110 سوال اور جواب

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
مناظرے


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


۱۱۰/ سوال وجواب

تالیف آیت اللہ مکارم شیرازی

ترجمہ : اقبال حیدر حیدری


تقریظ

حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی دام ظلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمد لله رب العالمین و به نستعین و صلی الله علٰی محمد و آله الطیبین الطاهرین

سوال ہمیشہ سے انسانی علم و دانش کے خزانہ کی کنجی رہا ہے۔

لہٰذا وہ افراد اور قوم و ملت جو کم سوال کرتے ہیں انھوں نے اس عظیم خزانہ سے کم فائدہ حاصل کیا ہے، اور بنیادی طور پر سوال کرنا اور اس کا جواب سننا ہر انسان کا حق ہے اور اسے کوئی بھی اس عقلی و منطقی حق سے محروم نہیں کرسکتا،چنانچہ قرآن مجید نے بارہا اس بات کی تاکید کی ہے کہ جس چیز کے بارے میں تم نہیں جانتے ، اسے صاحبان علم و دانش سے دریافت کرو:( فَاسْاٴَلُوا اٴَهْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ) (۱) نحل، ۴۳

اس قرآنی حکم کی وسعت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام ؛ سوال کے لئے کوئی حد معین کرنے کو قبول نہیں کرتا اور مسلمان بلکہ غیر مسلم (کیونکہ آیت غیر مسلم لوگوں سے مخاطب ہے اگرچہ اس کا مفہوم عام ہے) کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مختلف مسائل میں چاہے وہ اعتقادی مسائل ہوں یا اجتماعی، اخلاقی ،سیاسی یا کسی بھی چیز کے بارے میں سوال کرسکتے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ لوگوں کے عقائد و افکار کو خراب کرنے یا عام لوگوں کے افکار میں تشویش اور تزلزل ایجاد کرنے یا ہٹ دھرمی اور جنگ و جدال کے لئے انحرافی سوال اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں، کیونکہ در حقیقت یہ سوال نہیں ہے بلکہ سوال کے روپ میں فساد پھیلانا ہے۔

بہر حال چونکہ قرآن مجید خدا شناسی اور انسانی مسائل کا ایک عظیم الشان دائرة المعارف (انسائیکلو پیڈیا) ہے ،اس لئے جگہ جگہ پر مختلف آیات کے ذیل میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں لیکن چونکہ عام طور پر سابقہ نہیں پڑتا تھا لہٰذا بعض مفسرین نے ان کا جواب پیش نہیں کیا۔

جس وقت ہم نے (چند دیگر فاضل علماکی مدد سے) تفسیر نمونہ لکھنا شروع کی تو ہماری کوشش تھی ان تمام سوالات (خصوصاً عصر حا ضر کی ترقی یافتہ دنیا میں پیدا ہونے والے سوالات) کو بیان کریں اور دقیق طریقہ سے جواب دیا جائے ۔

اور چونکہ ان سوالات کا جاننا سب کے لئے ضروری ہے خصوصاً آج کل کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے نہایت ہی مفید ہے، لہٰذا نظر حجة الاسلام جناب آقای حسینی صاحب نے چند افاضلِ قم کی مدد سے جن کے نام مقدمہ میں بیا ن ہوئے ہیں اس طرح کے سوالات اور ان کے جوابات کو تفسیر نمونہ کی ۲۷/ جلدوں اور تفسیر پیام قرآن کی ۱۰/ جلدوں سے جمع کرکے ترتیب دیا جس کے نتیجہ میں ۱۱۰ / اہم سوال آپ حضرات کی خدمت میں حاضر ہیں، واقعاً سوالات کو مختلف ابواب کی صورت میں تر تیب دینا ان کے ذوق اور سلیقہ کی دلیل ہے، (خدا ان کو جزائے خیر دے) ، امید ہے کہ سوالات کا یہ مجموعہ سب کے لئے بالخصوص ہمارے جوانوں میں اسلامی اور قرآنی مسائل کو سمجھنے کے لئے مفید واقع ہو اور آخرت کے لئے بہترین ذخیرہ قرار پائے۔

ناصر مکارم شیرازی

حوزہ علمیہ، قم المقدسہ


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پیش گفتار

اگرچہ شیعہ علمائے کرام ابھی تک قرآن مجید کی متعدد تفاسیر لکھ چکے ہیں، جن سے عوام الناس، طلاب حوزات علمیہ اور علمائے کرام فیضیاب ہوتے رہے ہیں، لیکن ان میں ”تفسیر نمونہ“ خاص امتیاز کی حامل ہے وہ بھی فارسی زبان میں جس کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی، خصوصاً دور حاضر میں جبکہ قرآن فہمی کا جذبہ ہر طبقہ میں پیدا ہورہا ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے چند علماکے ساتھ مل کر اس ضرورت کو پورا کیا اور اس تفسیر کے ذریعہ قرآن مجید کی شایان شان خدمت انجام دی۔

اس تفسیر کے خاص امتیازات حسب ذیل ہیں جن کی وجہ سے یہ مقبول عام ہوئی ہے :

۱ ۔ یہ تفسیر اگرچہ فارسی زبان میں ہے لیکن اس کے علمی اور تحقیقاتی نکات میں کافی رعایت کی گئی ہے، تاکہ طلاب کرام ، علمائے عظام اور قرآن فہمی کا شوق رکھنے والے عوام الناس بھی اس سے فیضیاب ہوسکیں ۔

۲ ۔ تفسیر آیات میں بعض غیر ضروری مسائل میں الجھنے کے بجائے ان مسائل سے خصوصی بحث کی گئی ہے جو انسان کے لئے واقعاً زندگی ساز ہیں جن کے ذریعہ انسان کی فردی اور معاشرتی زندگی کافی متاثر ہے۔

۳ ۔آیات میں بیان شدہ عناوین کے تحت ایک مختصر و مفید عنوان سے الگ بحث کی گئی ہے جس کے مطالعہ کے بعد قارئین کرام کو دوسری کتابوں کے مطالعہ کی ضرور ت نہ ہوگی۔

۴ ۔ تفسیر میں مشکل اور پیچیدہ اصطلاحات سے پرہیز کیا گیا ہے لیکن ضرورت کے وقت حاشیہ میں ضروری وضاحت بھی کی گئی ہے، تاکہ علماء اور صاحبان نظر حضرات کے علاوہ عام قارئین کرام کے لئے بھی مفید واقع ہوسکے۔

۵ ۔ اس تفسیر کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ اس میں اسلامی معارف اور اصول و فروع کے سلسلہ میں دور حاضر میں ہو نے والے مختلف سوالات اور اعتراضات کاجواب دیا گیا ہے۔

انھیں امتیازات کی بنا پر استاد معظم سے اجازت طلب کی تاکہ تفسیر کے مختلف سوالات اور جوابات کو جمع کرکے الگ ایک کتاب کی شکل دے دی جائے جو عام قارئین کرام کے لئے مفید واقع ہو سکے، ہماری خوش قسمتی ہے کہ استادبزرگوار نے اجازت مرحمت فرمائی، اور ہم نے حجج اسلام احمد جعفری، سید علی رضا جعفری، سید مرتضیٰ موسوی، سید اصغر حسینی اور محمد حسین محمدی کے ہمراہ تفسیر نمونہ اور تفسیر پیام قرآن کا شروع سے آخر تک دقیق مطالعہ کیا اور اس سے سوالات کو جمع کیا، جو ۱۱۰/ سوال و جواب کی صورت میں آپ کی خدمت میں حا ضر ہے ۔

چند ضروری نکات:

۱ ۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی سوال، تفسیر کی مختلف جلدوں میں بیان ہوا ہے ہم نے ان کو ایک جگہ جمع کیا اور خاص ترتیب سے ذکر کیا ہے۔

۲ ۔ اس مجموعہ میں تفسیر آیات سے متعلق سوالات کو ذکر نہیں کیا گیا ہے کیونکہ ہمارا مقصد ان سوالات کا جمع کرنا تھا جو آج کل ہمارے دینی معاشرہ میں بیان ہوتے ہیں، نہ کہ تفسیری نکات ؛ ان کے لئے تفسیر کا مکمل طور پر مطالعہ کیا جائے۔

۳ ۔ اگرچہ ظاہراً اس کتاب کے مطالب جمع کرنا آسان کام ہے لیکن اس کے مختلف مراحل طے کرنے پڑے ہیں، منجملہ تفسیری دورہ، سوالات و جوابات کی جمع آوری اور ان کو منظم و مرتب کرنا واقعاً ایک فرصت طلب کام تھا۔

۴ ۔ اس کتاب کے اکثر سوال و جواب تفسیر نمونہ سے لئے گئے ہیں اگرچہ کچھ سوالات پیام قرآن اور پیام امام سے بھی ماخوذ ہیں، (سب کا حوالہ حاشیہ پر ذکر کر دیا گیا ہے )

امید ہے کہ یہ ناچیز کوشش حضرت بقیة اللہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرے۔

سید حسین حسینی

قم المقدسہ


۱ ۔ خدا کی معرفت کیوں ضروری ہے؟

جب یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ کوئی بھی فعل بغیر علت کے نہیں ہوتا تو پھر اس دنیا کے خالق کی معرفت اور اس کو پہچاننے کے لئے بھی کوئی نہ کوئی علت اور سبب ہونا چاہئے، چنانچہ فلاسفہ اور دانشوروں نے خدا شناسی کے لئے تین بنیادی وجہیں اور علتیں بیان کی ہیں،جن پر قرآن کریم نے واضح طور پر روشنی ڈالی ہے:

۱ ۔ عقلی علت ۔

۲ ۔ فطری علت ۔

۳ ۔ عاطفی علت ۔

۱. عقلی علت :

انسان کمال کا عاشق ہوتا ہے، اور یہ عشق تمام انسانوں میں ہمیشہ پایا جاتا ہے، انسان جس چیز میں اپنا کمال دیکھتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے،البتہ یہ بات علیحدہ ہے کہ بعض لوگ خیالی اور بےہودہ چیزوں ہی کو کمال اور حقیقت تصور کربیٹھتے ہیں۔

کبھی اس چیز کو ”منافع حاصل کرنے اور نقصان سے روکنے والی طاقت“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ انسان اسی طاقت کی بنا پر اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ جس چیز میں اس کا فائدہ یا نقصان ہو اس پر خاص توجہ دے۔

انسان کی اس طاقت کو ”غریزہ“ کا نام دینا بہت مشکل ہے کیونکہ معمولاً غریزہ اس اندرونی رجحان کو کہا جاتا ہے جو انسان اور دیگر جانداروں کی زندگی میں بغیر غور و فکر کے اثر انداز ہوتا ہے اسی وجہ سے حیوانات کے یہاں بھی غریزہ پایا جاتا ہے۔

لہٰذا بہتر ہے کہ اس طاقت کو ”عالی رجحانات“کے نام سے یاد کیا جائے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس کا تذکرہ بھی کیاہے۔

بہر حال انسان کمال دوست ہوتا ہے اور ہر مادی و معنوی نفع کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور ہر طرح کے ضررو نقصان سے پرہیز کرتا ہے چنانچہ اگر انسان کو نفع یا نقصان کا احتمال بھی ہو تو اس چیز پر توجہ دیتا ہے اور جس قدر یہ احتمال قوی تر ہوجاتا ہے اسی اعتبار سے اس کی توجہ بھی بڑھتی جاتی ہے، لہٰذایہ ناممکن ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کسی چیز کو اہم و موثر مانے لیکن اس سلسلہ میں تحقیق و کوشش نہ کرے۔

خدا پر ایمان اور مذہب کا مسئلہ بھی انھیں مسائل میں سے ہے کیونکہ مذہب کا تعلق انسان کی زندگی سے ہوتا ہے اور اسی سے انسان کی سعادت اور خوشبختی یا شقاوت اور بدبختی کا تعلق ہوتا ہے، اور اسی کے ذریعہ انسان سعادت مند ہوتا ہے یا بدبخت ہوجاتا ہے،اور ان دونوں میں ایک گہرا ربط پایا جاتا ہے۔

اس بات کو واضح کرنے کے لئے بعض علمامثال بیان کرتے ہیں: فرض کیجئے ہم کسی کو ایک ایسی جگہ دیکھیں جہاں سے دوراستے نکلتے ہوں ، اور وہ کہے کہ یہاں پر رکنا بہت خطرناک ہے اور (ایک راستہ کی طرف اشارہ کرکے )کہے کہ یہ راستہ بھی یقینی طور پر خطرناک ہے لیکن دوسرا راستہ ”راہ نجات“ ہے اور پھر اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے کچھ شواہد و قرائن بیان کرے، تو ایسے موقع پر گزرنے والا مسافر اپنی یہ ذمہ داری سمجھتا ہے کہ اس سلسلہ میں تحقیق و جستجو کرے ،ایسے موقع پر بے توجہی کرنا عقل کے برخلاف ہے۔(۱)

جیسا کہ ”دفعِ ضررِمحتمل “(احتمالی نقصان سے بچنا) ایک مشہور و معروف قاعدہ ہے جس کی بنیاد عقل ہے، قرآن کریم نے پیغمبر اکرم (ص) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

( قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِهِ مَنْ اٴَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ ) (۲)

”آپ کہہ دیجئے کہ کیا تمہیں یہ خیال ہے اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے اور تم نے اس کا انکار کردیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا“۔

البتہ یہ بات ان لوگوں کے سلسلہ میں ہے جن کے یہاں کوئی دلیل و منطق قبول نہیں کی جاتی ، در حقیقت وہ آخری بات جو متعصب، مغرور اور ہٹ دھرم لوگوں کے جواب میں کہی جاتی ہے، وہ یہ ہے : اگر تم لوگ قرآن، توحید اور وجود خدا کی حقانیت کو سوفی صد نہیں مانتے تو یہ بات بھی مسلم ہے کہ اس کے بر خلاف بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، لہٰذا یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ قرآنی دعوت اور قیامت واقعیت رکھتے ہوں تو اس موقع پر تم لوگ سوچ سکتے ہو کہ دین خدا سے گمراہی اور شدید مخالفت کی وجہ سے تمہاری زندگی کس قدر تاریکی اور اندھیرے میں ہوگی۔

اس بات کو ائمہ علیہم السلام نے ہٹ دھرم لوگوں کے سامنے آخری بات کے عنوان سے کی ہے،جیسا کہ اصول کافی میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے جس میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے ملحد و منکر خدا ”ابن ابی العوجاء“ سے متعدد مرتبہ بحث و گفتگو فرمائی ہے،اور اس گفتگو کاآخری سلسلہ حج کے موسم میں ہوئی ملاقات پر تمام ہواجب امام علیہ السلام کے بعض اصحاب نے آپ سے کہا: کیا ”ابن ابی العوجاء“ مسلمان ہوگیا ہے؟!تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کا دل کہیں زیادہ اندھا ہے یہ ہرگز مسلمان نہیں ہوگا، لیکن جس وقت اس کی نظر امام علیہ السلام پر پڑی تو اس نے کہا: اے میرے مولا و آقا!

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”ماجاءَ بِکَ إلیٰ هذَا المَوضِع “ (تو یہاں کیا کررہا ہے؟)

تو اس نے عرض کی: ”عادة الجسد، و سنة البلد، و لننظر ما الناس فیه من الجنون و الحلق و رمی الحجارة! “ (کیونکہ بدن کو عادت ہوگئی ہے اور ماحول اس طرح کا بن گیا ہے ، اس کے علاوہ لوگوں کا دیوانہ پن، ان کا سرمنڈانا اور رمی ِجمرہ دیکھنے کے لئے آگیا ہوں!!)

امام علیہ السلام نے فرمایا:اٴَنْتَ بعدُ علیٰ عتوک و ضلالک یا عبدَ الکریم ! (اے عبد الکریم!تو ابھی بھی اپنے ضلالت و گمراہی پر باقی ہے )(۳)

اس نے امام علیہ السلام سے گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے کہا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”لا جدال فی الحج “(حج، جنگ و جدال کی جگہ نہیں ہے) اورامام علیہ السلام نے اس کے ہاتھ سے اپنی عبا کو کھینچتے ہوئے یہ جملہ ارشاد فرمایا: ”ان یکن الامر کما تقول ولیس کما تقول نجونا ونجوت وان یکن الامر کما نقول وهو کمانقولنجونا وهلکت “!:

”اگر حقیقت ایسے ہی ہے جیسے تو کہتا ہے کہ (خدا اورقیامت کا کوئی وجود نہیں ہے) جب کہ ہرگز ایسا نہیں ہے، تو ہم بھی اہل نجات ہیں اور تو بھی، لیکن اگر ہمارا عقیدہ ہے ،جب کہ حق بھی یہی ہے تو ہم اہل نجات ہیں اور تو ہلاک ہوجائے گا“۔

”ابن ابی العوجاء“ نے اپنے ساتھی کی طرف رخ کیا اور کہا: ”وجدت فی قلبی حزازة فردونی،فردوہ فمات“ (میں اپنے دل میں درد کا احساس کررہا ہوں، مجھے واپس لے چلو، چنانچہ جیسے ہی اس کو لے کر چلے تو تھوڑی ہی دیر بعدوہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔(۴) (۵)

۲ ۔جذبہ محبت:

اشارہ:

ایک مشہور و معروف ضرب المثل ہے کہ ”انسان احسان کا غلام ہوتا ہے“ (الانسان عبید الاحسان )

یہی مطلب تھوڑے سے فرق کے ساتھ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی حدیث میں بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:

الإنسان عبد الإحسان(۶)

”انسان، احسان کا غلام ہے“۔

نیزامام علیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا:

بالإحسان تملک القلوب(۷)

”احسان کے ذریعہ انسان کے قلوب کو مسخر کیا جاتا ہے “۔

نیز ایک دوسری حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے:

وافضِلْ علیٰ من شئت تکن اٴمیره(۸)

”ہر شخص کے ساتھ احسان کرو تاکہ اس کے حاکم بن جاو“

ان تمام مطالب کا سرچشمہ حدیث ِپیغمبر اکرم (ص) ہے کہ آپ نے فرمایا:

إنَّ اللهَ جَعَلَ قُلُوب عبادِهِ علیٰ حُبَّ مَنْ اٴحسَنَ إلیها ،و بغض من اٴساء إلیها(۹)

”خداوندعالم نے اپنے بندوں کے دلوں کو اس شخص کی محبت کےلئے جھکادیا ہے جو ان پر احسان کرتا ہے اور ان کے دلوں میں اس شخص کی طرف سے عداوت ڈال دی ہے جو ان سے بدسلوکی کرتا ہے“۔

مختصر یہ کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ احسان کرے یا اس کی کوئی خدمت کرے یا اس کو کوئی تحفہ دے تو وہ شخص بھی اس سے محبت کرتا ہے، اور نعمت عطا کرنے والے اور احسان کرنے والے سے مانوس ہوجاتا ہے، اور چاہتا ہے کہ اس کو مکمل طریقہ سے پہچانے، اور اس کا شکریہ ادا کرے، اور یہ بات بھی طے ہے کہ نعمت اور احسان جتنے اہم ہوتے ہیں ”منعم“ (یعنی نعمت دینے والے) کی نسبت اس کی محبت اور اس کی پہچان بھی زیادہ ہوتی ہے۔

اسی وجہ سے علمائے علم کلام (عقائد) قدیم الایام سے مذہب کی تحقیق کے سلسلہ میں ”شکرِ منعم“ (نعمت عطا کرنے والے کا شکریہ ادا کرنے کو ) معرفت خدا کی علتوں میں سے ایک علت شمار کرتے ہیں۔

لیکن اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ ”شکر منعم“کا مسئلہ عقلی حکم سے پہلے ایک عاطفی مسئلہ ہے، اس مختصر سے اشارہ کو عرب کے مشہور و معروف شاعر ”ابو الفتح بستی“ کے شعر پر ختم کرتے ہیں:

احسن إلی النَّاس تَستعبد قلوبَهُم

فطالما استعبد الإنسان إحسان

”لوگوں کے ساتھ نیکی کرو تاکہ ان کے دل پر حکومت کرسکو ، بے شک انسان احسان کا غلام ہوتا ہے“۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ” ایک روز رسول اکرم عائشہ کے حجرے میں تھے تو عائشہ نے سوال کیا کہ آپ اس قدر کیوں خود کو (عبادت کے لئے) زحمت میں ڈالتے ہیں؟ جبکہ خداوندعالم نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ کے الزاموں کو معاف کردیا ہے“(۱۰)

آنحضرت (ص) نے فرمایا: ”إلاّٰ اکون عبداً شکوراً“(۱۱) (کیا مجھے اس کا شکر گزار بندہ نہیں ہونا چاہئے؟)

۳ ۔ فطری لگاؤ:

اشارہ:

جس وقت فطرت کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو اس سے مراد اندرونی ادراک و احساس ہوتا ہے جس کے اوپر کسی عقلی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

جس وقت ہم ایک دلکش منظر ، یا خوبصورت باغ اور چمن دیکھتے ہیں اور ہمارے دل میں اس خوبصورت منظر کے پیش نظر کشش محسوس ہوتی ہے تو اندر سے ہمارا احساس آواز دیتا ہے کہ اس کشش اور لگاؤ کا نام عشق یا خوبصورتی رکھ دیا جائے، جبکہ یہاں کسی بھی طرح کے استدلال کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

جی ہاں! خوبصورتی کا احساس کرنے والی یہ طاقت ،انسان کی بلند پرواز روح کے خواہشات اور رجحانات میں سے ہے، مذہب کے سلسلہ میں یہ کشش خصوصاً معرفت خدا کا مسئلہ بھی ایک اندورنی اور ذاتی احساس ہے، بلکہ انسان کے اندر سب سے بڑی طاقت کا نام ہے۔

اسی وجہ سے ہم کسی قوم و ملت کو نہیں دیکھتے (نہ آج اور نہ ماضی میں ) کہ ان کے یہاں مذہبی عقائد نہ پائے جاتے ہوں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمیق احساس ہر انسان کے یہاں پایا جاتا ہے۔

قرآن مجید نے عظیم الشان انبیاء کے قیام کے واقعات کو بیان کرتے ہوئے اس نکتہ پر توجہ دی ہے کہ رسالت کی ذمہ داری شرک و بت پرستی کا خاتمہ تھا (نہ کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنا، کیونکہ یہ موضوع تو ہر انسان کی فطرت میں پوشیدہ ہے)

یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انبیاء علیہم السلام یہ نہیں چاہتے تھے کہ ”خدا پرستی کا درخت“ لوگوں کے دلوں میں لگائیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کے دلوں میں موجود اس درخت کی آبیاری کریں اور اس کے پاس سے بے کار گھاس اور کانٹوں کو ہٹادیں جن کی وجہ سے کبھی یہ درخت بالکل خشک ہوسکتا ہے یہاں تک کہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔

الاَّ تعبد وا إلاَّ الله “ یا ”الَّا تعبدوا إلاَّ إیاهُ “ (خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرو) اس جملہ میں بتوں کی پوجا سے روکا جارہا ہے نہ یہ کہ وجود خدا کو ثابت کیا جارہا ہے، اور یہ جملہ بہت سے انبیاء کی گفتگو میں بیان ہوا ، منجملہ حضرت پیغمبر اکرم (ص) کی تبلیغ میں(۱۲) جناب نوح علیہ السلام کی تبلیغ میں(۱۳) جناب یوسف علیہ السلام کی تبلیغ میں(۱۴) اور جناب ہود علیہ السلام کی تبلیغ میں بیان ہوا ہے۔(۱۵)

اس کے علاوہ ہمارے دل و جان میں دوسرے فطری احساسات بھی پائے جاتے ہیں جیسے علم و دانش ؛ جن کے بارے میں بہت زیادہ شوق و رغبت ہوتی ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ اس وسیع و عریض دنیا کے عجیب و غریب نظام کو تو دیکھیں لیکن اس نظام کے پیدا کرنے والے کی معرفت و شناخت کے سلسلہ میں کوئی شوق ورغبت نہ ہو؟

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک دانشور چیونٹیوں کی شناخت کے بارے میں بیس سال تک ریسرچ کرے اور دوسرا دسیوں سال پرندوں یا درختوں، یا دریائی مچھلیوں کے بارے میں تحقیق کرے ، لیکن اس کے دل میں علم کا شوق نہ پایا جاتا ہو؟ کیا یہ لوگ اس وسیع و عریض دنیا کے سرچشمہ کی تلاش نہیں کریں گے؟!

جی ہاں! یہ تمام چیزیں ہمیں ”معرفت خدا“کی دعوت دیتی ہیں، ہماری عقل کو اس بات کی طرف بلاتی ہیں، ہماری عاطفی طاقت کو اس طرف جذب کرتی ہیں اور ہماری فطرت کو اس راستہ کی طرف لگاتی ہیں۔(۱۶)

____________________

(۱) تفسیر پیام قرآن ،جلد ۲، ص۲۴.

(۲) سورہ فصلت آیت۵۲.

(۳) ”عبد الکریم “ کا اصلی نام ”ابن ابی العوجاء“ تھا،کیونکہ وہ منکر خدا تھا لہٰذا امام نے خاص طور سے اس کواس نام سے پکارا تاکہ وہ شرمندہ ہوجائے

(۴) کافی، جلد اول، صفحہ ۶۱، (کتاب التوحید باب حدوث العالم)

(۵) تفسیر نمونہ ج۲۰، صفحہ ۳۲۵

(۷،۶) غررالحکم

(۸) بحار الانوار ، جلد ۷۷، صفحہ ۴۲۱ ( آخوندی)

(۹) تحف العقول ص۳۷ (بخش کلمات پیامبر (ص))

(۱۰) سورہ فتح کی پہلی آیت کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفسیر کی وضاحت تفسیر نمونہ کی جلد ۲۲، کے صفحہ ۱۸ پر موجود ہے

(۱۱) اصول کافی ،جلد ۲،باب الشکر حدیث۶

(۱۲) سورہ ہود، آیت۲

(۱۳) سورہ ہود، آیت۲۶

(۱۴) سورہ یوسف، آیت۴۰

(۱۵) سورہ احقاف ، آیت۲۱

(۱۶) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۲، صفحہ ۳۴


۲ ۔ خداوندعالم کو کیوں درک نہیں کیا جاسکتا؟

خداوندعالم کی ذات پاک کا نامحدود ہونا اور ہماری عقل ، علم اور دانش کا محدود ہونا ہی اس مسئلہ کا اصلی نکتہ ہے۔

خداوندعالم کا وجود ہر لحاظ سے لامتناہی ہے، اس کی ذات ،اس کے علم و قدرت اور دوسرے صفات کی طرح نامحدود اورختم نہ ہونے والا ہے، دوسری طرف ہم اور جو چیزیں ہم سے متعلق ہیں چاہے علم ہو یا قدرت، زندگی ہو یا ہمارے اختیار میں موجود دوسرے امور سب کے سب محدود ہیں۔

لہٰذا ہم اپنی تمام تر محدودیت کے ساتھ کس طرح خدا وندعالم کے لامحدود وجود اور نا محدود صفات کو درک کرسکتے ہیں؟ ہمارا محدود علم اس لامحدود وجود کی خبر کس طرح دے سکتا ہے؟۔

جی ہاں! اگر ہم دور سے کسی چیز کو دیکھیں اگرچہ وہ ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو لیکن پھر بھی اس کی طرف ایک مختصر سا اشارہ کیا جاسکتا ہے، لیکن خداوندعالم کی ذات اور صفات کی حقیقت تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے یعنی تفصیلی طور پر اس کی ذات کا علم نہیں ہوسکتا۔

اس کے علاوہ ایک لامحدود وجود کسی بھی لحاظ سے اپنا مثل و مانند نہیں رکھتا، وہ محض اکیلا ہے کوئی دوسرا اس کی طرح نہیں ہے، کیونکہ اگر کوئی دوسرا اس کی مانند ہوتا تودونوں محدود ہوجاتے۔

اب ہم کس طرح اس وجود کے بارے میں تفصیلی علم حاصل کریں جس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے، اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سبھی ممکنات کے دائرے میں شامل ہے، اور اس کے صفات خداوندعالم سے مکمل طورپرفرق رکھتے ہیں(۱)

ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اس کے اصل وجود سے آگاہ نہیں ہیں، اس کے علم، قدرت، ارادہ اور اس کی حیات سے بے خبر ہیں، بلکہ ہم ان تمام امور کے سلسلہ میں ایک اجمالی معرفت رکھتے ہیں، جن کی گہرائی اور باطن سے بے خبر ہیں، بڑے بڑے علمااور دانشوروں کے عقلی گھوڑے (بغیر کسی استثنا کے)اس مقام پر لنگڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں، یا شاعر کے بقول:

بہ عقل نازی حکیم تاکی؟ بہ فکرت این رہ نمی شود طی!

بہ کنہ ذاتش خرد برد پی اگر رسد خس و بہ قعر دریا!(۲)

”اے حکیم و دانا و فلسفی تو اپنی عقل پر کب تک ناز کرے گا، تو عقل کے ذریعہ اس راہ کو طے نہیں کرسکتا۔

اس کی کنہِ ذات تک عقل نہیں پہنچ سکتی ہیں جس طرح خس و خاشاک سمندر کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے حدیث نقل ہوئی ہے:

إذا انتهیٰ الکلام إلیٰ الله فامسکوا(۳)

” جس وقت بات خدا تک پہنچ جائے تو اس وقت خاموش ہوجاؤ“

یعنی حقیقت خدا کے بارے میں گفتگو نہ کرو، کیونکہ اس کے سلسلہ میں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں اور کسی مقام پر نہیں پہنچ سکتیں، اس کی لامحدود ذات کے بارے میں محدود عقلوں کے ذریعہ سوچنا ناممکن ہے، کیونکہ جو چیز بھی عقل و فکر کے دائرہ میں آجائے وہ محدود ہوتی ہے اور خداوندعالم کا محدود ہونا محال ہے۔(۴)

یاواضح الفاظ میں یوں کہا جائے کہ جس وقت ہم اس دنیا کی عجیب و غریب چیزوں اور ان کی ظرافت و عظمت کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں یا خود اپنے اوپر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو اجمالی طور پر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ ان تمام چیزوں کا کوئی پیدا کرنے والاہے، جبکہ یہ وہی علمِ اجمالی ہے جس پر انسان خدا کی معرفت اور اس کی شناخت کے آخری مرحلہ میں پہنچتا ہے، (لیکن انسان جس قدر اسرار کائنات سے آگاہ ہوتا جاتا ہے اور اس کی عظمت واضح ہوتی جاتی ہے تو اس کی وہ اجمالی معرفت قوی تر ہوتی جاتی ہے) لیکن جب ہم خود اپنے سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کون ہے؟ اور کس طرح ہے؟ اور اس کی ذاتِ پاک کی طرف ہاتھ پھیلاتے ہیں تو حیرت و پریشانی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہی وہ بات ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی شناخت کا راستہ مکمل طور پر کھلا ہوا ہے حالانکہ مکمل طور پر بند بھی ہے۔

اس مسئلہ کو ایک مثال کے ذریعہ واضح کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ بات ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ قوتِ جاذبہ کا وجود ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر کسی چیز کو چھوڑتے ہیں تو وہ گرجاتی ہے اور زمین کی طرف آتی ہے ، اور اگر یہ قوتِ جاذبہ نہ ہوتی تو روئے زمین پر بسنے والے کسی موجود کو چین و سکون نہ ملتا،لیکن اس قوہ جاذبہ کے بارے میں علم ہونا کوئی ایسی بات نہیں جو دانشوروں سے مخصوص ہو ، بلکہ چھوٹے بچے بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں البتہ قوتِ جاذبہ کی حقیقت کیا ہے؟ کیا دکھائی نہ دینے والی لہریںہیں ، یا نامعلوم ذرات یا دوسری کوئی طاقت؟ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے ۔

اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ قوتِ جاذبہ ،مادی دنیا میں معلوم شدہ چیز کے برخلاف، ظاہراً کسی چیز کو دوسری جگہ پہنچانے میں کسی زمانہ اور وقت کی محتاج نہیں ہے، نور کے برخلاف جو کہ مادی دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتار ہے ، لیکن کبھی اس نور کوایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے لاکھوں سال درکار ہوتے ہیں، جبکہ قوتِ جاذبہ اسے دنیا کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ میں لمحہ بھر میں منتقل کردیتی ہے، یا کم سے کم ہم نے جو سرعت و رفتار سنی ہے اس سے کہیں زیادہ اس کی رفتار ہوتی ہے۔

یہ کونسی طاقت ہے جس کے آثار ایسے(عجیب و غریب) ہیں؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ کوئی شخص بھی اس کا واضح جواب نہیں دیتا، جب اس ”قوتِ جاذبہ “ (جو ایک مخلوق ہے) کے بارے میں ہمارا علم صرف اجمالی پہلو رکھتا ہے اور اس کے بارے میں تفصیلی علم نہیں ہے، تو پھر کس طرح اس ذات اقدس کی کُنہ (حقیقت) سے باخبر ہوسکتے ہیں جو اس دنیا اور ماورائے طبیعت کا خالق ہے جس کا وجود لامتناہی ہے، لیکن بہر حال ہم اس کو ہر جگہ پر حاضر و ناظر مانتے ہیں اور کسی بھی ایسی جگہ کا تصور نہیں کرتے جہاں اس کا وجود نہ ہو۔

با صد ہزار جلوہ برون آمدی کہ من با صد ہزار دیدہ تماشا کنم تو را(۵)

” تولاکھوں جلووں کے ساتھ جلوہ افروز ہے تاکہ میں لاکھوں انکھوں کے ذریعہ تیرا دیدار کروں“۔

____________________

(۱) اگر آپ حضرات تعجب نہ کریں تو ہم ”لامتناہی“ (لامحدود) مفہوم کا تصور ہی نہیں کرسکتے ،لہٰذا کس طرح لفظ ”لامتناہی“ کو استعمال کیا جاتا ہے؟ اور اس کے سلسلہ میں خبر دی جاتی ہے اور اس کے احکام کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے ، تو کیا بغیر تصور کے تصدیق ممکن ہے؟

جواب : لفظ ”لامتناہی“ دو لفظوں سے مل کر بنا ہے ”لا“ جو کہ عدم اور نہ کے معنی میں ہے اور ”متناہی“ جو کہ محدود کے معنی میں ہے، یعنی ان دونوں کو الگ الگ تصور کیا جاسکتا ہے، (نہ ، محدود) اس کے بعد دونوں کو مرکب کردیا گیا، اور اس کے ذریعہ ایسے وجودکی طرف اشارہ کیا گیاہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا، اور اس پر (صرف) علم اجمالی حاصل ہوتا ہے (غور کیجئے)

(۲) پیام قرآن ، جلد ۴، ص۳۳.

(۳) تفسیر ”علی بن ابراہیم “ نور الثقلین ، جلد ۵، صفحہ ۱۷۰ کی نقل کے مطابق.

(۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۵۵۸.

(۵) پیام امام (شرح نہج البلاغہ)، جلد اول، صفحہ ۹۱


۳ ۔ کس طرح بغیر دیکھے خدا پر ایمان لائیں ؟

خدا پرستوں پر مادیوں کا ایک بیہودہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ”انسان کس طرح ایک ایسی چیز پر ایمان لے آئے جس کو اس نے اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو یا اپنے حواس سے درک نہ کیا ہو، تم کہتے ہو کہ خدا کا نہ جسم ہے اور نہ اس کے رہنے کے لئے کوئی جگہ، نہ زمان درکار ہے اور نہ کوئی رنگ و بووغیرہ تو ایسے وجودکو کس طرح درک کیا جاسکتاہے اور کس ذریعہ سے پہچانا جاسکتا ہے؟لہٰذا ہم تو صرف اسی چیز پر ایمان لاسکتے ہیں کہ جس کو اپنے حواس کے ذریعہ درک کرسکیں اور جس چیز کو ہماری عقل درک نہ کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ در حقیقت اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے“۔

جواب :اس اعتراض کے جواب میں مختلف پہلوؤں سے بحث کی جاسکتی ہے:

۱ ۔ معرفت خدا کے سلسلہ میں مادیوں کی مخالفت کے اسباب :

ان کا علمی غرور اور ان کا تمام حقائق پر سائنس کو فوقیت دینا ، اور اسی طرح ہر چیز کو سمجھنے اور پرکھنے کا معیار صرف تجربہ اور مشاہدہ قرار دینا ہے، نیز اس بات کا قائل ہونا کہ طبیعی اور مادی چیزوں کے ذریعہ ہی کسی چیز کو درک کیا جاسکتا ہے، (یہ سخت بھول ہے۔)

کیونکہ ہم اس مقام پر ان لوگوں سے سوال کرتے ہیں کہ سائنس کے سمجھنے اور پرکھنے کی کوئی حد ہے یا نہیں؟!

واضح ہے کہ اس سوال کا جواب مثبت ہے کیونکہ سائنس کے حدود دوسری موجودات کی طرح محدود ہیں ۔

تو پھر کس طرح لامحدود موجود کو طبیعی چیزوں کے ذریعہ درک کیا جاسکتا ہے؟۔

لہٰذا بنیادی طور پر خداوندعالم، اور موجودات ِماورائے طبیعت ،سائنس کی رسائی سے باہر ہیں، اورجو چیزیں ماورائے طبیعت ہوں ان کو سائنس کے آلات کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا، ”ماورائے طبیعت “سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ سائنس کے ذریعہ ان کو درک نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ سائنس کے مختلف شعبوں میں سے ہر شعبہ کے لئے ایک الگ میزان و مقیاس ہوتا ہے جس سے دوسرے شعبہ میں کام نہیں لیا جاسکتا، نجوم شناسی، فضا شناسی اور جراثیم شناسی میں ریسرچ کے اسباب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتے ہیں ۔

کبھی بھی ایک مادی ماہر اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ ایک منجم سے کہا جائے کہ فلاں جرثومہ کو ستارہ شناسی وسائل کے ذریعہ ثابت کرو، اسی طرح ایک جراثیم شناس ماہر سے اس بات کی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے آلات کے ذریعہ ستاروں کے بارے میں خبر دے ، کیونکہ ہر شخص اپنے علم کے لحاظ سے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرسکتا ہے، اور اپنے دائرے سے باہر نکل کر کسی چیز کے بارے میں ”مثبت“ یا ”منفی“ نظریہ نہیں دے سکتا۔

لہٰذا ہم کس طرح سائنس کو اس بات کا حق دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے دائرے سے باہر بحث و گفتگو کرے ، حالانکہ اس کے دائرے کی حد عالم طبیعت اور اس کے آثار و خواص ہیں؟!

ایک مادی ماہر کو یہ حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں ”ماورائے طبیعت“ کے سلسلہ میں خاموش ہوں، کیونکہ یہ میرے دائر ے سے باہر کی بات ہے، نہ یہ کہ وہ ماورائے طبیعت کا انکار کرڈالے، یہ حق اس کو نہیں دیا جاسکتا۔

جیسا کہ اصولِ فلسفہ حسی کا بانی ” ا گسٹ کانٹ“ اپنی کتاب ”کلماتی در پیرامون فلسفہ حسی“ میں کہتا ہے:”چونکہ ہم موجودات کے آغاز و انجام سے بے خبر ہیں لہٰذا اپنے زمانہ سے پہلے یا اپنے زمانہ کے بعد آنے والی موجودات کا انکار نہیں کرسکتے، جس طرح سے ان کو ثابت بھی نہیں کرسکتے،(غور کیجئے گا)

خلاصہ یہ کہ حسی فلسفہ ، جہل مطلق کے ذریعہ کسی بھی طرح کا نظریہ نہیں دےتا، لہٰذا حسی فلسفہ کے فرعی علوم کو بھی موجوات کے آغاز اور انجام کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے ، یعنی ہم خدا کے علم و حکمت ، او راس کے وجود کا انکار نہ کریں اور اس کے بارے میں نفی و اثبات کے سلسلہ میں بے طرف رہیں ،(نہ انکار کریں اور نہ اثبات) “

ہمارے کہنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ”ماورائے طبیعت دنیا“ کو سائنس کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاسکتا، اصولی طور پر وہ خدا جس کو مادی اسباب کے ذریعہ ثابت کیا جائے خدا نہیں ہوسکتا۔

دنیا بھر کے خداپرستوں کے عقائد کی بنیاد یہ ہے کہ خدا ،مادہ اور مادہ کی خاصیت سے پاک و منزہ ہے، اور اسے کسی بھی مادی وسیلہ سے درک نہیں کیا جاسکتا۔

لہٰذا یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اس دنیا کو خلق کرنے والے کو آسمان کی گہرائیوں میں میکروسکوپ ( Microscope ) یا ٹلسکوپ کے ذریعہ تلاش کیا جاسکتا ہے، یہ خیال بیہودہ اور بےجا ہے۔

۲ ۔ اس کی نشانیاں

دنیا کی ہر چیز کی پہچان کے لئے کچھ آثار اور نشانیاں ہوتی ہیں ، لہٰذا اس کی نشانیوں کے ذریعہ ہی اس کو پہچانا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ آنکھوں اور دوسرے حواس کے ذریعہ جن چیزوں کو درک کرتے ہیں در حقیقت ان کو بھی آثار اور نشانیوں کے ذریعہ ہی پہچانتے ہیں، (غور کیجئے )

کیونکہ کوئی بھی چیز ہمارے فکر و خیال میں داخل نہیں ہوسکتی اور ہمارا مغز کسی بھی چیز کے لئے ظرف واقع نہیں ہوسکتا۔

مثال کے طور پر: اگر آپ آنکھوں کے ذریعہ کسی جسم کو تشخیص دینا چاہیں اور اس کے وجود کو درک کرنا چاہیں تو شروع میں اس چیز کی طرف دیکھیں گے اس کے بعد نور کی شعائیں اس پر پڑتی ہیں اور آنکھ کی پتلی میں نورانی لہریں ”شبکیہ“ نامی آنکھ کے پردہ پر منعکس ہوتی ہیں تو بینائی اعصاب نور کو حاصل کرکے مغز تک پہنچاتے ہیں او ر پھر انسان اس کو سمجھ لیتا ہے۔

اور اگر لمس کے ذریعہ (یعنی چھوکر) کسی چیز کو درک کریں تو کھال کے نیچے کے اعصاب انسان کے مغز تک اطلاع پہنچاتے ہیں اور انسان اس کو درک کرتا ہے، لہٰذا کسی جسم کو درک کرنا اس کے اثر (رنگ، آواز اور لمس وغیرہ ) کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور کبھی بھی وہ جسم ہمارے مغز میں قرار نہیں پاتا، اور اگر اس کا کوئی رنگ نہ ہو اور اعصاب کے ذریعہ اس کا ادراک نہ کیا جاسکتا ہو تو ہم اس چیز کو بالکل نہیں پہچان سکتے۔

مزید یہ کہ کسی چیز کی پہچان کے لئے ایک اثر یا ایک نشانی کا ہونا کافی ہے، مثلاً اگر ہمیں یہ معلوم کرنا ہوکہ دس ہزار سال پہلے زمین کے فلاں حصہ میں ایک آبادی تھی اور اس کے حالات اس طرح تھے، تو صرف وہاں سے ایک مٹی کا کوزہ یا زنگ زدہ اسلحہ برآمد ہونا کافی ہے، اور اسی ایک چیز پر ریسرچ کے ذریعہ ان کی زندگی کے حالات کے بارے میں معلومات حاصل ہوجائیں گی۔

اس بات کے پیش نظر ہر موجود چاہے وہ مادی ہو یا غیر مادی اس کو اثر یا نشانی کے ذریعہ ہی پہچانا جاتا ہے اور یہ کہ ہر چیز کی پہچان کے لئے ایک اثر یا نشانی کا ہونا کافی ہے، تو کیا پوری دنیا میں عجیب و غریب اور اسرار آمیز چیزوں کو دیکھنا خدا کی شناخت اور اس کی معرفت کے لئے کافی نہیں ہے؟!

آپ کسی چیز کو پہچاننے کے لئے ایک اثر پر کفایت کرلیتے ہیں اور ایک مٹی کے کوزہ کے ذریعہ چند ہزار سال پہلے زندگی بسر کرنے والوں کے بعض حالات کا پتہ لگاسکتے ہیں، جبکہ خدا کی شناخت کے لئے ہمارے پاس لاتعداد آثار، لاتعداد موجودات اور بے کراں نظم ، جیسی چیزیں موجود ہیں کیا اتنے آثار کافی نہیں ہیں؟! دنیا کے کسی بھی گوشہ پر نظر ڈالیں خدا کی قدرت اور اس کے علم کی نشانیاں ہر جگہ موجود ہیں، پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور اپنے کانوں سے نہیں سنا، تجربہ اور ٹلسکوپ کے ذریعہ نہیں دیکھ سکے، توکیا ہر چیز کو صرف آنکھوں سے دیکھا جاتاہے؟!

۳ ۔ دیکھنے اور نہ دیکھنے والی چیزیں:

خوش قسمتی سے آج سائنس نے ترقی کر کے بہت سی ایسی چیزیں بناڈالی ہیں کہ ان کے وجود سے مادیت اور اس کے نتیجہ میں مادی اور الحادی نظریہ کی تردید ہوجاتی ہے، قدیم زمانہ میں تو ایک دانشور یہ کہہ سکتا تھا کہ جس چیز کو انسانی حواس درک نہیں کرسکتے اس کوقبول نہیں کیا جاسکتا، لیکن آج سائنس کی ترقی سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے: اس دنیا میں دیکھی جانے والی اور درک ہونے والی چیزوں سے زیادہ وہ چیزیں ہیں جن کو دیکھا اوردرک نہیں کیا جاسکتا، عالم طبیعت میں اس قدر موجودات ہیں کہ انھیں حواس میں سے کسی کے بھی ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا، اور ان کے مقابلہ میں درک ہونے والی چیزیں صفر شمار ہوتی ہیں!

نمونہ کے طور پر چند چیزیں آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

۱ ۔ علم فیزکس کہتا ہے کہ رنگوں کی سات قسموں سے زیادہ نہیں ہیں جن میں سے پہلا سرخ اور آخری جامنی ہے، لیکن ان کے ماوراء ہزاروں رنگ پائے جاتے ہیں جن کو ہم درک نہیں کرسکتے، اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ بعض حیوانات ان بعض رنگوں کو دیکھتے ہیں۔

اس کی وجہ بھی واضح اور روشن ہے ، کیونکہ نور کی لہروں کے ذریعہ رنگ پیدا ہوتے ہیں، یعنی آفتاب کا نور دوسرے رنگوں سے مرکب ہوکر سفید رنگ کو تشکیل دیتا ہے اور جب جسم پر پڑتا ہے تو وہ جسم مختلف رنگوں کو ہضم کرلیتا ہے اور بعض کو واپس کرتا ہے جن کو واپس کرتا ہے وہ وہی رنگ ہوتا ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں، لہٰذا اندھیرے میں جسم کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، دوسری طرف نور کی موجوں کی لہروں کی شدت اور ضعف کی وجہ سے رنگوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے اور رنگ بدلتے رہتے ہیں، یعنی اگر نور کی لہروں کی شدت فی سیکنڈ ۴۵۸ ہزار ملیارڈ تک پہنچ جائے تو سرخ رنگ بنتا ہے اور ۷۲۷ ہزار ملیارڈ لہروں کے ساتھ جامنی رنگ دکھائی دیتا ہے ، اس سے زیادہ لہروں یا کم لہروں میں بہت سے رنگ ہوتے ہیں جن کو ہم نہیں دیکھ پاتے ۔

۲ ۔ آواز کی موجیں ۱۶/ مرتبہ فی سیکنڈ سے لے کر ۰۰۰/۲۰ مرتبہ فی سیکنڈ تک ہمارے لئے قابل فہم ہیں اگر اس سے کم یا زیادہ ہوجائے تو ہم اس آواز کو نہیں سن سکتے۔

۳ ۔ امواجِ نور کی جن لہروں کو ہم درک کرسکتے ہیں انھیں ۴۵۸ ہزار ملیارڈ فی سیکنڈ سے ۷۲۷ ہزار ملیارڈ فی سیکنڈ تک کی حدود میں ہونا چاہئے اس سے کم یا زیادہ چاہے فضا میں کتنی ہی آوازیں موجود ہوں ہم ان کو درک نہیں کرسکتے۔

۴ ۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے جانداروں (وائرس اور بیکٹریز) کی تعدادانسان کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں، اور بغیر کسی دوربین کے دیکھے نہیں جاسکتے ، اور شایداس کے علاوہ بہت سے ایسے چھوٹے جاندار پائے جاتے ہیں جن کو سائنس کی بڑی بڑی دوربینوں کے ذریعہ ابھی تک نہ دیکھا گیا ہو۔

۵ ۔ ایک ایٹم اور اس کی مخصوص باڈی اور الکٹرون کی گردش نیز پروٹن کے ذریعہ ایک ایسی عظیم طاقت ہوتی ہے جو کسی بھی حس کے ذریعہ قابل درک نہیں ہے، حالانکہ دنیاکی ہر چیز ایٹم سے بنتی ہے، اور ہوا میں بمشکل دکھائی دینے والے ایک ذرہ غبار میں لاکھوں ایٹم پائے جاتے ہیں۔

گزشتہ دانشور وں نے جو کچھ ایٹم کے بارے میں نظریہ پیش کیا تھا وہ صرف تھیوری کی حد تک تھا لیکن کسی نے بھی ان کی باتوں کو نہیں جھٹلایا۔(۱)

خلاصہ یہ کہ ہمارے حواس اور دوسرے وسائل کا دائرہ محدود ہے لہٰذا ان کے ذریعہ ہم عالَم کو بھی محدود مانیں۔(۲)

لہٰذا اگر کوئی چیز غیر محسوس ہے تو یہ اس کے نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے، آپ دیکھئے دنیا میں ایسی بہت سی چیزیں بھری پڑی ہیں جو غیر محسوس ہیں جن کو ہمارے حواس درک نہیں کرسکتے!

جیسا کہ ایٹم کے کشف سے پہلے یا ذرہ بینی (چھوٹی چھوٹی چیزوں) کے کشف سے پہلے کسی کو اس بات کا حق نہیں تھا کہ ان کا انکار کرے، اور ممکن ہے کہ بہت سی چیزیں ہمارے لحاظ سے مخفی ہوں اور ابھی تک سائنس نے ان کو کشف نہ کیا ہو بلکہ بعد میں کشف ہوں تو ایسی صورت میں ہماری عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ان شرائط (علم کا محدود ہونا اور مختلف چیزوں کے درک سے عاجز ہونے) کے تحت ہم ان چیزوں کے بارے میں نظریہ پیش کریں کہ وہ چیزیں ہیں یا نہیں ہیں۔

البتہ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ہم یہ دعویٰ کرناچاہتے ہیں کہ جس طرح سے الکٹرون ، پروٹون یا دوسرے رنگ سائنس نے کشف کئے ہیں تو سائنس مزید ترقی کرکے بعض مجہول چیزوں کو کشف کرلے گا، اور ممکن ہے کہ ایک روز ایسا آئے کہ اپنے ساز و سامان کے ذریعہ ”عالم ماورائے طبیعت“ کو بھی کشف کرلے!

جی نہیں، اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا کہ ”ماورائے طبیعت“ اور ”ماورائے مادہ “ کو مادی وسائل کے ذریعہ نہیں سمجھا جاسکتا، اور یہ کام مادی اسباب و سازو سامان کے بس کی بات نہیں ہے۔

مطلب یہ ہے کہ جس طرح بعض چیزوں کے کشف ہونے سے پہلے ان کے بارے میں انکار کرنا جائز نہیں تھا اور ہمیں اس بات کا حق نہیں تھا کہ یہ کہتے ہوئے انکار کریں کہ فلاں چیز کوچونکہ ہم نہیں دیکھتے؛ جن چیزوں کو دنیاوی سازو سامان کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا ، یاوہ سائنس کے ذریعہ ثابت نہیں ہیں لہٰذا ان کا کوئی وجود نہیں ہے، اسی طرح سے ”ماورائے طبیعت“ کے بارے میں یہ نظریہ نہیں دے سکتے کہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے، لہٰذا اس غلط راستہ کو چھوڑنا ہوگا اور خدا پرستوں کے دلائل کا بغور مطالعہ کرنا ہوگا اس کے بعد اپنی رائے کے اظہار کا حق ہوگا اس لئے کہ اس صورت میں واقعی طور پر اس کا نتیجہ مثبت ہوگا(۳)

____________________

(۱) منجملہ ان چیزوں کے جو محسوس نہیں ہوتی لیکن کسی بھی دانشور نے ان کا انکار نہیں کیا ہے زمین کی حرکت ہے یعنی ۸کرہ زمین گھومتی ہے، اور یہ وہی ”مدو جزر“(پھیلنا اورسکڑنا ) ہے جو اس زمین پر رونما ہوتا ہے، اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاؤں تلے کی زمین دن میں دو بار ۳۰ سینٹی میٹر اوپر آتی ہے، جس کو نہ کبھی ہم نے دیکھا، اور نہ کبھی اس کااحساس کیا، یہ زمین دن میں دو بار ۳۰ cm اوپر آتی ہے

انھیں چیزوں میں سے ہوا بھی ہے جوہمہ وقت ہمارے چاروں طرف موجود رہتی ہے اوراس قدر وزنی ہے کہ ہر انسان ۱۶ ہزار کلوگرام کے برابر اس کو برداشت کرسکتا ہے، اور ہمیشہ عجیب و غریب دباؤ میں رہتا ہے البتہ چونکہ یہ دباؤ (اس کے اندرونی دباؤ کی وجہ سے) ختم ہوتا رہتا ہے لہٰذا اس دباؤ کا ہم پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جبکہ کوئی بھی انسان یہ تصور نہیں کرتا کہ ہوا اس قدر وزنی ہے، ”گلیلیو“ اور ”پاسکال“ سے پہلے کسی کو ہوا کے وزن کا علم نہیں تھا، اور اب جبکہ سائنس نے اس کے وزن کی صحت کی گواہی دے دی پھر بھی ہم اس کا احساس نہیں کرتے انھیں غیر محسوس چیزوں میں سے ”اٹر“ ہے کہ بہت سے دانشوروں نے ریسرچ کے بعد اس کااعتراف کیا ہے، اور ان کے نظریہ کے مطابق یہ شئے تمام جگہوں پر موجود ہے اور تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے، بلکہ بعض دانشور تو اس کو تمام چیزوں کی اصل مانتے ہیں، اور اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ ”اٹر“ ایک بے وزن اوربے رنگ چیز ہے اور اس کی کوئی بو بھی نہیں ہوتی جو تمام ستاروں اور تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے اور تمام چیزوں کے اندر نفوذ کئے ہوئے ہے، لیکن ہم اسے درک کرنے سے قاصر ہیں

۲) مذکورہ بالا مطلب کی تصدیق کے لئے ”کامیل فلامارین“ کی کتاب ”اسرار موت“ سے ایک اقتباس آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر تے ہیں:

”لوگ جہالت ونادانی کی وادی میں زندگی بسر کررہے ہیں اور انسان یہ نہیں جانتا کہ اس کی یہ جسمانی ترکیب اس کو حقائق کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتی ہے، اور اس کویہ حواس خمسہ ،کسی بھی چیز میں دھوکہ دے سکتے ہیں، صرف انسان کی عقل و فکر اور علمی غور و فکر ہی حقائق کی طرف رہنمائی کرسکتی ہیں“! اس کے بعد ان چیزوں کو بیان کرنا شروع کرتا ہے جن کو انسانی حواس درک نہیں کرسکتے، اوراس کے بعد مولف کتا ب ایک ایک کرکے بیان کرتا ہے اور پھر ہر ایک حس کی محدودیت کو ثابت کرتا ہے یہاں تک کہ کہتا ہے:”لہٰذا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری عقل اور سائنس کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ بہت سی حرکات ، ذرات، ہوا ، طاقتیں اور دیگر چیزیں ایسی ہیں جن کو ہم نہیں دیکھتے، اور ان حواس میں سے کسی ایک سے بھی ان کو درک نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے اطراف میں بہت سی ایسی چیزیں ہوں جن کا ہم احساس نہیں کرتے ، بہت سے ایسے جاندار ہوں جن کو ہم نہیں دیکھتے، جن کا احساس نہیں کرتے، ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ ”ہیں“ بلکہ ہم یہ کہیں : ”ممکن ہے کہ ہوں“ کیونکہ گزشتہ باتوں کا نتیجہ یہی ہے کہ ہمارے حواس تمام موجودات کو ہمارے لئے کشف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ بلکہ یہی حواس بعض اوقات تو ہمیں فریب دیتے ہیں ،اور بہت سی چیزوں کو حقیقت کے بر خلاف دکھاتے ہیں، لہٰذا ہمیں یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ تمام موجودات کی حقیقت صرف وہی ہے جس کو ہم اپنے حواس کے ذریعہ درک کرلیں، بلکہ ہمیں اس کے برخلاف عقیدہ رکھنا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ ممکن ہے کہ بہت سی موجودات ہوں جن کو ہم درک نہیں کرسکتے، جیسا کہ ”جراثیم“ کے کشف سے پہلے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ”لاکھوں جراثیم“ ہر چیزکے چاروں طرف موجود ہوں گے، اور ان جراثیم کے لئے ہر جاندار کی زندگی ایک میدان کی صورت رکھتی ہوگی

نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے یہ ظاہری حواس اس بات کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ موجودات کی حقیقت اور ان کی واقعیت کا صحیح پتہ لگاسکیں، مکمل طور پر حقائق کو بیان کرنے والی شئے ہماری عقل اور فکر ہوتی ہے“ (نقل از علی اطلال المذہب المادی، تالیف فرید وجدی ، جلد ۴)

(۳) آفریدگار جہان، آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کی بحثوں کا مجموعہ، صفحہ ۲۴۸


۵ ۔ دین کس طرح فطری ہے؟

فطرت کا مطلب یہ ہے کہ انسان بعض حقائق کو بغیر کسی استدلال اور برہان کے حاصل کرلیتا ہے، (چاہے وہ پیچیدہ اور مشکل استدلال ہو اور چاہے واضح اور روشن استدلال ہوں) اور وہ حقائق اس پر واضح و روشن ہوتے ہیں ان کو وہ قبول کرلیتا ہے، مثلاً انسان کسی خوبصورت اور خوشبو دار پھول کو دیکھتا ہے تو اس کی ”خوبصورتی“ کا اعتراف کرتا ہے اور اس اعتراف کے سلسلہ میں کسی بھی استدلال کی ضرورت نہیں ہوتی، انسان اس موقع پر کہتا ہے کہ یہ بات ظاہر ہے کہ خوبصورت ہے، اس میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

خدا کی شناخت اور معرفت کے سلسلہ میں بھی فطرت کاکردار یہی ہے جس وقت انسان اپنے دل و جان میں جھانکتا ہے تو اس کو ”نور حق“ دکھائی دیتا ہے، اس کے دل کو ایک آواز سنائی دیتی ہے جو اس کو اس دنیا کے خالق اور صاحب علم و قدرت کی طرف دعوت دیتی ہے، اس مبداء کی طرف بلاتی ہے جو ”کمالِ مطلق“اور ”مطلقِ کمال“ ہے، اور اس درک اور احساس کے لئے اسی خوبصورت پھول کی طرح کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

خدا پر ایمان کے فطری ہونے پر زندہ ثبوت:

سوال :ممکن ہے کوئی کہے: یہ صرف دعویٰ ہے، اور خدا شناسی کے سلسلہ میں اس طرح کی فطرت کو ثابت کرنے کے لئے کوئی راستہ نہیں،کیو نکہ میں تواس طرح کا دعویٰ کرسکتا ہوں کہ میرے دل و جان میں اس طرح کا احساس پایا جاتا ہے، لیکن اگر کوئی اس بات کو قبول نہ کرے تو اس کو کس طرح قانع کرسکتا ہوں؟

جواب :ہمارے پاس بہت سے ایسے شواہد موجود ہیں جن کے ذریعہ توحید خدا کو فطری طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے اور یہ شواہد انکار کرنے والوں کا منہ توڑ جواب بھی ہیں چنا نچہ ان قرائن کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

۱ ۔ تاریخی حقائق :

ان تا ریخی حقا ئق کے سلسلہ میں دنیا کے قدیم ترین مورخین نے جو تحقیق اور جستجو کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی قوم و ملت میں کوئی دین نہیں تھا؟بلکہ ہر انسان اپنے لحاظ سے عالم ہستی کے مبدا علم و قدرت کا معتقد تھا اور اس پر ایمان رکھتا تھا اور اس کی عبادت کیا کرتا تھا، اگر یہ مان لیں کہ اس سلسلہ میں بعض اقوام مستثنیٰ تھیں تو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا (کیونکہ ہر عام کے لئے نادر مقامات پر استثنا ہوتا ہے)

”ویل ڈورانٹ“ مغربی مشہور مورخ اپنی کتاب ”تاریخ تمدن“ میں بے دینی کے بعض مقامات ذکر کرنے کے بعد اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے: ”ہمارے ذکر شدہ مطالب کے باوجود ”بے دینی“ بہت ہی کم حالات میں رہی ہے ، اور یہ قدیم عقیدہ کہ دین ایک ایسا سلسلہ ہے جس میں تقریباً سبھی افراد شامل رہے ہیں، یہ بات حقیقت پر مبنی ہے، یہ بات ایک فلسفی کی نظر میں بنیاد ی تاریخی اور علم نفسیات میں شمار ہوتی ہے، وہ اس بات پر قانع نہیں ہوتا کہ تمام ادیان میں باطل و بیہودہ مطالب تھے بلکہ وہ اس بات پر توجہ رکھتا ہے کہ دین قدیم الایام سے ہمیشہ تاریخ میں موجود رہا ہے“(۱)

یہی مولف ایک دوسری جگہ اس سلسلہ میں اس طرح لکھتا ہے: ”اس پرہیزگاری کا منبع و مرکزکہاں قرار پاتا ہے جو کسی بھی وجہ سے انسان کے دل میںختم ہونے والی نہیں ہے“(۲)

”ویل ڈورانٹ“ اپنی دوسری کتاب ”درسہای تاریخ“ میں ایسے الفاظ میں بیان کرتا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ غیظ و غضب اور ناراحتی کی حالت میں کہتا ہے کہ ”دین کی سو جانیں ہوتی ہیں اگر اس کو ایک مرتبہ مار دیا جائے تو دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے!“( ۲)

اگر خدا اور مذہب کا عقیدہ ، عادت، تقلید ، تلقین یا دوسروں کی تبلیغ کا پہلو رکھتا ہوتا تو یہ ممکن نہیں تھا اس طرح عام طور پر پا یا جاتا اور ہمیشہ تاریخ میں موجود رہتا، لہٰذا یہ بہترین دلیل ہے کہ دین فطری ہے۔

۲ ۔ آثار قدیمہ کے شواہد :

وہ آثار اور علامتیں جو ماقبل تاریخ (لکھنے کے فن اختراع سے پہلے اور لوگوں کے حالات زندگی تحریر کرنے سے پہلے) میں ایسے آثار و نشانیاں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ مختلف قومیں اپنے اپنے لحاظ سے دین و مذہب رکھتی تھیں، ”خدا “ اور مرنے کے بعد ”معاد“ پر عقیدہ رکھتی تھی، کیونکہ ان کی من پسند چیزیں مرنے کے بعد ان کے ساتھ دفن کی گئی ہیں تاکہ وہ مرنے کے بعد والی زندگی میں ان سے کام لے سکیں! مردوں کے جسموں کو گلنے اور سڑنے سے بچانے کے لئے ”مومیائی“ کرنا ،یا ”اہرام مصر“ جیسے مقبرے بنانا تاکہ طولانی مدت کے بعد بھی باقی رہیں یہ تمام چیزیں اس بات کی شاہد ہیں کہ ماضی میں زندگی بسر کرنے والے افراد بھی خدا اور قیامت پر ایمان رکھتے تھے۔

اگرچہ ان کاموں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان کے یہاں مذہبی عقائد میں بہت سے خرافات بھی پائے جاتے تھے ، لیکن یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اصلی مسئلہ یعنی مذہبی ایمان ماقبل تاریخ سے پہلے موجود تھا جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔

۳ ۔ ماہرین نفسیات کی تحقیق اور ان کے انکشافات:

انسانی روح کے مختلف پہلووں اور اس کی اصلی خواہشات پر ریسرچ بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مذہبی اعتقاد اور دین ایک فطری مسئلہ ہے۔

چار مشہور و معروف احساس (یا چار بلند خواہشات) اور انسانی روح کے بارے میں نفسیاتی ماہرین نے جو چار پہلو بیان کئے ہیں: ( ۱ ۔ حس دانائی، ۲ ۔ حس زیبائی، ۳ ۔ حس نیکی، ۴ ۔ حس مذہبی،) ان مطالب پر واضح و روشن دلیلیں ہیں۔(۴)

انسان کی حس مذہبی یا روح انسان کا چوتھا پہلو ، جس کو کبھی ”کمال مطلق کا لگاؤ“ یا ”دینی اور الٰہی لگاؤ“ کہا جاتا ہے یہ وہی حس اور طاقت ہے جو انسان کو مذہب کی طرف دعوت دیتی ہے ، اور بغیر کسی خاص دلیل کے خدا پر ایمان لے آتی ہے، البتہ ممکن ہے کہ اس مذہبی ایمان میں بہت سے خرافات پائے جاتے ہوں، جس کا نتیجہ کبھی بت پرستی ، یا سورج پرستی کی شکل میں دکھائی دے، لیکن ہماری گفتگو اصلی سرچشمہ کے بارے میں ہے۔

۴ ۔ مذہب مخالف پروپیگنڈے کا ناکام ہوجانا

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ چند آخری صدیوں میں خصوصاً یورپ میں دین مخالف پروپیگنڈے بہت زیادہ ہوئے ہیں جو ابھی تک وسیع اور ہمہ گیروسائل کے لحاظ سے بے نظیر ہیں۔

سب سے پہلے یورپ کی علمی تحریک (رنسانس)کے زمانہ سے جب علمی اور سیاسی معاشرہ

گرجاگھر کی حکومت کے دباؤ سے آزاد ہوا تو اس وقت اس قدر دین کے خلاف پروپیگنڈہ ہوا جس سے الحادی نظریہ یورپ میں وجود میں آیا ہے اور ہرجگہ پھیل گیا( البتہ یہ مخالفت عیسائی مذہب کے خلاف ہوئی چونکہ یہی دین وہاں پر رائج تھا ) اس سلسلہ میں فلاسفہ اور سائنس کے ماہرین سے مدد لی گئی تاکہ مذہبی بنیاد کو کھوکھلا کردیا جائے یہاں تک کہ گرجاگھر کی رونق جاتی رہی، اور یورپی مذہبی علماگوشہ نشین ہوگئے، یہی نہیں بلکہ خدا ، معجزہ، آسمانی کتاب اور روز قیامت پر ایمان کا شمار خرافات میں کیا جانے لگا، اور بشریت کے چار زمانہ والا فرضیہ ( قصہ و کہانی کا زمانہ، مذہب کا زمانہ، فلسفہ کا زمانہ اور علم کا زمانہ) بہت سے لوگوں کے نزدیک قابل قبول سمجھا جانے لگا ، اور اس تقسیم بندی کے لحاظ سے مذہب کا زمانہ بہت پہلے گزرچکا تھا!

عجیب بات تو یہ ہے کہ آج کل کی معاشرہ شناسی کی کتابوں میں جو کہ اسی زمانہ کی ترقی یافتہ کتابیں ہیں ان میں اس فارمولہ کو ایک اصل کے عنوان سے فرض کیا گیا ہے کہ مذہب کا ایک طبیعی سبب ہے چاہے وہ سبب ”جہل“ ہو یا ”خوف“ یا ”اجتماعی ضرورتیں“ یا ”اقتصادی مسائل“ اگرچہ ان کے نظریہ میں اختلاف پایا جاتا ہے!!۔

یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس وقت رائج مذہب یعنی گرجا گھر نے ایک طویل مدت تک اپنے ظلم و ستم اور عالمی پیمانہ پر لوگوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا اور خاص کرسائنسدانوں پر بہت زیادہ سختیاں کیں نیز اپنے لئے بہت زیادہ مرفہ اور آرام طلب اور دکھاوے کی زندگی کے قائل ہوئے اور غریب لوگوں کو بالکل بھول گئے لہٰذا انھیں اپنے اعمال کی سزا تو بھگتنا ہی تھی ، لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ صرف پاپ اور گرجا کا مسئلہ نہ تھا بلکہ دنیا بھر کے تمام مذاہب کی بات تھی۔

کمیونسٹوں نے مذہب کو مٹانے کے لئے اپنی پوری طاقت صرف کردی اور تمام تر تبلیغاتی وسائل اور فلسفی نظریات کو لے کر میدان میں آئے اور اس پروپیگنڈہ کی بھر پور کوشش کی کہ ”مذہب معاشرہ کے لئے ”افیون“ ہے!

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دین کی اس شدید مخالفت کے باوجود وہ لوگوں کے دلوں سے مذہب کی اصل کو نہیں مٹاسکے، اور مذہبی جوش و ولولہ کو نابود نہ کرسکے، اس طرح سے کہ آج ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ مذہبی احساسات پر پھر سے نکھار آرہا ہے، یہاں تک کہ خود کمیونسٹ ممالک میں بڑی تیزی سے مذہب کی باتیں ہورہی ہیں، اور میڈیا کی ہر خبر میں ان ممالک کے حکام کی پر یشانی کوبیان کیا جا رہا ہے کہ وہاں پر مذہب خصوصاً اسلام کی طرف لوگوں کا رجحان روز بزور بڑھتا جارہا ہے، یہاں تک کہ خود کمیونسٹ ممالک میں کہ جہاں ابھی تک مذہب مخالف طاقتیں بیہودہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں ، وہاں پر بھی مذہب پھیلتا ہوا نظرآتا ہے۔

ان مسائل کے پیش نظر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مذہب کا سرچشمہ خود انسان کی ”فطرت“ ہے، لہٰذا وہ شدید مخالفت کے باوجود بھی اپنی حفاظت کرنے پر قادر ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو مذہب کبھی کا مٹ گیا ہوتا۔

۵ ۔ زندگی کی مشکلات میں ذاتی تجربات:

بہت سے لوگوں نے اپنی زندگی میں اس بات کا تجربہ کیا ہے کہ جس وقت بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور بلاؤں اور مصیبتوں کا طوفان آتا ہے جہاں پر ظاہری اسباب دم توڑدیتے ہیں، اور انسان کی گردن تک چھری پہنچ جاتی ہے، تو اس طوفانی موقع پر اس کے دل کی گہرائیوں سے ایک امید پیدا ہوتی ہے اور انسان اس مبداکی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس کی تمام مشکلات کو دور کرسکتا ہے، لہٰذا انسان اسی سے لَو لگاتا ہے اور اسی سے مدد مانگتا ہے، یہاں تک کہ معمولی افراد جو عام حالات میں دینی رجحان نہیں رکھتے وہ بھی اس مسئلہ سے الگ نہیں ہیں بلکہ وہ بھی شدید مشکلات یا لاعلاج بیماری کے وقت اس طرح کا روحانی نظریہ رکھتے ہیں۔

(قارئین کرام!) یہ تمام چیزیں اس حقیقت پر واضح شاہد ہیں کہ دین ایک فطری شئے ہے ، چنا نچہ قرآن مجید نے اس سلسلہ میں بہت پہلے ہی خبر دی ہے

جی ہاں انسان اپنے دل کی گہرائیوں سے اپنے اندر ایک آواز کو سنتا ہے جو محبت اور پیار سے لبریز ہوتی ہے اور وہ مستحکم و واضح ہوتی ہے اور اس کو ایک عظیم حقیقت یعنی عالم و قادر کی طرف دعوت دیتی ہے جس کا نام ”اللہ“ یا ”خدا“ ہے ، ممکن ہے کوئی شخص دوسرے نام سے پکارے ، نام سے کوئی بحث نہیں ہے، بلکہ اس حقیقت پر ایمان کا مسئلہ ہے۔

مفکر شعراء کرام نے بھی اپنے دلچسپ اور بہترین اشعار میں اس مطلب کو بیان کیا ہے:

شورش عشق تو در ہیچ سری نیست کہ نیست

منظر روی تو زیب نظری نیست کہ نیست!

نہ ہمین از غم تو سینہ ما صد چاک است

داغ تو لالہ صفت، بر جگری نیست کہ نیست؟؟

ایک دوسرا شاعر کہتا ہے:

در اندرون من خستہ دل ندانم کیست؟

کہ من خموشم و او در فغان و در غوغاست

”میں نہیں جانتا کہ میرے خستہ دل میں کون ہے کہ میں تو خاموش ہوں لیکن وہ نالہ و فریاد کررہا ہے“۔

۶ ۔مذہب کے فطری ہونے پر دانشوروں کی گواہی

”معرفت خدا“ کے مسئلہ کا فطری ہونا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس کے بارے میں صرف قرآن و احادیث نے بیان کیا ہو ،بلکہ غیر مسلم فلاسفہ ،دانشوروں اور نکتہ فہم شعرا کی گفتگو سے بھی یہ مسئلہ واضح ہے۔

چند نمونے:

اس سلسلہ میں ”اینشٹائن“ ایک مفصل بیان کے ضمن میں کہتا ہے: ” بغیر کسی استثنا کے سبھی لوگوں میں ایک عقیدہ اور مذہب پایا جاتا ہے اور میں اس کا نام ”مذہب کی ضرورت کا احساس “ رکھتا ہوں چنانچہ انسان دنیوی چیزوں کے علاوہ جن چیزوں کا احساس کرتا ہے اس مذہب کے تحت انسان تمام اہداف اور عظمت و جلال کو حقیر سمجھتا ہے ، وہ اپنے وجود کو ایک قید خانہ سمجھتا ہے، گویا اپنے بدن کے پنجرے سے پرواز کرنا چاہتا ہے اور تمام ہستی کو ایک حقیقت کی شکل میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔(۵)

اس طرح مشہور و معروف دانشور ”پاسکال“ کہتا ہے:

”دل کے اندر ایسے دلائل ہوتے ہیں جن تک عقل نہیں پہنچ سکتی“!(۶)

”ویلیم جیمز “ کہتا ہے:”میں اس بات کو اچھی طرح مانتاہوں کہ مذہبی زندگی کا سرچشمہ ”دل“ ہے، اور اس بات کو بھی قبول کرتا ہوں کہ فلسفی فارمولے اور دستور العمل اس ترجمہ شدہ مطلب کی طرح ہیں جس کی اصلی عبارت کسی دوسری زبان میں ہو“۔(۷)

”ماکس مولر“ کہتا ہے:”ہمارے بزرگ اس وقت خدا کی بارگاہ میں سرجھکاتے تھے کہ اس وقت خدا کا نام بھی نہیں رکھا گیا تھا۔(۸)

ماکس ایک دوسری جگہ اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: ”اس نظریہ کے برخلاف، جس میں کہا جاتا ہے کہ دین پہلے سورج چاند وغیرہ اور بت پرستی سے شروع ہوا ہے اس کے بعد خدائے واحد کی پرستش تک پہنچا ہے، آثار قدیمہ کے ما ہرین نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ خدا پرستی سب سے قدیم دین ہے“۔(۹)

مشہور و معروف مورخ ”پلوتارک“ لکھتا ہے:

”اگر آپ دنیا پر ایک نظر ڈالیں تو بہت سی ایسی جگہ دیکھیں گے جہاں پر نہ کوئی آبادی ہے نہ علم و صنعت اور نہ سیاست و حکومت، لیکن کوئی جگہ ایسی نہیں ملے گی جہاں پر ”خدا“ نہ ہو“!(۱۰)

”ساموئیل کنیگ“ اپنی کتاب ”جامعہ شناسی“ میں کہتا ہے: ”دنیا میں تمام انسانی جماعتوں کا کوئی نہ کوئی مذہب تھا، اگرچہ سیاحوں اور پہلے (عیسائی) مبلغین نے بعض گروہوں کا نام لیا ہے جن کا کوئی مذہب نہیں تھا، لیکن بعد میں معلوم یہ ہوا ہے کہ اس کی رپورٹ کا کوئی حوالہ نہیں ہے، اور ان کا یہ فیصلہ صرف اس وجہ سے تھا کہ ان کے گمان کے مطابق ان کا مذہب بھی ہماری طرح کا کوئی مذہب ہونا چاہئے تھا“۔(۱۱)

(قارئین کرام!) ہم اپنی بحث کو مشہور و معروف دور حا ضر کے مورخ ”ویل ڈورانٹ“ کی گفتگو پر ختم کرتے ہیں، وہ کہتا ہے:

”اگر ہم مذہب کے سرچشمہ کو ماقبل تاریخ تصور نہ کریں تو پھر مذ ہب کو صحیح طور پر نہیں پہچان سکتے“۔(۱۲) (۱۳)

____________________

(۱و ۲) ”تاریخ تمد ن ، ویل ڈورانٹ“ ، جلد اول، صفحہ ۸۷ و۸۹.

(۳) ”فطرت“ شہید مطہری، صفحہ۱۵۳.

(۴) ”حس مذہبی یا بعد چہارم روح انسانی“ میں ”کونٹائم“ کے مقالہ کی طرف رجوع فرمائیں،( ترجمہ مہندس بیانی)

(۵) ”دنیائی کہ من می بینم“ (باتلخیص) صفحہ ۵۳

(۶) ”سیر حکمت در اروپا“ ، جلد ۲، صفحہ ۱۴

(۷) ”سیر حکمت در اروپا“ ، جلد ۲، صفحہ ۳۲۱

(۸) مقدمہ نیایش صفحہ

(۹) ”فطرت “شہید مطہری ، صفحہ

(۱۰) مقدمہ نیایش ، صفحہ ۳۱

(۱۱) ”جامعہ شناسی،ساموئیل کنیگ“ صفحہ

(۱۲) تاریخ تمدن ، جلد اول، صفحہ ۸۸.

(۱۳) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۳، صفحہ ۱۲۰


۶ ۔ خدا کے ”سمیع“ اور ”بصیر“ ہونے کا کیا مطلب ہے؟

تمام اسلامی علمااور دانشوروں نے خداوندعالم کو سمیع و بصیر ما ناہے، کیونکہ یہ دونوں صفات قرآن مجید میں بار ہا بیان ہوئی ہیں، البتہ اس سلسلہ میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے:

چنا نچہ محققین کا اس بات پر عقیدہ ہے کہ خدا کے سمیع و بصیر ہونے کا مطلب اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ خدا وندعالم ”آواز“ اور ”یعنی دکھائی دینے والی چیزوں“ کی نسبت علم و آگاہی رکھتا ہے، اگرچہ یہ دونوں الفاظ سننے اور دیکھنے کے معنی میں وضع ہوئے تھے، جن کے لئے ہمیشہ”کان“ اور ”آنکھ“ ضروری ہوتے ہیں، لیکن جب یہ الفاظ خدا کے بارے میں استعمال ہوں تو پھر جسمانی آلات و اعضا کے تصور سے خالی ہوتے ہیں، چونکہ ذات خدا جسم و جسمانیات سے پاک و پاکیزہ ہے۔

اور یہ معنی مجازی نہیں ہے، او راگر اس کو مجاز کہیں بھی تو یہ مجاز مافوق حقیقت ( یعنی معنی حقیقی سے بالاتر) ہے کیونکہ خداآواز اور مناظر پر اس طرح احاطہ رکھتا ہے اور یہ چیزیں اس کے پاس اس طرح حاضر ہیں کہ ہر آنکھ کان سے بالاتر ہے، لہٰذا دعاؤں میں خدا وندعالم کو ”اٴسمعُ السَّامِعِین “ (سب سے زیادہ سننے والا) اور ”اٴبصرَ الناظِرین “( سب سے زیادہ دیکھنے والے) کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔(۱)

لیکن بعض قدیم متکلمین کا عقیدہ تھا کہ خدا کے ”سمیع“ اور ”بصیر“ ہونے کا مطلب صفت ”علم“ کے علاوہ ہے، یہ لوگ مجبور ہیں کہ صفات ”سمیع“ اور ”بصیر“ کو زائد بر ذات مانیں، اور صفات ازلی متعدد ہوجائیں جو ایک طرح کا شرک ہے، وگرنہ خداوندعالم کا ”سمیع“ اور ”بصیر“ ہونا سنی جانے والی آوازوں اور مناظر کے علم کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔(۲)

کتاب ”بحار الانوار“ میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت بیان ہوئی ہے کہ ایک شخص امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: آپ کے محبوں میں سے ایک شخص کا کہنا ہے: خداوندعالم کان کے ذریعہ سمیع ہے اور آنکھوں کے ذریعہ بصیر ہے! اور علم کی وجہ سے عالم ہے! (یعنی خداکی صفات زائد بر ذات ہیں) اور قادر ہے اپنی قدرت کی وجہ سے (یعنی اس کے صفات زائد بر ذات ہیں)

امام علیہ السلام نے ناراض ہوتے ہوئے فرمایا: ”مَنْ قَال ذَلک و دَانَ بِهِ فَهوَ مشرکٌ، وَ لَیْسَ مِنْ ولایتنا علٰی شیءٍ ؛ إنَّ اللهَ تبارکَ و تعالیٰ ذات علامة سمیعة بصیرة قادرة(۳) (۴)

”جو شخص یہ کہے اور اس پر عقیدہ رکھے تو ایسا شخص مشرک ہے، اور ہماری ولایت سے دور ہے، خداوندعالم کی ذات عین عالم ،عین سمیع، اور عین بصیر و قادر ہے (اور یہ صفات اس کی ذات پر زائد نہیں ہیں)“۔

____________________

(۱) ماہ رجب میں ہر روزپڑھی جانے والی دعا میں وارد ہوا ہے: ”یااسمع السامعین وابصر الناظرین واسرع الحاسبین “ (اے سب سے زیادہ سننے والے اور سب سے زیادہ دیکھنے والے اور سب سے زیادہ جلدی حساب کرنے والے!).

(۲) اشاعرہ خداوندعالم کی سات صفات ( علم، قدرت،ارادہ، سمع، بصر، حیات اور تکلم) کو قدیم اور زائد بر ذات جانتے ہیں، جن میں سے بعض افراد خدا وندعالم کی ذات اور سات صفات کے قدماء ثمانیہ (یعنی آٹھ ازلی وجود) کہتے ہیں جبکہ ہماری نظر میں یہ عقیدہ باطل اور شرک ہے( کیو نکہ اس صورت میں تعدد الٰہ لا زم آتا ہے )

(۳) بحار الانوار، جلد ۴، صفحہ ۶۳

(۴) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۴، صفحہ ۱۱۶


۷ ۔ صفات جمال و جلال سے کیا مراد ہے؟

خداوندعالم کی صفات کو معمولاً دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

”صفاتِ ذات“ اور ”صفات ِفعل“۔

اس کے بعد صفات ذات کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا ہے :”صفاتِ جمال“ اور ”صفاتِ جلال“۔

”صفات جمال“ سے وہ صفات مراد ہیں جو خداوندعالم کے لئے ثابت ہیں جیسے علم، قدرت، ازلیت، ابدیت، لہٰذا ان صفات کو ”صفات ثبوتیہ“ کہا جاتا ہے، اور ”صفات جلال“ سے مراد وہ صفات ہیں جو خدا میں نہیں پائی جاتیں، جیسے جہل، عجز، جسم وغیرہ لہٰذا ان صفات کو ”صفات سلبیہ“ کہا جاتا ہے، اور یہ دونوں صفات خداوندعالم کی”صفات ذات“ ہیں، اور اس کے افعال سے قطع نظر قابل درک ہیں۔

”صفات فعل “ سے مراد وہ صفات ہیں جو خداوندعالم کے افعال سے متعلق ہوتی ہیں، یعنی جب تک خداوندعالم اس فعل کو انجام نہ دے تو اس صفت کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا، جب وہ فعل انجام دیتا ہے تو اس صفت سے متصف ہوتا ہے جیسے ”خالق“، ”رازق“اور”محی“، ”ممیت“ (یعنی خلق کرنے والا، روزی دینے والا، زندہ کرنے والا اور موت دینے والا)

ہم ایک بار پھر اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ خداوندعالم کی ”صفات ذات“ اور ”صفات فعل “ لامحدود ہیں، کیونکہ نہ اس کے کمالات ختم ہونے والے ہیں اور نہ اس کے افعال و مصنوعات، لیکن پھر بھی ان میں سے بعض صفات دوسری صفات کی اصل اور سرچشمہ شمار ہوتی ہیں، نیز وہ ان کی شاخیں شمار کی جاتی ہیں، لہٰذا اس نکتہ کے پیش نظر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ خداوندعالم کی درج ذیل پانچ صفات خداوندعالم کی ذات اقدس کے تمام اسما و صفات کے لئے اصل و سرچشمہ ہیں اور باقی ان کی شاخیں ہیں:

وحدانیت، علم، قدرت، ازلیت اور ابدیت۔(۱)

____________________

(۱) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۴، صفحہ ۵۹


۸ ۔ خداوندعالم کے ارادہ کی حقیقت کیا ہے؟

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ارادہ جن معنی میں انسان کے بارے میں استعمال ہوتا ہے ان معنی میں خداوندعالم کے لئے استعمال نہیں ہوتا ہے۔

کیونکہ انسان پہلے کسی چیز کا تصور کرتا ہے، (مثلاً پانی پینا) پھر اس کے فوائد کے بارے میں سوچتا ہے، اور اس کے فائدہ کی تصدیق کے بعد اس کام کو انجام دینے کا شوق پیدا ہوتا ہے، اور جس وقت انسان کا شوق آخری درجہ پر پہنچ جاتا ہے تو اعضا کے لئے حکم صادر ہوتا ہے اور انسان اس کام کو شروع کردیتا ہے۔(۱)

لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ تمام چیزیں ( تصور، تصدیق، شوق، حکم ،نفس اور اعضا کی حرکت) خداوندعالم کے سلسلہ میں بے معنی ہیں، کیونکہ یہ تمام چیزیں حادث ہیں ، پس خدا کے ارادہ کا کیا مفہومہے؟۔

اس سلسلہ میں علم عقائد اور اسلامی علماو فلاسفہ نے ایک ایسا مفہوم بیان کیا ہے کہ ”بسیط“ ہونے کے ساتھ ساتھ خدا میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی و تغیر نہیں ہوتا۔

ان حضرات کا کہنا ہے کہ خداوند عالم کا ارادہ دوطرح کا ہوتا ہے:

۱ ۔ ذاتی ارادہ ۔

۲ ۔ فعلی ارادہ ۔

۱ ۔ ”ذاتی ارادہ “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا و مافیہا کے بہترین نظام اور نظام خلقت کا علم رکھتا ہے اور احکام شرعی میں بندوں کے خیر و صلاح کا علم رکھتا ہے۔

وہ جانتا ہے کہ اس کائنات کا بہترین نظام کیا ہے، اور کس علاقہ میں کیا چیز پیدا ہونی چاہئے، یہی ”علم“ مختلف زمانوں میں موجودات اور حوادث کے پیدا ہونے کا سرچشمہ ہوتا ہے۔

اسی طرح وہ یہ بھی جانتا ہے کہ قوانین و احکام کے لحاظ سے کس چیز میں بندوں کی مصلحت ہے؟ اور ان قوانین و احکام کی روح اس کا یہی علم ہے جو مصالح و مفاسد کے بارے میں ہے۔(غور کیجئے)

۲ ۔ خداوندعالم کا فعلی ارادہ”عین ایجاد“ ہے اور صفات فعل کا جز شمار ہوتا ہے، اس بنا پر زمین و آسمان کی خلقت کے بارے میں اس کا ارادہ ”عین ایجاد“ ہے، نماز کے واجب ہونے اور جھوٹ کے حرام ہونے پر ارادہ ،عین وجوب و حرام ہے، (یعنی اس نے نماز کے واجب کرنے کا ارادہ کیا وہ واجب ہوگئی)

خلاصہ یہ کہ خدا وندعالم کا ذاتی ارادہ اس کا ”عین علم“ اور ”عین ذات“ ہے، اور خدا وندعالم کا فعلی ارادہ اس کام کا ”عین ایجاد“ ہے۔(۲)

____________________

(۱) بعض فلاسفہ، ارادہ کو وہی ”شوقِ موکد “ کا نام دیتے ہیں، جبکہ بعض دوسرے فلاسفہ ”شوق موکد “ کے علاوہ نفس کے ایک فعل اور حرکت کے بھی قائل ہیں، اور ارادہ کو وہی انسانی فعل شمار کرتے ہیں، (غور کیجئے)

(۲) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۴، صفحہ ۱۵۳


۹ ۔ اسم اعظم کیا ہے؟

اسم اعظم کے سلسلہ میں مختلف روایات بیان کی گئی ہیں جن سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو شخص بھی اسم اعظم سے باخبر ہوجائے تو نہ صرف یہ کہ اس کی دعا قبول ہوجاتی ہے بلکہ وہ شخص اس اسم اعظم کے ذریعہ اس دنیا کی بہت سی چیزوں میں دخل و تصرف کرسکتا ہے اور بہت سے عجیب و غریب کام انجام دے سکتا ہے۔

خدا کے ناموں میں سے کونسا نام ”اسم اعظم“ ہے ؟اس سلسلہ میں علمائے اسلام نے بہت زیادہ بحث و گفتگو کی ہے، اور اس موضوع پر اکثر بحثیں ہوا کرتی ہیں کہ خدا کے ناموں میں اس اسم کو تلاش کریں جو عجیب و غریب خاصیت رکھتا ہو۔

لیکن ہمارے نظریہ کے مطابق جس چیز پر زیادہ توجہ ہونا چاہئے وہ یہ ہے کہ خدا کے اسما اور صفات کا پتہ لگائیں ان کے مفہوم کو اپنے اندر پیدا کریں اور روحانی تکامل و پیشرفت حاصل کریں جن کے ذریعہ ہماری ذات پر اثر ہوسکے۔

دوسرے الفاظ میں اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر ان صفات کو پیدا کریں اور اپنے کر دار کو ان صفات سے مزین کریں، ورنہ گناہوں میں آلودہ شخص اور ایک ذلیل انسان کیا ”اسم اعظم“ کا علم حاصل کرنے سے ”مستجاب الدعوة“ ہوسکتا ہے؟!

اگر ہم سنتے ہیں کہ ”بلعم“ نامی شخص اسم اعظم کا علم رکھتا تھا لیکن بعد میں اس سے ہاتھ دھوبیٹھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ایمان و عمل صالح اور تقویٰ و پرہیزگاری کے ذریعہ اس روحانی درجہ کو حاصل کرلیا تھا لہٰذا اس کی دعا قبول ہوجاتی تھی، لیکن اپنی خطاؤں کے ذریعہ (کیونکہ انسان خطا و غلطی سے پاک نہیں ہے) اور اپنے زمانہ کے فرعونی اور طاغوتی طاقتوں اور اپنی ہوا وہوس کی بنا پر اس روحانی طاقت کو بالکل کھو دیا ، اور اس مرتبہ سے گرگیا، اسم اعظم کے بھول جانے سے یہی معنی مراد ہوسکتے ہیں۔

اور اسی طرح اگر ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ انبیاء اور ائمہ علیہم السلام اسم اعظم سے آگاہ تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے وجود میں خدا کے اسم اعظم کی حقیقت جلوہ گر ہوتی تھی، اور اسی وجہ سے خدا وندعالم نے ان کو اس عظیم مرتبہ پر فائز کیا تھا (کہ ان کی دعائیں مستجاب ہوتی تھیں)(۱) .

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۷ ،صفحہ ۳۰


۱۰ ۔ کیا خداوندعالم کو دیکھا جاسکتا ہے؟

عقلی دلائل اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ خداوندعالم کو ہرگز آنکھوں کے ذریعہ نہیں دےکھاجا سکتا، کیونکہ آنکھ تو کسی چیز کے جسم یا صحیح الفاظ میں چیزوں کی کیفیتوں کو دیکھ سکتی ہیں، اور جس چیز کا کوئی جسم نہ ہو بلکہ اس میں جسم کی کوئی کیفیت بھی نہ ہو تو اس چیز کو آنکھ کے ذریعہ نہیں دیکھا جاسکتا، دوسرے الفاظ میں یوں سمجھئے کہ آنکھ اس چیز کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس میں مکان، جہت اور مادہ ہو ، حالانکہ خداوندعالم ان تمام چیزوں سے پاک و پاکیزہ ہے اور اس کا وجود لامحدود ہے اسی وجہ سے وہ ہمارے اس مادی جہان سے بالاتر ہے، کیونکہ مادی جہان میں سب چیزیں محدود ہیں۔

قرآن مجید کی بہت سی آیات ،منجملہ بنی اسرائیل سے متعلق آیات جن میں خداوندعالم کے دیدار کی درخواست کی گئی ہے، ان میں مکمل وضاحت کے ساتھ خداوندعالم کے دید ار کے امکان کی نفی کی گئی ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بہت سے اہل سنت علمایہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر خداوندعالم اس دنیا میں نہیں دکھائی دے سکتا تو روز قیامت ضرور دکھائی دے گا!! جیسا کہ مشہور و معروف اہل سنت عالم، صاحب تفسیر المنار کہتے ہیں:”هَذا مَذْهبُ اهل السُّنة والعِلم بالحدیثِ “ (یہ عقیدہ اہل سنت اور علمائے اہل حدیث کا ہے)(۱)

اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ عصر حا ضر کے علمائے اہل سنت جو اپنے کو روشن فکر بھی سمجھتے ہیں وہ بھی اسی عقیدہ کا اظہارکرتے ہیں اور کبھی کبھی تو اس سلسلہ میں بہت زیادہ ہٹ دھرمی کرتے ہیں!

حالانکہ اس عقیدہ کا باطل ہونا اس قدر واضح ہے کہ بحث و گفتگو کی بھی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس سلسلہ میں (جسمانی معاد کے پیش نظر) دنیا و آخرت میں کوئی فرق نہیں ہے ، کیو نکہ جب خداوندعالم کی ذات اقدس مادی نہیں ہے وہ مادہ سے پاک و منزہ ہے، تو کیا وہ روز قیامت ایک مادی وجود میں تبدیل ہوجائے گا، اور اپنی لامحدود ذات سے محدود بن جائے گا، کیا اس دن خدا جسم یا عوارض جسم میں تبدیل ہوجائے گا؟ کیا خداوندعالم کے عدم دیدار کے عقلی دلائل دنیا و آخرت میں کوئی فرق کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں، کیونکہ عقلی حکم کوئی استثنا نہیں ہوتا ۔

اسی طرح بعض لوگوں کا یہ غلط توجیہ کرنا کہ ممکن ہے انسان کو روز قیامت دوسری آنکھیں مل جائیں یا انسان کو ایک دوسرا ادراک مل جائے جس سے وہ خداوندعالم کا دیدار کرسکے، تو یہ بالکل بے بنیاد ہیں، کیونکہ اگر اس دید اور آنکھ سے یہی عقلانی اور فکری دید مراد ہے تو یہ تو اس دنیا میں بھی موجود ہے اور ہم اپنے دل اور عقل کی آنکھوں سے خدا کے جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں، اور اگر اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو آنکھوں سے دیکھا جائے گا تو اس طرح کی چیز خداوندعالم کے بارے میں محال اور ناممکن ہے، چاہے وہ اس دنیا سے متعلق ہو یا اُس دنیا سے،لہٰذا کسی کا یہ کہنا کہ انسان اس دنیا میں خدا کو نہیں دیکھ سکتا مگر مومنین روز قیامت خداوندعالم کا دیدار کریں گے، یہ بات غیر منطقی اور ناقابل قبول ہے۔

یہ لوگ اپنی معتبر کتابوں میں موجود بعض احادیث کی بنا پر اس عقیدہ کا دفاع کرتے ہیں جن احادیث میں روز قیامت خدا کے دیدار کی بات کہی گئی ہے،لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ان روایات کے باطل ہونے کو عقل کے ذریعہ پرکھیں اور ان روایات کو جعلی اور جن کتابوں میں یہ روایات بیان ہوئی ہیں ان کو بے بنیاد مانیں، مگر یہ کہ ان روایات کو دل کی آنکھوں سے مشاہدہ کے معنی میں تفسیر کریں، کیا یہ صحیح ہے کہ اس طرح کی روایات کی بناپر اپنی عقل کو الوداع کہہ دیں ، اور اگر قرآن کریم کی بعض آیات میں اس طرح کے الفاظ موجود ہیں جن کے ذریعہ پہلی نظر میں دیدار خدا کا مسئلہ سمجھ میں اتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وُجُوهٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَی رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ) (۲)

”اس دن بعض چہرے شاداب ہوں گے۔اپنے پروردگار( کی نعمتوں) پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے“۔

مذکورہ آیت درج ذیل آیت کی طرح ہے:

( یَدُ اللهِ فَوْقَ اٴَیْدِیهِمْ ) (۳)

”اور ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ ہی کا ہاتھ ہے“۔

جس میں کنایةً قدرت پروردگار کی بات کی گئی ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید کی کوئی بھی آیت اپنے حکم کے برخلاف حکم نہیں دے گی۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول روایات میں اس باطل عقیدہ کی شدت سے نفی اور مخالفت کی گئی ہے، اور ایسا عقیدہ رکھنے والوں پر مختلف انداز میں تنقید کی گئی ہے، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام کے مشہور و معروف صحابی جناب ہشام کہتے ہیں:

میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھاکہ امام علیہ السلام کے ایک دوسرے صحابی معاویہ بن وہب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے فرزند رسول! آپ اس روایت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس میں بیان ہوا ہے کہ حضرت رسول خدا (ص) نے خدا کا

دیدارکیا ہے؟(اے فرزند رسول آپ بتائیے کہ ) آنحضرت (ص) نے کس طرح خدا کو دیکھا ہے؟ اور اسی طرح آنحضرت (ص) سے منقول روایت جس میں بیان ہوا ہے کہ مومنین جنت میں خدا کا دیدار کریں گے، تو یہ دیدار کس طرح ہوگا؟!

اس موقع پر امام صادق علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا: اے معاویہ بن وہب! کتنی بری بات ہے کہ انسان ۷۰ ، ۸۰ سال کی عمر پائے ، خدا کے ملک میں زندگی گزارے اس کی نعمتوں سے فیضیاب ہو، لیکن اس کو صحیح طریقہ سے نہ پہچان سکے، اے معاویہ! پیغمبر اکرم (ص) نے ان آنکھوں سے خدا کا دیدار نہیں کیا ہے، دیدار اور مشاہدہ کی دو قسمیں ہوتی ہیں: دل کی آنکھوں سے دیدار ، اور سر کی آنکھوں سے دیدار، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے دل کی آنکھوں سے خدا کا دیدار کیا ہے تو صحیح ہے لیکن اگر کوئی کہے کہ ان ظاہری آنکھوں سے خدا کا دیدار کیا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور خدا اور اس کی آیات کاانکار کرتا ہے، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: جو شخص خداوندعالم کو مخلوق کی شبیہ اور مانند قرار دے تو وہ کافر ہے۔(۴)

اسی طرح ایک دوسری روایت جو ”کتاب توحید “شیخ صدوق میں اسماعیل بن فضل سے نقل ہوئی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا روز قیامت خداوندعالم کا دیدار ہوسکتا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوندعالم اس چیز سے پاک و پاکیزہ ہے اور بہت ہی پاک و پاکیزہ ہے:

” إنَّ الاٴَبصَار لا تُدرک إلاَّ ما لَه لون والکیفیة والله خالق الاٴلوان والکیفیات(۵)

”آنکھیں صرف ان چیزوں کو دیکھ سکتی ہیں جن میں رنگ اور کیفیت ہو جبکہ خداوندعالم رنگ اور کیفیت کا خالق ہے“۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث میں لفظ ”لَون“ (یعنی رنگ) پر خاص توجہ دی گئی ہے اور آج کل ہم پر یہ بات واضح و روشن ہے کہ ہم خود جسم کو نہیں دیکھ سکتے بلکہ کسی چیز کے جسم کا رنگ دیکھا جاتا ہے، اور اگر کسی جسم کا کوئی رنگ نہ ہو تو وہ ہرگز دکھائی نہیں دے سکتا۔(۶)

جناب موسیٰ (ع) نے دیدارخدا کی درخواست کیوں کی؟

سورہ اعراف آیت نمبر ۱۴۳/ میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی زبانی نقل ہوا کہ انھوں نے عرض کی:( ربِّ اٴرني اٴنظرُ إلیکَ ) (پالنے والے! مجھے اپنا دیدار کرادے) ، اس آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جناب موسیٰ جیسا بزرگ اور اولو العزم نبی یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ خداوندعالم نہ جسم رکھتا ہے اور نہ مکان اور نہ ہی قابل دیدار ہے، تو پھر انھوں نے ایسی درخواست کیوں کی جو کہ ایک عام آدمی سے بھی بعید ہے؟

اگر چہ مفسرین نے اس سلسلہ میں مختلف جواب پیش کئے ہیں لیکن سب سے واضح جواب یہ ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے یہ درخواست اپنی قوم کی طرف سے کی تھی، کیونکہ بنی اسرائیل کے بہت سے جاہل لوگ اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ خدا پر ایمان لانے کے لئے پہلے اس کودیکھیں گے، (سورہ نساء کی آیت نمبر ۱۵۳/ اس بات کی شاہد ہے) جناب موسیٰ علیہ السلام کو خدا کی طرف سے حکم ملا کہ اس درخواست کو بیان کریں، تاکہ سب لوگ واضح جواب سن سکیں، چنا نچہ کتاب عیون اخبار الرضا علیہ السلام میں امام علی بن موسیٰ الرضا سے مروی حدیث بھی اسی مطلب کی وضاحت کرتی ہے۔(۷)

انھیں معنی کو روشن کرنے والے قرائن میں سے ایک قرینہ یہ ہے کہ اسی سورہ کی آیت نمبر ۵۵ میں جناب موسی علیہ السلام اس واقعہ کے بعد عرض کرتے ہیں: ”( اٴتهلُکنا بِما فَعَلَ السُّفَهاء مِنَّا ) “ ( کیا اس کام کی وجہ سے ہمیں ہلاک کردے گا؟ جس کو ہمارے بعض کم عقل لوگوں نے انجام دیا ہے؟)

اس جملہ سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام نے نہ صرف اس طرح کی درخواست نہیں کی تھی بلکہ شاید وہ ۷۰/ افراد جو آپ کے ساتھ کوہِ طور پر گئے تھے ان کا بھی یہ عقیدہ نہیں تھا، وہ صرف بنی اسرائیل کے دانشور اورلوگوں کی طرف سے نمائندے تھے، تاکہ ان جاہل لوگوں کے سامنے اپنی آنکھوں دیکھی کہانی کو بیان کریں جو خدا کے دیدار کے لئے اصرار کررہے تھے۔

____________________

(۱) تفسیر المنار ، جلد ۷، صفحہ ۶۵۳

(۲) سورہ قیامت ، آیت۲۳ ۔۲۴.

(۳)سورہ فتح ،آیت۱۰.

(۴) معانی الاخبار بنا بر نقل تفسیر المیزان ، جلد ۸، صفحہ ۲۶۸

(۵) نور الثقلین ، جلد اول، صفحہ ۷۵۳.

(۶) تفسیر نمونہ ، جلد ۵، صفحہ ۳۸۱ (۲) تفسیر نور الثقلین ، جلد ۲، صفحہ ۶۵

(۷) تفسیر نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۳۵۶


۱۱ ۔ عرش خدا کیا ہے؟

قرآن مجید کی آیات میں تقریباً بیس مرتبہ ”عرش الٰہی“ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کی بنا پر یہاںیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عرش الٰہی سے کیا مراد ہے؟

ہم نے مکرر عرض کیا ہے کہ ہماری محدود زندگی کے لئے وضع شدہ الفاظ عظمت خدا یا اس کی عظیم مخلوق کی عظمت کو بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، لہٰذا ان الفاظ کے کنائی معنی اس عظمت کا صرف ایک جلوہ دکھاسکتے ہیں، اسی طرح لفظ ”عرش“ بھی ہے جس کے معنی ”چھت“ یا ”بلند پایہ تخت“ کے ہیں اس کرسی کے مقابلہ میں جس کے پائے چھوٹے ہوتے ہیں،لیکن اس کے بعد قدرت خدا کی جگہ ”عرش پروردگار “ استعمال ہونے لگا۔

اب اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”عرش الٰہی“ سے کیا مراد ہے اور اس لفظ کے استعمال سے کیا معنی مراد لئے جاتے ہیں؟ اس سلسلہ میں مفسرین، محدثین اور فلاسفہ حضرات کے یہاں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔

کبھی ”عرش الٰہی“ سے ”خداوندعالم کا لامحدود علم“ مراد لیا جاتاہے۔

کبھی ”خداوندعالم کی مالکیت اور حا کمیت “کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

اور کبھی خدا وندعالم کی صفات کمالیہ اور صفات جلالیہ مراد لی جاتی ہیں، کیونکہ ان میں سے ہر صفت ؛خداکی عظمت کو بیان کرنے والی ہے، جیسا کہ بادشاہوں کے تخت ان کی عظمت اور شان و شوکت کی نشانی ہوا کرتی ہے۔

جی ہاں!خداوندعالم ؛عرش علم، عرش قدرت، عرش رحمانیت اور عرش رحیمیت رکھتا ہے۔

(قارئین کرام!) مذکورہ تینوں تفسیر وں کے لحاظ سے ”عرش“ کالفظ خداوندعالم کی صفات کی طرف اشارہ ہے ، کسی وجود خارجی کی طرف نہیں، ( مثلاً کوئی چیز خارج میں موجود ہو)

اہل بیت علیہم السلام سے منقول بعض روایات میں بھی اسی بات کی تائید ہوئی ہے، جیسا کہ حفص بن غیاث امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے( وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ ) (۱) کے بارے میں سوال کیا ، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اس سے مراد خداوندعالم کا ”علم“ ہے“۔(۲)

امام صادق علیہ السلام سے ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ”عرش“ یعنی وہ علم جس کو انبیاء کو عطا کیا ہے اور ”کرسی“ وہ علم جو کسی کو عطا نہیں ہوا ہے۔(۳)

حالانکہ بعض دوسرے مفسرین نے دیگر روایات سے الہام لیتے ہوئے ”عرش“ اور ”کرسی“ کے معنی خداوندعالم کی دو عظیم مخلوق تحریر کئے ہیں۔

ان میں سے بعض لوگوں کا کہنا ہے: عرش سے تمام کائنات مراد ہے۔

بعض کہتے ہیں: تمام زمین و آسمان ”کرسی“ کے اندر قرار دئے گئے ہیں، بلکہ زمین و آسمان ”کرسی“ کے مقابلہ میں وسیع و عریض بیابان میں پڑی ایک انگوٹھی کی طرح ہے، اور خود ”کرسی“ خداوندعالم کے ”عرش“ کے مقابلہ میں وسیع و عریض بیابان میں پڑی ایک انگوٹھی کی طرح ہے۔

اور کبھی انبیاء علیہم السلام ،اوصیاء اور کامل مومنین کے ”دل“ کو ”عرش“ کہا گیاہے، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے:

إنَّ قَلبَ المومن عَرش الرَّحمٰن(۴)

”بے شک مومن کا دل، عرش الٰہی ہے“۔

اور حدیث قدسی میں بھی بیان ہوا ہے:

لَمْ یسعني سمائي ولا اٴرضي و وسعني قلب عبدي المومن(۵)

”میرے زمین و آسمان ، میری وسعت کی گنجائش نہیں رکھتے لیکن میرے مومن بندہ کا دل میرا مقام واقع ہوسکتاہے“۔

(لیکن جہاں تک انسان کی قدرتِ تشخیص اجازت دیتی ہے) معنی ”عرش“ سمجھنے کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں لفظ ”عرش“ استعمال ہوا ہے ان کی دقیق طریقہ سے تحقیق و جستجو کریں۔

قرآن مجید میں یہ لفظ مختلف مقامات پر استعمال ہوا ہے:

( ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ ) (۶)

”اور اس کے بعد عرش پر اپنا اقتدار قائم کیا “

بعض آیات میں ان جملوں کے بعد ”یدبر الامر“ آیاہے یاایسے جملے آئے ہیں جو خداوندعالم کے علم اور اس کی تدبیر کی حکایت کرتے ہیں۔

یا قرآن کریم کی بعض دوسری آیات میں ”عرش“ کے لئے”عظیم“ جیسی صفت بیان ہوئی ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:( و هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ) (۷) ”اور وہی عرش اعظم کا پروردگار ہے“۔

اورکبھی حاملان عرش کے سلسلہ میں گفتگو ہوئی ہے جیسے محل بحث آیہ شریفہ۔

کبھی ان ملائکہ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے جو عرش کو گھمانے والے ہیں، مثلاً:( وَتَرَی الْمَلاَئِکَةَ حَافِّینَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ ) (۸) ”اور تم دیکھو گے کہ ملائکہ عرش الٰہی کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے اپنے رب کی حمد وتسبیح کررہے ہیں“۔

کبھی ارشاد ہوتا ہے کہ عرش الٰہی پانی پر ہے:( وَکاَنَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَاءِ ) (ہود/ ۷)

قرآن کریم کے ان الفاظ اور اسلامی روایات میں بیان ہوئی دورسری عبارتوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ لفظ ”عرش“ کا مختلف معنی پر اطلاق ہوتا ہے، اگرچہ سب کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔

”عرش“ کے ایک معنی وہی مقام ”حکومت، مالکیت اور عالم ہستی کی تدبیر ہے“، کیونکہ بعض معمولی اوقات میں عرش کہہ کر کنایةً ایک حاکم کا اپنی رعایا پر مسلط ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے: ”فلان ثل عرشہ“ یہ کنایہ ہے کہ فلاں بادشاہ کی طاقت ختم ہوگئی، جیسا کہ فارسی زبان میں بھی کہا جاتا ہے: ”پایہ ہای تخت او درہم شکست“ (یعنی اس کی حکومت کی چولیں ہل گئیں)

”عرش“ کے ایک معنی ”عالم ہستی کا مجموعہ“ ہے، کیونکہ دنیا کی تمام چیزیں اس کی عظمت و بزرگی کی نشانی ہیں، اور کبھی ”عرش“ سے ”آسمان“ اور ”کرسی“ سے ”زمین“ کو مراد لیا جاتا ہے۔

اور کبھی ”عرش“ سے ”عالم ماوراء طبیعت“ اور کرسی سے عالم مادہ (چاہے وہ زمین ہو یا آسمان) مراد لیا جاتا ہے جیسا کہ آیة الکرسی میں بیان ہوا ہے:( وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ )

اور چونکہ خداوندعالم کی مخلوقات اور اس کی معلومات اس کی ذات سے جدا نہیں ہیں لہٰذا کبھی کبھی ”عرش“ سے ”علم خدا“ مراد لیا جاتا ہے۔

اوراگر پاک اور مومن بندوں کے دلوں کو ”عرش الرحمن“ کہا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مومنین کے قلوب خداوندعالم کی ذات پاک کی معرفت کی جگہ اور اس کی عظمت اور قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

لہٰذا ہر جگہ پر استعمال ہونے والے لفظ ”عرش“کو اس جگہ موجود قرائن سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس جگہ ”عرش“ سے کون سے معنی مراد ہیں، لیکن یہ تمام معانی اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ ”عرش“ خدا کی عظمت و بزرگی کی نشانی ہے۔

محل بحث آیہ شریفہ( جس میں حاملان عرش الٰہی کی گفتگو ہے) میں ممکن ہے کہ اس سے وہی حکومت خدا اور عالم ہستی میں اس کی تدبیر مراد ہو ، اور حاملان عرش سے مراد خداوندعالم کی حاکمیت اور اس کی تدبیر کو نافذ کرنے والے مراد ہوں۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام کائنات، یا عالم ماوراء طبیعت کے معنی میں ہو، اور حاملان عرش سے مراد وہ فرشتے ہوں جو حکم خدا سے اس کائنات کی تدبیر کے ستون اپنے شانوں پر اٹھائے ہوئے ہوں۔

____________________

(۱ اور ۲)سورہ بقرہ ، آیت ۲۵۵ بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۲۸ (حدیث ۴۶ و۴۷)”اس کی کرسی، علم و اقتدار زمین و آسمان سے وسیع تر ہے“۔

(۳) بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۲۸ (حدیث ۴۶ و۴۷)

(۴) بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۳۹

(۵) بحار الانوار ، جلد ۵۸، صفحہ ۳۹

(۶) سورہ اعراف ، آیت۵۴۔ سورہ یونس ، آیت۳۔ سورہ رعد ،آیت۲۔ سورہ فرقان ، آیت۵۹ سورہ سجدہ ،آیت۴۔ سورہ حدید ، آیت۴.سورہ توبہ آیت۱۲۹ (۲)سورہ زمر آیت۷ ۵

(۷) تفسیر نمونہ ج۲۰، صفحہ ۳۵


۱۲ ۔ عالم ذرّ کا عہد و پیمان کیا ہے؟

جیساکہ ہم سورہ اعراف آیت نمبر ۱۷۲ میں پڑھتے ہیں:

( وَإِذْ اٴَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَاٴَشْهَدَهُمْ عَلَی اٴَنفُسِهِمْ اٴَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی شَهِدْنَا اٴَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِینَ )

” اور جب تمہارے پروردگار نے اولاد آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت کو لے کر انھیں خود ان کے اوپر گواہ بنا کر سوال کیا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں ہوں؟ تو سب نے کہا بے شک ہم اس کے گواہ ہیں یہ عہد اس لئے لیا کہ روز قیامت یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم اس عہد سے غافل تھے“۔

اس آیت میں بنی آدم کے عہد و پیمان کو مجمل طور سے بیان کیا گیا ہے، لیکن یہ عہد و پیمان کیا تھا؟ (یہ سوال ذہن میں آتا ہے۔)

اس عالم اور اس عہد و پیمان سے مراد وہی ”عالم استعداد“ ، ”پیمان فطرت“ اور تکوین و آفرینش ہے، وہ بھی اس طرح سے کہ جب انسان ”نطفہ“ کی صورت میں صلب پدر سے رحم مادر میں منتقل ہوتاہے جس وقت انسان کی حقیقت ذرات سے زیادہ نہیں ہوتی، اس وقت خداوندعالم حقیقت توحید کو قبول کرنے کی استعداد اور آمادگی عنایت فرماتا ہے، لہٰذا انسان کی فطرت اور اس کی ذات میں یہ الٰہی راز ایک حس باطنی کی صورت میں ودیعت ہو تا ہے، نیز انسان کی عقل میں ایک حقیقت کی شکل میں قراردیاجاتا ہے!۔

اس بنا پر تمام انسانوں کے یہاں روحِ توحید پائی جاتی ہے، اور خداوندعالم نے انسان سے زبان تکوین و آفرینش میں سوال کیا ہے اور اس کا جواب بھی اسی زبان میں ہے۔

اس طرح کی تعبیریں ہمارے روز مرّہ کی گفتگو میں ہوتی ہے جیساکہ ہم کہتے ہیں کہ انسان کے چہرہ کے رنگ سے اس کے اندرونی حالات کا پتہ لگ جاتا ہے، یا انسان کی سر خ آنکھوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ شخص رات میں نہیں سویا ہے۔

ایک عرب ادیب اور خطیب سے نقل ہوا ہے :

”سَلْ الاٴرضَ مَن شَقَ اٴنهارکِ وغرسَ اٴشجارکِ واٴینعَ ثِمَارِکِ فإنْ لَمْ تُجبکَ حواراً إجابتکَ إعتباراً

”اس زمین سے سوال کرو کہ تیرے اندر یہ نہریں کس نے جاری کی ہیں اور کس نے یہ درخت اگائے ہیں اور کس نے پھلوں میں رس گھولا ہے؟ تو اگر وہ سادہ زبان میں جواب نہ دے تو پھر زبان حال سے گویا ہوگی“۔

اسی طرح قرآن مجید میں بھی بعض مقامات پر زبان حال سے گفتگو کا بیان ہوا ہے:

( فَقَالَ لَهَا وَلِلْاٴَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اٴَوْ کَرْهًا قَالَتَا اٴَتَیْنَا طَائِعِینَ ) (۱)

”اور اسے اور زمین کو حکم دیا کہ بخوشی یا بکراہت ہماری طرف آؤ تو دونوں نے عرض کی کہ ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں“۔(۲) .

____________________

(۱)سورہ فصلت ، آیت ۱۱

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۷، صفحہ ۶


۱۳ ۔ خداوندعالم کی طرف سے ہدایت و گمراہی کے کیا معنی ہیں؟

لغت میں ہدایت کے معنی دلالت اور رہنمائی کے ہیں(۱) اور اس کی دو قسمیں ہیں

۱)”ارائة الطریق “ (راستہ دکھانا) ۲) ”إیصالٌ إلیٰ المطلوبِ “ (منزل مقصود تک پہنچانا) دوسرے الفاظ میں یوں کہئے: ”تشریعی اور تکو ینی ہدایت“۔(۲)

وضاحت: کبھی انسان راستہ معلوم کرنے والے کو اپنی تمام دقت اور لطف و کرم کے ساتھ راستہ کا پتہ بتاتا ہے، لیکن راستہ طے کرنا اور منزل مقصود تک پہنچنا خود اس انسان کا کام ہوتا ، اور کبھی انسان راستہ معلوم کرنے والے کا ہاتھ پکڑتا ہے اور راستہ کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اس کو منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے، دوسرے الفاظ میںیوں کہیں کہ انسان پہلے مرحلہ میں صرف قوانین بیان کرتا ہے،اور منزل مقصودتک پہنچنے کے شرائط بیان کردیتا ہے، لیکن دوسرے مرحلہ میں ان چیزوں کے علاوہ سامان سفر بھی فراہم کرتا ہے اور اس میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو بھی برطرف کردیتا ہے، نیز اس کے مشکلات کو دور کرتاہے اور اس راہ پر چلنے والوں کے ساتھ ساتھ ان کو منزل مقصود تک پہنچنے میں حفاظت بھی کرتا ہے۔

اگر انسان قرآن مجید کی آیات پر ایک اجمالی نظرڈالے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم نے ہدایت اور گمراہی کو فعل خدا شمار کیا ہے، اور دونوں کی نسبت اسی کی طرف دی گئی ہے، اگر ہم اس سلسلہ کی تمام آیات کو یکجا کریں تو بحث طولانی ہوجائے گی، صرف اتناہی کافی ہے، چنانچہ ہم سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۱۳ میں پڑھتے ہیں:

( وَاللهُ یَهْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ )

”اور خدا جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دے دےتا ہے“۔

سورہ نحل کی آیت نمبر ۹۳ میں ارشادہوتا ہے:

( وَلَکِنْ یُضِلُّ مَنْ یَشَاءُ وَیَهْدِی مَنْ یَشَاءُ )

”خدا جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے منزل ہدایت تک پہنچا دیتا ہے“۔

ہدایت و گمراہی کے حوالہ سے قرآن مجیدمیں بہت سی آیات موجود ہیں(۳)

بلکہ اس کے علاوہ بعض آیات میں واضح طور پر پیغمبر اکرم (ص) سے ہدایت کی نفی کی گئی ہے اور خدا کی طرف نسبت دی ہے، جیسا کہ سورہ قصص آیت نمبر ۵۶ میں بیان ہوا ہے:

( إِنَّکَ لَاتَهْدِی مَنْ اٴَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللهَ یَهْدِی مَنْ یَشَاءُ )

”(اے میرے پیغمبر!) آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دےتا ہے“۔

سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۷۲ میں بیان ہوا ہے:

( لَیْسَ عَلَیْکَ هُدَاهُمْ وَلَکِنَّ اللهَ یَهْدِی مَنْ یَشَاءُ )

”اے پیغمبر ! ان کے ہدایت پانے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے، بلکہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے“۔

ان آیات کے عمیق معنی کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض افراد ان کے ظاہری معنی پر تکیہ کرتے ہو ئے ان آیات کی تفسیر میں ایسے ”گمراہ“اور راہ ”ہدایت“ سے بھٹکے کہ”جبریہ“ فرقہ کی آتشِ عقا ئد میں جا گرے اور یہی نہیں بلکہ بعض مشہور مفسرین بھی اس آفت سے نہ بچ سکے، اوراس فر قہ کی خطرناک وادی میں پھنس گئے ہیں، یہاں تک کہ ہدایت و گمراہی کے تمام مراحل کو ”جبری“ طریقہ پر مان بیٹھے، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی انھوں نے اس عقیدہ کو خدا کی عدالت و حکمت کے منافی دیکھا تو خدا کی عدالت ہی کے منکر ہوگئے، تاکہ اپنی کی ہوئی غلطی کی اصلاح کرسکیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم ”جبر“ کے عقیدہ کو مان لیں تو پھر تکالیف و فرائض اور بعثت انبیاء،اورآسمانی کتابوں کے نزول کا کوئی مفہوم ہی نہیں بچتا۔

لیکن جو افراد نظریہ ”اختیار“ کے طرفدار ہیں ،وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کوئی بھی عقل سلیم اس بات کو قبول نہیں کرسکتی کہ خداوندعالم کسی کو گمراہی کا راستہ طے کرنے پر مجبور (بھی) کرے اور پھر اس پر عذاب بھی کرے، یا بعض لوگوں کو ”ہدایت“ کے لئے مجبور کرے اور پھر بلاوجہ ان کو اس کام کی جزا اور ثواب بھی دے، اور ان کو ایسے کام کی وجہ سے دوسروں پر فوقیت دے جو انھوں نے انجام نہیں د یا ہے۔

لہٰذا انھوں نے ان آیات کی تفسیر کے لئے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا ہے اور اس سلسلہ میں بہت ہی دقیق تفسیر کی ہے جو ہدایت و گمراہی کے سلسلے میں بیان ہونے والی تمام آیات سے ہم آہنگ ہے اور بغیر کسی ظاہری خلاف کے بہترین طریقہ سے ان تمام آیات کی تفسیر کرتی ہے، اور وہ تفسیر یہ ہے:

” تشریعی ہدایت“یعنی عام طور سے سبھی کو راستہ دکھادیا گیا ہے اس میں کسی طرح کی کوئی قید و شرط نہیں ہے، جیسا کہ سورہ دہر آیت نمبر ۳ میں وارد ہوا ہے:

( إِنَّا هَدَیْنَاهُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُورًا )

”یقینا ہم نے اس (انسان) کو راستہ کی ہدایت دیدی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے“۔

اسی طرح سورہ شوریٰ کی آیت نمبر ۵۲ میں پڑھتے ہیں:

( وَإِنَّکَ لَتَهْدِي إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ )

” اور بے شک آپ لوگوں کو سیدھے راستہ کی ہدایت کرر ہے ہیں“۔

ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت حق خداوندعالم کی طرف سے ہے کیونکہ انبیاء کے پاس جو کچھ بھی ہوتاہے وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔

بعض منحرف اور مشرکین کے بارے میں سورہ نجم آیت نمبر ۲۳ میں بیان ہوا ہے:

( وَلَقَدْ جَائَهُمْ مِنْ رَبِّهِمْ الْهُدَی )

”اور یقینا ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے“۔

لیکن ”تکوینی ہدایت “یعنی منزل مقصود تک پہنچانا ، راستہ کی تمام رکاوٹوں کو دور کرنا اور ساحل نجات پر پہنچنے تک ہر طرح کی حمایت و حفاظت کرنا،جیسا کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں بیان ہوا ہے، یہ موضوع بدون قید و شرط نہیں ہے، اور یہ ہدایت ایک ایسے خاص گروہ سے مخصوص ہے جس کے صفات خود قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں، اور اس کے مدمقابل ”ضلالت و گمراہی“ ہے وہ بھی خاص گروہ سے مخصوص ہے جس کے صفات بھی قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔

اگرچہ بہت سی آیات مطلق ہیں لیکن دوسری بہت سی آیات میں وہ شرائط واضح طور پر بیان ہوئے ہیں، اور جب ہم ان ”مطلق“ اور ”مقید“ آیات کو ایک دوسرے کے برابر رکھتے ہیں تو مطلب بالکل واضح ہوجاتا ہے اور آیات کے معنی و تفسیر میں کسی طرح کے شک و تردید کی گنجائش باقی نہیں رہتی، اور نہ صرف یہ کہ انسان کے اختیار ، آزادی اور ارادہ کے مخالف نہیں ہے بلکہ مکمل اور دقیق طور پر ان کی تاکید کرتی ہے۔

(قارئین کرام!) یہاں درج ذیل وضاحت ملاحظہ فرمائیں:

قرآن مجید میں ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( یُضِلُّ بِهِ کَثِیرًا وَیَهْدِی بِهِ کَثِیرًا وَمَا یُضِلُّ بِهِ إِلاَّ الْفَاسِقِینَ ) (۴)

”خدا ا سی طرح بہت سے لوگوں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت دے دیتا ہے اور گمراہی صرف انھیں کا حصہ ہے جو فاسق ہیں “۔

یہاں پر ضلالت و گمراہی کا سرچشمہ، فسق و فجور اور فرمان الٰہی کی مخالفت بیان کی گئی ہے۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ) (۵)

”اوراللہ ظالموں کی ہدایت نہیں کرتا “۔

اس آیت میں ظلم پرتوجہ دلائی گئی ہے اور اس کو ضلالت و گمراہی کا راستہ ہموار کرنے والا بتایا گیا ہے۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ ) (۶)

”اوراللہ کافروں کی ہدایت بھی نہیں کرتا “۔

یہاں پر کفر کو گمراہی کاسبب قراردیا گیا ہے۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی مَنْ هُوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ ) (۷)

”اللہ کسی بھی جھوٹے اور نا شکری کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا ہے “۔

اس آیت میں جھوٹ اور کفر کو ضلالت و گمراہی کا پیش خیمہ شمار کیا گیا ہے۔

نیز ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ ) (۸)

”بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے “۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ فضول خرچی اور جھوٹ گمراہی کا باعث ہے۔

(قارئین کرام!) ہم نے یہاں تک اس سلسلہ میں بیان ہونے والی چند آیات کو بیان کیا ہے، اسی طرح دوسری آیات قرآن مجید کے مختلف سوروں میں بیان ہوئی ہیں۔

نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن مجید نے خدا کی طرف سے ضلالت و گمراہی انھیں لوگوں کے لئے مخصوص کی ہے جن میں یہ صفات پائے جاتے ہوں: ”کفر“ ، ”ظلم“، ”فسق“، ”جھوٹ“، ”فضول خرچی“ اور ”کفران نعمت “۔

کیا جن لوگوں میں یہ صفات پائے جاتے ہیں وہ ضلالت و گمراہی کے سزاوار نہیں ہیں؟!

بالفاظ دیگر: جو لوگ ان برائیوں کے مرتکب ہوتے ہیں کیا ان کے دلوں پر ظلمت و تاریکی اثرنہیں کرتی؟!

صاف و شفاف الفاظ میں یوں کہیں کہ اس طرح کے اعمال اور صفات کچھ خاص اثررکھتے ہیں جو آخرکار انسان میں موثر ہوتے ہیں،اور اس کی عقل، آنکھ اور کان پر پردہ ڈال دیتے ہیں، اس کو ضلالت و گمراہی کی طرف کھینچتے ہیں، اور چونکہ تمام چیزوں کی خاصیت اور تمام اسباب کے اثرات خدا کے حکم سے ہیں لہٰذا ضلالت و گمراہی کو ان تمام موارد میں خدا کی طرف نسبت دی جاسکتی ہے، لیکن یہ نسبت خود انسان کے ارادہ و اختیار کی وجہ سے ہے۔

یہ سب کچھ ضلالت و گمراہی کے سلسلہ میں تھا، اُدھر ”ہدایت“ کے سلسلہ میں بھی قرآن کریم نے کچھ شرائط اور اوصاف بیان کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی بغیر کسی علت اور حکمت الٰہی کے خلاف نہیں ہے۔

بعض وہ صفات جن کی وجہ سے انسان ہدایت اور لطف الٰہی کا مستحق ہوتا ہے ؛ درج ذیل آیات میں بیان ہوئی ہیں:

( یَهْدِي بِهِ اللهُ مَنْ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَیُخْرِجُهُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِهِ وَیَهْدِیهِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) (۹)

”جس کے ذریعہ خدا اپنی خوشنودی کا ابتاع کرنے والوں کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے اور انھیں تاریکیوں سے نکال کر اپنے حکم سے نور کی طرف لے آتا ہے اور انھیں صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے “۔

آیہ مبارکہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حکم خدا کی پیروی اور اس کی رضا حاصل کرنے سے ہدایت کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ اللهَ یُضِلُّ مَنْ یَشَاءُ وَیَهْدِی إِلَیْهِ مَنْ اٴَنَابَ ) (۱۰)

”بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جو اس کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں انھیں ہدایت دیتا ہے “۔

یہاں ”توبہ اور استغفار کرنے والے “ کو ہدایت کامستحق قراردیا گیا ہے۔

ایک دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَالَّذِینَ جَاهَدُوا فِینَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا ) (۱۱)

”اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انھیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے “۔

اس آیت میں ”راہ خدا میں مخلصانہ جہاد“ کو ہدایت کے لئے اصلی شرط کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔

نیز ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے:

( وَالَّذِینَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًی ) (۱۲)

”اور جن لوگوں نے ہدایت حاصل کر لی خدا نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا اور ان کو مزید تقوی عنایت فرمایا “۔

اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر انسان راہ ہدایت کی طر ف قدم بڑھائے تو خدا وندعالم اس کو مزید راستہ طے کرنے کی طاقت عطا فرمادیتا ہے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ جب تک بندوں کی طرف سے توبہ و استغفار نہ ہو اور خدا کے حکم کی پیروی نہ ہو، نیز جب تک خدا کی راہ میں جہاد اور کوشش نہ ہو ، اور جب تک خدا کی راہ میں قدم نہ بڑھائے جائیں تو لطف الٰہی ان کے شامل حال نہیں ہوگا، اور ان کی مدد نہیں ہوگی، نیز وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتے۔

جن لوگوں میں یہ صفات موجود ہوں کیا ان کے لئے ہدایت یافتہ ہونا بے حساب و کتاب ہے ؟! اور کیا انھیں ہدایت کے لئے مجبور کیا گیا ہے ؟!

(قارئین کرام!) آپ حضرات ملاحظہ فرمارہے ہیں کہ اس سلسلہ میں قرآن مجید کی آیات بہت واضح ہیں،لیکن جن لوگوں نے ہدایت و گمراہی کے سلسلہ میں بیان ہونے والی آیات کو صحیح طریقہ سے نہیں سمجھا ، یا سمجھنے کی کوشش نہیں کی تو ایسے ہی لوگ اس خطرناک غلطی کا شکار ہوئے ہیں اور بقول شاعر :”چون ندیدند حقیقت، رہ افسانہ زدند“ (اور جب انھوں نے حقیقت کو نہ پایا تو افسانہ گڑھ لیا) ان کے لئے یہی کہا جا ئے کہ ان لوگوں نے ”ضلالت و گمراہی“ کا راستہ خود ہی ہموار کیا ہے!

بہر حال ہدایت و ضلالت کامسئلہ حکمت ومشیت سے خالی نہیں ہے، بلکہ ہر موقع پر خاص شرائط ہوتے ہیں جو خدا کے حکیم ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔(۱۳)

____________________

(۱) مفردات راغب ،مادہ ”ھدی“

(۲) یہاں پر تکوینی ہدایت وسیع معنی میں استعمال ہوئی ہے، جس میں بیان قوانین اور ارایہ طریق کے علاوہ ہر طرح کی ہدایت شامل ہے

اس کے مقابلہ میں ”ضلالت اور گمراہی“ ہے۔

(۳) نمونہ کے طور پر:سورہ فاطر ، آیت ۸ سورہ زمر، آیت ۲۳ سورہ مدثر ، آیت ۳۱ سورہ بقرہ، آیت ۲۷۲ سورہ انعام ، آیت ۸۸ سورہ یونس ، آیت ۲۵ سورہ رعد ، آیت ۲۷ سورہ ابراہیم ، آیت ۴

(۴)سورہ بقرہ ، آیت ۲۶

(۵) سورہ بقرہ ، آیت ۲۵۸

(۶) سورہ بقرہ ، آیت ۲۶۴

(۷) سورہ زمر ، آیت ۳

(۸) سورہ غافر ، آیت ۲۸.

(۹)سورہ مائدہ ، آیت ۱۶

(۱۰)سورہ رعد ، آیت ۲۷ (۱۱)سورہ عنکبوت ، آیت ۶۹

(۱۲) سورہ محمد ، آیت ۱۷.

(۱۳) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۹، صفحہ ۴۶۱


۱۴ ۔کس طرح کائنات کی ہر شئی خداکی تسبیح کرتی ہے؟

قرآن مجید کی مختلف آیات میں بیان ہوا ہے کہ اس کائنات کی تمام موجودات خدا کی تسبیح کرتی ہیں ، ان میں سب سے زیادہ واضح آیت سورہ اسراء (بنی اسرائیل) آیت نمبر ۴۴ ہے کہ جہاں ارشاد ہوتا ہے:

( وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَکِنْ لَاتَفْقَهُونَ تَسْبِیحَهُمْ )

”اور کوئی شئی ایسی نہیں ہے جو اس کی تسبیح نہ کرتی ہویہ اور بات ہے کہ تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے “۔

اس آیت کی بناپر کائنات کی تمام موجوات بغیر کسی استثنا کے خداوندعالم کی اس عام تسبیح میں شامل ہیں۔

اس حمد و تسبیح کی حقیقت کی تفسیر کے بارے میں علماو فلاسفہ کے درمیان بہت زیادہ بحث و گفتگو ہے۔

بعض افراد نے اس حمد و تسبیح کو ”حالی“ (یعنی زبان حال) مانا ہے، جبکہ بعض دوسرے افراد نے اس سے ”قولی“ تسبیح مراد لی ہے، ہم یہاں پر ان تمام نظریات کا خلاصہ اور اپنا نظریہ بیان کرتے ہیں:

۱ ۔بعض گروہ کا کہنا یہ ہے کہ اس کائنات کے تمام ذرات چاہے وہ جاندار اور عاقل ہوں یا بے جان اور غیر عاقل؛ سب کی سب ایک طرح کا شعور اور ادراک رکھتی ہیں، اور یہ سب چیزیں خداوندعالم کی حمد و تسبیح کرتی ہیں، اگرچہ ہم ان کی حمد و تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے، اور نہ ہی سن پاتے ہیں۔

قرآن مجید کی بہت سی آیات اس عقیدہ پر شاہد اور گواہ ہیں، نمونہ کے طور پر:

( وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللهِ ) (۱)

”اور بعض خوف خدا سے گر پڑتے ہیں“۔

( فَقَالَ لَهَا وَلِلْاٴَرْضِ اِئْتِیَا طَوْعًا اٴَوْ کَرْهًا قَالَتَا اٴَتَیْنَا طَائِعِینَ ) (۲)

”اور اسے اور زمین کو حکم دیا کہ بخوشی یا بکراہت ہماری طرف آؤ تو دونوں نے عرض کی کہ ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہیں“۔

۲ ۔ بہت سے افراد کا عقیدہ ہے کہ یہ حمد و تسبیح وہی ہے جس کو ہم ”زبان حال“ کہتے ہیں، اور یہ حمد و تسبیح حقیقی طور پر ہے، مجازی طور پر نہیں، لیکن زبان حال سے ہے نہ کہ زبان قال سے۔ (غور کیجئے )

وضاحت: بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے چہرے پر پریشانی اور ناراحتی یا درد و غم کے آثار پائے جاتے ہیں یا اس کی آنکھوں سے بیداری کے آثار واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں،چنانچہ ایسے موقع پر کہاجاتا ہے: اگرچہ تم اپنی زبان سے پریشانی اور مشکل نہیں بتارہے ہو، لیکن تمہارے چہرے سے پریشانی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، یا کہتے ہیں کہ تمہیں رات میں نیند نہیں آئی ہے!!

کبھی کبھی یہ ”زبان حال“ اس قدر واضح اورروشن ہوتی ہے کہ ”زبان قال“ کو موثر بنا دےتی ہے، اور زبان قال کو جھٹلادیتی ہے، جیسا کہ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

گفتم کہ با مکر و فسون پنہان کنم راز درون!

پنہان نمی گردد کہ خون از دیدگانم می رود!

”میں نے کہا کہ مکر و فریب سے اپنے اندرونی راز کو چھپالوں لیکن خون کبھی چھپائے سے نہیں چھپتا ، اور میری آنکھوں سے خون برستا دکھائی دیتا ہے“۔

اسی چیز کی طرف حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے اپنے مشہور و معروف قول میں اشارہ فرمایا ہے:

مَا ضمَر اٴحد شیئًا اِلاَّ ظهر فی فلتاتِ لسانِه وَصفحاتِ وَجههِ(۳)

”کوئی بھی راز دل میں چھپائے سے چھپ نہیں سکتا، اور ایک نہ ایک دن اس کی زبان یا چہرے پر ظاہر ہوہی جاتا ہے“۔

دوسری طرف کیا یہ ممکن ہے کہ ایک بہترین مصور کی بنائی ہوئی تصویر اس کی مہارت اور ذوق کی گواہی نہ دے اور اس کی مدح و ثنا نہ کرے؟

کیا اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ ایک مشہور و معروف شاعر کا کلام اس کے بہترین ذوق کی عکاسی نہ کرے اور ہمیشہ اس کی مدح و ثنا نہ کرے؟

کیا اس بات کا منکر ہوا جاسکتا ہے کہ ایک عظیم الشان عمارت اوربڑے بڑے کارخا نے وغیرہ اپنی بے زبانی سے اپنے بنانے والے کے خلاق ذہن اور ایجادات کرنے والے ذہن کی تعریف نہ کریں اور ان کی ذہنیت کی قصیدہ خوانی نہ کریں؟

لہٰذا ہم کو یہ بات مان لینا چاہئے کہ کائنات کایہ عجیب و غریب نظام اور چکاچوند کردینے والی چیزیں خداوندعالم کی ”حمد و تسبیح“ کرتی ہیں۔

کیا ”تسبیح“ پاک و پاکیزہ ماننے کے علاوہ کسی اور چیز کا نام ہے، اس کائنات کا نظام اپنے پورے وجود کے ساتھ یہ اعلان کررہا ہے کہ اس کا خالق ہر طرح کے نقص و عیب سے پاک و پاکیزہ ہے۔

کیا ”حمد“ صفاتِ کمال بیان کرنے کے علاوہ کسی اور چیز کو کہتے ہیں؟ یہ کائنات کا نظام خدا وندعالم کی صفات کمال( بے کراں علم و قدرت ،اور مکمل حکمت )کی گفتگو نہیں کررہا ہے۔

(قارئین کرام!) ”حمد و تسبیح “ کے یہ معنی تمام موجوات کے لئے قابل فہم ہیں اور اس بات کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم تمام مخلوقات کے ذروں کو صاحب عقل و شعور فرض کریں، کیونکہ کوئی قطعی دلیل ان کے بارے میں موجود نہیں ہے، اور مذکورہ آیات بھی قوی احتمال کی بنا پر ”زبان حال“ کو بیان کرتی ہیں۔

لیکن یہاں پر ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ اگر خداوندعالم کی ”حمد و تسبیح“ سے مراد نظام کائنات کا خدا کی عظمت اور اس کی پاکیزگی و عظمت کی حکایت کرنا ہے اور ”صفات سلبیہ“ و ”صفات ثبوتیہ“ اس کی وضاحت کرتی ہیں، تو پھر قرآن مجید میں کیوں ارشاد ہوا ہے کہ تم ان کی حمد و تسبیح کو نہیں سمجھتے؟

اگر بعض عوام الناس نہیں سمجھ سکتے تو کم سے کم دانشوروں کو تو سمجھنا چاہئے؟

اس سوال کے دو جواب دئے جاسکتے ہیں:

پہلا جواب: یہ ہے کہ قرآن مجید میں خطاب اکثر جاہلوں خصوصاً مشرکین سے ہے اور مومن دانشوروں کی اقلیت اس عموم سے مستثنیٰ ہے کیونکہ ہر عام کے لئے ایک استثنا ہوتا ہے۔

دوسرا جواب: یہ ہے کہ اس کائنات کے جن اسرار کو ہم جانتے ہیں وہ نامعلوم اسرارکے مقابل سمندر کے مقابل ایک قطرہ یا پہاڑ کے مقابلہ میں ایک ذرّہ کی حیثیت رکھتے ہیں کہ اگر صحیح غور و فکر کریں تو اس کو کسی علم و دانش کا نام تک نہیں دیا جاسکتا ۔

تا بدانجا رسید دانش من کہ بدانستمی کہ نادانم

”میری عقل آخر میں اس بات کو سمجھ پائی ہے کہ میں نادان اور جاہل ہوں“

لہٰذا حقیقت تو یہ ہے کہ اگرچہ ہم کتنے ہی بڑے عالم کیوں نہ ہوں اس کائنات کے ذروں کو نہیں سمجھ سکتے، کیونکہ جو کچھ ہم سنتے ہیں وہ کسی بڑی کتاب کا ایک لفظ ہے، اس بنا پر تمام عوام الناس کے لئے یہ اعلان عام کیا جاسکتا ہے کہ تم اس کائنات کی موجودات کی حمد و تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ وہ زبان حال سے خداوندعالم کی حمد و تسبیح کرتے ہیں اور جو چیزیں ہم سمجھتے ہیں وہ اس قدر کم اور ناچیز ہیں کہ ان کا کوئی شمار ہی نہیں ہے۔

۳ ۔بعض مفسرین نے یہ بھی احتمال دیا ہے کہ اس کائنات کی موجودات کی حمد و تسبیح زبان ”حال“ اور زبان ”قال“ دونوں سے مرکب ہے یا دوسرے الفاظ میں ”تکوینی اور تشریعی تسبیح“ ہے، کیونکہ بہت سے انسان اور تمام ملائکہ اپنی عقل و شعور کے لحاظ سے خداوندعالم کی حمد و تسبیح کرتے ہیں لیکن اس کائنات کے تمام ذرے اپنی زبان بے زبانی سے خداوندعالم کی عظمت و کبریائی کی گواہی دے رہے ہیں۔

اگرچہ” حمد و تسبیح“کے دونوں معنی آپس میں مختلف ہیں لیکن ”ایک مشترک پہلو بھی رکھتے ہیں“ یعنی حمد و تسبیح کے عام اور وسیع معنی (یعنی اعلان پاکیزگی اور مدح و ثنا) میں مشترک ہیں۔

لیکن جیسا کہ ظاہر ہے کہ مذکورہ دوسری تفسیر سب سے بہتر ہے۔(۴) .

____________________

(۱)سورہ بقرہ ، آیت ۷۴

(۲) سورہ فصلت ، آیت ۱۱

(۳) نہج البلاغہ کلمات قصار نمبر ۲۶.

(۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۳۴


۱۵ ۔ کیا خداوندعالم کسی چیز میں حلول کرسکتا ہے؟

بعض عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خداوندعالم ”عیسیٰ مسیح“ میں حلول کئے ہوئے ہے، اور بعض صوفی لوگ بھی اپنے پیرو مرشد کے بارے میں یہی نظریہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خداوندعالم ان میں حلول کئے ہوئے ہے۔

کتاب ”کشف المراد“ میں علامہ حلّی علیہ الرحمہ کے قول کے مطابق اس عقیدہ کے باطل و بے بنیاد ہونے میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ نہیں ہے، کیونکہ حلول سے جو چیز تصور کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک موجود دوسرے موجود کے ذریعہ قائم ہو، (مثال کے طور پر کہاجا ئے کہ گلاب کے پھول میں خوشبو حلول کئے ہوئے ہے) ، مسلم طور پر خداوندعالم کے سلسلہ میں یہ معنی قابل تصور نہیںہیں، کیونکہ اس کا لازمہ مکان، نیاز اور ضرورت ہے جو ”واجب الوجود“کے لئے ”غیر ممکن“ ہے، اور جو لوگ خداوندعالم کے حلول کے معتقد ہیں آخر کار وہ شرک میں گرفتار ہوکر دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں۔

تصوّف اور اتحاد و حلول کا مسئلہ

مرحوم علامہ حلّی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”نہج الحق“ میں فرماتے ہیں کہ کسی دوسری چیز میں خداوندعالم کااس طرح سے حلو ل کرنا کہ دونوں شئی ایک چیز بن جائیں، یہ عقیدہ باطل ہے،اور اس کا باطل و بے بنیاد ہونا بالکل واضح ہے، اس کے بعد فرماتے ہیں: ”اہل سنت کے صوفیہ فرقہ نے اس سلسلہ میں قرآن و حدیث کی مخالفت کی ہے، اور کہتے ہیں کہ خداوندعالم، عرفاء کے بدن میں حلول کرجاتا ہے!! یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگ کہتے ہیں: خداوندعالم عین موجودات ہے، اور ہر موجود خدا ہے، (وحدت مصداقی وجود کے مسئلہ کی طرف اشارہ ہے) ، اس کے بعد علامہ موصوف فرماتے ہیں: یہ عقیدہ عین کفر و دہریت ہے، خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اہل بیت علیہم السلام کی برکت سے اس باطل عقیدہ سے دور رکھا ہے“۔

علامہ موصوف ”حلول“ کی بحث میں فرماتے ہیں:”یہ ایک مسلّم مسئلہ ہے کہ اگر کوئی چیز کسی چیز میں حلول کرنا چاہے تو اس کو ”محل“ کی ضرورت ہوتی ہے اور چونکہ خداوندعالم واجب الوجود ہے اور اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا اس کا کسی چیز میں حلول کرنا غیر ممکن ہے“ اس کے بعد فرماتے ہیں: ”اہل سنت کے صوفیہ فرقہ نے اس سلسلہ میں مخالفت کی ہے، اور خداوندعالم کے حلول کو، عرفاء کے بدن میں ممکن شمار کرتے ہیں“ اس کے بعد علامہ موصوف ان لوگوں کی بہت زیادہ مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہم نے خود صوفیہ کے ایگ گروہ کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک میں دیکھا ہے کہ ایک شخص کے علاوہ سب نے نماز مغرب پڑھی، اس کے بعدسبھی نے نماز عشاء پڑھی سوائے اسی ایک شخص کے، چنانچہ وہ یونہی بیٹھا رہا!!

ہم نے سوال کیا کہ اس نے نمازکیوں نہیں پڑھی؟ تو جواب دیا کہ اس کو نماز کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو خدا سے پیوستہ ہے! کیا یہ بات جائز ہے کہ خدا اور اس کے درمیان کوئی چیز پردہ بن جائے، نماز ان کے اور خدا کے درمیان ایک پردہ ہے!(۱)

یہی معنی ”مثنوی “کی پانچویں جلد میں ایک دوسری طرح پیش کئے گئے ہیں: جب تم منزل مقصود پر پہنچ جاؤ تو وہی حقیقت ہے، اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے:

”لَو ظَهرتْ الحقائقُ بَطَلَتِ الشّرائعُ“

”جب حقائق ظاہر ہوجاتے ہیں تو شریعتیں باطل ہوجاتی ہیں“۔

اس کے بعد شریعت کو علم کیمیا سے مشابہ قرار دیا ہے ( جس علم کے ذریعہ تانباکو سونے میں تبدیل کیا جاتا ہے) اور کہا ہے: جو چیز اصل میں ہی سونا ہے ، یا سونا بن چکا ہے تو اسے علم کیمیا کی کیا ضرورت ہے؟! جیسا کہ کہتے ہیں:”طَلبُ الدَلیلِ بعدَ الوُصُولِ إلیٰ المدلولِ قبیحٌ!“ (۲)

”منزل مقصود تک پہنچنے کے بعد دلیل طلب کرنا قبیح اور برا ہے“۔

کتاب ”دلائل الصدق“ شرح ”نہج الحق“ میں بھی ”صاحب مواقف“ سے نقل کیا گیا ہے کہ نفی ”حلول“ اور ”اتحاد“ کے سلسلہ میں مخالفوں کے تین گروپ ہیں، اس کے بعد دوسرے گروہ کے بعض صوفیوں کا نام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی باتیں حلول و اتحاد کے بارے میں مردد ہیں، ( حلول سے مراد خداوندعالم کا کسی چیز میں نفوذ کرنا ہے، اور اتحاد و وحدت سے مراد خدا اور دوسری چیزوں کا ایک ہوجانا ہے)

اس کے بعد موصوف مزید فرماتے ہیں: ہم نے بعض ”صوفیہ وجودیہ“ کو دیکھا ہے جو حلول و اتحاد کا انکار کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ دونوں الفاظ خدا اور مخلوق میں مغایرت (جدائی) کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ہم اس چیز کے قائل نہیں ہیں! بلکہ ہماراکہنا یہ ہے :

لَیسَ فِی دارِالوجودِ غیرهُ دیّار “، (وجود کی وادی میں اس کے علاوہ کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے“!)

اس موقع پر صاحب مواقف کہتے ہیں کہ یہ عذر،گناہ سے بھی بدتر ہے۔(۳)

البتہ اس سلسلہ میں صوفیوں کی بہت سی بے تُکی باتیں ہیں جو نہ اصول و منطق سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ہی شریعت کے موافق۔

بہر حال دو چیزوں کے درمیان حقیقی ”اتحاد “ محال اور ناممکن ہے جیساکہ ”علامہ مرحوم“ نے بیان فرمایا ہے چونکہ یہ بات بالکل تضاد اورٹکراؤ پر مشتمل ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ دو چیزیں ایک ہوجائیں، اس کے علاوہ اگر کوئی خدا کا دوسری مخلوق بالخصوص عارفوں سے اتحاد کے عقیدہ کا قائل ہو، تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ خداوندعالم میں ممکنات کے صفات پائے جائیں جیسے زمان و مکان اور تغیر وغیرہ۔

اور اسی طرح خداوندعالم کا دوسری چیزوں میں ”حلول“ کا لازمہ بھی زمان و مکان ہے جبکہ یہ چیزیں خداوندعالم کے واجب الوجود ہونے سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔(۴)

اصولی طور پر خود صوفی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ اس طرح کی باتوں کو عقلی دلائل کے ذریعہ ثابت نہیں کیا جاسکتا، اور غالباً اپنے راستہ کو عقلی راستہ سے الگ کرلیتے ہیں، اور اس سلسلہ میں اپنی مرضی جس کو ”راہ دل“ کہتے ہیں اس کے ذریعہ اپنے عقائد کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، اور مسلّم طور پر اگر کوئی عقلی منطق کو نہ مانے تو اس سے اس طرح کی ضد و نقیض باتوں کے علاوہ اور کوئی امید بھی نہیں کی جاسکتی۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ تاریخ میں بڑے بڑے علمائے کرام نے ان لوگوں سے دوری اختیار کی ہے، اور ان کو اپنے سے دور رکھا ہے۔

قرآن کریم نے بہت سی آیات میں عقل و برہان اور غور وخوض کے بارے میں توجہ دلائی ہے اور اسی کو ”معرفة اللہ“ کا راستہ بتایا ہے۔(۵)

____________________

(۱) نہج الحق ، ص۵۸ و۵۹.

(۲) دفترپنجم مثنوی ص۸۱۸،طبع سپہر ، تہران.

(۳) دلائل الصدق ، جلد اول، صفحہ ۱۳۷.

(۴) قابل توجہ بات یہ ہے کہ حلول واتحاد کے باطل ہونے کے سلسلہ میں علامہ حلی علیہ الرحمہ نے شرح تجرید الاعتقاد میں مفصل استدلال کے ساتھ بیان کیا ہے، (کشف المراد، صفحہ۲۲۷،باب انہ تعالیٰ لیس بحال فی غیرہ ونفی الاتحاد عنہ).

(۵) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۴، صفحہ ۲۶۷ ، ۲۸۱


۱۶ ۔ بدا ء کیا ہے؟

جیسا کہ ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں:( یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَهُ اٴُمُّ الْکِتَابِ ) (۱)

”اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے یا برقرار رکھتا ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے“۔

مذکورہ بالا آیت کے ذیل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خداوندعالم کے سلسلہ میں ”بداء“ سے کیا مراد ہے؟

”بداء“ کا مسئلہ شیعہ و سنی علماکے درمیان ہونے والی معرکة الآراء بحثوں میں ایک اہم بحث ہے، چنانچہ علامہ فخر الدین رازی اپنی تفسیر میں محل بحث آیت کے ذیل میں کہتے ہیں: ”شیعہ ؛خداوندعالم کے لئے ”بداء“ کو جائز مانتے ہیں، اور ان کے نزدیک بداء کی حقیقت یہ ہے کہ جیسے کوئی شخص کسی چیز کا معتقد ہوجائے لیکن اس کے بعد معلوم ہو کہ وہ چیزاس کے عقیدہ کے برخلاف ہے اور پھر اس سے پھر جائے، اور شیعہ لوگ اپنے اس عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے آیہ مبارکہ( یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَهُ اٴُمُّ الْکِتَابِ ) سے استدلال کرتے ہیں، اس کے بعد فخر رازی مزید کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ باطل اور بے بنیاد ہے، کیونکہ خداوندعالم کا علم ذاتی ہے جس میں تغیر و تبدیلی محال ہے“۔

افسوس کی بات ہے کہ ”بداء“ کے سلسلہ میں شیعوں کے عقیدہ سے مطلع نہ ہونا اس بات کا سبب بنا کہ بہت سے برادران اہل سنت، شیعہ حضرات پر اس طرح کی ناروا تہمتیں لگائیں!

وضاحت: لغت میں ”بداء“ کے معنی واضح یا آشکار ہونے کے ہیں، البتہ پشیمان ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے، کیونکہ جو شخص پشیمان ہوتا ہے اس کے لئے کوئی نئی بات سامنے آتی ہے (تب ہی وہ گزشتہ بات پر پشیمان ہوتا ہے)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان معنی میں ”بداء“ خداوندعالم کے بارے میں صحیح نہیں ہے، اور کوئی بھی عاقل انسان خدا کے بارے میں یہ احتمال نہیں دے سکتا کہ اس سے کوئی چیز مخفی اور پوشیدہ ہو، اور ایک مدت گزرنے کے بعد خدا کے لئے وہ چیز واضح ہوجائے، اصولاً یہ چیز کھلا ہوا کفر اور خدا کے بارے میں بہت بُری بات ہے، کیونکہ اس سے خداوندعالم کی ذات پاک کی طرف جہل و نادانی کی نسبت دینا اور اس کی ذات اقدس کو محل تغیر و حوادث ماننا لازم آتاہے، لہٰذا ہر گزایسا نہیں ہے کہ شیعہ اثنا عشری خداوندعالم کی ذات مقدس کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہوں۔

”بداء“ کے سلسلہ میں شیعوں کا جو عقیدہ ہے اور جس بات پر وہ زور دیتے ہیں وہ یہ ہے جیسا کہ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث میں بیان ہوا ہے :”مَاعَرفَ اللهُ حَقّ معرفتِہ مَنْ لَمْ یعرفہُ بِالبداءِ“ (جو شخص خدا کو ”بداء“ کے ذریعہ سے نہ پہچانے اس نے خدا کو صحیح طریقہ سے نہیں پہچانا) چنانچہ ”بداء“ کے سلسلہ میں اس حدیث کے مطابق شیعوں کا یہی عقیدہ ہے:

اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ظاہری اسباب و علل کے پیش نظر ہم کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ پیش آنے والا ہے، یا خداوندعالم نے کسی واقعہ کے بارے میں اپنے نبی یا رسول کے ذریعہ آگاہ فرمایا دیا تھا لیکن بعد میں وہ واقعہ پیش نہیں آیاتو، ایسے موقع پر ہم کہتے ہیں کہ ”بداء“ حاصل ہوا، یعنی جیسا کہ ظاہری اسباب و علل کے لحاظ سے کسی واقعہ کے بارے میں احساس کررہے تھے اور اس واقعہ کے وقوع کو لازمی اور ضروری سمجھ رہے تھے ایسا نہ ہو بلکہ اس کے خلاف ظاہر ہو۔

اس کی اصلی علت یہ ہے کہ کبھی کبھی ہمیں صرف علت ناقصہ کا علم ہوتا ہے، اور ہم اس کے شرائط و موانع کو نہیں دیکھ پاتے، اسی لحاظ سے فیصلہ کربیٹھتے ہیں، بعد میں اس کی شرط حاصل نہ ہو یا کوئی مانع اور رکاوٹ پیش آجائے اور ہمارے فیصلہ کے برخلاف مسئلہ پیش آئے تو اس طرح کے مسائل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

اسی طرح بعض اوقات پیغمبر یا امام ”لوح محو و اثبات“ سے مطلع ہوتے ہیں جوطبیعی طور پر قابل تغیر و تبدل ہے ، اور کبھی بعض موانع کی بناپریا شرط کے نہ ہونے سے وہ واقعہ پیش نہیں آتا۔

اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے ہم ”نسخ“ اور ”بداء“ کے درمیان ایک موازنہ کرتے ہیں: ہم اس بات کو جانتے ہیں کہ ”نسخِ احکام “ تمام مسلمانوں کی نظر میں جائز ہے، یعنی یہ بات ممکن ہے کہ کوئی حکم گزشتہ شریعت میں نازل ہوا ہو اور لوگوں کو بھی اس بات کا یقین ہو کہ یہ حکم ہمیشہ باقی رہے گا لیکن ایک مدت کے بعد پیغمبر اکرم (ص)کے ذریعہ وہ حکم منسوخ ہوجائے ، اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم آجائے، (جیسا کہ تفسیر، فقہ اور تاریخی کتابوں میں ”تحویل وتبدیل قبلہ“ کا واقعہ موجود ہے)۔

در اصل یہ (نسخ) بھی ایک قسم کا ”بداء“ ہے، لیکن تشریعی امورمیں، قوانین اورا حکام میں ”نسخ“ کہا جاتا ہے، جبکہ تکوینی امورمیں اسی کو ”بداء“ کہا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے بعض اوقات کہا جاتا ہے: ”احکام میں نسخ ایک قسم کا ”بداء“ ہے، اور تکوینی امورمیں”بداء“ ایک قسم کا نسخ ہے“۔

کیا کوئی اس منطقی بات کا انکار کرسکتا ہے؟ صرف وہی اس بات کا انکار کرسکتا ہے جو علت تامہ اور علت ناقصہ کو صحیح طور پر سمجھ نہ سکے، یا شیعہ مخالف گروپ کے غلط پروپیگنڈے سے متاثر ہو ، اور اس کا تعصب اس حد تک بڑھ چکا ہو کہ شیعہ عقائد کے سلسلہ میں شیعہ کتابوں کا مطالعہ نہ کرسکے، تعجب کی بات یہ ہے کہ فخر رازی نے( یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَهُ اٴُمُّ الْکِتَابِ ) کے ذیل میں بداء کے مسئلہ کو بیان کیا ہے لیکن اس بات پر ذرا بھی توجہ نہیں وی کہ بداء ”محو و اثبات“ کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے، اپنے مخصوص تعصب کی بنا پر شیعوں کونشانہ بنایا ہے کہ شیعہ کیوں ”بداء“ کے قائل ہیں؟

(قارئین کرام!) آپ حضرات کی اجازت سے ہم چند ایسے نمونہ بیان کرتے ہیں جن کوسبھی نے قبول کیا ہے۔

۱ ۔ ہم جناب یونس علیہ السلام کے واقعہ میں پڑھتے ہیں کہ آپ کی قوم کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب الٰہی طے ہوگیا، اور جناب یونس علیہ السلام جو اپنی قوم کو قابل ہدایت نہیں جانتے تھے اور ان کو مستحق عذاب جانتے تھے لہٰذا وہ بھی ان کو چھوڑ کر چلے گئے، لیکن اچانک (بداء واقع ہوا) اس قوم کی ایک بزرگ شخصیت نے عذاب الٰہی کے آثار دیکھے تو اپنی قوم کو جمع کیا اور ان کو توبہ کی دعوت دی، سب لوگوں نے توبہ کرلی، ادھر عذاب الٰہی کے جو آثار ظاہر ہوچکے تھے ختم ہوگئے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

( فَلَوْلاَکَانَتْ قَرْیَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِیمَانُهَا إِلاَّ قَوْمَ یُونُسَ لَمَّا آمَنُوا کَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَی حِینٍ ) (۲)

”پس کوئی بستی ایسی کیوں نہیںہے جو ایمان لے آئے اور اس کا ایمان اسے فائدہ پہنچائے ،علاوہ قوم یونس کے کہ جب وہ ایمان لے آئی تو ہم نے ان سے زندگانی دنیا میں رسوائی کا عذاب دفع کردیا اور انھیں ایک مدت تک سکون سے رہنے دیا“۔

۲ ۔ اسلامی تواریخ میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک دلہن کے بارے میں خبر دی تھی کہ وہ شبِ وصال ہی مرجائے گی لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کے برخلاف وہ دلہن زندہ رہی! جس وقت اس سے تفصیل معلوم کی اور سوال کیا: کیا تو نے راہ خدا میں صدقہ دیا ہے؟ تو اس نے کہا: ہاں، میں نے صدقہ دیا تھا، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: صدقہ، یقینی بلاؤں کو بھی دور کردیتا ہے!(۳)

در اصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوح محفوظ سے باخبر تھے جس کی بنا پر انھوں نے اس واقعہ کی خبر دی تھی، جبکہ یہ واقعہ اس شرط پر موقوف تھا (کہ اس راہ میں کوئی مانع پیش نہ آئے مثال کے طور پر”صدقہ“) لیکن جیسے ہی اس راہ میں مانع پیش آگیا تو فوراً نتیجہ بھی بدل گیا۔

۳ ۔ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام بت شکن بہادر کے واقعہ کو قرآن میں پڑھتے ہیں کہ انھیں اسماعیل کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا، لہٰذا وہ اس حکم کی تعمیل کے لئے اپنے فرزند ارجمند کو قربانگاہ میں لے گئے، لیکن جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مکمل تیاری واضح ہوگئی تو ”بداء“ ہوگیا، اور یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ ایک امتحانی حکم تھا، تاکہ جناب ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فزرند ارجمند کی اطاعت و تسلیم کی حد کو آزمایا جاسکے۔

۴ ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں بھی بیان ہوا ہے کہ پہلے انھیں حکم دیا گیا کہ تیس دن تک کے لئے اپنی قوم کوچھوڑ دیں اور احکام توریت حاصل کرنے کے لئے الٰہی وعدہ گاہ پر جائیں، لیکن بعد میں اس مدت میں دس دن کا اور اضافہ کیا (تاکہ بنی اسرائیل کی آزمائش ہوسکے)

(قارئین کرام!) یہاں پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ”بداء“ کا فائدہ کیا ہے؟

اس سوال کا جواب گزشتہ مطالب کے پیش نظر کوئی مشکل کام نہیں ہے، کیونکہ کبھی کبھی اہم مسائل جیسے کسی شخص یا قوم و ملت کا امتحان، یا توبہ و استغفار کی تاثیر(جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ میں بیان ہوا ہے) یا صدقہ ، غریبوں کی مدد کرنا یا نیک کام انجام دینا یہ سب خطرناک واقعات کو برطرف کرنے میں موثر ہوتے ہیں ، یہ امور باعث بنتے ہیں کہ آئندہ کے وہ حادثات جو

پہلے دوسرے طریقہ سے طے ہوتے ہیں لیکن بعد میں خاص شرائط کے تحت ان کو بدل دیا جاتا ہے تاکہ عام لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کی زندگی کے حالات ان کے ہاتھوں میں ہے، اور اپنے چال چلن اور راہ و روش کو تبدیل کرکے اپنی زندگی کے حالات بدل سکتے ہیں، اور یہی ”بداء“ کا سب سے بڑا فائدہ ہے (غور کیجئے )

جیسا کہ ہم نے گزشتہ حدیث میں پڑھا ہے کہ ”جو شخص خدا کو ”بداء“ کے ذریعہ سے نہ پہچانے اس نے خدا کو صحیح طریقہ سے نہیں پہچانا“ اس حدیث میں انھیں حقائق کی طرف اشارہ ہے۔

لہٰذا حضرت امام صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:

مَا بَعَثَ اللهعزَّ وَجَلَّ نَبِیًّا حَتّٰی یاٴخذ ُعلَیهِ ثلاثُ خِصَالٍ، الإقرار بالعبودیة، وَخلع الاٴنداد ،وإنَّ الله یقدِّم مَا یَشاءُ وَیوخِّرُ مَا یشاءُ(۴)

”خداوندعالم نے کسی نبی یا پیغمبر کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ ان سے تین چیزوں کے بارے میں عہد و پیمان لیا: خداوندعالم کی بندگی کا اقرار، ہر طرح کے شرک کی نفی، اور یہ کہ خداوندعالم جس چیز کو چاہے مقدم و موخر کرے“۔

در اصل سب سے پہلا عہد و پیمان خداوندعالم کی اطاعت اور اس کے سامنے تسلیم رہنے سے متعلق ہے، اور دوسرا عہد و پیمان شرک سے مقابلہ ہے اور تیسرا عہد و پیمان ”بداء“ سے متعلق ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی سرگزشت خود اپنے ہاتھوں میں ہوتی ہے یعنی اگرانسان اپنی زندگی کے حالات اور شرائط کو بدل دے تو اس پر یا رحمت خدا نازل ہوتی ہے یا وہ عذاب الٰہی سے دوچار ہوتا ہے۔

(قارئین کرام!) آخر کلام میں عرض کیا جائے، گزشتہ وجوہات کی بنا پر علمائے شیعہ کہتے ہیں کہ جس ”بداء“کی نسبت خداوندعالم کی طرف دی جاتی ہے تو اس کے معنی ”ابداء“ کے ہیں یعنی کسی

چیز کو واضح اور ظاہر کرنا جو کہ پہلے ظاہر نہیں تھی اور اس کے بارے میں پیشین گوئی نہیں کی گئی تھی۔

لیکن شیعوں کی طرف یہ نسبت دینا کہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خدا کبھی کبھی اپنے کاموں پر پشیمان اور شرمندہ ہوجاتا ہے یا بعد میں ایسی چیز سے باخبر ہوتا ہے جو پہلے معلوم نہ ہو، تو یہ سب سے بڑا ظلم و خیانت ہے اور ایک ایسی تہمت ہے جس کو کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔

اسی وجہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہوا ہے:

مَنْ زَعَمَ اٴَنَّ اللهَ عزَّ وَجَلَّ یبدو لَهُ فِی شَیءٍ لَمْ یعلمُهُ اٴمس فابرؤا منه(۵)(۶)

”جو شخص گمان کرے کہ خداوندعالم کے لئے آج وہ چیز واضح و آشکار ہوگئی ہے جو کل واضح نہیں تھی تو ایسے شخص سے نفرت اور بیزاری اختیار کرو“۔

____________________

(۱) سورہ رعد ، آیت ۳۹

(۲) سورہ یونس ، آیت ۹۸.

(۳) بحار الانوار ،، جلد ۲ ، صفحہ ۱۳۱، ۔چاپ قدیم ،از امالی شیخ صدوق.

(۴) اصول کافی ، جلد اول، صفحہ ۱۱۴، سفینة البحار ، جلد اول، صفحہ ۶۱.

(۵) سفینة البحار ، جلداول، صفحہ ۶۱.

(۶) تفسیر نمونہ ، جلد۱۰، صفحہ ۲۴۵.


۱۷ ۔ کیا اولیاء اللہ کو وسیلہ قراردینا توحید خداکے مخالف ہے؟

(قارئین کرام!) پہلے ہی یہ نکتہ عرض کردینا ضروری ہے کہ توسل سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان پیامبر اکرم (ص) یا ائمہ علیہم السلام سے مستقل طور پر کوئی چیز طلب کرے بلکہ توسل سے مراد یہ ہے کہ اعمال صالحہ یا پیغمبر اور امام کی اطاعت و پیروی کے ذریعہ یا ان حضرات کی شفاعت یا خداوندعالم کو ان حضرات کے عظیم مرتبہ کی قسم دے کر( جو خود ایک طرح سے ان کی عظمت اور بلندی کا احترام کرنا ہے اور ایک طرح سے خداکی عبادت ہے) خداوندعالم سے کوئی چیز مانگی جائے تو اس میں نہ کسی طرح کا کوئی شرک ہے اور نہ ہی یہ قرآنی آیات کے مخالف ہے۔

اس کے علاوہ قرآنی آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خداوندعالم کو کسی صالح اور نیک انسان کی عظمت کا واسطہ دے کر اس سے کوئی چیز طلب کرنے میں کوئی قباحت نہیں اور توحید خدا سے بھی منافی نہیں ہے، جیسا کہ سورہ نساء میں ارشاد ہوتا ہے:( وَلَوْ اٴَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَهُمْ جَاوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا ) (۱)

”اور کا ش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتا تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے“۔

توسل اور اسلامی روایات

توسل کے سلسلہ میں اہل سنت اور شیعہ کتابوں میں بہت سی روایات بیان ہوئی ہیں جن سے مکمل طور پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ توسل اور وسیلہ قرار دینے میں کوئی اشکال نہیں پایا جاتا، بلکہ ایک نیک کام ہے، اس سلسلہ میں بہت زیادہ روایات ہیں اور بہت سی کتابوں میں نقل بھی ہوئی ہیں، ہم نمونہ کے طور پراہل سنت کی مشہور و معروف کتابوں سے چند روایات کو نقل کرتے ہیں:

۱ ۔ مشہور ومعروف سنی عالم دین ”سمہودی“ اپنی کتاب ”وفاء الوفاء“ میں رقمطراز ہیں: پیغمبر اکرم (ص) یا آپ کی عظمت و بزرگی کے واسطہ سے خدا کی بارگاہ میں مدد طلب کرنا، شفاعت چاہنا ، آنحضرت کی خلقت سے پہلے بھی جائز تھا ،آپکی پیدائش کے بعد اور آپکی وفات کے بعد ، عالم برزخ اور روز قیامت میں بھی جائز ہے، اس کے بعد حضرت عمر بن خطاب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (ص) سے توسل کیا: جناب آدم علیہ السلام پیغمبر اکرم کی خلقت کے بارے میں علم حاصل کرنے کے بعد خداوندعالم کی بارگاہ میں اس طرح عرض کرتے ہیں:

یَا ربِّ اٴسئلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ لِمَا غَفرتَ لِی(۲)

”پالنے والے! تجھے محمد( (ص) )کا واسطہ، تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے معاف کردے“۔

اس کے بعد اہل سنت کے مشہور و معروف دانشوروں جیسے ”نسائی“ اور ”ترمذی“ سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں او ر اس کو توسل کے جواز پر شاہد کے عنوان سے نقل کرتے ہیں، جس حدیث کا خلاصہ یہ ہے:ایک نابینا شخص نے پیغمبر اکرم (ص) سے اپنی بیماری کی شفاء کے لئے درخواست کی تو پیغمبر اکرم (ص) نے حکم دیا کہ اس طرح دعا کرو:

اَللَّهُمَّ إنِّی اٴسئلُکَ وَاٴتَوجَّهُ إلَیْکَ بِنَیِّکَ مُحَمَّد نَبِیِّ الرَّحمةِ یَا مُحمَّد إنِّی تَوجهتُ بِکَ إلیٰ ربّي فِی حَاجَتِی لِتقضی لِي اٴللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيّ(۱)

”پالنے والے! تیرے پیغمبر رحمت کے واسطہ سے تجھ سے درخواست کرتا ہوں اور اے محمد! آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور آپ ہی کے واسطہ سے اپنی حاجت روائی کے لئے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں، پالنے والے! آنحضرت ( (ص)) کو میرا شفیع قرار دے“۔

اس کے بعد پیغمبراکرم (ص) کی وفات کے بعد توسل کے جواز کو ثابت کرنے کے لئے یوں بیان کرتے ہیں: حضرت عثمان کے زمانہ میں ایک حاجت مند پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کے نزدیک آیا اور اس نے نماز پڑھی اور اس طرح دعا کرنے لگا:

اَللَّهُمَّ إنِّی اٴسئلُکَ وَاٴتَوجَّهُ إلَیْکَبِنَبِیِّنَا مُحَمَّد نَبِیِّ الرَّحمةِ یَا مُحمَّد إنِّی اٴتوجه إلیٰ رَبکَ اَنْ تَقْضي حَاجَتِي(۳)

”پالنے والے! تیری بارگاہ میں پیغمبر اکرم( (ص) )، پیغمبر رحمت کے وسیلہ سے درخواست کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! آپ کے وسیلہ سے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں تاکہ میری مشکل آسان ہوجائے“۔

کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس کی مشکل آسان ہوگئی۔(۴)

۲ ۔ ”التوصل الی حقیقة التوسل“ کے مولف مختلف منابع و مآخذ سے ۲۶/ احادیث نقل کرتے ہیں جن سے توسل کا جائز ہونا سمجھ میں آتا ہے، اگرچہ موصوف نے ان احادیث کی سند میں اشکال کرنا چاہا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ جب روایات زیادہ ہوجاتی ہیں اور تواتر(۵) کی حد تک پہنچ جاتی ہیں تو پھر سند میں اشکال و اعتراض کی گنجائش نہیں رہتی، اور مخفی نہ رہے کہ توسل کے سلسلہ میں احادیث تواتر کی حد سے بھی زیادہ ہیں، ان کی نقل کی ہوئی روایات میں سے ایک یہ ہے:

”ابن حجر مکی“ اپنی کتاب ”الصواعق المحرقہ“ میں اہل سنت کے مشہور و معروف”امام شافعی“ سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے اہل بیت پیغمبر سے توسل کیا اور اس طرح کہا:

آل النَبِيّ ذَریعَتِي وَهُمْ إلَیه وَسیلتي

اٴرْجُوْبِهمْ اٴعطي غَداً ِبیَدِ الیَمِینِ صَحِیفَتِي(۶)

”آل پیغمبر میرا وسیلہ ہیں ، اور وہی خدا کی بارگاہ میں میرے لئے باعث تقرب ہیں “

” میں امیدوار ہوں کہ ان کے وسیلہ سے میرا نامہ اعمال میرے داہنے ہاتھ میں دیا جائے“

اسی طرح ”بیہقی“ بھی نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ دوم کی خلافت کے زمانہ میں قحط پڑا، جناب بلال چند اصحاب کے ساتھ پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک پر آئے اور اس طرح عرض کی:

”یَا رَسُولَ الله استسق لاٴمّتک فَإنَّهُم قَد هَلَکُوا “ (۷)

”یا رسول اللہ! اپنی امت کے لئے باران رحمت طلب فرمائیے کیونکہ آپ کی امت ہلاک ہوا چاہتی ہے“۔

یہاں تک کہ ابن حجر اپنی کتاب ”الخیرات الحسان“ میں نقل کرتے ہیں کہ ”امام شافعی“ بغداد میں قیام کے دوران ”ابو حنیفہ“کی زیارت کے لئے جاتے تھے، اور اپنی حاجتوں میں ان کو وسیلہ بناتے تھے اور ان سے متوسل ہوتے تھے۔(۸)

نیز ”صحیح دارمی“ میں ”ابی الجوزاء“ سے نقل ہوا ہے کہ ایک سال مدینہ میں بہت سخت قحط پڑگیا، بعض افراد جناب عائشہ کی خدمت میں جاکر شکایت کرنے لگے، اور ان سے درخواست کی کہ قبر پیغمبر کی چھت میں سوراخ کردیا جائے تاکہ قبر پیغمبر کی برکت سے خداوندعالم باران رحمت نازل فرمادے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور اس وقت بہت زیادہ بارش ہوئی!

تفسیر ”آلوسی“ میں اس سلسلہ میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں اور پھر ان احادیث کا مفصل طریقہ سے تجزیہ و تحلیل کرنے کے بعد اور مذکورہ احادیث میں بہت سخت رویہ اختیار کرنے کے بعد ان کا اعتراف کرتے ہوئے اس طرح کہتے ہیں:

”اس گفتگو کے تمام ہونے کے بعد میرے نزدیک کوئی مانع نہیں ہے کہ خداوندعالم کی بارگاہ میں پیغمبر اکرم (ص) کو وسیلہ قرار دیا جائے، چاہے پیغمبر اکرم کی زندگی میں ہو یا آنحضرت کے انتقال کے بعد “ موصوف اس سلسلہ میں کافی بحث کرنے کے بعد مزید فرماتے ہیں: ”خداوندعالم کی بارگاہ میں پیغمبر کے علاوہ کسی دوسرے سے توسل کرنے میں بھی کوئی ممانعت نہیں ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پیغمبر کے علاوہ جس کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بنایا جائے اس کا مرتبہ خدا کی نظر میں بلند و بالا ہو۔(۹)

لیکن شیعہ منابع و مآخذ میں وسیلہ اور توسل کا موضوع اس قدر واضح ہے کہ اس کو بیان کرنے کی (بھی) ضرورت نہیں ہے۔

چند ضروری نکات:

(قارئین کرام!) یہاں پر چند نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے:

۱ ۔ توسل اور وسیلہ سے یہ مراد نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) یا ائمہ معصومین علیہم السلام سے کوئی شخص اپنی حاجات طلب کرے ، بلکہ مراد یہ ہے کہ خدا کی بارگاہ میں پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی عظمت اور بلندی کے ذریعہ متوسل ہو، اور یہ کام درحقیقت خداو ندعالم کی طرف توجہ کرنا ہے، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) کا احترام بھی خداکی وجہ سے ہے کہ آپ خدا کے رسول ہیں، اس کی راہ پر چلے، ان باتوں کے باوجود ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو اس طرح کے توسل کو شرک کی ایک قسم کہہ دیتے ہیں جبکہ شرک یہ ہے کہ خدا کی صفات اور اس کے اعمال میں کسی کو شریک مانیں ، جبکہ اس طرح کا توسل شرک سے کوئی شباہت نہیں رکھتا۔

۲ ۔ بعض لوگوں نے اس بات کی بہت کوشش کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ علیہم السلام کی حیات اور وفات میں فرق قراردیں ، حالانکہ مذکورہ روایات جن میں بہت سی روایات وفات کے بارے میں ہیں؛ لہٰذا ان کے پیش نظر مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ انبیاء اور صالحین وفات کے بعد ”برزخی حیات “ رکھتے ہیں جو کہ دنیاوی زندگی سے وسیع تر ہے جیسا کہ شہداء کے بارے میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ ان کو مردہ تصور نہ کرو وہ زندہ ہیں اور خدا کی طرف سے رزق پاتے ہیں۔(۱۰)

۳ ۔ بعض لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) سے دعا کی درخواست اور خدا کی بارگا ہ میں ان کی عظمت کی قسم دینے میں فرق ہے، لہٰذا دعا کی درخواست کو جائز اور خدا کی بارگاہ میں ان کی عظمت کی قسم دینے کو حرام جانتے ہیں، حالانکہ ان دونوں کے درمیان کسی بھی طرح کا کوئی منطقی فرق دکھائی نہیں دیتا۔

۴ ۔ بعض علمائے اہل سنت خصوصاً ”وہابی علماء“ اپنی خاص ہٹ دھرمی کی بنا پر کوشش کرتے ہیں کہ وسیلہ اور توسل کے بارے میں بیان ہونے والی تمام احادیث کو ضعیف اور کمزور ثابت کرڈالیں، اس سلسلہ میں بے بنیاد اعتراضات کرتے ہیں جو درحقیقت بہت پرانے ہوچکے ہیں، جن کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ایک انصاف پسند انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ ان لوگوں نے پہلے اپنا عقیدہ معین کرلیا ہے اور پھر اپنے عقیدہ کو اسلامی روایات پر ”تھوپنا“ چاہتے ہیں، اور ایسا ہی کرتے ہیں اور جو کچھ ان کے عقیدہ کے خلاف ہوتا ہے اس کو چھوڑدیتے ہیں، جبکہ ایک تحقیق کرنے والا محقق انسان اس طرح کی غیر منطقی اور تعصب آمیز بحث کو قبول نہیں کرسکتا۔

۵ ۔ ہم بیان کرچکے ہیں کہ توسل کے سلسلہ میں بیان شدہ روایات حدّ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں، یعنی اس قدر ہیں کہ ان کی سند میں بحث کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، اس کے علاوہ ان کے درمیان بہت زیادہ صحیح روایات بھی ہیں، لہٰذا ان کی اسناد میں اعتراض و اشکال کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔

۶ ۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آیہ شریفہ کے ذیل میں بیان ہونے والی روایات کا مفہوم یہ ہے کہ پیغمبر اکرم نے اصحاب سے فرمایا: ”خداوندعالم سے میرے لئے ”وسیلہ“ طلب کرو“ یا جیسا کہ اصول کافی میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ بہشت میں وسیلہ سب سے بلند و بالا مقام ہے، اور جیسا کہ ہم نے آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے؛ ان کے درمیان کسی طرح کا کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ ہم نے بارہا عرض کیا ہے کہ ہر طرح کے تقربِ خدا پر ”وسیلہ“ صادق آتا ہے اور پیغمبر اکرم (ص)کے ذریعے تقرب خداحاصل کرنے کانام وسیلہ ہے جو کہ جنت میں سب سے بلند و بالا مقام ہے ۔(۱۱) .

____________________

(۱)سورہ نساء ، آیت ۶۴.

(۲) وفاء الوفاء ، جلد ۳، صفحہ ۱۳۷۱۔ کتاب (التوصل الی حقیقة التوسل میں ، صفحہ ۲۱۵، مذکورہ حدیث کو -” دلائل النبوة“ میں بیہقی نے بھی نقل کیا ہے.

(۳) وفاء الوفاء ،صفحہ۱۳۷۲.

(۴) وفاء الوفاء ، صفحہ ۱۳۷۳.

(۵) علم حدیث میں ”حدیث تواتر“ اس حدیث کو کہا جاتا ہے جس کے راویوں کی تعداد اس حد تک ہو کہ ان کی ایک ساتھ جمع ہوکر سازش کا قابل اعتماد احتمال نہ ہو (مترجم).

(۶) التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۲۹.

(۷) التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۵۳.

(۸) التوصل الی حقیقة التوسل، صفحہ ۳۳۱

(۹) روح المعانی ، جلد ۴۔۶، صفحہ ۱۱۴۔ ۱۱۵

(۱۰) سورہ آل عمران ، آیت۱۶۹.

(۱۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۳۶۶.


۱۸ ۔ دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں بلند کرتے ہیں؟

اکثر اوقات عوام الناس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خداوندعالم کے لئے کوئی (خاص) محل و مکان نہیں ہے تو پھر دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں اٹھاتے ہیں؟ کیوں آسمان کی طرف آنکھیں متوجہ کی جاتی ہیں؟ نعوذ بالله کیا خداوندعالم آسمان میں ہے؟

(قارئین کرام!) یہ سوال حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ہوتا تھا، جیسا کہ ہمیں تاریخ میں ملتا ہے کہ ”ہشام بن حکم“ کہتے ہیں: ایک زندیق حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور اس نے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا:

( اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ )

”وہ رحمن عرش پر اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے“۔

امام علیہ السلام نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: خداوندعالم کو کسی جگہ اور کسی مخلوق کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہے۔

سوال کرنے والے نے عرض کی: تو پھر کوئی فرق نہیں ہے کہ (دعا کے وقت) چاہے ہاتھ آسمان کی طرف بلند ہوں یا زمین کی طرف؟!

اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ موضوع خداوندعالم کے علم و احاطہ میں برابر ہے (اور کوئی فرق نہیں ہے) لیکن خداوندعالم نے اپنے انبیاء اور صالح بندوں کو خود حکم دیا کہ اپنے ہاتھوں کو آسمان اور عرش کی طرف اٹھائیں، کیونکہ معدنِ رزق وہیں ہے، جو کچھ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے ہم اس کو ثابت مانتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اپنے ہاتھوں کو خداوندعالم کی بارگاہ میں بلند کرو، اس بات پر تمام امت کا اتفاق اور اجماع ہے۔

اسی طرح کتاب خصال (شیخ صدوق علیہ الرحمہ) میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے: ”إذَا فَرغَ اٴحدکُم مِنَ الصَّلوٰةِ فَلیرفعُ یدیهِ إلیٰ السَّمَاءِ، ولینصَّب فِي الدعاءِ “ ”جب تم نماز سے فارغ ہوجاو تو اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرو اور دعا میں مشغول ہوجاؤ“۔

اس وقت ایک شخص نے عرض کیا: یا امیر المومنین! کیا خداوندعالم سب جگہ موجود نہیں ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! سب جگہ موجود ہے۔

اس شخص نے عرض کیا: تو پھر بندے آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کوکیوں اٹھائیں؟

اس موقع پر امام علیہ السلام نے درج ذیل آیہ شریفہ کی تلاوت فرمائی:

( وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ )

” اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جن باتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (سبب کچھ موجودہے)“۔

ان روایات کے مطابق چونکہ انسان کا اکثر رزق آسمان سے ہے، ( بارش؛ جس سے بنجر زمین زراعت کے لائق ہوجاتی ہے، آسمان سے نازل ہوتی ہے، سورج کی روشنی جو کہ زندگی اور حیات کا مرکز ہے، آسمان سے آتی ہے ، ہوا بھی آسمان میں ہے جو کہ زندگی کے لئے تیسرا اہم سبب ہے) اور آسمان رزق اور برکات الٰہی کا معدن و مرکز ہے، لہٰذا دعا کے وقت آسمان کی طرف توجہ کی جاتی ہے اور رزق و روزی کے مالک و خالق سے اپنی مشکلات کے حل کی دعا کی جاتی ہے۔

بعض روایات میں اس کام کے لئے ایک دوسرا فلسفہ بھی بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہے خداوندعالم کی بارگاہ میں خضوع و تذلل کرنا، کیونکہ ہم کسی شخص یا کسی شئے کے سامنے تواضع کے اظہار کے وقت اور تسلیم ہوتے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہیں۔


۱۹ ۔ کیا انسانوں میں پیدائشی فرق ؛ خدا وندعالم کی عدالت سے ہم آہنگ ہے؟

جیسا کہ ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں :( وَلٰا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ ) (۱)

”اور خبر دار جو خدا نے بعض افراد کو بعض سے کچھ زیادہ دیا ہے اس کی تمنا اور آرزو نہ کرنا“۔

اس آیہ --شریفہ کے پیش نظر بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی استعداد اور قابلیت زیادہ اور بعض لوگوں کی استعداد کم کیوں ہے؟ اسی طرح بعض لوگ دوسروں سے زیادہ خوبصورت اور بعض کم خوبصورت ہیں، نیز بعض لوگ بہت زیادہ طاقتور اور بعض معمولی طاقت رکھتے ہیں، کیا یہ فرق خداوندعالم کی عدالت کے منافی نہیںہے؟

اس سوال کے ذیل میں ہم چند نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱ ۔ بعض لوگوں میں جسمانی یا روحانی فرق کا ایک حصہ طبقاتی نظام، اجتماعی ظلم و ستم یا ذاتی سستی اور کاہلی کا نتیجہ ہوتا ہے جس کا نظام خلقت سے کوئی سروکار نہیں، مثال کے طور پر بہت سے

مالدار لوگوں کی اولاد غریب لوگوں کی اولاد کی نسبت جسمی لحاظ سے طاقتور، خوبصورتی کے لحاظ سے بہتر اور استعداد و قابلیت کے لحاظ سے بہت آگے ہوتی ہے، کیونکہ ان کے یہاں غذائی اشیاء کافی مقدار میں ہوتی ہیں اور صفائی کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، جبکہ غریب لوگوں کے یہاں یہ چیزیں نہیں ہوتیں، یا بہت سے لوگ سستی اور کاہلی سے کام لیتے ہیں اور اپنی جسمانی طاقت کھوبیٹھتے ہیں، لہٰذا اس طرح کے فرق کو ”جعلی اور بے دلیل“ کہا جائے گا جو طبقاتی نظام کے خاتمہ اور معاشرہ میں عدل و انصاف کا ماحول پیدا ہونے سے خود بخود ختم ہوجائے گا ، قرآن کریم نے اس طرح کے فرق کو کبھی بھی صحیح نہیں مانا ہے۔

۲ ۔ اس فرق کا ایک حصہ انسانی خلقت کا لازمہ اور ایک طبیعی چیز ہے یعنی اگر کسی معاشرہ میں مکمل طور پر عدل و انصاف پایا جاتا ہو تو بھی تمام لوگ ایک کارخانہ کی مصنوعات کی طرح ایک جیسے نہیں ہوسکتے، طبیعی طور پر ایک دوسرے میں فرق ہونا چاہئے ، لیکن یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ معمولاً خداداد صلاحتیں اور روحی و جسمی استعداد اس طرح تقسیم ہوئی ہیں کہ ہر انسان میں استعدادکا ایک حصہ پایا جاتا ہے یعنی بہت ہی کم لوگ ایسے ملیں گے کہ یہ تمام چیزیں ان میں جمع ہوں، ایک انسان، جسمانی طاقت سے سرفرازہے تو دوسرا علم حساب میں بہترین استعداد کا مالک ہے، کسی انسان میں شعرکہنے کی صلاحیت ہوتی ہے تو دوسرے میں تجارت کا سلیقہ پایاجاتا ہے، بعض میں زراعتی امور انجام دینے کی طاقت پائی جاتی ہے، اور بعض دوسرے لوگوں میں دوسری مخصوص صلاحتیں ہوتی ہیں، اہم بات یہ ہے کہ معاشرہ یا انسان اپنی صلاحیت کوبروئے کار لائے اور صحیح ماحول میں اس کی پرورش کرے تاکہ ہر انسان اپنی صلاحیت کو ظاہر کرسکے اور اس سے حتی الامکان سرفرازہوسکے۔

۳ ۔ اس نکتہ پر بھی توجہ کرنی چاہئے کہ ایک معاشرہ کے لئے انسانی بدن کی طرح مختلف چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے یعنی اگر ایک بدن کے تمام اعضا اور خلیے ( Cells )ظریف اور لطیف ہوں گے جیسے آنکھ، کان اور مغز وغیرہ کے خلیے تو انسان میں دوام پیدا نہیں ہوسکے گا، یا اگر انسانی جسم کے تمام اعضا نرم نہ ہوں بلکہ ہڈیوں کے خلیوں کی طرح سخت ہوں تو وہ مختلف کاموں کے لئے بے کار ہیں(اور اس صورت میں انسان زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتا) بلکہ انسان کے جسم کے لئے مختلف خُلیوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک عضو میں سننے کی صلاحیت ہوتی ہے تو دوسرے میں دیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے زبان سے گفتگو کی جاتی ہے، پیروں سے ادھر ادھر جانا ہوتا ہے، لہٰذا جس طرح انسان کے لئے مختلف اعضا و جوارح کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ایک ”عمدہ معاشرہ“ کے لئے مختلف صلاحیتوں اور استعداد کی ضرورت ہوتی ہے جن میں سے بعض لوگ بدنی طور پر کام کریں اوربعض لوگ علمی اور غور و فکر کا کام انجام دیں، لیکن یہ نہیں کہ معاشرہ میں کچھ لوگ غربت اور پریشانی کی زندگی بسر کریں، یا ان کی خدمات کو اہمیت نہ دی جائے یا ان کو ذلت کی نگاہ سے دیکھا جائے ، جس طرح سے انسانی اعضا و جوارح اپنے تمام تر فرق کے باوجود ہر قسم کی غذا اور دوسری ضرروتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انسان میں روحی اور جسمی طبیعی اختلاف خداوندعالم کی حکمت کے عین مطابق ہے اور خداوندعالم کی عدالت، حکمت سے کبھی جدا نہیں ہوتی ، مثال کے طور پر اگر انسان کے تمام اعضا ایک ہی طرح کے خلق کئے جاتے تو اس کی حکمت کے منافی تھااور یہ عدالت نہ ہوتی، جبکہ عدالت کے معنی ہر چیز کو اس کی جگہ پر قرار دینے کے ہیں، اسی طرح اگر معاشرہ کے تمام لوگ ایک روز ایک ہی بات سوچیں اور ایک دوسرے کی استعداد برابر ہوجائے تو اسی ایک دن میں معاشرہ کی حالت درہم و برہم ہوجائے گی!(۲)

____________________

(۱) سورہ نساء ، آیت نمبر ۳۲

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۵ ۳۶


۲۰ ۔ کیا روزی کے لحاظ سے لوگوں میں موجودہ فرق ، عدالت الٰہی سے ہم آہنگ ہے؟

قرآن کریم کے سورہ نحل میں ارشاد ہوتا ہے:( وَاللهُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ ) (۱) ”خداوندعالم نے تم میں سے بعض لوگوں کو روزی کے لحاظ سے بعض دوسرے لوگوں پر برتری دی ہے“۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان رزق و روزی کے لحاظ سے فرق قرار دینا ؛ کیا خداوندعالم کی عدالت اور معاشرہ کے لئے ضروری مساوات سے ہم آہنگ ہے؟

(قارئین کرام!) اس سوال کے جواب میں دو نکتوں کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے:

۱ ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مادی اسباب اور مال و دولت کے لحاظ سے انسانوں کے درمیان پائے جانے والے فرق کی اہم وجہ خودانسانوں کی استعداد اور صلاحیت ہے، انسان میں موجودہ جسمی اور عقلی یہی فرق ہی باعث ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کے پاس بہت زیادہ مال و s دولت جمع ہوجائے اور بعض دوسروں کے پاس نسبتاً کم رہے۔

البتہ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ بعض لوگ اتفاقات کی بنا پر مالدار بن جاتے ہیں جو کہ خود ہمارے نظریہ کے مطابق صرف ایک اتفاق ہوتا ہے لیکن ایسی چیزوں کومستثنیٰ شمار کیا جاسکتا ہے، ہاں جو چیز اکثر اوقات قاعدہ و قانون کے تحت ہوتی ہے تو وہ استعداد وصلاحیت اور انسان کی کارکردگی کا فرق ہے (البتہ ہماری گفتگو ایسے سالم معاشرہ کے بارے میں ہے جس میں ظلم و ستم نہ ہو اور نہ ہی استثمار، اور نہ ہی ایسا معاشرہ جو قوانین خلقت اور انسانی نظام سے بالکل دور ہو)

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ کبھی کبھی ہم جن لوگوں کو اپاہج (لولا او رلنگڑا) اور کم اہمیت سمجھتے ہیں وہ بہت زیادہ مال و دولت جمع کرلیتے ہیں اور اگر ان کے جسم و عقل کے بارے میں مزید غور و فکر کریں اور ظاہری طور پر فیصلہ کرنے کے بجائے گہرائی سے سوچیں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ ان کے اندر کچھ ایسی طاقتور چیزیںپائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے وہ اس مقام تک پہنچے ہیں، (ایک بار پھر اس بات کی تکرار کرتے ہیں کہ ہماری بحث ایک سالم اور ظلم و ستم سے دور معاشرہ کے بارے میں ہے)۔

بہر حال استعداد اور صلاحیت کی وجہ سے آمدنی میں فرق ہوتا ہے، اور استعداد خداوندعالم کی عطا کردہ نعمت ہے، ہوسکتا ہے بعض مقامات میں انسان سعی و کوشش کے ذریعہ کسب کرلے، لیکن دیگر مواقع پر انسان کسب نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ ایک سالم معاشرہ میں بھی اقتصادی لحاظ سے درآمد میں فرق پایا جانا چاہئے، مگر یہ کہ ایک جیسے انسان، ایک جیسی استعداد اور ایک جیسے رنگ کے انسان بن جائیں کہ جن میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق نہ ہو، جو خود مشکلات اور پریشانیوں کی ابتدا ہے!

۲ ۔ کسی انسان کے بدن، یا کسی درخت یا کسی پھول کو مد نظر رکھیں ، کیا یہ ممکن ہے کہ ان تمام چیزوں کے جسم کے تمام اعضا ہر لحاظ سے ایک جیسے ہوجائیں؟

تو کیا درختوں کی جڑوں کی طاقت نازک پتوں کی طرح یا انسان کے پیر کی ایڑی ،آنکھ کے نازک پردہ کی طرح ہوسکتی ہے؟ اگر ہم ان کو ایک جیسا بنادیں تو کیا ہمارے اس کام کو صحیح کہا جاسکے گا؟! (اگر یہ نازک آنکھ، ایڑی کی طرح سخت یا ایڑی ،آنکھ کی طرح نرم ہوجائے تو انسان کتنے دن زندہ رہ سکتا ہے؟!!)

اگر جھوٹے نعرے اور شعور سے خالی نعروں کو دور رکھ کر فرض کریں کہ اگر ہم نے کسی روز تمام انسانوں کو ایک طرح بنادیا جو ہر لحاظ سے ایک جیسے ہوں ، اور دنیا کی آبادی پانچ ارب فرض کریں اور وہ سبھی ذوق، فکر اور صلاحیت بلکہ ہر لحاظ سے ایک جیسے ہوں، بالکل ایک کارخانہ سے بننے والی سگریٹ کی طرح۔

تو کیا اس وقت انسان بہتر طور پر زندگی گزار سکے گا؟ قطعی طور پر جواب منفی ہوگا، یہی نہیں بلکہ دنیا ایک جہنم بن جائے گی، سب لوگ ایک چیز کی طرف دوڑیں گے، ایک ہی عہدہ کے طالب ہوں گے، سب کو ایک ہی کھانا اچھا لگے گا، اور سب ایک ہی کام کرنا چاہیں گے!

یہ بات مکمل طور پرواضح ہے کہ اس طرح زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی، اور اگر یہ گاڑی چلی بھی تو واقعاً بور کرنے والی ، بے مزہ اور ایک طرح کی ہوگی، جس کا موت سے کوئی زیادہ فرق نہیں ہوگا۔

اجتماعی زندگی کی بقا بلکہ مختلف استعداد کی پرورش کے لئے نہایت ضروری ہے کہ استعداد اور صلاحیت میں فرق ہو، جھوٹے نعرے اس حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔

لیکن اس بات سے کوئی یہ مطلب نہ نکالے کہ ہم طبقاتی نظام یا استعماری نظام کو قبول کرتے ہیں، نہیں ، ہرگز نہیں، ہماری مراد طبیعی فرق ہے نہ کہ مصنوعی، اور وہ فرق مراد ہے جو ایک دوسرے کے تعاون کا باعث ہو، نہ کہ ایک دوسرے کی ترقی میں رکاوٹ بنے، اورجس سے ایک دوسرے پر ظلم و ستم کیا جائے۔

طبقاتی اختلاف (توجہ رہے کہ طبقات سے مراد وہی استثماری نظام اور استثماری نظام کو قبول کرنے والے لوگ ہیں) نظام خلقت کے موافق نہیں ہے ، بلکہ نظام خلقت سے موافق استعداد اور صلاحیت اور سعی و کوشش کا فرق ہے، او ران دونوں کے درمیان زمین تا آسمان فرق ہے۔ (غور کیجئے )

دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ استعداد اور لیاقت کے فرق سے اپنی اور معاشرہ کی فلاح و بہبود کے راستہ میں مدد لی جائے، بالکل ایک بدن کے اعضا کے فرق کی طرح، یا ایک پھول کے مختلف حصوں کی طرح، جو اپنے فرق کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے مددگار ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے لئے باعث زحمت و پریشانی۔

المختصر : استعداد اور صلاحیت کے فرق سے غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے ، اور نہ ہی اس کو طبقاتی نظام بنانے میں بروئے کار لانا چاہئے۔

اسی وجہ سے قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( اٴَفَبِنِعْمَةِ اللهِ یَجْحَدُون ) (۲) ”کیا خداوندعالم کی عطا کردہ نعمتوں کا انکار کرتے ہو؟“۔

اس آیت میں طبیعی طور پر فرق (نہ کہ مصنوعی اور ظالمانہ فرق) خداوندعالم کی ان نعمتوں میں سے ہے جس کو معاشرہ کی بقا کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔(۳)

____________________

(۱) سورہ نحل ، آیت ۷۱

(۲) سورہ نحل ، آیت ۷۱

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۱، صفحہ ۳۱۲


۲۱ ۔ انسان کو پیش آنے والی پریشانیوں اور مصیبتوں کا فلسفہ کیا ہے؟

یسا کہ سورہ شوریٰ آیت نمبر ۳۰ میں ارشاد ہوا:( وَمَا اٴَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اٴَیْدِیکُمْ ) ”جو مصیبت بھی تم پر پڑتی ہے وہ تمہارے کئے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے“۔

مذکورہ آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم پر پڑنے والی مصیبتوں کا سرچشمہ کیا ہے؟

اس آیت سے متعلق چند نکات کے بارے میں غور کرنے سے بات واضح ہوجاتی ہے:

۱ ۔ آیہ کریمہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان پر پڑنے والی مصیبتیں ایک طرح سے خدا کی طرف سے سزا اور ایک چیلنج ہوتی ہیں، (اگرچہ بعض مقامات جدا ہیں جن کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے) اس وجہ سے دردناک حادثات اور زندگی میں آنے والی پریشانیوں کا فلسفہ سمجھ میں آجاتا ہے۔

جیسا کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول حدیث میں آیا ہے کہ آپ پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا:

یہ آیہ شریفہ( وَمَا اٴَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ ) قرآن کریم کی بہترین آیت ہے، یا علی! انسان کے جسم میں کوئی خراش نہیں آتی، اور نہ ہی کسی قدم میں لڑگھڑاہٹ پیدا ہوتی مگر اس کے انجام دئے گناہوں کی بنا پر آتی ہے، اور جو کچھ خداوندعالم اس دنیا میں معاف کردیتا ہے اس سے کہیں زیادہ قیامت کے دن معاف فرمائے گا، اور جو کچھ اس دنیا میں عقوبت اور سزا دی ہے تو خدا اس سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ روز قیامت اس کو دوبارہ سزا دے“۔(۱)

لہٰذا اس طرح کے مصائب اور پریشانیاں نہ صرف یہ کہ انسان کے بوجھ کو کم کردیتی ہیں بلکہ آئندہ کے لئے بھی اس کو کنٹرول کرتی رہتی ہیں۔

۲ ۔ اگرچہ آیت کے ظاہر سے عمومیت کا اندازہ ہوتا ہے یعنی تمام مصیبتوں اور پریشانیوں کو شامل ہے، لیکن مشہور قاعدہ کے مطابق تمام عموم میں ایک مستثنیٰ ہوتا ہے، جیسا کہ انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کو بہت سے مصائب اور پریشانیاں پیش آئی ہیں، جن کی وجہ سے ان حضرات کا امتحان ہوا ہے جس سے ان کا مقام رفیع و بلند ہواہے ۔

اسی طرح جن مصائب سے غیر معصومین دوچار ہوئے ہیں ان میں بھی امتحان اور آزمائش کا پہلو رہا ہے۔

یا جو مصائب جہالت کی بنا پر یا غور و فکر اورمشورہ نہ کرنے کی وجہ سے یا کاہلی اور سستی کی بناپر پیش آتے ہیں وہ خود انسان کے اعمال کا اثر ہوتا ہے۔

بالفاظ دیگر: قرآن مجید کی مختلف آیات اور معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کے پیش نظر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مذکورہ آیت کی عمومیت سے بعض مقامات مستثنیٰ ہیں، اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ بعض مفسرین نے اس سلسلہ میں مستقل باب میں بحث وگفتگو کی ہے۔

خلاصہ یہ کہ بڑے بڑے مصائب اور پریشانیوں کے مختلف فلسفے ہوتے ہیں جن کے بارے میں توحید اور عدل الٰہی کی بحث میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔

مصائب اور مشکلات ؛ استعداد کی ترقی، آئندہ کے لئے چیلنج، امتحان الٰہی، غفلت ،غرور کا خاتمہ او رگناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں۔

لیکن چونکہ یہ مصائب اور مشکلات اکثر افراد کے لئے کفارہ اور سزا کا پہلو رکھتے ہیں لہٰذا مذکورہ آیت نے عام طور پر بیان کیا ہے، اسی طرح حدیث میں بھی وارد ہوا ہے کہ جس وقت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام یزید کے دربار میں پہنچے تو یزید نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا:

یا عليّ! وَمَا اٴَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اٴَیْدِیکُمْ !“

(یعنی کربلا کا واقعہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے)

لیکن امام زین العابدین علیہ السلام نے فوراً اس کے جواب میں فرمایا:

”نہیں ایسا نہیں ہے، یہ آیہ شریفہ ہماری شان میں نازل نہیں ہوئی ہے، ہماری شان میں نازل ہونے والی دوسری آیت ہے ، جس میں ارشاد ہوتا ہے:ہر وہ مصیبت جو زمین یا تمہارے جسم و جان پر آتی ہے ، خلقت سے پہلے کتاب (لوح محفوظ) میں موجود تھی، خداوندعالم ان چیزوں سے باخبر ہے، یہ اس لئے ہے تاکہ تم مصیبتوں میں غمگین نہ ہو اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اس پر بہت زیادہ خوش نہ ہو، ( ان مصائب کا مقصد یہ ہے کہ تم جلد فناہونے والی اس دنیوی زندگی سے دل نہ لگاؤ، یہ چیزیں تمہارے لئے ایک امتحان اور آزمائش ہے)

اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم کسی چیز کے نقصان پر کبھی غمگین نہیں ہوتے ، اور جو کچھ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اس پر خوش نہیں ہوتے، (ہم سب چیزوں کو جلد ختم ہونے والی مانتے ہیں، اور خداوندعالم کے لطف و کرم کے منتظر رہتے ہیں)(۲) .

۳ ۔بعض اوقات مصائب، اجتماعی پہلو رکھتے ہیں اور تمام لوگوں کے گناہوں کا نتیجہ ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا :

( ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اٴَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَهُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ) (۳)

”لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تا کہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستہ پر آجائیں“۔

یہ بات واضح ہے کہ یہ سب اس انسانی معاشرہ کے لئے ہے جو اپنے کئے ہوئے اعمال کی وجہ سے عذاب اور مشکلات میں گرفتار ہوجاتا ہے۔

اسی طرح سورہ رعد آیت نمبر ۱۱/ میں ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ اللهَ لاَیُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاٴَنفُسِهِمْ )

”اور خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کوتبدیل نہ کرلے“۔

اور اسی طرح کی دیگر آیات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ انسان کے اعمال اور اس کی زندگی کے درمیان ایک خاص رابطہ ہے کہ اگر فطرت اور خلقت کے اصول کے تحت قدم اٹھائے تو خداوندعالم کی طرف سے برکت عطا ہوتی ہے،اور جب انسان ان اصول سے گمراہ ہوجاتاہے تو اس کی زندگی بھی تباہ و برباد ہوجاتی ہے ۔(۱۴)

اس سلسلہ میں اسلامی معتبر کتابوں میں بہت سی روایات بیان ہوئی ہیں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرکے اپنی بحث کو مکمل کرتے ہیں:

۱ ۔حضرت علی علیہ السلام اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:

”مَاکَانَ قَطْ فِی غَضِ نِعمَةٍ مِنْ عیشٍ ،فَزَالَ عَنْهُم، إلاَّ بِذنوبِ اجترحُوها، لاٴَنَّ اللهَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیْدِ، ولَو کَانَ النَّاسُ حِینَ تنزلُ بِهم النقم ،وَ تَزُوْلُ عَنْهُم النِعَمِ ،فَزَعُوا إلیٰ رَبِّهِم بِصِدقٍ مِنْ نِیَاتِهِمْ وَوَلَّهُ مِنْ قُلُوبِهِم، لَردَّ عَلَیهِمْ کُلَّ شاردٍ،وَاٴصْلَحَ لَهُمْ کُلَّ فَاسِدٍ“ (۴)

”خدا کی قسم کوئی بھی قوم جو نعمتوں کی تر و تازہ اور شاداب زندگی میں تھی اور پھر اس کی وہ زندگی زائل ہوگئی تو اس کا کوئی سبب ان گناہوں کے علاوہ نہیں ہے جن کا ارتکاب اس قوم نے کیا ہے، اس لئے کہ پروردگار اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے، پھر بھی جن لوگوں پر عتاب نازل ہوتا ہے اور نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں اگر صدق نیت اور تہِ دل سے پروردگار کی بارگاہ میں فریاد کریں تو وہ گئی ہوئی نعمت واپس کردے گا اور بگڑے کاموں کو بنادے گا“۔

۲ ۔ کتاب ”جامع الاخبار“ میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے ایک دوسری روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا:

”إنَّ البَلاءَ لِلظَّالِمِ اٴدَبٌ،وَلِلْمُومنِ إمْتِحَانٌ، وَلِلْاٴنْبِیَاءِ دَرجةٌ وَلِلْاٴوْلیاءِ کَرَامَةٌ“ (۵)

”انسان پر پڑنے والی یہ مصیبتیں؛ظالم کے لئے سزا، مومنین کے لئے امتحان، انبیاء اور پیامبروں کے لئے درجات (کی بلندی) اور اولیاء الٰہی کے کرامت و بزرگی ہوتی ہیں“۔

یہ حدیث اس بات پر ایک بہترین گواہ ہے کہ مذکورہ آیت میں کچھ مقامات مستثنیٰ ہیں۔

۳ ۔ ایک دوسری حدیث اصول کافی میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمای

إنَّ الْعَبدَ إذَا کَثُرَتْ ذُنوبُه ،وَلَمْ یَکُن عِنْدَهُ مِنَ الْعَمِلِ مَا یکفّرُهَا، ابتلاهُ بِالحُزْنِ لِیکفّر ها“ (۶)

”جس وقت انسان کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور جبران وتلافی کرنے والے اعمال اس کے پاس نہیں ہوتے تو خداوندعالم اس کو غم و اندوہ میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کی تلافی ہوجائے“۔

۴ ۔ اصول کافی میں اس سلسلہ میں ایک خاص باب قرار دیا گیا ہے جس میں ۱۲ حدیثیں بیان ہوئی ہیں۔(۷)

البتہ یہ تمام ان گناہوں کے علاوہ ہے جن کو خداوندعالم مذکورہ آیت کے مطابق معاف کردیتا ہے اور انسان پر رحمت کی بارش برساتا ہے جو خود ایک عظیم نعمت ہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

ممکن ہے کہ بعض لوگ اس قرآنی حقیقت سے غلط فائدہ اٹھائیں اور وہ یہ کہ جو مصیبت بھی ان پر پڑے اس کا پُر جوش استقبال کریں اور کہیں کہ ہمیں ان تمام مصائب کے سامنے تسلیم ہونا چاہئے ، اور اس درس آموز اصل اور قرآنی حقیقت کے برعکس نتیجہ اخذ کریں، یعنی اس سے غلط نتیجہ اخذ کریں کہ جو بہت زیادہ خطرناک ہے۔

کبھی بھی قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ مصیبتوں کے سامنے تسلیم ہوجائیں اور ان کو دور کرنے کے لئے کوشش نہ کریں، اور ظلم و ستم اور بیماریوں کے مقابلہ میں خاموش رہیں، بلکہ قرآن کا فرمان

ہے: اگر اپنی تمام تر کوشش کے باوجود مشکلات دور نہ ہوں تو سمجھ لو کہ کوئی ایسا گناہ کیا ہے جس کی یہ سزا مل رہی ہے،لہٰذا اپنے گزشتہ اعمال کی طرف توجہ کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کریں، اور اپنی اصلاح کریں اپنے کو برائیوں سے دور کریں۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں مذکورہ آیت کو انھیں بہترین اور اہم تربیتی آثار کی بناپر ”بہترین آیت“ شمار کیا گیا ہے ،اور دوسری طرف اس سے انسان کا بوجھ بھی کم ہوتا ہے، اس کے دل میں امید کی کرن پیدا ہو تی ہے اور خدا کا عشق بھی پیدا ہو جاتا ہے۔(۸)

____________________

(۱) ”مجمع البیان“ ، جلد ۹، صفحہ ۳۱، اس حدیث کو ”درالمنثور “ اور تفسیر ”روح المعانی “میں مختصر فر ق کے ساتھ بیان کیا ہے اوراس طرح کی حدیثیں بہت زیادہ ہیں

(۲) تفسیر ”علی بن ابراہیم“ مطابق ”نور الثقلین“ ، جلد ۴، صفحہ ۵۸۰

(۳) سورہ روم ، آیت ۴۱ (۴)تفسیر المیزان ، جلد ۱۸، صفحہ ۶۱

(۵) نہج البلاغہ، خطبہ: ۱۷۸ (۱۶) بحار الانوار ، جلد ا۸، صفحہ ۱۹۸

(۶) ”اصول کافی“، جلد دوم، کتاب الایمان والکفر باب تعجیل عقوبة الذنب حدیث۲

(۷) ”اصول کافی“، جلد دوم، کتاب الایمان والکفر باب، تعجیل عقوبة الذنب حدیث۲

(۸) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۰، صفحہ ۴۴۰


۲۲۔ خداوندعالم نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر انسان خدا کی عبادت کے ذریعہ سعادت اور کمال تک پہنچنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو پھر کمال اور سعادت کے مخالف شیطان کو کیوں پیدا کیا گیا، اس کی کیا دلیل ہوسکتی ہے؟ اور وہ بھی ایک ایسا وجود جو بہت ہوشیار، کینہ اور حسد رکھنے والا، مکار ، فریب کار اور اپنے ارادہ میں مصمم ہے!

(قارئین کرام!) اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں تو اس دشمن کا وجود انسانوں کے کمال اورسعادت تک پہنچنے کے لئے مددگار ہے۔

کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے دفاع کرنے والی (ہماری ) فوج ،دشمن کے مقابلہ میں بہت زیادہ شجاع او ردلیر بن جاتی تھی، اور کامیابی کی منزلوں تک پہنچ جاتی تھی۔

طاقتور اور تجربہ کار وہی سپاہی اور سردار ہوتے ہیں جو بڑی بڑی جنگوں میں دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ لڑتے ہیں۔

وہی سیاستمدار تجربہ کار اور طاقتور ہوتے ہیں جو بڑے سے بڑے سیاسی بحران میںسختی کے ساتھ دشمن سے مقابلہ کرتے ہیں۔

نامی پہلوان وہی ہوتے ہیں جو اپنے مد مقابل طاقتور پہلوان سے زور آزمائی کرتے ہیں۔

اس وجہ سے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ خداوندعالم کے نیک اور صالح بندے شیطان سے ہر روز مقابلہ کرتے کرتے دن بدن طاقتور اور قدرت مند ہوتے چلے جاتے ہیں!

آج کل کے دانشورانسانی جسم میں پائے جانے والے خطرناک جراثیم کے بارے میں کہتے ہیں: اگر یہ نہ ہوتے تو انسان کے خلیے( Cells ) سست اورناکارہ ہوجاتے اور ایک احتمال کی بنا پر انسان کی رشد و نمو ۸۰ سینٹی میٹر سے زیادہ نہ ہوتی، اور سب کوتاہ قد نظر آتے، لیکن آج کا انسان مزاحم میکروب سے لڑتے لڑتے بہت طاقتور بن گیا ہے۔

بالکل اسی طرح انسان کی روح ہے جو ہوائے نفس اور شیطان سے مقابلہ کرتے کرتے طاقتور ہوجاتی ہے۔

لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ شیطان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو بہکائے، پہلے شیطان کی خلقت دوسری مخلوق کی طرح پاک و پاکیزہ تھی انسان میں انحراف، گمراہی ، بدبختی اور شیطنت اس کے اپنے ارادہ سے ہوتی ہیں، لہٰذا خداوندعالم نے ابلیس کو شیطان نہیں پیدا کیا تھا اس نے خود اپنے آپ کو شیطان بنایا، لیکن شیطنت کے باوجود خدا کے حق طلب بندوں کو نہ صرف یہ کہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ ان کی ترقی اور کامیابی کا زینہ ہے۔ (غور کیجئے )

لیکن یہاں پر یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ خداوندعالم نے اسے قیامت تک کی زندگی کیوں دیدی، کیوں فوراً ہی اس کو نیست و نابود کیوں نہ کردیا؟!

اگرچہ گزشتہ گفتگو سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے لیکن ہم ایک اور چیز عرض کرتے ہیں:

دنیا امتحان اور آزمائش کی جگہ ہے، (انسان کی کامیابی اور ترقی کا باعث امتحان او رآزمائش ہے) اور ہم جانتے ہیں کہ یہ امتحان اور آزمائش ،بڑے دشمن اور طوفان سے مقابلہ کئے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔

البتہ اگر شیطان نہ ہوتا تو بھی انسان کی ہوائے نفس اور نفسانی وسوسہ کے ذریعہ انسان کا امتحان ہوسکتا تھا، لیکن شیطان کے ہونے سے اس تنور کی آگ اور زیادہ بھڑک گئی ہے، کیونکہ شیطان باہر سے بہکانے والا ہے اور ہوائے نفس انسان کو اندر سے بہکاتی ہے۔(۱)

ایک سوال کا جواب:

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ خداوندعالم ایسے بے رحم اور طاقتور دشمن کے مقابلہ میں ہمیں تن تنہا چھوڑ دے؟ اور کیا یہ چیز خداوندعالم کی حکمت اور اس کے عدل و انصاف سے ہم آہنگ ہے؟

اس سوال کا جواب درج ذیل نکتہ سے واضح ہوجائے گا اور جیسا کہ قرآن مجید میں بھی بیان ہوا ہے کہ خداوندعالم مومنین کے ساتھ فرشتوں کا لشکر بھیجتا ہے اور غیبی اور معنوی طاقت عطا کرتا ہے جس سے جہاد بالنفس اور دشمن سے برسرِ پیکار ہونے میں مدد ملتی ہے:

( إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمْ الْمَلَائِکَةُ اٴَلاَّ تَخَافُوا وَلاَتَحْزَنُوا وَاٴَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُون نَحْنُ اٴَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ ) (۲)

”بیشک جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس پر جمے رہے ان پر ملائکہ یہ پیغام لے کر نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور رنجیدہ بھی نہ ہواور اس جنت سے مسرور ہو جاو جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ،ہم زندگانی دنیامیں بھی تمہارے ساتھی تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھی ہیں“۔

ایک دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ شیطان کبھی بھی ہمارے دل میں اچانک نہیں آتا، اور ہماری روح کے باڈر سے بغیر پاسپورٹ کے داخل نہیںہو سکتا، اس کا حملہ کبھی بھی اچانک نہیں ہوتا، وہ ہماری اجازت سے ہم پر سوار ہوتا ہے، جی ہاں وہ دروازہ سے آتا ہے نہ کہ کسی مورچہ سے، یہ ہم ہی ہیں جو اس کے لئے دروازہ کھول دیتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

< إ( ِنَّهُ لَیْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَلَی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ ،إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَی الَّذِینَ یَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِینَ هُمْ بِهِ مُشْرِکُونَ ) (۳)

” شیطان ہرگز ان لوگوں پر غلبہ نہیں پاسکتا جو صاحبان ایمان ہیں اور جن کا اللہ پر توکل اور اعتماد ہے، اس کا غلبہ صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اسے سرپرست بناتے ہیں اور اللہ کے بارے میں شرک کرنے والے ہیں“۔

اصولی طور پر یہ انسان کے اعمال ہوتے ہیں جوشیطان کے سوار ہونے کا راستہ ہموار کرتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:<إ( ِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ ) (۴) ”اسراف کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں“۔

لیکن بہرحال شیطان اور اس کے مختلف سپاہیوں کے رنگارنگ جال، مختلف شہوتیں، فساد کے ٹھکانے ، استعماری سیاست، انحرافی مکاتب اور منحرف ثقافت سے نجات کے لئے ایمان و تقویٰ، اور لطف الٰہی اور خدا پر بھروسہ کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَوْلاَفَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُهُ لاَتَّبَعْتُمْ الشَّیْطَانَ إِلاَّ قَلِیلًا ) (۵)

”اور اگر تم لوگوں پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو چند افراد کے علاوہ سب شیطان کا اتباع کرلیتے“۔(۶)

انبیاء علیہم السلام

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۹ صفحہ ۳۴۵

(۲) سورہ فصلت ، آیت۳۰۔ ۳۱

(۳) سورہ نحل ، آیت ۹۹، ۱۰۰

(۴) سورہ اسراء ، آیت۲۷

(۵)سورہ نساء ، آیت۸۳

(۶) تفسیر پیام قرآن ، جلد اول صفحہ ۴۲۳


۲۳ ۔ خاتمیت انسانی تدریجی ترقی کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہے؟

کیا انسانی معاشرہ کسی ایک جگہ پر رُک سکتا ہے؟ کیا انسان کے کمال اور ترقی کے لئے کوئی حد معین ہے؟ کیا ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے ہیں کہ آج کا انسان گزشتہ لوگوں کی نسبت بہت زیادہ آگے بڑھتا چلا جارہا ہے؟

ان حالات کے پیش نظر یہ کس طرح ممکن ہے کہ دفتر نبوت بالکل ہی بند ہوجائے اور انسان اس ترقی کے زمانہ میں اپنے کسی نئے رہبر اور نبی سے محروم ہوجائے؟

اس سوال کا جواب ایک نکتہ پر توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے اور وہ ہے کہ: انسان فکر و ثقافت کے مرحلہ میں اس منزل پر پہنچ چکا ہے کہ وہ پیغمبر خاتم (ص) کے بتائے ہوئے اصول اور تعلیمات کے پیش نظر کسی نئی شریعت کے بغیر اپنی ترقی کے مراحل کو طے کرسکتاہے۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے انسان کو تعلیم کے ہر مرحلہ میں ایک نئے استاد کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ تعلیم کے مختلف مراحل سے گزر کر آگے بڑھ سکے، لیکن جب انسان ڈاکٹر بن جاتا ہے یا کسی دوسرے علم میں صاحب نظر بن جاتا ہے تو پھر انسان کسی نئے استاد سے تعلیم حاصل نہیں کرتا بلکہ اپنے گزشتہ اساتذہ خصوصاً آخری استاد سے حاصل کئے ہوئے مطالب پر بحث و تحقیق کرتا ہے اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھتا جاتاہے نئی نئی تحقیق اور نئے نئے نظریات پیش کرتا ہے ، دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ اپنے گزشتہ اساتذہ کے بتائے ہوئے عام اصول کی بنا پر راستے کی مشکلات کو حل کر تاہے لہٰذا اس بات کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ زمانہ کے ساتھ ساتھ کوئی نیا دین اور نیا مذہب وجود میں آئے۔ (غور فرمائےے گا)

بالفاظِ دیگر: روحانی اور معنوی ترقی کی راہ میں موجود نشیب و فر از کے سلسلہ میں گزشتہ انبیاء نے باری باری انسان کی ہدایت کے لئے نقشہ پیش کیا تاکہ انسان میں اتنی صلاحیت پیدا ہوجائے کہ اس راستہ کا جامع اور کلی نقشہ خداوندعالم کی طرف سے پیغمبر آخرالزمان (ص) پیش فرمادیں۔

یہ بات واضح ہے کہ جامع اور کلی نقشہ حاصل کرنے کے بعد پھر کسی نقشہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ، اور یہ حقیقت خاتمیت کے سلسلہ میں بیان ہوئی احادیث میں موجود ہے، اور پیغمبر اکرم کو رسالت کی آخری اینٹ یا خوبصورت محل کی آخری اینٹ رکھنے والے کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔

یہ تمام چیزیں کسی نئے دین و مذہب کی ضرورت نہ ہونے کے لئے کافی ہیں، (یعنی مذکورہ باتوں کے پیش نظر اب کسی نئے دین کی ضرورت نہیں ہے) لیکن رہبری اور امامت کا مسئلہ انھیں کلی اصول و قوانین پر عمل در آمد ہونے پر نظارت اور اس راہ میں پیچھے رہ جانے والوں کو امداد پہنچانے کے عنوان سے ہے،البتہ یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ انسان کبھی بھی ان سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ہمیشہ امام اور رہبر کی ضرورت رہے گی، اس دلیل کی بنا پر سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ سلسلہ امامت بھی ختم ہوجائے، کیونکہ ”ان اصول کی وضاحت “، ”ان کا بیان کرنا“ اور ”ان کو عملی جامہ پہنانا“ بغیر کسی معصوم رہبرکے ممکن نہیں ہے۔(۱)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۷، صفحہ ۳۴۵


۲۴ ۔ ثابت قوانین،آج کل کی مختلف ضرورتوں سے کس طرح ہم آہنگ ہے؟

ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ زمان و مکان کے لحاظ سے ضرورتیں الگ الگ ہوتی ہیں، دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ انسان کی ضرورت ہمیشہ بدلتی رہتی ہے، حالانکہ خاتم النبین کی شریعت ثابت اور غیر قابل تبدیل ہے، کیا یہ ثابت شریعت زمانہ کے لحاظ سے مختلف ضرورتوں کو پورا کرسکتی ہے۔؟

اگر اسلام کے تمام قوانین جزئی اور انفرادی ہوتے اور ہر موضوع کا حکم مکمل طور پر معین، مشخص اور جزئی ہوتا تو اس سوال کی گنجائش ہوتی، لیکن کیونکہ اسلام کے احکام و قوانین بہت وسیع اور کلی اصول پر مبنی ہیں جن پر ہر زمانہ کی مختلف ضرورتوں کو منطبق کیا جاسکتا ہے، اور اس کے لحاظ سے جواب دیا جاسکتا ہے، لہٰذا اس طرح کے سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، مثال کے طور پر عصر حاضر میں مختلف معاملات انسانی معاشرہ کی ضرورت بنتے جارہے ہیں جب صدر اسلام میں ایسے معاملات نہیں تھے جیسے ”بیمہ“ یا اس کی مختلف شاخیں، جو اس زمانہ میں نہیں تھیں،اسی طرح آج کل کی(۱) البتہ اسلام میں ”بیمہ“ سے مشابہ موضوعات موجود ہیں لیکن خاص محدودیت کے ساتھ جیسے ”ضمان الجریرہ“ یا “تعلق دیہ خطاء محض بہ عاقلہ“ لیکن یہ مسائل صرف شباہت کی حد تک ہیں ضرورت کے تحت بڑی بڑی کمپنیاں بنائی جاتی ہیں ، ان تمام چیزوں کے لئے اسلام میں ایک کلی اصل موجود ہے، جو سورہ مائدہ کے شروع میں بیان ہوئی ہے جسے ”وفائے عہد “ کہا جاتا ہے، ارشاد ہوتا ہے:( یَا اٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَوْفُوا بِالْعُقُودِ ) (۲) ”اے وہ لوگو! جو ایمان لائے اپنے معاملات میںوفائے عہد کرو“۔

ہم ان تمام معاملات کو اس کے تحت قرار دے سکتے ہیں، البتہ بعض قیود اور شرائط اس اصل میں بیان ہوئی ہیں، جن پر توجہ رکھنا ضروری ہے، لہٰذا یہ عام قانون اس سلسلہ میں موجود ہے، اگرچہ اس کے مصادیق بدلتے رہتے ہیں اور ہرروزاس کا ایک نیا مصداق پیدا ہوتا رہتا ہے۔

دوسری مثال: ہمیں اسلام میں ایک مسلّم اور ثابت قانون ملتا ہے جو ”قانونِ لاضرر“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے(یعنی کسی کا کوئی نقصان نہیں ہونا چاہئے) جس کے ذریعہ اسلامی معاشرہ میں کسی بھی طرح کے نقصان کے سلسلہ میں حکم لگایا جاسکتا ہے، اور اس کے تحت معاشرہ کی بہت سی مشکلوں کو حل کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ”معاشرہ کا تخفظ “، ”مقدمہ واجب کا واجب ہونا“اور”اہم و مہم“ جیسے مسائل کے ذریعہ بھی بہت سی مشکلات کو حل کیا جاسکتا ہے، ان تمام چیزوں کے علاوہ اسلامی حکومت میں ”ولی فقیہ“ بہت سے اختیارات اور امکانات ہوتے ہیں اسلامی کلی اصول کے تحت بہت سی مشکلات کوحل کیا جاسکتا ہے ، البتہ ان تمام امور کے بیان کے لئے بہت زیادہ بحث و گفتگو کی ضرورت ہے خصوصاً جب کہ ”باب اجتہاد“(۳) کھلا ہے ، جس کی تفصیل بیان کرنے کایہ موقع نہیں ہے، لیکن جن چیزوں کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے وہ مذکورہ اعتراض کے جواب کے لئے کا فی ہیں۔

____________________

(۱) سورہ مائدہ ،آیت ۱

(۲) اجتہاد یعنی اسلامی منابع و مآخذ کے ذریعہ الٰہی احکام حاصل کرن

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۷، صفحہ ۳۴۶


۲۵ ۔ کیا توریت اور انجیل میں پیغمبر اکرم کی بشارت دی گئی ہے؟

جیسا کہ ہم سوہ اعراف میں پڑھتے ہیں:( الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الْاٴُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَهُ مَکْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ ) (۱) ”جو لوگ ہمارے رسول نبیِّ امی کا اتباع کرتے ہیں جس (کی بشارت ) کو وہ اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں “۔

مذکورہ آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا توریت اور انجیل میں پیغمبر اکرم (ص) کے ظہور کی بشارت دی گئی ہے؟

اگرچہ یقینی قرائن اور اسی طرح یہودیوں اور عیسائیوں کے یہاں دور حاضر کی موجودہ ”مقدس کتابوں “ (توریت و انجیل) کے مطالب اس بات پر یہ دونوں گواہ ہیں کہ جناب موسیٰ علیہ السلام اور جناب عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی آسمانی یہ دونوں کتابیں اصل نہیں ہیں ، بلکہ ان میں بہت زیادہ تبدیلی کردی گئی ہے، یہاں تک کہ بعض تو بالکل ہی ختم ہوگئی ہے، اور جو کچھ اس وقت کی موجودہ مقدس کتابوں میں موجود ہے وہ انسانی فکر اور بعض خدا کی طرف سے موسیٰ و عیسیٰ علیہماالسلام پر نازل ہونے والے مطالب کا ایک مرکب مجموعہ ہے، جس کو ان کے بعض شاگردوں نے جمع کیا ہے۔(۲)

اس بنا پر؛ ان مو جودہ کتا بوں میں اگر کوئی ایسا جملہ نہ ملے جس میں صراحت کے ساتھ پیغمبر اکرم (ص) کے ظہور کی بشارت دی گئی ہو ، تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

لیکن تحریف کے باوجود بھی ان کتابوں میں ایسے الفاظ ملتے ہیں جو پیغمبر اکرم (ص) کے ظہور کی بشارت پردلالت کرتے ہیں، جن کو مسلمان دانشوروں نے اپنی کتابوں اور مضا مین میں تحریر کیا ہے،چونکہ ان تمام مطالب کو ذکر کرنااس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے لہٰذا نمونہ کے طور پر چند چیزوں کو بیان کرتے ہیں:

۱ ۔ توریت کے سِفْر تکوین فصل ۱۷ ،نمبر ۱۷ سے ۲۰ تک میں اس طرح مر قوم ہے:

”اور ابراہیم نے خداوندعالم سے فرمایا :کہ اے کاش !اسماعیل تیرے حضور میں زندگی کرت اور اسماعیل کے حق میں تیری دعاکو سنا، اس وجہ سے اس کو صاحب برکت قرار دیا اور اس کو پھل دار بنادیا ہے، اور آخر کا راس کی اولاد کو کثیر قرار دیا، اس کے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور اس کو ایک عظیم امت قرار دوں گا“۔

۲ ۔ سِفْر پیدائش باب ۴۹ ، نمبر ۱۰ میں وارد ہوا ہے:

عصای سلطنت یہودا سے اور ایک فرمان روا اس کے پیروں کے آگے سے قیام کرے گا تااینکہ ”شیلوہ“ آجائے کہ اس پر تمام امتیں اکٹھا ہوجائیں گی۔

یہاں پر قابل توجہ بات یہ ہے کہ شیلوہ کے ایک معنی ”رسول“ یا ”رسول اللہ“ کے ہیں، جیسا کہ مسٹر ہاکس نے کتاب ”قاموس مقدس“ میں بیان کیا ہے۔

۳ ۔ کتاب انجیل یوحنا، باب ۱۴ ،نمبر ۱۵ ، ۱۶ میں یوں بیان ہوا ہے:

”اگر تم لوگ مجھے دوست رکھتے ہو تو میرے احکام کی رعایت کرو، میں پدر سے درخواست کروں گا وہ تمہیں ایک اور تسلی دینے والا عطا کرے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا“۔

۴ ۔اسی طرح مذکورہ کتاب انجیل یوحنا، باب ۱۵ ،نمبر ۲۶ میں اس طرح وارد ہوا ہے:

”جب وہ تسلی دینے والا آجائے گا جس کو میں پدر کی طرف سے بھجواؤں گا یعنی وہ سچی روح جو پدر کی طرف سے آئے گی، وہ میرے بارے میں شہادت دی گی“۔

۵ ۔ نیز اسی انجیل یوحنا باب ۱۶ ،نمبر ۱۷ کے بعد میں وارد ہوا ہے:

”لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر میں تمہارے درمیان سے چلاجاؤں تویہ تمہارے لئے مفید ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں گا تو تمہارے پاس وہ تسلی دینے والا نہیں آئے گا، اور اگر میں چلا گیا تو اس کو تمہارے لئے بھیج دوں گا لیکن جب وہ سچی روح تمہارے پاس آجائے گی تو تمہیں تمام سچائیوں کی طرف ہدایت کردے گی، کیونکہ وہ اپنی طرف سے کچھ کلام نہیں کرے گا بلکہ جو کچھ اس کو سنائی دے گا وہی کہے گا، اور تمہیں آئندہ کے بارے میں خبر(بھی) دے گا“(۳)

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ فارسی انجیل میں ”تسلی دینے والے “ کی جگہ عربی انجیل مطبوعہ لندن ( ویلیام وٹس پریس ، ۱۸۵۷ ءء) میں اس کی جگہ ”فارقلیطا“ ذکر ہوا ہے۔(۴)

ایک اور زندہ گواہ

”فخر الاسلام “جو کتاب ”انیس الاعلام “کے مولف ہیںپہلے عیسا ئی عالم تھے ،انھوں نے اپنی تعلیم عیسائی پادریوں میں مکمل کی تھی اور ان کے درمیان ایک بلند مقام حاصل کر لیاتھا وہ انیس الا علام کے مقدمہ میں اپنے مسلمان ہونے کے عجیب و غریب واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

”بڑی جستجو ،زحمتوں اور کئی ایک شہر وں میں گردش کے بعد میں ایک عظیم پادری کے پاس پہنچا جو زہد و تقویٰ میں ممتاز تھا ، ”کیتھولک‘ فرقہ کے بادشاہ و غیرہ اپنے مسائل میں اس کی طرف رجوع کرتے تھے ،ایک مدت تک میں اس کے پاس نصاریٰ کے مختلف مذاہب کی تعلیم حاصل کرتا رہا ،اس کے بہت سے شاگر د تھے لیکن اتفاقاً مجھ سے اسے کچھ خاص ہی لگاو تھا ،اس کے گھر کی تمام کنجیاں میرے ہاتھ میں تھیں، صرف ایک صندوق خانے کی کنجی اس کے پاس ہوا کرتی تھی ۔

اس دوران وہ پادری بیمار ہو گیا تواس نے مجھ سے کہا کہ شاگردوں سے جاکر کہہ دو کہ آج میں درس نہیں دے سکتا ،جب میں طالب علموں کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ سب بحث و مباحثے میں مصروف ہیں یہ بحث سریانی کے لفظ ”فارقلیطا“ اور یونانی زبان کے لفظ ”پریکلتوس “کے معنی تک جاپہنچی اور وہ کافی دیر تک جھگڑتے رہے ،ہر ایک کی الگ رائے تھی ،واپس آنے پر استاد نے مجھ سے پوچھا تم لوگوں نے آج کیا بحث کی ہے؟تو میں نے لفظ فارقلیطا کا اختلاف اس کے سامنے بیان کیا وہ کہنے لگا :تونے ان میں کس قول کا انتخاب کیا ہے ،میں نے کہا کہ فلاں مفسرکے قول کوپسند کیا ہے ۔

استاد پادری کہنے لگا :تونے کوتاہی تو نہیں کی لیکن حق و حقیقت ان تمام اقوال کے خلاف ہے کیونکہ اس کی حقیقت کو ” رَاسِخُونَ فِي العِلمِ“کے علاوہ دوسرے لوگ نہیں جانتے اور ان میں سے بھی بہت کم اس حقیقت سے آشنا ہیں ،میں نے اصرار کیا کہ اس کے معنی مجھے بتائےے، وہ بہت رویا اور کہنے لگا:میں کوئی چیز تم سے نہیں چھپاتا ،لیکن اس نام کے معنی معلوم ہو جانے کا نتیجہ تو بہت سخت ہوگا کیونکہ اس کے معلوم ہونے کے ساتھ ساتھ مجھے اور تمہیں قتل کر دیا جائے گا،اب اگر تم وعدہ کرو کہ کسی سے نہیں کہو گے تو میں اسے ظاہر کر دیتا ہوں۔

میں نے تمام مقدسات مذہبی کی قسم کھائی کہ اسے فاش نہیں کروں گا تو اس نے کہا کہ یہ مسلمانوں کے پیغمبر کے ناموں میںسے ایک نام ہے اور اس کے معنی ”احمد“اور ”محمد“ہیں ۔

اس کے بعد اس نے اس چھوٹے کمرے کی کنجی مجھے دی اور کہا کہ فلاں صندوق کا دروازہ کھولو اور فلاں فلاں کتاب لے آو ، چنا نچہ میںوہ کتابیں اس کے پاس لے آیا ، یہ دونوں کتابیں رسول اسلام (ص) کے ظہور سے پہلے کی تھیں اور چمڑے پر لکھی ہوئی تھیں۔

دونوں کتابوں میں لفظ ”فارقلیطا“کا ترجمہ ”احمد“اور” محمد“کیا گیا تھا اس کے بعد استاد نے مزید کہا کہ آنحضرت کے ظہور سے پہلے علمائے نصاریٰ میں کوئی اختلاف نہ تھا کہ فارقلیطا کے معنی احمد و محمد ہیں، لیکن ظہور محمد( (ص))کے بعد اپنی سرداری اور مادی فوائد کی بقا کے لئے اس کی تاویل کر دی اور اس کے لئے دوسرے معنی گڑھ لئے حالانکہ صا حب انجیل کی مراد وہ معنی یقینا نہیں ہیں۔

میں نے سوال کیا کہ دین ِنصاریٰ کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں ،اس نے کہا دین اسلام کے آنے سے منسوخ ہوگیا ہے اس جملہ کی اس نے تین مرتبہ تکرار کی ۔

پس میں نے کہا کہ اس زمانہ میں طریقِ نجات اور صراطِ مستقیم ،کونساراستہ ہے ؟۔

اس نے کہا :مختصر یہ ہے کہ محمد (ص) کی پیروی و اتباع کرو ۔

میں نے کہا :کیا اس کی پیروی کرنے والے اہل نجات ہیں ؟ اس نے کہا :ہاں !خدا کی قسم (اور تین مرتبہ قسم کھائی )

پھر استاد نے گریہ کیا اور میں بھی بہت رویا اور اس نے کہا : اگر آخرت اور نجات چاہتے ہوتودین حق ضرور قبول کر لو،میں ہمیشہ تمہارے لئے دعا کروں گا اس شرط کے ساتھ کہ قیامت کے دن گواہی دو کہ میں باطن میں مسلمان اور حضرت محمد (ص) کا پیروکار ہوں اور علمائے نصاریٰ کے ایک گروہ کی باطن میں مجھ جیسی حالت ہے اور ظاہراً میری طرح اپنے دنیاوی مقام سے کنارہ کش نہیں ہو سکتے ورنہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس وقت روئے زمین پر دین خدا دین اسلام ہی ہے ۔“!!(۵)

آپ دیکھیں کہ علمائے اہل کتاب نے پیامبراسلام (ص)کے ظہور کے بعد اپنے ذاتی مفاد کے لئے آنحضرت (ص) کے نام اور نشانیوں کو بدل ڈالا ۔!!(۶)

____________________

(۱) سورہ اعراف ، آیت ۱۵۷

(۲) اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے کتاب ”رہبر سعادت یا دین محمد“ اور کتاب ”قرآن و آخرین پیامبر“ کو ملاحظہ فرمائیں

(۳) مذکورہ تمام تحریریں، جن کو عہد قدیم اور عہد جدید سے نقل کیا گیا ہے ، اس فارسی ترجمہ سے ہے جو ۱۸۷۸ءء میں لندن سے عیسائی مترجمین کے ذریعہ عبرانی زبان سے فارسی میں ترجمہ کیا گیا ہے

(۴)تفسیر نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۴۰۳

(۵) اقتباس از کتاب ہدایت دوم ،مقدمہ کتاب انیس الاعلام، اختصار کے ساتھ

(۶) تفسیر نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۲۱۱


۲۶ ۔ اولوالعزم پیغمبر کون ہیں؟

جیسا کہ سورہ احقاف آیت ۳۵ میں ہم پڑھتے ہیں:( فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اٴُوْلُوا الْعَزْمِ مِنْ الرُّسُلِ ) اے پیغمبر ! آپ اسی طرح صبر کریں جس طرح پہلے اولوا العزم رسولوں نے صبر کیا ۔

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اولوالعزم پیغمبر کون ہیں؟

اس سلسلہ میں مفسرین کے درمیان بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، قبل اس کے کہ اس سلسلہ میں تحقیق کریں پہلے ”عزم“ کے معنی کو دیکھیں کیونکہ ” اولوالعزم “ یعنی صاحبان ”عزم“۔

”عزم“ کے معنی مستحکم اور مضبوط ارادہ کے ہیں، راغب اصفہانی اپنی مشہورو معروف کتاب ”مفردات“ میں کہتے ہیں: عزم کے معنی کسی کام کے لئے مصمم ارادہ کرنا ہے، ”عقد القلب علی امضاء الامر“

قرآن مجید میں کبھی ”عزم“ کے معنی صبر کے لئے گئے ہیں، جیسا کہ ارشاد خداوند ہے:

( وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاٴُمُورِ ) (۱)

”اور یقینا جو صبر کرے اور معاف کردے تو اس کا یہ عمل بڑے صبرکا کام ہے“۔

اور کبھی ”وفائے عہد“ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا:

( وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَی آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ) (۲)

”اور ہم نے آدم سے اس سے پہلے عہد لیا مگر انھوں نے اسے ترک کردیا اور ہم نے ان کے پاس عزم و ثبات نہیں پایا“۔

لیکن چونکہ صاحب شریعت انبیاء علیہم السلام ایک نئی اور تازہ شریعت لے کر آتے تھے، جس کی بنا پر ان کو بہت سی مشکلات پیش آتی تھی، جن سے مقابلہ کرنے کے لئے ان کو مستحکم اور مصمم ارادہ کی ضرورت ہوتی تھی، لہٰذا ان انبیاء کو ”اولو العزم“ پیغمبر کہا گیا، اور مذکورہ آیت بھی ظاہراً انھیں معنی کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

ضمنی طور پر ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ان ہی اولو العزم پیغمبر وں میں سے ہیں، کیونکہ ارشاد ہوا ”آپ بھی اسی طرح صبر کریں جس طرح سے آپ سے پہلے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر سے کام لیا ہے“۔

اگر بعض مفسرین نے ”عزم “ اور ”عزیمت“ کے معنی ”حکم و شریعت“ مراد لیتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے ورنہ لغوی اعتبار سے ”عزم“ کے معنی ”شریعت“ نہیں ہے۔

بہر حال ان معنی کے لحاظ سے ”من الرُسل“ میں ”من“ ”تبعیضیہ“ ہے جس سے کچھ خاص بزرگ پیغمبر مراد ہیں جو صاحب شریعت تھے، جیسا کہ سورہ احزاب میں بھی اسی چیز کی طرف اشارہ ہے:

( وَإِذْ اٴَخَذْنَا مِنْ النَّبِیِّینَ مِیثَاقَهُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِیمَ وَمُوسَی وَعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٴَخَذْنَا مِنْهُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا ) (۳)

”اور اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے تمام انبیاء سے اور بالخصوص آپ سے اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے عہد لیا اور سب سے بہت سخت قسم کا عہد لیا “۔

یہاں پر تمام انبیاء علیہم السلام کو صیغہ جمع کی صورت میں بیان کرنے کے بعد ان پانچ اولوالعزم پیغمبروں کا نام لینایہ ان کی خصوصیت پر بہترین دلیل ہے۔

اسی طرح سورہ شوریٰ میں بھی اولوالعزم پیغمبر کے بارے میں بیان ہوا ہے، ارشاد خداوندعالم ہے:

( شَرَعَ لَکُمْ مِنْ الدِّینِ مَا وَصَّیٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِی اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِهِ إِبْرَاهِیمَ وَمُوسَی وَعِیسَی ) (۴)

”اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اور جس کی وحی اے پیغمبر !تمہاری طرف بھی کی ہے، اور جس کی نصیحت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو بھی کی ہے“۔

اسی طرح شیعہ اورسنی معتبر کتابوں میں روایات بیان ہوئی ہیں کہ اولوالعزم یہی پانچ پیغمبر تھے،جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث کے ضمن میں بیان ہواہے:

”مِنُهُم خَمْسةٌ :اٴوّلهُم نُوح، ثُمَّ إبراهِیمَ ،ثُمَّ موسیٰ ، ثُمَّ عِیسیٰ ، ثُمَّ مُحَمَّد (ص)(۵)

”اولوالعزم پیغمبر پانچ ہیں، پہلے جناب نوح ، ان کے بعد جناب ابراہیم ، ان کے بعد جناب موسیٰ ،ان کے بعد حضرت عیسیٰ اور آخر میں حضرت محمد (ص)“۔

اور جب سائل نے سوال کیا : ”لم سموا اولوالعزم“ ان کو اولوالعزم کیوں کہا جاتا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا:

لاٴنَّهُم بَعثُوا إلیٰ شَرقِهَا وَ غَرْبِهَا وَجِنِّها وَ إنْسِها(۶)

”کیونکہ (یہ اولوالعزم) پیغمبر مشرق و مغرب اور جن و انس کے لئے مبعوث ہوئے ہیں“۔

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”سَادَةُ النبیّین وَالمُرسَلِینَ خَمْسةٌ وَهُمْ اولوا العزمِ مِنَ الرُّسِل و علیهم دارة الرَّحی نوح و إبراهیم وموسیٰ و عیسیٰ ومحمد (ص)“ (۷)

”انبیاء و مرسلین کے سردار پانچ نبی ہیں اور نبوت و رسالت کی چکی ان ہی کے دم پر چلتی ہے، اور وہ یہ ہیں جناب نوح، جناب ابراہیم، جناب موسیٰ، جناب عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی (ص) “۔

تفسیر ”الدر المنثور “ میں ابن عباس سے یہی روایت کی گئی ہے کہ اولوالعزم یہی پانچ پیغمبر ہیں۔(۸)

لیکن بعض مفسرین نے ان انبیاء کو اولو العزم پیغمبر بتایا ہے جو دشمنوں سے جنگ کرنے پر مامور ہوئے ہیں۔

اسی طرح بعض مفسرین نے اولو العزم پیغمبر کی تعداد ۳۱۳ / بیان کی ہے، ( ۴) جبکہ بعض مفسرین نے تمام انبیاء علیہم السلام کو اولو العزم پیغمبر قرار دیا ہے(۹) اور اس نظریہ کے مطابق ”مِن الرُسل“ میں ”من“”بیانیہ“ ہوگا”تبعیضیہ“ نہیں، لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ صحیح ہے اور اسلامی روایات سے بھی اس کی تاکید ہوتی ہے۔(۱۰)

____________________

(۱) سورہ شوریٰ ، آیت۴۳

(۲) سورہ طہ ، ، آیت۱۱۵ (۳) سورہ احزاب ، آیت ۷

(۴) سورہ شوریٰ ، آیت۱۳

(۵) ”مجمع البیان محل بحث آیات کے ذیل میں ،(جلد ۹، صفحہ ۹۴)

(۶) بحا رالانوار ، جلد ا۱، صفحہ ۵۸، (حدیث ۶۱) ،اور اسی جلد میں صفحہ ۵۶ ،حدیث ۵۵، میں بھی صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے

(۷) اصول کافی ، جلد ۱،باب”طبقات الانبیاء والرسل “حدیث۳

(۱۰،۹،۸) الدرالمنثور ، جلد ۶، صفحہ ۴۵ (۶) تفسیر نمونہ ، جلد ا۲، صفحہ ۳۷۷


۲۷ بچپن میں نبوت یا امامت ملنا کس طرح ممکن ہے؟

سا کہ ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں:( یَایَحْیَیٰ خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَیْنَاهُ الْحُکْمَ صَبِیًّا ) (۱)

”(اے) یحییٰ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لو اور ہم نے انھیں بچپنے ہی میں نبوت عطا کردی“۔

یہاں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ انسان کو مقام نبوت یا امامت بچپن میں ہی مل جائے؟

یہ بات صحیح ہے کہ عام طور پر انسان کی عقل کی ترقی ایک موقع پر ہوتی ہے، لیکن ہم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمیشہ معاشرہ میں کچھ عجیب و غریب قسم کے افراد پائے جاتے ہیں،ان کی عقل کی پرواز بہت زیادہ ہوتی ہے، تو پھر کیا ممانعت ہے کہ خداوندعالم اس وقت کو بعض مصلحت کی بنا پر مختصر کردے اور بعض انسان کے لئے کم مدت میں اس مرحلہ کو طے کرالے، کیونکہ عام طور پر بچہ ایک سال کے بعد بولنا شروع کرتا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ولادت کے وقت ہی بولنے لگے اور وہ بھی پُر معنی مطالب جو بڑے بڑے ذہین لوگوں کے الفاظ ہوتے ہیں۔

یہاں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ شیعوں کے بعض ائمہ کس طرح بچپن میں مقام امامت تک پہنچ گئے، ان کا یہ اعتراض بے بنیاد ہے۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے صحابی” علی بن اسباط“ نے روایت کی ہے کہ میں امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا (جبکہ امام علیہ السلام کی عمر کم تھی) میں امام کے قد و قامت کو غور سے دیکھ رہا تھا تاکہ ذہن نشین کرلوں اورجب مصر واپس جاؤں تو دوستوں کے لئے آپ کے قدو قامت کو ہو بہو بیان کروں، بالکل اسی وقت جب میں یہ سوچ رہا تھا تو امام علیہ السلام بیٹھ گئے (گویا امام میرے سوال کوسمجھ گئے ) اور میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے علی بن اسباط! خداوندعالم نے امامت کے سلسلہ میں وہی کیا جونبوت کے بارے میں انجام دیا ہے، کبھی ارشاد ہوتا ہے:( وَآتَیْنَاهُ الْحُکْمَ صَبِیًّا ) ( ہم نے یحییٰ کو بچپن میں نبوت و عقل و درایت عطا کی“ اور کبھی انسان کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:( حَتّٰی إذَا بَلَغَ اَشدهُ وَبَلَغَ اٴرْبَعِیْنَ سَنَة ) (احقاف/ ۱۵) ( جب انسان بلوغ کامل کی حد تک پہنچا تو چالیس سال کا ہوگیا) ، پس جس طرح خدا کے لئے یہ ممکن ہے کہ انسان کو بچپن ہی میں نبوت و حکمت عطا فرمائے جبکہ وہی چیز انسان کی عقل کو چالیس سال میں مکمل فرمائے۔(۲)

مذکورہ آیت ان لوگوں کے لئے ایک دندان شکن جواب ہے جو حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں اعتراض کرتے ہیں کہ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں حضرت علی علیہ السلام نہیں ہیں کیونکہ اس وقت آپ کی عمر ۱۰ سال تھی اور دس سال کے بچہ کا ایمان قابل قبول نہیں ہے۔

(قارئین کرام!) یہاں پر اس نکتہ کا ذکر بےجانہ ہوگا جیساکہ ہم حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں پڑھتے ہیں کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے زمانہ کے کچھ بچے

ان کے پاس آئے اور کہا: ”اذہب بنا نلعب“( آؤ چلو آپس میں کھیلتے ہیں) تو جناب یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”ما للعب خلقنا“ ( ہم کھیلنے کے لئے پیدا نہیں ہوئے ہیں) اس موقع پر خداوندعالم نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی:( وآتَیْنَاهُ الحُکْمَ صَبِیِّاً ) (۳)

البتہ اس چیز پر توجہ رکھنا چاہئے کہ یہاں پر ”کھیل“ سے مراد بیہودہ اوربے فائدہ کھیل مراد ہے ورنہ اگر کھیل سے کوئی منطقی اور عاقلانہ فا ئد ہ ہو تو اس کا حکم جدا ہے۔(۴)

____________________

(۱)سورہ مریم ، آیت ۱۲

(۲) نور الثقلین ،، جلد ۳، صفحہ ۳۲۵

(۳) نور الثقلین ، جلد ۳، صفحہ ۳۲۵(سورہ مریم، آیت ۱۲)

۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۳، صفحہ ۲۷


۲۸ ۔ وحی کی اسرار آمیز حقیقت کیا ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم ”وحی“ کی حقیقت کے بارے میں بہت زیادہ معلومات حاصل نہیں کرسکتے، کیونکہ وحی ایک ایسا”ادراک“ ہے جوہمارے ادراک اور سمجھ کی حد سے باہرہے، بلکہ یہ ایک ایسا رابطہ ہے جوہمارے جانے پہچانے ہوئے ارتباط سے باہر ہے، پس ہم عالم وحی سے اس لئے آشنا نہیں ہو سکتے کہ یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔

لہٰذاایک خاکی انسان عالم ہستی سے کس طرح رابطہ پیداکرسکتا ہے؟ اور خداوندعالم جو ازلی، ابدی اور ہر لحاظ سے لامحدود ہے کس طرح محدود او رممکن الوجود سے رابطہ برقرار کرتا ہے؟ وحی نازل ہوتے وقت پیغمبر اکرم (ص) کس طرح یقین کرتے تھے کہ یہ رابطہ خدا کی طرف سے ہے؟!

یہ تمام ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا مشکل ہے، اور اس کے سمجھنے کے لئے زیادہ کوشش کرنا (بھی) بے کار ہے۔

ہم یہاں یہ عر ض کرتے ہیں کہ اس طرح کارابطہ موجود ہے،چنانچہ ہمارا یہ نظریہ ہے کہ اس طرح کے رابطہ کی نفی پر کوئی عقلی دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ اس کے برخلاف اپنی اس دنیا میں بھی کچھ ایسے راز ہوتے ہیں جن کو ہم بیان کرنے سے عاجز ہیں، اور ان خاص رابطوں کے پیش نظر ہمیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہمارے احساس اور رابطہ کے مافوق بھی احساس، ادراک اور آنکھیں موجود ہیں۔

مناسب ہے کہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے ایک مثال کا سہارا لیا جائے۔

فرض کیجئے کہ ہم کسی ایسے شہر میں زندگی بسر کرتے ہوں جہاں پر صرف اور صرف نابینا لوگ رہتے ہوں (البتہ پیدائشی نابینا ) اوروہاں صرف ہم ہی دیکھنے والے ہوں، شہر کے تمام لوگ”چار حسّ “ والے ہوں (اس فرض کے ساتھ کہ انسان کی پانچ حس ہوتی ہیں)اور صرف ہم ہی ”پانچ حس “والے ہوں، ہم اس شہر میں ہونے والے مختلف واقعات کو دیکھتے ہیں اور شہر والوں کو خبر دیتے ہیں، لیکن وہ سب تعجب کرتے ہیں کہ یہ پانچویں حس کیا چیز ہے،جس کی کارکردگی کا دائرہ اتنا وسیع ہے؟ اور ان کے لئے جس قدر بھی بینائی کے بارے میں بحث و گفتگو کریں تو بے فائدہ ہے، ان کے ذہن میں ایک نامفہوم شکل کے علاوہ کچھ نہیں آئے گا، ایک طرف سے اس کا انکار بھی نہیں کرسکتے، کیونکہ اس کے مختلف آثار و فوائد کا احساس کرتے ہیں، دوسری طرف چونکہ بینائی کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ بھی نہیں سکتے ہیں کیونکہ انھوں نے لمحہ بھر کے لئے بھی نہیں دیکھا ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ وحی ”چھٹی حسّ“ کا نام ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک قسم کا ادارک اور عالم غیب اور ذات خداسے رابطہ ہے جوہمارے یہاں نہیں پایا جاتاہے، جس کی حقیقت کو ہم نہیں سمجھ سکتے، اگرچہ اس کے آثار کی وجہ سے اس پر ایمان رکھتے ہیں۔

ہم تو صرف یہی دیکھتے ہیں کہ صاحب عظمت افراد ایسے مطالب جو انسانی فکر سے بلند ہیں؛ اس کے ساتھ انسانوں کے پاس آتے ہیں اور ان کو خدا اور دین الٰہی کی طرف بلاتے ہیں، اورایسے معجزات پیش کرتے ہیں جو انسانی طاقت سے بلند و بالاہے ، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کا عالم غیب سے رابطہ ہے، جس کے آثار واضح و روشن ہیں لیکن اس کی حقیقت مخفی ہے۔

کیا ہم نے اس دنیا کے تمام رازوں کو کشف کرلیا ہے کہ اگر وحی کی حقیقت کو نہ سمجھ سکیں تو اس کا انکار کر ڈالیں؟

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ہم حیوانات کے یہاں بعض پُراسرار چیزیں دیکھتے ہیں جن کی تفسیر و توضیح سے عاجز ہیں، مگر مہاجر پرندے جو کبھی کبھی ۱۸۰۰۰/ کلومیٹر کا طولانی سفر طے کرتے ہیں اور قطب شمال سے جنوب کی طرف یا اس کے برعکس جنوب سے شمال کی طرف سفر کرتے ہیں، کیا ان کی پُراسرار زندگی ہمارے لئے واضح ہے؟

یہ پرندے کس طرح سمت کا پتہ لگاتے ہیں اوراپنے راستہ کو صحیح پہچانتے ہیں؟ کبھی دن میں اور کبھی اندھیری رات میں دور دراز کا سفر طے کرتے ہیں حالانکہ اگر ہم ان کی طرح بغیر کسی وسیلہ اور گائڈ کے ایک فی صدبھی سفر کریں تو بہت جلد راستہ بھٹک جائیں گے، یہ وہ چیز ہے جس کے سلسلہ میں علم و دانش بھی ابھی تک پردہ نہیں اٹھاسکی، اسی طرح بہت سی مچھلیاں دریا کی گہرائی میں رہتی ہیں اور انڈے دینے کے وقت اپنی جائے پیدائش تک چلی جاتی ہیں کہ شاید ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ ہو، یہ مچھلیاں کس طرح اپنی جائے پیدائش کو اتنی آسانی سے تلاش کرلیتی ہیں؟

ان کے علاوہ اس دنیا میں ہمیں بہت سی مثالیں ملتی ہیں جو ہمیں انکار اور نفی سے روک دیتی ہیں،اس جگہ ہمیں شیخ الرئیس ابو علی سینا کا قول یاد آتا ہے ”کْلُّ ما قرَع سمَعکَ مِن الغرائبِ فضعہ فی بقعة لإمکان مالم یذدکَ عنہ قاطعُ البرہانِ“ (اگر کوئی عجیب و غریب چیز سننے میں آئے تو اس کا انکار نہ کرو ، بلکہ اس کے بارے میں یہ کہو کہ ممکن ہے، جب تک کہ اس کے برخلاف کوئی مضبوط دلیل نہ مل جائے!)

منکر ِوحی کی دلیل

جب بعض لوگوں کے سامنے وحی کا مسئلہ آتا ہے تو جلد بازی میں جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں: یہ چیز علم اور سائنس کے برخلاف ہے!

اگر ان سے سوال کیا جائے کہ یہ کہاں علم اور سائنس کے برخلاف ہے؟ تو یقین کے ساتھ اور مغرور لہجہ میں کہتے ہیں :جس چیز کوعلوم طبیعی اور سائنس ثابت نہ کرے تو اس کے انکار کے لئے یہی کافی ہے، اصولی طور پر وہی مطلب ہمارے لئے قابل قبول ہے جو علوم اور سائنس کے تجربوں سے ثابت ہوجائے!!

اس کے علاوہ سائنس کی ریسرچ نے اس بات کو ثابت نہیں کیا ہے کہ انسان کے اندر ایک ایسی حس موجود ہے جس سے ماوراء طبیعت کا پتہ لگایا جاسکے، انبیاء بھی ہماری ہی طرح انسان تھے ان کی اور ہماری جنس ایک ہی ہے، تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ان کے یہاں ایسا احساس اور ادراک پایا جاتا ہو جو ہم میں نہ ہو؟

ہمیشہ کا اعتراض اور ہمیشہ کاجواب مادہ پر ستوں کا اعتراض صرف ”وحی“ کے سلسلہ میں نہیں ہے وہ تو ”ما وراء طبیعت“ کے تمام مسائل کا انکار کرتے رہتے ہیں، اور ہم اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے ہر جگہ یہی جواب پیش کرتے ہیں:

یہ بات ذہن نشین رہے کہ سائنس کا دائرہ ،صرف(مادی ) دنیا تک ہے ، اور سائنس کی بحث و گفتگو کا معیار اور آلات :لیبریٹری ، ٹلسکوپ، میکرواسکوپ وغیرہ ہیں اور اسی دائرے میں گفتگو ہوتی ہے، سائنس ان معیار اور وسائل کے ذریعہ ”جہان مادہ“ کے علاوہ کوئی بات نہیں کہہ سکتی نہ کسی چیز کو ثابت کرسکتی ہے اور نہ کسی چیز کا انکار کرسکتی ہے، اس بات کی دلیل بھی روشن ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ تمام وسائل محدود اور خاص دائرے سے مخصوص ہیں۔

بلکہ علم و سائنس کے مختلف آلات کسی دوسرے علم میں کارگر نہیں ہوسکتے، مثال کے طور پر اگر ”سِل“ کے جراثیم کو بڑی بڑی نجومی ٹلسکوپ کے ذریعہ نہ دیکھا جاسکے تو اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح اگر ”پلوٹن“ ستارے کو میکروسکوپ اور ذرہ بین کے ذریعہ نہ دیکھا جاسکے تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے!!

کسی چیز کی پہچان اور شناخت کے لئے اسی علم کے آلات اوروسائل ہونا ضروری ہے، لہٰذا ”ماوراء طبیعت“ کی پہچان کے صرف عقلی دلائل ہی کارگر ہوسکتے ہیں جن کے ذریعہ اس عظیم دنیا کے راستے ہمارے لئے کھل جاتے ہیں۔

جو افراد علم کو اس کی حدود سے خارج کرتے ہیں وہ نہ عالم ہیں اور نہ فیلسوف، یہ لوگ صرف دعو یٰ کرتے ہیں حالانکہ خطاکار اور گمراہ ہیں۔ہم صرف یہی دیکھتے ہیں کہ کچھ عظیم انسان آئے اور ہمارے سامنے کچھ مطالب بیان کئے، جو نوع بشر کی طاقت سے باہر تھے، جس کی بنا پر ہم سمجھ گئے کہ ان کا ”ماوراء طبیعت“ سے رابطہ ہے، لیکن یہ رابطہ کیسا ہے؟ یہ ہمارے لئے بہت زیادہ اہم نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ ہاں اس طرح کا رابطہ موجود ہے۔(۱)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۰، صفحہ ۴۹۶


۲۹ ۔ کیا پیغمبر اکرم (ص) امّی تھے؟

”اُمّی“ کے معنی میں تین مشہور احتمال پائے جاتے ہیں: پہلا احتمال یہ ہے کہ ”اُمّی“ یعنی جس نے سبق نہ پڑھا ہو، دوسرا احتمال یہ ہے کہ ”اُمّی“ یعنی جس کی جائے پیدائش مکہ ہو اور مکہ میںظاہر ہوا ہو، اور تیسرے معنی یہ ہیں کہ ”اُمّی“ یعنی جس نے قوم او رامت کے درمیان قیام کیا ہو، لیکن سب سے زیادہ مشہور و معروف پہلے معنی ہیں، جو استعمال کے موارد سے بھی ہم آہنگ ہیں، اور ممکن ہے تینوں معنی باہم مراد ہوں۔

اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے،کہ”پیغمبر اکرم (ص)کسی مکتب اور مدرسہ میں نہیں گئے “اور قرآن کریم نے بھی بعثت سے پہلے آنحضرت (ص) کے بارے میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے:( وَمَا کُنْتَ تَتْلُوا مِنْ قَبْلِهِ مِنْ کِتَابٍ وَلاََتخُطُّهُ بِیَمِینِکَ إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ ) (۱)

”اور اے پیغمبر! آپ اس قرآن سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے ورنہ یہ اہل باطل شبہ میں پڑجاتے“۔

یہ بات حقیقت ہے کہ اس وقت پورے حجاز میں پڑھے لکھے لوگ اتنے کم تھے کہ ان کی تعداد انگشت شمار تھی اور سبھی ان کوجا نتے تھے، مکہ میں جو حجاز کا مرکز شمار کیا جاتا تھا لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد ۱۷/ سے زیادہ نہیں تھی اور عورتوں میں صرف ایک عورت پڑھی لکھی تھی۔(۲)

ایسے ماحول میں اگر پیغمبر اکرم (ص) نے کسی استاد سے تعلیم حاصل کی ہوتی تو یقینی طور پریہ بات مشہور ہوجاتی، بالفرض اگر (نعوذ باللہ) آنحضرت (ص)کی نبوت کو قبول نہ کریں، تو پھر آپ اپنی کتاب میں اس موضوع کی نفی کیسے کرسکتے تھے؟ کیا لوگ اعتراض نہ کرتے کہ تم نے تعلیم حاصل کی ہے، لہٰذا یہ بہترین شاہدہے کہ آپ نے کسی کے پاس تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔

بہر حال پیغمبر اکرم (ص) میں اس صفت کا ہونا نبوت کے اثبات کے لئے زیادہ بہتر ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس شخص نے کہیں کسی سے تعلیم حاصل نہ کی ہو وہ اس طرح کی عمدہ گفتگوکرتا ہے جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ آنحضرت (ص) کا خداوندعالم اور عالم ماوراء طبیعت سے واقعاً رابطہ ہے۔

یہ آنحضرت (ص) کی بعثت نبوت سے پہلے، لیکن بعثت کے بعد بھی کسی تاریخ نے نقل نہیں کیا کہ آپ نے کسی کے پاس لکھناپڑھنا سیکھا ہو، لہٰذا معلوم یہ ہو ا کہ آپ اولِ عمر سے آخر ِعمر تک اسی ”اُمّی“ صفت پر باقی رہے۔

لیکن یہاں پر سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے جس سے اجتناب کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ تعلیم حاصل نہ کرنے کے معنی جاہل ہونا نہیں ہے، اور جو لوگ لفظ ”اُمّی“ کے جاہل معنی کرتے ہیں وہ اس فرق کی طرف متوجہ نہیں ہیں۔

اس بات میں کوئی مانع نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) تعلیم الٰہی کے ذریعہ ”پڑھنا“ یا ”پڑھنا اور لکھنا“ جانتے ہوں، بغیر اس کے کہ کسی انسان کے پاس تعلیم حاصل کی ہو، بے شک اس طرح کی معلومات انسانی کمالات میں سے ہیں اور مقام نبوت کے لئے ضروری ہیں۔

حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام سے منقول روایات اس بات پر بہترین شاہد ہیں، جن میں بیان ہوا ہے : پیغمبر اکرم (ص) لکھنے پڑھنے کی قدرت رکھتے تھے۔(۳)

لیکن ان کی نبوت میں کہیں کوئی شک نہ کرے اس قدرت سے استفادہ نہیں کرتے تھے،اور جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ لکھنے پڑھنے کی طاقت کوئی کمال محسوب نہیں ہوتی، بلکہ یہ دونوں علمی کمالات تک پہنچنے کے لئے کنجی کی حیثیت رکھتے ہیں نہ کہ علم واقعی اور کمال حقیقی، تو اس کا جواب بھی اسی میں مخفی ہے کیونکہ کمالات کے وسائل سے آگاہی رکھنا خود ایک واضح کمال ہے۔لیکن جیسا کہ بعض لوگوں کا تصور ہے جس طرح کہ سورہ جمعہ میں بیان ہوا ہے:

( یَتْلُوا عَلَیْهِمْ آیَاتِهِ وَیُزَکِّیهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ ) (۴) یا اس کے ماننددوسری آیات، اس بات کی دلیل ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) لوگوں کے سامنے لکھی ہوئی کتاب (قرآن) سے پڑھتے تھے، یہ بھی ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ تلاوت کے معنی لکھی ہوئی کتاب پڑھنا بھی ہیں اور زبانی طور پر پڑھنا بھی، جو لوگ قرآن، اشعار یا دعاؤں کو زبانی پڑھتے ہیں ان پر بھی تلاوت کا اطلاق بہت زیادہ ہو تا ہے۔(۵)

____________________

(۱) سورہ عنکبوت ، آیت ۴۸

(۲) فتوح البلدان بلاذری ،مطبوعہ مصر، صفحہ ۴۵۹

(۳) تفسیر برہان ، جلد ۴، صفحہ ۳۳۲، سورہ جمعہ کی پہلی آیت کے ذیل میں

(۴) سورہ جمعہ ، آیت ۲”(وہ رسول) انھیں کے سامنے آیات کی تلاوت کرے ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے“۔

(۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۴۰۰


۳۰ ۔ معراج؛ جسمانی تھی یا روحانی اور معراج کا مقصد کیا تھا؟

شیعہ ،سنی تمام علمائے اسلام کے درمیان مشہور ہے کہ رسول اسلام کو یہ عالم بیداری میں معراج ہوئی، چنا نچہ سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت اور سورہ نجم کی آیات کا ظاہری مفہوم بھی اس بات پر گواہ ہے کہ یہ بیداری کی حالت میں معراج ہوئی۔

اسلامی تواریخ بھی اس بات پر گواہ ہیں چنا نچہ بیان ہوا ہے : جس وقت رسول اللہ نے واقعہ معراج کو بیان کیا تو مشرکین نے شدت کے ساتھ اس کا انکار کردیا اور اسے آپ کے خلاف ایک بہانہ بنالیا۔

یہ بات خود اس چیز پرگواہ ہے کہ رسول اللہ (ص)ہرگز خواب یا روحانی معراج کے مدعی نہ تھے ورنہ مخالفین اتناشور وغل نہ کرتے ۔

لیکن جیساکہ حسن بصری سے روایت ہے : ”کان فی المنام رویا رآها “ (یہ واقعہ خواب میں پیش آیا )

اور اسی طرح حضرت عائشہ سے روایت ہے : ”والله ما فقد جسد رسول الله (ص) ولکن عرج بروحه

”خداکی قسم بدن ِرسول اللہ (ص)ہم سے جدا نہیں ہوا صرف آپ کی روح آسمان پر گئی“۔

ظاہراً ایسی روایات سیاسی پہلو رکھتی ہیں۔(۱)

معراج کا مقصد

یہ بات ہمارے لئے واضح ہے کہ معراج کا مقصد یہ نہیں کہ رسول اکرم دیدار خدا کے لئے آسمانوں پر جائیں، جیسا کہ سادہ لوح افرادخیال کرتے ہیں، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مغربی دانشور بھی ناآگاہی کی بنا پر دوسروں کے سامنے اسلام کا چہرہ بگاڑکر پیش کرنے کے لئے ایسی باتیں کرتے ہیں جس میں سے ایک مسڑ” گیور گیو“ بھی ہیں وہ بھی کتاب ”محمد وہ پیغمبر ہیں جنہیں پھرسے پہچاننا چاہئے“(۲) میں کہتے ہیں:”محمد اپنے سفرِ معراج میں ایسی جگہ پہنچے کہ انہیں خدا کے قلم کی آواز سنائی دی، انہوں نے سمجھا کہ اللہ اپنے بندوں کے حساب کتاب میں مشغول ہے البتہ وہ اللہ کے قلم کی آواز تو سنتے تھے مگر انہیں اللہ دکھائی نہ دیتا تھا کیونکہ کوئی شخص خدا کو نہیں دیکھ سکتا خواہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہوں“

یہ عبارت نشاندھی کرتی ہے کہ وہ قلم لکڑی کا تھا، اور وہ کاغذ پر لکھتے وقت لرزتاتھا اور اس سے آواز پیدا ہوتی تھی ،اوراسی طرح کی اور بہت سے خرافات اس میں موجود ہیں “۔

جب کہ مقصدِ معراج یہ تھا کہ اللہ کے عظیم پیغمبر کائنات بالخصوص عالم بالا میں موجودہ عظمت الٰہی کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں اور انسانوں کی ہدایت ورہبری کے لئے ایک نیا احساس اور ایک نئی بصیرت حاصل کریں ۔ معراج کاہدف واضح طورپر سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت اور سورہ نجم کی آیت ۱۸ میں بیان ہوا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک روایت امام صادق علیہ السلام سے بیان ہوئی ہے جس میں آپ سے مقصد معراج پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :

”إنَّ الله لا یُوصف بمکانٍ ،ولایُجری علیه زمان ،ولکنَّه عزَّوجلَّ اٴرادَ اٴنْ یشرف به ملائکته وسکان سماواته، و یکرَّمهم بمشاهدته ،ویُریه من عجائب عظمته مایخبر به بعد هبوطه(۳)

”خدا ہرگز کوئی مکان نہیں رکھتا اور نہ اس پر کوئی زمانہ گزرتاہے لیکن وہ چاہتا تھا کہ فرشتوں اور آسمان کے باشندوں کو اپنے پیغمبر کی تشریف آوری سے عزت بخشے اور انہیں آپ کی زیارت کا شرف عطاکرے نیزآپ کو اپنی عظمت کے عجائبات دکھائے تاکہ واپس آکران کولوگوں کے سا منے بیان کریں“۔(۴)

____________________

(۱)تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۵

(۲)مذکورہ کتاب کے فارسی ترجمہ کا نام ہے “ محمد پیغمبری کہ از نوباید شناخت “ صفحہ ۱۲۵

(۳) تفسیر برہان ، جلد ۲، صفحہ ۴۰۰

(۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۶


۳۱ ۔ کیا معراج ،آج کے علوم سے ہم آہنگ ہے؟

گزشتہ زمانے میں بعض فلاسفہ بطلیموس کی طرح یہ نظریہ رکھتے تھے کہ نو آسمان پیاز کے چھلکے کی طرح تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں واقعہ معراج کو قبول کرنے میں ان کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ان کا یہی نظریہ تھا ان کے خیال میں اس طرح تویہ ماننا پڑتا ہے کہ آسمان شگافتہ ہوگئے اور پھر آپس میں مل گئے؟

لیکن” بطلیموسی “نظریہ ختم ہو گیا تو آسمانوں کے شگافتہ ہونے کا مسئلہ ختم ہوگیا البتہ علم ہیئت میں جو ترقی ہوئی ہے اس سے معراج کے سلسلے میں نئے سوالات ابھر ے ہیں مثلاً:

۱ ۔ایسے فضائی سفر میں پہلی رکاوٹ کششِ ثقل ہے جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے غیر معمولی وسائل و ذرائع کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کے مداراور مرکزِ ثقل سے نکلنے کےلئے کم از کم چالیس ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار کی ضرورت ہے ۔

۲ ۔دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ زمین کے باہر خلا میں ہوا نہیں ہے جبکہ ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا

(۱) بعض قدیم فلاسفہ کا یہ نظریہ تھا کہ آسمانوں میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ، اصطلاح میں وہ کہتے تھے کہ افلاک میں --”خرق “(پھٹنا)اور ”التیام“(ملنا)ممکن نہیں

۳ ۔ایسے سفر میں تیسری رکاوٹ اس حصہ میں سورج کی جلادینے والی تپش ہے جبکہ جس حصہ پر سورج کی بلا واسطہ روشنی پڑرہی ہے اور اسی طرح اس حصہ میں جان لیوا سردی ہے جس میں سورج کی روشنی نہیں پڑرہی ہے۔

۴ ۔ اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ خطرناک شعاعیں ہیں کہ جو فضا ئے زمین کے اوپر موجود ہیں مثلا کا سمک ریز cosmic ravs الٹرا وائلٹ ریز ultra violet ravs اور ایکس ریز x ravs یہ شعاعیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے ارگانزم organism کے لئے نقصان دہ نہیں ہیں لیکن فضائے زمین کے باہر یہ شعاعیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں (زمین پر رہنے والوں کے لئے زمین کے اوپر موجودہ فضاکی وجہ سے ان کی تپش ختم ہوجاتی ہے )

۵ ۔اس سلسلہ میں ایک اور مشکل یہ ہے کہ خلامیں انسان کا وزن ختم ہوجاتا ہے اگرچہ تدریجاًبے وزنی کی عادت پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اگر زمین کے باشندہ بغیر کسی تیاری اور تمہید کے خلا میں جا پہنچیں تو اس کیفیت سے نمٹنا بہت ہی مشکل ہے ۔

۶ ۔اس سلسلہ میں آخری مشکل زمانہ کی مشکل ہے اور یہ نہایت اہم رکاوٹ ہے کیونکہ دورحاضر کے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ہر چیز سے زیادہ ہے اور اگر کوئی آسمانوں کی سیر کرنا چاہے تو ضروری ہو گاکہ اس کی رفتار اس سے زیادہ ہو ۔

ان سوالات کے پیش نظر چندچیزوں پر توجہ ضروری ہے:

۱ ۔ہم جانتے ہیں کہ فضائی سفر کی تمام تر مشکلات کے باوجود آخر کار انسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کرچکا ہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل ہوچکی ہیں اور زمانے والی مشکل بھی بہت دور کے سفر سے مربوط ہے ۔

۲ ۔اس میں شک نہیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی پہلو نہیں رکھتا تھابلکہ یہ اللہ کی لامتناہی قدرت و طاقت کے ذریعہ صورت پذیر ہوا اور انبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے۔

زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ معجزہ عقلاً محال نہیں ہونا چاہئے اور جب معجزہ بھی عقلاً ممکن ہے ، توباقی معاملات اللہ کی قدرت سے حل ہوجاتے ہیں ۔جب انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پر ایسی چیزیں بنالے جو زمینی مرکز ثقل سے باہر نکل سکتی ہیں ، ایسی چیزیں تیار کرلے کہ فضائے زمین سے باہر کی ہولناک شعاعیں ان پر اثر نہ کرسکیں، اور ایسے لباس پہنے کہ جو اسے انتہائی گرمی اور سردی سے محفوظ رکھ سکیں اور مشق کے ذریعہ بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے ،یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعہ یہ کام کرسکتا ہے تو پھر کیا اللہ اپنی لا محدود طاقت کے ذریعہ یہ کام نہیں کرسکتا ؟

ہمیں یقین ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس سفر کے لئے انتہائی تیز رفتار سواری دی تھی اور اس سفرمیں در پیش خطرات سے محفوظ رہنے کے لئے انہیں اپنی مدد کا لباس پہنایا تھا ،ہاں یہ سواری کس قسم کی تھی اور اس کا نام کیا تھا، براق ؟ رفرف ؟ یا کوئی اور ؟یہ مسئلہ قدرت کاراز ہے، ہمیں اس کا علم نہیں ۔ان تمام چیزوں سے قطع نظر تیز ترین رفتار کے بارے میں مذکورہ نظریہ آج کے سائنسدانوں کے درمیان متزلزل ہوچکا ہے اگر چہ آئن سٹائن اپنے مشہور نظریہ پر پختہ یقین رکھتا ہے۔

آج کے سائنسداں کہتے ہیں کہ امواج جاذبہ Rdvs of at f fion " " زمانے کی احتیاج کے بغیر آن واحد میں دنیا کی ایک طرف سے دوسری طرف منتقل ہوجاتی ہیں اور اپنا اثر چھوڑتی ہیں یہاں تک کہ یہ احتمال بھی ہے کہ عالم کے پھیلاؤ سے مربوط حرکات میں ایسے نظام موجودہیں کہ جوروشنی کی رفتارسے زیادہ تیزی سے مرکزِ جہان سے دور ہوجاتے ہیں (ہم جانتے ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے اور ستارے اورشمسی نظام تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور ہورہے ہیں) (غور کیجئے )

مختصر یہ کہ اس سفر کے لئے جو بھی مشکلات بیان کی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی عقلی طور پر اس راہ میں حائل نہیں ہے اور ایسی کوئی بنیاد نہیں کہ واقعہ معراج کو عقلی طورپر محال سمجھا جائے ،اس راستہ میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے جو وسائل درکار ہیں وہ موجود ہوں تو ایسا ہوسکتا ہے ۔بہرحال واقعہ معراج نہ تو عقلی دلائل کے حوالہ سے ناممکن ہے اور نہ دور حاضر کے سائنسی معیاروں کے لحاظ سے ، البتہ اس کے غیر معمولی اور معجزہ ہونے کو سب قبول کرتے ہیں لہٰذا جب قطعی اور یقینی نقلی دلیل سے ثابت ہوجائے تو اسے قبول کرلینا چاہئے۔(۱) (۲)

____________________

(۱)معراج ، شق القمر اور دونوں قطبوں میں عبادت کے سلسلہ میں ہماری کتاب ”ہمہ می خو اہند بدا نند“ میں رجو ع فر مائیں

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۷


۳۲ ۔کیا عصمت انبیاء جبری طور پر ہے؟

بہت سے لوگ جب عصمت انبیاء کی بحث کا مطالعہ کرتے ہیں تو فوراً ان کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ مقام عصمت ایک الٰہی عطیہ ہے جو انبیاء اور ائمہ (علیہم السلام) کو لازمی طور پر دیا جاتا ہے، اور جس کو یہ خدا داد نعمت مل جاتی ہے تو وہ گناہ اور خطاؤں سے محفوظ ہوجاتا ہے، لہٰذا ان کا معصوم ہونا کوئی فضیلت اور قابل افتخار نہیں ہوگا، جو شخص بھی اس الٰہی نعمت سے بہرہ مند ہوجائے تو وہ (خود بخود) تمام گناہوں اور خطاؤں سے پرہیز کرے گا ، اور یہ اللہ کی طرف سے جبری طورپر ہے۔

لہٰذا مقامِ عصمت کے ہوتے ہوئے گناہ اور خطا کا مرتکب ہونا محال ہے، جبکہ یہ بات بھی واضح ہے کہ ”محال کو چھوڑ دینا“ کوئی فضیلت نہیںہوتی، مثال کے طور پر اگر ہم سو سال بعد پیدا ہونے والے یا سو سال پہلے گزرنے والوں پر ظلم و ستم نہیں کرسکتے،تو یہ ہمارے لئے کوئی باعث افتخار نہیں ہے، کیونکہ ایسا کرنا ہمارے امکان سے باہر ہے!!

مذ کورہ اعتراض اگرچہ ”عصمت انبیاء“ پر نہیں ہے بلکہ عصمت کی فضیلت گھٹانے کے لئے ہے، لیکن پھر بھی درج ذیل چند نکات پر توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجائے گا۔

۱ ۔ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں، ان کی توجہ ”عصمت انبیاء“ پر نہیں ہوتی، بلکہ ان لوگوں کا گمان ہے کہ مقام عصمت ، بیماریوں کے مقابلہ میں بچاؤ کی طرح ہے، جیسا کہ بعض بیماریوں سے بچنے کے لئے ٹیکے لگائے جاتے ہیں، جن کی بنا پر وہ بیماریاں نہیں آتیں۔

لیکن معصومین میں گناہ کے مقابل یہ تحفظ ان کی معرفت ،علم اور تقویٰ کی بنیاد پر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ہم بعض چیزوں کا علم رکھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ کام بُرا ہے، مثلاً ہم کبھی بھی بالکل برہنہ ہوکر گلی کوچوں میں نہیں گھومتے، اسی طرح جو شخص نشہ آور چیزوں کے استعمال کے نقصان کے بارے میں کافی معلومات رکھتا ہے کہ اس سے انسان آہستہ آہستہ موت کی آغوش میں چلاجاتاہے؛ وہ اس کے قریب تک نہیں جاتا، یقینا اس طرح نشہ آور چیزوں کو ترک کرنا انسان کے لئے فضیلت اور کمال ہے، لیکن اس میں کسی طرح کا کوئی جبری پہلو نہیں ہے، کیونکہ انسان نشہ آورچیزوں کے استعمال میں آزاد ہے۔

اسی وجہ سے ہم کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں میں تعلیم و تربیت کے ذریعہ علم ومعرفت اور تقویٰ کی سطح کو بلند کریں تاکہ ان کو بڑے بڑے گناہوں اوربرے اعمال کے ارتکاب سے بچالیں۔

جو لوگ اس تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں بعض بُرے اعمال کو ترک کرتے ہوئے نظر آئیں تو کیا ان کے لئے یہ فضیلت اور افتخارکا مقام نہیں ہے؟!

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں تو بہتر ہوگا کہ انبیاء کے لئے یہ ”محالِ عادّی“ ہے ”محالِ عقلی“ نہیں ، کیونکہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ”محال عادّی“ انسان کے اختیار میں ہوتا ہے، ”محال عادّی“ کی مثال اس طرح تصور کریں کہ ایک عالم اور مومن مسجد میں شراب لے جاسکتا ہے اور نماز جماعت کے دوران شراب پی سکتا ہے،( لیکن عادتاً مومن افراد اس طرح نہیں کرتے) یہ محال عقلی نہیں بلکہ ”محال عادّی“ ہے۔

مختصر یہ کہ انبیاء علیہم السلام چونکہ معرفت و ایمان کے بلند درجہ پر فائز ہوتے ہیں جو خود ایک عظیم فضیلت اور افتخار ہے، جو دوسری فضیلت اور افتخار کا سبب ہوتے ہیں اسی فضیلت کو عصمت کہتے ہیں۔(غور فرمائیے گا)

اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایمان اور معرفت کہاں سے آئی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عظیم ایمان اور معرفت خداوندعالم کی امداد سے حاصل ہوئی ہے، لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ خداوندعالم کی امداد بے حساب و کتاب نہیں ہے، بلکہ ان میں ایسی لیاقت اور صلاحیت موجود تھی ، جیسا کہ قرآن مجید حضرت ابراہیم خلیل خدا کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ جب تک انھوں نے الٰہی امتحان نہ دے لیا تو ان کو لوگوں کا امام قرار نہیں دیا گیا، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَإِذْ ابْتَلَی إِبْرَاهِیمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ فَاٴَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ) (۱)

یعنی جناب ابراہیم علیہ السلام اپنے ارادہ و اختیار سے ان مراحل کو طے کرنے کے بعد عظیم الٰہی نعمت سے سرفراز ہوئے۔

اسی طرح جناب یوسف علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: ” جس وقت وہ بلوغ اور طاقت نیز جسم و جان کے تکامل و ترقی تک پہنچے (اور وحی قبول کرنے کے لئے تیار ہوگئے) تو ہم نے ان کو علم و حکمت عنایت فرمایا اور اس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں“

( وَلَمَّا بَلَغَ اٴَشُدَّهُ آتَیْنَاهُ حُکْمًا وَعِلْمًا وَکَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ) (۲)

آیت کا یہ حصہ( َکَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ) ہماری بات پربہترین دلیل ہے کیونکہ اس میں ارشاد ہوتا ہے کہ (جناب) یوسف کے نیک اور شائستہ اعمال کی وجہ سے ان کو خدا کی عظیم نعمت حاصل ہوئی۔

اسی طرح جناب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایسے الفاظ ملتے ہیں جو اسی حقیقت کو واضح کرتے ہیں، ارشاد خداوندی ہوتا ہے: ” ہم نے بارہا تمہارا امتحان لیا ہے، اور تم نے برسوں اہل ”مدین“ کے یہاں قیام کیا ہے (اور ضروری تیار ی کے بعد امتحانات کی بھٹی سے سرفراز اور کامیاب نکل آئے) تو آپ کو بلند مقام اور درجات حاصل ہوئے:

( وَفَتَنَّاکَ فُتُونًا فَلَبِثْتَ سِنِینَ فِی اٴَهْلِ مَدْیَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَی قَدَرٍ یَامُوسَی ) (۳)(۴) ”اور تمہارا باقاعدہ امتحان لیا پھر تم اہل مدین میں کئی برس تک رہے اس کے بعد تم ایک منزل پر آگئے اے موسیٰ“۔

یہ بات معلوم ہے کہ ان عظیم الشان انبیا ء میں استعداد اور صلاحیت پائی جاتی تھی لیکن ان کو بروئے کار لانے کے لئے کوئی جبری پہلو نہیں تھا، بلکہ اپنے ارادے و اختیار سے اس راستہ کو طے کیا ہے، بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان میں بہت سی صلاحیت اور لیاقت پائی جاتی ہیں لیکن ان سے استفادہ نہیں کرتے، یہ ایک طرف ۔

دوسری طرف اگر انبیاء علیہم السلام کو اس طرح کی عنایات حاصل ہوئی ہیں تو ان کے مقابل ان کی ذمہ داریاں بھی سخت تر ہیں، یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ خداوندعالم جس مقدار میں انسان کو ذمہ داری دیتا ہے اسی لحاظ سے اسے طاقت بھی دیتا ہے، اور پھر اس ذمہ داری کے نبھانے پر امتحان لیتا ہے۔

۲ ۔ اس سوال کا ایک دوسرا جواب بھی دیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ فرض کیجئے کہ انبیاء علیہم السلام خدا کی جبری امداد کی بنا پرہر طرح کے گناہ اور خطا سے محفوظ رہتے ہیں تاکہ عوام الناس کے اطمینان میں مزید اضافہ ہوجائے، اور یہ چیز ان کے لئے چراغ ہدایت بن جائے، لیکن ”ترک اولیٰ“ کا احتمال باقی رہتا ہے، یعنی ایسا کام جو گناہ نہیں ہے لیکن انبیاء علیہم السلام کی شان کے مطابق نہیں ہے۔

رسالت حاصل کرنے کے لئے جو زمانہ معین کیا گیا تھا اس کے معنی کئے گئے ہیں

انبیاء کا افتخار یہ ہے کہ ان سے ترک اولیٰ تک نہیں ہوتا، اور یہ ان کے لئے ایک اختیاری چیزہے، اور اگر بعض انبیاء علیہم السلام سے بہت ہی کم ترک اولیٰ ہوا ہے تو اسی لحاظ سے مصائب و بلا میں گرفتار ہوئے ہیں، تو اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوگی کہ وہ اطاعت الٰہی میں کوئی ترک اولیٰ بھی نہیں کرتے۔

اس بنا پر انبیاء علیہم السلام کے لئے با عث افتخارہے کہ خدا کی عطا کردہ نعمتوں کے مقابل ذمہ داری بھی زیاہ ہوتی ہے اور ترک اولیٰ کے قریب تک نہیں جاتے، اور اگر بعض موارد میں ترک اولیٰ ہوتا ہے تو فوراً اس کی تلافی کردیتے ہیں۔(۵)

____________________

(۱) سورہ بقرہ ، آیت۱۲۴ (۲) سورہ یوسف ، آیت۲۲

(۳)سورہ طہ ، آیت۴۰

۴) جملہ < ثُمَّ جِئْتَ عَلَی قَدَرٍ یَامُوسَی ٰ> سے کبھی وحی کے قبول کرنے کی لیاقت اور صلاحیت کے معنی لئے گئے ہیں اور کبھی

(۵) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۱۹۳


۳۳ ۔ جادوگروں اور ریاضت کرنے والوں کے عجیب وغریب کاموں اور معجزہ میں کیا فرق ہے؟

۱ ۔ معجزات ، خداداد طاقت کے بل بوتہ پر ہوتے ہیں۔

جبکہ جادوگری اور ان کے غیر معمولی کارنامے انسانی طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں، لہٰذا معجزات بہت ہی عظیم اور نامحدود ہوتے ہیں، جبکہ جادوگروں کے کارنامے محدود ہوتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں : جادوگر فقط وہی کام انجام دے سکتے ہیں جن کی انھوں نے تمرین کی ہے، اور اس کام کے انجام دینے کے لئے کافی آمادگی رکھتے ہوں، اگر ان سے کو ئی دوسرا کام انجام دینے کے لئے کہا جائے تو وہ کبھی نہیں کرسکتے، اب تک آپ نے کسی ایسے جادوگر اور ریاضت کرنے والے کو نہیں دیکھا ہوگا کہ جو یہ کہتا ہوا نظر آئے کہ جو کچھ بھی تم چاہو میں اس کوکر دکھاؤں گا، کیونکہ جادوگروں کو کسی خاص کام میں مہارت اور آگاہی ہوتی ہے۔

یہ صحیح ہے کہ انبیاء علیہم السلام لوگوں کی درخواست کے بغیر خود اپنے طور پر بھی معجزہ پیش کرتے تھے (جیسے پیغمبر اکرم (ص) نے قرآن کریم پیش کیا، جناب موسیٰ علیہ السلام نے عصا کو اژدہا بنادیا، اور آپ کا معجزہ ”ید بیضا“ اسی طرح جناب عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کا زندہ کرنا) لیکن جس وقت ان کی امت ایک نئے معجزہ کی فرمائش کرتی تھی جیسے ”شق القمر“ یا فرعونیوں سے بلاؤں کا دور ہونا، یا حواریوں کے لئے آسمان سے غذائیں نازل ہونا وغیرہ، تو انبیاء علیہم السلام ہرگز اس سے ممانعت نہیں کرتے تھے (البتہ اس شرط کے ساتھ کہ ان کی فرمائش حقیقت کی تلاش کے لئے ہو ،نہ صرف بہانہ بازی کے لئے)

لہٰذا جناب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں ملتا ہے کہ فرعونیوں نے ایک طولانی مدت کی مہلت مانگی تاکہ تمام جادوگروں کو جمع کرسکیں، اور پروگرام کے تمام مقدمات فراہم کرلیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( فَاٴَجْمِعُوا کَیْدَکُمْ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا ) (۱) ”لہٰذا تم لوگ اپنی تدبیروں کو جمع کرو اور صف باندھ کر اس کے مقابلہ میں آجاؤ“۔

اپنی تمام طاقت و توانائی کو جمع کرلیں اور اس سے استفادہ کریں، جبکہ جناب موسیٰ علیہ السلام کو ان مقدمات کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اور ان تمام جادوگروں سے مقابلہ کرنے کے لئے کسی طرح کی کوئی مہلت نہ مانگی، چونکہ وہ قدرت خدا پر بھروسہ کئے ہوئے تھے، اور جادوگر انسانی محدود طاقت کے بل پر یہ کام انجام دینا چاہتے تھے۔

اسی وجہ سے انسان کے غیر معمولی کام کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے یعنی اس کی طرح کوئی دوسرا شخص بھی اس کام کو انجام دے سکتا ہے، اسی وجہ سے کوئی بھی جادوگر یہ چیلنج نہیں کرسکتا کہ کوئی دوسرا مجھ جیسا کام انجام نہیں دے سکتا، جبکہ (معصوم کے علاوہ) کوئی دوسرا شخص (انسانی طاقت سے)معجزہ نہیں دکھاسکتا، لہٰذا اس میں ہمیشہ چیلنج ہوتا ہے ، جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: اگر تمام جن و انس مل کر قرآن کے مثل لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے!

یہی وجہ ہے کہ جب انسان کے غیر معمولی کارنامے، معجزہ کے مقابل آتے ہیں تو بہت ہی جلد مغلوب ہوجاتے ہیں اور جادو کبھی بھی معجزہ کے مقابل نہیں آسکتا، جس طرح کوئی بھی انسان خداوندعالم سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔

چنا نچہ نمونہ کے طور پر قرآن مجید میں جناب موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعہ کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ فرعون نے مصر کے تمام شہروں سے جادوگروں کو جمع کیا اور مدتوں اس کے مقدمات فراہم کرتا رہا تاکہ اپنے پروگرام کو صحیح طور پر چلا سکے لیکن جناب موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کے سامنے چشم زدن میں مغلوب ہو گیا۔

۲ ۔ معجزات چونکہ خداوندعالم کی طرف سے ہوتے ہیں لہٰذا خاص تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ جادوگرمدتوں سیکھتے ہیں اوربہت زیادہ تمرین کرتے ہیں،اس طرح سے کہ اگر شاگرد نے استاد کی تعلیمات کو خوب اچھے طریقہ سے حاصل نہ کیاہوتو ممکن ہے کہ لوگوں کے سامنے صحیح طور پر کارنامہ نہ دکھاسکے، جس کے نتیجہ میں وہ ذلیل ہوجائے، لیکن معجزہ کسی بھی وقت بغیر کسی مقدمہ کے دکھا یا جا سکتا ہے جبکہ غیر معمولی کارنامے آہستہ آہستہ مختلف مہارتوں کے ذریعہ انجام دئے جاتے ہیں یعنی کبھی بھی اچانک انجام نہیں پاتے۔

جناب موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہوا کہ فرعون نے جادوگروں پر الزام لگایا کہ موسیٰ تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں سحر اور جادو سکھایا ہے:

( إِنَّهُ لَکَبِیرُکُمْ الَّذِی عَلَّمَکُمْ السِّحْر ) (۲) اسی وجہ سے جادوگر اپنے شاگردوں کو مہینوں یا برسوں سکھاتے ہیں اور ان کے ساتھ تمرین کرتے ہیں۔

۳ ۔ معجزنما کے اوصاف خود ان کی صداقت کی دلیل ہوتی ہے۔

سحر و جادو اور معجزہ کی پہچان کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صاحب معجزہ اور جادوگروں کے صفات کو دیکھا جاتا ہے، کیونکہ معجزہ دکھانے والا خدا کی طرف سے لوگوں کی ہدایت پر مامور ہوتا ہے لہٰذا اسی لحاظ سے اس میں صفات پائے جاتے ہیں، جبکہ ساحراور جادوگراور ریاضت کرنے والے نہ تو لوگوں کی ہدایت پر مامور ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا یہ مقصد ہو تا ہے ، درج ذیل چیزیں ان کا مقصد ہوا کر تی ہیں:

۱ ۔ سادہ لوح لوگوں کو غافل کرنا۔

۲ ۔ عوام الناس کے درمیان شہرت حاصل کرنا۔

۳ ۔ لوگوں کو تماشا دکھا کر کسب معاش کرنا۔

جب انبیاء علیہم السلام اور جادوگر میدان عمل میں آتے ہیں تو طولانی مدت تک اپنے مقاصد کو مخفی نہیں رکھ سکتے، جیسا کہ فرعون نے جن جادوگروں کو جمع کیا تھا انھوں نے اپنا کارنامہ دکھانے سے پہلے فرعون سے انعام حا صل کرنے کی درخواست کی اور فرعون نے بھی ان سے اہم انعام کا وعدہ دیا:

( قَالُوا إِنَّ لَنَا لَاٴَجْرًا إِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِینَ # قَالَ نَعَمْ وَإِنَّکُمْ لَمِنْ الْمُقَرَّبِینَ ) (۳)

(جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوگئے اور) انھوں نے کہا کہ اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہمیں اس کی اجرت ملے گی؟ فرعون نے کہا بے شک تم میرے دربار میں مقرب ہوجاؤ گے“۔

جبکہ انبیاء علیہم السلام نے اس بات کا بارہا اعلان کیا ہے:

( وَمَا اٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ مِنْ اٴَجْرٍ ) (۴)

”ہم تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتے“۔

((قارئین کرام!) ذکورہ آیت قرآن مجید میں متعدد انبیاء کے حوالہ سے بیان کی گئی ہے۔)

اصولی طور پر اگر جادوگروں کو فرعون جیسے ظالم و جابر کی خدمت میں دیکھا جا ئے تو ”جادو“ اور ”معجزہ“ کی پہچان کے لئے کافی ہے۔

یہ بات کہے بغیر ہی واضح ہے کہ انسان اپنے افکار کو مخفی رکھنے میں خواہ کتنا ہی ماہر ہو پھر بھی اس کے اعمال و کردار سے اس کا حقیقی چہرہ سامنے آجاتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ان جیسے لوگوں کی سوانح عمری اور ان کے غیر معمولی کارناموں کو انجام دینے کے طریقہ کار ، اسی طرح مختلف اجتماعی امور میں ان کی یکسوئی اور ان کی رفتار و گفتار اور ان کا اخلاق ”سحر و جادو“ اور ”معجزہ“ میں تمیز کرنے کے لئے بہترین رہنما ہے، اور گزشتہ بحث میں بیان کئے ہوئے فرق کے علاوہ یہ راستہ بہت آسان ہے جس سے انسان سحرو جادو اور معجزہ کے درمیان فرق کرسکتا ہے۔

قرآن مجید نے بہت دقیق و عمیق الفاظ کے ساتھ اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے، ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( قَالَ مُوسَیٰ مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللهَ سَیُبْطِلُهُ إِنَّ اللهَ لایُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِینَ ) (۵)

”پھر جب ان لوگوں نے رسیوں کو ڈال دیا تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم لے آئے ہو یہ جادو ہے اور اللہ اس کو بے کار کردے گا کہ وہ مفسدین کے عمل کو درست نہیں ہونے دیتا“۔

جی ہاں جادو گر،مفسد ہوتے ہیں اور ان کے اعمال باطل ہوتے ہیں، اور ان کے اس کام کے ذریعہ معاشرہ کی اصلاح نہیں کی جاسکتی۔

ایک دوسرے مقام پر خداوند عالم نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے خطاب فرمایا:( لاَتَخَفْ إِنَّکَ اٴَنْتَ الْاٴَعْلیٰ ) (۶) ”(ہم نے کہا کہ) موسیٰ ڈرو نہیں تم بہر حال غالب رہنے والے ہو“۔

اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے:

( وَاٴَلْقِ مَا فِی یَمِینِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا کَیْدُ سَاحِرٍ وَلاَیُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اٴَتَیٰ ) (۷)

” اور جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اُسے ڈال دو یہ ان کے سارے کئے دھرے کو چن لے گا، ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے وہ صرف جادوگر کی چال ہے اور بس،اور جادوگر جہاں بھی جائے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا “۔

جی ہاں جادوگر چا ل بازی اور دھوکہ دھڑی سے کام لیتے ہیں اور طبیعی طور پر یہی مزاج رکھتے ہیں، یہ لوگ دھوکہ دھڑی کرتے رہتے ہیں ان کے صفات اور کارناموں کو دیکھ کر بہت ہی جلد ان کو پہچانا جاسکتا ہے، جبکہ انبیاء علیہم السلام کا اخلاص، صداقت او رپاکیزگی ان کے لئے ایک سند ہے جو معجزہ کے ساتھ مزید ہدایت گر ثابت ہوتی ہے۔(۸)

____________________

(۱) سورہ طہ ، آیت۶۴

(۲) سورہ طہ ، آیت۷۱

(۳) سورہ اعراف ، آیت۱۱۳۔ ۱۱۴ (۴)سورہ شعراء ، آیت۱۰۹

(۵) سورہ یونس ، آیت۸۱

(۶) سورہ طہ ، آیت۶۸

(۶)سورہ طہ ، آیت۶۹

(۸) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۲۸۸


۳۴ ۔ جناب آدم کا ترک اولیٰ کیا تھا؟

جیسا کہ ہم سورہ طہ آیت نمبر ۱۲۱ میں پڑھتے ہیں:( وَ عصیٰ آدمُ ربَّه فغویٰ )

” اورجناب آدم نے اپنے پروردگار کی نصیحت پر عمل نہ کیا، تو ثواب کے راستہ سے بے راہ ہوگئے“۔

تو یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ جناب آدم علیہ السلام کس ترک اولیٰ کے مرتکب ہوئے؟

اسلامی منابع اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ کوئی بھی پیغمبر گناہ کا مرتکب نہیں ہوا، اور اللہ کے بندوں کی ہدایت کی ذمہ داری کسی گناہگار شخص کو نہیں دی جاسکتی، اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جناب آدم علیہ السلام خدا کے بھیجے ہوئے نبیوں میں سے تھے، مذکورہ آیت اور اس سے مشابہ آیتوں میں دوسرے انبیاء کی طرف عصیان کی نسبت دی گئی ہے لیکن سب جگہ یہ نسبت ” نسبیعصیان“ اور ”ترک اولیٰ“ کے معنی میں ہے، یعنی مطلق گناہ کے معنی میں نہیں ہے۔

وضاحت:

گناہ کی دو قسم ہوتی ہیں ”مطلقِ گناہ “ اور ”نسبی گناہ“ مطلق گناہ یعنی نہی تحریمی کی مخالفت اور خداوندعالم کے قطعی حکم کی نافرمانی کا نام ہے اور ہر طرح کے واجب کو ترک کرنا اور حرام کا مرتکب ہونا مطلقِ گناہ کہلاتا ہے۔

لیکن نسبی گناہ،وہ گناہ ہوتا ہے جو کسی بزرگ انسان کی شان کے خلاف ہے ممکن ہے کہ کوئی مباح کام بلکہ مستحب کام عظیم انسان کی شان کے مطابق نہ ہو، تو اس صورت میں یہ عمل اس کی شان میں ”نسبیگناہ “ شمار کیا جائے گا، مثلاً اگر کوئی مالدار مومن کسی غریب کی بہت کم مدد کرے ، تو اگرچہ یہ امداد کم ہے اور کوئی حرام کام نہیں ہے بلکہ مستحب ہے، لیکن جو شخص بھی اس کو سنے گا وہ اس طرح مذمت کرے گا جیسے اس نے کوئی برا کام کیا ہو، کیونکہ ایسے مالدار اور باایمان شخص سے اس سے کہیں زیادہ امید تھی۔

(دوسرے لفظوں میں جناب آدم علیہ السلام کا گناہ ان کی حیثیت سے گناہ تھا لیکن مطلق گناہ نہ تھا،مطلق گناہ وہ گناہ ہوتا ہے جس کے لئے سزا معین ہو (جیسے شرک،کفر ،ظلم اور ستم وغیر ہ)اور نسبت کے اعتبار سے گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ بعض اوقات کچھ مباح اعمال بلکہ مستحب اعمال بھی بڑے لوگوں کی عظمت کے لحاظ سے مناسب نہیں ہوتے ،انہیں چا ہئے کہ ان اعمال سے پر ہیز کریں اور اہم کام بجالائیں ورنہ کہا جائے گا کہ انہوں نے ترک اولی کیا ہے ۔)

اسی وجہ سے انبیاء علیہم السلام کے اعمال ایک ممتاز ترازو میں تولے جاتے ہیں اور کبھی ان پر ”عصیان“ اور ”ذنب“ کا اطلاق ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک نماز عام انسان کے لئے بہترین نماز شمار کی جائے لیکن وہی نماز اولیاء الٰہی کے لئے ترک اولیٰ شمار کی جائے، کیونکہ ان کے لئے نماز میں پَل بھر کی غفلت ان کی شان کے خلاف ہے، بلکہ ان کے علم، تقویٰ اور عظمت کے لحاظ سے ان کو عبادت میں خدا کے صفات جلال و جمال میں غرق ہونا چاہئے۔

عبادت کے علاوہ ان کے دوسرے اعمال بھی اسی طرح ہیں، ان کی عظمت اور مقام کے لحاظ سے تولے جاتے ہیں اسی وجہ سے اگر ان سے ایک ”ترک اولیٰ“ بھی انجام پاتا ہے تو خداوندعالم کی طرف سے مورد سرزنش ہوتے ہیں ( ترک اولیٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان بہتر کام کو چھوڑ کرکم درجہ کاکام انجام دے)

اسلامی احادیث میں بیان ہوا ہےکہ جناب یعقوب علیہ السلام نے فراق فرزند میں جس قدر پریشانیاں اٹھائیں ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ مغرب کے وقت ایک روزہ دار ان کے در پر آیا، اور اس نے مدد کی درخواست کی لیکن انھوں نے اس سے غفلت کی، وہ فقیر بھوکا اور دل شکستہ ان کے در سے واپس چلا گیا۔

یہ کام اگرچہ ایک عام انسان انجام دیتا تو شاید اتنا اہم نہ تھا، لیکن اس عظیم الشان پیغمبر کی طرف سے اس کام کو بہت اہمیت دی گئی کہ خداوندعالم کی طرف سے سخت سزا معین کی گئی۔(۱)(۲)

(۲) مذکورہ روایت کی تفصیل یہ ہے

کہ ابو حمزہ ثمالی نے ایک روایت امام سجاد علیہ السلام سے نقل کی ہے ابو حمزہ کہتے ہیں :

جمعہ کے دن میں مدینہ منورہ میں تھا نماز صبح میں نے امام سجادعلیہ السلام کے ساتھ پڑھی جس وقت امام نماز اور تسبیح سے فارغ ہوئے تو گھر کی طرف چل پڑے میں آپ کے سا تھ تھا ،آپ نے خادمہ کو آوازدی اور کہا : خیال رکھنا ، جو سائل اور ضرورت مند گھر کے دروازے سے گزرے اسے کھانا دینا کیو نکہ آج جمعہ کا دن ہے ۔

ابو حمزہ کہتے ہیں : میں نے کہا : ہر وہ شخص جو مدد کا تقاضا کرتا ہے مستحق نہیں ہو تا ، تو امام نے فرمایا :

ٹھیک ہے ، لیکن میں اس سے ڈر تا ہوں کہ ان میں مستحق افراد ہوں اور انہیں غذا نہ دیں اور اپنے گھر کے در واز ے سے دھتکار دیں تو کہیں ہمارے گھر والوں پر وہی مصیبت نہ آن پڑے جو یعقوب اور آل یعقوب پر آن پڑی تھی اس کے بعد آپ نے فرمایا :

ان سب کو کھا نا دو کہ ( کیا تم نے نہیںسنا ہے کہ ) یعقوب کے لئے ہر روز ایک گو سفند ذبح کیاجا تا تھا اس کا ایک حصہ مستحقین کو دیا جاتا تھا ایک حصہ وہ خود اور ان کی اولاد کھا تے تھے ایک دن ایک سائل آیا وہ مو من اور روزہ دار تھا خدا کے نزدیک اس کی بڑی قدر ومنزلت تھی وہ شہر ( کنعا ن ) سے گزر ا شب جمعہ تھی افطار کے وقت وہ دروازہ یعقوب پر آیا اور کہنے لگا بچی کچی غذا سے مدد کے طالب غریب ومسافر بھو کے مہمان کی مدد کرو ،اس نے یہ بات کئی مر تبہ دہرائی انہوں نے سنا تو سہی لیکن اس کی بات کو باور نہ کیا جب وہ مایوس ہوگیا اور رات کی تاریکی ہر طرف چھا گئی تو وہ لوٹ گیا، جاتے ہو ئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اس نے بارگا ہ الٰہی میں بھوک کی شکا یت کی رات اس نے بھوک ہی میں گزاری اور صبح اسی طرح روزہ رکھا جب کہ وہ صبر کئے ہو ئے تھا اور خدا کی حمدد ثنا کر تا تھا لیکن حضرت یعقوب اور ان کے گھر والے مکمل طور پر سیر تھے اور صبح کے وقت ان کا کچھ کھا نا بچ بھی گیا تھا ۔

امام نے اس کے بعد مزید فرمایا :خدا نے اسی صبح یعقوب کی طرف وحی بھیجی : اے یعقوب ! تو نے میرے بند ے کو ذلیل و خوار کیا ہے اور میرے غضب کو بھڑکا یا ہے اور تو اور تیری اولاد نزول سزا کی مستحق ہو گئی ہے اے یعقوب ! میں اپنے دوستوں کو زیادہ جلدی ۷

جناب آدم علیہ السلام کو ”شجرہ ممنوعہ“ کے نزدیک جانے سے منع کیا گیا تھا جو کہ تحریمی نہی نہیں تھی بلکہ ایک ترک اولیٰ تھا، لیکن جناب آدم علیہ السلام کی عظمت اور شان کے لحاظ سے اہمیت دی گئی، اور اس مخالفت (نہی کراہتی) پر اس قدر تنبیہ کی گئی۔(۳)

۸سر زنش و ملامت کرتا اور سزا دیتا ہوں اور یہ اس لئے کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں ۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس حدیث کے بعد ابو حمزہ ثما لی کہتے ہیں : میں نے امام سجاد علیہ السلام سے پوچھا :یو سف نے وہ خواب کس مو قع پر دیکھا تھا ؟ امام نے فرمایا :اسی رات۔

اس حدیث سے اچھی طرح معلوم ہو تا ہے کہ انبیاء واولیاء کے حق میں ایک چھو ٹی سی لغزش یا زیادہ صریح الفاظ میں ایک ”ترک اولیٰ“ کہ جو گنا ہ اور معصیت بھی شمار نہیں ہو تا ( کیو نکہ اس سائل کی حالت حضرت یعقوب علیہ السلام پر واضح نہیں تھی ) بعض او قات خدا کی طرف سے ان کی تنبیہ کا سبب بنتا ہے اور یہ صرف اس لئے ہے کہ ان کا بلند وبا لا مقام تقاضا کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات اور عمل کی طرف متوجہ رہیں کیونکہ:”حسنات الا برار سیئا ت المقربین “(نیک لوگوں کی نیکیاں مقربین (خدا) کے لئے برائی ہوتی ہیں)

____________________

(۱) نور الثقلین ، جلد ۲، صفحہ ۴۱۱، نقل کتاب علل الشرایع

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۱۲۳

۳) سورہ طٰہ ، آیت ۵


۳۵ ۔ کیا معجزہ”شق القمر“ سائنس کے لحاظ سے ممکن ہے؟

ہم سورہ قمرکی پہلی آیت میں پڑھتے ہیں:( اقتربت الساعة و انشقّ القمر ) (قیامت آگئی اور چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے)

اس آیہ شریفہ میں معجزہ شق القمر کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔

مشہور روایات میں کہ جن کے سلسلہ میں بعض لوگوں نے تواتر(۱) کا دعویٰ بھی کیا ہے، بیان ہوا ہے کہ مشرکین مکہ پیغمبراکرم (ص) کے پاس آئے اور کہا: اگر آپ سچ کہتے ہیں کہ میں خدا کا رسول ہوں، تو آپ چاند کے دو ٹکڑے کردیجئے! آنحضرت (ص) نے فرمایا: اگر میں اس کام کو کردوں تو کیا تم ایمان لے آؤگے؟ سب نے کہا: ہاں ، ہم ایمان لے آئیں گے، (وہ چودھویں رات کا چاند تھا) اس وقت پیغمبر اکرم نے خدا کی بارگاہ میں دعا کی کہ جو یہ لوگ طلب کررہے ہیں وہ عطا کردے، چنانچہ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ چاند د و ٹکڑے ہوگیا، اس موقع پر رسول اللہ (ص) ایک ایک کو آواز دیتے جاتے تھے اور فرماتے تھے: دیکھو دیکھو!(۲)

اس طرح کے سوالات کا جواب دانشوروں اور نجومیوں کے مطالعات او ران کے انکشافات کے پیش نظر کوئی پیچیدہ نہیں ہے، کیونکہ جدید انکشافات کہتے ہیں: اس طرح کی چیز نہ صرف یہ کہ محال نہیں ہے بلکہ اس طرح کے واقعات بارہا رونما ہوئے ہیں، اگرچہ ہر واقعہ میں مخصوص عوامل کار فرما تھے۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں

نظام شمسی اور دوسرے آسمانی کرّات میں سے کسی آسمانی کرہ کا اس طرح شق ہوجانا اور پھر مل جانا ایک ممکن امر ہے، نمونے کے طور پر چند چیزیں درج ذیل ہیں:

الف۔ پیدائش نظام شمسی: اس نظریہ کو تقریباً سبھی ماہرین نے مانا ہے کہ نظام شمسی کے تمام کرّات ابتدا میں سورج کے اجزا تھے بعد میں سورج سے الگ ہوئے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں گردش کرنے لگا۔

مسٹر ”لاپلاس“ کا نظریہ یہ ہے کہ کسی چیز کے الگ ہونے کے اس عمل کا سبب مرکز سے گریز کی وہ قوت ہے جو سورج کے منطقہ استوائی میں پائی جاتی ہے وہ اس طرح کہ جس وقت سورج ایک جلانے والی گیس کے ٹکڑے کی شکل میں تھا، (اور اب بھی ویسا ہی ہے) اور اپنے گرد گردش کرتا تھا تو اس کی گردش کی سرعت منطقہ استوائی میں اس بات کا سبب بنی کہ سورج کے کچھ ٹکڑے اس سے الگ ہوجائیں اور فضا میں بکھر جائیں، اور مرکز ِاصلی یعنی خود سورج کے گرد گردش کرنے لگیں۔

لیکن لاپلاس کے بعد بعض دانشوروں نے تحقیقات کیں جس کی بنا پر ایک دوسرا فرضیہ پیش کیا کہ اس جدائی کا سبب سورج کے مقابل سمندر میں ہونے والے شدید مدر و جزر(۱) ہے جوسورج کی سطح پر ایک بہت بڑے ستارے کے گزرنے کے سبب ایجاد ہوتا ہے۔

اس فرضیہ سے اتفاق کرنے والے اس وقت کی سورج کی حرکتِ وصفی کو سورج کے ٹکڑوں کے علیحدہ ہونے کی توجیہ کو کافی نہیں سمجھتے وہ اس مفروضہ کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ مدّ و جزر نے سورج کی سطح پر بہت بڑی بڑی لہریں اس طرح پیدا کیں جیسے پتھر کا کوئی بہت بڑا ٹکڑا سمندر میں گرے اور اس سے لہریں پیدا ہوں، اس طرح سورج کے ٹکڑے یکے بعد دیگرے باہر نکل کر سورج کے گرد گردش کرنے لگے، بہر حال اس علیحدگی کا سبب کچھ بھی ہو اس پر سب متفق ہیں کہ نظام شمسی کی تخلیق انشقاق کے نتیجہ میں ہوئی ہے۔

ب۔ بڑے شہاب: یہ بڑے بڑے آسمانی پتھرہیں جو نظام شمسی کے گرد گردش کررہے ہیں اور جو کبھی کبھی چھوٹے کرّات اور سیاروں سے مشابہت رکھنے والے قرار دئے جاتے ہیں، بڑے اس وجہ سے کہ ان کا قطر ۲۵ کلو میٹر ہوتا ہے لیکن وہ عموماً چھوٹے ہوتے ہیں، ماہرین کا نظریہ ہے کہ ”استروئید ہا“ (بڑے شہاب) ایک عظیم سیارے کے بقیہ جات ہیں جو مشتری اور مریخ کے درمیان مدار میں حرکت کررہا تھا اور اس کے بعد نامعلوم اسباب کی بنا پر وہ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، اب تک پانچ ہزار سے زیادہ اس طرح کے شہاب کے ٹکڑے معلوم کئے جاچکے ہیں اور ان میں سے جو بڑے ہیں ان کے نام بھی رکھے جاچکے ہیں، بلکہ اان کا حجم، مقدار اور سورج کے گرد ان کی گردش کا حساب بھی لگایا جاچکا ہے، بعض ماہرین فضا ان استروئیدوں کی خاص اہمیت کے قائل ہیں، ان کا

(۱)مدر و جزر : دریا کے پانی میں ہونے والی تبدیلی کو کہا جاتا ہے ، شب وروز میں دریاکا پانی ایک مرتبہ گھٹتا ہے اس کو ” جزر“ کہا جاتاہے اور ایک مرتبہ بڑھتا ہے جس کو ”مد“ کہا جاتاہے ، اور پانی میں یہ تبدیلی سورج اور چاندکی قوہ جاذبہ کی وجہ سے ہوتی ہے(مترجم)

نظریہ ہے کہ فضا کے د ور دراز حصوں کے جانب سفر کرنے کے لئے اولین قدم کے عنوان سے ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

آ سمانی کرات کے انشقاق کا ایک دوسرانمونہ شہاب ثاقب ،یہ چھوٹے چھوٹے آسمانی پتھر ہیں جو کبھی کبھی چھوٹی انگلی کے برابر ہوتے ہیں، بہر حال وہ سورج کے گرد ایک خاص مدار میں بڑی تیزی کے ساتھ گردش کررہے ہیں، اور جب کبھی ان کا راستہ مدارِزمین کو کاٹ کر نکلتا ہے تووہ زمین کا رخ اختیار کرلیتے ہیں۔

یہ چھوٹے پتھر اس ہوا سے شدت کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے کہ جو زمین کا احاطہ کئے ہوئے ہے او رتھرتھراہٹ پیدا کرنے والی اس تیزی کی وجہ سے کہ جو ان کے اندر ہے زیادہ گرم ہوکر اس طرح بھڑک اٹھتے ہیں کہ ان میں سے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ہم انھیں ایک پرنور اور خوبصورت لکیر کی شکل میں آسمانی فضا میں دیکھتے ہیں اور انھیں ”شہاب کے تیر“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور کبھی یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک دور دراز کا ستارہ ہے جو گررہا ہے حالانکہ وہ چھوٹا شہاب ہے کہ جو بہت ہی قریبی فاصلہ پر بھڑک کر خاک ہوجاتا ہے۔

شہابوں کی گردش کا مدار زمین کے مدار سے دو نقطوں پر ملتا ہے اسی بنا پر ستمبر اور اکتو بر میں جو دو مداروں کے نقطہ تقاطع ہیں شہاب ثاقب زیادہ نظر آتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دمدار ستارے کے باقی حصے ہیں جو نا معلوم حوادث کی بنا پر پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ہیں۔

آسمانی کرات کے پھٹنے کا ایک اور نمونہ بہر حال آسمانی کرّات کا انشقاق یعنی پھٹنا اور پھٹ کر بکھر نا کوئی بے بنیاد بات نہیں ہے اور جدید علوم کی نظر میں یہ کوئی محال کام نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ معجزہ کا تعلق امر محال کے ساتھ نہیں ہوا کرتا، یہ سب باتیں انشقاق یعنی پھٹنے کے سلسلہ کی ہیں، دو ٹکڑوں میں قوت جاذبہ ہوتی ہے اس بنا پر اس انشقاق کی بازگشت ناممکن نہیں ہے۔

اگرچہ ہیئت قدیم میں بطلیموس کے نظریہ کے مطابق نو آسمان پیاز کے تہہ بہ تہہ چھلکوں کی طرح ہیں اور گھومتے رہتے ہیں اور اس طرح یہ نو آسمان ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں جن کا ٹوٹنا اور جڑنا ایک جماعت کی نظر میں امر محال تھا، اس لئے اس نظریہ کے حامل افراد معراج آسمانی کے بھی منکر تھے اور ”شق القمر“ کے بھی، لیکن اب جبکہ ہیئت بطلیموسی کا مفروضہ خیالی افسانوں اور کہانیوں کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور نو آسمانوں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا تو اب ان باتوں کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔

یہ نکتہ کسی یاد دہانی کا محتاج نہیں ہے کہ ”شق القمر“ ایک عام طبیعی عامل کے زیر اثر رونما نہیں ہوا بلکہ اعجاز نمائی کا نتیجہ تھا، لیکن چونکہ اعجاز، محال عقلی سے تعلق نہیں رکھتا ،لہٰذا یہاں اس مقصد کے امکان کو بیان کرنا تھا۔ (غور کیجئے )

____________________

(۱) علم حدیث میں ”حدیث تواتر“ اس حدیث کو کہا جاتا ہے جس کے راویوں کی تعداد اس حد تک ہو کہ ان کے ایک ساتھ جمع ہوکر سازش کرنے کا قابلِ اعتماد احتمال نہ ہو (مترجم)

(۲) ”مجمع البیان “اور دیگر تفاسیر ، مذکورہ آیت کے ذیل میں یہاں پر ممکن ہے اس طرح کے سوالات کئے جائیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنا عظیم کرہ (چاند) دو ٹکڑے ہوجائے، پھر اس عظیم واقعہ کا کرہ زمین اور نظام شمسیپر کیا اثر ہوگا؟ اور چاند کے دو ٹکڑے ہونے کے بعد کس طرح آپس میں مل گئے، اور کس طرح ممکن ہے کہ اتنا بڑا واقعہ رونما ہو جائے لیکن تاریخ بشریت اس کو نقل نہ کرے؟!


۳۶ ۔ بعض آیات و احادیث میں غیر خدا سے علم غیب کی نفی اور بعض میں ثابت ہے، اس اختلاف کا حل کیا ہے؟

اس اختلاف کو حل کرنے کے لئے چند راہ حل ہیں:

۱ ۔ اس اختلاف کے حل کا مشہور و معروف طریقہ یہ ہے کہ جن آیات و روایات میں علم غیب کو خداوندعالم سے مخصوص کیا گیا ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ علم غیب ذاتی طور پر خداوندعالم سے مخصوص ہے، لہٰذا دوسرے افراد مستقل طور پر علم غیب نہیں رکھتے، جو کچھ بھی وہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں وہ خداوندعالم کی طرف سے اس کی عنایت سے ہوتی ہیں ،چنا نچہ اس راہ حل کے لئے قرآن مجید کی آیت بھی شاہد اورگواہ ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے:

( عَالِمُ الْغَیْبِ فَلایُظْهِرُ عَلَی غَیْبِهِ اٴَحَدًا ، إِلاَّ مَنْ ارْتَضَیٰ مِن رَسُول ) (۲)

” وہ عالم غیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے مگر جس رسول کو پسند کرے“۔

اسی چیز کی طرف نہج البلاغہ میں اشارہ ہوا ہے : جس وقت حضرت علی علیہ السلام آئندہ کے واقعات کو بیا ن کررہے تھے (اور اسلامی ممالک پر مغلوں کے حملہ کی خبر دے رہے تھے) تو آپ

کے ایک صحابی نے عرض کیا: یا امیر المومنین! کیا آپ کو غیب کا علم ہے؟ تو حضرت مسکرائے اور فرمایا:”لَیسَ هُوَ بِعلمِ غَیبٍ ،وَإنَّماهو تَعلّم مِن ذِی عِلم(۳)

”یہ علم غیب نہیں ہے، یہ ایک علم ہے جس کوصاحب علم (یعنی پیغمبر اکرم (ص)) سے حاصل کیا ہے“۔

۲ ۔ غیب کی باتیں دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو خداوندعالم سے مخصوص ہیں، اور اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا، جیسے قیامت، میزان وغیرہ اور غیب کی دوسری قسم وہ ہے جس کو خداوند عالم اپنے انبیاء اور اولیاء کو تعلیم دیتا ہے، جیسا کہ نہج البلاغہ کے اسی مذکورہ خطبہ کے ذیل میں ارشاد ہوتا ہے:

”علم غیب صرف قیامت کا اور ان چیزوں کا علم ہے جن کو خدا نے قرآن مجید میں شمار کردیا ہے کہ جہاں ارشاد ہوتا ہے: قیامت کے دن کا علم خداسے مخصوص ہے، اور وہی باران رحمت نازل کرتا ہے، اور جو کچھ شکم مادر میں ہوتا ہے اس کو جانتا ہے، کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ کل کیا کام انجام دے گا اور کس سر زمین پر موت آئے گی“۔

اس کے بعد امام علی علیہ السلام نے اس چیز کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: خداوندعالم جانتا ہے کہ رحم کا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی؟ حسَین ہے یا قبیح؟ سخی ہے یا بخیل؟ شقی ہے یا سعید؟ اہل دوزخ ہے یا اہل بہشت؟ یہ غیبی علوم ہیں جن کو خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، اور اس کے علاوہ دوسرے علوم خداوندعالم نے اپنے پیغمبر کو تعلیم دئے ہیں اور انھوں نے مجھے تعلیم دئے ہیں“۔(۴)

ممکن ہے کہ بعض ماہر افراد بچے یا بارش وغیرہ کے بارے میں علمِ اجمالی حاصل کرلیں لیکن اس کا تفصیلی علم اور اس کی جزئیات صرف خداوندعالم ہی کو معلوم ہے،جیسا کہ قیامت کے بارے میں

ہمیں علم اجمالی ہے لیکن اس کی جزئیات اور خصوصیات سے بے خبر ہیں، اگربعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) یا ائمہ علیہم السلام نے بعض بچوں کے بارے میں یا بعض لوگوں کی موت کے بارے میں خبر دی کہ فلاں شخص کی موت کیسے آئے گی تو یہ اسی علم اجمالی سے متعلق ہے۔

۳ ۔ ان مختلف آیات و روایات کا ایک راہ حل یہ ہے کہ غیب کی باتیں دو مقام پر لکھی ہوئی ہیں: ایک ”لوح محفوظ“ (یعنی خداوندعالم کے علم کا مخصوص خزانہ ) میں جس میں کسی بھی طرح کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا، اور کوئی بھی اس سے باخبر نہیں ہے، دوسرے ”لوح محو واثبات“ جس میں صرف مقتضی کا علم ہوتا ہے اور علت تامہ کا علم نہیں ہوتا، اسی وجہ سے اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے اور جو کچھ دوسرے حضرات جانتے ہیں اسی حصہ سے متعلق ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول حدیث میں پڑھتے ہیں: خداوندعالم کے پاس ایک ایسا علم ہے جو کسی دوسرے کے پاس نہیں ہے، اور دوسراعلم وہ ہے جس کو اس نے ملائکہ، انبیاء اور مرسلین کو عطا کیا ہے، اور جو کچھ ملائکہ ، انبیاء اور مرسلین کو عطا ہوا ہے وہ ہم بھی جانتے ہیں۔(۵)

اس سلسلہ میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے ایک اہم روایت نقل ہوئی ہے، جس میں امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اگر قرآن مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں ماضی اور روز قیامت تک پیش آنے والے تمام واقعات بتادیتا ، کسی نے عرض کیا کہ وہ کون سی آیت ہے؟ تو امام علیہ السلام نے درج ذیل آیہ شریفہ کی تلاوت فرمائی:( یَمْحُوا اللهُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ ) (۶) ”اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے یا برقرار رکھتا ہے، اور ام الکتاب (لوح محفوظ) اس کے پاس ہے۔(۷)

اس راہ کے لحاظ سے علوم کی تقسیم بندی ”حتمی ہونے“ اور حتمی نہ ہونے کے لحاظ سے ہے اور گزشتہ راہ حل معلومات کی مقدار کے لحاظ سے ہیں۔ (غور کیجئے )

۴ ۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خداوندعالم تمام اسرار ِغیب کو بالفعل (ابھی) جانتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ انبیاء اور اولیاء الٰہی ،علم غیب کی بہت سی باتوں کو نہ جانتے ہوں ہاں جس وقت وہ ارادہ کرتے ہیں تو خداوندعالم ان کو تعلیم دے دیتا ہے، البتہ یہ ارادہ بھی خداوندعالم کی اجازت سے ہوتا ہے۔

اس راہ حل کی بنا پر وہ آیات و روایات جو کہتی ہیں کہ غیب کی باتوں کو خدا کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جانتا تو ان کا مقصد یہ ہے کہ کسی دوسرے کو بالفعل علم نہیںہے اوریہ آیات وروایات فعلی طور پر نہ جاننے کے بارے میں ہیں، اور جو کہتی ہیں کہ دوسرے جانتے ہیں وہ امکان کی صورت کو بیان کرتی ہیںیعنی دو سروں کے لئے ممکن ہے ۔

یہ بالکل اس شخص کی طرح ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کو ایک خط دے تاکہ فلاں شخص تک پہنچادے، تو یہاں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ خط کے مضمون سے آگاہ نہیں ہے، حالانکہ وہ خط کھول کر اس کے مضمون سے باخبر ہوسکتا ہے، لیکن کبھی صاحب خط کی طرف سے خط پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے تو وہ اس صورت میں خط کے مضمون سے آگاہ ہوسکتا ہے اور کبھی کبھی خط کے کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

اس راہ حل کے لئے بہت سی احادیث گواہ ہیں جو (عظیم الشان) کتاب اصول کافی باب”إنَّ الاٴَئمَّةَ إذَا شَاوا اٴن یَعلَموا عَلِمُوا “ (ائمہ جب کوئی چیز جاننا چاہتے ہیں تو ان کو تعلیم ہوجاتا ہے) میں بیان ہوئی ہیں، ان میں سے ایک حدیث حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے:

”إذَا اٴرادَ الإمامُ اٴن یَعلَمَ شیئًا اٴعلمهُ الله بِذلکَ“ (۸)

” جب امام کسی چیز کے بارے میں علم حاصل کرنا چاہے تو خداوندعالم تعلیم کردیتا ہے“۔

یہی راہ حل پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ علیہم السلام کے علم کے سلسلہ میں بہت سی مشکلات کو حل کردیتا ہے، مثال کے طور پر:کس طرح ائمہ علیہم السلام زہر آلود کھا ناکھالیتے ہیں جبکہ ایک عام انسان کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ نقصان دینے والے کام کو انجام دے اس طرح کے مواقع پر پیغمبر اکرم (ص) یا ائمہ علیہم السلام کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ ارادہ کریں تاکہ غیب کے اسرار ان کے لئے کشف ہوجائیں۔

اسی طرح کبھی کبھی مصلحت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) یا ائمہ علیہم السلام کو کسی بات کا علم نہ ہو، یا اس کے ذریعہ ان کا امتحان ہوتا ہے تاکہ ان کے کمال اور فضیلت میں مزید اضافہ ہوسکے، جیسا کہ شب ہجرت کے واقعہ میں بیان ہوا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اکرم کے بستر پر لیٹ گئے ، حالانکہ خود حضرت کی زبانی نقل ہوا ہے کہ میں نہیں جانتا تھا کہ پیغمبر اکرم کے بستر پر جب مشرکین قریش حملہ کریں تو میں شہیدہوجاؤں گا یا جان بچ جائے گی؟

اس موقع پر مصلحت یہی ہے کہ امام علیہ السلام اس کام کے انجام سے آگاہ نہ ہوں تاکہ خدا امتحان لے سکے اور اگر امام علیہ السلام کو یہ معلوم ہوتا کہ میری جان کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے تو یہ کوئی افتخار اور فضیلت کی بات نہیں تھی، اس بنا پر قرآن اور احادیث میں اس قربانی کے فضائل و مناقب بیان ہوتے ہیں وہ قابل توجہ نہ رہتے۔

جی ہاں ! علم ارادی کا مسئلہ اس طرح کے تمام اعتراضات کے لئے بہترین جواب ہے۔

۵ ۔ علم غیب کے بارے میں بیان ہوئی مختلف روایات کے اختلاف کا ایک حل یہ ہے

(اگرچہ یہ راہ حل بعض روایات پر صادق ہے) کہ ان روایات کے سننے والے مختلف سطح کے لوگ تھے، جو لوگ ائمہ علیہم السلام کے بارے میں علم غیب کو قبول کرنے کی استعداد اور صلاحیت رکھتے تھے ،ان کے سامنے حق مطلب بیان کیا گیا، لیکن مخالف یا کم استعداد لوگوں کے سامنے ان کی سمجھ ہی کے اعتبار سے بیان ہوا ہے۔

مثال کے طور پر ایک حدیث میں بیان ہوا کہ ابو بصیر اورامام صادق علیہ السلام کے چند اصحاب ایک مقام پر بیٹھے ہوئے تھے امام علیہ السلام حالتغضب میں وارد مجلس ہوئے اور جب امام علیہ السلام تشریف فرماہوئے تو فرمایا: عجیب بات ہے کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ ہم علم غیب جانتے ہیں، جبکہ خدا کے علاوہ کوئی بھی علم غیب نہیں رکھتا، میں چاہتا تھا کہ اپنی کنیز کو تنبیہ کروں، لیکن بھاگ گئی اور نہ معلوم گھر کے کس کمرہ میں چھپ گئی!!“۔(۹)

راوی کہتا ہے: جس وقت امام علیہ السلام وہاں سے تشریف لے گئے ،میں اور بعض دوسرے اصحاب اندرون خانہ وارد ہوئے تو امام علیہ السلام سے عرض کی: ہم آپ پر قربان! آپ نے اپنی کنیز کے بارے میں ایسی بات کہی،، جبکہ ہمیں معلوم ہے آپ بہت سے علوم جانتے ہیں اور ہم علم غیب کا نام تک نہیں لیتے؟ امام علیہ السلام نے اس سلسلہ میں وضاحت فرمائی کہ ہمارا مقصد اسرار غیب کا علم تھا۔

یہ بات واضح رہے کہ اس مقام پر ایسے بھی لوگ بیٹھے تھے جن کے یہاں امام کی معرفت اور علم غیب کے معنی کو سمجھنے کی استعداد نہیں پائی جاتی تھی۔

(قارئین کرام!) توجہ فرمائیں کہ یہ پانچ راہ حل آپس میں کوئی تضاد اور تنا قض نہیں رکھتی اور سبھی صحیح ہوسکتی ہیں۔ (غور کیجئے )

۲ ۔ ائمہ علیہم السلام کے لئے علم غیب ثابت کرنے کے دیگر طریقے

یہاں پر اس حقیقت کو ثابت کرنے کے دو طریقے اور بھی ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام اجمالاً غیب کے اسرار سے واقف تھے۔

۱ ۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ان کی نبوت یا امامت کا دائرہ کسی زمان و مکان سے مخصوص نہیں تھا، بلکہ پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت اور ائمہ علیہم السلام کی امامت عالمی اور جاویدانی ہے، لہٰذا یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ کوئی اس قدر وسیع ذمہ داری رکھتا ہو، حالانکہ اس کو اپنے زمانہ اور محدود دائرہ کے علاوہ کسی چیز کی خبر نہ ہو؟ مثال کے طور پر اگر کسی کو کسی بڑے صوبہ کی امارت یا کلکٹری دی جائے اور اسے اس کے بارے میں آگاہی نہ ہو، تو کیا وہ اپنی ذمہ داری کو خوب نبھاسکتا ہے؟!

دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ علیہم السلام اپنی (ظاہری) زندگی میں اس طرح احکام الٰہی کو بیان اور نافذ کریں تاکہ ہر زمانہ اور ہر جگہ کے تمام انسانوں کی ضرورتوں کو مد نظر رکھیں، اور یہ ممکن نہیں ہے مگر اسی صورت میں کہ اسرار غیب کے کم از کم ایک حصہ کو جانتے ہوں۔

۲ ۔ اس کے علاوہ قرآن مجید میں تین آیات ایسی موجود ہیں کہ اگر ان کو ایک جگہ جمع کردیں تو پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے علم غیب کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے، پہلی آیت میں ارشاد ہو تا ہے کہ ایک شخص (آصف بن بر خیا ) نے تخت بلقیس چشم زدن میں جناب سلیمان کے پاس حا ضر کردیا،ارشاد ہوتا ہے:

( قَالَ الَّذِی عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنْ الْکِتَابِ اٴَنَا آتِیکَ بِهِ قَبْلَ اٴَنْ یَرْتَدَّ إِلَیْکَ طَرْفُکَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقَرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّی ) (۱۰)

”ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کے ایک حصہ کاعلم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی

لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے، اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے: یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے “۔

دوسری آیت میں بیان ہوتا ہے:

( قُلْ کَفَی بِاللهِ شَهِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ ) (۱۱)

”(اے رسول آپ ) کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے “۔

سنی و شیعہ معتبر کتابوں میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں بیان ہوا ہے کہ ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے رسول خدا (ص) سے ”الذی عندہ علم من الکتاب“ کے بارے میں سوال کیا ، تو آنحضرت نے فرمایا: وہ میرے بھائی جناب سلیمان بن داؤد کے وصی تھے، میں نے پھر دوبارہ یہ سوال کیا کہ ”من عندہ علم الکتاب“ سے کون مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”ذاک اخِي عليّ بن ابی طالب“! ( اس سے مراد میرے بھائی علی بن ابی طالب ہیں)(۱۲)

اور آیت ” علم من الکتاب“ کے پیش نظر جو کہ آصف بن برخیا کے بارے میں ہے ”جزئی علم“ کو بیان کرتی ہے، اور ”علم الکتاب“ جو کہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ہے ”کلی علم“ کو بیان کرتی ہے ، لہٰذا اس آیت سے آصف بن برخیا اور حضرت علی علیہ السلام کا علمی مقام واضح ہوجاتا ہے۔

تیسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ ) (۱۳)

”اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شئے کی وضاحت موجود ہے“۔

یہ بات واضح ہے کہ ایسی کتاب کے اسرار کا علم رکھنے والا ، اسرار غیب بھی جانتا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) یا امام علیہ السلام حکمِ خدا کے ذریعہ اسرارِ غیب سے آگاہ ہوں۔(۱۴)

____________________

(۲) سورہ جن ، آیت ۲۶

(۴،۳) -- نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۲۸

(۵) بحار الانوار ، جلد ۲۶، صفحہ ۱۶۰ (حدیث۵) (۶) سورہ رعد ، آیت ۳۹

(۷) ”نور الثقلین ، جلد ۲، صفحہ ۵۱۲ ، (حدیث۱۶۰)

(۸) ” اصول کافی“ باب ”ان الائمة اذا شاوا ان یعلموا علموا“ (حدیث ۳)اور اسی مضمون کی دوسری روایتیں بھی اسی باب میں نقل ہوئی ہیں

(۹) اصول کافی ، جلد اول، باب نادر فیہ ذکر الغیب حدیث ۳

(۱۰)سورہ نمل ، آیت۴۰

(۱۱) سورہ رعد ، آیت۴۳

(۱۲) ”احقا ق الحق“ ، جلد ۳،صفحہ۲۸۰۔ ۲۸۱، اور ”نور الثقلین “ ، جلد ۲، صفحہ ۵۲۳ پر رجو ع کریں

(۱۳)سورہ نحل ، آیت ۸۹

(۱۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۵، صفحہ ۱۴۶


۳۷ ۔کیا انبیاء میں بھول چوک کا امکان ان کی عصمت سے ہم آہنگ ہے؟

سورہ کہف کی مختلف آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام بھول گئے، ایک جگہ پر ارشاد ہوتا ہے کہ جس وقت وہ دونوں (جناب موسیٰ اور ان کے ہم سفر دوست ) دو دریا کے سنگم پر پہنچے تواپنی مچھلی بھول گئے، اور وہ مچھلی عجیب طرح سے دریا میںچلنے لگی!۔

( فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیلَهُ فِی الْبَحْرِ ) (۱)

پھر جب دونوں دو دریا کے سنگم تک پہنچ گئے تو اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے سمندر میں اپنا راستہ نکال لیا“۔

لہٰذا دونوں ہی بھول گئے۔

اور دو آیت کے بعد جناب موسیٰ علیہ السلام کے دوست کی زبانی نقل ہوا ہے :

( فَإِنِّی نَسِیتُ الْحُوتَ وَمَا اٴَنْسَانِیهُ إِلاَّ الشَّیْطَانُ اٴَنْ اٴَذْکُرَهُ ) (۲)

”(اس جوان نے کہا کہ کیا آپ نے یہ دیکھا ہے کہ جب ہم پتھر کے پاس ٹھہرے تھے) تو میں نے مچھلی وہیں چھوڑ دی تھی اور شیطان نے اس کے ذکر کرنے سے بھی غافل کردیا تھا“۔

اگر جناب موسیٰ علیہ السلام کے دوست یوشع بن نون تھے (جیسا کہ مفسرین کے درمیان مشہور ہے) حالانکہ وہ بھی پیغمبر تھے تو معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر بھول طاری ہوسکتی ہے۔

نیز چند آیتوں کے بعد جناب موسیٰ علیہ السلام کی زبانی نقل ہوا ہے کہ جب ان کی ملاقات اس عظیم بندہ خدا (جناب خضر) سے ہوئی تو ان سے وعدہ کیا کہ ان کے اسرار آمیز اعمال کے بارے میں کوئی سوال نہیں کریں گے، یہاں تک کہ وہ خود اس کے بارے میں وضاحت کریں، لیکن جناب موسیٰ علیہ السلام پہلی مرتبہ بھول گئے، کیونکہ جب جناب خضر اس صحیح و سالم کشتی میں سوراخ کرنے لگے تو جناب موسیٰ نے اعتراض کردیا کہ آپ ایسا کیوں کررہے ہیں؟! تو اس وقت جناب خضر نے ان کاکیاہوا وعدہ یاد دلایا جناب موسیٰ علیہ السلام نے کہا:( قَالَ لاَتُؤَاخِذْنِی بِمَا نَسِیتُ ) (۳) ”موسیٰ نے کہا کہ خیر جو فروگزاشت ہوگئی اس کا مواخذہ نہ کریں“۔

اور یہی بات دوسری اور تیسری مرتبہ بھی تکرار ہوئی۔ کیا ان تمام مذکورہ آیات کے پیش نظر یہ نتیجہ نہیں نکلتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام فراموشی اور بھول طاری ہوسکتی ہے؟ اور کیا بھول چوک عصمت کے منافی نہیں ہے؟

اس سوال کے جواب میں مفسرین نے مختلف راہ حل بیان کی ہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں: ”نسیان“ (بھول) کسی چیز کے ترک کرنے کے معنی میں ہے اگرچہ اس کو بھلایا بھی نہ جائے، جیسا کہ جناب آدم علیہ السلام کے واقعہ میں پڑھتے ہیں:

( وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَی آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ ) (۴)

”اور ہم نے آدم سے اس سے پہلے عہدلیا مگر انھوں نے اسے ترک کردیا“۔

یہ بات مسلم ہے کہ جناب آدم علیہ السلام ممنوعہ درخت کا پھل کھانے کے بارے میں عہد الٰہی کو نہیں بھولے لیکن چونکہ اس کی نسبت بے اعتنائی کی لہٰذا ”نسیان“ (بھول) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ”بھولنے والے“ در حقیقت جناب موسیٰ علیہ السلام کے دوست تھے نہ خود جناب موسیٰ، اور ان کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ نبی تھے یا نہیں، کم از کم قرآن مجید کی رُو سے یہ بات ثابت نہیں ہے، اس کے علاوہ انھیں آیات میں بیان ہوا ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے دوست نے مچھلی کو دریا میں گرنے، اس کے زندہ ہونے اور اس کے چلنے کو دیکھا، انھوں نے سوچا کہ جناب موسیٰ علیہ السلام سے اس ماجرے کو بیان کرے لیکن وہ بھول گئے، لہٰذا یہاں پر بھولنے والے جناب مو سیٰ کے ساتھی ہی تھے، کیونکہ صرف انھوں نے اس واقعہ کو دیکھا تھا، اور اگر آیت میں ”نسیا“ کا لفظ آیا ہے جس میں دونوں کی طرف بھول کی نسبت دی گئی ہے تو یہ نسبت ایسی ہی ہے جیسے مزدور کے کام کو ٹھیکیدار کی طرف نسبت دیتے ہیں اور ایسا بہت رائج ہے ،(مثلاً عمارت میں کام کرنے والے مزدور ہوتے ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ فلاں انجینئر نے یہ عمارت بنائی ہے وغیرہ وغیرہ)

ممکن ہے کوئی یہ کہے :یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انسان اتنے اہم مسئلہ (یعنی مچھلی کا زندہ ہوجانے) کو بھول جائے، تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے دوست نے اس سے اہم معجزات دیکھے تھے، اس کے علاوہ اس عجیب و غریب سفر میں اس سے کہیں زیادہ اہم مسائل کی جستجو کی جارہی تھی، اسی وجہ سے اس واقعہ کوبھول جانا جائے تعجب نہیں ہے۔

اور جیسا کہ بھلانے کی نسبت شیطان کی طرف دی گئی ہے،تو اس کی وجہ ممکن ہے یہ ہو مچھلی زندہ ہونے کا واقعہ اس عالم (خضر) کے ملنے سے تعلق رکھتا ہو جن سے جناب موسیٰ علیہ السلام کو علم حاصل کرنا تھا، اور چونکہ شیطان کا کام بہکانا ہے جو ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ کوئی بھی اپنے پاک و پاکیزہ مقصد تک نہ پہنچ سکے، یا دیر سے پہنچے، لہٰذا اس نے جناب موسیٰ کے دوست کو بھلادیا ہو۔

پیغمبر اکرم (ص) سے بعض احادیث میں بیان ہوا ہے کہ جس وقت مچھلی زندہ ہوکر دریا میں کود پڑی، اور پانی میں چلنے لگی ، اس وقت جناب موسیٰ علیہ السلام سورہے تھے، اور ان کے دوست (جو اس واقعہ کو دیکھ رہے تھے) انھوں نے جناب موسیٰ کو بیدار کر نا نہیں چا ہا ،تا کہ ان سے واقعہ بیان کر ے لیکن جب جناب موسیٰ بیدار ہوگئے تو وہ بھول گئے، اور جناب موسیٰ علیہ السلام سے نہ بتاسکے، جس کی بنا پر ایک روز و شب اپنے راستے پر چلتے رہے، اس کے بعد ان کے دوست کو یاد آیا تو انھوں نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے وہ واقعہ بیان کیا، تو انھیں مجبوراً اسی جگہ آنا پڑا کہ جہاں پر مچھلی پانی میں گری تھی۔(۵)

اور بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ انبیاء علیہم السلام بھول چوک سے معصوم ہوتے ہیں، لیکن وہ بھول چوک جو لوگوں کی ہدایت سے متعلق ہو، لیکن ایسی بھول چوک جو ان کے روز مرہ کے ذاتی کاموں سے متعلق ہو اور جو نبوت، تعلیم و تربیت اور تبلیغ سے متعلق نہ ہو ، تو ایسی بھول ان کی عصمت کے لئے منافات نہیں رکھتی، اور مذکورہ آیات میں جو بھول بیان ہوئی ہے وہ اسی طرح کی ہے۔(۶)

____________________

(۱)سورہ کہف ، آیت۶۱

(۲) سورہ کہف ، آیت ۶۳

(۳) سورہ کہف ، آیت۷۳ (۴) سورہ طہ ، آیت۱۱۵

(۵) تفسیر مراغی ،جلد ۱۵، صفحہ ۱۷۴

(۶) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۱۲۶


۳۸ ۔ پیغمبر اکرم (ص) کی متعدد بیویوں کا فلسفہ کیا ہے؟

پیغمبر اکرم (ص) کا مختلف اور متعدد بیویوں سے عقد کرنا بہت سی اجتماعی اور سیاسی مشکلات کا حل تھا۔

کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جس وقت پیغمبر اکرم (ص) نے اعلان رسالت کیا اور خدا کی وحدانیت کی طرف دعوت دی تو اس وقت آپ تن تنہا تھے، اور ایک طولانی مدت تک چند لوگوں کے علاوہ کوئی ایمان نہیں لایا تھا، آنحضرت (ص) نے اپنے زمانہ کے تمام خرافاتی عقائد کے خلاف قیام کیا تھا، اور سبھی کے لئے اعلان جنگ کررکھا تھا، جس کی وجہ سے تمام اقوام اور قبائل آپ سے مقابلہ کے لئے تیارتھے۔

لہٰذا آنحضرت نے ان کے ناپاک اتحاد کو ختم کرنے کے لئے ہر ممکن راستہ اختیار کیامختلف قبائل میں شادی کے ذریعہ رشتہ داری قائم کرنا ان میں سے ایک راستہ تھا، کیونکہ اس وقت کے جاہل عرب کے نزدیک سب سے مستحکم رابطہ یہی رشتہ داری تھی، اور قبیلہ کے داماد کو اپنا مانتے تھے، اس کا دفاع کرتے تھے، نیز اس کو تنہا چھوڑ دینا گناہ سمجھتے تھے۔

بہت سے قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی شادیاں بہت سے موارد میں سیاسی پہلو رکھتی تھیں۔

ان میں سے بعض شادی( جیسے زینب سے شادی ) زمانہ جاہلیت کی غلط رسم و رواج کو ختم کرنے کے لئے تھی، جس کی تفصیل سورہ احزاب آیت نمبر ۳۷ میں بیان ہوئی ہے۔

ان میں سے بعض شادی کی وجہ یہ تھی کہ کچھ لوگوں یا چند متعصب اور ہٹ دھرم قبیلوں کے دلوں سے دشمنی اور عداوت کو دور کرکے ان کے دلوں میں محبت کا جام بھردیں۔

کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ جس نے اپنی جوانی اور پورے شباب ( ۲۵ سال کی عمر،) میں ایک بیوہ سے شادی کی ہو اور ۵۳ سال کی عمر تک اسی ایک بیوہ عورت کے ساتھ زندگی گزار ی ہو، اور اس طرح اس نے اپنی زندگی کے دن گزار دئے ہوں اور پیری کا عالم آگیا ہو، تو اگر اس موقع پر مختلف قبائل کی عورتوں سے عقد کریں تو پھر اس کا کوئی نہ کوئی فلسفہ ضرور ہے، اور جنسی رجحان سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ اس جاہلیت کے زمانہ میں چند شادیاں کرلینا ایک عام بات تھی یہاں تک کبھی کبھی پہلی بیوی اپنے شوہر کے لئے دوسری بیوی کا رشتہ لے کر جایا کرتی تھی اور شادیوں کی تعداد میں کسی طرح کی کوئی حد معین نہیں تھی، پیغمبر اکرم (ص) کے لئے جوانی کے عالم میں متعدد شادیاں کرنے میں نہ تو معاشرہ کے لحاظ سے کوئی ممانعت تھی اور نہ مالی اعتبار سے کوئی مشکل تھی، اور نہ ہی اس کو کسی طرح کا کوئی عیب سمجھا جاتا ۔

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ تاریخ نے بیان کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے صرف ایک ”باکرہ“ عورت سے نکاح کیا ہے اور وہ عائشہ تھی، اس کے علاوہ آپ کی تمام بیویاں بیوہ تھیں جو فطری طور پر جنسی تحریک کے لئے کوئی خاص رغبت نہیں رکھتیں۔(۱)

یہاں تک کہ بعض تواریخ میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے متعدد عقد کئے ، اور صرف عقد خوانی کی رسم ادا کی ، اور ان کے ساتھ ہمبسترتک نہ ہوئے ، بلکہ بعض قبائل کی عورتوں سے صرف رشتہ کی حد تک قناعت کی۔(۲)

اور وہ لوگ اسی پر فخر و مباہات کیا کرتے تھے کہ ان کے قبیلہ کی عورت پیغمبر اکرم (ص) سے منسوب ہوگئی ہے، اور یہ افتخاران کو مل گیاہے، جس کی بنا پر اجتماعی طور پرپیغمبر اکرم (ص) سے رابطہ مستحکم تر ہوجاتا تھا اور آنحضرت (ص) کے دفاع کے لئے مصمم ہوجایا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی مسلم ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) (خدانخواستہ) عقیم نہیں تھے لیکن تاریخ نے بہت ہی کم آپ کی اولادبتا ئی ہے، جبکہ اگر یہ تمام شادیاں اور عقد ،جنسی شہوت کے لئے ہوتیں تو لامحالہ آپ کی اولاد کی تعداد بھی زیادہ ہوتی۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ آنحضرت (ص) کی بعض بیویاں جیسے عائشہ کم سنی کے عالم میں آپ کی زوجیت میں آئی ہیں اور چند سال کے بعد واقعی طور پر ایک زوجہ قرار پائی ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کا اس طرح کی لڑکی سے عقد کرنے کا مقصد جنسی شہوت نہیں تھا بلکہ ہدف اوراس سے وہی مقصد تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔

اگرچہ اسلام کے دشمنوں نے پیغمبر اکرم (ص) کی متعدد بیو یوں کو بہانہ بنا کر آپ کی شخصیت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور نہ جا نے کیسے کیسے جھوٹے افسانے گڑھ ڈالے ہیں، لیکن ان شادیوں کے وقت آنحضرت (ص) کی عمر کا زیادہ ہونا اور مختلف قبائل کی عورتوں کا بیوہ یا ضعیف العمر ہونا ایک طرف اور ان بیویوں کے قبائلی شرائط دوسری طرف، نیز مذکورہ قرائن کے پیش نظر حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے ، اور دشمنوں کا راز فاش ہوجاتا ہے۔(۳)

____________________

(۱) (۲) بحار الانوار ، جلد ۲۲، صفحہ ۱۹۱و۱۹۲ (برّے صغیر کے علماء اس سے متفق نہیں ہیں، ان کی تحقیق یہ ہے کہ جناب خدیجہ باکرہ تھیں، اور آپ سے پہلے انھوں نے کسی دوسرے شخص سے شادی نہیں کی تھیمترجم)

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۷، صفحہ ۳۸۱


۳۹۔ کیا قرآن مجید میں تحریف ہوئی ہے؟

شیعہ وسنی علماکے یہاں مشہور و معروف یہی ہے کہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے، اور مو جودہ قرآن کریم وہی قرآن ہے جو پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہوا ، اوراس میں ایک لفظ بھی کم و زیاد نہیں ہوا ہے۔

قدما اور متاخرین میں جن شیعہ علمانے اس حقیقت کی وضاحت کی ہے ان کے اسما درج ذیل ہیں:

۱۔ مرحوم شیخ طوسی جو ”شیخ الطائفہ“ کے نام سے مشہور ہیں، موصوف نے اپنی مشہور و معروف کتاب ”تبیان“ میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

۲۔ سید مرتضیٰ ، جو چوتھی صدی کے عظیم الشان عالم ہیں۔

۳۔ رئیس المحدثین مرحوم شیخ صدوق محمد بن علی بن بابویہ ، موصوف شیعہ عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں کسی طرح کی کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے“۔

۴۔ جلیل القدر مفسرقرآن مرحوم علامہ طبرسی، جنھوں نے اپنی تفسیر (مجمع البیان) کے مقدمہ میں اس سلسلہ میں ایک واضح اور مفصل بحث کی ہے۔

۵۔ مرحوم کاشف الغطاء جو علمائے متاخرین میں عظیم مرتبہ رکھتے ہیں۔

۶۔ مرحوم محقق یزدی نے اپنی کتاب عروة الوثقیٰ میں قرآن میں تحریف نہ ہونے کے اقوال کو اکثر شیعہ مجتہدین سے نقل کیا ہے ۔

۷۔ نیز بہت سے جید علماجیسے ”شیخ مفید“ ، ”شیخ بہائی“، قاضی نور اللہ“ اور دوسرے شیعہ محققین نے اسی بات کو نقل کیا ہے کہ قرآن مجید میں کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے۔

اہل سنت کے علمااور محققین کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ قرآن کریم میں تحریف نہیں ہوئی ہے۔

اگرچہ بعض شیعہ اور سنی محدثین جو قرآن کریم کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے تھے، اس بات کے قائل ہوئے ہیں کہ قرآن کریم میں تحریف ہوئی ہے، لیکن دونوں مذہب کے عظیم علماکی روشن فکری کی بنا پر یہ عقیدہ باطل قرار دیا گیا اور اس کو بھُلادیا گیا ہے۔

یہاں تک کہ مرحوم سید مرتضیٰ ”المسائل الطرابلسیات“ کے جواب میں کہتے ہیں: ”قرآن کریم کی نقلِ صحت اتنی واضح اور روشن ہے جیسے دنیا کے مشہور و معروف شہروں کے بارے میں ہمیں اطلاع ہے، یا تاریخ کے مشہور و معروف واقعات معلوم ہیں“۔

مثال کے طور پر کیا کوئی مکہ اور مدینہ یا لندن اور پیرس جیسے مشہور و معروف شہروں کے وجود میں شک کرسکتا ہے؟ اگرچہ کسی انسان نے ان شہروں کو نزدیک سے نہ دیکھا ہو، یا انسان ایران پر مغلوں کے حملے ، یا فرانس کے عظیم انقلاب یا پہلی اور دوسری عالمی جنگ کا انکار کرسکتا ہے؟!

پس جیسے ان کا انکار اس لئے نہیں کر سکتے کہ یہ تمام واقعات تواتر کے ساتھ ہم نے سنے ہیں، توقرآن کریم کی آیات بھی اسی طرح ہیں ، جس کی تشریح ہم بعد میں بیان کریں گے۔

لہٰذا جو لو گ اپنے تعصب کے تحت شیعہ اہل سنت کے درمیان اختلاف پیدھا کرنے کے لئے تحریف قرآن کی نسبت شیعوں کی طرف دیتے ہیں تو وہ اس نظریہ کو باطل کرنے والے دلائل کیوں بیان نہیں کرتے جو خود شیعہ علماکی کتابوں میں موجود ہیں ؟!

کیا یہ بات جائے تعجب نہیں ہے کہ ”فخر الدین رازی“ جیسا شخص (جو ”شیعوں“ کی نسبت بہت زیادہ متعصب ہے) سورہ حجر کی آیت نمبر ۹ کے ذیل میں کہتا ہے کہ یہ :آیہ شریفہ( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) شیعوں کے عقیدہ کو باطل کرنے کے لئے کافی ہے ،جو قرآن مجید میں تحریف ( کمی یا زیادتی) کے قائل ہیں۔

تو ہم فخر رازی کے جواب میں کہتے ہیں: اگر ان کی مراد بزرگ شیعہ محققین ہیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسا عقیدہ نہیں رکھتا ہے، اور اگران کی مرادبعض علما ء کا ضعیف قول ہے تو اس طرح کا نظریہ تو اہل سنت کے یہاں بھی پایا جاتا ہے، جس پر نہ اہل سنت توجہ کرتے ہیں اور نہ ہی شیعہ علماتوجہ کرتے ہیں۔

چنا نچہ مشہور و معروف محقق ”کاشف الغطاء“ اپنی کتاب ”کشف الغطاء“ میں فرماتے ہیں:

لارَیبَ اٴنَّهُ (اٴی القرآن) محفوظٌ مِنَ النُّقْصَانِ بحفظِ الملک الدَّیان کما دَلَّ علَیهِ صَریحُ القُرآنِ وَإجمَاع العلماء فِی کُلِّ زمان ولا عبرة بنادر(۱)

”اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن مجید میں کسی بھی طرح کی کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے، کیونکہ خداوندعالم اس کا محافظ ہے، جیسا کہ قرآن کریم اور ہر زمانہ کے علماکا اجماع اس بات کی وضاحت کرتا ہے اور شاذو نادر قول پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی“۔

تاریخ اسلام میں ایسی بہت سی غلط نسبتیں موجود ہیں جو صرف تعصب کی وجہ سے دی گئی ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بہت سی نسبتوں کی علت اور وجہ صرف اور صرف دشمنی تھی، اور بعض لوگ اس طرح کی چیزوں کو بہانہ بنا کر کوشش کرتے تھے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کر ڈالیں۔

اورنوبت یہاں تک پہنچی کہ حجاز کا مشہور و معروف مولف ”عبد اللہ علی قصیمی “ اپنی کتاب ”الصراع“ میں شیعوں کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے:

”شیعہ ہمیشہ سے مسجد کے دشمن رہے ہیں! اور یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شیعہ علاقے میں شمال

سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک دیکھے تو بہت ہی کم مسجدیں ملتی ہیں“ !!(۲)

ذرا دیکھے تو سہی ! کہ شیعہ علاقوں میں کس قدر مساجد موجود ہیں، شہر کی سڑکوں پر، گلیوں میں اوربازاروں میں بہت زیادہ مسجدیں ملتی ہیں، کہیں کہیں تو مسجدوں کی تعداد اتنی ہوتی ہے کہ بعض لوگ اعتراض کرنے لگتے ہیں کہ کافی ہے، ہمارے کانوں میں چاروں طرف سے اذانوں کی آوازیں آتی ہیں جن سے ہم پریشان ہیں، لیکن اس کے باوجود مذکورہ مولف اتنی وضاحت کے ساتھ یہ بات کہہ رہے ہیں جس پرہمیں ہنسی آتی ہے چونکہ ہم شیعہ علاقوں میں رہ رہے ہیں، لہٰذا فخر الدین رازی جیسے افراد مذکورہ نسبت دینے لگیں تو ہمیں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے۔(۳)

____________________

(۱)تفسیر آلاء الرحمن صفحہ ۳۵

۲) موصوف کی عربی عبارت یہ ہے: ”والشّیعة هم اٴبداً اٴعدَاء المساجد ولهذا یقل اٴَن یشاهد الضارب فی طول بلادهم و عرضها مسجداً (الصراع ، جلد ۲، صفحہ ۲۳، علامہ امینی کی نقل کے مطابق الغدیر ، جلد ۳، صفحہ ۳۰۰)

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد۱۱، صفحہ ۱۸


۴۰ ۔ قرآن کریم کس طرح معجزہ ہے؟

ہم پہلے قرآن کریم کی عظمت کے سلسلہ میں چند نامور افراد یہاں تک کہ ان لوگوں کے اقوال بھی نقل کریں گے کہ جن لوگوں پر قرآن کریم سے مقابلہ کرنے کا الزام بھی ہے :

۱ ۔ ابو العلاء معرّی (جس پر قرآن کریم سے مقابلہ کرنے کا الزام بھی ہے) کہتا ہے: اس بات پر سبھی لو گ متفق ہیں (چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان) کہ حضرت محمد (ص) پر نازل ہونے والی کتاب نے لوگوں کی عقلوں کو مغلوب اور مبہوت کردیا ہے، اور ہر ایک اس کی مثل و مانند لانے سے قاصر ہے، اس کتاب کا طرز ِبیان عرب ماحول کے کسی بھی طرز بیان سے ذرہ برابر بھی مشابہت نہیں رکھتا ، نہ شعر سے مشابہ ہے، نہ خطابت سے، اور نہ کاہنوں کے مسجع سے مشابہ ہے،اس کتاب کی کشش اور اس کا امتیاز اس قدرعالی ہے کہ اگر اس کی ایک آیت دوسرے کے کلام میں موجود ہو تو اندھیری رات میں چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح روشن ہوگی!“۔

۲ ۔ ولید بن مغیرہ مخزومی، ( جو شخص عرب میں حسن تدبیر کے نام سے شہرت رکھتا تھا)اور دور جاہلیت میں مشکلات کو حل کرنے کے لئے اس کی فکر اور تدبیر سے استفادہ کیا جاتا تھا، اسی وجہ سے اس کو ”ریحانہ قریش“ (یعنی قریش کا سب سے بہترین پھول) کہا جاتا تھا، یہ شخص پیغمبر اکرم (ص) سے سورہ غافر کی چند آیتوں کو سننے کے بعد قبیلہ ”بنی مخزوم“ کی ایک نشست میں اس طرح کہتا ہے:

” خدا کی قسم میں نے محمد ( (ص)) سے ایسا کلام سنا ہے جو نہ انسان کے کلام سے شباہت رکھتا ہے اور نہ پریوں کے کلام سے،”إنَّ لَهُ لحلاوة، و إِنَّ علیه لطلاوة و إنَّ اعلاه لمُثمر و إنَّ اٴسفله لمغدِق، و اٴنَّه یَعلو و لا یُعلی علیه“ (اس کے کلام کی ایک مخصوص چاشنی ہے، اس میں مخصوص خوبصورتی پائی جاتی ہے، اس کی شاخیں پُر ثمر ہیں اور اس کی جڑیں مضبوط ہیں، یہ وہ کلام ہے جو تمام چیزوں پر غالب ہے اور کوئی چیز اس پر غالب نہیں ہے۔)(۱)

۳ ۔ کارلائل۔ یہ انگلینڈ کا مورخ اور محقق ہے جو قرآن کے حوالہ سے کہتا ہے: ”اگر اس مقدس کتاب پر ایک نظر ڈالی جائے تو اس کے مضا مین بر جستہ حقائق اور موجودات کے اسراراس طرح موجزن ہیں جس سے قرآن مجید کی عظمت بہت زیادہ واضح ہوجاتی ہے، اور یہ خود ایک ایسی فضیلت ہے جو صرف اور صرف قرآن مجید سے مخصوص ہے، اور یہ چیز کسی دوسری علمی، سائنسی اور اقتصادی کتاب میں دیکھنے تک کو نہیں ملتی، اگرچہ بعض کتابوں کے پڑھنے سے انسان کے ذہن پر اثر ہوتا ہے لیکن قرآن کی تاثیر کا کوئی موازنہ نہیں ہے، لہٰذا ان باتوں کے پیش نظر یہ کہا جائے کہ قرآن کی ابتدائی خوبیاں اور بنیادی دستاویزات جن کا تعلق حقیقت، پاکیزہ احساسات، برجستہ عنوانات اور اس کے اہم مسائل و مضامین میں سے ہے ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہیں، وہ فضائل جو تکمیل انسانیت اور سعادت بشری کا باعث ہیں اس میں ان کی انتہا ہے اور قرآن وضاحت کے ساتھ ان فضائل کی نشاندہی کرتا ہے۔(۲)

۴ ۔ جان ڈیون پورٹ: یہ کتاب ”عذر تقصیر بہ پیش گاہ محمد و قرآن“ کا مصنف ہے، قرآن کے بارے میں کہتا ہے: ”قرآن نقائص سے اس قدر مبرا و منزہ ہے کہ چھوٹی سی چھوٹی تصحیح اور اصلاح کا بھی محتاج نہیں ہے، ممکن ہے کہ انسان اسے اول سے آخر تک پڑھ لے اور ذرا بھی تھکان و افسردگی بھی محسوس نہ کرے“۔(۳)

اس کے بعد مزید لکھتا ہے: سب اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ قرآن سب سے زیادہ فصیح و بلیغ زبان اور عرب کے سب سے زیادہ نجیب اور ادیب قبیلہ قریش کے لب و لہجہ میں نازل ہوا ہے اور یہ روشن ترین صورتوں اور محکم ترین تشبیہات سے معمور ہے“۔(۴)

۵ ۔ گوئٹے: جرمنی شاعر اور دانشور کہتا ہے:

”قرآن ایسی کتاب ہے کہ ابتدا میں قاری اس کی وزنی عبارت کی وجہ سے روگردانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کے بعد اس کی کشش کا فریفتہ ہوجاتا ہے او ربے اختیار اس کی متعدد خوبیوں کا عاشق ہوجاتا ہے“۔

یہی گوئٹے ایک اور جگہ لکھتا ہے:

”سالہا سال خدا سے نا آشنا پوپ ہمیں قرآن اور اس کے لانے والے محمدکی عظمت سے دور رکھے رہے مگر علم و دانش کی شاہراہ پر جتنا ہم نے قدم آگے بڑھایاتو جہالت و تعصب کے ناروا پردے ہٹتے گئے اور بہت جلد اس کتاب نے جس کی تعریف و توصیف نہیں ہوسکتی دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اس نے دنیا کے علم و دانش پر گہرا اثر کیا ہے او رآخر کار یہ کتاب دنیا بھر کے لوگوں کے افکار کا محور قرار پائے گی“۔

مزید لکھتا ہے: ”ہم ابتدا میں قرآن سے روگرداں تھے لیکن زیادہ وقت نہیں گزرا کہ اس کتاب نے ہماری توجہ اپنی طرف جذب کرلی اور ہمیں حیران کردیا یہاں تک کہ اس کے اصول اور عظیم علمی قوانین کے سامنے ہم نے سرِتسلیم خم کردیا۔(۵)

۶ ۔ول ڈیورانٹ: یہ ایک مشہور مورخ ہے ، لکھتا ہے:

”قرآن نے مسلمانوں میں اس طرح کی عزت نفس، عدالت اور تقویٰ پیدا کیا ہے جس کی مثال دنیا کے دوسرے ممالک میں نہیں ملتی“۔

۷ ۔ ژول لابوم: یہ ایک فرانسیسی مفکر ہے اپنی کتاب ”تفصیل الآیات“ میں کہتا ہے: ”دنیا نے علم و دانش مسلمانوں سے لیا ہے اور مسلمانوں نے یہ علوم قرآن سے لئے ہیں جو علم و دانش کا دریا ہے اور اس سے عالم بشریت کے لئے کئی نہریں جاری ہوتی ہیں“۔

۸ ۔ دینورٹ : یہ ایک اور مستشرق ہے، لکھتا ہے: ”ضروری ہے کہ ہم اس بات کا اعتراف کریں کہ علوم طبیعی و فلکی اور فلسفہ و ریاضیات جو یورپ میں رائج ہیں زیادہ تر قرآن کی برکت سے ہیں اور ہم مسلمانوں کے مقروض ہیں بلکہ اس لحاظ سے یورپ ایک اسلامی شہر ہے“۔(۶)

۹ ۔ ڈاکٹر مسز لورا واکسیاگلیری: یہ ناٹل یونیورسٹی کی پروفیسر ہے، ”پیش رفت سریع اسلام“ میں لکھتی ہے: ”اسلام کی کتاب آسمانی اعجاز کا ایک نمونہ ہے قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی، قرآن کا طرز و اسلوب گزشتہ ادبیات میں نہیں پایا جاتا، اور یہ طرز روحِ انسانی میں جو تاثیر پیدا کرتا ہے وہ اس کے امتیازات اور بلندیوں سے پیدا ہوتی ہے کس طرح ممکن ہے کہ یہ اعجاز آمیز کتاب ،محمدکی خود ساختہ ہو جب کہ وہ ایک ایسا عرب تھا جس نے تعلیم حاصل نہیں کی، ہمیں اس کتاب میں علوم کے خزانے اور ذخیرے نظر آتے ہیں جو نہایت ہوش مند اشخاص، بزرگ ترین فلاسفہ اور قوی ترین سیاست مدارو اور قانون داں لوگوں کی استعداد اور ظرفیت سے بلند ہیں، اسی بنا پر قرآن کریم کسی تعلیم یافتہ مفکر اور عالم کا کلام نہیں ہوسکتا“۔(۷)(۸)

قرآن مجید کی حقانیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ پورے قرآن میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا، اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے درج ذیل مطالب پر توجہ فرمائیں:

” انسانی خواہشات میں ہمیشہ تبدیلی آتی رہتی ہے، تکامل اور ترقی کا قانون عام حالات میں انسان کی فکر و نظر سے متاثر رہتا ہے، اور زمانہ کی رفتار کے ساتھ اس میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے، اگر ہم غور کریں تو ایک مولف کی تحریر ایک جیسی نہیں ہوتی، بلکہ کتاب کے شروع اورآخر میں فرق ہوتاہے، خصوصاً اگر کوئی شخص ایسے مختلف حوادث سے گزرا ہو، جو ایک فکری ، اجتماعی اور اعتقادی انقلاب کے باعث ہوں، تو ایسے شخص کے کلام میں یکسوئی اور وحدت کا پایا جانا مشکل ہے، خصوصاً اگر اس نے تعلیم بھی حاصل نہ کی ہو، اور اس نے ایک پسماندہ علاقہ میں پرورش پائی ہو۔

لیکن قرآن کریم ۲۳ / سال کی مدت میں اس وقت کے لوگوں کی تربیتی ضرورت کے مطابق نازل ہوا ہے، جبکہ اس وقت کے حالات مختلف تھے، لیکن یہ کتاب موضوعات کے بارے میں متنوع گفتگو کرتی ہے، اور معمولی کتابوں کی طرح صرف ایک اجتماعی یا سیاسی یا فلسفی یا حقوقی یا تاریخی بحث نہیں کرتی ، بلکہ کبھی توحید اور اسرار خلقت سے بحث کرتی ہے اور کبھی احکام و قوانین اور آداب و رسوم کی بحث کرتی ہے اور کبھی گزشتہ امتوں اور ان کے ہلا دینے والے واقعات کو بیان کرتی ہے ، ایک موقع پر وعظ و نصیحت ، عبادت اور انسان کے خدا سے رابطہ کے بارے میں گفتگو کرتی ہے۔ او رڈاکٹر ”گوسٹاولبن“ کے مطابق مسلمانوں کی آسمانی کتاب قرآن مجید صرف مذہبی تعلیمات اور احکام میں منحصر نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے سیاسی اور اجتماعی احکام بھی اس میں درج ہیں۔

عام طور پر ایسی کتاب میں متضاد باتیں، متناقض گفتگو اور بہت زیادہ اتار چڑھاؤپایا جاتاہے، لیکن اس کے باوجود بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی آیات ہر لحاظ سے ہم آہنگ او رہر قسم کی تناقض گوئی سے خالی ہیں، جس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کا نتیجہ فکر نہیں ہے بلکہ خداوندعالم کی طرف سے ہے جیسا کہ خود قرآن کریم نے اس حقیقت کو بیان کیا ہے“۔(۹) (۱۰)

سورہ ہود کی آیت نمبر ۱۲ سے ۱۴ تک ایک بار پھر قرآن مجید کے معجزہ ہونے کو بیان کررہی ہیں یہ ایک عام گفتگو نہیں ہے، اور کسی انسان کا نتیجہ فکر نہیں ہے، بلکہ یہ آسمانی وحی ہے جس کا سرچشمہ خداوندعالم کا لا محدود علم و قدرت ہے ،اور اسی وجہ سے چیلنج کرتی ہے اور تمام دنیا والوں کو مقابلہ کی دعوت دیتی ہے ، لیکن خود پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ کے لوگ بلکہ آج تک بھی، اس کی مثل لانے سے عاجز ہیں ، چنانچہ انھوں نےبہت سی مشکلات کو قبول کیا ہے لیکن قرآنی آیات سے مقابلہ نہ کیا، جس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ نوع بشر اس کا جواب نہیںلا سکتا تو اگر یہ معجزہ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

قرآن کی یہ آواز اب بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے، اور یہ ہمیشہ باقی رہنے والا معجزہ اب بھی دنیا والوں کو اپنے مقابلہ کی دعوت دے رہا ہے اور دنیا کی تمام علمی محفلوں کو چیلنج کررہا ہے ، اور یہی نہیں کہ صرف فصاحت و بلاغت یعنی تحریر کی حلاوت،اس کی جذابیت اور واضح مفہوم کو چیلنج کیا ہے بلکہ مضامین کے لحاظ سے بھی چیلنج ہے ایسے علوم جو اس وقت کے لوگوں کے سامنے نہیں آئے تھے، ایسے قوانین و احکام جو انسان کی سعادت اور نجات کا باعث ہیں، ایسا بیان جو ہر طرح کے تناقض او رٹکراؤ سے خالی ہے، ایسی تاریخ جو ہر طرح کے خرافات اور بےہو دہ باتوں سے خالی ہو۔(۱۱)

یہاں تک سید قطب اپنی تفسیر ”فی ظلال“ میں بیان کرتے ہیں کہ (سابق) روس کے مستشرقین نے ۱۹۵۴ ءء میں ایک کانفرس کی تو بہت سے مادیوں نے قرآن مجید میں عیب نکالنا چاہے

تو کہا:یہ کتاب ایک انسان (محمد) کا نتیجہ فکر نہیں ہوسکتی بلکہ ایک بڑے گروہ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے! یہاں تک کہ اس کے بارے میں یہ بھی یقین نہیں کیا جاسکتا کہ یہ جزیرة العرب میں لکھی گئی ہے بلکہ یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس کا کچھ حصہ جزیرة العرب سے باہر لکھا گیا ہے!!(۱۲)

چونکہ یہ لوگ خدا اور وحی کا انکار کرتے ہیں ،دوسری طرف قرآن مجید کو جزیرة العرب کے انسانی افکار کا نتیجہ نہ مان سکے، لہٰذا انھوں نے ایک مضحکہ خیز بات کہی اور اس کو عرب اور غیر عرب لوگوں کا نتیجہ فکر قرار دے دیا، جبکہ تاریخ اس بات کا بالکل انکار کرتی ہے۔(۱۳)

____________________

(۱) مجمع البیان ، جلد۱۰ ،سورہ مدثر (۲) مقدمہ سازمانہای تمدن امپراطوری اسلام

(۳) مقدمہ سازمانہای تمدن امپرا طوری اسلام، صفحہ ۱۱۱

(۴) مقدمہ سازمانہای تمدن امپرطوری اسلام، صفحہ ۹۱

(۵)کتاب ”عذر تقصیر بہ پیش گاہ محمد و قرآن“

(۶) المعجزة الخالدہ،بنا بر نقل از قرآن بر فراز اعصار

(۷)پیش رفت سریع اسلام، اعجاز قرآن کے سلسلہ میں مذکورہ بحث میں ”قرآن و آخرین پیامبر“ سے استفادہ کیا گیا ہے

(۸) تفسیر نمونہ ، جلد ۱، صفحہ ۱۳۵

(۹) قرآن وآخرین پیغمبر صفحہ۳۰۹

(۱۰) تفسیر نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۲۸

(۱۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۹، صفحہ ۴۲

(۱۲) تفسیر فی ظلال ، جلد ۵، صفحہ ۲۸۲

(۱۳) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۱، صفحہ ۴۱۰


۴۱ ۔ کیا قرآن کا اعجاز صرف فصاحت و بلاغت میں منحصرہے؟

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن مجید کا اعجاز صرف فصاحت و بلاغت اور شیریں بیانی سے مخصوص نہیں ہے (جیسا کہ بعض قدیم مفسرین کا نظریہ ہے) بلکہ اس کے علاوہ دینی تعلیمات ، اور ایسے علوم کے لحاظ سے جو اس زمانہ تک پہچانے نہیں گئے تھے، احکام و قوانین، گزشتہ امتوں کی تاریخ ہے کہ جس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور خرافات نہیں ہے، اور اس میں کسی طرح کا کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہے ، یہ تمام چیزیں اعجاز کا پہلو رکھتی ہیں۔

بلکہ بعض مفسرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ اور کلمات کا مخصوص آہنگ اور لہجہ بھی اپنی قسم میں خود معجز نما ہے۔

اوراس موضوع کے لئے مختلف شواہد بیان کئے ہیں، منجملہ ان میں مشہور و معروف مفسر سید قطب کے لئے پیش آنے والے واقعات ہیں،موصوف کہتے ہیں:

میں دوسروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں گفتگو نہیں کرتا بلکہ صرف اس واقعہ کو بیان کرتا ہوں جو میرے ساتھ پیش آیا، اور ۶ / افراد اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں ( خود میں اور پانچ دوسرے افراد )

ہم چھ مسلمان ایک مصری کشتی میں” بحراطلس“ میں نیویورک کی طرف سفر کر رہے تھے، کشتی میں ۱۲۰/ عورت مرد سوار تھے، اور ہم لوگوں کے علاوہ کوئی مسلمان نہیں تھا، جمعہ کے دن ہم لوگوں کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس عظیم دریا میں ہی کشتی پر نماز جمعہ ادا کی جائے، ہم چاہتے تھے کہ اپنے مذہبی فرائض کو انجام دینے کے علاوہ ایک اسلامی جذبہ کا اظہار کریں، کیونکہ کشتی میں ایک عیسائی مبلغ بھی تھا جو اس سفر کے دوران عیسائیت کی تبلیغ کررہا تھا یہاں تک کہ وہ ہمیں بھی عیسائیت کی تبلیغ کرنا چاہتا تھا!۔

کشتی کا ”ناخدا “ایک انگریز تھا جس نے ہم کو کشتی میں نماز جماعت کی اجازت دیدی، اور کشتی کا تمام اسٹاف افریقی مسلمان تھا، ان کو بھی ہمارے ساتھ نماز جماعت پڑھنے کی اجازت دیدی ، اور وہ بھی اس بات سے بہت خوش ہوئے کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ جب نماز جمعہ کشتی میں ہورہی تھی!

حقیر (سید قطب) نے نماز جمعہ کی امامت کی ، اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ سبھی غیر مسلم مسافر ہمارے چاروں طرف کھڑے ہوئے اس اسلامی فریضہ کے ادائیگی کو غور سے دیکھ رہے تھے۔

نماز جمعہ تمام ہونے کے بعد بہت سے لوگ ہمارے پاس آئے اور اس کامیابی پر ہمیں مبارک باد پیش کی، جن میں ایک عورت بھی تھی جس کو ہم بعد میں سمجھے کہ وہ عیسائی ہے اور یوگو سلاویہ کی رہنے والی ہے اور ٹیٹو او رکمیونیزم کے جہنم سے بھاگی ہے!!

اس پر ہماری نماز کا بہت زیادہ اثر ہوایہاں تک کہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور وہ خود پر قابو نہیں پارہی تھی۔

وہ سادہ انگریزی میں گفتگو کررہی تھی اور بہت ہی زیادہ متاثر تھی ایک خاص خضوع و خشوع میں بول رہی تھی، چنانچہ اس نے سوال کیا کہ یہ بتاؤ کہ تمہارا پادری کس زبان میں پڑھ رہا تھا، ( وہ سوچ رہی تھی کہ نماز پڑھانے والا پادری کوئی روحانی ہونا چاہئے، جیسا کہ خود عیسائیوں کے یہاں ہوتا ہے ، لیکن ہم نے اس کو سمجھایا کہ اس اسلامی عبادت کو کوئی بھی باایمان مسلمان انجام دے سکتا ہے) آخر کار ہم نے اس سے کہا کہ ہم عربی زبان میں نماز پڑھ رہے تھے۔

اس نے کہا: میں اگرچہ ان الفاظ کے معنی کو نہیں سمجھ رہی تھی، لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان الفاظ کا ایک عجیب آہنگ اور لہجہ ہے اور سب سے زیادہ قا بل تو جہ بات مجھے یہ محسوس ہو ئی کہ تمہارے امام کے خطبوں کے درمیان کچھ ایسے جملے تھے جو واقعاً دوسروں سے ممتاز تھے، وہ ایک غیر معمولی اور عمیق انداز کے محسوس ہورہے تھے، جس سے میرا بدن لرز رہاتھا، یقینا یہ کلمات کوئی دوسرے مطالب تھے، میرا نظریہ یہ ہے کہ جس وقت تمہارا امام ان کلمات کو اداکرتا تھا تو اس وقت ”روح القدس“ سے مملو ہوتا تھا!!

ہم نے کچھ غور و فکر کیا تو سمجھ گئے کہ یہ جملے وہی قرآنی آیات تھے جو خطبوں کے درمیان پڑھے گئے تھے واقعاً اس موضوع نے ہمیں ہلاکر رکھ دیا اور اس نکتہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ قرآن مجید کا مخصوص لہجہ اتنا موثر ہے کہ اس نے اس عورت کو بھی متاثر کردیا جو ایک لفظ بھی نہیں سمجھ سکتی تھی لیکن پھر بھی اس پر بہت زیادہ اثر ہوا۔(۱)(۲)

____________________

(۱) تفسیر فی ضلال ، جلد ۴، صفحہ ۴۲۲

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۸، صفحہ ۲۸۹


۴۲ ۔قرآن کی مثل کیسے نہ لاسکے؟

جیسا کہ ہم سورہ بقرہ میں پڑھتے ہیں:( وَإِنْ کُنتُمْ فِی رَیْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَاٴْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ ) (۱)

”اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں کو ئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کے جیسا ایک ہی سورہ لے آؤ“۔

یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ دشمنان اسلام قرآن کی مثل کیسے نہ لاسکے؟

اگر ہم اسلامی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو اس سوال کا جواب آسانی سے روشن ہوجاتا ہے، کیونکہ اسلامی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں اور آپ کی وفات کے بعد خود مکہ اور مدینہ میں بہت ہی متعصب دشمن، یہود اور نصاریٰ رہتے تھے جو مسلمانوں کو کمزور بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے تھے، ان کے علاوہ خود مسلمانوں کے درمیان بعض ”مسلمان نما“ افراد موجود تھے جن کو قرآن کریم نے ”منافق“ کہا ہے، جو غیروں کے لئے ”جاسوسی“ کا رول ادا کررہے تھے ( جیسے ”ابوعامرراہب “ اور اس کے منافق ساتھی، جن کا رابطہ روم کے بادشاہ سے تھا اور تاریخ نے اس کو نقل

کیا ہے یہاں تک کہ انھوں نے مدینہ میں ”مسجد ضرار“ بھی بنائی ، اور وہ عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جس کا اشارہ سورہ توبہ نے کیا ہے)۔

مسلّم طور پر منافقین کا یہ گروہ اور اسلام کے بعض دوسرے بڑے بڑے دشمن مسلمانوں کے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے اور مسلمانوں کے ہو نے والے نقصان پر بہت خوش ہوا کرتے تھے، نیز مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے اپنی پوری طاقت سے ان واقعات کو نشر کرتے تھے، یا کم از کم ان واقعات کو حفظ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے ذرا بھی قرآن سے مقابلہ کرنے کا ارادہ کیا ہے، تاریخ نے ان کانام نقل کیا ہے، چنانچہ ان میں درج ذیل افراد کا نام لیا جاتا ہے:

”عبد اللہ بن مقفع“ کا نام تاریخ نے بیان کیا ہے کہ اس نے ”الدرة الیتیمة“ نامی کتاب اسی وجہ سے لکھی ہے۔

جبکہ مذکورہ کتاب ہمارے یہاں موجود ہے اور کئی مرتبہ چھپ بھی چکی ہے لیکن اس کتاب میں اس طر ف ذرا بھی اشار ہ نہیں ہے، ہمیں نہیں معلوم کہکس طرح اس شخص کی طرف یہ نسبت دی گئی ہے؟

احمد بن حسین کوفی ”متنبی“ جو کہ کوفہ کا مشہور شاعر تھا اس کا نام بھی اسی سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ بہت سے قرائن اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس کی بلندپروازی، خاندانی پسماندگی اور جاہ و مقام کی آرزو اس میں سبب ہوئی ہے۔

ابو العلای معری پر بھی اسی چیز کا الزام ہے ، اگرچہ اس نے اسلام کے سلسلہ میں بہت سی نازیبا حرکتیں کی ہیں لیکن قرآن سے مقابلہ کرنے کا تصور اس کے ذہن میں نہیں تھا، بلکہ اس نے قرآن کی عظمت کے سلسلہ میں بہت سی باتیں کہی ہیں۔

لیکن ”مسیلمہ کذاب“ اہل یمامہ میں سے ایک ایسا شخص تھا جس نے قرآن کا مقابلہ کرتے ہوئے اس جیسی آیات بنانے کی ناکام کوشش کی ، جس میں تفریحی پہلو زیادہ پایا جاتا ہے، یہاں پر اس کے چند جملے نقل کرنا مناسب ہوگا:

۱ ۔ سورہ ”الذاریات“ کے مقابلہ میں یہ جملے پیش کئے:

”وَالمُبذراتِ بذراً والحاصداتِ حَصداً والذَّاریات قَمحاً والطاحناتِ طحناً والعاجناتِ عَجناً والخَابِزاتِ خُبزاً والثارداتِ ثَرداً واللاقماتِ لَقماً إهالة وسَمناً“ (۲)

”یعنی قسم ہے کسانوں کی، قسم ہے بیج ڈالنے والوں کی، قسم ہے گھاس کو گندم سے جدا کرنے والوں کی اورقسم ہے گندم کو گھاس سے جدا کرنے والوں کی، قسم ہے آٹا گوندھنے والیوں کی اور قسم ہے روٹی پکانے والیوں کی اور قسم ہے تر اور نرم لقمہ اٹھانے والوں کی“!!

۲ ۔یا ضفدع بنت ضفدع، نقيّ ما تنقین، نِصفک فی الماء و نِصفک فِي الطین لا الماء تکدّرین ولا الشارب تمنعین(۳) (۴)

” اے مینڈک بنت مینڈک! جو تو چاہے آواز دے! تیرا آدھا حصہ پانی میں اور آدھا کیچڑ میں ہے، تو نہ پانی کوخراب کرتی ہے اور نہ کسی کو پانی پینے سے روکتی ہے“

____________________

(۱)سورہ بقرہ ، آیت ۲۳

(۲) اعجاز القرآن رافعی۳

(۳) قرآن و آخرین پیغمبر

(۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۱، صفحہ ۱۳


۴۳ ۔ قرآن کے حروف مقطّعات سے کیا مراد ہے؟

قرآن مجید کے ۲۹ سوروں کے شروع میں حروف مقطّعاتآئے ہیں، اور جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ الگ الگ حروف ہیں اور ایک دوسرے سے جدا دکھائی دیتے ہیں، جس سے کسی لفظ کا مفہوم نہیں نکلتا۔

قرآن مجید کے حروف مقطّعات، ہمیشہ قرآن کے اسرار آمیز الفاظ شمار ہوئے ہیں، اور مفسرین نے اس سلسلہ میں متعدد تفسیریں بیان کی ہیں، آج کل کے دانشوروں کی جدید تحقیقات کے مد نظر ان کے معنی مزید واضح ہوجاتے ہیں۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ کسی بھی تاریخ نے بیان نہیں کیا ہے کہ دورِ جاہلیت کے عرب یا مشرکین نے قرآن کے بہت سے سوروں میں حروف مقطّعات پر کوئی اعتراض کیا ہو، یا ان کا مذاق اڑایا ہو، جو خود اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ وہ لوگ حروف مقطّعات کے اسرار سے بالکل بے خبر نہیں تھے۔

بہر حال مفسرین کی بیان کردہ چند تفسیریں موجود ہیں، سب سے زیادہ معتبراوراس سلسلہ میں کی گئی تحقیقات سے ہم آہنگ دکھائی دینے والی تفاسیرکی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱ ۔ یہ حروف اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ یہ عظیم الشان آسمانی کتاب کہ جس نے تمام عرب اور عجم کے دانشوروں کو تعجب میں ڈال دیا ہے اور بڑے بڑے سخنور اس کے مقابلہ سے عاجز ہوچکے ہیں، نمونہ کے طور پر یہی حروف مقطّعاتہیں جو سب کی نظروں کے سامنے موجود ہیں۔

جبکہ قرآن مجید انھیں الفابیٹ اور معمولی الفاظ سے مرکب ہے، لیکن اس کے الفاظ اتنے مناسب اور اتنے عظیم معنی لئے ہوئے ہے جو انسان کے دل و جان میں اثر کرتے ہیں، روح پر ایک گہرے اثر ڈالتے ہیں ، جن کے سامنے افکار اور عقول تعظیم کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، اس کے جملے عظمت کے بلند درجہ پر فائز ہیں اور اپنے اندر معنی کا گویا ایک سمندر لئے ہوئے ہیں جس کی کوئی مثل و نظیر نہیں ملتی۔

حروف مقطّعات کے سلسلے میں اس بات کی تا ئید یوں بھی ہوتی ہے کہ قرآن مجید کے جہاں سوروں کے شروع میں حروف مقطّعاتآئے ہیں ان میں سے ۲۴ / مقامات پر قرآن کی عظمت بیان کی گئی ہے، جو اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ ان دونوں (عظمت قرآن اور حروف مقطّعہ) میں ایک خاص تعلق ہے۔

ہم یہاں پر چند نمونے پیش کرتے ہیں:

۱ ۔( اٰلٰرٰ کِتَابٌ اٴُحْکِمَتْ آیَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ خَبِیر ) (۱)

الرٰیہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم بنائی گئی ہیں اور ایک صاحب علم و حکمت کی طرف سے تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں“۔

۲ ۔( طٰس تِلْکَ آیَاتُ الْقُرْآنِ وَکِتَابٍ مُبِینٍ ) (۲)

”طٰس ،یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں“۔

۳ ۔( اٰلٰم تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْحَکِیمِ ) (۳)

” الم ، یہ حکمت سے بھری ہوئی کتاب کی آیتیں ہیں“۔

۴ ۔( اٰلٰمص کِتَابٌ اٴُنزِلَ إِلَیْکَ ) (۴)

”المص، یہ کتاب آپ کی طرف نازل کی گئی ہے“۔

ان تمام مقامات اور قرآن مجید کے دوسرے سوروں کے شروع میں حروف مقطّعہ ذکر ہونے کے بعد قرآن اور اس کی عظمت کی گفتگو ہوئی ہے۔(۵)

۲ ۔ ممکن ہے قرآن کریم میں حروف مقطّعات بیان کرنے کا دوسرا مقصد یہ ہو کہ سننے والے متوجہ ہوجائیں اور مکمل خاموشی کے ساتھ سنیں، کیونکہ گفتگو کے شروع میں اس طرح کے جملے عربوں کے درمیان عجیب و غریب تھے، جس سے ان کی تو جہ مزید مبذول ہو جا تی تھی، اور مکمل طور سے سنتے تھے، اور یہ بھی اتفاق ہے کہ جن سوروں کے شروع میں حروف مقطّعاتآئے ہیں وہ سب مکی سورے ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ وہاں پر مسلمان اقلیت میں تھے، اور پیغمبر اکرم (ص) کے دشمن تھے، آپ کی باتوں کو سننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے، کبھی کبھی اتنا شور و غل کیا کرتے تھے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی آواز تک سنائی نہیں دیتی تھی، جیسا کہ قرآن مجید کی بعض آیات (جیسے سورہ فصلت ، آیت نمبر ۲۶) اسی چیز کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

۳ ۔ اہل بیت علیہم السلام کی بیان شدہ بعض روایات میں پڑھتے ہیں کہ یہ حروف مقطّعات، اسماء خدا کی طرف اشارہ ہیں جیسے سورہ اعراف میں ”المص“ ، ”انا الله المقتدر الصادق“ (میں صاحب قدرت اور سچا خدا ہوں) اس لحاظ سے چاروں حرف خداوندعالم کے ناموں کی طرف اشارہ ہیں۔

مختصر شکل ( یا کوڈ ورڈ) کو تفصیلی الفاظ کی جگہ قرار دینا قدیم زمانہ سے رائج ہے، اگرچہ دورحاضر میں یہ سلسلہ بہت زیادہ رائج ہے، اور بہت ہی بڑی بڑی عبارتوں یا اداروں اور انجمنوں کے نام کا ایک کلمہ میں خلاصہ ہوجا تا ہے۔

ہم اس نکتہ کا ذکرضروری سمجھتے ہیں کہ ”حروف مقطّعات“ کے سلسلہ میں یہ مختلف معنی آپس میں کسی طرح کا کوئی ٹکراؤ نہیں رکھتے، اور ممکن ہے کہ یہ تمام تفسیریں قرآن کے مختلف معنی کی طرف اشارہ ہوں۔(۶)

۴ ۔ ممکن ہے کہ یہ تمام حروف یا کم از کم ان میں ایک خاص معنی اور مفہوم کا حامل ہو، بالکل اسی طرح جیسے دوسرے الفاظ معنی و مفہوم رکھتے ہیں۔

اتفاق کی بات یہ ہے کہ سورہ طٰہٰ اور سورہ یٰس کی تفسیر میں بہت سی روایات اور مفسرین کی گفتگو میں ملتا ہے کہ ”طٰہ“ کے معنی یا رجل (یعنی اے مرد) کے ہیں ، جیسا کہ بعض عرب شعرا کے شعر میں لفظ طٰہ آیاہے اور اے مرد کے مشابہ یا اس کے نزدیک معنی میں استعمال ہوا ہے ، جن میں سے بعض اشعار یا تو اسلام سے پہلے کے ہیں یا آغاز اسلام کے ۔(۷)

یہاں تک کہ ایک صاحب نے ہم سے نقل کیا کہ مغربی ممالک میں اسلامی مسائل پر تحقیق کرنے والے دا نشوروں نے اس مطلب کو تمام حروف مقطّعات کے بارے میں قبول کیا ہے اوراس بات کا اقرار کیا ہے کہ قرآن مجید کے سوروں کی ابتداء میں جو حروف مقطّعات بیان ہوئے ہیں وہ اپنے اندر خاص معنی لئے ہوئے ہیں جو گزشتہ زمانہ میں متروک رہے ہیں، اور صرف بعض ہم تک پہنچے ہیں، ورنہ تو یہ بات بعید ہے کہ عرب کے مشرکین حروف مقطّعات کو سنیں اور ان کے معنی کو نہ سمجھیں اور

مقابلہ کے لئے نہ کھڑ ے ہوں، جبکہ کوئی بھی تاریخ یہ بیان نہیں کرتی کہ ان کم دماغ والے اور بہانہ باز لوگوں نے حروف مقطّعات کے سلسلہ میں کسی ردّ عمل کا اظہار کیا ہو۔

البتہ یہ نظریہ عام طور پر قرآن مجید کے تمام حروف مقطّعات کے سلسلے میں قبول کیا جانا مشکل ہے، لیکن بعض حروف مقطّعات کے بارے میں قبول کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اسلامی منابع ومصادر میں اس موضوع پر بحث کی گئی ہے۔

یہ مطلب بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ”طٰہ“ پیغمبر اکرم (ص) کا ایک نام ہے ،جس کے معنی ”یا طالب الحق، الہادی الیہ“ ( اے حق کے طالب اور حق کی طرف ہدایت کرنے والے)

اس حدیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لفظ ”طٰہٰ “ دو اختصاری حرف سے مرکب ہے ایک ”طا“ جو ”طالب الحق“ کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے ”ھا“ جو ”ہادی الیہ“ کی طرف اشارہ ہے۔

اس سلسلہ میں آخری بات یہ ہے کہ ایک مدت گزرنے کے بعد لفظ ”طٰہ“ ، لفظ ”یٰس“ کی طرح آہستہ آہستہ پیغمبر اکرم (ص) کے لئے ”اسم خاص“ کی شکل اختیار کرگیا ہے، جیسا کہ آل پیامبر (ص) کو ”آل طٰہ“ بھی کہا گیا، جیسا کہ دعائے ندبہ میں حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ ‘ کو ”یابن طٰہ“ کہا گیا ہے۔(۸)

۵ ۔ علامہ طباطبائی ( علیہ الر حمہ) نے ایک دوسرا احتمال دیا ہے جس کو حروف مقطّعات کی ایک دوسری تفسیر شمار کیا جاسکتا ہے، اگرچہ موصوف نے اس کو ایک احتمال اور گمان کے عنوان سے بیان کیا ہے۔

ہم آپ کے سامنے موصوف کے احتمال کا خلاصہ پیش کررہے ہیں:

جس وقت ہم حروف مقطّعات سے شروع ہونے والے سوروں پر غور و فکر کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ مختلف سوروں میں بیان ہو ئے حروف مقطّعات سورہ میں بیان شدہ مطالب میں مشترک ہیں مثال کے طور پر جو سورے ”حم“ سے شروع ہوتے ہیں اس کے فوراً بعد جملہ( تَنْزِیْلُ الکِتَابِ مِن الله ) (سورہ زمر آیت ۱) یا اسی مفہوم کا جملہ بیان ہوتا ہے اور جو سورے ”الر“ سے شروع ہوتے ہیں ان کے بعد( تِلْکَ آیاتُ الکتابِ ) یا اس کے مانند جملے بیان ہوئے ہیں۔

اور جو سورے ”الم“ سے شروع ہوتے ہیں اس کے بعد( ذٰلک الکتابُ لاریبَ فِیْه ) یا اس سے ملتے جلتے کلمات بیان ہوئے ہیں۔

اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حروف مقطّعات اور ان سوروں میں بیان ہوئے مطالب میں ایک خاص رابطہ ہے مثال کے طور پر سورہ اعراف جو ”المٰص“ سے شروع ہوتا ہے اس کا مضمون اور سورہ ”الم“ اور سورہ ”ص“ کا مضمون تقریباً ایک ہی ہے۔

البتہ ممکن ہے کہ یہ رابطہ بہت عمیق اور دقیق ہو، جس کو ایک عام انسان سمجھنے سے قاصر ہو۔

اور اگر ان سوروں کی آیات کو ایک جگہ رکھ کر آپس میں موازنہ کریں تو شاید ہمارے لئے ایک نیا مطلب کشف ہوجائے۔(۹) (۱۰

____________________

(۱) سورہ ہود ، آیت ۱ (۲) سورہ نمل ، آیت (۳) سورہ لقمان ، آیت ۱و۲

(۴) سورہ اعراف ، آیت ۱و۲

(۵) تفسیر نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۶۱

(۵۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۷۸

(۶) تفسیر مجمع البیان ،سورہ طہ کی پہلی آیت کے ذیل میں

(۷) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۳، صفحہ ۱۵۷

(۸) تفسیر نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۸

(۹) تفسیر المیزان ، جلد ۱۸، صفحہ ۵و۶

(۱۰) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۰، صفحہ ۳۴۶


۴۴ ۔ قرآن مجید پیغمبر اکرم کے زمانہ میں مرتب ہوچکا تھا یا بعد میں ترتیب دیا گیا؟

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید کے پہلے سورے کا نام ”فاتحة الکتاب“ ہے ، ”فاتحة الکتاب“ یعنی کتاب (قرآن) کی ابتدااور پیغمبر اکرم (ص) سے منقول بہت سی روایات کے پیش نظر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خود آنحضرت (ص) کے زمانہ میں اس سورہ کو اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔

یہیں سے ایک دریچہ اسلام کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ کی طرف وا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ایک گروہ کے درمیان یہ مشہور ہے کہ ( پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں قرآن پراکندہ تھا بعد میں حضرت ابوبکر یا عمر یا عثمان کے زمانہ میں مرتب ہوا ہے)، قرآن مجید خود پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں اسی ترتیب سے موجود تھا جو آج ہمارے یہاں موجود ہے، اور جس کا سر آغاز یہی سورہ حمد تھا، ورنہ تو یہ پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہونے والاسب سے پہلا سورہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی دوسری دلیل تھی جس کی بناپر اسے ”فاتحة الکتاب“ کے نام سے یاد کیا جاتا۔

اس کے علاوہ اور بہت سے شواہد اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ قرآن کریم اسی موجودہ صورت میں پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں جمع ہوچکا تھا۔

”علی بن ابراہیم“ حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: قرآن کریم حریر کے کپڑوں ،کاغذ اور ان جیسی دوسری چیزوں پر متفرق ہے لہٰذا اس کو ایک جگہ جمع کرلو“ اس کے بعد مزید فرماتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اس نشست سے اٹھے اور قرآن کو ایک زرد رنگ کے کپڑے پر جمع کیا اور اس پر مہر لگائی:

”وَانطلقَ عَليَّ (ع)فَجمعہُ فِي ثوبٍ اصفرٍ ثُمَّ خَتَم علَیْہِ“(۱)

ایک دوسرا گواہ: ”خوارزمی“ اہل سنت کے مشہور و معروف مولف اپنی کتاب ”مناقب“ میں ”علی بن ریاح“ سے نقل کرتے ہیں کہ قرآن مجید کو حضرت علی بن ابی طالب اور ابیّ بن کعب نے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ ہی میں جمع کردیا تھا۔

تیسرا گواہ: اہل سنت کے مشہور و معروف مولفحاکم نیشاپوری اپنی کتاب ”مستدرک“ میں زید بن ثابت سے نقل کرتے ہیں:

زید کہتے ہیں: ” ہم لوگ قرآن کے مختلف حصوں کو پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں جمع کرتے تھے اور آنحضرت (ص) کے فرمان کے مطابق اس کی مناسب جگہ قرار دیتے تھے، لیکن پھر بھی یہ لکھا ہوا قرآن متفرق تھا ،حضرت رسول خدا (ص) نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ اس کو ایک جگہ جمع کردیں ، اور ہمیں اس کی حفا ظت کے لئے تا کید کیاکرتے تھے“۔

عظیم الشان شیعہ عالم دینسید مرتضیٰ کہتے ہیں:قرآن مجید پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں اسی موجودہ صورت میں مرتب ہوچکا تھا“(۲)

طبرانی اور ابن عساکر دونوں ”شعبی“ سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں انصار کے چھ افراد نے قرآن کو جمع کیا۔(۳) اور قتادہ نقل کرتے ہیں کہ میں نے انس سے سوال کیا

کہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں کن لوگوں نے قرآن جمع کیا تھا؟ تو انھوں نے :ابیّ بن کعب، معاذ،زید بن ثابت اور ابوزید کا نام لیا جو سبھی انصار میںسے تھے(۳) اس کے علاوہ بھی بہت سی روایات ہیں جو اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اگر ہم ان سب کو بیان کریں تو ایک طولانی بحث ہوجائے گی۔

بہر حال شیعہ اور سنی کتب میں نقل ہونے والی روایات جن میں سورہ حمد کو ”فا تحة الکتاب“ کا نام دیا جانا، اس موضوع کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔

سوال:

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح اس بات پر یقین کیا جاسکتا ہے جبکہ بہت سے علماکے نزدیک یہ بات مشہور ہے کہ قرآن کریم کو پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد ترتیب دیا گیا ہے (حضرت علی کے ذریعہ یا دوسرے لوگوں کے ذریعہ)

اس سوال کے جواب میںہم یہ کہتے ہیں : حضرت علی علیہ السلام کا جمع کیا ہوا قرآن خالی قرآن نہیں تھا بلکہ قرآن مجید کے ساتھ سا تھ اس کی تفسیر اورشان نزول بھی تھی۔

البتہ کچھ ایسے قرائن وشواہد بھی پا ئے جا تے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عثمان نے قرائت کے اختلاف کودور کرنے کے لئے ایک قرآن لکھا جس میں قرائت اور نقطوں کا اضافہ کیا (چونکہ اس وقت تک نقطوں کا رواج نہیں تھا) بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں کسی بھی صورت میں قرآن جمع نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ افتخار خلیفہ دوم یا حضرت عثمان کونصیب ہوا، تو یہ بات فضیلت سازی کا زیادہپہلو رکھتی ہے لہٰذا اصحاب کی فضیلت بڑھا نے کے لئے نسبت دیتے ہیں اورروایت نقل کرتے ہیں۔

بہر حال اس بات پرکس طرح یقین کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اتنے اہم کام پر کوئی توجہ نہ کریں جبکہ آنحضرت (ص) چھوٹے چھوٹے کاموں کو بہت اہمیت دیتے تھے،کیا قرآن کریم اسلام کے بنیادی قوانین کی کتاب نہیں ہے؟! کیا قرآن کریم تعلیم و تربیت کی عظیم کتاب نہیں ہے؟! کیا قرآن کریم اعتقادات نیز اسلامی منصوبوں کی بنیادی کتاب نہیں ہے؟! کیا پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں قرآن کریم کے جمع نہ کرنے سے یہ خطرہ درپیش نہ تھا کہ اس کا کچھ حصہ نابود ہوجائے گایا مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہوجائے گا؟!

اس کے علاوہ مشہور و معروف حدیث ”ثقلین“ جس کو شیعہ اور سنی دونوں فر یقوں نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں :ایک کتاب خدا (قرآن) اور دوسرے میری عترت (اہل بیت )“ اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم ایک کتاب کی شکل میں موجود تھا۔

اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ خود آنحضرت (ص) کی زیرنگرانی بعض اصحاب نے قرآن جمع کیا ، اوروہ تعداد کے لحاظ سے مختلف ہیں تواس سے کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی، کیو نکہ ممکن ہے کہ ہر روایت ان میں سے کسی ایک کی نشاندہی کرتی ہو۔(۴)

____________________

(۱) تاریخ القرآن ، ابو عبداللہ زنجانی صفحہ ۲۴ (۲) مجمع البیان ، جلد اول، صفحہ ۱۵

(۳) منتخب کنز العمال ، جلد ۲، صفحہ ۵۲

(۴) صحیح بخاری ، جلد ۶، صفحہ ۱۰۲


۴۵ ۔ قرآن مجید کی آیات میں محکم اور متشابہ سے کیا مراد ہے؟

جیسا کہ ہم سورہ آل عمران میں پڑھتے ہیں:( هُوَ الَّذِی اٴَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْهُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ هُنَّ اٴُمُّ الْکِتَابِ وَاٴُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ) (۱)

”اس نے آپ پر وہ کتاب نازل کی ہے جس میں سے کچھ آیتیں محکم ہیں جو اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں“۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”محکم“ اور ”متشابہ“ سے کیا مراد ہے؟

لفظ ”محکم“ کی اصل ”احکام“ ہے اسی وجہ سے مستحکم او رپائیدار موضوعات کو ”محکم“ کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ خود سے نابودی کے اسباب کو دور کرتے ہیں، اور اسی طرح واضح و روشن گفتگوجس میں احتمال خلاف نہ پایا جاتا ہو اس کو ”محکم“ کہا جاتا ہے، اس بنا پر ”محکمات“ سے وہ آیتیں مراد ہیں جن کا مفہوم اور معنی اس قدر واضح اور روشن ہو کہ جس کے معنی میں بحث و گفتگو کی کوئی گنجائش نہ ہو، مثال کے طور پر درج ذیل آیات :

( قُلْ هُوَ اللهُ اٴحدٌ ) ( لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیءٌ ) ( اللهخَالِقُ کُلّ شَیءٍ ) ( لِلذَکَرِ مِثْلُ حَظَّ الاٴنْثَیَینِ )

اور اس کی طرح دوسری ہزاروں آیات جو عقائد، احکام، وعظ و نصیحت اور تاریخ کے بارے

میں موجود ہیں یہ سب آیات ”محکمات“ ہیں، ان محکم آیات کو قرآن کریم میں ”امّ الکتاب“ کانام دیا گیا ہے، یعنی یہی آیات اصل ،اور مرجع و مفسر ہیں اور یہی آیات دیگر آیات کی وضاحت کرتی ہیں۔

لفظ ”متشابہ“ کے لغوی معنی یہ ہیں کہ اس کے مختلف حصے ایک دوسرے کے شبیہ اور مانند ہوں، اسی وجہ سے ایسے جملے جن کے معنی پیچیدہ ہوں اور جن کے بارے میں مختلف احتمالات دئے جاسکتے ہوں ان کو ”متشابہ“ کہا جاتا ہے، اور قرآن کریم میں بھی یہی معنی مراد ہیں، یعنی ایسی آیات جن کے معنی ابتدائی نظر میں پیچیدہ ہیں شروع میں کئی احتمالات دئے جاتے ہیں اگرچہ آیات ”محکمات“ پر توجہ کرنے سے اس کے معنی واضح اور روشن ہوجاتے ہیں۔

اگرچہ ”محکم“ اور ”متشابہ“ کے سلسلہ میں مفسرین نے بہت سے احتمالات دئے ہیں لیکن ہمارا پیش کردہ مذکورہ نظریہ ان الفاظ کے اصلی معنی کے لحاظ سے بھی مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور شان نزول سے بھی، آیت کی تفسیر کے سلسلہ میں بیان ہونے والی روایات سے بھی،اورمحل بحث آیت سے بھی، کیونکہ مذکورہ آیت کے ذیل میں ہم پڑھتے ہیں کہ بعض خود غرض لوگ ”متشابہ“ آیات کو اپنی دلیل قرار دیتے تھے، یہ بات واضح ہے کہ وہ لوگ آیات سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے تھے کہ متشابہ آیات سرسری نظر میں متعدد معنی کئے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ”متشابہ“ سے وہی معنی مراد ہیں جو ہم نے اوپر بیان کئے ہیں۔

”متشابہ“ وہ آیات ہیں جو خداوندعالم کے صفات اور معاد کی کیفیت کے بارے میں ہیں ہم یہاں پر چند آیات کو نمونہ کے طور پر بیان کرتے ہیں:( یَدُ اللهِ فُوقَ اَیْدِیْهِم ) (خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے) جو خداوندعالم کی قدرت کے بارے میں ہے، اسی طرح( وَاللهُ سَمِیْعُ عَلِیْمُ ) (خدا سننے والا اور عالم ہے) یہ آیت خداوندعالم کے علم کے بارے میں دلیل ہے، اسی طرح( وَنَضَعُ المَوَازِینَ القِسْطِ لِیَومِ القَیَامَةِ ) ( ہم روزِ قیامت عدالت کی ترازو قائم کریں گے) یہ آیت اعمال کے حساب کے بارے میں ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ نہ خداوندعالم کے ہاتھ ہیں اور نہ ہی وہ آنکھ اور کان رکھتا ہے، اور نہ ہی اعمال کے حساب و کتاب کے لئے ہمارے جیسی ترازو رکھتا ہے بلکہ یہ سب خداوندعالم کی قدرت اور اس کے علم کی طرف اشارہ ہیں۔

یہاں اس نکتہ کی یاد دہانی کرانا ضروری ہے کہ قرآن مجید میں محکم اور متشابہ دوسرے معنی میں بھی آئے ہیں جیسا کہ سورہ ہود کے شروع میں ارشاد ہوتا ہے:( کتاب احکمت آیاته ) اس آیت میں تمام قرآنی آیات کو ”محکم“ قرار دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات آپس میں ایک دوسرے سے تعلق رکھتی ہیں ،اور سورہ زمر میں آیت نمبر ۲۳ میں ارشاد ہوتا ہے:( کتاباً متشابه ) اس آیت میں قرآ ن کی تمام آیات کو متشابہ قراردیا گیا ہے کیو نکہ یہاں متشابہ کے معنی حقیقت ،صحیح اور درست ہونے کے لحاظ سے تمام آیات ایک دوسرے جیسی ہیں۔

لہٰذا محکم اور متشابہ کے حوالہ سے ہمارے بیان کئے ہو ئے مطالب کے پیش نظر معلوم ہوجاتا ہے ایک حقیقت پسند اور حق تلاش کرنے والے انسان کے لئے خداوندعالم کے کلام کو سمجھنے کا یہی ایک راستہ ہے کہ تمام آیات کو پیش نظر رکھے اور ان سے حقیقت تک پہنچ جائے ،چنانچہ اگر بعض آیات میں ابتدائی لحاظ سے کوئی ابہام اور پیچیدگی دیکھے تو دوسری آیات کے ذریعہ اس ابہام اور پیچیدگی کو دور کرکے اصل تک پہنچ جائے، درحقیقت ”آیات محکمات“ ایک شاہراہ کی طرح ہیں اور ”آیات متشابہات“ فرعی راستوں کی طرح ہیں ، کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ اگر انسان فرعی راستوں میں بھٹک جائے تو کوشش کرتا ہے کہ اصلی راستہ پر پہنچ جائے، اور وہاں پہنچ کرصحیح راستہ کو معین کرلے۔

چنا نچہ آیات محکمات کو ”امّ الکتاب“ کہا جانا بھی اس حقیقت کی تاکید کرتا ہے، کیونکہ عربی میں لفظ ”امّ“ کے معنی ”اصل اور بنیاد“ کے ہیں، اور اگر ماں کو ”امّ“ کہا جاتا ہے تو اسی وجہ سے کہ بچوں کی اصل اور اپنی اولاد کی مختلف مشکلات اور حوادث میں پناہ گاہ ہوتی ہے، اسی طرح آیات محکمات دوسری آیات کی اصل اور ماں شمار ہوتی ہیں۔(۲)

____________________

(۱)سورہ آل عمران ، آیت ۷

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۲، صفحہ ۳۲۰


۴۶ ۔کیوں بعض قرآنی آیات متشابہ ہیں؟

لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں متشابہ آیات کی وجہ کیا ہے؟ جبکہ قرآن مجید نور، روشنی، کلام حق اور واضح ہے نیزلوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے تو پھر قرآن مجید میں اس طرح کی متشابہ آیات کیوں ہیں اور قرآن مجید کی بعض آیات کا مفہوم پیچیدہ کیوں ہے کہ بعض اوقات شرپسندوں کو ناجائز فائدہ اٹھانے کا مو قع مل جا تا ہے ؟

یہ موضوع در حقیقت بہت اہم ہے جس پر بھر پورتوجہ کرنے کی ضرورت ہے، کلی طور پر درج ذیل چیزیں قرآن میں متشابہ آیات کا راز اور وجہ ہو سکتی ہیں :

۱ ۔ انسان جو الفاظ اور جملے استعمال کرتا ہے وہ صرف روز مرّہ کی ضرورت کے تحت ہوتے ہیں ، اسی وجہ سے جب ہم انسان کی مادی حدود سے باہر نکلتے ہیں مثلاً خداوندعالم جو ہر لحاظ سے نامحدود ہے، اگر اس کے بارے میں گفتگو کر تے ہیں تو ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ ہمارے الفاظ ان معانی کے لئے کما حقہ پورے نہیں اترتے، لیکن مجبوراً ان کو استعمال کرتے ہیں ، کہ الفاظ کی یہی نارسائی قرآن مجید کی بہت سی متشابہ آیات کا سرچشمہ ہیں ،( یَدُ اللهِ فَوقَ اٴیدِیهم ) (سورہ فتح/ ۱۰) یا( الرَّحمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ استَویٰ ) (سورہ طٰہ/ ۵) یا( إلیٰ رَبِّهَا نَاظِرَةِ ) (سورہ قیامت/ ۲۳) یہ آیات اس چیز کا نمونہ ہیں نیز ”سمیع“ اور ”بَصِیرٌ“ جیسے الفاظ بھی اسی طرح ہیں کہ آیات محکمات پر رجوع کرنے سے ان الفاظ اور آیات متشابہات کے معنی بخوبی واضح اور روشن ہوجاتے ہیں۔

۲ ۔ بہت سے حقائق دوسرے عالم یا ماورائے طبیعت سے متعلق ہوتے ہیں جن کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں، چونکہ ہم زمان و مکان میں مقید ہیں لہٰذا ان کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر ہیں، اورہمارے افکار کی نارسائی اور ان معانی کا بلند و بالا ہونا ان آیات کے تشابہ کا باعث ہے جیسا کہ قیامت وغیرہ سے متعلق بعض آیات موجود ہیں۔

یہ بالکل اسی طرح ہے کہ اگر کوئی شخص شکم مادر میں موجود بچہ کو اس دنیا کے مسائل کی تفصیل بتانا چاہے، تو بہت ہی اختصار اور مجمل طریقہ سے بیان کرنے ہوں گے کیونکہ اس میں صلاحیت اور استعداد نہیں ہے۔

۳ ۔ قرآن مجید میں متشابہ آیات کا ایک راز یہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح کا کلام اس لئے پیش کیا گیا تاکہ لوگوں کی فکر و نظر میں اضافہ ہو ، اور یہ دقیق علمی اور پیچیدہ مسائل کی طرح ہیں تاکہ دانشوروں کے سامنے بیان کئے جائیں اور ان کے افکار پختہ ہوں اور مسائل کی مزید تحقیق کریں ۔ ۴ ۔قرآن کریم میں متشابہ آیات کے سلسلہ میں ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جس کی تائید اہل بیت علیہم السلام کی احادیث سے بھی ہو تی ہے:قرآن مجید میں اس طرح کی آیات کا موجود ہونا انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی ضرورت کو واضح کرتا ہے تاکہ عوام الناس مشکل مسائل سمجھنے کے لئے ان حضرات کے پاس آئیں، اور ا ن کی رہبری و قیادت کو رسمی طور پر پہچانیں، اور ان کے تعلیم دئے ہوئے دوسرے احکام اور ان کی رہنمائی پر بھی عمل کریں ، اور یہ بالکل اس طرح ہے کہ تعلیمی کتابوں میں بعض مسائل کی وضاحت استاد کے اوپر چھوڑدی جا تی ہے تاکہ شاگرد استاد سے تعلق ختم نہ کرے اور اس ضرورت کے تحت دوسری چیزوں میں استاد کے افکار سے الہام حاصل کرے ، خلاصہ یہ کہ قرآن کے سلسلہ میں پیغمبر اکرم (ص) کی مشہور وصیت کے مصداق پر عمل کریں کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا:

”إنِّي َتارکٌ فِیکُمُ الثَّقلین کتابَ اللهِ وَ اٴهلَ َبیتي وَ إنّهما لن یَفترقا حتّٰی یَرِدَا عَلیَّ الْحَوضِ “۔

” یقینامیں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں: ایک کتاب خدا اور دوسرے میرے اہل بیت، اور (دیکھو!) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں“(۱)(۲)

____________________

(۱) مستدرک حاکم ، جلد ۳، صفحہ ۱۴۸

(۲)تفسیر نمو نہ ، جلد ۲،صفحہ ۳۲۲


۴۷ ۔ کیا بسم اللہ تمام سوروں کا جز ہے؟

اس مسئلہ میں شیعہ علمااور دانشوروں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ”بسم اللہ “سورہ حمد اور بقیہ دوسرے سوروں کا جز ہے، اور قرآن مجید کے تمام سوروں کے شروع میں ”بسم اللہ “ کا ذکر ہونا خود اس بات پر محکم دلیل ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں کوئی چیز اضافہ نہیں ہوئی ہے، اور پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ سے آج تک ہر سورہ کے شروع میں بسم اللہ کا ذکر ہوتا رہا ہے۔

لیکن اہل سنت علمامیں سے مشہور و معروف مولف صاحب تفسیر المنار نے اس سلسلہ میں مختلف علماکے اقوال نقل کئے ہیں:

علماکے درمیان یہ بحث ہے کہ کیا ہر سورے کے شروع میں بسم اللہ سورہ کا جز ہے یا نہیں؟ مکہ کے قدیمعلما (فقہا اور قاریان قرآن) منجملہ ابن کثیر اور اہل کوفہ سے عاصم اور کسائی قاریان قرآن، اور اہل مدینہ میں بعض صحابہ اور تابعین اور اسی طرح امام شافعی اپنی کتاب جدید میں اور ان کے پیروکار ، نیز ثوری اور احمد (بن حنبل) اپنے دوقول میں سے ایک قول میں ؛ اسی نظریہ کے قائل ہیں کہ بسم اللہ تمام سوروں کا جز ہے، اسی طرح شیعہ علمااور (ان کے قول کے مطابق) اصحاب میں (حضرت ) علی، ابن عباس، عبد اللہ بن عمر اور ابوہریرہ ، اور تابعین میں سے سعید بن جبیر، عطاء، زہری اور ابن المبارک نے بھی اسی عقیدہ کو قبول کیا ہے۔

اس کے بعد مزید بیان کرتے ہیں کہ ان کی سب سے اہم دلیل صحابہ اور ان کے بعد آنے والے حکمران کا اتفاق اور اجماع ہے کہ ان سب لوگوں نے سورہ توبہ کے علاوہ تمام سوروں کے شروع میں ”بسم اللہ“ کو ذکر کیا ہے، جبکہ یہ سبھی حضرات اس بات پر تاکید کرتے تھے کہ جو چیز قرآن مجید کا جز نہیں ہے اس سے قرآن کو محفوظ رکھو ، اور اسی وجہ سے ”آمین“ کو سورہ حمد کے آخر میں ذکر نہیں کیا ہے۔

اس کے بعد (امام) مالک اور ابو حنیفہ کے پیرو نیز دوسرے لوگوں سے نقل کیا ہے کہ وہ لوگ ”بسم اللہ“ کو ایک مستقل آیت مانتے تھے جو ہر سورے کے شروع میں سوروں کے درمیان فاصلہ کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے۔

اور احمد (بن حنبل) (اہل سنت کے مشہور و معروف فقیہ) اور بعض کوفی قاریوں سے نقل کرتے ہیں کہ وہ لوگ ”بسم اللہ“ کو صرف سورہ حمد کا جز مانتے تھے نہ کہ دوسرے سوروں کا،(۱)

(قارئین کرام!) مذکورہ اقوال سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اہل سنت کے علماکی اکثریت بھی اسی نظریہ کی قائل ہے کہ بسم اللہ سورہ کا جز ہے، ہم یہاں شیعہ اور سنی دونوں فریقوں کی کتابوں میں منقول روایات کو بیان کرتے ہیں (اور اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان تمام کا یہاں ذکر کرنا ہماری بحث سے خارج ہے، اور مکمل طور پر ایک فقہی بحث ہے)

۱ ۔ ”معاویہ بن عمار“ جوامام صادق علیہ السلام کے چاہنے والوں میں سے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ جب میں نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوجاؤں تو کیاسورہ حمد کے شروع میں بسم اللہ پڑھوں؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں، میں نے پھر سوال کیا کہ جس وقت سورہ حمد تمام ہوجائے اور اس کے بعد دوسرا سورہ پڑھنا چاہوں تو کیا بسم اللہ کا پڑھنا ضروری ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں۔(۲)

۲ ۔سنی عالم دین دار قطنی صحیح سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ ”السبع المثانی“ سے مراد کیا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس سے مراد سورہ حمد ہے، تو اس نے سوال کیا کہ سورہ حمد میں تو چھ آیتیں ہیں؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی اس کی ایک آیت ہے۔(۳)

۳ ۔ اہل سنت کے مشہور و معروف عالم بیہقی، صحیح سند کے ساتھ ابن جبیر اور ابن عباس سے اس طرح نقل کرتے ہیں:”استرَقَ الشَّیْطَان مِنَ النَّاسِ، اعظم آیة من القرآن بسمِ الله الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “(۴) شیطان صفت لوگوں نے قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت یعنی ”بسمِ الله الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“کو چوری کرلیا ہے“ (اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سوروں کے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھتے)

اس کے علاوہ ہمیشہ مسلمانوں کی یہ سیرت رہی ہے کہ ہر سورے کو شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے ہیں اور تواتر کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) بھی ہر سورے کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے، اس صورت میں کیسے ممکن ہے کہ جو چیز قرآن کا حصہ نہ ہو خود پیغمبر اکرم (ص) اور آپ کی امت اسے قرآن کے ساتھ ہمیشہ پڑھا کریں؟!۔

لیکن جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بسم اللہ ایک مستقل آیت ہے اور قرآن کا جز ہے مگر سوروں کا جز نہیں ہے، یہ نظریہ بھی بہت ضعیف ہے، کیونکہ بسم اللہ کے معنی کچھ اس طرح کے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کام کی ابتدا اور آغاز کے لئے ہے، نہ یہ کہ ایک مستقل اور الگ معنی ، درحقیقت اس طرح کا شدید تعصب کہ اپنی بات پر اڑے رہیں اور کہیں کہ بسم اللہ ایک مستقل آیت

ہے ،جس کاما قبل مبا لغہ سے کوئی ربط نہیں ہے، لیکن بسم اللہ کے معنی بلند آواز میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ بعد میں شروع ہونے والی بحث کا سر آغاز ہے۔

صرف مخالفین کا ایک اعتراض قابل توجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے سوروں میں (سورہ حمد کے علاوہ) بسم اللہ کو ایک آیت شمار نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے بعد والی آیت کو پہلی آیت شمار کیا جاتا ہے۔

اس اعتراض کا جواب”فخر الدین رازی“ نے اپنی تفسیر کبیر میں واضح کردیا کہ کوئی ممانعت نہیں ہے کہ بسم اللہ صرف سورہ حمد میں ایک آیت شمار کی جائے اور قرآن کے دوسرے سوروں میں پہلی آیت کا ایک حصہ شمار کیا جائے، ( اس لحاظ سے مثلاً سورہ کوثر میں( بسمِ الله الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ إِنَّا اٴعطینکَ الکَوْثَر ) ایک آیت شمار ہو۔

بہر حال یہ مسئلہ اتنا واضح اور روشن ہے کہ تاریخ نے لکھا ہے کہ معاویہ نے اپنی حکومت کے زمانہ میں ایک روز نماز جماعت میں بسم اللہ نہیں پڑھی، تو نماز کے فوراً بعد مہاجرین اور انصار نے مل کر فریاد بلند کی : ”اسرقت ام نسیت“ (اے معاویہ! تو نے بسم اللہ کی چوری کی ہے یا بھول گیا ہے؟)(۵)(۶)

____________________

(۱)تفسیر المنار ، جلد ۱ صفحہ۳۹۔۴۰ (۲) اصول کافی ، ، جلد ۳،صفحہ ۳۱۲

(۳) الاتقان ، جلد اول، صفحہ ۱۳۶

(۴) بیہقی ، جلد ۲، صفحہ ۵۰

(۵) بیہقی نے جزء دوم کے صفحہ ۴۹ پر اور حاکم نے بھی مستدرک میں جزء اول کے صفحہ ۲۳۳ پر اس حدیث کو نقل کیا ہے اور اس حدیث کوصحیح جانا ہے

(۶) تفسیر نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۱۷


۴۸ ۔ امامت سے مراد کیا ہے؟ اور امامت اصول دین میں ہے یا فروع دین میں ؟

امامت کی تعریف کے سلسلہ میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، اور اختلاف ہونا بھی چاہئے کیونکہ شیعہ نظریہ (جو کہ مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار ہیں) کے مطابق امامت اصول دین میں سے ہے ، جبکہ اہل سنت کے یہاں امامت کو فروع دین اور عملی احکام میں شمار کیا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے فریقین امامت کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھتے لہٰذا اس کی تعریف الگ الگ کرتے ہیں

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک سنی عالم دین ،امامت کی تعریف اس طرح کرتے ہیں:

”اٴلإمَامَةُ ریاسةٌ عَامةٌ فِی اٴمورِ الدِّینِ وَالدُّنیا، خلافةٌ عَنِ النَّبِي(۱)

” پیغمبر اکرم (ص) کی جانشینی کے عنوان سے دین و دنیا کے امور میں عام سرپرستی کا نام ”امامت “ہے۔

اس تعریف کے لحاظ سے امامت، حکومت کی حد تک ایک ظاہری ذمہ داری ہے، لیکن دینی

اور اسلامی حکومت کی شکل میںپیغمبر اکرم (ص) کی جانشینی کا عنوان (آنحضرت کی جانشینی یقینی حکومتی امور میں ) رکھتی ہے، اور یہ بات ظاہر ہے کہ ایسے امام کو لوگوں کی طرف سے منتخب کیا جاسکتا ہے۔

لیکن بعض حضرات نے امامت کی تعریف اس طرح کی ہے: ”امامت یعنی پیغمبر اکرم کی طرف سے دینی احکام و قوانین نافذکرنے اور دین کی محافظت کرنے میں جانشین ہونا، اس طرح کہ تمام امت پر اس کی اطاعت واجب ہو“۔(۲)

چنانچہ یہ تعریف بھی پہلی تعریف سے الگ نہیں ہے بلکہ مفہوم و معنی کے لحاظ سے تقریباً ایک ہی ہے۔

ابن خلدون نے بھی اپنی تاریخ (ابن خلدون) کے مشہور و معروف مقدمہ میں امامت کی تعریف اسی طرح کی ہے۔(۳)

شیخ مفید (رحمة اللہ علیہ) کتاب ”اوائل المقالات“ میں عصمت کی بحث کرتے ہو ئے فرماتے ہیں: ”وہ ائمہ جو دینی احکام کے نافذ کرنے، حدود الٰہی کو قائم کرنے، شریعت کی حفاظت کرنے اور لوگوں کی تربیت کرنے میں پیغمبر اکرم (ص) کے جانشین ہیں، ان کو (ہر گناہ اور خطا سے) معصوم ہونا چاہئے، جس طرح انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں۔(۴)

چنانچہ اس تعریف کے لحاظ سے امامت، حکومت و ریاست سے بالاتر ہے بلکہ انبیاء علیہم السلام کی طرح تمام ذمہ داریاں امام کی بھی ہوتی ہیں سوائے وحی کے،اسی وجہ سے جس طرح نبی کا معصوم ہونا ضروری ہوتا ہے اسی طرح امام کا بھی معصوم ہوناضروری ہے۔

اسی وجہ سے شرح احقاق الحق میں شیعہ نقطہ نظر سے امامت کی تعریف یوں کی گئی ہے:

”هِيَ مَنصَبٌ إلٰهيّ حَائزٌ لِجَمیعِ الشوونِ الکریمةِ وَالفَضَائلِ إلاَّ النَّبوة و مایلازم تلک المرتبة السّامیة“ (۵)

”امامت ایک الٰہی منصب اور خدا کی طرف سے ایک ذمہ داری کا نام ہے جونبوت اور اس سے متعلق دوسرے امور کے علاوہ تمام بلند امور اور فضائل کو شامل ہے“۔

چنانچہ اس تعریف کے مطابق ”امام“ خداوندعالم کی طرف سے پیغمبر اکرم (ص) کے ذریعہ معین ہوتاہے اور (مقام نبوت کے علاوہ) پیغمبر اکرم (ص) کے تمام امتیازات و خصوصیات رکھتا ہے، اور اس کا کام دینی حکومت کی ریاست میں منحصر نہیں ہے، اسی دلیل کی بنا پر امامت اصول دین میں شمار ہوتی ہے نہ کہ فروع دین اور عملی فرائض میں۔

امامت اصول دین میں سے ہے یا فروع دین میں سے؟

مذکورہ بحث سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے ، کیونکہ امامت کے سلسلہ میں نظریات مختلف ہیں،متعصب سنی عالم ”فضل بن روزبہان“”نہج الحق“ (جس کا جواب ”احقاق الحق“ ہے ) اس طرح کہتاہے: اشاعرہ کے نزدیک امامت اصول دین میں سے نہیں ہے بلکہ فروع دین میں سے ہے اور اس کا تعلق مسلمانوں کے افعال او راعمال سے ہے۔(۶)

اس لحاظ سے اہل سنت کے دوسرے فرقوں میں بھی کو ئی فر ق نہیں ہے کیو نکہ ان سب کے یہاں امامت عملی فرائض میں شمارہوتی ہے، اور یہ لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ امام یا خلیفہ کا انتخاب کرلیں، صرف مکتب اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والے اور اہل سنت کے بہت کم افراد جیسے قاضی بیضاوی، اور ان کا اتباع کرنے والے، امامت کو اصول میں شمار کرتے ہیں۔(۷)

ان کی دلیل بھی واضح اور روشن ہے ، کیونکہ ان کے نزدیک امامت ایک الٰہی منصب ہے، یعنی امام خدا کی طرف سے منصوب ہوتا ہے، جس کی ایک شرط معصوم ہونا ہے اور خدا کے علاوہ کوئی اس (کے معصوم ہونے ) کو نہیں جانتا، اور ائمہ علیہم السلام پر ایمان رکھنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح پیغمبر اکرم (ص) پر ایمان رکھنا ضروری ہے کیونکہ امامت ،نبوت کی طرح شریعت کا اصلی ستون ہے، لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ شیعہ ، امامت کے سلسلہ میں اپنے مخالفوں کو کافر شمار کرتے ہوں، بلکہ شیعہ تمام اسلامی فرقوں کو مسلمان شمار کرتے ہیں، اورانھیں اسلامی برادر سمجھتے ہیں، اگرچہ امامت کے سلسلے میں ان کے ہم عقیدہ نہیں ہیں ،اسی وجہ سے کبھی پنجگانہ اصول دین کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: پہلے تین اصول یعنی خدا، پیغمبر اسلام (ص) اور قیامت کو اصول دین شمار کرتے ہیں اور ائمہ علیہم السلام کی امامت اور عدل الٰہی کو اصول مذہب شمار کرتے ہیں۔

ہم اپنی اس گفتگو کو حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام کی حدیث پر ختم کرتے ہیں جو امامت کے مسئلہ میں ہمارے لئے الہام بخش ہے، ”امامت یعنی زمام دین ،نظام مسلمین، دنیا کی صلاح اور مومنین کی عزت ہے، امامت ، اسلام کی بنیاد اور بلند شاخیں ہیں، امام کے ذریعہ نماز روزہ، حج ،زکوٰة اور جہاد کامل ہوتے ہیں،بیت المال میں اضافہ ہوتا ہے اور ضرورتمندوں کے لئے خرچ کیا جاتا ہے، احکام اور حدود الٰہی نافذ ہوتے ہیں امام ہی کے ذریعہ اسلامی ملک کے سرحدی علاقوں کی حفاظت ہوتی ہے۔

امام، حلال خدا کو حلال اور حرام خدا کو حرام شمار کرتا ہے (اور ان کو نا فذکرتا ہے) حدود الٰہی کو قائم کرتا ہے، دین خدا کا دفاع کرتا ہے، اور اپنے علم و دانش اوروعظ و نصیحت کے ذریعہ لوگوں کو راہ خدا کی دعوت دیتا ہے۔(۸)(۹)

____________________

(۱) شرح تجرید قوشنچی ، صفحہ ۴۷۲

(۲) شرح قدیم تجرید، شمس الدین اصفہانی اشعری( توضیح المراد تعلیق بر شرح تجرید عقائد، تالیف سید ہاشم حسینی تہرانی صفحہ ۲۷۲ کی نقل کے مطابق)

(۳) مقدمہ ابن خلدون، صفحہ ۱۹۱

(۴) اوائل المقالات ، صفحہ ۷۴، طبع مکتبة الداوری

(۵) احقاق الحق ،، جلد ۲، صفحہ ۳۰۰، (حاشیہ نمبر ایک) (۶) احقاق الحق ، جلد ۲، صفحہ ۲۹۴۔ دلائل الصدق ،جلد ۲، صفحہ ۴

(۷) دلائل الصدق ،جلد ۲، صفحہ ۸

(۸) اصول کافی ، جلد اول، صفحہ ۲۰۰ (۹) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۱۸


۴۹ ۔ امامت کی بحث کب سے شروع ہوئی؟

واضح رہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے فوراً بعد ہی آپ کی خلافت کے سلسلہ میں گفتگو شروع ہوگئی تھی ، چنا نچہ ایک گروہ کا کہنا تھا کہ آنحضرت (ص) نے اپنے بعد کے لئے کسی کو خلیفہ یا جانشین نہیں بنایا ہے، بلکہ اس چیز کو امت پر چھوڑ دیا ہے لہٰذا امت خود اپنے لئے کسی رہبر اور خلیفہ کا انتخاب کرے گی ، جو اسلامی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے اور لوگوں کی نمائندگی میں ان پر حکومت کرے، لیکن وفات رسول کے بعد نمائندگی کی صورت پیدا ہی نہیں ہوئی بلکہ چند اصحاب نے بیٹھ کر پہلے مرحلہ میں خلیفہ معین کرلیا اوردوسرے مرحلہ میں خلافت انتصابی ہو گئی، اور تیسرے مرحلہ میں انتخاب کا مسئلہ چھ لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی کے سپر د کیا گیاتاکہ وہ آئندہ خلافت کے مسئلہ کو حل کریں۔

چنانچہ اس طرز فکر رکھنے والوں کو ”اہل سنت“ کہا جاتا ہے۔

لیکن اس کے مقابل دوسرے گروہ کا کہنا تھا کہ پیغمبر (ص) کے جانشین کو خدا کی طرف سے معین ہونا چاہئے، اور وہ خود پیغمبر اکرم (ص) کی طرح ہر خطا اور گناہ سے معصوم اور غیر معمولی علم کا مالک ہونا چاہئے، تاکہ مادی اور معنوی رہبری کی ذمہ داری کو نبھاسکے، اسلامی اصول کی حفاظت کرے، احکام کی مشکلات کو برطرف کرے ، قرآن مجید کے دقیق مطالب کی تشریح فرمائے اور اسلام کو داوم بخشے۔

اس گروہ کو ”امامیہ“ یا ”شیعہ“ کہتے ہیں اور یہ لفظ پیغمبر اکرم (ص) کی مشہور و معروف حدیث سے اقتباس کیا گیا ہے۔

تفسیر الدر المنثور (جس کا شمار اہل سنت کے مشہور منابع میں ہوتا ہے) میں آیہ شریفہ( ِاٴُوْلَئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) کے ذیل میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے اس طرح نقل کیا ہے:

”ہم پیغمبر اکرم (ص) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے، اس وقت آنحضرت (ص) نے فرمایا: یہ اور ان کے شیعہ روز قیامت کامیاب ہیں، اور اس موقع پر یہ آیہ شریفہ نازل ہوئی:

( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) (۱) (۲)

حاکم نیشاپوری (یہ چوتھی صدی کے مشہور و معروف سنی عالم ہیں)بھی اسی مضمون کو اپنی مشہور کتاب ”شواہد التنزیل“ میں پیغمبر اکرم (ص) سے مختلف طریقوں سے نقل کرتے ہیں جس کے راویوں کی تعداد ۲۰ / سے بھی زیادہ ہے۔

منجملہ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ جس وقت یہ آیہ شریفہ( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) (۳) نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: ”ہُوَ اَنْتَ وَ شِیْعَتُکَ“ ( اس آیت سے مراد آپ اور آپ کے شیعہ ہیں۔)(۴)

ایک دوسری حدیث میں ابوبرزہ سے منقول ہے کہ جس وقت پیغمبر اکرم (ص) نے اس

آیت کی تلاوت فرمائی تو فرمایا:”هُوَ اَنْتَ وَ شِیْعَتُکَ یَاعَلِیّ “ (وہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں)(۵)

اس کے علاوہ بھی اہل سنت کے دیگرعلمااور دانشوروں نے بھی اس حدیث کو ذکر کیا ہے جیسے صواعق محرقہ میں ابن حجراور نور الابصار میں محمد شبلنجی نے۔(۶)

لہٰذا ان تمام روایات کے پیش نظر خود پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے پیرووں کا نام ”شیعہ“ رکھا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی بعض لوگ اس نام سے خفا ہوتے ہیں اور اس کو بُرا سمجھتے ہیں نیز اس فرقہ کو رافضی کے نام سے یاد کرتے ہیں، کیا یہ تعجب کا مقام نہیں کہ پیغمبر اکرم تو حضرت علی علیہ السلام کے فرمانبرداروں کو ”شیعہ“ کہیں اور دوسرے لو گ اس فرقہ کو برے برے ناموں سے یاد کریں!!۔

بہر حال یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لفظ شیعہ کا و جود پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد نہیں ہوابلکہ خود آنحضرت (ص)کی زندگی میں ہی ہو چکا تھا، اور آپ نے حضرت علی علیہ السلام کے دوستوں اور پیرووں پر اس نام کا اطلاق کیا ہے، جو لوگ پیغمبر اکرم (ص) کو ”خدا کا رسول“ مانتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنی مرضی سے کلام نہیں کرتے بلکہ وہی کہتے ہیں جو وحی ہوتی ہے،( وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَویٰ إنْ هُوَ إلاَّ وَحیٌ یُوحیٰ ) (۷) لہٰذا اگر آنحضرت (ص) فرمائیں کہ اے علی آپ اور آپ کے شیعہ روز قیامت ،کامیاب ہیں تو یہ ایک حقیقت ہے۔(۸)

____________________

(۱) سورہ بینہ ، آیت ۷

(۲) الدر المنثور ، جلد ۶، صفحہ ۳۷۹ (ذیل آیہ ۷ سورہ بینہ)

(۳)سورہ بینہ، آیت ۷ (۴) شواھد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۳۵۷

(۵) شواھد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۳۵۹

(۶) صواعق محر قہ، صفحہ ۹۶،نور الابصار، صفحہ ۷۰ و۱۰۱، اس حدیث کے راویوں کی تعداد اور جن کتابوں میں یہ حدیث بیان ہوئی ہے، اس سلسلہ میں مزید معلوما ت کے لئے احقاق الحق ،جلد سوم، صفحہ ۲۸۷، اور جلد۱۴، صفحہ ۲۵۸ کی طرف رجوع فرمائیں

(۷)سورہ نجم آیت ۶، و ۷

(۸) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۲۲


۵۰۔ اولوا الامر سے مراد کون ہیں؟

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُم ) (۱) ”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کروجو تمہیں میں سے ہیں“۔

یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اولوا الامر سے مراد کون حضرات ہیں؟

اولوا الامر کے بارے میں اسلامی مفسرین کے درمیان بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے، ذیل میں ہم اس کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

۱ ۔ بعض اہل سنت مفسرین اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”اولوا الامر “ سے مراد ہر زمانہ اور ہر مقام کے حکام وقت اور بادشاہ ہیں،اور اس میں کسی طرح کا کو ئی استثنا نہیں ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حکومت کی پیروی کریں اگرچہ وہ مغل حکومت ہی کی کیوں نہ ہو۔

۲ ۔ صاحب تفسیر المنار اور صاحب تفسیر فی ظلال القرآن وغیرہ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ اولوا الامر سے مراد عوام الناس کے نمائندے، حکام وقت، علمااور صاحبان منصب ہیں ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کا حکم اسلامی قوانین کے برخلاف نہ ہو۔

۳ ۔ بعض دیگر علماکے نزدیک اولوا الامر سے معنوی اور فکری حکّام یعنی علمااور دانشورمراد ہیں، ایسے دانشور جو عادل اور قرآن و سنت سے مکمل طور پر آگاہ ہوں۔

۴ ۔ اہل سنت کے بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ اولوا الامر سے مراد صرف ابتدائی چار خلفاء ہیں، ان کے علاوہ کوئی دوسرا اولوا الامر میں شامل نہیں ہے لہٰذا ان کے بعد دوسرے زمانہ میں کوئی اولواالامر نہیں ہوگا۔

۵ ۔بعض دوسرے مفسرین نے پیغمبر اکرم (ص) کے اصحاب اور ان کے ناصروں کو اولواالامر مانا ہے۔

۶ ۔ بعض مفسرین نے ایک یہ بھی احتمال دیا ہے کہ اولوا الامر سے مراد اسلامی لشکرکا سردار ہے۔

۷ ۔ تمام شیعہ مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ اولوا الامر سے مراد ”ائمہ معصومین علیہم السلام“ ہیں جن کو خدا اور رسول کی طرف سے اسلامی معاشرے میں مادی اور معنوی رہبری کی ذمہ داری عطا کی گئی ہے، ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اولوا الامر میں شامل نہیں ہے، البتہ جو افراد ان کی طرف سے منصوب کئے جاتے ہیں اور اسلامی معاشرہ میں ان کو کوئی عہدہ دیا جاتا ہے تو معین شرائط کے ساتھ ان کی اطاعت بھی لازم ہے، البتہ اولوا الامرکے عنوان سے نہیں بلکہ ان کی اطاعت اس لئے ضروری ہوتی ہے کہ وہ اولوا الامر کے نائب اور نمائندے ہوتے ہیں۔

اب ہم یہاں مذکورہ تفاسیر کے سلسلہ میں تحقیق و تنقید کرتے ہیں:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پہلی تفسیرکا آیت کے مفہوم اورتعلیمات اسلامی سے کو ئی تعلق نہیںہے ، اور یہ بات ممکن نہیں ہے کہ کوئی بھی حکومت ،خدا اور رسول کے برابر قرار دے دی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے اور اس میں کسی بھی طرح کی کوئی قید و شرط نہ ہو، اسی وجہ سے شیعہ مفسرین کے علاوہ خود اہل سنت کے مفسرین نے اس پہلی تفسیر کو قبول نہیں کیا ہے۔

دوسری تفسیر بھی آیہ شریفہ سے ہم آہنگ نہیں ہے، کیونکہ آیت میں اولوا الامر کی اطاعت کو بغیر کسی قید و شرط کے واجب قرار دیا گیا ہے۔

تیسری تفسیر یعنی جس میں عادل اور قرآن و سنت سے واقف علمااور دانشوروں کو اولوا الامر قرار دیا گیا ہے، وہ بھی آیت کے اطلاق سے ہم آہنگ نہیں ہے، کیونکہ علمااو ردانشوروں کی پیروی کی شرط یہ ہے کہ ان کا حکم قرآن و سنت کے برخلاف نہ ہو، لہٰذا اگر وہ کسی خطا کے مرتکب ہوجائیں (کیونکہ وہ معصوم تو ہیں نہیں ان سے خطا ہوسکتی ہے) یا کسی دوسری وجہ کی بنا پر حق سے منحرف ہوجائیں تو پھر ان کی اطاعت ضروری نہیں ہے، لیکن آیہ شریفہ میں اولوا الامر کی اطاعت کو مطلق اور پیغمبر اکرم کی طرح ضروری قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ وہ علمااو ردانشور افراد جنھوں نے قرآن و سنت سے احکام حاصل کئے ہیں ان کی اطاعت خداو رسول کی اطاعت ہوگی، اور الگ سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

چوتھی تفسیر ( جس میں چاروں خلفا ہی کو اولوا الامر قرار دیا گیا) کا مطلب یہ ہے کہ آج مسلمانوں کے درمیان کوئی اولوا الامرنہ ہو، اس کے علاوہ اولوا الامر کو چاروں خلفا سے مخصوص کرنے پر بھی کوئی دلیل نہیں ہے۔

پانچویں اور چھٹی تفسیر یعنی صحابہ اور سرداران لشکر سے مخصوص کرنے میں بھی یہی مشکل ہے، یعنی ان لوگوں سے مخصوص کرنے پر بھی کوئی دلیل نہیں ہے۔

بعض علمااہل سنت جیسے مصر کے مشہور و معروف دانشور”شیخ محمد عبدہ“ نے مشہور و معروف مفسر ”فخر الدین رازی“ کی پیروی کرتے ہوئے دوسرے احتمال ( کہ اولوا الامر سے مراد، عوام الناس کے نمائندے، حاکم وقت، علمااور صاحب منصب افراد ہیں ،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کا حکم اسلامی قوانین کے برخلاف نہ ہو)میں چند شرائط کا اضافہ کرتے ہوئے قبول کیا ہے ، ان میں سے ایک شرط یہ بیان کی ہے کہ حاکم وقت مسلمان ہو (جیسا کہ لفظ ”منکُم“ سے نتیجہ نکلتا ہے) اور اس کا حکم قرآن اور سنت کے برخلاف نہ ہو، مزید یہ کہ اس کا حکم اپنے اختیار سے ہو نہ کہ اس نے مجبوری کی حالت میں حکم دیا ہواور یہ کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکم کرے، نیز ایسے مسائل میں حکم کرے جس میں دخالت کا حق رکھتا ہو (نہ عبادت جیسی چیزوں میں کہ جس کا حکم اسلام میں معین ہے) مزید یہ کہ جس مسئلہ میں حکم کررہا ہو اس میں شریعت کی طرف سے کوئی خاص نص موجود نہ ہو ، ان تمام چیزوں کے علاوہ اتفاقی طور پر نظریہ دے(یعنی ایسا نہ ہو کہ ایک حاکم کچھ کہہ رہا ہے تو دوسرا کچھ)۔

اور چونکہ یہ لوگ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ تمام امت یا امت کے تمام نمائندے خطا اور غلطی نہیں کرسکتے ،یعنی معصوم ہوتے ہیں، اور ان شرائط کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا حکم جس میں کوئی قید و شرط نہ ہوپیغمبر اکرم (ص) کی اطاعت کی طرح ہوجاتا ہے، (جس کا نتیجہ ”اجماع“ کو حجت ماننا اور اس کو قبول کرنا ہے)، لیکن اس تفسیر پر بھی بہت سے اعتراضات ہیں، کیونکہ:

۱ ۔ اجتماعی مسائل میں بہت ہی کم مقامات پر اتفاق ہوتاہے جس کی بنا پر امت مسلمہ کے اکثر امور میں ہمیشہ ایک بے نظمی با قی رہے گی، اور اگر لوگ کثریت کے نظریہ کو قبول کرنا چاہیں تو اس پر اعتراض یہ ہے کہ اکثریت معصوم نہیں ہے بلکہ پوری امت کا اجماع معصوم ہے، لہٰذا ان میں سے کسی ایک کی بھی اطاعت ضروری نہ ہوگی۔

۲ ۔ علم اصول میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بغیر امام معصوم کے”تمام امت “ کے معصوم ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے، (اگر امام معصوم اجماع میں شامل نہ ہو تو اس اجماع کا کوئی فائدہ نہیں ہے)

۳ ۔ اس تفسیر کے حامیوں کی ایک شرط یہ تھی کہ ان کا حکم قرآن و سنت کے برخلاف نہ ہو، لیکن قرآن اور سنت کے خلاف ہے یا نہیں اس کو دیکھنے کی ذمہ داری کس پر ہوگی، تو یہ ذمہ داری مجتہد اور قرآن و سنت سے آگاہ علماکی ہوگی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مجتہدین اور علماکی اجازت کے بغیر اولوا الامر کی اطاعت جائز نہ ہوگی، بلکہ علماکی اطاعت اولوا الامر سے بلند ہوگی، جبکہ یہ نظریہ بھی آیت سے ہم آہنگ نہیںہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ انھوں نے علمااور دانشوروں کو بھی اولوا الامر میں شمار کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس تفسیر کی بنا پر علمااور مجتہدین کا مرتبہ ان نمائندوں سے بلند ہوگا نہ کہ ان کے ہم پلہ، کیونکہ علماو دانشورحضرات اولوا الامر کے امور کے نگراں ہیں کہ کہیں ان کے نظریات قرآن و سنت کے مخالف تو نہیں ہیں، لہٰذا وہ ان سے بلند مرتبہ پر فائز ہیں جو کہ مذکورہ تفسیر سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

لہٰذامذکورہ تفسیر پر متعدد اعتراض ہوئے ہیں۔

صرف ساتویں تفسیر مذکورہ اعتراضات سے خالی ہے یعنی اولوا الامر سے مراد ائمہ معصومین علیہم السلام ہے، کیونکہ یہ تفسیر مذکورہ آیت میں موجود ہ وجوبِ اطاعت کے اطلاق سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں، کیونکہ ”عصمت“ ان کو ہر طرح کی خطا و غلطی سے محفوظ رکھتی ہے، اسی لئے امام کا حکم پیغمبر اکرم (ص) کے حکم کی طرح بغیر کسی قید و شرط کے واجب الاطاعت ہے، اور انھیں آنحضرت (ص) کی اطاعت کی صف میں قرار دیا جانا مناسب ہے، جیسا کہ لفظ ”اطیعوا“ کی تکرار کے بغیر ”رسول“ پر عطف ہوا ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل سنت کے بعض مشہور و معروف علماجیسے فخر الدین رازی نے مذکورہ آیت کے ذیل میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے، جیسا کہ موصوف تحریر کرتے ہیں:

”خداوندعالم نے جس کی اطاعت کو قاطعانہ اور بغیر چون و چرا کے لازم اور ضروری قرار دیا ہے اس کا معصوم ہونا ضروری ہے، کیونکہ اگر خطا اور غلطی سے معصوم نہ ہو ، اور گنا ہوں کے وقت خدا اس کی اطاعت کو لازم قرار دے اور خطا کی صورت میں بھی اس کی پیروی لازم ہو تو یہ تو خود خداوندعالم کے حکم میں تضاد اور ٹکراؤ ہوگا، کیونکہ ایک طرف تو خداوندعالم نے کسی کام کو ممنوع قرار دیا ہے اور دوسری طرف ”اولوا الامر “ کی پیروی لازم قرار دی ہے ، لہٰذا یہاں ”امر“ اور ”نہی“ دونوں جمع ہوجائیں گے، (یعنی ایک طرف خدا کہہ رہا ہے کہ اس کام کو انجام دو، دوسری طرف اسی کام سے روک بھی رہا ہے)

ایک طرف خداوندعالم اولوا الامر کی اطاعت کا مطلق طور پر حکم دے رہا ہے، دوسری طرف اگر اولوا الامر معصوم نہ ہو اور خدا اس کی اطاعت کا حکم دے تو یہ حکم صحیح نہیں ہے، اس مقدمہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مذکورہ آیت میں جس اولوا الامر کی طرف اشارہ کیا گیا اس کا معصوم ہونا ضروری ہے۔

اس کے بعد فخر الدین رازی تحریر کرتے ہیں کہ یہ معصوم یا تو تمام امت ہے یا امت کے کچھ افراد ہیں ،دوسرا احتمال صحیح نہیں ہے، کیونکہ ہم امت کے ان بعض افراد کو پہچانیں اور اس تک رسائی ممکن ہو، جبکہ ایسا نہیں ہے،(یعنی وہ معصوم کو ن ہے ہمیں معلوم نہیں ہے) اور جب یہ احتمال ردہوجاتا ہے تو صرف پہلا احتمال باقی رہتا ہے کہ پوری امت معصوم ہے، اور یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ امت کا اجماع اور اتفاق حجت و قابل قبول ہے، اور یہ بہترین دلیل ہے۔(۲)

(قارئین کرام!) جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں کہ فخر رازی مختلف علمی مسائل پر اعتراضات کرنے کے شوقین ہیں یہاں مذکورہ آیت میں اولوا الامر کے معصوم ہونے کو قبول کرتے ہیں، لیکن مکتب اہل بیت اور ائمہ علیہم السلام سے آشنائی نہ رکھنے کے سبب اس احتمال سے چشم پوشی کرلیتے ہیں کہ امت کے معین حضرات اولوا الامر ہیں، اور مجبوراً اولوا الامر کے معنی تمام امت (یا عام مسلمانوں کے نمائندے) مرادلیتے ہیں، جبکہ یہ احتمال قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ اولوا الامر اسلامی معاشرہ کے لئے رہبر ہے اور اسلامی حکومت نیز امت مسلمہ کی مشکلات کے فیصلے اسی کے ذریعہ ہوتے ہیں، جبکہ ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ تمام حکومتی عہدہ داروں میں اتفاق ہونا ممکن نہیں ہے، کیونکہ مسلمانوں کو درپیش اجتماعی ، سیاسی، ثقافتی، اخلاقی اور اقتصادی مسائل میں سب لو گوں کاہونا غالباً ممکن نہیں ہے، اور اکثریت کی پیروی اولوا الامر کی پیروی شمار نہیں ہوگی،

لہٰذا فخر الدین رازی اور ان کی پیروی کرنے والے معاصرین کے عقیدہ کا لازمہ یہ ہوگا کہ اولوا الامر کی اطاعت کی جگہ باقی نہ رہے، اور صرف استثنائی صورت اختیار کرلے۔

(قارئین کرام!) ہماری تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ آیہ شریفہ صرف ان معصوم حضرات کی رہبری کو ثابت کرتی ہے جوامت کا ایک حصہ ہیں۔ (غور کیجئے )

چند اعتراضات اور ان کے جوابات

مذکورہ تفسیر پر کچھ اعتراضات ہوئے ہیں،جن کو ہم بغیر طرفداری کے بیان کرتے ہیں:

۱ ۔ اگر ”اولوا الامر“ سے مراد ائمہ معصومین علیہم السلام ہوں تو چونکہ لفظ ”اولی“ جمع کا صیغہ ہے، لہٰذا آیت سے ہم آہنگ نہیں ہے، کیونکہ ہر زمانہ میں امام معصوم صرف ایک ہوتا ہے۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہر زمانہ میں امام معصوم ایک سے زیادہ نہیں ہوتا لیکن ہر زمانہ میں ایک ہی امام ہوتا ہے اس کے بعد دوسرا امام،تاآخر، اور ہم جانتے ہیں کہ آیہ شریفہ ہر زمانہ کے افراد کو امام کی اطاعت کے لئے حکم دے رہی ہے۔

۲ ۔ اس معنی کے لحاظ سے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں اولوا الامر موجود نہیں تھے ، تو پھر کس طرح ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا؟

اس اعتراض کا جواب بھی مذکورہ جواب سے واضح اور روشن ہوجاتا ہے کیونکہ آیہ شریفہ کسی خاص زمانہ سے مخصوص نہیں ہے، لہٰذا ہر صدی کے مسلمانوں کا وظیفہ معین کرتی ہے، اور دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ خود پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں خود آنحضرت (ص) اولوا الامر تھے ، کیونکہ اس وقت پیغمبر اکرم (ص) کے پاس دو منصب تھے ایک منصب ”رسالت“ جیسا کہ آیہ شریفہ میں ”اٴطَیعُوا الرَّسوُلَ “ آیاہے ، دوسرے ”امت اسلامی کی رہبری اور سرپرستی“ اس آیت میں ”اولوا الامر“ سے یاد کیا گیا ہے، اس بنا پر پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں معصوم رہبر اور پیشوا خود آنحضرت تھے ، یعنی منصب رسالت اور احکام اسلام کی تبلیغ کے علاوہ اس منصب پر بھی فائز تھے، اور شاید ”رسول“ اور ”اولوا الامر“ کے درمیان ”اطیعوا“ کی تکر ار نہ ہو نا اس بات کی طرف اشارہ ہے، دوسرے الفاظ میں یوں سمجھئے کہ منصب ”رسالت“ اور منصب ”اولوا الامر“ دو مختلف منصب ہیں جو پیغمبر اکرم (ص) میں ایک ساتھ جمع تھے، لیکن امام کے سلسلہ میں جدا مسئلہ ہے اور امام صرف دوسرا منصب رکھتا ہے۔

۳ ۔ اگر ”اولوا الامر“ سے مراد ائمہ معصومین اور معصوم رہبر ہوں تو درج ذیل آیہ شریفہ میں مسلمانوں کے اختلاف کی صورت میں صرف خدا و رسول کی طرف رجو ع کرنے کا حکم کیو ں دیا گیاہے، ارشاد ہوتا ہے:( فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَی اللهِ وَالرَّسُولِ إِنْ کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ذَلِکَ خَیْرٌ وَاٴَحْسَنُ تَاٴْوِیلًا ) (۳)

”پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اُسے خدا و رسول کی طرف پلٹادو، اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو، یہی تمہارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے“۔

جیسا کہ آپ نے ملا حظہ کیا کہ اس آیت میں اولوا الامر کی بات نہیں کی گئی ہے، اور اختلاف دورکرنے کے لئے صرف خدا و رسول کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیاگیا ہے، یعنی کتاب خدا ، (قرآن کریم) اور سنت پیغمبر کے ذریعہ اختلاف حل کیا جائے گا۔

اس سوال کے جواب میں ہم عرض کرتے ہیں کہ اولاً یہ اعتراض شیعہ مفسرین پر نہیں ہے بلکہ اگر ذرا غور کریں تو دوسری تفسیروں پر بھی یہی اعتراض وارد ہوتا ہے، اور دوسرے یہ کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مذکورہ آیت میں اختلاف اور تنازع سے مراد احکام کا اختلاف ہے، مسلمانوں

کی رہبری اور حکومت کے جزئی مسائل کا اختلاف مراد نہیں ہے ،کیونکہ ان مسائل میں قطعی طور پر اولوا الامر کی اطاعت ہونی چاہئے، (جیسا کہ آیت کے پہلے فقرہ میں بیان ہوا ہے) لہٰذا اختلاف سے مراد اسلام کے عام قوانین اور احکام کا اختلاف مراد ہے جس کا جواز خدااور پیغمبر سے مخصوص ہے، کیونکہ امام صرف احکام کو نافذ کرتا ہے، احکام کو وضع نہیں کرتا، اور نہ ہی اسلام کے کسی قانون کو نسخ کرتا، بلکہ ہمیشہ احکام خدا اور سنت پیغمبر کو نافذ کرتا ہے، اور اسی وجہ سے اہل بیت علیہم السلام سے منقول احادیث میں بیان ہوا ہے کہ اگر(کسی راوی کے ذریعہ) ہم سے کوئی بات کتاب خدا اور سنت پیغمبر کے برخلاف سنو تو اس کو ہرگز قبول نہ کرو ،کیونکہ ہمارے لئے قرآن اور سنت پیغمبر کے برخلاف حکم کرنا محال اور ناممکن ہے۔

مختصر یہ کہ احکام اور اسلامی قوانین لوگوں کے اختلاف کو حل کرنے کا پہلا مرجع خدا اور پیغمبر اکرم (ص) ہیں، کیونکہ پیغمبر پر وحی ہوتی ہے، اور اگر امام معصوم کوئی حکم بیان کرتا ہے تو وہ اپنی طرف سے نہیں ، بلکہ قرآن کریم یا پیغمبر اکرم (ص) سے حاصل ہوئے علم کی بناپر ہوتا ہے، لہٰذا اختلاف حل کرنے والوں کی صف میں اولوا الامرکو ذکر نہ کرنے کی وجہ روشن ہوجاتی ہے۔(۴)

____________________

(۱) سورہ نساء ، آیت ۵۹

(۲) تفسیر کبیر فخر رازی ، جلد ۱۰، صفحہ ۱۴۴، طبع مصر ۱۳۵۷ئھ ش

(۳) سورہ نساء ، آیت ۵۹

(۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۴۳۵


۵۱ ۔ اہل بیت سے مراد کون حضرات ہیں؟

سورہ مبارکہ احزاب میں ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) (۱)

”بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ( اے اہل بیت پیغمبر!) تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“۔

آیہ شریفہ کے پیش نظر ،یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل بیت سے مراد کون لوگ ہیں؟

یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ یہ آیہ شریفہ ازواج پیغمبر کی شان میں نازل ہو نے والی آیات کے درمیان واقع ہے، لیکن اس آیت کا انداز بدلا ہوا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس آیت کا ایک دوسرا مقصد ہے، کیونکہ اس سے پہلی اور بعد والی آیات میں ”جمع مونث“ کے صیغے استعمال ہوئے ہیں لیکن اس آیت میں ”جمع مذکر“ کا صیغہ استعمال ہوا ہے!

آیت کے شروع میں ازواج پیغمبر (ص) کو خطاب کیا گیا اور ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں رہیں ،اور عرب کی جاہلیت کے رسم و رواج کی طرح لوگوں کے سامنے نہ نکلیں، عفت کی رعایت کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں نیز خدا اور رسول کی اطاعت کریں،

( وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلاَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاٴُولَی وَاٴَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِینَ الزَّکَاةَ وَاٴَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ)

آیت کے اس حصہ میں تمام چھ ضمیریں ”جمع مونث“ کی استعمال ہوئی ہیں۔ (غور کیجئے )

اس کے بعد لہجہ بدل جاتا ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کا ”صرف“ ارادہ یہ ہے کہ تم اہل بیت سے رجس کو دور رکھے اور تمہیں مکمل طور پر پاک رکھے“،( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) (۲)

آیت کے اس حصہ میں دونوں ضمیریں جمع مذکر کے لئے استعمال ہوئی ہیں۔

یہ بات صحیح ہے کہ عام طور پر آیت کا سیاق و سباق ایک مطلب کو بیان کرتا ہے لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کے برخلاف کوئی قرینہ اور شاہد نہ ہو، لہٰذا جو لوگ آیت کے اس حصہ کو بھی ازواج پیغمبر (ص) کی شان میں سمجھتے ہیں ان کا نظریہ ظاہر آیت اور اس میں موجود قرینہ کے برخلاف ہے، یعنی ان دونوں حصوں میں ضمیریں مختلف ہیں لہٰذا دو جدا جدا مطلب ہیں۔

اس کے علاوہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں بڑے بڑے سنی اور شیعہ علمانے خود پیغمبر اکرم (ص) سے متعدداحادیث نقل کی ہیں، اور فریقین کے معتبر منابع و مآخذ میں اس کو قبول کیا گیا ہے، اور ان روایات کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔

یہ تمام روایات اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ مذکورہ آیہ شریفہ پیغمبر اکرم (ص)، حضرت علی،حضرت فاطمہ زہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے، (نہ کہ ازواج پیغمبر کی شان میں) جیسا کہ بعد میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔

آیت میں لفظ ”انّما“ استعمال کیا گیا جو حصر کے معنی میں ہے جس کے معنی ”صرف“ ہوتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیہ شریفہ میں آل ِنبی (ص)کے لئے جو خاص عظمت قرار دی گئی ہے وہ کسی دوسرے کے لئے نہیں ہے۔

بعض مفسرین اہل سنت نے اہل بیت میں ازواج نبی کو بھی شامل کیا ہے، لیکن جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا سیاق اور آیت کے پہلے اور بعد والے حصے میں استعمال ہونے والی ”جمع مونث“ کی ضمیروں کی جگہ اس حصہ میں ”جمع مذکر“ کی ضمیروں کا استعمال کیا گیا ہے جوایک واضح دلیل ہے کہ اس حصہ کا ایک الگ مطلب ہے، اور اس سے مراد ایک دوسری چیز ہے، کیا خداوندعالم ”حکیم“ نہیں ہے، اور کیا قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت بلند وبالا نہیںہے اور اس کے تمام الفاظ کوئی حساب و کتاب نہیں رکھتے؟

لیکن مفسرین کی ایک جماعت نے آیہ تطہیر کو پیغمبر اکرم، علی، فاطمہ، حسن و حسین (علیہم السلام) سے مخصوص کیا ہے، اس سلسلہ میں ہم شیعہ سنی منابع میں وارد ہونے والی روایات میں سے چند نمونے پیش کرتے ہیں جواس تفسیرپر گواہ ہیں۔

اور شاید انھیں روایات کی وجہ سے بعض لوگوں نے آیہ شریفہ کو اہل بیت سے مخصوص نہیں مانا، لیکن انھوں نے مذکورہ آیت کے ایک وسیع معنی بیان کئے ہیں جس میں اہل بیت بھی شامل ہوں اور ازواج رسول بھی، یہ آیت کی ایک تیسری تفسیر ہے۔

جو روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ آیت پیغمبر اکرم (ص) ، حضرت علی مرتضیٰ، حضرت فاطمہ زہرا، اور حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام سے مخصوص ہے، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، صرف تفسیر ”الدر المنثور“ میں ۱۸/ حدیث نقل ہوئی ہیں، جن میں سے پانچ روایت امّ سلمہ سے ، تین ابو سعید خدری سے، ایک عائشہ سے، ایک انس سے، دو روایت ابن عباس سے، دو روایت ابی الحمراء سے، ایک روایت وائلہ بن اسقع سے، ایک روایت سعد سے ، ایک روایت ضحاک بن مزاحم سے اور ایک روایت زید بن ارقم سے نقل کی گئی ہے۔(۳)

جناب علامہ طباطبائی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر ”المیزان“ میں اس سلسلہ میں بیان ہونے والی روایات کی تعداد ۷۰ / تک بیان کی ہے، موصوف فرماتے ہیں: اہل سنت کے ذریعہ اس سلسلہ میں نقل ہونے والی روایات شیعہ طریقہ سے بیان ہونے والی روایات سے بھی زیادہ ہیں! اس کے بعد موصوف نے مذکورہ ناموں کے علاوہ بہت سے نام شمار کرائے ہیں، یعنی تفسیر الدر المنثور کے علاوہ دوسری کتابوں میں بیان ہونے والے راویوں کے نام بیان کئے ہیں۔

بعض حضرات نے ان روایات اور جن کتابوں میں یہ روایات نقل ہوئی ان کی تعداد سیکڑوں تک بتا ئی ہے اور ایسا ہونا بعید بھی نہیں ہے۔

ہم یہاں پر ان روایات کے چند نمونے مع منابع و مآخذ نقل کرتے ہیں تاکہ”اسباب النزول “ میں ”واحدی“ کی بات روشن ہوجائے، جو واقعاً ایک حقیقت ہے، چنانچہ موصوف فرماتے ہیں:

( إنَّ الٓا یةَ نَزَلَتْ فِي النَّبيِّ(ص) ،وعَلیّ و فَاطِمَةَ والحَسنین (ع) خاصة لایشارکهُم فیها غیرَهُم)

”یہ آیہ شریفہ پیغمبر اکرم (ص) ، حضرت علی مرتضیٰ، حضرت فاطمہ زہرا، اور حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام سے مخصوص ہے اور کوئی دوسرا اس میں شامل نہیں ہے“۔(۴)

چنا نچہ ان احادیث کا خلاصہ چار حصوں میں کیا جاسکتا ہے:

۱ ۔ جن احادیث کو پیغمبر اکرم (ص) کی بعض ازواج نے نقل کیا ہے جو واضح طور پر کہتی ہیں

کہ جس وقت آنحضرت (ص) نے اس آیہ شریفہ کی گفتگو فرمائی تو آپ سے سوال کیا کہ کیا ہم لوگ بھی اس آیت میں شامل ہیں؟ تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: تم خیر پر ہو لیکن اس آیت میں شامل نہیں ہو!

جیسا کہ ثعلبی اپنی تفسیر میں ”ام سلمیٰ ( زوجہ پیغمبر)سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے کہ جناب فاطمہ (س) آنحضرت (ص) کی خدمت میں کھا نالائیں تو آپ نے فرمایا: اپنے شوہر نامدار اور دونوں بیٹوں حسن و حسین (علیہم السلام) کو بھی بلالاؤ، اور جب یہ سب حضرات جمع ہوگئے سب نے ساتھ میں کھانا تناول کیا اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے ان پر اپنی عبا ڈالی اور فرمایا:

”اَللَّهُمَ! إِنَّ هولاء اٴهلَ بَیتِی وَ عِتْرتِی فَاَذْهِب عَنهُم الرَّجس وطهّرهُم تَطْهِیْراً“

”خداوندا! یہ میرے اہل بیت اور میری عترت ہیں، ان سے رجس اور برائی کو دور فرما، اور ہر طرح کے رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دے“۔

اسی موقع پر آیہ( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ ) نازل ہوئی ، میں (امّ سلمیٰ) نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے ساتھ ہوں؟ تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: انکِ إلی خَیرٍ ”تم خیر پر ہو“ (لیکن ان میں شامل نہیں ہو)(۵)

نیز اہل سنت کے مشہور و معروف عالم دین”ثعلبی“(۶) جناب عائشہ سے اس طرح نقل

کرتے ہیں : جب لوگوں نے جنگ جمل اور اس جنگ میں آپ کی دخالت کے بارے میں سوال کیا تو (بہت افسوس کے ساتھ) جواب دیا: یہ ایک تقدیر الٰہی تھی! اور جب حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو کہا:

” تساٴلیني عن اٴحبِ النَّاسِ کان إلیٰ رسولِ الله وَ زوجٌ اٴحب النَّاسِ کانَ إلیٰ رسولِ الله، لقد راٴیْت علیاً و فَاطمَة و حسناً وحسیناً و جمع رسول الله بثوبٍ علیهم ثم قال:اللّٰهم هولاء اٴهل بیتي و حامتي فاذّهب عنهم الرِّجس و طهّرهم تطهیراً، قالت : فقلتُ یا رسولَ الله ! اٴنا من اٴهلک قال تنحّی فَإنَّکِ إلیٰ خَیر(۷)

”کیا مجھ سے اس شخص کے بارے میں سوال کرتے ہو جو پیغمبر اکرم (ص) کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھا ،اور اس کے بارے میں سوال کرتے ہو جو رسول اللہ (ص) کی چہیتی بیٹی کا شوہر ہے، میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے علی، فاطمہ ،حسن وحسین (علیہم السلام ) کو ایک چادر کے نیچے جمع کیا اور فرمایا: پالنے والے! یہ میرے اہل بیت اور میرے حامی ہیں ان سے رجس اور برائی کو دور فرما، اوران کو پاک و پاکیزہ قرار دے، اس وقت میں نے کہا: یا رسول اللہ (ص) کیا میں بھی ان (اہل بیت) میں شا مل ہوں تو آنحضرت نے فرمایا: تم یہاں سے چلی جاؤ تم خیر پر ہو (لیکن ان میں شامل نہیں ہو، اس طرح کی حدیثیں صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہیں کہ ازواج پیغمبر اہل بیت میں شامل نہیں تھیں)“۔

۲ ۔ حدیث کسا بہت ،سی کتابوں میں مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہے، جن کا مشترک بیان یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی مرتضیٰ، حضرت فاطمہ زہرا، اور حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام کو ایک جگہ جمع کیا (یا یہ حضرات خود آپ کی خدمت میں آئے) پیغمبر اکرم (ص) نے ان

پر اپنی عبا (یا چادر) اڑھائی اور دعا کی: خداوندا! یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے ہر قسم کے رجس اوربرائی کو دور فرما، چنانچہ اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا )

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث کو صحیح مسلم ، مستدرک حاکم ، سنن بیہقی، تفسیر ابن جریر اور تفسیرسیوطی الد ر المنثور میں نقل کیا گیا ہے۔(۸)

حاکم حسکانی نے بھی ”شواہد التنزیل“ میں اس حدیث کو بیان کیا ہے(۹) ”صحیح ترمذی“ میں بھی یہ حدیث بارہا بیان ہوئی ہے، جن میں سے ایک جگہ ”عمر بن ابی سلمہ“ اور دوسری جگہ ”ام سلمہ“ سے نقل کیا گیا ہے۔(۱۰)

ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ”فخر رازی“ نے آیہ مباہلہ (سورہ آل عمران ، آیت ۶۱) کے ذیل میں اس حدیث (حدیث کساء) کو نقل کرنے کے بعد اضافہ کیا ہے:

”وَاعلمْ إنَّ هٰذِهِ الرِّوایةُ کالمُتَّفقِ عَلیٰ صحتِها بَین اٴهلَ التَفْسِیرِ وَالْحَدِیثِ“ (۱۱)

”معلوم ہونا چاہئے کہ یہ اس روایت کی طرح ہے جوتمام مفسرین اور محد ثین کے نزدیک متفق علیہ ہو“۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ امام ”احمد بن حنبل“ نے اپنی مسند میں اس حدیث کو مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے۔(۱۲)

۳ ۔ بہت سی روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس آیہ شریفہ کے نازل ہونے کے بعد چندمہینے تک (بعض روایات میں ۶ مہینے، بعض میں ۸ مہینے اور بعض میں ۹ مہینے ذکر ہوئے ہیں) نماز صبح کے وقت پیغمبر اکرم (ص) جب در ِفاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے گزرتے تھے تو فرمایا کرتے تھے:

”الصلاة! یا اہلَ البیتِ!( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا )

”اے اہل بیت نماز کا وقت ہے، خداوندعالم کا ارادہ ہے کہ تم سے ہر قسم کے رجس اور برائی کو دور رکھے اور ایسا پاکیزہ قرار دے جیسا پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“!

اس حدیث کو مشہور و معروف مفسر حاکم حسکانی نے اپنی تفسیر ”شواہد التنزیل“ میں ”انس بن مالک“ سے نقل کیا ہے۔(۱۳)

اسی مذکورہ کتاب میں ایک دوسری حدیث کے ضمن میں ”سات مہینے“ کی روایت ”ابی الحمراء“ سے نقل کی ہے،(یعنی پیغمبر اکرم (ص) سات مہینے تک درِ فاطمہ پر آکر مذکورہ جملے فرمایا کرتے تھے)

نیز اسی کتاب میں آٹھ مہینے کی روایت ”ابو سعید خدری“ سے نقل کی گئی ہے۔(۱۴)

قار ئین کرام! مدت میں فرق ہونا کوئی اہم بات نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ انس نے چھ ماہ، ابوسعید خدری نے آٹھ ماہ اور ابن عباس نے نو ماہ تک اس چیز کا مشا ہد ہ کیا ہو(۱۵)

جس نے جتنی مدت دیکھا ہے اسی اعتبار سے نقل کیا ہے حالانکہ ان کی روایت میں کوئی دوسرا اختلاف نہیں ہے۔

بہر حال اتنی مدت تک پیغمبر اکرم (ص) کا ہر روز اسی عمل کی تکرار کرنا ایک طے شدہ مسئلہ تھا، کیونکہ آنحضرت (ص) اپنے اس عمل سے یہ بات بالکل واضح کرناچاہتے تھے کہ ”اہل بیت“ سے مراد صرف اس گھر کے رہنے والے ہیں، تاکہ آنے والے زمانہ میں کسی کے لئے کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے، اور یہ باتسب کو معلوم ہوجائے کہ یہ آیت صرف اور صرف ان حضرات کی شان میں نازل ہوئی ہے، لیکن واقعاً تعجب کی بات ہے کہ اس قدر تاکید کے باوجود بھی بعض لوگوں کے نزدیک یہ مسئلہ واضح نہ ہوسکا، کیا واقعاً یہ تعجب کا مقام نہیں ہے!!

خصوصاً جب مسجد النبی (ص) کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کرادئے گئے ،صرف پیغمبر اکرم (ص) اور حضرت علی علیہ السلام کے دروازے کھلے رہے (کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمان جاری کیا تھا کہ ان دو دروازوں کے علاوہ تمام دروازے بند کردئے جائیں)

یہ بات واضح ہے متعدد افراد پیغمبر اکرم (ص) کی زبان مبارک سے یہ کلمات سنتے ہوں گے، لیکن پھر بھی بعض مفسرین یہ کوشش کرتے ہیں کہ آیت کے معنی میں وسعت کے قائل ہوجائیں تاکہ ازواج پیغمبر کو بھی شامل کرلیا جائے، کیا یہ تعجب کا مقام نہیں ہے، اور جیسا کہ ہم نے عرض بھی کیا کہ تاریخی شواہد کے مطابق خود حضرت عائشہ پیغمبر اکرم (ص) سے متعلق اپنے تمام فضائل کو بیان کرنے سے نہیں کتراتی تھیں بلکہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی بیان کردیا ہے، وہ خود کو اس آیت میں شامل نہیں جانتی، بلکہ وہ خود کہتی ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے مجھ سے فرمایا: ”تم اس آیت میں شامل نہیں ہو“!

۴ ۔ وہ متعدد روایات جو پیغمبر اکرم (ص) کے مشہور و معروف صحابی ابوسعید خدری کے ذریعہ نقل ہوئی ہیں اور آیہ تطہیر کی طرف اشارہ ہیں، ان میں واضح طور پر بیان ہوا :

”نَزلَتْ فِی خَمسةٍ فِی رَسولِ اللهِ وَ عَليّ وفاطمة والحَسنِ وَالحُسَینِ علَیهُمَ السّلام(۱۶)

”یہ آیہ شریفہ رسول خدا،مولائے کائنات،فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حسنین علیہما السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے“

المختصر: آیہ تطہیرکی شان ِنزول کے سلسلہ میں بیان ہونے والی وہ احادیث جو پیغمبر اکرم ، حضرت علی علیہ السلام، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امام حسن و امام حسین علیہم السلام سے مخصوص ہیں، اور یہ احادیث اسلامی معتبر کتابوں میں اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کو متواتر حدیثوں میں شمار کیا جاتا ہے، اور اس لحاظ سے ان میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی، یہاں تک کہ کتاب شرح احقاق الحق میں (شیعہ منابع کے علاوہ) خوداہل سنت کی مشہور و معروف ۷۰/ معتبر کتابوں سے اس حدیث کو نقل کیا گیا ہے، اس کے بعد صاحب کتاب فرماتے ہیں: ”اگر ان تمام منابع و مدارک کو جمع کیا جائے تو ان کی تعداد ہزار سے بھی زیادہ ہوجائے گی“۔(۱۷)(۱۸)

____________________

(۱)سورہ احزاب ، آیت ۳۳ (۲)سورہ احزاب ، آیت ۳۳(۳)الدرالمنثور ، جلد ۵، صفحہ ۱۹۶و ۱۹۹

(۴) المیزان ، جلد ۱۶، صفحہ ۳۱۱

(۵) علامہ طبرسی نے مجمع البیان میں مذکورہ آیت کے ذیل میں،اورحاکم حسکانی نے شواہد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۵۶ میں مذ کورہ حدیث کو ذکر کیا ہے

(۶) یہ چوتھی صدی کے آخر اور پانچوی صدی کے شروع میں زندگی بسر کرتے تھے ، جن کی تفسیر ”تفسیر کبیر“ کے نام سے مشہور ہے

۷) مجمع البیان ، سورہ احزاب آیت ۳۳کے ذیل میں(۸) صحیح مسلم ، جلد ۴، صفحہ ۱۸۸۳، حدیث۲۴۲۴، (باب فضائل اہل بیت النبی (ص))

(۹) شواہد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۳۳، حدیث ۳۷۶

(۱۰) صحیح ترمذی ، جلد ۵، صفحہ ۶۹۹، حدیث ۳۸۷۱، (باب فضل فاطمہ)مطبو عہ احیاء التراث

(۱۱) تفسیر فخر رازی ، جلد ۸، صفحہ ۸۰

(۱۲) مسند احمد ، جلد اول، صفحہ ۳۳۰، جلد ۴، صفحہ ۱۰۷ ، اور جلد ۶، صفحہ ۲۹۲ ( نقل از فضائل الخمسة ، جلد اول، صفحہ ۲۷۶)

(۱۳) شواہد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۱۱، ۱۲، ۱۳، ۱۴، ۱۵ ،۹۲ ،(توجہ کریں کہ شواہد التنزیل نے اس روایت کو متعدد طریقہ سے نقل کیا ہے)

(۱۴) شواہد التنزیل ، جلد ۲، صفحہ ۲۸ واحقا ق الحق، جلد ۲، صفحہ ۵۰۳ سے ۵۴۸ تک

(۱۵) الدر المنثور ، جلد ۵، صفحہ ۱۹۹

(۱۶) شواہد التنزیل میں اس سلسلے میں چار حدیثیں موجود ہیں ،جلد ۲، صفحہ ۲۴ سے ۲۷ تک (حدیث ۶۹۵ و۶۶۰ و۶۶۱ و۶۶۴)

(۱۷) اقتبا س از جلد دوم احقاق الحق ، صفحہ ۵۰۲ تا ۵۶۳

(۱۸) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۹ ،صفحہ ۱۳۷


۵۲ ۔ واقعہ غدیر کیا ہے ؟

( یَااٴَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ ) (۱)

”اے پیغمبر ! آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اور اگر یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا“۔

اہل سنت کی متعدد کتابوں نیز تفسیر و حدیث اور تاریخ کی (تمام شیعہ مشہور کتابوں میں) بیان ہوا ہے کہ مذکورہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

ان احادیث کو بہت سے اصحاب نے نقل کیا ہے، منجملہ: ”ابوسعید خدری“، ”زید بن ارقم“، ”جابر بن عبد اللہ انصاری“، ”ابن عباس“، ”براء بن عازب“، ”حذیفہ“، ”ابوہریرہ“، ”ابن مسعود“اور ”عامر بن لیلی“، اور ان تمام روایات میں بیان ہوا کہ یہ آیت واقعہ غدیر سے متعلق ہے اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض روایات متعدد طریقوں سے نقل ہوئی ہیں، منجملہ:

حدیث ابوسعید خدری ۱۱/ طریقوں سے۔

حدیث ابن عباس بھی ۱۱/ طریقوں سے۔

اور حدیث براء بن عازب تین طریقوں سے نقل ہوئی ہے۔

جن افراد نے ان احادیث کو (مختصر یا تفصیلی طور پر ) اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ان کے اسما درج ذیل ہیں:

حافظ ابو نعیم اصفہانی نے اپنی کتاب ”ما نُزِّل من القرآن فی عليّ“ میں (الخصائص سے نقل کیا ہے، صفحہ ۲۹)

ابو الحسن واحدی نیشاپوری ”اسباب النزول“ صفحہ ۱۵۰ ۔

ابن عساکر شافعی ( الدر المنثور سے نقل کیا ہے، جلد دوم، صفحہ ۲۹۸)

فخر الدین رازی نے اپنی ”تفسیر کبیر“ ، جلد ۳ ، صفحہ ۶۳۶ ۔

ابو اسحاق حموینی نے ”فرائد السمطین“ (خطی)

ابن صباغ مالکی نے ”فصول المہمہ“ صفحہ ۲۷ ۔

جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر الدر المنثور ، جلد ۲ ، صفحہ ۲۹۸ ۔

قاضی شوکانی نے ”فتح القدیر“ ، جلد سوم صفحہ ۵۷ ۔

شہاب الدین آلوسی شافعی نے ”روح المعانی“ ، جلد ۶ ، صفحہ ۱۷۲ ۔

شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے اپنی کتاب ”ینابیع المودة“ صفحہ ۱۲۰ ۔

بد ر الدین حنفی نے ”عمدة القاری فی شرح صحیح البخاری“ ، جلد ۸ ، صفحہ ۵۸۴ ۔

شیخ محمد عبدہ مصری ”تفسیر المنار“ ، جلد ۶ ، صفحہ ۴۶۳ ۔

حافظ بن مردویہ (متوفی ۴۱۸ ئھ) (الدر المنثور سیوطی سے نقل کیا ہے) اور ان کے علاوہ بہت سے دیگرعلمانے اس حدیث کو بیان کیا ہے ۔

البتہ اس بات کو نہیں بھولنا چاہئے کہ بہت سے مذکورہ علمانے حالانکہ شان نزول کی روایت کو نقل کیا ہے لیکن بعض وجوہات کی بنا پر (جیسا کہ بعد میں اشارہ ہوگا) سرسری طور سے گزر گئے ہیں یا ان پر تنقید کی ہے، ہم ان کے بارے میں آئندہ بحث میں مکمل طور پر تحقیق و تنقیدکریں گے۔(انشاء اللہ )

واقعہ غدیر

مذکورہ بحث سے یہ بات اجمالاً معلوم ہوجاتی ہے کہ یہ آیہ شریفہ بے شمار شواہد کی بنا پر امام علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے، اور اس سلسلہ میں (شیعہ کتابوں کے علاوہ) خود اہل سنت کی مشہور کتابوں میں وارد ہونے والی روایات اتنی زیادہ ہیں کہ کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔

ان مذکورہ روایات کے علاوہ بھی متعددروایات ہیں جن میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ یہ آیت غدیر خم میں اس وقت نازل ہوئی کہ جب پیغمبر اکرم (ص) نے خطبہ دیا اور حضرت علی علیہ السلام کو اپنا وصی و خلیفہ بنایا، ان کی تعداد گزشتہ روایات کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے، یہاں تک محقق بزرگوار علامہ امینی نے کتابِ ”الغدیر“ میں ۱۱۰/ اصحاب پیغمبر سے زندہ اسناد اور مدارک کے ساتھ نقل کیا ہے، اسی طرح ۸۴/ تابعین اور مشہور و معروف ۳۶۰/ علماو دانشوروں سے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔

اگر کوئی خالی الذہن انسان ان اسناد و مدارک پر ایک نظر ڈالے تو اس کو یقین ہوجائے گا کہ حدیث غدیر یقینا متواتر احادیث میں سے ہے بلکہ متواتر احادیث کا بہترین مصداق ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان احادیث کے تواتر میں شک کرے تو پھر اس کی نظر میں کوئی بھی حدیث متواتر نہیں ہوسکتی۔

ہم یہاں اس حدیث کے بارے میں بحث مفصل طور پر بحث نہیں کرسکتے ، حدیث کی سند اور آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں اسی مقدار پر اکتفاء کرتے ہیں، اور اب حدیث کے معنی کی بحث کرتے ہیں، جو حضرات حدیث غدیر کی سند کے سلسلہ میں مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیںوہ درج ذیل کتابوں میں رجوع کرسکتے ہیں:

۱ ۔ عظیم الشان کتاب الغدیر جلد اول تالیف ،علامہ امینی علیہ الرحمہ۔

۲ ۔ احقاق الحق، تالیف ،علامہ بزرگوار قاضی نور اللہ شوستری، مفصل شرح کے ساتھ آیت اللہ نجفی، دوسری جلد ، تیسری جلد، چودھویں جلد، اور بیسوی جلد۔

۳ ۔ المراجعات ،تا لیف ،مرحوم سید شرف الدین عاملی۔

۴ ۔ عبقات الانوار ، تالیف عالم بزرگوار میر سید حامد حسین ہندی (لکھنوی) ۔

۵ ۔ دلائل الصدق ، جلد دوم، تالیف ،عالم بزرگوار مرحوم مظفر۔

حدیث غدیر کا مضمون

ہم یہاں تمام روایات کے پیش نظر واقعہ غدیر کا خلاصہ بیان کرتے ہیں، (البتہ یہ عرض کردیا جائے کہ بعض روایات میں یہ واقعہ تفصیلی اور بعض میں مختصر طور پر بیان ہوا ہے، بعض میں واقعہ کے ایک پہلو اور بعض میں کسی دوسرے پہلو کی طرف اشارہ ہوا ہے، چنا نچہ ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے:)

پیغمبر اکرم (ص) کی زندگی کا آخری سال تھا”حجة الوداع “کے مراسم جس قدر باوقار اور باعظمت ہو سکتے تھے وہ پیغمبر اکرم کی ہمراہی میں اختتام پذیر ہوئے، سب کے دل روحانیت سے سرشار تھے ابھی ان کی روح اس عظیم عبادت کی معنوی لذت کا ذائقہ محسوس کررہی تھی ۔ اصحاب پیغمبر کی کثیر تعداد آنحضرت (ص) کے سا تھ اعمال حج انجام دینے کی عظیم سعادت پر بہت زیادہ خوش نظر آرہے تھے ۔(۱)

(۱) پیغمبر کے ساتھیوں کی تعداد بعض کے نزدیک ۹۰ ہزار اور بعض کے نزدیک ایک لاکھ بارہ ہزار اور بعض کے نزدیک ایک لاکھ بیس ہزار اور بعض کے نزدیک ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے

نہ صرف مدینہ کے لوگ اس سفر میں پیغمبر کے ساتھ تھے بلکہ جزیرہ نمائے عرب کے دیگر مختلف حصوں کے مسلمان بھی یہ عظیم تاریخی اعزازوافتخار حاصل کرنے کے لئے آپ کے ہمراہ تھے۔

سرزمین حجاز کا سورج درودیوار اور پہاڑوںپر آگ برسارہا تھا لیکن اس سفرکی بے نظیر روحانی حلاوت نے تمام تکلیفوں کو آسان بنارہا تھا۔ زوال کا وقت نزدیک تھا، آہستہ آہستہ ”جحفہ“ کی سرزمین او راس کے بعد خشک اور جلانے والے”غدیرخم“ کا بیابان نظر آنے لگا۔

در اصل یہاں ایک چوراہا ہے جو حجاز کے لوگوں کوایک دوسرے سے جدا کرتا ہے، شمالی راستہ مدینہ کی طرف دوسرا مشرقی راستہ عراق کی طرف،تیسرا مغربی ممالک او رمصر کی طرف اور چوتھا جنوبی راستہ سرزمین یمن کو جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں اخری او راس عظیم سفر کااہم ترین مقصدانجام دیاجا نا تھا اور پیغمبر مسلمانوں کے سامنے اپنی آخری اور اہم ذمہ داری کی بنا پر آخری حکم پہچا نا چا ہتے تھے ۔

جمعرات کا دن تھا اورہجرت کا دسواں سال، آٹھ دن عید قربان کو گزرے تھے کہ اچانک پیغمبر کی طرف سے سب کو ٹھہر نے کا حکم دیا گیا، مسلمانوں نے بلندآواز سے قافلہ سے آگے چلے جانے والے لو گوں کوواپس بلایااوراتنی دیر تک رکے رہے کہ پیچھے آنے والے لوگ بھی پہنچ گئے۔ آفتاب خط نصف النہار سے گزر گیا تو پیغمبر کے موذن نے ”اللہ اکبر “کی صداکے ساتھ لوگوں کونماز ظہر پڑھنے کی دعوت دی، مسلمان جلدی جلدی نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوگئے، لیکن فضا اتنی گرم تھی کہ بعض لوگ اپنی عبا کا کچھ حصہ پاؤں کے نیچے اور باقی حصہ سر پر رکھنے کے لئے مجبور تھے ورنہ بیابان کی گرم ریت اور سورج کی شعاعیں ان کے سر اور پاؤں کو تکلیف دے رہی تھیں۔

اس صحرا میں کوئی سایہ نظر نہیں آتا تھا اور نہ ہی کوئی سبزہ یاگھاس صرف چند خشک جنگلی درخت تھے جو گرمی کا سختی کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے کچھ لوگ انہی چند درختوں کا سہارا لئے ہوئے تھے، انہوں نے ان برہنہ درختوں پر ایک کپڑاڈال رکھا تھا اور پیغمبر کے لئے ایک سائبان بنا رکھا تھا لیکن سورج کی جلا دینے والی گرم ہوا اس سائبان کے نیچے سے گزر رہی تھی ،بہرحال ظہر کی نمازادا کی گئی۔

مسلمان نماز کے بعد فوراً اپنے چھوٹے چھوٹے خیموں میں جاکر پناہ لینے کی فکر میں تھے لیکن رسول اللہ نے انہیں آگاہ کیا کہ وہ سب کے سب خداوندتعالیٰ کا ایک نیا پیغام سننے کے لئے تیار ہوجائیں جسے ایک مفصل خطبہ کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔

جو لوگ رسول اللہ (ص) سے دور تھے وہ اس عظیم اجتماع میں پیغمبر کا ملکوتی اور نورانی چہرہ دیکھ نہیں پارہے تھے لہٰذا اونٹوں کے پالانوں کا منبر بنایا گیا،پیغمبر اس پر تشریف لے گئے،پہلے پروردگار عالم کی حمد وثنا بجالائے اور خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے یوں خطاب فرمایا:میں عنقریب خداوندمتعال کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے تمہارے درمیان سے جا نے والاہوں ،میں بھی جوابدہ ہوں اورتم لو گ بھی جوابدہ ہو ،تم میرے بارے میں کیا کہتے ہو ؟سب لو گوں نے بلند آواز میں کہا :

”نَشهَد اٴنّکَ قَد بَلَغْتَ وَ نَصَحْتَ وَ جَاهَدتَّ فَجَزَاکَ اللّٰهُ خَیْراً“

”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے فریضہ رسالت انجام دیا اورخیر خواہی کی ذمہ داری کو انجام دیا اور ہماری ہدایت کی راہ میں سعی و کوشش کی،خدا آپکوجزا ئے خیر دے“۔

اس کے بعد آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ خدا کی وحدانیت،میری رسالت اور روز قیامت کی حقانیت اوراس دن مردوں کے قبروں سے مبعوث ہونے کی گواہی نہیں دیتے؟

سب نے کہا:کیوں نہیں ہم سب گواہی دیتے ہیں۔

آپ نے فرمایا: خدایا!گواہ رہنا۔

آپ نے مزید فرمایا:اے لوگو ! کیا تم میری آواز سن رہے ہو؟

انہوں نے کہا: جی ہاں۔

اس کے بعد سارے بیابان پر سکوت کا عالم طاری ہوگیا، سوائے ہوا کی سنسناہٹ کے کوئی چیز سنائی نہیں دیتی تھی ، پیغمبر نے فرمایا:دیکھو! میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں بطور یادگار چھوڑے جارہا ہوں تم ان کے ساتھ کیا سلوک کروگے؟

حاضرین میں سے ایک شخص نے پکار کر کہا:یا رسول اللہ (ص) وہ دو گرا نقدر چیزیں کونسی ہیں؟

تو پیغمبراکرم نے فرمایا: پہلی چیز تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو ثقل اکبر ہے، اس کا ایک سرا پروردگار عالم کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سراتمہارے ہاتھ میں ہے،اس سے ہاتھ نہ ہٹانا ورنہ تم گمراہ ہو جاؤگے، دوسری گرانقدر یادگار میرے اہل بیت ٪ ہیں اور مجھے خدائے لطیف وخبیر نے خبردی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ بہشت میں مجھ سے آملیں گے۔

ان دونوں سے آگے بڑھنے (اور ان سے تجاوز کرنے) کی کوشش نہ کرنا اور نہ ہی ان سے پیچھے رہنا کہ اس صورت میں بھی تم ہلاک ہو جاؤگے۔

اچانک لوگوں نے دیکھا کہ ر سول اللہ اپنے ارد گرد نگاہیں دوڑارہے ہیں گویا کسی کو تلاش کررہے ہیں جو نہی آپ کی نظر حضرت علی علیہ السلام پر پڑی فوراً ان کا ہاتھ پکڑلیا اور انہیں اتنا بلند کیا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور سب لوگوں نے انہیں دیکھ کر پہچان لیاکہ یہ تو اسلام کا وہی سپہ سالار ہے کہ جس نے کبھی شکست کا منہ نہیں دیکھا۔

اس موقع پر پیغمبر کی آواز زیادہ نمایاں اوربلند ہوگئی اور آپ نے ارشاد فرمایا:

”اٴیُّها النَّاس مَنْ اٴولیٰ النَّاسِ بِالمَومِنِیْنَ مِنْ اٴَنْفُسِهم“

اے لوگو! بتاؤ وہ کون ہے جو تمام لوگوں کی نسبت مومنین پر خود ان سے زیادہ اولویت رکھتا ہے ؟ اس پر سب حاضرین نے بہ یک آواز جواب دیا کہ خدا اور اس کا پیغمبر بہتر جانتے ہیں۔

تو پیغمبر نے فرمایا: خدا میرا مولا اوررہبر ہے اور میں مومنین کا مولااوررہبر ہوں اورمیں ان کی نسبت خود ان سے زیادہ حق رکھتا ہوں(اور میرا ارادہ ان کے ارادے پرمقدم ہے)۔

اس کے بعد فرمایا:

”فَمَن کُنْتُ مَولَاهُ فَهذَا عَلِيّ مَولاه“

”یعنی جس کا میں مولاہوں علی بھی اس کے مولا اوررہبر ہیں“۔

پیغمبر اکرم نے اس جملے کی تین مرتبہ تکرار کی، او ربعض راویوں کے قول کے مطابق پیغمبر نے یہ جملہ چار مرتبہ دہرایا اور اس کے بعد آسمان کی طرف سر بلند کر کے بارگاہ خداوندی میں عرض کی:

”اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاٰهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ وَاٴحب مَنْ اٴحبهُ وَ ابغِضْ مَنْ اٴبغَضهُ وَ انْصُرْمَنْ نَصَرُهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ، وَاٴدرِالحَقّ مَعَهُ حَیْثُ دَارَ“

یعنی بار الٰہا! جو اس کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ او رجو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ، جو اس سے محبت کرے تو اس سے محبت کر اور جو اس سے بغض رکھے تو اس سے بغض رکھ، جو اس کی مدد کرے تو اس کی مددکر ، جو اس کی مدد سے کنارہ کشی کرے تو اسے اپنی مددسے محروم رکھ اور حق کو ادھرموڑدے جدھر وہ رخ کرے۔

اس کے بعد فرمایا:

”اٴلَا فَلْیُبَلِّغ الشَّاهدُ الغائبُ“

” تمام حاضرین آگاہ ہوجائیں کہ یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کوان لوگوں تک پہنچائیں جو یہاں پر اس وقت موجود نہیں ہیں “۔

پیغمبر کا خطبہ ختم ہوگیا پیغمبر پسینے میں شرابور تھے حضرت علی علیہ السلام بھی پسینہ میں غرق تھے، دوسرے تمام حاضرین کے بھی سر سے پاؤں تک پسینہ بہہ رہا تھا۔

ابھی اس جمعیت کی صفیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئی تھیں کہ جبرئیل امین وحی لے کر نازل ہوئے اور پیغمبر کو ان الفاظ میں تکمیلِ دین کی بشارت دی:

( الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَاٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی ) (۲)

”آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین اور آئین کو کامل کردیا اور اپنی نعمت کو تم پر تمام کردیا“۔

اتمام نعمت کا پیغام سن کر پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:

”اللّٰهُ اٴکبرُ اللّٰهُ اٴکبرُ عَلیٰ إکْمَالِ الدِّینِ وَإتْمَام النِعْمَةِ وَرَضیٰ الربِّ بِرسَالَتِي وَالوِلاٰیَة لِعَليّ مِنْ بَعْدِي“

”ہر طرح کی بزرگی وبڑائی خداہی کے لئے ہے کہ جس نے اپنے دین کو کامل فرمایا اور اپنی نعمت کو ہم پر تمام کیا اور میری نبوت ورسالت اور میرے بعد علی کی ولایت کے لئے خوش ہوا۔“

پیغمبر کی زبان مبارک سے امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی ولایت کا اعلان سن کر حاضرین میں مبارک باد کا شور بلند ہوا لوگ بڑھ چڑھ کر اس اعزازومنصب پر حضرت علی کو اپنی طرف سے مبارک باد پیش کرنے لگے چنانچہ معروف شخصیتوں میں سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی طرف سے مبارک باد کے یہ الفاظ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں کہ انہوں نے کہا:

”بخٍ بخٍ لک یا بن اٴبِي طالب اٴصبحتَ وَاٴَمسیتَ مولاي و مولاکُلّ مومن و مومنةٍ“

”مبارک ہو ! مبارک ! اے فرزند ابو طالب کہ آپ میرے اور تمام صاحبان ایمان مردوں اورعورتوں کے مولا اور رہبر ہوگئے“۔

اس وقت ابن عباس نے کہا :بخدا یہ عہد وپیمان سب کی گردنوں میں باقی رہے گا۔

اس موقع پر مشہور شاعر حسان بن ثابت نے پیغمبر اکرم (ص) سے اجازت طلب کی کہ اس

موقع کی مناسبت سے کچھ شعر کہوں ،چنا نچہ انھو ں نے یہ مشہور و معروف اشعار پڑھے:

یَنادِیْهِمْ یَومَ الغَدِیرِ نَبِیُّهُمْ بِخُمٍّ وَاٴسْمِعْ بِالرَّسُولِ مُنَادِیاً

فَقَالَ فَمَنْ مَولٰاکُمْ وَنَبِیُّکُمْ؟ فَقَالُوا وَلَمْ یَبْدُو هُناکَ التَّعامِیا

إلٰهکَ مَولانَا وَاٴنتَ نَبِیُّنَا َولَمْ تَلْقِ مِنَّا فِي الوَلایَةِ عَاصِیاً

فَقَالَ لَهُ قُمْ یَا عَليّ فَإنَّنِی رَضِیْتُکَ مِنْ بَعْدِي إمَاماً وَ هَادیاً

فَمَنْ کُنْتُ مَولاهُ فَهَذَا وَلِیُّهُ فَکُونُوا لَهُ اَتْبَاعَ صِدْقٍ مَوَالِیاً

هَنَاکَ دَعَا اَللّٰهُمَّ وَالِ وَلِیَّهُ وَکُنْ لِلَّذِي لَهُ اٴتْبَاعَ عَلِیًّا مُعَادِیاً(۱)

یعنی: ”پیغمبر اکرم (ص) روز غدیر خم یہ اعلان کررہے تھے اور واقعاً کس قدر عظیم اعلان تھا۔

فرمایا: تمہارامولاا ور نبی کون ہے؟ تو مسلمانوں نے صاف صاف کہا:

”خداوندعالم ہمارا مولا ہے اور ہمارے نبی ہیں، ہم آپ کی ولایت کے حکم کی مخالفت نہیں کریں گے۔

اس وقت پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: یا علی اٹھو ، کیونکہ میں نے تم کو اپنے بعد امام اور ہادی مقرر کیا ہے۔

اس کے بعد فرمایا: جس کامیں مولا و آقا ہوں اس کے یہ علی مولا اور رہبر ہیں ، لہٰذا تم سچے دل سے اس کی اطاعت و پیروی کرنا۔

اس وقت پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: پالنے والے! اس کے دوست کو دوست رکھ! اور اس کے دشمن کو دشمن۔

(۱) ان اشعار کو اہل سنت کے بڑے بڑے علمانے نقل کیا ہے ، جن میں سے حافظ ”ابونعیم اصفہانی،حافظ ”ابو سعید سجستانی“، ”خوارزمی مالکی“، حافظ ”ابو عبد اللہ مرزبانی“،”گنجی شافعی“، ”جلال الدین سیوطی“، سبط بن جوزی“ اور ”صدر الدین حموی“ کا نام لیا جاسکتا ہے

قا ر ئین کرام !یہ تھا اہل سنت اور شیعہ علماکی کتابوں میں بیان ہونے والی مشہور و معروف حدیث غدیر کا خلاصہ۔

آیہ بلغ کے سلسلہ میں ایک نئی تحقیق

اگر ہم مذکورہ آیت کی شان نزول کے بارے میں بیان ہونے والی احادیث اور واقعہ غدیر سے متعلق تمام روایات سے قطع نظر کریں اور صرف اور صرف خود آیہ بلغ اور اس کے بعد والی آیتوں پر غور کریں تو ان آیات سے امامت اور پیغمبر اکرم (ص) کی خلافت کا مسئلہ واضح و روشن ہوجائے گا۔

کیونکہ مذکورہ آیت میں بیان ہونے والے مختلف الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کی تین اہم خصوصیت ہیں:

۱ ۔ اسلامی نقطہ نظر سے اس مسئلہ کی ایک خاص اہمیت ہے ، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) کو حکم دیا گیا ہے کہ اس پیغام کو پہنچادو، اور اگر اس کام کو انجام نہ دیا تو گویا اپنے پروردگار کی رسالت کو نہیں پہنچایا! دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ ولایت کا مسئلہ نبوت کی طرح تھا ، کہ اگر اس کو انجام نہ دیا تو پیغمبر اکرم کی رسالت ناتمام رہ جاتی ہے:( وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ )

واضح رہے کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ یہ خدا کا کوئی معمولی حکم تھا، اور اگرخدا کے کسی حکم کونہ پہنچایا جائے تو رسالت خطرہ میں پڑجاتی ہے، کیونکہ یہ بات بالکل واضح ہے اور اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، حالانکہ آیت کا ظاہر یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے جو رسالت و نبوت سے خاص ربط رکھتا ہے۔

۲ ۔ یہ مسئلہ اسلامی تعلیمات جیسے نماز، روزہ، حج، جہاد اور زکوٰة وغیرہ سے متعلق نہیں تھا کیونکہ یہ آیت سورہ مائدہ کی ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سورہ پیغمبر اکرم (ص) پر سب سے آخر میں نازل ہوا ہے، (یا آخری سوروں میں سے ہے) یعنی پیغمبر اکرم (ص) کی عمر بابرکت کے آخری دنوں میں یہ سورہ نازل ہوا ہے جس وقت اسلام کے تمام اہم ارکان بیان ہوچکے تھے۔(۳)

۳ ۔ آیت کے الفاظ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ ایک ایسا عظیم تھاجس کے مقابلہ میں بعض لوگ سخت قدم اٹھانے والے تھے، یہاں تک کہ پیغمبر اکرم (ص) کی جان کو بھی خطرہ تھا، اسی وجہ سے خداوندعالم نے اپنی خاص حمایت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:( وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ ) ”اور خداوندعالم تم کولوگوں کے (احتمالی) خطرے سے محفوظ رکھے گا“۔

آیت کے آخر میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے: ”خداوندعالم کافروں کی ہدایت نہیں فرماتا“( إِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ )

آیت کا یہ حصہ خود اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض مخالف آنحضرت (ص) کے خلاف کوئی منفی قدم اٹھانے والے تھے۔

ہماری مذکورہ باتوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اس آیت کا مقصد پیغمبر اکرم (ص) کی جانشینی اور خلافت کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔

جی ہاں پیغمبر اکرم (ص) کی آخری عمر میں صرف یہی چیز مورد بحث واقع ہوسکتی ہے نہ کہ اسلام کے دوسرے ارکان ، کیونکہ دوسرے ارکان تو اس وقت تک بیان ہوچکے تھے، صرف یہی مسئلہ رسالت کے ہم وزن ہوسکتا ہے، اور اسی مسئلہ پر بہت سی مخالفت ہوسکتی تھی اور اسی خلافت کے مسئلہ میں پیغمبر اکرم (ص) کی جان کو خطرہ ہوسکتا تھا۔

اگر مذکورہ آیت کے لئے ولایت، امامت اور خلافت کے علاوہ کوئی دوسری تفسیر کی جائے تو وہ آیت سے ہم آہنگ نہ ہوگی۔

آپ حضرات ان تمام مفسرین کی باتوں کو دیکھیں جنھوں نے اس مسئلہ کو چھوڑ کر دوسری تاویلیں کی ہیں، ان کی تفسیر آیت سے بےگانہ دکھائی دیتی ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ آیت کی تفسیر نہیں کرپائے ہیں۔

توضیحات

۱ ۔ حدیث غدیر میں مولی کے معنی

جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے کہ حدیث غدیر ”فمن کنت مولاه فعليٌّ مولاه “ تمام شیعہ اور سنی کتا بوں میں نقل ہو ئی ہے: اس سے بہت سے حقائق روشن ہوجاتے ہیں۔

اگرچہ بہت سے اہل سنت مولفین نے یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ”مولی“ کے معنی ”ناصر یا دوست “ کے ہیں، کیونکہ مولی کے مشہور معنی میں سے یہ بھی ہیں، ہم بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ ”مولیٰ“ کے معنی دوست اور ناصر ومددگار کے ہیں، لیکن یہاں پر بہت سے قرائن و شواہدہیں جن سے معلوم ہوتا ہے مذکورہ حدیث میں ”مولیٰ“ کے معنی ”ولی ، سرپرست اور رہبر“ کے ہیں، ہم یہاں پر ان قرائن و شواہد کو مختصر طور پر بیان کرتے ہیں:

۱ ۔ حضرت علی علیہ السلام سے تمام مومنین کی دوستی کوئی مخفی اور پیچیدہ چیز نہ تھی کہ جس کے لئے اس قدر تاکید اور بیان کی ضرورت ہوتی، اور اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس بے آب و گیاہ اور جلتے ہوئے بیابان میں اس عظیم قافلہ کو دوپہر کی دھوپ میں روک کرایک طویل و مفصل خطبہ دیا جائے اور سب لوگوں سے اس دوستی کا اقرارلیا جائے۔

قرآن مجید نے پہلے ہی وضاحت کے ساتھ یہ اعلان فردیا ہے:( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ ) (۴) ”مومنین آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں“

ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:( وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْض ) (۵) ”مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں“۔

خلاصہ یہ کہ اسلامی اخوت اور مسلمانوں کی ایک دوسرے سے دوستی اسلام کے سب سے واضح مسائل میں سے ہے جو پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ سے چلی آرہی ہے، اور خود آنحضرت (ص) نے اس بات کو بارہا بیان فرمایا اوراس سلسلہ میں تاکید فرمائی ہے، اور یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جس سے آیت کا لب و لہجہ اس قدر شدید ہوجاتا، اور پیغمبر اکرم (ص) اس راز کے فاش ہونے سے کوئی خطرہ محسوس کرتے۔ (غور کیجئے )

۲ ۔ ”اٴلَسْتُ اٴولیٰ بِکُمْ مِنْ اٴنفُسِکم “ (کیا میں تم لوگوں پر تمہارے نفسوں سے زیادہ اولی اور سزاور نہیں ہوں؟) حدیث کا یہ جملہ بہت سی کتابوں میں بیان ہوا ہے جو ایک عام دوستی کو بیان کرنے کے لئے بے معنی ہے، بلکہ اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح مجھے تم پر اولویت و اختیار حاصل ہے اور جس طرح میں تمہارا رہبر اور سرپرست ہوں بالکل اس طرح علی علیہ السلام کے لئے بھی ثابت ہے، اورہمارے عرض کئے ہوئے اس جملے کے معنی کے علاوہ دوسرے معنی انصاف اور حقیقت سے دور ہیں، خصوصاً ”من انفسکم“ کے پیش نظر یعنی میں تمہاری نسبت تم سے اولیٰ ہوں۔

۳ ۔ اس تاریخی واقعہ پرتمام لوگوں کی طرف سے خصوصاً حضرت ”عمر “ اور حضرت ”ابوبکر“ کا امام علی علیہ السلام کی خد مت میں مبارکباد پیش کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف خلافت کا مسئلہ تھا، جس کی وجہ سے تبریک و تہنیت پیش کی جارہی تھی، کیونکہ حضرت علی علیہ السلام سے دوستی کا مسئلہ تو سب کو معلوم تھا اس کے لئے تبریک کی کیا ضرورت تھی؟!!

مسند احمد میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے اعلان کے بعد حضرت عمر نے حضرت علی علیہ السلام کو ان الفاظ میں مبارک باد دی:

”هنئیاً یا بن اٴبِي طالب اٴصبحتَ وَاٴَمسیتَ مولی کُلّ مومن و مومنةٍ(۶)

”مبارک ہو مبارک! اے ابو طالب کے بیٹے! آج سے تم ہر مومن اور مومنہ کے مولا بن گئے“۔

علامہ فخر الدین رازی نے( یَااٴَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ ) کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ حضرت عمر نے کہا: ”ھنئیاً یا بن ابِي طالب اصبحتَ وَاَمسیتَ مولی کُلّ مومن و مومنةٍ“جس سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کوخود حضرت عمر اپنااور ہر مومن و مومنہ کا مولا سمجھتے تھے۔

تاریخ بغداد میں روایت کے الفاظ یہ ہیں:”بخٍ بخٍ لک یا بن اٴبِي طالب اٴصبحتَ وَاٴَمسیتَ مولاي و مولاکُلّ مسلم(۷) ”اے ابو طالب کے بیٹے مبارک ہو مبارک! آپ آج سے میرے اور ہر مسلمان کے مولا ہوگئے“۔

فیض القدیر اور صواعق محرقہ دونوں کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر دونوں نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا: ”وَاَمسیتَ یابن ابي طالبٍ مولی کُلّ مومن و مومنةٍ“

یہ بات واضح ہے کہ ایک عام دوستی تو سبھی مومنین کے درمیان پائی جاتی تھی، تو پھر اتنا اہتمام کیسا؟! لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ یہ اس وقت صحیح ہے جب مولی کے معنی صرف اور صرف حا کم اور خلیفہ ہوں۔

۴ ۔ حسان بن ثابت کے مذکورہ اشعار بھی اس بات پر بہترین گواہ ہیں کہ جن میں بلند مضامین اور واضح الفاظ میں خلافت کے مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے، جن کی بنا پر مسئلہ کافی واضح ہے (آپ حضرات ان اشعار کو ایک مرتبہ پھر پڑھ کر دیکھیں)

۲ ۔ قرآن کی آیات واقعہ غدیر کی تائید کرتی ہیں

بہت سے مفسرین اورراویوں نے سورہ معارج کی ابتدائی چند آیات:( سَاٴَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ # لِلْکَافِرینَ لَیْسَ لَهُ دَافِعٌ # مِنْ اللهِ ذِی الْمَعَارِجِ ) (ایک سائل نے واقع ہونے والے عذاب کا سوال کیا جس کا کافروں کے حق میں کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے، یہ بلندیوں والے خدا کی طرف سے ہے،)کی شان نزول کو بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:

”پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کو غدیر خم میں خلافت پر منصوب کیا، اوران کے بارے میں فرمایا: ”مَن کُنْتُ مَولَاہُ فَہذَا عَلِيّ مَولاہ“۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر عام ہوگئی، نعمان بن حارث فہری(۸) (جو کہ منافقوں میں سے تھا ) پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے: آپ نے ہمیں حکم دیا کہ خدا کی وحدانیت اور آپ کی رسالت کی گواہی دیں ہم نے گواہی دی، لیکن آپ اس پر بھی راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ آپ نے (حضرت علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کرکے کہا) اس جوان کو اپنی جانشینی پر منصوب کردیا اور کہا :”مَن کُنْتُ مَولَاهُ فَهذَا عَلِيّ مَولاه“ ۔کیا یہ کام اپنی طرف سے کیا ہے یا خدا کی طرف سے؟ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: اس خداکی قسم جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے، یہ کام میں نے خدا کی طرف سے انجام دیا ہے“۔

نعمان بن حارث نے اپنا منھ پھیر لیا اور کہا: خداوندا! اگر یہ کام حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو مجھ پر آسمان سے پتھر برسا!۔

اچانک آسمان سے ایک پتھر آیا اور اس کے سر پر لگا ، جس سے وہ وہیں ہلاک ہوگیا،اس موقع پر آیہ( سَاٴَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِع ) نازل ہوئی ۔

(قارئین کرام!) مذکورہ روایت کی طرح مجمع البیان میں بھی یہ روایت ابو القاسم حسکانی سے نقل ہوئی ہے(۹) ، اور اسی مضمون کی روایت بہت سے اہل سنت مفسرین اور راویان حدیث نے مختصر سے اختلاف کے ساتھ نقل کی ہے، منجملہ: قرطبی نے اپنی مشہور تفسیرمیں(۱۰) آلوسی نے اپنی تفسیر روح المعانی میں(۱۱) ، اور ابو اسحاق ثعلبی نے اپنی تفسیر میں۔(۱۲)

علامہ امینی علیہ الرحمہ نے کتاب الغدیر میں تیس علمااہل سنت سے ( معہ منابع )اس روایت کو نقل کیا ہے، جن میں سے: سیرہ حلبی، فرائد السمطین حموینی، درر السمطین شیخ محمد زرندی، السراج المنیرشمس الدین شافعی، شرح جامع الصغیر سیوطی، تفسیر غریب القرآن حافظ ابوعبید ہروی، اور تفسیر شفاء الصدور ابو بکر نقّاش موصلی ، وغیرہ بھی ہیں۔(۱۳)

____________________

(۱) سورہ مائدہ ، آیت ۶۷

(۲)سورہ مائدہ ، آیت۳

۳) فخر رازی اس آیت کے ذیل میں تحریر کرتے ہیں: بہت سے علما(محدثین اور مورخین) نے لکھا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد پیغمبر اکرم (ص) صرف ۸۱ /دن یا ۸۲/ دن زندہ رہے، (تفسیر کبیر ، جلد ۱۱، صفحہ ۱۳۹) ، تفسیر المنار اور بعض دیگر کتابوں میں یہ بھی تحریر ہے کہ پورا سورہ مائدہ حجة الوداع کے موقع پر نازل ہوا ہے، (المنار ، جلد ۶ صفحہ ۱۱۶) البتہ بعض مولفین نے مذکورہ دنوں کی تعداد کم لکھی ہے۴)سورہ حجرات ، آیت ۱۰ (۵)سورہ توبہ ، آیت۷۳

(۶) مسند احمد ، جلد ۴، صفحہ ۲۸۱ ،(فضائل الخمسہ ، جلد اول، صفحہ ۴۳۲ کی نقل کے مطابق )

(۷) تاریخ بغداد ، جلد ۷، صفحہ ۲۹۰

(۸) بعض روایات میں ”حارث بن نعمان“ اور بعض روایات میں ”نضر بن حارث“ آیا ہے

(۹) مجمع البیان ، جلد ۹و۱۰، صفحہ ۳۵۲

(۱۰) تفسیر قرطبی ، جلد ۱۰، صفحہ ۶۷۵۷

(۱۱) تفسیر آلوسی، ، جلد ۲۹، صفحہ ۵۲

(۱۲) نور ا لابصار شبلنجی ، صفحہ ۷۱ کے نقل کے مطابق

(۱۳) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۱۸۱


۵۳ ۔ ولایت تکوینی اور تشریعی سے کیا مراد ہے؟

ہم جانتے ہیں کہ ولایت کی دو قسمیں ہیں:

۱ ۔ ولایت تکوینی۔

۲ ۔ ولایت تشریعی۔

ولایت تشریعی سے مراد وہی اسلامی اور قانونی حاکمیت اور سرپرستی ہے، جو کبھی محدود پیمانہ پر ہوتی ہے جیسے چھوٹے بچہ پر باپ اور داد کی ولایت، اور کبھی وسیع پیمانہ پر ہوتی ہے جیسے حکومت اور اسلامی ملک کے نظم و ضبط میں حاکم شرعی کی ولایت ۔

لیکن تکوینی ولایت سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص خدا کے حکم اور اس کی اجازت سے اس عالم خلقت اور اس کائنات میں تصرف کرے، اور اس دنیا کے اسباب و وسائل کے برخلاف کوئی عجیب واقعہ کردکھائے، مثلاً لاعلاج بیمار کو خدا کے اذن سے اور اس کی عطا کردہ طاقت سے شفا دیدے، یا مردوں کو زندہ کردے، یا اسی طرح کے دوسرے امور کو انجام دے، نیز کائنات اور انسانوں پر غیر معمولی معنوی تصرف کرے۔

”ولایت تکوینی“ کی چار صورتیں ہوسکتی ہیں جن میں سے بعض قابل قبول اور بعض نا قابل قبول ہیں:

۱ ۔ خلقت اور تخلیقِ کائنات میں ولایت :یعنی خداوندعالم اپنے کسی بندہ یا فرشتہ کو اتنی طاقت دیدے کہ دوسرے جہانوں کو پیدا کرے یا ان کو صفحہ ہستی سے مٹادے، تو یقینا یہ کوئی محال کام نہیں ہے، کیونکہ خداوندعالم ہر چیز پر قادر ہے،اور کسی کو بھی ایسی قدرت دے سکتا ہے، لیکن تمام قرآنی آیات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ نظام خلقت خداوندعالم کے ہاتھ میں ہے، چاہے وہ زمین و آسمان کی خلقت ہو یا جن و انس ، فرشتوں کی خلقت ہویا نباتات وحیوانات، پہاڑ ہوں یا دریا ،سب کے سب خدا کی قدرت سے پیدا ہوئے ہیں،کوئی بندہ یا فرشتہ، خلقت میں شریک نہیں ہے اسی وجہ سے تمام مقامات پر خلقت کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے، اور کسی بھی جگہ یہ نسبت (وسیع پیمانہ پر) غیر خدا کی طرف نہیں دی گئی ، اس بنا پر زمین و آسمان اور حیوان و انسان کا خالق صرف اور صرف خداہے۔

۲ ۔ ولایت تکوینی”فیض پہنچانے میںواسطہ“کے معنی میں، یعنی خداوندعالم کی طرف سے اپنے بندوں یا دوسری مخلوقات تک پہنچنے والی امداد، رحمت ، برکت اور قدرت انھیں اولیاء اللہ اور خاص بندوں کے ذریعہ حاصل ہو ئی ہے، جیسے شہر میں پانی پہنچانے والا ایک ہی اصلی پائپ ہوتا ہے یہ اصلی پائپ کے مرکز سے پانی لیتا ہے اور اس کو سب جگہ پہنچادیتا ہے، اس کو ”واسطہ در فیض“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

یہ معنی بھی عقلی لحاظ سے محال نہیں ہیں، جس کی مثال خود عالمِ صغیر یعنی انسان کا جسم ہے کیونکہ صرف دل کی شہ رگ ہی کے ذریعہ تمام رگوں تک خون پہنچتا ہے، تو پھر عالمِ کبیر (کائنات) میں بھی اس طرح ہونے میں کیا ممانعت ہے؟

لیکن اس کے اثبات کے لئے بے شک دلیل و برہان کی ضرورت ہے اور اگر ثابت بھی ہوجائے تو بھی خداوندعالم کے اذن سے ہے۔

۳ ۔ ولایت تکوینی ،معین حدود میں: جیسے مردوں کو زندہ کرنا یا لاعلاج بیماروں کو شفا دینا وغیرہ ۔

قرآن مجید میں اس ولایت کے نمونے بعض انبیاء علیہم السلام کے بارے میں ملتے ہیں، اور اسلامی روایات بھی اس پرشاہد اور گواہ ہیں،اس لحاظ سے ولایت تکوینی کی یہ قسم نہ صرف عقلی لحاظ سے ممکن ہے بلکہ بہت سے تاریخی شواہد بھی موجود ہیں۔

۴ ۔ ولایت بمعنی دعا، یعنی اپنی حاجتوں کو خدا کی بارگاہ میں پیش کرے اور اس سے طلب کرے کہ فلاں کام پورا ہوجائے، مثلاً پیغمبر اکرم (ص) یا امام معصوم دعا کریں اور خدا سے طلب کی ہوئی دعا قبول ہوجائے۔

ولایت کی اس قسم میں بھی کوئی عقلی اور نقلی مشکل نہیں ہے، قرآنی آیات، اور روایات میں اس طرح کے بہت سے نمونے موجود ہیں، بلکہ شاید ایک لحاظ سے اس قسم پر ولایت تکوینی کا اطلاق کرنا مشکل ہو کیونکہ دعا کا قبول کرنا خود خداوندعالم کا کام ہے ۔

بہت سی روایات میں ”اسم اعظم“ کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام یا بعض اولیاء اللہ (انبیاء اور ائمہ کے علاوہ) کے پاس اسم اعظم کا علم تھا جس کی بنا پر وہ عالم تکوین میں تصرفات کرتے تھے۔

اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ اسم اعظم کیا ہے، اس طرح کی روایات بھی ولایت تکوینی کی اسی قسم کی طرف اشارہ کرتی ہیں، اور مکمل طریقہ سے اس پر صادق آتی ہیں۔(۱)

____________________

(۱) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۱۶۱


۵۴ ۔ بیعت کی حقیقت کیا ہے؟ نیز انتخاب اور بیعت میں کیا فرق ہے؟

”حقیقت بیعت“ بیعت کرنے والے اور جس کی بیعت کی جارہی ہے دونوں کی طرف سے ایک معاہدہ ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ بیعت کرنے والا بیعت لینے والے کی اطاعت، پیروی ، حمایت اور دفاع کرے گا، اور اس میں ذکرشدہ شرائط کے لحاظ سے بیعت کے مختلف درجے ہیں۔

قرآن کریم اور احادیث ِنبوی کے پیشِ نظر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بیعت ، بیعت کرنے والے کی طرف سے ایک ”عقد لازم “(۱) ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا واجب ہوتا ہے، لہٰذا وہ قانونِ عام( اٴَوْفُوا بِالْعُقُودِ ) (سورہ مائدہ پہلی آیت ) کے تحت قرار پاتا ہے، اس بنا پر بیعت کرنے والا اس کو فسخ نہیں کرسکتا، لیکن صاحب بیعت اگر مصلحت دیکھے تو اپنی طرف سے بیعت اٹھا سکتا ہے اور اس کو فسخ کرسکتا ہے، اس صورت میں بیعت کرنے والا اطاعت اور پیروی سے آزاد ہوجاتا ہے۔( ۲)

(۱) اسلام میںدو طرح کے معاملات ہوتے ہیں ایک ایسا معاملہ جس کو فسخ کیا جاسکتا ہے، اس کو ”عقد جائز“ کہا جاتا ہے، اور دوسرا وہ جس کو فسخ نہیں کیا جاسکتا، اس کو ”عقد لازم“ کہا جاتا ہے (مترجم)

( ۲) ہم واقعہ کربلا میں پڑھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور ایک خطبہ دیا اور اپنے اصحاب اور ناصروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے اپنی بیعت کواٹھا لیا اور کہا :جہاں چاہو چلے جاو(،لیکن اصحاب نے وفاداری کا ثبوت پیش کیا) امام علیہ السلام نے فرمایا: ”فانطلِقُوا فی حل لیس علیکم منّي زمام (کامل ابن اثیر ، جلد ۴ ، صفحہ ۵۷)

بعض لوگوں نے بیعت کو ”انتخاب“ (اور الیکشن) کے مشابہ قرار دیا ہے حالانکہ انتخابات کا مسئلہ اس کے بالکل برعکس ہے یعنی انتخاب کے معنی یہ ہیں کہ انتخاب ہونے والے شخص کو ایک ذمہ داری اور عہدہ دیا جاتا ہے یا دوسرے الفاظ میں اس کو مختلف امور انجام دینے کے لئے وکیل بنایا جاتا ہے، اگرچہ انتخاب کرنے والے کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں (تمام وکالتوں کی طرح) جبکہ بیعت میں ایسا نہیں ہے۔

یا یوں کہئے کہ انتخاب کسی کو عہدہ یا منصب دینے کا نام ہے، جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ وکیل بنانے کی طرح ہے، جبکہ بیعت ”اطاعت کا عہد“ کرنے کا نام ہے۔

اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں بعض چیزوں میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوں، لیکن اس مشابہت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ دونوں ایک ہیں، لہٰذا بیعت کرنے والا بیعت کو فسخ نہیں کرسکتا، حالانکہ انتخابات کے سلسلہ میں ایسا ہوتا ہے کہ انتخاب کرنے والے اسے عہدہ سے معزول کرسکتے ہیں۔(۱)

اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی نبی یا امام کی مشروعیت میں بیعت کا کوئی کردار ہے یا نہیں؟ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام چونکہ خداوندعالم کی طرف سے منسوب ہوتے ہیں اور ان کو کسی بھی بیعت کی ضرورت نہیں ہوتی، یعنی خداوندعالم کی طرف سے منصوب نبی یا امام معصوم علیہم السلام کی اطاعت خدا کی طرف سے واجب ہوتی ہے، چاہے کسی نے بیعت کی ہو یا بیعت نہ کی ہو۔

دوسرے الفاظ میں: مقام نبوت اور امامت کا لازمہ ،اطاعت کا واجب ہوناہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُم ) (۲) ”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کروجو تمہیں میں سے ہیں“۔

لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس طرح ہے تو پھر پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے اصحاب یا نئے مسلمان ہونے والے افراد سے بیعت کیوںلی؟ جس کے دو نمونے تو خود قرآن مجید میں موجود ہیں، (بیعت رضوان ، جیسا کہ سورہ فتح ، آیت نمبر ۱۸ / میں اشارہ ملتا ہے، اور اہل مکہ سے بیعت لی جیسا کہ سورہ ممتحنہ میں اشارہ ہوا ہے)

اس سوال کے جواب میں ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ اس طرح کی بیعت ایک طرح سے وفاداری کے عہد و پیمان جیسی ہوتی ہے جو خاص مواقع پر انجام پاتی ہے، خصوصاً بعض سخت مقامات اور حوادث میں اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، تاکہ اس کی وجہ سے مختلف لوگوں میں ایک نئی روح پیدا ہوجائے۔

لیکن خلفاء کے سلسلہ میں لی جا نے والی بیعت کا مطلب ان کی خلافت کا قبول کرنا ہوتا تھا، اگرچہ ہمارے عقیدہ کے مطابق خلافت رسول (ص) کوئی ایسا منصب نہیں ہے کہ جس کو بیعت کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہو، بلکہ خلیفہ خداوندعالم کی طرف سے پیغمبر اکرم (ص) یا پہلے والے امام کے ذریعہ معین ہوتا ہے۔

اسی دلیل کی بنا پر جن لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام یا امام حسن علیہ السلام یا امام حسین علیہ السلام سے بیعت کی ہے وہ بھی وفاداری کے اعلان اور پیغمبر اکرم (ص) سے کی گئی بیعتوں کی طرح تھی۔ ۵۴ ۔ بیعت کی حقیقت کیا ہے؟ نیز انتخاب اور بیعت میں کیا فرق ہے؟

”حقیقت بیعت“ بیعت کرنے والے اور جس کی بیعت کی جارہی ہے دونوں کی طرف سے ایک معاہدہ ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ بیعت کرنے والا بیعت لینے والے کی اطاعت، پیروی ، حمایت اور دفاع کرے گا، اور اس میں ذکرشدہ شرائط کے لحاظ سے بیعت کے مختلف درجے ہیں۔

قرآن کریم اور احادیث ِنبوی کے پیشِ نظر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بیعت ، بیعت کرنے والے کی طرف سے ایک ”عقد لازم “(۱) ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا واجب ہوتا ہے، لہٰذا وہ قانونِ عام( اٴَوْفُوا بِالْعُقُودِ ) (سورہ مائدہ پہلی آیت ) کے تحت قرار پاتا ہے، اس بنا پر بیعت کرنے والا اس کو فسخ نہیں کرسکتا، لیکن صاحب بیعت اگر مصلحت دیکھے تو اپنی طرف سے بیعت اٹھا سکتا ہے اور اس کو فسخ کرسکتا ہے، اس صورت میں بیعت کرنے والا اطاعت اور پیروی سے آزاد ہوجاتا ہے۔(۳)

(۱) اسلام میںدو طرح کے معاملات ہوتے ہیں ایک ایسا معاملہ جس کو فسخ کیا جاسکتا ہے، اس کو ”عقد جائز“ کہا جاتا ہے، اور دوسرا وہ جس کو فسخ نہیں کیا جاسکتا، اس کو ”عقد لازم“ کہا جاتا ہے (مترجم)

( ۲) ہم واقعہ کربلا میں پڑھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور ایک خطبہ دیا اور اپنے اصحاب اور ناصروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے اپنی بیعت کواٹھا لیا اور کہا :جہاں چاہو چلے جاو(،لیکن اصحاب نے وفاداری کا ثبوت پیش کیا) امام علیہ السلام نے فرمایا: ”فانطلِقُوا فی حل لیس علیکم منّي زمام (کامل ابن اثیر ، جلد ۴ ، صفحہ ۵۷)

بعض لوگوں نے بیعت کو ”انتخاب“ (اور الیکشن) کے مشابہ قرار دیا ہے حالانکہ انتخابات کا مسئلہ اس کے بالکل برعکس ہے یعنی انتخاب کے معنی یہ ہیں کہ انتخاب ہونے والے شخص کو ایک ذمہ داری اور عہدہ دیا جاتا ہے یا دوسرے الفاظ میں اس کو مختلف امور انجام دینے کے لئے وکیل بنایا جاتا ہے، اگرچہ انتخاب کرنے والے کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں (تمام وکالتوں کی طرح) جبکہ بیعت میں ایسا نہیں ہے۔

یا یوں کہئے کہ انتخاب کسی کو عہدہ یا منصب دینے کا نام ہے، جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ وکیل بنانے کی طرح ہے، جبکہ بیعت ”اطاعت کا عہد“ کرنے کا نام ہے۔

اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں بعض چیزوں میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوں، لیکن اس مشابہت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ دونوں ایک ہیں، لہٰذا بیعت کرنے والا بیعت کو فسخ نہیں کرسکتا، حالانکہ انتخابات کے سلسلہ میں ایسا ہوتا ہے کہ انتخاب کرنے والے اسے عہدہ سے معزول کرسکتے ہیں۔(۱)

اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی نبی یا امام کی مشروعیت میں بیعت کا کوئی کردار ہے یا نہیں؟ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام چونکہ خداوندعالم کی طرف سے منسوب ہوتے ہیں اور ان کو کسی بھی بیعت کی ضرورت نہیں ہوتی، یعنی خداوندعالم کی طرف سے منصوب نبی یا امام معصوم علیہم السلام کی اطاعت خدا کی طرف سے واجب ہوتی ہے، چاہے کسی نے بیعت کی ہو یا بیعت نہ کی ہو۔

دوسرے الفاظ میں: مقام نبوت اور امامت کا لازمہ ،اطاعت کا واجب ہوناہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُم ) (۴) ”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کروجو تمہیں میں سے ہیں“۔

لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس طرح ہے تو پھر پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے اصحاب یا نئے مسلمان ہونے والے افراد سے بیعت کیوںلی؟ جس کے دو نمونے تو خود قرآن مجید میں موجود ہیں، (بیعت رضوان ، جیسا کہ سورہ فتح ، آیت نمبر ۱۸ / میں اشارہ ملتا ہے، اور اہل مکہ سے بیعت لی جیسا کہ سورہ ممتحنہ میں اشارہ ہوا ہے)

اس سوال کے جواب میں ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ اس طرح کی بیعت ایک طرح سے وفاداری کے عہد و پیمان جیسی ہوتی ہے جو خاص مواقع پر انجام پاتی ہے، خصوصاً بعض سخت مقامات اور حوادث میں اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، تاکہ اس کی وجہ سے مختلف لوگوں میں ایک نئی روح پیدا ہوجائے۔

لیکن خلفاء کے سلسلہ میں لی جا نے والی بیعت کا مطلب ان کی خلافت کا قبول کرنا ہوتا تھا، اگرچہ ہمارے عقیدہ کے مطابق خلافت رسول (ص) کوئی ایسا منصب نہیں ہے کہ جس کو بیعت کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہو، بلکہ خلیفہ خداوندعالم کی طرف سے پیغمبر اکرم (ص) یا پہلے والے امام کے ذریعہ معین ہوتا ہے۔

اسی دلیل کی بنا پر جن لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام یا امام حسن علیہ السلام یا امام حسین علیہ السلام سے بیعت کی ہے وہ بھی وفاداری کے اعلان اور پیغمبر اکرم (ص) سے کی گئی بیعتوں کی طرح تھی۔

نہج البلاغہ کے بعض کلمات سے اچھی طرح یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیعت صرف ایک بار ہوتی ہے، اس میں تجدید نظر نہیں کی جاسکتی، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

”لِاٴَنّها بیعةٌ وَاحِدةٌ، لا یُثنٰی فِیهَا النَّظر ولا یستاٴنفُ فِیهَا الخَیَار، الخَارجُ منهَا طَاعِن ،والمرويّ فِیهَا مَداهِن!(۵)

” چونکہ یہ بیعت ایک مرتبہ ہوتی ہے جس کے بعد نہ کسی کو نظرِ ثانی کا حق ہوتا ہے اور نہ دوبارہ اختیار کرنے کا ، اس سے باہر نکل جانے والا اسلامی نظام پر معترض شمار کیا جاتا ہے اور اس میں غور وفکرکرنے والا منافق کہا جاتا ہے“۔

امام علیہ السلام کے کلام سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام نے ان لوگوں کے مقابلہ میں جو پیغمبر اکرم (ص) کی طرف سے منصوصخلافت کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے اور بہانہ بازی کیا کرتے تھے ،بیعت کے مسئلہ سے ( جو خود ان کے نزدیک مسلّم تھا) استدلال کیا ہے، تاکہ امام علیہ السلام کی نافرمانی نہ کریں، اور معاویہ یا اس جیسے دوسرے لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جس طرح (بیعت کے ذریعہ) تم تینوں خلفا کی خلافت کے قائل ہو تو اسی طرح میری خلافت کے بھی قائل رہو، اور میرے سامنے تسلیم ہوجاؤ،(بلکہ میری خلافت تو ان سے زیادہ حق رکھتی ہے کیونکہ میری بیعت وسیع پیمانے پر ہوئی ہے اور تمام ہی لوگوں کی رغبت و رضاسے ہوئی ہے۔)

اس بنا پر حضرت علی علیہ السلام کا بیعت کے ذریعہ استدلال کرنا خدا و رسول کی طرف سے منصوب ہونے کے منافی نہیں ہے۔

اسی وجہ سے امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں حدیث ثقلین کی طرف اشارہ فرماتے ہیں(۶) جو آپ کی امامت پر بہترین دلیل ہے، اور دوسری جگہ وصیت اور وراثت کے مسئلہ کی طرف اشارہ فرماتے ہیں،(۷) (غور کیجئے )

ضمناً ان روایات سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے کہ اگر کسی سے زبردستی بیعت لی جائے یا لوگوں سے غفلت کی حالت میں بیعت لی جائے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ غور و فکر کے بعد اپنے اختیار و آزادی سے کی جانے والی بیعت کی اہمیت ہوتی ہے، (غور کیجئے

اس نکتہ پر توجہ کرنا ضروری ہے کہ ولی فقیہ کی نیابت ایک ایسا مقام ہے جو ائمہ معصوم علیہم السلام کی طرف سے معین ہوتا ہے، اس میں کسی بھی طرح کی بیعت کی ضرورت نہیں ہوتی، البتہ ”ولی فقیہ“ کی اطاعت و پیروی سے استحکام آتا ہے تاکہ اس مقام سے استفادہ کرتے ہوئے دینی خدمات انجام دے سکے، لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ یہ عہدہ لوگوں کی پیروی اور اطاعت کرنے پر موقوف ہے، اس کے علاوہ لوگوں کا پیروی کرنا بیعت کے مسئلہ سے الگ ہے بلکہ ولایت فقیہ کے سلسلہ میں حکم الٰہی پر عمل کرنا ہے۔ (غور کیجئے )(۸)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۷۱

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۷۱

(۴) سورہ نساء ، آیت ۵۹

(۵) نہج البلاغہ ، مکتوب نمبر۷، صفحہ۴۸۹

(۶) نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ۲

(۷) نہج البلاغہ ، خطبہ نمبر۷۸

(۸) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۷۲


۵۵ ۔ کیا دس سالہ بچہ کا اسلام قابل قبول ہے؟

یہ ایک مشہور و معروف سوال ہے جو قدیم زمانہ سے بہا نہ باز لو گوں کے درمیان ہوتا آرہا ہے اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ ٹھیک ہے حضرت علی علیہ السلام نے سب سے پہلے اظہار اسلام کیا، لیکن اس دس سالہ اور نابالغ بچہ کا اسلام قابل قبول ہے یا نہیں؟ اور اگرآپ کے بلوغ کو معیار قرار دیں تو دوسرے بہت سے لوگ اس وقت اسلام یا مسلمان ہو چکے تھے ۔

یہاں ”مامون عباسی“ اور اس کے زمانہ کے ایک مشہور و معروف سنی عالم دین ”اسحاق“ کی گفتگو کا بیان کرنا مناسب ہے، (اس واقعہ کو ”ابن عبدربّہ“ نے اپنی کتاب ”عقد الفرید“ میں تحریر کیا ہے)

مامون نے اس سے کہا: پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت میں سب سے افضل کونسا عمل ہے؟

اسحاق نے کہا: خدا کی توحید اور پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت کی گواہی میں اخلاص سے کام لینا۔

مامون نے کہا: کیا تم کسی ایسے شخص کو پہچانتے ہو جو حضرت علی علیہ السلام سے پہلے مسلمان ہوا ہو؟

اسحاق نے کہا: علی اس وقت اسلام لائے جب وہ کم سن اور نابالغ تھے، اور شرعی ذمہ داریاں بھی ان پر نافذ نہیں ہوئی تھیں۔

مامون نے کہا: حضرت علی علیہ السلام کا اسلام پیغمبر اکرم (ص) کی دعوت کی بنا پر تھا یا نہیں؟ اور پیغمبر اکرم (ص) نے ان کے اسلام کو قبول کیا یا نہیں؟ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کسی ایسے شخص کو اسلام کی دعوت دیں جس کا اسلام قابل قبول نہ ہو!

یہ سن کر اسحاق لاجواب ہوگیا۔(۱)

مرحوم علامہ امینی علیہ الرحمہ ”عقد الفرید“ سے واقعہ کو نقل کرنے کے بعد مزید فرماتے ہیں: ابوجعفراسکافی معتزلی (متوفی ۲۴۰ ئھ) اپنے رسالہ میں لکھتے ہیں کہ سب مسلمان اس بات کو جانتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھے، پیغمبر اکرم (ص) پیر کے روز مبعوث برسالت ہوئے اور حضرت علی علیہ السلام نے منگل کے روز اظہار اسلام فرمایا، اور آپ فرماتے تھے کہ میں نے دوسروں سے سات سال پہلے نماز پڑھی ہے، اور ہمیشہ فرماتے تھے کہ ”میں اسلام لانے والوں میں سب سے پہلا شخص ہوں“اور یہ ہر مشہور بات سے زیادہ مشہور ہے، ہم نے گزشتہ زمانہ میں کسی کو نہیں دیکھا جو آپ کے اسلام کو کم اہمیت قرار دے، یا یہ کہے کہ حضرت علی اس وقت اسلام لائے جب آپ کم سن تھے، عجیب بات تو یہ ہے کہ ”عباس“ اور ”حمزہ“ جیسے افراد اسلام قبول کرنے میں ”جناب ابوطالب‘‘ کے عکس العمل کے منتظر تھے ، لیکن فرزند ابوطالب (حضرت علی علیہ السلام) نے اپنے پدر بزرگوار کے اسلام کا انتظار نہ کیا اور فوراً ہی اظہار ایمان کردیا۔( ۲)

خلاصہ گفتگو یہ ہے : پہلی بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کا اسلام قبول کیا ، لہٰذا اگر

کوئی شخص اس کم سنی میں حضرت کے اسلام کو قبول نہ کرے تو گویا وہ پیغمبر اکرم (ص) پر اعتراض کرتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ دعوت ذوالعشیرہ کی مشہور و معروف روایات میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے کھانا تیار کرایا اورقریش میں سے اپنے رشتہ داروں کی دعوت کی اور ان کو اسلام کا پیغام سنایا، فرمایا: جو شخص سب سے پہلے اسلام کے پیغام میں میری نصرت و مدد کرے گا وہ میرا بھائی، وصی اور جانشین ہوگا، اس موقع پر حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے علاوہ کسی نے رسول اسلام کی دعوت پر لبیک نہیں کہی، آپ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! میں آپ کی نصرت و مدد کروں گا، اور آپ کے ہاتھوں پر بیعت کرتا ہوں، اس موقع پر پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: یا علی! تم میرے بھائی، میرے وصی اور میرے جانشین ہو۔

کیا کوئی اس بات پر یقین کرسکتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ایک نابالغ شخص کو (جس کے لئے لوگ کہتے ہیں کہ ان کا اسلام قابل قبول نہیں ہے) اپنا بھائی ، وصی اور جانشین قرار دیں اور دوسروں کو ان کی اطاعت کی دعوت دیں ! یہاں تک کہ مشرکین ِمکہ ابو طالب کا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے کہیں کہ تم اب اپنے بیٹے کی اطاعت کرنا بے شک، اسلام قبول کرنے کے لئے بالغ ہوناشرط نہیں ہے، ہر وہ نوجوان جو صاحب عقل وشعور ہواگراسلام کو قبول کرے اور بالفرض اس کا باپ بھی مسلمان نہ ہو تو وہ اپنے باپ سے جدا ہوکر مسلمانوں میں شامل ہوجائے گا۔

تیسری بات یہ ہے کہ قرآن مجید سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حتی نبوت کے لئے بھی ”بلوغ“ کی شرط نہیں ہے اور بعض انبیاء کو یہ مقام بچپن میں ہی مل گیا تھا، جیسا کہ جناب یحيٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:( وَآتَیْنَاهُ الْحُکْمَ صَبِیًّا ) (۳) ’اور ہم نے انھیں بچپنے ہی میں نبوت عطا کردی’“۔

اور جناب عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں بھی ملتا ہے کہ انھوں نے پیدائش کے بعد ہی واضح الفاظ میں کہا:( قَالَ إِنِّی عَبْدُ اللهِ آتَانِی الْکِتَابَ وَجَعَلَنِی نَبِیًّا ) (۴) ” (جناب) عیسیٰ نے آواز دی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے“۔

ان دلیلوں میں سب سے بہترین دلیل یہی ہے کہ خود پیغمبر اسلام (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے اسلام کو قبول کیا اور دعوت ذوالعشیرہ میں یہ اعلان کیا کہ علی علیہ السلام میرے بھائی، میرے وصی اور میرے جانشین ہیں۔

بہر حال وہ روایت جس میں بیان ہوا کہ حضرت علی علیہ السلام سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں ہیں، یہ حدیث حضرت علی علیہ السلام کے لئے ایک ایسی عظیم فضیلت بیان کرتی ہے جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے ، اسی دلیل کی بنا پر حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اکرم (ص) کی جانشینی کے لئے امت میں سب سے زیادہ حقدار اور مناسب شخص ہیں۔(۵)

____________________

عقد الفرید ، جلد ۳، صفحہ ۴۳ (تلخیص کے ساتھ)(۱)

(۲) الغدیر ، جلد ۳، صفحہ ۲۳۷

(۳) سورہ مریم ، آیت ۱۲۳

۴) سورہ مریم آیت۳۰

(۵) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۳۵۵


۵۶ ۔ امام حسن نے زہر آلود کوزہ سے پانی کیوں پی لیا اور امام رضا نے زہر آلود انگور کیوں تناول فرمایا؟

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے ائمہ معصومین علیہم السلام خداوندعالم کی طرف سے علم غیب جانتے ہیں۔

لیکن یہ علم کیسا ہے، اور اس کی وسعت اور حدود کہاں تک ہے، یہ مسئلہ بہت پیچیدہ مسائل میں سے ہے جو اس طرح کی بحث و گفتگو میں دکھائی دیتا ہے، اس سلسلہ میں روایات بھی مختلف ہیں اور علماکے درمیان بھی اختلاف پایا جاتا ہے، درج ذیل مسئلہ انھیں بنیادی اور قابل توجہ احتمالات میں سے ہے:

ائمہ علیہم السلام تمام چیزوں کو”بالقوة“ جانتے ہیں نہ کہ ”بالفعل“ یعنی غیب کی باتوں کو جاننے کے لئے جب بھی ارادہ کریں تو خداوندعالم ان پر الہام فرمادیتا ہے، یا ان کے پاس ایسے قواعد اور اصول ہیں جن کے ذریعہ وہ ایک نیا باب کھول لیتے ہیں اور اسرار غیب سے آگاہ ہوجاتے ہیں، یا ان کے پیش نظر ایسی کتابیں ہیں کہ جب وہ ان پر نظر فرماتے ہیں تو اسرار غیب سے باخبر ہوجاتے ہیں، یا یہ کہ جب بھی خداوندعالم ارادہ فرمائے تو انھیں اسرارِ غیب سے باخبر کردیتا ہے، اور جب خداوندعالم اپنے ارادہ سے صرف نظر کرلیتا ہے تو وقتی طور پر یہ علوم مخفی ہوجاتے ہیں۔

اس بات (پہلی صورت) پر شاہد وہ روایات ہیں جن میں بیان ہوا ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام جب کسی چیز کے سلسلہ میں جاننا چاہتے تھے تو ان کو معلوم ہوجاتا تھا، شیخ کلینی علیہ الرحمہ نے اس سلسلہ میں مستقل طور پر ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ”اِن الائمة اذا شاوا یعلموا علموا(۱) ہے ”جب ائمہ جاننا چاہتے ہیں تو جان لیتے ہیں“۔

اس بیان سے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کے سلسلہ میں متعددمشکلوں کو بھی حل کیا جاسکتا ہے، جیسے یہ کہ امام حسن نے زہر آلود کوزہ سے پانی کیوں پی لیا اور امام رضا نے زہر آلود انگور کیوں تناول کرلیا؟ کیوں فلاں نااہل شخص کو قضاوت یا گورنری کے لئے انتخاب کیا، یا جناب یعقوب علیہ السلام اس قدر کیوں پریشان ہوئے؟ جبکہ ان کے فرزند ارجمند (جناب یوسف علیہ السلام) بلند مقامات کو طے کررہے تھے، اور آخر کار فراق کی گھڑیاں وصال میں تبدیل ہوگئیں، اور اسی طرح دوسرے سوالات حل ہوجاتے ہیں۔ ان تمام موارد میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ جاننا چاہتے تو جان سکتے تھے، لیکن یہ حضرات خود اس بات کو جانتے تھے کہ خداوندعالم کی طرف سے امتحان یا دوسرے مقاصد کے تحت ان کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ آگاہی پیدا کریں۔

ایک مثال کے ذریعہ اس مسئلہ کو واضح کیا جاسکتا ہےکہ کوئی شخص کسی دوسرے کو ایک خط دے تاکہ فلاں شخص تک پہنچادے، جس میں بہت سے افراد کا نام یا ان کا عہدہ لکھا ہوا ہے، تو یہاں بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ خط کے مضمون سے آگاہ نہیں ہے، لیکن کبھی صاحب خط کی طرف سے خط پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے اس صورت میں وہ خط کے مضمون سے آگاہ ہوسکتا ہے اور کبھی کبھی خط کے کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی تو اسے خط کا مضمون معلوم نہیں ہو تا۔(۲)

____________________

(۱) اصول کافی ، جلد اول، صفحہ ۲۵۸ ،(اس باب میں تین روایتیں اسی مضمون کی نقل ہوئی ہیں)، مرحوم علامہ مجلسی نے بھی مرآة العقول ، جلد ۳، صفحہ ۱۱۸، میں ان احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے

(۲) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۲۴۹


۵۷ ۔ فلسفہ انتظار کیا ہے؟

حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کا انتظار اسلامی تعلیمات میں کسی دوسرے دین سے نہیں آیا بلکہ قطعی ترین مباحث میں سے ہے، جو خود پیغمبر اکرم (ص) کی زبان سے بیان ہوا ہے، اور تقریباً اسلام کے تمام فرقے اس سلسلہ میں اتفاق نظر رکھتے ہیں، نیز اس سلسلہ میں احادیث بھی متوا تر ہیں۔

اب ہم اس انتظار کے نتائج اور اسلامی معاشروں کی موجودہ حالت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں کہ کیا اس طرح کے ظہور کا انتظار انسان کو اس منزل فکر تک لے جاتا ہے کہ وہ اپنی حالت کو بھول جاتا ہے اور ہر طرح کے شرائط کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے؟

یا یہ کہ در اصل یہ عقیدہ انسان کو اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کی دعوت دیتا ہے؟

کیا یہ عقیدہ انسان کے اندر تحرک ایجاد کرتا ہے یا اس میں انجماد پیدا کردیتا ہے۔اور کیا یہ عقیدہ اانسان کی ذمہ داری میں مزید اضافہ کرتا ہے یا ذمہ داریوں سے آزاد کردیتا ہے؟

کیا یہ عقیدہ انسان کو خواب غفلت کی دعوت دیتا ہے یا انسانیت کو بیدار کرتا ہے؟

لیکن ان سوالات کی تحقیق اور وضاحت سے پہلے اس نکتہ پر توجہ کرنا بہت ضروری ہے کہ اگر بلند ترین مفاہیم اور اصلاح کے بہترین قوانین کسی نااہل یا ناجائز فائدہ اٹھانے والے کے ہاتھوں میں پہنچ جائے تو ممکن ہے کہ وہ ان سے غلط فائدہ اٹھائے یا ان کے بالکل برعکس مقاصد تک پہنچائے، جیسا کہ اس سلسلہ میں ہمیں بہت سے نمونے ملتے ہیں، ”انتظار“ کا مسئلہ بھی اسی طرح ہے جیسا کہ ہم بعد میں بیان کریں گے۔

بہر حال اس طرح کی گفتگو میں ہر طرح کی غلط فہمی سے بچنے کے لئے پانی کو اس کے سرچشمہ سے لیا جائے تاکہ نہروں اور راستوں کی گندگی اس میں اثر نہ کر سکے، یعنی ہمیں ”انتظار“ کے مسئلہ میں اصلی اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرنا اور ”انتظار“ کے سلسلہ میں بیان ہونے والی مختلف روایات کو غور و فکر سے پڑھنا چا ہئے تاکہ ان کے اصلی مقصد سے آگاہی حاصل ہو سکے ۔

محترم قارئین ! اب یہاں پر بیان ہونے والی چند روایات پر غور کیجئے:

۱ ۔ کسی شخص نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام کی ولایت کا اقرار کرتا ہو اور ”حکومت حق“ کے ظہور کا انتظار کرتا ہو، اور اسی حال میں اس دنیا سے چل بسے؟

امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا: ”هُوَ بِمَنزلةِ مَن کَانَ مَعَ القَائِمِ فِي فِسطاطُهُ ثُمَّ سَکَتَ هَنِیّئة ثُمَّ قَالَ هُوَ کَمَنْ کَانَ مَعَ رَسُولِ الله !“(۱)

”وہ اس شخص کی مانند ہے جو حضرت کے ساتھ ان کی رکاب ( محاذ) پر حاضر ہوا ہو، (اس کے بعد حضرت تھوڑی دیر خاموش ر ہے) اور فرمایا: وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے پیغمبر اکرم (ص) کی رکاب میں جہاد کیا ہو“۔ بالکل یہی مضمون دوسری بہت سی روایات میں بھی بیان ہوا ہے۔

(۸) محاسن برقی ،بحار الانوار کے نقل کے مطابق طبع قدیم ، جلد ۱۳، صفحہ ۱۳۶

۲ ۔ بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ ”بِمنزلةِ الضَّارِبِ بِسَیْفِہِ فِي سَبِیْلِ الله“یعنی راہ خدا میں تلوار چلانے والے کی مانند ہے۔

۳ ۔ بعض دوسری روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ ”کَمَنْ قَارعَ مَعَ رسُولِ الله بِسَیْفہ“یعنی اس شخص کی مانند ہے جس نے پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ دشمن کے سر پر تلوار چلائی ہو۔

۴ ۔ بعض روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ ”بِمَنْزِلَةِ مَنْ کَانَ قَاعِداً تَحْتَ لَوَاءِ القَائِمِ“ یعنی اس شخص کی مانند ہے جو حضرت قائم (عج) کے پرچم کے نیچے ہو۔

۵ ۔ اور دوسری روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ ”بِمَنْزِلَةِ المُجَاھدِ بَین یَدي رَسُولِ الله‘ِ‘ یعنی اس مجاہد جیسا ہے جس نے پیغمبر اکرم (ص) کے حضور میں جہاد کیا ہو۔

۶ ۔ بعض دیگر رویات میں بیان ہوا ہے کہ ”بِمَنْزِلَةِ مَن إسْتَشْہَدَ مَعَ رَسُولِ الله“ اس شخص کی مانند ہے جو پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ شہید ہوا ہو۔

حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے انتظار کے سلسلہ میں ان چھ روایات میں یہ سات طرح کی شباہتیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ مسئلہ انتظار ایک طرف اور دوسری طرف دشمن ِ (اسلام) سے جہاد اور اس سے مقابلہ میں ایک خاص رابطہ پایا جاتا ہے۔ (غور کیجئے )

۷ ۔ بہت سی روایات میں اس طرح کی حکومت کے انتظار کے ثواب کو سب سے بڑی عبادت کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) اور حضرت علی علیہ السلام سے منقول بعض احادیث میں یہ مضمون ملتا ہے ، درج ذیل حدیث پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا:

”اٴَفْضلُ اٴعْمَالِ اُمَّتِی إنْتِظَارِ الفَرَجِ مِنَ الله عَزَّوَجَلَّ“ (۹)

(۹) کافی میں بحار سے نقل کیا ہے ، جلد ۱۳، صفحہ ۱۳۷۹

”میری امت کا سب سے بہترین عمل ”انتظار فرج“ (کشادگی)ہے“۔

پیغمبر اکرم (ص) سے ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے: ”افضلُ العبادةِ إنتظار الفَرج“(۱) یعنی انتظار فرج بہترین عبادت ہے۔

اس حدیث میں انتظار فرج کے معنی چا ہے عام اور وسیع لیں یا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کے انتظار کے معنی لیں انتظار کے مسئلہ کی اہمیت واضح اور روشن ہوجاتی ہے۔

یہ تمام الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اس طرح کے انقلاب کا انتظار کرنا ہمیشہ وسیع پیمانہ پر جہاد کاتصور لئے ہوئے ہے، ہم یہاں پہلے انتظار کا مفہوم اور پھر اس کے تمام نتائج پیش کریں گے۔

مفہوم انتظار

”انتظار “عام طور پر اس حالت کو کہا جاتا ہے کہ جس میں انسان پریشان ہو اور اس سے بہتر حالت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

مثال کے طور پر ایک بیمار اپنی شفاکا انتظار کرتا ہے، یا کوئی باپ اپنے بیٹے کی واپسی کا انتظار کرتا ہے، جس سے دونوں پریشان ہیں اور بہتر حالت کے لئے کوشش کرتے ہیں۔

اور جیسے کوئی تاجر بازار کی ناگفتہ بہ حالت سے پریشان ہو اور وہ اقتصادی بحران کے خاتمہ کا انتظار کرتا ہے ، لہٰذا اس میں یہ دو حالتیں پائی جاتی ہیں:

۱ ۔ اپنی موجودہ حالت سے پریشانی۔

۲ ۔ حالت بہتر بنانے کے لئے کوشش۔

اس بنا پر امام مہدی (عج) کی حکومت عدالت اور آنحضرت کے قیام کا انتظار دو عنصر سے(۱) کافی میں بحار سے نقل کیا ہے ، جلد ۱۳ ، صفحہ ۱۳۶۹ مرکب ہے: عنصر ”نفی“ اور عنصر ”اثبات“ عنصر نفی یعنی موجودہ حالت سے غمگین اور پریشان رہنا، اور عنصر اثبات یعنی حالات بہتر ہونے کے لئے سعی و کوشش کرنا ۔

اگر یہ دونوں پہلو اس کی روح میں جڑ کی طرح ثابت ہوجائیں تو پھر اس کے اعمال میں قابل توجہ تبدیلی پیدا ہوجائے گی۔

اور انسان ظلم و ستم، فتنہ و فساد اور برائی کرنے والوں کی کسی بھی طرح کی اعانت اور ہم آہنگی سے پرہیز کرے گا ،اپنے نفس کی اصلاح کرے گاتاکہ جسمی اور روحانی، مادی اور معنوی لحاظ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے لئے تیار ہوجائے۔

اگر ہم مزید غور و فکر کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ یہ دونوں چیزیں انسان کی اصلاح اور اس کی بیداری کے لئے بہت مفید ہیں۔

(قارئین کرام!) اب اگر ”انتظار“ کے اصلی مفہوم کے پیش نظر مذکورہ روایات دیکھیں تو ان میں بیان ہونے والا ثواب صاف سمجھ میں آتا ہے، اور ہم سمجھ جاتے ہیں کہ ایک حقیقی انتظار کرنے والے کا مرتبہ اتنا کیوں بلند ہے جیسا کہ وہ خود حضرت امام زمانہ (عج) کے پرچم کے نیچے ہو یا جس نے راہ خدا میں جہاد کیا ہو یا اپنے خون میں نہایا یا شہید ہوگیا ہو۔

کیا یہ سب راہ خدا میں جہاد کے درجات کے مختلف مراحل نہیں ہیں جو انتظار کرنے والوں کے لحاظ سے پائے جاتے ہیں۔

یعنی جس طرح سے راہ خدا میں جہاد کرنے والوں میں قربانی کا جذبہ مختلف ہوتا ہے اور ان میں ادب و اخلاق نیز آمادگی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ، اگرچہ یہ دونوں ”مقدمات“ اور ”نتیجہ“ کے لحاظ سے مشابہ ہو تے ہیں، کیونکہ دونوں جہاد ہیں اور دونوں میں اصلاح نفس اور آمادگی کی ضرورت ہوتی ہے،لہٰذا ایسی عالمی حکومت کے فوجی کو بے خبر وغافل نہیں ہو نا چا ہئے ایسے لشکر میںہر کس و نا کس شامل نہیں ہو سکتا؟

اسی طرح جو شخص اسلحہ لئے ہوئے ہے اور اس رہبرانقلاب کے دشمنوں سے جنگ کررہا ہے، اور صلح و عدالت کی حکومت کے دشمنوں سے مقابلہ کررہا ہے، تو اس کے لئے وسیع پیمانہ پر روحی ، فکری اور جنگی تیاری کی ضرورت ہے۔

ظہور امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے انتظار کے واقعی اثر سے مزید آگاہی کے لئے درج ذیل مطلب پر توجہ فرمائیں:

انتظار یعنی مکمل آمادگی میں اگر ظالم و ستمگر ہوں تو پھر کسی ایسی حکومت کا انتظار کرنا کیسے ممکن ہے جس کی تلوار ظالم و جابرلوگوں کے سر پر چمکے گی۔

میں اگر گناہوں سے آلودہ اور ناپاک ہوں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ کسی ایسے انقلاب کا انتظار کروں جس کا پہلا شعلہ گناہوں سے آلودہ لوگوں کو جلاکر راکھ کردے گا۔

عظیم الشان جہاد کے لئے آما دہ فوج کے افراد ہمیشہ اپنی طاقت و قوت بڑھاتے رہتے ہیں، اور ان میں انقلابی روح پھونکتے رہتے ہیں اور ہر طرح کے ضعف اور کمزوری کو دور کرتے رہتے ہیں۔

کیونکہ ”انتظار“ ہمیشہ اسی لحاظ سے ہوتا ہے کہ جس چیز کا انسان انتظار کر رہاہے۔

ایک مسافر کے سفر سے واپسی کا انتظار۔

ایک بہت ہی عزیز دوست کے پلٹنے کا انتظار۔

پھلوں کے پکنے کی فصل کا انتظار یا فصل کاٹنے کے وقت کا انتظار ۔

لیکن ہر انتظار میں ایک طرح کی آمادگی ضروری ہو تی ہے، ایک انتظار میں مہمان نوازی کا سامان فراہم کیا جائے، دوسرے میں بعض دوسرے وسائل جیسے لگّی اور درانتی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اب آپ غور کیجئے کہ جو لوگ ایک عالمی عظیم الشان اصلاح کرنے والے کا انتظار کرتے ہیں، وہ لوگ در اصل ایک بہت بڑے انقلاب کا انتظار کرتے ہیں جو تاریخ بشریت کا سب سے بڑا انقلاب ہوگا۔

یہ انقلاب گزشتہ انقلابات کے برخلاف کوئی علاقائی انقلاب نہ ہوگا بلکہ ایک عام انقلاب ہوگا جس میں انسانوں کے تمام پہلوؤںپر نظر ہوگی اور یہ انقلاب سیاسی، ثقافتی، اقتصادی اور اخلاقی ہوگا۔

پہلا فلسفہ۔

اصلاح نفس

اس طرح کے انقلاب کے لئے ہر دوسری چیز سے پہلے مکمل طور پر آمادگی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس طرح کی اصلاحات کے بھاری بوجھ کو اپنے شانوں پر اٹھاسکے، اس چیز کے لئے سب سے پہلے علم واندیشہ ،روحانی فکر اور آمادگی کی سطح کو بلند کیا جاتا ہے تاکہ اس کے اہداف و مقاصد تک پہنچا جاسکے، تنگ نظری، کج فکری، حسد، بچکانا اختلافات، بیہودہ چیزیں اور عام طور پر ہر طرح کا نفاق اور اختلاف”سچے منتظرین“ کی شان میں نہیں ہے۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حقیقی طور پر انتظار کرنے والا شخص ایک تماشا ئی کا کردار ادا نہیں کرسکتا، بلکہ سچا منتظر وہ ہے جو ابھی سے انقلابیوں کی صف میں آجائے۔

اس انقلاب کے نتائج پر ایمان رکھنا ہرگز اس کو مخالفوں کی صفوں میں رہنے کی اجازت نہیں دیتا اور موافقین کی صف میں آنے کے لئے ”نیک اعمال، پاک روح، شجاعت و بہادری اور علم و دانش“ کی ضرورت ہے۔

میں اگر گنہگار اور فاسد ہوں تو پھر کس طرح اس حکومت کا انتظار کروں جس میں نااہل اور گنہگاروں کا کوئی کردار نہ ہوگا، بلکہ ان کو قبول نہ کیا جائے گا اور ان کو سزا دی جائے گی۔

کیا یہ انتظار انسان کی فکر و روح اور جسم و جان سے آلودگی کو دور کرنے کے لئے کافی نہیں ہے؟!

جو فوج آزادی بخش جہاد کا انتظار کررہی ہو اور بالکل تیار ہو، تو اس کے لئے ایسے اسلحہ کی ضرورت ہوتی ہے جو اس جہاد کے لئے مناسب اور کارگر ہو، اسی لحاظ سے مورچہ بنائے، اور لشکرکے ساز و سامان میں اضافہ کرے۔

لشکر کا حوصلہ بلند کرے اور ہر فوجی کے دل میں مقابلہ کے شوق و رغبت کو بڑھائے ، اگر فوج میں اس طرح کی آمادگی نہیں ہے تو وہ منتظر نہیں ہے اور اگر فوج آمادگی کا دعویٰ کرتی ہے تو جھوٹی ہے۔

ایک عالمی مصلح کے انتظار کے معنی یہ ہیں کہ انسان معاشرہ کی اصلاح کے لئے مکمل طور پر فکری، اخلاقی اور مادی و معنوی لحاظ سے تیار رہے، اس وقت سوچیں کہ اس طرح کی یہ آمادگی اور تیاری کس طرح انسان ساز اور اصلاح کناں ہوگی۔

پوری دنیا کی اصلاح کرنا اور ظلم و ستم کا خاتمہ کرنا کوئی مذاق کام نہیں ہے، یہ عظیم مقصد ایک آسان کام نہیں ہوسکتا، ایسے عظیم مقصد کے لئے اسی لحاظ سے تیاری بھی ہونی چاہئے۔

ایسا انقلاب لانے کے لئے بہت ہی عظیم انسان، مصمم، بہت بہادر، غیر معمولی طور پر طیب و طاہر، بلند فکر اور گہری نظرکے ساتھ مکمل طور پر آمادگی رکھنے والا ہونا چاہئے۔

ایسے مقصد کے لئے اپنی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ فکری، اخلاقی اور اجتماعی طور پر ایک بہترین منصوبہ بندی کی جائے ، اور حقیقی انتظار کا یہی مطلب ہے، کیا پھر بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ایسا انتظار اصلاح کرنے والا نہیں ہے؟!

دوسرا فلسفہ : معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرنا

صحیح طور پر انتظار کرنے والے افراد کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ صرف اپنی اصلاح کرلی جا ئے، اور بس، بلکہ دوسروں کی حالت بھی دیکھنی ہوگی، اپنی اصلاح کے علاوہ دوسروں کی اصلاح کے لئے کوشش کرنا ہوگی،کیونکہ جس عظیم انقلاب کا انتظار کررہے ہیں وہ ایک انفرادی منصوبہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں تمام پہلووں سے انقلاب آنا ہے، جس کے لئے پورے معاشرہ کے لئے کام کرنا ہوگا، سب کی سعی و کوشش میں ہم آہنگی ہو، اس انقلاب کے لئے کوشش اسی عظیم الشان پیمانہ پر ہو جس کا ہم انتظار کررہے ہیں۔

ایک مقابلہ کرنے والے لشکر میں کوئی بھی ایک دوسرے سے غافل نہیں ہوسکتا، بلکہ ہر فو جی کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ جہاں بھی کمی دیکھے تو فوراً اس کی اصلاح کرے ، جس جگہ سے نقصان کا احتمال پایا جاتا ہو اس کا سدّ باب کرے اور ہر طرح کے ضعف و ناتوانی کو تقویت پہچائے، کیونکہ بہترین کارکردگی اور تمام لشکر میں یکسو ئی اور ہم آہنگی کے بغیر یہ عظیم منصوبہ عملی کرنا ممکن نہیں ہے۔

لہٰذا حقیقی منتظرین پر اپنی اصلاح کے علاوہ دوسروں کی اصلاح کرنے کی بھی ذمہ داری عائدہوتی ہے۔

فلسفہ انتظار کا ایک دوسرا ثمرہ یہ ہے کہ انسان اپنی اصلاح کے علاوہ دوسروں کی اصلاح کے لئے بھی کوشش کرے جس پر مذکورہ روایات میں اس قدر ثواب کا وعدہ دیا گیا ہے۔

تیسرا فلسفہ: حقیقی منتظرین برے ماحول میں رنگے نہیں جاتے

حضرت امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)کے انتظار کا ایک اہم فلسفہ یہ ہے کہ انسان ،گناہوں اور بُرے ماحول میں گم نہ ہونے پائے، اور اپنے کو گناہوں اور آلودگیوں سے محفوظ رکھے۔

وضاحت: یعنی جب ظلم و ستم اور گناہوں کا بازار گرم ہو، اکثر لوگ گناہوں اور برائیوں میں پھنسے ہوئے ہوں، تو ایسے ماحول میں نیک کردار افراد (بھی) فکری بحران کا شکار ہوجاتے ہیں ، اور ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ وہ عوام الناس کی اصلاح سے مایوس ہوجاتے ہیں۔

کیونکہ کبھی کبھی ایسے افراد یہ سوچتے ہیں کہ اب تو کام ختم ہوچکا ہے اور اصلاح کا کوئی راستہ ہی باقی نہیں رہ گیا ہے، اور اپنے کو پاک و پاکیزہ رکھنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے، چنانچہ یہی نا امیدی اور مایوسی ان کو آہستہ آہستہ گناہوں اور برائیوں کی طرف کھینچتی ہے اور ان پر ماحول کا اثر ہونے لگتا ہے، وہ آلودہ اکثریت کے مقابلہ میں صحیح و سالم اقلیت کے عنوان سے اپنے کو محفوظ نہیں کرپاتے، اورماحول کے رنگ کو نہ اپنانے کو ایک ذلت و رسوائی سمجھتے ہیں!

ایسے موقع پر فقط ایک ہی چیز ان کے لئے ”امید کی کرن“ ہوتی ہے اور پرہیزگاری کی دعوت دیتی ہے، نیز ان کو برے ماحول سے محفوظ رہنے کی دعوت دیتی ہے اور وہ آخری صورت میں اصلاح کی امید ہے ، صرف اسی صورت میں انسان اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے سعی و کوشش سے ہاتھ نہیں روکتا۔

اگر ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات میں گناہوں کی بخشش سے مایوسی کو گناہ کبیرہ شمار کیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ بعض لوگ تعجب کریں کہ کیوں رحمت خدا سے مایوسی کو اس قدر عظیم اور اہم شمار کیا گیا ہے، یہاں تک کہ بہت سے گناہوں سے بھی اہم قرار دیا گیا ہے تو در اصل اس کا فلسفہ یہی ہے کہ رحمت خدا سے مایوس گنہگار ہرگز اپنی اصلاح کی فکر نہیں کرتا، یا کم از کم وہ اپنے گناہوں میں مزید اضافہ کرنے سے نہیںرکتا، اس کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اب تو پانی سر سے گزر گیا ہے چاہے ایک بالشت ہو یا سو بالشت؟! میں تو بدنام زمانہ ہوگیا ہوں اب مجھے دنیا کا کوئی غم نہیں ہے!! سیاہی سے زیادہ تو کوئی رنگ نہیں ہے، آخر کار جہنم ہے، جہنم تو میں نے خرید ہی لیا ہے اب اور کسی چیز کا ڈر کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ لیکن جب اس کے لئے امید کی کرن پھوٹتی ہے، رحمت پروردگار کی امید، موجودہ حالت کے بدلنے کی امید ، تو پھر اس کی زندگی میں ایک نیا رخ آجاتا ہے ، اوریہ امید اس کو گناہوں کے راستہ پر چلنے سے روک دیتی ہے اور اسے اپنی اصلاح ، توبہ اور پاکیزگی کی دعوت دیتی ہے۔

اسی وجہ سےبرے لوگوں کے لئے ”امید کی کرن“ کوایک تربیتی سبب شمار کیا جاتا ہے، اسی طرح نیک اور صالح افراد جو بُرے ماحول میں پھنسے رہتے ہیں وہ بھی بغیر امید کے اپنی اصلاح نہیں کرسکتے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایسے اصلاح کرنے والے کے ظہور کے انتظار کی بنا پر دنیا جتنی زیادہ فاسد ہوتی جارہی ہے امام زمانہ کے ظہور کی امید بھی زیادہ ہوتی جارہی ہے، اور انتظار کرنے والوں کے لئے موثر ہے، جو ماحول کی تیز آندھیوں کے مقابل محفوظ کردیتی ہے، یہ لوگ نہ صرف یہ کہ معاشرے میں ظلم و فساد اور برے ماحول سے نا امید نہیں ہوتے بلکہ جس طرح وعدہ وصال جب نزدیک ہوجاتا ہے تو آتش عشق مزید بھڑک جاتی ہے اسی طرح جب انسان اپنے مقاصد کو نزدیک دیکھتا ہے تو اصلاح معاشرہ نیز ظلم و فساد سے مقابلہ کے لئے کوشش میں مزید عشق پیدا ہوجاتا ہے۔

(قارئین کرام!) ہماری گزشتہ بحث و گفتگو سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ انتظار کا غلط اثر اسی صورت میں ہوتا ہے جب اس کو مسخ کردیا جائے، یا اس میں تحریف کردی جائے جیسا کہ بعض مخالفین نے اس میں تحریف کی ہے اور موافقین نے اس کو مسخ کردیا ہے، لیکن اگر واقعی طور پر معاشرہ اور خود انسان میں انتظارِ ظہور کا صحیح مفہوم پیدا ہوجائے تو یہ اصلاح، تربیت اور امید کا بہترین سبب ہے۔

اس موضوع کے واضح کرنے کے لئے بہترین دلیل درج ذیل آیہ شریفہ ہے ،ارشاد خداوندی ہے:

( وَعَدَ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُم فِی الْاٴَرْضِ ) (۱)

”اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین پر اسی طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے“۔

اس آیہ شریفہ کے ذیل میں معصومین علیہم السلام سے نقل ہوا ہے کہ اس سے مراد ”هُوَ القَائِمُ وَاٴصحابِه“ ”قائم آل محمد اور آپ کے اصحاب وانصار ہیں“۔)

ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ”نَزَلَتْ فِي المَهْدِیّ علیه السّلام ) یہ آیہ شریفہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

اس آیت میں حضرت امام مہدی (عج) اور آپ کے اصحاب ”الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ “ کے عنوان سے یاد کئے گئے ہیں، لہٰذا یہ عالمی انقلاب، مستحکم ایمان ( جس میں کسی طرح کا ضعف اور کمزوری نہ پائی جاتی ہو، ) اور اعمال صالح (جس سے دنیا بھر کی اصلاح کا راستہ کھل جاتا ہو) کے بغیر ممکن نہیں ہے، اور جو لوگ اس انقلاب کے انتظار میں ہیں ان کو چاہئے کہ اپنے علم و ایمان کی سطح کو بھی بڑھائیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کے لئے بھی کوشش کرتے رہیں۔صرف اسی طرح کے افراد اپنے کو اس حکومت کی بشارت دے سکتے ہیں ، نہ کہ ظلم و ستم کی مدد کرنے والے! اور نہ ہی وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح سے دور ہیں۔

اور نہ ہی وہ بزدل انسان جوایمان کی کمزوری کی وجہ سے اپنے سایہ سے بھی ڈرتے ہیں۔

اور نہ ہی سست ،کاہل اور ناکارہ انسان جو فقط ہاتھ پر ہاتھ رکھے معاشرہ میں پھیلنے والے گناہ و فساد پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، اور معاشرہ میں موجودہ برائیوں کو ختم کرنے کے لئے ایک قدم بھی اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اسلامی معاشرہ میں حضرت امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور کے انتظار کا یہی فلسفہ ہے۔(۲)

____________________

(۱)سورہ نور ، آیت ۵۵

(۲) بحار الانوار ،قدیم ، جلد ۱۳،صفحہ ۱۴


۵۸۔ قیامت کے عقلی دلائل کیا ہیں؟

قرآن مجید میں قیامت کے سلسلہ میں سیکڑوں آیات بیان ہوئی ہیں، ان کے علاوہ قیامت کے بارے میں بہت سے عقلی دلائل بھی موجود ہیں ہم ان میں سے بعض کو خلاصہ کے طور پر بیان کرتے ہیں:

الف ۔ برہانِ حکمت: اگر قیامت کے بغیر اس زندگی کا تصور کریں تو بے معنی اور فضول دکھائی دیتی ہے، بالکل اسی طرح کہ شکم مادر میں بچہ کو اس دنیاوی زندگی کے بغیر تصور کریں۔

اگر قانون خلقت یہ ہوتا کہ بچہ شکم مادر میں پیدا ہوتے ہی مرجایا کرتا تو پھر تصور کریں کہ کسی ماں کاحاملہ ہونا کتنا بے مفہوم تھا؟ اسی طرح اگر قیامت کے بغیر اس دنیا کا تصور کریں تو یہی پریشانی دکھائی دے گی۔

کیونکہ کیا ضرورت ہے کہ ہم کم و بیش ۷۰/ سال تک اس دنیا کی سختیوں کو برداشت کریں؟ اور ایک مدت تک بے تجربہ رہیں، ”و تا پختہ شود خامی ،عمر تمام است!“ یعنی جب تک انسان تجربات حاصل کرتا ہے تو عمر تمام ہوجاتی ہے!

ایک مدت تک تحصیل علم و دانش کرتے رہیں ، اور جب معلومات کے لحاظ سے کسی مقام پر پہنچ جائیں تو موت ہماری طرف دوڑنے لگے۔

اس کے علاوہ ہم کس چیز کے لئے زندگی کریں؟ چند لقمہ کھانا کھانا، چند جوڑے لباس پہننا، سونا اور بیدار ہونا، دسیوں سال تک ہر روز یہی تھکادینے والے کام انجام دینا؟!

یہ عظیم الشان آسمان، وسیع و عریض زمین، اور ان میں پائی جانے والی تمام چیزیں، یہ اساتید، مربیّ، یہ بڑے بڑے کتب خانے اور ہماری اور دوسری موجودات کی خلقت میں یہ باریک بینی، اورظرافتکیا واقعاً یہ سب کچھ کھانے پینے، پہننے اور مادی زندگی بسر کرنے کے لئے ہیں؟

اس سوال کی بنا پر معاد اور قیامت کا انکار کرنے والے اس زندگی کے ہیچ ہونے کا اقرار کرتے ہیں، اور ان میں سے بعض لوگ اس بے معنی زندگی سے نجات پانے کے لئے خود کشی کو اپنے لئے افتخار سمجھتے ہیں!

کیسے ممکن ہے کہ جو شخص خداوندعالم اور اس کی بے نہایت حکمت پر ایمان رکھتا ہولیکن اس دنیا کو عالم آخرت کے لئے مقدمہ شمار نہ کرے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( اٴَفَحَسِبْتُمْ اٴَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَاٴَنَّکُمْ إِلَیْنَا لاَتُرْجَعُونَ ) (۱)

”کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم نے تمہیں بےکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹا کر نہیں لائے جاؤ گے“۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر عالم آخرت نہ ہو تو اس دنیا کا خلق کرنا فضول تھا۔

جی ہاں! یہ دنیوی زندگی اسی صورت میں با معنی اور حکمت خداوندی سے ہم آہنگ ہوتی ہے کہ جب اس دنیا کو عالم آخرت کی کھیتی قرار دیں ”الدُّنْیَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ “،یا اس کوعالم ِآخرت کے لئے پل قراردیں” الدنیاقنطرة“ یا اس عالم کے لئے یونیورسٹی اور تجارت خانہ تصور کریں ، جیسا کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے عظیم کلام میں فرماتے ہیں:

”یاد رکھو کہ دنیا باور کرنے والے کے لئے سچائی کا گھر ہے، سمجھ دار کے لئے امن و عافیت کی منزل ہے، اور نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے نصیحت کا مقام ہے، یہ دوستان خدا کے سجود کی منزل اور آسمان کے فرشتوں کا مصلیٰ ہے، یہیںوحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور یہیں اولیاء خدا آخرت کا سودا کرتے ہیں، رحمت الٰہی حاصل کرلیتے ہیں اور جنت کو فائدہ میں لے لیتے ہیں“۔(۲)

خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ اس جہان کے حالات کا مطالعہ اور تحقیق کے بعدیہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد ایک دوسراجہان بھی موجود ہے:( وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ النَّشْاٴَةَ الْاٴُولَی فَلَوْلاَ تَذکَّرُونَ ) (۳) ”اور تم پہلی خلقت کو تو جانتے ہو تو پھر اس میں غور کیوں نہیں کرتے ہو“۔

ب۔ برہانِ عدالت: اس کائنات اور قوانین خلقت میں غور و فکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تمام چیزیں حساب و کتاب سے ہیں۔

خود ہمارے بدن میں ایک ایسا عادلانہ نظام حاکم ہے کہ اگر ذرا بھی تبدیلی یا نامناسب تغیر پیدا ہوجائے تو بیماری یا موت کا سبب ہوجاتا ہے، ہمارے دل کی دھڑکنیں، خون کی روانی، آنکھوں کے پردے، ہمارے اعظائے بدن کے تمام خلیے( Cells ) اور اجزا اسی دقیق نظام کی طرح ہیں جس کی حکومت پورے جہان پرہے، ”وَبِالعَدْلِ قَامَتِ السَّمٰوَاتِ وَالاٴرْضِ(۵) ”عدل ہی کے ذریعہ زمین و آسمان باقی ہیں“،کیا انسان اس وسیع و عریض کائنات میں ایک ناموزوں پیوند ہوسکتا ہے؟!

یہ بات صحیح ہے کہ خداوندعالم نے انسان کو آزادی ، ارادہ اور اختیار دیا ہے تاکہ اس کا امتحان

لے سکے،اور جس کے زیر سایہ وہ کمال کی منزلوں کو طے کرسکے، لیکن اگر انسان آزادی سے ناجائز فائدہ اٹھائے تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے؟ اگر ظالم و ستم گر ، گمراہ اور گمراہ کرنے والے ان خداداد نعمتوں سے ناجائز فائدہ اٹھائیں تو خداوندعالم کی عدالت کا تقاضا کیا ہے؟

یہ ٹھیک ہے کہ بعض ظالم اور مجرم لوگو ں کو اس دنیا میں سزا مل جاتی ہے اور وہ اپنے کیفر کردار تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن مسلم طور پر ایسا نہیں ہے کہ تمام مجرموں کو پوری سزا مل جاتی ہو، یا تمام نیک اور پاک افراد کو اپنے اعمال کی جزا اسی دنیا میں مل جاتی ہو، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں گروہ ،عدالت خدا کی میزان میں برابر قرار پائیں؟ قرآن مجید کے فرمان کے مطابق ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا، ارشاد ہوتا ہے:

( اٴَ فَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِینَ کَالْمُجْرِمِینَ مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ ) (۶)

”کیا ہم اطاعت گزاروں کو مجرموں جیسا بنادیں؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے کیسا فیصلہ کررہے ہو“۔

نیز ارشاد ہوتا ہے:( اٴَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِینَ کَالْفُجَّارِ ) (۷) (کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر قرار دےدیں؟)

بہر حال اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خداوندعالم کے احکام کی اطاعت کرنے والوں کے لحاظ سے انسانوں میں فرق ہے، جس طرح سے ”مکافات جہان“، ”محکمہ وجدان “، اور ”گناہوں کا عکس العمل“ نامی عدالتیں اس دنیا میں عدالت برقرار کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں ، لہٰذا یہ بات ماننا پڑے گی کہ عدالت الٰہی نافذ ہونے کے لئے خداوندعالم کی طرف سے ایک عام عدالت

(میزان) قائم ہو، جس میں نیک اور برے لوگوں کے سوئی کی نوک کے برابر اعمال کا بھی حساب کتاب کیا جائے، ورنہ عدالت خداوندی پر حرف آتا ہے، اس بنا پر قبول کرنا چاہئے کہ اگر ہم خداوندعالم کی عدالت کو مانتے ہیں تو پھر روز قیامت پر بھی ایمان رکھیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ بِالْقِسْطِ لِیَوْمِ الْقِیَامَةِ ) (۷) ”‘اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو قائم کریں گے۔“

نیز ارشاد ہوتا ہے:( وَقُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَیُظْلَمُونَ ) (۸) ”لیکن ان کے درمیان حساب کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ کیا جائے گا“۔

ج۔ برہانِ ہدف: مادہ پرستوں کے نظریہ کے برخلاف الٰہی تصورِ کائنات کے مطابق انسان کی خلقت میں ایک ہدف اور مقصد کار فرما ہے جسے فلسفی اصطلاح میں ”تکامل و ارتقا“ کہتے ہیں اور قرآن و حدیث کی زبان میں کبھی ”قربِ خداوندی “ اور کبھی ”عبادت و بندگی“ سے تعبیر کیا جاتا ہے، جیسا کہ ارشاد خداوندمتعال ہے:( وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِ ) (۹) ”اور ہم نے جنات اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے“۔ اگر ان تمام کی انتہا ”موت“ ہو تو کیا یہ مقصد پورا ہوسکتا ہے؟! بے شک اس سوال کا جواب منفی ہے، تو پھر اس زندگی کے بعد دوسری زندگی ہونا چاہئے جہاں ”کمال“ کی منزلیں طے ہوتی رہیں، اور اس کھیتی کی فصل کٹتی رہے، اور جیسا کہ ہم نے ایک موقع پر عرض کیا ہے کہ اس زندگی میں بھی آخری مقصد تک پہنچنے کے لئے یہ تکاملی راستہ طے ہوتا رہے گا

خلاصہ یہ کہ یہ مقصد قیامت پر ایمان کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا، اور اگر اس دنیا کا تعلق عالم آخرت سے ختم ہوجائے تو سب چیزیں معمہ بن کر رہ جائیں گی اور ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا جاسکے گا۔(۱۰)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۷، صفحہ ۳۷۸

(۲) سورہ مومنون ، آیت ۱۱۵

(۳) نہج البلاغہ ،کلمات قصار کلمہ ۱۳۱

(۴)سورہ واقعہ ، آیت ۶۲

(۵) تفسیر صافی ،سورہ رحمن کی ساتویں آیت کے ذیل میں

(۶)سورہ قلم ، آیت ۳۵و۳۶

(۷)سورہ ص ، آیت ۲۸

(۸)سورہ انبیاء ، آیت ۴۷ (۹)سورہ یونس ، آیت ۵۴

(۱۰) سورہ ذاریات ، آیت ۵۶ (۱۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۸، صفحہ ۴۷۹


۵۹ ۔ معاد؛ جسمانی ہے یا روحانی؟

معادِ جسمانی سے مراد یہ نہیں ہے کہ روز قیامت صرف جسم دوبارہ لوٹایا جائے گا، بلکہ مراد یہ ہے کہ روح اور جسم دونوں حاضر کئے جائیں گے، یا دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ روح کا پلٹنا تو مسلم ہے صرف جسم کے بارے میں اختلاف اور بحث ہے۔

بعض گزشتہ فلاسفہ ”معاد روحانی“ پر عقیدہ رکھتے تھے ، اور جسم کو ایسی سواری مانتے تھے جو صرف اس دنیا میں انسان کے ساتھ ہے، اور انسان مرنے کے بعد اس جسم سے بے نیاز ہوجاتا ہے، جسم کو ترک کردیتا ہے اور ”عالم ارواح“ کی طرف کوچ کرجاتا ہے۔

لیکن عظیم علمائے اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ معاد؛ روحانی اور جسمانی دونوں پہلووں کے ساتھ ہوگی، اگر چہ بعض حضرات اس دنیوی جسم کے قائل نہیں ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ خداوندعالم ہماری روح کو ایک جسم عطا کرے گا، کیونکہ انسان کی حقیقت اس کی روح ہوتی ہے اور یہ عطا کردہ جسم اس کا جسم شمار کیا جائے گا!

جبکہ صاحبان تحقیق کا عقیدہ یہ ہے کہ یہی جسم جو خاک میں مل کر ذرہ ذرہ ہوگیا، حکم خدا سے اس جسم کے تمام ذرات جمع ہوجائیں گے اور اس کو ایک نئی زندگی کا لباس پہنایا جائے گا، اور یہی وہ عقیدہ ہے جو قرآن مجید کی آیات سے حاصل کیا گیا ہے۔

معاد جسمانی پر قرآن مجید میں اس قدر شواہد موجود ہیں کہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے: جو افراد صرف ”معاد روحانی“ کے قائل ہوئے ہیں انھوں نے قرآن مجید کی اکثر آیات میں ذرا بھی غور و فکر نہیں کیا ہے ورنہ معاد جسمانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں اتنی زیادہ آیات موجود ہیں کہ شک و شبہ کی ذرا بھی گنجائش نہیں رہتی۔

سورہ یٰس کی آخری آیات اس حقیقت کو مکمل طور پر واضح کردیتی ہیں کیونکہ اس اعرابی شخص کو تعجب اسی بات پر تھا کہ میرے ہاتھ میں موجود اس گلی ہوئی ہڈی کو کون دوبارہ زندہ کرسکتا ہے؟

قرآن مجید نے اس کے جواب میں واضح طور یہ اعلان کیا:( قُلْ یُحْیِیهَا الَّذِی اٴَنشَاٴَهَا اٴَوَّلَ مَرَّةٍ ) (۱)

آپ کہہ دیجئے کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی زندہ بھی کرے گا“۔

معاد کے سلسلہ میں تمام مشرکین کو اس بات پر تعجب تھا کہ جب ہم خاک ہوجائیں گے اور ہمارے ذرات بھی ادھر اُدھرخاک میں پھیل جائیں گے تو پھر ہمیں کس طرح دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے؟!! جیسا کہ انھیں کی زبانی قرآن مجید نے نقل کیا ہے:( وَقَالُوا ءِ ا ذَا ضَلَلْنَا فِی الْاٴَرْضِ ءَ اِنَّا لَفِی خَلْقٍ جَدِیدٍ ) (۲)

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم زمین میں گم ہوگئے تو کیا نئی خلقت میں پھر ظاہر کئے جائیں گے!!“۔

یہ لوگ کہتے تھے:( اٴَیَعِدُکُمْ اٴَنَّکُمْ إِذَا مِتُّمْ وَکُنتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا اٴَنَّکُمْ مُخْرَجُونَ ) (۳)

” کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور خاک اور ہڈی ہوجاؤگے تو پھر دوبارہ نکالے جاؤگے“۔

کفار و مشرکین روز قیامت کے سلسلہ میں اس قدر تعجب کرتے تھے کہ اس مسئلہ کے قائل (پیغمبر اکرم (ص)) کو مجنون یا خدا پر بہتان باند ھنے والا سمجھتے تھے، جیسا کہ قرآن میں انھیں لوگوں کی زبانی نقل ہواہے:( وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا هَلْ نَدُلُّکُمْ عَلَی رَجُلٍ یُنَبِّئُکُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّکُمْ لَفِی خَلْقٍ جَدِیدٍ ) (۴)

ور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کا کہنا ہے کہ ہم تمہیں ایسے آدمی کا پتہ بتائیں جو یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم مرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہوجاؤ گے تو تمہیں نئے بھیس میں لایا جائے گا“، اسی دلیل کی وجہ سے ”معاد کے سلسلہ میں قرآنی دلائل“ اسی ”معاد جسمانی“ پرزور دیتے ہیں، اس کے علاوہ قرآن مجید نے بارہا اس بات کی یاد دہانی کرائی ہے کہ تم لوگ روز قیامت اپنی قبروں سے نکلو گے، (سورہ یٰس، آیت نمبر ۵ ، سورہ قمر ، آیت نمبر ۷)” قبریں “ اسی معاد جسمانی سے تعلق رکھتی ہیں۔

قرآن مجید میں جنت کے بہت سے معنوی اور مادی صفات بیان کئے گئے ہیں، جو سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جسم کو بھی حاضر کیا جائے اور روح کو بھی، ورنہ نعمتوں کے ساتھ ساتھ حور و غلمان ، قصر و محل، بہشتی غذائیں اور مادی لذتیں کیا معنی رکھتی ہیں؟!

بہر حال یہ بات ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی قرآن مجید کی منطق اور ثقافت سے تھوڑی بہت آشنائی رکھتا ہو اور معادِ جسمانی کا انکار کرے، یا دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ قرآنی نظریہ کے لحاظ سے معادِ جسمانی کا انکار خود اصل معاد کے انکار کے برابر ہے! اس سلسلہ میں قرآن و حدیث میں بیان شدہ دلائل کے علاوہ خود عقلی دلائل بھی موجود ہیں کہ اگر ان کو بیان کرنا چاہیں تو بحث طولانی ہوجائے گی، البتہ ہم یہاں پرمعاد جسمانی کے سلسلہ میں ہونے والے سوالات اور اعتراضات کو بیان کرتے ہیں جیسے ”شبہ آکل و ماکول “وغیرہ جن کو اسلامی محققین نے بیان کیا ہے۔(۵)

____________________

(۱) سورہ یٰس ، آیت ۷۹

(۲)سورہ الم سجدہ ، آیت ۱۰

(۳)سورہ مومنون ، آیت ۳۵

(۴) سورہ سباء ، آیت ۷ (۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۸، صفحہ ۴۸۷


۶۰ ۔ شبہ آکل و ماکول کیا ہے؟

ہت سے مفسرین اور مورخین نے درج ذیل آیت کے ذیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ لکھا ہے:

( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ رَبِّ اٴَرِنِی کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتَی ) (۱)

” اور اس موقع کو یاد کرو جب ابراہیم نے التجا کی کہ پروردگار! مجھے یہ دکھادے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے“۔

ایک دن حضرت ابراہیم دریا کے کنارے سے گزر رہے تھے،آپ نے دریا کے کنارے ایک مردار دیکھا، جس کا کچھ حصہ دریا کے اندر اور کچھ باہر تھا، دریا اور خشکی کے جانور دونوں طرف سے کھارہے تھے، بلکہ کھاتے کھاتے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے، اس منظر نے حضرت ابراہیم کو ایک ایسے مسئلہ کی فکر میں ڈال دیا جس کی کیفیت کو سب ہی تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں اور وہ ہے موت کے بعد مردوں کا زندہ ہونے کی کیفیت، جناب ابراہیم سوچنے لگے کہ اگر ایسا ہی انسانی جسم کے ساتھ ہو اور انسان کا بدن جانوروں کے بدن کا جز بن جائے تو اس کو قیامت میں کیسے اٹھایا جائے گا، جبکہ وہاں انسان کو اسی بدن کے ساتھ اٹھنا ہے!

حضرت ابراہیم نے کہا: پروردگارا! مجھے دکھا کہ تو مردوں کوکیسے زندہ کرے گا؟ خداوندعالم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر ایمان نہیں رکھتے، انھوں نے کہا: ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ دل کو تسلی ہوجائے۔

خداوندعالم نے حکم دیا کہ چار پرندے لے لو اور ان کو ذبح کرکے ان کا گوشت ایک دوسرے سے ملادو پھر اس سارے گوشت کے کئی حصہ کردو ہر حصہ ایک پہاڑ پر رکھ دو،اس کے بعد ان پرندوں کو پکارو تاکہ میدان حشر کا منظر دیکھ سکو، انھوں نے ایسا ہی کیا تو انتہائی حیرت کے ساتھ دیکھا کہ پرندوں کے اجزا مختلف مقامات سے جمع ہوکر ان کے پاس آگئے اور ان کی ایک نئی زندگی کا آغاز ہوگیا۔

شبہ آکل و ماکول

مردوں کے زندہ ہونے کے منظر کا مشاہدہ کرنے کا تقاضا حضرت ابراہیم نے جس وجہ سے کیا تھا اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تقاضا زیادہ تر اس وجہ سے تھا کہ ایک جانور کا بدن دوسرے جانوروں کے بدن کا جز بننے کے بعد وہ اپنی اصلی صورت میں کیسے پلٹ سکتا ہے، علم عقائد میں اسی بحث کو ”شبہ آکل و ماکول “ کہا جاتا ہے۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ قیامت میں خدا انسان کو اسی مادی جسم کے ساتھ پلٹائے گا اصطلاحی الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ جسم اور روح دونوں پلٹ آئیں گے۔

اس صورت میں یہ اشکال پیش آتا ہے کہ اگر ایک انسان کا بدن خاک ہوجائے اور درختوں کی جڑوں کے ذریعہ کسی سبزی یا پھل کا جز بن جائے تو پھر کوئی دوسرا انسان اسے کھالے اور اب یہ اس کے بدن کا جز بن جائے ،یا مثال کے طور پر قحط سالی میں ایک دوسرے انسان کا گوشت کھالے تو میدان حشر میں کھائے ہوئے اجزا ان دونوں میں سے کس بدن کے جز بنیں گے، اگر پہلے بدن کا جزبنیں تو دوسرا بدن ناقص اور دوسرے کا بنیں تو پہلا ناقص رہ جائے گا۔

(جواب)

فلاسفہ اور علم عقائد کے علمانے اس قدیم اعتراض کے مختلف جوابات دئے ہیں یہاں پر سب کے بارے میں گفتگو کرنا ضروری نہیں ہے، بعض علماایسے بھی ہیں جو قابل اطمینان جواب نہیں دے سکے اس لئے انھیں معادِ جسمانی سے متعلق آیات کی توجیہ و تاویل کرنا پڑی اور انھوں نے انسان کی شخصیت کو روح اور روحانی صفات میں منحصر کردیا، حالانکہ انسانی شخصیت صرف روح پر منحصر نہیں ہے اور نہ ہی معاد جسمانی سے متعلق آیات ایسی ہیں کہ ان کی تاویل کی جاسکے، بلکہ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ وہ کاملاً صریح آیات ہیں۔

بعض لوگ ایک ایسی معاد کے بھی قائل ہیں جو ظاہراً جسمانی ہے لیکن معاد روحانی سے اس کا کوئی خاص فرق بھی نہیں ہے۔

ہم یہاں قرآن کی آیات کے ذریعہ ایک ایسا واضح راستہ اختیار کریں گے جو دورِ حاضر کے علوم کی نظر میں بھی صحیح ہے البتہ اس کی وضاحت کے لئے چند پہلووں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

۱ ۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانی بدن کے اجزا بچپن سے لے کر موت تک بارہا بدلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ دماغ کے خلیے اگرچہ تعداد کے لحاظ سے کم یا زیادہ نہیں ہوتے پھر بھی اجزا کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں کیونکہ ایک طرف سے وہ غذا حاصل کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کی تحلیل ہوتی رہتی ہے اور وقت کے ساتھ ایک مکمل تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ دس سال سے کم عرصے میں انسانی بدن کے گزشتہ ذرات میں سے کچھ باقی نہیں رہ جاتا، لیکن توجہ رہے کہ پہلے ذرات جب موت کی وادی کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو اپنے تمام خواص اور آثار نئے اور تازہ خلیوں کے سپرد کرجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انسانی جسم کے تمام خصوصیات رنگ، شکل اور قیافہ سے لے کر دیگر جسمانی کیفیات تک زمانہ گزرنے کے باوجود اپنی جگہ قائم رہتی ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ پرانے صفات نئے خلیوں میں منتقل ہوجاتے ہیں(غور کیجئے)

اس بنا پر ہر انسان کے بدن کے آخری اجزا جو موت کے بعد خاک میں تبدیل ہوجاتے ہیں وہ سب ان صفات کے حامل ہوتے ہیں جو اس نے پوری عمر میں کسب کئے ہیں اور یہ صفات انسانی جسم کی تمام عمر کی سرگزشت کی بولتی ہوئی تاریخ ہوتی ہیں۔

۲ ۔یہ صحیح ہے کہ انسانی شخصیت کی بنیاد روح سے ہوتی ہے لیکن توجہ رہنا چاہئے کہ روح کی پرورش جسم کے ساتھ ہوتی ہے اور جسم کے ساتھ ہی روح تکامل و ارتقا کی منزل طے کرتی ہے اور دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، اسی لئے ایک جیسے دو جسم تمام جہات سے ایک دوسرے سے شباہت نہیں رکھتے، دو روحیں بھی تمام پہلووں سے ایک دوسرے سے مشابہ نہیں ہوتی ہیں۔

اسی بنا پر کوئی روح اس جسم کی مکمل اور وسیع مفاہمت اور کارکردگی کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی جس کے ساتھ اس نے پرورش پائی ہو اور تکامل و ارتقاء حاصل کیا ہو لہٰذا ضروری ہے کہ قیامت میں وہی سابق جسم لوٹ آئے، تاکہ اس سے وابستہ ہوکر روح عالی ترین مرحلے میں نئے سرے سے اپنی فعالیت کا آغاز کرے اور اپنے انجام دئے ہوئے اعمال کے نتائج سے فیضیاب ہو۔

۳ ۔ انسانی بدن کا ہر روز اس کے تمام جسمانی مشخصات کا حامل ہوتا ہے یعنی اگر واقعاً ہم بدن کے ہر خلیے کی پرورش کرکے اُسے ایک مکمل انسان بنالیں تو وہ انسان اس شخص کے تمام صفات کا حامل ہوگا جس کا جز لیا گیا تھا ۔ (یہ امر بھی قابل غور رہے)

پہلے دن انسان ایک خلیے سے زیادہ نہ تھا پہلے نطفہ ،خلیہ تھا، اسی میں انسان کی تمام صفات موجود تھیں، تدریجاً وہ تقسیم ہوا اور دو خلیے بن گئے پھر دو سے چار ہوئے اور رفتہ رفتہ انسانی بدن کے تمام خلیے وجود میں آگئے اسی بنا پر انسانی جسم کے تمام خلیے پہلے خلیے کی طرح ہیں اگر ان کی بھی پہلے خلیے کی طرح پرورش ہو تو ہر ایک ہر لحاظ سے ایک پورا انسان ہوگا جو بعینہ پہلے خلیے سے وجود میں آنے والے انسان کی سی صفات کا حامل ہوگا۔

ان مذکو رہ تین مقدمات کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہم اصل اعتراض کا جواب پیش کرتے ہیں:

قرآنی آیات صا ف طور پرکہتی ہیں کہ آخری ذرات جو موت کے وقت انسانی بدن میں ہوتے ہیں قیامت کے دن انسان انہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔(۱)

اس بنا پر اگر کسی دوسرے انسان نے کسی کا گوشت کھایا ہو تووہ اجزا اس کے بدن سے خارج ہوکر اصلی شخص کے بدن میں پلٹ آئیں گے، اب یہاں پر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ پھر دوسرے کا بدن تو ضرور ناقص رہ جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ناقص نہیں ہوگا، بلکہ چھوٹا ہوجائے گا کیونکہ اس کے اجزا بدن سارے جسم میں پھیلے ہوئے ہیں اب جب وہ اس سے لے لئے جائیں گے تو اس کی نسبت دوسرا بدن مجموعی طور پر لاغر اور چھوٹا ہوجائے گا، مثال کے طور پرایک انسان کا وزن ساٹھ کلو ہے اس میں سے چالیس کلو دوسرے کے بدن کا حصہ لے لیا گیا تو باقی بیس کلو کا چھوٹا سا بدن رہ جائے گا۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کوئی مشکل تو پیدا نہیں ہوگی؟ جواب : یقینا کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی کیونکہ یہ چھوٹا سا بدن بلا کمی و زیادتی دوسرے شخص کی تمام صفات کا حامل ہے، روز قیامت ایک چھوٹے بچے کی طرح اس کی پرورش ہوگی اور وہ بڑا ہوکر مکمل انسان کی شکل میں محشور ہوگا، حشر و نشر کے موقع پر ایسی پرورش و تکامل اور ارتقاء میں عقلی اور نقلی طور پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

یہ پرورش محشور ہوتے وقت فوری ہوگی یا تدریجی؟ یہ ہمارے لئے واضح نہیں ہے لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ جو بھی صورت ہو اس سے کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوسکتا، اور دونوں صورتوں میں مسئلہ حل ہے۔

۱ ان آیات کا مطالعہ کیجئے کہ جن میں فرمایا گیا ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے زندہ اٹھیں گے

اب یہاں پر ایک یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر کسی شخص کا سارا جسم دوسرے شخص کے اجزا سے تشکیل پایا ہو تو اس صورت میں کیا ہوگا؟

اس سوال کا جواب بھی واضح ہے کہ اصولی طور پر ایسا ہونا محال ہے کیونکہ مسئلہ آکل و ماکول کی بنیاد یہ ہے کہ ایک بدن پہلے موجود ہو اور وہ دوسرے بدن سے کھائے اور یوں پرورش پائے، لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی بدن کے تمام اجزا دوسرے بدن سے تشکیل پائیں ، پہلے ایک بدن فرض کرنا ہوگا جو دوسرے بدن کو کھائے، اس طرح دوسرے بدن کا جز بنے گا نہ کل۔ (غور کیجئے )

ہمارے بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایسے بدن سے معادِ جسمانی کے مسئلہ پر کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا اور جن آیات میں اس مفہوم کی صراحت کی گئی ہے ان کی کوئی توجیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔(۲)

____________________

(۱)سورہ بقرہ ، آیت ۲۶۰(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۲، صفحہ ۲۲۳


۶۱ ۔ روح کیا ہے؟ اور یہ کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ روح ہی اصل ہے?

ایسا کہ ہم قرآن مجید کے سورہ اسراء ، آیت نمبر ۸۵ میں پڑھتے ہیں:( وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی ) ”اور پیغمبر یہ آپ سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ دیجیئے کہ یہ میرے پروردگار کا ایک امر ہے “۔

گزشتہ اور موجودہ دور کے مفسرین نے ”روح“ کے معنی اور اس آیت کی تفسیر کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے، ہم پہلے لغت کے اعتبارسے ”روح“ کے معنی کے بارے میں گفتگو کریں گے اس کے بعد قرآن میں یہ لفظ جہاں جہاں آیا ہے اسے دیکھیں گے اور اس سلسلہ میں وارد شدہ روایات بھی بیان کریں گے۔

۱ ۔ لغت میں:لغت کے لحاظ سے ”روح“ در اصل ”نفس“ اور ”دوڑنے“ کے معنی میں ہے، بعض لغویوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ”روح“ اور ”ریح“ (ہوا) ایک ہی معنی سے مشتق ہیں اور روح ِ انسان جو مستقل اور مجرد گوہر ہے اسے اس نام سے اس لئے موسوم کیا گیا کہ یہ تحرک، حیات آفرینی اور ظاہر نہ ہونے کے لحاظ سے نفس اور ہوا کی طرح ہے۔

۲ ۔قرآنی آیات میں: قرآن حکیم میں یہ لفظ مختلف اور متنوع صورت میں آیاہے، کبھی یہ لفظ انبیاء و مرسلین کو ان کی رسالت کی انجام دہی میں تقویت پہچانے والی مقدس روح کے معنی میں آیا ہے، مثلاً سورہ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَآتَیْنَا عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَاٴَیَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ) (۱)

”اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی ہو ئی نشانیاں دی ہیں اور رو ح القدس کے ذریعہ ان کی تائید کی ہے“۔

کبھی یہ لفظ مومنین کو تقویت بخشنے والی اللہ کی روحانی اور معنوی قوت کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سورہ مجادلہ میں ارشاد ہوتا ہے:( اٴُوْلَئِکَ کَتَبَ فِی قُلُوبِهِمْ الْإِیمَانَ وَاٴَیَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ ) (۲)

”اللہ نے صاحبان ایمان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے اور ان کی اپنی خاص روح کے ذریعہ تا ئید کی ہے “۔

اور کبھی وحی کے خاص فرشتہ کے مفہوم میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے، اور ”امین“ کے لفظ سے اس کی توصیف کی گئی ہے مثلاً سورہ شعراء میں ارشاد ہوتا ہے:( نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْاٴَمِینُ عَلَی قَلْبِکَ لِتَکُونَ مِنْ الْمُنذِرِینَ ) (۳)

”یہ آپ کے قلب پر نازل ہوا ہے تاکہ آپ لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں“۔

کبھی یہ لفظ خدا کے خاص فرشتوں میں سے ایک عظیم فرشتہ یا فرشتوں سے برترایک مخلوق کے معنی میں آیا ہے، مثلاً سورہ قدر میں ارشاد ہوتا ہے:( تَنَزَّلُ الْمَلاَئِکَةُ وَالرُّوحُ فِیهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ کُلِّ اٴَمْرٍ ) (۴)

”اس میں ملائکہ ا ور روح القدس اذن خدا کے ساتھ تمام امور کو لے کر نازل ہوتے ہیں“۔

نیز سورہ نباء میں بھی آیا ہے:( یَوْمَ یَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلاَئِکَةُ صَفًّا ) (۵)

”جس دن روح القدس اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے“۔

کبھی یہ لفظ قرآن اور وحیِ آسمانی کے معنی میں آیاہے مثلاً:(۶)

” اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح (قرآن) کی وحی کی ہے“۔

کبھی یہ لفظ روحِ انسانی کے معنی میں آیا ہے جیسا کہ خلقتِ آدم سے متعلق آیات میں بیان ہوا ہے:

( ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِیهِ مِنْ رُوحِهِ ) (۷)

”اس کے بعد اسے برابر کرکے اس میں اپنی روح پھونک دی ہے“۔

اسی طرح سورہ حجر میں ارشاد ہوتا ہے:( فَإِذَا سَوَّیْتُهُ وَنَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِینَ ) (۸)

”پھر جب مکمل کرلوں اور اس میں ا پنی روح حیات پھونک دوں تو سب کے سب سجدہ میں گرپڑنا“۔(۹)

۳ ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روح سے کیا مراد کیا ہے؟ یہ کس روح کا تذکرہ ہے کہ جس کے بارے میں کچھ لوگوں نے رسول اکرم سے سوال کیا ہے اور آپ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور اور تمہارے پاس صرف تھو ڑا ساعلم ہے۔

(۱۱) یہاں پر روح کی اضافت خدا کی طرف اظہار عظمت کے لئے ہے اور مراد یہ ہے کہ خدا نے انسانوں کو ایک عظیم اور الٰہی مقدس روح بخشی ہے

آیت کے اندرونی اور بیرونی قرائن سے ایسا لگتا ہے کہ سوال کرنے والوں نے انسان کی روح سے متعلق سوال کیا ہے، وہی عظیم روح جو انسان کو حیوانات سے جُدا کرتی ہے جو ہمارا افضل ترین شرف ہے جو ہماری تمام تر طاقت اور فعالیت کا سرچشمہ ہے، جس کی مدد سے ہم زمین و آسمان کو اپنی جولان گاہ بنائے ہوئے ہیں، جس کے ذریعہ ہم علمی اسرار کی گتھیاں سلجھاتے ہیں، جس کے ذریعہ ہم موجوات کی گہرائیوں تک پہنچنے کا راستہ پاتے ہیں، چنانچہ وہ لوگ عالم خلقت کے اس عجوبہ کی حقیقت معلوم کرنا چا ہتے تھے۔

روح کی ساخت ،مادہ کی ساخت سے مختلف ہے اس پر حاکم اصول ،مادہ پر حاکم اصولوں اور طبیعی اور کیمیائی خواص سے مختلف ہیں، لہٰذا رسول اللہ (ص) کو حکم دیا گیا کہ وہ مختصر اور پُر معنی جملہ کہیں کہ ”روح عالمِ امر میں سے ہے“ یعنی اس کی خلقت پر اسرار ہے۔

اس کے بعد اس بنا پر کہ انھیں اس جواب پر تعجب نہ ہو مزید فرمایا: تمہارا علم بہت کم ہے لہٰذا کون سے تعجب کی بات ہے کہ تم روح کے اسرار نہ جان سکو اگرچہ وہ ہر چیز کی نسبت تم سے زیادہ قریب ہے۔

تفسیر عیاشی میں حضرت امام محمد باقر اور امام صادق علیہما السلام سے منقول ہے کہ آپ نے آیہ( وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ ) کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: ”إنَّمَا لرُّوح خَلَق مِن خَلْقِهِ، لَهُ بصر و قوة و تاٴیید یَجْعلَهُ فِی قلوب الرّسل وَالمومنِیْن“ (۱۰) (روح مخلوقاتِ خدا میں سے ہے اور یہ بینائی کی قوت رکھتی ہے خدا اسے انبیاء اور مومنین کے دلوں میں قرار دیتا ہے۔)

ایک حدیث انھیں دو نوں ائمہ میں سے ایک سے منقول ہے اس میں بیان ہوا ہے: ”هی من الملکوت من القدرة(۱۱) (روح عالمِ ملکوت اور خدا کی قدرت میں سے ہے۔)

شیعہ اور سنّی کتاب کی متعدد روایات میں ہے کہ مشرکین قریش نے یہ سوال علمائے اہل کتاب سے حاصل کیا وہ اس کے ذریعہ رسول اللہ کو آزمانا چاہتے تھے ان سے کہا گیا تھا کہ اگر (محمد) نے روح کے بارے میں تمہیں کچھ بتادیا تو یہ اس کی عدم صداقت کی دلیل ہوگی، لیکن آپ نے ایک مختصر اور پُر معنی جواب دے کر انہیں حیران کردیا۔

مگر اہل بیت علیہم السلام کے ذریعہ جو روایات نقل ہوئیہیں کہ ان میں روح کو ایک ایسی مخلوق بتایا ہے جو جبرئیل اور میکائیل سے افضل ہے جو پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے ساتھ رہتی ہے ، اور انھیں ان کے احکام میں انحراف سے باز رکھتی ہے(۱۲)

آیت کی تفسیر کے بارے میں ہم نے جو کچھ کہا ہے وہ روایات نہ فقط اس کے منافی نہیں ہیں بلکہ اس سے ہم آہنگ ہیں کیونکہ انسانی روح کے مختلف درجے اور مراتب ہیں، انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی روح کا مرتبہ غیر معمولی اور بہت بلند ہے، او رگناہ و خطا سے معصوم ہونا جس کے آثار میں سے ہے، بہت زیادہ علم و آگاہی بھی اس کے آثار میں سے ہے اور مسلّم ہے کہ روح کا یہ مرتبہ تمام فرشتوں سے افضل ہوگا یہاں تک کہ جبرئیل اور میکائیل سے بھی (غور کیجئے )

روح کی اصالت اور اس کا استقلال علم انسان کی تاریخ گواہ ہے کہ روح، اس کی ساخت اور اس کی اسرار آمیز خصوصیات کا مسئلہ ہمیشہ علماکے غور و فکر کا عنوان رہا ہے، ہر عالم نے روح کی وادیِ اسرار میں قدم رکھنے کی اپنی بساط بھر کوشش کی ہے ، یہی وجہ ہے کہ روح کے بارے میں علماکے نظریات بہت زیادہ اور متنوع ہیں، ہوسکتا ہے کہ ہمارا آج کا علم بلکہ آئندہ آنے والوں کا علم بھی روح کے تمام اسرار و رموز تک پہنچنے کے لئے کافی نہ ہو اگرچہ ہماری روح اس دنیا کی ہر چیز سے ہمارے قریب تر ہے ،اور اس کا گوہر ہر چیز سے بالکل مختلف ہے جس سے ہمیں اس عالم مادہ میں سرو کار رہتاہے۔

اس پر زیادہ تعجب بھی نہیں کرنا چاہئے کہ ہم اس عجوبہ روزگار اور مافوق مادہ مخلوق کے اسرار اور حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے، بہر حال یہ صورتِ حال اس چیز میں مانع نہیں ہے کہ ہم روح کو دور سے نظر آنے والے منظر کو عقل کی تیز بین نگاہ سے دیکھ سکیں، اس پر حکم فرما اصول اور عمومی نظام سے آگاہی حاصل کرسکیں، اس سلسلہ میں اہم ترین روح کی اصالت و استقلال کا مسئلہ ہے جسے جاننا چاہئے۔

مادہ پرست روح کو مادی اور دماغ کے مادی خواص اور نسوں کے خلیے ( Nerve Calls ) میں سمجھتے ہیں اس کے علاوہ ان کی نظر میں روح کچھ نہیں ہے، ہم یہاں زیادہ تر اسی نکتے پر بحث کریں گے بقائے روح کی بحث اور تجرد کامل یا تجرد مکتبی کی گفتگو کا انحصار اسی مسئلے پر ہے، لیکن پہلے اس نکتہ کا ذکر ضروری ہے کہ انسانی بدن سے روح کا تعلق ایسا نہیں ہے جیسا کہ بعض نے گمان کررکھا ہے، روح نے بدن میں حلول نہیں کررکھا ہے اور نہ یہ مشک میں ہوا کی طرح انسانی جسم میں موجود ہے بلکہ بدن اور روح کے مابین ایک قسم کا ارتباط ہے اور یہ ارتباط روح کی بدن پر حاکمیت، تصرف اور اس کی تدبیر کی بنیاد پر ہے، بعض افراد نے اس ارتباط کو لفظ اور معنی کے مابین تعلق سے تشبیہ دی ہے، جبکہ ہم استقلال روح کے مسئلہ میں بحث کریں گے تو یہ بات بھی واضح ہوجائے گی۔

اب ہم اصل گفتگو کی طرف آتے ہیں:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان پتھر او رلکڑی سے مختلف ہے کیونکہ ہم اچھی طرح محسوس کرتے ہیں کہ ہم بے جان موجودات بلکہ نباتات سے بھی مختلف ہیں ہم سوچتے ہیں،ارادہ کرتے ہیں، محبت او رنفرت کرتے ہیں، وغیرہ۔

لیکن پتھر اور نباتات میں یہ احساسات نہیں ہیں لہٰذا ہمارے اور ان کے درمیان ایک بنیادی فرق موجود ہے اور اس کی وجہ انسان کی روح ہے۔

مادہ پرست یا کوئی اور نفس اور روح کے وجود کے منکر نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ علم نفسیات( Psychology ) اور ( Psychoanalism )کو ایک مثبت علم سمجھتے ہیں، یہ دونوںعلم اگرچہ کئی جہات سے اپنے ابتدائی مراحل طے کررہے ہیں تاہم دنیا کی بڑی سے بڑی یونیورسٹی میں اساتذہ اور طلبہ اس کے بارے میں مطالعہ و تحقیق میں مصروف ہیں۔

جیسا کہ ہم بیان کریں گے کہ نفس اور روح دو الگ الگ حقائق نہیں ہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف مراحل ہیں، جہاں جسم سے روح کے رابطہ کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے اور ان دونوں کے مقابل تاثیرِ بیان ہوتی ہے وہاں ”نفس“ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور جہاں جسم سے الگ روح سے ظاہر ہونے والے اثرات پر گفتگو ہوتی ہے وہاں لفظ ”روح“ استعمال ہوتا ہے، مختصر یہ کہ کوئی شخص انکار نہیں کرتا ہے کہ ہم میں روح اور نفس نام کی ایک حقیقت موجود نہیں ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مادہ پرستوں ( Materialists ) اور ماوراء طبیعت کے فلاسفہ اور روحیوں ( Spirtulists )کے درمیان کیا نزاع ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ دینی علمااور روحانی فلاسفہ کا یہ نظریہ ہے کہ جس مواد سے انسانی جسم بنتا ہے، اس کے علاوہ اس میں ایک اور حقیقت اور جوہر مخفی ہے کہ جو مادہ نہیں ہے لیکن انسانی بدن بلاواسطہ اس کے زیر اثر ہے،

دوسرے لفظوں میں روح ایک ماوراء طبعی حقیقت ہے اس کی ساخت اور فعالیت مادی دنیا کی ساخت اور فعالیت سے مختلف ہے، یہ ٹھیک ہے کہ یہ ہمیشہ مادی دنیا سے مربوط رہتی ہے لیکن یہ خود مادہ یا خاصیتِ مادہ نہیں ہے۔

ان کے مد مقابل مادیت کے فلاسفہ کہتے ہیں کہ ہمارے وجود میں روح نام کے مادہ کے علاوہ کوئی مستقل وجود نہیں اور مادہ سے ہٹ کر روح نام کی کوئی چیز نہیں جو کچھ بھی ہے یہی جسمانی مادہ ہے، یا اس کے طبیعی اور کیمیائی ( Physical and chemical ) آثار ہیں ہمارے اندر دماغ اور اعصاب نام کی ایک مشینری ہے جو ہماری زندگی کے اعمال کا ایک اہم حصہ ہے وہ بھی باقی مادی بدن کی مشینریوں کی طرح ہے اور مادی قوانین کے تحت کام کرتی ہے۔

ہماری زبان کے نیچے کچھ غدود ہوتے ہیں جنہیں غدودہائے بزاق(لعاب دہن کے غدّے) ( Slive Glands ) کہا جاتا ہے، یہ طبیعی عمل بھی کرتے ہیں اور کیمیائی بھی جس وقت غذا منھ میں جاتی ہے تو یہ ” Artesiens “کی طرح خود بخود کام شروع کردیتے ہیں، یہ حساب میں اتنے ماہر ہیں کہ پانی کی بالکل اتنی مقدار جتنی غذا کو چبانے اور نرم کرنے کے لئے ضروری ہے اس پر چھڑکتے ہیں پانی والی غذا، کم پانی والی غذا، یا خشک غذا ہر ایک اپنی ضرورت کے مطابق لعاب دہن سے اپنا حصہ لیتی ہے۔

تیزابی مواد خصوصاً جس وقت زیادہ سخت ہوں ان غدوں کی کارکردگی بڑھادیتے ہیں، تاکہ اسے زیادہ مقدار میں پانی ملے اوریہ خوب باریک ہوجائے اور معدہ کی دیواروں کو نقصان نہ پہچائے۔

جس وقت انسان غذا کو نگل لیتا ہے ان کنوؤں کا عمل خود بخود رک جاتا ہے، مختصر یہ کہ ان ابلنے والے چشموں پر ایک عجیب و غریب نظام حکم فرما ہے ایسا نظام کہ اگر اس کا توازن بگڑ جائے یا ہمیشہ لعاب دہن ہمارے منہ سے گرتا رہے یا ہماری زبان اور حلق کسی قدرخشک ہوجائے تو ہمارے حلق میں لقمہ پھنس جائے۔

یہ لعاب د ہن کا طبیعی کام ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس کا زیادہ اہم کام کیمیائی ہے، اس میں مختلف طرح کا مواد مخلوط ہوتا ہے اور یہ غذا سے مل کر نئی ترکیب کو جنم دیتا ہے جس سے معدہ کی زحمت کم ہوجاتی ہے۔

مادہ پرست کہتے ہیں کہ ہمارے اعصاب اور مغز کا سلسلہ لعاب دہن کے غدوں کی مانند ہے اور یہ اسی طرح کے طبیعی اور کیمیائی عمل کا حامل ہے کہ جسے مجموعی طور پر طبیعی کیمیائی ( Physical and chemical ) کہا جاتا ہے، اور یہی طبیعی اور کیمیائی فعالیتیں ہیں جنھیں ہم آثارِ روح یا روح کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب ہم سوچ رہے ہوتے ہیں تو ایک خاص برقی سلسلہ ہمارے دماغ سے اٹھتا ہے، دور حاضر میں مشینوں کے ذریعہ ان لہروں کو کاغذ پر ثبت کردیا جاتا ہے خصوصاً نفسیاتی بیماروں کے استپالوں میں ان لہروں کے مطالعہ سے نفسیاتی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کیا جاتا ہے، یہ ہمارے دماغ کی طبیعی( Physical ) فعالیت ہے۔

اس کے علاوہ غور و فکر کرتے وقت اور نفسیاتی فعالیت کے موقع پر ہمارے دماغ کے خلیے ایک کیمیائی فعالیت بندکرتے ہیں لہٰذا روح اور آثار ِروح ہمارے دماغ اور اعصاب کے خلیوں کے کیمیائی تفاعل و ا نفعال کے طبیعی خواص کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔

اس بحث سے اہل مادہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں:

۱ ۔ جیسے لعاب دہن کے غدود کی فعالیت اور ان کے مختصر اثرات بدن سے پہلے نہ تھے اور نہ اس کے بعد ہوں گے اسی طرح ہماری روح کی کارگردی بھی دماغ اور اعصاب کی مشینری کے پیدا ہونے سے وجود میں آتی ہے اور اس کے مرنے سے مرجاتی ہے۔

۲ ۔ روح جسم کے خواص میں سے ہے لہٰذا وہ مادی شے ہے اور ماوراء طبیعت کا پہلو نہیں رکھتی۔

۳ ۔ روح پر بھی وہی قوانین حکم فرما ہیں جو جسم پر حکومت کرتے ہیں۔

۴ ۔ روح بدن کے بغیر کوئی مستقل وجود نہیں رکھتی اور نہ ہی رکھ سکتی ہے۔

روح کے عدم استقلال پر مادہ پرستوں کے دلائل

مادہ پرستوں کا نظریہ ہے کہ روح فکر اور روح کے تمام آثار مادی ہیں یعنی دماغ اور اعصاب کے خلیوں کے طبیعی اور کیمیائی خواص ہیں ، انھوں نے اپنے دعویٰ کے اثبات کے لئے کچھ شواہد پیش کئے ہیں، مثلاً:

۱ ۔ بہت ہی آسانی کے ساتھ نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ اگر مراکز کا ایک حصہ یا اعصاب کا ایک سلسلہ بے کار ہوجائے تو آثارِ روح کا ایک حصہ معطل ہوجاتا ہے۔(۱۳)

مثلاً تجربہ کیا گیا ہے کہ کبوتر کے مغز کا ایک خاص حصہ الگ کرلیا جائے تو کبوتر مرتا نہیں لیکن اس کی معلومات کا بہت سا حصہ ختم ہوجاتا ہے، اگر اسے غذائیں کھلائیں تو کھاتا ہے او رہضم کرتا ہے اور اگر نہ کھلائیں صرف دانہ اس کے سامنے ڈال دیں تو نہیں کھاتا او ربھوک سے مرجاتا ہے!

اسی طرح اگر انسان کے دماغ پر کچھ ضربات لگائی جائیں یا بعض بیماریوں کی وجہ سے اس کے دماغ کا کچھ حصہ بیکار ہوجائے تو دیکھا جاتا ہے کہ انسان بہت سی چیزوں کو بھول جاتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے ہم نے جرائد اور اخباروں میں پڑھا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو اہواز کے قریب ایک واقعہ پیش آیا اس واقعہ میں اس کے دماغ پر ضرب آئی، وہ اپنی زندگی کے تمام گزشتہ واقعات بھول گیا یہاں تک وہ اپنے ماں باپ تک کو نہیں پہچانتا تھا، اسے اس کے گھر لے جایا گیااس نے اسی گھر میں پرورش پا ئی تھی مگر وہ وہاں اپنے کو بالکل اجنبی محسوس کررہا تھا۔

ایسے واقعات نشاندہی کرتے ہیں کہ دماغ کے خلیوں کی فعالیت اور آثار ورح کے درمیان ایک قریبی ربط ہے۔

۲ ۔ غور و فکر کرتے وقت دماغ کی سطح پر مادی تغیرات زیادہ ہوتے ہیں، دماغ زیادہ غذا لیتا ہے اور فسفورس( Phosphore ) واپس کرتا ہے، سوتے وقت جبکہ دماغ فکر ی کام نہیں کرتا، تھوڑی غذا لیتا ہے، یہ امر آثارِ فکر کے مادی ہونے کی دلیل ہے۔(۱۴)

۳ ۔ مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ غور و فکر کرنے والوں کے دماغ کا وزن عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے (اوسطاً مردوں کے دماغ کا وزن ۱۴۰۰/ گرام ہوتا ہے اور عورتوں کے دماغ کا اوسطاً وزن اس سے کچھ کم ہوتا ہے)، یہ امر بھی روح کے مادی ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

۴ ۔ اگر قوائے فکری اور مظاہر روح، روح کے ایک مستقل وجود ہونے کی دلیل ہیں تو یہ بات ہمیں حیوانات کے لئے بھی ماننا چاہئے کیونکہ وہ بھی اپنی حد تک ادراک رکھتے ہیں۔

مختصر یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری روح موجودِ مستقل نہیں ہے اور انسان شناسی کے علم نے جو ترقی کی ہے وہ بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے۔

ان دلائل سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسانی اور حیوانی فیزیالوجی کی ترقی اور وسعت روز بروز اس حقیقت کو زیادہ واضح کررہی ہے کہ آثار روح اور دماغی خلیوں کے درمیان قریبی تعلق ہے۔

اس استدلال کے کمزور پہلو

مادہ پرستوں کے اس استدلال میں ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ انھوں نے آلات کار کو کام کا فاعل سمجھ لیا ہے۔

یہ واضح کرنے کے لئے کہ انھوں نے آلات کو فاعل کیسے سمجھ لیا ہے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں، اس مثال پر غور کیجئے:

”گیلیلیو “کے بعد آسمان کی وضع و کیفیت کے مطالعہ میں ایک انقلاب پیدا ہوا ہے، ”گیلیلیو“ (ایٹالین) نے عینک ساز کی مدد سے ایک چھوٹی سے دور بین بنائی اور وہ اس پر بہت خوش ہوا جب اس نے رات کے وقت اس کی مدد سے آسمانی ستاروں کا مطالعہ شروع کیا تو اس نے حیرت انگیز منظر دیکھا، ایسا منظر اس سے پہلے کسی انسان نے نہیں دیکھا تھا، اس نے سمجھا کہ میں نے ایک اہم انکشاف کیا ہے، اس طرح اس دن کے بعد انسان عالم بالا کے اسرار کا مطالعہ کرنے کے قابل ہوگیا۔

اس وقت تک انسان ایک ایسے پروانے کی طرح تھا جس نے فقط اپنے ارد گرد کی چند شاخیں دیکھی تھیں لیکن جب اس نے دور بین کے ذریعہ جھانکا تو ا سے فطرت کا ایک عظیم جہان دکھائی دیا۔

اس سلسلہ میں ترقی و کمال جاری رہا یہاں تک کہ ستاروں کو دیکھنے کے لئے بڑی بڑی دور بینیں ایجاد ہوگئیں جن کا لینس پانچ میٹر یا اس سے بھی زیادہ تھا، انھیں پہاڑوں کی ایسی بلند چوٹیوں پر نصب کیا گیا جو صاف و شفاف ہوا کے اعتبار سے مناسب تھیں، ایسی ایسی دور بینیں بنیں جو کئی منزلہ عمارت کے برابر تھیں، ان کے ذریعہ انسان کو عالم بالا میں کئی جہان دکھائی دئے، ایسے ایسے جہان کہ عام نظر سے انسان کو ہزارواں حصہ بھی نظر نہیں آتا تھا۔

اب آپ سوچیں کہ اگر ایک دن ٹکنالوجی اتنی ترقی کر جائے کہ انسان ایسی دور بین بنالے جس کے عدس کا قطر ۱۰۰ میٹر ہو اور جس کا ساز و سامان اور وسعت ایک شہر کے برابر ہو تو ہم پر کتنے جہان منکشف ہوں گے۔

یہاں پریہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ دور بینیں ہم سے لے لی جائیں تو یقینی طور پر آسمان کے بارے میں ہماری معلومات اور مشاہدات کا ایک حصہ معطل ہوجائے گا، لیکن کیا حقیقی طور پر دیکھنے والے ہم ہیں یا دور بینیں؟

کیا ٹیلسکوپ ہمارے لئے آلات کار ہے یا خود فاعل کار اور خود دیکھنے والی؟

دماغ کے بارے میں بھی کوئی شخص انکار نہیں کرتا کہ دماغ کے خلیے کے بغیر غور و فکر نہیں کی جاسکتا، لیکن کیا دماغ روح کے کام کا آلہ ہے یا خود روح؟!

مختصر یہ کہ مادہ پرستوں نے جو تمام دلائل پیش کئے ہیں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ دماغ کے خلیے اور ہمارے ادراک کے درمیان ربط موجود ہے لیکن ان میں سے کوئی دلیل یہ ثابت نہیں کرتی کہ دماغ خود غور و فکر کرتا ہے نہ کہ ادارک کا آلہ ہے۔ (غور کیجئے )

یہاں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مردے اگر کچھ نہیں سمجھتے تو اس کی وجہ روح کا بدن سے رابطہ کاختم ہوجاناہے، نہ کہ روح فنا ہوگئی ہے، یہ بات بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی بحری یا ہوائی جہاز کا وائر لیس خراب ہو جائے اور اس کا ساحل یا ایر پورٹ سے رابطہ نہ ہو سکے کیونکہ رابطہ کا ذریعہ منقطع ہوگیا ہے۔

استقلال روح کے دلائل

بات یہ ہورہی تھی کہ مادہ پرستوں کا اصرار ہے کہ روح سے ظاہر ہونے والے آثار و افعال کو دماغی خلیوں کے خواص سمجھنا چاہئے اور فکر، حافظہ، ایجاد، محبت، نفرت، غصہ اور علم و دانش سب کو ایسے امور سمجھنا چاہئے جنھیں تجربہ گاہ میں دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے، اور انھیں بھی عالم مادہ کے قوانین کے تحت سمجھنا چاہئے، اس کے برعکس استقلال روح کے فلاسفہ اس کی نفی پر مستحکم دلائل بیان کرتے ہیں جن میں سےہم ذیل میں بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱ ۔ روح کا کام حقیقت نمائی ہے

مادہ پرستوںسے پہلا سوال یہ کیا جاسکتا ہے کہ روح کے افکار و آثار دماغ کے طبیعی اور کیمیائی( Physico chemical ) خواص ہیں تو پھر دماغ، معدہ ، دل اور جگر وغیرہ کے کاموں میں کوئی اصولی فرق نہیں ہونا چاہئے۔

مثلاً معدے کا کام طبیعی اور کیمیائی کار کردگی کا مرکب ہے، معدہ اپنی خاص حرکات کے ذریعہ اور تیزاب کے ترشح سے غذا کو ہضم اور اسے بدن میں جذب کرنے کے لئے تیار کرتا ہے، اسی طرح جیسا کہ کہا گیا ہے کہ لعاب دہن کا کام طبیعی اور کیمیائی عمل کی ترکیب ہے حالانکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ روح کے کام ان سب سے مختلف ہیں۔

بدن کی تمام مشینریوں کے کام ایک دوسرے سے تھوڑی بہت شباہت رکھتے ہیں لیکن دماغ کی کیفیت استثنائی ہے، تمام مشینریوں کے کام اندرونی پہلو رکھتے ہیں جبکہ روح سے ظاہر ہونے والے کام بیرونی پہلو رکھتے ہیں اور ہمیں ہمارے وجود سے باہر کی کیفیت سے آگاہ کرتے ہیں۔

اس گفتگو کی وضاحت کے لئے چند نکات کی طرف توجہ کرنا چاہئے:

پہلا نکتہ یہ ہے کہ کیا ہمارے وجود سے باہر کوئی جہان ہے یا نہیں؟ مسلّم ہے کہ باہر بھی ایک جہان ہے، آیڈیالسٹ حضرات ( Idealists ) خارجی جہان کا انکا رکرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے بس ہم ہی ہیں اور ہمارے تصورات اور خارجی جہان بالکل ان مناظر کی طرح ہیں جنھیں ہم عالم خواب میں دیکھتے ہیں اور سب کچھ تصورات ہی ہیں اور کچھ نہیںہے۔

یہ لوگ بہت بڑی غلطی پر ہیں، ہم نے متعلقہ بحث میں ان کی غلط فہمی کو ثابت کیا ہے کہ کس طرح سے آیڈیا لسٹ عمل میں ریلیسٹ ( Realists ) ہوجاتے ہیں اور جو کچھ وہ کتابی دنیا میں سوچتے ہیں اسے کوچہ و بازار اور عام زندگی کے ماحول میں قدم رکھتے ہی بھول جاتے ہیں۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ کیا ہم اپنے وجود سے باہر کے جہان سے آگاہ ہیں یا نہیں؟ یقینا اس سوال کا جواب بھی مثبت ہے کیونکہ ہم اپنے وجود سے باہر کے جہان کے بار ے میں بہت سا علم رکھتے ہیں اور ان موجودات کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں کہ جو ہمارے آس پاس سے بہت دور ہیں۔

اس وقت یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا خارجی جہان ہمارے وجود میں آسکتا ہے؟ مسلم ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کا نقشہ ہمارے پاس ہے اور ہم واقع نمائی کی خاصیت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے وجود سے باہر کے جہان کو معلوم کرسکتے ہیں کیونکہ یہ واقع نمائی دماغ کے صرف طبیعی کیمیائی ( Physico chemical ) عمل کے خواص نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ خواص بیرونی دنیا کے بارے میں ہمارے تاثرات کی پیداوار ہیں یعنی ان کے معلول ہیں، جیسے غذا ہمارے معدہ پر اثرات چھوڑتی ہے تو کیا غذا کے معد ہ پر تاثر ات کا طبیعی اور کیمیائی فعل و انفعال سبب بن سکتا ہے کہ معدہ غذا کے بارے میں اگاہی رکھتا ہو؟ تو پھر کس طرح ہمارا دماغ اپنے سے باہر کی دنیا سے باخبر ہوسکتا ہے؟

دوسرے لفظوں میں خارجی اور عینی موجودات سے آگاہی کے لئے ان پر ایک قسم کا احاطہ ضروری ہے اور یہ احاطہ کرنا دماغ کے خلیوں کا کام نہیں ہے، دماغ کے خلیے تو صرف خارج سے متاثر ہوتے ہیں، اور تاثر بدن کی مشینوں کی طرح ہے جو خارجی کیفیت سے ان پر مرتب ہوتا ہے، یہ بات ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔

اگر خارجی جہان سے متاثر ہونا خارج کے بارے میں اگاہی کی دلیل ہوتا تو پھر ضروری تھا کہ ہم اپنے معدے اور زبان کے ذریعہ بھی آگاہی حاصل کرتے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

مختصر یہ ہے کہ ہمارے ادراکات کی استثنائی کیفیت اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں ایک دوسری حقیقت چھپی ہوئی ہے جس کا نظام طبیعی اور کیمیائی نظام سے بالکل مختلف ہے۔ (غور کیجئے )

۲ ۔ وحدتِ شخصیت

استقلال روح کے بارے میں جو دوسری دلیل ذکر کی جاسکتی ہے وہ انسان کی پوری زندگی میں وحدتِ شخصیت کا مسئلہ ہے۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہم ہر چیز میں شک و تردید رکھتے ہیں تب بھی اس بات میں شک نہیں رکھتے کہ ”ہم وجود رکھتے ہیں“۔

”میں ہوں“ اور اپنی ہستی کے بارے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے اور اپنے وجود کے بارے میں میرا علم حضوری ہے حصولی نہیں، یعنی میں اپنے آپ کے سامنے حاضر ہوں اور اپنے آپ سے جدا نہیں ہوں۔

بہر حال اپنے آپ سے آگاہی ہماری واضح ترین معلومات میں سے ہے اور اس کے لئے کسی استدالال کی احتیاج نہیں، مشہور فرانسیسی ”ڈیکارٹ“نے اپنے وجود کے لئے یہ معروف استدلال کیا ہے : ”میں سوچ رہا ہوں پس میں ہوں“۔

یہ ایک اضافی اور غیر صحیح استدلال نظر آتا ہے کیونکہ اس نے اپنے وجود کو ثابت کرنے سے پہلے دو مرتبہ اپنے وجود کا اعتراف کیا ہے، ایک مرتبہ ”میں“ کہہ کر اور دوسری مرتبہ ”رہا ہوں“ کہہ کر۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو یہ ”میں“ ابتدائے عمر سے آخر عمر تک ایک اکائی سے زیادہ نہیں ہے، آج کا ”میں“ وہی کل کا ”میں“، وہی بیس سال پہلے کا ”میں“ ، بچپن سے لے کر اب تک میں ایک شخص سے زیادہ کچھ نہیں ہوں ، ”میں“ وہی شخص ہوں جو پہلے تھا اور آخر عمر تک یہی شخص رہوں گا، نہ کہ کوئی اور شخص، البتہ ”میں“ نے تعلیم حاصل کی اور ”میں“ پڑھا لکھا ہوگیا، ”میں“ نے کمال و ترقی کی منزل طے کی اور پھر طے کروں گا، لیکن ”میں“ کوئی دوسرا آدمی نہیں ہوگیا، لہٰذا سب لوگ ابتدائے عمر سے لے کر آخر عمر تک مجھے ایک ہی آدمی جانتے ہیں میرا ایک ہی نام ہے اور یہ میں ہی کسی کا شناختی کارڈ وغیرہ ہوتا ہے۔

اب ہم سوچیں اور دیکھیں کہ یہ موجود واحد جس میں ہماری ساری عمر پوشیدہ ہے کیا ہے؟ یہ ہمارے بدن کے ذرّات یا دماغی خلیوں اور ان کے فعل و انفعالات کا مجموعہ ہے؟ یہ تو ہماری زندگی میں بارہا بدلتے رہتے ہیں اور تقریباً ہر سات سال کے بعد ایک مرتبہ تمام خلیے بدل جاتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں ایک شب و روز میں ہمارے بدن کے لاکھوں خلیے مرتے ہیں اور ان کی جگہ نئے خلیے لے لیتے ہیں جیسے کسی پرانی عمارت کی پرانی اینٹیں نکالتے رہیں اور ان کی جگہ نئی اینٹیں لگاتے رہیں تو ایک عرصہ بعد یہ عمارت بالکل بدل جائے گی اگرچہ عام لوگوں کو اس کا اندازہ نہ ہو، جیسے کسی ایک بڑے تالاب کا پانی ایک تالاب سے نکلتا رہتا ہے اور دوسری طرف سے تازہ پانی داخل ہوتا رہتا ہے، واضح ہے کہ کچھ عرصے بعد سارا پانی بدل جائے گا، اگرچہ ظاہر میں افراد توجہ نہ کریں اور اسے پہلے والا ہی سمجھتے رہیں۔

کلی طور پر ہر موجود جو غذا حاصل کرتا ہے اور غذا کا مصرف رکھتا ہے اس کی تعمیر نو کا سلسلہ جاری رہے گا اور وہ بدل جائے گا۔

لہٰذا ایک ستر سالہ انسان کے تمام اجزائے بدن تقریباً دس مرتبہ بدل چکے ہوتے ہیں، اگر ہم مادہ پرستوں کی طرح انسان کو وہی جسم اور وہی دماغ و اعصاب اور وہی اس کے طبیعی اور کیمیائی خواص سمجھیں تو یہ ”میں“ تو ستّر سال کی عمر میں دس مرتبہ بدل چکا ہوگا، اور یہ وہی پہلے والا شخص نہیں ہوگا، حالانکہ کوئی عقل اس بات کو قبول نہیں کرے گی۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ مادی اجزا کے بجائے کوئی ایک واحد ثابت حقیقت ہے جو ساری عمر میں موجود رہتی ہے جو مادی اجزاء کی طرح بدلتی نہیں ہے ، وہی در اصل وجود کی بنیاد ہے اور وہی ہماری شخصیت کی وحدت کا عامل اور باعث ہے۔

ایک غلط فہمی سے اجتناب

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دماغ کے خلیے نہیں بدلتے، وہ کہتے ہیں کہ فیزیالوجی کی کتابوں کے مطابق دماغ کے خلیوں کی تعداد آغاز عمر سے آخر عمر تک ایک ہی رہتی ہے یعنی وہ بالکل کم یا زیادہ نہیں ہوتے، البتہ بڑے ہوجاتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ اُن جیسے اور خلیے پیدا ہوتے ہوں، یہی وجہ ہے کہ انھیں کوئی نقصان پہنچے تو ان کی جگہ نئے خلیے پیدا نہیں ہوتے، لہٰذا ہمارے بدن میں ایک ”واحد ثابت“ موجود رہتا ہے اور یہ دماغ کے خلیے ہیں، یہی ہماری شخصیت کی وحدت کا محافظ ہے۔

یہ خیال ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ یہ خیال کرنے والوں نے دو مسئلوں کو آپس میں ملادیا ہے، دور حاضر کی سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ دماغ کے خلیے آغاز سے آخر تک تعداد کے لحاظ سے اتنے ہی رہتے ہیں ا ور ان کی تعداد میں کمی بیشی نہیں ہوتی، نہ یہ کہ ان خلیوں کے ذرات نہیں بدلتے، کیونکہ ہم کہہ چکے ہیں کہ انسانی بدن کے تمام خلیوں کو ہمیشہ غذا کی ضرورت رہتی ہے نیز پرانے خلیے مرتے رہتے ہیں جیسے کوئی شخص ایک طرف کماتا رہتا ہے اور دوسری طرف خرچ کرتا رہتا ہے، مسلم ہے کہ اس شخص کا سرمایہ آہستہ آہستہ بدل جائے گا، اگرچہ اس کی مقدار نہ بدلے، جیسے کسی تالاب سے ایک طرف سے پانی نکلتا رہے اور دوسری طرف سے نیا پانی آتا رہے، ایک عرصہ بعد اس کا سارا پانی بدل جائے گا اگرچہ اس کی مقدار اتنی ہی رہے۔

(فیزیالوجی کی کتابوں میں بھی اس بات کا ذکر موجود ہے نمونہ کے طور پر کتاب ”ہورمونھا“ صفحہ ۱۱/ اور کتاب ”فیزیالوجی حیوانی“ از ڈاکٹر محمود بہزاد و ہمراہان صفحہ نمبر ۳۲ پر رجوع کریں۔)

لہٰذا دماغ کے خلیوں میں ثبات نہیں ہیں بلکہ دوسرے خلیوں کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔

۳ ۔ بڑے کا چھوٹے پر منطبق نہ ہونا

فرض کریں کہ ہم دریا کے ایک خوبصورت کنارے پر بیٹھے ہیں،چند چھوٹی چھوٹی کشتیاں پانی کی موجوں پر تیر رہی ہیں، ایک بڑی کشتی بھی ہے ایک طرف سورج غروب ہورہا ہے اور دوسری طرف چاند طلوع ہورہا ہے، خوبصورت آبی پرندے پانی پر آکر بیٹھتے ہیں اور اڑجاتے ہیں، ایک طرف بہت بڑا پہاڑ ہے اس کی چوٹی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔

ہم ساحل پر بیٹھے چند لمحوں کے لئے اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں جو کچھ دیکھا ہے اسے اپنے ذہن میں مجسم کرلیتے ہیں وہی بڑا سا پہاڑ، دریا کی وہی وسعت، وہی بڑی سی کشتی، سب ہمارے صفحہ ذہن پر اُبھر آتے ہیں یعنی جیسے ایک بہت بڑا منظر ہماری روح کے سامنے یا ہماری روح کے اندر موجود ہو۔

اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اس منظر کی جگہ کہاں ہے کیا چھوٹے سے دماغ کے خلیوں میں اتنا بڑا نقشہ سماسکتا ہے، یقینا نہیں، اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے وجود کا ایک اور حصہ ہو جو اس جسمانی مادہ سے ماوراء ہو اور اس قدر وسیع ہو کہ تمام مناظر اور نقشے اس میں سما سکیں۔

کیا ایک ۵۰۰ مربع میٹر عمارت کا نقشہ اسی لمبائی چوڑائی کے ساتھ چند مربع ملی میٹر زمین پر بنایا جاسکتا ہے؟ مسلّم ہے کہ اس سوال کا جواب منفی ہے کیونکہ کوئی بہت بڑا موجود اپنی وسعت کے ساتھ کسی چھوٹے موجود پر منطبق نہیں ہوسکتا، انطباق کے لئے ضروری ہے کہ جسے منطبق کرنا ہے وہ اس کے مساوی ہو یا اس سے چھوٹا۔

لہٰذا ہم انتہائی بڑے بڑے خیالی نقشوں کو اپنے دماغ کے چھوٹے چھوٹے خلیوں میں جگہ کیسے دے سکتے ہیں ،کرہ زمین تقریباً چار کروڑ مربع میٹر ہے ہم اپنے ذہن میں اس کی تصویر کھینچ سکتے ہیں، کرہ آفتاب ، زمین سے بارہ لاکھ گنا ہے اور کہکشائیں ہمارے آفتاب کی نسبت کئی ملین گنا ہیں، ہم اپنی فکر میں ان کی تصویر کشی کرسکتے ہیں ، لیکن اگر ہم چاہیں کہ اپنے دماغ کے چھوٹے چھوٹے خلیوں میں یہ نقشے اسی وسعت کے ساتھ بنائیں تو بڑے کے چھوٹے پر منطبق نہ ہوسکنے کے قانون کے مطابق ممکن نہیںہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اس جسم سے مافوق ایک وجود کا اعتراف کریں جس میں یہ بڑے بڑے نقشے سماسکتے ہوں۔

یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے ذہنی نقشے بھی چھوٹی چھوٹی تصویریں ہیں جنھیں معین اسکیل کے تحت چھوٹا کیا گیا ہے او ر اگر انھیں اسی نسبت سے بڑا کردیا جائے تو ایک حقیقی نقشہ بن جائے گا، اور مسلم ہے کہ یہ چھوٹے نقشے دماغ کے خلیوں میں بن سکتے ہیں۔ (غور کیجئے )

اب ہم اس سوال کا جواب پیش کرتے ہیں:

اہم بات یہی ہے کہ مائیکرو فلموں کو عام پروجیکٹروں کے ذریعہ بڑا کرکے پردہ اسکرین پر منعکس کرتے ہیں،اسی طرح جغرافیائی نقشوں میں دی گئی اسکیل کے مطابق ہم نقشے کو ضرب دے کر اپنے ذہن میں منعکس کرتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بڑا پردہ جس پر ہماری بڑی بڑی ذہنی فلمیں منعکس ہوتی ہیں، کہاں ہیں؟

کیا وہ بڑا پردہ دماغ کے خلیے ہیں؟ وہ تو با لکل نہیں ہے اور وہ چھوٹا جغرافیائی نقشہ کہ جسے ہم بڑے عدد سے ضرب دے کر بڑے نقشہ میں تبدیل کرتے ہیں یقینا اس کے لئے کوئی جگہ چاہئے، کیا دماغ کے چھوٹے چھوٹے خلیے اس کی جگہ لے سکتے ہیں؟

واضح الفاظ میںیوں کہیں: مائیکروفلم اور جغرافیائی نقشہ میں جو کچھ خارج میں ہے وہ تو وہی چھوٹی فلم اور نقشہ ہے لیکن ہمارے ذہنی نقشوں میں تو بعینہ وہ نقشے اپنے خارجی وجود کی مقدار کے مطابق ہیں، لہٰذا انھیں ، خود انھیں کے برابر اور انھیں کی مقدار کے مطابقجگہ چاہئے، اور ہم جانتے ہیں کہ دماغ کے خلیے اس سے کہیں چھوٹے ہیں کہ انھیں اسی مقدار کے مطابق ان پر منعکس کیا جاسکے، مختصر یہ کہ ان ذہنی نقشوں کو ہم ان کے خارجی وجود کے مطابق تصور کرتے ہیں اور یہ بڑی تصویر چھوٹے سے خلیوں میں منعکس نہیں ہوسکتی، لہٰذا ان کے لئے کسی جگہ کی ضرورت ہے، یہیں سے ہمیں خُلیوں سے مافوق ایک حقیقی وجود کا پتہ چل جاتا ہے۔

۴ ۔ روح کے مادی مظاہر کیفیات کے مانند نہیں؟

یہ دلیل بھی استقلال روح اور اس کے غیر مادی ہونے کی طرف ہماری رہنمائی کرسکتی ہے کہ مظاہر روح میں کچھ خواص و کیفیات ایسی دکھائی دیتی ہیں جو مادی موجودات کے خواص و کیفیت سے کوئی شباہت نہیں رکھتیں، کیونکہ:

۱ ۔ موجودات کے لئے زمانہ درکار ہوتا ہے اور وہ تدریجی پہلو رکھتے ہیں۔

۲ ۔ وقت اور زمانہ کے ساتھ وہ کہنہ اور فرسودہ ہوجاتے ہیں۔

۳ ۔ ان کا متعدد اجزا میں تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔

لیکن ذہنی موجودات اور اس میں پیدا ہونے والی چیزوں میں یہ آثار و خواص نہیں ہوتے، ہم اپنے ذہن، موجودہ جہاں کی طرح ایک جہان تصور کر سکتے ہیں بغیر اس کےکہ زمانہ گزرے اور اس کے لئے تدریجی پہلو کی ضرورت ہو ۔

اس بات سے قطع نظر وہ مناظر کہ مثلاً جو بچپن میں ہمارے صفحہ ذہن پر نقش ہوگئے تھے زمانہ گزرنے کے باوجود فرسودہ نہیں ہوتے اور ان کی شکل اسی طرح محفوظ رہتی ہے، ہوسکتا ہے کہ انسان کا دماغ کہنہ ہوگیا ہو لیکن اس کے کہنہ پن سے وہ گھر جس کا نقشہ بیس سال قبل ہمارے ذہن میں ثبت ہوا تھا اسی طرح باقی رہتا ہے، اس میں ایک طرح کا ثبات پایا جاتا ہے جو ماوراء مادہ جہان کی خاصیت ہے۔

نقشوں اور تصویروں کے بارے میں ہماری روح عجیب و غریب صلاحیت رکھتی ہے، ہم لمحہ بھر میں کسی تمہید کے بغیر ہر قسم کا نقشہ اپنے ذہن میں بنا سکتے ہیں، مثلاً آسمانی کرّات، کہکشائیں یا زمینی موجودات ، دریا اور پہاڑ وغیرہ، ان سب کا تصور ہمارے ذہن میں آنِ واحد میں ابھر سکتا ہے، یہ خاصیت ایک مادی موجود کی نہیں ہے بلکہ مافوق مادہ موجود کی نشانی ہے۔

اس کے علاوہ ہم جانتے ہیں کہ ۲ / اور ۲ / چار ہوتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ان کی مساوات کو ہر طرف ہم جز جز کرسکتے ہیں یعنی دو کا تجزیہ کریں یا چار کا لیکن اس مساوات کا تجزیہ نہیں کرسکتے، اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ مساوات دو آدھے رکھتی ہے، اور ہر آدھا دوسرے آدھے کا غیر ہے، مساوات کا ایک ہی مفہوم ہے جو قابل تجزیہ نہیں ہے یعنی دو اور دو یا چار ہے یا نہیں ہے، اسے دو نیم ہرگز نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا اس قسم کے ذہنی مفاہیم قابل تقسیم و تجزیہ نہیں ہیں، اسی بنا پر وہ مادی نہیں ہوسکتے، کیونکہ اگر وہ مادی ہوتے تو ان کا تجزیہ ممکن تھا اور انھیں تقسیم کیا جاسکتا تھا، یہی وجہ ہے کہ ہماری روح جو ایسے غیر مادی مفاہیم کا مرکز ہے مادی نہیں ہوسکتی، اس لئے وہ مافوق مادہ ہے۔ (غور کیجئے)(۱۵) ۱۶)

____________________

(۱)سورہ بقرہ ، آیت ۲۵۳

(۲) سورہ مجادلہ ، آیت ۲۲

(۳)سورہ شعراء ، آیت ۱۹۳، ۱۹۴

(۴)سورہ قدر ، آیت ۴

۵)سورہ نباء ، آیت ۳۸ (۶) سورہ شوریٰ ، آیت ۵۲

(۷) سورہ سجدہ ، آیت ۹ (۸) سورہ حجر ، آیت ۲۹

(۹) نور الثقلین ، جلد ۳، صفحہ ۲۱۶ (۱۰) نور الثقلین ، جلد ۳، صفحہ ۲۱۶

(۱۱) تفسیر نورالثقلین ، جلد ۳، صفحہ ۲۱۵

(۱۲) پیسی کولوژی ، ( Phychology ) ڈاکٹر ارانی صفحہ۲۳

(۱۳) بشر از نظر مادی ڈاکٹر ارانی صفحہ۲

(۱۴) کتاب ”معاد و جہان پس از مرگ“ کے حصہ ”استقلال روح“ کی تلخیص

(۱۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۲۵۰


۶۲۔ اجل مسمیٰ (حتمی) اور اجل معلق (غیر حتمی) سے مراد کیا ہے؟

اس میں شک نہیں ہے کہ انسان کے لئے دوطرح کی موت ہوتی ہے:

ایک حتمی اور یقینی موت ہے کہ جب انسان کا جسم باقی رہنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے یا یقینی موت کے وقت آنے پر تمام چیزیں حکم الٰہی سے انتہا کو پہنچ جاتی ہیں۔

اجل معلق یا غیر حتمی موت حالات کی تبدیلی سے بدل جاتی ہے، مثال کے طور پر انسان خود کشی کرلیتا ہے ، کہ اگر یہ گناہ کبیرہ نہ کرتا تو برسوں زندہ رہ سکتا تھا، یا انسان شراب اور دیگر منشیات کے استعمال یا بے حساب و کتاب شہوت رانی کے ذریعہ کچھ ہی دنوں میں اپنی جسمانی طاقت کھو بیٹھتا ہے، جبکہ اگر انسان ایسا نہ کرے تو بہت دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔

چنانچہ یہ چیزیں ایسی ہیں جن کو سبھی دیکھتے رہتے ہیں اور کوئی شخص بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔

اتفاقی حوادث بھی اسی اجل معلق سے مربو ط ہیں اس کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اسی بنا پر احادیث میں بیان ہوا ہے کہ راہ خدا میں صدقہ دینے، انفاق کرنے اور صلہ رحم کرنے سے عمر طولانی اور بلائیں دور ہوتی ہیں، در اصل یہ چیزیں انھیں اسباب کی طرف اشارہ ہیں۔

اور اگر ہم ان دوطرح کی موت کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کریں گے تو پھر ”قضا و قدر“ اور ”انسانوں کی زندگی میں سعی و کوشش کے اثرات“ وغیرہ جیسے مسائل کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔

اس بحث کو ایک آسان مثال کے ذریعہ واضح کیا جاسکتاہے مثلاً کوئی شخص ایک نئی گاڑی خریدے، جس کا انجن اور باڈی میں لگایا گیا مختلف سامان بیس سال تک کام کرتا ہو، لیکن شرط یہ ہے کہ اس کی صحیح طریقہ سے دیکھ بھال کی جائے، تو اس صورت میں اس گاڑی کی عمر وہی بیس سال ہوگی۔

لیکن اگر صحیح طور پر اس کی دیکھ بھال نہ کی جائے یا اس کو نااہل لوگوں کے حوالہ کر دیا جائے ،یا اس کی طاقت کے لحاظ سے زیادہ کام لیا جائے یا ہر روز نامناسب راستہ پر چلایا جائے ، تو اس کی عمر آدھی یا اس سے بھی کم ہوسکتی ہے، یہ وہی ”اجل معلق“ ہے۔

ہمیں تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ بعض مفسرین نے اس قدر واضح اور روشن مسئلہ پرتوجہ نہیں کی ہے۔(۱)

وضاحت:

بہت سی ایسی موجودات ہیں جو فطری طور پر ایک طولانی مدت تک باقی رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ، لیکن اس مدت میں موانع پیش آسکتے ہیں جن سے وہ اپنی آخری عمر تک نہیں پہنچ سکتیں، مثال کے طور پر ایک چراغ (تیل کی مقدار بھر) مثلاً ۱۰/ گھنٹے روشنی دے سکتا ہے، لیکن اگر آندھی یا بارش آجائے تو وہ ۱۰/ گھنٹے نہیں جل سکتا۔

یہاں پر اگر چراغ جلنے میں کوئی مانع پیش نہ آئے توتیل کے آخری قطرے تک جلتا رہے گا اور تیل ختم ہونے پر ہی بجھے گا، تو گویا یہ اپنی ”حتمی اجل “ تک پہنچ گیا ہے، او راگر اس سے پہلے کوئی مانع پیش آجائے اور چراغ خاموش ہوجائے تو اس کی عمر کو ” غیر حتمی ا جل ‘ ‘کہا جا ئے گا۔

انسان کے سلسلے میں بھی ایسا ہی ہے، اگر اس کی بقا کے لئے تمام شرائط جمع ہوجائیں اور موانع پیش نہ آئیں تو اس کی استعداد اور صلاحیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ طولانی عمر پائے (اگرچہ اس کی بھی ایک حد اور انتہا ہے) لیکن ممکن ہے کہ یہی انسان نامناسب غذاؤں، یا منشیات کے استعمال یا خود کُشی کے ذریعہ اس سے پہلے ہی مرجائے ، تو اس پہلی صورت میں اس کی موت کو ”اجل حتمی“ اور دوسری صورت میں ” غیر حتمی اجل“ کہا جاتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ ”حتمی اجل “ اس صورت میں ہے کہ ہم تمام ”علل تامہ“ کا لحاظ کریں، اور ”غیر حتمی اجل “ اس صورت میں ہے کہ ہم صرف ”مقتضیات“ کو مد نظر رکھیں۔

ان دو طرح کی موت کے پیش نظر بہت سی چیزیں روشن ہوجاتی ہیں، مثال کے طور پر جیسا کہ ہم روایات میں پڑھتے ہیں کہ صلہ رحم سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے یا قطع رحم سے عمر کم ہو جاتی ہے، (اس طرح کے موارد میں ” غیر حتمی اجل“ مراد ہوتی ہے)

یا جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( فَإِذَا جَاءَ اٴَجَلُهُمْ لاَیَسْتَاٴْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَیَسْتَقْدِمُونَ ) (۲) ” ہر قوم کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو ایک گھڑی کے لئے نہ پیچھے ٹل سکتا ہے اور نہ آگے بڑھ سکتا ہے“۔

اس آیت میں ”حتمی اجل “ مراد ہے۔

مذ کورہ آیت صرف یہ بیا ن کر رہی ہے کہ انسان اپنی آخری عمر کو پہنچ جائے ، لیکناس میں جلد آنے والی موت بالکل شامل نہیں ہے۔

بہر حال توجہ رکھنا چاہئے کہ موت کی دونوں قسمیں خداوندعالم کی طرف سے معین ہوتی ہیں، ایک مطلق طور پر اور دوسری مشروط یا معلق طور پر، بالکل اس طرح جیسے یہ چراغ بغیر کسی قید و شرط کے ۱۰ گھنٹے بعد خاموش ہوجائے گا، بالکل اسی طرح انسان اور قوم و ملت بھی ہے ، مثلاً خداوندعالم نے ارادہ فرمایا ہے کہ فلاں شخص یا فلاں قوم اتنی عمر کے بعد یقینی طور پر ختم ہوجائے گی، او راگر ظلم و ستم، نفاق اورسستی سے کام لیں گے تو ایک تہائی مدت میں ختم ہوجائے گی، دونوں موتیں خداوندعالم کی طرف سے ہیں ایک مطلق اور دوسری مشروط۔ مذکورہ آیت کے ذیل میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ ”هُما اٴجلان اٴجَلٌ محتُومٌ وَاٴجلٌ مُوقُوفٌ(۳) اس میں ”حتمی اجل “ اور ” مشروط اجل “ کی طرف اشارہ ہے، اور اس سلسلہ میں ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ” غیر حتمی“ (مشروط) کو مقدم یا موخر کیا جاسکتا ہے، لیکن ”حتمی اجل“ کو مقدم یا موخر نہیں کیا جاسکتا۔ (نور الثقلین ، جلد اول صفحہ ۵۰۴)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹ (۲) سورہ اعراف ، آیت ۳۴

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد۵، صفحہ ۱۴۹


۶۳ ۔ کیا سائنس تجسم اعمال کی تائید کرتا ہے

قرآن مجید کی آیات سے واقف افراداس بات کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں روز قیامت ”تجسم اعمال“ کے بارے میں خبر دی گئی ہے، یعنی روز قیامت ہر شخص کے اعمال چاہے اچھے ہوں یا بُرے اس کے سامنے حاضر ہوجائیں گے، اور انسان کے لئے خوشی و مسرت کا سامان بن جائیں گے یا عذاب اور شکنجہ کا باعث ہوں گے، یا اس کے لئے باعثِ افتخار ہوں گے یا ذلت و رسوائی کا سبب ہوں گے۔

کیا انسان کے اعمال کا باقی رہنا ممکن ہے جبکہ انسان کے اعمال صرف کچھ حرکات و سکنات ہوتے ہیں اور انجام پانے کے بعد ختم ہوجاتے ہیں؟ اس کے علاوہ انسان کے اعمال جو انسانی وجود کے عوارض ہیں کیا یہ مادہ اور جسم میں تبدیل ہوسکتے ہیں اور مستقل شکل و صورت میں ظاہر ہوسکتے ہیں؟

چونکہ بہت سے مفسرین کے پاس ان دونوں سوالوں کا جواب نہیں تھا لہٰذا وہ لوگ مجبوراً قرآنی آیات میں ”حذف اور تقدیر“ کے قائل ہوگئے اور کہتے ہیں کہ ”اعمال کے حاضر ہونے“ یا ”اعمال کے مشاہدہ“ سے اعمال کی جزا یا سزا مراد ہے۔

لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ دونوں سوال کا جواب موجود ہے، لہٰذا قرآن مجید کی جن آیات میں ”تجسم اعمال“ کا بیان موجود ہے اس کا انکار کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں متعددروایات موجود ہیں انھیں میں سے حدیث معراج بھی ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ جب پیغمبر اکرم (ص) نے جنت اور دوزخ کو دیکھا تو بدکاروں کو اپنے اعمال کی بنا پر عذاب جہنم میں مبتلا دیکھا، اور نیک لوگوں کو دیکھا کہ اپنے اعمال کی بنا پر جنت میں بہترین نعمتوں سے مالا مال ہیں۔

غیبت کے سلسلہ میں بیان ہونے والی آیت میں غیبت کرنے والے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے والا قرار دیا ہے، یہ بھی ہمارے مدعا پر ایک دوسری دلیل ہے۔

لہٰذا گزشتہ آیات و روایات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ عالم برزخ اور قیامت میں انسان کے اعمال مناسب شکل میں مجسم ہوں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( إِنَّ الَّذِینَ یَاٴْکُلُونَ اٴَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَاٴْکُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ نَارًا ) (۱) ” جو لوگ ظالمانہ انداز سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ در حقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں“۔

یہ آیہ شریفہ بیان کرتی ہے کہ انسان کا عمل دنیا ہی میں ایک طرح سے جسم رکھتا ہے، اس طرح کہ یتیم کا مال کھانا ایک جلادینے والی آگ کی طرح ہے، اگرچہ حقیقت کو نہ دیکھنے والی آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں۔

ان آیات و روایات کو مجازی اور کنائی معنی پر حمل کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے لہٰذا ان کی تاویل و توجیہ کریں، جبکہ ان کے ظاہر پر عمل کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے، اور کوئی مشکل پیش نہیں آتی، اس کی مزید تفصیل آئندہ بیان کی جائے گی۔

منطق عقل میں تجسم اعمال:

تجسم اعمال کے سلسلہ میںیہ اہم اشکال طبرسی علیہ الرحمہ نے اپنی تفسیر مجمع البیان میں بیان کیاہے کہ عمل ایک”عرض“ ہے، اور”جوہر“نہیں ہے (یعنی نہ مادہ کی خاصیت رکھتا ہے اور نہ خود مادہ ہے) اور دوسرے یہ کہ عمل انجام پانے کے بعد محو اور نابود ہوجاتا ہے، لہٰذا ہماری گفتگو اور ہمارے گزشتہ اعمال کے آثار دکھائی نہیں دیتے، وہ اعمال جو بعض چیزوں میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں مثال کے طور پر اینٹ اور سیمنٹ کے ذریعہ مکان بناتے ہیں، یہ تو تجسم اعمال نہیں ہے، بلکہ عمل کے ذریعہ ایک تبدیلی انجام پائی ہے۔ (غور کیجئے )

لیکن دو نکتوں کے پیش نظر ان دو اعتراضات کا جواب، اور تجسم اعمال کی کیفیت بھی روشن ہوجاتی ہے۔

سب سے پہلے یہ عرض کیا جائے کہ آج کل یہ بات ثابت ہے کہ دنیا میں کوئی چیز بھی ختم نہیں ہوتی، ہمارے اعمال مختلف طاقت کی شکل میں موجود رہتے ہیں، اگر ہم بولتے ہیں تو ہماری آوازیں فضا میں مختلف امواج کی شکل میں پھیل جاتی ہیں، اور ذروں کی لہروں میں تبد یل ہو جا تی ہیں اور ممکن ہے کہ یہ طاقت بھی کئی مرتبہ تبدیل ہوجائے، لیکن کسی بھی صورت میں بالکل ختم نہیں ہوتیں، ہمارے ہاتھوں اور پیروں کی حرکات بھی ایک طرح کی طاقت ہے، اور یہ ”مکینک طاقت“ ہر گز ختم نہیں ہوتی، ممکن ہے کہ ایک حرارتی طاقت میں تبدیل ہوجائے ، خلاصہ یہ کہ صرف اس دنیا کے مواد جن کی طاقت ثابت و پا ئیدار ہے اگر چہ شکل بد لتی رہتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی دانشوروں اور آزمائشوں کے ذریعہ قطعی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ ”مادہ“ اور ”طاقت“ کے درمیان ایک قریبی تعلق ہے، یعنی مادہ اور طاقت ایک ہی حقیقت کے دو مظہر ہیں،”مادہ“ طاقت کا خلاصہ ہے اور ”طاقت“ مادہ کی تفصیل ہے، اور دونوں معین شرائط و حالات کے تحت ایک دوسرے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

ایٹمی طاقت ، مادہ کا طاقت میں تبدیل ہونے کا نام ہے، یا دوسرے الفاظ میں ایٹمی ذرہ کا پھٹنا اور اس کی طاقت کا آزاد ہونا ہے۔

آج سائنس نے یہ بات ثابت کی ہے کہ سورج کی حرارتی طاقت ایک ایٹمی طاقت ہے جو سورج کے ایٹم پھٹنے پر نکلتی ہے، اسی وجہ سے ہر روز سورج کا وزن کم سے کم تر ہوتا جارہا ہے، اگرچہ یہ وزن سورج کے وزن کے مقابلہ میں بہت ہی ناچیز ہے۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ جس طرح مادہ طاقت میں تبدیل ہوسکتا ہے اسی طرح طاقت بھی مادہ میں تبدیل ہوسکتی ہے، یعنی اگر پھیلی ہوئی طاقت دوبارہ جمع ہوجائے اور جسم و جرم کی حالت پیدا کرلے تو پھر ایک جسم کی شکل میں ظاہر ہوسکتی ہے۔

اس بنا پر کوئی مانع نہیں ہے کہ ہمارے اعمال اور گفتگو جو مختلف طاقت کی شکل میں موجود رہتے ہیں اور نابود نہیں ہوتے، وہ حکم خدا سے دوبارہ جمع ہوجائیں اور ایک جسم کی شکل اختیار کرلیں، اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ ہر عمل اپنے لحاظ سے جسم حاصل کرے گا ، جو طاقت اصلاح نفس، خدمت دین، تقوی اور پرہیزگاری میں خرچ کی گئی ہے وہ ایک خوبصورت جسم میں ظاہر ہوگی، اور جو طاقت ظلم و ستم، فساد اور برائیوں میں خرچ کی گئی ہے وہ بد شکل اور متنفر صورت میں ظاہر ہوگی!

اس بنا پر ”تجسم اعمال“ کو قرآن مجید کے علمی معجزات میں شمار کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اس زمانہ میں طاقت کی بقا، یا مادہ کا طاقت میں تبدیل ہونا یا اس کے برعکس طاقت کا مادہ میں تبدیل ہونا،دانشوروں اور صا حبان علم کے ذہنوں تک میں نہ تھا، لیکن قرآن مجید اور روایات میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔

لہٰذا نہ تو ”عرض“ ہونے کے لحاظ سے کوئی مشکل ہے اور نہ اعمال کے نابود ہونے کے لحاظ سے، کیونکہ اعمال نابود نہیں ہوتے، اور عرض و جوہر ایک ہی حقیقت کے دو جلوے ہیں، یہ بات جوہری حرکت کے پیش نظر واضح تر ہوجاتی ہے! کیونکہ ”جوہری حرکت“ کے قائل اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ عرض و جوہر ایک دوسرے سے جدا نہیںہیں، جس کی بنا پر وہ عرض میں جوہر ی حرکت کے ذریعہ حرکت جوہری سے استدلال کرتے ہیں(غور کیجئے )

اپنی بات کو مکمل کرنے کے لئے اس نکتہ کی طرف اشارہ مناسب ہے:

مشہور و معروف فرانسوی دانشور ”لاوازی“ نے قانون ”بقا ئے مادہ“ کو بہت سعی و کوشش کے بعد کشف کیا اور یہ ثابت کیا ہے کہ اس دنیا کے تمام مادے نابود نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔اس کے کچھ مدت بعد ”پیر کوری اور اس کی زوجہ“ نے پہلی بار ”یڈیو اکٹیو“ (جن جسموں میں ناپائیدار ایٹم پائے جاتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ طاقت میں تبدیل ہوجاتے ہیں) پر مادہ اور طاقت کے تعلق سے ایک ریسرچ کرنے کے بعد کشف کیا اور” قانون بقائے مادہ “کو ”قانون بقائے مادہ اور طاقت“ میں تبدیل کردیا، اور اس لحاظ سے قانون” بقائے مادہ “متزلزل ہوگیا اور قانون ”بقائے مادہ اور طاقت“نے اس کی جگہ لے لی، اور ایٹم کو توڑنے سے مادہ، طاقت میں تبدیل ہونے کو مختلف دانشوروں نے قبول کرلیا، معلوم ہوا کہ یہ دونوں (مادہ اور طاقت) آپس میں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اور ایک دوسرے کی جگہ لے لیتے ہیں، یا دوسرے الفاظ میں یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔

سائنس میں اس چیز کے کشف ہونے کی وجہ سے دانشوروں کی ریسرچ میں ایک عظیم انقلاب برپاہو گیا ہے اور عالم ہستی کی وحدت کو پہلے سے زیادہ ثابت کردیا۔

اس قانون نے قیامت اور انسان کے تجسم اعمال کے سلسلہ میں گزشتہ لوگوں کے بہت سے اعتراضات کا حل پیش کردیا جس سے تجسم اعمال کے سلسلہ میں لاحق موانع برطرف ہوگئے۔(۲)

____________________

(۱) سورہ نساء ، آیت ۱۰

(۲) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۱۱۵ اور ۱۳۷


۶۴ ۔ عالمِ برزخ کیا ہے اور وہاں کی زندگی کیسی ہے؟

عالم برزخ کونسا عالم ہے ؟ اور کہاں ہے؟ اور دنیا و آخرت کے درمیان قرار پانے والے اس عالم کو ثابت کرنے کی کیا دلیل ہے؟

کیا برزخ سب کے لئے ہے یا خاص گروہ کے لئے ہے؟

اس سلسلہ میں یہ تمام سوالات موجود ہیں، قرآن مجید اور احادیث میں ان کی طرف اشارہ ہوا ہے ، اس کتاب کے لحاظ سے ہم ان کے جوابات پیش کرتے ہیں:

لفظ ”برزخ“ لغوی لحاظ سے دو چیزوں کے درمیان حائل چیز کو کہاجا تا ہے اس کے بعد ہر دو چیز کے درمیان حائل ہونے والی چیز کو برزخ کہا جانے لگا، اسی وجہ سے دنیا و آخرت کے درمیان قرار پانے والے عالم کو ”برزخ“ کہا جاتا ہے۔

اس عالم کو کبھی ”عالمِ قبر“ یا ”عالمِ ارواح“ بھی کہا جاتا ہے ، اس پر قرآن کریم کی بہت سی آیات دلالت کرتی ہیں جن میں سے بعض اس معنی میں ظاہر ہیں اور بعض واضح طور پر دلالت کرتی ہیں۔

آیہ شریفہ:( وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إلیٰ یومَ یَبْعَثُون ) اس عالم کے بارے میں ظاہرہے، اگرچہ بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی یوں کئے ہیں کہ عالم آخرت سے دنیا میں نہیں پلٹا جاسکتا، کیونکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کے پیچھے ایک ایسا مانع ہے جو انسان کو دنیا میں لوٹنے سے روک دے گا، لیکن یہ معانی بہت ہی بعید نظر آتے ہیں کیونکہ ”إلیٰ یوم یبعثون“(روز قیامت تک) کا جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ برزخ دنیا اور آخرت کے درمیان موجود ہے نہ کہ انسان اور دنیا کے درمیان۔

جن آیات سے واضح طور پر عالم برزخ کا اثبات ہے وہ شہداء کی حیات کے بارے میں ہیں جیسا کہ ارشاد ہے:( وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتًا بَلْ اٴَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ ) (۱) ”اور خبر دار ! راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پارہے ہیں“۔

یہاں پیغمبر اکرم (ص) سے خطاب ہوا ہے لیکن سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۵۴/ میں تمام مومنین سے خطاب ہوا ہے:( وَلاَتَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتٌ بَلْ اٴَحْیَاءٌ وَلَکِنْ لاَتَشْعُرُونَ ) ” اور جو لوگ راہ خدا میں قتل ہوجاتے ہیں انھیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے “

نہ صرف یہ کہ بلند مرتبہ مومنین مثل شہداء ِراہ خدا کے لئے برزخ موجود ہے بلکہ فرعون اور اس کے ساتھی جیسے سرکش کفار کے لئے بھی برزخ موجود ہے، جیسا کہ سورہ مومن میں ارشاد ہوتا ہے:( النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذَابِ ) (۲) ”وہ جہنم جس کے سامنے ہر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو فرشتوں کو حکم ہوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب کی منزل میں داخل کردو“۔(۲۵)

اس بنا پر عالم برزخ کے موجود ہونے پر تو کوئی بحث نہیں ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہاں کی زندگی کیسی ہے ، اگرچہ اس سلسلہ میں مختلف صورتیں بیان ہوئی ہیں لیکن سب سے واضح اور روشن یہ ہے کہ انسان کی روح اس دنیاوی زندگی کے خاتمہ کے بعد لطیف جسم میں قرار پاتی ہے اوراس مادہ کے بہت سے عوارض سے آزاد ہوجاتی ہے، اور چونکہ ہمارے اس جسم کے مشابہ ہے تو اس کو ”قالب مثالی“ یا ”بدن مثالی“ کہا جاتا ہے، جو نہ بالکل مجرد ہے اور نہ صرف مادی، بلکہ ایک طرح سے ”تجرد برزخی“ ہے۔

بعض محققین نے روح کی اس حالت کو خواب سے تشبیہ دی ہے ، مثلاً اگر انسان خواب میں بہترین نعمتیں دیکھے تو واقعاً محظوظ ہوتا ہے اور ان سے لذت حاصل کرتا ہے، یا ہولناک مناظر کو دیکھ کر غمگین اور غم زدہ ہوتا ہے، اور کبھی کبھی اس کے بدن پر بھی اس کا اثرظاہر ہوتا ہے اور خطرناک خواب دیکھ کر چیختا او رچلاتا ہے، کروٹیں بدلتا ہے اور اس کا بدن پسینہ میں شرابور ہوجاتا ہے۔

یہاں تک کہ بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ عالم خواب میں انسان کی روح بدن مثالی کے ساتھ فعالیت کرتی ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی معتقد ہیں کہ طاقتور ارواح بیداری کی حالت میں یہی تجردِ برزخی حاصل کرلیتی ہیں یعنی جسم سے جدا ہوکر بدنِ مثالی میں اپنی مرضی کے مطابق یا مقناطیسی خواب کے ذریعہ دنیا کی سیر کرلیتی ہیں اور دنیا کے مختلف مسائل سے باخبر ہوجاتی ہیں۔(۱)

بلکہ بعض حضرات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ہر انسان کے بدن میں ایک مثالی بدن ہوتا ہے، لیکن موت کے وقت اور برزخی زندگی کے آغازمیں الگ ہوجاتا ہے اور کبھی اسی مادی

(۳) علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے بحار الانوار میں اس مطلب کو بیان کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ متعدد روایات میںحالت برزخ کو عالم خواب سے مشابہ قراردیا گیا ہے،یہاں تک کہ بعض طاقتور نفوس ( ارواح) متعدد مثالی بدن رکھتے ہیں، اسی بنا پر جن روایات میں بیان ہوا ہے کہ ائمہ معصوم ہر شخص کی موت کے وقت حاضر ہوتے ہیں، ان کی توجیہ اور تفسیر کی ضرورت نہیں ہے، (بحار الانوار ، جلد ۶ ، صفحہ ۲۷۱)

دنیا میں بھی جدا ہونے کا امکان ہوتا ہے ، (جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں)

اب اگر ہم مثالی بدن کی ان تمام خصوصیات کو قبول (بھی) نہ کریں تو اصل مطلب سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ بہت سی روایات میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اور عقلی لحاظ سے بھی کوئی مانع نہیں ہے۔ضمناً ہماری گزشتہ گفتگو سے اس اعتراض کا جواب بھی واضح ہوجاتا ہے ، جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں: بدن مثالی کا قائل ہونا گویا تناسخ کا قائل ہونا، کیونکہ تناسخ بھی اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے کہ ایک روح مختلف بدن میں منتقل ہوتی رہے۔

اس اعتراض کاجواب شیخ بہائی علیہ الرحمہ نے واضح طور پر پیش کیا ہے، چنانچہ موصوف فرماتے ہیں: جس تناسخ کے باطل ہونے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کی روح جسم سے نکلنے کے بعد اسی دنیا میں کسی دوسرے بدن میں منتقل ہوجائے، لیکن قیامت تک کے لئے عالم برزخ میں روح کا مثالی بدن میں بدل جانا جو پھر خدا کے حکم سے اسی پہلے بدن میں منتقل ہونا، اس کاتناسخ سے کوئی تعلق نہیںہے ،اور اگر ہم شدت کے ساتھ تناسخ کا انکار کرتے ہیں اور تناسخ کے قائل افراد کو کافر جانتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ ارواح کو ازلی مانتے ہیں اور قائل ہیں کہ یہی روح ایک بدن سے دوسرے بدن میں منتقل ہوتی رہتی ہے ، جس کی بنا پر روز قیامت معادِ جسمانی کا انکار کرتے ہیں۔(۴) جس طرح سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ بدن مثالی اسی مادی بدن کے اندر ہوتا ہے تو پھر تناسخ کا جواب روشن تر ہوجاتا ہے، کیونکہ روح اپنے بدن سے دوسرے بدن میں منتقل نہیں ہوئی ہے بلکہ بدن کے ایک حصہ سے جدا ہوکر دوسرے حصہ کے ساتھ عالم برزخ میں زندگی بسرکرتی ہے۔(۵)

____________________

۱)سورہ آل عمران ، آیت ۱۶۹ (۲) سورہ مومن( غافر) ، آیت ۴۶

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۳۱۴

(۴) بحار الانوار ، جلد ۶، صفحہ ۲۷۷ (۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۳۲۲


۶۵ ۔ کیا دنیا اور آخرت میں تضاد پایا جاتا ہے ؟

قرآن مجید کی متعدد آیات میں دنیا کی اپنے مادی امکانات کے ساتھ تعریف و تمجید کی گئی ہے: بعض آیات میں مال کو ”خیر“ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے:( کُتِبَ عَلَیْکُمْ إِذَا حَضَرَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ إِنْ تَرَکَ خَیْرًا الْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْاٴَقْرَبِینَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِینَ ) (۱)

مہارے اوپر بھی لکھ دیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آجائے تو اگر کوئی (خیر) مال چھوڑا ہے تو اپنے ماں باپ اور قرابتداروں کے لئے وصیت کردے یہ صاحبان تقویٰ پر ایک طرح کا حق ہے“۔

بہت سی آیات میں مادی نعمتوں کو فضل خدا کا عنوان دیا گیا ہے،( وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللهِ ) (۲)

”اور فضل خدا کو تلاش کرو۔“۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے : ”روئے زمین کی تمام نعمتیں تمہارے لئے پیدا کی گئی ہیں،( خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا ) (سورہ بقرہ ، آیت ۲۹)

بہت سی آیات میں ان تمام چیزوں کے لئے کہا گیا ہے:( سَخَّرَ لَکُم ) (یہ سب تمہارے لئے مسخر کردی گئی ہیں) ، اور اگر تمام ان آیات کو ایک جگہ جمع کیا جائے کہ جن میں مادی امکانات کو محترم شمار کیا گیا ہے توان کی کثیر تعداد ہو جائے گی۔

لیکن مادی نعمتوں کی اس قدر اہمیت ہونے کے بعد بھی قرآن مجید میں ایسے الفاظ ملتے ہیں جن میں ان مادی چیزوں کو تحقیر اور ذلت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔

ایک جگہ متاع فانی اور عرض شمار کیا گیا ہے:( تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا ) (سورہ نساء ، آیت ۹۴)

ایک دوسری جگہ اس کو غرور اور غفلت کا سبب شمار کیا گیاہے:( وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُور ) (سورہ حدید ، آیت ۲۰)

ایک دوسرے مقام پر دنیا کو لہو و لعب اور کھیل کود سے تعبیر کیا گیا ہے:( وَمَا هَذِهِ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَهْوٌ وَلَعِبٌ ) (سورہ عنکبوت ، آیت ۶۴)

ایک دوسری جگہ یاد خدا سے غفلت کا سبب قرار دیا گیا ہے:( رِجَالٌ لاَتُلْهِیهِمْ تِجَارَةٌ وَلاَبَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ الله ) (سورہ نور ، آیت ۳۷)

اسی طرح یہ مختلف نظریہ روایات میں بھی بیان ہوا ہے:

ایک طرف تو دنیا کو آخرت کی کھیتی، نیک اور صالح افراد کے لئے تجارت گاہ ،دوستان حق کے لئے مسجد، وحی الٰہی کے نزول کی جگہ، اور وعظ و نصیحت کا مقام شمار کیا گیا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے: ”مَسجدُ احباء الله و مُصَلّٰی ملائکة الله و مھّبط وحيّ الله و متّجر اولیاء الله“(۳)

دوسری طرف اسی دنیاکی مذمت کی گئی ہے اور اس کو غفلت و بے خبری اور یاد خدا سے غافل ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

کیا اس طرح کی تمام آیات و روایات میں تضاد ہے ؟

اس سوال کا جواب بھی خود قرآن مجید سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

دنیا اور اس کی نعمتوں کی مذمت اس جگہ کی گئی ہے جہاں ان لوگوں کو مخاطب قرار دیا گیا ہے کہ جن کا ہدف اور مقصد صرف یہی دنیاوی زندگی ہے، جیسا کہ سورہ نجم میں ارشاد ہوتا ہے:( وَلَمْ یَرِدْ إلاَّ الحیٰوة الدُّنْیَا ) (سورہ نجم ، آیت ۲۹) ” اور زندگی دنیا کے علاوہ کچھ نہ چاہے“۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ یہ گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے جو آخرت کو دنیا کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں اور دنیاوی مادیات تک پہنچنے کے لئے کسی بھی ظلم و ستم اور خلاف ورزی کی پرواہ نہیں کرتے۔

سورہ توبہ میں ارشاد ہوتا ہے:( اٴ رَضِیتُمْ بِالحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الاٴَخِرَةِ ) (سورہ توبہ ، آیت ۳۸) کیا تم آخرت کے بدلے زندگانی دنیا سے راضی ہوگئے ہو؟“۔

محل بحث آیات خود اس بات پر شاہد ہیں جیسا کہ ارشاد ہے:( من کان یرید العاجلة ) (یعنی صرف ان کا ہدف اور مقصد یہی جلد ہی ختم ہوجانے والی مادی زندگیہے۔)

اصولاً ”کھیتی“ یا ”تجارت گاہ“ وغیرہ جیسے الفاظ اس سلسلہ میں زندہ گواہ ہیں۔

مختصر یہ کہ مادی نعمتیں سب خداوندعالم کی طرف سے ہیں اور نظام خلقت میں ان کا موجود ہونا ضروری تھا اور اگر انسان ان کے ذریعہ معنوی کمال اور سعادت تک پہنچنے میں مدد حاصل کرے تو ہر لحاظ سے قابل تحسین ہیں۔

لیکن اگر صرف دنیا ہی کو مقصد بنا لیا جائے اور اس کو آخرت کا وسیلہ نہ قرار دیا جائے تو اس صورت میں یہی مادی نعمتیں ، غفلت و غرو ر، طغیان و سرکشی اور ظلم و ستم کا عنوان حاصل کرلیں گی، جس کی ہر لحاظ سے مذمت کی جائے گی۔

واقعاً حضرت علی علیہ السلام نے اپنے مختصر اور پُر معنی کلام میں کیا بہترین ارشادفرمایا”مَنْ ابصَرَ بھَا بصّرتہ وَمَنْ ابصَرَ إلَیھَا اعمتہ“(۴) (جس نے اس دنیا کو چشم بصیرت کے ساتھ دیکھا (اور اس کو بینائی کا وسیلہ قرار دیا) تو دنیا اس کو بصیرت اور آگاہی عطا کرتی ہے، اور اگر کسی نے خود دنیا کو دیکھا تودنیا اس کو نابینا کردیتی ہے۔)

در اصل مذموم اور ممدوح دنیامیں یہیفرق ہے کہ اگر اس کو ہدف قرار دیا جائے تو مذموم ہے اور اگر اس کو ذریعہ اور وسیلہ قرار دیا جائے تو ممدوح ہے۔(۵)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک حدیث میں بیان ہوا ہے: ”نِعمَ العَون الدُّنْیَا عَلَی طَلَبِ الآخرة“(۶) ( آخرت تک پہنچنے کے لئے دنیا بہترین مددگار ہے۔)

سورہ قصص کی آیات میں مالدار اور مغرور ”قارون“ کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے، جو اس موضوع کے لئے بہترین شاہد ہے ، لیکن اسلام اس مال و دولت کو پسند کرتا ہے جو ”آخرت کے لئے کام آئے“، جس کے ذریعہ آخرت حاصل کی جائے، جیسا کہ بنی اسرائیل کے علماقارون سے کہتے تھے: ”وَابْتَغِ فِیمَا آتَاکَ الله الدَّار الآخرة“ ( خدا کی عطا کردہ نعمتوں کے ذریعہ آخرت حاصل کرنے کی فکر کر)۔

اسلام اس مال کو پسند کرتا ہے جس کے ذریعہ سب کے ساتھ نیکی کی جائے: ”احْسَنَ کَمَا احسنَ الله إلیک“

اسلام اس مال و دولت کی مدح و ثنا کرتا ہے جس میں انسان دنیا سے صرف اپنے حق کو نہ بھولے: ”لَاتَنْسِ نَصِیبکَ مِنَ الدُّنْیَا“

خلاصہ اسلام ایسے مال و دلت کو پسند کرتا ہے جس کے ذریعہ ظلم و فساد برپا نہ کیا جائے، انسانی اقدار کی پائمالی نہ ہو، اور مال زیادہ کرنے کے جنون میں مبتلا نہ ہو، نیز مال ”خود پسندی“ اور دوسرے کو ذلیل سمجھنے کا باعث نہ ہو یہاں تک کہ انسان مال و دولت کے نشہ میں خدا و رسول کے مقابلہ میں نہ آجائے۔

اس مال کے ذریعہ سب کی مشکلات دور کرناچاہئے، یہ مال اگر غریبوں کے زخم کا مرہم بن جائے، محتاج لوگوں کے درد کی دوا بن جائے تو واقعاً اسلام اس مال کوپسند کرتا ہے۔

ان مقاصد کے تحت مال و دولت حاصل کرنا دنیا کی محبت نہیں ہے، بلکہ یہ آخرت کی لگن ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے: حضرت امام صادق علیہ السلام کے دوستوں میں سے ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور اس نے شکایت کی کہ ہم دنیا سے محبت کرتے ہیں اور اس کی آرزو کرتے ہیں (لیکن میں ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا پرست نہ ہوجاؤں!!)

امام علیہ السلام (اس شخص کے تقویٰ اور پاکیزگی سے باخبر تھے، آپ)نے فرمایا: تم مال و دولت سے کیا کیا کام انجام دیتے ہو؟ اس نے عرض کی: اپنے او ر اپنے اہل و عیال کا خرچ پورا کرتا ہوں، اپنے رشتہ داروں کی مدد کرتا ہوں، راہ خدا میں خرچ کرتا ہوں اور حج و عمرہ بجالاتا ہوں، اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: ”لَیسَ ھَذا طَلَبُ الدُّنیَا ھَذَا طَلَبُ الآخِرةِ“(۷) (یہ دنیا طلبی اور دنیا پرستی نہیں ہے ، بلکہ یہ آخرت کا سوداہے)اور یہیں سے ان دو گروہوں کے نظریہ کاباطل ہونا بھی واضح ہوجاتا ہے : پہلا گروہ ایسے مسلمانوں کا ہے جن کو تعلیمات اسلامی کی کوئی خبر نہیں ہے اور اسلام کو مستکبرین کا حامی قرار دیتے ہیں، اور دوسرا گروہ ان دشمنوں کا ہے جو اسلام کی صورت بگاڑ کر پیش کرتے ہیں، اور اسلام کو مال و

دولت کا مخالف اور فقر و غربت کا طرفدار قرار دیتے ہیں۔

اصولی طور پر کوئی غریب قوم آزادی اور سربلند ی کی زندگی نہیں گزار سکتی۔

فقر و غربت وابستگی کا وسیلہ ہے۔

فقر و غربت دنیا و آخرت کی ذلت کا نام ہے۔

فقر و غربت انسان کو گناہ اور آلودگی کی دعوت دیتے ہیں۔

جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول حدیث میں وارد ہوا ہے”غَنیٌّ یحجزُکَ عَن الظُّلْمِ خَیرٌ مِن فَقْرٍ یَحمَلُکَ عَلَی الا ثمِ“(۸) ( ایسی بے نیازی جو دوسروں پر ظلم کرنے سے روک لے، اس فقر و غربت سے بہتر ہے جو تجھے گناہوں کی دعوت دے)۔

تمام ملت اسلام کو اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ غنی بنیں اور دوسروں سے بے نیاز ہو جائیں، خود کفائی کی منزل تک پہنچیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوں، اور اپنی عزت و شرافت اور استقلال کو فقر و غربت اور دوسرے سے وابستگی پر قربان نہ کریں، یہی اسلام کا اصلی راستہ ہے۔(۹)

____________________

(۱) سورہ بقرہ ، آیت نمبر ۱۸۰

(۲) سورہ جمعہ ، آیت ۱۰

(۳) نہج البلاغہ ،کلمات قصار ،جملہ ۱۳۱

(۴) نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ۸۲ (۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۶۷

(۶) ”وسائل الشیعہ “، جلد ۱۲، صفحہ ۱۷، (حدیث ۵ ،باب ۱۶،ابواب مقدمات تجارت)

(۷) وسائل الشیعہ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۹، (حدیث ۳، باب ۷،ابواب مقدمات التجارة)

(۸) وسائل الشیعہ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۷ (حدیث ۷باب ۶، ابواب مقدمات التجارة)

(۹) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۶، صفحہ ۱۷۴


۶۶ ۔ نامہ اعمال کیا ہے اور اس کا فلسفہ کیا ہے؟

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَکُلَّ إِنسَانٍ اٴَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِی عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کِتَابًا یَلْقَاهُ مَنشُورًا ) (۱)

” اور ہم نے ہر انسان کے نامہ اعمال کو اس کی گردن میں آویزاں کردیا ہے اور روز قیامت اسے ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح پیش کردیں گے“۔ (یہ وہی نامہ اعمال ہے اور ہم اس سے کہیں گے: اپنی کتاب پڑھو)

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نامہ اعمال کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟

اس سلسلہ میں بیان شدہ آیات و روایات کے پیش نظر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے تمام چھوٹے بڑے اعمال اس کی کتاب میں لکھے جاتے ہیں اور اگر انسان نیک ہے تو روز قیامت اس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، اور اگر برے لوگوں میں سے ہے تو اس کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

بے شک یہ کتاب اور نامہ اعمال ہمارے گھر میں موجود کتاب اور کاپی کی طرح بالکل نہیں

ہے، اسی وجہ سے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ نامہ اعمال ”انسانی روح“ کے علاوہ کچھ نہیں ہے، کیونکہ اسی روح میں انسان کے تمام اعمال ثبت ہوجاتے ہیں،(۲) کیونکہ ہم جو عمل بھی انجام دیتے ہیں اس کا اثر ضرور ہماری روح و جان پر ہوتا ہے۔

یا یہ کہ یہ نامہ اعمال ہمارے اعضا و جوارح ہمارے ہاتھ پیر، آنکھ کان وغیرہ اور اس سے بالاتر وہ ہوا او رفضا ہے جس میں ہم نے وہ عمل انجام دیا ہے، کیونکہ ہمارے اعمال ہمارے جسم اور تمام اعضا پر اثر کرنے کے علاوہ ہوا اور زمین میں منعکس ہوجاتے ہیں۔

اگرچہ ہم اس دنیا میں ان آثار کو محسوس نہیں کرسکتے، لیکن بے شک وہ موجود ہیں، اور جس دن ہماری آنکھوں میں نئی روشنی پیدا ہو جائے گی ان سب کو دیکھیں گے اور ان کو پڑھیں گے۔

مذکورہ آیت میں( إقْرَاٴ کِتَابکَ ) ( اپنی کتاب پڑھو)کا جملہ بیان ہوا ہے۔

لیکن یہ جملہ، مذکورہ تفسیر سے کہیں دور نہ کردے، کیونکہ پڑھنے کے وسیع معنی ہوتے ہیں جس میں ہر طرح کا مشاہدہ آتا ہے، مثال کے طو رپر ہم اپنی روز مرّہ کی گفتگو میں کہتے ہیں کہ میں نے فلاں کی آنکھوں کو پڑھا کہ اس کا کیا ارادہ ہے، یا فلاں کام کرنے والے کے قیافہ و چہرہ کو پڑھ لیا ہے، اسی طرح بیماروں کے ایکسرے کو آج کل پڑھنا ہی کہتے ہیں۔

اسی وجہ سے ہم قرآنی آیات، میں پڑھتے ہیں کہ اس نامہ اعمال کی سطروں کا کسی بھی صورت میں انکار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ خود عمل کے واقعی اور تکوینی آثار ہیں اور بالکل انسان کی ریکارڈ کی ہوئی آواز یا فوٹو یا انگوٹھے کے نشان کی طرح ہیں۔(۳)

نامہ اعمال کا فلسفہ

قرآنی آیات اور روایات میں نامہ اعمال کی تفصیل بیان ہونا خصوصاً جبکہ اعمال ، گفتگو اور نیت کی تمام جزئیات اس میں لکھی جاتی ہیں تو سب سے پہلے اس پر تربیتی آثار مرتب ہوتے ہیں ، جیسا کہ ہم نے بارہا اس بات کو عرض کیا ہے کہ قرآن کریم کی تمام تعلیمات انسان کے لئے تہذیب نفس ،روح کی پاکیزگی ،کمالات روحانی اور اخلاق و پرہیزگاری اصول کو مضبوط بنانے کے لئے ہے، اور یہ تمام انسانوں کے لئے ایک چیلنج ہے تاکہ اپنی رفتار و گفتار پر نظر رکھیں کیونکہ تمام چیزیں لکھی جارہی ہیں، اور روز قیامت ہو بہو دکھادی جائیں گی۔

یہ صحیح ہے کہ خداوندعالم کا علم تمام چیزوں پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور جو شخص خداوندعالم کے علمی احاطہ پر ایمان رکھتا ہو کہ خداوندعالم ہر جگہ موجود ہے اور سب چیزوں کو دیکھ رہا ہے تو ایسے شخص کے لئے نامہ اعمال کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن اس حقیقت پر توجہ کرنے سے اکثر لوگوں میں بہت مفید آثار مرتب ہوتے ہیں۔

اگر کوئی یہ جانتا ہو کہ اس کے ساتھ ایک ایسا کیمرہ موجود ہے جو اس کی آواز بھی ریکارڈ کررہا ہے اور اس کی فلم بھی بنارہا ہے، چاہے وہ گھر کے اندر ہو یا گھر سے باہر، گویا اپنے اعضا و جوارح کے ذریعہ جو کچھ بھی انجام دے رہا ہے وہ سب ریکارڈ ہورہا ہے ، اور ایک روز ایسا آئے گا جب خداوندعالم کی عدالت میں یہ سب فلم اور کیسٹ زندہ گواہ کی شکل میں اس کے سامنے پیش کی جائیں گی،تو یقینا ایسا انسان اپنی رفتار و گفتار پر مکمل توجہ دےتا ہے، اور پھر اس کے ظاہر و باطن پرتقویٰ اور پرہیزگاری کی ہی حکومت ہوگی۔

نامہ اعمال پر ایمان رکھنا کہ اس میں ہر چھوٹا بڑا اعمال لکھا جارہا ہے اور دو فرشتہ انسان کے اعمال لکھنے کے لئے ہر وقت اس کے ساتھ ہیں، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ اس کا نامہ اعمال سب کے سامنے روز قیامت پیش کیا جائے گا اور تمام چھپے ہوئے گناہ اس میں ظاہر ہوجائیں گے جس سے دوست و دشمن سبھی کے سامنے ندامت اور رسوائی ہوگی، لہٰذا یہ ایمان انسان کو گناہوں سے روکنے کے لئے بہترین سبب ہے۔

نیک افراد کا نامہ اعمال ان کے لئے باعث افتخار اور عزت کا سبب ہوگا، ان کے اعمال بہتر اور موثر تر دکھائی دیں گے، اور یہ چیز نیک اعمال انجام دینے کے لئے بہترین علت ہے،لیکن بعض لوگوں کا ایمان ضعیف ہوتا ہے اور کبھی کبھی غفلت کا پردہ ان کو ان اہم حقائق سے دور کردیتا ہے، ورنہ قرآن کی یہ اصل ہر انسان کی تربیت کے لئے کافی ہے۔(۴)

____________________

(۱)سورہ اسراء ، آیت ۱۳

(۲) تفسیر صافی

(۳)تفسیر نمو نہ ، جلد ۱۲ ،صفحہ ۵۵

(۴) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۱۰۷


۶۷ ۔ روز قیامت اعمال کو کس قسم کی ترازومیں تولے جائیں گے؟

جن لوگوں نے روز قیامت کی میزان کو دنیا کی ترازو کی طرح قرار دیا ہے وہ اس بات پر مجبور ہیں کہ انسان کے اعمال کے لئے ایک قسم کا وزن قرار دیں تاکہ اس کو ترازو میں تولا جاسکے۔

لیکن بہت سے قرائن و شواہد اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ”میزان“ سے مراد عام ناپ تول کے معنی میں ہے، کیونکہ ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہر چیز کی ناپ تول کے لئے ایک الگ آلہ ہوتا ہے، درجہ حرارت کو معین کرنے کے لئے ”تھرما میٹر“ ہوتا ہے، یا ہوا کا اندازہ لگانے کے لئے ”ایر میٹر “ ہوتا ہے۔ لہٰذا میزانِ اعمال سے مراد وہ افراد ہیں جن کے اعمال کے ذریعہ نیک اور بُرے لوگوں کے اعمال کا موازنہ کیا جائے، جیسا کہ علامہ مجلسی علیہ الرحمہ شیخ مفید سے نقل کرتے ہیں: ”ان امیر المومنین والائمة من ذریته (ع)هم الموازین(۱) (امیر المومنین اور ائمہ (علیہم السلام)قیامت میں عدل الٰہی کی میزان ہیں)”اصول کافی“ اور ”معانی الاخبار“ میں بھی حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ایک شخص نے آیہ شریفہ :( وَنَضعُ المَوازِینَ القِسط لِیَومِ القَیامةِ ) (ہم روز قیامت

عدل و انصاف کی ترازو قرار دیں گے) کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”هم الانبیاء والاوصیاء(۲) (میزان اعمال سے مراد انبیاء ا ور ان کے جانشین ہیں) حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی زیاراتِ مطلقہ میں سے ہم ایک زیارت میں پڑھتے ہیں: ”السَّلام علیٰ مِیزَانُ الاٴعمَال “ (سلام ہو تم پر اے میزان اعمال!)(۳) در اصل یہ عظیم الشان شخصیات اعمال کے لئے نمونہ اور معیار ہیں، اور ہر شخص کے اعمال اگر ان حضرات کے اعمال سے شباہت رکھتے ہیں تو ان کا وزن ہے اور اگر ان کے اعمال سے شباہت نہیں رکھتے تو ان کا کوئی وزن نہیں ہے، یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اولیاء اللہ، اعمال کے لئے معیار ہیں ، لیکن روز قیامت یہ مسئلہ بالکل واضح ہوجائے گا۔(۴)

____________________

(۱) بحار الانوار ، جلد ۷، صفحہ ۲۵۲

(۲) تفسیر برہان ، جلد ۳، صفحہ ۶۱، اصول کافی ، جلد اول، صفحہ ۴۱۹ اس حدیث کا تذکرہ دو سری تفسیروں میں بھی آیا ہے

(۳) محدث قمی علیہ الرحمہ نے مفاتیح الجنان میں زیارات مطلقہ میں پہلی زیارت قرار دی ہے

(۴) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۶،صفحہ ۱۵۹


۶۸۔ پُل صراط کی حقیقت کیا ہے؟

اگرچہ عالمِ بعد از مرگ اور حقائق ِقیامت کے سلسلہ میں تفصیلی معلومات اس دنیا والوں کے لئے نا ممکن ہے، لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ہمیں اجمالی اور مختصر معلومات کا علم بھی نہ ہوسکے۔

آیات و روایات کے پیش نظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ”پل صراط“ جنت کے راستہ میں جہنم کے اوپر ایک پُل ہے جس سے سب نیک اور بُرے لوگ گزریں گے، نیک افراد بہت تیزی سے گزر جائیں گے اور خدا کی بے انتہا نعمتوں تک پہنچ جائیں گے، لیکن بُرے لوگ اس پُل سے جہنم میں گرجائیں گے! یہاں تک کہ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ”پل صراط“ سے گزرنے کی رفتار نیک لوگوں کے ایمان و اخلاص اور اعمال صالحہ کے لحاظ سے ہوگی۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں پڑھتے ہیں:

”فَمِنْهُم مَن یمرّ مثل البُراق، وَمِنْهُم مَن یَمرّ مثل عدوالفرس ،وَمِنْهُم مَن یمرحبواً،وَمِنْهُم مَن یَمرّمشیاً،وَمِنْهُم مَن یمرّمتعلقاً،قد تاٴخذ النَّار منه شیئاً وتترک شیئاً “۔(۱)

”پل صراط“ سے کچھ لوگ بجلی کی طرح گزر جائیں گے، او رکچھ لوگ تیز رفتار گھوڑے کی طرح ،کچھ لو گ پیدل،کچھ لوگ رینگتے ہوئے اور کچھ لوگ آہستہ گزریں گے،اور کچھ لوگ ہوں گے جو صراط کو پکڑے ہوئے چلیں گے جب کہ ان کے پیر ادھر ادھر ڈگمگاتے ہوں گے، جہنم کی آگ ان میں سے کچھ کو اپنے اندر کھینچ لے گی اور کچھ کو چھوڑ دے گی“۔

لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جنت میں جانے کے لئے دوزخ کے اوپر سے کیوں گزرنا پڑے گا ؟اس کے جواب میں ہم اہم نکات بیان کرتے ہیں:

اس سے ایک طرف تو اہل بہشت دوزخ کو دیکھ کہ عافیت اور بہشت کی قدر کو بہتر سمجھ لیں گے، دوسری طرف ”پل صراط“ ہمارے لئے ایک نمونہ ہے تاکہ ہم دنیا میں شہوت کے بھڑکتے ہوئے جہنم سے گزر کر بہشت تقویٰ تک پہنچ سکیں، اور تیسری طرف سے مجرم اور گناہگاروں کے لئے ایک چیلنج ہے کہ آخر کار ایک باریک اور خطرناک راستہ سے ان کا گزر ہوگا۔

اسی وجہ سے ”مفضل بن عمر“ سے منقول ایک حدیث میں بیان ہوا ہے،کہ جب میں نے امام علیہ السلام سے ”صراط“ کے بارے میں سوال کیا تو حضرت نے فرمایا: صراط معرفت خدا کا راستہ ہے۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے مزید فرمایا: صراط دو ہیں ایک صراط دنیا میں اور ایک صراط آخرت میں، اور صراط دنیا سے مراد ”واجب الاطاعت امام“ ہے، جو شخص اپنے امام کو پہچان لے ،اس کی اقتدا کرے اوراس کے نقش قدم پر چلے تو جہنم پر بنے ہوئے پل صراط سے گزر جائے گا، لیکن جو شخص دنیا میں اپنے امام کو نہ پہچانے تو آخرت میں پُل صراط پر ڈگمگاتے ہوئے جہنم میں گرجائے گا۔(۲)

تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام میں ان دوصراط (صراط دنیا اور صراط آخرت) سے مراد :

”صراط مستقیم“ (یعنی ”غلو“ اور ”تقصیر“ کے درمیان معتدل راستہ) اور ”صراط آخرت“ ہے۔(۳)

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اسلامی روایات میں پُل صراط سے گزرنے کو بہت مشکل مرحلہ قرار دیا گیا ہے، پیغمبر اکرم (ص) (اور حضرت امام صادق علیہ السلام) سے منقول حدیث میں بیان ہواہے: ”إنَّ عَلیٰ جھنّم جَسْراً ادقّ مِنَ الشَّعْر واحدّ مِنَ السَّیْفِ“(۴) (جہنم کے اوپر ایک پُل ہے جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے۔)

اس دنیا میں صراط ”مستقیم“ اور حقیقت ”ولایت “ اور” عدالت“ بھی اسی طرح ہے، بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے کیونکہ سیدھی لکیر باریک ہی ہوتی ہے اور اس کے علاوہ دائیں بائیں انحرافی لکیریں ہوتی ہیں۔

ظاہر سی بات ہے کہ صراط آخرت بھی اسی طرح ہے۔

لیکن ،جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوچکا ہے بعض لوگ اپنے ایمان اور عمل صالح کی بدولت اس خطرناک راستہ سے بہت تیز گزر جائیں گے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اور آپ کی عترتِ طاہرہ سے محبت اس خطرناک راستہ کو آسان بناسکتی ہے، جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ایک روایت میں پڑھتے ہیں: ”إذَا کَانَ یَومَ القیامَةِ وَنُصِبَ الصّراط عَلیٰ جَهنّم لَم یجزْ عَلَیه إلا مَن کَانَ مَعَهُ جَوازُ فِیهِ وِلایةُ عَلِيّ ابن اٴبي طالب(۵) روز قیامت جس وقت جہنم کے اوپر پُل قرار دیا جائے گا اس سے صرف وہی شخص گزرسکے گا جس کے پاس اجازت نامہ ہوگا ، اور وہ اجازت نامہ ” علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت“ ہوگی، اسی طرح کے الفاظ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے سلسلہ میں بھی بیان ہوئے ہیں۔ یہ بات واضح ہے حضرت علی علیہ السلام اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ولایت، پیغمبر اکرم کی ولایت اور قرآن و اسلام اور دیگر ائمہ معصومین سے الگ نہیں ہے، در اصل جب تک ایمان، اخلاق اور نیک عمل کے ذریعہ معصومین علیہم السلام سے رابطہ مضبوط نہ ہوجائے، اس وقت تک پُل صراط سے گزرنا ممکن نہیں ہے، اس سلسلہ میں متعدد روایات بیان ہوئی ہیں، (محترم قارئین ! اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے بحار الانوار ، جلد ۸ فصل صراط کا مطالعہ فرمائیں، خصوصاً حدیث نمبر ۱۲ ، ۱۳ ، ۱۴ ، ۱۵ ، ۱۶،۱۷ ۔)

اس پل صراط کے عقیدہ پر ایمان کا ایک تربیتی پہلو یہ ہے کہ یہ خطرناک، ہولناک اور بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے تیزایک ایسا راستہ ہے جس میں متعدد مقامات پر روکا جائے گا اور ہر مقام پر کچھ سوالات کئے جائیں گے، ایک مقام پر نماز کے بارے میں سوال ہوگا، دوسری جگہ امانت اور صلہ رحم کے بارے میں سوال ہوگا، اور آگے بڑھیں گے تو عدالت وغیرہ کے بارے میں سوال ہوگا، اور یہ ایک ایسا راستہ ہے جس سے گزر ناپیغمبر اکرم (ص) اور حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت اور ان حضرات کے اخلاق کو اپنائے بغیر ممکن نہیں ہے، اور آخر کار ایک ایسا راستہ ہے کہ ہر شخص اپنے ایمان اور اعمال صالح کے نورکے ذریعہ تیزی سے گزرسکتا ہے، اور اگر کوئی شخص پل صراط سے صحیح و سالم نہیں گزر پائے گا تو دوزخ میں گرجائے گا، اور کسی بھی صورت میں معنوی و مادی نعمتوں سے مستفید نہیں ہوپائے گا یعنی جنت میں نہیں پہنچ پائے گا۔

لہٰذا اس معنی پرتوجہ اور اس پر ایمان رکھنے سے بے شک تربیتی لحاظ سے انسان کے اعمال پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے، اور انسان کو راستہ کے انتخاب اور حق و باطل میں جدائی کرنے نیز اولیاء اللہ کے کردار کو اپنانے میں مدد کرتا ہے۔(۶)

____________________

(۱) امالی صدوق ،مجلس ۳۳

(۲) معانی الاخبار صفحہ ۳۲، پہلی حدیث

(۳) بحار الانوار ، جلد ۸، صفحہ ۶۹، حدیث ۱۸

(۴) میزان الحکمہ، جلد ۵، صفحہ ۳۴۸، امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث میں ’ ’إنَّ عَلیٰ جهنّم جِسراً “کی جگہ لفظ ”الصراط “ آیا ہے ، (بحار الانوار ، جلد ۸، صفحہ ۶۴ حدیث۱)

(۵) بحار الانوار، جلد ۸، صفحہ ۶۸،حدیث۱۱

(۶) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۱۹۱


۶۹ ۔ فلسفہ شفاعت کیا ہے؟ اور کیا شفاعت کی امید ،گناہ کی ترغیب نہیں دلاتی؟

شفاعت ، نہ تو گناہ کی ترغیب ہے ،نہ گنہگار کے لئے گرین لائٹ، نہ عقب ماندگی کا سبب اور نہ ہی آج کل کی دنیا میں رائج پارٹی بازی، بلکہ تربیت کا اہم مسئلہ ہے جو مختلف لحاظ سے مثبت اور مفید آثار لئے ہوئے ہے، منجملہ:

الف۔ امید کی کرن اور مایوسی سے مقابلہ: بعض اوقات انسان پر ہوائے نفس کا غلبہ ہوجاتا ہے اور بہت سے اہم گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے جس سے گنہگار انسان مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہوجاتا ہے، جس سے گنہگار کو مزید گناہ انجام دینے میں مدد ملتی ہے کیونکہ ایسے موقع پر یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اب تو پانی سر سے گزر گیا ہے چاہے ایک بالشت ہو یا سو بالشت؟!

لیکن شفاعت ِاولیاء اللہ ان کو بشارت دیتی ہے کہ بس یہیں رک جاؤ اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو، ممکن ہے ان کے گزشتہ گناہ شافعین کی شفاعت پر بخش دئے جائیں، لہٰذا شفاعت کی امید انسان کو مزید گناہ سے روکتی ہے اور تقویٰ واصلاح نفس میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ب۔ اولیاء اللہ سے معنوی تعلق پیدا ہونا: شفاعت کے معنی کے پیش نظر یہ نتیجہ حاصل کرنا آسان ہے کہ شفاعت اسی وقت ممکن ہے جب ”شفیع“ اور ”شفاعت ہونے والے شخص“ کے درمیان ایک قسم کا رابطہ ہو، لہٰذا شفا عت کے لئے ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ معنوی رابطہ ہونا ضروری ہے۔

اگر کوئی شخص کسی کی شفاعت کی امید رکھتا ہو تواس کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ شفاعت کرنے والے سے بہترین تعلقات قائم رکھے ، اور ایسے اعمال انجام دے جن سے وہ خوش رہے، بُرے کاموں سے اجتناب کرے، اس کی محبت و دوستی کو بالکل ختم نہ کرڈالے۔

یہ تمام چیزیں انسانی تربیت کے لئے بہترین اسباب ہیں، جن کے ذریعہ انسان آہستہ آہستہ گناہوں کی گندگی سے باہر نکل آتا ہے، یا کم از کم بعض برائیوں کے ساتھ ساتھ نیک کام بھی انجام دیتا ہے، اور شیطان کے جال میں مزید پھنسنے سے بچ جاتا ہے۔

ج۔ شفاعت کے شرائط حاصل کرنا: قرآن مجید کی متعدد آیات میں شفاعت کے لئے بہت سے شرائط ذکر ہوئے ہیں ان میں سب سے اہم خداوندعالم کی طرف سے اذن و اجازت ہے، اور یہ بات مسلم ہے کہ جو شخص شفاعت کا امیدوار ہے تو اسے خدا وندعالم کی رضایت حاصل کرنی ہوگی، یعنی اسے ایسے اعمال انجام دینے ہوں گے جن سے خداوندعالم راضی و خوشنود ہوجائے۔

بعض آیات میں بیان ہوا ہے کہ روز قیامت صرف ان ہی لوگوں کے بارے میں شفاعت قبول کی جائے گی جن کے بارے میں خدا نے اجازت دی ہو، اور اس کی باتوں سے راضی ہوگیا ہے۔ (سورہ طٰہٰ، آیت ۱۰۹)

سورہ انبیاء ، آیت نمبر ۲۸ میں بیان ہوا ہے کہ شفاعت کے ذریعہ صرف انھیں لوگوں کی بخشش ہوگی جو”مقام ارتضاء“ (یعنی خوشنودی خدا) تک پہنچ چکے ہوں گے، اور سورہ مریم ، آیت ۷ ۸ کے مطابق جن لوگوں نے خدا سے عہد کرلیا ہو، اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ یہ تمام مقامات اس وقت حاصل ہوتے ہیں جب انسان خداوندعالم اور اس کی عدالت پر ایمان رکھتا ہو ، نیکیوں اور برائیوں میں حکم خداکو قبول کرتا ہو، اور خدا کی طرف سے نازل شدہ تمام قوانین کے صحیح ہونے پر گواہی دے۔

اس کے علاوہ بعض آیات میں بیان ہوا ہے کہ ظالمین کو شفاعت نصیب نہ ہوگی، لہٰذا شفاعت کی امید رکھنے والے کے لئے ظالمین کی صف سے باہر نکل آنا ضروری ہے،(چاہے وہ کسی بھی طرح کا ظلم ہو، دوسروں پر ظلم ہو یا اپنے نفس پر ظلم ہو)۔

(قارئین کرام!) یہ تمام چیزیں با عث بنتی ہیں کہ شفاعت کی امید رکھنے والا شخص اپنے گزشتہ اعمال پر تجدید نظر کرے اور آئندہ کے لئے بہتر طور پر منصوبہ بندی کرے، یہ خود انسان کی تربیت کے لئے بہترین اور مثبت پہلو ہے۔

د۔ شافعین پر توجہ: قرآن کریم میں شافعین کے سلسلہ میں بیان شدہ مطالب پر توجہ، اسی طرح احادیث معصومین علیہم السلام میں بیان شدہ وضاحت پر توجہ کرنا مسئلہ شفاعت کاایک دوسرا تربیتی پہلو ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) نے ایک حدیث میں فرمایا:

”الشّفاءُ خَمْسَةٌ: القُرآن، وَالرّحم، والاٴمَانة، وَنبیکُم، وَاٴهلَ بَیتَ نبیکم،“ (۱)

”روز قیامت شفاعت کرنے والے پانچ ہیں: قرآن، صلہ رحم، امانت، تمہارے پیغمبر اور ا ہل بیت پیغمبر (علیہم السلام)“۔

ایک دوسری حدیث جو مسند احمد میں نقل ہوئی ہے، پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: ”تَعَلّمُوا القرآنَ فَاٴنَّهُ شَافِعٌ یَومَ القیامَة(۲) ”قرآن کی تعلیم حاصل کرو کیونکہ وہ روز قیامت تمہاری شفاعت کرنے والا ہے“۔

یہی معنی نہج البلاغہ میں امام المتقین حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے بیان ہوئے ہیں: ”فَإنَّهُ شَافِعٌ مُشَفِّعٌ(۳) ”قرآن کریم ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت بارگاہ الٰہی میںقبول ہے“۔

متعدد روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شفاعت کرنے والوں میں سب سے بہترین شفاعت کرنے والا”توبہ“ ہے: ”لَاشَفِیْعَ اٴنجَح مِنَ التَّوبَة ِ“(۴) ”توبہ سے زیادہ کا میاب کوئی شفیع نہیں ہے“۔

بعض احادیث میں انبیاء، اوصیاء، مومنین اور ملائکہ کی شفاعت کی تصریح کی گئی ، جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) کی حدیث ہے:

”الشَّفَاعةُ للِاٴنبیَاءِ وَالاٴوْصِیاءِ وَالمَومِنِینَ وَالمَلائِکَةِ ،وَفِي المَومنِینَ مَنْ یَشفَعُ مِثْلَ رَبیعةَ و مضر ! واٴقلَّ المَومِنِیْنَ شَفَاعة مَنْ یَشْفَعُ ثَلاثِینَ إنسَاناً !“(۵)

انبیاء، اوصیاء ،مومنین اور فرشتے شفاعت کرنے والے ہیں، اور مومنین کے درمیان شفاعت کرنے والے ایسے بھی ہوں گے جو قبیلہ ”ربیعہ“ اور ”مُضر“ کے برابر شفاعت کریں گے، اور سب سے کم شفاعت کرنے والے مومنین (بھی) تیس افراد کی شفاعت کریں گے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ خداوندعالم روز قیامت ”عابد“ اور ”عالم“ کو مبعوث کرے گا، اور جس وقت یہ دونوں عدل الٰہی کے مقابل کھڑے ہوں : ”قِیلَ لِلْعَابِدِ اِنطَلِقْ إلیَ الجَنَّة، وَقِیْلَ لِلْعَالِمِ قِفْ، تَشفَع لِلنَّاسِ بِحُسْنِ تَادِیبِکَ لَهُم(۶) (عابد سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں چلے جاؤ، اور عالم کو روک لیا جائے گا، اور اس سے کہا جائے گاکہ تم ان لوگوں کی شفاعت کرو جن کی تم نے نیک تربیت کی ہے“۔

محترم قارئین ! گزشتہ روایات خصوصاً آخری روایات میں ایسے الفاظ بیان ہوئے ہیں جن سے صاف صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت کی امید رکھنے والے کے لئے نیک افراد ،مومنین اور علماسے ایک معنوی رابطہ ہونا ضروری ہے۔

شہداء ِراہ خدا کے بارے میں بھی پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”وَیَشْفَعُ الرَّجُلُ مِنهُم مِن سَبْعِینَ اٴلفَا مِن اٴهلِ بَیتِهِ وَجِیرَانِه(۷) (شہداء میں سے ہر شہید اپنے خاندان اور پڑوسیوں میں سے ۷۰/ ہزار افراد کی شفاعت کرے گا“۔

یہاں تک بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ”شفیع انسان، خداوندعالم کی اطاعت اور عمل حق ہے“: ”شَافِعُ الخَلْقِ :العَمَلُ بِالحَقِّ وَلزومِ الصِّدْقِ(۸)

خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ اسلامی معتبر کتابوں میں بیان شدہ ان تمام روایات کے پیش نظر صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شفاعت اسلام کے اہم ترین تربیتی مسائل میں ہے، جس کی شفاعت کرنے والوں کی قسموں کے اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت ہے، اور تمام مسلمانوں کو شفاعت کی اس عظیم منزلت کی طرف اور شفاعت کرنے والوں سے معنوی رابطہ قائم کرنے کی دعوت دی گئی ہے، اور مسئلہ شفاعت کے غلط اور تحریف شدہ شفاعت کے معنی کو الگ کردیتی ہے۔(۱۰)

____________________

(۱) میزان الحکمہ، جلد ۵، صفحہ ۱۲۲

(۲) مسند احمد ، جلد ۵، صفحہ ۲۵۱، (طبع بیروت دار صادر)

(۳) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶ (۴)نہج البلاغہ ،کلمات قصار ،کلمہ ۳۷۱

(۵) بحار الانوار ، جلد ۸، صفحہ ۵۸،حدیث ۷۵ (۶) بحار الانوار ، جلد ۸، ۵۶،حدیث۶۶

(۷) مجمع البیان ، جلد ۲، صفحہ ۵۳۸، (سورہ آل عمران آیت ۱۷۱ کے ذیل میں) (۸) غررا لحکم

(۹) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۵۲۳ (۱۰) تفسیر المیزان میں علامہ طبا طبا ئی علیہ الرحمہ شفاعت کے معنی ”مسببات میں اسباب کی تاثیر“ کرتے ہو ئے شافعین کی دو قسم بیان کرتے ہیں(”عالم تکوین“ اور ”عالم تشریع“) اور تشریعی شافعین میں توبہ، ایمان، عمل صالح، قرآن، انبیاء ، ملائکہ اور مومنین کا شمار کرتے ہیں، پھراس سلسلہ میں دلالت کرنے والی ان آیات کو بیان کر تے ہیں جو گناہوں کی بخشش میں مذکورہ چیزوں یا ان حضرات کی تاثیر کو بیان کرتی ہیں، (اگرچہ ان آیات میں شفاعت کا لفظ نہیں ہے) جیسے سورہ زمر ، آیت ۵۴، سورہ حدید ، آیت ۲۸، سورہ مائدہ ، آیت ۹، اور ، آیت ۱۶، سورہ نساء ، آیت ۶۴، سورہ مومن (غافر) ، آیت ۷/ اور سورہ بقرہ ، آیت ۲۸۶


۷۰۔کیا ”شفاعت“ توحید کے منافی ہے؟

شفاعت کے سلسلہ میں سب سے اہم اعتراض یہ ہے کہ شفاعت کا عقیدہ توحید کے بر خلاف ہے، البتہ یہ اعتراض وہابیوں کی طرف سے بہت زیادہ پروپیگنڈے اور کافی خرچ کی بنا پر وسیع پیمانے پر ہو تاآیا ہے، لہٰذا اس سلسلے میں مزید تو جہ کی ضرورت ہے۔

وہابیوں کے عقائد کا محور عمدہ طور پر چند چیزیں ہیں،جن میں سب سے اہم ”توحید افعالی“ اور ”توحید عبادی“ ہے، یہ لوگ توحید کی اس قسم کے معنی اس طرح کرتے ہیں جس سے شفاعت شافعین، انبیاء اور اولیاء اللہ کی ارواح سے مدد مانگنا، یا خدا کی بارگاہ میں ان کو شفیع قرار دینا، توحید خدا کے منافی ہے، اور اسی وجہ سے یہ لوگ (وہابیوں کے علاوہ) ان چیزوں کا عقیدہ رکھنے والے تمام فرقوں کومشرک جانتے ہیں! اور اگر آپ تعجب نہ کریں تو یہ بھی عرض کردیا جائے کہ یہ لوگ ان عقائد رکھنے والوں کی جان، مال اور ناموس کو زمانہ جاہلیت کے مشرکین کی طرح مباح مانتے ہیں!

ان لوگوں نے اسی عقیدہ کی بنا پر حجازاور عراق (وغیرہ) کے بہت سے مسلمانوں کا خون بہایا، ان کے اموال کو تاراج کیااور ایسا ظلم و ستم کیا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

اس سلسلہ میں محمد بن عبد الوہاب (متوفی ۱۲۰۶ ئھ) اس فرقہ کے بانی نے اپنی مشہور کتاب ”رسالہ اربع قواعد“ میں بہت سی باتیں تحریر کی ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے:

شرک سے نجات صرف ”چار قواعد“ کے ذریعہ ہی ممکن ہے:

۱ ۔ جن مشرکین سے پیغمبر اکرم (ص) نے جنگ کی ہے وہ سب خداوندعالم کو خالق، رازق اور اس جہان کا مدبر مانتے تھے جیسا کہ سورہ یونس آیت نمبر ۳۱ میں ارشاد ہوتا ہے:

( قُلْ مَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ اٴَمَّنْ یَمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاٴَبْصَارَ وَمَنْ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنْ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنْ الْحَیِّ وَمَنْ یُدَبِّرُ الْاٴَمْرَ فَسَیَقُولُونَ اللهُ فَقُلْ اٴَفَلاَتَتَّقُونَ ) (۱)

”پیغمبر ذرا ان سے پوچھئے کہ تمہیں زمین اور آسمان سے کون رزق دیتا ہے اور کون تمہاری سماعت و بصارت کا مالک ہے اور کون مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور کون سارے امور کی تدبیر کرتا ہے تو یہ سب یہی کہیں گے کہ اللہ! تو آپ کہہ دیجئے کہ پھر اس سے کیوں نہیں ڈرتے“۔

اس آیت کی بنا پر وہ لوگ خداوندعالم کی رزّاقیت، خالقیت ، مالکیت اور مدبریت کا عقیدہ رکھتے تھے۔

۲ ۔ مشرکین کی اصل مشکل یہ تھی کہ وہ کہتے تھے: ہم بتوں کی عبادت اور ان پر توجہ صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ وہ خدا کے نزدیک ہماری شفاعت کریں اور ان کے ذریعہ ہمیں قرب خدا حاصل ہوجائے، جیسا کہ قرآن مجید میں ا رشاد ہوتا ہے:

( وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَضُرُّهُمْ وَلاَیَنْفَعُهُمْ وَیَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللهِ ) (۲)

”اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں، جو نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں اور نہ فائدہ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کرنے والے ہیں“۔

۳ ۔ جو لوگ غیر خدا کی عبادت کیا کرتے تھے ان تمام سے پیغمبر اکرم (ص) نے جنگ کی ہے، چاہے وہ درختوں کی پوجا کرتے ہوں یا پتھروں اور چاند و سورج کی پوجا کرتے ہوں، یا ملائکہ ، انبیاء اور صالحین کی عبادت کرتے ہوں، پیغمبر اکرم (ص) نے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا، (یعنی آنحضرت نے ان سب سے جنگ کی ہے)

۴ ۔ ہمارے زمانہ کے مشرکین ( یعنی وہابیوں کے علاوہ تمام فرقے) زمانہ جاہلیت کے مشرکین سے بدتر ہیں! کیونکہ وہ سب چین و سکون کے وقت بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے لیکن سخت حالات میں صرف خدا کو پکارتے تھے جیسا کہ سورہ عنکبوت کی آیت نمبر ۶۵/ میں بیان ہوا ہے:

( فَإِذَا رَکِبُوا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللهَ مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَی الْبَرِّ إِذَا هُمْ یُشْرِکُونَ ) (۳)(۴)

”پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان و عقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں پھر جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو فوراً شرک اختیار کرلیتے ہیں“۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اس نظریہ میں اتنے محکم ہیں اگرچہ ان کا نظریہ حقیقت میں سفسطہ اور مغالطہ ہے، لیکن پھر بھی یہ لوگ دیگر مسلمانوں کے خون کو مباح جانتے ہیں اور ان کے قتل کو جائز جانتے ہیں، جیسا کہ شیخ ”سلیمان“ اس گمراہ فرقہ کا سربراہ اپنی کتاب ”الہدایة السنیہ“ میں کہتا ہے: قرآن و سنت اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جو شخص ملائکہ یا انبیاء یا (مثلاً) ابن عباس اور ابوطالب وغیرہ کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دے تاکہ وہ خدا کی بارگاہ میں شفاعت کریں، جیسا کہ بادشاہوں کے قریبی لوگ اس سے سفارش کرتے ہیں، تو ایسے لوگ کافر اور مشرک ہیں،ان کا

خون اور مال و دولت مباح ہے، اگرچہ یہ لوگ اپنی زبان سے کلمہ شہادتین کا اقرار کرتے ہوں نماز پڑھتے ہوں اور روزہ رکھتے ہوں۔(۱)

چنا نچہ ان لوگوں نے اپنے اس شرمناک عقیدہ پرپابند رہنے یعنی مسلمانوں کی جان و مال کو مباح قرار دینے کو بہت سے مقامات پر ثابت کر دکھایا ہے جن میں سے حجاز میں طائف کا مشہور و معروف قتل عام (صفر ۱۳۴۳ ئھ میں) اور ( ۱۸/ ذی الحجہ ۱۲۱۶ ئھ میں ) کربلا کا قتل عام بہت سی تواریخ میں موجود ہے۔

اس استدلال کے انحرافی نکات

۱ ۔ قرآنی آیات کے پیش نظر یہ حقیقت بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ شفاعت ایک قرآنی اور اسلامی مسلم حقیقت ہے، اورقرآن مجید میں ”شفاعت کرنے والے“ اور ”شفاعت کئے جانے والوں“ کے شرائط بیان ہوئے ہیں، لہٰذا یہ بات ممکن نہیں ہے کہ کوئی قرآن و اسلام کا دم بھرے اور ان تمام واضح و روشن مدارک کے باوجود اس اسلامی عقیدہ کا انکار کرے، ہمیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس طرح اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں؟ جبکہ یہ اس عقیدہ کا انکار کرتے ہیں جو قرآن اور اسلام کی ضروریات میں سے ہے، کیا کوئی مسلمان اسلام اور قرآن کے ضروریات کا انکار کرسکتا ہے؟!

۲ ۔ جس شفاعت کو قرآن بیان کرتا ہے اوراس کا دفاع کرتا ہے اس کا اصل مرجع ”اذن خدا“ ہے اور جب تک وہ اجازت نہ دے گا اس وقت تک کسی کو شفاعت کرنے کا حق نہیں ہے، دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ شفاعت اوپر سے او راذن پروردگار سے ہے، بادشاہ اور حکام کے حوالی موالی کی سفارش کی طرح نہیں ہے جو نیچے سے اور اپنے ذاتی تعلقات کی بنا پر ہوتی ہے۔

اس طرح کی شفاعت توحید کے مسئلہ پر مزید تاکید کرتی ہے، کیونکہ اس کا اصلی مرکز ذات خداوندعالم ہے، اور ایسی توحید ہے جس میں کسی طرح کا شرک نہیں پایا جاتا، لیکن وہابیوں نے قرآنی شفاعت کو شیطانی شفاعت اور حکام کے نزدیک سفارش سے مخلو ط کردیا ہے اور اس کے منکر ہوگئے ہیں، اور اس کو اصل توحید کے متضاد اور مخالف گردانتے ہیں، در اصل انھوں نے اس مسئلہ میں خود اپنے اوپر اعتراض کیا ہے نہ کہ قرآنی شفاعت پر۔

۳ ۔ شفاعت در اصل نجات کا ایک سبب ہے، جس طرح سے عالم خلقت اور عالم تکوین میں اسباب (جیسے درختوں اور فصلوں کے لئے نور آفتاب اور بارش ) کو موثر ماننا اصل توحید کے منافی نہیں ہے، کیونکہ ان تمام اسباب کی تاثیر اذن الٰہی کی بنا پر ہوتی ہے، در اصل ان تمام کا نام ایک قسم کی شفاعت تکوینی ہے، اسی طرح عالم شریعت میں مغفرت و بخشش اور نجات کے لئے کچھ اسباب پائے جاتے ہیں وہ بھی خدا کی اجازت سے، اور یہ توحید کے منافی ہی نہیں ہے بلکہ توحید پر مزید تاکید کرتے ہیں، اور اس کا نام ”شفاعت تشریعی“ ہے۔

۴ ۔ بتوں کے بارے میں قرآن کریم نے جس شفاعت کی نفی کی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بت پرست ہر لحاظ سے بے خاصیت موجودات (بتوں) کو بارگاہ خداوندی میں اپنا شفیع قرار دیتے تھے، لہٰذا سورہ یونس ، آیت نمبر ۱۸ میں ان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:( وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَضُرُّهُمْ وَلاَیَنْفَعُهُمْ وَیَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللهِ )

”اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں، جو نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں اور نہ فائدہ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کرنے والے ہیں“۔

یقینی طور پر انبیاء اور اولیاء اللہ کی شفاعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، یہ آیت بتوں سے مخصوص ہے ، جو کہ بے عقل و شعور پتھر اور دھات ہیں۔

دوسری طرف قرآن کریم اس شفاعت کی مذمت کرتا ہے جس میں شفاعت کرنے والے کے استقلال اور اذن الٰہی کے بغیر اس کی تاثیر کو قبول کیا جائے، اسی وجہ سے قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ اٴَوْلِیَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلاَّ لِیُقَرِّبُونَا إِلَی اللهِ زُلْفاً إِنَّ اللهَ یَحْکُمُ بَیْنَهُمْ فِیمَا هُمْ فِیهِ یَخْتَلِفُونَ ) (۵)

”اور جن لوگوں نے اس کے علاوہ سرپرست بنائے ہیں یہ کہہ کر کہ ہم ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں گے ، اللہ ان کے درمیان تمام اختلافی مسائل میں فیصلہ کر دے گا“۔

اس آیہ شریفہ کے مطابق مشرکین اپنے معبودوں کو اپنا ولی اور سرپرست، اپنا حامی اور اپنا محافظ مانتے تھے، اور ان کی پوجاکرتے تھے، اور ان کے یہ دونوں کام غلط تھے، (بتوں کو اپنا ولی سمجھنا اور ان کی عبادت کرنا)

لیکن اگر کوئی شخص اولیاء اللہ ، انبیاء علیہم السلام اور ملائکہ کی عبادت نہ کرے بلکہ ان کا احترام کرے، ان کو بارگاہ خدا میں شفیع قرار دے وہ بھی خدا کے اذن سے، تو یہ مذکورہ آیت ہرگز اس کو شامل نہ ہوگی۔

وہابی لوگ چونکہ آیاتِ شفاعت ،کفر و ایمان اور شفاعت کرنے والے نیز شفاعت ہونے والے کے شرائط کے بیان کرنے والی آیات پر مہارت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے انھوں نے بت پرستوں کے عقیدہ کو شفاعت سے ملادیا اور یہ اس مثال کی طرح ہے: ”چون ندیدند حقیقت رہ افسانہ زدند“ (جب حقیقت تک نہیں پہنچ سکے تو قصہ اور کہانی کی راہ اختیار کرلی۔)

۵ ۔ وہابیوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ عرب کے بت پرست ،خالقیت، مالکیت اور رازقیت کو خداوندعالم سے مخصوص جانتے تھے، لیکن وہ لوگ صرف بتوں کی وساطت اور شفاعت کو ما نتے تھے، یہ بھی ان کی دوسری غلط فہمی ہے، جس کی وجہ بھی قرآنی آیات سے لا علمی ہے، کیونکہ قرآن مجید کی متعددآیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بعض ان صفات کے بتوں کے لئے بھی قائل تھے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( فَإِذَا رَکِبُوا فِي الْفُلْکِ دَعَوْا اللهَ مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَی الْبَرِّ إِذَا هُمْ یُشْرِکُونَ ) (۶)

”پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان و عقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں پھر جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو فوراً شرک اختیار کرلیتے ہیں“۔

(یعنی مشکلات کا حل بھی غیر خدا سے چاہتے تھے)

ان الفاظ سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ کفار و مشرکین عام حالات میں اپنی مشکلوں کا حل بتوں سے چاہتے تھے، اگرچہ سخت حالات میں صرف خدا کے لطف و کرم کے امیدوار ہوتے تھے۔

سورہ فاطر میں پیغمبر اکرم (ص) سے خطاب ہورہا ہے:

( قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ شُرَکَائَکُمْ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ اٴَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنْ الْاٴَرْضِ اٴَمْ لَهُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ) (۷)

”آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگوں نے ان شرکاء کو دیکھا ہے جنھیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ذرا مجھے بھی دکھلاؤ کہ انھوں نے زمین میں کس چیز کو پیدا کیا ہے یا ان کی کوئی شرکت آسمان میں ہے“۔

اگر مشرکین ،صرف خدا وند عالم ہی کو خالق مانتے تھے اور بتوں کو صرف شافع کے عنوان سے ما نتے تھے، تواس سوال کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوتا کیونکہ وہ جواب میں کہہ سکتے تھے کہ ہم ان کو خالق نہیں مانتے، صرف خالق و مخلوق کے درمیان واسطہ مانتے ہیں، کیا اگر کسی کو واسطہ ما نا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے خالق بھی ماننا ضروری ہے؟!

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بتوں کے خلقت میں شرکت کے قائل تھے، اور پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا کہ ان کے جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے ان سے سوال کریں کہ ان بتوں نے کیا چیز خلق کی ہے؟

سورہ اسراء ، آیت نمبر ۱۱۱/ بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مشرکین بتوں کو مالکیت اور حاکمیت میں خدا کا شریک قرار دیتے تھے، یہاں تک کہ یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ جب خدا کوکوئی مشکل پیش آتی ہے تو یہی بت اس کی مدد کرتے ہیں! چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَقُلْ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَهُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ وَلِیٌّ مِنْ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِیرًا ) (۸)

”اور کہوکہ ساری حمد اس اللہ کے لئے ہیں جس نے نہ کسی کو فرزند بنایا ہے اور نہ کوئی اس کے ملک میں شریک ہے( اور مدد گار )اور نہ کوئی اس کی کمزوری کی بنا پر اس کا سر پرست ہے اور پھر باقاعدہ اس کی بزرگی کا اعلان کرتے رہو“۔

آیت کے تینوں جملوں میں سے ہر جملہ بت پرستوں کے ایک عقیدہ کی نفی کرتا ہے کہ ”فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے “ (توجہ رہے کہ ”ولد“ بیٹے اور بیٹی دونوں کے لئے بولا جاتا ہے)(۹) اور ان کو خلقت میں” شریک“ نیز ان کو خدا کا” مددگار“ مانتے تھے!

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے تمام مقامات پر بت پرستوں کو ”مشرکین“ اور ان کے اعمال کو ”شرک“ کے عنوان سے یادکیا ہے، اگر وہ لوگ ”خدا “اور ”بتوں“ کے درمیان کسی شرک کے قائل نہ تھے اور ان بتوں کو صرف خدا کی بارگاہ میں شفیع مانتے تھے، تو قرآن کریم کے یہ الفاظ صحیح نہیں ہیں(معاذ اللہ)، ”شرک اور مشرک“ کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ بتوں کو خدا کی ربوبیت یا حل مشکلات یا خلقت وغیرہ میں شریک قرار دیتے تھے، (البتہ پتھر یا لکڑی کے بت ان کی نظر میں صالح اور فرشتوں کا نمونہ تھے)

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ یہ لوگ بتوں کے لئے تدبیرِ جہان میں ایک طرح کے استقلال کے قائل تھے، اور ایک طرح سے خدا کے برابر قرار دیتے تھے، نہ فقط بارگاہ خدا میں واسطہ۔

خصوصاً قرآن کریم کی مختلف آیات میں بہت سے ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:( وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیرٍ ) (۱۰) ”اور اس کے علاوہ تمہارا کوئی سرپرست اور مددگار بھی نہیں ہے“۔

یہ بت پرستوں کے عقیدہ کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ بتوں کو اپنا ولی و ناصر مانتے تھے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:( وَ لَایُغْنِي عَنْهُمْ مَا کَسَبُوا شَیْئًا ولَا مَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللهِ اٴَوْلِیَاءَ ) (۱۱) ”اور جن لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر سرپرست بنا یا ہے،کوئی کام آنے والا نہیں ہے“۔

قرآنی آیات میں متعدد بارمشرکین کے بارے میں ”من دون الله“ کا جملہ استعمال ہوا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خدا کے علاوہ دوسری موجودات (بتوں، درختوں اور پتھروں) کی عبادت کیا کرتے تھے تاکہ وہ ان کے ولی و ناصر اور مددگار ہوں، یہ وہی ” ربوبیت میں شرک“ ہے نہ کہ شفاعت۔

المختصر: قرآن کریم کی طرف سے مختلف آیات میں مشرکین پر دو اعتراض ملتے ہیں : پہلا اعتراض یہ لوگ ایسی موجودات کو مبدا اثر قرار دیتے ہیں جو نہ سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ دیکھنے کی اور نہ ہی ان میں عقل و شعور پایا جاتا ہے، اور دوسرے: یہ لوگ خدا کی تد بیر کے مقابل بتوں کے لئے”ربوبیت“ کے قائل تھے۔

البتہ زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں کی باتیں ضد و نقیض ہوتی تھیں، ایسا نہیں تھا کہ ایک منطقی انسان کی طرح اپنی باتوں کو بغیر کسی تضاد اور ٹکراؤ کے بیان کرتے ہوں، اگرچہ وہ بتوں کو مشکلات کے حل کے لئے خدا کا شریک قرار دیتے تھے اور ان کو ”من دون الله“ خدا کے علاوہ اپنا ناصر و مددگار تصور کرتے تھے، لیکن کبھی کبھی بتوں کو خدا کے نزدیک شفاعت کرنے والا بھی قرار دیتے تھے،اور یہ بات ہرگز شرک افعال پر اعتقاد کی دلیل نہیں ہے، یہ مطلب تمام قرآنی آیات کی تحقیق اور کفار و مشرکین کے تمام حالات سے حاصل ہوتا ہے، اس کے علاوہ وہ لوگ شفاعت کو خدا کی اجازت پر موقوف نہیں جانتے تھے۔

(قارئین کرام!) ان تمام باتوں کے پیش نظر ،یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اگر انسان صرف اور صرف اولیاء اللہ کو شفیع قرار دے (نہ کہ پتھر اور لکڑی کے بتوں کو) اور صرف ان کو خدا کی بارگاہ میں ”شفیع“ مانے (نہ خدا کی ولایت اور تدبیر میں شریک ) نیز ان کی شفاعت کو خدا کی اجازت پر موقوف مانے (نہ مستقل طور پر) اس صورت میں شفا عت پر کوئی اعتراض نہیں ہے، مشکل اس وقت پیدا ہوگی جب ان تینوں اصول میں سے کسی ایک یا تینوں کو نظر انداز کردیا جائے، اور غلط راستہ کا انتخاب کیا جائے۔(۱۲)

____________________

(۱) سورہ یونس ، آیت۳۱ (۲)سورہ یونس ، آیت۱۸

(۳)سورہ عنکبوت ، آیت ۶۵

(۴) ”رسالہ ا ربع قواعد“ تالیف: محمد بن عبد الوہاب ، بانی وہابیت، صفحہ ۲۴ سے ۲۷ تک، کشف الارتیاب سے نقل کیا ہے، صفحہ۱۶۳

(۵) الھدیة السنیة ، صفحہ ۶۶

(۶) سورہ زمر ، آیت ۳

(۷) سورہ عنکبوت ، آیت ۶۵

(۸)سورہ فاطر ، آیت ۴۰

(۹)سورہ اسرا ، آیت ۱۱۱

(۱۰) ولد مولود کے معنی میں ہے، اوربڑ ے ،چھوٹے ،لڑکا ،لڑکی ،مفرداور جمع سب کے لئے استعمال ہوتا ہے، (دیکھئے: مفردات راغب)

(۱۱) سورہ عنکبوت ، آیت ۲۲ (۷۱)سورہ جاثیہ ، آیت ۱۰

(۱۲) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۶، صفحہ ۵۳۶


۷۱ ۔ وضو ،غسل اور تیمم کا فلسفہ کیا ہے؟

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ وضو کے دو فائدے واضح اور روشن ہیں، ایک پاکیزگی اور صفائی کا فائدہ دوسرے اخلاقی اور معنوی فائدہ، شب و روز میں پانچ بار یا کم از تین بار چہرے اور ہاتھوں کو دھونا انسان کے جسم کے لئے بہت مفید ہے، کیونکہ سر اور پیروں کی کھال پر مسح کرنے سے یہ اعضا بھی پاک و صاف رہتے ہیں، جیسا کہ آئندہ فلسفہ غسل میں بیان کیا جائے گا کہ کھال تک پانی کا پہنچناسمپاتھٹیک ( Syapathetic ) اور پیرا سمپاتھٹیک ( Para Syapathetic ) اعصاب کو کنٹرول کرنے میں بہت متاثر ہے۔

اسی طرح اخلاقی اور معنوی لحاظ سے بھی چونکہ یہ کام قربتِ خدا کے لئے ہوتا ہے، جو تربیتی لحاظ سے مو ثرہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سر سے لے کر پاؤں تک تیری اطاعت و بندگی میں حاضر ہوں، لہٰذا اسی اخلاقی و معنوی فلسفہ کی تائید ہوتی ہے، چنانچہ حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے ایک حدیث میں اس طرح ذکر ہوا ہے:

” وضو کا حکم اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ اس سے عبادت کا آغاز ہوتا ہے ،(کیونکہ) جس وقت بندہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے، اور اس سے مناجات کرتا ہے تو اسے اس وقت پاک ہونا چاہئے، اور اس کے احکام پرعمل کرنا چاہئے اورگندگی اور نجاست سے دور رہے، اس کے علاوہ وضو باعث ہوتا ہے کہ انسان کے چہرہ سے نیند اور تھکن کے آثار دور ہو جائیں اور انسان کا دل خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوکر نورِ پاکیزگی حاصل کرے“۔(۱)

فلسفہ غسل میں بیان ہونے والی وضاحت سے فلسفہ وضو بھی مزید واضح ہوجائے گا۔

فلسفہ غسل

بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ انسان کے مجنب ہو نے پر اسلام نے غسل کا حکم کیوں دیا ہے جبکہ صرف مخصوص عضو گندا ہوتا ہے؟!! نیز پیشاب اور منی میں کیا فرق ہے جبکہ پیشاب میں صرف پانی سے دھونا لازم ہے اورمجنب ہونے کی صورت میں تمام بدن کو دھونا (یعنی غسل کرنا) ہوتا ہے؟

اس سوال کا ایک مختصر جواب ہے اور دوسرا تفصیلی۔

مختصر جواب یہ ہے کہ انسان کے جسم سے منی نکلنے سے صرف مخصوص عضو پر اثر نہیں ہوتا ( پیشاب اور پاخانہ کی طرح نہیں ہے) بلکہ اس کا اثر بدن کے تمام دوسرے اعضا پر بھی ہوتا ہے منی کے نکلنے سے بدن کے تمام اعضا سست پڑجاتے ہیں، جو اس بات کی نشانی ہے کہ اس کا اثر تمام بدن پر ہوتا ہے۔

وضاحت:

دانشوروں کی تحقیق کے مطابق انسان کے بدن میں دو طرح کے نباتی اعصاب ہوتے ہیں جن سے بدن کا سارا نظام کنٹرول ہوتا ہے، ”سمپاتھٹیک ( Syapathetic )“ اور ”پیرا سمپاتھٹیک ( Para Syapathetic ) اعصاب“دو طرح کے اعصاب پورے بدن میں پھیلے ہوئے ہیں اور بدن کے تمام نظام کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں، بدن ”سمپاتھٹیک اعصاب“ کا کردار بدن کے نظام میں تیزی پیدا کرنا ہے اور ”پیرا سمپاتھٹیک اعصاب“کا کردار بدن میں سستی پیدا کرنا ہے، در اصل ان دونوں کا کام گاڑی میں ریس اور بریگ کی طرح ہے، اس سے بدن میں توازن قائم رہتا ہے۔

کبھی بدن میں ایسے حادثات پیش آتے ہیں جن سے یہ توازن ختم ہوجاتا ہے، انھیں میں سے ایک مسئلہ ” Climax “ (اوج لذت جنسی) ہے ، اور اکثر اوقات منی کے نکلتے وقت یہ مسئلہ پیش آتا ہے۔

اس موقع پر ”اعصاب پیرا سمپاتھٹیک ( Para Syapathetic ) ”سمپاتھٹیک ( Syapathetic ) اعصاب“پر غلبہ کرلیتے ہیں اور انسان کا توازن منفی صورت میں بگڑجاتا ہے۔

یہ موضوع بھی ثابت ہوچکا ہے کہ ”سمپاتھٹیک ( Syapathetic )اعصاب“ کے بگڑے ہوئے توازن کو دوبارہ برقرار کرنے کے لئے بدن کا پانی سے مس کرنا بھی موثر ہے،اور چونکہ جنسی لذت کا عروج ’ Climax “ بدن کے تمام اعضا پرحسی طور پر اثر انداز ہوتا ہے ، لہٰذاجنسی ملاپ یا منی نکلنے کے بعداسلام نے حکم دیا ہے کہ سارے بدن کو پانی سے دھویا جائے تاکہ پورے بدن کا بگڑاہواتوازن دوبارہ صحیح حالت پر پلٹنے میں مدد مل سکے۔(۱)

البتہ غسل کا فائدہ اسی چیز میں منحصر نہیں ہے، بلکہ غسل ان کے علاوہ ایک طرح کی عبادت بھی ہے جس کے اخلاقی اثر کا انکار نہیں کیا جاسکتا، اور اسی وجہ سے اگر نیت اور قصد قربت کے بغیرغسل انجام دیا جائے تو انسان کا غسل صحیح نہیں ہے، در اصل ہمبستری کرنے یا منی کے نکلنے سے انسان کا جسم

____________________

(۱) جیسا کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”انّ الجَنابَةَ خَارجةٌ مِن کُلِّ جَسدہ فلذلکَ وَجَبَ عَلَیہ تَطْہِیر جَسَدہ کُلّہ“ (جنابت پوری بدن سے باہر نکلتی ہے لہٰذا پورے بدن کو پانی سے دھونا (یعنی غسل کرنا) واجب ہے) (وسائل الشیعہ، جلد اول صفحہ ۴۶۶) یہ حدیث گویا اسی چیز کی طرف اشارہ ہے


بھی گندا ہوجاتا ہے اور اس کی روح بھی مادی شہوات کی طرف متحرک ہوتی ہے اور جسم سستی اور کاہلی کی طرف، غسل جنابت سے انسان کا جسم بھی پاک و صاف ہوجاتا ہے اور چونکہ قربت کی نیت سے انجام دیا جاتا ہے اس کی روح بھی پاک ہوجاتی ہے، گویا غسل جنابت کا دوہرا اثر ہوتا ہے، ایک جسم پر اور دوسرا انسان کی روح پر، تاکہ روح کو خدا اور معنویت کی طرف حرکت دے اور جسم کو پاکیزگی اور نشاط کی طرف۔

ان سب کے علاوہ ، غسل جنابت کا وجوب بدن کو پاک و صاف رکھنے کے لئے ایک اسلامی حکم ہے، کیونکہ بہت سے لوگ ایسے مل جائیں گے جو پاکیزگی اور صفائی کا خیال نہیں کرتے، لیکن اس اسلامی حکم کی بنا پر وہ گاہ بہ گاہ اپنے بدن کی گندگی کو دور کرتے ہیں، اور اپنے بدن کو پاک و صاف رکھتے ہیں، اور یہ چیز گزشتہ زمانہ سے مخصوص نہیں ہے (کہ لوگ گزشتہ زمانہ میں مدتوں بعد نہایا کرتے تھے) بلکہ آج کل کے زمانہ میں بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو بعض وجوہات کی بنا پر صفائی کا بالکل خیال نہیں رکھتے، (البتہ اسلام کا یہ حکم ایک عام قانون ہے یہاں تک کہ جن لوگوں نے ابھی اپنے بدن کو دھویا ہو ان کو بھی شامل ہے)، (یعنی اگر نہانے کے بعد مجنب ہوجائے تو بھی غسل کرنا واجب ہے۔)

مذکورہ تینوں وجوہات کی بنا پر یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ منی نکلنے کے بعد (چاہے سوتے وقت یابیداری کی حالت میں ) اور اسی طرح ہمبستری کے بعد (اگرچہ منی بھی نہ نکلی ہو) غسل کرنا کیوں ضروری ہے(۲)

فلسفہ تیمم کیا ہے؟

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ مٹی پر ہاتھ مارنے اور ان کو پیشانی اور ہاتھوں پر ملنے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ خصوصاً جبکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اکثر مٹی گندی ہوتی ہے اور اس سے

جراثیم منتقل ہوتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں دو نکات کی طرف توجہ ضروری ہے:

الف: اخلاقی فائدہ: تیمم ایک عبادت ہے، اس میں حقیقی عبادت کی عکاسی پائی جاتی ہے، کیونکہ انسان حکم خدا کے پیش نظر اپنے شریف ترین عضو یعنی پیشانی پر مٹی بھرا ہاتھ پھیرتا ہے تاکہ خدا کے سامنے اپنی تواضع اور انکساری کا اظہار کرسکے، یعنی میری پیشانی اور میرے ہاتھ تیرے سامنے تواضع و انکساری کی آخری حد پر ہیں، اور پھر انسان نماز یا دوسری ان عبادتوں میں مشغول ہوجاتا ہے جن میں وضو یا غسل کی شرط ہوتی ہے، اس بنا پر انسان کے اندر تواضع و انکساری، بندگی اور شکر گزاری کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔

ب۔ حفظان صحت کا فائدہ: آج کل یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مٹی میں بہت سے جراثیم ( Bacterias ) پائے جاتے ہیں جن کے ذریعہ بہت سی گندگیاں دور ہوتی ہیں، یہ جراثیم جن کا کام آلودہ کرنے والے مواد کا تجزیہ اور طرح طرح کی بدبو کو ختم کرنا ہے زیادہ تر زمین کی سطح پر معمولی سی گہرائی میں جہاں سے ہوا اور سورج کی روشنی سے بخوبی فائدہ اٹھاسکیں، بکثرت پائے جاتے ہیں، اسی وجہ سے جب مردہ جانور کی لاشیں زمین میں دفن کردی جاتی ہیں اور اسی طرح دوسری چیزیں جو گندگی سے بھری ہوئی ہوتی ہیں زمین پر پڑی ہوں تو کچھ عرصہ بعد ان کے بدن کے اجزا بکھر جاتے ہیں اور جراثیم کی وجہ سے وہ بدبو کا مرکز نیست و نابود ہوجاتا ہے، یہ طے ہے کہ اگر زمین میں یہ خاصیت نہ پائی جاتی تو کرہ زمین تھوڑی ہی مدت میں بدبو کے ڈھیروں میں بدل جاتا، اصولی طور پر مٹی اینٹی بیوٹک اثر رکھتی ہے، جو جراثیم مارنے کے لئے بہترین چیز ہے۔

اس بنا پر پاک مٹی نہ صرف آلودہ نہیں ہے بلکہ آلودگی کو ختم کرنے والی ہے، اور اس لحاظ سے ایک حد تک پانی کا کام کرسکتی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ پانی جراثیم کو بہالے جاتا ہے اور مٹی جراثیم کو مار ڈالتی ہے۔

لیکن توجہ رہے کہ تیمم کی مٹی مکمل طور پر پاک و صاف ہو جیسا کہ قرآن کریم نے بہترین لفظ استعمال کیا ہے: ”طیباً“

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں تیمم کے حوالے سے لفظ ”صعید“ استعمال ہوا ہے جو ”صعود“ سے لیا گیا ہے (جس کے معنی بلندی کے ہیں) جو اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ تیمم کے لئے زمین کی سطحی مٹی لی جائے جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہو اور جس میں جراثیم کو مارنے والی بیکٹری پائی جاتی ہوں، اگر اس طرح کی پاک و پاکیزہ مٹی سے تیمم کیا جائے تو یہ تاثیر رکھتی ہے اور اس میں ذرا بھی نقصان نہیں ہے۔(۳)

وضو میں ہاتھوں کو کس طرح دھویا جائے نیز سر اور پیر کا مسح کس طرح کیا جائے؟

سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۶ / میں روح کی پاکیزگی کے طریقہ کی طرف اشارہ ہوا ہے، اور روح کی پاکیزگی کے لئے احکام وضو، غسل اور تیمم بیان ہوئے ہیں، پہلے مومنین سے خطاب ہوا اور وضو کے احکام اس ترتیب سے بیان کئے:

( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاَةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَکُمْ وَاٴَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُ وسِکُمْ وَاٴَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ) (۴)

”اے ایمان والو! جب بھی نماز کے لئے اٹھو تو پہلے اپنے چہروں کو اور کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کو دھوؤ اور سر اور گٹوں تک پیروں کا مسح کرو“۔

اس آیہ شریفہ میں ہاتھوں کے دھلنے کی حد ”کہنی“ تک قرار دی گئی ہے کیونکہ قرآن مجید میں لفظ ”مرافق“ ہے جس کے معنی ”کہنیاں“ ہیں ،لیکن جب کسی انسان سے کہا جائے کہ ”اپنے ہاتھوں کو دھو لیجئے“ تو ممکن ہے کہ وہ شخص صرف کلائیوں تک ہاتھوں کو دھوئے، کیونکہ اکثر اوقات ہاتھوں کو یہیں تک دھویا جاتا ہے، لہٰذا اس غلطی کو دور کرنے کے لئے ارشاد ہوتا ہے کہنیوں تک دھوئیں:( إِلَی الْمَرَافِقِ )

اس تفصیل کی بنا پر یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ آیت میں لفظ ”الیٰ“ (یعنی کہنیوں تک) ہاتھوں کے دھونے کی حد کو بیان کرنے کے لئے ہے نہ ہاتھوں کو دھونے کی کیفیت کے لئے، جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ہے اور مذکورہ آیت کے اس طرح معنی کرتے ہیں:ہاتھوں کو انگلیوں کے سرے سے کہنیوں تک دھوئیں، (جیسا کہ اہل سنت کے یہاں پایا جاتا ہے)

اس کی مثال بالکل اسی طرح ہے کہ اگر آپ کسی پینٹر سے کہیں کہ ہماری دیوار کو فرش سے ایک میٹر تک رنگ کردیں،تو یہ بات واضح ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دیوار پر نیچے سے اوپر کی طرف رنگ کیا جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس مقدار میں رنگ ہونا ہے نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔

اس بنا پر مذکورہ آیت میں ہاتھوں کے دھلنے کی مقدار معین کی گئی ہے، لیکن اس کی کیفیت سنت نبی (ص) میں اہل بیت علیہم السلام کے ذریعہ بیان ہوئی ہے ، کہ ہاتھوں کو کہنیوں سے انگلیوں کے سرے تک دھویا جائے۔”بِرُءُ وسِکُمْ “ میں لفظ ”ب“ بعض اہل لغت اور بعض احادیث کی بنا پر ”بعض“ کے معنی میں آیا ہے یعنی سر کے ”بعض حصہ“ کا مسح کرو، جیسا کہ احادیث میں ملتا ہے کہ سر کے اگلے حصہ کا ہاتھ سے مسح کیا جائے ، لیکن جیسا کہ بعض اہل سنت کے یہاں رائج ہے کہ پورے سر کا مسح کرتے ہیں، یہ مذکورہ آیت کے مفہوم کے موافق نہیں ہے۔”بِرُءُ وسِکُمْ “،کے بعد ”ارجلِکُم“ کا آنا خود اس بات پر گواہ ہے کہ پیروں کا بھی مسح کیا جائے نہ کہ ان کو دھویا جائے،(اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ ”ارْجلَکم“کے لام پر زبر آیا ہے تو ”بِرُءُ وسِکُمْ “کے محل پر عطف ہوا ہے نہ کہ ”وُجُوہَکُم“ پر)(۵)(۶)

____________________

(۱) وسائل الشیعہ ، جلد۱ ، صفحہ ۲۵۷

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۲۹۱

۳ تفسیر نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۴۰۰

(۴) سورہ مائدہ ، آیت ۶

(۵) واضح ہے کہ ”وُجُوہَکُم“ اور ”ارْجُلَکُم“ میں کافی فاصلہ ہے، جس کی بنا پر اس پر عطف ہونا بعید نظر آتا ہے، اس کے علاوہ بہت سے مشہور قاری قرآن نے ”ارْجُلَکُم“ کو زیر کے ساتھ پڑھا ہے

(۶) تفسیر نمونہ ، جلد ۴، صفحہ ۲۸۵


۷۲ ۔ فلسفہ نماز کیا ہے؟

سورہ عنکبوت میں نماز کا سب سے اہم فلسفہ بیان کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ نماز انسان کو برائیوں اور منکرات سے روکتی ہے:( إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَر ) (۱)

” (اور نماز قائم کروکہ) یقینا نماز ہر برائی اور بدکاری سے روکنے والی ہے“

حقیقت نماز چونکہ انسان کو قدرتمند روکنے والے عامل یعنی خدا اور قیامت کے اعتقاد کی یاد دلاتی ہے، لہٰذا انسان کو فحشاو منکرات سے روکتی ہے۔

جب انسان نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو پہلے تکبیر کہتا ہے، خدا کو تمام چیزوں سے بلند و بالا مانتا ہے، پھر اس کی نعمتوں کو یاد کرتا ہے، اس کی حمد و ثنا کرتا ہے، اس کو رحمن اور رحیم کے نام سے پکارتا ہے، اور پھر قیامت کو یاد کرتا ہے ، خدا کی بندگی کا اعتراف کرتا ہے، اور اسی سے مدد چاہتا ہے، صراط مستقیم پر چلنے کی درخواست کرتا ہے اور غضب خدا نازل ہونے والے اور گمراہوں کے راستہ سے خدا کی پناہ مانگتا ہے۔ (مضمون سورہ حمد )

بے شک ایسے انسان کے دل و جان میں خدا ،پاکیزگی اور تقوی کی طرف رغبت ہوتی ہے۔

خدا کے لئے رکوع کرتا ہے، اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے اس کی عظمت میں غرق ہوجاتا ہے، اور خود غرضی اور تکبر کو بھول جاتا ہے۔

خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت کی گواہی دیتا ہے۔

اپنے نبی پر درود و سلام بھیجتا ہے، اور خدا کی بارگاہ میں دست بدعا ہوتا ہے کہ پالنے والے! مجھے اپنے نیک اور صالح بندوں میں قرار دے۔ (تشہد و سلام کا مضمون)

چنانچہ یہ تمام چیزیں انسان کے وجود میں معنویت کی لہر پیدا کردیتی ہیں، ایک ایسی لہر جو گناہوں کا سدّ باب کرتی ہے۔

اس عمل کو انسان رات دن میں کئی مرتبہ انجام دیتا ہے جب صبح اٹھتا ہے تو خدا کی یاد میں غرق ہوجاتا ہے، دوپہر کے وقت جب انسان مادی زندگی میں غرق رہتا ہے اور اچانک موذن کی آواز سنتا ہے تو اپنے کاموں کو چھوڑ دیتا ہے اور خدا کی بارگاہ کا رخ کرتا ہے، یہاں تک دن کے اختتام اور رات کی شروع میں بستر استراحت پر جانے سے پہلے خدا سے راز و نیاز کرتا ہے، اور اپنے دل کو اس کے نور کا مرکز قرار دیتا ہے۔

اس کے علاوہ جب نماز کے مقدمات فراہم کرتا ہے تو اپنے اعضا بدن کو دھوتا ہے ان کو پاک کرتا ہے، حرام چیزیں اور غصبی چیزوں سے دوری کرتا ہے اور اپنے محبوب کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتا ہے، یہ تمام چیزیں اس کو برائی سے روکنے کے لئے واقعاً موثر واقع ہوتی ہیں۔

لیکن نماز میں جس قدر شرائطِ کمال اور روحِ عبادت پائی جائے گی اسی مقدار میں برائیوں سے روکے گی، کبھی مکمل طور پر برائیوں سے روکتی ہے اور کبھی جزئی طور پر،(یعنی نماز کی کیفیت کے لحاظ سے انسان برائیوں سے پرہیز کرتا ہے)

یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص نماز پڑھے اور اس پر کوئی اثر نہ ہو، اگرچہ اس کی نماز صرف ظاہری لحاظ سے ہو یا نمازی گنہگار بھی ہو، البتہ اس طرح کی نماز کا اثر کم ہوتا ہے، کیونکہ اگر اس طرح کے لوگ اس طرح نماز نہ پڑھتے تو اس سے کہیںزیادہ گناہوں میں غرق ہوجاتے۔

واضح الفاظ میں یوں کہیں کہ فحشا و منکر سے نہی کے مختلف درجے ہوتے ہیں، نماز میں جتنی شرائط کی رعایت کی جائے گی اسی لحاظ سے وہ درجات حاصل ہوں گے۔

پیغمبر اکرم (ص) سے منقول حدیث میں وارد ہوا ہے کہ قبیلہ انصار کا ایک جوان آنحضرت (ص) کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا لیکن وہ گناہوں سے آلودہ تھا، اصحاب نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں اس کے حالات بیان کئے تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: ”إنَّ صَلاتَهُ تَنهَاهُ یَوماً “ (آخر کار ایک روز اس کی یہی نماز اس کو ان برے کاموں سے پاک کردے گی)(۲) نماز کا یہ اثر اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ بعض احادیث میں نماز کے قبول ہونے یا قبول نہ ہونے کا معیار قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے: ”مَنْ اٴحَبَّ اٴنْ یَّعلَم اٴقْبَلَت صَلٰوتُه اٴمْ لَم تَقْبَل؟ فَلیَنْظُر: هَلْ مَنَعْتَ صَلٰوتَهُ عَنِ الفَحْشَاءِ وَالمُنْکِر؟ فبقدر ما منعه قبلت منه !“(۳) (اگر کوئی یہ جاننا چا ہے کہ اس کی نماز بارگاہ الٰہی میں قبول ہوئی ، یا نہیں؟ تو اس کو دیکھنا چاہئے کہ نماز اس کو برائیوں سے روکتی ہے یا نہیں؟ جس مقدار میں برائیوں سے روکا ہے اسی مقدار میں نماز قبول ہوئی ہے)۔

اور اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا کہ”ذکر خدا اس سے بھی بلند و بالاتر ہے“: ”وَلَذِکْرُ اللهِ اٴکبَرْ“

مذکورہ جملہ کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نماز کے لئے یہ اہم ترین فلسفہ ہے، یہاں تک فحشا و منکر کی نہی سے بھی زیادہ اہم ہے اور وہ اہم فلسفہ یہ ہے کہ انسان کو خدا کی یاد دلائے کہ جو تمام خیر و سعادت کا سر چشمہ ہے، بلکہ برائیوں سے روکنے کی اصلی وجہ یہی ”ذکر اللہ“ ہے ، در اصل اس

اثر کی برتری اور عظمت اسی وجہ سے ہے کیونکہ یہ اُس کی علت شمار ہوتا ہے۔

اصولی طور پر خدا کی یادانسان کے لئے باعثِ حیات ہے اور اس سلسلہ میں کوئی بھی چیز اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی،( اٴَلٰا بِذِکْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب ) ”آگاہ ہوجاؤ کہ یادِ خدا دل کو اطمینان و سکون عطا کرتی ہے“۔

حقیقت تو یہ ہے کہ تمام عبادتوں (چاہے نماز ہو یا اس کے علاوہ) کی روح یہی ذکر خدا ہے، اقوال نماز، افعال نماز، مقدمات نماز اور تعقیبات نماز سب کے سب در اصل انسان کے دل میں یادِ خدا زندہ کرتے ہیں۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ سورہ طٰہ ، آیت نمبر ۱۴/ میں نماز کے اس بنیادی فلسفہ کی طرف اشارہ ہوا ہے، جناب موسیٰ علیہ السلام سے خطاب ہوتا ہے:( اَقِمِ الصَّلاَة لِذِکْرِي ) ، (میری یاد کے لئےنماز قائم کرو )

معاذ بن جبل سے منقول ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ”عذاب الٰہی سے بچانے والے اعمال میں ”ذکر اللہ“ سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ہے، سوال کیا گیا : راہ خدا میں جہاد بھی نہیں؟ جواب دیا: ہاں، کیونکہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے: (وَلذکْرِ اللهِ اٴکْبَرْ )

انسان اور معاشرہ کی تربیت میں نماز کا کرداراگرچہ نماز کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا فلسفہ کسی پر پوشیدہ ہو لیکن قرآنی آیات اور احادیث ِمعصومین علیہم السلام میں مزید غور و فکر کرنے سے بہت ہی اہم چیزوں کی طرف رہنمائی ہوتی ہے:

۱ ۔ روح نماز اور نماز کا فلسفہ ذکر خدا ہی ہے ،وہی ”ذکر اللہ“ جو مذکورہ آیت میں بلندترین نتیجہ کے عنوان سے بیان ہوا ہے۔

البتہ ایسا ذکر جو غور و فکر کا مقدمہ، اور ایسی فکر جو عمل کا سبب بنے، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے( وَلذکْرِ اللهِ اٴکْبَر ) کی تفسیر میں فرمایا: ”ذکر الله عند مااحل و حرم(۴) ”حلال و حرام کے وقت یاد خدا کرنا“ (یعنی یاد خدا کریں اور حلال کام انجام دیں اور حرام کاموں سے پرہیز کریں)

۲ ۔ نماز، گناہوں سے دوری اور خدا کی طرف سے رحمت و مغفرت حاصل ہونے کا سبب ہے، کیونکہ نماز انسان کو توبہ اور اصلاح نفس کی دعوت دیتی ہے، اسی وجہ سے ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے ایک صحابی سے سوال کیا: ”اگر تمہارے مکان کے پاس پاک و صاف پانی کی نہر جاری ہو اور تم روزانہ پانچ مرتبہ اس میں غوطہ لگاؤ تو کیا تمہارے بدن میں گندگی اور کثافت باقی رہے گی؟

اس نے جواب دیا: نہیں (یا رسول اللہ!)، آپ نے فرمایا: نماز بالکل اسی جاری پانی کی طرح ہے کہ جب انسان نماز پڑھتا ہے تو گنا ہوں کی گند گی دور ہو جا تی ہے اور دو نمازوں کے درمیان انجام دئے گئے گناہ پا ک ہو جا تے ہیں۔(۵) گویا نمازانسان کے بدن میں گناہوں کے ذریعہ وارد ہونے والے زخموں کے لئے مرہم کا کام کرتی ہے اور انسان کے دل پر لگے ہوئے زنگ کو چھڑا دیتی ہے۔

۳ ۔ نماز ،آئندہ گناہوں کے لئے سدّ باب بن جا تی ہے، کیونکہ نماز انسان میں ایمان کی روح کو مضبوط کرتی ہے اور تقویٰ کے پودے کی پرورش کرتی ہے، اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ”ایمان“ اور ”تقویٰ“ گناہوں کے بالمقابل دو مضبوط دیواریں ہیں، اور یہ وہی چیز ہے جس کو مذکورہ آیت میں ”نہی از فحشاء و منکر“ کے نام سے بیان کیا گیا ہے، اور یہ وہی چیز ہے جس کو متعدد حدیثوںمیں پڑھتے ہیں کہ جب گنہگار لوگوں کے حالات ائمہ علیہم السلام کے سامنے بیان کئے گئے تو فرمایا: غم نہ کرو نماز ان کی اصلاح کردے گی، اور کردی۔

۴ ۔ نماز؛انسان کو خواب غفلت سے بیدار کردیتی ہے، راہ حق پر چلنے والوں کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ وہ اپنی غرض خلقت کو بھول جاتے ہیں اور مادی دنیا اور زودگزر لذتوں میں غرق ہوجاتے ہیں ، لیکن نماز چونکہ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر اور شب و روز میں پانچ بار پڑھی جاتی ہے ، مسلسل انسان کو متو جہ اور متنبہ کرتی رہتی ہے اور اس کو غرض خلقت یاد دلاتی رہتی ہے، اور اس دنیا میں اسے اس کی حیثیت سے آگاہ کرتی رہتی ہے، یہ انسان کے پاس ایک عظیم نعمت الٰہی ہے کہ شب و روز پانچ مرتبہ اس کو بھر پور طریقہ پر ہوشیار کرتی ہے۔

۵ ۔ نماز ؛خود پسندی اور تکبر کو ختم کرتی رہتی ہے کیونکہ انسان ۲۴ گھنٹوں میں ۱۷/ رکعت نماز پڑھتا ہے اور ہر رکعت میں دو بار اپنی پیشانی کو خدا کی بارگاہ میں رکھتا ہے، اور خدا کی عظمت کے مقابل اپنے کو ایک ذرہ شمار کرتا ہے بلکہ خدا کی عظمت کے مقابل اپنے کو صفر شمار کرتا ہے۔ نماز غرور و خود خواہی کے پردوں کو چاک کردیتی ہے ، تکبر اور برتری کو ختم کردیتی ہے۔

اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام نے اپنی اس مشہور و معروف حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ جس میں عبادت کے فلسفہ کو بیان کیا ہے اور ایمان کے بعد سب سے پہلی عبادت کو ”نماز“ قرار دیتے ہوئے اس مطلب کو واضح فرمایا ہے:”فَرضَ الله الإیمَان تَطهِیْراً مِنَ الشِّرکِ وَالصَّلٰوة تَنْزِیْهاً عَنِ الکِبْرِ(۶) خداوندعالم نے انسان کے لئے ایمان کو شرک سے پاک کرنے کے لئے واجب قرار دیا ہے اور نماز کو غرورو تکبر سے پاک کرنے کے لئے (واجب قرار دیا ہے)“

۶ ۔ نماز ؛انسان کے لئے معنوی تکامل اور فضائل اخلاقی کی پرورش کا ذریعہ ہے، کیونکہ یہی نماز انسان کو مادہ کی محدودیت اور عالم طبیعت کی چہار دیواری سے باہر نکال کر عالم ملکوت کی طرف دعوت دیتی ہے، جس سے انسان فرشتوں کا ہم صدا اور ہمراز ہوجاتا ہے، اور انسان اپنے کو بغیر کسی واسطہ کے خدا کے حضور میں پاتا ہے اور اس سے گفتگو کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

ہر روز اس عمل کی تکرار خداوندعالم کے صفات جیسے رحمانیت اور رحیمیت اور اس کی عظمت کے پیش نظرخصوصاً سورہ حمد کے بعد دوسرے سوروں سے مدد لیتے ہوئے جو نیکیوں اور خوبیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں، یہ سب چیزیں انسان میں اخلاقی فضائل کی پرورش کے لئے بہترین اور موثرہیں۔

لہٰذا حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے نماز کے فلسفہ کو اس طرح بیان کیا:”الصَّلاٰةُ قُربَانُ کُلَّ تَقِي “، (نماز ہر پرہیزگار کے لئے خدا سے تقرب کا وسیلہ ہے)(۷)

۷ ۔ نماز انسان کے دوسرے اعمال کو (بھی) روح اور اہمیت عطا کرتی ہے اس لئے کہ نماز سے اخلاص پیدا ہوتا ہے، کیونکہ نماز خلوص نیت، نیک گفتار اور مخلصانہ اعمال کا مجموعہ ہے، ہر روز یہ عمل انسان کے اندر دوسرے اعمال کا بیج ڈالتا ہے اور روح اخلاص کو مضبوط کرتا ہے۔

لہٰذا ایک مشہور و معروف حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت امیر ا لمومنین علی علیہ السلام نے اس وقت اپنی وصیت میں فرمایا جب آپ ابن ملجم کی تلوار سے زخمی ہوچکے تھے اور آپ کا آخری وقت تھا، فرماتے ہیں:

الله الله فِي الصَّلٰوةِ فَإنَّهَا عَمُودُ دِینِکُمْ(۸)

”خدا را ! خدارا! میں تم کو نماز کی سفارش کرتا ہوں کیونکہ یہی تمہارے دین کا ستون ہے“۔

ہم لوگ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب کسی خیمہ کا ستون ٹوٹ جائے یا گرجائے تو اطراف کی رسّیوں اور کیلوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، اسی طرح جب نماز کے ذریعہ خدا سے بندوں کا رابطہ ختم ہوجائے تو دوسرے اعمال کا اثر بھی ختم ہوجاتا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بیان ہوا ہے: ”اٴوَّلُ مَا یُحاسِبُ بِهِ العَبْدَ الصَّلٰوة فَإنْ قُبِلَتْ قَبلَ سَائرُ عَمَلِهِ ، وَاِنْ رُدَّت رُدَّ عَلَیْهِ سَائرُ عَمَلِهُ “ (روز قیامت بندوں میں جس چیز کا سب سے پہلے حساب ہوگا وہ نماز ہے، اگر نماز قبول ہوگئی تو دوسرے اعمال بھی قبول ہوجائیں گے اور اگر نماز ردّ ہوگئی تو دوسرے اعمال بھی ردّ ہوجائیں گے!)

شاید اس کی دلیل یہ ہو کہ نماز خالق و مخلوق کے درمیان ایک راز ہے اگر صحیح طور پر بجا لائی جائے تو انسان کے اندر نیت ،اخلاص اور قرب الٰہیپیدا ہوتا ہے جو دوسرے اعمال قبول ہونے کا ذریعہ ہے، ورنہ دوسرے اعمال کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ اپنا اعتبار کھو دیتے ہیں۔

۸ ۔نماز میں پائے جانے والے مطالب اور مضمون سے قطع نظراگر اس کے شرائط پر توجہ کریں تو وہ بھی اصلاح اور پاکیزگی کی دعوت دیتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ نمازی کی جگہ، نماز ی کے کپڑے، جس فرش پر نماز پڑھتا ہے، جس پانی سے وضو یا غسل کیا ہے، جس جگہ وضو یا غسل کیا ہے ، یہ تمام چیزیں غصبی نہیں ہونی چاہئے اور ان کے حوالے سے کسی دوسرے پر ظلم اور تجاوز نہ کیا گیا ہو، جو شخص ظلم و ستم، سود خوری، غصب، ناپ تول میں کمی ، رشوت خوری اور حرام روزی وغیرہ جیسی چیزوں سے آلودہ ہو تو ایسا شخص نماز کے مقدمات کس طرح فراہم کرسکتا ہے؟ لہٰذا ہر روز پانچ مرتبہ اس نماز کی تکرار دوسروں کے حقوق کی رعایت کی دعوت دیتی ہے۔

۹ ۔ نماز صحیح ہونے کے شرائط کے علاوہ، شرائطِ قبول یا بالفاظ دیگر شرائطِ کمال بھی پائے جاتے ہیں جن کی رعایت خود بہت سے گناہوں کو ترک کرنے کا سبب بنتی ہے۔

فقہ اور حدیث کی کتابوں میں بہت سی چیزوں کو ”موانع نماز“ کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جن میں سے ایک مسئلہ شراب پینا ہے، روایات میں بیان ہوا ہے کہ ”لَا تُقبّل صلوٰة شَاربُ الخَمْر اٴرْبعِینَ یَوماً إلاَّ اٴنْ یَتُوبَ(۹) ”شراب پینے والے کی نماز، چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی، مگر یہ کہ توبہ کرلے“۔

متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ جن لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی ان میں سے ایک ظالم افراد کا رہبر ہے“۔(۱۰)

بعض دوسری روایات میں تصریح کی گئی ہے کہ جو شخص زکوٰة ادا نہیں کرتا اس کی نماز قبول نہیں ہے، اسی طرح دوسری روایات میں بیان ہوا ہے کہ حرام لقمہ کھانے والے یا خود پسندی کرنے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان تمام احادیث کے پیش نظر یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ ان تمام شرائط کا فراہم کرنا انسان کی اصلاح کے لئے بہت مفید ہے۔

۱۰ ۔ نماز کے ذریعہ انسان میں نظم و نسق کی روح طاقتور ہوتی ہے کیونکہ نماز معین وقت پر پڑھی جاتی ہے ، یعنی اگر انسان نماز کو وقت سے پہلے یا وقت کے بعد پڑھے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے، اسی طرح نماز کے دیگر آداب و احکام جیسے نیت، قیام، قعود ، رکوع اور سجود وغیرہ کی رعایت سے انسان کے لئے دوسرے کاموں میں بھی نظم کا لحاظ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

نماز کے یہ تمام فائدے اس وقت ہیں جب نماز جماعت سے نہ پڑھی جائے اور اگر نماز کے ساتھ جماعت کی فضیلت کا اضافہ بھی کردیا جائے (کیونکہ نماز کی روح، جماعت ہے) تو پھر

بے شمار برکتیں نازل ہوتی ہیں، جس کی تفصیل یہاں بیان نہیں کی جاسکتی، کم و بیش اکثر مومنین نماز جماعت کی فضیلت سے آگاہ ہیں۔

ہم فلسفہ نماز اور اسرارِ نماز کے سلسلہ میں اپنی گفتگو کو حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی ایک بہترین حدیث پر ختم کرتے ہیں:

امام علیہ السلام نے اس خط کے جواب میں اس طرح فرمایا جس میں فلسفہ نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تھا:

نماز کو اس لئے واجب قرار دیا گیا ہے کہ اس میںخداوندعالم کی ربوبیت کا اقرار پایا جاتا ہے، اس میں شرک و بت پرستی کا مقابلہ ہوتا ہے ، خدا کی بارگاہ میں مکمل خضوع و خشوع پایا جاتا ہے، انسان اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے اورخداوندعالم سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہے، انسان ہر روز عظمت ِپروردگار کے سامنے اپنی پیشانی کو خم کرتا ہے۔

اور نماز کا مقصدیہ ہے کہ انسان ہمیشہ ہوشیار اور متوجہ رہے انسان کے دل پر، بھول چوک کی گرد و غبار نہ بیٹھے، مست اور مغرور نہ ہو، خاشع اور خاضع رہے، انسان دین و دنیا کی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرے۔

جب انسان ہر روز نماز کے ذریعہ ذکر خدا کرتا ہے تویہ سبب بنتا ہے کہ وہ اپنے مولا و آقا، مدبر اور خالق کو نہ بھولے اور اس پر سرکشی اور غلبہ کرنے کا تصور تک نہ کرے۔

خداوندعالم پر توجہ رکھنا اور خود کو اس کے سامنے حاضر سمجھنا؛انسان کو گناہوں سے دور رکھتا ہے اور مختلف برائیوں سے روکتا ہے۔(۱۱)(۱۲)

____________________

(۱)سورہ عنکبوت ، آیت ۴۵

(۳،۲) مجمع البیان، سورہ عنکبوت ، آیت نمبر ۴۵ کے ذیل میں

(۴) بحا الانوار ، جلد ۸۲، صفحہ ۲۰۰

(۵) وسائل الشیعہ ، جلد ۳، صفحہ ۷ (باب ۲ / از ابواب اعداد الفرائض حدیث۳)

(۶) نہج البلاغہ ، کلمات قصار، نمبر ۲۵۲

(۷) نہج البلاغہ ،کلمات قصار ، نمبر ۱۳۶

(۸) نہج البلاغہ ،خطوط (مکتبوب)(وصیت )۴۷

(۹) بحار الانوار ، جلد۸۴، صفحہ ۳۱۷ و۳۲۰

(۱۰) بحار الانوار، جلد۸۴، صفحہ ۳۱۸

(۱۱) وسائل الشیعہ ، جلد ۳، صفحہ ۴

(۱۲) تفسیر نمونہ ، جلد۱۶، صفحہ ۲۸۴


۷۳ ۔ روزہ کا فلسفہ کیا ہے؟

روزہ کے مختلف پہلو ہیں اور انسان کے اندر مادی و معنوی لحاظ سے بہت زیادہ تاثیر رکھتا ہے، جن میں سے سب سے اہم ”اخلاقی پہلو“ اور ”تربیتی فلسفہ“ ہے۔

روزہ کاسب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ روزہ کے ذریعہ انسان کی روح ”لطیف“،اور اس کی ”قوّت ارادی“ مضبوط ہوتی ہے اور خواہشات میں ”اعتدال“ پیدا ہوتا ہے۔

روزہ دار کو چاہئے کہ روزہ کے عالم میں بھوک اور پیاس کو برداشت کرتے ہوئے جنسی لذت سے بھی چشم پوشی کرے، اور عملی طور پر یہ ثابت کر دکھائے کہ وہ جانوروں کی طرح کسی چراگاہ اور گھاس پھوس کا اسیر نہیںہے، سرکش نفس کی لگام اس کے ہاتھ میں ہے اور ہوا وہوس اور شہوت و خواہشات اس کے کنٹرول میں ہے۔

در اصل روزہ کا سب سے بڑا فلسفہ یہی روحانی اور معنوی اثر ہے، جس انسان کے پاس کھانے پینے کی مختلف چیزیں موجود ہو ں جب اوراس کو بھوک یا پیاس لگتی ہے تو وہ فوراً کھاپی لےتا ہے، بالکل ان درختوں کے مانند جو کسی نہر کے قریب ہوتے ہیں اور ہر وقت پانی سے سیراب ہوتے رہتے ہیں وہ نازپرور ہوتے ہیں یہ حوادث کا مقابلہ بہت کم کرتے ہیں ان میں باقی رہنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے اگر انھیں چند دن تک پانی نہ ملے تو پژمردہ ہوکر خشک ہوجاتے ہیں۔

لیکن جنگل،بیابان اورپہاڑوں میں اگنے والے درخت ہمیشہ سخت طوفان، تمازت آفتاب اور کڑاکے کی سردیوں کا مقابلہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور طرح طرح کی محرومیوں سے دست و گریباں رہتے ہیں، لہٰذا ایسے درخت بادوام اور مستحکم ہوتے ہیں!!

روزہ بھی انسان کی روح و جان کے ساتھ یہی سلوک کرتا ہے، یہ وقتی پابندیوں کے ذریعہ انسان میں قوت ِدفاع اور قوت ارادی پیدا کرتا ہے اور اسے سخت حوادث کے مقابلہ میں طاقت عطا کرتا ہے، چونکہ روزہ سرکش خواہشات اور انسانی جذبات پر کنٹرول کرتا ہے لہٰذا اس کے ذریعہ انسان کے دل پر نور و ضیا کی بارش ہوتی ہے، خلاصہ یہ کہ روزہ انسان کو عالم حیوانیت سے بلند کرکے فرشتوں کی صف میں لے جاکر کھڑا کردیتا ہے،( لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ ) (۱) ، (شاید تم پرہیزگار بن جاؤ) اس آیہ شر یفہ میںروزہ کے واجب ہونے کا فلسفہ بیان ہوا ہے۔

اس مشہور و معروف حدیث میں بھی اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: ”الصُّومُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ(۲) (روزہ جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے ایک ڈھال ہے)۔

ایک اور حدیث حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) سے سوال کیا گیا کہ ہم کون سا کام کریں جس کی وجہ سے شیطان ہم سے دور رہے؟ تو آنحضرت (ص) نے فرمایا:روزہ؛ شیطان کا منہ کالا کردیتا ہے، راہ خدا میں خرچ کرنے سے اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے خدا کے لئے محبت و دوستی نیز عملِ صالح کی پابندی سے اس کی دم کٹ جاتی ہے اور توبہ و استغفار سے اس کے دل کی بھی رگ کٹ جاتی ہے۔(۳)

نہج البلاغہ میں عبادت کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضرت امیر المومنین علیہ السلام روزہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وَالصِّیَامُ إبْتَلاَءُ لإخْلاَصِ الْخَلْقِ(۴) ”خداوندعالم نے روزہ کو شریعت میں اس لئے شامل کیا تاکہ لوگوں میں اخلاقی روح کی پرورش ہوسکے“۔

پیغمبر اکرم (ص) سے ایک اور حدیث میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ان لِلْجَنّة بَاباً یُدعی الرَّیَّان لَا یَدخُلُ فِیھَا إلاَّالصَّائِمُونَ“ (بہشت کے ایک دروازے کا نام ”ریان“ (یعنی سیراب کرنے والا) ہے جس سے صرف روزہ دار ہی داخل جنت ہوں گے۔)

شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے معانی الاخبار میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ بہشت میں داخل ہونے کے لئے اس دروازہ کا انتخاب اس بنا پر ہے کہ روزہ دار کو چونکہ زیادہ تکلیف پیاس کی وجہ سے ہوتی ہے لہٰذا جب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوگا تو وہ ایسا سیراب ہوگا کہ اسے پھر کبھی تشنگی کا احساس نہ ہوگا۔(۵)

روزہ کے معاشرتی اثرات

روزہ کا اجتماعی اور معاشرتی اثر کسی پر پوشیدہ نہیں ہے، روزہ انسانی معاشرہ کے لئے ایک درس مساوات ہے کیونکہ اس مذہبی فریضہ کی انجام دہی سے صاحب ثروت لوگ بھوکوں اور معاشرہ کے محروم افراد کی کیفیت کا احساس کرسکیں گے اور دوسری طرف شب و روز کی غذا میں کمی کرکے ان کی مدد کے لئے جلدی کریں گے۔

البتہ ممکن ہے کہ بھوکے اور محروم لوگوں کی توصیف کرکے خداوندعالم صاحبِ قدرت لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہواور اگر یہ معاملہ حسّی اور عینی پہلو اختیار کرلے تو اس کاایک دوسرا اثر

ہوتا ہے ،روزہ اس اہم اجتماعی موضوع کو حسی رنگ دیتا ہے، اس مشہور حدیث میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ہشام بن حکم نے روزہ کی علت اور سبب کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:

”روزہ اس لئے واجب ہوا ہے کہ فقیر اور غنی کے درمیان مساوات قائم ہوجائے اور یہ اس وجہ سے کہ غنی بھی بھوک کا مزہ چکھ لے اور فقیر کا حق ادا کردے، کیونکہ مالدار عموماً جو کچھ چاہتے ہیں ان کے لئے فراہم ہوجاتا ہے خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندوں کے درمیان مساوات قائم ہو اور مالداروں کو بھی بھوک اور درد و غم کااحساس ہو جائے تاکہ وہ کمزور اور بھوکے افراد پر رحم کریں۔(۶)

روزہ کے طبی اثرات

طب کی جدید اور قدیم تحقیقات کی روشنی میں امساک (کھانے پینے سے پرہیز) بہت سی بیماریوں کے علاج کے لئے معجزانہ اثر رکھتا ہے جو قابل انکار نہیں ہے، شاید ہی کوئی حکیم ہو جس نے اپنی مبسوط تالیفات اور تصنیفات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ نہ کیا ہو کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سی بیماریاں زیادہ کھانے سے پیدا ہوتی ہیں، اور چونکہ اضافی مواد بدن میں جذب نہیں ہوتا جس سے خطرناک اور اضافی چربی پیدا ہوتی ہے یا یہ چربی اور خون میں اضافی شوگرکا باعث بنتی ہے، عضلات کا یہ اضافی مواد در حقیقت بدن میں ایک متعفن (بدبودار) بیماری کے جراثیم کی پرورش کے لئے گندگی کا ڈھیر بن جاتا ہے، ایسے میں ان بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین راہ حل یہ ہے کہ گندگی کے ان ڈھیروں کو امساک اور روزہ کے ذریعہ ختم کیا جائے، روزہ ان اضافی غلاظتوں اور بدن میں جذب نہ ہونے والے مواد کو جلادیتا ہے، در اصل روزہ بدن کو صاف و شفاف مکان بنادیتا ہے۔

ان کے علاوہ روزہ سے معدہ کو اچھا خاصا آرام ملتا ہے جس سے ہاضمہ کا نظام صحیح ہوجاتا ہے، چونکہ یہ بدن انسان کی نازک ترین مشینری ہے جو سال بھر کام کرتی رہتی ہے لہٰذا اس کے لئے اتنا آرام نہایت ضروری ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ اسلامی حکم کی رو سے روزہ دار کو اجازت نہیں ہے وہ سحری اور افطاری کی غذا میں افراط اور زیادتی سے کام لے، یہ اس لئے ہے تاکہ اس سے حفظان صحت اور علاج سے مکمل نتیجہ حاصل کیا جاسکے ورنہ ممکن ہے کہ مطلوبہ نتیجہ نہ حاصل ہوسکے۔

چنانچہ ”الکسی سوفرین“ ایک روسی دانشور لکھتا ہے:

روزہ ان بیماریوں کے علاج کے لئے خاص طور پر مفید ہے: خون کی کمی، انتڑیوں کی کمزوری، التہاب زائدہ ( Appendicitis ) اندرونی اور بیرونی قدیم پھوڑے، تپ دق ( T.B ) اسکلیروز، نقرس، استسقاء،(جلندر کی بیماری جس میں بہت زیادہ پیاس لگتی ہے اور پیٹ دن بدن بڑھتا جاتا ہے) جوڑوں کا درد، نور استنی، عرق النساء (چڈوں سے ٹخنوں تک پہنچنے والا درد)، خزاز (جلد کا گرنا) امراض چشم، شوگر، امراض جلد، امراض جگر اور دیگر بیماریاں ۔ امساک اور روز ہ کے ذریعہ علاج صرف مندرجہ بالا بیماریوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ بیماریاں جو جسمِ انسان کے اصول سے متعلق ہیں اور جسم کے خلیوں سے چمٹی ہوئی ہیں مثلاً سرطان، سفلیس، سل اور طاعون کے لئے بھی شفا بخش ہے(۷)

ایک مشہور و معروف حدیث میں پیغمبر اکرم (ص)سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”صُومُوا تَصَحُّوا “،(۸) (روزہ رکھو تاکہ صحت مند رہو)۔

پیغمبر اکرم (ص) سے ایک اور حدیث میں منقول ہے جس میں آپ نے فرمایا: ”المِعْدَةُ بَیْتُ کُلِّ دَاءٍ وَالحَمیةُ رَاسُ کُلِّ دَوَاءٍ(۹) معدہ ہر بیماری کا گھر ہے اور امساک ( روزہ) ہر مرض کی دوا ہے۔(۱۰)

____________________

(۱)سورہ بقرہ ، آیت ۱۸۳ (۲) بحار الانوار ،جلد ۹۶، صفحہ ۲۵۶

(۳) بحا رالانوار، جلد ۹۶، صفحہ ۲۵۵

(۴)نہج البلاغہ ،کلمات قصار، کلمہ نمبر ۲۵۲

(۵) بحار الانوار ، جلد ۹۶، صفحہ ۲۵۲

(۶) وسائل الشیعہ ، جلد ۷، باب اول ،کتاب صوم ، صفحہ ۳

(۷) روزہ روش نوین برای درمان بیماریہا، صفحہ ۶۵،طبع اول

(۸) بحا رالانوار ، جلد۹۶، صفحہ ۲۵۵

(۹) بحار الانوار ، جلد ۱۴ ، طبع قدیم

(۱۰) تفسیر نمونہ ، جلد ۱، صفحہ ۶۲۸


۷۴ ۔ خمس کا نصف حصہ سادات سے مخصوص ہونا؛ کیا طبقاتی نظام نہیں ہے؟

بعض لوگوں کے ذہن میں یہ تصور آتا ہے کہ یہ اسلامی ٹیکس جو بہت سے مال کا پانچواں حصہ ہے جس کاآدھا حصہ سادات اور اولاد پیغمبر اکرم (ص) سے مخصوص ہے، کیا یہ ایک طرح سے نسل پرستی نہیں ہے؟ جس میں اقربا پروری دکھائی دیتی ہے، یہ موضوع اسلامی اجتماعی عدالت اور اسلام کے عالمی ہونے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

جواب میں ہم عرض کرتے ہیں جو لو گ اس طرح کا خیال رکھتے ہیں انھوں نے اس اسلامی حکم کی مکمل طور پر تحقیق نہیں کی ہے، کیونکہ اس اعتراض کا جواب خمس کے شرائط میں موجود ہے۔

وضاحت:

اولاً: خمس کا نصفحصہ جو سادات اور بنی ہاشم کو دیا جاتا ہے لیکن صرف غریب اور نیاز مند افراد کو دیا جاتا ہے اور وہ بھی سال بھر کا خرچ، اس سے زیادہ نہیں دیا جاسکتا، لہٰذا خمس کا یہ نصف حصہ صرف انھیں لو گوں کو دیا جاسکتا ہے جو غریب، بیمار ، یتیم بچے ہوں، یا کسی بھی باعث اپنی زندگی کے خرچ سے لاچار ہوں۔

لہٰذا جو لوگ کام کرنے کی قدرت رکھتے ہوں (اس وقت یا آئندہ) اور اپنے خرچ بھر در آمد رکھتے ہوں ان کو خمس نہیں دیا جاسکتا۔

ثانیاً: محتاج اور غریب سادات کو زکوٰة لینے کا حق نہیں ہے، وہ زکوٰة کے بدلے صرف نصفخمس میں سے لے سکتے ہیں(۱)

ثالثاً: اگر سہم سادات جو خمس کا نصفحصہ ہے اگر سادات کی ضرورت سے زیادہ ہوجائے تو اس کو بیت المال میں جمع کیا جائے گا اور دوسرے موارد میں خرچ کیا جائے گا، اور اگر سہم سادات ؛ سادات کے لئے کافی نہ ہو تو انھیں بیت المال یا زکوٰة سے دیا جائے گا۔

مذکورہ تین نکات پر توجہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مادی لحاظ سے سادات اور غیر سادات میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔

غیر سادات کے غریب افراد اپنے خرچ کے لئے زکوٰة لے سکتے ہیں لیکن خمس سے محروم ہیں، اسی طرح غریب سادات صرف خمس لے سکتے ہیں لیکن وہ زکوٰة سے محروم ہیں۔

در اصل یہاں پر دو صندوق ہیں ”خمس کا صندوق“، ”زکوٰة کا صندوق“، سادات یا غیر سادات ان دونوں میں سے صرف ایک سے لے سکتے ہیں اور وہ بھی برابر برابر یعنی اپنے سال بھر کا خرچ ۔ (غور کیجئے )

جن لوگوں نے ان شرائط پر غور نہیں کیا وہ اس طرح کا تصور کرتے ہیں کہ سادات کے لئے بیت المال سے زیادہ حصہ قرار دیا گیا ہے یا ان کے لئے خمس ایک اعزاز قرار دیاگیا ہے۔

صرف یہاں پر ایک سوال یہ پیش آتا ہے کہ اگر ان دونوں میں نتیجہ کے لحاظ سے کوئی فر ق نہیں ہے تو پھر اس فرق کا فائدہ کیا ہے؟

(۱) سادات کو زکوٰة نہیں دی جاسکتی ، یہ ایک مسلّم مسئلہ ہے اور اس سلسلہ میں حدیث و فقہ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے کیا اس بات پر یقین کیا جاسکتا ہے کہ اسلام نے غیر سادات کے غریبوں کا خیال رکھا ہو لیکن غریب سادات کا خیال نہیں کیا ہے؟!

اس سوال کا جواب بھی اس بات پر غور و فکر کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ خمس اور زکوٰة میں ایک اہم فرق پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ زکوٰة ایک ایسا ٹیکس ہے جو در اصل اسلامی معاشرہ کے عام اموال سے متعلق ہے لہٰذا اس کو معمولاً اسی سلسلہ میں خرچ بھی کیا جاتا ہے، لیکن خمس ایک ایسا ٹیکس ہے جو اسلامی حکومت سے متعلق ہے یعنی اسلامی حکومت کے عہدہ داروں اور حکومتی ملازمین اس سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

اس بنا پر سادات کا عام اموال (زکوٰة) سے محروم ہونا؛ در حقیقت پیغمبر اکرم (ص) کے رشتہ داروں کو اس حصہ (مال) سے دور رکھنا ہے تاکہ مخالفوں کو بہانہ نہ مل جائے کہ پیغمبر نے اپنے رشتہ داروں کو عام اموال پر قابض بنا دیا ۔

دوسری طرف غریب سادات کی ضرورت بھی کہیں سے پوری ہونی چاہئے تھی، تو اسلامی قوانین نے اس سلسلہ میں یہ پیش کش کی کہ سادات؛ اسلامی حکومت کے بجٹ سے استفادہ کریں نہ عام بجٹ سے، در اصل خمس نہ صرف سادات کے لئے ایک امتیاز ہے بلکہ مصلحت کے تحت بد گمانی سے بچانے کے لئے قرار دیا گیا ہے(۱)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۷، صفحہ۱ ۱۸


۷۵ ۔ فلسفہ زکوٰة کیا ہے؟

اسلام صرف ایک اخلاقی یا فلسفی اور اعتقادی مکتب کے عنوان سے نہیں آیا ہے بلکہ ایک ”مکمل آئین“ کے عنوان سے پیش ہوا ہے جس میں تمام مادی اور معنوی ضرورتوں کو مد نظر رکھا گیا ہے، اسلام نے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ سے ہی حکومت تشکیل دے کر غریب اور محتاج لوگوں کی حمایت اور طبقاتی نظام کا مقابلہ کیا ہے ، جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بیت المال اور زکوٰة جو بیت المال کی در آمد کا راستہ ہے ؛ اسلام کی اہم منصوبہ بندی میں سے ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر معاشرہ میں غریب، محتاج، بیمار، بے سرپرست یتیم اور اپاہج لوگ پائے جاتے ہیں، جن کی حمایت اور مدد ہونی چاہئے۔

اور اسی طرح دشمن کے مقابل اپنی حفاظت کے لئے نگہبان اور مجاہدین کی ضرورت ہوتی ہے جس کا خرچ حکومت کو ادا کرنا ہوتا ہے۔

اسی طرح حکومتی ملازمین، قاضی، دینی ادارے اور تبلیغی وسائل کے لئے بھی کچھ مصارف کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے منظم طور پر مالی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اسلامی نظام بہتر طور پر قائم ہوسکے۔

اسی وجہ سے اسلام نے زکوٰة پر ایک خاص توجہ دی ہے جو در اصل ایک طرح سے ”انکم ٹیکس“ اور ”ذخیرہ شدہ سرمایہ پر ٹیکس“ ہے ، اور زکوٰة کی اہمیت کے پیش نظر اس کو مہم ترین عبادت میں شمار کیا گیا ہے، بہت سے مقامات پر نماز کے ساتھ ذکر ہوا ہے، یہاں تک کہ قبولیتِ نماز کی شرط شمار کی گئی ہے!

بلکہ اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے کہ اگر اسلامی حکومت نے کسی شخص یا اشخاص سے زکوٰة کا مطالبہ کیا اور انھوں نے زکوٰة دینے سے انکار کیا اور حکومت سے مقابلہ کیا تو ان کو مرتد شمار کیا جائے گا، اور اگر ان پر وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہ ہو تو اس صورت میں طاقت کا سہارا لینا جا ئز ہے ،جیسا کہ واقعہ ”اصحاب ردّہ“ (جس گروہ نے پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد زکوٰة دینے سے انکار کیا اور خلیفہ وقت نے ان سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی یہاں تک حضرت علی علیہ السلام نے اس مقابلہ پر رضا مندی دے دی اور خود ایک پرچم دار کے عنوان سے میدان جنگ میں حاضر ہوئے) تاریخ میں مشہور ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے: ”مَنْ مَنَعَ قِیْرَاطاً مِنَ الزَّکٰاةِ فَلَیسَ هُوَ بِمَومِنٍ، وَلَا مُسْلِمٍ، وَلا کَرَامَةٍ !“(۱) ”جو شخص زکوٰة کی ایک قیراط(۲) ادا نہ کرے تو وہ نہ مومن ہے اور نہ مسلمان، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے“۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ زکوٰة کے سلسلہ میں بیان شدہ روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام نے زکوٰة کی ”حدود“ اور ”مقدار“ اس قدر دقیق معین کی ہے کہ اگر تمام مسلمان اپنے مال کی زکوٰة صحیح اور مکمل طریقہ سے ادا کریں تو اسلامی ممالک میں کوئی غریب اور فقیر نہیں پایا جائے گا۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک اور روایت میں بیان ہوا ہے: ”اگر تمام مسلمان اپنے مال کی زکوٰة ادا کریں تو کوئی مسلمان غریب نہیں رہ سکتا، لوگ غریب، محتاج، بھوکے اور ننگے نہیں ہوتے مگر مالداروں کے گناہوں کی بدولت“۔(۳)

اسی طرح روایات سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ زکوٰة کی ادائیگی سے ملکیت کا تحفظ ہوتا ہے کہ اگر مسلمان اس اسلامی اہم اصل کو بالائے طاق رکھ دیں تو لوگوں کے درمیان (غریب او رامیر میں) اس قدر فاصلہ ہوجائے کہ مالدار لوگوں کا مال خطرہ میں پڑ جائے گا۔

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ ”حَصِّنُوا اٴمْوَالُکُمْ بِالزَّکَاةِ(۴) ”زکوٰة کے ذریعہ اپنے مال کی حفاظت کرو“۔

یہی مضمون خود پیغمبر اکرم (ص) اور امیر المومنین علی علیہ السلام سے دوسری احادیث میں نقل ہوا ہے۔(۵)

____________________

(۱) وسائل الشیعہ ، جلد ۶، صفحہ ۲۰، باب ۴، حدیث۹

(۲) درہم کے بارہویں حصے کے برابر ایک وزن

(۳) وسائل الشیعہ ، جلد ۶، صفحہ۴ (باب ۱،حدیث ۶ از ابواب زکوٰة )

(۴) وسائل الشیعہ ،جلد ۶، صفحہ ۶،(باب۱، حدیث ۱۱ از ابواب زکوٰة )

(۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۸، صفحہ ۱۰


۷۶۔ فلسفہ اور اسرار حج کیا ہیں؟

حج کے یہ عظیم الشان مناسک در اصل چار پہلو رکھتے ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے سے اہم اور مفید تر ہے:

۱ ۔ حج کا اخلاقی پہلو:

حج کا سب سے مہم ترین فلسفہ یہی اخلاقی انقلاب ہے جو حج کرنے والے میںرونما ہوتا ہے، جس وقت انسان ”احرام“ باندھتا ہے تو ظاہری امتیازات، رنگ برنگ کے لباس اور زر و زیور جیسی تمام مادیات سے باہر نکال دیتا ہے، لذائذ کا حرام ہونا اور اصلاح نفس میں مشغول ہونا (جو کہ مُحرِم کا ایک فریضہ ہے) انسان کو مادیات سے دور کردیتا ہے اور نور و پاکیزگی اور روحانیت کے عالم میں پہنچا دیتا ہے اور عام حالات میں خیالی امتیازات اور ظاہری افتخارات کے بوجھ کو اچانک ختم کردیتا ہے جس سے انسان کو راحت اور سکون حا صل ہوتاہے۔

اس کے بعد حج کے دوسرے اعمال یکے بعد دیگرے انجام پاتے ہیں، جن سے انسان ،خدا سے لمحہ بہ لمحہ نزدیک ہوتا جاتا ہے اور خدا سے رابطہ مستحکم تر ہوتا جاتا ہے، یہ اعمال انسان کوگزشتہ گناہوں کی تاریکی سے نکال کر نور وپاکیزگی کی وادی میں پہنچا دیتے ہیں۔

حج کے تمام اعمال میں قدم قدم پر بت شکن ابراہیم، اسماعیل ذبیح اللہ اور ان کی مادر گرامی جناب ہاجرہ کی یاد تازہ ہوتی ہے جس سے ان کا ایثار اور قربانی انسان کی آنکھوں کے سامنے مجسم ہوجاتی ہے ، اور اس بات پر بھی توجہ کہ رہے سرزمین مکہ عام طور پر اور مسجد الحرام و خانہ کعبہ خاص طور پر پیغمبر اسلام (ص) ،ائمہ علیہم السلام اور صدر اسلام کے مسلمانوں کے جہاد کی یاد تازہ کردیتے ہیں،چنانچہ یہ اخلاقی انقلاب عمیق تر ہوجاتا ہے گویا انسان مسجد الحرام اور سر زمین مکہ کے ہر طرف اپنے خیالات میں پیغمبر اکرم (ص) ،حضرت علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ علیہم السلام کے نورانی چہروں کی زیارت کرتا ہے اور ان کی دل نشین آواز کو سنتا ہے۔

جی ہاں! یہ تمام چیزیں مل کر انسان کے دل میں ایک روحی اور اخلاقی انقلاب پیدا کردیتی ہیں گویا انسانی زندگی کی ناگفتہ بہ حالت کے صفحہ کو بند کردیا جاتا ہے اور اس کی بہترین زندگی کا نیا صفحہ کھل جاتا ہے۔

یہ بات بلا وجہ اسلامی روایات میں بیان نہیں ہوا ہے کہ ”یُخْرِجُ مِنْ ذُنُوبِهِ کَهَیئَته یَوم وُلِدتُّهُ اٴُمُّهُ !“(۱) ”حج کرنے والا اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے ابھی شکم مادر سے پیدا ہوا ہو“۔

جی ہاں! حج مسلمانوں کے لئے ایک نئی پیدائش ہے جس سے انسان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔

البتہ یہ تمام آثار و برکات ان لوگوں کے لئے نہیں ہیں جن کا حج صرف ظاہری پہلو رکھتا ہے جو حج کی حقیقت سے دور ہبں، اور نہ ہی ان لوگوں کے لئے جو حج کو ایک سیر و تفریح سمجھتے ہیں یا ریاکاری اور سامان کی خرید و فرو خت کے لئے جاتے ہیں ، اور جنھیں حج کی حقیقت کا علم نہیں ہے، ایسے لوگوں کا حج میں وہی حصہ ہے جو انھوں نے حاصل کرلیا ہے!

۲ ۔ حج کا سیاسی پہلو:

ایک عظیم الشان فقیہ کے قول کے مطابق : حج در عین حال کہ خالص ترین اور عمیق ترین عبادت ہے، اس کے ساتھ اسلامی اغراض و مقاصد تک پہنچنے کے لئے بہترین وسیلہ ہے۔

روحِ عبادت ،خدا پر توجہ کرنا،روحِ سیاست یعنی خلق خدا پر توجہ کرنا ہے اور یہ دونوں چیزیں حج کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہیں!

حج مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کا بہترین سبب ہے۔

حج نسل پرستی اور علاقائی طبقات کے فرق کو ختم کرنے کے لئے بہترین ذریعہ ہے۔

حج اسلامی ممالک میں فوجی ظلم و ستم کے خاتمہ کا وسیلہ ہے۔

حج اسلامی ممالک کی سیاسی خبروں کو دوسرے مقامات تک پہنچانے کا وسیلہ ہے، خلاصہ یہ کہ حج؛ مسلمانوں پر ظلم و ستم اور استعمار کی زنجیروں کو کاٹنے اور مسلمانوں کو آزادی دلانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ حج کے موسم میں بنی امیہ اور بنی عباس جیسی ظالم و جابر حکومتیں اس موقع پر حجاج کی ملاقاتوں پر نظر رکھتی تھیں تاکہ آزادی کی تحریک کو وہیں کچل دیا جائے، کیونکہ حج کا موقع مسلمانوں کی آزادی کے لئے بہترین دریچہ تھا تاکہ مسلمان جمع ہوکر مختلف سیاسی مسائل کو حل کریں۔

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام جس وقت فرائض اور عبادات کا فلسفہ بیان کرتے ہیں تو حج کے بارے میں فرماتے ہیں: ”الحَجُّ تَقْوِیَةُ لِلدِّینِ(۲) (خداوندعالم نے حج کو آئین اسلام کی تقویت کے لئے واجب قرار دیا ہے)

بلا وجہ نہیں ہے کہ ایک غیر مسلم سیاست داں اپنی پُر معنی گفتگو میں کہتا ہے: ”وائے ہو مسلمانوں کے حال پر اگر حج کے معنی کو نہ سمجھیں اور وائے ہو اسلام کے دشمنوں پر کہ اگر حج کے معنی کوسمجھ لیں“!

یہاں تک اسلامی روایات میں حج کو ضعیف او رکمزور لوگوں کا جہاد قرار دیا گیا ہے اور ایک ایسا جہاد جس میں کمزور ضعیف مرد اور ضعیف عورتیں بھی حاضر ہوکر اسلامی شان و شوکت میں اضافہ کرسکتی ہیں، اور خانہ کعبہ میں نماز گزراوں میں شامل ہوکر تکبیر اور وحدت کے نعروں سے اسلامی دشمنوں کو خوف زدہ کرسکتے ہیں۔

۳ ۔ ثقافتی پہلو:

مسلمانوں کا ایام حج میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے ثقافتیرابطہ اور فکر و نظر کے انتقال کے لئے بہترین اور موثر ترین عامل ہوسکتا ہے۔

خصوصاً اس چیز کے پیش نظر کہ حج کا عظیم الشان اجتماع دنیا بھر کے مسلمانوں کی حقیقی نمائندگی ہے (کیونکہ حج کے لئے جانے والوں کے درمیان کوئی مصنوعی عامل موثر نہیں ہے، اور تمام قبائل، تمام زبانوں کے افراد حج کے لئے جمع ہوتے ہیں)

جیسا کہ اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے کہ حج کے فوائد میں سے ایک فائد ہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث اور اخبار ؛عالم اسلام میں نشر ہوں۔

”ہشام بن حکم“ حضرت امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہیں کہتے ہیں: میں نے امام علیہ السلام سے فلسفہ حج اور طواف کعبہ کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”خداوندعالم نے ان تمام بندوں کو پیدا کیا ہے اور دین و دنیا کی مصلحت کے پیش نظر ان کے لئے احکام مقرر کئے، ان میں مشرق و مغرب سے (حج کے لئے) آنے والے لوگوں کے لئے حج واجب قرار دیا تاکہ مسلمان ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچان لیں اور اس کے حالات سے باخبر ہوں، ہر گروہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں تجارتی سامان منتقل کرے اور پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث و آثار کی معرفت حاصل ہو اور حجاج ان کو ذہن نشین کرلیں ان کو کبھی فراموش نہ کریں، (اور دوسروں تک پہونچائیں)(۳)

اسی وجہ سے ظالم و جابر خلفاء اور سلاطین ؛مسلمانوں کو ان چیزوں کے نشر کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ، وہ خود اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مشکلوں کو دور کرتے تھے اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور بزرگ علمائے دین سے ملاقات کرکے قوانین اسلامی اور سنت پیغمبر پر پردہ ڈالتے تھے۔

اس کے علا وہ حج ؛عالمی پیمانہ پر ایک عظیم الشان کانفرنس کا نام ہے جس میں دنیا بھر کے تمام مسلمان مکہ معظمہ میں جمع ہوتے ہیں اور اپنے افکار اورابتکارات کو دوسرے کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

اصولی طور پر ہماری سب سے بڑی بد بختی یہ ہے کہ اسلامی ممالک کی سرحدوں نے مسلمانوں کی ثقافت میں جدائی ڈال دی ہے، ہر ملک کا مسلمان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے، جس سے اسلامی معاشرہ کی وحدت نیست و نابود ہوگئی ہے، لیکن حج کے ایام میں اس اتحاد اور اسلامی ثقافت کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے۔

چنانچہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے (اسی ہشام بن حکم کی روایت کے ذیل میں): جن قوموں نے صرف اپنے ملک ،شہروں اور اپنے یہاں در پیش مسائل کی گفتگو کی تو وہ ساری قومیں نابود ہوجائیں گی اور ان کے ملک تباہ و برباد اور ان کے منافع ختم ہوجائیں گے اور ان کی حقیقی خبریں پشتِ پردہ رہ جائیں گی۔(۴)

۴ ۔ حج کا اقتصادی پہلو:

بعض لوگوں کے نظریہ کے برخلاف ؛ حج کا موسم اسلامی ممالک کی اقتصادی بنیاد کو مستحکم بنانے کے لئے نہ صرف ”حقیقتِ حج“ سے کوئی منافات نہیں رکھتا بلکہ اسلامی روایات کے مطابق؛ حج کا ایک فلسفہ ہے۔

اس میں کیا حرج ہے کہ اس عظیم الشان اجتماع میں اسلامی مشترک بازار کی بنیاد ڈالیں اور تجارتی اسباب و وسائل کے سلسلہ میں ایسا قدم اٹھائیں جس سے دشمن کی جیب میں پیسہ نہ جائے اور نہ ہی مسلمانوں کا اقتصاد دشمن کے ہاتھوں میں رہے، یہ دنیا پرستی نہیں ہے بلکہ عین عبادت اور جہاد ہے۔

ہشام بن حکم کی اسی روایت میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے حج کے فلسفہ کو بیان کرتے ہوئے صاف صاف اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسلمانوں کی تجارت کو فروغ دینا اور اقتصادی تعلقات میں سہولت قائم کرنا ؛حج کے اغراض و مقاصدمیں سے ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے آیہ شریفہ( لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ ) (۵) کے ذیل میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: اس آیت سے مراد کسب روزی ہے، ”فاذااحل الرجل من احرامه و قضی فلیشتر ولیبع فی الموسم “() ”جس وقت انسان احرام سے فارغ ہوجاتا ہے اور مناسکِ حج کو انجام دے لیتا ہے تو اسی موسم حج میں خرید و فروخت کرے (اور یہ چیز نہ صرف حرام نہیں ہے بلکہ اس میں ثواب بھی ہے)(۶)

اور حضرت امام رضا علیہ السلام سے منقول فلسفہ حج کے بارے میں ایک تفصیلی حدیث کے ذیل میںیہی معنی بیان ہوئے ہیں جس کے آخر میں ارشاد ہوا ہے: ”لِیَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُم(۷)

آیہ شریفہ”لیشھدوا منافع لھم“ معنوی منافع کو بھی شامل ہوتی ہے اور مادی منافع کو بھی، لیکن ایک لحاظ سے دونوں معنوی منافع ہیں۔

مختصر یہ کہ اگر اس عظیم الشان عبادت سے صحیح اور کامل طور پر استفادہ کیا جائے ، اور خانہ خدا کے زائرین ان دنوں میں جبکہ وہ اس مقدس سر زمین پر بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ حاضر ہیں اور ان کے دل آمادہ ہیں تو اسلامی معاشرہ کی مختلف مشکلات دور کرنے کے لئے سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی کانفرنس کے ذریعہ فا ئدہ اٹھائیں، یہ عبادت ہر پہلو سے مشکل کشا ہوسکتی ہے، اور شاید اسی وجہ سے حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”لایزال الدین قائما ما قامت الکعبة(۸) ”جب تک خانہ کعبہ باقی ہے اس وقت تک اسلام بھی باقی رہے گا“۔

اور اسی طرح حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: خانہ خدا کو نہ بھلاؤ کہ اگر تم نے اسے بھلا دیا تو ہلاک ہوجاؤ گے، ”الله الله فِی بَیتِ ربّکُم لاتَخْلُوهُ مَا بَقِیتُمْ فَإنّهُ إنْ َترَکَ لَم تَنَاظَرُوا(۴۲) (خدا کے لئے تمہیں خانہ خدا کے بارے میں تلقین کرتا ہوں اس کو خالی نہ چھوڑ نا، اور اگر تم نے چھوڑ دیا تو مہلت الٰہی تم سے اٹھالی جائے گی۔)

اور اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اسلامی روایات میں ایک فصل اس عنوان سے بیان کی گئی کہ اگر ایک سال ایسا آجائے کہ مسلمان حج کے لئے نہ جا ئیں تو اسلامی حکومت پر واجب ہے کہ مسلمانوں کو مکہ معظمہ جانے پر مجبور کرے۔(۹)(۱۰)

”حج“ ایک اہم انسان ساز عبادت ہے

حج کا سفر در اصل بہت عظیم ہجرت ہے، ایک الٰہی سفر ہے اور اصلاح نیز جہاد اکبر کا وسیع میدان ہے۔

اعمال حج؛ حقیقت میں ایک ایسی عبادت ہے جس میں جناب ابراہیم اور ان کے بیٹے جناب اسماعیل اور ان کی زوجہ حضرت ہاجرہ کی قربانیوں اور مجاہدت کی یاد تازہ ہوتی ہے ، اور اگر ہم اسرار حج کے بارے میں اس نکتہ سے غافل ہوجائیں تو بہت سے اعمال ایک معمہ بن کر رہ جائیں گے ، جی ہاں! اس معمہ کو حل کرنے کی کنجی انھیں عمیق مطالب پر توجہ دینا ہے۔

جس وقت ہم سر زمین منیٰ کی قربانگاہ میں جاتے ہیں تو تعجب کرتے ہیں، یہ اس قدرقربانی کس لئے؟ کیا حیوانات کی قربانی عبادت ہوسکتی ہے؟!

لیکن جس وقت قربانی کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے نور نظر ،پارہ جگر اور اپنے ہر دل عزیز بیٹے کو راہ خدا میں قربان کردیا، جو ایک سنت ابراہیمی بن گیا اور منی میں اس یاد میں قربانی ہونے لگی تو اس کام کا فلسفہ سمجھ میں اجا تا ہے۔

قربانی کرنا خدا کی راہ میں تمام چیزوں سے گزرنے کا راز ہے، قربانی کرنا یعنی اس بات کا ظاہر کرنا ہے کہ اس کا دل غیر خدا سے خالی ہے،حج کے اعمال سے اسی وقت ضروری مقدار میں تربیتی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جب ذبح اسماعیل اور قربانی کے وقت اس باپ کے احساسات کو مد نظر رکھا جائے، اور وہی احساسات ان کے اندر جلوہ گر ہوجائیں۔(۱)

جس وقت ہم ”جمرات“ کی طرف جاتے ہیں ( یعنی وہ تین مخصوص پتھر جن پر حجاج کو کنکری مارنا ہوتی ہیں، اور ہر بار سات کنکر مارنا ہوتی ہیں) توہمارے سامنے یہ سوال پیش آتا ہے کہ اس مجسمہ

(۱) افسوس کہ ہمارے زمانہ میں منی میں قربانی کا طریقہ کار رضایت بخش نہیں ہے لہٰذا علمائے اسلام کو اس سلسلہ میں توجہ دینا چاہئے

پر سنگ باری کا کیا مقصد ہے؟ اور اس سے کیا مشکل حل ہوسکتی ہے؟ لیکن جس وقت ہم یاد کرتے ہیں کہ یہ سب بت شکن قہر مان جناب ابراہیم علیہ السلام کی یاد ہے ، آپ کی راہ میں تین بار شیطان آیا تا کہ آپ کو اس عظیم ”جہاد اکبر“سے رو ک دے یا شک و شبہ میں مبتلا کردے لیکن ہر بار توحید کے علمبر دار نے شیطان کو پتھر مار کر دور بھگا دیا،لہٰذا اگر اس واقعہ کو یاد کریں تو پھر ”رمی جمرات“ کا مقصد سمجھ میں آجاتا ہے۔

رمی جمرات کا مقصد یہ ہے کہ ہم سب جہاد اکبر کے موقع پر شیطانی وسوسوں سے روبرو ہوتے ہیں اور جب تک ان کو سنگسار نہ کریں گے اور اپنے سے دور نہ بھگائیں گے تواس پر غالب نہیں ہوسکتے۔

اگر تمہیں اس بات کی امید ہے کہ خداوندعالم نے جس طرح جناب ابراہیم علیہ السلام پر درود و سلام بھیجا اور ان کی یاد کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھا ہے اگر تم بھی یہ چاہتے ہو کہ وہ تم پر نظر رحمت کرے تو پھر راہ ابراہیم پر قدم بڑھاؤ۔

یا جس وقت ”صفا“ اور ”مروہ“ پر جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ حجاج گروہ در گروہ ایک چھوٹی پہاڑی سے دوسری چھوٹی پہاڑی پر جاتے ہیں، اور پھر وہاں سے اسی پہاڑی پر واپس آجاتے ہیں ، اور پھر اسی طرح اس عمل کی تکرار کرتے ہیں، کبھی آہستہ چلتے ہیں تو کبھی دوڑتے ہیں، واقعاً تعجب ہوتا ہے کہ یہ کیا ہے؟! اور اس کا مقصد کیا ہے؟!

لیکن جب ایک نظر اس با ایمان خاتون حضرت ہاجرہ کے واقعہ پر ڈالتے ہیں جو اپنے شیر خوار فرزند اسماعیل کی جان کے لئے اس بے آب و گیاہ بیابان میں اس پہاڑی سے اس پہاڑی پر جاتی ہیں، اس واقعہ کو یاد کرتے ہیں کہ خداوندعالم نے حضرت ہاجرہ کی سعی و کوشش کو کس طرح منزل مقصود تک پہنچایا اور اور ان کے نو مولود بچہ کے پیروں کے نیچے چشمہ زمزم جاری کیا، تو اچانک زمانہ پیچھے ہٹتا دکھائی دیتا ہے اور پردے ہٹ جاتے ہیں اور ہم اپنے کو جناب ہاجرہ کے پاس دیکھتے ہیں اور ہم بھی ان کے ساتھ سعی و کوشش میں مشغول ہوجاتے ہیں کہ راہ خدا میں سعی و کوشش کے بغیر منزل نہیں مل سکتی!

(قارئین کرام!) ہماری مذکورہ گفتگوکے ذریعہ آسانی کے ساتھ یہ نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ ”حج“ کو ان اسرار و رموز کے ذریعہ تعلیم دیا جائے اور جناب ابراہیم، ان کی زوجہ اور ان کے فرزند اسماعیل کی یاد کو قدم قدم پر مجسم بنایا جائے تاکہ اس کے فلسفہ کو سمجھ سکیں، اور حجاج کے دل و جان میں حج کی اخلاقی تاثیر جلوہ گر ہو ، کیونکہ ان آثار کے بغیر حج کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔(۱۱)

____________________

(۱) بحار الانوار ، جلد ۹۹، صفحہ ۲۶

(۲) نہج البلاغہ، کلمات قصار ، نمبر ۲۵۲

(۳) وسائل الشیعہ ، جلد ۸، صفحہ ۹ (۴) وسائل الشیعہ ، جلد ۸، صفحہ ۹

(۴) سورہ بقرہ ، آیت ۱۹۸ (ترجمہ آیت: ”تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ اپنے پروردگار کے فضل وکرم کو تلاش کرو“)

(۵) تفسیر عیاشی، تفسیر المیزان ، جلد ۲ ، صفحہ ۸۶ کی نقل کے مطابق

(۶) بحار الاانوار ، جلد ۹۹، صفحہ ۳۲

(۷) وسائل الشیعہ ، ، جلد ۸، صفحہ ۱۴

(۸) نہج البلاغہ ،وصیت نامہ سے اقتباس۴۷

(۹) وسائل الشیعہ ، جلد۸، صفحہ ۱۵”باب وجوب اجبار الوالی الناس علی الحج“

(۱۰) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۷۶

(۱۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۹، صفحہ ۱۲۵


۷۷ ۔ جہاد کا مقصد کیا ہے؟ اور ابتدائی جہاد کس لئے؟

اسلامی جہاد کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

۱ ۔ ابتدائی جہاد (آزادی کے لئے)

خداوندعالم نے انسان کی سعادت و خوشبختی، آزادی اور کمال تک پہنچنے کے لئے احکام بیان کئے ہیں، اور اپنے مرسلین کو ذمہ داری دی ہے تاکہ یہ احکام لوگوں تک پہنچائیں، اب اگر کوئی شخص یا کوئی گروہ اسلامی احکام کو اپنے منافع میں مزاحم سمجھے اور ان کے پہچانے میں مانع اور رکاوٹ بنے تو انبیاء علیہم السلام کو اس بات کا حق ہے کہ پہلے انھیں گفتگو کے ذریعہ سمجھائے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو طاقت کے ذریعہ ان کو راستہ سے ہٹا دیں اور آزاد طریقہ سے تبلیغ کے فر ائض انجام دیں۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ ہر معاشرہ کے لوگوں کا حق ہے کہ وہ راہ حق کے منادی افراد کی ندا کو سنیں اور اس دعوت کے قبول کرنے میں آزاد ہوں، لہٰذا اگر کوئی ان کو اس جائز حق سے محروم کرنا چاہے اور ان کو راہ خدا کے منادی افرادکی آواز سننے سے روکے ، تو ان کو یہ حق ہے کہ اس آزادی کو حاصل کرنے کے لئے کسی بھی طاقت کا سہار ا لیں، یہیں سے اسلام اور دیگر آسمانی ادیان میں ”ابتدائی جہاد “ کی ضرورت واضح و روشن ہوجاتی ہے۔

اور اسی طرح اگر کچھ لوگ مومنین پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے گزشتہ مذہب کی طرف لوٹ جائیں تو اس موقع پر بھی کسی طاقت کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔

۲ ۔ دفاعی جہاد :

اگر کسی شخص یا گروہ پر دشمن کی طرف سے حملہ کیا جاتا ہے تو اس موقع پر تمام آسمانی اور انسانی قوانین اس بات کا حق دیتے ہیں کہ انسان اپنے دفاع کے لئے اٹھ کھڑا ہو اور اپنے دفاع کے لئے اپنی پوری طاقت لگادے، اور اپنی حفاظت کے لئے کوئی بھی حربہ اپنانے میں چون و چرانہ کرے، اس قسم کے جہاد کو ”دفاعی جہاد“ کہا جاتا ہے، اسلام کی مختلف جنگیں اسی طرح کی تھیں جیسے جنگ احزاب، جنگ احد، جنگ موتہ، جنگ تبوک، جنگ حنین وغیرہ، یہ تمام جنگیں دفاعی پہلو رکھتی تھیں۔

۳ ۔ کفر اور شرک کی نابودی کے لئے جہاد

اسلام ؛ اگرچہ دنیا بھر کے لوگوں کو اس دین (جو سب سے عظیم اور آخر ی دین ہے)کے انتخاب کے لئے دعوت دیتا ہے لیکن ان کے عقیدہ کی آزادی کا احترام کرتا ہے اسی وجہ سے جو اقوام آسمانی کتاب رکھتی ہیں ان کو اسلام قبول کرنے کے لئے غور و فکر کے لئے کافی فرصت دیتا ہے، او راگر انھوں نے اسلام قبول نہ کیا تو ان کے ساتھ ایک ”ہم پیمان اقلیت“ کے عنوان سے معاملہ کرتا ہے اور خاص شرائط کے تحت (جو نہ مشکل ہیں اور نہ پیچیدہ) ان کے ساتھ آرام و سکون کی زندگی بسر کرنے کا سبق دیتا ہے۔

لیکن کفر و شر ک نہ دین ہے ،نہ کوئی مذہب اور نہ ہی قابل احترام ہے، بلکہ ایک قسم کی خرافات، انحراف اور حماقت ہے، در اصل ایک فکری اور اخلاقی بیماری ہے جس کو کسی نہ کسی طرح ختم ہونا چاہئے۔

دوسروں کی ”آزادی“ اور ”احترام“کی بات ان مقامات پرکیجا تی ہے جہاں فکر و عقیدہ میں کوئی ایک صحیح اصل پائی جاتی ہو لیکن انحرافات، گمراہی اور فکری بیماری قابل احترام نہیں ہے اسی وجہ سے اسلام کا حکم ہے کہ کفر و شرک کا دنیا بھر سے نام و نشان تک مٹا دیا جائے ،چاہے جنگ کرنی پڑے، اگر بت پرستی کے بُرے آثار گفتگو کے ذریعہ ختم نہ ہوں تو جنگ کے ذریعہ ان کا خاتمہ کردیا جائے۔(۱)

ہماری مذکورہ باتوں سے گرجا گھروں کے زہریلے پروپیگنڈے کا جواب بھی واضح ہوجاتا ہے کیونکہ اس سلسلہ میں( لاَ اِکْرَاهَ فِی الدِّینِ ) (۲) سے واضح آیت قرآن مجید میں موجود نہیں ہے۔

البتہ وہ لوگ اسلامی جہاد اور اسلامی جنگوں میں تحریف کرنے کے لئے مختلف بہانہ بازی کرتے ہیں جبکہ اسلامی جنگوں کی تحقیق سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان میں سے بہت سی جنگیں دفاعی پہلو رکھتی تھیں اور بعض وہ جنگیں جو ”ابتدائی جہاد “ کی صورت میں تھیں وہ بھی دوسرے ملکوں پر غلبہ کرنے اور مسلمانوں کو طاقت کے بل پر اسلام قبول کرانے کے لئے نہیں تھی بلکہ اس ملک میں حکم فرما ظالمانہ نظام کے خاتمہ کے لئے تھیں تاکہ اس ملک کے با شندے مذہب قبول کرنے میں آزاد رہیں۔

اس گفتگو پر تاریخ اسلام گواہ ہے،جن میں یہ بات بارہا بیان کی گئی ہے کہ جب مسلمان کسی ملک کو فتح کرتے تھے تودوسرے مذاہب کے پیرووں کو مسلمانوں کی طرح آزادی دیتے تھے اور اگر ان سے ایک معمولی جزیہ حاصل کرتے تھے جو امنیت اور حافظ امنیت لشکر کے خرچ کے لئے ہوتا تھا کیونکہ ان کی جان و مال اور ناموس اسلام کی حفاظت میں تھی یہاں تک کہ وہ اپنے دینی پروگرام کرنے میں بھی آزاد تھے۔

تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے والے افراد اس حقیقت کو جانتے ہیں یہاں تک کہ اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے والے اور کتاب لکھنے والے عیسائی محققین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے مثلاً کتاب ”تمدن اسلام و عرب“ میں تحریر ہے: ”دوسرے مذاہب کے ساتھ مسلمانوں کا طریقہ کار اتنا ملائم تھا کہ مذہبی روساء کو مذہبی پروگرام کرنے کی اجازت تھی“۔

یہاں تک کہ بعض اسلامی تاریخ میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جو عیسائی اسلامی تحقیق کے لئے پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میںحاضر ہوتے تھے اپنی مذہبی دعاؤں کا پروگرام آزادطریقے سے مسجد النبی(مدینہ) میں انجام دیا کرتے تھے۔(۳)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۱۵

(۲) سورہ بقرہ ، آیت ۲۵۶، ترجمہ: ”دین (قبول کرنے) میں کوئی جبر نہیں ہے“

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۲۰۵


۷۸ ۔ اسلام خواتین کے لئے کن حقوق کا قائل ہے؟

ظہور اسلام اور اس کی مخصوص تعلیمات کے ساتھ عورت کی زندگی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوئی جوپہلے مراحل سے بہت مختلف تھی، یہ وہ دور تھا جس میں عورت مستقل اور تمام انفرادی، اجتماعی اور انسانی حقوق سے فیض یاب ہوئی، عورت کے سلسلہ میں اسلام کی بنیادی تعلیمات وہی ہیں جن کا ذکر قرآنی آیات میں ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہوتا ہے:( لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوف ) (۱) ” عورتوں کے لئے ویسے ہی حقوق بھی ہیں جیسی ذمہ داریاں ہیں“۔

اسلام عورت کو مرد کی طرح کامل انسانی روح ،ارادہ اور اختیار کا حامل سمجھتا ہے اور اسے سیرِ تکامل اور ارتقا کے عالم میں دیکھتا ہے جو مقصد خلقت ہے، اسی لئے اسلام دونوں کو ایک ہی صف میں قرار دیتا ہے اور دونوں کو ”یا ایہا الناس“ اور ”یا ایہا الذین آمنوا“ کے ذریعہ مخاطب کرتا ہے، اسلام نے دونوں کے لئے تربیتی، اخلاقی اور عملی پروگرام لازمی قرار دئے ہیں، ارشاد الٰہی ہوتا ہے:

( وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنْثَی وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُوْلَئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ) (۲)

”اور جو نیک عمل کرے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان بھی ہو اسے جنت میں داخل کیا جائے گا“۔

ایسی سعادتیں دونوں صنف حاصل کرسکتی ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنثَی وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهُ حَیَاةً طَیِّبَةً وَلَنَجْزِیَنَّهُمْ اٴَجْرَهُمْ بِاٴَحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) (۳)

”جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انھیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے“۔

مذ کورہ آیات اس بات کو واضح کردیتی ہیں کہ مرد ہو یا عورت اسلامی قوانین و اعمال پر عمل کرتے ہوئے معنوی اور مادی کمال کی منزلوں پر فائز ہوسکتے ہیں اور ایک طیب و طاہر زندگی میں قدم رکھ سکتے ہیں جو آرام و سکون کی منزل ہے۔

اسلام عورت کو مرد کی طرح مکمل طور پر آزاد سمجھتا ہے ، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے:

( کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَهِینَةٌ ) (۴) ”ہر نفس اپنے اعمال کا رہین ہے“۔

یا ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ اٴَسَاءَ فَعَلَیْهَا ) (۵) ”جو بھی نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا اور جو بُرا کرے گا اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہوگا“۔

اسی طرح یہ آیت بھی مرد اور عورت دونوں کے لئے ہیں، اسی لئے سزا کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِاٴةَ جَلْدَةٍ ) (۶)

”زنا کار عورت اور زنا کار مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جا ئیں“۔

اس کے علاوہ دیگر آیات میں بھی ایک جیسے گناہ پردونوں کے لئے ایک جیسی سزا کا حکم سنایا گیا ہے۔

ارادہ و اختیار سے استقلال پیدا ہوتا ہے، اور اسلام یہی استقلال اقتصادی حقوق میں بھی نافذ کرتا ہے، اسلام بغیر کسی رکاوٹ کے عورت کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ہر قسم کے مالی معاملات انجام دے اور عورت کو اس سرمایہ کا مالک شمار کرتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( ٍ لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ ) (۷)

”مردوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے“۔

لغت میں ”اکتساب“ کے معنی کسب اور حاصل کرنے کے ہیں،(۸) اسی طرح ایک دو سرا قانون کلی ہے:

”النَّاسُ مُسَلِّطُونَ عَلَی امْوَالِھِمْ“ یعنی تمام لوگ اپنے مال پر مسلط ہیں۔

اس قانون کے پیش نظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام عورت کے اقتصادی استقلال کا احترام کرتا ہے اور عورت مرد میں کسی فرق کا قائل نہیں ہے۔

خلاصہ یہ کہ اسلام کی نظر میں عورت؛ معاشرہ کا ایک بنیادی رکن ہے اسے ایک بے ارادہ، محکوم ، سر پرست کا محتاج سمجھنا خیال خام ہے۔

مساوات کے معنی میں غلط فہمی نہ ہو:

اسلام نے مساوات کی طرف خاص توجہ دی ہے اور ہمیں بھی متوجہ ہونا چاہئے لیکن خیال رہے کہ بعض لوگ بے سوچے سمجھے جذبات میں آکر افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں اور مرد و عورت کے روحانی و جسمانی فرق اور ان کی ذمہ داریوں کے اختلاف تک سے انکار کر بیٹھتے ہیں۔

ہم جس چیز کا چاہیں انکار کریں تاہم اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے کہ دو صنفوں میں جسمانی اور روحانی طور پر بہت فرق ہے، مختلف کتابوں میں اس کی تفصیلات موجود ہیں ،یہاں اس کی تکرار کی ضرورت نہیں، خلاصہ یہ کہ عورت وجودِ انسانی کی پیدائش کا ظرف ہے، نونہالوں کا رشد اسی کے دامن میں ہوتا ہے، جیسے وہ جسمانی طور پر آنے والی نسلوں کی پیدائش ،تربیت اور پرورش کے لئے پیدا کی گئی ہے اسی طرح روحانی طور پر بھی اسے عواطف ،احساسات اور جذبات کا زیادہ حصہ دیا گیا ہے ۔

ان وسیع اختلافات کے باوجود کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرد عورت کو تمام حالات میں ہم قدم ہونا چاہئے اور تمام کاموں میں سو فیصد مساوی ہونا چاہئے ؟!

کیا عدالت اور مساوات کے حامیوں کو معاشرے کے تقاضوں کے حوالے سے بات کرنا چاہئے ؟کیا یہ عدالت نہیں ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری پوری کرے اوراپنے وجود کی نعمتوں اور خوبیوں سے فیض یاب ہو؟اس لئے کیا عورت کا ایسے کاموں میں دخل اندازی کرنا جو اس کی روح اورجسم سے مناسبت نہیں رکھتے ،خلاف ِعدالت نہیںہے!

یہی وہ مقام ہے جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام جو عدالت کا طرفدار ہے کئی ایک اجتماعی کاموں میں سختی یا زیادہ دقتِ نظروالے کاموں مثلاً گھر کے معاملات کی سر پرستی وغیرہ میں مرد کو مقدم رکھتا ہے اور معاونت وکمک کا مقام عورت کے سپرد کر دیتا ہے ۔

ایک گھر اور ایک معاشرے کومنتظم ہونے کی ضرورت ہو تی ہے اور نظم و ضبط کا آخری مرحلہ ایک ہی شخص کے ذریعہ انجام پانا چاہئے ورنہ کشمکش اور بے نظمی پیدا ہوگی۔

اگر تمام تعصبات سے بے نیاز ہو کر غور کیا جائے تو یہ واضح ہو جا ئے گا کہ مرد کی ساخت کے پیش نظر ضروری ہے کہ گھر کی سر پرستی اس کے ذمہ کی جائے اور عورت اس کی معاون ہو، اگر چہ کچھ لوگ ان حقائق سے چشم پوشی اختیار کرنے پرمُصر ہیں۔

آج کی دنیا میں بھی بلکہ ان اقوام میں بھی جو عورتوں کو مکمل آزادی ومساوات دینے کا دعویٰ کرتے ہیں،خارجی حالات زندگی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عملی طور پر وہی بات ہے جوہم بیان کر چکے ہیں اگر چہ باتیں اس کے برخلاف بناتے ہیں۔(۹)

عورت اور مرد کے معنوی اقدار قرآن مجید نے مرد و عورت کو بارگاہ خداوندی اور معنوی مقامات کے لحاظ سے برابر شمار کیا ہے، اور جنس و جسمانی اختلاف ، نیزاجتماعی ذمہ داریوں کے اختلاف کو ترقی و کمال کی منزل حاصل کرنے کے لئے دلیل شمار نہیں کیا ہے بلکہ اس لحاظ سے دونوں کو بالکل برابر قرار دیا ہے، اسی وجہ سے دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا ہے، قرآن مجید کی بہت سی آیات اس وقت نازل ہوئی ہیں جس زمانہ میں متعدد اقوام و ملل عورت کو انسان سمجھنے میں شک کرتی تھیں اور اس کو نفرت و ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا نیز عورت کو گناہ ، انحراف اور موت کا سر چشمہ سمجھا جاتا تھا!!

بہت سی گزشتہ اقوام تو یہاں تک مانتی تھی کہخداوندعالم کی بارگاہ میں عورت کی عبادت قبول نہیں ہے، بہت سے یونانی عورت کے وجود کو پست و ذلیل اور شیطانی عمل جانتے تھے، رومیوں اور بعض یونانیوں کایہ بھی عقیدہ تھا کہ عورت میں انسان کی روح نہیں ہوتی بلکہ انسانی روح صرف اور صرف مرد میں ہوتی ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ انھیں آخری صدیوں میں اسپین کے عیسائی علمااس سلسلہ میں بحث و گفتگو کرتے تھے کہ کیا عورت؛ مرد کی طرح انسانی روح رکھتی ہے یا نہیں یا مرنے کے بعد اس کی روح جاویداں ہوجاتی ہے یا نہیں؟ اور بحث و گفتگو کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے : چونکہ عورت کی روح؛ انسان و حیوان کے درمیان برزخ ہے (یعنی ایک حصہ انسانی روح ہے تو ایک حصہ حیوانی روح) لہٰذا اس کی روح جاویدانی نہیں ہے سوائے جناب مریم کے۔(۱۰)

یہاں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ تہمتیں جیسا کہ اسلام کو صحیح طور پر نہ سمجھنے والے افراد اعتراض کردیتے ہیں کہ اسلام تو صرف مردوں کا دین ہے ، عورتوں کا نہیں، واقعاً یہ بات کس قدر بیہودہ ہے، اصولی طور پر اگر عورت مرد کے جسمی اور عاطفی اور اجتماعی ذمہ داری کے فرق کے پیش نظر اسلامی قوانین پر غور و فکر کیا جائے تو عورت کی اہمیت اور عظمت پر ذرا بھی حرف نہیں آئے گا، اور اس لحاظ سے عورت مرد میں ذرا بھی فرق نہیں پایا جاتا، سعادت و خوشبختی کے دروازے دونوں کے لئے کھلے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ ) (سب ایک جنس اور ایک معاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں)(۱۱)

____________________

(۱) سورہ بقرہ ،آیت۲۲۸ (۲)سور ہ غافر(مومن)، آیت ۴۰

(۳)سورہ نحل ، آیت ۹۷

(۴)سورہ مدثر ، آیت ۳۸

(۵) سورہ فصلت ، آیت ۴۶

(۶) سورہ نور ، آیت نمبر ۲

(۷) سورہ نساء ، آیت ۳۲

(۸)دیکھئے مفردات راغب اصفہانی ،البتہ یہ نکتہ اس وقت ہے جب ”کسب“ اور ”اکتساب“ایک ساتھ استعمال ہو

(۹) تفسیر نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۱۱۳

(۱۰) ”و سٹر مارک“ ، عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد (ص)، اور ”حقوق زن در اسلام“ اور اس سلسلہ میں دوسری کتابیں دیکھے

(۱۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۲۲۳


۷۹ ۔ پردہ کا فلسفہ کیا ہے؟

بے شک عصر حاضر میں جس کو بعض لوگوں نے عریانی اور جنسی آزادی کا زمانہ قرار دیا ہے، اور مغرب نواز لوگوں نے اس کو عورتوں کی آزادی کا ایک حصہ قرار دیا ہے، لہٰذا ایسے لوگ پردہ کی باتوں کو سن کر منہ بناتے ہیں اور پردہ کو گزشتہ زمانہ کا ایک افسانہ شمار کرتے ہیں۔

لیکن اس آزادی اور بے راہ روی سے جس قدر فسادات اور برائیاں بڑھتی جارہی ہیں اتنا ہی پردہ کی باتوں پر توجہ کی جارہی ہے۔

البتہ اسلامی اور مذہبی معاشرہ میں خصوصاً ایرانی انقلاب کے بعد بہت سے مسائل حل ہوچکے ہیں اور بہت سے سوالات کا اطمینان بخش جواب دیا جا چکا ہے، لیکن چونکہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے لہٰذا اس مسئلہ پر مزید بحث و گفتگو کی ضرورت ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ (بہت ہی معذرت کے ساتھ)کیا عورتوں سے (ہمبستری کے علاوہ) سننے ، دیکھنے اور لمس کرنے کی دوسری لذتیں تمام مردوں کے لئے ہیں یا صرف ان کے شوہروں سے مخصوص ہیں؟!

بحث اس میں ہے کہ عورتیں اپنے جسم کے مختلف اعضا کی نمائش کے ایک بے انتہا مقابلہ میں جوانوں کی شہوتوں کو بھڑکائیں اور آلودہ مردوں کی ہوس کا شکار بنیں یا یہ مسائل شوہروں سے متعلق ہیں؟!

اسلام اس دوسری قسم کا طرف دار ہے ، اور حجاب کو اسی لئے قرار دیا ہے، حالانکہ مغربی ممالک اور مغرب نواز لوگ پہلے نظریہ کے قائل ہیں۔

اسلام کہتا ہے کہ جنسی لذت اور دیکھنے ، سننے اور چھونے کی لذت شوہر سے مخصوص ہے اس کے علاوہ دوسرے کے لئے گناہ، آلودگی اور معاشرہ کے لئے ناپاکی کا سبب ہے۔

فلسفہ حجاب کوئی مخفی اور پوشیدہ چیز نہیں ہے، کیونکہ:

۱ ۔ بے پردہ عورتیں معمولاً بناؤ سنگار اور دیگر زرق و برق کے ذریعہ جوانوں کے جذبات کو ابھارتی ہیں جس سے ان کے احساسات بھڑک اٹھتے ہیں اور بعض اوقات نفسیاتی امراض پیدا ہوجاتے ہیں،انسان کے احساسات کتنے ہیجان آور وزن کو برداشت کرسکتے ہیں؟ کیا نفسیاتی ڈاکٹر یہ نہیں کہتے کہہمیشہ انسان میں ہیجان سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

خصوصاً جب یہ بھی معلوم ہو کہ جنسی غریزہ انسان کی سب سے بنیادی فطرت ہوتی ہے جس کی بنا پر تاریخ میں ایسے متعددخطر ناک حوادث اور واقعات ملتے ہیں جس کی بنیاد یہی چیز تھی،یہاں تک بعض لوگوں کا کہنا ہے: ”کوئی بھی اہم واقعہ نہیں ہوگا مگر یہ کہ اس میں عورت کا ہاتھ ضرور ہوگا“!

ہمیشہ بازاروں اور گلی کوچوں میں عریاں پھر کر احساس کو بھڑکانا؛ کیا آگ سے کھیلنا نہیں ہے؟ اور کیا یہ کام عقلمندی ہے؟!

اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ مسلمان مرد اور عورت چین و سکون کے ساتھ زندگی بسر کریں اور ان کی آنکھیں اور کان غلط کاموں سے محفوظ رہیں اور اس لحاظ سے مطمئن طور پر زندگی بسر کریں، پردہ کا ایک فلسفہ یہ بھی ہے۔

۲ ۔ مستند اور قطعی رپورٹ اس چیزکی گواہی دیتی ہیں کہ دنیا بھر میں جب سے بے پردگی بڑھی ہے اسی وقت سے طلاقوں میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، کیونکہ ”ہر چہ دیدہ بیند دل کند یاد“ انسان جس کا عاشق ہوجاتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے لہٰذا انسان ہر روز ایک دلبرکو تلاش کرتا ہے تو دوسرے کو الوداع کہتا ہوا نظر آتا ہے۔

جس معاشرہ میں پردہ پایا جاتا ہے (اور اسلامی دیگر شرائط کی رعایت کی جاتی ہے) اس میں یہ رشتہ صرف میاں بیوی میں ہوتا ہے ان کے احساسات، عشق اور محبت ایک دوسرے کے لئے مخصوص ہوتے ہیں۔

لیکن ”اس آزادی کے بازار“ میں جبکہ عورتیں ؛ عملی طور پر ایک سامان کی حیثیت رکھتی ہیں (کم از کم جنسی ملاپ کے علاوہ) تو پھر ان کے لئے میاں بیوی کا عہد و پیمان کوئی مفہوم نہیں رکھتا، اور بہت سی شادیاں مکڑی کے جالے کی طرح بہت جلد ہی جدائی کی صورت اختیار کرلیتی ہیں، اور بچے بے سر پرست ہوجاتے ہیں۔

۳ ۔ فحاشی کا اس قدر عام ہوجانا اور نا جائز اولادیں پیدا ہونا؛ بے پردگی کے نتیجہ کا ایک معمولی سا درد ہے، جس کے بارے میں بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ مسئلہ خصوصاً مغربی ممالک میں اس قدر واضح ہے جس کے بارے میں بیان کرناسورج کو چرا غ دکھاناہے، سبھی لوگ اس طرح کی چیزوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ سے سنتے رہتے ہیں۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ فحاشی اور نا جائز بچوں کی پیدائش کی اصل وجہ یہی بے حجابی ہے،ہم یہ نہیں کہتے کہ مغربی ماحول اور غلط سیاسی مسائل اس میں موثر نہیں ہے، بلکہ ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ عریانی اور بے پردگی اس کے موثر عوامل اور اسباب میں سے ایک ہے۔

فحاشی اور ناجائز اولاد کی پیداوار کی وجہ سے معاشرہ میں ظلم و ستم اور خون خرابہ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر اس خطرناک مسئلہ کے پہلو واضح ہوجاتے ہیں۔

جس وقت ہم سنتے ہیں کہ ایک رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں ہر سال پانچ لاکھ بچے ناجائز طریقے سے پیدا ہوتے ہیں، اور جب ہم سنتے ہیں کہ انگلینڈ کے بہت سے دانشوروں نے حکومتی عہدہ داروں کو یہ چیلنج دیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک کی امنیت کو خطرہ ہے، (انھوں نے اخلاقی اور مذہبی مسائل کی بنیاد پر یہ چیلنج نہیں کیا ہے) بلکہ صرف اس وجہ سے کہ حرام زادے بچے معاشرہ کے امن و امان کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں، کیونکہ جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عدالت کے مقدموں میں اس طرح کے افراد کا نام پایا جاتا ہے، تو واقعاً اس مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ دین و مذہب کو بھی نہیں مانتے ،اس برائی کے پھیلنے سے وہ بھی پریشان ہیں، لہٰذامعاشرہ میں جنسی فساد کو مزید پھیلانے والی چیزمعاشرہ کی امنیت کے لئے خطرہ شمار ہوتی ہے اور اس کے خطر ناک نتائج ہر طرح سے معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہیں۔

تربیتی دانشوروں کی تحقیق بھی اسی بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جن کالجوں میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ پڑھتے ہیں یا جن اداروں میں مرد اور عورت ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور ان کو ہر طرح کی آزادی ہے تو ایسے کالجوں میں پڑھائی کم ہوتی ہے اور اداروں میں کام کم ہوتا ہے اور ذمہ داری کا احساس بھی کم پایا جاتا ہے۔

۴ ۔ بے پردگی اور عریانی عورت کی عظمت کے زوال کا بھی باعث ہے، اگر معاشرہ عورت کو عریاں بدن دیکھنا چاہے گا تو فطری بات ہے کہ ہر روز اس کی آرائش کا تقاضا بڑھتا جائے گا اور اس کی نمائش میں اضافہ ہوتا جائے گا، جب عورت جنسی کشش کی بنا پر ساز و سامان کی تشہیر کا ذریعہ بن جائے گی ، انتظار گاہوں میں دل لگی کا سامان ہوگی اور سیّاحوں کو متوجہ کرنے کا ذریعہ بن جائے گی تو معاشرہ میں اس کی حیثیت کھلونے یا بے قیمت مال و اسباب کی طرح گرجائے گی، اور اس کے شایانِ شان انسانی اقدار فراموش ہوجائیں گے، اور اس کا افتخار صرف اس کی جوانی، خوبصورتی اور نمائش تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔

اس طرح سے وہ چند ناپاک فریب کار انسان نما درندوں کی سر کش ہواو ہوس پوری کرنے کے آلہ کار میں بدل جائے گی!۔

ایسے معاشرہ میں ایک عورت اپنی اخلاقی خصوصیات، علم و آگہی اور بصیرت کے جلووں کو کیسے پورا کرسکتی ہے اور کوئی بلند مقام کیسے حاصل کرسکتی ہے؟!

واقعاً یہ بات کتنی تکلیف دِہ ہے کہ مغربی اور مغرب زدہ ممالک میں عورت کا مقام کس قدر گرچکا ہے خود ہمارے ملک ایران میں انقلاب سے پہلے یہ حالت تھی کہ نام، شہرت، دولت اور حیثیت ان چند ناپاک اور بے لگام عورتوں کے لئے تھی جو ”فنکار“ اور آرٹسٹ کے نام سے مشہور تھیں، جہاں وہ قدم رکھتی تھیں اُس گندے ماحول کے ذمہ دار اُن کے لئے آنکھیں بچھاتے تھے اور انھیں خوش آمدید کہتے تھے۔

اللہ کا شکر ہے کہ ایران میں وہ سب گندگی ختم کردی گئی اور عورت اپنے اس دور سے نکل آئی ہے جس میں اسے رُسوا کردیا گیا تھا، اور وہ ثقافتی کھلونے اور بے قیمت ساز و سامان بن کر رہ گئی تھی، اب اس نے اپنا مقام و وقار دوبارہ حاصل کرلیا ہے اور اپنے کو پردہ سے ڈھانپ لیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ گوشہ نشین ہوگئی ہو، بلکہ معاشرہ کے تمام مفید اور اصلاحی کاموں میں یہاں تک کہ میدان جنگ میں اسی اسلامی پردے کے ساتھ بڑی بڑی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

حجاب کے مخالفین کے اعتراضات

(قارئین کرام!) ہم یہاں پر حجاب کے مخالفین کے اعتراضات کو بیان کرتے ہیں اور مختصر طور پر ان کے جوابات بھی پیش کرتے ہیں:

۱ ۔ حجاب کے مخالفین کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ معاشرہ میں تقریباً نصف عورتیں ہوتی ہیں لیکن حجاب کی وجہ سے یہ عظیم جمعیت گوشہ نشین اور طبعی طور پر پسماندہ ہوجائے گی ، خصوصاً جب انسان کو کاروبار کی ضرورت ہوتی ہے اور انسانی کار کردگی کی ضرورت ہوتی ہے، تو اگر عورتیں پردہ میں رہیں گی تو اقتصادی کاموں میں ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا، نیز ثقافتی اور اجتماعی اداروں میں ان کی جگہ خالی رہے گی! اس طرح وہ معاشرہ میں صرف خرچ کریں گی اور معاشرہ کے لئے بوجھ بن کر رہ جائیں گی۔

لیکن جن لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے وہ چند چیزوں سے غافل ہیں یا انھوں نے اپنے کو غافل بنا لیا ہے، کیونکہ:

اولاً : یہ کون کہتا ہے کہ اسلامی پردہ کی وجہ سے عورتیں گوشہ نشین اور معاشرہ سے دور ہوجائیں گی؟ اگر گزشتہ زمانہ میں اس طرح کی دلیل لانے میں زحمت تھی تو آج اسلامی انقلاب (ایران) نے ثابت کر دکھایا ہے کہ عورتیں اسلامی پردہ میں رہ کر بھی معاشرہ کے لئے بہت سے کام انجام دے سکتی ہیں، کیونکہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ خواتین ؛اسلامی پردہ کی رعایت کرتے ہوئے معاشرہ میں ہر جگہ حاضر ہیں، اداروں میں، کار خانوں میں، سیاسی مظاہروں میں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں، ہسپتالوں میں، کلینکوں میں، خصوصاً جنگ کے دوران جنگی زخمیوں کی مرہم پٹی اور ان کی نگہداشت کے لئے، مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں، دشمن کے مقابلہ میں میدان جنگ میں، خلاصہ ہر مقام پر عورتوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

مختصر یہ کہ موجودہ حالات خوداس اعتراض کا دندان شکن جواب ہیں، اگرچہ ہم گزشتہ زمانہ میں ان جوابات کے لئے ”امکان“ کی باتیں کرتے تھے (یعنی عورتیں پردہ میں رہ کر کیا اجتماعی امور کو انجام دے سکتی ہیں) لیکن آج کل یہ دیکھ رہے ہیں، اور فلاسفہ کا کہنا ہے کہ کسی چیز کے امکان کی دلیل خود اس چیز کا واقع ہونا ہے، یہ بات خود آشکار ہے اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ثانیاً: اگر ان چیزوں سے قطع نظر کریں تو کیا عورتوں کے لئے گھر میں رہ کر بچوں کی تربیت کرنا اور ان کو آئندہ کے لئے بہترین انسان بنانا تاکہ معاشرہ کے لئے بہترین اور مفید واقع ہوں، کیا یہ ایک بہتر ین اور مفید کام نہیں ہے؟

جو لوگ عورتوں کی اس ذمہ داری کو مثبت اور مفید کام نہیں سمجھتے، تو پھر وہ لوگ تعلیم و تربیت، صحیح و سالم اور پر رونق معاشرہ کی اہمیت سے بے خبر ہیں، ان لوگوں کا گمان ہے کہ مردو عورت مغربی ممالک کی طرح اداروں اور کارخانوں میں کام کرنے کے لئے نکل پڑیں اور اپنے بچوں کو شیر خوار گاہوں میں چھوڑ دیں، یا کمرہ میں بند کرکے تالا لگا دیا جائے اور ان کو اسی زمانہ سے قید کی سختی کا مزا چکھادیں۔

وہ لوگ اس چیز سے غافل ہیں کہ اس طرح بچوں کی شخصیت اور اہمیت درہم و برہم ہوجاتی ہے، بچوں میں انسانی محبت پیدا نہیں ہوتی،جس سے معاشرہ کو خطرہ در پیش ہوگا۔

۲ ۔ پردہ کے مخالفین کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ پردہ کے لئے برقع یا چادر کے ساتھ اجتماعی کاموں کو انجام نہیں دیا جاسکتا خصوصاً آج جبکہ ماڈرن گاڑیوں کا دور ہے، ایک پردہ دار عورت اپنے کو سنبھالے یا اپنی چادر کو ، یا اپنے بچہ کو یا اپنے کام میں مشغول رہے؟!۔

لیکن یہ اعتراض کرنے والے اس بات سے غافل ہیں کہ حجاب ہمیشہ برقع یاچادر کے معنی میں نہیں ہے بلکہ حجاب کے معنی عورت کا لباس ہے اگر چادر سے پردہ ہوسکتا ہو تو بہتر ہے ورنہ اگر امکان نہیں ہے تو صرف اسی لباس پر اکتفا کرے (یعنی صرف اسکاف کے ذریعہ اپنے سر کے بال اور گردن وغیرہ کو چھپائے رکھیں)

ہمارے دیہی علاقوں کی عورتوں نے زراعتی کاموں میں اپنا پردہ با قی رکھتے ہو ئے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ ایک بستی کی رہنے والی عورت اسلامی پردہ کی رعایت کرتے ہوئے بہت سے اہم کام بلکہ مردوں سے بہتر کام کرسکتی ہیں، اور ان کا حجاب ان کے کام میں رکاوٹ نہیں بنتا۔

۳ ۔ ان کا ایک اعتراض یہ ہے کہ پردہ کی وجہ سے مرد اور عورت میں ایک طرح سے فاصلہ ہوجاتا ہے جس سے مردوں میں دیکھنے کی طمع بھڑکتی ہے، اور ان کے جذبات مزید شعلہ ور ہوتے ہیں کیونکہ ”الإنسَانُ حَرِیصٌ عَلٰی مَا مُنِعَ“!( جس چیز سے انسان کو روکا جاتا ہے اس کی طرف مزید دوڑتا ہے) اس اعتراض کا جواب یا صحیح الفاظ میں یہ کہا جائے کہ اس مغالطہ کا جواب یہ ہے کہ آج کے معاشرہ کا شاہ کے زمانہ سے موازنہ کیا جائے آج ہر ادارہ میں پردہ حکم فرما ہے، اور شاہ کے زمانہ میں عورتوں کو پردہ کرنے سے روکا جاتا تھا۔

اس زمانہ میں ہر گلی کوچہ میں فحاشی کے اڈے تھے، گھروں میں بہت ہی عجیب و غر یب ماحول پایا جاتا تھا، طلاق کی کثرت تھی ناجائز اولاد کی تعداد زیادہ تھی، وغیرہ وغیرہ۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ اب یہ تمام چیزیں بالکل ختم ہوگئی ہیں لیکن بے شک اس میں بہت کمی واقع ہوئی ہے، ہمارے معاشرہ میں بہت سدھار آیا ہے اور اگر فضل خدا شامل حال رہا اور یہی حالات باقی رہے اور دوسری مشکلات بر طرف ہو گئی تو ہمارا معاشرہ اس برائی سے بالکل پاک ہوجائے گا اور عورت کی اہمیت اجاگر ہوتی جائے گی۔(۱)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۴۴۲


۸۰ ۔ میراث میں مرد کا حصہ عورت کے دو برابر کیوں ہے؟

اگرچہ میراث میں مرد کا حصہ عورت کے دو برابر ہے ، لیکن اگر غور و فکر کریں تو معلوم ہوگا کہ عورتوں کا حصہ مردوں کے دو برابر ہے! اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اسلام نے عورتوں کے حقوق کی حمایت کی ہے۔

وضاحت: اسلام نے مرد کے کاندھوں پر ایسی ذمہ داری رکھی ہے جس سے اس کی در آمد کا آدھا حصہ عورتوں پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ عورتوں کے ذمہ کوئی خرچ نہیں ہے،چنا نچہ ایک شوہر پر واجب ہے کہ اپنی زوجہ کو ؛ مکان، لباس، کھانا اور دوسری چیزوں کا خرچ ادا کرے، اور اپنے بچوں کا خرچ بھی اسی کی گردن پر ہے، جبکہ عورتوں پر کسی طرح کا کوئی خرچ نہیں ہے یہاں تک کہ اپنا ذاتی خرچ بھی اس کے ذمہ نہیں ہے، لہٰذا ایک عورت میراث سے اپنا پورا حصہ بچا کر بینک میں رکھ سکتی ہے، جبکہ مرد اپنے حصہ کو بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مرد کی آمدنی کا آدھا حصہ اہل و عیال پر خرچ ہوگا، اور آدھا اس کے لئے باقی رہے گا، جبکہ عورت کا حصہ اسی طرح محفوظ رہے گا۔

یہ مسئلہ وا ضح ہو نے کے لئے اس مثال پر توجہ کریں: فرض کریں کہ پوری دنیا کا مال و دولت ۳۰ / ارب روپیہ ہے، جو میراث کے عنوان سے مردووں اور عورتوں میں تقسیم ہونا ہے، تو اس میں ۲۰/ ارب مردوں کا اور ۱۰/ ارب عورتوں کا حصہ ہوگا، لیکن عورتیں عام طور پر شادی کرتی ہیں اور ان کی زندگی کا خرچ مردوں کے ذمہ ہوتا ہے، تو اس صورت میں عورتیں اپنے ۱۰/ ارب کو بینک میں جمع کر سکتی ہیں، اور عملی طور پر مردوں کے حصہ میں شریک ہوتی ہیں، کیونکہ خود ان پر اور بچوں پر بھی مرد ہی کا حصہ خرچ ہوگا۔ اس بنا پر حقیقت میں مردوں کا آدھا حصہ یعنی ۱۰/ ارب عورتوں پر خرچ ہوگا، اور وہ دس ارب جو ان کے پاس محفوظ ہے سب ملاکر ۲۰/ ارب (یعنی دو تہائی) عو رتوں کے اختیار میں ہوگا، جبکہ عملی طور پر مردوں کے خرچ کے لئے صرف دس ارب ہی باقی رہے گا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ عورتوں کا حقیقی خرچ اور فائدہ کے لحاظ سے مردوں کے دو برابر ہے، اور یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ ان کے یہاں کاروبار کرنے کی قدرت کم پائی جاتی ہے، اور یہ ایک طرح سے منطقی اور عادلانہ حمایت ہے جس پر اسلام نے عورتوں کے لئے توجہ دی ہے، حقیقت میں ان کا حصہ زیادہ رکھا ہے، اگرچہ ظاہری طور پر ان کا حصہ مردوں سے آدھا رکھا ہے۔

اسلامی روایات کے پیش نظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ سوال پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ سے لوگوں کے ذہن میں موجود تھا جس کی بنا پر دینی رہبروں سے یہ سوال ہوتا رہا ہے، اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی طرف سے اس کا جواب دیا گیا ہے جن میں سے اکثر کا مضمون ایک ہی ہے، اور وہ جواب یہ ہے: ”خداوندعالم نے زندگی کا خرچ اور مہر مرد کے ذمہ رکھا ہے، اسی وجہ سے ان کا حصہ زیادہ قرار دیا ہے“۔

کتاب ”معانی الاخبار“ میں حضرت امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا: ”میراث میں عورتوں کا حصہ مردوں کے حصہ سے آدھا اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ عورت جب شادی کرتی ہے تو وہ مہر لیتی ہے اور مرد دیتا ہے، اس کے علاوہ بیوی کا خرچ شوہر پر ہے، جبکہ عورت خود اپنی اور شوہر کی زندگی کے خرچ کے سلسلہ میں کوئی ذمہ داری نہیں رکھتی“۔(۱)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۲۹۰


۸۱ ۔ فلسفہ متعہ کیا ہے؟

یہ ایک عام اور کلی قانون ہے کہ اگر انسان کی طبیعی خواہشات صحیح طریقہ سے پوری نہ ہوں تو پھر اس کو پورا کرنے کے لئے غلط راستہ اپنانا پڑتا ہے، کیونکہ اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ طبیعی خواہشات کا گلا نہیں گھوٹا جاسکتا ، اور اگر بالفرض ایسا کربھی لیا جائے تو ایسا کام عقلی نہیں ہے، کیونکہ یہ کام ایک طرح سے قانونِ خلقت سے جنگ ہے۔

اس بنا پر صحیح راستہ یہ ہے کہ اس کو معقول طریقہ سے پورا کیا جائے اور اس سے زندگی بہتربنانے کے لئے فائدہ اٹھایا جائے۔

اس بات کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جنسی خواہش انسان کی بہت بڑی خواہش ہوتی ہے، یہاں تک کہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی خواہش ہی انسان کی اصل خواہش ہوتی ہے اور باقی دوسری خواہشات کی بازگشت اسی طرف ہوتی ہیں۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے مواقع ایسے ہیں جن میں انسان خاص عمر میں شادی نہیں کرسکتا، یا شادی شدہ انسان طولانی سفر میں یہ جنسی خواہش پوری نہیں کرسکتا۔

یہ موضوع خصوصاً ہمارے زمانہ میں تعلیم کی مدت طولانی ہونے کے سبب اور بعض دیگرمسائل اور مشکلات کی بنا پر شادی دیر سے ہوتی ہے، اور بہت ہی کم نوجوان ایسے ہیں جو جوانی کے شروع اور اس خواہش کے شباب کے وقت شادی کرسکتے ہیں، لہٰذا یہ مسئلہ بہت مشکل بن گیا ہے۔ اس موقع پر کیا کیا جائے؟ کیاایسے مواقع پر لوگوں کی اس خواہش کا (راہبوں کی طرح) گلا گھوٹ دیا جائے ؟ یا یہ کہ ان کو جنسی آزادی دے دی جائے اور عصر حاضر کی شرمناک حالت کو ان کے لئے جائز سمجھ لیا جائے؟

یاایک تیسرا راستہ اپنایا جائے جس میں نہ شادی جیسی مشکلات ہوں اور نہ ہی جنسی آزادی؟

المختصر: ”دائمی ازدواج“ (شادی) نہ گزشتہ زمانہ میں تمام لوگوں کی اس خواہش کا جواب بن سکتی تھی اور نہ آج، اور ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں سے دو راستے نکلتے ہیں، یا ”فحاشی“ کو جائز مان لیں، (جیسا کہ مغربی ممالک میں آج کل رسمی طور پر صحیح مانا جارہا ہے) یا ”وقتی ازواج“ (یعنی متعہ)کوقبول کریں، معلوم نہیں ہے جو لوگ متعہ کے مخالف ہیں انھوں نے اس سوال کے لئے کیا جواب سوچ رکھا ہے؟!

متعہ کا مسئلہ نہ تو شادی جیسی مشکلات رکھتا ہے کہ انسان کو اقتصادی یا تعلیمی مسائل اجازت نہیں دیتے کہ فوراً شادی کرلے اور نہ ہی اس میںفحاشی کے درد ناک حادثات پیش آتے ہیں۔

متعہ پر ہونے والے اعتراضات

ہم یہاں متعہ کے سلسلہ میں کئے گئے کچھ اعتراضات کا مختصر جواب پیش کرتے ہیں:

۱ ۔ کبھی تو یہ کہا جاتا ہے کہ ”متعہ“ اور ”فحاشی“ میں کیا فرق ہے؟ دونوں ایک خاص مَبلَغ کے عوض”جسم فروشی“ ہی توہیں، در اصل یہ تو فحاشی اور جنس بازی کے لئے ایک نقاب ہے ، صرف ان دونوں میں چند صیغوں کا فرق ہے!!۔

جواب: ان لو گوں کے اعتراض سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ متعہ کے سلسلہ میں معلومات نہیں رکھتے، کیونکہ متعہ صرف دو جملہ کہنے سے تمام نہیں ہوتابلکہ بعض قوانین، شادی کی طرح ہوتے ہیں، یعنی ایسی عورت متعہ کی مدت میں صرف اسی مرد سے مخصوص ہے، اور مدت تمام ہونے کے بعد عدہ رکھنا ضروری ہے یعنی کم سے کم ۴۵ دن تک کسی دوسرے سے شادی یا متعہ نہیں کرسکتی، تاکہ اگر پہلے شوہر سے حاملہ ہوگئی ہے توواضح ہوجائے، یہاں تک کہ اگر مانعِ حمل چیزیں استعمال کی ہوں تو اس مدت کی رعایت کرنا واجب ہے، اور اگر اس مرد سے حاملہ ہوگئی ہے تو یہ بچہ اس مرد کا ہوگا اور اولاد کے تمام مسائل اس پر نافذ ہوں گے، جبکہ فحاشی میں اس طرح کی کوئی قید و شرط نہیں ہے، پس معلوم یہ ہوا کہ دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔

اگرچہ (میاں بیوی کے درمیان) میراث ، خرچ اور دوسرے احکام میں شادی اور متعہ میں فرق پایا جاتا ہے،(۱) لیکن اس فرق کی وجہ سے متعہ کو فحاشی کی صف میں قرار نہیں دیا جاسکتا، بہر حال یہ بھی شادی کی ایک قسم ہے اور شادی کے متعدد قوانین اس پر نافذ ہوتے ہیں۔

۲ ۔ متعہ پر دوسرا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اس قانون کے پیچھے بہت سے عیاش لوگ غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور متعہ کی آڑ میں ہر طرح کی فحاشی کرسکتے ہیں، جبکہ اس کی اجازت نہ ہونے کی صورت میں بعض شریف انسان متعہ سے دور رہتے ہیں، اور شریف خواتین اس سے پرہیز کرتی ہیں۔

جواب: دنیا میں کس قانون سے غلط فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے؟ کیا ہر فطری قانون کو اس لئے ختم کردیا جائے کہ اس سے غلط فائدہ اٹھایا جارہا ہے! ہمیں غلط فائدہ اٹھانے والوں کو روکنا چاہئے۔

مثال کے طور پر اگر بہت سے لوگ حج کے موقع سے غلط فائدہ اٹھانا چاہیں (جیسا کہ دیکھا گیا ہے) اور اس مبارک سفر میں منشیات کی تجارت کے لئے جائیں، تو کیا اس صورت میں لوگوں کو حج سے روکا جائے یا غلط فائدہ اٹھانے والوں کو روکا جائے؟!

(۱) اسلام کا یہ مسئلہ ہے کہ متعہ سے پیدا ہونے والے بچوں کے احکام شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کی طرح ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں پایا جاتاور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج شریف انسان اس اسلامی قانون سے پرہیز کرتے ہیں، تو یہ قانون کا نقص نہیں ہے بلکہ قانون پر عمل کرنے والوں یا غلط فائدہ اٹھانے والوں کا نقص ہے، اگر آج ہمارے معاشرہ میں صحیح طریقہ پر متعہ کا رواج ہوجائے اور اسلامی حکومت خاص قوانین کے تحت اس سلسلہ میںصحیح منصوبہ بندی کرے ، تو اس صورت میں غلط فائدہ اٹھانے والوں کی روک تھام ہوسکتی ہے (اور ضرورت کے وقت ) شریف لوگ بھی اس سے کراہت نہیں کریں گے۔

۳ ۔ اعتراض کرنے والے کہتے ہیں: متعہ کی وجہ سے معاشرہ میں (ناجائز بچوں کی طرح) بے سرپرست بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔

جواب: ہماری مذکورہ گفتگو مکمل طور پر اس اعتراض کا جواب ہے، کیونکہ ناجائز بچے قانونی لحاظ سے نہ باپ سے ملحق ہیں اور نہ ماں سے، جبکہ متعہ کے ذریعہ پیدا ہونے والے بچوں میں میراث اور اجتماعی حقوق کے لحاظ سے شادی سے پیدا ہونے والے بچوں سے کوئی فرق نہیں ہے، گویا اس حقیقت پر توجہ نہ کرنے کی وجہ سے مذکورہ اعتراض کیا گیا ہے۔

”راسل“ اور ”وقتی شادی“

آخر کلام میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کی یاد دہانی کرادی جائے کہ مشہور و معروف انگریزی دانشور ”برٹرانڈ راسل “ کتاب ”زنا شوئی و اخلاق“ میں ”آزمائشی شادی“ کے عنوان سے اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

وہ ایک جج بنام ” بن بی لینڈسی“ کی تجویز ”دوستانہ شادی“ یا ”آزمائشی شادی“ کا ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے:

جج صاحب موصوف کی تجویز کے مطابق جوانوں کو یہ اختیار ملنا چاہئے کہ ایک نئی قسم کی شادی کرسکیں جو عام شادی (دائمی نکاح) سے تین امور میں مختلف ہو:

الف: طرفین کا مقصد صاحب اولاد ہونا نہ ہو، اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ انھیں حمل روکنے کے طریقہ سکھائے جائیں۔

ب۔ ان کی جدائی آسانی کے ساتھ ہوسکے۔

ج۔ طلاق کے بعد عورت کسی قسم کا نان و نفقہ کا حق نہ رکھتی ہو۔

راسل جج لینڈسی کا مقصد بیان کرنے کے بعد کہتا ہے: ”میرا خیال ہے کہ اس قسم کی شادی کو قانونی حیثیت دے دی جائے تو بہت سے نوجوان خصوصاً کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علم وقتی نکاح پر تیار ہوجائیں گے اور وقتی مشترک زندگی میں قدم رکھیں گے، ایسی زندگی سے جو ان کی آزادی کا سبب بنے، تو اس طرح معاشرہ کی بہت سی خرابیوں، لڑائی جھگڑوں خصوصاً جنسی بے راہ روی سے نجات مل جائے گی۔(۱)

بہر حال جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ وقتی شادی کے بارے میں مذکورہ تجویز کس لحاظ سے اسلامی حکم کی طرح ہے، لیکن جو شرائط اور خصوصیات اسلام نے وقتی شادی کے لئے تجویز کی ہیں وہ کئی لحاظ سے زیادہ واضح اور مکمل ہیں، اسلامی وقتی شادی میں اولاد نہ ہونے کو ممنوع نہیں کیا گیا ہے اور فریقین کا ایک دوسرے سے جدا ہونا بھی آسان ہے، جدائی کے بعد نان و نفقہ بھی نہیں ہے۔(۲)

متعہ کی تاریخی حیثیت

علمائے اسلام کا اتفاق ہے بلکہ دین کے ضروری احکام میں سے ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں ”متعہ“ تھا، (اور سورہ نساء کی آیہ شریفہ( فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ اٴُجُورَهُنَّ فَرِیضَة ) (۳) متعہ کے جواز پر دلیل ہے ، کیونکہ مخالف اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ متعہ کا جواز سنت پیغمبر سے ثابت ہے) یہاں تک صدر اسلام میں مسلمان اس پر عمل کیا کرتے تھے ، چنانچہ حضرت عمر کا یہ مشہور و معروف قول مختلف کتابوں میں ملتا ہے :”مُتْعَتَانِ کَانَتَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ الله وَاٴنَا اُحرِّمُهُمَا وَ مُعَاقِب عَلَیْهِمَا: مُتعَةُ النِّسَاءِ وَ مُتْعَةُ الحجِّ(۴) ”دو متعہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں رائج تھے اور میں ان کو حرام قرار دیتا ہوں، اورانجام دینے والوں کو سزا دوں گا، متعة النساء اور حج تمتع (جو حج کی ایک خاص قسم ہے)، چنانچہ حضرت عمر کا یہ قول اس بات کی واضح دلیل ہے کہ متعہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں ہوتا تھا، لیکن اس حکم کے مخالف کہتے ہیں کہ یہ حکم بعد میں نسخ ہوگیا ہے اور حرام قرار دیا گیا ہے۔

لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ جن روایات کو ”حکم متعہ کے نسخ“ کے لئے دلیل قرار دیا جاتا ہے ان میں بہت اختلا ف پایا جا تا ہے، چنانچہ بعض روایات کہتی ہیں کہ خود پیغمبر اکرم (ص) نے اس حکم کو نسخ کیا ہے، لہٰذا اس حکم کی ناسخ خود پیغمبر اکرم (ص) کی سنت اور حدیث ہے، بعض کہتی ہیں کہ اس حکم کی ناسخ سورہ طلاق کی درج ذیل آیت ہے:

( إِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاٴَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللهَ رَبَّکُمْ ) (۵)

”جب تم لو گ عورتوں کو طلاق دو تو انھیں عدت کے حساب سے طلاق دو اور پھر عدت کا حساب رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو“۔

حالانکہ اس آیہ شریفہ کا محل بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ اس آیت میں طلاق کی گفتگو ہے، جبکہ متعہ میں طلاق نہیں ہوتی متعہ میں مدت ختم ہونے سے جدائی ہوجاتی ہے۔

یہ بات مسلم ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں متعہ قطعی طور پر پایا جاتا تھا، اور اس کے نسخ ہونے پر کوئی محکم دلیل ہمارے پاس نہیں ہے، لہٰذا علم اصول کے قانون کے مطابق اس حکم کے باقی رہنے پر حکم کیا جائے گا، (جسے علم اصول کی اصطلاح میں استصحاب کہا جاتا ہے)۔

حضرت عمر سے منقول جملہ بھی اس حقیقت پر واضح دلیل ہے کہ متعہ کا حکم پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں نسخ نہیں ہوا تھا۔

اور یہ بات بھی واضح ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے علاوہ کوئی بھی شخص احکام کو نسخ کرنے کا حق نہیں رکھتا، اور صرف آنحضرت (ص) کی ذات مبارک ہی حکم خدا کے ذریعہ بعض احکام کو نسخ کرسکتی ہے، پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد باب نسخ بالکل بند ہوچکا ہے ، اور اگر کوئی اپنے اجتہاد کے ذریعہ بعض احکام کو منسوخ کرے تو پھر اس دائمی شریعت میں کوئی چیز باقی نہیں رہے گی ، اور اصولی طور پر پیغمبر اکرم (ص) کی گفتگو کے مقابل اجتہاد کرے تو یہ ”اجتہاد مقابلِ نص“ ہوگا جس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ صحیح ترمذی جو اہل سنت کی مشہور صحیح ترین کتابوں میں سے ہے،اور”دار قطنی“(۶۶) میں تحریر ہے: ”ایک شامی شخص نے عبد اللہ بن عمر سے”حج تمتع“ کے بارے میں سوال کیا توعبد اللہ بن عمر نے کہا: یہ کام جائز اور بہتر ہے ، اس شامی نے کہا: تمہارے باپ نے اس کو ممنوع قراردیا ہے، تو عبداللہ بن عمر بہت ناراض ہوئے اور کہا: اگر میرا باپ کسی کام سے نہی کرے، جبکہ پیغمبر اکرم (ص) نے اس کی اجازت دی ہو تو کیا تم لوگ سنت پیغمبر کو چھوڑ کر میرے باپ کی پیروی کروگے؟ یہاں سے چلے جاؤ۔(۷)

متعہ کے سلسلہ میں اسی طرح کی روایت”عبد اللہ بن عمر “ سے صحیح ترمذی میں بھی نقل ہوئی ہے، ۸)

اور ”محاضرات“ راغب سے نقل ہوا ہے کہ ایک مسلمان نے متعہ کیا تو لوگوں نے سوال کیا کہ اس کام کے جوازکا حکم کس سے حاصل کیا ہے؟ تو اس نے کہا: ”عمر“ سے! لوگوں نے تعجب کے ساتھ سوال کیا: یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے جبکہ خود عمر نے اس کام سے روکا ہے یہاں تک کہ انجام دینے والے کے لئے سزا کا وعدہ کیا ہے؟ تو اس نے کہا: ٹھیک ہے، میں بھی تو اسی وجہ سے کہتا ہوں، کیونکہ عمر نے کہا: پیغمبر اکرم (ص)نے اس کو حلال کیا تھالیکن میں اس کو حرام کرتا ہوں، میں نے اس کا جواز پیغمبر اکرم (ص) سے لیا، لیکن اس کی حرمت کسی سے قبول نہیں کروں گا!(۹)

یہاں پر اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ اس حکم کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کرنے والے بھی متضاد بیانات رکھتے ہیں اور تناقض اور تضاد گوئی کے شکار نظر آتے ہیں:

اہل سنت کی معتبر کتابوں میں متعدد روایات اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ یہ حکم پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں ہرگز منسوخ نہیں ہوا تھا، بلکہ عمر نے اس کو ممنو ع قرار دیاہے، لہٰذا اس حکم کو

(۱) ”متعہ حج“ سے مراد جس کو عمر نے حرام قرار دیا تھا یہ ہے کہ اس حج تمتع سے قطع نظر کی جائے ، حج تمتع یہ ہے کہ انسان حج کے لئے جاتا ہے تو پہلے محرم ہوتا ہے اور ”عمرہ“ انجام دینے کے بعد احرام سے آزاد ہوجاتا ہے(اور اس کے لئے حالت احرام کی حرام چیزیں یہاں تک کہ ہمبستری بھی جائز ہوجاتی ہے) اور اس کے بعد دوبارہ حج کے دوسرے اعمال نویں ذی الحجہ کو انجام دیتا ہے، دور جاہلیت میں اس کام کو صحیح نہیں سمجھا جاتا تھا اور تعجب کیا جاتا تھا کہ جو شخص ایام حج میں مکہ معظمہ میں وارد ہوا ہو اور حج انجام دینے سے پہلے عمرہ بجالائے، اور اپنا احرام کھول دے، لیکن اسلام نے واضح طور پر اس بات کی اجازت دیدی، اور سورہ بقرہ ، آیت ۱۸۶ میں اس موضوع کی وضاحت فرمادی

منسوخ ماننے والی ان تمام روایات کا جواب دیں، ان روایات کی تعداد ۲۴ ہے، جن کو علامہ امینی علیہ الرحمہ نے اپنی نامور کتاب ”الغدیر“ کی چھٹی جلد میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے،ہم یہاں پر ان میں سے دو نمونے پیش کرتے ہیں:

۱ ۔ صحیح مسلم میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے نقل ہوا ہے کہ انھوں نے کہا: ہم پیغمبر اکرم کے زمانہ میں بہت آسانی سے متعہ کرلیتے تھے، اور اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ عمر نے ”عمر بن حریث“ کے مسئلہ میں اس کام سے بالکل روک دیا۔(۶۸)

۲ ۔ دوسری حدیث کتاب ”موطا بن مالک“، ”سنن کبریٰ بیہقی“ اور ”عروہ بن زبیر“ سے نقل ہوئی ہے کہ ”خولہ بن حکیم“ نامی عورت حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں دربار میں حاضر ہوئی اور اس نے خبر دی کہ مسلمانوں میں ایک شخص ”ربیعہ بن امیہ“ نامی نے متعہ کیا ہے، تو یہ سن کر حضرت عمر نے کہا: اگر پہلے سے اس کام کی نہی کی ہوتی تو اس کو سنگسار کردیتا ،(لیکن آج سے اس کام پر پابندی لگاتا ہوں!)(۶۹)

کتاب بدایة المجتہد، تالیف ابن رشد اندلسی میں بھی تحریر ہے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں: ”پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں اور ”ابوبکر“ کی خلافت اور”عمر“ کی آدھی خلافت تک متعہ پر عمل ہو تا تھا اس کے بعد عمر نے منع کردیا“۔(۱۰)

دوسری مشکل یہ ہے کہ اس حکم کے منسوخ ہونے کی حکایت کرنے والی روایات میں ضد ونقیض باتیں ہیں، بعض کہتی ہیں: یہ حکم جنگ خیبر میں منسوخ ہوا ہے، بعض کہتی ہیں کہ ”روز فتح مکہ“

منسوخ ہوا اور بعض کہتی ہیں جنگ تبوک میں، نیز بعض کہتی ہیں کہ جنگ اوطاس میں منسوخ ہوا، لہٰذا ان تمام چیزوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام روایات جعلی ہیں جن میں اس قدر تناقض اور ٹکراؤ پایا جاتا ہے۔

(قارئین کرام!) ہماری گفتگو سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ صاحب تفسیر المنار (دور حاضر کے سنی عالم ) کی گفتگو تعصب اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے، جیسا کہ موصوف کہتے ہیں: ”ہم نے پہلے تفسیر المنارکی تیسری اور چوتھی جلد میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ عمر نے متعہ سے منع کیا ہے لیکن بعد میں ایسی روایات ملی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ متعہ کا حکم خود پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں منسوخ ہوگیا تھا نہ کہ زمانہ عمر میں منسوخ ہوا، لہٰذا اپنی گزشتہ بات کی اصلاح کرتے ہیں اور اس سے استغفار کرتے ہیں“۔(۱۰) یہ تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟! کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں متعہ کا حکم منسوخ ہونے کی حکایت کرنے والی ضد و نقیض روایات کے مقابل ایسی روایات موجود ہیں جو اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ یہ حکم حضرت عمر کے زمانہ میں بھی تھا، لہٰذا نہ تو معافی کی گنجائش ہے اور نہ توبہ و استغفار کی ، اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ اس معاصر کا پہلا نظریہ حقیقت ہے اور دوسرے نظریہ میں حقیقت کو چھپانے کی ناکام کوشش کی ہے!

یہ بات یونہی ظاہر ہے کہ نہ تو ”عمر“ اور نہ کوئی دوسرا شخص یہاں تک ائمہ معصومین علیہم السلام جو کہ پیغمبر اکرم (ص) کے حقیقی جانشین ہیں، کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں موجود احکام کو منسوخ کرے، اور اصولی طور پر آنحضرت (ص) کی وفات کے بعد اور وحی کا سلسلہ بند ہونے کے بعد نسخ معنی نہیں رکھتا، اور جیسا کہ بعض لوگوں نے ”کلامِ عمر“ کو اجتہاد پر حمل کیا ہے کہ یہ حضرت عمر کا اجتہاد ہے، یہ بھی تعجب کا مقام ہے کیونکہ ”نص“ کے مقابلہ میں ”اجتہاد“ ممکن ہی نہیں۔(۱۲)

____________________

(۱) کتا ب زنا شوئی و اخلاق صفحہ ۱۸۹و ۱۹۰

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۳۴۱

۳)سورہ نساء ، آیت ۲۴ ”جو بھی ان عورتوں سے تمتع کرے ان کی اجرت بطور فریضہ دے دے“۔

(۴) کنز العرفان ، جلد دوم، صفحہ ۱۵۸، اور تفسیر قرطبی ، تفسیر طبری میں مذکورہ جملہ کے مانند تحریر نقل ہوئی ہے، نیز سنن بیہقی ، جلد ۷ کتاب نکاح میں بھی وہ جملہ ذکر ہوا ہے

(۵) سورہ طلاق ، پہلی آیت

(۶)تفسیر قرطبی ، جلد ۲ ، صفحہ ۷۶۲ ، سورہ بقرہ، آیت ۱۹۵ کے ذیل میں

(۷) الغدیر ، جلد ۶، صفحہ ۲۰۶

(۶۹)الغدیر ، جلد ۶، صفحہ ۲۱۰

(۸) بدایة المجتہد ،کتاب النکاح

(۹) شرح لمعہ ، جلد ۲ ،کتاب النکاح

(۱۰) کنز العرفان ، جلد دوم، صفحہ ۱۵۹(حاشیہ)

(۱۱)تفسیر المنار ، جلد ۵، صفحہ ۱۶ (۱۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۳۳۷


۸۲ ۔ عدّہ کا فلسفہ کیا ہے؟

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا :( وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاٴَنفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ ) (۱) ”مطلقہ عورتیں تین حیض تک انتظار کر یں گی، (اور عدہ رکھیں گی)“۔

یہاں پر سوال یہ ہوتا ہے کہ اس اسلامی قانون کا فلسفہ کیا ہے؟

چونکہ طلاق کے ذریعہ معمولاً گھر اجڑنے لگتا ہے اور معاشرہ کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے، اسی وجہ سے اسلام نے ایسا قانون پیش کیا ہے تاکہ آخری منزل تک طلاق سے روک تھام ہو سکے، ایک طرف تو ”اس کوجائز کاموں میں سب سے زیادہ قابل نفرت“ قرار دیا گیا ہے اور دوسری طرف شادی بیاہ کے مسائل میں اختلاف کی صورت میں طرفین میں صلح و مصالحت کے اسباب فراہم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ حتی الامکان اس کام سے روک تھام ہو سکے۔

انہی قوانین میں سے طلاق میں تاخیر اور خود طلاق کو متزلزل کرنا ہے یعنی طلاق کے بعد عدہ کو واجب کیا ہے جس کی مدت تین ”طہر“ یعنی عورت کا تین مرتبہ خون حیض سے پاک ہونا۔

”عدّہ“ یا صلح و مصالحت اور واپس پلٹنے کا وسیلہ کبھی کبھی بعض وجوہات کی بنا پر انسان میں ایسی حالت پیدا ہوجاتی ہے کہ ایک چھوٹے سے اختلاف یا معمولی تنازع سے انتقام کی آگ بھڑک جاتی ہے اورعقل وجدان پر غالب آجاتی ہے۔

معمولاً گھریلو اختلاف اسی وجہ سے پیش آتے ہیں، لیکن اس کشمکش کے کچھ ہی بعد میاں بیوی ہوش میں آتے ہیں اور پشیمان ہوجاتے ہیں، خصوصاً جب یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے بچے پریشان ہیں تو مختلف پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں۔اس موقع پر مذکورہ آیت کہتی ہے: عورتیں ایک مدت عدّہ رکھیں تاکہ اس مدت میں غصہ کی جلد ختم ہوجانے والی لہریں گزر جائیں اور ان کی زندگی میں دشمنی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں۔

خصوصاً اسلام نے اس عدّہ کی مدت میں عورت کو حکم دیا ہے کہ گھر سے باہر نہ نکلے، جس کے پیش نظر اس عورت کوغور فکر کا مو قع ملتا ہے جو میاں بیوی میں تعلقات بہتر ہونے کے لئے ایک موثر قدم ہے۔لہٰذا سورہ طلاق کی پہلی آیت میں پڑھتے ہیں:( لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُیُوتِهِن لَا تَدْرِی لَعَلَّ اللهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِکَ اٴَمْرًا ) ”ان کو گھروں سے نہ نکالو تم کیا جانو شاید خداوندعالم کوئی ایسا راستہ نکال دے کہ جس سے آپس میں صلح و مصالحت ہوجائے“۔ اکثر اوقات طلاق سے پہلے کے خوشگوار لحظات ، محبت اور پیار کے گزرے ہوئے لمحات کو یاد کرلینا کافی ہوجاتا ہے اور پھیکی پڑجانے والی محبت میں نمک پڑ جاتا ہے۔

عدّہ؛ نسل کی حفاظت کا وسیلہ

عدّہ کا دوسرا فلسفہ یہ ہے کہ عدہ کے ذریعہ یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ طلاق شدہ عورت حاملہ ہے یا نہیں؟ یہ صحیح ہے کہ ایک دفعہ حیض دیکھنا حاملہ نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے، لیکن بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ عورت حاملہ ہونے کی صورت میں بھی شروع کے چند ماہ تک حیض دیکھتی ہے، لہٰذا اس موضوع کی مکمل رعایت کا حکم دیا گیا ہے کہ عورت تین دفعہ تک حیض دیکھے اور پاک ہوجائے، تاکہ یہ یقین ہوجائے کہ اپنے گزشتہ شوہر سے حاملہ نہیں ہے، پھر اس کے بعد دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔(۲)

____________________

(۱)سورہ بقرہ ، آیت۲۲۸

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۱۰۶


۸۳ ۔ غنا؛ کیا ہے اور اس کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟

غنا (گانا) کی حرمت میں کوئی خاص مشکل نہیں ہے ، صرف موضوعِ غنا کو معین کرنا مشکل ہے۔

آیا ہر خوش آواز اور مترنم لہجہ غنا ہے؟

مسلّم طور پر ایسا نہیں ہے، کیونکہ اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے اور مسلمین کی سیرت اس بات کی حکایت کرتی ہے کہ قرآن اور اذان وغیرہ کو بہترین آواز اور خوش لہجہ میں پڑھا جائے۔

کیا ہر وہ آواز جس میں ”ترجیع“ (گٹگری) یعنی آواز کا اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہو، وہ غنا ہے؟ یہ بھی ثابت نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں شیعہ اور اہل سنت کے فقہا کے بیان سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ غنا، طرب انگیز آواز اور لہو باطل ہے۔

واضح الفاظ میں یوں کہا جائے: غنا اس آہنگ اور طرز کو کہا جاتا ہے جو فسق و فجور اور گناہگاروں، عیاشوں اور بدکاروں کی محفلوں سے مطابقت رکھتا ہو۔

یا اس کے لئے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ غنا اس آواز اور طرز کو کہا جاتا ہے جس سے انسان کی شہوانی طاقت ہیجان میں آجائے، اور انسان اس حال میں احساس کرے کہ اگر اس طرز اور آواز کے ساتھ شراب اور جنسی لذت بھی ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا!۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ کبھی ایک ”آہنگ“ اور ”طرز“ خود بھی غنا اور لہو و باطل ہوتا ہے اور اس کے الفاظ اور مفہوم بھی، اس لحاظ سے عاشقانہ فتنہ انگیز اشعار کو مطرب طرز میں پڑھا جاتا ہے، لیکن کبھی صرف آہنگ اور طرز غنا ہوتا ہے لیکن اشعار یا قرآنی آیات یا دعا اور مناجات کو ایسی طرز سے پڑھیں جو عیاشوں اور بدکاروں کی محفلوں سے مناسب ہے، لہٰذا یہ دونوں صورتیں حرام ہیں۔ (غور کیجئے )

اس نکتہ کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ غنا کے سلسلہ میں دو معنی بیان کئے گئے ہیں: ”عام معنی“ ، ”خاص معنی“ ، معنی خاص وہی ہیں جو ہم نے اوپر بیان کئے ہیں یعنی شہوانی طاقت کو ہیجان میں لانے والی اور فسق و فجور کی محافل کے موافق طرز اور آواز ۔

لیکن عام معنی : ہر بہترین آواز کو غنا کہتے ہیں، لہٰذا جن حضرات نے غنا کے عام معنی کئے ہیں انھوں نے غنا کی دو قسمیں کی ہیں، ”حلال غنا “، ”حرام غنا “۔

حرام غنا سے مراد وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے اور حلال غنا سے ہر وہ دلکش اور بہترین آواز ہے جو مفسدہ انگیز نہ ہو اور محافل فسق و فجور سے مناسبت نہ رکھتی ہو۔

اس بنا پر غنا کی حرمت تقریباً اختلافی نہیں ہے، بلکہ اس کے معنی میں اختلاف ہے۔

اگرچہ ”غنا“ کے کچھ مشکوک موارد بھی ہیں (دوسرے تمام مفاہیم کی طرح) جس میں انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ فلاں طرز یا فلاں آواز فسق و فجور کی محفلوں سے مناسبت رکھتی ہے یا نہیں؟ اس صورت میں یہ آواز ”اصل برائت“(۱) کے تحت جواز کا حکم رکھتی ہے (البتہ غنا کی مذکورہ تعریف کے پیش نظر اس کے مفہوم سے کافی معلومات کے بعد)

(۱) یہ قاعدہ علم اصول میں ثابت ہے کہ اگر کسی کام کی حرمت پر کوئی دلیل نہ ہو تو اصل برائت جاری کی جائے گی یعنی وہ کام جائز ہے۔ (مترجم)

یہیں سے یہ بات بھی روشن ہوجاتی ہے کہ وہ رزمیہ ترانہ جو میدان جنگ اور ورزش کے وقت مخصوص آہنگ و آواز کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اس کے حرام ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔

البتہ غنا کے سلسلہ میں دوسری بحثیں بھی پائی جاتی ہیں جیسے غنا سے کیا کیا مستثنیٰ ہیں؟ اس سلسلہ میں کہ کس نے کس کو قبول کیا ہے اور کس نے کس کا انکار کیا ہے، فقہی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے۔

یہاں پر جس آخری بات کا ذکر ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ اوپر بیان کیا ہے وہ پڑھنے سے متعلق ہے، لیکن موسیقی کے آلات اور ساز و سامان کی حرمت کے بارے میں دوسری بحث ہے جس کا ہماری بحث سے تعلق نہیں ہے۔

حرمت غنا کا فلسفہ

مذکورہ شرائط کے ساتھ ”غنا“ کے معنی اور مفہوم میں غور و فکر کرنے سے غنا کی حرمت کا فلسفہ بخوبی واضح ہوجاتا ہے۔

ہم یہاں پر ایک مختصر تحقیق کی بنا پر اس کے مفاسد اور نقصانات کو بیان کرتے ہیں:

الف: برائیوں کی طرف رغبت

تجربات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں (اور تجربات بہترین شاہد اور گواہ ہوتے ہیں) کہ غنا (یعنی ناچ گانے) سے متاثر ہونے والے افراد تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ کو ترک کرکے جنسی بے راہ روی کے اسیر ہوگئے ہیں۔

غنا کی محفلیں عام طور پر فساد کے مرکز ہوتی ہیں، یعنی اکثر گناہوں اور بدکاریوں کی جڑ یہی غنا اور ناچ گانا ہوتا ہے۔

بیرونی جرائد کی بعض رپورٹوں میں ہم پڑھتے ہیں کہ ایک پروگرام میں لڑکے اور لڑکیاں شریک تھیں وہاں ناچ گانے کا ایک مخصوص ”شو“ ہوا جس کی بنا پر لڑکوں اور لڑکیوں میں اس قدر ہیجان پیدا ہوا کہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہوگئے اور ایسے واقعات پیش آئے جن کے ذکر کرنے سے قلم کو شرم آتی ہے۔

تفسیر ”روح المعانی“ میں ”بنی امیہ“ کے ایک عہدہ دار کے حوالہ سے نقل ہوا ہے جو کہتا تھا: غنا اور ناچ گانے سے پرہیز کرو، کیونکہ اس سے حیا کم ہوتی ہے، شہوت میں اضافہ ہوتا ہے، انسان کی شخصیت پامال ہوتی ہے، اور (یہ ناچ گانا) شراب کا جانشین ہوتا ہے، کیونکہ ایسا شخص وہ سب کام کرتا ہے جو ایک مست انسان (شراب کے نشہ میں) انجام دیتا ہے۔(۱)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بھی ناچ گانے کے فسادات اور نقصانات سے واقف تھے۔اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی روایات میں بارہا بیان ہوا ہے کہ ناچ گانے کے ذریعہ انسان کے دل میں روحِ نفاق پرورش پاتی ہے، تو یہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے، روح نفاق وہی گناہوں اور برائیوں سے آلودہ ہونا اور تقویٰ و پرہیزگاری سے دوری کا نام ہے۔

نیز اگر روایات میں بیان ہوا ہے کہ جس گھر میں غنا اور ناچ گانا ہوتا ہے اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے تو یہ بھی انھیں فسادات سے آلودگی کی وجہ سے ہے کیونکہ فرشتے پاک و پاکیزہ ہیں اور پاکیزگی کے طالب ہیں نیز آلودہ فضا سے بیزار ہیں۔

ب: یاد خدا سے غفلت

بعض اسلامی روایات میں ”غنا“ کے معنی میں ”لہو “ کا استعمال ہونے والا لفظ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ غنا اور ناچ گانے کے ذریعہ انسان اتنا مست ہوجاتا ہے کہ یاد خداسے غافل ہوجاتا ہے۔

حضرت امام علی علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بیان ہوا ہے: ”کل ما الہی عن ذکر الله فہو من المیسر“(۱) (یاد خدا سے غافل کرنے والی (اور شہوت میں غرق کرنے والی) ہر چیز جوے کا حکم رکھتی ہے۔

ج۔ اعصاب کے لئے نقصان دہ آثار

غنا اور ناچ گانا نیز موسیقی، در اصل انسانی اعصاب کے نشہ کے عوامل میں سے ہے، یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ نشہ کبھی منھ کے ذریعہ انسان کے بدن میں پہنچتا ہے (جیسے شراب)

اور کبھی حس شامہ اور سونگھنے سے ہوتا ہے (جیسے ہیروئن)

اور کبھی انجکشن کے ذریعہ ہوتا ہے (جیسے مرفین)

اور کبھی حس سامعہ یعنی کانوں کے ذریعہ نشہ ہوتا ہے (جیسے غنا اور موسیقی)

اسی وجہ سے کبھی کبھی غنا اور ناچ گانے کے ذریعہ انسان بہت زیادہ مست ہوجاتا ہے، اگرچہ کبھی اس حد تک نہیں پہنچتا لیکن پھر بھی نشہ کا تھوڑا بہت اثر ہوتا ہے۔

اور اسی وجہ سے غنا میں نشہ کے بہت سے مفاسد موجود ہیں چاہے اس کا نشہ کم ہو یا زیادہ۔

” اگر مشہور موسیقی داں افراد کی زندگی پر دقیق توجہ کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنی عمر میں نفسیاتی مشکلات میں گرفتار ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اعصاب جواب دے دیتے ہیں، اور بہت سے افراد نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں، بعض لوگ اپنی عقل و شعور کھو بیٹھتے ہیں اور پاگل خانوں کے مہمان بن جاتے ہیں، بعض لوگ مفلوج اور ناتواں ہوجاتے ہیں، یہاں تک بعض لوگوں کا موسیقی کا پروگرام کرتے ہوئے بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے اور وہ موقع پر ہی دم توڑ جاتے ہیں“۔(۲)

مختصر یہ کہ غنا اور موسیقی کے آثار جنون کی حد تک ، بلڈ پریشر کا بڑھنا اور دوسرے خطرناک آثار اس درجہ ہیں کہ اس کے بیان کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔

عصر حاضر میں ناگہانی اموات کے سلسلہ میں ہونے والے اعداد و شمار سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ گزشتہ کی بنسبت اس زمانہ میں ناگہانی اموات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے، جس کی مختلف وجوہات ہیں ان میں سے ایک وجہ یہی عالمی پیمانہ پر غنا اور موسیقی کی زیادتی ہے۔

د۔ غنا ،استعمار کا ایک حربہ عالمی پیمانہ پر استعمار ،عام لوگوں خصوصاً نسل جوان کی بیداری سے خوف زدہ ہے، اسی وجہ سے استعمار کے پاس اپنے ناپاک ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنی منصوبہ بندی ہے کہ جس سے مختلف قوموں کوجہالت اور غفلت میں رکھنے کے لئے غلط سرگرمیوں کو رائج کرے۔

عصر حاضر میں منشیات صرف تجارتی پہلو نہیں رکھتی، بلکہ ایک اہم سیاسی حربہ ہے یعنی استعمار کی ایک اہم سیاست ہے، فحاشی کے اڈّے، جوے خانے اور دوسری غلط سرگرمی، منجملہ غنا اور موسیقی کو وسیع پیمانہ پر رائج کرنا استعمار کا ایک اہم ترین حربہ ہے، تاکہ عام لوگوں کے افکار کو منحرف کردیں، اسی وجہ سے دنیا بھر کی ریڈیو سرویسوں میں زیادہ تر موسیقی ہوتی ہے، اسی طرح ٹیلی ویژن وغیرہ میں بھی موسیقی کی بھر مار ہے۔(۳)

____________________

(۱) تفسیر روح المعانی ، جلد ۲۱، صفحہ ۶۰

(۲) تاثیر موسیقی بر روان و اعصاب، صفحہ ۲۶

(۳)تفسیر نمونہ ، جلد ۱۷ صفحہ ۲۲


۸۴ ۔ زنا کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟

۱ ۔ زنا کے ذریعہ خاندانی نظام درہم و برہم ہوجاتاہے، ماں باپ اوراولادکے درمےان رابطہ ختم ہوجاتاہے جبکہ یہ وہ رابطہ ہے جو نہ صرف معاشرے کی شناخت کا سبب ہے بلکہ خود اولاد کی نشو ونما کا موجب بھی ہے، یہی رابطہ ساری عمر محبت کے ستونوں کو قائم رکھتا ہے اور انہیں دوام بخشتاہے۔

المختصر : جس معاشرے میںغیر شرعی اور بے باپ کی او لاد زیادہ ہواس کے اجتماعی روابط سخت متزلزل ہوجاتے ہیں کیونکہ ان روابط کی بنیاد خاندانی روابط ہی ہوتے ہیں۔

اس مسئلہ کی اہمیت سمجھنے کے لئے ایک لمحہ اس بات پر غور کرنا کافی ہے کہ اگر سارے انسانی معاشرے میں زنا جائز اور مباح ہوجائے اور شادی بیاہ کا قانون ختم کردیا جائے تو ان حالات میں غیر معین اور بے ٹھکانہ اولاد پیدا ہوگی، اس اولاد کو کسی کی مدد اور سر پرستی حاصل نہ ہوگی، اسے نہ پیدائش کے وقت کوئی پوچھے گا اور نہ بڑا ہونے کے بعد۔

اس سے قطع نظر برائیوں، سختیوں اور مشکلات میں محبت کی تاثیر تسلیم شدہ ہے جبکہ ایسی اولاد اس محبت سے بالکل محروم ہوجائے گی، اور انسانی معاشرہ پوری طرح تمام پہلوؤں سے حیوانی زندگی کی شکل اختیار کرلے گا۔

۲ ۔ یہ شرمناک اور قبیح عمل ہوس باز لوگوں کے درمیان طرح طرح کے جھگڑوں اور کشمکش کا باعث ہوگا، وہ واقعات جو بعض افراد نے بد نام محلوں اور غلط مراکز کی داخلی کیفیت کے بارے میں لکھے ہیں ان سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جنسی بے راہ روی بدترین جرائم کو جنم دیتی ہے۔

۳ ۔ یہ بات علم اور تجربہ نے ثابت کردی ہے کہ زنا طرح طرح کی بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتا ہے، چنانچہ اسی بنا پر اس کے بُرے نتائج کی روک تھا م کے لئے آج کے دور میں بہت سے اداروں کی بنا رکھی گئی ہے اور بہت سے اقدامات کئے گئے ہیں، مگر اس کے باوجود اعداد وشمار نشاندہی کرتے ہیں بہت سے افراد اس راستہ میں اپنی صحت و سلامتی کھو بیٹھے ہیں۔

۴ ۔ اکثر اوقات یہ عمل اسقاط حمل، قتل ِ اولاد اور نسل کے قطع ہونے کا سبب بنتا ہے کیونکہ ایسی عورتیں ایسی اولاد کی نگرانی کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوتیں، اصولاً اولاد ان کے لئے ایسا منحوس عمل جاری رکھنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتی ہے، لہٰذا وہ ہمیشہ اسے پہلے سے ختم کردینے کی کوشش کرتی ہیں۔

یہ فرضیہ بالکل خیال خام ہے کہ ایسی اولاد حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے اداروں میں رکھی جاسکتی ہے کیو نکہ اس فرض کی ناکامی عملی طور پر واضح ہوچکی ہے اور ثابت ہوچکا ہے کہ اس صورت میں بن باپ کی اولاد کی پرورش کس قدر مشکلات کا باعث ہے، اور نتیجتاً بہت ہی نامطلوب اور غیر پسندیدہ ہے، ایسی اولاد سنگدل، مجرم، بے حیثیت اور ہر چیز سے عاری ہوتی ہے۔

۵ ۔ اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ شادی بیاہ کا مقصد صرف جنسی تقاضے پورے کرنا نہیں ہے بلکہ ایک مشترکہ زندگی کی تشکیل ، روحانی محبت، فکری سکون، اولاد کی تربیت اور زندگی کے ہر موڑ پر ایک دوسرے کی ہر ممکن مدد کرنا شادی کے نتائج میں سے ہیں، اور ایسا بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ عورت اور مرد ایک دوسرے سے مخصوص ہوں اور عورتیں دوسروں پر حرام ہوں۔

حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں: ”میں نے پیغمبر اکرم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: زنا کے چھ بُرے اثرات ہیں، ان میں سے تین دنیا سے متعلق ہیں اور تین آخرت سے:

دنیاوی برے اثراث یہ ہیں کہ یہ عمل ،انسان کی نورانیت کو چھین لیتا ہے، روزی منقطع کردیتا ہے اور موت کو نزدیک کر دیتا ہے۔

اور اُخروی آثار یہ ہیں کہ یہ عمل پروردگار کے غضب ، حساب و کتاب میں سختی اور آتش جہنم میں داخل ہونے (یا اس میں دوام) کا سبب بنتا ہے۔(۱)(۲)

____________________

(۱)مجمع البیان ، جلد ۶، صفحہ ۴۱۴

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۰۳


۸۵ ۔ ہم جنس بازی کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟

اگرچہ مغربی دنیا میں جہاں جنسی بے راہ روی بہت زیادہ رائج ہے ایسی برائیوں سے نفرت نہیں کی جاتی ، یہاں تک کہ سننے میں آیا ہے کہ بعض ممالک مثلاً برطانیہ میں پارلیمنٹ نے اس کام کو انتہائی بے شرمی سے قانونی جواز دے دیا ہے، لیکن ان برائیوں کے عام ہونے سے ان کی برائی اور قباحت میں ہرگز کوئی کمی نہیں آتی، اور اس کے اخلاقی، نفسیاتی اور اجتماعی مفاسد اپنی جگہ پر ثابت ہیں۔

بعض اوقات مادی مکتب کے بعض پیرو جو اس قسم کی آلودگیوں میں مبتلا ہیں اپنے عمل کی توجیہ کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ اس میں طبی نکتہ نظر سے کوئی خرابی نہیں ہے لیکن وہ یہ بات بھول چکے ہیں کہ اصولی طور پر ہر قسم کا جنسی انحراف انسانی وجود کے تمام ڈھانچے پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کا اعتدال درہم و برہم کردیتا ہے۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسان فطری اور طبیعی طور پر صنف مخالف کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہے اور یہ میلان انسانی فطرت میں بہت مضبوط جڑیں رکھتا ہے اور انسانی نسل کی بقا کا ضامن ہے، ہر وہ کام جو طبیعی میلان سے ہٹ کر انجام پذیر ہوتا ہے وہ انسان میں ایک قسم کی بیماری اور نفسیاتی انحراف پیدا کرتا ہے۔

وہ مرد جو جنسِ موافق کی طرف میلان رکھتا ہے اور وہ مرد جو اپنے کو اس کام کے لئے پیش کرتا ہے ہرگز کامل مرد نہیں ہے، جنسی امور کی کتاب میں ہم جنس بازی کو ایک اہم ترین انحراف قرار دیا گیا ہے۔

اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو انسان میں جنس مخالف کا میلان آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے اور اس کام کے مفعول میں آہستہ آہستہ زنانے احساسات پیدا ہونے لگتے ہیں اور دونوں میں بہت زیادہ جنسی ضعف پیدا ہوتا ہے جسے اصطلاح کے مطابق ”سرد مزاجی“ کہا جاتا ہے، اس طرح سے کہ ایک مدت کے بعدوہ (جنس مخالف سے) طبیعی اور فطری ملاپ کرنے پر قادر نہیں رہتے۔

اس چیز کے پیش نظر کہ مرد اور عورت کے جنسی احساسات جہاں ان کے بدن کے ارگانیزم ( Organism )میں موثر ہیں وہاں ان کے روحانی اور مخصوص اخلاقی پہلوؤں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، یہ بات واضح ہے کہ طبیعی اور فطری احساسات سے محروم ہوکر انسان کے جسم اور روح پر کس قدر ضرب پڑتی ہے، یہاں تک کہ ممکن ہے کہ اس طرح کے انحراف میں مبتلا افراد اس قدر سرد مزاجی کا شکار ہوجائیں کہ پھر اولاد پیدا کرنے کی طاقت سے بھی محروم ہوجائیں۔

اس قسم کے افراد عموماً نفسیاتی طور پر صحیح و سالم نہیں ہوتے اور اپنی ذات میں اپنے آپ سے ایک طرح کی بیگانگی محسوس کرتے ہیں اور جس معاشرہ میں رہتے ہیں اس سے خود کو لاتعلق سا محسوس کرنے لگتے ہیں، ایسے افراد قوت ارادی جو ہر قسم کی کامیابی کی شرط ہے آہستہ آہستہ کھو بیٹھتے ہیں اور ان کی روح میں حیرانی و سرگردانی آشیانہ بنالیتی ہے۔

ایسے فراد اگر جلد اپنی اصلاح کا ارادہ نہ کریں بلکہ لازمی طور پر جسمانی اور روحانی طبیب سے مدد نہ لیں اور یہ عمل ان کی عادت میں شامل ہوجائے تو اس بُری عادت کا ترک کرنا مشکل ہوجائے گا، بہر حال اگر مصمم ارادہ کرلیا جائے تو کسی بھی حالت میں اس عادت کو ترک کرنے میں دیر نہیں لگتی، بہر صورت مستحکم ارادہ ہونا ضروری ہے۔

بہر حال نفسیاتی سرگردانی انھیں آہستہ آہستہ منشیات اور شراب کی طرف لے جاتی ہے اور ایسے لو گ مزید اخلاقی انحراف کا شکار ہوجاتے ہیں، یہ ایک اور بڑی بد بختی ہے۔

یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ اسلامی روایات میں مختصر اور پُر معنی عبارات کے ذریعہ ان مفاسد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان میں ایک روایت حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، کسی نے امام علیہ السلام سے سوال کیا: خدا نے لواط کو کیوں حرام کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اگر لڑکوں سے ملاپ حلال ہوتا تو مرد عورتوں سے بے نیاز ہوجاتے (اور ان کی طرف مائل نہ ہوتے) اور یہ چیز نسلِ انسانی کے منقطع ہونے کا باعث بنتی، اور جنس مخالف سے فطری ملاپ کے ختم ہونے کا باعث بنتی، اور یہ کام بہت سی اخلاقی اور اجتماعی خرابیوں کا سبب بنتا۔(۱)

یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام ایسے افراد کے لئے جن سزاؤں کا قائل ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ فاعل پر مفعول کی بہن، ماں اور بیٹی سے نکاح حرام ہے یعنی اگر یہ کام نکاح سے پہلے ہوا ہو تو یہ عورتیں اس کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہیں۔(۲)

____________________

(۱) وسائل الشیعہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۲۵۲

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۹، صفحہ ۱۹۴


۸۶ ۔ شراب کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟

انسان کی عمر پرشراب کا اثر

ایک مغربی دانشور کا کہنا ہے کہ ۲۱/ سے ۲۳/ سالہ جوانوں میں ۵۱/ فی صد شراب کے عادی مرجاتے ہیں جبکہ شراب نہ پینے والوں میں سے ۱۰ / افراد بھی نہیں مرتے۔

ایک دوسرے مشہور دانشور نے کہا: بیس سالہ جوان جن کے بارے میں ۵۰/ سال تک زندہ رہنے کی توقع کی جاتی ہے وہ شراب کی وجہ سے ۳۵/ سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔

بیمہ کمپنیوں کے تجربات سے ثابت ہوچکا ہے کہ شرابیوں کی عمر دوسروں کی نسبت ۲۵/ سے ۳۰/ فیصد کم ہوتی ہے۔ ایک دوسرے اعداد و شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شرابیوں کی اوسط عمر ۳۵/ سے ۵۰/ سال ہے، جبکہ اصول صحت کا یہ اوسط ۶۰/ سال سے زیادہ ہے۔

انسانی نسل میں شراب کی تاثیر

انعقاد نطفہ کے وقت اگر مرد نشہ میں تو ”الکلسیم حاد “ ( Alcoalism ) کی ۳۵/ فیصد بیماریاں بچہ میں منتقل ہوتی ہیں اور اگر مرد اور عورت دونوں نشہ میں ہوں تو ”الکلسیم حاد “ ( Alcoalism )کی سو فیصد بیماریاں بچہ میں ظاہر ہوتی ہیں، اس بنا پر اولاد کے بارے میں شراب کی تاثیر پر زیادہ توجہ دینا ضروری ہے، ہم یہاں کچھ مزید اعداد و شمار پیش کرتے ہیں:

طبیعی وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں ۴۵/ فیصد ماں باپ دونوں کی شراب نوشی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، ۳۱/ فیصد ماں کی شراب نوشی کے باعث ہوتے ہیں اور ۱۷/ فیصد باپ کے شرابی ہونے کی وجہ سے، پیدائش کے وقت زندگی کی توانائی سے عاری سو بچوں میں ۶ شرابی باپ کی وجہ سے اور ۴۵/ فیصد شرابی ماں کی وجہ سے ایسے ہوتے ہیں، شرابی ماں کی وجہ سے ۷۵ فیصد اور شرابی باپ کی وجہ سے ۴۵ فیصد بچے پست قد پیدا ہوتے ہیں شرابی ماؤں کی وجہ سے ۷۵ فیصد اور شرابی باپ کی وجہ سے بھی ۷۵ فیصد بچے کافی عقلی اور روحانی طاقت سے محروم ہوتے ہیں۔

اخلاق پر شراب کا اثر شرابی شخص گھروالوں سے ہمدردی اور اہل و عیال سے کم محبت کرتا ہے بارہا دیکھا گیا ہے کہ شرابی باپ نے اپنی اولاد کو قتل کردیا ۔

شراب کے اجتماعی نقصانات

ایک انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر کے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق ۱۹۶۱ ءء میں ”نیون“ شہر کے شرابیوں کے اجتماعی جرائم کچھ اس طرح ہیں:

عام قتل : ۵۰ فی صد مار پیٹ اور زخم وارد کرنے کے جرائم ۸/۷۷ فیصد

جنسی جرائم ۸/۸۸ فیصد۔

ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے جرائم زیادہ ترنشہ کی حالت میں انجام پاتے ہیں۔

شراب کے اقتصادی نقصانات

نفسیاتی امراض کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے: ” افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومتیں شراب کے ٹیکس اور منافع کا حساب تو کرتی ہیں لیکن ان اخراجات کو نظر میں نہیں رکھتی جو شراب کے بُرے اثرات کی روک تھام پر ہوتے ہیں، نفسیاتی بیماریوں کی زیادتی، ایسے بُرے معاشرہ کے نقصانات، قیمتی اوقات کی بربادی، حالت نشہ میں ڈرائیورنگ حادثات، پاک نسلوں کی تباہی، سستی، بے راہ روی، ثقافت و تمدن کی پسماندگی، پولیس کی زحمتیں اور گرفتاری، شرابیوں کی اولاد کے لئے پرورش گاہیں اور ہسپتال، شراب سے متعلقہ جرائم کے لئے عدالتوں کی مصروفیات، شرابیوں کے لئے قید خانے مختصر یہ کہ اگر شراب نوشی سے ہونے والے دیگر نقصانات کو جمع کیا جائے تو حکومتوں کو معلوم ہوگا کہ وہ آمدنی جو شراب سے ہوتی ہے وہ مذکورہ نقصانات کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے۔

ان کے علاوہ شراب نوشی کے افسوسناک نتائج کا موازنہ نہ صرف ڈالروں سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ احساسات کی موت، گھروں کی تباہی، آرزوؤں کی بربادی اور صاحبان فکر افراد کی دماغی صلاحیتوں کا نقصان، یہ سب کچھ پیسے کے مقابل نہیں لائے جاسکتے۔

خلاصہ یہ کہ شراب کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ ایک دانشور کے بقول اگر حکومتیں یہ ضمانت دیں کہ وہ شراب خانوں کا آدھا دروازہ بند کردیں تو یہ ضمانت دی جاسکتی ہے کہ ہم آدھے ہسپتالوں اور آدھے پاگل خانوں سے بے نیاز ہوجائیں گے۔

اگر شراب کی تجارت میں نوعِ بشر کے لئے کوئی فائدہ ہو یا فرض کریں کہ چند لمحوں کے لئے انسان اس کی وجہ سے اپنے غموں سے بے خبر ہوجاتا ہے تب بھی اس کا نقصان کہیں زیادہ، بہت وسیع ہے کہ اس کے فوائد اور نقصانات کا آپس میں موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔(۱)

ہم یہاں پر ایک اور نکتہ کا ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں، یہ نکتہ مختلف اعداد و شمار کا ایک مجموعہ ہے جن میں سے ہر ایک تفصیلی بحث کا محتاج کرتا ہے جس سے شراب کے نقصانات کا اندازہ ہوتا ہے۔

۱ ۔ برطانیہ میں شرابیوں کے دیوانہ پن کے سلسلہ میں ایک اعداد و شمار کے مطابق اس جنون کا دوسرے جنونوں سے مو ازنہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۲۲۴۹/ دیوانوں میں سے صرف ۵۳ دیوانے دوسری وجوہات کی بنا پر دیوانگی کا شکار ہوئے ہیں، اور باقی سب شراب کی وجہ سے دیوانہ ہوئے ہیں۔(۲)

۲ ۔ امریکہ کے ہسپتالوں کے ایک اعداد و شمار کے مطابق نفسیاتی بیماروں میں ۸۵ فی صد صرف شرابی تھے۔(۳)

۳ ۔ برطانوی دانشور ”بنٹم“ لکھتا ہے: شراب ؛ انسان کے اندر شمالی ممالک میں کم عقلی اور بے وقوفی اور جنوبی ممالک میں اس کے اندر دیوانہ پن پیدا کرتی ہے، اس کے بعد کہتا ہے کہ اسلامی قوانین نے ہر طرح کی شراب کو حرام قرار دیا ہے اور یہ اسلام کا ایک امتیاز ہے۔(۴)

۴ ۔ اگر ان لوگوں کے اعداد و شمار کو جمع کیا جائے جنھوں نے نشہ کی حالت میں خود کشی، ظلم و جنایت،گھروں کی بربادی اور عورتوں کی عصمت دری کی ہے تو واقعاً انسان کے ہوش اڑ جائیں گے۔(۵)

۵ ۔ فرانس میں ہر روز ۴۴۰/ لوگ شراب پر اپنی جان قربان کرتے ہیں۔( ۵)

۶ ۔ امریکہ کے ہسپتالوں میں نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے ایک سال میں مرنے والوں کی تعداد”دوسری عالمی جنگ“ کے دو برابر ہے، امریکہ میں ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق نفسیاتی بیماریوں میں ”شراب“ اور ”سگریٹ“ بنیادی وجہ ہے۔( ۶)

۷ ۔ ”ماہنامہ علوم ابزار“ کی بیسوی سالگرہ کی مناسبت سے”ہوگر“ نامی دانشور کے اعداد و

(۱) کتاب سمپوزیوم الکل ، صفحہ ۶۵ (۲) کتاب سمپوزیوم الکل، صفحہ ۶۵

( ۳) تفسیر طنطاوی ، جلد اول، صفحہ ۱۶۵ (۴) دائرة المعارف ،فرید وجدی ، جلد ۳ ، صفحہ ۷۹۰

( ۵) بلاہای اجتماعی قرن ما، صفحہ ۲۰۵ (۶) مجمو عہ انتشارات جوان

شمار کے مطابق : ۶۰/ فی صد عمدی قتل، ۷۵/ فی صد مار پیٹ اور زخمی کرنا، ۳۰/ فیصد اخلاقی جرائم (منجملہ ماں بہن کے ساتھ زنا!) ۲۰/ فی صد چوری شرابی پینے والوں سے متعلق ہیں، اور اسی دانشور کی تحقیق کے مطابق ۴۰/ فیصد مجرم بچوں میں شراب کا سابقہ پایا جاتا ہے۔(۱)

۸ ۔اقتصادی لحاظ سے صرف برطانیہ میں شراب پینے والے ملازمین کی غیر حاضری کی وجہ سے ۵۰ ملین ڈالر (۲۲۵.۰۰۰.۰۰۰روپیہ) کا نقصان ہوا ہے، جس رقم سے بچوں کے لئے ہزاروں اسکول اور کالج بنائے جا سکتے ہیں۔( ۲)

۹ ۔ فرانس میں ایک اعداد و شمار کے مطابق شراب کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح اس طرح ہے: شراب کی وجہ سے ۱۳۷ / ارب فرانک فرانس کے بجٹ میں اضافہ کرنا پڑا: ۶۰/ ارب فرانک ، کورٹ اور قید خانوں کا خرچ۔

۴۰/ ارب فرانک ، عمومی فا ئد ہ مند امورکے لئے تعاون۔

۱۰/ ارب فرانک ، شرابیوں کے ہسپتالوں کا خرچ۔

۷۰/ ارب فرانک ، اجتماعی امنیت کے لئے خرچ۔

اس لحاظ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رو حا نی بیماروں ، ہسپتالوں، قتل و غارت، لڑائی جھگڑوں، چوری اور ایکسیڈنٹ وغیرہ کی تعداد براہ راست شراب خانوں کی تعداد سے متعلق ہے۔(۳)(۴)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۷۴

۲) کتاب سمپوزیوم الکل، صفحہ ۶۶

(۳) مجموعہ انتشارات نسل جوان ، سال دوم صفحہ ۳۳۰

(۴) نشریہ مر کز مطالعہ پیشرفتہای ایران (دربارہ الکل و قمار)

(۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۵، صفحہ ۷۴


۸۷ ۔ محارم سے شادی کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟

جیسا کہ ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں:

( حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اٴُمَّهَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَاٴَخَوَاتُکُمْ وَعَمَّاتُکُمْ وَخَالاَتُکُمْ وَبَنَاتُ الْاٴَخِ وَبَنَاتُ الْاٴُخْتِ وَاٴُمَّهَاتُکُمْ اللاَّتِی اٴَرْضَعْنَکُمْ وَاٴَخَوَاتُکُمْ مِنْ الرَّضَاعَةِ وَاٴُمَّهَاتُ نِسَائِکُمْ وَرَبَائِبُکُمْ اللاَّتِی فِی حُجُورِکُمْ مِنْ نِسَائِکُمْ اللاَّتِی دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ وَحَلاَئِلُ اٴَبْنَائِکُمْ الَّذِینَ مِنْ اٴَصْلاَبِکُمْ وَاٴَنْ تَجْمَعُوا بَیْنَ الْاٴُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ کَانَ غَفُورًا رَحِیمًا ) (۱)

”تمہارے اوپر تمہاری مائیں، بیٹیاں ،بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، وہ مائیں جنھوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں، تمہاری پروردہ عورتیں جو تمہاری آغوش میں ہیں اور ان عورتوں کی اولاد جن سے تم نے دخول کیا ہے، ہاں اگر دخول نہیں کیا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے، اور تمہارے فرزندوں کی بیویاں جو فرزند تمہارے صلب سے ہیں اور دو بہنوں کا ایک ساتھ جمع کرنا سب حرام کردیا گیا ہے، علاوہ اس کے جو اس سے پہلے ہوچکا ہے کہ خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے“۔

اس آیہ شریفہ میں یہ بیان ہوا کہ محرم عورتیں کون کون ہے جن سے شادی کرنا حرام ہے، اور اس لحاظ سے تین طریقوں سے محرمیت پیدا ہوسکتی ہے:

۱ ۔ ولادت کے ذریعہ، جس کو ”نسبی رشتہ“ کہا جاتا ہے۔

۲ ۔ شادی بیاہ کے ذریعہ، جس کو ”سببی رشتہ“ کہا جاتا ہے۔

۳ ۔ دودھ پلانے کے ذریعہ ، جس کو ”رضاعی رشتہ“ کہتے ہیں۔

پہلے نسبی محارم کا ذکر کیا گیا ہے جن کی سات قسمیں ہیں، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اٴُمَّهَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَاٴَخَوَاتُکُمْ وَعَمَّاتُکُمْ وَخَالَا تُکُمْ وَبَنَاتُ الْاٴَخِ وَبَنَاتُ الْاٴُخْتِ)

”تمہارے اوپر تمہاری مائیں، بیٹیاں ،بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں حرام ہیں“۔

یہاں پر یہ توجہ رہے کہ ماں سے مراد صرف وہ ماں نہیں ہے جس سے انسان پیدا ہوتا ہے، بلکہ دادی ، پردادی، نانی اور پر نانی کو بھی شامل ہے، اسی طرح بیٹیوں سے مراد اپنی بیٹی مراد نہیں ہے بلکہ ، پوتی اور نواسی اور ان کی بیٹیاں بھی شامل ہیں، اسی طرح دوسری پانچ قسموں میں بھی ہے۔

یہ بات یونہی واضح ہے کہ سبھی اس طرح کی شادیوں سے نفرت کرتے ہیں اسی وجہ سے تمام قوم و ملت (کم لوگوں کے علاوہ) محارم سے شادی کو حرام جانتے ہیں، یہاں تک کہ مجوسی جو اپنی کتابوں میں محارم سے شادی کو جائزما نتے تھے، لیکن آج کل وہ بھی انکار کرتے ہیں۔

اگرچہ بعض لوگوں کی کوشش یہ ہے کہ اس موضوع کو ایک پرانی رسم و رواج تصور کریں، لیکن ہم یہ بات جانتے ہیں کہ تمام نوعِ بشر میں قدیم زمانہ سے ایک عام قانون کا پایا جانا اس کے فطری ہونے کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ رسم و رواج ایک عام اور دائمی صورت میں نہیں ہوسکتا۔

اس کے علاوہ آج یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ ہم خون کے ساتھ شادی کرنے میں بہت سے نقصانات پائے جاتے ہیں یعنی پوشیدہ اور موروثی بیماریاں ظاہر اور شدید ہوجاتی ہیں، (نہ یہ کہ خود ان سے بیماری پیدا ہوتی ہے) یہاں تک کہ بعض محارم کے علاوہ دیگر رشتہ داری میں شادی کو اچھا نہیں مانتے جیسے دو بھائیوں کی لڑکی لڑکا شادی کریں، دانشوروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی شادیوں میں ارثی بیماریوں میں شدت پیدا ہوتی ہے(۱)

لیکن یہ مسئلہ دور کی رشتہ داریوں میں کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا (جیسا کہ معمولاً نہیں کرتا) البتہ قریبی رشتہ داری (یعنی ایک خون )میں بہت سی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ محارم کے درمیان معمولاً جنسی جذابیت اور کشش نہیں پائی جاتی کیونکہ غالباً محارم ایک ساتھ بڑے ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے کے لئے عام طریقہ سے ہوتے ہیں، مگر بعض نادر اور استثنائی موارد میں جن کو عام قوانین کا معیار نہیں بنایا جاسکتا، اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ جنسی خواہشات شادی بیاہ کے برقرار رہنے کے لئے ضروری ہے، لہٰذا اگر محارم کے ساتھ شادی ہو بھی جائے تو ناپائیدار اور غیر مستحکم ہوگی۔

اس کے بعد رضاعی محارم کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:( وَاٴُمَّهَاتُکُمْ اللاَّتِی اٴَرْضَعْنَکُمْ وَاٴَخَوَاتُکُمْ مِنْ الرَّضَاعَةِ ) ”وہ مائیں جنھوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، اور تمہاری رضاعی (دودھ شریک) بہنیں تم پر حرام ہیں“۔

اگرچہ آیت کے اس حصہ میں صرف رضاعی ماں اور بہن کی طرف اشارہ ہوا ہے لیکن متعددروایات معتبر کتابوں میں موجود ہیں جن میں بیان ہو ا ہے کہ رضاعی محرم صرف انھیں دو میں منحصر

(۱) البتہ اسلام نے چچا زاد بھائی بہن میں شادی کو حرام قرار نہیں دیا ہے، کیونکہ ان کی شادی محارم سے شادی کی طرح نہیں ہے، اور اس طرح کی شادیوں میں خطرہ کم پایا جاتا ہے، اور ہم نے اس طرح کی بہت سی شادی دیکھی ہیں جن کے بچے صحیح و سالم ہیں اور استعداد و صلاحیت کے لحاظ سے بھی کوئی مشکل نہیں ہے

نہیں ہے بلکہ پیغمبر اکرم (ص) کی مشہور و معروف حدیث کے پیش نظر دوسرے افراد میں شامل ہیں، جیسا آنحضرت (ص)نے ارشاد فرمایا: ”یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب“ (یعنی تمام وہ افراد جو نسب کے ذریعہ حرام ہوتے ہیں (رضاعت) دودھ کے ذریعہ بھی حرام ہوجاتے ہیں)

البتہ محرمیت ایجاد ہونے کے لئے کتنی مقدار میں دودھ پلایا جائے اس کی کیفیت کیا ہونی چاہئے اس کی تفصیل کے لئے فقہی کتابوں (یاتوضیح المسائل وغیرہ) کا مطالعہ فرمائیں۔

رضاعی محارم کی حرمت کا فلسفہ یہ ہے کہ دودھ کے ذریعہ انسان کے گوشت اور ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں لہٰذا اگر کوئی عورت کسی بچہ کو دودھ پلاتی ہے تووہ اس کی اولاد جیسی ہوجاتی ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی عورت کسی بچہ کو ایک مخصوص مقدار میں دودھ پلائے تو اس دودھ سے اس بچہ کے بدن میں رشد و نمو ہوتا ہے جس سے اس بچہ اور اس عورت کے بچوں میں شباہت پیدا ہوتی ہے، در اصل دونوں اس عورت کے بدن کا ایک حصہ شمار ہوں گے جس طرح دو نسبی بھائی۔

اس کے بعد قرآن مجید نے محارم کی تیسری قسم کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کو چند عنوان کے تحت بیان کیا ہے:

۱ ۔ وَ امِّہَاتُ نِسَائِکُمْ: ”تمہاری بیویوں کی مائیں“ یعنی جب انسان کسی عورت سے نکاح کرتا ہے اور صیغہ عقد جاری کرتا ہے تو اس عورت کی ماں اور اس کی ماں کی ماں اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہیں۔

۲ ۔( وَرَبَائِبُکُمْ اللاَّتِی فِی حُجُورِکُمْ مِنْ نِسَائِکُمْ اللاَّتِی دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ) ”تمہاری پروردہ لڑکیاں جو تمہاری آغوش میں ہیں یعنی تمہاری ان بیویوں کی اولاد جن سے تم نے دخول کیا ہے، وہ تم پر حرام ہیں“ گویا اگرکسی عورت سے صرف نکاح کیا ہے اور اس کے ساتھ ہمبستری نہیں کی اور اس عورت کی پہلے شوہر سے کوئی لڑکی ہو تو وہ حرام نہیں ہوگی،مگر اس بیوی سے ہمبستری کی ہو تو اس صورت میں وہ لڑکی بھی حرام ہوجائے گی، یہاں اس قید کا ہونا اس بات کی تائید کرتا ہے کہ ساس (خوش دامن)کے سلسلہ میں یہ شرط نہیں ہے (کیونکہ خوشدامن اس صورت میں حرام ہوتی ہے کہ جب بیوی کے ساتھ ہمبستری کی ہو) لہٰذا وہاں حکم مطلق ہے یعنی چاہے اپنی بیوی سے ہمبستری کی ہو یا نہ کی ہو ہر صورت میں ساس حرام ہے۔

اگرچہ ”فِی حُجُورِکُمْ“ کی ظاہری قید (یعنی تمہارے گھر میں ہو) سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اگر بیوی کے پہلے شوہر سے لڑکی ہو ، اور وہ تمہارے گھر میں پرورش نہ پائے تو وہ اس صورت میں حرام نہیں ہے، لیکن دوسری روایات کے قرینہ اور اس حکم کے قطعی ہونے کی بنا پر یہ ”قید احترازی“ نہیں ہے ، ( یعنی یہ قید موضوع کو محرز اور معین کرنے کے لئے نہیں ہے) بلکہ اس سے حرمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس جیسی لڑکیوں کی عمر کم ہوتی ہے جن کی مائیں دوبارہ شادی کرتی ہیں اور وہ معمولاً سوتیلے باپ کی گھر میں اس کی لڑکیوں کی طرح پرورش پاتی ہیں، آیہ شریفہ کہتی ہے کہ در اصل یہ تمہاری بیٹیوں کی طرح ہیں، کیا کوئی اپنی بیٹی سے شادی کرتا ہے؟! چنانچہ اسی وجہ سے انھیں ”ربیبہ“ کہا گیا ہے جس کے معنی پرورش پانے والی ہے۔

اس حصہ میں اس کی مزید تاکید ہوتی ہے کہ اگر اس زوجہ سے ہمبستری نہ کی ہو تو ان کی لڑکیاں تم پر حرام نہیں ہیں،( فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ )

۳ ۔( وَحَلاَئِلُ ( ۱ ) اٴَبْنَائِکُمْ الَّذِینَ مِنْ اٴَصْلاَبِکُمْ ) ”اور تمہارے فرزندوں کی بیویاں جو فرزند تمہارے صلب سے ہیں “

در اصل ”مِنْ اَصْلاَبِکُمْ “ (تمہارے صلب سے ہو نے ) کی قید دور ِجاہلیت کی ایک غلط رسم کو ختم کرنے کے لئے ہے کیونکہ اس زمانہ میں رائج تھا کہ بعض افراد کو اپنا بیٹا بنا لیتے تھے، یعنی اگر

(۱) ”حلائل “جمع” حلیلہ“مادہ ”حل“سے ہے اور اس سے وہ عورت مراد ہے جو انسان پر حلال ہے ،یا مادہ” حلول “ سے ہے جس سے مراد وہ عورت ہے جو ایک انسان کے پاس ایک ساتھ زندگی گزارتی ہو اور اس سے جنسی تعلقات رکھتی ہو

کوئی کسی دوسرے کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنالے تو اس پر حقیقی بیٹے کے تمام احکام نافذ کیا کرتے تھے، اسی وجہ سے منھ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح نہیں کرتے تھے، لیکن اسلام نے منھ بولے بیٹے کو بیٹا قرار نہیں دیا اور اس غلط رسم و رواج کو بے بنیاد قرار دیدیا۔

۴ ۔( وَاٴَنْ تَجْمَعُوا بَیْنَ الْاٴُخْتَیْنِ ) ”اور تمہارے لئے دو بہنوں کا ایک ساتھ جمع کرنا حرام کردیا گیا ہے“، یعنی ایک وقت میں دو بہنوں کا رکھنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر دو بہنوں سے مختلف زمانہ میں اور پہلی بہن کی جدائی کے بعد نکاح کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔کیونکہ دور جاہلیت میں دو بہنوں کو ایک ساتھ رکھنے کا رواج تھا اور چونکہ بعض لوگ ایسا کئے ہوئے تھے لہٰذا قرآن مجید میں اضافہ کیا گیا:( إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ ) ”علاوہ اس کے جو اس سے پہلے ہوچکا ہے “ ، یعنی یہ حکم (دوسرے احکام کی طرح) گزشتہ پر عطف نہیں کیا جائے گا اور جن لوگوں نے اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے ایسا کیا ہے ان کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی اگرچہ اب ان دونوں میں سے ایک بیوی کا انتخاب کرے اور دوسری کو آزاد کردے۔اور شاید اس طرح کی شادی سے روکنے کا راز یہ ہو کہ دو بہنیں نسبی لحاظ سے ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت اور تعلق رکھتی ہیں، لیکن جس وقت ایک دوسرے کی رقیب ہوجائیں تو پھر اس گزشتہ رابطہ کو محفوظ نہیں رکھ سکتیں، اس طرح ان کی ”محبت میں تضاد“ پیدا ہوجائے گا جو ان کی زندگی کے لئے نقصان دہ ہے، کیونکہ ”محبت“ اور ”رقابت“ میں ہمیشہ کشمکش اور مقابلہ پایا جاتا ہے۔(۲)

____________________

(۱)سورہ نساء آیت۲۳

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۳۲۶


۸۸ ۔ خلقت انسان کا مقصد کیا ہے؟

یہ سوال اکثر افراد کے ذہن میں آتا ہے اور بہت سے لوگ یہ سوال کرتے بھی ہیں کہ ہماری خلقت کا مقصد کیا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ دنیا میں پیدا ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اس دنیا سے چل بستے ہیں اور ہمیشہ کے لئے خاموش ہوجاتے ہیں، تو پھر اس آمد و رفت کا مقصد کیا ہے؟۔

اور اگر ہم تمام انسان اس دنیا میں نہ آتے تو کیا خرابی پیش آتی؟ اور کیا مشکل ہوتی؟ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں؟ اور کیوں اس دنیا سے چل بسے ؟ اور اگر ہم اس مقصد کو سمجھنا چاہیں تو کیا ہم میں سمجھنے کی طاقت ہے؟ اس طرح اس سوال کے بعد انسان کے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

یہ سوال جب مادیوں کی طرف سے کیا جائے تو ظاہراً کوئی جواب نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ ”مادہ“ عقل و شعور نہیں رکھتا اسی وجہ سے انھوں نے اپنے کو آسودہ خاطر کرلیا ہے اور اس بات کے قائل ہیں کہ ہماری خلقت کا کوئی مقصد نہیں ہے! اور واقعاً کس قدر تعجب کی بات ہے کہ انسان اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے ہدف او رمقصد معین کرے اور اپنی زندگی کے لئے منصوبہ بندی کرے مثال کے طور پر تعلیم، کاروبار، ورزش اور علاج وغیرہ کے لئے انسان کا ایک مقصد ہو، لیکن ان تمام کے مجموعہ کو بے ہدف اور بے معنی شمار کیا جائے!

لہٰذا جائے تعجب نہیں ہے کہ جب یہ لوگ اپنی بے معنی اور بے مقصد زندگی کے در پیش مشکلات پر غور کرتے ہیں تو اپنی زندگی سے سیر ہوجاتے ہیں اورخود کشی کرلیتے ہیں۔

لیکن جب ایک خدا پرست انسان یہی سوال خود اپنے سے کرتا ہے تو لاجواب نہیں ہوتا،کیونکہ ایک طرف تو وہ جانتا ہے کہ اس کائنات کا خالق حکیم ہے لہٰذا اس کی خلقت کا کوئی مقصد ضرور ہوگا اگرچہ ہمیں معلوم نہیں ہے، اور دوسری طرف جب انسان اپنے اعضا وجوارح کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے تو ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی مقصد کے لئے خلق ہوا ہے، نہ صرف دل و دماغ اور اعصاب جیسے اعضا با مقصد خلق کئے گئے ہیں بلکہ ناخن، پلکیں اور انگلیوں کی لکیریں، ہتھیلی اور پیروں کی گہرائی وغیرہ ان سب کا ایک فلسفہ ہے جن کے بارے میں آج کل سائنس نے بھی تائیدکی ہے۔

کتنے سادہ فکر لوگ ہیں کہ ان سب چیزوں کے لئے تو ہدف او رمقصد کے قائل ہیں لیکن ان تمام کے مجموعہ کو بے ہدف تصور کرتے ہیں!

واقعاً کس قدر سادہ لوحی ہے کہ ہم ایک شہر کی عمارتوں کے لئے تو منصوبہ بندی اور ہدف کے قائل ہوں لیکن پوری دنیا کوبے مقصد تصور کریں!

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک انجینئرکسی عمارت کے کمروں، دروازوں، کھڑکیوں ،ہال اور چمن کے لئے حساب و کتاب کے ساتھ اور خاص مقصد کے لئے بنائے، لیکن ان تمام کے مجموعہ کا کوئی ہدف اور مقصد نہ ہو؟!

یہی تمام چیزیں ایک خدا پرست اور مومن انسان کو اطمینان دلاتی ہیں کہ اس کی خلقت کا ایک عظیم مقصد ہے، جس کے سلسلہ میں کوشش کی جائے اور علم و عقل کے ذریعہ اس مقصد کو حاصل کیا جا ئے۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ خلقت کو بے ہدف بتانے والے لوگ سائنس کے سلسلہ میں مختلف نئی چیزوں کے لئے ایک ہدف رکھتے ہیں اور جب تک اس مقصد تک نہیں پہنچ جاتے سکون سے نہیں بیٹھتے ،یہاں تک کہ بدن کے کسی حصے میں ایک غدے کو بے کار اور بے مقصد ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں، اور اس کے فلسفہ کے لئے برسوں تحقیق اور آزمائش کرتے ہیں، لیکن جس وقت انسان کی خلقت کی بات آتی ہے تو واضح طور پر کہتے ہیں کہ انسان کی خلقت کا کوئی مقصد نہیں ہے!

واقعاً ان باتوں میں کس قدر تضاد و اختلاف پایا جاتا ہے ؟!

بہر حال،ایک طرف حکمت خدا پر ایمان اور دوسری طرف انسان کے اعضا و جوارح کے فلسفہ پر توجہ، انسان کو یقین کی منزل تک پہنچا دیتی ہیں کہ انسان کی خلقت کا ایک عظیم مقصد ہے۔

اب ہمیں اس ہدف کو تلاش کرنا چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو اس ہدف کو معین کریں اور اس راستہ میں قدم بڑھائیں۔

ایک بنیادی نکتہ پر توجہ کرنے سے ہمیں راستہ میں روشنی ملتی ہے ۔

ہم ہمیشہ اپنے کاموں میں ایک ہدف اور مقصد رکھتے ہیں،عام طور پر یہ ہدف ہماری کمیوں کو ختم اور ضرورتوں کو پورا کرتا ہے، یہاں تک کہ اگر کسی پریشاں حال کی مدد کرتے ہیں یا اس کو مشکلات سے نجات دلاتے ہیں یا اگر کسی کے لئے ایثار و قربانی کرتے ہیں تو یہ بھی ایک طرح سے معنوی خامیوں کو بر طرف کرنے کے لئے ہے،جن سے ہماری روحانی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔

اور چونکہ خداوندعالم کی صفات اور اس کے افعال کو معمولاًہم اپنے سے مو ازنہ کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے یہ تصور ذہن میں آسکتا ہے کہ خدا کے پاس کیا چیز کم تھی جو انسان کی خلقت سے پوری ہوجاتی؟! اور اگر قرآنی آیات میں پڑھتے ہیں کہ انسان کی خلقت کا ہدف عبادت خداوندی ہے، تو اسے ہماری عبادت کی کیا ضرورت تھی؟

حالانکہ یہ طرز فکر اسی وجہ سے ہے کہ صفاتِ خالق کو صفاتِ مخلوق اور صفات واجب الوجود کا ممکن الوجود سے مو ازنہ کرتے ہیں۔

ہمارا وجود چونکہ محدود ہے تو اپنی کمی اور خامی کو دور کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں اور ہمارے اعمال بھی اسی راہ کا ایک قدم ہوتے ہیں، لیکن ایک نا محدود وجود کے لئے یہ معنی ممکن نہیں ہے، لہٰذا اس کے افعال کے مقصد کواس کے وجود کے علاوہ تلاش کریں۔

وہ چشمہ فیاض اور ایسا نعمت آفرین مبدا ہے جس نے تمام موجوادت کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے رکھی ہے اور ان کی پرورش کرتا ہے، ان کی کمی اور خامی کو دور کرتا ہے اور کمال کی منزل پر پہنچانا چاہتا ہے، اور یہی عبادت اور بندگی کا حقیقی ہدف اور مقصدہے، اور یہی عبادات اور دعا کا فلسفہ ہے جو ہماری تربیت اور تکامل و ترقی کے لئے ایک درس گاہ ہے۔

لہٰذا ہم یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ ہماری خلقت کا مقصد ہماری ترقی اور کمال ہے۔

بنیادی طور پر اصل خلقت ایک عظیم الشان تکاملی و ارتقائی قدم ہے، یعنی کسی چیز کو عدم سے وجود کی منزل تک لانا، اور نیستی سے ہستی کے مرحلہ میں لانا اور صفر سے عدد کے مرحلہ تک پہچانا ہے۔

اور اس عظیم مرحلہ کے بعد کمال و ترقی کے دوسرے مراحل شروع ہوتے ہیں اور تمام دینی احکام و قوانین اسی راستہ میں قرار پاتے ہیں۔(۱)

____________________

(۱)تفسیر نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۳۸۹


۸۹ ۔ کیا انسان کی سعادت اور شقاوت ذاتی ہے؟

قرآن مجید کے سورہ ہود میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے:

( یَوْمَ یَات لَاتُکَلَّمُ نَفْسٌ إِلاّٰبِإذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَ سَعِیْدٌ ) (۱)

”اس کے بعد جب وہ دن آجا ئے گا توکو ئی شخص بھی اذن خدا کے بغیر کسی سے بات بھی نہ کر سکے گا اس دن کچھ بد بخت ہو ں گے اور کچھ نیک بخت “

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ آیت انسانی سعادت اور شقاوت کے ذاتی ہونے پر دلیل نہیں ہے؟

یہاں پر چند نکات پر توجہ کرنا چاہئے:

۱ ۔ بعض افراد نے مذ کورہ آیت سے انسان کی سعادت و شقاوت کے ذاتی ہونے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ مذکورہ آیت نہ صرف اس امر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ سعادت و شقاوت اکتسابی ہیں کیونکہ فرمایاگیا :”فا ما الذین شقوا “یعنی وہ شقی ہوئے اسی طرح فرمایا گیا ہے :”اٴمَّا الذِّیْنَ سَعَدُوا “ یعنی وہ لو گ جو سعادت مند ہوئے،اگر شقا وت و سعا د ت ذاتی ہو تیں تو کہنا چا ہئے تھا ”اماالا شقیا ء واما السعد اء “، یا ایسی ہی کوئی اور عبارت ہو تی ۔

اس سے واضح ہو جا تاہے کہ فخر الدین رازی کی یہ بات بالکل بے بنیاد ہے جو اس نے ان الفاظ میں بیان کی ہے:ان آیات میں خدا ابھی سے یہ حکم لگا رہا ہے کہ قیا مت میں ایک گروہ سعادت مند ہو گا اورایک شقاوت مند ہو گا اور جنہیں خدا ایسے حکم سے محکو م کرتا ہے اور جانتا ہے کہ آخر کار قیا مت میں سعید یا شقی ہوں گے، محال ہے کہ وہ تبدیل ہو جا ئیں ورنہ خدا کا جھو ٹی خبر دینا لازم آئے گااور اس کا علم، جہالت میں تبدیل ہو جائے گاجبکہ یہ محال ہے۔

یہ مسئلہ جبر و اختیار میں”علم خدا“کے حوالے سے مشہور اعتراض ہے کہ جس کا جواب ہمیشہ دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر ہم اپنے خود ساختہ افکار کو آیات پر حمل نہ کریں تو ان کے مفا ہیم روشن اور وا ضح ہیں ،یہ آیات کہتی ہیں کہ اس دن ایک گروہ اپنے کردار کے باعث شقی ہوگا اور خدا جانتا ہے کہ کون سے افراد اپنے کردار، خواہش اور اختیار سے سعادت کی راہ اپنائیں گے اور کونسے اپنے ارادہ سے راہ شقاوت پر گامزن ہوں گے، اس بنا پر اگر اس کے کہنے کے برخلاف لوگ یہ راہ منتخب کرنے پر مجبور ہوں تو علم خدا جہل ہوجائے گا کیونکہ سب کے سب اپنے ارادہ و اختیار سے اپنی راہ انتخاب کریں گے۔

ہماری گفتگو کی دلیل یہ ہے کہ مذکورہ آیات گزشتہ قوموں کے واقعات کے بعدنازل ہوئی ہیں، ان واقعات کے مطابق ان لوگو ں کی بڑی تعداد اپنے ظلم و ستم کی وجہ سے، حق و عدالت کے راستہ سے منحرف ہو نے کے باعث، شدید اخلاقی مفاسد کے سبب اور خدائی رہبروں کے خلاف جنگ کی وجہ سے اس جہان میںدرد ناک عذابوں میں مبتلاہوئی، یہ واقعات قرآن نے ہماری تربیت و رہنمائی کے لئے، راہ حق کو باطل سے جدا کرکے نمایاں کرنے کے لئے اور راہ سعادت کو راہ شقاوت سے جدا کرکے دکھانے کے لئے بیان کئے ہیں۔

اصولی طور پر جیسا کہ فخر رازی اور اس کے ہم فکر افراد خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم پر ذاتی سعادت و شقاوت کا حکم نافذ ہو اور ہم بغیر ارادہ و اختیار کے برائیوں اور نیکیوں کی طرف کھینچے جائیں تو تعلیم و تربیت لغو اور بے فائدہ ہو گی،انبیا ء کی بعثت ،کتب آسمانی کا نزول، پند و نصیحت، تشویق و توبیخ، سرزنش و ملامت مواخذہ و سوال غرض یہ سزا و جزا سب کچھ بے فائدہ یا ظالمانہ امور شمارہوں گے۔

انسان کو نیک و بد کی انجام دہی میں مجبور سمجھنے والے ،چاہے اس جبر کو جبر خدائی سمجھیں یا جبر طبیعی، چاہے جبر اقتصادی سمجھیں، یا جبر ماحول، صرف گفتگو اور کتابی دنیا تک اس مسلک کی طرفداری کرتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ خود بھی ہرگز یہ عقیدہ نہیں رکھتے، یہی وجہ ہے کہ اگر ان کے حقوق پر تجاوز ہو تو وہ زیادتی کرنے والے کو سرزنش، ملامت اور سزا کا مستحق سمجھتے ہیں اور اس بات کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوتے کہ اسے مجبور قرار دے کر اس سے صرف نظر کرلیں، یا اس کی سزا کو ظالمانہ خیال کریں یا کہیں کہ وہ یہ کام کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا چونکہ خدا نے ایسا ہی چاہا تھا یا ماحول اور طبیعت کا جبر تھا، چنانچہ یہ خود اصل اختیار کے فطری ہونے پر ایک دوسری دلیل ہے ۔

بہر حال ہمیں کوئی جبری مسلک والا ایسا نہیں ملتا جو اپنے روز مرہ کے کاموں میں اس عقیدہ کا پابند ہو بلکہ وہ تمام افراد سے ان کے آزاد، مسئول، جواب دہ اور مختار ہونے کے لحاظ سے ملتا اور پیش آتا ہے، دنیا کی تمام اقوام نے عدالتیں قائم کر رکھی ہیں، قوانین بنائے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں، عملی طور پریہ سب چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ ارادہ کی آزادی اور انسان کے مختار ہونے کو قبول کیا گیا ہے، دنیا کے تمام تربیتی ادارے ضمنی طور پر اس بنیادی نظریہ کو قبول کرتے ہیں کہ انسان اپنے میل و رغبت اور ارادہ و اختیار سے کام کرتا ہے، اور تعلیم و تربیت کے ذریعہ صرف اس کی رہنمائی کی جاسکتی ہے، اور اسے خطاؤں، غلطیوں اور کج فکریوں سے روکا جاسکتا ہے۔

۲ ۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ آیات میں ”شقوا“ فعل معروف اور ”سعدوا“فعل مجہول کی صورت میں آیا ہے، ہوسکتا ہے کہ تعبیر کا یہ اختلاف شاید اس لطیف نکتہ کی طرف اشارہ ہو کہ انسان راہ شقاوت کو اپنے قدموں سے طے کرتا ہے لیکن راہ سعادت پر چلنے کے لئے جب تک خدائی امداد اور تعاون نہ ہو اور اس راہ میں وہ اس کی نصرت نہ کرے اس وقت تک انسان کامیاب نہیں ہوتا، اس میں شک نہیں ہے کہ یہ امداد اور تعاون صرف ان لوگوں کے شامل حال ہوتا ہے جنھوں نے ابتدائی قدم اپنے ارادہ و اختیار سے اٹھائے ہوں اور اس طرح ایسی امداد کی اہلیت اور صلاحیت پیدا کرلی ہو۔ (غور کیجئے )(۲)

____________________

(۱) سورہ ہود ، آیت ۱۰۵

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۹، صفحہ ۲۳۶


۹۰ ۔ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟

جیسا کہ ہم قرآن مجید کے سورہ حجرات میں پڑھتے ہیں:( قَالَتِ الْاٴَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَکِنْ قُولُوا اٴَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیمَانُ فِی قُلُوبِکُمْ ) (۱) ”یہ بدو عرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے“

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟

مذکورہ آیت کے مطابق ”اسلام“ اور ”ایمان“ کا فرق یہ ہے کہ اسلام ظاہری قانون کا نام ہے اور جس نے کلمہ شہادتین زبان پر جاری کرلیا وہ مسلمانوں کے دائرہ میں داخل ہوگیا، اور اسلامی احکامات اس پر نافذ ہوں گے۔

لیکن ایمان ایک واقعی اور باطنی امر ہے، جس کا مقام انسان کا دل ہے نہ کہ اس کی زبان اور اس کا ظاہری چہرہ۔

”اسلام“ کے لئے انسان کے ذہن میں بہت سے مقاصد ہو سکتے ہیں یہاں تک مادی اور ذاتی منافع کے لئے انسان مسلمان ہوسکتا ہے، لیکن ”ایمان“ میں معنوی مقصد ہوتا ہے جس کا سر چشمہ علم و بصیرت ہوتی ہے، اور جس کاحیات بخش ثمرہ یعنی تقویٰ اسی کی شاخوں پر ظاہر ہوتا ہے۔

یہ وہی چیز ہے جس کے لئے پیغمبر اکرم (ص) نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے: ”الإسْلَامُ عَلَانِیَةَ ،وَالإیْمَانُ فِي الْقَلْبِ(۲) ”اسلام ایک ظاہری چیز ہے اور ایمان کی جگہ انسان کا دل ہے“۔

اور ایک دوسری حدیث میںحضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے : ”الإسْلَامُ یُحُقِّنُ بِهِ الدَمُ وَ تُودیٰ بِهِ الاٴمَانَةُ ،وَ تُسْتَحِلُّ بِهِ الفُرُوجِ ،وَالثَّوابُ عَلٰی الإیِمَانِ(۳) ’ ’اسلام کے ذریعہ انسان کے خون کی حفاظت، امانت کی ادائیگی ہوتی ہے اور اسی کے ذریعہ شادی کا جواز اپیدا ہوتا ہے اور(لیکن) ایمان پر ثواب ملتا ہے“۔

اور یہی دلیل ہے کہ کچھ روایات میں ”اسلام“ کا مفہوم صرف لفظی اقرار میں منحصر کیا گیا ہے جبکہ ایمان کو عمل کے ساتھ قرار دیا گیاہے: ”الإیِمَانُ إقَرارٌ وَ عَمَلٌ، وَالإسلامُ إقْرَارُ بِلَا عَمَلٍ(۴) ”ایمان ؛ اقرار و عمل کا نام ہے، جبکہ اسلام، بغیر عمل کے صرف اقرار کا نام ہے“۔

یہی معنی دوسرے الفاظ میں ”اسلام و ایمان“ کی بحث میں بیان ہوئے ہیں، فضل بن یسار کہتے ہیں: میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ”إنَّ الإیِمَانَ یُشَارِکُ الإسْلاَم وَ لا یُشَارِکْهُ الإسْلام ،إنَّ الإیْمَانَ مَا وَقرَ فِی القُلُوبِ، وَالإسْلاَمُ مَا عَلَیْهِ المَنَاکِحَ وَ المَوَارِیث وَ حُقِنَ الدِّمَاءُ(۵) (ایمان ؛ اسلام کے ساتھ شریک ہے، لیکن اسلام؛ ایمان کے ساتھ شریک نہیں ہے، (دوسرے الفاظ میں: ہر مومن مسلمان ہے لیکن ہر

مسلمان مومن نہیں ہے) ایمان؛ انسان کے دل میں ہوتا ہے، لیکن اسلام کی بنا پر نکاح، میراث اور جان و مال کے حفاظتی قوانین جاری ہوتے ہیں۔

اس مفہوم کا فرق اس صورت میں ہے کہ یہ دونوں الفاظ ایک ساتھ استعمال ہوں، لیکن اگر جدا جدا استعمال ہوں تو ممکن ہے کہ اسلام کے وہی معنی ہیں جو ایمان کے لئے ہیں، یعنی دونوں الفاظ ایک ہی معنی کے لئے استعمال ہوں۔(۶)

____________________

(۱)سورہ حجرات ، آیت ۱۴

(۲) مجمع البیان ، جلد ۹، صفحہ ۱۳۸

(۳) کافی ، جلد دوم، ”باب ان الاسلام یحقن بہ الدم“ حدیث ۱و۲

(۴) کافی ، جلد دوم، ”باب ان الاسلام یحقن بہ الدم“ حدیث ۱و۲

(۵) کافی ، جلد دوم ”باب ان الاسلام یحقن بہ الدم“ حدیث ۳

(۶) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۲۱۰


۹۱ ۔ جن ّ اور فرشتہ کی حقیقت کیا ہے؟

”جنّ“کی حقیقت (جیسا کہ جن کے لغوی معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ) ایک ایسی دکھائی نہ دینے والی مخلوق ہے جس کے لئے قرآن مجید میں بہت سے صفات بیان ہوئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

۱ ۔ ایک ایسی مخلوق ہے جو آگ کے شعلوں سے پیدا کی گئی ہے، انسان کی خلقت کے برخلاف جو مٹی سے خلق ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے:( وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ ) (۱) ”اور جنات کو آگ کے شعلوں سے پیدا کیا ہے“

۲ ۔ یہ مخلوق علم و ادراک، حق و باطل میں تمیز کرنے اور منطق واستدلال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے(سورہ جن کی مختلف آیات میں اس مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے)

۳ ۔ جنوں پر تکالیف اور ذمہ داریاں ہیں، (سورہ جن اور رحمن کی آیات کا مطالعہ کریں)

۴ ۔ ان میں سے بعض گروہ مومن اور صالح ہیں اور بعض گروہ کافر ہیں:( وَاٴَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَلِکَ ) (۲) ”اور ہم میں سے بعض نیک کردار ہیں اور بعض اس کے علاوہ ہیں“۔

۵ ۔ ان کا بھی قیامت میں حشر و نشر اور حساب و کتاب ہوگا:( وَاٴَمَّا الْقَاسِطُونَ فَکَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا ) (۳) ”اور نافرمان تو جہنم کے کندے ہوگئے ہیں “۔

۶ ۔ جن آسمانوں میں نفوذ کی قدرت رکھتے ہیں اور دوسروں کی باتوں کو سن لیا کرتے تھے، لیکن بعد میں ان کی یہ قدرت سلب کر لی گئی، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:( وَاٴَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ یَسْتَمِعْ الْآنَ یَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَصَدًا ) (۴) ”اور ہم پہلے بعض مقامات پر بیٹھ کر باتیں سن لیا کرتے تھے لیکن اب کوئی سننا چاہے گا تو اپنے لئے شعلوں کو تیار پائے گا“۔

۷ ۔جن ؛بعض انسانوں سے رابطہ برقرار کرلیتے ہیں اور بعض محدود اسرار سے مطلع ہونے کے بعد انسانوں کو اغوا کرلیتے ہیں:( وَاٴَنَّهُ کَانَ رِجَالٌ مِنْ الْإِنسِ یَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنْ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا ) (۵) اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات کے بعض لوگوں کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے تو انھوں نے گرفتاری میں اور اضافہ کر دیا“۔

۸ ۔ جنوں کے درمیان بہت سے بہت زیادہ طاقتور ہوتے ہیں، جیسا کہ بعض طاقتور لوگ انسانوں کے درمیان بھی ہوتے ہیں:( قَالَ عِفْریتٌ مِنْ الْجِنِّ اٴَنَا آتِیکَ بِهِ قَبْلَ اٴَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِکَ ) (۶) ”جنات میں سے ایک دیو نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ اپنی جگہ سے بھی نہ اٹھیں گے “۔

۹۔ جن؛ انسانوں کے بعض ضروری کاموں کو انجام دینے کی طاقت رکھتے ہیں: ( وَمِنْ الْجِنِّ مَنْ یَعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ یَعْمَلُونَ لَهُ مَا یَشَاءُ مِنْ مَحَارِیبَ وَتَمَاثِیلَ

وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ) (۷) ” اور جنات میں ایسے افراد بنا دئے جو خدا کی اجازت سے ان کے سامنے کام کرتے تھے یہ جنات سلیمان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا دیتے تھے جیسے محرابیں، تصویریں اور حوضوں کے برابر پیالے اور بڑی بڑی زمین میں گڑی ہوئی دیگیں“۔

۱۰ ۔ زمین پر ان کی خلقت انسانوں کی خلقت سے پہلے ہوچکی تھی:( وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ ) (۸) ”اور جنات کو اس سے پہلے زہیریلی آگ سے پیدا کیا“۔

(قارئین کرام!) ان کے علاوہ بھی جنوں کی دوسری خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔

جبکہ عوام الناس میں یہ بات مشہور ہے کہ جنات انسانوں سے بہترہیں، لیکن قرآنی آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان ، جنوں سے بہتر ہیں کیونکہ خداوندعالم نے جتنے بھی انبیاء اور مرسلین ہدایت کے لئے بھیجے ہیں وہ سب انسانوں میں سے تھے، اور انھیں میں سے پیغمبر اکرم (ص) بھی ہیں، ان پر جنوں کا ایمان تھا اور آپ کی اتباع و پیروی کی ، اسی طرح شیطان کا جناب آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنا جس کی وضاحت قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے، یہ جنوں کے سرداروں میں سے تھا، (سورہ کہف ، آیت نمبر ۵۰) یہ خود انسان کی فضیلت کی دلیل ہے۔

یہاں تک ان چیزوں کے بارے میں بیان ہوا ہے جو قرآن مجید میں اس دکھائی نہ دینے والی مخلوق کے بارے میں بیان ہوا ہے اور جو ہر طرح کے خرافاتی اور غیر علمی مسائل سے خالی ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ جاہل عوام الناس نے جنوں کے سلسلہ میں بہت سے خرافات گڑھ لئے ہیں جو عقل و منطق سے دور ہیں، اور اسی وجہ سے اس موجود کا ایک خرافاتی اور غیر منطقی چہرہ پیش کیا گیا کہ جس وقت لفظ ”جن“ زبان پر جاری کیا جاتا ہے تو اس کے سلسلہ میں چند خرافاتی چیزیں بھی ذہن میں آتی ہیں، منجملہ:عجیب و غریب اور وحشتناک شکل و صورت، دُمدار اور سُم دار موجود! آزار و اذیت پہچانے والے، حسد و کینہ رکھنے والے اور برا سلوک کرنے والے وغیرہ وغیرہ۔

حالانکہ اگر جنوں کو ان تمام خرافات اور بے بنیاد چیزوںسے الگ رکھا جائے تو اصل مطلب قابل قبول ہے ، کیونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ موجودات صرف وہی ہیں جس کو ہم دیکھ سکتے ہوں،اس سلسلہ میں علمااور دانشوروں کا کہنا ہے کہ جن موجودات کو ہم اپنے حواس کے ذریعہ درک کرسکتے ہیں وہ ان موجودات کے مقابلہ میں بہت کم ہیں جن کو ہم درک نہیں کرسکتے۔

ادھر چند سال پہلے تک کہ جب ذرہ بینی موجودات کشف نہیں ہوئی تھی، کسی کو یہ یقین نہیں ہوتا تھا کہ ایک قطرہ پانی یا ایک قطرہ خون میں ہزاروں زندہ موجودات پائے جاتے ہیں، جن کو انسان دیکھنے سے قاصر ہے۔اور اسی طرح دانشوروں کا کہنا ہے کہ ہماری آنکھیں محدود رنگوں کو دیکھ سکتی ہیں اور ہمارے کان صرف محدود آواز کو سن سکتے ہیں، جبکہ ہم جن رنگ اور آواز کو دیکھتے یا سنتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں، اور ہمارے دائرہ ادراک سے باہر ہیں۔

لہٰذا جب اس دنیا کی یہ حالت ہے تو کونسے تعجب کی بات ہے کہ اس جہان میں دوسری زندہ موجوات بھی ہوں جن کو ہم نہیں دیکھ سکتے، اور اپنے حواس کے ذریعہ درک نہیں کرسکتے، اور جب ایک سچی خبر دینے والے صادق پیغمبر اسلام (ص) نے خبر دی ہے تو پھر ہم اس کو کیوں نہ قبول کریں ؟

بہر حال ایک طرف قرآن کریم جنّات کے بارے میں مذکورہ خصوصیات کے ساتھ خبر دے رہا ہے اور دوسری طرف ان کے نہ ہونے پر کوئی عقلی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے، تو ہمیں قبول کرلینا چاہئے ، اور غلط تاویلات سے پرہیز کرنا چاہئے ، اسی طرح اس سلسلہ میں عوامی خرافات سے بھی اجتناب کرنا چاہئے۔

اس نکتہ پر توجہ کرنا چاہئے کہ کبھی کبھی جنّات کا اطلاق ایک وسیع مفہوم پر ہوتا ہے جن میں نظر نہ آنے والی کئی موجودات شامل ہیں، چاہے ہماری عقل ان کو درک کرے یا نہ کرے، یہاں تک کہ بعض وہ حیوانات جو آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں جو عام طور پر آشیانوں میں چھپے رہتے ہیں، اس وسیع معنی میں داخل ہیں۔اس بات پر پیغمبر اکرم (ص)سے منقول ایک حدیث شاہد ہے جس میں آنحضرت (ص) نے فرمایا: ”خداوندعالم نے جنوں کی پانچ قسم پیدا کی ہیں، ایک قسم وہ جو ہوا کی طرح دکھائی نہیں دیتے، دوسری قسم سانپ کی طرح، ایک قسم بچھووں کی طرح، ایک قسم زمین کے حشرات اور ایک قسم انسان کی طرح ہے جن کے لئے حساب و کتاب رکھا گیا ہے“۔(۹)

اس روایت اور اس کے وسیع مفہوم کے پیش نظر جنوں کے حوالہ سے بعض روایات اور واقعات میں بیان ہونے والی مشکلات حل ہوجاتی ہیں۔

مثال کے طور پر ہم حضرت علی علیہ السلام سے منقول روایات میں پڑھتے ہیں: ”لاتَشْرِبِ المَاءَ مِن ثلمةِ الإنَاءِ وَلا مِنْ عروَتِهِ فَإنَّ الشَّیْطَانَ یَقعَدُ عَلٰی العُروةِ وَالثلْمَةِ“ ”ٹوٹے ہوئے ظرف یا دستہ کی طرف سے پانی نہ پیو کیونکہ شیطان ٹوٹے ہوئے کنارے اور دستہ کی طرف بیٹھتا ہے۔

چونکہ ”شیطان“ بھی جنّاتمیں سے ہے، اور چونکہ ظرف کا ٹوٹا ہوا حصہ اور دستے کی طرف جراثیم ہوتے ہیں، لیکن بعید از نظر دکھائی دیتا ہے کہ ”جنّات اور شیطان“ ، ”عام معنی“ کے لحاظ اس طرح کی موجودات کو بھی شامل ہوجائے، اگرچہ خاص معنی رکھتے ہیں یعنی (جنّات) ایسی موجود کو کہا جاتا ہے جن کے یہاں فہم و شعور اور ذمہ داری و فرائض ہوتے ہیں۔

اس سلسلہ میں اور بہت سی روایات موجود ہیں۔(۱۰)(۱۱)

فرشتہ کی حقیقت :

جیسا کہ ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ بہت سے مقامات پر ملائکہ اور فرشتوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔

قرآن کریم کی بہت سی آیات میں ملائکہ کی صفات، خصوصیات ،ان کے کام اور ذمہ داریاں بیان ہوئی ہیں یہاں تک کہ ملائکہ پر ایمان رکھنے کو؛ خدا، انبیاء اور آسمانی کتابوں کی صف میں قرار دیا گیا ہے، جو اس مسئلہ کی اہمیت کی دلیل ہے:( آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَیْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلاَئِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ ) (۱۲)

”رسول ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو اس پر نازل کی گئی ہیں اور سب مومنین بھی اللہ اور ملائکہ اور مرسلین پر ایمان رکھتے ہیں“۔

بے شک فرشتوں کا وجود ”غیبی“ چیزوں میں سے ہے جن کو ان صفات اور خصوصیات کے ساتھ پہچاننے کے لئے صرف قرآن و روایات ہی کو دلیل بنایا جاسکتا ہے، اور غیب پر ایمان لانے کے حکم کی وجہ سے ان کو قبول کیا جانا چاہئے۔

۱ ۔ فرشتے ؛ صاحب عقل و شعور اور خدا کے محترم بندے ہیں، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:( بَلْ عِبَادٌ مُکْرَمُوْنَ ) (۱۳) ” بلکہ وہ سب اس کے محترم بندے ہیں“۔

ملائکہ؛ خداوندعالم کے حکم کی فوراً اطاعت کرتے ہیں اور کبھی بھی اس کی معصیت نہیں کرتے:( لاٰ یَسْبَقُوْنَهُ بِالْقُوْلِ وَهُمْ بِاٴَمْرِهِ یَعْمَلُوْنَ ) (۱۴) ”جو کسی بات پر اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور اس کے احکام پر برابر عمل کرتے ہیں“۔

۳ ۔ ملائکہ؛ خداوندعالم کی طرف سے مختلف قسم کی بہت سی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں:

ایک گروہ ؛ عرش کو اٹھائے ہوئے ہے۔ (سورہ حاقہ ، آیت ۱۷)

ایک گروہ ؛ مدبرات امر ہے۔ (سورہ نازعات ، آیت ۵)

ایک گروہ ؛ قبض روح کرتا ہے۔ (سورہ اعراف ، آیت ۳۷)

ایک گروہ ؛ انسان کے اعمال کا نگراں ہے۔ (سورہ انفطار ، آیت ۱۰ تا ۱۳)

ایک گروہ ؛ انسان کو خطرات اور حوادث سے محفوظ رکھتا ہے۔ (سورہ انعام ، آیت ۶۱) ایک گروہ؛ سرکش اقوام پر عذاب نازل کرتا ہے۔ (سورہ ہود ، آیت ۷۷) اور ایک گروہ ؛ جنگوں میں مو منین کی امداد کرتا ہے ۔(سورہ احزاب ، آیت ۹) اور بعض گروہ انبیاء علیہم السلام پر وحی اور آسمانی کتابیں نازل کرنے والے ہیں۔ (سورہ نحل، آیت ۲)

کہ اگر ہم ان کے ایک ایک کام اور ذمہ داری کو شمار کرنا چاہیں تو بحث طولانی ہوجائے گی۔

۴ ۔ ملائکہ؛ ہمیشہ خداوندعالم کی تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَالْمَلاَئِکَةُ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَیَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِی الْاٴَرْض ) (۱۵)

”اور ملائکہ بھی اپنے پروردگار کی حمد کی تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں استغفار کر رہے ہیں“۔

۵ ۔ان تمام چیزوں کے باوجود انسان استعداد اور تکامل و ترقی کے لحاظ سے ان سے بلند و برتر ہے یہاں تک کہ سب فرشتوں نے جناب آدم کو سجدہ کیا اور جناب آدم علیہ السلام ان کے معلم قرار پائے۔ (سورہ بقرہ ، آیت ۳۰ تا ۳۴)

۶ ۔ ملائکہ؛ کبھی کبھی انسان کی صورت میں آجاتے ہیں اور انبیاء بلکہ غیر انبیاء کے سامنے ظاہر ہوجاتے ہیں، جیسا کہ سورہ مریم میں پڑھتے ہیں:( فَاٴَرْسَلْنَا إِلَیْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا ) (۱۶) ”تو ہم نے اپنی روح(جبرا ئیل) کو بھیجا جو ان کے سامنے ایک اچھا خاصا آدمی بن کر پیش ہوا“۔

ایک دو سرے مقام پر جنا ب ابراہیم اور جناب لوط کے سامنے انسانی صورت میں آئے۔ (سورہ ہود ، آیت ۶۹ و ۷۷)

یہاں تک کہ درج ذیل آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قوم لوط نے ان کو انسانی شکل و صورت میں دیکھا تھا۔ (سورہ ہود ، آیت ۷۸)

کیا انسانی شکل و صورت میں ظاہر ہونا ایک حقیقت ہے؟ یا صرف خیالی اور سمجھنے کی حد تک؟ قرآن مجید کی آیات سے پہلے معنی ظاہر ہوتے ہیں، اگرچہ بعض مفسرین نے دوسرے معنی مراد لیتے ہیں۔

۷ ۔ اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ کسی بھی انسان سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں پڑھتے ہیں: جس وقت امام علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ فرشتوں کی تعداد زیادہ ہے یا انسانوں کی؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”قسم اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، زمین میں مٹی کے ذرات سے کہیں زیادہ آسمان میں فرشتوں کی تعداد ہے، آسمان میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں پر کسی فرشتہ نے خداوندعالم کی تسبیح و تقدیس نہ کی ہو“۔(۱۷)

۸ ۔ وہ نہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ پانی پیتے ہیں، اور نہ ہی شادی کرتے ہیں، جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بیان ہو اہے: ”فرشتے نہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ پانی پیتے ہیں اور نہ ہی شادی کرتے ہیں بلکہ نسیم عرش الٰہی کی وجہ سے زندہ ہیں“۔(۱۸)

۹ ۔ وہ نہ سوتے ہیں ،نہ سستی اور غفلت کا شکار ہوتے ہیں، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ہو اہے ”ان میں سستی ہے اور نہ غفلت، اور وہ خدا کی نافرمانی نہیں کرتے ان کو نیند بھی نہیں آتی ان کی عقل کبھی سہو و نسیان کا شکار نہیں ہوتی، ان کا بدن سست نہیں ہوتا، اور وہ صلب پدر اور رحم مادر میں قرار نہیں پاتے۔(۱۹)

۱۰ ۔ ان کے مختلف مقامات اور مختلف درجات ہوتے ہیں، ان میں بعض ہمیشہ رکوع میں رہتے ہیں اور بعض ہمیشہ سجدہ کی حالت میں:

( وَمَا مِنَّا إِلاَّ لَهُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّون وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ ) (۲۰)

”اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک مقام معین ہے اور ہم اس کی بارگاہ میں صف بستہ کھڑے ہونے والے ہیں اور ہم اس کی تسبیح کرنے والے ہیں“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: خداوندعالم نے کچھ فرشتوں کو ایسا خلق کیا ہے جو روز قیامت تک رکوع میں رہیں گے اور بعض فرشتے ایسے ہیں جوقیامت تک سجدہ کی حالت میں رہیں گے۔۲۱)(۲۲)

اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ تمام فرشتے ان تمام اوصاف کے ساتھ مجرد موجود ہیںیا مادی؟! اس میں شک نہیں ہے کہ یہ تمام صفات کسی مادی عنصر کے نہیں ہوسکتے، لیکن ان کے ”لطیف اجسام “سے پیدا ہونے میں کوئی مانع بھی نہیں ہے، جو اس معمولی مادہ سے مافوق ہو۔

فرشتوں کے لئے ”مطلق طور پر مجرد“ یہاں تک کہ زمان ومکان اور اجزا سے بھی مجرد ہونے کا اثبات کوئی آسان کام نہیں ہے اور اس سلسلہ میں تحقیق کرنے کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ ہم فرشتوں کو قرآن میں بیان ہوئے اوصاف کے ذریعہ پہچانیں، اور ان کو خداوندعالم کی بلند و بالا مخلوق مانیں، اور ان کے لئے صرف مقام بندگی و عبادت کے قائل ہوں،اور ان کو خداوندعالم کے ساتھ خلقت یا عبادت میں شریک نہ مانیں، اور اگر کوئی ان کو شریک مانے گا تو یہ شرک اور کفر ہوگا۔

فرشتوں کے سلسلہ میں ہم اتنی بحث و گفتگو کو کافی سمجھتے ہیں اور تفصیلی بحث کے لئے اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں کامطالعہ فرمائیں۔ توریت میں بہت سے مقامات پر فرشتوں کو ”خدا“ کہا گیا ہے جو نہ صر ف یہ کہ شرک ہے بلکہ اس وقت کی توریت میں تحریف کی دلیل ہے، لیکن قرآن مجید اس طرح کے الفاظ سے پاک و منزہ ہے، کیونکہ قرآن میں صرف ان کے لئے مقام بندگی، عبادت اور حکم خدا کی تعمیل کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانِ کامل کا درجہ فرشتوں سے بلند و بالا ہے۔(۲۳)

____________________

(۱) سورہ رحمن ، آیت ۱۵ (۲) سورہ جن ، آیت ۱۱ (۳) سورہ جن ، آیت ۱۵

(۴)سورہ جن ، آیت ۹

(۵)سورہ جن ، آیت ۶

(۶) سورہ نمل ، آیت ۳۹

(۷) سورہ سبا، آیت ۱۲۔۱۳ (۸) سورہ حجر ، آیت ۲۷(۹) سفینة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۱۸۶(مادہ جن)

(۱۰) کتاب ”کافی“، جلد ۶، صفحہ ۳۸۵ ،() کتاب الاطعمة والاشربة،باب الاوانی،حدیث۵

(۱۱) اولین درسگاہ آخرین پیامیر ، جلد اول میں تقریبا ً۲۳ روایتیں اس سلسلہ میں بیان ہوئی ہیں

(۱۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۵، صفحہ ۱۵۴

(۱۳) سورہ بقرہ ، آیت ۲۸۵ (۱۴) سورہ انبیاء ، آیت ۲۶

(۱۵) سورہ انبیاء ، آیت ۲۷

(۱۶) سورہ شوریٰ ، آیت ۵(۱۷) سورہ مریم ، آیت ۱۷(۱۸) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۱۷۶ (حدیث ۷) ، اس کے علاوہ اور بہت سی دوسری روایتیں اس بارے میں نقل ہوئی ہیں (۱۹) بحار الانوار، جلد ۵۹، صفحہ ۱۷۴ (حدیث ۴)

۱۹) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۱۷۵

(۲۰) سورہ صافات ، آیت ۱۶۴۔ ۱۶۶

(۲۱) بحار الانوار ، جلد۵۹، صفحہ ۱۷۴

(۲۲)ملائکہ کے اوصاف اور ان کی اقسام کے سلسلہ میں کتاب ”السماء و العالم“، بحار الانوار ”ابواب الملائکہ“ (جلد ۵۹ صفحہ ۱۴۴ تا ۳۲۶ پر رجوع فرمائیں، اسی طرح نہج البلاغہ خطبہ نمبر ا، ۹۱، ۱۰۹، ۱۷۱ /پر رجوع فرمائیں

(۲۳) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۸، صفحہ ۱۷۳


۹۲ ۔ رجعت کیا ہے اور کیا اس کا امکان پایا جاتا ہے؟

”رجعت“ ؛ شیعوں کا معروف عقیدہ ہے اور ایک مختصر جملہ میں اس کے معنی یہ ہیں: ”امام زمانہ (ع) کے ظہور کے بعد اور روز قیامت سے پہلے ”خالص مومنین“ کا ایک گروہ اور ”کفار اور بہت سرکش و شریر لوگوں کا ایک گروہ“ اس دنیا میں لوٹایا جائے گا، پہلا گروہ (یعنی مومنین) کمال کی منزلوں کو طے کرے گا اور دوسرا گروہ بہت سخت سزا پائے گا“۔

جلیل القدر شیعہ عالم دین ”سید مرتضی“ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”امام مہدی (ع) کے ظہور کے بعد خداوندعالم بہت سے لوگوں کو مر نے کے بعد پھر اس دینا میں پلٹائے گا، تاکہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی مدد کا افتخار اور ثواب حاصل کریں ، عالمی حکومت حق (و عدالت) میں شریک ہوں، اور اسی طرح سخت ترین دشمنوں کو بھی اس دنیا میں لوٹا ئے گا تاکہ ان سے انتقام لیا جاسکے۔

اس کے بعد موصوف مزید بیان کرتے ہیں: اس عقیدہ کے صحیح ہونے پر دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی عاقل اس کام پر خدا کی قدرت سے انکار نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ مسئلہ کوئی محال کام نہیں ہے، حالانکہ ہمارے بعض مخالفین اس موضوع کا اس طرح انکار کرتے ہیں کہ گویا یہ کام محال اور غیر ممکن ہے۔

اس کے بعدسید بزر گوار فرماتے ہیں: اس عقیدہ کی دلیل” فرقہ امامیہ کا اجماع“ ہے، کیونکہ اس عقیدہ میں کسی نے بھی مخالفت نہیں کی ہے۔(۱)

اگرچہ بعض قدیم شیعہ علمااور اسی طرح مرحوم طبرسی صاحب مجمع البیان کی گفتگو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بہت ہی کم شیعہ علمانے اس عقیدہ کی مخالفت کی ہے، اور ”رجعت“ کے معنی ”حکومت اہل بیت علیہم السلام کی بازگشت “کئے ہیں، نہ لوگوں کی بازگشت اور مردوں کا زندہ ہونا، لیکن ان افراد کی مخالفت کچھ اس طرح ہے جس سے اجماع پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہاں پر بہت سی بحثیں ہیں لیکن ہم ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

۱ ۔ بے شک اس دنیا میں مردوں کا زندہ ہونا کوئی محال کام نہیں ہے، جیسا کہ قیامت میں تمام انسانوں کا زندہ ہونا مکمل طور پر ممکن ہے، اور اس (رجعت) پر تعجب کرنا گویا زمانہ جاہلیت میں قیامت کے مسئلہ پر تعجب کی طرح ہے ، اس کا مذاق اڑانا، مشرکین کا قیامت کے مذاق اڑانے کی طرح ہے ،کیونکہ عقل اس طرح کے کام کو محال نہیں مانتی، اور خدا کی وسیع قدرت کے سامنے یہ کام بہت آسان ہے۔

۲ ۔ قرآن مجید میں اجمالی طور پر گزشتہ امتوں کے پانچ مواقع پر ”رجعت“ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

الف۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ایک بنی کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: یا اس بندہ (نبی) کی مثال جس کا گزر ایک قریہ سے ہوا جس کے سارے ستون اور چھتیں گرچکی تھیں تو اس بندہ نے کہا کہ خداان سب کو موت کے بعد کس طرح زندہ کرے گا؟ تو خدا نے اس بندہ کو سو سال کے لئے موت دیدی اور پھر زندہ کیا او ر پوچھا کہ کتنی دیر پڑے رہے؟ تو اس نے کہا کہ ایک دن یا اس سے کچھ کم، فرمایا: نہیں، سو سال، ذرا اپنے کھانے اور پینے کو تو دیکھو کہ خراب تک نہیں ہوا اور اپنے گدھے پر نگاہ کرو (کہ سڑ گل گیا ہے) اور ہم اسی طرح تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں(سورہ بقرہ ، آیت ۲۵۹)

اس نبی کا نام عزیر تھا یا کچھ اور ،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اہم بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ وہ موت کے بعد اسی دنیا میں دوبارہ زندہ ہوئے۔( فَاٴَمَاتَهُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ )

ب۔ قرآن کریم کے سورہ بقرہ میں ان لوگوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے: ”جو ہزاروں کی تعداد میں موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل پڑے (اور بعض مفسرین کے قول کے مطابق یہ لوگ طاعون کی بیماری کا بہانہ بنا کر میدان جہاد میں جانا نہیں چا ہتے تھے )اور خدا نے انھیں موت کا حکم دیدیا اور پھر زندہ کردیا:( فَقَالَ لَهُمْ اللهُ مُوتُوا ثُمَّ اٴَحْیَاهُمْ ) (۲)

اگرچہ اس غیر معمولی واقعہ کو ہضم نہ کرنے والے مفسرین نے اس کو صرف ایک مثال شمار کیا ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس طرح کے الفاظ؛ ظہور بلکہ آیت کی صراحت کے مقابل ، قابل قبول نہیں ہیں۔

ج۔ سورہ بقرہ کی آیات میں ”بنی اسرائیل“ کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ دیدار خدا کے تقاضا کے بعد ان لوگوں پر ہلاک کرنے والی بجلی گری اور وہ لوگ مرگئے، اس کے بعد خدا نے ان کو زندہ کیا تاکہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں:( ثُمَّ بَعَثْنَاکُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ) (۳) ” پھر ہم نے تمہیں موت کے بعد زندہ کردیا کہ شاید اب شکر گزار بن جاؤ“۔

د۔ سورہ مائدہ ، آیت نمبر ۱۱۰ میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو شمار کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے:( وَإذَا تَخْرجُ المَوتٰی بِاذنِي ) ”تم مردوں کو میرے حکم سے زندہ کرتے تھے“۔

یہ الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اپنے اس معجزہ (یعنی مردوں کو زندہ کرنے) سے فائدہ اٹھاتے تھے، بلکہ آیت میں ”تخرج“ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو تکرار پر دلیل ہے اور یہ خود رجعت کی ایک قسم شمار ہوتی ہے۔

ھ۔ اور آخر ی موقع سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۷۳ میں بنی اسرائیل کے مقتول کے بارے میں بیان ہوا کہ جب بنی اسرائیل میں اس کے قاتل کی پہچان کےسلسلہ میں اختلاف ہوا، چنا نچہ اس سلسلہ میں قرآن کا ارشاد ہے:( فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا کَذَلِکَ یُحْیِ اللهُ الْمَوْتَی وَیُرِیکُمْ آیَاتِهِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ ) ”تو ہم نے کہا کہ مقتول کو گائے کے ٹکڑے سے مس کردو ،خدا اسی طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے کہ شاید تمہیں عقل آجائے“۔

ان پانچ موارد کے علاوہ قرآن مجید میں اور دیگر واقعات ملتے ہیں جیسا کہ اصحاب کہف کا واقعہ جو تقریباً ”رجعت“ سے مشابہ ہے، اسی طرح جناب ابراہیم علیہ السلام کا چار پرندوں کو ذبح کرنا اور ان کا دوبارہ زندہ ہونا، تاکہ انسانوں کے لئے قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کا تصور مجسم ہوجائے، یہ واقعہ بھی رجعت کے سلسلہ میں قابل توجہ ہے۔

اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی قرآن مجید پر ایک آسمانی کتاب کے عنوان سے عقیدہ رکھتا ہو،لیکن ان تمام آیات کے پیش نظر رجعت کے امکان کا منکر ہوجائے؟ کیا رجعت کے معنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے علاوہ کچھ اور ہیں؟

کیا اسی دنیا میں قیامت کا ایک نمونہ رجعت نہیں ہے؟

جو شخص قیامت کو اس کی تفصیل کے ساتھ مانتا ہے تو پھر ایسے شخص کے لئے رجعت کا انکار کرنا یا اس کا مذاق اڑانا یا احمد امین مصری کی طرح کتاب ”فجر الاسلام“ میں کہنا کہ ”الیَھُودِ یَّةُ ظَھرَتْ بِالتَّشیُّعْ بِالقُولِ بِالرَّجْعَةِ“(۴) ”یہودیت کا ایک دوسرا رخ شیعوں کے لباس میں ”رجعت“ کے عقیدہ کے ساتھ ظاہر ہوا ہے“واقعا ً جائے تعجب ہے ۔

احمد امین کے اس قول اور دور جاہلیت کے مشرکین کے جسمانی معاد کے انکار میں کیا فرق ہے ؟!

۳ ۔ یہاں تک جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے ”رجعت“ کا ممکن ہونا ثابت ہوجاتا ہے، اور رجعت کے واقع ہونے کی تائید کر نے والی بہت سی روایات ہیں جن کو ائمہ معصومین علیہم السلام سے بہت سے موثق راویوں نے نقل کیا ہے، اور چونکہ ہم یہاں پر ان تمام کو نقل نہیں کرسکتے ، لیکن صرف ان کے اعدادو شمار کو نقل کرتے ہیں جیسا کہ علامہ مجلسی علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں:

”کس طرح ممکن ہے کہ کوئی اہل بیت علیہم السلام کی صداقت پر ایمان رکھتا ہو لیکن رجعت کے بارے میں متواتر احادیث کو قبول نہ کرے؟ بہت ہی واضح احادیث جن کی تعداد تقریباً دو سو ہے اور تقریباً چالیس موثق راویوں اور علمانے نقل کی ہیں ،اور پچاس سے زیادہ کتابوں میںوارد ہوئی ہیں اگر یہ حدیث متواتر نہیں ہے تو پھر کون سی حدیث متواتر ہو سکتی ہے؟!(۵)(۶)

رجعت کا فلسفہ

اسلامی روایات کے پیش نظر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رجعت سب لوگوں کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہ اعمال صالحہ انجام دینے والے مومنین کے لئے ہے جو ایمان کے بلند درجہ پر فائز ہیں، اور اسی طرح ان ظالم و سرکش کفار کے لئے ہے جو کفر و ظلم میں غرق ہیں۔

ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں دوبارہ زندگی مومنین کے لئے کمال کے درجات حاصل کرنے کے لئے ہے اور دوسرے گروہ کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ہے۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ وہ مخلص مومنین جو معنوی کمال حاصل کرنے میں موانع اور مشکلات سے دوچار ہوگئے تھے اور ان کی معنوی ترقی نامکمل رہ گئی تھی تو حکمت الٰہی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایسے مومنین کودوبارہ زندگی دی جائے اور وہ کمال کی منزلوں کو مکمل کریں، حق و عدالت کی عالمی حکومت کو دیکھیں، اور اس حکومت میں شریک ہوں کیونکہ ایسی حکومت میں شریک ہونا ہی بہت بڑا افتخار ہے۔

ان کے برخلاف کفار و منافقین اور بڑے بڑے ظالم و جابر روزِ قیامت عذاب کے علاوہ اس دنیا میں بھی سزا بھگتیں گے جیسا کہ گزشتہ سرکش اقوام جیسے قومِ فرعون ، قومِ عاد، قومِ ثمود اور قومِ لوط اپنے کیفر کردار تک پہنچی ہیں، اور یہ صرف رجعت کی صورت میں ممکن ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”إنَّ الرَّجْعةَ لَیْسَتْ بِعَامَةٍ، وَهِیَ خَاصَّةٍ لَا یَرْجعُ إلّاَ مَنْ مَحضَ الإیمَانُ مَحْضاً، اٴوْ مَحضَ الشِّرْکِ مَحَضا ً“(۷) ” رجعت عام نہیں ہوگی بلکہ خاصہوگی، رجعت صرف انھیں افراد کے لئے ہے جو خالص مومن یا جو خالص مشرک ہیں“۔

ممکن ہے کہ سورہ انبیاء کی آیت نمبر ۹۵ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ ارشاد ہواہے:( وَحَرَامٌ عَلٰی قَرْیَةٍ اٴَهْلَکْنَاهَا اٴَنَّهُمْ لاَیَرْجِعُونَ ) ”اور جس بستی کو ہم نے تباہ کر دیا ہے اس کے لئے بھی نا ممکن ہے کہ قیا مت کے دن ہمارے پا س پلٹ کر نہ آئے“کیونکہ نہ لوٹایا جانا انھیں لوگوں کے بارے میں ہے جو اسی دنیا میں اپنے کیفر کردار تک پہنچ چکے ہیں، اور اس سے یہ بھی

روشن ہوجاتا ہے کہ جو لوگ اس طرح کے عذاب میں مبتلا نہیں ہوئے ہیں ان کو دوبارہ اس دنیا میں لوٹا کر ان کو سزا دی جائے گی۔ (غور کیجئے )

یہاں یہ بھی احتمال پایا جاتا ہے کہ ان دو جماعتوں کی بازگشت تاریخ بشریت کے اس خاص زمانہ میں (قیامت کے لئے ) دو عظیم درس اور عظمت خدا کی دو نشانیاں ہوں گی ،تاکہ مو منین ا ن کو دیکھنے کے بعد معنوی کمال اور ایمان کے بلند درجات تک پہنچ جائیں اور کسی طرح کی کوئی کمی باقی نہ رہ جائے۔(۸)

____________________

(۱) سفینة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۵۱۱ (مادہ رجع)

(۲)سورہ بقرہ ، آیت ۲۴۳

(۳)سورہ بقرہ ، آیت ۵۶

(۴) ”عقائد الامامیہ “شیخ محمد رضا المظفر صفحہ ۷۱

(۵) بحار الانوار ، جلد ۵۳، صفحہ ۱۲۲

(۶) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۵، صفحہ ۵۵۵

(۷) بحار الانوار ، جلد ۵۳، صفحہ ۳۹

(۸) تفسیر نمونہ ، جلد۱۵، صفحہ ۵۵۹


۹۳ ۔ توکل کی حقیقت اور اس کا فلسفہ کیا ہے؟

”توکل“ در اصل ”وکالت“ سے مشتق ہے، اور وکیل انتخاب کرنے کے معنیٰ میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک اچھا وکیل وہی ہے جو کم از کم چار صفات کا حامل ہو۔

۱ ۔ضروری معلو مات۔

۲ ۔ امانت داری ۔

۳ ۔ طاقت و قدرت۔

۴ ۔ ہمدردی ۔

شاید اس بات کو بیان کرنے کی ضرورت نہ ہو کہ مختلف کاموں کے لئے ایک مدافع وکیل کا انتخاب اس مو قع پر ہو تا ہے جہاں انسان ذاتی طور پر دفاع کرنے پر قادر نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ وہ اس موقع پر دوسرے کی قوت سے فائدہ حاصل کرتا ہے اور اس کی طاقت و صلاحیت کے ذریعہ اپنی مشکل حل کرتا ہے۔

لہٰذا خدا پر تو کل کرنے کا اس کے علاوہ کوئی اور مفہوم نہیں ہے کہ انسان زندگی کی مشکلات و حوادث ،مخالفین کی دشمنیوں اور سختیوں، پیچیدگیوں اور کبھی اہداف کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو خوددور کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے اپنا وکیل قراردے اور اس پر بھروسہ کرے اور خود بھی ہمت اور کوشش کرتارہے بلکہ جہاں کسی کام کوخود انجام دینے کی طاقت رکھتا ہو وہاں بھی موثر حقیقی ،خدا ہی کو مانے کیونکہ اگر ایک موحّد کی چشم بصیرت سے دیکھا جائے تو تمام قدرتوں اور قوتوں کاسر چشمہ وہی ہے۔

تَوَکَّل عَلَی الله “ کانقطئہ مقابل یہ ہے کہ اس کے غیر پر بھروسہ کیاجائے، یعنی کسی غیر کے سہارے پر جینا، دوسرے سے وابستہ ہونا اور اپنی ذات میں استقلال و اعتماد سے عاری ہونا۔

علمائے اخلاق کہتے ہیں کہ توکل،براہ راست خدا کی توحید افعالی کا نتیجہ ہے کیو نکہ جیسے ہم نے کہا ہے کہ ایک موحّد کی نظر میں ہر حرکت، ہر کوشش، ہر جنبش اور اسی عالم میں ہر چیز آخر کار اس جہان کی پہلی علت یعنی ذات خدا سے ارتباط رکھتی ہے، لہٰذا ایک مو حّد کی نگاہ میں تمام طاقتیں اور کامیابیاں اسی کی طرف سے ہیں۔

توکل کا فلسفہ

( قا رئین کرام ! ) ہماری مذ کورہ گفتگو پر تو جہ کرنے سے معلوم ہو جا تا ہے:

اولا:”تَوَکَّل عَلَی الله “ زندگی کے سخت واقعات و مشکلات میں اس نا قابل فنا مرکز قدرت پر توکل انسان کی استقامت و مقاومت کا سبب بنتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں نے میدان احد میں سخت ضرب کھائی اور دشمن میدان چھوڑ نے کے بعد دو بارہ پلٹ آئے تاکہ مسلمانوں پر آخر ی ضرب لگائیں اور یہ خبر مسلمانوں کو پہنچی تو اس موقع پر قرآن کہتا ہے کہ صاحب ایما ن افراد اس خطر ناک لمحہ میں وحشت زدہ نہ ہوئے جب کہ وہ اپنی فعّال قوت کا ایک اہم حصہ کھو چکے تھے بلکہ ”توکل “ اور قوتِ ایمانی نے ان کی استقامت میں اضافہ کردیا اور فاتح دشمن اس آ مادگی کی خبر سنتے ہی تیزی سے پیچھے ہٹ گیا (سورہ آل عمران ، آیت ۱۷۳)

توکل کے سائے میں اس استقامت کے نمونے متعدد آیات میں نظر آتے ہیں، ان میں سے سورہ آل عمران کی ، آیت ۱۲۲ میں قرآن مجیدکہتا ہے :توکل علی اللہ نے مجاہدین کے دو گرو ہوں کو میدان جہاد میں سستی سے بچایا۔

سورہ ابراہیم کی ، آیت نمبر ۱۲ / میں دشمن کے حملوں اور نقصانات کے مقابل میں توکل اور صبر کا با ہم ذکر ہوا ہے۔

آل عمران کی آیت ۱۵۹ / میں اہم کاموں کی انجام دہی کے لئے پہلے مشورہ اس کے بعد پختہ ارادہ اور پھر ”تَوَکَّل عَلَی الله “ کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ قرآن کہتا ہے :

( إِنَّهُ لَیْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَلَی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ ) (۱)

”شیطان ہرگز لوگوں پر غلبہ نہیں پاسکتا جو صاحبان ایمان ہیں اور جن کا اللہ پر توکل اور اعتماد ہے“۔

ان آیات سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکلتاہے کہ شدید مشکلات میں انسان ضعف اور کمزوری محسوس نہ کرے بلکہ اللہ کی بے انتہا قدرت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو کامیاب اور فاتح سمجھے، گویا توکل امید آفریں، قوت بخش، تقویت پہچانے والا اور استقامت میں اضافہ کرنے کا باعث ہے، توکل کا مفہوم اگر گوشہ نشینی اختیار کرنا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا ہوتا تو مجاہدین اور اس قسم کے لوگوں میں تحریک پیدا کرنے کا باعث نہ بنتا۔

اگر کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عالم اسباب اور طبیعی عوامل کی طرف توجہ روح ِ توکل سے مناسبت نہیں رکھتی تووہ انتہائی غلط فہمی میں مبتلا ہیں، کیونکہ طبیعی عوامل کے اثرات کو ارادہ الٰہی سے جدا کرنا ایک طرح کا شرک ہے، کیا ایسا نہیں ہے ،کہ عواملِ طبیعی کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی کا ہے اور سب کچھ اسی کے ارادہ اور فرمان کے تحت ہے، البتہ اگر عوامل کو ایک مستقل طاقت سمجھا جائے اور انھیں اس کے ارادہ کے مد مقابل قرار دیا جائے تو یہ چیز روحِ توکل سے مطابقت نہیں رکھتی۔

یہ توکل کی ایسی تفسیر کرنا کیسے ممکن ہے جبکہ خود متوکلین کے سید وسردار پیغمبر اکرم (ص) اپنے اہداف کی ترقی کے لئے کسی موقع پر، صحیح منصوبہ، مثبت ٹکنیک اور مختلف ظاہری وسائل سے غفلت نہیں برتتے تھے۔

یہ سب چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ توکل کا منفی مفہوم نہیں ہے۔

ثانیاً: ”تَوَکَّل عَلَی الله “ انسان کو ان وابستگیوں سے نجات دلاتا ہے جو ذلت و غلامی کا سر چشمہ ہیں اور اسے آزادی اور خود اعتمادی عطا کرتا ہے۔

”توکل “ اور ”قناعت“ ہم ریشہ ہیں اور فطرتاً ان دونوں کا فلسفہ بھی کئی پہلوؤں سے ایک دوسرے سے مشباہت رکھتا ہے، اس کے باوجود ان میں فرق بھی ہے یہاں ہم چند اسلامی روایات پیش کرتے ہیں جن سے توکل کا حقیقی مفہوم اور اصلی بنیاد واضح ہوسکے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے: ”إنَّ الغِنَا وَالْعِزَ یَجُولانِ فَإذَا ظَفَرَا بِمُوضَعِ التَّوَکّل وَطَنا(۲) ”بے نیازی اور عزت محو جستجو رہتی ہیں جہاں توکل کو پالیتی ہیں وہیں ڈیرے ڈال دیتی ہے اور اسی مقام کو اپنا وطن بنا لیتی ہیں“۔

اس حدیث میں بے نیازی اور عزت کا اصلی وطن ”توکل“ بیان کیا گیا ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

”جب بندہ اس حقیقت سے آگاہ ہوجاتا ہے کہ مخلوق اس کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ فائدہ ، تو وہ مخلوق سے توقع اٹھا لیتا ہے تو پھر وہ خدا کے علاوہ کسی کے لئے کام نہیں کرتا، اور اس کے سوا کسی سے اُمید نہیں رکھتا ہے ، اور یہی حقیقت توکل ہے“۔(۳)

کسی نے حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے سوال کیا: ”مَا حَدُّ التَّوَکُّل “(توکل کی حد کیا ہے؟):تو آپ نے فرمایا: ”إنّ لَاتَخَافَ مَعَ اللّٰهِ اٴحداً(۴) ”خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی سے نہ ڈرو“۔(۵)(۶)

____________________

(۱) سورہ نحل ، آیت ۹۹

(۲) اصول کافی ، جلد دوم،بَابُ التَّفْوِیضِ إلَی اللهِ وَالتَّوَکُّل عَلَیهِ ، حدیث۳

(۳) بحار الانوار، جلد۱۵، اخلاق کی بحث میں صفحہ ۱۴ ، طبع قدیم

(۴) سفینة البحار ، جلد دوم، صفحہ ۶۸۲

(۵) توکل کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے ”انگیزہ پیدائش مذہب“ کی طرف رجوع فرمائیں

(۶)تفسیر نمو نہ ، جلد ۱۰صفحہ ۲۹۵


۹۴ ۔ دعا و زاری کا فلسفہ کیا ہے؟

دعا کی حقیقت، اس کی روح اور اس کے تربیتی اور نفسیاتی اثر سے بے خبر لوگ دعا پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔

کبھی کہتے ہیں: یہ اعصاب کو کمزور اور بے حس کردیتی ہے کیونکہ ان کی نظر میں دعا لوگوں کو فعالیت، کوشش، ترقی اور کامیابی کے وسائل کے بجائے اسی راستہ پر لگا دیتی ہے، اور انھیں سعی و کوشش کے بدلے اسی پر اکتفا کرنے کا سبق دیتی ہے ۔

کبھی کہتے ہیں: دعا اصولی طور پر خدا کے معاملات میں بے جا دخل اندازی کا نام ہے، خدا جیسی مصلحت دیکھے گا اسے انجام دے گا، وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے مصالح و منافع کو بہتر جانتا ہے، پھر کیوں ہر وقت ہم اپنی مرضی اور پسند کے مطابق اس سے سوال کرتے رہیں؟!

کبھی کہتے ہیں: ان تمام چیزوں کے علاوہ دعا؛ارادہ الٰہی پر راضی رہنے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے منافی ہے!

(قارئین کرام!) جو لوگ اس طرح کے اعتراضات کرتے ہیں وہ دعا اور تضرع و زاری کے نفسیاتی، اجتماعی، تربیتی اور معنوی و روحانی آثار سے غافل ہیں، انسان ؛ ارادہ کی تقویت اور دکھ درد کے دور ہونے کے لئے کسی سہارے کا محتاج ہے، اور دعا انسان کے دل میں امید کی کرن چمکا دیتی ہے، جو لوگ دعا کو فراموش کئے ہوئے ہیں وہ نفسیاتی اور اجتماعی طور پر ناپسندیدہ عکس العمل سے دوچار ہوتے ہیں۔

ایک مشہور ماہر نفسیات کا کہنا ہے: ”کسی قوم میں دعا و تضرع کا فقدان اس ملت کی تباہی کے برابر ہے، جس قوم نے دعا کی ضرورت کے احساس کا گلا گھونٹ دیا ہے وہ عموماً فساد اور زوال سے محفوظ نہیں رہ سکتی“۔

البتہ اس بات کو نہیں بھولنا چاہئے کہ صبح کے وقت دعا اور عبادت کرنا اور باقی تمام دن ایک وحشی جانور کی طرح گزارنا، بیہودہ اور فضول ہے، دعا کو مسلسل جاری رہنا چاہئے، کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان اس کے عمیق اثر سے ہاتھ دھو بیٹھے۔(۱)

جو لوگ دعا کو کاہلی اور سستی کا سبب سمجھتے ہیں وہ دعا کے معنی ہی نہیں سمجھے، کیونکہ دعا کا یہ مطلب نہیں کہ مادی وسائل و اسباب سے ہاتھ روک لیا جائے اور صرف دستِ دعا بلند کیا جائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ تمام موجودہ وسائل کے ذریعہ اپنی پوری کوشش بروئے کار لائی جائے اور جب معاملہ انسان کے بس میں نہ رہے اور وہ مقصد تک نہ پہنچ پائے تو دعا کا سہارا لے، توجہ کے ساتھ خدا پر بھروسہ کرے اپنے اندر امید کی کرن پیدا کرے اور اس مبدا عظیم کی بے پناہ نصرتوں کے ذریعہ مدد حاصل کرے۔

لہٰذا دعا مقصد تک نہ پہونچنے کی صورت میں ہے نہ کہ یہ فطری اسباب کے مقابلہ میں کوئی سبب ہے۔

مذکورہ ماہر نفسیات لکھتا ہے:

”دعا انسان میں اطمینان پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی فکر میں ایک طرح کی شگفتگی پیدا کرتی ہے ، باطنی انبساط کا باعث بنتی ہے اور بعض اوقات یہ انسان کے لئے بہادری اور دلاوری کی روح کو ابھارتی ہے، دعا کے ذریعہ انسان پر بہت سی علامات ظاہر ہوتی ہیں ، جن میں سے بعض تو صرف دعا سے مخصوص ہیں، جیسے نگاہ کی پاکیزگی، کردار میں سنجیدگی، باطنی انبساط و مسرت، مطمئن چہرہ، استعداد ہدایت اور حوادث کا استقبال کرنے کا حوصلہ ، یہ سب دعا کے اثرات ہیں، دعا کی قدرت سے پسماندہ اور کم استعداد لوگ بھی اپنی عقلی اور اخلاقی قوت کو بہتر طریقہ سے کار آمد بنالیتے ہیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہماری دنیا میں دعا کے حقیقی رخ کو پہچاننے والے لوگ بہت کم ہیں “۔(۲)

(قارئین کرام!) ہمارے مذکورہ بیان سے اس اعتراض کا جواب واضح ہوجاتا ہے کہ دعا تسلیم و رضا کے منافی ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں دعا؛ پروردگار کے بے انتہا فیض سے زیادہ سے زیادہ کسبِ کمال کا نام ہے۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انسان دعا کے ذریعہ پروردگار کی زیادہ سے زیادہ توجہ اور فیض کے حصول کی اہلیت اور استعداد حاصل کرلیتا ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ تکامل کی کوشش اور زیادہ سے زیادہ کسب کمال کی سعی قوانین آفرینش کے سامنے تسلیم و رضا ہے ، اس کے منافی نہیں ہے۔

ان سب کے علاوہ دعا ایک طرح کی عبادت، خضوع اور بندگی کا نام ہے، انسان دعا کے ذریعہ ذات الٰہی کے ساتھ ایک نئی وابستگی پیدا کرتا ہے، اور جیسے تمام عبادات ؛ تربیتی تاثیر رکھتی ہیں اسی طرح دعا میں بھی یہی تاثیر پائی جاتی ہے۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دعا امور الٰہی میں مداخلت ہے اور جو کچھ مصلحت کے مطابق ہو خدا عطا کردیتا ہے، چنانچہ وہ لوگ اس طرف متوجہ نہیں ہیں کہ عطیات خداوندی استعداد اور لیاقت کے لحاظ سے تقسیم ہوتے ہیں، جتنی استعداد اور لیاقت زیادہ ہوگی انسان کو عطیات بھی اس لحاظ سے نصیب ہوں گے۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”إنَّ عِنْدَ الله عَزَّ وَ جَلَّ مَنْزِلَةٌ لَاتَنَالُ إلاَّ بِمَساٴلةٍ(۳) ”خداوندعالم کے یہاں ایسے مقامات اور منازل ہیں جو بغیر مانگے نہیں ملتے“۔

ایک دانشور کا کہنا ہے: جس وقت ہم دعا کرتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک ایسی لامتناہی قوت سے متصل کرلیتے ہیں جس نے ساری کائنات کی اشیا کو ایک دوسرے سے پیوستہ کر رکھا ہے“۔(۴)

نیز موصوف کا کہنا ہے: ”آج کا جدید ترین علم یعنی علم نفسیات بھی یہی تعلیم دیتا ہے جو انبیاء کی تعلیم تھی، کیونکہ نفسیاتی ڈاکٹراس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دعا، نماز اور دین پر مستحکم ایمان؛ اضطراب، تشویش، ہیجان اور خوف کو دور کردیتا ہے جو ہمارے دکھ درد کا آدھے سے زیادہ حصہ ہے“۔(۵) (۶)

____________________

(۱) ”نیایش“ تالیف :طبیب و روانشناس مشہور ”الکسیس کارل“

،(۲)”نیایش الکسیس کارل

(۳) اصول کافی ، جلد دوم، صفحہ ۳۳۸ ،بابُ فَضْل الدُّعَا ء والحِثُّ عَلَیه ، حدیث۳

(۴) آئین زندگی ، صفحہ۱۵۶

(۵) آئین زندگی ، صفحہ ۱۵۲

(۶) تفسیر نمونہ ، جلد اول ، صفحہ ۶۳۹


۹۵ ۔ کبھی کبھی ہماری دعاکیوں قبول نہیں ہوتی؟

دعا کی قبولیت کے شرائط کی طرف توجہ کرنے سے بھی بظاہر دعا کے پیچیدہ مسائل میں نئے حقائق آشکار ہوتے ہیں اور اس کے اصلاحی اثرات واضح ہوجاتے ہیں، اس ضمن میں ہم چند احادیث پیش کرتے ہیں:

۱ ۔ دعا کی قبولیت کے لئے ہر چیز سے پہلے دل اور روح کی پاکیزگی کی کوشش کرنا، گناہ سے توبہ اور اصلاح نفس ضروری ہے ، اس سلسلہ میں خدا کے بھیجے ہوئے رہنماؤں اور رہبروں کی زندگی سے الہام و ہدایات حاصل کرنا چاہئے۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے:”جب تم میں سے کوئی اپنے ربّ سے دنیا و آخرت کی کوئی حاجت طلب کرنا چاہے تو پہلے خدا کی حمد و ثنا کرے، پیغمبر اور ان کی آل پر درود بھیجے، اپنے گناہوں کا اعتراف کرے اورپھر اپنی حاجت طلب کرے“(۱)

۲ ۔ اپنی زندگی کی پاکیزگی کے لئے غصبی مال اور ظلم و ستم سے بچنے کی کوشش کرے اور حرام غذا نہ کھائے، جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے: ”مَنْ اٴحَبَّ اٴنْ یُسْتَجَابَ دُعَائَهُ فَلْیَطِبْ مَطْعَمَهُ وَ مَکْسِبَه(۲) ”جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو تو اس کے لئے اس کی غذا اور کار وبار کاحلال اور پاکیزہ ہوناضروری ہے “

۳ ۔ فتنہ و فساد کا مقابلہ کرے اور حق کی دعوت دینے میں کوتاہی نہ کرے کیونکہ جو لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردیتے ہیں ان کی دعا قبول نہیں ہوتی، جیسا کہ پیغمبر اسلام سے منقول ہے: ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضرور کرو ، ورنہ خدا بُرے لو گوں کو تمہارے اچھے لوگوں پر مسلط کردے گا، پھر تمہارے اچھے لوگ دعا کریں گے تو ان کی دعا قبول نہیں ہوگی“۔(۳)

حقیقت میں یہ عظیم ذمہ داری جو ملت کی نگہبان ہے اسے ترک کرنے سے معاشرہ کا نظام درہم و برہم ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں بدکاروں کے لئے میدان خالی ہوجاتا ہے، اس صورت میں دعا اس کے نتائج کو زائل نہیں کرسکتی کیونکہ یہ کیفیت ان کے اعمال کا قطعی اور حتمی نتیجہ ہے۔

۴ ۔ دعا قبول ہونے کی ایک شرط خدائی عہد و پیمان کو پورا کرنا ہے، ایمان، عمل صالح، امانت اور صحیح کام اس عہد و پیمان کا ایک حصہ ہیں، جو شخص اپنے پروردگار سے کئے گئے عہد کی پاسداری نہیں کرتا اسے یہ توقع نہیں ہونا چاہئے کہ پروردگار کی طرف سے دعا قبول ہونے کا وعدہ اس کے شامل حال ہوگا۔

کسی شخص نے امیر المومنین علی علیہ السلام کے سامنے دعا قبول نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے کہا : خدا کہتا ہے کہ دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کرتا ہوں، لیکن اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں اور وہ قبول نہیں ہوتی!

اس کے جواب میں امام علیہ السلام نے فرمایا: ”إنَّ قُلُوبَکُم خَانَ بِثَمانِ خِصَالِ “ تمہارے دل و دماغ نے آٹھ چیزوں میں خیانت کی ہے، ( جس کی وجہ سے تمہاری دعا قبول نہیں ہوتی):

۱ ۔ تم نے خدا کو پہچان کر اس کا حق ادا نہیں کیا، اس لئے تمہاری معرفت نے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔

۲ ۔ تم اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر پر ایمان تو لے آئے ہو لیکن اس کی سنت کی مخالفت کرتے ہو، ایسے میں تمہارے ایمان کا کیا فائدہ ہے؟

۳ ۔ تم اس کی کتاب کو تو پڑھتے ہومگر اس پر عمل نہیں کرتے، زبانی طور پر تو کہتے ہو کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، لیکن عملی میدان میں اس کی مخالفت کرتے رہتے ہو!

۴ ۔ تم کہتے ہو کہ ہم خدا کے عذاب سے ڈرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی نافرمانی کی طرف قدم بڑھاتے ہو اور اس کے عذاب سے نزدیک ہوتے رہتے ہو۔

۵ ۔ تم کہتے ہو کہ ہم جنت کے مشتاق ہیں حالانکہ تم ہمیشہ ایسے کام کرتے ہو جو تمہیں اس سے دور لے جاتے ہیں۔

۶ ۔ نعمتِ خدا سے فائدہ اٹھاتے ہو لیکن اس کے شکر کا حق ادا نہیں کرتے!

۷ ۔ اس نے تمہیں حکم دیا ہے کہ شیطان سے دشمنی رکھو (اور تم اس سے دوستی کا نقشہ بناتے رہتے ہو) تم شیطان سے دشمنی کا دعویٰ تو کرتے ہو لیکن عملی طور پر اس کی مخالفت نہیں کرتے۔

۸ ۔ تم نے لوگوں کے عیوب کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے اور اپنے عیوب کو مڑکر بھی نہیں دیکھتے۔ ان حالات میں تم کیسے امید رکھتے ہو کہ تمہاری دعا قبول ہو جب کہ تم نے خود اس کی قبولیت کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرو، اپنے اعمال کی اصلاح کرو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو تاکہ تمہاری دعا قبول ہوسکے۔(۴)

یہ پُر معنی حدیث صراحت کے ساتھ اعلان کررہی ہے:

خدا کی طرف سے دعا قبول ہونے کا وعدہ مشروط ہے مطلق نہیں، بشرطیکہ تم اپنے عہد و پیمان پورا کرو حالانکہ تم آٹھ طرح سے پیمان شکنی کرتے ہو، تم عہد شکنی نہ کرو تو تمہاری دعا قبول ہوجائے گی۔

مذکورہ آٹھ احکام جو دعا کی قبولیت کے شرائط ہیں انسان کی تربیت، اس کی توانائیوں کو اصلاح کرنے اور اسے ثمر بخش بنانے کے لئے کافی ہیں۔

۵ ۔ دعا کی قبولیت کے لئے ایک شرط یہ ہے کہ دعا عمل اور کوشش کے ہمراہ ہو، حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کے کلمات قصار میں بیان ہوا ہے: ”الداعی بلا عمل کالرامی بلا وتر!“(۷۱) (عمل کے بغیر دعا کرنے والا، بغیر کمان کے تیر چلانے والے کے مانند ہے)۔

اس چیز کی طرف توجہ رکھنا چاہئے کہ چلہ کمان تیر کے لئے عامل حرکت اور ہدف کی طرف پھینکنے کا وسیلہ ہے اس سے تاثیرِ دعا کے لئے عمل کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔

مذکورہ پانچوں شرائط سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ مادی علل و اسباب کے بجائے دعا قبول نہیں ہوتی بلکہ قبولیت دعا کے لئے دعا کرنے والے کی زندگی میں ایک مکمل تبدیلی بھی ضروری ہے، اسے اپنی فکرکو نئے سانچے میں ڈھالنا چاہئے اور اسے اپنے گزشتہ اعمال پر تجدید نظر کرنا چاہئے۔

ان تمام مطالب کے پیش نظر دعا کو اعصاب کمزور کرنے والی ا ور کاہلی کا سبب قرار دینا کیابے خبری اور غفلت نہیں ہے؟! اور کیا یہ تہمت کسی غرض کے لئے نہیں ہے؟!(۵)

____________________

(۱) سفینة البحار ، جلد اول صفحہ ۴۴۸و ۴۴۹ (۶۸) سفینة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۴۴۸، ۴۴۹

(۲) سفینة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۴۴۸و ۴۴۹

(۳) سفینة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۴۴۸

(۴)نہج البلاغہ، حکمت نمبر ۳۳۷

(۵) تفسیر نمونہ ، جلد اول ، صفحہ ۶۴۳


۹۶ ۔ جبر اور اختیار کے سلسلہ میں اسلام کا نظریہ کیا ہے؟

علمائے اسلام کے درمیان یہ مسئلہ زمانہ قدیم سے مورد نزاع رہا ہے ، ایک جماعت انسان کی آزادی اور اختیار کی قائل ہے جبکہ دوسرا گروہ جبر کے نظریہ کا طرفدار ہے، اور ہر جماعت اپنے مقصد کے اثبات کے لئے دلائل پیش کرتی ہے۔

لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ”جبر کے قائل“ بھی اور ”اختیار کے طرفدار“ بھی مقام عمل میں اختیار اور آزادی کو ہی صحیح مانتے ہیں، یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ یہ تمام بحث و گفتگو صرف علمی میدان تک ہے، مقام عمل میں نہیں، جس سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ تمام انسانوں میں آزادی، ارادہ اور اختیار اصل ہے، اور اگر اس سلسلہ میں مختلف وسوسے نہ پائے جائیں تو سبھی انسان آزادی اور اختیار کے طرفدار ہوں گے۔

عام فکر وخیال اور فطرتِ انسان ”نظریہ اختیار“ کی واضح دلیل ہے، جو انسانی زندگی کے مختلف مواقع پر جلوہ گر ہے،کیونکہ اگر انسان اپنے اعمال میں خود کو مجبور سمجھے اور اپنے لئے اختیار کا قائل نہ ہو ، تو پھر کیوں:

۱ ۔ انسان اپنے کئے ہوئے بعض کاموں پر یا بعض کاموں کے نہ کرنے پر پشیمان اور شرمندہ ہوتا ہے، اور یہ طے کرلیتا ہے کہ اپنے گزشتہ تجربات سے فائدہ اٹھائے، ”جبر کا عقیدہ رکھنے والوں “کو (بھی) یہ شرمندگی بہت سے موارد میں پیش آتی ہے، اگر نظریہ اختیار صحیح نہیں ہے تو پھر یہ شرمندگی کیسی؟!

۲ ۔ بُرے لوگوں کی سب مذمت کرتے ہیں، اگر جبر کا نظریہ صحیح ہے تو ملامت کیسی؟!

۳ ۔ نیک اور اچھے لوگوں کی سب تعریفیں کرتے ہیں، اگر جبر کا نظریہ صحیح ہے تو تعریف کیوں؟!

۴ ۔ سبھی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ خوش بخت ہوجائیں، اگر سبھی مجبور ہیں تو پھر تعلیم و تربیت کیا معنی رکھتی ہے؟!

۵ ۔ معاشرہ میں اخلاقی سطح کو بلند کرنے کے لئے سبھی علمااور دانشور کوشش کرتے ہیں۔

۶ ۔ انسان اپنی خطاؤں سے توبہ کرتا ہے، لیکن اگر جبر کے نظریہ کو قبول کیا جائے تو پھر توبہ کی کیا حیثیت ہے؟!

۷ ۔ انسان اپنی کوتاہی اور خامیوں پر حسرت اور افسوس کرتا ہے، کیوں؟

۸ ۔ پوری دنیا میں مجرم اور بُرے لوگوں کو سزا ملتی ہے اور سختی کے سا تھ سوال و جواب ہو تے ہیں،لیکن جو کام ان کے اختیار میں نہیں ہے تو پھر یہ سزا اور بازپرس کیسی؟!

۹ ۔ پوری دنیا اور تمام مذہب و ملت میں چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم سبھی کے یہاں مجرموں کے لئے سزا معین ہے، لیکن انسان جس کام پر مجبور ہو تو پھر سزا کیسی؟!

۱۰ ۔ یہاں تک کہ جبری مکتب کے قائل لوگوں کا اگر کوئی نقصان کر دیتا ہے یا کو ئی ان پر ظلم و ستم کرتا ہے تو ان کی فریاد بلند ہوجاتی ہے، اس کو خطاکار شمار کرتے ہیں اور اس کو عدلیہ تک لے جاتے ہیں!

خلاصہ یہ کہ اگر حقیقت میں انسان مختار نہیں ہے تو پشیمانی کیوں؟!

مذمت اور ملامت کس لئے؟ اگر کسی کا ہاتھ بے اختیار لرزتا ہو تو کیا اس کو ملامت کی جائے گی؟ کیوں نیک افراد کی مدح و ثنا کی جاتی ہے، کیا انھوں نے اپنے اختیار سے کچھ کیا ہے جو نیک کام کی طرف ترغیب دلانے سے نیک کام کرتے رہتے ہیں؟!

اصولی طور پر تعلیم و تربیت کی تاثیر کو قبول کرتے ہوئے جبری نظریہ کا کوئی مفہوم ہی باقی نہیں رہتا۔

اس کے علاوہ آزادی اور اختیار کو قبول کئے بغیر اخلاقی مسائل کا ہرگز کوئی مفہوم نہیں نکلتا۔

اگر ہم اپنے کاموں میں مجبور ہوں تو پھر توبہ کیوں؟ کیوں حسرت کی جائے؟ اس لحاظ سے مجبور شخص کو سزا دینا سب سے بڑا ظلم ہے۔

یہ سب چیزیں واضح کرتی ہیں کہ تمام انسانوں میں آزادی اور اختیار اصل ہے اور نوعِ بشر کا دل بھی اسی چیز کی گواہی دیتا ہے، نہ صرف عوام الناس بلکہ تمام علمااور فلاسفہ مقام عمل میں اسی طرح ہیں ، یہاں تک کہ جبری نظریہ رکھنے والے بھی مقام عمل میں اختیار کے نظریہ کو مانتے ہیں: ”الجَبریُّونَ إخْتِیَاریُّونَ مِنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُونَ “!

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے اسی مسئلہ پر بارہا تاکید کی ہے، ارشاد خداوندی ہے:( فَمَنْ شَاءَ إتَّخِذَ اِلٰی رَبَّهِ مَآبَا ) (۱) ”(یہی بر حق دین ہے )تو جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانا بنا لے“۔

قرآن مجید کی دیگر آیات میں انسان کے ارادہ و اختیار پر بہت زیادہ اعتماد کیا گیا ہے ، ان سب کو یہاں بیان کرنے کا موقع نہیں ہے صرف دو آیتوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

( إِنَّا هَدَیْنَاهُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُورًا ) (۲) ”یقینا ہم نے انسان کو راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے“۔

اسی طرح ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:( فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ ) (۳) ”اب جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کافر ہوجائے“۔ (لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے کافروں کے لئے درد ناک عذاب مہیا کر رکھا ہے)

”جبر و تفویض“ کے سلسلہ میں گفتگو بہت طویل ہے، اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں اور مقالات لکھے گئے ہیں، لیکن اس مسئلہ میں صرف قرآن و وجدان کی روشنی میں لکھا گیا ہے، ہم اس گفتگو کو ایک ”اہم نکتہ“ کی یاد دہانی کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں:

مسئلہ جبر سے ایک گروہ کی طرفداری فلسفی یا استدلالی مشکلات کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس عقیدہ کی پیدائش میں اجتماعی اور نفسیاتی عوامل کا دخل تھا۔

”جبر“ یا ”جبری زندگی“ اور جبر کے معنی میں ”قضا و قدر“ کا عقیدہ رکھنے والے متعدد افراد بعض ذمہ داریوں سے فرار کرنے کے لئے اس عقیدہ کا سہارا لیتے ہیں، جو اس عقیدہ کی آڑ میں ہر غلط کام اور شکست کی توجیہ کرنا چاہتے ہیں جو خود ان کی سستی اور کاہلی کی بنا پر ہوتا تھا۔

یا اپنی ہوس اور بے راہ روی پر اس عقیدہ کا پردہ ڈال کر ہر کام کو جائز کرنا چاہتے تھے۔

اور کبھی استعمار،عوام الناس کی تحریک کو کچلنے اور قوم و ملت کے قہر و غضب کی آگ کو خاموش کرنے کے لئے اپنے عقیدہ کو لوگوں پر حمل کرتا ہے کہ شروع سے تمہاری قسمت میں یہی تھا لہٰذا اس پر راضی اور تسلیم ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں !

اس (غلط) نظریہ کے تحت اپنے تمام ظلم و ستم اور غلط اعمال کی توجیہ کرلیتے ہیں، اور سبھی گناہگاروں کے گناہوں کی منطقی اور عقلی توجیہ ہوجاتی ہے، اس صورت میں اطاعت گزار اور مجرم کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں رہ جاتا۔(۴)

انسان کی آزادی اور اختیار کے لئے سورہ فصلت کی یہ آیہ کریمہ واضح دلیل ہے :( وَمَا رَبُّکَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ ) (۵) یہ آیہ شریفہ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ خداوندعالم کسی کو بلا وجہ عذاب نہیں دیتا اور نہ ہی کسی کے عذاب میں دلیل کے بغیر اضافہ کرتا، اس کے کام صرف عدالت پر مبنی ہوتے ہیں، کیونکہ ظلم و ستم کا سر چشمہ؛ کمی اور خامی، جہل و نادانی یا ہوائے نفس ہوتے ہیں، جبکہ خداوندعالم کی ذات اقدس ان تمام چیزوں سے پاک و منزہ ہے۔

قرآن مجید اپنی واضح آیات (بینات) میں ”جبری نظریہ“ ( جس کے پیش نظر معاشرہ میں ظلم و فساد پھیلتا ہے ، برائیوں کی تائید ہوتی ہے اور انسان ہر طرح کی ذمہ داری سے بچ جاتا ہے) کو باطل قرار دیتی ہیں، اور سبھی انسانوں کو اپنے اعمال کا ذمہ دار شمار کرتی ہیں، اور ہر انسان کے اعمال کے نتائج (جزا یا سزا) اسی کی طرف پلٹتے ہیں۔

حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بیان ہواہے، کہ آپ کے ایک صحابی نے سوال کیا:”هَلْ یجبَرُ الله عِبَاده عَلَی المُعَاصِی؟ فَقَالَ:لا ، بَل یُخَیُّرهُم وَ یُمَهِّلُهُم حَتّٰی یَتُوبُوا

”کیا خداوندعالم اپنے بندوں کو گناہوں پر مجبور کرتا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:نہیں، بلکہ ان کو آزاد چھوڑ دیتا ہے اور ان کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں“

اس صحابی نے دوبارہ سوال کیا: ”هل کلف عباده ما لایطیقون ؟“ کیا خداوندعالم اپنے بندوں کو ”تکلیف ما لایطاق“ دیتا ہے ؟ (یعنی ایسی چیز کے انجام دینے کے لئے کہتا ہے جس کی انسان میں طاقت نہ ہو۔)

اس وقت امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ”کَیفَ یَفْعَلُ ذَلکَ؟ وَ هُوَیَقُولُ :( وَمَا رَبُّکَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ ) (۶) ” وہ کس طرح ایسا کرسکتا ہے جبکہ خود اس نے فرمایا ہے: ’اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے“۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے مزید فرمایا: ہمارے پدر بزرگوار موسیٰ بن جعفر علیہ السلام نے اپنے پدر بزرگوار جعفر بن محمد علیہ السلام سے اس طرح نقل فرمایا ہے: ”جو شخص یہ گمان کرے کہ خداوندعالم اپنے بندوں کو گناہوں پر مجبور کرتا ہے یا تکلیف ما لا یطاق دیتا ہے، تو ایسے شخص کے ہاتھوں کا ذبیحہ نہ کھاؤ ، اس کی گواہی قبول نہ کرو، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور اس کو زکوٰة نہ دو، (خلاصہ یہ کہ اس پر اسلام کے احکام جاری نہ کرو)(۷)

(قارئین کرام!) مذکورہ حدیث سے ضمنی طور پر یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ ایک ظریف نکتہ ہے کہ ”مکتب جبری“ تکلیف مالا یطاق کا دوسرا چہرہ ہے، کیونکہ اگر انسان ایک طرف گناہ کرنے پر مجبور ہو اور دوسری طرف اس کو نہی کی جائے تو یہ تکلیف ما لا یطاق کا واضح مصداق ہوگا۔(۸)

اسی طرح قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( إِنَّ هَذِهِ تَذْکِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَی رَبِّهِ سَبِیلًا ) () ” بے شک یہ ایک نصیحت کا سامان ہے اب جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کے راستہ کو اختیار کرلے“،(یہ خود ایک یاد دہانی ہے جس کے ذریعہ انسان خداوندعالم کے بتائے ہوئے راستہ کا انتخاب کرسکتاہے)

اور چونکہ ممکن تھا کہ کم ظرف لوگ اس مذکورہ تعبیر سے مطلق طور پر ”تفویض“ کا تصور کرلیں، اسی وجہ سے بعد والی آیت میں ”تفویض“ کی نفی کے لئے ارشاد ہوا ہے:( وَمَا تَشَاءُ وْنَ إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ ) ” اور تم لوگ صرف وہی چاہتے ہو جو پروردگار چاہتا ہے“۔ ”بے شک اللہ ہر چیز کا جاننے والا اور صاحب حکمت ہے“۔( إِنَّ اللهَ کَانَ عَلِیمًا حَکِیمًا ) (۱۰)

در اصل یہ مشہور و معروف قاعدہ”الامر بین الامرین“( ۲) کا اثبات ہے، ایک طرف تو خداوندعالم فرماتا ہے: ”خدا نے راستہ دکھا دیا ہے ، راستہ کا انتخاب تمہارا کام ہے“ ، دوسری طرف فرماتا ہے: ”تمہارا انتخاب مشیت الٰہی پر موقوف ہے“، یعنی تم مکمل طور پر استقلال نہیں رکھتے بلکہ تمہاری قدرت، آزادی اور ارادہ خدا کی مرضی اور اس کی طرف سے ہے، وہ جس وقت بھی ارادہ کرے تمہاری قدرت اور آزادی کو سلب کرسکتا ہے۔

اس لحاظ سے نہ مکمل ”تفویض“ ہے اور نہ ”اجبار اور سلبِ اختیار“ بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک دقیق و لطیف حقیقت ہے، بالفاظِ دیگر: ایک قسم کی آزادی ہے لیکن مشیت الٰہی سے وابستہ ،یعنی جب بھی خدا چاہے اس آزادی کو واپس لے سکتا ہے، تاکہ بندگان خدا تکالیف اور ذمہ داریوں کا احساس کریں دوسری طرف سے خدا سے بے نیازی کا تصور بھی پیدانہ ہو۔

مختصر: یہ تعبیرات اس وجہ سے ہیں کہ بندے ہدایت، حمایت، توفیق اور تائید ذات مقدس سے بے نیازی کا تصور نہ کریں، اپنے کاموں کے عزم و ارادہ کو خداوندعالم کے سپرد کریں اور اس کی حمایت کے زیر سایہ قدم اٹھائیں۔

یہاں سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ بعض جبری مسلک رکھنے والے مفسرین اس آیت کا سہارا لیتے ہیں البتہ وہ اس مسئلہ میں پہلے سے فیصلہ کرچکے ہیں (یعنی جبری نظریہ کو پہلے سے قبول کرچکے ہیں) جیسا کہ فخر رازی کا کہنا ہے: ”وَ اعلم اٴنَّ هَذِه الآیةِ مِن جُمْلَةِ الآیَاتِ التی تَلاطمتْ فِیْهَا اٴمْوَاجُ الجَبْرِ وَ القَدْرِ!“ (۱۱) ”جاننا چاہئے کہ یہ آیت ان آیات میں سے ہے جن میں ”جبر“ کی موجیں متلاطم ہیں“،جی ہاں! اگر اس آیت کو پہلی آیات سے الگ کرلیں تو اس طرح کا وہم و گمان کیا جاسکتا ہے لیکن چونکہ ایک آیت میں ”اختیار“ کی تاثیر کو بیان کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں ”مشیتِ پروردگار“ کی تاثیر کو بیان کیا گیا ہے، جس سے ”الامر بین الامرین“ کا مسئلہ ثابت ہوجاتا ہے۔عجیب بات تو یہ ہے کہ ”تفویض“ کے طرفدار افراد بھی اسی آیت کو دلیل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ آیت ”مطلقِ اختیار “ کو بیان کرتی ہے، جبکہ ”جبر“ کے طرفدار بھی اس آیت، کہ جس سے صرف جبر کی بو آتی ہے، تمسک کرتے ہیں اور دونوں پہلے سے اپنے کئے ہوئے فیصلہ کی توجیہ کرتے ہیں، جبکہ کلام الٰہی (بلکہ کسی بھی کلام) کو صحیح سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے نظریہ کو دور رکھیں اور تعصب سے کام نہ لیتے ہوئے فیصلہ کریں۔آیت کے ذیل میں فرمایا گیا ہے:( ان الله کان علیماً حکیما ) جو اسی بات کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کیونکہ خداوندعالم کی حکمت اور اس کا علم اس بات کا مو جب ہے کہ انسان کمال اور ترقی کی منزلوں کو طے کرنے میں آزاد ہے ورنہ اجباری تکامل و ترقی کوئی کمال نہیں ہے۔

اس کے علاوہ خداوندعالم کا علم اور اس کی حکمت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کچھ لوگوں کو نیک کام پر مجبور کرے اور کچھ لوگوں کو برُے کاموں پر مجبور کرے ، پہلے گروہ کو جزا یا انعام دے اور دوسرے گروہ کو سزا اور عذاب میں مبتلا کرے۔(۱۲)

____________________

(۱) سورہ نباء ، آیت ۳۹

(۲) سورہ دہر ، آیت ۳

(۳) سورہ کہف ، آیت ۲۹

(۴) تفسیر نمونہ ، جلد۲۶، صفحہ ۶۴

(۵) سورہ فصلت ، آیت ۴۶: ”اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے“

(۶) سورہ فصلت ، آیت ۴۶

(۷) عیون اخبار الرضا ، نور الثقلین ، جلد ۴، صفحہ ۵۵۵ کے نقل کے مطابق

(۸) تفسیر نمونہ ، جلد۲۰، صفحہ ۳۰۸ (۴) سورہ انسان (دہر)، آیت ۲۹

(۱۰)سورہ انسان (دہر) ، آیت ۳۰ (۲) یعنی نہ جبر ہے اور نہ تفویض، بلکہ ان دونوں کا درمیانی راستہ صحیح ہے

(۱۱) تفسیر فخر رازی ، جلد ۳۰ ، صفحہ ۲۶۲ (۱۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۵، صفحہ ۳۸۵


۹۷۔ کیا نظر ِبد کی کوئی حقیقت ہے؟

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( وَإِنْ یَکَادُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَیُزْلِقُونَکَ بِاٴَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ ) (۱) ”اور یہ کفار قرآن کو سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ عنقریب آپ کو نظروں سے پھسلا دیں گے “۔

اس آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نظر بد کی کو ئی حقیقت ہے؟

بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ بعض لوگوں کی آنکھوں میں ایک مخصوص اثر ہوتا ہے کہ جس وقت وہ کسی چیز کو تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ممکن ہے وہ خراب ہوجائے یا نیست و نابود ہوجائے، یا اگر کسی انسان کو اس نگاہ سے دیکھ لے تو یاوہ بیمار یا پاگل ہوجائے۔

عقلی لحاظ سے یہ مسئلہ محال نہیں ہے کیونکہ آج کل کے متعدد دانشورں کا ماننا ہے کہ بعض لوگوں کی آنکھوں میں ایک مقناطیسی طاقت ہوتی ہے جس سے بہت کام لیا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ اس کی تمرین اور ممارست سے اس میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے، ”مقناطیسی نیند‘ ‘ (ہیپناٹزم Hypnotism ) بھی آنکھ کی اسی مقناطیسی طاقت کے ذریعہ ہوتی ہے۔

آج جبکہ ”لیزری شعاعیں“ دکھائی نہ دینے والی لہریں ایسا کام کرتی ہیں جو کسی خطرناک اور تباہ کن ہتھیار سے نہیں ہوسکتا، تو بعض لوگوں کی آنکھوں میں اس طاقت کا پایا جانا جو مخصوص لہروں کے ذریعہ مد مقابل پر اثر انداز ہوتی ہے، جائے تعجب نہیں رہ جاتا۔

متعدد لوگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے بعض لو گوں کی آنکھوں میں ایسی طاقت کا مشاہدہ کیا ہے جنھوں نے اپنی نظر سے انسان یا حیوان یا دوسری چیزوں کو نیست و نابود کردیا ہے۔

لہٰذا نہ صرف اس چیز کے انکار پر اصرار کیا جائے بلکہ عقلی اور علمی لحاظ سے اس کو قبول کیا جاناچاہئے۔

بعض اسلامی روایات میں بھی ایسے الفاظ ملتے ہیں جن سے اجمالی طور پر اس چیز کی تائید ہوتی ہے۔

چنانچہ ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ”اسماء بنت عمیس“ نے پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں عرض کی: جعفر کے بچوں کو نظر لگ جاتی ہے کیا میں ان کے لئے ”رقیہ“ لے لوں (”رقیہ“ اس دعا کو کہتے ہیں جو نظر لگنے سے روکنے کے لئے لکھی جاتی ہے اور اس کا تعویذ بنایا جاتا ہے)

تو پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: ”نَعَمْ، فَلَو کَانَ شَیءٍ یسبقُ القَدْرِ لَسَبَقَهُ العَیْنِ(۲) ”ہاں، کوئی حرج نہیں ہے، اگر کوئی چیز قضا و قدر پر سبقت لینے والی ہو تی تو وہ نظر بد ہو تی ہے“۔

ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: پیغمبر اکرم (ص) نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے لئے تعویذ بنایا اور اس دعا کو پڑھا: ”اٴعِیذُ کَمَا بِکَلِمَاتِ التَّامةِ وَ اٴسْمَاءِ اللّٰهِ الحُسْنٰی کُلِّهَا عَامة، مِنْ شرِّ السَّامَةِ وَ الهَّامَةِ، وَ مِنْ شرِّکُلُّ عَینٍ لَامَّةِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَد “ (تمہیں تمام کلمات اور اللہ کے اسماء حسنی کی پناہ میں دیتا ہوں ،بری موت، موذی حیوانات، بری نظر اور حسد کرنے والے کے شر سے) ، اور اس کے بعد ہماری طرف دیکھ کر فرمایا: ”جناب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل اور اسحاق کے لئے یہی تعویذ بنایا تھا۔(۳)

اسی طرح نہج البلاغہ میں بیان ہوا ہے: ”العَیْنُ حَقٌّ وَ الرقيٌّ حَقٌّ(۴) چشم بد اور دعا کے ذریعہ اس کو دفع کرنا حقیقت رکھتے ہیں“۔(۵)

____________________

(۱) سورہ قلم ، آیت ۵۱(۲) مجمع البیان ، جلد ۱۰ ، صفحہ ۳۴۱

(۳) نور الثقلین ، جلد ۵، صفحہ ۴۰۰

(۴)نہج البلاغہ، کلمات قصار، نمبر ۴۰۰، (یہ حدیث صحیح بخاری، جلد ۷، صفحہ ۱۷۱، باب ”العین حق“ میں بھی اسی صورت سے نقل ہوئی ہے: العین حق) ، نیز ”معجم لالفاظ الحدیث النبوی“ میں بھی مختلف منابع سے اس حدیث کو نقل کیا گیا ہے، (جلد ۴، صفحہ ۴۵۱)

(۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۴، صفحہ ۴۲۶


۹۸ ۔ کیا فال نیک اور بد شگونی حقیقت رکھتے ہیں ؟

شاید ہمیشہ سے مختلف قوم و ملت کے درمیان فال نیک اور بد شگونی کا رواج پایا جاتا ہے بعض چیزوں کو ”فال نیک“قرار دیتے ہیں جس کو کامیابی کی نشانی اور بعض چیزوں کو ”بد شگونی“ ناکامی اور شکست کی نشانی سمجھتے تھے، جبکہ ان چیزوں کا کامیابی اور شکست سے کوئی منطقی تعلق نہیں پایا جاتا،خصوصاً بد شگونی کے سلسلہ میں بہت سی نامعقول اور خرافات قسم کی چیزیں رائج ہیں۔

اگرچہ ان دونوں کا طبیعی اثر نہیں ہے لیکن نفسیاتی اثر ہوسکتا ہے، فالِ نیک انسان کے لئے امید اور تحریک کا باعث ہے اور بدشگونی ناامید اور سستی کا سبب بن سکتی ہے۔

شاید اسی وجہ سے اسلامی روایات میں فالِ نیک سے ممانعت نہیں کی گئی ہے لیکن فالِ بد اور بد شگونی کے لئے شدت سے ممانعت کی گئی ہے، چنانچہ ایک مشہور و معروف حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے: ”تَفَاٴلُوا بِالخَیْرِ تَجِدُوْهُ “ (اپنے کاموں میں فال نیک کرو (اور امیدوارر ہو) تاکہ اس کے انجام تک پہنچ جاؤ) اس حد یث میں اس موضوع کا اثباتی پہلو منعکس ہے، اور خود آنحضرت (ص) ،ائمہ دین علیہم السلام کے حالات میں بھی یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ یہ حضرات بعض مسائل کو فال نیک سمجھے تھے ،مثال کے طور پر جب سر زمین ”حدیبیہ“ میں مسلمان کفار کے مقابل قرارپائے اور ”سہیل بن عمرو“ کفارِ مکہ کا نمائندہ بن کر پیغمبر اکرم (ص) کے پاس آیا،جب آنحضرت (ص) اس کے نام سے با خبر ہوئے تو فرمایا: ”قدْ سهلَ علیکم اٴمرَکمْ “ (یعنی میں ”سہیل“ کے نام سے تفال کرتا ہوں کہ تمہارا کام سہل اور آسان ہوگا“۔(۱)

چھٹی صدی ہجری کے ”دمیری“ نامی مشہور و معروف دانشور مولف نے اپنی ایک تحریر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اس وجہ سے فالِ نیک کیا کرتے تھے کیونکہ جب انسان فضل پروردگار کا امیدوار ہوتا ہے تو راہ خیر میں قدم بڑھاتا ہے لیکن جب رحمت پروردگار کی امید ٹوٹ جاتی ہے تو پھر برے راستہ پر لگ جاتاہے، اور فال بد یا بد شگونی کرنے سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے اور انسان بلا اور بدبختی سے خوف زدہ رہتا ہے۔(۲) فال بد یا بد شگونی کے بارے میں اسلامی روایات نے بہت شدت کے ساتھ مذمت کی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے(۳) ، نیز پیغمبر اکرم (ص) کی ایک حدیث میں بیان ہوا ہے: ”الطَّیْرةُ شِرْکٌ(۴) (بد شگونی کرنا (اور انسان کی زندگی میں اس کو موثر ماننا) ایک طرح سے خدا کے ساتھ شرک ہے)

اسی طرح ایک دوسری جگہ بیان ہوا ہے کہ اگر بد شگونی کا کوئی اثر ہے تو وہی نفسیاتی اثر ہے، حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”بد شگونی کا اثر اسی مقدار میں ہے جتنا تم اس کو قبول کرتے ہو، اگر اس کو کم اہمیت مانو گے تو اس کا اثر کم ہوگا اور اگر اس سلسلہ میں تم بہت معتقد ہوگئے تو اس کا اثر بھی اتنا ہی ہوگا، اور اگر اس کی بالکل پروا نہ کرو تو اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوگا“۔(۵)

اسلامی روایات میں پیغمبر اکرم (ص) سے نقل ہوا ہے کہ بد شگونی سے مقابلہ کرنے کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ اس پر توجہ نہ کی جائے، چنانچہ پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے: ”تین

چیزوں سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا، (جنّات کا وسوسہ اکثر لوگوں کے دلوں پر اثر کر جاتا ہے) فال بد یا بد شگونی، حسد اور سوء ظن، اصحاب نے سوال کیا کہ ان سے بچنے کے لئے ہم کیا کریں؟ تو آنحضرت نے فرمایا: جب کوئی تمہارے لئے بد شگونی کرے تو اس پر توجہ نہ کرو، جس وقت تمہارے دل میں حسد پیدا ہو تو اس کے مطابق عمل نہ کرو اور جب تمہارے دل میں کسی کی طرف سے سوء ظن (اوربد گمانی) پیدا ہو تو اس کو نظر انداز کردو“۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ یہ فال نیک اور بد شگونی کا موضوع ترقی یافتہ ممالک اور روشن فکر یہاں تک کہ مشہور و معروف نابغہ افراد کے یہاں بھی پایا جاتا ہے، مثال کے طور پر مغربی ممالک میںزینہ کے نیچے سے گزرنا، یا نمکدانی کا گرنا یا تحفہ میں چاقو دینا وغیرہ کو بد شگونی کی علامت سمجھا جاتا ہے!

البتہ فالِ نیک کا مسئلہ کوئی اہم نہیں بلکہ اکثر اوقات اس کا اثر مثبت ہوتا ہے، لیکن بد شگونی سے مقابلہ کرنا چاہئے اور اپنے ذہن سے دور کرنا چاہئے، جس کا بہترین راستہ یہ ہے کہ انسان خداوندعالم پر توکل اور بھر پور بھروسہ رکھے، جیساکہ اسلامی روایات میں اس چیز کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے۔(۶)

____________________

(۱) المیزان ، جلد ۱۹، صفحہ ۸۶

(۲)سفینة البحار ، جلد دوم، صفحہ ۱۰۲

(۳) مثلاً: سورہ یس ، آیت ۱۹، سورہ نمل ، آیت ۴۷، سورہ اعراف آیت۱۳۱

(۵،۴)المیزان ، محل بحث آیت کے ذیل میں


۹۹ ۔ کیا تمام اصحاب پیغمبر (ص)نیک افرادتھے؟

”پہلے مہاجرین“ کے لئے قرآن کی بیان کردہ عظمت کے پیش نظر بعض برادران اہل سنت یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ لوگ آخری عمر تک کوئی خلاف(شرع) کام نہیں کرسکتے، لہٰذا کسی چون و چرا کے بغیر سب کو قابل احترام شمار کیا جائے، اس کے بعد اس موضوع کو تمام ”اصحاب“ کے لئے عام کردیا چونکہ ”بیعتِ رضوان“ میں اصحاب کی مدح کی گئی ہے، لہٰذا ان کی نظر میں اصحاب کے متعلق کوئی تنقید قابلِ قبول نہیں ہے چاہے ان کے اعمال کیسے ہی ہوں!۔

جیسا کہ مشہور مفسر مولف المنار شیعوں پر شدید اعتراض کرتے ہیں کہ یہ لوگ مہاجرین پر کیوں انگلی اٹھاتے ہیں، اور ان پر کیوں تنقید کرتے ہیں!! جبکہ وہ اس بات پر توجہ نہیں کرتے کہ صحابہ کرام کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ اسلام اور تاریخ اسلام کے برخلاف ہے۔

(قارئین کرام!) بے شک ”صحابہ“ خصوصاً پہلے مہاجرین کا ایک خاص احترام ہے، لیکن یہ احترام اسی وقت تک ہے جب تک وہ صحیح راستہ پر قدم بڑھاتے رہیں، لیکن جب بعض صحابہ اسلام کے حقیقی راستہ سے منحرف ہو جا ئیں تو پھر اصولی طور پر قرآن مجید کا کچھ اور ہی نظریہ ہوگا۔

مثال کے طور پر ہم کس طرح ”طلحہ“ اور ”زبیر“ سے یونہی گزر سکتے ہیں جبکہ انھوں نے پیغمبر اکرم (ص) کے جانشین اور خود اپنے انتخاب کردہ خلیفہ رسول کی بیعت کو توڑ دیا، ہم کیسے ان کے دامن پر لگے جنگ جمل کے سترہ ہزار مسلمانوں کے خون کو نظر انداز کرسکتے ہیں؟! اگر کوئی شخص کسی ایک بے گناہ کا خون بہائے تو وہ خدا کے سامنے کوئی جواب نہیں دے سکتا، اتنے لوگوں کا خون تو بہت دور کی بات ہے، کیا اصولی طور پر جنگ جمل میں ”حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے ساتھی“ اور ”طلحہ و زبیر اور ان کے ساتھی دیگر صحابہ “ دونوں کو حق پر مانا جاسکتا ہے؟

کیا کوئی بھی عقل اور منطق اس واضح تضا د اورٹکراؤکو قبول کرسکتی ہے؟! اور کیا ہم”صحابہ کی عظمت“ کی خاطر اپنی آنکھوں کو بند کرلیں اور پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد پیش آنے والے تاریخی حقائق کو نظر انداز قرار دے دیں اور اسلامی و قرآنی قاعدہ( إنَّ اٴکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللهِ اٴتقَاکُم ) (۱) کو پاؤں تلے روند ڈالیں؟! واقعاًکیا یہ غیر منطقی فیصلہ ہے؟!

اصولی طور پر اس چیزمیں کیا ممانعت ہے کہ کوئی شخص ایک روز بہشتیوں کی صف میں اور حق کا طرفدار ہو، لیکن اس کے بعد دشمنان حق اور دوزخیوں کی صف میں چلا جائے؟ کیا سب معصوم ہیں؟! اور کیا ہم نے اپنی آنکھوں سے بہت سے لوگوں کے حالات بدلتے نہیں دیکھے ہیں؟!

”اصحاب ردّہ“ (یعنی رحلت پیغمبر کے بعد کچھ اصحاب کے مرتد (وکافر) ہوجانے) کا واقعہ شیعہ اور سنی سب نے نقل کیا کہ خلیفہ اول نے ان سے جنگ کی اور ان پرغلبہ حاصل کرلیا، کیا ”اصحاب ردّہ“ کو کسی نے نہیں دیکھا کیا وہ صحابہ کی صف میں نہیں تھے؟!

اس سے کہیں زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس تضاداو رٹکراؤ سے بچنے کے لئے بعض لوگوں نے ”اجتہاد“ کا سہارا لیا اور کہتے ہیں کہ ”طلحہ، زبیر اور معاویہ“ نیز ان کے ساتھی مجتہد تھے اور انھوں نے اپنے اجتہاد میں غلطی کی، لیکن وہ گناہگار نہیں ہیں بلکہ اپنے ان اعمال پر خدا کی طرف سے اجر و ثواب پائیں گے!!

واقعاً کتنی رسوا کن دلیل ہے؟ جانشینِ رسول کے مقابلہ میں آجانا، اپنی بیعت کو توڑ دینا، اور ہزاروں بے گناہوں کا خون بہانا اور وہ بھی جاہ طلبی اور مال و مقام کے لالچ میں یہ سب کچھ کرنا کیا کوئی ایسا موضوع ہے جس کی برائی سے کوئی بے خبر ہو؟ کیا اتنے بے گناہوں کا خون بہانے پر خداوندعالم اجر و ثواب دے سکتا ہے؟! اگر کوئی شخص اس طرح بعض اصحاب کے ظلم و ستم سے ان کو بَری کرنا چاہے تو پھر دنیا میں کوئی گناہگار باقی نہ بچے گا اور سبھی قاتل و ظالم و جابر اس منطق کے تحت بَری ہوسکتے ہیں۔ اصحاب کااس طرح سے غلط دفاع کرنا خود اسلام سے بد ظن ہونے کا سبب بنتا ہے۔

اس بنا پر ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم سب کے لئے خصوصاً اصحاب پیغمبر (ص) کے احترام کے قائل ہوں، لیکن جب وہ حق و عدالت کی راہ اور اسلامی اصول سے منحرف ہوجائیں تو پھر ان کا کوئی احترام نہیں ہوگا۔(۲)

اہل سنت کے متعدد مفسرین نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ” حمید بن زیاد“ کا کہنا ہے: ”میں محمد بن کعب قرظی کے پاس گیا اور کہا: اصحاب پیغمبر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو اس نے کہا: ”جَمِیْعُ اصْحَابِ رَسُولِ اللهِ (ص) فِی الجَنّةِ مُحْسِنُھُمْ وَ مُسِیئھُم!“ (یعنی تمام اصحاب پیغمبر جنّتی ہیں چاہے وہ نیک ہوں یا گنہگار!) میں نے کہا: یہ بات تم کیسے کہہ رہے ہو؟ تو اس نے کہا: اس آیت کو پڑھو:( وَالسَّابِقُونَ الْاٴَوَّلُونَ مِنْ الْمُهَاجِرِینَ وَالْاٴَنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ ) یہاں تک کہ ارشاد ہوتا ہے:( رَضِیَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ) (۳) ،اس کے بعد کہا کہ تابعین کے لئے صحابہ کی صرف نیک کاموں میں اتباع اور پیروی کرنے کی شرط کی گئی ہے، (صرف اسی صورت میں اہل نجات ہیں، لیکن صحابہ کے لئے اس طرح کی کوئی شرط نہیں ہے)(۴)

لیکن ان کا یہ دعویٰ متعدد دلائل کی وجہ سے باطل اور غیر قابل قبول ہے، کیونکہ: سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آیہ شریفہ میں مذکورہ حکم تابعین کے لئے بھی ہے، تابعین سے وہ مسلمان مراد ہیں جو پہلے مہاجرین اور انصار کی پیروی کریں، اس بنا پر بغیر کسی استثنا کے پوری امت کو اہل نجات اور جنتی ہونا چاہئے۔

اور جیسا کہ محمد بن کعب کیحدیث میں اس چیز کا جواب دیا گیا کہ خداوندعالم نے تابعین میں ”نیکی کی شرط“ لگائی ہے یعنی صحابہ کے نیک کاموں میں پیروی کریں، ان کے گناہوں کی پیروی نہیں، لیکن یہ گفتگو بہت ہی عجیب ہے۔ کیونکہ اس کا مفہوم اضافہ ”فرع“ بر ”اصل“ کی طرح ہے یعنی جب تابعین اور صحابہ کے پیروکاروں کے لئے نجات کی شرط یہ ہے کہ اعمال صالحہ میں ان کی پیروی کی جائے تو پھر بطریق اولیٰ یہ شرط خود صحابہ میں بھی ہونی چاہئے۔

بالفاظ دیگر: خداوندعالم مذکورہ آیت میں فرماتا ہے: میری رضایت اور خوشنودی پہلے مہاجرین و انصار اور ان کی پیروی کرنے والوں کے شامل حال ہوگی جو ایمان اور عمل کے لحاظ سے صحیح تھے،نہ یہ کہ سب مہاجرین و انصار چاہے نیک ہوں یا گناہگار اپنے کو رحمت الٰہی میں شامل سمجھیں، لیکن تابعین میں خاص شرط کے تحت قابل قبول ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ موضوع عقلی لحاظ سے بھی قابل قبول نہیں ہے کیونکہ عقلی لحاظ سے صحابہ اور غیر صحابہ میں کوئی فرق نہیں ہے، ابو جہل اوراسلام لاکر پھر جا نے والے میں کیا فرق ہے ؟!

پیغمبر اکرم (ص) کے برسوں اور صدیوں بعد اس دنیا میں جو افراد پیدا ہوئے اور انھوں نے اسلام کی راہ میں بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں اور جن کی قربانی پہلے مہاجرین و انصار سے کم نہیں ہے، بلکہ ان کا یہ بھی امتیاز ہے کہ انھوں نے پیغمبر اکرم (ص) کو دیکھے بغیر پہچانا اور آنحضرت (ص) پر ایمان لائے، تو کیا ایسے افراد رضایت و خوشنودی الٰہی کے حقدار نہیں ہیں؟!

جو قرآن کہتا ہو کہ تم میں سب سے زیادہ خدا کے نزدیک وہ شخص معزز و محترمہے جو سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگارہو، تو پھر قرآن اس غیر منطقی امتیاز کو کیسے پسند کرسکتا ہے؟! جس قرآن کی مختلف آیات میں ظالمین اور فاسقین پر لعنت بھیجی گئی ہے اور ان کو عذاب الٰہی کا مستحق قرار دیا گیا ہو تو پھر صحابہ کے سلسلہ میں اس غیر منطقی معصومیت کو کیونکر قبول کرسکتا ہے؟ اور کیا اس لعنت اور چیلنج میں استثنا کی کوئی گنجائش ہے؟ تاکہ کچھ (صحابہ) اس سے الگ ہوجائیں؟ کیوں؟ او رکس لئے؟

ان سب کے علاوہ کیا اس طرح کا حکم کرنا صحابہ کو ہری جھنڈی دکھانا نہیں ہے جس سے ان کا کوئی بھی کام گناہ اور ظلم شمار نہ ہو؟

تیسری بات یہ ہے کہ ایسا حکم کرنا، اسلامی تاریخ کے بر خلاف ہے، کیونکہ بہت سے لوگ ایسے تھے جو پہلے مہاجرین و انصار میں تھے لیکن بعد میں راہ حق سے منحرف ہوگئے اور پیغمبر اکرم (ص) ان پر غضبناک ہوئے (جبکہ پیغمبر اکرم (ص) کا غضبناک ہونا خدا کے غضب اور عذاب کا موجب ہے) کیا ”ثعلبہ بن حاطب انصاری“ کا واقعہ نہیں پڑھا کہ وہ کس طرح دین سے منحرف ہوگیا اور پیغمبر اکرم (ص) اس پر غضبناک ہوئے۔

واضح طور پر یوں کہا جائے کہ اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ تمام اصحاب پیغمبر (ص) کسی بھی طرح کے گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے، وہ معصوم تھے اور معصیت سے پاک تھے ، تو یہ بالکل وا ضح چیزوں کے انکار کی طرح ہے۔

اور اگر ان کا مقصد یہ ہو کہ انھوں نے گناہ کئے ہیں اور خلاف (دین)کام انجام دئے ہیں لیکن پھر بھی خداوندعالم ان سے راضی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہگاروں سے بھی (نعوذ باللہ) خدا راضی ہوسکتا ہے!

”طلحہ و زبیر“ جن کا شمار پہلے اصحاب پیغمبر (ص) میں ہوتا تھا اسی طرح زوجہ پیغمبر (ص) جناب ”عائشہ“ کو جنگ جمل کے سترہ ہزار بے گناہ مسلمانوں کے خون سے کون بری کرسکتا ہے؟ کیا خداوندعالم اس خون کے بہنے سے راضی تھا؟۔

کیا خلیفہ پیغمبر اکرم حضرت علی علیہ السلام کی مخالفت اگر بالفرض یہ بھی مان لیں کہ رسول خدا نے ان کو خلیفہ معین نہیں کیا تھالیکن کم سے کم اس بات کو تو اہل سنت بھی قبول کرتے ہیں کہ آپ کی پوری امت کے اجماع کے ذریعہ خلیفہ بنایا گیاتھا، توا گرجانشین رسول (ص) اور ان کے وفادار ساتھیوں کے مقابلہ میں تلوار کھینچ لی جائے تو کیا اس کام سے خداوندعالم راضی اور خوشنود ہوگا؟۔ حقیقت یہ ہے کہ ”صحابہ کو بے گناہ“ ماننے والوں کے اصرار اور اس بات پر بضد ہونے کی وجہ سے پاک و پاکیزہ اسلام کو بد نام کردیا ہے، وہ اسلام جس کی نظر میں لوگوں کی عظمت ایمان و اعمال صالحہ ہے۔

اس سلسلہ میں اخری بات یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں جس رضا اور خوشنودی الٰہی کی بات کی گئی ہے وہ ایک عام عنوان کے تحت ہے، اور وہ ”ہجرت“، ”نصرت“، ”ایمان“، اور ”عمل صالح“ ہے، لہٰذا تمام صحابہ اور تابعین اگر ان عناوین کے تحت قرار پائیں گے تو رضائے الٰہی ان کے شامل حال رہے گی، لیکن اگر وہ ان عناوین سے خارج ہوجائیں تو پھر رضایت اور خوشنودی الٰہی سے بھی خارج ہوجائیں گے۔

(قارئین کرام!) ہماری مذکورہ گفتگو سے بخوبی روشن ہوجاتا ہے کہ متعصب مفسر صاحب المنار کے قول کی کوئی اہمیت نہیں ہے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ موصوف تمام صحابہ کو گناہوں سے پاک نہ ماننے پر شیعوں پر حملہ آور ہوتے ہیں،لیکن ہم کہتے ہیں کہ شیعوں کی کیا خطا ہے؟ یہی کہ انھوں نے اس سلسلہ میں قرآن، تاریخ اور عقل کی گواہی کو ماناہے، اور بیہودہ اور غلط امتیازات کے آگے تسلیم نہیں ہوئے ہیں!!(۵)

____________________

(۱) سورہ ، حجر، آیت ۱۳، ”بے شک تم میںسے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے“۔

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد۷، صفحہ ۲۶۳ (۳) سورہ توبہ ، آیت۱۰۰ ”اور مہاجرو انصار میں سبقت کرنے والے اور جن لوگوں نے نیکی میں ان کا اتباع کیا ہے ،ان سب سے خدا راضی ہوگیا ہے اور یہ سب خداسے راضی ہیں“۔

(۴) تفسیر المنار اور تفسیر فخر رازی مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں رجوع فرمائیں

(۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۸، صفحہ ۱۰۸


۱۰۰ ۔ ذوالقرنین کون تھے؟

جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:( وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ قُلْ سَاٴَتْلُوا عَلَیْکُمْ مِنْهُ ذِکْرًا ) (۱)

” اور اے پیغمبر! یہ لوگ آپ سے ذو القرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں عنقریب تمہارے سامنے ان کا تذکرہ پڑھ کر سنادوں گا“۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کون تھے؟

جس ذوالقرنین کا قرآن مجید میں ذکر ہے،تاریخی طور پر وہ کون شخص ہے،تاریخ کی مشہور شخصیتوں میں سے یہ داستان کس پر منطبق ہوتی ہے،اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے،اس سلسلے میں بہت سے نظریات پیش کئے گئے ہیں، ان میں سے یہ تین زیادہ اہم شمار ہوتے ہیں:

پہلا نظریہ :بعض کا خیال ہے کہ”ا سکندر مقدونی“ ہی ذوالقرنین ہے۔

لہٰذا وہ اسے اسکندر ذوالقرنین کے نام سے پکارتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ اس نے اپنے باپ کی موت کے بعد روم،مغرب اور مصر پر تسلط حاصل کیا، اس نے اسکندریہ شہر بنایا، پھر شام اور

بیت المقدس پر اقتدار قائم کیا،وہاں سے ارمنستان گیا،عراق و ایران کو فتح کیا،پھر ہندوستان اور چین کا قصد کیا وہاں سے خراسان پلٹ آیا، اس نے بہت سے نئے شہروں کی بنیاد رکھی،پھر وہ عراق آگیا،اس کے بعد وہ شہر” زور“ میں بیمار پڑا اور مرگیا، بعض نے کہا ہے کہ اس کی عمر چھتیس سال سے زیادہ نہ تھی، اس کا جسد خاکی اسکندریہ لے جاکر دفن کردیا گیا۔(۲)

دوسرا نظریہ:مورخین میں سے بعض کا نظریہ ہے کہ ذوالقرنین یمن کاایک بادشاہ تھا۔

اصمعی نے اپنی تاریخ” عرب قبل از اسلام“ میں،ابن ہشام نے اپنی مشہور تاریخ ”سیرة“ میں اورا بوریحان بیرونی نے”الآثار الباقیہ“میں یہی نظریہ پیش کیا ہے۔

یہاں تک کہ یمن کی ایک قوم”حمیری“کے شعرا اور زمانہ جاہلیت کے بعض شعرا کے کلام میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر فخر کیا ہے کہ ذوالقرنین ہم میں سے ہیں۔

تیسرا نظریہ: جو جدید ترین نظریہ ہے جس کو ہندوستان کے مشہور عالم ابوالکلام آزاد نے پیش کیا ہے،ابوالکلام آزاد کسی دور میں ہندوستان کے وزیر تعلیم تھے،اس سلسلے میں انہوں نے ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے۔(۳)

اس نظریہ کے مطابق ذوالقرنین،”کورش کبیر“ ”بادشاہ ہخامنشی “ہے۔(۴)

لیکن چونکہ پہلے اور دوسرے نظریہ کے لئے کوئی خاص تاریخی منبع نہیں ہے، اس کے علاوہ قرآن کریم نے ذو القرنین کے جو صفات بیان کئے ہیں ان کا حامل سکندر مقدونی ہے نہ کوئی بادشاہِ یمن۔

اس کے علاوہ اسکندر مقدونی نے کوئی معروف دیوار بھی نہیں بنائی ہے، لیکن رہی یمن کی ”دیوارِ مارب“ تو اس میں ان صفات میں سے ایک بھی نہیں ہے جو قرآن کی ذکر کردہ دیوار میں ہیں، جبکہ ”دیوار مارب“ عام مصالحہ سے بنائی گئی ہے اور اس کی تعمیر کا مقصد پانی کا ذخیرہ کرنا اور سیلاب سے بچنا تھا، اس کی وضاحت خود قرآن میں سورہ سبا میں بیان ہوئی ہے۔

لہٰذا ہم تیسرے نظریہ پر بحث کرتے ہیں یہاں ہم چند امور کی طرف مزید توجہ دینا ضروری سمجھتے ہیں :

الف: سب سے پہلے یہ بات قابل توجہ ہے کہ ذوالقرنین کو یہ نام کیوں دیا گیا؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ”ذوالقرنین“ کے معنی ہیں ”دوسینگوں والا“، لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہیں اس نام سے کیوں موسوم کیا گیا؟ بعض کا نظریہ ہے کہ یہ نام اس لئے پڑا کہ وہ دنیا کے مشرق و مغرب تک پہنچے جسے عرب”قرنی الشمس“(سورج کے دوسینگ)سے تعبیر کرتے ہیں۔

بعض کہتے ہیں کہ یہ نام اس لئے پڑا کہ انہو ں نے دوقرن زندگی گزاری یا حکومت کی ، اورپھر یہ کہ قرن کی مقدار کتنی ہے،اس میں بھی مختلف نظریات ہیں۔

بعض کہتے ہیں کہ ان کے سر کے دونوں طرف ایک خاص قسم کا ابھار تھا ا س وجہ سے ذوالقرنین مشہور ہوگئے ۔

بعض کا یہ نظریہ ہے کہ ان کا خاص تاج دوشاخوں والا تھا۔

ب۔ قرآن مجیدسے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین ممتاز صفات کے حامل تھے خدا وند عالم نے کامیابی کے اسباب ان کے اختیار میں دئے تھے،انہوں نے تین اہم لشکر کشی کی، پہلے مغرب کی طرف،پھر مشرق کی طرف اور آخر میں ایک ایسے علاقے کی طرف گئے جہاں ایک کوہستانی درّہ موجود تھا، ان مسافرت میں وہ مختلف اقوام سے ملے۔

وہ ایک مرد مومن،موحد اور مہربان شخص تھے، وہ عدل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے، اسی بنا پر خدا وند عالم کا خاص لطف ان کے شامل حال تھا۔

وہ نیک لو گوں کے دوست او رظالموں کے دشمن تھے،انہیں دنیا کے مال و دولت سے کوئی لگاؤ نہ تھا، وہ اللہ پر بھی ایمان رکھتے تھے اور روز جزا پر بھی۔ انہو ں نے ایک نہایت مضبوط دیوار بنائی ہے،یہ دیوار انہوں نے اینٹ اور پتھر کے بجائے لوہے اور تانبے سے بنائی(اور اگر دوسرے مصالحے بھی استعمال ہوئے ہوں تو ان کی بنیادی حیثیت نہ تھی)، اس دیوار کے بنانے سے ان کا مقصد مستضعف اور ستم دیدہ لوگوں کی یاجوج و ماجوج کے ظلم و ستم کے مقابلے میں مدد کرنا تھا۔

وہ ایسے شخص تھے کہ نزول قرآن سے قبل ان کا نام لوگوں میں مشہور تھا،لہٰذا قریش اور یہودیوں نے ان کے بارے میں رسول اللہ (ص) سے سوال کیا تھا، جیسا کہ قرآن کہتا ہے:( وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ ) ” اور اے پیغمبر! یہ لوگ آپ سے ذو القرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں، حضرت رسول اللہ (ص) اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے بہت سی ایسی روایات منقول ہیں جن میں بیان ہواہے کہ: ”وہ نبی نہیں تھے بلکہ اللہ کے ایک صالح بندے تھے“۔(۵)

ج۔تیسرا نظریہ (ذو القرنین کورش ہی کو کہتے ہیں) اس کی دو بنیاد ہیں:

۱ ۔اس مطلب کے بارے میں سوال کرنے والے یہودی تھے، یا یہودیوں کے کہنے پر قریش نے سوال کیا تھا، جیسا کہ آیات کی شان نزول کے بارے میں منقول روایات سے ظاہر ہوتا ہے، لہٰذا اس سلسلہ میں یہودی کتابوں کو دیکھنا چاہئے۔ یہودیوں کی مشہور کتابوں میں سے کتاب ”دانیال“ کی آٹھویں فصل میں تحریر ہے:

”بل شصّر“ کی سلطنت کے سال مجھے دانیال کو خواب میںدکھایا گیا، جو خواب مجھے دکھایا گیا اس کے بعد اور خواب میں ،میں نے دیکھا کہ میں ملک ”عیلام “ کے ”قصر شوشان“ میں ہوں، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ”دریائے ولادی“ کے پاس ہوں،میں نے آنکھیں اٹھاکر دیکھا کہ ایک مینڈھا دریا کے کنارے کھڑا ہے، اس کے دو لمبے سینگ تھے، اور اس مینڈھے کومیں نے مغرب، مشرق اور جنوب کی سمت سینگ مارتے ہوئے دیکھا، کوئی جانور اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتا تھا اور کوئی اس کے ہاتھ سے بچانے والا نہ تھا وہ اپنی رائے پر ہی عمل کرتا تھا اور وہ بڑا ہوتا جاتا تھا۔(۶)

اس کے بعد اسی کتاب میں دانیال کے بارے میں نقل ہوا ہے جبرئیل اس پر ظاہر ہوئے اور اس کے خواب کی تعبیر یوں بیان کی:

”تم نے دو شاخوں والا جو مینڈھا دیکھا ہے وہ مدائن اور فارس (یا ماد اور فارس) کے بادشاہ ہیں۔

یہودیوں نے دانیال کے خواب کو بشارت قرار دیا وہ سمجھے کہ ماد و فارس کے کسی بادشاہ کے قیام اور بابل کے حکمرانوں میں ان کی کامیابی سے یہودیوں کی غلامی اور قید کا دور ختم ہوجائے گا، اور وہ اہل بابل کے چنگل سے آزاد ہوجائیں گے۔

زیادہ زمانہ نہ گزرا تھا کہ ”کورش“ نے ایران کی حکومت پر غلبہ حاصل کرلیا اس نے ماد اور فارس کو ایک ملک کرکے دونوں کو ایک عظیم سلطنت بنا دیا، جیسے دانیال کے خواب میں بتایا گیا تھا کہ وہ اپنے سینگ مغرب، مشرق اور جنوب کی طرف مارے گا، کورش نے تینوں سمتوں میں عظیم فتوحات حاصل کیں۔

اس نے یہودیوں کو آزاد کیا، اور فلسطین لوٹنے کی اجازت دی۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ توریت کی کتاب اشعیاء فصل ۴۴ ، نمبر ۲۸ میں بیان ہوا ہے: ”اس وقت خاص طور سے کورش کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ میرا چرواہا ہے اس نےمیری مشیت کو پورا کیا ہے اور شیلم سے کہے گا تو تعمیر ہوجائے گا۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ توریت کے بعض الفاظ میں ”کورش“ کے بارے میں ہے کہ عقابِ مشرق اور مردِ تدبیر جو بڑی دور سے بلایا جائے گا۔ (کتاب اشعیاء فصل ۴۶ ، نمبر ۱۱)

دوسری بنیاد یہ ہے کہ انیسویں عیسوی صدی میں دریائے” مرغاب “کے کنارے تالاب کے قریبکورش کا مجسمہ دریافت ہوا، یہ ایک انسان کے قد وقامت کے برابر ہے،اس میں کورش کے عقاب کی طرح دو پَر بنائے گئے ہیں اور اس کے سرپر ایک تاج ہے، اس میں مینڈھے کے سینگوں کی طرح دو سینگ نظر آتے ہیں۔

یہ مجسمہ بہت قیمتی اور قدیم فن سنگ تراشی کا نمونہ ہے، اس نے ماہرین کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے جرمنی ماہرین کی ایک جماعت نے صرف اسے دیکھنے کے لئے ایران کا سفر کیا۔

توریت کی تحریرکو جب اس مجسمہ کی تفصیلات کے ساتھ ملایا گیا تو ابو الکلام آزاد کو مزید یقین ہوا کہ کورش ذو القرنین (دو سینگوں والا) کہنے کی وجہ کیا ہے، اس طرح یہ بھی واضح ہوگیا کہ کورش کے مجسمہ میں عقاب کے دو پر کیوں لگائے گئے ہیں، اس سے دانشوروں کے ایک گروہ کے لئے ذو القرنین کی تاریخی شخصیت مکمل طور پر واضح ہوگئی۔

اس کے علاوہ اس نظریہ کی تائید کے لئے کورش کے وہ اخلاقی صفات ہیں جو تاریخ میں لکھے ہوئے ہیں:

یونانی مورخ ہر ودوٹ لکھتا ہے: کورش نے حکم جاری کیا کہ اس کے سپاہی جنگ کرنے والوں کے علاوہ کسی کے سامنے تلوار نہ نکالیں اور اگر دشمن کا سپاہی اپنا نیزہ خم کردے تو اسے قتل نہ کریں، کورش کے لشکر نے اس کے حکم کی اطاعت کی ، اس طرح سے ملت کے عام لوگوں کو مصائب جنگ کا احساس بھی نہ ہوا۔

ہرو دوٹ کو رش کے بارے میں لکھتا ہے: کورش کریم، سخی، بہت نرم دل اور مہربان بادشاہ تھا، اسے دوسرے بادشاہوں کی طرح مال جمع کرنے کا لالچ نہ تھا، بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ کرم و بخشش کا شوق تھا، وہ ستم رسیدہ لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف سے کام لیتا تھا اور جس چیز سے زیادہ خیر اور بھلائی ہوتی تھی اسے پسند کرتا تھا۔

اسی طرح ایک دوسرا مورخ ”ذی نوفن“ لکھتا ہے: کورش عاقل اور مہربان بادشاہ تھا، اس میں بادشاہوں کی عظمت اور حکماء کے فضائل ایک ساتھ جمع تھے، وہ بلند ہمت تھا اس کا جود و کرم زیادہ تھا اس کا شعار انسانیت کی خدمت تھا ا ور عدالت اس کی عادت تھی وہ تکبر کے بجائے انکساری سے کام لے لیتا تھا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ کورش کی اس قدر تعریف و توصیف کرنے والے مورخین غیر لوگ ہیں کورش کی قوم اور وطن سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے جو کہ اہل یونان ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یونان کے لوگ کورش کی طرف دوستی اور محبت کی نظر سے نہیں دیکھتے تھے کیونکہ کورش نے ”لیدیا“ کو فتح کرکے اہل یونان کو بہت بڑی شکست دی تھی۔

اس نظریہ کے طرفدار کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں ذو القرنین کے بیان ہونے والے اوصاف کورش کے اوصاف سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اس تمام باتوں کے علاوہ کورش نے مشرق، مغرب اور شمال کی طرف سفر بھی کئے ہیں اس کے تمام سفر کا حال (اور سفر نامہ) اس کی تاریخ میں تفصیلی طور پر ذکر ہوا ہے، یہ قرآن میں ذکر کئے گئے ذو القرنین کے تینوں سفر سے مطابقت رکھتے ہیں۔

کورش نے پہلی لشکر کشی ”لیدیا“ پر کی ،یہ ایشائے صغیر کا شمالی حصہ ہے یہ ملک کورش کے مرکز حکومت سے مغرب کی سمت میں تھا۔

جس وقت آپ ایشائے صغیر کے مغربی ساحل کے نقشہ کو سامنے رکھیں گے تو دیکھیں گے کہ ساحل کے زیادہ تر حصے چھوٹی چھوٹی خلیجوں میں بٹے ہوتے ہیں، خصوصاً ”ازمیر“ کے قریب جہاں خلیج ایک چشمہ کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔

قرآن کا بیان ہے کہ ذو القرنین نے اپنے مغرب کے سفر میں محسوس کیا کہ جیسے سورج کیچڑ آلود چشمہ میں ڈوب رہا ہے، یہ وہی منظر ہے جو کورش نے غروب آفتاب کے وقت ساحلی خلیجوں میں دیکھا تھا۔

کورش کی دوسری لشکر کشی مشرق کی طرف تھی جیسا کہ ہرو دوٹ نے کہا ہے کہ کورش کا یہ مشرقی حملہ ”لیدیا“ کی فتح کے بعد ہوا خصوصاً بعض بیابانی وحشی قبائل کی سرکشی نے کورش کو اس حملہ پر مجبور کیا۔

چنانچہ قرآن میں بھی ارشاد ہے:

( حَتَّی إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَی قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتْرًا ) (۷) ”یہاں تک کہ جب طلوع آفتاب کی منزل تک پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایک ا یسی قوم پر طلوع کررہا ہے جن کے پاس سورج کی کرنوں سے بچنے کے لئے کوئی سایہ نہ تھا“۔

یہ الفاظ کورش کے سفر مشرق کی طرف اشارہ کررہے ہیں جہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع کر رہا ہے جن کے پاس اس کی تپش سے بچنے کے لئے کوئی سایہ نہ تھا، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ قوم صحرا نوردتھی اور بیابانوں میں رہتی تھی۔

کورش نے تیسری لشکر کشی شمال کی طرف ”قفقاز“ کے پہاڑوں کی طرف کی یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک درّے میں پہنچا،یہاں کے رہنے والوں نے وحشی اقوام کے حملوں اور غارت گری کو روکنے کی درخواست کی اس پر کورش نے اس تنگ درے میں ایک مضبوط دیوار تعمیر کردی۔ اس درّہ کو آج کل درّہ ”داریال“ کہتے ہیں، موجودہ نقشوں میں یہ ”ولادی کیوکز“ اور ”تفلیس“ کے درمیان دیکھا جاتا ہے وہاں اب تک ایک آہنی دیوار موجود ہے، یہ وہی دیوار ہے جو کورش نے تعمیر کی تھی، قرآن مجید نے ذو القرنین کی دیوار کے جو اوصاف بتائے ہیں وہ پوری طرح اس دیوار پر منطبق ہوتے ہیں۔

اس تیسرے نظریہ کا خلاصہ یہ تھا جو ہماری نظر میں بہتر ہے۔(۸)

یہ صحیح ہے کہ اس نظریہ میں بھی کچھ مبہم چیزیں پائی جاتی ہیں، لیکن عملاً ذو القرنین کی تاریخ کے بارے میں ابھی تک جتنے نظریات پیش کئے گئے ہیں اسے ان میں سے بہترین کہا جاسکتا ہے۔(۹)

____________________

(۱) سورہ کہف ، آیت ۸۳

(۲) تفسیر فخر رازی، محل بحث آیت میں اور کامل ابن اثیر ، جلد اول صفحہ ۲۸۷ میں اور بعض دوسرے مورخین اس بات کے قائل ہیں کہ سب سے پہلے اس نظریہ کو پیش کرنے والے شیخ ابو علی سینا ہیں جنھوں نے اپنی کتاب الشفاء میں اس کا ذکر کیا ہے

(۳)المیزان ، جلد ۱۳، صفحہ ۴۱۴

(۴)فارسی میں اس کتاب کے ترجمعہ کا نام”ذوالقرنین یا کورش کبیر“ رکھا گیا ہے، اور متعدد معاصر مورخین نے اسی نظریہ کی تائید کرتے ہوئے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے

(۵)دیکھئے تفسیر نو رالثقلین ، جلد ۳صفحہ ۲۹۴/اور ۲۹۵

(۶) کتاب دانیا ل ،فصل ہشتم ،جملہ نمبر ایک سے چار تک

(۷) سورہ کہف ، آیت ۹۰

(۸) اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے لئے کتاب ”ذو القرنین یا کورش کبیر“ اور ”فرہنگ قصص قرآن“ کی طرف رجوع فرمائیں

(۹) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۵۴۲


۱۰۱ ۔ کیوں بعض ظالم اور گناہگار لوگ نعمتوں سے مالا مال ہیں اور ان کو سزا نہیں ملتی؟

قرآن مجید کی آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خداوندعالم گناہوں میں زیادہ آلود نہ ہونے والے گناہگاروں کو خطرہ کی گھنٹی یا ان کے اعمال کے عکس العمل یا ان کے اعمال کی مناسب سزا کے ذریعہ جگا دیتا ہے، اور ان کو راہ راست کی ہدایت فرمادیتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے یہاں ہدایت کی صلاحیت پائی جاتی ہے ، ان پر لطف خدا ہوسکتا ہے، در اصل ان کی سزا یا مشکلات ان کے لئے نعمت حساب ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اٴَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَهُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ) (۱) ” (لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر) فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تاکہ خداان کو ان کے کچھ اعمال کا مزا چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستہ پر آجائیں“۔

لیکن گناہ و معصیت میں غرق ہونے والے باغی اور نافرمانی کی انتہا کو پہچنے والے لوگوں کو خداوندعالم ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے ، ان کو مزید موقع دیتا ہے تاکہ وہ گناہوں میں مزید غرق ہوجائیں، اور بڑی سے بڑی سزا کے مستحق بن جائیں، یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے پیچھے کے تمام پلوں کو توڑ دیا ہے اور پیچھے پلٹنے کا کوئی راستہ باقی نہیں چھوڑا، انھوں نے حیا و شرم کے پردوں کو چاک کر ڈالااور ہدایت کی صلاحیت کو بالکل ختم کردیا ہے۔

قرآن مجید کی ایک دوسری آیت اسی معنی کی تائید کرتی ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:( وَلاَیَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا اٴَنَّمَا نُمْلِی لَهُمْ خَیْرٌ لِاٴَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِی لَهُمْ لِیَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِینٌ ) (۲) ”اورخبردار یہ کفارنہ سمجھیں کہ ہم جس قدر راحت وآرام دے رہے رہیں وہ ان کے حق میں بھلائی ہے ہم تو صرف اس لئے دے رہے ہیں کہ جتنا گناہ کرسکیں کرلیں اور ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے“۔

اسلام کی شجاع خاتون جناب زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے شام کی ظالم و جابر حکومت کے سامنے ایک بہترین خطبہ دیا جس میں اسی آیہ شریفہ سے ظالم و جابر یزید کے سامنے استدلال کیا اور یزید کو ناقابل بازگشت گناہگاروں کا واضح مصداق قرار دیا ،آپ فرماتی ہیں:

”تو آج خوش ہورہا ہے، اور سوچتا ہے کہ گویا دنیا کو ہمارے اوپر تنگ کردیا ہے اور آسمان کے دروازہ ہم پر بند ہوگئے ہیں، اور ہمیں اس دربار کے اسیر کے عنوان سے در بدر پھرایا جارہا ہے، تو سوچتا ہے کہ میرے پاس قدرت ہے، اور خدا کی نظر میں قدر و منزلت ہے، اور خدا کی نظر میں ہماری کوئی اہمیت نہیں ہے؟! تو یہ تیرا خیال خام ہے، خدا نے یہ فرصت تجھے اس لئے د ی ہے تاکہ تیری پیٹھ گناہوں کے وزن سے سنگین ہوجائے، اور خدا کی طرف سے درد ناک عذاب تیرا منتظرہے“

ایک سوال کا جواب:

مذکورہ آیت بعض لوگوں کے ذہن میں موجود اس سوال کا جواب بھی دے دیتی ہے کہ کیوں بعض ظالم اور گناہگار لوگ نعمتوں سے مالا مال ہیں اور ان کو سزا نہیں ملتی؟

قرآن کا فرمان ہے: ان لوگوں کی اصلاح نہیں ہوسکتی، قانون آفرینش اور آزادی و اختیار کے مطابق ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے، تاکہ تنزل کے آخری مرحلہ تک پہنچ جائیں اور سخت سے سخت سزاؤں کے مستحق ہوجائیں۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی بعض آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خداوندعالم اس طرح کے لوگوں کو بہت زیادہ نعمتیں عطا کرتا ہے اور جب وہ خوشی اور غرور کے نشہ میں مادی لذتوں میں غرق ہوجاتے ہیں تو اچانک سب چیزیں ان سے چھین لیتا ہے، تاکہ اس دنیا میں بھی سخت سے سخت سزا بھگت سکیں، چونکہ اس طرح کی زندگی کا چھن جانا ان لو گوں کے لئے بہت ہی ناگوار ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اٴَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا اٴُوتُوا اٴَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ ) (۳) ” پھر جب ان نصیحتوں کو بھول گئے جو انھیں یاد دلائی گئی تھیں تو ہم نے امتحان کے طور پر ان کے لئے ہر چیز کے دروازے کھول دئے یہاں تک کہ جب وہ ان نعمتوں سے خوش حال ہوگئے تو ہم نے اچانک انھیں اپنی گرفت میں لے لیا اور وہ مایوس ہوکر رہ گئے“۔

در اصل ایسے لوگ اس درخت کی طرح ہیں جس پر نا معقول طریقہ سے انسان جتنا بھی اوپر جاتا ہے خوش ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس درخت کی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے اچانک طوفان چلتا ہے اور وہ زمین پر گر جاتا ہے اور اس کی تمام ہڈی پسلیاں چور چور ہوجاتی ہیں۔(۴)

____________________

(۱) سورہ روم ، آیت ۴۱

(۲) سورہ آل عمران ، آیت ۱۷۸

(۳) سورہ انعام ، آیت ۴۴/ ۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۳، صفحہ ۱۸۳


۱۰۲ ۔ ایمان نہ رکھنے والی اقوام کیوں عیش و عشرت میں ہیں؟

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( وَلَوْ اٴَنَّ اٴَهْلَ الْقُرَی آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ ) (۱) ”اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کر لےتے تو ہم ان کے لئے زمین وآسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے“۔

اس آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایمان اور تقویٰ ،رحمت الٰہی اور برکات کا موجب ہے تو پھر ان قوموں کے پاس بہت زیادہ نعمتیں کیوں پائی جاتی ہیں جن کے پاس ایمان نہیں ہے! ان کی زندگی بہترین ہوتی ہے،اور ان کو پریشانی نہیں ہوتی، ایسا کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب درج ذیل دو نکات پر توجہ کرنے سے روشن ہوجائے گا:

۱ ۔یہ تصور کرنا کہ بے ایمان قوم و ملت نعمتوں سے مالا مال ہے؛ ایک غلط فہمی ہے، جو ایک دوسری غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور وہ مال و دولت ہی کو خوش بختی سمجھ لیناہے۔

عام طور پر عوام الناس میں یہی تصور پایا جاتا ہے کہ جس قوم و ملت کے پاس ترقی یافتہ ٹیکنیک ہے یا بہت زیادہ مال و دولت ہے وہی خوش بخت ہے، حالانکہ اگر ان اقوام میں جاکر نزدیک سے دیکھیں تو ان کے یہاں نفسیاتی اور جسمانی بے پناہ درد اور مشکلات پائی جا تی ہیں اور اگر نزدیک سے دیکھیں تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ان میں سے متعدد لوگ دنیا کے سب سے ناچار افراد ہیں، قطع نظر اس بات سے کہ یہی نسبی ترقی ان کی سعی و کوشش، نظم و نسق اور ذمہ داری کے ا حساس جیسے اصول پر عمل کا نتیجہ ہیں، جو انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات میں بیان ہوئے ہیں۔

ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ اخباروں میں یہ بات شایع ہوئی کہ امریکہ کے شہر ”نیویورک“ میں (جو مادی لحاظ سے دنیا کا سب سے مالدار اور ترقی یافتہ شہر ہے)اچانک (طولانی مدت کے لئے) بجلی چلی گئی اور ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا:” بہت سے لوگوں نے دکانوں پر حملہ کردیا اور دکانوں کو لوٹ لےا، اس موقع پر پولیس نے تین ہزار لوگوں کو گرفتار کرلیا“۔

یہ بات طے ہے کہ لٹیروں کی تعدادان گرفتار ہونے والوں سے کئی گنا زیادہ ہوگی جو موقع سے فرار نہ کرسکے اور پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے، اور یہ بھی مسلم ہے کہ یہ لٹیرے کوئی تجربہ کار نہیں تھے جس سے انھوں نے ایک پروگرام کے تحت ایسا کیا ہو کیونکہ یہ واقعہ اچانک پیش آیا تھا۔

لہٰذا ہم اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اس ترقی یافتہ اور مالدار شہر کے ہزاروں لوگ چند گھنٹوں کے لئے بجلی جانے پر ”لیٹرے“ بن سکتے ہیں، یہ صرف اخلاقی پستی کی دلیل نہیں ہے بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس شہر میں اجتماعی نا امنی کس قدر پائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ اخباروں میں اس خبر کا بھی اضافہ کیا جو در اصل پہلی خبر کا ہی تتمہ تھا کہ انھیں دنوں ایک مشہور و معروف شخصیت نیویورک کے بہت بڑے ہوٹل میں قیام پذیر تھی، چنانچہ وہ کہتا ہے: بجلی جانے کے سبب ہوٹل کے ہال اور راستوں میں آمد و رفت خطرناک صورت اختیار کر چکی تھی کیونکہ ہوٹل کے ذمہ دار لوگوں نے آمد و رفت سے منع کردیا تھا کہ کوئی بھی اکیلا کمرے سے باہر نہ نکلے، کہیں لٹیروں کا اسیر نہ ہوجائے، لہٰذا مسافروں کی کم و بیش دس دس کے گروپ میں وہ بھی مسلح افراد کے ساتھ آمد و رفت ہوتی تھی اور مسافر اپنے اپنے کمروں میں پہنچائے جاتے تھے ! اس کے بعد یہی شخص کہتا ہے کہ جب تک شدید بھوک نہیں لگتی تھی کوئی بھی باہر نکلنے کی جرائت نہیں کرتا تھا!!

لیکن پسماندہ مشرقی ممالک میں اس طرح بجلی جانے سے اس طرح کی مشکلات پیش نہیں آتیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان ترقی یافتہ اور مالدار ممالک میں امنیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

ان کے علاوہ چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ وہاں قتل کرنا پانی پینے کی طرح آسان ہے، اور قتل بہت ہی آسانی سے ہوتے رہتے ہیں، اور ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر کسی کو ساری دنیا بھی بخش دی جائے تاکہ ایسے ماحول میں زندگی کرے تو ایسا شخص دنیا کا سب سے پریشاں حال ہوگا، اور امنیت کی مشکل اس کی مشکلات میں سے ایک ہے۔

اس کے علاوہ اجتماعی طور پر بہت سی مشکلات پائی جاتی ہیں جو خود اپنی جگہ دردناک ہیں، لہٰذا ان تمام چیزوں کے پیش نظر مال و دولت کو باعث خوشبختی تصور نہیں کرنا چاہئے۔

۲ ۔ لیکن یہ کہنا کہ جن معاشروں میں ایمان اور پرہیزگاری پائی جاتی ہے وہ پسماندہ ہیں، تو اگر ایمان اور پرہیزگاری سے مراد صرف اسلام اور تعلیمات ا نبیاء کے اصول کی پابندی کا دعویٰ ہو تو ہم بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایسے افراد پسماندہ ہیں۔

لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایمان اور پرہیزگاری کی حقیقت یہ ہے کہ ان کا اثر زندگی کے ہر پہلو پر دکھائی دے، صرف اسلام کا دعویٰ کرنے سے مشکل حل نہیں ہوتی۔

نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج اسلام اور انبیا الٰہی کی تعلیمات کو بہت سے اسلامی معاشروں میں یا بالکل ترک کردیا گیا ہے یا آدھا چھوڑ دیا گیا ہے، لہٰذا ان معاشروں کا حال حقیقی مسلمانوں جیسا نہیں ہے۔

اسلام، طہارت، صحیح عمل، امانت اور سعی و کوشش کی دعوت دیتا ہے، لیکن کہاں ہے امانت اور سعی و کوشش؟

اسلام، علم و دانش اور بیداری و ہوشیاری کی دعوت دیتا ہے، لیکن کہاں ہے علم و آگاہی؟ اسلام، اتحاد اور فدارکاری کی دعوت دیتا ہے، لیکن کیا اسلامی معاشروں میں ان اصول پر عمل کیا جارہا ہے؟ جبکہ پسماندہ ہیں؟! اس بنا پر یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اسلام ایک الگ چیز ہے اور ہم مسلمان ایک الگ چیز، (ورنہ اگر اسلام کے اصول اور قواعد پر عمل کیا جائے تو اسلام اس نظام الٰہی کا نام ہے جس کے اصول پر عمل کرتے ہوئے مسلمان خوش حال نظر آئیں گے)(۲)

____________________

(۱) سورہ اعراف ، آیت۹۶

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۲۶۸


۱۰۳ ۔ مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب کیا ہیں؟

قرآن مجید کی آیات سے بخوبی یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر طرح کی ناکامی اور شکست جس سے ہم دو چار ہوتے ہیں ، دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کی وجہ سے ہے: یا تو ہم نے جہاد (و کوشش) میں کوتاہی کی ہے یا ہمارے کاموں میں خلوص نہیں پایا جاتا، اور اگر یہ دونوں چیزیں باہم جمع ہوجائیں تو خداوندعالم کے وعدہ کی بنا پر کامیابی اور ہدایت یقینی ہے۔ اگر صحیح طور پر غور و فکر کیا جائے تو اسلامی معاشرہ کی مشکلات اور پریشانیوں کا سبب معلوم ہوسکتا ہے۔

کیوں مسلمان آج تک پسماندہ ہیں؟

کیوں سب چیزوں میںغیروں کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں یہاں تک کہ علم و ثقافت اور قوانین کے سلسلہ میں بھی دوسروں کی مدد کے محتاج ہیں؟ کیوں سیاسی بحران، فوجی حملوں کے طوفان میں دوسرے پر بھروسہ کیا جائے؟

کیوں اسلام کے علمی اورثقافتی دسترخوان پر بیٹھنے والے آج مسلمانوں سے آگے نکل گئے ہیں؟

کیوں غیروں کے ہاتھوں اسیر ہوچکے ہیں اور ان کی زمینوں پر اغیار کا قبضہ ہے؟! ان تمام سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ یا تو وہ جہاد کو بھول گئے ہیں یا ان کی نیتوں میں خلوص نہیں رہا اور ان کی نیتوں میں فتور آگیا ہے؟

جی ہاں! علمی، ثقافتی ، سیاسی، اقتصادی اور نظامی میدان میں جہاد (اور کوشش) کو بھلا دیا گیا ہے، حبّ نفس، عشق دنیا، راحت طلبی، تنگ نظری اور ذاتی اغراض کا غلبہ ہوگیا ہے یہاں تک کہ مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل ہونے والی تعداد غیروں کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے!

بعض مغرب اور مشرق پرست افراد کا ہمت ہار جانا، بعض ذمہ دار لوگوں کا سیم و زر کے بدلے بِک جانا اور دانشوروں ومفکرین قوم کا گوشہ نشین ہوجانا، یہ سب ایسی وجوہات ہیں جس کی بنا پر جہاد و کوشش ہمارے یہاں سے جاتی رہی اور اخلاص بھی رخصت ہوگیا۔

اگر ہمارے درمیان تھوڑا بھی اخلاص پیدا ہوجائے اور ہمارے مجاہدین میں جوش وجذبہ پیدا ہوجائے تو پھر یکے بعد دیگرے کامیابی ہی کامیابی ہوگی۔

اسیری کی زنجیریں ٹوٹ جائیں گی، مایوسی امید میں ،شکست کامیابی میں، ذلت عزت و سر بلندی میں، اختلاف ونفاق وحدت و یکدلی میں تبدیل ہوجائیں گے، اور واقعاً قرآن مجید کس قدر الہام بخش ہے جس نے ایک چھوٹے سے جملہ(۱) میں تمام مشکلات اور پریشانیوں کا راہ حل بیان کردیا!

جی ہاں جو لوگ راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں، ہدایت الٰہی ان کے شامل حال ہوتی ہے،اور

( وَالَّذِینَ جَاهَدُوا فِینَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِینَ ) (اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ہے ہم انھیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا اللہ حسنِ عمل والوں کے ساتھ ہے (مترجم)

یہ بات واضح ہے کہ جس کو خدا کی طرف گمراہی سے ہدایت مل جائے تو اس کے یہاں شکست کا تصور ہی نہیں پایا جاتا۔

بہر حال جو شخص اس قرآنی حقیقت کو اپنی کوششوں اور کاوشوں کی روشنی کو اس وقت محسوس کرتا ہے، جب وہ خدا کے لئے اور اس کی راہ میں جہاد اور کوشش کرتا ہے تو رحمتِ خدا کے دروازے اس کے لئے کھل جاتے ہیں اور اس کے لئے مشکلات آسان اور سختیاں قابل تحمل ہوجاتی ہیں۔(۲)

____________________

(۱)سورہ عنکبوت ، آیت نمبر ۶۹ کی طرف اشارہ ہے، جہاں ارشاد ہوتا ہے:

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۶، صفحہ ۳۵۰


۱۰۴ ۔ واقعہ فدک کیا ہے؟

”فدک “ اطراف مدینہ میں تقریباً ایک سو چالیس کلو میٹر کے فاصلہ پر خیبر کے نزدیک ایک آباد قصبہ تھا۔

جب سات ہجری میں خیبر کے قلعے یکے بعد دیگرے اسلامی فو جو ں نے فتح کرلئے اور یہودیوں کی مرکزی قوت ٹوٹ گئی تو فدک کے رہنے والے یہودی صلح کے خیال سے خدمتِ پیغمبر میں سرتسلیم خم کرتے ہوئے آئے اور انہوں نے اپنی نصف زمینیں اور باغات آنحضرت (ص) کے سپرد کردئیے اور نصف اپنے پاس رکھے رہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے حصہ کی زمینوں کی کاشتکاری بھی اپنے ذمہ لی، اپنی کاشتکاری کی زحمت کی اجرت وہ پیغمبر اسلام سے وصول کرتے تھے،(سورہ حشر ، آیت ۷) کے پیش نظر یہ زمینیں پیغمبر اسلام (ص) کی ملکیت تھیں ، ان کی آمدنی کو آپ اپنے مصرف میں لاتے تھے یا ان مقامات میں خرچ کرتے تھے جن کی طرف سورہ حشر ، آیت نمبر ۷ میں اشارہ ہوا ہے ۔

پیغمبر اسلام (ص)نے یہ ساری زمینیں اپنی بیٹی حضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا کوعنایت فرمادیں، یہ ایسی حقیقت ہے جسے بہت سے شیعہ اور اہل سنت مفسرین نے صراحتکے ساتھ تحریر کیا ہے، منجملہ دیگر مفسرین کے تفسیر در منثور میں ابن عباس سے مروی ہے

جس وقت آیت( فاتِ ذَا القُربیٰ حَقّهُ ) (۱) نازل ہوئی تو پیغمبر نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو فدک عنایت فرمایا:(اقطَعَ رَسُول الله فا طمةَ فَدَکاً )(۲)

کتا ب کنزالعمال، جو مسند احمد کے حاشیہ پر لکھی گئی ہے،میں صلہ رحم کے عنوان کے تحت ابوسعید خدری سے منقول ہے کہ جس وقت مذکورہ بالاآیت نازل ہوئی تو پیغمبر (ص) نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کو طلب کیا اور فرمایا: ” یا فاطمة لکِ فدک“”اے فاطمہ فدک تمہاری ملکیت ہے“۔(۳)

حاکم نیشاپوری نے بھی اپنی تاریخ میں اس حقیقت کو تحریرکیا ہے۔(۴)

ابن ابی الحدید معتزلی نے بھی نہج البلاغہ کی شرح میں داستان فدک تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے اور اسی طرح بہت سے دیگر مورخین نے بھی۔(۵۰)

لیکن وہ افراد جو اس اقتصادی قوت کو حضرت علی علیہ السلام کی زوجہ محترمہ کے قبضہ میں رہنے دینا اپنی سیاسی قوت کے لئے مضر سمجھتے تھے،انہوں نے مصمم ارادہ کیا کہ حضرت علی علیہ السلام کے یاور وانصار کو ہر لحاظ سے کمزور اور گوشہ نشیں کردیں، جعلی حدیث (نَحْنُ مُعَاشَرَ الاٴنْبِیَاءِ لَا نُورِّث ) (ہم گروہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے) کے بہانے انہوں نے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا اور باوجود یکہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا قانونی طور پر اس پر متصرف تھیں اور کوئی شخص ”ذوالید“(جس کے قبضہ میں مال ہو)سے گواہ کا مطالبہ نہیں کرتا،جناب سیدہ سلام اللہ علیہا سے گواہ طلب کئے گئے ، بی بی نے گواہ پیش کئے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے خود انہیں فدک عطا فرمایا ہے لیکن انہوں نے ان تمام چیزوں کی کوئی پرواہ نہیں کی، بعد میں آنے والے خلفا میں سے جو کوئی اہل بیت علیہم السلام سے محبت کا اظہار کرتا تو وہ فدک انہیں لوٹا دیتا تھا لیکن زیادہ دیر نہیں گزرتی تھی کہ دوسرے خلیفہ اسے چھین لیتا تھا اور دوبارہ اس پر قبضہ کرلیتا تھا، خلفائے بنی امیہ اور خلفائے بنی عباس نے بارہا ایسا ہی کیا ۔

واقعہ فدک اور اس سے متعلق مختلف واقعات جو صدر اسلام میں اور بعد میں پیش آئے،زیادہ دردناک اورغم انگیز ہیں اور وہ تاریخ اسلام کا ایک عبرت انگیز حصہ بھی ہیں جو محققانہ طور پر مستقل مطالعہ کا متقاضی ہے تا کہ تاریخ اسلام کے مختلف واقعات نگاہوں کے سامنے آسکیں۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل سنت کے نامور محدث مسلم بن حجاج نیشاپوری نے اپنی مشہور و معروف کتاب ”صحیح مسلم“ میں جناب فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کا خلیفہ اول سے فدک کے مطالبہ کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اور جناب عائشہ کی زبانی نقل کیا ہے کہ جب خلیفہ اول نے جناب فاطمہ کو فدک نہیں دیا تو بی بی ان سے ناراض ہوگئیں اور آخر عمر تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ (صحیح مسلم، کتاب جہاد ، جلد ۳ ص ۱۳۸۰ حدیث .۵)(۶)

____________________

(۱)سورہ روم ، آیت ۳۸ (۲)در منثور ، جلد ۴صفحہ ۱۷۷

(۳)کنز العمال ، جلد ۲صفحہ ۱۵۸ (۴) دیکھئے: کتاب فدک صفحہ ۴۹ کی طرف

(۵)شرح ابن ابی الحدید ، جلد ۱۶، صفحہ ۲۰۹ /اور اس کے بعد

(۶) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۳، صفحہ ۵۱۰


۱۰۵ ۔ کیا جناب ابوطالب مومن تھے؟

تمام علمائے شیعہ اور اہل سنت کے بعض بزرگ علمامثلاً ”ابن ابی الحدید“شارح نہج البلاغہ اور”قسطلانی“ نے ارشاد الساری اور ”زینی دحلان“ نے سیرہ حلبی کے حاشیہ میں حضرت ابوطالب کو مومنین اور اہل اسلام میں سے بیان کیا ہے،اسلام کی بنیادی کتابوں کے منابع میں بھی ہمیں اس موضوع کے بہت سے شواہد ملتے ہیں جن کے مطالعہ کے بعد ہم گہرے تعجب اور حیرت میں پڑجاتے ہیں کہ حضرت ابوطالب پرایک گروہ کی طرف سے اس قسم کی بے جا تہمتیں کیوں لگائی گئیں ؟!

جس نے اپنے تمام وجود کے ساتھ پیغمبر اسلام کا دفاع کیا اور بار ہا خوداپنے فرزند کو پیغمبراسلام کے مقدس وجود کو بچانے کے لئے خطرات کے مواقع پر ڈھال بنادیا !!یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس پر ایسی تہمت لگائی جائے؟!۔

یہی سبب ہے کہ تحقیق کرنے والوں نے دقت نظر کے ساتھ یہ سمجھا ہے کہ حضرت ابوطالب کے خلاف، مخالفت کی لہر ایک سیاسی ضرورت کی وجہ سے ہے جو ”شَجَرةُ خَبِیثَةٌ بَنِي اٴُمیّه “ کی حضرت علی علیہ السلام کے مقام ومرتبہ کی مخالفت سے پیداہوئی ہے۔

کیونکہ یہ صرف حضرت ابوطالب کی ذات ہی نہیں تھی جو حضرت علی علیہ السلام کے قرب کی وجہ سے ایسے حملے کی زد میں آئی ہو ،بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو تاریخ اسلام میں کسی طرح سے بھی امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے قربت رکھتا ہے ایسے ناجو اں مردانہ حملوں سے نہیں بچ سکا، حقیقت میں حضرت علی علیہ السلام جیسے عظیم پیشوائے اسلام کے باپ ہونے کے علاوہ حضرت ابوطالب کا کوئی گناہ نہیں تھا ! ہم یہاں پر ان بہت سے دلائل میں سے جو واضح طور پر ایمان ابوطالب کی گواہی دیتے ہیں کچھ دلائل مختصر طور پر فہرست وار بیان کرتے ہیں تفصیلات کے لئے اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کریں ۔

۱ ۔ حضرت ابوطالب پیغمبر اکرم (ص)کی بعثت سے پہلے اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کا بھتیجا مقام نبوت تک پہنچے گا، مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت ابوطالب قریش کے قافلے کے ساتھ شام گئے تھے تو اپنے بارہ سالہ بھتیجے محمد کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، اس سفر میں انہوں نے آپ کی بہت سی کرامات کا مشاہدہ کیا ۔

ان میں ایک واقعہ یہ ہے کہ جو نہی قافلہ ”بحیرا“نامی راہب کے قریب سے گزرا جو قدیم زمانہ سے ایک گرجا گھر میں مشغول عبادت تھا اور کتب عہدین (توریت و انجیل) کا عالم تھا اور تجارتی قافلے اپنے سفر کے دوران اس کی زیارت کے لئے جاتے تھے، توراہب کی نظریں قافلہ والوں میں سے حضرت محمد (ص)پر جم کررہ گئیں، اس وقت آپ کی عمر بارہ سال سے زیادہ نہ تھی ۔

بحیرانے تھوڑی دیر کے لئے حیران وششدر رہا، پھر گہری اور پُرمعنی نظروں سے دیکھنے کے بعد کہا:یہ بچہ تم میں سے کس سے تعلق رکھتا ہے؟لوگوں نے ابوطالب کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بتایا کہ یہ میرا بھتیجا ہے۔” بحیرا“ نے کہا : اس بچہ کا مستقبل بہت درخشاں ہے، یہ وہی پیغمبر ہے جس کی نبوت ورسالت کی آسمانی کتابوں نے خبردی ہے اور میں نے اسکی تمام خصوصیات کتابوں میں پڑھی ہیں۔(۱)

ابوطالب اس واقعہ اور اس جیسے دوسرے واقعات سے پہلے دوسرے قرائن سے بھی پیغمبر اکرم کی نبوت اور معنویت کو سمجھ چکے تھے ۔

اہل سنت کے عالم شہرستانی (صاحب ملل ونحل) اور دوسرے علماکی نقل کے مطابق: ”ایک سال آسمان مکہ نے اہل مکہ سے اپنی برکت روک لی اور سخت قسم کی قحط سالی نے لوگوں کوگھیر لیاتو ابوطالب نے حکم دیا کہ ان کے بھتیجے محمد کو جو ابھی شیر خوارہی تھے لایاجائے، جب بچے کو اس حال میں کہ وہ ابھی کپڑے میں لپیٹا ہوا تھا انہیں دیا گیا تو وہ اسے لینے کے بعد خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور تضرع وزاری کے ساتھ اس طفلِ شیر خوار کو تین مرتبہ اوپر کی طرف بلند کیا اور ہر مرتبہ کہتے تھے: پروردگارا! اس بچہ کے حق کا واسطہ ہم پر بابرکت بارش نازل فرما ۔زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ افق سے بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور مکہ کے آسمان پر چھا گیا اور بارش سے ایسا سیلاب آیا جس سے خوف پیدا ہونے لگا کہ کہیں مسجد الحرام ہی ویران نہ ہوجائے “۔

اس کے بعد شہرستانی کا کہنا ہے کہ یہی واقعہ جوابوطالب کی اپنے بھتیجے کے بچپن سے اس کی نبوت ورسالت سے آگاہ ہونے پر دلالت کرتا ہے ان کے پیغمبر پر ایمان رکھنے کا ثبوت بھی ہے اور ابوطالب نے بعد میں درج ذیل اشعار اسی واقعہ کی مناسبت سے کہے تھے :

وَ ابیض یستسقي الغَمَامَ بوجهِهِ

ثَمَالَ الیتامٰی عُصمة للاٴرَاملِ

” وہ ایسا روشن چہرے والا ہے کہ بادل اس کی خاطر سے بارش برساتے ہیں وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کے محافظ ہیں “

یَلُوذُ به الهَلاک مِن آلِ هَاشِمِ

فَهُمْ عِنْدَه فِی نِعمَةٍ وَ فَوَاضلِ

” بنی ہاشم میں سے جوچل بسے ہیں وہ اسی سے پناہ لیتے ہیں اور اسی کے صدقہ میں نعمتوں اور احسانات سے بہرہ مند ہوتے ہیں ،،

ومِیزانُ عَدلِه یخیس شَعِیرة

وَوِزانّ صدقٍ وَزنه غیرُ هائلِ

” وہ ایک ایسی میزان عدالت ہے جو ایک جَوبرابر بھی ادھرادھر نہیں کرتا اور درست کاموں کا ایسا وزن کرنے والا ہے جس کے وزن کرنے میں کسی شک وشبہ کا خوف نہیں ہے “ ۔

قحط سالی کے وقت قریش کا ابوطالب کی طرف متوجہ ہونا اور ابوطالب کا خدا کو آنحضرت کے حق کا واسطہ دینا شہرستانی کے علاوہ اور دوسرے بہت سے عظیم مورخین نے بھی نقل کیا ہے ، مرحوم علامہ امینی نے اسے اپنی کتاب ”الغدیر“ میں” شرح بخاری“ ،”المواہب اللدنیہ“، ”الخصائص الکبریٰ“، ” شرح بہجتہ المحافل“ ،”سیرہ حلبی“، ” سیرہ نبوی“ اور ” طلبتہ الطالب“ سے نقل کیا ہے(۲)

۲ ۔اس کے علاوہ مشہور اسلامی کتابوں میں ابوطالب کے بہت سے اشعار ایسے ہیں جو ہماری دسترس میں ہیں جس کے مجموعہ کا نام ”دیوان ابو طالب“ رکھا گیا ہے، ہم ان میں سے کچھ اشعار ذیل میں نقل کررہے ہیں :

وَالله لَن یَصِلُوا إلَیکَ بِجَمعِهم

حَتّٰی اٴوسدَ فِی التُّرَابِ دَفِیْناً

”اے میرے بھتیجے! خدا کی قسم جب تک ابوطالب مٹی میں نہ سوجائے اور لحد کو اپنا بستر نہ بنالے دشمن ہرگز ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے“ ۔

فَاصدّعْ بِاٴمرِکَ مَاعلیکَ غَضَاضَة

وَابْشِر بِذَاکَ وَ قرمنک عیوناً

”لہٰذا کسی چیز سے نہ ڈراور اپنی ذمہ داری اور ماموریت کا ابلاع کردو، بشارت دو اور آنکھوں کو ٹھنڈا کردو“۔

وَدَعوتني وَعلِمتُ اٴنَّکَ نَاصِحِي

وَلَقَد دَعوتَ وَ کُنتَ ثُمَّ اٴمِیناً

”تونے مجھے اپنے مکتب کی دعوت دی اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تیرا ہدف ومقصد صرف پندو نصیحت کرنا اور بیدار کرنا ہے، تو اپنی دعوت میں امین ہے“۔

وَ لَقَد عَلِمْتَ اٴنْ دِینُ مُحَمَّد(ص)

مِنْ خَیرِ اٴدیَانِ البَریَّة دِیناً(۳)

” میں یہ بھی جانتا ہوں کہ محمد کا دین تمام ادیان میں سب سے بہتردین ہے“۔

اور یہ اشعار بھی انہوں نے ہی ارشاد فرمائے ہیں :

اٴلَمْ تَعْلَمُوْا إنَّا وَجَدنَا مُحَمَّد اً

رَسُولاً کَمُوسیٰ خَط فِی اوّلِ الکُتُبِ

” اے قریش ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ محمد( (ص))موسیٰ (علیہ السلام) کی مثل ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے مانند خدا کے پیغمبر اور رسول ہیں جن کے آنے کی پیشین گوئی گزشتہ آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے اور ہم نے اسے پالیاہے“۔

وَ إنَّ عَلَیه فِی العِبَادِ مَحبة وَلاحَیفَ فِی مَن خَصّهُ اللّٰهُ فِی الحُبِّ (۴)

” خدا کے بندے اس سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں اور جسے خدا وندمتعال نے اپنی محبت کے لئے مخصوص کرلیا ہو اس شخص سے یہ لگاؤبے جا نہیں ہے۔“ ابن ابی الحدید ،جناب ابوطالب کے کافی اشعار نقل کرنے کے بعد (جن کے مجموعہ کو ابن شہر آشوب نے ” متشابہات القرآن“ میں تین ہزار اشعار کہا ہے) کہتا ہے : ”ان تمام اشعار کے مطالعہ سے ہمارے لئے کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ ابوطالب اپنے بھتیجے کے دین پر ایمان رکھتے تھے“۔

۳ ۔ پیغمبر اکرم (ص)سے بہت سی ایسی احادیث بھی نقل ہوئی ہیں جو آنحضرت (ص)کی ان کے فدا کار چچا ابوطالب کے ایمان پر گواہی دیتی ہیں منجملہ ” ابوطالب مومن قریش“ کے مولف کی نقل کے مطابق ایک یہ ہے کہ جب ابوطالب کی وفات ہوگئی تو پیغمبر اکرم (ص)نے ان کی تشیع جنازہ کے بعد اس سوگواری کے ضمن میں جو اپنے چچا کی وفات کی مصیبت میں آپ کررہے تھے آپ یہ بھی کہتے تھے: ”ہائے میرے بابا! ہائے ابوطالب ! میں آپ کی وفات سے کس قدر غمگین ہوں میں کس طرح آپ کی مصیبت کو بھول جاؤں ، اے وہ شخص جس نے بچپن میں میری پرورش اور تربیت کی اور بڑے ہونے پر میری دعوت پر لبیک کہی ، میں آپ کے نزدیک اس طرح تھا جیسے آنکھ خانہ چشم میں اور روح بدن میں“۔(۵)

نیز آپ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے :”مَا نَالت مِنِّي قُرِیش شیئًا اٴکرهُه حَتّٰی ماتَ اٴبُوطَالِب(۶)

”اہل قریش اس وقت تک میرے خلاف کوئی ناپسندیدہ اقدام نہ کرسکے جب تک ابوطالب کی وفات نہ ہوگئی“۔

۴ ۔ ایک طرف سے یہ بات مسلم ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)کو ابوطالب کی وفات سے کئی سال پہلے یہ حکم مل چکا تھا کہ وہ مشرکین کے ساتھ کسی قسم کا دوستانہ رابطہ نہ رکھیں ،اس کے باوجود ابوطالب کے ساتھ اس قسم کے تعلق اور مہرو محبت کا اظہار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیغمبر اکرم انھیں مکتب توحید کا معتقد جانتے تھے، ورنہ یہ بات کس طرح ممکن ہوسکتی تھی کہ دوسروں کو تو مشرکین کی دوستی سے منع کریں اور خود ابوطالب سے عشق کی حدتک محبت رکھیں۔

۵ ۔ اہل بیت پیغمبر علیہم السلام کے ذریعہ سے ہم تک پہنچنے والی احادیث میں حضرت ابوطالب کے ایمان واخلاص کے بڑی کثرت سے مدارک نظر آتے ہیں، جن کو یہاں نقل کرنے سے بحث طولانی ہو جائے گی ،یہ احادیث منطقی استدلال کی حامل ہیں ان میں سے ایک حدیث چوتھے امام علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس میں امام علیہ السلام نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ابوطالب مومن تھے؟ جواب دینے کے بعد ارشاد فرمایا:

”إنَّ هُنَا قَوماً یَزْعَمُونَ اٴنَّهُ کَافِرٌ “ اس کے بعد فرمایا:” تعجب کی بات ہے کہ بعض لوگ یہ کیوں خیال کرتے ہیں کہ ابوطالب کافرتھے،کیا وہ نہیں جانتے کہ وہ اس عقیدہ کے ساتھ پیغمبر اور ابوطالب پر طعن کرتے ہیں کیا ایسا نہیں ہے کہ قرآن کی کئی آیات میں اس بات سے منع کیا گیا ہے (اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ) مومن عورت ایمان لانے کے بعد کافر کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور یہ بات مسلم

ہے کہ فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا سابق ایمان لانے والوں میں سے ہیں اور وہ ابوطالب کی زوجیت میں ابوطالب کی وفات تک رہیں۔“(۷)

۶ ۔ان تمام باتوں کے علاوہ اگرانسان ہر چیز میں شک کرے تو کم از کم اس حقیقت میں تو شک نہیں کرسکتا کہ ابوطالب اسلام اور پیغمبر اکرم (ص)کے صف اول کے حامی ومددگار تھے ، انھوں نے اسلام اور رسول کی جو حمایت کی ہے اسے کسی طرح بھی رشتہ داری اور قبائلی تعصبات سے منسلک نہیں کیا جاسکتا ۔

اس کا زندہ نمونہ شعب ابوطالب کی داستان ہے،تمام مورخین نے لکھا ہے کہ جب قریش نے پیغمبر اکرم (ص)اور مسلمانوں کا ایک شدید اقتصادی، سماجی اور سیاسی بائیکاٹ کیا اور ان سے ہر قسم کے روابط ان سے منقطع کرلئے تو آنحضرت (ص)کے واحد حامی اور مدافع، ابوطالب نے اپنے تمام کاموں سے ہاتھ کھینچ لیا اور برابر تین سال تک ہاتھ کھینچے رکھا اور بنی ہاشم کو ایک درہ میں لے گئے جو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان اور ”شعب ابوطالب“ کے نام سے مشہور تھا وہاں پر سکونت اختیار کر لی۔

ان کی فدا کاری اس مقام تک جا پہنچی کہ قریش کے حملوں سے بچانے کےلئے کئی ایک مخصوص قسم کے برج تعمیرکرنے کے علاوہ ہر رات پیغمبر اکرم (ص) کو ان کے بستر سے اٹھاتے اور ان کے آرام کے لئے دوسری جگہ مہیا کرتے اور اپنے فرزند دلبند علی کو ان کی جگہ پر سلادیتے اور جب حضرت علی کہتے: ”بابا جان! میں تو اسی حالت میں قتل ہوجاؤں گا “ تو ابوطالب جواب میں کہتے :میرے پیارے بچے! بردباری اور صبر ہاتھ سے نہ چھوڑو، ہر زندہ شخص موت کی طرف رواںدواں ہے، میں نے تجھے فرزند عبد اللہ کا فدیہ قرار دیا ہے ۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جو حضرت علی علیہ السلام باپ کے جواب میں کہتے ہیں کہ بابا جان میرا یہ کلام اس بناپر نہیں تھا کہ میں محمد کے لئے قتل ہونے سے ڈرتاہوں، بلکہ میرا یہ کلام اس بنا پر تھا کہ میں یہ چاہتا تھا کہ آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں کس طرح سے آپ کی اطاعت اور احمد مجتبیٰ کی نصرت ومدد کے لئے آمادہ ہوں۔(۸)

قارئین کرام ! ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی تعصب کو ایک طرف رکھ کر غیر جانبداری کے ساتھ ابوطالب کے بارے میں تاریخ کی سنہری سطروں کو پڑھے گا تو وہ ابن ابی الحدید شارح نہج البلاغہ کا ہم آواز ہوکر کہے گا :

وَلَولَا اٴبُوطَالب وَ إبنَهُ لِما مثَّل الدِّین شَخْصاً وَقَامَافَذَاکَ بِمَکَّةِ آویٰ وَحَامٰی وَ هَذا بِیثْربَ حَسّ الحِمَامَا (۹)

” اگر ابوطالب اور ان کے فرزند نہ ہوتے تو ہرگزمکتب اسلام باقی نہ رہتا اور اپنا قدموں پر کھڑا نہ ہوتا، ابوطالب تو مکہ میں پیغمبر کی مدد کےلئے آگے بڑھے اور علی یثرب (مدینہ) میں حمایت اسلام کی راہ میں گرداب موت میں ڈوب گئے“۔

اگر جناب ابو طالب اور ان کے فرزند ارجمند نہ ہوتے تو دین اسلام بھی نہ ہوتا، اگر یہ نہ ہوتے تو اسلام کے لئے کوئی سہارا نہ تھا، جناب ابو طالب نے مکہ میں پیغمبر اکرم (ص) کی مدد کی اور حضرت علی علیہ السلام نے مدینہ میں، اور اسلام کی حمایت میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔(۱۰)

____________________

(۱)تلخیص از سیرہ ابن ہشا م ، جلد۱صفحہ ۱۹۱، سیرہ حلبی ، جلد ا، صفحہ۱۳۱/وغیرہ

(۲) خزانة الادب،تاریخ ابن کثیر ،شرح ابن ابی الحدید ،فتح الباری،بلوغ الارب، تاریخ ابی الفدا، سیرہ نبوی وغیرہ، الغدیر ، جلد ۸ کی نقل کے مطابق

(۳) خزانة الادب۔ تاریخ ابن کثیر ۔شرح ابن ابی الحدید ۔فتح الباری۔بلوغ الارب۔ تاریخ ابی الفدا، سیرہ نبوی وغیرہ، الغدیر ، جلد ۸ کی نقل کے مطابق

(۴) شیخ الاباطح ، ابو طالب مومن قریش سے نقل کے مطابق

(۵)طبری ، ابو طالب مومن قریش کی نقل کے مطابق

(۶) کتاب الحجہ ، درجات الرفیعہ ، الغدیر ، جلد ۸ کی نقل کے مطابق

(۷) الغدیر ، جلد ۸

(۸)الغدیر ، جلد ۸

(۹) تفسیر نمونہ ، جلد ۵ صفحہ ۱۹۲


۱۰۶ ۔ گناہان کبیرہ کا معیار کیا ہے؟

گناہان کبیرہ کی طرف قرآن مجید میں چند آیات میں اشارہ ہوا ہے(۱) جن کے بارے میں مفسرین، فقہا اور محدثین نے طولانی گفتگو کی ہے۔

بعض مفسرین تمام گناہوں کو ”گناہان کبیرہ“ مانتے ہیں، کیونکہ صاحب عظمت خدا ہر گناہ بڑا ہے۔

جبکہ بعض علمانے ”کبیرہ“ اور ”صغیرہ“ کو نسبی امر بتایا ہے، اور ہر گناہ کو دوسرے اہم گناہ کے مقابل صغیرہ قرار دیا ہے اور اس سے چھوٹے گناہ کی نسبت کبیرہ قرار دیا ہے۔

بعض مفسرین نے ان گناہوں کو کبیرہ قرار دیا ہے جن پر قرآن مجید میں عذاب الٰہی کا وعدہ کیا گیا ہے۔

نیز بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جس کے ارتکاب کرنے والے پر ”حدّ شرعی “ جاری ہوتی ہے۔ لیکن سب سے بہتر یہ ہے کہ ہم یوں کہیں کہ بعض گناہ کو ”کبیرہ“کہنا خود اس کے عظیم ہونے پر دلالت کرتا ہے، لہٰذا جس گناہ میں درج ذیل شرائط میں سے کوئی ایک شرط پائی جائے تو وہ گناہ کبیرہ ہے:

الف۔ جن گناہوں پر عذاب الٰہی کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ب۔ جن گناہوں کو قرآن و سنت میں اہم قرار دیا گیا ہے۔

ج۔ جن گناہوں کو شرعی منابع میں گناہ کبیرہ سے بھی عظیم قرار دیا گیا ہے۔

د۔ جن گناہوں کے بارے میں معتبر روایات میں کبیرہ ہونے کی وضاحت کی گئی ہے۔

اسلامی روایات میں ”گناہان کبیرہ“ کی تعداد مختلف بیان ہوئی ہے، بعض روایات میں سات گناہوں کو کبیرہ قرار دیا گیا ہے: (قتل نفس، عقوق والدین، سود خوری، ہجرت کے بعد دار الکفر کی طرف پلٹ جانا، پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا، یتیموں کا مال کھانا اور جہاد سے فرار کرنا)(۲)

بعض دیگر روایات میں (بھی) ”گناہان کبیرہ“ کی تعداد سات ہی بیان کی گئی ہے صرف اس فرق کے ساتھ کہ اس میں عقوق والدین کی جگہ یہ جملہ بیان ہوا ہے کہ”کُلَّمَا اٴوْجَبَ اللهعلَیه النَّار “ (جن چیزوں پر خدا نے جہنم کو واجب قرار دیا ہے)

جبکہ بعض دوسری روایات میں ”گناہان کبیرہ“ کی تعداد ۱۰ ، بعض میں ۱۹ ، اور بعض میں ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی گئی ہے۔(۳)

گناہان کبیرہ کی تعداد کے سلسلہ میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ تمام گناہان کبیرہ برابر نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے بعض کی بہت زیادہ اہمیت ہے، یا بالفاظ دیگر ”اکبر الکبائر “ (کبیرہ سے زیادہ بڑا) ہے، لہٰذا ان کے درمیان کوئی تضاد اور ٹکراؤ نہیں ہے۔(۴)

____________________

(۱) سورہ نساء ، آیت ۳۱ سورہ شوریٰ ، آیت ۳۷، اور آیات محل بحث(سورہ نجم ، آیت ۳۱ و ۳۲)

(۲) وسائل الشیعہ ، جلد ۱۱، (ابواب جہا د بالنفس، باب ۴۶،حدیث۱)

(۳) اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے وسائل الشیعہ (باب ۴۶، از ابواب جہاد بالنفس) پر رجوع فرمائیں، اس باب میں گناہان کبیرہ کی تعداد کے حوالہ سے ۳۷ حدیث نقل ہوئی ہیں

(۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۵۴۱


۱۰۷ ۔ کیا دنوں کو سعد و نحس ماننا صحیح ہے؟

عوام الناس کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ کچھ دن سعد اور نیک ہوتے ہیں اور کچھ نحس ہوتے ہیں، اگرچہ اس میں شدید اختلاف ہے کہ کون کون سے دن سعد یا نحس ہیں؟یہاں بحث یہ ہے کہ عوام الناس کا یہ عقیدہ اسلام کی نظر میں کہاں تک قابل قبول ہے؟ یا یہ نظریہ اسلام ہی سے لیا گیا ہے؟ اگرچہ عقلی لحاظ سے زمان اور ایام میں فرق کا پایا جانا محال نہیں ہے، کہ بعض ایام نحوست کی علامت رکھتے ہوں اور بعض دن سعد اور نیک ہوں، اگرچہ ہمارے پاس ایسی کوئی عقلی دلیل نہیں ہے جس کے ذریعہ ان کو ثابت کیا جائے یا اس کی نفی کی جائے، ہم تو صرف اتنا کہتے ہیں کہ ایسا ہونا ممکن ہے لیکن عقلی لحاظ سے ثابت نہیں ہے۔

لہٰذا اگر اس سلسلہ میں شرعی دلائل موجود ہوں تو ان کو قبول کیا جاسکتا ہے بلکہ ان کو ماننا ضروری ہے۔ قرآن مجید میں صرف دومقامات پر ”نحوستِ ایام“ کی طرف اشارہ ہوا ہے،ایک سورہ قمر ، آیت نمبر ۱۹ میں اور دوسرا سورہ فصلت ، آیت نمبر ۱۶/ میں جہاں قوم عاد کے واقعہ کی طرف اشارہ ہوا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:( فَاٴَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیحًا صَرْصَرًا فِی اٴَیَّامٍ نَحِسَاتٍ ) (۱)

”تو ہم نے بھی ان کے اوپر تیز اور تند آندھی کو ان کی نحوست کے دنوں میں بھیج دیا“۔(۲)

اس کے مد مقابل بعض آیات میں دنوں کے لئے لفظ ”مبارک“ آیا ہے، جیسا کہ شب قدر کے بارے میں ارشاد ہے:( اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ فِی لَیْلَةٍ مُبَارَکَةٍ ) (۳) ”ہم نے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے “۔

”نحس“ اصل میں افق کی بہت زیادہ سرخی کو کہتے ہیں جس کو ”نحاس“ (یعنی ایسا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو ) کی شکل میں لاتے ہیں، لیکن بعد میں اس کو ”شوم “(یعنی بُرے) کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا۔ اس لحاظ سے قرآن مجید میں صرف اس مسئلہ کی طرف مجمل اشارہ ہے، لیکن دنوں کے ”سعد و نحس“ کے سلسلہ میں اسلامی منابع میں بہت سی روایات موجود ہیں، اگرچہ ان میں سے متعدد روایات ضعیف ہیں، یا بعض روایات خرافات سے ملی جلی ہیں، لیکن سب ایسی نہیں ہیں، بلکہ ان کے درمیان متعدد روایات معتبر اور قابل قبول ہیں، جیسا کہ مذکورہ آیات کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے ان روایات کو صحیح قرار دیا ہے۔ محدث بزرگوار مرحوم علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے بھی اس سلسلہ میں بہت سی احادیث ”بحار الانوار“ میں بیان کی ہیں۔(۴)

ہم یہاں چند مطالب مختصر طور پر بیان کرتے ہیں:

الف۔ متعدد روایات میں تاریخوں کو سعد و نحس ان تاریخوں میں واقع ہونے والے واقعات کی بنا پر سعد و نحس کہا گیا ہے، مثال کے طور پر حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ ایک شخص نے امام علیہ السلام سے درخواست کی کہ جس میں ”چہارشنبہ“ کے بارے میں سوال کیا جس کو عوام الناس کے درمیان اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اس کو بار سمجھا جاتا ہے، امام سے سوال کیا کہ وہ کونسا چہار شبہ ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اس سے مراد مہینہ کا آخری چہار شنبہ ہے، جس میں بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں، اسی روز قابیل نے اپنے بھائی ”ہابیل“ کو قتل کی اور اسی روز چہار شنبہ میں خداوندعالم نے قوم عاد پر تیز آندھی کے ذریعہ عذاب نازل کیا“۔(۵)

لہٰذا متعدد مفسرین نے اس طرح کی بہت سی روایات کی پیروی کرتے ہوئے ہر مہینہ کے آخری چہار شنبہ کو روز ”نحس“ قرار دیا، اور اس کو ”اربعاء لا تدور“ قرار دیا، (یعنی ایسا چہار شنبہ جس کی تکرار نہیں ہوتی)

اسی طرح بعض دوسری روایات میں بیان ہوا ہے کہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ نیک اور مبارک ہے، کیونکہ اس میں جناب آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی طرح ہر ماہ کی ۲۶ تاریخ کو نیک شمار کیا ہے کیونکہ خداوندعالم نے اس تاریخ میں جناب موسیٰ علیہ السلام کے لئے دریا میں راستہ بنایا۔(۶)

اسی طرح ہر ماہ کی ۳ تاریخ کو نحس قرار دیا کیونکہ اس تاریخ میں جناب آدم و حوا علیہما السلام کو جنت سے نکالا گیا اور ان کے بدن سے جنتی لباس جدا ہوگیا۔(۷)

یا ہر مہینہ کی سات تاریخ کو نیک مانتے ہیں کیونکہ اس تاریخ میں جناب نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے (اور غرق ہونے سے نجات پاگئے)(۸)

یا جیسا کہ نو روز کے سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول حدیث میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ ایک مبارک روز ہے جس میں جناب نوح علیہ السلام کی کشتی جودی نامی پہاڑی پر رکی، جناب جبرئیل پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہوئے، اسی روز حضرت علی علیہ السلام نے دوش پیغمبر اکرم (ص) پر سوار ہوکر خانہ کعبہ سے بتوں کو توڑا، اور واقعہ غدیر خم بھی اسی نو روز میں واقع ہوا ہے(۹)

المختصر : اس طرح کے الفاظ بہت سی روایات میں بیان ہوئے ہیں جن میں بعض اچھے واقعات اور بعض ناگوار واقعات کی بنا پر تاریخوں کو سعد یانحس قرار دیا ہے، خصوصاً روز عاشورہ کے سلسلہ میں جس کو بنی امیہ اہل بیت علیہم السلام پر کامیابی کے گمان سے اس دن کو ایک مبارک روز شمار کرتے تھے، لہٰذا روایات میں اس دن کو مبارک ماننے سے نہی کی گئی ہے بلکہ اس روز کاروبار اور تحصیل رزق کی تعطیل کے لئے کہا گیا ہے، تاکہ عملی طور پر بنی امیہ کے اس کام سے دوری اختیار کریں، لہٰذا اس طرح کی روایات کے پیش نظر بعض علمانے سعد و نحس کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ اسلام نے ان واقعات کی طرف توجہ دی ہے تاکہ انسان خود کو عملی طور پر تاریخی مثبت واقعات کے مطابق قرار دے ، اور بُرے اور غلط واقعات، نیز اس طرح کے واقعات کو رونما کرنے والوں سے دوری اختیار کریں۔

ممکن ہے کہ یہ تفسیر بعض روایات کے سلسلہ میں صادق اور صحیح ہو لیکن تمام روایات کے سلسلہ میں مسلم طور پر صادق نہیں ہے کیونکہ انھیں بعض روایات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ بعض دنوں میں مخفی تاثیر پائی جاتی ہے جس سے ہم آگاہ نہیں ہیں۔

ب۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بعض لوگ سعد و نحس کے سلسلہ میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے تاریخ کے سعد و نحس ہونے کی جستجو کرتے ہیں، جن کی وجہ سے بعض کاموں کو چھوڑ دیتے ہیں، اور اس سنہری موقع کو گنوا بیٹھتے ہیں۔

یا یہ کہ اپنی یا دوسروں کی کامیابی یا ناکامی کے اسباب و علل کی جستجو کرنے اور اپنی زندگی کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ہر طرح کی ناکامی کو تاریخ اور دنوں کی گردن پر یہ کہہ کر ڈال دیتے ہیں کہ ہم کیا کریں تاریخ ہی نحس تھی، اور اسی طرح کامیاب ہونے پر نیک اور مبارک تاریخ ہونے کی علت سمجھتے ہیں!

لیکن یہ ایک طرح حقیقت سے فرار اور اس مسئلہ میں زیادہ روی سے کام لینا اور حوادث زندگی کی فضول توضیح و تفسیر ہے جس سے ہمیں پرہیز کرنا چاہئے، ان مسائل میں عوام الناس میں شایع شدہ مسائل پر دھیان نہیں دینا چاہئے اور نہ ہی منجمین کی باتوں پر عمل کرنا چاہئے اورنہ ہی فال نکالنے والوں کی باتوں پر عمل کیا جائے، اگر اس سلسلہ میں کوئی چیز معتبر حدیث کے ذریعہ ثابت ہوجائے تو اس کو قبول کیا جائے ، اگر ثابت نہ ہو توہر کس و نا کس کی بات پر تو جہ نہ کرتے ہو ئے اپنی زندگی کو آگے بڑھایا جائے، سعی و کوشش کرتے ہوئے اپنے قدم بڑھائے، انسان خدا پر بھروسا کرے اور اسی کی نصرت و مدد طلب کرے۔

ج۔ تاریخوں کے سعد ونحس کے مسئلہ پر توجہ ، غالباً انسان کو تاریخی مثبت واقعات کی طرف رہنمائی کے علاوہ سبب ہوتی ہے کہ انسان خداوندعالم کی ذات مقدس کی طرف متوجہ ہو اور اس کی ذات پاک سے نصرت ومدد طلب کرے،لہٰذا ہم متعدد روایات میں پڑھتے ہیں: جن تاریخوں کو نحس قرار دیا گیا ہے اس میں صدقہ دے کر، یا دعا پڑھ کر، خداوندعالم کے لطف و کرم سے نصرت ومدد طلب کرکے، قرآن کی بعض آیات کی تلاوت کرکے اور خداوندمنّان کی ذات پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے اپنے کاموں کو انجام دے تا کہ اپنے کاموں میں کامیاب ہوجاؤ۔

جیسا کہ ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے دوستوں میں سے ایک شخص منگل کے روز امام کی خدمت میں حاضر ہوا، امام علیہ السلام نے فرمایا کہ تم کل نہیں آئے ؟ اس نے عرض کیا:کل پیر کا دن تھا، میں پیر کے دن گھر سے باہر نکلنے کو اچھا نہیں مانتا! اس وقت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: ”جو شخص پیر کے دن کے شر سے محفوظ رہنا چاہتا ہے اسے نماز صبح کی پہلی رکعت میں سورہ ”ہل اتی“ پڑھنی چاہئے، اس کے بعد امام علیہ السلام نے سورہ ہل اتی کی اس آیت کی تلاوت فرمائی (جو شر اوربلا کے دور ہونے کے لئے مناسب ہے):( فَوَقَاهُمْ اللهُ شَرَّ ذَلِکَ الْیَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا ) (۱۰) ”تو خدا نے انھیں اس دن کی سختی سے بچالیا اور تازگی و سرور عطا کر دیا“۔۱۱)

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک شخص نے امام علیہ السلام سے سوال کیا: کیا روز چہار شنبہ جس کو نحس قرار دیا گیا یا اس کے علاوہ دوسرے نحس دنوں میں سفر کرنا مناسب ہے؟ امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا: صدقہ دے کر سفر کا آغاز کرو، اور نکلتے وقت آیة الکرسی کی تلاوت کرو (اور جہاں چاہو سفر کرو)(۱۲)

نیز ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ امام علی نقی علیہ السلام کے دوستوں میں سے ایک شخص کہتا ہے: میں امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، حالانکہ راستہ میں میری انگلی زخمی ہوگئی تھی،چو نکہ ایک سواری میرے پاس سے گزری جس کی وجہ سے میرا شانہ زخمی ہوگیا، جس کی بنا پر کچھ لوگوں سے نزاع ہوگئی اور انھوں نے میرے کپڑے تک پھاڑ ڈالے، میں نے کہا: اے دن !خدا تیرے شر سے محفوظ رکھے، کتنا برا دن ہے! اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: تو ہماری محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس طرح کہتا ہے؟! اس دن کی کیا خطا ہے جو تو اس دن کو گناہگار قرار دیتا ہے؟ چنانچہ وہ شخص کہتا ہے کہ میں امام علیہ السلام سے یہ گفتگو سن کر ہوش میں آیا اور میں نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے عرض کی: اے میرے مولا و آقا! میں توبہ و استغفار کرتا ہوں، اور خدا سے بخشش طلب کرتا ہوں۔اس موقع پر امام علیہ السلام نے فرمایا: ”دنوں کا کیا گناہ ہے؟ کہ تم ان کو بُرا اور نحس مانتے ہو جب کہ تمہارے اعمال ان دنوں میں تمہارے دامن گیر ہوتے ہیں“؟!

راوی کہتا ہے: ”میں نے عرض کی میں خدا سے ہمیشہ کے لئے استغفار کرتا ہوں، اے فرزندِ رسول !میں توبہ کرتا ہوں“۔

اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا:”اس سے کوئی فائدہ نہیں، جس چیز میں مذمت نہیں ہے اس کی مذمت کرنے پرخدا تمہیں سزا دے گا ، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ خداوندعالم ثواب و عذاب دیتا ہے، اور اعمال کی جزا اس دنیا اور آخرت میں دیتا ہے، اس کے بعد مزید فرمایا: اس کے بعد اس عمل کی تکرار نہ کرنا، اور حکم خدا کے مقابل دنوں کی تاثیر پر عقیدہ نہ رکھنا“۔(۱۳)

(قارئین کرام!) یہ پُر معنی حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر دنوں کا کوئی اثر ہے بھی تو وہ حکم خدا سے ہے، لہٰذا ان کے لئے مستقل طور پر تاثیر کا قائل نہ ہونا چاہئے، اپنے کو خدا کے لطف وکرم سے بے نیاز نہیں جاننا چاہئے، ان واقعات کو جو اکثر اوقات انسان کے بُرے اعمال کا کفارہ ہوتے ہیں ؛ دنوں کی تاثیر نہیں جاننا چاہئے اور اپنے کو بری الذمہ نہیں قرار دینا چاہئے، اس سلسلہ میں ان مختلف روایات کو جمع کرنے کے لئے شاید یہ بہترین راستہ ہو۔ (غور کیجئے )(۱۴)

____________________

(۱)سورہ فصلت ، آیت ۱۶

(۲) توجہ رہے کہ مذکورہ آیت میں ”نَحِسَاتٍ“ کا لفظ آیا ہے جو ایام کی صفت ہے، یعنی وہ دن نحس تھے، جبکہ آیات محل بحث<فی یوم نحس مستمر>میںیوم ”نحس“ کی طرف مضاف ہوا ہے اور صفت کے معنی میں نہیں ہے، لیکن مذکورہ آیت کے پیش نظر ہم کہتے ہیں کہ یہاں پر موصوف ،صفت کی طرف اضافہ ہوا ہے

(۳)سورہ دخان ، آیت ۳

(۴) بحارالانوار ، جلد ۵۹ کتاب ”السماء والعالم “صفحہ ۱تا۹۱،اور کچھ روایات اس کے بعد بیان کی ہیں

(۵) تفسیر نور الثقلین ، جلد ۵، صفحہ ۱۸۳، (حدیث ۲۵) (۶) تفسیر نور الثقلین ، جلد ۵، صفحہ ۱۰۵

(۷) تفسیر نور الثقلین ، جلد ۵، صفحہ ۵۸

(۸) تفسیر نور الثقلین ، جلد ۵، صفحہ ۶۱ (۹) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۹۲

(۱۰) سورہ دہر ، آیت۱۱ (۱۱) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۳۹، حدیث۷

(۱۲) بحار الانوار ، جلد ۵۹، صفحہ ۲۸

(۱۳) تحف العقول ، بحا رالانوار ، جلد۵۹، صفحہ ۲کی نقل کے مطابق، (مختصر فرق کے ساتھ)

(۱۴)تفسیر نمونہ ، جلد ۲۳، صفحہ ۴۱


۱۰۸ ۔ کیا اصحاب کہف کا واقعہ سائنس سے مطابقت رکھتا ہے؟

شہر ”افسوس“ کے طولانی مدت تک سونے والوں (یعنی اصحاب کہف) کی نیند کے بارے میں بعض لوگ شک و تردید کرسکتے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ اس کو سائنس کے علمی اصول سے موافق نہ سمجھیں، لہٰذا اس کو ”قصہ اور کہانیوں“ کی صف میں قرار دے دیں، کیونکہ:

۱ ۔ بیدارر ہنے والوں کے لئے سیکڑوں سال تک زندہ رہنا مشکل ہے ، سوتے ہوئے لوگوں کے لئے تو بہت دور کی بات ہے!

۲ ۔ بیداری کے عالم میں تو بافرض محال یہ مانا بھی جاسکتا ہے کہ اتنی طویل عمر ہوسکتی ہے ، لیکن جو شخص سویا ہوا ہو اس کے لئے ناممکن ہے، کیونکہ کھانے پینے کی مشکل پیش آئے گی، انسان اتنی مدت تک بغیر کھائے پئے کیسے زندہ رہ سکتا ہے، اور اگر فرض کریں کہ انسان کے لئے ہر روز ایک کلو کھانا اور ایک لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو اصحاب کہف کی عمر کے لئے دس کونٹل کھانا اور ایک ہزار لیٹر پانی ضروری ہے جس کو بدن میں ذخیرہ کرنا معنی نہیں رکھتا۔

۳ ۔ اگر ان سب سے چشم پوشی کرلیں تو یہ اعتراض پیش آتا ہے کہ بدن کے ایک حالت میں اتنی طولانی مدت تک باقی رہنے سے انسانی جسم کے مختلف اعضا خراب ہوجاتے ہیں۔اس طرح کے اعتراضات کے پیش نظر ظاہری طور پرکوئی راہ حل دکھائی نہ دیتی، جبکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ:الف: طولانی عمر کا مسئلہ کوئی غیر علمی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ (سائنس کے لحاظ سے) ہر زندہ موجود کے لئے کوئی معین معیار نہیں کہ اس وقت اس کی موت یقینی ہو۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ انسان کی طاقت کتنی بھی ہو آخر کار محدود اور ختم ہونے والی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کا بدن یا کوئی دوسرا جاندار اس معمولی مقدار سے زیادہ زندگی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، مثال کے طور پردرجہ حرارت سو تک پہنچنے پر پانی کھول جاتا ہے اور درجہ حرارت صفر ہونے پر پانی برف بن جاتا ہے، لہٰذا انسان کے سلسلہ میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ جب انسان سو سال یا ڈیڑھ سو سال کا ہوجائے تو انسان کی حرکت قلب بند ہوجائے اور وہ مرجائے۔

بلکہ انسان کی عمر کا معیار زیادہ تر اس کی زندگی کے حالات پر موقوف ہے اور حالات کو بدلنے سے اس کی عمر میں تبدیلی آسکتی ہے، اس کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر کے دانشوروں نے انسان کے لئے کوئی خاص عمر معین نہیں کی ہے، اس کے علاوہ متعدد دانشوروں نے بعض جانداروں کی عمر کو بعض مخصوص لیبریٹری میں رکھ کر دو برابر، چند برابر اور بعض اوقات ۱۲ برابر تک پہنچا یاہے، یہاں تک کہ محققین اور دانشوروں نے ہمیں امید دلائی ہے کہ مستقبل میں سائنس کے جدید طریقوں کے ذریعہ انسان کی عمر اس وقت کی عمر سے چند برابر بڑھ جائے گی، یہ خود طولانی عمر کے سلسلہ میں ہے۔

ب: اس طولانی نیند کے بارے میں کھانے پینے کا مسئلہ اگر معمولی نیند ہو تو اعتراض وارد ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ سائنس سے ہم آہنگ نہیں ہے، اگرچہ سوتے وقت کھانے پینے کی ضرورت کم ہوتی ہے لیکن چند سالوں کے لئے یہ مقدار بہت زیادہ ہونی چاہئے، لیکن اس بات پر توجہ رکھنا چاہئے کہ جہان طبیعت میں ایسی بھی نیند پائی جاتی ہیں جن میں کھانے پینے کی ضرورت بہت ہی کم ہو تی ہے، اس کے لئے جانوروں کی مثال دی جاتی ہے جو موسم سرما میں سوجاتے ہیں۔ سردیوں کی نیند بہت سے جانور ایسے ہیں جو پوری سردیوں کے موسم میں سوتے رہتے ہیں اسے سائنس کی اصطلاح میں ”سردیوں کی نیند“ کہا جاتا ہے۔

ایسی نیند میں زندگی کے آثار تقریباً ختم ہوجاتے ہیں، زندگی کا معمولی سا شعلہ روشن رہتا ہے، دل کی دھڑکن تقریباً رک جاتی ہے، اور اتنی خفیف ہوجاتی ہے کہ بالکل محسوس نہیں ہوتی۔

ایسے مواقع پر بدن کو ایسے بڑے بھٹے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جو بجھ جاتا ہے اور چھوٹا سا شعلہ بھڑکتا رہتا ہے، واضح ہے کہ آسمان سے باتیں کرتے ہوئے شعلوں کے لئے بھٹے کو ایک دن کے لئے جتنے تیل یا گیس کی ضرورت ہوتی ہے ایک خفیف سے شعلہ کے لئے اتنی خو راک برسوں یا صدیوں کے لئے کافی ہے، البتہ اس میں جلتے ہوئے بھٹے کی مقدار اور خفیف سے شعلہ کی مقدار کے لحاظ سے فرق ہوسکتا ہے۔

جانوروں کی سردیوں کی نیند کے بارے میں دانشورں کا کہنا ہے: ”اگر کسی مینڈک کو سردیوں کی نیند سے اس کی جگہ سے باہر نکالیں تووہ مردہ معلوم ہوگا، اس کے پھیپھڑوں میں ہوا نہیں ہوتی، اس کے دل کی حرکت اتنی کمزور ہوتی ہے کہ پتہ نہیں چلایا جاسکتا، سرد خون جانوروں ( Cool Blooded ) میں بہت سے جا نورسردیوں کی نیند سوتے ہیں، اس سلسلہ میں کئی طرح کے کیڑے مکوڑے، حشرات الارض، زمینی سیپ (صدف) اور رینگنے والے جانوروں کے نام لئے جاسکتے ہیں، بعض خون گرم جانور ( Warm Blooded ) بھی سردیوں کی نیندسو تے ہیں اس نیند کے عالم میں حیاتی فعالتیں بہت سست پڑجاتی ہیں اور بدن میں ذخیرہ شدہ چربی آہستہ آہستہ صرف ہوتی رہتی ہے۔(۱)

مقصد یہ ہے کہ ایک ایسی بھی نیند ہے جس میں کھانے پینے کی بہت کم ضرورت ہوتی ہے اور حیاتی حرکتیں تقریباً صفر تک پہنچ جاتی ہیں، اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہی صورت حال اعضا کو فرسودگی سے بچانے اور جانوروں کو ایک طولانی مدت تک جینے میں مدد دیتی ہے، اصولی طور پر جو جاندار احتمالاً سردیوں میں اپنی غذا حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ان کے لئے سردیوں کی نیند بہت غنیمت شئے ہے۔

یوگا کے ماہرین؛ ایک اور نمونہ یوگا کے ماہرین کے بارے میں دیکھا گیا ہے کہ ان میں سے بعض کو یقین نہ کرنے والے حیرت زدہ افراد کی آنکھوں کے سامنے بعض اوقات تابوت میں رکھ کر ہفتہ بھر کے لئے مٹی کے نیچے دفن کردیتے ہیں اور ایک ہفتہ کے بعد انھیں باہر نکالتے ہیں ان کی مالش کی جاتی ہے اور مصنوعی سانس دی جاتی ہے اور وہ رفتہ رفتہ اصلی حالت پر پلٹ آتے ہیں۔

اتنی مدت کے لئے اگر کھانے پینے کا مسئلہ کوئی اہم نہ ہو تو بھی آکسیجن کا مسئلہ بہت اہم ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں دماغ کے خلیے آکسیجن کے معاملہ میں اتنے حساس اور ضرورت مند ہوتے ہیں کہ اگر چند سیکنڈ بھی اس سے محروم رہیں تو تباہ ہوجائیں، لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک یوگا کرنے والا پورا ہفتہ کس طرح آکسیجن کی اس کمی کو برداشت کرلیتا ہے۔

ہماری مذکورہ گفتگو کے پیش نظر اس سوال کا جواب کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے، بات یہ ہے کہ یوگا کرنے والے کے بدن کی حیاتی حرکت اس عرصہ میں تقریباً رک جاتی ہے اس دوران خلیے کو آکسیجن کی ضرورت اور اس کا مصرف بہت کم ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہی ہوا جو تابوت کے اندرونی حصہ میں ہوتی ہے بدن کے خلیوں کی ہفتہ بھر کی غذا کے لئے کافی ہوجاتی ہے!!۔

زندہ انسان کے بدن کو منجمد کرنا

جانوروں بلکہ انسانی بدن کو منجمد کرکے ان کی عمر بڑھانے کے بارے میں آج کل بہت سے نظریات پیش کئے گئے ہیں جن پر بحثیں ہورہی ہیں ان میں سے بعض تو عملی جامہ پہن چکے ہیں۔

ان تھیوریوں کے مطابق یہ ممکن ہے کہ ایک انسان یا حیوان کے بدن کو ایک خاص طریقہ کے تحت صفر سے کم درجہ حرات پر رکھ کر اس کی زندگی کو ٹھہرا دیا جائے جس سے اس کی مو ت واقع نہ ہو پھر ایک ضروری مدت کے بعد اسے مناسب حرارت دی جائے اور وہ عام حالت پر لوٹ آئے!!

بہت دور دراز کے فضائی سفر جن کے لئے کئی سو سال یا کئی ہزار سال کی مدت درکارہے، ان کے لئے کئی منصوبے پیش کئے جاچکے ہیں ان میں سے ایک یہی ہے کہ فضا نورد کے بدن کو ایک خاص تابوت میں رکھ کر اسے جما دیا جائے اور جب سالہا سال کی مسافت کے بعد وہ مقررہ کرّات کے قریب پہنچ جائے تو ایک ایٹو میٹک نظام کے تحت اس تابوت میں حرارت پیدا ہوجائے اور فضا نورد اپنی حیات کو ضا ئع کئے بغیر حالت معمول پر لوٹ آئے ۔

ایک سائنسی جریدہ میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ حال ہی میں انسانی بدن کو لمبی عمر کے لئے منجمد کرنے کے بارے میں برابرٹ نیلسن نے کتاب لکھی ہے، سائنس کی دنیا میں یہ کتاب بہت مقبول ہو ئی ہے اور اس کے مندرجات کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔

جریدہ کے اس مقالہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ حال ہی میں اس عنوان کے تحت ایک خاص سانئسی شعبہ قائم ہوگیا ہے، چنانچہ مذکورہ مقالہ میں لکھا ہے: ہمیشہ سے انسانی تاریخ میں ”حیات جاویدانی“ انسان کا سنہرا خواب رہی ہے، لیکن اب یہ خواب حقیقت میں بدل گیا ہے، یہ امر ایک نئے علم کی خوشگوار اور حیرت انگیز ترقی کا مرہونِ منت ہے اس علم کا نام ”کریانک“ ہے، (یہ علم انسانی بدن کو منجمد کرکے زندہ رکھنے کے بارے میں ہے، اس کے مطابق انسان کے بدن کو منجمد کرکے اسے بچا یا جاسکتا ہے یہاں تک کہ سائنسداں اسے پھر سے زندہ کردیں)

کیا یہ بات قابل یقین ہے؟ بہت سے ممتاز دانشوراس مسئلہ پر غور و فکر کر رہے ہیں ، اس کے بارے میں متعدد کتابیں چھپ چکی ہیں مثلاً ”لائف“ اور ”اسکوائر“ ، پوری دنیا کے اخبارات پورے زور و شور سے اس مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سلسلہ میں اب تجربات شروع ہوچکے ہیں۔(۲)

کچھ عرصہ ہوا کہ اخبار میں یہ خبر چھپی تھی کہ برفانی قطبی علاقے سے چند ہزار سال پہلے کی ایک منجمد مچھلی ملی ہے جسے خود وہاں کے لوگوں نے دیکھا ہے اس مچھلی کو جب مناسب پانی میں رکھا گیا تو سب لوگ حیرت زدہ رہ گئے کہ وہ مچھلی پھر سے جی اٹھی اور چلنے لگی۔

واضح رہے کہ حالت انجماد میں علامات حیات ،موت کی طرح بالکل ختم نہیں ہوتی کیونکہ اس صورت میں تو زند ہ ہو نا ممکن نہیں ہے بلکہ اس عالم میں حیات کی فعالتیں اور حرکتیں بہت سست رفتار ہوجاتی ہیں۔

ان تمام باتوں سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسانی زندگی کو ٹھہرایا یا بہت ہی سست کیا جاسکتا ہے، اور سائنس کی مختلف تحقیقات اس امکان کی متعدد حوالوں سے تائید کرتی ہیں، اس حالت میں غذا کا مصرف بدن میں تقریباً صفر تک پہنچ جاتا ہے اورانسان کے بدن میں موجود غذا کا تھوڑا سا ذخیرہ اس کی سست زندگی کے لئے طولانی برسوں تک کافی ہوسکتا ہے۔ اس چیز میں غلط فہمی نہ ہو کہ ہم ان باتوں کے ذریعہ اصحاب کہف کی نیند کے اعجازی پہلو کاانکار نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ سائنس کے اعتبار سے اس واقعہ کو ذہنوں کے قریب کردیں کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ اصحاب کہف ہماری طرح نہیں سوئے، جیسا کہ ہم معمول کے مطابق رات کو سوتے ہیں ان کی نیند ایسی نہیں تھی بلکہ وہ استثنائی پہلو رکھتی تھی، لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ وہ ارادہ الٰہی کے تحت ایک طولانی مدت تک سوتے رہے، اس دوران نہ انھیں غذا کی کمی لاحق ہوئی اور نہ ان کے بدن کے ارگانیزم (اجزا) کو کوئی نقصان پہنچا۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ سورہ کہف کی آیات سے ان کی سرگزشت کے بارے میں یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ ان کی نیند عام طریقہ کی نیند اور معمول کی نیند سے بہت مختلف تھی، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

( وَتَحْسَبُهُمْ اٴَیْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِینِ وَذَاتَ الشِّمَالِ وَکَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیدِ لَوْ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا ) (۳)

”اور تمہارا خیال ہے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ عالمِ خواب میں ہیں اور ہم انھیں داہنے بائیں کروٹ بھی بدلوا رہے ہیں اور ان کا کتا ڈیوڑھی پر دونوں ہاتھ پھیلائے ڈٹا ہوا ہے اگر تم ان کی کیفیت پر مطلع ہوجاتے تو الٹے پاؤں بھاگ نکلتے اور تمہارے دل میں دہشت سما جاتی“۔

یہ آیت اس بات کی گواہ ہے کہ ان کی نیند عام نیند نہ تھی بلکہ ایسی نیند تھی جو حالت موت کے مشابہ تھی اور ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔

اس کے علاوہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے: ”سورج کی روشنی ان کے غار کے اندر نہیں پڑتی تھی“ نیز اس امر کی طرف توجہ کی جائے کہ ان کی غار احتمالاً ایشائے صغیر کے کسی بلند اور سرد مقام پر واقع تھا تو ان کی نیند کے استثنائی حالات مزید واضح ہوجاتے ہیں۔دوسری طرف قرآن کہتا ہے:( وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِینِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ) (۴) ”اور ہم انھیں داہنے بائیں کروٹ بھی بدلوا رہے ہیں “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالکل ایک ہی حالت میں نہیں رہتے تھے ایسے عوامل جو ابھی تک ہمارے لئے معمہ ہیں ان کے تحت شاید سال میں ایک مرتبہ انھیں دائیں بائیں پلٹاجاتا تھا تاکہ ان کے بدن کے ارگانیزم ( Organism )میں کوئی نقص نہ آنے پائے۔اب جبکہ اس سلسلہ میں کافی واضح عملی بحث ہوچکی ہے اس سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے معاد اور قیامت کے بارے میں زیادہ گفتگو کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ ایسی طویل نیند کے بعد بیداری، موت کے بعد کی زندگی کے غیر مشابہ نہیں ہے، اس سے ذہن معاد اور قیامت کے امکان کے قریب ہوجاتا ہے۔(۵)(۶)

____________________

(۱)اقتباس از کتاب فرہنگنامہ (دائرة المعارف جدید فارسی) مادہ زمستانخوابی

(۲) مجلہ دانشمند ، بہمن ماہ ۱۳۴۷ئھ ش ، صفحہ ۴

(۳) سورہ کہف ، آیت ۱۸

(۴) سورہ کہف ، آیت ۱۸

(۵) اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے لئے کتاب ”معاد و جہان پس از مرگ“ کی طرف رجوع فرمائیں

(۶) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۴۰۶


۱۰۹ ۔ تقیہ کا مقصد کیا ہے؟

تقیہ ایک دفاعی ڈھال

یہ صحیح ہے کہ انسان کبھی بلند مقاصد ، شرافت کے تحفظ اور حق کی تقویت اور باطل کے تزلزل کے لئے اپنی عزیز جان قربان کرسکتا ہے، لیکن کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ انسان کے لئے بغیر کسی خاص مقصد کے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنا جائز ہے ؟!

اسلام نے واضح طور پر اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر انسان کی جان، مال اور عزت خطرہ میں ہو اور حق کے اظہار سے کوئی خاص فائدہ نہ ہو، تو وقتی طور پر اظہار حق نہ کرے بلکہ مخفی طریقہ سے اپنی ذمہ داری کو پورا کرتا رہے، جیسا کہ قرآن مجید کے سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۲۸/ اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے(۱) یا دوسرے الفاظ میں سورہ نحل میں ارشاد ہوتا ہے:( مَنْ کَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِیمَانِهِ إِلاَّ مَنْ اٴُکْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِیمَان ) (۲) ”جو شخص بھی اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کر لے علاوہ اس کے کہ جو کفر پر مجبور کر دیا جائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو “۔

( ۱ )( لاَیَتَّخِذْ الْمُؤْمِنُونَ الْکَافِرِینَ اٴَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَلَیْسَ مِنْ اللهِ فِی شَیْءٍ إِلاَّ اٴَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ) (سورہ آل عمران ، آیت ۲۸)” خبردار صاحبان ایمان ؛مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا ولی و سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگامگر یہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے“

کتب احادیث اور تواریخ میں جناب ”عمار یاسر“ اور ان کے والدین کا واقعہ سب کے سامنے ہے، جو مشرکین اور بت پرستوں کے ہاتھوں اسیر ہوگئے تھے، ان کو سخت تکلیفیں پہنچا ئی گئی تھیں تاکہ اسلام سے بیزاری کریں،اسلام کو چھوڑ دیں، لیکن جناب عمار کے ماں باپ نے ایسا نہیں کیا جس کی بنا پر مشرکین نے ان کو قتل کردیا، لیکن جناب عمار نے ان کی مرضی کے مطابق اپنی زبان سے سب کچھ کہہ دیا، اور خوف خدا کی وجہ سے روتے ہوئے پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، (واقعہ بیان کیا) تو آنحضرت (ص) نے ان سے فرمایا: ”إنْ عَادُوا لَکَ فَعَدّلَہُم“ اگر پھر کبھی ایسا واقعہ پیش آئے تو جو تم سے کہلائیں کہہ دینا، اور اس طرح آنحضرت (ص) نے ان کے خوف و پریشانی کو دور کردیا۔

مزید توجہ کا حامل ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ تقیہ کا حکم سب جگہ ایک نہیں ہے بلکہ کبھی واجب، کبھی حرام اور کبھی مباح ہوتا ہے۔

تقیہ کرنا اس وقت واجب ہے جب بغیر کسی اہم فائدہ کے انسان کی جان خطرہ میں ہو، لیکن اگر تقیہ باطل کی ترویج، لوگوں کی گمراہی اور ظلم و ستم کی تقویت کا سبب بن رہا ہو تو اس صورت میں حرام اور ممنوع ہے۔

اس لحاظ سے تقیہ پر ہونے والے اعتراضات کا جواب واضح ہوجاتا ہے، در اصل اگر تقیہ پر ا عتراض کرنے والے تحقیق و جستجو کرتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ یہ عقیدہ صرف شیعوں کا نہیں ہے بلکہ تقیہ کا مسئلہ اپنی جگہ پر عقل کے قطعی حکم اور انسانی فطرت کے موافق ہے۔(۳)

کیونکہ دنیا بھرکے تمام صاحبان عقل و خرد جس وقت ایک ایسی جگہ پہنچتے ہیں جہاں سے دو راستہ ہوں یا تو اپنے اندرونی عقیدہ کے اظہار سے چشم پوشی کریں یا اپنے عقیدہ کا اظہار کرکے اپنی جان و مال اور عزت کو خطرہ میں ڈال دیں، توایسے موقع پر انسان تحقیق کرتا ہے کہ اگر اس عقیدہ کے اظہارسے اس کی جان و مال اور عزت کی قربانی کی کوئی اہمیت اور فائدہ ہے تو ایسے موقع پر اس فدا کاری اور قربانی کو صحیح مانتے ہیں اور اگر دیکھتے ہیں کہ اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے تو اپنے عقیدہ کے اظہار سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

تقیہ یا مقابلہ کی دوسری صورت

مذہبی، اجتماعی اور سیاسی مبارزات اور تحریک کی تاریخ میں یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ جب ایک مقصدکا دفاع کرنے والے اگر علی الاعلان جنگ یا مقابلہ کریں تو وہ خود بھی نیست و نابود ہوجائیں گے اور ان کے مقاصد بھی خاک میں مل جائیں گے یا کم سے کم ان کے سامنے بہت بڑا خطرہ ہوگاجیسا کہ غاصب حکومت بنی امیہ کے زمانہ میں حضرت علی علیہ السلام کے شیعوں نے ایسا ہی کردار ادا کیا تھا، ایسے موقع پر صحیح اور عاقلانہ کام یہ ہے کہ اپنی طاقت کو یونہی ضائع نہ کریں اور اپنے اغراض و مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے غیر مستقیم اور مخفی طریقہ سے اپنی فعالیت و تحریک جاری رکھیں، در اصل تقیہ اس طرح کے مکاتب اور ان کے پیرووں کے لئے ایسے موقع پر جنگ و مبارزہ کی ایک دوسری شکل شمار ہوتا ہے جو ان کو نابودی سے نجات دیتا ہے اوروہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں، تقیہ کو نہ ماننے والے افراد نامعلوم اس طرح کے مواقع پر کیا نظر یہ رکھتے ہیں؟ کیا ان کا نابود ہونا صحیح ہے یا صحیح اور منطقی طریقہ پر اس مبارزہ کو جاری رکھنا؟ اسی دوسرے راستہ کو تقیہ کہتے ہیں جبکہ کوئی بھی صاحب عقل اپنے لئے پہلے راستہ کو پسند نہیں کرتا۔(۴)

حقیقی مسلمان ، اور پیغمبر اسلام کا تربیت یافتہ انسان دشمن سے مقابلہ کا عجیب حوصلہ رکھتا ہے، اور ان میں سے بعض ”عمار یاسر کے والد“ کی طرح دشمن کے دباؤپر بھی اپنی زبان سے کچھ کہنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، اگرچہ ان کا دل عشق خدا و رسول سے لبریز ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس راستہ میں اپنی جان بھی قربان کردیتے ہیں۔

ان میں سے بعض خود ”عمار یاسر“ کی طرح اپنی زبان سے دشمن کی بات کہنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھی ان پر خوف خدا طاری ہوتا ہے، اور خود کو خطا کار اور گناہگار تصور کرتے ہیں، جب تک خود پیغمبر اسلام (ص) اطمینان نہیں دلا دیتے کہ ان کا یہ کام اپنی جان بچانے کے لئے شرعی طور پر جائز ہے؛ اس وقت تک ان کو سکون نہیں ملتا!

جناب ”بلال “ کے حالات میں ہم پڑھتے ہیں کہ جس وقت وہ اسلام لائے اور جب اسلام اور پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت میں دفاع کے لئے اٹھے تو مشرکین نے بہت زیادہ دباؤ ڈالا، یہاں تک کہ ان کو تیز دھوپ میں گھسیٹتے ہوئے لے جاتے تھے اور ان کے سینہ پر ایک بڑا پتھر رکھ دیتے تھے اور ان سے کہتے تھے: تمہیں ہماری طرح مشرک رہنا ہوگا۔

لیکن جناب بلال اس بات پر آمادہ نہیں ہوتے تھے حالانکہ ان کی سانس لبوں پر آچکی تھی لیکن ان کی زبان پر یہی کلمہ تھا: ”احد، احد“ (یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے) اس کے بعد کہتے تھے: خدا کی قسم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اس کلام سے ناگوارتر تمہارے لئے کوئی اور لفظ ہے تو میں وہی کہتا!(۵)

اسی طرح ”حبیب بن زید“ کے حالات میں ملتا ہے کہ جس وقت ”مسیلمہ کذاب“ نے ان کو گرفتار کرلیا اور ان سے پوچھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد رسول خدا ہیں؟ تو اس نے کہا : جی ہاں!

پھر سوال کیا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں؟ تو حبیب نے اس کی بات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ میں نے تیری بات کو نہیں سنا! یہ سن کر مسیلمہ اور اس کے پیروکاروں نے ان کے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، لیکن وہ پہاڑ کی طرح ثابت قدم رہے۔(۵)

اس طرح کے دل ہلا دینے والے واقعات تاریخ اسلام میں بہت ملتے ہیں خصوصاً صدر اسلام کے مسلمانوں اور ائمہ علیہم السلام کے پیرووں میں بہت سے ایسے واقعات مو جود ہیں۔

اسی بنا پر محققین کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر تقیہ نہ کرنا اور دشمن کے مقابل تسلیم نہ ہونا جائز ہے اگرچہ ان کی جان ہی چلی جائے کیونکہ ایسے مواقع پر، پرچم اسلام اور کلمہ اسلام کی سرفرازی مقصود ہے، خصوصاً پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت کے آغاز میں اس مسئلہ کی خاص اہمیت تھی۔

لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس طرح کے مواقع پر تقیہ بھی جائز ہے اور ان سے زیادہ خطرناک مواقع پر واجب ہے، اور کچھ جاہل اور نادان لوگوں کے بر خلاف تقیہ (البتہ خاص مواقع پر نہ سب جگہ) نہ تو ایمان کی کمزوری کا نام ہے اور نہ دشمن کی کثرت سے گھبرانے کا نام ہے اور نا ہی دشمن کے دباؤ میں تسلیم ہونا ہے بلکہ تقیہ انسان کی حفاظت کرتا ہے اور مومنین کی زندگی کو چھوٹے اور کم اہمیت موضوع کے لئے برباد نہ ہونے نہیں دیتا۔

یہ بات پوری دنیا میں رائج ہے کہ مجاہدین اور جنگجو لوگوں کی اقلیت؛ ظالم و جابر اکثریت کا تختہ پلٹنے کے لئے عام طور پر خفیہ طریقہ پر عمل کرتی ہے، اور انڈر گراؤنڈ کچھ لوگوں کو تیار کیا جاتا ہے اور مخفی طور پر منصوبہ بندی ہو تی ہے، بعض اوقات کسی دوسرے لباس میں ظاہر ہوتے ہیں، اور اگر کسی موقع پر گرفتار بھی ہوجاتے ہیں تو ان کی اپنی گروہ کے اسرار کو فاش نہ کرنے کی پوری کوشش ہوتی ہے ، تاکہ ان کی طاقت فضول نیست و نابود نہ ہونے پائے، اور آئندہ کے لئے اس کو ذخیرہ کیا جاسکے۔

عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ مجاہدین کی ایک اقلیت اپنے کو ظاہری اور علی الاعلان پہچنوائے، اور اگر ایسا کیا تو دشمن پہچان لے گا اور بہت ہی آسانی سے ان کو نیست و نابود کردیا جائے گا۔

اسی دلیل کی بنا پر ”تقیہ“ اسلامی قانون سے پہلے تمام انسانوں کے لئے ایک عقلی اور منطقی طریقہ ہے جس پر طاقتور دشمن کے مقابلہ کے زمانہ میں عمل ہوتا چلا آیا ہے اور آج بھی اس پر عمل ہوتا ہے۔

اسلامی روایات میں تقیہ کو ایک دفاعی ڈھال سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”التقیة ترس المو من والتقیة حرز المومن “(۶) ”تقیہ مومن کے لئے ڈھال ہے، اور تقیہ مومن کی حفاظت کا سبب ہے“۔

(محترم قارئین ! اس بات پر توجہ رہے کہ یہاں تقیہ کو ڈھال سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ معلوم ہے کہ ڈھال کو صرف دشمن کے مقابلہ اور میدان جنگ میں استعمال کیاجاتا ہے)

اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ احادیث اسلامی میں تقیہ کو دین کی نشانی اور ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے اور دین کے دس حصوں میں سے نو حصہ شمار کیا گیا ہے، تو اس کی و جہ یہی ہے۔

البتہ تقیہ کے سلسلہ میں بہت زیادہ تفصیلی بحث ہے جس کا یہ موقع نہیں ہے، ہمارا مقصد یہ تھا کہ تقیہ کے سلسلہ میں اعتراض کرنے والوں کی جہالت اور نا آگاہی معلوم ہوجائے کہ وہ تقیہ کے شرائط اور فلسفہ سے جاہل ہیں، بے شک بہت سے ایسے مواقع ہیں جہاں تقیہ کرنا حرام ہے ، اور وہ اس موقع پر جہاں انسان کی جان کی حفاظت کے بجائے مذہب کے لئے خطرہ ہو یا کسی عظیم فساد کا خطرہ ہو، لہٰذا ایسے مواقع پر تقیہ نہیں کرنا چاہئے اس کا نتیجہ جو بھی ہو قبول کرنا چاہئے۔(۷)

____________________

(۱) سورہ نحل ، آیت ۱۰۶

(۲) اقتباس ، کتاب آئین ما، صفحہ ۳۶۴

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۳۷۳

(۴) تفسیر فی ظلال ، جلد ۵، صفحہ ۲۸۴

(۵) تفسیر فی ظلال ، جلد ۵، صفحہ ۲۸۴

(۶) وسائل الشیعہ ، جلد ۱۱حدیث ۶ ، باب ۲۴ /از ابواب امر بالمعروف

(۷) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۱، صفحہ ۴۲۳


۱۱۰ ۔ افسانہ آیات شیطانی یا افسانہ ”غرانیق“ کیا ہے؟

اس سلسلہ میں ایک واقعہ نقل ہوا ہے جو افسانہ ”غرانیق“ کے نام سے مشہور ہے، افسانہ یہ (گڑھاگیا) ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) مشرکین کے سامنے سورہ ”نجم “کی تلاوت فرمارہے تھے،اور جس وقت اس آیت پر پہنچے:( اٴَفَرَاٴَیْتُمْ اللاَّتَ وَالْعُزَّی وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْاٴُخْرَی ) (۱) اس موقع پر شیطان نے آنحضرت (ص) کی زبان پر یہ دو جملہ جاری کردئے: ”تِلکَ الغَرَانیقُ العُلیٰ وَانَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرتَجیٰ“ ”وہ بلند مقام پرندے ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے“۔(۲) جیسے ہی مشرکین نے یہ دو جملے سنے تو خوشی میں پھولے نہ سمائے، اور ان لوگوں نے کہا: ”محمد“ نے اب تک ہمارے خداؤں کا نام خیر ونیکی سے نہیں لیا، اسی موقع پر رسول خدا (ص) نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، سب مشرکین قریش بہت خوش ہوگئے، اور وہاں سے متفرق ہوگئے، لیکن کچھ دیر نہ گزری تھی کہ جناب جبرئیل امین نازل ہوئے اور پیغمبر اکرم (ص) کو خبر دی کہ یہ دو جملہ میں آپ کے لئے لے کر نازل نہیں ہواتھا! بلکہ یہ شیطان کی طرف سے القا کئے گئے تھے! اور اس

اقت یہ آیت نازل ہوئی:( وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُولٍ وَلاَنَبِیٍّ إِلاَّ إِذَا تَمَنَّی اٴَلْقَی الشَّیْطَانُ فِی اٴُمْنِیَّتِهِ فَیَنْسَخُ اللهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطَانُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللهُ آیَاتِهِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) (۳) ” ور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا رسول یا نبی نہیں بھیجا ہے کہ جب بھی اس نے کوئی نیک آرزو کی تو شیطان نے اس کی آرزو کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی تو پھر خدا نے شیطان کی ڈالی ہوئی رکاوٹ کو مٹا دیا اور پھر اپنی آیات کو مستحکم بنا دیا کہ وہ بہت زیادہ جاننے والا اور صاحب حکمت ہے“، اور پیغمبر اور دوسرے مومنین کو تاکید کی گئی ہے۔( ۲)

اگر اس حدیث کو قبول کرلیا جائے تو انبیاء علیہم السلام کی عصمت یہاں تک کہ وحی دریافت کرنے کے سلسلہ میں بھی مخدوش ہوجاتی ہے، اور انبیاء علیہم السلام کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔

ہم یہاں پر پہلے سورہ حج کی آیت نمبر ۵۲ کو ان جعلی روایات سے جدا کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ آیت کیا کہتی ہے، اور پھر اس طرح کی روایات کی تنقید اور تردید کریں گے: روایت کے جعلی اور جھوٹی ہونے سے قطع نظر اس آیت کے الفاظ اور مفہوم انبیاء علیہم السلام کی عصمت پر کوئی خدشہ وارد نہیں کرتے، بلکہ انبیاء علیہم السلام کی عصمت کی دلیل ہیں، کیونکہ آیت کہتی ہے کہ جس وقت انبیاء کوئی مثبت آرزو کرتے ہیں (قرآن مجید میں ”اُمنیہ “ کا لفظ آیاہے جو ہر طرح کی آروز کے لئے بولا جاتا ہے، لیکن یہاں انبیاء علیہم السلام کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لئے ایک مثبت آرزو کے معنی ہیں ، کیونکہ اگر مثبت آرزو نہیں تھی تو پھر شیطان ایسے جملے کیوں القا کرتا) ، لہٰذا جب وہ کوئی مثبت آرزو کرتے ہیں تو شیطان ان پر حملہ آور ہوتا ہے، لیکن ارادہ و عمل میں تاثیر سے پہلے خداوندعالم شیطانی الہامات کو نابود کردیتا ہے، اور اپنی آیات کو استحکام بخشتا ہے۔

(توجہ رہے کہ ”فَیَنْسَخُ اللهُ “ میں لفظ ”فا“ بلا فاصلہ ترتیب کے لئے ہے یعنی خداوندعالم بلافاصلہ فوری طور پر شیطانی الہامات کو ختم کردیتا ہے)، اس بات پر گواہ قرآن مجید کی دیگر آیات ہیں جو صراحت کے ساتھ کہتی ہیں:( وَلَوْلاَاٴَنْ ثَبَّتْنَاکَ لَقَدْ کِدْتَ تَرْکَنُ إِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیلاً ) (۴) ” اور اگر ہماری توفیق خاص نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ (بشری طور پر) کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ضرور ہوجاتے“۔

سورہ اسراء کی بہترویں آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کفار و مشرکین یہ کوشش کرتے تھے کہ پیغمبر اکرم (ص) کو آسمانی وحی سے منحرف کردیں، لیکن خداوندعالم کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ یہ لوگ اپنے وسوسوں میں کامیاب ہوجائیں۔(غور کیجئے )

اسی طرح سورہ نساء میں بیان ہوتا ہے:( وَلَوْلاَفَضْلُ اللهِ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ اٴَنْ یُضِلُّوکَ وَمَا یُضِلُّونَ إِلاَّ اٴَنفُسَهُمْ وَمَا یَضُرُّونَکَ مِنْ شَیْءٍ ) (۵) ”اور اگر آپ پر فضل خدا اور رحمت پروردگار کا سایہ نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا ارادہ کرلیا تھا اور یہ اپنے علاوہ کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے اور آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے“۔

یہ باتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خدا وندعالم اپنی تائیدات اور امداد کے ذریعہ پیغمبر اکرم (ص) پر جن و انس کے شیطانوں کے وسوسوں کا اثر نہیں ہونے دیتا، اور ان کو ہر طرح کے انحراف سے محفوظ رکھتا ہے۔

یہ بات اس صورت میں ہے کہ جب ”اُمنیہ“ کے معنی ”آروز“ ”منصوبہ “اور ”نقشہ“ مراد لیں (کیونکہ اس لفظ کی باز گشت تقدیر ، تصویر اور فرض کی طرف ہے) لیکن اگر ”اُمنیہ“ کے تلاوت کے معنی مراد ہوں جیسا کہ بہت سے مفسرین نے احتمال دیا ہے، یہاں تک کہ بعض افراد نے ”حسان

بن ثابت“ کے اشعار کو اسی مدعا کے اثبات کے لئے شاہد قرار دیا ہے(۶) اسی طرح فخر رازی نے اپنی تفسیر میں بھی کہا ہے: لغوی اعتبار سے ”تمنی“ دو معنی کے لئے آیا ہے، ایک ”منی“ قلبی آرزو کے معنی میں اور دوسرے ”تمنی“ تلاوت اور قرائت کے معنی میںہے۔(۷)

اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ جس وقت خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے انبیاء ؛کفار و مشرکین کے سامنے آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہیں تو شیطان (اور شیطان صفت لوگ) ان کی باتوں کے ساتھ میں اپنی باتوں کو بھی القاء کرتے ہیں، جیسا کہ خود رسول اسلام (ص) کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے،سورہ فصلت کی آیت نمبر ۲۶ میں ارشاد ہے:( وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لاَتَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِیهِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُونَ ) ( ۸ ( ور کفار آپس میں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو ہر گز مت سنواور اس کی تلاوت کے وقت ہنگامہ کرو شاید اسی طرح ان پر غالب آجاؤ“۔

اس معنی کے لحاظ سے سورہ حج آیت نمبر ۵۳ کا مفہوم بھی واضح و روشن ہوجاتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے:( لِیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِیَةِ قُلُوبُهُمْ )

”تاکہ وہ شیطانی القا کو ان لوگوں کے لئے آزمائش بنادے جن کے قلوب میں مرض ہے اور جن کے دل سخت ہوگئے ہیں“۔(۱)

ایساتو آج کل بھی ہوتا ہے کہ جب قوم وملت کی اصلاح کرنے والے علمااور واعظین معاشرہ کے لئے مفید باتیں پیش کرتے ہیں تو کج فکر اور منحرف افراد اپنی شیطانی حرکتوں ،غلط پروپیگنڈوں اور بیہودہ نعروں کے ذریعہ ان مفید باتوں کے اثر کو ختم کردینا چا ہتے ہیں، یہ در اصل معاشرہ کے تمام لوگوں کے لئے امتحان ہے، اور اسی موقع پر سنگدل اور بیمار دل لوگ جادّہ حق سے منحرف ہوجاتے ہیں، جبکہ مومنین انبیاء علیہم السلام کی حقانیت کو بہتر طریقہ سے پہچان لیتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام کی دعوت کے سامنے تسلیم ہوجاتے ہیں:( وَلِیَعْلَمَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ اٴَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَیُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ ) (۹) ”اور اس لئے بھی کہ صاحبان علم کو معلوم ہوجائے کہ یہ وحی پروردگار کی طرف سے برحق ہے اور اس طرح وہ ایمان لے آئیں، اور پھر ان کے دل اس کی بارگاہ میں عاجزی کا اظہار کریں “۔

ہماری مذکورہ گفتگو سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ محل بحث آیت میں انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے برخلاف کوئی چیز نہیں پائی جاتی، بلکہ جیسا کہ ہم نے اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ یہ آیت عصمت پر مزید تاکید کرتی ہے، کیونکہ خداوندعالم اس آیت میں فرماتا ہے کہ جب انبیاء

(۱) اگرچہ آخری آیت کی تفسیر اس معنی کے لحاظ سے اعتراض سے خالی نہیں ہے، کیونکہ انبیاء پر شیطانی وسوسہ اگرچہ خدائی امداد کے ذریعہ فوراً نیست و نابود ہوجاتا ہے ، لیکن اس کے ذریعہ منافقین اور بیمار دل لوگوں کے لئے باعث امتحان نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ وسوسہ ظاہر نہیں ہوتے بلکہ انبیاء علیہم السلام پر ان وسوسوں کا اثر نہیں ہوتا کیونکہ فوراً ہی خداوندعالم ان کو ختم کردیتا ہے

مگر یہ کہا جائے کہ مراد یہ ہے کہ جب انبیائے الٰہی اپنی آرزو اور اہداف کو عملی بنانا چاہتے ہیں تو اس موقع پر شیاطین تخریب اور وسوسوں کے ذریعہ حملہ آور ہوتے ہیں اور اس موقع پر امتحان کی بھٹی گرم ہوجاتی ہے، لہٰذا ان تینوں آیات (سورہ حج آیات نمبر ۵۲ ، ۵۳ اور ۵۴) میں ہم آہنگی اور انسجام برقرار ہوجاتا ہے

عجیب بات تو یہ ہے کہ بعض مفسرین نے پہلی آیت میں مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں، جبکہ بعد والی آیات کی ہم آہنگی اور انسجام کو باقی نہیں رکھ پائے ہیں (غور کیجئے )

وحی کو حاصل کرتے ہیں یا اپنے مقاصد کے لئے دوسرا قدم اٹھاتے ہیں تو ان کی شیطانی وسوسوں سے محافظت فرماتا ہے،(قارئین کرام!) اب ہم اس سلسلہ میں گڑھے گئے افسانہ کی طرف پلٹتے ہیں آخر کار نوبت یہ پہنچ گئی کہ بعض شیطان صفت افراد نے پیغمبر اکرم (ص) کی عظمت کو گھٹانے کے لئے کتاب ”شیطانی آیات“ لکھ ڈالی اور اس طرح کے جعلی افسانوں کا سہارا لیا ۔ افسانہ غرانیق کی رواتیوں پر تنقید اور تردید

جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ گزشتہ آیات میں نہ صرف یہ کہ عصمت انبیاء کے برخلاف کوئی چیز نہیں پائی جاتی بلکہ یہ آیات خود عصمت انبیاء پر دلیل ہیں، لیکن اہل سنت کی دوسرے درجہ کی کتابوں میں کچھ ایسی روایات ہیں جو ہر لحاظ سے عجیب ہیں،لہٰذا ان کی الگ سے بحث ہونا چاہئے، جن روایات کی طرف ہم نے آغاز کلام میں اشارہ کیا ہے یہ کبھی ابن عباس سے اور کبھی سعید بن جبیر اور کبھی بعض دیگر صحابہ و تابعین سے نقل کی جاتی ہیں۔(۱)

جبکہ اس طرح کی روایات مکتب اہل بیت علیہم السلام میں موجود نہیں ہے، اور بعض اہل سنت کے علماکے بقول صحاح ستہ میں بھی اس طرح کی روایات نہیں ہیں، لیکن ”تفسیر مراغی“ میں بیان ہوا ہے: ”بے شک یہ احادیث ملحدین اور اسلامی دشمنوں کی طرف سے گڑھی گئی ہیں، کیونکہ ایسی روایات کسی بھی معتبر کتاب میں نہیں ملتیں، اور دین اسلام کے اصول اور تعلیمات اسلام ان کی تکذیب اور تردید کرتی ہیں، عقل سلیم بھی ان کے باطل ہونے پر گواہی دیتی ہے، لہٰذاتمام علمائے اسلام پر ان کی تردید کرنا واجب ہے ، اور اپنے (قیمتی) وقت کو ان کی تفسیر و تاویل میں صرف نہ کریں، خصوصاً جبکہ موثق راویوں نے ان کے جعلی اور جھوٹے ہونے پر صریح الفاظ میں بیان کیاہے۔(۲)

(۱) اس سلسلہ میں اہل سنت کی روایات سے مزید آگاہی کے لئے کتاب الدر المنثور ، جلد چہارم صفحہ ۳۶۶ تا ۳۶۸ پر سورہ حج ، آیت ۵۲ کے ذیل میں رجوع فرمائیں

(۲) تفسیر مراغی ، جلد ۱۷، صفحہ ۱۳۰ ، مذکورہ آیات کے ذیل میں یہی معنی ایک دوسری طرح تفسیر ”جواہر“ (مولفہ طنطاوی) میں بیان ہوئے ہیں: ”

اس طرح کی احادیث صحاح ستہ ”صحیح بخاری، صحیح مسلم، موطا بن مالک، جامع ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن داؤد“ میں نہیں آئی ہیں،(۱۰) لہٰذا کتاب ”تیسیر الوصول لجامع الاصول“ جس میں صحاح ستہ کی تفسیری روایات کو جمع کیا گیا ہے، اس روایت کو سورہ نجم کی آیات میں بیان نہیں کیا ہے، لہٰذا اس طرح کی احادیث کے لئے اہمیت کاقائل ہونا مناسب نہیں ہے، اور نہ ہی ان کا ذکر نا مناسب ہے، ان پر اعتراض کرنا اور جواب دینا تو دور کی بات ہے یہ احادیث جھوٹی اور جعلی ہیں“!(۱۱)

علامہ فخر الدین رازی ان روایات کے جعلی ہونے کے سلسلہ میں اس طرح کہتے ہیں: صحیح بخاری میں پیغمبر اکرم (ص) سے نقل ہوا کہ جس وقت سورہ نجم کی تلاوت فرمائی تو جن و انس ،مسلمان اور مشرکین نے سجدہ کیا، لیکن اس حدیث میں ”غرانیق“ کی کوئی بات نہیں ہے، اسی طرح یہ حدیث (جو صحیح بخاری سے نقل ہوئی ہے) دوسرے متعدد طریقوں سے نقل ہوئی ہے لیکن ان میں سے کسی میں بھی ”غرانیق“ کا لفظ نہیں آیا ہے۔(۱۲)

نہ صرف مذکورہ مفسرین بلکہ دیگر علماو مفسرین جیسے ”قرطبی“ نے اپنی تفسیر ”الجامع“ میں اور سید قطب نے ”فی ظلال“ وغیرہ میں اسی طرح تمام شیعہ بزرگ علمانے بھی اس طرح کی روایات کو خرافات قرار دیتے ہوئے جعلی مانا ہے اور ان کی نسبت دشمنان اسلام کی طرف دی ہے۔

اس کے باوجود عجیب نہیں ہے کہ اسلام دشمن خصوصاً معاند مستشرقین نے اس طرح کی روایات کا بہت زیادہ پروپیگنڈا کیا ہے، اور اس کو بہت ہی آب و تاب کے ساتھ نقل کیا ہے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ آج کے دور میں شیطان رشدی نے ”آیات شیطانی“ نامی کتاب لکھ ڈالی، خیالی داستان میں بہت ہی نازیبا الفاظ کے ساتھ اسلامی مقدسات کی توہین کی ہے، بلکہ یہاں تک کہ بڑے بڑے انبیاء جن کو سبھی آسمانی ادیان احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، (جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام) کی شان میں بھی گستا خی، جسارت اور توہین کی ہے۔

یہ بھی عجیب بات ہے کہ اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا اور دنیا بھر میں نشر کیا گیا،اور جس وقت امام خمینی رحمة اللہ علیہ نے سلمان رشدی کے مرتد ہونے اور اس کے قتل کا تاریخ ساز فتوی صادر کیا، تو استعماری حکومتوں اور اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے ایسی حمایت ہوئی کہ آج تک دیکھنے میں نہیں آئی! چنانچہ اس رویہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کام میں صرف سلمان رشد ی ہی نہیں تھا اور نہ ہی اسلام کی مخالفت میں لکھی جانے والی کتاب کا مسئلہ تھا، در اصل مغربی ممالک اور صہیونیزم کی طرف سے اسلام کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تھی، اگرچہ ظاہر میں سلمان رشدی نے کتاب لکھی ہے لیکن اس کے پسِ پردہ اسلام دشمن طاقتیں تھیں۔

لیکن حضرت امام خمینی (علیہ الرحمہ) نے اپنے فتویٰ میں استقامت کی اور پھر ان کے جانشین (حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی) نے اسی فتویٰ کو برقرار رکھا، نیز اس تاریخی فتویٰ کو دنیا بھر کے مسلمانوں نے قبول کیا، جس سے دشمن کی سازش ناکام ہوگئی، اور سلمان رشدی آج تک (کتاب کی اس حصہ کی تالیف تک) روپوش ہے، اور اسلام دشمن طاقتیں اس کی مکمل طور پر حفاظت کررہی ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ آخری عمر تک اسی طرح چھپ کر زندگی بسر کرے گا، اور شاید خود انھیں لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوگا تاکہ اس رسوائی سے نجات پاسکے۔

اس بنا پر جو چیز بھی اس طرح کی روایات کی علت ”محدثہ“ یعنی وجود میں لانے والی علت ہے وہی چیزعلت ”مبقیہ“ یعنی باقی رکھنے والی علت بھی ہے، یعنی جو سازش اسلام دشمنوں کی طرف سے شروع ہوئی ہزاروں سال بعد بھی انھیں اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے ایک وسیع پیمانہ پر وہی سازش آج بھی ہورہی ہے۔

لہٰذا اس چیز کی ضرورت نہیں محسوس کی جاتی کہ تفسیر ”روح المعانی“ یا دوسری تفاسیر کی طرح ان روایات کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی جائے، کیونکہ ان روایات کی بنیاد ہی خراب ہے، اور بڑے بڑے علماکرام نے ان کے جعلی ہونے کی تاکید کی ہے، لہٰذا ہم ان روایات کی توجیہ کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں،صرف یہاں مزید وضاحت کے لئے چند درج ذیل نکات بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

۱ ۔ یہ بات کسی دوست اور دشمن پر مخفی نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے آغازِ دعوت سے آخرِ عمر تک بت اور بت پرستی کا شدت کے ساتھ مقابلہ کیا، اور یہی وہ مسئلہ ہے کہ جس میں کسی طرح کی مصالحت، سازش اور نرمی نہیں کی گئی، لہٰذا ان تمام چیزوں کے پیش نظر بتوں کی شان میں اس طرح کے الفاظ پیغمبر اکرم (ص) کی زبان پر کس طرح آسکتے ہیں؟

اسلامی تعلیمات کہتی ہیں کہ صرف شرک اور بت پرستی ہی ایک ایسا گناہ ہے جو قابل بخشش نہیں ہے، لہٰذا بت پرستی کے مراکز کو ہر قیمت پر نابود کرنا واجب قرار دیا ہے، اور پورا قرآن اس بات پر گواہ ہے، یہ خود حدیث”غرانیق“ کے جعلی ہونے پر دلیل ہے جن میں بتوں کی مدح و ثنا کی گئی ہے۔

۲ ۔ اس کے علاوہ ”غرانیق“ افسانہ لکھنے والوں نے اس بات پر توجہ نہیں دی ہے کہ خود سورہ نجم کی آیات پر ایک نظر ڈالنے سے اس خرافی حدیث کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ بتوں کی مدح و ثنا والے جملے: ”تِلکَ الغَرَانیقُ العُلیٰ وَانَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرتَجیٰ“ اور آیات ماقبل و مابعد میں کوئی ہم آہنگ نہیں ہے، کیونکہ اسی سورہ کے شروع میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ہرگز اپنی خواہش کے مطابق کلام ہی نہیں کرتے، اور جو کچھ عقائد اور اسلامی قوانین کے بارے میں کہتے ہیں وہ وحی الٰہی ہوتی ہے:( وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْهَوَی إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُوحَی ) (۱۳) ”اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتا ہے اس کا کلام وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے“۔

اور اس بات کا صاف طور پر اعلان ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ہرگز راہ حق سے منحرف نہیں ہوتا، اور اپنے مقصد کو کم نہیں کرتا:( مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوَی ) (۱۴) ”تمہارا ساتھی نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا“۔

اس سے زیادہ گمراہی اور انحراف اور کیا ہوگا کہ پیغمبر آیات الٰہی کے درمیان شرک کی باتیں اور بتوں کی تعریفیں کریں؟ اور اپنی خواہش کے مطابق گفتگو اس سے بدتر اور کیا ہوسکتی ہے کہ کلام خدا میں شیطانی الفاظ کا اضافہ کرے اور آیات کے درمیان کہے:”تلک الغرانیق العلی“؟

مزے کی بات یہ ہے کہ محل بحث آیات کے بعد صاف طور پر بت اور بت پرستوں کی مذمت کی گئی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:( إِنْ هِیَ إِلاَّ اٴَسْمَاءٌ سَمَّیْتُمُوهَا اٴَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَا اٴَنزَلَ اللهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَی الْاٴَنْفُسُ ) (۱۵) ”یہ سب وہ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے طے کر لئے ہیں خدا نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے درحقیقت یہ لوگ صرف اپنے گناہوں کا اتباع کررہے ہیں اور جو کچھ ان کا دل چاہتا ہے“۔

کون عقلمند اس بات کا یقین کرسکتا ہے کہ ایک صاحب حکمت اور باہوش نبی مقام نبوت میں پہلے جملوں میں بتوں کی مدح و ثنا کرے اوربعد والے دو جملوں میں بتوں کی مذمت اور ملامت کرے؟لہٰذا! ان دوجملوں کے تناقض اور تضاد کی کس طرح توجیہ اور تاویل کی جاسکتی ہے؟

پس ان تمام باتوں کے پیش نظر اعتراف کرنا پڑے گا کہ قرآن مجید کی آیات میں اس قدر ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ دشمنوں اور بدخواہ غرض رکھنے والوں کی طرف سے کی گئی ملاوٹ کو بالکل باہر نکال دیتی ہے، اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ایک غیر مرتبط اور جداجملہ ہے، یہ ہے سورہ نجم کی آیات کے درمیان حدیث ”غرانیق“ قرار دینے کی سرگزشت ۔

(قارئین کرام!) یہاں پر ایک یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ تو پھر اتنی بے بنیاد اور بے سرو پیر چیزیں کیسے اتنی مشہور ہو گئیں؟ اس سوال کا جواب بھی کوئی پیچیدہ نہیں ہے کیونکہ اس حدیث کی شہرت زیادہ تر دشمنانِ اسلام اور بیمار دل لوگوں کی طرف سے ہے جو یہ سوچ رہے تھے کہ یہ حدیث خود پیغمبر اسلام کی عصمت اور قرآن کی حقانیت کو مخدوش کرنے کے لئے بہترین مدرک ہے، لہٰذا دشمنان اسلام کے درمیان اس حدیث کی شہرت کی دلیل معلوم ہے، لیکن اسلامی مورخین کے درمیان شہرت کی وجہ بعض علماکے قول کے مطابق یہ ہے کہ بعض مورخین ہمیشہ سے نئے حادثات اور نئے مطالب کی طرف دوڑتے ہیں نیز کوشش کرتے ہیں کہ اپنی کتابوں میں ہیجان آور اور استثنائی واقعات بیان کریں چا ہے وہ تاریخی حقیقت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں، کیونکہ ان کا مقصد اپنی کتاب کو مقبول بنانا اور ہنگامہ برپا کردےنا ہو تا ہے، اور چونکہ پیغمبر اسلام (ص) کی زندگی میں غرانیق جیسا افسانہ بہت زیادہ بیان ہوا ہے لہٰذا اس کے منبع اور اس کے مفہوم کے بے بنیاد ہونے پر توجہ کئے بغیر بعض تاریخی کتابوں اور بعض حدیث کی کتابوں میں نقل کردیا گیا ہے، جبکہ بعض علمانے اس پر تنقید اور تردید کے لئے بیان کیا ہے۔

نتیجہ (قارئین کرام!) ہماری مذکورہ بحث سے یہ مسئلہ واضح اور روشن ہوجاتا ہے کہ قرآن مجید میں نہ صرف کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے کہ جو ان کے مقام عصمت کے منافی ہو ؛ بلکہ یہی آیات جن کو عصمت کے منافی سمجھ لیا گیا ہے ، عصمت انبیاء علیہم السلام پر واضح اور بہترین دلیل ہیں۔(۱۶)

تَمتْ بِالخَیْرِ ، وَ الحَمدُ للهِ رَبِّ العَالَمِین وَ لَهُ الشُّکْرُ عَلیٰ هَذَا التَّوْفِیقِ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إنَّکَ اٴنتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم

مترجم اقبال حیدر حیدری

____________________

(۱)سورہ نجم ، آیت ۱۹، ۲۰، ” کیا تم لوگوں نے لات و عزیٰ کو دیکھا ہے اور منات جو ان کا تیسرا ہے اسے بھی دیکھا ہے“۔ (کیا وہ خدا کی بیٹیاں ہیں؟)

(۲) ”غرانیق“ ، (مزدور کے وزن پر) ”غرنوق“ کی جمع ہے ، ایک سیاہ اور سفید رنگ کا پرندہ ہے،لیکن اس کے علاوہ دوسرے معنی میں بھی آیا ہے، (نقل از قاموس اللغہ)

(۳) سورہ حج ، آیت ۵۲ (۲) اس حدیث کو اکثر مفسرین نے مختصر تبدیلی کے ساتھ بیان کیا ہے اور پھر اس واقعہ پر تنقید کی ہے

(۴) سورہ اسراء ، آیت ۷۴

(۵) سورہ نساء ، آیت ۱۱۳

(۶)شعر یہ ہے :تمنی کتاب الله اٴوّل لیلة وآخرها لاقیٰ حمام المقادر

”تاج العروس“ شرح قاموس اور اسی طرح خود ”قاموس“ میں ”تمنی کتاب “کے معنی تلاوت کتاب کے لئے ہیں، اس کے بعد ”ازہری“ سے نقل کیاہے کہ تلاوت کو اس وجہ سے ”اُمنیہ“ کہا جاتا ہے کیونکہ تلاوت کرنے والا جب ”آیہ رحمت“ پر پہنچتا ہے تو رحمت کی آرزو کرتا ہے، اور جب عذاب کی آیت پر پہنچتا ہے تو عذاب سے نجات کی امید کرتا ہے، لیکن صاحب ”مقائیس اللغہ“ کا اس بات پر عقیدہ ہے کہ اس لفظ کا تلاوت پر اطلاق کرنا اس وجہ سے ہے کہ اس میں ایک طرح کی اندازہ گیری اور اس آیت سے گزرنا ہوتا ہے

(۷) تفسیر فخر رازی ، جلد ۲۳، صفحہ ۵۱ (۸) سورہ فصلت ،آیت۲۶

(۹)سورہ حج ، آیت ۵۴

(۱۰) توجہ رہے کہ موطا ابن مالک کا شمار صحاح ستہ میں نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ پر سنن ابن ماجہ ہے

(۱۱) تفسیر جواہر ، جلد ۶، صفحہ ۴۶ (۱۲) تفسیر فخر رازی ، جلد ۲۳، صفحہ ۵۰

(۱۳) سورہ نجم ، آیت ۳و۴

(۱۴) سورہ نجم ، آیت ۲ (۱۵) سورہ نجم ، آیت ۲۳

(۱۶) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۱۶۴


فہرست

تقریظ ۴

حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی دام ظلہ ۴

پیش گفتار ۶

چند ضروری نکات: ۷

۱ ۔ خدا کی معرفت کیوں ضروری ہے؟ ۸

۱. عقلی علت : ۸

۲ ۔جذبہ محبت: ۱۰

اشارہ: ۱۰

۳ ۔ فطری لگاؤ: ۱۱

اشارہ: ۱۱

۲ ۔ خداوندعالم کو کیوں درک نہیں کیا جاسکتا؟ ۱۴

۳ ۔ کس طرح بغیر دیکھے خدا پر ایمان لائیں ؟ ۱۷

۱ ۔ معرفت خدا کے سلسلہ میں مادیوں کی مخالفت کے اسباب : ۱۷

۲ ۔ اس کی نشانیاں ۱۸

۳ ۔ دیکھنے اور نہ دیکھنے والی چیزیں: ۱۹

۵ ۔ دین کس طرح فطری ہے؟ ۲۳

خدا پر ایمان کے فطری ہونے پر زندہ ثبوت: ۲۳

۱ ۔ تاریخی حقائق : ۲۳

۲ ۔ آثار قدیمہ کے شواہد : ۲۴


۳ ۔ ماہرین نفسیات کی تحقیق اور ان کے انکشافات: ۲۵

۴ ۔ مذہب مخالف پروپیگنڈے کا ناکام ہوجانا ۲۵

۵ ۔ زندگی کی مشکلات میں ذاتی تجربات: ۲۶

۶ ۔مذہب کے فطری ہونے پر دانشوروں کی گواہی ۲۷

چند نمونے: ۲۷

۶ ۔ خدا کے ”سمیع“ اور ”بصیر“ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ ۳۰

۷ ۔ صفات جمال و جلال سے کیا مراد ہے؟ ۳۲

۸ ۔ خداوندعالم کے ارادہ کی حقیقت کیا ہے؟ ۳۳

۹ ۔ اسم اعظم کیا ہے؟ ۳۵

۱۰ ۔ کیا خداوندعالم کو دیکھا جاسکتا ہے؟ ۳۶

جناب موسیٰ (ع) نے دیدارخدا کی درخواست کیوں کی؟ ۳۸

۱۱ ۔ عرش خدا کیا ہے؟ ۴۰

۱۲ ۔ عالم ذرّ کا عہد و پیمان کیا ہے؟ ۴۴

۱۳ ۔ خداوندعالم کی طرف سے ہدایت و گمراہی کے کیا معنی ہیں؟ ۴۶

۱۴ ۔کس طرح کائنات کی ہر شئی خداکی تسبیح کرتی ہے؟ ۵۲

۱۵ ۔ کیا خداوندعالم کسی چیز میں حلول کرسکتا ہے؟ ۵۶

تصوّف اور اتحاد و حلول کا مسئلہ ۵۶

۱۶ ۔ بدا ء کیا ہے؟ ۵۹

۱۷ ۔ کیا اولیاء اللہ کو وسیلہ قراردینا توحید خداکے مخالف ہے؟ ۶۴

توسل اور اسلامی روایات ۶۴


چند ضروری نکات: ۶۶

۱۸ ۔ دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں بلند کرتے ہیں؟ ۶۹

۱۹ ۔ کیا انسانوں میں پیدائشی فرق ؛ خدا وندعالم کی عدالت سے ہم آہنگ ہے؟ ۷۱

۲۰ ۔ کیا روزی کے لحاظ سے لوگوں میں موجودہ فرق ، عدالت الٰہی سے ہم آہنگ ہے؟ ۷۳

۲۱ ۔ انسان کو پیش آنے والی پریشانیوں اور مصیبتوں کا فلسفہ کیا ہے؟ ۷۶

ایک غلط فہمی کا ازالہ ۷۹

۲۲۔ خداوندعالم نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟ ۸۱

ایک سوال کا جواب: ۸۲

۲۳ ۔ خاتمیت انسانی تدریجی ترقی کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہے؟ ۸۴

۲۴ ۔ ثابت قوانین،آج کل کی مختلف ضرورتوں سے کس طرح ہم آہنگ ہے؟ ۸۶

۲۵ ۔ کیا توریت اور انجیل میں پیغمبر اکرم کی بشارت دی گئی ہے؟ ۸۸

ایک اور زندہ گواہ ۹۰

۲۶ ۔ اولوالعزم پیغمبر کون ہیں؟ ۹۲

۲۷ بچپن میں نبوت یا امامت ملنا کس طرح ممکن ہے؟ ۹۵

۲۸ ۔ وحی کی اسرار آمیز حقیقت کیا ہے؟ ۹۷

منکر ِوحی کی دلیل ۹۸

۲۹ ۔ کیا پیغمبر اکرم (ص) امّی تھے؟ ۱۰۰

۳۰ ۔ معراج؛ جسمانی تھی یا روحانی اور معراج کا مقصد کیا تھا؟ ۱۰۲

معراج کا مقصد ۱۰۲

۳۱ ۔ کیا معراج ،آج کے علوم سے ہم آہنگ ہے؟ ۱۰۴


۳۲ ۔کیا عصمت انبیاء جبری طور پر ہے؟ ۱۰۶

۳۳ ۔ جادوگروں اور ریاضت کرنے والوں کے عجیب وغریب کاموں اور معجزہ میں کیا فرق ہے؟ ۱۰۹

۳۴ ۔ جناب آدم کا ترک اولیٰ کیا تھا؟ ۱۱۳

۳۵ ۔ کیا معجزہ”شق القمر“ سائنس کے لحاظ سے ممکن ہے؟ ۱۱۶

۳۶ ۔ بعض آیات و احادیث میں غیر خدا سے علم غیب کی نفی اور بعض میں ثابت ہے، اس اختلاف کا حل کیا ہے؟ ۱۱۹

۲ ۔ ائمہ علیہم السلام کے لئے علم غیب ثابت کرنے کے دیگر طریقے ۱۲۲

۳۷ ۔کیا انبیاء میں بھول چوک کا امکان ان کی عصمت سے ہم آہنگ ہے؟ ۱۲۵

۳۸ ۔ پیغمبر اکرم (ص) کی متعدد بیویوں کا فلسفہ کیا ہے؟ ۱۲۸

۳۹ ۔ کیا قرآن مجید میں تحریف ہوئی ہے؟ ۱۳۰

۴۰ ۔ قرآن کریم کس طرح معجزہ ہے؟ ۱۳۳

۴۱ ۔ کیا قرآن کا اعجاز صرف فصاحت و بلاغت میں منحصرہے؟ ۱۳۸

۴۲ ۔قرآن کی مثل کیسے نہ لاسکے؟ ۱۴۰

یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ دشمنان اسلام قرآن کی مثل کیسے نہ لاسکے؟ ۱۴۰

۴۳ ۔ قرآن کے حروف مقطّعات سے کیا مراد ہے؟ ۱۴۲

۴۴ ۔ قرآن مجید پیغمبر اکرم کے زمانہ میں مرتب ہوچکا تھا یا بعد میں ترتیب دیا گیا؟ ۱۴۶

سوال: ۱۴۷

۴۵ ۔ قرآن مجید کی آیات میں محکم اور متشابہ سے کیا مراد ہے؟ ۱۴۹

۴۶ ۔کیوں بعض قرآنی آیات متشابہ ہیں؟ ۱۵۱

۴۷ ۔ کیا بسم اللہ تمام سوروں کا جز ہے؟ ۱۵۳


۴۸ ۔ امامت سے مراد کیا ہے؟ اور امامت اصول دین میں ہے یا فروع دین میں ؟ ۱۵۶

امامت اصول دین میں سے ہے یا فروع دین میں سے؟ ۱۵۷

۴۹ ۔ امامت کی بحث کب سے شروع ہوئی؟ ۱۵۹

۵۰۔ اولوا الامر سے مراد کون ہیں؟ ۱۶۱

چند اعتراضات اور ان کے جوابات ۱۶۵

۵۱ ۔ اہل بیت سے مراد کون حضرات ہیں؟ ۱۶۷

۵۲ ۔ واقعہ غدیر کیا ہے ؟ ۱۷۴

واقعہ غدیر ۱۷۵

حدیث غدیر کا مضمون ۱۷۶

آیہ بلغ کے سلسلہ میں ایک نئی تحقیق ۱۸۱

توضیحات ۱۸۲

۱ ۔ حدیث غدیر میں مولی کے معنی ۱۸۲

۲ ۔ قرآن کی آیات واقعہ غدیر کی تائید کرتی ہیں ۱۸۴

۵۳ ۔ ولایت تکوینی اور تشریعی سے کیا مراد ہے؟ ۱۸۶

۵۴ ۔ بیعت کی حقیقت کیا ہے؟ نیز انتخاب اور بیعت میں کیا فرق ہے؟ ۱۸۸

۵۵ ۔ کیا دس سالہ بچہ کا اسلام قابل قبول ہے؟ ۱۹۳

۵۶ ۔ امام حسن نے زہر آلود کوزہ سے پانی کیوں پی لیا اور امام رضا نے زہر آلود انگور کیوں تناول فرمایا؟ ۱۹۶

۵۷ ۔ فلسفہ انتظار کیا ہے؟ ۱۹۸

مفہوم انتظار ۲۰۰

پہلا فلسفہ۔ ۲۰۲


اصلاح نفس ۲۰۲

دوسرا فلسفہ : معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرنا ۲۰۳

تیسرا فلسفہ: حقیقی منتظرین برے ماحول میں رنگے نہیں جاتے ۲۰۳

۵۸ ۔ قیامت کے عقلی دلائل کیا ہیں؟ ۲۰۷

۵۹ ۔ معاد؛ جسمانی ہے یا روحانی؟ ۲۱۱

۶۰ ۔ شبہ آکل و ماکول کیا ہے؟ ۲۱۳

شبہ آکل و ماکول ۲۱۳

(جواب) ۲۱۴

۱ ان آیات کا مطالعہ کیجئے کہ جن میں فرمایا گیا ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے زندہ اٹھیں گے ۲۱۶

۶۱ ۔ روح کیا ہے؟ اور یہ کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ روح ہی اصل ہے? ۲۱۷

روح کے عدم استقلال پر مادہ پرستوں کے دلائل ۲۲۲

اس استدلال کے کمزور پہلو ۲۲۳

استقلال روح کے دلائل ۲۲۴

۱ ۔ روح کا کام حقیقت نمائی ہے ۲۲۵

۲ ۔ وحدتِ شخصیت ۲۲۶

ایک غلط فہمی سے اجتناب ۲۲۷

۳ ۔ بڑے کا چھوٹے پر منطبق نہ ہونا ۲۲۸

۴ ۔ روح کے مادی مظاہر کیفیات کے مانند نہیں؟ ۲۲۹

۶۲۔ اجل مسمیٰ (حتمی) اور اجل معلق (غیر حتمی) سے مراد کیا ہے؟ ۲۳۲

وضاحت: ۲۳۳


۶۳ ۔ کیا سائنس تجسم اعمال کی تائید کرتا ہے ۲۳۵

منطق عقل میں تجسم اعمال: ۲۳۶

۶۴ ۔ عالمِ برزخ کیا ہے اور وہاں کی زندگی کیسی ہے؟ ۲۳۹

۶۵ ۔ کیا دنیا اور آخرت میں تضاد پایا جاتا ہے ؟ ۲۴۲

۶۶ ۔ نامہ اعمال کیا ہے اور اس کا فلسفہ کیا ہے؟ ۲۴۶

نامہ اعمال کا فلسفہ ۲۴۷

۶۷ ۔ روز قیامت اعمال کو کس قسم کی ترازومیں تولے جائیں گے؟ ۲۴۹

۶۸۔ پُل صراط کی حقیقت کیا ہے؟ ۲۵۰

تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام میں ان دوصراط (صراط دنیا اور صراط آخرت) سے مراد : ۲۵۱

۶۹ ۔ فلسفہ شفاعت کیا ہے؟ اور کیا شفاعت کی امید ،گناہ کی ترغیب نہیں دلاتی؟ ۲۵۳

۷۰۔کیا ”شفاعت“ توحید کے منافی ہے؟ ۲۵۷

اس استدلال کے انحرافی نکات ۲۵۹

۷۱ ۔ وضو ،غسل اور تیمم کا فلسفہ کیا ہے؟ ۲۶۴

فلسفہ غسل ۲۶۴

وضاحت: ۲۶۵

فلسفہ تیمم کیا ہے؟ ۲۶۶

۷۲ ۔ فلسفہ نماز کیا ہے؟ ۲۶۹

۷۳ ۔ روزہ کا فلسفہ کیا ہے؟ ۲۷۶

روزہ کے معاشرتی اثرات ۲۷۷

روزہ کے طبی اثرات ۲۷۸


۷۴ ۔ خمس کا نصف حصہ سادات سے مخصوص ہونا؛ کیا طبقاتی نظام نہیں ہے؟ ۲۸۰

وضاحت: ۲۸۰

۷۵ ۔ فلسفہ زکوٰة کیا ہے؟ ۲۸۲

۷۶۔ فلسفہ اور اسرار حج کیا ہیں؟ ۲۸۴

۱ ۔ حج کا اخلاقی پہلو: ۲۸۴

۲ ۔ حج کا سیاسی پہلو: ۲۸۵

۳ ۔ ثقافتی پہلو: ۲۸۵

۴ ۔ حج کا اقتصادی پہلو: ۲۸۷

۷۷ ۔ جہاد کا مقصد کیا ہے؟ اور ابتدائی جہاد کس لئے؟ ۲۹۱

۱ ۔ ابتدائی جہاد (آزادی کے لئے) ۲۹۱

۲ ۔ دفاعی جہاد : ۲۹۱

۳ ۔ کفر اور شرک کی نابودی کے لئے جہاد ۲۹۲

۷۸ ۔ اسلام خواتین کے لئے کن حقوق کا قائل ہے؟ ۲۹۴

مساوات کے معنی میں غلط فہمی نہ ہو: ۲۹۵

۷۹ ۔ پردہ کا فلسفہ کیا ہے؟ ۲۹۸

حجاب کے مخالفین کے اعتراضات ۳۰۱

۸۰ ۔ میراث میں مرد کا حصہ عورت کے دو برابر کیوں ہے؟ ۳۰۳

۸۱ ۔ فلسفہ متعہ کیا ہے؟ ۳۰۵

متعہ پر ہونے والے اعتراضات ۳۰۵

”راسل“ اور ”وقتی شادی“ ۳۰۷


متعہ کی تاریخی حیثیت ۳۰۸

۸۲ ۔ عدّہ کا فلسفہ کیا ہے؟ ۳۱۲

عدّہ؛ نسل کی حفاظت کا وسیلہ ۳۱۳

۸۳ ۔ غنا؛ کیا ہے اور اس کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟ ۳۱۴

حرمت غنا کا فلسفہ ۳۱۵

الف: برائیوں کی طرف رغبت ۳۱۵

ب: یاد خدا سے غفلت ۳۱۶

ج۔ اعصاب کے لئے نقصان دہ آثار ۳۱۶

۸۴ ۔ زنا کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟ ۳۱۸

۸۵ ۔ ہم جنس بازی کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟ ۳۲۰

۸۶ ۔ شراب کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟ ۳۲۲

انسان کی عمر پرشراب کا اثر ۳۲۲

انسانی نسل میں شراب کی تاثیر ۳۲۲

شراب کے اجتماعی نقصانات ۳۲۳

شراب کے اقتصادی نقصانات ۳۲۳

۸۷ ۔ محارم سے شادی کی حرمت کا فلسفہ کیا ہے؟ ۳۲۶

۸۸ ۔ خلقت انسان کا مقصد کیا ہے؟ ۳۳۰

۸۹ ۔ کیا انسان کی سعادت اور شقاوت ذاتی ہے؟ ۳۳۳

۹۰ ۔ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟ ۳۳۶

۹۱ ۔ جن ّ اور فرشتہ کی حقیقت کیا ہے؟ ۳۳۸


فرشتہ کی حقیقت : ۳۴۱

۹۲ ۔ رجعت کیا ہے اور کیا اس کا امکان پایا جاتا ہے؟ ۳۴۵

رجعت کا فلسفہ ۳۴۷

۹۳ ۔ توکل کی حقیقت اور اس کا فلسفہ کیا ہے؟ ۳۵۰

توکل کا فلسفہ ۳۵۰

۹۴ ۔ دعا و زاری کا فلسفہ کیا ہے؟ ۳۵۳

۹۵ ۔ کبھی کبھی ہماری دعاکیوں قبول نہیں ہوتی؟ ۳۵۶

۹۶ ۔ جبر اور اختیار کے سلسلہ میں اسلام کا نظریہ کیا ہے؟ ۳۵۹

۹۷۔ کیا نظر ِبد کی کوئی حقیقت ہے؟ ۳۶۴

۹۸ ۔ کیا فال نیک اور بد شگونی حقیقت رکھتے ہیں ؟ ۳۶۶

۹۹ ۔ کیا تمام اصحاب پیغمبر (ص)نیک افرادتھے؟ ۳۶۸

۱۰۰ ۔ ذوالقرنین کون تھے؟ ۳۷۲

۱۰۱ ۔ کیوں بعض ظالم اور گناہگار لوگ نعمتوں سے مالا مال ہیں اور ان کو سزا نہیں ملتی؟ ۳۷۸

ایک سوال کا جواب: ۳۷۹

۱۰۲ ۔ ایمان نہ رکھنے والی اقوام کیوں عیش و عشرت میں ہیں؟ ۳۸۰

۱۰۳ ۔ مسلمانوں کی پسماندگی کے اسباب کیا ہیں؟ ۳۸۳

کیوں مسلمان آج تک پسماندہ ہیں؟ ۳۸۳

۱۰۴ ۔ واقعہ فدک کیا ہے؟ ۳۸۵

۱۰۵ ۔ کیا جناب ابوطالب مومن تھے؟ ۳۸۷

۱۰۶ ۔ گناہان کبیرہ کا معیار کیا ہے؟ ۳۹۳


۱۰۷ ۔ کیا دنوں کو سعد و نحس ماننا صحیح ہے؟ ۳۹۵

۱۰۸ ۔ کیا اصحاب کہف کا واقعہ سائنس سے مطابقت رکھتا ہے؟ ۴۰۰

زندہ انسان کے بدن کو منجمد کرنا ۴۰۲

۱۰۹ ۔ تقیہ کا مقصد کیا ہے؟ ۴۰۵

تقیہ ایک دفاعی ڈھال ۴۰۵

تقیہ یا مقابلہ کی دوسری صورت ۴۰۶

۱۱۰ ۔ افسانہ آیات شیطانی یا افسانہ ”غرانیق“ کیا ہے؟ ۴۱۰

110 سوال اور جواب

110 سوال اور جواب

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 126