتنا سخت و دشوار ہے تو یہی افراد ایک ایک کرکے امام کو چھوڑ گئے اوروہ افراد جو امام حسین کے ساتھ مکے سے چلے یا راستے میں حضرت کے ساتھ شامل ہوتے رہے، شب عاشورا اُن کی تعداد بہت کم رہ گئی کہ روزِ عاشورا اُن کی تعداد صرف بہتّر (۷۲ ) تھ ی! یہ ہے مظلومیت؛لیکن اِس مظلومیت کے نتیجے میں بے دردی سے قتل ہونے اور گھر والوں کے قیدی بنائے جانے کا معنی ذلت وپستی اور رُسوائی نہیں ہے۔ امام حسین تاریخِ اسلام کے عظیم ترین مجاہد و مبارز ہیں کیونکہ وہ ایسے خطرناک حالات میں اتنے سخت میدانِ جنگ میں قیام کیلئے کھڑے ہوئے اور ذرّہ برابر بھی خوف و تردید کا شکار نہیں ہوئے لیکن یہی عظیم انسان اپنی عظمت و بزرگی کے برابر مظلوم ہے، یہ شخصیت جتنی عظیم و بزرگ ہے اتنی ہی مظلوم ہے اور اُس نے عالم غربت و تنہائی میں ہی درجہ شہادت کو پایا۔
داد وتحسین اور عالم غربت میں لڑی جانے والی جنگ کا فرق
بہت فرق ہے اُس شخص میں جو ایک فداکار فوجی ہے اور جذبات کے ساتھ میدان میں قدم رکھتا ہے، عوام اُسی کیلئے نعرے لگاتی ہے اور اُس کی تمجید و بزرگی بیان کرتی ہے۔اُس کے میدان کے چاروں طرف جو ش وجذبات رکھنے والے افرادموجود ہوتے ہیں اور وہ جانتا ہے کہ اگر وہ زخمی یا شہید ہوجائے تو یہ لوگ کس قسم کے جذبات سے اُس کے ساتھ برتاو کریں گے اور اُس شخص میں جو عالم غربت و تنہائی اورانحراف و گمراہی کی ظلمت و تاریکی میں یاور و انصار اور کسی بھی قسم کی عوامی مدد و اِعانت کے بغیر دشمن کے تمام پروپیگنڈے کے باوجود سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑا ہوکر مقابلہ کرتا ہے اور اپنے جسم و جان کو قضائے الٰہی کے سپرد کرتے ہوئے راہ خدا میں قتل ہونے کیلئے تیار ہوجاتا ہے ؛یہ ہے شہدائے کربلا کی عظمت و بزرگی! یعنی یہ شہدائ ،راہِ خدا و دین میںجہاد کی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے دشمن کے رعب و دبدبے سے ہرگز خوف میں مبتلا نہیں ہوئے، نہ اپنی تنہائی کے خوف وو حشت نے اُ ن کے حوصلوں کو پست کیا اورنہ ہی اُنہوںنے اپنی تعداد کی کمی سے دشمن کے مقابلے سے فرار کا جواز فراہم کیا۔ یہی وہ چیز ہے کہ جو ایک انسان ، ایک رہبر اور ایک قوم کوعظمت و بزرگی بخشتی ہے یعنی دشمن کے ظاہری جاہ وجلال اور رعب و دبدبے کو کسی خاطر میں نہ لانا اور خوف میں مبتلا نہ ہونا۔
۵۔امام حس ین کی مختصر اور بڑی مدت کی کامیابی
سید الشہدا یہ بات جانتے تھے کہ آپ کی شہادت کے بعد آپ کا دشمن اُس معاشرے اور پوری دنیا کو اُن کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے سے بھردے گا۔ امام حسین کوئی ایسی شخصیت نہیں تھے کہ جو اپنے زمانے، اُس کے تقاضوں ، وقت کے دھارے اور دشمن کو نہ پہچانیں؛ وہ اِس بات سے اچھی طرح آگاہ وبا خبرتھے کہ اُن کا دشمن کیا کیا خباثتیں کرے گا، اِس کے باجود وہ یہ ایمان اور امید رکھتے تھے کہ اُن کی یہی غریبانہ اور مظلومانہ تحریک و قیام بالآخر دشمن کو مختصر اور بڑی مدت میں شکست سے دوچار کردے گا اور بالکل ایسا ہی ہوا ۔ یہ سراسر غلطی ہے کہ جو یہ خیا ل کرے کہ سیدالشہدا شکست کھا گئے۔قتل ہو نا شکست کھانا نہیں ہے اور نہ ہی میدان جنگ میں دشمن کے ہاتھوں قتل ہونا شکست کھانے کے برابر ہوسکتاہے، جو اپنے ہدف کو حاصل نہ کرسکے درحقیقت شکست اُس کا مقدر بنتی ہے۔
امام حسین کے دشمنوں کا ہدف یہ تھا کہ اسلام اور نبوت اور اُس کی نشانیوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیں لہٰذا اُن افراد نے شکست کھائی ہے اِس لیے کہ یہ افراد اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ سید الشہدا کا ہدف یہ تھا کہ دشمنان اسلام کے منصوبوںکو ناکام بنادیں کہ جس کے مطابق وہ پورے معاشرے کو اپنے افکار و نظریات کے مطابق بناچکے تھے یا بنارہے تھے؛ آپ کا ہدف یہ تھا کہ اسلام اور اُس کی صدائے مظلومیت و حقانیت کو پوری دنیا میں پہنچادیں اوراسلام کا دشمن مغلوب ہوجائے اور ایسا ہی ہوا اور امام حسین مختصر مدت اور بڑی مدت میں کامیاب ہوئے۔
مختصر مدت کی کامیابی!
مختصر مدت میں آپ کواِس طرح کامیابی نصیب ہوئی کہ آپ کے اِس قیام، مظلومانہ شہادت اور اہل بیت کی اسیری نے بنی امیہ کی بنیادوں کو ہلا ڈالا، اِس واقعہ کے بعد جب دنیا ئے اسلام بالخصوص مکہ و مدینہ میں پے در پے واقعات رونما ہوئے جو آل ابو سفیان کی نابودی پر ختم ہوئے اور تین چار سال میں آل ابوسفیان مکمل طور پر نابود ہوگئے ۔ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امام حسین کو نہایت بے دردی اور مظلومیت سے کربلا میں شہید کرنے والی یہ عداوت و دشمنی اور صدیوں سے دل میں چھپایہ بغض و کینہ اِس طرح اُس مظلوم امام کی فریادِ مظلومیت کے سامنے مغلوب ہوجائے گا اور وہ بھی صرف تین یا چار سال میں؟!
بڑی مدت کی کامیابی!
بڑی مدت میں بھی امام حسین کامیاب ہوئے؛آپ تاریخ اسلام کو ملاحظہ کیجئے اور دیکھئے کہ دین نے کتنی وسعت پیدا کی ہے، اسلام کی جڑیں کتنی مستحکم ہوئی ہیں اور کتنی مسلمان اقوام نے رشد کیاہے؟! اسلامی علوم اور فقہ نے کتنی پیشرفت کی اور بالآخر کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی اسلام کا پرچم دنیا کے بلند ترین مقامات پر لہرا رہا ہے! کیا یزید اور اُس کا خاندان، اسلام کی اِس طرح دن بہ دن ترقی و پیشرفت سے راضی تھا؟ وہ تو چاہتے تھے کہ اسلام کو جڑوں سمیت نکال پھینکیں اور اُن کی خواہش تھی کہ روئے زمین پر قرآن اور پیغمبر ۰ کا نام لینے والا کوئی نہ ہو لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ نتیجہ اُن کی خواہشات کے برعکس ہے ۔ پس اللہ کی راہ کا وہ مجاہد و مبارز جو ظلم و ستم کی دنیا کے سامنے مظلومانہ طور پر کھڑا ہوا، جس کا خون بہایا گیا اور جس کے خاندان کو قیدی بنایا گیا، وہ تمام جہات سے اپنے دشمن پر غالب و کامیاب ہوگیا؛یہ قوموں کیلئے ایک عظیم درس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیائے معاصر کی بڑی بڑی شخصیات ، صدورِ مملکت اور سیاستدان حضرات حتی وہ افراد بھی جو مسلمان نہیں ہیں ، کہتے ہیں کہ ’’ہم نے مقابلے اور جدوجہد کا راستہ حسین ابن علی سے لیا ہے‘‘۔
ہمارا سلامی انقلاب، انقلاب کربلا کا ایک جلوہ ہے
خود ہماراا سلامی انقلاب بھی اِسی کی ایک زندہ مثال ہے۔ ہماری عوام نے جہاد و استقامت کو امام حسین سے سیکھا ہے اور اُنہوں نے اِس بات کو بھی اچھی طرح باور کرلیاہے کہ اپنے ہدف کے حصول کی راہ میں قتل ہونا، مغلوب ہونے اور شکست کھانے کی دلیل نہیں ہے۔ نیزاُنہوں نے اِس بات کو بھی اچھی طرح جان لیا کہ ظاہری طور پر مسلح دشمن کے سامنے عقب نشینی کرنا بدبختی اور روسیاہی کا باعث ہوتاہے اور دشمن کتنا ہی رعب و دبدبے والا کیوں نہ ہو، خدا کی راہ میں جہاد کرنے والا گروہ اور مجاہد اگر مومن ہوں اور خدا کی ذات پر توکل کرتے ہوئے اُس کی راہ میں جہاد کریں تو آخرکاردشمن کو شکست سے دوچار ہونا پڑے گا اور کامیابی اُس با ایمان گروہ کے قدم چومے گی۔
آج جو کچھ میں آپ بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ آپ یہ بات اچھی طرح جان لیں کربلا تاقیامت ہمارے لیے مشعلِ راہ اور ایک زندہ و جاوید آئیڈیل ہے اور کربلا مثال ہے اِس چیز کی کہ انسان اپنے دشمن کے ظاہری رعب و دبدبے کو دیکھ کر خوف و تردید کا شکار نہ ہو اور ہم عملی طور پر اِس کا امتحان دے چکے ہیں۔
کربلا عزت وسر بلندی کا درس
صحیح ہے کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں حضرت حسین ابن علی صرف بہتر (۷۲ ) افراد کے ساتھ شہ ید ہو گئے لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جو بھی سید الشہدا کی راہ پر قدم اٹھائے گا اور جہاد و استقامت کے پُرخطر راستے پر نکلے گا وہ حتماً شہیدہی ہوگا، نہیں ! ایرانی قوم الحمد للہ آج امام حسین کی راہ پر چلنے کا عملی امتحان دے چکی ہے اور آج مسلمان قوموں اور دیگر اقوام عالم کے سامنے عظمت و سربلندی سے کھڑی ہے۔ آپ نے انقلاب کی کامیابی سے قبل جو کچھ انجام دیا اور جس راہ پر قدم اٹھائے وہ امام حسین کی راہ تھی اور وہ دشمن سے نہ ڈرنا اور تا دندان مسلح دشمن کے مقابلے کیلئے آمادگی تھا۔
آٹھ سالہ جنگ کے دوران بھی یہی صورتحال تھی اور ہماری عوام یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ اُس کے مقابلے پر مشرق و مغرب کا استعمار کھڑا ہے لیکن وہ کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہیں ہوئی۔ ہم نے اِس جنگ میں بہت قیمتی شہید دیئے ہیں، اپنے عزیز ترین افراد کی قربانی پیش کی ہے اور بہت سے افراد نے اپنی صحت و سلامتی کوراہِ خدا میںقربان کیا ہے۔ اِسی طرح بہت سے ایسے افراد ہیں کہ جو کئی سالوں تک دشمن کی قید میں رہے اور آج بھی کچھ افراد قید میں ہیں لیکن ہماری قوم اپنی اِس ایثار و فداکاری سے عزت و عظمت کی بلندیوں تک جا پہنچی ہے اور اسلام کامیاب ہوگیا ہے ؛آج اسلام کا پرچم دنیا پر لہرار ہا ہے اور یہ سب اُس استقامت کی برکت کانتیجہ ہے۔(۵)
____________________
۱ عمال سوم شعبان ، مفاتیح الجنان
۲ اعمال سوم شعبان ، مفاتیح الجنان
۳ سورئہ توبہ / ۷۳ ۲ سورئہ حدید / ۲۰
۴ سپاہ پاسداران سے خطاب ۲۶/۱/۱۹۹۲
۵ ماہ محرم کی آمد سے قبل عوامی اجتماع سے خطاب ۱/۷/۱۹۹۲
حسینی تحریک کا خلاصہ
انسانی جہالت اور پستی کے خلاف جنگ!
امام حسین کی زیارت اربعین میں ایک جملہ ذکر کیا گیا ہے جو مختلف زیارتوں اور دعاوں کے جملوں کی مانند قابل تآمّل اور معنی خیزجملہ ہے اور وہ جملہ یہ ہے’’وَ بَذَلَ مَهجَتَهُ فِیکَ‘‘ ، یعنی زیارت پڑھنے والا خدا
کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ’’ امام حسین نے اپنی پوری ہستی اور دنیا ، اپنی جان اور خون کو تیری راہ میں قربان کردیا‘‘؛’’لِيَستَنقِذَ عِبَادِکَ مِنَ الجَهَالَةِ وَحَیرَةِالضَّلَالَةِ ‘ ،’’تاکہ تیرے بندوں کو جہالت سے نجات دلائیںاور ضلالت و گمراہی کی حیرت و سرگردانی سے اُنہیں باہرنکالیں‘‘۔ یہ اِس حقیقت کا ایک رُخ ہے یعنی یہ حسین ابن علی ہے کہ جس نے قیام کیا ہے۔ اِس حقیقت کا دوسرا رخ جسے اِس زیارت کا اگلا جملہ بیان کرتا ہے،’’وَقَد تَوَازَرَ عَلَیهِ مَن غَرَّتهُ الدُّنيَا وَبَاعَ حَظَّهُ بِالاَرذَلِ الاَدنٰٰٰٰی ‘‘ ،اِس واقعہ میں امام کے مدِ مقابل وہ لوگ تھے جو زندگی و دنیا سے فریب کھا کر اپنی ذات میں کھو گئے تھے، دنیاوی مال و منال، خواہشات نفسانی اور شہوت پرستی نے اُنہیں خود سے بے خود کردیا تھا،’’وَبَاعَ حَظَّهُ بِالاَرذَلِ الاَدنٰی‘‘ ؛’’اُنہوں نے اپنے حصے کو کوڑیوں کے دام بیچ ڈالا‘‘۔ خداوند عالم نے عالم خلقت میں ہر انسان کیلئے ایک خاص حصہ قرار دیا ہے اور وہ حصہ ،دنیا و آخرت کی سعادت و خوش بختی سے عبارت ہے۔ اِن لوگوں نے اپنی دنیا و آخرت کی سعادت کو دنیا کی صرف چند روزہ فانی زندگی کے عوض فروخت کرڈالا۔ یہ ہے حسینی تحریک کا خلاصہ کہ ایک طرف وہ عظمت و بزرگی اور ایک طرف یہ پستی اور ذلت و رسوائی!
اِس بیان میں غوروفکر کرنے سے انسان اِس بات کا احساس کرتا ہے کہ حسینی تحریک کو دو مختلف نگاہوں سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے اور یہ دونوں نگاہیں درست ہیں لیکن یہ دونوں نگاہیں مجموعاً اِس تحریک کے مختلف اورعظیم ابعاو جہات کی نشاندہی کرنے والی ہیں۔
ایک نگاہ امام حسین کی تحریک کی ظاہری صورت سے متعلق ہے کہ آپ کی یہ تحریک و قیام؛ ایک فاسق، ظالم اور منحرف یزیدی حکومت کے خلاف تھالیکن ظاہری و معمولی اور آدھے دن میں ختم ہو جانے والی یہی تحریک درحقیقت ایک بہت بڑی تحریک تھی کہ جسے یہ نگاہ دوم بیان کرتی ہے اور وہ انسان کی جہالت و پستی کے خلاف امام کی تحریک ہے ۔صحیح ہے کہ امام حسین گرچہ یزید سے مقابلہ کرتے ہیں لیکن یہ امام عالی مقام کاصرف یزید جیسے بے قیمت اور پست انسان سے تاریخی اور عظیم مقابلہ نہیں ہے بلکہ انسان کی جہالت وپستی ، ذلت و رُسوائی اور گمراہی سے مقابلہ ہے اور درحقیقت امام نے اِن سے جنگ کی ہے۔
امامت کی ملوکیت میں تبدیلی
اسلام کے ہاتھوں ایک آئیڈیل حکومت کی نبیاد رکھی گئی ،اگر ہم اِس تناظر میں واقعہ کربلا اور تحریک حسینی کا خلاصہ کرنا چاہیں تو اِ س طرح بیان کرسکتے ہیںکہ امام حسین کے زمانے میں بشریت؛ ظلم و جہالت اور طبقاتی نظام کے ہاتھوں پس رہی تھی اور دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں خواہ وہ ایرانی شہنشائیت ہو یا رومی سلطنت و بادشاہت، سب کی سب غیر عوامی ، عیاشی، ظلم و ستم اور جہالت و برائیوں کی حکومتیں تھیں۔
اِسی طرح نسبتاً چھوٹی حکومتیں جو جزیرۃ العرب میں قائم تھیں، اُن سے بدتر تھیں غرضیکہ پوری دنیا پر جہالت کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔ اِس ظلمت و تاریکی میں نور اسلام نے پیغمبر خدا ۰ کے وسیلے، امداد الٰہی اور عوام کی طاقت فرسا جدوجہد کے ذریعہ جزیرۃ العرب کے ایک علاقے کو منور کیا، بعد میں یہ نور آہستہ آہستہ پھیلتا رہا اوراُس نے ایک وسیع و عریض علاقے کو منور کردیا۔
جب حضرت ختمی مرتبت ۰ کا وصال ہوا تو آپ کی یہ حکومت ایسی حکومت تھی جو تاریخ بشریت میں سب کیلئے ایک آئیڈیل تھی اور اگر وہ حکومت اُسی طرح باقی رہتی تو بلاشک و شبہ وہ تاریخ کو تبدیل کردیتی یعنی جو کچھ صدیوں کے بعد یعنی امام زمانہ کے ظہور کے زمانے میں ظہور پذیر ہوتا وہ اُسی زمانے میں وقوع پذیر ہوجاتا۔ امام زمانہ کے ظہور کے بعد کی دنیا عدل و انصاف، پاکیزگی، سچائی اور معرفت و محبت کی دنیا ہے، اِس عالم ہستی کی حقیقی دنیا امام زمانہ کے ظہور کے بعد کے زمانے سے متعلق ہے کہ یہ صرف خدا ہے جانتا ہے کہ اُس وقت بشر کن عظمتوں اور فضیلتوں کو حاصل کرے گا۔ بنابراِیں ، اگر پیغمبر اسلام ۰ کی حکومت جاری رہتی تو تاریخ انسانیت تبدیل ہوجاتی لیکن کچھ خاص حالات کی وجہ سے یہ کام انجام نہ پاسکا۔
پیغمبر اسلام ۰ کی حکومت کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کی بنیادیں ظلم و ستم کے بجائے عدل و انصاف ؛ شرک اور انسانی فکر کو متفرق اور پرا کندہ کرنے کے بجائے توحید اور پروردگار عالم کی بندگی پر تمرکز؛ جہالت کے بجائے علم و معرفت اور حسد وکینے کے بجائے انسانوں میں محبت و ہمدردی اور مداراکرنے کے رابطوں کی بنیادوں پر قائم تھی۔ ایسی حکومت کے سائے میں پرورش پانے والا انسان ؛باتقوی ، پاکدامن ، عالم ، بابصیرت، فعال، پُرنشاط، متحرک اور کمال کی طرف گامزن ہوگا۔ لیکن پچاس سال بعد حالات بالکل ہی بدل گئے، نام کا اسلام رہ گیا اور لوگ صرف ظاہری مسلمان تھے لیکن باطن میں اسلام و اسلامی تعلیمات کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ عدل و انصاف کی حکومت کے بجائے ظالم حکومت برسر اقتدار آگئی، اُخوت و مساوات کی جگہ طبقاتی نظام اور گروہ بندی برا جمان ہو گئے اورنور معرفت بجائے جہالت کے سیاہ با دلوںنے لوگوں پر سایہ کرلیا۔ اِن پچاس سالوں میں آپ جتنا آگے کی طرف جاتے جائیں گے اور اگر انسان ایسی مثالیں ڈھونڈنا چاہے تو ایسے سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جنہیں اہل تحقیق ،نوجوان نسل کیلئے بیان کرسکتے ہیں۔
امامت و ملوکیت کا فرق!
خدا وند عالم کا عطا کردہ’’ ہدایت کانظام امامت‘‘ ؛ ملوکیت وسلطنت میں تبدیل ہوگیا! نظام امامت کی حقیقت و اصلیت؛ سلطنت و ملوکیت کے نظام کی حقیقت و جوہر سے مختلف ہے، اُس سے مکمل طورپر تناقض رکھتی ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ امامت یعنی روحانی اور معنوی رہبری و پیشوائی، لوگوں سے ایک قلبی اور اعتقادی رابطہ لیکن ملوکیت و سلطنت یعنی ظلم و قدرت اور فریب کی حکومت کہ جس میں عوام اور حکومت میں کوئی قلبی ، معنوی اور ایمانی رشتہ و رابطہ قائم نہیں ہوتااور یہ دونوں بالکل ایک دوسرے کے مدّ مقابل ہیں۔ امامت؛ امّت کے درمیان، امت کیلئے اور امت کی خیر و بھلائی کیلئے ایک رواں اور شفاف چشمہ ہے جبکہ ملوکیت و سلطنت؛ عوام کی مصلحت پر زور زبردستی کا راج، سلطنت یعنی خاص افراد کی فلاح و بہبود کی حکومت اور حکام و سلاطین کیلئے ثروت اندوزی اور شہوت رانی کے وسائل فراہم کرنے کے امکانات! ہم امام حسین کے زمانے حکو مت کی جتنی تصویریں دیکھتے ہیں ہمیں ہر طرف ملوکیت و سلطنت ہی نظر آتی ہے۔
جب یزید برسر اقتدار آیا تو اُس کا لوگوں سے نہ کوئی رابطہ تھا اور نہ وہ علم و پرہیز گاری اور پاکدامنی اور تقوی کی الف ب سے واقف تھا؛راہ خدا میں جہادکرنے کااُس کانہ کوئی سابقہ تھا اور نہ ہی وہ معنویت و روحانیت پر یقین و اعتقاد رکھتا تھا؛ نیزنہ اُس کا کردار ایک مومن کے کردارکی مانند تھا اور نہ اُس کی گفتارایک حکیم و دانا کی گفتار تھی اور سنتِ رسول ۰ سے اُس کا دور دور کاکو ئی واسطہ نہیں تھا۔ اِن حالات میں حسین ابن علی کیلئے جو ایسے امام و رہبر تھے کہ جنہیں مسند رسول ۰ پر بیٹھنا چاہیے تھا، ایسے حالات پیش آئے اور اُنہوں نے قیام کیا۔
قیام امام حسین کا اصل ہدف
اگر اِس واقعہ کا ظاہری تجزیہ و تحلیل کیا جائے تو بظاہر یہ قیام، ظلم کی بنیادوں پر قائم یزید کی با طل حکومت کے خلاف تھا لیکن حقیقت میں یہ قیام ؛اسلامی اقدار کے اِحیائ ، معرفت و ایمان کو جلادینے اور عزت کے حصول کیلئے تھا اور اِس کا مقصد یہ تھا کہ امت کوذلت و پستی ، رسوائی اور جہالت سے نجات دی جائے۔
لہٰذا یہی وجہ ہے کہ جب سید الشہدا مدینہ تشریف لے جارہے تھے تو اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کے نام یہ تحریر لکھی،’’اِنِّی لَمْ اَخرُج اَشِرًا وَ لاَ بَطِرَاً وَلاَ مُفسِدًا وَلَا ظَالِمًا اِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْاِصْلَاحِ فِی اُمَّةِ جَدِّی‘‘ ؛’’میں غرورو تکبر ،فخر ومباہات اور ظلم و فساد کیلئے قیام نہیں کررہا ہوں،میں دیکھ رہا ہوں کہ امت محمدی ۰ کی حالت تبدیل ہوگئی ہے اور لوگ غلط سمت اور انحطاط کی طرف حرکت کررہے ہیں اور اُس جانب قدم بڑھارہے ہیں کہ جو اسلام اور پیغمبر اکرم ۰ کی بتائی ہوئی سمت کے خلاف ہے اور میں نے اِسی انحراف اور خرابی سے مقابلے کیلئے قیام کیا ہے‘‘۔
سید الشہدا کے مبارزے کی دو صورتیں
امام حسین کے قیام ومبارزے کی دوصورتیں ہیں اور دونوں کا اپنا اپنا الگ نتیجہ ہے اور دونوں اچھے نتائج ہیں؛ ایک نتیجہ یہ تھا کہ امام حسین یزیدی حکومت پر غالب و کامیاب ہوجاتے اور لوگوں پر ظلم و ستم کرنے والوں سے زمام اقتدار چھین کر امت کی صحیح سمت میں راہنمائی فرماتے،اگر ایسا ہوجاتا تو تاریخ کی شکل ہی بدل جاتی۔ دوسری صورت یہ تھی کہ اگر کسی بھی وجہ اور دلیل سے یہ سیاسی اور فوجی نوعیت کی کامیابی آپ کیلئے ممکن نہیں ہوتی تو اُس وقت امام حسین اپنی زبان کے بجائے اپنے خون، مظلومیت اور اُس زبان کے ذریعہ کہ جسے تاریخ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے یاد رکھتی، اپنی باتیں ایک رواںاور شفاف پانی کی مانند تاریخ کے دھارے میں شامل کردیتے اور آپ نے یہی کام انجام دیا۔
البتہ وہ افراد جو بڑے بڑے زبانی وعدے کرتے اور اپنے ایمان کی مضبوطی کا دم بھرتے تھے اگر ایسا نہ کرتے تو پہلی صورت وجود میں آتی اور امام حسین اُسی زمانے میں دنیا و آخرت کی اصلاح فرمادیتے لیکن اِن افراد نے کو تاہی کی! اِس کوتاہی کے نتیجے میں وہ پہلی صورت سامنے نہیں آسکی اور نوبت دوسری صورت تک جا پہنچی۔ یہ وہ چیز ہے کہ جسے کوئی بھی قدرت امام حسین سے نہیں چھین سکتی اور وہ میدانِ شہادت میں جانے کی قدرت اورراہِ دین میں اپنی اور اپنے عزیز و اقارب کی جان قربان کرنا ہے۔ یہ وہ ایثار و فداکاری ہے کہ جو اتنی عظیم ہے کہ اِس کے مقابلے میں دشمن کتنی ہی ظاہری عظمت کا مالک کیوں نہ ہو، وہ حقیر ہے اور اُس کی ظاہری عظمت ختم ہوجاتی ہے اور یہ وہ خورشید ہے کہ جو روز بروز دنیائے اسلام پر نور افشانی کررہا ہے۔
آج امام حسین گذشتہ پانچ یا دس صدیوں سے زیادہ دنیا میں پہچانے جاتے ہیں۔ آج حالات یہ ہیں کہ دنیا کے مفکرین، روشن فکر شخصیات اور بے غرض افراد جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اور واقعہ کربلا کو دیکھتے ہیں تو اپنے دل میں خضوع کا احساس کرتے ہیں۔ وہ تمام افراد جو اسلام سے کوئی سروکار نہیں رکھتے لیکن آزادی، عدالت، عزت، سربلندی اور اعلی انسانی اقدار جیسے بلند پایہ مفاہیم کو سمجھتے ہیں اور اِس زاویے سے کربلا کو دیکھتے ہیں تو آزادی و آزادی خواہی، عدل و انصاف کے قیام، برائیوں ، جہالت اور انسانی پستی سے مقابلہ کرنے میںسید الشہدا اُن کے امام و رہبر ہیں۔
جہالت و پستی، انسان کے دو بڑے دشمن
آج انسان نے دنیا میں جہاںکہیں بھی چوٹ کھائی ہے خواہ وہ سیاسی لحاظ سے ہو یا فوجی و اقتصادی لحاظ سے، اگر آپ اُس کی جڑوں تک پہنچیں تو آپ کو یا جہالت نظر آئے گی یا پستی ۔یعنی اِس انسانی معاشرے کے افراد یا آگاہ وواقف نہیںہیں اوراُنہیں جس چیز کی لازمی معرفت رکھنی چاہیے وہ لازمی معرفت و شناخت نہیں رکھتے ہیں یا یہ کہ معرفت کے حامل ہیں لیکن اُس کی اہمیت اور قدر وقیمت کے قائل نہیں ہیں،انہوں نے اُسے کوڑیوں کے دام بیچ دیا ہے اور اُس کے بجائے ذلت وپستی کو خرید لیا ہے!
حضرت امام سجاد اور حضرت امیر المومنین سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ’’لَیسَ لِاَنفُسِکُم ثَمَن? اِلَّا الجَنَّةَ فَلَا تَبِیعُوهَا بِغَیرِهَا‘‘ ؛’’تمہاری جانوں کی جنت کے علاوہ کوئی اور قیمت نہیں ہے لہٰذا اپنی جانوں کو جنت کے علاوہ کسی اور چیز کے عوض نہ بیچو‘‘۔ یعنی اے انسان! اگر یہ طے ہو کہ تمہاری ہستی و ذات اور تشخص و وجود کو فروخت کیا جائے تو اِن کی صرف ایک ہی قیمت ہے اور وہ ہے خدا کی جنت، اگر تم نے اپنے نفس کو جنت سے کم کسی اور چیز کے عوض بیچا تو جان لو کہ تم کو اِس معاملے میں غبن ہوا ہے! اگر پوری دنیا کوبھی اِس شرط کے ساتھ تمہیںدیں کہ ذلت وپستی کو قبول کر لو توبھی یہ سودا جائز نہیں ہے۔
وہ تمام افراد جو دنیا کے گوشے کناروں میں زر وزمین اور صاحبانِ ظلم و ستم کے ظلم کے سامنے تسلیم ہوگئے ہیں اوراُنہوں نے اِس ذلت و پستی کو قبول کر لیا ہے، خواہ عالم ہوں یا سیاست دان، سیاسی کارکن ہوں یا اجتماعی امور سے وابستہ افراد یا روشن فکر اشخاص، تو یہ سب اِس وجہ سے ہے کہ اُنہوں نے اپنی قدر وقیمت کو نہیں پہچانا اور خود کو کوڑیوں کے دام فروخت کردیا ہے ؛ہاں سچ تو یہی ہے کہ دنیا کے بہت سے سیاستدانوں نے خود کو بیچ ڈالا ہے۔ عزت صرف یہ نہیں ہے کہ انسان صرف سلطنت کیلئے بادشاہت یا ریاست کی کرسی پر بیٹھے؛ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان تخت حکومت پر بیٹھ کر ہزاروں افرادسے غروروتکبر سے پیش آتا ہے اوراُن پر ظلم کرتاہے لیکن اُسی حالت میں ایک بڑی طاقت اور سیاسی مرکز کا اسیر و ذلیل بھی ہوتا ہے اور خود اُس کی نفسانی خواہشات اُسے اپنا قیدی بنائے ہوئے ہوتی ہیں! آج کی دنیا کے سیاسی اسیر و قیدی کسی نہ کسی بڑی طاقت و قدرت اور دنیا کے بڑے سیاسی مراکز کے اسیر و قیدی ہیں!
اسلامی انقلاب سے قبل ایران کی ذلت و پستی!
اگر آپ آج ہمارے اِس عظیم ملک پر نگاہ ڈالیں تو آپ مشاہدہ کریں گے کہ اِس ملک کے نوجوانوں کے چہرے اپنے ملک کے استقلال و خودمختاری اور عزت کے احساس سے شادمان ہیں۔ کوئی بھی اِ س بات کا دعوی نہیں کرسکتا ہے کہ اِس ملک کا سیاسی نظام، دنیا کی کسی ایک سیاسی قدرت کا ایک چھوٹا سا حکم بھی قبول کرتا ہے! پوری دنیا اِس بات کو اچھی طرح قبول کرتی ہے کہ اِس عظیم اوربا عزت ملک میں اسلامی انقلاب سے قبل ایسی حکومت برسراقتدار تھی کہ جس کے افراد فرعونیت اور تکبر کے مرض میں مبتلا تھے، اُنہوں نے اپنے لیے ایک اعلی قسم کے جاہ وجلال اور رعب و دبدبے کی دنیا بنائی ہوئی تھی اور لوگ اُن کی تعظیم کرتے ہوئے اُن کے سامنے جھکتے تھے لیکن یہی افراد دوسروں کے اسیر و اُن کے سامنے ذلیل و پست تھے!اِسی تہران میں جب بھی امریکی سفیر چاہتا تو وقت لیے بغیر شاہ سے ملاقات کرتا، ہربات کو اُ س پر تھونپتا اور اُس سے اپنی بات کی تکمیل چاہتا اور اگر وہ انجام نہ دیتا تو اُسے ہٹا دیتا (لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ شاہ ایران میں اتنی جرآت ہی نہیں تھی کہ وہ امریکی حکومت یا امریکی سفیر کے مرضی کے خلاف کوئی چھوٹا سا عمل انجام دے!) اِن افراد کا ظاہر بہت جاہ و جلال والا تھا لیکن صرف عوام اور کمزور افراد کے سامنے۔ امام حسین اِسی پستی و ذلت کو انسانوں سے دور کرنا چاہتے تھے۔
اخلاق پیغمبر ۰
پیغمبر اکرم ۰ کی حالت یہ تھی کہ’’کَانَ رَسُولُ اللّٰهِ يَاکُلُ آَکلَ العَبدِ وَ يَجلِسُ جُلُوسَ العَبدِ‘‘ ،’’ وہ غلام و عبد ک ی مانند غذا تناول فرماتے اور بندوں کے مثل بیٹھتے تھے ‘‘۔ خود پیغمبر اکرم ۰ کے بہت سے عزیز و اقارب امیر ترین افراد تھے لیکن لوگوں سے آپ ۰ کی رفتار و عمل بہت ہی متواضعانہ تھا، اُن کا احترام فر ماتے اور کبھی فخر و مباہات سے پیش نہیں آتے تھے لیکن آپ ۰ کی ایک نگاہ و اشارے سے اُس زمانے کے بڑے بڑے شہنشاہوں کے بدنوں میں کپکپی طاری ہوجاتی تھی؛یہ ہے حقیقی عزت!
امامت و سلطنت کا بنیادی فرق
امامت یعنی وہ نظام کہ جو خدا کی عطا کی ہوئی عزت کو لوگوں کیلئے لے کر آتا ہے، لوگوں کو علم و معرفت عطا کرتا ہے، اُن کے درمیان پیا ر محبت کو رائج کرتا ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں اسلام اور مسلمانوں کی عظمت و بزرگی کی حفاظت جیسا عظیم فریضہ اُس کے فرائض میں شامل ہے لیکن بادشاہت اور ظالم حکومتیں بالکل اِس کے برعکس عمل کرتی ہیں۔
آج دنیا کے بہت سے ممالک میں بادشاہی نظام رائج نہیں ہے لیکن وہ لو گ درحقیقت بادشاہ ہی ہیںاور مطلق العنانیت اُن کے ملک پر حاکم ہے۔اِن کا نام سلطان ،بادشاہ سلامت،جاں پناہ ،ظلِّ الٰہی اور ظلِّ سبحانی نہیں ہے اور ظاہری جمہوریت بھی اُن کے ملک میں موجود ہے لیکن اُن کے دماغ میں وہی قدیم سلطنت و بادشاہت اور اُس کی فر عونیت کا قوی ہیکل دِیو سوارہے یعنی لوگوں سے ظالمانہ اور متکبرانہ رویہ رکھنا اور اپنے سے بالاتر طاقتوں کے سامنے ذلت ورسوائی سے جھکنا! نوبت تو یہاں تک آپہنچی ہے کہ ایک بہت ہی بڑے اور طاقتور ملک (امریکا) کے اعلی سیاسی عہدیدار اپنے اپنے مقام و منصب کے لحاظ سے صہیونیوں، بین الاقوامی مافیا، بین الاقوامی خفیہ نیٹ ورک اور بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان کے ہاتھوں اسیر و غلام ہیں! یہ لوگ مجبور ہیں کہ اُن کی خواہشات کے مطابق باتیں کریں اور اپنا موقف اختیار کریں تاکہ وہ کہیں اِن سے ناراض نہ ہو جائیں، اِسے کہتے ہیں سلطنت و با دشاہت! جب کسی بھی کام کے ایک پہلو میں بھی ذلت و رُسورائی موجود ہوگی تو وہ ذلت و رُسوائی اُس کے بدن اور ڈھانچے میں بھی سرائیت کرجائے گی اور امام حسین نے عالم اسلام میں پنپنے والی اِسی ذلت و رُسوائی کے خلاف قیام کیا۔
بندگی خداکے ساتھ ساتھ عزت و سرفرازی
امام حسین کے رفتار و عمل میں ابتدائ ہی سے یعنی مدینہ سے آپ کی حرکت سے شہادت تک معنویت، عزت وسربلندی اور اُس کے ساتھ ساتھ خداوند عالم کے سامنے عبودیت و بندگی اور تسلیم محض کوواضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے جبکہ واقعہ کربلا اورامام کی پوری زندگی میں یہی بات قابل مشاہدہ ہے۔
جس دن آپ کی خدمت میںہزاروں خطوط لائے گئے کہ ہم آپ کے شیعہ اور چاہنے والے ہیں اور کوفہ و عراق میں آپ کی آمد کا انتظار کررہے ہیں تو آپ کسی بھی قسم کے غرور و تکبر میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ایک مقام پر آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ’’خُطَّ المَوْتِ عَلٰى وُلدِآدَمَ مَحَطَّ القَلَادَةِ عَلٰى جِیدِ الفَتَاةِ‘‘ (۱) ’’موت فرزند آدم ک یلئے اِس طرح لکھ دی گئی ہے جس طرح ایک گلوبند ایک جوان لڑکی گلے پر نشان چھوڑ جاتا ہے‘‘۔ سید الشہدا نے یہاں موت کا ذکر کیا ہے ، یہ نہیں کہا کہ ایسا کریں ویسا کریں گے یاامام حسین نے یہاں دشمنوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہو اور دوستوں اور چاہنے والوں کو سبز باغ دکھائے ہوں کہ میں تم کو شہر کوفہ کے منصب ابھی سے تقسیم کیے دیتا ہوں؛ایسا ہر گز نہیں ہے! بلکہ سید الشہدا یہاں ایک سچے اور خالص مسلمان کی حیثیت سے معرفت، عبودیت و بندگی اور تواضع کی بنیا دوں پر قائم اپنی تحریک کا اعلان فرمارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سب لوگ نے اپنی نگاہیںاِسی عظیم شخصیت کی طرف اٹھائی ہوئی ہیں اوراُس سے اظہار عقیدت و مودّت کرتے ہیں۔ جس دن کربلا میں تیس ہزار پست و ذلیل افراد کے ہاتھوں سو سے بھی کم افراد کا محاصرہ کیا گیا اورلوگ آپ اور آپ کے اہل بیت و اصحاب کو قتل کرنے کے درپے ہوگئے اور اہل حرم اور خواتین کو قیدی بنانے کیلئے پر تولنے لگے تو اُس خدائی انسان، خداکے سچے بندے اور اسلام کے سچے عاشق میں خوف اضطراب کا دور دور تک کو ئی نام و نشان نہیں تھا۔
وہ راوی کہ جس نے روز عاشورا کے واقعات کو نقل کیا ہے اورجو کتابوں کے ذریعہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے ہیں، کہتا ہے کہ’’فَوَاللّٰهِ ما رَاَیتُ مَکثُورًا‘‘؛ ’’قسم خدا کی کہ روز عاشورا کے مصائب ، سختیوں اور ظلم و ستم کے باوجود میں نے اُنہیں تھوڑا سا بھی ٹوٹا ہوا نہیں پایا‘‘۔ ’’مَکثُورا ‘‘یعنی جس پر غم و اندوہ کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں، جس کا بچہ مرجائے،جس کے دوستوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے،جس کے مال و دولت کو لوٹ لیا جائے اور مصیبتوں اور سختیوں کے طو فان کی اُٹتھی ہوئی مو جیںجسے چاروں طرف سے گھیر لیں۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے چاروں طرف سے بلاوں میں گھرے ہوئے حسین ابن علی کی طرح کسی کو بھی مضبوط چٹان کی مانند نہیں دیکھا، ’’اربط جاشا‘‘۔ مختلف جنگوں ، بڑے بڑے محاذ جنگ اور اجتماعی اور سیاسی میدانوں میں ہم کو مختلف قسم
کے افراد نظر آتے ہیں کہ جو غم و اندوہ کے دریا میں غرق ہوتے ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ اُس مصیبت اور کڑے وقت حسین ابن علی کی مانندمیں نے کسی کو نہیں دیکھا جو شاداب چہرے، مصمم ارادوں کا مالک، عزم آ ہنی رکھنے والا اور خداوند عالم کی ذات پر کامل توکل کرنے والا ہو! یہ ہے خداوند عالم کی عطا کی ہوئی عزت! یہ ہیں وہ انمٹ نقوش ہیںجو واقعہ کربلا نے تاریخ پر چھوڑے ہیں۔ انسان کو ایسی حکومت و معاشرے کے حصول کیلئے جدوجہد کرنا چاہیے یعنی ایسا معاشرہ کہ جس میں جہالت وپستی، انسانوں کی غلامی اور طبقاتی نظام اور نسل و نژاد کے زخم و نا سُور موجودنہ ہوں۔سب کو ایسے معاشرے کے حصول کیلئے مل کر اجتماعی جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ وہ وجود میں آئے اور آئے گا اور یہ کام ممکن ہے۔
اسلامی انقلاب کا آئیڈیل کربلا ہے
ایک وہ زمانہ تھا کہ جب دنیا میں رائج مادی مکا تب وسیاست سے انسانیت مایوس ہو چکی تھی لیکن ہمارے اسلامی انقلاب اور نظام اسلامی نے یہ ثابت کردیا کہ جہالت و پستی ،طبقاتی نظام ،انسانوں کی انسانوں کیلئے غلامی اورنسل ونژاد سے پاک معاشرے کا قیام ممکن ہے۔صحیح ہے کہ ہمارا اسلامی نظام ابھی کامل نہیں ہوا ہے لیکن اُس نے اپنے ہدف کے حصول کی راہ سے بڑی بڑی رکاوٹوں کو دور کردیا ہے؛ طاغوتی حکومت، آمرانہ نظام حکومت، وہ حکومتیں جو اپنی عوام پر شیروں کی طرح مسلط تھیں لیکن بڑی طاقتوں کے سامنے بھیگی بلی بنی ہوئی تھیں، (پہلوی خاندان کے)ایسے افرادکی حکومت جو اپنی عوام سے فرعونیت و تکبر سے پیش آتی تھی لیکن غیروں اور بیگانوں کے سامنے اُس کا سر تسلیم خم تھا، یہ ہیں ایک قوم کی راہ کے موانع اور وہ بھی ایسی حکومت کہ دنیا کی تمام بڑی طاقتیں جس کی حمایت و طرفداری کرتی تھیں۔ ایرانی قوم نے یہ ثابت کر دکھایا کہ یہ کام عملی اور ممکن ہے اور اِس رکاوٹ کو ہٹا کر اِس راستے پر حرکت کی جاسکتی ہے۔
خداوند عالم کے لطف و کرم سے اِس نظام کو کامیاب بنا نے کی راہ میں بہت زیادہ کوششیں کی گئی ہیں لیکن
میرے بھائیوں اور بہنو! ہم ابھی آدھے راستے میں کھڑے ہیں؛ اگر ہم سید الشہدا کے پیغام کو زندہ رکھیں، اگر امام حسین کے نام کا احترام کریں، اگرہم تحریک کربلا کو انسانی تاریخ کا بہت بڑا واقعہ جانتے ہیں اور اُس کی عظمت و احترام کے قائل ہیں تو یہ اِس لیے ہے کہ اِس واقعہ کا تذکرہ اور اُسے زندہ رکھنا ہماری مددکرے گاکہ ہم آگے کی جانب قدم بڑھائیں اور اور امام حسین کے بتائے ہوئے راستے کو اپنا سر مشق زندگی قرار دیں۔ امام حسین کے نام گرامی کو خداوند عالم نے عظمت بخشی ہے اور تاریخ میں واقعہ کربلا کو تا ابد زندہ رکھا ہے۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ اِس واقعہ کو زندہ رکھیں اور اِس کی عظمت کو بیان کریںتواِس کا معنی یہ نہیں ہے کہ ہم اِس کام کو انجام دے رہے ہیں، نہیں! یہ واقعہ اِس سے زیادہ با عظمت ہے کہ دنیا کے مختلف واقعات اُسے کم رنگ بنائیں یا اُسے ختم کردیں۔(۲)
کربلا ہے اِک آفتاب اور اُس کی تنویریں بہت!
محرم سے متعلق دو قسم کی باتیں کی جاسکتی ہیں جن میںسے ایک خود واقعہ کربلا سے متعلق ہے۔ اگرچہ کہ ہمارے بزرگ علما نے فلسفہ قیام امام حسین کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے اور بہت ہی قیمتی مطا لب اِس ضمن میں موجود ہیں لیکن اِس درخشاں حقیقت کی عظمتیں بیان کرنے کیلئے ایک طویل عمر بھی نا کا فی ہے۔ ہم واقعہ کربلااور قیام امام حسین کے متعلق جتنا بھی غوروفکر کریں، متوجہ ہوں گے کہ یہ واقعہ مختلف جہات سے جذابیت، فکری وسعت کا حامل اور بیان کیے جانے کے قابل ہے۔ ہم جتنی بھی فکر کریں گے تو ممکن ہے کہ اِس واقعہ کے نئے پہلووں، زاویوں اورحقائق کو ہمارے سامنے آئیں۔ یہ وہ چیز ہے کہ جو پورے سال بیان کی جاتی ہے لیکن ماہ محرم کی اپنی ایک الگ خاص بات ہے اور ایام محرم میں اِسے زیادہ بیان کیا جانا چاہیے اور کیا جاتا ہے اور ان شائ اللہ بیان کیا جاتا رہے گا۔
مکتب تشیع کا ایک وجہ امتیاز، کربلا
واقعہ کربلا کا ایک پہلو جو ماہ محرم کی مناسبت سے قابل بحث ہے اور اِس بارے میں بہت کم گفتگو کی جاتی ہے، وہ امام حسین کی عزاداری اور واقعہ کربلا کو زندہ رکھنے کی برکتوں سے متعلق ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دوسرے مسلمان مکا تب فکر کی بہ نسبت شیعہ مکتبہ فکرکا ایک امتیاز اُس کا واقعہ کربلا سے متصل ہونا ہے۔ جس زمانے سے حضرت امام حسین کے مصائب کا تذکرہ شروع ہوا تواُسی وقت سے اہل بیت کے محبوں اور چاہنے والوں کے اذہان میں فیض و برکت اور معنویت کے چشمے جاری ہوئے اور آج تک جاری ہیں اور یونہی جاری رہیں گے۔
زندگی میں پیار و محبت اور مہربانی کا کردار
واقعہ کربلا کا تذکرہ کرنا صرف ایک تاریخی واقعہ کو دہرانا نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جو بے شمار ابعادوجہات کا حامل ہے۔ پس اِس واقعہ کا تذکرہ درحقیقت ایسا مقولہ ہے جو بہت سی برکتوں کا باعث ہوسکتا ہے لہٰذا آپ دیکھتے ہیں کہ آئمہ طاہرین کے زمانے میں امام حسین پر گریہ کرنا اور دوسروں کو رُلانا ایک خاص اہمیت و مقام کا حامل تھا۔ مبادا کوئی یہ خیال کرے کہ عقل و منطق اور استدلال کی روشنی میں گریہ کرنا اور اِس قسم کی دوسری بحثیں سب قدیمی اور پرانی ہیں! نہیں، یہ غلط خیال ہے ۔ ہمدردی کے احساسات کی اہمیت اپنی جگہ اور منطق و استدلال کی افادیت اپنی جگہ اورانسانی شخصیت کی تعمیر اور ایک اسلامی معاشرے کے قیام میں دونوںخاص کردارکے حامل ہیں۔ بہت سے ایسے مسائل ہیں کہ جنہیں پیار ومحبت اور میٹھی زبان سے ہی حل کیا جاسکتا ہے اور عقل ومنطق اور استدلال اِن احساسات کی جگہ نہیں لے سکتے۔
اگر آپ انبیا کی تحریکوں کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ جب انبیا مبعوث ہوتے تھے تو پہلے مرحلے پر اُن کے گرد جمع ہونے والے افراد استدلال و برہان کی وجہ سے اُن کے پاس نہیں آتے تھے۔ آپ پیغمبر اکرم ۰ کو سیرت کے ملاحظہ کیجئے تو آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گا کہ آنحضرت ۰ نے قابلیت و استعداد رکھنے والے کفار کو اپنے سامنے بٹھا کر دلیل و برہان سے بات کی ہو کہ یہ خدا کے وجود کی دلیل ہے یا اِس دلیل کی روشنی میں خدا، واحد ہے یا اِس عقلی دلیل کی بنیاد پر تم جن بتوں کی پرستش کرتے ہو وہ باطل ہے !دلیل و برہان کو وہاں استعمال کیا جاتا ہے کہ جب کوئی تحریک زور پکڑ جاتی ہے جبکہ پہلے مرحلے پر تحریک، ہمدردی کے جذبات و احساسات اور پیار و محبت کی زبان کے ہمراہ ہوتی ہے۔ پہلے مرحلے پر اُن کے سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کرنے کیلئے کہا جاتا ہے کہ ’’اِن بتوں کو دیکھو کہ یہ کتنے ناتوان اور عاجز ہیں‘‘۔ پیغمبر اکرم ۰ اپنی دعوت کے پہلے مرحلے پر فرماتے ہیں کہ ’’دیکھو! خداوند متعال، واحد ہے‘‘،’’قُولُوا لَا اِلٰهَ اِلّا اللّٰهُ تُفلِحُوا‘‘؛ ’’کہوکہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے اور فلاح پاجاو‘‘۔ ’’لَا اِلٰهَ اِلّا اللّٰه ‘‘ کہنا کس دلیل کی بنا پر’’تُفلِحُوا ‘‘ (نجات پانے)کا باعث بنتا ہے ؟ حضرت ختمی مرتبت ۰ نے یہاں اِس بات کوکیلئے کون سی عقلی اور فلسفی دلیل پیش کی؟ البتہ ہر احساس میں کہ جو سچا اور صادق ہو، ایک فلسفی دلیل پوشیدہ ہوتی ہے۔
ہم یہاں اِس پر بحث کررہے ہیں کہ جب کوئی نبی اپنی دعوت کا اعلان کرتا ہے تووہ خدا کی طرف عقلی اور فلسفی دلیل وبرہان سے لوگوں کو دعوت نہیں دیتا بلکہ احساسات اور پیار و محبت کی زبان استعمال کرتا ہے البتہ یہ بات ضرور ہے کہ یہ سچے احساسات، غلط اور بے منطق نہیں ہوتے اور اِن میں استدلال و برہان پوشیدہ ہوتے ہیں۔ نبی پہلے مرحلے پر معاشرے میں موجودلوگوں پر ظلم و ستم ، طبقاتی نظام اور لوگوں پر جنّ وبشر اور شیاطینِ اِنس کے خودساختہ خداوں’’اَندَادُ اللّٰه‘‘ کے دباو کواپنا ہدف بناتا ہے ؛یہ ہے احساسات اور مہربانی کی زبان۔ لیکن جب کوئی تحریک اپنی راہ پر چل پڑتی ہے تو اُس کے بعد منطقی استدلال و برہان کی نوبت آتی ہے ، یعنی وہ افراد جو عقل و خِرد اور فکری پیشرفت کے حامل ہوتے ہیں وہ اعلی ترین دلیل و برہان تک پہنچ جا تے ہیں لیکن بعض افراد ابتدائی مراحل میں ہی پھنسے رہ جاتے ہیں۔
لیکن یہ بھی نہیں معلوم کہ جو دلیل و برہان کے اعلی درجات کے حامل ہوتے ہیں وہ اعلی معنوی درجات بھی رکھتے ہیں یا نہیں؟ نہیں! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چھوٹی اور ابتدائی سطح کے استدلال رکھنے والے افراد میں مہربانی اور ہمدردی کے احساسات زیادہ ہوتے ہیں، عالم غیب سے اُن کا رابطہ زیادہ مستحکم ہوتا ہے اور رسول اکرم ۰ سے اُن کی محبت کا دریا زیادہ موجیں مارتا ہے اور یہی لوگ ہیں جو عالی وبلند درجات تک پہنچتے ہیں۔
اعلی ہدف!
روحانیت اور معنویت کی دنیا میں محبت اور مہربانی کا اپنا ایک خاص اور الگ مقام ہے؛ نہ مہربانی، دلیل و برہان کی جگہ لے سکتی ہے اور نہ ہی دلیل و برہان، مہربانی ،احساسات کی جگہ پُر کرسکتے ہیں۔ واقعہ کربلا اپنی ذات اور حقیقت میںسچے قسم کے مہربانی اور محبت کے جذبات و احساسات لئے ہوا ہے۔ایک ایسے اعلی صفت اورپاک و پاکیزہ نورانی انسان کی ملکوتی شخصیت میں نقص و عیب اور دھوکہ و فریب کا دور دور تک کوئی شائبہ نہیں ہے جو ایک عظیم ہدف کیلئے کہ جس کے بارے میں تمام مُنصِفین عالم متفق القول ہیں کہ اُس کا قیام معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دلانے کیلئے تھا ، ایک عجیب و غریب تحریک کا آغاز کرتا ہے اور کہتا ہے کہ’’اَيُّهَا النَّاسُ! اِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیهِ وآلِهِ وَسَلَّم قَالَ مَن رَآَی سُلطَانًا جَائرًا ۔۔۔‘‘۔ یہاں امام حسین ظلم و ستم سے مقابلے کو اپنی تحریک کا فلسفہ قرار دے کر اُس کا اعلان فرمارہے ہیں کہ ’’يَعمَلُ فِی عِبَادِاللّٰهِ بِالجَورِ والطُّغيَانِ وَبالاِثمِ وَالعُدوَانِ ‘‘؛ یعنی’’ جو بندگانِ خدا پر ظلم و جوراورگناہ و معصیت سے حکومت کر رہا ہے‘‘۔ یہاں بات مقدس ترین اہداف کی ہے کہ جسے تمام مُنصِفِین عالم قبول کرتے ہیں؛ایسا انسان اپنے ایسے بلند اور مقدس ہدف کی راہ میں جنگ اورمبارزے کی سختیوں اور مصائب کو تحمل کرتا ہے۔
غریبانہ جنگ!
سب سے دشوار ترین جنگ، غریبانہ جنگ ہے۔ اپنے دوستوں کی داد و تحسین ، نعروں، جوش و خروش اور ولولے کو بڑھانے کے احساسات کے ساتھ میدان جنگ میں موت کے منہ میں جانا چنداں مشکل نہیں ہے۔
صدر اسلام کی کسی جنگ میں جب حق و باطل کے لشکر مقابلے کیلئے صف آرا ہوئے تو محاذ جنگ میں سرفہرست رہنے والی شخصیات میں پیغمبر اکرم ۰ اور امیر المومنین پیش پیش تھے، پیغمبر اکرم ۰ نے اپنے سپاہیوں سے پوچھا کہ’’کون ہے جو میدان جنگ میں جائے تاکہ دشمن کے فلاں معروف جنگجو کو قتل کرسکے‘‘؟ سپاہ اسلام میں سے ایک نوجوان نے حامی بھری اور سامنے آگیا؛ حضرت ختمی مرتبت ۰ نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور آگے تک اُس کے ساتھ گئے، مسلمانوں نے بھی اُس کیلئے دعا کی اور وہ یوں میدانِ جنگ میں قدم رکھتا ہے، جہاد کرتا ہے اور درجہ شہادت پر فائز ہوتا ہے؛یہ ایک قسم کا جہاد کرنا اور قتل ہونا ہے۔ ایک اور قسم کا جہاد وہ ہے کہ جب انسان میدان نبرد میں قدم رکھتا ہے تو معاشرے کی اکثریت یا اُس کی منکر و مخالف ہے یااُس کی شخصیت اور مقام و منزلت سے غافل؛یا اُس سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہے یا اُس سے مقابلے کیلئے نیزوں کو ہوا میں لہرا رہی ہے اور تلواروںکو باہر نکالے ہوئے ہے اور وہ افراد جو اپنے قلب سے اُس کو داد و تحسین دینے والے ہیں وہ تعداد میں بھی کم ہیں اوروہ بھی اُس کو زبانی داددینے کی جرآت نہیں رکھتے۔
تحریک کربلا میں ’’عبد اللہ ابن عباس ۱ ‘‘ اور ’’عبد اللہ ابن جعفر‘‘ جیسے افراد بھی جو خاندان بنی ہاشم سے تعلق کھتے ہیں اور اِسی شجرہ طیبہ سے متصل ہیں، جرآت نہیں کرتے کہ مکہ یا مدینہ میں کھڑے ہوکر فریاد بلند کریں اور امام حسین کیلئے اور اُن کی حمایت میں نعرے لگائیں؛یہ ہے غریبانہ جنگ اور مبارزہ!اوریہ ایسی سخت ترین جنگ ہے کہ جہاں تمام افراد اِس لڑنے والے انسان سے روگرداں اور اُس کے دشمن ہوں۔ امام حسین کی جنگ میں اُن کے بعض دوستوں نے بھی اُن سے منہ موڑ لیا تھا جیسا کہ اُن میں سے ایک سے جب سید الشہدا نے کہا کہ ’’آو میری مدد کرو‘‘ تو اُس نے مدد کرنے کے بجائے حضرت کیلئے اپنا گھوڑا بھیج دیا اور کہا کہ ’’میرے گھوڑے سے استفادہ کیجئے‘‘۔
اِس سے بھی بڑھ کر غربت و تنہائی اور کیا ہو گی اور اِس غریبانہ جنگ سے بھی بڑھ کر اور کون سی جنگ ہے؟! اور اِس کے ساتھ ساتھ اِس غربت و تنہائی کی جنگ میں اُس کے عزیز ترین افراد کو اُس کی آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جاتا ہے، اُس کے بھتیجے، بیٹے، بھانجے، بھائی، چچا زاد بھائی ، بہترین اصحاب اور گل ہائے بنی ہاشم اُس کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتے ہیں ! حتی اُس کے شیر خوار شش ماہہ بچے کو بھی موت کےگھاٹ اتار دیا جاتا ہے!
اِن تمام مصائب اور جان فرسا سختیوں کے علاہ وہ جانتا ہے کہ جیسے ہی اُس کی روح اُس کے جسم سے جدا ہوگی اُس کے اہل و عیال، بے پناہ و بے دفاع ہوجائیں گے اور دشمن کے حملوں کا نشانہ بنیں گے۔ وہ اِس بات سے بھی آگاہ ہے کہ سپاہِ یزید کے بھوکے بھیڑیے اُس کی چھوٹی اور نوجوان بچیوں پر حملہ آور ہوں گے، اُن کے ننھے ننھے دلوں کو خوف سے دہلا ئیں گے اور اُن کی بے حرمتی کریں گے۔ وہ اِس بات کا بھی علم رکھتا ہے کہ یہ بے غیرت لوگ دنیائے اسلام کی مشہور شخصیات سے تعلق رکھنے والی امیر المومنین کی عظیم دختر حضرت زینب کبری کی بے حرمتی اور اُن سے جسارت کریں گے؛ وہ اِن تمام حالات سے آگاہ و باخبر تھا۔
اِن مشکلات اور سختیوں کے ساتھ ساتھ اُس کے اہل و عیال کی تشنگی کا بھی اضافہ کیجئے؛ شیر خوار بچہ تشنہ، چھوٹے بچے اور بچیاں پیاس سے جاں بہ لب اور نڈھال، بوڑھے اور ضعیف العمر افراد تشنگی سے بے حال؛ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ یہ جنگ کتنی سخت ہے؟ اتناپاک و پاکیزہ، نورانی اور عظیم المرتبت انسان کہ آسمان سے ملائکہ جس کی زیارت کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لیتے ہیں تاکہ اُس سے متبرّک ہوں، ایسا انسان کہ انبیائ اور اولیائ جس کے بلند و بالا مقام پر رشک کرتے ہیں، ایسی سخت ترین جنگ اور شدید ترین مصائب اور طاقت فرسا سختیوں کے ساتھ شہید ہوجاتا ہے! ایسے شخص کی شہامت بہت ہی عجیب و غریب ہے، ایسا کون سا انسان ہے کہ جو اِس دلخراش واقعہ کو سن کر متآثر نہ ہواوروہ کون انسان ہے کہ جس کے سینے میںدل دھڑکتا ہو اوروہ اِس واقعہ کو سمجھے ، پہچانے اور اُس کا عاشق نہ بنے؟!
یہ وہ چشمہ ہے جو روزِعاشوراُس وقت جاری ہوا کہ جب حضرت زینب’’تلّہ زینبیہ‘‘پر تشریف لے گئیں اور پیغمبر ۰ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ’’يَا رَسُولَ اللّٰهِ ! صَلّی عَلَیکَ مَلَائِکةُ السَّمَآئِ ، هَذاحُسَین مُرَمَّل? بِالدِّمَآئِ ، مُقَطَّعُ الاَعضَآئِ ، مَسلُوبَ العَمَّامَةِ والرِّدَآئ ِ‘‘؛ ’’ اے نانا رسول اللہ ۰! آسمان کے ملائکہ آپ پر درودو سلام بھیجیں،یہ آپ کا حسین ہے، اپنے ہی خون میں غلطاں، جس کا جسم پائمال ہے اور جس کے عمامے اورعبا کو لوٹ لیا گیا ہے‘‘۔ حضرت زینب ٭ نے یہاں امام حسین کے مصائب پڑھنے شروع کیے اور با آواز بلند اُس واقعہ کو بیان کرنا شروع کیا کہ جسے یہ لوگ چھپانا چاہتے تھے۔ سید
الشہدا کی عظیم المرتبت خواہر نے کربلاوکوفہ اور شام و مدینہ میں با آواز بلند واقعہ عاشورا کو بیان کیا، یہ چشمہ اُس وقت اُبلا اور آج تک جاری و ساری ہے!
مجالس اور کربلا کی عظیم نعمت
جب ایک انسان کا دامن ایک نعمت سے خالی ہوتا ہے تو اُس سے اُس نعمت کاسوال بھی نہیں کیا جاتا لیکن جب انسان ایک نعمت سے بہرہ مند ہو تا ہے تو اُس سے اُس نعمت کے متعلق ضروربا ز پُرس کی جائے گی۔ ہمارے پاس بزرگترین نعمتوں میں سے ایک نعمت،مجالس عزا ، محرم اور کربلا کی نعمت ہے؛افسوس یہ ہے کہ ہمارے غیر شیعہ مسلمان بھائیوں نے اپنے آپ کو اِس نعمت عظمی سے محروم کیا ہوا ہے، وہ اِس نعمت سے بہرہ مند ہوسکتے ہیں اور اِس کے امکانات بھی موجود ہیں۔ البتہ بعض غیر شیعہ مسلمان بھی دنیا کے گوشہ و کنار میں محرم کے ذکر اورواقعہ کربلا سے بہرہ منداور مستفید ہوتے ہیں۔آج جبکہ ہمارے درمیان محرم اور واقعہ کربلا کا تذکرہ اور امام حسین کی بے مثال قربانی کا ذکر موجود ہے تو اِیسے وقت میںاِن مجالس اور تذکرے سے کیا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور اِس نعمت کا شکرانہ کیا ہے؟
ظالم طاقتوںکاکربلاسے خوف میں مبتلا ہونا
یہ عظیم نعمت ،ہمارے قلوب کو ایمان و اسلام کے منبع سے متصل کرتی ہے اور ایسا کام انجام دیتی ہے کہ جو اُس نے تاریخ میں انجام دیا کہ جس کی وجہ سے ظالم و جابر اور ستمگر حکمران واقعہ کربلا سے خوف میں مبتلا ہوگئے حتی کہ امام حسین کی قبر مبارک سے بھی خوف کھانے لگے۔ واقعہ کربلا اور شہدائے کربلا سے خوف و ہراس بنی امیہ کے زمانے سے شروع ہوا اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ آپ نے اِس کا ایک نمونہ خود ہمارے انقلاب میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، جب بھی محرم کا چاند طلوع ہوتا تھا تو کافر و فاسق پہلوی حکومت اپنے ہاتھوں کو بندھا
ہوامحسوس کرتی اور ہماری کربلائی عوام کے مقابلے کیلئے خود کو عاجز پاتی تھی اور پہلوی حکومت کے اعلی حکام محرم کے سامنے عاجز و درماندہ ہوجاتے تھے! اُس حکومت کی رپورٹوں میں اشاروں اور صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ وہ محرم کی آمد سے بالکل چکرا جاتے تھے۔ حضرت امام خمینی ۲ ، اُس دین شناس، دنیا شناس اور انسان شناس حکیم و دانا نے سمجھ لیا تھا کہ امام حسین کے اہداف تک رسائی کیلئے اِس واقعہ سے کس طرح استفادہ کیا جاسکتا ہے اور اُنہوں نے اِس سے اچھی طرح استفادہ کیا بھی۔(۳)
____________________
۱ بحار الانوار ، جلد ۴۴، صفحہ ۳۶۶
۲ خطبہ نماز جمعہ ۱۵/۶/۲۰۰۰
۳ ماہ محرم کی آمد پر علمائ سے خطاب ۷/۶/۲۰۰۴
تحریک امام حسین میں مضمر تین عظیم پہلو
انقلابی تحریک،معنویت اور مصائب
تاریخ میں ہمیشہ کیلئے باقی رہنے والی اِس حسینی تحریک کو تین پہلووں سے دیکھا جاسکتا ہے اور اِن تین پہلووں میں سے جو پہلو سب سے زیادہ جلوہ افروز ہے وہ عزت و سربلندی اور افتخار کا پہلو ہے۔
اِس تحریک کا ایک اور پہلوطاقتور باطل اور حق کے درمیان جنگ ہے کہ جس میں امام حسین نے ایک انقلابی تحریک اور اصلاح کیلئے جدوجہد کی روش کواپنایا، اِس تحریک کا ایک اور پہلو معنویت و اخلاق ہے ۔ اِس قیام و تحریک میں ایک ایسا مبارزہ اور جنگ وجود رکھتی ہے جو سیاسی اور اجتماعی پہلووں، انقلابی اقدامات اور حق و باطل کے علی الاعلان برسرپیکار آنے کے علاوہ ہے اور وہ انسانوں کے نفس اور اُن کے باطن کی جنگ ہے جہاںانسانی وجود کے اندر موجود کمزوریاں، مختلف قسم کی لالچیں، ذلت و پستی ، شہوت پرستی اور خواہشات نفسانی کی پیروی اُسے بڑے اور اہم فیصلے کرنے اور بڑے بڑے قدم اٹھانے سے روکتی ہے۔یہ ایک میدانِ جنگ ہے اوریہ ایسی جنگ ہے جو اپنی سختی و دشواری کے لحاظ سے اپنا جواب نہیں رکھتی؛ جہاں اہل ایمان اور فداکار مرد و زن کی ایک مختصر سی جماعت سید الشہدا کے پیچھے چل پڑتی ہے تو وہاں اُن کے احساسِ ذمہ داری کے سامنے دنیا و مافیھا، دنیوی لذتوں اور اُس کی زیبائی اور رنگینیوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی!یہ ایسے انسان ہیںکہ جن کے باطن میں اُن کی معنویت کہ جسے روایات میں جنود عقل (خدائی لشکر) سے تعبیر کیا گیا ہے ،نے اُن کے شیطانی لشکروںیعنی جنود جہل (شیطانی لشکر)پر غلبہ پالیا ہے اور اُن کا نام عظیم انسانوں کی حیثیت سے تاریخ میں سنہری حروف سے آج تک درج ہے۔ تیسرا پہلو کہ جو عوام میں زیادہ مشہور ہے ، وہ مصائب اور غم و اندوہ کا پہلو ہے لیکن اِس تیسرے پہلو میں بھی عزت و سربلندی اپنے عروج پر نظر آتی ہے لہٰذا اہل فکر و نظر کو اِن تینوں پہلووں کو مدنظر رکھنا چاہے۔
۱۔ انقلاب ی تحریک میں عزت و سربلندی کا عنصر
امام حسین کی تحریک وقیام کی پہلی جہت میں کہ جہاں امام نے ایک انقلابی تحریک کی بنیاد رکھی، عزت و سربلندی موجزن ہے ؛سید الشہدا کے مدمقابل کون تھا؟ آپ کے مد مقابل ایسی ظالم و فاسق حکومت تھی کہ جو (يَعمَل فِی عِبَادِاللّٰهِ بِالاِثمِ وَالعُدوَان ) ،جو معاشرے میںگناہ و سرکشی سے حکو مت کر رہی تھی۔اُس معاشرے کی حالت یہ تھی کہ پورا معاشرہ اُس ظالم حکومت کے پنجوں میںجکڑا ہوا تھا اور جہاں بندگانِ خدا پرظلم و ستم ، غرور و تکبر اور خود خواہی اور خود پرستی کی بنیادوں پر حکومت کی جاتی تھی، لوگوں کے ایمان و معنویت اور اُن کے انسانی حقوق کا ذرا سا بھی خیال نہیں رکھا جاتا ہے، برسر اقتدار طبقہ نے اسلامی حکومت کو ظہوراسلام سے قبل دنیا میں موجود طاغوتی حکومتوں میں تبدیل کردیا تھاجبکہ ایک اسلامی نظام کی اہم ترین خصوصیت،اُس کی ’’عادلانہ حکومت ‘‘ہے اور اُس تصوّراتی معاشرے (مدینہ فاضلہ)کے خدوخال کہ جسے اسلام شکل و صورت دینا چاہتا تھا،حکومت کے طرز عمل اور حاکم وقت کے رویے سے تعلق رکھتے ہیں۔
اُ س زمانے کی بزرگ ہستیوں کے بقول، امامت کو ملوکیت و سلطنت میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ امامت یعنی دین و دنیا کی رہبری و راہنمائی، یعنی اُس کارواں کی قیادت جو ایک خاص الخاص اور عظیم ہدف کیلئے حرکت کررہا ہو کہ جہاں ایک فرد آگے آگے رہ کر کارواں میں شامل تمام افراد کی راہنمائی و قیادت کرے۔اِس طرح کہ اگر کوئی راستہ گم کردے (یا کارواں سے پیچھے رہ جائے) تو وہ رہبراُس کا ہاتھ تھام کر اُسے دوبارہ قافلے سے ملا دے، اگر کوئی تھک کر راستے میں بیٹھ جائے تو بقیہ راستہ طے کرنے کیلئے اُس کی ہمت بندھائے، اگر کسی کا پاوں زخمی ہوجائے تو اُس کی مرہم پٹی کرے اور قافلے میں شامل تمام افراد کی مادی اور معنوی مدد کرے۔ اِسے اسلامی اصطلاح میں ’’امام‘‘ یعنی امامِ ہدایت کہا جاتا ہے؛ جبکہ ملوکیت و سلطنت اِس مفہوم و معنی کے بالکل متضادہے، سلطنت و ملوکیت یعنی میراث میں ملنے والی بادشاہت کہ جو سلطنت کی ایک قسم ہے ۔چنانچہ دنیا میں ایسے بھی سلاطین ہیں کہ جن کے نام سلطان اور بادشاہ نہیں ہیں لیکن اُن کے باطن دوسروں پر تسلط و برتری اور ظلم و ستم کی رنگ و بُو سے پُر ہیں۔ جو بھی تاریخ کے جس دور میں بھی جب اپنی قوم یا دوسری اقوام پر ظلم کرے گا،خواہ اُس کا نام کچھ بھی ہو، اُسے سلطنت و ملوکیت ہی کہا جا ئے گا۔ ایک ملک کا صدر کہ جس کی تمام حکومتیں مستبکراورڈکٹیٹر رہی ہیں اور آج اُس کا واضح نمونہ امریکا ہے، اپنے آپ کو یہ حق دیتا ہے کہ کسی اخلاقی، علمی اور سیاسی حقوق کے بغیر اپنے اور اُس کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کے منافع کو ملینوں انسانوں کے منافع پر ترجیح دے اور دنیا کی اقوام کے فیصلے خود کرے؛ یہ ہے سلطنت وملوکیت اور آمریت،خواہ اِس کانام بادشاہت ہو یا نہ ہو!
امام حسین سے بیعت کے مطالبے کی حقیقت!
حضرت امام حسین کے زمانے میں امامت کو اِسی قسم کے نظام حکومت میں تبدیل کردیا گیا تھا کہ(يَعمَلُ فِی عِبَادِاللّٰهِ بِالاِثمِ وَالعُدوَانِ ) ؛ ظلم و ستم اور گناہ کے ذریعہ لوگوں پر حکومت کی جارہی تھی اور حضرت امام حسین نے اِن بدترین حالات سے مقابلہ کیا۔آپ کی جنگ مسلمانوںکو آگاہ کرنے،حقائق کو روشن و واضح کرنے، لوگوںکی ہدایت اور یزید یا اُس سے قبل کے زمانوںکے حق و باطل کی درمیانی حد کو مشخص کرنے کی جنگ تھی۔ فرق یہ ہے کہ جو کچھ یزید کے زمانے میں وقوع پذیر ہوا وہ یہ تھا کہ وہ ظلم ، فاسق اور گمراہ حاکم اِس موقع کے انتظار میں تھا کہ امام حسین جیسا ہدایت کا ہادی اور راہنمااُس کی حکومت کو قبول کرلے اور اُس کے کاموں پر اپنی رضایت و پسندیدگی کا اظہار کرے! جس بیعت کا امام حسین سے مطالبہ کیا گیا تھا وہ یہی تھی۔
یزید امام حسین سے اِس بات کا خواہاں تھا کہ وہ آپ کو مجبور کرے کہ آپ لوگوں کو ہدایت و راہنمائی کرنے کے بجائے اِس ظالم حکومت کی گمراہی و ضلالت کو لوگوں کیلئے جائز صورت میں بیان کریں کہ آو اور اِس ظالم حکومت کی تائید کرو اور اِس کے ہاتھ مضبوط بناو! امام حسین کا قیام اِسی جگہ سے شروع ہوتا ہے۔ اگر یزیدی حکومت کی طرف سے اِس قسم کا بے جا اور بیہودہ و احمقانہ مطالبہ نہیں کیا جاتا تو اِس بات کا امکان تھا کہ سید الشہدا نے جس طرح معاویہ کے دور حکومت میںامّت کی ہدایت و راہنمائی کی اورجس انداز سے آپ کے بعد آنے والے آئمہ رہنمائی فرماتے رہے،آپ بھی پرچم ہدیت کو اٹھاتے، لوگوں کی ہدایت کرتے اور حقائق کو اُن کیلئے بیان فرماتے۔ لیکن یزید نے اپنی جہالت و تکبر اور تمام فضائل اور معنویات سے دوری کی وجہ سے جلدی میں ایک قدم آگے بڑھایا اور امام حسین سے اِس بات کی توقع کی کہ وہ اسلام کے بے مثال’’ نظریہ امامت‘‘ کے طاغوتی اور سلطنت و بادشاہت کی تبدیلی کے سیاہ قانون پر دستخط کردیں یعنی اُس کے ہاتھوں پر بیعت کرلیں۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں سید الشہدا فرماتے ہیں کہ (مِثلِی لَا يُبَايِعُ مِثلَهُ )(۱) ،’’م یرا جیسا یزید جیسے کی ہرگز بیعت نہیں کرسکتا‘‘، یعنی حسین کبھی ایسی بیعت نہیں کرے گا۔ امام حسین کو پرچم حق کے عنوان سے تاابد تک باقی رہنا ہے اور حق کا پرچم نہ توباطل طاقتوں کیلئے استعمال ہوسکتا اور نہ ہی اُس کے رنگ میں رنگ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسین نے فرمایا’’هَیهَات مِنَّا الذِّلَّة (۲) ،’’ذلت ہم سے دور ہے ‘‘۔امام حسین کی تحریک ،عزت و سربلندی کی تحریک تھی یعنی عزت حق، عزتِ دین، عزتِ امامت اور رسول اللہ ۰ کے دکھائے ہوئے راستے کی عزت! سید الشہدا چونکہ عزت کا مظہر کامل تھے لہٰذا آپ نے قیام فرمایا؛ یہ ہے حسینی عزت و سربلندی!
ایک وقت کوئی شخص کوئی بات زبان سے ادا کرتا ہے اور اپنی بات کہہ کر اپنے مقصد کو بیان کرتا ہے لیکن ہدف کے
حصول تک اپنی بات پر قائم نہیں رہتا اور سخت حالات اور پریشانیوں کی وجہ سے عقب نشینی کرلیتا ہے تو ایسا شخص ہرگز باعث عزت و افتخار نہیں ہوسکتا۔ عزت و افتخار اُس انسان، جماعت یا قوم کیلئے سزاوار ہوتی ہے کہ جو اپنی زبان سے ادا کی گئی باتوں پر آخر وقت تک قائم رہتے ہیں اور اِس بات کا موقع نہیں آنے دیتے کہ جو پرچم اُنہوں نے بلند کیا ہے طوفان کی تُند و تیز ہوائیں اُسے گرادیں۔ امام حسین اِس پرچم ہدایت کو مضبوطی سے تھامے رہے اور اِس راہ میں اپنی اور اپنے عزیز ترین افراد کی شہادت اور اپنے اہلِ وعیال کی قید تک مضبوطی سے اپنے قدم جمائے رکھے؛ یہ ہے انقلابی تحریک میں عزت و افتخار اور سربلندی کا معنی۔
۲ ۔ معنویت و فضیلت کا مجسم ہونا
معنویت کا عنصر بھی حضرت امام حسین کے قیام اور تحریک میں مجسم نظر آتا ہے ؛بہت سے افراد امام
حسین کے پاس آتے ہیںاور اُنہیںاُن کے قیام کی وجہ سے سرزنش کرتے ہیں۔ یہ افراد معمولی یا برے افراد نہیںتھے بلکہ بعض اسلام کی بزرگ ہستیوں میں شمارکیے جاتے تھے لیکن یہ افراد غلط سمجھ بیٹھے تھے اور بشری کمزوریاں اِن پر غالب آگئی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے چاہا کہ امام حسین کو بھی اُنہی بشری کمزوریوں کے سامنے مغلوب بنا دیں ۔سیدالشہدا نے صبر کیا اور مغلوب نہیں ہوئے اوریوں امام حسین کے ساتھ شامل ایک ایک شخص اِس معنوی اور اندرونی جنگ میں کامیاب ہوگیا۔وہ ماں کہ جس نے اپنی پوری خوشی اور سر بلندی کے ساتھ اپنے نوجوان بیٹے کو میدان جنگ بھیجایا وہ نوجوان کہ جس نے دنیاوی لذتوں کو خیر آباد کہہ کر خود کو میدان جنگ میں لہرائی جانے والی خون کی تشنہ تلواروں کے سامنے پیش کردیا یا حبیب ابن مظاہر جیسے بزرگ افراد اور مسلم ابن عوسجہ جیسے لوگ جو اپنی ایام پیری کے راحت و آرام، نرم و گرم بستروں اور گھربار کو چھوڑ آئے اور میدان جنگ کی تمام سختیوں کو تحمل کیا۔اِسی طرح سپاہ دشمن میں ایک خاص مقام کے حامل شجاع ترین سردار یعنی حُر ابن یزید ریاحی نے اپنے مقام و منزلت سے صرف نظر کیا اور حسین ابن علی سے جاملا، یہ سب افراد معنوی اور باطنی جنگ میں کامیاب ہوئے۔
اُس معنوی جنگ میں جو لوگ بھی کامیاب ہوئے اور عقل وجہالت کے لشکروں کی محاذ آرائی میں عقل کے لشکروں کو جہالت کے لشکروں پر غلبہ دینے میں کامیاب و کامران ہوئے، اُن کی تعداد بہت کم تھی لیکن اُن کی استقامت اور ثبات قدم اِس بات کا سبب بنے کہ تاریخ کے ہزاروں افراد اُن سے درس حاصل کریں اور اُن کی راہ پر قدم اٹھائیں۔ اگر یہ لوگ اپنے وجود میں فضیلتوں کو رذیلتوں پر غلبہ نہیں دیتے تو تاریخ میں فضیلتوں کا درخت خشک ہوجاتا ہے مگر اِن افراد نے اپنے خون سے اِس درخت فضیلت کی آبیاری کی ۔
آپ نے اپنے زمانے میں بہت سے افراد کو دیکھا ہے کہ جو رذائل و فضائل کی اِس جنگ میں کامیاب ہوئے ہیں اوراُنہوں نے اپنی خواہشات نفسانی کو عقل اور صحیح دینی فکر سے کنٹرول کیا ہے۔ دنیا کے لوگوں نے آپ سے بہت سی باتیں سیکھی ہیں؛یہ فلسطینی ماں جو اپنے بیٹے کے ماتھے کو چوم کر اُسے میدان جنگ میں بھیجتی ہے اِس کی ایک مثال ہے۔اِسی فلسطین میںسالوںسے زن و مرد اور پیرو جوان سبھی موجود تھے
لیکن اپنے ضُعف اور معنوی جنگ کی صف آرائی میں عقل کے لشکروں کے جہالت کے لشکروں پر غالب نہ آنے کی وجہ سے فلسطین ذلت و رسوائی کا شکار ہوگیا اور دشمن نے اُس پر غلبہ پالیا۔ لیکن آج یہی فلسطین ایک دوسری شکل میں موجود ہے، آج فلسطین نے قیام کرلیا ہے، آج فلسطینی عوام نے اپنے اندر معنوی جنگ کی صف آرائی میں معنوی لشکر وںکو غالب کردیا ہے اور یہ قوم کامیاب اور سرفراز ہوگئی ہے۔
۳ ۔ مصائب کربلا میں عنصر عزت
کربلا کے تیسرے پہلو یعنی مصائب اور مشکلات میں بھی جابجا مقامات پر عزت و افتخار اور سربلندی کا عنصر نظر آتا ہے۔ اگرچہ کہ یہ مصائب کا میدان اور بابِ شہادت ہے، اگرچہ کہ جوانانِ بنی ہاشم میں سے ہر ایک کی شہادت،بچوں کی، اطفال صغیر کی اور بزرگ اور عمررسیدہ اصحاب کی شہادت حضرت سید الشہدا کیلئے ایک بہت بڑے غم اور مصائب کا باعث ہے لیکن اِس کے خوداُن کیلئے اور مکتب تشیع کیلئے عزت و سربلندی کا باعث ہے۔(۳)
ہمارا وظیفہ :شہادت کی حقیقت و ذکر کو زندہ رکھنا
بنیادی طور پر اربعین (چہلم) کی اہمیت اِس بات میں ہے کہ اِس دن خداوند عالم کی تدبیر اور خاندان اہل بیت کی کوششوں سے امام حسین کی تحریک و قیام کا ذکر ہمیشہ کیلئے زندہ و جاوید ہوگیا اور روزِ اربعین اِس کام کی مضبوط و مستحکم بنیادیں رکھی گئیں۔ اگر شہدائ کے ورثا اور اصلی جانشین، حضرت امام حسین کی روزِ عاشورا شہادت اور دیگر واقعات کے ذکر اور اُن کی شہادت کے آثار و نتائج کی حفاظت کیلئے کمر بستہ نہ ہوتے تو آنے والی نسلیں شہادتِ عظمی کے نتائج سے زیادہ استفادہ نہیں کرپاتیں۔
یہ بات صحیح ہے کہ خداوند متعال اِس دنیا میں بھی شہدائ کو زندہ رکھتا ہے اور شہید تاریخ کے صفحات اور افراد
کے اذہان میں خودبخود زندہ رہتا ہے لیکن خداوند عالم نے اِس واقعہ کیلئے دوسرے واقعات کی مانند عام نوعیت کے جن وسائل و امکانات کو قرار دیا ہے وہ یہی چیز ہے کہ جو ہمارے اختیار میں ہے اور ہمارے ارادے سے
وابستہ ہے اوریہ ہم ہیں کہ جو اپنے صحیح فیصلوں سے شہدائ کے ذکر اور فلسفہ شہادت کا احیائ کرسکتے ہیں۔
اگر حضرت زینب کبری ٭ اور امام سجاد اپنی اسیری کے ایام میں خواہ کربلا میں عصرِ عاشورکا وقت ہو یا کوفہ و شام کی راہوں کی اسیری ہو یا پھر شام اور اُس کے بعد کربلا کی زیارت اور مدینہ روانگی اور اپنی حیات کے آخری لمحات تک کا زمانہ ہو، مقابلہ نہ کرتے اور اپنے بیانات اور خطبات کے ذریعہ باطل کے چہرے پر پڑی نقاب نہ الٹتے اورکربلا کے حقیقی فلسفے، امام حسین کے ہدف اور دشمن کے ظلم و ستم کو بیان نہ کرتے تو واقعہ کربلا آج زندہ نہ ہوتا۔
حضرت امام جعفر صادق نے یہ کیوں فرمایا کہ ’’اگر کوئی واقعہ کربلا کے بارے میں ایک شعر کہے اور
اُس شعر کے ذریعہ لوگوں کو رُلائے تو خداوند عالم اُس پرجنت کو واجب کردیتا ہے ‘‘! وجہ یہ ہے کہ دشمن کی تمام پروپیگنڈا مشینری واقعہ کربلا بالعموم اہل بیت کو مٹانے اور اُنہیں تاریکی میں رکھنے کیلئے کمر بستہ ہوگئی تھی تاکہ
لوگ اِس واقعہ کی رنگ و بو بھی نہ پاسکیں؛یہ تھا اُن کاپروپیگنڈا۔ اُس زمانے میں بھی آج کی طرح ظالم و ستمگر طاقتیںاپنے جھوٹے، مغرضانہ اور شیطنت آمیز پروپیگنڈے سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرتی تھیں۔ ایسی فضا اور ماحول میں کیا ممکن تھا کہ واقعہ کربلا جو اپنی تمام تر عظمت و سربلندی کے ساتھ دنیا ئے اسلام کے ایک گوشہ میں رونما ہوا تھا اِس عظمت کے ساتھ باقی رہتا؟ اگر اِن شخصیات کی محنت و جدوجہد اور ایثار و قربا نی نہ ہوتی تو یہ واقعہ تاریخ کے اوراق میں دفن ہوجاتا ۔
جس چیز نے اِس ذکر کو زندہ رکھا ہے وہ سید الشہدا کے حقیقی وارث تھے۔ جس طرح امام حسیناور اُن کے اصحاب با وفاکا جہاد ااور اُن کے مصائب سخت تھے،اُسی طرح حضرت زینب ،حضرت امام سجاد اوربقیہ افراد کا جہاد اور اسیری کی صعوبتیں اور سختیاں برداشت کرنا بھی بہت دشوار و مشکل ترین کام تھا۔ فرق یہ ہے کہ امام حسین کی شہادت کے بعد میدانِ جنگ میں آنے والوں نے تلواروں اور نیزوں سے جنگ نہیں کی بلکہ تبلیغ اور (خطبات،اشعار، احساسات اور گریہ و اشک جیسے)ثقافتی ہتھیاروں سے دشمن کو زمین بوس کردیا۔ ہمیں اِس اہم نکتہ کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔
درسِ اربعین
اربعین (چہلم) کا درس یہ ہے کہ دشمن کے پروپیگنڈے کے طوفان کی تند وتیز ہواوں میں ذکرِ شہادت اور اُس کی حقیقت و فلسفے کو زندہ رکھنا چاہیے۔ آپ توجہ کیجئے کہ انقلاب اسلامی کی ابتدا ئ سے لے کر آج تک انقلاب،امام خمینی ۲ ،اسلام اورہماری قوم کے خلاف دشمن کا پروپیگنڈا کتنا زیادہ تھا، اگر دشمن کے اِس پروپیگنڈے کے جواب میں اہل حق کی تبلیغ نہ ہوتی اور نہ ہو تو دشمن پروپیگنڈے کے میدان میں غالب آجائے گا چنانچہ پروپیگنڈے اور تبلیغ کا میدان بہت عظیم، اہمیت والا اور خطرناک میدان ہے۔
یزید کے ظالم و جابر نظام حکومت نے اپنے پروپیگنڈے سے امام حسین کو شکست دینی چاہی اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ حسین ابن علی وہ شخص ہے کہ جس نے عدل و انصاف کے نظام، اسلامی حکومت کے خلاف اور دنیاوی مقاصد کے حصول کیلئے قیام کیا ہے!! بعض افراد نے اِس جھوٹے پروپیگنڈے کو من و عن قبول بھی کرلیا اور جب سید الشہدا کو نہایت بے رحمی و بے دردی سے یزیدی جلادوں نے صحرائے کربلا میں شہید کیا تو آپ کی شہادت کو ایک عظیم غلبہ اور فتح قرار دینے لگے! لیکن نظام امامت کی اِس ’’تبلیغ حق‘‘ نے یزیدی حکومت کے مضبوطی سے بُنے ہوئے اِس جال کا ایک ایک تار کھول ڈالا اور اُس کی بساط الٹ دی اور حق اِسی طرح ہوتاہے۔(۴)
____________________
۱ بحار الانوار جلد ۴۴، صفحہ ۳۲۵
۲ بحار الانوار جلد ۴۵، صفحہ ۸۳
۳ ’’دو کوھہ‘‘ فوجی تربیتی کیمپ میں عوامی اجتماع سے خطاب ۲۹/۳/۲۰۰۲
۴ حدیث ولایت، جلد ۲ صفحہ ۱۴۳۔ ۱۴۱
فہرست
عرض ناشر ۵
امام حسین اُسوہ انسانیت ۶
امام حسین ،دلربائے قلوب ۶
امام حسین کی تعلیمات اور دعائیں ۶
سید الشہدا ، انسانوں کے آئیڈیل ۷
ایک حکیم (دانا)کا بے مثال جواب ۷
واقعہ کربلا سے قبل امام حسین کی شخصیت و فعالیت ۸
دین میں ہونے والی تحریفات سے مقابلہ ۹
امر بالمعروف و نہی عن المنکر ۱۰
زندگی کے تین میدانوں میں امام حسین کی جدوجہد ۱۰
امام حسین کی حیا ت طیبہ کا اجمالی جا ئزہ ۱۰
امام حسین کی زندگی کے تین دور ۱۰
دورِ طفولیت ۱۱
امام حسین کا دورانِ جوانی ۱۳
امام حسین کا دورانِ غربت ۱۳
رسول اللہ ۰ کے اہل بیت تمام عالم اسلام میں قابل احترام ہیں ۱۴
ہدف کے حصول میں امام حسین کا عزم وحوصلہ اور شجا عت ۱۶
دشمن کے خلاف جنگ کی بہترین حکمت عملی ۱۶
خالص اسلام کی نشانی ۱۷
دشمن سے ہر صورت میں مقابلہ ۱۷
ظلمت و ظلم کے پورے جہان سے امام حسین کا مقابلہ ۱۸
روح کربلا ۱۸
قیام امام حسین کی عظمت! ۱۹
امام حسین کی عظمت و شجاعت ۲۰
امام حسین کا ہدف، اسلامی نظام اور اسلامی معاشرے کی تعمیر نو ۲۱
چند ماہ کی تحریک اور سو سے زیادہ درس ۲۱
اصلی درس : سید الشہدا نے قیام کیوں کیا؟ ۲۲
امام حسین کے قیام اورمقصد شہادت سے متعلق مختلف نظریات ۲۳
الف:کیا امام حسین کا قیام تشکیل حکومت کیلئے تھا؟ ۲۳
ب:کیا امام حسین نے شہادت کیلئے قیام فرمایاتھا؟ ۲۴
حکومت و شہادت دونتیجے تھے نہ کہ ہدف! ۲۴
ہدف، ایسے عظیم واجب کو انجام دینا تھا کہ جس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا تھا! ۲۵
امام حسین کے زمانے میں اِس واجب کو انجام دینے کی راہ ہموار ہوئی! ۲۵
پیغمبر اکرم ۰ اسلامی احکامات کا مجموعہ لے کر آئے ۲۶
اب جب پیغمبر اکرم ۰ کی حیات مبارکہ میں اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ تشکیل ۲۷
پیغمبر اسلام ۰ کا بتایا ہوا راستہ ۲۷
انحراف کی اقسام ۲۸
شرعی ذمہ داری اوراُس کا حکم موجود تھا مگر عمل کیلئے حالات پیش نہیں آئے تھے ۲۸
منحرف معاشرے کو اُس کی اصلی راہ پر پلٹانے کے حکم کی اہمیت ۲۹
امام حسین کے زمانے میں انحراف بھی تھااور حالات بھی مناسب تھے! ۳۰
سب آئمہ کا مقام امامت برابر ہے! ۳۲
وظیفے کی ادائیگی ہمیشہ خطرے کے ساتھ ہے! ۳۲
اسلامی معاشرے کو صحیح راہ پر لوٹانا، ہدف ہے! ۳۳
سید الشہدا نے پہلی بار یہ قدم اٹھایا ۳۴
حکومت یزید سے اسلام کو زبردست خطرہ ہے ۳۵
میرے قیام کا مقصد، امت محمدی ۰ کی اصلاح ہے ۳۵
اسلامی حاکم ، معاشرے میں کتاب خدا کو نافذ کرے ۳۷
پیغمبر ۰ نے ذمہ داری مشخص کردی ہے ۳۸
میں دوسروں سے زیادہ اِس قیام کیلئے سزاوار ہوں ۳۹
جو کچھ خدا نے ہمارے لئے چاہا ہے ، خیر ہے ۳۹
امام حسین نے اسلام کا بیمہ کیا ۴۰
سید الشہدا کی یاد اور کربلا کیوں زندہ رہے؟ ۴۱
وہ درس جو طوطوں نے اسیر طوطے کودیا ۴۱
امام حسین نے اپنے عظیم عمل سے ذمہ داری کو واضح کردیا ۴۳
مختلف قسم کی ذمہ داریوں میں سے اصلی ذمے داری کی تشخیص ۴۴
معاشرتی زندگی اور اُس کی بقا میں حقیقی ذمہ داری کی شناخت کی اہمیت ۴۵
آج واجب ترین کام کیا ہے؟ ۴۶
قیام کربلا کا فلسفہ ۴۹
امام حسین کا ہدف اور اُس کی راہ میں حائل رکا وٹیں ۵۰
فداکاری اور بصیرت ، دفاع دین کے لازمی اصول ۵۲
حسینی ثبات قدم ا ور استقامت ۵۲
شرعی عذر، انسان کی راہ کی رکاوٹ ۵۳
شرعی عذر سے مقابلے میں استقامت کی ضرورت! ۵۵
کربلا اور عبرتیں ۵۷
کربلا،جائے عبرت ۵۷
پہلی عبرت:مسلمانوں کے ہا تھوں نواسہ رسول ۰ کی شہادت! ۵۷
دوسری عبرت :اسلامی معاشرے کی آفت وبیماری ۵۸
۱۔ اصل ی عامل؛معاشرتی سطح پر پھیلنے والی گمراہی اور انحراف ۵۹
گمراہی اور انحراف کی اصل وجہ؛ ۶۰
ذکرخدا ا ور معنویت سے دوری اور خواہشات کی پیروی ۶۰
اصلی اور بنیادی درد: ہدف کے حصول کی تڑپ کا دل سے نکل جانا ۶۰
جب خلافت کے معیار و میزان تبدیل ہوجائیں! ۶۱
دلوں میں تڑپ رکھنے والے افراد، معیاروں کو تبدیل نہ ہونے دیں ۶۱
واقعہ کر بلا کے پس پردہ عوامل ۶۳
کیا حالات پیش آئے تھے کہ کربلا کا واقعہ رونما ہوا؟ ۶۳
اصلی عامل: دنیا پرستی اور برائی و بے حسی کا رواج پانا ۶۴
برائیوں کی گندگی سے اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے دیں ۶۵
دوسرا عامل: عالم اسلام کے مستقبل سے اہل حق کی بے اعتنائی ۶۶
قیام کربلا کے اجتماعی پہلو ۶۸
قیام امام حسین کی خصوصیات ۶۸
اصلاح معاشرہ اور برائیوں کا سدِّباب ۶۹
احکام الٰہی کا نفاذ ۷۰
کربلا میں پوشیدہ اسرار و رُموز ۷۲
۱ ۔عوام کے سوئے ہوئے ضمیروں کی بیداری ۷۲
دو قسم کے خطرات اور اُن سے مقابلے کی راہیں ۷۳
بیرونی دشمن ۷۳
اندرونی دشمن ۷۳
۲۔لوگوں کے خواب یدہ ضمیروں کو جگا نا ۷۵
بڑی اور بزرگ شخصیات کا دنیا داری میں مبتلا ہونا ۷۵
۳ ۔امام حس ین کا تا ریخی کار نا مہ ۷۶
۴۔واقعہ کربلا ک ی انفرادیت و عظمت! ۷۷
یہ درس کربلا کا ہے کہ خوف بس خدا کا ہے ۷۸
داد وتحسین اور عالم غربت میں لڑی جانے والی جنگ کا فرق ۷۹
۵۔امام حس ین کی مختصر اور بڑی مدت کی کامیابی ۷۹
مختصر مدت کی کامیابی! ۸۰
بڑی مدت کی کامیابی! ۸۰
ہمارا سلامی انقلاب، انقلاب کربلا کا ایک جلوہ ہے ۸۱
کربلا عزت وسر بلندی کا درس ۸۱
حسینی تحریک کا خلاصہ ۸۳
انسانی جہالت اور پستی کے خلاف جنگ! ۸۳
امامت کی ملوکیت میں تبدیلی ۸۴
امامت و ملوکیت کا فرق! ۸۵
قیام امام حسین کا اصل ہدف ۸۵
سید الشہدا کے مبارزے کی دو صورتیں ۸۶
جہالت و پستی، انسان کے دو بڑے دشمن ۸۷
اسلامی انقلاب سے قبل ایران کی ذلت و پستی! ۸۸
اخلاق پیغمبر ۰ ۸۸
امامت و سلطنت کا بنیادی فرق ۸۹
بندگی خداکے ساتھ ساتھ عزت و سرفرازی ۸۹
اسلامی انقلاب کا آئیڈیل کربلا ہے ۹۱
کربلا ہے اِک آفتاب اور اُس کی تنویریں بہت! ۹۲
مکتب تشیع کا ایک وجہ امتیاز، کربلا ۹۲
زندگی میں پیار و محبت اور مہربانی کا کردار ۹۲
اعلی ہدف! ۹۴
غریبانہ جنگ! ۹۴
مجالس اور کربلا کی عظیم نعمت ۹۶
ظالم طاقتوںکاکربلاسے خوف میں مبتلا ہونا ۹۷
تحریک امام حسین میں مضمر تین عظیم پہلو ۹۸
انقلابی تحریک،معنویت اور مصائب ۹۸
۱۔ انقلاب ی تحریک میں عزت و سربلندی کا عنصر ۹۹
امام حسین سے بیعت کے مطالبے کی حقیقت! ۱۰۰
۲ ۔ معنویت و فضیلت کا مجسم ہونا ۱۰۱
۳ ۔ مصائب کربلا میں عنصر عزت ۱۰۲
ہمارا وظیفہ :شہادت کی حقیقت و ذکر کو زندہ رکھنا ۱۰۲
درسِ اربعین ۱۰۴