یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب : واقعۂ کربلا
تالیف : لوط بن یحییٰ بن سعید (ابومخنف)
تحقیق: شیخ محمد ہادی یوسفی غروی
ترجمہ : سید مراد رضا رضوی
تصحیح: مرغوب عالم
نظر ثانی: اختر عباس جون
پیشکش: معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ
ناشر: مجمع جہانی اہل البیت
طبع اول : ١٤٢٩ھ ۔ ٢٠٠٨ئ
تعداد : ٣٠٠٠
حرف آغاز
جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے، حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے ہیں اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں ، تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے اپنی استعداد و قابلیت کے اعتبار سے اس کی کرنوں سے فیض حاصل کیا۔
اسلام کے مبلغ و موسّس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا۔ آپ کے تمام الٰہی پیغامات نظریات اوراعمال فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھے، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں ۔وہ تہذیبی اصنام جو ممکن ہے کج فکر افراد کو دیکھنے میں اچھے لگتے ہوں لیکن اگروہ حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔
اگرچہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گراں بہا میراث کہ جس کی حفاظت و پاسپانی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر کی ہے، خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکروقت کے ہاتھوں اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں اسلامی دنیا کو خدمت میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشورپیش کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظریاتی موجوں کے مقابلے میں اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں کے ذریعے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی اور ہرزمان و مکان میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام ، قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم ا لسلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ۔ اسلامی دشمن اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوست اس مذہبی وثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ۔یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔
مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام (عالمی اہل بیت کونسل)نے بھی مسلمانوں خاص طور پراہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر عقل و خرد پر استوار اہل بیت عصمت و طہارت کی تعلیمات و ثقافت کوماہرانہ انداز میں عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلىاللهعليهوآلهوسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکارسامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے آمادہ کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ۔زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔کتاب ''وقعة الطف''(جس کو جناب حجة الاسلام والمسلمین محمد ہادی یوسفی غروی زید عزہ نے طبری کی روایت کے مطابق ابو مخنف کی تاریخ کربلا کوتحقیق فرما کر یکجا کیا ہے) کو فاضل جلیل جناب مولانا سید مراد رضا رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے ،جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ۔اسی مقام پر ہم اپنے ان تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے۔خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔ والسلام مع الاکرام
مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام
گفتار مترجم
کربلا کی تاریخ وہ انقلاب آفرین تاریخ ہے جو اپنے بعدکے تمام حرّیت پسند انقلابوں کے لئے میر کارواں کا مقام رکھتی ہے۔وہ انقلاب قومی وملی ہوں یا ذ ہنی و فکری، ہر انقلاب کے سنگ میل اور رہنما کا نام کربلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باطل پرست طاقتوں نے ہمیشہ اس کے انمٹ نقوش مٹانے کی بھر پور کوشش کی؛ کبھی خود کربلا اور اس کے آثار کو مٹانے کی کوشش کی تو کبھی اس حماسہ آفرین واقعہ پر لکھی جانے والی تاریخوں میں تحریف ایجاد کر کے اس زندگی ساز حسینی انقلاب کے رنگ کو ہلکا کرنا چاہا لیکن
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
بنی امیہ اور بنی عباس نے اپنی پوری طاقت صرف کردی؛ کبھی حسینی زائروں کو تہہ تیغ کیاتوکبھی کربلا کو ویران کیا لیکن اللہ رے آتش عشق حسین جو مزید شعلہ وری ہوتی گئی اور باطل کی آرزوئوں کے خرمن کو خاکستر کرتی گئی۔حکومتوں کے زر خریدغلاموں اور ان کی چشم و ابرو کی حرکت پر کام کرنے والے کارندوں نے بھی ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن حق کو کبھی کوئی مٹا نہیں سکتا۔
کربلا کی تاریخ پر سب سے پہلے قلم اٹھا نے والے مورخ کا نام ابو مخنف لوط بن یحییٰ ازدی غامدی کوفی ہے ؛ جنہوں نے بلا واسطہ یابالواسطہ (ایک یا دو واسطے سے) واقعہ کربلا کوزیور تحریر سے آراستہ کیااور اس کا کا نام مقتل الحسین رکھا ، لیکن یہ کتاب حکومت کی نگاہوں میں کھٹکنے لگی کیوں کہ اس کتاب سے حکومت کی کارستانیاں اور اس کی ظلم وستم کی پالسیاں کھل کر سامنے آرہی تھیں لہٰذا اس کتاب کا اپنی اصلی حالت پر باقی رہنا ایک مسئلہ ہو گیا تھا۔آخر کار ہوا بھی یہی کہ آج اصل کتاب ہماری دوسری میراثوں کی طرح ہمارے ہاتھوں میں نہیں ہے بلکہ ایک تحریف شدہ کتاب لوگوں کے درمیان موجود ہے جس کے بارے میں وثوق کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ وہی کتاب ہے جس کی تد وین ابو مخنف نے کی تھی۔
اس کتاب کی قدیم ترین سند وہی ہے جسے طبری نے مختلف تاریخی مناسبتوں کے اعتبار سے اپنی تاریخ میں لکھا ہے ۔
خدا وند عالم، محقق محترم جناب حجة الاسلام والمسلمین محمد ہادی یوسفی غروی زید عزہ پر رحمتوں کی بارش کرے، جنہوں نے طبری کی روایت کے مطابق ابو مخنف کی تاریخ کربلا کو یکجا کیا اور اس پر تحقیق فرماکر اس کتاب کو ایک تحقیقی درجہ عطا کردیا ۔محترم محقق نے اس کتاب کا نام '' وقعة الطف '' رکھا، جس کا تر جمہ '' واقعۂ کربلا '' آپ کے سامنے موجود ہے ۔
واضح رہے کہ طبری شیعہ مورخ نہیں ہے لہٰذا قاتلان اور دشمنان امام حسین علیہ السلام کے لئے جو الفاظ استعمال کرنے چاہیئے وہ کہیں نہیں ملتے۔ اس کے علاوہ مجالس کے صدقہ میں جو باتیں محبّان اہل بیت کے ذہن میں موجود ہیں اس کتاب میں بہت سارے موارد ایسے ہیں جو ان افکار کے مخالف ہیں ۔اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ وہ باتیں غلط ہیں اورجو کچھ اس کتاب میں ذکر ہواوہی صحیح ہے، بلکہ مصائب کا تذکرہ کرنے والے افراد مثاب ہونے کے لئے مختلف مقاتل کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ عزاداروں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، لہٰذا قارئین سے گزارش ہے کہ اس کتاب کو تحقیق کی نگاہ سے دیکھیں ، تاکہ واقعۂ کربلا کے تجزیہ میں انھیں آسانی ہو اور آنسو کے مقولہ سے ہٹ کرکہ جو واقعۂ کربلا کا ایک اساسی اور بنیادی رکن ہے، امام حسین علیہ السلام کی امن دوستی اور باطل ستیزی کا بغور مطالعہ کرکے مدعی امن وامان کے سامنے پیش کرسکیں ،تاکہ امن و امان کے نعرہ میں دھشت گردی پھیلا نے والوں کا چہرہ کھل کر سامنے آجائے اور کربلا کی آفا قیت کا آفتاب، امن وامان کی روشنی کے ذریعے دنیا کو خوف و ہراس اور دھشت گردی کی تاریکی سے نجات دے ۔
یہاں پر یہ کہنا ضروری ہے کہ قلمی خدمت کرنے والے افراد تو بہت ہیں لیکن ان کی قلمی خدمات کی قدر نہیں ہوتی اور ان کو کوئی چھپوانے والا نہیں ملتا ۔
انقلاب اسلامی ایران جو حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی رہبری میں برپا ہوا اور جس نے کربلا کے انقلاب کو پھر ایک نیا رخ دیا اور ساری انسانیت با لخصوص شیعیت کو افق کائنات کا آفتاب بنادیا؛ اسی انقلاب کا صدقہ ہے جو آج رہبر انقلاب حضرت آےة العظمی خامنہ ای مد ظلہ العالی کی رہبری میں شیعیت کا پیغام ساری دنیا تک پہنچ رہا ہے اور مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے دنیا کی تمام زبانوں میں پیغام اسلام با لخصوص پیغام تشیع کو پہنچانے کی بھر پور کوشش کی ہے جس میں وہ کامیاب ہیں اور قابل تبریک و تحسین ہیں ۔
یہ کتاب بھی اسی ادارہ سے شائع ہو کر آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے ۔
خدا وند متعال اس ادارہ کے مسئولین اور دیگر مخلصین کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور حضرت آےة اللہ العظمیٰ خامنہ ای ، دیگر مراجع عظام اور نظام اسلامی کا سایہ تا ظہور حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے۔آمین
والسلام
سید مراد رضا رضوی
١٥ رجب١٤٢٦
مقد مۂ مو لف
جب انسان نے لکھنا سیکھا تو اپنے اور دوسروں کے کارناموں کو زیو ر تحر یر سے آراستہ کیااوراس طرح آہستہ آ ہستہ تا ریخ وجود میں آئی ۔
ظہور اسلام کے وقت عرب میں تاریخ چند ایسے لو گوں پر منحصر تھی جو انساب عرب سے آگاہ اور انکے اہم دنوں سے واقف تھے۔ عرب ان کو کو علا مہ(١) کہا کر تے تھے۔ انہیں میں سے ایک نضر بن حارث بن کلدہ تھاجو ایران وروم کا سفر کیا کر تا تھا اور وہاں سے ایسی کتا بیں خریدکر لا تا تھا جس میں اہل فارس کی داستا نیں ہوا کر تی تھیں ؛ جیسے رستم واسفندیار وغیرہ کی کہا نیاں ۔یہ شخص انہیں کہا نیوں کے ذریعے لوگوں کو لہو ولعب میں مشغول رکھتا تھا تا کہ لو گ قرآن مجید نہ سن سکیں ۔ خدا وندعالم کی طرف سے اسکی مذمت میں آیت نازل ہو ئی :''( وَمِنَ النَّاسِ مَن يَّشْتَرِیْ لَهْوَالْحَدِ یْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّهِ بِغَيْرِعِلْمٍٍِ ويَتَّخِذَهَا هُزُواًاُوْلٰئِکَ لَهْمْ عَذَا ب مُّهِيْن وَاِذَاتُتْلَٰی عَلَيْهِ آيَا تُنَا وَلَّیٰ مُسْتَکْبِرًا کَأَ ن لَّمْ يَسْمَعْهَاکَاَنَّ فِی اُذْنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَاْبٍ اَلِيْمٍ ) ''(٢)
____________________
١ ۔کلینی علیہ الر حمہ نے کا فی میں اپنی سند سے امام مو سی کا ظم علیہ اسلام سے روایت بیان فرمائی ہے کہ آپ نے فرمایا :ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک آدمی کے چارو ں طرف بیٹھے ہوئے ہیں ۔ آپ نے سوال کیا : یہ کون ہے ؟جواب دیا گیا :علامہ، آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سوال کیا : علامہ سے مرادکیا ہے؟ لوگو ں نے جواب دیا : یہ عرب کا سب سے بڑا نسب شناس ، اہم واقعات اور تاریخو ں سے آگا ہ اور اشعار عرب کا بڑاواقف کار ہے ؛ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما یا:یہ ایسا علم ہے کہ نہ تو اس سے جاہل رہنا ضرر رسا ں ہے اورنہ ہی اس کا جاننا مفید ہے۔ .پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: علم تین چیزو ں پر مشتمل ہے،آےة محکمہ، فریضةعادلہ اورسنة قائمہ،اس کے علاوہ سب بیکار ہے ۔(کافی، ج١،ص٣٢)
٢۔سور ہ ٔلقما ن آیہ٦۔٧۔تفسیر قمی، ج ٢ ،ص١٦١ ،مطبوعہ نجف وتفسیر ابن عباس ،ص٣٤٤ مطبوعہ مصر
مد ینہ میں بھی اسی طرح کاایک شخص تھا جس کا نام سوید بن صامت تھا وہ انبیائے ما سلف کے قصّے کوجو یہود و نصاریٰ کی کتابوں میں موجود تھے لوگوں کو جمع کر کے سنایا کرتا تھا اور اس طرح سے لوگوں کو بیہودہ باتوں میں مصروف رکھتا تھا۔ جب اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کی خبر سنی تو مدینہ سے حج یا عمرہ کی غرض سے مکہ روانہ ہوا۔مکہ پہنچ کر اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی ۔سوید نے آپ سے کہا: ہمارے پاس لقمان کے حکمت آمیز کلمات موجود ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :ذرا مجھے بھی دکھاؤ ! اس نے ایک نوشتہ آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :''ان هٰذا لکلا م حسن والذ مع احسن منه ،قرآن انزله اللّه علّ هد ی و نوراً ''(١)
بیشک یہ کلام اچھا ہے لیکن میرے پاس اس سے بھی بہتر کلام قرآن ہے جسے اللہ نے مجھ پر نازل کیا ہے جو ہدایت اور نور ہے ۔
تاریخی دستاویزمیں گذشتہ انبیاء اور ان کی امتوں کی داستانیں بھی شمار ہو تی ہیں ، جسے طبری اور محمد بن اسحاق نے ذکر کیا ہے۔یہ وہی تاریخی شواہد ہیں جو اسلام سے قبل بعض اہل کتاب دانشوروں کے ذریعے سے ہم تک پہنچے ہیں ؛لہٰذاٰ ظہور اسلام اور قلب پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہونے سے پہلے کی تاریخ کے سلسلے میں ہماری معلو مات اسی حد تک محدود ہے۔ ایسے بد تر ین ما حول میں اسلام، قرآن مجیدکے ہمراہ آیا اور صبح وشام اس کی تلاوت ہو نے لگی۔ ا یسی صورت میں حفا ظ کرام کے حفظ کے باوجود ضرورت پیش آئی کہ اس مبارک کتا ب کوقلمبندکیا جا ئے۔ اسی ضرورت کے پیش نظرقرآن مجیدپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے دور میں صفحۂ دل پر نقش ہو نے کے ساتھ ساتھ صفحۂ قرطاس پر بھی محفوظ ہو نے لگا ،لیکن قرآن کی تفسیر ،گذشتہ شر یعتوں اورادیان کی خبر یں ، مسائل وا حکام شرعیہ کی تفصیلات کے سلسلے میں پیغمبراسلاصلىاللهعليهوآلهوسلم م کی احادیث ،آپ کی سیرت وسنت اور جنگ و غزوات کے حالات کی تفصیلات غیر مدوّن رہ
____________________
١۔طبری، ج٢، ص٣٥٣، مطبوعہ دارالمعارف ویعقو بی ،ج٢، ص٣٠ ،مطبوعہ نجف
گئیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم فنا سے ملک بقا کی طرف کو چ کر گئے؛ اب آپ کے پیرومسلمان ان لوگوں سے حد یثیں کسب کر نے لگے جنہوں نے احادیث کو حفظ کر لیا تھا اورخود پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم صلىاللهعليهوآلهوسلم سے ان حدیثوں کو سناتھا یارسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عملی زندگی میں اس کو دیکھاتھا۔
ادھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ان لوگوں نے سراٹھا نا شروع کیا جو آپ کی حیات میں مسلمان ہونے کا دم بھر تے تھے ایسے لوگوں کے خلاف اصحاب رسول جنگوں میں شرکت کے لئے میدان میں اترآئے تو فقط یمامہ کی جنگ میں جو مدعی نبوت مسیلمہ کذ اب اور اس کے ساتھیوں کے خلاف لڑی گئی تھی تقریباً تین سو (٣٠٠)افراد سے زیادہ شہید ہو ئے(١) ایسی صورت حال میں اصحاب کواحادیث رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تدوین کی فکر لاحق ہو ئی،لیکن صحابہ اس پر متفق نہ ہو سکے؛ بعض نے اجازت دی تو بعض نے منع کیا لیکن افسوس اس کا ہے کہ ترجیح تدوین سے روکنے ہی والوں کو دی گئی کیوں کہ ادھر خلیفئہ اول(٢) و دوم(٣) و سوم(٤) تھے۔ منع حدیث کایہ سلسلہ دوسری صدی ہجری تک ان کے پیر ؤں کے درمیان باقی رہا آخر کار مسلمانوں نے مل جل کر خود کو اس مصیبت سے نجات دلائی اور تاریخ نویسی کا سلسلہ شروع کیا ۔
اسلام کا پہلا تاریخ نگار
١میر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین کے بعد تدوین و تحریر کے کام کو لازم و ضروری سمجھتے ہوئے قلم سنبھالا اورخودیہ عہد کیا کہ نماز کے علاو ہ اس وقت تک دوش پرردا نہیں ڈالوں گاجب تک کہ قرآن مجید کوترتیب نزولی کے مطابق مرتب نہ کر لوں ۔اس تدوین میں آپ نے عام و خاص، مطلق و مقید ،مجمل و مبین ، محکم و متشابہ ، ناسخ و منسوخ، رخصت وعزائم اور آداب وسنن کی طرف اشارہ کیا، اسی طرح آیات میں اسباب نزول کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی اور جہاں بعض پہلوئوں میں مشکل دکھائی دیتی تھی اس کو بھی واضح کیا ۔
____________________
١۔ طبری،ج ٣ ،ص٢٦٩،طبع دارالمعارف
٢۔تذکرةالحفاظ، ج١،ص٣و٥
٣۔گذشتہ حوالہ، ج١، ص٣،٤،٧؛بخاری ،ج٦،باب الاستیذان ؛طبقات بن سعد ،ج٢،ص٢٠٦
٤۔مسند احمد، ج١،ص٣٦٣ ، کتاب '' السنة قبل التد وین ''ملاحظہ ہو۔
کتاب عزیزکی جمع بندی کے بعد آپ نے دیّات کے موضوع پربھی ایک کتاب تالیف فرمائی جسے اس زمانے میں ''صحیفہ''کہاجاتاتھا۔ابن سعید نے اپنی کتاب کے آخر میں جو''الجامع''کے نام سے معروف ہے ا س کاذکرکیا ہے اور بخاری نے بھی اپنی صحیح میں متعدد مقامات پر اس کا تذکرہ کیا ہے مثلاً جلد اول کی'' کتاب العلم'' ہی میں اس کاتذکرہ موجود ہے۔
اسی زمانے میں آپ کے چاہنے والوں کی ایک جماعت نے آپ کی اس رو ش کی بھر پور پیروی کی جن میں ابو رافع ابراہیم القبطی اور ا س کے فرزند علی بن ابی رافع اور عبید اللہ بن ابی رافع قابل ذکر ہیں ۔
عبید اللہ بن ابی رافع نے جمل ،صفین اور نہروان میں شرکت کرنے والے اصحاب کے سلسلہ میں ایک کتاب لکھی(١) جو تاریخ تشیع میں ، تاریخ کی سب سے پہلی کتاب مانی جاتی ہے۔ تاریخ نویسی میں شیعہ تمام مسلمانوں کے درمیان میر کارواں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔دیگر مورخین جیسے محمد بن سائب کلبی متوفیٰ١٤٦ھ ،ابو مخنف لوط متوفیٰ١٥٨ھ اور ہشام کلبی٢٠٦ھوغیرہ کی تا ریخی کتابیں ، تاریخ اسلام کے اولین مصادر و منابع میں شمار ہوتی ہیں ۔(٢)
کربلا
دشت کربلا میں وہ غمناک اور جاں سوزواقعہ رونما ہواجسے تاریخ میں ہمیشہ کے لئے ایک نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔اس سر زمین پرسبط رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سید ا لشہداء حضرت ابو عبداللہ امام حسین علیہ الصلوٰة والسلام کے اوپر وہ وہ مظالم ڈھائے گئے جس سے تاریخ کا سینہ آج بھی لہو لہان ہے۔
یہ درد ناک واقعہ جو٦١ھ میں پیش آیا، داستانوں کی صورت میں لوگوں کے درمیان سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا رہا اور ایک زبان سے دوسری زبان تک پہنچتارہا ۔یہ واقعات لوگوں نے ایسے افراد کی زبانی سنے
____________________
١۔رجال نجاشی، ج ١ ، ص٥، مطبوعہ ہند؛الفہرست،ص ١٢٢،مطبوعہ نجف
٢۔ مزید معلومات کے لئے مؤ لفوا الشیعہ فی الاسلام ، الشیعہ و فنون الاسلام ، تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام، ص٩١۔٢٨٧؛ اعیان الشیعہ، ج١ ، ص ٨ و٤٨،اور الغدیر، ج٦ ، ص٠ ٢٩۔٢٩٧ کا مطالعہ کیجئے۔
جو وہاں موجود تھے اورجو اْن خونچکاں واقعات کے عینی شاہد تھے ،بالکل اسی طرح جس طرح دیگر اسلامی جنگوں کے واقعات سنے جاتے تھے ۔
لیکن کسی نے بھی ان واقعات کو صفحۂ قرطاس پر تحریر نہیں کیاتھا۔یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا؛یہاں تک کہ دوسری صدی ہجری کے اوائل میں ابومخنف لوط بن یحییٰ بن سعید بن مخنف بن سلیم ازدی غامدی کوفی متوفیٰ١٥٨ھ(١) نے اس واقعہ کو معتبر راویوں کی زبان سے یکجا کیا اور اس امانت کو کتابی شکل دیکر اس کا نام ''کتاب مقتل الحسین'' رکھا جیسا کہ آپ کی کتابوں کی فہرست میں یہی نام مرقوم ہے۔ یہی وہ سب سے پہلی کتاب ہے جو اس عظیم اورجانسوز واقعہ کے تاریخی حقائق کو بیان کرتی ہے ۔
دوسری تاریخ
ابو مخنف کی روشن بینی کے زیر سایہ تربیت پانے والے ان کے شاگرد نے تاریخ اسلام اور بالخصو ص کربلا کے جانسوزواقعات کاعلم اپنے استاد سے حاصل کیا۔آپ کانام ہشام بن محمد بن سائب کلبی تھا۔ نسب شناسی میں آپ کوید طولیٰ حاصل تھا۔ ٢٠٦ ھ میں آپ نے وفات پائی۔(٢) ہشام بن محمدبن سائب کلبی نے اسی سلسلہ کی دوسری کتاب تحریرفرمائی لیکن اس کی تنظیم و تالیف سے قبل وہ اسے اپنے استاد ابی مخنف کو فی کی خدمت میں لے گئے اور ان کے سامنے اس کی قرائت کی ؛پھر ان دلسوز واقعات کے تمام نشیب و فرازکواپنے استاد کے ہمراہ تکمیل کی منزلوں تک پہنچایا۔ اس کتاب میں حدثنی ابو مخنف یا عن ابی مخنف (ابو مخنف نے ہم سے بیان کیا ہے) بہت زیادہ موجود ہے۔ اپنے استاد کی کتابوں میں سے جس کتاب کو ہشام نے کتابی شکل دی اور ان کے سامنے قرا ئت کی نیز اس سے روایات کو نقل کیا، ابو مخنف کی وہی کتاب ''مقتل الحسین'' ہے جو ان کی کتابوں کی فہرست میں موجود ہے لیکن ہشام نے جو اہم کام انجام دیا وہ یہ ہے کہ انہوں نے مقتل الحسین میں فقط اپنے استاد ابو مخنف ہی کی حدیثوں پر اکتفا نہیں کیا
____________________
١۔فوات الوفیات، ج٢ ، ص١٤٠ ؛الاعلام للزرکلی ،ج٣ ،ص ٨٢١؛مروج الذہب، ج٤ ، ص٢٤ ،مطبوعہ مصر
٢۔مروج الذھب، ج٤ ، ص ٢٤، مطبوعہ مصر
بلکہ اس میں تاریخ کے اپنے دوسرے استاد عوانةبن حکم متوفیٰ١٥٨ھ کی حدیثیں بھی بیان کیں ۔
صدر اسلام کی تاریخ پر نظر رکھنے وا لوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ تمام اسلامی مورخین انھیں د و عظیم علماء کی عیال شمار ہوتے ہیں اور وہ سب ابی مخنف کے دستر خوان کے نمک خوار ہیں ؛ اسکا سبب یہ ہے کہ وہ زمان واقعہ کے نزدیک ترین مورخوں میں شمار ہوتے ہیں لہٰذاوہ اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ جزئی مسائل کی گتھیوں کو سلجھاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور واقعہ کو اسی طرح بیان کرتے ہیں جس طرح وہ واقع ہواہے ۔
اکثر مورخین نے تاریخ کے سلسلہ میں ابو مخنف کی کتابوں کو بطور خلاصہ اپنی تالیفات میں جگہ دی ہے؛ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتابیں اس وقت مورخین کے پاس موجود تھیں ۔
جن مورخین نے ابو مخنف کی تحریر سے اپنی کتابوں میں استفادہ کیا ہے ان میں سے مندرجہ ذیل افراد کے نام قابل ذکر ہے ۔
١۔محمدبن عمر واقدی متو فی ٢٠٧ھ ۔
٢۔طبری،متوفیٰ ٣١٠ھ۔
٣۔ابن قتیبہ ،متو فی ٣٢٢ھالامامة والسیاسةمیں ۔
٤۔ ابن عبدربّہ اندلسی ،متوفیٰ٣٢٨ھ نے اپنی کتاب'' العقدالفرید''میں سقیفہ کی بحث کرتے ہوئے ۔
٥۔علی بن حسین مسعودی، متوفیٰ٣٤٥ھنے عروہ بن زبیر کی عذر خواہی کا قصہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عروہ بن زبیر نے بنی ہاشم سے اپنے بھائی عبداللہ بن زبیر کے لئے بیعت کا مطالبہ کیا ۔ بنی ہاشم نے مخالفت کی ؛اس پر عروہ نے ان لوگوں کو دھمکی دی کہ تمہارے گھروں کو جلا دیں گے۔ا س کی اطلاع جب اس کے بھائی عبد اللہ کو ملی تو اس نے عروہ کی سر زنش کی اور عروہ نے اپنے بھائی سے عذرخواہی کی ۔
٦۔شیخ مفید ،متوفیٰ ٤١٣ھ نے'' الارشاد ''میں امام حسین کی شہادت کے ذیل میں اور ''النصر ہ فی حرب البصرہ'' میں ۔
٧۔شہرستانی،متوفیٰ٥٤٨ ھ نے فرقہ نظامیہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی کتاب'' ملل و نحل'' میں ۔
٨۔خطیب خوارزمی، متوفیٰ٥٦٨ ھ نے اپنی کتاب'' مقتل الحسین'' میں ۔
٩۔ ابن اثیر جزری،متوفیٰ٦٣٠ ھ نے اپنی کتاب'' الکامل فی التاریخ ''میں ۔
١٠۔سبط بن جوزی،متوفیٰ٦٥٤ ھ نے اپنی کتاب'' تذکرہ خواص الامة''میں ۔
١١۔ آخری شخص جسے میں نے دیکھا ہے کہ کسی واسطہ کے بغیر ابو مخنف سے روایت نقل کرتا ہے ، ابو الفدا ،متوفیٰ٧٣٢ ھ ہیں جنہوں نے اپنی تاریخ میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔
اس وقت ابو مخنف کی کتابیں بالخصوص ''مقتل الحسین ''ہماری معلومات کے مطابق دسترس میں نہیں ہے بلکہ تمام کتابیں ضائع ہو چکی ہیں ،دوسری کتابوں سے جستہ و گریختہ جو معلومات فراہم ہوئی ہیں وہی اس وقت موجود ہیں ۔
قدیم ترین سند
١۔گذشتہ سطروں میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ابو مخنف کی ساری کتابیں ضائع ہوچکی ہیں لہٰذا وہ قدیم نص اورسند جو اس کتاب سے متعلق ہمارے پاس موجود ہے تاریخ طبری ہے؛ جس میں محمدبن جریرطبری ،متوفیٰ٣١٠ ھ نے ہشام کلبی کی حدیثوں کو جو انہوں نے اپنے استاد ابو مخنف سے حاصل کی تھیں ذکر کیا ہے۔واضح رہے کہ طبری نے اس سلسلہ میں بطور مستقل کوئی کتاب نہیں لکھی ہے اورنہ ہی اپنی تاریخ میں کوئی الگ سے باب قائم کیا ہے بلکہ ٦٠ ھ اور ٦١ھکے حوادث کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعہ کو ذکر کیا ہے۔(١)
قابل ذکر ہے کہ طبری بلا واسطہ ہشام کلبی سے ان احادیث کی روایت نہیں کرتے بلکہ ان کی کتابوں اور تحریروں سے حدیثوں کو بیان کرتے ہوئے یوں ناقل ہیں :حدثت عن ہشام بن محمد، ہشام بن محمد سے حدیث نقل کی گئی ہے ؛لیکن اس کی وضاحت نہیں کرتے کہ ان احادیث کو خود طبری سے کس نے بیان کیا ہے۔ہمارے اس قول کی دلیل کہ طبری نے ہشام کے زمانے کو درک نہیں کیا ہے اور بلا واسطہ حدیثوں کو ان سے نہیں سنا ہے، طبری کی تاریخ ولادت٢٢٤ھ اور ہشام کی تاریخ وفات٢٠٦ھ ہے ۔
____________________
١۔طبری ،ج٥،ص٣٣٨،٤٦٧ ،مطبوعہ دارالمعارف
طبری نے سینۂ تاریخ کے ناسور،واقعۂ حرہ کا ذکر کرتے ہوئے خود اس بات کی تصریح کی ہے کہ انھوں نے ان مطالب کو ہشام کلبی کی کتابوں سے نقل کیا ہے طبری کا بیان اس طرح ہے:
ھکذاوجدتہ فی کتابی... میں نے اس واقعہ کو اسی طرح ان کی دونوں کتابوں میں دیکھا ہے۔(١)
٢۔ طبری کی نص و سند کے بعدہمارے پاس ابو مخنف سے منقول کربلا کے واقعات کی قدیم ترین سند شیخ مفید، متو فیٰ٤١٣ ھ کی کتاب ''الارشاد'' ہے جس میں انہوں نے بلا واسطہ ہشام کلبی کی کتاب سے روایتیں نقل کی ہیں کیونکہ شیخ مفید علیہ الرحمہ، اپنی کتاب میں واقعہ کربلا کو ذکر کرنے سے پہلے اس طرح بیان فرماتے ہیں :''فمن مختصرالاخبار...مارواہ ا لکلبی ...''ان خبروں کاخلاصہ ...جس کی روایت کلبی نے کی ہے ..۔(٢)
٣۔ اس کے بعد ''تذکرة الامةبخصائص الائمة'' میں سبط ابن جو زی ،متوفیٰ٦٥٤ھ بھی بہت سارے مقامات پر امام حسین علیہ السلام کی خبروں کے ذیل میں ہشام کلبی ہی سے تصریح کے ساتھ روایتیں نقل کرتے ہیں ۔
جب ہم طبری کی نقل کا شیخ مفیداورسبط ابن جوزی کی نقل سے موازنہ کرتے ہیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ ان نصوص کے درمیان کافی حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے ،البتہ شاذو نادر اختلافات بھی دکھائی دیتے ہیں ، مثلاًواو کی جگہ پر فاء ہے یا اس کے بر عکس۔اسی قسم کے دوسرے اختلافات بھی آپ کو کتاب کے مطالعہ میں واضح طور پر دکھائی دیں گے ۔
____________________
١۔طبری ،ج٥،ص٤٨٧،اس مقام پرطبری کا بعض اسماء کو مختلف طریقو ں سے لکھنا بھی دلیل ہے کہ اس نے روایت سنی نہیں بلکہ دیکھی ہے، مثلاًمسلم بن مسیب کا نام دو جگہ آیاہے ، ایک جگہ صحیح لکھا ہے لیکن دوسری جگہ سلم بن مسیب کردیا ہے جبکہ یہ ایک ہی شخص ہے ،جیسا کہ مختار کے واقعہ میں ایسا ہی ہوا ہے۔
٢۔الاشاد ، ص٢٠٠،طبع نجف
ابو مخنف
تا ریخ نے ہما رے لئے ابو مخنف کی تا ریخ ولادت کو ذکر نہیں کیا ہے۔فقط شیخ طو سی علیہ الرحمہ نے کشّی رحمة اللہ علیہ سے نقل کر تے ہو ئے ان کو اپنی کتاب'' الر جال ''میں راویوں کے اس گروہ میں شامل کیا ہے جو حضرت علی علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں ،پھر شیخ طوسی فر ما تے ہیں : ''وعندی ھذا غلط لان لو ط بن یحییٰ لم یلق امیر المو منین علیہ السلام بل کا ن ابو ہ یحیٰ من اصحابہ''(١) میر ی نظر میں کشی کی یہ بات غلط ہے کیو نکہ لوط بن یحٰی ابو مخنف نے امیر المومنین علیہ السلام کو دیکھا ہی نہیں ہے۔ ہاں ان کے والد یحٰ،امام علی علیہ السلام کے اصحاب میں شمار ہو تے تھے ۔لیکن شیخ کے علاوہ کسی اورنے امیر المو منین کے اصحاب میں ابو مخنف کے والد یحییٰ کا تذکرہ نہیں کیا ہے، البتہ انکے دادا مخنف بن سلیم ازدی کے بارے میں ملتا ہے کہ وہ اصحاب امیر المو منین میں شمار ہو تے تھے۔اس کے بعد شیخ فرماتے ہیں کہ مخنف بن سلیم ازدی عائشہ کے خالہ زاد بھائی، عر ب نژاداور کو فہ کے رہنے والے تھے۔(٢)
قابل ذکر ہے کہ شیخ طوسی نے اس بات کو شیخ کشی کی کتاب سے نقل کیا ہے،خود ان سے بلا واسطہ نقل نہیں کیا ہے، کیو نکہ کشی تیسری صدی ہجری میں تھے اور شیخ طو سی ٣٨٥ھکے متولد ہیں ، جیسا کہ ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب ''معالم العلما ئ''(٣) میں ذکر کیا ہے ۔کشی کی اس کتاب کا نام''معر فہ النا قلین عن الا ئمہ الصادقین''ہے لیکن آج یہ کتاب نایاب ہے۔ ہماری دسترس میں فقط وہی سند ہے جسے سیدا بن طاؤوس نے فرج المہموم(٤) میں ذکر کیا ہے کہ شیخ طوسی نے ٤٦٥ہجری میں اس بات کو کشی کی کتاب سے نقل کیا ہے .خود شیخ طوسی کے مختار نظریہ کے مطا بق بھی کہیں یہ دیکھنے کو نہیں ملتا کہ انہوں نے ابو مخنف کو اصحاب امیر المو منین علیہ السلام میں شمار کیا ہو۔شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی کتاب'' رجال'' میں
____________________
١۔رجال، شیخ، ص ٥٧،مطبو عہ نجف
٢۔ گذشتہ حوالہ٥٨
٣۔ معالم العلما ء ،ص ٢٠٢، ط نجف
٤۔فرج المہموم، ص ١٣٠ ،ط نجف
ابو مخنف کو اصحاب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام میں شمار کیا ہے،(١) جیسا کہ امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں بھی انکا ذکر کیا ہے،(٢) پھر اسکے بعد امام زین العابدین اور امام محمد با قر علیھماالسلام کے اصحاب میں ذکر نہیں کیا ہے۔
شیخ طوسی اپنی کتاب ''الفہر ست'' میں بھی کشی کے اس نظریہ کو پیش کرنے کے بعد اظہار نظر کر تے ہوئے فر ماتے ہیں :''والصحیح ان ابا ہ کان من اصحاب امیر المومنین علیہ السلام وہولم یلقہ ''(٣) صحیح تو یہ ہے کہ ابو مخنف کے والد اصحاب امیر المو منین میں شمار ہو تے تھے لیکن خودابو مخنف نے حضرت کو نہیں دیکھا ہے۔اسکے بعد شیخ ابو مخنف تک سند کے طریق میں ہشام بن محمد بن سا ئب کلبی اور نصر بن مزاحم منقری کا ذکر کر تے ہیں ۔
شیخ نجاشی نے بھی اپنی کتاب'' رجال'' میں انکا ذکر کیا ہے۔وہ فر ما تے ہیں : ''لوط بن یحٰبن سعید بن مخنف بن سالم(٤) ازدی غامدی ابو مخنف ،کو فہ میں اصحاب اخبار وا حادیث کے درمیان بزرگ اور جانی پہچانی شخصیتوں میں شمار ہوتے تھے ۔آپ اس قدر مورد اطمینان تھے کہ آپ کی بیان کی ہوئی باتوں کو لوگ بغیرچون وچرا قبول کر لیا کر تے تھے۔ آپ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایتیں نقل کیا کر تے تھے'' لیکن یہ صحیح نہیں ہے(رجال النجاشی، ص ٢٢٤،طبع حجرہند) اس کے بعد نجاشی نے ابو مخنف کی کتابوں کے تذکرہ میں '' کتاب مقتل الحسین ''کا بھی ذکر کیا ہے۔پھر ان روایتوں کے نقل کے لئے اپنے طریق میں ہشام بن محمد بن سائب کلبی کاذکر کیا ہے جو ابو مخنف کے شاگرد تھے ۔
اب تک ہم نے علم رجال کی چار اہم کتابوں میں سے تین کتابوں سے ابو مخنف کے سلسلہ میں علمائے رجال کے نظریات آپ کی خدمت میں پیش کئے لیکن ان تینوں منابع میں کہیں بھی ابو مخنف کی تاریخ ولادت و وفات کا تذکرہ نہیں ملتا ۔
____________________
١۔رجال، شیخ طوسی، ص٧٠
٢۔سابقہ حوالہ، ص ٧٩
٣۔ الفہرست، شیخ طوسی ،ص١٥٥،ط نجف
٤۔کتنے تعجب کی بات ہے کہ یہا ں پرشیخ نجاشی مخنف بن سالم کہہ رہے ہیں لیکن جب کتاب کا ذکر کر تے ہیں تو فر ما تے ہیں انکی کتاب بنام ''اخبار آل مخنف بن سلیم ''ہے ! بہتر یہی ہو گا کہ اسے نسخہ نویسو ں کی غلطی شمار کیا جائے۔
طبری اور خاندان ابومخنف
طبری اپنی کتاب''ذیل المذیل'' میں ان صحابہ کا تذکرہ کرتے ہوئے جو ٨٠ ھ میں اس دنیا سے گذر گئے ، بیان کرتے ہیں :''مخنف بن سلیم بن حارث...بن غامدبن ازد'' ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں مسلمان ہوئے ۔آپ کوفہ میں خاندان ازد سے تعلق رکھتے تھے اورآپ کے تین بھائی تھے۔
١ ۔ ''عبدشمس ''جنہوں نے جنگ نخیلہ میں جام شہاد ت نو ش فرمایا ۔
٢۔ ''الصقعب ''آپ جنگ جمل میں درجہ شہادت پرفائزہوئے۔
٣۔ ''عبداللہ'' آ پ بھی جنگ جمل ہی میں شہید ہوئے ۔
مخنف ہی کی اولاد اور نسل میں ابو مخنف لوط بن یحٰبن سعید بن مخنف ہیں جو تاریخ داں اور تاریخ نگار دونوں تھے۔ لوگوں کے تاریخی واقعات آپ ہی سے نقل کئے جاتے ہیں ۔''(١) پھر طبری بصرہ کے واقعات و احوال کے سلسلہ میں دوسرے مورخین کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ امیر المومنین نے ان ٧گروہوں بجیلہ ،انمار، خثعم ،ازد... مخنف بن سلیم بن ازدی کو سردار لشکر قراردیا ۔(٢) ان دونوں عبارتوں میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ ابو مخنف جنگ جمل میں شہید ہوئے ہیں ، لیکن طبری جنگ جمل کے سلسلہ میں ابو مخنف سے ایک دوسری روایت نقل کرتے ہیں کہ ابو مخنف نے اپنے چچا محمد بن مخنف سے اس طرح نقل کیا ہے :''کوفہ کے کچھ بزرگوں نے جو جنگ جمل میں موجود تھے، مجھ سے بیا ن کیا ہے کہ اہل کوفہ میں خاندان ازد کا پرچم مخنف بن سلیم کے ہاتھوں میں تھا۔ مخنف بن سلیم اسی جنگ میں جاں بحق ہوگئے ۔ان کے بعد ان کے دو بھائیوں صقعب اور عبداللہ کے ہاتھوں یہ پرچم لہرایا گیا اور وہ دونوں بھی اسی جنگ میں شہید ہوگئے ''۔
طبری کی یہ عبارت'' ذیل المذیل ''کی عبارت سے مشترک ہے جس میں مخنف کے دو بھائی
____________________
١۔المطبوع مع التاریخ،مطبو عہ دارالقاموس، ج ١٣،ص٣٦۔ اورمطبوعہ دار سویدان، ج١١، ص٥٤٧
٢۔طبری ،ج ٤،ص٥٠٠،مطبوعہ دارالمعارف
صقعب اور عبداللہ کی شہادت کا تذکرہ ہے ممکن ہے کہ'' ذیل المذیل ''میں طبری نے اسے اپنی ہی تاریخ سے نقل کیا ہو، لیکن مخنف بن سلیم کی شہادت کے سلسلے میں یہ خبر دوسری روایتوں سے منافی اور متعارض ہے، کیونکہ اس عبارت میں طبری نے کہا کہ مخنف بن سلیم جنگ جمل میں شہید ہوگئے ۔طبری کی یہ بات اس روایت کے منافی ہے جسے انھوں نے کلبی کے حوالے سے ابومخنف سے جنگ صفین کے سلسلہ میں نقل کیا ہے :''حدثنی ابی ، یحٰبن سعید عن عمه محمد بن مخنف قال : کنت مع ابی (مخنف بن سلیم) یومئذ و انا ابن سبع عشره سنة'' (١) مجھ سے میرے والد یحٰی بن سعید نے اپنے چچا محمد بن مخنف کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ انھوں نے کہا :''میں جنگ صفین میں اپنے والد (مخنف بن سلیم) کے ہمراہ تھا اس وقت میری عمر سترہ سال تھی''۔ اسی طرح طبری نے ابو مخنف سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا :''مجھ سے حارث بن حصیرہ ازدی نے اپنے اساتید اور بزرگان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ '' قبیلہ ازد'' جب ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے تو'' مخنف بن سلیم ''پر یہ بڑی سخت گھڑی تھی جس سے وہ کافی ناراض تھے''۔
ا سی طرح طبری نے مدائنی متوفیٰ٢٢٥ھ اور عوانہ بن حکم متوفیٰ ١٥٨ھ سے روایت کی ہے کہ ان لوگوں نے سلسلۂ سند کو قبیلہ بنی فزار کے ایک بزرگ تک پہنچاتے ہوئے کہا : ''معاویہ نے نعمان بن بشیر کو ٢ہزار سپاہیو ں کے ہمراہ امیر المومنین کی طرف روانہ کیا ۔وہ لوگ ایک مقا م تک پہنچے جس کا نام عین التمرتھا۔ وہاں سے ان لوگوں نے حضرت کے لشکر پرحملہ کیا ، اس مقام پر مالک بن کعب ارحبی جو لشکر امیر المومنین کے علمدار تھے ،اپنے تین سو افراد کے ساتھ ان حملہ آورں کے سامنے ڈٹے رہے اورحضرت علی کو خط لکھ کر فوج کی مدد طلب کی ۔مالک بن کعب نے ایک دوسرا خط مخنف بن سلیم کو لکھا کیو نکہ وہ وہاں سے نزدیک تھے اور ان سے مدد کی درخواست کی۔ مخنف نے فوراًاپنے فرزند عبد الرحمن کو پچاس آدمیوں کے ہمراہ ان تک روانہ کیا ؛یہ افراد بلا تاخیر وہاں پہنچ کر مالک کے لشکر سے ملحق ہوگئے ۔
____________________
١۔ طبری ،ج٤، ص٢٤٦
جب اہل شام نے یہ منظر دیکھا اور سمجھ گئے کہ مالک بن کعب کی مدد کے لئے لشکر موجود ہے تو وہیں سے ان کے قدم اکھڑگئے اور وہ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔''(١) ان تمام تاریخی شواہد سے یہ ثابت ہوتاہے کہ مخنف بن سلیم جنگ جمل کے بعد تک با حیات تھے اور نہ فقط بعد از جنگ جمل بلکہ جنگ صفین کے بعد بھی زندہ تھے، کیونکہ جنگ صفین ٣٧ھ میں ختم ہوگئی اور معاویہ کی طرف سے سرحدی علاقوں میں قتل و غارت گری کا سلسلہ ٣٩ ھ سے شروع ہوا ۔اس درمیان فقط وہی ایک روایت ہے جس میں جنگ جمل میں شہادت کا تذکرہ موجو دہے جیسا کہ گذشتہ سطروں میں اس کی وضاحت ہوگئی ہے ،لیکن طبری اس کی طرف با لکل متوجہ نہیں ہوئے، نہ ہی اس کے اوپر کوئی تعلیقہ لگایا، جبکہ انھوں نے''ذیل المذیل ''میں اس کی صراحت کی ہے کہ وہ ٨٠ ھ تک زندہ تھے۔(٢)
نصربن مزاحم اور خاندان ابومخنف
طبر ی کے علاوہ نصر بن مزاحم منقری، متوفیٰ ٢١٢ ھنے بھی اپنی کتاب'' وقعة صفین'' میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ مخنف بن سلیم جنگ جمل کے بعد بقید حیات تھے۔ وہ اپنی کتاب میں اس طرح رقمطراز ہیں کہ یحٰبن سعید نے محمد بن مخنف سے نقل کیا ہے کہ محمدبن مخنف کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے بصرہ سے پلٹنے کے بعد میرے والد (مخنف بن سلیم) کی طرف نگاہ کی اور فرمایا :''لیکن مخنف بن سلیم اور ان کی قوم نے جنگ میں شرکت سے سر پیچی نہیں کی...۔''(٣)
محمد بن مخنف اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب کا یہ کہنا ہے کہ امیر المو منین نے مخنف بن سلیم کو اصفہان اور ہمدان کی ذمہ داری دیکر گو رنر کے طور پروہاں روانہ کیا اور وہاں کے سابق ذمہ دار جر یربن عبد اللہ بجلی کو معزول کر دیا۔(٤) محمد بن مخنف مزید کہتے ہیں کہ جب حضرت علی علیہ السلام نے شام کا قصد کیا تو اپنے کا رکنوں کو اس سے آگا ہ کیا ؛ منجملہ ایک خط مخنف بن سلیم کو
____________________
١۔ طبری ،ج ٥ ،ص ١٣٣ مطبوعہ دار المعارف
٢۔ ذیل المذیل، ص٥٤٧ ،مطبوعہ دار سویدان؛ تاریخ طبری کی گیارہوی ں جلد
٣۔ وقعة صفین، ص٨ ، طبع مدنی
٤۔ سابقہ حوالہ، ص١١
روانہ کیا جسے آپ کے حکم کے مطابق آپ کے کاتب عبداللہ ابی رافع نے تحریر کیا تھاخط ملتے ہی مخنف بن سلیم نے اپنے اہلکاروں میں سے دو آدمیوں کو اپنا نائب مقرر کیا اور خود وہاں سے فوراً حضرت کے لشکر کی طرف روانہ ہوگئے ؛یہاں تک کہ صفین ہی میں حضر ت علی علیہ السلام کی ہمر کا بی میں شہید ہو گئے۔(١) آگے بڑھ کر محمد بن مخنف کہتے ہیں کہ مخنف بن سلیم چار بڑے قبیلے ازد ، بجیلہ ، انصاراور خزاعہ کے سربراہ تھے۔(٢) پھر لکھتے ہیں :مخنف ، بابل کے سفرمیں علی علیہ السلام کے ہمراہ تھے۔(٣)
اسکے علاوہ بزرگان'' ازد'' سے مروی ہے کہ'' قبیلہ ازد'' کا ایک گروہ شام کی طرف سے اور دوسرا گروہ عراق کی طرف سے (جس میں مخنف بھی تھے) جب آمنے سامنے ہوا تو مخنف بن سلیم کے لئے یہ بڑی سخت منزل تھی۔ان کے دل پر اس سے چوٹ لگی اور وہ بے چین ہو گئے؛ لہٰذاانہوں نے ایک تقریر کی اور فر مایا کہ یہ امر میرے لئے بڑاسخت ہے اورمیں اس سے خوش نہیں ہوں ۔(٤)
اس سلسلے میں ابو مخنف کا بیان بھی قابل استفادہ ہے۔ وہ اس واقعہ کو اپنے والد کے چچا محمد بن مخنف سے نقل کر تے ہیں کہ محمدبن مخنف کہتے ہیں :''اس دن میں اپنے والد مخنف بن سلیم کے ہمراہ تھا اوراس وقت میری عمر ٧ا سال کا تھی''۔(٥)
اس جملہ سے کہ '' میری عمر١٧سال تھی '' اندازہ ہوتا ہے کہ سعیداپنے بھائی محمد سے چھوٹے تھے اور وہ جنگ صفین میں حاضر نہ تھے لہٰذا اس جنگ کی روداد کو اپنے بھائی سے نقل کررہے ہیں ۔ یہ خبر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ محمد بن مخنف کی ولادت٢٠ ھ میں ہوئی ۔بنابراین سعید، جو لوط (ابو مخنف) کے دادا ہیں وہ بھی اسی سال کے آس پاس متولد ہوئے ہیں ۔
____________________
١۔سابقہ حوالہ، ص١٠٤
٢۔صفین، ص١١٧
٣۔سابقہ حوالہ، ص١٣٥
٤۔سابقہ حوالہ، ص٢٦٢ ؛کتاب تقریب التہذیب میں مذکو ر ہے کہ ''مخنف بن سلیم ٦٤ھ میں توابین کے ہمراہ عین الوردةمیں شہید ہو ئے لیکن یہ غلط ہے۔
٥۔طبری، ج، ٤ص٤٤٦
لوط کے داد ا سعید حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب میں شمار ہوتے ہیں جبکہ آپ کے والدیحٰی امیر المو منین کے اصحاب میں شمار نہیں ہوتے ۔.پس ہم اگر کم ترین مدت بھی فرض کریں تو یہی کہا جاسکتاہے کہ سعید کی شادی کے بعد جب یحٰدنیا میں آئے تو اس وقت سعید ٢٠ سال کے تھے ۔(١) اس بنیاد پر لوط کا اصحاب امیر المومنین میں ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہو تا، بلکہ ان کے والد یحٰکو بھی حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب میں شمار نہیں کیا جا سکتا ہے۔اب ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ یحٰنے شادی کی اور اس سے لوط دنیا میں آئے تو اس وقت ان کا سن ٢٠ سال تھا؛ اس کا مطلب یہ ہو گا ٦٠ ھ گذر گیا تھاجبکہ یہ بہت کم ترین مدت فرض کی گئی ہے۔ اسطرح خود لوط کے بارے میں ہم یہ فرض کر تے ہیں کہ انھوں نے اپنی عمرکے بیسویں سال کے آس پاس حدیث کا سننا اور حاصل کرنا شروع کیا ؛ اس کی بنیاد پر ٨٠ ھسامنے آجا تی ہے ،پھر انھوں نے اس کتاب کی تالیف میں تقریبا٢٠ سال صرف کیے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ لوط پہلی صدی ہجری کے آخری سالوں یا صدی تمام ہونے کے بعد اس کتاب کی تالیف سے فارغ
____________________
١۔ابو مخنف کے والد یحییٰ کس طرح اصحاب امیر المو منین میں شمار ہو سکتے ہیں ؟اور کس طرح شیخ نے اسے اپنی دونو ں کتا بو ں میں لکھ دیا؟ یہ ایک سوال ہے اور.ہم سے پہلے فاضل حائری نے اپنی کتاب منتہی المقال میں شیخ پر یہی اعتراض کیا ہے۔انہو ں نے اس بات پر استدلا ل قا ئم کیا ہے کہ ابو مخنف نے حضرت علی علیہ السلام کو نہیں دیکھا ہے ؛ اسکے بعد انھو ں نے شیخ طوسی کے قول جو انھو ں نے اپنی دونو ں کتابو ں میں بیان کیا ہے کہ یحٰی نے حضرت علی علیہ السلام کا دیدار کیا ہے ،کو اس دلیل سے ضعیف جانا ہے کہ ان کے پر دادا مخنف بن سلیم حضرت علی کے اصحاب میں تھے، جیسا کہ شیخ وغیرہ نے اس کی تصریح کی ہے۔ فاضل حائر ی کی عبارت اس طرح ہے : اس سے ثابت ہو تا ہے کہ لوط نے حضرت کا دیدار نہیں کیا بلکہ ان کے باپ یحٰکا حضرت کو درک کر نا بھی ضعیف ہے۔ بنا برین ابو مخنف کا اصحاب امیر المو منین میں شما ر ہو نا جیسا کہ کشی نے کہا ہے غیر ممکن ہے اورجو استدلال مقتل ابو مخنف کے مقدمہ پر شیخ غفاری نے تحریر کیا ہے وہ بھی بے جا ہے ۔شیخ غفاری کہتے ہیں کہ ممکن ہے ابو مخنف اپنے پر دادا مخنف بن سلیم کے ہمراہ ہو ں ،اس طرح سے کہ اس وقت لوط ١٥ سال کے ہو ں اور ان کے والد یحٰ٣٥ کے ہو ں اور انکے دادا سعید کی عمر ٥٥سال ہو اور پر دادامخنف بن سلیم کا سن ٧٥ سال ہو۔اس استدلال میں جو اعتراض واردہے وہ واضح ہے، کیو نکہ ابو مخنف اپنے والد کے چچا محمد بن مخنف سے نقل کرتے ہیں کہ وہ جنگ صفین کے موقع پر ١٧ سال کے تھے یعنی ان کے بھائی سعید ان سے بڑے نہیں تھے بلکہ چھوٹے تھے اسی لئے جنگ صفین میں شریک نہیں ہو ئے اور انہو ں نے اس جنگ کی روداد اپنے بھائی سے نقل کی پس اس وقت ان کاسن ١٥سال کے آس پا س ہو گا، نہ کہ ٥٥ سال کا ۔
ہوئے ،لیکن یہ بہت بعید ہے کہ انہوں نے اس زمانے میں اسے لکھا ہواور پھر لوگوں کو املا کریا ہو۔کیونکہ اس زمانے میں تدوین حدیث پربڑی سخت پابندی عائد تھی؛ بلکہ سخت ممنوع تھا۔ اس اموی دور سلطنت میں تاریخ نویسی کا کیا سوال پیدا ہو تا ہے اوروہ بھی شیعی تاریخ کا ؟ !جبکہ یہ زمانہ شیعوں کے لئے خوف،تقیہ اور گھٹن کا زمانہ ہے ۔
ابو مخنف نے مسلم بن عقیل کے کوفہ میں وارد ہو کر مختار بن ابو عبید ثقفی کے گھر رہنے کے سلسلے میں جو خبر نقل کی ہے اس میں یہ جملہ موجود ہے :'' یہ گھر آج مسلم بن مسیب کے گھر سے معروف ہے''اس جملہ سے ہمیں ایک فائدہ یہ حاصل ہو تا ہے کہ انھوں نے اس مقتل کی تالیف پہلی صدی ہجری کی تیسری دہائی میں کی ہے ،کیونکہ مسلم بن مسیب ١٢٩ ھمیں شیراز کے عامل تھے جیسا کہ طبری کی ،ج٧،ص٣٧٢ پر مر قوم ہے اور یہ عہد بنی امیہ کے ضعف و شکست اور بنی عباس کے قیام کا دور شمار ہو تا ہے جس میں بنی عباس اہل بیت کی رضایت حاصل کر کے امام حسین اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام کے خون کا بدلہ لینا چاہتے تھے لہذا ممکن ہے عباسیوں ہی نے ابو مخنف کومقتل حسین علیہ السلام کی تالیف کی دعوت دی ہو تاکہ ان کے قیام کی تائیدہو سکے پھر جب یہ لوگ زمام حکومت پر قابض ہوگئے تو ابو مخنف اور ان کے مقتل کو تر ک کر دیاجیسا کہ اہل بیت علیہم السلام کو چھوڑ دیا بلکہ ان سے جنگ پر آمادہ ہوگئے ۔
ابومخنف کی کتابیں
(الف)شیخ نجاشی نے ابو مخنف کی مندرجہ ذیل کتابوں کا ذکر کیاہے۔
١۔کتاب المغازی
٢۔کتاب الردّہ
٣۔کتاب فتوح الاسلام
٤۔کتاب فتوح العراق
٥۔کتاب فتوح الخراسان
٦۔کتاب شوریٰ
٧۔کتاب قتل عثمان
٨۔کتاب جمل
٩۔کتاب صفین
١٠۔کتاب الحکمین
١١۔ کتاب النہروان
١٢۔کتاب الغارات
١٣۔ کتاب اخبار محمد بن ابی بکر
١٤۔ کتاب مقتل محمدبن ابی بکر
١٥۔ کتاب مقتل امیرالمومنین علیہ السلام
١٦۔کتاب اخبار زیاد
١٧۔ کتاب مقتل حجر بن عدی
١٨۔ کتاب مقتل الحسن
١٩۔کتاب مقتل الحسین علیہ السلام
٢٠۔ کتاب اخبارالمختار
٢١۔کتاب اخبار ابن الحنفیہ
٢٢۔ کتاب اخبارا لحجاج بن یوسف ثقفی
٢٣۔کتاب اخباریوسف بن عمیر
٢٤۔کتاب اخبارشبیب الخارجی
٢٥۔کتاب اخبارمطرف بن مغیرہ بن شعبہ
٢٦۔کتاب اخبارالحریث بن الاسدی الناجی
٢٧۔کتاب اخبارآل مخنف بن سلیم
اس کے بعد نجاشی نے اپنے طریق کو اس طرح ذکر کیا ہے :''عن تلمیذہ ہشام الکلبی''ابو مخنف کے شاگرد کلبی سے مروی ہے(١)
(ب) شیخ طوسی نے بھی فہرست میں ان میں سے بعض کتابوں کا تذکرہ کیا ہے اور اس کے بعد فرماتے ہیں کہ ابو مخنف کی ایک کتاب بنام ''کتاب خطبات الزہرائ'' بھی ہے۔ شیخ طوسی روایت میں اپنے طریق کو بیا ن فرماتے ہیں ۔(٢)
(ج)ابن ندیم نے بھی اپنی فہرست میں ان کتابوں میں سے بعض کا ذکر کیا ہے، منجملہ مقتل الحسین کوابو مخنف ہی کی کتابوں میں شمار کیاہے۔
دواہم نکات
ابومخنف کی کتابوں کی فہرست کابغور مطالعہ کرنے کے بعد دو اہم نکات سامنے آتے ہیں :
١۔سب سے پہلی بات یہ کہ ابو مخنف نے اپنی ساری کوششیں اس پر صرف کی ہیں کہ شیعی روایات بالخصوص کوفہ سے متعلق اخبار کو اپنی کتابوں میں درج کریں ۔ ان کتابوں میں کوئی بھی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں بنی امیہ یا بنی مروان کا عنوان شامل ہو، اسی طرح ان کتابوں میں ابو مسلم خراسانی کا قیام اوربنی عباس کی تشکیل حکومت کے سلسلے میں بھی کوئی عنوان نظر نہیں آتا جبکہ بنی عباس کی حکومت کی تشکیل کے ٢٥ سال بعد ٥٨ا ہجری میں ابو مخنف کی وفات ہوئی ہے۔ اگر فہرست کتب میں اس مو ضوع پر کوئی کتاب نظر آتی ہے تو وہ فقط ''کتاب حجاج بن یوسف ثقفی ''ہے اور حجاج کی تباہکاریوں کی داستان اس کی موت کے ساتھ ٩٥ ہجری میں ختم ہو جاتی ہے۔ البتہ طبری نے بنی امیہ کے آ خری ایام کی خبروں کو ١٣٢ ہجری کے حوادث میں ابو مخنف ہی سے نقل کیا ہے۔(٣)
٢۔ دو سرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ابو مخنف کی روایات کو ان کی کتابوں میں ، خصوصاًطبری کی روایتوں میں ملا حظہ کر نے کے بعد اندازہ ہو تا ہے کہ ابو مخنف نے بہت سارے موارد میں اپنے باپ ،چچا،چچازادبھائیوں یا ''قبیلۂ ازد'' کے وہ بزرگان جو اس وقت زندہ تھے، ان سے رواتیں نقل کی ہیں اوریہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابو مخنف کے قبیلہ میں بہت ساری خبر یں موجو دتھیں جس نے ابو مخنف کو ان کی جمع آوری اور تالیف پربر انگیختہ کیا۔ .اسی وجہ سے ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی خبروں میں کوفہ اور اہل کوفہ ہی پر اکتفا کر تے ہیں اور اس فن میں انھوں نے اتنا یدطولیٰ حاصل کیا کہ دوسروں کے مقابلہ میں وہ اس فن میں اعلم شمار ہو تے ہیں ۔
____________________
١۔رجال نجاشی، ص٢٢٤،طبع حجر ہند
٢۔فہرست، ص١٥٥وطبری ،ج٧،ص٤١٧،سال ١٣٢ ہجری فی خروج محمد بن خالد بالکوفہ
٣۔طبری ،ج٥، ص٤١٧
مذہب ووثاقت
ابو مخنف کے آثارکو دیکھنے کے بعد اس بات کا بھی اندازہ ہو تا ہے کہ انھوں نے امام زین العابدین علیہ السلام (جنکی شہادت ٩٥ ہجری میں ہو ئی ہے) سے کو ئی روایت بلا واسطہ نقل نہیں کی ہے؛ اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام (جنکی شہادت ١١٥ ہجری میں ہوئی ہے) سے بھی بلا واسطہ ایک روایت موجود نہیں ہے۔(١)
بلکہ وہ امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک واسطہ اور امام زین العا بدین علیہ السلام سے دو واسطوں سے روایت نقل کرتے ہیں اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے بلا واسطہ چند ہی روایتں ملتی ہیں ۔(٢) یہ مطلب شیخ نجاشی کی ان باتوں کی تائیدکرتاہے جس میں وہ فرماتے ہیں : ''بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابو مخنف نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ''اسی طرح ابوا مخنف نے امام موسی کاظم علیہ السلام سے بھی کوئی روایت نقل نہیں کی ہے جب کہ ابو مخنف امام علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھے، کیونکہ امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت ١٤٨ ہجری میں واقع ہوئی ہے ؛یہی وجہ ہے کہ کسی نے بھی ابو مخنف کو امام علیہ السلام کے صحابیوں میں شمار نہیں کیا ہے ۔
____________________
١۔طبری،ج ٥،ص٤٨٨۔خبر شہادت شیر خوار کو ملا حظہ کیجئے ۔
٢۔خبر شب عا شو راملاحظہ ہو ،ج ٥ ،ص٤٨٨
مندرجہ بالا قرینے اس مطلب کی دلیل فراہم کرتے ہیں کہ ابو مخنف شیعہ نہیں تھے اورشیعی اصطلاح کے مطابق ائمہ کے اصحاب میں شمار نہیں ہوتے تھے، جن کو مخالفین اہل بیت رافضی کہا کرتے تھے؛ البتہ اس زمانے میں اہل کوفہ کی طرح ان کا بھی فکری اور نظریاتی میلان تشیع کی طرف تھا لیکن سنی مذہب کوبطور کلی ترک نہیں کیا تھا۔اس کی تائید میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مخالفین اہل بیت میں سے کسی نے بھی رافضی کے تیر سے ان پر حملہ نہیں کیا ہے جیسا کہ وہ ہر شیعہ کے لئے کرتے تھے حتیٰ کہ یہ ایک اصطلاح بن چکی تھی جو ابھی تک باقی ہے۔ بلکہ ابومخنف کے سلسلے میں مخالفین اہل بیت کا نظریہ یہ ہے کہ وہ تشیع اور مذہب اہل بیت کی طرف رجحان رکھتے تھے ، اسی وجہ سے ان کو شیعہ کہا کرتے ہیں ؛ لیکن مخالفین اہل بیت علیہم السلام کوجن کے بارے میں معلوم ہوجاتاتھا کہ یہ مذہب اہل بیت سے وابستہ ہیں ان پر فوراًرافضی ہونے کا تیرچلاتے تھے اور فقط شیعہ کہنے پر اکتفانہیں کرتے تھے۔دشمنان اہل بیت کے نزدیک اصطلاح شیعہ اور رافضی میں اساسی فرق یہی ہے ۔
ذہبی ، اہل سنت کے معروف رجالی ، کہتے ہیں : ''یہ اخباری مذہب کے حامی ہیں اور قابل اعتماد نہیں ہیں ''۔ ابوحاتم وغیرہ نے ان سے روایت نقل نہیں کی ہے اور ان کو ترک کردیا ہے ۔
ابن معین کہتے ہیں :''یہ ثقہ نہیں ہیں '' مرّ ہ کہتے ہیں :'' وہ بہت قابل توجہ نہیں ہیں ''۔ ابن عدی کہتے ہیں : ''وہ متعصب شیعہ تھے ا ان کا شمارشیعہ محدثین و مورخین میں ہوتاہے(١) ان میں سے کسی بھی رجالی نے ابو مخنف پر رافضی کے تیر سے حملہ نہیں کیا ہے جبکہ ان تمام رجالیوں کی سیرت یہ ہے کہ اگر ان کے لئے کسی کے سلسلے میں اہل بیت کی پیروی ثابت ہو جائے تو فوراًرافضی کہہ کر اپنی دریدہ ذ ہنی اور شوریدہ فکر ی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
ابن ابی الحدید معتزلی نے اس بات کی بالکل صراحت کر دی۔ وہ کہتے ہیں :''ابو مخنف کا شمار محدثین میں ہوتاہے اوران کا تعلق اس گروہ سے ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ امامت عوام کے اختیار
____________________
١۔ میزان الاعتدال، ج٣،ص ٤٣،طبع حلبی محترق کے معنی متعصب کے ہیں جیسا کہ میزان الاعتدال میں حارث بن حصیرہ کے سلسلے میں آیا ہے؛ محترق کے وہ معنی نہیں ہیں جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔
میں ہے ؛عوام جس کو چاہے امام بنادے، لہٰذا وہ نہ توشیعہ تھے اور نہ ہی شیعی رجال میں ان کاشمار ہوتا ہے۔(١)
سیدصدر نے ابن ابی الحدیدکی اس عبارت کو''تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام''میں نقل کیا ہے پھر اس عبارت پرتعلیقہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں :''میرے نزدیک تشیع ہی کی بنیاد پر ان کی مذ مت کی گئی ؛اس کے باوجود وہ اہل سنت کے علماء کے نزدیک مورد اطمینان وقابل وثوق ہیں اور ائمہ اہلسنت نے ان پر اعتماد کیا ہے جیسے ابی جریر طبری ،ابن اثیر بالخصوص، ابن جریر طبری جس نے اپنی ضخیم اور عظیم تاریخ کو ابی مخنف ہی کی روایتوں سے پرکر دیا ہے ۔(٢)
علامہ سید شرف الدین موسوی نے اپنی کتاب'' المراجعات'' میں ایک خاص فصل قرار دی ہے جس میں ان سو شیعی رجال کا تذکرہ کیا ہے جو اہل سنت کی سندوں میں بلکہ صحاح میں موجود ہیں ۔ علامہ مرحوم نے ان سندوں کو حوالے کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
علامہ شرف الدین موسوی کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے :اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ (ابو مخنف)شیعہ تھے لیکن شیعہ امامی نہیں تھے جیسا کہ ابن ابی الحدید نے بھی اس کی صراحت کی ہے جو ایک متین بیان ہے البتہ بعض اہل سنت نے انہیں اس بنیاد پر شیعہ لکھ دیا کہ محبت و مودت اورافکار میں ان کا میلان اہل بیت اطہار علیہم السلام کی طرف تھا لیکن یہ کہ وہ آج کل کی اصطلاح کے مطابق بطور کامل شیعہ تھے، تو یہ غلط ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ گذشتہ علمائے شیعہ میں سے کسی نے بھی ان کے شیعہ ہونے کی تصریح نہیں فرمائی ہے۔شیخ نجاشی جو اس فن کے استاد تھے انھوں نے اس سلسلے میں بڑی احتیاط سے توصیف فرمائی ہے کہ ''ابو مخنف مورخین کوفہ کے بزرگ اور استاد تھے ''،یہ نہیں فرمایا کہ ہمارے مورخین کے استاد و بزرگ تھے، چہ جائیکہ یہ کہیں کہ ہمارے علماء و دانشوروں کے بزرگ اور استاد تھے ۔
____________________
١۔تاسیس الشیعہ، ص٢٣٥،طبع بغدادمیں آیا ہے کہ میں نے طبری کی سند میں ابو مخنف کی روایت کو شمار کیا تو٤٠٠ روایتو ں کے آس پاس پایا جیسا کہ فہرست اعلام ،ج٧،ص٤١٧،سال ١٣٢ میں محمد بن خالدکے خروج کے سلسلے میں یہ موجود ہے۔
٢۔تاسیس الشیعہ، ص٢٣٥ ،طبع بغداد ،المراجعات،ص١٦ تا١٧ وص،٥٢ تا ١١٨،دار الصادق
اس پر تعجب نہ کیجئے کہ ابن ابی الحدید نے اس سلسلے میں کیونکر تصریح کردی، ذرادیکھئے!جب وہ جنگ جمل کے واقعہ میں ابو مخنف سے اس رجز کا تذکرہ کرتے ہیں جس میں مولائے کائنات نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانب سے اپنی وصایت کا تذکرہ کیا ہے تو کہتے ہیں کہ ان رجزوں کے نقل کرنے سے اس سے زیادہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ابو مخنف فکر و نظر کے اعتبار سے شیعہ تھے نہ کہ عقیدئہ امامت میں ، جیسا کہ بہت سارے اہل سنت اس مطلب کی روایت کرتے ہیں ۔الغرض ابو مخنف شیعہ تھے اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن ان کے امامی مذہب ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے ،اس بناپر ابومخنف کی توصیف و تمدیح کا بہترین طریقہ وہی ہے جسے شیخ نجاشی نے اپنایا ہے : ''شیخ اصحاب اخبار الکوفہ ووجھہم وکان یسکن الی ما یرویہ''وہ مورخین کوفہ کے بزرگ اور معروف آدمی تھے لوگ ان کی روایتوں پر اعتماد کرتے تھے ۔
نجاشی کا یہ بیان ایک قابل اعتبار مدح وستائش ہے جس کی بنیاد پر ان سے مروی روایتوں کا حسن ہونا ثابت ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی روایتوں کو'' الوجیزہ'' ،''ا لبلغہ'' اور ''الحاوی'' وغیرہ میں حسن شمار کیا گیا ہے ۔
ہشام الکلبی
شیخ نجاشی نے ہشام الکلبی کا ذکر کیا ہے اور ان کا نسب نامہ بھی مرقوم فرمایاہے اس کے بعدفرماتے ہیں : ہشام تاریخ دان ، تاریخ نگار اور علم و فضل میں مشہور تھے۔ وہ پیروان مذہب اہل بیت میں شمار ہو تے ہیں ۔ ان کی ایک حدیث بہت مشہور ہے جس کی داستان بہت ہی دلچسپ ہے ۔ہشام کہتے ہیں : ''میں ایک ایسے مرض میں مبتلا ہوگیا تھا جس کی و جہ سے میں اپنے سارے علم کو فراموش کرچکاتھا لہٰذا میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس آیا اور امام سے ساری داستان کہہ سنائی امام نے مجھے جام علم پلایا اس جام کے پیتے ہی میراسارا علم دوبارہ واپس آگیا'' ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام ان کو اپنے قریب رکھتے تھے، ان کا احترام کرتے اور ان کے لئے ترقی و بلندی کے مواقع فراہم کرتے تھے؛ اسی لئے وہ کامیاب رہے اور بہت ساری کتابیں ان کے آثار میں باقی ہیں ۔(١)
____________________
١۔ رجال نجاشی،ص٣٠٥،حجر ہند
اس کے بعد نجاشی نے ہشام کی کتابوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان کو اپنے طریق میں مرقوم فرمایا؛ منجملہ ان کتب میں '' مقتل الحسین'' کو بھی ہشام کی کتابوں میں شمار کیاہے۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ ہشام نے کتاب'' مقتل الحسین ''کے تمام حصوں یا اکثر و بیشتر حصوں کو اپنے استاد(ابو مخنف) سے نقل کیا ہے ۔
قابل تعجب بات یہ ہے کہ شیخ طوسی نے اپنی کتاب'' مختار ''میں رجال نجاشی سے نقل کیا ہے نجاشی فرماتے ہیں : ''کلبی کا شمار سنی رجال میں ہوتا ہے ،ہاں ؛ اہل بیت سے انہیں شدت کی محبت تھی، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کلبی تقیہ میں تھے ، مخالف اہل بیت نہیں تھے ۔(١)
____________________
١۔ المختار من رجال ا لکشی، ص ٣٩٠ ،حدیث ٧٣٣ طبع مشہد، یہ بات پوشیدہ نہیں رہنی چاہیئے کہ ہمارے متعدد بزرگ علمائے رجال تعارض کی صورت میں نجاشی کے قول کو مقدم مانتے ہیں ١۔ شہیدثانی مسالک میں فرماتے ہیں :''وظاهر حال النجاشی انه اضبط الجماعه واعرفهم بحال الرواة ''ظاہر یہ ہے کہ نجاشی کا حافظہ سب سے قوی اور راویو ں کے احوال سے سب سے زیادہ باخبر ہیں ۔٢۔ان کے نواسے ''شرح الاستبصار'' میں فرماتے ہیں :''والنجاشی مقدم علی الشیخ فی هٰذه المقامات کما یعلم بالممارسته '' ۔ نجاشی ان موارد میں شیخ پر مقدم ہیں جیسا کہ تحقیق و جستجو سے یہی معلوم ہوتا ہے۔٣۔ان کے استاد محقق استرآبادی کتاب ''الرجال الکبیر'' میں سلیمان بن صالح کے احوال نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''ولا یخفی تخالف ما بین طریقتی الشیخ والنجاشی ولعل النجاشی اثبت'' ۔ یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ رجال شناسی میں شیخ اور نجاشی کے درمیان اختلاف کی صورت میں نجاشی کا قول مقدم ہے ؛کیونکہ نجاشی کا نظریہ زیادہ محکم ہے ۔٤۔ سید بحر العلوم'' الفوائد الرجالیہ'' میں فرماتے ہیں :'' احمد بن علی نجاشی کا محکم ، استوار اور عادل بزرگو ں میں شمار ہوتا ہے۔ آپ جرح و تعدیل کے عظیم ترین رکن ہیں اور اس راہ کے سب سے بزرگ عالم ہیں '' ہمارے تمام علماء کا اس پر اجماع ہے کہ وہ معتمد ہیں اور سب کے سب احوال رجال میں انہیں کی طرف استناد کرتے ہیں نیزان کے قول کو مقدم جانتے ہیں ۔اصحاب نے ان کی کتاب کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جس کی کو ئی نظیر نہیں ہے اس باب میں صراحت کی ہے کہ نجاشی کا قول صحیح ہے ۔اس کے علاوہ نجاشی نے اپنی کتاب میں شیخ کشّی کے احوال کو پیش کرتے ہو ئے فرما یا : ''کان ثقةعیناً..''آپ مورد وثوق اور معروف انسان تھے ،رجال کے موضوع پرآپ کی ایک کتاب ہے جو بڑی معلوماتی ہے لیکن اس کتاب میں کافی غلطیا ں ہیں ۔آپ عیاشی کے ساتھ تھے اور انہیں سے روایتی ں نقل کی ہیں ا لبتہ اس کتاب میں ضعیف راویو ں سے بھی روایت نقل کردی ہے (ص٣٦٣) پھر نجاشی ،عیاشی کے سلسلے میں لکھتے ہیں ''ثقة و صدوق'' ، وہ مورد وثوق اوربڑے سچے تھے ''عین من عیون ھٰذہ الطائفہ'' اس گرو ہ شیعہ کی معروف ترین شخصیتو ں میں شمار ہوتے تھے۔ عیاشی پہلے سنی تھے پھر شیعہ ہوئے۔ آپ نے ضعفا سے بہت روایتی ں نقل کی ہیں ۔(ص٢٤٧) شاید کشّی نے یہ قول عیاشی ہی سے حاصل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کلبی سنی تھے کیونکہ وہ شروع میں سنی تھے۔ ہا ں کلبی اپنے کو چھپا ئے رہتے تھے اور تقیہ پر عمل کرتے تھے جیسا کہ کشی نے ذکر کیاہے۔
اسکے بعد شیخ نے ہشام کلبی کا بالکل تذکرہ نہیں کیا ہے؛نہ ہی رجال میں اورنہ ہی فہرست میں ، ہاں اپنے اس طریق میں جس میں ابومخنف کی کتابوں سے روایت نقل کی ہے ہشام کا تذکرہ کیا ہے۔(١)
شاید اس کا سبب یہ ہوکہ کلبی کی جتنی کتابیں تاریخ شیعہ سے مختص ہیں ان سب میں انہوں نے اپنے استاد ابی مخنف سے روایتیں نقل کی ہیں ، لیکن دوسری کتابیں کہ جو شیعوں کی تاریخ سے مخصوص نہیں ہیں دوسرے مورخین سے نقل ہیں ۔ اہل سنت کے سیرو تراجم کے تمام دانشوروں نے ہشام کے علم و حافظہ اور انکے شیعہ ہو نے کی صراحت کی ہے۔ابن خلکان کہتے ہیں : ''تاریخ اور تاریخ نگاری کے سلسلے میں ان کی معلومات بڑی وسیع تھی۔ وہ علم انساب کے سب سے بڑے عالم تھے اور اخباروروایات کے حفظ میں مشہور روزگار تھے ۔آپ کی وفات ٢٠٦ ہجری میں ہوئی ۔(٢)
اہلسنت کے دوسرے بزرگ عالم رجالی ابو احمدبن عدی اپنی کتاب'' کا مل'' میں کہتے ہیں : ''کلبی کی حدیثیں صالح ودرست ہیں ۔ تفسیر میں بھی انکا علم وسیع تھا اور وہ اس علم کے ذریعہ معروف تھے؛ بلکہ تفسیر میں ان سے طولانی اور سیر حاصل بحث کسی نے بھی نہیں کی ہے ۔کلبی تفسیر میں مقاتل بن سلیمان پر برتری اور فضیلت رکھتے ہیں ؛کیو نکہ مقاتل کے یہاں عقیدہ اور مذہب کی سستی وخرابی موجودہے۔ ابن حبان نے کلبی کو ثقات میں شمار کیا ہے'' ۔(٣)
رائج مقتل الحسین
اس زمانے میں متداول، لوگوں کے ہاتھوں اور مطبو عات میں جو مقتل ہے اسے ابو مخنف نے تالیف نہیں کیاہے، بلکہ اسے کسی دوسرے نے جمع کیا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ کہاں جمع کیا گیا، کس
____________________
١۔رجال طوسی ،ص١٥٥ ۔
٢۔طبری نے اپنی تاریخ میں کلبی سے ٣٣٠ موارد نقل کئے ہیں ۔ اسکے باوجود اپنی کتاب'' ذیل المذیل ''میں ان کے احوال مر قوم نہیں کئے ہیں ۔ فقط کلبی کے باپ کا تذکرہ(ص١١٠)پر کر تے ہوئے کہا ہے :ان کے دادا بشربن عمرو کلبی ہیں اور انکے فرزند سائب ،عبید او رعبد الرحمن ہیں جو جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے ہمراہ تھے۔
٣۔ لسان المیزان ،ج٢،ص٣٥٩۔
نے جمع کیا ،کس کے ہا تھوں یہ کتاب ملی اور سب سے پہلے یہ کتاب کہاں چھپی ہے ؟ کسی کو ان مسائل کا علم نہیں ہے ۔ امام شرف الدین مو سوی رحمةاللہ علیہ فر ماتے ہیں : ''یہ بات مخفی نہیں ہے کہ مقتل امام حسین علیہ السلام میں جو کتاب رائج ہے وہ ابو مخنف کی طرف منسوب ہے جس میں بہت ساری ایسی حد یثیں موجود ہیں جسکا ابو مخنف کو علم بھی نہیں تھا اور یہ سب کی سب حد یثیں جھو ٹی ہیں جو ان کے سر مڑ ھی گئی ہیں ۔جھو ٹوں اور فر یب کاروں نے بہت ساری چیزوں کا اس میں اضافہ کیا ہے۔فر یب کاروں کا جھو ٹی روایتیں گڑھ کر ان کی طرف نسبت دینا خود ان کی عظمت وجلا لت کا بین ثبوت ہے''(١) کیو نکہ جعل ساز کو معلوم ہے کہ تاریخ کے میر کا رواں کا نام ابو مخنف ہے لہذا جھوٹی روایات انہیں کی طرف منسوب کی جائیں تا کہ لوگ صحیح و غلط میں تمییز دیئے بغیر قبول کر لیں ۔
محدث قمی فر ما تے ہیں : یہ بات معلو م ہو نی چاہئے کہ تاریخ و سیر میں ابو مخنف کی کتا بیں کثیر تعدادمیں موجودہیں ، ان میں سے ایک کتاب'' مقتل الحسین'' ہے جسے قدیم بزرگ علماء نے ذکر کیا ہے اور اس پر اعتماد بھی کر تے تھے؛لیکن بہت افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت اسکا ایک بھی نسخہ مو جو دنہیں ہے۔یہ مقتل جو اس وقت ہما رے ہا تھوں میں ہے اور اسے ابو مخنف کی طرف منسوب کیا جا تاہے در حقیقت ان کا مقتل نہیں ہے بلکہ کسی دوسرے معتمد مورخ کا بھی نہیں ہے ۔اگر کسی کو اس کی تصدیق کر نی ہے تو جو کچھ اس مقتل میں ہے اور جسے طبری وغیرہ نے نقل کیا ہے ان کا مقایسہ کرکے دیکھ لے؛ حقیقت سا منے آجائے گی۔ میں نے اس مطلب کو اپنی کتاب نفس المہموم میں طرماح بن عدی کے واقعہ کے ذیل میں بیان کردیا ہے۔(٢)
اب جبکہ ہم نے اس کتاب کی تحقیق کا بیڑااٹھایا ہے تو ضروری ہے کہ ہم اس کتاب کے جعلی ہونے کی بحث کو غور وخوص کے ساتھ آگے بڑھائیں تاکہ قارئین کرام پر بات واضح سے واضح تر ہوجائے ۔
یہ بات یقینی ہے کہ اس کتاب کی جمع آوری ابو مخنف کے علاوہ کسی اور نے کی ہے لیکن کس نے کی اور کب کی ہے اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا ،اگر چہ اس بات کا اندازہ ضرور ہوتا ہے کے جمع آوری کرنے
____________________
١۔مو لفوا الشیعة فی صدر الا سلام، ص٤٢،طبع النجاح
٢۔ الکنی والالقاب ،ج١ ، ص١٤٨؛نفس المہموم ص١٩٥،اوراس کا مقدمہ، ص٨ ،طبع بصیرتی
والا شخص متاخرین میں سے ہے اور عرب زبان ہے لیکن نہ تو تاریخ شناس ہے، نہ حدیث شناس اور نہ ہی علم رجال سے آگاہ ہے حتیٰ عربی ادب سے بھی واقف نہیں ہے کیونکہ کتاب میں اس نے ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جو جدید عربی کے عام اور بازاری الفاظ ہیں ۔
اس کتاب میں ١٥٠روایات موجود ہیں جن میں سے ٦روایتیں مرسل ہیں ۔
مرسل روایات میں پہلی روایت چوتھے امام حضرت زین العابدین علیہ السلام سے ہے جو ص٤٩ پر موجودہے ۔
دوسری مرسلہ روایت عبداللہ بن عباس سے ہے جو ص٩٤ پرنقل ہوئی ہے ۔
تیسری روایت عمارہ بن سلیمان سے ہے اور وہ حمید بن مسلم سے نقل کرتے ہیں ،ص٨٢۔
چوتھی روایت ایک ایسے شخص سے ہے جس کے بارے میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ عبداللہ بن قیس ہے، ص٩٦۔
پانچویں روایت کے بارے میں دعوی کیا جاتا یہ کہ عمار سے نقل ہوئی۔یہ روایت ص٧٠پرکلینی،متوفیٰ ٣٢٩ھسے مرفوعاًمنقول ہے اور اصول کافی میں یہ روایت موجود نہیں ہے۔
جمع آوری کرنے والے نے روایت نمبر١٠٥(١) سے کتاب میں ایک شخص کو داخل کیا ہے جس کا نام سہل شہر زوری ہے اور اس سے بہت ساری حدیثیں نقل کی ہیں ۔مولف نے اس شخص کوکوفہ سے شام ، حتیٰ شا م سے مدینہ تک اہل بیت کے ہمراہ دکھایا ہے اور اس سے ٣١مرسل روایتیں نقل کی ہیں ، منجملہ سہل بن سعد ساعدی کی روایت کو اسی شخص یعنی ''سہل بن سعید شہر زوری ''کے نام سے ذکر کردیا ہے!(٢)
اس کے علاوہ اس کتاب کی بقیہ روایتوں کی نسبت خود ابو مخنف کی طرف دی گئی ہے جو ١٣٨ حدیثیں ہیں ۔
اس کتاب میں بہت ساری واضح اور فاش غلطیاں ہیں جن کی طرف مندرجہ ذیل سطروں میں اشارہ کیا جارہا ہے ۔
____________________
١۔ مقتل ابو مخنف، ص١٠٢،طبع نجف
٢۔مقتل ابو مخنف، ص١٢٣،نجف
واضح غلطیاں
اس رائج مقتل میں بہت ساری واضح غلطیاں ہیں :
١۔ ایک صاحب بصیرت قاری اس مقتل کے پہلے صفحے کی پہلی ہی سطر میں واضح غلطی کی طرف متوجہ ہو جائے گاکہ ابو مخنف کہتے ہیں : ''حدثنا ابو المنذرہشام عن محمد بن سائب کلبی'' مجھ سے ابو منذر ہشام نے محمدبن سائب کلبی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ، ذرا غور کیجئے کہ ابو مخنف ہشا م کے استاد ہیں اور وہ اپنے شاگرد ہشام سے روایتیں نقل کررہے ہیں !مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس بے اساس مقتل کے مطابق ہشام نے اپنے باپ محمد بن سائب کلبی کے حوالے سے اپنے استاد ابو مخنف کے لئے ان روایات کو نقل کیا ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کتاب کو جمع کرنے والا شخص راویوں کے حالات زندگی سے کس قدر نابلد تھا کہ ا س کے اوپر یہ واضح امر بھی مخفی تھا۔(١)
٢۔اس کے بعد جب آپ اس کتاب کے چند اوراق اور پلٹیں گے تو آپ کا اس عبارت سے سامناہو گا '' و روی الکلینی فی حدیث''(٢)
اے کاش معلوم ہوجاتا کہ کلینی سے روایت کرنے والا شخص کون ہے جبکہ کلینی نے ٣٢٩ ہجری میں اس دار فانی کو وداع کیا ہے اور ابو مخنف کی وفات١٥٨ ہجری میں ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ یہ روایت کافی میں بھی موجود نہیں ہے ۔
٣۔کچھ اورورق گردانی کرنے کے بعدآپ کو یہ عبارت ملے گی ؛''فانفذ(یزید)الکتاب الی الولیدوکا ن قد ومه لعشرة ایام خلون من شعبان'' (٣) 'یزید نے خط لکھ کر ولید کی طرف روانہ کیا اور یہ خط دس شعبان کوحاکم مدنیہ کے ہا تھ میں پہنچا '۔جبکہ تمام مورخین کا اس پر اتفاق ہے کہ
____________________
١۔ایسی ہی ایک روایت سید مرتضیٰ نے اپنی کتاب'' تنزیہ الانبیا ئ'' ص ١٧١ میں نقل کی ہے کہ ابن عباس فرزند ہشام نے اپنے والد ہشام سے انھو ں نے ابومخنف سے اور انھو ں نے ابی الکنودعبد الرحمٰن بن عبید سے روایت کی ہے۔شاید اس کتاب کو جمع کرنے والے نے سید کی کتاب یاکسی اور جگہ سے اس بات کو تحریف و تصحیف و زیادتی کے ساتھ نقل کردیا ۔
٢۔ ص٧
٣۔ص١١
امام حسین علیہ االسلام ٣ شعبان کو مکہ وارد ہو گئے تھے۔ خود طبری نے ابو مخنف کے حوالے سے بھی یہی لکھا ہے۔اب ذرا غور کیجئے کہ ان دونوں تاریخوں کو کیسے جمع کیا جا سکتا ہے۔
٤۔ سفیر امام حسین جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کے سلسلے میں فقط اسی مقتل میں جناب مسلم کے راستے میں گڑھا کھود نے اور انھیں زنجیر میں جکڑ کر عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں لے جانے کی خبر ملتی ہے۔کتاب کی عبارت اس طرح ہے : '' ابن زیاد فوج کے پاس آیا اور ان سے کہا : میں نے ایک چال سونچی ہے کہ ہم مسلم کے راستے میں ایک گڑھا کھود دیں اور اسے خس وخا شاک سے چھپا دیں ،پھر حملہ کر کے مسلم کو آگے آنے پر مجبور کریں ۔ جب وہ اس میں گِر جائیں تو ہم انھیں پکڑلیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس دام میں آکر زندہ نہیں بچ پائیں گے۔(١)
٥۔ اسی طرح یہ خبر بھی فقط اسی کتاب میں موجودہے : ''جب امام حسین علیہ السلام کے دو فدا کا ر ساتھی مسلم و ہانی کو فہ میں شہید کر دیئے گئے اور امام ان دونوں کی خبر سے مطلع نہ ہو سکے تو آپ بہت مضطرب اور پریشان حال نظر آنے لگے لہٰذ ا آپ نے اپنے خاندان والوں کو جمع کرکے سب کو فوراً مدنیہ واپس ہونے کا حکم دیا ۔ امام کے حکم کے مطابق سب کے سب امام کے ہمراہ مدنیہ کی طرف نکل گئے یہاں تک کہ سب لوگ مد نیہ پہنچ گئے۔یہاں پر امام حسین علیہ السلام بنفس نفیس قبر رسو لخدا صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کے پاس آے اور تعویذقبر سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگے اور روتے روتے آپ کی آنکھ لگ گئی ''(٢) جبکہ اس بے بنیاد خبر کا ذکر کسی کتاب یاسفر نامہ میں نہیں ملتا ہے ۔
٦۔تنہا یہی کتاب ہے جس میں یہ خبر ملتی ہے :''جب امام وارد کر بلا ہو ئے تو آپ نے ٧ گھوڑے بدلے؛ لیکن جب کسی گھوڑے نے بھی حرکت نہ کی تو آپ وہیں اترگئے، وہیں پڑاوڈالا اور وہاں سے آگے نہ بڑھے۔''(٣)
٧۔ فقط اسی کتاب میں یہ خبر ملتی ہے کہ امام زین العا بدین علیہ السلام نے نقل فرما یا کہ امام حسین علیہ السلا م شب عاشور کر بلا میں وارد ہو ئے۔(٤)
____________________
١۔ص ٣٠
٢۔ص٣٩
٣۔ ص ٤٨
٤۔ص٤٩
٨۔اسی کتاب میں لشکر پسر سعد کی تعداد ٨٠ ہزار بتائی گئی ہے۔(١)
٩۔ تنہا اسی کتاب نے فوج کی آمد پر زہیر بن قین کا خطبہ نقل کیا ہے کہ زہیر بن قین اپنے ساتھیوں کے پاس آئے اور کہا : ''اے گروہ مہاجرو انصار !اس ملعون کتے اور اس جیسے افراد کے کلام تم کو دھو کہ میں نہ ڈالنے پائیں کیو نکہ انھیں محمد صلی اللہ علیہ ولہ وسلم کی شفاعت ملنے والی نہیں ہے، اس لئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذریت کو قتل کر رہے ہیں اور جو ان کی مددکر رہا ہے اسے بھی قتل کرنے پر آمادہ ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔(٢)
١٠۔ تنہا اسی کتاب میں ہے کہ امام حسین علیہ االسلام نے کنواں کھودا لیکن اس میں پانی نہیں ملا ۔(٣)
١١۔تنہا اسی کتا ب نے شب عا شور اور روز عاشور کے واقعہ کو تین بار بغیر ترتیب کے درہم برہم نقل کیا ہے :
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کے خطبہ کی خبر نقل کی ہے اور اسکے بعد علمدار کر بلا کی شہادت کی خبر بیان کی ہے۔ تنہا اسی کتاب نے لکھا ہے کہ جب آخری وقت میں حضرت عباس کے ہاتھ کٹ گئے تو انھوں نے تلوار کو منہ سے پکڑ لیا ، اسکے بعد لکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام خون سے غلطاں لاش پر پہنچے اور ان کی لاش کو گھوڑے کی پشت پر رکھ کرخیمے تک لائے، پھر امام حسین علیہ السلام نے شدید گر یہ کیا اور آپ کے ساتھ جتنے لوگ تھے وہ بھی رونے لگے۔(٤)
اس کے بعد آپ ملا حظہ کریں گے کہ یہ کتاب شب عاشور کے واقعہ کو نقل کر تی ہے جس میں امام حسین اپنے اصحاب کے پاس آئے اور ان سے کہا : ''اے میرے ساتھیوں ،یہ قوم میرے علاوہ کسی اور کو قتل کرنا نہیں چاہتی ہے پس جب شب کا سناٹا چھاجائے تو اس کی تاریکی میں تم سب یہاں سے چلے جاؤ ، پھر آگے بڑھ کر اس طرح رقمطرازہے: اور پھر امام علیہ السلام سو گئے اور جب صبح اٹھے ...۔''(٥)
____________________
١۔ص٥٢
٢۔ ص ٥٦
٣۔ص٥٧
٤۔ ص ٥٩
٥۔ ص ٥٩ ۔ ٦٠
پھر وہاں سے پلٹ کر صبح عاشور کی داستان چھیڑ تے ہیں اور امام حسین علیہ االسلام کے ایک دوسرے خطبہ کا ذکر کر تے ہیں ۔تنہا یہی کتا ب ہے جو بیان کر تی ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے پسر سعد کے پاس انس بن کا ہل کو سفیر بنا کر بھیجا۔ جبکہ اس نا مہ بر کا نام انس بن حر ث بن کا ہل اسدی ہے ۔
تیسری بار پھر شب عاشورہ کا تذکر ہ چھیڑ ا اور اس میں امام علیہ االسلام کے ایک دوسرے معروف خطبہ کاذکر کیا جس میں امام نے اپنے اصحاب واہل بیت کو مخا طب کیا ہے۔ اس کے بعد پھر امام حسین علیہ السلام اور پسر سعد کے لشکر کی حکمت عملی کو بیان کیا ہے۔''(١)
١٢۔ تنہا یہی کتاب ہے جس نے امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں ابر اہیم بن حسین کا ذکر کیا ہے۔(٢)
١٣۔ اس کتاب نے طر ماح بن عدی کو شہید کر بلا میں شمار کیا ہے جبکہ طبری نے کلبی کے واسطہ سے ابو مخنف سے نقل کیا ہے کہ طرما ح کر بلا میں موجود نہ تھے اور نہ ہی وہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ قتل ہوئے ہیں ۔(٣)
محدث قمی نے بھی اپنی کتاب نفس المہموم ص١٩٥ پر اس خبر کے نیچے تعلیقہ لگا یا ہے ۔
١٤۔ جناب حرریا حی کے قصے میں یہ شخص چند اشعار ذکر کر تا ہے جو عبید اللہ بن حر جعفی کے ہیں اور وہ قصر بنی مقاتل کا رہنے والا ہے۔(اس کی قسمت کی خرابی یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اسے بلا یا تو اس نے مثبت جواب نہیں دیا اور سعادت کی راہ کو خود پر بند کر لیا) لیکن کتاب کی جمع آوری کر نے والے نے ان اشعار کو حر ریاحی سے منسوب کر دیا اور اس پر توجہ بھی نہ کی، کہ یہ اشعارحرریاحی کے حال سے تنا سب نہیں رکھتے، کیو نکہ اس میں ایک شعر کا مصرع یہ ہے :''وقفت علی اجسادہم وقبورہم''(٤)
____________________
١۔ ص ٦١ ٦٢
٢۔ص ٧٠
٣۔ص ٧٢
٤۔ص٧٦ ،طبری نے ج ٥ ص ٤٧٠طبع دار المعارف پر اس شعر کو ابو مخنف سے نقل کیاہے اور انہو ں نے عبد الر حمن بن جندب سے نقل کیا ہے کہ عبید اللہ بن حر نے اس شعر کو مدا ئن میں کہا تھا : یقول امیر غادر وابن غادر۔ ألا کنت قاتلت الشہید ابن فاطمہ ؟ ذرا غور کیجئے کہ اس خیا نت کا ر مؤلف نے کلمات بدل دیے تا کہ یہ شعر حر ریا حی کے حال سے متنا سب ہو جا ئے لیکن پھر بھی متنا سب حال نہ ہو سکا۔ ہا ئے افسوس کہ یہ جمع آوری کر نے والا شخص کتنا نادان تھا ۔
١٥۔حر ریاحی کی شہادت پر اما م حسین علیہ السلام کی طرف چند رثائی اشعار منسوب کئے ہیں جبکہ یہ اشعار امام حسین علیہ السلام کی شان امامت سے منا سبت نہیں رکھتے ہیں
نعم الحر اذ واسی حسینا
لقد فازالذی نصرواحسینا!(١)
حر کیا اچھے تھے کہ انھوں نے حسین کی مدد کی حقیقت میں وہی کامیاب ہے جس نے حسین کی مدد کی!
١٦۔نیز اسی کتا ب میں چند اشعار کو امام حسین علیہ السلام کی طرف منسوب کیا گیاہے کہ آپ نے اصحاب کی شہادت پر یہ اشعار کہے جبکہ ان اشعار سے بالکل واضح ہے کہ یہ امام حسین علیہ السلام کے نہیں ہیں بلکہ متا خرین ہی میں سے کسی شاعرکے اشعار ہیں کیو نکہ شاعر اس میں کہتا ہے کہ ''نصرواالحسین فیا لھم من فتےة''اسی طرح کے اور دوسرے اشعاربھی ہیں ۔(٢)
١٧۔ اسی کتاب نے کر بلا میں امام حسین علیہ السلام کے ورود کا دن روز چہار شنبہ لکھا ہے(٣) اور شہادت کا دن روز دوشنبہ تحریر کیا ہے ۔(٤) اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام حسین علیہ السلام پانچ محرم کو کر بلا وارد ہو ئے ہیں جبکہ تمام مورخین ، منجملہ تا ریخ طبری کی روایت کے مطابق ابو مخنف کا نظریہ بھی یہی ہے کہ امام علیہ السلام٢ محرم کو وارد کر بلا ہو ئے اور وہ پنجشنبہ کا دن تھا۔(٥)
١٨۔ اس کتا ب کی تدوین کر نے والے نے روایت نمبر ١٠٥(٦) سے مسلسل ایک ہی راوی سے کثرت کے ساتھ روایت نقل کی ہے جس کے بارے میں اس شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا نام سہل شہر زوری ہے۔ اس شخص کو مؤ لف نے کو فہ سے شام اور وہاں سے مد ینہ تک اہل حرم کے ساتھ دکھا یا
____________________
١۔ص ٧٩
٢۔ص ٨٥
٣۔ص ٤٨
٤۔ ص ٩٣
٥۔ ج ٥، ص ٤٠٩ ،اس مطلب کی تا ئید وہ روایت بھی کر تی ہے جسے اربلی نے کشف الغمہ، ج٢،ص ٥٥٢پرامام جعفر صادق سے نقل کیا ہے کہ'' وقبض یو م عاشورء ، الجمعہ ''جس کانتیجہ یہ ہو گا عاشور جمعہ کو تھا ۔
٦۔ص١٠٢
ہے۔ کو فہ میں سلیمان بن قتّہ ہاشمی(١) کے ان اشعار کو جو اس نے امام حسین علیہ السلام کی قبر پر کہے تھے : '' مررت علیٰ ابیات آل محمدٍ ''(٢) مولف نے اسی شہر زوری کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ اسی طرح شام میں سہل بن سعد ساعدی کی خبر کو اسی سہل بن سعید شہر زوری کے نام سے منسوب کر دیا ،(٣) گویا مؤلف نے گمان کیا ہے کہ یہ شخص وہی سھل ساعدی ہے۔
١٩۔اس کتاب میں امام حسین علیہ السلام سے رزمیہ اشعار اور رجز کو منسوب کیا گیا ہے جو تقریباً تیس اشعار پر مشتمل ہیں ۔(٤) اسی طرح عبید اللہ بن زیاد کے نزدیک عبداللہ بن عفیف ازدی کے قصید ہ کو بیان کیا ہے جو تقر یباً ٣٠ اشعار پر مشتمل ہے۔(٥)
٢٠۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کتاب میں ایسے الفاظ کی بہتات ہے جسے بعد میں آ نے والوں نے عربی میں داخل کر دیا ہے جب کہ وہ کو چہ و بازارکے الفاظ ہیں اور ایسے جملے ابو مخنف کی زبان سے اداہی نہیں ہو سکتے ، مثلا جناب مسلم کے لئے گڑھا کھودنے کے سلسلے میں یہ جملے ہیں :''واقبل علیهم لعین! وقال لهم... ونطمّها با لد غل و التراب ...وننهز م قدامه '' وہ لعین ان لوگوں کے پاس آیا اور ان سے کہا :'' اور اسے خس و خاشاک اور مٹی سے بھر دو ...اور ہم آگے سے ان پر حملہ کریں گے۔'' (ص ٣٥) دوسری جگہ یہ جملہ ہے:''راحت انصاره ''اس کے ساتھی ان کے پاس گئے۔(ص ١٣٥) تیسری جگہ یہ جملہ ہے :'' ویقظا نہ'' ان کو بیدار کیا ۔
____________________
١۔ شیخ محمد سماوی نے اس پر تعلیقہ لگا یا ہے کہ وہ شخص خاندان بنی ہا شم کا چاہنے والا تھا ۔ اس کی والدہ کا نام قتہ اور باپ کا نام حبیب تھا۔اس نے ١٢٦ ہجری میں دمشق میں وفات پائی ۔مسعودی نے انساب قر یش جو زبیر بن بکار کی کتاب ہے ، سے استفادہ کیا ہے کہ اس کا نام ابن قتتہ تھا (ج٤،ص٧٤)
٢۔ص١٠٢، ١٠٣
٣۔ص ١٢٣
٤۔ ص ٨٦ ۔٨٧، ان میں سے ١٧ بیتی ں علی بن عیسیٰ اربلی متوفی ٦٩٣ نے اپنی کتاب کشف الغمہ ، ج٢، ص ٢٣٨،طبع تبریزپر احمدبن ا عثم کوفی متوفی ٣١٤ھ کی کتاب الفتوح کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ امام علیہ السلام کا شیر خوار جب شہید ہو گیا تو آپ نے اپنے ننھے بچے کی قبر کھو دتے وقت یہ اشعار پڑھے تھے۔ اسی طرح اسی کتاب نے اس مو قع پر امام کے اشعار کو ذکر کیا ہے کہ جب آپ نے دشمن کی فوج پر زبر دست حملہ کیا تھا اور وہ فوج بھاگ گئی در حالیکہ ان میں سے ١٥٠٠ افراد فی النار ہو گئے امام یہ اشعار پڑھتے ہو ئے خیمے کی طرف بڑھے ۔ اربلی نے ص ٢٥٠پر اس بات کی صراحت کی ہے کہ یہ ابیات جس کا پہلا جملہ ''غدرالقوم''ہے جو بہت مشہور ہے اسے ابو مخنف نے ذکر نہیں کیا ہے، واللہ اعلم ۔ خو ارزمی ،متوفی ٥٦٨ہجری نے ابن اعثم ہی کے حوالے سے ان میں سے ٣ اشعار ذکر کئے ہیں ۔ (ج٦،ص٣٣)
٥۔ص١٠٨۔١٠٩
(ص ١٢٩) چو تھی جگہ جملہ یہ ہے : ''ویتحر ش''وہ دھوکہ دے رہا تھا۔ (ص١٣٦)
ان تمام محذورات اورمشکلات کے باوجود میں تصور نہیں کرتا کہ کسی واقف کا ر انسان کے لئے اس کا احتمال بھی درست ہو کہ یہ کتاب ابو مخنف کی ہے بلکہ اس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ یہ کتا ب جعلی ہے ۔
اسناد ابی مخنف
اب ہم آپ کے لئے تفصیلی طور پر ان راویوں کے اسماء کی فہر ست پیش کر تے ہیں جو ابو مخنف اور اس جانسوز واقعہ کے درمیان واسطہ ہیں ۔ہم ہر راوی کے نام کے سامنے اس روایت کو بھی ذکر کر یں گے جو انھوں نے نقل کی ہے۔ اس صورت میں خود کتاب کی احادیث کی فہرست بھی سامنے آ جا ئے گی۔
راویوں کے اختلاف، روایت کے کوائف اور ابی مخنف نے جن لوگوں سے روایتیں نقل کی ہیں ان کے اختلاف کے اعتبار سے ان اسماء کی فہرست چھ٦گروہ پر تقسیم ہوتی ہے ۔
راویوں کے اسماء
١۔پہلا گرو ہ وہ ہے جو اس جانسوزواقعہ کا عینی شاہد ہے اور اس نے ابی مخنف سے بلا واسطہ بطورمستقیم ان واقعات کو بیان کیا ہے؛ اس طرح ابو مخنف نے فقط ایک واسطہ سے معرکۂ کربلا کو صفحہ قرطاس پر تحریر کیا ہے۔ یہ گروہ تین افراد پر مشتمل ہے ۔
٢۔دوسرا گروہ بھی وہی ہے جو اس واقعہ کا عینی گواہ ہے لیکن اس نے اس واقعہ کوابومخنف سے بلا واسطہ نقل نہیں کیا ہے بلکہ ابو مخنف نے ایک یا دو واسطوں سے ان لوگوں سے واقعات نقل کئے ہیں یعنی معرکۂ کربلا کو دو یاتین واسطوں سے نقل کیا ہے۔اس گروہ میں ١٥افرادہیں ۔اس طرح کربلا کے روح فرسا واقعات کے عینی شاہدین کی تعداد١٨ہوتی ہے ۔
٣۔تیسرا گروہ وہ ہے جو واقعہ کربلا سے قبل یا بعد کسی نہ کسی طرح اس واقعہ میں شریک تھا ۔ان لوگوں نے ابو مخنف سے ان واقعات کی حکایت بلا واسطہ کی ہے اور ابو مخنف نے ان لوگوں سے ایک واسطہ سے اس معرکہ کا نقشہ پیش کیا ہے۔ یہ گروہ پانچ افراد پر مشتمل ہے ۔
٤۔ چوتھے گروہ میں بھی وہی لوگ ہیں جو کسی نہ کسی طرح واقعہ کر بلا کے پہلے یا بعد اس جا نسوز واقعہ میں شریک تھے لیکن ابو مخنف نے ایک یا دو واسطہ سے ان لوگوں سے روایت نقل کی ہے اور وہ ١ ٢افراد ہیں ۔
٥۔ پانچواں گروہ وہ ہے جو نہ تو اس واقعہ کا عینی شاہد ہے اور نہ ہی اس واقعہ میں شریک ہے یہ افر اد ابو مخنف کی روایت اور ان راویوں کے در میان واسطہ ہیں ۔ اس بنا پر ابو مخنف نے معرکہ کربلا اور وہاں گزرنے والے واقعات کو ان لوگوں سے ایک یا چند واسطوں سے نقل کیا ہے اور وہ ٢٩ افراد ہیں ۔
٦۔چھٹاگروہ وہ ہے جو عادل اور نیک کردار ہے، جس میں ائمہ کے اصحاب یا خود ائمہ علیہم السلام موجود ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تو اس معرکہ کے عینی شاہد ہیں نہ ہی العیاذ باللہ اس واقعہ میں شامل تھے۔ اس طرح یہ افراد بھی وسائط ہی میں شمار ہوتے ہیں لیکن ان لوگوں نے واسطہ سے حدیثیں نہیں بیان فرمائی ہیں یا واسطہ کی صراحت نہیں کی ہے اور یہ ١٤افراد ہیں ۔
اس جدول سے یہ روشن ہوجا تا ہے کہ جن لوگوں نے بالواسطہ یا بلا واسطہ ابو مخنف سے حدیثیں نقل کی ہیں وہ کل انتالیس(٣٩) افراد ہیں جنھوں نے سند کے ساتھ٦٥ روایات نقل کی ہیں اور کتاب ابو مخنف کل انھیں روایتوں کا مجموعہ ہے جو فی الوقت ہماری دست رس میں نہیں ہے۔ ہم نے ان افراد کی شرح احوال یا تو کتب رجالی سے حاصل کی ہے یا تاریخ طبری میں ان کی روایت کے سلسلے میں تحقیق کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بعض لوگوں کاکوئی پتہ نہ چل سکا۔ اب ہم تفصیلی طور پرمذکورہ فہرست کو بیان کررہے ہیں ۔
پہلی فہرست
وہ لوگ جو واقعہ کربلاکے عینی شاہد ہیں اور انھوں نے ابو مخنف سے بلا واسطہ روایتیں نقل کی ہیں جن کی تعداد تین ٣افراد پر مشتمل ہے۔
١۔ ثابت بن ہبیرہ :
اس شخص نے عمرو بن قرظہ بن کعب انصار ی اور اس کے بھائی علی بن قرظہ کی شہادت کا تذکرہ کیا ہے۔پورے مقتل میں اس راوی سے فقط یہی ایک روایت نقل ہوئی ہے اور مجھے رجال کی کسی کتاب میں اس کا تذکرہ نہیں ملا۔، کتاب کی عبارت اس طرح ہے :'' قال ابومخنف عن ثابت بن هبیره : فقتل عمرو بن قرظه بن کعب...'' (١) ابومخنف ، ثابت بن ہبیرہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ عمر وبن قرظةبن کعب نے جام شہادت نوش فرمایااس عبارت سے ظا ہر ہوتا ہے کہ راوی کربلا میں تھا اور اس نے اس روایت کو بلا واسطہ نقل کیا ہے ۔
٢۔ یحٰی بن ہانی بن عروة المرادی المذحجی:
اس نے نافع بن ہلال جملی کی شہادت کا تذکرہ کیا ہے۔ متن روایت اس طرح ہے : ''حدثنی یحٰی ان نافع ...''(٢) مجھ سے یحٰی نے بیان کیا ہے کہ نافع ۔واضح ہے کہ راوی نے بلا واسطہ نقل کیاہے۔
یحٰی کی ماں کا نام روعہ بنت حجاج زبیدی ہے جو عمرو بن حجاج زبیدی کی بہن ہے یعنی مذکورہ شخص یحٰی کا ماموں ہے۔(٣) یہ ملعون اپنے ماموں عمر وبن حجاج کے ساتھ عمر بن سعد کے لشکر میں تھا اور اس نے نافع بن ہلال جملی کی شہادت کا تذکرہ کیا ہے۔اسی ملعون نے نقل کیا ہے کہ میں نے اپنے ماموں عمروبن حجاج زبیدی کو نافع بن ہلال کی شہادت کے بعد یہ کہتے سنا کہ وہ اپنے لشکر کو جنگ سے روک رہا تھا اور حکم دے رہا تھا کہ حسین اور اصحاب حسین(علیہم السلام) پر پتھر برسائیں ۔ اس کے بعد یحٰی نے اپنے ماموں سے اس واقعہ کے بارے میں کچھ نقل نہیں کیا ہے۔(٤) اسی یحٰی نے ابن زبیر کی طرف سے منسوب والیٔ کوفہ عبداللہ بن مطیع عدوی کے لئے اپنے ماموں کی اس گفتار کو بھی نقل کیا ہے کہ جوعبد اللہ بن مطیع کو مختار بن ابو عبید ثقفی کے خلاف جنگ کرنے پر بھڑ کا رہی تھی۔ خود یحٰی مختار کے خلاف جنگ میں اپنے ماموں کے ہمراہ شریک تھا۔(٥)
ا بن حباّن نے یحٰی کو ثقات میں شمار کیا ہے۔ دار قطنی نے کہاکہ اس کی باتوں کے ذریعہ استدلال کیا جاسکتا ہے۔نسائی کہتے ہیں :یہ ثقہ ہے اور ابو حاتم نے اضافہ کیا ہے کہ یہ بزرگان کوفہ میں شمار
____________________
١۔تاریخ طبری، ج٥،ص٤٣٤
٢۔ طبری ،ج٥ ،ص٤٣٥
٣۔ طبری ،ج٥، ص٣٦٣
٤۔ طبری ،ج٥ ،ص٤٣٥
٥۔طبری،ج٦ ،ص٢٨
ہوتا ہے۔ شعبہ نے کہا : ''کان سید اہل الکوفة''یہ اہل کوفہ کا سید و سردار ہے ، جیسا کہ تہذیب التہذیب میں بھی یہی مرقوم ہے۔
٣۔ زہیربن عبدالرحمن بن زہیر خثعمی :
اسی نے سوید بن عمروبن ابی مطاع خثعمی کی شہادت کاذکر کیا ہے متن روایت اس طرح ہے :''حدثنی ...قال ...کان ''اس نے مجھ سے بیان کیا ہے ...اسی نے کہا(١) اس شخص سے فقط یہی ایک روایت نقل ہوئی ہے اورکتب رجالی میں ہم کو کہیں بھی اس کا تذکرہ نہیں ملا ۔
دوسری فہرست
یہ گر وہ بھی کر بلا کے دلسوز واقعہ کا چشم دید گواہ ہے لیکن ابو مخنف نے ان لو گوں سے ایک یا دو واسطوں سے واقعات کر بلا کو نقل کیا ہے اور یہ ١٥ افراد ہیں ۔
١۔ عقبیٰ بن سمعان:(٢)
اس شخص نے امام حسین علیہ السلام کے کربلا پہنچنے کی روایت کو نقل کیا ہے نیز ابن زیاد کی طرف سے حر کو خط لکھنے کی خبر بھی اسی نے بیان کی ہے۔ (ج٥،ص٤٠٧)اس شخص سے ابو مخنف ایک واسطہ سے روایت نقل کر تے ہیں ۔
٢۔ ہانی بن ثبیت حضرمی سکونی :
اسی شخص نے کر بلا میں امام حسین علیہ السلام کے وارد ہو نے کے بعد دونوں لشکر کے درمیا ن امام حسین علیہ السلام اور پسر سعد کی ملا قات کو نقل کیا ہے۔اسی طر ح عاشورا سے قبل بھی ایک ملا قات کو نقل کیا ہے ۔ روایت کامتن اس طرح ہے :''حدّ ثنی ابو جناب عن ها نی وکا ن قد شهد قتل الحسین'' مجھ سے ابو جناب نے ہا نی کے حوالے سے نقل کیا ہے در حا لیکہ وہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا عینی شاہدہے۔ (ج٥ ، ص٤١٣) یہی شخص عبداللہ بن عمیر کلبی کی شہادت میں شریک ہے جو سپا ہ امام حسین علیہ السلام کے دوسرے شہید ہیں ۔ (ج٥، ص ٤٣٦) اسی
____________________
١۔ طبری، ج٥، ص٤٤٦
٢۔یہ شخص سکینہ بنت الحسین علیہ السلام کی ما ں جناب رباب بنت امر ء القیس کلبیہ کا خد مت گذار ہے عاشور کے دن اسے پکڑ کر عمر بن سعد کے پاس لایا گیا اور اس سے پو چھاگیا کہ تو کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا : ''انا عبد مملوک'' میں ایک مملوک (غلام) ہو ں ، تو پسر سعد نے اسے چھوڑ دیا ۔ طبری (ج٥ ، ص ٤٥٤)
ملعون نے امیر المو منین کے دو فر زند عبد اللہ اور جعفر کو شہید کیا۔ اسی طرح خا ندان امام حسین علیہ السلام کے ایک نوجوان کو قتل کیا ، نیز اسی گمراہ شخص نے امام حسین علیہ السلام کے فرزند عبداللہ کو شہید کر کے جناب رباب کی آغوش کو ویران کر دیا ۔ (ج٥، ص ٤٦٨)
٣۔حمید بن مسلم ازدی :
اس شخص سے مندرجہ ذیل خبریں نقل ہوئی ہیں :
(الف) ابن زیاد نے پسر سعد کو خط لکھا کہ حسین اور اصحاب حسین علیہم السلام پر فوراً پانی بند کر دیا جائے اورشب ٧ محرم کو حضر ت ابو الفضل العباس پانی کی غرض سے باہر نکلے۔(ج٥، ص ٤١٢)
(ب) شمر ملعون کو کر بلا بھیجا گیا۔ (ج٥،ص ٤١٤)
(ج) امام حسین علیہ السلام کی سپاہ پر یزید ی فوج نے حملہ کر دیا ۔(ج٥،ص٤٦٩)
(د)امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے قبل جب شمر نے مخدارت عصمت کے خیمہ پر حملہ کیا تو امام حسین علیہ السلام نے اسے للکا را اور فرمایا:'' شیعہ آل ابی سفیان''نیز نماز ظہر اور جناب حبیب بن مظاہر کی شہادت ۔(ج٥،ص٤٣٩)
(ھ) جناب علی اکبر کی شہادت پر امام حسین علیہ السلام کا بیان ، آپ کی شہادت پر حضرت زینب کبری کا خیمہ سے باہر نکل آنا، جناب قاسم بن حسن علیہ السلام کی شہادت اور امام حسین علیہ السلام کی آغوش میں آپ کے نو نہال عبداللہ کی شہادت ۔(ج٥، ص ٤٤٦۔ ٤٤٨)
(و) اپنے تمام اصحاب وانصار کی شہادت کے بعد سے لے کر اپنی شہادت تک سر کا ر سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی حالت ۔(ج٥، ص٥٥١۔ ٤٥٢)
(ز) امام کی شہادت کے بعد آپ کے فرزند امام زین العابدین علیہ السلام کے قتل پر لشکر میں اختلاف عقبیٰ بن سمعان کی گر فتاری اور رہائی کی خبر ، امام حسین علیہ السلام کے جسم مبارک پر گھوڑے دوڑانا اور حمیدبن مسلم کا خولی بن یزید اصبحی کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام کے سر کو ابن زیادکے پاس لے جا نا۔ (ج٥، ص ٤٥٥)
(ح)ابن زیاد کا خولی کو اپنے گھر کی طرف روانہ کرنا تاکہ وہ ابن زیاد کے اہل وعیال تک اس کی خیریت کی خبر پہنچا دے ، ابن زیاد کا دربارمیں چھڑی کے ذریعہ امام حسین علیہ السلام کے لبوں سے بے ادبی کر نا ، اس جانکاہ منظر کو دیکھ کر زید بن ارقم کا ابن زیاد کو حدیث نبوی کی طرف متوجہ کرانا، اس پر ابن زیاد کا زید کو جواب دینا ، پلٹ کر زید بن ارقم کا ابن زیاد کو جواب دینا، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا دربارابن زیاد میں وارد ہو نا ،نیز اس ملعون کا ستانے کی غرض سے حضرت سے ہم کلام ہو نا ،اس پر حضرت زینب کبریٰ کا ابن زیاد کو مسکت جواب دینا ،پر یشان ہو کر ابن زیاد کا دوبارہ چھڑی کے ذریعہ اما م حسین کے لبوں سے بے ادبی کر نا ، عمرو بن حریث اور ابن زیاد کا امام زین العابدین علیہ السلام سے ہم کلام ہو نا ، اس پرامام علیہ السلام کا اسے جواب دینا ، اس جواب سے غصہ میں آکرابن زیادکا امام علیہ السلام کو قتل کر دینے کا ارادہ کرنا، اس پر آپ کی پھو پھی زینب کا امام علیہ السلام سے لپٹ جانا اور آخرمیں ابن زیاد کا مسجد میں خطبہ دینا ،اس پر عبداللہ بن عفیف کا اعتراض اور ان کی شہادت کی روداد، یہ سب حمید بن مسلم نے نقل کیا ہے ۔
روایات کی سند
ان تمام روایات میں ابو مخنف کے لئے حمید بن مسلم سے روایت نقل کرنے کا واسطہ سلیمان بن ابی راشد ہیں ۔جستجو کر نے والے پر یہ بات روشن ہے کہ مختلف منا سبتوں کے اعتبارسے اس سند میں تقطیع (درمیان سے حذف کرنا) کی گئی ہے۔ان اخبار کو ملا حظہ کر نے کے بعد اندازہ ہو تا ہے کہ یہ پورا واقعہ شمرکے بھیجے جانے سے شروع ہو تاہے اور ابن زیاد کے درباراور عبداللہ بن عفیف کی شہاد ت پر تمام ہو تا ہے ۔
یہیں سے دقت کر نے پر یہ بات بھی واضح ہو جا تی ہے کہ حمید بن مسلم ، شمر بن ذ ی الجوشن کلا بی کے لشکر کے ہمراہ تھا ، خصوصاًیہ بات وہاں پر اور واضح ہو جاتی ہے جب یہ دیکھتے ہیں کہ حمید نے متعددمر تبہ شمر سے گفتگوکی ہے اور بہت سارے مواردمیں اسی نے شمر کی سرزنش کی ہے۔ اسی طرح حمید بن مسلم کا امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد خیموں میں موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شخص شمر کے لشکر میں تھاکیو نکہ امام کی شہا دت کے بعد اسی ملعون نے اپنے اوباش ساتھیوں کے ساتھ خیمے پر حملہ کیا تھا اور اس کے علاوہ کسی نے بھی یہ قبیح فعل انجام نہیں دیا ہے۔
اسکے بعد یہی حمید بن مسلم تو ابین کے انقلاب میں بھی ہمیں شر یک نظر آتا ہے ، (ج ٥، ص٥٥٥)نیز قید خانے میں حمید نے مختار سے بھی ملا قات کی ہے لیکن سلیما ن کو مختا ر سے برحذر کیا اور انھیں خبری دی کہ مختار لو گو ں کو تمہاری مدد کرنے سے روک رہے ہیں ۔یہ سنتے ہی حمید ، مختار سے منہ موڑ لیتا ہے(ج٥، ص٥٨١۔ ٨٥٤)اور تو ابین کے ساتھ شکست کھا کر لوٹ جا تاہے۔ (ج٥، ص٦٠٦) حمید بن مسلم ، ابرا ہیم بن مالک اشتر نخعی کا دوست تھا اور اس کا ابراہیم کے یہاں آنا جانا تھا لہٰذاتو ابین کے انقلاب کے بعد وہ ہرشب ابر اہیم کے ہمراہ مختار کے پاس جا یا کر تاتھا ، صبح تک تدبیر امور میں مشغول رہتااور صبح ہو تے ہی لوٹ آتا تھا۔ (ج٦،ص ١٨) حمید بن مسلم شب سہ شنبہ شب قیام مختار ابر اہیم کے ہمراہ ان کے گھر سے نکلا اور سو(١٠٠) برہنہ شمشیر سپا ہیوں کے ہمراہ جو اپنی قباؤں کے اندر زرہ پوش تھے (ج٦،ص١٩) مختار کے گھر پہنچا (ج٦،ص٣٦)لیکن جب اس کو معلوم ہو اکہ مختار کا مصمم ارادہ یہ ہے کہ قاتلین امام حسین علیہ السلام سے انتقام لیں گے تو اس نے عبدالرحمن بن مخنف ازدی (ابو مخنف کے چچا) کے ہمراہ مختار کے خلاف خروج کر دیا۔اس مڈبھیڑ میں جب عبدالرحمن زخمی ہو اتو حمید نے چند رثائی اشعار کہے (ج٦،ص٥١) اور جب عبدالرحمن بن مخنف نے کو فہ سے فرار کر کے بصرہ میں مصعب بن زبیرکے یہاں پناہ لی تو حمید بھی اس سے ملحق ہو گیا۔ (ج٦،ص٥٨) تاریخ طبری میں اس کا آخری تذکرہ اس طرح سے ملتا ہے (ج٦،ص٢١٣)کہ اس نے عبد الرحمن بن مخنف پر اس وقت مرثیہ سرائی کی جب '' کا زرون'' کے نزدیک خوارج کے ایک گروہ نے ٧٥ ہجری میں اسے اس وقت قتل کردیا جب وہ مھلب بن صفرہ کے ہمراہ حجاج بن یوسف ثقفی کی طرف سے گروہ خوارج کے ساتھ جنگ کر رہا تھا۔ذہبی نے میزان الاعتدل (ج١،ص ٦١٦)میں اور ابن قدامہ نے مغنی (ج١،ص١٩٥) میں اس مطلب کا ذکر کیا ہے ۔
٤۔ضحاک بن عبداللہ مشرقی ہمدانی:
شب عاشور اور روز عاشور کا واقعہ اسی شخص کی زبانی نقل ہوا ہے نیز لشکر کا مقابلہ اورروزعاشور امام علیہ السلام کا مفصل خطبہ بھی اسی راوی نے نقل کیا ہے (ج٥،ص٤١٨۔٤١٩، اور٤٢١،٤٢٣،٤٢٥،٤٤٤)
ابو مخنف نے ان واقعات کو ایک واسطہ سے ضحاک بن عبد اللہ سے نقل کیا ہے اور اس واسطہ کا نام عبد اللہ بن عاصم فائشی ہمدانی ہے ۔یہ بات پو شیدہ نہیں ہے کہ یہ شخص بھی ہمدانی ہے اور یہ وہی شخص ہے جس نے امام حسین علیہ السلام سے اس شرط پر ساتھ رہنے کا عہد کیا تھا کہ اگر آپ کے اصحا ب شہید ہو گئے تو میں نکل بھا گوں گا؛ امام علیہ السلام نے بھی اسے قبول کر لیا اور وہی ہوا کہ جب اصحاب وانصار شہید ہو گئے تو یہ شخص اپنی جان بچا کرعین معرکہ سے بھا گ گیا۔ (ج٥،ص ٤١٨، ٤٤٤) شیخ طوسی نے اپنی کتاب رجال میں اسے امام زین العابدین علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے! ۔
٥۔ امام زین العابدین :
امام علیہ السلام سے شب عاشورکا واقعہ دو واسطوں سے نقل کیا گیاہے ۔
(الف) حار ث بن حصیرہ نے عبداللہ بن شریک عامر ی سے اورعامری نے امام سجاد سے روایت نقل کی ہے۔ (ج٥،ص٤١٨)
(ب) حارث بن کعب والبی ازدی کو فی اور ابو ضحاک بصری دونوں نے امام علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے۔ (ج٥،ص٤٢٠)
٦۔ عمرو حضرمی :
یہ شخص عمر بن سعد کے لشکر کا کا تب تھا۔ (ج٥،ص٤٢٢) عمرو حضرمی دو و اسطوں سے حدیث بیان کر تا ہے۔ لیکن اہل رجال کے نزدیک یہ شخص غیر معروف ہے ۔
٧۔ غلام عبد الر حمن انصاری :
عبد الرحمن بن عبد ربّہ انصاری کے غلام سے شب عاشور بریر بن خضیر ہمدانی کے مزاح کا واقعہ منقول ہے۔ ابو مخنف نے یہ واقعہ دو واسطوں سے نقل کیا ہے اور وہ دونوں واسطے اس طرح ہیں : ''عمروبن مرّہ جملی نے ابی صالح حنفی سے نقل کیاہے'' دو سری خبر میں اس طر ح آیا: ''جب میں نے ان لو گو ں کو تیزی کے ساتھ آتے ہو ئے دیکھا تو پیچھے ہو گیا اور ان کو چھوڑ دیا''۔ (ج٥،ص٤٢١و٤٢٢)
٨۔ مسروق بن وائل حضرمی :
جنگ شروع ہوتے وقت ابن حوزہ کی روایت اسی شخص سے دو واسطوں (عطاء بن سائب اور عبد الجبار بن وائل حضرمی) کے ذریعہ نقل ہوئی ہے۔اس نے کہا :''کنت فی اوائل الخیل ممن سارالی الحسین ''میں اس لشکر میں آگے آگے تھا جو امام حسین کی طرف روانہ کیا گیا تھا میں اس آرزو میں تھا کہ حسین کا سر کا ٹ کر ابن زیاد کے پاس لیجاؤں تا کہ اس کے دربار میں مجھے کو ئی مقام حاصل ہو سکے۔''...فرجع مسروق وقال لقد رایت من اهل هذالبیت شیئاًلا اقاتلهم ابداً'' (ج٥، ص ٤٢١)
پھر مسروق وہاں سے پلٹ آیا اور اس نے کہا : میں نے اس خاندان میں ایسی چیزدیکھی ہے کہ میں کبھی بھی ان سے نہیں لڑوں گا ۔
٩۔ کیثر بن عبداللہ شعبی ہمدانی :
ابو مخنف نے زہیربن قین کا خطبہ علی بن حنظلہ بن اسعد شبامی کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ شبامی نے اس خطبہ کو اپنے ہی قبیلہ کے ایک شخص سے نقل کیا ہے جو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا شاہد تھا ،اس کانام کثیر بن عبداللہ شعبی ہے۔ (ج٥،ص ٤٢٦) طبری نے ہشام سے اوراس نے عوانہ سے نقل کیا ہے کہ وہ بڑا شجاع اور بے باک تھا کبھی بھی پیٹھ نہیں دکھا تاتھا۔ جب عمر بن سعد نے اپنے لشکر کے سپہ سالاروں سے چاہاکہ وہ امام حسین علیہ السلام کے پاس جائیں اوران سے سوال کریں کہ وہ کیوں آئے ہیں اور کیا چاہتے ہیں ؟ تو تمام لوگوں نے انکارکردیا اور امام حسین کے سامنے جانے میں جھجھک کا اظہار کیا ،کوئی بھی جانے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ اسی اثنا میں کثیر بن عبداللہ شعبی اٹھا اور بولا : میں حسین کی طرف جاؤں گا ، خدا کی قسم اگر آپ چاہیں تو غافل گیر کر کے میں ان کا خاتمہ بھی کر سکتا ہوں یہ شخص اسلحے سے لیس ہو کر وہاں پہنچا تو زہیر قین نے کہا : اپنی تلوار اپنے جسم سے جدا کر کے آئو ! اس ملعون نے کہا : ہر گز نہیں !خد ا کی قسم یہ میری کرامت کے منافی ہے۔ اس کے بعد دونوں میں نوک جھونک ہو نے لگی ...۔(ج٥ ،ص٤١٠)
یہی وہ شخص ہے جس نے مہاجر بن اوس کے ہمراہ زہیر بن قین بجلی پرحملہ کیا اور ان دونوں ملعونوں نے مل کر اس شجاع اور پاک طینت انسان کو شہید کر دیا(ج٥، ص ٤٤١)
١٠۔ زبیدی :
یہ شخص دوسرے حملہ کی خبر نقل کر تاہے۔(ج٥، س٤٣٥) یہ یمن کے قبیلہ زبید کا ایک فرد ہے جو اپنے قبیلہ کے سردار عمروبن حجاج زبیدی کی سپہ سالا ری کے واقعات کی روایت کر تا ہے۔
١١۔ ایو ب بن مشر ح خیوانی:
اس شخص نے مادروہب کلبی کی جانثاری ، فداکاری اور خلوص کا تذکرہ کیا ہے۔اس کے علاوہ جناب حر کے گھوڑے کو اسی نے پئے کیا تھا ۔ جب جناب حر کی شہادت کے بعد قبیلہ والوں نے اسے للکارا اور آپ کی شہادت کے سلسلے میں اسے متہم کیا تو اس نے کہا :''لا واللّه ما انا قتلته ولکن قتله غیری'' نہیں خدا کی قسم میں نے انہیں قتل نہیں کیاہے ، انہیں تو میرے علاوہ کسی دوسرے نے قتل کیا ہے''وما احبّانی قتلته'' : نہ فقط یہ کہ میں نے انہیں قتل نہیں کیابلکہ میں تواس بات کو پسند بھی نہیں کرتا تھاکہ میں ان کے قتل میں شرکت کرو ں ۔اس پر'' ابو ودّاک جبر بن نوف ہمدانی ''نے کہا :ولم لا ترضی بقتله ،تم ا ن کے قتل سے کیوں راضی نہیں تھے ؟ اس نے کہا :''زعموا انہ کان من الصا لحین'' لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ نیک سرشت ہیں ''فو اللّه لئن کان آثما... ''خدا کی قسم اگروہ گناہگار تھے اورخداوندعالم اگر مجھے جہنم میں ان کوزخمی کرنے کے گناہ میں ڈالنا چاہتاتو اس موقف کو پسند کرتا بجائے اس کے کہ مجھے ان میں سے کسی ایک کے قتل کردینے کے عذاب میں مبتلاکردے،ا س پر ابوودّاک نے کہا:''مااراک الا ستلقی اللّه بأثم قتلهم اجمعین...انتم شرکاء کلکم فی دمائهم ''میں تو اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں سمجھتا کہ عنقریب خدائے متعال تم کو ان سب کے قتل کے عذاب میں مبتلاکرے گا...تم سب کے سب ان کے خون میں شریک ہو۔ (ج٥،ص٤٣٧)
١٢۔ عفیف بن زہیر بن ا بی الاخنس :
یہ شخص بریر بن خضیر ہمدانی کی شہادت کو بیان کرتا ہے ، وہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا عینی گواہ ہے۔وہ اپنی اس روایت میں یہ کہتا ہے کہ واقعہ کربلا سے قبل بریر مسجد کوفہ میں ان ظالموں کو قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے ۔ (ج٥ ،ص ٤٣١)
١٣۔ ربیع بن تمیم ہمدانی :
اس شخص نے عابس بن شبیب شاکری کے مقتل کو بیان کیا ہے اور وہ کربلا کے جانسوز واقعے کا عینی شاہد ہے ۔(ج ٥، ص٤٤٤)
١٤۔ عبداللہ بن عمار با رقی :
اس نے دشمنوں پر حملہ کے وقت امام حسین علیہ السلام کی حالت کو بیان کیاہے اور یہ شخص بھی امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا عینی گواہ ہے۔ لوگوں نے جب اس بات پر اس کی ملامت کی کہ تو امام حسین کی شہادت کے وقت وہاں موجود تھا تو اس ملعون نے اپنی جنایت کاریوں کی توجیہ کرتے ہوئے کہا :''ان لی عند بنی ہاشم لَےَداً ''میں نے بنی ہاشم کی خدمت کی ہے اس سلسلے میں کسی حد تک ان پر حق رکھتا ہوں ۔لوگوں نے اس سے پوچھا : بنی ہاشم کے پاس تمہارا کونسا حق ہے ؟ تو اس ملعون نے کہا : میں نے نیزوں سے حسین پر حملہ کیا یہاں تک کہ بالکل ان کے نزدیک پہنچ گیا لیکن وہاں پہنچ کر میں اپنے ارادہ سے منصرف ہو گیااور تھوڑی دور پر جا کرکھڑا ہوگیا ۔(ج٥ ، ص٤٥١)
١٥۔ قرة بن قیس حنظلی تمیمی :
اس شخص نے شہداء کے سرکو تن سے جداکئے جانے اور اہل بیت اطہار کی اسیری کی غم انگیز اور جگر سوز داستان کو بیا ن کیا ہے ۔ (ج٥ ، ص ٤٥٥)یہ شخص اپنے قبیلہ کے سر دار حر بن یزید ریاحی تمیمی کے ہمراہ اس لشکرمیں تھا جو امام حسین علیہ السلام کاراستہ روکنے کے لئے آیا تھا ۔ (ج٥،ص٤٢٧) یہ وہی شخص ہے جسے پسر سعد نے امام حسین علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا تاکہ وہ آپ سے سوال کرے کہ آپ کس لئے آئے ہیں اور کیا چاہتے ہیں ؟ جب یہ شخص امام حسین علیہ السلام کے پاس آیا تو اس نے امام علیہ السلام کو سلام کیا ۔حبیب بن مظاہر اسدی نے اس کو امام حسین علیہ السلام کی نصرت و مددکی طرف دعوت دی لیکن اس نے انکار کردیا۔ (ج٥ ،ص ٤١١) یہی وہ شخص ہے جس نے روایت نقل کی ہے کہ جب حر نے امام حسین علیہ السلام کی طرف جانے کاارادہ کیا تو مجھ سے پوچھا : کیا تم اپنے گھوڑے کوپانی پلانا نہیں چاہتے ہو ؟ یہ کہہ کر حر اس سے دور ہوگئے اور امام حسین علیہ السلام سے ملحق ہوگئے ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اگر حر نے مجھے اپنے ارادے سے آگا ہ کردیا ہوتاتو میں بھی ان کے ہمراہ حسین سے ملحق ہوجاتا ۔(ج٥ ، ص٤٢٧)
جی ہاں یہی وہ ١٥افراد ہیں جو کربلا کے دلسوز اور غمناک واقعہ کے عینی شاہد ہیں اور ابومخنف نے ان لوگوں سے ایک یا دو واسطوں سے روایت نقل کی ہے ۔
تیسری فہرست
تیسری فہرست میں وہ لوگ ہیں جو ان واقعات کے شاہد ہیں اور وہاں حاضر تھے۔ ان لوگوں نے بغیر کسی واسطے کے خود ابو مخنف سے واقعات بیان کئے ہیں اور یہ چارافراد ہیں :
١۔ ابو جناب یحٰی بن ابی حیہّ الوداعی کلبی :
اس شخص نے ا بن زیاد سے جناب مسلم بن عقیل کے ساتھیوں کے مقابلہ کو نقل کیا ہے (ج٥ ص ٣٦٩ و ٣٧٠) نیز جناب مسلم اور ہانی بن عروہ کے سر کو یزید کی طرف بھیجے جانے اور خط لکھ کر اس خبر سے آگاہ کرنے کی روایت بھی اسی شخص سے ملتی ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابو جناب ان خبروں کو اپنے بھائی ہانی بن ابی حیہ وداعی کلبی کے حوالے سے نقل کرتا ہے ، کیونکہ ہانی بن ابی حیہ کے ہاتھوں ابن زیاد نے یزید کو خط روانہ کیا تھا۔
تاریخ طبری میں اس شخص سے ٢٣ روایتیں منقول ہیں ، جن میں سے ٩روایتیں جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان سے متعلق ہیں جو بالواسطہ ہیں اور ٩روایتیں کربلا سے متعلق ہیں جن میں سے پانچ بالواسطہ ہیں اور چار مرسل ہیں (یعنی درمیان سے راوی حذف ہے) ۔آخری روایت جو میرے ذہن میں ہے اورمرسل ہے وہ مصعب بن زبیر کا ابراہیم بن مالک اشتر کو خط لکھنے کا واقعہ ہے جس میں مصعب نے ابراہیم کو مختار کے بعد ٦٧ ہجری میں اپنی طرف بلایا تھا۔ (ج٦ص١١١) تہذیب التہذیب (ج١١،ص٢٠١)پر اس کی پوری بایو گرافی موجود ہے۔ اس میں راوی کے سلسلے میں یہ جملہ ملتا ہے : ''کوفی صدق مات ٤٧ھ ''یہ شخص کوفی تھا ،سچا تھا اور ١٤٧ ہجری میں اس کی وفات ہوئی۔
٢۔ جعفر بن حذیفہ طائی:
جناب مسلم نے اپنی شہادت سے پہلے امام حسین علیہ السلام کو اہل کوفہ کی بیعت کے سلسلے میں جو خط لکھا ہے اس کی روایت اسی شخص سے نقل ہوئی ہے، نیز محمد بن اشعث بن قیس کندی اور ایاس بن عثل طائی کے خط کاراوی بھی یہی شخص ہے جس میں ان لو گو ں نے امام حسین کو جناب مسلم کی گر فتاری اور ان کی شہادت کی خبر پہنچائی تھی۔ (ج ٥، ص٣٧٥)
ذہبی نے میزان الاعتدال میں اس کا تذکر ہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ شخص علی سے روایت نقل کرتا ہے اور اس سے ابومخنف نے روایت نقل کی ہے۔جنگ صفین میں یہ شخص علی علیہ السلام کے ہمراہ تھا ۔ ابن حبان نے اسے ثقات(معتبر وثقہ راویوں) میں شمار کیا ہے ، پھر کہا ہے کہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کون ہے ؟
طبری نے اس شخص سے ٥روایتیں نقل کی ہیں ،جن میں سے دو روایتیں جنگ صفین سے متعلق ہیں ،دوروایتیں خوارج کے ایک گروہ جس کا تعلق قبیلہ طئی سے تھا، کے سلسلے میں اورایک واقعہ کر بلا کے ذیل میں و ہی مسلم بن عقیل کی خبر ہے جو گزشتہ سطروں میں بیان ہوچکی ہے ۔
٣۔ دلہم بنت عمرو :
یہ خاتون، زہیربن قین کی زوجہ ہیں ۔ جناب زہیر بن قین کا امام حسین کے لشکر میں ملحق ہو نے کا واقعہ انھیں خاتون سے مروی ہے۔ روایت کا جملہ اس طرح ہے کہ ابو مخنف کہتے ہیں دلہم نے مجھ سے اس طرح روایت نقل کی ہے ۔(ج٥، ص٣٩٦)
٤۔ عقبہ بن ابی العیزار :
امام حسین علیہ السلام کی دواہم خطبے جسے آپ نے مقام '' بیضہ'' اور مقام ذی حسم میں پیش کیا تھا اسی شخص سے مروی ہیں ،نیز امام حسین علیہ السلام کے جواب میں زہیر بن قین کی گفتگو،امام حسین علیہ السلام کے اشعار اور طرماح بن عدی کے اشعار کی بھی اسی شخص سے روایت نقل ہوئی ہے ۔(ج٥ ، ص٤٠٣) ایسا لگتا ہے کہ یہ شخص حر کے لشکر میں تھالہٰذانجات پا گیا۔ اپنی رجالی کتا بوں میں ہمیں اس کا تذکرہ کہیں نہیں ملا۔ ہاں لسان المیزان میں اس کا ذکر موجود ہے۔لسان المیزان کے الفاظ اس طرح ہیں :'' یعتبر حدیثہ'' اس کی حدیث معتبر ہے، نیز وہیں اس بات کی بھی یاد آوری کی گئی ہے کہ ابن حبان نے اسے ثقات میں شمار کیا ہے ۔
یہی وہ چار افراد ہیں جو ظاہراً ان واقعات کے شاہد ہیں اورابو مخنف نے ان سے بلا واسطہ حدیثیں نقل کی ہیں ۔
چو تھی فہرست
یہ وہ لوگ ہیں جو اس جانسوزواقعہ میں موجود تھے یا اس دلسوزحادثہ کے معاصر تھے لہٰذا انہوں نے ان واقعات کو نقل کیا ہے ۔ ابومخنف نے ان لوگوں سے ایک یا دو واسطوں سے روایت نقل کی ہے۔ یہ ٢١افراد ہیں ۔
١۔ ابو سعید دینار:
اس شخص کو'' کیسان''یا '' عقیصامقبری ''بھی کہا جا تا ہے۔مدینہ سے نکلتے وقت امام حسین علیہ السلام کے اشعارکو اسی شخص نے ایک واسطہ سے عبدالملک بن نوفل بن مساحق بن مخرمہ سے نقل کئے ہیں ۔(ج٥، ص٣٤٢) ذہبی نے اس کا ذکر میزان الاعتدال میں کیا ہے۔ ذہبی کہتا ہے: وہ ابو ہریر ہ کے ہمنشین اور اس کے بیٹے کے دوست تھے۔ وہ ثقہ اور حجت ہیں ۔پیرانہ سالی کے باوجودذہن مختل نہیں ہوا تھا ۔آپ کی وفات ١٢٥ ہجری میں ہوئی ۔آپ کا شمار بنی تمیم کے طر فداروں میں ہوتا ہے۔ابن حبان نے بھی ان کو ثقات میں شمارکیا ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ مورداعتماد اور بھروسہ مند ہیں ۔ (لسا ن المیزان، ج٢،ص١٣٩)
تہذیب التہذیب میں لکھاہے کہ واقدی نے کہا : یہ ثقہ ہیں اور ان سے بہت زیادہ حدیثیں مروی ہیں ۔پہلی صدی ہجری میں آپ کی وفات ہوئی ۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ ولید بن عبدالملک کی خلا فت کے عہد میں وفات پائی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عمر نے انھیں قبر کھود نے کے کام پر مامور کیا تھا لہذا وہ قبروں کو کھود ا کر تے تھے اور مردوں کو قبروں میں اتار تے تھے لہٰذا ''المقبری'' کے نام سے مشہور ہو گئے ''۔ (تہذیب التہذیب، ج٨، ص ٤٥٣)شیخ طوسی نے اپنی کتاب ''الرجال''میں ان کا تذکرہ حضرت علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں ''دینار ''کے نام سے کیا ہے ان کی کنیت ابو سعید اور لقب عقیصاذکر کیا ہے۔ اس لقب کا سبب وہ شعر ہے جسے ''دینار ''نے کہا تھا۔(رجال شیخ طوسی ، ص٤٠ ،ط نجف) شیخ صدوق ابو سعید عقیصا کے حوالے سے اپنی ''امالی ''میں امام حسین علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ وہ اپنے والد سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کر تے ہیں کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فر مایا :''یاعلی!انت اخی و انا اخوک، اناالمصطفیٰ النبوة، وانت المجتبیٰ للامامة ، وانا صاحب التنزیل ، وانت صاحب التاویل ،واناوانت ابواهذه الامة،انت وصيّوخلیفتی ووزیری و وارثی وابو ولدوشیعتک شیعتی''اي علی!تم میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں ، خدا نے مجھ کو نبوت کے لئے منتخب کیا اور تم کو امامت کیلئے چن لیا،میں صاحب تنزیل (قرآن)ہوں تم صاحب تاویل ہو ،میں اور تم دونوں اس امت کے باپ ہیں ،تم میرے وصی،خلیفہ،وزیر،میرے وارث اورمیرے فرزندں کے باپ ہو،تمہارے شیعہ اورپیروکارمیرے شیعہ وپیرو کارہیں ۔
٢۔عقبہ بن سمعان :
مدینہ سے امام حسین علیہ السلام کے نکلنے کی خبر ، عبداللہ بن مطیع عدوی سے آپ کی ملاقات ، مکہ پہنچنے کی خبر، (ج٥،ص ٥٣١)مکہ سے نکلتے وقت ابن عباس اور ابن زبیر کی امام علیہ السلام سے گفتگو، (ج٥ ، ص٣٨٣) والی مکہ عمرو بن سعید بن عاص اشدق کے قاصد کاامام حسین تک پہنچنا اور حاکم مکہ کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کو مکہ واپس لوٹانے کی خبر، منزل تنعیم پر '' ورس الیمن ''کی خبر ، قصر بنی مقاتل سے گذرنے کے بعد حضرت علی اکبر علیہ السلام کی اپنے بابا سے گفتگو ، نینوا میں اس نورانی کارواں کا ورود ،ابن زیاد کے پیغامبر کا حر تک ابن زیاد کا خط لیکر پہنچنا امام علیہ السلام اور پسر سعد کا کربلا میں وارد ہونا (ج٥،ص٤٠٧ ۔٤٠٩) اور وہ شرطیں جو امام حسین نے پسر سعد کے سامنے پیش کی تھیں اسی شخص سے مروی ہیں ۔ (ج٥ ،ص٤١٣)یہ تمام روایتیں اس نے ایک واسطہ سے حارث بن کعب و البی ہمدانی سے نقل کی ہیں ۔ یہ اس بات کی تائید ہے کہ ابو مخنف نے مناسبتوں کے مطابق روایتوں کی اسناد میں تقطیع (درمیان سے راوی کو حذف کردینا) کی ہے۔ عقبہ بن سمعان کی سوانح زندگی گذشتہ صفحات پر گذرچکی ہے لہٰذ ا اسے وہاں دیکھا جا سکتا ہے ۔
٣۔محمد بن بشر ہمدانی :
معاویہ کی موت کے بعد کوفہ کے شیعوں کا سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر اجتماع ، سلیمان بن صرد کا خطبہ اور اجتماعی طور سے سب کاامام حسین علیہ السلام کو خط لکھنا ، مسلم بن عقیل کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام کا ان لوگوں کو جواب، (ج٥ ،ص٣۔ ٣٥٢)راستے ہی سے جناب مسلم کا امام حسین علیہ السلام کو خط لکھنا ، پھر امام علیہ السلام کا جواب دینا ، مسلم کا کوفہ پہنچنا اور کوفہ کے شیعوں کا جناب مختار کے گھر میں مسلم کے پاس آناجانا (ج٥ص٣٥٤۔ ٣٥٥) اورہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد ابن زیاد کا خطبہ،ان تمام روایتوں کو محمد بن بشیر ہمدانی نے ایک واسطہ سے حجاج بن علی بارقی ہمدانی کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
یہ شخص سلیمان بن صرد کے گھر میں شیعوں کے اس اجتماع میں حاضر تھا ،کیونکہ وہ کہتا ہے :''فذکرنا هلاک معاویه فحمد نا الله علیه فقال لنا سلیمان بن صرد ''تو ہم نے معایہ کی ہلاکت کا تذکرہ کیا او راس پر خدا کا شکر ادا کیا تو سلیما ن بن صرد نے ہم سے کہا ''ثم سرحنابالکتاب ...''پھر خط لے کر ہم لوگ نکلے ،''وامر نا هما با لنجاء ''اور ہم نے ان دونوں کو کاملاًرازداری کا حکم دیا،'' ...ثم سرحنا الیہ ..''.پھر ہم لوگ اس کی طرف گئے''ثم لبثنا یومین آخرین ثم سرحنا الیه ...''پھر ہم لوگ دو دنوں تک ٹھہرتے رہے پھر اس کی طرف گئے ''...وکتبنا معھما ..''اور ہم نے ان دونوں کے ساتھ لکھا۔ (ج٥، ص٣٥٤ ۔ ٣٥٥)یہ شخص مختار کے گھر میں مسلم کے سامنے اس شیعی اجتماع میں حاضر تھا لیکن جنگ و جدال سے بچے رہنے کی غرض سے مسلم کی بیعت نہ کی، کیونکہ راوی حجاج بن علی کا بیان ہے کہ میں نے محمد بن بشیر سے کہا :''فھل کان منک ان تقول''؟کیا تم اس مورد میں کوئی عہد پیمان کروگے تو محمد بن بشیر نے جواب دیا:''ان کنت لأ حب ان یعز اللّه أصحابی با لظفر'' اگرچہ میں چاہتاہوں کہ خدا ہمارے ساتھیوں کو فتح وظفر کی عزت سے سر فراز کرے ''وما کنت احب ان اقتل !وکر هت ان اکذب'' (ج٥، ص٣٥٥) لیکن میں قتل ہو نا نہیں چاہتااور میں جھوٹ بولنا بھی پسند نہیں کر تا ۔
لسان المیزان میں ابو حاتم کے حوالے سے اس کا ذکر ہے کہ ابو حاتم کہتے ہیں :''یہ شخص محمد بن سائب کلبی کو فی ہے۔اسے اس کے جد محمد بن سائب بن بشر کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔(١) شیخ طوسی نے اپنی کتاب رجال میں اس شخص کو امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے ۔(٢)
٤۔ ابو الودّاک جبربن نوف ہمدانی :
کوفہ میں نعمان بن بشیر انصاری (معاویہ اوریزید دونوں کی جانب سے کوفہ کاحاکم) کا خطبہ ، کو فیوں کا خط یزیدکے نام ،(ج٥، ص٣٥٥۔٣٥٦) کوفہ میں ابن زیاد کا خطبہ، (ج٥،ص٣٥٨۔ ٣٥٩)مسلم کا ہانی کے گھر منتقل ہو نا ، ابن زیاد کی طرف سے معقل شامی کا جاسوسی کے ذریعہ مسلم کا سراغ پانا ، ابن زیاد کا ہانی کی عیادت کو آنا اور عمارہ بن عبید سلولی کا اشارہ کرنا کہ ابن زیاد کو قتل کردیں ، لیکن ہانی کا اس مشورہ کو پسند نہ کرنا ، ہانی کے گھر ابن زیاد کا شریک بن اعور حارثی ہمدانی کی عیادت کو آنا اور شریک کا مسلم کو اشارہ کرنا کہ ابن زیادکو قتل کر دیں لیکن مسلم کا انکار کر نا،جس پر ہانی کا کبیدہ خاطر ہونا ، ابن زیاد کا ہانی کو طلب کر نا اور انہیں زدو کوب کرنااور قید کردینا ،اس پر عمروبن حجاج زبید ی کا قبیلہ کے جوانوں اور بہادروں کو لے کر دارالامارہ کے ارد گردہانی کی رہائی کے لئے ہجوم کرنا، اس پر دھوکہ اور فریب کے ساتھ قاضی شریح کا ہانی کے پاس جانااور واپس لوٹ کر جھوٹی خبر دینا کہ ہانی صحیح سالم ہیں ، اس پر قبیلہ والوں کاواپس پلٹ جا نا ،مندرجہ بالا تمام خبریں اسی ابو ودّاک سے مروی ہیں ۔اس نے ان تمام اخبار کو نمیر بن وعلہ ہمدانی کے حوالے سے نقل کیا ہے، فقط آخری خبر معلی بن کلیب سے نقل کی ہے ۔
____________________
١۔لسان المیزان ،ج٥، ص٩٤
٢۔ رجال الشیخ ،ص ١٣٦۔٢٨٩ ط نجف ،طبری نے ''ذیل المذیل'' ،ص٦٥١مطبوعہ دارسویدان پر طبقات بن سعدج ،٦ ،ص٣٥٨، کے حوالے سے ذکر کیا ہے منصورکی خلا فت کے زمانے میں ،١٤٦، ہجری میں شہر کو فہ اس کی وفات ہوئی ۔
ابو ودّاک کا پورا نام امیر المومنین کے اس خطبہ میں ملتا ہے جس کی روایت خود اس نے کی ہے کہ'' نخیلہ'' میں خوارج کی ہدایت سے مایوس ہونے کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے ایک خطبہ دیا۔ (ج٥،ص٧٨) ظاہراًامام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد یہ شخص کوفہ ہی میں تھا ۔ ایک دن اس نے ایوب بن مشرح خیوانی کی اس بات پر بڑی مذمت کی کہ اس نے حر کے گھوڑے کو کیوں پئے کیا ؛اس نے ایوب سے کہا : ''میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ خدا تم کو ان سب کے قتل کے عذاب میں واصل جہنم کرے گا،کیا تو نہیں جانتا ہے کہ اگر تو نے ان میں سے کسی پر تیر نہ چلایا ہوتا ، کسی کے گھوڑے کو پئے نہ کیا ہوتا ، کسی پرتیر بارانی نہ کی ہوتی، کسی کے روبرو نہ آیا ہوتا ، کسی پر ہجوم نہ کیا ہو تا ، کسی پر اپنے ساتھیوں کو بر انگیختہ نہ کیا ہوتا ، کسی پر اپنے ساتھیوں کی کثرت کے ساتھ حملہ آ ور نہ ہوا ہوتا ، جب تجھ پر حملہ ہواہوتا تو مقابلہ کرنے کے بجا ئے اگر تو عقب نشینی کرلیتا اور تیرے دوسرے ساتھی بھی ایسا ہی کرتے تو کیا حسین اور ان کے اصحاب شہید ہوجاتے ؟ تم سب کے سب ان پاک سرشت اور نیک طینت افراد کے خون میں شریک ہو۔ (ج٥،ص٣٥٧، ٣٥٨) ذہبی نے ان کا تذکرہ میزان الاعتدال میں کیا ہے۔،ذہبی کا بیان ہے: ''صاحب ابی سعید الغدری صدوق مشہور'' یہ ابو سعید غدری کے ساتھی اور صداقت میں مشہور تھے۔(١) تہذیب میں اس طرح ہے :''ابن حبان نے ان کا ذکر ثقات میں کیا ہے اور ابن معین نے کہا ہے کہ یہ ثقہ ہیں ۔نسائی نے کہا ہے کہ صالح ہیں اور اپنی کتاب سنن میں ان سے روایت نقل کی ہے۔''(٢)
٥۔ ابو عثمان نہدی :
اہل بصرہ کے نام امام حسین علیہ السلام کا خط اور ابن زیاد کا اپنے بھائی عثمان کو بصرہ کا والی بنا کر کوفہ کی طرف روانہ ہونے کی خبر اسی شخص نے ایک واسطہ صقعب بن زہیر کے حوالے سے نقل کی ہے۔ یہ شخص مختار کے ساتھیوں میں تھا؛ جب یہ ابن مطیع کی حکومت میں کوفہ وارد ہواتو اسے ناداروں کی دادرسی کے امور پر مقرر کیا گیا۔ (ج٥، ص٢٢و٢٩)
____________________
١۔میزان الاعتدال، ج٤، ص٥٨٤ ،ط حلبی ۔
٢۔تہذیب التہذیب، ج٢،ص٦٠وتنقیح المقال ،ج٣،ص٢٧
تہذیب التہذیب میں اس کا ذکرملتا ہے۔روایت میں ہے کہ وہ قبیلہ قضاعہ سے تھا۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا زمانہ درک کیا ہے لیکن آپ کے دیدار کا شرف اسے حاصل نہ ہوا ۔یہ شخص کوفہ کا باشندہ تھا ۔جب امام حسین علیہ السلام شہید ہوگئے تو اس نے بصرہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ یہ شخص اپنی قوم میں معروف آدمی تھا، ٦٠حج انجام دئے، اس کا شمارصائم النہار اورقائم اللیل میں ہوتا تھا(یعنی دن روزں میں گذرتا تھا اور شب عبادت میں ) اس پر لوگ بھروسہ کیا کرتے تھے، ایک سو تیس(١٣٠)سا ل کے سن میں ٩٥ھ میں وفات پائی ۔(١)
٦۔ عبداللہ بن خازم کثیری ازدی :
یہ شخص یوسف بن یزید کے حوالے سے حضرت مسلم بن عقیل کی جنگ کا تذکرہ کرتا ہے اور سلیمان بن ابی راشد کے واسطہ سے لوگوں کے مسلم کو دھوکہ دینے کے واقعہ کو نقل کرتا ہے۔ اس شخص نے پہلے مسلم بن عقیل علیہ السلام کی بیعت کی۔ جناب مسلم نے اسے ابن زیاد کے قصر کی طرف بھیجا تاکہ ہانی کا حال معلوم کرکے آئے ، پھر اس شخص نے جناب مسلم اورامام حسین علیہما السلام دونوں کو دھوکہ دیا ۔ (ج٥، ص٣٦٨۔٣٦٩)آخر کار اپنے کئے پر نادم ہوا اورتوابین کے ساتھ ہوگیا اور انھیں کے ہمراہ خروج کیا۔ (ج٥،ص٥٨٣) یہاں تک کہ قتل ہوگیا ۔(ج٥، ص٦٠١)
٧۔ عباس بن جعدہ جُدلی :
اس شخص کو عیاش بن جعدہ جُدلی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ جناب مسلم کا اموی حاکم کے خلاف قیام ، کوفیوں کی مسلم کے ساتھ دغااور ابن زیادکا موقف اسی شخص نے یونس بن ابی اسحاق سبیعہمدانی کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے حضرت مسلم کے ہاتھوں پر بیعت کی اور ان کے ہمراہ نبرد میں شریک رہا، پھر درمیان جنگ سے غائب ہوگیا اوردکھائی نہ دیا ، روایت کا جملہ اس طرح ہے۔'' خرجنا مع مسلم..''.ہم لوگ مسلم کے ہمراہ سپاہ سے نبرد آزمائی کے لئے نکل پڑے ۔
٨۔عبدالرحمن بن ابی عمیر ثقفی :
مختار کو ابن زیا د کے پرچم امان کے تلے آنے کی دعوت دینااسی شخص سے منقول ہے ۔
٩۔ زائد ہ بن قدامہ ثقفی :
جناب مسلم بن عقیل سے جنگ کے لئے محمد بن اشعث کا میدان نبرد
____________________
١۔تہذیب التہذیب، ج٦،ص٢٧٧
میں آنا ، آپ کا اسیر ہو نا، قصر کے دروازہ پر پہنچ کر پانی طلب کرنااورآپ کوپانی پلائے جانے کاواقعہ اسی شخص کے حوالے سے مرقوم ہے ۔(ج٥،ص٣٧٥)
'' طبری ''نے اس شخص کو'' قدامہ بن سعیدبن زائدہ بن قدامہ ثقفی'' کے نام سے یاد کیاہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زائدہ بن قدامہ ، قدامہ بن سعید کے دادا ہیں اور وہ کوفہ کی پر ماجراداستان میں موجود تھا اور اس کا پوتا'' قدامہ بن سعید ''وہ ہے جسے جناب شیخ طوسی نے اما م صادق علیہ السلام کے اصحاب میں ذکر کیا ہے۔ (طبری ،ص٢٧٥،ط نجف) لہٰذاہمارے نزدیک یہی صحیح ہے کہ'' قدامہ بن سعید، زائدہ بن قدامہ ثقفی'' سے روایت نقل کرتے ہیں ۔
٥٨ ہجری میں عام الجماعة(١) کے بعد معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے عبدالرحمن بن ام حکم ثقفی کے دور حکومت میں قدامہ بن سعیدکا دادا زائدہ بن قدامہ کو فہ کی پو لیس کا سربراہ تھا۔ (ج٥ ،ص٣١٠)جب ابن زیاد نے جناب مسلم علیہ السلام کے ارد گرد سے لوگوں کو جدا کرنے کے لئے پرچم امان بلند کیا تو'' عمر و بن حریث ''کے ہمراہ یہ شخص اس پرچم امن کا پرچمدار تھا۔ اسی شخص نے اپنے چچا زاد بھائی مختار کی سفار ش کی تھی، یہی وہ شخص ہے جو کوفہ میں ابن زیاد کے قید خانے سے مختار کا خط لیکر مختار کے بہنوئی عبداللہ بن عمر کے پاس لے گیا تھا۔ تاکہ وہ یزید کے پاس جا کرمختار کی رہائی کی سفارش کرے۔ صفیہ بنت ابی عبید ثقفی کے شوہر عبداللہ بن عمر ، مختار کے بہنوئی نے جاکر وہاں سفارش کی تو مختار کو ابن زیاد نے آزاد کردیا ، لیکن ابن زیاد نے اس فعل پر ''زائد بن قدامہ'' کا پیچھاکیا تو وہ بھاگ نکلا یہاں تک کہ ان کے لئے امن کی ضمانت حاصل کی گئی۔ (ج٥،ص٥٧١)جب عبداللہ بن زبیر کی طرف سے مقرر والی کوفہ عبداللہ بن مطیع کی بیعت ہونے لگی تو بیعت کرنے والوں کے ہمراہ'' زائد بن قدامہ ''نے بھی ابن مطیع کی بیعت کی ابن مطیع نے بیعت کے فوراً بعد ابن ''قدامہ'' کو مختار کی طرف روانہ کیا تاکہ مختار کو بیعت کی دعوت دیں ،لیکن ابن قدامہ نے جب مختار کو اس کی خبر دی تو مختار نے خوشی کا اظہار نہیں کیا۔ (ج٦،ص١١)
____________________
١۔ جماعت کا سال وہ سال ہے جس کا نام معاویہ نے جماعت کا سال رکھا تھا جسکے بعد اہلسنت خود کو اہلسنت والجماعت کہنے لگے ۔
کوفہ سے مختار کے قیام کا آغاز اسی شخص کے باغ سے ہواتھا جو محلہ'' سبخہ'' میں تھا۔ (ج٦ ،ص٢٢) ابن زبیر کے مقرر کردہ والیٔ کوفہ عمر بن عبدالرحمن مخزومی کو ہٹانے کے لئے مختار نے اسی شخص کو روانہ کیا تھا اور ابن قدامہ نے اسے دھمکی اورمال کی لالچ دیکرہٹادیا ۔(ج٦، ص٧٢) کچھ دنوں کے بعد یہ شخص عبدالملک بن مروان سے ملحق ہوگیااور اس کے ہمراہ مصعب بن زبیر سے جنگ شروع کی یہاں تک کہ ''دیر جاثلیق ''میں مختار کے خون کا انتقام لینے کے لئے اس نے مصعب کے خون سے اپنی شمشیر کو سیراب کر دیا ۔(ج٦،ص١٥٩)
بالآخر حجاج نے ابن قدامہ کوایک ہزار فوج کے ہمراہ مقام'' رودباد ''میں شبیب خارجی سے مقابلہ کرنے کے لئے روانہ کیا۔وہاں پر اس نے خوب جنگ کی یہاں تک کہ وہ ماراگیا؛ جبکہ اس کے ساتھی اس کے ارد گرد تھے۔، یہ واقعہ ٧٦ہجری کے آس پاس کا ہے۔ (ج٦ ،ص٢٤٦)اس سے یہ صاف واضح ہے کہ'' قدامہ بن سعید بن زائد ہ'' جن سے ابومخنف نے روایت نقل کی ہے کوفہ میں جناب مسلم کے قیام کے عینی شاہد نہیں ہیں ، پس صحیح یہی ہے کہ'' قدامہ بن سعید ''نے ''زائدہ بن قدامہ'' سے روایت نقل کی ہے کیونکہ زائدہ (جیسا کہ گذشتہ سطروں میں ملاحظہ کیا) عمروبن حریث کے ہمراہ تھا لہٰذا حضرت مسلم کی طرف ابن زیادکی جانب سے محمدبن اشعث کو بھیجے جانے کی خبر اسی شخص نے اپنے پوتے قدامہ بن سعید سے نقل کی ہے ۔
١٠۔عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط اموی:
مسلم بن عقیل کا پانی طلب کرنا اور اس پر انھیں پانی پلائے جانے کی خبر اسی شخص کے پوتے سعید بن مدرک بن عمارہ بن عقبہ نے اس سے نقل کی ہے اور ابو مخنف نے اس سے روایت کی ہے۔ تقریب التہذیب میں لکھا ہے : یہ شخص روایت میں مورد اعتماد ہے جس کی وفات ١١٦ ہجری میں واقع ہوئی ہے۔
١١۔عمر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام مخزومی :
صقعب بن زہیر کے حوالے سے اس شخص نے مکہ سے امام حسین علیہ السلام کے نکلتے وقت کی خبر کو ذکر کیا ہے۔(ج٥، ص ٣٨٢)مختار کے زمانے میں عبداللہ بن زبیر نے اس شخص کو کوفہ کا والی بنایا تو مختار نے مال کی لالچ اور ڈرا دھمکا کر اسے اس عہدہ سے ہٹادیا۔ (ج٦، ص٧١) تہذیب التہذیب میں اس کا تذکرہ موجود ہے ، صاحب کتاب کا بیان ہے کہ ابن حبان نے اسے ثقات میں شمار کیا ہے ، دوسرا بیان یہ ہے کہ صحابہ کی ایک جماعت سے یہ شخص روایت نقل کرتا ہے ۔
١٢۔ عبداللہ اور مذری :
عبداللہ بن مسلم اور مذری بن مشمعل یہ دونوں قبیلہ بنی اسد سے تعلق رکھتے ہیں ۔حجر اسود اور باب کعبہ کے پاس امام حسین علیہ السلام کا ابن زبیر سے روبرو ہونا ، فرزدق کی امام سے ملاقات اور'' ثعلبیہ'' کے مقام پر امام علیہ السلام کا جناب مسلم کی شہادت سے باخبر ہونا،انھیں دونوں افراد نے دو واسطوں :(١) ابی جنا ب یح ٰبن ابی حیةالوداعی کلبی سے اور اس نے عدی بن حرملہ اسدی سے نقل کیا ہے۔یہ دونوں افراد وہ ہیں جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کی فریاد سنی لیکن آپ کی مدد نہیں کی عبد اللہ بن مسلم اسدی ٧٧ ہجری تک زندہ رہا۔(٢)
١٣۔امام علی بن الحسین بن علی علیہماالسلام :
عبداللہ بن جعفر کا اپنے فرزند عون ومحمد کے ہمراہ خط ، عمرو بن سعید اشدق کا اپنے بھائی یحٰی کے ہمراہ خط اور امام علیہ السلام کا جواب چوتھے امام علیہ السلام سے ایک واسطہ سے مروی ہے اور وہ واسطہ حارث بن کعب والبی ہے ۔(٣)
١٤۔ بکر بن مصعب مزنی :
عبداللہ بن بقطر کی شہادت اور منزل'' زبالہ'' کا واقعہ ایک واسطہ سے اسی شخص سے مروی ہے اور وہ واسطہ ا بو علی انصاری ہے ۔(٤) قابل ذکر بات یہ ہے کہ علماء رجال کی نگاہوں میں ان دونوں کی کوئی شناخت نہیں ہے ۔
١٥۔ فزّاری :
سدّی کے واسطہ سے زہیر بن قین کے امام حسین علیہ السلام کے لشکر سے ملحق ہونے کی خبر اسی شخص سے مروی ہے۔ روایت کا جملہ اس طرح ہے :'' رجل من بنی فزار ''(٥) بنی فزارہ کے ایک شخص نے بیان کیا ہے ۔
١٦۔ طرماح بن عدی :
طرماح بن عدی کی روایت ایک واسطہ سے ''جمیل بن مرثد غنوی '' نے نقل کی ہے کہ طرماح نے امام حسین علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ۔ امام حسین ے انہیں اپنی مدد کے لئے بلایا تو انھوں نے اپنی تنگ دستی اور عیال کے رزق کی فراہمی کا عذر پیش کیا ۔ امام علیہ السلام
____________________
١۔تہذیب التہذیب، ج٧ ، ص٤٧٢ وخلاصہ تذہیب تہذیب الکمال ،ص٢٨٤
٢۔طبری ،ج٦ ، ص٩٥ ٢ --٣۔طبری، ج٥ ،ص٣٨٧،٣٨٨--٤۔ج٥، ص٣٩٨۔ ٣٩٩ --٥۔ج٥،ص٣٩٦
نے بھی ان کو نہیں روکا ؛اس طرح طرماح امام علیہ السلام کی نصرت کے شرف سے محروم رہ گئے۔شیخ طوسی نے آپ کا تذکرہ امیر امومنین اور امام حسین علیہما السلام کے اصحاب میں کیا ہے ۔
لیکن مامقانی نے آپ کی توثیق کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے :''انه ادرک نصرة الامام علیه السلام وجرح و برء ثم مات بعد ذالک'' (١)
''آپ امام علیہ السلام کی نصرت ومدد سے شرفیاب ہو ئے اور جنگ کے دوران زخمی ہو ئے لیکن بعد میں آپ کا زخم مندمل ہو گیا؛ پھر اس کے بعد آپ نے وفات پائی ہے '' لیکن ما مقانی نے اس سلسلے میں کو ئی ما خذذکر نہیں کیا ہے ۔
١٧۔ عامر بن شراحیل بن عبد الشعبی ہمدانی :
مجالد بن سعید کے حوالے سے انھوں نے قصر بنی مقاتل کی خبر کا تذکرہ کیا ہے ۔(٢) مذکورہ شخص نے ٢١ ہجری میں اس سرائے فانی میں آنکھ کھولی(٣) اس کی ماں ١٦ ہجری کے ''جلولائ''کے اسیروں میں شمار ہو تی ہے۔یہی دونوں باپ بیٹے ہیں جنہوں نے جناب مختار کو سب سے پہلے مثبت جواب دیا اور ان کی حقانیت کی گواہی دی۔(٤) ٦٧ ہجری میں یہ دو نوں باپ بیٹے جناب مختار کے ہمراہ مدائن کے شہر ''ساباط ''کی طرف نکل گئے۔(٥) مختار کے بعد عامر بن شراحیل ، اموی جلا د''حجاج بن یوسف ثقفی ''سے ملحق ہو کر اس کا ہمنشین ہو گیا(٦) لیکن ٨٢ ہجری میں ''عبد الرحمن بن اشعث بن قیس کندی ''کے ہمراہ حجاج کے خلاف قیام کر دیا(٧) اور جب عبد الرحمن نے شکست کھا ئی تو ''ری'' میں حجاج کے والی قتیبہ بن مسلم سے ملحق ہو گئے اور امن کی درخواست کی تو حجاج نے امان دیدیا۔(٨) اسی طر ح ز ندگی گذارتا رہا یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیزکے دور حکومت میں ٩٩ھ سے ١٠١ ھ تک یزید بن عبد الملک بن مروان کی طرف سے اسے کوفہ کے قاضیوں کا سربراہ قرار دیا گیا۔
____________________
١۔ تنقیح المقال ،ج٢، ص١٠٩ یہ بات پہلے گذرچکی ہے کہ یہ وہی معروف مقتل ہے جو ابو مخنف کی طرف منسوب ہے اور یہ وہی روایت ہے جس پر نفس المہموم کے صفحہ ١٩٥پر محدث قمی نے تعلیقہ لگا یا ہے ۔ ٢۔ طبری ج٥، ص٧
٣۔ج٤ص١٤٥ ---٤۔ج٦،ص٦۔٧
٥۔ج٦،ص٣٥
٦۔ج٦،ص٣٢٧
٧۔ج٦،ص٣٥٠
٨۔طبری، ج٦، س ٣٤٤
یہی وہ شخص ہے جس نے جناب مسلم اور امام حسین علیہماالسلام کی مدد سے سر پیچی کی اور امام علیہ السلام کا سا تھ نہیں دیا۔ ابو مخنف ان سے بطور مرسل حدیث نقل کر تے ہیں اور''الکنی والا لقاب'' کے مطابق ١٠٤ ھمیں نا گہاں اس کو موت آگئی۔(١)
تا ریخ طبری میں اس شخص سے ١١٤ روایتیں مو جود ہیں ۔ تہذیب التہذیب میں مذکورہ شخص کا تذکر ہ مو جود ہے؛ اس کتاب میں عجلی سے یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ شعبی نے ٤٨صحابہ سے حدیثیں سنی ہیں اور اس نے حضر ت علی علیہ السلام کے زمانے کو بھی درک کیا ہے۔ ایک نقل کے مطابق ١١٠ ھمیں وفات ہوئی ۔(٢)
١٨۔ حسان بن فائدبن
بکیرعبسی : نضر بن صالح بن حبیب بن زہیرعبسی کے حوالے سے اس شخص نے پسر سعد کے اس خط کا تذکرہ کیا ہے جو اس نے عبید اللہ بن زیاد کے پاس روانہ کیا تھا اور اس کے بعد ابن زیاد کے جواب کا بھی تذکرہ موجود ہے۔روایت کا جملہ یہ ہے :''اشهد ان کتاب عمربن سعد جاء الی عبیدالله بن زیاد وأ نا عنده فاذا فیه... ''(١) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ عمر بن سعد کا خط عبید اللہ بن زیاد کے پاس آیااور میں اس وقت وہاں موجود تھا ؛اس خط میں یہ لکھا تھا ...۔
اس شخص نے.عبد اللہ بن زبیر کی طرف سے مقرر کر دہ والیٔ کو فہ عبد اللہ بن مطیع عدوی کے لشکر کے سر براہ راشد بن ایاس کے ہمراہ جناب مختار اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جنگ میں شرکت کی تھی؛(٢) جب قصر کوفہ کا محاصرہ کیا گیا تو یہ شخص ابن معیط کے ہمراہ اس میں موجود تھا۔(٣) آخر کارر ٦٤ ھمیں ابن معیط کے ساتھیوں کے ہمراہ مقام'' مضر'' کو فہ کے کوڑے خانہ کے پاس قتل کر دیاگیا ۔
تہذیب التہذیب میں مذکو رہ شخص کا تذکرہ اس طرح ہے : ابن حبان نے ان کو ثقات میں شمار کیا ہے اور سورہ نساء کی آیہ ٥١ میں ''جبت'' کی تفسیر میں بخاری نے شعبہ سے، اس نے ابو اسحاق سبیعی سے،
____________________
١۔الکنی والا لقاب ،ج٢،ص٣٢٨
٢۔ تہذیب التہذیب ،ج٥،ص ٦٥
٣۔ طبری، ج٥، ص٤١١
٤۔ طبری، ج٦، ص٢٦،
٥۔ ج٦، ص٣١
اس نے حسان سے اور اس نے عمر بن خطاب سے روایت کی ہے کہ ''جبت'' یعنی سحر اور یہ بھی کہا ہے کہ اس شخص کا شمار کوفیوں میں ہوتا ہے۔(١)
١٩۔ ابوعمار ہ عبسی :
ابوجعفر عبسی کے حوالہ سے اس شخص نے یحےٰی بن حکم کی گفتگو اور دربار یزید کا تذکرہ کیا ہے۔(٢)
٢٠۔قاسم بن بخیت :
شہداء کے سروں کا دمشق لا یاجانا،مروان کے بھائی یحیٰی بن حکم بن عاص کی گفتگو ،زوجہ یزید ہندکی گفتگو اور یزید کا چھڑی سے امام حسین علیہ السلام کے لبوں کے ساتھ بے ادبی کر نے کا تذکرہ اسی شخص نے ابوحمزئہ ثمالی سے اور انھوں نے عبداللہ ثمالی اور انھوں نے قاسم کے ذریعہ کیا ہے۔(٣)
٢١۔'' ابو الکنودعبدالرحمن بن عبید'' :
اس نے ام لقمان بنت عقیل بن ابی طالب کے اشعارکو سلیمان بن ابی راشد کے حوالے سے نقل کیا ہے۔(٤) '' زیاد بن ابیہ'' کی طرف سے یہ شخص کوفہ کا والی تھا۔(٥) یہ مختار کے ساتھیوں میں تھا اور اس نے دعویٰ کیا کہ اسی نے شمر کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ ابو مخنف کے حوالے سے تاریخ طبری میں اس سے ٩ روایتیں مذکور ہیں جیسا کہ'' اعلا م'' میں بھی ملتا ہے ۔
٢٢۔ فاطمہ بنت علی :
طبری کے بیان مطابق یہ خاتو ن جناب امیر کی دختر ہیں ۔ابو مخنف نے حارث بن کعب والبی کے حوالہ سے دربار یزید کا منظر انھیں خاتون سے نقل کیاہے۔الغرض ان لوگوں میں ٢١ افراد وہ ہیں جو یا تو ان مظالم میں شریک تھے یا اس دلسوز واقعہ کے معاصرتھے جنہوں نے روایتیں نقل کی ہیں اور ابو مخنف نے ان لوگوں سے ایک یا دو واسطوں سے روایتیں نقل کی ہیں ۔
____________________
١۔ تہذیب التہذیب، ج٢، ص٢٥١
٢۔ طبری ،ج٥، ص٤٦٠۔ ٤٦١
٣۔ طبری ،ج٥ ، س٤٦٥
٤۔ ج٥، ص ٤٦٦
٥۔ج٥، ٢٤٦
پا نچویں فہرست
یہ وہ گروہ ہے جس سے ابو مخنف نے دویا چند واسطوں سے روایتیں نقل کی ہیں ۔ یہ گروہ ٢٩ افراد پر مشتمل ہے ۔
١۔ عبد الملک بن نوفل بن عبداللہ بن مخرمہ:
مدینہ سے نکلتے وقت امام حسین علیہ السلام کے اشعارکو انھوں نے ابو سعد سعیدبن ابی سعید مقبری کے حوالے سے نقل کیا ہے۔(١)
اسکے علاوہ اپنی موت کے وقت معاویہ کا لوگوں سے یزید کی بیعت لینا، معاویہ کے سپاہیوں کے سر برا ہ اور اس کے ا مورد فن کے ذمہ دارضحاک بن قیس فہری کی گفتگواور اپنے باپ معاویہ کی خبر مرگ سن کر یزید کے اشعاراسی شخص نے واسطوں کی تصریح کئے بغیر ذکر کئے ہیں ۔
ابو مخنف کے حوالے سے تاریخ طبری میں اس شخص سے ١٥روایتیں مذکور ہیں جنھیں خود ابو مخنف نے ایک شخص کے واسطے سے نقل کیا ہے ۔ان میں اکثر وبیشترروایتیں مکہ میں ابن زبیر اور مدنیہ میں عبد اللہ بن حنظلہ کے خروج سے متعلق ہیں ۔ ان میں سے ایک روایت وہ اپنے باپ نوفل سے نقل کر تا ہے(٢) تو دوسر ی روایت عبداللہ بن عروہ سے،(٣) اور تیسری روایت معاویہ کے ایک دوست حمید بن حمزہ سے منقول ہے۔(٤)
سات روایتیں بنی امیہ کے ایک چاہنے والے شخص بنام حبیب بن کرّہ سے منقول ہیں یہ مروان بن حکم کا پر چمدار بھی تھا(٥) اور آخری خبر سعید بن عمر وبن سعید بن عاص اشدق کے حوالے سے مروی ہے۔(٦) غالباً عبدالملک نے معاویہ کی وصیت اور اس کے دفن ہو نے کی روایت کو بنی امیہ کے کسی موالی سے نقل کیاہے؛ اگر چہ اس کے نام کی تصریح نہیں کی ہے۔عبد الملک کا باپ نوفل بن مساحق بن مطیع کی جانب سے دو یا پانچ ہزارکی فوج کا کما نڈر ا مقرر تھا ۔خود ابن مطیع کو ابن زبیر نے مقرر کیا تھا۔ ایک
____________________
١۔ طبری، ج٥، ص ٣٤٢
٢۔ج٥، ص ٤٧٤
٣۔ج٥،ص٤٧٨
٤۔ج٥،ص٤٧٨
٥۔ ج٥ ، ص ٤٨٢اور ٥٣٩
٦۔ج٥ ،ص ٥٧٧
بار میدان جنگ میں ابراہیم بن مالک اشتر نخعی نے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا اور گردن پر تلوار رکھ دی لیکن پھر چھوڑدیا ۔
عسقلانی نے تہذیب التہذیب(١) اور الکا شف(٢) میں مذکور ہ شخص کی روایتوں کو قابل اعتماد بتایا ہے ۔
٢۔ ابو سعید عقیصا :
مسجد الحرام میں احرام کی حالت میں امام حسین علیہ السلام کا عبداللہ بن زبیر سے روبرو ہونا اسی شخص نے اپنے بعض ساتھیوں کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔(٣) علامہ حلی اپنی کتاب ''خلا صہ '' کے باب اول میں ابو سعید کو امیر المو منین علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کرتے ہیں ۔(٤) ، ذہبی نے بھی'' میزان الاعتدال'' میں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے یو ں کہا ہے : ''یہ شخص علی علیہ السلام سے روایتیں نقل کرتا ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ ابن سعید نے کہا ہے کہ یہ ثقہ ہیں اور ان کانام دینار ہے ۔ یہ شیعہ ہیں اور انھوں نے١٢٥ ھمیں وفات پائی ہے۔(٥)
تہذیب التہذیب میں عسقلانی کہتے ہیں : ''واقدی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ ہیں ان سے بہت زیادہ حدیثیں مروی ہیں ۔ پہلی صدی ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔ ابن سعد نے کہا کہ انھوں نے ولیدبن عبدالملک کے زمانے میں وفات پائی۔بعضوں نے کہا ہے کہ عمر نے ابوسعید کو قبریں کھود نے پر مامور کیا تھا اور بعضوں کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ یہ پائیتی سے قبر میں اترتے تھے لہٰذا ان کو مقبری کہا جانے لگا۔(٦)
____________________
١۔ تہذیب التہذیب، ج٦، ص٤٢٨
٢۔الکا شف، ج٢ ،ص٢١٦
٣۔طبری ،ج٥، ص٣٨٥
٤۔ الخلا صہ، ص١٩٣
٥۔ میزان الا عتدال، ج٢،ص ١٣٩وج٣ ،ص٨٨ ؛ کا مل الزیارات کے ص ٢٣ پر ابن قولو یہ نے اپنی سند سے ابو سعید عقیصا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں : ''میں نے کافی دیر تک امام حسین علیہ السلام کو عبد اللہ بن زبیر کے ساتھ آہستہ آہستہ گفتگو کر تے ہوئے سنا۔راوی کہتا ہے : پھر امام علیہ السلام عبد اللہ بن زبیر سے اپنا رخ موڑ کر لوگو ں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا : یہ مجھ سے کہتا ہے کہ حرم کے کبوتر و ں کی طرح ہو جایئے جبکہ اگر مجھے حرم میں شرف کے ساتھ قتل کیا جائے تو مجھ کو اس سے زیادہ یہ پسند ہے کہ مجھ کو کسی ایسی جگہ دفن کیا جائے جہا ں فقط ایک بالشت زمین ہو۔اگر مجھ کو طف (کربلا) میں قتل کیا جائے تو حرم میں قتل ہونے سے زیادہ مجھ کو یہی پسند ہے کہ میں کر بلا میں قتل کیا جاؤ ں ''اس روایت سے یہ اندازہ ہو تا ہے کہ راوی نے خود امام علیہ السلام سے حدیث سنی ہے، نہ اس طرح جس طرح ابو مخنف نے سند ذکر کی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ''کامل '' اکمل ہے ۔
٦۔تہذیب التہذیب، ج٨،ص٤٥٣ولسان المیزان، ج٢، ص٤٢٢
٣۔ عبد الرحمن بن جندب ازدی :
مذکورہ شخص کی کچھ روایتیں عقبہ بن سمعان کے حوالے سے نقل ہوئی ہیں ۔تاریخ طبری میں اس شخص سے تقریباً ٣٠ روایتیں کے مروی ہیں جن میں جنگ جمل ، صفین، نہروان اور کر بلا کا واقعہ ایک واسطہ عقبہ بن سمعان سے منقول ہے۔وہ حجاج کے زمانے کا واقعہ کسی واسطے کے بغیر نقل کر تا ہے کیو نکہ ابن جندب نے ٧٦ھ میں زائدہ بن قدامہ کی سر براہی میں حجاج کی فوج کے ہمراہ رودبار میں شبیب خارجی کے خلاف جنگ میں شرکت کی(١) اوراس میں اسیر کر لیا گیا۔ خوف کے عالم میں اس نے شبیب کے ہاتھوں پر بیعت کرلی(٢) پھر کسی طرح کوفہ پہنچ گیا۔یہ وہ موقع تھا جب حجاج دوسری مرتبہ شبیب پرحملہ کرنے کے لئے تقریر کررہاتھا اوریہ ٧٧ھ کا زمانہ تھا۔(٣) استرآبادی کی ''رجال الوسیط'' کے حوالے سے مقدس اردبیلی نے ابن جندب کو اصحاب امیر المومنین علیہ السلام میں شمار کیا ہے(٤) اور'' لسان المیزان'' میں عسقلانی نے بھی ان کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں کہا ہے :''یہ کمیل بن زیاد اور ابو حمزہ ثمالی سے روایتیں نقل کرتے ہیں ۔''(٥)
٤۔حجاج بن علی بارقی ہمدانی :
مذکورہ شخص کی تمام روایتیں محمد بن بشر ہمدانی کے واسطے سے نقل ہوئی ہیں لہٰذا محمد بن بشر کی طرف مراجعہ کیا جائے۔ تاریخ طبری میں بارقی سے ابن بشر کے علاوہ کسی دوسرے سے کوئی روایت نقل نہیں ہوئی ہے'' لسان المیزان'' میں ان کاتذکرہ یوں ملتا ہے : ''شیخ روی عنہ ابو مخنف''یہ ایسے بزرگ ہیں کہ ابو مخنف ان سے روایتیں نقل کر تے ہیں ۔(٦)
٥۔ نمیر بن وعلة الہمدانی ینا عی :
مذکور ہ شخص اپنی روایتیں ابو ودّاک جبربن نو فل ہمدانی ، ایوب بن مشرح خیوانی اور ربیع بن تمیم کے حوالے سے نقل کر تا ہے ۔ تاریخ طبری میں اس شخص سے ١٠ روایتیں موجود ہیں ۔ آخری روایت شعبی سے ٠ ٨ ھ میں حجاج بن یوسف ثقفی کے دربار کے بارے میں ہے۔(٧) لسان المیزان میں یناعی کا تذکرہ یوں ملتا ہے
____________________
١۔طبری ،ج٦،ص٢٤٤ ---٢۔طبری، ج٦،ص٢٤٢ ---٣۔طبری ،ج٦،ص٢٦٢
٤۔جامع الرواة،ج١، ص٤٤٧ ---٥۔لسان المیزان، ج٣ ،ص٤٠٨،ط حیدر آباد
٦۔ لسان المیزان، ج٢، ص ١٧٨ ---٧۔ طبری، ج٦، ص ٣٢٨
اور یہ شعبی سے روایت کر تے ہیں اور ان سے ابو مخنف روایت کر تے ہیں ۔''(١) مغنی میں بھی یہی مطلب موجود ہے۔(٢)
٦۔ صقعب بن زہیرازدی :
مذکورہ شخص اپنی روایتیں ابو عثمان نہدی ،عون بن ابی جحیفہ سوائی اور عبدالر حمن بن شریح معافری اسکندری کے حوالے سے نقل کرتا ہے۔ تہذیب التہذیب کی جلد٦ ،ص ١٩٣ پر مرقوم ہے کہ ١٦٧ ہجری میں اسکندرہی میں ''صقعب ''نے وفات پائی وہ عمر بن عبدالر حمن بن حا رث بن ہشام مخزومی اور حمید بن مسلم کی روایتوں کو بھی نقل کرتا ہے ۔
تاریح طبری میں ابن زہیر سے ٢٠ خبریں منقول ہیں اور تمام خبریں اس طرح ہیں ''عن ابی مخنف عنہ'' ابو مخنف ان (صقعب) سے روایت نقل کرتے ہیں ۔ ان روایتوں میں ٣روایتیں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے متعلق ہیں ۔ چونکہ یہ جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے لہٰذا جناب عمار بن یاسرکی شہادت کا بھی تذکرہ کیا ہے(٣) اسی طرح حجر بن عدی کی شہادت کے واقعہ کا بھی تذکرہ کیا ہے۔(٤) کر بلاکے سلسلے میں نو روایتیں نقل کی ہیں اور تین روایتیں مختار کے قیام کے سلسلے میں ہیں ۔ تہذیب التہذیب میں عسقلانی کا بیان اس طرح ہے: ابن حبان نے ان کو ثقات میں شمار کیا ہے۔ ابوزرعہ کا بیان ہے کہ روایت کے سلسلے میں یہ مورد اعتماد ہیں ؛ ابو حاتم کا بیا ن ہے کہ یہ مشہور نہیں ہیں ۔(٥) ''خلا صة تہذیب ا لتہذیب الکمال '' کے حاشیہ پر ہے کہ ابو زرعہ نے ان کی توثیق کی ہے۔(٦)
٧۔ معلی بن کلیب ہمدانی :
کر بلا کا دلسوز واقعہ انھوں نے ابو وداک جبر بن نو فل کے واسطہ سے نقل کیا ہے لہٰذا ابو وداک کی روایتوں کو دیکھا جائے ۔
٨۔ یوسف بن یزید بن بکر ازدی :
مذکورہ شخص عبداللہ بن حازم ازدی اور عفیف بن زہیر بن ابی اخنس سے روایتیں نقل کر تا ہے۔ تار یخ طبری میں ان کاپورانام مذکورہے(٧) اور ان سے ١٥روایتیں نقل
____________________
١۔ لسان المیزان، ج٦، ص١٧١،ط حیدرآباد ---٢۔ج٢، ص٧٠١، طبع دارالدعوہ
٣۔ج٥، ص ٣٨ ---٤۔ ج٥ ، ص٢٥٣ ---٥۔تہذیب التہذیب ج٤، ص ٤٣٢، ---٦۔ الخلا صہ ،ص ١٧٦، ط دارالد عوہ
٧۔طبری ،ج٦، ص ٢٨٤
ہوئی ہیں ٧٧ھ کے بعد تک انھوں نے زندگی گزاری ہے۔ ذہبی نے'' میزان الاعتدال'' میں ان کا اس طرح ذکر کیا ہے : آپ بڑے سچے شریف اور بصرہ کے رہنے والے تھے، آپ سے ایک جماعت نے روایتیں نقل کی ہیں اور بہت سارے لوگوں نے ان کی تعریف کی ہے ۔وہ اپنی حدیثیں خودلکھا کر تے تھے۔(١) تہذیب التہذیب میں عسقلا نی نے ان کا اس طرح تذکرہ کیا ہے : ابن حبان نے انھیں ثقات میں شمار کیا ہے۔مقدسی نے کہا کہ یہ ثقہ ہیں ۔ابو حاتم کا بیا ن ہے کہ وہ اپنی حدیثیں خود لکھا کر تے تھے۔(٢) یہی تذکرہ خلاصة تذ ہیب تہذیب الکمال میں بھی ملتا ہے۔(٣)
٩۔یونس بن ابی اسحاق :
ابو اسحاق عمروبن عبداللہ سبیعی ہمدانی کوفی کے فرزندیونس، عباس بن جعدہ جدلی کے حوالے سے روایتیں نقل کرتے ہیں اورحضرت مسلم بن عقیل کے قیام کے سلسلے میں انھوں نے روایت کی ہے کہ آپ کے مقابلہ میں چار ہزار کا لشکر تھا ۔
علامہ سید شرف الدین موسوی اپنی گرانقدر کتاب ''المراجعات''میں فرماتے ہیں :'':یونس کے والد ابو اسحاق عمروبن عبدللہ بن سبیعی ہمدانی کوفی، کے شیعہ ہونے کی تصریح ابن قتیبہ نے اپنی کتاب ''المعارف ''اور شہرستانی نے اپنی کتاب ''الملل و النحل''میں کی ہے۔ آپ ان محدثین کے سربراہ تھے جن کے مذہب کو دشمنان اہل بیت کسی طرح لائق ستائش نہیں سمجھتے ،نہ ہی اصول میں اور نہ ہی فروع میں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اہل بیت اطہار علیہم السلام کے نقش قدم پرچلتے ہیں اوردین کے مسئلہ میں فقط اہل بیت اطہار کی پیروی کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جوزجانی (گرگانی) (جیسا کہ میزان الاعتدال میں زبیدی کے شرح حال میں ذکر ہواہے)(٤) نے کہا ہے کہ اہل کوفہ میں کچھ لوگوں کا تعلق ایسے گروہ سے تھا ۔جن کے مذہب ومرام کو لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے جبکہ یہ لوگ محدثین کوفہ کے بزرگوں میں سے تھے مثلاًابو اسحاق ، منصور ، زبید الیامی ، اعمش اوران جیسے دوسرے افراد، ان لوگوں کی روایتیں فقط ان کے سچے ہونے کی بنیاد پر قبول کی جاتی ہیں ؛ لیکن اگر ان کی طرف سے مرسلہ روایتیں نقل ہوں تو
____________________
١۔میزان الا عتدال، ج ٤، ص ٤٧٥
٢۔ تہذیب التہذیب، ج١١، ص ٤٢٩
٣۔الخلا صہ ،ص ٤٤٠
٤۔میزان الاعتدال، ج٢،ص٦٦،ط حلبی
چوں و چرا کیا جاتا ہے۔ نمونے کے طور پر ان میں سے ایک روایت جسے دشمنان اہل بیت ابو اسحاق کے مراسل(مرسلہ کی جمع وہ روایت جس میں درمیان سے راوی حذف ہو)میں شمار کرتے ہوئے انکار کرتے ہیں ابو اسحاق کی وہ روایت ہے جسے عمرو بن اسماعیل نے (جیسا کہ میزان الاعتدال میں عمرو بن اسماعیل کے شرح حال میں مذکور ہے)(١) ابو اسحاق سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا :''قال رسول اللّه صلی اللّه علیه و آله وسلم مثل علیٍّ کشجرةانااصلهاوعلی فرعها و الحسن والحسین ثمرها والشیعةورقها ''نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کی مثال اس درخت کی سی ہے کہ جس کی جڑ میں ہوں شاخ علی ہیں ،حسن و حسین اس کے پھل اور شیعہ اس کے پتے ہیں ۔
پھر علامہ شرف الدین اعلی اللہ مقامہ فرماتے ہیں کہ (جیسا کہ میزان الاعتدا ل میں ہے کہ) مغیرہ کا یہ بیان کہ اہل کوفہ کی حدیثوں کو ابو اسحاق اور اعمش جیسے لوگوں نے تباہ کیا ہے ،(٢) یایہ کہ اہل کوفہ کو ابو اسحاق اور اعمش جیسے لوگوں نے ہلاک کیا ہے(٣) فقط اس لئے ہے کہ یہ دونوں آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خالص پیرو تھے اور ان کی سنتوں میں جو چیزیں ان کی خصوصیات و صفات کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں ۔ اس کے محافظ و نگراں تھے ۔
پھر فرماتے ہیں : صحاح ستہ اور غیر صحاح (اہل سنت کی ٦کتابیں جنہیں وہ صحاح کے نام سے یاد کرتے ہیں ) کے مصنفین نے ان دونوں سے روایتوں کونقل کیا ہے۔(٤)
بہر حال ''الو فیات '' کے بیان کے مطابق عثمان کی خلافت ختم ہونے کے ٣سال قبل یعنی ٣٣ھ میں آپ کی ولادت ہوئی اور ابن معین و مدائنی کے بیان کے مطابق ١٣٢ھ میں آپ نے وفات پائی ۔
آپ کے فرزند یونس آپ ہی سے روایتیں نقل کرتے ہیں جنکی وفات ١٥٩ ھ میں ہوئی اور اس وقت آپ کی عمر ٩٠ سال کی تھی ۔ یہ وہی شخص ہیں جو ابو مخنف سے عباس بن جعدہ کے حوالے سے کوفہ میں جناب مسلم کے قیام کے واقعہ کو بیان کرتے ہیں ۔ تاریخ طبری میں اس خبر کے علاوہ یونس سے ایک اور خبر
____________________
١۔میزان الاعتدال، ج٣ ،ص٢٧٠
٢۔ میزان الاعتدال، ج٣ ،ص ٢٧٠
٣۔ میزان الاعتدال ، ج٢ ،ص ٢٢٤
٤۔ المراجعات، ص ١٠٠ ،ط دار الصادق
منقول ہے لیکن کسی کا حوالہ موجود نہیں ہے اور وہ خبر ابن زیاد کے سلسلے میں ہے کہ ابن زیاد نے ایک لشکر روانہ کیا تاکہ کوفہ پہنچنے سے پہلے امام حسین علیہ السلام کو گھیر لے ، اس کے علاوہ تاریخ طبری میں گیارہ دوسری روایتیں بھی ہیں جنہیں ابو مخنف نے یونس سے نقل کیاہے نیز ١٣روایتیں اور ہیں لیکن وہ ابو مخنف کے علاوہ کسی اور سے مروی ہیں ۔
تہذیب التہذیب میں عسقلانی کا بیان ہے کہ ابن حبان نے آپ کو ثقات میں شمار کیا ہے۔ ابن معین کا بیان ہے کہ آپ ثقہ ہیں ۔ ابو حاتم نے کہا کہ آپ بہت سچے تھے۔نسائی کا بیان ہے کہ ان کی روایتوں میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ ابن عدی کا بیان ہے کہ ان کی روایتیں بہت اچھی ہیں ۔ لوگ ان سے روایتیں نقل کرتے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ ١٥٩ھ میں ان کی وفات ہوئی ہے۔(١)
١٠۔ سلیمان بن راشدازدی :
مذکورہ شخص عبداللہ بن خازم بکری ازدی ، حمید بن مسلم ازدی اور ابو کنود عبد الرحمن بن عبید کی روایتوں کو نقل کرتا ہے۔ تاریخ طبری میں اس شخص سے ٢٠روایتیں نقل ہوئی ہیں جن میں اکثر و بیشتر بالواسطہ ہیں وہ ٨٥ ھتک زندہ رہے۔(٢)
١١۔ مجالد بن سعید ہمدانی :
یہ شخص عامر شعبی ہمدانی سے روایتیں نقل کرتا ہے۔ اس کی روایت قصر بنی مقاتل کے سلسلے میں ہے ۔(٣) مسلم بن عقیل کے ساتھ کوفیوں کی بے وفائی ، جناب مسلم علیہ السلام کی تنہائی اور غریب الوطنی ، آپ کا طوعہ کے گھر میں داخل ہونا ، ابن زیاد کا خطبہ ، بلال بن طوعہ کی خبر اور ابن زیاد کااشعث کے بیٹے کو جناب مسلم علیہ السلام سے لڑنے کے لئے بھیجنے کے سلسلے میں بھی'' مجالد ''کی روایتیں موجود ہیں لیکن وہ مرسل ہیں جن کو طبری نے کسی کی طرف مستند نہیں کیا ہے۔(٤)
تاریخ طبری میں مجالد سے ٧٠ خبریں نقل ہوئی ہیں جن میں سے اکثر و بیشتر شعبی کے حوالے سے ہیں ۔ ابو مخنف اسے محدث کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔(٥)
____________________
١۔تہذیب التہذیب ،ج١ ، ص ٤٣٣
٢۔ طبری ،ج٦ ، ص ٣٦٠
٣۔طبری ،ج٥ ص ٤٠٧
٤۔ ج٥، ص ٣٧١۔٣٧٣
٥۔ طبری، ج٥ ، ص٤١٣
ذہبی نے میزان الاعتدال میں ''مجالد'' کا تذکرہ اس طرح کیا ہے : یہ مشہور اور صاحب روایت ہیں اور ''اشبح ''نے ذکر کیا ہے کہ وہ خاندان رسالت کے پیرو تھے۔ مجالد کی وفات ١٤٣ھ میں ہوئی ۔اس کے بعد ذہبی، بخاری سے روایت کرتے ہیں کہ بخاری نے مجالد کے شرح حال میں ان سے روایت نقل کی ہے اور وہ شعبی سے اور وہ ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا : جب بنت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس دنیا میں قدم رکھ کر اس دنیا کو منور کیا تو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کا نام ''منصورہ '' رکھا۔ اسی وقت جبرائیل نازل ہوئے اور فرمایا : اے محمد !اللہ آپ پر تحفۂ درودسلام بھیجتا ہے اور آپ کے گھر پیدا ہونے والی بچی کے لئے بھی ہدیہ درود و سلام بھیجتا اورفرماتا ہے: '' مااحب مولود احب الی منھا '' ہمارے نزدیک اس مولود سے زیادہ کوئی دوسرا مولود محبوب نہیں ہے لہٰذا خداوند عالم نے اس نام سے بہتر نا م منتخب کیا ہے؛ جسے آپ نے اس بیٹی کے لئے منتخب کیا ہے ، خدا نے اس کا نا م'' فاطمہ'' رکھا ہے'' لانھا تفطم شیعتھا من النار''کیونکہ یہ اپنے شیعوں کو جہنم سے جداکرے گی ،لیکن یہ حدیث ذہبی کے حلق سے کیسے اتر سکتی ہے لہٰذا انہو ں نے فوراًاس حدیث کو جھٹلایا اور دلیل یہ پیش کی کہ بنت رسول کی ولادت تو بعثت سے قبل ہوئی ہے۔ (اگر چہ ذہبی کا یہ نظریہ غلط ہے لیکن دشمنی اہل بیت اطہار میں وہ بے بنیاد حدیث کو بھی صحیح ما ن لیتے ہیں اور فضائل کی متواتر حدیث کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ضعیف ثابت کر نے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ) اسی حدیث کی بنیا د پر ذہبی نے کہہ دیا کہ وہ توشیعہ تھے۔(١)
١٢۔ قدامہ بن سعید بن زائدہ بن قدامہ ثقفی :
قدامہ اپنے دادا زائدہ بن قدامہ سے روایتیں نقل کرتے ہیں ۔قدامہ کی روایت ہے کہ محمد بن اشعث مسلم بن عقیل علیہ السلام سے جنگ کے لئے نکلا ،پھر جناب مسلم قید کئے گئے ، آپ نے دار الامارہ کے دروازہ پر پانی طلب کیا اور آپ کو پانی پیش کیا گیا۔(٢) طبری نے ان کا ذکر کیا ہے لیکن ان کے باپ یا دادا سے استناد نہیں کیا اور ظاہراًیہ صحیح نہیں ہے کیونکہ قدامہ کوفہ میں ان واقعات کے رونما ہوتے وقت موجود ہی نہیں تھے وہ تو ان کے دادا ''زائدہ''تھے جو اس
____________________
١۔ میزان الاعتدال، ج ٣ ، ص ٤٣٨ ،ایک قول یہ ہے کہ ١٤٢ یا ١٤٤ ہجری ذی الحجہ کے مہینہ میں مجالد نے وفات پائی۔ ذہبی نے تہذیب التہذیب میں یہی لکھا ہے ۔
٢۔ طبری ،ج ٥ ، ص ٣٧٣ ۔ ٣٧٥
وقت وہاں موجود تھے اور عمر و بن حریث کے ہمراہ کوفہ کی جامع مسجد میں ابن زیاد کا پرچم امن لہرارہے تھے ، کیونکہ ابن زیاد نے یہ کہا تھا کہ مسلم سے جنگ کے لئے محمدبن اشعث کے ہمراہ بنی قیس کے ٧٠ جوان بھیجے جائیں(١) اور اس وقت زائدہ نے اپنے چچازاد بھائی مختار کے لئے سفارش کی تھی،(٢) لیکن قدامہ بن سعید کو شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں ذکر کیا ہے(٣) جس کی تفصیل پہلے گذرچکی ہے لہٰذا وہاں دیکھاجائے ۔
١٣۔ سعید بن مدرک بن عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط اموی :
یہ شخص اپنے دادا عمارہ بن عقبہ سے روایت نقل کر تا ہے کہ اس کے دادا نے اپنے غلام قیس کو اپنے گھر روانہ کیا تا کہ وہ پا نی لے کر آئے اور محل کے دروازہ پر کھڑ ے مسلم ابن عقیل کو ابن زیاد کے پاس لے جانے سے پہلے پا نی پلا دے۔(٤) کتا ب کی عبارت ہے : ''حد ثنی سعید ان عمارہ بن عقبہ '' '' سعید نے ہم سے حدیث نقل کی ہے کہ عمارہ بن عقبہ ...''اس عبارت سے یہی ظاہر ہو تا ہے کہ حدیث بغیر کسی سند کے بلا واسطہ نقل ہو رہی ہے لیکن یہ بہت بعید ہے۔ظاہر یہی ہے کہ سعید اپنے دادا عمارہ کے حوالے سے حدیثیں نقل کر تے ہیں ۔ہمارے نزدیک پا نی لا نے کے سلسلے میں قدامہ بن سعید ہی کی روایت تر جیح رکھتی ہے جس میں اس بات کی صراحت ہے کہ پا نی عمر وبن حریث لے کر آیا تھا، نہ کہ عمارہ یا اس کا غلام۔ اس حقیقت کا تذکر ہ اس کتاب میں صحیح موقع پر کیا گیا ہے۔
١٤۔ ابو جناب یحٰی بن ابی حیہ وداعی کلبی :
یہ شخص عدی بن حرملہ اسدی سے اور وہ عبد اللہ بن سلیم اسدی ومذری بن مشمعل اسدی سے اور وہ ہا نی بن ثبیت حضرمی سے روایتیں نقل کر تا ہے۔ یہ روایتیں کبھی کبھی مرسل بھی نقل ہو ئی ہیں جن میں کسی سند کا تذکرہ نہیں ہے۔ انھیں میں سے ایک روایت جناب مسلم کے ساتھیوں کا ابن زیاد سے روبروہو نا،(٥) ابن زیاد کاجناب مسلم اور جناب ہا نی کے سروں کو یزید کے پا س بھیجنا اور اس سلسلے میں یزید کو ایک خط لکھنا بھی ہے۔(٦)
____________________
١۔طبری ،ج ٥ ،ص ٣٧٣ --٢۔ طبری، ج ٥ ، ص ٥٧٠
٣۔ رجال شیخ ، ص ٢٧٥ ،ط نجف--٤۔ طبری، ج٥، ص ٣٧٦
٥۔ج٥ ،ص ٣٦٩۔ ٣٧٠ --٦۔ج٥ص٣٨٠
جیسا کہ یہ بات پہلے گذرچکی ہے کہ ظاہراً ان واقعات کو ابو جناب نے اپنے بھائی ہانی بن ابی حیہ و داعی کلبی کے حوالے سے نقل کیا ہے جس کو ابن زیاد نے جناب مسلم کے سراور اپنے نامے کے ساتھ یزید کے پاس بھیجا تھا۔(١) تا ریخ طبری میں ٢٣روایتیں با لو اسطہ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان کے سلسلے میں نقل ہوئی ہیں اور ٩روایتیں واقعۂ کر بلا کے سلسلے میں ہیں جن میں سے پا نچ بالواسطہ اور تین مر سل ہیں ، لیکن ظاہر یہ ہے کہ در حقیقت یہ تینو ں روایتیں بھی مستند ہیں ۔ان روایتوں سے یہ انداز ہ ہو تا ہے کہ وہ ان لو گوں میں سے نہ تھا جو دشمن کے لشکر میں تھے ،البتہ اس کا ان کے ہم عصروں میں شمار ہو تا ہے ۔
آخری مرسل روایت جو میری نظروں سے گذری ہے یہ ہے کہ جناب مختار کے قیام کے بعد ٦٧ ھمیں مصعب بن زبیر نے ابراہیم بن مالک اشتر کو خط لکھوا کر اپنی طرف بلا یا ۔(٢) عسقلانی تہذیب التہذیب میں کہتے ہیں : ابن حبان نے ان کو ثقات میں شمار کیا ہے۔اسی طرح ابن نمیر، ابن خراش، ابو زرعہ اور ساجی نے کہا کہ یہ کو فہ کے رہنے والے تھے اور بہت سچے تھے۔ ابو نعیم کا بیان ہے کہ ان کی روایتوں میں کو ئی مشکل نہیں ہے۔ ١٥٠ہجری میں ان کی وفات ہوئی ،اگرچہ ابن معین کا بیان ہے کہ ٧ ١٤ھ میں وفات پا ئی۔(٣)
١٥۔ حارث بن کعب بن فقیم والبی ازدی کوفی :
حارث بن کعب عقبہ بن سمعان ، امام زین العابدین علیہ السلام اور فاطمہ بنت علی کے حوالے سے روایتیں نقل کرتے ہیں ۔وہ شروع میں کیسا نیہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے(٤) (جو جناب مختار کو امام سمجھتے تھے) لیکن بعد میں امام زین العابدین علیہ السلام کی امامت کے قائل ہوگئے اور ان سے روایتیں بھی نقل کرنے لگے۔(٥) ایسا اندازہ ہو تا ہے کہ یہ کو فہ سے مدینہ منتقل ہو گئے تھے کیو نکہ انھوں نے امام زین العابدین اور فاطمہ بنت علی علیہما السلام سے خودحد یثیں سنی ہیں ۔(٦)
____________________
١۔ ج ٥ ،ص ٣٨٠
٢۔طبری، ج٦، ص ١١
٣۔ تہذیب التہذیب، ج١١،ص ٢٠١
٤۔طبری، ج٦، ص ٢٣
٥۔طبری ،ج٥،ص ٣٨٧
٦۔ ج٥، ص ٤٦١
شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے آپ کو امام زین العابدین علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے،لیکن نجف سے طبع ہو نے والی اس کتاب میں جو رجال شیخ کے نام سے معروف ہے شیخ نے کعب کی جگہ حر بن کعب ازدی کو فی کر دیا ہے۔ محقق کتاب نے حاشیہ میں ایک دوسرے نسخہ کی مدد سے حارث لکھا ہے اور یہی صحیح ہے ۔
١٦ ۔ اسما عیل بن عبد الرحمن بن ابی کریمہ سدّی کو فی :
زہیر بن قین کے واقعہ کو یہ فزاری کے حوالے سے نقل کر تے ہیں ۔
ذہبی نے'' میزان الا عتدال'' میں ان کا تذکرہ کر تے ہو ئے کہا ہے : ان پر تشیع کی نسبت دی گئی ہے اور وہ ابو بکر وعمر پر لعنت وملا مت کر تے تھے ا۔بن عدی نے کہا ہے کہ یہ میرے نزدیک بڑے سچے ہیں ۔ احمد نے کہا کہ یہ ثقہ ہیں ۔یحٰی نے کہا کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا مگر یہ کہ وہ سدّی کو اچھے نا م سے یاد کرتا ہے اور ان کو کسی نے ترک نہیں کیا ۔ ان سے شعبہ اور ثوری روایت کر تے ہیں ۔(١) تا ریخ طبری میں ان سے ٨٤ روایتیں نقل ہوئی ہیں جن میں دوسری صدی ہجری کے واقعات بیان ہوئے ہیں ۔
''تہذیب التہذیب اور ''الکاشف '' میں مذکور ہے کہ انھوں نے ٧ ١٢ھمیں وفات پائی، چونکہ یہ مسجد کو فہ کے درواز ہ پر با لکل وسط میں بیٹھا کر تے تھے لہٰذ ان کو'' سدّی'' کہا جا نے لگا ۔یہ قر یش کے موالی میں شمار ہو تے ہیں اور امام حسن علیہ السلا م سے روایتیں نقل کر تے ہیں ۔
١٧۔ ابو علی انصاری :
یہ بکر بن مصعب ْمزنی ّ سے روایت نقل کر تے ہیں ۔عبد اللہ بن بقطر کی شہادت کا تذکرہ انھیں کی روایت میں مو جو د ہے۔ تاریخ طبری میں اس روایت کے علاوہ ان کی کو ئی دوسری روایت موجود نہیں ہے۔ رجال کی کتا بوں میں ان کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے ۔
١٨۔ لو ذان :
یہ شخص اپنے چچا کے حوالے سے امام حسین علیہ السلام سے راستے میں اپنے چچا کی ملا قات کا تذکرہ کر تا ہے اورخود غیر معروف ہے ۔
١٩۔ جمیل بن مر ثدی غنوی :
یہ شخص طر ماح بن عدی طائی سے انھیں کی خبر کو نقل کر تا ہے ۔
____________________
١۔تہذیب التہذیب، ج١،ص ٢٣٦،ط جلی
٢٠ ۔ ابو زہیر نضربن صالح بن حبیب عبسی :
مذکو رہ شخص حسان بن فا ئد بن بکیر عبسی کے حوالے سے پسر سعد کے ابن زیاد کو خط لکھنے کی روایت اور ابن زیاد کے جواب دینے کا تذکرہ کر تا ہے۔اس کے علا وہ قرہ بن قیس تمیمی کے حوا لے سے جناب حر کا واقعہ بیان کر تا ہے ۔
تا ریخ طبری میں اس راوی سے ٣١ روایتیں منقول ہیں ۔ ابو زہیر نے جناب مختار کے زما نے کو بھی درک کیا ہے۔(١) اس کے بعد ٦٨ ہجری میں مصعب بن زبیر کے ہمراہ یہ قطریّ خارجی سے جنگ کے لئے میدان نبرد میں اتر آئے ،پھر ٧٧ ہجری میں مطرف بن مغیرہ بن شعبہ ثقفی خارجی کے مدائن میں نگہبان اور دربان ہوگئے۔ اس وقت ان کی جوانی کے ایام تھے لہٰذا ہر وقت مطرف کی نگہبانی کے لئے تلوار کھینچے کھڑے رہتے تھے ،نیز اسی سال انھوں نے مطرف کی فوج میں رہ کر حجاج کے لشکر سے جنگ کی،(٢) اس کے بعد کوفہ پلٹ گئے۔(٣)
امام رازی نے اپنی کتاب ''الجرح والتعدیل'' میں ان کا تذکرہ کرتے ہوے کہا ہے :''میں نے اپنے باپ سے سنا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ابو مخنف ان سے روایت نقل کرتے ہیں اوروہ بالواسطہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں ۔(٤)
٢١۔ حارث بن حصیرہ ازدی :
یہ شخص بعض روایتوں کو عبداللہ بن شریک عامری نہدی کے حوالے سے نقل کرتا ہے اور بعض روایتوں کو اس کے واسطے سے امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل کرتا ہے ۔
ذہبی نے'' میزان الاعتدال'' میں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے : ابو احمد زبیری کا بیا ن ہے کہ یہ رجعت پر ایمان رکھتے تھے اور یحٰی بن معین نے کہا ہے کہ یہ ثقہ ہیں ۔ان کو خشبی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اس خشب (لکڑی) کی طرف منسوب ہیں جس پر زید بن علی کو پھانسی دی گئی تھی ۔
ابن عدی کا بیان ہے کہ ان کا شمار کوفہ کے شدید شیعوں میں ہوتا ہے ۔ ابوحاتم رازی کہتے ہیں کہ ان کا شماربہت قدیم شیعوں میں ہوتا ہے لیکن اگر ثوری نے ان سے روایت نقل نہ کی ہوتی تو یہ متروک تھے۔(٥)
____________________
١۔ طبری ،ج ٦، ص ٨١ ---٢۔ ج٦ ، ص٢٩٨
٣۔ ج٦، ص٢٩٩ ---٤۔الجرح والتعدیل،ج٨، ص ٤٧٧ --٥۔میزان الاعتدال، ج ، ص٤٣٢،ط حلبی
ذہبی نے نفیع بن حارث نخعی ہمدانی کوفی اعمی (جو اندھے تھے) کے شرح حال میں حارث بن حصیرہ سے روایت نقل کرتے ہوئے کہا ہے : '' بہت سچے تھے لیکن رافضی تھے۔ اس کے بعد سند روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ حارث بن حصیرہ نے عمران بن حصین سے روایت نقل کی ہے کہ انھوں نے کہا :''کنت جالساعندالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وعلیُّ الی جنبہ '' میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے پاس بیٹھاتھا اور علی (علیہ السلام) ان کے پہلو میں بیٹھے تھے ،''اذقرأ النبی صلی الله علیه وآله'' ( امن یجیب المضطرّاذا دعاه و یکشف السوء و یجعلکم خلفاء الارض'' ) (١)
اسی درمیان پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیہ شریفہ ''امن یجیب المضطر...''کی تلاوت فرمائی'' فارتعد عَلِیّ ،فضرب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ بیدہ علی کتفہ''آیت کو سن کر علی لرزنے لگے تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو علی کے شانے پر رکھا''فقال: لایحبک الا مومن ولا یبغضک الا منافق الی یوم القیا مة'' (٢) اور فرمایا: قیامت تک تم سے محبت نہیں کریگا مگر مومن او ر دشمنی نہیں کرے گا مگر منافق۔
تاریخ طبری میں ابن حصیرہ سے ١٠ روایتیں موجود ہیں اور ان تمام روایتوں کو ابو مخنف نے ان سے نقل کیاہے۔ شیخ طوسی نے اپنے رجال میں ان کو امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے(٣) لیکن آپ نے حارث بن حصین ازدی نامی شخص کا تذکرہ امام محمد باقر علیہ السلام کے اصحاب میں کیا ہے جو غلط ہے ۔
٢٢۔ عبداللہ بن عاصم فائشی ہمدانی :
یہ ضحاک بن عبداللہ مشرقی ہمدانی کی روایتوں کو نقل کرتے ہیں ۔مقدس اردبیلی نے ''جامع الرواة ''میں ذکر کیا ہے کہ کافی میں تیمم کے وقت کے سلسلے میں ان سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی زبانی ایک روایت منقول ہے ۔
تہذیب میں عسقلانی نے ان کا تذ کرہ کیا ہے، نیز بصائر الدرجات میں بھی ان کا تذکرہ موجود ہے۔ ان سے ابان بن عثمان اور جعفر بن بشیر نے روایتیں نقل کی ہیں ۔(٤)
____________________
١۔نمل ٦٢
٢۔میزان الاعتدال، ج ٤ ،ص٢٧٢
٣۔ رجال شیخ ، ص ٣٩،ط نجف
٤۔جامع الرواة ،ج١،ص ٤٩٤
٢٣۔ ابو ضحاک :
یہ شب عاشور کا واقعہ امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں ۔
ذھبی نے'' میزان الاعتدال ''(١) میں اور عسقلانی نے'' تہذیب التہذیب''(٢) میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ شعبہ نے ان سے روایت نقل کی ہے ۔
٢٤۔ عمرو بن مرّہ الجملی :
یہ ابو صالح حنفی سے اوروہ عبد ربہ انصاری کے غلام سے روایتیں نقل کرتے ہیں ۔ان کی خبر میں جناب بریر بن خضیر کی شوخی کا تذکرہ ہے ۔(١) ذہبی نے ''میزان الاعتدال''(٢) میں ا ور عسقلانی نے'' تہذیب التہذیب''(٣) میں انکا تذکرہ کیا ہے۔وہ کہتے ہیں :ابن حبان نے ان کو ثقہ میں شمار کیا ہے اس کے بعد کہتے ہیں کہ انھوں نے ١١٦ھ میں وفات پائی۔احمد بن حنبل نے ان کی ذکاوت اورپاکیزگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات ١١٨ ہجری میں ہوئی اور بخاری کا بیان ہے کہ علی (علیہ السلام) سے انھوں نے تقریبا١٠٠روایتیں نقل کی ہیں ۔ شعبہ کا بیا ن ہے کہ یہ بڑے صاحب علم تھے۔ابو حاتم کہتے ہیں کہ وہ سچے اور مورد اعتماد ہیں ابن معین کا بیا ن ہے کہ وہ ثقہ ہیں ۔
٢٥۔ عطأ بن سائب :
انھوں نے جنگ کے شروع میں ابن حوزہ کی شہادت کا تذکرہ عبدالجبار بن وائل حضرمی کے حوالے سے اور اس نے اپنے بھائی مسروق بن وائل حضرمی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔(٤)
عسقلانی نے'' تہذیب التہذیب'' میں انکا اس طرح تذکرہ کیا ہے : عبدالجبار بن وائل اپنے بھائی سے روایت نقل کرتا ہے۔ ابن حبان نے ان کو ثقات میں شمار کیا ہے،اس کے بعد کہتے ہیں کہ ١٢٢ھ میں ان کی وفات ہوئی ہے۔عطاء مکہ کے رہنے والے ہیں ٦٤ ہجری میں ابن زبیر کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی خرابی اور اس کی تجدید کوانھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ٩٤ ہجری تک حجاج کے ہاتھوں قتل نہ ہوسکے۔(٧) '' تہذیب التہذیب'' میں ہے کہ ابن حبان نے ان کو ثقات میں شمار کیا ہے۔ ابن سعد نے طبقات میں بھی ان کا تذکرہ کیا ہے ، اور یہ کہا ہے کہ ان کی وفات١٣٧ ہجری میں ہوئی ہے ۔
____________________
١۔میزان الاعتدال، ج٤ ،ص ٥٤٠،ط حیدر آباد ---٢۔تہذیب التہذیب، ج١٢ ،ص ١٣٦
٣۔طبری ،ج٥ ،ص ٥٢٣ ---٤۔ میزان الاعتدال، ج٣ ،ص ٢٨٨
٥۔ تہذیب التہذیب، ج ٨ ، ص ١٠٢ --٦۔طبری ،ج٥ ص٤٣١ --٧۔ج٦،ص٤٨٨
٢٦۔ علی بن حنظلہ بن اسعد شبامی ہمدانی :
زہیر بن قین کے خطبہ کی روایت کو انھوں نے کثیر بن عبداللہ شعبی ہمدانی کے حوالے سے نقل کیاہے۔حنظلہ بن اسعد شبامی اصحاب امام حسین علیہ السلام میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کربلا میں جام شہادت نوش فرمایا ہے۔ علی ان کے فرزند ہیں ؛ایسا لگتا ہے کہ یا تو علی اس وقت کربلا میں موجود نہ تھے یا کمسن ہونے کی وجہ سے قتل نہ ہو پائے ۔یہ بلا واسطہ کوئی خبر نقل نہیں کرتے ہیں ۔ مذکورہ روایت انھوں نے کثیر بن عبداللہ شعبی قاتل زہیر بن قین کے حوالے سے نقل کی ہے ۔
٢٧۔ حسین بن عقبہ مرادی :
یہ عمر و بن حجاج کے حملے کا تذکرہ زبیدی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ۔
٢٨۔ ابو حمزہ ثابت بن دینار ثمالی :
اہل حرم کی شام میں اسیری کی روایت کو یہ قاسم بن بخیت کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ۔ آپ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے بلکہ تعریف و تمجید سے بالا تر ہے ۔
٢٩۔ ابو جعفر عبسی :
یحٰبن حکم کے اشعار کو یہ ابو عمارہ عبسی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ۔
یہ وہ ٢٩افراد ہیں جو ابو مخنف اور عینی گواہوں کے درمیان واسطہ ہیں ۔
چھٹی فہرست
اس فہرست میں ائمہ علیہم السلام ، ان کے اصحا ب اور مورخین موجود ہیں جو ١٤ افراد پر مشتمل ہیں ۔
١۔ امام زین العابدین علیہ السلام:
اپنے دونوں فرزند عون اور محمد کے ہمراہ عبداللہ بن جعفر کا امام حسین علیہ السلام کے نام خط اورمکہ سے نکلتے وقت امام علیہ السلام کے پاس سعید بن عاص اشدق کا اپنے بھائی یحٰی بن سعید بن عا ص کے ہمراہ خط لانا اور امام علیہ السلام کا اس خط کا جواب دیناحارث بن کعب والبی ازدی کے واسطے سے امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل ہوا ہے ۔(١)
اسی طرح حارث بن کعب والبی عبداللہ بن شریک عامری نہدی کے حوالے سے امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کرتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے٩ محرم کو ایک شب کی مہلت لی اور اپنے اصحاب کے درمیا ن خطبہ دیا۔(٢) اسی طرح حارث بن کعب والبی ازدی اور ابو ضحاک
____________________
١۔طبری ،ج٥ ،ص ٣٨٧ ۔ ٣٨٨
٢۔طبری، ٥ ،ص٤١٨
کے حوالے سے امام حسین علیہ السلام کے شب عاشور کے اشعار ، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی امام علیہ السلام سے گفتگو، اس پر امام حسین علیہ السلام کا جواب آپ سے منقول ہے۔(١)
٢۔ اما م محمد باقر علیہ السلام :
عقبہ بن بشیر اسدی کے حوالے سے شیر خوار کی شہادت کا واقعہ امام علیہ السلام سے نقل ہوا ہے۔(٢)
٣۔ امام جعفر صادق علیہ السلام :
ایک مرسل روایت میں امام حسین علیہ السلام کے جسم مبارک پر شمشیر و تیر و تبر کے زخموں کی تعداد آپ ہی سے مروی ہے ۔
٤۔ زید بن علی بن حسین علیہماالسلام :
زید بن علی اور داود بن عبید اللہ بن عباس کے حوالے سے فرزندان عقیل کی حماسہ آفرین تقریر منقول ہے۔ ان دونوں حضرات سے روایت کرنے والے شخص کا نام عمر و بن خالد واسطی ہے جو بنی ہاشم کے چاہنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ وہ پہلے کوفہ میں رہتاتھا پھر ''واسط '' منتقل ہوگیا وہ زید اورامام جعفر صادق سے روایتیں نقل کرتا ہے ۔
نجاشی نے ان کا تذکرہ کیا ہے اور کہا ہے : ''ان کی ایک بہت بڑی کتاب ہے جس سے نصر بن مزاحم منقری وغیرہ روایتیں نقل کرتے ہیں ۔(٣)
شیخ طوسی نے ان کو امام با قرعلیہ السلا م کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔(٤) اس کے علاوہ مامقانی نے تنقیح المقال میں ان کا ذکر کیا۔(٥ ) اسی طرح عسقلانی نے بھی'' تہذیب التہذیب'' میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔(٦)
٥۔ فاطمہ بنت علی :
آپ کا تذکرہ طبری نے کیا ہے۔ حارث بن کعب والبی ازدی کے واسطے سے دربار یزید کا واقعہ انہی مخدرہ سے منقول ہے۔(٧) واضح رہے کہ ان بی بی اور امام سجاد علیہ السلام سے روایت کرنے والا راوی ایک ہی ہے ۔
____________________
١۔طبری ،ج٥ ، ص ٤٢٠ ۔ ٤٢١ ---٢۔ طبری، ج ٥ ،ص ٤٤٨
٣۔ رجال نجاشی، ص ٢٠٥ ،ط ھند ---٤۔ رجال شیخ ،ص ١٢٨ ،ط نجف
٥ ۔تنقیح المقال ،ج ٢، ص ٣٣٠ ---٦۔ تہذیب التہذیب، ج ٨ ، ص ٣٦
٧۔طبری ،ج ٥ ، ص ٤٦١ ۔ ٤٦٢
٦۔ ابو سعید عقیصا:
مسجد الحرام میں امام حسین علیہ السلام سے ابن زبیر کے رو برو ہونے کی روایت اپنے بعض اصحاب کے واسطے سے انھوں نے نقل کی ہے۔(١) علاّمہ حلی نے اپنی کتاب'' الخلاصہ'' کی قسم اول میں آپ کو امیر المومنین کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔(٢)
'' میزان الاعتدال ''میں ذہبی نے بھی ان کاتذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے : یہ علی علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں : شعبہ نے کہا ہے کہ یہ ثقہ ہیں ۔ ان کا نام دینار ہے اور اہل بیت کے پیرو ہیں ۔ ان کی وفات ١٢٥ ھ میں ہوئی ۔(٣) ان کے حالات پہلے گزر چکے ہیں ۔
٧۔محمد بن قیس :
قیس بن مصھرصیداوی کو خط دے کر امام حسین علیہ السلام کا ان کو اہل کوفہ کی طرف روانہ کرنا ، جناب مسلم علیہ السلام کی شہادت کی خبر ، عبد اللہ بن مطیع کی امام حسین علیہ السلام سے گفتگو، نیزحضرت (ع)کا جواب(٤) اور جناب حبیب بن مظاہر کی شہادت کی روایت انھوں نے نقل کی ہے۔(٥) واضح رہے کہ عبداللہ بن مطیع والی روایت اور جناب حبیب بن مظاہر کی شہادت کی خبر ان سے بطور مرسل نقل ہوئی ہے یعنی درمیان سے راوی حذف ہے۔
کشی نے ذکر کیا ہے : ''یہ امام باقر علیہ السلام سے بڑی شدید محبت رکھتے تھے لہذاآپ نے ان کو فلاں اور فلاں کی باتیں سننے سے منع کیاتھا۔(٦) اس کے بعد کشی نے ذکر کیا ہے کہ آپ امام محمد باقر علیہ السلام کی امامت کے مدافع تھے۔(٧) نجاشی نے ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے : یہ ثقہ ، سر شناس اور کوفی ہیں ۔ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام سے روایتیں نقل کرتے ہیں ۔(٨)
شیخ طوسی نے اپنی فہرست کے رقم ٥٩١و٦٤٤(٩) اور رجال میں آپ کو امام جعفر صادق کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔اور آپ کو اس نا م سے چار بار یاد کیا ہے۔(١٠) اسی طرح علامہ حلی نے الخلاصہ میں آپ کا تذکرہ کیا ہے۔(١١)
____________________
١۔طبری ،ج ٥، ص ٣٨٥ ---٢۔ الخلاصہ ،ص ١٩٣، ط نجف
٣۔ میزان الاعتدال، ج ٢، ص ١٣٩ ---٤۔طبری، ج٥، ص ٣٩٤ ۔ ٣٩٦
٥۔ طبری، ج٥ ، ص ٤٤٠ ---٦۔ص ٣٤٠ حدیث، رقم ٦٣٠
٧۔ص٢٣٧ حد یث ٤٣٠ ---٨۔رجال نجاشی، ص ٢٢٦،ط ھند ٩۔فہرست، ص ١٥٧و١٧٦
١٠۔ رجال شیخ ،ص ٢٩٨رقم ٢٩٤ ،طبع نجف ---١١۔ الخلاصہ، ص ١٥٠رقم ٦٠اور اس کے بعد ،ط نجف
٨۔ عبداللہ بن شریک عامری نہدی :
امام حسین علیہ السلام کا شب عاشور مہلت مانگنا، شب عاشورآپ کے خطبے اور اشعار، حضرت زینب سلام اللہ علیہاکی گفتگو اور امام حسین علیہ السلام کے جواب کو یہ راوی امام زین العابدین علیہ السلام کے حوالے سے نقل کرتا ہے۔اسی طرح ایک مرسل روایت میں یہ راوی شمر کا حضرت عباس کے لئے شب عاشور امان نامہ لانا اور ٩ محرم کو غروب کے نزدیک پسر سعد ملعون کا امام علیہ السلام کے لشکر پر حملہ آور ہونے کا واقعہ نقل کرتا ہے۔(١)
کشی نے ذکر کیا ہے : ''یہ امام باقر اور صادق علیہما السلام کے خاص اصحاب میں شمار ہوتے ہیں ''۔(٢)
ایک روایت میں آیا ہے کہ عبد اللہ بن شریک امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی سپاہ میں بڑھ بڑھ کے حملہ کرنے والوں میں ہوں گے۔(٣) اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اس زمانہ میں یہ علمدار لشکر ہوں گے۔(٤)
تاریخ طبری سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جناب مختار کے خاص ساتھیوں میں سے تھے۔(٥) اس کے بعد مصعب بن زبیر کے اصحاب میں شمار ہونے لگے۔(٦) پھر ٧٢ ہجری میں عبدالملک بن مروان کے امان نامہ کی وجہ سے مصعب سے جدا ہوگئے۔ اس کے بعدشاید انھوں نے توبہ کرلی اور پھر ائمہ علیہم السلام کے اصحاب میں شمار ہونے لگے ۔
٩۔ ابو خالد کابلی :
انھوں نے ایک مرسل روایت میں صبح عاشورامام حسین علیہ السلا م کی دعا کو نقل کیا ہے۔ طبری نے ان کا نام ابو خالد کاہلی لکھا ہے لیکن کتب رجالی میں اس نا م کا کوئی شخص موجود نہیں ہے۔ مشہور وہی ہے جوہم نے ذکر کیا ہے اور یہی صحیح ہے ۔
کشی نے ذکر کیا کہ وہ حجاج کے خوف سے مکہ بھاگ نکلے اور وہاں خود کو چھپائے رکھا؛ اس طرح خود کو حجا ج کے شر سے نجات دلائی اور جناب محمد بن حنفیہ کے خدمت گذار ہوگئے یہاں تک کہ ان کی
____________________
١۔طبری، ج٥ ، ص ٤١٥ ۔ ٤١٦
٢۔رجال کشی ،ص١٠ ، حدیث ٢٠
٣۔ص ٣١٧، حدیث ٣٩٠
٤۔ص ٢١٧ ، ٣٩١
٥۔طبری ،ج ٦ ص ٤٩، ٥١و١٠٤
٦۔ج٦، ص ١٦١
امامت کے قائل ہوگئے لیکن بعد میں اس باطل عقیدہ سے منھ موڑ کرامام سجاد علیہ السلام کی امامت کے معتقد ہوگئے۔اس کے بعد ان کاعقیدہ اتنا راسخ ہوا کہ آپ کے خاص اصحاب میں شمار ہونے لگے اور ایک عمر تک امام علیہ السلام کی خدمت گذاری کے شرف سے شرفیاب ہوتے رہے، پھر اپنے شہر کی طرف چلے گئے ۔(١) شیخ طوسی نے رجال میں ان کو امام سجاد علیہ السلام کے اصحاب میں ذکر کیا ہے ۔
ظاہراً یہ ان لوگوں سے محبت کرتے تھے جو جناب مختار کے ساتھ تھے، اسی لئے جناب محمدبن حنفیہ کی امامت کے قائل ہوگئے اور اسی وجہ سے وہ حجاج کے چنگل سے نکل کر مکہ کی طرف بھاگ نکلے، ورنہ مکہ کی طرف بھاگنے کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا سبب نہیں ہوسکتا۔
١٠۔ عقبہ بن بشیر اسدی :
شیر خوار کی شہادت کا واقعہ انھوں نے امام صادق علیہ السلام کے حوالے سے نقل کیا ہے۔کشّی نے ان کا اس طرح ذکر کیا ہے:''عقبہ نے امام با قرعلیہ السلا م سے اجازت طلب کی کہ وہ حکومت وقت کی طرف سے اپنی قوم میں اپنے قبیلہ کے کارگزار بن جائیں ۔امام علیہ السلام نے انھیں اجازت نہیں دی۔ انھوں نے شیر خوار کی شہادت کو نقل کیا ہے۔(٢)
شیخ طوسی نے رجال میں ان کو امام زین العابدین(٣) اور امام محمد باقرعلیہ ا لسلام(٤) کے اصحاب میں ذکر کیا ہے۔ تاریخ طبری میں جناب مختار کے ساتھیوں کی مصیبت اور غم میں ان کے مر ثیے موجو د ہیں جسے پڑھاکرتے تھے۔(٥)
١١۔ قدامہ بن سعید :
قدامہ بن سعید بن زائدہ بن قدامہ ثقفی اپنے دادا سے روایتیں نقل کرتے ہیں جناب مسلم بن عقیل کے مقابلہ کیلئے محمد بن اشعث بن قیس کندی کے میدان نبرد میں آنے کی خبر، جناب مسلم کا قید کیاجانا ،(٦) آپ کاقصر دار الامارہ کے دروازہ پر پانی مانگنا اور آپ کو پانی پلائے جانے کی خبر(٧) قدامہ نے اپنے دادا زائد سے نقل کی ہے ۔شیخ طوسی نے ان کو امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔(٨)
____________________
١۔رجال کشی ،ص ١٢١ ،حدیث ١٩٣ ؛ رجال شیخ، ص١٠٠ رقم ٢ ---٢۔ رجال کشی، ص ٢٠٣ ،حدیث ٣٥٨
٣۔ رجال شیخ ،ص ٣٢ ---٤۔ص١٢٩ ،رقم ٢٩ ،ط نجف
٥۔طبری ،ج٦ ،ص ١١٦ ---٦۔ج٥ ، ص ٣٧٣
٧۔ج ٥ ، ص ٣٧٥ ---٨۔رجال شیخ، ص ٢٧٥،ط نجف
١٢۔ حارث بن کعب والبی ازدی :
حارث بن کعب نے عقبہ بن سمعان ، امام زین العابدین علیہ السلام اور فاطمہ بنت علی علیہما السلام کے حوالے سے روایتیں نقل کرتے ہیں ۔
یہ جناب مختار کے ساتھیوں میں تھے، پھرکوفہ سے مدینہ منتقل ہوگئے اور وہاں پر امام علیہ السلام سے حدیثیں سنیں ۔شیخ طوسی نے ان کو اپنے رجال میں امام زین العابدین علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔(١)
١٣۔ حارث بن حصیرہ ازدی :
یہ عبداللہ بن شریک عامری نہدی اور وہ امام علی بن الحسین علیہما السلام کے حوالے سے روایتیں نقل کرتے ہیں ۔ ان کے بارے میں تفصیلات گذرچکی ہے۔ شیخ طوسی نے ان کو امام زین العابدین اور امام محمد باقر علیھما السلام کے اصحاب میں ذکر کیا ہے۔(٢)
١٤۔ ابو حمزہ ثمالی :
ابوحمزہ ثابت بن دینار ثمالی ازدی عبداللہ ثمالی ازدی اور قاسم بن بخیت کے حوالے سے روایتیں نقل کرتے ہیں ۔ ان کی روایت شام میں اہل حرم کی اسیری کے سلسلے میں ہے۔ کشی نے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے امام رضا علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ''ابوحمزة الثمالی فی زمانہ ،کلقمان فی زمانہ ، و ذالک انہ خدم ار بعةمنّا علی بن الحسین و محمد بن علی و جعفر بن محمد و بر ھة من عصر موسی بن جعفر ''(٣)
ابو حمزہ، لقمان زمانہ تھے اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے ہم میں سے چار(اماموں) کو درک کیا ہے ؛ علی بن الحسین،محمد بن علی، جعفر بن محمد اور موسی بن جعفر کے تھوڑے سے زمانے کو درک کرنے کا شرف حاصل کیا ہے ۔
عامر بن عبداللہ بن جذاعہ ازدی نے امام جعفر صادق علیہ ا لسلام سے نشہ آور چیزوں کے بارے میں سوال کیاآپ نے فرمایا : ''کل مسکر حرام'' ہر مست کرنے والی چیز حرام ہے۔ عامر بن عبداللہ نے کہا: لیکن ابو حمزہ تو بعض مسکرات کو استعمال کرتے ہیں ! جب یہ خبر ابو حمزہ کو ملی تو انھوں نے تہہ دل سے
____________________
١۔رجال طوسی، ص ٨٧، ط نجف
٢۔ ص٣٩ ۔ ١١٨ ،ط نجف
٣۔ طبری ،ج٥، ص ٤٦٥
توبہ کی اور کہا :''استغفر اللّه منه الان و اتوب الیه '' میں ابھی خدا سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔
ابو بصیر امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوئے تو امام علیہ السلام نے ابو حمزہ ثمالی کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے عرض کیا :میں جب ان کو چھوڑ کے آیا تو وہ مریض تھے۔ امام علیہ السلام نے فرما یا : جب پلٹنا تو ان کو میرا سلام کہنا اور ان کو بتا دینا کہ وہ فلاں مہینے او رفلاں روزوفات پائیں گے ۔
علی بن حسن بن فضال کہتے ہیں : حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کے تقریباً ایک سال بعدابو حمزہ ، زرارہ اور محمد بن مسلم کی وفات ایک ہی سال میں واقع ہوئی ہے۔
نجاشی نے آپ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے: یہ کوفہ کے رہنے والے اور ثقہ تھے۔ محمد بن عمر جعابی تمیمی کا بیان ہے کہ آپ مہلب بن ابو صفرہ کے آزاد کردہ تھے۔آپ کے بیٹے منصور اور نوح سب کے سب زید بن علی بن حسین علیھما السلام کے ہمراہ شہیدکئے گئے ۔
آپ نے امام زین العابدین ، امام محمد باقر ، امام جعفر صادق اور امام موسی کاظم علیہ السلام کا زمانہ دیکھا ہے اور ان تما م ائمہ علیہم السلام سے روایتیں نقل کیں ہیں آپ کا شمار ہمارے نیکو کار بزرگوں اور روایت و حدیث میں معتمد و ثقہ لوگوں میں ہوتا ہے۔(١)
شیخ طوسی نے فہرست(٢) اور رجال میں آپ کو امام سجاد(٣) امام محمد باقر(٤) امام جعفر صادق(٥) اور امام موسی کاظم علیہم السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ ذہبی نے'' میزان الاعتدال''(٦) اور عسقلانی نے ''تہذیب ''(٧) میں آپ کا تذکرہ کیا ہے۔
____________________
١۔رجال نجاشی، ص ٨٣، ط ہند ---٢۔فہرست شیخ، ص٦٦، ط نجف
٣۔رجال شیخ، ص ٨٤، ط نجف --٤۔ص ٠ ١١
٥۔ ١٦٠،ط نجف
٦۔میزان الاعتدال، ج١، ص ٣٦٣
٧۔تہذیب التہذیب ،ج ٢،ص ٧
یہ ہیں وہ چودہ ١٤ افراد جو ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے اصحاب پر مشتمل ہیں اور اس کتاب کی سند میں واقع ہوئے ہیں ۔ ان کے علاوہ ابو مخنف نے عون بن ابی جحیفہ سوائی کوفی متوفیٰ ١١٦ھ سے یعنی اس کتاب میں تاریخ کے حوالے سے روایتیں نقل کی ہیں لیکن ان سے عینی شاہدین کے عنوان سے نہیں بلکہ بعنوان مورخ روایت نقل کی ہے ۔جیسا کہ'' تقریب التہذیب'' میں یہی مذکورہے۔ اس مورخ نے صقعب بن زھیر کے حوالے سے مدینہ سے مکہ کی طرف امام علیہ السلام کی روانگی ، مکہ میں آپ کی مدت اقامت اور پھر وہاں سے کوچ ...کا تذکرہ کیا ہے ۔
اب ہم اسی مقام پر اپنے مقدمہ کو اس امید کے ساتھ ختم کرتے ہیں کہ خداوند متعال ہمیں توفیق عطافر مائے کہ ہم سید الشہداء امام حسین بن علی علیہما السلام کی صحیح خدمت نیزان کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرسکیں ۔
امام حسین علیہ السلام مدینہ میں
* معاویہ کی وصیت
* معاویہ کی ہلاکت
* یزید کا خط ولید کے نام
* مروان سے مشورت
* قاصد بیعت
* امام حسین علیہ السلام مدینہ میں
* ا بن زبیر کا موقف
* امام حسین علیہ السلام کا مدینہ سے سفر
امام حسین علیہ السلام مد ینہ میں
معاویہ کی وصیت(١)
طبری نے اپنی تاریخ میں جلد ٥،ص ٣٢٢پراس طرح ذکر کیا ہے : پھر ٦٠ ھ کا زمانہ آگیا ...اور اس سال معاویہ نے ان تمام لوگوں کو بلایا جو عبید اللہ کی ہمراہی میں وفد کی شکل میں یزید کی بیعت کے لئے لوگوں کودعوت دے رہے تھے ...ان تمام لوگوں کو بلا کر اس نے عہدو پیمان باندھے جسے ہشام بن محمد نے ابو مخنف کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ابو مخنف کہتے ہیں کہ ہم سے عبد الملک بن نوفل بن مساحق بن عبداللہ بن مخرمہ نے بیا ن کیا ہے کہ معاویہ جس مرض الموت میں ہلاک ہوا اسی مرض کی حالت میں اس نے اپنے
____________________
١۔معاویہ بن صخربن حرب بن امیہ بن عبدالشمس،ہجرت سے ٢٥سال پہلے متولد ہوا۔(طبری، ج٥، ص ٣٢٥)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف جنگو ں میں اس کے باپ ابو سفیان سے جنگ کی ہے۔ آخر کار ٨ھ میں فتح مکہ کے موقع پراپنے باپ ابو سفیان کے ساتھ دامن اسلام میں پناہ لی اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاویہ اور اس کے باپ کو مولفة القلوب میں شمار کیا۔ (طبری ،ج٣ ، ص ٩٠) عمر نے اپنے دور حکومت میں اس کو شا م کا گورنر بنادیا ۔(طبری ،ج٣، ص ٦٠٤)عثمان کے قتل تک اسی طرح یہ گورنری پر باقی رہا ۔ عثمان کے قتل کے بعد امیر المومنین علی علیہ السلام سے عثمان کے خون کا بدلہ لینے پر آمادہ ہوا اور جنگ صفین میں حضرت کے خلاف میدان جنگ میں آگیا۔ اس جنگ و جدال اور مخالفت کا سلسلہ جاری رہایہا ں تک کہ حضرت علی علیہ السلام شھید ہوگئے تو اس نے امام حسن علیہ السلام سے جنگ شروع کردی ؛بالآخر جمادی الاولیٰ٤١ ھ میں صلح ہوگئی اور اس سال کانام''عام الجماعة''رکھا گیا۔اس کے بعد ١٩سال ٣مہینہ یا٣مہینہ سے کچھ کم امیر شام نے حکو مت کی یہا ں تک کہ ٦٠ھ ماہ رجب میں اس کی موت ہوگئی۔ اس وقت معاویہ کا سن ٨٥ سال تھا ۔ اس واقعہ کوطبری نے کلبی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ کلبی نے اپنے والد سے نقل کیا ہے (تاریخ طبری،ج٥، ص ٣٢٥)
بیٹے یزید(١) کو بلایا اور کہا :اے میرے بیٹے!میں نے رنج سفر سے تجھے آسودہ ، تمام چیزوں کو تیرے لئے مہیا ، تیرے لئے دشمنوں کو سرنگوں ، ذلیل و رسوا ، سارے عرب کی گردن کو تیرے آگے جھکادیااور تمام چیزوں کو تیرے لئے جمع کردیا ہے۔(٢)
اس کے بعد معاویہ نے ایک خط زیاد بن سمیہ کو اس عنوان سے لکھا (اس زمانے میں زیاد معاویہ کی طرف سے بصرہ کا گورنر تھا جس کی ابتدا ء ٤٥ھ سے ہوئی) کہ وہ اس امر میں مشورہ چاہتاہے۔ زیاد نے عبید بن کعب نمیری ازدی کو معاویہ کے پاس روانہ کیا اور اس تک یہ پیغام پہنچایا کہ زیاد یہ سمجھتا ہے کہ یزید کچھ دنوں کے لئے اپنی ایسی رنگینیوں سے دست بردارہوجائے جو لوگوں کو انتقام لینے پر مجبور کردیتی ہیں تاکہ گورنروں کو یزید کی ولی عہدی کی بیعت لینے میں آسانی ہو ...پھر ٣ ٥ھماہ مبارک رمضان میں زیاد بن سمیہ فی النار ہوا۔
____________________
١۔ ٢٨ھ میں یزید نے دنیا میں جنم لیا۔ اس کی ما ں کا نام میسون بنت بجدل کلبی ہے۔معاویہ نے لوگو ں کو اپنے بعدیزید کی ولی عہدی کی بیعت کے سلسلہ میں بلایا ۔بیعت یزید کی دعوت کا سلسلہ ٥٦ھ میں شروع ہوا ۔اور ٥٩ھ میں معاویہ نے وفد بھیج کر بیعت لینا شروع کیا ۔ یزید کی ولی عہدی کا سلسلہ ماہ رجب ٦٠ھ سے شروع ہوا ۔اس وقت وہ ٣٢سال کچھ مہینہ کا تھا اور ربیع الاول کی ١٤تاریخ کو ٦٤ھمیں مقام حوارین میں فی النار ہوا ۔(طبری ،ج٥ ،ص ٤٩٩) اس طرح اس کی مدت حکومت ٣سال ٨ مہینہ ١٤ دن ہوئی اور کل حیات ٣٦سال ہوئی ۔
آئندہ گفتگو میں یہ بات آ ئے گی کہ باپ کی موت کے وقت یزید وہا ں موجود تھا۔ اس کے وجود کی موافقت سبط بن جوزی نے'' تذکرة خواص الامة ''،ص٢٣٥پر کی ہے لیکن شیخ صدوق نے اپنی'' امالی'' میں امام زین العابدین علیہ السلام کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اسی کو خوارزمی نے اپنے مقتل کے ص١٧٧پر ''اعثم کوفی'' متوفیٰ٣١٤ھکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ موجود تھا لیکن پھر شکار کے لئے چلا گیا اورتین دنو ں کے بعد واپس آیا تو محل میں داخل ہوگیا اور پھر ٣دن کے بعد باہرنکلا ۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ معاویہ نے دووصیتی ں کی ہو ں ، پہلی یزید کی موجودگی میں اوردوسری یزید کی غیر موجودگی میں اور یہ وصیتی ں دو لوگو ں کے واسطے سے ہیں جن کا ذکر بعد میں آئے گا ،یہی وجہ ہے کہ دونو ں وصیتو ں میں اختلاف ہے ۔
٢۔ یہ کام معاویہ نے ١٠ سال میں کیا ہے، جس کی ابتدائ٥٠ ھسے ہوئی اور اس کے مرگ پر تمام ہوئی ہے ۔طبری نے اس کے سبب کو ج٥، ص ٣٠١ پر ذکر کیا ہے :مغیرہ بن شعبہ ٤٩ ھ میں طاعون کے خوف سے بھاگ کر کوفہ سے معاویہ کے پاس پہنچا (٤١ہجری یعنی عام الجماعةہی کے زمانے سے مغیرہ کوفہ کا گورنر تھا) اور معاویہ سے اپنی ناتوانی کا تذکرہ کرتے ہوئے چاہا کہ اسے دوبارہ کوفہ جانے سے معاف رکھا جائے معاویہ نے اسکے عذر کو قبول کرلیااور سعیدبن عاص کو اس کی جگہ پر کوفہ کاگورنر بنا کر بھیجنے کا ارادہ کرلیا ۔ اس واقعہ نے مغیرہ کی حسد کی چنگاری کو آتش فشا ں میں تبدیل کردیا لہٰذا وہ فوراً یزید کے پاس آیا اور ولی عہدی کے عنوان سے یزید کی بیعت کا سلسلہ چھیڑا ۔اس بات کو یزید نے اپنے باپ تک پہنچایا تو اس پر معاویہ نے مغیرہ کو کوفہ لوٹا دیااور حکم دیا کہ لوگو ں سے یزید کے لئے بیعت لے۔ اس طرح مغیرہ کوفہ لوٹا اور یزید کی بیعت کے سلسلہ میں کام کرنے لگا اور وفد کی شکل میں گروہ گروہ بنا کرلوگو ں کو معاویہ کے پاس بھیجنے لگا ۔
اس وقت وہ کوفہ اور بصرہ دونوں کا گورنر تھا۔٥٦ھ ماہ رجب میں معاویہ نے عمرہ کا پروگرام بنایا اوروہاں پہنچ کر اس نے یزید کی ولی عہدی کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں کو اس کی بیعت کی دعوت دینے لگا ۔ اس پرسعید بن عثمان سامنے آیا اور اس نے اس کی بڑی مخالفت کی تو یزید کی سفارش پرمعاویہ نے اسے خراسان کا گورنر بنادیا۔ اس کے بعد ٥٤ھ سے معاویہ کا نمک خوار مروان جو اس وقت سے لیکر آج تک مدینہ کا گورنرتھا معاویہ کے سامنے آیا اوربہت مخالفت کی تو معاویہ نے اسے خوب پھٹکارااور ٥٧ھ میں اسے گورنری سے معزول کردیا۔ طبری نے اس واقعہ کو اسی طرح لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو ج٥، ص٣٠٩ ۔ مسعودی نے اپنی کتاب کی تیسری جلد کے٣٨ویں صفحہ پر مروان کی مخالفت کا مفصل تذکرہ کیا ہے۔عبیداللہ بن زیادجو ٥٥ھسے بصرہ کا گورنر تھا اس نے ٦٠ ھ میں ایک وفد شام کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ معاویہ کے سامنے یزید کی بیعت کرے۔ (طبری ،ج ٥، ص ٣٢٢)
مجھکو اس حکومت کے سلسلے میں جو میں نے تیرے لئے استوار کی ہے قریش کے چار افرادسے خوف ہے :
١۔حسین بن علی(١) ٢۔ عبد اللہ بن عمر(٢)
____________________
١۔ امام حسین علیہ السلام نے ماہ شعبان ٤ھ میں اس دار فانی میں آنکھی ں کھولی ں ۔(طبری، ج٣ ، ص٥٥٥) اس طرح آپ نے ٦سال اپنے جد رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ زندگی بسر کی۔ اس کے بعد ٣٠ سال اپنے والد امیر المومنین علیہ السلام کے ساتھ زندگی گزاری ۔ ٣٠ سال کے سن میں عثمان کی خلافت کے زمانے میں اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام، حذیفہ بن یمانی ، عبداللہ بن عباس اور اصحاب کے ایک گروہ کے ہمراہ سعید بن عاص کی سربراہی میں خراسان کی جنگ میں شرکت فرمائی۔ (طبری ،جلد٤ ،ص ٢٦٩) امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ١٠ سال اپنے بھائی امام حسن کے ہمراہ ان کی خوشی و غم میں شریک رہے ۔یہی ١٠سال امام حسن علیہ السلا م کی امامت کی مدت ہے جو معاویہ کا بھی زمانہ ہے، یہا ں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا اور آپ١٠ محرم ٦١ھبروزجمعہ شہید کردئے گئے۔ اس وقت آپ کی عمر ٥٦سال ٦مہینے تھی۔
٢۔عثمان کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بیعت نہ کرنے والو ں میں سے ایک یہ بھی ہیں ۔ بیعت نہ کرنے پرحضرت علی علیہ السلام نے ابن عمر سے کہا :''انک لَسَیی ء الخلق صغیراً و کبیراً''(طبری ،ج ٤ ،ص ٤٢٨) تمہاری خلقت ہی خراب ہے چھوٹے رہو یا بڑے ہوجائو ۔دوسری جگہ ملتا ہے کہ آپ نے فرمایا :'' لولامااعرف من سوء خلقک صغیراً و کبیراً لأنکرتنی'' (طبری ،ج ٤، ص٤٣٦) اگر مجھے تمہار ی بری خلقت کی معرفت نہ ہوتی تو بھی تم میری مخالفت کرتے ؛لیکن حفصہ نے اپنے بھائی عبداللہ کوعائشہ کی ہمراہی سے روک دیا ۔(طبری، ج ٤، ص ٤٥١) اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کے خلاف طلحہ و زبیر کے قیام کی درخواست کا جواب دینے سے بھی حفصہ نے عبداللہ بن عمر کو روک دیا۔ (طبری، ج ٤ ،ص ٤٦٠) عبد اللہ بن عمرابو موسی اشعری کا داماد تھا ، جب جنگ صفین میں ابو موسی کو حَکَم کے لئے منتخب کیا گیا تو ابو موسی نے اس کو (عبد اللہ بن عمر) بلایا اور اس کے ساتھ ایک جماعت کو دعوت دی ۔ عمروعاص نے اسے خلافت کی دعوت دی لیکن اس نے قبول نہیں کیا۔جب مرحلہ معاویہ تک پہنچ گیاتو یہ معاویہ کے پاس چلا گیا (طبری ،ج٥، ص ٥٨) اس نے اگر چہ یزید کی بیعت نہیں کی تھی لیکن امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعدا س نے اپنے داماد مختارکی آزادی کے لئے یزید کو ایک خط لکھا اور یزید نے بھی اس کی درخواست کو رد نہیں کیا۔ شاید اس کے بعد اس نے یزید کی بیعت کی ہے۔ (طبری، ج٥،ص ٥٧١) مسعودی کا بیان ہے کہ اس کے بعد اس نے ولید کے ہاتھو ں پر یزید کے لئے اور حجاج کے ہاتھو ں پر مروان کے لئے بیعت کی ہے۔ (مروج الذہب، ج ٢،ص٣١٦)
٣۔ عبداللہ بن زبیر(١) ٤۔عبد الرحمن بن ابی بکر(٢)
ان میں سے عبد اللہ بن عمر وہ ہے جسے عبادت نے تھکا دیا ہے؛ اگر وہ تنہا رہ جا ئے گا تو بیعت کر لے گا ،لیکن حسین بن علی وہ ہیں کہ اگر اہل عراق ان کو دعوت دیں گے تو وہ قیام کر یں گے؛(٣) اگر وہ
____________________
١۔عبد اللہ بن زبیرپہلی یا دوسری ہجری میں متولد ہوا۔جب عثمان کا گھر اؤ ہوا تھا تو اسی نے عثمان کی مدد کی یہا ں تک کہ خود مجروح ہوگیا ۔ (طبری، ج ٤،ص ٣٨٢) یہ کا م اس نے اپنے باپ زبیر کے حکم پر انجام دیا تھا ۔(طبری ،ج٤،ص٣٨٥) اور عثمان نے زبیر سے اس کے سلسلہ میں ایک وصیت کی تھی۔ (طبری ،ج٤،ص٤٥١) یہ اپنے باپ کے ساتھ جنگ جمل میں شریک تھا۔اور اس کو حق کی طرف پلٹنے اور تو بہ کر نے سے روکا تھا۔ (طبری ،ج٤،ص ٥٠٢) عائشہ نے اسے بصرہ کے بیت المال کا امیر بنا یا تھاکیو نکہ یہ عائشہ کا مادری بھا ئی تھا جس کا نام''ام رومان'' تھا (ج٤،ص ٣٧٥)پھر یہ زخمی ہوا اور وہا ں سے بھاگ نکلا پھرٹھیک ہوگیا ۔(ج٤،ص٥٠٩) حضرت علی علیہ السلام نے اسے'' برائیو ں کے فرزند'' کے نام سے یاد کیا ہے۔ (ج٤،ص٥٠٩) یہ معاویہ کے ساتھ تھا تو معاویہ نے عمر وعاص کے ہمراہ اسے محمدبن ابی بکر سے جنگ کے لئے بھیجا ۔جب عمروعاص نے محمد کو قتل کر نے کا ارادہ کیا تو اس نے محمد کے سلسلے میں سفارش کی لیکن معاویہ نے اس کی سفارش قبول نہیں کی (طبری، ج ٥،ص ١٠٤) امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد یہ مکہ نکل گیا (طبری ،ج٥،ص ٤٧٤) اور ١٢ سال تک وہا ں ان لو گو ں سے لڑتا رہا یہا ں تک کہ عبد الملک بن مروان کے زمانے میں جمادی الاولی ٧٣ ھمیں حجاج نے اس کو قتل کر دیا۔(ج٦ ،ص ١٨٧) اس کے ایک سال قبل اس کا بھا ئی مصعب'' انبار'' نامی جگہ پر قتل ہوا جس کی طرف خود عبدالملک نے اقدام کیا تھا۔
٢۔ اسد ا لغابہ میں ہے کہ عبدالرحمن بن ابی بکر یزید کی بیعت کے مطالبہ سے پہلے ہی مدینہ سے نکل گئے تھے اور حبشی نامی جگہ پر وفات ہو چکی تھی جو مکہ سے ١٠ میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہ واقعہ ٥٥ ھ کا ہے لہٰذا یہ بات معاویہ کی وصیت سے یہ موا فقت نہیں رکھتی ہے، واللہ اعلم ۔
٣۔ اس کا اندازہ اس سے ہو تا ہے جیسا کہ یعقوبی نے روایت کی ہے کہ اہل عراق نے امام علیہ السلام کو اس وقت خط لکھا جب آپ مدینہ میں تھے اور امام حسن علیہ السلام شہید ہو چکے تھے۔ اس خط میں تحریر تھا کہ وہ لوگ امام علیہ السلام کے حق کے لئے قیام کے منتظر ہیں ۔ جب معاویہ نے یہ سنا تو اس پر اس نے امام علیہ السلام کی مذمت کرنے کی کو شش کی ۔ امام علیہ السلام نے اس کی تکذیب کی اور اس کو خاموش کردیا ۔
خروج کریں تو ان سے جنگ کر کے ان پر فتح حاصل کر نا لیکن ان کے قتل سے درگذر کرنا اور گزشتہ سیاست پر عمل کرنا( ١) کیونکہ ان سے رشتہ داری بھی ہے اور ان کا حق بھی بزرگ ہے ۔اور جہاں تک ابوبکر کے بیٹے کی بات ہے تو اس کی رائے وہی ہو گی جو اس کے حاشیہ نشینوں کا مطمح نظر ہو گا۔ اس کا ہم وغم فقط عورتیں اور لہوو لعب ہے؛ لیکن جوشیر کی طرح تمہاری گھات میں لگا ہے اور لو مڑی کی طرح تجھ کو موقع ملتے ہی فریب دینا چاہتاہے اور اگر فر صت مل جائے تو تجھ پر حملہ کردے وہ ابن زبیر ہے ؛ اگر اس نے تیرے ساتھ ایسا کیا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا ۔(٢)
معاویہ کی ہلا کت
٦٠ ھ میں معاویہ واصل جہنم ہوا(٣) معاویہ کی موت کے بعد ضحاک بن قیس فہری(٤) اپنے ہاتھوں میں معاویہ کا کفن لپیٹے باہر نکلا اور منبر پر گیا۔ خدا کی حمد و ثنا کی اور اس طرح کہنے لگا : بیشک معاویہ قوم عرب کی تکیہ گا ہ تھے۔ ان کی شمشیر براں کے ذریعہ خدا نے فتنوں کو ٹالا،بندوں پر حکومت عطا کی اور ملکوں پر فتح و ظفر عنایت فرمائی۔ اب وہ مر چکے ہیں اور یہ ان کا کفن ہے ہم اس میں ان کو لپیٹ کر قبر میں لٹادیں
____________________
١۔یہ بات پو شیدہ نہیں رہنی چا ہئے کہ امیر شام نے یہ کہا تھا کہ'' فان خرج علیک فظفرت ''، یعنی اگر وہ خروج کری ں تو ان کے ساتھ فتح وظفر تک لڑتے رہنا لیکن قتل نہ کر نا۔ اس طرح وہ دو خوبیو ں کو جمع کر نا چاہتا تھا؛ ایک فتح وظفر دوسرے انتقام نہ لینا ۔اس مطلب پر معاویہ کا وہ خط دلالت کر تا ہے جو اس نے امام حسین علیہ السلام سے جنگ کرنے کے سلسلے میں لکھا تھا اور اپنے غلام سر جون رومی کے پاس امانت کے طور پر رکھو ایا تھا؛ جس میں اس نے یہ لکھا تھا کہ اگر عراق میں حالات خراب ہونے لگی ں تو فوراًابن زیاد کو وہا ں بھیج دینا؛ جیسا کہ آئندہ اس کی روداد بیان ہو گی ۔
٢۔اس کی روایت خوارزمی نے اپنی کتاب کے ص١٧٥ پر کچھ اضافے کے ساتھ کی ہے ۔
٣۔ طبری ،ج ٥،ص ٣٢٤پر ہشام بن محمد کا بیان ہے اور ص ٣٣٨۔ پر ہشام بن محمد ابو مخنف سے نقل کرتے ہیں کہ ماہ رجب ٦٠ ھ میں یزید نے حکو مت کی باگ ڈور سنبھالی ۔
٤۔ ضحاک بن قیس فہری جنگ صفین میں معاویہ کے ہمرا ہ تھا۔ وہا ں معاویہ نے اسے پیادہ یا قلب لشکر کا سر برا ہ بنا یا تھا۔ اس کے بعد اپنی حکومت میں جزیرہ'' حران'' کا والی بنایا ۔وہا ں پر عثمان کے چاہنے والے کوفہ وبصرہ سے اس کے ارد گرد جمع ہونے لگے۔ اس پر علی علیہ السلام نے اس کی طرف مالک اشتر نخعی کو روانہ کیا اور ٣٦ھ میں جناب مالک اشتر نے اس سے جنگ کی ،پھر
معاویہ نے دمشق میں اسے اپنی پولس کی سربراہی پر مقرر کردیایہا ں تک کہ ٥٥ھمیں جب یزید کی ولی عہدی کی بیعت لینے کا ارادہ کیا تو اسے کوفہ بھیج دیا ۔پھر ٥٨ھ میں اسے کوفہ سے واپس بلا کر دوبارہ پولس کا سربراہ بنا دیا٦٠ ھتک وہ اس عہدے پرمقرر رہا یہا ں تک کہ بصرہ سے عبیداللہ بن زیاد کا ایک گروہ وفد کی شکل میں وہا ں پہنچا اور معاویہ نے ان لوگو ں سے اپنے بیٹے یزید کی بیعت لی ۔(مسعودی ،ج٢،ص٣٢٨)
ان واقعات کی طبیعی مسیر سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ملعون اس وقت تک اپنے منصب پر باقی تھا جب آل محمد کا قافلہ شام پہنچا ہے۔ ٦٤ھ میں معاویہ بن یزید مر گیا توپہلے ضحاک نے لوگو ں کو اپنی طرف بلایا پھر لوگو ں کو ابن زبیر کی طرف دعوت دی یہا ں تک کہ جب مروان مدینے سے اور عبید اللہ بن زیاد عراق سے شام پہونچے تو ابن زیاد نے مروان کو خلافت کی لالچ دلائی لہٰذا مروان نے لوگو ں کو اپنی طرف بلایا اور لوگو ں نے مروان کی بیعت کر لی ،اس پر ضحاک دمشق میں متحصن ہوگیا پھر وہا ں سے نکل کر مقام ''مرج راھط''(دمشق سے چند میل کے فاصلہ) پر مروان سے جنگ پر آمادہ ہوگیا۔ ٢٠ دنو ں تک یہ جنگ چلتی رہی۔ آخر کار ضحاک کے ساتھی بھاگ کھڑے ہوے اوروہ خود ماراگیا۔ اس کا سرماہ محرم ٦٤ھیا ٦٥ھمیں مروان کے پاس لایا گیا۔ (طبری ،ج ٥،ص ٥٣٥،٥٤٤)یہ شخص اتنا ملعون تھا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام ہر نماز کے قنوت میں اس پر لعنت بھیجا کرتے تھے۔(طبری ،ج ٥،ص ٧١ووقعةصفےّن، ص ٦٢)
گے اوران کو ان کے عمل کے ساتھ وہاں چھوڑ دیں گے۔ تم میں سے جو ان کی تشییع جنازہ میں شرکت کرناچاہتا ہے وہ ظہر کے وقت آجائے ، اس کے بعداس نے نامہ برکے ذریعہ یزید کے پاس معاویہ کی بیماری کی خبر بھجوائی۔(١)
____________________
١۔طبری نے وصیت کو اسی طرح نامہ بر کے حوالے سے لکھا ہے کہ نامہ بر یزید تک پہنچا لیکن یزید نے کب سفر کیا اور کہا ں غائب تھا اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ طبری نے ہشام سے اور اس نے عوانہ بن حکم (متوفیٰ١٥٧ ھ)سے اس طرح روایت نقل کی ہے کہ یزید غائب تھا تو معاویہ نے ضحاک بن قیس جو اس وقت اس کی پولس کا سربراہ تھا اور مسلم بن عقبہ مری جس نے مدینہ میں واقعہ حرہ کے موقع پر یزید کے لشکر کی سربراہی کی تھی ، کو بلایا اور ان دونو ں سے وصیت کی اور کہا : تم دونو ں یزید تک میری یہ وصیت پہنچادینا۔
وصیت کی یہ روایت ابومخنف کی روایت سے کچھ مختلف ہے۔ بطور نمونہ (الف) ابو مخنف کی روایت میں چار افراد کا تذکرہ ہے جن سے معاویہ کو خوف تھا کہ وہ یزید کی مخالفت کری ں گے جن میں سے ایک عبدالرحمن بن ابی بکر ہے لیکن اس روایت میں مذکورہ شخص کا کو ئی تذکرہ نہیں ہے۔ (ب)ابومخنف کی روایت میں ہے کہ معاویہ نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام سے عفو وگذشت سے کام لینا لیکن اس روایت میں ہے کہ امید ہے کہ خدا ان کو کوفیو ں کے لشکر سے بچائے جنہو ں نے ان کے باپ کو قتل کیا اور بھائی کوتنہا چھوڑ دیا۔ (ج) ابومخنف کی روایت میں ہے کہ ابن زبیر کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا لیکن اس روایت میں صلح کی وصیت ہے اور قریش کے خون سے آ غشتہ نہ ہونے کا تذکرہ ہے۔یزید کا ولید کو خط لکھ کر لوگو ں کا نام پیش کرنا اور اس میں ابن ابی بکر کا تذ کرہ نہ کرنا اس روایت کی تائید کرتاہے۔ اسی طرح سر جون رومی کے پاس محفوظ خط میں معاویہ کا ابن زیاد کو عراق کے حاکم بنانے کی وصیت کرنا بھی اس روایت کی تائید کرتی ہے ۔
اب رہا سوال کہ یزید کہاں غائب تھا تو طبری نے علی بن محمد سے (ج٥،ص١٠) پر روایت کی ہے کہ یزید مقام ''حوارین''پر تھا ۔ خوارزمی نے(ص١٧٧)پر ابن اعثم کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ یزید اس دن وصیت کے بعد شکار کے لئے نکل گیا تھا۔ اس طرح وصیت کے وقت حاضر ہونے اور موت کے وقت غائب رہنے کا فلسفہ سمجھ میں آتاہے ۔
خط کو پڑھ کر یزید نے یہ کہا :
جاء البرید بقرطاس یخب به
فاوجس القلب من قرطاسه فزعا
قلنا لک الویل ما ذافی کتابکم؟
کأنّ اغبرمن ا ر کانها ا نقطعا
من لا تزل نفسه توفی علی شرف
توشک مقالید تلک النفس ان تقعا
لماانتهیناوباب الدارمنصفق
وصوت رمله ریع القلب فانصدعا(١)
نامہ بر شتاباں خط لے کر آیا، جس کی وجہ سے دل بیتاب اور ہراساں ہوگیا ،میں نے اس سے کہا وائے ہو تجھ پر تیرے اس خط میں کیا پیغام ہے، گویا زمین اپنے ارکان سے جدا ہو گئی ہے ،اس نے کہا حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ بستر علالت پر ہیں ، یہ سن کر میں نے کہا:جس کی حیات شرافت و درستی سے عجین ہے قریب ہے کہ اس کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے، جب پہنچاتو گھر کا دروازہ بند تھا اور دل رملہ کے نالہ و شیوان سے پھٹنے لگا ۔
یزید کا خط ولید کے نام
یزید نے ماہ رجب میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ اس وقت مدینہ کا حاکم ولید بن عتبہ بن ابو سفیان،(٢) مکہ کا حاکم عمر بن سعید بن عاص ،(٣) کوفہ(٤) کا حاکم نعمان بن بشیر انصاری ،(٥) اور بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد(٦) تھا۔
____________________
١۔طبری ،ج٥،ص٣٢٧ ۔یہ روایت ہشام بن محمد سے ابی مخنف کے حوالے سے نقل ہوئی ہے کہ ابو مخنف نے کہا کہ مجھ سے عبد الملک بن نوفل بن مساحق بن عبداللہ بن مخرمہ نے روایت کی ہے کہ اسی نے کہا :'' لما مات معاویہ خرج ...''جب معاویہ کو موت آئی تو وہ نکلا
٢۔ ٥٨ھ میں یہ معاویہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم مقرر ہوا ۔(طبری، ج ٥ ،ص ٣٠٩) جب اس نے امام حسین علیہ السلام کے سلسلے میں سستی کا مظاہرہ کیا تو یزید نے اس سال اسے معزول کر کے عمر وبن سعید اشدق کو مدینہ کا حاکم بنا دیا۔(طبری، ج ٥،ص ٣٤٣) اس کا باپ عتبہ صفین میں معاویہ کے لشکر کے ساتھ تھا اور اس کے دادا کو حضر ت علی علیہ السلام نے فی النار کیا تھا ۔(وقعہ صفین، ص ١٧) آخری موضوع جو تاریخ طبری میں اس شخص کے سلسلے میں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ یزید کی ہلا کت کے بعد ضحاک نے لوگو ں کو ابن زبیر کی بیعت کے لئے بلا یا تو ولید نے اسے گا لیا ں دی ں جس پر ضحاک نے اس کو قید کردیا۔ (طبری ،ج٥،ص٥٣٣) تتمتہ المنتھی کے ص٤٩ پر محدث قمی فرماتے ہیں کہ معاویہ بن یزید بن معاویہ کے جنازہ پر نماز پڑھتے وقت ولید پر حملہ کیا گیا اور اسی حملہ میں وہ مرگیا ۔
٣۔ماہ رمضان ٦٠ھ میں یزید نے اسے مدینہ کا گورنر بنا یا پھر مو سم حج کی سر براہی بھی اسی کے سپرد کی۔ اس نے ٦٠ھ میں حج انجام دیا ۔یہ مطلب اس روایت کی تا یید کرتا ہے جس میں اس طرح بیان ہو اہے : '' ان یزید اوصاہ بالفتک بالحسین اینما وجد ولو کان متعلقا با ستا ر الکعبہ'' یزید نے اپنے اس پلید عنصر کو حکم دیا کہ حسین کو جہا ں پاؤ قتل کر دو چاہے وہ خانہ کعبہ کے پر دہ سے کیو ں نہ لپٹے ہو ں ۔
خالد بن معاویہ بن یزید (جو مروان بن حکم کے بعد حاکم بناتھا) کے بعد عمروبن سعید اموی۔ حکمرانی کے لئے نا مزد ہوا ۔. بیعت کے مراسم مقام ''جو لان''میں اداکئے گئے جو دمشق اوراردن کے درمیان ہے۔بیعت کا یہ جشن ٤یا ٥ ذی قعدہ ٦٤ ھ چہار شنبہ یا پنجشنبہ کے دن منایا گیا۔ یہ واقعہ معاویہ بن یزید کی ہلا کت کے بعد ہوا اور اسی دن سے دمشق کی حکو مت عمروبن سعید کے ہا تھو ں میں آگئی ۔
پھر جب ضحاک بن قیس فہری دمشق سے ان لوگو ں کی طرف نکلا تا کہ لوگو ں کو اپنی طرف یا ابن زبیر کی طرف دعوت دے اور مروان نے ارادہ کیا کہ اس سے نبرد آزمائی کرے تو عمروبن سعید میمنہ پر تھا (طبری، ج٥،ص ٢٢٧) پھر اس نے مروان کے لئے مصر کو فتح کیا اور مصعب بن زبیر سے فلسطین میں جنگ کی یہا ں تک کہ اسے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔(طبری ،ج٥،ص٥٤٠) وہا ں سے لوٹ کر جب یہ مروان کے پاس آیا تو مروان کو معلوم ہوا کہ حسان بن بجدل کلبی جو یزید بن معاویہ کا مامو ں اور قبیلۂ بنی کلاب کا بزرگ تھا(یہ وہی شخص ہے جس نے لوگو ں کو مروان کی بیعت کے لئے برا نگیختہ کیا تو لوگو ں نے اس کی بیعت کی) اس نے خود جا کر لوگو ں سے عمروبن سعید کے لئے بیعت لی ۔یہ خبر سنتے ہی مروان نے حسان کو بلا یا اور جو بایت ں اس تک پہنچی تھی ں اس سے با خبر کرایا تو حسان نے انکار کر تے ہوئے کہا :'' انا اکفیک عمرواً ''میں عمرو کے لئے تنہا ہی کا فی ہو ں پھر جب رات کے وقت لوگ جمع ہوئے تو وہ تقریر کے لئے اٹھا اور لوگو ں کو مروان کے بعد عبد الملک کی بیعت کے لئے دعوت دی۔ اس پر لوگو ں نے اس کی بیعت کی۔ ٦٩ھ یا ٧٠ ھیا ٧١ھ میں عبدالملک بن مروان زفر بن حارث کلابی سے جنگ کے ارادہ سے باہر نکلا یا دیرجا ثلیق کی طرف گیا تاکہ مصعب بن زبیر سے جنگ کرے اور دمشق میں اپنا جانشین عبد الرحمن ثقفی کو بنا یا تو اشدق نے عبدالملک سے کہا :'' انک خارج الی العراق فاجعل لی ہذا الا مرمن بعدک '' آپ عراق جا رہے ہیں لہٰذا اپنی جگہ پر مجھے جا نشین بنادیجئے ۔اس کے بعد اشدق دمشق پہنچا تو ثقفی وہا ں سے بھاگ گیا ،پھر جب عبدالملک دمشق پہنچا تو اس نے صلح کرائی اس کے بعد وہ دمشق میں داخل ہوا پھر اسی نے راتو ں رات اپنے ہی محل میں اسے اپنے ہاتھو ں سے قتل کردیا ۔ (طبری ،ج٥،ص ١٤٠۔ ١٤٨) اس کا باپ سعید بن عاص وہی ہے جو عثمان کے دور حکومت میں کوفہ کا گورنر تھا اور شراب پیتا تا ، اہل کوفہ نے اس کی عثمان سے شکایت کی لیکن اسکے باوجودبھی وہ شراب نوشی کی عادت سے باز نہیں آیا لہٰذا امیر المومنین علی علیہ السلام نے اس پر حد جاری کی ۔
مجمع الزواید، ج ٥، ص ٦٤٠ پر ابن حجر ہیثمی نے اور تطہیر الجنان میں لکھا ہے کہ ابو ہر یرہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کو کہتے سنا ہے :'' لیر فعن علی منبری جبارمن جبا برة بنی امیہ فیسیل رعافة'' بنی امیہ کے ظالم وجابر حکمرانو ں
میں سے ایک جبار کی نکسیر میرے منبر پر پھو ٹے گی اور اس کا خون جاری ہوگا ۔. پیغمبر اسلام کی یہ پیشین گوئی عمروبن سعید کے سلسلے میں سچی ثابت ہوئی کیو نکہ اس کی نکسیر اس وقت پھو ٹی جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کے منبر پر بیٹھا تھا یہا ں تک کہ اس کا خون جاری ہونے لگا ۔
٤۔ ''جلو لا ئ'' میں مسلمانو ں کو کا میابی ملنے کے بعد سپہ سالا ر لشکر سعد بن ابی وقاص نے عمر کو خط لکھا جس کا. عمر نے اس طرح جواب دیا : '' ابھی وہیں رہو اور لوگو ں کی بات نہ سنو اوراسے مسلمانو ں کے لئے دار ہجرت اور منزل جہاد قرار دو! '' توسعد نے مقام ''انبار'' پر پڑائو ڈالا لیکن وہا ں فوج شدید بخار میں گر فتارہو گئی تو سعد نے خط لکھ کر عمر کو با خبر کیا؛عمر نے سعد کو یہ جواب دیا : عرب کے لئے وہی زمین مناسب ہے جہا ں اونٹ اور بکریا ں آرام سے رہ سکی ں لہٰذا ایسی جگہ دیکھو جو دریا کے کنا رے ہو اور وہیں پڑائوڈال دو ۔سعد وہا ں سے چل کر کوفہ پہنچے، (طبری ،ج٣،ص ٥٧٩) کوفہ کے معنی ریتیلی اور پتھر یلی زمین ہے (طبری ،ج٣،ص ٦١٩) جہا ں فقط سرخ ریت ہوتی ہے اسے ''سہلہ '' کہتے ہیں اور جہا ں یہ دونو ں چیز ی ں ملی ہو ں اسے ''کوفہ '' کہتے ہیں ۔ (طبری، ج ٤،ص ٤١) کوفہ میں ٣ دیر تھے : دیر حرقہ ، دیر ام عمرو اور دیر سلسلہ۔(طبری ،ج٤،ص ٤١)ان مسلمانو ں نے محرم ١٧ ھ میں نرکل اور بانس سے مکان تیار کیا لیکن کچھ دنو ں کے بعد شوال کے مہینہ میں ایک بھیانک آگ نے سارے کوفہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جسکی وجہ سے ٨٠ سائبان نذر آتش ہو گئے اور تمام نرکل اور بانس کے بنے ہوئے مکان جل گئے۔ اس حالت کو دیکھ کر سعد نے ایک آدمی کو عمر کے پاس بھیجا تا کہ وہ اس بات کی اجازت لے کر آئے کہ یہا ں اینٹ کے مکانات تعمیر ہو سکی ں ۔ عمر نے کہا : اسے انجام دو لیکن خیال رہے کہ ہر گھر میں ٣ کمرو ں سے زیادہ نہ ہو ں اور اس سلسلے میں کو ئی زیادہ روی نہ ہو ۔اس وقت گھرو ں کی تعمیر کا ذمہ دار ابوالھیاج تھا، لہٰذا سعد نے عمر کے بتائے ہوئے نقشہ کو اس کے سامنے پیش کیا اور درخواست کی کہ اس روش کے مکا نات تعمیر کرائے۔ اس طرح اس شہر کی تعمیر نو کا آغاز ہوا جس کا نام کو فہ ہے ۔ عمر نے اپنے نقشہ میں لکھا تھا کہ اصلی شاہراہ ٤٠ ذراع ہو اور اس کے اطراف کی سڑ کی ں اہمیت کے اعتبار سے ٢٠ اور ٣٠ ذراع ہو ں ۔ اسی طرح گلیا ں ٧ میٹر ہو ں ، لہٰذ ا انجینیر و ں کی ایک کمیٹی نے بیٹھ کر مشورہ کر نے کے بعد کام شروع کیا ۔ ابو الہیاج نے سب کے ذمہ کا م تقسم کر دیا سب سے پہلے جو چیز کو فہ میں بنائی گئی وہ مسجد ہے۔مسجد کے اطراف میں بازار بنایا گیا جس میں کھجور اور صابون بیچنے والے رہنے لگے اس کے بعد ایک بہترین تیر انداز درمیان سے اٹھا اور اس نے داہنی طرف ، آگے اور پیچھے تیر پھینکا اور حکم دیا کہ جو چاہے تیر کے گرنے کی جگہ کے آگے سے اپنے اپنے گھر بنالے اور مسجد کے آگے ایک سائبان بنایا گیا جو سنگ مرمر کا تھا اور کسریٰ سے لایا گیا تھا۔ اس کی چھت رومیو ں کے کنیسہ جیسی تھی۔ بیچ میں ایک خندق کھودی گئی تا کہ مکان بنانے میں آگے پیچھے نہ کر سکی ں ۔ سعد کے لئے ایک ایسا گھر بنایا گیا جس کا ایک راستہ دوسوذراع کا بنایا گیا جو نقیبو ں کے لئے تھا جس میں بیت المال بنائے گئے۔ یہی قصر کوفہ کہا جا تا ہے جسے ''روز بہ ''نے مقام ''حیرة'' سے اینٹی ں لا کر کسری جیسی عمارت بنائی تھی۔ (طبری، ج٤ ،ص ٤٤۔٤٥) سعد نے اس محل میں سکونت اختیار کی؛ جو محراب مسجد سے متصل تھا اور اسی میں بیت المال رکھا اور اس پر ایک نقیب (نگرا ں) کو معین کیا جو لوگو ں سے اموال لیتا تھا۔ ان تمام مطالب کی روداد سعد نے عمر تک پہنچائی ۔اس کے بعد مسجد کو منتقل کیا گیا اور
اس کی عمارت کو قصر کی اینٹو ں کو توڑ کر بنایا گیا جو مقام ''حیرة ''میں کسری کی طرح تھا اور قصر کے آخر میں قبلہ کی طرف بیت المال قرار دیا گیا۔ اس طرح مسجد کا قبلہ قصر کے داہنی طرف تھا اور اسکی عمارت مرمری تھی جس کے پتھر کسری سے لائے گئے تھے۔(طبری ،ج٤ ، ص٦٤)مسجد کے قبلہ کی طرف ٤راستے بنائے گئے اور اس کے پچھم ، پورب٣٣سڑکی ں بنائی گئی ں ۔مسجد اور بازار سے ملی ہوئی جگہ پر ٥سڑکی ں بنائی گئی ں ۔ قبلہ کی سڑک کی طرف بنی اسد نے مکان بنانے کے لئے انتخاب کیا۔ اسد اور نخع کے درمیا ن ایک راستہ تھا ، نخع اور کندہ کے درمیان ایک راستہ تھا ۔کندہ اور ازد کے درمیان ایک راستہ تھا۔صحن کے شرقی حصہ میں انصار اور مزینہ ر ہنے لگے، اس طرح تمیم اور محارب کے درمیان ایک راستہ تھا ۔ اسد اور عامر کے درمیان ایک راستہ تھا ۔ صحن کے غر بی حصہ میں بجلہ اور بجیلہ نے منزل کے لئے انتخاب کیا۔ اسی طرح جد یلہ اور اخلا ط کے درمیان ایک راستہ اور سلیمان و ثقیف کے درمیان دو راستے تھے جو مسجد سے ملے ہوئے تھے۔ہمدان ایک راستہ پر اور بجیلہ ایک راستہ پر تھے ، اسی طرح تمیم اور تغلب کا ایک راستہ تھا۔یہ وہ سڑکی ں تھی ں جو بڑی سڑکی ں کہی جاتی تھی ں ۔ ان سڑ کو ں کے برابر کچھ اور سڑکی ں بنائی گئی ں پھر ان کو ان شاہراہو ں سے ملا دیا گیا۔ یہ دوسری سڑکی ں ایک ذراع سے کم کے فا صلہ پر تھی ں ۔اسی طرح اس کے اطراف میں مسافرین کے ٹھہرنے کے لئے مکانات بنائے گئے تھے ۔وہا ں کے بازارمسجدو ں کی روش پر تھے جو پہلے آ کر بیٹھ جاتاتھا وہ جگہ اسی کی ہوجاتی تھی یہا ں تک کہ وہا ں سے اٹھ جائے یا چیزو ں کے بیچنے سے فارغ ہوجائے(طبری ،ج٤، ص ٤٥ ۔ ٤٦) اور تمام دفاعی نظام بھی بر قرار کئے گئے، منجملہ ٤ ہزار تیز رفتار گھوڑے بھی رکھے گئے۔ اس طرح شہر کو فہ مسلمانو ں کے ہا تھو ں تعمیر ہو ا۔
٥۔ نعمان مدینہ میں قبیلہ ء خزرج کی ایک فرد تھا ۔شیخ طوسی نے'' رجال'' میں ص٣٠ پر اسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے اصحاب میں شمار کیا ہے اور طبری نے ج ٤،ص ٤٣٠ پر اسے ان لوگو ں میں شمار کیا ہے جنہو ں نے عثمان کے قتل کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بیعت سے سر پیچی کی ہے۔اس کے بعد یہ معاویہ سے ملحق ہو گیا اور جنگ صفین میں اسی کے ہمراہ تھا۔ اس کے بعد معاویہ نے ایک فوج کے ساتھ اسے'' عین التمر''شب خون کے لئے بھیجا۔ اس مطلب کو طبری نے ٣٩ ھکے واقعات ج ٥، ص ١٣٣ پر لکھا ہے پھر ٥٨ھ میں معاویہ نے اسے کوفہ کا والی بنادیا ۔ یہ اس عہدہ پر باقی رہا یہا ں تک کہ معاویہ کیفر کر دار تک پہنچ گیا اور یزید نے مسند سنبھالی ۔ آخر کا ر اس کی جگہ پر یزید کی جانب سے ٦٠ ھمیں عبید اللہ بن زیاد نے گورنر ی کی با گ ڈور سنبھا لی۔اب نعما ن نے یزید کی راہ لی اور امام حسین علیہ السلام کے قتل ہو نے تک اسی کے پاس رہا ۔ پھر یزیدکے حکم پر اہل حرم کے ہمراہ مدینہ گیا (طبری ،ج٥،ص٤١٢) وہا ں سے شام لو ٹ کر یزید کے پاس رہنے لگا یہا ں تک کہ یزید نے اسے پھر مدینہ بھیجاتاکہ وہ انصار کو عبداللہ بن حنظلہ سے دور رہنے کا مشورہ دے اور یزیدکی مخالفت سے ا نہیں ڈرائے دھمکائے لیکن انصار نے ایک نہ سنی۔ (طبری ،ج٥،ص٤٨١ا)
٦۔ ٢٠ھ میں عبیداللہ بن زیاد پیدا ہوا ۔(طبری، ج٥، ص ٢٩٧) ٤١ھ میں بسربن ارطاة نے بصرہ میں اسے اس کے دو بھائیو ں عباد اور عبدالرحمن کے ہمراہ قید کرلیا اور زیاد کے نام ایک خط لکھاکہ یا تم فورا ً تم معاویہ کے پاس جائویا میں تمہارے بیٹو ں کو قتل کردو ں گا۔(طبری ،ج٥ ،ص ١٦٨)٥٣ھ میں زیاد مر گیا ۔(طبری، ج٥،ص٢٨) اس کے بعد اس کا بیٹا عبید اللہ معاویہ کے پاس گیا ۔ معاویہ نے ٥٤ھ میں اسے خراسان کا گورنر بنادیا۔ (طبری ،ج ٥،ص٢٩٧) اس کے بعد ٥٥ھ میں بصرہ کا والی مقررکردیا ۔ خراسان سے نکل کر بصرہ جاتے وقت اس نے اسلم بن زرعہ کلابی کواپنا جا نشین بنا یا۔(طبری ،ج٥ ،ص٣٠٦) جس زمانے میں خراسان میں اس نے کوہ نجاری پر حملہ کیا اور اس کے دو شہر رامیشتہ اوربیر جند کو فتح کرلیا اسی وقت اپنے سپاہیو ں میں سے دوہزارتیر اندازو ں کو اس نے لیا اور ان کی تربیت کے بعد انہیں اپنے ساتھ لیکر بصرہ روانہ ہوگیا۔ (طبری، ج ٥،ص ٢٩٨) اس کا ایک بھائی عباد بن زیاد، سجستان کا گورنر تھا اوردوسرابھائی عبدالرحمن بن زیاد اپنے بھائی عبیداللہ ہی کے ہمراہ خراسان کی حکمرانی میں تھا ،وہ اس عہدہ پر دو سال تک رہا (طبری ،ج٥ ،ص٢٩٨) پھر کرمان کی حکومت کو بھی عبیداللہ بن زیاد نے ہی سنبھال لیا اور وہا ں اس نے شریک بن اعورحارثی ہمدانی کو بھیج دیا۔ (طبری، ج٥ ،ص٣٢١) یزید نے عباد کو سجستان سے اور عبدالرحمن کو خراسان سے معزول کرکے ان کے بھائی سلم بن زیاد کو گورنربنادیااورسجستان اس کے بھائی یزید بن زیاد کو بھیج دیا (طبری، ج٥ ،ص٤٧١)پھر اسے کو فہ کی گورنری بھی ٦٠ھ میں دیدی او بصرہ میں اس کے بھائی عثمان بن زیاد کو حاکم بنادیا۔ (طبری ،ج٥،ص٣٥٨) جب امام حسین کی شہادت ہوئی تو یہ ملعون ٤٠سال کا تھا اور اس عظیم واقعہ کے بعد یہ ١ ٦ھمیں پھر کوفہ سے بصرہ لوٹ گیا۔ جب یزید اوراس کا بیٹا معاویہ ہلاک ہوگیا تو بصرہ والو ں نے اس کی بیعت کرلی اور اسکو خلیفہ کہنے لگے لیکن پھر اس کی مخالفت کرنے لگے تویہ شام چلاگیا (طبری ،ج ٥،ص٥٠٣) اس سفر میں اس کے ساتھ اس کا بھائی عبداللہ بھی تھا۔ یہ ٦٤ھکا واقعہ ہے۔ (طبری ،ج ٥،ص ٥١٣) وہا ں اس نے مروان کی بیعت کی ور اس کو اہل عراق کے خلاف جنگ کے لئے اکسایا تو مروان نے اسے ایک فوج کے ساتھ عراقیو ں کے خلاف جنگ کے لئے بھیجا۔ (طبری ،ج٥،ص٥٣) وہا ں اس نے تو ابین سے جنگ کی اور ان کو ہرادیا یہ واقعہ ٦٥ھ کا ہے۔ (طبری، ج٥،ص ٥٩٨)پھر ٦٦ھ میں جناب مختار سے نبرد آزما ہوا (طبری ،ج٦، ص٨١) اور اسی میں اپنے شامی ہمراہیو ں کے ساتھ ٦٧ ھمیں قتل کردیا گیا۔ (طبری، ج ٦، ص ٨٧)
لیکن یزید نے جب زمام حکومت سنبھالی تو اس کا سارا ہم و غم یہ تھا کہ ان لوگوں سے بیعت حاصل کرے جنہوں نے اس کے باپ معاویہ کی درخواست کو یزید کی بیعت کے سلسلے میں ٹھکرادیا تھا اور کسی طرح بھی یزید کی بیعت کے سلسلہ میں اپناہاتھ دینا نہیں چاہتے تھے ،لہٰذاآسودہ خاطرہونے کے لئے اس نے مدینہ کے گورنر ولید کو ایک خط اس طرح لکھا :'' بسم اللّه الرحمن الرحیم ، من یزید امیر المؤمنین الی الولید بن عتبه ...اما بعد: فان معاوية کان عبدامن عباداللّه ، اکرمه اللّه و استخلفه، و خوله و مکن له فعاش بقدر ومات باجل،فرحمه اللّه !فقد عاش محموداً! ومات برّاً تقیا! والسلام ''
یزید امیر المومنین کی طرف سے ولید بن عتبہ کے نام، امابعد ...حقیقت یہ ہے کہ معاویہ خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا جس کو خدا نے مورد احترام و اکرام قرار دیا اور خلافت و اقتدار عطا فرمایا اور بہت سارے امکانات دئیے ۔ان کی زندگی کی جتنی مد ت تھی انھوں نے اچھی زندگی بسر کی اور جب وقت آگیاتو دنیا چھوڑ کر چلے گئے۔ خدا ان کو اپنی رحمت سے قریب کرے ۔انھوں نے بڑی اچھی زندگی بسر کی اورنیکی اور شائستگی کے ساتھ دنیا سے گزر گئے۔ والسلام
پھر ایک دوسر ے کا غذ پر جو چوہے کے کان کی طرح تھا یہ جملے لکھے :
'' اما بعد فخذ حسینا و عبد اللّه بن عمر و عبداللّه بن زبیر با لبیعة اخذا شدیدًالیست فیه رخصة حتی یبا یعوا، والسلام'' ( ١)
اما بعد ، حسین بن علی ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر سے سختی کے ساتھ مہلت دیئے بغیر فوراً بیعت حاصل کرو ۔ والسلام
معاویہ کی خبر مرگ پاتے ہی(٢) ولید نے فوراً مروان بن حکم(٣) کو بلوا یا تا کہ اس سلسلے میں اس سے مشورہ کر سکے ۔(٤)
____________________
١۔ طبری، ج٥،ص ٣٣٨ ، اس خبر کو طبری نے ہشام کے حوالے سے اور ہشام نے ابو مخنف کی زبانی نقل کیا ہے۔یہ ان متعدد روایتو ں میں سے پہلی روایت ہے جنہیں طبری نے آپس میں ملادیا ہے اور ہر روایت کے شروع میں ''قال '' کہا ہے۔ یہ تمام روایتی ں ابو مخنف کی طرف مستند ہیں ۔
طبری کی روایت میں ہشام کے حوالے سے ابو مخنف سے یہی جملہ نقل ہوا ہے جس میں فقط شدت اور سختی کا تذکر ہ ہے ، قتل کا ذکر نہیں ہے۔ہشام کے حوالے سے سبط بن جوزی کی روایت میں بھی یہی الفاظ نقل ہوئے ہیں ۔ (ص ٢٣٥) ارشاد کے ص ٢٠٠ پر شیخ مفید نے بھی اسی جملہ کا تذکرہ کیا ہے جس میں ہشام اور مداینی کا حوالہ موجود ہے لیکن یعقوبی نے اپنی تا ریخ میں ج ٢،ص ٢٢٩پر خط کا مضمون اس طرح نقل کیا ہے:
''اذ اتاک کتابی هذا فأ حضر الحسین بن علی ، وعبدالله بن زبیر فخذهما با لبیعة ، فان امتنعا فا ضرب أعنا قهماوابعث الیّ برؤوسهما،وخذ الناس بالبیعة ، فمن امتنع فأ نفذ فیه الحکم، وفی الحسین بن علی و عبدالله بن زبیر، والسلام''
جیسے ہی تم کو میرا خط ملے ویسے ہی حسین بن علی اور عبداللہ بن زبیر کو حاضر کرو اور ان دونو ں سے بیعت حاصل کر! اگر انکار کری ں تو ان کی گر دن اڑادواور ان کے سر ہمارے پاس بھیج دو! لوگو ں سے بھی بیعت لو اور انکا ر کرنے پر ان کے ساتھ بتائے ہوئے حکم پر عمل کرو! وہی جو حسین بن علی اور عبداللہ بن زبیر کے بارے میں بتایا ہے ۔ والسلام
خوا رزمی نے اپنے مقتل کے ص١٨٠ پر ابن اعثم کے حوالے سے خط کو نقل کیا ہے ۔ یہ خط بعینہ طبری کی ہشام کے حوالے سے منقول روایت کی طرح ہے فقط اس جملہ کا اضافہ کیاہے : ...ومن ابی علیک منہم فاضرب عنقہ و ابعث الیّ براسہ ، ان میں سے جو انکا ر کرے اس کا سر کاٹ کر فوراً میرے پاس روانہ کرو !یزید کا یہ خط ولید کو ٢٦ جب شب جمعہ کو موصول ہوا تھا جیسا کہ امام حسین علیہ السلام کے مدینہ کو الوادع کہنے کی تا ریخ سے یہی اندازہ ہوتا ہے ۔
٢۔ مورخین نے اس بات کی صراحت نہیں فرمائی ہے کہ یزید نے یہ خط کب لکھا اور کب قاصد کو مدینہ کے لئے روانہ کیا تا کہ اس بات کا اندازہ ہو سکے کہ شام سے مدینہ کی مسافت میں کتنا وقت لگا۔ ہا ں طبری نے (ج٥، ص، ٤٨٢)پر ہشا م کے حوالے سے ابو مخنف سے جو روایت نقل کی اس سے ہم کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں ، کیو نکہ عبد الملک بن مروان نے یزید کو جو خط لکھا تھا کہ ہم لوگ مدینہ میں محصورہیں لہٰذ ا فوج بھیجو جس کے نتیجے میں واقعہ حرہ سامنے آیا اس میں یہ ملتا ہے کہ قاصد کو آمدورفت میں ٢٤ دن لگے؛ بارہ دن جانے میں اور ١٢ دن واپس لوٹنے میں ۔ اس وقت یہ قاصد کہتا ہے کہ اتنے دنو ں کے بعد میں فلا ں وقت عبد الملک بن مروان کے پاس پہنچا، اس کے علاوہ طبری کے دوسرے بیان سے بھی کچھ اندازہ لگتا ہے کیو نکہ طبری نے ج ٥،ص ٤٩٨ پر واقدی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یزید ١٤ ربیع الاول ٦٤ ھ کوواصل جہنم ہوا اور مدینہ میں اس کی خبر مرگ ربیع الآ خر کے شروع میں موصول ہوئی۔ اس کا مطلب ہوا کہ یزید کی ہلاکت کی خبر ١٦ دنو ں بعد ملی ۔
٣۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس کے باپ حکم بن عاص کے ہمراہ مدینہ سے باہر نکال دیاتھا ،کیو نکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذاق اڑایاکرتا تھا ، لیکن عثمان نے اسے اپنی حکومت میں جگہ دی اور اپنی بیٹی نائلہ کی اس سے شادی کردی اور افریقا سے مصالحت کے بعد جو ایک خطیر رقم آئی تھی جس کا ایک حصہ ٣٠٠ قنطار سو نا تھاوہ اسے دیدیا (طبری، ج٤،ص ٢٥٦) اور اسنے ان اموال کی مددسے نہر مروان کی خریداری کی جو تمام عراق میں پھیلی ہوئی تھی (طبری ،ج٤،ص٢٨٠) اس کے علا وہ مروان کو ١٥ ہزار دینار کی ایک رقم اور دی (طبری، ج٤، ص ٣٤٥) سب سے بری بات جو ہوئی وہ یہ کہ عثمان ، مروان کے ہاتھو ں کی کٹھ پتلی بن گئے۔ وہ جو چاہتا تھا یہ وہی کرتے تھے۔ اسی مسئلہ میں امیر المو منین علی علیہ السلام نے عثمان کوخیر خواہی میں سمجھا یا تھا ۔جب عثمان کا محا صرہ ہوا تو عثمان کی طرف سے اس نے لڑنا شروع کیا جس کے نتیجے میں خود اس پر حملہ ہوا پھر لوگو ں نے اس کے قتل کا ارادہ کیالیکن ایک بوڑھی دایہ جس نے اسے دودھ پلا یا تھا مانع ہو گئی اور بولی : اگر تم اس آدمی کو مارنا چاہتے ہو تو یہ مر چکا ہے اور اگر تم اس کے گوشت سے کھیلنا چاہتے ہو تو بری بات ہے (طبری ،ج٤ ،ص ٣٦٤) وہا ں سے اس کا غلام ابو حفصہ یمانی اسے اٹھا کر اپنے گھر لے گیا۔ (طبری، ج٤،ص ٣٨٠) اسی واقعہ کے بعد مروان کی گردن ٹیڑھی ہو گئی تھی اور آخر وقت تک ایسی ہی رہی۔ (طبری، ج٤،ص٣٩٤)
یہ شخص جنگ جمل میں شریک تھا اور دونو ں نمازو ں کے وقت اذان دیا کر تاتھا۔ اسی نے طلحہ پر ایسا تیر چلا یا کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گئے ۔خود بھی یہ جنگ میں زخمی ہوگیا تھا لہٰذا وہا ں سے بھاگ کر مالک بن مسمع غزاری کے یہا ں پہنچااور اس سے پناہ کی درخواست کی اور اس نے درخواست کوقبول کر لیا ۔(طبری ،ج ٤، ص ٥٣٦) جب وہا ں سے پلٹا تو معاویہ سے جاملا۔ (طبری ،ج ٤، ص ٥٤١) معاویہ نے بھی عام الجماعةکے بعد اسے مدینہ کا گورنر بنادیا ۔ ٤٤ھ میں اس نے مسجد میں پیش نماز کی خاص جگہ بنانے کی بدعت رائج کی۔ (طبری ،ج٥،ص٢١٥) اس کے بعد معاویہ نے فدک اس کے سپرد کر دیالیکن پھر واپس لے لیا (ج ٥،ص ٥٣١) ٤٩ھمیں معاویہ نے اسے معزول کر دیا ۔(طبری ،ج٥،ص ٢٣٢) ٥٤ھ میں ایک بار پھر مدینہ کی گو رنری اس کے سپرد کردی۔ ٥٦ھ میں معاویہ نے حج انجام دیا تو وہا ں اس نے چاہا کہ مروان یزید کی بیعت کی تو ثیق کردے (طبری، ج٥،ص٣٠٤) لیکن پھر معاویہ ٥٨ ھ تک اپنے اس ارادے سے منصرف ہو گیا ۔ ٥٦ھ میں ولید بن عتبہ بن ابو سفیان کو مدینہ کا گو رنر بنادیا۔یہی وجہ ہے کہ مروان اس سے ہمیشہ منہ پھلا ئے رکھتا تھا۔(طبری، ج ٥، ص ٣٠٩) جب اہل حرم شام وارد ہو رہے تھے تو یہ ملعون دمشق میں موجود تھا ۔(طبری، ج٥ ،ص ٤٦٥) ٦٢ھ میں واقعہ حرہ کے موقع پر یہ مدینہ ہی میں تھا۔ یہی وہ ملعون ہے جس نے حکو مت سے مدد مانگی تھی تو مدد کے طور پر یزید نے مسلم بن عقبہ المری کو روانہ کیا۔ (طبری، ج٥،ص ٤٨٢) جب اہل مدینہ مسلم بن عقبہ کے سامنے پہنچے تو بنی امیہ نے انہیں مروان کے گھر میں قید کر دیا جبکہ وہ ہزار آدمی تھے پھر ان کو مدینہ سے باہرنکال دیا اور اس نے اپنے اہل وعیال کو چو تھے امام حضرت زین العابدین علیہ السلام کے پاس مقام ینبع میں چھوڑ دیا امام علیہ السلام نے ان کی پر ورش و حمایت کی ذمہ داری لے لی ۔ امام علیہ السلام نے اس زمانے میں مدینہ کو چھو ڑدیا تھا تا کہ ان کے کسی جرم کے گواہ نہ بن سکی ں (طبری ،ج٥،ص ٤٨٥) پھر جب ٦٤ھمیں عبید اللہ بن زبیر اپنے بھائی عبداللہ بن زبیر کی حکو مت میں مدینہ کا گورنر بن گیا تو بنی امیہ مدینہ سے نکل بھاگے اور شام پہنچ کر مروان کے ہاتھو ں پر بیعت کرلی۔ (طبری ،ج٥، ص ٥٣٠) ٦٥ھ میں اس کو موت آگئی۔
٤۔ جب ولید گورنر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد مدینہ پہنچا تو مروان ناراضگی کے اظہار کے ساتھ اس سے ملنے آیا۔جب ولید نے اسے اس حالت میں دیکھا تو اس نے اپنے افراد کے درمیان مروان کی بڑی ملامت کی؛ جب یہ خبر مروان تک پہنچی تو ان دونو ں کے آپسی رشتے اور رابطے تیرو تار ہو گئے۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا یہا ں تک کہ معاویہ کی موت کی خبر لے کر نامہ بر آیا۔ چونکہ یہ موت ولید کے لئے بڑی صبرآزماتھی اور دوسری اہم مشکل جو اس کے سر پر تھی وہ یہ کہ اس خط میں حکم دیا گیا تھا کہ امام حسین علیہ السلام اور دیگر لوگو ں سے بیعت لی جائے لہذاایسی صورت میں اس نے مروان جیسے گھا گ آدمی کا سہارا لیا اور اسے بلوا بھیجا ۔(. طبری، ج٥،ص ٣٢٥)
مروان سے مشورہ
مروان نے جب یزید کا خط پڑھا تو''انّا للّه وانّا الیه راجعون ''کہا اور اس کے لئے دعا ئے رحمت کی۔ ولید نے اس سے اس سلسلے میں مشورہ لیتے ہو ئے پو چھا : ''کیف تری ان نصنع'' تم کیا کہتے ہو ہمیں کیا کر نا چاہیے؟ اس پر مروان نے کہا : میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اسی وقت تم ایک آدمی کو ان لوگوں کے پاس بھیجو اور ان لوگوں سے بیعت طلب کرو اور کہو کہ فوراً مطیع ہو جائیں ؛ اگر وہ اس پر راضی ہو جائیں تو ان سے اسے قبول کرلو اور ان سے دست بر دارہو جاؤ لیکن اگر وہ انکار کریں تو قبل اس کے کہ انہیں معاویہ کی موت کی خبر ملے ان کے سرقلم کردو؛کیو نکہ اگر ان لوگوں کو معاویہ کی موت کی خبر ہو گئی تو ان میں سے ہر ایک ملک کے گو شہ و کنار میں شورش بر پا کر کے قیام کردے گا اور مخالفت کا بازار گرم ہو جا ے گا اور یہ لوگ عوام کو اپنی طرف بلا نے لگیں گے ۔(١)
قاصد بیعت
یہ سنتے ہی ولید نے عبداللہ بن عمرو بن عثمان کو جو ایک نو جوان تھا(٢) امام حسین علیہ السلام اور عبداللہ بن زبیر کی طرف روانہ کیا ۔ اس نے تلاش کرنے کے بعد دونوں لوگوں کو مسجد میں بیٹھا ہواپایا۔ وہ ان دونوں کے پاس گیا اور ان کو ایسے وقت میں ولید کے دربار میں بلایا کہ نہ تو وہ و قت ولید کے عام جلسے کا تھا اورنہ ہی ولید کے پاس اس وقت جایاجاتاتھا۔(٣)
____________________
١۔طبری، ج ٥،ص ٣٩٩ ، اسی روایت کو ہشام نے ابو مخنف سے نقل کیا ہے۔ خوارزمی نے بھی ص١٨١ پر اس کی روایت کی ہے۔
٢۔ یہ شخص٩١ھ تک زندہ رہا ، کیونکہ ولید بن عبد الملک نے جب مدینہ میں بعض قریشیو ں کا استقبال کیا تو یہ موجود تھا (طبری ،ج٦ ، ص٥٦٥) ''القمقام ''کے بیان کے مطابق اس کی وفات ٩٦ھ میں ہوئی اور اس کالقب مطرف تھا ۔(القمقام، ص ٢٧٠)عبدا للہ کا باپ عمرو جوخلیفہ سوم عثمان کا بیٹا ہے یعنی یہ قاصد عثمان کا پوتا تھا ۔اس کی ما ں کا نام ام عمرو بنت جندب ازدی تھا۔ (طبری ،ج٤،ص٤٢٠) طبری نے جلد ٥، ص ٤٩٤ پر لکھا ہے کہ اس کی ما ں قبیلۂ''دو س'' سے تھی ۔مسلم بن عقبہ نے واقعہ حرہ میں اسے بنی امیہ سے بے وفائی میں متہم کیا۔ جب اسے مسلم بن عقبہ کے پاس لایاگیاتو اس نے عبداللہ بن عمرو کی بڑی مذمت کی اور حکم دیا کہ اس کی داڑھی کو نوچ ڈالا جائے ۔
٣۔وقت کے سلسلے میں ابو مخنف کی خبر اس حد تک ہے کہ ''لم یکن الولید یجلس فیھا للناس'' ایسے وقت میں
بلایا کہ جب کوئی عمومی جلسے کا وقت نہ تھا ، لیکن یہ رات کا وقت تھا یا دن کا اس کی کوئی تصریح نہیں ہے؛ لیکن اس روایت میں کچھ ایسے قرائن موجود ہیں جس سے وقت کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ ٢٦ رجب جمعہ کے دن صبح کا واقعہ ہے۔
(الف)۔ روایت کا جملہ یہ ہے''فارسل ..الیهما یدعو هما فآتاهما فوجد هما فی المسجد فقال : اجیبا ا لأ میر یدعوکما فقالا له : انصرف ، الأن ناتیه'' ۔ ولید نے اسے ان دونو ں کی طرف بلانے کے لئے بھیجا۔ قاصد نے تلاش کرتے ہوئے ان دونو ں کو مسجدمیں پایا تو کہنے لگا:امیر نے تم دونو ں کو بلا یا ہے۔ اس پر ان دونو ں نے کہاکہ تم چلوہم ابھی آتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دونو ں کو ایک ہی وقت میں بلایا گیا تھا ۔ ابن زبیر سے ایک دوسری خبر میں یہ ہے کہ اس نے کہا : ہم ابھی آتے ہیں لیکن وہ وہا ں سے اٹھ کر اپنے گھر آیا اور چھپ گیا۔ ولید نے پھر دوبارہ قاصد کو بھیجا تو اسے اپنے ساتھیو ں کے درمیان پایا۔ اس نے مسلسل تین یا چار با قاصدو ں کو بھیج کر بے حد اصرار کیا تو اس پر ابن زبیر نے کہا : ''لاتعجلونی ، امھلونی فانی آتیکم'' ا تنی جلدی نہ کرو تھوڑی سی مہلت دو ،میں بس آہی رہا ہو ں ۔ اس پر ولید نے پانچوی ں مرتبہ اپنے گرگو ں کو بھیج کر اسے بلوایا ۔وہ سب آکر ابن زبیر کو برا بھلا کہنے لگے اور چیخ کر بولے :''یا بن الکاهلیه! واللّه لتاتینّ الامیر او لیقتلنّک' 'اے کاہلہ کے بیٹے تو فورا امیر کے پاس آجا ورنہ وہ تیرا سر کاٹ دے گا۔ اس کے بعد ابن زبیر نے وہ پورا دن اور رات کے پہلے حصے تک وہا ں جانے سے گریز کیا اور وہ ہر وقت یہی کہے جاتا تھا کہ ابھی آتا ہو ں ؛ لیکن جب لوگو ں نے اسے برانگیختہ کیا تو وہ بولا : خدا کی قسم میں اتنے قاصدو ں کی آمد سے پریشان ہوگیا ہو ں اور اس طرح پے در پے لوگو ں نے میرا جینا حرام کردیا ہے لہٰذاتم لوگ اتنی جلدی نہ کرو تاکہ میں امیر کے پاس ایک ایسے شخص کوبھیجو ں جو ان کا منشاء اور حکم معلوم کر آئے۔ اس کا م کے لئے اس نے اپنے بھائی جعفر بن زبیر کو روانہ کیا۔ جعفر بن زبیر نے وہا ں جا کر کہا : رحمک اللہ : اللہ آپ پر رحم کرے آپ عبداللہ سے دست بردار ہوجائیے ۔ آپ نے قاصدو ں کو بھیج بھیج کر ان کا کھانا پانی حرام کر دیا ہے،ان کا کلیجہ منہ کو آرہاہے، انشاء اللہ وہ کل خود آجائی ں گے۔ آپ اپنے قاصد کو لوٹالیجئے اور اس سے کہیے کہ ہم سے منصرف ہوجائے۔ اس پر حاکم نے شام کے وقت وہا ں سے لوگو ں کو ہٹالیا اور ابن زبیر راتو ں رات مدینے سے نکل گیا۔ گذشتہ سطرو ں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ولید کا قاصد صبح میں آیا تھا ، بلکہ واضح طور پر ذکر ہے کہ یہ سارے امور صبح میں انجام پائے کیونکہ عبارت کا جملہ یہ ہے : ''فلبث بذالک نھارہ و اول لیلہ '' اس کے بعد ابن زبیر دن بھر اور رات کے پہلے حصے تک تھما رہا چونکہ امام علیہ السلام اور ابن زبیر کو ایک ہی ساتھ بلایا گیا تھا لہٰذا امام علیہ السلام کو بلائے جانے کا وقت بھی وقت صبح ہی ہوگا ۔
(ب)روایت میں یہ جملہ موجود ہے ''فالحوا علیھما عشیتھما تلک و اول لیلھما '' ان لوگو ں کو شام کے وقت اور شب کے پہلے حصے میں پھر بلوایا گیا۔اس جملہ سے بعض لوگو ں نے یہ سمجھا کہ امام علیہ السلام کو عصر کے وقت بلایا گیا تھا؛ لیکن یہ ایک وہم ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اس جملہ میں جو ایک کلمہ موجود ہے وہ اس کی نفی کرتا ہے کیونکہ ، فألحواعلیھما''میں الحاح اصرار کے معنی میں استعمال ہواہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے صبح کے وقت بلا یا گیا پھر اصرار اور تکرار دعوت میں شام سے رات
ہوگئی۔ خود یہ عبارت اس بات کوبیا ن کرتی ہے کہ یہ دعوت دن میں تھی، رات میں نہیں ۔
(ج) ابومخنف نے عبدالملک بن نوفل بن مساحق بن مخرمہ سے اور انھو ں نے ابو سعید مقبری سے نقل کیا ہے کہ ہم نے امام حسین علیہ السلام کو مسجد النبی میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ ابھی دو دن بھی نہ گذرے تھے کہ معلوم ہوا کہ آپ مکہ روانہ ہوگئے(طبری ،ج٥،ص ٣٤٢) اس مطلب کی تائید ایک دوسری روایت بھی کرتی ہے کیونکہ اس روایت سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ ابن زبیر اپنے گھر میں چھپ کر اپنے چاہنے والو ں کے درمیان پناہ گزی ں ہوگیا تھا۔اس کے بعد پورے دن اور رات کے پہلے حصہ تک ٹھہرا رہا لیکن پچھلے پہر وہ مدینہ سے باہرنکل گیا ۔جب صبح ہوئی اور ولید نے پھر آدمی کو بھیجا تو معلوم ہوا کہ وہ نکل چکا ہے۔اس پر ولید نے ٨٠گھوڑ سوارو ں کو ابن زبیر کے پیچھے دوڑایا لیکن کوئی بھی اس کی گرد پا نہ پا سکا۔ سب کے سب لوٹ آئے اور ایک دوسرے کو سست کہنے لگے یہا ں تک کہ شام ہو گئی (یہ دوسرا دن تھا) پھر ان لوگو ں نے شام کے وقت قاصد کو امام حسین علیہ السلام کے پاس بھیجا توامام علیہ ا لسلام نے فرمایا :''اصبحواثم ترو ن و نری'' ذرا صبح تو ہولینے دو پھر تم بھی دیکھ لینا ہم بھی دیکھ لی ں گے۔ اس پر ان لوگو ں نے اس شب امام علیہ السلام سے کچھ نہ کہا اور اپنی بات پر اصرار نہ کیا پھر امام علیہ السلام اسی شب تڑکے نکل گئے ۔یہ یکشنبہ کی شب تھی اور رجب کے دو دن باقی تھے۔ (طبری، ج٥،ص ٣٤١)
نتیجہ ۔ان تمام باتو ں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابن زبیر حاکم وقت کی طرف سے بلائے جانے کے بعددن بھر ہی مدینہ میں رہے اور راتو ں رات نکل بھاگے اور امام علیہ السلام دو دن رہے اور تیسرے دن تڑکے نکل گئے ۔ چونکہ امام علیہ السلام نے شب یکشنبہ مدینہ سے کوچ کیا،اس کا مطلب یہ ہو ا کہ روز جمعہ اور شب شنبہ اور روز شنبہ آپ مدینہ میں رہے اور یہ بلاوا جمعہ کے دن بالکل سویرے سویرے تھا۔ اس بنیاد پر روایت یہ کا جملہ کہ'' ساعة لم یکن الولید یجلس فیھا للناس'' (ایسے وقت میں بلا یا تھا جس وقت وہ عوام سے نہیں ملاکرتا تھا) قابل تفہیم ہوگا۔ ابن زبیر اور امام علیہ السلام جمعہ کے دن صبح صبح مسجد میں موجود تھے؛ شاید یہ نماز صبح کے بعد کاوقت تھا ۔مقبری کے حوالے سے ابو مخنف کی روایت کے مطابق امام حسین علیہ السلام ولید کے دربار سے لوٹنے کے بعد اپنے ان دو بھروسہ مند ساتھیو ں کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے جن کے ہمراہ آپ ولید کے دربار میں گئے تھے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن صبح ہی میں ولید کا قاصد آیا تھا اور وہ رجب کی ٢٦وی ں تاریخ تھی، اسی لئے ولید اس دن عوام کے لئے نہیں بیٹھتاتھا کیونکہ وہ جمعہ کا دن تھا اور جمعہ کے دن دربار نہیں لگتا تھا ۔
پس قاصد نے کہا : '' آپ دونوں کو امیر نے بلا یا ہے '' اس پر ان دونوں نے جواب دیا تم جاؤ ہم ابھی آتے ہیں ۔(١) ولید کے قاصد کے جانے کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھااور ابن زبیر نے امام حسین علیہ السلام سے کہا : اس بے وقت بلائے جانے کے سلسلے میں آپ کیا گمان کرتے ہیں ؟ امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا :'' قد ظننت ان طاغیتهم قد هلک فبعث الینا لیا خذنا با لبیعة قبل ان یفشوا فی الناس الخبر '' میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ان کا سرکش حاکم ہلاک ہوچکا ہے لہٰذا ولید نے قاصد کو بھیجاتاکہ لوگوں کے درمیان خبر پھیلنے سے پہلے ہی ہم سے بیعت لے لی جا ئے ۔
____________________
١۔طبری ج ، ٤ص ٣٣٩ ہشام بن محمد نے ابو مخنف سے نقل کیا ہے۔ سبط ابن جوزی نے بھی ص ٢٠٣ پر اور خوارزمی نے ص ١٨١ پراس مطلب کو ذکر کیا ہے لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہا ں دو ہی افراد کا ذکر ہے جب کہ خط میں تین لوگو ں کا تذکرہ تھا۔
روایت کے آخری ٹکڑے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فقط امام علیہ السلام اور عبداللہ بن زبیر کا ذکرکرنا اور عبد الر حمن بن ابو بکراور عبداللہ بن عمر کا ذکر نہ آنا شاید اس لئے ہے کہ پہلا یعنی پسر ابو بکر تو واقعہ سے پہلے ہی مر چکا تھااور دوسرا یعنی عبداللہ بن عمر مدینہ ہی میں نہیں تھا، جیسا کہ طبری نے واقدی سے روایت کی ہے۔(طبری ،ج٥، ص٣٤٣)
مقتل خوارزمی میں اعثم کوفی کے حوالے سے ص ١٨١ پراوراسی طرح سبط بن جوزی نے ص ٢٣٥ پر اس قاصد کا نام جو اُن دونوں کے پاس آیا تھا عمرو بن عثمان ذکر کیا ہے اور تاریخ ا بن عساکر،ج٤، ص٣٢پر اس کا نام عبدالرحمن بن عمروبن عثمان بن عفان ہے۔
اس پر ابن زبیر نے کہا:وما اظن غیرہ فما ترید ان تصنع ؟ میرا گمان بھی یہی ہے تو آپ اب کیا کرنا چاہتے ہیں ؟ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :'' اجمع فتیا نی الساعة ثم امشی الیہ فاذا ابلغت الباب احتبستھم علیہ ثم دخلت علیہ '' ، میں ابھی ابھی اپنے جوانوں کو جمع کرکے ان کے ہمراہ دربار کی طرف روانہ ہوجاؤں گا اور وہاں پہنچ کر ان کو دروازہ پر روک دوں گا اور تنہا دربار میں چلاجاؤں گا۔ابن زبیر : ''انی اخافہ علیک اذا دخلت'' جب آپ تنہا دربار میں جائیں گے تو مجھے ڈر ہے کہ آپ کے ساتھ کوئی برا سلوک نہ کیا جائے ۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :'' لاآتیہ الا وانا علی الا متناع قادر'' تم فکر مت کرو میں ان کے ہر حربہ سے بے خوف ہوکر ان سے مقاومت کی قدرت رکھتا ہوں ۔ اس گفتگو کے بعد امام علیہ السلام اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے چاہنے والوں اور گھر والوں کو اکھٹا کر کے روانہ ہوگئے۔ دربار ولید کے دروازہ تک پہنچ کر اپنے اصحاب سے اس طرح گویا ہوئے :'' انی داخل ، فان دعوتکم او سمعتم صوته قد علا فاقتحموا علیّ باجمعکم والا فلاتبرحوا حتی أخرج الیکم ''میں اندر جا رہا ہوں اگرمیں بلاؤں یا اس کی آواز بلند ہو تو تم سب کے سب ٹوٹ پڑنا ور نہ یہیں پر ٹھہرے رہنا یہاں تک کہ میں خود آجاؤں ۔(١)
____________________
١۔شیخ مفید نے اس واقعہ کو اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے، ص ٢٠٠؛سبط بن جوزی ،ص ٢٣٦، خوارزمی ، ص ١٨٣۔
امام حسین علیہ السلام ولید کے پاس
اس کے بعد امام علیہ السلام دربار میں داخل ہوئے ۔اس کو سلام کیا اور وہاں پر مروان کو بیٹھاہوا پایا جبکہ اس سے پہلے دونوں کے رابطہ میں دراڑپڑ گئی تھی ۔ امام حسین علیہ السلام نے معاویہ کی موت سے انجان بنتے ہوئے فرمایا :''الصلة خیر من القطیعه'' رابطہ برقرار رکھنا توڑنے سے بہتر ہے۔
خدا تم دونوں کے درمیان صلح و آشتی برقرار فرمائے۔ ان دونوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ امام علیہ السلام آکر اپنی جگہ پربیٹھ گئے۔ ولید نے معاویہ کی خبر مرگ دیتے ہی فوراًاس خط کو پڑھ دیا اور آپ سے بیعت طلب کرنے لگا تو آپ نے فرمایا :''انا للّه وانّا الیه راجعون أمّا ما سأ لتنی من البیعة فان مثلی لا یعطی بیعته سرا'' تم نے جو بیعت کے سلسلے میں سوال کیا ہے تو میرے جیسا آدمی تو خاموشی سے بیعت نہیں کرسکتا'' ولا أراک تجتزی بها منی سرّاً دون ان تظهرها علی رؤوس الناس علانية'' ؟ میں نہیں سمجھتا کہ تم لوگوں میں اعلان عام کئے بغیر مجھ سے خاموشی سے بیعت لینا چاہوگے۔ولید نے کہا : ہاں یہ صحیح ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا :'' فاذاخرجت الی الناس فدعوتهم الی البیعةدعوتنا مع الناس فکان امراً واحداً'' (١) توٹھیک ہے جب باہر نکل کر لوگوں کو بیعت کے لئے بلاؤگے تو ہمیں بھی دعوت دینا تاکہ کام ایک بار ہوجائے۔امام علیہ السلام کے سلسلے میں ولید عافیت کو پسند کررہاتھا لہٰذا کہنے لگا : ٹھیک ہے اللہ کا نام لے کر آپ چلے جائیے جب ہم لوگوں کو بلائیں گے تو آپ کو بھی دعوت دیں گے ، لیکن مروان ولید سے فوراً بول پڑا :ّواللّه لئن فارقک الساعة ولم یبایع ؛لاقدرت منه علی مثلها أبداً ، حتی تکثر القتلی بینکم وبینه ! احبس الرجل ولا یخرج من عندک حتی یبایع أو تضرب عنقه! ''(٢)
____________________
١۔خوارزمی نے اس مطلب کو دوسرے لفظو ں میں ذکر کیا ہے ،ص١٨٣۔
٢۔خوارزمی نے اس مطلب کو ص١٨٤پر ذکر کیا ہے۔
خدا کی قسم اگر یہ ابھی چلے گئے اور بیعت نہ کی تو پھر ایسا موقع کبھی بھی نہیں ملے گا یہاں تک کہ دونوں گروہ کے درمیان زبر دست جنگ ہو تم اسی وقت اس مرد کو قید کرلو اور بیعت کئے بغیر جا نے نہ دو یا گردن اڑادو ،یہ سنتے ہی امام حسین علیہ السلام غضبناک ہو کراٹھے اور فرمایا :''یابن الزرقاء (١) انت تقتلنی ام هو؟ کذبت والله واثمت'' (٢) اے زن نیلگوں چشم کے بیٹے تو مجھے قتل کرے گا یا وہ ؟ خدا کی قسم تو جھوٹا ہے اور بڑے دھوکے میں ہے۔ اس کے بعد امام علیہ السلام باہر نکل کر اپنے اصحاب کے پاس آئے اور ان کو لیکر گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔(٣)
____________________
١۔یہ زرقاء بنت موہب ہے۔ تاریخ کامل ،ج٤،ص ٧٥ کے مطابق یہ عورت برے کامو ں کی پرچمدار تھی ۔یہ امام علیہ السلام کی طرف سے قذف اور تہمت نہیں ہے کہ اسے برے لقب سے یاد کرنا کہاجائے بلکہ قرآن مجید کی تاسی ہے قرآن ولید بن مغیرہ مخزومی کی شان میں کہتا ہے:''عتل بعد ذالک زنیم'' زنیم کے معنی لغت میں غیر مشروع اولاد کے ہیں جس کو کوئی اپنے نسب میں شامل کرلے۔
٢۔مقتل خوارزمی، ص١٨٤ میں ان جملوں کا اضافہ ہے :''انا اهل بیت النبوه ومعدن الرسالة و مختلف الملائکةومهبط الرحمة، بنا فتح اللّه وبنا یختم، ویزید رجل فاسق ، شارب الخمر ، قاتل النفس، معلن بالفسق، فمثلی لا یبایع مثله ،ولکن نصبح و تصبحون وننظر و تنظرون أیناأحق بالخلافةو البیعة'' ہاں اے ولید !تو خوب جانتا ہے کہ ہم اہل بیت نبوت ، معدن رسالت ، ملائکہ کی آمد ورفت کی جگہ اور رحمت خدائی کے نزول و ھبوط کا مرکز ہیں ، اللہ نے ہمارے ہی وسیلہ سے تمام چیزوں کا آغاز کیااور ہمارے ہی ذریعہ انجام ہوگا ، جبکہ یزیدایک فاسق ، شراب خوار ، لوگوں کا قاتل اور کھلم کھلا فسق انجام دینے والا ہے،پس میرے جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا ؛لیکن صبح ہونے دو پھر تم بھی دیکھنا اور ہم بھی دیکھیں گے کہ ہم میں سے کون خلافت و بیعت کا زیادہ حقدار ہے۔ جیسے ہی امام علیہ السلام کی آواز بلند ہوئی تو جوانان بنی ہاشم برہنہ تلواروں کے ساتھ ٹوٹ پڑے؛ لیکن امام علیہ السلام نے ان لوگو ں کو روکا اور گھر کی طرف لے کر روانہ ہوگئے۔ مثیرالاحزان میں ابن نما(متوفیٰ٦٤٥ھ) نے اور لہوف میں سید ابن طائووس (متوفیٰ ٦١٣ھ) نے روایت کا تذکرہ کیاہے ۔
٣۔طبری نے اس روایت کو ہشام بن محمد کے حوالے سے ابی مخنف سے نقل کیا ہے۔ خوارزمی نے ص١٨٤پر خبر کا تتمہ بھی لکھا ہے کہ ولید سے مروان بولا :''عصیتنی لاوالله لا یمکنک من مثلها من نفسه ابداً'' تم نے میری مخالفت کی ہے تو خدا کی قسم تم اب کبھی بھی ان پر اس طرح قدرت نہیں پاؤگے ۔ولیدنے کہا:'' ویح غیرک یا مروان ..''اے مروان! یہ سرزنش کسی اور کو کر تو نے تو میرے لئے ایسا راستہ چنا ہے کہ جس سے میرا دین برباد ہوجائے گا ، خدا کی قسم اگر میرے پاس مال دنیا میں سے ہرو ہ چیز ہو جس پر خورشید کی روشنی پڑتی ہے اور دوسری طرف حسین کا قتل ہوتوحسین کا قتل مجھے محبوب نہیں ہے۔(سبط بن جوزی، ص٢٢٦)
سبحان اللہ ! کیا میں حسین کو فقط اس بات پر قتل کردوں کہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ میں بیعت نہیں کروں گا ؟ خدا کی قسم میں گمان کرتا ہوں کہ جو قتل حسین کا مرتکب ہو گا وہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک خفیف المیزان ہوگا۔ (ارشاد ،ص ٢٠١)
مروان نے اس سے کہا : اگر تمہاری رائے یہی ہے تو پھر تم نے جو کیا وہ پالیا۔
ابن زبیر کا موقف
ابن زبیر نے یہ کہا: میں ابھی آتا ہوں لیکن اپنے گھر آکر چھپ گئے ۔ ولید نے قاصد کودوبارہ اس کی طرف روانہ کیا ۔ اس نے ابن زبیر کو اپنے چاہنے والوں کی جھر مٹ میں پا یا جہاں وہ پناہ گزیں تھا۔ اس پر ولید نے مسلسل بلا نے والوں کے ذریعہ آنے پرتاکید کی ...آخر کا ر ابن زبیر نے کہا :''لا تعجلو نی فانی آتیکم امهلونی'' جلد ی نہ کرو میں ابھی آرہا ہوں ؛ مجھ کو تھوڑی سی مہلت دو ۔ اسکے بعد وہ دن اور رات کے پہلے پہر تک مدینہ میں رہا اور یہی کہتا رہا کہ میں ابھی آرہا ہوں ؛یہا ں تک کہ ولیدنے پھر اپنے گر گوں کو ابن زبیر کے پاس روانہ کیا ۔ وہ سب وہاں پہنچ کر اسے برا بھلا کہنے لگے اور چیخ کر بولے : ائے کا ہلہ کے بیٹے ! خدا کی قسم تو فوراً آجا ورنہ امیر تجھ کو قتل کر دے گا۔ لوگوں نے زبر دستی کی تو ابن زبیر نے کہا :خدا کی قسم ان مسلسل پیغام لانے والوں کی وجہ سے میں بے چین ہوں ؛ پس تم لوگ جلدی نہ کرومیں ابھی امیر کے پاس کسی ایسے شخص کو بھیجتا ہوں جو ان کی رائے معلوم کر کے آئے ، اس کے بعد فوراًاس نے اپنے بھائی جعفر بن زبیر کو روانہ کیا ۔ اس نے جا کر کہا : اللہ آپ کو سلامت رکھے ، عبداللہ سے دست بردار ہوجایئے، لوگوں کو بھیج بھیج کر آپ نے ان کو خوف زدہ کر رکھا ہے، وہ انشا ء اللہ کل آپ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے۔ اب آپ اپنے پیغام رساں سے کہئے کہ وہ ہمارا پیچھا چھوڑ دے، اس پر ولید نے آدمی بھیج کر قاصد کو جانے سے روک دیا ۔
ادھر ابن زبیر ٢٧ رجب کو شب شنبہ امام حسین علیہ السلام کے نکلنے سے پہلے ہی راتوں رات مدینے سے نکل گئے اور سفر کے لئے نا معلوم راستہ اختیار کیا۔سفر کا ساتھی فقط انکا بھائی جعفر تھا اور کوئی تیسرا نہیں تھا ۔ ان دونوں بھائیوں نے پکڑے جانے کے خوف سے عام راستے پر چلنے سے گریز کیا اور ناہموار راستے سے ہو تے ہوئے مکہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ (تذکرةالخواص ، ابن جوزی ،ص ٢٣٦)
جب صبح ہوئی تو ولید نے اپنے آدمیوں کو پھر بھیجا لیکن ابن زبیر نکل چکے تھے۔ اس پر مروان نے کہا : خدا کی قسم وہ مکہ روانہ ہواہے اس پر ولید نے فوراً لوگوں کو اس کے پیچھے دوڑایا؛ اس کے بعد بنی ا میہ کے ٨٠ گھوڑ سواروں کو ابن زبیرکی تلاش کے لئے بھیجا لیکن وہ سب کے سب خالی ہاتھ لو ٹے ۔
ادھر عبداللہ بن زبیر اپنے بھائی کے ہمراہ مشغول سفر ہیں ۔ چلتے چلتے جعفر بن زبیر نے'' صبرةالحنظلی'' کے شعر سے تمثیل کی:
وکل بنی أم سیمسون لیلة
ولم یبق من أعقابهم غیر واحد
اس پر عبداللہ نے کہا :سبحان اللہ !بھائی اس شعر سے کیا کہنا چاہتے ہو ؟جعفر نے جواب دیا : بھائی ! میں نے کوئی ایسا
ارادہ نہیں کیا ہے جو آپ کے لئے رنجش خاطرکاباعث ہو ۔ اس پر عبداللہ نے کہا : خدا کی قسم مجھے یہ نا پسند ہے کہ تمہاری زبان سے کوئی ایسی بات نکلے جس کا تم نے ارادہ نہ کیا ہو۔ اس طرح ابن زبیر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے۔ اس وقت مکہ کا حاکم عمرو بن سعید تھا۔ جب ابن زبیر وارد مکہ ہوئے تو عمرو بن سعیدسے کہا : میں نے آپ کے پا س پناہ لی ہے لیکن ابن زبیر نے کبھی ان لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی اور نہ ہی کوئی افاضہ کیا بلکہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک کنارے رہنے لگے اور نماز بھی تنہا پڑھنے لگے اور افاضہ بھی تنہا ہی رہا ۔(طبری ، ج٥،ص٣٤٣) اس واقعہ کو ہشام بن محمد نے ابی مخنف سے نقل کیا ہے۔ شیخ مفید نے ارشاد ،ص٢٠١، اور سبط ابن جوزی نے تذکرة الخواص ،ص٢٣٦پر بھی اس واقعہ کا تذکرہ کیا ہے۔ وہاں یہ ملتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام آئندہ شب میں اپنے بچوں ، جوانوں اور گھر االوں کے ہمراہ مدینہ سے باہرنکل گئے اور ابن زبیر سے دور ہی رہے اور سبط ابن جوزی ص ٢٤٥ پر ہشام اور محمد بن اسحاق سے رویت نقل کرتے ہیں کہ دو شنبہ کے دن ٢٨ رجب کو امام علیہ السلام نکلے اورخوارزمی نے ص١٨٦پر لکھا ہے کہ آپ ٣ شعبان کومکہ پہنچے ۔
امام حسین علیہ السلام مسجد مدینہ میں
دوسرے دن سب کے سب عبداللہ بن زبیر کی تلاش میں لگ گئے اور امام حسین علیہ السلام کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا یہا ں تک کہ شام ہو گئی۔ شام کے وقت ولید نے کچھ لوگوں کو امام حسین کے پاس بھیجا ۔یہ٢٨ رجب سنییجر کا دن تھا۔ امام حسین نے ان سے فرما یا : صبح ہونے دو تم لوگ بھی کچھ سوچ لواور میں بھی سوچتا ہوں ۔ یہ سن کر وہ لوگ اس شب یعنی شب ٢٩ رجب امام حسین علیہ السلام سے دست بردار ہوگئے اور اصرار نہیں کیا ۔(١) ابو سعید مقبری کا بیا ن ہے کہ میں نے امام حسین علیہ السلام کو مسجد میں وارد ہوتے ہوئے دیکھا۔ آپ دولوگوں پر تکیہ کئے ہوئے چل رہے تھے، کبھی ایک شخص پر تکیہ کرتے تھے اور کبھی دوسرے پر؛اسی حال میں یزید بن مفرغ حمیری کے شعر کو پڑھ رہے تھے :
لاذعرت السوام فی فلق الصبح
مغیراً،و لا د عیت یزیداً
یوم اْعطی من المهابه ضیماً
والمنایا یرصدننی أن أحیدا(٢)
____________________
١۔طبری، ج٥ ، ص٣٣٨، ٣٤١، ہشام بن محمد نے ابو مخنف سے روایت نقل کی ہے اور شیخ مفید نے بھی اس کو ذکر کیا ہے۔(ارشاد، ص ٢٠١)
٢۔خوارزمی ،ص١٨٦
میں سپیدہ سحری میں حشرات الارض سے نہیں ڈرتا نہ ہی متغیر ہوتاہوں اور نہ ہی اپنی مدد کے لئے یزید کو پکاروں گا ۔سختیوں کے دنوں میں خوف نہیں کھاتا جبکہ موت میری کمین میں ہے کہ مجھے شکارکرے ۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے جب یہ اشعار سنے تواپنے دل میں کہا : خدا کی قسم ان اشعار کے پیچھے کوئی ارادہ چھپاہواہے۔ابھی دو دن نہ گذرے تھے کہ خبر ملی کہ امام حسین علیہ السلام نے مکہ کا سفر اختیار کرکیا ہے۔(١)
محمدبن حنفیہ کا موقف(٢)
محمد حنفیہ کو جب اس سفر کی اطلاع ملی تو اپنے بھا ئی حسین علیہ السلام کے پاس آئے اور فر مایا بھائی جان ! آپ میرے لئے دنیا میں سب سے زیاد ہ محبوب اور سب سے زیادہ عزیز ہیں میں اپنی نصیحت اور خیر خواہی کا ذخیرہ آپ کے علاوہ کسی دوسرے تک پہنچانا بہتر نہیں سمجھتا آپ یزید بن معاویہ کی بیعت نہ کیجئے اور کسی دور دراز علاقہ میں جاکر پناہ گزین ہو جائیے پھر اپنے نمائندوں کو لوگوں کے پاس بھیج کر اپنی طرف دعوت دیجئے اب اگر ان لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی تو اس پر آپ خدا کی حمد وثنا کیجئے اور اگر لوگ آپ کے علاوہ کسی اور کی بیعت کر لیتے ہیں تو اس سے نہ آپ کے دین میں کمی آئے گی نہ عقل میں ، اس سے نہ آپ کی مروت میں کوئی کمی آئے گی اور نہ فضل وبخشش میں ۔مجھے اس بات کاخوف ہے کہ آپ ان شہروں میں سے کسی ایک شہر میں چلے جائیں اور کچھ لوگ وہا ں آکر آپ سے ملیں پھر آپس میں اختلاف کرنے لگیں ۔کچھ گروہ آپ کے ساتھ ہو جائیں اور کچھ آپ کے مخالف ۔اس طرح جنگ کا شعلہ بھڑک اٹھے اور آپ سب سے پہلے نیزوں کی باڑھ پر آجائیں ۔اس صورت میں وہ ذات جو ذاتی طور پر اور اپنے آبا ء واجد اد کی طرف سے اس امت کی باوقار ترین فرد ہے اس کا خون ضائع ہوگا اور ان کے اہل بیت ذلیل ہوں گے۔ امام علیہ السلام نے جواب دیا :بھائی میں جارہا ہوں !
____________________
١۔طبری، ج ٥،ص٣٤٢، ابومخنف کا بیان ہے کہ یہ واقعہ مجھ سے عبدالملک بن نوفل بن مساحق نے ابوسعید مقبری کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جن کازندگی نامہ پہلے بیان ہوچکاہے۔تذکرةالخواص ،ص٢٣٧
٢۔ محمد حنفیہ کی ما ں خولہ بنت جعفر بن قیس ہیں جو قبیلہ ء بنی بکر بن وائل سے تعلق رکھتی ہیں ۔(طبری ،ج، ٥، ص ١٥٤)
آپ جنگ جمل میں اپنے بابا علی مرتضیٰ علیہ السلام کے ہمراہ تھے۔ امام علی السلام نے آپ کے ہاتھوں میں علم دیا تھا (طبری ،ج ٥، ص ٤٤٥)آپ نے وہاں بہت دلیری کے ساتھ جنگ لڑی اور قبیلۂ ''ازد''کے ایک شخص کا ایک ہاتھ کاٹ دیا جو لوگوں کو جنگ پر اکسارہا تھا ۔(طبری، ج ٤،ص ٤١٢) آپ جنگ صفین میں بھی موجودتھے اور وہاں عبید اللہ بن عمر نے ان کو مبارزہ کے لئے طلب کیا تو حضرت علی علیہ السلام نے شفقت میں روکا کہ کہیں قتل نہ ہو جا ئیں ۔ (طبری ،ج٥، ص١٣) امام حسین علیہ السلام جب مکہ سے عراق جارہے تھے تو آپ مدینہ میں مقیم تھے۔ (طبری ،ج٥،ص٣٩٤) مختار آپ ہی کی نمائند گی کا دعویٰ کر تے ہوئے کوفہ میں وارد ہوئے تھے۔ (طبری ،ج ٥،ص ٥٦١) ابن حنفیہ کو اس کی خبر دی گئی اور ان سے اس سلسلے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا : میں اس بات کو محبوب رکھتا ہوں کہ خدا ئے متعال اپنے جس بندے کے ذریعہ چاہے ہمارے دشمن سے بد لہ لے۔جب مختار کو ابن حنفیہ کے اس جملہ کی اطلاع ملی تو انھوں نے جناب محمد حنفیہ کو امام مہدی کا لقب دیدیا ۔(طبری ،ج٦، ص ١٤) مختار ایک خط لیکرابراہیم بن مالک اشتر کے پا س گئے جو ابن حنفیہ سے منسوب تھا ۔(طبری ،ج ٦،ص ٤٦) اس کا تذکرہ ابن حنفیہ کے پاس کیا گیا تو انھوں نے کہا : وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ ہمارا چاہنے والا ہے اور قاتلین حسین علیہ السلام تخت حکومت پر بیٹھ کر حکم نا فذ کر رہے ہیں ۔مختار نے یہ سنا تو عمر بن سعداور اس کے بیٹے کو قتل کر کے ان دو نوں کا سر ابن حنفیہ کے پاس روانہ کر دیا۔ (طبری، ج ٦،ص ٦٢) مختار نے ایک فوج بھیج کر ابن حنفیہ کو برانگیختہ کرنا چاہا کہ وہ ابن زبیر سے مقابلہ کریں لیکن محمد حنفیہ نے روک دیا اور خون بہا نے سے منع کر دیا۔ (طبری،ج٦،ص٧٤) جب یہ خبر ابن زبیر کو ملی تو اس نے ابن حنفیہ اور ان کے ١٧رشتہ داروں کو کچھ کو فیوں کے ہمراہ زمزم کے پاس قید کردیا اور یہ دھمکی دی کہ بیعت کریں ورنہ سب کوجلادیں گے۔ اس حالت کو دیکھ کر محمد حنفیہ نے کو فہ کے تین آدمیوں کو مختار کے پاس روانہ کیا اور نجات کی درخواست کی ۔ خبر ملتے ہی مختار نے چار ہزار کا لشکرجو مال واسباب سے لیث تھا فوراً روانہ کیا ۔وہ لوگ پہنچتے ہی مکہ میں داخل ہوئے اور مسجدالحرام میں پہنچ کر فوراً ان لوگوں کو قید سے آزاد کیا ۔ آزاد کر نے کے بعد ان لوگوں نے محمدحنفیہ سے ابن زبیر کے مقابلہ میں جنگ کی اجازت مانگی تو محمد حنفیہ نے روک دیا اور اموال کو ان کے درمیان تقسیم کردیا ۔(طبری ،ج ٦،ص ٦٧) آپ شیعوں کو زیادہ روی سے روکا کرتے تھے۔ (طبری ،ج ٦،ص ١٠٦) ٦٨ ھ میں حج کے موقع پر آپ کے پاس ایک مستقل پر چم تھا اور آپ فرمایا کر تے تھے: میں ایسا شخص ہوں جو خود کو ابن زبیر سے دور رکھتا ہو ں اور جو میرے ساتھ ہے اس کو بھی یہی کہتا ہوں کیو نکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سلسلے میں دو لوگ بھی اختلاف کریں ۔(طبری ،ج٦،ص١٣٨) آپ جحاف کے سال تک زندہ رہے اور ٦٥سال کی عمر میں طائف میں اس دنیا سے جاں بحق ہو گئے۔ ابن عباس نے آپ کی نماز پڑھائی ۔(طبری ،ج ٥،ص ١٥٤)
محمد حنفیہ نے کہا :اگرآپ جا ہی رہے ہیں تو مکہ میں قیام کیجئے گا۔اگروہ جگہ آپ کے لئے جا ئے امن ہو تو کیا بہتر اور اگرامن وسلامتی کو وہاں پر بھی خطرہ لاحق ہو تو ریگستانو ں ، پہاڑوں اوردرّہ کو ہ میں پناہ لیجئے گا او رایک شہر سے دوسرے شہر جاتے رہیئے گا تاکہ روشن ہو جائے کہ لوگ کس طرف ہیں ۔ ایسی
صورت میں آپ حالات کو اچھی طرح سمجھ کر فیصلہ کر سکیں گے ۔ میرے نزدیک آپ کے لئے بہترین راستہ یہی ہے۔اس صورت میں تمام امور آپ کا استقبال کریں گے اوراگر آپ نے اس سے منھ موڑ اتو تما م امور آپ کے لئے مشکل سے مشکل تر ہوجائیں گے ۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :بھائی جان !آپ نے خیر خواہی کی ہے اور شفقت فرمائی ہے، امید ہے کہ آپ کی رائے محکم اور استوار ہو۔(١)
امام حسین علیہ السلام کا مدینہ سے سفر
امام حسین علیہ السلام نے ولید سے کہا ٹھہرجاؤتاکہ تم بھی غور کرلو اور ہم بھی غور کرلیں ، تم بھی دیکھ لواور ہم بھی دیکھ لیں ، ادھر وہ لوگ عبداللہ بن زبیر کی تلاش میں امام حسین علیہ السلام کو با لکل بھول گئے یہاں تک کہ شام ہوگئی۔ اسی شام ولید نے کچھ لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ یہ ٢٧ رجب شنبہ کا دن تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : صبح ہونے دو پھر تم بھی دیکھ لینا اور ہم بھی دیکھ لیں گے، اس پر وہ لوگ اس شب جو شب یکشنبہ یعنی شب ٢٨ رجب تھی رک گئے اور کسی نے اصرار بھی نہیں کیا۔ اسی رات امام حسین مدینہ سے خارج ہوئے جب کہ رجب کے فقط دو دن باقی تھے۔ آپ کے ہمراہ آپ کے فرزند اور بھائی وبھتیجے موجود تھے بلکہ اہل بیت کے اکثر افراد موجود تھے،البتہ محمد حنفیہ اس کاروان کے ہمراہ نہیں تھے۔(٢)
____________________
١۔طبری ،ج ٥ ، ص٣٤١، ہشام بن محمد نے ابو مخنف سے یہ روایت کی ہے اور شیخ مفید نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔ (ارشاد،ص٢٠٢، خوارزمی ، ص١٨٨،اور خوارزمی نے اعثم کوفی کے حوالے سے امام علیہ السلام کی وصیت ''امّا بعد فانّی لم اخرج ...''کا اضافہ کیا ہے ۔اور وصیت میں ''سیرة خلفاء الراشدین '' کا اضافہ کیا ہے ۔
٢۔طبری ، ج ٥،ص٢٤٠، ٢٤١و ٣٨١ پر بھی کوچ کرنے کی تاریخ یہی بیان کرتے ہیں جسے ابو مخنف نے صقعب بن زہیر کے حوالے سے اورانھو ں نے عون بن ابی حجیفہ کے توسط سے نقل کیا ہے۔'' ارشاد'' ، ص٢٠٩پر شیخ مفید اور تذکرة الخواص، ص٢٣٦پر سبط بن جوزی بیان کرتے ہیں : آئندہ شب امام حسین علیہ السلام اپنے جوانو ں اور اہل بیت کے ہمراہ مدینہ سے سفر اختیار کیا در حالیکہ لوگ ابن زبیر کی وجہ سے آپ سے دست بردار ہوگئے تھے، پھرص٢٤٥ پر محمدبن اسحاق اور ہشام سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے یکشنبہ کو جبکہ رجب کے تمام ہونے میں دو دن بچے تھے مدینے سے سفر اختیار کیا ،البتہ خوارزمی نے اپنے مقتل کے ص١٨٩ پر لکھا ہے کہ رجب کے تین دن باقی تھے ۔
مدینہ سے سفر اختیار کرتے وقت امام حسین علیہ السلام اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے:( ''فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفاً يَتَرَقَّبُ قَالَ رَبِّ نَجِّنِی مِنَ الْقَوْمِ الْظَّالِمِيْنَ'' ) (١) اور جب مکہ پہنچے تویہ آیت تلا وت فر ما ئی( ''وَلَمَّاتَوَجَّهَ تِلْقَآ ئَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَٰی رَبِّی أَنْ يَهْدِيَنِی سَوَائَ السَّبِيْلِ'' ) (٢)
____________________
١۔ قصص ، آیت٢١
٢۔ قصص ، آیت ٢٢، طبری ج٥،ص، ٣٤٣ پرہشام بن محمد ابو مخنف سے نقل کر تے ہیں ۔
عبد اللہ بن عمر کا موقف :(۱) پھر ولید نے ایک شخص کو عبد اللہ بن عمر کے پاس بھیجا تو آنے والے نے ا بن عمر سے کہا : یزید کی بیعت کرو ! عبد اللہ بن عمر نے کہا : جب سب بیعت کرلیں گے تو میں بھی کرلوں گا۔(۲) اس پر ایک شخص نے کہا : بیعت کرنے سے تم کو کونسی چیز روک رہی ہے ؟ کیاتم یہ چاہتے ہو کہ لوگ اختلاف کریں اورآپس میں لڑبھڑکر فنا ہوجائیں اور جب کوئی نہ بچے تو لوگ یہ کہیں کہ اب تو عبداللہ بن عمر کے علاو ہ کو ئی بچانہیں ہے لہذا اسی کی بیعت کرلو ، عبداللہ بن عمر نے جواب دیا : میں نہیں چاہتاکہ وہ لوگ قتل ہوں ، اختلاف کریں اور فناہوجائیں لیکن جب سب بیعت کرلیں گے اور میرے علاو ہ کوئی نہیں بچے گا تو میں بھی بیعت کرلوں گا اس پر ان لوگوں نے ابن عمر کو چھوڑدیا کیونکہ کسی کو ان سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔
____________________
(١) طبری ، ج ٥، ص٣٤٢ میں یہ لفظ موجود ہے کہ ہشام بن محمد ابو مخنف سے نقل کرتے ہیں ...، پھر طبری کہتے ہیں کہ واقدی (متوفی ٢٠٧) کا گمان ہے کہ جب قاصد ،معاویہ کی موت کی خبر لے کر ولید کے پاس آیا تھا اس وقت ابن عمر مدینہ میں موجود ہی نہیں تھے اور یہی مطلب سبط بن جوزی نے بھی اپنی کتاب کے صفحہ ٢٣٧ پر لکھاہے۔ ہا ں ابن زبیر اور امام حسین علیہ السلام کو بیعت یزید کے لئے بلایا تو یہ دونو ں اسی رات مکہ کو روانہ ہوگئے ؛ا ن دونو ں سے ابن عباس اور ابن عمر کی ملاقات ہوئی،جو مکہ سے آرہے تھے تو ان دونو ں نے ان دونو ں سے پوچھا : آپ کے پیچھے کیا ہے ؟ تو ان دونو ں نے کہا : معاویہ کی موت اور یزید کی بیعت ، اس پر ابن عمر نے کہا : آپ دونو ں تقوائے الٰہی اختیار کیجئے اور مسلمین کی جماعت کو متفرق نہ کیجئے ! اس کے بعد وہ آگے بڑھ گیا اور وہیں چند دنو ں اقامت کی یہا ں تک کہ مختلف شہرو ں سے بیعت آنے لگی تو وہ اور ابن عباس نے پیش قدمی کی اور دونو ں نے یزید کی بیعت کر لی''۔
(٢) جیسا کہ معاویہ نے اپنی وصیت میں اور مروان نے ولید کو مشورہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایسا ہوگا اورویسا ہی ہوا ۔
امام حسین علیہ السلام مکہ میں
* عبد اللہ بن مطیع عدوی
* امام حسین علیہ السلام کا مکہ میں ورود
* کوفیوں کے خطوط
* امام حسین علیہ السلام کا جواب
* حضرت مسلم علیہ السلام کا سفر
* راستے سے جناب مسلم کا امام علیہ السلام کے نا م خط
* مسلم کو امام علیہ السلام کا جواب
امام حسین علیہ السلام مکہ میں
امام حسین علیہ السلام مکہ کے را ستے میں : عقبہ بن سمعان کا بیا ن ہے کہ ہم مدینہ سے باہم نکلے اور اصلی راستے سے مکہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے میں کسی نے امام حسین علیہ السلام سے کہا : اگر ہم بھی ابن زبیر کی طرح کسی نامعلوم راستے سے نکل جائیں تو کیا ایسا نہیں ہوگا کہ وہ ہم کو پکڑنہیں پائیں ؟
امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا :''لاواللّه لا أفارقه حتی یقضی اللّه ما احب الیه'' (١) نہیں خدا کی قسم ایسا نہیں ہو سکتا میں سید ھے راستے کو نہیں چھوڑ سکتا یہاں تک کہ خدا میرے حق میں وہ فیصلہ کرے جو اس کو سب سے زیاد ہ پسندہے۔
عبد اللہ بن مطیع عدوی(٢)
اسی وقت عبداللہ بن مطیع حضر ت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور امام
____________________
١۔طبری ج ٥، ص٣٥١، طبری کا بیان ہے کہ میں نے یہ حدیث ہشام بن محمد سے اور انھو ں نے ابی مخنف سے نقل کی ہے ، ابو مخنف کابیان ہے کہ مجھ سے عبدالرحمن بن جندب نے اور عبد الرحمن بن جندب کا بیان ہے کہ مجھ سے عقبہ بن سمعان نے بیان کیا ہے جو امام حسین علیہ السلام کی زوجہ جناب رباب بنت امرء القیس کلبیہ کا غلام تھا۔ اس کے حالات پہلے بیان ہو چکے ہیں ۔
٢۔ عبد اللہ بن مطیع قر شی کی ولادت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہوئی ۔ جب اہل مدینہ نے یزید کے لشکر پر حملہ کیا تو یہ قریش کے ہمراہ تھا (طبری، ج ٥،ص ٤٨١) پھر یہ ابن زبیر سے مکہ میں ملحق ہو گیا اور اس کے ہمراہ جنگ میں شرکت کی پھر ابن زبیر ہی کی جانب سے والی کوفہ مقرر ہوا ۔طبری، ج٥، ص٦٢٢، تاریخ یعقوبی ج٣،ص ٣و٥ ،تاریخ مسعودی ج ٣،ص ٨٣ ،مقتل خوارزمی ج ٢،ص ٢٠٢، یہ پورا واقعہ محمد بن اسحاق سے منقول ہے۔کوفہ میں مختار سے اس کا جھگڑا ہو گیا تو مختار نے اسے کوفہ سے نکال دیا۔ طبری ،ج٥، ص٣١،عنقرب طبری کی یہ روایت بھی نظرسے گذرے گی کہ ہشام ، ابو مخنف سے اور وہ محمد بن قیس سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دوسری مرتبہ بھی ابن مطیع نے امام علیہ السلام سے مقام ''حاجر ''کے بعد اور مقام ''زرود'' سے قبل پانی کے کسی چشمہ پر ملاقات کی ہے ۔طبری، ج ٥ ، ص ٣٩٥ ۔
سے کہنے لگا : میری جان آپ پر قربان ہو ، آپ کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟امام علیہ السلام نے جواب دیا : ابھی تو میں مکہ جا نا چاہتا ہوں بعد میں اللہ جدھر چاہے گااس ی مرضی کے مطابق اسی طرف چلاجائوں گا ۔
عبداللہ بن مطیع نے کہا:خدا وندعالم آپ پر رحمت نازل کرے اور ہمیں آپ پر قربان کرے! آپ اگر مکہ جارہے ہیں تو دیکھئے کوفہ سے کبھی نزدیک نہ ہوئیے گا؛ یہ بڑی بری جگہ ہے، اسی جگہ آپ کے بابا کو قتل کیا گیا ، یہیں آپ کے بھائی کوزخمی کیا گیا اور ظلم و ستم کے مقابلہ میں وہ تنہا پڑگئے اوردھوکہ سے ان کی جان لے لی گئی۔ آپ حرم ہی میں رہیے ؛کیونکہ آپ سید و سردار عرب ہیں ۔ خدا کی قسم اہل حجاز میں کوئی بھی آپ کا ہم نظیر نہیں ہے۔اگر آپ یہاں رہ گئے تو لوگ ہر چہار جانب سے آپ کی طرف آئیں گے لہٰذا آپ حرم نہ چھوڑئیے ۔ میرے چچا ،ماموں اور میرا سارا خاندان آپ پر قربان ہوجائے اے میر ے مولا! اگر آپ شہید کر دئیے گئے تو ہم سب کے سب غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کردئیے جائیں گے۔(١)
امام حسین علیہ السلام کامکہ میں ورود
اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے امام علیہ السلام ٣شعبان(٢) شب جمعہ کو وارد مکہ ہوئے۔(٣) اس کے بعد آپ نے شعبان المعظم، رمضان المباک ، شوال المکرم ، ذی قعدہ اور ٨ذی الحجہ تک مکہ میں قیام فرمایا ۔(٤) مکہ پہنچتے ہی ہر چہار جانب سے لوگوں کی رفت و آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔عالم اسلام سے جتنے عمرہ کرنے والے آتے تھے موقع ملتے ہی آپ کی خدمت میں شرفیاب ہوتے تھے ۔
____________________
١۔ص٢٤٣ پر سبط بن جوزی نے اس کی روایت کی ہے۔ راوی ہشام اور محمد بن اسحاق ہیں ۔ خوارزمی نے ص١٨٩ پر اعثم کوفی سے روایت کی ہے ۔
٢۔طبری ،ج٥،ص٣٨٧،ابومخنف کا بیان ہے کہ اس روایت کو ہم سے صقعب بن زہیر نے اوران سے عون بن ابی جحیفہ نے نقل کیا ہے۔گذشتہ سطرو ں سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ امام علیہ السلام ٢٨ رجب کو مدینہ سے نکلے ،اس بنا پر٣ شعبان کومکہ پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ فقط پانچ دنو ں میں یہ مسافت طے ہوئی ہے اورمکہ سے مدینہ کی مسا فت ٥٠٠کیلو میٹر ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام علیہ السلام نے روزانہ ١٠٠کلیومیٹرکی مسافت کو طے کیا اور یہ عام کاروا ں کی سفری مسافت سے بہت زیادہ ہے کیونکہ عام طور سے قافلو ں کی ایک روزہ مسافت ٨فرسخ ہواکرتی تھی جبکہ امام علیہ السلام کی ایک دن کی مسافت تقریبا ١٨فرسخ ہوتی ہے ، اسکا مطلب یہ ہوا کہ امام علیہ السلام نے اگر چہ راستہ کو تبدیل نہیں فرمایاکیونکہ اس میں خوف فرار تھا اور امام علیہ ا لسلام کی توہین تھی لیکن آپ نے اپنی جان کی حفاظت کے لئے کہ جس کے ہمراہ مقصد عجین تھا راستہ کو جلدی جلدی طے کیا ۔
٣۔طبری ، ج ٥ ، ص ٣٥١ ،عقبہ بن سمعان کی خبر۔
٤۔طبری ، ج٥، ص ٣٨١،عون بن جحیفہ کی خبر ، سبط بن جوزی نے ہشام سے بھی روایت نقل کی ہے۔ تذکرة الخواص ، ص٢٤٥۔
ابن زبیر جو خوف و ہراس کی وجہ سے کعبہ کے اندر محصور تھے اور ان کا کام فقط نماز و طواف رہ گیا تھا۔وہ بھی آنے والوں کے ہمراہ امام علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوئے۔ کبھی تو وہ روزانہ آتے بلکہ ایک دن میں دو بار آتے تھے اور کبھی کبھی دودنوں میں ایک بار حاضر ہوتے تھے ۔اس ملاقات میں وہ ہمیشہ امام علیہ السلام سے رائے اور مشورہ کیا کرتے تھے ، لیکن اس کے باوجودمکہ میں امام علیہ السلام کا وجود ابن زبیر کے لئے سب سے زیادہ گراں تھا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ امام حسین علیہ السلام کے رہتے ہوئے کوئی بھی ان کی بیعت اور پیروی نہیں کرے گا ، اس لئے کہ امام حسین علیہ السلام لوگوں کی نگاہوں میں صاحب شان و شوکت تھے۔ آپ کی حکمرانی لوگوں کے دلوں پرتھی اورلوگ آپ کے فرمانبردار تھے۔(١)
____________________
١۔ طبری ، ج٥ ،ص٣٥١، یہ عقبہ بن سمعان کی روایت ہے ۔ ارشاد ، شیخ مفید ،ص ٢٠٢ ۔
کوفیوں کے خطوط(٢)
جب اہل کوفہ کومعاویہ کی ہلاکت کی خبر ملی تو وہ لوگ عراقیوں کو یزید کے خلاف شعلہ ور کرنے لگے اور کہنے لگے : اے لوگو!حسین علیہ السلام اور ابن زبیرنے یزید کی بیعت سے انکار کردیاہے اور یہ لوگ مکہ پہنچ چکے ہیں ۔(٣) محمدبن بشیر اسدی ہمدانی(٤) کابیان ہے کہ ہم لوگ سلیمان بن صرد خزاعی(٥) کے گھر جمع ہوئے ۔ سلیمان تقریر کے لئے اٹھے اور بولے : معاویہ ہلاک ہوچکا ہے اور حسین علیہ السلام نے
____________________
٢۔کوفہ میں ٣٠ہزار افراد تھے جو جنگ قادسیہ میں موجود تھے، (طبری، ج ٤، ص ٧٥) ١٨ھ میں عمر نے شریح بن حارث کندی کو کوفہ کا قاضی بنایا۔(طبری ،ج ٤، ص١٠١) ٢٠ھ میں عمرنے سعد بن ابی وقاص کو لوگو ں کی شکایت کی بنیادپر کوفہ کی گورنری سے معزول کردیا۔ ان لوگو ں کا کہنا تھا کہ سعد کو اچھی طرح نماز پڑھانا نہیں آتی ، پھر عمر نے نجران کے یہودی کو کوفہ کی طرف روانہ کیا۔ (ج ٤،ص١١٢) ٢١ھ میں عمار یاسر کو کوفہ کا گورنر ، ابن مسعود کو بیت المال کا حاکم اور عثمان بن حنیف کو زمین کی مساحت اور ٹیکس کا عہدیدار بنایا۔ اہل کوفہ نے عمار کی شکایت کی توعمار نے استعفیٰ دے دیا ۔(ج٤،ص١٤٤)عمار کے بعد عمر نے ابو موسی اشعری کو کوفہ کا امیر بنا دیا۔ ایک سال تک وہ وہا ں قیام پذیر رہالیکن کوفیو ں نے اس کی بھی شکایت کی تو اس کو بھی عزل کرکے مغیرہ بن شعبہ کو وہا ں کا حاکم بنا دیا گیا۔کوفہ میں ایک لاکھ جنگجو موجود تھے (طبری ،ج ٤، ص ١٦٥)اور اس وقت وہا ں پر چالیس ہزار جنگجو تھے جن میں سے ہر سال ١٠ ہزار سپاہی سرحدو ں کی حفاظت پر مامور ہوتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر چار سال پر ایک سپاہی کوسرحدی
علاقو ں میں جنگ پر جانا ہوتا تھا۔(طبری، ج ٤ ، ص ٦٤٦) ٣٧ھ میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے حکم دیا کہ ہر قبیلہ کا رئیس اپنے قبیلے کے جنگجو افراداور ان کے فرزند جو قتال میں شرکت کر چکے ہیں ، نیزاپنے قبیلے کے غلامو ں کا نام لکھ کر امام علیہ السلام تک پہونچا ئے ۔انہو ں نے نام لکھ کر دیا تو ان میں چالیس ہزار جنگجو ١٧ہزاروہ افراد جو جنگجوؤ ں کے فرزند تھے، نیز٨ہزار موالی اور غلام تھے ۔ اس طرح کل ٦٥ ہزار جنگجو ہوئے (طبری، ج ٥، ص٧٩) ان میں سے آٹھ سو مدینہ کے رہنے والے تھے (طبری ،ج٤، ص ٨٥) سعد نے ان افراد کو سات سات قبیلو ں کے گروہ میں تقسیم کردیا ،اس طرح کنانہ اور ان کے ہم پیمان جو احابیش سے متعلق تھے اور'' جدیلہ ''کا گروہ سات قبیلو ں پر مشتمل ہوگیا۔ '' قضاعہ'' ، '' بجیلہ''،'' خثعم'' ،'' کندہ ،'' ''حضر موت'' اور'' ازد''بھی ساتھ ہوگئے۔'' مذحج'' ، حمیر'' ،''ہمدان'' اور ان کے ہم پیمان بھی سات کے ایک گروہ میں چلے گئے۔'' تمیم'' ،'' ھوازن ''اور'' رباب'' سات کی ایک ٹکڑی میں منتقل ہوگئے ۔''اسد''،'' غطفان'' ،'' محارب'' ،'' نمر''،'' ضبیعہ ''، اور''تغلب'' سات ایک گروہ میں آگئے اسی طرح ''اہل حجر'' اور''حمراء ''اور''دیلم'' بھی سات کی ایک ٹکڑی میں پہنچ گئے۔ یہ سلسلہ عمر ، عثمان اور علی علیہ السلام کے زمانے تک بر قرار رہا لیکن زیادنے آکر ان کو چار چار میں تقسیم کردیا (طبری، ج ٤، ص ٤٨) اس طرح عمر بن حریث مدینہ کے چار گروہ کا سربراہ قرار پایا خالد بن عرفطہ ، تمیم اور ہمدان کے چار گروہ کا حاکم بنا، قیس بن ولید بن عبد الشمس ، ربیعہ اور کندہ پر حاکم ہوااور ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری ،مذحج اور اسد پر حاکم ہوا ۔ یہ سب کے سب حجر اور ان کے ساتھیو ں پر ظلم کے گواہ ہیں ۔(طبری ،ج ٥، ص٢٦٨)
٣۔طبری، ج٥ ، ص ٣٥١ ، یہ بھی عقبہ کی خبر ہے ۔
٤۔طبری ،ج ٥،ص٣٥٢،ابومخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے حجاج بن علی نے محمد بن بشیر ہمدانی کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
٥۔ کشی نے اپنے رجال کے ص ٦٩، حدیث ١٢٤پر فضل بن شاذان کے حوالے سے اس عنوان کے تحت نقل کیا ہے کہ آپ کا شمار تابعین کی ایک بزرگ اور زاہد شخصیت میں ہوتا ہے۔شیخ طوسی نے رجال کے ص ٤٣پرآپ کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب میں ذکر کیا ہے۔آپ کی شخصیت کامنفی رخ یہ ہے کہ جنگ جمل سے منہ موڑ لیا اور بے جا عذر پیش کیا ۔اس تخلف اور عذر کو نصربن مزاحم نے اپنی کتاب کے ص ٦ پر ذکر کیا ہے۔ سلیمان بن صرد کی یہ حالت دیکھ کر امیر المومنین نے فرمایا: جب کہ میں تم پر سب سے زیادہ اعتماد رکھتا تھا اوریہ امید رکھتا تھا کہ سب سے پہلے تم میری مدد کے لئے آگے بڑھوگے لیکن تم ہی شک و تردید میں مبتلا ہو کر جنگ کے خاتمہ کا انتظار کرنے لگے ؟اس پر سلیمان بن صرد نے جواب دیا : میرے مولا آپ لطف و محبت میں اسی طرح پیش گام رہیں اور اسی طرح میری خیر خواہی اور محبت کو خالص سمجھی ں !ابھی بہت مراحل باقی ہیں جہا ں آپ کے دوست آپ کے دشمنو ں کے سامنے پہچان لئے جائی ں گے۔ اس پر حضرت نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن جنگ صفین میں میمنہ کی سربراہی ان کے سپرد کردی۔(صفین، ص ٢٠٥) سلیمان نے حوشب سید الیمن شامی سے مبارزہ کیا اور اسے قتل کردیا۔اس وقت سلیمان اس شعر کو پڑھ رہے تھے:امسی عل عند نامحبباً ۔نفدیہ بالام ولا نبغی اباً (صفین، ص ٤٠١) جنگ صفین میں کسی نے ان کے چہرے پر تلوار سے زخم لگایا تھا (صفین، ص٥١٩)ابومخنف نے ان کو صحابہ اوربزرگان شیعہ میں شمار کیا ہے۔ (طبری، ج٥، ص ٥٥٢) ٦٤ھ میں تو ابین کے قائد یہی سلیمان بن صرد تھے۔(طبری، ج ٥، ص٥٥٥) ان کا عذر یہ تھا کہ ہم لوگ خود کو آمادہ کررہے تھے اور انتظا رکررہے تھے کہ دیکھی ں کیا ہوتا ہے کہ اسی دوران حسین علیہ السلام شہیدکردیئے گئے۔ (طبری ، ج٥،ص٥٥٤)
یزید کی بیعت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ وہ مکہ کی طرف آچکے ہیں ۔ تم ان کے اور ان کے بابا کے پیرو ہو۔ اب اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم لوگ ان کے مدد گار اور ان کے دشمنوں سے جہاد کرنے والے ہو تو ان کو فوراًخط لکھولیکن اگرتم کوخوف و ہراس یا سستی ہے تو دیکھو اس پیکر حق و عدالت کو نصرت و مدد کا وعدہ دے کردھوکہ نہ دو ! اس پر وہ سب کے سب بول پڑے : ''نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ ہم ان کے دشمن سے جنگ کریں گے اور ان کی راہ میں اپنی جان نچھاور کردیں گے ''اس پر سلیمان نے کہا کہ اگر تم لوگ سچے ہوتو بس فوراًخط لکھ کر انہیں بلاؤ ۔(١) اس پر ان لوگوں نے فوراً خط لکھا :
'' بسم اللّه الرّحمن الرّحیم، للحسین بن علی علیه السلام ، من سلیمان بن صرد ، والمسیب بن نجبة(٢) ورفاعه بن شداد(٣) وحبیب بن مظاهر(٤) وشیعته من المؤمنین والمسلمین من اهل الکوفة سلام علیک ، فانا نحمد الیک اللّه الذی لااله الا هو ، امّا بعد : فالحمد للّه الذی قصم عدوّک الجبّار العنید ، الذی انتزی علی هٰذه الأ مة فابتزّها ،و غصبها فیئها ، وتأ مَّر علیها بغیررضیٰ منها ثم قتل خیار ها، و استبقی شرارها ،و جعل مال الله دولة بین جبابر تها و اغنیائها، فبعداًله کما بعدت ثمود
انه لیس علینا امام ؛لعل اللّٰه أن یجمعنا بک علی الحق والنعمان بن بشیر فی (قصرالامارة) لسنا نجتمع معه فی جمعة ولا نخرج معه الی عید ، ولو قد بلغنا انک قد اقبلت الینا أخر جناه حتی نلحقه بالشام ، ان شاء الله، والسلام علیک و رحمةالله و برکاته ''(٥)
____________________
١۔خوارزمی نے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے، ملاحظہ ہو ص ١٩٧
٢۔کشی نے اپنے رجال کے ص٦٩، حدیث ١٢٤میں اس عنوان کے تحت اس طرح ذکر کیا ہے : آپ کا شمار تابعین کے بزرگ سربراہ اور زاہدو ں میں ہوتا ہے۔ شیخ طوسی نے اپنے رجال میں ان کو اصحاب امیر المومنین میں ذکر کیا ہے۔ ص ٥٨، رقم ٨،اور ص٧٠، رقم ٤، میں ان کو اصحاب امام حسن میں ذکر کیا ہے۔ وہا ں اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ یہ وہ ذات ہے جس نے امیر المومنین کی مددکے لئے جلداز جلد خود کو کوفہ سے بصرہ پہنچایا، جیسا کہ طبری نے جلد ٤،ص ٤٤٨ پر لکھا ہے۔ آپ کی فدا کاری کا دوسرا رخ یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعدہ فزاری کو قتل و غارت سے روکنے اور اس سے مقاومت کے لئے حضرت نے ا ن کو خود ان کی قوم کے جوانو ں
کے ہمراہ روانہ کیا ۔(طبری ، ج٥، ص١٣٥)وہ سلیمان بن صرد کی وفات کے بعد توابین کے دوسرے قائد تھے ٦٥ھ میں توابین کے ہمراہ جنگ میں ان کو قتل کردیاگیا۔ (طبری، ج٥، ص ٥٩٩) ۔
٣۔کشی نے اپنے رجال کے ص٦٥، حدیث ١١٨میں لکھا ہے : ان کا شمار ان صالحین میں ہوتا ہے جنہو ں نے ابوذر کو دفن کیا ہے۔ شیخ نے اپنے رجال کے ص ٤١ پرانہیں اصحاب امیر المومنین اور ص ٦٨ پر اصحاب امام حسن علیہ السلام میں ذکر کیا ہے ،البتہ وہا ں ''البجلی'' کا اضافہ ہے۔ جنگ صفین میں قبیلہ بجیلہ یا بجلہ کی سر براہی آپ کے ہاتھو ں میں تھی۔ (صفین، ص ٢٠٥) حجر بن عدی اور عمر و بن حمق کے ساتھیو ں کے ہمراہ انہو ں نے اموی ظلم وستم کے خلاف اپنے مبارزہ کوجاری رکھا اور ان دونو ں بزرگوار کی شہادت کے بعد زیاد بن ابیہ کے ہاتھو ں سے نکل بھاگے۔(طبری ،ج٥، ص ٢٦٥)آپ وہ دوسری شخصیت ہیں جنہو ں نے توابین کے لئے تقریر کی(طبری ،ج ٥، ص ٥٥٣) توابین کی فوجی تنظیم کی ذمہ داری آپ ہی کے سرتھی۔ (طبری، ج ٥ ،ص ٥٨٧) توابین کے آخری امیر آپ ہی تھے۔(طبری، ج٥،ص ٥٩٦) آپ میمنہ والو ں کے درمیان تقریر کرکے جنگ کے لئے ان کے حوصلو ں کو بلند کیا کرتے تھے(طبری ،ج ٥،ص ٥٩٨) آپ مسلسل اسی طرح مصروف جنگ رہے(طبری ،ج ٥،ص ٦٠١) لیکن رات کے وقت لوٹ کر کوفہ آگئے(طبری ،ج ٥،ص ٦٠٥) پھر مختار نے ان کو پیغا م بھیج کر بلوایا (طبری ، ج ٦ ، ص ٨) اور اپنے لئے بیعت لی لیکن انہو ں نے اہل یمن کے ہمراہ کوفہ میں مختار کے خلاف خروج کیا اور انہی کے ہمراہ نماز پڑھنے لگے۔(طبری، ج٦ ،ص ٤٧) پھر جب انھو ں نے سنا کہ ہمدان کا ایک شخص مختار کے نعرہ '' یا لثارات الحسین علیہ السلام ''کے جواب میں ''یا لثارات عثمان'' کا نعرہ لگا رہاہے تو رفاعہ نے کہا : ہم کو عثمان سے کیا مطلب ، ہم ان لوگو ں کے ہمراہ نہیں لڑی ں گے جو عثمان کے خون کا بدلہ چاہتے ہیں ے،ہ کہہ کر ان لوگو ں سے جدا ہوگئے اور یہ شعر پڑھنے لگے:''اناابن شدّاد اعلی دین علی لست لعثمان بن اروی بولی ''میں شدّاد کا فرزند علی کے دین پر ہو ں عثمان بن ارویٰ میرا سر پر ست نہیں ہے ۔
آپ مقام ''سبخہ'' پر'' مھبذان'' کے حمام کے پاس عبادت کی حالت میں قتل کئے گئے ۔(طبری ،ج٦، ص ٤٠٠)
٤۔ آپ امام حسین علیہ السلام کے لشکرمیں میسرہ کے سردار تھے۔ (طبری، ج ٥،ص ٤٢٢)اموی لشکر کے ایک حصّے کا سربراہ حصین بن تمیم آپ کو قتل کر کے بہت بالیدہ تھا ۔ قتل کرنے کے بعد اس نے آپ کے سر کو اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکا دیا ۔ آپ کے بیٹے قاسم بن حبیب نے اپنے باپ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے بدیل بن صریم تمیمی کو قتل کر دیا۔ باجمیرا کی جنگ میں یہ دونو ں مصعب بن زبیر کی فوج میں تھے۔(طبری، ج٥،ص ٤٤٠)
٥۔مقتل خوارزمی ،ص ١٩٤
بسم اللہ الرحمن الرحیم : سلیمان بن صرد ، مسیب بن نجبہ ، رفاعہ بن شداد ، حبیب بن مظاہر اور کوفہ کے مومنین و مسلمین کی جانب سے حسین بن علی کے نام۔ آپ پر سلام ہو !ہم آپ کی خدمت میں اس خدا کی حمد و ستائش کرتے ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ۔ اما بعد : حمد اس خدا کی جس نے آپ کے بدترین اور کینہ توز دشمن کو درہم و برہم کردیا، وہ دشمن جس نے خدا کی ذرہ برابر پرواہ کئے بغیر اس امت پر حملہ کردیا ،ظلم و ستم کے ساتھ اس امت کی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں سنبھال لی اور قوم کی ساری ثروت کو غصب کرلیا ۔ ظلم وستم کی بنیادوں پر حکمرانی کی ، نیک خو اور شائستہ سرپرست افراد کو نابود کردیا، شر پسند عناصر اور تباہی مچانے والوں کو محفوظ رکھا، قومی سرمایہ اور خدا ئی اموال کو ظالموں اور دولت کے پجاریوں کے ہاتھوں میں تقسیم کردیا۔ خدا ان لوگوں پر اسی طرح لعنت و نفرین کرے جس طرح قوم ثمود کو اپنی رحمتوں سے دور کیا !
ہم لوگ ان حالات میں خط لکھ رہے ہیں کہ اموی حاکم نعمان بن بشیر قصر دار الامارہ میں موجود ہے لیکن ہم نہ تو نماز جمعہ میں جاتے ہیں اورنہ ہی نماز عید اس کے ہمراہ انجام دیتے ہیں ، ہم اگر آگاہ ہوگئے کہ آپ کا گرانمایہ وجود ہمارے شہر اور دیار کی طرف روانہ ہے تو اسے اپنے شہر سے نکال کر شام کی طرف روانہ کردیں گے۔ آپ پرخدا کا درود و سلام ہو۔
پھر ہم لوگوں نے عبد اللہ سبع ہمدانی(١) اور عبداللہ بن وال تمیمی(٢) کے ہاتھوں اس خط کو روانہ کیا۔ یہ دونوں افراد تیزی کے ساتھ نکلے اور ١٠ رمضان المبارک تک امام علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ گئے(٣) پھر دو دن صبر کر کے ہم لوگوں نے قیس بن مسہر صید اوی(٤) عبد الر حمن بن عبداللہ بن الکدن ارجی(٥)
____________________
١۔شیخ مفید نے اس شخص کا نام عبداللہ مسمع ذکر کیا ہے ۔ (الا رشاد، ص ٢٠٣) خوارزمی نے عبداللہ بن سبیع ذکر کیا۔(ص ١٩٤) آپ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہید ہوئے ۔
٢۔ سبط بن جوزی نے عبداللہ بن مسمع البکری لکھا ہے۔(ص١٩٤) شیخ طوسی نے فقط دونو ں کے نامو ں پر اکتفا کیا ہے۔ایک کا نام عبداللہ اور دوسر ے کا نام عبیداللہ لکھ کر کہا کہ یہ دونو ں معروف ہیں ۔ (رجال شیخ، ص٧٧) عبد اللہ بن وال تمیمی توابین کے تیسرے سردار تھے اور وہیں قتل کردئے گئے۔(طبری ،ج٥،ص ٦٠٢)
٣۔الارشاد،ص ٢٠٣، تذکرة خواص ،ص ٢٤٤
٤۔یہ قبیلہ اسد سے تعلق رکھتے تھے۔یہ مسلم بن عقیل کے ہمراہ عراق کی طرف لوٹے لیکن جب راستہ میں مشکل پیش آئی تو جناب مسلم نے خط لکھ کر ان کے ہاتھو ں انھی ں امام حسین علیہ السلام کے پاس روانہ کیا۔ (طبری ،ج ٥، ص ٣٥٤) اس کے بعد یہ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ آرہے تھے لیکن جب یہ قافلہ مقام '' بطن الحاجر '' تک پہنچا تو ایک خط لکھ کر امام حسین علیہ السلام نے ان کو کوفہ روانہ کیا۔ جب یہ خط لیکر مقام قادسیہ تک پہنچے تو حصین بن تمیم تمیمی نے ان کو پکڑ لیا اور ابن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ ابن زیاد نے
حکم دیا کہ ان کو چھت سے نیچے پھینک دیا جا ئے۔ حکم پر عمل کیا گیا اور قیس بن مسہر صیداوی کو قصر سے نیچے پھینک دیا گیا ، جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور یہ شہید ہو گئے ۔(طبری ،ج،٥،ص ٣٩٥) جب امام حسین علیہ السلام مقام '' عذیب الہجانات '' تک پہنچے تو آپ کو جناب قیس کی شہادت کی خبر موصول ہوئی۔ یہ خبر ایسی روح فرساتھی کہ امام علیہ السلام کی آنکھی ں پْر نم ہو گئی ں ؛ آپ کے آنسو تھم نہ سکے اور بے ساختہ بول اٹھے:''منهم من قضی نحبه اللهم اجعل لنا ولهم الجنة نزلا واجمع بینناوبینهم فی مستقرّرحمتک ورغائب مذ خورثوابک'' (ج ٥، ص ٤٠٥)
ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہو ں نے اپنا عہد وفا کیا اور کچھ منتظر ہیں خدا یا اپنی جنت کوہمارے اور ان کے لئے منزل گاہ قرار دے اور اپنی رحمت کی قرار گاہ اور اپنے گنجینہء ثواب میں ہم کو اور ان لوگو ں کو آپس میں جمع کردے!
(٥) شیخ مفید نے ارشاد کے ص٢٠٣پر ان کا نام عبداللہ و عبد الرحمن شدادی ارجی لکھا ہے۔ سبط بن جوزی نے اپنی کتاب کے ص ١٩٤ پر عبداللہ بن عبدالرحمن لکھا ہے ۔یہ جناب مسلم کے ساتھ عراق آئے تھے۔(طبری ،ج٥،ص٣٥٤)
اور عمارہ بن عبید سلولی(١) کو پھر روانہ کیا یہ افراد ١٥٠ خطوط لیکر روانہ ہوئے ۔(٢) قابل ذکر ہے کہ ان میں سے ہر ایک خط دو یا تین یا چند افراد کی طرف سے لکھا گیاتھا ۔محمدبن بشر ہمدانی کہتا ہے کہ دودن گذرنے کے بعد ہم نے پھر ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبداللہ حنفی کے ہاتھوں اس طرح خط لکھ کر روانہ کیا:
''بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم : للحسین بن علی ، من شیعتہ من المومنین والمسلمین اما بعد: فحّ ھلا ،فان الناس ینتظرونک ولا رأ لھم فی غیرک فا لعجل العجل والسلام علیک''(٣)
حسین بن علی کے نام یہ خط ان کے شیعوں کی جانب سے ہے جو مومن ومسلم ہیں ۔اما بعد : اے فرزند پیغمبر! جلد ازجلد ہماری طرف آجائیے کیونکہ سب لوگ آپ کے انتظار میں ہیں اور آپ کے علاوہ ان کا دل کسی دوسرے کے لئے نہیں تڑپ رہا ہے لہٰذا جلدی کیجئے جلدی۔والسلام
____________________
١۔ خوارزمی نے اپنے مقتل کے ص ١٩٥ پر ان کا نام عامر بن عبید لکھا ہے۔شیخ مفید نے ارشاد کے ص ٢٠٣،اور سبط ابن جوزی نے ص ٢٤٤ پر عمارہ بن عبداللہ سلولی لکھا ہے۔یہ بھی حضرت مسلم کے ہمراہ عراق آئے تھے۔ (طبری ،ج٥،ص ٣٥٤) یہ ہانی کے گھر میں بھی تھے (طبری ،ج٥،ص ٣٦٣) لیکن اس کے بعد ان کا کو ئی پتہ نہیں ملتا۔
٢۔طبری نے ٥٣ خطوط کا تذکرہ کیا ہے لیکن شیخ مفید نے ص ٢٠٣ پر ١٥٠ خطوط مرقوم فرمائے ہیں ۔یہی تعداد سبط ابن جوزی نے ص ٢٤٤ پر ہشام اور محمد بن اسحاق کے حوالے سے ذکر کی ہے۔ اسی طرح خوارزمی نے بھی اپنے مقتل ص ١٩٥، پر'' اعثم کوفی'' کے حوالے سے اتنی ہی تعداد کا تذکرہ کیا ہے۔ .ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طبری کے یہا ں '' ثلا ثہ '' اور ''مأئة '' کے درمیان تصحیف ہو گئی ہے۔
٣۔ الارشاد ،ص٢٠٣، تذکرةالخوص ،ص٢٤٤
اب چوتھا خط شبث بن ربعی(١) حجار بن ابجر ،(٢) یزید بن حارث بن یزید بن رویم(٣) عزرہ بن قیس(٤) عمروبن حجاج زبیدی(٥) اور محمدبن عمر تمیمی(٦) نے روانہ کیا جس کا مضمون یہ ہے : اما بعد فقد اخضرّ الجنان ، و أینعت الثمار ، و طمت الجمام فاذاشئت فاقدم علی جندلک مجنَّدَ ہ؛ والسلام علیک(٧)
اے پسر پیغمبر !ہمارے سارے باغ و بوستان سرسبزو شاداب ہیں ، تمام کے تمام پھل پک چکے ہیں اور ساری نہریں اور کنویں جل تھل ہیں ۔ اگر آپ آنا چاہتے ہیں تو تشریف لے آئیے! سپاہ حق آپ کے ہمراہ آمادہ نبرد ہے ۔ والسلام علیک
____________________
١۔ یہ شخص قبیلۂ ''تمیم ''کے خاندان یر بوع سے تعلق رکھتا ہے لہٰذ یربوعی تمیمی کہا جا تا ہے۔ (طبری ،ج ٥،ص ٣٦٩) یہ شخص پہلے جھوٹے مدعی نبوت سجاح کا موذن تھا (طبری ،ج ٣،ص ٢٧٣) پھر بعد میں مسلمان ہو گیا اور عثمان کا معین ومددگار ہو گیا۔ بعدہ علی علیہ السلام کی مصاحبت اختیار کرلی۔ یہ جنگ صفین میں حضرت کے لشکر میں تھا اور بنی عمروبن حنظلہ کا سر براہ تھا ۔(صفین ، ص ٢٠٥) جنگ نہروان میں بھی حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں میسر ہ کا سر دار تھا (طبری ،ج ٥،ص٨٥) ایک جماعت کے ہمراہ حضرت علی علیہ السلام اور معاویہ کے درمیان پیغام رسانی بھی کرتا رہا (صفین، ص ٩٧) لیکن بعد میں اس نے جناب حجر بن عدی اور ان کے ساتھیو ں کے خلاف ابن زیاد کے سامنے گواہی دی (طبر،ی ج ٥،ص ٢٦٩) اور روز عاشورا اموی لشکر میں پیدلو ں کا سردار تھا (طبری، ج ٥،ص ٤٦٦) اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے یہ امام حسین علیہ السلام سے لڑنا پسند نہیں کرتا تھا اسی لئے جب اس سے عمر سعد نے کہا : کیا تم آگے بڑھ کر ان تیراندازو ں کے ساتھ ہونا پسند نہیں کروگے جو حسین پر تیرو ں کی بارش کرنے والے ہیں ؟ اس پر شبث نے کہا : سبحان اللہ تو خاندان مضر کے بزرگ اور کوفہ کے تیراندازو ں کے گروہ میں مجھے بھیج رہا ہے، کیا تجھے کوئی اور نہ ملا جسے میرے بدلے میں وہا ں بھیج دے ؟ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد یہ کہا کر تا تھا ؟ خدا اس شہر (کوفہ)کے لوگو ں کو کبھی بھی اچھائی عطا نہیں کرے گا اور کبھی بھی عقل ورشد کی راہ کو نہیں کھولے ، کیا تم لوگو ں کو اس پر تعجب نہیں ہو تا کہ ہم نے علی بن ابی طالب اور ان کے فرزند کے ہمراہ پانچ سال تک آل ابو سفیان کے خلا ف لڑائی لڑی ہے لیکن اس کے بعد ہم ان کے فرزند کے دشمن ہو گئے جو زمین پر سب سے بہترتھے۔ ہم آل معاویہ اور زناکار سمیہ کے بیٹے کے ہمراہ ان سے مقابلہ پر آمادہ ہو گئے۔ ہا ئے رے گمراہی ؛وائے رے گمراہی ! (طبری، ج ٥ ،ص ٤٣٢ ۔ ٤٣٧) یہی وہ شخص ہے جس نے جناب مسلم بن عوسجہ کی شہادت پراہل کوفہ کے خوش ہونے پر ان کی ملا مت کی ہے ۔(طبری ،ج٥،ص ٤٣٦)
لیکن اس کے بعد ابن زیادکے سخت موقف سے ہرا سا ں ہو گیا اور امام حسین علیہ السلام کے قتل پر اپنی خوشی کا اظہار
کرنے کے لئے ایک مسجد بنوادی (طبری ،ج٦، ص ٢٢) پھر ابن زبیر کی طرف سے ابن مطیع کے تین ہزار کے لشکر کے ساتھ اس نے جناب مختارسے پیکار کی ہے ۔(طبری ،ج ٦، ص٢٣)
٢۔یہ شخص قبیلۂ عجل سے متعلق ہے لہٰذ العجلی کہا جا تا ہے۔ (طبری، ج ٥،ص٣٦٩) اس کا باپ نصرانی تھا اور ان کے درمیان ایک خاص مقام و منزلت کا حامل تھا۔(طبری ،ج٥،ص ٤٢٥) اس کا شمار ان لوگو ں میں ہو تا جنہو ں نے حجربن عدی کے خلاف ابن زیاد کے سامنے گواہی دی۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٢٧٠) جس دن جناب مسلم نے خروج کیا اس دن یہ حجر بن عدی کے بیٹے کے لئے پر چم امان لہراتا ہوا آیا ۔(طبری ،ج٥ ،ص٣٦٩) اسی شخص نے کربلا میں روز عاشوراس سے انکار کر دیا کہ اس نے امام علیہ السلام کو خط لکھا تھا (طبری ،ج ٥ ،ص ٤٢٥) پھر اس نے مختار سے محاربہ کیا (طبری ،ج ٦،ص ٢٢) اس کے بعد مصعب کے لئے عبد اللہ بن حر سے جنگ کی اور وہا ں سے بھا گ کھڑا ہوا ۔اس پر مصعب نے اس کی سرزنش کی پھر چھوڑ دیا۔(طبری، ج ٦، ص ١٣٦) یہ کو فہ کے ان لوگو ں میں سے ہے جن کو عبد الملک بن مروان نے خط لکھا تو ان لوگو ں نے اصفہان کی حکومت کی شرط لگائی اور اس نے انہیں وہ سب کچھ دیدیا (طبری، ج ٦،ص ٩٥٦) لیکن یہ شخص مصعب کے ہمراہ دکھا وے کے لئے عبد الملک سے جنگ کے لئے نکلا لیکن جب مصعب نے جنگ کے لئے بلا یا تو کہنے لگا میں اس سے معذرت چاہتا ہو ں ۔(طبری، ج ٦، ص ١٥٨) یہ ٧١ ھ تک زندہ رہا اس کے بعد اس کاکو ئی پتہ نہیں ۔
٣۔ اس کی کنیت ابو حوشب شیبانی ہے۔ اس شخص نے روز عاشورہ اس بات سے انکار کردیا کہ اس نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھا تھا۔ (طبری، ج ٥،ص ٤٢٥) جب یزید قتل ہو گیا اور عبید اللہ بن زیاد کوفہ کا حاکم ہوا تو عمر وبن حریث نے لوگو ں کو ابن زیاد کی بیعت کے لئے بلا یا ۔ اس وقت یہی یزید بن حارث اٹھا اور بولا : خدا کی حمد وثنا کہ اس نے ہمیں ابن سمیہ سے نجات دی؛ جس میں کوئی کرامت ہی نہیں تھی ، اس پر عمر وبن حریث نے حکم دیا کہ اس کو پکڑکے قید کر دیا جائے لیکن بنی بکر بن وائل نے بیچ بچاؤ کرا کے اس کو نجات دلائی ۔(طبری، ج ٥،ص ٥٢٤) اس کے بعد یہ عبد اللہ بن یزید خطمی انصاری کے ساتھیو ں میں ہو گیا جو ابن زبیر کی جانب سے ابن مطیع سے قبل کوفہ کا والی تھا اور اس کو سلیمان بن صرد اور ان کے ساتھیو ں کے خروج سے پہلے ان سے جنگ کرنے پر اکسایا کرتا تھا۔ (طبری ،ج ٥،ص ٥٦١ ۔ ٥٦٣) پھر یہ عبداللہ بن یزید کو مختار کے قید کرنے پر اکسایاکر تا تھا (طبری، ج٥،ص٥٨)پھر ابن مطیع نے اسے مختار سے جنگ کرنے کے لئے ''جبانةمراد''کی طرف بھیجا (طبری ،ج ٦،ص ١٨) لیکن مختار نے اس کو کوفہ میں داخل ہونے سے روک دیا (طبری ،ج٦،ص ١٢٤) پھر مختار کی حکومت کے زمانے میں بنی ربیعہ کے ساتھ اس نے مختار کے خلاف پرچم بغاوت بلند کردیا(طبری، ج ٦، ص ٤٥) لیکن مقابلہ میں اپنے ساتھیو ں کے ساتھ بھاگ کھڑاہوا (طبری ،ج٦،ص ٥٢) پھر ابن ز بیرکی جانب سے مقرر والی کوفہ حارث بن ابی ربیعہ کے ہمراہ ٦٨ھ میں اس جنگ میں شرکت کی جو''ازارقہ'' کے خوارج سے ہوئی تھی (طبری،ج ٦،ص ١٢٤) پھر مصعب نے اسے مدائن کا امیر بنا دیا۔ (طبری ،ج ٦،ص١٢٤) بعدہ عبد الملک بن مروان کی جانب سے ٧٠ ھ میں شہر
ری کا والی مقرر ہوا ۔(طبری ،ج ٦،ص ٤ ١٦) آخر کار خوارج نے اسے قتل کردیا۔ (ابصار العین، ص ١٥) اس کے دادا یزید بن رویم شیبانی بزرگان کوفہ میں شمار ہوتے تھے جو جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ تھے ۔(صفین، ص ٢٠٥)
٤۔اسے احمسی کہتے ہیں ا سکا شمار بھی انہی لوگو ں میں ہوتا ہے جنہو ں نے جناب حجر بن عدی کے خلاف گواہی دی تھی۔(طبری، ج٥،ص ٢٧٠) اسی لئے اس نے امام علیہ السلام کو خط لکھا تاکہ اپنی جنایتو ں کو اس تحریر کے ذریعے چھپاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پسر سعد نے امام حسین علیہ السلام کے پاس جاکر یہ پوچھنے کو کہا کہ آپ کو یہا ں کون لایا ہے ؟تو شرم سے یہ مولاکے پاس نہ گیا اور یہی وجہ تھی کہ جب نوی ں محرم کی شب کو یہ شخص جناب زہیر سے روبرو ہوا تو جناب زہیر قین نے اس کی بے حیائی پر کہہ دیا کہ خدا کی قسم کیا تو ہی نہ تھا کہ جس نے خط لکھاتھا ؟ کیا تو نے پیغام رسا ں کو نہیں بھیجاتھا اور کیا تو نے ہماری مدد و نصرت کا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ یہ چونکہ عثمانی مذہب تھا لہٰذا جناب زہیر سے کہنے لگا : تیرا تعلق بھی تو اس گھرانے سے نہ تھا، توبھی تو عثمانی مذہب تھا ۔(طبری، ج٥،ص ٤١٧) عمر سعد نے اسے سوارو ں کی نگہداری پر مقرر کیا تھا ۔اوریہ رات میں ان سب کی نگہداشت کرتا تھا (طبری ،ج ٥،ص ٥٢٢) لیکن اصحاب امام حسین علیہ السلام اسے گھوڑو ں کو چھپانے نہیں دیتے تھے بلکہ اسے آشکار کردیتے تھے۔ اس پر اس نے پسر سعد سے شکایت کی اور درخواست کی کہ ا سے اس امر سے باز رکھا جائے اور پیدلو ں کی سر براہی دیدی جائے اور پسر سعد نے ایسا ہی کیا۔ (طبری ،ج ٥ ،ص ٤٣٦) اس ملعون کا شمار انہی لوگو ں میں ہوتاہے جنہو ں نے امام علیہ السلام اوران کے اصحاب کے مقدس سرو ں کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا تھا۔(طبری ،ج ٥،ص ٤٥٦) اس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ملتی ۔
٥۔اس کا شمار بھی ان ہی لوگو ں میں ہوتا ہے جنہو ں نے جنا ب حجر بن عدی کے خلاف گواہی دی تھی۔ (طبری ، ج ٥،ص ٢٧٠) اس کی بہن روعہ بنت حجاج، ہانی بن عروہ کی بیوی اور یحٰی بن ہانی کی ما ں تھی۔ (طبری، ج٥،ص ٣٦٤) جب ہانی شہید ہوگئے تو یہ قبیلہ'' مذحج ''کے جم غفیر کو لیکر ابن زیاد کے محل کے پاس پہنچا۔ جب دربار میں خبر پہنچی تو ابن زیاد نے قاضی شریح کو بھیج کر یہ کہلوادیا کہ وہ زندہ ہیں ؛اس پر سارا مجمع متفرق ہوگیا۔ (طبری، ج٥ ،ص ٣٦٧) پھر یہ شخص کربلا پہنچاتوپسر سعد نے اسے ٥٠٠ سوارو ں کے ہمراہ روانہ کیا۔ یہ سب کے سب فرات کے کنارے گھاٹ پر کھڑے ہوگئے کہ امام علیہ السلام اور ان کے اصحاب تک پانی نہ پہنچنے پائے۔ یہ واقعہ شہادت سے تین دن پہلے کا ہے (طبری ،ج٥،ص ٤١٢) ٩ محرم کو جب امام علیہ السلام نے ایک شب کی مہلت مانگی اور پسر سعد لوگو ں سے مشورت کرنے لگا تو اس شخص نے پسر سعد سے مہلت نہ دینے کے سلسلہ میں ملامت کی۔ (طبری، ج٥،ص ٤١٧) روز عاشورہ یہ شخص فرات کی طرف پسر سعد کے لشکر میں میمنہ کا سردار تھا ۔(طبری، ج٥،ص ٤٢٢) اسی فرات کی طرف سے امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب پر یہ حملہ آور ہوتا اور سپاہیو ں کو ان کے قتل پر اکساتاتھا۔ (طبری، ج٥،ص ٤٣٥) یہ انھی ں لوگو ں میں ہے جو شہداء کے سر کو کوفہ لے گئے تھے۔ (طبری، ج٥ ،ص ٤٥٦) بعدہ ابن مطیع کے ہمراہ مختار کے خلاف جنگ پرآمادہ ہوگیا (طبری ، ج٦،ص ٢٨) اور ''سکہّ الثوریین''سے ٢ ہزار لوگو ں کے ہمراہ جنگ کے لئے نکلا(طبری ،ج٦ ،ص ١٩٠) پھر
''جبانہ مراد'' میں قبیلہ مذحج کے پیر و ں میں ہوگیا۔(طبری ،ج٦، ص ٤٥) جب مختار فتح یاب ہوگئے تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر یہ'' شراف اور واقصہ'' کے راستہ پر نکل گیا ۔اس کے بعد یہ شخص کہیں نہیں دیکھاگیا ۔(طبری، ج٦، ص ٥٢)
٦۔اس کو ابن عطارد بھی کہتے ہیں اور یہ بھی جناب حجربن عدی کے خلاف گواہی دینے والو ں میں شمار ہوتا ہے۔ (طبری، ج٦،ص ٢٧٠) مختار سے جنگ کے وقت یہ مضر کا ہم پیمان تھا۔(طبری ، ج٦،ص ٤٧) اس کے بعداس نے مختار کی بیعت کر لی تو مختار نے اسے آذر بایجان کا گورنر بنا کر بھیج دیا۔ (طبری ، ج٦، ص ٣٣٤) خوارج ازارقہ سے جنگ کے موقع پر یہ شخص حارث بن ابی ربیعہ کے ہمراہ تھا جو کوفہ میں ابن زبیر کی طرف سے حاکم مقرر ہواتھا ۔(طبری، ج٦ ، ص ١٢٤) اس کا شمار ان لوگو ں میں ہوتا جس کابنی مروان کے حاکم عبدالملک بن مروان سے مکاتبہ ہواکرتاتھا۔ (طبری ، ج٦، ص ١٥٦) اس کے بعد عبدالملک نے اس کو ہمدان کا گورنر بنادیا۔ (طبری ،ج٦، ص١٦٤) جب یہ دوبارہ لوٹا تو اس وقت ٧٥ھ میں حجاج بن یوسف کی حکمرانی کا زمانہ تھا۔(طبری ، ج٦، ص ٢٠٤) اس کے بعد اس کا سراغ نہیں ملتا ۔
اس کا باپ عمیر بن عطار د کوفہ کے قبیلہ تمیم کا ہم پیمان تھا جو صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے ہمراہ تھا۔ (صفین، ص ٢٠٥) یہی وہ شخص ہے جس نے زیاد کے سامنے عمرو بن حمق خزاعی کے خون کے سلسلے میں سفارش کی حتی کہ عمرو بن حریث اور زیاد نے اس کی ملامت کی ۔ (طبری ، ج٥، ص ٢٣٦)
٧۔الارشاد، شیخ مفید، ص ٢٠٣ وتذکرة الخواص ، سبط بن جوزی، ص ٢٤٤ ، ذرا غور تو کیجئے کہ دنیا کے متوالے یہ سمجھ رہے تھے کہ امام علیہ السلام کو اپنی طرف بلانے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کو دنیاوی چیزو ں سے لبھایا جائے ، ہائے رے عقل کا دیوالیہ پن ۔
امام حسین علیہ السلام کا جواب
تمام پیغام رساں مولا کے حضور میں حاضر ہوئے امام علیہ السلام نے ان سب کے خطوط پڑھ کر وہاں کے لوگوں کی احوال پرسی کی ؛پھر ہانی بن ہانی السبیعی اور سعید بن عبداللہ حنفی (جو نامہ بروں کے سلسلے کے آخری رکن تھے) کے ہمراہ خط کا جواب اس طرح لکھا:
بسم اللّه الرحمن الرحیم : من الحسین بن علی، الی الملأ من المومنین والمسلمین ،اما بعد : فان هانئاًو سعیداًقَدِ ما علیّ بِکُتُبِکُم
وکانا آ خر من قَدِم علیّ من رسلکم وقد فهمت کل الذی اقتصصتم و ذکر تم ، ومقالةجلّکم : اِنه لیس علینا اِمام فاقبل ، لعل اللّٰه ان یجمعنا بک علی الهدی والحق
و قد بَعَثْتُ الیکم اخی وابن عمی و ثقتی من اهل بیتی (مسلم بن عقیل) وأمرته ان یکتب الیّ بحالکم وأمرکم و رأیکم
فان کتب الیّ : انه قد أجمع رأی ملئکم ، وذوی الفضل و الحجی منکم ، علی مثل ما قد مت علی به رسلکم ، وقرأت فی کتبکم ، أقدم علیکم وشیکاً، ان شاء اللّه ، فلعمری ما الامام الاالعامل بالکتاب ، والآخذبالقسط ، والدائن بالحق ، والحابس نفسه علی ذات الله ، والسلام(١)
بسم اللہ الرحمن الرحیم : یہ خط حسین بن علی کی طرف سے مومنین و مسلمین کے ایک گروہ کے نام بعد از حمد خدا،ہانی اورسعید تمہارے خطوط لے کر ہمارے پاس پہنچ چکے ہیں ۔
یہ دونوں ان نامہ رسانوں میں سے آخری نامہ رساں ہیں جو اب تک میرے پاس آچکے ہیں میں نے تمام ان چیزوں کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے جس کا قصہ تم لوگوں نے بیان کیا اور جن باتوں کا تم لوگوں
____________________
١۔طبری ج ٥، ص٣٥٣، ابومخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے حجاج بن علی نے محمد بن بشر ہمدانی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ، شیخ مفید نے بھی اس روایت کو ذکر کیا ''الارشاد'' ،ص٢٠٤، تذکرةالخواص ، ص ١٩٦
نے ذکر کیا ہے۔ تم میں اکثر و بیشتر لوگوں کی گفتگوکا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی امام نہیں ہے لہٰذا آجائیے ، شاید خدا وند عالم آپ کے وسیلہ سے ہم لوگوں کو ہدایت و حق پر جمع کردے۔
میں تمہاری طرف اپنے بھائی ، اپنے چچا کے بیٹے (مسلم بن عقیل) اور اپنے خاندان کی اس فرد کو بھیج رہا ہوں جس پر مجھے اعتماد ہے ۔میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ وہاں جا کر تمہارے آراء و خیالات سے مجھ کو مطلع کریں ، اب اگر انھوں نے مجھکو مطلع کردیا کہ تمہارے خیالات وہی ہیں جو تم نے اپنے خطوط میں تحریر کئے ہیں ؛ جسے میں نے دقت سے پڑھا ہے اور صرف عوام نہیں بلکہ تم میں کے ذمہ دار اور صاحبان فضل و شرف افرادبھی اس پر متفق ہیں تو انشاء اللہ بہت جلد میں تم لوگوں کے پاس آجا وں گا ۔
قسم ہے میری جان کی !امام تو بس وہی ہے جو کتاب خدا پر عمل کرنے والا ہو ، عدل و انصاف قائم کرنے والا ، حق پر قائم، اس کو اجراء کرنے والا اور اللہ کی راہ میں خود کووقف کردینے والا ہو ۔ والسلام
حضرت مسلم علیہ السلام کا سفر
امام علیہ السلام نے جناب مسلم کو بلایا اور قیس بن مسہر صیداوی(١) عمارہ بن عبید السلولی(٢) اور عبد الرحمن عبداللہ بن الکدن ارجی(٣) کے ہمراہ آپ کو روانہ کیا ۔مسافرت کے وقت آپ نے ان کو تقویٰ کی سفارش کی، باتوں کو صیغہ راز میں رکھنے کو کہااور لوگوں کے ساتھ عطوفت و مہربانی سے پیش آنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگرتم نے محسوس کیا کہ لوگ اپنے کئے ہوئے وعدہ پر برقرار ہیں تو مجھے فوراً اس سے مطلع کرنا ۔
مسلم بن عقیل وداع ہو کر کوفہ کے لئے روانہ ہوئے ،راستے میں مدینہ آئے، مسجد رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم میں نماز اداکی، اس کے بعد اپنے نزدیکی رشتہ داروں سے رخصت ہو کر راہی کوفہ ہوئے۔ قیس نے راستے کی شناخت کے لئے دو ایسے لوگوں کو ہمراہ رکھا جو راستے سے آگاہ تھے لیکن وہ دونوں راستہ بھول گئے۔ ادھر ادھر بھٹکنے کی وجہ سے ان لوگوں پر پیاس کا غلبہ ہوا ۔اس پر دونوں راستہ شناس افراد نے کہا : آپ لوگ اس
____________________
١۔٢۔٣۔ یہی وہ افراد ہیں جو کوفیو ں کے ١٥٠ خطوط لے کر امام علیہ السلام کی خدمت میں حا ضر ہوئے تھے ان سب کے احوال بیان ہوچکے ہیں ۔ عمارہ بن عبید کو شیخ مفیدرہ اور سبط بن جوزی نے عمارہ بن عبداللہ لکھا ہے اور اسی طرح عبد الرحمن کو شیخ مفید نے عبدالرحمن بن عبداللہ تحریر کیا ہے اورعبد اللہ اور عبدالرحمن کو راشد ارجی کا فرزند تحریر فرمایا ہے۔ ص ٢٠٤۔
راستے کو پکڑ لیں اس کے انتہا پر پانی موجود ہے لیکن ان لوگوں کو وہاں بھی پانی میسر نہ ہو ا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ یہ افراد موت کے دھانے پر پہو نچ گئے۔ آخر کار چاروناچار یہ لوگ مدینہ پلٹ گئے۔
راستہ سے جناب مسلم کا امام علیہ السلام کے نام خط
درہ خبیت کے ایک تنگ گوشہ سے جناب مسلم نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھا اور قیس بن مسہر کے ہا تھوں اسے امام علیہ السلا م کی خدمت میں روانہ کیا۔ خط کا مضمون یہ تھا
''اما بعد : فانّی اقبلت من المدینة معی دلیلان لی ، فجارا عن الطریق وضلّا ، واشتدّ علینا العطش، فلم یلبثا أن ماتا ، وأقبلنا حتی انتهیناالی ٰالماء ، فلم ننج الا بحشا شة أنفسنا ، وذلک الماء بمکان یدعی المضیق من بطن الخُبیت،(١) قد تطیرّت من وجهی هٰذا ، فان رأیت اعفیتنی منه وبعثت غیری والسلام'' (٢)
اما بعد : میں مدینہ سے دو ایسے افراد کے ساتھ نکلا جو راستہ سے آشنا تھے لیکن وہ دونوں راستہ بھول گئے۔ اسی حالت میں ہم پر پیاس کا غلبہ ہوا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ دونوں جان بحق ہو گئے۔ ہم لوگ چلتے چلتے پانی تک پہنچ گئے ،اس طرح ہم لوگ موت کے منہ سے نکل آئے۔ یہ پانی درہ خبیت کے ایک تنگ گوشہ میں ہے ۔میرے مولا میں نے اس سفر کو فال بد سمجھا ہے لہٰذا اگر آپ بہتر سمجھیں تو مجھے اس سے معاف فرمادیں اور کسی دوسرے کو اس کام کی انجام دہی کے لئے بھیج دیں ۔ والسلام
____________________
١۔خبیت مدینہ کے اطراف میں مکہ کے راستہ کی طرف ایک جگہ ہے جہا ں یہ دونو ں راہنما گم ہو کر مکہ کی طرف نکل پڑے تھے۔ جیساکہ ابصار العین میں موجود ہے۔ ص١٦
٢۔ارشاد، ص ٢٠٤و خوارزمی ص ١٩٧پر تھوڑے سے فرق کے ساتھ۔ طبری نے بھی معاویہ بن عمار کے واسطہ سے اسے امام باقرعلیہ السلام سے نقل کیا ہے۔ ج ٥،ص ٣٤٧
مسلم کواما م علیہ السلام کا جواب
خط ملتے ہی امام علیہ السلام نے جناب مسلم کو جواب دیا :
''اما بعد : فقد خشیت ان لا یکون حمَلَکَ علی الکتاب الیّ فی الا ستعفا ء من الو جہ الّذی وجّھتک لہ الا الجبن ، فامض لو جھک الذی وجھتک لہ، والسلام علیک''
امابعد :مجھے اس کا خوف ہے کہ تم نے اس عظیم سفر سے جسے میں نے تمہارے سپرد کیا ہے معافیت طلبی کا خط فقط خوف و ہر اس کی بنیاد پر لکھا ہے لہٰذا میری رای یہ ہے کہ فوراً اس کام پر نکل پڑوجسے میں نے تمہارے سپرد کیا ہے ۔ والسلام علیک
جناب مسلم نے خط کے جواب کو پڑھ کر کہا : میں اس سفر میں اور اس کام کی انجام دہی میں اپنی جان سے ہر گز خوف زدہ نہیں ہوں ۔ یہ کہہ کر مسلم وہاں سے نکل پڑے۔ چلتے چلتے ایک منزل گاہ اور چشمہ آب تک پہنچے جو قبیلہ ٔ '' طئی '' کا تھا۔ آپ نے اس چشمہ کے پاس پڑاؤڈالااور کچھ دیر آرام کیا ۔ آرام کے بعد پھر وہاں سے سفر پر نکل پڑے۔کچھ دیر چلنے کے بعد راستے میں جناب مسلم نے ایک شکاری کو ہرن کا شکار کرتے ہوئے دیکھا ۔جب اس شخص نے ہرن پر تیر مارا تو وہ بری طرح تڑپ رہا تھا۔حضرت مسلم نے اسے دیکھ کر کہا : اگر خدا چاہے گا تو ہمارا دشمن بھی اسی طرح نابود ہو جائے گا۔
کوفہ میں جناب مسلم کا داخلہ
* اہل بصرہ کے نام امام علیہ السلام کا خط
* مسلم کی تنہائی کے بعدابن زیاد کا خطبہ
* بصرہ میں ابن زیاد کا خطبہ * مسلم کی تلاش میں ابن زیاد
* کوفہ میں داخلہ کے بعد ابن زیاد کا خطبہ * مختار کا نظریہ
* مسلم،ہانی کے گھر * دوسری صبح
* معقل شامی کی جاسوسی * جناب مسلم سے جنگ کے لئے محمد بن اشعث کی روانگی
* ابن زیاد کے قتل کا پلان *آگ اور پتھر کی بارش
* معقل ،جناب مسلم کے گھر میں * فریب امان اور گرفتاری
* دربار میں ہانی کا احضار *حضرت مسلم بن عقیل کی محمد بن اشعث سے وصیت
*ہانی، ابن زیاد کے روبرو * مسلم،محل کے دروازہ پر
* موت کی دھمکی * مسلم، ابن زیاد کے روبرو
*ہانی کے قید کے بعد ابن زیاد کا خطبہ *حضرت مسلم علیہ السلام کی شہادت
*جناب مسلم علیہ السلام کا قیام * جناب ہانی کی شہادت
* اشراف کوفہ کی خیانت * تیسرا شہید
* پرچم امان کے ساتھ اشراف کوفہ * چوتھا شہید
* جناب مسلم علیہ السلام کی غربت و تنہائی * مختار قید خانہ میں
* ابن زیاد کا موقف * یزید کے پاس سروں کی روانگی
* یزید کا جواب * امام علیہ السلام کا مکہ سے سفر
کو فہ میں جناب مسلم علیہ السلام کا داخلہ
وہاں سے مسلم علیہ السلام پھر آگے بڑھے یہاں تک کہ اپنے تینوں ساتھیوں قیس بن مسہر صیداوی ، عمارہ بن عبیدالسلولی اور عبد الرحمن بن عبداللہ بن الکدن ارجی کے ہمراہ کوفہ میں داخل ہو ئے(١) اور مختار بن ابو عبیدثقفی(٢ ) کے گھر میں مہمان ہوئے ۔وہاں پہنچتے ہی شیعہ ہر چہار جانب سے آپ کی خدمت میں شرفیاب ہونے لگے اور رفت و آمد کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔جب سب شیعہ جمع ہوگئے تو جناب مسلم نے ان کو امام علیہ السلام کا خط پڑھ کر سنا یا۔ خط کے مضمون کو سنتے ہی وہ سب کے سب رونے لگے ۔
____________________
١۔طبری ،ج٥، ص ٣٥٥ ، مروج الذہب ،ج ٢ ،ص ٨٦ ،کے بیان کے مطا بق کو فہ میں وارد ہونے کی تاریخ ٥ شوال ہے۔
٢۔ پہلی ہجری میں مختار نے اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ (طبری، ج ٢،ص ٤٠٢) ٣٧ ھ میں اپنے چچا سعد بن مسعود ثقفی کی جانب سے ان کی جانشینی میں مدائن کے گور نر ہوئے۔ (طبری ،ج ٥،ص ٧٦) عام الجماعتہ کے بعد ٤٠ھ تک اپنے چچا ہی کے پاس رہے۔ (طبری ،ج ٥ ،ص١٥٩) طبری نے مختار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مختار نے اپنے چچا سے بتایا کہ حسن بن علی (علیہماالسلام) نے حکومت معاویہ کے سپرد کر دی ہے۔ (ج ٥، ص ٥٦٩) زیاد کے زمانے میں مختار سے چا ہا گیا کہ وہ حجربن عدی کے خلاف گواہی دی ں لیکن مختار نے اسے قبول نہ کیا۔ (طبری ،ج ٥، ص ٢٧٠) جناب مسلم کے قیام کے دوران آپ کا شمارپر چمدارو ں میں ہوتا تھا (ج٥،ص٣٨١) لیکن جب جناب ہانی کے قید ہونے کی خبر سے مطلع ہوئے تو اپنے پر چم اور اپنے ساتھیو ں کے ساتھ جناب مسلم کے خروج سے پہلے ہی کسی وعدہ کے بغیر قیام کردیا ،پھر جب عمروبن حریث نے مختارکو دعوت دی کہ ابن زیاد کے پر چم امن تلے آجاؤ اور صلح کر لو تو دھوکہ میں آکر مختار نے صلح قبول کرلی۔ابن زیاد کے دربار میں داخل ہوئے تو چھڑی سے آپ کے چہرے پر حملہ کیا گیا۔جس کی وجہ سے آنکھ میں کافی چوٹ آئی اور ٹیڑھی ہو گئی۔ اس کے بعد آپ کو قید کر دیا گیا؛ یہا ں تک کہ امام حسین علیہ السلام شہید ہو گئے۔ آپ کی بہن صفیہ، عبد اللہ بن عمر کی زوجہ تھی ں لہٰذ امسلم نے اپنے چچا کے بیٹے زائد ہ بن قدامہ ثقفی کو ابن عمر کے پاس بھیجا تاکہ وہ مختار کی آزادی کے لئے یزید کو خط لکھے۔اس نے خط لکھ کر یزید سے مختار کی آزادی کی درخواست کی تو اس نے خط لکھ کر ابن زیاد کو حکم دیا کہ مختار کو آزاد کر د یا جائے لہٰذا اس نے ایسا ہی کیا لیکن انھی ں کو فہ سے نکال دیا ۔مختار وہا ں سے راہی حجاز ہو گئے اور وہا ں
ابن زبیر کے ہاتھو ں پر بیعت کر لی اور ابن زبیر کے ہمراہ اہل شام سے بڑی شدید جنگ لڑی۔ یزید کی موت کے پانچ مہینہ بعد ابن زبیر کو چھو ڑ دیا اور کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے۔(طبری ،ج٥،ص٥٧٠ ۔ ٥٧٨) جب کوفہ میں وارد ہوئے تو سلیمان بن صرد خزاعی شیعو ں کو تو بہ اور امام حسین علیہ السلام کے خون کے قصاص کی دعوت دے رہے تھے۔ مختار نے آ کر دعویٰ کیا کہ وہ محمد حنفیہ کے پاس سے آرہے ہیں اور سلیمان فنون جنگ سے نا بلدہیں لہٰذا خود کی جان بھی گنوائی ں گے اور اپنے سپاہیو ں کا بھی بے جاخون بہا ئی ں گے۔ (طبری، ج٥،ص ٥٦٠و ٥٨٠)جب تو ابین نے خروج کیا تو ابن زبیر کے کا رگزار ابن مطیع نے مختار کو قید کرلیا (ج٥،ص ٦٠٥) ایسی صورت میں مختار نے اپنے غلام زربی کو ابن عمر کے پا س روانہ کیا تاکہ وہ ابن زبیر کے کار گزار سے مختار کی رہائی کی درخواست کرے۔ ابن عمر نے خط لکھ کر درخواست کی تو اس نے عہدو پیمان کے ساتھ آزاد کر دیا۔(طبری ،ج٦،ص ٨) آزاد ہو نے کے بعدمختار نے خروج کیا اور تمام امور پر غلبہ پا کرجنگ شروع کی۔ابن زیاد سے گھمسان کی جنگ کی اور اسی جنگ میں اس کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد قاتلین امام حسین علیہ السلام کو قتل کرنا شروع کیا۔ آخر کار ٦٧ھ میں مصعب بن زبیر نے مختار کو قتل کر ڈالا۔ (ج٦ ،ص ٦٧) قتل کرنے کے بعد مصعب بن زبیر نے حکم دیا کہ مختار کے ہاتھو ں میں کیلی ں ٹھوک دی جائی ں ۔حکم کی تعمیل ہوئی اور مسجد کے پاس مختار کو آویزا ں کر دیا گیا۔وہ اسی طرح لٹکے رہے یہا ں تک کہ حجاج ثقفی نے اسے ہٹایا۔ (طبری، ج ٦،ص ١١٠) مصعب نے مختار کی پہلی بیوی عمرة بنت نعمان بن بشیرکو قتل کردیا اور دوسری بیوی ام ثابت بنت سمرہ بن جندب کو چھوڑ دیا۔(ج٦،ص١١٢) ٧١ھ میں مصعب نے عبد الملک سے جنگ کی ۔اس جنگ میں زائدہ بن قدامہ ثقفی بھی حاضر تھا؛ پس اس نے مصعب کو قتل کر دیا اور آوازدی'' یا لثارات المختار'' یہ مختار کے خون کا بدلہ ہے۔(طبری ،ج٦،ص ١٥٩) مختار کا گھر مسجد کے پاس تھا تو عیسی بن موسی عباسی نے ١٥٩ ھ میں اسے مختار کے وارثو ں کے ہاتھ بیچ دیا۔(طبری، ج٨، ص٢٢)بادی النظرمیں یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مختار نے مسلم علیہ السلام کو جو اپنے گھر میں روکا اس کا سبب یہی تھا کہ وہ امیر کوفہ نعمان بن بشیر کے نسبتی رشتہ دار تھے اور اس پر طبری کی روایت کو اگر اضافہ کر دیا جائے کہ شیعہ مختار کی مذمت اس لئے کیا کر تے تھے کہ انھو ں نے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ اچھاسلوک نہیں کیا اور ساباط میں ان پر حملہ کردیا ۔(طبری، ج ٥،ص ٣٧٥)
مختار کے سلسلے میں روایتو ں کی زبان مختلف ہے اور سندکے اعتبار سے کوئی بھی روایت محکم نہیں ہے لہٰذا قابل اعتبار صاحبان رجال کا تحقیقی نظر یہ یہی ہے کہ اگر کو ئی روایت فقہی مسئلہ میں تنہا مختار سے نقل ہو ئی ہو تو اس پر توقف کیا جائے گا۔مختار کے سلسلے میں طبری کی روایت معتبر نہیں ہے اور مختار کی شخصیت کو اس طرح گرانا اور بے حیثیت کرنا صحیح نہیں ہے۔ (مترجم)
اس کے بعد عابس بن ابی شبیب شاکری(١) اٹھے اور حمد و ثنا ئے الہٰی کے بعد فرمایا : ''اما بعد فانی لا أخبر ک عن الناس ولا أعلم ما فی أنفسهم وما أغرّک منهم ، واللّه لاحدّثنک عمّا أنا موطّن نفسی علیه واللّٰه لاُ جیبنّکم اذادعوتم ولاُ قاتلنّ معکم عدوّکم ،ولاُ ضربنّ بسیفی دونکم حتی ألقی اللّه، لا ارید بذالک الا ماعنداللّه''
____________________
١۔ اس کے بعدعابس جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کا خط لے کر امام علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوئے ۔(طبری، ج٥، ص ٣٧٥)اس کے بعد یہ امام علیہ السلام کے ہی ساتھ رہے یہا ں تک کہ شہید ہوگئے۔(طبری ،ج٥،ص ٤٤٤) یہ قبیلہ ہمدان سے منسوب تھے۔
اما بعد : اے مسلم !میں آپ کو لوگوں کی خبر نہیں دے رہا ہوں نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ ان کے دلوں میں کیا ہے اور نہ ہی میں ان کے سلسلہ میں آپ کو دھوکہ دوں گا؛ خدا کی قسم میں وہی بولوں گا جو میرے دل میں پوشیدہ ہے۔ خدا کی قسم جب بھی آپ مجھ کو بلائیں گے میں حتماً لبیک کہوں گا ، میں آپ کے ہمراہ آپ کے دشمنوں سے ضرور بالضرور قتال کروں گا، آپ کے سامنے اپنی شمشیر سے لقاء الہٰی تک لڑتا رہوں گا۔ اس سلسلہ میں خدا کے نزدیک میرے لئے جو چیز ہے اس کے علاوہ میرا کوئی بھی منشاء نہیں ہے۔
پھر حبیب بن مظاہر فقعسی اسدی کھڑے ہوئے اور فرمایا :'' رحمک اللّه؛ قد قضیت ما فی نفسک بواجز من قولک '' اللہ تم پر رحم کرے (اے عابس) جو تمہارے دل میں تھا اور جو کچھ کہنا چاہئے تھا اسے تم نے بڑے مختصر جملوں میں بیان کردیا ۔اس کے بعد پھر فرمایا :
'' وانا واللّه الذی لا اله الا هو علی مثل ما هو هذا علیه''اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ؛ میں نے بھی اس مرد کی راہ کو اپنی راہ قرار دیا پھر حنفی(١) نے بھی اسی طرح اپنا ارادہ ظاہر کیا، پھر ایک کے بعد ایک سب نے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا، اس کے بعد جناب مسلم کے پاس شیعوں کی رفت و آمد کا سلسلہ جاری ہوگیا؛ یہاں تک کہ جناب مسلم کی منزل گا ہ لوگوں کے لئے جانی پہچانی ہوگئی یہاں تک کہ اس کی خبر نعمان بن بشیر(٢) کے کانوں تک پہنچ گئی۔اس خبر کے شائع ہونے کے بعد وہ منبر پرآیا حمد و ثنائے الہی کے بعداس نے کہا :
اما بعد : اے بندگان خد ا ! تقوائے الہی اختیار کرو اور فتنہ و پراکندگی کی طرف جلدی جلدی آگے نہ بڑھو کیونکہ ان دو نوں صورتوں میں لوگ ہلاک ہوں گے ، خون بہیں گے اور اموال غصب ہوں گے میں کسی ایسے شخص سے جنگ نہیں کرسکتا جو مجھ سے جنگ کے لئے نہ آئے ؛اسی طرح میں کسی ایسے پر حملہ آور نہیں ہوسکتا جو مجھ پر یورش نہ کرے ، نہ ہی میں تم کو سب و شتم کرو ں گا نہ ہی تحریک، نہ ہی بری باتوں کی
____________________
١۔ یہ وہی سعید بن عبداللہ حنفی ہیں جو اہل کوفہ کا خط لے کر امام علیہ السلام کے پاس گئے تھے اور امام علیہ السلام کا جواب لیکر کوفہ پہنچے تھے ۔
٢۔ طبری ، ج ٥ ، ص ٣٥٥ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے نمیر بن وعلہ نے ابو ودّاک کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ابو ودّاک کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر ہم لوگو ں کے پاس آیا اور منبر پر گیا ۔
نسبت دوں گا نہ ہی بد گمانی و تہمت لگاؤں گا ، لیکن اگر تم نے اپنے اندر کے کینہ کوصفحہ دل سے باہر آشکار کردیا اور بیعت توڑ کر اپنے حاکم کے خلاف مخالفت کے لئے علم بلندکیا تو یا د رہے کہ قسم ہے اس خدا کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ؛ میں اپنی تلوار سے تمہاری گردنوں کو اس وقت تک تہہ تیغ کرتا رہوں گا جب تک میرے ہاتھ میں قبضہ شمشیر ہے ،خواہ تم میں سے کوئی میرا ناصر و مدد گا نہ ہو ، لیکن مجھے اس کی امید ہے کہ تم میں سے جو حق کو پہچانتے ہیں وہ ان لوگوں سے زیادہ ہیں جو باطل کی طرف پلٹتے ہیں ۔
نعمان بن بشیر کی تقریر کے بعدعبداللہ بن مسلم بن سعید حضرمی(١) اٹھا (جو بنی امیہ کا ہم پیمان تھا) اور بولا : اس وقت تم جو سمجھ رہے ہو وہ مناسب نہیں ہے اس وقت تو سخت گیری کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں ہے اپنے دشمنوں کے ساتھ تمہاری سیاست ناتواں اور ضعیف لوگوں کی سیاست ہے۔ اس پر نعمان نے کہا :'' أن أکون من المستضعفین فی طاعة اللّه احبّ الی من أن أکون من الا عزین فی معصية اللّه'' خدا کی اطاعت میں میرا شمار مستضعفین و ناتوانوں میں ہو یہ مجھے اس سے زیاد ہ پسند ہے کہ خدا کی معصیت میں میرا شمار صاحبان عزت میں ہو ، یہ کہہ کر نعمان منبر سے اتر آیا ۔
عبداللہ بن مسلم وہاں سے نکلا اور یزید بن معاویہ کے نام ایک خط لکھا :
امابعد : فان مسلم بن عقیل قد قدم الکوفه ، فبایعته الشیعة للحسین بن علی ، فان کان لک بالکوفة حاجة فابعث الیها رجلاقويّاًینفذ أمرک ، و یعمل مثل عملک فی عدوک ، فان النعمان بن بشیر رجل ضعیف ، او هو یتضعّف.
امابعد: مسلم بن عقیل کوفہ پہنچ چکے ہیں اورحسین بن علی کے چاہنے والوں نے ان کی بیعت کر لی ہے۔ اب اگر تم کوفہ کو اپنی قدرت میں رکھنا چاہتے ہو تو کسی ایسے قوی انسان کو بھیجو جو تمہارے حکم کو نافذ کر سکے اور اپنے دشمن کے سلسلہ میں تمہارے ہی جیسا اقدام پیش کرسکے کیونکہ نعمان بن بشیر ایک ناتوان انسان ہے یا شاید خود کو ضعیف دکھانا چاہ رہاہے۔
____________________
١۔اس کا نام ان لوگو ں میں آتا ہے جنہو ں نے جناب حجربن عدی کے خلاف گواہی دی ۔اس کا پورا نام عبداللہ بن مسلم بن شعبة الحضرمی ہے۔(طبری ، ج٥ ، ص ٢٦٩)
پھر عمارہ بن عقبہ(١) اور عمر بن سعد بن ابی وقاص(٢) نے ایسے ہی خطوط(٣) لکھ کریزیدکوحالات سے آشناکرایا۔
____________________
١۔یہ ولید بن عقبہ بن ابی معیط کا بھائی ہے۔یہ اور اس کا بھائی مکہ سے مدینہ کی طرف رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پوچھتا ہوا نکلا تاکہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ان دونو ں کی بہن ام کلثوم کو جو حدیبیہ کے بعد ہجرت کر کے مدینہ چلی آئی تھی ں انہیں لوٹا دی ں لیکن پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انکار کردیا ۔(طبری ، ج٢،ص ٦٤٠) اسکا مکان اپنے بھائی کے ہمراہ کوفہ کے میدانی علاقہ میں تھا۔ (طبری ، ج٤، ص ٢٧٤) اس کی بیٹی ام ایوب، مغیرہ بن شعبہ کی بیوی تھی۔ جب مغیرہ مر گیا تو زیاد بن ابیہ نے اس سے شادی کرلی۔ (طبری ،ج٥، ص ١٨٠) اسی نے زیاد کے سامنے عمروبن حمق خزاعی کے خلاف گواہی دی۔(طبری ،ج٥،ص ٢٣٦) یہ اپنے باپ عقبہ بن ابی معیط کے ہمراہ کفر کی حالت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو پیغمبر اسلام نے اس کی گردن کاٹنے کا حکم صادر فرمایا، اس پر اس نے کہا : اے محمداس بچی کا کیا ہوگا ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جہنم کی آگ (طبری ،ج٥،ص ٣٤٩) یہ جناب مسلم کی شہادت کے وقت محل میں تھا (طبری، ج ٥، ص ٣٧٦)اور حاکم کوفہ کے سامنے مختار کے خلاف بھی سازشی ں رچتارہا۔ (طبری، ج٥،ص ٣٤٩) اس کے بعد اس کے سلسلہ میں خبری ں مخفی ہیں اور کچھ پتہ نہیں ہے ۔
٢۔اسکی ما ں بشری بنت قیس بن ابی کیسم تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مرتدلوگو ں میں شمار ہوتی ہے۔(طبری، ج٣، ص ٣٤١) اس کی ولادت ہجرت کی دوسری دھائی کے اوائل میں ہوئی ہے اور کربلا میں یہ ٥٠ سال کے آس پاس کا تھا۔١٧ یا ١٩ ہجری میں اس کے باپ سعد نے اسے عیاض بن غنم کے ہمراہ ارض جزیرہ یعنی شمال عراق اور شام کو فتح کرنے کے لئے روانہ کیا۔ اس زمانے وہ بالکل نو جوان تھا۔ (طبری، ج ٤، ص ٥٣) ٣٧ ھ میں عمر نے اپنے باپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس نے حکمیت کے مسئلہ میں حاضر ہونے کی لا لچ نہ دلادی۔اس کے بعد وہ'' دومة الجندل'' میں اپنے باپ کو لیکر حاضر ہو گیا ۔ اس کا باپ بادیہ نشین بنی سلیم کے پانی کے پاس تھا جب اس نے اپنے باپ سے کہا: بابا آپ وہا ں گواہی دیجئے گا کہ آپ صحابی رسول اور شوریٰ کی ایک فرد ہیں ؛ اس لئے خلا فت کے آپ زیاد ہ سزاوار ہیں ۔ (ج ٥،ص ٧۔ ٦٦) اس کا شمار ان لوگو ں میں ہو تا ہے جنھو ں نے جناب حجر بن عدی کے خلاف گواہی دی اور کوفہ کو سنبھالنے کے لئے یزید کو خط لکھا۔(طبری ، ج ٥، ص٣٠٦) مسلم بن عقیل کے سلسلہ میں اس نے مکر سے کام لیا اور جناب مسلم کی وصیتو ں کو ابن زیاد کے لئے فاش کردیا۔اس پر ابن زیاد نے کہا امین خیانت نہیں کرتا لیکن کبھی کبھی خائن پر امین کا دھوکہ ہوتاہے۔ (طبری ، ج ٥، ص٣٧٧) محمدبن اشعث کندی نے چاہاتھاکہ ابن زیاد کے قتل کے بعدیہ کوفہ کاامیربن جائے لیکن بنی ہمدان کے مرد شمشیرو ں کے ہمراہ اور عورتی ں امام حسین علیہ السلام پر گریہ کنا ں گھرو ں سے باہر نکل آئی ں (طبری ، ج٥، ص٥٢٤)مختار نے اس کی طرف ابو عمرہ کو روانہ کیا ۔ اس نے عمر سعد کو قتل کر دیا اور اس کا سر لے کر آگیا۔ اس کے بعد اس کے بیٹے حفص بن عمر کو بھی قتل کردیااور کہا:خدا کی قسم اگر قریش کو٤حصو ں میں تقسیم کیا جائے اور اس کے ٣ حصہ کو بھی میں قتل کردو ں تب بھی حسین علیہ السلام کی انگلیو ں کے پور کا بدلہ بھی نہ ہوگا۔یہ کہہ کر ان دونو ں کے سرو ں کو مدینہ محمدحنفیہ کے پاس بھیج دیا۔(طبری ج ٦ ،ص ٢۔ ٦١)
٣۔ہشام کا بیان ہے کہ عوانہ نے کہا : جب فقط دودنو ں کے اندر یزید کے پاس خطوط کا انبار لگ گیا تو یزید بن معاویہ نے معاویہ کے غلام سرجون(١) کو بلایا اور اس سے پوچھا : تمہاری رائے کیا ہے ؟ کیونکہ حسین نے کوفہ کی راہ اختیار کر لی ہے اور مسلم بن عقیل کوفہ میں حسین کی طرف سے بیعت لے رہے ہیں ۔دوسری طرف نعمان کے ضعف و ناتوانی اور اس کے برے بیا ن کے سلسلہ میں مسلسل خبری ں آرہی ہیں تو اب تم کیا کہتے ہو ؟ کوفہ کا عامل کس کو بناؤ ں ؟واضح رہے کہ یزید کو عبیدا للہ بن زیاد بے انتہا نا پسند تھا ۔
سر جون نے جواب دیا : تم یہ بتاؤ کہ اگر معاویہ زندہ ہوتا اور تم کو رائے دیتا تو کیا تم اس کی رائے کو قبول کرتے ؟ یزید نے جواب دیا: ہا ں ۔یہ سنتے ہی سرجون نے وہ وصیت نامہ نکالا جو ایسے ماحول کے لئے معاویہ نے لکھ کر مخفیانہ طور پر سرجون کے حوالے کیا تھا جس میں ایسی صورت حال میں کوفہ کو عبیداللہ بن زیاد کے سپرد کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ یہ وصیت نامہ دے کر سرجون نے کہا : یہ معاویہ کی رائے ہے جسے لکھ کر کے وہ مر گیا ۔ یزید نے ناپسندیدگی کے باوجوداس رائے کو فوراً قبول کر لیا پھر مسلم بن عمرو باہلی(٢) کو بلایا اور خط لکھ کر فوراً اسے بصرہ روانہ کیا ۔خط میں اس نے یہ لکھا : امابعد : کوفہ سے میرے پیروئو ں نے خط لکھ کر مجھ کو خبر دی ہے کہ ابن عقیل کوفہ میں جمع ہوکر مسلمانو ں کے اجتماع کو درہم و برہم کررہاہے تو تم میرا خط پڑھتے ہی رخت سفر باندھ کر کوفہ پہنچ جاؤ اور ابن عقیل کی جستجومیں اس طرح لگ جائو جیسے کوئی اپنے گم شدہ گوہر کو تلاش کرتا ہے یہا ں تک کہ اسے اپنی گرفت میں قید کرلویا قتل کردو یا پھانسی پر چڑھادو ۔والسلام
مسلم بن عمر و وہا ں سے فوراًنکلا اور بصرہ جاکر ہی دم لیا ۔وہا ں جا کر یہ خط عبیداللہ کے حوالے کیا ۔اس نے فوراًسامان سفر آمادہ کرنے کے لئے کہا اور دوسرے دن راہی کوفہ ہوگیا۔(طبری، ج٥،ص ٣٥٧)
اس واقعہ کی روایت امام محمد باقر علیہ السلام سے عمار دہنی (ابو معاویہ بن عمار امام صادق اور امام موسی کاظم علیہما السلام کے اصحاب میں شمار ہوتے ہیں ۔ ان کے باپ عمار علماء اھلسنت کے درمیان ثقہ اور صاحب جاہ و منزلت شمار ہوتے ہیں ۔ ان کی کنیت ابو معاویہ ہے۔کبھی کبھی امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی روایت کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ (رجال علامہ ،ص ١٦٦)ابن ندیم کی کتاب'' الفہرست'' ص ٢٣٥ ، طبع یورپ کے مطابق عمارکی ایک کتاب بھی ہے۔) نے اس طرح نقل کی ہے : یزید نے اپنے غلام سر جون (جس سے وہ ہمیشہ مشورہ کیا کرتا تھا) کوبلایا اور تمام اخبار سے آگاہ کیا۔ سرجون نے کہا : اگر معاویہ زندہ ہوتا تو کیا تم اس کی باتو ں کو قبول کرتے ؟ یزیدنے کہا : ہا ں ! سرجون نے کہا:تواب میری بات کو قبول کروکیونکہ کوفہ کے لئے عبیداللہ بن زیاد سے بہتر کوئی نہیں ہوسکتا ۔اس کو فوراً وہا ں کا والی بناؤ۔ یہ سنتے ہی یزید نے ناپسندیدگی کے باوجود جبکہ اسے بصرہ سے بھی ہٹانا چاہتا تھا فوراً رضاو رغبت کے ساتھ ابن زیاد کو خط لکھا اور اس کو بصرہ کے ساتھ سا تھ کو فہ کا بھی گورنر بنادیا اور اسے لکھا کہ مسلم بن عقیل کو تلاش کرے اور اگر مل جائی ں تو انہیں قتل کردے (ج٥ ،ص ٣٤٨)
____________________
(١)سرجون بن منصور رومی معاویہ کا کاتب اور اس کے دفتر کا منشی تھا۔(ج ٥،ص ٢٣٠ ج٦ ،ص ١٨٠)
(٢)مسلم بن عمروباہلی بصرہ میں زیاد بن ابیہ کے ہمراہ تھا اور'' باہلہ ''میں صاحب عزو شرف تھا ۔ ٤٦ھ تک اس کے ساتھ رہا۔(طبری ٥ ص ٢٢٨) اس کے بعد شام میں سکونت اختیار کی لہٰذا یہ بصری شامی ہوگیا ۔ اس نے دوبارہ شام سے بصرہ کا سفر یزید کا خط ابن زیاد تک پہنچانے کی غرض سے کیا پھر ابن زیاد ہی کے ساتھ کوفہ آگیا ۔ جب ہانی بن عروہ ابن زیاد کے دربار میں لائے گئے تو اس نے ان سے کہاکہ مسلم بن عقیل علیہ السلام کو حاکم کے سامنے پیش کرو۔(ج٥ ،ص ٣٦٦) جب جناب مسلم دارالامارہ کے دروازہ پر پہنچے اور پانی مانگا تو اس نے آپ کو برابھلاکہا (ج٥، ص ٣٧٦) پھر یہ مصعب بن زبیر کا حامی ہوگیا تو مصعب نے اسے ابن حر جعفی سے جنگ کے لئے بھیجا لیکن ٦٨ھ میں یہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ (ج٦، ص١٣٢) یہ مصعب کے وزیر کی طرح تھا ۔(ج٦ ، ص١٣٦) یہ مصعب کے ساتھ دیر جاثلیق میں اس جنگ میں مار ڈالاگیا جو ٧١ھ میں مروان کے ساتھ ہوئی تھی۔ (ج٦،ص ١٥٨) یہ دولت کا بڑا لالچی تھا (ج٥، ص ٤٣٢) اس کے ٧ بیٹے تھے ١۔ قتیبہ٢۔ عبدالرحمن ٣۔ عبداللہ ٤۔ عبیداللہ ٥ ۔ صالح ٦۔ بشار ٧۔ محمد(ج٦، ص ٥١٦) باپ کے بعد سب کے سب حجاج بن یوسف کے طرفدار ہوگئے تواس نے ٨٦ھ میں قتیبہ کو خراسان کا حاکم بنا دیا۔ (ج٦،ص ٤٢٤) اس نے جنگ کر کے بیرجند ما نوشکث ، وارمین ، بخارا ،شومان ، کش ، نسف ، خام جز ، سمر قند ، شوش ، فرگانہ ، کاشمر ، صا لح نیزک ، سغد ، اور خوارزم شاہ کو فتح کر لیااور ٩٦ھ میں اپنے بھائی کے ہمراہ قتل کر دیا گیا۔(ج٦ ،ص ٤٢٩ ۔ ٥٠٦)
اہل بصرہ کے نام امام علیہ السلام کا خط
امام حسین علیہ السلام نے اہل بصرہ کے نام ایک خط لکھا جسے سلیمان(١) نامی اپنے ایک غلام کے ہاتھوں بصر ہ کے پانچ علاقوں(٢) کے رئیس اور اسی طرح اشراف بصرہ مالک بن مسمع بکری(٣) اخنف بن قیس(٤) منذر بن جارود(٥) مسعود بن عمرو(٦) قیس بن ہیثم(٧) او ر عمرو بن عبید اللہ بن معمر کے پاس روانہ کیا۔
____________________
١۔ امام حسین علیہ السلام نے جس قاصد کو خط بصرہ کی طرف روانہ کیاتھااس کے نام میں اختلاف ہے۔یہا ں اس روایت میں اس کانام سلیمان ہے۔ اسی طرح مقتل خوارزمی کی(ج١،ص١٩٩)میں اعثم کوفی کے حوالے سے بھی یہی نام مذکور ہے ۔لہوف میں بھی یہی نام ہے لیکن کنیت ابورزین ہے جو اس کے باپ کا نام ہے۔ اس کی ما ں کانام کبشہ ہے جوامام حسین علیہ السلام کی کنیز تھی یہ خاتون امام حسین علیہ السلام کی ایک زوجہ ام اسحاق تمیمہ کی خدمت گذار تھی۔ ابورزین نے اسی خاتون سے شادی کی تو سلیمان دنیا میں آئے۔ابن نما نے مثیر الاحزان میں لکھا ہے کہ امام نے یہ خط ذریعے بسد وسی کے ہاتھ روانہ کیا۔ ابن امین نے لواعج الاشجان، ص٣٦پر لکھا ہے کہ امام نے ان دونو ں کے ہمراہ خط روانہ کیاتھا۔
٢۔بصرہ پانچ قبیلو ں پرمنقسم تھا اور ہر قبیلہ کا ایک رئیس تھا۔
٣۔ مالک بن مسمع البکری جحدری : یہ بصرہ میں قبیلہ بنی بکر بن وائل سے متعلق تھے(طبری، ج٤،ص٥٠٥)شکست کے دن مروان بن حکم کے یہا ں پناہ لی۔ اس کے بعد بنی مروان اس کی حفاظت کرتے رہے اور اپنے درمیان اس کے ذریعہ سے فائدہ حاصل کرتے رہے اور خود کو صاحب شرف سمجھتے رہے (طبری، ج٤،ص٥٣٦) اسکی رائے بنی امیہ کی طرف مائل تھی لہذاابن حضرمی کے خلاف جسے معاویہ نے بصرہ روانہ کیاتھااس نے ابن زیاد کی اس وقت مدد نہ کی جب وہ اپنی طرف دعوت دے رہاتھا۔(طبری، ج٥،ص١١٠)یہ وہی ہے جس نے یزید کی ہلاکت کے بعدابن مرجانہ کی بیعت کرلی لیکن پھر اس نے اس کی بیعت کو توڑ دیا۔ اس کے بعد ایک جماعت کے ہمراہ بیت المال پر قبضہ کر کے اسے غارت کر دیا(طبری، ج ٥،ص٥٠٥) پھر یہ اس بات پر متہم ہو گیا کہ یہ چاہتا ہے کہ ابن زیاد کو دوبارہ بصرہ کے دارالامارہ کی طرف لوٹادے۔ (طبری ،ج٥، ص٥١٢)مالک بن مسمع ، بکربن وائل جو ربیعہ یمن سے متعلق تھے کا مملوک تھا اور یہ سب کے سب ہم پیمان تھے ۔یہ بنو قیس اور انکے حلیفو ں کے ہم پیمان تھے۔ اسی طرح غزہ ، شیع اللات اور ان کے حلیفو ں کے ہم پیمان تھے۔عجل ، آ ل؛ ذھل بن ثعلبہ اور ان کے ہم پیمان تھے۔ یشکر ، وضیعہ بن ربیعہ بن نزار یہ سب کے سب خانہ بدوش تھے اور حنیفہ شہر نشین تھے (طبری، ج٥ ،ص ٥١٥) پھر جب معاویہ کی خلافت کے آخری ایام اور یزید بن معاویہ کی حکومت کے ابتدائی دنو ں میں قبیلہ'' ازد'' کے افراد بصرہ میں آکر ان سے ملحق ہوگئے تو مالک بن مسمع بھی ان کے ہمراہ آیا
اور ان کے ہمراہ تجدید پیمان کیا۔ (طبری ،ج٥، ص ٥١٦) ٦٤ھ میں ایک بار پھر تجدید پیمان کیا۔ان کے مقابلہ میں مسعود بن عمر و المعنی تھا ۔وہ سب کے سب عبداللہ بن حارث بن نوفل بن عبد المطلب قرشی ہاشمی سے مقابلہ کے لئے نکلے تاکہ ابن زیاد کو دارالامارہ کی طرف لوٹاسکی ں ۔ اس میں ان کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑااور مالک بن مسمع کا گھر جلادیا گیا۔ (طبری، ج٥، ص ٥٢١) اس نے غیرت میں آکربصرہ میں مختار کے ساتھیو ں سے دفاع کیا اور اس کی کچھ پرواہ نہ کی کہ مخالفین کاہم پیمان ہے۔(طبری، ج٦، ص ٦٨) پھر مصعب اور مختار کی جنگ میں قبیلہ بکربن وائل کا مخالف ہوگیا (طبری ،ج٦،ص ٩٥) پھر خالد بن عبداللہ بن خالد بن اسید نے اس کی مدد کی۔ یہ خالد وہی ہے جسے عبدالملک بن مروان نے بصرہ بلایا تھا ، بعد میں اس نے خالد کے ساتھ جنگ کی یہا ں تک کہ اس کی آنکھو ں پر چوٹ آگئی تو جنگ سے گھبراگیا پھر اس نے عبیداللہ بن عبیداللہ بن معمرجانشین مصعب سے امن کی درخواست کی تو اس نے امان دے دیالیکن یہ مصعب سے خوف زدہ ہوگیا اوراپنی قوم کے ساتھ ''قبیلۂ ثاج'' میں ملحق ہوگیا۔ (طبری، ج٦ ،ص ١٥٥) اس کے بعد اس کاکوئی پتہ نہیں ملتا ۔
٤۔اخنف کا نام صخرہ بن قیس ابو بحر سعدی ہے۔یہ عباس بن عبد المطلب سے روایت نقل کرتاہے(طبری ج١،ص٢٦٣)١٧ھمیں عتبہ بن غزوان نے اہل بصرہ کے ایک وفد کے ہمراہ اسے عمر کے پاس بھیجا(طبری ،ج٤،ص٨١)اور اہل بصرہ نے اہل فارس میں سے جن لوگو ں سے ١٧ھ میں جنگ کی اس نے بھی انہی کے ہمراہ جنگ کی عمر نے اسے خراسان کی پرچم داری دے کے فتح کے لئے بھیجا جو خود اسی کی رائے تھی (طبری، ج ٤ ، ص ٩٤)،پھر اس نے یزد جرد پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا۔ (طبری، ج٤،ص ١٧١) ہرات کو ٣١ھ میں فتح کرلیا (طبری ،ج٤،ص ٣٠١)اور'' مرودود'' اہل بلخ سے صلح کرلی۔ (طبری ،ج٤،ص ٣١٠ ۔ ٣١٣) یہ بصرہ کے ان لوگو ں میں سے ہے جنہیں عایشہ نے خط لکھا تھا (طبری، ج٤،ص ٤٦١)بصرہ کے فتنہ میں اس نے حضرت علی علیہ السلام کے خلاف خروج کیا حضرت نے اسے اس کی قوم کے ہمراہ جنگ سے الگ رہنے کی دعوت دی تو اس نے اپنی قوم کو بلایا اور قوم نے بھی لبیک کہا پھر وہ ان کے ہمراہ کنارہ کش ہوگیا۔ جب جنگ میں حضرت امیرامومنین علیہ السلام کو کامیابی حاصل ہوئی تو یہ ١٠ہزار یا ٦ہزار لوگو ں کے ساتھ حضرت کے پاس آگیا۔(طبری ،ج ٤،ص ٤٩٧۔ ٤٦٨) بعض روایتو ں میں ٤ہزار بھی ہے۔ (طبری، ج ٤،ص ٥٠١) وہا ں پہنچ کر رات میں حضرت کے ہاتھو ں پر بیعت کی(طبری، ج ٤،ص٥٤١) پھر علی علیہ السلام کے پاس کوفہ آیا اور بصرہ میں اپنے قبیلہ والو ں کو لکھاکہ فوراًکوفہ آجائی ں تاکہ صفین کی جنگ میں پہنچ سکی ں پس وہ سب کے سب وہا ں سے سامان سفر باندھ کر عازم ہوگئے۔ (واقعہ صفین، ص ٢٤)جنگ صفین میں یہ قبیلہ تمیم ، ضبہ اور رباب کی سربراہی کر رہاتھا (صفین، ص ١١٧) لیکن اسے خوف تھا کہ عرب اس کے ہاتھ سے نکل جائی ں گے۔(صفین، ص ٣٨٧)
حَکَمیت کے سلسلہ میں اس نے حضرت پر بہت زور ڈالا کہ اسے حَکَم بنایاجائے کیونکہ ابوموسیٰ ایک سست اور نرم خو آدمی ہے لیکن اس پر اشعث بن قیس بھڑک اٹھااوراس کی حمیت کا انکار کردیا ۔(صفین، ٥٠١) جنگ صفین میں اس نے مولائے کائنات سے اس بات پر پرخاش کی کہ اس کا نا م مومنین کی امارت سے کیو ں حذف ہوا ۔(صفین ،٥٠٨) جب حکمیت کی قرارداد پڑھ کر
سنانے کے لئے اشعث آیا تو اس نے اسے رد کردیا اور بنی تمیم کے ایک شخص نے اس پر حملہ کردیا تویمن والے قبیلۂ بنی تمیم سے انتقام لینے کے لئے آگئے ؛اس پر احنف نے بات کو ٹالا (صفین، ص٥١٣) اور اس نے ابو موسیٰ کو نصیحت کی تھی کہ دیکھو تم دھوکہ کھانے سے بچنا۔ (صفین ،ص٥٣٦) یہ بنی ہاشم کے ہمراہ حضرت علی علیہ السلام کی مشاورتی کمیٹی میں تھا۔ (طبری، ج٥،ص ٥٣) بنی تمیم کے ١٥٠٠جوانو ں کے ساتھ دوبارہ اس نے صفین کی طرف خروج کیا۔ (طبری ،ج٥،ص ٧٨) ٥٠ ھمیں یہ معاویہ کے پاس پہنچااور اس سے ایک لاکھ کی اجازت لی۔ (طبری ،ج ٥،ص ٢٤٢) ٥٩ھ میں ابن زیاد نے اسے معاویہ کے پاس روانہ کیا تواسے معاویہ کے پاس سب سے آخر میں پہنچایا گیا۔(طبری ،ج ٥،ص ٣١٧) یزید کے بعد اس نے عبیداللہ بن زیاد کی بیعت کر لی تاکہ وہ بصرہ کا امیر ہوجائے۔ (طبری ،ج ٥،ص ٥٠٧) اور اس سے عہد وپیمان لیا کہ وہ ابن زبیر کے بلانے پر آیا ہے لہٰذاجب اس نے دیکھاکہ اس کی ممانعت ہورہی ہے تو خود ہی الگ ہوگیا ۔(طبری ،ج٥،ص٥٠٨)
جب قبیلہ ''ازد ''نے جنگ کے بعد چاہا کہ ابن زیاد کو دارالامارہ کی طرف لوٹائی ں تو بنوتمیم احنف کے پاس جمع ہوئے اور ابن زیاد کے دوبارہ حکومت میں لوٹنے کے سلسلہ میں شکایت کی اور یہ بھی شکوہ کیا کہ بنی تمیم کا ایک شخص قبیلہ ازد کے ہاتھو ں قتل ہوا ہے تو احنف نے بنی تمیم کے ہمراہ خون خواہی اور انتقام میں ان پر حملہ کردیایہا ں تک کہ ان لوگو ں نے مسعود بن عمر ،زعیم ازد اور مجیر بن زیاد کو قتل کردیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر ابن زیاد وہا ں سے شام بھاگ نکلا (طبری ،ج٥،ص ٥١٩) پھراس نے ابن زبیرکے ہاتھو ں پر بیعت کرلی۔ (طبری، ج٥،ص ٦١٥) پھر اس نے مصعب بن زبیر کے ہمراہ ٦٧ھ میں مختار سے جنگ کی۔ (طبری، ج٦،ص ٩٥) اسی نے مصعب کو اشارہ کیا تھا کہ مختار کے ان ساتھیو ں کو بھی قتل کر دو جنہو ں نے ہتھیار ڈال دیا ہے۔ (طبری ،ج٦،ص ١١٦) ٧١ھمیں احنف کی آنکھی ں بند ہوگئی ں (طبری ،ج٦،ص ٥٧ ا)
٥۔ منذر ابن جارودجنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں قبیلہ جذعہ اور قبیلہ عبد قیس کے خاندان بکر کا سربراہ تھا ۔(طبری، ج٥،ص٥٠٥) اس کی بیٹی ''بحریہ ''ابن زیاد کی بیوی تھی۔ جب یزید بن مفرغ حمیری نے آل زیاد کو پریشان کیا تو انھی ں منذرہی نے پناہ دی تھی اور ابن زیاد نے اسے پناہ نہیں دی ہے (طبری، ج ٥،ص ٣١٨) بعدمیں ابن زیاد نے اسے ہندوستان میں سندھ کے علاقہ کا والی بنادیا ۔ اصابة، ج٣،ص ٤٨٠ کے بیان کے مطابق ٦٢ھ میں اس کی وفات ہوئی۔
٦۔ مسعود بن عمرو بن عدی ازدی یہ بصرہ کی جنگ میں قبیلہ ازد کا قائد تھا۔ (طبری ،ج٤،ص ٥٠٥) اسی نے ابن مرجانہ کو اس وقت پناہ دی تھی جب لوگو ں نے اسے برابھلا کہاتھا اور اسکا بائیکاٹ کردیا تھا ۔یہ یزید کی موت کے بعد وہا ں ٩٠دنو ں تک ٹھہرارہا پھروہا ں سے شام نکل گیا۔ (طبری ،ج٥،ص ٥٢٢)مسعود نے ابن زیاد کے ہمراہ قبلیہ ''ازد ''کے ١٠٠افراد بھیجے جن پر قرہ بن عروہ بن قیس کو سربراہ بنایا یہا ں تک کہ یہ سب ابن زیاد کے ساتھ شام پہنچے۔(طبری ،ج٥،ص ٥٢٢)جب وہ شام کی طرف جارہاتھا۔ مسعود بن عمرو نے بصرہ کی حکومت کی درخواست کی اوروہ اپنی قوم سے نکلا یہا ں تک کہ بصرہ پہنچا۔ (طبری، ج٥،ص ٥٢٥)
داخلہ کے بعد خوارج کا ایک گروہ آیا اور مسجد میں داخل ہوا ۔اس وقت مسعود منبر پر بیٹھاہر اس شخص سے بیعت لے رہاتھا جو وہا ں آرہاتھا۔ اس پر مسلم جو فارس کا رہنے والا تھا اور ابھی بصرہ میں آیا تھا اعتراض کیا پھر مسلمان ہوکر گروہ خوارج میں داخل ہوگیا۔ (طبری ،ج٥،ص ٥٢٥) یہ سب کے سب ٤٠٠ افراد تھے جن کاتعلق بصرہ کی'' اساورْ''قوم سے تھا جنہیں آشوریین بھی کہاجاتاہے۔ یہ بصرہ کی قدیم ترین قوم ہے (طبری ،ج٥،ص ٥١٩) یا''ماہ آفریدون'' کے ہمراہ ٥٠٠ افراد تھے جو بنی تمیم کی نمایندگی کررہے تھے اس پر سلمہ نے اس سے کہا : تم لوگ کا کہا ں کا ارادہ ہے ؟ تو ان لوگو ں نے کہا : تمہاری ہی طرف !تو اس نے کہا : تو آجاؤ!یہ سب کے سب آگئے۔ (طبری، ج٥،ص ٥١٨) پس ان لوگو ں نے اس کے قلب کو نشانہ بنایااور اس کو قتل کرکے نکل گئے ۔اس پر قبیلہ'' ازد ''نے ان کی طرف خروج کیا اور ان میں سے بعض کو قتل اور بعض کو مجروح کردیایہا ں تک کہ ان کو بصرہ سے نکال دیا۔ اور بنی تمیم کے کچھ لوگو ں نے تصدیق کی کہ یہ وہی لوگ ہیں جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے اور انہیں بصرہ لے کر آئے تھے ، پھر بنی تمیم اور ازد کی مڈ بھیڑمیں دونو ں طرف سے اچھے خاصے لوگ مار ے گئے ،آخر کار ایک لاکھ درھم دیت پر ان لوگو ں کے درمیان صلح ہوئی۔(طبری ،ج٥،ص ٥٢٦)
٧۔ قیس بن ھیثم سلمی: ٣٢ھ میں عبداللہ بن عامر نے مذکورہ شخص کو اس کے چچا عبداللہ بن خازم کے ہمراہ خراسان کا حاکم بنا دیا ۔ جب عبدللہ بن عامر وہا ں سے نکلنے لگا تو اس نے ہرات ، قھستان ؛طبس اور بادغیس سے ٤٠ہزار تیر اندازو ں کوجمع کیا؛پس ابن عامر سے جو عہد تھا کہ ابن خازم خراسان کا امیررہے گااس سے صرف نظر کرتے ہوئے اسے نکال دیا۔اس نے ایسا کام جان بوجھ کرکیا تھاپھراسے اس شہر سے نکال دیا۔(طبری ،ج ٤،ص٣١٤)وہ وہا ں سے بصرہ آیاتو یہ عثمان کے خلاف شورش کازمانہ تھا۔ عبداللہ بن عامرکے حوالے سے عثمان نے اہل بصرہ سے مدد مانگی تھی۔ عبداللہ بن عامر نے لوگو ں سے مدد کی درخواست کی اس پر قیس بن ھیثم کھڑاہوااور تقریرکرتے ہوئے اس نے لوگو ں کو عثمان کی مددکے لئے اکسایا،جس پر سب کے سب جلدی جلدی اس کے پاس آگئے اور وہا ں آئے جہا ں عثمان کا قتل ہواتھا؛پھر واپس پلٹ گئے۔ (طبری، ج٥،ص٣٦٩)ایک قول یہ ہے کہ یہ معاویہ کے عہد میں ٤١ھ میں عبداللہ بن عامرکی گورنری میں بصرہ کی پولس کا سربراہ تھا (طبری ،ج٥،ص ١٧٠) پھر ٢سال کے بعد ابن عامرنے اسے خراسان کا والی بنا کر بھیجا۔(طبری ،ج٥،ص١٧٢) وہا ں اس نے خراج لینے میں سستی دکھائی تو عبداللہ بن عامر نے اسے معزول کرنا چاہا ۔عبداللہ خازم نے چاہا کہ اس کو وہا ں کی ولایت دے دی جائے۔ جب وہ یہ لکھنا چاہ رہا تھا وہا ں قیس پہنچ گیا اور یہ د یکھ کر اس نے خراسان چھوڑدیا اور آگے بڑھ گیا، اس پر ابن عامر نے اسے ١٠٠کوڑے لگاکر ہتھکڑی بیڑ ی ڈال کر قید کردیا۔ (طبری، ج٥،ص ٢٠٩) یہ قیس اسی ابن عامر کے ماموؤ ں میں شمار ہوتا تھا۔اس واقعہ کو سن کر اس کی ما ں نے اسے بلایا اس پر اس نے قیس کو وہا ں سے نکال دیا (طبری ،ج٥،ص ٢١٠) اور ٤٤ھ میں قبیلہ بنی لشکر کی ایک فرد جس کا نام طفیل بن عوف یشکری یا عبداللہ بنابی شیخ یشکری تھا خراسان روانہ کردیا (طبری ،ج٥،ص ٢٠٩۔ ٢١٣) پھرقیس بن ھیثم پر اسے ترس آگیا اور اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہوگیا لہٰذا اسے بصرہ کا حاکم بنادیا ۔یہ اس وقت کی بات ہے جب معاویہ بصرہ آرہا تھا(طبری ،ج ٥،ص ٢١٣) بصرہ پہنچ کر معاویہ نے اپنی بیٹی ہند
سے اس کی شادی کر دی پھر ٤٤ ھ میں اسے بصرہ سے معزول کردیا۔ ٤٥ھ میں معاویہ نے زیاد بن سمیہ کو بصرہ کا والی بنا دیا پس اس نے قیس بن ھیثم کو ''مرود الروز'' ، ''فاریاب '' اور ''طالقان''بھیجا (طبری، ج٥،ص ٢٢٤) پھر ٦١ھمیں امام حسین علیہ السلام کے قتل کے بعد یزید بن معاویہ کی طرف سے عبد الرحمن بن زیاد کے بدلے خراسان کا حاکم بنا یا گیا ۔یہ اس وقت کی بات ہے جب عبد الرحمن نے یزید کے پاس آنا چاہا تو یزید نے اسے معزول کر دیا پس قیس بن ھیثم بھی معزول ہو گیا (طبری ،ج٥،ص ٣١٦) جب یزید ہلاک ہوا تو قیس بصرہ میں تھا ۔ضحاک بن قیس نے اسے خط لکھ کر اپنی طرف بلایا (طبری ،ج ٥ ،ص ٥٠٤) قیس بن ھیثم اس وقت نعمان بن صھبان راسبی کا ہمراہی تھا جب یہ فیصلہ ہورہا تھا کہ ابن زیاد کے بعد بنی امیہ میں ولایت کا حق کس کو دیا جا ئے توان دونو ں کی اتفاق رائے مضرّی ہاشمی پر ہوئی۔ (طبری، ج٥،ص ٥١٣) مثنی بن مخربہ عبدی بصری جو ٦٦ ھ میں لوگو ں کو مختار کی طرف بلا رہاتھا اس کے مقابلہ میں جنگ کے لئے آیا۔یہ بصرہ میں ابن زبیر کے ہمراہ ہم شرطا ورہم ،قتال تھا ۔(طبری، ج ٦،ص ٦٧) ٦٧ھ میں مصعب بن زبیر کے ہمراہ مختار سے جنگ کے لئے آیا تھااور لشکر ابن زبیر کی ٥ اہم شخصیتو ں میں شمار ہوتا ہے۔(طبری، ج٦ ،ص ٩٥) ٧١ھمیں یہ لوگو ں کو پیسہ دے کر لارہاتھا تا کہ وہ ابن زبیر کے حق میں اس کے ساتھ خالد بن عبداللہ کے مقابلہ میں لڑی ں جو عبد الملک بن مروان کا بیٹا بنا ہوا تھا (طبری ،ج ٦، ص ٧١) اور وہ اہل عراق کو مصعب کے ساتھ لڑانے سے بر حذر کرتا تھا (طبری ،ج ٦، ص ١٥٧) اس کے سلسلہ میں آخری تحقیق یہی ہے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ٧١ھمیں مصعب کے سپاہیو ں کے ساتھ عبد الملک بن مروان کے ہاتھو ں قتل ہوگیا ہو۔
اس خط کا مضمون یہ تھا :''اما بعد : فان الله اصطفیٰ محمد صلی اللّٰه علیه (وآله) وسلم علی خلقه، أکرمه بنبوّته،واختاره لرسالته ، ثم قبضه اللّٰه الیه و قد نصح لعباده وبلغ ما أرسل به صلیّ اللّٰه علیه (وآله) وسلّم و کنّاأهله وأولیاء ه و أوصیائه و ورثته وأحق الناس بمقامه فی الناس ، فاستأثر علینا قومنا بذالک ، فرضینا و کرهنا الفرقة واحببنا العافية ، نحن نعلم انّا أحقّ بذالک الحق المستحق علینا ممن تولاّه ''(١)
و قد أحسنو ا و أصلحوا و تحروا الحق قد بعثت رسول ألیکم بهذاالکتاب وأنا أدعوکم الی کتاب اللّٰه و سنّة نبيّه صلّی اللّٰه علیه(و آله) وسلّم فانّ السنّة قد اُمیتت وأن البدعةقد اُحییت و أن تسمعو ا قول و تطیعوا أمر أهدکم سبیل الر شاد،والسلام علیکم و رحمة اللّٰه''
____________________
١۔ اس سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کا اپنی حق تلفی کو برداشت کرنا فقط افتراق کے خوف اور شر سے بچنے کے لئے تھا، نہ کہ وہ لوگ رضاورغبت سے اس زندگی کو گذاررہے تھے ۔یہی اس خاندان کی فضیلت ہے کہ اپنے فائدہ کو امت کے فائدہ پر قربان کرتے ہیں ۔
امابعد : خدا وندعالم نے محمد صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم کو اپنی مخلو قات میں چن لیا اور اپنی نبوت کے ذریعہ انھیں با کرامت بنایا،اور اپنی رسالت کے لئے انھیں منتخب کر لیا، پھرخدا وند عالم نے ان کی روح کو قبض کرلیا ۔حقیقت یہی ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بندگا ن خدا کی خیر خواہی فرمائی ہے اور وہ سب کچھ پہنچا یا جس چیز کے ہمراہ ان کو بھیجا گیا تھا۔ جان لو کہ ہم ان کے اہل ، اولیائ، اوصیاء اور وارث ہیں جو دنیا کے تمام لوگوں میں ان کے مقام و منزلت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں لیکن ہماری ہی قوم نے ظلم وستم کر کے ہمارا حق چھین لیا ۔ ہم اس پر راضی ہو گئے، افتراق کو بُرا سمجھا اور امت کی عافیت کو پسند کیا جبکہ یہ بات ہم کو بخوبی معلوم ہے کہ اس حق کے سب سے زیادہ مستحق ہم ہی ہیں اور اب تک جن لوگوں نے حکومت کی ہے ان میں نیکی ، صلح اورحق کی آزادی میں ہم ہی اولی ہیں ۔ اب میں نے تمہارے پاس اپنا یہ خط روانہ کیا ہے اور میں تم کو کتاب خدا اور اس کے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سنت کی طرف دعوت دے رہا ہوں ؛ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ سنت کو مردہ اور بدعت کو زندہ کیا گیا ہے۔ اب اگر تم میری بات سنتے ہواورمیرے کہے پر عمل کرتے ہو تومیں تم کو رشد و ہدایت کے راستے کی ہدایت کروں گا ۔ والسلام علیکم و رحمة اللہ
بصرہ کے اشراف میں سے جس کسی نے بھی اس خط کو پڑھا اس کو راز میں رکھا لیکن منذر بن جارود نے خوف و ہراس میں آکر یہ سمجھاکہ سلیمان، عبید اللہ بن زیاد کا جاسوس ہے اور یہ خط اسی کا ہے۔ اسی پندار باطل کے نتیجے میں وہ سلیمان کواسی رات ابن زیاد کے پاس لے کر آیا جس کی صبح کووہ کوفہ کے لئے عازم تھا اور اس کا خط اس کے سامنے پڑھ کر سنادیا۔اس جلاد صفت آدمی نے اس نامہ بر کوبلا کر اس کی گردن کاٹ دی اور بصرہ کے منبر پر براجمان ہوکر خطبہ دیا ۔
بصرہ میں ابن زیاد کا خطبہ
حمد و ثنائے الہٰی کے بعد اس نے کہا: ''اے بصرہ والو ! میں یہاں کا حکمراں اور فرمانرواہوں ۔ میں کسی کو اس کی اجازت نہیں دوں گا کہ کوئی میری اجازت کے بغیر اپنی زبان پر کوئی حکم جاری کرے اور میرے لئے مشکل ایجاد کرے۔ مجھے مشکلات سے کوئی ڈر نہیں ہے، نہ ہی میں بید ہوں کہ ہواؤں سے لرزجاؤں ؛جو بھی مجھ سے مبارزہ کرے گا اس کے ساتھ سختی سے پیش آکر اسے درہم و برہم کردوں گا اور جو مجھ سے جنگ کرے گا میں اسے ذلیل کر کے نابود کردوں گا ۔(أنصف القارّة من راماها )(١)
اے بصرہ والو! امیر المومنین نے مجھے کوفہ کا والی بنایا ہے اور کل صبح میں وہاں جارہاہوں یہاں میں نے تمہارے لئے عثمان بن زیاد بن ابو سفیان کو حاکم بنایا ہے۔ آگاہ ہوجاؤکہ ان کی مخالفت اور ان کے خلاف سازش سے پرہیز کرو!اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اگر مجھے کسی طرف سے ذرہ برابر بھی مخالفت کی خبر مل گئی تو اسے اور اس کے سربراہ اور دوستوں کو قتل کردوں گا اوریہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ تم لوگ میرے فرمانبردار ہوجاؤ اور تم میں کوئی مخالف اور جدائی پیدا کرنے والا نہ رہے ۔
میں ابن زیاد ہوں اور میں اپنے باپ سے بہت زیادہ شباہت رکھتاہوں ۔ماموں اور چچا کے بیٹوں کی شباہت مجھے اس سے جدانہیں کرسکتی۔(٢)
____________________
١۔ طبری میں اسی طرح موجود ہے۔ یہ جملہ در واقع قبیلہ ''قارّہ '' کے ایک جنگجو کے رجز کا ایک ٹکڑا ہے۔ زمان جاہلیت میں یہ قبیلہ تیر اندازی میں بہت معروف تھا ۔اس قبیلہ کا ایک جوان جب دوسرے گروہ سے مقابلہ پر آیا تو '' قارّی'' نے اس سے کہا : اگر تم چاہو تو میں سبقت کرو ں اور اگر چاہو تو میں سرعت دکھاو ں یا میں تیراندازی کرو ں تو اس نے کہا : میں نے تیر اندازی کو اختیار کیا ہے اس پر مرد قارّی نے کہا
قد انصف القارّ ةمن راماها
اِنّا اذاما فئةنلقاها
نردّ أولاها علی أُخراها
یہ کہہ کر اس نے تیر اس کی طرف چلایا جو اس کے سینہ کو چھید گیا۔ شاید یہ جملہ کہہ کر ابن زیاد نے اسی شعر کی طرف اشارہ کیا ہو کیونکہ بنی امیہ بھی اس قبیلہ کی طرح اسی فن تیر اندازی میں ماہر تھے۔
٢۔اپنے باپ کی شباہت کا تذکرہ کرکے یہ بیان کرنا چاہتاہے کہ میں بھی اپنے باپ کی طرح ظلم و جور و تشدد و انتقام کا پیکر ہو ں ۔ اپنے مامو ں کا حوالہ نہیں دیتا کیونکہ وہ عجمی ہے اور نہ ہی چچا زاد بھائی یزید کا جو رنگینیو ں ، مستیو ں ، کھیل ، کود ، عیش و نوش ، گانے بجانے کی محفلو ں اور شکار میں معروف ہے لہٰذا اس کی شباہت سے بھی انکار کردیا ۔سبط بن جوزی نے اس خبر کو تذکرة الخواص میں ذکر کیا ہے۔(ص ١٩٩)
کوفہ میں ابن زیاد کا داخلہ
یہ خطبہ دے کر ابن زیاد دوسرے دن صبح کوفہ کی طرف روانہ ہوگیا اس کے ہمراہ مسلم بن عمرو باھلی (جس کاتذکر ہ گذرچکاہے) شریک بن اعور حارثی(١) اور اس کے نوکر چاکر نیز خاندان کے تقریباً١٠ افراد تھے(٢) ۔ جب وہ کوفہ میں وارد ہوا تو اس کے سر پر سیاہ عمامہ تھااورایک خاص انداز سے اپنے چہرے کو چھپارکھا تھاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوفہ والے جن کو امام حسین علیہ السلام کی آمد کی خبر ملی تھی اوروہ امام علیہ السلام کے انتظار میں تھے،ابن زیاد کو اس طرح دیکھ کر یہ سمجھے کہ یہ امام علیہ السلام ہیں لہذا وہ جس طرف سے گذر رہاتھا لوگ اسے سلام کررہے تھے اور کہہ رہے تھے ''مرحباًبک یابن رسول اللّہ'' فرزند رسول خداآپ کا آنا مبارک ہو! آپ کا قدم مبارک! خیر مقدم ہے ، جب اس نے دیکھا کہ یہ ساری مبارکبادی امام حسین علیہ السلام کی خوشی میں ہے تو اسے برالگا اور اسے غصہ آگیا اور اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا : کیا تم لوگ بھی وہی دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہاہوں ؟یہ لوگ کیا سمجھ رہے ہیں اور کس کا استقبال کررہے ہیں ؟جب فرزند رسول کی آمد کے تصور پر بھیڑ کنٹرول سے باہر ہوگئی تو ابن زیاد کے ہمراہیوں میں سے مسلم بن عمرو باھلی نے کہا : رک جاؤ تم لوگ کس دھوکہ میں ہو ،یہ امیر عبید اللہ بن زیاد ہے،نہ کہ حسین بن علی ، جب وہ محل میں داخل ہوگیا اور لوگوں نے سمجھ لیا کہ یہ عبیداللہ بن زیاد ہے تو اہل کوفہ شدید غمگین و محزون ہوئے ۔(٣)
____________________
١۔فارس کے حوض پر یہ شخص کا رگزار ہوا تو ٣١ھ میں وہا ں مسجد بنوادی۔ (طبری، ج ١،ص ٣٠)جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ (طبری، ج٥ ،ص ٣٦١) حضرت علی علیہ السلام نے جاریہ بن قدامہ جو بنی تمیم کے رجال میں شمار ہوتا تھا ،کے ہمراہ اسے ابن حضرمی اور اس کے ان ساتھیو ں سے لڑنے کے لئے ٣٨ھمیں بصرہ روانہ کیا جنہو ں نے معاویہ کی دعوت کو لبیک کہاتھا ۔(طبری، ج٥ ،ص ١١٢) عبداللہ بن عامر نے قبیلہ ربیعہ کے٣٠٠جنگجو جوانو ں کے ساتھ اسے مستور بن علّفہ خارجی سے جنگ کے لئے بصرہ روانہ کیا ۔(طبری ،ج٥،ص ١٩٣) ٥٩ھ میں عبداللہ بن زیاد کی طرف سے کرمان کا والی بنایا گیا۔ (طبری ،ج٥،ص ٣٢١) کوفہ پہنچنے کے بعد یہ کچھ دنو ں زندہ رہا پھر مر گیا اور ابن زیاد نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (طبری، ج ٥ ،ص ٣٦٤)
٢۔طبری نے عیسیٰ بن یزید کنانی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتاہے : جب یزید کا خط عبیداللہ بن زیاد کو ملا تو اس نے بصرہ سے ٥٠٠ لوگو ں کو منتخب کیا جس میں عبداللہ بن حارث بن نوفل اور شریک بن اعور بھی تھا۔ (طبری ،ج٥،ص ٣٥٩)
٣۔ طبری ،ج ٥،ص ٣٥٧ ، ابو مخنف کا بیان ہے کہ اس مطلب کو مجھ سے صقعب بن زہیر نے ابو عثمان ہندی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔یہ واقعہ شیخ مفید نے ارشاد کے ص٢٠٦ پر اور خوارزمی نے اپنے مقتل میں بھی ذکر کیا ہے۔(ص ٢٠٠)
کوفہ میں داخلہ کے بعد ابن زیاد کا خطبہ
جب ابن زیاد قصر میں واردہواتودوسرے دن صبح کی نماز جماعت کا اعلان ہوا ۔اعلان ہوتے ہی لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی ۔ ابن زیاد محل سے نکلا اورحمد و ثنائے الہٰی کے بعد بولا : اما بعد : امیرالمومنین(اللہ ان کو صحیح و سالم رکھے)نے مجھے تمہارے شہر اور اس کی سرحدوں کاامیر بنایاہے اور مجھے حکم دیاہے کہ تمہارے د رمیان مظلوموں کو انصاف اور محروموں کو ان کا حق دوں ،تمہارے درمیان جو میری باتیں سنے اور میرا مطیع ہو اس کے ساتھ نیکی کروں اورشک و تردید کرنے والوں اور معصیت کاروں کے ساتھ شدت سے پیش آؤں ۔یہ جان لو کہ میں تمہارے سلسلے میں اپنے امیر کے حرف حرف کاپابند ہوں اور میں ان کے عہدوپیمان کوتمہارے سلسلے میں نافذکرکے رہوں گا۔ میں تمہارے درمیان نیک کر دار اور فر مانبر دار لوگوں کے لئے باپ کی طرح ہوں ۔میراتازیانہ اور میری تلوار ہراس شخص کے لئے ہے جو میرے حکم اور میرے امر کی مخالفت کر ے گا ،پس جس کواپنی زندگی کاپاس ہوگا وہ میرے لئے نیک کردار اور راست بازہوگا ۔وعدوعید کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ کہکر وہ منبر سے نیچے اترا اور شہر کے سر برآوردہ افرادسے بڑی سختی سے پیش آتے ہوئے کہنے لگا: تم لوگ ناشناس اور بیگانہ افراد کے سلسلے میں لکھ کرمجھے دواور وہ لوگ جن کی امیر المومنین کو تلاش ہے اور'' حروریہ''(١) والوں کے بارے میں بھی لکھ کرمجھے بتاؤ، اسی طرح وہ افراد جو شک و تردید کے ذریعہ اختلاف اور پھوٹ ڈالتے ہیں ان کے سلسلے میں بھی مجھے تحریر کرو ،یہ جان لو کہ جو بھی مجھے ان لوگوں کے سلسلے میں لکھ کر دے گاوہ آزاد ہے اورجو لکھ کر کسی ایک کے بارے میں بھی نہ دے گاوہ اپنی عرافت(٢) کے دائرہ میں ضامن ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ہماری مخالفت نہ کرے اور ان
____________________
١۔حروریہ سے مرادخوارج ہیں ۔یہ علاقہ، کوفہ کے قرب و نواح میں ہے چونکہ صفین سے پلٹتے وقت کوفہ پہنچنے سے پہلے یہ لوگ اس علاقہ میں جمع ہوئے اسی لئے انہیں حروریہ کہا جاتاہے ۔
٢۔ اس زمانے میں اشراف قبیلہ اور سر برآوردہ ا فراد جو مورد اعتماد حکومت ہوا کرتے تھے انہیں ''عرافة''کہا جاتاتھا۔ان کا کام یہ تھاکہ وہ حکومت کورعیت سے آشناکرائی ں اور بیت المال سے ان کے حقوق کو منظم کرائی ں ۔ کوفہ میں ١٠٠عریف تھے اہل کوفہ والو ں کے حقوق و بخشش وہا ں کے چار امراء کو دیئے جاتے تھے اور وہ اسے عرافہ، نقباء اور اْمناء کو دیا کرتے تھے اور یہ سربر آوردہ
اشراف،عرافہ اور نقباء اپنے قبیلہ والو ں میں اسے تقسیم کرتے تھے۔ (طبر،ی ج٤، ص ٤٩) ہر سال محرم میں یہ حقوق دیئے جاتے تھے۔ یہ حقوق ستارہ شعریٰ (جسکے طلوع ہونے سے گرمی بڑھ جا تی ہے) کے طلوع ہونے کے وقت تقسیم ہوتے تھے جو غلو ں کی حصو لیابی کا وقت ہے۔ (طبری ،ج ٤،ص ٤٣) یہ عرافة حتی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی تھے ۔(ج٣،ص٤٤٨)
میں سے کوئی بھی ہم سے بغاوت نہ کرے ، اور اگر کسی نے ایسا نہیں کیا تو میں اس سے بری الذمہ ہوں اور اس کا مال اور اس کی خون ریزی میرے لئے حلال ہے۔اگر کسی عریف کے دائرہ عرافت میں کوئی امیر المومنین کا باغی پیدا ہو اجس کی گرفتاری سے پہلے اس قبیلہ کے امیرنے ہمیں خبر نہ دی تو اس کے دروازے پر اسے تختہ دار پر لٹکادیا جا ئے گا اور اس قبیلے کے تمام لوگوں کے ماہانہ حقوق قطع کر دئے جائیں گے اورانھیں ''عمان زارہ''(١) کے علاقہ میں شہر بدر کر دیا جائے گا۔(٢)
مسلم ، ہانی کے گھر(٣)
مسلم بن عقیل، عبیداللہ کی آمد ،اس کا خطبہ اور عرافہ کے ساتھ اس کی رفتارکی خبر سننے کے بعد مختار کے گھر سے (یہ کام مختار کے علم میں ڈالکر انجام دیا تھا) نکل کر ہانی بن عروہ مرادی کے گھر پہنچے۔ ہانی کے دروازہ کے پاس آکر کسی کو بھیج کر ہانی کو بلوایا۔ ہانی فوراًنکلے لیکن مسلم کو یہاں دیکھ کر ان کا چہرہ اتر گیا تو
____________________
١۔ عمان زارہ وہی مشہورعمان ہے جو خلیج کے ساحل پر بحر عمان کے نزدیک ہے ۔یہ بہت گرم علاقہ اسی وجہ سے ابن زیاد نے وہا ں شہر بدر کرنے کا خوف دلایا تھاکیونکہ وہا ں زندگی بہت سخت ہے۔
٢۔طبری ،ج٥،ص ٣٥٨، ابو مخنف کا بیا ن ہے کہ اس مطلب کو مجھ سے معلی بن کلیب نے ابو وداک کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ (الارشاد ،ص ٢٠٢و تذکرة الخواص ،ص ٢٠٠)
٣۔ مسعودی کا بیان ہے : یہ قبیلہ مراد کے بزرگ و زعیم تھے۔ اس زمانے میں جب وہ سوار ہوتے تھے تو ٤ہزار زرہ پوش اور ٨ہزار پیدل سپاہی آپ کے ساتھ ہوتے تھے اور اگر وہ اپنے تمام ہم پیمانو ں کو پکار لیتے تو کندہ اور غیر کندہ ملاکر ٣٠ہزار زرہ پوش ان کے ساتھ ہوتے ۔(مروج الذہب، ج ٣،ص ٦٩) یہا ں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم بن عقیل مختار کے گھر سے نکل کر ہا نی بن عروہ کی پناہ میں کیو ں آئے ؟لیکن جیساکہ مسعودی نے کہا کہ جب ہانی ان قبیلو ں کے زعیم اور بزرگ تنہا رہ گئے توکوئی بھی دکھائی نہ دیا اور سب کے سب ابن زیادکے دھوکہ میں آکر سست ہوگئے اور ہانی کو چھوڑ دیا ۔طبقات بن سعد کے بیان کے مطابق ہانی اور ان کے باپ عروہ کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے۔شہادت کے وقت انکا سن شریف ٨٠ یا ٩٠ سال تھا۔مبرد نے ''کامل'' میں کہا ہے کہ ہانی کے والد ، حجر بن عدی کے ساتھ خروج کرنے والو ں میں سے تھے لیکن زیاد بن ا بیہ نے ان کی سفارش کی تھی، یہی وجہ ہے کہ طبری کے بیان کے مطابق ابن زیاد نے ہانی سے کہا تھا : اے ہانی !کیاتم کو معلوم نہیں ہے کہ جب میرا باپ یہا ں آیا تھا تو اس نے اس شہر کے کسی شیعہ کو نہیں چھوڑا تھا مگر یہ کہ اسے قتل کر دیا تھا، فقط تمہارے باپ اور حجر کو رہنے دیا تھا اور حجر کے ساتھ کیا ہوایہ تم کو معلوم ہے۔ اس کے بعد تمہاری رفتار ہمیشہ اچھی رہی پھر تمہارے باپ نے امیر کوفہ کو لکھا کہ میری درخواست تم سے ہانی کے سلسلے میں ہے۔ ہانی نے جواب دیا:ہا ں مجھ کو معلوم ہے !اس پر ابن زیاد نے کہا : کیا اس کی جزا یہی تھی کہ تم اپنے گھر میں ایسے مرد کو چھپا کر رکھو جومجھ کو قتل کرنا چا ہتا ہے۔ (طبری، ج ٥ ، ص ٣٦١)
مسلم نے کہا : ''آتیتک لتجیرنی و تضیفنی'' میں اسی لئے آیا ہوں کہ آپ مجھ کو پناہ دے کر اپنا مہمان بنالیں ۔اس پر ہانی نے کہا : اللہ آپ پر رحمتوں کی بارش کرے ؛آپ نے تو مجھے سخت تکلیف میں ڈال دیا؛ اگر آپ میرے گھر میں داخل نہ ہوچکے ہوتے اور میرے مورد اعتماد نہ ہوتے تو مجھے یہی پسند تھا اور میں آپ سے یہی درخواست کرتا کہ آپ میرے پاس سے چلے جائیں لیکن کیا کروں کہ میری گردن پر آپ کا بڑا حق ہے اور میں نے آپ سے عہد و پیمان باندھاہے۔میرے جیسا انسان آپ جیسے (صاحب عز و شرف) کو نا دانی میں یا حکومت کی شرارت کے خوف سے اپنے گھر سے نہیں نکال سکتا لہٰذا آپ قدم رنجہ فر ما ئیں ۔ یہ کہہ کر ہانی نے مسلم کو پناہ دیدی۔پناہ دینے کے بعد ہانی بن عروہ کے گھر شیعوں کی رفت و آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔(١) ہانی بن عرو ہ کے گھر میں آنے کے بعددرحالیکہ ١٨ ہزار لوگو ں نے مسلم بن عقیل کے ہاتھوں پر بیعت کی جناب مسلم بن عقیل نے امام حسین علیہ السلام کے نام ایک خط لکھ کر اسے عابس بن شبیب شاکری کے ہاتھوں روانہ کردیا۔(٢)
____________________
١۔ ابو مخنف نے معلی بن کلیب سے اور اس نے ابو وداک سے نقل کیا ہے۔ (طبری ،ج٥، ص ٣٦١)
٢۔ ابو مخنف کہتے ہیں کہ جعفر بن حذیفہ طا ئی نے مجھ سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ (طبری، ج٥،ص ٣٦١)
خط کا مضمون یہ تھا:
اما بعد : فان الرَائد لا یکذب أهله وقد بایعن من أهل الکوفة ثما نية عشر ألفا ، فعجّل الا قبال حین یاتیک کتاب ، فان الناس کلهم معک لیس ؛لهم فی آل معاوية رأی ولا هوی ، والسلام
اما بعد : ایلچی اپنے گھر والوں سے جھوٹ نہیں بولتا ہے۔ واقعیت یہ ہے کہ کوفہ کے ١٨ ہزار لوگوں نے میر ی بیعت کر لی ہے۔ اب میرا خط ملتے ہی آپ فوراً تشریف لایئے کیونکہ یہاں کے سارے لوگ آپ کے ساتھ ہیں ۔ خاندان معاویہ سے انکا کوئی قلبی تعلق نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جناب مسلم نے یہ خط اپنی شہادت سے ٢٧ دن قبل لکھا تھا۔(١)
معقل شامی کی جاسوسی
ابن زیاد نے اپنے غلام کو بلا یا جس کا نام معقل تھا(٢) اور اس سے کہا : یہ ٣ ہزار درہم لو اور مسلم بن عقیل کی تلاش شرو ع کر دو اور ان کے یا رو مددگا ر اور ساتھیوں کی بھی تلاش شروع کردو پھر یہ ٣ہزار درہم ان لوگو ں کے ہاتھ میں دے کر یہ کہو کہ ان پیسوں سے اپنے دشمنوں سے جنگ کے لئے سامان مہیا کرو اور اس طرح یہ کام کرو کہ گویا تم انھیں کی ایک فرد ہو کیونکہ اتنی خطیر رقم جب تم ان لوگوں کو دوگے تو وہ لوگ تم پر اطمینان حاصل کرلیں گے اور تم پر اعتماد کر نے لگیں گے اور اپنی خبر یں تم سے نہیں چھپا ئیں گے اور صبح وشام رفت وآمد کا سلسلہ جاری رکھو ۔
معقل مسجد اعظم میں آیا تو مسلم بن عوسجہ اسدی کو پایا(٣) جو وہاں نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے محمد بن قیس نے یہ روایت نقل کی ہے (طبری، ج٥، ص ٣٩٥)
٢۔طبری نے عیسیٰ بن قیس کنانی سے روایت کی ہے کہ مسلم بن عقیل (علیہ السلام) کوفہ میں ابن زیاد سے ایک شب قبل پہنچے تھے اس کی خبر ابن زیاد کو کوفہ پہنچنے سے پہلے ہی دیدی گئی تھی تو اس نے بنی تمیم کے ایک غلام کو بلا یا اور اسے مال دے کر یہ کہا کہ اس کام کو انجام دو اور مال سے ان کو لبھاؤ واور ہانی و مسلم کو تلاش کر کے میرے پاس لے آؤ ۔(طبری ،ج ٥، ٣٦٠)
٣۔ شبث بن ربیع کا اپنے ساتھیو ں کے ساتھ یہ بیان ہے کہ جب مسلم بن عوسجہ کی شہادت پر دشمن کی فوج میں خوشیا ں منائی جانے لگی ں تو اس نے لوگو ں سے کہا :تمہاری مائی ں تمہارے غمو ں میں بیٹھی ں تم لوگ خودکو قتل کر کے دوسرو ں کو ذلیل کرنے کی کوشش کررہے ہو ۔تم کو اس کی خوشی ہے کہ مسلم بن عوسجہ جیسے انسان کو قتل کردیاگیا۔قسم ہے اس کی جس کے لئے میں مسلمان ہوا ،وہ مسلمانو ں کے درمیان ایک خاص مقام ومنزلت کے حامل تھے۔خدا کی قسم میں نے آذر بایجان کی جنگ میں ان کو ٦ آدمیو ں کو قتل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایسی ذات کے قتل پر تم خوشیا ں منا رہے ہو۔ (طبری ،ج٥، ص ٤٣٦)
لوگوں سے وہاں کے بارے میں سن چکا تھا کہ مسلم بن عوسجہ امام حسین علیہ السلام کے لئے بیعت لے رہے ہیں ۔یہ وہیں آکر بیٹھ گیا اور نماز تمام ہونے کا انتظار کرنے لگا جب جناب مسلم بن عوسجہ نماز تمام کر چکے تو کہنے لگا : ائے بندہ خدا میں شام کا رہنے والا قبیلہ'' ذوالکلاع ''سے وابستہ ہوں خدا وند عالم نے مجھ پر احسان کیا ہے کہ میرے دل میں اہل بیت کی محبت اور ان سے محبت کرنے والوں کی محبت جاگزیں کردی ہے۔ یہ ٣ہزار درہم کے ساتھ میں چاہتا ہو ں کہ اس شخص سے ملاقات کروں جس کے بارے میں مجھ کو خبر ملی ہے کہ وہ کوفہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کے بیٹے کی طرف سے بیعت لینے آیا ہے۔ میں اُن سے ملا قات کا مشتاق تھا لیکن کوئی ایسا شخص نہیں مل سکاجو میری ان تک رہنمائی کر تا اور نہ ہی کو ئی ان کی منزل گاہ سے آگاہ ہے۔ابھی میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ مسلمانوں میں سے کسی کو یہ کہتے سنا کہ اس مرد کو ان کے جائے قیام کا علم ہے لہذا میں آپ کے پاس حاضر ہو گیا تاکہ آپ یہ مال لے لیں اور مجھے اپنے آقا کے پاس لے چلیں تاکہ میں ان کے ہاتھوں پر بیعت کرسکوں ۔ اگر آپ چاہیں تو ملنے سے پہلے ہی مجھ سے اْن کی بیعت لے لیں ۔
اس پر مسلم بن عوسجہ نے اس سے کہا : میں اس پر خدا کی حمد کر تا ہوں تم کوان سے ملوا دوں گا ۔ مجھے اس کی خوشی ہے کہ تم جو چاہتے ہو وہ تم کو مل جائے گا اور تمہارے وسیلہ سے خدا اپنے نبی کے اہل بیت کی مدد کرے گا؛ لیکن مجھے اس کی سخت فکر ہے کہ اپنے مقصد تک پہچنے سے قبل تم نے مجھ کو پہچان لیا۔یہ فکر اس لئے ہے کہ یہ ابن زیاد سر کش ہے۔ یہ کہہ کر مسلم بن عوسجہ نے چلنے سے پہلے ہی اس سے بیعت لے لی اور بڑے ہی سخت اور سنگین عہد وپیمان کرائے کہ ہمیشہ خاندان رسالت کا خیر خوا ہ اور ان کے راز وں کو چھپا نے والا رہے گا۔ معقل نے مسلم بن عوسجہ کی رضایت کے لئے سب کچھ قبول کرلیا۔ اس کے بعد مسلم بن عو سجہ اسے اپنے گھر لے گئے اور کہا چند روز یہیں رہوتاکہ میں وقت لیکر تم کو ان کا دیدار کرا سکوں ، پھر مسلم بن عو سجہ نے اجازت لے کر جناب مسلم علیہ السلام سے اس کی ملا قات کرادی ۔(١)
____________________
١۔ ابو مخنف نے معلی بن کلیب سے اور انہو ں نے ابو وداک سے نقل کیا ہے۔(طبری ،ج٥، ص ٣٦١)
ابن زیاد کے قتل کا منصوبہ
انہی شرائط میں ہانی بن عروہ مریض ہو جاتے ہیں اورعبیداللہ ابن زیاد، ہانی کی عیادت کے لئے آتا ہے۔ ابن زیاد کے آنے سے پہلے عمارةبن عبیدسلولی نے(١) ہانی سے کہا : ہمارے اجتماع کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح اس خون آشام جلا دکو موت کے گھاٹ اتار دیں ۔اللہ نے آج ہم کو مہلت دیدی ہے لہذا جیسے ہی وہ آئے اسے قتل کردیا جائے۔ لیکن ہانی نے کہا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ وہ میرے گھر میں قتل کیا جائے لہٰذا ابن زیاد آیا، عیادت کی اور چلا گیا ۔
ابھی اس واقعہ کو ایک ہفتہ نہ گزار تھاکہ شریک بن اعور حارثی مریض ہو گیا۔ چونکہ وہ تمام حکمرانوں سے نزدیک تھا منجملہ ابن زیاد کا بھی مقرب تھااور دوسری طرف اس کے دل میں تشیع اور محبت اہل بیت کی گرمی شعلہ ورتھی لہذا جب عبید اللہ ابن زیاد نے اس کے پاس آدمی بھیج کر کہا کہ آج شام میں تمہا رے دیدار کو آؤں گا تو شریک نے جناب مسلم کو بلا کر کہا : وہ فا جر آج رات میری عیادت کو آے گا جب وہ آکر بیٹھے تو آپ پردے کے پیچھے سے آکر اسے قتل کر دیجئے پھر محل میں جا کر بیٹھ جائیے ، اس کے بعد کوئی نہیں ہے جو آ پ اور اس کے درمیان حائل ہو سکے۔ اب اگر میں اپنے اس مرض سے صحت یاب ہو گیا تو میں بصرہ چلا جاؤں گا اور حکومت آپ کی ہو گی ۔
جب رات آئی تو ابن زیاد شریک کی عیادت کے لئے آیا اور مسلم نے اپنے آپ کو آمادہ کیا۔ شریک نے مسلم سے کہا : دیکھو جب وہ بیٹھ جائے تو فرصت کو ہاتھ سے جا نے نہ دینااسی اثنا میں ہانی بن عروہ کھڑے ہوئے اور کہا : مجھے پسند نہیں ہے کہ وہ میرے گھر میں قتل ہو (گویا ہانی اس کو اپنے لئے ننگ وعار سمجھ رہے تھے) بنا برین عبیداللہ بن زیاد آیا اور داخل خانہ ہو کر شریک کی احوال پرسی کی۔ اس احوال پرسی نے طول اختیار کیا لیکن شریک نے دیکھا کہ مسلم نہیں نکل رہے ہیں لہذا فرصت کے فوت ہونے کے خوف سے ایک شعر پڑھا جس کا معنی اس طرح ہے : کس انتظار میں ہو کہ سلمیٰ کو سلام وتہنیت پیش کرو ؟ مجھے
____________________
١۔ یہ کو فہ والو ں کے نامہ برو ں میں سے ایک ہیں جو ٥٣ خطوط لے کر گئے تھے اور امام علیہ السلام نے انہیں مسلم بن عقیل ،قیس بن مسہر صیداوی اور عبد الر حمن ارجی کے ساتھ کوفہ روانہ کیا تھا۔
سیراب کرو چاہے اس میں میری جان چلی جاے!یہ شعر اس نے دو تین بار پڑھا تو ابن زیاد نے کہا : تم کو کیا ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مرض کی شدت سے تم ہذیان بک رہے ہو!ہانی نے کہا : ہاں ! اللہ آپ کوصحیح وسالم رکھے ؛صبح سے لے کر اب تک ان کی حالت ایسی ہی ہے۔ اس پر ابن زیاد اٹھ کر چلا گیا ۔ مسلم باہر نکلے تو شریک نے کہا اس کے قتل سے تمہیں کس چیز نے روک دیا ؟ مسلم نے جواب دیا : ''خصلتا ن'' دو چیزوں نے روک دیا''اما احد هما: فکر اهة هانیٔ أن یقتل فی داره'' پہلی چیز تو یہ کہ ہانی کو ناپسند تھا کہ وہ ان کے گھر میں قتل کیا جائے''اما الأخریٰ : فحد یث حدثه الناس عن النب صلی اللّٰه علیه و آله وسلّم ان الا یمان قید الفتک ولا یفتک المؤ من '' دوسری چیز حدیث نبوی ہے جسے لوگوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نقل کیا ہے کہ خدا پر ایمان، غفلت کی حالت میں قتل کر نے سے روک دیتاہے اور مومن دھوکے سے کبھی کسی کو قتل نہیں کرتا ۔
اس پر ہانی نے کہا : خدا کی قسم اگر تم قتل کرتے تو میں بھی اس فاسق و فاجر اور دھو کہ باز کو قتل کرنے میں شریک رہتا لیکن مجھے یہ نا پسند تھا کہ وہ میرے گھر میں قتل ہو۔(١)
معقل کی جناب مسلم سے ملاقات
معقل چند دن جناب مسلم بن عوسجہ کے گھر میں رہاتا کہ جناب مسلم بن عقیل کے پاس جا سکے۔ چند دنوں کے بعد یہ جناب مسلم بن عو سجہ کے توسط سے مسلم بن عقیل علیہ السلام کے پاس پہنچ گیا ۔ جناب مسلم بن عو سجہ نے سارا واقعہ تفصیل سے سنا دیا تو جناب مسلم بن عقیل نے بیعت لے لی اور جناب ابو ثما مہ صائدی(٢) کو حکم دیا کہ اس سے وہ پیسہ لے لیں جو وہ لے کر آیا ہے اس کے بعد معقل نے آنا جانا شروع کر دیا ۔وہ یہاں آکر ان کی خبروں کو سنتا ، رازوں سے آشنا ہو تا پھر وہاں سے نکل کر جا تا اور ابن زیاد کو ساری سر گذشت سنا دیتاتھا ۔
____________________
١۔ابو مخنف نے معلی بن کلیب سے اور اس نے ابو وداک سے روایت کی ہے۔(طبری ،ج٥ ، ص ٣٦١)
٢۔ ابو ثمامہ چونکہ مسائل اقتصادی سے آگا ہ تھے لہٰذا جو اموال لوگ دیتے تھے اسے بھی جناب مسلم کی طرف سے آپ ہی لیتے تھے اور اس سے اسلحہ خرید ا کر تے تھے۔آپ عرب کے شہسوارو ں اور شیعو ں کے بزرگو ں میں شمار ہوتے تھے۔ (طبری ،ج٥،ص ٣٦٤) جناب مسلم نے ان کو قبیلہ ٔ ہمدان اور قبیلہ بنی تمیم کے لوگو ں کی سر براہی سوپنی تھی۔ (طبری ،ج٥ ، ص ٣٦٩) آپ کر بلا میں بھی حاضر تھے اور وہا ں امام حسین علیہ السلام سے نماز پڑھنے کی در خواست کی تو امام علیہ السلام نے آپ کے حق میں خیر کی دعا کی اور فرمایا :'' ذکر ت الصلوٰة جعلک اللّہ من المصلین الذ اکر ین''تم نے نما ز کو یاد کیا ؛خدا تم کوان نما زگزارو ں میں شامل کرے جو ہمیشہ یاد الہٰی میں رہتے ہیں ۔ (طبری ،ج٥ ، ص ٤٣٩) نماز سے پہلے ہی آپ کے اس چچا زادبھائی نے آپ سے مبارز طلبی کی تھی جو عمر بن سعد کے لشکر میں تھااور آپ نے اس ملعون کو قتل کیا تھا۔(طبری ،ج٥، ص ٤٤١)
ہانی کا دربار میں طلب کیا جانا
انہی دنوں ایک دن ابن زیاد نے اپنے درباریوں سے پوچھا: ہانی مجھے یہاں دکھائی نہیں دے رہے ہیں ؟ حاضرین نے جواب دیا: وہ مشکوک ہیں ۔اس پر عبیداللہ بن زیاد نے محمد بن اشعث،(١)
____________________
١۔ محمد بن اشعث بن قیس کندی : اسی شخص سے زیاد نے کوفہ کی اور اس کے قبیلہ کی بزرگ شخصیت جناب حجربن عدی کو طلب کیا ۔حجر نے اس سے درخواست کی کہ زیادسے امان کا مطالبہ کرے اور مجھے معاویہ کے پاس بھیج دے پھرمعاویہ جو چاہے میرے ساتھ سلوک کرے۔ شروع میں تو اس نے اسے قبول کرلیا لیکن آخر کا رحجر کو زیاد کے حوالے کر دیا۔(طبری ج ٥؛ص ٢٦٣،٢٦٤)اس کی اس حرکت پر عبیدہ کندی نے محمد بن اشعث پر طنز کیا کہ تو نے حجر کے ساتھ دغا کی اور مسلم علیہ السلام سے جنگ پر آمادہ ہوا اس سلسلہ میں اس نے شعر کہہ ڈالے:
أسلمت عمک لم تقاتل دونه
فرقاً ولولا انت کان منیعا
وقتلت وافد آل بیت محمد
وسلبت أسیافاله ودروعا
(طبر ی، ج، ص٢٨٥)تونے اپنے چچا کی طرف سے لڑنے کے بجائے انہیں ظلم کے ہاتھو ں سونپ دیا اور ان کی نجات کے لئے کچھ بھی نہ کیا جب کہ اگر تو انھی ں دھو کہ نہ دیتا تو کبھی بھی وہ لوگ ان پر ہاتھ نہیں رکھ پاتے ؛اسی طرح تو نے سفیر حسین علیہ السلام اور نمائندہ خاندان اہلبیت کو شہید کر دیا اور ان کے اسلحو ں کو تاراج کردیا۔'' کندہ'' اور ''حضرموت ''کے جتنے لوگ اس کی اطاعت میں تھے سبھی نے ابن زیاد کی طرف سے پرچم امان بلند کرکے مسلم بن عقیل کو فریب و دھوکہ دیکر چھوڑدینے کے لئے کہا (طبری، ج ٥،ص ٣٦٩)لیکن جنگ کے لئے ابن زیاد نے اسی کو قبیلہ قیس کے جوانو ں کے ساتھ روانہ کیا کیونکہ ہر آیندہ نگر انسان ابن عقیل سے مقاتلہ اور جنگ کو ناپسند کرتا تھا ۔(طبری ، ج٥،ص ٣٧٣) طبری کا کہنا ہے کہ اسی نے جناب مسلم کو امان دیا ۔(طبری ،ج٥ ، ص ٢٧٤) لیکن جب ابن زیاد کو اس امان کی خبر ملی تو اس نے قبول نہیں کیا ۔(طبری ،ج٥، ص ٣٧٥) اسی طرح ہانی بن عروہ کے سلسلہ میں بھی سفارش کی لیکن اس کی سفارش قبول نہیں ہوئی ۔(طبری ،ج ٥ ،ص ٣٧٨) قبیلہ کندہ عمر بن سعد کے حکم پر قیام کرتے
تھے کیونکہ وہ سب پسر سعد کے مامو ں ہوتے تھے۔ جب یزید بن معاویہ ہلاک ہوگیا اور ان لوگو ں کو ابن زیاد نے اپنی طرف بلایا تو ان لوگو ں نے ابن زیاد کو چھوڑدیا اور عمر بن سعد کو اپنا حاکم بنا لیا۔ جب ہمدان کے مردو ں نے تلواری ں کھینچ لی ں اور ان کی عورتی ں امام حسین علیہ السلام پر رونے لگی ں تو اشعث کا لڑکا اپنے ارادے سے منصرف ہو گیا اور بولا : ایسا مسئلہ پیش آگیا ہے کہ اب ہم اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر سکتے (طبری ،ج٥، ص ٥٢٥) اس کے بعد ان لوگو ں نے مکہ میں ابن زبیر کو خط لکھا تو ابن زبیر نے محمدبن اشعث بن قیس کو موصل بھیج دیا۔ جب موصل میں اس نے قدم رکھا تو وہا ں مختار کی جانب سے عبدالرحمن بن سعیدبن قیس امیر تھالہذا یہ موصل سے نکل کرتکریت آگیا اور وہا ں قبیلو ں کے اشراف وغیرہ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کردیا اور انتظار کرنے لگا کہ دیکھی ں لوگ کیا کرتے ہیں پھر خود جناب مختار کے پاس جاکر ان کی بیعت کرلی (طبری ، ج٦، ص ٣٦) لیکن جب ابن زیاد شام کے لشکر کے ہمراہ موصل آیا اور مختار کے ساتھیو ں سے جنگ کے لئے خروج کیا تو اشراف کوفہ بھی اس سے مل گئے اور اس کے ساتھ حملہ کردیا۔ انہیں کوفیو ں میں محمدبن اشعث بھی تھا اور اس کا بیٹا اسحاق بن محمد بن اشعث۔انھو ں نے قبیلہ ''کندہ ''کے ایک گروہ کے ساتھ جناب مختار پر خروج کیا۔ (طبری ،ج٦،ص ٣٩، ٤٥) لیکن ان سب کے متفرق ہو جانے او شکست کھانے کے بعد محمد بن اشعث ابن قیس قادسیہ کے پہلو میں اپنے قریہ کی طرف نکل گیا ۔ مختار نے وہا ں اپنے ساتھیو ں کو بھیجا لیکن محمد بن اشعث وہا ں سے نکل کر مصعب بن زبیر سے ملحق ہوگیا۔مختار کے سپاہیو ں نے اس کا گھر منہدم کر دیا (طبری، ج٦، ص٦٦) پھر مصعب نے اس کو حکم دیا کہ وہ مہلب بن صفرہ کے پاس چلاجائے اور مصعب کا یہ خط اسے دیدے ۔وہ یہ چلاگیا اور پھر مہلب کے ساتھ مختار سے جنگ کے لئے آیا (طبری ،ج٦،ص٩٤) پھر کوفہ کی ایک عظیم فوج کے ساتھ آیا جس کا مقصد مختار کو ہٹاناتھا۔ وہ فوج بصرہ والی فوج سے زیادہ خطرناک تھی۔ وہ شکست کھاکر اسیر ہونے کے لئے تیار نہیں تھے یہا ں تک کہ مختار ان کو قتل کردیتے ۔وہ مصعب کے ہمراہ مختار سے جنگ کرنے میں ماراگیا ۔مصعب نے اس کے بیٹے عبدالرحمن بن محمد بن اشعث کو کوفہ کے کوڑے خانے کے پاس اس کی لاش کے لئے بھیجا ۔(طبری ،ج٦، ص ١٠٤)
اسماء بن خارجہ(١) اورعمرو بن حجاج(٢) کو بلایا(عمروبن حجاج کی بہن روعة، ہانی بن عروہ کی بیوی تھی) اور ان سے پوچھا: ہانی بن عروہ کو ہم تک آنے سے کس نے روکاہے ؟ اس پر ان لوگو ں نے جواب
____________________
١۔اسے فزاری بھی کہاجاتا ہے۔ یہ شخص وہی ہے جس نے جناب حجر بن عدی کے خلاف گواہی تحریر کی تھی (طبری ،ج٥، ص ٩٢٠٧) یہ وہی ہے جسے حجاج نے کمیل بن زیاد نخعی اور عمیر بن صنائی کے سلسلے میں یاد کیا تھا۔ یہ دونو ں وہ تھے جنہو ں نے عثمان کی طرف خروج کیا تھا ۔ حجاج نے ان دونو ں کو قتل کر دیا ۔(طبری،ج٤، ص ٤٠٤)اسی نے ابن زیاد پر ہانی بن عروہ کو مارنے کے سلسلے میں اعتراض کیا تھا تو ابن زیاد نے حکم دیا کہ اسے قید کرلو (طبری، ج٥،ص ٣٦٧)پھر یہ ابن مطیع کے اصحاب میں شمار ہونے لگا (طبری ،ج ٦ ، ص ٣١) پھر ٦٨ھمیں مصعب بن زبیر کے ساتھیو ں میں ہوگیا ۔(طبری، ج٦ ،ص ١٢٤)
٢۔امام حسین علیہ السلام کو جن لوگو ں نے خط لکھا ان میں ایک یہ بھی ہے۔اس سے قبل اس شخص کے احوال بیان ہوچکے ہیں ۔
دیا ہم لوگ نہیں جانتے ہیں !اللہ آپ کو صحیح وسالم رکھے۔اس پر ابن زیاد نے کہا : مجھے تو خبر ملی ہے کہ وہ صحت یاب ہوچکے ہیں اور اپنے گھر کے دروازہ پر بیٹھا کر تے ہیں لہٰذا تم جاؤ،ان سے ملاقات کرو اور انھیں سمجھادو کہ حکومت کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داری سے کوتاہی نہ کریں کیونکہ یہ مجھے پسند نہیں ہے کہ ان جیسے اشراف و بزرگانِ عرب میری نظر سے گر جا ئیں ۔(١)
ہانی، ابن زیاد کے دربار میں
یہ تمام افرادہانی کے پاس گئے اور شام تک ان کے پاس بیٹھے رہے۔ اس وقت جناب ہانی بن عروہ اپنے گھر کے دروازہ پر بیٹھے تھے۔ ان لوگوں نے جناب ہانی سے پوچھا کہ آپ امیر سے ملاقات کرنے کیوں نہیں آتے ؟وہ تو آپ کو بہت یاد کرتے ہیں اور کہا ہے کہ اگر آپ مریض ہیں تو میں عیادت کے لئے آوں ۔ ہانی نے جواب دیا : بیماری میرے آنے میں مانع ہے تو اس پر ان لوگوں نے کہا : امیر تک یہ خبر پہنچی ہے کہ ہرشام کو آپ اپنے گھرکے دروازہ پر بیٹھتے ہیں اور انہیں انتظار میں رکھے ہیں ۔ آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ حاکم ایسی چیزوں کے متحمل نہیں ہوتے ہیں ؛لہٰذا ہم آپ کو قسم دیتے ہیں کہ آپ ابھی ہمارے ساتھ چلیں ۔اس پر ہانی نے لباس منگوائے اور اسے پہناپھر خچر منگواکر اس پر سوار ہوکر قصر کے پاس پہنچے اور گویا وہاں پہنچتے ہی ان بعض چیزوں سے آگاہ ہوگئے تھے جو ہونے والی تھیں لہذاحسان بن خارجہ سے کہا : جان برادر ! خدا کی قسم میں اس مرد سے خائف ہوں ، تم اس سلسلسہ میں کیا کہتے ہو؟اس پر حسان بن خارجہ نے کہا : اے چچا خدا کی قسم! میں آپ کے سلسلے میں ذرہ برابر خوف زدہ نہیں ہوں ؛ آپ اپنے دل میں کسی خوف کو راہ کیوں دیتے ہیں جب کہ آپ بالکل بری ہیں ؟ ابن زیاد کے گرگے جناب ہانی کو لے کر دربار میں داخل ہوئے۔ ابن زیاد کی نگاہ جیسے ہی ہانی پر پڑی زیر لب کہنے لگا ۔ احمق اپنے پیروں سے چل کر
____________________
١۔ابو مخنف نے معلی بن کلیب سے اور اس نے ابوودّاک سے نقل کیا ہے پھر مجالد بن سعید ، حسن بن عقبہ مرادی اور نمیربن وعلہ نے ابو وداک سے نقل کیا ہے۔(طبری ،ج٥، ص ٣٦١، ٣٦٤ و الارشاد ،ص ١٠٨)
اپنی موت کی طرف آیا ہے۔جب ہانی ابن زیاد کے پاس پہنچے تو قاضی شریح(١) بھی وہاں موجود تھا۔ ابن زیاد نے ہانی کی طرف متوجہ ہو کر کہا :
ارید حیا ته و یرید قتلی
عذیرک من خلیلک من مراد
میں اس کی حیات کی فکر میں ہوں لیکن یہ تو مجھکو قتل کرنا چاہتا ہے، ذرا اس سے پوچھو کہ اس کے پاس قبیلۂ مراد کے اپنے دوست کے لئے کون ساعذرہے ۔
ہانی، ابن زیاد کے روبرو
ہانی بن عروہ اپنی درایت سے ابن زیاد کے ارادہ کو بھانپ چکے تھے لہٰذا خود ہی ابن زیاد کو مخاطب کیا: اے امیر ! تمہارا منظور نظر کیا ہے ؟ ابن زیاد بولا : ہانی ! بس کرو ! اپنے ارد گرد تم امیر المومنین اور مسلمین کے خلاف کیا کھیل کھیل رہے ہو ۔ تم نے مسلم بن عقیل کو اپنے گھر میں پناہ دے رکھی ہے اور اپنے اطراف میں اسلحوں اور جنگجوؤں کو جمع کر رہے ہو اور اس گمان میں ہو کہ یہ بات مجھ سے پوشیدہ ہے ۔
____________________
١۔ اس کا نام شریح بن حارث کندی ہے۔ عمر نے ١٨ھ میں اسے کوفہ کا قاضی بنایا تھا۔ (طبری ،ج٤، ص ١٠١)اس کا شمار ان لوگو ں میں ہوتا ہے جنہو ں نے کوفیو ں کو عثمان کی مدد و نصرت کے لئے شعلہ ور کیا تھا۔ (طبری ،ج ٤، ص ٣٥٢) شریح بن حارث قاضی ہی نے گواہو ں کی گواہی کے ذیل میں جناب حجر بن عدی کے خلاف تحریر لکھی تھی لیکن وہ کہتا ہے کہ مجھ سے ابن زیاد نے جب ان کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ وہ بڑے روز ہ دار اور نماز گزار ہیں ۔ (طبری، ج٥، ص ٢٧٠)زیاد نے اس سے مشورہ کیا کہ اپنے مجزوم ہاتھ کو کاٹ دے تواس نے مشورہ دیا کہ ایسا نہ کرو! اس پر لوگو ں نے اس کی ملامت کی تو اس نے کہا کہ رسول خدا نے فرمایا ہے :'' المستشار مؤتمن '' جس سے مشورہ کیا جاتا ہے وہ امین ہے۔ (طبری ،ج٥، ص ٢٨٩)ابن زبیر نے اسے قاضیٔ کوفہ بنانا چاہا تو اس نے انکار کردیا ۔(طبری، ج٥، ص ٥٨٢)لیکن مختار کی جانب سے قضاوت کی دعوت کو قبول کرلیا پھر جب اس نے یہ سنا کہ مختار کے افرادکی زبان پر یہ زمزمہ ہے کہ یہ عثمانی ہے اور یہ جناب حجر بن عدی کے خلاف گواہی دینے والو ں میں شمار ہوتا ہے حضرت علی علیہ السلام نے اسے قضاوت کے عہدہ سے معزول کردیا تھا اور ہانی کے سلسلے میں اس نے صحیح خبر نہیں دی تھی تو اس نے مریض ہونے کا بہانہ بناکر قضاوت چھوڑدی۔ مختار نے اس کی جگہ پر عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کو قاضی بنادیا پھر عبداللہ بن مالک طائی کو قضاوت کا عہدہ دیدیا۔ (طبری، ج ٦ ، ص ٣٤) مختار کے بعد اس نے ابن زبیر کی طرف سے قضاوت کو قبول کرلیا(طبری ،ج ٦ ،ص ١٤٩) اور حجاج کے زمانے میں اس عہدہ سے ٧٩ھ میں اس عہدہ سے استعفی دیدیا اور مشورہ دیا کہ بردہ بن ابو موسی اشعری کو قاضی بنادے۔ حجاج نے استعفی قبول کرکے ابو بردہ کو والی بنادیا ۔اس نے تقریبا ساٹھ ٦٠ سال تک قضاوت کی۔
ہانی : میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے اور نہ ہی مسلم میرے پاس ہیں ۔
ابن زیاد : کیوں نہیں ! تم نے ایسا ہی کیا ہے ۔
ہانی : میں نے یہ کام انجام نہیں دیا ہے ۔
ابن زیاد :کیوں نہیں ! یہ کام تم نے ہی کیا ہے۔
اس ردّ و قدح اور توتو میں میں کا سلسلہ بڑھتا ہی گیااور ابن زیاد ان باتوں کا ذمہ داران کو ٹھہراتا رہا اور ہانی انکار کرتے رہے۔ آخر کار ابن زیاد نے معقل کو بلایا جوجاسوسی کے فرائض انجام دے رہاتھا۔ معقل فوراًسامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ ابن زیاد نے کہا : اسے پہچانتے ہو ؟ تو ہانی نے کہا : ہاں ، اس وقت ہانی کے سمجھ میں آیا کہ یہ جاسوس تھا جو وہاں کی باتیں یہاں آکر سنایا کرتا تھا۔ اب چار وناچار ہانی بولے :
میری باتیں سنو اور اسے سچ سمجھو!خدا کی قسم میں تم سے جھوٹ نہیں بول رہاہوں ۔ قسم ہے اس خدا کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ۔میں نے مسلم کو اپنے گھر آنے کی دعوت نہیں دی تھی اور نہ ہی میں اس کے سلسلہ میں کچھ جانتا تھا لیکن ایک دن میں نے انہیں اپنے گھر کے دروازہ پر بیٹھاہوا دیکھا ۔انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میرے گھر میں آجائیں تو مجھے اس درخواست کو ٹھکرانے میں شرم آئی اور وہ اس طرح میری حرمت میں داخل ہوگئے۔ میں نے انہیں اپنے گھر میں جگہ دی،انکی مہمان نوازی کی اور پناہ دی ۔یہی وہ بات ہے جو ان کے سلسلہ میں تم تک پہنچائی گئی ہے۔اب اگر تم چاہو تو میں ابھی سنگین عہدو پیمان باندھ لوں کہ میرا حکومت کے خلاف شورش اور برائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اگر چاہوتو میں تمہارے پاس کوئی چیزگرو رکھ دوں تاکہ دوبارہ تمہارے پاس آجاؤں اور ان کے پاس جاکر انہیں حکم دوں کہ میرے گھر سے نکل کر جہاں چاہے چلاجائے اور میرے پیمان و میری ہمسایگی سے نکل جائے ۔
ابن زیاد : ہرگز نہیں ! میں اس وقت تک تم کو نہیں جانے دوں گا جب تک تم انہیں یہاں نہ لے آؤ!
ہانی : نہیں خدا کی قسم میں اسے کبھی نہیں لاؤں گا !میں اپنے مہمان کو یہاں لے آؤں تاکہ تم اسے قتل کردو !
ابن زیاد: خداکی قسم تم ضرور اسے یہاں لاؤ گے۔
ہانی : خدا کی قسم میں کبھی نہیں لاؤں گا ۔
جب دونوں کے درمیان اسی طرح تکرار بڑھتی گئی تو مسلم بن عمرو باہلی اٹھا اور اس نے کہا : خدا امیر کو سلا مت رکھے ! کچھ دیر آپ مجھے اور ان کو تنہا چھوڑ دیں تا کہ میں ان سے کچھ گفتگو کر سکوں اور اس کے بعد ہانی سے کہا : آپ اٹھ کر یہاں میرے پاس آیئے تاکہ میں آپ سے کچھ گفتگو کر سکوں ۔ہانی وہاں سے اٹھ کر اس کے کنارے آگئے جہاں ابن زیاد سے دوری تھی لیکن اتنی دوری پر تھے کہ ابن زیاد ان دونوں کو بخوبی دیکھ سکتا تھا اور جب ان دونوں کی آواز یں بلند ہو رہی تھیں تو وہ بخوبی ان کی گفتگو سن رہا تھالیکن جب وہ لوگ آہستہ آہستہ گفتگو کر رہے تھے تو یہ بات چیت ابن زیاد کے لئے نا مفہوم تھی۔ مسلم بن عمرو باہلی نے ہانی سے کہا : ا ے ہانی !تم کو خدا کا واسطہ ہے کہ اپنی جان کو خطرہ میں نہ ڈالو اور اپنے خاندان اور قبیلہ کو بلا ؤں میں مبتلا مت کرو!خدا کی قسم میں تمہا رے قتل سے بہت زیادہ پر یشان ہوں اور یہ نہیں چاہتا کہ تم قتل کر دئے جاؤ۔ یہ (مسلم بن عقیل) جو تمہارے مہمان ہیں یہ انہیں لوگوں کے چچا زاد بھائی ہیں ۔ یہ لوگ نہ تو انہیں قتل کریں گے اور نہ ہی نقصان پہنچائیں گے پس تم انہیں حاکم کوسونپ دو۔ اس میں نہ تو تمہا ری ذلت وخواری ہے اور نہ ہی تمہارے لئے عیب و منقصت ہے، تم تو انہیں فقط حاکم کے حوالے کر رہے ہو ۔
ہانی : کیوں نہیں ! خدا کی قسم اس میں میری ذلت وخواری ہے۔میں اپنے مہمان اور ہمسایہ کو اسے سونپ دوں ! جب کہ میں ابھی صحیح وسالم ہوں ، دیکھنے اور سننے کی صلا حیت ابھی باقی ہے،میرے بازؤں کی مچھلیاں ابھی قوت رکھتی ہیں اور میرے ناصرو مددگا ر بڑی تعداد میں موجودہیں خدا کی قسم اگر میں تنہا رہ جاؤں اور میرا کو ئی ناصر ومددگا ر نہ رہے تب بھی میں اس کے ہاتھوں اپنے مہمان کو نہیں سونپوں گا یہاں تک کہ اس کے لئے مجھے موت آجائے۔ یہ جملے ہانی اس یقین کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ ان کاقبیلہ ابھی ابھی ان کی مدد کے لئے حرکت میں آجائے گا اور اس ظلم وجورکے خلاف تلوار کھینچ لے گالہٰذا وہ بار بار قسم کھارہے تھے کہ میں خدا کی قسم کبھی بھی اپنے مہمان سے دست بردارنہیں ہوں گا ۔
موت کی دھمکی
ابن زیاد نے ہانی کی گفتگو سننے کے بعد کہا : اسے میرے پاس لاؤ! ہانی کو اس کے پاس لے جا یا گیا؛ جب ہانی وہاں پہنچے توابن زیاد نے کہا : خدا کی قسم تم اسے (جناب مسلم) ضرور یہاں لاؤ گے ورنہ میں تمہاری گردن اڑا دوں گا ۔
ہانی : اگر تم ایسا کروگے تو اپنے محل کے ارد گرد برہنہ شمشیروں کو پاؤ گے۔(١) وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے قبیلہ والے باہر ان کی باتیں سن رہے ہیں ۔
ابن زیاد : وائے ہو تجھ پر ! تو مجھے بر ہنہ شمشیروں سے ڈراتا ہے ! اسے میرے نزدیک لاؤ! جب نزدیک لا یا گیا تو چھڑی سے ہانی کے چہرہ پراتنا مارا کہ ان کی پیشانی اور رخسار زخمی ہوگئے،ناک ٹوٹ گئی اور خون کپڑوں پربہنے لگا،رخسار اور پیشانی کے گوشت کٹ کرداڑھی پر گرگئے اور آخر کار چھڑی ٹوٹ گئی ۔
ہا نی نے اپنے بچاؤ کے لئے وہیں کھڑے ایک شخص کے تلوار کے دستہ پر ہاتھ مارا لیکن لوگوں نے ان کو پکڑ لیا اور یہ کام نہ کرنے دیا ۔
____________________
١۔طبری نے عیسیٰ بن یزید کنانی سے روایت کی ہے کہ ابن زیاد نے ہا نی سے کہا : کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ جب میرا باپ اس شہر میں آیا تو تم کو اور حجر بن عدی کو چھوڑکر اس شہر کے تمام شیعو ں کو قتل کر دیا تھا اور حجر کے ساتھ جو ہواوہ تم کو معلوم ہے۔ اس کے بعد تمہاری معاشرت ہمیشہ اچھی رہی پھر تمہارے باپ نے امیر کوفہ کو لکھا کہ تم سے ہا نی کے سلسلے میں میری درخواست اور حاجت ہے۔ ہانی نے جواب دیا : ہا ں ! تو ابن زیاد بولا : کیا اس کی جزا یہی تھی کے تم اپنے گھر میں اس شخص کو چھپا ئے رکھو جو مجھے قتل کر نا چا ہتا ہے ! ہانی نے جواب دیا: میں نے ایسا نہیں کیا ہے۔ابن زیاد نے اپنے تمیمی غلام کو نکال کرسامنے کھڑا کر دیا جو ان لوگو ں کی جا سوسی کیا کر تا تھا۔جب ہا نی نے اسے دیکھا فوراً سمجھ گئے کہ یہ ساری خبری ں پہنچا یا کر تا تھا پھر ہا نی بولے : اے امیر ! جو باتی ں تجھ تک پہنچی ہیں وہ صحیح ہیں لیکن میں نے تمہارے حقوق کو ضائع نہیں کیا ہے،امن میں ہے اور ہلا کت سے محفوظ ،پس تو جس طرح چاہتا ہے خوش رہ۔
ابن زیاد کا غلام مہران وہیں اس کے سر پر کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں چھٹری تھی، وہ چلا یا : ہائے یہ کیسی ذلت ہے ! یہ جو لا ہاغلام آپ کو امان دے رہا ہے ۔یہ کہہ کر چھڑی ابن زیاد کی طرف پھینکی اور کہا اس کو پکڑیے اور اس نے جناب ہانی کے بالوں کو پکڑا اور ابن زیاد نے اس چھڑی سے ہانی کو مارنا شروع کیا یہاں تک کہ ان کی ناک اور پیشانی ٹوٹ گئی اور چھڑی کے اوپر کا حصہ ٹوٹ کردیوار سے ٹکرایا اور اس میں گھس گیا۔ (طبری ،ج٥، ص ٣٦١)
ابن زیاد نعرہ لگا تے ہوئے:اے ہانی! کیا تو خارجی ہو گیا ہے اور امیر المو منین کے خلاف شورش بر پا کر رہا ہے ؟ آگا ہ ہو جا کہ تونے اس کے ذریعہ سے خود کو بڑی سخت سزا میں مبتلا کر لیا ہے۔ اب تیرا قتل ہمارے لئے صحیح اور حلا ل ہے۔پھر حکم دیا کہ اسے پکڑ و اور محل کے ایک کمرے میں ڈال دو۔کمرے کا دروازہ بند کر کے اس پر ایک نگھبان معین کردو ۔ جلا دوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی ، لیکن اسی موقع پر اسماء بن خارجہ اٹھ کھڑا ہو ا اور بولا : کیا ہم فریب کا ر اور دھوکہ باز پیغام رساں تھے جو آج تیری طرف سے ان کے پاس گئے تھے تا کہ انہیں تیرے پاس لے آئیں اور جب وہ آجائیں تو ان کے چہرہ کو توچھڑی سے چور چور کردے اور ان کی داڑھی کو خون سے رنگین کردے! اسکے بعد قتل کا بھی در پئے ہو جائے!
ابن زیاد بولا : تو ابھی تک یہیں ہے، پس حکم دیا کہ اسے مارو ! جلا دوں نے اس کے سر و گر دن پر مار نا شروع کیا اور اسے قید کر دیا ۔
محمد بن اشعث بولا : ہم امیر کے منشا ء ومرام سے راضی ہیں خواہ ان کی رائے ہمارے حق میں ہو یا ہمارے نقصان۔ میں ، واقعاً ہمارے امیر بڑے مودّب ہیں ۔(١) اس کے بعد محمد بن اشعث اٹھ کر عبید اللہ بن زیادکے پاس آیا اور اس سے محو سخن ہوا : اے امیر ! شہر میں ہا نی بن عروہ کی شان و منزلت اور قبیلہ میں ان کے گھر کی عزت آپ پر ہویداہے۔ ان کی قوم کو معلوم ہے کہ ہم دو آدمی ان کو یہاں آپ کے پاس لے کر آئے ہیں لہذا آپ کو خدا کا واسطہ ہے کہ آپ ان کو ہمیں دیدیں کیونکہ میں ان کی قوم سے دشمنی مول لینا نہیں چا ہتا۔ ان کی قوم اس شہر اور اہل یمن کے درمیان با عزت قوم میں شمار ہوتی ہے ۔(٢) اس پرابن زیاد نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔(٣)
____________________
١۔ طبری ،ج٥، ص ٣٦٧ ، ابو مخنف نے کہاکہ اس مطلب کو مجھ سے نمیر بن واعلہ نے ابو وداک کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
٢۔ کیو نکہ قبیلہ ء کندہ کا شمار کوفہ میں یمنی قبا ئل میں ہو تا تھا اور قبیلہ مذحج اور مراد'' قبیلہ کندہ ''میں سے تھے ۔
٣۔ ابومخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے صقعب بن زہیر نے عون بن ابی جحیفہ کے حوالے سے یہ روایت کی ہے۔ (طبری، ج٥، ص ٣٧٨، ''الارشاد'' ص ٢١٠ ، خوارزمی ص ٢٠٥)
عمر وبن حجاج تک یہ خبر پہنچی کہ ہانی مارڈالے گئے تو وہ قبیلۂ مذحج کے ہمراہ ایک بڑی بھیڑ کو لیکر چلا جس نے پورے قصر کو گھیر لیا ؛پھر وہاں پہنچ کر چلا یا : میں عمروبن حجاج ہو ں اور یہ قبیلۂ مذحج کے جنگجو جو ان اور ان کے اشراف وبزرگان ہیں ۔ ہم نے نہ تو حکومت کی فرما نبرداری سے سر پیچی کی ہے،نہ امت میں تفرفہ ایجاد کیا ہے اور نہ ہی امت سے جدا ہو ئے ہیں لیکن انہیں خبر ملی ہے کہ ان کے بزرگ کو قتل کر دیا گیا ہے اور یہ ان کے لئے بڑا سخت مرحلہ ہے۔
ابن زیاد کو فوراًخبر دی گئی کہ قبیلہ مذحج کے افراد دروازہ پہ کھڑے ہیں ۔ ابن زیاد نے فوراً قاضی شریح سے کہا : تم فوراً ان کے سردار کے پاس جاؤ اور اسے دیکھو پھر آکر ان لوگو ں کو بتاؤ کہ وہ قتل نہیں ہوا ہے اور تم نے خود اسے دیکھا ہے۔(١) شریح کہتا ہے : میں ہا نی کے پاس گیا جیسے ہی ہا نی نے مجھے دیکھا ویسے ہی کہا : اے خدا ! اے مسلمانوں ! کیا میرے قبیلہ والے مرگئے ہیں ؟! وہ دیندار افراد کہاں ہیں ؟شہر والے سب کہاں ہیں ؟ کیا سچ مچ وہ سب مرگئے ہیں اور مجھے اپنے اور اپنے بچوں کے دشمنوں کے درمیان تنہا چھوڑ دیا ہے؟ ! خون ان کے چہرے سے ٹپک رہا تھا اور وہ اسی عالم میں چیخ رہے تھے کہ اسی اثناء میں انھوں نے دروازہ پر چیخ پکار کی آواز سنی۔میں یہ آواز یں سن کر با ہر آیا ۔وہ بھی تھوڑا سا مجھ سے نزدیک ہوئے اور کہا : اے شر یح ! میں گمان کر رہا ہوں کہ یہ قبیلہ ء مذحج اورمیرے چاہنے والے مسلمانوں کی آواز یں ہیں ؛ جو مجھے بچا نے آئے ہیں ؛ اگر ان میں سے دس بھی آجائیں تو مجھے نجات دلا دیں گے ۔
شریح کہتاہے کہ میں ان کے پاس گیاجو محل کے دروازہ پر کھڑے تھے لیکن چونکہ ابن زیاد نے اپنے ایک گرگے'' حمید بن بکر احمری'' کوہمارے ساتھ روانہ کردیاتھا جو اپنی برہنہ شمشیرکے ساتھ ہمیشہ ابن زیاد کے سر پر اس کی محافظت کیا کرتاتھالہٰذاامیر کے حکم کے خلاف میں کچھ نہ کہہ سکااوران کے سامنے جاکریہی کہا: اے لوگو!امیر کو جب تمہاری آمد کی اطلاع ملی اورہانی کے سلسلے میں تمہاری گفتگو سنی تو مجھے فورا ً ان کے پاس بھیجاتاکہ میں نزدیک سے ان کو دیکھ کر آوں میں خود ان کے پاس گیااور دیکھا کہ وہ زندہ
____________________
١۔طبری ،ج٥ ،ص ٣٦٧، ابو مخنف کا بیان ہیکہ یہ روایت مجھ سے نمیر بن واعلہ نے ابو وداک کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔(ارشاد ،ص ٢١٠ ،خوارزمی، ص ٢٠٥)
ہیں ،ان کے قتل کے سلسلے میں تم لوگوں کو جو خبر دی گئی ہے وہ سب غلط ہے۔ اس پر عمروبن حجاج اور اس کے ساتھیوں نے کہا: اگر وہ قتل نہیں ہوئے ہیں توخدا کاشکرہے یہ کہکر وہ سب پلٹ گئے۔(١)
ہانی کو قید کرنے کے بعد ابن زیاد کا خطبہ
ہانی کوقید کرنے کے بعدابن زیاد لوگوں کی شورش سے ہر اساں اور خوفزدہ ہوگیا لہٰذا قوم کے سربرآوردہ افراد اور اپنے حشم و خدم نیزاپنی پولس کے افسروں کے ہمراہ محل کے باہر آیا اور منبر پر گیا۔ حمد و ثناے الٰہی کے بعدبولا: امابعد، اے لوگو!خداوند عالم کی فرمانبرداری اور اپنے حاکم کی اطاعت کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو نیز اختلاف اور افتراق سے بچو ورنہ ہلاک ہوجاؤگے ،ذلیل و رسوا ہوجاؤگے ، قتل ، جفا اور محرومیت تمہارا مقدر ہوجائے گی! آگاہ ہوجاؤکہ تمہارا بھائی وہ ہے جو سچ بولتا ہے اور جو ہوشیار کردیتا ہے اس کا عذر معقول ہے۔(٢)
____________________
١۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے صقعب بن زہیر نے عبد الرحمن بن شریح سے یہ روایت نقل کی ہے۔اس نے کہاکہ میں نے اسماعیل بن طلحہ سے حدیث سنی ہے۔(طبری ،ج٥،ص٣٦٧)
٢۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ حجاج بن علی نے مجھ سے محمد بن بشر ہمدانی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔(طبری، ج٥ ، ص٣٦٨)
جناب مسلم علیہ السلام کاقیام
سب سے پہلے جناب مسلم نے عبداللہ بن خازم کو محل کی طرف خبر لانے کے لئے روانہ کیا تاکہ وہ جناب ہانی کی سرگذشت سے آگاہ کرے۔عبداللہ بن خازم کہتا ہے : جب ہانی کو زد و کوب کے بعد قید کردیا گیا تو میں فوراً اپنے گھوڑے پر بیٹھ گیا اور میں وہ سب سے پہلا شخص تھاجس نے جناب مسلم کو وہاں کے تمام حالات سے آگاہ کیاتھا۔ اس وقت قبیلہ مراد کی عورتیں چلارہی تھیں : ہاے رے مصیبت و غم ، ارے یہ کیسا سانحہ ہمارے قبیلہ پر ہوگیا ۔میں جناب مسلم کے پاس آیا اور ساری خبرسناڈالی؛ جناب مسلم نے مجھے فوراً حکم دیا کہ میں ان کے اصحاب کے درمیان صدابلندکروں ''یا منصور امت'' اے امت کے مددگارو ! اس وقت سب کے سب جناب مسلم کے ارد و گرد جمع تھے اور ١٨ہزار بیعت کرنے والوں میں ٤ہزار اس وقت موجود تھے۔ میں نے آواز لگائی : یامنصو امت اے امت کے مدد گارو ! میری آواز ہوا کے دوش پر لہرائی اور سب کے سب جمع ہوگئے پھر جناب مسلم نے لشکر کو منظم کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو بن عزیز کندی کو قبیلہ کندہ اور ربیعہ کا سربراہ بنایا اور فرمایا : ابھی لشکر کے ہمراہ میرے سامنے حرکت کر جا ؤ پھر مسلم بن عوسجہ اسدی کو قبیلہ مذحج اور اسد کی سربراہی سونپی اور فرمایا :تم ان پیدلوں کے ساتھ نکل جاؤ کہ ان کے سربراہ تم ہو۔اس کے بعد ابو ثمامہ صائدی کو تمیم اور ہمدان کی سر براہی اور عباس بن جعدہ جدلی(١) کومدینہ والوں کا سر براہ بنایا اورخود قبیلۂ مراد کے لوگوں کے ساتھ چل پڑے ۔
اشراف کوفہ کا اجتماع
کوفہ کے سر بر آوردہ ا فراد ابن زیادکے پاس اضطراری دروازہ سے پہنچ گئے جو دارالر ومیین(٢) سے ملاہوا تھا۔عبیداللہ بن زیاد نے کثیر بن شہاب بن حصین حارثی(٣) کو بلایا اور اسے
____________________
١۔یہ شخص ہمیں مختار کی اس فوج کے میسرہ(بایا ں محاذ) پر دکھائی دیتا ہے جو مدینہ میں ابن زبیر سے لڑنے آئی تھی لیکن وہا ں اسکانام عیاش بن جعدہ جدلی ملتا ہے۔ جب یہ لوگ ابن زبیر کی فوج کے سامنے شکست خوردہ ہوگئے تویہ ابن زبیرکے امان کے پرچم تلے نہیں گئے جب کہ اس کے ہمراہ ٣٠٠افراد تھے لہٰذاجب یہ لوگ ان کے ہتھے چڑھے تو ان لوگو ں نے ١٠٠ لوگو ں کو قتل کر دیااور جو (٢٠٠) دوسو کے آس پاس بچے تھے ان میں سے اکثر راستے میں مر گئے۔ (طبری ،ج٦،ص٧٤) چو نکہ ہم نے عباس اور عیاش کا اس کے علا وہ کوئی ذکر کہیں نہیں دیکھا ہے اور اس قرینہ سے کہ انہو ں نے جناب مختار سے وفا کا ثبوت پیش کیا بعید معلوم ہو تا ہے کہ کو ئی دوشخص ہو بلکہ تر جیح اس کو حاصل ہے کہ یہ ایک شخص ہے جس کانام یا عباس ہے یاعیاش۔ یہ جناب مسلم کے بعد زندہ رہے یہا ں تک کہ جناب مختار کے ساتھ خروج کیااوریاتووہا ں قتل ہوئے یا وفات پاگئے ۔
٢۔ یہا ں سے معلوم ہوتا ہے کہ'' دارالر و میین '' دارالامارہ کے پیچھے سے متصل تھا۔چونکہ غیر مسلم ہونے کی وجہ سے وہ لوگ یہا ں مسلمانو ں کی پناہ میں رہتے تھے لہٰذاعبیداللہ اور اس کے افراد ادھر سے ان سے رفت وآمد رکھتے تھے۔افسوس کہ یاران جناب مسلم اس دروازہ کے بند ہونے سے غافل تھے ۔
٣۔ یہ شخص وہی ہے جس نے جناب حجر بن عدی کے خلاف گواہی تحریر کی تھی (طبری ،ج ٥، ص ٢٦٩) اور حجر اوران کے ساتھیو ں کو معاویہ کے پاس لے گیا تھا۔(طبری ،ج٥،ص ٢٧٠) اشراف کوفہ میں یہی وہ پہلا شخص ہے جس سے ابن زیاد نے عہد وپیمان کیا کہ لوگو ں کو دھوکہ دے کر جناب مسلم علیہ السلام سے دورکرے گا۔(طبری،ج٥،ص٣٧٠)
حکم دیا کہ اپنے مذحجی پیرو ئوں کے ہمراہ کوفہ کی گلیوں میں منتشر ہوجائے اور لوگوں کو جھوٹے پروپگنڈہ کے ذریعہ جناب مسلم سے دور کردے۔انھیں جنگ سے ڈرائے اور حاکم کے ظلم و ستم اور قیدو بند سے بر حذر کرائے ۔
اسی طرح محمدبن اشعث کو حکم دیا کہ قبیلہ کندہ اور حضر موت میں سے جو اس کے طرف دار ہیں ان کے ہمراہ پرچم امان لے کر نکلے اور کہے جو اس میں پرچم تلے آجائے گا وہ امان میں ہے۔ اسی طرح قعقاع بن شور ذھلی،(١) شبث بن ربعی تمیمی ، حجار بن ابجر عجلی اور شمر بن ذی الجوش عامری(٢و٣) سے بھی اسی قسم کی باتیں کہیں ۔ شبث بن ربعی کے ہاتھ میں پرچم دے کر کہا : تم ایک بلندی سے نمودار ہوکر اپنے نوکر
____________________
١۔یہ وہی شخص ہے جس نے جناب حجر بن عدی کے خلاف گواہی تحریر کی تھی۔(طبری، ج٥، ص ٢٦٩) اور جناب مسلم علیہ السلام کے مقابلہ پر بھی آیا تھا۔ (طبری ،ج٥، ص ٢٧٠، ٢٨١)
٢۔ طبری، ج٥، ص ٣٦٨،ابو مخنف کا بیان ہے کہ یہ روایت مجھ سے یوسف بن یزید نے عبداللہ بن خازم کے حوالے سے نقل کی ہے ۔
٣۔یہ جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی فوج میں تھا (طبری، ج٥، ص ٦٨)(لیکن اپنی بد اعمالیو ں کے نتیجے میں اس حد تک پہنچا کہ) اس کا نام بھی جناب حجر بن عدی کے خلاف گواہی دینے والو ں میں آتا ہے۔ (طبری، ج٥، ص ٣٧٠) اسی نے ابن زیاد کو امام حسین علیہ السلام کے قتل پر شعلہ ور کیا تھا ۔(طبری، ج٥، ص ٤١٤) یہ کربلامیں موجود تھا وہا ں اس نے ام البنین کے فرزندو ں جناب عباس علیہ السلام کے بھائیو ں کو امان کی دعوت دی تھی اور امام حسین علیہ السلام کو چھوڑنے کی طرف راغب کیا تھا۔ (طبری، ج٥، ص ٤١٥) جب شب عاشور امام حسین علیہ السلام کو ایک رات کی مہلت دینے کے سلسلہ میں پسر سعد نے اس سے مشورہ کیا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔(طبری ،ج٥،ص ٤١٧) یہ پسر سعد کے لشکر میں میسرہ (بائی ں محاذ) کا سردار تھا (طبری، ج٥،ص ٤٦٦)اسی نے امام حسین علیہ السلام کے خطبہ کا جواب دریدہ دھنی اور بد کلامی کے ذریعہ سے دیا تھا تو جناب حبیب بن مظاہر نے اسکی بڑی ملامت کی تھی۔ (طبری ،ج٥، ص ٤٣٦) جناب زہیر بن قین کے خطبہ کا جواب اس نے تیر پھینک کر دیا تھا جس پر جناب زہیر بن قین نے اس کی لعنت وملامت کی تھی ۔(طبری، ج٥، ص ٤٣٦) پسر سعد کے میسرہ سے اس نے امام حسین علیہ السلام کے بائی ں محاذ پر حملہ کیا (طبری ،ج٥، ص ٤٣٦) اور امام علیہ السلام کے خیمہ پر تیر پھینکا اور چلا یا کہ آگ لاؤاور خیمو ں کو رہنے والو ں کے ہمراہ جلادو یہ آواز سن کرمخدرات عصمت با آواز بلند رونے لگی ں اور باہر نکلنا چاہا لیکن امام حسین علیہ السلام نے ڈھارس بندھوائی (طبری ،ج٥، ص ٤٣٨) اسی نے جناب نافع بن ہلال جملی کو قتل کیا۔ (طبری ،ج٥، ص ٤٤٢) جناب امام سجاد علیہ السلام کو بھی قتل کرنا چاہتاتھالیکن لوگو ں نے منع کیا۔ (طبری ،ج٥، ص ٤٥٤) یہ ا ن لوگو ں میں شمار ہوتا ہے جو سرو ں کو لے کر ابن زیاد کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے (طبری ،ج٥،ص ٤٥٦) اور انہیں مقدس سرو ں کو اسیرو ں کے ہمراہ لے کر یزید کے دربار میں حاضر ہواتھا۔(طبری، ج٥،ص ٤٦٠و٤٦٣) اس کے ہمراہ ٢٠ مقدس سر تھے جو گرد غبار میں اٹے تھے۔ (طبری، ج٥، ص ٤٦٨)ابن مطیع نے مختار سے لڑنے کے لئے اسے سالم کے ایک گروہ کے ہمراہ روانہ کیا، (طبری ،ج٦،ص ١٨) اس کے ہمراہ دوہزار سپاہی تھے۔ (طبری ،ج٦، ص ٢٩) یہ ان لوگو ں میں شامل ہوتا ہے جو اشراف کوفہ کے ساتھ مختار سے لڑنے آئے تھے(طبری ،ج٦، ص ٤٤) اور جب ہزیمت کا سامنا ہواتو کوفہ سے بھاگ کھڑاہوا اور ہزیمت کے عالم میں فرارکے وقت ٦٤ھ میں عبدالرحمن بن ابی الکنود کے ہاتھو ں ماراگیا۔ (طبری ،ج٦،ص٥٢، ٥٣)کلمہ ''شمر''عبری زبان کا لفظ ہے جس کی اصل شامر ہے بمعنی سامر ،جیسا کہ آج کل اسحاق شامیر کہاجاتا ہے ۔
سرشت اور فرمانبردارافراد کو انعام و اکرام و احترام وپاداش کے وعدہ سے سرشار کردو اور خاندان رسالت کے پیرو ئوں کو ڈراؤ کہ سنگین کیفر ، قطع حقوق اور محرومیت میں مبتلا ہونگے اور ان کے دلوں میں یہ کہہ کر خوف ڈال دوکہ عبیداللہ کی مدد کے لئے شام سے لشکر آنے ہی والا ہے۔(١)
پرچم امان کے ساتھ اشراف کوفہ
جناب مسلم سے لوگوں کو دور کرنے کے لئے اشراف کوفہ ابن زیاد کے قصرسے پرچم امان کے ہمراہ باہر نکلے۔ ان میں سب سے پہلے کثیر بن شہاب نے بولنا شروع کیا ۔اس نے کہا: اے لوگو!اپنے گھر اور گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ ، خشونت ، بدی اور شر میں جلدی نہ کرو ، اپنی جان کو موت کے منہ میں نہ ڈالو!کیونکہ امیرالمومنین یزید کی فوج شام سے پہنچنے ہی والی ہے۔ جان لو کہ امیر نے عہد کیا ہے کہ اگرآج شام تک تم نے اپنی جنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور اس سے منصرف نہ ہوئے تو وہ تمہاری نسل کو حقوق سے محروم کردیں گے اورتمہارے جنگجوؤں کو اہل شام کی فوج میں تتر بتر کردیں گے۔جان لو کہ حاکم کا فیصلہ یہ ہے کہ بیماروں کے بدلے صحت یاب افرادپکڑے جائیں اور غائب کے بجائے حاضر لوگ قید کئے جائیں گے۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا یہاں تک کہ شورش کرنے والا اس وبال کا مزہ چکھ لے جسے اس نے اپنے ہاتھوں سے شروع کیا تھا ۔
ابن شہاب کے بعد دوسرے اشراف نے بھی اسی قسم کے الفاظ کی تکرار کی۔جب لوگوں نے اپنے بزرگوں سے اس طرح کی باتیں سنیں توانہوں نے جداہونا شروع کردیا ...۔(٢) نوبت یہاں تک پہنچی کہ عورتیں اپنے بچوں ،بھائیوں اور شوہروں کا ہاتھ پکڑکر کہنے لگیں چلویہاں جتنے لوگ ہیں وہی کافی ہیں ۔دوسری طرف مرد اپنے بھائیوں اور بیٹوں کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے : کل'' شام'' سے فوج آرہی ہے ۔ اس جنگ اور شر میں تم کیا کرسکتے ہو۔ یہ کہہ کر لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو لے جانے لگے۔(٣)
____________________
١ ۔ابومخنف نے کہا : مجھ سے ابو جناب کلبی نے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری، ج٥، ص ٣٦٩)
٢۔ابومخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے عبد بن خازم کثیرازدی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ (طبری، ج٥، ص ٣٧٠)
٣۔ ابومخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے مجالد بن سعید نے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری، ج٥، ص ٣٧١)
ادھر ابن زیاد کی بتائی ہو ئی سازشوں پر عمل کر تے ہوئے محمد بن اشعث محل سے با ہر نکلا اور قبیلہ بنی عمارہ کے گھروں کے پاس جا کر کھڑا ہوا ۔''عمارہ ازدی''کو جو اسلحہ لے کر جناب مسلم کی مدد کے لئے نکل کر ان کے مددگاروں سے ملحق ہو نا چاہ رہے تھے گر فتار کر لیااور ابن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ وہاں اس نے اس جواں مرد کو قید کر لیا۔ جناب مسلم کوجیسے ہی اس کی خبر ملی فوراً مسجد سے عبد الر حمن بن شریح شبامی(١) کو اس ملعون(محمد بن اشعث) کی طرف بھیجا ۔ اس خیانت کار نے جیسے ہی حق وحقیقت کے جوانوں کو دیکھاوہاں سے بھاگ کھڑا ہوا.(دوسری طرف قعقاع بن شور ذہلی نے ایک علا قہ سے جسے ''عرار'' کہتے ہیں جناب مسلم اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کردیا)(٢) اور محمد بن اشعث کو پیغام بھیجا کہ میں نے مقام ''عرار '' سے حملہ شروع کر دیا ہے،تم پر یشان نہ ہو لیکن پھر خود عقب نشینی کرلی۔(٣)
ادھر تیسری طرف شبث بن ربعی نے جناب مسلم کے سپاہیوں کے ساتھ جنگ شروع کر دی اور کچھ دیر لڑنے کے بعد اپنے سپاہیوں سے کہنے لگا : شام تک انتظار کرویہ سب کے سب پر اکندہ ہو جائیں گے۔اس پر قعقاع بن شور نے کہا : تم نے تو خود ان لوگوں کا راستہ بند کررکھا ہے ،انہیں چھوڑ دو یہ خود ہی متفرق ہو جائیں گے۔(٤)
جناب مسلم علیہ السلام کی غربت و تنہائی
عباس جدلی کا بیان ہے کہ جب ہم جناب مسلم بن عقیل کے ہمراہ نکلے تھے تو ہماری تعداد ٤ ہزار تھی لیکن ابھی محل تک پہنچنے بھی نہ پا ئے تھے کہ ہم ٣٠٠ کے اند ر سمٹ گئے ۔(٥) اس جدائی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا گو یا ہر شخص فرار کی فکر میں تھا۔ اب رات کا پر دہ دن کی سفیدی پر غالب ہو رہا تھا اور
____________________
١۔ابو مخنف کا بیان ہے : ابو جناب کلبی نے مجھ سے یہ روایت کی ہے۔ (طبری ،ج٥، ص ٣٦٩)
٢۔ اس مطلب کو ہارون بن مسلم نے علی بن صالح سے عیسیٰ بن یزید کے حوالے سے نقل کیا ہے۔(طبری ج٥ ص ٣٨١) چو نکہ یہ مطلب ابو مخنف کی خبر میں نہیں ہے لہٰذا اسے بر یکٹ میں لکھا گیا ہے۔
٣۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ یہ روایت مجھ سے سیلمان بن ابی راشد نے عبد اللہ بن خازم کثیرازدی کے حوالے سے بیان کی ہے ۔(طبری ،ج٥ ،ص٣٧٠)
٤۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے مجا لد بن سعیدنے یہ روایت کی ہے ۔
٥۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ یہ روایت مجھ سے یو نس بن ابو اسحاق نے کی ہے۔(طبری ،ج ٥ ،ص ٣٦٩)
وہاں مسجد میں فقط ٣٠ افراد مو جود تھے ۔مسلم نے انہی ٣٠ لوگوں کے ساتھ نماز اداکی۔ جناب مسلم نے جب یہ حالت دیکھی تو مسجد سے نکل کر کو چہ ء کندہ کا رخ کیا ۔ گلی پار کر تے وقت دیکھا تو فقط ١٠ آدمی آپ کے ساتھ تھے اور جب گلی ختم ہو گئی تو اب مسلم تنہا تھے۔ اب جو مسلم ملتفت ہو ئے تو محسوس کیا کہ ان کے ساتھ کو ئی راستہ بتا نے والا بھی نہیں ہے اور کوئی ایسا بھی نہیں ہے کہ اگر دشمن سامنے آجائے تو اپنی جان پر کھیل کے انھیں بچالے۔ چارو ناچار بے مقصد کو فہ کی گلیوں میں سر گرداں گھو منے لگے۔کچھ سمجھ ہی میں نہیں آرہا تھا کہ کہاں جا ئیں ۔چلتے چلتے آپ قبیلہ کندہ کے بنی'' جبلہ'' کے گھر وں کی طرف نکل گئے اور وہاں آپ کا قدم آکر ایک خاتون کے دروازہ پر رکا جسے ''طو عہ ''کہتے ہیں جو ام ولد تھی۔ یہ اشعث بن قیس(١) کی کنیزتھی جب اس سے اشعث کو بچہ ہوگیا(جس کی وجہ سے وہ ام ولید کہی جانے لگی)
____________________
١۔ ١٠ ھ میں اشعث ٦٠ لوگو ں کے ہمراہ پیغمبر اسلام کی خدمت میں شرفیاب ہو ا اور اسلام قبول کیا ۔ یہ اپنی ما ں کی طرف سے آکل مرار کی طرف منسوب تھا۔چو نکہ وہ ملوک تھے اور اس نے چاہاکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اسی سے منتسب کری ں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے'' نضر بن کنانہ ''سے منتسب کیا تو اس پراس نے کسی تعجب کا اظہار نہیں کیا۔(طبری ،ج٣ ، ص ١٣٧) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بہن(قتیلہ) سے شادی کی لیکن ہمبستری سے قبل ہی آپ کی روح ملک جاودا ں کو کوچ کر گئی اور یہ عورت اپنے بھا ئی اشعث کے ہمراہ مرتد ہو گئی۔(طبری، ج ٣، ص ١٦٨) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اشعث اسلام کی طرف آکر دوبارہ مرتد ہو گیا اور جنگ شروع کردی لیکن ہز یمت کا سامنا کرنا پڑا تو امان مانگ لیا، اس پر مسلمانو ں نے امان دیدی (طبری ،ج٣،ص ٣٣٥۔٣٣٧) پھر اسے دوسرے اسیرو ں اور قیدیو ں کے ہمراہ ابو بکر کے پاس لے جایا گیا تو خلیفہ ء اول نے معاف کر کے اس کی بیٹی ام فروہ سے شادی کی درخواست کردی اور اس سے رشتہ ازدواج میں منسک ہو گئے لیکن مبا شرت نہیں کی۔ بعدہ اشعث پھر مرتد ہو گیا لیکن ابو بکر نے پھر اس کے اسلام کو قبول کر لیا ۔لغز شو ں کو معاف کر دیا اور اس کے گھر والو ں کو اسے لو ٹا دیا۔ (طبری، ج٣،ص ٣٣٩)اپنی وفات کے وقت ابو بکر نے کہا : جس دن اشعث بن قیس قیدی بنا کر لا یا گیا تھا اے کا ش اسی دن میں نے اس کی گردن ماردی ہو تی؛ کیونکہ کو ئی شراور برائی ایسی نہیں ہے جسکی اس نے مددنہ کی ہو۔(طبری ،ج٣،ص ٤٣) جنگ قادسیہ میں اہل یمن کے ١٧٠٠ افراد پر مشتمل لشکر کے ساتھ اشعث ملحق ہو گیا۔(طبری ،ج٣،ص ٣٨٧) سعد ابن ابی وقاص نے اسے ان لوگو ں میں پایا جو جسم و جسمانیت کے اعتبار سے بھی قابل دید تھے ، صاحب رعب و وہشت اور صاحب نظر بھی تھے لہذا سعد نے ان لوگو ں کو اہل فارس کے بادشاہ کو دعوت دینے کے لئے بھیجا۔ (طبری ،ج٣،ص ٤٩٦) یہ جنگ میں اہل فارس کے خلاف اس نعرہ کے ذریعہ اپنی قوم کا دل بڑھا رہا تھا کہ عرب نمونہ ہیں ، فارس کی زبان میں خدا نازل نہیں ہوا ہے۔ (طبری، ج٣،ص ٣٩و ٥٦٠) قبیلہ کندہ کے ٧٠٠ جوانو ں کے ہمراہ اس نے حملہ کیا اور اہل فارس کے سر براہ کو قتل کر ڈالا ۔(طبری ،ج٣، ص ٥٦٣) وہا ں سے جو غنائم
اور انفال خالد بن ولید کو ملے تھے اس پر اس کو لا لچ آگئی اور اس نے اسی میں سے کچھ مانگ لیا تو ١٠ ہزار کی اجازت اسے دیدی۔ (طبری، ج٤،ص ٦٧) واقعۂ نہا وند میں بھی یہ موجود تھا۔ (طبری ،ج٤،ص١٢٩) ٣٠ ھ میں عراق کے ''طیرناباد ''کے علا قہ میں جو انفال کے اموال تھے اسے اس نے'' حضرموت''کے اپنے اموال کے بدلے میں عثمان سے خریدلیا۔ (طبری ،ج٤،ص ٢٨٠) ٣٤ھ میں سعید بن عاص نے کوفہ سے اسے آذربایجان کا والی بنا کر بھیجا۔ (طبری، ج٤،ص٥٦٩) پھر آذربایجان کی حکومت کے زمانے میں ہی عثمان اس دنیا سے چل بسے (طبری ،ج٤،ص ٤٢٢) اور حضرت علی علیہ السلام خلیفہ ہوئے تو آپ نے اسے اپنی بیعت کی طرف بلایا اور اپنی نصرت ومدد کے لئے اس جگہ کو چھوڑ دینے کے لئے کہا تو اس نے بیعت کرلی اور وہا ں سے چلا آیا۔ (طبری، ج٤،ص ٥٦١) جنگ صفین میں معاویہ کے لشکر سے پانی لے کر آنے کی ذمہ داری بھی اسے سونپی گئی تھی۔(طبری ،ج٤،ص٥٦١)یہی وہ ہے جس نے حضرت علی علیہ السلام کی زبردست مخالفت کی تو حضرت تحکیم پر راضی ہو گئے لیکن اس نے حکمیت کے لئے ابو موسی اشعری پرزور ڈالا اور جن لوگو ں سے حضرت علی علیہ السلام راضی تھے جیسے ابن عباس اور مالک اشتر اس سے اس نے انکار کرتے ہوئے اشعری کی حکمیت پر اصرار کر تا رہا اورجنگ سے انکار کر تا رہا ۔(طبری ،ج٤، ص٥١) یہ وہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے حکمیت کے کاغذ پر سب سے پہلے گواہی کے لئے دستخط کئے اور مالک اشتر کوبھی اس کے لئے بلا یا تو انھو ں نے انکار کیا ؛اس پر اس نے ان کی تو ہین کی ، ان کو گا لیا ں دی ں اور مکتوب پڑھ کرلوگو ں کو سنانے لگا۔ (طبری، ج٥،ص٥٥) نہروان کے بعد علی علیہ السلام سے ہٹ کر معاویہ کی طرف پلٹ گیا اور کوفہ کے حجة الاستعداد میں پلٹنے پر اصرار کیا۔ (طبری ،ج٥،ص ٨٩) عثمان نے اسے لالچ دلائی تھی کہ آذربایجان کا خراج ایک لاکھ ہے۔ (طبری ،ج٥،ص ١٣٠) کو فہ میں اس نے ایک مسجد بھی بنوائی تھی۔
تواشعث نے اسے آزاد کر دیا ۔ اس نے اسید حضرمی(١) سے شادی کرلی ۔اسی شادی کے نتیجہ میں بلال نامی لڑکا پیدا ہواتھاجو ان دنوں دوسرے لوگوں کے ہمراہ گھر سے باہر تھا اور ابھی تک لوٹا نہیں تھا۔ اس کی ماں دروازے پر کھڑی اس کا انتظار کررہی تھی۔جناب مسلم نے اس خاتون کو دیکھتے ہی اسے سلام کیا تو اس نے فوراًجواب دیا ۔
اس پر جناب مسلم نے اس سے کہا :''یاأمة اللّٰه اسقینی مائ' 'اے کنیز خدا !میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلادے۔ وہ خاتون اندر گئی، ظرف لے کر لوٹی اور جناب مسلم کو پانی دیا پانی پی کر جناب مسلم وہیں بیٹھ گئے۔ وہ جب برتن رکھ کر آئی تو دیکھا مسلم وہیں بیٹھے ہیں تو اس نے کہا : یاعبداللّٰہ ألم تشرب؟اے بندہ خدا کیا تو نے پانی نہیں پیا ؟
____________________
١۔ یہ اسید بن مالک حضرمی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کربلامیں اسی نے جناب مسلم کے فرزند عبداللہ کو شہید کیا اور اس کا بیٹاوہ ہے جس نے حاکم کو یہ اطلاع دی کہ مسلم میرے گھر میں ہیں اوریہی خبر رسانی جناب مسلم کی شہادت پر تمام ہوئی ۔
جناب مسلم نے کہا:کیوں نہیں ،طوعہ نے کہا:تو اب اپنے گھر والوں کے پاس چلے جااس پر جناب مسلم خاموش ہوگئے اور وہ نیک خاتون اندر چلی گئی۔ کچھ دیر کے بعد جب پھر لوٹ کر آئی تو دیکھا جناب مسلم وہیں بیٹھے ہیں ۔ اس نے اپنے جملے پھر دھرائے ۔اس پر وہ سفیر حسینی پھر خاموش رہا تو اس عورت نے حضرت مسلم سے کہا : سبحان اللہ ! اے بندہ خدا میرے سلسلہ میں اللہ سے خوف کھا ۔جا اپنے گھر والوں کی طرف چلاجااللہ تجھے عافیت میں رکھے ؛تیرے لئے میرے گھر کے دروازے پر بیٹھنا مناسب نہیں ہے اور میں تیرے اس بیٹھنے کو تیرے لئے حلال نہیں کروں گی، اتنا سنناتھا کہ جناب مسلم کھڑے ہوگئے اور فرمایا :
'' یا أمةاللّٰہ ، مالی فی المصر منزل ولا عشیرہ فھل لک اِلی أجر و معروف ولعلی مکافِئُکِ بہ بعد الیوم؟''اے کنیز خدا ! کہاں جاؤں ؟ اس شہر میں نہ تو میرا کوئی گھر ہے نہ ہی میرے گھر والے ہیں ، کیا تم ایک اچھا کام انجام دینا چاہتی ہو جس کا اجر اللہ سے پاؤ اور شاید آج کے بعد میں بھی کچھ اس کا بدلہ دے سکوں ؟
طوعہ : اے بندہ خدا ! تو کون ہے ؟ اور وہ نیک کام کیا ہے ؟
مسلم : میں مسلم بن عقیل ہوں ۔اس قوم نے مجھے جھٹلایا اور دھوکہ دیا ۔
طوعہ : تم سچ مچ مسلم ہو!
مسلم : ہاں !میں مسلم ہوں ۔
طوعہ : تو بس اب اندر آجاؤ !یہ کہہ کر وہ نیک سرشت خاتون آپ کو اندرون خانہ ایک ایسے کمرے میں لے گئی جس میں وہ خود نہیں رہا کرتی تھی۔ اس کے بعد اس کمرے میں بستر بچھایااور جناب مسلم کو اس پر بٹھا کر رات کا کھانا پیش کیا لیکن آپ نے کچھ نہ کھایا ۔
ادھر طوعہ اپنے بیٹے کے انتظار میں لحظہ شماری کررہی تھی کہ تھوڑی ہی دیر میں اس کا بیٹا آگیا ۔ اس نے غور کیا کہ کمرے میں ماں کا آناجانا بہت زیادہ ہے لہذا اس نے کہا : ماں کمرے میں تمہارا آناجانا مجھے شک میں ڈال رہا ہے۔کیا اس میں کوئی بات ہے ؟ طوعہ نے کہا بیٹا اس بات کو رہنے دو اورصرف نظر کرو۔ بیٹے نے ماں سے کہا : خدا کی قسم تم کو مجھے بتا نا ہی ہوگا ۔
طوعہ : ہاں بات تو ہے لیکن تم اس کے بارے میں کچھ نہ پوچھو ۔اس پر بیٹے نے بہت اصرار کیا تو ماں نے کہا : اے بیٹا ! میں بتائے تو دیتی ہو ں لیکن دیکھو کسی سے بھی اسے نہ بتانا ۔اسکے بعد طوعہ نے بیٹے سے قسم کھلوائی تو اس نے قسم کھالی کہ کسی سے نہیں بتائے گا اس کے بعد ماں نے اسے سارے ماجرے سے آگاہ کردیا۔ یہ سن کر وہ لیٹ گیا اور خاموش ہوگیا ۔(١)
ابن زیاد کا موقف
جب رات کااچھا خاصہ وقت گذر گیا اور کافی دیر انتظار کرنے کے بعد ابن زیاد نے دیکھا کہ مسلم بن عقیل کے مدد کرنے والوں اور نصرت کرنے والوں کی اس طرح کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے جیسے اس سے قبل سنائی دے رہی تھی تو اس نے اپنے گرگوں سے کہا:ذرادیکھو!ا ن میں سے کوئی تمہیں دکھائی دے رہاہے ؟ وہ لوگ گئے لیکن کوئی دکھائی نہیں دیا تو ابن زیاد نے کہا: ذرا غور سے دیکھو !شاید وہ لوگ کسی سایہ میں چھپے کمین میں بیٹھے ہوں ،لہٰذا ان لوگوں نے مسجد کے اندر باہراور اطراف میں دیکھا، اس کے بعد مشعلیں روشن کرکے دیکھنے لگے کہ کہیں کوئی چھپاہو اتو نہیں ہے۔ کچھ دیر کے لئے مشعلوں کو روشن رکھا پھر بجھادیا، اس کے بعد قندیلوں کو رسےّوں میں محکم باندھ دیا اور اس میں آگ روشن کرکے اوپر سے
____________________
١۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجا لد بن سعید نے مجھ سے اس روایت کو بیان کی ہے۔(طبری، ج٥،ص٣٧١، ارشاد ،ص ٢١٢، خوارزمی ،ص ٢٠٨) طبری نے عماردہنی کے حوالے سے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا :جب مسلم نے یہ دیکھا کہ وہ سڑک پر تنہا رہ گئے ہیں تو ایک گھر کے دروازہ پر آکر بیٹھ گئے۔ وہا ں سے ایک عورت نکلی تو مسلم نے اس سے کہا : ''اسقینی'' مجھ کو پانی پلا ؤ تو اس خاتون نے پا نی لا کر پلا یا پھر وہ اندر چلی گئی اور مسلم وہیں مشیت الہٰی کے سہارے بیٹھے رہے پھر وہ نکلی تو دیکھا مسلم وہیں بیٹھے ہیں تو اس نے کہا : ائے بند ہ خدا ! تیر ایہا ں بیٹھنا شک وشبہ سے خالی نہیں ہے، تو اٹھ جا ! اس پر جناب مسلم نے کہا : میں مسلم بن عقیل ہو ں کیا تو مجھ کو پناہ دے سکتی ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا: ہا ں !اس خاتون کا بیٹامحمد بن اشعث کے موالی میں شمار ہوتا تھا جب بیٹے کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے جاکر محمد کو خبر دے دی اور محمد نے جا کر عبیداللہ کو خبر پہنچادی توعبیداللہ نے وہا ں اپنی پولس کے سربراہ عمروبن حریث مخزومی کو بھیجااوراس کے ہمراہ عبدالرحمن بن محمدبن ا شعث بھی تھا۔مسلم کو خبر بھی نہ ہوئی اور سارا گھر گھیر لیاگیا ۔(طبری ،ج٥،ص ٣٥٠) اس کے پیچھے اس کی فوج کا سربراہ حصین بن تمیم بھی آگیا۔
نیچے کی طرف رکھ دیا اور ہر گو شہ و کنارکو قندیلوں سے روشن کردیا یہاں تک کہ منبر کے اطراف کو بھی روشن کردیا ۔جب ہر طرح سے انھیں یقین ہوگیا کہ کوئی نہیں ہے تو ابن زیاد کو خبر دی کہ کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ ابن زیاد نے فوراً اپنے کاتب عمر وبن نافع(١) کو حکم دیا کہ فوراً جا کر یہ اعلان کرے کہ حاکم ہر اس شخص کی حرمت سے دست بردار ہے جو نماز عشاء مسجد کے علاوہ کہیں اور پڑھے ،خواہ وہ پولس ہو یا عرفاء ،صاحبان شرف ہوں یا جنگجو۔ اس خطر ناک اور تہدید آمیز اعلان کا اثر یہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے مسجد لوگوں سے چھلکنے لگی۔ ایسے موقع پر حصین بن تمیم تمیمی(٢) جو اس کے نگہبانوں کا سردار تھا اس نے ابن زیاد سے کہا : اگر آپ چاہیں تو خود نماز پڑھائیں یا کسی دوسرے کو بھیج دیں جو نماز پڑھادے کیونکہ مجھے خوف ہے کہ آپ کے بعض دشمن آپ پر حملہ نہ کردیں ! اس پر ابن زیاد نے کہا : میرے محافظین و نگہبانوں سے کہوکہ جس طرح وہ میری حفاظت کے لئے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اس طرح نماز کی پہلی صف میں کھڑے ہوں اور تم ان سب پر نگاہ رکھو۔ اس کے بعد حکم دیا کہ باب سدّہ جو مسجد میں کھلتا تھا اور اب تک بند تھا اسے کھولا جائے پھر ابن زیاد اپنے گرگوں کے ہمراہ وہاں سے نکلا اور لوگوں کونمازپڑھائی۔
____________________
١۔ یہ وہی کاتب ہے جس نے یزید کو جناب مسلم کے قتل کے لئے خط لکھا تھا۔ اس نے خط لکھنے میں دیر لگا ئی تو ابن زیاد کو ناگوار لگا۔(طبری ،ج٥،ص ٣٨)
٢۔ابن زیاد نے اسے قادسیہ کی طرف اس فوج کو منظم کرنے کے لئے بھیجا تھا جو'' خفان''،'' قطقطانہ'' اور''لعلع''کے درمیا ن تھی۔ (طبری ،ج٥،ص ٣٩٤) یہ وہی شخص ہے جس نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایلچی جناب قیس بن مسہر کو ابن زیاد کے پاس بھیجا اور اس نے انہیں قتل کردیا ۔(طبری ،ج٥، ص ٣٩٥) اسی طرح عبداللہ بن بقطر کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا ۔(طبری ،ج٥،ص ٣٩٨) یہی شخص حر کے ساتھ بنی تمیم کے ایک ہزار لوگو ں کے ہمراہ قادسیہ سے آگے آگے تھا تاکہ امام حسین علیہ السلام کو گھیرے یہ کربلا میں پولس کا سربراہ تھا اور جناب حر کو قتل کرنے کے لئے اپنی فوج کو شعلہ ور کررہا تھا۔ (طبری، ج ٥ ،ص ٤٣٤)پسر سعد نے اس کے ہمراہ ٥٠٠ پانچ سو تیر انداز بھیجے تھے اوراس نے ان لوگو ں کو امام حسین علیہ السلام کے اصحاب پر تیرو ں کی بارش کرنے کے لئے بھیجا۔ ان تیر اندازو ں نے نزدیک سے تیرو ں کا مینہ برسادیا اور ان کے گھوڑو ں کو پئے کردیا۔(طبری ،ج٥ ،ص ٤٣٧)جب امام حسین علیہ السلام کے اصحاب ہنگام ظہر نماز کے لئے آمادہ ہورہے تھے تو اس نے حملہ کردیا ۔جناب حبیب بن مظاہر اس کے سامنے آئے اور اس کے گھوڑے پر تلوار سے حملہ کیا تو وہ اچھل کر زمین پر گر گیا۔ اس پر بدیل بن صریم عقفانی نے جناب حبیب کے سر پر اپنی تلوار سے ضرب لگائی اور بنی تمیم کے دوسرے سپاہی نے آپ پر نیزہ سے حملہ کیا پھر حصین بن تمیم پلٹ کر آیا اوراس نے تلوار سے آپ کے سر پر حملہ کیا اس کے اثر سے آپ زمین پر گر پڑے، وہا ں ایک تمیمی آیا اور اس نے آپ کا سر کاٹ کر حصین کے ہاتھ میں دیا ۔ اس نے سر کو اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکا لیا اور لشکر پر حملہ کیا پھر قاتل کو لوٹادیا (طبری ،ج ٥،ص ٤٤٠) آخر کار جب امام حسین نہر فرات کے قریب آرہے تھے تو اس نے تیر چلایا جو آپ کے منہ پر لگا جس پر آپ نے اس کوبد دعا کی۔(طبری ،ج٥،ص ٤٤٩)
مسلم کی تنہائی کے بعد ابن زیاد کا خطبہ
نماز کے بعد ابن زیاد منبر پر گیا اور حمد و ثناے الہٰی بجالانے کے بعد بولا : امابعدجا ہل اور بیو قوف ابن عقیل کو تم لوگو ں نے دیکھا کہ اختلاف اور جدائی لے کر یہاں آیا۔میں ہر اس شخص کی حرمت سے بری الذ مہ ہوں ۔جس کے گھر میں ہم نے مسلم کو پا لیا اور جو بھی مسلم کو لے کرآئے گا اس کا خون بہا اسے دیدیا جا ئے گا ! اے بندگا ن خدا تقویٰ اختیار کرو ، اپنی طاعت وبیعت پر برقرار رہواور اپنی حرمت شکنی کے راستے نہ کھولو ۔
اس کے بعدسپاہیوں کے سربراہ حصین بن تمیم کی طرف رخ کیا اور کہا : اے حصین بن تمیم ! ہشیار ہو جا اگر شہر کو فہ کا کو ئی دروازہ بھی کھلا یا یہ مرد اس شہر سے نکل گیا اور تو اسے نہ پکڑ سکا تو یہ دن تیری ماں کے لئے عزاکا دن ہو گا ! ہم نے تجھے کو فیوں کے سارے گھر کو سونپ دیا ہے، تو آزاد ہے، جس گھر میں چاہے جا کر تلا ش کر لہٰذا تو فوراً شہر کوفہ کے دروازوں پر نگہبانوں کو لگا دے اور کل صبح سے دقت کے ساتھ گھروں کی تلا شی لے اورٹوہ میں لگ جا یہا ں تک کہ اس مرد کو میرے سامنے پیش کرے۔
ابن زیاد مسلم کی تلا ش میں
اس آتشیں تقریر کے بعد ابن زیاد منبر سے نیچے آگیا اور محل کے اندر چلا گیا اس کے بعدعمرو بن حریث مخزومی(١) کے ہا تھ میں ایک پر چم دے کر اسے اپنے اطرافیوں اور کار کنوں کا سر براہ بنا دیا(٢) اور اپنی
____________________
١۔ یہ وہی شخص ہے جس نے نہاوند کی فتح کے بعد مسلمانو ں کے غنا ئم جولو لو و مرجان اور یاقوت و زمّردسے بڑے بڑے ٹوکرو ں پر مشتمل تھے غنائم کے منشی سائب بن اقرع ثقفی کو دھوکہ دے کر دو ہزار درہم میں خرید لیا۔ اس کے بعد اسے لیکر سر زمین کفر میں پہنچا اور اسے چالیس لاکھ میں بیچا۔ اس طرح ٢١ھ میں یہ عرب کے سرمایہ دارو ں میں شمار ہونے لگا ، یہ کوفہ میں سعید بن عاص کا جانشین تھااور ٣٤ھ میں یہ لوگو ں کو عثمان کے سلسلہ میں تحرک سے روکتا تھا۔(طبری، ج٤ ،ص ٣٣٢) ٥١ ھمیں یہ کوفہ میں زیاد بن سمیہ کاجانشین تھا ۔ اس نے جناب حجربن عدی اور ان کے ساتھیو ں کے خلاف گواہی دی تو ان کے ساتھیو ں نے ان پر پتھراو کردیا۔(طبری، ج٥، ص ٢٥٦ ، ٢٦٨) یہ ایک مدت اہل مدینہ کا سربراہ تھا۔ ٦٤ھمیں یہ کوفہ میں ابن زیاد کا جانشین تھا ۔جب یزید ہلاک ہوگیا اور ابن زیاد نے لوگو ں کو اپنی بیعت کی طرف بلایا تواس نے ابن زیاد کی پیروی کی اور لوگو ں کو ابن زیاد کی طرف دعوت دینے لگا۔اس وقت کوفیو ں نے اس پر پتھراؤ
کردیا،(طبری، ج٥ ،ص ٥٢٤) اس کو محل سے نکال دیا(طبری ،ج٥،ص ٥٦٠) اور اسے معزول کردیا۔ ٦٦ھ میں یہ مختار کے انقلاب میں شر یک ہو گیا۔ (طبری ،ج ٥، ص ٣٠) کوفہ میں اس کا ایک حمام بھی تھا۔(طبری، ج٦، ص ٤٨) عبد الملک نے اسے ٧١ھ میں اپنے مقر بین میں شامل کرلیا۔(طبری ،ج٦، ٣٧٦) اس نے مسلم بن عقیل کے لئے پانی لانے سے انکار کر دیااور ابن زیاد کے سامنے جناب زینب کی سفارش نہیں کی۔ (طبری، ج٥،ص ٤٥٧) مگر یہ قریش کی غیرت تھی جس نے ایسا کر نے پر مجبور کیا ۔٨٥ھمیں اسے موت آگئی۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت ''ذیل المذیل'' ص ٥٢٧، طبع سویڈن کے مطابق اس کی عمر ١٢سال تھی۔
نیا بت میں اسے حکم دیا کہ مسجد میں بیٹھ کر لوگوں کے امور کو حل وفصل کرے۔
عبیدا للہ کے خلاف جناب مسلم کے قیام کی خبر پورے کو فہ میں پھیل چکی تھی۔ جناب مختار کوبھی جو کو فہ کے نزدیک ایک گاؤں میں زندگی بسر کر رہے تھے جسے '' لقفا'' کہتے ہیں اور آپ جناب مسلم کے ہا تھوں پر بیعت کر نے کے بعد اس گاؤں میں لوگوں سے جناب مسلم کے لئے بیعت لے رہے تھے،انہیں نصیحتیں کر رہے تھے اور لوگوں کو آپ کی فر ما نبرداری کی دعوت دے رہے تھے ،جیسے جناب مسلم کی غر بت و تنہا ئی کی خبر ملی اپنے دوستوں ، غلاموں اور ہم فکروں کے ہمراہ ان کی مدد کے لئے روانہ ہوگئے۔ غروب آفتاب کا وقت تھا کہ مختا ر مسجد کو فہ کے باب الفیل کے پاس آکر رکے ۔اپنے راستے میں عمرو بن حریث کے پاس وہ پر چم امان دیکھا جسے عبید اللہ نے جناب مسلم کے ساتھیوں کو دھوکہ دینے کے لئے اس کے ہا تھوں سونپا تھا ۔
جب مختار باب الفیل کے پاس تھے کہ وہاں سے ہا نی بن ابی حیہ وداعی کا گذرہوا۔(١) اس نے مختار سے کہا : تم یہاں کس لئے کھڑے ہو؟ ! نہ تو لوگوں کے ساتھ ہو نہ ہی اپنے راستہ پر ہو ؟ اس پر مختار نے کہا : تم لوگوں کی عظیم غلطی اور خطا پر میرے افکار متز لزل ہیں ۔
ہا نی بن ابی حیہ نے کہا : میں سمجھتا ہو ں کہ خود کو قتل کر وانا چاہتے ہو ۔یہ کہہ کر وہ وہاں سے آگے بڑھ کر عمروبن حریث کے پاس گیا اور اسے اس واقعہ سے خبر دار کردیا ۔(٢)
____________________
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے مجالد بن سعید نے یہ روایت کی ہے۔(طبری ،ج ٥، ص٣٧١ ، ٣٧٣)
١۔اس کا شمار انہیں لوگو ں میں ہوتا ہے جنھو ں نے جناب حجر بن عدی اور ان کے ساتھیو ں کے خلاف گواہی دی تھی(طبری ،ج٥،ص ٢٧٠) نیز یہ ان لوگو ں میں سے ایک ہے جو جناب مسلم اور جناب ہانی کے سر کو لے کر یزید کے پاس گئے تھے۔ (طبری ،ج٥، ص ٣٨) ٦٤ ھ میں یہ شخص ابن زبیر کے عہد حکومت میں مکہ میں مختار سے ملا اور اسے مختار سے معلوم ہوا کہ وہ کوفہ پلٹنے والے ہیں اور وہا ں سے حملہ کرنے والے ہیں تو اس نے مختار کو گمراہ کن فتنے سے ڈرایا۔(طبری، ج ٥، ص ٥٧٨) ٢۔طبری، ج٥ ص، ٥٦٩، ابو مخنف نے نضر بن صالح سے نقل کیا ہے۔
مختار کا نظریہ
عبد الرحمن بن ا بی عمیر ثقفی(١) کا بیان ہے کہ میں عمرو بن حریث کے پاس بیٹھا تھا کہ ہا نی بن ابی حیہ مختار کی سنانی لیکر پہنچا ۔ابن حریث نے مجھ سے کہا : اٹھو اور اپنے چچا سے کہو کہ مسلم بن عقیل کو نہیں معلوم ہے کہ تم کہاں ہو اور اپنی حرمت شکنی کے لئے راستہ نہ کھو لو۔ میں اٹھا کہ انہیں جا کر لاؤں اس پر زائدہ بن قدامہ بن مسعود(٢) اٹھا اور اس نے کہا کہ وہ مختار کو لا ئے گا لیکن اس شرط پر کہ وہ امان میں ہوں ۔ عمروبن حریث نے کہا :
میری جانب سے وہ امن میں ہیں اور اگر بات امیر عبیداللہ بن زیاد تک پہنچی تو میں اس کے سامنے کھڑے ہو کر مختار کے حق میں گواہی دوں گا اور بہتر ین طریقہ سے سفارش کروں گا ۔
اس پر زائدہ بن قدامہ نے کہا : ایسی صورت میں انشا ء اللہ خیر کے علا وہ کچھ بھی نہیں ہے ۔
عبد الر حمن کا بیان ہے کہ میں نکلا اورمیرے ہمراہ زائدہ بھی مختار کی طرف نکلا ۔ہم دونوں نے مختار کو خبر دی اور انہیں قسم دی کہ اپنے لئے مشکل کھڑی نہ کریں اور حرمت شکنی کا راستہ نہ کھو لیں ۔اس پر وہ ابن حریث کے پاس آئے، سلام کیا اور اس کے پر چم تلے رات بھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔(٣)
____________________
١۔٦٧ھ میں یہ مختار کے قیام میں شریک تھے۔ (طبری، ج٦، ص ٩٨) ظاہر یہ ہے کہ یہ عبد الرحمن بن عبداللہ بن عثمان ثقفی ہے جو معاویہ کی بہن ام حکم کا بیٹا ہے، جسے معاویہ نے ٥٨ھ میں کوفہ کا عامل بنا یا تھا ۔یہ عہدہ معاویہ نے ضحاک بن قیس کے بعداسے دیا تھا۔ اس کی پولس کا سر براہ زائدہ بن قدامہ ثقفی تھا(طبری ،ج٥، ص ٣١٠)اور اس سے پہلے ٥١ھ میں یہ موصل میں معاویہ کا عامل تھا ۔اسی نے یہ گمان کرتے ہوئے کہ عثمان کے قتل کاقصاص لے رہا ہے جناب عمروبن حمق خزاعی کو مرض کے عالم میں قتل کر دیاتھا۔(طبری، ج٥، ص ٢٦٥)اس کی بری سیرت کی وجہ سے اہل کو فہ نے اس کو مطرود کر دیا تو یہ اپنے مامو ں معاویہ سے ملحق ہو گیا۔ اس نے اس کو مصر کا والی بنا دیا۔وہا ں سے بھی اس کو نکال بھگایاگیاتو وہ معاویہ کے پاس لوٹ گیا (ج٥، ص ٣١٢) اور اگر اس کی یزید سے رشتہ داری نہ ہوتی تو ابن حریث اس کو کوئی فائدہ نہ پہونچاتا ۔
٢۔مقدمہ میں اس کی پوری تفصیل گذرچکی ہے، رجوع کری ں ۔
٣۔ ابو مخنف کا بیان ہے: نضر بن صالح نے عبد الرحمن بن ابی عمیر ثقفی کے حوالے سے مجھے یہ خبردی ہے۔(طبری ،ج٥، ص ٥٧٠)
ابو جناب کلبی کا بیان ہے کہ کثیر بن شہاب حارثی کی ملاقات ایک جوان سے ہوئی جو اسلحو ں سے لیس تھا؛ جسے عبد الاعلی بن یزید کلبی کہتے ہیں ۔ابن شہاب نے اسے گر فتار کرکے ابن زیاد کے پاس پہنچا دیا اور اس جواں مرد کی ساری داستان کہہ سنائی تو کلبی نے ابن زیاد سے کہا : میں نے تمہاری ہی طرف آنے کا ارادہ کیاتھالیکن ابن زیاد نے اس کی بات نہ مانی اور کہا کہ یہ تم نے اپنا ارادہ بتایا ہے ؛یہ کہنے کے بعداس نے اسے قید کرنے کا حکم صادر کردیا اور لوگوں نے اسے قید کردیا۔(١)
دوسری صبح
دوسرے دن کا سورج افق پر طلوع ہوا اور اپنے ساتھ داستانوں کا لشکر لے کر آیا ۔صبح ہوتے ہی ابن زیاد اپنے دربار میں آکر بیٹھا اور لوگوں کو آنے کی اجازت دی تو لوگ دربار میں داخل ہو نے لگے۔ انہیں داخل ہونے والوں میں محمد بن اشعث بھی تھا۔ابن زیاد بولا : آفرین اور مرحبا! اس شخص پر جواپنے امیر سے نہ تو خیانت کرتا ہے اور نہ ہی مورد تہمت واقع ہوتا ہے ۔یہ کہہ کر اسے اپنے پہلو میں جگہ دی ۔
ادھر دوسرے دن صبح نیک شرست جناب مسلم کو پناہ دینے والی ضعیفہ کا لڑکا بلال بن اُسید عبدالر حمن بن محمد بن اشعث کے پاس آیا اور ساری روداد سنادی کہ مسلم بن عقیل اس کے گھر میں اس کی ماں کی پناہ میں ہیں ۔ عبدالرحمن وہاں سے فوراً اپنے باپ کے پاس آیا جوابن زیاد کے پاس موجود تھا اور آہستہ آہستہ سب کچھ سنا دیا۔ اس سر گوشی کو جب ابن زیاد نے دیکھا تو اس نے کہا : یہ تم سے کیا کہہ رہا تھا؟ محمد بن اشعث بولا : اس نے مجھ کو ابھی ابھی خبر دی ہے کہ مسلم ابن عقیل ہمارے ہی قبیلہ کے ایک گھر میں پناہ لئے ہوئے ہیں ۔ابن زیاد نے اپنی چھڑی کی نوک اس کے پہلو میں چبھائی اور بولا : اٹھو اور ابھی اسے لے کر یہاں آؤ!(٢)
____________________
١۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے ابوجناب کلبی نے یہ روایت بیان کی ہے۔ (طبری، ج٥، ص ٣٦٩)
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ یہ روایت مجالد بن سعید نے مجھ سے بیان کی ہے۔(طبری، ج٥، ص٣٧١، الاشاد، ص ٢١٣، تذکرةالخواص،ص ٢٠٨)
محمد بن اشعث جناب مسلم کے مقابلے میں
ابن زیاد نے عمروبن حریث کے پاس ایک آدمی کو بھیجا جو اس وقت مسجد میں اس کا جانشین تھا کہ فوراً قبیلہ قیس کے ساٹھ یا ستر آدمیوں کو ابن اشعث کے ساتھ روانہ کرے ۔ابن زیاد کو یہ ناپسند تھا کہ ابن اشعث کے قبیلہ کے لوگ اس کے ہمراہ جائیں(١) کیونکہ اسے معلوم تھا کہ تمام قبیلوں کو یہ ناپسند ہے کہ وہ مسلم ابن عقیل جیسی شخصیت کے مد مقابل آئیں ۔ عمر و بن حریث نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے فوراًعمرو بن عبیداللہ بن عباس سلمی کی سربراہی میں قبیلہ قیس کے ساٹھ یاستر آدمیوں کوابن اشعث کے ہمراہ روانہ کیا۔ ان سب نے اس گھرکو محاصرہ میں لے لیا جس میں جناب مسلم موجود تھے ۔
جناب مسلم کا ابن اشعث سے جہاد
جب گھوڑوں کی ٹاپوں کی صدا ور سپاہیوں کی آواز جناب مسلم کے کانوں میں پہنچی توآپ سمجھ گئے کہ لشکر آ گیا ہے لہٰذا نیام سے شمشیر کو باہر نکا لا اور فوراً مقابلہ کے لئے باہر آگئے۔ ان لوگوں نے گھر پرحملہ کر دیا لیکن جناب مسلم نے اس گھر کا دفاع کرتے ہوئے ان پر ایسا زبر دست حملہ کیا کہ وہ تاب نہ لا کر پیچھے ہٹ گئے۔ جب وہ پھر آگے بڑھے تو جناب مسلم نے پھر ویسا ہی حملہ کیا۔ اسی اثنا میں بکیر بن حمران احمری شامی نے آپ کے رخسار پر ضرب لگائی جس سے آپ کے اوپر والے ہونٹ کٹ گئے اور تلوار نچلے ہونٹ کو زخمی کر گئی جس سے آپ کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ ادھر جناب مسلم نے بھی مرگبار تلوار اس کے سر پر چلائی اور ایک دوسری تلوار اس کے شانے کے نیچے ماری کہ قریب تھا کہ اس کے شکم میں چلی جائے۔
____________________
١۔لیکن خود ابن اشعث کو بھیجنے کا سبب شاید یہ ہو کہ اس کے جانے کی وجہ سے مسلم خود اسی کے خاندان کی کنیز(طوعہ جس کا بیٹا بلال ہے) کے گھر سے نکلی ں گے۔یہا ں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن زیاد کس طرح عشائر اور بادیہ نشین لوگو ں کے امور سے آگاہ تھا اور کسی طرح ان سے اپنے مقاصد کو حل کرتا تھا ۔
آگ اور پتھر کی بارش
جب ان لوگوں نے یہ دیکھا کہ مسلم کی حالت یہ ہے توگھروں کی چھتوں سے پتھر پھینکنا شروع کردیا اور اس یکّہ و تنہا سفیر حسینی پرآگ کے شعلہ برسا نے لگے ۔جناب مسلم نے جب یہ حالت دیکھی تو تلوار کھینچ کر مقابلے میں آگئے اور ان سے نبرد آزما ہوگئے۔ اسی وقت محمد بن اشعث آیا اور کہنے لگا : اے جوان ! تیرے لئے امان ہے لہٰذا تو خود کو قتل کرنے کا سامان فراہم نہ کر!جناب مسلم اپنے جہاد کو جاری رکھتے ہوئے رزمیہ اشعار پڑھ رہے تھے۔
اقسمت لااُقتل الاحرّا
وان رایت الموت شیئاًنکرا
میں نے قسم کھائی ہے کہ میں آزادی کے ساتھ قتل کیا جاؤں گا ۔ اگر چہ موت کو میں بری چیز سمجھتا ہوں ۔
کل امریء یوماً ملاق شرا
و یخلط البارد سخناًمرّاً
ہر انسان ایک دن شر میں گرفتار ہوتا ہے اور زندگی کی سختی و گرمی آرام و آسائش سے آمیختہ ہے ۔
ردّ شعاع النفس فاستقر (١)
أخاف أن أکذب أوأ غرّا
خوف و ہراس کو اپنے سے دور کرو تاکہ ہمیشہ زندہ و پائندہ رہو ۔ مجھے تو اس کا خوف ہے کہ یہ قوم مجھے جھوٹا وعدہ دے کر دھوکہ دینے کے در پے ہے۔
____________________
١۔ہمارے پاس طبری اور غیر طبری کا جو نسخہ موجود ہے اس میں شعاع النفس کی جگہ شعاع الشمس موجود ہے ۔ شیخ سماوی نے ابصار العین ص ٤٩پر ذکر کیا ہے کہ یہ رد و بدل اس کی جانب سے ہے جو شعاع النفس کے معنی نہیں جانتا ہے اور یہ تصور کرتا ہے کہ شعاع الشمس زیادہ بہتر ہے جب کہ شعاع النفس سے مراد جان کا خوف ہے۔ عرب یہ کہا کرتے ہیں :'' مارت نفسہ شعاعا '' یعنی اس کی جان سورج کی کرنو ں کی طرح جدا ہوگئی۔یہ جملہ اس وقت کہاجاتا ہے جب خوف بہت شدید ہو؛ کیونکہ شعاع کے معنی ہی یہ ہیں کہ کوئی چیز کسی سے دقت کے ساتھ جدا ہوجائے۔ یہی معنی شعر میں بھی استعمال ہوا ہے''أقول لھا و قد طارت شعاعا من الأ بطال ویحک لا تراعی''اس شعر میں شعاع کا مطلب یہ ہے کہ خوف کے بعد دل ٹھہر گیا ۔
فریب امان اور گرفتاری
محمد بن اشعث نے حضرت مسلم سے کہا : تم سے جھو ٹ نہیں بولا جارہا ہے نہ ہی تم کوفریب اور دھوکہ دیاجارہاہے، یہ لوگ تو تمہارے چچا ہی کی اولاد ہیں نہ کہ تمہارے قاتل اور تم سے لڑائی کرنے والے۔دوسری طرف سنگ باری نے جناب مسلم کو بے حد زخمی کر دیا تھااورآپ لڑتے لڑتے تھک چکے تھے۔لہٰذا اسی گھر کی دیوار پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے۔ محمد بن اشعث نے آپ کے پاس آکر کہا: آ پ کے لئے امان ہے۔ جناب مسلم نے اس سے پوچھا : آمن انا ؟ کیا واقعاً میں امان میں ہوں ؟محمد بن اشعث نے جواب دیا : ہاں ،اور ابن اشعث کے ہمراہ پوری فوج نے کہا : ہاں ہاں تم امان میں ہو تو جناب مسلم نے کہا :'' أما لولم تؤمّنونی ما وضعت یدی فی أیدیکم''اگرتم لوگوں نے مجھے امان نہیں دیا ہوتا تو میں کبھی بھی تمہارے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ نہ دیتا۔ (اس جملہ سے ان لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ مسلم امان پر راضی ہوچکے ہیں ) اس کے بعد وہ لوگ ایک خچر لے کر آئے اور جناب مسلم کو اس پر سوار کیا اورسب ان کے اطراف جمع ہوگئے اور ان کی گردن سے تلوار نکالی۔یہ دیکھ کر گویا جناب مسلم خود سے مایوس ہوگئے، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور آپ نے فرمایا : ''ھذا اول الغدر'' یہ سب سے پہلا دھوکہ ہے ۔
محمد بن اشعث بولا:ا مید ہے کہ آپ کو کوئی مشکل نہ ہوگی۔ جناب مسلم نے کہا:امید کے سوا کچھ نہیں ہے، تم لوگوں کا امان نامہ کہاں ہے !''اناللّہ و انّا الیہ راجعون!''اور یہ کہہ کر رو پڑے۔ اس موقع پر عمرو بن عبیداللہ سلمی جو ایک دوسرے گروہ کا سربراہ تھا آپ سے مخاطب ہوکر بولا :بے شک اگر ایک شخص وہ چیزطلب کرے جس کے تم طلبگار تھے اور اس راہ میں اسے وہ مشکلات پیش آئیں جو تمہیں پیش آئی ہیں تو اسے رونا نہیں چاہیے۔
جناب مسلم نے فرمایا : ''انی واللّٰہ ما لنفسی ابکی ''خداکی قسم میں اپنے لئے نہیں رورہا ہوں '' ولا لھا من القتل أرثی'' اور نہ ہی قتل ہونے کے خوف سے میں مرثیہ کناں ہوں ؛ اگر چہ میں پلک جھپکتے تلف ہونا پسند نہیں کرتا تھا ''ولکن أبکی لأھلی المقبلین الیّ'' میں تو ان لوگوں پر آنسو بہارہاہوں جو میرے پیچھے آرہے ہیں ۔ ''ابکی لحسین و آل حسین (علیھم السلام) '' میں تو حسین اور اولاد حسین پر آنسو بہا رہاہوں ۔
حضرت مسلم کی محمد بن اشعث سے وصیت
پھر حضرت مسلم علیہ السلام نے محمد بن اشعث کی طرف رخ کر کے فرمایا :''یاعبداللّٰه انّی أراک واللّٰه ، ستعجز عن أمانی، فهل عندک خیرتستطیع أن تبعث من عندک رجلاً علی لسانی يُبلغ حسیناً ، فا نی لا أراه الا قد خرج الیکم مُقبلاً أو هو خارج غداًهو وأهل بیته ، وان ما تری من جزع لذالک فیقول (الرسول) انّ ابن عقیل بعثن الیک وهو فی أید القوم أسیرلا یری أن یمش حتی یقتل وهو یقول : ارجع بأهل بیتک ، ولا یغرّک أهل الکوفة ! فانهم أصحاب ابیک الذی کان یتمنّی فراقهم بالموت أو القتل ! ان أهل الکوفه کذبوک و کذبون ! ولیس لمُکذَّب رأی !'' (١)
اے بندہ خدا !میں تو خدا کی قسم یہ دیکھ ر ہا ہوں کہ توعنقریب مجھے امان دلانے سے عاجز ہو جائے گا ؛ کیا تجھ سے نیکی کی امید کی جاسکتی ہے ؟کیا تم کسی ایسے شخص کو اپنی طرف سے بھیجنے کی قدرت رکھتے ہو جو میری زبانی حسین علیہ السلام کو پیغام پہنچادے ، کیو نکہ میں یہ سمجھتاہوں کہ وہ تم لوگوں کی طرف آنے کے لئے آج نکل چکے ہو نگے یا کل نکل جائیں گے جبکہ ان کے ہمر اہ ان کا پورا خاندان ہوگا۔تم جو ان آنسو ؤں کو دیکھ رہے تھے اس کا سبب یہی ہے ۔ وہ پیغام رساں جاکرامام حسین علیہ السلام یہ کہہ دے کہ ابن عقیل نے مجھے آپ کے پاس اس حال میں بھیجاہے کہ وہ گرفتار ہوچکے ہیں اور قدم بقدم شہادت کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔وہ اس عالم میں یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ اپنے اہل بیت کے ساتھ پلٹ جایئے! کہیں اہل کوفہ آپ کو دھوکہ نہ دے دیں کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جوآپ کے باباکے ساتھی تھے لیکن حضرت آرزو کرتے تھے کہ موت یا قتل کے ذریعہ ان سے جداہوجائیں ۔اہل کوفہ نے آپ کو جھٹلایااور مجھے بھی جھٹلایا اور جھوٹے شخص کی کوئی رائے اور کوئی نظر نہیں ہوتی ۔
اس پر محمد بن اشعث بولا:میں تمہارا پیغام ضرور پہنچاؤں گااور ابن زیاد کو ضروربتاؤں گاکہ میں نے تم کو امان دی ۔
____________________
١۔ ابومخنف کا بیان ہے کہ قدامہ بن سعید بن زائدہ بن قدامہ ثقفی نے اسے اپنے جد زائدہ سے ہمارے لئے روایت کی ہے۔ (طبری،ج٥،ص٣٧٢) شرح حال، مقدمہ میں ملا حظہ ہو۔
مسلم قصر کے دروازے پر
محمدبن اشعث، ابن عقیل کوقصرکے دروازے تک لے کر آیا۔ اس وقت آپ بہت پیاسے تھے۔ ادھر محل کے دروازے پر لوگ بیٹھے اجازت کے منتظر تھے جن میں عمارة بن عقبہ ابی معیط ، عمرو بن حریث ، مسلم بن عمر و اور کثیر بن شہاب(١) قابل ذکر ہیں ۔ وہیں پر ٹھنڈے پانی کا کوزہ رکھا ہوا تھا۔ جناب مسلم نے کہا :''اسقونی من هذا المائ '' مجھے تھوڑا سا پانی پلادو! تومسلم بن عمر و باہلی بولا : تم دیکھ رہے ہو کہ یہ پانی کتنا ٹھنڈا ہے ! خدا کی قسم اس میں سے ایک قطرہ بھی تم کو نہیں پلایا جائے گایہاں تک کہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں کھولتا ہوا پانی تمہارے نصیب ہو ۔
جناب مسلم نے کہا :''ویحک من انت ؟ '' واے ہو تجھ پر تو کون ہے؟
اس نے کہا : میں اس کا فرزند ہوں(٢) کہ جب تم نے حق ے انکار کیا تواس نے اس کو پہچان لیا اور جب تم نے اپنے امام حاکم سے ناسازگاری کا مظاہرہ کیا تو اس نے خیر خواہی کی اور جب تم نے اس کی نافرمانی اور مخالفت کی تو اس نے اس کی فرمانبر داری اور اطاعت کی ! میں مسلم بن عمرو باہلی ہوں ۔ جناب مسلم :'' لأمّک الثکل! ما أجفاک و ماأفظّک و أقسیٰ قلبک و أغلظک ! أنت یابن باهله أولیٰٰ با لحمیم والخلود فی نار جهنم منّی ''
تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے! تو کتنا جفاکار ، خشن ، سخت دل اور بے رحم ہے ۔ اے فرزند باہلہ! جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اور اس میں ہمیشگی تجھ پر زیب دیتی ہے نہ کہ ہم پر۔
____________________
١۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ جعفر بن حذیفہ طائی نے اس روایت کو بیان کیا ہے اور سعید بن شیبان نے حدیث کی تعریف کی ہے۔(طبری ،ج ٥، ص ٣٧٥)
٢۔کتابو ں میں یہی جملہ موجود ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ میں وہ ہو ں کیونکہ مسلم بن عمرو باھلی نے اپنے باپ کی تعریف نہیں کی ہے بلکہ اپنی تعریف و تمجید کی ہے ۔
پھر آپ محل کی دیوار پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ یہ حال دیکھ کر عمروبن حریث مخزومی نے اپنے غلام سلیمان کو بھیجا اور وہ کوزہ میں پانی لے کر آیا۔(١)
اس کے اوپرایک رومال اور ساتھ میں ایک پیالہ بھی تھا۔اس نے پیالہ میں پانی ڈال کرجناب مسلم کو پینے کے لئے دیا لیکن جب بھی آپ پانی کو منھ سے لگاتے پیالہ خون سے بھر جاتا۔جب تیسری بار پیالہ خون سے بھر گیا اور پیتے وقت اس میں آگے کے دو دانت گر گئے تو حضرت مسلم نے فرمایا : '' الحمد للّہ ! لو کان لی من الرزق المقسوم شربتہ''(٢) اگر یہ پانی میرے رزق میں ہوتا تو میں اسے پی لیتا۔
اس کے بعد ابن اشعث نے اجازت چاہی تو اسے دربارمیں داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔ اپنے ہمراہ وہ حضرت مسلم کو بھی ابن زیاد کی خدمت میں لیکر حاضر ہوا لیکن حضرت مسلم نے اسے امیر کے عنوان سے سلام نہیں کیا۔ نگہبان نے کہا : تم امیر کو سلام کیوں نہیں کرتے ۔
____________________
١۔ ابو مخنف نے یہا ں سے قدامہ بن سعید کی روایت کو کاٹ دیا ہے تاکہ سعید بن مدرک بن عمارہ بن عقبہ ابن ابی معیط سے حدیث بیان کری ں کہ اس نے اپنے غلام قیس کو پانی لانے کے لئے روانہ کیا تھا اورو ہ کوزہ آب لے کر آیا جبکہ روایت ظاہر میں قدامہ کی روایت کی طرف پلٹتی ہے اور ہم نے قدامہ بن سعید کی روایت کو جو اس نے اپنے جد زائدہ بن قدامہ ثقفی سے بیان کی ہے ترجیح دی ہے کیونکہ سعید بن مدرک جعل حدیث کے جرم میں متہم ہے، مثال کے طور پر اس نے اپنے جد عمارہ کی فضیلت میں حدیث گڑھی ہے جبکہ قدامہ کی روایت میں اس قسم کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اس نے اسی روایت میں پانی لانے کے ذکرکو اپنے جدقدامہ سے منسوب نہیں کیاہے جبکہ وہ وہا ں موجودتھابلکہ اس کی نسبت عمرو بن حریث کی طرف دی ہے اور عمروبن حریث کی دو خصوصیت ہے؛ ایک تو ا س نے مختار کے سلسلہ میں نرمی سے کام لیاکیونکہ ابن زیاد کے سامنے ایسی گواہی دی کہ مختارکو قتل سے نجات مل گئی۔ دوسرے موقع پراس نے اس وقت ابن زیاد کے سامنے حضرت زینب کی سفارش کی جب وہ آپ کو مارنے کے لئے کمر ہمت باندھ چکاتھا۔ اگر چہ اس کا یہ عمل قریشی غیرت و حمیت کی بنیاد پر تھا لیکن عمارہ بن عقبةبن ابی معیط اموی تو اہل بیت علیہم السلام کاسخت دشمن ہے۔مقدمہ میں اس کے حالات گذرچکے ہیں ، وہا ں ملاحظہ کیجئے۔ شیخ مفید ارشاد ،ص ٢١٥،اور خوارزمی نے ص٢١٠پر اسی نظر کو اختیار کیاہے لیکن سماوی نے ص٤٥ پر دونو ں خبرو ں کو جمع کر کے یہ کہا ہے کہ دونو ں نے پانی لانے کو بھیجا تھا جب کہ یہ غلط ہے۔
٢۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے قدامہ بن سعید نے یہ روایت بیان کی ہے۔(طبری، ج٥،ص٣٧٥)
جناب مسلم نے کہا :''ان کان یرید قتلی فما سلامی علیه وان کان لا یرید قتلی فلعمری لیکثرن سلامی علیه' 'اگر یہ مجھے قتل کرنا چا ہتا ہے تو پھر سلام کس لئے !اور اگرقتل نہیں کرنا چاہتا تو میری جان کی قسم میرا اس پربہت بہت سلام ہو ۔
ابن زیاد نے کہا : مجھے اپنی جان کی قسم ہے کہ تم ضرور بالضرور قتل کئے جاؤگے ۔
مسلم : ایسا ہی ہوگا ؟
ابن زیاد : ہاں ایساہی ہوگا
مسلم : تو پھر مجھے اتنی مہلت دے کہ میں کسی آشنا سے وصیت کر سکوں ۔
عمر بن سعد سے مسلم کی وصیت
یہ کہہ کر جناب مسلم علیہ السلام عبیداللہ کے درباریوں کی طرف نگاہ دوڑانے لگے تو سعد کے بیٹے عمر پر نظر پڑی۔ اس سے مخاطب ہو کر آپ نے فرمایا : '' یا عمر ! انّ بینی و بینک قرابة(١) ولی الیک حاجة وقد یجب لی علیک نجح حاجتی وھو سرّ ''اے عمر !میرے اور تمہارے درمیان رشتہ داری ہے اور تم سے مجھے ایک کام ہے جو راز ہے لہذا تم پر لازم ہے کہ میرے اس کام کو انجام دو۔
عمر سعد نے اس درخواست سے انکار کرنا چا ہاتو عبیداللہ نے کہا : اپنے چچا زادبھائی کی درخواست مت ٹھکراؤ ۔یہ سن کر عمر سعد اٹھا اور وہاں جا کر مسلم کے ہمراہ بیٹھا جہاں ابن زیاد بخوبی دیکھ رہاتھا۔ حضرت مسلم نے اس سے کہا : جب سے میں کوفہ میں آیاہوں اس وقت سے لے کر اب تک سات سو (٧٠٠) درہم کا مقروض ہو چکا ہوں اس کو تم میری طرف سے ادا کردینا۔
دوسری وصیت یہ کہ ہمارے جسد خاکی کو ان سے لے کر دفن کر دینااور تیسری وصیت یہ ہے کہ حسین علیہ السلام کی طرف کسی کو روانہ کر کے انہیں کوفہ آنے سے روک دینا کیونکہ لوگوں کی مسلسل
١۔ جناب مسلم اور عمر سعد کے درمیان ایک قرابت تو قریش ہونے کی بنیاد پر تھی اور ماں کی طرف سے آپ بنی زہرہ جو بنی سعد کا قبیلہ ہے، سے متعلق تھے ۔
درخواست اور مسلسل بیعت کے بعد میں نے ا ن کو لکھ دیا تھا کہ لوگ آپ کے ساتھ ہیں لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ وہ راستہ میں ہوں گے ۔(١)
____________________
١۔ اشعث کے لڑکے سے وصیت کرنے کے بعد دوبارہ پسر سعد سے وصیت کرنے کا مقصد یہ تھا کہ شاید ان میں سے کوئی یک خبر پہنچادے۔
مسلم علیہ السلام ابن زیاد کے رو برو
وصیت کے بعد ابن زیاد جناب مسلم سے مخاطب ہوا اور بولا : اے عقیل کے فرزند ! لوگوں کے کام اچھے سے چل رہے تھے اور سب ہمدل اور متحد تھے، تم نے ان کے شہر میں داخل ہوکر انھیں پراکندہ کردیا ، اختلاف اورکشمکش کا بیج ان کے درمیان ڈال دیا اور انھیں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑاکیا ؛ سچ بتاؤ ! یہ عمل تم سے کیوں سرزد ہوا ؟
حضرت مسلم نے جواب دیا :'' کلا لست آ تیت و لکن أہل المصر زعموا أن أباک قتل خیار ھم و سفک دماء ھم و عمل فیھم أعمال کسری و قیصر فأ تینا ھم لنأ مر با لعدل و ندعوا لی حکم الکتاب'' ہر گز ایسا نہیں ہے، میں خود سے نہیں آیا ہوں بلکہ اس شہر کے لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ تیرے باپ نے ان کے نیک بزرگوں کو قتل کیا ، ان کا خون بہایا ہے اوران کے درمیان قیصر و کسری کے بادشاہوں جیسا سلوک کیا ہے لہذا ان لوگوں نے ہم کو دعوت دی تاکہ ہم یہاں آکر عدل و انصاف قائم کریں اور حکم خدا کی طرف دعوت دیں ۔
عبیداللہ : اے خدا کے نا فر مان بندے !تجھے ان سب چیزوں سے کیا مطلب جب تو مدینہ میں بیٹھا شراب پی رہا تھا تو ہم ان کے درمیان عدالت اور کتاب خدا کے حکم کی بنیاد پر حکومت کررہے تھے۔
مسلم :'' أنا أشرب الخمر ! واللّٰه ان اللّٰه لیعلم أنک غیر صادق وأنک قلت بغیر علم وأنلست کما ذکرت وانّ أحق بشرب الخمر منّی و أولیٰ بها من یلغ فی دماء المسلمین و لغاً فیقتل النفس الت حرّم اللّٰه قتلهاو یقتل النفس بغیر النفس و یسفک الدم الحرام و یقتل علی الغضب والعداوة و سوء الظن ویلهو و یلعب کأنّ لم یصنع شیئاً''
میں شراب پی رہا تھا ! خدا کی قسم خدا جانتا ہے کہ تو سچانہیں ہے اور تو نے علم ودانش کے بغیریہ جملہ کہا ہے؛ میں ویسا نہیں ہوں جیساتونے ذکر کیا ہے ،شراب خوار اور مست تووہ ہے جو مسلمین کے خون سے آ غشتہ ہے،جو ایسے نفوس کو قتل کرتاہے جنہیں قتل کرنے سے اللہ نے روکاہے اور جوبے گناہ لوگوں کو قتل کیاکرتاہے ، حرام خو ن کے سیلاب بہاتاہے اور غصہ ، دشمنی اور بد گمانی کی بنیاد پر لو گو ں کو قتل کیاکرتاہے، لھو ولعب وعیش و نوش میں مشغول رہتا ہے اور اس طرح زندگی گذارتا ہے جیسے کوئی خیانت اور بیہودگی انجام ہی نہ دی ہو ؛ایسے شخص پر شراب خواری زیب دیتی ہے نہ کہ ہم پر ۔
ابن زیاد : اے فاسق !یہ تیری ہوی و ہوس ہے جسے خدانے تیرے لئے قرار نہیں دیا؛بلکہ تیری اس آرزوکے درمیان حائل ہوگیا اور تجھے اس کا اہل نہیں سمجھا ۔
مسلم :''فمن أهله ؟ یابن زیاد ! ''اے ابن زیاد ! تو پھر اس کا اہل کون ہے ؟
ابن زیاد : امیر المومنین یزید اس کے اہل ہیں ۔
مسلم :''الحمد للّه علی کل حال ، رضینا با للّٰه حکماً بیننا و بینکم'' خدا کا ہر حال میں شکر گذار ہوں اور اس پر راضی ہوں کہ وہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے ۔
ابن زیاد : ایسی باتیں کررہے ہو کہ گویا قوم و ملت کی پیشوائی اور ان پرحکومت تمہارا حق ہے ۔
مسلم :''واللّه ما هو با لظن ولکنه الیقین ''خدا کی قسم اس میں ذرہ برابر گمان نہیں بلکہ یقیناً یہ ہماراہی حق ہے۔
ابن زیاد :اللہ مجھکو قتل کر دے اگر میں تم کو اس طرح قتل نہ کروں جس طرح پورے اسلام کی تاریخ میں اب تک کسی کو قتل نہیں کیا گیا ہے۔
مسلم :''أما انک لاتدع سوء القتلة و قبح المثله و خبث السیرة و لؤم الغلبة ولا أحد من الناس أحق بها منک'' ہاں !بے دردی سے قتل کر نے ،بری طرح جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے ، خبیث اور پلید سرشت اور ملامت آمیزعادت کی کثرت کو تم کبھی نہ ترک کرنا تیرے علاوہ ایسا برا کام کوئی انجام بھی نہیں دے سکتا ہے۔ اوباشوں کا ہتھیار گالی ہے لہذا حضرت مسلم علیہ السلام کی عقل آفرین گفتگو اور اپنی قلعی کھلنے کے بعد سمیہ(١) کے فرزند کوجب کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے امام حسین ، حضرت علی اور جناب عقیل کو گالیاں دینا شروع کر دیا ۔
حضرت مسلم علیہ السلام کی شہادت
پھر ابن زیاد بولا : اسے محل کی چھت پر لے جاؤاور اس کی گردن مار دو ،اس کے بعد اس کے جسد کو زمین پر پھینک دو ۔یہ وہ موقع تھاجب جناب مسلم نے اشعث کے لڑکے کو مخاطب کر کے فرمایا :'' یابن الاشعث اماواللّٰه لولاانک آمنتنی ما استسلمت ، قم بسیفک دونی فقد أخفرت ذمتک'' (٢) اے اشعث کے فرزند! خدا کی قسم اگر تو نے امان دینے کا وعدہ نہ کیا ہوتا تو میں جنگ سے کبھی بھی دست بردار نہ ہوتالہذا اب اٹھ اور جسے وعدۂ امان دیا ہے اس کاجواں مردی کے ساتھ دفاع کرکیونکہ تیری حرمت اور تیرے حقوق پامال کئے جارہے ہیں ۔
یہ سنتے ہی محمد بن اشعث آگے بڑھا اور ابن زیاد کے پاس آکر جناب مسلم کے زخمی ہونے ، بکیر بن حمران پر حملہ کرنے اور اپنے امان دینے کا سارا واقعہ ابن زیاد سے کہہ سنایا اور اس بات کی بھی صراحت کی کہ میں نے انہیں امان دی ہے؛ لیکن عبید اللہ بن زیاد بولا : تمہارے امان دینے سے کیاہوتا ہے،کیا ہم نے تمہیں امان دینے کے لئے بھیجا تھا ؟ہم نے تو تم کو فقط اس لئے بھیجا تھاکہ تم اسے لے آؤ ۔یہ سن کر محمد بن اشعث خاموش ہوگیا ۔(٣)
____________________
١۔'' سمیہ ''زیاد کی ما ں زمانہ جاہلیت میں برے کامو ں کی پرچم دار تھی۔ ابو سفیان اور دوسرے مردو ں نے اس سے زنا کیا جسکے نتیجہ میں زیاد کا وجود دنیا میں آیا ۔باپ کے سلسلہ میں اختلاف شروع ہوایہا ں تک کہ نوبت قرعہ پر آئی۔ تیرو ں کو پھینک کر قرعہ کیا گیاتوقرعہ ابو سفیان کے نام نکلا لیکن ہمیشہ اسے بن زیادبن سمیّہ ہی کے نام سے یاد کیا گیا یہا ں تک کہ معاویہ نے اسے اپنے باپ سے نسبت دیتے ہوئے اسے اپنا بھائی قرار دیا جو دین اور عرف کی نظر میں معاویہ کا ایک بد ترین عمل تھا ۔
٢۔ابو مخنف کابیان ہے کہ مجھ سے سعید بن مدرک بن عمارہ نے اپنے جد عمارہ بن عقبة بن ابی معیط کے حوالے سے اس حدیث کو ذکر کیا ہے ۔(طبری ،ج٥،ص ٣٧٦)
٣۔ابومخنف کابیان ہے کہ جعفر بن حذیفہ طائی نے مجھ سے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔(طبری ،ج٥،ص ٣٧٥)
پھرا بن زیادبولا: کہاں ہے وہ شخص جس کے سر اور شانے پر ابن عقیل نے ضرب لگائی تھی؟ یہ کہہ کر اسے بلایا او ر اس سے یو ں مخاطب ہوا : اسے لے کر اوپر جاؤ اور اس کا سر قلم کر کے اپنا انتقام لے لو !یہ سنتے ہی بکیرا حمری ''حضرت مسلم'' کو لے کر محل کی چھت پر اس حالت میں آیا کہ آ پ کی زبان پر تکبیر (اللّہ اکبر) واستغفار (استغفراللّہ ...) تھا اور آپ ملائکہ الہٰی اور خدا وندعالم کے رسولوں پر درود و سلام بھیج رہے تھے اور باربارزبان پر یہ فقرے جاری ہو رہے تھے:''اللهم احکم بیننا و بین قوم غرّونا و کذّبونا و أذلّونا' ' خدا یا !ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کر جس نے ہمیں دھوکہ دیا ، ہمیں جھٹلایا اور ذلیل کیا !
بکیر بن حمران احمری آپ کو چھت کے اس حصہ کی طرف لے گیا جو اس وقت قصابوں کی جگہ تھی(١) اور وہیں پر آپ کا سر قلم کر کے آپ کو شھید کر دیا۔ سر کاٹنے کے بعداسے نیچے پھینک دیا اوراس کے فوراً ہی بعد جسم کو بھی نیچے ڈال دیا۔
قتل کر نے کے بعد بکیر بن حمران احمری جس نے ابھی ابھی جناب مسلم کو شہیدکیا تھا نیچے اترا تو ابن زیاد نے اس سے پو چھا : اسے قتل کردیا ؟ بکیرنے کہا: ہاں ۔
ابن زیاد نے سوال کیا : جب تم اسے اوپر لے جارہے تھے تو وہ کیا کہہ رہا تھا ؟
بکیر: وہ تکبیر، تسبیح اور استغفار کررہا تھا اور جب میں نے اس کو قتل کرنے کے لئے اپنے سے قریب کیا تو اس نے کہا :''اللهم احکم بیننا وبین قوم کذّبو نا وغرّوناوخذ لونا وقتلونا'' خدا! تو ہی ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کر جس نے ہمیں جھٹلا یا ، دھوکہ دیا ، تنہاچھوڑ دیا اور قتل کردیاپھر ہم نے اس سے کہا : میرے نزدیک آ !جب وہ نزدیک آیا تو میں نے ایسی ضربت لگا ئی کہ وہ سنبھل نہ سکا پھر ہم نے دوسری ضربت میں اسے قتل کردیا۔
____________________
١۔ارشادمیں ص ٢١٦پر شیخ مفید نے الحذا ئیین لکھا ہے یعنی جوتے والو ں کی جگہ اور خوارزمی نے ص٢١٥پر سوق القصابین لکھا ہے یعنی قصا بو ں کا بازاراورص٢١٤ پرلکھاہے کہ وہ جگہ جہا ں بکریا ں بیچی جاتی تھی ں ۔ طبری کی عبارت سے مذکورہ مطلب زیا دہ قابل ترجیح ہے''الیوم''سے مرادابومخنف کا زمانہ ہے کیونکہ اس زما نے میں بالا خانہ کے اس حصہ سے وہ علاقہ دکھائی دیتا تھا ۔
اس گفتگو کے بعد وہ گیا اور جناب مسلم کا سر لا کر ابن زیاد کی خدمت میں پیش کر دیا ۔(١) تقرب جوئی کے لئے اس وقت عمر بن سعد نے آگے بڑھکر ابن زیاد سے کہا : آپ کو معلوم ہے کہ مسلم مجھ سے کیا کہہ رہے تھے ؟ اوراس نے ساری وصیت ابن زیاد کے گوش گزار کردی تو ابن زیادنے مذاق اڑاتے ہوئے کہا : امین خیانت نہیں کر تا؛ ہا ں کبھی کبھی خائن پر امین کا دھو کہ ہو تا ہے۔(٢)
اس وصیت میں جو چیز یں تم سے مربوط ہیں اس سے ہم تم کو منع نہیں کرتے، تمہا را جو دل چاہے کرو اسکے تم مالک ہو۔(٣)
لیکن حسین نے اگر کوفہ کا رخ نہیں کیا تو ہمیں ان سے کوئی مطلب نہیں ہے اور اگر وہ ادھر آئے تو ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے۔ اب رہا سوال مسلم کے جسم کا تو جب ہم نے قتل کر دیا ہے اب ہم کو اس کے جسم سے کوئی مطلب نہیں ہے جس کو جو کرنا ہے کرے ۔(٤)
____________________
١۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ صقعب بن زہیرنے عون بن ابی حجیفہ کے حوالے سے مجھ سے یہ روایت نقل کی ہے۔(طبری، ج٥، ص٣٧٨)
٢۔ جب پسر سعد نے یہ دیکھا ابن زیاد جناب مسلم کے قاتل ابن حمران سے حضرت کے قتل کے احوال پوچھ رہا ہے تو تقرب جو ئی اور چاپلو سی میں بغیر پو چھے ابن زیاد کو جناب مسلم کی ساری وصیت سنادی تو ابن زیاد نے اسے خیانت کا رکہا ،ہا ں چاپلوسو ں کا نیتجہ ایسا ہی برا ہو تا ہے۔
٣۔ ''ما لک '' کہنے کا مطلب یہ ہے کہ گویا اسے ابن زیاد نے جناب مسلم علیہ السلام کاوارث قرار دیا ہے۔
٤۔ بعض روایتو ں میں یہ جملہ ہے :اس سلسلہ میں ہم تیری سفارش قبول نہیں کری ں گے کیونکہ وہ ہمارے افراد میں سے نہیں ہیں ۔ انھو ں نے ہم سے جہاد کیا ، ہماری مخالفت کی اور ہماری ہلاکت کی کوشش کی ہے۔ (طبری ،ج٥،ص٣٧٧)اسی روایت ابومخنف میں یہ عبارت ہے کہ'' وزعموا انہ قال...''
جناب ہانی کی شہادت
جناب مسلم بن عقیل (علیہ السلام) امام علیہ السلام کے شجاع اور بہادر سفیر کی شہادت کے بعد ابن زیاد نے جناب ہانی کے قتل کا حکم جاری کر دیا اور محمد بن اشعث کودیئے گئے وعدہ کو کہ ہانی کواس کے حوالے کر دے گا تاکہ وہ اپنی قوم کی عداوت اور دشمنی سے بچ سکے، وفا کرنے سے انکار کر دیا۔ابن اشعث
کی گزار ش کاسبب یہ تھاکہ وہی جناب ہانی کے پاس گیاتھااور انہیں لیکر آیاتھا۔ابن زیاد نے اپنے و عد ہ سے مکرنے کے بعد فورا ًحکم دیاکہ انہیں بازار میں لے جاؤ اور گردن اڑادو ۔
اموی جلاد اس شریف النفس انسان کا ہاتھ باندھے ہوئے ان کو بازار کی طرف لے کر چلے جہاں بکریاں بیچی جاتی تھیں ۔جب یہ افر ادجناب ہانی کووہاں لے کر آئے توآپ آوازدے رہے تھے: ''وامذحجاہ ولامذحج لی الیوم !وامذحجاہ وأین منی مَذحِج ''ہائے قبیلہ ٔمذحج والے کہاں گئے، کو ئی مذحج والامیری مددکو کیوں نہیں آتا؟'' وامذحجاہ '' ارے میرے مذحجی افراد کہاں ہیں ؟جب دیکھاکہ میری مدد کو کوئی نہیں آتاتو اپنی ساری طاقت و قدر ت کو جمع کر کے ایک بار ہاتھو ں کو جھٹکادیااوردیکھتے ہی دیکھتے ساری رسیاں ٹوٹ گئیں پھر فرمایا: کیاکوئی عصا ،خنجر،پتھر یاہڈی نہیں ہے جس سے میں اپنادفاع کرسکوں لیکن ان جلادوں نے چاروں طرف سے ان کو گھیر لیااور دوبارہ رسیو ں سے کس کر جکڑ دیاپھرکسی ایک نے کہا: اپنی گردن اٹھاؤ تاکہ تمہاراکام تمام کر دیاجائے ۔
جناب ہانی نے جواب دیا: میں کبھی ایساسخاوت مند نہیں ر ہاکہ اپنے حق حیات ا ور زندگی کوپامال کر نے کے لئے کسی کی مددکرو ں اسی اثنامیں عبیداللہ کاترکی غلام رشید(١) آگے بڑھااور تلوار سے جناب ہانی پر ایک ضرب لگائی لیکن اس کی تلوار جناب ہانی کاکچھ نہ بگاڑ پائی تو ہانی نے کہا :''الیٰ اللّٰه المعاد !اللهم الی رحمتک و رضوانک'' خداہی کی طرف برگشت ہے، خدایا!تیری رحمت اوررضایت کی آرزو ہے ۔وہ پھر آگے بڑھااوردوسری مرتبہ آپ پر وار کر دیا۔ اس ضربت سے آپ نے جام شہادت نوش فر مایا۔(٢) آپ پر خداکی رحمت ہو۔
____________________
١۔عبدالرحمن بن حصین مرادی نے اسے عبیداللہ بن زیاد کے ہمراہ قلعہ کے پاس دیکھا اورلوگو ں نے کہناشروع کردیاکہ یہ ہانی بن عروہ کاقاتل ہے تو حصین کے لڑکے نے اس کی طرف تیر چلاکر اسے قتل کر دیا۔(طبری، ج٥،ص ٣٧٩؛ارشاد، ص ٢١٧؛تذکرةالخواص)
٢۔ ابو مخنف کا بیا ن ہے کہ صقعب بن زہیر نے عون بن ابی جحیفہ کے حو الے سے مجھ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری ،ج٥،ص٣٧٨)
اسکے بعد یہ جلاد آپ کا سر لے کر ابن زیادکے پاس چلے گئے۔(١)
تیسرا شہید :
جناب مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد ابن زیاد نے عبدالاعلی کلبی کو بلایا جسے قبیلہ بنی فتیان کے محلہ سے کثیر بن شہاب نے پکڑااور ابن زیاد کے پاس لے کر آیا تھا۔ابن زیاد نے اس سے کہا : اپنی داستان سناؤ ۔
تو اس نے کہا : اللہ آپ کو سلامت رکھے !میں اس لئے نکلا تھا تاکہ دیکھوں کہ لوگ کیا کر رہے ہیں ،اسی اثنا ء میں کثیربن شہاب نے مجھے پکڑلیا ۔
ابن زیاد : تجھے سخت وسنگین قسم کھانی پڑے گی کہ تو فقط اسی کام کے لئے نکلا تھا جس کا تجھے گمان ہے تو اس نے قسم کھا نے سے انکار کر دیا۔
ابن زیاد نے کہا اسے میدان میں لے جاؤ اور اس کی گردن اڑادو !جلادوں نے حکم کی تعمیل کی اور اس کا سر فوراً قلم کردیا۔
چو تھا شہید :
اس بندئہ خدا کی شہادت کے بعد عمارہ بن صلخب ازدی کو لا یا گیا جو جناب مسلم بن عقیل کی مدد کے لئے نکلے تھے اور انھیں گرفتار کر کے ابن زیاد کے پاس پہنچا دیا گیا تھا۔ابن زیاد نے ان سے پو چھا : تم کس قبیلہ سے ہو؟ انھوں نے جواب دیا'' ازد'' سے تو ابن زیاد نے کہا : اسے اس کے قبیلہ والوں کے پاس لے جاؤ اور اس کی گر دن اڑا دو۔(٢)
____________________
١۔ یہا ں پر طبری نے اس بات کو بیان نہیں کیاہے کہ ان دونو ں بزرگ شخصیتو ں کے پیر میں رسی باندھ کر انہیں کو فہ کے بازار و ں میں کھینچا جارہاتھا؛ لیکن مذکورہ روایت کو بیان کرنے کے بعد خو د ابومخنف ہی سے ابی جناب کلبی کے حوالے سے نقل کیاہے کہ اس نے'' عدی بن حرملہ اسدی'' سے اس نے'' عبداللہ بن سلیم'' اور'' مذری بن مشمعل'' (یہ دونو ں قبیلہ اسد سے متعلق تھے) سے اس نے ''بکیر بن مثعبہ اسدی'' سے نقل کیاہے کہ اس نے کہا: میں اس وقت تک کوفہ سے باہر نہیں نکلا تھا یہا ں تک کہ مسلم اور ہانی بن عروہ شہید کردئے گئے اور میں نے دیکھا کہ ان دونو ں کے پیرو ں میں رسی باندھ کر کوفہ کے بازار میں کھینچاجارہاہے۔ (ج٥ ،ص ٣٩٧)خوارزمی نے ج٢، ص ١٢٥ پر اور ابن شہر آشوب نے ج ٢،ص ٢١٢ پر ذکر کیا ہے کہ ابن زیاد نے کوفہ کے کوڑے خانہ پر ان دونو ں کو الٹا لٹکا دیا تھا ۔
٢۔ طبری، ج٥، ص ٣٧٨، ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے صقعب بن زہیرنے عون بن ابی جحیفہ کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے ۔
مختار قید خانہ میں
جب دوسرے دن کا سورج نکلا اور عبیداللہ بن زیاد کے دربار کا دروازہ کھلا اور لوگوں کو دربار میں آنے کی اجازت ملی تو لوگ آہستہ آہستہ دربار میں آنے لگے انہیں آنے والوں میں مختار بھی تھے ۔ عبیداللہ نے انہیں پکارا اور کہاکہ سناہے تم ،لوگوں کو مسلم بن عقیل کی مدد کے لئے اکٹھا کر رہے تھے اور انھیں اکسا رہے تھے ؟
مختار : نہیں ایسا نہیں ہے، میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا بلکہ میں تو کل آیا اور عمر وبن حریث کے زیر پرچم آگیا ، شب اسی کے ہمراہ گذاری اور صبح تک اسی کے پاس رہا ۔ عمرو بن حریث نے کہا : ہاں یہ سچ کہہ رہے ہیں ؛ آپ کو اللہ سلامت رکھے ؛لیکن ابن زیاد نے چھڑی اٹھائی اور مختار کے چہرے پر مار مار کر ان کی پیشانی ، آنکھ ، اور پلک کو زخمی کر دیایہاں تک کہ مختارکی آنکھیں ٹیڑھی ہو گئیں ؛ اس کے بعد بولا : تیرے لئے یہی سزاوار ہے۔ خدا کی قسم! اگر عمرو نے گواہی نہ دی ہوتی تو میں ابھی تیری گردن اڑادیتااور حکم دیا کہ اسے فور اً لے جاکرقید خانہ میں ڈا ل د و ۔کارندوں نے فوراً حکم کی تعمیل اور مختار کو قید خانہ میں ڈال دیا۔ یہ اسی طرح قید خانہ میں مقید رہے یہاں تک کہ امام حسین علیہ السلام شہید ہو گئے۔(١)
یزید کے پاس سروں کی روانگی
ان خدا جْو، ظلم ستیز ، اور باطل شکن افراد کی شہادت کے بعد عبیدا للہ بن زیاد نے ہانی بن ابی حیہ و داعی کلبی ہمدانی اور زبیر بن ارواح تمیمی کے ہمراہ جناب مسلم بن عقیل اور حضرت ہانی بن عروہ کے سروں کو یزید بن معاویہ کی خدمت میں روانہ کر دیا اور اپنے کاتب عمروبن نافع کو حکم دیا کہ یزید بن معاویہ کے خط میں ان باتوں کی تصریح کر دے جو مسلم اور ہانی پر گزری ہے۔عمرونے ایک لمبا چوڑا خط لکھنا شروع کردیا۔جب ابن زیاد کی نظر اس پر پڑی تو اسے برالگا اس پر اس نے کہا : یہ اتنا لمبا کیا لکھا جا رہا ہے اور یہ فضول باتیں کیا ہیں ؟ اب میں جو بتا رہا ہوں وہی لکھو !پھر اس نے اس طرح خط لکھوانا شروع کیا:
____________________
١۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ نضر بن صالح نے کہا ہے۔(طبری ج٥ ،ص ٥٦١)
اما بعد اس خدا کی حمد و ثنا جس نے امیر المومنین کا پاس رکھا اور دشمنوں کی خراب کاریوں کو خود ہی درمیان سے ہٹا دیا۔امیر المومنین کی خدمت میں یہ خبر پیش کی جاتی ہے۔ خدا ان کو صاحب کرم قرار دے کہ مسلم بن عقیل نے ہانی بن عروہ مرادی کے گھر پناہ لی تھی اور میں نے ان دونوں کے اوپر جا سوس معین کر دیا تھا اور پورا پلان بناکر ان دونوں کو اپنے چنگل میں لے لیا اور خدا نے مجھے ان دونوں پر قدرت عطا فرمائی لہذا میں نے ان دونوں کے سر اڑا دیئے اور اب آپ کی خدمت میں ان دونوں کے ، سر ہانی بن ابی حیہ کلبی اور زبیر بن ارواح تمیمی کے ہمراہ روانہ کر رہاہوں ۔ یہ دونوں حکومت کے خیر خواہ ،فرمانبر دار اور بے چوں و چرا باتوں کو سننے والے ہیں ۔ امیر المومنین عراق کے حالات کے سلسلہ میں ان دونوں سے جو پوچھنا چاہتے ہیں پو چھ لیں کیونکہ یہ حالات سے آگاہ، سچے ، بافہم اور صاحب ورع ہیں ۔والسلام
یزید کا جواب
یزید نے اپنے خون آشام جلادکو اس طرح جواب دیا: امابعد، تم حکومت اور نظام کے دفاع میں ویسے ہی ہو جیسا کہ میں چاہتا تھا۔تمہارا کام دور اندیشی پر مبنی آئندہ نگر اور شجاعانہ ہے۔ وہاں کی حکومت کے لئے تم نے اپنی لیاقت اور صلاحیت ثا بت کر دی اور جو امیدیں تم سے وابستہ تھیں اسے عملی جامہ پہنادیا اور اپنے سلسلہ میں میرے گمان اور میری رائے کو واضح اور سچا کر دکھایا۔ تمہارے ان دو پیغام رسانوں کو میں نے بلایا اوران سے عراق کے حالات کے بارے میں سوال بھی کیا تو ان کے فہم و شعور وادراک کو ویساہی پایا جیسا کہ تم نے لکھاتھا ۔ میری تم سے ان کے سلسلہ میں سفارش ہے کہ ان کے ساتھ نیکی کے ساتھ پیش آؤ! مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ حسین بن علی نے عراق کی راہ اختیار کر لی ہے اور تمہاری طرف بڑھ رہے ہیں ۔
اس سلسلہ میں تم حساس جگہوں پر پولس کی چوکی اورحفاظتی پہرے بیٹھادو تا کہ دور سے سب کی آمدو رفت پر نظر رکھ سکو اور اسلحوں سے لیس جوانوں کو آمادہ رکھو ؛کہیں ایسا نہ ہو کہ یکایک حالات بگڑ جائیں ؛اورتم کو جو کوئی بھی مشکوک دکھائی دے اسکے بارے میں نگران رہو اور ذرہ برابرشک کی صورت میں بھی اس کو گرفتار کرلو لیکن یاد رہے کہ قتل اسی کو کرو جو تم سے مقابلہ کرے اورہر رونماہونے والے واقعہ کی خبر ہم تک پہنچاتے رہو ۔ والسلام علیک ورحمة اللہ(١)
٨ذی الحجہ ٦٠ھ منگل کے دن جناب مسلم علیہ السلام نے اموی جلاّد کے خلاف قیام کیاتھا۔ جس دن حضرت مسلم بن عقیل نے خروج کیا تھا امام حسین علیہ السلام نے ٹھیک اسی دن یعنی یوم الترویہ کو مکہ چھوڑ دیا ۔(٢) جناب مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کی شہادت پر عبدا للہ بن زبیر اسدی نے اشعار کہے اور فرزدق نے بھی اس سلسلہ میں یہ اشعار کہے ہیں :
ان کنت لا تدرین ما الموت فا نظری---الی هانیٔ فی السوق و ابن عقیل
الی بطل قد هشّم السیفُ وجههوآخر یهو من طمار قتیل
أصابهما أمرالأ میر فأ صبحا---احادیث من یسر بکل سبیل
تری جسداً قد غيّرالموت لونهو نضح دم قد سال کلّ مسیل
فتی هوأ حیی من فتاة حیيةٍ---وأقطع من ذی شفرتین صقیل
أیرکب أسماء الهما لیج آمناً---وقد طلبته مذحج بذحول
تطوف حو ا لیه مر ا د و کلّهم---علی رقبة من سائل و مسول
فا ن انتم لم تثأر و ا بأ خیکم---فکونوا بغایا أرُضِيَت بقلیل(٣) و(٤)
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے یہ روایت ابو جناب یحٰبن ابی حیہ کلبی نے بیان کی ہے۔(طبری ،ج٥، ص ٣٨٠) یحییٰ بن ابی حیہ کلبی ابو جناب ہانی بن ابی حیہ کا بھائی ہے جو مسلم وہانی کا سر لے کر یزید کے پاس گیا تھا۔ ایسا محسوس ہو تا ہے کہ اس کے بھائی نے اس خبر کو فخر و مباہات میں ابو مخنف سے بیان کیا ہے کیونکہ ابن زیاد نے اس کے علم ، صدق، فہم اور ورع کی توصیف کی تھی جس کی یزید کی طرف سے تصدیق بھی ہوئی تھی۔ ہا ں ایسی حماقت اور ایسے افعال کا ''کلابیو ں '' سے سر زد ہونا بعید نہیں ہے ۔
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ صقعب بن زہیر نے عون بن ابی جحیفہ کے ذریعہ مجھ سے یہ روایت بیان کی ہے۔(طبری ،ج٥ ، ص ٣٧٨)
٣۔ ابومخنف کا بیان ہے کہ صقعب بن زہیر نے عون بن ابی جحیفہ کے حوالے سے مجھ سے یہ روایت نقل کی ہے۔(طبری، ج٥، ص ٣٨١)
٤۔ طبری نے عمار دہنی کے حوالے سے امام محمد باقر علیہ السلام سے حدیث بیان کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ان لوگو ں کے شاعر نے اس سلسلے میں یہ کہا ہے اور ان اشعار میں سے تین بیتو ں کو کو ذ کر کیا ہے جس کا پہلا مصرع ''فان کنت لا تد رین ماالموت فا نظری'' (طبری، ج٥ ،ص ٣٥٠) لیکن یہا ں پہلے مصرع میں '' ان کنت لا تدرین'' ذکر کیا ہے جو غلط ہے کیونکہ
اس سے مصرع وزن سے گر رہا ہے ، زبیر کے ''ز'' پر زبر ہے ۔شائد طبری نے اسے ابن اثیر کی الکا مل، ج٤،ص ٣٦، اور مقاتل الطا لبیین سے لیا ہے۔اصفہا نی نے مذکو رہ شخص کی شان میں یہ کہا ہے : ان کا شمارشیعو ں کے بزرگ اور برجستہ محدثین میں ہو تا ہے۔عبادبن یعقوب رواجنی متوفی ٢٠٥ھ اور اس جیسے افراد اور جو اس سے بزرگتر تھے انھو ں نے زبیر سے روایت ں نقل کی ہیں ۔ (الا غانی ،ص ٢٩٠) اس کے علاوہ اور بھی لوگو ں نے ان سے روایت نقل کی ہے یہ محمد بن عبد اللہ بن حسن صاحب نفس ذکیہ کے اصحاب میں شمار ہو تے ہیں جو ١٤٥ھ میں منصور کے عہد میں شہید کئے گئے پھر اصفہانی کہتے ہیں : یہ ابو احمد زبیر ی معروف محدث کا باپ ہے (اغانی ،ص ٢٩٠) جس کا نام محمد بن عبد اللہ بن زبیر ہے؛ کشی نے عبد الر حمن بن سیا بتہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا : امام جعفر صادق علیہ السلام نے مجھے کچھ دینا ر دے کر حکم دیا کہ یہ دینا ر ان لوگو ں کے عیال کے در میان تقسم کردو ں جو آپ کے چچا زید کے ہمراہ شہید ہو گئے میں نے ان کے درمیا ن و ہ دینار تقسم کردیئے جس میں سے ٤ دینارعبد اللہ بن زبیر الرّسان کے عیال تک پہنچا دیئے۔ (رجال کشی، رقم٦٢١) شیخ مفید نے ارشاد میں ابو خالد واسطی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں : امام جعفر صادق علیہ السلام نے مجھے ایک ہزار دینار دے کر حکم دیا کہ اسے ان لوگو ں کے درمیان تقسم کر دو ں جوزید کے ہمراہ مصیبتو ں میں گرفتار ہوئے۔ فضیل رسان کے بھائی عبد اللہ بن زبیر کو ان میں سے ٤ درہم میسر ہوا ۔(الا رشاد ،ص ٢٦٩) شاید اس نام کے دو افراد ہیں کیونکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اصفہانی نے عبد اللہ بن زبیرکو شیعو ں کے برجستہ اور بزرگ محدثین میں شمار کر نے کے بعد اغانی کی ج١٣،ص ٣١پر اس بات کی تصریح کی ہے کہ وہ بنی امیہ کا پیر وتھا اور دل سے ان سے لگا ؤ رکھتا تھا اور بنی امیہ کے دشمنو ں کے مقا بلہ میں ان کی مدد ونصرت کر نا چا ہتا تھا اوراس سلسلے میں بے حد متعصب تھا۔وہ ان کے اور ان کے کا رمندو ں کے اوپر کسی کو تر جیح نہیں دیتا تھا۔ زیاداس کی ستائش اور اس کے ساتھ عطا و بخشش کرتا تھا اوراس کے قرضو ں کو بھی ادا کر تا تھا۔ ابن زیاد کے بارے میں ابن زبیر کی زبانی بہت ساری مدح وستائش موجود ہیں ۔اسی طرح اسما ء بن خارجہ فزاری کی مدح میں بھی اس کے اشعار موجود ہیں ۔(اغانی، ج٣١، ص ٣٣و ٣٧) سید مقرم نے اپنی کتاب ''الشھید مسلم ''میں اس مطلب کو ذکر کیاہے اور فرمایاہے : آیا کسی کے لئے یہ سزاوار ہے کہ مسلم اورہانی کے سلسلہ میں اس قسم کے اشعار کو ایسے شخص کی طرف نسبت دے جس کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ بنی امیہ کی طرف میلان رکھتاتھااوران کی مدح وستائش میں اس کے اشعار موجود ہیں ؟پھر سید مقرم نے ترجیح دی ہے کہ یہ اشعار فرزدق کے ہیں جوانھو ں نے ٦٠ھ میں حج سے لوٹتے ہوئے کہے تھے۔ (الشھید مسلم، ص ٢٠١)اصفہانی نے ان اشعا ر کو ابن زبیر اسدی مدائنی کی طرف منسوب کیا ہے اور اس نے ابو مخنف سے اور اس نے یوسف بن یزید سے روایت کی ہے ۔
اگر تم کو نہیں معلوم ہے کہ افتخار آمیزموت کیا ہوتی ہے تو ہانی اور مسلم بن عقیل کی موت کو بازار میں دیکھ لو جو انتہائی شجاع و بہادراور دلیر ہیں ،جن کے چہرے کو ظلم کی شمشیر نے لہو لہان کردیا اور وہ دوسرا دلیر جس کے خون سے آ غشتہ جسم قصر کے اوپر سے پھینک دیا گیا ۔ امیر عبیداللہ کا بیداد گر اور خشونت و
بربریت پر مبنی وہ حکم تھا جس نے ان دونو ں کو یہا ں تک پہنچادیا اور اب ان کی شہامت و شجاعت کی سر گذشت آئندہ نسلو ں کے لئے ایک داستان ہوگئی ۔ ان کے بے جان جسم کو دیکھو جس کے رنگ کوموت نے بدل دیا ہے اور سرخ خون ان کے جسم کے ہر حصہ میں روا ں ہے ۔ یہ وہ جوا ں مرد تھے جو شرم و حیا میں دوشیزگان سے بھی زیادہ حیا دار تھے اوربرش میں شمشیر دودم اور صیقل شدہ سے بھی زیادہ ان میں کاٹ تھی ۔ کیا اسماء بن خارجہ فزاری جو اموی جلاد کی جانب سے ان کے پاس گیا تھا اور فریب و دھوکہ دیکر ان کو ابن زیاد کے پاس لے کر آیا، وہ کوفہ کی گلیو ں میں امن و امان کے ساتھ اپنے مرکب پر بیٹھ کر گذرسکتا ہے ؟ جب کہ قبیلہ مذحج ہانی کے پاک خون کا اس سے طلب گار ہے ؟ ادھر قبیلہ مراد اس کے ارد گرد سائلو ں کی طرح گھوم رہاہے ۔ ہا ں جان لوکہ اگر تم نے اپنے سرو ر و سردار کے خون کا انتقام نہ لیا تو تم وہ فاحشہ عورت ہو جو تھوڑے سے مال کے لئے اپنی عفت و آبرو بیچنے پر راضی ہوجاتی ہے ۔
مکہ سے امام حسین علیہ السلام کی روانگی
* امام علیہ السلام کے ساتھ ابن زبیر کا موقف
* ابن عباس کی گفتگو
* ابن عباس کی ایک دوسری گفتگو
* عمر بن عبدالرحمن مخزومی کی گفتگو
* امام علیہ السلام کے ساتھ ابن زبیرکی آخری گفتگو
* عمرو بن سعید اشدق کا موقف
* عبداللہ بن جعفر کا خط
مکہ سے امام حسین علیہ السلام کی روانگی(١)
٢٨ رجب ٦٠ھبروز یکشنبہ امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ کی طرف کوچ کیا اورشب جمعہ ٣ شعبان ٦٠ ھ کو مکہ میں داخل ہوئے ۔ اس کے بعد شعبان ، رمضان ، شوال ، ذی قعدہ تک امام حسین علیہ السلام مکہ میں قیام پذیر رہے اور جب ذی الحجہ کے ٨ دن گذر گئے تو ''یوم الترویہ'' (جس دن تمام حاجی مکہ میں آجاتے ہیں ) بروز سہ شنبہ امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے سفر اختیار کیا جس دن جناب مسلم بن عقیل نے کوفہ میں اموی حکومت کے خلاف قیام کیا تھا ۔
امام علیہ السلام کے ساتھ ابن زبیر کا موقف
مکہ میں امام حسین علیہ السلام کے پاس آنے والوں میں سے ایک ابن زبیر بھی تھاجو کبھی تو دوروزپے در پے آیا کرتا تھا اورکبھی دو روز میں ایک مرتبہ آیا کرتا۔اسے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ جب تک مکہ میں امام حسین علیہ السلام موجود ہیں اہل حجاز نہ تو اس کی پیروی کریں گے اور نہ ہی اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے کیونکہ امام حسین علیہ السلام کی شخصیت ان کی نگاہوں میں عظیم ہے اور انھوں نے ان کے دلوں میں جگہ بنالی ہے۔(٢)
____________________
١۔ طبری کا بیان ہے کہ اسی سال ٦٠ھ ماہ رمضان میں یزیدنے ولید کو معزول کر کے اس کی جگہ پر عمرو بن سعید بن عاص اشدق کو مدینہ کا امیر بنا دیا ۔ عمرو ماہ رمضان میں وہا ں پہنچا ۔یہ شخص بہت بڑا کینہ توز اور بہت بولنے والا تھا (طبری ،ج٥، ص ٣٤٣) بعض روایتو ں میں ہے کہ ماہ ذی قعدہ ٦٠ھ میں مدینہ آیا تھا (طبری ،ج٥،ِ ص ٣٤٦)پھر طبری کا بیان ہے کہ یزید بن معاویہ نے اسی سال (٦٠ ھ) ولید بن عتبہ کو مکہ کی ریاست سے بھی معزول کر دیااور ان دونو ں کی ریاست عمروبن سعید بن عاص کے سپرد کر دی۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ اسی سال عمرو بن سعید نے لوگو ں کے ساتھ حج بھی انجام دیادرحالیکہ وہ مکہ اور مدینہ کا حاکم تھا۔ (طبری، ج٥، ص ٣٩٩)
٢۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے عبدالرحمن بن جندب نے روایت کی اور عبدالرحمن کا بیان ہے کہ مجھ سے عقبہ بن سمعان نے یہ روایت بیان کی ہے جو امام حسین علیہ السلام کی زوجہ جناب رباب بنت امرء القیس کا غلام تھا۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٣٥١)
ایک دن وہ کسی وقت امام حسین علیہ السلام کے پاس گفتگوکے لئے آکر بیٹھا اور کہا کہ میں تو نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ تباہ کار افراد ہم کو اس طرح چھوڑ دیں گے اور ہم سے دست بردار ہوجائیں گے کیونکہ انھیں بخوبی معلوم ہے کہ ہم اسلام کے فداکار مہاجر ہیں اور قوم و ملت کے نظم و نسق کی ذمہ داری اور اس کی زمام ہمارے ہاتھوں میں ہونی چاہیے۔ آپ مجھے بتائیں کہ آپ کا ارادہ کیا ہے اور آپ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟
امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا : خداکی قسم میں نے تو یہ فکر کی ہے کہ میں کوفہ چلاجاؤں کیونکہ ہمارے پیروئوں اور وہاں کے اشراف نے مجھے خط لکھ کر کوفہ بلا یا ہے اور میں خداسے یہی چاہتا ہوں کہ جو میرے لئے بہتر ہے وہی میرے حق میں انجام دے۔
ابن زبیرنے کہا : خداکی قسم اگر کوفہ میں آپ کے پیروئوں کی طرح میرے بھی چاہنے والے ہوتے تو میں انھیں نہیں چھوڑتا اور فوراً چلاجاتا ، پھر اسے خیال آیا کہ اس قسم کی باتوں سے اس کاراز کھل جائے گا اور وہ متہم ہوجائے گا لہٰذا فوراً بولا : ویسے اگر آ پ حجاز میں بھی قیام پذیر رہیں اور یہاں بھی امت کے امور اپنے ہاتھوں میں لینا چاہیں تو انشااللہ آپ کی کوئی مخالفت نہیں کرے گا۔ یہ کہہ کروہ اٹھا اور فوراً چلاگیاتو امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : اس بندہ خداکے لئے دنیا میں اس سے زیادہ محبوب تر کوئی چیز نہ ہوگی کہ میں حجاز سے نکل کر عراق چلاجاؤں اسے بخوبی معلوم ہے کہ میرے رہتے ہوئے لوگ اس کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے لہٰذاوہ چاہتا ہے کہ میں اس شہر سے چلا جاؤں تا کہ اس کے لئے راستہ آسان ہوجائے۔(١) و(٢)
____________________
١۔ابومخنف کا بیان ہے کہ حارث بن کعب والبی نے عقبہ بن سمعان کے حوالے سے مجھ سے یہ روایت بیان کی ہے (طبری، ج٥، ص ٣٨٢)
٢۔واقعیت یہ ہے کہ عبداللہ بن زبیرکو کوفیو ں کی منافقت اور نیرنگ و دھوکہ بازی کا خوف نہیں تھا بلکہ وہ اپنے مقصد تک پہونچنے کی فکرمیں تھا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام بھی اس کے ظرف وجود اور روحی و فکری گنجایش میں اتنی وسعت نہیں دیکھ رہے تھے کہ انجام کو اس کے لئے بیان کردی ں ؛ کیونکہ عقل مند آدمی ہر اس چیز کو بیان نہیں کر تا جس کو وہ جانتاہے اور دوسرو ں کو تمام واقعات سے رو شناس نہیں کراتا۔لوگو ں کے افکار اور ان کی صلاحیتی ں مختلف ہوتی ہیں اور بہت سارے افراد اپنے وجود میں اس بات کی توانائی نہیں رکھتے کہ بہت سارے حقائق سے آگاہ ہوسکی ں ، اسی بنیاد پر امام حسین علیہ السلام نے ابن زبیر کی فکری صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ان کے مطابق انہیں جواب دیا۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ابن زبیر کو امام حسین علیہ السلام کے قیام سے ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں تھا بلکہ وہ امام کو قیام کی ترغیب دلا رہا تھا،بحث فقط زمان و مکان کے بارے میں تھی ۔
ابن عباس کی گفتگو
جب امام حسین علیہ السلام نے مکہ چھوڑکر کوفہ جانے کا ار اد ہ کیا تو ابن عباس آپ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کی :یابن عم (اے چچا کے فرزند) لوگوں کے درمیان یہ بات پھیل چکی ہے کہ آپ عراق کی طرف روانہ ہونے والے ہیں ۔ ذرامجھے بتائیے کہ آپ کیا کرناچاہتے ہیں ؟امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا :'' انی قد أجمعت المسیر فی احدیومیّ ھٰذین(١) ان شاء اللّہ تعالیٰ '' میں نے ایک دو روز میں نکلنے کاقطعی فیصلہ کر رکھاہے، ان شاء اللہ ۔
١۔چونکہ مکہ سے امام حسین علیہ السلام کی روانگی کی تاریخ ٨ذی الحجہ یوم الترویہ بعدازظہر ہے اور یہ وہ وقت ہے جب لوگ منی کی طرف جارہے ہوتے ہیں (طبری، ج ٥ ،ص٣٨٥) اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ابن عباس اور امام علیہ السلام کے درمیان یہ گفتگو ٦ذی الحجہ کو انجام پذیر ہوئی ہے اور اس خبر کامشتہر ہونااس گفتگو سے زیادہ سے زیادہ دو دن پہلے ہے یعنی ٤ذی الحجہ کو یہ خبر پھیل گئی کہ امام علیہ السلام مکہ ترک کرنے و الے ہیں ؛لیکن اس سے قبل اس خبر کے مشتہر ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ وہ کون ساسبب ہے جس کی بنیاد پر اتنے دن مکہ میں رہنے کے بعد عین حج کے دن حج تما م ہونے سے پہلے ہی امام حسین علیہ السلام نے مکہ چھوڑدیا؟اگر یہ کہا جائے کہ جناب مسلم بن عقیل کے خط کی بنیاد پر جلدی کی، کیو نکہ اس میں مرقوم تھاکہ خط ملتے ہی فوراًروانہ ہو جائیے تو یہ صحیح نہیں ہے کیو نکہ جناب مسلم بن عقیل نے اپنی شہادت سے ٢٧دن قبل یعنی ٢ ١ یا١٣ذی القعدہ کو امام حسین علیہ السلام کو خط لکھاہے۔ ایسی صورت میں تقریباً دس(١٠) دن کے اندر یعنی ٢٧ ذی قعدہ تک یہ خط امام علیہ السلام کو موصول ہوچکا تھالہذا اگر امام علیہ السلام کو سفر کرنا ہی تھا تو انھیں دنوں میں سفر کر لیتے ۔یہ ٤دن قبل خبر کا مشتہر ہونا اور عین حج کے موقع پر سفر کرنے کا راز کیا ہے ؟ اس کا جواب ہمیں فرزدق کے سوال کے جواب میں ملتا ہے،جب راستے میں فرزدق شاعر کی ملاقات امام حسین علیہ السلام سے ہوئی تو اس نے بھی امام علیہ السلام سے یہی سوال کیا کہ اتنی جلدی کیا تھی کہ آپ حج چھوڑکر جارہے ہیں ؟
امام علیہ السلام نے جواب دیا :'' لولم أعجل لأخذت''(طبری ،ج٥،ص ٣٨٦) اگر میں جلدی نہ کر تا تو گرفتار کر لیاجا تا۔یہی وجہ ہے کہ شیخ مفید قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ جب امام علیہ السلام نے عراق کا قصد کیا تو خانہ کعبہ کا طواف کیا،صفاو مروہ کے درمیان سعی کی اور اسے عمرہ قرار دے کر احرام سے خارج ہو گئے کیونکہ مولا کا مل حج انجام دینے پر متمکن نہ تھے ہر آن اس کا خطرہ تھا کہ عین حج کے مو قع پر آپ کو گر فتار کر کے یزید بن معاویہ تک پہنچا دیا جائے لہٰذا امام علیہ السلام فوراً مکہ سے نکل گئے ۔(ارشاد، ص ٢١٨)معاویہ بن عمارنے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا :ماہ ذی الحجہ میں امام حسین علیہ السلام نے عمرہ انجام دیا پھر یوم الترویہ (٨ ذی الحجہ) کو عراق کی طرف کوچ کرگئے ۔یہ موقع وہ تھاکہ ادھر آپ عین حج کے موقع پر مکہ سے کوچ
کررہے تھے ادھر حجاج کرام حج کے لئے مکہ سے منیٰ کی طرف جارہے تھے ۔ ذی الحجہ میں جو حج نہ کرنا چاہے اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے کہ عمرہ انجام دے لے۔
اسی طرح ابراہیم بن عمر یمانی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو ایام حج میں عمرہ انجام دے کر باہر آجائے او روہاں سے ا پنے شہر کی طرف نکل جائے تو اس کا حکم کیا ہے ؟ امام علیہ السلام نے جواب دیا: کوئی مشکل نہیں ہے پھر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا : امام حسین علیہ السلام عمرہ انجام دے کر یوم الترویہ مکہ سے روانہ ہوئے تھے۔(وسائل، ج١٠ ،ص ٢٤٦)
یہی وجہ ہے کہ شیخ شوشتری نے فرمایا : دشمنوں نے پوری کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح امام حسین علیہ السلام کو پکڑ لیں یا دھوکہ سے قتل کردیں ،خواہ آپ کعبہ کی دیوار سے لپٹے ہوں ۔ امام علیہ السلام ان کے باطل ارادہ سے آگاہ تھے لہٰذا اپنے احرام کو عمرہ مفردہ میں تبدیل کر دیا اور حج تمتع ترک کردیا۔ (الخصائص، ص ٣٢،ط تبریز)شیخ طبرسی نے اعلام الوریٰ کی ایک خاص فصل میں امام علیہ السلام کے سفر کے واقعہ اور آپ کی شہادت کا تذکرہ کیا ہے۔ وہاں پر آپ نے ارشاد میں موجودشیخ مفید کی عبارت کوتقریباًبعینہ ذکر کیا ہے اوراس کی تصریح بھی نہیں کی ہے۔ اس فصل میں آپ نے انہیں باتوں کو ذکر کیا ہے جسے شیخ مفید نے لکھا ہے۔ہاں وہاں کلمہ '' تمام الحج''کے بجائے'' اتمام الحج ''کردیاہے جو غلط ہے اور شاید نسخہ برداروں کی خطا ہے۔ اس خطا کا سبب یہ ہے کہ ان دونوں کلمات میں بڑا فرق ہے کیونکہ کلمہ'' الاتمام'' کا مطلب یہ ہے کہ امام علیہ السلام نے احرام حج باندھ لیا تھا جبکہ کلمہ'' تمام الحج'' اس معنی کی طرف راہنمائی نہیں کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ '' الارشاد'' کے نسخہ مختلف ہیں کیونکہ شیخ قرشی نے شیخ مفید کے کلام کو اسی طرح نقل کیا ہے جس طرح طبرسی نے'' اتمام الحج '' نقل کیا ہے۔(ج٣ ،ص ٥٠) یہ انھوں ں نے ارشاد کے ص ٢٤٣سے نقل کیا ہے جبکہ ہم نے ارشاد کے ص ٢١٨ طبع حیدریہ پر'' تمام الحج'' دیکھاہے اور یہی صحیح ہے ۔
ابن عباس نے کہا : میں آپ کے اس ارارہ سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں ۔ اللہ آپ پر رحمت نازل کرے! ذرا مجھے بتائیے کہ کیا آپ اس قوم کی طرف سفرکرنا چاہتے ہیں جنھوں نے اپنے ظالم اور ستمگار حکمراں کو نابود کردیاہے اور اپنے شہر و دیار کو ان کے چنگل سے نجات دلادی ہے اور اپنے دشمنوں کو وہاں سے نکال بھگایا ہے ؟ اگر ان لوگوں نے ایساکیا ہے تو آپ فوراً رخت سفر باندھ لیجئے لیکن اگر ان لوگوں نے آپ کو اس حال میں بلایا ہے کہ ان کا حاکم ان پر مسلط اور قہر و غلبہ کے ساتھ ان پر قابض ہے ،اس کے عاملین شہروں میں اس کی طرف سے مالیات وصول کررہے ہیں تو ایسی صورت میں ان لوگوں نے آپ کو جنگ و جدال کے لئے بلایا ہے جس کی کوئی ضمانت نہیں اور نہ ہی آپ اس بات سے امن وامان میں ہیں کہ وہ آپ کو دھوکہ دیں ، جھٹلائیں ، مخالفت کریں اور چھوڑدیں ، نیز آپ اس سے بھی امان میں نہیں ہیں کہ اگر وہ آپ کی طرف آئیں تو آپ کے سخت دشمن بن جائیں ۔امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا : میں خدا سے طلب خیر کروں گا پھر دیکھوں گا کہ کیا ہوتا ہے۔( ١ ) و( ٢)
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے حارث بن کعب والبی نے عقبہ بن سمعان کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔ (طبری، ج ٥،ص٣٨٣)
٢۔ یہ بات یہا ں قابل توجہ ہے کہ ابن عباس ظلم کے خلاف امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مخا لف نہیں ہیں بلکہ قیام کے لئے حالات سازگار ہیں یا نہیں ، اس میں انھی ں شک ہے۔امام حسین علیہ السلام نے بھی ان کے نظریہ کو رد نہیں کیا بلکہ آپ ان کو اپنا خیر خواہ سمجھتے تھے لیکن اسی حال میں اپنے بلند مقصد اور اپنی رسالت کے سلسلہ میں کوشا ں تھے کیونکہ آپ اسی ماحول میں نظام اموی کے خلاف قیام کو لازم سمجھ رہے تھے۔
ابن عباس کی ایک دوسری گفتگو
سورج آہستہ آہستہ مغرب کے دامن میں اپنا چہرہ چھپانے لگا اورشب آگئی، اسی رات یا دوسرے دن صبح ابن عباس دوبارہ امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یابن عم ! میں بے حد صبر و تحمل سے کام لینا چاہتا ہوں لیکن مجھ سے صبر نہیں ہوتا کیونکہ میں اس سفر کو آپ کے لئے بے حد خطر ناک سمجھتا ہوں اور آپ کی ہلاکت سے مجھے خوف آتا ہے کیونکہ عراقی دھوکہ باز ہیں ؛ آپ خدا را ان کے قریب نہ جائیے؛ آپ اسی شہر میں مقیم رہیں کیونکہ آپ سید حجاز ہیں ۔ اب اگر اہل عراق آپ کو چاہتے ہیں تو آپ ان کو خط لکھ دیجیے کہ پہلے وہ اپنے دشمنوں کو وہاں سے بھگا ئیں پھر آپ وہاں جائیے؛اور اگر آپ نے جانے کے لئے عزم بالجزم کرہی لیا ہے تو آپ یمن روانہ ہوجائیں کیونکہ وہاں کی زمین وسیع ہے۔ اس کے علاوہ وہاں آپ توحید و عدالت کی دعوت اچھی طرح دے سکتے ہیں ۔ مجھے اس بات کی بھر پور امید ہے کہ آپ جو کرنا چاہتے ہیں وہاں کسی فشار اور طاقت فرسا رنج و غم کے بغیر انجام دے سکتے ہیں ۔
امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا : ''یابن عم !انی واللّه لأ علم انک ناصح (١) ومشفق ولکنی ازمعت و اجمعت علی المسیر''
یابن عم ! خدا کی قسم مجھے یقینی طور پر یہ معلوم ہے کہ آپ مخلص اور مشفق ہیں لیکن آپ یہ جان لیں کہ میں عزم با لجزم کر چکا ہوں اور سفرکے لئے تیار ہوں ۔
ابن عباس نے کہا : اگر ایسا ہے کہ آپ حتماً جانا ہی چاہتے ہیں تو اپنے ساتھ مخدرات اور بچوں کو نہ لیں جائیں ؛کیونکہ میں آپ کے قتل اور خاندان کی اسیری سے خوف زدہ ہوں ۔(٢)
عمر بن عبد الرحمن مخزومی کی گفتگو
عمر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام مخزومی(٣) کا بیان ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام عراق جانے کے لئے سامان سفر باندھ چکے تو میں ان کی خدمت میں آکر ان کی ملاقات سے شرفیاب ہوا
____________________
١۔ امام حسین علیہ السلام کے اس جملہ میں کلمہ ''ناصح '' خلوص و اخلاص کے معنی میں استعمال ہواہے، موعظہ اور نصیحت کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے ۔ اس لفظ کے لئے یہ معنی جدید اور نیا ہے، اس کا اصلی معنی نہیں ہے، امام فرمارہے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ ابن عباس کی گفتار میں خلوص و شفقت اور محبت و عطوفت پنہا ں ہے۔ اس سے انداہ لگایا جا سکتا ہے کہ ابن عباس امام علیہ السلام کے قیام کے مخالف نہ تھے بلکہ وہ اس شک وتردید میں تھے کہ قیام کے لئے حالات سازگار اور مناسب ہیں یا نہیں اور امام علیہ السلام نے بھی اس سلسلے میں ان کی بات کو رد نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ اس کے باوجود بھی وہ قیام کے لئے عازم ہیں کیونکہ وہ اس قیام کو شریعت مقدسہ کی زندگی کے لئے لازم اورضروری سمجھتے ہیں ۔
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے حارث بن کعب والبی نے عقبہ بن سمعان کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔ (طبری ج٥، ص ٣٨٣)
٣۔یہ وہی شخص ہے جسے مختار کے عہد حکومت میں عبداللہ بن زبیر نے ٦٦ھ میں کوفہ کا والی بنادیا تو مختار نے زائدہ بن قدامہ ثقفی کو اس کے پاس پانچ سو (٥٠٠) سپاہیو ں اور ستر (٧٠) ہزار درہم کے ساتھ روانہ کیا تا کہ وہ ان درہمو ں کے مقابلہ میں مختار کے لئے کوفہ کی گورنری چھوڑدے اور اگر وہ اس پر راضی نہ ہو تو پھر ان سپاہیو ں سے نبرد آزماہوجائے۔ عمر بن عبد الرحمن نے وہ درہم قبول کر لئے اور ر ا ہی ٔ بصرہ ہوگیا۔ (طبری، ج٦،ص ٧١) اب رہا امام علیہ السلام کی مدح و ثنا کا سوال تو اس روایت کا ناقل خود یہی شخص ہے۔ اس کا دادا حارث بن ہشام اور اس کا بھائی جھل بن ہشام دونو ں ہی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دشمن تھے۔ ہم نے اس کا تذکرہ مقدمہ میں کیاہے۔
اورثنائے الہٰی کے بعد ان کی خدمت میں عرض کیا: یابن عم !میں آپ کی خدمت میں ایک درخواست لے کر حاضرہواہوں جسے مخلصانہ نصیحت کے طور پرآپ سے عرض کرناچاہتاہوں ،اب اگر آپ مجھے اپناخیر خواہ اورصاحب فکر سلیم سمجھتے ہیں تومیں وہ عرضداشت آپ کی خدمت میں پیش کرو ں ورنہ میں جو کہناچاہتاہوں اس سے صرف نظرکرلوں ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:''قل فواللّٰه ما أظنّک بسییٔ الرأولا هو ٍ (١) للقبیح من الأمر و ا لفعل ''
تم جو کہنا چاہتے ہو کہو، خدا کی قسم میں اس بات کا گمان بھی نہیں کرتا کہ تم میرے لئے برا تصور رکھتے ہو اور میری بھلائی نہیں چاہتے۔
عمر بن عبدالرحمن مخزومی نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ آپ عراق جانا چاہتے ہیں اور میں آپ کے اس سفر سے خوفزدہ ہوں ؛کیونکہ آپ ایسے شہر میں جانا چاہتے ہیں جس میں اُمراء اور عاملین دونوں موجود ہیں اور ان کی پشت پناہی کے لئے بیت المال کا ذخیرہ موجود ہے۔ قوم درہم ودینار کی غلام ہے اور میں اس سے بھی آپ کو امن و امان میں نہیں سمجھتا کہ وہی لوگ آپ سے مقابلہ اور جنگ کے لئے کھڑے ہو جائیں گے جو ا بھی آپ کی نصرت کا وعدہ کررہے ہیں اور آپ کے دشمن کی دشمنی سے زیادہ آپ سے محبت کا دم بھرتے ہیں ۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:''جزاک اللّه خیراً یابن عم ! فقد واللّٰه علمت أنک مشیت بنصح و تکلّمت بعقل و مهما یقض من أمر یکن ، أخذت برأیک أو تر کته فأنت عندی أحمد مشیر وأنصحُ ناصح ''(٢) اے چچا کے فرزند خدا تم کو جزائے خیر دے ! خدا کی قسم مجھے معلوم ہے کہ تم خیر خواہی کے لئے آئے ہو اور تمہاری گفتگومیں عقل و خرد کے جلوے ہیں ؛ بنابر این حسب ضرورت یا تو تمہاری رائے پرعمل کروں گا یا اسے ترک کروں گا لیکن جو بھی ہو تم میرے نزدیک اچھا مشورہ دینے والے اور بہترین خیر خواہ ہو ۔
____________________
١۔ ھوٍ یعنی ھا ویا جس کی اصل ھویٰ ہے جس کے معنی برا ارادہ رکھنے والے کے ہیں ۔
٢۔طبری ،ج ٥،ص ٣٨٢ ،ہشام نے ابومخنف کے حوالے سے کہا ہے کہ مجھ سے صقعب بن زبیر نے عمر بن عبد الر حمن کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔
امام علیہ السلام کے ساتھ ابن زبیر کی آخری گفتگو
عبد اللہ بن سلیم اسدی اور مذری بن مشمعل اسدی کا بیان ہے کہ ہم دونوں حج کی غرض سے مکہ روانہ ہو ئے اور یوم ترویہ وارد مکہ ہو ئے۔وہاں پرہم نے سورج چڑہتے وقت حسین اورعبداللہ بن زبیر کو خانہ کعبہ کے دروازہ اور حجر الاسود کے درمیان کھڑے ہوئے دیکھا ، ہم دونوں ان کے نزدیک آگئے تو عبد اللہ بن زبیر کو حسین سے یہ کہتے ہو ئے سنا : اگر آپ یہاں قیام فرمائیں گے تو ہم بھی یہیں سکونت اختیار کریں گے اور یہاں کی حکومت اپنے ہا تھوں میں لے لیں پھرہم آپ کی پشت پنا ہی اور مدد کریں گے اور آپ کے مخلص و خیر خواہ ہو کر آپ کی بیعت کر لیں گے ۔
امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا :''اِن أبی حدّثنی : ''ان بها کبشاً یستحلّْ حرمتها ''! فما اْحبّ ان أکون أنا ذالک الکبش'' (١) و(٢)
میرے بابا نے مجھ سے ایک حدیث بیان فرمائی ہے کہ یہاں ایک سر برآوردہ شخص آئے گا جو اس حرم کی حرمت کو پامال کرے گا ، مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ وہ سر برآوردہ شخص میں قرارپاؤں ۔
ابن زبیرنے کہا : فرزند فاطمہ ! آپ ذرا میرے نزدیک آیئے تو امام علیہ السلام نے اپنے کانوں کو اس کے لبوں سے نزدیک کر دیا ۔ اس نے راز کی کچھ باتیں کیں پھرامام حسین ہماری طرف ملتفت ہوئے اور فر مایا :'' أتدرون ما یقول ابن زبیر ؟'' تم لوگو ں کو معلو م ہے کہ ابن زبیر نے کیا کہا ؟
ہم نے جواب دیا :. ہم آپ پر قربان ہوجائیں ! ہمیں نہیں معلوم ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے فر مایا: وہ کہہ رہاتھا کہ آپ اسی حرم میں خانہ خداکے نزدیک قیام پذیر رہیئے، میں آپ کے لئے لوگوں کو جمع کرکے آپ کی فرمانبرداری کی دعوت دوں گا۔پھر حسین نے فرمایا:
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ ابو جناب یحٰبن ابی حیہ نے عدی بن حرملہ اسدی سے، اس نے عبد اللہ سے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ (طبری، ج٥ ،ص ٣٨٤)
٢۔ الکبش : اس نر بکر ے کو کہتے ہیں جو عام طور پر گلہ کے آگے رہتا ہے۔ یہ درواقع تشبیہ ان لوگو ں کے لئے ہے جو کسی امر کی قیادت کرتے ہیں ۔ اس حدیث کے ذریعہ سے امام علیہ السلام نے ابن زبیر کو یاد دلا یا کہ شاید یاد آوری اس کو فائدہ پہنچا ئے لیکن یاد آوری تو مو منین کے لئے نفع بخش ہو تی ہے۔ ''فان الذکری تنفع المو منین ''
''واللّٰه لئن أقتل خارجاً منها بشبر أحبّ الیّ من أن اْقتل داخلاً منها بشبر وأیم اللّٰه لو کنت فی حجر ها مة من هٰذ ه الهوام لا ستخرجونی حتی یقفوافیّ حا جتهم، واللّٰه لیعتدنّ علیّ کما اعتدت الیهود فی السبت'' (١ ) و(٢)
خداکی قسم! اگر میں حرم سے ایک بالشت دور قتل کیاجاؤں تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے بہ نسبت اس کے کہ میں حرم کے اندر قتل کردیا جاؤں ، خدا کی قسم! اگر میں حشرات الارض کے سوراخ میں بھی چلاجاؤں توبھی یہ لوگ مجھے وہاں سے نکال کر میرے سلسلہ میں اپنی حاجت اور خواہش پوری کرکے ہی دم لیں گے۔ خدا کی قسم! یہ لوگ اس طرح مجھ پر ظلم و ستم روا رکھیں گے جس طرح روز شنبہ یہودیوں نے ظلم و ستم کیا تھا۔
عمرو بن سعید اشدق کا موقف
جب امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے روانگی اختیار کی تو مکہ کے گورنرعمروبن سعید بن عاص(٣) کے نمائندوں نے یحٰی بن سعید(٤) کی سربراہی میں حضرت پر اعتراض کیا۔ اور سب کے سب
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ ابو سعیدعقیصانے اپنے بعض اصحاب سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں ...۔(طبری ،ج٥،ص٣٨٥)
٢۔ یہ وہ بہترین جواب ہے جو امام حسین علیہ السلام نے تمام سوالو ں کے جو اب میں بہت مختصرطور پردیاہے کہ بہر حال بنی امیہ کو حضر ت کی تلاش ہے ؛ آپ جہا ں کہیں بھی ہو ں وہ آپ پر ظلم و ستم کری ں گے پس ایسی صورت میں لازم ہے کہ آپ فوراً مکہ چھوڑ دی ں تاکہ آپ کی مثال بکری کے اس گلہ کے بکرے کی جیسی نہ ہوجائے جو آگے آگے رہتا ہے جس کا ذکر آپ کے والد حضرت امیر المومنین نے کیا تھا۔ اسی خوف سے آپ فوراً نکل گئے کہ کہیں آپ کی اور آپ کے خاندان کی بے حرمتی نہ ہوجائے اور ادھر اہل کوفہ کی دعوت کا جواب بھی ہوجائے گا جو آپ کے لئے ان پر اتمام حجت ہو گی تا کہ یہ الزام نہ آئے کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے بعد امت کے لئے کوئی حجت نہ تھی اور لوگ یہ نہ کہہ سکی ں کہ اللہ کی جانب سے تو پیغمبرو ں کے بعد ہمارے لئے کوئی حجت ہی نہ تھی۔''لئلا یکون للناس علی اللّٰہ حجة بعدالرسول'' (سورہ ٔنساء ١٦٥)اور تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے :'' لولا أرسلت الینا رسولأ منذراًو أقمت لنا علماً ھادیاً فنتبع آیاتک '' تو نے ہم تک ڈرانے والا کوئی پیغمبر کیو ں نہ بھیجا اور ہمارے لئے کوئی ہدایت کرنے والی نشانی کیو ں نہ قائم کی تاکہ ہم تیری نشانیو ں کی پیروی کر تے۔اہم بات یہ ہے کہ اس وحشت وخوف کے ماحول میں کوفہ نہ جاتے تو اور کہا ں جاتے؛ جب کہ زمین اپنی وسعتو ں کے باوجود آپ پر تنگ کردی گئی تھی ۔
٣۔ جب عمر و بن سعید مدینہ کا والی ہوا تو اس نے عبیداللہ بن ابی رافع جو امام علی بن ابیطالب کے کاتب تھے،کو بلایا اور ان سے پوچھا: تمہارامولا کون ہے ؟ انھو ں نے جواب دیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) (یہ ابو رافع ،ابوا حیحہ سعید بن عاص اکبر کے غلام تھے جو سعید بن عاص کے بیٹو ں کو میراث میں ملے تھے۔ ان میں سے تین بیٹو ں نے اپناحصہ آزاد کردیا اور یہ سب کے سب جنگ بدر میں مارڈالے گئے اورایک بیٹے خالد بن سعید نے اپنا حصہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کو ھبہ کردیا تو آ پ نے اسے آزاد کر یا) یہ سنتے ہی اس نے سو کوڑے لگائے پھر پوچھا تیرا مالک ومولا کون ہے ؟ انہو ں نے پھر جواب دیا :ر سول خدا ! تو اس نے پھر سو کوڑے لگائے۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا، وہ پوچھتا جاتا تھا اور یہ جواب میں کہتے جاتے تھے: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور وہ کوڑے برسائے جاتاتھا یہا ں تک کہ پانچ سو کوڑے مارے اور پھر پوچھاکہ تمہارامولا و مالک کون ہے؟ تو تاب نہ لاکرعبیداللہ بن ابورافع نے کہہ دیا :تم لوگ میرے مالک و مختار ہو ۔یہی وجہ ہے کہ جب عبدالملک نے عمرو بن سعید کو قتل کیا تو عبیداللہ بن ابی رافع نے شعر میں قاتل کا شکریہ اداکیا۔(طبری ،ج٣، ص ١٧٠)
عمرو بن سعیدنے ابن زبیر سے جنگ کی۔ (طبری ، ج٥،ص ٣٤٣) اور جو بھی ابن زبیر کا طرفدار تھا اسے مدینہ میں مارڈالاتھا ۔جن میں سے ایک محمد بن عمار بن یاسر تھے۔اس نے ان میں سے چالیس یا پچاس یا ساٹھ لوگو ں کوماراہے ۔(طبری ،ج٥ ،ص ٣٤٤) جب اس تک امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر پہنچی تو اس نے خوشیا ں منائی ں اور جب بنی ہاشم کی عورتو ں کا بین سنا تو کہنے لگا کہ یہ بین عثمان کے قتل پر انکے گھر کی عورتو ں کے بین کا جواب ہے پھر یہ منبر پر گیا اور لوگو ں کو اس سے باخبر کیا ۔ اس کے بعد یزید کو معلوم ہوا کہ عمرو بن سعید ، ابن زبیر سے رفق و محبت سے پیش آرہاہے اور اس پر تشدد نہیں کر رہاہے تو یکم ذی الحجہ ٦١ھکو اسے معزول کردیا۔ (طبری ،ج٥ ،ص٤٧٧) تو یہ اٹھکر یزید کے پاس آیااور اس سے معذرت خواہی کی۔ (طبری ،ج٥،ص ٤٧٩) اس کاباپ سعید بن عاص ، معاویہ کے زمانے میں مدینہ کا والی تھا۔ (طبری، ج٥ ، ص٢٤١)
٤۔یہ عمرو بن سعید کابھائی ہے۔اس نے شام میں عبدالملک کے دربار میں ان ایک ہزار جوانو ں کے ساتھ اپنے بھائی کی مدد کی جو اس کے ساتھی اور غلام تھے لیکن آخر میں وہ سب بھاگ گئے اور اسے قید کر لیا گیا پھر آزاد کردیا گیا تو یہ ابن زبیر سے ملحق ہو گیا۔ (طبری، ج٦،ص ١٤٣، ١٤٧) پھر کوفہ روانہ ہوگیا اور اپنے ماموؤ ں کے پاس پناہ لی جو جعفی قبیلہ سے متعلق تھے۔جب عبدالملک کوفہ میں داخل ہوا اور لوگو ں نے اس کی بیعت کرنا شروع کردی تو اس نے بھی اس کی بیعت کر لی اور امن کی درخواست کی۔ (طبری ،ج٦ ، ص ١٦٢)
امام علیہ السلام سے کہنے لگے : اپنے ارادہ سے منصرف ہو جائیے! آپ کہاں جارہے ہیں ! امام علیہ السلام نے انکار کیا اور دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے یہاں تک کہ انھوں نے تازیانہ بلندکر لیا لیکن امام علیہ السلام اپنی راہ پر گامزن رہے۔ جب امام علیہ السلام کو ان لوگوں نے جاتے ہوئے دیکھاتوبلند آوازمیں پکارکر کہا : اے حسین !کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے جو جماعت سے نکل کر اس امت کے درمیان
تفرقہ اندازی کررہے ہو ! ان لوگوں کی باتیں سن کر امام علیہ السلام نے قران مجید کی اس آیت کی تلاوت فرمائی( : لِیْ عَمَلِیْ وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ اَنْتُمْ بَرِيْئُوْنَ مِمَّا اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِی ئْ مِمَّا تَعْمَلُوْنَ'' ) (١) و(٢)
اگر وہ تم کو جھٹلائیں تو تم کہہ دو کہ ہمارا عمل ہمارے لئے اور تمہاری کارستانی تمہارے لئے ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کے تم ذمہ دار نہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔
عبداللہ بن جعفر کاخط
چوتھے امام حضرت علی بن حسین بن علی (علیہم السلام) کا بیان ہے کہ جب ہم مکہ سے نکل رہے تھے تو عبداللہ بن جعفربن ابیطالب(٣) نے ایک خط لکھ کر اپنے دونوں فرزندوں عون و محمد(٤) کے ہمراہ روانہ کیا جس کی عبارت یہ ہے:
____________________
١۔ سورہ ٔیونس ٤١
٢۔ طبری، ج٥، ص ٣٨٥،ابو مخنف کا بیان ہے کہ حارث بن کعب والبی نے عقبہ بن سمعان کے حوالے سے مجھ سے یہ روایت بیان کی ہے ۔
٣۔ آپ جنگ جمل میں امیر المومنین کے لشکر میں تھے اور عائشہ کو مدینہ پہنچانے میں آپ نے آنحضرت کی مدد فرمائی تھی ۔(طبری، ج٤، ص٥١٠)آپ کی ذات وہ ہے جس سے حضرت امیر المومنین کوفہ میں مشورہ کیا کرتے تھے۔ آ پ ہی نے حضرت کو مشورہ دیا تھا کہ محمد بن ابی بکر جو آپ کے مادری بھائی بھی تھے، کو مصر کا والی بنادیجئے۔ (طبری ،ج٤، ص ٥٥٤)آپ جنگ صفین میں بھی حضرت علی علیہ السلام کے ہمراہ تھے اور آپ کے حق میں بڑھ بڑھ کر حملہ کررہے تھے۔ (طبری ،ج٥ ، ص ١٤٨)بنی امیہ کے خلاف امام حسن علیہ السلام کے قیام میں بھی آپ ان کے مدد گار تھے (طبری ،ج٥،ص ١٦٠) اور جب صلح کے بعد سب مدینہ لوٹنے لگے تو دونو ں امامو ں کے ہمراہ آپ بھی مدینہ لوٹ گئے۔ (طبری ،ج٥ ، ص ١٦٥) آپ کے دونو ں فرزند عون و محمد امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ تھے۔ جب آپ تک ان کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا :''واللّه لو شهدته ،لأ حببت الّا أفارقه حتی أقتل معه'' خداکی قسم اگر میں موجود ہوتا تو واقعاً مجھے یہ محبوب تھا کہ میں ان سے جدا نہ ہو ں یہا ں تک کہ ان کے ہمراہ قتل ہوجاؤ ں ۔ (طبری ج٥ ، ص ٤٦٦)
٤۔یہ دونو ں امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ کربلامیں جام شہادت نوش فرماکرسرفراز ہوئے۔ طبری کے بیان کے مطابق عون کی ما ں جمانہ بنت مسیب بن نجبہ بن فزاری ہیں (مسیب بن نجبہ توابین کے زعماء میں شمار ہوتے ہیں ) اور محمد کی ما ں خو صاء بنت خصفہ بنت ثقیف ہیں جو قبیلہ بکربن وائل سے متعلق ہیں ۔
'' امابعد ، فانّی أسألک باللّه لمّا انصرفت حین تنظر فی کتابی فانّی مشفق علیک من الوجه الذی تتوجه له أن یکون فیه هلاکک واستئصال اهل بیتک ، أن هلکت الیوم طفیٔ نور الارض فانک علم المهتدین ورجاء المؤمنین، فلا تعجل بالسیر فانّی فی أثر الکتاب؛ والسلام ''
اما بعد : جب آپ کی نگاہ میرے خط پر پڑے تو میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنے ارادہ سے منصرف ہو جائیے ؛کیو نکہ آپ نے جس طرف کا رخ کیا ہے مجھے خوف ہے کہ اس میں آپ کی ہلا کت اور آپ کے خاندان کی اسیری ہے اور اگر آپ دنیا سے گذرگئے تو زمین کا نور خاموش ہو جا ئے گا؛ کیوں کہ آپ ہدایت یافتہ افراد کے پر چمدار اور مو منین کی امید ہیں ؛ لہٰذا آپ سفر میں جلدی نہ کریں ۔ میں اس خط کے پہنچتے پہنچتے آپ کی خدمت میں شر فیاب ہو رہا ہوں ۔ والسلام
عبد اللہ بن جعفر اس خط کے فوراًبعد عمرو بن سعید بن عاص کے پاس گئے اور اس سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا : حسین (علیہ السلام) کو ایک خط لکھو جس میں تم ان کے امن وامان کا تذکرہ کرو ، اس میں ان سے نیکی اور صلہ رحم کی تمنا وآرزو کرو اور اطمینان دلا ؤ، ان سے پلٹنے کی درخواست کرو، شائد وہ تمہاری باتوں سے مطمئن ہو کر پلٹ آئیں اور اس خط کو اپنے بھائی یحٰی بن سعید کے ہمراہ روانہ کرو؛ کیو نکہ وہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس سے وہ مطمئن ہوں اور ان کو یقین ہو جا ئے کہ تم اپنے قصد میں مصمم ہو۔عمر وبن سعید نے عبد اللہ بن جعفر کو جواب دیتے ہو ئے کہا : تم جو چا ہتے ہو لکھ کر میرے پاس لے آؤ میں اس پر مہر لگا دوں گا، بنابر یں عبد اللہ بن جعفر نے اس طرح نامہ لکھا :
بسم اللہ الر حمن الر حیم ،یہ خط عمر وبن سعید کی جانب سے حسین بن علی کے نام ہے ۔
اما بعد : میں خدا وند متعال سے در خواست کر تا ہوں کہ آپ کو ان چیزوں سے منصرف کر دے جس میں آپ کا رنج و ملال ہے اور جس میں آپ کی ہدایت ہے اس طرف آپ کو سر فراز کرے ۔مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے عراق کا رخ کیا ہے ۔
خداوند عالم آپ کو حکومت کی کشمکش او رمخالفت سے محفو ظ رکھے؛ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ اس میں آپ کی ہلاکت ہے۔ میں آپ کی طرف عبداللہ بن جعفر اور یحٰبن سعید کوروانہ کررہا ہوں ؛آپ ان دونوں کے ہمراہ میرے پاس تشریف لے آئیے کیونکہ میرے پاس آپ کے لئے امان ، صلہ رحم ، نیکی اورخانہ خداکے پاس بہترین جائیگاہ ہے۔ میں خداوند عالم کو اس سلسلے میں گواہ ، کفیل ، ناظر اور وکیل قر ار دیتاہوں ۔ والسلام
خط لکھ کر آپ اسے عمر و بن سعید کے پاس لے کر آئے اور اس سے کہا: اس پر مہر لگاؤ تواس نے فوراًاس پر اپنی مہر لگادی اور اس خط کو لے کرعبداللہ بن جعفر اور یحٰی امام علیہ السلام کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر آپ کی خدمت میں یحٰی بن سعیدنے خط پڑھا تو امام حسین علیہ السلام نے عمر و بن سعید کو خط کا جواب اس طرح لکھا:
بسم اللّہ الرحمن الرحیم
امابعد، فانه لم یشاقق الله ورسوله من دعاالی اللّٰه عزَّو جلَّ وعمل صالحاًو قال أنّنی من المسلمین؛وقد دعوت الیٰ الامان والبرّو الصلة فخیرالامان امان الله ولن یؤمّن اللّٰه یوم القیامةمن لم یخفه فی الدنیا، فنسأل اللّٰه مخافة فی الدنیاتوجب لنا أمانه یو م القیامة فان کنت نویت بالکتاب صلتی و برّی فجُزیتَ خیراًفی الدنیاوالآخرة ۔ والسلام
بسم اللّہ الرحمن الرحیم ، امابعد،ہر وہ شخص جو لوگوں کو خدائے عزّو جلّ کی طرف دعوت دیتاہے اور عمل صالح انجام دیتاہے اور کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو وہ خدااور رسول کی مخالفت نہیں کرتا ہے اور تم نے جو مجھے امان ، نیکی اور صلہ رحم کی دعوت دی ہے تو جان لو کہ بہترین امان خداوندمتعال کی امان ہے اور قیامت میں وہ شخص اللہ کی امان میں نہیں ہے جو دنیا میں اللہ سے نہیں ڈرتا ۔میں دنیامیں خدا سے اس خوف کی درخواست کرتا ہوں جو آخرت میں قیامت کے دن ہمارے لئے اما ن کا باعث ہو۔اب اگر تم نے اپنے خط کے ذریعہ میر ے ساتھ صلہ رحم اور نیکی کی نیت کی ہے تو تم کو دنیاوآخر ت میں اس کی جزا ملے گی۔
وہ دونوں امام علیہ السلام کا جواب لے کرعمرو بن سعید کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم دونوں نے تمہارے خط کو ان کے سامنے پڑھا اور اس سلسلے میں بڑی کو شش بھی کی لیکن اس سلسلہ میں ان کا عذر یہ تھا کہ وہ فر ما رہے تھے :'' انّی رأیت رؤیاً فیهارسول اللّٰه صلّی اللّٰه علیه (وآله) وسلم وأُمرتُ فیها بأ مرٍأنا ما ضٍ له، علیّ کان أولٰ''
میں نے ایک ملکو تی خواب دیکھا ہے جس میں رسو ل خدا صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم موجو د تھے۔ اس خوا ب میں آپ نے مجھ کو ایک چیز کا حکم دیا گیا ہے۔میں اس پر ضرور عمل کروں گا اور یہ مجھ پر سب سے زیادہ اولیٰ ہے۔
جب ان دونوں نے امام علیہ السلام سے پوچھا کہ وہ خواب کیا تھا ؟تو آپ نے فر مایا :'' ما حدثت بها أحداً وما أنا محدّ ث بها حتی ألقی ربِّی'' (١) اور(٢) میں یہ خواب کسی سے بیان نہیں کرسکتا اور نہ ہی میں یہ خواب کسی سے بیان کرنے والا ہوں یہاں تک کہ اپنے رب سے ملا قات کر لوں ۔
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ حارث بن کعب والبی نے علی بن الحسین (علیہما السلام) کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری ،ج٥،ص٣٨٨)
٢۔امام علیہ السلام یہ مناسب نہیں دیکھ رہے تھے کہ اپنے سفر کے رازسے سب کو آشنا کر تے کیو نکہ انسان جوکچھ جا نتا ہے وہ سب بیان نہیں کر دیتا ہے خصوصاً جبکہ انسان ظرف و جودکے لحاظ سے مختلف و متفاوت ہو ں اور امام علیہ السلام پر واجب ہے کہ ہر شخص کو اس کے وجود کی وسعت اور معرفت کی گنجا ئش کے اعتبار سے آشنائی بہم پہنچائی ں ، اسی لئے امام علیہ السلام نے ان لوگو ں کو ایک واقعی جو اب دیدیا کہ''لم یشا قق الله ورسوله من دعا الی اللّٰه وعمل صالحاً ...وخیر الا مان أمان اللّٰه و لن یؤمن اللّٰه یوم القیامةمن لم یخفه فی الدنیا فنسأل اللّٰه مخافةفی الدنیا تو جب لنا أما نه یوم القیامه ''
اور جب وہ لوگ اس جواب سے قانع نہ ہو ئے تو امام علیہ السلام نے کہہ دیاکہ آپ کو ایک ایسے خواب میں حکم دیا گیا ہے جس میں خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود تھے کہ آپ اپنے سفر کو جاری رکھی ں ؛ لیکن آپ نے اس خواب کو بیان نہیں کیا اور یہ کہہ کربات تمام کردی : ''وما أنا محدث لها حتی ألقی ربی ''
شاید یہیں پرا حمد بن اعثم کوفی متوفی ٣١٠ ھ نے امام علیہ السلام کے اس خواب کا تذکر ہ کر دیا ہے جو آپ نے اپنے جد کی قبر پر مد ینہ میں دیکھا تھا لیکن یہ کیسے معلوم کہ یہ خواب وہی ہے ؟ جب امام علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ خواب خدا کی ملا قات سے قبل میں کسی سے بھی بیان نہیں کرو ں گا یعنی یہ وہی بات ہے جس کا میں نے عہد کیا ہے ۔ واللہ اعلم بہ ، اللہ اس سے بہتر آگاہ ہے۔
راستہ کی منزلیں
* پہلی منزل: تنعیم
* دوسری منزل : صفاح
*تیسری منزل : حاجر
* چوتھی منزل:چشمۂ آب
* پانچویں منزل : خزیمیہ
* زہیر بن قین کا امام علیہ السلام سے ملحق ہونا
* ایک اور نامہ
* چھٹی منزل :زرود
* ساتویں منزل :ثعلبیہ
* آٹھویں منزل:زبالہ
* نویں منزل : درّہ عقبہ
* دسویں منزل : شراف
* گیارہویں منزل : ذو حسم
* بارہویں منزل : البیضہ
* تیرہویں منزل : عذیب الھجانات
* چودہویں منزل : قصر بنی مقاتل
* قربان گاہ عشق نینوا
راستہ کی چودہ (١٤)منزلیں
پہلی منزل :تنعیم(١)
امام حسین علیہ السلام نے اپنے سفرکو جاری رکھااورراستہ میں آپ کا گذرایک ایسی جگہ سے ہوا جسے تنعیم کہتے ہیں ۔ وہاں آپ کی ملاقات ایک قافلہ سے ہوئی جسے بحیر بن ریسان حمیر ی(٢) نے یزید بن معاویہ کی طرف روانہ کیا تھا۔ یہ شخص یمن میں یزید کاکار گزار تھا۔ اس قافلہ کے ہمراہ الورس(٣) اور بہت سارے شاہانہ لباس تھے جسے عامل یمن نے یزید کے پاس روانہ کیا تھا۔امام علیہ السلام نے اس کا روان کے سارے بار کو اپنی گرفت میں لے لیا اور قافلہ والوں سے فرمایا :''لا أکر هکم من أحب أن یمضی معنا الی العراق أوفینا کراء ه وأحسنا صحبته، ومن أحب أن یفارقنا من مکاننا هذا أعطیناه من الکراء علیٰ قدر ماقطع من الارض''
____________________
١۔یہ مکہ سے دوفرسخ پر ایک جگہ ہے جیساکی معجم البلدان ج٢،ص٤١٦پر مرقوم ہے ۔ مکہ کے داہنی جانب ایک پہاڑہے جسے تنعیم کہتے ہیں اور شمالی حصہ میں ایک دوسراپہاڑہے جسے ''ناعم ''کہتے ہیں او راس وادی کو ''نعیمان''کہتے ہیں ۔وہا ں پر ایک مسجد موجود ہے جو قر یب ترین میقات اورحرم سے نزدیک ترین احرام سے باہر آنے کی جگہ ہے آج کل یہ جگہ مکہ کے مرکزی علاقہ سے ٦ کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے جس کا مطلب یہ ہو ا کہ ایک فرسخ ہے نہ کہ دو فرسخ ۔ اس وقت شہر سے لے کر یہا ں تک پورا ایک متصل اور وسیع علاقہ ہے جو مدینہ یا جدہ سے مکہ آنا چاہتا ہے اسے ادھر ہی سے ہو کر گذرنا پڑتا ہے۔
٢۔گویایہ وہی شخص ہے جو علم نجوم میں صاحب نظر تھاکیونکہ اس نے عبداللہ بن مطیع کو بتایا تھا کہ جب ابن زبیر قیام کرے گا تو وہ کوفہ کاوالی بنے گا۔(طبری ،ج٦، ص ٩) طاوؤ س یمانی جو بہت معروف ہیں اس شخص کے آقا تھے۔طاوؤ س یمانی نے مکہ میں ١٠٥ھ میں وفات پائی۔(طبری، ج٦، ص٢٩)
٣۔ الورس؛ یہ خاص قسم کی گھاس ہے جو تل کی طرح ہوتی ہے اور رنگ ریزی کے کام آتی ہے اور اس سے زعفران بھی بنایا جاتا ہے۔ یہ گھاس یمن کے علاوہ کہیں بھی نہیں ملتی ہے۔
ممکن ہے کہ بادی النظر فکر میں کسی کو امام علیہ السلام کا یہ فعل العیاذباللہ نا مناسب لگے کہ آپ نے درمیان سے قافلہ کے بار کو اپنی گرفت میں کیو ں لیا؟ یہ تو غصب ہے لیکن وہ افراد جو تاریخ کی ابجد خوانی سے بھی واقف ہو ں گے وہ بالکل اس کے برعکس فیصلہ کری ں گے۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق تو امام علیہ السلام کا کام غلط ہوہی نہیں سکتا، انھو ں نے جو کیا وہی حق ہے لیکن ایک غیر کے لئے تا ریخ کی ورق گردانی کافی ہوگی اور جب وہ تاریخ کے اوراق میں امام حسن علیہ ا لسلام کی صلح کے شرائط پر نگاہ ڈالے گا تو ظاہری اعتبار سے بھی یزید کا تخت حکومت پر براجمان ہونا غلط ثابت ہوگا اور وہ ایک باغی شمار کیا جائے گا جس نے مسلمانو ں کے بیت المال کو غصب کیاہے اور امام حسین علیہ السلام امت مسلمہ کے خلیفہ قرار پائی ں گے جن کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی ہر ممکن کوشش صرف کرکے اس غاصب و باغی تک اموال مسلمین پہنچنے سے مانع ہو ں پس یمن کے اس قافلہ کو روک کر اموال کو اپنی گرفت میں لینا امام علیہ السلام کا اولین فریضہ تھا لہٰذا ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے قافلہ والو ں سے بڑی دلنشین گفتگو کی جب کہ ظالم وجابر حکومت کی نگاہ میں ایسے افراد لائق گردن زدنی یا قابل قید و بندہوتے ہیں ۔(مترجم)
میں تم لوگوں پر کوئی زبر دستی نہیں کرتا لیکن تم میں جو یہ چاہتا ہے کہ ہمارے ساتھ عراق چلے تو ہم اس کو کرایہ سفر بھی دیں گے اور اس کی ہمراہی کو خوش آمدید بھی کہیں گے اور جو ہم سے یہیں سے جدا ہونا چاہتا ہے اسے بھی ہم اتنا کرایہ سفر دے دیں گے کہ وہ اپنے وطن تک پہنچ جائے ۔
امام علیہ السلام کی اس دلنشین گفتار کے بعد جو بھی اس قافلہ نور سے جدا ہوا اسے امام علیہ السلام نے اس کا حق دے دیا اور جس نے رکنا چاہا اسے کرایہ دینے کے علاوہ اما م علیہ السلام نے لباس بھی عطا کیا۔(١)
دوسری منزل : الصفاح(٢)
عبداللہ بن سلیم اسدی اور مذری بن مشمعل اسدی کا بیان ہے کہ پہلی منزل سے چلنے کے بعدہم لوگ امام حسین علیہ السلام کے قافلہ کے ہمراہ دوسری منزل پر پہنچے جسے '' الصفاح '' کہتے ہیں اور وہاں ہماری ملاقات فرزدق بن غالب(٣) شاعر سے ہوئی۔ وہ حسین علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا: خدا وند متعال آپ کی حاجت کو پورا کرے اور آ پ کی تمنا و آرزو کو منزل مراد تک پہنچائے ۔
____________________
١۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے حارث بن کعب والبی نے عقبہ بن سمعان کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری،ج٥، ص ٣٨٥)
٢۔یہ جگہ حنین اور انصاب الحرم کے درمیان ہے جو بہت آ سانی سے مکہ میں داخل ہونے کا راستہ ہے ۔
٣۔ اس شخص کا نام ھمام بن غالب بن صعصہ ہے۔ ان کے دونو ں چچا'' ذھیل'' اور ''زحاف ''بصرہ میں زیاد بن سمیہ کے دیوان میں دو دو ہزار بخشش لیا کرتے تھے ۔انھو ں نے بنی نہشل اور فقیم کی ہجو میں اشعار کہے تو ان دونو ں نے زیاد سے جا کر ان کی
شکایت کی ۔جب اس نے فرزدق کو طلب کیا تویہ وہا ں سے بھاگ گئے۔ اس کے بعد نوبت یہ آ گئی جب زیاد بصرہ آتا تھا تو فرزدق کوفہ آجاتے تھے اور جب وہ کوفہ آتا تھا تو فرزدق بصرہ روانہ ہوجاتے تھے۔ واضح رہے کہ زیاد ٦ مہینہ بصرہ رہتا تھااور ٦ مہینہ کوفہ کے امور سنبھالتا تھا۔ اس کے بعد یہ حجاز چلے گئے اور وہیں مکہ ومدینہ میں رہنے لگے۔اس طرح زیاد کی شرارتو ں سے بچ کر سعید بن عاص کی پناہ میں رہنے لگے یہا ں تک کہ زیاد ہلاک ہوگیا(طبری، ج٥، ص ٢٤٢، ٢٥٠)تو انھو ں نے اس کی ہجو میں مرثیہ کہا :
بکیت امرئً امن آ ل سفیان کافراً ککسری علی عدوانہ أو کقیصراً (طبری، ج٥،ص ٢٩٠)میں نے آل سفیان کے ایک مرد پر گریہ کیا جو کافر تھا جیسے قیصر و کسری اپنے دشمن پر روتے ہیں ۔
ابن زیاد کی ہلاکت کے بعد یہ دوبارہ بصرہ پلٹ گئے اور وہیں رہنے لگے۔ ٦٠ھمیں یہ اپنی ما ں کے ہمراہ حج پر آ رہے تھے جب ان کی امام حسین علیہ السلام سے ملاقات ہوئی شاید اسی لئے حسین علیہ السلام کے ہمراہ کربلا میں حاضری نہ دے سکے۔ (طبری، ج٥، ص ٣٨٦) انھو ں نے حجاج کے لئے بھی شعر کہے ہیں ۔(طبری ،ج٦،ص ٣٨٠و ٩٣٩٤) سلیمان بن عبدالملک کے محل میں بھی ان کی آمد ورفت تھی۔ (طبری ،ج٥، ص ٥٤٨)١٠٢ھ تک یہ شاعر زندہ رہے۔(طبری ،ج٥، ص ٢٤٢ ، ٢٥٠) بنی نہشل کی ہجو میں جب انھو ں نے اشعار کہے تھے تو یہ جوان تھے بلکہ ایک نوجوان اعرابی تھے جو دیہات سے آئے تھے۔ (طبری ،ج٥ ، ص ٢٤٢) ایسی صورت میں امام علیہ السلام سے ملاقات کے وقت ان کی عمر ٣٠سال سے کم تھی۔
امام علیہ السلام نے اس سے کہا :''بيّن لنا نبأ الناس خلفک'' تم جس شہر اور جہا ں کے لوگو ں کو اپنے پیچھے چھوڑ کر آئے ہو ان کی خبری ں ہمارے لئے بیان کرو ۔فرزدق نے کہا : آ پ نے واقف کار شخص سے سوال کیا ہے تو سنئے :'' قلوب الناس معک ''لوگو ں کے دل آپ کے ساتھ ہیں ''و سیوفهم مع بنی امیه'' اور ان کی تلواری ں بنی امیہ کے ساتھ ہیں'' والقضاء ینزل من السمائ'' لیکن فیصلہ و قضا تو خدا وند عالم کی طرف سے ہے ''واللّہ یفعل ما یشائ'' اور اللہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے ان سے کہا : تم نے سچ کہا، اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے ؛ہمارے رب کی روزانہ اپنی ایک خاص شان ہے لہٰذا اگر اس کا فیصلہ ایسا ہوا جو ہمیں محبوب ہے تو اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں گے اور شکر کی ادائیگی میں وہ ہمارا مدد گا ر ہے اور اگرفیصلہ الہٰی ہماری امیدوں کے درمیان حائل ہوگیا تب بھی اس شخص کے لئے کچھ نہیں ہے جس کی نیت حق اور جس کی سرشت تقویٰ ہے۔ یہ کہہ کر امام علیہ السلام نے اپنی سواری کو حرکت دی تو انھوں نے امام کو سلام کیا اور دونوں جدا ہوگئے۔(١) و(٢) جب عبیداللہ بن زیاد کو خبر ملی کہ امام حسین علیہ السلام مکہ سے عراق کی طرف آرہے ہیں تو اس نے اپنی پولس کے سربراہ حصین بن تمیم تمیمی کو روانہ کیا۔ اس نے مقام قادسیہ میں آکر پڑاؤ ڈالا اور قادسیہ(٣) و خفا ن(٤) کے درمیان اپنی فوج کو منظم کیا اسی طرح قادسیہ اور قطقطانہ(٥) اورلعلع کے درمیان اپنی فوج کو منظم کرکے کمین میں لگادیا۔(٦)
____________________
١۔ ابومخنف کا بیان ہے کہ ابی جناب نے عدی بن حرملہ سے اور اس نے عبداللہ بن سلیم سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری ،ج٥، ص ٣٨٦) یہ بیان اس بیان سے میل نہیں کھاتا جو ان دونو ں سے عنقریب بیان ہو گا کہ یہ دو نو ں کہتے ہیں کہ ہم لوگ مقام '' زرود میں امام علیہ السلام سے ملحق ہوئے اور یہ منزل صفاح کے بعد کوفہ کے راستہ میں چندمنازل کے بعد ہے مگر یہ کہا جائے کہ ان کے قول''اقبلنا حتی انتھینا ''کا مطلب یہ ہوکہ ہم لوگ کوفہ سے روانہ ہوکر صفاح تک پہنچے جو مکہ میں داخل ہونے کا راستہ ہے پھر مناسک حج انجام دینے کے بعد منزل زرود میں امام علیہ السلام سے دوبارہ ملحق ہوگئے ۔
٢۔طبری نے کہا : ہشام نے عوانہ بن حکم کے حوالے سے، اس نے لبطہ بن فرزدق بن غالب سے اور اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ اس کے باپ نے کہا : میں نے ٦٠ھ میں حج انجام دیا اور ایام حج میں حرم میں داخل ہو ا تو دیکھا حسین بن علی مکہ سے نکل رہے ہیں میں ان کے پاس آیا اورعرض کی: بأبی أنت و أمی یا بن رسول اللّٰہ! ما اعجلک عن الحج؟ فرزند رسول خدا میرے ما ں باپ آپ پر قربان ہوجائی ں !آپ کو اتنی بھی کیا جلدی تھی کہ آپ حج چھوڑ کر جارہے ہیں ؟ امام علیہ السلام نے جواب دیا : لو لم أعجل لأْ خذت اگر میں جلدی نہ کرتا تو پکڑ لیا جاتا ۔ فرزدق کہتا ہے کہ پھر آپ نے مجھ سے پوچھا ممن أنت ؟تم کہا ں کے رہنے والے ہو ؟ تو میں نے جواب دیا : میں عراق کا رہنے والا ایک شخص ہو ں ؛ خدا کی قسم !اس سے زیادہ انھو ں نے میرے بارے میں تفتیش نہیں کی ؛ بس اتنا فرمایا : جن لوگو ں کو تم اپنے پیچھے چھوڑ کر آئے ہو مجھے ان کی خبر بتاؤ تو میں نے کہا: انکے قلوب آپ کے ساتھ ہیں اور تلواری ں بنی امیہ کے ہمراہ ہیں اور قضاء اللہ کے ہاتھ میں ہے۔آپ نے مجھ سے فرمایا : تم نے سچ کہا! پھر میں نے نذر اور مناسک حج کے سلسلہ میں کچھ سوالات کئے تو آپ نے اس کے جواب سے مجھے بہرہ مند فرمایا۔(طبری، ج٥، ص ٣٨٦)
٣۔قادسیہ او ر کوفہ کے درمیان ١٥ فرسخ کی مسافت ہے اور اس کے وعذیب کے درمیان ٤میل کا فاصلہ ہے اور اسے دیوانیہ کہتے ہیں ۔ حجاز کے دیہات کی طرف یہ(قادسیہ) عراق کا سب سے پہلا بڑاشہر ہے۔ اسی جگہ پر عراق کی سب سے پہلی جنگ بنام جنگ قادسیہ سعد بن ابی وقاص کی قیادت میں ہوئی ہے ۔
٤۔ یہ ایک قریہ ہے جو کوفہ سے نزدیک ہے جہا ں بنی عباس کا ایک پانی کاچشمہ ہے جیسا کہ معجم البلدان، ج ٣ ، ص٤٥١ پر موجود ہے ۔
٥۔ قطقطانہ ، رہیمہ سے کوفہ کی طرف تقریباً ٢٠میل کے فاصلہ پرہے۔ (طبری، ج٧ ، ص ١٢٥) یعقوبی کا بیان ہے : جب امام علیہ السلام کومسلم کی شہادت کی خبر ملی تو آپ قطقطانہ میں تھے۔ (طبری، ج٢، ص ٢٣٠)
٦۔ابو مخنف کا بیان ہے : مجھ سے یونس بن ابی اسحاق سبیعی نے اس کی روایت کی ہے۔(طبری ،ج٥،ص٣٩٤)
تیسری منزل : حاجر(١)
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام اپنے مقصد کی طرف روانہ ہوتے ہوئے حاجر بطن رمہ(٢) تک پہنچے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے قیس بن مسہر صیداوی کو اہل کوفہ کی طرف روانہ کیا اور ان کے ہمراہ اہل کوفہ کے نام ایک خط لکھا :
''بسم اللّه الرحمن الرحیم ! من الحسین بن علی الی اخوانه من المومنین و المسلمین، سلام علیکم : فانّی أحمد الیکم اللّٰه الذی لا اله الا هو ، أما بعد ، فان کتاب مسلم بن عقیل جاء ن یخبرن فیه بحسن رأیکم و اجتماع ملئکم علی نصرنا و الطلب بحقنا فسألت اللّٰه أن یحسن لنا الصنع وأن یثیبکم علی ذالک أعظم الاجر ، وقدشخصت من مکة یوم الثلاثاء لثمان مضین من ذی الحجه یوم التروية فاذا قدم علیکم رسول فا کمشوا أمرکم و جدّ وا، فان قادم علیکم فأیام هٰذه، ان شاء اللّٰه؛ والسلام علیکم ورحمة اللّه وبرکا ته ''
بسم اللّہ الرحمن الرحیم ! یہ خط حسین بن علی کی جانب سے اپنے مومنین و مسلمین بھائیوں کے نام، سلام علیکم ، میں اس خدا کی حمد و ثنا کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ۔امابعد ، حقیقت یہ ہے کہ مسلم بن عقیل کا خط مجھ تک آچکا ہے، اس خط میں انھوں نے مجھے خبر دی ہے کہ تم لوگوں کی رائے اچھی ہے اور تمہارے بزرگوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ وہ ہماری مدد کریں گے اور ہمارے حق کو ہمارے دشمنوں سے واپس لے لیں گے تو میں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے اچھی راہ قرار دے اور اس کے ثواب میں تم لوگوں کو اجرعظیم سے نوازے ۔
____________________
١ ۔حاجرنجد کی بلند وادی کو کہتے ہیں ۔
٢۔ بطن رمہ وہ جگہ ہے جہا ں اہل کو فہ و بصرہ اس وقت یکجا ہوتے تھے جب وہ مدینہ جانے کا ارادہ کرتے تھے جیسا کہ معجم البلدان، ج ٤،ص ٢٩٠،اور تاج العروس، ج ٣،ص١٣٩پر مرقوم ہے۔
اس سے تم لوگ آگاہ رہوکہ میں بروز سہ شنبہ ٨ ذی الحجہ یوم الترویہ مکہ سے نکل چکا ہوں لہذا جب میرا نامہ بر تم لوگوں تک پہنچے تو جو کام تم کو کرنا چاہئیے اس کی تدبیر میں لگ جاؤ اور اس مسئلہ میں بھر پور کوشش کرو کیونکہ میں انشا ء اللہ انہی چند دنوں میں تم تک پہنچنے والا ہوں ۔ والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
امام حسین علیہ السلام کا یہ خط لے کر قیس بن مسہر صیداوی کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے۔آپ جب قادسیہ پہنچے تو حصین بن تمیم نے آپ کو گرفتار کر کے عبیداللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا ۔
ابن زیاد نے آپ سے کہا محل کی چھت پر جاؤ اور کذاب بن کذاب کو گالیاں دو !
قیس بن مسہر شجاعت وشہا مت کے ساتھ محل کی چھت پر آئے اور کہا :'' أیھا الناس ! ان الحسین علیہ السلام بن علی خیر خلق اللّٰہ ابن فاطمہ بنت رسول اللہ وأنا رسولہ الیکم وقد فارقتہ بالحاجر فأجیبوہ ثم لعن عبید اللہ بن زیاد وأباہ واستغفر لعلیِّ بن أبی طالب '' اے لوگو ! حسین بن علی خلق خدا میں بہتر ین مخلوق ہیں ، آپ فرزند فاطمہ بنت رسول خدا ہیں اور میں ان کا نامہ بر ہوں ، میں ان کو مقام حاجر میں چھوڑ کر یہاں آیا ہوں ۔ تم لوگ ان کی عدالت خواہ آواز پر لبیک کہنے کے لئے آمادہ ہو جاؤ پھر آپ نے عبید اللہ اور اس کے باپ پر لعنت کی اور علی بن ابی طالب (علیہما السلام) کے لئے طلب مغفرت کی۔عبید اللہ نے حکم دیا کہ انھیں محل کے اوپر سے نیچے پھینک دیا جائے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپ کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا۔اس طرح آپ شہید ہو گئے ۔] اللہ آپ پر نزول رحمت فر مائے[(١)
چو تھی منزل : چشمۂ آب
امام حسین علیہ السلام کا قافلہ کوفہ کی طرف رواں دواں تھا؛ راستے میں آپ کا قافلہ عرب کے ایک پا نی کے چشمہ کے پاس جا کر ٹھہرا۔ وہاں عبد اللہ بن مطیع عدوی بھی موجود تھے جو پا نی لینے کی غرض سے وہاں اترے تھے۔جیسے ہی عبد اللہ بن مطیع نے امام حسین علیہ السلام کو دیکھا ویسے ہی آپ کی خدمت میں
____________________
١۔ کتاب کے مقدمہ میں شرح احوال موجود ہے۔
آکر کھڑے ہو گئے اور عرض کی: فرزند رسول خدا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں !کون سا سبب آپ کو یہاں تک لے آیا ؟
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : اہل عراق نے خط لکھ کر مجھے اپنی طرف بلا یا ہے۔عبد اللہ بن مطیع نے آپ سے عرض کیا: فرزند رسول اللہ آپ کو خدا کا واسطہ ہے کہ اس راہ میں آپ اسلام کی ہتک حرمت نہ ہو نے دیں ، میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ(وآلہ) وسلم کی حرمت خطرے میں نہ پڑے ،خدا کے لئے عرب کی حرمت خطرے میں نہ ڈالئے۔خدا کی قسم! اگر حق کو بنی امیہ سے واپس لینا چاہیں گے تو وہ آپ کو قتل کر ڈالیں گے اور اگر ان لوگوں نے آپ کو قتل کردیا تو آپ کے بعد کسی کو نگا ہ میں نہیں لا ئیں گے ۔(١) خدا کی قسم! اسلام کی حرمت، قریش کی حرمت ہے اورعربوں کی حرمت خاک میں مل جائے گی ،پس آپ ایسا نہ کریں اور کوفہ نہ جائیں اور بنی امیہ سے نہ الجھیں !عبد اللہ بن مطیع نے اپنے نظر یہ کو پیش کیا اور امام علیہ السلام اسے بغور سنتے رہے لیکن اپنے راستے پر چلتے رہے۔
پانچو یں منزل:خزیمیہ(٢)
امام حسین علیہ السلام کا سفر اپنے مقصد کی طرف جاری تھا۔ چلتے چلتے پھر ایک منزل پررکے جو مقام '' زرود'' سے پہلے تھی یہاں پر پانی موجود تھا،(٣) اس جگہ کا نام خزیمیہ ہے ۔
____________________
١۔ امام کے عمل سے نہ تو اسلام کی بے حرمتی ہوئی نہ ہی رسول خدا ، عرب اور قریش کی ہتک حرمت ہوئی بلکہ اسلام دشمن عناصر کی کا رستا نیو ں سے یہ سب کچھ ہوا ۔ابن مطیع نے اپنے اس جملہ میں خطا کی ہے جو یہ کہہ دیا کہولئن قتلوک لا یها بون بعد ک احداابدا کیونکہ امام علیہ السلام کے بعد ان لوگو ں کو جرأ ت ملی جو مکہ ومدینہ وکوفہ میں اس سے پہلے اپنے ہاتھو ں میں چوڑیا ں پہنے بیٹھے تھے انھی ں میں سے خود ایک ابن مطیع بھی ہے جو ابن زبیر کے زمانے میں کوفہ کا والی بنا۔ اگر امام حسین علیہ السلام نے قیام نہ کیا ہوتا تو بنی امیہ کے خلا ف کسی میں جرأ ت پیدا نہ ہوتی اور اسلام کو مٹا نے میں وہ جو چاہتے وہی کرتے ۔
٢۔یہ جگہ مقام زرود سے پہلے ہے اس کے بعدکاراستہ کوفہ جانے والو ں کے لئے ہے جیسا کہ معجم البلدان میں آیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے اس کے اورثعلبیہ کے درمیان ٣٢کیلومیٹرکا فاصلہ ہے۔ یہ درحقیقت ثعلبیہ کے بعدحجاج کی پہلی منزل ہے۔
٣۔ طبری ،ج٥،ص ٣٩٤، ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے محمد بن قیس نے یہ روایت بیان کی ہے ۔شاید یہ قیس بن مسہر کے فرزند ہیں ۔
زہیر بن قین کا امام حسین علیہ السلام سے ملحق ہونا
قبیلہء بنی فنرارہ کے ایک مرد کا بیان ہے : ہم زہیر بن قین بجلی کے ہمراہ تھے اور ہم اسی راستے پر چل رہے تھے جس راستہ پر حسین (علیہ السلام) محو سفر تھے لیکن ہمارے لئے سب سے زیادہ نا پسند امر یہ تھا کہ ہم ان کے ہمراہ ایک ساتھ سفر کریں اور ایک منزل پر ٹھہریں لہٰذ ا زہیر کے حکم کے مطا بق حسین جہاں ٹھہر تے تھے ہم وہاں سے آگے بڑھ جا تے اور وہ جہاں پر آگے بڑھتے ہم وہاں پڑاؤ ڈال کر آرام کرتے تھے؛ لیکن راستے میں ہم ایک ایسی منزل پر پہنچے کہ چارو نا چار ہم کو بھی وہیں پر رکنا پڑا جہاں پر امام حسین نے پڑاؤ ڈالا تھا۔ امام حسین نے ایک طرف اپنا خیمہ لگا یا اور ہم نے اس کے دوسری طرف ؛ ہم لوگ ابھی بیٹھے اپنے خیمے میں کھا نا ہی کھا رہے تھے کہ یکایک حسین کا پیغام رساں حاضر ہوا اور اس نے سلام کیاپھر خیمہ میں داخل ہوا اور کہا : اے زہیر بن قین ! ابو عبد اللہ حسین بن علی نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے تا کہ تم ان کے پاس چلو۔ اس جملہ کا اثر یہ ہوا کہ حیرت وتعجب سے جس انسان کے ہاتھ میں جو لقمہ تھا وہ نیچے گر گیا؛ سکوت کا یہ عالم تھا کہ ایسا محسوس ہو تا تھا کہ ہم سب کے سروں پر طائر بیٹھے ہیں ۔(١) زہیر بن قین کی زوجہ دلھم بنت عمر کہتی ہے کہ میں نے زہیر سے کہا : فرزند رسول اللہ تمہارے پاس پیغام بھیجے اور تم ان کے پاس نہ جائو !سبحان اللہ! اگر انھوں نے مجھے بلایا ہوتاتو میں ضرور جاتی اور ان کے گہر بار کلام کو ضرور سنتی، پھر میں نے کچھ نہ کہا لیکن زہیر بن قین اٹھے اور امام علیہ السلام کی بارگاہ میں روانہ ہوگئے ۔ابھی کچھ دیر نہ گزری تھی کہ واپس آگئے لیکن اب تو بات ہی کچھ اور تھی؛ چہرے پر خوشی کے آثار تھے اور چہرہ گلاب کی طرح کھلا جارہاتھا۔
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سدّی نے بنی فزارہ کے ایک جوان کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جب حجاج بن یوسف کے زمانے میں ہم لوگ زہیر بن قیس بجلی کے مکان میں چھپے تھے جہا ں اہل شام داخل نہیں ہو تے تھے تو میں نے فزاری سے پوچھا: ذرا مجھ سے اس واقعہ کو بیان کرو جب تم لوگ حسین بن علی کے ہمراہ، سفر میں تھے تو اس نے یہ روایت بیان کی۔(طبری، ج٥، ص ٣٩٦، ارشاد، ص ٢٢١، خوارزمی، ص٣٢٥)
اسی عالم میں زہیر نے اپنے ہمراہیوں سے کہا : تم میں سے جو ہمارے ساتھ آناچاہتا ہے آ جائے اور اگر نہیں تو اب اس سے میرا یہ آخری دیدار ہے۔اس کے بعداپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے زہیر نے کہا : میں تم لوگوں سے ایک روایت بیان کرنا چاہتا ہوں ، اسے غور سے سنو !ہم لوگ جب مقام '' بلنجر ''(١) پر لڑنے کے لئے گئے تو خداوندمتعال نے ہم لوگوں کو دشمنوں پر کامیابی عطاکی اور بڑی مقدار میں مال غنیمت بھی ہاتھ آیا۔اس وقت سلمان باہلی(٢) نے ہم لوگوں سے کہا : کیا تم لوگ اس بات پر خوش ہو کہ خدا وند عالم نے تم لوگوں کو فتح و ظفر سے نوازاہے اور کافی مقدار میں مال غنیمت تمہارے ہاتھوں لگاہے ؟ ہم لوگوں نے کہا : ہاں کیوں نہیں !تواس نے ہم لوگوں سے کہا : جب تم لوگ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کی جوانی دیکھو گے تو تمہاری ان کے ساتھ جنگ کی خوشی اس مال غنیمت ملنے کی خوشی سے زیادہ ہو گی اورجہاں تک میری بات ہے تو اب میں تم لوگوں سے خدا حافظی کر تا ہوں ۔
پھر زہیر بن قین نے اپنی زوجہ کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا : اب میں تم کو طلا ق دے رہا ہوں تاکہ تم آزاد ہو جاؤ اورگھروالوں کے پاس جا کر وہیں زندگی بسر کرو؛ کیونکہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میری وجہ سے تمہیں کوئی نقصان پہنچے۔میں تمہارے لئے بہتری چاہتاہوں ۔(٣) و(٤)
____________________
١۔ یہ تاتا ریو ں (یا خزریو ں) کا شہر ہے جو انہیں کے دروازو ں میں سے ایک دروازے کے نزدیک ہے ٣٣ھ عہد عثمان میں سلمان بن ربیعہ باہلی کے ہاتھو ں یہ جنگ فتح کی گئی جیسا کہ معجم البلدان میں یہی موجود ہے ۔
٢۔ طبری ،ج٤، ص ٣٠٥ پر ہے کہ سلمان فارسی اور ابو ہریرہ اس جنگ میں لشکر کے ہمراہ موجود تھے ۔یہ بیان ابن اثیر کی الکامل میں ہے (ج ٤،ص ١٧)پھریہ بیان ہے کہ جس شخصیت نے ان لوگو ں سے یہ گفتگوکی وہ سلمان فارسی ہیں نہ کہ باہلی۔ ابن اثیر نے ا پنی تاریخ الکامل فی التاریخ میں اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ تاریخ طبری کو کامل کری ں لہٰذاوہ اکثرو بیشتر اخبار میں طبری سے ناقل دکھائی دیتے ہیں ۔شیخ مفید نے ارشاد میں اور فتال نے روضة الواعظین میں ص ١٥٣پر ، ابن نمانے مثیر الاحزان میں ص ٢٣پر ، خوارزمی نے اپنے مقتل میں ج١، ص ٢٢٥پر اور البکری نے معجم ج١ ،ص٣٧٦ پر واضح طور سے اس بات کی صراحت کی ہے کہ وہ شخص جناب سلمان فارسی ہی تھے جنہو ں نے یہ جملہ کہا تھا۔ اس بات کی تائید طبری نے بھی کی ہے کیونکہ طبری کے بیان کے مطابق جناب سلمان وہا ں موجود تھے ؛ لیکن ظاہر یہ ہے کہ مدائن فتح ہونے کے بعد جناب سلمان فارسی وہیں کے گورنر رہے اور وہیں اپنی وفات تک قیام پذیر رہے اور کسی بھی جنگ کے لئے وہا ں سے نہیں نکلے؛ بلکہ اس جنگ سے قبل عمر کے عہد حکومت میں آپ نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا تھا ۔
٣۔ ابو مخنف کا بیان ہے : مجھ سے یہ خبر زہیر بن قین کی زوجہ دلھم بنت عمر و نے بیان کی ہے۔(طبری ،ج٥،ص٣٩٦، الارشاد، ص ٢٢١)
٤۔ عنقریب یہ بات کربلامیں زہیر بن قین کے خطبے سے معلوم ہوجائے گی کہ اس سے قبل زہیراس بات پر معاویہ کی مذمت کیا کرتے تھے کہ اس نے زیاد کو کس طرح اپنے سے ملحق کرلیا؛اسی طرح حجر بن عدی کے قتل پر بھی معاویہ سے ناراض تھے ۔
ایک اور نامہ بر
اسی جگہ سے امام حسین علیہ السلام نے عبداللہ بن بقطر حمیری(١) کو بعض راستوں سے مسلم بن عقیل(٢) کی طرف روانہ کیا۔ سپاہ اموی جو حصین بن تمیم کے سربراہی میں کوفہ کے قریب قادسیہ میں چھاؤنی ڈالے راہوں کو مسدود کئے تھی اور آمد و رفت پر سختی سے نظررکھے ہوئی تھی؛ اس نے عبداللہ بن بقطر کوگرفتار کر کے عبیداللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ جب آپ عبیداللہ کے پاس لائے گئے تو اس نے کہا : محل کے اوپر جاؤ اور کذاب بن کذاب پر لعنت بھیجو پھر نیچے اتر آؤ تاکہ میں تمہارے سلسلے میں اپنانظریہ قائم کرسکوں ۔یہ سن کر عبداللہ بن بقطر محل کے اوپر گئے اور جب دیکھا کہ لوگ تماشابین کھڑے ہیں تو آپ نے فرمایا :
'' أیھاالناس انی رسول الحسین علیہ السلام بن فاطمہ بنت رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم لتنصروہ و توازروہ علی بن مرجانة بن سمیہ الدعی ! ''
اے لوگومیں حسین فرزند فاطمہ بنت رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام رساں ہوں تاکہ تم لوگ ان کی مدد و نصرت کر سکو اور اس مرجانہ بن سمیہ کے بچے جس کی پیدائش کا بستر معلوم نہیں ہے، کے خلاف ان کی پشت پناہی کرو ،یہ سنتے ہی عبیداللہ بن زیادنے حکم دیاکہ انھیں چھت سے پھینک دیاجائے۔ اس کے کارندوں نے آپ کو محل کے اوپر سے نیچے پھینک دیا؛جس کی وجہ سے آ پ کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں ؛ لیکن ابھی رمق حیات باقی تھی۔عبدالملک بن عمیرلخمی(٣) آپ کے پاس آ یا اور آپ کو ذبح کر کے شہید کر ڈالا۔
____________________
١۔ آپ کی ما ں امام حسین علیہ السلام کی دیکھ بھال کیاکرتی تھی ں اسی لئے آپ کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ آ پ حضرت امام حسین علیہ السلام کے رضائی بھائی تھے۔طبری نے بقطر ہی لکھا ہے اسی طرح جزری نے الکامل میں بھی بقطر ہی ذکر کیا ہے؛ لیکن ہمارے بزرگو ں نے(ی) کے ساتھ یعنی یقطر لکھاہے جیسا کہ سماوی نے ابصارالعین، ص٥٢پر یہی لکھا ہے ۔
٢۔ ابومخنف کا بیان ہے : مجھ سے یہ خبرابو علی انصاری نے بکر بن مصعب مزنی کے حوالے سے نقل کی ہے۔(طبری ،ج٥، ص٣٩٨؛ارشاد، ص ٢٢٠) اس خبر کو انھو ں نے قیس بن مسہر صیداوی کی خبرسے خلط ملط کردیا ہے ۔
٣۔ شعبی کے بعد اس نے کوفہ میں قضاوت کا عہدہ سنبھالا۔ ١٣٦ ھ میں وہ ہلاک ہوا ؛اس وقت اس کی عمر ١٠٣ سال تھی جیسا کہ میزان الاعتدال، ج ١، ص ١٥١ ، اور تہذیب الاسمائ، ص٣٠٩ پر تحریرہے۔ عنقریب یہ بات آئے گی کہ منزل زبالہ پر صیداوی کی شہادت کی خبر سے پہلے امام علیہ السلام کو ابن بقطر کی شہادت کی خبر ملی ہے؛ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام نے قیس بن مسہر صیداوی سے پہلے یقطر کو روانہ کیا تھا ۔
چھٹی منزل: زرود(١)
عبداللہ بن سلیم اسدی اور مذری بن مشمعل سے روایت ہے کہ ان دونوں نے کہا :
جب ہم حج سے فارغ ہوگئے تو ہماری ساری کوشش یہی تھی کہ ہم کسی طرح حسین سے راستے میں ملحق ہو جائیں تاکہ دیکھیں کہ بات کہاں تک پہنچتی ہے؛ لہٰذا ہم لوگوں نے اپنے ناقوں کو سر پٹ دو ڑایا؛ یہاں تک کہ مقام زرود(٢) پر ہم ان سے ملحق ہوگئے۔جب ہم لوگ ان کے قریب گئے تو دیکھا کوفہ کا رہنے والا ایک شخص عراق سے حجاز کی طرف روانہ ہے، جیسے ہی اس نے امام حسین علیہ السلام کو دیکھا اپنے راستے سے پلٹ گیا تاکہ آپ سے اس کی ملاقات نہ ہو لیکن ا مام علیہ السلام وہاں پر کھڑ ے رہے گویا اس کے دیدار کے منتطر تھے لیکن جب دیکھا کہ وہ ملاقات کے لئے مائل نہیں ہے تو اسے چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔
ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : آؤ اس شخص کے پاس چلیں اور اس سے پوچھیں اگر اس کے پاس کوفہ کی خبر ہو گی تووہ ہم کو اس سے مطلع کرے گا ؛یہ کہہ کر ہم لوگ چلے یہاں تک کہ اس تک پہنچ ہی گئے، پہنچ کر ہم نے کہا : السلام علیک ، تو اس نے جواب دیا: وعلیکم السلام ورحمة اللہ ۔
پھر ہم لوگوں نے پوچھا : تم کس قبیلہ سے ہو ؟ اس شخص نے جواب دیا : ہم قبیلہ بنی اسد سے ہیں ۔
ہم لوگوں نے کہا : ہم لوگ بھی بنی اسد سے متعلق ہیں ؛تمہارا نام کیا ہے ؟
____________________
١۔یہ جگہ خزیمیہ او رثعلبیہ کے درمیان کوفہ کے راستے میں ہے جیسا کہ معجم البلدان، ج٤،ص ٣٢٧میں یہی موجود ہے۔
٢۔ یہ خبر اس خبر سے منافات ر کھتی ہے جوابھی گذرچکی کہ یہ لوگ منزل صفاح پر مقام زرو د سے چند منزل قبل فر زدق والے واقعے میں موجود تھے کیونکہ اس خبر سے یہی ظاہر ہوتاہے بلکہ واضح ہے کہ یہ لوگ امام حسین علیہ السلام سے زرود میں ملحق ہوئے ہیں اور اس سے پہلے یہ لوگ امام کے ساتھ موجود نہیں تھے بلکہ حج کی ادائیگی کے ساتھ یہ ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ منزل صفاح اوائل میں ہے جبکہ امام علیہ السلام ''یوم الترویہ'' کو مکہ سے نکلے ہیں ۔ اگر یہ لوگ امام علیہ السلام سے منزل صفاح پر ملحق ہوئے ہیں تو پھر حج کی انجام دہی ممکن نہیں ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ دونو ں خبرو ں کا ایک ہی راوی ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا؛ نہ ہی ابو جناب ، نہ ابو مخنف اورنہ ہی طبری، مگر یہ کہ یہ کہا جائے کہ حج سے پہلے یہ دونو ں منزل صفاح پر امام علیہ السلام سے ملے اور پھر حج کے بعد منزل زرود پر پہنچ کرامام علیہ السلام سے ملحق ہو گئے ۔
اس نے جواب دیا : بکیر بن مثعبہ، ہم لوگو ں نے بھی اپنا نام بتایا اور پھر اس سے پوچھا : کیا تم ہمیں ان لوگو ں کے بارے میں بتاؤ گے جنہیں تم اپنے پیچھے چھوڑ کر آئے ہو؟
اس نے جواب دیا:ہا ں ! میں جب کوفہ سے نکلاتھا تو مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ قتل کئے جا چکے تھے ۔ ہم نے دیکھا ان دونو ں کے پیرو ں میں رسی باندھ کر انھی ں بازار میں پھرایا جا رہاہے۔ اس خبر کے سننے کے بعد ہم لوگ اس سے جداہوکر اپنے راستے پر چل پڑے یہا ں تک کہ(حسین علیہ السلام) سے ملحق ہوگئے اور ایک دوسری منزل پر ان کے ہمراہ پٹراؤ ڈالا ۔
ساتویں منزل : ثعلبیہ(١)
شام کا وقت تھا جب امام علیہ السلام نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا جس کا نام'' ثعلبیہ'' تھا۔جب آپ کے خیمہ نصب ہوچکے تو ہم لوگوں نے آپ کی خدمت میں آکر سلام عرض کیا ۔آ پ نے سلام کا جواب دیا تو ہم لوگوں نے آپ سے کہا : اللہ آپ پر رحمت نازل کرے! ہم لوگوں کے پاس ایک اہم خبر ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اسے اعلانیہ بیان کریں اوراگر چاہیں ۔ توخفیہ اور پوشیدہ طور پر بیان کریں ۔ امام علیہ السلام نے اپنے اصحاب پر ایک نگاہ ڈالی اور فرمایا: ''مادون ھولاء سر'' ان لوگوں سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے جو خبر لائے ہو بیان کردو، ہم لوگوں نے ان سے کہا : آپ نے کل شام اس سوار کو دیکھا تھا جو آپ کے پاس سے گزرا تھا ؟
امام علیہ السلام نے فرمایا : ہاں ! میں اس سے کوفہ کے بارے میں سوال کرناچاہتا تھا۔ ہم نے کہا: ہم نے اس سے آپ کے لئے خبر لے لی ہے اورآپ کے بجائے ہم لوگوں نے کوفہ کے موضوع پر تحقیق کر لی ہے۔ وہ شخص قبیلہ بنی اسد کاایک مرد تھا جو ہمارے ہی قبیلہ سے تھا ۔ وہ صاحب نظر، سچا، اور صاحب عقل و فضل تھا ۔اس نے ہم لوگوں سے بتایا کہ جب وہ وہاں سے نکلا تھا تومسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ قتل ہوچکے تھے حتیٰ اس نے یہ بھی دیکھا تھا کہ ان دونوں کے پیروں میں رسی باندھ کر بازار میں گھسیٹا جارہاہے۔یہ سن کر آپ نے فرمایا :
____________________
١۔ کوفہ سے مکہ جانے کے لئے جو راستہ مڑتا ہے یہ وہی ہے۔ اس کی نسبت بنی اسد کے ایک شخص ثعلبہ کی طرف دی گئی ہے جیسا کہ معجم میں تحریر ہے۔
'' انّاللّہ وانّاالیہ راجعون'' اس جملہ کی آپ نے چند مرتبہ تکرار فرمائی(١) پھر ہم نے عرض کی : آپ کو خدا کا واسطہ ہے کہ آ پ اپنے گھر والوں کے ہمراہ یہاں سے واپس لوٹ جائیں ؛کیونکہ اب کوفہ میں آپ کا کوئی ناصر ومدد گا ر نہیں ہے بلکہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں وہ سب آپ کے مخالف نہ ہوگئے ہو ں ۔ایسے موقع پر فرزندان عقیل بن ابیطالب اٹھے اور انھوں نے اس کی مخالفت کی(٢) اور کہنے لگے : نہیں خدا کی قسم ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں جائیں گے۔جب تک ہم ان سے اپنا انتقام نہ لے لیں یا وہی مزہ نہ چکھ لیں جس کاذائقہ ہمارے بھائی نے چکھاہے۔(٣) ان دونوں کا بیان ہے: حسین (علیہ السلام) نے ہم لوگوں پر ایک نگاہ ڈالی اور فرمایا : ''لاخیر فی العیش بعد ھولاء !'' ان لوگوں کے بعد زندگی میں کوئی اچھائی نہیں ہے۔ اس جملہ سے ہم نے بخوبی سمجھ لیا کہ سفر کے ارادے میں یہ مصمم ہیں تو ہم نے کہا : خدا کرے خیر ہو ! آپ نے بھی ہمارے لئے دعا کی اور فرمایا:'' رحمکم اللّہ ''اللہ تم دونوں پر رحمت نازل کرے ۔
رات کا سناٹا چھاچکا تھا، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ آپ سپیدہ سحر کے انتظار میں ہیں ؛جیسے ہی سپیدہ سحر نمودار ہوئی ،آپ نے اپنے جوانوں اور نو جوانوں سے فرمایا :''اکثروا من المائ'' پانی زیادہ سے زیادہ جمع کرلو ، ان لوگوں نے خوب خوب پانی جمع کرلیا اور اپنے سفر پر نکل پڑے یہاں تک کہ ایک دوسری منزل تک پہنچ گئے ۔
____________________
١۔ اس روایت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جناب مسلم کی شہادت کی خبر یہا ں عام ہوگئی لیکن عنقریب یہ بات آئے گی کہ منزل زبالہ میں پہنچ کر امام علیہ السلام نے یہ خط لکھ کر اپنے اصحاب کے سامنے اس کا اعلان کیا تھا؛ یہا ں سے امام علیہ السلام کے اس جملے کا فلسفہ سمجھ میں آتا ہے کہ'' مادو ں ھولاء سر'' یعنی ان کے علاوہ جو لوگ ہیں ان کے لئے یہ خبر سری ہے اور اسی طرح یہ خبر منزل زبالہ تک پوشیدہ ہی رہی لیکن یعقوبی کا بیان ہے کہ مسلم کی شہادت کی خبر آپ کو مقام'' قطقطانہ'' میں ملی تھی۔ (تاریخ یعقوبی ،ج٦ ، ص ٢٣٠ ،ط، نجف)
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے : ابو جناب کلبی نے عدی بن حرملہ اسد کے حوالے سے اور اس نے عبداللہ سے اس خبر کو ہمارے لئے بیان کیاہے۔ (طبری ،ج٥، ص٣٩٧) ارشاد میں ،ص ٢٢٢ پر ہے کہ عبداللہ بن سلیمان نے یہ روایت بیان کی ہے۔(ارشاد ، طبع نجف)
٣۔ ابومخنف کا بیان ہے : مجھ سے عمر بن خالد نے یہ خبر بیان کی ہے (لیکن صحیح عمرو بن خالد ہے) اور اس نے زید بن علی بن الحسین سے اور اس نے دائود بن علی بن عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے ۔(طبری ،ج٥، ص ٣٩٧ ؛ارشاد، ص٢٢٢، مسعودی ،ج٣ ،ص ٧٠، الخواص ، ص ٢٤٥ ، طبع نجف)
آٹھویں منزل : زبالہ(١)
یہ نورانی قافلہ اپنے سفرکے راستے طے کرتا ہوا زبالہ(٢) کے علاقے میں پہنچا تو وہاں امام حسین علیہ السلام کو اپنے رضائی بھائی عبداللہ بن بقطر(٣) کی شہادت کی خبر ملی۔ آپ نے ایک نوشتہ نکال کر لوگوں کو آواز دی اور فرمایا :'' بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم، أمابعد، فقد أتانا خبر فضیع ! قتل ابن عقیل و هانی بن عروةو عبدالله بن یقطر، وقدخذلتنا شیعتنا (٤) فمن أحب منکم الانصراف فلینصرف لیس علیه منا ذمام ''
بسم اللہ الرحمن الرحیم، امابعد،مجھ تک ایک دل دھلانے والی خبر پہنچی ہے کہ مسلم بن عقیل ، ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن یقطر قتل کردئے گئے ہیں اور ہمار ی محبت کا دم بھرنے والوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے لہذا اب تم میں سے جو جانا چاہتا ہے وہ چلاجائے، ہماری جانب سے اس پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔
یہ جملہ سنتے ہی لوگ امام علیہ السلام سے جدا ہونے لگے کوئی داہنی طرف جانے لگاکوئی بائیں طرف؛ نتیجہ یہ ہواکہ فقط وہی ساتھی رہ گئے جو مدینہ سے آئے تھے۔ آپ نے یہ کام فقط اس لئے کیاتھا کہ
____________________
١۔ یہ جگہ کوفہ سے مکہ جاتے وقت مختلف راستے پیداہونے سے قبل ہے۔ یہا ں ایک قلعہ اورجامع مسجد ہے جو بنی اسد کی ہے۔ اس جگہ کا نام عمالقہ کی ایک عورت کے نام پر ہے جیسا کہ معجم البلدان میں یہی ہے ۔
(٢) ابومخنف کا بیان ہے : ابوجناب کلبی نے عدی بن حرملہ سے اور اس نے عبداللہ بن سلیم سے میرے لئے یہ خبر بیان کی ہے۔ (طبری، ج٥، ص ٣٩٨)
٣۔ ان کے شرح احوال گزر چکے ہیں اور وہ یہ کہ ان کی والدہ امام حسین علیہ السلام کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی ں اسی لئے ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ امام حسین علیہ السلام کے رضائی بھائی ہیں ۔
٤۔ اس جملہ میں امام علیہ السلام کی تصریح ہے کہ کوفہ کے شیعو ں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ کوفہ اور جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کے سلسلے میں یہ پہلا اعلان ہے اگرچہ اس کی خبر آپ کو اس سے قبل منزل زرود میں مل چکی تھی؛ لیکن ظاہر یہ ہے کہ جو لوگ وہا ں موجود تھے۔ ان کے علاوہ سب پر یہ خبر پوشیدہ تھی کیونکہ یہ امام علیہ السلام کے حکم سے ہوا تھا۔آخر کار آپ نے یہا ں '' زبالہ'' میں تمام حاضرین کے لئے اس خبر کا اعلان کردیا ۔
باد یہ نشین عرب اس گمان میں آپ کے پیچھے پیچھے ہوئے تھے کہ آپ ایسے شہر میں آئیں گے جوظالم حکمرانوں کی حکومت سے پاک ہوگا اور وہاں کے لوگ آپ کے فرمانبردار ہوں گے لہذا امام علیہ السلام نے ناپسند کیا کہ ایسے لوگ آپ کے ہمسفر ہوں ۔امام چاہتے تھے کہ آپ کے ہمراہ صرف وہ رہیں جنہیں معلوم ہو کہ وہ کہاں جارہے ہیں اور امام علیہ السلام کو معلوم تھا کہ جب ان لوگوں پر بات آشکار ہوجائیگی تو کوئی بھی آپ کے ہمراہ نہیں رہے گا مگر وہ لوگ جو عدالت چاہتے ہوں اور موت ان کے ہمراہ چل رہی ہو۔(١) رات اسی منزل پر گزری ،صبح کو آپ نے اپنے جوانوں کو چلنے کا حکم دیاتو انھوں نے سب کو پانی پلاکر اور خوب اچھی طرح پانی بھر کر اپنا سفر شروع کر دیا یہاں تک کہ درّۂ عقبہ سے آپ کا گزرہوا ۔
نویں منزل : درّہ عقبہ(٢)
یہ نورانی قافلہ اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھتا ہوا درّہ عقبہ تک پہنچا۔وہاں اس قافلہ نے اپنا پڑاؤ ڈالا۔(٣) بنی عکرمہ کے ایک شخص نے امام سے عرض کیا: آپ کو خدا کا واسطہ ہے کہ آپ یہیں سے پلٹ جائیے، خداکی قسم !آپ یہاں سے قدم آگے نہیں بڑھائیں گے مگریہ کہ نیزوں کی نوک اور تلواروں کی دھار پر آگے بڑھیں گے ، جن لوگوں نے آپ کو خط لکھا تھا اور آپ کوآنے کی دعوت دی تھی اگر یہ لوگ میدان کارزار کی مصیبتیں برداشت کرکے آپ کے لئے راستہ آسان کردیتے تب آپ وہاں جاتے تو آپ کے لئے بہت اچھا ہوتا لیکن ایسی بحرانی حالت میں جس سے آپ خود آگاہ ہیں ، میں نہیں سمجھتا کہ آپ کوفہ جانے کے سلسلے میں قدم آگے بڑھائیں گے۔
____________________
١۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام نے ان لوگو ں کو جانے کی اجازت دی تو آپ کا مقصد کیا تھا؟ امام علیہ السلام کا یہ بیان تمام چیزو ں پر کافی ہے
٢۔واقصہ کے بعد اور قاع سے پہلے مکہ کے راستے میں یہ ایک منزل ہے۔ یہ منزل ان کے لئے ہے جو مکہ جانا چاہتے ہیں ۔
٣۔ ابومخنف کا بیان ہے : ابوعلی انصاری نے بکر بن مصعب مزنی کے حوالے سے مجھ سے یہ خبر بیان کی ہے۔(طبری ،ج٥، ص ٣٩٨ ، ارشاد ،ص ٢٢٢ ،طبع نجف)
امام حسین علیہ السلام نے اسے جواب دیا :''یاعبداللّٰہ ! انہ لیس یخفی علیّ ، الرأی ما رأیت ، ولکن اللّٰہ لا یغلب علی أمرہ ''(١) اے بندہ خدا !یہ بات مجھ پر پوشیدہ نہیں ہے ، تمہاری رائے وہی ہے جو تم دیکھ رہے ہو لیکن تمہارانظریہ خدا کے امر پر غالب نہیں آسکتااور خدا اپنے امرپرمغلوب نہیں ہوسکتا۔ یہ کہہ کر آپ نے وہاں سے کوچ کیا ۔(٢)
دسویں منزل : شراف(٣)
آپ کا قافلہ کوفہ کی سمت روانہ تھا کہ راستے میں ایک منزل پر جاکر پھر ٹھہرا جس کا نام شراف ہے۔ جب صبح نمودار ہوئی تو آپ نے اپنے جوانوں کو حکم دیا کہ پانی بھر لیں ! ان لوگوں نے کافی مقدار میں پانی بھرا اور صبح سویرے سفر شروع کردیا تاکہ دن کی گرمی سے محفوظ رہ سکیں ۔ چلتے چلتے دوپہرکاوقت آگیا ابھی قافلہ محو سفر ہی تھا کہ کسی نے کہا:اللّٰہ اکبر ! تو حسین نے بھی اللّٰہ اکبر کہتے ہوئے پوچھا : کس لئے تم نے یکایک تکبیر کہی ؟ اس شخص نے کہا : عراق کے نخلستان دیکھ کر ہم نے خوشی سے تکبیر کہی تو قبیلہ بنی اسد کے ان دونوں لوگوں (عبداللہ بن سلیم اور مذری بن مشمعل) نے کہا : ہم نے اس مقام پر ابھی تک خرمہ اور کھجور کا ایک بھی درخت نہیں دیکھا۔ امام حسین علیہ السلام نے پوچھا : تم کیا سمجھتے ہو اس نے کیا دیکھا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا: ہم تو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس نے گھوڑ سواروں کے سرو گردن دیکھے ہیں ،اس پر اس مرد نے کہا : میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ آگے یہی ہوگا نہ کہ کھجوروں کے درخت ۔
____________________
١۔ ارشاد کے ص ٢٢٣ پر ہے کہ اس کے بعد آپ نے فرمایا :'' واللّٰہ لا یدعونی حتی یستخرجوا ھٰذہ العلقہ من جوفی فاذا فعلوا ذالک سلط اللہ علیھم من یذ لّھم حتی یکونوا أذل فرق الامم'' خدا کی قسم یہ مجھے نہیں چھوڑی ں گے یہا ں تک کہ میرے سرو تن میں جدائی کردی ں اور جب یہ ایسا کری ں گے تو اللہ ان پر ایسے لوگو ں کو مسلط کرے گا جو ان کو ذلیل و رسوا کری ں گے اور نوبت یہا ں تک پہنچے گی کہ یہ لوگ امت کے ذلیل ترین افراد ہوجائی ں گے ۔اعلام الوری میں بھی یہی موجود ہے، ص٢٣٢۔
٢۔ابو مخنف کابیان ہے کہ بنی عکرمہ کی ایک فرد'' لوذان'' نے مجھے خبر دی ہے کہ اس کے ایک چچا نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔ (طبری، ج٥ ، ص ٣٩٩)
٣۔ اس جگہ اور'' واقصہ'' کے درمیان ٢ میل کا فا صلہ ہے اور یہ عراق سے پہلے ہے ۔قادسیہ سے پہلے سعدبن ابی وقاص یہیں ٹھہرے تھے۔یہ جگہ ایسے شخص سے منسوب ہے جسے شراف کہا جاتا ہے۔ اس جگہ سے پانی کا چشمہ پھوٹتا تھاپھر یہا ں بہت سارے بڑے بڑے میٹھے پانی کے کنوی ں کھودے گئے۔ معجم البلدان میں یہی مرقوم ہے ۔
گیارہویں منزل : ذوحسم(١)
ان شرائط کو دیکھ کر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :''أمالناملجأ نلجأ الیه نجعله فی ظهورنا و نستقبل من وجه واحد ؟''کیا کوئی ایسی پناہ گاہ نہیں ہے جس میں پناہ گزیں ہوکر ہم اس فوج کو اپنے پیچھے کردیں اور ان سے دفاع کے لئے فقط ایک ہی طرف سے آمنے سامنے ہوں ؟ ہم لوگوں (بنی اسد کے دونوں افرد) نے عرض کیا : کیوں نہیں ! ذوحسم کا علاقہ آپ کے اس طرف موجودہے، آپ اپنے بائیں جانب اس کی طرف مڑ جائیں ، اگر ہم لوگ جلدی سے ادھر مڑ گئے تو وہی ہوگا جو آپ چاہتے ہیں ۔یہ سن کر امام حسین علیہ السلام نے بائیں جانب کا رخ کیا تو ہم لوگ بھی ان کی طرف مڑ گئے اور ہم نے ذوحسم پہنچنے میں جلدی کی لہذا ان لوگوں سے قبل ہم لوگ ذوحسم میں موجود تھے۔ ان لوگوں نے جب دیکھا کہ ہم لوگوں نے اپناراستہ بدل دیا ہے تو وہ لوگ بھی ہماری جانب آنے لگے ۔
امام حسین علیہ السلام نے وہیں پر پڑاؤ ڈالا اور حکم دیا کہ خیمے نصب کئے جائیں ۔ جوانوں نے خیمہ لگانا شروع کردیا، ابھی تھوڑی دیر بھی نہ گزری تھی کہ گھوڑ سواروں کے سر دکھائی دینے لگے،ان کے پرچم گویاپرندوں کے پروں کی طرح تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساری فوج پہنچ گئی اور وہ ہزار گھوڑ سوار تھے جن کا سر براہ حر بن یزید تمیمی یربو عی تھا۔ دوپہر کی جھلسا دینے والی گرمی میں حر اپنے رسالے کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام کے بالمقابل آکر کھڑا ہو گیا۔ ادھر حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب سروں پر عمامہ رکھے اپنی تلواروں کو نیام میں رکھے ہوئے تھے ۔
فوج کی تشنہ لبی دیکھ کر امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوانوں سے فرمایا :'' اسقواالقوم وارووهم من الماء ورشّفوا الخیل ترشیفا'' اس فوج کو پانی پلاؤ اور انھیں سیراب کردو نیز ان کے
____________________
١۔ یہ ایک پہاڑی کا نام ہے۔ نعما ن یہیں آکر شکار کیا کر تا تھا جیسا کہ معجم البلدان میں آیا ہے۔اس کے اور عذیب الہجانات کے درمیان کوفہ تک ٣٣ میل کا فاصلہ ہے جیسا کہ طبری میں بھی یہی ہے ۔سبط بن جوزی نے علما ء سیر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ (امام) حسین کو جناب مسلم علیہ السلام پر گزرنے والے واقعات کا کچھ بھی علم نہیں تھا یہا ں تک جب قادسیہ سے ٣ میل کے فاصلہ پر حر بن یزید ریاحی کے رسالہ سے سامنا ہوا تو اس نے مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کے قتل کی خبر امام حسین علیہ السلام کو دی اور مطلع کیا کہ ابن زیاد کوفہ میں آچکا ہے اور ان کوآمادہ کر رہا ہے اور ان سے کہاکہ واپس پلٹ جائی ں ۔(ملا حظہ ہو ص ٢٤٥طبع نجف)
گھوڑوں کو بھی سیراب کردو۔حکم پاتے ہی حسینی جوا ن ہاتھوں میں مشکیں لئے اٹھے اور سب کو پانی پلانا شروع کر دیا یہاں تک کہ سب کو سیراب کرنے کے بعد بڑے بڑے پیالوں ، طشتوں اور پتھروں کے بڑے بڑے برتن پانی سے بھر کر گھوڑوں کے سامنے رکھ دئے گئے۔ جب وہ جانور تین چار، یاپانچ بار پانی میں منہ ڈال کرپھر اس سے اپنا منہ نکال لیتے تھے(١) تب یہ جوان پانی کے ان برتنوں کودوسرے جانوروں کے پاس لے جاتے تھے؛ ا س طرح سارے کے سارے گھوڑے سیراب ہوگئے ۔(٢) و(٣)
اسی اثنا میں نماز ظہر کا وقت آگیا(٤) تو حسین (علیہ السلام) نے حجاج بن مسروق جعفی کو اذان دینے کا حکم دیا۔ حجاج نے اذان دی، جب اذان ختم ہو گئی اور اقامت کا وقت آیا تو(امام حسین) جسم پر ایک لباس اور دوش پر عبا ڈالے اور پیروں میں نعلین پہنے باہر نکلے اور حمد وثنائے الہٰی کے بعد اس طرح گو یا ہوئے :
____________________
١۔ ترشیف کا حقیقی معنی یہی ہے ۔
٢۔ طبری کا بیان ہے کہ میں نے یہ واقعہ ہشام سے ابومخنف کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ابومخنف کہتے ہیں کہ ابوجناب نے عدی بن حرملہ سے اور اس نے عبداللہ بن سلیم اورمذری سے یہ خبرنقل کی ہے ۔
٣۔طبری کا بیان ہے کہ ہشام نے کہا : مجھ سے لقیط نے علی بن طعان محاربی کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے کہ علی بن طعان بن محاربی کہتا ہے : میں حر کے رسالے میں موجود تھا لیکن میں اپنے لشکروالو ں میں سب سے آخر میں پہنچنے والو ں میں تھا ۔جب حسین نے پیاس کی شدت سے میری اور میرے گھوڑے کی حالت دیکھی تو فرمایا : أنخ الراویہ لیکن چونکہ '' راویہ '' ہم پانی پلانے کے معنی میں سمجھتے تھے لہٰذا ہم کچھ سمجھ نہ سکے تو آپ نے جملہ کو بدلتے ہوئے کہا : یابن أخ أنخ الجمل جان برادر اپنے اونٹ کو نیچے بیٹھاؤ تو میں نے اسے نیچے بیٹھادیا ؛ آپ نے فرمایا: : اشرب پانی پیو!لیکن میں جب بھی پانی پیناچاہتا تھا پانی مشک سے گر جاتا تھا، حسین (علیہ السلام) نے مجھ سے کہاأخنث السقاء چھاگل کو اپنی طرف موڑو! علی بن طعان محاربی کہتاہے کہ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہاتھا کہ میں کیا کرو ں تو خود حسین (علیہ السلام) کھڑے ہوئے اورچھاگل کو موڑ کرمیرے منہ سے لگایا ،میں نے پانی پیا، اس کے بعد اپنے گھوڑے کو پانی پلایا۔(طبری ،ج٥، ص ٤٠١ ؛ارشاد ، ص ٢٢٤ ؛خوارزمی ،ص٢٣٠)
٤۔ یہا ں پر ابو مخنف کے اخبار کا سلسلہ منقطع ہوجاتاہے لہذا چارو ناچار ہمیں اس مطلب کو مکمل کرنے کے لئے ہشام کلبی کی خبر سے مدد لینی پڑی جو اس نے لقیط سے اور اس نے علی بن طعان محاربی کے حوالے سے نقل کی ہے۔(طبری ،ج٥، ص٤٠١، ارشاد، ص ٢٢٤،خوارزمی، ص ٢٣٠١)
''ایها الناس ! انها معذ رة الیٰ اللّٰه عزّوجل والیکم ، انّ لمء أتیکم حتی أتتنکتبکم وقدّ مت علّ رسلکم ، أن أقدم علینا فا نه لیس لنا امام ، لعلّ اللّٰه یجمعنابک علی الهدیٰ فان کنتم علیٰ ذالک فقد جئتکم ، فان تعطونما أطمئنّْ الیه من عهود کم و مواثیقکم أقدم مصرکم وان لم تفعلو أوکنتم لمقد می کا رهین انصرفت عنکم الیٰ المکان الذی أقبلت منه الیکم ! ''
اے لوگو ! خدا ئے عزوجل اور تم لوگوں کے سامنے میرا عذر یہ ہے کہ میں تمہا رے پاس خود سے نہیں آیا؛ بلکہ ایک کے بعد دوسرے خطوط مسلسل آتے رہے اور میرے پاس تمہارے نامہ بر آتے رہے کہ میں چلا آؤں کیونکہ ہمارے پاس کوئی رہبر موجود نہیں ہے، شاید آپ کی وجہ سے خدا ہمیں ہدایت پر یکجا کردے ۔اب اگر تم لوگ اپنے اس قول پر باقی ہو تو میں آگیا ہوں ۔ اگر تم کوئی قابل اطمینان عہد ومیثاق پیش کرو گے تو میں تمہارے شہر میں آؤں گا اور اگر تم ایسا نہیں کرتے ہو اور میرا آنا تمہیں نا پسند ہے تومیں اسی جگہ پلٹ جاتا ہوں جدھرسے تمہاری طرف آیا ہوں ۔
لیکن ان لوگوں نے امام علیہ السلام کی اس گفتار کا کوئی جواب نہ دیا اور موذن سے کہنے لگے : اقامت کہو تو موذن نے اقامت کہنا شروع کر دی ،حسین (علیہ السلام) نے حر سے کہا :''أتریدأن تصلّ بأ صحابک''کیا تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتے ہو ؟ حر نے جواب دیا :نہیں ! آپ نماز پڑھائیں اور ہم لوگ آپ کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ (امام) حسین (علیہ السلام) نے اور ان لوگوں نے ساتھ ساتھ نماز اداکی۔ نماز کے بعدامام علیہ السلام اپنے خیمے میں چلے گئے۔ خیمے میں پہنچتے ہی آپ کے اصحاب پر وانے کی طرح شمع کے اردگرد آکر بیٹھ گئے ۔ادھر حربھی اپنے خیموں کی طرف روانہ ہو گیا اور وہاں پہنچ کر اس خیمہ میں داخل ہواجو اس کے لئے لگایاگیا تھا ۔جب وہ خیمہ میں آیا تو اس کی فوج کے بعض افراد اس کے پاس آکر بیٹھ گئے اور دیگر فوجی انہیں صفوں میں پلٹ گئے جہاں وہ موجودتھے پھر اس نے ان بقیہ فوجیوں کو بھی وہیں لوٹادیا ۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے جانور کی لگام سنبھالی اور گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے اسی کے سایہ میں بیٹھ گئے۔
پھر جب عصر کا وقت آیا تو حسین (علیہ السلام) نے حکم دیاکہ کوچ کے لئے آمادہ ہوجائیں ۔ اس حکم کے بعد اپنے مؤذن کو نماز عصر کے لئے اذان دینے کا حکم دیا ۔موذن نے اذان دی اور اقامت کہی،امام حسین (علیہ السلام) آگے بڑھے اور تمام لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز اداکی۔نماز ختم کرنے کے بعد آپ نے پھر حر کے لشکر کی طرف رخ کیا اور حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا :
''یاایهاالناس ! فانکم ان تتقواوتعرفوا الحق لاهله یکْن أرضیٰ للّه ، ونحن أهل البیت أولیٰ بولايةهٰذالامر علیکم من هٰؤلاء المدعین مالیس لهم ، والسائرین فیکم بالجور والعدوان ! ان أنتم کرهتمونا وجهلتم حقنا ، وکان رأیکم غیر ما آتتن کتبکم وقدمت به علی ّ رسلکم انصرفت عنکم ! ''
اے لوگو! اگر تم تقوی اختیار کرو اور حق کو صاحب حق کے لئے پہچانو توخدا کو یہ چیز سب سے زیادہ راضی کرنے والی ہے ۔ ہم اہل بیت اس نظام کی سربراہی اورولایت کے لئے ان لوگوں سے زیادہ سزاوارہیں جو فقط اس حکومت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں اور تم میں ظلم و جور وستم کو روا رکھتے ہیں ۔ اس کے باوجود بھی اگر ہم تم لوگوں کو ناپسند ہیں اور تم لوگ ہمارے حق سے جاہل ہو اورتم لوگوں کا نظریہ ان لوگوں کے بر خلاف ہے جو اپنے خطوط کے ذریعہ مجھے یہاں تک لائے ہیں اور میرے لئے قاصد بھیجے ہیں تو میں ابھی تم لوگوں کی طرف سے منصرف ہوکر پلٹ جاتا ہوں ۔
حربن یزیدنے کہا : خداکی قسم! ان خطو ط کے بارے میں ہمیں کچھ بھی معلوم نہیں ہے جن کاآ پ تذکرہ کررہے ہیں ۔امام حسین علیہ السلام نے کہا :یا''عقبة بن سِمعان ! أخرج الخْرجین'' (١)
____________________
١۔ یہ بات عنقریب بیان ہوگی کہ امام علیہ السلام جب دشمنو ں کی درمیان روز عاشورا خطبہ دے رہے تھے اور ان پرحجت تمام کررہے تھے کہ ان لوگو ں نے خود امام علیہ السلام علیہ السلا م کو خط لکھا ہے تو ان لوگو ں نے کہا : آپ کیاکہہ رہے ہیں ؟ ہم کچھ نہیں سمجھ رہے ہیں تو اس وقت حر نے کہا تھا : کیو ں نہیں ! خدا کی قسم ہم لوگو ں نے آپ کو خط لکھا تھا اور ہم ہی لوگ آپ کو یہا ں لائے ہیں ، خدا باطل اور اہل باطل کا برا کرے، خدا کی قسم! میں دنیا کو آخرت پر اختیار نہیں کرسکتا یہ کہہ کر حر نے اپنے گھوڑے کو موڑ دیا اور امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں داخل ہوگیا۔(ص٢٥١)
اے عقبہ بن سمعان ! ذراخورجین نکالو! عقبہ بن سمعان نے خورجین نکالی تو وہ خطوط سے بھری تھی۔ امام علیہ السلام نے ان تمام خطوط کو ان لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا ۔
حرنے کہا: ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جنہوں نے آپ کوخط لکھا تھا؛ ہم کو تو فقط یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب ہمارا آپ سے سامنا ہو تو ہم کسی طرح آپ سے جدا نہ ہو ں یہاں تک کہ آپ کو عبیداللہ بن زیاد کی خدمت میں پیش کردیں ۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:''الموت أدنی الیک من ذالک !'' تمہاری موت اس فکر سے زیادہ نزدیک ہے پھرآپ نے اپنے اصحاب سے کہا :''قوموا فارکبوا ! '' اٹھو اور سوار ہوجاؤ تو وہ سب سوار ہوگئے اور خواتین کے سوار ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ سوار ہوکر جب یہ نورانی قافلہ چلنے لگا اورمدینہ کی طرف پلٹنے لگا تو حر کی فوج راستہ روک کر سامنے آکر کھڑی ہوگئی تو امام حسین علیہ السلام نے حرسے کہا :'' ثکلتک أُمک ! ماترید ؟'' تیری ماں تیرے غم میں عزادار ہو!تو کیا چاہتا ہے ؟
حرنے جواب دیا :''اماواللّه لو غیرک من العرب یقولها لی'' خداکی قسم! اگر آپ کے علاوہ عرب میں کسی اور نے یہ جملہ کہاہوتا جو آپ نے مجھ سے کہا ہے اور اس حال میں ہوتا جس میں ابھی آپ ہیں تو میں بھی اسے نہ چھوڑتا اور اس کی ماں کو اس کے غم میں بیٹھادیتا او ر اس سے وہی کہتا جو مجھے کہناچاہیے لیکن خدا کی قسم! میری قدرت نہیں ہے کہ میں آپ کی مادر گرامی کے سلسلہ میں کچھ کہوں مگر یہ کہ ان کا تذکرہ جس قدر اچھائی سے ہوسکتا ہے وہی کرسکتا ہوں ۔(١) اما م حسین علیہ السلام نے دوبارہ حر سے پوچھا : فما ترید ؟ پس تم کیا چاہتے ہو ؟
حرنے کہا: ''أرید واللّٰه ، أن أنطلق بک الیٰ عبیداللّٰه بن زیاد '' خدا کی قسم میرا ارادہ یہ ہے کہ آپ کو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے چلوں ۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :''اذن والله لا أتبعک'' ایسی صورت میں خدا کی قسم میں تمہاری ہمراہی نہیں کروں گا ۔
____________________
١۔ اس واقعہ کو ابوالفرج اصفہانی نے مقاتل الطالبیین کے ص٧٤،طبع نجف پر ابو مخنف سے نقل کیا ہے۔
حرنے جواب دیا:'' اذن واللّٰه لا أدعک'' ایسی صورت میں خدا کی قسم! میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا ۔
جب بات زیادہ ہوگئی اوردونوں کے درمیان اسی طرح رد وبدل ہونے لگی تو حر نے امام حسین علیہ السلام سے کہا :مجھے آپ سے جنگ کا حکم نہیں دیا گیا ہے، مجھ سے فقط یہ کہا گیا کہ آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں اور آپ کو کوفہ تک لے آوں ۔ اب اگر آپ انکار کررہے ہیں تو ایک ایسا راستہ انتخا ب کیجیے جس سے آپ نہ کوفہ جاسکیں اور نہ ہی مدینہ پلٹ سکیں ۔میرے خیال میں آپ کے اور ہمارے درمیان یہی منصفانہ رویہ ہوگا پھر میں عبیداللہ بن زیاد کو خط لکھ کر حالات سے آگاہ کروں گا اور آپ کی مرضی ہو گی تو یزید بن معاویہ کو خط لکھئے گا یا پھر عبیداللہ بن زیاد کو خط لکھئے شاید خداوند عالم کوئی ایسا راستہ نکال دے جس کی وجہ سے مجھ کو آپ سے درگیر ہونے سے نجات مل جائے۔
آپ یہاں سے عْذیب اور قادسیہ کے راستہ سے نکل جائیے (اس وقت آپ لوگ ذوحسم میں موجود تھے) ذوحسم اور عذیب کے درمیان ٣٨میل کا فاصلہ تھا۔امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب اس راستہ پرروانہ ہوگئے اور حر بھی اسی راستہ پر چل پڑا۔(١)
بارہویں منزل : البیضة(٢)
اب یہ نورانی قافلہ نہ تو مدینہ کے راستے پر گامزن تھا۔اورنہ ہی کوفہ کی طرف اپنے قدم بڑھارہا تھابلکہ ایک تیسری طرف رواں دواں تھا ۔چلتے چلتے ایک منزل آئی جسے ''بیضہ '' کہتے ہیں ۔یہاں پر حضرت نے اپنے اصحاب اور حرکے لشکر کو مخاطب کر کے ایک خطبہ دیا۔ حمد و ثنائے الہٰی کے بعد آپ نے فرمایا:
''ایهاالناس! ا نّ رسول اللّٰه صلی الله علیه(وآله) وسلّم قال :'' من رأی سلطاناًجائر اً مستحلاً لحرم اللّٰه،ناکثاً لعهد اللّٰه ، مخالفاًلسنّة رسول اللّٰه، یعمل فی عباداللّٰه با لاثم والعدوان فلم یغيّر علیه بفعل ولا قول ، کان حقاً علی اللّٰه أن یدخله
____________________
١۔ ہشام کے حوالے سے جوباتی ں ہم بیان کررہے ہیں وہ یہا ں پر ختم ہوجاتی ہیں ۔(ارشاد،ص٢٢٥،الخواص ،ص ٢٣٢)
٢۔ یہ جگہ'' واقصہ'' اور'' عذیب الھجانات ''کے درمیان ہے ۔
مدخله''ألاوانّ هولاء قد لزموا طاعة الشیطان وترکو ا طاعة الرحمٰن و أظهروا الفساد و عطّلواالحدود ، واستأ ثروا بالف ئ، وأحلوا حرام اللّٰه و حرّموا حلال اللّٰه وأنا أحق من غیری''
قد أتتن کتبکم وقد مت علی رسلکم ببیعتکم أنکم لا تسلمونی ولا تخذلون ، فان تممتم علی بیعتکم تصیبوا رشدکم ، فأنا الحسین بن عل وابن فاطمه بنت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه (وآ له) وسلم نفسمع أنفسکم وأهل مع أهلیکم ، فلکم فیّ أسوة ، وان لم تفعلوا و نقضتم عهدکم ، وخلعتم بیعتی من أعناقکم فلعمرما هی لکم بنکر ، لقدفعلتموها بأب و أخ وابن عم مسلم !والمغرور من ا غترّبکم ؛ فحظکم أخطاتم،ونصیبکم ضيّعتم( ''ومن نکث فانما ینکث علی نفسه'' ) (١) وسیغن اللّٰه عنکم والسلام علیکم ورحمةاللّٰه و برکاته''(٢)
اے لوگو! رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی ایسے ستم گر حاکم کو دیکھے جو حرام خدا کو حلال سمجھتا ہو، الہٰی عہد وپیمان کو توڑنے والاہو ، اللہ کے رسول کی سنتوں کا مخالف ہو ، گناہ و ستم کے ساتھ بندگان خداسے پیش آتاہواور وہ ایسے پیکر ظلم وجور کے خلاف اپنے قول و فعل کے ذریعہ کوئی تغیر احوال کا اظہار نہ کرے تو خدا وند عالم کو حق حاصل ہے کہ ایسے شخص کو جہنم میں اسی ظالم کے ہمراہ داخل کردے ؛ آگاہ ہوجاؤ کہ ان لوگوں نے شیطان کی پیروی کرلی ہے اور رحمن کی اطاعت کو ترک کردیا ہے ، فساد کو آشکار ، حدود الٰہی کو معطل، انفال اور عوام الناس کے اموال کو غصب ، حلال خدا کو حرام اور حرام خداکو حلال بنادیا ہے اور میں اس راہ و روش کو بدلنے کے لئے سب سے زیادہ سزاوار ہوں ۔
تم لوگوں نے ہمیں خط لکھ کر بلایا ہے اور تمہارے نامہ بر تمہاری بیعتوں کے ساتھ میرے پاس آئے اور کہا: تم لوگ مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑوگے اور کبھی بھی میری مددو نصرت سے دست بردار نہیں
____________________
١۔سورہ فتح ٨
٢۔ابومخنف نے عقبہ بن ابی عزار کے حوالے سے اس خبر کو نقل کیا ہے۔
ہوگے۔ اگر تم لوگ اپنے عہد وپیمان پر وفاداری کا ثبوت دیتے ہو تو رشد و سعادت تمہیں نصیب ہوگی کیونکہ میں حسین علی کا لال اور فاطمہ، دختر پیغمبر اسلام کافرزندہوں جس کی جان ،حق کی راہ میں تمہاری جانوں کے ساتھ ہے اور میرا گھرانہ تمہارے گھرانے کے ہمراہ ہے کیونکہ میں تم لوگوں کے لئے نمونہ عمل ہوں اور اگر تم نے اپنے عہد وپیمان کو توڑدیا اور اپنی گردنوں سے ہماری بیعت کے قلادہ کو اتاردیا تو قسم ہے میری جان کی کہ یہ تمہارے لئے کوئی عارکی بات نہیں ہے؛ کیونکہ تم میرے بابا امیر المومنین اور میرے بھائی حسن اور چچا زاد بھائی مسلم کے ساتھ کر چکے ہو۔حقیقت تو یہ ہے کہ وہ شخص سخت فریب خوردہ ہے جو ان سب باتوں کے بعد تم لوگوں پر بھروسہ کرے ؛ تم لوگوں نے اپنی زندگی کے حصہ کو کم اور اپنے حقوق کو ضائع کردیا ہے۔ '' جو عہد کو توڑے گا وہ خوداپنے نقصان کے لئے عہد شکن ہوگا '' اور خدا تم لوگوں کی مددو نصرت سے بے نیاز ہے ۔ والسلام علیکم و رحمة اللہ وبراکاتہ
امام حسین علیه السلام کي اس بصیرت افروز بیان کي بعد حر جو سفر میں آپ کي همراه تهاآپ کي پاس آیا اور کهني لگا :''یاحسین !انی أذکّرک اللّٰه فی نفسک فانی اشهد لئن قاتلت لتُقْتَلَنَّ ولئن قوتلت لتهلکن فیما أریٰ'' اي حسین ! آپ کو خدا کی یاد دلاتا هوں که آپ دوباره اپني باري میں فکر کریں !کیونکه میں گواه هوں که میري نظریه کي مطابق اگر آپ ني ان لوگوں سي جنگ کی تو وه لوگ آپ کو قتل کرالیں گي اور اگر آپ قتل کردئي گئي تو تباه و برباد هوجائیں گي ؛یه سن کر امام حسین ني فرمایا : ''أفبالموت تخوّفن ! وهل یعدوبکم الخطب ان تقتلون ! ماأدری ما أقول لک ! ولکن أقول کما قال أخو الا وس لابن عمه ولقیه وهو یرید نصرة رسول اللّٰه صلّی اللّٰه علیه (وآله) وسلم فقال له : این تذهب ؟ فانک مقتول! فقال:
سأمضی وما بالموت عار علی الفتٰی
اذا ما نوی حقاً وجاهدمسلماً
وآسی الرجال الصالحین بنفسه
وفارق مثبوراً یغش و یرغماً(١)
____________________
١۔ابن اثیر نے الکامل میں اور شیخ مفید نے ارشاد میں ص ٢٢٥پر ان اشعار کے علاوہ ایک شعر کا اور اضافہ کیا ہے ۔
فان عشت لم اندم وان مت لم الم
و کفی بک ذلاًان تعیش و ترغما
اگر میں زندہ رہا تو نادم نہیں ہو ں گا اور اگر دنیا سے گزر گیا تو ملامت نہیں کیا جاؤ ں گا اور ذلت کے لئے یہی کافی ہے کہ تو زندہ رہے اور ذلیل ہو ۔
کیا تو مجھے موت سے ڈراتاہے ؟ کیا اس سے زیادہ کچھ ہوسکتا ہے کہ تم لوگوں کے بلانے پر میراآنا اور ظلم وستم کے خلاف میرانبرد آزماہونا سبب بنے گا کہ تم لوگ مجھے قتل کردوگے۔میں نہیں سمجھتا کہ میں تم سے کیا کہوں ؛ لیکن میں وہی کہتا ہوں جو قبیلہ اوس کے ایک جوان نے اپنے چچازاد بھائی سے اس وقت کہا تھا جب وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مددونصرت کے لئے جارہا تھا۔ اس کے چچا زاد بھائی نے اس سے ملاقات کرتے ہوئے کہا : تم کہاں جارہے ہو ؟ مجھے یقین ہے کہ تم قتل ہوجاؤگے تو اس جوان مرد نے جواب دیا تھا :
میں تو پیغمبر خدا کی طرف جارہاہوں اور موت اس جوان کے لئے ننگ و عار نہیں ہے جس کی نیت حق اور جو ایک مسلمان کی حیثیت سے جہاد کے لئے جارہا ہو ،وہ نیک وصالح افراد کی مصیبت کا ہمراہی ہے اورا س سے جداہے جو ہلاک ہوچکا ہے اور اس کی زندگی ذلت و رسوائی کے ساتھ بسر ہورہی ہے ۔
جب حر نے یہ کلمات سنے تو کنارہ کش ہوگیا اور اس کے بعد امام حسین علیہ السلام اپنے اصحاب کے ہمراہ ایک سمت میں چلنے لگے اور حر اپنے فوجیوں کے ساتھ دوسری طرف آگے بڑھنے لگا۔ چلتے چلتے یہ لوگ اس منزل تک پہنچ گئے جسے'' عذیب الھجانات'' کہتے ہیں ۔
تیرہویں منزل ؛'' عذیب الھجانات ''(١)
یہ قافلہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ''ذوحسم'' کے بعد ''بیضہ ''سے ہوتے ہوئے'' عذیب الھجانات'' تک پہنچا ۔وہاں یہ قافلہ ان چار سواروں سے روبروہوا جو کوفہ سے آرہے تھے جن کے راہنما طرماح بن عدی تھے۔ جب یہ لوگ امام حسین علیہ السلام کے پاس پہونچے تو اپنے گھوڑے پر سوار یہ اشعار پڑھ رہے تھے :
____________________
١۔'' عذیب'' یہ بنی تمیم کی ایک گھاٹی ہے جو عراق کی سرحدہے۔ یہ جگہ ایرانیو ں کے اسلحہ خانہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اس کے اور ''قادسیہ'' کے درمیان ٦میل کا فاصلہ ہے۔ علاقہ '' حیرہ '' کے سربراہ '' نعمان ''کے گھوڑے اسی جگہ پر چرائے جاتے تھے۔کہا جاتا ہے ھجانات ھجین کی جمع ہے جس کے معنی غیر اصل کے ہیں یعنی جو لوگ نجیب الطرفین نہ ہو ں ۔
یا ناقتی لا تُذعری من زجری
و شمّری قبل طلوع الفجر
بخیر رکبان و خیر سفر
حتی تحلّی بکر یم النجر
الماجد الحرّ رحیب الصدر
اتنی به اللّه لخیر أ مر
ثمّة أبقاه بقاء الدهر
اے میرے ناقے! میرے جلدی جلدی چلنے پر خوف زدہ نہ ہو بلکہ تو تیز تیز چل تاکہ سپیدہ سحری تک تو بہترین سوار اور بہترین مسافر تک پہنچ جا؛ یہاں تک کہ اس ذات تک رسائی ہوجائے جس کا خاندان کریم ، بزرگ ، آزاد اور فراخ دل ہے؛جسے خداوندمتعال بہترین کام کے لئے یہاں لایا ہے، اسی لئے خدا اسے اس وقت تک باقی رکھے گا جب تک یہ دنیا اور زمانہ باقی ہے ۔
یہ سن کر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :''أما واللّٰه اِنّ لأ رجوأن یکون خیراً ما أراداللّٰه بنا قُتِلنا أو ظفرنا'' خدا کی قسم خدا وندعالم جو ہمارے لئے چاہتا ہے وہی ہما رے لئے خیر ہے؛ چاہے ہم قتل کر دیئے جائیں یا ظلم وستم کے خلاف ظفر یاب ہو جائیں ۔
یہ چار افراد چونکہ کوفہ سے آئے تھے اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ مددو نصرت کا ارادہ رکھتے تھے لہٰذا حر بن یزیدسامنے آیا اور امام علیہ السلام سے کہا : یہ لوگ جو کوفہ سے آئے ہیں آپ کے ہمراہ نہیں تھے لہٰذا یا تو میں انھیں قید کرلوں یا کوفہ لو ٹا دوں ۔
تو امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا :''لأمنّعنهّم مما أمنع منه نفس، انما هولا ء أنصار وا عوانی وقد کنت أعطیتن ان لا تعرض ل بشیء حتی یاتیک کتاب من ابن زیاد''
میں ان کی جانب سے اسی طرح دفاع اور مما نعت کروں گا جس طرح اپنا دفاع اور اپنے سلسلے میں مما نعت کررہا ہوں ؛ کیونکہ یہ میرے ناصر ومدد گار ہیں اور تم نے عہد وپیمان کیا ہے کہ جب تک تمہارے پاس ابن زیاد کا خط نہیں آجاتا اس وقت تک تم مجھ سے درگیر نہ ہو گے ۔
حرنے کہا: ٹھیک ہے لیکن یہ آپ کے ساتھ نہیں آئے ہیں ۔
امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا : ''ہم أصحابی وہم بمنزلة من جاء مع فان تممت علیّ ما کان بین وبینک والا نا جز تک '' یہ میرے اصحاب ہیں اورانہیں لوگوں کی طرح ہیں جو میرے ساتھ آئے ہیں ۔اگرتم نے اس عہد وپیمان کو بر قراررکھا جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہوا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم تمہارے سامنے میدان کا رزار میں اتر آئیں گے۔یہ سن کر حر ان لوگوں سے دست بردارہو گیا ۔
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام ان لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرما یا :''أخبر ونی خبرالناس وراء کم '' جن لوگوں کو تم اپنے پیچھے چھوڑ کر آئے ہو ان کی خبر سناؤ ۔
تو مجمّع بن عبد اللہ عائذی(١) جو انہیں چار میں سے ایک تھے اور کوفہ سے یہاں آئے تھے، نے آپ سے عرض کیا :'' أما ا شراف الناس فقد اُعظمت رشوتهم ومُلِئَت غرائر هم ، یستمال ودّهم ویستخلص به نصیحتهم فهم ألب واحد علیک ! وأما سائرالناس بعد،فاِنَّ أفئد تهم تهو الیک وسیو فهم غداً مشهورة علیک'' اشراف اور سر برآوردہ افراد کو رشوت کی خطیر رقم دیدی گئی ہے، ان کے تھیلوں کو بھر دیا گیاہے، اس طرح سے ان کی خیر خواہی کواپنی طرف متوجہ کر لیا گیا ہے اور ان کو اپنا محبوب بنا لیا گیاہے۔ یہ گروہ وہ ہے جو آپ کے خلاف دشمن کے ہمراہ ہے اور بقیہ لوگ وہ ہیں جن کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں لیکن ان کی تلوار یں کل آپ کے خلاف کھنچی ہوں گی ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا :'' أخبرونی فهل لکم برسول الیکم ؟ '' کیا میرا کوئی پیغام رسان تم تک پہنچا ہے ؟ تو ان لوگوں نے پو چھا : کس پیغام رساں کی بات کررہے ہیں ؟ امام حسین نے فر مایا : قیس بن مسہر صیداوی ان لوگوں نے جواب دیا : ہاں !ان کو حصین بن تمیم نے گرفتار کر کے عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔جب وہ وہاں پہنچے تو عبیداللہ نے انھیں حکم دیا کہ وہ آپ اور آپ کے بابا پر لعنت بھیجیں ۔ انھوں نے آپ پر اور آپ کے بابا پر درود سلام بھیجا ، ابن زیاد اور اس کے باپ پر لعنت بھیجی، لوگوں کو آپ کی مدد و نصرت کے لئے بلایا اور انھیں خبر دی کہ آپ آرہے ہیں ۔اس حالت کو دیکھ کر ابن زیاد نے حکم دیا کہ انھیں چھت پر سے نیچے پھینک دیا جائے لہذا آپ کودار الامارہ کے چھت سے نیچے پھینک دیاگیا ۔
____________________
١ ۔شاید یہ چار لوگ ، جابر بن حارث سلمانی ، عمروبن خالد صید اوی اور سعد کا غلام ہو ں جنکے بارے میں ابو مخنف کا بیان ہے کہ ان لوگو ں نے جنگ کے پہلے ہی مرحلہ میں مقاتلہ کیا اور ایک ہی جگہ شہید ہوگئے ۔(طبری، ج٥ ،ص٤٤٦)
یہ جملہ سننے کے بعد امام حسین علیہ السلام کی آنکھیں آنسؤں سے ڈبڈباگئیں اور آپ کسی طرح اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکے پھر آپ نے فرمایا :''مِنْهْمْ مَنْ قَضَیٰ نحبه وَ مِنْهْمْ مَنْ يَنْتَظِرْوَ مَا بَدَّلْوْا تَبْدِيْلَا ً '' (١) اللّهم اجعل لنا ولهم الجنةنزلاً واجمع بینناوبینهم فی مستقر رحمتک ورغائب مذخورثوابک ''ان میں سے بعض وہ ہیں جو (قربانی دے کر)اپنا عہد وفاکرگئے اور ان میں سے بعض (حکم خداکے) انتظار میں بیٹھے ہیں اور ان لوگوں نے (اپنا موقف) ذرا بھی نہیں تبدیل کیا ، خدایا ! بہشت کو ہمارے اور ان کے نزول کی جگہ قرار دے اور اپنی رحمتوں کی جایگاہ میں ہمیں اور انھیں یکجا کردے اوراپنے بہترین ثواب کے ذخیرہ سے بہرہ مند فرما!(٢) اس دعا کے بعد طرماح بن عدی امام حسین علیہ السلام کے قریب آئے اور عرض کی :'' أنّی واللّٰه لا نظر فماأری معک أحداً ولو لم یقاتلک الا هؤلاء الذین أراهم ملا زمیک لکان کفیٰ بهم وقد رأیت قبل خروج من الکوفة الیک بیوم ظهر الکوفة،و فیه من الناس مالم ترعینا فی صعید واحدجمعاًاکثرمنه ، فسألتْ عنهم ، فقیل : اجتمعوا لیعرضوا ثم یسرّحون الی الحسین ، فأنشدک ان قدرت علی أن لا تقدم علیهم شبراً الافعلت ! فان أردت أن تنزل بلداً یمنعک اللّٰه به حتی تری من رأیک و یستبین لک ماأنت صانع ، فسرحتی أنزلک مناع جبلنا الذی یدعی ''أ جا ئ'' (٣) فأسیر معک حتی أنزلک القُرَيّةَ'' (٤)
خدا کی قسم میں جو دیکھ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ آ پ کے سا تھ زیادہ یار و مدد گا ر نہیں ہیں اور اگر انہیں لوگوں کے علاوہ جنہیں میں ساتھ ساتھ دیکھ رہا ہوں کوئی اور نہ ہو ا تو یہی لوگ ان کے لئے کافی ہیں ۔ کوفہ
____________________
١۔سورہ احزاب٢٣
٢۔ ابو مخنف کابیان ہے کہ عقبہ بن ابی عیزار نے یہ واقعہ بیان کیا ہے۔(طبری ،ج٥، ص ٤٠٣ ، ارشاد ، ص ٢٢٥ ، طبع نجف)
٣۔یہ ایک شخص کا نام ہے جس کے نام پرعلاقہ طئی کا پہاڑ موسوم ہے۔ یہ طئی کے مغربی علاقہ میں سمیرا ء پہاڑ کے بائی ں جانب ہے ۔
٤۔یہ قریہ کی اسم تصغیر ہے اور طی کے علاقہ میں ایک جگہ کا نام ہے ۔
سے نکل کر آپ کی طرف آنے سے ایک دن قبل میں نے کوفہ کے پیچھے بہت سارے لوگوں کودیکھا جس سے پہلے ایک ہی جگہ پرمیں نے اتنا جم غفیر نہیں دیکھا تھا۔میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ یہ مجمع کیسا ہے ؟کسی نے کہا یہ لوگ اس لئے جمع ہوئے ہیں تاکہ فوجی ٹریننگ لے سکیں اور پھر حسین سے جنگ کے لئے کوچ کریں لہٰذا میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر آپ قادر ہیں تو ایک بالشت بھی ان لوگوں کی طرف نہ بڑھیں ۔ اگر چاہتے ہیں کہ کسی ایسے شہر میں جائیں جہاں خدا آپ کی جان کو ان ظالموں کے چنگل سے نجات دیدے اور پھر آپ دیکھیں کہ آپ کا منشاء کیا ہے اور آپ کے لئے موقعیت پوری طرح واضح ہوجائے تو آپ ہمارے ساتھ چلیں تاکہ ہم آپ کو اپنی طرف ایک پہاڑی علاقہ میں اتار دیں جہاں کوئی پر بھی نہیں مار سکتا، جسے ''آجائ'' کہتے ہیں ۔میں وہاں تک آپ کے ساتھ چلوں گا اور آپ کو وہاں کے ایک گاؤں میں جس کا نام ' ' قر یہّ'' ہے اتار دوں گا ۔
امام حسین علیہ السلام نے ان سے فرمایا :'' جزاک اللّه وقومک خیراً ! انه قد کان بیننا وبین هٰؤ لاء القوم قول لسنا نقدرمعه علی الا نصراف ولا ندری علام تنصرف بنا وبهم الاُمور فی عاقبة !'' خدا تمہیں اور تمہاری قوم کو جزائے خیر دے!حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان ایک قول وقرارہے جس کی وجہ سے ہم ان سے جدا نہیں ہو سکتے اور ہمیں یہ نہیں معلوم کہ عاقبت کار ہمارے اور ان کے امور کو کہاں لے جائے گی۔
طر ّماح کا بیان ہے کہ یہ سننے کے بعد میں نے ان کو الوداع کیا اور کہا: خدا آپ کو جن ّ وانس کے شر سے دور رکھے(١) اور حسین(علیہ ا لسلام) آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ قصر بنی مقاتل تک پہنچ گئے ۔
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ جمیل بن مرید نے طر مّاح کے حوالے سے مجھ کو یہ خبر دی ہے۔(طبری ،ج٥، ص٤٠٦) اور پوری خبر یہ ہے کہ طرمّاح کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : میں نے کوفہ سے اپنے گھر والو ں کے لئے کچھ آذوقہ فراہم کیا ہے جن کا نفقہ مجھ پر واجب ہے لہذامیں وہا ں پہنچ کر اسے رکھ کر انشاء اللہ فوراً آپ کی طرف پلٹ رہا ہو ں ۔اگر میں آپ سے ملحق ہو گیا تو خدا کی قسم میں ضرور آپ کی مدد کرنے والا ہو ں گا ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : ایسا کرناچاہتے ہو تو جلدی کرو اللہ تم پر رحمت نازل فرمائے ! طر ماح کہتے ہیں : جب میں اپنے گھر والو ں کے پاس پہنچا تو آذوقہ ان کے پاس رکھا ، جو چیز ان کے لئے ضروری اور ان کی بہتری میں تھی اسے وہا ں فراہم کیا اور ان سے وصیت کی پھر اپنے ارادہ کو ان کے سامنے پیش کر کے فوراً لوٹ گیا یہا ں تک کہ جب میں '' عذیب الہجانات'' تک پہنچا تو سماعہ بن بدر نے امام علیہ السلام کی شہادت کی خبر سنائی تو میں واپس پلٹ گیا۔ (طبری ،ج٥ ، ٤٠٦)
چودہویں منزل : قصر بنی مقاتل(١)
''عذیب الہجا نات ''سے چل کر حسین بن علی علیہ الصلوٰة والسلام قصر بنی مقاتل تک پہنچے۔ وہاں آپ نے پڑاؤ ڈالاتو دیکھاکہ وہاں ایک خیمہ لگا ہواہے،(٢) امام علیہ السلام نے فرمایا :''لمن هٰذا الفسطاط ''یہ خیمہ کس کا ہے ؟ تو کسی نے کہا : عبید اللہ بن حر جعفی(٣) کا خیمہ ہے ۔ امام علیہ السلا م نے فرمایا :''ادعو ه ل ی'' اسے میرے پاس بلاؤ، پھر ایک پیغام ر ساں کو اس کے پاس روانہ کیا ،جب وہ پیغام رساں وہاں پہنچا تو اس نے کہا : یہ حسین بن علی ہیں جو تم کو بلارہے ہیں ، عبیداللہ بن حر جعفی نے کہا :'' انّاللّٰہ واناالیہ راجعون '' خدا کی قسم میں کوفہ سے نکلا تو مجھے یہ گوارا نہیں تھا کہ کسی جگہ حسین سے ملاقات ہو ، واللہ میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے دیکھیں یا میں ان کو دیکھوں ۔ پیغام رساں واپس پلٹا اور اس نے آکر امام کو اس کے بارے میں خبر دی۔
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام خود اٹھے، نعلین منگوائی،اسے پہن کر کھڑے ہوئے اوربنفس نفیس اس کے پاس گئے ،خیمہ میں داخل ہوکر اسے سلام کیا پھر اسے اپنے ساتھ قیام کی دعوت د ی تو ابن حرنے اپنی با توں کو پھردھرایا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا :'' فان لا تنصرنا فاتّق اللّٰه أن تکون ممن یقاتلنا فواللّٰه لا یسمع واعیتنا أحد ثم لا ینصرنا الا هلک'' اگر تم میری مدد نہیں کرناچاہتے ہوتو خدا سے خوف کھا ؤ کہ کہیں مجھ سے جنگ کرنے والوں میں نہ ہو جاؤ ؛کیو نکہ خدا کی قسم کو ئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو میری فریا دسن کر میری مدد نہ کرے مگر یہ کہ وہ ہلاک ہو جائے گا ۔یہ کہہ کر آپ اس کے پاس سے اٹھ کر چلے آئے۔(٤)
____________________
١۔ معجم میں ہے کہ یہ جگہ چند دیہا تو ں اور'' قطقطا نہ'' اور'' عین التمر'' کے درمیان واقع ہے۔
٢۔ ابو مخنف نے اس طرح بیان کیا ہے۔ (طبری ،ج٥،ص٤٠٧)
٣۔اس شخص کے حالات کتاب کے آخری حصہ میں بیان کئے جائی ں گے۔
٤۔ ابو مخنف کا بیان ہے : مجھ سے مجالد بن سعید نے عامر شعبی سے یہ روایت بیان کی ہے۔ (طبری، ج٥، ص٤٠٧ ، ارشاد ص، ٢٢٦)
عقبہ بن سمعان کا بیان ہے کہ رات کے آخری حصہ میں امام حسین (علیہ السلام) نے پا نی بھر نے کا حکم دیا اور جب چھاگلیں بھری جا چکیں تو آپ نے ہم لوگوں کو کوچ کر نے کا حکم دیا اور ہم نے وہی کیا۔ جب ہم لوگ'' قصر بنی مقاتل ''سے کوچ کررہے تھے اور ہمارا سفر جاری تھا تو کچھ دیر کے لئے حسین کی آنکھ لگ گئی ،جب آنکھ کھلی تو آپ یہ فر مارہے تھے:'' انا للّٰہ واناالیہ راجعون والحمد للّٰہ رب العا لمین'' اس جملہ کی آپ نے دو یا تین مرتبہ تکر ار فرما ئی ، یہ سن کر آپ کے فرزند علی بن حسین (علیہ السلام) آگے بڑھے جو اپنے گھوڑے پر سوارتھے اور آپ نے بھی اپنے بابا کے جملہ کی تکرار''اناللّٰه واناالیه راجعون والحمد للّه رب العالمین'' کرتے ہوئے فرمایا :''یا ابت جُعلت فداک ممّ حمد ت واستر جعت''ب ابا جان! آپ پر میری جان قربان ہو،کیا سبب ہو اکہ آپ نے یکبارگی حمد الہٰی کی اور زبان پر کلمۂ استرجاع جاری کیا ؟
امام علیہ السلام نے جواب دیا:''یا بُن ان خفقت برأس خفقة فعنّ ل فارس علی فرس فقال : القوم یسیرون والمنایا تسر الیهم ، فعلمت أنها أنفسنا نعیت الینا !'' اے میرے لال !تھوڑی دیر کے لئے میری آنکھ لگ گئی تھی تو میں نے خواب کے عالم میں دیکھا کہ ایک گھوڑ سوار میرے سامنے نمودارہوا اور اس نے کہا یہ قوم آگے بڑھ رہی ہے اور موت ان کے پیچھے پیچھے چل رہی ہے ،اس سے مجھ کو معلوم ہوگیا یہ مجھے میری شہادت کی خبر دے رہاہے۔
علی بن حسین علیہ السلام :''یاأبت لا أراک اللّٰه سوئً السنا علی الحق؟ ''اے بابا ! میں نہیں سمجھتا کہ اللہ آپ کے لئے برا کرے گا کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟
امام حسین علیہ السلام :''بلیٰ والذی الیه مرجع العباد ! ''کیوں نہیں (ہم ہی حق پر ہیں ) قسم ہے اس ذات کی جس کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔
علی بن الحسین :''یاأبت اذاًلا نبالی ، نموت محقین' 'بابا جان ایسی صورت میں ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے کیوں کہ ہماری موت حق پر ہے ۔
امام حسین :جزاک اللّٰه من ولد خیر ماجزی ولداً عن والده ، خداوند متعال تمہیں وہ بہترین جزا دے جو باپ کی دعا سے بیٹے کو نصیب ہوتی ہے ۔
اسی گفتگو کے درمیان کچھ دیر کے بعد سپیدہ سحری نمودار ہوئی ۔ آپ نے صبح کی نماز ادا کی اور دوبارہ جلدی سے سب اپنی اپنی سواریوں پر بیٹھ گئے اورآپ اپنے اصحاب کو اس سر زمین کے بائیں جانب چلنے کا اشارہ کیا تاکہ انہیں لشکر حر سے جدا اور متفرق کر سکیں لیکن حر بن یزید کی جستجو یہ تھی کہ آپ کوکسی طرح کوفہ سے نزدیک کردے لہٰذا وہ آپ لوگوں کو پراکندہ ہونے سے روک کر واپس پلٹانے لگا اور کوفہ کی طرف شدت سے نزدیک کرنے لگا،اصحاب حسینی نے اس سے ممانعت کی اوران لوگوں کو دور ہٹاتے رہے اور آپ اسی طرح اپنے چاہنے والوں کو بائیں طرف کرتے رہے اور اسی کشمکش میں نینوا آگیا ۔
قربان گاہ عشق :نینوا(١)
چودہ منزلیں ختم ہوچکی تھیں حسین بن علی (علیہما السلام) نینوامیں اترچکے تھے کہ یکایک ایک سوار اصیل و نجیب گھوڑے پر سوار ، اسلحوں سے لیث اور دوش پر کمان ڈالے کوفہ کی طرف سے نمودار ہوا سب کے سب کھڑے اس کاانتظار کرنے لگے؛ جب وہ نزدیک آیا تو اس نے حر اور اس کے لشکر والوں کو سلام کیا لیکن حسین اور ان کے اصحاب کو سلام نہیں کیا پھر اس نے عبیداللہ بن زیا دکا خط حر کو پیش کردیا اس خط میں یہ عبارت موجود تھی ۔
اما بعد، فجعجع (٢) بالحسین حین یبلغک کتاب ویقدم علیک رسول ، فلا تنزله الا بالعراء فی غیر حصن وعلی غیر ما ء و قد امرت رسول أن یلزمک ولا یفارقک حتی یاتین بأنفاذک امر، والسلام ''
____________________
١۔ یہ کربلا کاایک علاقہ ہے جو اواخر قرن دوم تک آباد رہا۔
٢۔ ابن منظور نے لسان العرب میں اصمعی سے نقل کیا ہے :'' جعجع ای احبسہ'' جعجع کے معنی یہ ہیں کہ قید کرلو اور ابن فارس نے مقاییس اللغة، ج ١ ،ص ٤١٦ پر لکھا ہے : ''ای الجئہ الی مکان خشن'' یعنی انھی ں ایک بے آب و گیاہ علاقہ میں ٹھہراؤ ۔
اما بعد، جیسے ہی نامہ برتمہارے پاس یہ خط لے کر میرا پہنچے حسین کو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں روک لو اور میں نے اپنے فرستادہ کو حکم دیا ہے کہ وہ تم سے جدا نہ ہو اور تمہاری مراقبت میں رہے یہاں تک کہ واپس لوٹ کر مجھے خبر دے کے تم نے میرے حکم کو نافذ کیا ہے۔ والسلام
جب حر نے خط پڑھا تو یہ خط لے کر وہ اس نورانی قافلہ کے پاس آیا اور کہنے لگا : یہ امیر عبیداللہ بن زیاد کا خط ہے جس میں اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو وہیں پر قید رکھوں جہاں پر اس کا خط مجھے ملا ہے اور یہ اس کا قاصداور فرستادہ ہے جسے اس نے حکم دیا ہے کہ وہ مجھ سے جدا نہ ہو یہاں تک کہ میں اس کے منشاء اور حکم کو نافذ کردوں ۔
یہ سن کر یزید بن زیاد مہاصر کندی بہدلی(١) معروف بہ شعثاء نے عبیداللہ بن زیاد کے پیغام رساں کو غورسے دیکھااور اس کے سا منے خود کونمایاں کر کے کہا : کیا تو مالک بنُ نسیر بدّی(٢) ہے !(جس کاتعلق قبیلۂ کندہ سے ہے) ؟ اس شخص نے جواب دیا : ہاں ! اس پر یزید بن زیا د معروف بہ شعثاء نے اس سے کہا : تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے ! یہ تو کیا لے کر آیا ہے ؟
____________________
١۔ آپ کا شمار امام حسین علیہ السلام کے لشکر کے تیر اندزو ں میں ہوتا ہے اورآپ حملۂ اولی میں شہید ہونے والو ں میں سے ہیں ۔ آپ نے سو تیر چلائے اور اس کے بعد کھڑے ہوکر کہنے لگے : ان تیرو ں میں سے ابھی فقط پانچ ہی تیر ہدف پر لگے ہیں اور میرے لئے واضح یہی ہے کہ میں نے پانچ لوگو ں کوقتل کیا ہے۔ ابو مخنف ہی نے فضیل بن خدیج کندی سے روایت نقل کی ہے کہ یزید بن زیاد عمر بن سعد کے ہمراہ نکلا تھا لیکن جب حسین علیہ السلام کے ساتھ صلح کی پیش کش ان لوگو ں نے ٹھکرادی تو یہ امام علیہ السلام کی طرف چلے آئے اور دشمنو ں سے خوب خوب دادشجاعت لی یہا ں تک کہ شہید ہوگئے لیکن یہ خبر اوپروالی خبر سے موافقت نہیں رکھتی ۔
٢۔ مالک بن نسیر قبیلہء بنی بْداَء سے متعلق تھا۔ یہ کربلا میں موجود تھا ۔ اس نے امام علیہ السلام کے سر پر تلوار سے ضربت لگائی جس سے آپ کی برنس کٹ گئی اور تلوار آپ کے سر تک پہنچ گئی جس نے آپ کو خون میں غلطا ں کردیا ۔اس حالت میں امام حسین علیہ السلام نے اس سے فرمایا :''لا أکلت بها ولا شربت بها وحشرک الله مع الظالمیں '' تو اس کی وجہ سے نہ کھا پائے اورنہ پی پائے اور خدا تجھے ظالمو ں کے ساتھ محشور کرے ۔
شہادت کے بعد مالک بن نسیر آپ کی برنس لے کر چلا گیا تو اس کا اثر یہ ہوا کہ ساری زندگی فقیر رہا یہاں تک کہ مرگیا ۔(طبری ،ج٥ ،ص ٤٤٨) یہ واقعہ ابی مخنف سے مروی ہے۔ '' برنس '' عربی کا ایک غیر مانوس کلمہ ہے۔ یہ ایک لمبی ٹوپی ہے جو روئی سے بنتی ہے اسے نصاریٰ کے عبادت گزار افراد پہنا کرتے تھے۔ صد ر اسلام میں مسلمان عبادت گزار افراد بھی اسے پہنا کرتے تھے جیسا کہ مجمع البحرین میں ہے نیز ابو مخنف نے روایت کی ہے کہ عبد اللہ بن دبّا س نے مختار کو ان لوگوں کا پتہ بتا یا جنھوں نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا تھا۔انھیں میں سے ایک مالک بن نسیر َبدّی بھی تھا۔ مختار نے فوراً ان قاتلوں کی سمت مالک بن عمرو نہدی کو بھیجا ۔جب مالک بن عمر ووہاں آئے اور وہ سب کے سب قادسیہ میں موجود تھے مالک بن عمرونے ان سب کو گرفتار کرلیا اور ان کو لے کر مختار کے پاس آئے۔ جب یہ قاتلین وہاں پہنچے تو رات ہو چکی تھی۔ مختار نے اس بدّی سے پوچھا : تو ہی وہ ہے جو امام کی برنس لے گیا تھا ؟ تو عبد اللہ بن کامل نے کہا : ہاں یہ وہی ہے یہ سن کر مختار نے کہا : اس کے دونوں ہاتھ پیر کاٹ دو اور چھوڑ دو تاکہ یہ تڑپے اور مضطرب ہو یہاں تک کہ مرجائے۔ اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا اور اسے چھوڑ دیا گیا تو اس کا خون مسلسل بہتا رہا یہاں تک کہ وہ مرگیا ۔یہ ٦٦ھ کا زمانہ تھا۔ (طبری، ج٦، ص ٥٧)
مالک بن نسیرنے کہا : میں کچھ بھی لے کر نہیں آیا،میں نے توفقط اپنے امام کی اطاعت اور اپنی بیعت پر وفاداری کا ثبوت پیش کیا ہے ۔
شعثاء نے اس کا جواب دیا : تو نے اپنے رب کی معصیت اور اپنے نفس کی ہلا کت میں اپنے رہبر کی اطاعت کی ہے اور یہ فعل انجام دے کر تو نے ذلت ورسوائی اور جہنم کی آگ کو حاصل کیا ہے کیو نکہ خدا وند متعال فرماتا ہے:( '' وَ جَعَلْنَاهْمْ اَ ئِمَّةً يَدْعْوْنَ اِلیَ النَّارِ وَيَوْمَ القِيَامَةِ لَايْنْصَرْوْنَ'' ) (١)
ہم نے ان کو گمراہوں کا پیشوا بنایاجو لوگو ں کو جہنم کی طرف بلا تے ہیں اور قیامت کے دن (ایسے بے کس ہوں گے کہ) ان کو (کسی طرح) کی مدد نہ دی جائے گی۔ اور وہ تیرا پیشوا ہے ۔
اس کے بعد حر بن یزید ریاحی حسینی قافلہ کو ایسی ہی جگہ پرا تارنے کی کوشش کرنے لگاجہاں نہ پانی تھا اور نہ ہی کوئی قریہ و دیہات(٢) لہذا ان لوگوں نے فرمایا کہ ہمیں چھوڑ دو تاکہ ہم اس قریہ میں چلے
____________________
١۔ سورہ قصص آیت ٤١
٢۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کر بلا کسی ایک دیہات اور قریہ کا نام نہیں تھا بلکہ یہ ایک علاقہ تھا جس کے تحت چند قریہ اور دیہات آتے تھے جیسا کہ کتاب '' الدلا ئل والمسائل ''(سید ہبة الدین شہر ستانی) میں موجود ہے۔سبط بن جوزی نے کہا : پھر (امام) حسین (علیہ السلام) نے فرمایا :'' ما یقول ھٰذہ الارض'' اس زمین کو کیا کہتے ہیں تو لوگو ں نے کہا : اسے کربلا کہتے ہیں اوراسے نینوی بھی کہا جاتا ہے جو اسی کا ایک قریہ ہے۔ یہ سن کر آپ رو نے لگے اور فرمایا:'' کرب وبلا ''یہ کرب وبلا ہے پھر فرمایا : ''اخبرتن ِام سلمة قالت'' مجھ کو ام سلمیٰ نے خبر دی ہے وہ کہتی ہیں کہ'' کان جبرئیل عند رسول اللّہ وانت مع''جبرئیل رسول اللہ کے پاس تھے اور تم میرے ہمراہ تھے'' فبکیت فقال رسول اللّہ : دع ابن فترکتک فاخذک ومنعک فی حجر ہ ''تو تم رونے لگے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : میرے فرزند کو چھوڑ دو۔ میں نے تم کو چھوڑ دیا تونبی اللہ نے تم کو پکڑا اور اپنی گودی میں بیٹھا لیا۔'' فقال جبرئیل : أتحبہ ؟ قال : نعم ! قال : فان أ متک ستقتلہ'' جبرئیل نے پوچھا : کیا آپ اس بچے سے محبت کرتے ہیں تو خدا کے نبی نے جواب دیا : ہا ں ! جبرئیل نے کہا : آپ کی امت اس بچے کو شہید کردے گی ۔'' وان شئت أن اْریک تربة أرضہ الت یقتل فیھا ؟ قال : نعم'' اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمیں کی مٹی دکھا دو ں جس میں یہ قتل کئے جائی ں گے توخدا کے نبی نے فرمایا : ہا ں ! ام سلمیٰ کہتی ہیں :'' فبسط جبرئیل جنا حہ علی أرض کربلا ء فأراہ ایاہ ثم شمھا وقال: ھٰذہ واللّٰہ ھی الارض التی أخبر بھا جبرئیل رسول اللّٰہ وانن اقتل فیھا''جبرئیل نے زمین کربلا پر اپنے پر پھیلا ئے اور وہ زمین نبی خدا کو دکھا دی ؛. پھر امام حسین علیہ السلام نے اس مٹی کو سونگھا اور فرمایا : خدا کی قسم یہی وہ زمین ہے جس
کی خبر جبرئیل نے رسول اللہ کو دی تھی اور میں یہیں قتل کیا جاؤ ں گا۔سبط بن جوزی کہتے ہیں : ابن سعد نے طبقات میں واقدی کے حوالے سے اسی معنی کو ذکر کیا ہے پھرسبط بن جوزی نے کہا : ابن سعدنے شعبی کے حوالے سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس نے کہا : جب صفین کے راستے میں علی علیہ السلام کا کربلا سے گزر ہوا اور آ پ نینوا(فرات کے نزدیک قریہ ہے) کے قریب پہنچے تو وہا ں رکے اور اپنے پانی لانے والے اور طہارت کے امور انجام دینے والے فرد کو آواز دی اور فرمایا : اے ابو عبداللہ مجھے خبر دو کہ اس زمین کوکیا کہتے ہیں ؟ اس نے جواب دیا : اسے کربلاکہتے ہیں ، یہ سن کر آپ کی آنکھو ں سے آنسو نکل پڑے اور آپ اتنا روئے کہ وہا ں کی زمین آپ کے آنسوؤ ں سے تر ہوگئی پھر فرمایا :'' دخلت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وھو یبک فقلت لہ : ما یبکیک؟'' میں ایک دن رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حا ضر ہواتو دیکھا رورہے ہیں ؛ میں نے فوراً آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا : آپ کو کس چیز نے رلادیا ؟ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب دیا : ''کان عندی جبرئیل آنفاً و اخبر نی ؛ ان ولدی الحسین علیہ السلام یقتل بشط الفرات بموضع یقال لہ کربلا ئ'' ابھی ابھی جبرئیل میرے پاس موجود تھے، انھو ں نے مجھے خبر دی کہ میرافرزند حسین فرات کے کنارے اس جگہ پر قتل کیا جائے گا جسے کربلاکہتے ہیں ۔'' ثم قبض جبرئیل قبضة من تراب فشمنی ایاھا فلم أملک عینی ان فا ضتا ''پھر جبرئیل نے وہا ں کی ایک مٹھی خاک اٹھائی جس کو میں نے سونگھا اس کا اثر یہ ہوا کہ میں اپنی آنکھو ں پر قابو نہ پا سکا اور سیل اشک جاری ہوگئے ، پھر کہتے ہیں :'' حسن بن کثیر'' اور'' عبد خیر'' نے روایت کرتے ہوئے کہا ہے: جب علی علیہ السلام کربلا پہنچے تو وہا ں رکے اور گریہ کیا اور فرمایا : ''بابی اغلیمة یقتلون ھاھنا،ھٰذا مناخ رکابھم ، ھٰذا موضع رحالھم ، ھٰذا مصرع الرجال ثم ازداد بکاء ہ'' میرے باپ ان جوانو ں پر قربان ہوجائی ں جو یہا ں قتل کئے جائی ں گے ۔یہیں پر ان کی قیام گاہ ہوگی اور وہ اپنی رکابو ں سے نیچے آئی ں گے، یہی ان کے ٹھہرنے کی جگہ ہے، یہی ان کے مردو ں کی قتل گاہ ہے، یہ کہتے کہتے آپ کی آنکھو ں سے آنسوابل پڑے اور آپ شدت سے رونے لگے۔(تذکرة الخواص ،ص ٢٥٠ ،طبع نجف) نصربن مزاحم نے اس خبر کو چار طریقو ں سے بیان کیا ہے۔ (صفین ،ص٢٤٠ ، ١٤٢ ،طبع ہارون)
جائیں جسے نینوا کہتے ہیں یا اس دیہات میں چلے جائیں جسے غاضر یہ(١) کہتے ہیں یاایک دوسرے قریہ میں جانے دو جسے شفیہ کہتے ہیں(٢) لیکن حرنے تمام درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا : نہیں خدا کی قسم میں ایسا کرنے پر قادر نہیں ہوں ، یہ شخص میرے پاس جاسوس بناکر بھیجا گیا ہے ۔
____________________
١۔ غاضریہ، غاضر کی طرف منسوب ہے جو قبیلہ بنی اسد کا ایک شخص ہے۔ یہ زمین ابھی عون کی قبر کے آس پاس ہے جو کربلا سے ایک فرسخ کے فاصلہ پر ہے وہا ں ایک قلعہ کے آثار موجود ہیں جو قلعہ بنی اسد کے نام سے معروف ہے ۔
٢۔ یہ بھی کربلا کے نزدیک بنی اسد کے کنوی ں کا مقام ہے ۔
اس بے ادبی پرزہیر بن قین ، امام علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہنے لگے :''یابن رسول اللّٰہ، ان قتال ھولاء أھون من قتال مَن یاتینا من بعدھم ، فلعمری لیاتینا من بعد من تری مالا قبل لنا بہ'' اے فرزند رسولخدا ! ان لوگوں سے ابھی جنگ آسان ہوگی بہ نسبت اُن لوگوں کے جو اِن کے بعد آئیں گے۔ قسم ہے مجھے اپنی جان کی اس کے بعدہماری طرف اتنے لوگ آئیں گے جن کا اس سے پہلے ہم سے کوئی سابقہ نہ ہواہو گا ۔زہیر کے یہ جملے سن کر امام علیہ السلام نے ا ن سے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جوان کے سابقہ بزرگوں کی سیرت کا بیان گر ہے۔ آپ نے فرمایا : ''ماکنت لٔابدأ ھم با لقتال'' میں ان سے جنگ کی ابتداء کرنا نہیں چاہتا اس پر زہیر بن قین نے کہا : تو پھر اس کی اجازت فرمائیے کہ ہم اس قریہ کی طرف چلیں اور وہاں پہنچ کر پڑاؤ ڈالیں کیونکہ یہ قریہ سرسبزو شاداب ہے اور دریائے فرات کے کنارے ہے۔ اگران لوگوں نے ہمیں روکا تو ہم ان سے نبرد آزمائی کریں گے کیونکہ ان سے نبرد آزماہونا آسان ہے بہ نسبت ان لوگوں کے جو ان کے بعد آئیں گے۔ اس پر امام علیہ السلام نے پوچھا :''وأےة قرےة ھی ؟ ''یہ کون سا قریہ ہے ؟ زہیر نے کہا : ''ھی العقر''اس کانام عقر ہے(١) تو امام علیہ السلام نے ان سے فرمایا : ''اللّٰھم انی أعوذبک من العقر'' خدا یا !میں عقر سے تیری پناہ مانگتاہوں ، پھر آپ نے وہیں اپنے قافلہ کو اتارا۔ یہ جمعرات دوسری محرم ٦١ ھ کا واقعہ ہے جب دوسرا دن نمودار ہواتو سعد بن ابی وقاص(٢) کا بیٹاعمر کوفہ سے چار ہزار فوج لے کر کربلا پہنچ گیا ۔
____________________
١۔ بابل کے دیہات میں ایک جگہ ہے جہا ں بنو خذنصر(یہ وہی بخت النصر معروف ہے جس کا صحیح تلفظ بنو خذ نصر ہے) رہاکرتے تھے اس علاقہ کو شروع میں کوربابل کے نام سے یاد کیا جاتا تھا بعد میں کثرت استعمال کی وجہ سے تصحیف ہو کر کربلا کہا جانے لگا ۔
٢۔ مذکورہ شخص کے احوال گذر چکے ہیں ۔
امام حسین علیہ السلام کی جانب پسر سعد کی روانگی
* ابن زیاد کے نام عمر بن سعد کا خط
* ابن زیاد کا جواب
* پسر سعد اور امام علیہ السلام کی ملاقات
* ابن زیاد کے نام عمر بن سعد کا دوسرا خط
* ابن زیاد کا پسر سعد کے نام دوسرا خط
* خط کے ہمراہ شمر کا کربلا میں ورود
* جناب عباس اور ان کے بھائیوں کے نام امان نامہ
* امام علیہ السلام اور ان کے اصحاب پر پانی کی بندش
امام حسین علیہ السلام کی جانب پسر سعد کی روانگی
امام حسین علیہ السلام کی طرف پسر سعد کی روانگی کا سبب یہ تھا کہ عبیداللہ بن زیاد نے اسے اہل کوفہ کی چارہزار فوج کے ہمراہ ''ہمدان ''اور'' ری'' کے درمیان ایک علا قہ کی طرف روانہ کیا تھا جسے دشتبہ(١) کہتے ہیں جہاں دیلمیوں نے حکومت کے خلاف خروج کر کے غلبہ حاصل کر لیا تھا ۔ ابن زیاد نے خط لکھ کر ''ری'' کی حکومت اس کے سپردکی اور اسے روانگی کا حکم دیا ۔
عمر بن سعد اپنی فوج کے ہمراہ روانہ ہو گیا۔'' حمام اعین ''(٢) کے پاس جا کر پڑاؤ ڈالا لیکن جب امام حسین علیہ السلام کامسئلہ سامنے آیا کہ وہ کو فہ کی طرف آرہے ہیں تو ابن زیاد نے عمر سعد کو بلا یا اور کہا : تم حسین کی طرف روانہ ہو جاؤ اور جب ہمارے اور اس کے درمیان کی مشکل حل ہو جائے تب تم اپنے کام کی طرف جانا۔ اس پر عمر بن سعد نے کہا : اللہ آپ پر رحم کرے اگر آپ بہتر سمجھیں تو مجھے اس سے معاف فرمائیں اور یہ کام خود انجام دیں ۔ یہ سن کر ابن زیاد نے کہا : ہاں یہ ممکن ہے لیکن اس شرط پر کہ تم وہ عہد نا مہ واپس کر دو جو میں نے تم کو'' ری'' کے سلسلے میں دیا ہے۔جیسے ہی ابن زیاد نے یہ کہا ویسے ہی عمر بن سعد بولا:مجھے ایک دن کی مہلت دیجئے تاکہ میں خوب فکر کرسکوں اور وہاں سے اٹھ کر اپنے خیر خوا ہوں کے پاس مشورہ کرنے کے لئے آیا۔تمام مشورہ دینے والوں نے اسے اس کام میں ہا تھ ڈالنے سے منع کیا ۔
____________________
١۔عربی میں اس کو دستبی کہتے ہیں جو فارسی میں دشتبہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خوبصورت، سر سبز وشاداب اور بہت بڑاعلا قہ ہے جو ہمدان اور ری کے درمیان ہے۔ بعد میں یہ قزوین سے منسوب ہوگیا جیسا کہ معجم البلدان ،ج٤، ص ٥٨میں ذکر ہوا ہے۔
٢۔ یہ کوفہ کے دیہاتو ں میں سے ایک دیہات ہے جہا ں عمر بن سعد کا ایک حمام تھا جو اس کے غلام'' اعین'' کے ہاتھ میں تھا۔ اسی کے نام پر اس علا قہ کا نام'' حمام اعین'' ہو گیا۔(القمقام ،ص٤٨٦)
اس کا بھا نجا حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ(١) اس کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے ماموں ! میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ آپ حسین کی طرف نہ جائیں ورنہ آپ اپنے رب کے گناہ گار اور اپنے نزدیکی رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والے ہوں گے۔ خدا کی قسم اگر آپ دنیا سے اس حال میں کوچ کریں کہ آپ تمام دنیا کے مالک ومختار ہوں اور وہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے تو یہ آپ کے لئے اس سے بہتر ہے کہ آپ اللہ سے اس حال میں ملا قات کریں کہ حسین کے خون کا دھبہ آپ کے دامن پر ہو !اس پر ابن سعد نے کہا : انشا ء اللہ میں ایسا ہی کروں گا ۔(٢)
یہاں سے طبری کی روایت میں ابومخنف کی خبروں کے سلسلہ میں انقطاع پایا جاتا ہے اور ابن سعد کے کربلا میں وارد ہونے کی داستان کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس خلاء کو طبری نے ''عوانہ بن حکم'' کی خبر سے پُر کیا ہے۔ چار وناچا ربط بر قرار رکھنے کے لئے ہمیں اسی سلسلے سے متصل ہونا پڑرہا ہے ۔
ہشام کابیان ہے :مجھ سے'' عوانہ بن حکم'' نے عمار ابن عبداللہ بن یسارجہنی کے حوالے سے بیان کیا ہے اور اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ میرے والد نے کہا :میں عمر بن سعدکے پاس حاضر ہواتواس کو امام حسین علیہ السلام کی طرف روانگی کا حکم مل چکا تھا۔مجھے دیکھ کر اس نے فوراًکہا :امیر نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں حسین کی طرف روانہ ہوجاؤں لیکن میں نے اس مہم سے انکا رکر دیا ۔ میں نے اس سے کہا: اللہ تمہارا مدد گا ہے، اس نے تم کو صحیح راستہ دکھا یاہے۔ تم یہیں رہو اور یہ کام انجام نہ دو اور نہ ہی حسین کی طرف جاؤ! یسار جھنی کہتا ہے: یہ کہہ کر میں پسر سعد کے پاس سے نکل آیا توکہنے والے نے آکر مجھے خبر
____________________
١۔ ٧٧ھ میں حجاج بن یوسف ثقفی نے اسے ہمدان کا عامل بنا یا (طبری ،ج٥،ص ٢٨٤) اور اس کا بھائی مطرف بن مغیرہ مدائن میں تھا۔ اس نے حجاج کے خلا ف خروج کیا تو اس کے بھائی حمزہ نے خاموشی کے ساتھ مال اور اسلحے سے اس کی مدد کی (طبری ،ج٥، ص ٢٩٢)لہذا حجاج نے قیس بن سعد عجلی کو (جو ان دنو ں حمزہ بن مغیرہ کی پو لس کا سر براہ تھا۔ حمزہ کے عہدہ پرمعین کر کے ہمدان روانہ کیا اور حکم دیا کہ حمزہ بن مغیرہ کو زنجیر و ں سے جکڑ کر قید کر لو۔ اس نے ایسا ہی کیا اور اسے زنجیرمیں جکڑ کر قید کردیا۔ (طبری، ج٥ ،ص ٢٩٤)
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے : مجھ سے عبد الرحمن بن جندب نے عقبہ بن سمعان کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔ (طبری، ج٥،ص ٤٠٧) اسی سند کے ساتھ ابو الفرج اصفہانی نے مقاتل الطالبیین میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے ۔(ص٧٤) لیکن عقبہ کی جگہ پر عتبہ بن سمعان ذکر کیا ہے۔ شیخ مفید نے بھی اس خبر کو الارشاد، ص ٢٢٦ پر ذکر کیا ہے ۔
دی کہ عمر بن سعد لوگوں کو حسین کے خلاف جنگ کر نے کے لئے بلا رہا ہے ؛ یہ سن کر میں حیرت زدہ ہو گیا! فوراً اس کے پاس آیا، وہ اس وقت بیٹھا ہوا تھا ااورمجھے دیکھ کر اپنا چہرہ فوراً موڑ لیا۔میں سمجھ گیا کہ اس نے جانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے اور میں فوراً اس کے پاس سے نکل آیا۔ راوی کا بیان ہے : وہاں سے عمر بن سعد ، ابن زیاد کے پاس آیا اور کہا : اللہ آپ کو سلامت رکھے !آپ نے ایک کام میرے سپرد کیا ہے اور اس کا عہد نامہ بھی میرے لئے لکھ دیا ہے۔ لوگوں نے اس بات کو سن بھی لیا ہے (کہ میں ''ری'' جا رہا ہوں) تو اب اگر آپ بہتر سمجھیں تو ہمارے لئے اسی حکم کو نافذ رکھیں اورحسین کی طرف اس لشکر میں سے کوفہ کے کسی سر برآوردہ شخص کو بھیج دیں کیونکہ میں فنون جنگ کے لحاظ سے ان سے زیادہ ماہر اور تجربہ کار نہیں ہوں ۔اس کے بعد پسر سعد نے چند لوگوں کے نام ابن زیاد کی خدمت میں پیش کئے تو ابن زیاد نے اس سے کہا : تم مجھے اشراف کوفہ کے سلسلے میں سبق مت سکھاؤ اور حسین کی طرف کس کو روانہ کیا جائے اس سلسلہ میں میں نے تم سے کوئی مشورہ نہیں چاہا ہے۔ اگر تم چاہتے ہو تو ہمارے لشکر کے ساتھ روانہ ہو جاؤورنہ ہمارے عہد نامہ کو ہمیں لوٹا دو ! جب پسر سعد نے دیکھا کہ ابن زیاد ہٹ دھرمی پر آچکا ہے تو اس نے کہا : ٹھیک ہے میں ر وانہ ہورہاہوں ۔ یسار جھنی کا بیان ہے : وہاں سے نکل کر پسر سعد چار ہزار(١) فوج کے ساتھ حسین کی طرف روانہ ہوا اور حسین کے نینوا وارد ہونے کے دوسرے دن کربلا میں وارد ہو گیا۔ راوی کا بیان ہے
____________________
١۔ یہی روایت'' الارشاد'' کے ص ٢٢٧ پر بھی موجودہے نیز مقتل محمد بن ابی طالب سے ایک روایت منقول ہے جس کا خلا صہ یہ ہے : پسر سعد ٩ ہزار کے لشکر کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام کی طرف روانہ ہوا ۔ اس کے بعد یزید بن رکاب کلبی ٢ ہزار کی فوج کے ہمراہ ، حصین بن تمیم سکونی ٤ ہزارکی فوج ، فلان مازنی ٣ ہزارکی فوج اور نصر بن فلان ٢ہزار کے لشکر کے ہمراہ حسین کی طرف روانہ ہوئے۔ اس طرح سوار اور پیدل ملا کر ٢٠ ہزار کا لشکر کربلا میں پہنچ گیا۔ شافعی نے اپنی کتاب مطالب السئول میں ذکر کیا ہے کہ وہ ٢٢ ہزار افراد تھے اور شیخ صدوق نے اپنی امالی میں امام جعفر صادق کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ ٣٠ ہزار افراد تھے۔(الامالی، ص ١٠١، طبع بیروت) سبط بن جوزی نے محمد بن سیرین سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : اس پسر سعد کے سلسلے میں علی بن ابی طالب علیہ السلام کی کرامت آشکار ہوگئی کیونکہ آپ کی عمر بن سعد سے اس وقت ملا قات ہوئی جب وہ جوان تھااور آپ نے اس سے فر مایا : ''ویحک یابن سعد کیف بک اِذااقمت یوما مقاماً تخیر فیہ بین الجنة والنار فتختار النار'' (تذکرہ ،ص٢٤٧،ط نجف) اے پسر سعد تیرا حال اس وقت کیا ہوگا جب ایک دن تو ایسی جگہ کھڑا ہوگا جہاں تجھے جنت و جہنم کے درمیان مختار بنایا جائے گااور تو جہنم کو چن لے گا ۔
کہ وہاں پہنچ کر عمر بن سعد نے عزرہ بن قیس احمسی(١) کو حسین (علیہ السلام) کی طرف روانہ کیا اور کہا : ان کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ کون سی چیز ان کو یہاں لائی ہے اور وہ کیا چاہتے ہیں ؟ یہ عزرہ ان لوگوں میں سے ایک ہے جنہوں نے حسین علیہ السلام کو خط لکھا تھا لہٰذا اسے شرم آئی کہ وہ یہ پیغام لے کر وہاں جائے ؛ جب اس نے انکار کردیا تو پسر سعد نے ان تمام سربر آوردہ افراد کے سامنے یہ پیش کش رکھی جن لوگوں نے حسین علیہ السلام کو خط لکھا تھالیکن ان تمام لوگوں نے جانے سے انکار کردیا اور اس بات کو پسندنہیں کیا یہاں تک کہ ان کے درمیان ایک شخص کثیر بن عبداللہ شعبی اٹھا (جو بڑا بے باک رزم آور تھا اور اس کے چہرے پر کوئی تاثّر نہیں تھا) اور کہنے لگا : میں ان کے پاس جاؤں گا خدا کی قسم اگر میں چاہو ں تو انھیں دھوکہ سے قتل بھی کرسکتا ہوں ۔(٢) عمر بن سعد نے کہا : میں یہ نہیں چاہتا کہ تم ان کو قتل کرو ،بس تم جاؤ اور یہ پوچھوکہ وہ کس لئے آئے ہیں ؟
راوی کا بیان ہے : وہ اٹھا اور حسین کی طرف آیا۔ جیسے ہی ابو ثمامہ صا ئدی(٣) نے اسے دیکھا امام حسین علیہ السلام سے عرض کیا : اے ابو عبداللہ خدا آپ کو سلامت رکھے! آپ کی طرف وہ شخص آرہا ہے جو روئے زمین پر شریرترین اور بد ترین شخص ہے، جو خون بہانے اور دھوکے سے قتل کرنے میں بڑا بے باک ہے؛ یہ کہہ کر ابو ثمامہ اس کی طرف بڑھے اور فرمایا: اپنی تلوارخود سے الگ کرو ! اس نے کہا : نہیں خدا کی قسم یہ میری کرامت کے خلاف ہے۔ میں تو ایک پیغام رساں ہوں ،اگر تم لوگوں نے چاہا تو میں اس پیغام کو تم تک پہنچادوں گا جو تمہارے لئے لے کر آیا ہوں اور اگرانکا رکیا تو واپس چلاجاؤں گا۔
____________________
١۔ شیخ مفید نے الارشاد میں عروہ بن قیس لکھا ہے۔ اس شخص کے شرح احوال اس سے پہلے گذر چکے جہا ں ان لوگو ں کا تذکرہ ہوا ہے جنہو ں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھا تھا ۔ یہ کوفہ کا ایک منافق ہے جو اموی مسلک تھا ۔
٢۔ یہ شخص امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت وہا ں موجود تھا ۔ زہیر بن قین کے خطبہ کی روایت بھی اسی سے منقول ہے۔ (طبری ،ج٥،ص٤٢٦) یہ وہی شخص ہے جو مہاجر بن اوس کے ہمراہ آپ کے قتل میں شریک تھا۔ (طبری ، ج٥، ص ٤٤١)اور یہ وہی شخص ہے جس نے ضحاک بن عبداللہ مشرقی ہمدانی کا پیچھا کیا تا کہ اسے قتل کردے لیکن جب اسے پہچان لیا کہ یہ ہمدان سے متعلق ہے تو کہا : یہ ہمارا چچا زادبھائی ہے ،یہ کہہ کر اس سے دست بردار ہوگیا ۔(طبری، ج٥، ص ٤٤٥)
٣۔ ان کے شرح احوال اس سے قبل گذر چکے ہیں ۔
ابو ثمامہ : ٹھیک ہے پھر میں تمہارے قبضۂ شمشیر کو اپنے ہاتھوں میں لے لوں گا اس کے بعد تم جو کچھ بیان کرنا چاہتے ہو بیان کرلینا ۔
کثیر بن عبداللہ : نہیں خدا کی قسم تم اسے چھوبھی نہیں سکتے ۔
ابو ثمامہ صائدی : تم جو پیغام لے کر آئے ہو اس سے مجھ کو خبر دار کردو ،میں تمہار ی طرف سے امام تک پہنچادوں گا اورمیں تم کو اجا زت نہیں دے سکتا کہ آنحضرت کے قریب جاؤ کیونکہ تم فاجرو دھوکہ باز ہو ۔کثیر بن عبداللہ نے ابو ثمامہ کی بات قبول کرنے سے انکار کردیا اور عمر بن سعد کی طرف روانہ ہوگیا ، وہاں جا کراس نے عمر بن سعد کو ساری خبر سے مطلع کردیا ۔اس کے بعد پسر سعد نے قرہ بن قیس حنظلی کو بلایا اور اس سے کہا : وائے ہو تجھ پر اے قرّہ ! جا حسین سے ملاقات کراور ان سے پوچھ کہ وہ کس لئے آئے ہیں اور ان کا ارادہ کیا ہے ؟ یہ سن کر قرّہ بن قیس آپ کے پاس آیا۔ جیسے ہی حسین نے اسے سامنے دیکھااپنے اصحاب سے دریافت کیاکہ کیاتم لوگ اسے پہچانتے ہو ؟ حبیب بن مظاہر(١) نے کہا : ہاں ! یہ قبیلۂ حنظلہ تمیمی سے تعلق رکھتاہے اور ہماری بہن کا لڑکا ہے۔ ہم تو اسے صحیح فکرو عقیدہ کا سمجھتے تھے اور میں نہیں سمجھ پارہاہوں کہ یہ یہاں کیسے موجود ہے۔(٢) قرّہ بن قیس نزدیک آیا ،امام حسین علیہ السلام کوسلام کیا اور
____________________
١۔ کربلا کی خبر میں یہا ں حبیب بن مظاہر کا پہلی بار تذکرہ ملتا ہے اور راوی نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ یہا ں کس طرح پہنچے۔ آپ کے احوال گذرچکے ہیں کہ آپ ان شیعی زعماء میں شمار ہوتے ہیں جنہو ں نے کوفہ سے امام علیہ السلام کو خط لکھا تھا ۔ عنقریب آپ کی شہادت کے حالات بیان کرتے وقت آپ کی زندگی کے بعض رخ پیش کئے جائی ں گے ۔
٢۔ یہ حر بن یزیدریاحی کے لشکر میں تھا ۔عدی بن حرملہ اسدی اس روایت کونقل کرتا ہے کہ یہ کہا کرتا تھا : خدا کی قسم اگر حر نے مجھے اس بات پر مطلع کیا ہوتا جس کا ان کے دل میں ارادہ تھا تو میں بھی ان کے ہمراہ حسین علیہ السلام کی طرف نکل جاتا۔ (طبری ، ج٥،ص٤٢٧) اسی شخص سے ابو زہیر عبسی اس خبر کو نقل کرتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی مخدرات کو امام حسین علیہ السلام اور ان کے اہلبیت کی قتل گاہ کی طرف سے لے جایا گیا اور وہیں پر زینب نے اپنے بھائی حسین بن علی علیھما السلام پر مرثیہ پڑھا۔ (طبری ،ج٥، ص ٤٥٦) حبیب بن مظاہر نے اسے امام حسین علیہ السلام کی مدد کے لئے بلایا اور کہا کہ ظالمین کی طرف نہ جاؤ تو قرّہ نے ان سے کہا : ابھی میں اپنے امیر کی طرف پلٹ رہاہو ں اور ان کے پیغام کا جواب دے کر اپنی رائے بیان کردو ں گا لیکن وہ عمر بن سعد کی طرف جا کر وہا ں سے پلٹ کر حسین کی طرف نہیں آیایہا ں تک کہ آپ شہید ہوگئے۔ (طبری ،ج٥، ص٤١١؛ ارشاد ،ص٢٢٨)
عمر سعد کا پیغام آپ تک پہنچادیا تو حسین علیہ السلام نے فرمایا:''کتب الیّ أهل مصرکم هٰذا : أن أقدم ، فأمَّااذکرهون فأنا أنصرف عنهم '' تمہارے شہر کے لوگوں نے مجھے یہ خط لکھا کہ میں چلاآؤں ، اب اگر وہ لوگ ناپسند کرتے ہیں تو میں ان کے درمیان سے چلاجاؤں گا۔
راوی کہتا ہے کہ نامہ بر عمر بن سعد کی طرف پلٹ گیا اور ساری خبر اس کے گوش گزار کردی۔ پسر سعدنے اس سے کہا : میں یہ امید کرتا ہوں کہ خداہمیں ان سے جنگ وقتال کرنے سے عافیت میں رکھے اور اسی مطلب کو اس نے لکھ کر ابن زیاد کے پاس روانہ کردیا۔ ابو مخنف کے بجائے دیگر راویوں کی روایت یہاں پر آکر ختم ہوجاتی ہے ۔
ابن زیاد کے نام عمر بن سعد کا خط
عمر بن سعد کا خط عبید اللہ بن زیاد کو پہنچا جس میں مر قوم تھا :
''بسم اللّٰه الر حمٰن الر حیم أما بعد فانّی حیث نزلت بالحسین بعثت الیه رسولی ، فسأ لته : عمّا أقد مه ، وما ذایطلب ویسأ ل ؟ فقال : کتب الّ أهل هٰذه البلاد وأتتن رسلهم فسألون القدوم ففعلت ، فأمَّا اِذ کر هون فبدا لهم غیر ما أتتن رسلهم فأنا منصرف عنهم ''
بسم اللہ الرحمن الر حیم ، اما بعد، میں جیسے ہی حسین کے نزدیک پہنچا میں نے ان کی طرف اپنے ایک پیغام رساں کو بھیجا اور ان سے پوچھا کہ وہ یہاں کس لئے آئے ہیں اور کیا چاہتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا کہ اس شہر کے لوگوں نے مجھے خط لکھا تھا اور ان کے نامہ بر میرے پاس آئے تھے انھوں نے مجھ سے در خواست کی تھی کہ میں چلا آؤں تو میں چلا آیا لیکن اب اگر انھیں میرا آنانا پسند ہے اور نامہ بروں کو بھیج کر انھوں نے جومجھے بلا یا تھا اب اگر اس سے پلٹ گئے ہیں تو میں ان کے درمیان سے چلا جاتا ہوں ۔
جب ابن زیاد تک یہ خط پہنچاتو اس نے اسے پڑھنے کے بعد یہ شعر پڑھا۔
الا ن اِذ علقت مخا لبنا به
یرجو النجاة ولات حین مناص!
جب ہمارے چنگل میں پھنس گیا ہے تو نجات کی امید کرتا ہے لیکن اب کوئی راہ فرار نہیں ہے۔
ابن زیاد کا جواب
خط پڑھنے کے بعد ابن زیاد نے عمر بن سعد کے نام جواب کے طور پرخط لکھا :
بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم ، اما بعد ، فقد بلغن کتا بک وفهمت ماذکرت ، فأعرض علی الحسین أن یبایع لیزید بن معاویه هو وجمیع أصحابه ، فاذافعل ذالک رأینا رأيَنا، والسلام ۔
بسم اللہ الر حمن الر حیم ، اما بعد، تمہارا خط مجھے موصول ہوا اور تم نے جو ذکر کیا ہے اسے میں نے سمجھ لیا اب حسین سے کہو کہ وہ اور ان کے تما م اصحاب یزید بن معاویہ کی بیعت کر لیں ۔ اگر انھوں نے ایسا کر لیا تو پھر ان کے سلسلے میں ہم تم کو اپنا نظریہ بتائیں گے ۔ والسلام
جب عمر بن سعد کے پاس وہ خط آیا تو اس نے کہا : میں اسی گمان میں تھا کہ ابن زیاد عافیت کو قبول نہیں کرے گا۔(١)
پسر سعد کی امام علیہ السلام سے ملاقات
جب بات یہاں تک پہنچ گئی تو حسین علیہ السلام نے عمر بن سعد کی جانب عمروبن قرظة بن کعب انصاری(٢) کو بھیجا کہ وہ آپ سے دونوں لشکروں کے درمیان ملا قات کرے۔
وقت مقررہ پر عمر بن سعد اپنے تقریبا ً ٢٠ سواروں کے ہمراہ باہر نکلا تو امام حسین علیہ السلام بھی اسی انداز میں نکلے لیکن جب وہ لوگ ملے تو امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ کنارے
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے نضربن صالح بن حبیب بن زہیر عبسی نے حسان بن فائد بن بکیر عبسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا : میں گواہی دیتا ہو ں کے عمر سعد کا خط آیا تھا۔(طبری، ج٥، ص ٤١١و ارشاد ،ص٢٢٨)
٢۔عمر و بن قرظة حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے لیکن انکا بھائی علی بن قرظہ ،عمربن سعد کے ہمراہ تھا ۔جب اس کے بھائی عمرو شہید ہوگئے تو اس نے اصحاب حسین علیہ السلام پر حملہ کر دیا تاکہ اپنے بھائی کا انتقام لے سکے۔نافع بن ہلال مرادی نے اس پر نیزہ سے حملہ کیا اور اس کو زمین پر گرادیا ۔دوسری طرف نافع پر اس کے ساتھیو ں نے حملہ کیا ۔ اس کے بعد اس کا علاج کیا گیاتو وہ ٹھیک ہوگیا۔ (طبری، ج٥، ص ٤٣٤)
ہوجائیں اور عمربن سعد نے بھی اپنے سپاہیوں کو یہی حکم دیا پھر دونوں کے درمیان گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ گفتگو بڑی طولانی تھی یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گذرگیا۔ اس کے بعد دونوں اپنے اصحاب کے ہمراہ اپنے لشکر کی طرف واپس لوٹ گئے اس گفتگو کے درمیان جیسا کہ لوگ گما ن کرتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے عمرسعد سے کہا کہ آؤ میرے ساتھ یزید بن معاویہ کے پاس چلو اور ہم لوگ دونوں لشکروں کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ عمر سعد نے کہا: ایسی صورت میں تو میرا گھر منہدم کردیا جائے گا ۔حسین نے کہا : میں تمہارا گھر بنوا دوں گا ۔ عمر سعد نے کہا : میرے مال ومنال اور باغ وبوستان لوٹ لئے جائیں گے، حسین نے کہا: میں تم کو حجاز میں اپنے مال میں سے اس سے زیادہ دے دوں گا لیکن عمر سعد نے اسے قبول نہیں کیا اور انکار کردیا ۔
اس طرح لوگوں نے آپس میں گفتگو کی اور یہ بات پھیل گئی جبکہ ان میں سے کسی نے بھی کچھ نہیں سنا تھا اور انھیں کسی بات کا علم نہیں تھا۔(١) اسی طرح اپنے وہم وگمان کے مطابق لوگ یہ کہنے لگے کہ حسین نے کہا تھا کہ تم لوگ میری تین باتوں میں سے کوئی ایک بات قبول کرلو:
١۔ میں اسی جگہ پلٹ جاؤں جہاں سے آیا ہوں ۔
٢۔ میں یزید بن معاویہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں تو وہ میرے اور اپنے درمیان اپنی رائے کا اظہار خیال کرے۔
٣۔ یا تم لوگ مجھے کسی بھی اسلامی حدود میں بھیج دو تاکہ میں انھیں کا ایک فرد ہو جاؤں اور میرے لئے و ہ تما م چیزیں ہوں جو ان لوگوں کے لئے ہیں ۔(٢)
____________________
١۔ ابو جناب نے ہانی بن ثبیت حضر می کے حوالے سے مجھ سے روایت کی ہے اور وہ عمربن سعد کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام کے قتل کے وقت موجود تھا۔ اسی خبر سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ وہ شخص ان ہی ٢٠ سوارو ں میں تھا جو رات کے وقت ملا قات کے ہنگام پسرسعدکے ہمراہ تھے۔ وہ کہتا ہے ہم نے اس گفتگو سے اندازہ لگایا ہے کیونکہ ہم ان دونو ں کی آواز ی ں نہیں سن رہے تھے ۔(طبری ،ج٥،ص ٤١٣، الارشاد ،ص ٢٢٩)سبط بن جوزی کا بیان ہے : یہ عمروہی ہے جس کی طرف پیغام رسا ں کوبھیجاگیا تھا کہ وہ اور حسین علیہ السلام یکجا ہو ں تو عمر بن سعد اور امام حسین علیہ السلام تنہائی میں ایک جگہ جمع ہوئے۔ (تذ کرہ ،ص٢٤٨،ط نجف)
٢۔ یہ وہ مطلب جس پر محدثین کا ایک گروہ متفق ہے اور ہم سے مجالد بن سعید اور صقعب بن زہیر ازدی اور ان کے علاوہ دوسرے لوگو ں نے یہ روایت نقل کی ہے۔(طبری، ج٥، ص٤١٣، ابو الفرج ،ص ٧٥،ط نجف)
عقبہ بن سمعان کا اس سلسلے میں بیان ہے کہ میں حسین کے ساتھ تھا ؛آپ کے ہمراہ میں مدینہ سے مکہ اور مکہ سے عراق آیا اور میں آپ سے پل بھر کے لئے بھی جدا نہیں ہو ایہاں تک کہ آپ شہید کر دیئے گئے۔اس کا کہنا ہے کہ خدا کی قسم مدینہ، مکہ ،دوران سفر اور عراق میں حتیٰ کہ شہادت کے وقت تک امام کا کوئی خطبہ اور کلام ایسا نہیں تھا جسے میں نے نہ سنا ہواور خدا کی قسم لوگ جو ذکر کرتے ہیں اورگمان کر تے ہیں کہ آپ نے یہ کہا کہ میں یزید بن معاویہ کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دیدوں گایہ سر اسر غلط ہے اورآپ نے یہ بھی نہیں کہا کہ ہمیں کسی اسلامی حدود میں بھیج دیا جائے، ہاں آپ نے یہ فرمایا تھا : ''دعونی فلأذهب فی هٰذه الارض العریضة حتی ننظر ما یصیر أمر الناس'' (١) مجھے چھوڑدوتاکہ میں اس وسیع وعریض زمین پر کہیں بھی چلاجاؤں تاکہ دیکھو ں کہ لوگوں کا انجام کار کہاں پہنچتا ہے ۔
ابن زیاد کے نام عمر بن سعد کا دوسرا خط
امام علیہ السلام سے مخفیانہ گفتگوکے بعد عمر سعد نے ابن زیاد کے نام ایک دوسراخط لکھا:
''اما بعد ، فان اﷲقدأطفاالنائرة ، وجمع الکلمةو أصلح أمرالا مة، هٰذا حسین قدأعطان ان یرجع الی المکان الذی منه أتی أوأن نسيّره الی أیّ ثغر من ثغور المسلمین شئنا فیکون رجلا من المسلمین له مالهم وعلیه ما علیهم أوأن یات یزید أمیر المومنین فیضع یده ف یده فیریٰ فیما بینه وبین رأیه ،وف هٰذالکم رضاً وللأمةصلاح''
اما بعد، اﷲ نے فتنہ کی آگ کو بجھا دیا، ہماہنگی واتحاد کو ایجاد کردیا ہے اور امت کے امور کو صلح و خیر کی طرف موڑدیاہے۔ یہ حسین ہیں جو مجھے وعدہ دے رہے ہیں کہ یاوہ اسی جگہ پلٹ جائیں گے جہاں سے آئے ہیں یاہم انھیں جہاں مناسب سمجھیں کسی اسلامی حدود میں روانہ کردیں کہ وہ انھیں کا جز قرار پائیں تا کہ جو ان لوگوں کے لئے ہو و ہی ان کے لئے ہو اور جوان لوگوں کے ضرر میں ہو وہی ان کے ضرر
____________________
١ ۔اس مطلب کو ابو مخنف نے عبد الرحمن بن جندب کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عبد الرحمن بن جندب نے عقبہ بن سمعان کے حوالے سے نقل کیا ہے۔(طبری ،ج٥، ص ٤١٣، الخواص ،ص ٢٤٨)
میں ہو یا یہ کہ وہ یزید امیر المومنین کے پاس جاکر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیدیں اور وہ ان کے اور اپنے درمیان جو فیصلہ کرنا چاہیں کریں ، یہ بات ایسی ہے جس میں آپ کی رضایت اور امت کی خیر و صلاح ہے ۔
جب عبیداللہ بن زیا د نے اس خط کوپڑھا تووہ بولا : یہ اپنے امیر کے لئے ایک خیر خواہ شخص کا خط ہے جو اپنی قوم پر شفیق ہے؛ ہاں ہم نے اسے قبول کرلیا ۔ اس وقت شمر بن ذی الجوشن(١) وہیں پرموجود تھا۔وہ فوراً کھڑا ہو ا اور بولا : کیا تم اس شخص سے اس بات کو قبو ل کرلوگے !جب کہ وہ تمہاری زمین پر آچکاہے اور بالکل تمہارے پہلو میں ہے ؛ خدا کی قسم اگروہ تمہارے شہر وحکومت سے باہرنکل گیا اور تمہارے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیا توقدرت و اقتدارا ورشان و شوکت اس کے ہاتھ میں ہوگی اور تم ناتواں و عاجزہوجاؤگے۔میرا نظریہ تو یہ ہے تم یہ وعدہ نہ دو کیونکہ یہ باعث توہین ہے۔ہاں اگروہ اوراس کے اصحاب تمہارے حکم(٢) کے تابع ہوجائیں تو اب اگر تم چاہو ان کوسزا دو کیونکہ وہ تمہارے ہاتھ میں ہے اور اگرتم معاف کرناچاہو؛ تو یہ بھی تمہارے دست قدرت میں ہے۔امیر ! مجھے خبر ملی ہے کہ حسین اور عمر سعد دونوں اپنے اپنے لشکر کے درمیان بیٹھ کر کافی رات تک گفتگو کیاکرتے ہیں ۔
یہ سن کر ابن زیاد نے کہا : تمہاری رائے اچھی اور تمہارا نظریہ صحیح ہے۔(٣)
____________________
١۔ اس کے تفصیلی حالات گذر چکے ہیں کہ اشراف کوفہ میں سے ایک یہ بھی ابن زیاد کے ہمراہ قصر میں تھا ۔
٢۔سبط بن جوزی نے ص ٢٤٨ پراس واقعہ کو بطور مختصر لکھاہے اور اضافہ کیاہے کہ اس نے اپنے جوابی خط کے نیچے یہ شعرلکھا :
الآ ن حین تعلقته حبالنا
یرجوا لنجاةولات حین مناص
اب جب وہ ہمارے پھندے میں آچکاہے تو نجات کی امید رکھتا ہے اب کوئی راہ فرار نہیں ہے۔
٣۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے مجالد بن سعید ہمدانی اور صقعب بن زہیر نے یہ روایت نقل کی ہے ۔ (طبری ،ج٥،ص٤١٤ ، ارشاد ، ص٢٢٩)
ابن زیاد کا پسر سعد کے نام دوسرا جواب
اس کے بعدعبیداللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کے نام خط لکھا ۔
''امابعد ، فان لم أبعثک الی حسین لتکف عنه ، ولتطاوله ولالتمنیه السلامة والبقاء ،ولالتقعد له عند شافعاً... أنظر فان نزل حسین و أصحابه علی الحکم واستسلموا ، فابعث بهم الّسلماًوان أبوا فا زحف الیهم حتی تقتلهم و تمثل بهم فَاِنهم لذالک مستحقون ! فان قتل حسین فأوطی الخیل صدره وظهره ! فانه عاق شاق قاطع ظلوم ولیس دهر فی هٰذا أن یضرّ بعد الموت شیئاً ،ولکن علّ قول لوقدقتلته فعلت هٰذابه ! ان أنت مضیت لا مرنافیه جزیناک جزاء السامع المطیع ، وان أبیت فاعتزل عملنا وجند نا، و خل ّ بین شمر بن ذی الجو شن و بین العسکر،فانّاقدأمرنابأمرنا والسلام ''(١)
امابعد ، میں نے تم کو اس لئے نہیں بھیجا ہے کہ تم ان سے دستبردار ہوجاؤ اور نہ اس لئے بھیجا ہے کہ مسئلہ کو پھیلا کرطولانی بنادو اور نہ ہی اس لئے کہ ان کی سلامتی و بقاکے خواہاں رہو اور نہ ہی اس لئے کہ وہاں بیٹھ کر مجھ سے حسین کے لئے شفاعت کی درخواست کرو دیکھو ! اگر حسین اور ان کے اصحاب نے ہمارے حکم پر گردن جھکادی اورسر تسلیم خم کر دیا تو سلامتی کے ساتھ انھیں میرے پاس بھیج دو اور اگر وہ انکار کریں تو ان پر حملہ کرکے انھیں قتل کردو اور ان کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے اور مثلہ کردو کیونکہ یہ لوگ اسی کے حق دار ہیں ۔
قتل حسین کے بعد ان کی پشت اور ان کے سینہ کو گھوڑوں سے پامال کر دو کیونکہ انہوں نے دوری اختیار کی ہے وہ ناسپاس ہیں ۔انہوں نے اختلاف پھیلایاہے، وہ حق ناشناس اور ظلم کے خو گرہیں ۔ میری یہ تمنا اور آرزو نہیں ہے کہ موت کے بعد انہیں کوئی نقصان پہنچایا جائے لیکن میں نے عہد کیا ہے کہ مرنے کے بعد ان کے ساتھ ایسا ہی کروں گا لہذا اب اگر تم نے ہمارے حکم پر عمل کیا تو ہم تم کو وہی جزا و
____________________
١۔ابو مخنف کا کہنا ہے کہ مجھ سے ابو جناب کلبی نے یہ روایت بیان کی ہے۔(طبری ، ج ٥ ، ص ٤١٥ ارشاد ، ص ٢٢٩و الخواص، ٨ ٢٤)
پاداش دیں گے جو ایک مطیع وفرمانبردار کی جزاہوتی ہے اوراگر تم نے انکار کیا تو تم ہمارے عہدے اور فوج سے کنارہ کش ہوجاؤ اور فوج کو شمر بن ذی الجوشن کے حوالے کردو کہ ہمیں جو فرمان دینا تھا وہ ہم اسے دے چکے ہیں ۔ والسلام
خط لکھنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے شمر بن الجوشن کو بلا یا اور اس سے کہا : عمر بن سعد کے پاس یہ خط لے کر جاؤ ۔ میں نے اسے لکھا ہے کہ حسین اور ان کے اصحاب سے کہے کہ وہ میرے فرمان پر تسلیم محض ہو جائیں ! اگر ان لوگو ں نے ایسا کیا تو فوراً ان لوگوں کو میرے پاس صحیح وسالم روانہ کردو اور اگر انکار کریں تو ان سے نبردآزما ہوجاؤ ۔اگر عمر بن سعد نے ایسا کیا تو تم اس کی بات سن کر اس کی اطاعت کر نا اور اگر اس نے انکار کیا تو تم ان لوگوں سے جنگ کرنا اور ایسے میں تم اس لشکر کے امیر ہوگے اور اس پر حملہ کر کے اس کی گر دن مار دینا اور اس کا (یعنی پسر سعد) سر میرے پاس بھیج دینا ۔(١) جب شمر نے وہ خط اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ساتھ عبد اللہ بن ابی المحل بن حزام (کلابی) جانے کے لئے اٹھاتو عبد اللہ نے کہا: خدا امیر کو سلامت رکھے حقیقت یہ ہے کہ عباس ، عبد اللہ ، جعفر اور عثمان یہ سب ہماری بہن ام البنین کے صاجزادے ہیں جو حسین کے ہمراہ ہیں ۔ اگر آپ بہتر سمجھیں تو ان کے لئے ایک امان نامہ لکھ دیں ۔
ابن زیاد نے جواب دیا : ہاں سر آنکھوں پر، اس کے بعد اپنے کاتب کو بلا یا اور اس نے ان لوگوں کے لئے امان نامہ لکھ دیا ۔ عبد اللہ بن ابی المحل بن حزام کلا بی نے اس امان نامہ کو اپنے غلام کْزمان کے ہمراہ روانہ کیا ۔
خط کے ہمراہ شمر کا کر بلا میں ورود
عبید اللہ بن زیاد کاخط لے کر شمر بن ذی الجوشن عمر بن سعد کے پاس پہنچا جب وہ اس کے قریب آیا اور خط پڑھ کر اس کو سنایاتو خط سن کر عمر بن سعد نے اس سے کہا :
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری، ج٥ ،ص ٤١٤و ارشاد ،ص ٩ ٩٢)
''ویلک مالک ! لا قرّ ب اللّٰه دارک ، وقبّح اللّٰه ماقدّ مت به علّ ! واللّٰه لَاَظنک أنت ثنیته أن یقبل ماکتبت به الیه أفسدت علینا أمراًکنّارجوناأن یصلح ، لایستسلم واللّٰه حسین أن نفساً ابيّة (١) لبین جنبیه ''
وائے ہو تجھ پر تو نے یہ کیا کیا !خدا تجھے غارت کرے اللہ تیرا برا کرے! تو میرے پاس کیا لے کر آیا ہے۔ خدا کی قسم مجھے یقین ہے کہ تو نے چاپلوسی کے ذریعہ اسے میری تحریر پر عمل کرنے سے بازر کھا ہو گا ۔تو نے کام خراب کر دیا ۔ہم تو اس امید میں تھے کہ صلح ہوجائے گی۔ خدا کی قسم حسین کبھی بھی خود کو ابن زیاد کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ یں گے کیونکہ یقینا حسین کے سینے میں ایک غیور دل ہے۔
شمر کا دل سیاہ ہو چکا تھا اس کو ان سب چیزوں سے کیا مطلب تھا۔ اس نے فوراً پوچھا : تم اتنا بتاؤ کہ تم کیا کر نا چاہتے ہو ؟ کیا تم امیر کے فرمان کو اجراء کروگے اور ان کے دشمن کو قتل کروگے ؟ اگر نہیں تو ہمارے اور اس لشکر کے درمیان سے ہٹ جاؤ ۔
عمر بن سعد : نہیں اور نہ ہی تیرے لئے کوئی کرامت ہے ۔ میں خود ہی اس عہدہ پر باقی رہوں گا۔ تو جا اور پیدلوں کی فوج کی سر براہی انجام دے ۔
جناب عباس اور ان کے بھائیوں کے نام امان نامہ
ایسے بحرانی حالات میں شمر اصحاب امام حسین علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا : ہماری بہن کے بیٹے کہاں ہیں ؟ تو امیر المومنین علی علیہ السلام کے فرزند عباس ، عبد اللہ جعفر اور عثمان علیہم السلام اس کے پاس آئے اور فرمایا :''مالک وما ترید ؟ ''کیا کام ہے اور تو کیا چاہتا ہے ؟
شمرنے کہا : اے میری بہن کے صاحبزادو تم سب کے سب امان میں ہو۔
یہ سن کر ان غیر تمند جوانوں نے جواب دیا :'' لعنک اللّہ ولعن أمانک ]لئن کنت خالنا [ أتوْ مننا وابن رسول اللّٰہ لا أمان لہ ! ''
____________________
١۔ شیخ مفید نے ارشاد میں ص٢١٣ یہ جملہ اس طرح لکھا ہے:'' ان نفس أبیه لبین حبنبیه'' یقیناً حسین کے سینے میں ان کے باپ کا دل ہے۔
خداتجھ پر لعنت کرے اور تیرے امان پر بھی لعنت ہو (اگر تو ہمارا ماموں ہے تو) کیا تو ہمیں امان دے رہا ہے لیکن فرزند رسو لخدا کے لئے کوئی امان نہیں ہے!
اور جب عبد اللہ بن ابی المحل بن حزام کلا بی کا غلام کْز مان امان نامہ لے کر کربلا پہنچا اور ان غیرتمندوں کے پاس جا کر انھیں آوازدی اور کہا : یہ امان نامہ ہے جو تمہارے ماموں نے تمہیں بھیجا ہے تو انھوں نے کہا :'' أقریٔ خالنا السلام وقل له : أن لا حاجة لنا فی أما نکم، أمان اللّٰه خیر من أمان بن سميّة ! ''(١) ہمارے ماموں سے ہمارا سلام کہنا اور ان سے کہد ینا کہ ہم کو تم لوگوں کے امان کی کوئی حاجت نہیں ہے ، اللہ کی امان فرزندسمیہ کی امان سے زیادہ بہتر ہے ۔
امام علیہ السلام اور ان کے اصحاب پر پانی کی بندش
عبید اللہ بن زیاد کا ایک اورخط عمر بن سعد تک پہنچا :
اما بعد ، حسین اور ان کے اصحاب اور پانی کے درمیان اس طرح حائل ہو جاؤ کہ ایک قطرہ بھی ان تک نہ پہونچ سکے ؛ٹھیک اسی طرح جس طرح تقی وزکی و مظلوم امیر المومنین عثمان بن عفان کے ساتھ کیا گیا تھا ۔
راوی کہتا ہے کہ اس خط کا آنا تھا کہا عمر سعد نے فوراً عمرو بن حجاج(٢) کو پانچ سو سواروں کے ہمراہ فرات کی طرف روانہ کر دیا۔ وہ سب کے سب پانی پر پہنچ کرحسین اور ان کے اصحاب اور پانی کے درمیان حائل ہو گئے تا کہ کو ئی ایک قطرہ بھی پانی نہ پی سکے۔ یہ امام حسین کی شہادت سے ٣ دن پہلے کا واقعہ ہے ۔
راوی کہتا ہے کہ جب حسین اور ان کے اصحاب کی پیاس میں شدت واقع ہوئی تو آپ نے اپنے بھائی عباس بن علی بن ابی طالب (علیہم السلام) کو بلا یا اور انہیں تیس(٣٠) سوار اور بیس(٢٠) پیدل افراد کے ہمراہ فرات کی طرف روانہ کیا اور ان کے ساتھ بیس (٢٠) مشکیں بھی بھیجیں ۔ وہ لوگ گئے یہاں
____________________
١۔الا رشاد ،ص٢٣٠،التذکرہ ،ص ٢٤٩
٢۔ اس کے حالات بھی گذر چکے ہیں کہ یہ بھی انہیں اشراف میں سے ہے جو ابن زیاد کے ساتھ قصر میں موجود تھے۔
تک کہ پانی کے قریب پہنچے۔ن لوگوں کے آگے پر چم لئے نافع بن ہلال جملی(١) رواں دواں تھے۔ یہ دیکھ کر عمر وبن حجاج زبیدی نے کہا :
کون ہے ؟ جواب ملا : نافع بن ہلال
عمر وبن حجاج نے سوا ل کیا : کس لئے آئے ہو ؟
نافع بن ہلال نے جواب دیا : ہم اس پانی میں سے کچھ پینے کے لئے آئے جس سے تم لوگوں نے ہمیں دورکردیا ہے ۔
عمرو بن حجاج نے کہا : پیو تمہارے لئے یہ پانی مبارک ہو۔
نافع بن ہلال نے فرمایا: نہیں خدا کی قسم ہم اس وقت تک پانی نہیں پی سکتے جب تک حسین اور ان کے اصحاب پیاسے ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو (یہ کہہ کر ان اصحاب کی طرف اشارہ کیا) اسی اثنا میں وہ اصحاب آشکار ہو گئے اور پانی تک پہنچ گئے ۔
عمرو بن حجاج نے کہا : ان لوگوں کے پانی پینے کی کوئی سبیل نہیں ہے ،ہم لوگوں کو یہاں اسی لئے رکھا گیا ہے تاکہ ان لوگوں کو پانی پینے سے روکیں ۔
جب نافع کے دیگر پیدل ساتھی پانی کے پاس پہنچ گئے تونافع نے کہا : اپنی مشکوں کوبھرو وہ لوگ بھی آگے بڑھے اور مشکیزوں کو پانی سے بھر لیا ۔
لیکن عمر وبن حجاج اور اس کی فوج نے ان پیدلوں پر حملہ کردیا ۔ادھر سے عباس بن علی اور نافع بن ہلال نے ان پر حملہ کیا اور انہیں روکے رکھا، پھر اپنے سپاہیوں کی طرف آئے تو ان لوگوں نے کہا :
____________________
١۔ آپ ہی نے اپنے گھوڑے کے ہمراہ کوفہ سے ٤آدمیو ں کوراستے میں امام علیہ السلام کے پاس بھیجا تھاجن میں طرماح بن عدی بھی تھے۔ یہ پہلی خبر ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ کربلامیں آپ امام علیہ السلام سے آکر مل گئے تھے اور آپ ہی وہ ہیں جنہو ں نے علی بن قرظہ انصاری، عمر و بن قرظہ کے بھائی پر نیزہ چلایاتھا جو عمر سعد کے ساتھ تھا۔(طبری،ج٥،ص ٣٣٤) آپ نے اس کانا م اپنی تیر کے اوپر لکھ لیا تھا ۔ آپ نے اپنے تیرو ں سے ١٢ لوگو ں کو مارا یہا ں تک کہ آپ کا ہاتھ ٹوٹ گیا اور شمر نے آپ کو اسیر بنالیا پھر پسر سعد کے پاس لے جانے کے بعد آپ کو قتل کر دیا۔(ج٥،ص٤٤٣)
آپ لوگ اسی طرح ان لوگوں کو کوروکئے اور ان کے نزدیک کھڑے رہئے تاکہ ہم خیموں تک پانی پہنچاسکیں ۔
ادھر عمروبن حجاج اور اس کے سپاہیوں نے پھر حملہ کیا تو ان لوگوں نے بھی دلیری سے دفاع کیا اور آخر کار حسین علیہ السلام کے فداکار اصحاب پانی کومنزلگاہ تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی شب نافع بن ہلال نے عمر وبن حجاج کی فوج کے ایک سپاہی کو نیزہ مارا جس سے وہ نیزہ ٹوٹ گیا اور بعد میں وہ مر گیا۔(١) دشمن کی فوج کا یہ پہلا مقتول ہے جو اس شب مجروح ہوا تھا ۔
____________________
١۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم ازدی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری ، ج٥ ص ٢١٢) ابو الفرج نے ابو مخنف سے اسی سند کوذکر کیا ہے۔(ص ٧٨) ارشاد میں شیخ مفید نے حمید بن مسلم سے یہی روایت نقل کی ہے۔(ص ٢٢٨)
امام علیہ السلام کی طرف پسر سعد کا ہجوم
* ایک شب کی مہلت
امام حسین علیہ السلام کی طرف پسر سعد کا ہجوم
راوی کہتا ہے : نماز عصر کے بعد عمر بن سعد نے آوازبلند کی:'' یا خیل اللّٰه ارکبی وأبشری'' اے لشکر خدا سوار ہوجاؤاور تم کو بشارت ہو!یہ سن کر سارا لشکر سوار ہوگیا اور پھر سب کے سب حسین علیہ السلام اور ان کے اصحا ب کی طرف ٹوٹ پڑے ۔
ادھر امام حسین علیہ السلام اپنے خیمہ کے سامنے اپنی تلوار پر تکیہ دئے بیٹھے تھے کہ اسی اثنامیں در حالیکہ آپ اپنے گھٹنے پر سر رکھے ہوئے تھے ، آپ کی آنکھ لگ گئی لیکن آپ کی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے چیخ پکار کی آواز سنی تو اپنے بھائی کے قریب گئیں اور عرض کی اے بھیا ! کیا ان آوازوں کو سن رہے ہیں جو اتنے قریب سے آرہی ہیں ؟ حسین علیہ السلام نے اپنے سر کو اٹھایا اور فرمایا:
''انی رأیت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه (وآله) وسلم فی المنام فقال لی : انک تروح الینا ! ''میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں : تم میری طرف آنے والے ہو ، یہ کلمات سن کر آپ کی بہن نے اپنے چہرہ پیٹ لیااور کہا : ''یا ویلتا '' واے ہو مجھ پر ، یہ سن کر امام علیہ السلام نے فرمایا : ''لیس لک الویل یا اخےّة، اسکتی رحمک الرحمن '' اے میری بہن! تمہارے لئے کوئی وائے نہیں ہے ، خاموش ہوجاؤ، خدائے رحمن تم پر رحمت نازل کرے !
اسی اثناء میں آپ کے بھائی عباس بن علی علیہماالسلام سامنے آئے اور عرض کیا : اے بھائی ! دشمن کی فوج آپ کے سامنے آچکی ہے۔یہ سن کر امام حسین علیہ السلام اٹھے اور فرمایا:
'' یاعباس ارکب بنفس أنت یاأخ حتی تلقاهم فتقول لهم : مالکم ؟ وما بدأ لکم و تسأ لهم عما جاء بهم ؟ ''
اے عباس ! تم پر میری جان نثار ہو ،میرے بھائی تم ذرا سوار ہوکر ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو : تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ اور کیا واقعہ پیش آگیا ہے ؟ اور ان سے سوال کرو کہ کس لئے آ ئے ہیں ؟
یہ سن کر حضرت عباس ٢٠ سواروں کے ہمراہ جن میں زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر(١) بھی تھے دشمن کی فوج کے پاس گئے اور ان سے آپ نے فرمایا : تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ اور تم لوگ کیا چاہتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : امیر کا فرمان آیا ہے کہ ہم آپ کے سامنے یہ معروضہ رکھیں کہ آپ لوگ سر تسلیم خم کر دیں ورنہ ہم تم سے جنگ کریں گے ۔حضرت عباس نے کہا : ''فلا تعجلوا حتی ارجع الی أبی عبداللّٰہ فأعرض علیہ ما ذکر تم'' تم لوگ اتنی جلدی نہ کرو ،میں ابھی پلٹ کر ابوعبداللہ کے پاس جاتا ہوں اور ان کے سامنے تمہاری باتوں کو پیش کرتا ہوں ۔اس پر وہ لوگ رک گئے اور کہنے لگے ٹھیک ہے تم ان کے پاس جاؤ اور ان کوساری رو دا د سے آگاہ کر دو پھر وہ جو کہیں اسے ہمیں آکربتاؤ۔ یہ سن کر حضرت عباس پلٹے اور اپنے گھوڑ ے کو سر پٹ دو ڑاتے ہوئے امام کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ آپ کے سامنے صورت حا ل کو بیان کریں ۔
حضرت عباس کے ساتھ جانے والے دیگر بیس افراد وہیں پر ٹھہرے رہے اور دشمن کی فوج سے گفتگو کرنے لگے ۔حبیب بن مظاہر نے زہیر بن قین سے کہا: اگر آپ چاہیں تو اس فوج سے گفتگو کریں اور اگر چاہیں تو میں بات کروں زہیر بن قین نے کہا :آپ شروع کریں اور آپ ہی ان سے بات کریں تو حبیب بن مظاہر نے کہا : خدا کی قسم کل وہ قوم خداکے نزدیک بڑی بدتر ین قوم ہو گی جو اللہ کے نبی کی ذریت اور پیغمبرخداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے اہل بیت کو قتل کر نے کا ار ادہ رکھتی ہے، جو اس شہر میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہیں ،سپیدہ سحر ی تک عبادتوں میں مشغول رہتے ہیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کیاکر تے ہیں ۔حبیب بن مظاہر، زہیر بن قین سے اس بات کو اس طرح کہہ رہے تھے کہ اموی فوج اسے سن
____________________
١۔ آ پ کے شرح احوال ان لوگو ں کے تذکرے میں گذر چکے ہیں جنھو ں نے کوفہ سے حسین علیہ السلام کو خط لکھا تھا ۔
لے۔ عزرہ بن قیس(١) نے یہ گفتگو سنی تو وہ حبیب سے کہنے لگا : تم نے خود کو پاک و پاکیزہ ثابت کرنے میں اپنی ساری طاقت صرف کر دی۔ زہیر بن قین نے عزرہ سے کہا: اے عزرہ !اللہ نے انھیں پاک و پاکیزہ اور ہدایت یافتہ قرار دیا ہے؛ اے عزرہ !تم تقوائے الہٰی اختیار کرو کیونکہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ؛ اے عزرہ !میں تم کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ تم پاک و پاکیزہ نفو س کے قتل میں گمراہو ں کے معین و مددگار نہ بنو !
عزرہ بن قیس نے جو اب دیا : اے زہیر!ہمارے نزدیک تو تم اس خاندان کے پیرونہ تھے، تم تو عثمانی مذہب تھے۔(٢)
زہیر بن قین نے کہا : کیا ہمارا موقف تمہارے لئے دلیل نہیں ہے کہ میں پہلے عثمانی تھا! خداکی قسم! میں نے ان کو کوئی خط نہیں لکھا تھا اور نہ کوئی پیغام رساں بھیجا تھا اور نہ ہی انھیں وعدہ دیا تھا کہ میں ان کی مدد و نصرت کروں گا ، بس راستے نے ہمیں اور ان کو یکجاکردیاتو میں نے ان کو جیسے ہی دیکھا ان کے رخ انور نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد دلادی اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ان کی نسبت بھی میرے ذہن میں آگئی اور میں یہ سمجھ گیا کہ وہ اپنے دشمن اور تمہارے حزب وگروہ کی طرف جارہے ہیں ؛ یہ وہ موقع تھا جہاں میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں ان کی مدد کروں گا اور ان کے حزب و گروہ میں رہوں گا؛ نیز اپنی جان ان کی جان پر قربان کردوں گا تاکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس حق کی حفاظت کرسکوں جسے تم لوگوں نے ضائع کردیا ہے ۔
____________________
١۔ اس شخص کے شرح احوال وہا ں پر گذر چکے ہیں جہا ں امام علیہ السلام کے نام اہل کوفہ کے خط لکھنے کا تذکرہ ہوا ہے کہ یہ اہل کوفہ کے منافقین میں سے ہے ۔
٢۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جہا ں زہیر بن قین کو واقعہ کربلا میں اس لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ مسلمانو ں کے درمیان تفرقہ کا یہ پہلا عنوان ہے جو عثمان بن عفان کے سلسلہ میں مورد اختلاف قرار پایا کہ آیا وہ حق پر تھا یا باطل پر۔اس وقت جو علی علیہ السلام کو اپنا مولا سمجھتا تھا وہ علوی اور شیعی کہا جانے لگا اور جو عثمان کو مولا سمجھتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ عثمان حق پر ہے وہ مظلوم قتل کیا گیا ہے وہ عثمانی کہلاتا تھا ۔
ایک شب کی مہلت
ادھر عباس بن علی(علیہماالسلام) امام حسین علیہ السلام کے پاس آئے اور عمر سعد کا پیغام آپ کو سنادیا۔اسے سن کر حضرت نے فرمایا :''ارجع الیهم فان استطعت أن تؤخر هم الیٰ غدوة و تد فعهم عنا العشیه ، لعلنا نصل لربنا اللیلة و ندعوه و نستغفره فهو یعلم ان کنت أحب الصلاة و تلاوة کتابه و کثرة الدعا والاستغفار''
(میرے بھائی عباس) تم ان لوگوں کی طرف پلٹ کر جاؤ اور اگرہو سکے تو کل صبح تک کے لئے اس جنگ کو ٹال دواور آج کی شب ان لوگوں کو ہم سے دور کردو تاکہ آج کی شب ہم اپنے رب کی بارگاہ میں نمازادا کریں اوردعاواستغفار کریں کیونکہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ مجھے نماز ، تلاوت کلام مجید ، کثرت دعا اور استغفار سے بڑی محبت ہے ۔
اس مہلت سے امام حسین کا مقصد یہ تھا کہ عبادت کے ساتھ ساتھ کل کے امور کی تدبیر کرسکیں اور اپنے گھر والوں سے وصیت وغیرہ کرسکیں ۔
حضرت عباس بن علی علیہماالسلام اپنے گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتے ہوئے فوج دشمن کی طرف آئے اور فرمایا :'' یا ھولاء ! ان أباعبداللّٰہ یسألکم أن تنصرفوا ھٰذہ العشےة حتی ینظر فی ھٰذا الامر فان ھٰذا أمر لم یجر بینکم و بینہ فیہ منطق فاذا أصبحنا التقینا ان شاء اللّٰہ فأمارضینا ہ فأتینا بالامر الذی تسألونہ و تسمونہ ، أو کرھنا فرددنا ہ '' اے قوم ! ابو عبداللہ کی تم لوگوں سے درخواست ہے کہ آج رات تم لوگ ان سے منصرف ہوجاؤ تاکہ وہ اس سلسلے میں فکر کرسکیں کیونکہ اس سلسلے میں ان کے اور تم لوگوں کے درمیان کوئی ایسی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ جب صبح ہوگی تو انشاء اللہ ہم لوگ ملاقات کریں گے۔اس وقت یاتو ہم لوگ اس بات پر راضی ہوجائیں گے اور اس بات کو قبول کرلیں گے جس کا تم لوگ ان سے تقاضا کررہے اور اس پر ان سے زبر دستی کررہے ہو یا اگر ہم ناپسند کریں گے تو رد کردیں گے ۔
عمر بن سعد نے یہ سن کر کہا : یا شمر ماتری ؟ شمر تیری رائے کیا ہے ؟
شمرنے جواب دیا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ امیر تم ہو اور تمہاری بات نافذہے ۔
عمر بن سعد : میں تو یہ چاہتا ہو ں کہ ایسا نہ ہونے دوں پھر اپنی فوج کی طرف رخ کرکے پوچھا تم لوگ کیا چاہتے ہو ؟ تو عمرو بن حجاج بن سلمہ زبیدی نے کہا : سبحان اللّٰہ! خدا کی قسم اگر وہ لوگ دیلم کے رہنے والے ہوتے اور تم سے یہ سوال کرتے تو تمہارے لئے سزاوار تھا کہ تم اس کا مثبت جواب دیتے ۔
قیس بن اشعث(١) بولا :تم سے یہ لوگ جو سوال کررہے ہیں اس کا انھیں مثبت جواب دو !قسم ہے میری جان کی کہ کل صبح یہ لوگ ضرور تمہارے سامنے میدان کارزار میں آئیں گے ۔
یہ سن کر پسر سعد نے کہا: خداکی قسم اگرمجھے یہ معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ نبرد آزماہوں گے تو میں آج کی شب کی مہلت کبھی نہ دوں گا(٢) علی بن الحسین کا بیان ہے کہ اس کے بعد عمر بن سعد کی جانب سے ایک پیغام رساں آیا اور آکر ایسی جگہ پرکھڑا ہوا جہاں سے اس کی آواز سنائی دے رہی تھی اس نے کہا : ہم نے تم لوگوں کو کل تک کی مہلت دی ہے کل تک اگر تم لوگوں نے سر تسلیم خم کردیا تو ہم لوگ تم لوگوں کو اپنے امیر عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے جائیں گے اور اگر انکا ر کیا توتمھیں ہم نہیں چھوڑیں گے(٣)
____________________
١۔یہ شخص روز عاشورہ قبیلہ ربیعہ اور کندہ کی فوج کا سر براہ تھا ۔(طبری ، ج٥،ص ٤٢٢) یہی امام حسین علیہ السلام کی اونی ریشمی چادر لوٹ کر لے گیا تھا جسے عربی میں '' قطیفہ '' کہتے ہیں اس کے بعد یہ قیس قطیفہ کے نام سے مشہور ہوگیا۔ (طبری، ج٥ ، ص ٥٣)اصحاب امام حسین علیہ السلام کے سرو ں کو کوفہ ابن زیاد کے پاس لے جانے والو ں میں شمربن ذی الجوشن ، عمرو بن حجاج اور عزرہ بن قیس کے ہمراہ یہ بھی موجود تھا ۔ ان میں سے ١٣ سر یہ اپنے قبیلہ کندہ لے کر روانہ ہوگیا(طبری ، ج٥ ،ص ٤٦٨) یہ شخص محمد بن اشعث جناب مسلم کے قاتل اور جعدہ بنت اشعث امام حسن علیہ السلام کی قاتلہ کا بھائی ہے ۔
٢۔ حارث بن حصیرہ نے عبداللہ بن شریک عامری سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری، ج٥،ص ٤١٥ ، ارشاد ،ص ٢٣٠)
٣۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے حارث بن حصیرہ نے عبداللہ بن شریک عامری سے اور اس نے علی بن الحسین سے یہ روایت بیان کی ہے۔(طبری ، ج٥ ،ص ٤١٧)
شب عاشور کی روداد
* شب عاشور امام حسین علیہ السلام کا خطبہ
* ہاشمی جوانوں کا موقف
* اصحاب کا موقف
* امام حسین علیہ السلام اور شب عاشور
* شب عاشور امام حسین اور آپ کے اصحاب مشغول عبادت
شب عاشور کی روداد
شب عاشور امام حسین علیہ السلام کا خطبہ
چوتھے امام حضرت علی بن الحسین علیہما السلام سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں : جب عمر سعد کی فوج پلٹ گئی تو حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو جمع کیا(یہ بالکل غروب کا وقت تھا) میں نے خود کو ان سے نزدیک کیا؛ کیونکہ میں مریض تھا۔ میں نے سنا کہ میرے بابا اپنے اصحاب سے فرمارہے ہیں :
''أثنی علیٰ اللّٰه تبارک و تعالی أحسن الثنا ء و أحمد ه علی السرّا ء و الضرّا ء ؛اللّٰهم ان أحمدک علی أن أکرمتنا با لنبوة و علمتنا القرآن و فقهتنا ف الدین و جعلت لنا أسما عاً وابصاراً و أفئدة ولم تجعلنا من المشرکین.
اما بعد ؛ فان لا أعلم أصحاباً أولیٰ و لا خیراً من أصحابی ولا أهل بیت أبرّ وأوصل من أهل بیت فجزاکم اللّٰه عن جمیعاً خیرا.
ألا وانّ اظن یومنا من هٰولاء الاعدا ء غداً ألا وان قد رأیت لکم فانطلقوا جمیعاً ف حِل ، لیس علیکم من ذمام ، هٰذا لیل قد غشیکم فاتخذوه جملا !(١) ثم لیأ خذ کلُ رجل منکم بید رجل من أهل بیت؛تفرقوا ف سوادکم و مدائنکم حتی یفرّج اللّٰه ، فان القوم انما یطلبون، ولو قد أصابون لَهَوا عن طلب غیر.''
میں اللہ تبارک و تعالی کی بہترین ستائش کرتا ہوں اور ہر خوشی و آسائش اور رنج و مصیبت میں
____________________
١۔ ابو مخنف کہتے ہیں کہ مجھ سے حارث بن حصیرہ نے عبداللہ بن شریک عامری سے اور اس نے علی بن حسین علیہ السلام سے یہ روایت بیان کی ہے۔ (طبری ،ج٥،ص ٤١٨) ابو الفرج نے ص ٧٤ پر اور شیخ مفید نے ص ٢٣١ پر علی بن حسین کے بجائے امام سجاد علیہ السلام لکھا ہے جو ایک ہی شخصیت کے نام اور لقب ہیں ۔
اس کی حمد کرتا ہوں ۔خدایا! اس بات پرمیں تیری حمد کرتا ہوں کہ تو نے ہمیں نبوت کے ذریعہ کرامت عطاکی ، ہمیں قران کا علم عنایت فرمایا اور دین میں گہرائی و گیرائی عطافرمائی اور ہمیں حق کو سننے والے کان ، حق نگر آنکھیں او ر حق پذیر دل عطا فرمائے اور تونے ہمیں مشرکین میں سے قرار نہیں دیا ۔
اما بعد! حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے اصحاب سے بہتر و برتر کسی کے اصحاب کاسراغ نہیں رکھتا، نہ ہی ہمارے گھرانے سے زیادہ نیکو کار اور مہر بان کسی گھرانے کا مجھے علم ہے ؛خدا وند متعال میری طرف سے تم سب کو اس کی بہترین جزاعطاکرے ۔
آگاہ ہوجاؤ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان دشمنوں کی شر انگیزیوں کی بنیاد پر کل ہماری زندگی کا آخری دن ہے۔ آگاہ ہوجاؤ! کہ میں نے اسی لئے تم لوگوں کے سلسلے میں یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ تم سب کے سب ہماری بیعت سے آزاد ہو اورمیری طرف سے تم لوگوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ رات ہے جس نے تم سب کواپنے اندر ڈھانپ لیا ہے؛ تم لوگ اس سے فائدہ اٹھاکر اپنے لئے اسے حجاب و مرکب قرار دو اور تم میں سے ہر ایک ہمارے خاندان کی ایک ایک فرد کا ہاتھ پکڑ کر اپنے اپنے ملک اور شہر کی طرف نکل جائے یہاں تک کہ خدا گشائش کی راہ نکال دے ؛کیونکہ یہ قوم فقط میرے خون کی پیاسی ہے لہٰذا اگر وہ مجھے پالیتی ہے تو میرے علاوہ دوسروں سے غافل ہوجائے گی۔
ہاشمی جوانوں کا موقف
امام حسین علیہ السلام کی تقریر ختم ہوچکی تو عباس بن علی علیھما السلام نے کلام کی ابتداء کی اور فرمایا :'' لِمَ نفعل ذالک؟ ألنبقی بعدک ؟ لاأرانا اللّٰه ذالک أبداً !'' ہم ایسا کیوں کریں ؟ کیا فقط اس لئے کہ ہم آپ کے بعد زندہ و سلامت رہیں ؟ !خدا کبھی ہمیں ایسا دن نہ دکھائے ۔
اس کے بعد حضرت عباس کے بھائی ، امام حسین علیہ السلام کے فرزندان ، آپ کے بھائی امام حسن علیہ السلام کی اولاد ،عبداللہ بن جعفر کے فرزند (محمد و عبداللہ) سب کے سب نے اسی قسم کے کلمات سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
یہ سن کر امام حسین علیہ السلام فرزندان جناب عقیل کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا : اے فرزندان عقیل ! مسلم کا قتل تم لوگوں کے لئے کافی ہے، تم سب چلے جاؤ ،میں تم کو اجازت دیتا ہوں ۔یہ سن کر ان سبھوں نے عرض کیا:
''فما یقول الناس ! یقولون انّا ترکنا شیخنا و سیدنا و بن عمومتنا خیر الاعمام ولم نرم معهم بسهم ، ولم نطعن معهم برمح ولم نضرب معهم بسیف ، ولا ندر ما صنعوا ! لا واللّٰه لا نفعل ولکن تفدیک أنفسْنا و أموالنا وأهلونا ، ونقاتل معک حتی نرد موردک ! فقبح اللّٰه العیش بعدک'' (١)
اگر ہم چلیں جائیں تو لوگ کیا کہیں گے ! یہی تو کہیں گے کہ ہم نے اپنے بزرگ اور سید و سردار اور اپنے چچا کے فرزندان کو (نرغہ اعداء میں تنہا) چھوڑ دیا جبکہ وہ ہمارے بہتر ین چچا تھے۔ہم نے ان کے ہمراہ دشمن کی طرف تیر نہیں چلا یا ، نیز وں سے دشمنوں کو زخمی نہیں کیا اور ان کے ہمراہ تلوار سے حملہ نہیں کیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ لوگ ہمارے ساتھ کیا کریں گے۔نہیں خد اکی قسم ہم ایسا نہیں کر سکتے ؛ ہم اپنی جان ، مال اور اپنے گھر والوں کو آپ پر قربان کردیں گے؛ ہم آپ کے ساتھ ساتھ دشمن سے مقابلہ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ جہاں آپ وارد ہوں ۔ وہیں ہم بھی وارد ہوں اللہ اس زندگی کا برا کرے جو آپ کے بعد باقی رہے!
اصحاب کا موقف
جب بنی ہاشم اظہارخیال کر چکے تو اصحاب کی نوبت آئی تو۔ (حسینی سپاہ کے سب سے بوڑھے صحابی) مسلم بن عوسجہ( ٢) اٹھے اور عرض کی :'' أنحن نخل و لمانعذر الی اللّٰه فی أداء حقک ! أماواللّٰه حتی أکسر فی صدورهم رمح ، وأضربهم بسیف ما ثبت قائمة فی ید ،ولا أفارقک ، ولو لم یکن مع سلاح أقاتلهم به لقذفتهم بالحجارة دونک حتی أموت معک''
____________________
١۔مقاتل الطالبیین، ابو الفرج،ص٧٤ ،ارشاد،ص٢٣١، خواص۔ ص ٢٤٩
٢۔جو اشراف کوفہ جناب مسلم بن عقیل کے ساتھ تھے۔ ان کے ہمراہ آپ کے احوال گزر چکے ہیں ۔واقعہ کربلا میں یہ آپ کا پہلا تذکرہ ہے آپ کربلا کیسے پہنچے اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
اگر ہم آپ کو تنہا چھوڑدیں ؟تو آپ کے حق کی ادئیگی میں اللہ کے سامنے ہمارے پاس کیا عذر ہوگا؟ خدا کی قسم! جب تک کہ میں اپنا نیزہ ان کے سینے میں نہ تو ڑلوں اور جب تک قبضۂ شمشیر میرے ہاتھ میں ہے میں ان کو نہ مار تا رہوں میں آپ سے جدا نہ ہوں گا اور اگر میرے پاس کوئی اسلحہ نہ ہوا جس سے میں ان لوگوں سے مقابلہ کر سکوں تو میں آپ کی حمایت میں ان پر پتھر مارتا رہوں گا یہاں تک مجھے آپ کے ہمراہ موت آجائے۔مسلم بن عوسجہ کے بعد سعید بن عبد اللہ حنفی اٹھے اور عرض کیا :
'' واللّٰه لا نخّلیک حتی یعلم اللّٰه أنا حفظنا غیبة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم فیک واللّٰه لو علمت ان أقتل ثم أحیا ثم احرق حيّاثم أذّر ، یفعل ذالک ب سبعین مرّ ة ما فا رقتک حتی ألقی حِما م دونک فکیف لاأفعل ذالک وانما ه قتلة واحد ة ثم ه الکرامة التی لا انقضاء لها ابداً''
خدا کی قسم! ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑ یں گے یہاں تک کہ خدا ہمیں یہ بتادے کہ ہم نے رسول خدا صلی اللہ وآلہ وسلم کے پس پشت آپ کی حفاظت ونگرانی کرلی، خدا کی قسم! اگر مجھے معلوم ہو کہ مجھے قتل کیا جائے گا اور پھر زندہ کیا جائے گا اور پھر زندہ کر نے کے بعد مجھے زندہ جلا دیا جائے اور میری راکھ کو ہوا ؤں میں اڑادیا جائے گااور یہ کام میرے ساتھ ستّر (٧٠) مرتبہ بھی کیا جائے تب بھی میں آپ سے جدا ئی اختیار نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں آپ کے سامنے قربان ہو جاؤں ۔ اور میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ ایک ہی بار قتل ہونا ہے اور اسکے بعد ایسی کرامت ہے جو کبھی بھی ختم ہونے والی نہیں ہے ۔
اسکے بعد زہیر بن قین بولے :'' واللّٰه لوددت ان قتلت ثم نشرت ثم قتلت حتی أقتل کذ األف قتلة، وان اللّٰه ید فع بذالک القتل عن نفسک وعن أنفس هو لا ء الفتية من أهل بیتک ''
خدا کی قسم! میرا دل تو یہی چاہتا ہے کہ میں قتل کیا جاؤں پھر مجھے زندہ کیا جائے پھر قتل کیا جائے یہاں تک کہ ایک ہزار مرتبہ ایسا کیا جائے اور اللہ میرے اس قتل کے ذریعہ آپ کے اور آپ کے گھر انے کے ان جوانوں سے بلا کو ٹال دے ۔
اسکے بعد اصحاب کی ایک جماعت گویا ہوئی :''واللّٰه لا نفارقک ، ولکن أنفسنا لک الفداء نقیک بنحور نا وجباهنا وأید ینا .فاذانحن قتلنا کنا وفیناوقضینا ماعلینا''
خداکی قسم ہم آپ سے جدانہیں ہوسکتے ۔ ہماری جانیں آپ پر قربان ہیں ۔ ہم اپنی گردنوں ، پیشانیوں اور ہاتھوں سے آپ پر قربان ہیں ۔جب ہم قتل ہو جائیں گے تب ہم اس حق کوادااور اس عہد کو وفاکریں گے جوہماری گردن پر ہے ۔
اس کے بعد اصحاب کے گروہ گروہ نے اسی قسم کے فقروں سے اپنے خیالات کااظہار کیا۔(١)
امام حسین علیہ السلا م اورشب عاشور
حضرت علی بن حسین علیھما السلام سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں : جس شام کی صبح کو میرے باباشھید کردئے گئے اسی شب میں بیٹھا تھا اور میری پھوپھی زینب میری تیمارداری کررہی تھیں ۔ اسی اثنا میں میرے بابا اصحاب سے جدا ہوکر اپنے خیمے میں آئے۔ آپ کے پاس ''جون ''(٢) ابوذر کے غلام بھی موجود تھے جو اپنی تلوار کو آمادہ کررہے تھے اور اس کی دھار کو ٹھیک کر رہے تھے۔اس وقت میرے بابا یہ اشعار پڑھ رہے تھے :
یا دهر اف ّ لک من خلیل
کم لک بالِاشراق والاصیل
من صاحب أو طالب قتیل
وا لد هر لا یقنع با لبدیل
وانما الا مر الیٰ الجلیل
وکل ّ ح سا لک سبیل
____________________
١۔ابو مخنف نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن عاصم فایشی نے ضحاک بن عبداللہ مشرقی ہمدانی کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیاہے۔ (طبری، ج٥ ،ص ٤١٨؛ابوالفرج ،ص ٧٤ ، ط نجف ؛ تاریخ یعقوبی، ج ٢، ص ٢٣١ ، ارشاد، ص ٢٣١)
٢۔ طبری نے حوَلکھا ہے۔ ارشاد، ص ٢٣٢ میں ''جوین '' اور مقاتل الطالبیین، ص ٧٥ ، مناقب بن شہر آشوب، ج٢، ص ٢١٨، تذکرة الخواص، ص ٢١٩ ، اور خوارزمی، ج١ ،ص ٢٣٧ پر ''جون '' مرقوم ہے ۔ تاریخ طبری میں آپ کا تذکرہ اس سے قبل اور اس کے بعد بالکل موجود نہیں ہے نہ ہی امام علیہ السلام کے ہمراہ آپ کی شہادت کا تذکرہ موجود ہے۔
اے دنیا! اُف اور وائے ہو تیری دوستی پر، کتنی صبح و شام تو نے اپنے دوستوں اور حق طلب انسانوں کو قتل کیا ہے، اور ان کے بغیر زندگی گزاری ہے ،ہاں روزگاربدیل ونظیر پر قناعت نہیں کرتا، حقیقت تو یہ ہے کہ تمام امور خدا ئے جلیل کے دست قدرت میں ہیں اور ہر زندہ موجود اسی کی طرف گامزن ہے۔
بابانے ان اشعار کی دو یا تین مرتبہ تکرار فرمائی تو میں آپ کے اشعار کے پیغام اور آپ کے مقصد کو سمجھ گیا لہذا میری آنکھوں میں اشکوں کے سیلاب جوش مارنے لگے اور میرے آنسو بہنے لگے لیکن میں نے بڑے ضبط کے ساتھ اسے سنبھالامیں یہ سمجھ چکاتھا کہ بلا نازل ہوچکی ہے ۔
ہماری پھوپھی نے بھی وہی سنا جو میں نے سنا تھا لیکن چونکہ وہ خاتون تھیں اور خواتین کے دل نرم و نازک ہوا کرتے ہیں لہٰذا آپ خود پر قابو نہ پاسکیں اور اٹھ کھڑی ہوئیں اور سر برہنہ دوڑتی ہوئی اس حال میں بھائی کے خیمہ تک پہنچیں کہ آپ کا لباس زمین پر خط دے رہا تھا،وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا :''واثکلاه ! لیت الموت أعد من الحیاة ! الیوم ماتت فاطمة أمّ و علی أب ، وحسن أخ یا خلیفةالماض وثمال الباق'' (١) آہ یہ جانسوز مصیبت ! اے کاش موت نے میری حیات کو عدم میں تبدیل کردیا ہوتا! آج ہی میری ماں فاطمہ ، میرے بابا علی اور میرے بھائی حسن دنیا سے گزر گئے۔ اے گذشتگان کے جانشین اور اے پسماندگان کی پناہ ، یہ میں کیا سن رہی ہوں ؟
یہ سن کر حسین علیہ السلام نے آپ کو غور سے دیکھااور فرمایا:'' یا أخےّة لا یذھبن بحلمک الشیطان'' اے میری بہن مبادا تمہارے حلم و برد باری کو شیطان چھین لے۔ یہ سن کر حضرت زینب نے کہا :'' بأبی أنت و أمی یا أبا عبداللہ ! أستقتلت ؟ نفسی فداک '' میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں اے ابو عبداللہ! کیا آپ اپنے قتل و شہادت کے لئے لحظہ شماری کررہے ہیں ؟ میری جان آپ پر قربان ہوجائے۔
____________________
١۔ ارشاد میں یہ جملہ اس طرح ہے''یا خلیفة الماضین و ثمال الباقین'' (ص٢٣٢) تذکرہ میں اس جملہ کا اضافہ ہے'' ثم لطمت وجھھا''(ص٢٥٠ ،طبع نجف)
یہ سن کر امام حسین علیہ السلام کو تاب ضبط نہ رہی؛ آنکھوں سے سیل اشک جاری ہوگیااور آپ نے فرمایا :'' لو ترک القطا لیلاً لنام !'' اگر پرندہ کو رات میں اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ سورہے گا ۔
یہ سن کر پھوپھی نے فرمایا :'' یا ویلتی ! أفتغصب نفسک اغتصاباً ؟ فذالک أقرح لقلب وأشد علیٰ نفس''اے وائے کیا آپ آخری لمحہ تک مقابلہ کریں گے اور یہ دشمن آپ کو زبردستی شہید کردیں گے ؟ یہ تو میرے قلب کو اور زیادہ زخمی اور میری روح کے لئے اور زیادہ سخت ہے ،یہ کہہ کر آپ اپنا چہرہ پیٹنے لگیں اور اپنے گریبان چاک کردئے اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ بے ہوش ہوگئیں ۔
امام حسین علیہ السلام اٹھے اورکسی طرح آپ کو ہوش میں لا کر تسکین خاطر کے لئے فرمایا :'' یا أخيّة ! ا تق اللّٰه و تعز بعزاء اللّٰه و اعلم ان أهل الارض یموتون و أن أهل السماء لایبقون وأن کل شی هالک الا وجه الذی خلق الارض بقدرته و یبعث الخلق فیعودون وهو فرد وحده، أب خیر من، و أم خیر من ، و أخ خیر من ول ولهم ولکل مسلم برسول اللّٰه أسوة .''
اے میری بہن !تقوائے الہٰی پر گامزن رہو اور اس سے اپنی ذات کو سکون پہنچاؤ اور جان لو کہ اہل زمین کو مرنا ہی مرنا ہے اور آسمان والے بھی باقی نہیں رہیں گے۔ جس ذات نے اپنی قدرت سے زمین کو خلق کیاہے اس کے علاوہ ہر چیزکوفنا ہوناہے۔اس کی ذات مخلوقات کو مبعوث کرنے والی ہے، وہ دوبارہ پلٹیں گے، بس وہی اکیلا و تنہا زندہ ہے۔ میرے بابا مجھ سے بہتر تھے ، میری مادر گرامی مجھ سے بہتر تھیں اور میرے بھائی مجھ سے بہتر تھے، میرے لئے اور ان لوگوں کے لئے بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے رسول خدا کی زندگی اور موت نمونۂ عمل ہے۔
اس قسم کے جملوں سے آپ نے بہن کے دل میں امنڈ تے ہوئے سیلاب کو روکا اورانھیں تسلی دی اور پھرفرمایا:
''یاأخية ! انی أقسم علیک فأبّری قسمی : لا تشقی عل جیباً ولا تخمشی علّ وجها ولا تد ع علّ بالویل والثبور اذا أنا هلکت'' اے میری بہن !میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ میری شہادت کے بعد تم اپنے گریبان چاک نہ کرنا، نہ ہی اپنے چہرے کو پیٹنا اورنہ اس پر خراش لگانا اور نہ ہی واے کہنا اور نہ موت کی خواہش کرنا۔
پھربابا نے پھوپھی زینب کو میرے پاس لاکر اور بٹھایا اور ان کے دل کو آرام و سکون بخشنے کے بعد اپنے اصحاب کی طرف چلے گئے۔ وہاں پہنچ کرانھیں حکم دیا کہ وہ ا پنے خیموں کو ایک دوسرے سے نزدیک کرلیں ، اس کی طناب کو ایک دوسرے سے جوڑ لیں اور اپنے خیموں کے درمیان اس طرح رہیں کہ دشمنوں کو آتے دیکھ سکیں ۔(١) اس کے بعد امام حسین علیہ السلام بانس اور لکڑیاں لے کر ان لوگوں کے خیموں کے پیچھے آئے جہاں پتلی سی خندق نما بنائی گئی پھر وہ بانس اورلکڑیاں اسی خندق میں ڈال دی گئیں ۔ اسکے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: جب وہ لوگ صبح میں ہم لوگوں پر حملہ کریں گے تو ہم اس میں آگ لگادیں گے تا کہ ہمارے پیچھے سے وہ لوگ حملہ آور نہ ہوسکیں اور ہم لوگ اس قوم سے ایک ہی طرف سے مقابلہ کریں ۔(٢)
شب عاشورامام حسین اور آپ کے اصحاب مشغول عبادت
جب رات ہوگئی تو حسین علیہ السلام اوراصحاب حسین علیہم السلام تمام رات نماز پڑھتے رہے اور استغفار کرتے رہے۔وہ کبھی دعا کرتے اور کبھی تضرع و زاری میں مشغول ہوجاتے تھے ۔
ضحاک بن عبد اللہ مشرقی ہمدانی اصحاب حسین علیہ السلام میں سے تھے جو دشمنوں کے چنگل سے نجات پاگئے تھے،وہ کہتے ہیں : سواروں کا لشکر جو ہماری نگرانی کر رہا تھا اور ہم پر نگاہ رکھے ہوئے تھا وہ ہمارے پاس سے گزرا؛اس وقت امام حسین علیہ السلام قرآن مجید کی ان آتیوں کی تلاوت فرما رہے تھے :( ''وَلاَيَحْسَبَنَّ اَلذِّینَ کَفَرُوْ اَنَّمَا نُمْلِْ لَهُمْ خَیراً لانفسهم اِنَّمَا نُمْلِْ لَهْمْ لَيَزْدَادُوْا اِثْماً وَلَهُمْ عَذَاب مُهِيْن. مَا کَاْنَ اللّهُ لِيَذَرَ الْمُؤمِنِيْنَ عَلَی مَا أنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَی يَمِيْزَ الْخَبِیث مِنَ الطَّيِّب''ِ ) (٣)
____________________
١۔ حارث بن کعب اور ابو ضحاک نے مجھ سے علی بن الحسین کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے(طبری ،ج٥، ص٤٢٠ ؛ ابو الفرج ، ص ٧٥ ،ط نجف ،یعقوبی، ج٢،ص ٢٣٠ ؛ ارشاد ،ص ٢٣٢ ، طبع نجف) آپ نے تمام روایتی ں امام سجاد علیہ السلام سے نقل کی ہیں ۔
٢۔ عبد اللہ بن عاصم نے ضحاک بن عبداللہ مشرقی سے روایت کی ہے۔ طبری ، ج٥ ،ص ٤٢١، ارشاد ، ص ٢٣٣ ، پر فقط ضحا ک بن عبداللہ لکھا ہے۔
٣۔ آل عمران، آیت ١٧٨و ١٧٩
جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے جو انھیں مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے، ہم نے تو انھیں اس لئے مہلت دی ہے تا کہ وہ اور زیادہ گناہ کریں اور ان کے لئے رسوا کنندہ عذاب ہے۔ خدا وندعالم ایسانہیں ہے کہ مومنین کو اسی حالت پر رکھے جس پر تم لوگ ہو بلکہ ی اس لئے ہے کہ وہ پلید کو پاک سے جداکر ے ۔
اس وقت لشکر عمر بن سعد کے کچھ سوار ہمارے اردگرد چکّر لگا رہے تھے ۔ان میں سے ایک سوار یہ آیتیں سن کرکہنے لگا رب کعبہ کی قسم !ہم لوگ پاک ہیں ، ہم لوگوں کو تم لوگوں سے جدا کر دیا گیا ہے۔ میں نے اس شخص کو پہچان لیا اور بریر بن حضیر ہمدانی(١) سے کہا کہ آپ اسے پہچانتے ہیں یہ کون ہے ؟
بریر نے جواب دیا: نہیں ! اس پر میں نے کہا :یہ ابو حرب سبیع ہمدانی عبداللہ بن شہر ہے، یہ مسخرہ کرنے والااور بیہودہ ہے،بڑا بے باک اور دھوکہ سے قتل کرنے والا ہے۔ سعید بن قیس(٢) نے بارہا اس کی بد اعمالیوں اور جنایت کاریوں کی بنیاد پر اسے قید کیا ہے ۔
____________________
١۔ ارشاد ،ص ٢٣٣، اور دیگر کتب میں خضیر مرقوم ہے اور یہی مشہور ہے ۔ آپ کوفہ کے قاریو ں میں ان کے سید و سر دار شمار ہوتے تھے۔ (طبری ، ج٥، ص٤٣١) آپ بڑے عبادت گزار تھے۔ واقعہ کربلا میں یہ آپ کا پہلا ذکر ہے۔ آپ امام علیہ السلام تک کس طرح پہنچے اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ آپ وہ ہیں جو جنگ شروع ہوتے ہی سب سے پہلے مقابلہ اور مبارزہ کے لئے اٹھے تو امام علیہ السلام نے آپ کو بٹھا دیا۔(طبری ،ج٥ ،ص ٤٢٩) آپ وہی ہیں جنہو ں نے عبدالرحمن بن عبد ربہ انصاری سے کہا تھا : خدا کی قسم! میری قوم جانتی ہے کہ مجھے نہ تو جوانی میں ،نہ ہی بوڑھاپے میں باطل ہنسی مذاق سے کبھی محبت رہی ہے لیکن خداکی قسم جو میں دیکھ رہا ہو ں اس سے میں بہت خوش ہو ں ۔ خدا کی قسم! ہمارے اور حور العین کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ لوگ ہم پر تلوار سے حملہ کری ں ۔میں تو یہی چاہتا ہو ں کہ یہ لوگ حملہ آور ہو ں ۔(ج٥ ،ص ٤٢٣) آپ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ عثمان نے اپنی جان کو برباد کردیا۔ معاویہ بن ابو سفیان گمراہ اور گمراہ کرنے والا تھا امام و پیشوای ہدایت اور حق تو بس علی بن ابیطالب علیہ السلام تھے۔ اس کے بعد آپ نے عمر بن سعد کے ایک فوجی سے جس کا نام یزید بن معقل تھا اس بات پر مباہلہ کیا کہ یہ مفاہیم و معانی حق ہیں اور یہ کہا کہ ہم میں سے جو حق پر ہے وہ باطل کو قتل کردے گا یہ کہہ کر آپ نے اس سے مبارزہ و مقابلہ کیا اور اسے قتل کردیا۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٤٣١)
٢۔ سعید بن قیس ہمدانی ،ہمدان کا والی تھاجسے والی کوفہ سعید بن عاص اشرق نے معزول کر کے ٣٣ ھمیں ''ری'' کا والی بنا دیا تھا۔(طبری، ج٥ ، ص ٣٣٠) امیر المومنین علیہ السلام نے مذکورہ شخص کو شبث بن ربیعی اور بشیر بن عمرو کے ہمراہ معاویہ کے پاس جنگ سے پہلے بھیجا تاکہ وہ سر تسلیم خم کر لے اور جما عت کے ہمراہ ہو جائے۔ (طبری، ج٥ ، ص ٥٧٣) صفین میں یہ شخص علی کے ہمراہ جنگ میں مشغول تھا۔(طبری، ج٤، ص ٥٧٤)یہ وہ سب سے پہلی ذات ہے جس نے امیر المومنین کے مقاصد کا مثبت جواب دیا تھا۔ (ج٥، ص ٩)امیر المومنین نے آپ کو انبار اور ہیت کی طرف سفیان بن عوف کے قتل و غارت گری کے سلسلے میں روانہ کیا تو آپ ان لوگو ں کے سراغ میں نکلے یہا ں تک کہ'' ہیت ''پہنچے مگر ان لوگو ں سے ملحق نہ ہوسکے ۔(طبری، ج٥، ص ١٣٤)ا س کے بعد تاریخ میں ہمیں ان کا کوئی ذکر اور اثر دکھائی نہیں دیتا ،شائد جب آپ عثمان کے زمانے میں '' ری'' اور'' ہمدان ''کے والی تھے تو اسی زمانے میں ابو حرب کو قید کیا ہو۔
یہ سن کر بریر بن حضیر نے اسے آواز دی اور کہا: اے فاسق ! تجھے اللہ نے پاک لوگوں میں قرار دیا ہے ؟! تو ابو حرب نے بریر سے پوچھا : تو کون ہے ؟
بریرنے جواب دیا : میں بریر بن حضیر ہوں ۔
ابو حرب نے یہ سن کر کہا : انّاللّہ ! یہ میرے لئے بڑا سخت مرحلہ ہے کہ تم بریر ہو، خدا کی قسم! تم ہلاک ہوگئے، خدا کی قسم تم ہلاک ہوگئے اے بریر !
بریرنے کہا : اے بو حرب ! کیا تو اپنے اتنے بڑے گناہ سے توبہ کرسکتا ہے ؟ خدا کی قسم! ہم لوگ پاک ہیں اور تم خبیثوں میں ہو۔
اس پر ابو حرب نے بریر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: اور میں اس پر گواہ ہوں !
میں (ضحاک بن عبداللہ مشرقی) نے اس سے کہا : تیری معرفت تیرے لئے نفع بخش کیوں نہیں ہورہی ہے ؟
ابو حرب نے جواب دیا : میں تم پر قربان ہوجاؤں ! تو پھر یز ید بن عذرہ عنزیّ کا ندیم کون ہوگا جو ہمارے ساتھ ہے ۔
یہ سن کربریرنے کہا : خدا تیرا برا کرے! تو ہر حال میں نادان کا نادان ہی رہے گا ۔یہ سن کر وہ ہم سے دور ہوگیا۔(١)
____________________
١۔ طبری، ج٥ ،ص ٤٢١ ،ابو مخنف کا بیان ہے : عبد اللہ بن عاصم نے ضحاک بن عبد اللہ مشرقی کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔
صبح عاشور ا
* سپاہ حسین میں صبح کا منظر
* روز عاشورا امام علیہ السلام کا پہلا خطبہ
* زہیر بن قین کا خطبہ
* حر ریاحی کی باز گشت
* حر بن یزید ریاحی کا خطبہ
صبح عاشورا
روز شنبہ کی صبح محرم کی دسویں تاریخ تھی، اذان صبح ہوتے ہی عمر بن سعد نے نماز صبح پڑھی، اپنے فوجیوں کے ہمراہ باہر آیا(١) اور اپنی فوج کو اس طرح ترتیب دیا :
(١) عبد اللہ بن زہیر ازدی(٢) کو اہل مدینہ کا سربراہ قرار دیا ۔
(٢) عبدالرحمن بن ابی سبرہ جعفی کو قبیلہ مذحج و اسد کا سالار قرار دیا ۔(٣)
(٣) قیس بن اشعث بن قیس کندی کو قبیلہ ربیعہ و کندہ کا سالار قرار دیا ۔
(٤) حر بن یزید ریاحی (تمیمی یربوعی) کو قبیلہ تمیم و ہمدان کا سربراہ بنایا ۔
(٥) عمرو بن حجاج زبیدی کومیمنہ کا سردار بنایا ۔
(٦) شمر بن ذی الجوشن (خبابی کلابی) کو میسرہ کا سردار بنایا۔
____________________
١۔ طبری ج٦ ،ص ٤٢١و٤٢٢، ابو مخنف کا بیان ہے : عبد اللہ بن عاصم نے ضحاک بن عبد اللہ مشرقی سے یہ روایت بیان کی ہے۔ ارشاد ،ص ٢٣٣ پر فقط ضحاک بن عبد اللہ مرقوم ہے ۔
امانت کی خاطر روز شنبہ روز عاشورا لکھ دیا گیا جبکہ یہ تاریخ اور یہ دن امام حسین علیہ السلام کے کربلا وارد ہونے کی تاریخ اور دن کے منافی ہے جو خود طبری نے ذکر کیا ہے کہ امام علیہ السلام ٢ محرم بروز پنجشنبہ وارد کربلا ہوئے اس بنیا د پر عاشورا روز جمعہ ہوتا ہے نہ کہ شنبہ۔حسن ظن کی بنیا د پر ہم یہ توجیہ کرسکتے ہیں کہ یہ دوروایتی ں دوراویو ں سے ہیں لہٰذا یہ اختلاف ہے۔ بہر حال روز جمعہ عاشورا کا ہونا مشہور ہے۔(مترجم)
٢۔ حجاج کے زمانے میں ری کے امیر عدی بن وتاّد کے ہمراہ مطرف بن مغیرہ بن شعبہ سے اصفہا ن میں جنگ کے دوران یہ میمنہ کا سردار تھا۔ (طبری ،ج٦ ،ص ٢٩٦) طبری میں اس کا آخری تذکرہ یہ ملتا ہے کہ ١٠٢ ھ میں یہ سعد کے نگہبانو ں میں تھا ۔ اس پر تیرو ں سے اتنی جراحت وزخم پہنچے کہ اس کا جسم سیہی (ایک جانور جسکے جسم پر کانٹے ہی کا نٹے ہوتے ہیں ) کی طرح ہو گیا ۔(طبری ،ج٦ ،ص ٦١٣) کربلا سے پہلے اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا ۔
٣۔ یہ وہ شخص ہے جس نے ٥١ھ حجر بن عدی کندی کے خلاف گواہی دی تھی۔(طبری، ج٥،ص ٢٧٠) یہ قبیلہ مذحج اور اسد کے پیدلو ں پر سربراہ تھا۔ شمر بن ذی الجوشن نے اسے امام حسین علیہ السلام کے قتل پر بر انگیختہ کیا تو اس نے انکار کیا اور شمرکو گالیا ں دی ں ۔ (طبری ،ج٥،ص ٤٥٠)
(٧) عزرہ بن قیس احمسی کو سواروں کا سپہ سالار بنایا۔
(٨) شبث بن ربعی ریاحی تمیمی کو پیدلوں کا سربراہ قرار دیا۔
(٩) پرچم اپنے غلام ذوید(١) کے ہاتھوں میں دیا ۔
(١٠) اور خود سارے لشکر کا سربراہ بن کر قلب لشکر میں حملہ کے لئے آمادہ ہوگیا ۔
سپاہ حسینی میں صبح کا منظر
ادھر سپیدہ سحری نمودار ہوئی اور ادھر لشکر نور میں خورشید عاشورا امام حسین علیہ السلام نے آسمان کی طرف اپنے ہاتھ بلند کرکے دعا کی :'' اللّٰهم أنت ثقت فی کل کرب و رجائ ف کل شدة و أنت ل فی کل أمر نزل ب ثقة و عدّة ، کم من هم یضعّف فیه الفؤاد ، و تقلّ فیه الحیلة ، و یخذل فیه الصدیق ویشمت فیه العدوّ، أنزلته بک و شکوته الیک ، رغبة من عمن سواک ، ففرّجته ، و کشفته ، فأنت ولّ کل نعمة، صاحب کل حسنة ومنتهی کل رغبة'' (٢)
خدا یا! توہی کرب و تکلیف میں میری تکیہ گاہ اور ہر سختی میں میری امید ہے۔ ہر وہ مصیبت جو مجھ پر نازل ہوئی اس میں تو ہی میری تکیہ گاہ اور پناہ گاہ ہے ؛ کتنی ایسی مصیبتیں اورکتنے ایسے غم و اندوہ ہیں جس میں دل کمزور اور راہ چارہ و تدبیر مسدود ہوجاتی ہے، دوست وآشنا تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور دشمن برا بھلا کہتے ہیں لیکن میں ان تمام مصیبتوں میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اور تجھ ہی سے اس(امت) کا گلہ ہے اور
____________________
١۔ابو مخنف نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے فضیل بن خدیج کندی نے، اس سے محمدبن بشر نے اور اس سے عمر وبن حضرمی نے یہ روایت کی ہے۔(طبری ، ج٥ ، ص ٤٢٢)
٢۔ اس روایت کو ابو مخنف نے اپنے بعض ساتھیو ں سے اور ان لوگو ں نے ابو خالد کاہلی سے بیان کیا ہے (طبری ،ج٥،ص ٤٢٣) شیخ مفید نے ارشاد کے ص ٢٣٣ پر فرمایا ہے : ابو مخنف ، علی بن الحسین علیہ السلام سے اورابو خالد سے روایت کرتے ہیں جو ان کے ساتھیو ں میں تھا اور ابو خالد نے اس خبر کو امام علی بن الحسین علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔ اگر چہ طبری نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے ۔
تیرے علاوہ سب سے امیدیں توڑ لی ہیں ؛ تو نے گشائش پیدا کی ہے اور مصیبتوں کے سیاہ بادل کو چھانٹ دیا ہے پس تو ہی ہر نعمت کا ولی ، ہرنیکی کا مالک اورتمام امیدوں اور رغبتوں کی انتہا ہے ۔
ضحاک بن عبداللہ مشرقی ہمدانی کا بیان ہے:(یہ اصحاب حسین میں سے وہیں جو زخمی ہونے کے بعد دشمنوں کے ہاتھوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے) جب اموی فوج ہماری طرف بڑھی تو ان لوگوں نے دیکھا کہ بانس اور لکڑی سے آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں ۔یہ وہی آگ تھی جسے ہم لوگوں نے اپنے خیموں کے پیچھے جلایا تھا تاکہ پیچھے سے یہ لوگ ہم پرحملہ آور نہ ہوسکیں ۔اسی اثنا ء میں دشمن فوج کا ایک سپاہی اپنے گھوڑے کو سر پٹ دوڑاتا ہوا میری طرف آیا ،وہ اسلحہ سے پوری طرح لیث تھا ،وہ ہم لوگوں سے کچھ نہ بولا یہاں تک کہ ہمارے خیموں سے گزرنے لگا اور غور سے ہمارے خیموں کو دیکھنے لگا لیکن اسے پیچھے کچھ دیکھائی نہ پڑافقط بھڑ کتے ہوئے شعلے تھے جواسے دکھائی دے رہے تھے؛ وہ پلٹا اور چیخ کر بولا :'' یا حسین! استعجلت النار فی الدنیا قبل یوم القیامة. '' اے حسین! قیامت سے پہلے ہی دنیا میں آگ کے لئے جلدی کردی ؟
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :''من ھٰذا کأنہ شمر بن ذی الجوشن؟'' یہ کون ہے ؟ گویا یہ شمر بن ذی الجوشن ہے ؟ جواب ملا : خدا آپ کو سلامت رکھے !ہاں یہ وہی ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے یہ سن کر جواب دیا :''یا بن راعية المعزیٰ أنت أولی بها صلیا ! ''اے بیابان زادہ، بے ثقافت اوربد چلن! آگ میں جلنے کا حق دار تو ہے نہ کہ میں ۔
امام حسین علیہ السلام کے جواب کے بعد مسلم بن عوسجہ نے آپ سے عرض کیا :''یابن رسول اللّٰه جعلت فداک ألاأرمیه بسهم فانه قد أمکننی ولیس یسقط سهم منی فالفاسق من أعظم الجبارین'' میری جان آپ پر نثار ہو، کیا اجازت ہے کہ ایک تیر چلادوں ، اس وقت یہ بالکل میری زد پر آگیا ہے میراتیر خطا نہیں کرے گا اوریہ آدمی بہت فاسق و فاجر ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے مسلم بن عوسجہ کو جواب دیا :'' لا ترمه ، فانی أکره أن أبد أهم'' (١) نہیں ایسا نہیں کر نا؛ میں جنگ میں ابتدا ء کر نا نہیں چاہتا ۔
روز عاشورا امام حسین علیہ السلام کا پہلا خطبہ
جب فوج آپ سے نزدیک ہونے لگی تو آپ نے اپنا ناقہ منگوا یا اور اس پر سوار ہو کرلشکر میں آئے اور با آواز بلند اس طرح تقریر شروع کی جسے اکثر وبیشتر لوگ سن رہے تھے :
''أیها الناس ! اسمعو ا قول ولاتعجلو ن حتی أعظکم بما یحق لکم علّ وحتی أعتذر لکم من مقدم الیکم ، فان قبلتم عذر وصدقتم قول وأعطتیتمو ن النصف ، کنتم بذالک أسعد ولم یکن لکم علّ سبیل ، وان لم تقبلوا منّ العذرولم تعطوا النصف من أنفسکم ( فَاَجْمَعْوْا أمْرَ کْمْ وَشْرَکَا ئَ کْمْ ثْمَّ لَا يْکْنْ اَمْرَکْمْ عَلَيْکْمْ غْمَّة ثْمَّ اقْضْوْا اِلََّ وَلَا تُنْظِرُوْنَ ) (٢) ( اِنَّ وَلَِّ اللّهُ الَّذِیْ نَزّلَ الْکِتَابَ وَهْوْ يَتَوَلََّی الصَّا لِحِيْنَ'' ) (٣)
ایھا الناس ! میری بات، سنو جلدی نہ کرو !یہاں تک کہ میں تم کو اس حد تک نصیحت کردوں جو مجھ پر تمہارا حق ہے، یعنی تمہیں بے خبر نہ رہنے دوں اور حقیقت حال سے مطلع کر دوں تاکہ حجت تمام ہوجائے۔میں چاہتا ہوں کہ تمارے سامنے اپنا عذر پیش کردوں کہ میں کیوں آیا ہوں اور تمہارے شہر کا رخ کیوں کیا ۔ اگر تم نے میرے عذر کو قبول کرلیا اور میرے کہے کی تصدیق کر کے میری بات مان لی اور میرے ساتھ انصاف کیاتو یہ تمہارے لئے خوش قسمتی ہوگی اور اگر تم نے میرے عذرکو نہ مانااور انصاف کرنانہ چاہا تو مجھ کو کوئی پروا نہیں ہے۔تم اور جس جس کو چاہو تمام جماعت کو اپنے ساتھ متفق کرلو اور میری مخالفت پر ہم آہنگ ہوجاؤ پھر دیکھو کوئی حسرت تمہارے دل میں نہ رہ جائے اور پوری طاقت سے میرا خاتمہ کردو، مجھے ایک لحظہ کے لئے بھی مہلت نہ دو۔میرا بھروسہ تو بس خدا پر ہے جس نے کتاب نازل فرمائی ہے اور وہی صالحین کا مددگار ہے ۔
____________________
١۔ابو مخنف کا کہنا ہے کہ مجھ سے عبد اللہ بن عاصم نے بیان کیا ہے کہ وہ کہتا ہے : مجھ سے ضحاک مشرقی نے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری، ج٥، ص ٤٢٣وارشاد ، ص٢٣٤)
٢۔ سورہ یونس ،آیت ٧١
٣۔ سورہ اعراف، آیت ١٩٦
یہ وہ دلسوز تقریر تھی جسے سن کر مخدرات کا دامن صبر لبریز ہوگیا اور آپ کی بہنیں نالہ و شیون کرنے لگیں ؛اسی طرح آپ کی صاحبزادیاں بھی آنسوبہانے لگیں ۔جب رونے کی آواز آئی تو آپ نے اپنے بھائی عباس بن علی علیھما السلام اور اپنے فرزند جناب علی اکبر کو ان لوگوں کے پاس روانہ کیا اور ان دونوں سے فرمایا : جاؤ ان لوگوں کو چپ کراؤ!قسم ہے میری جان کی انھیں ابھی بہت زیادہ آنسوبہاناہے ۔
جب وہ مخدرات خاموش ہوگئیں تو آپ نے حمد و ثنائے الہٰی اور خدا کا تذکرہ اسطرح کیا جس کا وہ اہل تھا پھر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام بھیجا ، خدا کے ملائکہ اور اس کے پیغمبر وں پر بھی درود و سلام بھیجا۔ (اس کے بعد بحر ذخار فصاحت و بلاغت میں ایسا تموج آیا کہ راوی کہتا ہے) خدا کی قسم !اس دن سے پہلے اور اس دن کے بعد میں نے حضرت کے مانند فصیح البیان مقرر نہیں دیکھا ۔
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :
'' اما بعد : فانسبونی فا نظر وا من أنا ؟ ثم ارجعو ا الی أنفسکم وعا تبوها فأ نظروا هل یحل لکم قتل وانتهاک حرمت؟ ألست ابن بنت نبیکم صلی اللّه علیه (و آله) وسلّم وابن وصيّه وابن عمّه وأوّل المؤمنین باللّه والمصدّق لرسوله بما جاء به من عند ربه ، أو لیس حمزة سید الشهداء عم اب ؟ أو لیس جعفر الشهید الطیار ذوالجناحین عم ؟! أولم یبلغکم قول مستفیض فیکم : أن رسول اللّه صلّی اللّٰه علیه وآله وسلّم قال لی و أخی : '' هذان سيّدا شباب أهل الجنّة '' ؟
فان صدّقتمونی بماأقول ، فهو الحق فو اللّٰه ما تعمّدت کذباً مذعلمت أن اللّٰه یمقت علیه أهله و یضر به من ا ختلقه...
وان کذبتمونی فانّ فیکم من ان سالتموه عن ذالک أخبرکم سلوا جابر بن عبداللّه الانصاری(١) أو ابا سعید الخدری(٢) أو سهل بن سعد الساعدی(٣)
____________________
١۔ امیرا لمومنین علیہ السلام کی شہادت سے پہلے ٤٠ ھ میں بسر بن ارطاة کے ہاتھو ں پر معاویہ کی بیعت کرنے سے آپ نے انکار کردیا تھا اور کہا تھاکہ یہ گمراہی کی بیعت ہے۔ یہا ں تک کہ بسر بن ارطاہ نے آپ کو بیعت کرنے پر مجبورکیا تو جان کے خوف سے آپ نے بیعت کر لی۔ (طبری ، ج٥، ص ١٣٩) ٥٠ھ میں جب معاویہ نے حج کی انجام دہی کے بعدرسول کا منبر اور عصا
مدینہ سے شام منتقل کرنا چاہا تو آپ نے اسے اس فعل سے روکا اور وہ رک گیا۔ (طبری، ج٥،ص ٢٣٩) ٧٤ھ میں جب عبدا لملک کی جانب سے ''حجاج'' مدینہ آیا تواس نے اصحاب رسول کی توہین اور سر کوبی کرناشروع کردی اور انھی ں زنجیرو ں میں جکڑ دیا۔ انہیں میں سے ایک جابر بھی تھے ۔
٢۔ رسوالخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ احد میں اپنے اصحاب کو میدان جنگ کی طرف لے جاتے وقت آپ کو بچپنے کی وجہ سے لوٹادیا تھا۔ (طبری، ج٢، ص ٥٠٥) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں حدیثی ں نقل کیا کرتے تھے (طبری،ج٣ ،ص ١٤٩)لیکن عثمان کے قتل کے بعد ان کا شمار ان لوگو ں میں ہوتا ہے جنہو ں نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت سے انکار کیا تھا۔ یہ عثمانی مذہب تھے۔ (طبری ، ج٤،ص ٤٣٠)
٣۔ یہ بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں حدیثی ں نقل کیا کرتے تھے۔ (طبری ج ،٣،ص ٤١٩) انھو ں نے ہی روایت کی ہے کہ بصرہ کے فتنہ میں عایشہ نے پہلے عثمان بن حنیف کے قتل کا حکم دیا پھر قید کرنے کا حکم دیا ۔(طبری، ج ٤،ص ٤٦٨) یہ علی علیہ السلام کی ر وایتو ں کو بیان کر تے ہیں ۔ (طبری ،ج٤ ،ص ٥٤٧) ٧٤ھ میں عبدالملک کی جانب سے ''حجاج'' جب مدینہ میں وارد ہوا تو اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین اور سر کوبی کی اور انہیں زنجیرو ں میں جکڑ دیا ۔ ان بلا و ں اور مصیبتو ں میں گرفتار ہونے والو ں میں ایک سھل بن سعد بھی تھے۔ ان لوگو ں پر حجاج نے عثمان کا ساتھ نہ دینے کی تہمت لگائی تھی ۔(طبری ،ج ٦،ص ١٩٥)
أو زید بن ارقم (١) أوانس بن مالک (٢)
یخبروکم : انهم سمعوا هٰذه المقالة من رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم ل ولا خ ، أفما فی هٰذا حاجز لکم عن سفک دم ؟''
____________________
١۔ یہ بھی علی علیہ السلام کے فضائل میں روایتی ں نقل کیا کرتے تھے۔ (طبری، ج٢،ص٣١) آپ ہی وہ ہیں جنہو ں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کی باتو ں کی خبر دی تھی ۔(طبری ،ج٢،ص٦٠٥) زید بن ارقم ہی نے ابن زیاد پر اعتراض کیا تھا اور ابو عبداللہ علیہ السلام کے دو لبو ں پر چھڑی مارنے سے منع کیا تھا۔ (طبری ،ج ٥ ،ص ٤٥٦) الاعلام ،ج ٤، ص ١٨٨ کے بیان کے مطابق ٦٨ھ میں وفات پائی ۔
٢۔ جب ١٧ھمیں عمر نے ابو موسی اشعری کو بصرہ کا گورنر بنایا تو انس بن مالک سے مدد طلب کی (طبری ج٤ ص ٧١) اور شوستر کی فتح میں اس کو شریک کیا ۔(طبری ،ج٤، ص ٨٦) ٣٥ھ میں یہ بصرہ میں لوگو ں کو عثمان کی مدد کے لئے بر انگیختہ کررہے تھے۔(طبری، ج٤ ،ص ٣٥٢) ان کا شمار انہی لوگو ں میں ہوتاہے جن سے ٤٥ھ میں زیاد بن ابیہ نے بصرہ میں مدد طلب کی تھی۔ (طبری ،ج ٥، ص ٢٢٤) عاشورا کے دن یہ بصرہ میں تھے۔ ٦٤ھ میں ابن زیاد کی ہلاکت کے بعد ابن زبیر نے ان کو بصرہ کاامیر بنادیا تو انہو ں نے ٤٠ دنو ں تک نماز پڑھائی (طبری ،ج٥،ص ٥٢٨) اور ٦٤ ھمیں جب عبد الملک کی جانب سے ''حجاج ''مدینہ آیا اور اصحاب رسول خدا کی سر کوبی اور توہین کرنے لگا اور انہیں زنجیرو ں میں جکڑنے لگا تو انس کی گردن میں زنجیر ڈالی، اس طرح وہ چاہتا تھا کہ ان کو ذلیل کرے اور اس کا انتقام لے کہ اس نے ابن زبیر کی ولایت کیو ں قبول کی تھی۔ (طبری ،ج ٦، ص ١٩٥)
تم ذرا میرا نسب بیان کرو اوریکھو کہ میں کون ہوں ؟ پھر خود اپنے نفسوں کی طرف رجوع کرو، اپنے گریبان میں منہ ڈالوا ور خود اپنے آپ سے جواب طلب کرو اور غور کرو کہ تمہارے لئے میرا خون بہانا اور میری ہتک حرمت کرناکہاں تک جائز ہے ؟ کیا میں تمہارے نبی کا نواسہ نہیں ہوں ؟ اور آپ کے وصی ، آپ کے چچا زاد بھائی ، ان پر سب سے پہلے ایمان لانے والے اور ہر اس چیز کی تصدیق کرنے والے جو خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے کا فرزند نہیں ہوں ؟ کیا حمزہ سید الشہداء میرے باپ کے چچا نہیں ہیں ؟ کیا جعفر طیار جنہیں شہادت کے بعدخدا نے دو پر پرواز عطا کئے ،میرے چچا نہیں ہیں ؟ کیا یہ حدیث تمہارے گوش زد نہیں ہوئی جو زبان زد خلائق ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا : یہ دونوں جوانان جنت کے سردار ہیں ۔ اب اگر تم مجھے سچا سمجھتے ہو اور میری بات کو سچ جانتے ہو کہ حقیقتاًیہ بات سچی ہے کیونکہ خدا کی قسم جب سے مجھے معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنے پر اللہ عذاب نازل کرتاہے اور ساختہ اور پرداختہ باتیں کرنے والا ضرر و نقصان اٹھاتا ہے اسی وقت سے میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا؛اور اگر تم مجھے جھٹلاتے ہو تو اسلامی دنیا میں ابھی ایسے افراد موجود ہیں کہ اگر تم ان سے دریافت کرو تو وہ تم کو بتلائیں گے؛تم جابر بن عبداللہ انصاری ، ابو سعید خدری، سہل بن سعد ساعدی، زید بن ارقم ، یا انس بن مالک سے پوچھ لو، وہ تمہیں بتائیں گے کہ انھوں نے اس حدیث کو رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم سے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں سنا ہے۔کیا رسالتمآبصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ حدیث تم کو میری خونریزی سے روکنے کے لئے کافی نہیں ہے؟
جب تقریر یہاں تک پہنچی تو شمر بن ذی الجوشن بیچ میں بول پڑا :
''هو یعبد اللّٰه علی حرف ان کان یدر ما تقول !''(١) اگر کوئی یہ درک کرلے کہ تم کیا کہہ ر ہے تو اس نے خدا کی ایک پہلو میں عبادت کی ہے ۔
شمر کے یہ جسارت آمیز کلمات سن کر حبیب بن مظاہر رطب اللسان ہوئے :''واللّٰه ان لاراک تعبد الله علی سبعین حرفا و أنا أشهد أنک صادق ما تدر ما یقول قد طبع اللّٰه علی قلبک''
____________________
١۔ سبط بن جوزی نے ص ٢٥٢ ،طبع نجف میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔
خدا کی قسم میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تو خدا کی ستر(٧٠) حرفوں اور تمام جوانب میں عبادت کرتا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تو سچ کہہ رہاہے کہ تو نہیں سمجھ پارہاہے وہ کیا کہہ رہے ہیں ، حقیقت تو یہ ہے کہ خدانے تیرے قلب پر مہر لگادی ہے ۔
اس کي بعد امام حسین علیه السلام ني اپنی تقریر پهر شروع کی :'' فان کنتم ف شک من هٰذا القول أفتشکون أثراً بعد؟ أما ان ابن بنت نبیکم فواللّٰه مابین المشرق والمغرب ابن بنت نبّ غیر منکم ولا من غیرکم ، انا ابن بنت نبیکم خا صة''
''ٔاخبرون أتطلبون بقتیل منکم قتلته ؟ أو مال استهلکته أو بقصاص من جراحة ؟ فأ خذوا لا یکلّمونه ''
فنادی : یا شبث بن رِبعی ویا حجّار بن ابجَر و یا قیس بن الاشعث ویا یزید بن الحارث(١) ألم تکتبوا اِلَّ : أن قد أینعت الثمار و اخضرّ الجناب و طمّت الجمام وانما تقدم علی جند لک مجند فا قبل ؟!
قالوا له : لم نفعل !(٢) فقال : سبحان اللّٰه !بلیٰ واللّه لقد فعلتم،ثم قال : ایهاالناس ! اذاکرهتمون فد عونأنصرف عنکم الیٰ مامنمن الارض
فقال له قیس بن اشعث : أولا تنزل علی حکم بن عمّک ! فانهم لن یروک الاما تحب ولن یصل الیک منهم مکروه!
فقال الحسین علیه السلام :أنت اخوأخیک(محمد بن اشعث ) أتریدأن یطلبک بنو هاشم بأکثر من دم مسلم بن عقیل ؟ لا واللّٰه لا أعطیهم بیداعطائ
____________________
١۔ ان لوگو ں کے حالات وہا ں گزر چکے ہیں جہا ں یہ بیان کیا گیا کہ اہل کوفہ نے امام کو خط لکھا اور یہ اس گروہ کے منافقین میں سے تھے ۔
٢۔ سبط بن جوزی کا بیان ہے : ان لوگو ں نے کہا ہمیں نہیں معلوم کہ تم کیا کہہ رہے ہو تو حر بن یزید یربوعی جوان کے لشکر کا سپہ سالار تھا اس نے کہا : کیو ں نہیں خدا کی قسم ہم لوگو ں نے آپ کو خط لکھا تھا اور ہم ہی آپ کو یہا ں لائے ہیں ۔ خدا باطل اور اہل باطل کا برا کرے میں دنیا کو آخرت پر اختیار نہیں کر سکتا۔(ص ٢٥١)
الذلیل ولا أقرّ ا قرار العبید!(١)
عباداللّه ''وَاِنِّْ عْذْتْ بِرَبِّیْ وَ رَبِّکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنَ(٢) أعُوذُبِرَبِّی وَرَبِّکُمْ مِنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لا يُوْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَاب''(٣)
اور اگر تمہیں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حدیث میں شک ہے تو کیا اس میں بھی شک ہے کہ میں تمہارے نبی کا نوسہ ہوں ؟ خدا کی قسم مشرق و مغرب میں میرے سوا کوئی نبی کا نواسہ نہیں ہے،فقط میں ہی ہوں جو تمہارے نبی کا نواسہ ہوں ۔ذرا بتاؤ تو سہی میرے قتل پر کیوں آمادہ ہو ؟ کیا اپنے کسی مقتول کا بدلہ لے رہے ہو جو میرے ہاتھوں قتل ہوا ہے یا اپنے کسی مال کا مطالبہ رکھتے ہو جسے میں نے تلف کردیا ہے ؟ یا کسی زخم کا قصاص چاہتے ہو ؟
لشکر پر خا موشی چھائی تھی، کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر حضرت نے خاص طور پر لوگوں کو آواز دی : اے شبث بن ربعی ، اے حجار بن ابجر ، اے قیس بن اشعث اور اے یزید بن حارث کیا تم لوگوں نے مجھے یہ نہیں لکھا تھا کہ میوے پختہ اور رسیدہ ہیں ، کھیتیاں لہلہارہی ہیں ، چشمے پُر آب اور لشکر آپ کی مدد کے لئے تیار ہیں ، آپ چلے آئیے ؟ ان سب نے امام علیہ السلام کو جواب دیا : ہم نے تو ایسا کچھ بھی نہیں لکھا تھا ، توامام علیہ السلام نے فرمایا : سبحان اللہ ! کیوں نہیں خدا کی قسم تم لوگوں نے لکھا تھا اور ضرور لکھا تھا؛پھر عام لشکر کی طرف مخاطب ہوکر گویا ہوئے : جب تمہیں میرا آنا ناگوار ہے تو مجھے واپس ایسی جگہ چلے جانے دو جہاں امن وامان کے ساتھ زندگی گذار سکوں ۔
یہ سن کر قیس بن اشعث بولا : آپ اپنے چچا زادبھائیوں کے حکم کے آ گے سر تسلیم کیوں خم نہیں کردیتے ۔وہ لوگ ہرگز آپ کے ساتھ کچھ بھی نہیں کریں گے مگر یہ کہ وہی جو آپ کوپسند ہوگا اور ان کی جانب سے آپ کو کوئی ناپسندامر نہیں دکھائی دے گا ۔
____________________
١۔ شیخ مفید نے ارشاد کے ص ٢٣٥ پرا ور ابن نما نے مثیرالاحزا ن کے ص ٢٦ پر'' ولا افرفرار العبید'' لکھا ہے ۔مقرم نے اپنے مقتل ص ٢٨٠ پر اسی کو ترجیح دی ہے لیکن ابن اشعث کے جواب میں اقرار زیادہ مناسب ہے، نہ کہ فرار کیونکہ ابن اشعث نے آپ کے سامنے فرار کی پیشکش نہیں کی تھی بلکہ اقرار کی گزارش کررہا تھا۔مقرم نے اپنے قول کی دلیل کے لئے'' مصقلہ بن ہبیرہ'' کے سلسلے میں امیرالمومنین کا جملہ : وفر ّ فرار العبد (وہ غلام کی طرح بھاگ گیا) پیش کیا ہے لیکن مصقلہ کا فعل امام حسین علیہ السلام کے احوال سے متناسب نہیں ہے جیسا کہ یہ واضح ہے۔ ٢۔ دخان آیت ٢٠ ٣۔ سورۂ مومن آیت٢٧
امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا : تو اپنے بھائی (محمد بن اشعث) کا بھائی ہے ؛کیا توچاہتا ہے کہ بنی ہاشم ،مسلم بن عقیل کے علاوہ مزید خون کے تجھ سے طلبگار ہوں ؟ خدا کی قسم ایسا تو نہ ہوگا کہ میں ذلت کے ساتھ خود کو اس کے سپرد کردوں اور غلامانہ زندگی کااپنے لئے اقرار کرلوں ۔ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میرے دامن پر کوئی دھبہ رہے۔ میں پناہ مانگتا ہوں اس جابر و سرکش سے جو روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ۔ اس کے بعد آپ پلٹ آئے اور اپنے ناقہ کو بٹھادیا اور عقبہ بن سمعان کو حکم دیا کہ اسے زانو بند لگادے۔(١)
____________________
١۔طبری ،ج٥ ،ص ٤٢٣، ٤٢٦،ابومخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن عاصم نے یہ روایت نقل کی ہے اور ابن عا صم کا بیان ہے کہ مجھ سے ضحاک مشرقی نے یہ روایت بیان کی ہے ۔
زہیر بن قین کا خطبہ
اس کے بعد زہیر بن قین اپنے گھوڑے پر جس کی دم پر بہت سارے بال تھے اسلحوں سے لیس سوار ہوکر نکلے اور فرمایا :
'' یا أهل الکوفة! نذارلکم من عذا ب اللّه نذار ! انّ حقاً علی المسلم نصیحة أخیه المسلم ،و نحن حتی الآن أخوة وعلی دین واحد و ملة واحد ة مالم یقع بیننا وبیکم السیف ، وأنتم للنصحية مناّ أهل ، فاذا وقع السیف انقطعت العصمة وکُنّا أمة وانتم اُمّة
ان اللّٰه قد ابتلانا وایاکم بذرّية نبیه محمد صلی اللّٰه علیه]( وآله ) و سلم لینظر مانحن وأنتم عاملون ، أنا ندعوکم الی نصرهم و خذلان الطاغية عبیداللّه بن زیاد ، فانکم لاتدرکون منهما الا بسوء عمر سلطانهما کلّه ، لیسملان أعینکم، و یقطعان أیدیکم وأرجلکم ، ویمثّلان بکم ، ویرفعانکم علی جذوع النخل ، ویقتلان أما ثلکم وقرّاء کم : أمثال حجر بن عد وأصحابه ،وهان بن عروه وأشباهه.
فسبّوه واثنوا علی عبیدالله بن زیاد ودعوا له وقالوا : واللّٰه لا نبرح حتی نقتل صاحبک ومن معه ، أو نبعث به وبأصحابه الی الامیر عبیداللّٰه سلماً !فقال لهم :
عباداللّٰه،انّ ولد فاطمة رضوان اللّٰه علیها أحق بالود ّ والنصر من ابن سميّة فان لم تنصروهم فاعیذکم باللّٰه أن تقتلوهم ،فخلوا بین الرجل و بین ابن عمّه یزید بن معاوية ، فلعمری أن یزید لیرض من طاعتکم بدون قتل الحسین (علیه السلام )
فرماه شمر بن ذ الجوشن بسهم وقال : اسکت ، اسکت الله نامتک ابرمتنابکثرة کلامک !
فقال له زهیر : یا بن البوّال علی عقبیه ماایاک أخاطب ، انما أنت بهیمة! واللّٰه ماأظنّک تحکم من کتاب اللّٰه آیتین ! فابشر با لخز یوم القیامة والعذاب الالیم !
فقال له شمر: ان اللّه قاتلک و صاحبک عن ساعة!
قال : أفبا لموت تخوّفن ! فواللّٰه للموت معه أحب الی من الخلد معکم ! ثم أقبل علی الناس رافعاً صوته فقال :
عباد اللّه ! لا یغرنکم من دینکم هٰذا الجلف الجافی و أشباهه، فواللّٰه لا تنال شفاعة ْ محمد صلی اللّٰه علیه (وآله) وسلم قوماً هراقوا دماء ذرّیته وأهل بیته ، وقتلوا من نصرهم وذبّ عن حریمهم !
فناداه رجل فقال له : انّ أبا عبداللّٰه یقول لک : أقبل ، فلعمر لئن کان مومن آل فرعون نصح لقومه وأبلغ فی الدعا ء ، لقد نصحت لهٰؤلاء وأبلغت ، لو نفع النصح والا بلاغ
''اے اہل کوفہ ! میں تم کو خدا کے عذاب سے ہوشیار کررہاہوں ! کیونکہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلما ن بھائی کو نصیحت کرناایک اسلامی حق ہے اور جب تک ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار نہیں چلی ہے ہم لوگ ایک دوسرے کے بھائی اور ایک دین و ملت کے پیرو ہیں ، لہذاہماری جانب سے تم لوگ نصیحت کے اہل اور حقدار ہو ؛ہاں جب تلوار اٹھ جائے گی تو پھر یہ حق و حرمت خود بخود منقطع ہوجائے گا اور ہم ایک امت ہوں گے اور تم دوسری امت و گروہ ہوجاؤگے ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ خدا نے ہمیں اور تم لوگوں کو اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذریت کے سلسلے میں مورد آزمائش قرار دیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ ہم اور تم ان کے سلسلے میں کیا کرتے ہیں ، لہذا ہم تم کو ان کی مدد و نصرت اور سرکش عبیداللہ بن زیاد کو چھوڑدینے کی دعوت دیتے ہیں ؛ کیونکہ تم لوگ ان دونوں باپ بیٹوں سے ان کے دوران حکومت میں برائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں پاؤ گے۔ یہ دونوں تمہاری آنکھیں پھوڑتے رہیں گے ، تمہارے ہاتھوں اور پیروں کو کاٹتے رہیں گے اور تم کو مثلہ کرکے کھجور کے درخت پر لٹکاتے رہیں گے اور تمہارے بزرگوں اور قاریان قرآن کو اسی طرح قتل کرتے رہیں گے جس طرح حجر بن عدی ،(١) ان کے اصحاب ، ہانی بن عروہ(٢) اور ان جیسے دوسرے افرادکو قتل کیا۔
اس پر ان لوگوں نے زہیر بن قین کو گالیاں دیں اور عبیداللہ بن زیاد کی تعریف و تمجید کرتے رہے؛ اس کے لئے دعائیں کیں اور بولے : خدا کی قسم ہم اس وقت تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک تمہارے سالار اور جو لوگ ان کے ہمراہ ہیں ان کو قتل نہ کرلیں یا امیر عبیداللہ بن زیاد کی خدمت میں
____________________
١۔ آپ یمن کے رہنے والے تھے۔ ١٦ھ میں جنگ قادسیہ میں مدد گار کے عنوان سے شریک تھے۔ (طبری ،ج ٤ ،ص٢٧٠) کوفہ سے بصرہ کی جنگ میں حضرت علی علیہ السلام کی نصرت کے لئے سب سے پہلے آپ نے مثبت جواب دیا تھا۔ (طبری، ج٤،ص ٤٨٥) اس سے پہلے یہ عثمان کے خلاف لوگو ں کو بر انگیختہ کر نے والو ں میں شمار ہوتے تھے۔ (طبری، ج٤ ،ص ٤٨٨)آپ کوفہ میں قبیلہ مذحج اور اہل یمن کے اشعری قبیلہ والو ں کے سربراہ تھے۔ (طبری، ج٤، ص ٥٠٠) جنگ صفین میں آپ حضرت علی علیہ السلام کے ہمراہ جنگ کے لئے نکلتے تھے۔ (طبری ،ج٤،ص ٥٧٤) آپ کا شمار ان لوگو ں میں ہوتا ہے جنہو ں نے صفین میں تحکیم حکمین کے صحیفہ کے خلاف گواہی دی تھی ۔(طبری، ج٥ ،ص ٥٤)خوارج سے جنگ کے موقع پر نہروان میں آپ میمنہ کے سربراہ تھے۔ (طبری، ج٥،ص٨٥) ٣٩ھ میں علی علیہ السلام نے آپ کو چار ہزار لشکر کے ہمراہ کوفہ سے ضحاک بن قیس کے ٣ ہزار کے لشکر سے مقابلہ کے لئے روانہ کیا تھا تو حدود شام میں مقام '' تدمر'' میں آپ اس سے ملحق ہوگئے اور آپ نے اس کے ٢٠ آدمیو ں کو قتل کردیا یہا ں تک رات ہوگئی تو ضحاک بھاگ کھڑا ہوا اور حجر لوٹ آئے۔ (طبری، ج٥، ص ١٣٥) جب عام الجماعة میں معاویہ کوفہ آیا تو اس نے مغیرہ بن شعبہ کو وہا ں کا والی بنادیا اور مغیرہ نے حضرت علی علیہ السلام کو گا لیا ں دینے کابد ترین عمل شروع کر دیا؛ اس پر حجر نے مغیرہ کا زبردست مقابلہ کیا یہا ں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ معاویہ نے زیاد بن ابیہ کو وہا ں کا گورنر بنادیا تو اس نے بھی وہی رویہّ اپنا یا اور حجر نے بھی اپنی رفتار کو برقرار رکھا تو زیاد بن ابیہ نے انہیں گرفتار کرکے معاویہ کے پاس بھیج دیا اور معاویہ نے آپ کو قتل کردیا۔ (طبری ،ج٥،ص٢٧٠)
٢۔مسلم بن عقیل علیہ السلام کے بارے میں گفتگوکے دوران آپ کے شرح احوال گذر چکی ہے ۔
تسلیم محض کر کے نہ بھیج دیں ۔اس پر زہیر بن قین نے ان لوگوں سے کہا : بندگان خدا ! فرزند فاطمہ رضوان اللہ علیھا ، ابن سمیہ(١) سے زیادہ مدد و نصرت کے سزاوار ہیں ۔اگر تم ان کی مدد کرنا نہیں چاہتے ہو تو میں تم کو خدا کاواسطہ دیتا ہوں اور اس کی پناہ میں دیتا ہوں کہ تم انھیں قتل نہ کرو ، تم لوگ اس مرد بزرگوار اوران کے ابن عم یزید بن معاویہ کے درمیان سے ہٹ جاؤ؛ قسم ہے میری جان کی کہ یزید قتل حسین (علیہ السلام) کے بغیر بھی تمہاری اطاعت سے راضی رہے گا ۔
جب زہیر بن قین کی تقریر یہاں تک پہنچی تو شمر بن ذی الجوشن نے آپ کی طرف ایک تیر پھینکااور بولا خاموش ہوجا ! خدا تیری آواز کو خاموش کردے، اپنی زیادہ گوئی سے تو نے ہمارے دل کو برمادیا ہے۔اس جسارت پر زہیر بن قین نے شمر سے کہا : اے بے حیااور بد چلن ماں کے بیٹے جو اپنے پیروں کے پیچھے پیشاب کرتی رہتی تھی!میں تجھ سے مخا طب نہیں ہوں ، تو توجانور ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ تو کتاب خدا کی دو آیتوں سے بھی واقف ہوگا ؛ قیامت کے دن ذلت و خواری اور درد ناک عذاب کی تجھے بشارت ہو۔یہ سن کر شمر نے کہا : خدا تجھے اور تیرے سالار کو ابھی موت دیدے !
____________________
١۔ سمیہ ایک زنا کار کنیزتھی۔ زمان جاہلیت میں اس کا شمار برے کام کی پرچمدار عورتو ں میں ہوتا تھا ۔اس سے قریش کے چھ مردو ں نے زنا کیاجس کے نتیجہ میں زیاد دنیا میں آیا۔اس کے بعد ان چھ لوگو ں میں تنازعہ اور جھگڑا شروع ہو گیا کہ یہ کس کا بچہ ہے؟ جب اس کے اصلی باپ کاپتہ نہ چل سکا تواسے زیاد ابن ابیہ یعنی زیاد اپنے باپ کا بیٹا یا زیاد بن عبید یا زیاد بن سمیہ کہا جانے لگا یہا ں تک کہ معاویہ نے اسے اپنے باپ سے ملحق کرلیاتو اسے بعض لوگ زیاد بن ابی سفیان کہنے لگے ۔
جب معاویہ نے اسے کوفہ کا والی بنایا اور اس نے حجر بن عدی کو گرفتار کیااوران کے خلاف گواہوں کو جمع کرناشروع کیا تو اس فہرست میں شداد بن بزیعہ کے نام پر اس کی نگاہ گئی تو وہ بولا : اس کاکوئی باپ نہیں ہے جس کی طرف نسبت دی جائے ! اسے گواہوں کی فہرست سے نکالو، اس پر کسی نے کہا : یہ حصین کا بھائی ہے جو منذر کالڑکا ہے،تو زیاد بولا: پھر اسے اسی کے باپ کی طرف منسوب کرو ، اس سفارش کے بعد اس کا نام گواہوں کی فہرست میں لکھا گیااور اسے منذر کی طرف منسوب کیا گیا۔جب شداد تک یہ خبر پہنچی تو وہ بولا : وائے ہو اس پسر زنا کارپر ! کیا اس کی ماں اس کے باپ سے زیادہ معروف نہیں ہے؟ خدا کی قسم اسے فقط اسکی ماں سمیہ سے منسوب کیاجاتا ہے۔ (طبری ،ج٥،ص ٢٧٠)یزید بن مفرغ حمیری سجستان کی جنگ میں عبیداللہ کے بھائی عباد بن زیاد کے ہمراہ تھا وہاں ان لوگوں پر جب سختی کی زندگی گزرنے لگی تو ابن مفرغ نے عباد کی ہجو میں اشعار کہے
اذا أودی معاویه بن حرب
فبشرشِعب قعبک بانصداع
فاشهد ان امک لم تباشر
أبا سفیان و اضعة القناع
ولکن کان أمرا ً فیه لبس
علی وجل شدید وا ر تیاع
جب معاویہ بن حرب مرجائے گاتو تجھے بشارت ہو کہ تیرا پیالہ ٹوٹ جائے گا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ پردہ ہٹا کر تیری ماں نے ابو سفیان سے مباشرت نہیں کی تھی ۔لیکن یہ امر ایسا تھا کہ جس میں زیادہ خوف اوردہشت سے بات مشتبہ ہوگئی ۔
اس نے پھر کہا
أ لا أ بلغ معا و ية بن حرب
مغلغلة من ا لر جل ا لیما نی
أتغضب أن یقال:أبو ک عف
وترضٰی أن یقال: أبوک زان
فا شهد أن رحمک من زیاد
کر حم ا لفیل من و لد ا لا تا ن
(طبری، ج٥،ص ٣١٧) کیا میں معاویہ بن حرب تک یمانی مرد کا قصیدہ مغلغلہ نہ پہنچا ؤں کیا تو اس سے غضبناک ہوتا ہے کہ کہا جائے : تیرا باپ پاک دامن تھا ؟ اور اس سے راضی ہوتا ہے کہ کہا جائے : تیرا باپ زنا کار تھا ؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو زیاد کا بچہ اسی طرح ہے جس طرح گدھی کا بچہ ہاتھی ہو ۔
خاندان زیادکی ایک فرد جسے صغدی بن سلم بن حرب کے نام سے یاد کیاجاتا تھا مھدی عباسی کے پاس حاضر ہوا جو اس وقت کے مظالم پر نگاہ رکھے ہوئے تھا ۔ اس شخص کو دیکھ کرمہدی عباسی نے پوچھا : تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں آپ کا چچا زاد رشتہ دار ہوں ! مھدی عباسی نے پوچھا : تم ہمارے کس چچا کے خاندان سے ہو ؟ تو اس نے خود کو زیاد سے نسبت دی ۔ یہ سن کر مہدی نے کہا : اے زناکا ر سمیہ کے بچہ ! تو کب سے ہمارا ابن عم ہوگیا ؟ اس کے بعد اسے باہر نکالنے کا حکم دیا گیا۔ اس کی گردن پکڑ کر اسے باہر نکال دیا گیا۔ اس کے بعدمہدی عباسی حاضرین کی طرف ملتفت ہوا اور کہا : خاندان زیاد کے بارے میں کسی کو کچھ علم ہے ؟ تو ان میں سے کسی کوکچھ معلوم نہ تھا ۔ اسی اثناء میں ایک مرد جسے عیسیٰ بن موسیٰ یا موسیٰ بن عیسیٰ کہتے ہیں ابو علی سلیمان سے ملا تو ابو علی سلیمان نے اس سے درخواست کی کہ زیاد اورآل زیاد کے بارے میں جوکچھ کہاجاتا ہے اسے مکتوب کردو تاکہ میں اسے مھدی عباسی تک لے جاؤں ۔ اس نے ساری روداد لکھ دی اور اس نے اس مکتوب کو وہاں بھیج دیا۔
ہارون الرشید اس زمانے میں مھدی کی جانب سے بصرہ کا والی تھا ، پس مھدی نے حکم دیا کہ ہارون کوایک خط لکھا جائے۔ اس خط میں مھدی نے حکم دیا کہ آل زیاد کا نام قریش و عرب کے دیوان سے نکال دیا جائے۔ مہدی کے خط کا متن یہ تھا : قبیلہ ثقیف کے خاندان عبد آل علاج کی ایک فرد عبید کے لڑکے زیاد کو خود سے ملحق کرنے کی معاویہ بن ابی سفیان کی رائے اور اس کا دعو یٰ ایسا تھا جس سے اس کے مرنے کے بعد تمام مسلمانوں نے اوراس کے زمانے میں بھی کافی لوگوں نے انکار کیاکیونکہ وہ لوگ اہل فضل
ورضا اور صاحبان علم وتقویٰ تھے اور انہیں زیاد ،زیاد کے باپ اور اس کی ماں کے بارے میں سب کچھ معلوم تھا ۔
معاویہ کے لئے اس کام کا باعث ورع و ہدایت یا ہدایت گر سنت کی اتباع نہیں تھی اور نہ ہی گزشتہ ائمہ حق کی پیروی نے اسے اس بات کی دعوت دی تھی؛ اسے توبس اپنے دین اور اپنی آخرت کو خراب کرنے کا شوق تھا اور وہ کتاب و سنت کی مخا لفت پر مصمم ارادہ کرچکا تھا۔ زیاد کے سلسلہ میں خوش بینی سے پھولانہیں سماتا تھا کہ زیاد اپنے کام میں جلد باز نہیں ہے، وہ نافذالقول ہے اور باطل پر معاویہ کی مدد اور پشت پناہی میں اس کی امیدوں پر کھرا اترتا ہے جب کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم نے فرمایاتھا : بچہ جس بستر پرپیدا ہو اسی کا ہے اور زناکارکا حق سنگ سار ہونا ہے اور آپ نے فرمایا: جو اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام سے پکارا جائے اور جو اپنے موالی کے علاوہ کسی دوسرے سے منسوب ہو تو اس پر خدا، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو؛ خدا وند عالم نہ تو اس کی توبہ قبول کرے گااورنہ ہی اس کا فدیہ قبول ہوگا۔قسم ہے میری جان کی کہ زیاد نہ تو ابوسفیان کی گود میں پیدا ہوا نہ ہی اس کے بستر پر ، نہ ہی عبید ابوسفیان کا غلام تھا ، نہ سمیہ اس کی کنیز تھی ، نہ ہی یہ دونوں اس کی ملک میں تھے اور نہ ہی یہ دونوں کسی اور سبب کی بنیاد پر اس کی طرف منتقل ہوئے تھے لہذا معاویہ نے زیاد کو اپنے سے ملحق کرنے کے سلسلہ میں جو کچھ بھی انجام دیا اور جو اقدامات کئے سب میں اس نے امر خدا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم کی مخالفت کی ہے اور اپنی ہواو ہوس کی پیروی، حق سے روگردانی اور جانب داری کا ثبوت دیا ہے۔ خدا وند متعال فرماتا ہے:'' ومن أضل ممن اتبع هواه بغیرهدی من اللّٰه ان اللّٰه لایهدی القوم الظالمین '' (قصص ٥٠)اور اس نے جناب داود علیہ السلام کو جب حکم، نبوت، مال اور خلافت عطا کیا تو فرمایا:'' یاداؤد اناجعلناک خلیفةً فی الارض فاحکم بین الناس بالحق''ْْ (ص ٢٦) اور جب معاویہ نے (جسے اہل حفظ احادیث بخوبی جانتے ہیں ) موالی بنی مغیرہ مخزومین سے مکالمہ کیا جب وہ لوگ نصر بن حجاج سلمی کو خو د سے ملحق کرنا چاہتے تھے اور اسے اپنے قبیلے والا کہنا چاہتے تھے تو معاویہ نے اپنے بستر کے نیچے پتھرآمادہ کرکے رکھا تھا جو ان کی طرف رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کے قول للعاھرالحجرکی بنیاد پر پھینکنے لگا۔ تو ان لوگوں نے کہا ہم نے توتجھے زیاد کے سلسلے میں جو تو نے کیا اس میں حق جو ازدید یا کیا تو ہمیں ہمارے فعل میں جو ہم اپنے ساتھی کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں حق جواز نہیں دے گا ؟ تو معاویہ نے کہا : رسول خدا صلی اللہ علیہ(وآلہ) وسلم کا فیصلہ تم لوگوں کے لئے معاویہ کے فیصلہ سے بہتر ہے۔(طبری ،ج١ ،ص ١٣١) یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت اور امام علیہ السلام کی دعوت کا مثبت جواب دینے سے قبل اگر چہ زہیر بن قین عثمانی تھے؛ لیکن زیاد کو خود سے ملحق کر نے اور حجر بن عدی کو قتل کرنے پر وہ معاویہ سے ناراض تھے لہٰذا ان کا نفس آمادہ تھا کہ وہ عثمانی مذہب سے نکل جائیں نیز اس کی بھی آماد گی تھی کہ معاویہ اور اس کے بیٹے یزید اور ا س کے گرگوں کے خلاف اظہار ناراضگی کریں اور امام علیہ السلام کی دعوت قبول کریں اور وہ راستہ ترک کر دیں جس پر ابھی تک چل رہے تھے۔
زہیر بن قین نے کہا کہ تو مجھے موت سے ڈراتا ہے۔ خد اکی قسم ان کے ساتھ موت میرے لئے تم لوگوں کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنے سے بہتر ہے،پھر اپنا رخ لشکر کی طرف کر کے بلند آواز میں کہا:
بندگان خدا ! یہ اجڈ ، اکھڑ، خشک مغز اور اس جیسے افراد تم کو تمہارے دین سے دھوکہ میں نہ رکھیں ۔ خدا کی قسم وہ قوم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نہیں حاصل کرپائے گی جس نے ان کی ذریت اور اہل بیت کا خون بہایا ہے اور انھیں قتل کیا ہے جو ان کی مدد و نصرت اور ان کے حریم کی پاسبانی کررہے تھے ۔
یہ وہ موقع تھا جب حسینی سپاہ کے ایک شخص نے زہیر کو آواز دے کر کہا :ابو عبداللہ فرمارہے ہیں کہ آجاؤ خدا کی قسم! اگر مومن آل فرعون(١) نے اپنی قوم کو نصیحت کی تھی اور اپنی آخری کو شش ان کو بلانے میں صرف کر دی تھی تو تم نے بھی اس قوم کو نصیحت کردی اور پیغام پہنچادیاہے۔ اگرنصیحت و تبلیغ ان کے لئے نفع بخش ہوتی تو یہ نصیحت ان کے لئے کافی ہے۔(٢)
____________________
١۔امام علیہ السلام نے مومن آل فرعون کی تشبیہ اس لئے دی کہ آپ پہلے عثمانی تھے گویا قوم بنی امیہ سے متعلق تھے۔
٢۔ابو مخنف کہتے ہیں کہ مجھ سے علی بن حنظلہ بن اسعد شبامی نے اپنی ہی قوم کے ایک فرد سے یہ روایت نقل کی ہے جو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت وہا ں حاضر تھا ،جسے کثیر بن عبداللہ شعبی کہتے ہیں ؛ اس کا بیان ہے : جب ہم حسین کی طرف ہجوم آور ہوئے تو زہیر بن قین ہماری طرف آئے اور خطبہ دیا۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٤٢٦) یعقوبی نے بھی اس خطبہ کو ج٢،ص ٢٣٠ ،طبع نجف پر ذکر کیا ہے ۔
حر ریاحی کی بازگشت
جب عمر بن سعد اپنے لشکر کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام پر ہجو م آو رہو رہاتھا تو حر بن یزید نے عمر بن سعد سے کہا: اللہ تمہارا بھلا کرے !کیاتم اس مرد سے ضرور جنگ کرو گے ؟
عمر بن سعدنے جواب دیا:''أی واللّه قتالاً أیسره أن تسقط الروؤس تطیح الایدی! ''ہاں !خد ا کی قسم ایسی جنگ ہوگی جس کاآسان ترین مرحلہ یہ ہوگا کہ (درختوں کے پتوں کی طرح) سر تن سے جداہوں گے اورہاتھ کٹ کٹ کر گریں گے ۔
حرنے سوال کیا :''أفمالکم ف واحد ة من الخصال التی عرض علیکم رضا !'' کیاان مشورں میں سے کوئی ایک بھی تمہارے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔
عمربن سعد نے جواب دیا:''أماواللّٰه لوکان الامر الّلفعلت ولکن أمیرک قدأبیٰ ذالک'' خداکی قسم اگر یہ کام میرے ہاتھ میں ہوتا تومیں اسے ضرورقبول کرتا لیکن میں کیاکروں کہ تمہار اامیر اس سے انکا ر کرتاہے ۔یہ سن کر حر نے کنارہ کشی اختیار کرلی او رایک جگہ پر جاکر کھڑاہوگیااس کے ہمراہ ا موی فوج کا ایک سپاہی قرہ بن قیس(١) بھی تھا ۔حر نے قرّہ سے کہا:''یاقرّہ ! ھل سقیت فرسک الیوم ؟''اے قرہ ! کیاتو نے آج اپنے گھوڑے کو پانی پلایا؟ قرہ نے جواب دیا : نہیں ! حر نے کہا : پھر تو ضرور پلانے کا ارادہ رکھتاہوگا ؟ قرہ کا بیان ہے : خدا کی قسم میں یہ سمجھا کہ وہ وہاں سے دور ہونا چاہتا ہے اور جنگ میں شریک ہونانہیں چاہتا اور اسے بھی ناپسند کرتا ہے کہ جب وہ یہ کام انجام دے تو میں وہاں موجود رہوں کیونکہ اسے خوف تھا کہ کہیں میں اس کی خبر وہاں نہ پہنچادوں ۔بہر حال میں نے اس سے کہا: میں نے تو ابھی اسے پانی نہیں پلایا ہے ؛اب اسے لے جارہاہوں تاکہ پانی پلادوں ؛ یہ کہہ کر میں نے اس جگہ کوچھوڑ دیا جہاں وہ موجود تھا۔ خدا کی قسم! اگر مجھے اس کے ارادہ کی اطلاع ہوتی تو میں اس کے ہمراہ حسین(علیہ السلام) کے ہم رکاب ہوجاتا ۔ادھر حر نے آہستہ آہستہ امام حسین علیہ السلام کی طرف نزدیک ہوناشروع کیا۔حر کی یہ کیفیت دیکھ کر اموی لشکر کے ایک فوجی مہاجر بن اوس(٢) نے آپ سے کہا : اے فرزند یزید تمہارا ارادہ کیا ہے ؟ کیا توکسی پر حملہ کرنا چاہتا ہے ؟ تو حر خاموش رہا اور وہ اس طرح لرزہ بر اندام تھا جیسے بجلی کڑکتی ہو۔ مہاجر بن اوس نے پھر کہا: اے فرزند یزید تمہارا ارادہ کیا ہے ؟ خدا کی قسم تمہارا کام شک میں ڈالنے والا ہے۔ خدا کی
____________________
١۔امام حسین کے کربلامیں واردہونے کے بیان میں اس شخص کے حالات گزرچکے ہیں اوریہ کہ حبیب بن مظاہر نے اسے امام علیہ السلام کی نصرت و مدد کی دعوت دی تھی تو اس نے سونچنے کا وعدہ دیاتھالیکن واپس نہیں پلٹا۔ ظاہر ہے کہ ناقل خبر یہی ہے اور اپنے سلسلہ میں خود ہی مدعی ہے ۔
٢۔ شعبی کے ہمراہ یہ زہیر بن قین کا قاتل ہے۔(طبری ،ج٥، ص ٤٤١)
قسم جنگ کے وقت میں نے کبھی بھی تمہاری ایسی حالت نہیں دیکھی جیسی ابھی دیکھ رہاہوں ، اگر مجھ سے پوچھا جاتا کہ اہل کوفہ میں سب سے شجاع اور دلیر کون ہے تو میں تیرا نام لیتالیکن اس وقت میں جوتیری حالت دیکھ رہاہوں وہ کیا ہے ؟
حرنے کہا :''انّواللّه أخيّر نفس بین الجنة والنار ، واللّٰه لا اختار علی الجنة شیئاً ولو قطعت وحرّقت ! ''خدا کی قسم میں خود کو جنت و جہنم کے درمیان مختار دیکھ رہاہوں اور خدا کی قسم میں جنت پر کسی دوسری چیز کو اختیار نہیں کروں گا چاہے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے۔
پھر حر نے اپنے گھوڑے پر ایک ضرب لگائی اور خود کو حسینی لشکر تک پہنچادیا اور امام حسین کی خدمت میں عرض کیا :''جعلنی اللّٰه فداک یا بن رسول اللّٰه ! أنا صاحبک الذی حبستک عن الرجوع وسایرتک فی الطریق ، و جعجعت بک فی هذاالمکان ، واللّٰه الذ لااله الا هو ما ظننت أن القوم یردون علیک ما عرضت علیهم أبداً ولا یبلغون منک هذه المنزلة فقلت ف نفس : لا أبا ل أن أطیع القوم فی بعض أمرهم ، ولا یرون ان خرجت من طاعتهم ، وأما هم فسیقبلون من حسین علیه السلام هذه الخصال التی یعرض علیهم ، واللّٰه لو ظننت أنهم لا یقبلونها منک ما رکبتها منک ، وان قد جئتک تائباً مما کان من الی ربّ ومواسیاًلک بنفس حتی أموت بین یدیک ، أفَتَریٰ ذلک ل توبة ؟! ''
اے فرزند رسول خدا ! میری جان آپ پر نثار ہو ! میں ہی وہ ہوں جس نے آپ کو پلٹنے سے روکا اور آپ کے ہمراہ راستے میں یہاں تک چل کر آیا ، میں ہی وہ ہوں جو آپ کو اس خشک اور جلتے ہوئے صحرا میں لے کر آیا۔قسم ہے اس خدا کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، میں گمان بھی نہیں کر رہاتھا کہ یہ لوگ آپ کے منطقی مشورہ اور صلح آمیز گفتگوکو قبول نہیں کریں گے، میرے تصور میں بھی یہ نہ تھا کہ یہ لوگ آپ کو اس منزل تک پہنچادیں گے میں اپنے آپ میں کہہ رہاتھا چلو کوئی بات نہیں ہے کہ اس قوم کی اس کے بعض امرمیں اطاعت کر لیتا ہوں تاکہ وہ لوگ یہ سمجھیں کہ میں ان کی اطاعت سے باہر نہیں نکل آیا ہوں ۔میں ہمیشہ اسی فکر میں تھا کہ آپ جو مشورہ دیں گے اسے یہ لوگ ضرور قبول کرلیں گے۔خدا کی قسم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ لوگ آپ سے کچھ بھی قبول نہیں کریں گے تو میں کبھی بھی اس کا مرتکب نہ ہوتا۔اے فرزند پیغمبر ! اب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور ہر اس چیز سے خدا کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں جو میں نے انجام دیا ہے اور اپنے تمام وجود کے ساتھ آپ کی مدد کروں گا ؛یہاں تک کہ مجھے آپ کے سامنے موت آجائے۔ کیا آپ کی نگاہ میں میری توبہ قابل قبول ہے ؟
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :''نعم ، یتوب اللّٰه علیک و یغفر لک! مااسمک ؟'' ہاں تمہاری توبہ قبول ہے، اللہ بھی تمہاری توبہ قبول کرے اور تمہیں بخش دے ! تمہارا نام کیا ہے ؟
حرنے جواب دیا : میں حر بن یزید ہوں ۔(١) امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :''أنت الحر کما سمتک أمّک أنت الحر ان شاء اللّٰه فی الدنیا والآ خرة انزل '' تو حر ہے جیسا کہ تیری ماں نے تیرا نام رکھاہے،ان شاء اللہ تو دنیا و آخرت دونوں میں حر اور آزاد ہے، نیچے اتر آ ۔
حرنے عرض کیا:'' أنالک فارساً خیر منی لک راجلاً ، أقاتلهم علی فرس ساعة والی النزول ما یصیر آ خر أمر ''میں آپ کی بارگاہ میں سوار رہوں یہ میرے لئے نیچے آنے سے بہتر ہے تاکہ کچھ دیر اپنے گھوڑے پر ان سے جنگ کرسکوں اور جب میں نیچے اتروں تو یہ میری زندگی کے آخری لمحات ہوں ۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :'' فاصنع ما بدا لک'' تم جس فکر میں ہو اسے انجام دو ۔ اس گفتگو کے بعدحر اپنے لشکر کے سامنے آئے اور اس سے مخاطب ہوکر کہا :
____________________
١۔ ایک احتمال تو یہ ہے کہ چونکہ حر اسلحہ سے لیس تھا اور شرم سے اپنا سر جھکائے تھا لہذا امام علیہ السلام نے اسے نہیں پہچانا اور سوال کیا ورنہ آپ حر کو پہلے سے پہچانتے تھے۔ دوسرا احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ حر کے نام سے صفت کا استفادہ کرنا چاہتے تھے لہٰذا نام پوچھا ورنہ جو اوصاف اس نے بتائے تھے اس سے تو ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ آنے والا حر ہی تھا۔ (مترجم)
حر بن یزید ریاحی کا خطبہ
''ایها القوم ! ألا تقبلون من حسین علیه السلام خصلة من هذه الخصال التی عرض علیکم فیعافیکم اللّٰه من حربه و قتاله ؟
قالوا: هذا الامیر عمر بن سعد فکلّمه
فکلّمه بمثل ما کلّمه به قبل ، و بمثل ما کلّم به أصحابه
قال عمر (بن سعد) قد حرصتُ ، لو وجدت الی ذالک سبیلاً فعلتُ
فقال ؛ یا اهل الکوفة ! لاُمکم الهبل والعبر اذا دعوتموه حتی اذا أتاکم أسلمتموه ! وزعمتم أنکم قاتلوا أنفسکم دونه ، ثم عدوتم علیه لتقتلوه ! أمسکتم بنفسه و أخذتم بکظمه ، وأحطتم به من کل جانب ، فمنعتموه التوجّه فی بلاد اللّه العریضة حتی یأمن و یأمن أهل بیته ، و أصبح فی أیدیکم کالاسیر ، لا یملک لنفسه نفعاً و لا یدفع ضراً ، وحلا تموه و نساء ه و صبیته و أصحابه عن ماء الفرات الجاری ، الذ یشربه الیهود والمجوس والنصران ، وتمرغ فیه خنازیر السواد و کلابه ، هاهم أولاء قد صرعهم العطش ، بئسما خلفتم محمداً فی ذریته ! لاسقاکم اللّه یوم الظماء ان لم تتوبوا و تنزعوا عما أنتم علیه من یومکم هذا فی ساعتکم هذه''
اے قوم ! حسین کی بتائی ہوئی راہوں میں سے کسی ایک راہ کو کیوں نہیں قبول کرلیتے تاکہ خدا تمہیں ان سے جنگ اور ان کے قتل سے معاف فرمادے ۔
لشکر نے کہا : یہ امیر عمر بن سعد ہیں انھیں سے بات کرو ۔.
تو حر نے عمر بن سعد سے بھی وہی بات کی جو اس سے پہلے کی تھی اور جو باتیں ابھی لشکر سے کی تھیں ۔عمر بن سعد نے جواب دیا :میں اس کا بڑا حریص تھا کہ اگر میں کوئی بھی راستہ پاتا تو ضرور یہ کام انجام دیتا ۔
یہ سن کر حر نے لشکر کو مخاطب کر کے کہا :اے اہل کوفہ! تمہاری مائیں تمہارے غم میں روئیں ؛کیونکہ تم ہی لوگوں نے ان کو یہاں آنے کی دعوت دی تھی اور جب وہ چلے آئے تو تم لوگ انھیں اس ظالم کے سپرد کرناچاہتے ہو۔ پہلے تم اس کے مدعی تھے کہ ان پر اپنی جان نثار کردوگے پھر اپنی بات سے پلٹ کر انھیں قتل کرنا چاہتے ہو۔ تم لوگوں نے یہاں ان کو روک رکھا اور ان کی بزرگواری اور کظم غیظ کے مقابلہ میں ان پر پہرہ ڈال دیا اور انھیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور اللہ کی اس وسیع و عریض زمین میں ان کو کہیں جانے بھی نہیں دیتے کہ وہ اور ان کے اہل بیت امن و امان کی زندگی گزار سکیں ۔یہ تمہارے ہاتھوں میں اسیروں کی طرح ہوگئے ہیں جو نہ تو خود کو کوئی نفع پہنچاسکتے ہیں اورنہ ہی خود سے ضرر و نقصان کو دور کر سکتے ہیں ۔ تم لوگوں نے ان پر، ان کی عورتوں پر ، ان کے بچے اوران کے اصحاب پر اس فرات کے بہتے پانی کو روک دیا ہے جس سے یہود و مجوسی اور نصرانی سیراب ہورہے ہیں ، جس میں کالے سور اور کتے لوٹ رہے ہیں ؛ لیکن یہی پانی ہے جو ان پر بند ہے اور پیاس سے یہ لوگ جاں بلب ہیں ۔ حقیقت میں تم لوگوں نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعدان کی ذریت کے ساتھ بڑا برا سلوک کیا ہے۔ خدا قیامت کے دن ،جس دن شدت کی پیاس ہوگی تم لوگوں کو سیراب نہ کرے۔اگر تم اپنے افعال سے آج اسی وقت توبہ نہ کرلو۔(١)
جب حر کی تقریر یہاں تک پہنچی تو پیدلوں کی فوج میں سے ایک نے آپ پر حملہ کردیا اور تیر بارانی شروع کردی(٢) لیکن حر پلٹ کر امام حسین علیہ السلام کے پاس آکر کھڑے ہوگئے ۔
حر کی اس دلسوز تقریر کا بعض دلوں پریہ اثرہوا کہ وہ حسین بن علی علیہما السلام کی طر ف چلے آئے ان میں سے ایک یزید بن یزید مھاصر ہیں جو عمر بن سعد کے ہمراہ حسین سے جنگ کے لئے آئے تھے۔ جب امام حسین علیہ السلام کی تما م شرطوں کو رد کردیا گیا اور جنگ کا بازار گرم ہوگیا تو آپ حسینی لشکر کی طرف چلے آئے(٣) آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو حر کی تقریر سے راہ حسین کے سالک ہوئے ہیں ۔
____________________
١۔ الارشاد ، ص ٢٣٥، ا لتذکرہ ،ص ٢٥٢
٢۔ ابو جناب کلبی اور عدی بن حرملہ سے یہ روایت منقول ہے۔(طبری ، ج٥ ،ص ٤٢٧، ارشاد، ص ٢٣٥)
٣۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے فضیل بن خدیج کندی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ یزید بن زیاد وہی ابو شعشاء کندی ہے جو قبیلہ بہدلہ سے متعلق تھا۔ (طبری، ج٥ ،ص ٤٤٥)
آغاز جنگ
*پہلا تیر
* نافع بن ہلال جملی کی شہادت
* الحملة الاولی (پہلا حملہ)
* غفاری برادران
* کرامت و ہدایت
* قبیلہ ٔجابری کے دو جوان
* بریر کا مباہلہ اوران کی شہادت
* حن*لہ بن اسعد شبامی کی شہادت
* عمرو بن قر*ہ انصاری کی شہادت
* عابس بن ابی شبیب شاکری اور انکے غلام کی شہادت
* نافع بن ہلال
* یزید بن زیاد ابو شعشاء کندی کی شہادت
* الحملة الثانیہ (دوسرا حملہ)
* چار دوسرے اصحاب کی شہادت
* مسلم بن عوسجہ
* سوید خثعمی و بشر حضرمی
* الحملة الثالثہ (تیسرا حملہ)
* اصحاب حسین کے حملے اور نبرد آزمائی
* الحملة الرابعہ (چوتھا حملہ)
* نماز *ہر کی آمادگی
* حبیب بن م*اہر کی شہادت
* حر بن یزید ریاحی کی شہادت
* نماز *ہر
* زہیر بن قین کی شہادت
آغاز جنگ
پہلا تیر
جب بات یہاں تک پہنچی توعمر بن سعد حسینی سپاہ کی طرف حملہ آورہوا اور آواز دی : اے زوید١(١) پرچم کو اور نزدیک لاؤ تو وہ پرچم کو بالکل قریب لے کر آیا اس وقت عمر بن سعد نے چلہ کمان میں تیر کو جوڑا اور حسینی لشکر کی طرف پھینکتے ہوئے بولا :'' أشھدوا أن أؤّل من رمیٰ ''(٢) تم سب گواہ رہنا کہ سب سے پہلا تیر جس نے پھینکا ہے وہ میں ہوں ۔
جب نزدیک ہوکر پہلاتیر عمر سعد نے پھینکا تو سارے اموی لشکر نے تیر وں کی بارش کردی۔ اس کے بعد زیاد بن ابو سفیان کا غلام یسار اور عبیداللہ بن زیاد کا غلام سالم دونوں میدان جنگ میں آئے اور مبارز طلبی کرتے ہوئے بولے : کوئی ہم رزم ہے جو تم میں سے ہمارے سامنے آئے ؟ یہ سن کر حبیب بن مظاہر اور بریر بن حضیر اٹھے تاکہ اس کا جواب دیں لیکن دونوں سے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: ''اجلسا'' تم دونوں بیٹھ جاؤ ! اس کے بعد عبداللہ بن عمیرکلبی(٣) اٹھے اور عرض کیا : اے ابو عبداللہ !خدا
____________________
١۔ شیخ مفید نے ارشاد میں '' درید '' لکھاہے، ص٢٣٣و ٢٣٦ ،طبع نجف
٢۔ صقعب بن زہیر اور سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم سے یہ روایت نقل کی ہے۔(طبری، ج٥،ص ٤٢٩ ، ارشاد ، ص ٢٣٦)
٣۔ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے۔ قبیلہ ہمدان کے چاہ جعد (جعد کا کنوا ں) میں ان کا گھر تھا۔ ایک دن آپ نے دیکھا کہ عبیداللہ کی طرف سے فوج نخیلہ میں جمع ہے اور حسین علیہ السلام کی طرف روانہ ہورہی ہے۔آپ نے ان لوگو ں سے سوال کیا توجواب دیا گیا کہ یہ لوگ دختر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاطمہ کے فرزند حسین سے جنگ کے لئے جارہے ہیں ۔اس پر عبداللہ بن عمیر کلبی نے کہا میں تو اہل شرک سے جہاد پر حریص تھا لیکن اب میں یہ امید کرتا ہو ں کہ ان لوگو ں سے جہاد کرنا جو اپنے نبی کے نواسے سے جنگ کررہے ہیں خدا کے نزدیک مشرکین سے جہاد کرنے سے کم نہ ہوگا۔ آپ کی زوجہ ام وھب بھی آپ کے ہمراہ تھی ں ۔ آپ ان کے پاس گئے اورساری روداد سنادی اور اپنے ارادہ سے بھی انھی ں آگاہ کردیا ۔سب کچھ سن کر اس نیک سرشت خاتون نے کہا: تمہاری فکر صحیح ہے، خدا تمہاری فکر کو سالم رکھے اور تمہارے امور کو رشد عطا کرے؛ یہ کام ضرور انجام دو اور مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو۔ عبدا للہ راتو ں رات اپنی بیوی کے ہمراہ نکل گئے اور امام حسین علیہ السلام سے ملحق ہوگئے ۔
آپ پر رحمت نازل کرے ! کیا مجھے اجازت ہے کہ میں ان دونوں کے مقابلہ پر جاؤں ؟ تو امام حسین نے اس جوان کی طرف دیکھا ،وہ ایک طویل القامت ، قوی کلائیوں اور مضبوط بازؤں والا جوان تھا۔ آپ نے فرمایا :''ان لا حسبه للأ قران قتالا! اخرج ان شئت ' 'میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں کے مقابلہ میں برابر کا جنگجو ثابت ہوگا، اگر تم چاہتے ہو تو جاؤ! یہ سن کر وہ جوان ان دونوں کے سامنے آیا تو ان دونوں نے کہا : تو کون ہے ؟ تو اس جوان مرد نے اپنا حسب و نسب بتادیا۔ اس پر وہ دونوں غلام بولے : ہم تم کو نہیں پہچانتے ہیں ۔ہمارے مقابلے میں تو زہیر بن قین یا حبیب بن مظاہر یا بریر بن حضیر کو آنا چاہیے ۔
زیاد کا غلام یسار ، عبیداللہ بن زیاد کے غلام سالم کے آگے آمادہ جنگ تھا ۔ کلبی نے یسار کو مخاطب کر کے کہا : اے زنا کار عورت کے بچے ، تیری خواہش ہے کہ کوئی اور تیرے مقابلہ پر آئے۔ تیرے مقابلہ پر کوئی نہیں آئے گا مگر جو بھی آئے گا وہ تجھ سے بہتر ہو گا۔ اس کے بعداس پر سخت حملہ کیا اور تلوار کا ایک وار کر کے اسے زمین پر گرا دیا ۔ابھی آپ اپنی تلوار سے اس پر حملہ میں مشغول تھے کہ عبیداللہ کا غلام سالم آپ پر ٹوٹ پڑا ۔ ادھر سے اصحاب امام حسین علیہ السلام نے آواز دی : وہ غلام تم پر حملہ کررہا ہے لیکن عبداللہ نے اس کے حملہ کو اہمیت نہ دی یہاں تک کہ اس نے آپ پر تلوار سے حملہ کردیا؛ کلبی نے اپنے بائیں ہاتھ کو سپر بنایا جس سے آپ کے بائیں ہاتھ کی انگلیاں کٹ گئیں لیکن کلبی زخم کی پرواہ کئے بغیر اس کی طرف مڑے اور اس پر ایسی ضرب لگائی کہ اسے قتل کردیا ۔ ان دونوں کو قتل کرنے کے بعد کلبی رجز خوانی کرتے ہوئے مبارزہ طلبی کر رہے تھے ۔
ان تنکرون فأ نا بن کلب
حسب بیت فی علیم حسبی
ان امرؤ ذومرة وعصب
و لست با لخوّار عند النکب
انزعیم لک أم وهب
با لطعن فیهم مقدماً والضرب
اگر تم مجھے نہیں پہچانتے ہو تو پہچان لو کہ قبیلہ کلب کا فرزند ہوں ، میرا آگاہ اور بیناخاندان میرے لئے کافی ہے، میں بڑا طاقتور اور سخت جاں مرد ہوں ، میدان کارزار میں ناگوار واقعات مجھے متزلزل نہیں کرسکتے، اے ام وھب میں تمہیں وعدہ دیتا ہوں کہ میں ان پر بڑھ بڑ ھ کر حملہ کروں گااور ان کوماروں گا وہ بھی ایسی ضرب لگاؤں گا جو ایک یکتا پرست اور موحد کی ضرب میں اثر ہوتا ہے۔
یہ سن کر عبداللہ کی زوجہ ام وھب نے عمود خیمہ اٹھایا اور اپنے شوہر کا رخ کرکے آگے بڑھی اور یہ کہے جارہی تھی'' فداک أبی وأمی'' میرے ماں باپ تم پر قربان ہو ں ، تم محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پاک و پاکیزہ ذریت کی طرف سے دفاع میں خوب جنگ کرو ،اس کے بعد عبد اللہ اپنی زوجہ کو مخدرات کی طرف پلٹا نے لگے ،تو اس نے عبداللہ کے کپڑے پکڑ لئے اورکھینچتے ہوئے بولی : میں جب تک کہ تمہارے ساتھ مرنہ جاؤں تمہیں نہیں چھوڑوں گی ،یہ صورت حال دیکھ کر امام حسین علیہ السلام نے اسے پکارا اور فرمایا :''جزیتم من أهل بیت خیراً، ارجع رحمک اللّٰه الی النساء فاجلس معهن فانه لیس علی النساء قتال '' خدا تم لوگوں کو جزائے خیر دے ،اللہ تم پر رحمتوں کی بارش کرے، خواتین کی طرف پلٹ آؤ اور انھیں کے ہمراہ بیٹھو کیونکہ خواتین پر جہاد نہیں ہے ۔
الحملة الا ولی (پہلا حملہ)
اس کے بعداموی لشکر کے میمنہ کے سردار عمروبن حجاج نے لشکر حسینی کے داہنے محاذپر حملہ شروع کر دیا ۔جب یہ لشکر امام حسین علیہ السلام کے سپاہیوں کے نزدیک آیا تو وہ سب کے سب اپنے زانو پر بیٹھ کر دفاع میں مشغول ہو گئے اور نیزوں کو ان کی طرف سیدھا کر کے انھیں نشانہ پر لے لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لشکر نیزوں کے سامنے ٹھہر نہ سکا اور واپس لوٹنے لگا۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر حسینی سپاہ نے ان پر تیر چلانا شروع کیا، جس کے نتیجے میں ان میں سے بعض ہلاک ہوئے تو بعض دیگر زخمی۔(١)
کرامت وہدایت
اسی اثنا ء میں قبیلہء بنی تمیم کا ایک شخص جسے عبد اللہ بن حوزہ کہا جاتا ہے سامنے آیا اور امام حسین علیہ السلام کے بالمقابل کھڑا ہو کر بولا : اے حسین ! اے حسین ! تو امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : ''ماتشاء ؟'' تو کیا چاہتا ہے ؟
____________________
١۔ابو مخنف نے بیان کیا ہے کہ ابو جناب نے مجھ سے یہ روایت نقل کی ہے(طبری، ج٥ ، ص٤٢٩ ،الارشاد ، ص ٢٣٦ ،نجف)
عبد اللہ بن حوزہ نے کہا : ''أبشر بالنار'' تمہیں جہنم کی بشارت ہو، امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : '' کلا ّ ، ان أقدم علی ربّ رحیم وشفیع مطاع، من ھٰذا؟'' نہیں ایسا نہیں ہے، میں اپنے مہربان ورحیم رب کی طرف گا مزن ہوں ، وہی شفیع اور قابل اطاعت ہے پھر امام نے سوال کیا:یہ کون ہے ؟
آپ کے اصحاب نے جواب دیا : یہ ابن حوزہ ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :''ربّ حزه الی النار ! ''خدا یا! اسے جہنم کی آگ میں ڈال دے ۔
امام علیہ السلام کی بد دعا کا اثر یہ ہو اکہ ناگا ہ اس کا گھوڑا ایک گڑھے کے پاس بدکا اور وہ گڑھے میں جا گر الیکن اس کا پیر رکاب میں پھنسا رہ گیا اور اس کا سر زمین پر آگیا۔اسی حالت میں گھوڑے نے دوڑنا شروع کیا اور وہ جدھر سے گزرتا تھا زمین کے ہر پتھر اور درخت سے اس کا سر ٹکراتا تھا۔یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔(١)
اس سلسلے میں مسروق بن وائل کا بیان ہے : میں اس لشکر کے آگے آگے تھا جو حملہ کے لئے حسین کی طرف آگے بڑھا تھا۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں لشکر کے بالکل آگے رہوں گا تا کہ جب حسین قتل کر دیئے جا ئیں تو ان کا سر میرے ہاتھ لگے اور وہ سر میں عبید اللہ بن زیاد کی خدمت میں لے جا کر کسی خاص مقام و منزلت پر فائز ہو جاؤں ۔ جب ہم لوگ حسین تک پہنچے تو ہما ری فوج کا ایک شخص جسے ابن حوزہ کہتے ہیں وہ سامنے آیا اور بولا : کیا حسین تمہا رے درمیان موجود ہیں ؟ تو حسین(علیہ السلام) خاموش رہے ۔ اس نے اپنی بات کو دھرایا یہاں تک جب تیسری بار اس نے تکرار کی تو حسین (علیہ السلام) نے فرمایا :''قولوا له : نعم هٰذا الحسین فما حاجتک '' اس سے کہو : ہاں یہ حسین ہیں ، تم کیا چاہتے ہو؟
ابن حوزہ نے کہا : اے حسین !تم کو جہنم کی بشارت ہو!
امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا :''کذبت،بل أقدم علی ربّ غفور وشفیع مطاع، فمن أنت ؟'' تو جھوٹ بولتا ہے، میں تو اپنے پالنے والے اور بخشنے والے، شفیع اور قابل اطاعت مالک کی طرف گا مزن ہوں ، تو کون ہے ؟
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے ابو جعفر حسین نے یہ روایت نقل کی ہے(طبری ،ج٥ ،ص ٤٣٠)
اس نے کہا : میں ابن حوزہ ہوں ۔
یہ سن کر حسین نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اتنے بلند کئے کہ کپڑے کے اوپر سے ہم نے بغل کی سفیدی دیکھ لی پھر کہا : اللّٰھم حزہ الیٰ النار ! خدا یا! اسے جہنم کی آگ میں ڈال دے ،یہ سن کر وہ غصہ میں آگیا اور وہ نہر جو اس کے اور حسین کے درمیان تھی اسے پار کرکے ان پر حملہ کر نا چاہا تو گھوڑے کے چھلا نگ لگا تے ہی وہ نیچے گر پڑالیکن اس کا پیر رکاب میں پھنس گیا اور گھوڑے نے تیز دوڑنا شروع کر دیا، جس کی وجہ سے وہ نیچے گر گیا اور اس کے قدم ، پنڈلی تک کٹ کر گر گئے اور پیر کا بقیہ حصہ اسی رکاب میں پھنسا رہ گیا ۔
عبد الجباربن وائل حضر می کا بیان ہے : یہ صورت حال دیکھ کر مسروق لوٹ گیا اور لشکر کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا تو میں نے اس سے اس کا سبب پوچھا تو وہ بولا :''لقد رأیتُ من أهل هٰذا البیت شیئاًلا أقا تلهم أبداً ''(١) میں نے اس گھر انے سے ایسی چیز دیکھی ہے جس کے بعد میں ان سے کبھی بھی جنگ نہیں کر سکتا ۔
بر یر کا مباہلہ اور ان کی شہادت
یزید بن معقل ، عمر بن سعد کے لشکر سے نکلا اور بولا : اے بریر بن حضیر !(٢) تم نے دیکھا کہ اللہ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ تو بریر نے جواب دیا :خدا نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ؛ ہاں تیرا نصیب بہت برا ہے۔
یزید بن معقل:تو جھوٹ بول رہاہے حالانکہ اس کے پہلے تو کبھی جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ کیا تجھے وہ موقع یاد ہے جب میں قبیلہ لوذان کے علاقے میں تیرے ساتھ چل رہاتھااور تو کہہ رہا تھا کہ عثمان بن عفان نے اپنی جان کو گنوادیا اور معاویہ بن ابو سفیان گمراہ اور دوسروں کوگمراہ کرنے والا ہے۔ امام ہدایت و حق تو فقط علی بن ابیطالب ہیں ؟
____________________
١۔عطا بن سامت نے عبد الجبار بن وائل حضر می سے اور اس نے اپنے بھائی مسروق بن وائل سے یہ روایت بیان کی ہے۔ (طبری، ج٥ ،ص ٤٢١)
٢۔ آپ کے شرح احوال شب نو محرم کے واقعات میں گزرچکے ہیں ۔
بریرنے جواب دیا: ہاں میں گواہی دیتا ہوں ، میری رائے اور میرا قول یہی ہے ۔
یزید بن معقل نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا شمار گمراہوں میں ہے ۔
بریر بن حضیرنے اس کے جواب میں فرمایا: کیا تم اس پر تیار ہوکہ پہلے میں تم سے مباہلہ(١) کروں اور ہم اللہ سے دعاکریں کہ جھوٹے پر اس کی لعنت ہو اور باطل پرست کو موت کے گھاٹ اتار دے؛ اس کے بعد میں میدا ن کارزار میں آکر تم سے نبرد آزمائی کروں ۔
یزیدبن معقل ا س پر راضی ہوگیا دونوں نے میدان میں آکر اللہ کی بارگاہ میں دعا کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے کہ خدایا !کاذب پر لعنت کر اور صاحب حق کے ہاتھ سے باطل پرست کو قتل کرادے۔ اس بد دعا کے بعد دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے۔ تلواروں کا آپس میں ٹکراؤ ہوااور یزید بن معقل نے بریر بن حضیر پر ایک ہلکی سی ضرب لگائی جس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچالیکن ادھر بریر بن حضیر نے ایسی کاری ضرب لگائی کہ اس کے ''خود ''کو کاٹتی ہوئی تلوار اس کے سر تک پہنچی اور اسے کاٹتی ہوئی اس کے مغز اور دماغ تک پہنچ گئی وہ زمین پراس طرح گرا جیسے کوئی چیزبلندی سے گررہی ہو؛ ادھر فرزند حضیر کی تلوار اس کے سر میں جاکر رک گئی تھی، گویا میں دیکھ رہا تھا کہ وہ تلوار کو اپنے سرسے باہر نکالنے کے لئے حرکت دے رہا تھا۔اسی دوران عمر بن سعد کے لشکر کے ایک سپاہی رضی بن منقذ عبدی نے جناب بریر پر حملہ کردیا۔ دونوں میں گتھم گتھاہوگئی اوروہ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔ بڑی گھمسان کی لڑائی ہوتی رہی۔ آ خر کار بریراسے گراکر اس کے سینے پر بیٹھ گئے تو رضی چلایا کہاں ہیں اہل رزم اور کہاں ہیں دفاع کرنے والے؟ ! یہ سن کر کعب بن جابر ازدی نے نیزہ سے بریر پر حملہ کردیا اور وہ نیزہ آپ کی پیٹھ میں داخل ہوگیا جب بریر نے نیزہ کی نوک کو محسوس کیا تو رضی بن منقذ عبدی کے چہرے کو دانتوں سے دبالیا اور اس کی ناک کا ایک حصہ کاٹ ڈالا؛ لیکن کعب بن جابرنے مسلسل نیزہ کا وار کرکے'' عبدی ''کو بریر کے چنگل سے نکال دیا اور
____________________
١۔مباہلہ یعنی ملاعنہ جسمیں دونو ں افراد دعا کری ں کہ خدا باطل اور ظالم پر لعنت کرے ۔
نیزہ کی انی کو بریر کی پشت میں پیوست کردیا پھر اس کے بعد بریر پر تلوار سے حملہ کرکے انھیں شہید کردیا۔ (ان پر خدا کی رحمت ہو)(١) و(٢)
____________________
١۔ ابو مخنف کہتے ہیں کہ مجھ سے یوسف بن یزیدنے عفیف بن زہیر بن ابو اخنس کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے اور وہ حسین علیہ السلام کی شہادت کے وقت وہا ں حاضر تھا ۔(طبری، ج٥، ص ٤٣١) باقیماندہ خبر حاشیہ شمارہ ٢ میں ملاحظہ ہو ۔
٢۔جب کعب بن جابر ازدی لوٹا تو اس کی زوجہ یا بہن نوار بنت جابر نے کہا : تو نے فرزند فاطمہ کے خلاف جنگ کی ہے اور سیدا لقراء (تلاوت و قراء ت قرآن کے سید و سردار) بریرکو قتل کیا ہے، تو نے بہت بڑی خیانت انجام دی ہے۔ خداکی قسم میں اب کبھی بھی تجھ سے بات نہیں کرو ں گی۔ کعب بن جابر نے کہا :
سلی تخبر عنی و أنت ذمیمة
غداة حسین والرماح شوارع
الم آت أقصیٰ ماکرهت ولم يْخل
علیّ غداة الروع ما أنا صانع
مع یز نی لم تخنه کعو به
وأبیض مخشوب الغرارین قاطع
فجر دته فی عصبة لیس دینهم
بدین وان بابن حرب لقانع
ولم تر عین مثلهم فی زما نهم
ولا قبلهم ف الناس اذ أنا یافع
أشدّ قراعاً با لسیوف لدی الوغی
ألا کل من یحمی الذمار مقارع
وقد صبروا للطعن والضرب حُسّرا
وقد نازلوا لوأن ذالک نافع
فا بلغ (عبید الله) أما لقیته
بأ نی مطیع للخلیفة سا مع
قتلت بر یر اً ثم حملت نعمة
أبا منقذ لما دعی : من یماصع
تو مورد مذمت قرار پاچکی ہے تو مجھ سے حسین کی سپیدہ سحری اور نیزو ں کے سیدھے ہونے کے سلسلے میں سوال کر اور مجھ سے خبر لے ۔ کیا میں اس چیز کی انتہا تجھے نہ بتاؤ ں جو تجھے ناپسند ہے اور جس میدان کارزار کی صبح نے مجھ پر اس امر پرکوئی خلل وارد نہیں کیا جسے میں نے انجام دیا ۔ میرے پاس سیف بن ذی یزن یمنی کا نیزہ تھا جو کبھی ٹیڑھا نہیں ہوا اورجس کی سفید لکڑی کا غلاف دونو ں طرف سے برا ں تھا۔ میں نے اسے اس گروہ کے سامنے بر ہنہ کیا جن کا دین میرا دین نہ تھا اور میں ابو سفیان کے خاندان سے قانع ہو ں ۔میری آنکھو ں نے اپنے زمانے میں ان کے مانندنہیں دیکھااور اس سے قبل کسی نے نہیں دیکھا؛ کیونکہ میں جوان ہو ں ۔ جنگ کے وقت ان کی تلوار میں بڑی کاٹ تھی،آگاہ ہوجاؤکہ جو بھی ذمہ داری سے حمایت کرتا ہے وہ سخت کوش ہوتا ہے ۔ واقعا ان لوگو ں نے نیزو ں اور تلوارو ں کے زخم پر بڑا صبر کیا اور وہ گھوڑے سے نیچے اتر آئے اگریہ ان کے لئے مفید ہوتا ۔اگر عبیداللہ سے ملاقات کرے تو اس کو یہ خبر پہنچادے کہ میں خلیفہ کامطیع اور ان کی باتو ں کا سننے والا ہو ں ۔ میں نے بریر کو قتل کیااور ابو منقذ کو اپنا احسان مند بنا لیا، جب اس نے پکارا کہ میرا مدد گا کون ہے ؟
ابو مخنف کا بیان ہے : رضی بن منقذ عبدی نے اس کے جواب میں یہ کہا :
ولو شاء رب ما شهدت قتالهم
ولا جعل النعماء عند ابن جابر
لقد کان ذاک الیوم عارا وسبّةً
یعیر ه الأ بناء بعد ا لمعا شر
فیالیت ان کنت من قبل قتله
ویوم حسین کنت فی رمس قابر
اگر میرا پروردگار چاہتاتو میں کربلا کی جنگ میں حاضر نہ ہوتا اورنہ جابر کے لڑکے کا مجھ پر احسا ن ہوتا۔ در حقیقت وہ دن تو ننگ وعار کا دن تھا جو نسلو ں تک طعن و تشنیع کا باعث رہے گا ۔ اے کاش بریر کے قتل سے قبل میں مرگیا ہوتا اور حسین کے مقابلہ کے دن سے پہلے میں قبر میں مٹی کے نیچے ہوتا۔
عمر وبن قرظہ انصاری کی شہادت
جناب بریر کی شہادت کے بعد عمر و بن قرظہ انصاری امام حسین علیہ السلام کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے نکلے اور مشغول جہاد ہوگئے ۔آپ وقت قتال ان اشعار کو پڑھ رہے تھے۔
قد علمت کتیبة الأ نصا ر
ان سأحمی حوزة الذمار
ضرب غلا م غیر نکس شار
دون حسین مهجتی ودار(۱)
سپاہ انصار کو معلوم ہے کہ میں اس خاندان کی ایسی حمایت ونصرت کروں گا جو ایک ذمہ دار محافظ کا انداز ہوتا ہے ،میں ایک سر بلند اور سرفراز جوان کی طرح وار کروں گا اور کبھی منہ نہیں موڑوں گا کیونکہ میرا خون اور میرا خاندان حسین پرفدا ہے ۔
اسی حال میں آپ درجۂ شہادت پر فیضیاب ہوگئے۔ آپ پر خدا کی رحمت ہو۔آپ کا بھائی علی بن قرظہ ، عمر بن سعد کی فوج میں تھا ۔یہ منظر دیکھ کر وہ پکارا اے کذاب بن کذاب! (اے جھوٹے باپ کے جھوٹے بیٹے) تو نے میرے بھائی کوگمراہ کیا ، اسے دھوکہ دیا یہاں تک کہ اسے قتل کردیا ! یہ سن کر امام حسین علیہ السلام نے جواب دیا :
''ان اللّٰه لم یضل أخاک ولکنه هدیٰ أخاک وأضلک'' خدا نے تیرے بھائی کو گمراہ نہیں کیا بلکہ تیرے بھائی کو ہدایت بخش دی، ہاں تجھے گمراہ کردیا ۔
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے عبدالرحمن بن جندب نے یہ روایت نقل کی ہے(طبری ،ج٥، ص ٤٣٣)
علی بن قرظہ نے کہا خدا مجھے نابود کرے اگر میں تجھے قتل نہ کروں ، یہ کہہ کر امام علیہ السلام پر حملہ کیا۔ نافع بن ہلال مرادی نے آگے بڑھ کے مزاحمت کرتے ہوئے نیزہ لگا کر اسے زمین پر گرا دیا تو اس کے ساتھیوں نے حملہ کیا اور اسے کسی طرح بچاکر لے گئے۔(١) جنگ کا بازار گرم تھا، گھمسان کی لڑائی ہورہی تھی، سپاہ اموی نے چاروں طرف گھوم کر قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا تھا۔اس دوران حر بن یزید ریاحی اس فوج پر حملہ آور تھے اور اس شعر سے تمثیل کئے جارہے تھے ۔
مازلت أر میهم بثغر ة نحره
ولبانه حتی تسر بل بالدم
میں ان کی گردن اور سینے پر مسلسل تیر بارانی کرتا رہوں گا یہاں تک کہ وہ لوگ خون کا لباس پہن لیں ۔اس وقت حالت یہ تھی کہ ان کے گھوڑے کے کان اور ابرؤں سے نیزوں کی بارش کی وجہ سے خون جاری تھا۔ یزید بن سفیان تمیمی مسلسل یہ کہہ رہا تھاکہ خدا کی قسم اگر میں '' حر'' کو اس وقت دیکھتا جب وہ ہماری فوج سے نکلا تھا تو اس نیزہ کی نوک سے اس کا پیچھا کرتا۔ یہ سن کر حصین بن تمیم(٢) نے کہا : یہی ہے حر بن یزید جس کی تم تمنا کررہے تھے۔یزید بن سفیان نے کہا : ہاں ! اور حر کی طرف نکل گیا اور آپ سے بولا:کیا تم نبرد آزمائی کے لئے آمادہ ہو ؟ حر نے جواب دیا : ہاں میں ہم رزم ہونا چاہتا ہوں ۔ یہ کہہ کر اس کے مد مقابل آئے ،گویا جان ہتھیلی پر لئے تھے۔ یزید بن سفیان اپنی تمام شرارتوں کے ساتھ سامنے آیا لیکن ابھی حر کو سامنے آئے کچھ دیر بھی نہ ہوئی تھی کہ آپ نے اسے قتل کردیا ۔(٣)
____________________
١۔ ثابت بن ہبیرہ سے یہ روایت مروی ہے۔ (طبری، ج ٥، ص ٤٣٤)
٢۔ یہ شخص عبید اللہ بن زیاد کی پولس کا سر براہ تھا اور عبید اللہ نے اسے عمر بن سعد کے ہمراہ حسین علیہ السلام کی طرف جنگ کے لئے بھیج دیا ۔کربلا میں عمر بن سعد نے اسے مجففہّ فوج کا سر براہ بنا دیا تھا۔ تجفاف زرہ کی قسم کا ایک رزمی لباس ہے ۔
٣۔ابو مخنف کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو زہیر نضر بن صالح عبسی نے یہ روایت نقل کی ہے۔(طبری،ج٥،ص ٤٣٤)
نافع بن ہلال
اسی ہنگا مہ خیز ماحول میں نافع بن ہلال مرادی جملی مصروف جنگ تھے اور کہے جارہے تھے :
'' أنا الجملی أنا علیٰ دین علی (علیہ السلام) ''میں ہلال بن نافع جملی ہوں ، میں دین علی علیہ السلام پر قائم ہوں ۔یہ سن کر فوج اموی کی ایک فرد جسے مزاحم بن حریث کہتے ہیں سامنے آیا اور بولا : میں عثمان کے دین پر قائم ہوں ۔ نافع بن ہلال نے اس سے کہا : تو شیطان کے دین پر بر قرار ہے پھر اس پر حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا ۔
یہ صورت حال دیکھ کر عمر وبن حجاج زبیدی چلایا کہ اے احمق اور بے شعور لوگو !تم کو کچھ معلوم ہے کہ تم کس سے لڑ رہے ہو ؟ یہ شہر کے بہادر ،شجاع ، فداکارا ور جانباز ہیں ، تم میں سے کو ئی بھی ان کے مقابلہ میں نہ آئے ۔ یہ دیکھنے میں کم ہیں اور بہت ممکن ہے کہ باقی رہ جائیں ۔ خدا کی قسم اگر تم لوگ(١) ان پر فقط پتھر پھینکو تو ان کو قتل کر دو گے۔یہ سن کر عمر بن سعد بولا تمہارا نظریہ بالکل صحیح ہے اور میری رائے بھی یہی ہے اس وقت اس نے اعلان کیا کہ فوج کہ سب سپاہی اس پر آمادہ ہو جائیں کہ ان لوگوں سے اس طرح جنگ نہ کریں کہ ایک ان کی طرف سے اور ایک تمہاری طرف سے ہو۔(٢)
الحملة الثانےة (دوسرا حملہ)
پھر عمرو بن حجاج زبیدی لشکر امام حسین علیہ السلام سے نزدیک ہوتا ہوا بولا: اے اہل کوفہ ! اپنی اطاعت اور اپنی جماعت کے اتحاد واتفاق پر پا بند رہو اور اس کے قتل میں کوئی شک وشبہ نہ کرو جو دین سے منحرف ہوگیا اور ہمارے پیشوا اور امام کا مخالف ہے۔
یہ سن کر امام حسین علیہ السلام نے اس سے فرمایا :'' یا عمروبن حجاج !أعلّ تحّرض الناس ؟ أنحن مرقنا وأ نتم ثبتُّم علیه ! أما واللّه لتعلمنّ لو قد قُبضت أروا حکم ومُتم علی أعما لکم أيّنا مرق من الدین ومن هو أولی بصل النار''
اے عمروبن حجاج ! کیا تو لوگوں کو میرے خلاف اکسا رہا ہے؟ کیا ہم دین سے منحرف ہیں اور تم
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے ابو زہیر نضربن صالح عبسی نے یہ روایت نقل کی ہے۔(طبری ،ج٥، ص ٤٣٤)
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ یحٰی بن ہانی بن عروہ مراوی نے مجھ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری ،ج٥، ص ٤٣٥)
لوگ اس پر قائم ہو ! خدا کی قسم اگر تمہاری روحیں قبض کرلی جائیں اور تم لوگوں کو انھیں اعمال پر موت آجائے تو تمہیں ضرور معلوم ہو جائے گا کہ منحرف کون اور جہنم میں جلنے کا سزاوار کون ہے ۔
پھر عمروبن حجاج نے عمربن سعد کے داہنے محاذفرات کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کے لشکر پر حملہ کر دیا ۔کچھ دیر تک جنگ کا بازار گرم رہا اور اس حملہ میں امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کی ایک جماعت شہید ہو گئی جس میں سے ایک مسلم بن عوسجہ ہیں ۔
مسلم بن عوسجہ(١)
عمروبن حجاج کے سپاہیوں میں سے عبد الر حمن بجلی اور مسلم بن عبد اللہ ضبّا بی نے آپ کو شہید کیا۔ آپ کی شہادت پر خوشی سے جھومتے ہوئے عمروبن حجاج کے سپاہیوں نے آواز لگائی :
ہم نے مسلم بن عوسجہ اسدی کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد عمروبن حجاج اور اس کے سپا ہی لوٹ گئے اور غبار کا ایک بادل اٹھا۔جب وہ بادل چھٹ گیا تو اصحاب حسین نے مسلم بن عوسجہ کو جانکنی کے عالم میں
____________________
١۔ اس خبر میں آیا ہے کہ اصحاب حسین میں سب سے پہلے مسلم بن عوسجہ اسدی شہید ہوئے جبکہ اس سے پہلے بریر اور عمروبن قرظہ کی شہادت کا تذکرہ گزرچکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس حملہ کے بعد کچھ دیر کے لئے جنگ بند ہو گئی تھی اس کے بعد جب جنگ شروع ہوئی تو دوسرے حملہ میں سب سے پہلے شہید ہونے والو ں میں آپ کا شمار ہو تا ہے۔ آپ کوفہ میں امام حسین علیہ السلام کے لئے بیعت لے رہے تھے۔ ابن زیاد کا جاسوس معقل آپ ہی کے توسط سے مسلم تک پہنچ سکا تھا۔(طبری، ج٥، ص ٣٦٢) مسلم بن عقیل نے کوفہ میں آپ کو قبیلہء مذحج اور اسد کا سالا ر بنا یا تھا۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٣٦٩) آپ ہی وہ ہیں جو کر بلا میں شب عاشور امام حسین علیہ السلام کے خطبہ کے بعد اٹھے اور فرمایا : اگر ہم آپ کو چھوڑ دی ں تو اللہ کی بارگاہ میں آپ کے حق کی ادائیگی میں ہمارا عذر کیا ہوگا؟! خدا کی قسم یہا ں تک کہ میں اپنے نیزہ کو ان کے سینو ں میں تو ڑنہ لو ں اور اپنی تلوار سے جب تک اس کا دستہ میرے ہاتھ میں ہے ان کو مارنہ لو ں میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا اور اگر میرے پاس ان کو قتل کرنے کے لئے کوئی اسلحہ نہ ہو ا تو میں ان کو آپ کے پاس رہ کرپتھر مارو ں گا یہا ں تک کہ آپ کے ہمراہ مجھے موت آجائے۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٤١٩) آپ ہی وہ ہیں جنہو ں نے شمر پر تیر چلا نے کی اجازت اس طرح طلب کی تھی : فرزند رسول خدا میری جان آپ پر نثار ہو، کیا میں اس پر ایک تیر نہ چلا دو ں ؟ یہ آدمی بڑا فاسق وفاجر ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرما یا تھا : میں جنگ میں ابتدا کرنا نہیں چاہتا ۔(طبری، ج٥، ص ٤٢٤) لیکن آپ کوفہ سے کس طرح امام علیہ السلام سے ملحق ہوئے کچھ پتہ نہیں ، تاریخ اس سلسلہ میں بالکل خاموش ہے ۔
دیکھا ۔ امام حسین علیہ السلام چل کر آپ کے پاس آئے۔ اس وقت آپ کے جسم میں رمق حیات موجود تھی۔امام علیہ السلام نے مسلم بن عوسجہ کو مخاطب کر کے فرمایا :''رحمک ربک یامسلم بن عوسجه، فمنهم من قضی نحبه و منهم من ینتظر ومابدّلواتبدیلاً '' (١)
اے مسلم بن عوسجہ خدا تم پر رحمت نازل کرے ، ان میں سے بعض وہ ہیں جو اپنا وقت پوراکرگئے اوربعض منتظر ہیں اوران لوگوں نے اپنی بات ذرابھی نہیں بدلی۔ اس کے بعد حبیب بن مظاہر مسلم کے قریب آئے اور فر مایا : ''عزعلّ مصرعک یامسلم ، أبشر بالجنة '' اے مسلم تمہاری شہادت مجھ پر بہت سنگین ہے، جاؤ جنت کی تمہیں بشارت ہو ،یہ سن کر بڑی نحیف آوازمیں مسلم نے حبیب سے کہا : ''بشرک ا للّٰہ بخیر''اللہ تمہیں نیکی و خیر کی بشارت دے، یہ سن کر حبیب نے مسلم بن عوسجہ سے کہا :''لولا ان أعلم أن فی اثرک لاحق بک من ساعت هٰذه لأحببت أن توصین بکل ما أ همک حتی أحفظک فی کل ذالک بما أنت أهل له فی القرا بة والدین'' اگر مجھے معلوم نہ ہوتا کہ میں تمہارے پیچھے پیچھے ابھی آرہاہوں تو میرے لئے یہ بات بڑی محبوب تھی کہ تم مجھ سے ہر اس چیز کی وصیت کرو جو تمہارے لئے اہم ہو تاکہ میں ان میں سے ہرایک کو پورا کرسکوں جو تمہارے قرابت داروں اور دین کے سلسلے میں اہمیت رکھتے ہیں ۔
مسلم بن عوسجہ نے کہا''بل انا اوصیک بهذا رحمک اللّه أن تموت دونه ''میری وصیت تو صرف ان کے سلسلے میں ہے ،خدا تم پر رحمت نازل کرے یہ کہہ کرا پنے ہاتھ سے حسین کی طرف اشارہ کیا کہ تم ان پر قربان ہو جانا ، انھیں کے سامنے موت کو گلے لگا لینا۔حبیب نے کہا : رب کعبہ کی قسم میں ایسا ہی کروں گا؛ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بہت جلد مسلم بن عوسجہ نے ان لوگوں کے ہاتھوں پر دم توڑ دیا (خدا ان پر رحمت نازل کر ے) آپ کی موت کا منظر دیکھ کر آپ کی کنیزآہ و فریاد کرنے لگی :''یا بن عوسجتاه یا سیداه'' (٢)
____________________
١۔سورہ احزاب ٢٣
٢۔عمرو بن حجاج کے سپاہیو ں نے جب آوازلگائی کہ ہم نے مسلم بن عوسجہ اسدی کو قتل کردیا تو شبث بن ربعی تمیمی نے اپنے بعض ان
ساتھیو ں سے کہا جو اس کے ہمراہ تھے : تمہاری مائی ں تمہارے غم میں بیٹھی ں ، تم نے اپنے ہاتھو ں سے خود کو قتل کیا ہے اور دوسرو ں کی خاطر خود کوذلیل کیا ہے۔تم اس پر خوش ہورہے ہو کہ مسلم بن عوسجہ کو قتل کردیا۔ قسم اس کی جس پر میں اسلام لایا بارہا میں نے مسلمانو ں کے د رمیان ان کی شخصیت کو بزرگ دیکھا ہے۔ آذر بایجان کے علاقۂ سلقظ میں خود میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے ٦ مشرکو ں کو مسلمین کے لشکر کے پہنچنے سے قبل قتل کیا تھا۔ ایسی ذات کو قتل کرکے تم لوگ خوش ہو رہے ہو ۔
الحملةالثالثة (تیسرا حملہ)
بائیں محاذ سے شمر بن ذی الجوشن نے حسینی سپاہ کے بائیں محاذپر حملہ کیا تو اصحاب حسینی نے دلیرانہ دفاع کیا اور نیزوں سے اس پر اور اس کے سپاہیوں پر حملہ کیا ۔ اسی گیرودار میں ہانی بن ثبیت حضرمی اور بکیر بن حی تمیمی نے عبداللہ بن عمیر کلبی پر حملہ کیا اور ان دونوں نے مل کر آپ کوشہید کر دیا ۔(آپ پر خداکی رحمت ہو)(١)
اصحاب حسین کے حملے اور نبرد آزمائی
اپنے دفاع میں اصحاب امام حسین علیہ السلام نے بڑا سخت جہاد کیا، ان کے سواروں نے جن کی تعداد٣٢ تھی(٢) حملہ شروع کیا ،وہ اہل کوفہ کے جس سوار پر حملہ کررہے تھے اسے رسوا کردے رہے تھے ۔
جب عزرہ بن قیس تمیمی (جو اہل کوفہ کی فوج کا سربراہ تھا) نے دیکھا کہ اس کے لشکر کو ہر طرف سے رسوا ہونا پڑہا ہے تو اس نے عبدالرحمن بن حصین کو عمر بن سعد کے پاس یہ کہہ کر بھیجاکہ کیا تم نہیں دیکھ
____________________
١۔اس خبر میں آیا ہے کہ یہ اصحاب حسین کے دوسرے شھید ہیں لیکن یہ ایک وہم ہے ۔
٢۔ شاید باقیماندہ سوارو ں کا تذکرہ ہو ورنہ مسعودی کا بیان تو یہ ہے کہ آنحضرت جب کربلا وارد ہوئے تو آپ کے اہل بیت اور انصار پانچ سو اسپ سوار تھے اور سو (١٠٠) پیدل ، پھر وہ کہتے ہیں : امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ ان میں سے شہید ہونے والے ٨٧ افراد ہیں ۔(مروج الذہب ،ج٣ ،ص ٨٨) سید بن طاوؤس نے لھوف میں امام باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ ٤٥ اسپ سوار تھے اور سو (١٠٠) پیدل ۔یہی تعداد سبط بن جوزی نے بھی ذکر کی ہے۔(ص ٢٤٦و ٢٥١) تعجب کی بات یہ ہے کہ سبط بن جوزی نے مسعودی سے نقل کیا ہے کہ ایک ہزار پیدل تھے جب کہ مروج الذھب میں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔
*آذر بایجان کے حدود میں شمال عراق او ر ایران کے مغربی علاقہ میں ایک پہاڑ ہے جیسا کہ قمقام ،ص ٤٩٢میں موجود ہے ۔
رہے ہو کہ ان چند لوگوں کے ہاتھوں ابھی سے ہمارے سواروں پر کیا گزررہی ہے، جلد از جلد پیدلوں اور تیر اندازوں کو روانہ کروکہ روزگار ہم پر سخت ہوچکا ہے۔عمر بن سعد نے شبث بن ربعی سے کہا : کیا تم ان کی طرف پیش قدمی نہیں کروگے ۔
شبث بن ربعی نے کہا؛ سبحان اللہ ! کیا جان بوجھ کر قبیلہ مضر کے بزرگوں اور سارے شہر کے بوڑھوں کو تیر اندازوں میں بھیجنا چاہتے ہو۔ کیا اس کام کے لئے میرے علاوہ کوئی اور نہیں ہے ؟ تو عمر بن سعد نے حصین بن تمیم کو پکارا اور اس کے ہمراہ زرہ پوشوں اور پانچ سو (٥٠٠) تیراندازوں کو روانہ کیا ۔وہ سب کے سب سپاہ حسینی کے مد مقابل آئے لیکن ابھی وہ سب کے سب حسین اور اصحاب حسین کے نزدیک بھی نہ آئے تھے کہ ان لوگوں نے تیر بارانی شروع کردی ابھی تھوڑی دیر بھی نہ گذری تھی کہ اصحاب حسینی نے گھوڑوں کو پے کردیا اور وہ سب کے سب پیدل ہوگئے۔
اسی گیر ودار میں حر بن یزید ریاحی کاگھوڑا بھی زخمی کر دیا گیا۔ تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ گھوڑا لرزنے لگا اور تڑپتے ہوئے زمین پر گر پڑا'' حر'' بڑی پھرتی سے اس گھوڑے سے نیچے آئے گویا شیر بیشۂ شجاعت کی طرح گھوڑے سے نیچے کو د پڑے درحالیکہ انکے ہاتھوں میں تلوار تھی اور وہ کہے جا رہے تھے :
ان تعقروا بی فانا ابن الحر
اشجع من ذ لبد هزبر(١)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اصحاب حسینی نے بڑا سخت جہاد کیا یہاں تک کہ سورج نصف النھارپر آگیا اور گھمسان کی لڑائی ہوتی رہی اور اس طرح ان لوگوں سے نبرد آزمارہے کہ دشمن ایک طرف کے علاوہ دوسری طرف سے ان پر حملہ آور نہ ہوسکے ؛کیونکہ ان کے خیمے ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور نزدیک نزدیک تھے ۔
____________________
١۔ ہزبر فارسی کا لفظ ہے جس کا فارسی تلفظ ہزبر ہے جو شیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی اگر تم نے میرا گھوڑا پے کردیا تو کیا ہوا میں فرزند حر ہو ں ۔ میں شیر بیشہء شجاعت سے بھی زیادہ شجاع ہو ں ۔محترم قاری پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ اس شعر میں '' انا ابن حر'' کہا جارہا ہے جب کہ خود حر اس شعر کے پڑھنے والے ہیں ۔اس مطلب پر نہ تو ابو مخنف نے ،نہ ہی کلبی نے ،نہ ہی طبری نے اور نہ ہی کسی دوسرے نے کوئی بھی حاشیہ لگایا ۔ ممکن ہے کہ جس وقت کہاہو اس وقت ابن حروہا ں موجود ہو ،یعنی توبہ کے وقت اور امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہادت کے وقت اور ممکن ہے کہ حر کے دادا یا خاندان کے بزرگ کا نام حر ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ نام کے بجائے معنی اور صفت کاارادہ کیا ہو۔ شیخ مفید نے بھی اس رجز کا ذکر کیا ہے لیکن کوئی حاشیہ نہیں لگایا ہے۔ (ارشاد ،ص ٢٣٧)
جب عمر سعد نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے اپنے پیدل سپاہیوں کو بھیجا تاکہ ہرچہار جانب سے خیموں کی طنابوں کو اکھاڑ کر ویران کردیں تاکہ حسینی سپاہ کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا جائے لیکن ادھر اصحاب حسینی تین تین چار چارکرکے گروہ میں تقسیم ہوگئے اور خیموں کی طرف بڑھنے والوں پر حملہ کرکے ان کی صفوں کو پراکندہ کرنے لگے، اس کے بعد انھیں قتل کرنے لگے ، تیر چلانے لگے اور ان کے گھو ڑوں کو پے کرنے لگے ۔
اس صورت حال کو دیکھ کر عمر بن سعد نے کہا : انھیں آگ لگا کر جلادو ! تو امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : انھیں چھوڑدو انھیں جلالینے دو ؛کیونکہ اگر یہ خیموں کو جلا بھی لیتے ہیں تب بھی ادھر سے تم پر حملہ نہیں کر پائیں گے اور ویسا ہی ہوا سپاہ اموی ایک طرف کے علاوہ دوسری طرف سے جنگ نہ کر پائی ۔
الحملة الرابعہ (چوتھا حملہ)
اس نا برابر جنگ میں ایک بار پھر بائیں محاذسے شمر بن ذی الجوشن نے امام حسین علیہ السلام کے خیمے پر ایک نیزہ پھینکا اور پکارا میرے پاس آگ لاؤ تا کہ میں اس گھرکو گھر والوں کے ساتھ آگ لگا دوں ، یہ سن کر مخدرات آہ و فریاد کرنے لگیں اور خیمہ سے باہر نکلنے لگیں ۔
ادھر امام حسین علیہ السلام نے آواز دی :''یا بن ذ الجوشن ! أنت تدعوبالنار لتحرق بیت علیٰ أهل ؟ حرقک اللّٰه بالنار ''اے ذی الجوشن کے بیٹے ! تو آگ منگوارہاہے تاکہ میرے گھر کو میرے گھر والوں کے ساتھ جلادے ؟ خدا تجھ کو جہنم کی آگ میں جلائے۔(١) حمید بن مسلم ازدی کا بیان ہے کہ میں نے شمر سے کہا : سبحان اللّٰہ! اس میں صلاح وخیر نہیں ہے کہ تم اپنے لئے دونوں صفتوں کو یکجا کرلو : عذاب خدا کے بھی مستحق ہو اور بچوں اور خواتین کو بھی قتل کر دو، خدا کی قسم ان کے مردوں کو قتل کرنا ہی تمہارے امیر کوخوش کردے گا ۔(٢) اسی اثناء میں شبث بن ربعی تمیمی ،شمر کے پاس آیا
____________________
١۔ طبری ،ج ٥ ، ص ٢٤٧ ، ابو مخنف کابیان ہے : مجھ سے'' نمیر بن وعلة'' نے بیان کیا ہے کہ ایوب مشرخ خیوانی اس روایت کو بیان کرتا تھا۔
٢۔حمید کہتا ہے کہ شمر نے پوچھا :تو کون ہے؟ تو میں ڈر گیا کہ اگر اس نے مجھے پہچان لیا توبادشاہ کے پاس مجھے نقصان پہنچائے گا لہٰذا میں نے کہہ دیا : میں نہیں بتاؤ ں گا کہ میں کون ہو ں ۔
اور بولا : میں نے گفتگو میں تجھ جیسا بد زبان انسان نہیں دیکھااور تیرے موقف سے قبیح ترین کسی کا موقف نہیں پایا ۔ ان تمام شور و غل کے بعد کیا تو عورتوں کو ڈرانے والابن گیا ہے ۔
عین اسی موقع پر زہیر بن قین اپنے دس(١٠) ساتھیوں کے ہمراہ شمر اوراسکے لشکر پرٹوٹ پڑے اور بڑا سخت حملہ کرکے انھیں خیموں سے دور کر دیا یہاں تک کہ وہ لوگ عقب نشینی پر مجبور ہوگئے ۔
پھر کیاتھا ٹڈی دل لشکر نے حسینی لشکر پر زبردست حملہ کردیا جس کانتیجہ یہ ہواکہ اصحاب حسینی برگ خزاں کی طرح یکے بعد دیگرے جام شہا دت نوش فرمانے لگے۔ اس سپاہ کے ایک یادو سپاہی بھی شہید ہوتے تو واضح ہوجاتا تھالیکن وہ لوگ چونکہ کثیر تعداد میں تھے اس لئے پتہ نہیں چل پاتا تھا کہ ان میں سے کتنے قتل ہوئے ۔
نماز ظہر کی آمادگی
جب ابو ثمامہ عمر و بن عبداللہ صائدی(١) نے یہ منظر دیکھا توامام حسین علیہ السلام سے کہا:'' یا أبا عبدالله !نفس لک الفدا ء انّ أری هٰؤلاء قد اقتربوا منک، ولا واللّٰه لا تقتل حتی أقتل دونک انشاء اللّٰه ،واحب أن ألقی رب وقد صلیت هٰذه الصلاةالتی دنا وقتها'' اے ابوعبداللہ! میری جان آپ پر نثار ہو ! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ یہ دشمن آپ سے قریب ترہوتے جارہے ہیں ، نہیں خدا کی قسم، آپ اس وقت تک قتل نہیں کئے جاسکتے جب تک انشاء اللہ میں آپ کے قدموں میں قربان نہ ہوجاؤں ، بس میں یہ چاہتا ہوں کہ میں خدا سے اس حا ل میں ملاقات کروں کہ یہ نماز جس کا وقت نزدیک آچکا ہے آپ کے ہمراہ ادا کر لوں ۔
____________________
١۔آپ کا تعلق قبیلہ ہمدان سے ہے۔ آپ کوفہ میں ان اموال کی جمع آوری کررہے تھے جو شیعہ حضرات جناب مسلم کو مدد کے طور پردے رہے تھے اور جناب مسلم ہی کے حکم سے اس سے اسلحے خرید رہے تھے۔(طبری ،ج٥ ،ص ٣٦٤) اپنے قیام کے وقت جناب مسلم نے آپ کو تمیم اور ہمدان کا سربراہ قرار دیا تھا۔(طبری، ج ٥، ص٣٦٩) آپ ہی وہ ہیں جس نے کربلا میں عمر بن سعد کے پیغام رسا ں کو امام حسین علیہ السلام کو پہچنوایا تھا کہ یہ عزرہ بن احمسی ہے اور عرض کیا تھا کہ آپ کے پاس اہل زمین کابد ترین انسان آرہاہے جو خون بہانے میں اور دھوکہ سے قتل کرنے میں بڑا جری ہے اور آپ ہی نے اسے امام حسین علیہ السلام تک آنے سے اس خوف میں روکا تھا کہ کہیں وہ امام علیہ ا لسلام پر حملہ نہ کردے۔(طبری، ج٥ ،ص٤١٠)
یہ سن کر امام علیہ السلام نے اپنا سر اٹھایا اور پھر فرمایا :'' ذکرت الصلاة ، جعلک اللّٰه من المصلین الذاکرین ! نعم هذا أوّل وقتها'' تم نے نماز کو یاد کیا ، خدا تم کوصاحبان ذکراور نمازگزاروں میں قرار دے !ہاں یہ نماز کا اوّل وقت ہے ۔
پھر فرمایا: ''سلوھم أن یکفوا عنا حتی نصل ''ان سے سوال کرو کہ ہم سے دست بردار ہوجائیں تا کہ ہم نماز ادا کرلیں ۔ یہ سن کر حصین بن تمیم نے کہا : ''انھا لا تقبل! ''تمہاری نماز قبول نہیں ہے !یہ سنکر حبیب بن مظاہر نے فوراً جواب دیا :''زعمت ان الصلاة من آل رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه (وآله وسلم) لا تقبل وتقبل منک یا حمار؟'' اے گدھے توگمان کرتا ہے کہ آل رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز قبول نہیں ہوگی اور تیری نماز قبول ہوجائے گی ؟
حبیب بن مظاہر کی شہادت(١)
اسی گیرودار میں حصین بن تمیم تمیمی نے حسینی سپاہیوں پر حملہ کردیا۔ادھر سے حبیب بن مظاہر اس کے سامنے آئے اور اس کے گھوڑے کے چہرے پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ وہ اچھل پڑا اور وہ گھوڑے سے نیچے گر پڑا تو اس کے ساتھیوں نے حملہ کرکے اسے نجات دلائی ۔
____________________
١۔ آپ کا شمار کوفہ کے ان زعمائے شیعہ میں ہوتا ہے جنہو ں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھاتھا۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٣٥٢) آپ نے مسلم بن عقیل کو امام علیہ السلام کے لئے یہ کہہ کر جواب دیا تھا : قسم ہے اس خدا کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں بھی وہی کہتا ہو ں جو انھو ں نے کہا اور عابس بن شبیب شاکری کی کی طرف اشارہ کیاتھا (طبری ،ج٥، ص ٣٥٥) کربلا میں عمر بن سعد کے پیغام رسا ں قرہ بن قیس حنظلی تمیمی سے آپ نے کہا تھا : واے ہو تجھ پر اے قرہ بن قیس ! تو ظالمو ں کی طرف کیو ں کر پلٹ رہاہے، تو اس ذات کی مدد کر جس کے آباء واجداد کی وجہ سے اللہ نے تجھے اور ہمیں دونو ں کو کرامت عطا کی ہے۔(طبری، ج٥،ص ٤١١) جب نو محرم کو شام میں سپاہ اموی عمر بن سعد کی سالاری میں امام حسین علیہ السلام پر حملہ آور ہوئی تھی تو عباس بن علی علیھماالسلام بیس (٢٠)سوارو ں کے ہمراہ ان لوگو ں کے پاس گئے جن بیس میں جناب حبیب بھی تھے۔ حبیب نے اس وقت فرمایاتھا : خدا کی قسم کل قیامت میں وہ قوم بہت بری ہوگی جس نے یہ قدم اٹھایا ہے کہ ذریت و عترت واہل بیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کردیا جو اس شہر ود یار کے بہت عبادت گزار ، سحر خیزی میں کوشا ں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے ہیں ۔(طبری، ج ٥، ص ٤٢٢) جب آپ مسلم بن عوسجہ کے زخمی جسم پر آئے اور مسلم نے امام علیہ السلام کی نصرت کی وصیت کی تو آپ نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم میں اسے انجام دو ں گا ۔(طبری ،ج٥، ص ٤٣٦) امام حسین علیہ السلام نے آپ کو بائی ں محاذ کا سالار بنایا تھا ۔(طبری، ج٥،ص ٤٢٢) حصین بن تمیم آپ کے قتل پر فخر و مباہات کررہا تھا اور آپ کے سر کو گھوڑے کے سینے سے لٹکا دیا تھا۔ آپ کے بیٹے قاسم بن حبیب نے قصاص کے طور پر آپ کے قاتل بدیل بن صریم تمیمی کو قتل کردیا ،یہ دونو ں با جمیرا کی جنگ میں مصعب بن زبیر کی فوج میں تھے ۔
حبیب دلیرانہ انداز میں میدان کار زار میں یہ اشعار پڑھ رہے تھے :
أنا حبیب و أب مظاهر
فارس هیجاء وحرب تسعر
أنتم أعدّ عدّ ة و أکثر
و نحن أوفی منکم وأصبر
و نحن أعلی حجة وأظهر
حقاً و أتقیٰ منکم و أعذر
میں حبیب ہوں اورمیرے باپ مظاہر ہیں ۔ جب آتش جنگ بر افروختہ ہوتی ہے تو ہم بڑے بہارد اورمرد میدان ہیں ۔ تم اگر چہ تعداد میں بہت زیادہ ہو لیکن وفاداری میں ہم تم سے بہت آگے ہیں اور مصیبتوں میں بہت صابر ہیں ۔ہم حجت و برہان میں سربلند ،حق و حقیقت میں واضح تر اورتقوا کے میدان میں تم سے بہت بہترہیں اور ہم نے تم پر حجت تمام کردی۔پھر فرمایا :
أقسم لو کنا لکم أعداد
أو شطرکم ولیتم اکتاداً
یا شرقوم حسباًو آدا
خدا کی قسم اگر ہم تعداد میں تمہارے برابر ہوتے یا تم سے کچھ کم ہوتے توپھر دیکھتے کہ تمہاری جماعتوں کو کتنے پیچھے کردیتے ،اے حسب ونسب کے اعتبار سے بدترین لوگو!
اس کے بعد آپ نے بڑا سخت جہاد کیا۔جنگ کے دوران بنی تمیم کے ایک شخص بدیل بن صریم نے آپ پر حملہ کیا اور ایک نیزہ مار ا جس سے آپ زمین پر گر پڑے اور چاہا کہ اٹھیں لیکن فوراً حصین بن تمیم نے آپ کے سر پرتلوارسے وار کردیا۔ آپ زمین پر گرپڑے، تمیمی نیچے اترا اوراس نے آپ کاسر قلم کردیا۔(١) و(٢)
____________________
١۔ابو مخنف نقل کرتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے ۔
٢۔ جب بدیل نے سر کاٹ لیا تو حصین اس سے بولا : میں بھی اس کے قتل میں شریک ہو ں ۔ بدیل بولا : خدا کی قسم میرے علاوہ کسی دوسرے نے اسے قتل نہیں کیا ہے تو حصین نے کہا اچھا یہ سر مجھے دے دو تاکہ میں اسے گھوڑے کی گردن میں لٹکادو ں تاکہ لوگ اسے دیکھ لی ں اور جان لی ں کہ میں بھی اس کے قتل میں شریک ہو ں پھر تم اسے لے کر عبیداللہ بن زیاد کے پاس چلے جانا۔ وہ جو تمہیں اس کے قتل پر عطایا اور بخشش سے نوازے گا مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے لیکن بدیل نے اس سے انکار کیا تو پھر ان کی قوم نے اس مسئلہ میں ان دونو ں کے درمیان صلح کرائی جس کے نتیجے میں اس نے حبیب بن مظاہر کا سر حصین بن تمیم کو سونپ دیا اور حصین
اپنے گھوڑے کی گردن میں جناب حبیب کا سر لٹکائے پوری فوج میں چکر لگانے لگا پھر اس کے بعد یہ سر بدیل کو لوٹا دیا جب یہ لوگ کوفہ لوٹے تو بدیل نے اپنے گھوڑے کے سینے سے حبیب کے سرکو لٹکا دیا اوراسی حال میں ابن زیاد کے محل میں حضوری دی ۔
قاسم بن حبیب جوابھی جوان تھے انہو ں نے یہ منظر دیکھا تواس سوار کے ساتھ ساتھ ہوگئے اوراسے کسی طرح نہیں چھوڑرہے تھے تو بدیل مشکوک ہوگیااور بولا : اے بچے تجھے کیا ہوگیا ہے کہ میرا پیچھا پکڑے ہے ؟ قاسم نے کہا : یہ سر جو تمہارے ساتھ ہے یہ میرے بابا کا سر ہے۔ کیا تم مجھ کو عطا کروگے تاکہ میں اسے دفن کردو ں ؟ بدیل: اے بچے امیر اس سے راضی نہ ہوگا کہ یہ سر دفن کیا جائے۔ میں تو یہ چاہتا ہو ں کہ ان کے قتل پر امیر مجھے اس کی اچھی پاداش دے۔اس نوجوان بچے نے جواب دیا : لیکن خدا اس پر تمہیں بہت برا عذاب دے گا ،خدا کی قسم تم نے اپنی قوم کے بہترین شخص کو قتل کردیا اور پھر وہ بچہ رونے لگا ۔ یہ واقعہ گزر گیا اور روزگار اسی طرح گزرتے رہے یہا ں تک کہ جب مصعب بن زبیر نے'' با جمیرا'' میں جنگ شروع کی تو قاسم بن حبیب بھی اس کے لشکر میں داخل ہوگئے تو وہا ں آپ نے اپنے باپ کے قاتل کو ایک خیمے میں دیکھا۔ جب سورج بالکل نصف النہار پر تھا آپ اس کے خیمے میں داخل ہوئے وہ سورہا تھا تو آپ نے تلوار سے اس پر وارکر کے اس کو قتل کردیا۔ (طبری ،ج٥،ص٤٤٠)
جب حبیب بن مظاہر شہید ہوگئے تو حسین علیہ السلام کے دل پربڑا دھکا لگا؛ آپ نے فرمایا : ''أحتسب نفس وحماة أصحاب'' خود کو اور اپنی حمایت کرنے والے اصحاب کے حساب کو خدا کے حوالے کرتا ہوں اور وہیں ذخیرہ قرار دیتاہوں ۔
حر بن یزید ریاحی کی شہادت
پھر حر رجز پڑھتے ہوئے سامنے آئے
ان أنا الحر ومأ وی الضیف
أضرب ف أعراضهم با لسیف
عن خیر من حلّ منیٰ والخیف
أضربهم ولا أریٰ من حیف
جان لو کہ میں حر ہوں اور مہمانوں کو پناہ دینے والا ہوں ، میں اس مہمان کی آبرو کی حفاظت کے لئے تلوار سے وار کروں گا، یہ وہ ہیں جوحل و منی و خیف سے بہتر ہیں ، میں ان لوگوں پر حملہ کروں گااور اسے ذرہ برابر بے عدالتی نہیں سمجھتا۔آپ یہ اشعار بھی پڑھ رہے تھے :
آلیت لا أقتل حتی أقتلا
ولن أصاب الیوم الا مقبلاً
أضربهم با لسیف ضرباً مقصلا
لا ناکلا عنهم ولا مهلّلا
میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اس وقت تک نہیں قتل ہوں گا جب تک کہ دشمنوں کو قتل نہ کرلوں اور آج کوئی زخم مجھے نہیں لگے گا مگر یہ کہ سامنے سے ،میں ان لوگوں پر تلوار کا بڑا زبردست وار کروں گا جس کا کام فقط کاٹنا ہوگا نہ تو میں اس سے باز آؤں گا نہ پیچھے ہٹوں گا اورنہ مہلت دوں گا ۔
حر کا دلاورانہ جہاد اپنے اوج و شباب پر تھا کہ زہیر بن قین بھی میدان کارزار میں اتر آئے اور دونوں نے مل کر گھمسان کی جنگ کی۔ جب ان میں سے ایک قلب لشکر پر حملہ کرتا اور وہ دشمنوں کے نرغے میں گھر جاتا تو دوسرا شعلہ جنگ کو برافروختہ کرکے دشمنوں پر عرصہ حیات تنگ کردیتا یہاں تک کہ اپنے ساتھی کو نجات دلادیتا ۔ یہ سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا اور جنگ کا بازارگرم رہا کہ یکایک پیدلوں کی فوج میں سے ایک نے حر بن یزید پر سخت حملہ کردیا جس کے نتیجے میں آپ کی شہادت واقع ہوگئی۔ (آپ پر خدا کادرود و سلام ہو!)
نماز ظہر
پھر امام حسین علیہ السلام نے ان لوگوں کے ہمراہ نماز خوف ادا کی(١) درحالیکہ سعید بن عبداللہ حنفی پیش قدم ہوکر امام علیہ السلام کے آگے آگئے لیکن دشمنوں نے آپ کو تیر کے نشانے پر لے لیا اور ہر دائیں بائیں سے تیر آنے لگے۔ تیروں کا یہ مینہ مسلسل برستا رہا یہاں تک کہ آپ زمین پر گر کر شہید ہوگئے۔ (رحمة اللہ علیہ)
زہیر بن قین کی شہادت
سعید بن عبداللہ حنفی کی شہادت کے بعد زہیر میدان میں آئے ۔آپ نکلتے وقت امام حسین کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہے تھے :
____________________
١۔ شاید یہ نماز قصر ہو نہ کہ نماز خوف ، شیخ مفید نے اپنی روایت میں فقط نماز کا تذکرہ کیا۔(ارشاد ،ص ٢٣٨ ، تذکرہ ، ص ٥٢ ٢)
أقدم هدیت هادیاً مهدیاً
فا لیوم تلقی جدک النبيّا
وحسنا و المرتضی عليّاً
وذا الجناحین الفتی الکمیا
واسد اللّٰه الشهید الحیا
اے راہبر ہدایت اورہادی برحق آگے بڑھیئے آج آپ اپنے جد نبی ، بھائی حسن ، اور بابا علی مرتضی سے ملاقات کریں گے۔آج آپ کی ملاقات جعفر طیار سے ہوگی جنہیں دو پر د یئے گئے ہیں اور شیر خدا و شہید زندہ حمزہ کا دیدار ہوگا ۔
پھر آپ نے بڑا سخت جہاد کیا وقت جہاد آپ یہی کہے رہے تھے :
أنا زهیر وأنا بن القین
أذودهم با لسیف عن حسین(١)
میں زہیر ہوں ، میں قین کا فرزند ہوں ،میں تلوار سے ان کے مقابلہ میں حسین کا دفاع کروں گا؛ ناگہاں کثیر بن عبداللہ شعبی اور مھاجر بن اوس نے مل کر ایک سخت حملہ میں آپ کو شہید کر ڈالا۔ (رحمة اللہ علیہ)
نافع بن ہلال جملی کی شہادت(٢)
آپ نے اپنے ہر تیر پر اپنا نام لکھ لیا تھا اور نام لکھے تیر کو پھینکا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے: ''أناا لجملی'' میں جملی ہوں '' أناعلیٰ دین علی'' میں علی علیہ السلام کے دین پر قائم ہوں ۔عمربن سعد کے لشکر میں زخمیوں کو چھوڑ کر آپ نے ١٢ لوگوں کو قتل کیا لیکن پھر آپ خود مجروح ہوگئے اور آپ کے دونوں
____________________
١۔ سبط بن جوزی نے اس کی روایت کی ہے۔(تذکرہ، ص ٢٥٣، طبع نجف)
٢۔آپ وہی ہیں جس نے کوفہ کے راستہ میں اپنا گھوڑا طرماح بن عدی کے ہاتھو ں امام علیہ السلام کے پاس روانہ کیا تھا۔(ج ٥، ص ٤٠٥) جب امام اور اصحاب امام علیہ السلام پر پیاس کی شدت ہوئی تو امام نے عباس بن علی علیہما السلام کو بلایا اورآ پ کو ٣٠ سوارو ں اور ٢٠ پیدلو ں کے ہمراہ روانہ کیا، ان کے آگے نافع بن ہلال موجود تھے تو عمر وبن حجاج نے آپ کو مرحبا کہتے ہوئے کہا : پانی پی لو، تمہیں پانی پینا مبارک ہو تو آپ نے کہا نہیں ، خدا کی قسم میں اس میں سے ایک قطرہ بھی نہیں پی سکتا جب کہ حسین ابھی پیاسے ہیں ۔ (طبر،ی ج٥، ص ٤١٢) اور جب علی بن قرظہ ، عمر بن قرظہ کا بھائی حسین علیہ السلام پر حملہ آور ہوا تو نافع بن ہلال مرادی نے اس پر اعتراض کیا اور اس کو ایک ایسا نیزہ مارا کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا ۔
بازوٹوٹ گئے تو آپ کو شمر بن ذی الجوشن اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسیر کرتے ہوئے کھینچتا ہوا عمربن سعد کے پاس لے کر آیا جب کہ آپ کی ڈاڑھی سے خون جاری تھا۔ عمر بن سعد نے آپ سے کہا : وائے ہو تجھ پر اے نافع ! کس چیز نے تمہیں برانگیختہ کیا کہ تم اپنے ساتھ ایسا سلوک کرلو تو نافع بن ہلال جملی نے جواب دیا : میرے رب کو معلوم ہے کہ میرا ارادہ کیا ہے، خدا کی قسم میں نے تمہارے ١٢لوگوں کو قتل کیا ہے، یہ میرے ہاتھوں مجروح اور زخمی ہونے والوں کے علاوہ کی تعداد ہے۔میں اس کوشش پر اپنی ملامت نہیں کرتا ۔اگر میرے بازواور میری کلائی سلامت رہتی تو تم لوگ مجھے اسیر نہیں کرپاتے ۔
شمرنے عمر سعد سے کہا : اللہ آپ کو صحیح و سالم رکھے، اسے قتل کردیجئے ۔
عمربن سعدنے کہا : اگر تم چاہتے ہو تو قتل کردو، پس شمرنے فوراً نیام سے تلوار نکال لی۔
نافع نے اس سے کہا : خدا کی قسم اگر تو مسلمان ہوتا تو تیرے اوپر یہ بڑا سخت ہوتا کہ تو خدا سے اس حال میں ملاقات کرے کہ ہمارا خون تیری گردن پرہو۔خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہماری شہادت اپنی بدترین مخلوق کے ہاتھوں قرار دی۔ یہ سن کر شمر نے آپ کو فوراً قتل کردیا۔(آپ پر خدا کا درود و سلام ہو)
غفاری برادران
جب اصحاب امام حسین علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ آپ کی حفاظت کر سکیں تو ان لوگوں نے آپ کے قدموں میں جان دینے کا عمل شروع کردیا اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے لگے۔اسی شہادت کے میدان میں سبقت کے لئے عزرہ غفاری کے دو فرزند عبداللہ اور عبدالرحمن آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
''یا أباعبداللّٰه! علیک السلام، حازنا العدوّ الیک ،فا حببنا أن نُقتل بین یدیک و ندفع عنک'' اے ابو عبداللہ! آپ پر سلام ہو ،دشمن کی فوج نے آپ کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور ہم سب اس کے نرغے میں ہیں لہٰذا ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے سامنے ان سے جنگ کریں تاکہ آپ کی حفاظت کر سکیں اور آپ کا دفاع کریں ۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: ''مرحباً بکما ادنوامنی'' تم دونوں قابل قدر ہو، میرے نزدیک آؤ تو وہ دونوں امام علیہ السلام کے قریب آئے اور اس کے بعد میدان جنگ کی طرف روانہ ہوگئے۔ ان میں سے ایک یہ کہہ رہا تھا :
قد علمت حقا بنو غفار
وخندف بعد بنی نزار
لنضر بنّ معشر الفجار
بکل عضب صارم بتّار
یا قوم ذودوا عن بن الأحرار
بالمشرف والقناالخطّار
بنی غفار بخوبی جانتے ہیں ، نیز نسل خندف اور خاندان نزار آگاہ ہوجائیں کہ ہم گروہ فجار کو شمشیر براں سے ضرور ماریں گے۔ اے لوگو! فرزندان حریت وآزادی کی حمایت میں اپنے نیزوں اور شمشیروں سے دفا ع کرو۔
ا س کے بعد ان دونوں نے شدید جنگ کی یہاں تک کہ شھید ہوگئے ۔(ان پراللہ کی رحمت ہو)
قبیلہ جابری کے دو جوان
اس کے بعد قبیلۂ جابری کے دوجوان حارث بن سُریع اور مالک بن عبد بن سریع جو ایک دوسرے کے چچا زاد اورمادری بھائی تھے امام حسین علیہ السلام کے پاس آئے اور آپ سے نزدیک تر ہوئے در حالیکہ وہ گریہ کر رہے تھے ۔امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: ''أی ابن اخ مایبکیکما ؟ فواللّٰہ أنّ لأرجوأن تکونا قریر عین عن ساعة '' اے جان برادر! کس چیزنے تم دونوں کو رلادیا؟ میں امید کرتا ہوں کہ تھوڑی ہی دیر میں تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈک ملے گی ۔
ان دونوں نے جواب دیا : خدا ہم کو آپ پر نثار کرے! نہیں خدا کی قسم ہم لوگ اپنے آپ پر آنسو نہیں بہارہے ہیں ۔ ہم لوگ تو آپ پر گریہ کناں ہیں کہ آپ چاروں طرف سے گھیر لئے گئے ہیں اور ہمارے پاس آپ کی حفاظت کے لئے کوئی قدرت نہیں ہے۔یہ سن کر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :''فجزاکمااللّٰه یا ابن اخ بوجدکما من ذالک و مواساتکما ایا بأنفسکما أحسن جزاء المتقین '' اے جان برادر !خدا تم دونوں کو میرے ساتھ اس مواسات کی بہترین جزادے ،ایسی جزا و پاداش جو متقین اور صاحب تقویٰ افراد کو دیتا ہے ۔
پھر یہ جابری جوان امام حسین علیہ السلام کے پاس آئے اور آپ کی طرف ملتفت ہوکر عرض کیا : ''السلام علیک یا بن رسول اللّٰہ''اے فرزند رسول خدا آپ پر سلام ہو! امام علیہ السلام نے جواب دیا: ''علیکماالسلام ورحمة اللّٰہ وبرکاتہ'' اس کے بعد ان دونوں نے جم کرجہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔(ان دونوں پر خدا کی رحمت ہو)
حنظلہ بن اسعد شبامی کی شہادت
اس کے بعد حنظلہ بن اسعد شبامی آئے اور امام حسین علیہ السلام کے سامنے کھڑے ہو کر با آواز بلند کہنے لگے:''يَاْقَوْمِ اِنِّیْ اَخَاْفُ عَلَيْکُمْ مِثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَاْبِ مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَعَادٍ وَ ثَمُوْدَ وَالَّذِيْنَ مِنْ بَعْدِهِمْ ( وَمَا اللّهُ يُرِیدُْ ظُلْماً لِلْعِبَادِ وَ يَا قَوْمِ اِنِّی اَخَافُ عَلَيْکُمْ يَوْمَ التَّنَادِ يَوْمَ تُوَلّْوْنَ مُدْبِرِيْنَ مَالَکُمْ مِنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللّهُ فَمَالَه مِنْ هَاد ) ٍ (١) ( یا قوم لا تقتلوا حسینا فیسحتکم اللّٰه بعذاب وَقَدْ خَاْبَ مَنِ افْتَرَی'' ) ٰ (٢)
اے میری قوم کے لوگو! مجھے تمہاری نسبت اس دن کا اندیشہ ہے جو بہت سی قوموں کو نصیب ہوا۔(کہیں تمہارا بھی ایسا ہی حال نہ ہو) جیسا نوح، عاد ،ثمود اور ان کے بعد آنے والی قوموں کا حال ہوا، اور خدا تو اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ، اے میری قوم مجھے تمہاری نسبت قیامت کے دن کا اندیشہ ہے جس دن تم پیٹھ پھیر کر (جہنم کی طرف) چل کھڑے ہوگے تو خدا (کے عذاب) سے تم کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جسے خدا گمراہی میں چھوڑ دے اس کا کوئی رو براہ کرنے والا نہیں ۔اے قوم حسین کو قتل نہ کروورنہ خدا تم پرعذاب نازل کرے گا اور یاد رکھو جس نے افترا پردازی کی وہ نامراد رہا ۔
حنظلہ کے اس قرآنی سخن کے بعد امام حسین علیہ السلام نے آپ سے فرمایا :''یا بن اسعد ! رحمک اللّٰه ! انهم قد استوجبو ا العذاب حیث رد وا علیک ما دعوتهم الیه من الحق ونهضوا الیک لیستبیحوک و أصحابک فکیف بهم الأن وقد قتلوا أخوانک
____________________
١ ۔سورہ غافر ٣١ و ٣٢
٢۔ سورہ طہ ٦١
الصالحین '' اے فرزنداسعد!خدا تم پر رحمت نازل کرے ان گمراہوں نے جب سے تمہاری دعوت حق کو ٹھکرادیا اورتمہارے ساتھیوں کی خونریزی کی اسی وقت سے در د ناک عذاب کے مستحق ہوگئے ۔ذراتصور کرو کہ اب ان کا حال کیاہوگا جب کہ ان لوگوں نے تمہارے نیک اورصالح بھائیوں کو قتل کردیاہے!
ابن سعد نے کہاآپ نے سچ فر مایا،میں آپ پر نثار ہو جاؤں ،آپ مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں اور اس کے زیادہ حقدارہیں ۔کیامیں آخرت کی طرف نہ جاؤں اور اپنے بھائیوں سے ملحق نہ ہوجاؤں ؟
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:''رح الی خیر من الدنیا ومافیها والی ملک لایبلی'' کیوں نہیں ،جاؤ اس چیز کی طرف جو دنیااور اس کی سار ی چیزوں سے بہتر ہے اوراس مملکت کی طرف روانہ ہوجاؤ جوکبھی فنا ہونے والی نہیں ہے ۔
ابن اسعد نے کہا:''السلام علیک یااباعبداللّٰه ،صلی اللّٰه علیک وعلی أهل بیتک وعرف بینناو بینک '' سلام ہوآپ پر اے ابو عبداللہ،آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر خدا کا درود و سلام ہو نیزوہ ہمارے اور آپ کے درمیان آشنائی قائم فرمائے ۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : آمین آمین ۔
اس کے بعد حنظلہ شبامی میدان قتال میں آئے اور خوب جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔(رحمة اللہ علیہ)
عا بس بن ابی شبیب شاکری اور ان کے غلام شوذب کی شہادت(١)
اس کے بعد عابس بن ابی شبیب شاکری آئے، ان کے ہمراہ ان کے باپ شاکر کے غلام شوذب بھی تھے۔آپ نے اس سے پوچھا :''یا شوذب ! مافی نفسک أن تصنع؟ '' اے شوذب تیرے دل میں کیا ہے ؟ تو کیا کرنا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا : میرا ارادہ تو یہی ہے کہ آپ کے ہمراہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسہ کی خدمت میں جنگ کروں یہاں تک کہ قتل ہوجاؤں ۔
یہ سن کر شوذب آگے بڑھے اورامام حسین علیہ السلام کو سلام کیا پھر میدان میں آئے اور خوب جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے ۔(ان پرخدا کی رحمت ہو)
پھر عابس بن ابی شبیب شاکری نے کہا :''یاأباعبداللّٰه ! أما واللّٰه ما أمسی علی وجه الأرض قریب ولا بعید أعزعلّ وأحب الیّ منک ولو قدرت علی أن أدفع عنک الضیم والقتل بشیء أعز علّ من نفس و دم لعملته، السلام علیک یاأباعبداللّٰه اشهداللّٰه انی علی هدیک و هد أبیک''
اے ابو عبداللہ ! خدا کی قسم روئے زمین پر کوئی نزدیکی اور دوری رشتہ دار آپ سے زیادہ مجھے عزیز و محبوب نہیں ہے۔ اگر میں اس پر قادر ہوتا کہ اس ظلم و دباؤ اور قتل کو کسی ایسی چیز کے ذریعے آپ سے
____________________
١۔ یہ وہی عابس ہیں جو کوفہ میں جناب مسلم بن عقیل کے زبانی امام حسین علیہ السلام کا خط پڑھنے کے بعد اٹھے تھے اور حمد و ثنائے الٰہی کے بعد کہا تھا : اما بعد ، میں آپ کو تما م لوگو ں کے بارے میں کوئی خبر نہیں دے رہا ہو ں ،نہ ہی یہ جانتا ہو ں کہ ان کے عابس نے کہا : تم سے یہی توقع تھی، اب اگر تم جنگ سے منصرف نہیں ہونا چاہتے ہوتو تم آگے بڑھ کر ابوعبداللہ کے سامنے جاؤ تاکہ وہ تمہیں اپنے دیگر اصحاب کی طرح دیکھی ں اورتمہارا حساب ان کی طرح خدا کے حوالے کردی ں اور میں بھی تمہیں خدا اور ان کے حساب میں ڈال دو ں کیو ں کہ اگر اس وقت میرے پاس کوئی اور ہو تاجو تم سے زیادہ مجھ سے قریب ہوتا تو مجھے اس بات کی خوشی ہوتی کہ میں اپنے سامنے اسے میدان جنگ میں بھیجو ں تاکہ وہ میرے حساب میں آئے؛ کیونکہ آج کادن اسی کاسزاوار ہے کہ ہم اپنی پوری قدرت سے اجرو پاداش طلب کری ں اس لئے کہ آج کے بعد کوئی عمل نہیں ہے، بس حساب ہی حساب ہے ۔
دلو ں میں کیا ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے آپ کو دھوکہ میں رکھنا چاہتا ہو ں ۔ خدا کی قسم میں وہ کہہ رہا ہو ں جو میرے دل میں ہے۔ خدا کی قسم جب آپ دعوت دی ں گے اور بلائی ں گے تو میں اس کو اجابت کرو ں گااور لبیک کہو ں گا اور آپ کے ہمراہ آپ کے دشمنو ں سے لڑو ں گا اور آپ کے دفاع میں انھی ں اپنی تلوار سے مارو ں گا یہا ں تک کہ میں خدا سے ملاقات کرلو ں اور اس کے عوض میں میرا کوئی ارادہ نہیں ہے مگر وہ کہ جو اللہ کے پاس ہے۔اس پر حبیب بن مظاہر نے کہا تھا : اللہ تم پر رحمت نازل کرے تمہارے دل میں جو تھا اسے مختصر لفظو ں میں تم نے ادا کردیا۔ (. طبری، ج٥،ص ٣٥٥) جب مسلم بن عقیل ہانی بن عروہ کے گھر منتقل ہوئے اور ١٨ ہزار لوگو ں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تو مسلم نے امام حسین علیہ السلام کوخط لکھ کر عابس بن ابی شبیب شاکری کے ہاتھو ں روانہ کیا تھا کہ آپ جلد آجائی ں ۔(طبری ،ج٥،ص٣٧٥)
دور کرسکوں جو میری جان اور میرے خون سے بھی عزیز تر ہوتو میں اسے ضرور انجام دیتا ، اے ابوعبد اللہ! آپ پر سلام ہو میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ میں آپ کے اور آپ کے بابا کے صحیح راستے پرگامزن ہوں ۔
پھرنیام سے تلوار نکال کر دشمنوں کی طرف چلے اور اس سے اپنی پیشانی پرایک ضرب لگائی۔(١) ربیع بن تمیم ہمدانی کا بیان ہے :میں نے جب انھیں آتے دیکھا تو پہچان لیااور میں نے لوگوں سے کہا :''أیهاالناس ! '' یہ شیروں کاشیر ہے ،یہ فرزند ابوشبیب شاکری ہے، اس کے سامنے تم میں سے کوئی نہ نکلے ۔
عابس نے ندا دیناشروع کیا : کوئی مرد ہے جو ایک مرد کے مقابلے میں آئے ؟ لیکن کوئی سامنے نہیں آیا ۔عمر بن سعد نے بوکھلا کرکہا : اس پر سنگباری کردو، پس ہر طرف سے آپ پر پتھر پھینکا جانے لگا ۔ جب آپ نے یہ منظر دیکھا تو اپنی زرہ اور خود اتار کر پھینک دیا اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔خدا کی قسم میں نے خود دیکھا کہ آپ نے اموی سپاہ کی فوج میں سے دوسو سے زیادہ لوگوں کو تہہ تیغ کیا۔لیکن اس کے بعد سارا لشکرچاروں طرف سے آپ پر ٹوٹ پڑا اورآپ درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔(٢) و(٣)
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے نمیر بن وعلہ نے بنی ہمدان کے اس شخص سے یہ روایت نقل کی ہے جو اس روز وہ وہا ں موجود تھا۔(طبری، ج٥،ص ٤٤٤)
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے محمد بن قیس نے یہ روایت نقل کی ہے(طبری ،ج٥،ص ٤٤١)
٣۔ میں نے دیکھا کہ آپ کاسر چندلوگو ں کے ہاتھو ں ادھر ادھر ہورہا ہے اور ہرایک کہہ رہا ہے اسے میں نے قتل کیا تو وہا ں عمر بن سعد آیااور بولا : لڑائی مت کرواسے کسی ایک نیزہ نے قتل نہیں کیا ہے یہ سن کر سب وہا ں سے ایک دوسرے سے جدا ہوگئے ۔
یزید بن زیاد ابو شعثاء کندی کی شہادت
یزید بن زیاد مھاصر جنہیں ابو شعثاء کندی کہاجاتا ہے، عمربن سعد کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام سے جنگ کرنے آئے تھے لیکن جب امام علیہ السلام کی ساری شرطیں رد کردی گئیں تو امام حسین کی طرف چلے آئے اور اس کے بعد دشمنوں سے خوب جنگ کی۔ اس دن آپ کا رجز یہ تھا:
أنا یزید وأب مهاصر---أشجع من لیث بغیل خادر
یا رب ان للحسین ناصر---ولا بن سعد تارک وهاجر(١)
میں یزید ہوں اور میرے باپ ابو مھاصر تھے، میں شیر بیشہ سے زیادہ شجاع ہوں ، پروردگارا میں حسین علیہ السلام کا ناصر ومدد گا ر اور ابن سعد کو ترک کردینے والا اور اس سے دوری اختیار کرنے والا ہوں ۔آپ بڑے ماہر تیر انداز تھے۔مام حسین علیہ السلام کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک کر دشمن کی طرف سو تیر چلائے جس میں سے فقط پانچ تیروں نے خطاکی تھی۔ جب بھی آپ تیرچلاتے تھے فرمایاکرتے تھے :'' أنا بن بهدلة ، فرسان العرجلة'' میں خاندان بھدلہ کا فرزند اورعرجلہ کا یکہ تاز ہوں اور امام حسین علیہ السلام فرمارہے تھے:'' اللّٰهم سدد رمیته واجعل ثوابه الجنة'' خدا یا!اس کے تیر کو نشانہ تک راہنمائی کر اور اس کا ثواب جنت قراردے، پھرآپ نے بڑا زبردست جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے ۔(رحمةاللہ علیہ)
چار دوسرے اصحاب کی شہادت
وہ چارافرادجو طرماح بن عدی کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام کے پاس آئے تھے اور وہ جابر بن حارث سلیمانی ، مجمع بن عبداللہ عایذی،(٢) عمر بن خالد صیداوی اور عمر بن خالد کے غلام سعد ہیں ،
____________________
١۔ یہ فضیل بن خدیج کندی کی روایت ہے۔ شاید راوی نے پسر سعد کو چھوڑنے اور اس سے دوری اختیار کرنے اور امام حسین علیہ السلام کی مددو نصرت کرنے کی بات اسی شعر سے حاصل کی ہے در حالیکہ اس سے پہلے عبدالرحمن بن جندب کی روایت عقبہ بن سمعان کے حوالے سے گزر چکی ہے کہ ابن زیاد کا خط لے کر کربلا میں جب حر کے پاس مالک بن نسیر بدی کندی آیا تھا تو اس سے یزید بن زیاد نے کہا تھا : تیری ما ں تیرے غم میں بیٹھے تو کیا لے کر آیا ہے ؟ اس نے کہا : میں کچھ لے کر نہیں آیا ،میں نے اپنے پیشوا کی اطاعت اور اپنی بیعت سے وفاداری کی ہے تو ابو شعشاء نے اس سے کہاتھا : تو نے اپنے رب کی نافرمانی اور اپنی ہلاکت میں اپنے پیشوا کی پیروی کی ہے، تو نے ننگ و عار اور جہنم کو کسب کیا ہے، خدا وند عالم فرماتا ہے:'' وجعلنا ھم أئمة یدعون الی النار و یوم القیامة لاینصرون''اور اس نار کی طرف دعوت دینے والا تیرا پیشوا ہے۔ (طبری ،ج٥،ص ٤٠٨) یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ کربلا پہنچنے سے پہلے آپ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے بلکہ حرسے ملاقات سے پہلے موجود تھے ۔تعجب ہے کہ طبری اور ابو مخنف اس حقیقت کی طرف متوجہ نہیں ہوئے ۔
٢۔ یہ وہی ہیں جنہو ں نے امام حسین علیہ السلام سے کہا تھا : اشراف کوفہ کے تھیلے رشوت سے بھر چکے ہیں ،ان کی محبت کو اپنی طرف مائل کرلیا گیا ہے اور انکی خیر خواہی کو اپنے لئے خالص کرلیا گیا ہے ۔یہ ایک گروہ کا حال ہے اور اب رہے دوسرے گروہ کے لوگ توان کے دل آپ کی طرف مائل ہیں لیکن ان کی تلواری ں کل آپ کی سمت کھنچی ہو ں گی ۔
ان لوگوں نے آگے بڑھ کر اپنی تلواروں سے شدید حملہ کیا اور جب وہ دشمن کی فوج میں اندر تک وارد ہوگئے تو سپاہ اموی نے انھیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور ان کو اپنے محاصرہ میں لے کر اصحاب حسینی سے ان کارابطہ منقطع کردیا ۔ایسی صورت میں عباس بن علی (علیھما السلام) نے دشمنوں پر حملہ کیااور انھیں دشمنوں کی چنگل سے نکال لیا۔ ان چار جوان مردوں نے اپنی تلوار سے پھر زبردست حملہ کیا اور خوب خوب جہاد کیا یہاں تک کہ چاروں ایک ہی جگہ پر شہید ہوگئے ۔(١)
سوید خثعمی و بشر حضر می
یہ دونوں اصحاب حسینی کی دو آخری نشانیاں ہیں جنہیں سوید بن عمرو بن ابی المطاع خثعمی(٢) اور بشر بن عمرو حضرمی کہا جاتا ہے پہلے بشر سامنے آئے اور میدان قتال میں جاکر داد شجاعت لی اور شہید ہوگئے (رحمة اللہ علیہ) پھر سوید میدان کارزار میں آئے اور خوب جہاد کیا یہاں تک کہ کمزور ہو کر زمین پر گر پڑے۔(٣) آپ اسی طرح شہیدوں کے درمیان کمزور وناتواں پڑے رہے اور آپ کو مردہ سمجھ کر آپ کی تلوار اتار لی گئی لیکن جب امام حسین علیہ السلام شہید کر دئے گئے تو دشمنوں کی آواز آپ کے کانوں میں آئی کہ وہ کہہ رہے ہیں :'' قتل الحسین'' حسین مارڈالے گئے تو آ پ کو غشی سے افاقہ ہوا آپ کے پاس چھری تھی۔آپ کچھ دیر تک اسی چھری سے لڑتے رہے یہاں تک کہ زید بن رقاد جنبی(٤) اور عروہ بن بطار تغلبی نے آپ کو شہید کردیا ،آپ سپاہ حسینی کے آخری شہید ہیں ۔(٥) و(٦)
____________________
١۔ابو مخنف نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے فضیل بن خدیج کندی نے یہ روایت نقل کی ہے۔(طبری، ج٥،ص ٤٤٥)
٢۔ابو مخنف کہتے ہیں کہ مجھ سے زہیر بن عبدالرحمن بن زہیر خثعمی نے یہ روایت بیان کی ہے۔(طبری ،ج٥،ص ٤٤٦)
٣۔ ابو مخنف کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عاصم نے ضحاک بن عبداللہ مشرقی کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔(. طبری ،ج ٥ ، ص ٤٤٤)
٤۔ یہ شخص حضرت عباس بن علی علیہماالسلام کا قاتل ہے۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٤٦٨) اسی نے عبداللہ بن مسلم بن عقیل پر تیر چلایا تھا اور کہا کرتاتھا میں نے ان میں کے ایک جوان پر تیر چلایاہے اور اس نے تیر سے بچنے کے لئے اپنی ہتھیلی کو اپنی پیشانی پر رکھا تو میں نے اس پر ایسا تیر چلایا کہ اس کی ہتھیلی اس کی پیشانی سے چپک گئی اور اپنی ہتھیلی کو اپنی پیشانی سے جدا نہ کرسکا ؛ پھر
اس نے اس نوجوان پر ایک تیر چلاکر اسے شہید کر دیا ۔وہ کہتا ہے : میں جب اس کے پاس آیا تو وہ مر چکا تھا لہذامیں اس تیر کو مسلسل حرکت دیتا رہا تاکہ اسے اس کی پیشانی سے کھینچ لو ں لیکن تیر کی نوک کچھ اس طرح اس کی پیشانی میں پیوست ہوچکی تھی کہ میں اسے نہیں کھینچ پایا۔ روزگار اسی طرح گزر تے رہے اور مختار کی حکومت کازمانہ آگیا تو مختار نے عبداللہ بن کامل شاکری کو اس شخص کی طرف روانہ کیا ۔عبداللہ بن کامل اس کے دروازے پر آئے اور اسے گھیر لیا اور لوگو ں کی وہا ں بھیڑ لگ گئی۔یہ اپنی تلوار سونت کر باہر نکلا تو ابن کامل نے کہا : اس پر تیر چلاؤ اور اسے پتھر مارو، تمام لوگو ں نے ایسا ہی کیا یہا ں تک کہ وہ گر گیا پھر ابن کامل نے آگ منگوائی اور اسے اس آگ میں جلادیا درحالیکہ وہ زندہ تھا اور اس کی روح نہیں نکلی تھی۔(طبری ،ج٦، ص ٦٤)یہ شخص قبیلہ جنب سے متعلق تھا (ج ٦ ،ص ٦٤) طبری کے علاوہ دوسرے لوگو ں نے جہنی حنفی ذکر کیا ہے ۔
٥۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے زہیر بن عبدالرحمن خثعمی نے یہ روایت بیان کی ہے۔(طبری ، ج٥،ص ٤٥٣)
٦۔ ابومخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن عاصم نے ضحاک بن عبداللہ مشرقی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتا ہے : میں نے جب دیکھا کہ اصحاب حسین علیہ السلام شھید ہوچکے ہیں اور اب خاندان رسالت کی نوبت ہے اور آپ کے ہمراہ اصحاب میں سوید بن عمر وبن ابی مطاع خثعمی اور بشر بن عمرو حضرمی کے علاوہ کوئی نہیں بچا ہے تو میں اپنے گھوڑے کو لے کر آیا اور چونکہ دشمن ہمارے گھوڑو ں کو پے کررہے تھے لہٰذا ہم نے اپنے ساتھیو ں کے خیمو ں کے درمیان اسے داخل کردیا اور پیدل لڑنا شروع کردیا۔ میں نے اس دن دشمن کے دوآدمیو ں کو قتل کیا اور تیسرے کا ہاتھ کاٹ ڈالا ۔اس دن حسین علیہ السلام مجھ سے بار بار کہہ رہے تھے: تمہارے ہاتھ سالم رہیں ، اللہ تمہارے ہاتھ کو محفوظ رکھے، اللہ تمہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کی حفاظت کے لئے جزائے خیر عطاکرے ۔اس کے بعدمیں نے امام کی خدمت میں عرض کیا: اے فرزند رسول خدا آپ کو معلوم ہے کہ میرے اور آپ کے درمیان کیا قرار پایا تھا ۔ میں نے آ پ سے کہا تھا کہ میں آپ کی طرف سے اس وقت تک لڑو ں گا جب تک آپ کے یارو ناصر موجود ہو ں گے اور جب کوئی نہ ہوگا تو مجھے اختیار ہو گا کہ میں پلٹ جاؤ ں تو آپ نے کہا تھا ؛ ہا ں تمہیں اختیار ہوگا ۔ یہ سن کر حسین علیہ السلام نے فرمایا :تم سچ کہہ رہے ہو لیکن تم یہا ں سے کیسے نکل سکو گے اگر تم اس پر قادر ہو تو تم آزاد ہو ۔
جب آپ نے مجھے اجازت دے دی تو میں نے اپنے گھوڑے کو خیمے سے نکالااور اس پر سوار ہو کر اسے ایک ایسی ضرب لگائی کہ وہ اپنے سمو ں پر اچھل پڑا۔ اس کے بعد اسے فوج کے دریا میں ڈال دیا ۔ گھوڑے سے ٹکرانے والے اِدھر اُدھر گرتے ر ہے اورمیں راستہ بناتا نکلتاگیا لیکن پندرہ (١٥) آدمیو ں کے ایک گروہ نے میرا پیچھا کیا یہا ں تک کہ میں فرات کے کنارے ایک دیہات شفیہ تک پہنچ گیا۔ جب وہ لوگ وہا ں تک میرے ساتھ آئے تو میں پلٹ کر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان میں سے کثیر بن عبداللہ شعبی ، ایوب بن مشرح خیوانی اور قیس بن عبداللہ صائدی نے مجھ کو پہچان لیا اور بولے : یہ ضحاک بن عبداللہ مشرقی ہے ، یہ ہمارا چچا زاد ہے، ہم تمہیں خدا کا واسطہ دیتے ہیں کہ اس سے دست بردار ہوجاؤ۔اس پر ان میں سے بنی تمیم کے تین لوگو ں نے کہا : ہا ں ہا ں خدا کی قسم ہم اپنے بھائیو ں کی درخواست کو قبول کری ں گے اور جووہ چاہتا ہے اسے انجام دے کر اس سے دست بردار ہوجائی ں گے۔جب ان تین تمیمیو ں نے ہمارے ساتھیو ں کی پیروی کی تو دوسرو ں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا اس طرح خدا نے مجھے نجات دی۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٤٤٥)
بنی ہاشم کے شہداء
* علی بن الحسین اکبر کی شہادت
* قاسم بن حسن کی شہادت
* عباس بن علی اور ان کے بھائی
* لشکر حسینی کے سردار
* آپ کے امتیازات و خصوصیات
* حسن و رشاد ت
* معنوی شوکت
* علمدار کربلا
* سقائی
* سالار عشق و ایمان
* اسلام کا غیرتمند سپاہی
* معراج وفا
* حسین علیہ السلام کا شیر خوار
* عبداللہ بن جعفر کے دو فرزندوں کی شہادت
* آل عقیل کی شہادت
* حسن بن علی علیہما السلام کے فرزندوں کی شہادت
بنی ہاشم کے شہداء
علی بن الحسین اکبر کی شہادت
کربلا میں روز عاشورا اولاد ابو طالب کے سب سے پہلے شہید علی اکبر فرزندحسین بن علی (علیہم السلام) ہیں ۔(١) آپ کی مادر گرامی ابو مر ہ بن عروہ بن مسعودثقفی کی بیٹی جناب لیلیٰ تھیں ۔(٢)
____________________
١۔ ابو مخنف نے اپنی روایت میں جوانھو ں نے سلیمان ابن ابی راشد سے بیان کی ہے اورسلیمان نے حمید بن زیاد سے نقل کی ہے اس میں امام سجاد علیہ السلام کو علی بن حسین اصغر کے وصف سے یاد کیا ہے۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٤٥٤) اور جو بچہ امام علیہ السلام کی گود میں شہید ہواتھا اس کا نام اسی سند کے حوالے سے عبداللہ بن حسین ذکر کیا ہے۔ (طبری، ج٥ ، ص ٤٤٨) طبری نے اپنی کتاب ''ذیل المذیل'' میں کہا ہے کہ علی اکبر فرزند حسین اپنے باپ کے ہمراہ کربلا میں ساحل فرات پر شہید ہوئے اور ان کا کوئی بچہ نہیں تھا اور علی بن حسین اصغر اپنے باپ کے ہمراہ کربلا میں موجود تھے۔ اس وقت وہ ٢٣ سال کے تھے اوربیماری کے عالم میں بستر پر پڑے تھے۔ امام سجاد علیہ السلام کا بیان ہے کہ جب میں ابن زیاد کے دربار میں وارد ہوا اور اس نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ تو میں نے کہا: علی بن الحسین میرا نام سن کر اس نے کہا : کیا اللہ نے علی کو قتل نہیں کیا؟ تو میں نے کہا کہ میرے ایک بھائی تھے جو مجھ سے بڑے تھے ،ان کانام بھی علی تھا، انھی ں لوگو ں نے قتل کردیا ۔ابن زیاد بولا : نہیں بلکہ اللہ نے اسے قتل کیا ہے ۔میں نے کہا :'' اللّٰہ یتوفیٰ الأنفس حین موتھا'' (ذیل المذیل، ص ٦٣٠ ، طبع دارا لمعارف) اس مطلب کو ابو الفرج نے بھی بیان کیا ہے۔ (مقاتل الطالبیین، ص ٨٠ ،طبع نجف) اسی طرح یعقوبی نے بھی علی اکبر ذکر کیا ہے اور امام سجاد علیہ السلام کو علی بن الحسین اصغر ذکر کیا ہے۔ (تاریخ یعقوبی، ج٢،ص ٢٣٣، طبع نجف) مسعودی نے بھی یہی ذکر کیا ہے۔ (مروج الذھب، ج ٣،ص ٧١) نیز سبط بن جوزی کا بھی یہی بیان ہے۔ (تذکرہ، ص ٢٢٥) شیخ مفید نے ارشاد میں فقط علی بن الحسین ذکر کیا ہے اور اکبر کا اضافہ نہیں کیا ہے۔
٢۔ ٦ھ میں عروہ بن مسعود ثقفی نے طائف میں قبیلہ ء ثقیف سے مکہ کی طرف کوچ کیا اور قریش کے تمام اہل و عیال اوران کے اطاعت گزارو ں کا حلیف ہوگیا ۔ صلح حدیبیہ کے سال جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ عمرہ کی غرض سے آئے اورآپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کی طرف بدیل بن ورقا ء خزاعی کو پیغام لے کر روانہ کیا جسے پیغام رسا ں کہا جاتا تھااُدھر دوسری طرف عروہ کھڑا ہوااور اس نے قریش کے سربرآوردہ لوگو ں سے کہا : یہ مرد تمہیں رشد و ہدایت کی راہ دکھارہا ہے، اسے تم لوگ قبول کرلو اور مجھے اجازت دو تاکہ میں ان کے پاس جاؤ ں ۔ ان لوگو ں نے کہاجاؤ تو عروہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرنا شروع کیا۔نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے بھی اس قسم کی باتی ں کہیں جو بدیل سے فرمائی تھی کہ ہم یہا ں کسی سے جنگ کے لئے نہیں آئے ہیں ،ہم تو یہا ں فقط عمرہ انجام دینے کے لئے ہیں ۔ جنگ قریش کو رسوا کردے گی اور انھی ں نقصان پہنچائے گی۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ اس دین میں آجائی ں جس میں سب آگئے ہیں تو وہ ایسا کری ں ورنہ آرام کری ں اور اگر وہ اس سے انکار کرتے ہیں تو قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس پر میں ان سے نبرد آزمائی کرو ں گایہا ں تک کہ یا تو میں بالکل تنہا رہ
جاؤ ں یا اللہ اپنے امر کو نافذکردے ۔ اس وقت عروہ نے کہا اے محمد ! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اپنی قوم کو محکم کرلیا ہے ؟کیا آپ نے اس سے پہلے کسی عرب سے سنا ہے کہ وہ اپنی قوم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے اور دوسرو ں کا ہوجائے؟ خدا کی قسم میں ان مختلف چہرے اور مختلف طبیعت کے لوگو ں کو دیکھ رہا ہو ں کہ وہ فرار کرجائی ں گے اور آپ کو تنہاچھوڑدی ں گے۔عروہ یہ کہہ رہاتھا اور بڑے غور سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو دیکھے جارہاتھا، پھر عروہ اپنے ساتھیو ں کی طرف پلٹ گیا اور بولا : اے قوم ! خدا کی قسم میں سارے بادشاہو ں کے پاس گیا ہو ں ،میں قیصر و کسریٰ اورنجاشی کے پاس بھی گیا ہو ں ،خدا کی قسم میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے اصحاب ا س کی اتنی تعظیم کرتے ہو ں جتنا محمد کے اصحاب محمد کی تعظیم کرتے ہیں ۔ خدا کی قسم اگر وہ لعاب دہن باہر ڈالتے ہیں تو ان میں کا ایک اسے اپنی ہتھیلی پر لے کر اسے اپنے چہرہ اور جسم پر مل لیتا ہے جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں اسے فوراً انجام دیتے ہیں اور جب وہ وضو کرتے ہیں تو وضو کے بقیہ پانی کے لئے سب لڑنے لگتے ہیں اور جب وہ کچھ بولتے ہیں تو یہ لوگ بالکل خاموش ہو کر تعظیم میں نظری ں گڑا کر ان کی طرف دیکھنے لگتے ہیں ۔انھو ں نے تمہاری طرف رشد وہدایت کی راہ پیش کی ہے تمہیں چاہیے اسے قبول کرلو! (طبری ،ج٦، ص ٤٢٧) ٨ھ میں یہ جنگ حنین میں ایک گوشے میں منجنیقی ں بنانے کی تعلیم دیا کرتے تھے اور خود جنگ حنین میں موجود نہیں تھے۔ ابوسفیان نے اپنی بیٹی آمنہ کی اس کے ساتھ شادی کی تھی۔ حنین کے دن ابو سفیان ، مغیرہ بن شعبہ کے ہمراہ طائف آیا اوردونو ں نے مل کر قبیلہ ثقیف کو آوازدی کہ ہمیں امن دو تاکہ ہم تم سے کچھ گفتگو کری ں ۔ ان لوگو ں نے ان دونو ں کو امن و امان دے دیا توان لوگو ں نے قریش کی عورتو ں کو اسیر ی کے خوف میں چھوڑ دیا تو ان لوگو ں نے انکار کیا (طبری ،ج٣ ،ص ٨٤) جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل طائف کے پاس سے واپس لوٹنے لگے توعروہ بن مسعود آپ کے پیچھے ہولئے اور مدینے پہنچنے سے پہلے ہی عروہ نے آپ کو درک کرلیا اور آپ کے ہاتھو ں پر اسلام لے آئے۔ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آپ سے کہا کہ اسی اسلام کے ہمراہ اپنی قوم کی طرف پلٹ جائی ں کیونکہ عروہ بن مسعود اپنی قوم میں بہت محبوب تھے اور آپ کی باتو ں کو لوگ بے چو ں و چرا قبول کرلیتے تھے لہٰذاعروہ بن مسعود اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے نکل پڑے۔ وہ اس امید میں تھے کہ ان کے مقام و منزلت کے پیش نظر لوگ ان کی مخالفت نہیں کری ں گے لیکن ان کی قوم نے چارو ں طرف سے ان پر تیرو ں کی بارش کردی اور آپ کو شھید کردیا گیا۔ وقت شہادت کسی نے ان سے پوچھا : اپنے خون کے بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے ؟ تو عروہ نے جواب دیا : یہ کرامت اور بزرگی ہے جس سے خدا نے مجھے سرفراز کیا اور ایک جام شہادت ہے جسے خدا نے مجھے نوش کرایا ہے۔ میرا اجر وہی ہو گاجو ان لوگو ں کا اجر ہے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جنگ میں شہید ہوئے لہٰذا تم لوگ مجھے انھی ں کے ہمراہ دفن کرنا لہذا۔آپ کو انھی ں لوگو ں کے ہمراہ دفن کیا گیا۔ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے بارے میں فرمایا: ان کی مثال اپنی قوم میں اس طرح ہے جیسے صاحب یسٰین اپنی قوم میں ۔''ان مثله فی قومه کمثل صاحب یسٰین فی قومه'' (طبری، ج٣،ص ٩٧) سیرة بن ہشام، ج٢،ص ٣٢٥)نبی خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آپ کا اور آ کے بھائی اسود بن مسعود کا قرض ادا کیا۔ (طبری، ج٣، ص ١٠٠)
آپ نے دشمنوں پر سخت حملہ کرنا شروع کیا درحالیکہ آپ یہ کہے جارہے تھے :
أنا علّ بن حسین بن عل
نحن و رب البیت أولیٰ بالنب
تاللّٰه لا یحکم فینا ابن الدّع(١)
میں علی ، حسین بن علی کا فرزند ہوں ، رب کعبہ کی قسم ہم نبی سے سب سے زیادہ نزدیک ہیں ، خدا کی قسم بے حسب ونسب باپ کا لڑکا ہم پر حکمرانی نہیں کرسکتا ۔
آپ نے بارہادشمن کے قلب لشکر پر حملہ کیا اوران رزمیہ اشعار کو دھراتے رہے۔جب مرہ بن منقذعبدی(٢) نے آپ کو دیکھا تو بولا : تمام عرب کا گناہ میرے سر پر ہو !اگر یہ میرے پاس سے گزرا تومیں اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کروں گا جیسا یہ کررہا ہے؛ اس کے باپ کوا س کے غم میں بیٹھادوں گا! اس اثنا ء میں آپ اپنی تلوار سے سخت حملہ کرتے ہوئے ادھر سے گزرے، پس مرہ بن منقذنے نیزہ کاایسا وار کیا کہ آپ زمین پر گرگئے دشمنوں نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور اپنی تلواروں سے آپ کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے ۔(٣) و(٤)
____________________
١۔ ابو لفرج اصفہانی نے روایت کی ہے کہ سخت حملے کے بعد علی اکبر اپنے بابا کے پاس آئے اور عرض کیا: بابا پیاس مارے ڈال رہی ہے تو حسین علیہ السلام نے ان سے کہا : ''اصبر حبیبی حتی یسقیک رسول اللّٰہ بکاسہ ''اے میرے لال صبر کرو یہا ں تک کہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا تمہیں جام کوثر سے سیراب کری ں اس کے بعد آپ نے دشمنو ں پر پے در پے کئی حملے کئے ۔(مقاتل الطالبیین، ص ٧٧)
٢۔ اس کی نسبت بنی عبد قیس کی طرف ہے۔ یہ جنگ صفین میں اپنے باپ منقذ بن نعمان کے ہمراہ حضرت علی کے ساتھ تھا اور عبد قیس کا پرچم اپنے باپ سے لے لیا پھر وہ اسی کے پاس رہا۔(طبری، ج٤،ص ٥٢٢) ٦٦ھ میں مختار نے عبداللہ بن کامل شاکری کو اس کے پاس روانہ کیا تو وہ اس کے گھر پر آئے اور اسے گھیر لیا تویہ اپنے ہاتھ میں نیزہ لئے تیز گھوڑے پر سوار تھا ۔ ابن کامل نے تلوار سے ایک ضرب لگائی تواس نے بائی ں ہاتھ سے اپنا بچاؤ کیا لیکن تلوار اس پر لگی اور گر پڑا ۔ پھر مصعب بن زبیر سے ملحق ہوگیا درحالیکہ اس کے ہاتھ شل تھے۔ (طبری، ج ٦،ص٦٤)
٣۔ ابو مخنف نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے زہیر بن عبدالرحمن بن زہیر خثعمی نے یہ روایت نقل کی ہے (طبری ،ج٥،ص ٤٤٦) اور ابو الفرج نے بھی ابو مخنف سے زہیر بن عبداللہ خثعمی کے حوالے سے روایت کی ہے (مقاتل الطالبیین، ص ٧٦) اورانھو ں
نے ایک دوسری سند کے حوالے سے روایت کی ہے کہ جب علی بن الحسین میدان جنگ میں دشمن کی طرف آنے لگے تو حسین کی نگاہیں ان کے ساتھ ساتھ تھی ں اور وہ گریہ کنا ں تھے پھر فرمایا :''اللّٰهم کن أنت الشهید علیهم فقد برز الیهم غلام أشبه الخلق برسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم'' خدا یا! تو اس قوم پر گواہ رہنا کہ ان کی طرف اب وہ جوان جارہاہے جو سیرت و صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔
٤۔ ابو الفرج ہی نے روایت کی ہے کہ : زمین پر آتے وقت علی اکبر نے آوازدی : ''یاأبتاہ!علیک السلام '' باباآپ پر میرا سلام ہو،'' هذاجدی رسول اللّٰه یقرئک السلام و یقول: عجل القدوم الینا ثم شهق شهقة و فارق الدنیا'' یہ ہمارے جد رسول خدا ہیں جو آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ ہمارے پاس جلدی آئو. پھر ایک چیخ ماری اور دنیا سے رخصت ہو گئے ۔
امام حسین علیہ السلا م خو ن میں ڈوبے فرزند کے پاس یہ کہتے ہوئے آئے:'' قتل اللّٰه قوماً قتلوک یا بن'' اے میرے لال !خدا اس قوم کو قتل کرے جس نے تجھے قتل کیاہے،''ماأجرأهم علیٰ الرّحمٰن وعلی انتهاک حرمة الرسول ''یہ لوگ مہربان خدا پر اور رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہتک حرمت پر کتنے بے باک ہیں ،''علی الدنیا بعدک العفا'' . میرے لا ل تمہارے بعد اس دنیا کی زندگی پر خاک ہو. ناگاہ اس اثناء میں ایک بی بی شتاباں خیمے سے باہر نکلی وہ آوز دے رہی تھی :'' یاأخےّاہ ! و یابن أخیاہ '' اے میرے بھائی اے جان برادر!وہ آئیں اور خود کو علی اکبر پر گرادیا تو حسین علیہ السلام ان کے پاس آئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں خیمے میں لوٹا دیا اور خود ہاشمی جوانوں کی طرف رخ کر کے کہا :'' احملوا أخاکم الی الفسطاط'' اپنے بھائی کو اٹھاکر خیمے میں لے جاؤ''فحملوه من مصرعه حتی و ضعوه بین یدی الفسطاط الذی کانوا یقاتلون أمامه' '(١)
ان جوانوں نے لاشہ علی اکبر کو مقتل سے اٹھا کراس خیمے کے پاس رکھ دیا جس کے آگے وہ لوگ مشغول جہاد تھے ۔
____________________
١۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری ،ج٥، ص ٤٤٦) اور ابو الفرج نے بھی اسی سند کو ذکر کیا ہے ۔(مقاتل الطالبیین، ص ٧٦و٧٧)
قاسم بن حسن کی شہادت
حمید بن مسلم کا بیان ہے : ہماری جانب ایک نو جوان نکل کر آیا ،اس کا چہرہ گویا چاند کا ٹکڑا تھا، اس کے ہاتھ میں تلوار تھی، جسم پر ایک کرتہ اور پائجامہ تھا،پیروں میں نعلین تھی جس میں سے ایک کا تسمہ ٹوٹا ہو ا تھا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ بائیں طرف والی نعلین تھی۔
عمر وبن سعد بن نفیل ازدی(١) نے مجھ سے کہا :خدا کی قسم میں اس بچہ پر ضرور حملہ کروں گا تو میں نے کہا : ''سبحان اللّٰہ'' تو اپنے اس کام سے کیاچاہتا ہے۔لشکر کا یہ انبوہ جو اس کو اپنے گھیرے میں لئے ہے تیری خواہش پوری کرنے کے لئے کافی ہے لیکن اس نے اپنی بات پھر دھرائی : خدا کی قسم میں اس پر ضرور حملہ کروں گا، یہ کہہ کر اس نے اس جوان پر زبردست حملہ کردیا اورتھوڑی دیرنہ گزری تھی کہ تلوار سے اس کے سر پر ایک ایسی ضرب لگائی کہ وہ منہ کے بھل زمین پرگر پڑا اور آواز دی :'' یا عماہ ! ''اے چچا مدد کو آیئے۔
یہ سن کر امام حسین علیہ السلام شکاری پرندے کی طرح وہاں نمودار ہوئے اور غضب ناک و خشمگین شیر کی طرح دشمن کی فوج پر ٹوٹ پڑے اور عمرو پر تلوار سے حملہ کیا۔ اس نے بچاؤ کے لئے ہاتھ اٹھا یا تو کہنیوں سے اس کے ہاتھ کٹ گئے یہ حال دیکھ کر لشکر ادھر ادھر ہونے لگا اور وہ شقی (عمر و بن سعد) پامال ہو کر مر گیا۔ جب غبار چھٹا تو امام حسین علیہ السلام قاسم کے بالین پر موجود تھے اور وہ ایڑیاں رگڑ رہے تھے ۔
اور حسین علیہ السلام یہ کہہ رہے تھے :بعداً لقوم قتلوک ومن خصمهم یوم القیامة فیک جدک ، عزّ واللّٰه علیٰ عمک أن تدعوه فلا یجیبک أو یجیبک ثم لا ینفعک صوت واللّٰه کثر واتره و قل ناصره'' برا ہو اُس قوم کا جس نے تجھے قتل کردیا اور قیامت کے دن تمہارے دادااس کے خلاف دعو یدار ہوں گے۔تمہارے چچا پر یہ بہت سخت ہے کہ تم انھیں بلاؤ اور وہ تمہاری مدد کو نہ آسکیں اور آئے بھی تو تجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے۔خدا کی قسم تمہاری مد د کی آواز آج ایسی ہے کہ جس کی غربت و تنہائی زیادہ اور اس پر مدد کرنے والے کم ہیں ۔
____________________
١۔ طبری، ج٥،ص ٤٦٨ ، اس شخص کا نام سعد بن عمرو بن نفیل ازدی لکھا ہے اور دونو ں خبر ابو مخنف ہی سے مروی ہے ۔
پھر حسین نے اس نوجوان کو اٹھایا گویا میں دیکھ رہا تھا کہ اس نوجوان کے دونوں پیر زمین پر خط دے رہے ہیں جبکہ حسین نے اس کا سینہ اپنے سینے سے لگارکھا تھا پھر اس نوجوان کو لے کر آئے اور اپنے بیٹے علی بن الحسین کی لاش کے پاس رکھ دیا اور ان کے اردگرد آپ کے اہل بیت کے دوسرے شہید تھے، میں نے پوچھا یہ جوان کون تھا ؟ تو مجھے جواب ملا : یہ قاسم بن حسن بن علی بن ابیطالب (علیہم السلام) تھے۔(١)
____________________
١۔ ابو مخنف نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری، ج٥،ص ٤٤٧ و ارشاد ، ص ٢٣٩)
عباس بن علی اور ان کے بھائی
پھر عباس بن علی (علیہما السلام) نے اپنے بھایئوں : عبد اللہ ، جعفر اور عثمان سے کہا : یا بن أم ! تقد مواحتی أرثیکم فانہ لا ولد لکم ! اے مرے ماں جایو ! آگے بڑھو تاکہ میں تم پر مرثیہ پڑھ سکوں کیونکہ تمہاراکوئی بچہ نہیں ہے جو تم پر نوحہ کرے ۔
ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور میدان جنگ میں آئے اور بڑا زبر دست جہاد کیا یہاں تک کہ سب کے سب شہید ہوگئے ۔(خدا ان سب پر رحمت نازل کرے)(٢)
____________________
٢۔ ابو مخنف نے حضرت عباس بن علی علیہما السلام کا مقتل اور ان کی شہادت کا تذکرہ نہیں کیاہے لہٰذا ہم اسے مختلف مقاتل کی زبانی ذکر کرتے ہیں ۔ارشاد میں شیخ مفید فرما تے ہیں : جب حسین علیہ السلام پر پیاس کا غلبہ ہوا تو آپ نے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر فرات کا ارادہ کیا، آپ کے ساتھ ساتھ آپ کے بھائی عباس بھی تھے۔ ابن سعد لعنة اللّٰہ علیہ کا لشکرآپ کے لئے مانع ہوا اور اس لشکرمیں '' بنی دارم'' کا ایک شخص بھی تھا جس نے اپنی فوج سے کہا : وائے ہو تم پر ان کے اور فرات کے درمیان حائل ہو جاؤ اور انھی ں پانی تک نہ پہنچنے دو، اس پر حسین علیہ السلام نے بددعا کی''اللّٰهم أظمئه '' خدا یا! اسے پیاسا رکھ ! یہ سن کر''دارمی'' کو غصہ آگیا اور اس نے تیر چلادیا جو آپ کی ٹھڈی میں لگا ۔حسین علیہ السلام نے اس تیر کو نکالا اور ٹھڈی کے نیچے اپنا ہاتھ لگا یا تو خون سے آپ کی دونو ں ہتھیلیا ں بھر گئی ں ۔آپ نے اس خون کو زمین پر ڈال دیا اور فرمایا :''اللّٰهم انی أشکوا الیک ما یفعل بابن بنت نبیک'' خدا یا !میں تجھ سے شکوہ کرتا ہو ں کہ تیرے نبی کے نواسے کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے پھرآپ اپنی جگہ لوٹ آئے؛ لیکن پیاس میں اضافہ ہورہاتھا۔ ادھر دشمنو ں نے عباس کو اس طرح اپنے گھیرے میں لے لیا کہ آپ کا رابطہ امام حسین علیہ السلام سے منقطع ہو گیا۔ آپ تنہا دشمنو ں سے مقابلہ کرنے لگے یہا ں تک کہ آپ شھید ہوگئے ،آپ پر اللہ کی رحمت ہو۔ زید بن ورقاء حنفی(١) اور
حکیم بن طفیل سنسبی نے آپ کو اس وقت شہید کیا جب آپ زخمو ں سے چور ہوچکے تھے اور حرکت کی طاقت نہ تھی۔ (ارشاد، ص ٢٤٠ ، طبع نجف اشرف) یہا ں سے ہم مقتل الحسین مقرم ، مقتل الحسین امین، ابصارالعین سماوی،فاجعةالطف علامہ قزوینی ، عمدة الطالب اورخصال صدوق، ج١،ص ٦٨، اور تاریخ طبری کی مدد سے حضرت ابو الفضل العباس کی شخصیت پر تھوڑی سی روشنی ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ؛ شاید بارگاہ ایزدی میں یہ کوشش آخرت کی رسوائی سے نجات دلائے اور سقائے سکینہ کی خدمت اقدس میں یہ سعی ناچیز تحفہ قرار پائے۔
____________________
(١) طبری نے زید بن رقاد جنبی لکھا ہے۔ (ج٥،ص ٤٦٨) اور جلد ٦ ،صفحہ ٦٤ پر لکھا ہے کہ یہ جَنَب کا ایک شخص تھا۔ یہ شخص عبد اللہ بن مسلم بن عقیل اور سویدبن عمرو خثعمی صحابی امام حسین علیہ السلام کا بھی قاتل ہے۔ اس کے احوال سوید کی شہادت کے ذیل میں گزر چکے ہیں ۔مختار نے اسے زندہ جلا دیا تھا۔ اسے حنفی کہنا واضح تحریف ہے ۔
لشکر حسینی کے سردار
علمدار حسینی عباس(علیہ السلا م)آخر میں امام حسین علیہ السلام کی مدد و نصرت اورآ پ کے حقوق و بلند مقاصد کے دفاع میں تنہا رہ گئے تھے ؛کیوں کہ تمام یاور و انصار اور بھائی بھتیجے اور فرزند شہید ہو چکے تھے ۔آپ نا قابل توصیف شجاعت و شہامت کے ساتھ اپنے آقا حسین علیہ السلام کی حفاظت میں پہاڑ کی طرح مستحکم تھے۔ حوادث کی تند وتیز ہوائیں آپ کے وجود پر اثر انداز نہیں ہورہی تھیں ۔ آپ قابل افتخارشخصیت کے مالک تھے کیونکہ علم وعقل ، ایمان و عمل اور جہادو شہادت میں یکتائے تاز روزگار تھے۔ ان خصوصیات کو ہم آپ کے رجز ، آپ کے اعمال اور آ پ کے بیانات میں واضح طور پر مشاہدہ کرسکتے ہیں ۔
آپ کے امتیازات و خصوصیات
حقیقت میں آپ فضیلتوں کے سر چشمہ اور انسانی قدروں کے سربراہ تھے۔ آپ کے امتیازو خصوصیات قابل قدر و تحسین اور انسان ساز ہیں ، وہ اوصاف و خصوصیات جو فردی و اجتماعی زندگی کو نیک بختی اور نجات کے معراجی مراحل تک پہنچاتے ہیں ۔ یہاں پر آپ کے بعض اوصاف کا تذکرہ منظور نظر ہے ۔
١۔ حسن ورشاد ت
آپ بلند قامت ، خوش سیما اور خوب رو تھے ۔ خاندان کے درمیان ایک خاص عظمت و شکوہ کے حامل تھے لہٰذا قمربنی ہاشم یعنی بنی ہاشم کے چاند کہلاتے تھے جب آ پ حق و عدالت سے دفاع کے لئے مرکب پر سوار ہوتے تھے تو آپ کی صولت و ہیبت سے شیر دل افراد خوف زدہ ہوجاتے تھے اور رزم آورو دلیرافرادترس و خوف میں مبتلا ہو کر لرزہ براندام ہوجاتے تھے ۔
حق و عدالت کی راہ میں جاں نثاری ، دلاوری اور شجاعت آپ کا طرۂ امتیاز تھا ۔یہ صفت آپ نے اپنے شہسوار باپ امیرا لمومنین علی علیہ السلام سے حاصل کی تھی۔ اگر چہ آپ کی مادر گرامی بھی علم ومعنویت کی پیکر اور عرب کی ایک شجاع خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ۔حضرت علی علیہ ا لسلام نے بڑے ہی اہتمام سے آپ کی مادر گرامی کا انتخاب کیا تھا اور جب اس اہتمام کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا :''لتلدلی فارساً شجاعاً'' میں چاہتا ہوں کہ وہ خاتون میرے لئے ایک شجاع بچہ دنیا میں لے کر آئے۔ یہ سبب تھا کہ افق علوی سے بنی ہاشم کا چاند خورشید فاطمی کی حفاظت کے لئے آسمان ام البنین پر طلوع ہوا ۔
٢۔معنوی شوکت
دنیا میں ایک سے ایک بہادر ، پہلوان ، شجاع اور خوبصورت گزرے ہیں ۔ اگر ہم ابو الفضل عباس کو فقط اس نگاہ سے دیکھیں کہ آپ رشید قامت ، ہلالی ابرو ، ستواں ناک اور گلابی ہونٹوں والے تھے تو تاریخ کے پاس ایسے سینکڑوں نمونے ہیں جو خوبصورت بھی تھے اور بہادر بھی لیکن ابولفضل العباس علیہ السلام کی خصوصیت فقط یہ نہ تھی کہ آپ فقط خوبصورت اور بہادر تھے بلکہ آپ کی اہم خصوصیت جو آپ کو گوہر نایاب بناتی ہے وہ آپ کا باطنی جوہر اور باطنی حسن ہے یعنی آپ کا ایمان ، اخلاص ، مردانگی ، انسان دوستی ، سچائی ، امانت داری ، آزادی ، عدالت خواہی ، تقویٰ ، حلم ، جانثاری اور وہ پیروی محض ہے جو اپنے امام علیہ السلام کے سامنے پیش کی ہے ۔ تاریخ میں ایک بہادر ، دلیر اور شجاع کا اتنے سخت اور دل ہلادینے والے حوادث میں اس قدر تابع اور مطیع ہونا کہیں نہیں ملتا اور نہ ملے گا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے آپ کی بلند و بالا شخصیت کی اس طرح منظر کشی کی ہے:''کان عمنا العباس نافذ البصیرة ، صلب الایمان ، جاهد مع اخیه الحسین علیه السلام وأبلی بلاء حسناًو مضی شهیداً ''(عمدة الطالب، ٣٥٦) ہمارے چچا عباس عمیق بصیرت والے اور محکم صاحب ایمان تھے جس میں کوئی تزلزل نہ تھا، آپ نے اپنے بھائی حسین علیہ السلام کے ہمراہ جہاد کیا اور بلاؤں کی آماجگاہ میں بہتر ین امتیاز حاصل کیا اور شہید ہو گئے ۔امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں :'' رحم اللّٰه العباس فلقد آثر وابلیٰ وفدا أخاه بنفسه حتی قطعت یداه فأبدله اللّٰه عزو جل بهما جناحین یطیر بهما مع الملائکة فی الجنة کما جعل لجعفر بن ابیطالب وان للعباس عنداللّٰه تبارک وتعالٰی منزلة یغبطه بها جمیع الشهداء یوم القیامة'' (خصال شیخ صدوق ج١؛ ص ٦٨)
خدا (ہمارے چچا) عباس پر رحمت نازل کرے، حقیقت تو یہ ہے کہ آپ نے نا قابل وصف ایثار کا ثبوت دیا
اور بزرگ ترین آزمائش میں کامیاب ہوکر سر بلند و سرفراز ہوگئے اور آخر کار اپنی جان کو اپنے بھائی پر نثار کردیا یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ کٹ گئے تو اللہ عز و جل نے اس کے بدلے آپ کو دو پر عطا کئے جس کی مدد سے آپ جنت میں فرشتوں کے ہمراہ پرواز کرتے ہیں جس طرح خدا نے جعفر بن ابوطالب کو پر عطا کئے تھے ۔
اللہ تباک و تعالی کے نزدیک جناب عباس کی وہ قدر و منزلت ہے کہ قیامت کے دن تمام شہداء آپ پر رشک کریں گے ۔
٣۔ علمدار کربلا
آپ کی ایک اہم فضیلت یہ ہے کہ روز عاشوراآپ حسینی لشکر کے علمدار تھے اور یہ اتنا بلند و بالا مرتبہ ہے کہ آسانی سے کسی کو نہیں ملتا ۔
جنگ کے بدترین ماحول میں آپ اجازت لے کر میدان کارزار میں آئے لیکن سرکار سیدالشھداء کو آپ سے اتنی محبت تھی کہ فقط فراق و جدائی کے تصور نے امام کی آنکھوں کے جام کو لبریز کردیا اور سیل اشک جاری ہوگئے؛ یہاں تک کہ آپ کی ریش مبارک آنسوؤ ں سے ترہوگئی پھر فرمایا :'' اخی أنت العلامة من عسکری''میرے بھائی تم تو میرے لشکر کے علمدار ہوتو حضرت عباس علیہ السلام نے فرمایا :''فداک روح أخیک لقد ضاق صدری من حیاة الدنیا وأرید آخذ الثار من هولاء المنافقین'' آپ کے بھائی کی جان آپ پر نثار ہو ، حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی سے میرا سینہ تنگ ہوچکا ہے میں چاہتا ہوں کہ ان منافقوں سے انتقام لوں ۔
٤۔ سقائی
آپ کی ایک فضیلت یہ ہے کہ آپ سقا کے لقب سے نوازے گئے اور حسینی لشکر کی پیاس بجھانے کے لئے پانی کی سبیل کی خاطر نہر فرات کی طرف دشمنوں کے نرغے میں چل پڑے ،۔بچوں کی تشنگی نے آپ کے دل کو برمادیا۔ امام حسین علیہ السلام سے میدان جنگ کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا :''فاطلب لهولاء الأطفال قلیلاً من المائ'' بھائی اگر میدان میں جانا چاہتے ہو تو ان بچوں کے لئے دشمنوں سے تھوڑا سا پانی طلب کرو ۔
٥۔سالار عشق و ایمان
عبا س غازی کی یہی وہ صفت ہے جو آپ کو دوسرے ساونت اوردلیروں سے جدا کرکے بہادری اور شجاعت کا حقیقی پیکر بناتی ہے۔ آپ کی جگہ پر کوئی بھی بہادر ہوتا تو وہ میدان جنگ میں آتے ہی تلوار سونت کر جنگ میں مشغول ہوجاتا لیکن یہ عباس پروردہ ٔآغوش تربیت علی مرتضیٰ ہیں جسمی توانائی کے علاوہ ان کا قلب تقویٰ ، اخلاق ، علم وحلم سے معمور ہے، اسی لئے
جب میدان میں آئے تو پہلے سردار لشکر عمر بن سعد کو ہدایت کی، راہ دکھائی اور اس سے مخاطب ہو کر کہا :''یا عمر بن سعد ! هٰذا الحسین ابن بنت رسول اللّٰه قد قتلتم أصحابه و أخوته وبنی عمه وبقی فریداً مع أولاده و عیاله وهم عطاشا، قد أحرق الظماء قلوبهم فاسقوهم شربة من الماء لأن أولاده و أطفاله قد و صلوا الی الهلاک'' .اے عمر بن سعد ! یہ حسین نواسہ رسول ہیں جن کے اصحاب ، بھائیوں اور چچا زادگان کو تم لوگوں نے قتل کردیا ہے اور وہ اپنی اولاد اور عیال کے ہمراہ تنہارہ گئے ہیں اور بہت پیاسے ہیں پیاس سے ان کا کلیجہ بھنا جا رہا ہے لہٰذاانھیں تھوڑا ساپانی پلادو؛ کیوں کہ ان کی اولاد اور بچے پیاس سے جاں بہ لب ہیں ۔ آپ کے ان جملوں کا اثر یہ ہواکہ بعض بالکل خاموش ہوگئے ، بعض بے حد متاثر ہو کر رونے لگے لیکن شمر و شبث جیسے شقاوت پیکروں نے تعصب کی آگ میں جل کر کہا :'' یابن أبی تراب ! قل لأ خیک : لو کان کل وجہ الارض مائً وھوتحت أید ینا ما سقیناکم منہ قطرة حتی تدخلوا فی بیعة یزید'' اے ابو تراب کے فرزند ! اپنے بھائی سے کہہ دوکہ اگر ساری زمین پانی پانی ہوجائے اور وہ ہمارے دست قدرت میں ہو تب بھی ہم تم کو ایک قطرہ پانی نہیں پلائیں گے یہاں تک کہ تم لوگ یزید کی بیعت کرلو۔
٦۔ اسلام کا غیرت مند سپاہی
حضرت عباس علیہ السلام اموی سپاہ کی غیر عاقلانہ اور جاہلانہ گفتگوپر افسوس کر کے اپنے آقا کے پاس لوٹ آئے اور سارے واقعات سے آگاہ کردیا ۔
امام حسین علیہ السلام قرآن اور خاندان رسالت کی تنہائی پر آنسو بہا نے لگے اور اتنا روئے کہ یہ آنسو آپ کے سینے اور لباس پر ٹپکنے لگے ۔دوسری طرف ننھے بچوں کی صدائے العطش بار بار حضرت عباس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی۔ یہ وہ موقع تھا جب اسلام کا یہ غیر تمند سپاہی اپنے گھوڑے پرسوار ہوا اور خیمہ سے مشکیزہ لے کر دلیرانہ اور صفدرانہ انداز میں لشکر پر ٹوٹ پڑا۔عمر بن سعد نے خاندان رسالت پر پانی بند کرنے کے لئے چار (٤) ہزار کا رسالہ فرات کے کنارے تعینات کر رکھا تھا اور وہ کسی طرح اصحاب واولاد حسین علیہ السلام کو پانی تک پہنچنے نہیں دے رہے تھے ۔علمدار لشکر حسینی نے اسی رسالہ پر حملہ کیا۔ آپ جو امیر المو منین علیہ السلام کی ایک نشانی تھے اپنی ناقابل وصف شجاعت وشہامت کے ساتھ دشمن کی فوج کوتتر بتر کردیا ،فوج کے پہرے کو بالکل تو ڑدیا اور ان میں سے اسی (٨٠) لوگوں کو قتل کردیا جوان میں سب سے زیادہ شریر تھے ۔
آپ کی شجا عانہ آوازفضا میں گونج رہی تھی :
لا أرهب الموت اذاالموت رقا
حتی أواری فی المصالیت لقی
انّ أنا العباس أعدوا با لسقّا
ولا أخاف الشرّ یوم الملتقی
موت جب میری طرف رخ کرتی ہے تو میں اس سے نہیں ڈرتا یہاں تک کہ خدا کی مدد سے آتش افروز اور جنگجوؤں کے سروں کو خاک میں ملا دوں ،میں عباس ہوں جسے سقائیت کا رتبہ ملا ہے اور میں پانی ضرور پہنچاؤں گا ،میں حق وباطل سے مڈبھیڑ کے دن کبھی بھی باطل کی شرانگیز یوں سے نہیں ڈرتا ۔
٧۔معراج وفا
حضرت ابو الفصل نے اپنی ناقابل وصف شجاعت سے دشمن کی صفوں کو تتر بتر کردیا اور خود فرات میں داخل ہوگئے ۔پیاس کی شدت کی وجہ سے چلو میں پانی لیاتا کہ تھوڑا ساپی لیں لیکن اسی پانی میں حسین علیہ السلام کی پیاس کا عکس جھلکنے لگا ؛پانی کو فرات کے منہ پر مار دیا اور اپنی روح کو مخاطب کرکے فرمایا:
یانفس من بعد الحسین هون
وبعد ه لا کنت ان تکون
هٰذا الحسین شارب المنون
وتشر بین بارد المعین
هیها ت ما هٰذ ا فعال دین
ولا فعال صادق الیقین
اے نفس تو حسین کے بعد ذلیل ورسوا ہے اور ان کے بعد زندگی کی تمنا نہیں ہے ،یہ حسین ہیں جو جام شہادت نوش فرما رہے ہیں اور تو صاف و خوش گوار پانی پیئے گا ، یہ ہم سے بہت دور ہے، یہ ہمارے دین کا کام نہیں ہے اور نہ ہی یہ کام سچے یقین رکھنے والے کا ہو سکتا ہے ۔
اس کے بعد مشک کو پانی سے بھرکردوش پر رکھا اور خیام حسینی کا رخ کیا۔ وہ تتربتر فوج جس نے اتنی مدت میں خود کو آمادہ کرلیا تھا آپ پر راستہ کو بند کر دیا اور ہزاروں لوگوں نے آپ کو تیروں کی باڑہ پر لے لیا؛ جس کے نیتجے میں آپ کا پورا جسم تیروں کی آماجگاہ ہوگیا اور تیروں نے آپ کے سارے بدن کوچھلنی کرد یا لیکن آپ شجاعت وشہامت کے ساتھ ان پر وار کرتے رہے اور خیموں تک پہنچنے کا راستہ بناتے رہے کہ اسی درمیان ایک پلیدشخص'' زید بن ورقاء ''جو ایک خرمہ کے درخت کے پیچھے چھپا تھا ایک دوسرے ظالم حکیم بن طفیل کی مدد سے پیچھے سے آپ کے داہنے ہاتھ پر ایسا وار کیا کہ آپ کا ہاتھ کٹ گیا ۔ آپ نے پر چم کو بائیں ہاتھ میں لے لیا اور پر جوش انداز میں یہ رزمیہ اشعارپڑھنے لگے :
واللّه ان قطعتم یمنی
انی أحامی أبد ً اعن دینی
وعن امام صادق الیقین
نجل النبی الطاهر الأ مین
خدا کی قسم اگر چہ تم نے میرا داہنا ہاتھ کاٹ دیا ہے لیکن میں ہمیشہ اپنے دین اور اپنے سچے یقین والے امام کی حمایت کرتا رہا ہوں گا جو طاہر وامین بنی کے نواسے ہیں ۔
اپنے اس شور انگیز اشعار کے ساتھ آپ نے خیمہ تک پہنچنے کی کوشش کو جاری رکھا یہاں تک کہ مسلسل خون بہنے سے آپ پر نقاہت طاری ہوگئی لیکن آپ اپنی طرف تو جہ کئے بغیر خیمہ کی طرف رواں دواں تھے کہ کسی نے آپ کا بایاں ہاتھ بھی کمین گاہ سے کاٹ دیا لیکن پھربھی آپ نے اپنے جہاد کو جاری رکھا اور یہ اشعار پڑھنے لگے :
یا نفس لا تخش من الکفار
وابشر برحمة الجبار
قد قطعواببغیهم یسار
فأ صلهم یا رب حرّ النار
اے نفس کفار سے نہ ڈر ؛تجھے رحمت جبار کی بشارت ہو ؛ انھوں نے دھوکہ سے میرا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا تو پروردگار اتو انھیں جہنم کی آگ کی گرمی میں واصل کردے ۔
آپ کے دونوں ہاتھ کٹ چکے تھے لیکن آپ کی شجاعت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی آپ اس امید میں تھے کہ پانی خیمہ تک پہنچ جائے گا لیکن نا گہاں دشمنوں کی طرف سے ایک تیر آیا اور مشک پر لگا مشک کا سا راپانی زمین پربہہ گیا ۔ اب عباس علیہ السلا م کی فکر بدل گئی ،اب کیا کیا جائے ؟ نہ تو ہاتھ باقی ہیں کہ دوبارہ دشمن کی صفوں پر حملہ کیا جائے اور نہ ہی پانی بچا کہ خیمہ کی طرف جائیں ۔ابھی آپ اسی فکر میں تھے کہ ایک لعین نے ایک گرز آہنی آپ کے سر پر مارا ،عباس زمین پر آئے صدادی: ''یا أخاہ أدرک أخاک'' بھائی ، اپنے بھائی کی مدد کو پہونچئے ۔
اب میری کمر ٹوٹ گئی : علمدار کی آواز سنتے ہی امام حسین علیہ السلام ایک غضباک شیر کی طرح دشمن کی فوج پرٹوٹ پڑے اور خود کو بھائی تک پہنچا دیا لیکن جب دیکھا کہ ہاتھ قلم ہو چکے ہیں پیشانی زخمی ہو چکی ہے اور تیر عباس کی آنکھوں میں پیوست ہے تو حسین علیہ السلام خمیدہ کمر لئے بھائی کہ پاس آئے اور خون میں غلطیدہ علمدار کے پاس بیٹھ گئے، سر زانو پر رکھا اسی اثنا میں عباس ہمیشہ کے لئے سوگئے اور حسین علیہ السلام نے مرثیہ شروع کیا:''أخی الأن انکسر ظھر و قلت حیلت و شمت ب عدوّ'' اے میرے بھائی اب میری کمر ٹوٹ گئی، راہ وچارہ تدبیر مسدود ہوگئی اور دشمن مجھ پر خندہ زن ہے ،پھر فرمایا :
الیوم نامت أعین بک لم تنم
وتسهدت أخری فعزمنامها
اب وہ انکھیں سوئیں گی جو تمہارے خوف سے نہیں سوتی تھیں اور وہ آنکھیں بیدار رہیں گی جو تمہارے وجود
سے آرام سے سوتی تھیں ۔ایک شاعر نے امام حسین علیہ السلام کی زبانی اہل حرم کے محافظ کو اس طرح یاد کیا ہے :
عباس تسمع زینبا تدعوک من
ل یا حما اذا العدی سلبون ؟
أولست تسمع ماتقول سکینة
عماه یوم الأ سر من یحمین؟
اے عبا س! تم سن رہے ہوزینب تم کو مخاطب کر کے کہہ رہی ہے کہ اے زینب کے محافظ و حامی تمہاری شہادت کے بعد دشمنوں کے حملہ کے مقا بلہ اب ہماری حفاظت کون کرے گا ؟
کیا تم نہیں سن رہے ہوکہ سکینہ کیا کہہ رہی ہے چچا جان آپ کی شہادت کے بعد اسیری کے دنوں میں ہماری حفاظت و حمایت کون کرے گا ؟
اس کے بعد غم و اندوہ کی ایک دنیا لے کر آپ خیمے کی طرف پلٹے، سکینہ نے جیسے ہی بابا کو آتے دیکھا دوڑتی ہوئی گئیں اور پوچھا :'' أبتاہ ھل لک علم بعم العباس ؟'' بابا ! آپ کو چچا کی کوئی خبر ہے ؟ یہ سن کر مولا رونے لگے اور فرمایا : ''یا بنتاہ أن عمک قد قتل'' بیٹی تیرے چچامارڈالے گئے ۔
حسین علیہ السلام کا شیر خوار
اس کے بعد حسین علیہ السلام اپنے خیمے کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک چھوٹا سا بچہ جو ابھی شیر خوار تھا یا اس سے تھوڑا سا بڑا تھا جسے عبد اللہ بن حسین(١) کے نام سے یاد کیا جاتاہے آپ کو دیا گیااور آپ نے اس بچہ کو اپنی گود میں بیٹھایا ۔(٢)
ناگہاں قبیلہ بنی اسد کی ایک فرد حرملہ بن کاہل یا ہانی بن ثبیث حضرمی نے ایک تیر چلایااور وہ بچہ اس تیر سے ذبح ہو گیا ۔حسین علیہ السلام نے اس کے خون کواپنے ہاتھوں میں لیا اور جب آپ کی ہتھیلی خون سے بھر گئی تو اسے ز مین پرڈال دیا اور فرمایا :'' رب ان تک حبست عنا النصر من السماء فاجعل ذالک لما هو خیر ، وانتقم لنا من هٰؤ لا ء الظالمین'' خدا یا اگر اپنی حکمت کے پیش نظر تو نے آسمان سے اپنی مدد ونصرت کو ہم سے روک لیا ہے تو اس سے بہتر چیز ہمارے لئے قرار دے اور ان ظالموں سے ہمارا انتقام لے۔
____________________
١۔ ابو مخنف نے نقل کیا ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔ (طبری ،ج٥،ص ٤٤٨)
٢۔ طبری نے عماردہنی کے حوالے سے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ایک تیر آیا اور اس بچہ کو لگا جو آپ کی آغوش میں تھا تواور آپ اس کے خون کو ہاتھ میں لے کر فرمارہے تھے :''اللهم احکم بیننا و بین قو م دعونا لینصرونا فقتلونا' 'خدا یا تو ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کر جس نے ہمیں بلایا تاکہ ہماری مدد کرے اور پھر ہمیں قتل کردیا۔ (طبری، ج٥ ،ص ٣٨٩)
یعقو بی کا بیان ہے : آغاز جنگ کے بعد ایک کے بعد ایک جام شہادت نوش فرمانے لگے یہا ں تک کہ حسین علیہ السلام تنہا رہ گئے۔ آپ کے اصحاب ،فرزند اور رشتہ دارو ں میں کوئی باقی نہ رہا؛ آپ تنہا اپنے گھوڑ ے پر بیٹھے تھے کہ ایک بچہ نے اسی وقت دنیامیں آنکھ کھو لی۔ آپ نے اس کے کان میں اذان دی اور ابھی اسکی تحنیک (تالو اور زبان کے درمیان جدائی کرنے) میں ہی مشغول تھے کہ ایک تیر آیا اور بچہ کے حلق میں پیو ست ہو گیا اور اس نے اسے ذبح کردیا۔اما م حسین علیہ السلام نے اس کے حلق سے تیر نکا لا اور وہ خون میں لت پت ہو گیا۔ اس وقت آپ فر مارہے تھے''واللّٰه لأ نت أکرم علی اللّٰه من الناقة ولمحمد أکرم من الصالح'' خدا کی قسم تو خدا کے سامنے ناقہ (صالح) سے زیادہ ارزش مند ہے اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم صالح سے زیادہ باکر امت ہیں پھر اس کے بعد آکر اس نو نہال کو اپنے فرزند و ں اور بھتیجو ں کے پاس لٹا دیا۔ (تاریخ یعقوبی، ج٦،ص٢٣٢،طبع نجف)
سبط بن جو زی کا بیان ہے کہ پھر حسین ملتفت ہو ئے کہ ایک بچہ پیاس کی شدت سے رورہا ہے تو آپ اسے اپنے ہاتھ پر لے کر دشمنو ں کے سامنے گئے اور فر مایا :''یا قوم ان لم تر حمو ن فارحمواهٰذا الطفل'' اے قوم ! اگر تم لوگو ں کو مجھ پر رحم نہیں آتاتو اس بچہ پر رحم کرولیکن اس کے جواب میں دشمن کی فوج میں سے ایک نے اس بچہ پر تیر چلادیا جس سے وہ ذبح ہوگیا ۔یہ صورت حال دیکھ کر حسین علیہ السلام رودیئے اور کہنے لگے :''اللّٰهم احکم بیننا وبین القوم دعونا لینصرونا فقتلونا' ' خدایا!تو ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کر جس نے ہمیں دعوت دی کہ ہم آپ کی نصرت و مدد کری ں گے لیکن اس نے ہمیں قتل کردیا۔ اسی درمیان فضامیں ایک آوازگونجی'' دعہ یا حسین! فان لہ مرضعاً فی الجنة'' اے حسین ! اس بچہ کو چھوڑ دو کیونکہ جنت میں اسے دودھ پلانے والی موجود ہے۔ (تذکرہ ،ص ٢٥٢، طبع نجف)
ان تینو ں روایتو ں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کربلا میں ایسے تین بچے شھید ہوئے ہیں جو شیر خوار یا اس سے کچھ بڑے تھے اور ابو مخنف نے فقط ایک شیر خوار کا تذکرہ کیا ہے جسے طبری نے ذکر کیا ہے۔اس روایت کی بنیاد پر جناب علی اصغر کی روایت اور امام حسین علیہ السلام کا انہیں میدان میں لے جانے سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ واقعہ سبط بن جوزی کی زبانی ثابت ہے لہٰذا اگر کوئی آغوش میں شہید ہونے والے واقعہ کو پڑھتا ہے یا لکھتا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ حضرت علی اصغر کی شہادت کا منکر ہے اور نہ ہی حضرت علی اصغر کی شہادت کا ذکر کرنے والو ں کو اس پر مصر ہونا چاہیے کہ شیر خوار بچے کے عنوان سے فقط یہی شہید ہوئے ہیں ۔ان کے علاوہ دو بچے اور بھی ہیں جو تیر ستم کا نشانہ بنے ہیں ۔ (مترجم)
عبداللہ بن جعفر کے دو فرزندوں کی شہادت
پھر عبداللہ بن جعفر کے فرزند میدان نبرد میں آئے اور دشمن کی فوج نے انھیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔ عبد اللہ بن قطبہ نبہانی طائی نے عون بن عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب پر حملہ کرکے انھیں شہید کردیا(١) اور عامر بن نہشل تیمی نے محمد بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب پر حملہ کرکے انھیں شھید کردیا ۔(٢)
آل عقیل کی شہادت
''عثمان بن خالد بن اسیر جہنی'' اور'' بشر بن حوط قابضی ھمدانی'' نے ایک زبردست حملہ میں عبدالرحمن بن عقیل بن ابیطالب کو شہیدکردیا۔(٣) اوردونوں نے مل کر ان کے لباس وغیرہ لوٹ لئے اور عبداللہ بن عزرہ خثعمی(٤) نے جعفر بن عقیل بن ابیطالب کو تیر مار کر شہید کردیا ،پھر عمروبن صبیح صدائی(٥)
____________________
١۔آپ کی مادر گرامی جمانة بنت مسیب بن نجبۂ غزاری تھی ں ۔ (طبری ،ج ٥، ص ٤٦٩) مسیب بن نجبہ کا شمار کوفہ کے شیعو ں میں توابین کے زعماء میں ہوتا ہے۔ ابو الفرج اصفہانی کا بیان ہے کہ آپ کی مادر گرا می عقیلہ بنی ہاشم زینب بنت علی بن ابی طالب (علیہم السلام) تھی ں (ص٦٠ ،طبع نجف) ۔
٢۔ آپ کی مادر گرامی خوصاء بنت خصفہ بن ثقیف تیمی خاندان بکر بن وائل سے متعلق تھی ں ۔(طبری ،ج٥،ص ٤٦٩) ابوالفرج نے بھی یہی لکھا ہے (ص ٦٠ ،طبع نجف) لیکن سبط بن جوزی نے حوط بنت حفصہ التمیمی لکھاہے۔ (تذکرہ، ص ٢٥٥ ، ط نجف)
٣۔ مختار نے ان دونو ں کی طرف عبداللہ بن کامل کو روانہ کیا۔ ادھر یہ دونو ں جزیرہ یعنی موصل کی طرف نکلنے کا ارادہ کررہے تھے تو عبداللہ بن کامل اور دوسرے لوگ ان دونو ں کی تلاش میں نکلے اورمقام جبانہ میں انھی ں پالیا۔ وہا ں سے ان دونو ں کو لے کر آئے اور جعد کے کنوی ں کے پاس لے گئے اور وہیں ان دونو ں کی گردن ماردی اور آگ میں جلادیا ۔ اعشی ہمدان نے ان دونو ں پر مرثیہ کہا ہے (طبری، ج٦، ص ٥٩) لیکن طبری نے جلد ٥، ص ٤٦٩ پر لکھا ہے کہ عبدالرحمن بن عقیل کو فقط عثمان بن خالد جہنی نے قتل کیا ہے اوربشر بن حوط ہمدانی ان کے ہمراہ اس کے قتل میں شریک نہ تھا لیکن اسی سند سے ابوالفرج نے دونو ں کو ذکر کیا۔ (ص، ٦١،طبع نجف)
٤۔ طبری نے ج٥، ص ٤٦٩ پر لکھ اہے کہ آپ کو بشر بن حوط بن ہمدانی نے شہید کیا اور ج٦، ص ٦٦٥ پر عبداللہ بن عروہ خثعمی لکھا ہے۔ مختار نے اس شخص کو طلب کیا تو یہ آپ کے ہاتھ سے نکل کر مصعب سے ملحق ہوگیا۔ابولفرج نے بعینہ اسی سند کے حوالے سے عبداللہ بن عروہ خثعمی لکھا ہے۔ (ص ٦١طبع نجف)
٥۔ مختار نے اسے طلب کیا تو یہ رات میں اس وقت لایا گیا جب آنکھی ں نیند کا مزہ لے رہی تھی۔ اس وقت یہ چھت
پر تھا تاکہ پہچانا نہ جا سکے۔ اسے پکڑا گیا درحالیکہ اس کی تلوار اسکے سر کے نیچے تھی ۔ پکڑنے والے نے اس سے کہا خدا تیری تلوار کا برا کرے جو تجھ سے کتنی دور ہے اور کتنی نزدیک ۔ وہ کہہ رہاتھا کہ میں نے ان لوگو ں پر نیزہ چلایا ہے مجروح کیا ہے لیکن کسی کو قتل نہیں کیا ہے۔ اسے مختار کے پاس لایا گیا، مختار نے اسے اسی قصر میں قید کر دیا جب صبح ہوئی تو لوگو ں کو دربارمیں آنے کی اجازت ملی اور لوگ دربار میں داخل ہونے لگے تو وہ قیدی بھی لایا گیا۔ اس نے کہا : اے گرو ہ کفار و فجار ! اگر میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ میں تلوار کی نوک سے لرزہ براندام نہیں ہوتا اورنہ ہی خوف زدہ ہوتا ہو ں ۔ میرے لئے کتنا باعث سرور ہے کہ میری موت قتل ہے۔ خلق خدا میں مجھے تم لوگو ں کے علاوہ کوئی اور قتل کرے گا ۔ میں جانتا ہو ں کہ تم لوگ بد ترین مخلوق خدا ہو مگر مجھے اس کی آرزو تھی کہ میرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو میں اس سے تم لوگو ں کو کچھ دیر تک مارتا ،پھر اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور ابن کامل جو اس کے پہلو میں تھے اس کی آنکھ پر طمانچہ لگایا،اس پرابن کامل ہنس پڑااور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک دیا پھر گویا ہوا : اس کا گمان یہ ہے کہ اس نے آل محمد کو زخمی کیا ہے اور نیزہ چلایا ہے لہٰذا اس کے فیصلہ کو ہم نے آپ پرچھوڑ دیا ہے۔ مختار نے کہا : میرا نیزہ لاؤ ! فوراً نیزہ لایا گیا، مختار بولے : اس پر نیزہ سے وار کرو یہا ں تک کہ یہ مرجائے پس اتنا وار ہوا کہ وہ مرگیا ۔(طبری ،ج٦، ص ٦٥)لیکن طبری نے ج٥،ص ٤٦٩ پر ابو مخنف سے روایت کی ہے کہ اس نے عبداللہ بن عقیل بن ابیطالب علیہم السلام کو قتل کیا ہے اور ج٦،ص ٦٤ پر روایت کی ہے کہ جس نے عبداللہ بن مسلم بن عقیل کو قتل کیا وہ زید بن رقاد جنبی ہے اور وہ یہ کہا کرتا تھا کہ میں نے تمہارے ایک جوان پر تیر چلایا جب کہ وہ اپنی ہتھیلی کو اپنی پیشانی پر رکھے ہوئے تھا اور میں نے اس کی ہتھیلی کو اس کی پیشانی سے چپکا دیا اس طرح سے کہ وہ اپنی ہتھیلی کو اپنی پیشانی سے جدا نہ کرسکا جب اس کی پیشانی اس طرح ہتھیلی سے چپک گئی تو اس جوان نے کہا :''اللّٰهم انهم استقلونا واستذلونا اللهم فاقتلهم کماقتلونا و اذلهم کما استذلونا'' خدا یا !ان لوگو ں نے ہماری تعداد کم کردی اور ہمیں ذلیل کرنے کی کوشش کی خدا یا! توبھی ان لوگو ں کو اسی طرح قتل کرجیسے انھو ں نے ہمیں قتل کیا ہے اور انھی ں اسی طرح ذلیل و رسوا کر جیسے انھو ں نے ہمیں ذلیل و رسوا کر نے کی کوشش کی ہے؛ پھر اس جنبی نے ایک تیراورچلاکر آپ کو شہید کر دیا۔ وہ کہتاہے:جب میں اس جوان کے پاس آیاتووہ مرچکاتھا۔ میں نے اس تیر کو حرکت دیا تاکہ اسے باہر نکال دو ں لیکن اس کا پھل کچھ اس طریقے سے پیشانی میں پیوست ہوچکا تھا کہ میں اسے نکالنے سے عاجز ہوگیا۔ اپنے زمانے میں مختار نے عبداللہ بن کامل شاکری کو اس کے سراغ میں روانہ کیا،عبداللہ نے آکراس کے گھر کو گھیر لیا اور وہا ں لوگو ں کی ایک بھیڑ لگ گئی تو وہ شخص تلوار سونتے باہر نکلا۔ ابن کامل نے کہا : اس پر تیر چلاؤ اور اسے پتھر مارو،لوگو ں نے ایسا ہی کیا یہا ں تک کہ وہ زمین پر گر پڑا لیکن اس کے جسم میں ابھی جان باقی تھی۔اس کے بعد ابن کامل نے آگ منگوائی اوراسے زندہ جلادیا۔(طبری، ج٦،ص ٦٤)
نے عبداللہ بن مسلم بن عقیل(١) پرایک تیر چلایا ۔آپ اپنا ہاتھ پیشانی پر لے گئے تاکہ تیر نکال لیں لیکن پھر ہتھیلیوں کو حرکت دینے کی طاقت نہ رہی،اسی دوران ایک دوسرا تیرچلا جو آپ کے سینے میں پیوست ہو گیا(٢) اور بسیط بن یاسر جہنی نے محمد بن ابوسعید بن عقیل کو شہید کر دیا۔(٣)
حسن بن علی علیہما السلام کے فر زندوں کی شہادت
عبد اللہ بن عقبہ غنوی(٤) نے ابو بکر بن حسن بن علی علیہماالسلام(٥) پر تیر چلا کر انھیں شہید کر دیا(٦) اور عبداللہ بن حسن بن علی(علیہماالسلام) کوحرملہ بن کاہل اسدی(٧) نے تیر چلاکر شہید کردیا ۔(٨)
____________________
١۔ آپ کی مادر گرامی کانام رقیہ بنت علی بن ابیطالب علیہم السلام ہے۔(طبری، ج٥،ص٤٦٩،ابوالفرج ،ص٦٢ ،طبع نجف)
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے۔(طبری، ج٥،ص٤٦٩ ، ابو الفرج ،ص ٦٢، طبع نجف)
٣۔ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم ازدی سے یہ روایت نقل کی ہے۔(طبری، ج٥ ،ص٤٤٧)
٤۔ ٤٣ھ میں یہ مستوردبن عقبہ کے ہمراہ نکلنے والو ں میں شمار ہوتا ہے جو کوفہ میں مغیرہ بن شعبہ کی حکومت کا زمانہ تھا۔یہ وہا ں کاتب تھا ۔'' مستورد ''نے حکم دیا کہ یہ اس کے لئے ایک خط لکھے پھر اس خط کو لے کر سماک بن عبید والی مدائن کے پاس لے جائے اور اس کو اپنی طرف بلائے تو اس نے ایسا ہی کیا۔(طبری ،ج٥ ،ص ١٩٠) جب مستورد کی حکومت مصیبت میں گرفتار ہوئی تو غنوی وہا ں سے بھاگ کر کوفہ روانہ ہوگیا اور وہا ں شریک بن نملہ کے گھر پہنچا اور اس سے پوچھا کہ مغیرہ سے کہا ں ملاقات ہوگی تاکہ یہ اس سے امان لے سکے(طبری، ج٥ ،ص ٩٠) اس نے مغیرہ سے امان طلب کی اور مغیرہ نے اسے امان دے دیا۔(طبری، ج٥،ص ٢٠٦) کربلا کے بعد یہ مختار کے خوف سے بھاگ کر مصعب بن زبیر سے ملحق ہو گیا پھر عبدالرحمن بن محمد بن اشعث کے ہمراہ ہوگیا۔ (طبری ،ج٥ ، ص ٢٠٥) مختار نے اس کی جستجو کرائی تو معلوم ہوا کہ فرار ہے تومختار نے اس کا گھر منہدم کردیا۔ (طبری ،ج٦،ص ٦٥) ْ
٥۔ طبری نے جلد ٥، ص ٤٦٨ پر یہی لکھا ہے مگر ص ٤٤٨ پر ابوبکر بن حسین بن علی لکھ دیا ہے جو غلط ہے ۔
٦۔ عقبہ بن بشیر اسدی کا بیان ہے کہ مجھ سے ابو جعفر محمد بن علی بن حسین علیہم السلام نے بیان کیا ہے۔ (طبری، ج٥، ص ٤٤٨) ابوالفرج نے مدائنی سے اس نے ابو مخنف سے اس نے سلیمان بن ابی راشد اور عمرو بن شمر سے اس نے جابرسے انھو ں نے ابو جعفر امام باقر علیہ السلام سے یہ روایت بیان کی ہے۔(مقاتل الطالبیین، ص ٥٧ ،طبع نجف)
٧۔ طبری نے ج٦،ص ٦٥ پر یہی لکھا ہے لیکن یہا ں ج٥ ،ص ٤٦٨ پر حرملہ بن کاہن لکھا ہے جو غلط ہے۔اس کے سلسلے میں مختار کی جستجو اور کیفیت قتل کو بھی ذکر نہیں کیا ہے ۔ہشام کا بیان ہے کہ مجھ سے ابو ہذیل'' سکون '' کے رہنے والے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ وہ کہتا ہے :خالد بن عبداللہ کے زمانے میں حضرمیو ں کی نشست میں ،میں نے ہانی بن ثبیت حضرمی کو دیکھا جو
بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ میں نے سنا کہ وہ کہہ رہاتھا : میں ان لوگو ں میں سے ہو ں جو حسین کے قتل کے وقت وہا ں موجودتھے۔ خدا کی قسم میں ان دس (١٠) میں کا ایک تھا جو ہمیشہ گھوڑے پر تھے اور میں پورے لشکر میں گھوم رہا تھا اور ان کے روز گار کو بگاڑ رہاتھا اسی اثنا میں ان خیمو ں سے ایک نوجوان نکلا جس کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی اس کے جسم پر ایک کرتا اور پاجامہ تھا اور وہ بہت خوفزدہ تھا اور وہ ادھرادھر دیکھ رہا تھا گویا میں دیکھ رہا تھا کہ اس کے کان میں دو درتھے جب وہ ادھر ادھر دیکھ رہاتھا تو وہ در ہل رہے تھے ۔
ناگہا ں ایک شخص گھوڑے کو سر پٹ دوڑا تاہوا سامنے آیا یہا ں تک کہ اس کے نزدیک ہوگیا پھر جب وہ اپنے گھوڑے سے مڑا تو اس نے اس نوجوان کو تلوار سے دو نیم کردیا۔ ابولفرج مدائنی نے اس کی روایت کی ہے۔(ص ٧٩ ،طبع نجف) ابو مخنف کا بیان ہے کہ حسن بن حسن اور عمر بن حسن چھوٹے تھے لہٰذا قتل نہ ہوئے۔ (طبری، ج٥ ،ص ٤٤٩) حسین علیہ السلام کے غلامو ں میں سے دو غلام سلیمان اور منجح بھی جام شہادت نوش فرماکر راہی ملک جاودا ں ہوگئے ۔(طبری ،ج٥، ص ٤٦٩)
٨۔طبری نے ج٥، ص٤٦٨ پر یہی لکھاہے اور ابو الفرج نے ص ٥٨ ،طبع نجف پر مدائنی کے حوالے سے یہی لکھا ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ بچہ وہی ہے جو خیمہ سے نکل کر اپنے چچا کی شہادت گاہ کی طرف بھاگا تھا اور وہیں پر ان کے پاس شہید کردیا گیا جیسا کہ عنقریب اس کا بیان آئے گا ۔ ارشاد میں مفید نے اس روایت کو صراحت کے ساتھ لکھا ہے۔(ص ٢٤١ ،طبع نجف)
امام حسین علیہ السلام کی شہادت
سر کا رسید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے جب فقط تین یاچار ساتھی رہ گئے تو آپ نے اپنا یمنی لباس منگوا یا جو مضبوط بناوٹ کا صاف وشفاف کپڑا تھا اسے آپ نے جا بجا سے پھاڑدیا اور الٹ دیا تاکہ اسے کوئی غارت نہ کرے ۔(١) ا ور(٢)
اس بھری دوپہر میں آپ کافی دیر تک اپنی جگہ پرٹھہرے رہے۔ دشمنوں کی فوج کا جو شخص بھی آپ تک آتا تھا وہ پلٹ جاتا تھا کیونکہ کوئی بھی آپ کے قتل کی ذمہ داری اوریہ عظیم گناہ اپنے سر پر لینا پسند نہیں کررہا تھا۔ آخر کار مالک بن نسیربدّی کندی(٣) آنحضرت کے قریب آیا اور تلوار سے آپ کے سر پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ برنس (ایک قسم کی ٹوپی جو آغاز اسلام میں پہنی جا تی تھی) جو آپ کے سر پر تھی شگافتہ ہوگئی اور ضرب کا اثر آپ کے سر تک پہنچا اور آپ کے سر سے خون جاری ہوگیا ، برنس خون آلود ہوگئی ، تو حسین علیہ السلام نے اس سے کہا : ''لا أکلت بھا ولا شربت وحشرک اللّٰہ مع الظالمین'' تجھے کھانا ، پینا نصیب نہ ہو،اور اللہ تجھے ظالموں کے ساتھ محشور کرے ۔
____________________
١۔ آپ کے اصحاب نے آپ سے کہا : اگر آپ اس کے نیچے ایک چھوٹا سا کپڑاپہن لیتے تو بہتر ہوتا۔ آپ نے جواب دیا:'' ثوب مذلہ ولا ینبغی لی أن البسہ '' یہ ذلت ورسوائی کا لباس ہے اور میرے لئے مناسب نہیں ہے کہ میں اسے پہنو ں ۔ جب آپ شہید ہوگئے تو بحر بن کعب وہ یمنی لباس لوٹ کے لے گیا ۔(طبری ،ج٥،ص٤٥١) ابو مخنف کا بیان ہے : مجھ سے عمروبن شعیب نے محمد بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ بحر بن کعب کے دونو ں ہاتھو ں سے سردی میں پانی ٹپکتا تھا اور گرمی وہ بالکل سوکھی لکڑی کی طرح خشک ہوجاتا تھا۔ (طبری ،ج٥،ص ٤٥١)
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم سے یہ روایت کی ہے۔(طبری ،ج٥ ،ص ٤٥١وارشاد، ص ٢٤١)
٣۔ یہ وہی شخص ہے جو راستے میں حر کے پاس ابن زیاد کا خط لے کر آیا تھا جس میں یہ لکھاتھا کہ حسین(علیہ السلام) کو بے آب وگیاہ صحرا میں اتارلو ؛امام حسین علیہ السلام کے قافلہ کے اس صحرا میں وارد ہونے کے ذیل میں اس کے احوال گزرچکے ہیں ۔
پھر آپ نے اس برنس کوالگ کیا اور ایک دوسری ٹوپی منگوا کر اسے پہنا اور اس پر عمامہ باندھا۔(١) اسی طرح سیاہ ریشمی ٹوپی پر آپ نے عمامہ باندھا۔ آپ کے جسم پر ایک قمیص(٢) یاایک ریشمی جبہ تھا ،آپ کی ڈاڑھی خضاب سے ر نگین تھی، اس حال میں آ پ میدان جنگ میں آئے اورشیربیشۂ
____________________
١۔ وہ برنس ریشمی تھا ۔ مالک بن نسیر کندی آیا اور اسے اٹھا لے گیا، پھر جب اس کے بعد وہ اپنے گھر آیا تو اس برنس سے خون کو دھونا شروع کیا۔ اس کی بیوی نے اسے دیکھ لیا اور وہ سمجھ گئی تو بولی : نواسئہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سامان لوٹ کر لا تا ہے اور میرے گھر میں داخل ہوتا ہے ! میرے پاس سے اسے فوراً نکال لے جا! اس کے ساتھیو ں کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے وہ ہمیشہ فقیر رہا یہا ں تک کہ مر گیا۔ (طبری، ج٥،ص ٤٤٨، ارشاد ،ص ٢٤١) ارشاد میں شیخ مفید نے مالک بن یسر لکھا ہے۔ ہشام اپنے باپ محمد بن سائب سے اور وہ قاسم بن اصبغ بن نباتہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھو ں نے کہا : مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جو اپنے لشکر میں حسین علیہ السلام کی جنگ کا گواہ ہے وہ کہتا ہے : جب حسین کے سارے سپاہی شہید کردیئے گئے تو آپ نے گھوڑے پر سوار ہو کر فرات کا رخ کیا اور اپنے گھوڑے کو ایک ضرب لگائی ۔یہ دیکھ کر قبیلہ بنی آبان بن دارم کے ایک شخص نے کہا : وائے ہو تم پر ان کے اور پانی کے درمیان حائل ہو جاؤ توان لوگو ں نے اس کے حکم کی پیروی کی اور ان کے اور فرات کے درمیان حائل ہوگئے اور'' اباتی'' نے ایک تیر چلا یا جو آپ کی ٹھڈی میں پیوست ہوگیا ۔امام حسین علیہ السلام نے اس تیر کو کھینچا اور اپنی دونو ں ہتھیلیا ں پھیلا دی ں تو وہ خون سے بھر گئی ں پھر آپ نے فرمایا :'' اللّٰھم ان أشکو الیک ما یفعل بابن بنت نبیک،اللّٰھم اظمہ''خدا یا! میں تیری بارگاہ میں اس چیز کی شکایت کر تا ہو ں جو تیرے نبی کے نواسہ کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ خدا یا! اسے ہمیشہ پیاسا رکھ۔ قاسم بن اصبغ کا بیان ہے : میں نے اسے اس حال میں دیکھا کہ اس کے پاس دودھ سے بھرے بڑے بڑے برتن اور کوزو ں میں ٹھنڈے ٹھنڈے شربت رکھے ہوئے تھے لیکن وہ کہہ رہا تھا : وائے ہو تم لوگو ں پر مجھے پانی پلا ؤ ،پیاس مجھے مارے ڈال رہی ہے پھر بڑا برتن اور کوزہ لا یا جاتا اور وہ سب پی جاتا اور جب سب پی جاتا تو پھر تھوڑی ہی دیر میں فریاد کرنے لگتا اور پھر کہنے لگتا : وائے ہو تم لوگو ں پر ! مجھے پانی پلا ؤ پیاس مجھے مارے ڈال رہی ہے، خدا کی قسم تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ اس کا پیٹ اونٹ کے پیٹ کی طرح پھٹ گیا۔ ابو الفرج نے اسے ابو مخنف کے حوالہ سے لکھا ہے۔(ص ٧٨، طبع نجف)
ہشام کا بیان ہے : مجھ سے عمروبن شمر نے جابر جعفی کے حوالے سے روایت کی ہے کہ ان کا بیان ہے : حسین کی پیاس شدید سے شدید تر ہو رہی تھی لہٰذاآپ فرات کے نزدیک پانی کی غرض سے آئے لیکن ادھر سے حصین بن تمیم نے ایک تیر چلا یا جو آپ کے دہن مبارک پر لگا ، آپ نے اپنے دہن سے اس خون کو ہاتھ میں لیا اور آسمان کی طرف پھینک دیا اور فرمایا :'' اللّٰھم أحصھم عدداً واقتلھم بدداً ولا تذرعلی الارض منھم أحداً''(طبری ،ج ٥،ص٤٤٩و٠ ٤٥) خدا یا!ان کی تعدادکو کم کردے ،انھی ں نابود کردے اور ان میں سے کسی ایک کوروئے زمین پرباقی نہ رکھ ۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری ،ج٥،ص٤٤٧و ٤٤٨)
٢۔ابو مخنف نے کہا:مجھ سے صقعب بن زہیرنے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری ،ج٥،ص٤٥٢)
شجاعت جیساقتال شر وع کیا،دشمنو ں کے ہر تیر سے خود کوماہرانہ اندازمیں بچا رہے تھے ، دشمن کی ہر کمی اورضعف سے فائدہ اٹھارہے تھے اور اسے غنیمت و فرصت شمار کررتے ہوئے اور دشمن پر بڑازبردست حملہ کررہے تھے۔(١)
اسی دوران شمراہل کوفہ کے دس پیدلوں کے ساتھ حسین علیہ السلام کے خیموں کی طرف بڑھنے لگا جن میں آپ کے اثاثہ اور گھر والے تھے۔ آپ ان لوگوں کی طرف بڑھے تو ان لوگوں نے آپ اورآپ کے گھر والوں کے درمیان فاصلہ پیدا کردیا۔یہ وہ موقع تھا جب آپ نے فرمایا:''ویلکم !ان لم یکن لکم دین ،وکنتم لاتخافون یوم المعادفکونواف أمردنیاکم أحراراًذوی أحساب ! امنعوارحلی وأهل من طغامکم وجهالکم ! ''
وائے ہو تم پر !اگر تمہارے پاس دین نہیں ہے اورتمہیں قیامت کا خوف نہیں ہے توکم ازکم دنیاوی امور میں تو اپنی شرافت اور خاندانی آبرو کا لحاظ رکھو ؛ ان اراذل واوباشوں کو ہمارے خیموں اور گھر والوں سے دور کرو۔ یہ سن کرشمر بن ذی الجوشن بولا : اے فرزندفاطمہ یہ تمہاراحق ہے ! یہ کہہ کر اس نے آپ پر حملہ کردیا، حسین (علیہ السلام) نے بھی ان لوگوں پر زبر دست حملہ کیاتووہ لوگ ذلیل ورسواہوکر وہاں سے پیچھے ہٹ گئے۔(٢) عبداللہ بن عمار بارقی(٣) کابیا ن ہے : پھر پیدلو ں کی فوج پر چپ وراست سے آپ نے زبردست حملہ کیا ؛پہلے آپ ان پر حملہ آور ہوئے جوداہنی طرف سے یلغار کررہے تھے اورایسی تلوار چلا ئی کہ وہ خوف زدہ ہوکر بھاگ گھڑے ہوئے پھر بائیں جانب حملہ کیا یہاں تک وہ بھی خوف زدہ ہوکر بھاگ گئے۔خداکی قسم میں نے کبھی ایسا ٹوٹاہوا انسان نہیں دیکھا جس کے سارے اہل بیت، انصار اورساتھی قتل کئے جاچکے ہوں اس کا دل اتنامستحکم، اس کاقلب اتنامطمئن اور اپنے دشمن کے مقابلہ میں اس قدرشجاع ہو جتنے کہ حسین علیہ السلام تھے۔ خداکی قسم میں نے ان سے پہلے اور ان کے بعد کسی کو ان کے
____________________
١۔ابومخنف نے حجاج سے اور اس نے عبداللہ بن عمار بارقی سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری، ج٥،ص٤٥٢)
٢۔یہ ابو مخنف کی روایت میں ہے۔(طبری ،ج٥،ص٤٥٠) ابوالفرج نے بھی اس کی روایت کی ہے۔(ص٧٩)
٣۔ یہی شخص امیرالمومنین علیہ السلا م کی اس خبر کا بھی راوی ہے جس میں آپ ٢٦ھ میں صفین کی طرف جارہے تھے تو فرات پر پل بنانے کی بات ہوئی تھی۔(طبری ،ج٥،ص ٥٦٥)
جیسانہیں دیکھا۔اگرپیدل کی فوج ہوتی تھی تو چپ وراست سے ایساذلیل ورسواہو کے بھاگتی تھی جیسے شیر کودیکھ کرہرن بھاگتے ہیں ۔(١) اسی دوران عمر بن سعد ، امام حسین علیہ السلام کے قریب آیا، اسی اثناء میں امام کی بہن زینب بنت فاطمہ علیھاالسلام خیمہ سے باہرنکلیں اورآوازدی : ''یاعمر بن سعد ! أیقتل أبو عبداللّٰہ وأنت تنظر الیہ '' اے عمر بن سعد ! کیاابو عبداللہ الحسین قتل کئے جارہے ہیں اور توکھڑادیکھ رہا ہے۔ تو اس نے اپنا چہرہ ان کی طرف سے پھیرلیا(٢) گو یا میں عمر کے آنسوؤں کو دیکھ رہاتھا جو اس کے رخسار اور ڈاڑھی پر بہہ رہے تھے ۔(٣)
ادھر آپ دشمنوں کی فوج پر بڑھ بڑھ کر حملہ کرتے ہوئے فرمارہے تھے :'' أعلی قتل تحاثون ؟اما والله لا تقتلو ن بعد عبدا من عباداللّٰه أسخط علیکم لقتله من !و أیم الله ان لأرجو أن یکرمنی اللّٰه بهوا نکم ثم ینتقم ل منکم من حیث لا تشعرون (٤)
أماواللّٰه لو قد قتلتمون لقد ألقی اللّٰه بأسکم بینکم وسفک دمائکم ثم لا یرضی لکم حتی یضاعف لکم العذاب الألیم ! ''(٥)
____________________
١۔روایت میں معزیٰ اور ذئب استعمال ہوا ہے جس کے معنی گلہء گوسفند اور بھیڑئیے کے ہیں عرب تہذیب اور کلچر میں کسی کی شجاعت ثابت کرنے کی یہ بہترین مثال ہے لیکن ہماری ثقافت میں بزرگ شخصیتو ں کو بھیڑئیے سے تعبیر کرنا ان کی توہین ہے اور قاری پر بھی گرا ں ہے لہٰذا محققین کرام نے مترجمین کو اس بات کی پوری اجازت دی ہے کہ وہ تشبیہات کے ترجمہ میں اپنی تہذیب اور کلچر ( culture )کا پورا پورا لحاظ رکھی ں ، اسی بنیاد پر ترجمہ میں شیر اور ہرن استعمال کیا گیا ہے جو شجاعت اور خوف کی تشبیہات ہیں ۔ (مترجم)
٢۔ شیخ مفید نے ارشاد میں یہ روایت بیان کی ہے۔(الارشاد ،ص٢٤٢، طبع نجف)
٣) یہ روایت'' حجاج ''سے ہے۔ اس نے اسے عبداللہ بن عمار بارقی سے نقل کیا ہے۔(طبری ،ج٥،ص ٤٥١) شیخ مفید نے ارشاد میں حمید بن مسلم سے روایت کی ہے۔(ص ٢٤١)
٤۔امام علیہ السلام کی دعا مستجاب ہوئی اور کچھ زمانے کے بعد مختار نے قیام کیا اور اپنی سپاہ کی ایک فرد ابا عمرہ کو عمربن سعد کی طرف روانہ کیا اور حکم دیا کہ اسے لے کرآ۔ وہ گیا یہا ں تک کہ اس کے پاس وارد ہوا اور کہا : امیر نے تم کو طلب کیا ہے۔ عمر بن سعد اٹھا لیکن اپنے جبہ ہی میں پھنس گیا تو ابو عمرہ نے اپنی تلوار سے اس پر وار کرکے اسے قتل کر دیا اور اس کے سر کو اپنی قبا کے نچلے حصے میں رکھا اور اس کو مختار کے سامنے لاکر پیش کردیا ۔حفص بن عمر بن سعد، مختار کے پاس ہی بیٹھا تھا ۔مختار نے اس سے کہا : کیا تم اس سر کو پہچانتے ہو ؟ تو اس نے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور کہاکہ اس کے بعد زندگی میں کوئی اچھا ئی نہیں ہے ! تو مختار نے کہا : تم اس کے بعد زندہ نہیں رہوگے ! اور حکم دیا کہ اسے بھی قتل کردیا جائے۔ اسے قتل کردیا گیا اور اس کا سر اس کے باپ کے ہمراہ رکھ دیا گیا۔ (. طبری ،ج ٦، ص ٦١)
٥۔ مجھ سے صقعب بن زہیر نے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔(طبری ،ج ٥، ص ٤٥٢)
کیا تم لوگ میرے قتل پر(لوگوں کو) بر انگیختہ کررہے ہو ؟خدا کی قسم میرے بعد خدا تمہارے ہاتھوں کسی کے قتل پر اس حد تک غضبناک نہیں ہوگا جتنا میرے قتل پروہ تم سے غضبناک ہوگا ،خدا کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ تمہارے ذلیل قرار دینے کی وجہ سے خدا مجھے صاحب عزت و کرامت قرار دے گاپھر تم سے ایسا انتقام لے گا کہ تم لوگ سمجھ بھی نہ پاؤ گے خدا کی قسم اگر تم لوگوں نے مجھے قتل کردیا تو خدا تمہاری شرارتوں کو تمہارے ہی درمیان ڈال دے گا ، تمہارے خون تمہارے ہی ہاتھوں سے زمین پر بہا کریں گے اس پر بھی وہ تم سے راضی نہ ہوگا یہاں تک کہ درد ناک عذاب میں تمہارے لئے چند گُنا اضافہ کردے گا ۔
پھر پیدلوں کی فوج کے ہمراہ جس میں سنان بن انس نخعی ، خولی بن یزید اصبحی(١) صالح بن وہب یزنی ، خشم بن عمرو جعفی اور عبدالرحمن جعفی(٢) موجود تھے شمر ملعون امام حسین علیہ السلام کی طرف آگے بڑھا اور لوگوں کوامام حسین علیہ السلام کے قتل پر اُکسانے لگا تو ان لوگوں نے حسین علیہ السلام کو پوری طرح اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ اسی اثنا ء میں امام حسین علیہ السلام کی طرف سے آپ کے خاندان کاایک بچہ(٣) میدان میں آنکلا۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنی بہن زینب بنت علی (علیہماالسلام) سے کہا:''احبسیہ'' بہن اسے روکو، تو آپ کی بہن زینب بنت علی(علیہما السلام) نے روکنے کے لئے اس بچے کو پکڑا لیکن اس بچہ نے خود کو چھڑا لیا اور دوڑتے ہوئے جاکر خود کو حسین علیہ السلام پر گرادیا ۔
____________________
١۔مختار نے اس کی طرف معاذ بن ہانی بن عدی کندی جناب حجر کے بھتیجے کو روانہ کیا،نیز اس کے ہمراہ ابو عمرہ ، اپنے نگہبانو ں کے سردار کو بھی اس کی طرف بھیجا تو خولی اپنے گھر کی دہلیز میں جا کر چھپ گیا۔ '' معاذ'' نے ابو عمرہ کو حکم دیا کہ اس کے گھر کی تلاشی لے۔ وہ سب کے سب گھر میں داخل ہوئے، اس کی بیوی باہر نکلی، ان لوگو ں نے اس سے پوچھا : تیرا شوہر کہا ں ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : میں نہیں جانتی اور اپنے ہاتھ سے دہلیز کی طرف اشارہ کردیا تو وہ لوگ اس میں داخل ہوگئے۔ اسے وہا ں اس حال میں پایا کہ وہ اپنے سر کو کھجور کی ٹوکری میں ڈالے ہوئے ہے۔ ان لوگو ں نے اسے وہا ں سے نکالا اور جلادیا۔(طبری، ج٦، ص ٥٩)
٢۔ یہ حجر بن عدی کے خلاف گواہی دینے والو ں میں سے ہے ۔(طبری ،ج٥،ص ٢٧٠) روز عاشوراعمربن سعد کے لشکر میں یہ قبیلہ مذحج و اسدکا سالار تھا جیسا کہ اس سے قبل یہ بات گزر چکی ہے۔ (طبری، ج ٥، ص ٤٤٢)
٣۔ شیخ مفید نے ارشاد کے ص ٢٤١ پر لکھا ہے کہ وہ بچہ عبداللہ بن حسن تھا اورارشاد میں مختلف جگہو ں پر اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ابو مخنف کے حوالے سے یہ بات گزر چکی ہے کہ حرملہ بن کاہل اسدی نے تیر چلاکر اس بچہ کو شہید کردیا ۔ یہا ں یہ روایت ابوالفرج نے ابو مخنف سے نقل کی ہے اور انھو ں نے سلیمان بن ابی راشد سے اور اس نے حمید بن مسلم سے روایت کی ہے ۔(ص ٧٧ ،طبع نجف)
اسی وقت بحر بن کعب نے ام حسین علیہ السلام پر تلوارچلائی تو اس بچہ نے کہا : ''یابن الخبیثہ ! أ تقتل عم'' اے پلید عورت کے لڑکے ! کیا تومیرے چچا کوقتل کر رہا ہے ؟(١) تو اس نے تلوار سے اس بچہ پر وار کردیا۔ اس بچے نے اپنے ہاتھ کو سپر قرار دیا اور بچہ کا ہاتھ کٹ کر لٹکنے لگا تو اس بچے نے آواز دی:'' یا أمتاہ'' اے مادر گرامی مدد کیجیے۔ حسین علیہ السلام نے فوراً اسے سینے سے لگالیا اور فرمایا:
'' یابن أخ(٢) اصبر علی مانزل بک واحتسب فی ذالک الخیر ، فان اللّٰه یلحقک بآبائک الصالحین برسول اللّٰه وعلی بن أبی طالب و حمزة والحسن بن علی صلی اللّٰه علیهم أجمعین''(٣) و(٤)
''اللهم امسک عنهم قطر السماء وامنعهم برکات الارض اللّٰهم فان متعتهم الی حین ففرقهم فرقاواجعلهم طرائق قددا ً ولاترضی عنهم الولاة أبداً فانهم دعونا لینصرو نا فعد وا علینا فقتلونا''(٥)
جان برادر !اس مصیبت پر صبر کرو جو تم پر نازل ہوئی اوراس کو راہ خدا میں خیر شمار کرو، کیونکہ خدا تم کو تمہارے صالح اور نیکو کار آباء و اجداد رسول خدا ، علی بن ابیطالب ،حمزہ اور حسن بن علی، ان سب پر خد ا کا در ود و سلام ہو،کے ساتھ ملحق کرے گا ۔خدایا !آسمان سے با رش کو ان کے لئے روک دے اورزمین کی برکتوں سے انھیں محرو م کردے! خدایا!اگرا پنی حکمت کی بنیاد پر تونے اب تک انھیں بہرہ مند کیاہے تواب ان کے درمیان جدائی اورپراکندگی قرار دے اور ان کے راستوں کو جداجداکردے اور ان کے حکمرانوں کو کبھی بھی ان سے راضی نہ رکھناکیونکہ انھوں نے ہمیں بلایاتاکہ ہماری مددکریں لیکن ہم پر حملہ کردیااور ہمیں قتل کر دیا۔پھر اس بھری دوپہر میں کافی دیر تک حسین علیہ السلام آستانہ ٔ شہادت پر پڑے رہے کہ اگر دشمنوں میں سے کوئی بھی آپ کو قتل کرنا چاہتا تو قتل کردیتالیکن ان میں سے ہر ایک اس عظیم گناہ سے کنارہ کشی اختیار کر رہا تھا اور اسے دوسرے پر ڈال رہا تھا ۔ہر گر وہ چاہ رہا تھا کہ دوسرا گروہ یہ کام انجام دے کہ اسی اثناء میں شمر چلّایا :وائے ہو تم لوگوں پر! اس مردکے سلسلے میں کیاانتظارکررہے ہو، اسے قتل کرڈالو، تمہاری مائیں تمہارے غم میں بیٹھیں ! اس جملہ کااثر یہ ہوا کہ چاروں طرف سے دشمن آ پ پر حملے کرنے لگے ۔
____________________
ا، ٢، ٣۔ گزشتہ صفحہ کا حاشیہ نمبر ٥ ملاحظہ ہو ۔
٤۔ابو مخنف نے اپنی روایت میں بیان کیا ہے۔ (طبری، ج٥،ص ٤٥٠) ابوالفرج نے ابومخنف سے سلیمان بن ابی راشد کے حوالے سے اوراس نے حمید بن مسلم سے روایت نقل کی ہے۔ (ص٧٧،طبع نجف)
٥۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشدنے حمید بن مسلم سے یہ روایت نقل کی ہے۔(طبری، ج٥،ص ٤٥١وارشاد ،ص ٢٤١)
آخری لمحات
اب آپ پر چاروں طرف سے حملے ہونے لگے۔زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کی بائیں ہتھیلی پر ایک ضرب لگائی(١) اور ایک ضرب آپ کے شانے پر لگائی۔ یہ وہ موقع تھاجب آپ کے بیٹھنے کی تاب ختم ہوچکی تھی۔ آپ منہ کے بل زمین پرآئے اسی حال میں سنان بن انس نخعی آگے بڑھا اور آپ پر ایک نیزہ مارا جو آپ کے جسم میں پیوست ہوگیا لیکن اب کوئی بھی امام حسین علیہ السلام کے نزدیک نہیں ہورہاتھا مگر یہ کہ سنان بن انس ہی آگے بڑھا اور اس خوف میں کہ کہیں کوئی دوسرا شخص حسین علیہ السلام کے سر کو امیر کے پاس نہ لے جائے؛ لہٰذا وہ آپ کی شہادت گاہ کے پاس آیا اورآپ کو ذبح کردیا اورآپ کے سر کو کاٹ ڈالا(٢) اور اسے خولی بن یزید اصبحی کی طرف پھینک دیا ۔اب لباس اور اسباب لوٹنے کی نوبت آئی تو آپ کے جسم پر جو کچھ بھی تھا کوئی نہ کوئی لوٹ کر لے گیا۔ آپ کی اس یمانی چادر کو جسے قطیفہ(٣) کہاجاتا ہے قیس بن اشعث نے لے لیا۔(٤) اسحاق بن حیوة بن حضرمی نے امام حسین علیہ السلام کی قمیص کو لوٹ لیا(٥) قبیلۂ بنی نہشل کے ایک شخص نے آپ کی تلوار لے لی، آپ کی نعلین کو ''اسود اودی'' نے اٹھا لیا۔آپ کے پاجامہ کو'' بحر بن کعب ''لے گیا(٦) اور آپ کو برہنہ چھوڑ دیا ۔(٧)
____________________
١ ۔ارشاد میں بایا ں بازو ہے۔(ص ٢٤٢) تذکرة الخواص میں بھی یہی ہے۔(ص ٢٥٣) مقرم نے اسے الا تحاف بحب الاشراف سے نقل کیا ہے۔(ص ١٦)
٢۔ امام حسین کے قاتل کے سلسلے میں سبط بن جوزی نے پانچ اقوال ذکر کئے ہیں ۔ آخر میں ترجیح دی ہے کہ سنان بن انس ہی آپ کا قاتل تھا پھرروایت کی ہے کہ یہ حجاج کے پاس گیا تواس نے پوچھا کہ تو ہی قاتل حسین ہے؟ اس نے کہا ہا ں ! تو حجاج نے کہا : بشارت ہو کہ تواور وہ کبھی ایک گھر میں یکجا نہیں ہو ں گے ۔ لوگو ں کا کہنا ہے حجاج سے اس سے اچھا جملہ کبھی بھی اس کے علاوہ نہیں سناگیا۔ ا س کا بیان ہے کہ شہادت کے بعد حسین کے جسم کے زخم شمار کئے گئے تو ٣٣ نیزہ کے زخم اور ٣٤ تلوار کے زخم تھے اور ان لوگو ں نے آپ کے کپڑے میں ایک سو بیس (١٢٠) تیر کے نشان پائے ۔
٣۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے صقعب بن زہیر نے حمید کے مسلم کے حوالے سے روایت کی ہے(طبری ،ج٥، ص ٤٥٣)
٤۔ شب عاشور کی بحث میں اس کے احوال گزر چکے ہیں ۔
٥۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے روایت کی ہے۔ (طبری، ج٥،ص ٤٥٥)
٦۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے صقعب بن زہیر نے حمید بن مسلم کے حوالے سے روایت کی ہے۔(طبری، ج٥، ص ٤٥٢)
٧۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے ر وایت کی ہے۔(طبری، ج٥،ص ٤٥١) اسی طرح سبط بن جوزی نے بھی صرا حت کی ہے کہ وہ لوگ وہ سب کچھ لوٹ لے گئے جوآپ کے جسم پر تھا حتی یہ کہ'' بحر بن کعب تمیمی'' آپ کاپاجامہ بھی لے گیا۔ (طبری، ج٥،ص ٢٥٣) ارشاد میں شیخ مفید نے اضافہ کیا ہے کہ بحربن کعب لعنة اللہ علیہ کے دونو ں ہاتھ اس واقعہ کے بعد گرمی میں سوکھی لکڑی کی طرح خشک ہوجاتے تھے اورسردی میں مرطوب ہوجاتے تھے اور اس سے بد بو دار خون ٹپکتا تھا یہا ں تک کہ خدا نے اسے ہلا ک کردیا ۔(ص ٢٤١ ، ٢٤٢)
خیموں کی تا راجی
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد دشمنوں نے آپ کی خواتین ، مال واسباب ، ورس(١) وزیورات اور اونٹوں کی طرف رخ کیا۔ اگر کوئی خاتون اپنے پردہ اور چادر سے دفاع کرتی تووہ زور و غلبہ کے ذریعہ چادر یں چھینے لئے جا رہے تھے۔(٢) لشکریوں نے سنان بن انس سے کہا : تونے حسین فرزند علی وفاطمہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کیا ،تو نے عرب کی اس سب سے بزرگ وباعزت شخصیت کو قتل کیا جو یہاں ان لوگوں کے پاس آئے تھے تاکہ تمہارے حاکموں کو ان کی حکومت سے ہٹا دیں تو اب تم اپنے حاکموں کے پاس جاؤ اور ان سے اپنی پاداش لو۔ اگر وہ حسین کے قتل کے بدلے میں اپنے گھر کا سارا مال بھی دیدیں تب بھی کم ہے ۔
____________________
١۔ ورس ایک قسم کا پیلا پھول ہے جو زعفران کی طرح ہوتا ہے۔یہ خوشبودار ہوتا ہے اور رنگنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ یمن سے لا یا گیا تھا جسے امام علیہ السلام نے مکہ سے نکلنے کے بعد منزل'' تنعیم'' میں ان لوگو ں سے اپنے قبضہ میں لے لیا تھا جو اسے یزید کی طرف لے جارہے تھے۔ روز عاشورا یہ ورس زیاد بن مالک صبیعی ،عمران بن خالد وعنزی ، عبد الرحمن بجلی اور عبد اللہ بن قیس خولانی کے ہاتھو ں لگا تھا۔ جب مختار کو ان سب کا پتہ معلوم ہوگیا تو ان سب کو طلب کیا۔ سب وہا ں مختار کے پاس لائے گئے۔ مختار نے ان لوگو ں سے کہا : اے نیکو کارو ں کے قاتلو؛اے جو انان جنت کے سردار کے قاتلو ! کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ خدا نے تم سے آج انتقام لینے کے لئے تمہیں یہا ں بھیجا ہے ! تم لوگ اس برے دن میں ورس لے کر آئے تھے ! پھر ان لوگو ں کو بازا ر میں لے جایا گیا اور ان کی گرد نی ں اڑادی گئی ں ۔
٢۔ ابو مخنف کہتے ہیں کہ مجھ سے صقعب بن زہیر نے حمید بن مسلم سے یہ روایت کی ہے۔(طبری ،ج٥، ص ٤٥٣) یعقوبی کا بیا ن ہے : دشمنو ں نے آپ کے خیمو ں کو تاراج کردیا اور آپ کی حرمت شکنی کی۔(ج٢،ص ٢٣٢) شیخ مفید نے بھی اس کی روایت کی ہے۔(ارشاد ،ص ٢٤٢) سبط بن جوزی کا بیان ہے : دشمنو ں نے آپ کی عورتو ں اور بیٹیو ں کی چادر ی ں اتار کرا نھی ں برہنہ کردیا ۔(ص ٢٥٤)
چونکہ وہ ایک کم عقل وبے خرد انسان تھا لہٰذا اپنے گھوڑے پر بیٹھا اور عمر بن سعد کے خیمہ کے پاس آکر باآواز بلند چلا یا :
أو قر رکا بی فضة وذهباً
أنا قتلت الملک المحجّبا
قتلت خیر الناس أماً وأباً
وخیر هم اذ ینسبون نسباً(١)
میری رکاب کو سونے چاندی سے بھر دو کیونکہ میں نے شاہو ں کے شاہ کو تمہاے لئے قتل کر دیا، میں نے اسے قتل کیا جو ماں باپ کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بہتر انسان تھے اور جب نسب کی بات آئے تو ان کا نسب سب سے اچھا ہے ۔
یہ سن کر عمر بن سعد نے کہا : اس کو میرے پاس لاؤ ۔جب اسے ابن سعد کے پاس لایا گیا تواس نے اپنی چھڑی سے مارکر اس سے کہا : اے دیوانہ ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ایسا مجنوں ہے کہ کبھی صحت یاب نہیں ہو سکتا ۔ تو کیسی باتیں کر رہا ہے کیا تجھے اس قسم کی باتیں کر نی چاہیے ؟ خدا کی قسم اگر تیری ان باتوں کو ابن زیادنے سن لیا تو تیری گردن اڑادے گا۔
ادھر شمر بن ذی الجوشن جو پیدلوں کی فوج کے ہمراہ خیموں کی تاراجی میں مشغول تھا خیموں کو لوٹتے ہو ئے علی بن الحسین اصغر کی طرف پہنچاجو بستر پربیماری کے عالم میں پڑے تھے اس وقت پید لوں کی فوج جو اس کے ہمراہ تھی، میں سے ایک نے کہا کیا ہم اسے قتل نہ کردیں ؟ حمید بن مسلم کہتا ہے : میں نے کہا سبحان اللہ ! کیا ہم بچوں کو بھی قتل کریں گے ؟ یہ بچہ ہی تو ہے!(٢)
____________________
١۔ابو الفرج نے اس کی روایت کی ہے۔(ص ٨٠ ،طبع نجف ، تذکرة الخواص ،ص ٢٥٤،نجف ومروج الذہب ، مسعودی ،ج٣،ص٧٠)
٢۔ طبری نے اپنی کتاب ''ذیل المذیل'' میں بیان کیا ہے : علی بن حسین اصغر اپنے بابا کے ہمراہ کربلا میں موجود تھے۔ اس وقت آپ ٢٣ سال کے تھے اور بستر پر بیماری کے عالم میں پڑے تھے ۔ جب حسین (علیہ السلام) شہید ہوگئے تو شمر بن ذی الجوشن نے کہا : تم لوگ اسے قتل کر دو ! تو اسی کے لشکر یو ں میں سے ایک نے کہا : سبحان اللّٰہ ! ایک ایسے نوجوان کو قتل کرو گے جو مریض ہے اور تم سے لڑبھی نہیں رہا ہے پھر عمر بن سعد آگیا اور اس نے کہا : آگاہ ہو جاؤ کہ کوئی بھی تم میں سے نہ تو ان عورتو ں کو نقصان پہنچا ئے ،نہ ہی اس مریض کو۔(ذیل المذیل ،ص ٦٣٠، طبع دار المعارف ،تحقیق محمد ابو الفضل ابرا ہیمی) اسی سے ملتی جلتی بات شیخ مفید نے لکھی ہے۔(ص ٢٤٤، تذکرہ ،ص ٢٥٦، ٢٥٨،طبع نجف)
اسی اثناء میں عمر بن سعد وہاں پہنچ گیا اور اس نے کہا آگاہ ہو جاؤ کہ کوئی بھی اس نوجوان مریض کو کسی بھی طرح کوئی نقصان نہیں پہنچا ئے گا اور نہ تم لوگوں میں سے کوئی بھی کسی بھی صورت میں عورتوں کے خیموں میں داخل ہوگا اور جس نے جو مال واسباب لوٹا ہے وہ فوراً انھیں لوٹا دے لیکن کسی نے شمہ برابر بھی کچھ نہ لوٹا یا ۔
پھر عمر بن سعد نے عقبہ بن سمعان کو پکڑا اور اس سے پوچھا تو کون ہے تو اس نے جواب دیا : میں ایک زرخرید غلام ہوں تو عمر بن سعد نے اسے بھی چھوڑ دیا اس طرح سپاہ حسینی میں اس غلام کے علاوہ کو ئی اور زندہ باقی نہ بچا۔(١)
____________________
١۔ اس کے علا وہ چند افرادہیں اور جو زندہ بچے ہیں ۔ ١۔مرقع بن ثمامہ اسدی آپ اپنے زانو ں پر بیٹھ کر تیر پھینک رہے تھے تو ان کی قوم کا ایک گروہ ان کے سامنے آیا اور ان لوگو ں نے اس سے کہا : تو امان میں ہے ہماری طرف چلا آتو وہ چلا آیا ۔جب عمر بن سعد ان لوگو ں کے ہمراہ ابن زیاد کے پاس آیا اور اس شخص کی خبر سنائی تو ابن زیاد نے اسے شہر'' زرارہ'' شہربدر کردیا جو عمان کے خلیج میں ایک گرم سیر علا قہ ہے۔ اس جگہ ان لوگو ں کو شہر بدر کیا جاتا تھا جوحکومت کے مجرم ہوتے تھے۔
٢۔اس سے قبل ضحاک بن عبد اللہ مشرقی ہمدانی کا واقعہ گزر چکا ہے کہ وہ اپنی شرط کے مطابق امام علیہ السلام سے اجازت لے کر آپ کو تنہاچھوڑکر چلا گیا تھا ۔قتل سے بچ جانے والو ں میں بھی ایک سے زیادہ لوگ ہیں ۔ اس سلسلے میں ابو مخنف کے الفاظ یہ ہیں کہ علی بن الحسین اپنی صغر سنی کی وجہ سے بچ گئے اور قتل نہ ہوئے ۔(طبری ،ج٥، ص ٤٦٨) اسی طرح امام حسن کے دو فرزند حسن بن حسن بن علی اور عمر بن حسن بھی صغر سنی کی وجہ سے چھوڑ دئے گئے اور قتل نہیں ہوئے (طبری، ج٥،ص ٤٦٩) لیکن عبد اللہ بن حسن شہید ہوگئے۔ (طبری ،ج٥،ص٤٦٨) ابو الفرج کا بیا ن ہے : حسن بن حسن بن علی زخمو ں کی وجہ سے سست ہو گئے تو انھی ں اٹھا کر دوسری جگہ چھوڑ دیا گیا۔(ص ١٧٩،طبع نجف)
پامالی
پھر عمر بن سعد نے اپنے لشکر والوں کو آوازدی کہ تم میں سے کون آمادہ ہے جو لاش حسین پر گھوڑے دوڑائے ۔اس کے جواب میں دس (١٠) آدمیوں نے آمادہ گی کا ظہار کیا جن میں اسحاق بن حیوة حضرمی اور احبش بن مر ثد حضرمی قابل ذکر ہیں ۔ یہ دس افراد آئے اور اپنے گھوڑوں سے امام حسین کی لاش کو روند ڈالا یہاں تک کہ آپ کے سینہ اور پشت کی ہڈیاں چور چور ہوگئیں(١) پھر عمر بن سعد نے اپنے لشکرکے کشتوں کی نماز جنازہ پڑھی اور انھیں دفن کر دیا اوراسی دن خولی بن یزید کے ہاتھوں امام علیہ السلام کا سر عبیداللہ بن زیاد کے پاس روانہ کیا گیا۔ جب وہ محل تک پہنچا تو دیکھا محل کا دروازہ بند ہے لہذا اپنے گھر آیا اور اس سر مقدس کو اپنے گھر میں ایک طشت میں چھپادیا(٢) جب صبح ہوئی تو سر کے ہمراہ عبیداللہ بن زیاد کی خدمت میں حاضر ہو ا۔
____________________
١۔ اسحاق بن حیوة حضرمی سفید داغ کے مرض میں مبتلا ہو گیا اور مجھے خبر ملی ہے کہ احبش بن مرثد حضرمی اس کے بعد کسی جنگ میں کھڑا تھا کہ پچھم کی طرف سے ایک تیر آیا (پتہ نہیں چلاکہ تیر انداز کون ہے) اور اس کے سینے میں پیوست ہو گیا اوروہ وہیں ہلاک ہوگیا۔ پامالی کی روایت کو ا بوالفرج نے ص ٧٩پر تحریر کیا ہے ۔اس طرح مروج الذہب ،ج ٣ ، ص ٧٢ ، ارشاد، ص ٢٤٢ ، طبع نجف اور تذکرة الخواص ،ص ٢٥٤ پر بھی یہ روایت موجود ہے ۔ سبط بن جوزی کا بیان ہے کہ ان لوگو ں نے آپ کی پشت پر سیاہ نشانات دیکھے اوراس کے بارے میں دریافت کیا تو کسی نے کہا : آپ رات کو اپنی پیٹھ پر کھانا رکھ کر مدینہ کے مساکین میں تقسیم کیا کرتے تھے ۔ پسر سعد نے اس عظیم شقاوت کا ارتکاب ابن زیاد کے قول کی پیروی کرتے ہوئے کیا تھا کیونکہ اس نے کہا تھا جب حسین قتل ہوجائی ں توگھوڑے دوڑاکہ کر ان کے سینہ اور پیٹھ کو روند ڈالنا کیونکہ یہ دوری پیدا کرنے والے اور جدائی ڈالنے والے ہیں ،بڑے ظالم اور رشتہ دارو ں سے قطع تعلق کرنے والے ہیں میری آرزو یہ نہیں ہے کہ مرنے کے بعد انھی ں کوئی نقصان پہنچاؤ ں لیکن میں نے قسم کھائی ہے کہ اگر میں انھی ں قتل کردو ں تو ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرو ں ۔(طبری، ج ٥ ،ص ٤١٥)
٢۔ ہشام کا بیا ن ہے : مجھ سے میرے باپ نے حدیث بیان کی ہے اور انہو ں نے ''نوار بنت مالک بن عقرب'' جو ''حضرمی''قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی (خولی کی بیوی تھی) سے روایت کی ہے کہ وہ کہتی ہے : خولی امام حسین علیہ السلام کے سرکو لے کر گھرآیااور اسے گھر میں ایک طشت کے اندر چھپا کے رکھ دیا پھر کمرے میں داخل ہوا اور اپنے بستر پر آگیا تو میں نے ا س سے پوچھا کیا خبرہے ؟ تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا:'' جئتکِ بغنی الدھر، ھذا رأس الحسین معک فی الدار'' میں تیرے لئے دنیا اور روزگار کی بے نیازی لے کر آیا ہو ں یہ حسین کا سر ہے جو تیرے ساتھ گھر میں ہے۔یہ سن کر میں نے کہا:'' ویلک جاء الناس با لذھب والفضةو جئت برأس ابن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ(وآلہ) وسلم، لا واللّٰہ لا یجمع رأسی و رأسک بیت أبداً'' وائے ہو تجھ پر ! لوگ سونا اور چاندی لے کر آتے ہیں اور تو فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر لے کر آیا ہے ،نہیں خدا کی قسم اس گھر میں آج کے بعد کبھی بھی میرا اور تیرا سر یکجا نہیں ہوگا ۔ پھراپنے بستر سے اتری اور کمرے سے باہر آئی اور گھر کے اس حصہ میں گئی جہا ں وہ سر موجود تھا اور بیٹھ کر اسے دیکھنے لگی ۔خدا کی قسم میں دیکھ رہی تھی کہ مسلسل ستون کی طرح ایک نور آسمان تک اس طشت کی طرف چمک رہا ہے اور ایک سفید پرندہ اس کے ارد گرد پرواز کررہا ہے۔ (. طبری ،ج٥ ،ص ٤٥٥)
اہل حرم کی کوفہ کی طرف روانگی
* امام علیہ السلام کا سر ابن زیاد کے پاس
* دربار ابن زیاد میں اسیروں کی آمد
* عبداللہ بن عفیف کا جہاد
اہل حرم کی کوفہ کی طرف روانگی
روز عاشورااور اس کی دوسری صبح تک عمر بن سعد نے کربلا میں قیام کیا(١) اور حکم دیا کہ بقیہ شہداء کے بھی سر وتن میں جدائی کردی جائے۔حکم کی تعمیل ہوئی اور بہتر سروں کو(٢) شمر بن ذی الجوشن، قیس بن اشعث ، عمرو بن حجاج اور عزرہ بن قیس کے ہاتھوں کوفہ کی طرف روانہ کیا ۔ یہ سب کے سب وہاں سے چلے اور ان مقدس سروں کے ہمراہ عبیداللہ بن زیاد کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔
پھر اس نے حمید بن بکیر احمری(٣) کو حکم دیا کہ لوگوں کے درمیان اعلان کرے کہ کوفہ کی طرف کوچ کرنے کے لئے آمادہ ہوجائیں ۔وہ اپنے ہمراہ امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں ،بہنوں ، بچوں اور مریض و ناتواں علی بن حسین (علیہ السلام) کو بھی لے کرچلا۔(٤)
____________________
١۔ارشاد میں یہی مرقوم ہے۔(ص٢٤٣)
٢۔ ارشاد، ص ٢٤٣لیکن سبط بن جوزی کا بیان ہے کہ ٩٢ سر تھے(ص ٢٥٦)شاید سبعین اور تسعین میں تصحیف ہو گئی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ خود سبط بن جوزی کابیان ہے:'' کانت زیادہ علی سبعین رأساً'' سرو ں کی تعداد ستر (٧٠) سرو ں سے زیادہ تھی۔(ص ٢٥٩ ،طبع نجف)
٣۔ یہ شخص ابن زیاد کے محافظو ں میں تھا۔ اسی کو ابن زیاد نے قاضی شریح کے ہمراہ اس وقت نگاہ رکھنے کے لئے روانہ کیا جب وہ ہانی کو دیکھنے گیا تھا اور ان کے قبیلے کو باخبرکرنے کے لئے روانہ ہواتھا کہ ہانی صحیح و سالم ہیں ۔شریح یہ کہا کرتا تھاخدا کی قسم اگر وہ میرے ساتھ نہ ہوتا تو میں ہانی کے قبیلے والو ں کووہ با تی ں بتادیتا جس کا حکم ہانی نے مجھے دیا تھا۔(طبری ،ج٥، ص ٢٦٨)
٤۔طبری ،ج٥ ،ص ٤٥٣۔ ٤٥٥ ،مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔
قرّہ بن قیس تمیمی کا بیان ہے کہ میں زینب بنت علی کو اس وقت فراموش نہیں کرسکتا جب وہ اپنے بھائی کے خون آلودہ جسم کے پاس سے گزررہی تھیں اور یہ فریاد کر رہی تھیں :'' یا محمد اه ! یا محمداه صلی علیک ملائکة السماء ، هذاالحسین بالعراء مرمَّل بالدماء مقطع الأعضاء ، یا محمدا ه! و بناتک سبایا ، و ذریتک مقتلة تسغ علیها الصبا! ''
اے (نانا) محمد اے (نانا) محمد ! آپ پر تو آسمان کے فرشتوں نے نماز پڑھی ، لیکن یہ حسین ہیں جو اس دشت میں خون میں غلطاں ہیں ، جسم کا ہر ہرعضو ٹکڑے ٹکڑے ہے ۔ (اے جد بزرگوار) اے محمد ! (ذرا دیکھئے تو) آپ کی بیٹیاں اسیر ہیں اور آپ کی پاک نسل اپنے خون میں نہائے سورہی ہے جن پر باد صبا چل رہی ہے۔ خدا کی قسم زینب نے ہر دوست ودشمن کو رلا دیا(١) اور مخدرات عصمت آہ و فریاد کرنے لگیں اور اپنے چہروں پر طما نچے لگا نے لگیں ۔(٢) حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی شہادت کے ایک دن(٣) بعد محلہ غاضر یہ میں رہنے والے بنی اسد نے آپ لوگوں کے جسم کو سپردلحد کیا ۔(٤)
امام حسین علیہ السلام کا سر ابن زیاد کے دربار میں
حمید بن مسلم کا بیان ہے : عمر بن سعد نے مجھے بلا یا اور اپنے گھر والوں کے پاس مجھے روانہ کیا تا کہ میں ان لوگوں کو خو ش خبری دوں کہ اللہ نے اسے سلا متی کے ساتھ فتحیاب کیا ۔ میں آیا اور اس کے گھر والوں کو اس سے باخبر کیا ۔ پھر میں پلٹ کر محل آیا تو دیکھا کہ ابن زیاد بیٹھا ہے اور اس وقت وہ لوگ جو سروں
____________________
١۔ سبط بن جوزی نے اس کی روایت کی ہے۔(ص ٢٥٦)
٢۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے ابو زہیر عبسی نے قرہ بن قیس تمیمی سے روایت کی ہے۔(طبری ،ج٥ ،ص ٤٥٥)
٣۔ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے روایت نقل کی ہے۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٤٥٣، ٤٥٥)
٤۔ شیخ مفید نے ارشاد ،ص ٢٤٣ و ص ٢٤٩ پر اسی طرح مسعودی نے مروج الذہب، ج٣، ص ٧٢ پر لکھا ہے : مشہور یہ ہے کہ شہادت کے تین دن بعد دفن کئے گئے اور یہ دفن کی انجام دہی امام سجاد علیہ السلا م کی موجود گی میں ہوئی ہے جیسا کہ امام رضا علیہ السلام کے ہمراہ علی بن حمزہ کا مناظرہ اس پر گواہ ہے ۔مقتل الحسین مقرم ،ص ٤١٥ کی طرف رجوع کری ں ۔
کو لے کر کر بلا سے چلے تھے گروہ گروہ اس کے پاس آرہے ہیں ۔ قبیلہ ٔ کندہ ٣١ سروں کے ہمراہ آیا جس کا سر براہ قیس بن اشعث تھا۔ ہوازن ٢٠ سروں کے ہمراہ آئے جن کا سر براہ شمر بن ذی الجوشن تھا۔ قبیلۂ تمیم ١٧ سروں کے ساتھ وارد ہوا ، بنی اسد ٦ سروں کے ہمراہ ، مذحج ٧ سراور بقیہ ٧ ٧ سر لے کر وا رد ہوئے۔ اس طرح ستر (٧٠) سر ہو گئے۔ وہ سب کے سب عبید اللہ کے پاس آئے اور عام لوگوں کو بھی دربار میں آنے کی اجازت ملی تو داخل ہونے والوں کے ساتھ میں بھی داخل ہوا۔میں نے دیکھا امام حسین علیہ السلام کا سر اس کے سا منے رکھا ہے اور وہ چھڑی سے دونوں دانتوں کے درمیان آپ کے لبوں سے بے ادبی کر رہا ہے۔جب زید بن ارقم(١) نے اسے دیکھا اور غور کیا کہ وہ اپنی شقاوتوں سے باز نہیں آرہا ہے اور چھڑی سے دندان مبارک کو چھیڑ ے جا رہا ہے تو انھوں نے ابن زیاد سے کہا :''اُعل بهٰذا القضیب عن ها تین الشفتین فوالذ لا اله غیره لقد رأیت شفت رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم علی ها تین الشفتین یقبلهما ! ''اس چھڑی کو ان دونوں لبوں سے ہٹالے، قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ،میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خود دیکھا ہے کہ آپ اپنے دونوں لبوں سے ان لبوں کو بوسہ دیا کر تے تھے۔
پھر وہ ضعیف العمر صحابی ٔرسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چیخ مار کر رونے لگا تو ابن زیاد نے کہا : خدا تمہاری آنکھوں کو گریاں رکھے!اگر بڑھاپے کی وجہ سے تیری عقل فاسد اور تو بے عقل و بے خرد نہ ہو گیا ہوتا تو میں تیری گردن اڑادیتا ۔ یہ سن کر زید بن ار قم وہاں سے اٹھے اور فوراً باہر نکل گئے۔(٢)
____________________
١۔ اہل کوفہ سے مخاطب ہوکر روز عاشورا امام حسین علیہ السلام کے خطبہ کے ذیل میں ان کے احوال گزر چکے ہیں ۔سبط بن جوزی نے بخاری سے اور انھو ں نے ابن سیر ین سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں : جب حسین کا سر ابن زیاد کے سامنے طشت میں رکھا گیا تو اس نے آپ کے لبو ں پر چھڑی مار نا شروع کیا ۔اس وقت وہا ں پر انس بن مالک موجود تھے، وہ رونے لگے اور کہا : یہ رسول خدا سے سب سے زیاد مشابہ تھے۔(ص ٢٥٧)
٢۔شیخ مفید نے ارشاد ، ص ٢٤٣ پر اس کی روایت کی ہے ۔
نکلتے وقت و ہ یہی کہے جارہے تھے :''ملّک عبد عبداً فاتخذهم تلداً ! أنتم یا معشر العرب العبید بعد الیوم قتلتم ابن فا طمه و أمّر تم بن مرجانة ! فهو یقتل خیارکم ویستعبد شرارکم فرضیتم بالذل ! فبعد ًالمن رض بالذل ! ''(١) ایک غلام نے د وسرے غلام کو تخت حکومت پربٹھا یا اور ان لوگوں نے تمامچیزوں کو اپنا بنالیا اے گروہ عرب آج کے بعد تم لوگ غلام ہو کیونکہ تم نے فرزند فاطمہ کو قتل کردیا اور مرجانہ کے بیٹے کو اپنا امیر بنالیا ۔وہ تمہارے اچھوں کو قتل کرے گا اورتمہارے بروں کو غلام بنالے گا، تم لوگ اپنی ذلت و رسوائی پرراضی و خوشنود ہو، برا ہو اس کا جو رسوائی پر راضی ہوجائے۔راوی کا بیان ہے کہ جب زید بن ارقم باہر نکلے اور لوگوں نے ان کی گفتار سنی تو کہنے لگے : خدا کی قسم زید بن ارقم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر ابن زیا د اسے سن لے تو انھیں قتل کردے گا۔
____________________
١۔ سبط بن جوزی نے ص ٢٥٧ پر اس کی روایت کی ہے اور وہا ں اضافہ کیا ہے کہ زید بن ارقم نے کہا : اے ابن زیاد ! میں اس حدیث سے زیادہ سنگین حدیث تجھ سے بیان کررہا ہو ں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو اس حال میں دیکھا کہ حسن کو اپنے داہنے زانوپرا ور حسین کو اپنے بائی ں زانو پر بٹھا ئے ہوئے تھے اور اپنے ہاتھ کوان کے سر پر رکھ کر فرمارہے تھے:'' اللّٰھم انی استودعک ایاھما و صالح المومنین'' خدا یا! میں ان دونو ں کو اور ان کے باپ صالح المومنین کو تیری امانت میں سپرد کررہاہو ں '' فکیف کان ودیعہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم عندک یابن زیاد ؟'' اے ابن زیاد ! پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ امانت تیرے پاس کس طرح موجود ہے ؟ سبط بن جوزی نے پھربیان کیا کہ ہشام بن محمد کابیان ہے : جب ابن زیاد کے سامنے حسین علیہ السلام کا سر رکھا گیا تو کاہن اور پیشنگوئی کرنے والو ں نے اس سے کہا: اٹھو اور اپنے قدم ان کے منہ پر رکھو، وہ اٹھا اور اس نے اپنے قدم آپ کے دہن مبارک پررکھ دیا، پھر زید بن ارقم سے کہا: تم کیسا دیکھ رہے ہو ؟ تو زید بن ارقم نے کہا : خدا کی قسم میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہا ں اپنے لب رکھتے دیکھا ہے جہا ں تو نے قدم رکھاہے۔ سبط بن جوزی کا پھر بیان ہے کہ شبعی نے کہا: ابن زیاد کے پاس قیس بن عباد موجود تھا ؛ابن زیاد نے اس سے کہا میرے اور حسین علیہ السلام کے بارے میں تمہارا نظریہ کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : قیامت کے دن ان کے جد ، والد اور ان کی والدہ آکر ان کی شفاعت کری ں گے اورتمہارا دادا ، باپ اور تمہاری ما ں آکر تمہاری سفارش کری ں گی ۔یہ سن کر ابن زیاد غضب ناک ہوگیا اور اسے دربار سے اٹھا دیا۔سبط بن جوزی ہی نے طبقات ابن سعد سے روایت کی ہے کہ صاحب طبقات بن سعد کا بیان ہے : ابن زیاد کی ما ں مرجانہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے خبیث تو نے فرزند رسول اللہ کو قتل کیا ہے؛ خدا کی قسم تو کبھی بھی جنت نہیں دیکھ پائے گا۔ (تذکرہ ، ص ٢٥٩ والکامل فی التاریخ، ج٤، ص ٢٦٥)
دربار ابن زیاد میں اسیروں کی آمد
جب امام حسین علیہ السلام کی بہنیں ، خواتین اور بچے عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں پہنچے تو زینب بنت فاطمہ بہت ہی معمولی لباس پہنے ہوئے تھیں اور غیر معروف انداز میں دربار میں وارد ہوئیں ۔ کنیزیں اور خواتین آپ کو چاروں طرف سے اپنی جھرمٹ میں لئے تھیں تاکہ کوئی آپ کو پہچان نہ سکے پھر آپ انھیں کے درمیان بیٹھ گئیں ۔عبیداللہ بن زیاد نے پوچھا : یہ بیٹھی ہوئی خاتون کون ہے ؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا توا س نے تین بار اس سوال کی تکرار کی اور تینوں بار آپ نے اس سے تکلم نہیں کیاپھر آپ کی بعض کنیزوں نے کہاکہ یہ زینب بنت فاطمہ ہیں ۔یہ سن کر اس نے کہا :''الحمد للّٰه الذی فضحکم و قتلکم وأکذب أحدوثتکم !''شکر ہے اس خدا کا جس نے تم لوگوں کو ذلیل کیا ، قتل کیا اور تمہاری باتوں کو جھوٹاثابت کیا! زینب کبریٰ نے جواب دیا :'' الحمد للّٰه الذی أکرمنا بمحمد صلی اللّٰه علیه وآله وسلم و طهّرنا تطهیراًلاکما تقول أنت انما یفتضح الفاسق و یکذب الفاجر''شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے عزت وکرامت عطافرمائی اور ہمیں اس طرح پاک و پاکیزہ رکھا جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق تھا؛ ایسا نہیں ہے جیسا تو کہہ رہا ہے ،بے شک ذلیل فاسق ہے اور جھوٹ فاجر کا ثابت ہوتا ہے۔
ابن زیادنے کہا :'' کیف رأیت صنع اللّٰه بأ هل بیتک ؟ '' اپنے اہل بیت کے سلسلے میں اللہ کے سلوک کو کیسا محسوس کیا؟
زینب(علیہا السلام) نے جواب دیا:'' کتب علیهم القتل فبرزوا الی مضا جعهم ، و سیجمع اللّٰه بینک و بینهم فتحاجون الیه و تخا صمون عنده'' (١) خدا وند عالم نے اپنی راہ میں افتخار شہادت ان کے لئے مقرر کر دیا تھا تو ان لوگوں نے راہ حق میں اپنی جان نثار کردی ، اور عنقریب خدا تجھے اور ان کو یکجا اور تمہیں ان کے مد مقابل لا کر کھڑا کرے گا تو وہاں تم اس کے پاس دلیل پیش کرنا اور اس کے نزدیک مخاصمہ کرنا ۔
____________________
١۔ شیخ مفید نے ارشاد ص ٢٤٣ پر یہ روایت بیان کی ہے۔اسی طرح سبط ابن جوزی نے تذکرہ ، ص ٢٥٨ ۔ ٢٥٩،طبع نجف میں یہ روایت بیان کی ہے۔
ابن زیاد رسوا ہو چکا تھا اور اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا لہٰذا وہ غضبناک اور ہیجان زدہ ہوکر بولا:'' قد أشفی اللّه نفس من طاغیتک والعصاة المرده من أهل بیتک ! ''خدا نے تمہارے طغیان گر بھائی اور تمہارے خاندان کے سر کش باغیوں کو قتل کر کے میرے دل کو ٹھنڈا کر دیا ۔
یہ سن کر فاطمہ کی لخت جگر رونے لگیں پھر فرمایا :'' لعمری لقد قتلت کھل وأبرت اھل وقطعت فرع واجتثثت أصل ! فان یشفیک ھٰذافقد اشتفیت! ''قسم ہے میری جان کی تو نے ہمارے خاندان کے بزرگ کو قتل کیا ہے ، ہمارے عزیزوں کے خو ن کو زمین پر بہایا، ہماری شاخوں کو کاٹ ڈالا اور ہماری بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے کی کوشش کی ، اگر اس سے تجھے خوشی ملی ہے تو خوش ہولے۔
عبیداللہ بن زیاداحساس شکست کرتے ہوئے بولا: یہ تو بڑی قافیہ باز عورت ہے۔(١) میری جان کی قسم تیرا باپ بھی قافیہ باز شاعر تھا ۔
اس کے جواب میں زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا : عورت کو قافیہ بازی سے کیا مطلب! ہمیں اس کی فرصت ہی کہاں ہے لیکن یہ دل کادرد اور اندوہ ہے جو زبان پر جاری ہو گیا۔
پھر ابن زیاد نے علی بن حسین علیہاالسلام کی طرف نگاہ کی اور آپ سے بولا : تمہارا نام کیاے ؟(٢) امام علی بن الحسین (زین العابدین) نے جواب دیا :''أنا علی بن الحسین'' میں علی فرزند حسین ہوں ۔
ابن زیادنے کہا : کیا اللہ نے حسین کے بیٹے علی کو قتل نہیں کیا ؟
یہ سن کر آپ خاموش ہوگئے تو ابن زیاد نے کہا : تمہیں کیا ہوگیا ہے، بولتے کیوں نہیں ؟
علی بن الحسین نے فرمایا : میرے ایک بھائی تھے ان کا نا م بھی علی تھا جنہیں دشمنوں نے قتل کردیا ۔
ابن زیادنے کہا: اسے اللہ ہی نے قتل کیا ہے یہ سن کر پھرآپ خاموش ہوگئے تو ابن زیاد نے کہا: تمہیں کیا ہو گیا ہے بولتے کیوں نہیں ؟
____________________
١۔ طبری میں کلمئہ شجاعة و شجاعاآیا ہے یعنی بڑی بہادر خاتون ہے لیکن شیخ مفید نے ارشاد میں وہی لکھاہے جو ہم نے یہا ں ذکر کیا ہے۔(ص ٢٤٢ ،طبع نجف) اور گفتگو کے سیاق و سباق سے یہی مناسب بھی ہے ۔
٢۔ ابو مخنف کا بیان ہے کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔ (طبری ،ج٥،ص ٤٥٦۔ ٤٥٧)
علی بن الحسین نے فرمایا:''اللّٰه یتوفی الانفس حین موتها (١) وما کان لنفس أن تموت الا باذن اللّٰ ہ''(٢) خدا وند متعال لوگوں کے مرتے وقت ان کی روحیں (اپنی طرف) کھینچ لیتا ہے اور بغیر حکم خدا کے تو کوئی شخص مر ہی نہیں سکتا ۔
ابن زیادخجل ہو کر بولا : خدا کی قسم تو بھی انھیں میں کا ایک ہے، پھر اپنے دربار کے ایک جلاد مری بن معاذ احمری سے کہا: وائے ہو تجھ پر اس کو قتل کردے ، یہ سنتے ہی آپ کی پھوپھی زینب آپ سے لپٹ گئیں اور فرمایا :'' یابن زیاد ! حسبک منّا أما رویت من دمائنا ؟ وهل أبقیت منا أحداً و اعتنقته وقالت : أسالک باللّٰه ۔ ان کنت مومنا ۔ ان قتلتہ لمّا قتلتن معہ ! '' اے ابن زیاد !کیا ہمارے خاندان کی اس قدر تاراجی تیرے لئے کافی نہیں ہے؟ کیا تو ہمارے خون سے ابھی تک سیراب نہیں ہوا ؟ کیا تو نے ہم میں سے کسی ایک کو بھی باقی رکھا ہے، پھرآپ نے اپنے بھتیجے کو گلے سے لگا لیا اور فرمایا: تجھ کو خدا کا واسطہ دیتی ہوں اگر تجھ میں ایمان کی بو باس ہے اور اگر تو انھیں قتل کرنا چاہتا ہے تو مجھے بھی ان کے ساتھ قتل کردے۔
علی بن الحسین علیہ السلام نے آواز دی: ''ان کانت بینک و بینهن قرابة فابعث معهن ّ رجلاً تقیا یصحَبَهُنَّ بصحبة الاسلام '' اگر تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے تو اگر تیرے اور ان کے درمیان کوئی قرابت باقی ہے تو انھیں کسی متقی مرد کے ساتھ مدینہ روانہ کردے ۔
پھر ابن زیاد نے جناب زینب اور امام سجاد کی طرف بڑے غور سے دیکھا اور بولا: تعجب ہے اس رشتہ داری اور قرابتداری پر ،خدا کی قسم یہ چاہتی ہے کہ اگر میں اسے قتل کروں تو اس کے ساتھ اس کو بھی قتل کردوں !اس جوان کو چھوڑ دو ۔(٣) و(٤)
پھر ابن زیاد نے امام حسین علیہ السلام کے سر کو نیزہ پر نصب کردیا اور کوفہ میں اسے گھمایا جانے لگا ۔(٥)
____________________
١۔ سورۂ زمر، آیت ٤٢
٢۔سورۂ آل عمران، آ یت ١٤٥
٣۔ ابو مخنف کہتے ہیں :سلیمان بن ابی راشد نے مجھ سے حمید بن مسلم کے حوالے سے روایت بیان کی ہے۔(طبری، ج٥ ، ص ٤٥٧)
٤۔ طبری نے ذیل المذیل میں بیان کیا ہے : علی بن الحسین جو (کربلامیں شہید ہونے والے علی بن الحسین سے) چھوٹے تھے نے فرمایا:جب مجھے ابن زیاد کے پاس لے جایا گیا تو اس نے کہا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا: : علی بن الحسین تو اس نے کہا : کیا علی بن الحسین کو اللہ نے قتل نہیں کیا ؟ میں نے جواب دیا : میرے ایک بھائی تھے جو مجھ سے بڑے تھے، دشمنو ں نے انھی ں قتل کردیا ۔ اس نے کہا: نہیں بلکہ اللہ نے اسے قتل کیا ! میں نے کہا: '' اللّٰہ یتوفی الأنفس حین موتھا '' یہ سن کر اس نے میرے قتل کا حکم نافذ کردیا تو زینب بنت علی علیھما السلام نے کہا : اے ابن زیاد ! ہمارے خاندان کا اتنا ہی خون تیرے لئے کافی ہے ! میں تجھے خدا کا واسطہ دیتی ہو ں کہ اگر انھی ں قتل کرنا ہی چاہتا ہے تو ان کے ساتھ مجھے بھی قتل کردے ! یہ سن کر اس نے یہ ارادہ ترک کردیا ۔ طبری نے ابن سعد (صاحب طبقات) سے نقل کیا ہے کہ انھو ں نے مالک بن اسماعیل سے روایت کی ہے اور انھو ں نے اپنے باپ شعیب سے اور انھو ں نے منہال بن عمرو سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں : میں علی بن الحسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : آپ نے صبح کس حال میں کی؛خدا آپ کو صحیح و سالم رکھے! انھو ں نے جواب دیا : میں نے اس شہر میں تجھ جیسا بوڑھا اور بزرگ نہیں دیکھا جسے یہ معلوم نہ ہو کہ ہماری صبح کیسی ہوئی! اب جب کہ تمہیں کچھ نہیں معلوم ہے تو میں بتائے دیتا ہو ں کہ ہم نے اپنی قوم میں اسی طرح صبح کی جس طرح فرعون کے زمانے آل فرعون کے درمیان بنی اسرائیل نے صبح کی۔ وہ ان کے لڑکو ں کو قتل کردیتا تھا اور عورتو ں کو زندہ رکھتا تھا۔ ہمارے بزرگ اورسید و سردار علی بن ابیطالب نے اس حال میں صبح کی کہ لوگ ہمارے دشمن کے دربار میں مقرب بارگاہ ہونے کے لئے منبرو ں سے ان پر سب وشتم کررہے تھے ۔ (اے منہال) قریش نے اس حال میں صبح کی کہ سارے عرب پر وہ صاحب فضیلت شمار ہورہے تھے کیونکہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ان میں سے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس فضیلت کی کوئی چیز نہ تھی اور سارے عرب اس فضیلت کے معترف تھے اور سارے عرب تمام غیر عرب سے صاحب فضیلت شمار کئے جانے لگے کیونکہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم عربی ان میں سے تھے ؛اس کے علاوہ ان کے پاس فضیلت کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اور سارے عجم ان کی اس فضیلت کے معترف تھے۔اب اگر عرب سچ بولتے ہیں کہ انھی ں عجم پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ان میں سے تھے اور اگر قریش سچے ہیں کہ انھی ں عرب پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ان میں سے ہیں تو اس اعتبار سے ہم اہل بیت ہیں اور ہمیں قریش پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہمارے ہیں لیکن ہم لوگو ں نے اس حال میں صبح کی کہ ہمارے حق کو چھین لیاگیا اور ہمارے حقوق کی کوئی رعایت نہ کی گئی۔ یہ ہمارا روزگار اور ہماری زندگی ہے، اگر تم نہیں جانتے ہو کہ ہم نے کیسے صبح کی تو ہم نے اس حال میں صبح کی ۔
ابن سعد کا بیان ہے : مجھے عبدالرحمن بن یونس نے سفیان سے اور اس نے جعفر بن محمد علیہ السلام سے خبر نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا : علی بن الحسین (علیہ السلام) نے٥٨سال کی عمر میں دار فانی سے کوچ کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ علی بن الحسین کربلا میں اپنے باپ کے ہمراہ ٢٣یا ٢٤ سال کے تھے۔ لہٰذا کہنے والے کا یہ قول صحیح نہیں ہے کہ وہ بچہ تھے اور ابھی ان کے چہرے پر ڈاڑھی بھی نہیں آئی تھی ؛ لیکن وہ اس دن مریض تھے لہٰذا جنگ میں شرکت نہیں کی۔ کیسے ممکن ہے کہ ان کو ڈاڑھی تک نہ آئی ہو جب کہ ان کے فرزند ابو جعفر محمد بن علی (علیھما السلام) دنیا میں آچکے تھے۔ (ذیل المذیل ،ص ٦٣٠ ،طبع دار المعارف بحوالہ طبقات ابن سعد ،ج ٥ ص ٢١١ ۔ ٢١٨وارشاد ، ص ٢٤٤) سبط بن جوزی نے اصل خبر کو بطور مختصر بیان کیا ہے۔(ص ٢٥٨ ،طبع نجف)
٥۔ ابو مخنف نے اس طرح روایت کی ہے۔ (طبری ، ج٥ ، ص ٤٥٩)
عبداللہ بن عفیف کا جہاد
مسجد میں نماز جماعت کا اعلان ہوالوگ آہستہ آہستہ مسجد آعظم میں جمع ہونے لگے۔ ابن زیاد منبر پر گیا اور بولا :'' الحمد للّٰه الذ أظهرالحق و أهله و نصر أمیر المومنین یزید بن معاویه و حزبه و قتل الکذّاب ابن الکذّاب الحسین بن عل و شیعته''حمد و ثنا اس خدا کی جس نے حق اور اس کے اہل کو آشکار کیا اور امیر المومنین یزید بن معاویہ اور ان کے گروہ کی مدد و نصرت فرمائی اور کذاب بن کذاب حسین بن علی اور اس کے پیروؤں کو قتل کیا ۔
ابھی ابن زیاد اپنی بات تمام بھی نہ کرپایا تھا کہ عبداللہ بن عفیف ازدی غامدی اس کی طرف بڑھے۔ آپ علی کرم اللہ وجھہ کے پیرو ؤں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ رات تک مسجد سے جدا نہیں ہوتے تھے بلکہ وہیں عبادتوں میں مشغول رہتے تھے۔(١) جب آپ نے ابن زیاد کی بات سنی تو فرمایا :'' ان الکذّاب وابن الکذّاب أنت و أبوک ، والّذی ولّاک وابوه یابن مرجانة (٢) أتقتلون أبناء النبیین و تتکلمون بکلام الصدیقین ! ''جھوٹا اور جھوٹے کا بیٹا تو اور تیراباپ ہے اور وہ جس نے تجھ کو والی بنایااور اس کا باپ ہے، اے مرجانہ کے بیٹے ! کیا تم لوگ انبیاء کے فرزندوں کو قتل کرکے راست بازوں جیسی بات کرتے ہو !
یہ سن کر ابن زیاد پکارا : اسے میرے پاس لاؤ ! یہ سنتے ہی اس کے اوباش سپاہی آپ پر جھپٹ پڑے اور آپ کو پکڑلیا۔ یہ دیکھ کر آپ نے قبیلہ'' ازد ''کو آواز دی :'' یا مبرور'' اے نیکو کار!یہ سن کر قبیلہ
____________________
١۔ جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام کے ہمراہ نبرد آزمائی میں آپ کی بائی ں آنکھ جاتی رہی۔ جنگ صفین میں کسی نے آپ کے سر پر ایک وار کیا اورپھر دوسرا وارآپ کی ابرؤ ں پر کیا جس سے آپ کی دوسری آنکھ بھی جاتی رہی۔(طبری ،ج ٥، ص ٤٥٨، ارشاد ، ص ٢٤٤)اور سبط بن جوزی نے اس خبر کو بطور مختصر ذکرکیا ہے۔ (ص ٢٥٩)
٢۔ مرجانہ فارسی کے'' مہرگانہ'' سے معرب ہے۔ یہ ابن زیاد کی ما ں ہے۔ یہ ایک قسم کی گالی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ایران کے شہر خوزستان کی رہنے والی تھی ۔
''ازد'' کے جوان آگے بڑھے اور آپ کو ان لوگوں کے چنگل سے نکالا اور آپ کے گھر پہنچادیا ۔(١)
ماحول ٹھنڈا ہو گیا تو ابن زیاد نے پھر آپ کی گرفتاری کا حکم صادر کیا اور جب آپ کو گرفتار کر لیا تو قتل کرکے آپ کوکوفہ کے مقام سبخہ پر لٹکا نے کا حکم دیا لہٰذا آپ کی لاش وہیں پر لٹکی رہی۔(٢)
____________________
١۔اس وقت عبدالرحمن بن مخنف ازدی وہیں بیٹھا تھا۔ اس نے کہا : وائے ہو ! تو نے خود کو بھی ہلاکت میں ڈالا اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت میں مبتلا کردیا۔(طبری، ج٥، ص ٤٥٩) یہ ابو مخنف کے باپ کے چچا ہیں کیونکہ ان کے بھائی سعید ابو مخنف کے دادا ہیں ۔ اس سے پہلے انھو ں نے صفین میں شرکت کی ہے اور معاویہ کی غارت گریو ں کا مقابلہ کیا ہے جیسا کہ طبری نے ج٥، ص١٣٣ پر ذکر کیا ہے ۔
٦٦ھ میں مختار کے قیام کے وقت یہ عبداللہ بن مطیع عدوی کے ہمراہ تھے جو ابن زبیر کی جانب سے کوفہ کاوالی تھا ۔عبداللہ بن مطیع نے ان کو ایک لشکر کے ساتھ جبانة الصائدین تک روانہ کیا ۔(طبری، ج٦،ص ٩١٨) یہ ان مشیرو ں میں سے ہیں جو اسے مشورہ دیا کرتے تھے کہ کوفہ سے حجاز چلاجائے۔ (ج ٦ ،ص ٣١) یہ مختار پر خروج کو ناپسند کر تے تھے لیکن جب اصرار ہوا توخروج کرنے والو ں کے ساتھ نکل پڑے(طبری، ج٦،ص٤٤)تو وہا ں فرات پر جنگ کی یہا ں تک کہ ناتوا ں ہوگئے تو لوگ انہیں اٹھالے گئے (طبری، ج٦،ص ٥١) پھر بصرہ میں یہ ان لوگو ں کے ہمراہ جو اشراف کوفہ میں سے نکلے تھے مصعب بن زبیر سے ملحق ہو گئے ۔ (ج ٦،ص ٥٩)مصعب نے انہیں کوفہ روانہ کردیا ۔یہ ٦٧ھ کی بات ہے۔ مقصد یہ تھا کہ لوگو ں کو ابن زبیر کی بیعت کے لئے مدعو کری ں اور لوگو ں کو مصعب کی طرف لے جائی ں ۔(ج٦،ص ٩٦) مختار سے جنگ میں یہ مصعب کے ساتھ تھے۔ (ج ٦،ص ١٠٤) ٧٤ھ میں عبدالملک بن مروان کے زمانے میں والی بصرہ بشر بن مروان کی طرف سے'' ازارقہ'' کے خوارج سے جنگ کی تھی (ج٦ ،ص ١٩٧) اور انھی ں کازرون تک بھگادیا تھا ۔ ان لوگو ں نے خوب مقابلہ کیا یہا ں تک کہ کچھ لوگو ں کے علاوہ ان کے سب ساتھی بھاگ کھڑے ہوئے پس یہ لڑتے رہے یہا ں تک کہ ٧٥ھ میں قتل کردئے گئے۔ (ج ٦ ،ص ٢١٢)
٢۔یہ حمید بن مسلم کا بیان ہے۔(طبری ، ج٥،ص ٤٥٨)
شہداء کے سر اور اسیروں کی شام کی طرف روانگی
ابن زیاد نے زخر بن قیس(١) کو آواز دی۔ اس کے ہمراہ'' ابو بردہ بن عوف ازدی'' اور '' طارق بن ظبیان ازدی'' بھی تھے۔اس نے ان لوگوں کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کے سروں کویزید بن معاویہ کے پاس روانہ کردیا(٢) پھر امام حسین علیہ السلام کی خواتین اور بچوں کو چلنے کا حکم دیا اور علی بن حسین علیہ السلام کے لئے حکم دیا کہ ان کی گردن میں طوق و زنجیر ڈال دی جائے اوران سب کو ''محفز بن ثعلبہ عائذی قرشی''(٣) اور شمر بن ذی الجوشن کے ہمراہ روانہ کیا۔ یہ دونوں اہل حرم کو لے کر چلے یہاں تک کہ یزیدکے پاس پہنچ گئے۔(٤) جیسے ہی یہ سر یزید کے سامنے رکھے گئے اس نے کہا :
یفلّقن ها ماً من رجال أعزّة
علینا وهم کانوا أعق ّ و أظلما(٥) و(٦)
ان مردوں کے سر دو نیم کردئے جو ہمارے لئے تسلی و تشفی کا باعث ہے وہ لوگ عامل جنایت اور ظلم کے خو گر تھے ۔
____________________
١۔ زحر بن قیس جعفی کندی کاان لوگو ں میں شمار ہوتا ہے جنہو ں نے جناب حجر بن عدی کندی کے خلاف گواہی دی تھی۔ (طبری ،ج٥، ص ٢٧٠) ٦٦ھ میں یہ ابن مطیع کے ہمراہ مختار کے خلاف نبرد آزماتھا ۔ اس کی طرف سے یہ دشت کندہ کی طرف لشکر کا سر براہ بن کر گیاتھا ۔(ج٦، ص ١٨) اس نے خوب جنگ کی یہا ں تک کہ یہ اور اس کا بیٹا فرات کے پاس کمزور ہو کر گر گئے۔ (طبری ،ج٦ ، ص ٥١) ٦٧ھ میں یہ مصعب بن زبیر کے ہمراہ مختار سے جنگ میں شریک تھا ۔ مصعب نے فوج کا سردار بنا کر اسے دشت ''مراد'' روانہ کیا۔ (ج ٦،ص ١٠٥)
٧١ ھمیں عبدالملک نے عراق کے مروانیو ں میں سے جن لوگو ں کو خط لکھا تھا ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ ان لوگو ں نے اس خط کا مثبت جواب دیا اور مصعب کو چھوڑ دیا۔(طبری، ج٦ ،ص ٦٥٦) ٧٤ھمیں خوارج سے جنگ میں یہ قبیلہ مذحج اور اسد کا سر براہ تھا ۔ (طبری ،ج٦، ص ١٩٧) ٧٦ھ میں اس نے حجاج کی طرف رخ کیا اور اس کے ایک ہزار آٹھ سو کے رسالہ میں داخل ہو
گیا جو شبیب خارجی سے لڑنے جارہا تھا ۔ اس نے شبیب سے خوب لڑائی لڑی لیکن آخر میں شبیب نے اسے مجروح کر کے گرادیا اور یہ اسی مجروح حالت میں حجاج کے پاس پلٹ آیا۔(طبری، ج٦،ص ٢٤٢) اس لعنة اللہ علیہ کے سلسلے میں یہ آخری خبر ہے اس کے بعد اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔
٢۔ ہشام کا بیان ہے : مجھ سے عبداللہ بن یزید بن روح بن زنباغ جذامی نے اپنے باپ کے حوالے سے اور اس نے غاز بن ربیعة جرشی حمیری سے روایت کی ہے کہ وہ کہتا ہے : خدا کی قسم میں دمشق میں یزید بن معاویہ کے پاس موجود تھا کہ اسی اثنا ء میں زخر بن قیس آیا اور یزید بن معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ یزید نے اس سے کہا :وائے ہو تجھ پر تیرے پیچھے کیا ہے ؟اور تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا: اے امیر المومنین !آپ کے لئے خوشخبری ہے، اللہ نے آپ کو فتح دی اور آپ کی مدد کی۔ حسین بن علی(علیہما السلام)اپنے خاندان کے ١٨ اور اپنے چاہنے والے ٦٠ افراد کے ساتھ ہماری طرف آئے ۔ ہم ان کے پاس گئے اوران سے سوال کیا کہ وہ تسلیم محض ہوجائی ں اور امیر عبیداللہ بن زیاد کے حکم کو قبول کرلی ں نہیں تو جنگ کے لئے آمادہ ہوجائی ں ۔ ان لوگو ں نے تسلیم ہونے کے بجائے جنگ کو قبول کیا لہذا ہم نے طلوع خورشید سے ان پر حملہ شروع کیا اور انھی ں چارو ں طرف سے گھیر لیا۔ تلواری ں ان کے سرو ں پر چمکنے لگی ں اور وہ سب کے سب قتل کر دئے گئے۔ اب وہا ں ان کے بے سر جسم برہنہ پڑے ہیں ، ان کے کپڑے خون سے آ غشتہ ، رخسار غبارآلود اور آفتاب کی تپش میں ان کا جسم ہے ، ان پر ہوائی ں چل رہی ہیں اور ان کے زائرین عقاب ہیں اوروہ وہیں تپتی ریتی پر پڑے ہیں ۔(طبری ،ج ٥ ، ص ٤٦٠ ، ارشاد ،ص٢٥٤ ،تذکرہ ،ص ٢٦٠)
٣۔ ١٣ھ میں جنگ قادسیہ میں اور اس سے پہلے یہ موجود تھا اور اس سے ان اخبار کی روایت کی جاتی ہے۔(طبری، ج٣،ص ٤٦٥ ۔ ٤٧٧ ، ارشاد ، ص٢٥٤)
٤۔یہ ابو مخنف کی روایت ہے۔ (طبری ،ج٥،ص ٤٥٩)
٥۔ یہ حصین بن ھمام مری کے مفضلیات قصائد میں سے ایک قصیدہ کا شعر ہے جیسا کہ دیوان حماسہ میں موجودہے ۔
٦۔ابو مخنف نے کہا: مجھ سے صقعب بن زہیر نے یزید کے غلام قاسم بن عبدالرحمن سے یہ روایت نقل کی ہے۔ (طبری ،ج٥ ،ص ٤٦٠ ، ارشاد ، ص٢٤٦ ،طبع نجف ، مروج الذہب ،ج٣ ،ص ٧٠ وتذکرة الخواص، ص ٢٦٢) سبط بن جوزی نے زہری سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا : جب شہداء کے سرآئے تو یزید جیرون کی تماشاگاہ پر موجود تھا ، وہیں پر اس نے یہ اشعار کہے :
لما بدت تلک الحمول وأشرقت
تلک الشموس علی ربی جیرون
نعب ا لغراب فقلت نح اولا تنح
فلقد قضیت من الغریم دیو نی
جب وہ قافلے آشکار ہوئے اور وہ خورشید جیرون کی بلندی پر چمکنے لگے تو کوے نے چیخنا شروع کیا؛ میں نے کہا : اب چاہے تو فریاد کر یا نہ کر؛ میں نے تو اپنے قرض دارسے اپنا حساب چکتا کرلیا ہے۔سبط بن جوزی کا بیان ہے : تمام روایتو ں میں یزید
سے یہ مشہور ہے کہ جب سر حسین اس کے سامنے آیا تو سارے اہل شام وہا ں جمع تھے اور وہ چوب خیزران سے آپ کے سرکے ساتھ بے ادبی کررہاتھا اور ابن زبعری کے اشعار پڑھ رہا تھا :
لیت أشیاخ ببدر شهدوا
جزع الخزرج من وقع الأسل
قد قتلنا القرن من ساداتهم
و عد لنا ه ببدر فا عتد ل
اے کاش! ہمارے وہ بزرگان ہوتے جو جنگ بدر میں مارے گئے تووہ شمشیر ونیزہ کے چلنے سے خزرج کی آہ زاری کو مشاہدہ کرتے، ہم نے ان کے بزرگو ں کو قتل کردیا اور بدر کا حساب بے باق کرلیا۔ سبط بن جوزی کا بیان ہے: شعبی نے اس کا اضافہ کیا ہے :
لعبت هاشم بالملک فلا
خبر جاء ولا وح نزل
لست من خندف ان لم انتقم
من بن أحمد ما کان فعل
بنی ہاشم نے تو حکومت کے لئے ایک کھیل کھیلا تھا ورنہ نہ تو کوئی خبر آئی اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی تھی ؛فرزندان احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کام کیا اگرمیں اس کا بدلہ نہ لو ں تو خندف کی اولاد نہیں ، پھر قاضی بن ابی یعلی نے احمد بن حنبل کے حوالے سے حکایت کی ہے کہ انھو ں نے کہا: اگر یہ خبر یزید کے سلسلے میں صحیح ہے تو وہ فاسق تھا اور مجاہد نے کہا: وہ منافق تھا ۔(تذکرہ ،ص ٢٦١)
یہ سن کر یحٰی بن حکم ، مروان بن حکم(١) کے بھائی نے کہا :
لهام بجنب الطّفّ أدنی قرابة
من ابن زیادالعبد ذ الحسب الو غل
سمية أمسیٰ نسلها عدداالحصی
وبنت رسول اللّٰه لیس لها نسل
شہداء کی زیاد کے بے اصل ونسل بیٹے سے نزدیکی قرابت تھی، سمیہ کی نسل ریگزاروں کے برابرہو گئی اور رسو ل اللہ کی بیٹی کی کوئی نسل باقی نہ بچی۔
یہ سن کر یزید بن معاویہ نے یحٰی بن حکم کے سینے پر ایک ہاتھ مارا اور کہا : چپ رہ!(٢) پھر لوگوں
____________________
١۔یہ اپنے بھائی مروان بن حکم کے ہمراہ جنگ جمل میں بصرہ میں موجود تھا اور وہا ں مجروح ہوگیا تو شکست کھا کر بھاگا یہا ں تک کہ معاویہ سے ٣٧ھ میں ملحق ہوگیا۔ (طبری، ج٥،ص ٥٣٥) ٧٥ھ میں اپنے بھائی کے لڑکے عبد الملک بن مروان کے زمانے میں مدینہ کا والی بن گیا۔ (طبری، ج٦، ص ٢٠٢) ٧٨ھتک اسی عہدہ پر باقی رہا پھر عبد الملک نے اسے ایک جنگ میں رونہ کیا ۔(ج٦، ص ٣٢١) اس کے سلسلے میں آخری خبر یہی ہے۔ ہا ں اس نے اپنی بیٹی ام حکم کی شادی ہشام بن عبد الملک سے کردی تھی۔ (طبری ،ج٧،ص ٦٧١)
٢۔ابو مخنف نے کہا: مجھ سے ابو جعفر عبسی نے ابو عمارہ عبسی سے روایت کی ہے۔(طبری، ج٥،ص ٤٦٠) اغانی میں ابو الفرج نے بھی اس کی روایت کی ہے۔ (ج١٢،ص ٧٤ ، ارشاد ،ص٢٤٦،طبع نجف) سبط بن جوزی نے ص ٢٦٢ پر حسن بصری سے روایت کی ہے کہ انھو ں نے کہا : یزید نے حسین کے سرپر اس جگہ ضرب لگائی جہا ں پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بوسہ لیا کرتے تھے اور پھر اس شعر سے تمثیل کی:
سمية أمسی نسلها عدد الحصی
وبنت رسول اللّٰه لیس لها نسل
اے سمیہ تیری نسل توعدد میں سنگریزو ں کے مانند ہوگئی لیکن بنت رسول اللہ کی نسل باقی نہ بچی ۔
کو آنے کی اجازت دی گئی۔ لوگ دربار میں داخل ہو گئے ۔اس وقت حسین کا سر یزیدکے سامنے تھا اور یزید کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے وہ آپ کے گلوئے مبارک کو چھیڑ رہاتھا۔
یہ حال دیکھ کر ابو برزہ اسلمی(١) صحابی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا : کیا تو اپنی چھڑی سے حسین کے گلوئے مبارک سے بے ادبی کررہا ہے، خدا کی قسم تیری چھڑی اس گلوئے مبارک اور دہن مبارک سے متصل ہورہی ہے جہاں میں نے بارہا رسول خدصلىاللهعليهوآلهوسلم اکو بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ اے یزید تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ تیرا شفیع ابن زیاد ہوگا اور یہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گے کہ ان کے شفیع محمد صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم ہوں گے ۔
پھر ابو برزہ اٹھے اور دربار سے باہر آگئے ۔ ابو برزہ کی یہ گفتار ہند بنت عبد اللہ بن عامر بن کریز(٢) نے سن لی۔ یہ یزید کی بیوی تھی اس نے فوراًچادر اوڑھی اور باہردربار میں نکل آئی اور کہا : اے امیر المومنین !کیا یہ حسین ابن فاطمہ بنت رسول کا سر ہے ؟ یزید نے جواب دیا ہاں ! رسول اللہ کے نواسہ اور قریش کی بے نظیر وبرگزیدہ شخصیت پر نالہ وشیون اور سوگواری کرو ابن زیاد نے ان کے سلسلے میں عجلت سے کام لیا اور انھیں قتل کر دیا ، خدا اسے قتل کرے !
____________________
١۔ فتح مکہ میں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ آپ عبداللہ بن خطل مرتد کے قتل میں شریک تھے جس کے خون کو رسول خدا نے مباح قرار دے دیا تھا ۔(طبری ،ج٣،ص ٦٠) ٢٠ھ میں مصر کی فتح میں یہ عمر وعاص کے ہمراہ تھے۔ (طبری، ج٤، ص ١١) آپ کے اعتراض کی خبر طبری نے ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام کے حوالے سے بھی نقل کی ہے جس کے راوی عمار دہنی ہیں ۔ (طبری، ج٥،ص ٣٩٠) مسعودی نے مروج الذہب ج٣،ص ٧١ پر روایت کی ہے کہ انھو ں نے کہا :یزید اپنی چھڑی کو اٹھا لے، خدا کی قسم میں نے بارہا دیکھا ہے کہ رسول خداان لبو ں کو بوسہ دیا کرتے تھے۔سبط بن جوزی نے بھی اس کی روایت کی ہے پھر بلا ذری کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ یزید کے سامنے جس نے یہ جملہ کہا وہ انس بن مالک تھے، پھر اس کو بیان کرنے کے بعد کہا کہ یہ غلط ہے کیونکہ انس کوفہ میں ابن زیاد کے پاس تھے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے۔(ص ٢٦٢، طبع نجف)
٢۔ عثمان نے انہیں سجستان سے کابل روانہ کیا تھا تو اس نے ٢٤ھ میں اسے فتح کرلیا (طبری، ج٤،ص ٢٤٤) پھر وہا ں سے معزول کر کے ٢٩ھ میں ابو موسی اشعری کے بعد بصرہ کا والی بنایا ۔اس و قت اس کی عمر ٢٥ سال تھی۔ یہ عثمان بن عفان کے مامو ں زاد بھائی تھا۔(طبری ،ج٤،ص ٢٦٤) اس نے فارس کو فتح کیا ۔(طبری، ج٤،ص ٢٦٥) ٣١ھ میں خراسان کی طرف روانہ
ہوا اور'' ابر شھو'' ،'' طوس'' ، ابیور داور نساکو فتح کیا۔یہا ں تک کہ سر خس پہنچ گیا اور اہل'' مرو''سے صلح کی۔ (ج٤،ص ٣٠٠) بصرہ میں زیاد بن سمیہ کو اپنا جانشین بنایا۔ (طبری، ج٤،ص ٣٠١) ٢٣ھمیں ابن عامر نے مرو ، طالقا ن، فاریاب ، گرگان اور طنحارستان کو فتح کیا ۔(طبری ،ج٤،ص ٣٠٩)اسی طرح ہراہ اور بادغس کو بھی فتح کیا ۔(طبری، ج٤،ص ٣١٤) ٣٤ ھ میں عثمان نے اس سے ان لوگو ں کے سلسلے میں مشورہ لیا جوعثمان سے انتقام لینا چاھتے تھے تو اس نے مشورہ دیا کہ ان لوگو ں کو جنگ میں بھیج دو۔(طبری، ج٤،ص ٣٣٣) ٣٥ھ میں عثمان نے اسے خط لکھا کہ وہ اہل بصرہ کو عثمان کے دفاع کے لئے آمادہ کر ے۔ ابن عامر نے عثمان کے خط کو لوگو ں کے سامنے پڑھا تو لوگ فوراً عثمان کی طرف چل پڑے یہا ں تک کہ ربذہ کے مقام پر پہنچے تو انھی ں خبر ملی کہ عثمان قتل کردئیے گئے پھر وہ لوگ پلٹ گئے۔ (طبری ،ج٤،ص٣٦٨) ٣٥ھ میں عثمان قتل کئے گئے، اس وقت ابن عامر بصرہ کا حاکم تھا (طبری ،ج٤،ص ٤٢١) اور وہا ں سے وہ حجاز آگیا اور طلحہ ، زبیر ، سعید بن عاص ، ولید بن عقبہ اور بقیہ بنی امیہ بھی وہیں تھے؛ ایک طویل گفتگو کے بعد ان کے بزرگو ں کی رائے یہ ہوئی کہ بصرہ چلی ں لیکن بعض کی رائے یہ تھی کہ شام چلی ں لیکن اسے ابن عامر نے رد کردیا اور کہا : شام سے تمہارے لئے وہ شخص کفایت کرے گا جو مستدام اسی کے علاقہ میں ہو۔ ان لوگو ں کو طلحہ کی تمنا تھی اور عایشہ وحفصہ کا مثبت جواب ان کاپشت پناہ تھا لیکن عبد اللہ بن عمر نے انھی ں منع کر دیا تھا اور اس نے کہا : میرے ساتھ فلا ں فلا ں ہیں تو سب اس کے ساتھ آمادہ ہوگئے۔ (طبری، ج٤،ص ٤٥١) جنگ جمل میں یہ زخمی ہو کر شام کی طرف بھاگ گیا۔ (طبری ،ج٤،ص٥٣٦) اسی کے ہمراہ معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کے پاس صلح کے لئے ایک وفد مدائن روانہ کیا تھا (طبری ،ج٥، ص ١٥٩) پھر معاویہ نے اسے دوبارہ بصرہ کا والی بنادیا (طبری، ج٥،ص ٢١٢) اور اپنی بیٹی ہند بنت معاویہ سے اس کی شادی کردی ۔ اس نے زیاد کے ساتھ معاویہ کی نسبت پر اعتراض کیا تو معاویہ اس پر ناراض ہوگیاپھر یزید نے اس کی سفارش کی۔ (طبری، ج٥،ص ٢١٤) طبری نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ یزید نے کب اس کی بیٹی ہند سے شادی کی لیکن ظاہر یہی ہے کہ جب ابن عامر نے یزید کی بہن ہند سے شادی کی ٹھیک اسی وقت یزید نے اس کی بیٹی سے شادی کی ۔ اس عورت سے یزید کو ایک لڑکا بنام عبد اللہ تھا ۔ اور اس عورت کی کنیت ام کلثوم تھی۔ (طبری ،ج٥،ص ٥٠) ٦٤ھ میں یزید کی ہلا کت اور بصرہ سے ابن زیاد کے فرار کے بعد اہل بصرہ کے ایک گروہ نے ابن زبیر کی ولایت سے ایک ماہ قبل اس کے بیٹے عبد الملک بن عبد اللہ بن عامر کو بصرہ کا حاکم بنادیا ۔(طبری، ج٥، ص٥٢٧)
یحٰبن حکم نے کہا: تم نے اپنے اس فعل سے قیامت کے دن اپنے اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کے درمیان پردہ حائل کر دیااورتم لوگ ایک امرپرکبھی بھی یکجا نہیں ہو گے اور ان کی شفاعت سے دوررہو گے۔یہ کہہ کر وہ اٹھااور باہرچلاگیا۔(١) دربار کی سجاوٹ کے بعد یزید جب دربار میں بیٹھا تو اس نے اہل شام کے اشراف کو بلایا اور وہ سب کے سب اس کے اطراف میں ادھر ادھر بیٹھ گئے پھر حکم دیا کہ علی بن الحسین زین العابدین (علیہ السلام) اور امام حسین (علیہ السلام) کی خواتین اور بچوں کو دربار میں لایا جائے۔ حکم کی
____________________
١۔ابو مخنف نے کہا:مجھ سے ابو حمزہ ثمالی نے قاسم بن نجیب کے حوالے سے روایت کی ہے۔(طبری، ج٥،ص ٤٦٥)
تعمیل ہوئی اور خاندان رسالت کو دربار میں اس حال میں وارد کیا گیا کہ سب کے سب آپ لوگو ں کو غور سے دیکھ رہے تھے پھر آپ لوگو ں کو اس کے سامنے بیٹھا دیا گیا ۔ اس نے خاندان رسالت کو اس بری حالت میں دیکھا تو کہنے لگا ابن مرجانہ کا خدا برا کرے ! اگر تمہارے اور اس کے درمیان کوئی رشتہ داری اور قرابت داری ہوتی تو وہ تم لوگو ں کے ساتھ ایسا نہ کرتا اور اس حال میں نہ بھیجتا ۔
پھر یزید نے علی بن الحسین زین ا لعابدین علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہا :اے علی ! تمہارے باپ نے میرے ساتھ قطع رحم اور میرے حق کو پامال کیا اور حکومت پر مجھ سے جھگڑا کیا تو اللہ نے ان کے ساتھ وہی کیا جو تم نے دیکھا ۔
یہ سن کے آپ نے یزید کو جواب دیا :''مَا اَصَابَ مِنْ مّْصِيْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْ اَنْفْسِکْمْ اِلَّا فِیْ کِتَابٍ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَبْرَاهَا ...''(١)
جتنی مصیبتیں روئے زمین پر اور خود تم لوگوں پر نازل ہوتی ہیں (وہ سب) قبل اس کے کہ ہم انھیں پیدا کریں کتاب (لوح محفوظ) میں لکھی ہوئی ہیں ۔
یہ سنکر یزید نے جواب دیا :''وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَيْدِيْکُمْ وَ يَعْفُوْعَنْ کَثِيْرٍ'' (٢) و(٣)
____________________
١۔ سورہ حدید آیت ٢٢ ، ابو الفرج نے اس کے بعد ایک آیت کا اور اضافہ کیا ..''ان ذالک علی اللّه یسیر لکیلا تاسوا علی مافاتکم ولا تفرحوا بما آتاکم واللّه لا یحب کل مختال فخور'' (مقاتل الطا لبیین) سبط بن جوزی نے بھی اس کی روایت کی ہے اور پھر کہاہے : علی بن ا لحسین اور ان کی خواتین کورسیو ں میں جکڑا گیاتھا تو علی (امام زین العابدین علیہ السلام) نے آواز دے کر فرمایا: ''یا یزید ما ظنک برسول اللّٰہ لو رأنا موثقین فی الحبال عرا یا علیٰ أقتاب الجمال'' اے یزید رسول اللہ کے سلسلے میں تیرا کیا گمان ہے اگر وہ ہمیں رسیو ں میں جکڑا اونٹو ں کی برہنہ پشت پر دیکھی ں گے تو ان پر کیا گذرے گی؟ جب امام نے یہ جملہ فرمایا تو سب رونے لگے۔(تذکرہ ،ص ٢٦٢)
٢۔ سورہ شوریٰ آیت، ٣٠، ابوالفرج نے روایت کی ہے کہ یزید نے پہلے اس آیت کو پڑھا پھر امام علیہ السلام نے سورہ حدید کی آیہ ٢٢ سے اس کا جواب دیا اور یہی زیاد ہ مناسب ہے ۔
٣۔ ابو مخنف کا بیان ہے۔ (طبری، ج٥ ،ص ٤٦١ و ارشاد ،ص ٢٤٦، طبع نجف)
اور جو مصیبت تم پر پڑتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کا کرتوت ہے اور (اس پر بھی) وہ بہت کچھ معاف کر دیتا ہے۔
فاطمہ بنت علی (علیہ السلام)(١) سے مروی ہے کہ آپ فرماتی ہیں : جب ہم لوگو ں کو یزید بن معاویہ کے سامنے بیٹھایا گیا تو ایک سرخ پوست شامی جو یزید کے پاس کھڑا تھابولا: اے امیر المومنین ! اسے مجھے ہبہ کردیجئے۔ یہ کہہ کر اس نے میری طرف اشارہ کیا تو میں ڈر کر لرزنے لگی اور ذرا کنار ے ہٹ گئی اور میں نے یہ گمان کیا کہ یہ کام ان کے لئے ممکن ہے اور میں نے اپنی بہن زینب کے کپڑے کو پکڑ لیا جوعمر میں مجھ سے بڑی نیز مجھ سے زیادہ عاقل تھیں ۔ انھیں معلوم تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا لہٰذا اس سے کہا : ''کذبت واللّٰہ ولؤ مت ! ماذالک لک ولا لہ!'' خدا کی قسم تو جھوٹا اور قابل ملامت ہے، یہ حق نہ تو تجھے حاصل ہے نہ ہی یزید کو!یہ سن کر یزید غضبناک ہو گیا اور بولا : خدا کی قسم تو جھوٹ بولتی ہے؛ یہ حق مجھ کو حاصل ہے اور اگر میں اسے انجام دینا چاہوں تو انجام دے سکتا ہوں ۔
حضرت زینب سلا م اللہ علیہا :''کلاّ واللّه ، ما جعل اللّٰه ذالک لک الاّ ان تخرج من ملتنا وتدین بغیر دیننا'' نہیں خداکی قسم ہر گز نہیں ، خدا نے تجھے یہ اختیار نہیں دیا ہے مگر یہ کہ تو ہمارے دین سے خارج ہو کر کوئی دوسرا دین اختیار کرلے ۔
یہ سن کر یزید آگ بگو لا ہو گیا پھر بولا : تو مجھے دین کی تلقین کر تی ہے ! دین سے خارج تو تیرے باپ اور بھائی تھے ! حضرت زینب سلام اللہ علیہانے جواب دیا :'' بدین اللّٰہ ودین أب وأخ وجد اھتدیت أنت وأبوک وجدک! ''خدا کے دین نیز میرے آباء و اجداد اور بھائی کے دین سے تو نے اور تیرے باپ داد انے ہدایت پائی ہے ۔
یزید شدید غصہ کی حالت میں بولا: توجھوٹ بولتی ہے اے دشمن خدا!
____________________
١۔ طبری کی عبارت یہی ہے لیکن شیخ مفید نے ارشاد،ص ٢٤٦، اور سبط بن جوزی نے تذکرہ کے ،ص ٢٦٤، پر فاطمہ بنت الحسین ذکر کیا ہے۔اس کا مطلب ہوا حضرت زینب پھو پھی تھی ں ۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کہا :''أنت أمیر مسلّط تشتم ظالماً تقهر بسلطانک ! ''تجھ سے کیا کہہ سکتی ہوں تو ایک مسلط اورسر پھرابادشاہ ہے جو ظلم وستم کے ساتھ برا بھلا کہہ رہا ہے اور اپنی سلطنت وبادشاہت میں قہر وستم کررہا ہے۔ یہ سن کر ناچار یزید خاموش ہو گیا، پھر اس شامی نے اپنی بات کی تکرار کی : اے امیر المومنین یہ کنیز مجھے بخش دے ! تو غصہ کے عالم میں یزید نے کہا : میرے پاس سے دور ہو جا، خدا تجھے موت دے!(١) پھر حکم دیا کہ عورتوں کے لئے ایک علحٰد ہ گھرقرار دیاجائے اور ان کے ہمراہ علی بن الحسین بھی ہوں اور ان کے ہمراہ زندگی کی ضروریات موجود ہوں ۔ اس بنیاد پر سب کے سب اس گھر میں منتقل ہوگئے جوان کے لئے قرار دیا گیا تھا ۔ جب خاندان رسالت کے یہ افراد وہاں پہنچے تو شام کی عورتیں روتی ہوئی ان کے استقبال کو آئیں اور حسین علیہ السلام پر نوحہ وماتم کر نے لگیں اور اس نوحہ وماتم کا سلسلہ تین دنوں تک جاری رہا ۔
جب جناب زینب وزین العابدین علیہما السلام کا قافلہ مدینہ کی طرف جانے لگا تو یزید نے کہا :اے نعمان بن بشیر ! سفر کے تمام اسباب اور ضروریات ان کے ساتھ کردو ، ان کے ہمراہ اہل شام کی ایک امین و صالح شخصیت کو روانہ کرونیز ان کے ہمراہ سواروں اور مددگاروں کوبھی فراہم کرو تاکہ یہ انھیں مدینہ تک پہنچادیں ۔اس طرح خاندان رسالت کا قافلہ عزت و احترام کے ساتھ ان لوگوں کے ہمراہ نکلا۔یہ لوگ ان لوگوں کے ہمراہ رات میں ساتھ ساتھ چلتے اور قافلہ کے آگے آگے اس طرح ہوتے کہ کسی طرح سے کوئی کوتاہی اور غفلت نہ ہو نے پائے۔جہاں بھی یہ قافلہ اترتا تھا نعمان اوراس کے ساتھی ان کے اطراف سے جدا ہوجاتے تھے نیز ان کے نگہبان تمام راستہ میں ان کی ضرورتوں کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے جو ایک انسان کی روز مرہ کی حاجت ہوتی ہے مثلا ً قضا ئے حاجت اور وضو وغیرہ ۔ راستہ بھر یہی سلسلہ جاری رہا اور نعمان بن بشیر راستہ بھر قافلہ رسالت پر ملاطفت کرتا رہا اور ان سے ان کی ضرورتیں پوچھتا رہا ۔(٢)
____________________
١۔ اس خبر کو طبری نے عمار دہنی کے حوالے سے امام محمد باقر علیہ السلا م سے نقل کیا ہے۔(طبری، ج٥،ص ٣٩٠)
٢۔ حارث بن کعب نے فاطمہ سے نقل کیاہے۔(طبری ،ج٥، ص ٤٦١ ، مقاتل الطالبیین، ص ٨٠ ،تذکرہ ،ص ٦٤ ٢)
محترم قاری پر یہ بات واضح ہے کہ طبری کی نقل کے مطابق ابو مخنف نے نہ تو قید خانہ کا ذکر کیا ہے، نہ ہی قید خانہ میں مدت قیام کو ذکر کیا ہے اورنہ ہی اس میں امام حسین علیہ السلام کی ایک بچی کی شہادت کا تذکرہ موجود ہے ۔ اسی طرح قید سے رہائی اور اس کے اسباب، امام زین العابدین سے یزید کی گفتگو اور پھر راستے میں کر بلا ہو کر مدینہ جانا اور کر بلا میں عزاداری وغیرہ کے واقعات اس تاریخ میں موجود نہیں ہیں لہٰذا ان تاریخی حقائق کی معلومات کے لئے قارئین کو لھوف ، نفس المہموم اور مقتل کی دوسری معتبر کتابو ں کے مطالعہ کی دعوت دی جاتی ہے ۔(متر جم)
اہل بیت کی مدینہ واپسی
جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر اہل مدینہ کو ملی تو عقیل بن ابی طالب کی بیٹی ام لقمان(١) خاندان بنی ہاشم کی خواتین کے ہمراہ باہر نکل آئیں درحالیکہ وہ خود کو اپنے لباس میں لپیٹے ہوئے تھیں اور یہ دلسوز اشعار پڑھے جارہی تھیں :
ما ذاتقولون ان قال النب لکم
ماذا فعلتم وأنتم آخر الُا مم
بعترت وبا هل بعد مفتقد
منهم اُساری ومنهم ضرجّوابدم(٢)
____________________
١۔ شیخ مفید کا بیان ہے : ام لقمان بنت عقیل بن ابی طالب رحمة اللہ علیہم نے جب حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر سنی تو سرپیٹتے ہوئے باہر نکل آئی ں ۔ ان کے ہمراہ ان کی بہنی ں ام ہانی، اسماء ،رملہ اور زینب بھی تھی ں جو عقیل بن ابی طالب رحمةاللہ علیہم کی بیٹیا ں تھی ں ۔ یہ سب کے سب شہد اء کربلا پر نالہ وشیون کرنے لگی ں اور'' ام لقمان'' یہ شعر پڑھنے لگی ں ...۔(ارشاد، ص ٢٤٨) سبط بن جوزی نے اپنی کتاب تذکرہ میں واقدی سے ان اشعار کو زینب بنت عقیل سے نقل کیا ہے۔(تذکرہ ،ص ٢٦٧)
٢۔ طبری نے ان اشعار کو عمار دہنی کے حوالے سے امام باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : جب محملو ں کو جناب زینب اور زین العابدین علیہماالسلام کے قافلہ کے لئے تیار کردیا گیا اور قافلہ مدینہ تک پہنچ گیا تو جیسے ہی یہ قافلہ مدینہ پہنچا بنی عبد المطلب کی ایک خاتون اپنے بالو ں کو پر یشان کئے ، ہاتھو ں کو سر پر رکھے اس کوشش میں تھی کہ آ ستینو ں سے اپنے چہرہ کو چھپا لے قافلہ سے روتی ہوئی آکر ملی اور یہ اشعار پڑھنے لگی ۔
ماذاتقولون ان قال النبی لکم
ما ذا فعلتم و أنتم آخر الامم
بعترت واهل بعد مفتقد
منهم أساری و منهم ضرجوا بدم
ماکان هٰذا جزائ اذنصحت لکم
ان تخلفون بسو ء فی ذوی رحمی
اے لوگو ! اس وقت کیا جواب دوگے جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے کہیں گے کہ تم نے میرے اہل بیت اور میری عترت کے ساتھ کیا سلوک کیا جبکہ تم آخری امت تھے؛ان میں سے بعض کو اسیر بنا دیا اور بعض کو خون میں غلطا ں کردیا۔ اگر میں تم لوگو ں کو یہ نصیحت کر تا کہ تم لوگ میرے بعد میرے قرا بتدارو ں کے ساتھ بد سلوکی کرنا تب بھی ان کی پاداش یہ نہ ہوتی۔
اے لوگو ! اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں سے پوچھا کہ تم لوگوں نے میرے بعد میری عترت اور میرے گھر انے کے ساتھ کیاسلوک کیا تو تم کیا جواب دو گے؟جبکہ تم آخری امت تھے؛تم نے ان میں سے بعض کو اسیر تو بعض کو خون میں غلطاں کردیا ۔
جب عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب(١) کو اپنے دونوں فرزند محمد اور عون کی شہادت کی خبر ملی تو لوگ انھیں تعزیت پیش کرنے کے لئے آنے لگے۔ عبداللہ بن جعفر نے ان لوگوں کی طرف رخ کرکے کہا :''الحمد للّٰه عزَّ وجل علیٰ مصر ع الحسین (علیه السلا م) أن لا تکن آست حسینًا یدّ فقد آساه ولدّ ، واللّٰه لو شهد ته لأحببت أن لا أفا رقه حتی أقتل معه ! واللّٰه لما یسخّ بنفس عنهما و یهوّن علی المصاب بهما : انهما أصیبا مع أخ وابن عممواسین له، صابرین معه'' (٢) و(٣)
امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر خدائے عز وجل کی حمد و ثنا ہے، اگر میرے دونوں ہاتھ حسین کی مدد ویاری نہ کرسکے تو میرے دونوں بیٹوں نے انکی مدد و نصرت فرمائی ،خدا کی قسم! اگرمیں وہاں ہوتاتومجھے یہی پسند ہوتا کہ میں ان سے جدا نہ ہوں یہاں تک کہ انھیں کے ہمراہ قتل کردیا جاؤں ،خدا کی قسم جو چیز مجھے اپنے دونوں بیٹوں کے سوگ میں اطمینان بخشتی ہے اور ان کی مصیبتوں کو میرے لئے آسان کرتی ہے یہ ہے کہ میرے دونوں فرزند میرے بھائی اور میرے چچا زادبھائی کے ناصر اور ان کے یار و مد دگار تھے اور انکے ہمراہ صبر کرنے والوں میں تھے ۔
____________________
١۔ حلیمہ سعد یہ کی خبر کے راوی آپ ہی ہیں ۔ (طبری، ج٦، ص ١٥٨) جعفر طیار کی شہادت کے بعد جب بقیہ لشکر جنگ موتہ سے پلٹا تو رسو خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو بلا یا اور اپنے ہاتھو ں پر آپ کو اٹھا کر نوازش کی ۔(طبری ،ج٣ ،ص ٤٢) آپ ہی نے حضرت علی علیہ السلام کو مشورہ دیا تھا کہ قیس بن سعد کو مصر سے معزول کردی ں اور آپ کے مادری بھائی محمد بن ابی بکر کو مصر کا گورنر بنادی ں ۔ (طبری، ج٤،ص ٣٦) آپ جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ (طبری، ج٥،ص ٦١) آپ امام حسن و امام حسین علیہما السلام کے ہمراہ حضرت علی علیہ السلام کے کفن و دفن میں شریک تھے پھر انھی ں لوگو ں کے ہمراہ مدینہ لوٹ آئے تھے۔ (طبری ،ج٥، ص ١٦٥) جب آپ مکہ سے امام حسین علیہ السلام کے پاس اپنے بیٹو ں کے ہمراہ اپنا خط لے کرآئے تھے تو وہا ں آپ کے بقیہ حالات گزر چکے ہیں ۔
٢۔ سلیمان بن ابی راشد نے عبدالرحمن بن عبید ابی کنود کے حوالے سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔(طبری ،ج٥،ص ٤٦٦)
٣۔ہشام کا بیان ہے : مجھ سے عوانہ بن حکم نے روایت کی ہے کہ وہ کہتا ہے : جب عبیداللہ بن زیاد کے حکم پر حسین بن علی (علیہما السلام) قتل کر دئیے گئے تو ابن زیاد نے عبدالملک بن ابی حارث سلمی کو بلایا اور اس سے کہا: تم یہا ں سے عمرو بن سعید بن عاص کے پاس جاؤ (واضح رہے کہ عمرو بن سعید ان دنو ں مدینہ کا گورنر تھا) اور جا کر اسے حسین علیہ السلام کے قتل کی خوشخبری دے دو ۔ دیکھو تم سے پہلے کوئی دوسرا یہ خبر اس تک نہ پہنچائے۔ اس میں زیادہ دیرنہ لگانااور اگر راستے میں تمہارا اونٹ کسی وجہ سے رک جائے تودوسراخرید لینا ،اسکے دینار تم کو ہم دے دی ں گے۔عبدالملک کابیان ہے : میں مدینہ پہنچا اور عمرو بن سعید کے پاس حاضر ہوا تو اس نے پوچھا: تمہارے پیچھے کیا خبر ہے ؟ میں نے جواب دیا : ایسی خبر ہے جو امیر کو مسرور کردے گی، حسین بن علی قتل کر
دئیے گئے تو اس نے کہا : حسین کے قتل کا اعلان کردو ! میں نے ان کے قتل کااعلان عام کردیا۔میں نے ایسی فریاد اور چیخ پکارکبھی نہ سنی تھی جیسی فریادوگریہ و زاری حسین کے قتل کی خبر پر بنی ہاشم کی عورتو ں کی سنی لیکن عمرو بن سعید ہنسنے لگا اور بولا :
عجّت نساء بنی زیاد عجة
کعجیج نسوتنا غدا ة الارنب(١)
بنی زیاد کی عورتی ں نالہ وشیو ن کررہی ہیں جیسے ہماری عورتی ں ارنب کی صبح میں گریہ وزاری کررہی تھی ں پھر اس نے کہا:یہ نالہ وفریاد عثمان بن عفان کے قتل پر نالہ وفریاد کے بدلہ میں ہے،اس کے بعد وہ منبر پر گیا اور لوگو ں کو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر دی۔شیخ مفید نے ارشاد ص ٢٤٧ ، طبع نجف پر اس کی روایت کی ہے۔ہشام نے عوانہ سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتا ہے : عبیداللہ بن زیاد نے عمربن سعد سے کہا: اے عمر ! وہ خط کہا ں ہے جس میں میں نے تم کو حسین کے قتل کا حکم دیا تھا ؟ عمربن سعد نے جواب دیا: میں نے تمہارے حکم پرعمل کیا اور خط ضائع ہوگیا ۔
عبیداللہ بن زیاد : تم کو وہ خط لانا پڑے گا ۔
____________________
(١) یہ شعر عمربن معدیکرب زبیدی کا ہے۔ ان لوگو ں نے بنی زبید کے بدلے میں بنی زیاد سے انتقام لیا تھا تو اس پر یہشعر کہا تھا۔ سبط بن جوزی نے اسے مختصر بیان کیاہے۔(ص٢٦٦) اور شعبی کے حوالے سے ذکرکیاہے کہ مروان بن حکم مدینہ میں تھا۔اس نے امام حسین علیہ السلام کے سر کو اپنے سامنے رکھااور آپ کی ناک کے اوپری حصہ سے بے ادبی کرنے لگا (اگر چہ اس روایت کی قوت ثابت نہیں ہے کیونکہ امام حسین علیہ السلام کا سر مدینہ نہیں آیا ہے۔ ہا ں یہ ممکن ہے کہ مروان مبارک باد دینے کے لئے مدینہ سے شام گیاہواور وہا ں یہ واقعہ پیش آیاہو۔ مترجم بامشورہ محقق) اور بولا :
یا حبذابردک فی الیدین
ولو نک ا لأحمر فی الخدین
اے خوشا کہ تیرا سر د اور مردہ سر میرے دونو ں ہاتھ میں ہے اور تیرا سرخ رنگ تیرے رخسارو ں پر ہے، پھر بولا: خدا کی قسم گویا میں عثمان کا زمانہ دیکھ رہاہو ں ۔
ابن ابی الحدیدنے شرح نہج البلاغہ، ج ٤،ص ٧٢ پر حقیقت سے اس طرح پردہ ہٹا یا ہے: صحیح تو یہ ہے کہ عبیداللہ بن زیاد نے عمرو بن سعید بن عاص کو خط لکھا جس میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا مژدہ سنایا گیا تھا۔ اس نے اس خط کو منبر سے پڑھا اور اس کے
ساتھ مذکورہ شعر بھی پڑھے ۔
پھررسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا : ''یوم بیوم بدر'' یہ دن روز بدر کا بدلہ ہے ۔ یہ سن کر اصحاب کے ایک گروہ نے اس پر اعتراض کیا۔ اس مطلب کو ابو عبیدہ نے اپنی کتاب ''مثالب ''میں لکھا ہے ۔
عمر بن سعد : وہ ضائع ہوگیا ۔
عبیداللہ بن زیاد : خدا کی قسم تم کو اسے میرے پاس لانا ہوگا۔
عمربن سعد : معذرت کے ساتھ،خدا کی قسم ہم سے جو شقاوت ہوئی ہے اسے مدینہ میں قریش کی بوڑھی عورتی ں پڑھ رہی ہیں ۔خدا کی قسم میں نے حسین کے سلسلے میں اتنے اخلاص کے ساتھ تم سے گزارش کی تھی کہ اگر اتناا خلاص اپنے باپ سعدبن ابی وقاص کے ساتھ کرتا تو میں ان کا حق ادا کر چکا ہوتا۔
عبیداللہ کے بھائی عثمان بن زیاد نے کہا : خداکی قسم یہ سچ کہہ رہاہے ، میں تو یہ چاہتا تھا کہ خاندان زیاد کی کوئی فرد نہ بچے مگریہ کہ قیامت کے دن اس کے ناک میں ایک نکیل ہو لیکن اس نے حسین کوقتل نہ کیا ہو ۔
ہشام کا بیان ہے: مجھ سے عمرو بن حیزوم کلبی نے اپنے باپ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اس نے سنا ایک منادی ندا دے رہا تھا :
أیها القاتلون جهلاً حسینا
أبشروا با لعذاب والتنکیل
کل أهل السماء یدعون علیکم
من نبی و ملائک و قبیل
قد لعُنتم علی لسان بن داو
د و موسی و حامل الا نجیل
اے نادان قاتلان حسین تم کو عذاب ورسوائی کی بشارت ہو ،تمام اہل آسمان انبیاء ،فرشتے اور سب کے سب تمہارے لئے بد دعا کر رہے ہیں ، داود ، موسی اور صاحب انجیل کی زبان سے تم لوگ موردلعنت ہو ۔ اس خبر کو شیخ مفید نے ارشاد ،ص ٢٤٨ ، اور سبط بن جوزی نے تذکرہ، ،ص ٢٧٠ ،طبع نجف پر لکھا ہے ۔
اہل کوفہ میں سب سے پہلا حسینی زائر
واقعہ عاشورہ کے بعد عبیداللہ بن زیاد نے اہل کوفہ کے سربر آوردہ افراد کو بلایا اور ان کی دل جوئی کرنے لگالیکن حضرت حر کے فرزند عبیداللہ بن حر جعفی پر اس کی نگا ہ نہیں پڑی۔ کچھ دنوں کے بعد عبیداللہ بن حر آیا اور ابن زیاد کے پاس گیا۔ اس نے حر کے بیٹے کو دیکھ کرکہا : فرزند حر ! تم کہاں تھے ؟ اس نے جواب دیا : میں مریض تھا تو ابن زیاد کہنے لگا : روح کے مریض تھے یا بدن کے؟ بیشہء شجاعت کے شیر دل فرزند عبید اللہ بن حر نے جواب دیا :'' أما قلبی فلم یمرض وأما بدنی فقد مَنَّ اللّّٰه علیّ با لعافیه ''میری روح تو مریض نہیں ہوئی ہے، رہا سوا ل بدن کاتو خدا نے صحت دے کرمجھ پر احسان کیا ہے ۔
یہ سن کر ابن زیاد نے اس سے کہا: تو جھوٹ بولتا ہے تو ہمارے دشمنوں کے ساتھ تھا ۔
عبیداللہ بن حر نے جواب دیا: اگرمیں تمہارے دشمنوں میں ہوتا تو وہاں میرا حضور تم سے پوشیدہ نہیں رہتا ۔
اس گفتگو کے درمیان عبیداللہ بن زیاد کچھ دیر کے لئے فرزند حر کی طرف سے غافل ہوگیا تو وہ فوراً اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر باہر نکل آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب ابن زیاد متوجہ ہوا اورابن حر کو نہیں پایا تو پوچھنے لگا : فرزند حر کہاں ہے ؟ حاشیہ نشینوں نے جواب دیا : وہ تو ابھی تھوڑی دیر قبل نکلا ہے ۔
عبیداللہ بن زیادنے کہا: اسے میرے پاس لے آؤ۔
یہ سن کر اس کی پولس کے افراد فوراً باہرآئے اور ابن حر کے پاس پہنچ کر کہا : امیر نے تم کو بلایا ہے ان کے پاس چلولیکن حر کے فرزند نے آنے کے بجائے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور کہا : تم لوگ اس تک میرا پیغام پہنچادوکہ خدا کی قسم میں کبھی بھی فرمانبردار ہو کر اس کے پاس نہیں آؤں گا۔
پھر وہ وہاں سے نکل گیا اور اپنے گھوڑے کوسر پٹ دوڑاتا ہوا کربلا پہنچا اوروہاں یہ اشعار پڑھے :
یقول أمیر غادر وابن غادر
ألا کنت قاتلت الشهید ابن فاطمة
فیاندم أن لاأکون نصرته
ألا کل نفس لا تسدّد نادمة
وان لانّ لم اکن من حماته
لذو حسرة ماان تفارق لازمة
سق اللّٰه ارواح الذین تأزّروا
علی نصره ، سُقیاً من الغیث دائمة
وقفتُ علی أجداثهم و مجالهم
فکا د الحشاینقضّ والعین ساجمة
لعمری لقد کانوا مصالیت فی الوغی
سراعاًالی الهیجا حماة ضراغمة
فان یقتلوا فکلُّ نفس تقية
علی الارض قد أضحت لذالک واجمة
وما ان رأی الرّاؤون أفضل منهم
لدی الموت سادات و زُهراً قماقمة
أتقتلهم ظلماًو ترجوا ودادنا
فدع خطة لیست لنا بملائمة
لعمری لقد راغمتمونا بقتلهم
فکم نا قم منّا علیکم و ناقمة
أهْم ّمرارًاان أسیر بجحفل
الی فئة زاغت عن الحق ظالمة
کفّوا والاذدتکم فی کتائب
اشد علیکم من زحوف الدیالمة(١) و(٢)
____________________
١۔ عبدالرحمن بن جندب ازدی نے مجھ سے روایت کی ہے۔(طبری، ج٥،ص ٤٦٩)
٢۔ ضرب المثل میں ''دیلمیو ں '' کا تذکرہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ'' ساسانیو ں ''کے سقوط کے بعد دفاعی جنگ میں انھو ں نے بڑا زبردست حملہ کیاتھا۔ واضح رہے کہ ابن حر عثمانی مذہب تھے اور جب عثمان قتل کر دئے گئے تو یہ کوفہ سے نکل کر معاویہ کے پاس گئے اور اسی کے پاس مقیم رہے یہا ں تک کہ حضرت علی علیہ السلام شھید ہوگئے (طبری، ج٥ ، ص ١٢٨) امام کی شہادت کے بعد یہ کوفہ پلٹ آئے۔یہ حجر بن عدی کی گرفتاری کے وقت آرزو مند تھے کہ اگر دس یا پانچ آدمی بھی میری مدد کرتے تو میں حجر اور ان کے ساتھیو ں کو نجات دلادیتا۔ (طبری، ج٥ ، ص ٢٧١) امام حسین علیہ السلام نے انھی ں اپنے ساتھ قیام کی دعوت دی تو بہانہ کرکے کہنے لگے کہ خدا کی قسم میں کوفہ سے نہیں چلاتھا مگر یہ کہ مجھے ناپسند تھا کہ میرا آپ سے سامنا ہو تو اما م حسین علیہ السلام نے فرمایا : اگرتم ہماری مدد نہیں کرنا چاہتے ہوتو نہ کرو لیکن اس دن خدا سے خوف کھاؤ جس دن کہیں ان میں سے نہ ہوجاؤ جوہم سے جنگ کری ں گے، خدا کی قسم کوئی ایسا نہیں ہے کہ جوہماری فریاد سنے اورہماری مددنہ کرے مگر یہ کہ وہ ہلاک ہوجائے گا ۔(طبری ،ج٥،ص ٤٠٧) جب یزید مر گیا
اور ابن زیاد بھاگ گیا۔ ادھر مختار قیام کے لئے اٹھے تویہ سات سو سوارو ں کے ہمراہ مدائن کی طرف نکلے اور وہا ں لوگو ں سے مال لینے لگے تو مختار نے کوفہ میں ان کی بیوی کو قیدکر لیا اور کہا : میں اس کے ساتھیو ں کو ضرور قتل کرو ں گا تو یہ مصعب بن زبیر سے ملحق ہو گئے اور مختار سے جنگ شروع کر دی۔(طبری، ج٥،ص ١٠٥) یہی وہ شخص ہے جس نے مختار کے قتل کے بعد مصعب کو مشورہ دیاکہ مختار کے ساتھیو ں میں سے ان موالیو ں کو قتل کرد و جو غیر عرب ہیں اور عرب نسل لوگو ں کو چھوڑ دولہذا مصعب نے ایسا ہی کیا۔(طبری، ج٥،ص١١٦)اس وقت مصعب خود اپنی زندگی سے اس کے حوالے سے خوف زدہ ہوگیا اور اسے قید کردیا ۔ قبیلۂ مذحج کے ایک گروہ نے اس کی سفارش کی تومصعب نے اسے آزاد کردیاپھراس نے مصعب پر خروج کردیا (طبری، ج ٥،ص ١٣١)اور عبد الملک بن مروا ن سے ملحق ہوگیا۔ اس نے اسے کوفہ کا گورنر بناکر کوفہ لوٹایا۔ وہا ں ابن زبیر کا عامل موجود تھا ۔ عبیداللہ بن حر نے اس سے جنگ کی اورقتل کردیا۔یہ ٦٨ھ کا واقعہ ہے۔(طبری، ج٥ ، ص ١٣٥) راہ کربلامیں منزل قصر بنی مقاتل کے پاس امام حسین علیہ السلام سے اس کی ملاقات کے ذیل میں اس کے احوال گزر چکے ہیں ۔
پیما ن شکن امیر اور فریب کار بیٹا کہتا ہے کہ فاطمہ کے شہید لال سے جنگ کیو ں نہ کی؟! ہائے افسوس کہ میں ان کی نصرت و مدد نہ کرسکا ،حقیقت یہ ہے کہ جس کی فکر صحیح و سالم نہ ہو اسے ندامت ہی اٹھانی پڑتی ہے ، میں اس وجہ سے حسرت و اندوہ میں ہو ں کہ میں ان کی حمایت نہ کر سکا اور یہ حسرت و ندامت مجھ سے جدا نہیں ہوگی، خدا ان لوگو ں کی ا رواح کو اپنی بے پایان رحمتو ں کی بارش سے سیراب کرے جنہو ں نے ان کی نصرت و مدد کاپورا پورا حق ادا کیا، میں ان کے جسمو ں اور ان کی آرامگاہ پر اس حال میں کھڑا ہو ں کہ میری آنکھو ں سے سیل اشک جاری ہے، قریب ہے کہ دل پاش پاش ہوجائے اور میں گر پڑو ں ،میری جان کی قسم وہ لوگ میدان جنگ میں ایسے بیشہ ٔ شجاعت تھے کہ شیرسے زیادہ سرعت و تیزی کے ساتھ میدان فضل وشرف کی طرف گامزن تھے اور مدافع حق کی حمایت کر نے والے نیزشیر بیشہ ٔ حق تھے ، اگر وہ شہید کر دئے گئے تو اہل زمین کے تمام متقین ان کی شہادت پر اندوہناک ہیں حقیقت نگر اور تاریخ کا مطالعہ کرنے والے افراد جتنی تحقیق کرنا چاہیں کرلی ں لیکن موت کے مقابلہ میں ان کے جیسا بہادر و ساونت نہیں پائی ں گے، کیا تم ان کو ظلم وستم کے ساتھ قتل کرنے کے بعد ہم سے دوستی کی امید رکھتے ہو ؟ اپنی اس بری سازش کو کنارے رکھو یہ ہمارے افکار سے ساز گار نہیں ہے، میری جان کی قسم ان کو قتل کرنے کے بعد تم لوگو ں نے ہم سے دشمنی مول لی ہے، کتنے ہمارے مرد اور کتنی ہماری عورتی ں ہیں جنہیں تم لوگو ں نے اپنے خلاف بر انگیختہ کیاہے،
ہمیشہ میں اس فکر میں ہو ں کہ ایک لشکرجرار کے ہمراہ ان ظالمو ں کی طرف حرکت کرو ں جنہو ں نے حق سے منہ موڑ کر امام حسین علیہ السلام سے جنگ کی ہے ۔
اب بس کرو اور اپنے ظلم وستم سے ہاتھ کھینچ لو ورنہ تمہارے ظلم وستم کو دور کرنے کے لئے دیلمیو ں سے سر سخت اور بہادر سپاہیو ں کے ہمراہ تمہارے خلاف نبرد آزمائی کرو ں گا ۔
خاتمہ
خدائے متعال کی رحمتوں کے صدقے میں امام حسین علیہ السلام کے واقعات سے متعلق روایتیں جو تاریخ طبری میں ہشام کلبی سے منقول ہیں جسے انھوں نے اپنے والد اور انھوں نے ابو مخنف سے اور انھوں نے اپنے راویوں اور محدثین سے نقل کیا ہے، تحقیقات و تعلیقات کے ساتھ تمام ہوئیں ۔ یہ توفیق شامل حال رہی کہ تعلیقات کے لئے بھی ہم نے تاریخ طبری ہی کو پہلا منبع قرار دیا مگر یہ کہ اگر ہمیں تاریخ طبری میں کچھ نہیں ملا تو دوسری کتابوں کی طرف رجوع کیا۔ والحمد للہ رب العالمین۔
سخن مترجم
خدا کا شکر کہ کتاب'' وقعة الطف'' کا ترجمہ محمد و آل محمد علیہم السلام کی مدد سے تمام ہوگیا۔ خدا وند عالم سے دست بہ دعا ہوں کہ اس کوشش کو قبول فرما لے اور ہمارا یہ فعل امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خوشنودی اور ان کے ظہور میں تعجیل کا سبب قرار پائے تاکہ وہ آکرتاریخی حقائق سے پردہ ہٹائیں اور ان کی موجودگی میں ہم مصائب محمد وآل محمد علیہم السلام سن کرمثاب ہوں ۔
آمین یا رب العالمین بحق محمد و آله الطاهرین
العبد
سید مراد رضا رضوی
٦ رجب المرجب ٢٦ ١٤ ہجری ۔
فہرست منابع
١۔ ابصار العین فی انصا ر الحسین ،شیخ محمد بن شیخ طاہر سماوی نجفی، طبع نجف
٢۔ الارشاد لمعرفةحجج اللہ علی العباد،محمد بن محمد بن نعمان العکبر ی بغدادی ابن المعلم معروف بہ شیخ مفید، متوفی٤١٣ھ، طبع نجف
٣ ۔اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ،شیخ عزالدین ابن اثیر جزری موصلی، متوفی ساتویں صدی ہجری
٤۔ الاصابہ فی تمیز صحابہ،ابن حجر عسقلانی فلسطینی ،نویں صدی ہجری
٥۔ الاعلام،خیر الدین زر کلی
٦۔ اعلام الوری با لا علام الھدی ،فضل بن حسن طبرسی، متوفی ٥٤٨ھ ق
٧۔ الاغانی ، ابوالفرج اصفہانی
٨۔ امالی شیخ صدوق ، محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ قمی، متوفی ٣٨١ ھ، طبع بیروت
٩۔ بصائر الدرجات، محمد بن حسن صفار قمی
١٠۔ تاریخ امم والرسل والملوک (معروف بہ تاریخ طبری) ،ابو جعفر محمد بن جریر طبری، متوفی٣١٠ھ، طبع دارالمعارف قاہرہ
١١۔ تاریخ یعقوبی ، احمد بن واضح بن یعقوب، متوفی ٢٨٤،طبع نجف
١٢۔ تاسیس الشیعة الکرام لعلوم الاسلام ، سید محمد حسن صدر کاظمینی، طبع بغداد
١٣۔ تذکرة الحفاظ، ذہبی ، ابو عبداللہ محمدبن احمد بن عثمان قایماز تر کمانی، متوفی ٧٤٨ھ
١٤۔ تذکرة خواص الامة بخصائص الائمة(معروف بہ تذکرة الخواص) ،سبط بن جوزی حنبلی، متوفی ساتویں صدی ہجری، طبع نجف
١٥۔تفصیل وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل ا لشریعة،محمدبن حسن حر عاملی ، متوفی ١١٠٤ھ ق
١٦۔تقریب التہذیب،ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی مصری شافعی، ٨٥٢ ھ
١٧۔ تنزیہ الانبیائ، محمدبن علی بن حسین موسوی بغدادی معروف بہ سید مرتضیٰ، متوفی ٤٣٦ ،طبع بغداد، آفسٹ بصیرتی
١٨۔ تنقیح المقال ،شیخ عبداللہ مامقانی، طبع نجف
١٩ ۔ تہذیب التہذیب،ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، متوفی ٨٥٢ ھ
٢٠۔ جامع الرواة وازاحة الاشتباھات عن الطریق و الاسناد، محمد بن علی اردبیلی غروی حائری
٢١۔ الجرح و التعدیل ،محمد بن ادریس رازی
٢٢۔ خصائص الحسینیہ ،شیخ جعفر بن حسین شوشتری
٢٣ ۔ الخلاصہ،محمد بن حسن بن یوسف بن مطہر اسدی حلی، طبع نجف
٢٤۔خصال،شیخ صدوق، محمد بن علی ،متوفی ٣٨١
٢٥ ۔ خلاصة تذھیب تہذیب الکمال
٢٦۔الدلایل والمسائل،ھبة الدین شہرستانی، ١٩٦٧م
٢٧۔ ذیل المذیل ،ابو جعفر محمد بن جریر طبری، متوفی ٣١٠ ھ تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، طبع آستانہ
٢٨۔رجال الشیخ،شیخ ابو جعفرمحمد بن حسن بن علی طوسی خراسانی، متوفی ٤٦٠ ھ، طبع نجف
٢٩۔ رجال کشی (اختیار معرفة الر جال، اصل کتاب بنام معرفة الرجال شیخ کشی کی جو تیسری صدی ہجری کے عالم تھے اور اس کا اختیار شیخ طوسی کے رشحات قلم میں شمار ہوتا ہے)، طبع نجف
٣٠۔سیرة رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشہور بہ سیرة النبی، عبدالملک بن ہشام ،متوفی٢١٣ق
٣١۔شرح نہج البلاغہ ،عز الدین عبدالحمید بن ابی الحدید مداینی بغدادی معتزلی شافعی ،متوفی٦٥٦ ،طبع قاہرہ مصر
٣٢۔الشیعہ و فنون الاسلام ،سید محمد حسن صدر کاظمینی، طبع قاہرہ ، مصر
٣٣۔ صحیح بخاری ، محمد بن اسماعیل بخاری ،متوفی ٢٥٦ ھ
٣٤۔ طبقات الکبری ، محمدبن سعید کاتب واقدی ،متوفی ٢٢٠
٣٥۔ عمدة الطالب فی انساب آل ابی طالب، احمد بن علی بن عنبہ، متوفی ٨٢٨ق
٣٦۔ فرج المہموم،علی بن موسیٰ بن جعفر بن طاووس حسنی حلی، متوفی ساتویں صدی ہجری، طبع نجف
٣٧۔ فوات الوفیات،محمدبن شاکر کتبی ، متوفی ٧٦٤ ھ
٣٨۔ الفہرست ، شیخ ابو جعفر محمد بن حسن بن علی طوسی خراسانی ،متوفی ٤٦٠ ھ، طبع نجف
٣٩۔ فہرست لابن الندیم ،محمد بن اسحاق بن ندیم بغدادی، متوفی چوتھی صدی ہجری ،طبع رضا تجدد ،تہران
٤٠۔ فہرست اسماء مصنفی الشیعہ، احمد بن عباس نجاشی ،متوفی ٤٥٠ ھ، طبع حجر بمبئی، آفسٹ داوری
٤١۔ کافی، محمدبن یعقوب کلینی رازی ،متوفی ٣٢٩ ھ، طبع آخوندی
٤٢ ۔ کامل الزیارات ، ابو القاسم جعفر بن قولویہ ،متوفی چوتھی صدی ہجری، طبع حجر ،نجف
٤٣ ۔ الکامل فی التاریخ ، شیخ عزالدین ابن اثیر جزری موصلی ،ساتویں صدی ہجری
٤٤۔ الکتاب الکامل ،مبرد ابو العباس محمدبن یزید، متوفی حدود ٢٦٧ ھ
٤٥۔کشف الغمہ فی معرفة الائمہ،شیخ علی بن عیسیٰ اربلی بغدادی، متوفی ساتویں صدی ہجری ،طبع تبریز
٤٦۔ الکنی والالقاب ،شیخ عباس بن محمد رضا قمی، طبع نجف
٤٧۔ لسان العرب ، محمدبن مکرم بن منظور، ١١ ٧ق
٤٨ ۔ لسان المیزان ،سبط بن جوزی ،متوفی ٦٥٤ ھ
٤٩۔ مثیرا لاحزان،شیخ ابن نما حلی، متوفی٦٤٥ھ ،طبع نجف
٥٠۔ مجمع البحرین ،فخر الدین طریحی نجفی، متوفی ١١٥٠ ھ
٥١۔المراجعات،الامام عبدالحسین شرف الدین موسوی ،متوفی ١٣٧٠ ،طبع دار صادر ،لبنان، شہید حسن شیرازی کے مقدمہ کے ساتھ
٥٢۔ مرو ج الذھب،علی بن حسین مسعودی بغدادی ،متوفی ٣٥٦ ، تحقیق محمد محی الدین عبدالحمید، طبع قاہرہ ،مصر
٥٣۔مسند احمد،احمد بن حنبل ،متوفی ٢٤٠ ھ
٥٤۔مطالب السوأل فی مناقب آل الرسول،محمد بن طلحہ شافعی مصری ،طبع مصر
٥٥۔ المطبوع مع التاریخ
٥٦۔معالم العلمائ، محمد بن علی بن شہر آشوب حلبی ساروی مازندرانی، متوفی ٥٨٥ ھ،طبع نجف
٥٧۔ معجم البلدان ،یاقوت حموی ،متوفی پانچویں صدی ہجری
٥٨ ۔معجم مقاییس اللغة،ابو الحسن احمد بن فارس بن زکریا، متوفی ٣٩٥ھ
٥٩۔ المغنی، ابن قدامہ حنبلی
٦٠۔مقاتل الطالبیین،ابو الفرج اصفہانی، طبع نجف
٦١ ۔ مقتل الحسین،ابو الموید موفق بن احمد خوارزمی، متوفی چھٹی صدی ہجری ،طبع نجف
٦٢۔ مقتل الحسین وحدیث کربلا ،سید عبدالرزاق موسوی مقرم نجفی، متوفی ١٣٩٠ ھ ،طبع سوم، آفسٹ بصیرتی
٦٣۔ مولفو االشیعہ فی صدر الاسلام،الامام عبدالحسین شرف الدین موسوی، متوفی ١٣٧٠ ھ، طبع صید، لبنان
٦٤۔ میزان الاعتدال،ذہبی ،متوفی پانچویں صدی ہجری ،طبع قاہرہ ،مصر
٦٥۔نفس المہموم، شیخ عباس بن محمد رضا قمی، طبع قم، بصیرتی
٦٦۔وقعة صفین، نصر بن مزاحم منقری تمیمی، متوفی ٢١٩ ھ، تحقیق ڈاکٹر عبد السلام ہارون، طبع قاہرہ مصر، آفسٹ بصیرتی
فہرست
حرف آغاز ۴
گفتار مترجم ۷
مقد مۂ مو لف ۱۰
اسلام کا پہلا تاریخ نگار ۱۲
کربلا ۱۳
دوسری تاریخ ۱۴
قدیم ترین سند ۱۶
ابو مخنف ۱۸
طبری اور خاندان ابومخنف ۲۰
نصربن مزاحم اور خاندان ابومخنف ۲۲
ابومخنف کی کتابیں ۲۵
دواہم نکات ۲۷
مذہب ووثاقت ۲۸
ہشام الکلبی ۳۱
رائج مقتل الحسین ۳۳
واضح غلطیاں ۳۶
اسناد ابی مخنف ۴۲
راویوں کے اسماء ۴۲
پہلی فہرست ۴۳
١۔ ثابت بن ہبیرہ : ۴۴
٢۔ یحٰی بن ہانی بن عروة المرادی المذحجی: ۴۴
٣۔ زہیربن عبدالرحمن بن زہیر خثعمی : ۴۵
دوسری فہرست ۴۵
١۔ عقبیٰ بن سمعان:(٢) ۴۵
٢۔ ہانی بن ثبیت حضرمی سکونی : ۴۵
٣۔حمید بن مسلم ازدی : ۴۶
روایات کی سند ۴۷
٤۔ضحاک بن عبداللہ مشرقی ہمدانی: ۴۹
٥۔ امام زین العابدین : ۴۹
٦۔ عمرو حضرمی : ۴۹
٧۔ غلام عبد الر حمن انصاری : ۴۹
٨۔ مسروق بن وائل حضرمی : ۵۰
٩۔ کیثر بن عبداللہ شعبی ہمدانی : ۵۰
١٠۔ زبیدی : ۵۱
١١۔ ایو ب بن مشر ح خیوانی: ۵۱
١٢۔ عفیف بن زہیر بن ا بی الاخنس : ۵۱
١٣۔ ربیع بن تمیم ہمدانی : ۵۱
١٤۔ عبداللہ بن عمار با رقی : ۵۲
١٥۔ قرة بن قیس حنظلی تمیمی : ۵۲
تیسری فہرست ۵۳
١۔ ابو جناب یحٰی بن ابی حیہّ الوداعی کلبی : ۵۳
٢۔ جعفر بن حذیفہ طائی: ۵۴
٣۔ دلہم بنت عمرو : ۵۴
٤۔ عقبہ بن ابی العیزار : ۵۵
چو تھی فہرست ۵۵
١۔ ابو سعید دینار: ۵۵
٢۔عقبہ بن سمعان : ۵۶
٣۔محمد بن بشر ہمدانی : ۵۷
٤۔ ابو الودّاک جبربن نوف ہمدانی : ۵۸
٥۔ ابو عثمان نہدی : ۵۹
٦۔ عبداللہ بن خازم کثیری ازدی : ۶۰
٧۔ عباس بن جعدہ جُدلی : ۶۰
٨۔عبدالرحمن بن ابی عمیر ثقفی : ۶۰
٩۔ زائد ہ بن قدامہ ثقفی : ۶۰
١٠۔عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط اموی: ۶۲
١١۔عمر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام مخزومی : ۶۲
١٢۔ عبداللہ اور مذری : ۶۳
١٣۔امام علی بن الحسین بن علی علیہماالسلام : ۶۳
١٤۔ بکر بن مصعب مزنی : ۶۳
١٥۔ فزّاری : ۶۳
١٦۔ طرماح بن عدی : ۶۳
١٧۔ عامر بن شراحیل بن عبد الشعبی ہمدانی : ۶۴
١٨۔ حسان بن فائدبن ۶۵
١٩۔ ابوعمار ہ عبسی : ۶۶
٢٠۔قاسم بن بخیت : ۶۶
٢١۔'' ابو الکنودعبدالرحمن بن عبید'' : ۶۶
٢٢۔ فاطمہ بنت علی : ۶۶
پا نچویں فہرست ۶۷
١۔ عبد الملک بن نوفل بن عبداللہ بن مخرمہ: ۶۷
٢۔ ابو سعید عقیصا : ۶۸
٣۔ عبد الرحمن بن جندب ازدی : ۶۹
٤۔حجاج بن علی بارقی ہمدانی : ۶۹
٥۔ نمیر بن وعلة الہمدانی ینا عی : ۶۹
٦۔ صقعب بن زہیرازدی : ۷۰
٧۔ معلی بن کلیب ہمدانی : ۷۰
٨۔ یوسف بن یزید بن بکر ازدی : ۷۰
٩۔یونس بن ابی اسحاق : ۷۱
١٠۔ سلیمان بن راشدازدی : ۷۳
١١۔ مجالد بن سعید ہمدانی : ۷۳
١٢۔ قدامہ بن سعید بن زائدہ بن قدامہ ثقفی : ۷۴
١٣۔ سعید بن مدرک بن عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط اموی : ۷۵
١٤۔ ابو جناب یحٰی بن ابی حیہ وداعی کلبی : ۷۵
١٥۔ حارث بن کعب بن فقیم والبی ازدی کوفی : ۷۶
١٦ ۔ اسما عیل بن عبد الرحمن بن ابی کریمہ سدّی کو فی : ۷۷
١٧۔ ابو علی انصاری : ۷۷
١٨۔ لو ذان : ۷۷
١٩۔ جمیل بن مر ثدی غنوی : ۷۷
٢٠ ۔ ابو زہیر نضربن صالح بن حبیب عبسی : ۷۸
٢١۔ حارث بن حصیرہ ازدی : ۷۸
٢٢۔ عبداللہ بن عاصم فائشی ہمدانی : ۷۹
٢٣۔ ابو ضحاک : ۸۰
٢٤۔ عمرو بن مرّہ الجملی : ۸۰
٢٥۔ عطأ بن سائب : ۸۰
٢٦۔ علی بن حنظلہ بن اسعد شبامی ہمدانی : ۸۱
٢٧۔ حسین بن عقبہ مرادی : ۸۱
٢٨۔ ابو حمزہ ثابت بن دینار ثمالی : ۸۱
٢٩۔ ابو جعفر عبسی : ۸۱
چھٹی فہرست ۸۲
١۔ امام زین العابدین علیہ السلام: ۸۲
٢۔ اما م محمد باقر علیہ السلام : ۸۳
٣۔ امام جعفر صادق علیہ السلام : ۸۳
٤۔ زید بن علی بن حسین علیہماالسلام : ۸۳
٥۔ فاطمہ بنت علی : ۸۳
٦۔ ابو سعید عقیصا: ۸۴
٧۔محمد بن قیس : ۸۴
٨۔ عبداللہ بن شریک عامری نہدی : ۸۵
٩۔ ابو خالد کابلی : ۸۵
١٠۔ عقبہ بن بشیر اسدی : ۸۶
١١۔ قدامہ بن سعید : ۸۶
١٢۔ حارث بن کعب والبی ازدی : ۸۷
١٣۔ حارث بن حصیرہ ازدی : ۸۷
١٤۔ ابو حمزہ ثمالی : ۸۷
امام حسین علیہ السلام مد ینہ میں ۹۱
معاویہ کی وصیت(١) ۹۱
معاویہ کی ہلا کت ۹۵
یزید کا خط ولید کے نام ۹۸
مروان سے مشورہ ۱۰۶
قاصد بیعت ۱۰۶
امام حسین علیہ السلام ولید کے پاس ۱۱۱
ابن زبیر کا موقف ۱۱۳
امام حسین علیہ السلام مسجد مدینہ میں ۱۱۴
محمدبن حنفیہ کا موقف(٢) ۱۱۵
امام حسین علیہ السلام کا مدینہ سے سفر ۱۱۷
امام حسین علیہ السلام مکہ میں ۱۲۱
عبد اللہ بن مطیع عدوی(٢) ۱۲۱
امام حسین علیہ السلام کامکہ میں ورود ۱۲۲
کوفیوں کے خطوط(٢) ۱۲۴
امام حسین علیہ السلام کا جواب ۱۳۵
حضرت مسلم علیہ السلام کا سفر ۱۳۶
راستہ سے جناب مسلم کا امام علیہ السلام کے نام خط ۱۳۷
مسلم کواما م علیہ السلام کا جواب ۱۳۸
کو فہ میں جناب مسلم علیہ السلام کا داخلہ ۱۴۰
اہل بصرہ کے نام امام علیہ السلام کا خط ۱۴۸
بصرہ میں ابن زیاد کا خطبہ ۱۵۵
کوفہ میں ابن زیاد کا داخلہ ۱۵۶
کوفہ میں داخلہ کے بعد ابن زیاد کا خطبہ ۱۵۷
مسلم ، ہانی کے گھر(٣) ۱۵۸
خط کا مضمون یہ تھا: ۱۶۰
معقل شامی کی جاسوسی ۱۶۰
ابن زیاد کے قتل کا منصوبہ ۱۶۲
معقل کی جناب مسلم سے ملاقات ۱۶۳
ہانی کا دربار میں طلب کیا جانا ۱۶۴
ہانی، ابن زیاد کے دربار میں ۱۶۷
ہانی، ابن زیاد کے روبرو ۱۶۸
موت کی دھمکی ۱۷۱
ہانی کو قید کرنے کے بعد ابن زیاد کا خطبہ ۱۷۴
جناب مسلم علیہ السلام کاقیام ۱۷۵
اشراف کوفہ کا اجتماع ۱۷۵
پرچم امان کے ساتھ اشراف کوفہ ۱۷۷
جناب مسلم علیہ السلام کی غربت و تنہائی ۱۷۸
ابن زیاد کا موقف ۱۸۳
مسلم کی تنہائی کے بعد ابن زیاد کا خطبہ ۱۸۵
ابن زیاد مسلم کی تلا ش میں ۱۸۵
مختار کا نظریہ ۱۸۷
دوسری صبح ۱۸۸
محمد بن اشعث جناب مسلم کے مقابلے میں ۱۸۹
جناب مسلم کا ابن اشعث سے جہاد ۱۸۹
آگ اور پتھر کی بارش ۱۹۰
فریب امان اور گرفتاری ۱۹۱
حضرت مسلم کی محمد بن اشعث سے وصیت ۱۹۲
مسلم قصر کے دروازے پر ۱۹۳
عمر بن سعد سے مسلم کی وصیت ۱۹۵
مسلم علیہ السلام ابن زیاد کے رو برو ۱۹۷
حضرت مسلم علیہ السلام کی شہادت ۱۹۹
جناب ہانی کی شہادت ۲۰۲
تیسرا شہید : ۲۰۳
چو تھا شہید : ۲۰۳
مختار قید خانہ میں ۲۰۴
یزید کے پاس سروں کی روانگی ۲۰۴
یزید کا جواب ۲۰۵
مکہ سے امام حسین علیہ السلام کی روانگی(١) ۲۱۰
امام علیہ السلام کے ساتھ ابن زبیر کا موقف ۲۱۰
ابن عباس کی گفتگو ۲۱۲
ابن عباس کی ایک دوسری گفتگو ۲۱۵
عمر بن عبد الرحمن مخزومی کی گفتگو ۲۱۶
امام علیہ السلام کے ساتھ ابن زبیر کی آخری گفتگو ۲۱۸
عمرو بن سعید اشدق کا موقف ۲۱۹
عبداللہ بن جعفر کاخط ۲۲۱
راستہ کی چودہ (١٤)منزلیں ۲۲۶
پہلی منزل :تنعیم(١) ۲۲۶
دوسری منزل : الصفاح(٢) ۲۲۷
تیسری منزل : حاجر(١) ۲۳۰
چو تھی منزل : چشمۂ آب ۲۳۱
پانچو یں منزل:خزیمیہ(٢) ۲۳۲
زہیر بن قین کا امام حسین علیہ السلام سے ملحق ہونا ۲۳۳
ایک اور نامہ بر ۲۳۵
چھٹی منزل: زرود(١) ۲۳۶
ساتویں منزل : ثعلبیہ(١) ۲۳۷
آٹھویں منزل : زبالہ(١) ۲۳۹
نویں منزل : درّہ عقبہ(٢) ۲۴۰
دسویں منزل : شراف(٣) ۲۴۱
گیارہویں منزل : ذوحسم(١) ۲۴۲
بارہویں منزل : البیضة(٢) ۲۴۷
تیرہویں منزل ؛'' عذیب الھجانات ''(١) ۲۵۰
چودہویں منزل : قصر بنی مقاتل(١) ۲۵۵
قربان گاہ عشق :نینوا(١) ۲۵۷
امام حسین علیہ السلام کی جانب پسر سعد کی روانگی ۲۶۴
ابن زیاد کے نام عمر بن سعد کا خط ۲۶۹
ابن زیاد کا جواب ۲۷۰
پسر سعد کی امام علیہ السلام سے ملاقات ۲۷۰
ابن زیاد کے نام عمر بن سعد کا دوسرا خط ۲۷۲
ابن زیاد کا پسر سعد کے نام دوسرا جواب ۲۷۴
خط کے ہمراہ شمر کا کر بلا میں ورود ۲۷۵
جناب عباس اور ان کے بھائیوں کے نام امان نامہ ۲۷۶
امام علیہ السلام اور ان کے اصحاب پر پانی کی بندش ۲۷۷
امام حسین علیہ السلام کی طرف پسر سعد کا ہجوم ۲۸۱
ایک شب کی مہلت ۲۸۴
شب عاشور کی روداد ۲۸۷
شب عاشور امام حسین علیہ السلام کا خطبہ ۲۸۷
ہاشمی جوانوں کا موقف ۲۸۸
اصحاب کا موقف ۲۸۹
امام حسین علیہ السلا م اورشب عاشور ۲۹۱
شب عاشورامام حسین اور آپ کے اصحاب مشغول عبادت ۲۹۴
صبح عاشورا ۲۹۸
سپاہ حسینی میں صبح کا منظر ۲۹۹
روز عاشورا امام حسین علیہ السلام کا پہلا خطبہ ۳۰۱
زہیر بن قین کا خطبہ ۳۰۹
حر ریاحی کی بازگشت ۳۱۵
حر بن یزید ریاحی کا خطبہ ۳۱۸
آغاز جنگ ۳۲۲
پہلا تیر ۳۲۲
الحملة الا ولی (پہلا حملہ) ۳۲۴
کرامت وہدایت ۳۲۴
بر یر کا مباہلہ اور ان کی شہادت ۳۲۶
عمر وبن قرظہ انصاری کی شہادت ۳۳۰
نافع بن ہلال ۳۳۲
الحملة الثانےة (دوسرا حملہ) ۳۳۲
مسلم بن عوسجہ(١) ۳۳۳
الحملةالثالثة (تیسرا حملہ) ۳۳۵
اصحاب حسین کے حملے اور نبرد آزمائی ۳۳۵
الحملة الرابعہ (چوتھا حملہ) ۳۳۷
نماز ظہر کی آمادگی ۳۳۸
حبیب بن مظاہر کی شہادت(١) ۳۴۰
حر بن یزید ریاحی کی شہادت ۳۴۳
نماز ظہر ۳۴۴
زہیر بن قین کی شہادت ۳۴۴
نافع بن ہلال جملی کی شہادت(٢) ۳۴۵
غفاری برادران ۳۴۷
قبیلہ جابری کے دو جوان ۳۴۸
حنظلہ بن اسعد شبامی کی شہادت ۳۴۹
عا بس بن ابی شبیب شاکری اور ان کے غلام شوذب کی شہادت(١) ۳۵۱
یزید بن زیاد ابو شعثاء کندی کی شہادت ۳۵۳
چار دوسرے اصحاب کی شہادت ۳۵۳
سوید خثعمی و بشر حضر می ۳۵۴
بنی ہاشم کے شہداء ۳۵۷
علی بن الحسین اکبر کی شہادت ۳۵۷
قاسم بن حسن کی شہادت ۳۶۲
عباس بن علی اور ان کے بھائی ۳۶۴
لشکر حسینی کے سردار ۳۶۶
آپ کے امتیازات و خصوصیات ۳۶۶
١۔ حسن ورشاد ت ۳۶۶
٢۔معنوی شوکت ۳۶۷
٣۔ علمدار کربلا ۳۶۸
٤۔ سقائی ۳۶۹
٥۔سالار عشق و ایمان ۳۶۹
٦۔ اسلام کا غیرت مند سپاہی ۳۷۱
٧۔معراج وفا ۳۷۲
حسین علیہ السلام کا شیر خوار ۳۷۵
عبداللہ بن جعفر کے دو فرزندوں کی شہادت ۳۷۷
آل عقیل کی شہادت ۳۷۷
حسن بن علی علیہما السلام کے فر زندوں کی شہادت ۳۷۹
امام حسین علیہ السلام کی شہادت ۳۸۱
آخری لمحات ۳۸۷
خیموں کی تا راجی ۳۸۸
پامالی ۳۹۱
اہل حرم کی کوفہ کی طرف روانگی ۳۹۳
امام حسین علیہ السلام کا سر ابن زیاد کے دربار میں ۳۹۴
دربار ابن زیاد میں اسیروں کی آمد ۳۹۷
عبداللہ بن عفیف کا جہاد ۴۰۱
شہداء کے سر اور اسیروں کی شام کی طرف روانگی ۴۰۳
اہل بیت کی مدینہ واپسی ۴۱۳
اہل کوفہ میں سب سے پہلا حسینی زائر ۴۱۷
خاتمہ ۴۲۰
سخن مترجم ۴۲۰
فہرست منابع ۴۲۱
فہرست ۴۲۵