حکم اذاں

اصلاح کتب

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
متفرق کتب

یہ نغمہ فصل گل ولالہ کا نہیں پابند

بہار  ہو کہ خزاں لاالہ الا اللہ

اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم اذاں  لا الہ الا اللہ

لاکون من الصادقین

حکم اذاں

ڈاکٹر محمدتیجانی سماوی

ترجمہ:- مستجاب احمد اانصاری

 ای بک کمپوزنگ :- حافظی

نیٹ ورک :-  شبکۃ الاما مین الحسنین(ع) نیٹ ورک


خطبۃ الکتاب

بسم الله الرحمان الرحیم

الحمد الله رب العالمين - الرحمن الرحيم  مالک يوم الدين - ايا ک نعبد وايا ک نستعين - إهدنا الصراط المستقيم وصلّ علی محمد خاتم النّبيّين - الذی ارسلته رحمة للعالمين  وانزلت عليه کتابا لاريب فيه هدی للمتقين وسلّم على أهل بيته المطهرين الذين جعلت صراط الذين أنعمت عليهم غيرالمغضوب عليهم ولاالضّالّين .


بسمه سبحانه تعالى

گفتار مولف

میری پہلی کتاب "ثمّ اھتدیت" (جس کا اردو ترجمہ تجلی ہے)کو قارئین کرام نے حسن قبول سے نوازا اور اس  پر کئی اہم تبصرے بھی کیے ۔بعض نے ان مسائل کے بارے میں جو اہل سنت  اور اہل تشیع میں اختلافی ہیں مزید وضاحت چاہی تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے ۔ اور جو شخص تحقیق کرنا اور حقیقت سے واقف ہونا چاہے ، اس کے لئے کوئی شک  اور ابہام باقی نہ رہے ۔

اس لئے میں نے ایک اور کتاب اسی طرز پر لکھی ہے تاکہ انصاف پسند تحقیق کا طالب بہ آسانی حقیقت تک اسی طرح رسائی حاصل کرسکے جیسے میں نے تفصیلی بحث ومطالعہ  کے بعد حاصل  کی ہے ۔ برکت کے لئے میں نے اس کتاب کا نام " لاکون مع الصادقین" رکھا  ہے ، جو اس آیت کریمہ  سے ماخوذ ہے :

"يآيّها الّذين آمنوا اتّقواالله وكونوا مع الصّادقين"(1)

ظاہر ہے کہ حضرت رسول ص اور ان کی آل پاک ع سے بڑھ کر اور کون سچا ہوسکتا ہے ۔ مسلمانوں میں سے جو بھی ان سچوں کا ساتھ  دینے  سے انکار کرےگا  وہ خود  کو راہ راست سے دور ہٹا ہوا پائے گا  اور اس طرح یا تو مغضوب علیہم  کے زمرے میں شام  ہوگا یا ضالّین  کے زمرے میں  ۔

مجھے ذاتی طور پر تو اس بات  کا یقین اور اطمینان  ہوگیا ہے ۔ اب میری  کوشش یہ ہے کہ جہاں تک  بن پڑے دوسروں کے لیے بھی یہ بات واضح کردوں مگر میں کسی  پر اپنی رائے  ٹھونسنا نہیں چاہتا بلکہ  دوسروں کی  رائے کا بھی احترام کرتا ہوں ۔

--------------------

(1):- اے ایمان والو! تقوی اپناؤ اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ ۔(سورہ توبہ ۔آیت 119)


کچھ لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ میں نے اپنی پہلی کتاب کا نام " ثمّ اھتدیت "کیوں رکھا ؟ ان کاکہنا ہے کہ یہ اہل سنت کو اشتعال دلانا ہے ،کیونکہ اگر انھوں نے ہدایت نہیں  پائی تو مطلب یہ ہوا کہ وہ ضلالت میں مبتلا ہیں ۔ میں اس کے جواب میں کہوں گا۔پہلی بات  یہ ہے کہ قرآن شریف میں ضلالت کا لفظ بھول چوک کے معنی  میں آیا ہے ۔ ارشاد ہے :

"قال علمها عندربّي في كتابٍ لايضلّ ربّي ولاينسى"(1)

ایک اورجگہ آیا ہے:"ان تضلّ إحداهما فتذكّرإحداهما الاُخرى" (2)

اسی طرح قرآن کریم  میں ضلالت کا لفظ بحث وتفتیش کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ۔ اپنے پیارے رسول  ص کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا  :"ووجدك ضآلّا فهدى" (3) جیسا کہ  معلوم ہے ، بعثت سے قبل مکّے  میں رسول اللہ  ص  کا طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنے اہل وعیال کو  چھوڑ کر کئی کئی راتیں حقیقت کی تلاش میں غار حرا میں بسر کیا کرتے تھے ۔ انھی معنوں میں آپ کا یہ قول بھی :"الحكمة ضآلّة المومن أينما وجدها أخذها" (4)

پس کتاب کا نام ان ہی معنوں  پر محمول کیاجائے ۔ ثمّ اھتدیت  یعنی میں نے حقیقت کی تلاش کی اور اللہ نے مجھے اس تک پہنچادیا ۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب ہم اللہ سبحانہ کا یہ قول پڑھتے  ہیں کہ

--------------------

(1):- اس کا علم میرے پروردگار  کے پاس کتاب میں ہے ۔ میرے پروردگار  سے کبھی بھول چوک نہیں ہوتی ۔ (سورہ طہ ۔آیت 52)

(2):- اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے ۔(سورہ بقرہ ۔آیت 282)

(3):- آپ کو حققیت کی تلاش میں پایا تو آپ کو اس تک پہنچادیا ۔(سورہ ضحی)

(4):- حکمت مومن کی گمشدہ متاع ہے ،  جہاں ملتی ہے لے لیتا ہے ۔


"وإنّي لغفّارلّمن تاب وآمن وعمل صالحا ثمّ اهتدى"(1) تو ہمیں ہدایت نہ پانے والے  کی گمراہی کا مطلق احساس نہیں ہونے پاتا ۔ کیونکہ جس نے تو بہ کی ، ایمان لایا  اور نیک عمل  کیے اسے  ضالّ  یا گمراہ نہیں کہا جاسکتا  ۔یہ الگ  بات ہے کہ اسے ولایت  اہل بیت کی طرف ہدایت نصیب نہ ہوئی ہو ۔

تیسری بات اورآخری  بات یہ ہے  کہ بالفرض جسے ولایت  اہل بیت  کے قبول  کرنے کی ہدایت  نہیں ملی  وہ ضال ہے اس معنی میں کہ ضلالت  ہدایت کی ضد  ہے تویوں ہی سہی ۔ یہ تو وہ حقیت  ہے جس سے اکثر لوگ بھاگتے  ہیں ، خوشدلی سے اس کا سامنا کرنا نہیں چاہتے  اور حق  کو خواہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو برداشت  کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ورنہ اس حدیث رسول  کے کیا معنی ہیں  کہ :"تركت فيكم الثقلين كتاب الله وعترتي اهلبيتي ما ان تمسكتم بهما لن تضلّوابعدي ابدا" (2) جو ان دونوں میں سے ایک  کے ساتھ تمسک نہیں کرےگا  اس کے ضال ہونے کےبارے میں یہ حدیث واضح اور صریح ہے ۔

بہر حال  مجھے تو یقین اور اطمینان ہے کہ بھٹکا ہوا تھا اور اللہ کے فضل  سے مجھے کتاب خدا اور عترت رسول  ص  سے تمسک کی ہدایت   نصیب ہوئی ۔فالحمد لله الّذي هدانا لهذا .

میری پہلی کتاب کی طرح اس کتاب کا نام بھی قرآن کریم سے ماخوذ ہے ،جو سب سے سچّا  اور سب سے اچھا کلام ہے ۔ میں نے اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اگر وہ مکمل طور پر حق نہیں بھی ہے ، جب بھی وہ حق سے اس قدر نزدیک ہے جتنا امکانی طور پر ہوسکتا ہے ، کیونکہ اس میں ان ہی باتوں کا تذکرہ ہے جن پر شیعہ اورسنی دونوں کا اتفاق ہے اور جو دونوں  کے نزدیک ثابت اور صحیح ہیں ۔

--------------------

(1):- میں یقینا اس کو بخش دوں گا  جس نے توبہ کی ،ایمان اور نیک عمل کیے اور پھر ہدایت پاگیا ۔(سورہ طہ ۔آیت 82)

(2):- میں تم میں دوگراں قد رچیزیں چھوڑ رہا ہوں : ایک اللہ کی کتاب  اور دوسری میری عترت میرے اہلبیت  ۔جب تک تم ان دونوں کا دامن تھامے رہوگے  کبھی گمراہ نہیں ہونگے ۔


میں حریم اقدس الہی  میں دعا کرتا ہوں  کہ وہ ہم مسلمانوں  کو خیرالامم  بننے کی توفیق عطا فرمائیے تاکہ ہم مہدی  ع برحق  کی قیادت  میں قافلہ انسانیت کی نوروھدایت کی طرف رہنمائی  کرسکیں ، وہی مہدی ع جن کے ظہور  وانقلاب کی خبر دیتے ہوئے ان کے نانا رسول اللہ  نے بتایا  ہے کہ وہ ظلم  وجور سے سسکتی بلکتی  اس دنیا کو ایسا عادلانہ نظام  قائم کریں گے کہ ہر طرف انصاف کا دور دورہ ہوگا  اور شیر اور بکری ایک گھاٹ میں پانی پئیں گے ۔

صراط علی حق  نمسكه


اسلوب تالیف

بسم الله الرّحمن الرّحيم

والصلاة والسلام على أشرف المرسلين سيدنا ومولانا محمد وآله الطّاهرين.

دین ومذہب  کی بنیاد عقائد پر ہوتی ہے جو ان افکار وتصورات کے مجموعے کا نام ہے جس پر اس دین کے ماننے والے  ایمان لاتے ہیں  اور یقین رکھتے ہیں ۔ بعض عقائد کو بغیر کسی علمی اور عقلی دلیل کے تسلیم کرلیا جاتا ہے ، کیونکہ علم اور عقل دونوں  محدود ہیں   جب کہ  اللہ تعالی  کی ذات زمان ومکان ہر لحاظ سے  لامحدود ہے اس کا احاطہ نہ علم  کرسکتا ہے اور نہ عقل ۔اس لئے ہر دین کے پیروکار وں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کچھ ایسے امور پر بھی ایمان لائیں  اور ان کی تصدیق کریں جو علم اور عقل کے معیار پر بظاہر پورے نہیں اترتے ۔ مثلا آگ کا ٹھنڈک اور سلامتی کا موجب بن جانا  جبکہ علم اورعقل کا اس پر اتفاق ہے کہ آگ گرم اور مہلک ہے ۔ یا کسی پرندے کے ٹکڑے کرکے ان ٹکڑوں کو پہاڑوں پر بکھیر دینا اور پھر بلانے پر ان پرندوں کا دوڑتے ہوئے آنا جبکہ علم وعقل کے نزدیک یہ سب ناممکن ہے ۔ یا اندھے ، جذامی اور پیدائشی نابینا کا حضرت عیسی ع کے ہاتھ پھیر دینے سے اچھا ہوجانا  بلکہ مردے کا بھی زندہ ہوجانا ، جبکہ علم اور عقل نے جو ترقی  کی ہے اس سے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ مردہ آنکھ کو زندہ آنکھ سے اور مردہ دل کو زندہ دل سے بدل دیا جائے ، یعنی مردہ عضو کی جگہ زندہ عضو لگا دیا جائے ۔ جیسا کہ معلوم ہے ان دونوں باتوں زمین آسمان کا فرق ہے ۔کیونکہ یہ مردے کو زندہ سے بدلنا ہے اور وہ مردے  کو زندہ  کرنا ۔ بہ الفاظ        دیگر ۔ ایک عمل اصلاح اور درستگی ہے اور دوسرا تخلیق ۔ اسی لئے


اللہ تعالی نے تحدّی کے ساتھ کہا :

"اے لوگو! تمھارے لیے ایک مثال بیان کی جاتی ہے ، اسے غورسے سنو! جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا  پکارتے  ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی تک تو پیدا کرنہیں سکتے "(1)

میں نے قصدا وہی مثالیں بیان کی ہیں جو عقل اور علم سے ماوراء ہیں اور جن پر مسلمانوں ، یہودیوں اور عیسائیوں سب کا ایمان  اور اتفاق ہے ۔اللہ تعالی نے اپنے نبیوں  اور رسولوں  کے ہاتھ سے معجزات اس لیے ظاہر کیے تاکہ لوگوں  کو یہ سمجھایا جائے کہ ان کی عقلیں ہر چیز کا ادراک  اور احاطہ کرنے سے قاصر ہیں ، کیونکہ اللہ سبحانہ نے ان کو علم کا صرف تھوڑا ساحصہ عطا کیا ہے اور شاید اسی میں ان کی بھلائی مضمر تھی اور ان کے جزوی کمال کے مناسب یہی صورت تھی کیونکہ بہت سوں نے خدا ئے منعم کی نعمتوں کا انکار کیا ہے اور بہتوں نے تو خود اس کے وجود ہی کا انکار کردیا ہے اوربہت سے اپنے غیر معمولی علم اور عقل  کی بنا پر اتنے بڑے سمجھے گئے کہ لوگ اللہ  کوچھوڑ کر انھی کی پرستش کرنے لگے ۔یہ توجب ہوا جب انسان کا علم بھی کم تھا اور اس کی عقل  بھی ناقص تھی ۔ اگر اللہ  تعالی انسان کو ہرچیز کا علم عطا کردیتا  پھر تو نہ جانے کیا ہوتا ۔

اس لئے میں نے اس کتاب میں اسلامی عقائد میں سے فی الجملہ انہی عقائد کو بیان کیا ہے جو قرآن وحدیث  میں آئے  ہیں اور جن کے بارے میں مختلف اسلامی فرقوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ان ہی کے زیر اثر علم کلام  وجود میں آیا اور وہ فلسفی مکاتب  فکر نمودار ہوئے جنھوں نے عربی ادبیات  کو ایسی میراث کی شکل عطا کردی جس کی نظیر دوسرے ادیان میں شاید ناپید ہے ۔یہ کارنامہ تنہا عربوں کا نہیں بلکہ اس کا سہرا ان تمام مسلمانوں کے سرہے جنھوں نے اپنی زندگی بحث ،کھوج اور اسلامی عقائد کے دفاع میں صرف کردی ۔

--------------------

(1):يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَاباً وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ (سورہ حج ۔آیت 73)


شاید اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا  اگر میں یہ کہوں کہ بیشتر اسلامی عقائد علم اور عقل دونوں کے لئے قابل قبول  ہیں ۔ میری اس بات میں اور جو کچھ میں نے اوپر کہا ہے ،کوئی تضاد نہیں ہے ۔ کیونکہ ان تمام امور میں ۔ جن کا ادراک  علم اور عقل کے اپنے معیار سے نہیں  کیا جاسکتا ۔ مسلمانوں کا علم اور اس کی عقل نصوص قرآنی اور احادیث نبوی کے تابع ہیں ۔

اسی بنیاد پر میں نے اپنی کتاب میں سب سے پہلے ان عقائد سے بحث کی ہے جن کا ذکر قرآن وحدیث میں ہے اور اس کے بعد ان عقائد کو لیا ہے جن کی بابت فریقین میں اختلاف ہے اور ان کی وجہ سے بغیر کسی جواز کے ایک نے دوسرے  پر اعتراض کیا ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو اپنی مرضیات پر عمل کی توفیق دے ، اور مسلمانوں میں اتحاد واتفاق پیدا کرے ۔

وهو ةعلى جمعهم اذايشاءقدير

ولاية على ابن ابي طالب حصني فمن دخل حصني أمن من عذابي


قرآن ۔اہل سنّت اور اہل تشیّع کی نظر میں

قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے جو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر نازل  ہوا ہے ۔ باطل کبھی اس کے منہ نہیں آسکتا ،نہ سامنے سے نہ پیچھے سے ۔احکام ،عبادات اور عقا"ئد کے بارے میں قرآن مسلمانوں  کے لیے مرجع اعلی  ہے ، جو اس میں شک کرے یا اس کی توہین کرے اسلام پر پھر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔ قرآن کے تقد س ، احترام اور بغیر طہارت کے اس کو چھونے کی ممانعت پر سب مسلمانوں  کا انفاق ہے ۔

لیکن اس کی تفسیر  اور تاویل  کےبارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہے : شیعوں کے نزدیک  قرآن کی تفسیر اور تاویل کا حق صرف ائمہ اہل بیت  کو ہے ۔جبکہ اہل سنت اس سلسلہ میں یا تو صحابہ  پر اعتماد کرتے ہیں یا ائمہ اربعہ  میں سے کسی ایک پر ۔

قدرتی طور پر اس صورت حال کی وجہ  سے احکام اور بالخصوص فقہی احکام میں اختلاف پیدا ہوا ۔کیونکہ خود اہلسنت  کے چاروں مذاہب میں آپسم میں کافی اختلاف ہے ، تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں  کہ شیعوں اور سنیوں میں اور بھی زیادہ اختلاف ہو ۔

میں نے کتاب کے  شروع میں کہا ہے  کہ اختصار کے پیش نظر میں شاید چند ہی مثالیں دے سکوں  ۔اس لئے جو کوئی  مزید تحقیق کا خواہشمند ہے ، اس کے لئے ضروری ہے وہ سمندر کہ تہ میں غوطہ زن ہو تاکہ حسب توفیق کچھ جواہر پارے اس ہاتھ آسکیں ۔

اہل سنّت اور اہل تشیّع  کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن  کے سب احکام بتلادیئے ہیں اور اس کی تمام آیات کی تفسیر بیان کردی ہے ،لیکن اس بات میں اختلاف  ہے کہ آپ کی وفات کے بعد قرآن کی تفسیر


اور تاویل  کے لئے کس سے رجوع یا جائے ؟

اہل سنّت  کہتے ہیں کہ سب صحابہ قرآن کی تفسیر کے بدرجہ اولی اہل ہیں اور ان کے بعد تمام علماء امت اسلامیہ  ۔جہاں تک تاویل کا تعلق ہے تو اہل سنّت کی اکثریت  کا کہنا یہ کہ"وما يعلم تاويله الّا الله"

بخز اللہ کے کسی کو اس کی تاویل  کا علم نہیں ۔ اس موقع پر مجھے وہ گفتگو یادآگئی  جو ایک دفعہ میرے اور تیونس کے مشہور عالم زغوانی کے مابین ہوئی تھیں ۔میں نے  ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تھا جو حضرت موسی کے ملک الموت کو تھپڑ مارکر ان کی  آنکھ نکال دینے کے بارےمیں  بخاری اور مسلم میں آئی  ہے(1)

شیخ زغوانی بخاری پڑھانے اور اس کی شرح کے ماہر سمجھے جاتے تھے انھوں نے فورا جواب دیا : جی ہاں ! یہ حدیث بخاری میں موجود ہے  اور یہ حدیث صحیح ہے ۔ بخاری میں جو بھی حدیث ہے اس کی صحت کے بارے میں شک نہیں کیا جاسکتا ۔

میں نے کہا :- میں سمجھا نہیں ، کیا یہ ممکن ہے کہ آپ اس کی تشریح فرمادیں !؟

وہ:-صحیح بخاری  کتاب  اللہ کی طرح ہے ، جو سمجھ سکتے ہو اسے سمجھ لو ، جو نہیں سمجھ سکتے اسے چھوڑ دو اور اس کا معاملہ خدا کے سپرد کردو ۔

میں :- صحیح  بخاری کس طرح قرآن  کی طرح ہے ؟ ہم سے تو قرآن  کو بھی سمجھنے کے لئے کہا گیا ہے ؟

وہ :هُوَ الَّذِيَ أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ في قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاء الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاء تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الألْبَابِ (2)

-------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 2 ص 163 باب وفات موسی اور مسلم جلد 2 ص 300 باب فضائل موسی ۔

(2):- وہ وہی اللہ ہے جس نے آپ پر کتاب اتاری ۔ اس میں  کچھ محکم  آیتیں ہیں جن پر اصل کتاب۔۔۔۔


میں بھی شیخ زغوانی کے ساتھ ساتھ تلاوت کررہا تھا ، میں نےالّا الله   کےبعد پڑھاوالرّاسخون فی العلم تو انھوں نے چیخ کر کہا ۔

وہ :- ٹھہرو! اللہ کےبعد وقف لازم ہے ۔

میں :- حضرت! واو عاطفہ ہے ،الراسخون فی العلم کا عطف اللہ پر ہے ۔

وہ:- یہ نیا جملہ ہے :والرّاسخون فی العلم يقولون آمنّا  به کلّ من عند ربّنا (1) گو وہ اس کی تاویل سےناواقف ہوں ۔

میں :- حضرت! آپ توبڑے عالم ہیں ، آپ کیسے اس مطلب کو تسلیم کرتے ہیں ؟

وہ:- اس لیے کہ صحیح تفسیر یہی ہے ۔

میں :- یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ سبحانہ ،نے ایسا کلام نازل کیا ہو جس کا مطلب صرف وہی جانتا ہے ۔آخر اس میں کیاحکمت  ہے ؟ ہمیں تو قرآن پر غور کرنے اور اس کو سمجھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ بلکہ قرآن نے تو لوگوں کو للکارا ہے کہ اگر ہوسکے تو اس جیسی کوئی آیت  یا کوئی ایک سورت بناکر لے آؤ ۔ اگر اللہ کے سوا کوئی قرآن کو سمجھتا ہی نہیں تو پھر اس چلینچ  کا کیا مطلب ہے ؟اس پر شیخ زغوانی ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے جو مجھے ان کے پاس لیکر گئے تھے اور کہنے لگے :" تم میرے پاس ایسے آدمی کولے کر آئے ہوجو مجھے صرف لاجواب کرنا چاہتا ہے ،وہ کوئی سوال پوچھنا نہیں چاہتا "  پھر انھوں نے ہمیں یہ کہتے ہوئے رخصت کردیا ک:" میں بیمار ہوں ، تم میری بیماری بڑھانے کی کوشش نہ کرو"۔ جب ہم ان

--------------------

کا مدار اور کچھ متشابہ آیتیں ہیں ۔ اب جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ اس کے اسی حصے کے پیچھے ہولیتے ہیں جو متشابہ ہے ۔ ان کا مقصد شورش پھیلانا اور متشابہ آیات کا غلط مطلب نکالنا ہے حالانکہ ان آیات کا صحیح مطلب کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے اور۔۔"(سورہ آل عمران ۔آیت 7)

(1):-اور راسخون فی العلم کہتے : "ہم تو اس پر ایمان لے آئے ۔یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے "


کے پاس سے نکلے تومیرے ساتھیوں میں سے ایک تو مجھ سے سخت خفا تھا ،باقی چار میرے طرفدار تھے اور کہہ رہے تھے کہ معلوم ہوگیا کہ بقول شخصی "شیخ بالکل کورے ہیں " اب میں پھر اصل موضوع پر آتا ہوں ۔ قرآن کی تاویل نہ کرنے پر سب اہل سنت کا اتفاق ہے ۔کیونکہ ان کے نزدیک قرآن کی تاویل کا علم صرف اللہ کو ہے ۔لیکن شیعہ  کہتے ہیں  کہ ائمہ اہلبیت ع قرآن کی تفسیر اور تاویل دونوں کے اہل ہیں  اور راسخون فی العلم سے وہی مراد  ہیں اور وہی وہ اہل ذکر ہیں جن سے رجوع کرنے کا اللہ نے ہمیں اس آیت میں حکم دیا ہے :" فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ " (1) اور یہی   وہ ہیں  جن کو اللہ نے منتخب قراردیا ہے اور اپنی کتاب کے علم کا وارث بنایا ہے ۔ارشاد ہے :" ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا " (2)

اسی مقصد کے لئے رسول اللہ نے انھیں قرآن  کا ہمدوش اور ثقلین میں سے ایک قراردیا ہے اور ان سے تمسک کرنےکا سب مسلمانوں ک وحکم دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا :

"تركت فيكم الثقلين كتاب الله وعترتي اهلبيتي ما ان تمسكتم بهما لن تضلّوابعدي ابدا" (3)

میں تمھارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں ایک تواللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت ،میرے اہل بیت  جب تک تم ان کا دامن تھامے رہوگے ، میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے ۔

مسلم کے الفاظ ہیں :" کتاب اللہ اور میرے اہلبیت ۔ میں  تمھیں اپنے اہلبیت

--------------------

(1):-اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو (سورہ نحل ۔آیت 43 )تفسیر طبری جلد 14 صفحہ 109 ،تفسیر ابن کثیر جلد 2۔

(2):- پھر ہم نے وارث  بنایا کتاب کا ان کو جنھیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا ۔(سورہ فاطر آیت 32)

(3)جامع ترمذی جلد 5 صفحہ 329 ۔حدیث 3874 مطبوعہ دارالفکر بیروت۔


کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں ۔"آپ نے یہ الفاظ تین بار فرمائے(1) "

سچی بات یہ ہے کہ میرا رجحان شیعہ قول کی طرف ہے کیونکہ وہ زیادہ سمجھ میں آنے والا ہے ۔ قرآن کا ظاہر  بھی ہے اور باطن  بھی ، اس کی تفسیر بھی ہے اور تاویل بھی ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ صرف اہل بیت ع ہی کو اس کے سب علوم سے واقف ہونا چاہیۓ کیونکہ یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے کہ اللہ سبحانہ ، سب لوگوں  کو قرآن  کی سمجھ عطاکردے ۔اللہ تعالی  نے خود فرمایا ہے : وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ ۔علمائے اسلام  تک میں قرآن  کی تفسیر میں اختلاف ہے ، مگر جیسا کہ خود  اللہ نے گواہی  دی ہے راسخون فی العلم  قرآن کی تاویل سے واقف  ہیں ۔اس لئے ان کے مابین  قرآن کی تفسیر میں اختلاف نہیں ہوسکتا ۔

یہ بھی بالبداہت  معلوم ہے کہ اہل بیت سب سے زیادہ  عالم ، سب سے زیادہ پرہیزگار ،سب سے زیادہ متقی اور سب سے افضل تھے ۔ فرزدق نے ان کے بارے میں کہا ہے _

وإن عدّأهل التّقى كانواأئمّتهم

وإن قيل من خيرأهل الأرض قيل هم

اگر اہل تقوی کو گنوایا جائے تو یہ ان سب کے امام ہیں ۔ اوراگر پوچھا جائے کہ دنیا میں بہترین لوگ کون ہیں تو کہا جائے گا کہ یہی تو ہیں ۔

میں اس سلسلے میں صرف ایک مثال پر اکتفا کروں گا جس سے ظاہر ہوجائیگا  کہ شیعہ وہی  کچھ کہتے ہیں جو قرآن کہتا ہے اور جس کی  تائید سنت نبوی سے ہوتی ہے ۔ آئیے یہ آیت پڑھیں ۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:" فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ  وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ   فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ

--------------------

(1):- صحیح مسلم جلد  2صفحہ 362 باب فضائل علی بن ابی طالب ع


لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ….. "

میں قسم کھاتا ہوں ستاروں  کی جگہ کی ، اور اگر تم سمجھو تم یہ ایک بڑی قسم ہے ۔واقعی  یہ ایک  قابل احترام  قرآن  ہے ،ایک  خفیہ کتاب میں ، جسے  کوئی مس نہیں کرسکتا سوائے ان کے جو پاک کیے گئے ہیں ۔(سورہ واقعہ ۔آیات 75-79)

ان آیات سے بغیر کسی ابہام کے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ اہل بیت  ع ہی ہیں جو قرآن کے چھپے ہوئے  معنی سمجھ سکتےہیں ۔

اگر ہم غور سے دیکھیں تویہ قسم جو ربّ العزت نے کھائی  ہے واقعی ایک بڑی قسم ہے بشرطیکہ  ہم سمجھیں ، کیونکہ  اللہ نے (دوسری سورتوں میں ) قسم کھائی ہے ،عصر کی ، قلم کی ، انجیر کی، زیتون کی ،ان کے مقابلے میں مواقع النجوم  یعنی ستاروں  کی جگھوں کی یا ستاروں  کی منازل کی قسم ، ایک بڑی قسم  ہے کیونکہ  ستاروں  کی منازل اللہ کے حکم سے پر اسرار طور پر کائنات پر اثر انداز  ہوتی ہیں ۔  یہ بھی  یاد رکھنا  چاہیے  کہ جب اللہ   قسم کھاتا ہے تویہ قسم کسی بات  کی  ممانعت کے لئے نہیں ہوتی  بلکہ کسی بات کی نفی یا اثبات کے لئے ہوتی ہے ۔

قسم کے بعد  اللہ سبحانہ زور دے کر کہتا  ہے کہ واقعی یہ قابل احترام قرآن ، ایک کتاب مکنون میں ہے اور مکنون  خفیہ یا چھپے ہوئے کو کہتے ہیں ۔ اس کے بعد ہے  "لا یمسّہ الا المطہرون" اس میں لا نفی  کے لیے ہوسکتا ہے  کیونکہ قسم کے بعد آیا ہے ۔ یمسّہ  کے معنی  یہاں درک کرنے اور سمجھنے کے ہیں ، ہاتھ سے چھونے کے نہیں  جیسا  کہ بعض کا  خیال  ہے ۔ دراصل مسّ او ر لمس دولفظ ہیں اور دونوں کے معنی میں فرق ہے ۔ ارشاد خداوندی  ہے :-" إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ " (1)

--------------------

(1):- جو لوگ متقی  ہیں جب انھیں کوئی شیطانی خیال ستاتا  ہے تو اللہ کو یاد کرتے ہیں جس سے انھیں یکایک سجھائی دینے لگتا ہے ۔ (سورہ اعراف ۔آیت 201)


دوسری جگہ ارشاد  ہے :" الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لاَ يَقُومُونَ إِلاَّ كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ " (1)

ان آیات میں مسّ کا تعلق دل ودماغ سے ہے ہاتھ سے چھونے سے نہیں ۔ہم پوچھتے ہیں  یہ کیسی بات ہے  کہ اللہ سبحانہ ،تو قسم  کھا کر کہتا ہے کہ قرآن کو کوئی چھو نہیں سکتا بجز اس کے جو پاک کئے گئے ۔ جبکہ  تاریخ  ہمیں بتاتی  ہے کہ بنی امیہ کے حکمران  افلاس  ایمانی  کے سبب توہین قرآن  کے مرتکب ہوتے رہے ہیں اور ولید بن مروان نے تویہاں تک کہاتھا کہ

" تم ہر جابر سرکش کو عذاب سےڈراتا ہے اور میں بھی جابر اور سرکش ہوں، جامحشر میں اپنے رب سے کہہ دینا کہ ولید نے مجھے پھاڑدیا تھا ۔"

ہم نے خود دیکھا  ہے کہ جب اسرائیلوں نے بیروت پر قبضہ کیا تو انھوں نے قرآن پاک کو اپنے پیروں تلے روندا اور جلایا ۔ اس کے دل ہلادینے والی تصویر یں ٹیلویژن پر دکھائی گئی تھیں ۔(2)

اس لئے یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالی قسم کھائے اور پھر قسم توڑے ۔البتہ اللہ سبحانہ ،نے اس کی نفی  کی ہے کہ قرآن  مکنون  کے معانی  کو کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے ، بجز اس کے ان منتخب بندوں کے جنھیں  ان سے چن لیا ہے خوب پاک کیا ہے ۔ اس آیت میں مطہرون اسم مفعول کا صیغہ  ہے جس کا معنی ہیں :"وہ جو پاک کیے گئے " سورہ احزب میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ

--------------------

(1):- جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ(قیامت میں )ایسے اٹھیں گے جیسے وہ اٹھتا ہے جو شیطان کے اثر سے خبطی ہوگیا ہو ۔ (سورہ بقرہ۔ آیت 275)

(2):- پاکستان جیسے اسلامی ملک میں بھی مذہبی وسیاسی جھگڑوں میں قرآن جلائے جاتے ہیں اور مسجدوں  کی بے حرمتی کی جاتی ہے جو باعث شرم اور قابل مذمت ہے (ناشر)


وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً "

اللہ تو بس یہی چاہتا ہے  کہ اے اہلبیت تم سے رجس(1) کو دور رکھے اور تمھیں خوب پاک کردے ۔(سورہ احزاب ۔آیت 32)

سوا س آیت میں "لا یمسہ الا مطہرون" کے معنی ہیں کہ "قرآن کی حقیقت کو کوئی نہیں سمجھتا  سوائے اہل بیت  کے " اسی لئے رسول اللہ ص نے ان کے بارے میں کہا ہے :

"النّجوم أمان لأهل الأرض من الغرق وأهل بيتي أمان لاُمتي من إختلافٍ فاذاخالفها قبيلةٌ مّن العرب اختلفوا فصاروا حزب الإبليس."ستارے زمین والوں  کوڈوبنے سے بچاتے ہیں اور میرے اہلبیت ع میری امت کو اختلاف سے بچاتے ہیں ۔ جب عرب کا کوئی قبیلہ میرے اہلبیت ع  کی مخالفت کرتا ہے تو اس قبیلے میں پھوٹ پڑجاتی ہے اور وہ ابلیس کی جماعت بن جاتا ہے ۔ (2)

اس لیے شیعوں کا یہ کہنا  کہ قرآن اہلبیت ع ہی سمجھتے  ہیں ایسی بات نہیں جیسا کہ اہل سنت دعوی کرتے ہیں کہ شیعہ تو جھوٹ بولتے ہیں  اور اہلبیت ع کی محبت میں غلو کرتے ہین کیونکہ شیعوں کی تائید میں دلائل صحاح ستہ  میں موجود  ہیں ۔

سنت رسول ۔ اہل سنت او راہل تشیع کی نظر میں

سنت میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا ہر قول ،فعل اور تقریر شامل ہے ۔ یہ مسلمانوں کے نزدیک اعتقادات ،عبادات اور احکامات کا دوسرا بڑا ماخذ ہے

------------------

(1):- برائی اور بری چیز کو رجس کہتے ہیں ۔رجس کی مختلف اقسام ہیں :- کوئی چیز طبیعی طور پر بری ہوتی ہے مثلا مردار ۔۔یا عقلی طورپر مثلا جوا ۔۔اور یا شرعی طور پر ہی ہوتی ہے مثلا شرک ۔(ناشر)

(2):- یہ حدیث حاکم نے ابن عباس کے حوالے سے مستدرک علی الصحیحین جلد 3 میں بیان کی ہے اور کہا  ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں مگر بخاری اور مسلم نے یہ حدیث روایت نہیں کی ۔


اہل سنت والجماعت سنت نبوی کے ساتھ خلفائے راشدین یعنی ابوبکر ، عمر ، عثمان اور علی کی سنت کا بھی اضافہ کرتے ہیں کیونکہ ان کے یہاں ایک حدیث ہے کہ

"عليكم بسنّتي وسنّة الخلفاء الرّاشدين المهديّين من بعدي عضّواعليها بالنواجذ.(1)

اس کی ایک بہت واضح مثال  نماز تراویح ہے جس سے رسول اللہ نے منع کردیا تھا(2) ،مگر سنّی  ،سنت عمر کی پیروی  میں یہ نماز پڑھتے ہیں ۔

بعض اہل سنت والجماعت سنّت رسول  کے ساتھ سنت صحابہ(تمام صحابہ بغیر کسی تفریق کے) کا بھی اضافہ  کرتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے یہاں ایک روایت ہے کہ"أصحابي كالنّجوم بأيّهم اقتديتم اهتديتم .(3)

حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں کہ حدیث اصحابی کالنجوم  شیعہ حدیث(4) "الأئمة من أهل بيتي كالنجوم بأيّهم اقتديتم اهتديتم" کے مقابلے  پر وضع کی گئی ہے ۔شیعہ حدیث کی معقولیت  میں تو اس لئے شک نہیں کیونکہ ائمہ اہل بیت ع علم وزہد اور ورع وتقوی  کے اعلی ترین معیار پر فائز تھے ۔ ان کے پیروکاروں  کو تو چھوڑئیے ، اس کی گواہی  تو ان کے دشمن بھی دیتے ہیں اور پوری تاریخ اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے ۔لیکن حدیث اصحابی کالنجوم ایسی  حدیث ہے جسے عقل سلیم قبول نہیں کرتی، کیونکہ صحابہ میں تو وہ لوگ بھی ہیں جو رسول اللہ کے بعد مرتد ہوگئے تھے (5) نیز

--------------------

(1):- تم میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو دانتوں سے مضبوط پکڑنا ۔(مسند امام احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 126)

(2):- صحیح بخاری جلد 7 باب مایجوز من الغضب والشدۃ لامراللہ ۔

(3):-میرے اصحاب ستاروں کے مانند ہیں جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پاجاؤگے ۔(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابہ اور مسند امام احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 398)

(4):- قاضی نعمان بن محمد ،دعائم الاسلام جلد 1 صفحہ 86 دارالمعارف ،مصر،

(5):- جیسے اہل ردّہ جن سے حضرت ابو بکر نے جنگ کی تھی ۔


یہ کہ اصحاب بہت سے امور میں ایک دوسرے کے خلاف تھے اور ایک دوسرے  میں کیڑے نکالتے تھے(1) ، ایک دوسرے پر لعنت کرتے تھے ،(2) بلکہ ایک دوسرے کے خلاف لڑتے تھے(3) ، حتی کہ بعض صحابہ پر تو شراب نوشی ،زنا اور چوری وغیرہ کے الزام م میں حد جاری کی گئی تھی۔ ان حالات میں کیسے کوئی عاقل اس حدیث  کو قبول کرسکتا ہے جس میں  ایسے  لوگوں  کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اور کیسے  کوئی امام علی  ع کے خلاف  جنگ میں معاویہ کی پیروی کرسکتا ہے جبکہ رسول اللہ نے معاویہ کو امام الفئۃ الباغیہ کہا تھا(4) ۔وہ شخص کیسے ہدایت یافتہ ہوسکتا ہے جو عمروبن عاص ،مغیرہ  بن شعبہ اور بسر بن ارطاۃ کی پیروی کرے جنھوں نے اموی اقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ۔کوئی بھی باشعور قاری جب حدیث اصحابی کالنجوم پڑھے گا تو اسے معلوم ہوجائے گا یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے ۔ کیونکہ  اس حدیث  کے مخاطب صحابہ ہیں ۔ اور رسول اللہ یہ کیسے کہہ سکتے  تھے کہ " اے میرے اصحاب ! میرے اصحاب کا اتباع کرنا ۔لیکن دوسری حدیث کے " اے میرے اصحاب ! ان ائمہ کا اتباع کرنا جو میرے اہل بیت ع میں سے  ہیں کیونکہ  میرے بعد وہ تمھاری رہنمائی کریں گے " بالکل حق ہے ۔اس میں کسی شک  شبہ کی گنجائش نہیں کیونکہ  اس کے متعدد شواہد  سنت رسول ص میں پائے جاتے ہیں ۔شیعہ کہتے ہیں کہ حدیث""عليكم بسنّتي وسنّة الخلفاء الرّاشدين المهديّين من بعدي عضّواعليها بالنواجذ

سے مراد ائمہ اثنا عشر ہیں ۔ ان ہی سے تمسک  اور انہی کا اتباع ، کلام اللہ سے تمسک اور کلام اللہ کے اتباع  کی طرح ہے(5)

---------------------

(1):- جیسے اکثر صحابہ حضرت عثمان پر طعن کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ عثمان کو قتل کردیا گیا ۔

(2):- جیسے معاویہ نے امام علی  ع پر لعنت کرنے کا حکم دیا تھا ۔

(3):- جیسے جنگ جمل ، جنگ صفین اور جنگ نہروان وغیرہ ۔

(4):- حدیث کہ " عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا "

(5) صحیح ترمذی جلد 5 صفحہ 328 ۔صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 362 ۔خصائص امیرالمومنین ،امام نسائی ،کنز العمال جلد 1 صفحہ 44۔ مسند امام احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 189 ۔مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 148 ۔صواعق محرقہ صفحہ 148۔ طبقات ابن سعد جلد 2 صفحہ 194 ۔الطبرانی جلد 1 صفحہ 131


میں نے عہد کررکھا ہے کہ جن روایات سے شیعہ استدلال کرتے ہیں میں ان میں  سے صرف وہی روایات نقل کروں گا جو اہل سنت والجماعت کی صحاح میں پائی جاتی ہیں ، ورنہ شیعوں  کی کتابوں میں تو اس سے کئی گنا زیادہ احادیث موجود ہیں اور ان کی عبارت بھی زیادہ واضح اور صاف ہے (1) ۔

یہ بھی واضح کردوں کہ شیعہ یہ نہیں کہتے  کہ ائمہ اہلبیت ع کو تشریع کا حق حاصل ہے یا ان کی سنت ان کا اپنا اجتہاد ہے بلکہ شیعہ یہ کہتے ہیں کہ ائمہ  کے بیان کیے ہوئے سب احکام یا تو قرآن سے ماخوذ ہیں یا اس سنت سےجس کی تعلیم رسول اللہ نے امام علی ع کو دی تھی  نے اپنی اولاد کو ۔ اس طرح ائمہ کا علم متوارث ہے ۔

اس ضمن میں شیعوں کے پاس بہت سے دلائل ہیں جن کی بنیاد ان روایات پر جو علمائے اہل سنت نے اپنی صحاح ، مسانید اور تاریخوں میں نقل کی ہیں ۔ یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے  جو بار بار ذہن میں آتا ہے کہ اہل سنت والجماعت کیوں ان آیات کے مضمون پر عمل نہیں کرتے  جو خود ان کے نزدیک صحیح ہیں ؟؟؟

پھر جس طرح اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان قرآن کی تفسیر میں اختلاف ہے اسی طرح ان کے درمیان احادیث کے معانی میں بھی اختلاف ہے ۔ مثلا خلفائے راشدین  کے الفاظ آئے ہیں اور اس حدیث کو فریقین نے صحیح قرار دیا  ہے ۔ لیکن اہل سنت کہتے ہیں کہ خلفائے  راشدین سے مراد وہ چار خلیفے ہیں جو رسول اللہ ص کے بعد مسند خلافت پر بیٹھے ۔ اور شیعہ کہتے ہیں کہ ان سے مراد بارہ خلفاء ہیں اور وہ ائمہ اہل بیت ع ہیں ۔

یہی اختلاف ان تمام اشخاص کے بارے میں ہے جن کو قرآن  یا رسول ص نے پاک قرار دیا ہے اور مسلمانوں  کو ان کے اتباع کا حکم دیا ہے ۔ اس کی مثال رسول اللہ

--------------------

(1):- میں صرف ایک مثال دوں گا ۔ شیخ صدوق نے اکمال الدین میں بسند امام صادق عن ابیہ عن جدہ  ایک روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

"میرے بعد بارہ امام ہوں گے : پہلے امام علی ع اورآخری امام قائم ہوںگے"


کا یہ قول ہے کہ" علمائ امتی افضل من انبياء بنی اسرائيل " (میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے پیغمبروں سے افضل ہیں )یا یہ قول کہ  :" العلماء ورثة الأنبياء " (علماء انبیاء کے وارث ہیں )(1) ۔اہل سنّت کےنزدیک یہ حدیث عام ہے اور اس کا مصداق سب علمائے امت ہیں ۔ جبکہ شیعوں کے نزدیک یہ حدیث صرف بارہ اماموں سے مخصوص ہے اور اسی بنا پر وہ ائمہ  اثناعشر کو اولوالعزم انبیاء کو چھوڑ کر سب انبیاء سے افضل قراردیتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل کارجحان بھی اسی تخصیص کی طرف ہے :اوّل تواس لئے کہ کلام الہی کے مطابق قرآن کی تاویل کا علم صرف راسخوں فی العلم سے مخصوص ہے ۔ اسی طرح قرآن  کے علم کا وارث بھی اللہ  تعالی نے اپنے چیدہ وچنیدہ بندوں کو ہی قراردیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تخصیص ہے ۔اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل بیت ع کو " سفینۃ النجاۃ ۔ ائمۃ الھدی" اور"مصابیح الدجی" کہا ہے اور وہ ثقل ثانی قراردیا ہے جو گمراہی سے بچانے والا ہے ۔

دوسرے اس لئے کہ اہل سنت والجماعت کا قول اس تخصیص کے منافی ہے جو قرآن اور حدیث نبوی سے ثابت ہے ۔ عقل بھی اس قول کو قبول نہیں کرتی کیونکہ اس میں ابہام ہے اس لئے کہ اس میں حقیقی علماء اوربناوٹی  علماء میں فرق نہیں کیا گیا ہے ۔کون نہیں جانتا کہ یہاں وہ علماء بھی  جنھیں اللہ تعالی نے ہمہ اقسام رجس سے پاک رکھا ہے اور وہ علماء بھی ہیں جنھیں اموی اور عباسی حکمرانوں نے امّت پر سوار کردیا تھا ۔زیادہ واضح الفاظ میں یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ دوقسم کے علماء ہیں : ایک وہ جن کو علم لدنی عطا ہوا ہے ۔ اور دوسرے وہ جنھوں نے استادوں سے راہ نجات کی تعلیم  حاصل کی ۔یہیں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ تاریخ کسی ایسے استاد کاذکر نہیں کرتی جس سے ائمہ اہلبیت ع نے تعلیم  حاصل کی ہو ۔ بجز اس کے کہ بیٹے نے باپ سے علم حاصل کیا ہے ۔ اس کے باوجود خود علمائے اہل سنت  نے اپنی کتابوں  میں ان ائمہ کی علمیت کی حیرت انگیز داستانیں بیان کی ہیں ۔خصوصا امام باقر ع ، امام صادق ع

--------------------

(1):-صحیح بخاری جلد اول کتاب العلم اور صحیح ترمذی کتاب العلم


اورامام رضا ع سے متعلق ۔امام رضا ع کا تو ابھی لڑکپن ہی تھا جب انھوں نے اپنی کثرت معلومات چالیس قاضیوں کو مبہوت کردیا تھا جنھیں مامون نے ان کے مقابلے کے لئے جمع کیاتھا (1) ۔

اسی سےیہ راز بھی آشکار  ہوجاتا ہے کہ سنیوں کے مذاہب اربعہ کے اماموں میں تو ہر مسئلے میں اختلاف ہے اوراہل بیت ع کے بارہ اماموں میں کسی ایک مسئلہ میں بھی اختلاف نہیں ۔

تیسری بات یہ ہے کہ اگر اہلسنت  کی یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ یہ آیات اور احادیث بلا امتیاز علمائے امت کے بارے میں ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وقت گزرنے کے ساتھ آراء اور مذاہب  کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوتا چلاجائے گا ۔ شاید علمائے اہل سنت نے اپنی رائے کی اسی کمزوری کو بھانپ لیا تھا جس کی وجہ سے انھوں نے عقیدے کی تفریق سے بچنے کی خاطر ائمہ اربعہ کے وقت سے ہی اجتہاد کا دروازہ بندکردیا ۔

اس کے بر عکس ، شیعوں کا نظریہ یہ اتفاق  اور ان ائمہ سے وابستگی کی دعوت دیتا ہے ۔ جنھیں اللہ اور اس کے رسول نے خصوصی طورپر ان سب علوم ومعارف سے نوازا ہے جن کی ہرزمانے میں مسلمانوں  کوضرورت ہوتی ہے ۔ اس لئے اب یہ کسی مدعی کی مجال نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے کوئی غلط بات منسوب کرکے کسی نئے مذہب کی بنیاد ڈالے اور لوگوں کو اس کے اتباع پرمجبور کرے ۔اس مسئلے میں شیعہ ، سنی اختلاف کی نوعیت بالکل وہی ہے جو مہدی موعودسے متعلق احادیث کے بارے میں ان کے اختلاف  کی ہے ۔ مہدی موعود سے متعلق حدیث کی صحت کے د ونوں فریق قائل ہیں ۔

شیعوں کےیہاں مہدی کی شخصیت معلوم ہے ۔ یہ بھی علم ہے کہ ان کے باپ دادا کون ہں ۔لیکن اہل سنت کے خیال میں ابھی تک کچھ معلوم نہیں کہ مہدی کون صاحب ہوںگے ۔ صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ آخری زمانے میں  پیدا ہوں گے ۔یہی وجہ ہے کہ ابتک

--------------------

(1):-العقدالفرید ابن عبد ربہ اور الفصول المہمہ ابن صباغ مالکی جلد 3۔


بہت سے لوگ مہدی ہونے کا دعوی کرچکے ہیں ۔خود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہادفی نے کہا کہ وہ منتظر مہدی ہیں ۔ یہ بات انھوں نے میرے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کہی جو اس وقت انکا مرید تھا ۔بعد میں شیعہ ہوگیا ۔

بہت سے اہل سنت اپنے بچے کا نام مہدی اس امید میں رکھتے ہیں کہ شاید وہی امام منتظر وموعود ہو ۔لیکن شیعوں کے یہاں یہ ممکن ہی نہیں کہ اب پیدا ہونے والا کوئی شخص ایسا دعوی کرسکے ۔کچھ لوگ اپنے بچوں کا نام مہدی برکت کے لئے ضرور رکھتے ہیں جیسے بعض لوگ اپنے بیٹے کا نام محمد یا احمد یا علی رکھتے ہیں ۔شیعوں کے نزدیک مہدی کا ظہور خود ایک معجزہ ہے کیونکہ وہ اب سےبارہ سو سال پہلے پیدا ہوئے  تھے ، اس کے بعد غائب ہوگئے ۔ اس طرح شیعہ خود بھی آرام سے ہوگئے اور انھوں نے مہدی ہونے کا دعوی کرنے والوں کے لئے بھی راستہ بند کردیا ۔اسی طرح بہت سی صحیح احادیث کے معنی میں بھی شیعوں اورسنیوں کےدرمیان اختلاف ہے ۔ حتی کہ ایسی احادیث کے معنی میں اختلاف ہے جن کا تعلق اشخاض سے نہیں مثلا ایک حدیث ہے :"إختلاف اُمتي رحمة"

سنی کہتے ہیں : اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی فقہی مسئلہ فقہاء کے مابین اختلاف مسلمان کے لئے رحمت ہےکیونکہ اس طرح وہ مسئلہ کا وہ حل اختیار کرسکتا ہے جو اس کے حالات کےمناسب ہو اور اسے پسند ہو ۔ مثلا اگر کسی مسئلہ میں امام  مالک کا فتوی سخت ہو تو وہ مالکی ہونے کے باوجود امام ابو حنیفہ کی تقلید کرسکتا ہے اگر اسے ان کا مذہب سہل اورآسان معلوم ہو ۔

مگر شیعہ اس حدیث کا مطلب کچھ اور بیان کرتے ہیں ۔ ان کےیہاں روایت ہے کہ جب امام صادق علیہ السلام سے اس حدیث کےبارےمیں پوچھا گیا  تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ نے صحیح فرمایا ۔ سائل نے پوچھا کہ اگر اختلاف رحمت ہے تو کیا اتفاق مصیبت ہے ؟ امام صادق ع نے کہا : نہیں یہ بات نہیں تم غلط راستے پر چل پڑے اوراکثر لوگ اس حدیث کا مطلب غلط سمجھتے ہیں ۔ رسول اللہ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ" حصول علم کے لئے ایک دوسرے کے پاس جانا اور سفر کرنا رحمت ہے " آپ نے


اپنے قول کی تائید میں یہ آیت پڑھی :

" وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ"

ایسا کیوں نہ ہو کہ ہر جماعت میں سے ایک گروہ تحصیل علم کے لئے  نکلا کرے تاکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کرے ، پھر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس واپس آکر ان کوڈرائے ۔ کیا عجب کہ وہ غلط کاموں سے بچیں(1) ۔ پھر فرمایا کہ اگر لوگ دین میں اختلاف کریں گے تو وہ شیطانی جماعت بن جائیں گے ۔جیسا کہ ظاہر ہے ، یہ تفسیر اطمینان بخش ہے کیونکہ اس میں عقائد میں اختلاف کے بجائے اتحاد کی تعلیم دی گئی ہے ۔ یہ نہیں کہ لوگ جماعتوں اور گروہوں میں بٹ جائیں ایک اپنی رائے  کے مطابق کسی چیز کو حلال قراردے تو دوسرا اپنے قیاس کی بنا پر اسی چیز کو حرام دے دے ۔ ایک اگر کراہت کا قائل ہو تو دوسرا استحباب کا تیسرا وجوب کا(2) عربی زبان میں دومختلف ترکیبیں استعمال ہوتی ہیں ۔

"إختلفت إليك "اور"إختلفت معك"

دونوں کےمعنی میں فرق ہے ۔"إختلفت إليك " کے معنی ہیں : میں تیرے پاس آیا " اور"إختلفت معك" کے معنی ہیں" میں نے تیری رائے سے اختلاف کیا "۔

اس کے علاوہ اہل سنت والجماعت نے حدیث کا جو مفہوم اختیار کیا ہے وہ اس لحاظ سے بھی نامناسب ہے کہ اس اختلاف اور تفرقہ کی دعوت ہے جو قرآن کریم کی اس تعلیم کے منافی ہے جس میں اتحاد واتفاق اور ایک مرکز پر جمع ہونے کی تلقین کی گئی ہے ۔اللہ تعالی فرماتا ہے :

--------------------

(1):-سورہ توبہ آیت 122

(2):- مالکیوں کے نزدیک نماز میں بسم اللہ پڑھنا مکروہ ہے ۔شافعیوں کے نزدیک واجب ہے ۔حنفیوں اورحنبلیوں کے نزدیک مستحب ہے مگر کہتے ہیں کہ جہری نماز میں بھی آہستہ پڑھی جائے ۔


" وَإِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ "

اور یہ تمھاری امت ایک امت ہے اورمیں تمھارا پروردگار ہوں اس لئے مجھ سے ڈرتے رہو۔(سورہ مومنون ۔آیت 52)

" وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ "

اللہ کی رسی کو مضبوطی سےتھامے رہو اور نااتفاقی نہ کرو۔(سورہ آل عمران ۔آیت 103)

" وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ "

آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ ناکام رہوگے اورتمھاری ہوا اکھڑ جائے گی ۔(سورہ انفال ۔آیت 46)

اس سے بڑھ کر اور کیا پھوٹ اور تفرقہ ہوگا کہ امت واحدہ ایسے مختلف فرقوں اور گرہوں میں بٹ جائے جو ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہوں ، ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے ہوں بلکہ ایک دوسرے کو کافر کہتے ہوں یہاں تک کہ ایک دوسرے کا خون بہانا جائز سمجھتے ہوں ۔یہ کوئی خیالی  بات نہیں بلکہ مختلف ادوار میں فی الواقع ایسا ہوتا رہا ہے جس کی سب سے بڑی گواہ تاریخ ہے اور امت میں پھوٹ کے اسی انجام سے خود اللہ تعالی نے ڈرایا ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہے :

" وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَاءهُمُ الْبَيِّنَاتُ "

ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو دلائل آجانے کے باوجود آپس میں بٹ گئے اور ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگے ۔(سورہ آل عمران ۔آیت 105)

" إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعاً لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ "

جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ میں بٹ گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ۔(سورہ انعام ۔آیت 160)

"وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ () مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ


وَكَانُوا شِيَعاً كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ "

مشرکوں میں سے نہ بن جاؤ نہ ان لوگوں میں سے جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود فرقے فرقے ہوگئے ۔سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ۔(سورہ روم ۔آیت 31-32)

یہاں یہ کہنا بے محل نہ ہو گا  کہ لفظ شیعا کا شیعہ سے کوئی تعلق نہیں جیسا کہ ایک سادہ لوح شخص نے سمجھا تھا  جو ایک دفعہ میرے پاس آکر مجھے نصیحت کرنے لگا : "بھائی جان! خدا کے واسطے ان شیعوں کوچھوڑیئے ،اللہ  ان سے نفرت کرتا ہے :اس نے اپنے رسول کو متنبہ کیا تھا کہ ان کے ساتھ نہ ہوں "۔

میں نے کہا : یہ کیسے ؟

اس نے یہ آیت پڑی دی : " إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعاً لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ "

 میں نے اسے سمجھانے کی بہیتری کوشش کی کہ شیعا کے معنی ہیں گروہ ،جماعتیں ،پارٹیاں ۔اس کا شیعہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ شیعہ کا لفظ تو اچھے معنی میں آیا ہے مثلا :" وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ "

یا حضرت موسی ع  کے قصے میں آیا ہے کہ" فوجد فيها رجلين يقتتلان هذا من شيعته وهذا من عدوه "

مگر افسوس ! یہ شخص کسی طرح میری بات مان کر نہ دیاکیونکہ اسے تومسجد کے امام صاحب نے شیعوں کے خلاف سکھا پڑھا دیا تھا ۔ پھر وہ کوئی اور بات کیوں سنتا ؟

اب میں اصل موضوع کی طرف پلٹتا ہوں ۔ بات یہ ہے کہ میں شیعہ ہونے سے پہلے سخت شش وپنچ میں تھا ۔جب میں یہ حدیث پڑھتا تھا کہ :"إختلاف اُمتي رحمة" اور اس کا مقابلہ اس دوسری حدیث سے کرتا تھا جس میں آیا ہے کہ "میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جو ایک کو چھوڑ کر سب جہنم میں جائیں گے "(1) تو میں دل ہی دل

-------------------

(1):-سنن ابن ماجہ کتاب الفتن جلد 2۔ مسند امام احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 120 ۔جامع ترمذی کتاب الایمان ۔


میں حیران  ہوتا تھا کہ آخر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو امت کا اختلاف ہو اور ساتھ ہی وہ دخول جہنم کا موجب بھی ہو ؟؟

پھر جب میں نے اس حدیث کی وہ تشریح پڑھی جو امام جعفر صادق نے کی ہے تومیری حیرت دور ہوگئی کیونکہ معما حل ہوگیا تھا۔ اس وقت میں سمجھا کہ ائمہ اہل بیت ع واقعی بہترین رہنما ،اندھیروں میں چراغ اور صحیح معنی میں قرآن وسنت کے ترجمان ہیں ۔ جب ہی تو رسول اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے :

"مثل أهل بيتي فيكم كسفينة نوحٍ من ركبها نجا ومن تخلّف عنها غرق .لاتقدّمواهم فتهلكواولاتتخلّفواعنهم فتهلكوا,ولا تعلّموهم فإنّهم أعلم منكم"

میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح  کی سی ہے جو اس پر سوار ہوگیا بچ گیا اور جو اس سے بچھڑ گیا ڈوب گیا ۔ ان سے نہ توآگے نکلو نہ ان سے پیچھے رہو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے ۔انھیں کچھ سکھانے  کی کوشش نہ کرو کہ وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں (1)۔

امام علی ع نے بھی ان کے حق میں فرمایا ہے :

" اپنے نبی کے اہل بیت پر نظر جمائے رکھو ،ان ہی کے رخ پر ان کے پیچھے پیچھے چلتے رہو وہ تمھیں راستے سے بھٹکنے نہیں دیں گے  نہ تمھیں کسی گڑھے میں گرنے دیں گے ۔ اگر وہ کہیں ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر وہ اٹھیں تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو ۔ ان سے آگے نہ نکلو ورنہ گمراہ ہوجاؤ گے اور نہ ان سے پیچھے رہو ورنہ تباہ ہوجاؤ گے (2)

ایک اور خطبے میں اہل بیت ع کی قدر ومنزلت بیان کرتے ہوے امام

--------------------

(1):- صوعق محرقہ ابن حجر ہیثمی مکی ۔جامع الصغیر سیوطی جلد 2 صفحہ 157 ۔مسند امام احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 17 وجلد 4 صفحہ 266

(2):-نہج البلاغہ خطبہ 95


علی ع نے فرمایا :

"وہ علم  کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں ۔ان کا حلم ان کے علم کی اور ان کا ظاہر ان کے باطن کی خبر دیتا ہے ۔ ان کی خاموشی ان کی عاقلانہ گفتگو  کی غمازی کرتی ہے ۔ وہ نہ حق کے خلاف کرتے ہیں اور نہ امر حق  میں اختلاف کرتے ہیں ۔ وہ اسلام کے ستون ہیں ۔ تعلق  مع اللہ  ان کی فطرت ہے ۔ ان کی وجہ سے حق کا بول بالا ہوا ، باطل کی جڑیں کٹ گئیں اور اس کی زبان گدی سے کھینچ گئی ان کے پاس وہ عقل ہے کہ انھوں نے دین کو سمجھا اور برتا، یہ نہیں کہ سنا اور بیان کردیا ۔علم کو بیان کرنے والے بہت ہیں اور اسے سمجھنے اور برتنے والے کم ہیں "(1)

جی ہاں  سچ فرمایا امام علی ع نے ، کیونکہ وہ شہر علم کا دروازہ ہیں ۔ بڑا فرق ہے  اس عقل میں جو دین کو سمجھتی اور برتتی  ہے اور اس عقل میں جو سنتی اور بیان کردیتی ہے ۔ سننے اور بیان کردینے والے بہت ہیں کتنے صحابہ ہیں جنھیں رسول اللہ ص کی ہم نشینی کا شرف حاصل ہے ۔ وہ احادیث سنتے تھے اور بغیر سمجھے بوجھے نقل کردیتے  تھے جس سے حدیث کے معنی کچھ کےکچھ ہوجاتے تھے بلکہ بعض دفعہ تو مطلب بالکل الٹا ہوجاتا تھا ۔یہاں تک کہ صحابی کے سخن شناس نہ ہونے اور اصل مطلب نہ سمجھنے  کی وجہ سے بات کفر تک جاپہنچی(2) ۔

لیکن جو علم پر پوری طرح حاوی ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے ۔آدمی اپنی پوری

--------------------

(1):-نہج البلاغہ خطبہ 236

(2):- اس کی مثال ابو ہریرہ  کی یہ روایت ہے کہ " انّ اللہ خلق آدم علی صورتہ " اس کی وضاحت امام جعفر صادق ع نے کی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ص نے سنا کہ دو آدمی ایک دوسرے کو برابھلا کہہ رہے ہیں ۔ایک نے کہا " تیری شکل پر پھٹکار  اور تیرے جیسی جس کی شکل ہو اس پر بھی پھٹکار ۔"

اس پر رسول اللہ ص نے فرمایا :" " انّ اللہ خلق آدم علی صورتہ "" مطلب یہ کہ اس کی شکل تو حضرت آدم ع جیسی ہے ۔گویا تو حضرت آدم کو گالی دے رہا ہے کیونکہ ان کی شکل اس جیسی تھی ۔


عمر تحصیل علم میں صرف کردیتا ہے لیکن بسا اوقات اسے بہت ہی کم علم حاصل ہوتا ہے ۔یا زیادہ سے زیادہ وہ علم کی کسی ایک شاخ یا کسی ایک فن میں مہارت حاصل کرپاتا ہے لیکن علم کی تمام شاخوں پر حاوی ہوجانا یہ بالکل ناممکن ہے  مگر جیسا کہ معلوم ہے ائمہ اہل بیت مختلف علوم سے کماحقہ ، واقف تھے اور ان میں مہارت رکھتے تھے ۔ اس چیز کو امام علی ع نے ثابت کردیا تھا جس کی شہادت مورخین نے بھی دی ہے ۔ اسی طرح امام محمد باقر ع اور امام جعفر صادق سے ہزاروں علماء کو مختلف علوم میں تلمذ حاصل تھا ، جیسے فلسفہ ، طب  ،کیمیا اور طبیعیات وغیرہ ۔

شیعہ اور سنی عقائد

جس بات سےمجھے یقین ہوگیا کہ شیعہ امامیہ ہی نجات پانے والا فرقہ ہے ،وہ یہ ہے کہ شیعہ عقائد فراخ دلانہ ،آسان اورہر ہوشمند اورباذوق شخص کے لئے قابل قبول ہیں ۔ شیعوں کے یہاں ہر مسئلے اور ہر عقیدے کی مناسب اور اطمینان بخش وضاحت موجود ہے جو ائمہ اہل بیت ع میں سے کسی نہ کسی سے منسوب ہے ۔ جب کہ ممکن ہے کہ ایسی کافی وشافی وضاحت اہل سنت اوردوسرے فرقوں کے یہاں نہ مل سکے ۔

میں اس فصل میں فریقین کے بعض اہم عقائد کے بارے میں گفتگو کروں گا اور کوشش کروں گا کہ ان کے متعلق اپنی سوچی سمجھی رائے  ظاہر کروں ۔ قارئین کو آذادی اور اختیار ہے کہ وہ میری رائے کو مانیں یا نہ مانیں ،مجھ سے اتفاق کریں  یا اختلاف ۔

میں یہاں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بنیادی عقیدہ سب مسلمانوں کا ایک ہے ۔ سب مسلمان اللہ تعالی پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے  ہیں اور اس کے رسولوں میں کوئی تمییز نہیں کرتے ۔

اسی طرح سب مسلمان اس پر متفق ہیں کہ جہنّم حق ہے ، جنت حق ہے ، اللہ سب مردوں کو زندہ کرےگا اور انھیں محشر میں حساب کتاب کے لئے جمع کرےگا ۔ اسی طرح قرآن پر بھی اتفاق ہے اور سب کا ایمان ہے کہ حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ سب کا قبلہ ایک ہے ، ان کا دین ایک ہے ،لیکن ان عقائد کے مفہوم میں اختلاف ہوگیا ۔ اور اس طرح یہ عقائد مختلف کلامی فقہی اورسیاسی مکاتب فکر کی جولان گاہ بن گئے ہیں ۔


اللہ تعالی کے متعلق فریقین کا عقیدہ

اس سلسلے میں ایک اہم اختلاف رویت باری تعالی کے متعلق ہے :- اہل سنت والجماعت کہتے ہیں کہ جنّت میں سب مومنین کو رویت باری تعالی نصیب ہوگی ۔ان کی حدیث کی مستند کتابوں ،مثلا بخاری اور مسلم وغیرہ میں ایسی روایات موجود ہیں جن میں اس پر زوردیا گیا ہے کہ یہ رویت مجازی نہیں بلکہ حقیقی ہوگی (1)۔

بلکہ ان میں ایسی روایات بھی ہیں جن سے معلوم ہوتاہے گویا خدا انسانوں کے مشابہ ہے ، وہ ہنستاہے (2)،آتا جاتا ہے ،چلتا ہے پھرتاہے اور ساتویں آسمان سے پہلے آسمان پر اترتا ہے (3)۔حتی کہ اپنی پنڈلی کھولتا ہے جس پر شناختی علامت بنی ہوئی ہے (4)۔ اور یہ کہ جب وہ اپنا ایک پاؤں دوزخ میں رکھے گا تو دوزخ میں رکھے گا تو دوزخ بھر جائے گی ۔ غرض ایسی باتیں اور ایسے اوصاف حق تعالی سے منسبوب کیے گئے ہیں جن سے وہ  پاک اور منزہ ہے (5)۔

مجھے یاد ہے کہ ایک بار کینیا (مشرقی افریقہ)کے شہر لامو سےمیر اگزر ہوا ۔ وہاں مسجد میں ایک وہابی امام صاحب نمازیوں  کوخطاب کررہے تھے ، وہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کے دو ہاتھو ہیں ۔ دوپاؤں ہیں ، دوآنکھیں اور چہرہ ہے ۔ جب میں نے اس پر اعتراض کیاتو انھوں نے اپنی تائید میں قرآن کی کچھ آیات پڑھیں ، فرمایا :-" وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ

--------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 2صفحہ 47 ۔جلد 5 صفحہ 178 اور جلد 6صفحہ 33

(2):-صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 225۔جلد 5صفحہ 47۔48 ۔صحیح مسلم جلد1 صفحہ 114۔122

(3):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 197

(4):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 182

(5):- صحیح بخاری جلد 8صفحہ 187 ،صفحہ 202 سےثابت ہوتا ہے کہ حق تعالی کے ہاتھ اور انگلیاں ہیں ۔

نوٹ:- واضح ہو کہ یہ تو خدا کو حادث ماننا  ہوا جبکہ وہ قدیم ہے ۔(ناشر)


وَلُعِنُواْ بِمَا قَالُواْ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ ...... "

یہود کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ تو بندھا ہوا ہے ۔ بندھیں ان کے ہاتھ ! اورلعنت ہو ان پر یہ بات کہنے کی وجہ سے ۔ اللہ کے ہاتھ تو کھلے ہیں "۔

اس کے بعد دوآیتیں اور پڑھیں :" وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا " ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی بناؤ، اور

" کل من عليها فان و يبقی وجه ربک ذو الجلال و الاکرام " جو مخلوق بھی زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے اور تمھارے پروردگار کا چہرہ جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گا ۔

میں نے کہا :- بھائی صاحب !جو آیات آپ نے پڑھی ہیں مجاز ہیں حقیقت  نہیں ۔ کہنے لگے سارا قرآن حقیقت ہے اس میں مجاز کچھ نہیں ۔ اس پر میں نے کہا : پھر اس آیت کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں:" وَمَن كَانَ فِي هَـذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الآخِرَةِ أَعْمَى " کیا آپ آیت  کو اس کے حقیقی معنی میں لیں گے ؟ کیا واقعی دنیا میں جو بھی اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا ؟

امام صاحب نے جواب دیا : ہم اللہ کے ہاتھ ، اللہ کی آنکھ اور اللہ کےچہرے کی بات کررہے ہیں ، اندھوں سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ۔(فکری جمود کی انتہا ملاحظہ ہو۔)

میں نے کہا :- اچھا اندھوں کو چھوڑیۓ ! آپ نے جو آیت پڑھی ہے : " کل من عليها فان و يبقی وجه ربک ذو الجلال و الاکرام " اس کی تشریح آپ کیسے کریں گے ؟

امام صاحب نے حاضر ین کو مخاطب کرکے کہا :کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو اس


آیت کا مطلب نہ سمجھتا ہو؟اس کا مطلب صاف ظاہر ہے ۔یہ بالکل ویسی ہی آیت ہے جیسی"كلّ شيءٍ هالك إلّا وجهه".

میں نے کہا:- آپ نے اور بھی گڑبڑکردی ۔بھائی صاحب میرا آپ کا اختلاف  قرآن کے بارے میں ہے ۔آپ کا دعوی ہے کہ قرآن میں مجاز نہیں سب حقیقت ہے ، میں کہتا ہوں مجاز بھی ہے خصوصا ان آیات  میں جس میں تجسیم   یا تشبیہ کا شبہ ہوتا ہے ۔ اگر آپ کو اپنی رائے پر اصرارہے تو آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ"كلّ شيءٍ هالك إلّا وجهه"

کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاتھ ،پاؤں اور اس کا پورا جسم فنا ہوجائے گا اور صرف چہرہ باقی بچے گا ۔ (نعوذ باللہ)پھر میں نے حاضرین کو مخاطب کرکے کہا : کیا آپ کو یہ تفسیر منظور ہے ؟

پورے مجمع پر سکوت طاری ہوگیا اور امام صاحب کو بھی ایسی چپ لگ گئی جیسے منہ میں گھنگھنیاں بھری ہوں ۔ میں انھیں رخصت کرکے یہ دعا کرتا ہوا چلاآیا کہ اللہ انھیں نیک ہدایت کی توفیق دے ۔

جی ہاں ! یہ ہے ان کا عقیدہ جو ان کی معتبر کتابوں میں اور جو ان کے مواعظ وخطبات میں بیان کیا جاتا ہے ۔میں یہ نہیں کہتا کہ کچھ علمائے اہل سنت اس کے انکاری نہیں ہیں لیکن اکثریت کو یقین ہے کہ آخرت میں اللہ کا دیدار ہوگا اور وہ اس کو اسی طرح دیکھیں گے جس طرح چودھویں کا چاند دیکھتے ہیں ۔ ان کا استدلال اس آیت سے ہے :

" وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة "

کچھ چہرے اس دن ہشاش بشاش اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے ۔

جیسے  ہی آپ کو اس بارے میں شیعوں  کا عقیدہ معلوم ہوگا آپ کے دل کو اطمینان ہوجائے گا  اور آپ کی عقل اسے تسلیم کرلے گی ۔ کیونکہ شیعہ ان قرآنی آیات کی جن میں

--------------------

(1):- سورہ قیامہ ۔آیت 22۔ ائمہ اہل بیت ع نے " اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوںگے " کی تفسیر یہ کی ہےکہ اپنے پروردگار کی رحمت کے امیدوار ہوںگے ۔


تجسیم یا تشبیہ کا شبہ ہوتا ہے تاویل کرتے ہیں اور انھیں مجاز پر محمول کرتے ہیں ، حقیقت پر نہیں ۔ اور وہ مطلب نہیں لیتے جو ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے ، یا جیسا بعض دوسرے لوگ سجمھتے ہیں ۔

اس سلسلے میں امام علی علیہ السلام کہتے ہیں : "ہمت کتنی ہی بلند پروازی سے کام لے اورعقل کتنی ہی گہرائی میں غوطے لگائے ، اللہ کی ذات کا ادراک ناممکن ہے ۔ اس کی صفات کی کوئی حد نہیں اور نہ اس کی تعریف ممکن ہے نہ اس کا وقت متعین ہے اورنہ زمانہ مقررہے "(1) امام محمد باقر علیہ السلام  تجسیم الہی کی تردید کرتے ہوئے کتنی فلسفیانہ ،علمی ،نازک اور جچی تلی بات کہتے ہیں : "ہم چاہے جس چیز کا تصور ذہن میں لائیں اور اس کے بارے میں جتنا بھی سوچیں ہمارے ذہن میں جو بھی تصویر ابھرے گی وہ ہماری طرح کی مخلوق ہوگی "(2) جو عقل میں گھر  گیا لاانتہا کیوں کر ہوا

                                       جو سمجھ میں آگیا وہ خدا کیوں کر ہوا

(اکبر آلہ آبادی)

تجسیم  اور تشبیہ کی رد میں ہمارے لیے تو اللہ پاک کا اپنی کتاب محکم میں یہ قول کافی ہے:

"ليس كمثله شيءٌ"اور "لاتدرکه الأبصار"

اس جیسی کوئی چیز نہیں ۔ اور ۔ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں ۔

جب حضرت موسی نے اللہ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور کہا :"ربّ أرني أنظر إليك " تو جواب ملا"لن ترانی" تم مجھے  کبھی نہیں دیکھ سکو گے ۔ اوربقول زمخشری

--------------------

(1):-نہج البلاغہ ۔پہلا خطبہ ۔

(2):- عقائد الامامیہ ۔شیخ مظفر ۔یہ کتاب جامعہ تعلیمات اسلامی نے مکتب تشیع کے نام سے شایع کی ہے

لن کے مفہوم  میں تابید  شامل ہے ۔یعنی ابد تک کبھی بھی نہیں دیکھ سکو گے ۔


یہ سب شیعہ اقوال کی صحت  کی دلیل قاطع ہے ۔بات یہ ہے کہ شیعہ ان ائمہ اہل بیت کے اقوال نقل کرتے  ہیں جو سرچشمہ علم تھے ۔ اور جنھیں کتاب اللہ کا علم میراث میں ملا تھا ۔

جو شخص اس موضوع سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا چاہے وہ اس موضوع پر مفصل کتابوں  کی طرف رجو ع کرے ۔ مثلا المراجعات کے مولف سید شرف الدین عاملی کی کتاب "کلمۃ حول الرویہ "

نبوت کے بارے میں فریقین  کا عقیدہ

نبوت  کے بارے میں شیعہ سنی اختلاف کا موضوع عصمت کا مسئلہ ہے ۔ شیعہ اس کے قائل ہیں کہ انبیاء بعثت سے قبل بھی معصوم ہوتے ہیں اور بعثت  کےبعد بھی ۔ اہل سنت کہتے ہیں کہ جہاں تک کلام اللہ  کی تبلیغ کا تعلق ہے ، انبیاء بے شک معصوم ہیں لیکن دوسرے معاملات میں وہ عام انسانوں  کی طرح ہیں ۔ اس بارے میں حدیث کی کتابوں میں متعدد روایات موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے کئی موقعوں پر غلط فیصلہ کیا اور صحابہ نے  آپ  کی اصلاح کی ۔جیسا کہ جنگ بدر کے قیدیوں کے معاملے میں ہوا ۔جہاں اللہ کے رسول  ص کی رائے درست نہیں تھی اور عمر کی رائے صحیح تھی ۔(1)

اسی طرح جب رسول اللہ مدینہ آئے تو وہاں لوگوں کو دیکھا کہ کجھور کے درخت میں گا بھادے رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا :- گابھا دینے کی ضرورت نہیں ، ایسے بھی کجھوریں لگیں گی ، لیکن ایسا نہ ہوا ۔ لوگوں نے آپ سے آکر شکایت  کی تو آپ نے کہا :" تم اپنے دنیا کے کاموں کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو"۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے کہا : میں بھی انسان ہوں ،جب میں تمھیں دین کی کوئی بات بتاؤں تو اس پر ضرور عمل کرو ۔ مگر جب میں کسی دنیا وی معاملے میں اپنی رائے دوں

------------------

(1):-البدائیہ والنہائیہ کے علاوہ صحیح مسلم ۔ سنن ابوداؤد ۔جامع ترمذی ۔


تو میں محض انسان ہوں ۔(1) یہ بھی روایت  ہے کہ ایک مرتبہ آپ پر جادو کے اثر سے آپ کو یہ نہیں پتہ چلتا تھا کہ آپ نے کیا کیا ۔ بعض دفعہ یہ خیال ہوتا تھا کہ آپ نے ازدواج سے صحبت کی ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا تھا(2) ۔یا کسی اور کام کے متعلق خیال ہوتا تھا کہ یہ کام کیا ہے مگر دراصل وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا(3) ۔ اہل سنت کی ایک اور روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ کو نماز میں سہو ہوگیا ۔یہ یاد نہیں رہا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔(4) ایک دفعہ آپ کو نماز میں بے خبر سوگئے ،یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کے خراٹے کی آواز سنی ،پھر جاگ گئے اور وضو کی تجدید کے بغیر نماز پوری گی(5) ۔اہل سنت یہ بھی کہتے  کہیں کہ آپ  بعض دفعہ کسی پر بلاوجہ ناراض ہوجاتے ، اسے برابلا کہتے اور اس کو لعنت ملامت کرتے تھے ۔ اس پر آپ نے فرمایا :   یا الہی ! میں انسان ہوں ، اگر میں کسی مسلمان کو لعنت ملامت کروں یا برابھلا کہوں تو تو اسے اس کے لئے رحمت بنادے(6) ۔اہل سنت  کی ایک اور روایت  ہے کہ ایک دن آپ حضرت عائشہ کے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ کی ران کھلی ہوئی تھی ، اتنے میں ابوبکر آئے ، آپ اسی طرح لیٹے ہوئے ان سے باتیں کرتے رہے ۔کچھ دیر بعد عمر آئے تو آپ ان سے بھی اسی طرح باتیں کرتے رہے ۔ جب عثمان نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ اٹھ کربیٹھ  گئے اور کپڑے ٹھیک کرلیے ۔ جب عائشہ نے اس بارے میں پوچھا  تو آپ نے کہا : میں کیوں نہ اس شخص سے حیا کروں جس سے ملائکہ بھی شرماتے ہیں ۔(7)

------------------

(1):-صحیح مسلم کتاب الفضائل  جلد 7 صفحہ 95 ۔مسند امام احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 162 اورجلد 3 صفحہ 152

(2):- صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 29

(3):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 67

(4):- صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 123

(5):- صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 37 وصفحہ 44 وصفحہ 171

(6):- سنن دارمی کتاب الرقاق

(7):- صحیح مسلم باب فضائل عثمان جلد 7 صفحہ 117


اہل سنت  کے ہاں ایک روایت یہ بھی ہےکہ رمضان  المبارک میں آپ جنب ہوئے تھے اور صبح ہوجاتی  تھی اور آپ کی نماز فوت ہوجاتی تھی(1) ۔اسی طرح اور جھوٹ ہیں جن کو نہ عقل قبول کرتی ہے ،نہ دین اور نہ شرافت اس کامقصد رسول اللہ کی توہین کرنا اور آپ  کی شان  میں گستاخی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ۔ اہل سنت ایسی باتیں رسول اللہ سے منسوب کرتے ہیں جو خود اپنے سے منسوب کرنا پسند نہیں کرتے ۔

اس کے برخلاف شیعہ ائمہ اہلبیت ع کے اقوال سے استدلال کرتے ہوئے انبیاء کو ان تمام لغویات سے پاک قراردیتے ہیں خصوصا ہمارے نبی محمد  علیہ افضل الصلاۃ وازکی السلام کو ۔شیعہ کہتے ہیں کہ آنحضرت تمام خطاؤں ،لغزشوں اورگناہوں سے پاک ہیں چاہے وہ گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے ۔اس طرح آپ پاک ہیں ہر غلطی اوربھول چوک سے ،جادو کے اثر سے اور ہر اس چیز سے جس سے عقل متاثر ہوتی ہو ۔ آپ پاک ہیں ہر اس چیز سے جو شرافت اوراخلاق  حمیدہ  کےمنافی ہو جیسے راستے میں کچھ کھانا یا ٹھٹھامارنا یا ایسا مذاق کرنا جس میں جھوٹ کی آمیزش ہو ۔آپ پاک ہیں ہر اس فعل سے جو عقلاء کے نزدیک ناپسندیدہ ہو یا عرف عام میں اچھا نہ سمجھا جاتا ہو ۔چہ جائیکہ  آپ دوسروں  کے سامنے اپنا رخسار بیوی کے رخسار پررکھیں اور اس کے ساتھ حبشیوں کا ناچ دیکھیں(2) ۔یا بیوی کو کسی جنگ کے موقع ساتھ لے کرجائیں  اور وہاں اس کے ساتھ دوڑلگائیں  کہ کبھی وہ آگے نکل جائے اور کبھی آپ اور اس پر آپ کہیں کہ " یہ اس کے بدلے  میں "(3) ۔

شیعہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم  کی ساری روایات جو عصمت انبیاء سے متناقض ہیں امویوں  اور ان کے حامیوں  کی گھڑی ہوئی ہیں ۔ مقصد ان کے دو ہیں :

-------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 232-234  یہ اور ایسی بے شمار روایتیں راجپال کو رنگیلا رسول  رشدی ملعون کو STANNIC VERSESاور مستشرقین کو ہتک رسول کے لئے مواد فراہم کرتی ہیں ۔ (ناشر)

(3):- صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 228

(4):- مسند امام احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 75       


         ایک تو رسول اللہ  کی عزت وتوقیر  کو کم کرنا تاکہ اہل بیت ع کی وقعت کو گھٹایا جاسکے ۔ دوسرے اپنے ان افعال بد کے لیے وجہ تلاش کرنا جن کا ذکر تاریخ میں ہے  اب اگر رسول اللہ بھی غلطیاں کرتے تھے اور خواہشات نفسانی سے متاثر ہوتے تھے  جیسا کہ اس قصے میں بیان  کیا گیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ جب زینب بنت جحش ابھی زید بن حارثہ کے نکاح میں تھیں  ،آپ انھیں بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے  دیکھ کر ان  پر فریفتہ ہوگئے تھے ، اس وقت آپ کی زبان سے نکلا تھا :سبحان الله مقّلب القلوب     (1)           

ایک اور سنی روایت کے مطابق آپ کی طبیعت کا زیادہ جھکاؤ حضرت عائشہ  کی طرف تھا اور بقیہ ازواج کے ساتھ ویسا سلوک نہیں تھا ۔ چنانچہ ازواج نے ایک دفعہ حضرت فاطمہ زہرا س کو اور ایک دفعہ زینب بن جحش  کو عدل کا مطالبہ کرنے کے لئے  آپ کے پاس اپنا نمایندہ بنا کر بھیجا تھا(2) ۔            

اگر خود رسول اللہ کی یہ حالت  ہو تو معاویہ بن ابی سفیان  ،مروان بن حکم ،عمرو بن عاص ،یزید بن معاویہ  اور ان تمام اموی حکمرانوں  کو کیا الزام دیا جاسکتا  ہے جنھوں نے سنگین جرائم  کا ارتکاب کیا اور بے گناہوں کو قتل کیا ۔بقول شخصی ،اگر گھر کا مالک ہی طبلہ بجارہا ہو تو اگر بچے ناچنے لگیں تو ان کا کیا قصور !

ائمہ اہل بیت ع جو شیعوں کے ائمہ ہیں وہ حضرت رسالتمآب  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی عصمت کے قائل  ہیں اور ظاہر ہے کہ گھر والوں سے زیادہ گھر کا حال  کون جان سکتا ہے ؟ اسی لئے وہ ان تمام آیات قرآنی کی تاویل کرتے ہیں جن  سے بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے نبی کو عتاب کررہا ہے جیسے" عبس وتولّی" یا جن سے گناہوں   کے اقرار کا مفہوم نکلتا ہے جیسے" ليغفر لک الله ما تقدّم من ذنبک وما تاخّر " یا ایک دوسری آیت" لقد تاب الله علی النبیّ " یا"عفا الله عنک لم اذنت لهم" 

--------------------

(1):- تفسیر جلالین" وتخفی فی نفسک ماالله مبديه " کی تفسیر کی ذیل میں ۔

(2):- صحیح مسلم جلد 7 صفحہ 136 باب فضائل عائشہ ۔


ان تمام آیات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عصمت مجروح نہیں ہوتی ۔ اس لیے کہ بعض آیات آپ سے متعلق ہی نہیں ہیں اور بعض آیات ظاہری الفاظ پر محمول نہیں ہیں بلکہ جو کچھ کہا گیا ہے مجازا کہا گیا ہے ۔جیسا کہ کسی نے کہا ہے : اے پڑوسن سن لے یہ بات تیرے لیے ہے " مجاز کا استعمال عربی زبان میں کثرت سے ہوتا ہے اور اللہ تعالی نے بھی اس کا استعمال قرآن مجید میں کیا ہے ۔جو شخص تفصیل معلوم کرنا اور حقیقت حال سے آگاہی حاصل کرناچاہیے ،اس کے لیے ضروری ہے کہ شیعہ تفسیر کی کتابوں کا مطالعہ کرے جیسے علامہ طبا طبائی کی المیزان  ،آیت اللہ  خوئی کی البیان ،محمد جواد مغنیہ کی الکاشف ،علامہ طبرسی کی  الاحتجاج ، وغیرہ وغیرہ ۔

میں اختصار کے کام لے رہا ہوں کیونکہ میرا مقصد صرف عمومی طورپر فریقین کا عقیدہ بیان کرنا ہے ۔اس کتاب سےمیرا مقصد صرف ان امور کا بیان کرنا ہے جن سے مجھے ذاتی طور پر اطمینان نصیب ہوا اور انبیاء اور ان کے بعد اوصیاء کی عصمت کا مجھے یقین ہوگیا ۔ میرا شک اورحیرت یقین میں بدل گئے اور ان شیطانی وسوسوں کا ازالہ ہوگیا جن کی وجہ سے کبھی کبھی میری خطائیں ، میرے گناہ اور میرے غلط اعمال مجھے اچھے ،صحیح اوردرست معلوم ہوتے تھے ۔ کبھی تو مجھے  افعال واقوال رسول میں بھی شک  ہونے لگتا تھااور آپ کے بتلائے ہوئے احکام  پر بھی اطمینان نہیں ہوتا تھا بلکہ نوبت یہاں تک آگئی تھی کہ بعض دفعہ اللہ کے اس قول میں بھی شک ہونے لگتا تھا کہ

"ومآ اتاكم الرّسول فخذوه ومآ نهاكم عنه فانتهوا"

رسول  تمھیں جو بتلائیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ ۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ کلا م اللہ  نہ ہو رسول کا اپنا ہی کلام ہو ! سنیوں کا یہ کہنا کہ " رسول اللہ صرف اللہ کے کلام کی تبلیغ کی حد تک معصوم ہیں " بالکل بیکار بات ہے ۔اس لیے کہ اس کی کوئی پہچان نہیں کہ اس قسم کا کلام تو اللہ کی طرف سے ہے اور اس طرح کا کلام خود آپ کی اپنی طرف سے ، تاکہ یہ کہا جاسکے کہ اس کلام میں تو آپ معصوم ہیں اور اس میں معصوم نہیں ، اس لیے یہاں غلطی کا


احتمال ہے ۔

اللہ کی پناہ اس متضاد قول سے ! اس سے تو رسول اللہ کی شان تقدس میں شک پیدا ہوتا ہے اور آپ کی شان میں طعن  کی گنجائش نکلتی ہے ۔

اس پر مجھے وہ گفتگو یاد آگئی  جو میرے شیعہ ہوجانے کےبعد میرے اور چند دوستوں کے درمیان ہوئی تھی ۔ میں انھیں قائل  کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ رسول اللہ ص ہر بات میں معصوم ہیں اور وہ مجھے سمجھارہے تھے کہ آپ صرف قرآن کی تبلیغ  کی حد تک معصوم ہیں ۔ ان میں ایک تو زر کے پروفیسر تھے ۔ توزر منطقہ  جرید کا ایک شہر ہے(1) ۔یہاں کے لوگ علم وفن ،ذہانت وفطانت  اور لطیفہ گوئی کے لئے مشہور ہیں ۔یہ پروفیسر صاحب ذرا دیر سوچتے رہے ، پھر کہنے لگے : حضرات ! اس مسئلے میں میری بھی ایک رائے ہے ۔ہم سب نے  کہا تو فرمائیے ۔کہنے لگے :بھائی تیجانی شیعوں کی طرف سے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے ، ہمارے لیے یہی ضروری کہ رسول اللہ ص  کے علی الاطلاق معصوم ہونے کا عقیدہ رکھیں ورنہ خود قرآن میں شک پڑجائےگا ۔ سب نے کہا : وہ کیسے ؟ پروفیسر  صاحب نے فورا جواب دیا : کیا تم نے دیکھا ہے کہ کسی سورت کے نیچے اللہ تعالی کے دستخط ہوں ۔ دستخط سے ان کی مراد وہ مہر تھی جو دستاویزات  اور مراسلات کے آخر میں اس لئے لگائی جاتی ہے تاکہ یہ شناخت ہوسکے کہ یہ کس کی طرف سے ہے ۔ سب لوگ اس لطیفے پر ہنسنے لگے مگر یہ لطیفہ بڑا معنی  خیز ہے ،کوئی بھی غیر متعصب انسان اگر اپنی عقل استعمال کرکے غور کرے گا تو یہ حقیقت واضح  طور  پر سامنے آئے گی کہ قرآن کو کلام الہی تسلیم کرنے  کا مطلب یہ ہے  کہ صاحب وحی کی عصمت مطلقہ کا بھی عقیدہ بغیر کیس کاٹ چھانٹ کے رکھا جائے کیونکہ یہ توکوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ اس نے اللہ تعالی کو بولتے ہوئے سنا ہے  یا جبرئیل کو وحی لاتے ہوئے دیکھا ہے ۔

------------------

(1):- منطقہ جرید تیونس کے جنوب میں قفصہ سے 92 کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ یہ عربی کے مشہور شاعر ابو القاسم شابی اور خضر حسین کا جائے والادت ہے ۔خضر حسین جامعۃ الازہر کے شیخ الجامعہ تھے ۔ تیونس کے علماء میں سے بہت سے علماء اسی علاقے میں پیدا ہوئے ہیں ۔


خلاصہ کلام یہ ہے کہ " عصمت انبیاء ع" کے بارے میں شیعہ عقیدہ ہی وہ محکم اور مضبوط عقیدہ ہے جس سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور تمام تفسانی وشیطانی وسوسوں کی جڑکٹ جاتی ہے اور مفسدوں خصوصا یہودیوں ،عیسائیوں اور دشمنان دین کا راستہ بند ہوجاتا ہےجو ہر وقت  اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کہیں سےراستہ ملے تو اندر گھس کر ہمارے معتقدات  کو بھک سے اڑا دیں اور ہمارے دین میں عیب نکالیں ۔ایسے راستے انھیں صرف اہل سنت ہی  کی کتابوں میں ملتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں  کہ وہ اکثر وبیشتر  ہمارے خلاف ان ہی اقوال وافعال سے دلیل  لاتے  ہیں جو بخاری ومسلم میں غلط طور پر رسول اللہ سے منسوب کیے گئے  ہیں۔ (1)

ابہم  انھیں کیسے یقین دلائیں  کہ بخاری ومسلم میں بعض غلط روایات بھی ہیں ۔ یہ بات قدرتی طور پر خطر ناک  ہےکیونکہ اہل سنت والجماعت اسے کبھی نہیں مانیں گے  ۔ان کے نزدیک تو بخاری  کتاب باری کے بعد صحیح ترین کتاب ہے اور اسی طرح مسلم بھی ۔

فریقین کے نزدیک امامت کا عقیدہ

اس بحث میں امامت سے مراد مسلمانوں کی امامت کبری ہے ، یعنی خلافت ،حکومت ،قیادت اور ولایت کا مجموعہ ۔امامت سے مراد محض نماز کی امامت نہیں جیسا کہ آج کل اکثر لوگ سمجھتے ہیں ۔

چونکہ میری کتاب میں بحث کا مدار مذہب تسنن اور مذہب تشیع کے

--------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 3 باب شہادۃ الاعمی میں عبید بن میمون کی سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے مسجد میں ایک نابینا شخص کو قرآن  کی تلاوت  کرتے ہوئے سنا تو فرمایا : اللہ اس پر رحم کرے اس نے فلاں سور  کی فلاں فلاں آیتیں یاد دلادیں جو میں بھول گیا تھا ۔

آپ یہ روایت پڑھیے اورحیرت کیجیے کہ رسول اللہ آیات بھول گئے اور اگر یہ نابینا شخص وہ آیات یاد نہ دلاتا تو وہ آیات غائب ہی ہوگئی ہوتیں ۔ حد ہے اس لغویت کی !


تقابل پر ہے ، اس لیے ضروری ہے کہ میں یہ ظاہر کردوں کہ امامت کے اصول کی فریقین کے نزدیک کیا نوعیت ہے تاکہ قارئین کویہ علم ہوسکے کہ فریقین کے نقطہ نظر کی بنیاد کیا ہے اور ضمنا یہ بھی معلوم ہوجائے کہ کس یقین اور اطمینان نے مجھے اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا ۔

شیعوں کے نزدیک امامت اپنی زبردست اہمیت کے باعث اصول دین میں شامل ہے ۔ امامت خیرالامم کو قیادت فراہم کرتی ہے ۔ اس قیادت کے متعدد فضائل ہیں اور اس کی خصوصیات میں سے قابل ذکر ہیں : علم ،حلم ،شجاعت ،نزاہت ،عفت ،زہد ،تقوی  وغیرہ وغیرہ ۔

شیعوں کا اعتقاد  ہے کہ امامت  ایک خدائی منصب ہے جو اللہ تعالی اپنے نیک بندوں میں سے جسے منتخب کرتا ہے ، اسے عطا کردیتا ہے تاکہ وہ اپنا اہم کردار ادا کرے اور یہ کردار نبی کے بعد دنیا کی قیادت ہے ۔ اسی اصول کی بنیاد پر امام علی بن ابی طالب ع مسلمانوں  کے امام تھے ،انھیں اللہ نے منتخب کیا تھااور اس سے بذریعہ وحی اپنے رسول  ص سےکہا تھا  کہ علی ع کا منصب امامت پر تقرر کردیں چنانچہ رسول اللہ نے ان کا تقرر کیا اور حجۃ الوداع کےبعد غدیر خم کے مقام پر امت کو اس تقرر کی اطلاع دی ، اس پر لوگوں نے امام علی ع کی بیعت کرلی ،" یہ شیعہ کہتے ہیں "

جہاں تک اہل سنت کا تعلق ہے وہ بھی امت کی قیادت کے لئے امامت ضروری ہونے کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کے مطابق امت کو حق ہے کہ وہ جس کو چاہے اپنا امام اور قائد بنالے ۔چنانچہ مسلمانوں نے رسول اللہ کی وفات کے بعد ابو بکر بن ابی قحافہ کو امام منتخب کیا تھا ۔ خود رسول اللہ نے خلافت کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا تھا بلکہ اس کا فیصلہ شوری پر چھوڑ دیا تھا ۔ یہ اہل سنت والجماعت کہتے ہیں "۔

حقیقت کیا ہے ؟

تحقیق کرنے والا اگر غیر جانبداری کے ساتھ فریقین کے دلائل پر غور کرے تو یقینا وہ حقیقت تک رسائی حاصل کرلے گا ۔جہاں تک میرا اپنا تعلق ہے چونکہ


 یہ کتاب میرے ہدایت پانے اور مذہب بدلنے کا قصّہ بیان کرتی ہے اس لیے میرے لیے ضروری ہے کہ میں قارئین کرام کے سامنے اپنا نقطہ نظر اور اپنا عقیدہ واضح کردوں ۔ اب یہ قارئین پر ہے کہ وہ اسے قبول کریں یا رد کریں کیونکہ آزادی فکر ہر دوسری چیز سے زیادہ اہم ہے قرآن کہتا ہے :

"ولا تزروازرةٌ وّزراُخرى"

کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔(سورہ فاطر ۔آیت 18)

اور

"كلّ نفسٍ بما كسبت رهينةٌ"

ہر شخص کا دار ومدار اس کے اعمال پر ہے ۔(سورہ مدّثر ۔آیت 38)

شروع کتاب سے ہی میں نے اپنے اوپر یہ پابندی عائد کی ہے کہ میں قرآن اور متفق بین الفریقین  احادیث سے تجاوز نہیں کروں گا اور اس سارے عمل میں کوئی خلاف عقل بات تسلیم نہیں کروں گا کیونکہ عقل سلیم متضاد اور متنا قض باتوں کو نہیں مانتی ۔حق تعالی کا ارشاد ہے :" وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلاَفاً كَثِيراً "

اگر قرآن غیراللہ کے پاس سے آیا ہوتا تو لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے ۔(سورہ نساء ۔آیت 82)

امامت قرآن کی رو سے

اللہ تعالی فرماتا ہے :

" وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِي "

جب ابراہیم کو ان کے رب نے کچھ  باتوں سے جانچا اور


ابراہیم  نے ان کو پورا کردیا تو اللہ نے کہا: میں تمھیں لوگوں کا امام بنا رہاہوں ۔ابراہیم  نے کہا : اور میری اولاد میں سے ؟ اللہ تعالی نے کہا : میرا عہدہ ظالموں تک نہیں پہنچتا ۔(سورہ بقرہ ۔آیت 124)

یہ آیت کریمہ ہمیں بتلاتی ہے کہ امامت ایک خدائی منصب ہے اور خدا یہ منصب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے کیونکہ وہ خود کہتا ہے :"إنّي جاعلك للنّاس إماما" میں تمھیں لوگوں کا امام بنا رہا ہوں ۔

اس آیت سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ امامت اللہ کی طرف سے ایک عہد ہے جو صرف اللہ کے ان نیک بندوں تک پہنچتا ہے جنھیں وہ خاص طور پر اس مقصد کے لیے چن لیتا ہے کیونکہ یہ صاف کہہ دیا گیا ہے کہ ظالم اللہ کے اس عہد کے مستحق نہیں ۔

ایک اور آیت میں اللہ تعالی فرماتا ہے :" وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاء الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ "

ہم نے ان میں سے امام بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے  تھے اور ہم نے ان کو وحی بھیجی کہ نیک کام کریں ، نماز قائم کریں اور زکات دیں ۔ اور وہ ہماری عبادت کرتے تھے ۔(سورہ انبیاء ۔آیت 73)

ایک اور  آیت ہے :

" وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ "

ہم نے ان امام بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے کیونکہ وہ صابر  تھے اور ہماری نشانیوں پر یقین


رکھتے تھے ۔ (سورہ سجدہ ۔آیت 24)

ایک اور آیت ہے :" وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ "

ہم چاہتے ہیں کہ ان پر احسان کریں جنھیں دنیا میں کمزور سمجھ لیاگیا ہے ، ان کو امام بنائیں  اور انھیں (زمین کا )وارث بنائیں ۔(سورہ قصص ۔آیت 5)

ممکن  ہے کسی کویہ خیال پیدا ہو کر مذکورہ بالا آیات قرآن سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ یہاں امامت سے مراد نبوت ہے  لیکن یہ صحیح نہیں  کیونکہ امامت کا مفہوم زیادہ عام ہے ،ہر رسول اور نبی امام ہوتا ہے لیکن ہر امام رسول یا نبی نہیں ہوتا۔

اسی وجہ  سے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں واضح کردیا ہے کہ اس کے نیک  بندے اس منصب کے لیے اس سے دعا کرسکتے ہیں تاکہ وہ لوگوں  کی ہدایت کا شرف حاصل کرسکیں اور اس طرح اجر عظیم کے مستحق ہوسکیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

" وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَاماً   وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمّاً وَعُمْيَاناً   وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاماً "

وہ لوگ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے ، جب انھیں بیہودہ چیزوں  کے پاس   سے گذرنے کا اتفاق  ہوتا ہے  تو بزرگانہ انداز سے گزر جاتے ہیں ۔ اور جب انھیں ان کے پروردگار کی باتین  سمجھائی جاتی ہیں تو ان پر بہرے  ،اندھے  ہو کر نہیں گر تے (بلکہ غور سے سنتے ہیں ) اور وہ لوگ جو ہم سے دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں  کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا ۔(سورہ فرقان ۔آیات 72-74)


اسی طرح قرآن کریم میں ائمہ کالفظ  ان ظالم سرداروں  اور حکمرانوں  کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو اپنے پیروکاروں  اور اپنی قوموں  کو گمراہ کرتے ، فساد پھیلاتے میں ان کی رہنمائی کرتے اور دنیا وآخرت کے عذاب  کی انھیں دعوت دیتے ہیں ۔ فرعون اور اس کے لشکر یوں کے متعلق قرآن کریم میں ہے :

" فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِي وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُنصَرُونَ   وَأَتْبَعْنَاهُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُم مِّنَ الْمَقْبُوحِينَ"

ہم نے اسے اور اس کے لشکر یوں کو پکز کردریا میں پھینک دیا ۔ پھر دیکھو  ! طالموں کا کیا انجام ہوا ۔ ہم نے انھیں ایسے امام بنایا جو جہنم کی دعوت دیتے تھے اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی ۔ اس کے بعد ہم نے اس  دنیا میں ان پر لعنت بیھجی  اور قیامت میں وہ ان میں سے ہونگے  جن کا ہولناک انجام ہوگا ۔(سورہ قصص ۔آیت 40-42)

اس بنیاد پر شیعہ جو کچھ کہتے ہیں وہی صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالی نے واضح کردیا  ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش  نہیں کہ امامت  ایک من جانب اللہ منصب ہے جو اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے ،وہ اللہ کا عہد ہے جس کا اطلاق ظالموں پر نہیں ہوتا ۔چونکہ ابو بکر ، عمر، اور عثمان  کی عمروں  کا بڑا حصّہ  شرک  کی حالت میں گزرا  کیونکہ وہ بتوں  کوپوجتے رہے تھے اس لیے وہ اس کے مستحق  نہیں ۔اسی طرح شیعوں کا یہ قول درست ہے کہ تمام صحابہ میں صرف امام علی بن ابی طالب  ہی امامت کے مستحق  ہیں اور امامت کے متعلق اللہ کے دعوے کا اطلاق صرف انھی پر ہوتا ہے کیونکہ وہ کبھی بتوں  کے آگے سجدہ ریز نہیں ہوتے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ اسلام لانے کے بعد اس سے پہلے کے سب گناہ محو ہوجاتے ہیں تو ہم کہیں گے کہ یہ واقعی صحیح ہے ، لیکن پھر بھی بڑا فرق ہے اس شخص   جو پہلے  مشرک تھا  بعد میں  اس


نے توبہ کرلی اور اس شخص میں جس کا دامن شروع سے شرک کی آلائش سے پاک صاف رہا اور جس نے بجز اللہ کے کبھی کسی کے سامنے جبیں نیاز خم نہیں کی ۔

امامت سنّت نبوی کی رو سے

امامت کے بارے میں رسول اللہ ص کے متعدد اقوال  ہیں جن کو شیعوں اورسنیوں  دونوں نے اپنی احادیث کی کتابوں میں نقل کیا ہے ۔ رسول اللہ نے کہیں اسے امامت کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور کہیں خلافت کے لفظ سے ، کہیں ولایت کے لفظ سے اور کہیں امارت کے لفظ سے ۔

امامت کے بارے میں ایک حدیث نبوی ہے :

"خيارأئمتكم الّذين  تحبّونهم ويحبّونكم وتصلّون عليهم و يصلّون عليكم .وشرارأئمتكم الّذين تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعبونكم .قالوا يارسول الله أفلا ننا بذهم بالسّيف فقال لا ما أقاموا فيكم الصلاة."

تمھارے اماموں میں سب سے بہتر وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبّت کریں ، تم ان کے لیے دعا کرو ، وہ تمھارے لیے دعاکریں ۔اور بد ترین ائمہ وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں ، جن پر لعنت بھیجو اور وہ تم پر لعنت  بھیجیں ۔صحابہ نے پوچھا : تو کیا ہم تلوار سے ان کا مقابلہ نہ کریں رسول اللہ نے فرمایا : نہیں ، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں(1) ۔

رسول اللہ ص نے یہ بھی فرمایا ہے :

"يكون بعدي أئمة لّا يهتدون بهداى ولا يستنّون بسنّتي وسيقوم فيهم رجالٌ قلوبُ الشياطين

--------------------

(1):- صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 24 باب خیار الائمۃ وشرارھم۔


في جثمان إنس".

میرے بعد کچھ ایسے امام ہوں گے جو نہ میری روش پرچلیں گے اور نہ میری سنت کا اتباع کریں گے ۔ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کے جسم تو انسان کے سے ہونگے مگر دل شیطانوں کے سے(1)

خلافت کے بارے میں حدیث نبوی ہے :

"لا يزال الدّين قآئماً حتىّ تقوم السّاعة أويكون عليكم اثناعشرخليفةً كلّهم من قريشٍ.

دین اس وقت تک قائم رہے گا جب تک قیامت نہ آجائے یا بارہ خلیفہ نہ ہوجائیں جو سب قریش میں سے ہوں گے ۔(2)

جابر بن سمرہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو سنا کہ آپ فرماتے تھے :

"لايزال الإسلام عزيزًا إلى إثبى عشر خليفةٍ ثمّ قال كلمةً لم أفهمها فقلت لابي: ما قال؟ فقال : كلّهم من قريشٍ."

بارہ خلفاء تک اسلام کی عزت باقی رہے گی ۔ پھر کچھ فرمایا جو میں نہیں سن سکا ۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ کیا فرمایا تھا ؟ انھوں نے کہا کہ یہ فرمایا تھا کہ وہ سب خلفاء قریش میں سے ہوں گے(3)

امارت کےبارے میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

"ستكون اُمراءَ فتعرفون وتنكرون فمن عرف

--------------------

(1):-صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 20 باب الامر بلزوم الجماعۃ عند ظہور الفتن

(2):- صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 4 باب النّاس تبع لقریش والخلافۃ فی قریش

(3):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 105 ۔اور صفحہ 128۔صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 3۔


بر‎‎ئ ومن أنكر سلم ولكن من رضي وتابع قالوا أفلانقاتلهم قال :لا ما صلّوا.

جلد ہی کچھ امراء ہوں گے جن کو تم میں سے کچھ پہچانیں گے ، کچھ نہیں ۔جس نے پہچانا بچ گیا ، جن نے نہیں پہچانا محفوظ رہا مگر جس نے خوشی ان کا اتباع کیا ۔۔۔۔۔ لوگوں  نے پوچھا  کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ نے فرمایا " جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں اس وقت تک نہیں(1) ۔

امارت سے متعلق ایک حدیث میں آپ نے فرمایا :"يكون اثناعشر أميراً كلّّهم من قريشٍ."

میرے بعد بارہ امیر ہوں گے جو سب قریش میں سے ہوں گے(2) ۔

آپ نے اپنے اصحاب کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا :

"ستحرصون على الإمارة وستكون ندامةً يوم القيامة فنعم المرضعة وبئست الفاطمة".

تمھیں جلد امارت حاصل کرنے کا لالچ ہوگا لیکن یہ امارت قیامت کے دن باعث ندامت ہوگی ۔ امارت دودھ پلانے والی تو اچھی ہے مگر دودھ چھڑانے والی اچھی نہیں(3) ۔

ولایت کا لفظ  لفظ بھی حدیث میں آیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

"ما من وّالٍ يّلي رعيّةً مّن المسلمين فيموت وهو غاشٌ لّهم إلّا حرّم الله عليه الجنّة.

--------------------

(1):- صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 23 باب وجوب الانکار علی الامراء۔

(2):-صحیح بخاری جلد 4 کتاب الاحکام ۔

(3):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 127 باب الاستخلاف۔


جس مسلمان  والی نے مسلمان رعایا پر حکومت کی لیکن وہ انھیں دھوکا دیتا رہا  تو مرنے کے بعد اس پر جنت حرام ہے(1) ۔

ایک اور حدیث میں آپ نے فرماتے ہیں :

"لايزال أمرالنّاس ماضياً ما وليهم اثناعشررجلاً كلّهم مّن قريشٍ."

لوگوں  کا کام اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک ان کے والی بارہ اشخاص ہوں گے جو سب قریش میں سے ہوں گے(2) ۔

امامت  اور خلافت کے مفہوم کا یہ مختصر ساجائزہ میں نے قرآن وسنّت سے بغیر کسی تشریح اور توضیح کے پیش کیا ہے بلکہ میں نے سب احادیث اہل سنت  کی صحاح  پر اعتماد کیا ہے اور شیعہ کتابوں سے کوئی روایت نہیں لی ، کیونکہ شیعوں کے نزدیک تو یہ بات یعنی بارہ خلفاء کی خلافت جو سب قریش میں سے ہوں گے مسلّمات  میں سے ہے جس سے کسی کو اختلاف  نہیں  اور جس کے متعلق دورائیں نہیں ہوسکتیں ۔ بعض اہل سنت والجماعت علماء کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ

" يكون بعدي اثناعشرخليفةً كلّهم من بني هاشمٍ."

میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے جو سب بنی ہاشم میں سے ہوںگے ۔(ینابیع المودّۃ جلد 3 صفحہ 104)۔

--------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 106باب ما يکر ہمن الحرص علی الامار ۃ ۔

(2):- صحیح مسلم جلد 2 صفحہ باب الخلافۃ فی قریش ۔

(3):- امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں :

"إنّ الأئمّة من قريشٍ غرسوا في هذاالبطن من هاشمٍ لا تصلح على سواهم ولا تصلح الولاة من غيرهم"

بلاشبہ امام قریش میں سے ہوں گے جو اسی قبیلے کی ایک شاخ بنی ہاشم کی کشت زار سے ابھریں گے نہ امامت کسی  اور کو زیب دیتی ہے اور نہ ان کے علاوہ کوئی اس کا اہل ہوسکتا ہے ۔(ناشر)


شعبی سے روایت ہے کہ مسروق نے کہا : ایک دن  ہم عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے ہوئے انھیں اپنے مصاحف دکھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک نوجوان نے ان سے پوچھا : کیا آپ کے نبی نے آپ کو کچھ بتلایا ہے کہ ان کے بعد کتنے خلیفہ ہوں گے ابن مسعود نے اس شخص سے کہا :تم ہو تو نو عمر ،لیکن تم نے بات ایسی پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے مجھ سے نہیں پوچھی ۔ہاں  ! ہمارے نبی نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ بنی اسرائیل  کے نقیبوں  کی تعداد کے برابر ان کے بھی خلفاء ہوں گے(1) ۔

اب ہم اس مسئلے سے متعلق فریقین کے اقوال پر غور کریں گے اور یہ دیکھیں گے  کہ جن صریح نصوص کو دونوں فریق تسلیم کرتے ہیں ، وہ کس طرح ان کی تشریح وتوضیح کرتے ہیں ، کیونکہ یہی وہ اہم مسئلہ ہے جو اس دن سے جس دن رسول اللہ ص نے وفات پائی آجتک مسلمانوں میں نزاع کا باعث بنا ہوا ہے ۔ اسی مسئلے سے مسلمانوں میں وہ اختلاف  پیدا ہوئے جن کی وجہ سے وہ مختلف فرقوں اور اعتقادی وفکری دبستانوں میں تقسیم ہوگئے حالانکہ اس سے پہلے وہ ایک امّت تھے ۔ ہر اختلاف جو مسلمانوں میں پیدا ہوا خواہ وہ فقہ کےبارے میں ہو ، قرآن کی تفسیر کے بارے  ہو یا سنّت نبوی کو سمجھنے کے بارے میں ہو ، اس  کا منشا اور اس کیا سبب مسئلہ خلافت ہی ہے ۔

آپ مسئلہ خلافت کو کیا سمجھتے ہیں ؟

سقیفہ(2) کے بعد خلافت ایک "امر واقعہ" بن گئی اور اس کی وجہ سے بہت سی صحیح احادیث اور صریح آیات ردّ  کی جانے لگیں اور ایسی احادیث گھڑی جانے لگیں ، جن کی صحیح سنت نبوی میں کوئی بنیاد نہیں تھی ۔اس پر مجھے اسرائیل اور "امر وقعہ" کا قصہ یاد آگیا ۔عرب بادشاہوں اور سربراہوں کا اجلاس ہوا اور اس میں اتفاق رائۓ سے طے پایا اسرائیل  کو تسلیم نہیں کیا جائے گا ،

------------------

(1):- ینابیع المودہ جلد 3 ص 105

(2):- سقیفہ بنی ساعدہ: یہ سعد بن عبادہ انصاری کی بیٹھک تھی جس میں اہل مدینہ اکثر اپنے معاشرتی مسائل حل کرنے کے لئے جمع ہوتے تھے ۔ (ناشر)


اس کے ساتھ مذاکرات نہیں کیسے جائیں گے ، صلح نہیں ہوگی کیونکہ جس چیز پر طاقت کے زور سے قبضہ کرلیا گیا ہے وہ طاقت استعمال کیے بغیر واپس نہیں مل سکتی ۔چند سال بعد ایک اور اجلاس ہوا ، اس میں فیصلہ ہوا کہ مصر سے تعلقات منقطع کرلیے جائیں کیونکہ اس نے صہیونی ریاست کو تسلیم کرلیا ہے ۔ چند سال اور گزر گئے ۔ عرب سربراہان مملکت پھر جمع ہوئے ۔ اس بار انھوں نے مصر سے پھر تعلقات قائم کرلیے  اور سب نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم  کرلیا ۔ حالانکہ اسرائیل نے فلسطینی قوم کے حق کو تسلیم نہیں کیا تھا اور نہ اپنے موقف میں کوئی تبدیلی پیدا کی تھی بلکہ اس کی ہٹ دھرمی بڑھ گئی تھی اور فلسطینی قوم  کو کچلنے  کی  کاروائیوں میں اضافہ ہوگیا تھا ۔ اس طرح ترایخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔ امر واقعہ کو تسلیم کرلینا عربوں کی عادت ہے ۔

خلافت کے بارے میں اہل سنت کی رائے

اس بارے میں اہل سنت کی رائے سب کو معلوم ہے اوروہ یہ ہے کہ رسول اللہ ص نے اپنی زندگی میں کسی کو خلافت کے لئے نامزد نہیں  کیا ۔ لیکن صحابہ میں سے اہل حلّ وعقد سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور انھوں نے ابو بکر صدیق  کو اپنا خلیفہ چن لیا کیونکہ ایک تو ابو بکر رسول اللہ سے بہت نزدیک تھے ، دوسرے انھی کو رسول اللہ ص نے اپنے مرض الوفات میں نماز پڑھانے کے لیے اپنا جانشین مقررکیاتھا ۔ اہل سنت کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ابو بکر کو ہمارے دین کے کام کے لیے پسند کیا تو ہم انھیں اپنے دنیا کے کام کے لیے کیوں پسند نہ کریں ۔اہل سنت  کے نقطہ نظر کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

1:- رسول اللہ ص نےکسی کو نامزد نہیں کیا ۔ اس سلسلے میں کوئی نص نہیں ۔

2:- خلیفہ کا تعیّن صرف شوری سے ہوتا ہے ۔3:- ابوبکر کو کبار صحابہ نے خلیفہ منتخب کیا تھا ۔

یہی میری خود اپنی رائے تھی اس وقت جب کہ میں مالکی تھا ۔ اس رائے کا دفاع میں پوری طاقت سے کیا کرتا تھا اور جن آیات میں شوری کا ذکر ہے انھیں میں


اپنی رائے کے ثبوت میں پیش کرتا ۔ میں جہاں تک ہوسکتا تھا ، فخریہ کہا کرتا تھا کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو جمہوری نظام حکومت کا قائل ہے ۔ اسلام نے اس انسانی اصول کو جس پر دنیا کی ترقی یافتہ اور مہذب قومیں فخر کرتی ہیں اور وں سے پہلے اپنا لیا تھا ۔ مغرب میں جو جمہوری نظام انیسویں صدی میں متعارف ہوا اسلام اس سے چھٹی صدی ہی میں واقف ہوچکا تھا ۔

لیکن شیعہ علماء سے ملاقات کرنے ،ا ن کی کتابیں پڑھنے اور ان کے اطمینان بخش دلائل معلوم کرنے کے بعد میں نے اپنی رائے بدل دی ۔ اب حقیقت ظاہر ہوچکی تھی اور مجھے یقین ہوگیا تھا کہ یہ اللہ سبحانہ کی شان کے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی امت کو بغیر امام کے چھوڑ دے ۔جب کہ وہ خود فرماتا ہے :

" إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَ لِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ"

آپ صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے ایک ہدایت دینے والا ہے ۔(سورہ رعد ۔آیت 7)

اسی طرح کیار سول اللہ ص کی رحمت ورافت کا تقاضہ یہ تھاکہ آپ اپنی امت کو بغیر کسی سرپرست کے چھوڑ دیں خصوصا ایسی حالت میں جب کہ ہمیں یہ معلوم ہے  کہ آپ کو خود اپنی امت میں تفرقہ کا اندیشہ تھا(1) ۔ اوریہ ڈر تھا کہ کہیں لوگ الٹے پاؤں نہ پھر جائیں(2) ۔ دنیا کے حصول  میں ایک دوسرے پر بازی  لیجانے  کی کوشش نہ کرنے لگیں(3) ایک دوسرے کی گردن نہ مارنے لگیں(4) ۔ اور یہودو نصاری کے طور طریقوں کی پیروی نہ کرنے لگیں ۔(5)

یہ بھی یاد رہے کہ جب عمر بن الخطاب زخمی ہوگئے تو ام المومنین عائشہ نے آدمی

-------------------

(1):-جامع ترمذی۔سنن ابو داؤد ۔سنن ابن ماجہ ۔مسندامام احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 332۔

(2):- صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 902 باب الحوض اور جلد 5 صفحہ 192

(3):- صحیح بخاری جلد4 صفحہ 63۔

(4):- صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 112

(5):-


بھیج کر انھیں کہلوایا تھا کہ : اپنے بعد امت محمّدیہ کا کوئی خلیفہ مقرر کردیجیئے اور اسے اپنے بعد بے یارو مددگار نہ چھوڑیے ۔ کیونکہ مجھے فتنے  کا اندیشہ ہے ۔(1)

اسی طرح حضرت  عمر کے زخمی ہوجانے کے بعد عبداللہ بن عمر نے بھی اپنے والد سے کہا تھا کہ : لوگوں  کا خیال ہے کہ آپ کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کررہے ہیں لیکن اگر آپ کا کوئی اونٹ یا بھیڑ یں چرانے والا ہو اور وہ گلے کو چھوڑ کو آپ کے پاس چلا آئے تو کیا آپ یہ نہیں سمجھیں گے کہ اس نے گلے کو کھودیا ۔ انسانوں کی دیکھ بھال تو اور بھی زیادہ ضروری ہے ۔(2)

حضرت ابو بکر نے جن کومسلمانوں نے  اجماع کے ذریعے خلیفہ بنایا تھا خود ہی اس اصول کو توڑدیا  تاکہ اس طرح مسلمانوں میں اختلاف ،تفرقہ اور فتنہ کے امکان  کا سد باب کیا جاسکے ۔یہ توجیہ اس صورت میں ہوگی جب ہم حسن ظن سے کام لیں ورنہ امام علی ع نے جو اس قضیے میں تمام پہلوؤں سے سب سے زیادہ واقف تھے ، پہلے ہی پیشین گوئی کردی تھی کہ ابو بکر کے بعد خلافت عمر بن الخطاب ہی کے پاس جائے گی ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب عمر نے امام علی ع پر ابوبکر کی بیعت کرنے کے لیے زورڈالا تھا ۔ امام علی ع نے کہا تھا :

"إحلب حلباً لّك شطره واشدد له اليوم يردّده عليك غداً."

آج تم دودھ دھولو، کل تمہیں اس کا آدھا حصّہ مل جائے گا ۔آج تم اس کی حیثیت مضبوط کردو ، کل وہ تمھیں واپس لوٹا دیگا ۔(3)

میں کہتا ہوں کہ جب ابوبکر ہی کو شوری کے اصول پر یقین نہیں تھا تو ہم کیسے مان لیں کہ رسول اللہ نے یہ معاملہ کسی کو خلیفہ نامزد کیے بغیر ایسے چھوڑ دیا ہوگا ۔کیا آپ کو اس مصلحت کا علم نہیں تھا جس کا علم ابو بکر ،عائشہ اور عبداللہ بن عمر کو

-------------------

(1):- ابن قتیبہ ،الامامۃ والسیاسۃ جلد 1 صفحہ 28

(2):- ابن قتیبہ ، الامامۃ والسیاسۃ جلد 1 صفحہ 18 اورمابعد

(3):- صحیح مسلم جلد 6 صفحہ 5 باب الاستخلاف وترکہ


تھا اورجس سے سب لوگ صاف طور پر واقف تھے کہ اگر انتخاب کا اختیار عوام کو دیدیا جائے گا تو اس کا نتیجہ اختلاف کی شکل میں ظاہر ہوگا خاص کر جب معاملہ حکومت اور خلافت کا ہو ۔ خود حضرت ابو بکر کے انتخاب کے موقع پر سقیفہ میں ایسا ہوبھی چکا تھا ۔ انصار کے سردار سعد بن عبادہ ، ان کے بیٹے قیس بن سعد ، علی بن ابی طالب  ع، زبیر ابن العوّام(1) ،عباس بن عبدالمطلب ، اور دوسرے بنی ہاشم اوربعض دوسرے صحابہ نے جو خلافت کو علی ع کا حق سمجھتے تھے(2) ، مخالفت کی تھی اور وہ علی ع کے مکان پر جمع ہوگئے تھے جہاں ان کو جلادیے جانے کی دھمکی دی گئی تھی ۔(3)

اس کے  علاوہ  ہم نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ نے اپنی پوری عملی زندگی میں کبھی ایک دفعہ بھی کسی غزوہ یا سریہ کے کمانڈر کے تعین  کے وقت اپنے اصحاب سے مشورہ کیا ہو ۔

اسی طرح مدینہ سے باہر جاتے وقت کسی سے مشورہ کیے بغیر جس کو مناسب سمجھے تھے اپنا جانشین مقرر کرجاتے تھے ۔ جب آپ کے پاس وفود آتے تھے اور اپنے اسلام کا اعلان کرتے تھے اس وقت بھی ان سے مشورہ کیے بغیر ان میں سے جس کو چاہتے تھے ان کا سربراہ مقرر کردیتے تھے ۔

آپ نے اپنے اس طریق کار کو اس وقت مزید واضح کردیا جب آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اسامہ بن زید کو لشکر کا امیر مقرر کیا حالانکہ ان کی نوعمری اور صغر سنی کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اعتراض بھی کیا مگر آپ نے اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے ان لوگوں پر لعنت ک جو اس لشکر میں شامل ہونے سے گریز کریں(4) ۔ اور واضح کردیا کہ امارت ،ولایت اور خلافت میں لوگوں کی مرضی داخل نہیں ، یہ معاملہ رسول ص کے حکم سے طے ہوتاہے اور رسول کا حکم اللہ کا حکم ہے ۔جب صورت یہ ہو تو ہم کیوں نہ دوسرے فریق کے دلائل پر بھی غور کریں ۔دوسرے

-------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 26 باب رجم الحبلی من الزنا

(2) (3):-ابن قتیبہ ،الامامۃ والسیاسۃ جلد اول صفحہ 18 اورمابعد ۔

(4):- الملل والنحل ،شہرستانی۔


فریق سےمیری مراد شیعہ ہیں جو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رسول اللہ ص نے امام علی ع کو خلیفہ مقرر کیا تھا اور مختلف موقعوں پر اس کی تصریح بھی کردی تھی جن میں سب سے مشہور " غدیر خم" کا جلسہ ہے ۔

انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ اختلاف  کی صورت میں آپ نے اپنے مخالف کی رائے  اور دلیل کوسنیں ، خصوصا ایسی حالت میں جب کہ مخالف ایسے حقائق سے استدلال کررہا ہو جن کو آپ بھی تسلیم کرتے ہوں ۔(1)

شیعوں کی دلیل میں کوئی واہی یا کمزور بات نہیں جسے آسانی سے نظر انداز کیا جاسکے ۔بلکہ معاملہ قرآنی آیات  کا ہے جو اس بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔ جن کو خود رسول اللہ ص نے جو اہمیت دی وہ اس قدر مشہور ومعروف اور زبان زد خاص وعام ہے کہ حدیث اور تاریخ کی کتابیں اس سے بھری ہوئی ہیں اور راوی اسے نسلا بعد نسل نقل کرتے چلے آرہے ہیں ۔

1:- ولایت علی ع قرآن کریم میں

اللہ تعالی فرماتا ہے :

"إنما وليكم الله ورسوله والذين آمنوا الذين يقيمون الصلاة ويؤتون الزكاة وهم راكعون "

تمھارے ولی تو بس اللہ اور اس کا رسول اور وہ مومنین ہیں جو پابندی سے نماز پڑھتے ہیں ، رکوع کی حالت میں زکوات دیتے

--------------------

(1):- قرآن کریم بھی ہمیں انصاف سے کام لینے کی تلقین کرتاہے اور کہتا ہے :

اے ایمان والو! ۔۔۔۔ لوگوں کی دشمنی تمھیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دو ۔(سورہ مائدہ ۔آیت 8)

واضح رہے کہ شیعوں کی کوئی دلیل ایسی نہیں ہے جس کی اصل اہل سنت کی کتابوں میں موجود نہ ہو ۔


ہیں ۔جو کوئی اللہ ، اس کے رسول اور ان مومنین کی ولایت قبول  کرےگا (وہ اللہ کی جماعت میں داخل ہوگا )بے شک اللہ ہی کی جماعت غلبہ پانے والا ہے ۔(سورہ مائدہ ۔آیت 55-56)

ابو اسحاق ثعلبی(1) نے اپنی تفسیر کبیر میں اپنی اسناد سے ابو ذر غفاری سے یہ روایت بیان کی ہے ۔ ابو ذر کہتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے ان کانوں سے سنا ،نہ سنا ہو تو یہ کان نپٹ بہرے ہوجائیں اور اپنی ان آنکھوں سے دیکھا  ،نہ دیکھا ہو تو یہ آنکھیں پٹم اندھی ہوجائیں ۔آپ فرماتے تھے کہ "علی "نیکیوں کو رواج دینے والے اور کفر کو مٹانے والے ہیں ۔ کامیاب ہے وہ جوان  کی مدد کرے گا اور ناکام ہے وہ جو ان کی مدد چھوڑ دے گا ۔ایک دن میں رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک مانگنے والا مسجد میں آگیا ،اسے کسی نے کچھ نہیں دیا ۔ علی ع نماز پڑھ رہے تھے ، انھوں نے اپنی چھوٹی انگلی سے انگوٹھی  اتارلی ۔اس پر رسول اللہ ص نے عاجزی سے اللہ تعالی سے دعا کی کاور کہا : یا الہی میرے بھائی موسی  نے تجھ سے دعا کی تھی اور کہا تھا : "اے میرے پروردگار ! میرا سینہ کھول دے اور میرا کا آسان کردے اورمیری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں ، اور میرے اپنوں میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنادے تاکہ میں تقویت حاصل کرسکوں اور انھیں میرا شریک کار بنادے تاکہ ہم کثرت سے تیری تسبیح کریں اور بکثرت تجھے یاد کیا کریں "۔تب تو نے انھیں وحی  بھیجی کہ اے موسی ! تمھاری دعا قبول ہوگئی ۔اے اللہ ! میں تیرا بندہ اور نبی ہوں ۔ میرا بھی سینہ کھول دے ،میرا کام بھی آسان کردے اور میرے اپنوں میں سے علی ع کو میرا مددگار بنادے تاکہ میں اس سے اپنی کمر مضبوط کرسکوں "۔ ابو ذر کہتے ہیں کہ ابھی رسول اللہ نے اپنی بات پوری کی ہی تھی جبریل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے :" إنما وليكم الله ورسوله " (2) ۔

--------------------

(1):-ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم نیشاپوری  ،ثعلبی المتوفی سنہ 437ھ ۔ابن خلکان کہتے ہیں کہ علم تفسیر میں یکتا ئے زمانہ تھے ، روایت میں ثقہ اور قابل اعتماد تھے ۔

(2):-۔۔۔۔ ،سنن نسائی  ، مسند احمد بن حنبل ، صواعق محرقہ ابن حجر ہیثمی مکی ۔ شرح نہج البلاغہ ۔


شیعوں  میں سے اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیت امام علی بن ابی طالب ع کی شان مین اتری ہے ۔ اس کی توثیق ائمہ اہل بیت ع کی روایت سے ہوتی ہے جو شیعوں کے نزدیک قطعا مسلم الثبوت روایت ہے اور ان کی متعدد معتبر کتابوں میں موجود ہے جیسے :1:- اثبات الہداۃ ۔علامہ محمد بن حسن عاملی سنہ 1104 ھ۔2:- بحار الانوار ۔علامہ محمد باقر مجلسی سنہ 1111ھ۔3:- تفسیر المیزان ۔علامہ محمد حسین طباطبائی سنہ 1402 ھ۔4:- تفسیر الکاشف ۔ علامہ محم جواد مغنیہ -5:- الغدیر۔علامہ عبدالحسین احمد امینی سنہ 1390ھ علمائے اہل سنت کی بھی ایک بڑی تعداد نے اس آیت کے علی بن ابی طالب علیہ الصلواۃ والسلام کےبارے میں نازل  ہونے کے متعلق روایت کی ہے ۔ میں ان میں سے فقط علمائے تفسیر کا ذکر کرتا ہوں :

1:- تفسیر کشّاف عن حقائق التنزیل ۔جار اللہ محمود بن عمر زمخشری سنہ 538 ھ جل 1 صفحہ 649

2:-تفسیر الجامع البیان ۔(1) حافظ محمد بن جریر طبری سنہ 310 ھ جلد 6 صفحہ 288

3:-تفسیر زاد المسیر فی علم التفسیر ۔سبط ابن جوزی سنہ 654ھجلد 2صفحہ 219۔4:- تفسیر الجامع الاحکام القرآن ۔محمد بن احمد قرطبی سنہ 671ھ جلد 63صفحہ 219

5:- تفسیر کبیر ۔امام فخر الدین رازی شافعی سنہ 606ھ جلد12 صفحہ 26۔6:- تفسیر القرآن العظیم ۔اسماعیل بن المعروف ابن کثیر سنہ 774ھ جلد 2 صفحہ 71

7:-تفسیر القرآن الکریم ۔ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفی سنہ 710 ھ جلد 1صفحہ 289۔8:- تفسیر شواہد التنزیل لقواعد التفصیل والتاویل ۔حافظ حاکم حسکانی جلد 1 صفحہ 161۔9:- تفسیر درّمنثور ۔حافظ جلال الدین سیوطی سنہ 911 ھ جلد 2 صفحہ 293

--------------------

(1):-اہل سنت میں راویان حدیث کے القاب کی درجہ بندی مندرجہ ذیل ہے :

1:- محدّث : جسےدرایت حدیث پر عبور ہو            2:-حافظ:  جسے ایک لاکھ حدیثیں یاد ہوں

3:- حجّت : جسے تین لاکھ حدیثیں یاد ہوں         4:- حاکم : جسے سب حدیثیں یاد ہوں (ناشر)


10:- اسباب النزول ۔ امام ابو الحسن واحدی نیشاپوری سنہ 468ھ صفحہ 148

11:- احکام القرآن ۔ابو بکر احمد بن علی الجصاص حنفی سنہ 370ھ جلد 4 صفحہ 103

12:- التسہیل لعلوم التنزیل ۔حافظ کلبی غرناطوی سنہ ھ جلد 1 صفحہ 181

علمائے اہل سنت میں سے جن کے نام میں نے لیے ہیں ، ان سے زیادہ وہ ہیں جن کے نام میں نے نہیں لیے ۔لیکن وہ علمائے شیعہ سے اس پر متفق ہیں کہ یہ آیت ولایت علی بن ابی طالب ع کی بابت نازل ہوئی ہے ۔

2:- آیہ تبلیغ کا تعلق بھی ولایت علی ع سے ہے

اللہ تعالی کا فرما تا ہے :

"يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ "

اے رسول !جو حکم تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس آیا ہے اسے پہونچادو ۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گویا تم نے اسے کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا ۔اور اللہ تمھیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا ۔(سورہ مائدہ ۔آیت 67)

بعض اہل سنت مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت بعثت کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ ص قتل اور ہلاکت کے خوف سے اپنے ساتھ محافظ  رکھتے تھے  جب آیت نازل ہوئی کہ " وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ " تو آپ نے اپنے محافظوں سے کہا : تم جاؤ ،اب اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے ۔

ابن جریر اور ابن مردویہ نے عبداللہ بن شقیق سے روایت بیان کی ہے کہ کچھ صحابہ رسول اللہ کے ساتھ سائے کی طرح رہتے تھے ۔ جب آیت نازل ہوئی" وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ" تو  آپ نے باہر نکل کر فرمایا : لوگو ! اپنے گھر والوں کے پاس  چلے جاؤ ،اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے ۔(تفسیر درّ منثور ۔سیوطی جلد 3 صفحہ 119)


ابن حبّان اور ابن مردویہ نے ابو ہریرہ سے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم کسی سفر میں رسول اللہ کے ساتھ ہوتے تھے تو سب سے بڑا اور سایہ دار درخت ہم آپ کے لیے چھوڑ دیتے تھے ۔آپ اسی کے نیچے اترتے تھے ایک دن آپ ایک درخت کے نیچے اترے اور اس پر اپنی تلوار لٹکادی ۔ ایک شخص آیا اور اس نے تلوار اٹھالی ۔کہنے لگا : محمد ! بتاؤ اب تمھیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ " آپ نے فرمایا :" اللہ بچائے گا تو تلوار کھ دے :" اس نے تلوار رکھ دی ۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی ۔ :" وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ " (1)

ترمذی ،حاکم اور ابو نعیم  نے عائشہ سے روایت  کی ہے ۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھ محافظ رہتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی :" وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ " تو آپ نے قبّہ سے سر نکال کر  کہا : تم لوگ چلے جاؤ ، اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے ۔

طبرانی ، ابو نعیم ، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عّباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ص کے ساتھ محافظ رہتے تھے ۔ آپ کے چچا ابو طالب ہر روز بنی ہاشم میں سے کسی شخص کو آپ کے ساتھ رہنے کے لیے بھیج دیا کرتے تھے ۔پھر آپ نے ان سے کہہ دیا : چچا جان ! اللہ نے میری حفاظت کاذمہ لے لیا ہے اب کسی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ۔

جب ہم ان احادیث پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مضمون آیت کریمہ کے ساتھ میل نہیں کھاتا اور نہ اس کے سیاق وسباق کے ساتھ ٹھیک بیٹھتا ہے ۔ ان سب روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت بعثت کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے ۔ایک روایت میں تصریح ہے کہ یہ واقعہ ابو طالب کی زندگی کا ہے یعنی ہجرت سے کئی سال قبل کا ۔ خصوصا ابو ہریرہ تو یہ تک کہتے ہیں کہ جب ہم سفر میں رسول اللہ ص کے ہمراہ ہوتے تھے تو ان کے لیے سب سے بڑا درخت چھوڑ دیتے تھے ظاہر ہے یہ روایت موضوع ہے کیونکہ ابو ہریرہ جیسا کہ وہ خود اعتراف کرتے ہیں

--------------------

(1):- تفسیر در منثور ۔سیوطی


سنہ 7 ہجری سے قبل اسلام اور رسول اللہ کو جانتے بھی نہیں تھے ۔(1) عائشہ اس وقت تک یا تو پیدا ہی نہیں ہوئی تھیں یا ان کی عمر دوسال سے زیادہ نہیں تھی کیونکہ یہ معلوم ہے کہ ان کا نکاح رسول اللہ سے ہجرت کے بعد ہوا اور اس وقت ان کی عمر زیادہ سے زیادہ بااختلاف  روایت گیارہ سال تھی ۔ پھر یہ روایتیں کیسے صحیح ہوسکتی ہیں ؟ تمام سنی اور شیعہ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ سورہ مائدہ مدنی سورت ہے ۔اور یہ قرآن کی سب سے آخری سورت ہے جو نازل ہوئی ۔

احمد اور ابو عبید اپنی کتاب فضائل میں ، نحاس اپنی کتاب ناسخ میں ۔ نسائی ، ابن منذر ،حاکم ابن مردویہ اور بیہقی اپنی سنن میں جبیر بن نفیر سے روایت کرتے ہیں کہ جبیر نے کہا : میں حج کرنے گیا تو حضرت عائشہ سے بھی ملنے گیا ۔انھوں نے کہا : جبیر! تم نے سورہ مائدہ پڑھی ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔کہنے لگیں یہ آخری سورت ہے جو نازل ہوئی ۔اس میں تم جس چیز کو حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جسے حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔(2)

احمد اور ترمذی نے روایت کی ہے کہ اور حاکم نے اسے صحیح اور حسن کہا ہے ابن مردویہ اور بیہقی نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عمر نے نزول کے اعتبار سے سورہ مائدہ کو آخری سورت بتایا ہے(3) ۔

ابو عبیدہ نے محمد بن کعب قرطنی کے حوالے سے روایت بیان کی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ سورہ مائدہ رسول اللہ ص پر حجّۃ الوداع میں اتری ۔اس وقت آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک اونٹنی پر سوار تھے ،وحی کے بوجھ سے اونٹنی کا کندھا ٹوٹ گیا تو آپ اترگئے(4) ۔

ابن جریر نے ربیع بن انس سے روایت کی ہے کہ جب سورہ مائدہ رسول اللہ پرنازل ہوئی اس وقت آپ اپنی سواری پرسوار تھے ۔ وحی کے بوجھ سے اونٹنی بیٹھ گئی

------------------

(1):- فتح الباری جلد 6 صفحہ 31 ۔البدایۃ والنہایہ جلد 8 صفحہ 102 ۔ سیر اعلام النبلاء ذہبی جلد 2 صفحہ ۔۔ الاصابہ ، ابن حجر جلد 3 صفحہ 287

(2)(3)(4):- تفسیر در منثور ،سیوطی جلد 3 صفحہ 3


تھی(1) ۔

ابو عبیدہ نے ضمرہ بن حبیب اور عطیہ بن قیس سے روایت کی ہے ، وہ دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : نزول کے اعتبار سے مائدہ آخری سورت ہے جو اس میں حلال ہے اسے حلال سمجھو اور جو اس میں حرام ہے اسے حرام سمجھو(2) ۔اب ان تمام روایات کی موجودگی میں کوئی انصاف پسند سمجھ دار شخص کیسے یہ دعوی تسلیم کرسکتا ہے کہ مندرجہ
بالا آیت بعثت رسول ص کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی ۔ جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے ان  میں اس بارے میں کوئی اختلاف  نہیں  کہ نزول کے اعتبار سے سورہ مائدہ قرآن کی آخری سورت ہے اور خاص کر آیہ تبلیغ حجۃ الوداع کے بعد 18 ذی الحجۃ کو امام علی ع کے منصب امامت پر تقرر سے پہلے غدیر خم میں نازل ہوئی ۔ اس دن جمعرات تھی ۔پانچ ساعت دن گذر جانے کے بعد جبریل نازل ہوئے اورآنحضرت سے بولے :اے محمد ص ! اللہ نے آپ کو سلام کہا ہے اور کہا ہے کہ :

"يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ"۔اللہ تعالی کا " وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ " کہنا واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یا تو رسالت کا کام ختم ہوچکا ہے یا ختم ہونے کے قریب ہے اور صرف ایک اہم کام باقی رہ گیا ہے جس کے بغیر دین کی تکمیل نہیں ہوسکتی ۔اس آیت کریمہ سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ رسول اللہ ص کو یہ اندیشہ تھا کہ جب وہ اس اہم کا م کی طرف لوگوں کو بلائیں گے تو لوگ ان کو جھٹلائیں گے ۔لیکن اللہ تعالی نے ان کو تاخیر ک اجازت نہیں دی کیونکہ وقت موعود نزدیک تھا اور یہ اس کام کے لیے بہتریں موقع تھا آپ کے ساتھ ایک لاکھ سے زیادہ اصحاب موجود تھے جنھوں نے ابھی ایک ہفتہ پہلے آپ کے ساتھ حج کیا تھا ، ابھی تک ان کے قلوب مراسم حج کے نور سے معمور تھے ، انھیں یہ بھی یاد تھا کہ رسول اللہ ص نے انھیں اپنی وفات کے قریب

-------------------

(1)(2):- سیوطی ،تفسیر درمنثور جلد 3 صفحہ 3۔


ہونے کی خبر دی ہے ۔آپ نے فرمایا تھا :

" لعلّى لآ ألقاكم بعد عامي هذا ويوشك أن يّاتي ربّي وأدعى فاُجيب."

شاید اس سال کے بعد میں تم سے نہ مل سکوں ۔ وہ وقت قریب ہے جب پروردگار کا بلاوا آجائے گا اور مجھے جانا ہوگا ۔اب وہ وقت قریب تھا جب لوگ اپنے اپنے گھروں کو جانے کے لیے منتشر ہونے والے تھے ۔ شاید پھر اتنے بڑے مجمع سے ملاقات کا موقع نہ مل سکے ۔غدیر کئی راستوں کے سنگم پرواقع تھا ۔ رسول اللہ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ کسی طرح بھی ایسے سنہری موقع کو ہاتھ سے جانے دیں ۔ اور کیسے جانے دے سکتے تھے جب وحی آچکی تھی جس میں ایک کو ہاتھ سے جانے دیں ۔ اور کیسے جانے دے سکتے تھے جب وحی آچکی تھی جس  میں ایک طرح کی تنبیہ بھی  تھی اور کہا گیا تھا کہ آپ کی رسالت کا دارومدار اسی پیغام کو پہنچانے پر ہے ۔ اللہ سبحانہ نے آپ کو لوگوں کے شر سے بچانے کی ضمانت بھی دیدی تھی اور کہہ دیا تھا کہ تکذیب سے خوف کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ آپ سے پہلے  بھی کتنے ہی رسول کو جھٹلائے جاچکے ہیں لیکن اس کی وجہ سے جو پیغام ان کو دیا گیا  تھا وہ اس کو پہچانے سے باز نہیں رہے ، اس لیے کہ رسول کا فریضہ ہی پہنچانا ہے ۔"ما على الرّسول إلّا البلاغ" گو اللہ کو پہلے  سے معلوم تھا  کہ اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے(1) ۔جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے : گو اللہ کو معلوم ہے کہ ان میں جھٹلانے والے ہیں(2) ۔جب بھی اللہ انھیں حجّت  قائم کیے بغیر چھوڑ نے والا نیں ۔" لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزاً حَكِيماً " اس کے علاوہ آپ کے سامنے ان رسولوں کی مثال تھی جن کو ان کی قوموں نے جھٹلایا ۔اللہ تعالی فرماتا ہے :

" وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَثَمُودُ () وَقَوْمُ إِبْرَاهِيمَ وَقَوْمُ لُوطٍ () وَأَصْحَابُ مَدْيَنَ وَكُذِّبَ مُوسَى فَأَمْلَيْتُ لِلْكَافِرِينَ ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ

--------------------

(1):-سورہ زخرف ۔آیت 78 ۔ (2):- سورہ الحاقّہ ۔آیت 49 ۔(3):- سورہ نساء ۔آیت 165


فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ "

اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں تو کیا ہوا ، ان سے پہلے قوم نوح اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم ، قوم لوط اور اہل مدین بھی تو اپنے اپنے پیغمبروں کو جھٹلاچکے  ہیں اور موسی  بھی تو جھٹلائے جا چکے ہیں ۔ چنانچہ پہلے تو میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے انھیں پکڑلیا ۔سود یکھو میرا عذاب کیسا ہوا ۔ (سورہ حج ۔آیت 42-44)

اگر ہم تعصّب اور اپنے مذہب  کی جیت  سے محبّت کا خیال چھوڑدیں تو یہ تشریح زیادہ سمجھ میں آنے والی ہے اور اس آیت کے نزول سے پہلے اور بعد میں جو واقعات پیش آئے ان سے بھی زیادہ ہم آہنگ ہے ۔

علمائے اہلسنت کی ایک بڑی تعداد نے اس آیت کے امام علی ع کے تقرر کے بارے میں غدیر خم کے مقام پر نازل ہونے کی روایت  بیان کی ہیں اور ان کو صحیح کہا ہے اور اس طرح اپنے شیعہ بھائیوں کے ساتھ اتفاق رائے  کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ہم مثال کے طور پر ذیل میں چند علمائے اہل سنت کاذکر کرتے ہیں :

1:- حافظ ابو نعیم اصفہانی متوفی سنہ 430ھ نزول  قرآن ۔2:- امام ابوالحسن واحدی نیشاپوری، متوفی سنہ 468اسباب النزول صفحہ 150-3:- امام ابو اسحاق ثعلبی نیشاپوری، متوفی سنہ 427ھ تفسیر الکشف والبیان-4:- حافظ حاکم حسکانی حنفی شواھد التنزیل لقواعد المنفصل والتاویل جلد 1 صفحہ 187۔5:- امام فخر الدین رازی شافعی متوفی سنہ 606 ھ تفسیر کبیر جلد 12 صفحہ 50۔6:- حافظ جلا الدین سیوطی شافعی سنہ 911ھ تفسیر الدر المنثور جلد 3 صفحہ 117۔7:- مفتی شیخ محمد عبدہ سنہ 1323 ھ تفسیر المنار جلد 2 صفحہ 86 وجلد6 صفحہ 463۔8:-حافظ ابو القاسم ابن عساکر شافعی سنہ 571ھ تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 86۔

9:- قاضی محمد بن علی شوکانی سنہ 1250ھ تفسیر فتح القدیر جلد 2 صفحہ 60۔10:- ابن طلحہ شافعی سنہ 652ھ مطالب السئول جلد 1 صفحہ 44۔11:- حافظ سلیمان قندوزی حنفی سنہ 1294 ینابیع المودۃ صفحہ 120ھ۔12:- محمد عبدالکریم شہرستانی شافعی سنہ 548ھ المللوالنحل جلد 1 صفحہ 163۔


13:- نورالدین ابن الصباغ مالکی سنہ 855ھ الفصول المہمہ صفحہ 25۔14:- حافظ محمد بن جریر طبری سنہ 310 ھ کتاب الولایہ ۔ 15:- حافظ ابو سعید سجستانی سنہ 477 ھ کتاب الولایہ ۔ 16:- بدر الدین ابن عینی حنفی سنہ 855ھ عمدۃ القاری فی شرح البخاری جلد 8 صفحہ 584- 17:- سید عبدالوہاب البخاری سنہ 932 ھ تفسیر القرآن ۔

18:- سید شہاب الدین آلوسی شافعی سنہ 1270ھ روح المعانی جلد 2 صفحہ 384۔

19:- شیخ الاسلام محمد بن ابراہیم حموینی حنفی سنہ 722 ھ  فرائد السمطین جلد 1 صفحہ 185۔

20:- سید صدیق حسن خان فتح البیان فی مقاصد القرآن جلد 3 صفحہ 63 ۔(1)

اب دیکھنا یہ ہے کہ جب رسول اللہ ص کو حکم دیا گیا کہ جو کچھ آپ پر اترا ہے ایسے لوگوں تک پہنچا دیجیے تو اس پر آپ نے کیا کیا ؟

شیعہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے لوگوں کو ایک جگہ غدیر خم کے مقام پر جمع کیا اور ایک طویل اور نہایت بلیغ خطبہ دیا ۔ آپ کے گواہی مانگنے پر لوگوں نے گواہی دی کہ آپ کا ان پر خود ان سے زیادہ حق ہے ۔ اس پر آپ نے علی بن ابی طالب ع کا ہاتھ بلند کرکے کہا :-

"من كنت مولاه فهذا علىٌّ مولاه أللهمّ وال من وّالاه وعاد من عاداه وانصرمن نّصره وخذل من خذله وأدرالحقّ حيث ما دار".(2)

میں جس کا مولا ہوں یہ علی بھی اس کے مولا ہیں ۔ خداوندا! جو علی ع سے دوستی رکھے اس سے دوستی رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو بھ اس سے دشمنی رکھ ۔ جو ان کی مدد کرے تو  بھی اس کی مدد کر اور جو ان کا ساتھ چھوڑ دے تو بھی اس کا ساتھ

------------------

(1):- میں نے یہاں کچھ علماء کا ذکر کیا ہے جبکہ علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر میں تفصیل سے علمائے  اہل سنت کا ذکر کیا ہے ۔

(2):- یہ حدیث حدیث غدیر کے نام سے موسوم ہے ۔ شیعہ اور سنی علماء نے اسے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔


چھوڑ دے ۔ جس طرف علی ع کا رخ ہو اسی طرف حق کا رخ پھیردے ۔

اس کے بعد آپ نے حضرت علی ع کو عمامہ پہنایا اور اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ علی ع کو امیرالمومنین  ہوجانے کی مبارک باد دیں ۔ چنانچہ سب نے مبارک باد دی ۔ابو بکر اور عمر نے بھی تبریک وتہنیت پیش کی اور کہا : اے فرزند ابو طالب ع ! تمھیں امت کی پیشوائی مبارک ہو ۔ آج سے تم ہمر مومن اور مومنہ کے مولا بن گئے ۔(1)

اس تقریب تقریب کے اختتام پر یہ آیت نازل ہوئی :

"الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً "

آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل  کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا ۔(سورہ مائدہ ۔آیت 3)

یہ شیعوں کا نظریہ ہے جو ان کے نزدیک  مسلّمات میں سے ہے اور جس کے متعلق ان کےیہاں دورائیں نہیں ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس واقعہ کا ذکر اہل سنت کے یہاں بھی موجود ہے ؟

ہم نہیں چاہتے کہ جانبداری سے کام لیں اور شیعوں کی باتوں میں آجائیں ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں تنبیہ کی ہے :

" وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ"

کچھ لوگ ایسے ہیں جب وہ دنیا  وی غرض سے باتیں کرتے ہیں تو ان کی باتیں آپ کو اچھی معلوم ہوتی ہیں اور جو ان کے دل میں ہے وہ اللہ کو اس پر گواہ لاتے ہیں مگر (درحقیقت) وہ سخت جھگڑا لو ہیں ۔(سورہ بقرہ ۔آیت 204)

--------------------

(1):- مسند امام احمد بن حنبل ۔تفسیر جامع البیان ،طبری ۔تفسیر کبیر، رازی ۔ صوعق محرقع ،ابن حجر ہیثمی مکی ۔دارقطنی  ۔بیہقی ۔خطیب بغداد اور شہرستانی وغیرہ نے بھی یہ واقعہ اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ۔


اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے پوری احتیاط سے کام لیں ، فریقین کے دلائل پر دیانت داری سے غور کریں اور ایسا کرتے ہوئے ہمارا مقصد اللہ کی رضا ہو ۔ رہا یہ سوال کہ کیا اس واقعہ کا ذکر اہل سنت کے یہاں بھی ہے ؟ تو اس کاجواب یہ ہے کہ جی ہاں ! بہت علمائے اہل سنت نے اس واقعے کے ہر مرحلے کا ذکر کیا ہے ۔ آپ کی خدمت میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں :

امام احمد بن جنبل  نے زید بن ارقم کی حدیث نقل کی ہے ۔وہ کہتے  ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھ ہم ایک وادی میں اترے جو وادی خم کے نام سے موسوم تھی ، رسول اللہ ص نے نماز کا حکم دیا ۔چنانچہ ہم نے دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں نماز پڑھی اس کے بعد آپ نے خطبہ دیا ۔ دھوپ سےبچاؤ کی غرض سے آپ کے لیے ایک درخت پرکپڑا پھیلا دیا گیا تھا ۔ رسول اللہ ص نے فرمایا  : کیا تم نہیں جانتے کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ میرا تم پر خود تم سے زیادہ حق ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں بے شک ! آپ نے کہا :"من كنت مولاه فهذا علىٌّ مولاه أللهمّ وال من وّالاه وعاد من عاداه"

پس جس ک میں مولا ہوں ۔اس کا علی ع بھی مولا ہیں ۔ بارالہا ! جو ان سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ ۔۔۔۔۔(1)

امام نسائی نے کتاب الخصائص میں زید بن ارقم سے روایت نقل کی  ہے۔ زید بن ارقم نےکہا :جب حجۃالوداع  سے واپس آتے ہوئے رسول اللہ ص غدیر خم کے مقام پر اترے تو آپ نے درختوں کے جھاڑ جھنکاڑ صاف کرنے کا حکم دیا ۔ پھر آپ نے کہا : "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بلاوا آگیا اور میں جارہا ہوں ۔ میں تمھارے درمیان دوگراں قدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں ، ایک چیز دوسری چیز سے بڑی ہے ،کتاب اللہ اور میری عترت ! یعنی میرے اہلبیت ع ۔دیکھو میرے بعد تم ان سے کیا سلوک کرتے ہو۔ یہ دونوں چیزیں حوض پر آنے تک ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہوں گی ۔ " بیشک اللہ

-------------------

(1):-مسند امام احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 372


میرا مولا ہے اور میں ہر مومن کا ولی ہوں ۔ پھر آپ نے علی ع کا ہاتھ پکڑ کر کہا :

"من كنت وليّه فهذا وليّه أللهمّ وال من وّالاه وعادمن عاداه".

جس کا میں ولی ہوں ،یہ بھی اس کے ولی ہیں ۔ اے اللہ ! جو علی ع سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ ۔

ابو طفیل کہتے ہیں میں نے زید بن ارقم سے پوچھا : کیاتم نے خود رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ زید نے کہا : جتنے لوگ بھی وہاں درختوں کے قریب تھے ، سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا(1) ۔

حاکم نیشاپوری نے زید بن ارقم سے دو طریقوں  سےیہ روایت بیان  کی ہے اور ان دونوں طریقے  علی شرط الشیخین (بخاری ومسلم )صحیح  ہیں ۔ زیدبن ارقم نے کہا کہ : جب رسول اللہ حجۃ الوداع سے واپسی میں غدیر خم کے مقام پر اترے ،آپ نے درختوں کے جھاڑ جھنکاڑ صاف کرنے کا حکم دیا ۔ صفائی کے بعد آپ نے فرمایا کہ : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بلاوا  آگیا ہے اور میں جارہا  ہوں مگر میں تمھارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں ، ان میں ایک دوسری سے بڑی ہے ۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری عترت  یعنی اہل بیت  ع ۔ اب دیکھو تم میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو کیونکہ وہ دونوں  ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہونگی یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر پہنچ جائیں گے ۔ اس کے بعد کہا : اللہ تعالی میرا مولی ہے اور میں ہر مومن کا مولی ہوں ۔ پھر علی ع کا ہاتھ پکڑ کر کہا :

"من كنت مولاه فهذا وليّه أللهمّ وال من وّالاه وعاد من عاداه"

جس ک میں مولا ہوں ۔اس کے یہ ولی  ہیں ۔ اے خدا ! جو علی ع کو  دوست رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو علی ع سے دشمنی

--------------------

(1):- نسائی خصائص امیرالمومنین  صفحہ 21


رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ۔(1) یہ حدیث مسلم نے بھی اپنی صحیح میں اپنی سند سے زید بن ارقم ہی کے حوالے سے بیان کی ہے لیکن مختصر کرکے ۔ زید بن ارقم نے کہا:

ایک دن رسول اللہ ص نے اس تالاب کے قریب خطبہ دیا جسے خم کہا جاتا ہے اور جو مکے اور مدینے کے درمیان واقع ہے ۔ آپ نے حمد وثنا اور وعظ ونصیحت کے بعد فرمایا کہ : لوگو! میں بھی انسان ہوں ، وہ وقت قریب ہے جب میرے پروردگار کا بلاوا آجائے اور میں چلاجاؤں ۔ میں تم میں دوگراں قدر چیزیں چھوڑ رہاہوں ۔ پہلی چیز کتاب اللہ ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ۔ کتاب اللہ کا دامن پکڑلو اور اس سے چمٹے رہو ۔ آپ نے کتاب اللہ سے تعلق پر لوگوں کو اکسایا اور رغبت دلائی ۔پھر کہا : دوسرے میرے اہل بیت ع ۔میں اپنے اہل بیت ع کے بارے مین تمھیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں ، میں اپنے اہل بیت ع کے بارے مین تمھیں اللہ کو یاد لاتا ہوں میں اپنے اہل بیت ع کے بارے مین تمھیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں "۔ (آپ نے زیادہ تاکید کے لیے تین بار کہا)(2) ۔

اگر چہ امام مسلم نے واقعہ کو مختصر کرکے بیان کیا ہے اور پورا واقعہ بیان نہیں کیا لیکن بحمداللہ اتنا بھی کافی وشافی ہے ۔ اختصار شاید زید بن ارقم نے خود کیا ہے ، کیونکہ وہ سیاسی حالات کی وجہ سے "حدیث غدیر " کو چھپانے پر مجبور تھے ۔ یہ بات سیاق حدیث سے معلوم ہوتی ہے کیونکہ راوی کہتا ہے کہ میں  ،حصین بن سبرہ اور عمربن مسلم ہم تینوں زید بن ارقم کے پاس گئے ،جب ہم بیٹھ گئے تو حصین نے زید سے کہا : آپ نے بڑے اچھے دن دیکھے ہیں ، آپ نے رسول اللہ ص کو دیکھا ہے ، آپ کی باتیں سنیں ، آپ کے ساتھ غزوات میں شرکت کی ،آپ کے پیچھے نماز پڑھی ،ہمیں بھی کچھ سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ص سے سنا ہو ۔زید نے کہا : بھتیجے ! میں بڈھا ہوگیا ہوں اور

--------------------

(1):-مستدرک علی الصحیحین  جلد 3 صفحہ 109

(2):- صحیح مسلم جلد 7 صفحہ 122 باب فضائل علی بن ابی طالب ع ۔اس حدیث کو امام احمد بن حبنل ،ترمذی ۔۔۔۔نے نقل کیا ہے ۔


میری عمر زیادہ ہو گئی ۔ رسو ل اللہ ص کی بعض باتیں جو مجھے یاد تھیں ، اب بھول گیا ہوں  اس لیے میں جو کچھ سناؤں ، وہ سن لو اور جو نہ سناؤں وہ سن لو اور جو نہ سناؤں تو مجھے اس کے سنانے کی تکلیف نہ دو ، اس کے بعد کہا : ایک دن رسول اللہ ص نے ہمیں اس تالاب کے قریب خطبہ دیا ، جسے خم کہا جاتا ہے ۔ الخ ۔اس سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ حصین نے زید بن ارقم سے غدیر کے بارےمیں دریافت کیا تھا اور یہ سوال دوسرے لوگوں  کی موجودگی میں پوچھ کر زید کو مشکل میں ڈال دیا تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زید کو معلوم تھا کہ اس سوال کا صاف  جواب ایسی حکومت کے ہوتے ہوئے انھیں مشکلات میں مبتلا کرسکتا تھا ۔ جو لوگوں سے یہ کہتی ہو کہ علی بن ابی طالب ع پر لعنت کریں ۔ اسی لیے انھوں نے سائل سے معذرت کر لی تھی کہ ان کی عمر زیادہ ہوگئی ہے اور وہ بہت کچھ بھول گئے ہیں ۔ پھر انھوں نے حاضرین سے مزید کہا کہ جو کچھ میں سناؤں وہ سن لو اور جو نہ سنانا چاہوں اس کے سنانے کی تکلیف نہ دو ۔

اگر چہ خوف کے مارے زید بن ارقم نے واقعہ کو بہت مختصر کرکے بیان کیا ہے پھر بھی ، اللہ انھیں جزائے خیر دے انھوں نے بہت سے حقائق بیان کردیتے اور نام لیے بغیر " حدیث غدیر" کی طرف اشارہ بھی کردیا ۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ص نے ہمیں خطبہ دیا اس تالاب کے نزدیک جسے خم کہا جاتا ہے اور جو مکے اور مدینے کے درمیان واقع ہے ۔ اس کے بعد حضرت علی ع کی فضیلت بیان کی  اور بتلایا کہ علی ع حدیث ثقلین کی رو سے کتاب اللہ کے ساتھ شریک ہیں ، لیکن یہاں بھی علی ع کا نام نہیں لیا اور یہ لوگوں کی ذہانت پر چھوڑ دیا کہ وہ خود نتیجہ نکال لیں ۔کیونکہ یہ سب مسلمانوں کو معلوم ہے کہ علی ع ہی اہلبیت نبوّت کے سردار ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ خود امام مسلم نے بھی حدیث کا وہی مطلب سمجھا جو ہم نے سمجھا ہے کیونکہ انھوں  نے یہ حدیث باب فضائل علی بن ابی طالب ع میں بیان کی ہے حالانکہ حدیث میں علی بن ابی طالب ع کا نام تک نہیں ۔طبرانی نے صحیح سند سے معجم کبیر میں زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت بیان کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے غدیر خم میں درختوں کے نیچے


خطبہ دیا ۔آپ نے فرمایا : اب وقت آگیا ہے کہ میرا بلا آجائے اور میں چلاجاؤں ۔ میری بھی ذمہ داری ہے اور تمھاری  بھی ذمہ داری ہے ۔ اب تم کیا کہتے ہو ؟ سب نے کہا : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچایا  اور  کوشش کی اور ہمیں نصیحت کی ،اللہ  آپ کو جزائے خیر دے ۔آپ نے فرمایا " کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ص اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ جنت حق ، دوزخ حق ہے ، موت حق ہے اور موت کے بعد زندہ ہونا برحق ہے ۔قیامت ضرور آنے والی  ہے اس میں کوئی اور اللہ قبر کے مردوں کو ضرور زندہ کرےگا " حاضرین نے کہا : جی ہاں ! ہم اس کی گواہی دیتے ہیں ۔آپ نے فرمایا :" اے  اللہ تو اس کا گواہ رہنا " پھر فرمایا :" لوگو! اللہ میرا مولا ہے اور میں مومنین کا مولی ہوں  ۔ میرا ان پر خود ان سے زیادہ حق ہے ۔ پس جس کا میں مولا ہوں  اس کے یہ (علی ع)بھی مولا ہیں ۔ اے اللہ ! جو ان سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اورجو ان سے دشمنی رکھےتو بھ اس سے دشمنی رکھ"۔ پھر فرمایا :میں تم سے آگے جارہا ہوں ، تم حوض پر ضرور آؤ گے ، حوض یہاں سے لے کر صنعاء تک کے فاصلے سےچوڑا ہے ۔اس میں اتنے چاندی کے پیالے ہیں جتنے آسمان پر ستارے ، جب تم میرے پاس آؤ گے تو میں ثقلین کےبارے مین پوچھوں گا کہ تم نے میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا ۔ ثقل اکبر کتاب اللہ ہے ۔ یہ  ایک ڈوری ہے جن کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں  ہے اور ایک سرا تمھارے ہاتھ میں ۔اس لیے اسے مضبوط  پکڑے رہنا ۔ نہ گمراہی اختیار کرنا اور نہ اپنی روش بدلنا ۔ثقل اصغر میری عترات میرے اہل بیت ع ہیں ۔ خدائے لطیف وخبیر نے مجھے خبردی ہے کہ وہ دونوں ختم نہیں ہوں گے جب تک میرے پا س حوض پر نہ آجائیں ۔(1)

اسی طرح امام احمد بن حنبل نے براء بن عذاب سے دو طریقوں سے یہ روایت بیا ن کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ  ص کے ساتھ تھے ۔جب ہم غدیر پر اترے تو

--------------------

(1):- یہ روایت ابن حجر نے صواعق محرقہ میں طبرانی اور ترمذی سے نقل کی ہے ۔


موذّن کو رسول اللہ ص نے پکار کر کہا:" الصلاة جامعة " (1) رسو ل اللہ ص کے لیے درختوں کے نیچے جگہ صاف کردی گئی ۔آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر علی ع کا ہاتھ پکز کر فرمایا : کیا تمھیں معلوم نہیں کہ میرا مومنین پر خود  ان سے زیادہ حق ہے ۔سب نے کہا :جی ہاں معلوم ہے ۔ آپ نے دوبارہ دریافت کیا : کیا تمھیں معلوم نہیں کہ میرا ہر مومن پرخود اس سے زیادہ حق ہے ۔سب نے اقرارکیا تب آپ نے علی ع کا ہاتھ پکڑ کر کہا:

"من كنت مولاه فهذا علىٌّ مولاه أللهمّ وال من وّالاه وعاد من عاداه"

جس کا میں مولا ہوں ، علی ع بھی اس کے مولا ہیں ۔اے اللہ ! جو ان سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو بھی ان سے دشمنی رکھ ۔

اس کے بعد عمرجب علی ع سے ملے تو بولے : ابن ابی طالب مبارک ہو تم ہر مومن اور مومنہ کے مولا بن گئے(2) ۔

خلاصہ یہ کہ جن محدثین  کا ہم نے ذکر کیا ہے ان کے علاوہ بھی سربرآوردہ علمائے اہل سنت نے حدیث غدیر کی روایت اپن کتابوں میں بیان کی ہے ، جیسے ترمذی ،ابن ماجہ ، ابن عساکر ، ابن صبّاغ  مالکی ، ابن اثیر ،ابن مغازلی ،ابن حجر ، ابو نعیم ، سیوطی ،خوارزمی ، ہیثمی ، سلیمان قندوزی ، حموینی ،حاکم حسکانی اور امام غزالی ،امام بخاری نے یہ روایت اپنی تاریخ میں بیان کی ہے ۔

مختلف مسلک ومذاہب کے پہلی صدی سے چودھویں صدی ہجری تک کے ان علماء کی تعداد جنھوں نے اپنی کتابوں میں یہ روایت  بیان کی ہے تین سو ساتھ سے

-------------------

(1):- جب کبھی رسول اللہ ص صحابہ کرام کو کوئی اہم حکم دینا چاہتے تھے تو انھیں نماز جماعت میں شمولیت کی دعوت دیتے تھے ۔اس نماز میں حاضر ہونا ان کے لیے نماز جمعہ کی طرح فرض ہوتا تھا ۔ اس اجتماعی نماز کے لیے منادی " الصلا ۃجامعة " پکارتا تھا نیز نماز استسقاء اور نماز آیات وغیرہ میں بھی اسی شعار سے لوگوں کو جمع کیاجاتا تھا ۔(ناشر)

(2):- مسند امام احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 117۔فضائل الخمسۃ ون الصحا ح الستہ  جلد 1 صفحہ 350۔


سے اوپر ہے ۔ جو شخص مزید تحقیق کرنا چاہے وہ علامہ امینی کی کتاب الغدیر کا مطالعہ کرے(1) ۔

کیا اس پر بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ "حدیث غدیر " شیعوں کی گھڑی ہوئی ہے ؟

عجیب وغریب بات ہے یہ ہے کہ جب حدیث غدیر کا ذکر کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے اس کا نام بھی نہیں سنا ۔ اس سے بھی زیادہ  عجیب بات یہ ہے کہ اس حدیث کے بعد بھی جس کی صحت پر سب کا ن اتفاق  ہے علمائے اہل سنت  یہ دعوی کرتے ہیں کہ رسول اللہ ص نے کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا اور معاملہ شوری پر چھوڑ دیا تھا ۔

اللہ کے بندو! کیا خلافت سے متعلق اس سے بھی زیادہ صاف اور صریح کوئی حدیث ہوسکتی ہے ؟

یہاں میں اپنی اس بحث کا ذکر کروں گا جوایک  دفعہ تیونس کی جامعہ زیتونہ کے ایک عالم سے ہوئی تھی ۔ جب میں نے ان صاحب سے خلافت علی ع کے ثبوت میں حدیث غدیر کاذکر کیا تو انھوں نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا اعتراف کیا لیکن ایک پیوند لگادیا ۔ انھوں نے مجھے اپنی لکھی ہوئی قرآن کی تفسیر دکھائی ،جس میں "حدیث غدیر  کاذکر تھا اور اس کو صحیح بھی تسلیم کیا تھا ۔ لیکن اس کے بعد انھوں نے لکھا تھا :

شیعوں کا خیال  ہے کہ یہ حدیث سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت پر نص ہے لیکن اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ دعوی غلط ہے ۔کیونکہ یہ دعوی سیدنا ابو بکر صدیق ، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان ذوالنورین  کی خلافت کے منافی ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ حدیث میں جو لفظ مولی آیا ہے اس کے معنی محب ومددگار

------------------

(1):- علامہ امینی کی کتاب الغدیر گیارہ جلد وں میں ہے ۔ یہ بڑی نفیس کتاب ہے ۔اس میں مصنف نے برسوں تحقیق کے بعد غدیر سے متعلق سب مواد اہل سنت کی کتابوں سے جمع کیا ہے ۔


کے لیے جائیں ، جیسا کہ یہ لفظ ان معنوں میں قرآن کریم میں بھی آیا ہے ۔ خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین نے بھی اس لفظ کے یہی معنی سمجھے ہیں ۔ تابعین اور مسلمان علماء نے ان سے یہی معنی سیکھے ہیں اس لیے رافضی جو اس حدیث کی تاویل کرتے ہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ خلفاء کی خلافت  کو تسلیم نہیں کرتے اور صحابہ رسول ص پر لعن طعن کرتے ہیں ۔ صرف یہی بات ان کے جھوٹے اور غلط دعوؤں کے بطلان کے لیے کافی ہے ۔

میں نے ان عالم سے پوچھا ۔یہ بتلائیے کہ کیا واقعی یہ قصّہ غدیر خم میں پیش آیاتھا ؟

انھوں نے جواب دیا : اگر پیش نہ آتا تو علماء ۔اور محدثین اسے کیوں بیان کرتے ۔

میں نے کہا : کیا یہ بات رسول اللہ ص کے شایان شان ہے کہ وہ جلتی ہوئی دھوپ میں اپنے اصحاب کو جمع کرکے طویل خطبہ صرف یہ کہنے کے لیے دیں کہ علی ع تمھارا محب وناصر ہے ۔ یہ تشریح آپ کی سمجھ میں آتی ہے ؟

کہنے لگے کہ بعض صحابہ نے علی ع کی شکایت کی تھی ، ان میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو علی ع سے بغض اور اختلاف رکھتے تھے ۔ رسول اللہ ص نے اس بغض کے ازالے کے لیے فرمایا : علی ع تو تمھارا محب وناصر ہے ۔ مطلب یہ تھا کہ علی سے محبت رکھو بغض وعناد نہ رکھو ۔

میں نے کہا: اتنی سی بات کے لیے سب کو روکنے ، ان کے ساتھ نماز پڑھنے اور خطبے کو ان الفاظ سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ :کیا میرا تم پر تم سے زیادہ حق نہیں ؟ " یہ آپ نے مولا کے معنی کی وضاحت کے لیے ہی تو کہا تھا ۔ اگر جو آپ کہتے ہیں وہی صحیح ہے تویہ بھی ہوسکتا تھا کہ جن لوگوں کو علی ع سے شکایت تھی آپ ان کو بلا کر کہہ دیتے کہ علی ع تو تمھارا دوست اور مدد گار ہے ۔ بات ختم ہوجاتی ۔ایک لاکھ سے زیادہ مجمع کو دھوپ میں روکنے  کی جس میں بڈھے اور عورتیں بھی شامل تھیں ، کیا ضرورت تھی ؟ کوئی ہوشمند تویہ بات کبھی مان نہیں سکتا !


کہنے لگے : کیا کوئی ہوشمند یہ مان سکتا ہے کہ جو بات تم اور شیعہ سمجھ گئے وہ ایک لاکھ صحابہ نہ سمجھ سکے ؟

میں نےکہا : پہلی بات تو یہ ہے کہ ان میں صرف تھوڑے سے لوگ تھے جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے ۔دوسرے ،وہ بالکل  وہی سمجھے میں وار شیعہ سمجھے ہیں ۔ جب ہی تو علماء راوی  ہیں کہ ابو بکر اور عمریہ کہہ کر علی ع کو تبریک پیش کررہے تھے کہ مبارک ہو ابن ابی طالب ! اب تم ہر مومن اور مومنہ کےمولا ہوگئے ہو !کہنے لگے : پھر رسول اللہ ص کی وفات کے بعد انھوں نے علی ع کی بیعت کیوں نہیں کی ؟ کیا وہ نعوذ بااللہ  رسول اللہ ص کے حکم کی مخالفت اورحکم عدولی کررہے تھے ۔میں نے کہا : علمائے اہل سنت اپنی کتابوں میں خود تسلیم کرتے ہیں کہ بعض صحابہ تو خود آپ کی زندگی اور آپ کی موجودگی ہی  میں آپ کے حکام کی مخالفت کیا کرتے تھے ۔تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے اگر انھوں نے آپ کی وفات کےبعد آپ کے احکام پر عمل نہیں کیا ۔ پھر جب صحابہ کی اکثریت اسامہ بن زید کو امیر لشکر بنانے پر ان کی کم عمری کی وجہ سے معترض تھی حالانکہ وہ محض محدود نوعیت کی قلیل المدت مہم تھی تو وہ علی ع کا نوعمری کے باوجود مدت العمر کے لیے خلیفہ اور حکمران بنایا جانا کیسے قبول کرسکتے تھے ؟ آپ خود کہہ رہے ہیں کہ بعض صحابہ علی ع سے بغض اور کینہ رکھتے تھے ۔گھبراکر کہنے لگے :اگر علی کرّم اللہ وجہہ ورضی اللہ عنہ کو معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ص نے انھیں خلیفہ نامزد کیا ہے ، تو وہ کبھی اپنا حق نہیں چھوڑ سکتے تھے اور نہ خاموشی اختیار کرسکتے تھے ۔وہ تو اتنے دلیر اور بہادر تھے کہ سب صحابہ ان سے ڈرتے تھےمگر وہ کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے ۔میں نے کہا: حضرت ! یہ ایک الگ موضوع ہے ،میں اس میں الجھنا نہیں چاہتا کیونکہ آپ صحیح احادیث نبوی ہی کو نہیں مانتے بلکہ ناموس صحابہ کے تحفظ کے لیے ان کی تاویل کرتے اور ان کے کچھ کے کچھ معنی بیان کرتے ہیں ۔ میں ایسے میں کیسے آپ یقین دلاسکوں گا  کہ  امام علی ع نے کیوں خاموشی اختیار  کی اور خلافت پر اپنے حق کے لیے احتجاج نہیں کیا۔وہ صاحب مسکرائے اور کہا : میں تو خود سیدنا علی ع کو سب سے افضل سمجھتا ہوں اور اگر معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں صحابہ میں سے کسی کو بھی ان پر ترجیح نہ دیتا ،


کیونکہ وہ شہر علم کا دروازہ تھے ، شیر خدا تھے لیکن اللہ سبحانہ کی مشیت جس کو چاہتی ہے آگے بڑھاتی ہے اورجس کوچاہتی ہے پیچھے ہٹاتی ہے ۔" لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ " (اللہ سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ کیا کرتا ہے ہاں اللہ سب سے جواب طلب کرسکتا ہے )۔

اب مسکرانے کی میری باری تھی ۔ میں نے کہا : یہ بھی ایک دوسرا موضوع ہے اگر اس پر گفتگو شروع ہوئی تو تقدیر کی بحث چھڑجائیگی  جس پر ہم پہلے بات چیت کرچکے ہیں ۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم دونوں اپنی اپنی رائے پر قائم رہے ۔

جناب والا! مجھے تعجّب اس پر ہے کہ جب بھی میری گفتگو کسی سنی عالم سے ہوتی ہے اور میں اسے لاجواب کردیتا ہوں ،وہ فورا ایک موضوع سے دوسرے موضوع کی طرف بھاگنا شروع کردیتا ہے اور اصل بات بیچ میں ہی رہ جاتی ہے ۔وہ صاحب بولے : میں تو اپنی رائے  پر قائم  ہوں ، میں نے تو بات نہیں بدلی ۔بہر حال میں ان سے رخصت ہوکرچلا آیا اور دیر تک سوچتا رہا کہ کیا وجہ ہے کہ مجھے اپنے علماء میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملتا جو اس مٹرگشت  میں آخر تک   میرا ساتھ دے اور ہمارے یہاں کے محاورے کےمطابق دروازے کو اس کی ٹانگ پر کھڑا رکھے ۔

بعض سنی بات تو شروع کرتے ہیں لیکن جب اپنے اقوال کی دلیل پیش نہیں کرسکتے تو یہ کہہ کر بچ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں کہ:" ت ِلْکَ أمَّة قَدْ خَلَتْ لهَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَا کَسَبْتُمْ " وہ لوگ تھے جو گزرگے ۔ ان کے اعمال ان کے ساتھ ،تمھارے اعمال تمھارے ساتھ ۔

بعض لوگ کہتے ہیں :ہمیں گڑے مردے اکھیڑنے اور جھگڑے کھڑے کرنے  سے کیا؟اہم بات یہ ہے کہ شیعہ سنی دونوں ایک خدا کو مانتے ہیں ، ایک رسول کو مانتے ہیں ، انتا کافی ہے ۔

بعض تو مختصر بات کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : صحابہ کے معاملے میں خدا سے


ڈرو ۔" اب ایسے لوگوں کے ساتھ کسی علمی بحث کی گنجائش کہاں ۔ اور رجوع الی الحق کی کیا صورت ۔حق سے ہٹ کر تو گمراہی ہی ہے ۔ ان لوگوں کو اس قرآنی اسلوب کی کیا خبر ، جس میں دلیل پیش کرنے کو کہاگیا ہے ۔قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ اگر تم سچھے ہو تو اپنی دلیل لاؤ)

اکمال دین کی آیت کا تعلق بھی خلافت سے ہے

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

"الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتي‏ وَ رَضيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ ديناً "

شیعوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت امام علی ع کے خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے تقرر کے بعد غدیر خم کے مقام پر نازل ہوئی ۔یہ روایت ائمہ اہل بیت ع کی ہے ۔اور اسی پر شیعہ امامت کو اصول دین میں شمار کرتے ہیں ۔جن سنی علماء نے یہ روایت بیان کی ہے کہ یہ آیت غدیر خم میں امام علی ع کے تقرر کےبعد نازل ہوئی ، ان کی تعداد تو بہت ہے ۔ ہم مثال کے طور پر چند ناموں کا  تذکرہ کرتے ہیں :

1:- ابن مغازلی شافعی مناقب علی بن ابی طالب ع صفحہ 19 ۔متوفی سنہ 483ھ۔

2:- خطیب بغدادی ،تاریخ بغداد جلد 8 صفحہ 592 ۔ متوفی سنہ 463ھ۔3:- ابن عساکر  ،تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 75۔

4:- حافظ سیوطی  ،تفسیر ،الاتقان  جلد 1 صفحہ 13۔5:-حافظ سیوطی، تفسیر الدر المنثور جلد 3صفحہ 19۔

6:- خوارزمی حنفی ۔مناقب امیر المومنین صفحہ 80 متوفی سنہ 568ھ۔

7:- سبط ابن جوزی تذکرۃ الخواص صفحہ 30 متوفی سنہ 654۔

8:- حافظ ابن کثیر   تفسیر القران العظیم جلد 2 صفحہ 14 متوفی سنہ 774ھ۔9:- حافظ ابن کثیر البدایہ والنہایہ جلد 3 صفحہ 312۔

10:- آلوسی ،تفسیر روح المعانی جلد 6 صفحہ 55


11:-حافظ قندوزی حنفی ینابیع المودۃ صفحہ 115۔12:- حافظ حسکانی حنفی تفسیر شواھد التنزیل جلد 1 صفحہ 157 متوفی سنہ 490 ھ۔

اس سبب کےباوجود علمائے اہل سنت نے "عظمت صحابہ" کے پیش نظر یہ ضروری سمجھا ہے کہ اس آیت کا نزول کسی اور موقع پر دکھایا  جائے ۔ کیونکہ اگر علمائے اہل سنت یہ تسلیم کرلیتے  ہیں کہ کہ یہ آیت غدیر خم میں نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انھوں نے ضمنی طور پر اس کا بھی اعتراف کرلیا کہ علی بن ابی طالب ع کی ولایت ہی وہ چیز تھی جس سے اللہ تعالی نے دین کو کامل کیا اور مسلمانوں پر اپنی نعمت تمام کی ۔ اعتراف کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت علی ع سےپہلے تین خلفاء کی خلافت ہوا بن کر اڑجائے گی ، صحابہ کی عدالت کی بنیاد ہل جائے گی ۔دبستان  خلافت منہدم ہوجائیگا اور بہت سی احادیث اس طرح پگھل جائیں گی جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔ اصحاب مذاہب غبار بن کر اڑجائیں گے ، بہت سے راز افشا ہوں گے اور عیب کھل جائیں گے ۔ لیکن یہ ہونا ناممکن ہے کیونکہ معاملہ ایک بہت بڑے گروہ کے عقیدے کا ہے جس کی اپنی تاریخ ہے ، اپنے علماء ہیں اور اپنے سربرآوردہ حضرات ہیں اس لیے ممکن نہیں کہ ہو بخاری  ومسلم جیسے لوگوں کی تکذیب کریں جن کی روایت  کے مطابق یہ آیت عرفہ کی شام کو جمعہ  کے دن نازل  ہوئی ۔اس طرح پہلی روایات  محض شیعوں کی خرافات  بن جاتی ہیں  جن کی کوئی بنیاد نہیں اور شیعوں کو مطعون کرنا صحابہ کو مطعون کرنے سے بہتر بن جاتا ہے ،کیونکہ صحابہ تو معصوم عن الخطا ہیں(1) ۔ اور کسی کو یہ حق نہیں کہ ان کے افعال واقوال پر نکتہ چینی کرے ۔ رہے شیعہ ! وہ تو مجوسی ہیں ، کافر ہیں ، زندیق ہیں ، ملحد ہیں ، ان کے مذہب کا بانی عبداللہ بن سبا ہے ،(2) جو یہودی تھا اور اسلام اور مسلمانوں

--------------------

(1):- اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، جس کی بھی اقتداکروگے ہدایت پاوگے۔

(2):- عبداللہ بن سبا کا کوئی وجود نہیں ۔ دیکھیے کتاب عبداللہ بن سبا مولفہ علامہ مرتضی عسکری ،کتاب الفتنۃ الکبری  مولفہ حسین اور کتاب الصلۃ بین التصوف والتشیع مولفہ ڈاکٹر مصطفی کا مل شیبی ۔آخر الذکر کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن سبا سیدنا عمار یاسر کو کہا گیا ہے ،دل چاہے تو کتاب کا مطالعہ کیجئے ۔!


کے خلاف سازش کے مقصد سے حضرت عثمان کے عہد میں مسلمان ہوگیا تھا ۔ اس طرحی کی باتیں کرکے ان کو دھوکا  دینا آسان ہے جن کی بچپن سے تربیت ہی " تقدس صحابہ" کے  ماحول  میں ہوتی ہو ۔ (خواہ کسی صحابی نے رسول اللہ  کو صرف ایک دفعہ ہی دیکھا ہو ) ۔ ہم کیسے لوگوں کو یقین دلائیں کہ شیعہ روایات محض شیعوں کی خرافات نہیں ، بلکہ ائمہ اثناعشرکی احادیث ہیں جن کی امامت نصّ رسول ص سے ثابت ہے ۔ بات یہ ہے کہ قرن اول کی حکومتوں نے امام علی ع اور ان کی اولاد کے خلاف امت میں نفرت پھیلائی ،یہاں تک کہ ان پر منبروں سے لعنت کی گئی اور "شیعان علی" کو قتل کیاگیا اور ان کے گھروں سےنکال دیا گیا ۔ شیعوں کے خلاف  نفرت پھیلانے کے لیے ڈس انفارمیشن سیل قائم کیا گیا اور طرح طرح کی  افواہیں پھیلائی گئیں ۔شیعوں سے بے بنیاد قصے اور غلط عقائد منسوب کیے گئے ۔ آج کل کی اصطلاح میں اس وقت شیعہ " حزب مخالف " تھے ، اس لیے  اس وقت کی حکومت شیعوں کو ختم کرنے والا الگ تھلگ کرنے میں کوشاں تھیں ۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانے کے مصنفین اور مورخین بھی شیعوں کو رافضی کہتے ہیں ،ان کی تکفیر کرتے ہیں اور حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے شیعوں کا خون کرنا حلال قراردیتے ہیں ۔

جب اموی حکومت ختم ہوگئی اور عباسی حکومت برسراقتدار آئی تو بعض مورخین اپنی ڈگر  پر چلتے رہے جبکہ بعض نے اہل بیت ع کی حقیقت کو  پہچانا(1) اور انصاف  کرنے کی کوشش کی ۔ نتیجہ  یہ ہوا کہ علی ع کا شمان بھی خلفائے راشدین " میں کرلیا گیا لیکن  کسی کو یہ اعلان کرنے کی جراءت نہیں ہوئی کہ خلافت پر سب سے زیادہ حق علی ع کا تھا ۔

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اہل سنت کی صحاح میں بہت ہی کم فضائل علی ع

-------------------

(1):- وجہ یہ ہے کہ اہل بیت ع نے اپنے اخلاق ، اپنے علوم ، اپنے  زہد وتقوی اور اپنی ان کرامات سے جو اللہ نے ان کو عطا کی تھیں ، اپنے آپ کو منوالیا تھا ۔


کی روایات آئی ہیں اور جو آئی ہیں وہ بھی صرف وہی ہیں جو علی ع سے پہلے کے خلفاء کی خلافت سے کسی طرح متصادم نہیں ہیں ۔ بعض نے تو کثیر تعداد میں ایسی روایات وضع کی ہیں جن میں  خود علی ع کی زبان  سے ابو بکر ،عمر ،عثمان کے فضائل بیان  کیے گئے ہیں مقصد یہ کہ بزعم خویش کوشش یہ کی گئی  ہے کہ شیعوں  کا راستہ بند کردیا جائے جو علی ع کی افضلیت کے قائل ہیں ۔

اپنی تحقیق کے دوران مجھ پر یہ بھی انکشاف ہو ا کہ لوگوں کی شہرت اور عظمت کا اندازہ اس سے لگا یا جاتا تھا کہ وہ علی ابن ابی طالب ع کے ساتھ کس قدر بغض رکھتے ہیں ۔ امویوں اور عباسیوں کی سرکار میں وہی مقرب تھے اور ان ہی کو بڑھایا جاتا  تھا جنھوں نے امام علی ع کے خلاف یا تو جنگ کی تھی ۔ یا تلوار یا زبان سے ان کی مخالفت  کی تھی ۔ چنانچہ بعض صحابہ کا درجہ بڑھایا جاتا تھا ، بعض کاگھٹایا جاتا تھا ۔بعض شعراء پر انعام واکرام کی بارش ہوتی تھی اور بعض کو قتل کرادیا جاتا تھا ۔ شاید ام المومنین  عائشہ کی بھی یہ قدرومنزلت نہ ہوتی اگرانھیں علی ع سے بغض نہ ہوتا اور انھوں نے علی ع کے خلاف "جنگ جمل " نہ لڑی ہوتی ۔اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ عباسیوں نے بخاری ،مسلم اور امام مالک کو شہرت دی کیونکہ انھوں نے اپنی کتابوں میں فضائل علی ع کی احادیث بہت کم نقل کی ہیں بلکہ ان کتابوں میں تویہ تصریح بھی ہے کہ علی بن ابی طالب ع کو کوئی فضیلت اور فوقیت حاصل ہی نہیں تھی ۔ بخاری نے تو اپنی صحیح میں ابن عمر سے روایت نقل کی ہے کہ : رسول اللہ ص کے زمانے میں ہم ابو بکر کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے ، پھر عمر کا درجہ تھا پھر عثمان کا ، پھر باقی صحابہ میں ہم کسی کو دوسروں پر فوقیت نہیں دیتے تھے ۔(1) گویا بخاری

--------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 191 اور صفحہ 201 ۔باب مناقب عثمان ۔

بخاری نے جلد 4 صفحہ 195 پر حضرت علی ع کے فرزند محمد بن حنفیہ سے ایک روایت منسوب کی ہے کہ انھوں نے کہا : میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ رسول اللہ ص کےبعد سب سے بہترین شخص کون ہے ؟انھوں نے کہا : ابو بکر ۔ میں نے پوچھا : ان کے بعد کہا : عمر ۔میں ڈرا کہ کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ ان کے بعد عثمان ۔ اسی لیے میں نے کہا ان کے بعد آپ کہا یمں تو فقط ایک مسلمان ہوں ۔


کے نزدیک علی ع بھی دوسرے عام لوگوں کے برابر تھے ۔(پڑھیے اور سردھنیے !)

اسی طرح امت مسلمہ میں اور بھی فرقے ہیں جیسے  معتزلہ  اورخوارج وغیرہ ۔ یہ بھی وہ نہیں کہتے  جو شیعہ کہتے ہیں ۔کیونکہ علی اور اولاد علی ع کی امامت کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے خلافت  تک  پہنچنے ، عوام کی گردنوں پر سوار ہونے اور ان کی قسمت اور املاک سے کھیلنے کا راستہ مسدود ہوگیا تھا ۔ بنی امیہ اوربنی عباس نے عہد صحابہ وتابعین میں  کیا گل نہیں کھلائے  اور آج تک حکمراں کیا نہیں کرتے آرہے ہیں ؟ اسی لیے حکمرانوں کوخواہ وہ وراثت کے ذریعے اقتدار تک پہنچے ہوں جیسے بادشاہ ، خواہ وہ صدور ہوں جنھیں ان کی قوم نے منتخب کیا ہوا ۔ انھیں خلافت اہل بیت ع کا عقیدہ ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ اسےTHEORACY یا ملاؤں  کی حکومت  کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں جس کا شیعوں کے علاوہ کوئی قائل نہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ شیعہ اپنی حماقت سے مہدی منتظر کی امامت کےبھی قائل ہیں ، جو عنقریب زمین  کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھردیں گے جیسے وہ ظلم وجور سے بھری ہوئی ہے ۔

اب ہم دوبارہ سکون اور غیر جانبداری کے ساتھ فریقین کے اقوال پر غور کرتے ہیں کہ تاکہ یہ تصفیہ ہوسکے کہ آیت اکمال کسی موقع پر نازل ہوئی تھی ۔ اور اس کی شان نزول کیا ہے  تاکہ حق واضح ہوجائے اور ہم اس کی پروا کیے بغیر کہ کون خوش ہوتا ہے اور کون ناراض  حق کا اتباع کرسکیں ۔ اصل اور سب سے ضروری بات رضائے الہی کا  حصول ہے تاکہ اس کے عذاب سے اس دن بچ سکیں جب نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد ۔ کام آئے گا تو قلب سلیم ۔

یہ دعوی کہ آیت اکمال عرفہ کے دن نازل ہوئی ۔

صحیح بخاری میں طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ کچھ یہودی کہتے تھے کہ اگر آیت ہماری قوم پر نازل ہوئی ہوتی تم ہم اس دن کو اپنی عید بنالیتے ۔عمر نے پوچھا کون سی آیت ان لوگوں نے کہا "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ " الخ(1)

--------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 5 صفحہ 127


عمر نے کہا : میں خوب جانتا ہوں کہ یہ آیت کہاں نازل ہوئی تھی ۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ ص عرفہ کے دن وقوف فرمارہے تھے "۔

ابن جریر نے عیسی بن حارثہ انھاری  سےروایت کی ہے کہ ہم دیوان میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عیسائی نے  ہم سے کہا :" تم پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے کہ اگر ہم پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن اور اس ساعت کو عید بنالیتے اور جب تک کوئی دوعیسائی بھی باقی رہتے ہمیشہ عید منایا کرتے ۔یہ آیت" الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ " ہے ۔ ہم میں سے کسی نے اسے کوئی جواب نہیں دیا بعد میں  جب محمد بن کعب قرطنی سے ملا تو ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا انھوں نے کہا :" کیا تم نے عیسائیوں کی بات کوجواب نہیں دیا"؟ پھر اسی سلسلے میں کہا کہ عمر بن خطّاب کہتے تھے کہ جب یہ آیت رسول اللہ ص پر اتری وہ عرفہ کے دن جبل عرفات پر کھڑے ہوئے تھے ۔یہ دن مسلمانوں کی عید رہیگا ہی جب تک کوئی ایک مسلمان باقی ہے(1) ۔

راوی کہتا ہے کہ "ہم میں سے کسی نے اسے جواب نہیں دیا " اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ نہ کسی کو وہ تاریخ یاد تھی کہ جس تاریخ کو یہ آیت اتری اور نہ اس دن کی عظمت سے واقف تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ راوی کو خود بھی اس پر حیرت ہوئی تھی کہ کیا بات ہے کہ مسلمان ایسے اہم دن کو نہیں مناتے ۔اسی لیے وہ جاکر محمد بن کعب قرطنی سے ملتا ہے اور ان سے دریافت کرتا ہے ۔محمد بن کعب قرطنی اسے بتلاتے ہیں کہ  عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ " یہ آیت اس وقت اتری جب عرفہ کے دن رسو ل الل ص جبل عرفات پر کھڑے تھے " تو اگر وہ دن بطور عید کے مسلمانوں میں معروف ہوتا تو راوی حضرات خواہ وہ صحابہ میں سے تھے یا تابعین میں سے اس سے ناواقف کیوں ہوتے ۔ ان کے نزدیک مسلّم اور مشہور بات یہی تھی کہ مسلمانوں کی عیدیں دو ہیں : ایک عید الفطر اور دوسری عید الاضحی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ  بخاری ومسلم جیسے علماء اور محدثین نے بھی اپنی کتابوں میں

--------------------

(1):- سیوطی ۔ درّ منثور جلد 3 صفحہ 18


"کتاب العيدين  صلاة العيدين اورخطبة العيدين " وغیرہ  کے عنوان باندھے ہیں ۔ خاص وعام کے نزدیک مسلّمہ امر یہی ہے کہ تیسری عید کا وجود نہیں ۔اس لیے یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ یوم عرفہ ان کے نزدیک عید نہیں ہے ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ان روایات سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اس کا علم نہیں تھا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی اور وہ اس دن کو نہیں مناتے تھے اس لیے ایک دفعہ یہودیوں کو اور دوسری دفعہ عیسائیوں کویہ خیال آیا کہ وہ مسلمانوں سے کہیں کہ اگر یہ آیت ہمارے یہاں نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن کو عید قراردیتے ۔ اس پر عمر بن خطاب نے پوچھا کہ کونسی آیت ؟ جب ان کو بتایا گیا کہ  "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ " والی آیت تو انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کہاں نازل ہوئی ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ص عرفہ کے دن میدان عرفات میں تھے ۔ہمیں اس روایت میں مغالطہ دینے کی بو آتی ہے ۔ کیونکہ جن لوگوں نے امام بخاری کے زمانے میں عمر بن خطاب کی زبانی یہ روایت وضع کی وہ یہودو نصاری کی اس رائے  کے درمیان کہ ایسے عظیم دن کو عید کی طرح منانا چاہیے اور اپنے اس عمل کے درمیان کہ انھیں اس آیت کے نزول کی  تاریخ بھی معلوم نہیں تھی ، ہم آہنگی پیدا  کرنا چاہتے تھے ۔ ان کے یہاں دو ہی عیدیں تھی ۔: پہلی عید الفطر جو ماہ رمضان کے اختتام پر یکم شوال کو ہوتی ہے اور دوسری عید الاضحی جو دہم ذوالحجہ کو ہوتی ہے ۔

یہاں یہ کہنا کافی ہے کہ حجاج  بیت اللہ الحرام  اس وقت تک احرام نہیں کھولتے جب تک جمرہ عقبہ کی رمی  ، قربانی ، اور سرمنڈانے کے بعد طواف افاضہ نہ کرلیں ۔ اور یہ سب کا م دس ذی الحجہ کو ہوتے ہیں ۔ دس تاریخ ہی کو وہ عید کی ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں ۔ حج میں احرام  ایسا ہی ہے جیسے رمضان ،جس میں روزہ دار پر متعدد چیزیں حرام ہوجاتی ہیں اور وہ چیزیں عید الفطر ہی سے حلال ہوتی ہیں ۔ اسی طرح حج میں محرم دس ذی الحجہ کو طواف افاضہ کے بعد ہی احرام کھولتا ہے اور اس سے پہلے اس کے لیے جماع ، خوشبو ،زینت سلے ہوئے کپڑے ،شکار اور ناخن اور بال کاٹنے میں سے کوئی حلال نہیں ہوتی ۔

اس سے معلوم ہوا کہ یوم عرفہ جو ذی الحجہ کی نویں تاریخ ہے ، عید کادن نہیں ۔


ہے ۔عید کا دن دسویں ذی الحجہ ہے اور اسی دن مسلمان ساری  دنیا میں عیدمناتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ قول کہ آیت اکمال عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی ناقابل فہم اورناقابل تسلیم ہے ۔ظن غالب یہ ہے کہ جو لوگ خلافت میں شوری کے اصول کے بانی اور اس نظریہ کے قائل تھے ، انھوں نے ہی اس آیت کے نزول کی تاریخ بھی بدل دی جو دراصل غدیر خم میں امام علی ع کی ولایت کے اعلان کے فورا بعد تھی ، اس تاریخ کو یوم عرفہ سے بدل  دینا آسان تھا ،کیونکہ غدیر کے دن بھی ایک لاکھ یا اس سے  کچھ اوپر حاجی ایک جگہ جمع ہوئے تھے ۔

یوم عرفہ اور یوم غدیر  میں ایک خاص مناسبت ہے کیونکہ حجۃ الوداع کے زمانے میں ان ہی دو موقعوں پر اتنے حاجی ایک جگہ جمع ہوئے تھے ۔ یہ تو معلوم ہی ہے کہ ایام حج میں حاجی متفرق طور پر ادھر ادھر رہتے ہیں ، صرف عرفہ ہی کا دن ایسا ہوتا ہے کہ جب حاجی ایک جگہ جمع ہوتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی  ہو کہتے  ہیں کہ یہ رسول اللہ ص کے اس مشہور خطبے  کے فورا بعد نازل ہوئی جسے محدثین نے خطبۃ الحجۃ الوداع کے عنوان سے نقل کیا ہے ۔ یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ اس آیت کے نزول  کی تاریخ خود عمر ہی نے یوم عرفہ قراردی ہو کیونکہ خلافت علی ع کے سب سے بڑے مخالف وہی تھے اور انھوں نے ہی سقیفہ میں ابو بکر  کی بیعت کی بنیاد قائم  کی تھی ۔

اس خیال کی صحت کی تائید  اس روایت سے ہوتی  ہے جو ابن جریر نے قبیصہ بن ابی ذؤیب  سے روایت کی ہے ۔ قبیصہ کہتے ہیں کہ کعب نے کہا تھا کہ اگر یہ آیت کسی اور امت پر نازل ہوئی ہوتی تو وہ اس دن کو جب یہ نازل ہوئی تھی یادرکھتے اور عید قراردے لیتے اور اس دن سب جمع  ہوا کرتے ۔ عمر نے سنا تو کعب سے پوچھا : کون سی آیت ؟ کعب نے کہا :"الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ " عمر نے کہا: مجھے معلوم ہے ، یہ آیت کب نازل ہوئی تھی اور وہ جگہ بھی معلوم ہے جہاں یہ نازل ہوئی تھی ۔ یہ جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی اور اس دن عرفہ تھا ۔ یہ


دونوں دن اللہ کے فضل سے ہمارے لیے عید ہیں ۔(1)

دوسری بات یہ ہے کہ یہ کہنا کہ آیہ اکمال عرفہ کے دن نازل ہوئی  ، آیہ تبلیغ" يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ " کے منافی ہے ۔آیہ  تبلیغ میں رسول اللہ ص  کو ایک اہم پیغام پہنچانے  کا حکم دیا گیا جس کے بغیر کار رسالت مکمل نہیں ہوسکتا ۔اس آیت کے بارے میں بحث گزرچکی  اوربتایا جاچکا کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے بعد مکے اور مدینے کے درمیان راستے میں نازل  ہوئی تھی ۔ یہ روایت ایک سو بیس سے زیادہ  صحابہ اور تین سوساٹھ سے زیادہ علمائے اہل سنت نے بیان کی ہے ، پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی  نے دین کو مکمل اورنعمت کو تمام تو کردیا ہو بروز عرفہ اور پھر ایک ہفتے کے بعد اپنے نبی کو جب وہ مدینے جارہے تھے کسی ایسی اہم بات کو پہنچادینے کا حکم دیا ہو جس کے بغیر رسالت ناتمام رہتی ہو ۔اسے ارباب عقل ودانش ذرا سوچو یہ بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے !؟

تیسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی جویائے تحقیق اس خطبے کو جو رسول اللہ ص نے عرفہ کے دن دیا ، غور سے دیکھے گا تو اسے اس خطبے میں کوئی نئی چیز نہیں ملے گی ، جس سے مسلمان  اس سے بیشتر  ناواقف تھے اور جس کے متعلق خیال کیا جاسکے  کہ اس سے اللہ نے دین کو کامل اور نعمت کو تمام کردیا ۔ اس خطبے میں وہی نصحیتیں ہیں جن کو قرآن  کریم یا رسول اللہ ص مختلف موقعوں پر پہلے بھی بیان کرچکے تھے اور عرفہ کے دن ان پر مزید زوردیاگیا تھا ۔ اس خطبے میں جو کچھ آیا ہے اور جسے راویوں نے محفوظ کیا ہے ، وہ حسب ذیل ہے :

۔ اللہ نے تمھاری جانوں  اور تمھارے اموال کو اسی طرح محترم قراردیا ہے جیسا کہ اس مہینے اور آج کے دن کو ۔

۔ اللہ سے ڈرو! لوگوں کو ان کے واجبات ادا کرنے میں کوتاہی نہ کرو اور زمین  میں  ازراہ شرارت فساد نہ پھیلاؤ ۔ جس کے پاس امانت ہو ، وہ صاحب  امانت کو لوٹا دے ۔

--------------------

(1):- سیوطی ۔ تفسیر درمنثور آیت" الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ " کی تفسیر میں ۔


۔ اسلام میں سب برابر ہیں ۔ عربی کو عجمی پر بجز تقوی کے کوئی فضیلت نہیں ۔

۔ جاہلیت میں جو خون ہوا اب وہ میرے پاؤں تلے اور جاہلیت کا جو سود تھا وہ بھی میرے پاؤں تلے (یعنی زمانہ جاہلیت میں جو خون ہوا اس کا انتقام نہیں لیا جائے گا  اور جو قرض دیا گیا ہے اس پر سود کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا)۔

۔ لوگو! لوند(1) کا رواج کفر کو بڑھانا ہے ۔آج زمانہ پھر وہیں پہنچ گیا ہے جہاں سے چلا تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا ۔

۔ اللہ کے نزدیک ،اس کی کتاب میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے جن میں سے چار حرام ہیں ۔

۔ میں تمھیں نصیحت کرتاہوں  کہ عورتوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا ۔ تم نے  ان کو اللہ کی امانت کے پر لیا ہے ۔ اور تم نے کتاب اللہ کے حکم کے مطابق ان کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کی ہیں ۔

۔ میں تمھیں تمھارے مملوک غلام ، باندیوں کے بارے میں نصیحت کرتاہوں ، جو خود کھاؤ اسی میں سے ان کو کھلاؤ اور جو پہنو اسی میں سے ان کو پہناؤ ۔

۔ مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے ۔اسے دھوکانہ دے ، اس سے دغانہ کرے ، اس کی غیبت نہ کرے ۔ کسی مسلمان  کا خون اور اس کے مال میں سے کچھ بھی دوسرے مسلمان کے لیے حلال نہیں ۔

۔ آج کے بعد شیطان  اس سے ناامید ہوگیا ہے کہ اس کی پوجا کی جائے گی ، لیکن اپنے دوسرے معاملات میں جنھیں تم معمولی سمجھتے ہو اس کی بات

--------------------

(1):-خدا کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے ۔ ان میں سے چار مہینوں : ذی القعدہ ، ذی الحجہ ،محرم اور رجب کو خدا نے حرام قرار دیا ہے ۔ لیکن جو قبیلے ان حرام مہینوں میں جنگ کرنا چاہتے تھے کعبہ کے متولی ان سے پیسے لےکرحرام مہینوں کو بدل دیتے تھے ۔ وہ ان مہینوں کی جگہ دوسرے مہینوں کو حرام قراردیتے تھے (ناشر)


مانی جائے گی  ۔

۔ اللہ کا بدترین دشمن وہ ہے جو اس کو قتل کرے جس نے اسے قتل نہ کیا ہو اور اسے مارے جس نے اسے مارانہ ہو ۔جس نے آقا کا کفران کیا اس نے گویا جو اللہ نے محمد ص پر اتارا ہے اس کو ماننے سے انکار کیا ۔جس نے اپنے باپ کو چھوڑ کر کسی اور اسے اپنے آپ کو منسوب کی تو اس پر لعنت اللہ کی  فرشتوں کی اور سب انسانوں کی ۔

۔ مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ یہ نہ کہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ نہ تسلیم کریں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اگر وہ یہ کہہ دیں  تو میری طرف سے ان کی جان  اور ان کا مال محفوظ ہوں گے سوائے اس کے کہ جو اللہ کے قانون  کے مطابق ہو ۔ اور ان کا فیصلہ اللہ پر ہے ۔

۔ میرے بعد دوبارہ کافر اور گمراہ نہ ہوجانا ۔ایسا نہ ہو کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

یہ ہے وہ سب کچھ جو حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ عرفہ میں کہا گیا تھا ۔ میں نے اس کے مختلف ٹکڑے تمام قابل اعتماد مآخذ سے جمع کیے ہیں تاکہ کچھ چھوٹ نہ جائے میں نے رسول اللہ ص  کی وہ سب ہدایات جن کا محدثین نے ذکر کیا ہے جوں کی توں نقل  کردی ہیں ۔ اب دیکھئے ! کیا ان میں صحابہ کے لیے کوئی نئی بات ہے ؟ بالکل نہیں ۔ کیونکہ جو کچھ اس خطبے میں ہے ۔وہ قرآن وسنت میں پہلے ہی مذکور ہے ۔ رسول اللہ ص کی  پوری عمروحی کے مطابق ہر چھوٹی بڑی بات کی تعلیم لوگوں کودیتے گزری تھی ۔ ان ہدایات کے بعد جن کو مسلمان پہلے سے جانتے تھے ، آیہ اکمال الدین  کے نزول کی کوئی وجہ نہیں تھی ۔ ان ہدایات کا اعادہ تو محض تاکید کے لیے تھا  کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمان اتنی بڑی تعداد میں رسول اللہ ص  کی خدمت میں جمع ہوئے تھے ۔ رسول اللہ ص نے حج کے لیے نکلنے  سے پہلے ان کو بتلا دیا تھا کہ یہ حجۃ الوداع ہے ۔ اس لیے آنحضرت کے لیے ضروری تھا کہ وہ یہ ہدایات سب مسلمانوں کو سنادیں ۔

لیکن اگر ہم دوسرے قول کو قبول  کرلیں جس کے مطابق یہ آیت  غدیر خم کے


دن اس وقت نازل ہوئی جب امام علی ع کو خلیفہ رسول اور امیرا المومنین مقرر کردیا گیا تو اس صورت میں معنی بالکل صحیح ہوجاتے ہیں کیونکہ اس کا فیصلہ کہ رسول اللہ ص کے بعد ان کا خلیفہ  اور جانشین کون ہوگا ،  نہایت اہم معاملہ تھا اور یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو یوں ہی  چھوڑ دے ۔ اور نہ یہ رسول اللہ ص کی شان کے مناسب تھا کہ وہ کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کیے بغیر دنیا سے چلے جائیں  اور اپنی امت کو بغیر کسی نگران کے چھوڑ جائیں جب کہ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی آپ مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے ، کسی صحابی کو اپنا جانشین مقرر کرکے جاتے تھے ۔پھر ہم یہ کیسے مان لیں کہ آپ رفیق اعلی سے جاملے اور آپ نے خلافت کے بارے میں کچھ سوچا ؟

جب کہ ہمارے زمانے میں بے دین بھی اس قاعدے  کو تسلیم کرتے ہیں اور سربراہ مملکت کاجانشین اس کی زندگی ہی میں مقررکردیتے ہیں تاکہ حکومت  کا انتقام  چلتا رہے اور لوگ ایک دن بھی سربراہ کے بغیر نہ رہیں ۔

پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ دین اسلام جو سب ادیان میں کامل ترین اور سب سے جامع ہے ۔جس  پر اللہ تعالی نے تمام شریعتوں  کوختم کیا ہے اور جس سے زیادہ ترقی یافتہ ، جس سے کا مل تر ، جس سے عظیم تر اور جس سے خوب تر کوئی دین نہیں ہے ، اتنے اہم معاملے کی  طرف توجہ نہ دے ،

ہم یہ پہلے دیکھ چکے ہیں کہ حضرت عائشہ ، ابن عمر اور ان سے پہلے خود ابوبکر اور عمر بھی یہ محسوس کرچکے تھے کہ فتنہ وفساد کو روکنے کے لیے خلیفہ کا تعین ضروری  ہے ۔ اسی مصلحت کی وجہ سے ان کے بعد آنے والے سب خلفاء بھی اپنا جانشین مقرر کرتے رہے ۔ پھر یہ مصلحت اللہ اور اس کے رسول  ص سے کیسے پوشیدہ رہ سکتی تھی ؟؟؟

اسی کے مطابق یہ قول ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول  کو جب وہ حجۃ الوداع سے واپس آرہے تھے ، آیہ تبلیغ  کے ذریعے  وحی بھیجی تھی کہ علی ع کو اپنا خلیفہ مقرر کردیں  :" يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ " الخ

اس سے معلوم ہوا  ،دین کی تکمیل امامت یعنی ولایت پر موقوف ہے جو


عقلاء کے نزدیک ایک ضروری چیز  ہے ۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علی وآلہ وسلم کو لوگوں  کی مخالفت یا تکذیب کا اندیشہ تھا ۔ چنانچہ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

" جبرئیل نے مجھے میرے پروردگار کا یہ حکم پہنچایا  ہے کہ میں اس مجمع میں کھڑے ہوکر گورے کالے کے سامنے یہ اعلان کردوں کہ علی بن ابی طالب ع میرے بھائی ، میرے وصی اور میرے خلیفہ ہیں اور وہی میرے بعد امت  کے امام ہوں گے چونکہ میں جانتا  تھا کہ متقی کم اور موذی زیادہ  ہیں اور لوگ مجھ پر نکتہ چینی بھی کرتے تھے کہ میں زیادہ  وقت علی ع کے ساتھ گزارتا ہوں اور ان ک و پسند کرتاہوں  اور اسی وجہ سے انھوں نے میرا نام " اذن" (کانوں کا  کچا) رکھ دیا  تھا ۔قرآن شریف  میں ہے ۔" وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيِقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ " (سورہ توبہ ۔ آیت 61) اگر چاہوں تو میں ان لوگوں کے نام بھی بتلاسکتا ہوں ۔ مگر میں نے اپنی فرخدلی سے ان کے ناموں پر پردہ ڈال رکھا ہے ۔ ان وجو ہ سے میں نے جبرئیل  سے کہا کہ میرے پروردگار سے کہہ دیں  کہ مجھے اس فرض کی بجاآوری سے معافی دیدے مگر اللہ نے میری معذرت قبول نہ  کی اور کہا کہ یہ پیغام  پہنچانا ضروری  ہے ۔ پس لوگو سنو! اللہ تعالی  نے تمھارا ایک ولی اور امام مقررکردیا  ہے اور اس کی اطاعت تم میں  سے ہر ایک پر فرض کردی ہے ۔۔۔۔۔۔(1)۔

جب یہ آیت نازل ہوئی کہ" وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ " تو آنحضرت  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغیر کسی تاخیر کے اسی وقت اپنے پروردگار  کے حکم  کی تعمیل

--------------------

(1):- یہ مکمل خطبہ طبری نے کتاب الولایہ میں نقل کیا ہے ۔سیوطی نے بھی اسے تفسیر درمنثور جلد دوم میں ملتے جلتے الفاظ میں نقل کیا ہے ۔


کی اور اپنے بعد علی ع کو خلیفہ مقرر کردیا ۔آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ علی علیہ السلام کو امیر المومنین  مقرر ہونے پر مبارک باد دیں ۔ چنانچہ سب نے انھیں تبریک پیش کی ۔اس کے بعدیہ آیت نازل ہوئی : " الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ " الخ ۔یہی نہیں ، بعض علمائے اہل سنت خود اعتراف کرتے  ہیں کہ آیہ تبلیغ امام علی ع کی امامت کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے ۔ چنانچہ انھوں نے ابن مردویہ سے روایت کی ہے ۔ ابن مردویہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ ص کے زمانے میں اس آیت کو اس طرح پڑھا کرتے تھے ۔:

يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ " (1) ۔

اس کے ساتھ اگر ہم ان شیعہ روایات کا بھی اضافہ کردیں  جو ہو ائمہ اہلبیت ع سے روایت کرتے ہیں تو یہ واضح ہوجائے گا کہ اللہ تعالی  نے اپنے دین  کو امامت سے مکمل کیا اور یہی وجہ ہے کہ شیعوں کے نزدیک  امامت اصول دین میں شامل  ہے ۔ علی ابن ابی طالب ع کی امامت سے ہی اللہ نے اپنی نعمت مسلمانوں پر تمام کی تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی ان کی خبر گیری کرنے والا نہ ہو اور وہ خواہشات کی آماجگاہ بن جائیں ، فتنے ان میں تفرقہ ڈالدیں اور وہ بھیڑوں کا ایسا گلہ رہ جاتیں جن کا کوئی رکھوالا اور چرواہا نہ ہو ۔

اللہ نے اسلام  کو بطور دین کے پسند کرلیا ، کیونکہ اس نے ان کے لیے ایسے ائمہ کو منتخب  کیا جو ہر برائی اور گندگی سے پاک  تھے ۔ اس نے ان اماموں  کو حکمت ودانائی عطاکی اور انھیں کتاب اللہ کے علم کا وارث بنایا تاکہ وہ خاتم  المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی بن سکیں ۔ اس لیے مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے حکم اور اس کے فیصلے پر راضی رہیں اور اس کی مرضی کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ۔ اس لیے کہ اسلام کا عام مفہوم ہی اللہ کے ہر حکم کو تسلیم کرنا

--------------------

(1):- شوکانی  ، تفسیر فتح الباری القدیر جلد 3 صفحہ 57 ۔سیوطی ، تفسیر درمنثور جلد 2 صفحہ 298


اور اس  کی مکمل اطاعت کرنا  ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :

" وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ () وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ () وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ()"

تمھارا پروردگار  جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پسند کرتا ہے ۔ لوگوں کو پسند کا کوئی حق نہیں  ۔ یہ لوگ جو شرک کرتے  ہیں اللہ سے پاک اور برتر ہے ۔اور ان کے دلوں میں جو کچھ پوشیدہ ہے اور جو کچھ یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں تمھارا پروردگار  اس کو جانتا ہے ۔اللہ وہی ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے سب تعریف اسی کی ہے  دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔اور حکومت  بھی اسی کی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹا ئے جاؤگے ۔(سورہ قصص ۔آیات 68-70)

ان تمام باتوں  سے سمجھ میں یہی آتا ہے  کہ رسول اللہ ص نے یوم  غدیر کو عیدکا دن قراردیا تھا ۔ امام علی ع کو خلافت  کے لیے نامزد  کرنے کے بعد جب آپ پر یہ آیت نازل ہو ئی :" الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ " تو آپ نے کہا : اللہ کا شکر ہے کہ دین مکمل ہوگیا اور نعمت  پوری ہوگئی ۔ اللہ نے میری رسالت اور میرے بعد علی بن ابی طالب  کی ولایت کو پسند کیا(1) ۔ پھر آپ نے  علی ع  کے لیے  تقریب  تبریک  منعقد  کی خود رسول اللہ ص ایک خیمہ  میں رونق افروز ہوئے اور علی کو اپنے برابر بٹھایا اور سب مسلمانوں  کو حکم دیا ۔ ان میں آپ کی ازواج ، امہات المومنین بھی شامل تھیں کہ گروہ درگروہ علی ع کے پاس جاکر انھیں امامت کی مبارکباد دیں اور امیر المومنین  کی حیثیت   سے انھیں سلام کریں ۔چنانچہ سب نے ایسا ہی کیا ۔ اس موقع پر امیر المومنین  علی ابن ابی طالب ع

--------------------

(1):- حاکم حسکانی بروایت اوب سعید خدری اپنی تفسیر میں اورحافظ ابو نعیم اصفہانی  ما نزل من القرآن فی علی ع میں


کو مبارک باد دینے والوں میں ابو بکر اور عمر بھی شامل تھے ، وہ یہ کہتے ہوئے آئے :

"بخٍ بخٍ لك ياابن أبي طالبٍ أصبحت وأمسيت مولانا ومولى كلّ مؤمنٍ ومؤمنةٍ.(1) "

جب شاعر رسول حسّان  بن ثابت نے دیکھا کہ رسول اللہ ص اس موقع پر بہت خوش اور شاداں وفرحاں ہیں تو انھوں نے آنحضرت ص سے عرض کیا  : یا رسول اللہ ! میں آپ  کی اجازت سے اس موقع پر چند اشعار عرض  کرناچاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ضرور سناؤ ۔ حسان ! جب تک تم زبان سے ہماری مدد کرتے رہوگے تمھیں روح القدس  کی تائید حاصل رہے گی ۔

حسان سے شعر سنانے شروع کیے ۔

"يناديهم يوم الغدير نبيّهم

 بخمّ ٍفاسمع بالرّسول مناديا

(غدیر کے دن خم کےمقام پر مسلمانوں کے پیغمبر مسلمانوں کو پکاررہے ہیں ، سنو ! رسول ص کیا کہہ رہے ہیں )

اس کے علاوہ اور بھی اشعار تھے جن کو مورخین نے نقل کیا ہے(2) ۔ اس سب کے باوجود  قریش نے چاہا کہ خلافت ان کے پاس رہے اور بنی ہاشم کے یہاں خلافت اور نبوت دونوں جمع نہ ہونے پائیں تاکہ بنی ہاشم کو شیخی بگھارنے کا موقع نہ مل سکے ۔اس کی تصریح خود حضرت عمر نے عبداللہ بن عباس سے ایک دفعہ گفتگو کرتے ہوئے  کی(3) ۔

اس لیے پھر کیس کی مجال نہیں ہوئی کہ پہلی تقریب کے بعد جو رسول اللہ ص

--------------------

(1):-یہ قصہ امام ابو حامد غزّالی  نے اپنی کتاب  سرّ العالمین صفحہ 6 پر بیان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند جلد4 کے صفحہ 281 پر اور طبری نے اپنی تفسیر  کی جلد 3 کے صفحہ پر اس کا ذکر کیا ہے ۔ نیز بہیقی ، دارقطنی ، فخر رازی اور ابن کثیر وغیرہ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے ۔

(2):- جلال الدین سیوطی ،" الازهار فيما عقده الشعراء من الاشعار"

(2):-طبری ،تاریخ الامم والملوک جلد 5 صفحہ 3 ،ابن اثیر الکامل فی التاریخ جلد3 صفحہ 31 ۔شرح نہج البلاغہ


نے خود منعقد کی تھی ،کوئی عید غدیر کا جشن منائے۔

جب لوگ نص خلافت ہی کو بھول گئے جسے ابھی دوہی مہینے ہوئے تھے تو غدیر کے واقعہ کی یاد مناتا جسے ایک سال ہوچکا تھا ۔ اسے کے علاوہ یہ عید تو نص خلافت سے منسلک  تھی ۔ جب وہ نص ہی باقی نہ رہی تو عید منانے کی وجہ  ہی ختم ہوگئی ۔اسی طرح سالہا سال گزر گئے ، یہاں تک کہ ربع صدی کے بعد امام علی ع نے اسے دوبارہ اس وقت زندہ کیا جب آپ نے اپنے عہد خلافت میں ان صحابہ سے جو غدیر خم میں موجود تھے  ،کہا کہ وہ کھڑے ہو کر سب کے سامنے بیعت  خلافت کی گواہی  دیں ،تیس صحا بیوں نے گواہی دی جن میں سے سولہ بدری صحابہ تھے(1) ۔ایک انس بن مالک نے کہا کہ "مجھے یاد نہیں " انھیں  وہیں برص کی بیماری ہوگئی ۔ وہ روتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے عبد صالح علی بن ابی طالب  کی بد دعا لگ گئی(2) ۔

اس طرح امام علی ع نے اس امت پر حجّت قائم کردی ۔ اس وقت سے آجتک شیعہ یوم غدیر کی یاد مناتے رہتے ہیں اور تاقیام قیامت مناتے رہیں گے ۔ یہ دن شیعوں کے نزدیک عید اکبر ہے اور کیوں نہ ہو ! جب اس دن اللہ نے دین کو ہمارے لیے کامل کیا اور اس دن نعمت تمام کی اور اسلام کو بطور ایک دین کے ہمارے پسند کیا ۔ یہ اللہ ، اس کے رسول  اور مومنین  کی نظر میں ایک عظیم  الشان دن ہے ۔بعض علمائے اہل سنت نے ابو ہریرہ سے روایت  کی ہے کہ جب رسول اللہ ص نے علی ع کا ہاتھ پکڑ کر کہا " من كنت مولاه فهذا علىٌّ مولاه" الخ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی :"   الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ " الخ  ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ یہ  18 ذی الحجہ کا دن تھا اور جس نے اس دن روزہ رکھا  ،اس کے لیے ساٹھ مہینوں  کے روزوں  کاثواب لکھا جائے گا ۔(3)

--------------------

(1):-امام احمد بن حنبل ، مسند جلد 4 صفحہ ،370 ،ملا علاء الدین متقی ،کنزالعمال  جلد 397 ۔ابن کثیر ،البدایہ والنہایہ جلد5 صفحہ 211

(2):- ہیثمی ، مجمع الزواید جلد 9صفحہ 106 ۔ ابن کثیر ،البدایہ والنہایہ جلد 5 صفحہ 26 ،امام احمد بن حنبل ،مسند جلد اول ،

(3):- ابن کثیر ۔البدایہ والنہایہ جلد 5 صفحہ 214۔


جہاں تک شیعہ روایات  کا تعلق ہے تو وہ ائمہ اہل بیت ع سے اس دن کے فضائل کے بارے میں اتنی ہیں کہ بس بیان کیے جائیے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ہدایت دی کہ ہم امیر المومنین ع کی ولایت  کو مانیں اور یوم غدیر کو عید منائیں ۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ  حدیث غدیر صحیح معنی میں ایک بہت بڑا تاریخی واقعہ ہے جسے نقل کرنے پر امت محمدیہ نے اتفاق کیا ہے جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں تین سو ساٹھ سنّی  علماء نے اس حدیث کو بیان کیا ہے اور شیعہ علماء کی تعداد تو اس سے بھی زیادہ ہے ۔

ان حالات میں یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ امت اسلامیہ دوفریقوں میں تقسیم ہوگئی ہے : ایک اہل سنت ، دوسرے اہل تشیع ۔ اہل سنت ،سقیفہ بنی ساعدہ کے شوری کے اصول پر جمے ہوئے ہیں ۔ وہ صریح نصوص کی تاویل  کرتے ہیں اور حدیث غدیر وغیرہ  جس پر سب راویوں کا اتفاق ہے ، اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔

دوسرا فریق  ان نصوص پر قائم ہے اور انھیں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ۔ا س فریق نے ائمہ اہل بیت ع کی بیعت  کی ہے اور ان ہی  کو مانتا ہے ۔

حق تو یہ ہے کہ جب اہل سنت کے مذہب کو کریدتا ہوں تو مجھے اس میں کوئی اطمینان بخش چیز نظر نہیں آتی ۔خصوصا خلافت کے معاملے میں ۔ ان کے سب دلائل ظنی واجتہاد  پر مبنی ہیں۔ کیونکہ انتخاب کا قاعدہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ آج جس شخص کو ہم پسند کرتے ہیں وہ ضرور سب دوسروں سے افضل ہے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ کس کے دل میں کیا ہے ۔ خود ہمارے اندر ذاتی جذبات وتعصبات چھپے ہوئے ہیں اور جب بھی متعدد اشخاص میں سے ایک شخص کو پسند کرنے کا موقع ہوتا ہے ، یہ عوامل ہمارے فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔

یہ کوئی  خیال مفروضہ نہیں اور نہ اس معاملے میں کچھ مبالغہ ہے کہ جو شخص بھی اس طرز فکر یعنی خلیفہ کے انتخاب  کے تصور  ۔کا تاریخی نقطہ نظر سے مطالعہ کرےگا  اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ اصول جس کے اتنے ڈھول  پیٹے جاتے ہیں نہ کبھی کامیاب ہوا ہے اور نہ یہ ممکن ہے کہ کبھی کامیاب ہو ۔


ہم دیکھتے ہیں کہ شوری تحریک کے لیڈر ابو بکر نے جو شوری کے ذریعے منصب خلافت تک پہنچے تھے ،خود ہی دوسال بعد اس کو توڑ دیا تھا جب انھوں نے اپنے مرض الموت میں عمر بن خطاب کو خلیفہ نامزد کردیا ۔ کیونکہ انھیں اپنے زمانہ حکومت میں احساس ہوگیا تھا کہ خلافت کے امیدوار بہت ہیں اور لوگ خلافت کو للچائی ہوئی  نظروں سے دیکھتے ہیں ، اس لیے ایسے فتنے کا اندیشہ ہے جو امت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیگا ۔ یہ اس صورت میں ہے جب ہم ابو بکر کے بارے میں حسن ظن سے کام لیں ۔ لیکن اگر انھیں خود معلوم تھا کہ دراصل خلافت کا فیصلہ نص سے ہوتا ہے ، تو پھر یہ ایک دوسرا معاملہ ہے ۔

ادھر عمربن خطاب جو سقیفہ کے موقع پر ابو بکر کی خلافت کے محرک اور معمار تھے اپنے دور خلافت میں علانیہ کہتے تھے کہ : ابو بکر کی بیعت بلامشورہ اور اچانک ہوگئی تھی ، لیکن اللہ نے مسلمانوں کو اس کےبرے نتائج سے محفوظ  رکھا(1) ۔

اس کے بعد جب عمر ابو لؤلؤ  فیروز کے وار سے زخمی ہوگئے اور انھیں اپنی موت کا یقین ہوگیا تو انھوں نے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تاکہ وہ خلافت کے لیے اپنے میں سے کسی ایک  کا انتخاب کرلے ۔ لیکن انھیں یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ چند لوگ بھی اس کے باوجود انھیں رسول اللہ ص کی صحبت کا شرف حاصل تھا ،  وہ سابقین  اولین میں سے تھے اور زہد وتقوی میں ممتاز تھے ، انسانی جذبات سے ضرور متاثر ہوں گے ۔ کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے اور اس سے صرف معصوم ہی مستثنی ہوسکتے ہیں ، اس لیے اختلاف  کی صورت میں اس فریق  کے حق میں فیصلہ  ہوگا جس کے ساتھ عبدالرحمان  بن عوف ہوں گے ۔اس کے بعد اس کمیٹی نے خلافت کے لیے امام علی ع کا انتخاب کردیا لیکن شرط یہ رکھی کہ وہ کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ اور سنت شییخین یعنی ابوبکر اور عمر کی سنت کے مطابق حکومت کریں گے ۔ علی نے کتاب اللہ

-------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 26 باب رجم الحبلی من الزنا ۔


اور سنت رسول اللہ ص کی بات تو تسلیم کرلی لیکن سنت شیخین کی پیروی کرنے سے انکار کردیا(1) ۔ عثمان نےیہ شرائط منظور کرلیں ،چنانچہ ان کی بیعت کرلی گئی ۔علی ع نے اس موقع پر کہاتھا :

"فيا لله وللشّورى ! متى اعترض الرّيب فيّ مع الأول منهم حتّى صرت أقرن إلى هذه النّظائر ! لكنّى أسففت إذا أسفوا وطرتُ إذ‘ طاروا فصغارجلٌ مّنهم لضغنه ومال الأخر لصهره مع هنٍ وّهنٍ."

قسم بخدا ! کہاں علی اور کہاں یہ نام نہاد شوری ۔ان لوگوں میں کے پہلے حضرت (ابو بکر )کی نسبت میری فضیلت میں شک ہی کب تھا جو اب ان لوگوں نے مجھے اپنے جیسا سمجھ لیا ہے ؟ (لیکن میں جی کڑاکر کے شوری میں حاضر ہوگیا ) اور نشیب وفراز میں ان کے ساتھ ساتھ چلا مگر ان میں سے ایک(2) نے بغض وحسد کے مارے میرا ساتھ نہ دیا اور دوسرا(3) دامادی اور ناگفتہ بہ باتوں کی کے باعث ادھر جھک گیا ۔(نھج البلاغہ ۔خطبہ شقشقیہ)

جب یہ ان لوگوں  کاحال تھا جو مسلمانوں میں منتخب اور اخصّ الخواص تھے کہ ہو بھی جذبات کی رو میں بہ جاتے تھے اور بغض وحسد اور عصبیت سے متاثر ہوتے تھے تو پھر عام دنیا داروں کا  تو ذکر ہی کیا ۔ بعد میں عبدالرحمان  اپنے اس انتخاب پرپچتا ئے بھی ۔ اور جب عثمان کے دور میں وہ واقعات پیش آئے جو معلوم ہیں تو وہ عثمان پر بگڑے بھی کہ انھوں نے اپنے عہد کا پاس نہیں کیا ۔اورجب کبار صحابہ نے ان سے آکر کہا عبدالرحمان یہ سب تمھارا کیا دھرا ہے ،تو انھوں نے کہا مجھے عثمان سے یہ

--------------------

(1):- طبری ،تاریخ الامم والملوک ۔اب اثیر الکامل فی التاریخ ۔

(2):- سعد بن ابی وقاص کی طرف اشارہ ہے جنھوں نے حضرت عثمان کےبعد بھی حضرت علی ع کی بیعت نہیں کی ۔

(3):- عبدالرحمان بن عوف کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ حضرت عثمان کی سوتیلی بہن کے شوہر تھے ۔(ناشر)


توقع نہیں تھی ، مگر اب میں نے قسم کھالی ہے کہ عثمان سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔ کچھ دن بعد عبدالرحمان کا انتقال ہوگیا ۔ اس وقت تک بھی ان کی عثمان سے بو چال بند تھی ۔ بلکہ کہتے ہیں کہ ان کی بیماری میں عثمان  ان کی عیادت  کے لیے گئے تو عبدالرحمان  نے دیوار کی طرف منہ کرلیا ۔ بات نہیں  کی(1) ۔

پھر  جو ہونا تھ وہ  ہوا ۔ عثمان کے خلاف شورش بھڑک اٹھی اور آخر وہ قتل ہوگئے ۔ امت  ایک بار پھر انتخاب کے مرحلے سے گزری ۔ خلافت کے امیدواروں میں : طلیق بن طلیق(2) ، معاویہ بن ابو سفیان ،عمرو بن عاص ، مغیرہ بن شعبہ ،مروان بن حکم وغیرہ شامل تھے ، مگر اس بار علمی کا چنا گیا ، مگر افسوس صد افسوس کہ اسلامی مملکت میں انتشار پھیل گیا ۔ اور وہ منافقوں ، مملکت کے دشمنوں ،متکبر وں اور ان لالچیوں  کی جو لانگاہ بن گئی جو ہر قیمت پر مسند خلافت پر متمکن ہونے کے خواہاں تھے ۔چاہے  اس کے لیے کوئی طریقہ بھی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے اور کتنے ہی بیگناہوں کا خون کیوں نہ بہانا پڑے ۔اوریہ کہ اس 25 سالہ مدت میں خدا اور رسول ص کے احکام میں تحریف بھی کی گئی ، پس امام علی ع ایک ایسے بحران میں پھنس گئے جس کے ہر طرف بپھری ہوئی موجیں تھیں ، ماحول تیرہ وتاریک تھا ، منہ زور خواہشات کا زور تھا ۔ امام علی ع کا  عہد خلافت ایسی خوں ریز جنگوں میں گزرا جو باغیوں ،ظالموں  اور ملحدوں  نے ان پر مسلط کردی  تھیں ۔ وہ اس بحران  سے جام شہادت نوش کرکے ہی نکل سکے ۔اور امت محمدیہ  کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے  گئے ۔ فسلام اللہ علیہ ۔ یہ سب شوری اور انتخاب کے تصور کا شاخسانہ تھا۔

اس کے بعد امت محمدیہ خون کے سمندر میں ڈوب گئی ۔ اس کی قسمت کے فیصلے احمقوں اور رذیلوں  کے ہاتھ میں آگئے  ۔پھر شوری کٹ کھنی بادشاہت میں بدل گئی اور اس نے قیصری اور کسروی کی شکل اختیار کرلی ۔معاویہ کے عہد سے خلافت

--------------------

(1):- طبری ، تاریخ الامم والملوک ۔ابن اثیر الکامل فی التاریخ سنہ 36 کے واقعات ۔شیخ محمد عبدہ شرح نہج البلاغہ جلد 1۔

(2):- اس شخص کو رسول اللہ ص نے فتح مکہ کے دن واجب القتل قراردیا تھا ۔


موروثی ہوگئی اور بیٹا باپ کا جانشین ہونےلگا ۔

وہ دور ختم ہوگیا جسے خلافت راشدہ کہا جاتا ہے اور جس دور کے چار خلفاء  خلفائے راشدین کہلاتے ہیں ۔ واقعہ تویہ  ہے کہ ان چار میں سے بھی صرف ابو بکر اور علی ع انتخاب اور شوری  کےذریعہ سے خلیفہ ہوئے تھے ۔ ان میں سے اگر ہم ابو بگر  کو چھوڑ دیں کیونکہ ان کی بیعت اچانک ہوئی تھی ۔ اور اس میں آجکل  کی اصطلاح میں حزب اختلاف  نے شرکت نہیں کی تھی جو علی ع ، ان کے حامی صحابہ(1) اور بنی ہاشم پر مشتمل تھی ، تو صرف علی بن ابی طالب ع ہی رہ جاتے ہیں جن کی بیعت واقعی شوری اور آزادی رائے کے اصول کے تحت منعقد ہوئی ۔ اور علی ع کے انکار کے باوجود مسلمانوں نے ان سے بیعت کی۔ اگر چہ بعض صحابہ ن ےبیعت سے پہلو تہی ضرور کی لیکن ان پر زبر دستی نہیں کی گئی  اور نہ انھیں  کوئی دھمکی  دی گئی ۔

اللہ تعالی  کی مشیت یہ تھی کہ علی ابن ابی طالب ع نص قطعی کے ذریعے سے بھی خلیفہ ہوں اور مسلمان ان کا انتخاب بھی کریں ۔ اب علی ع کی خلافت پر کیا سنّی ،کیا شیعہ پوری امّت مسلمہ کا اجماع ہے اور جیسا کہ سب کو معلوم ہے ، دوسرے خلفاء کےبارے میں اختلاف ہے ۔

یہ دیکھ کر افسوس ہوتاہے کہ مسلمانوں نے اس نعمت خداوندی  کی قدر نہیں  کی ۔ اگر قدر کرتے تو ان پر آسمانی برکتوں کے دروازے کھل جاتے ۔روزی کی ہرگز تنگی نہ ہوئی آج مسلمان ساری دنیا کے قائد اورسردار ہوتے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :" وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين " تم ہی سب سے سربلند ہوگے بشرطیکہ تم سچے مومن ہو ۔

لیکن ابلیس لعین تو ہمارا کھلا دشمن ہے ، اس نے اللہ ربّ العزت سے کہہ دیا تھا کہ :

-------------------

(1):- مثلا اسامہ بن زید، زبیر بن العوام ،سلمان فارسی  ،ابوذر غفاری ،مقداد بن اسود ،عمّار بن یاسر ،حذیفہ بن یمان ، خزیمہ بن ثابت ، ابو بریدہ اسلمی ، براء بن عازب ، فضل بن عباس ، ابی بن کعت ،سہل بن حنیف ،سعد بن عبادہ ، قیس بن سعد ،خاد بن سعید ،ابو ایوب انصاری  ،جابر بن عبداللہ انصاری  وغیرہ ۔(ناشر)


"قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ () ثُمَّ لآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ وَلاَ تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ" چونکہ تونے مجھے گمراہ  کردیا ہے ، میں بھی اس سیدھی راہ پر بیٹھ کر رہوں  گا جو تونے ان کے لیے تجویز کی ہے ، پھرآؤں گا ان کے پاس ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے ، ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے ۔ اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر  گزار نہیں پائے گا ۔(سورہ اعراف ۔آیت 16-17)

آج اہل نظر دنیا میں مسلمانوں کی حالت  دیکھیں  خصوصا تیسری دنیا میں ، جہاں کے مسلمان پسماندہ ہیں ،جاہل ہیں ، جاہل ہیں ،ان کی قسمت کافیصلہ اغیار کے ہاتھ میں ہے ،وہ ذلیل  ہیں ، کچھ نہیں کرسکتے ،۔ان ممالک کے پیچھے دوڑتے ہیں جو اسرائیل  کو تسلیم کرتے ہیں حالانکہ اسرائیل مسلمان حکومتوں کو تسلیم نہیں کرتا ۔ وہ مسلمانوں کو یروشلم میں گھسنے تک نہیں دیتا جسے اس نے اپنا دارالسلطنت بنا لیا ہے ۔آج مسلمان ممالک  امریکہ اور روس کے رحم وکرم پر ہیں ۔ مسلمان قومیں جہالت ،بھوک اور بیماری کے عفریت کے چنگل بری طرح پھنسی ہوئی ہیں۔ یورپ کے تو کتّے  بھی انواع واقسام  کے گوشت اور مچھلیاں کھاتے ہیں ، جب کہ مسلمانوں کے بچے بھوک سے دم توڑ دیتے ہیں ۔ بعض اسلامی ملکوں میں تو انھیں روٹی کا ایک ٹکڑا بھ نصیب نہیں ہوتا اور وہ کوڑے کے ڈھیر سے اپنی غذا تلاش کرتے نظر آتے ہیں"فلا حول ولا قو ۃالا بالله علی العظيم"

سیدۃ النساء  فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کا بیعت ابو بکر کے بعد ، جب ابو بکر سے جھگڑا ہوا تھا تو انھوں نے مہاجرین وانصار کے سامنے تقریر کرتے ہوئے فرمایا :

"۔۔۔۔۔۔معلوم نہیں لوگوں کو علی کی کیا بات ناپسند ہے کہ انھوں نے ان کی حمایت چھوڑ دی ہے ؟ بخدا ! لوگ علی کی احکام الہی کے بارے میں سختی ،ان کی ثابت قدمی اور ان کی شمشیر خارا شگاف کو پسند نہیں کرتے مگر انھوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا ہے ۔علی ع


کی حکومت میں انھیں ظلم وستم سے واسطہ نہ پڑتا ۔ وہ تو انھیں علم ودانش اورعدل وانصاف کے چشموں سے سیراب کرتے "۔

اس کے بعد انھوں نے پیشن گوئی کی تھی ۔ انھوں نے اپنی تقریر کے آخرمیں اس امت کے انجام  کی خبر دیتے ہوئے کہا تھا :

"جو کام ان لوگوں نے کیا ہے ہو گابھن اونٹنی  کی طرح ہے ۔ بچہ ہونے دو پھر تم پیالہ بھر کے دودھ کی بجائے خون اور زہر دوہوگے ۔ اس وقت باطل پرست خسارہ میں رہیں گے اور یہ کہ آئندہ  آنے والی نسلیں اپنے پچھلوں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتیں گی اور یقین رکھو کہ تم فتنہ وفساد میں ڈوب جاؤ گے اور یقین رکھو کہ تلوار چلے گی ، ظلم وستم ہوگا ، افراتفری ہوگی ،ظالموں کی مطلق العنان حکومت ہوگی جو تمھیں پیس کےرکھ دےگی ۔ تم کس خیال میں ہو ؟ تمھیں کیوں سمجھ نہیں آتی ؟کیا ہم زبردستی وہ چیز تمھارے سرمنڈھ دیں جوتمھیں پسند ہی نہیں ؟"(1)

دختر رسول ص اور گوہر کان نبوت صدیقہ طاہرہ نے جو کچھ کہاوہ اس امت کی تاریخ میں حرف بحرف سچ ثابت ہوا اور کون جانے ابھی پردہ غیب میں کیا ہے ۔ شاید مستقبل میں جو کچھ پیش آئے وہ ماضی سے بھی زیادہ بھیانک ہو۔ کیوں کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے وہ انھیں ناپسند ہوئے ۔ پھر اللہ نے بھی ان کے اعمال غارت کردئیے ۔

اس بحث کا ایک اہم جزو

اس بحث کے سلسلے میں ایک خاص بات جو توجّہ اور تحقیق کی مستحق ہے اور یہ وہ واحد اعتراض ہے جو اس  وقت اٹھایا جاتا ہے جب مسکت دلائل کے سامنے مخالفین کے لیے فرارکا راستہ بند ہوجاتا ہے اورانھیں نصوص صریحہ کا اعتراف  کرناپڑتا

--------------------

(1):-طبری ،دلائل الامامۃ ۔ابن طیفور بلاغات النساء ۔ابن ابی الحدید  شرح نہج البلاغۃ ۔


ہے تو وہ بالآخر انکار اور تعجب کے ساتھ کہتے ہیں کہ " یہ کیسے ممکن ہے کہ امام علی ع کے امامت پر تقرر کے وقت ایک لاکھ صحابہ موجود ہوں اور پھر وہ سب کے سب اس تقرر کی مخالفت کرنے اور اسے نظر انداز کرنے پر اتفاق کرلیں ، جب کہ ان  میں بہترین صحابہ اور امت کے افضل ترین اشخاص شامل تھے "۔یہ صورت خود میرے ساتھ اس وقت پیش آئی  جب میں نے اس موضوع پر تحقیق شروع کی ۔مجھے یقین نہیں آتا اور کسی کو بھی یقین نہیں آئیگا  اگر معاملے کو اس صورت میں پیش کیا جائے ۔ لیکن جب ہم اس معاملے کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لیتے ہیں تو پھر اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں رہتی ۔کیونکہ مسئلہ  اس طرح نہیں ہے جس طرح ہم سمجھتے ہیں یاجس طرح اہل سنت پیش کرتے ہیں ۔ بات ان کی بھی معقول ہے ۔حاشا وکلا ! یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک لاکھ صحابہ فرمان رسول ص کی مخالفت کریں ۔

پھر یہ واقعہ کسی طرح پیش آیا ؟

پہلی بات تویہ ہے کہ   جو لوگ بیعت غدیر کے موقع پر موجود تھے وہ سب مدینہ منورہ کے رہنے والے نہیں تھے ۔ان میں زیادہ سے زیادہ تین چار ہزار مدینے کے باشندے ہوں گے پھر ان میں بہت سے آزاد شدہ غلام تھے ۔ غلام بھی تھے اور کمزور لوگ بھی تھے جو مختلف اطراف  واکناف سے آکر رسول اللہ ص کی خدمت میں جمع ہوگۓ تھے ، ان کامدینہ میں اپنا کوئی کٹم قبیلہ نہیں تھا جیسے :

"اصحاب صفّہ"۔ اگر ان سب کو نکال دیا جائے تو ہمارے پاس آدھی تعداد بچتی ہے یعنی زیادہ سے زیادہ دوہزار ۔یہ لوگ بھی قبائلی نظام کے تحت قبیلے کے سرداروں کے تابع تھے ۔ رسول اللہ ص نے اس نظام کو باقی رہنے دیا تھا ۔ جب رسول اللہ ص کے پاس کوئی وفد آتا تھا  تو آپ اس کے سردار کو اس کا انچارچ مقرر کردیتے تھے ۔ اسی لیے اسلام میں  ان زعماء اور سرداروں  کے لیے اہل حل وعقد کی اصطلاح راوج پاگئی ۔جب ہم سقیفہ کا کانفرنس پر نظرڈالتے  ہیں تو ہم دیکھتے  ہیں کہ اس کے شرکاء کی تعداد جنھوں نے حضرت ابو بکر کو منتخب  کیا تھا ایک سو سے ہرگز متجاوز نہیں تھی ،اس لیے انصار میں سے ۔جو مدینے کے اصل باشندے تھے ۔صرف سرداروں نے


شرکت  کی تھی اور مہاجرین میں سے جو دراصل مکے کے رہنے والے تھے اور رسول اللہ ص کے ساتھ ہجرت کرکے آئے تھے صرف تین یا چار اشخاص ہی شریک تھے جو قریش کی نمائندگی کررہے  تھے ۔اس کے ثبوت کے لیے یہ کافی ہے کہ ہم یہ اندازہ لگائیں کہ سقیفہ  کتنا بڑا ہوگا ۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ سقیفہ کیا ہوتا ہے ۔یہ مکان کے بیرونی دروازے  سے ملحق ایک کمرہ ہوتا ہے جس میں لوگ بیٹھک جماتے ہیں ۔ یہ مکان کے بیرونی دروازے  سے ملحق ایک کمرہ ہوتاہے جس میں لوگ بیٹھک جماتے ہیں ۔ یہ کوئی آڈیٹوریم یا  کانفرنس ہال نہیں تھا ۔اس لیے جب ہم یہ کہتے  ہیں کہ" سقیفہ  بنی ساعدہ " میں سوآدمی موجود ہوں گے تو درحقیقت ہم مبالغے  سے کام لیتے ہیں ۔ہمارا مقصد یہ ہے کہ تحقیق کرنے والے  کو یہ معلوم جائے  کہ وہاں وہ ایک لاکھ آدمی نہیں تھے جو "غدیر خم"کے موقع پرموجود تھے ،بلکہ انھیں تو یہ معلوم بھی کافی عرصہ کے بعد ہوا ہوگا کہ سقیفہ  میں کیا کاروائی ہوئی ۔ کیونکہ ان دنوں نہ فضائی رابطہ تھا نہ ٹیلفون تھے اور نہ ہی مصنوعی سیارے تھے ۔ جب وہاں موجود زعماء کا ابوبکر کے تقرر پر انصار کے سردار سعدبن عبادہ اور ان کے بیٹے قیس کی مخالفت کے باوجود ، اتفاق ہوگیا اور غالب اکثریت سے معاملہ طے پاگیا اس وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد سقیفہ میں موجود نہیں تھی ۔ کچھ لوگ رسول اللہ ص کی تجہیز وتکفین میں مصروف تھے ،کچھ رسول اللہ ص کی وفات کی خبر سے حواس باختہ تھے ۔ عمر نے انھیں یہ کہہ کر اور بھی خوف زدہ کردیا تھا کہ خبر دار کوئی یہ بات زبان سے نہ نکالے  کہ رسول اللہ ص وفات پاگئے  ہیں ۔(1) اس کے علاوہ صحابہ کی ایک بڑی تعداد کو رسول اللہ ص نے سپاہ اسامہ میں بھرتی کرلیا تھا اوریہ لوگ زیادہ تر جرف میں مقیم تھے ۔ لہذا یہ لوگ رسول اللہ ص  کی وفات کے وقت نہ تو مدینے میں موجود تھے اور نہ ہی سقیفہ کی کانفرنس میں شریک ہوئے ۔ اس کے بعد بھی کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کسی قبیلے کے افراد اپنے سردار کی مخالفت کرتے اور اس سے جو فیصلہ کردیا تھا اسے نہ مانتے ۔خصوصا جب کہ یہ فیصلہ  ان کے لیے ایک بڑا اعزاز تھا جس کو حاصل کرنے کی ہر قبیلہ کوشش کرتا تھا ۔

--------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 195


کون جانتا ہے کہ کسی دن ان کے ہی قبیلہ یا خاندان کو تمام خلافت حاصل ہوجائے جب کہ اس کا شرعی حق دار تو راستے سے ہٹاہی دیاگیا تھا اور معاملہ شوری پر منحصر ہوگیا تھا ۔اس صورت میں باری باری سب  کے لیے  موقع تھا ۔ ایسی حالت میں وہ اس فیصلے سے کیوں نہ خوش ہوتے اور کیسے نہ اس کی تائید کرتے ؟

دوسری بات یہ ہے کہ  جب مدینے کے رہنے والے اہل حل وعقد نے ایک بات طے کردی تھی  تو جزیرہ نمائے عرب کے دور افتادہ باشندوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اس کی مزاحمت کریں گے کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی عدم موجودگی میں کیا ہورہاہے جب کہ اس دور میں وسائل رسل ورسائل  بالکل ابتدائی  حالت میں تھے ۔

اس کے علاوہ وہ یہ بھی سوچتے تھے کہ اہل مدینہ رسول اللہ کےپڑوسی ہیں وہ احکام ربانی اور وحی سے جو کسی وقت کسی دن بھی نازل ہوسکتی تھی  زیادہ واقف ہیں ۔ پھر یہ کہ صدر مقام سے دور رہنے والے قبیلے کے سردار کو خلافت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ اسے  اس سے کیا کہ ابو بکر خلیفہ ہوں یا علی ع یا کوئی اور ۔گھر کا حال گھر والے جانیں ۔اس کے لیے تو اہم بات صرف یہ تھی کہ اس کی  سرداری برقراررہے ۔ اسے کوئی چھیننے کی کوشش نہ کرے ۔کون جانتا ہے ۔شاید کسی نے معاملے کے متعلق کچھ پوچھ گچھ کی بھی ہو ۔ اور حقیقت حال جاننے کی کوشش کی ہوں ۔ لیکن حکومت کے کارندوں نے خواہ ڈرا دھمکا کر یالالچ دے کر اسے خاموش کردیا ہو ۔ شاید مالک بن نویرہ کے قصے کے متعلق ۔جس نے ابو بکر کو زکات دینے سے انکار کردیا تھا ۔ شیعوں ہی کی بات صحیح ہو ۔ حقیقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے ۔لیکن جو شخص مانعین زکاۃ  کے ساتھ جنگ کے دوران میں پیش آنے والے واقعات کا بغور مطالعہ کرےگا اس ےبہت سے ایسے تضادات ملیں گے جن کے متعلق بعض مورخین کی پیش کی ہوئی صفائی سے اطمینان نہیں ہوگا ۔

تیسری بات یہ ہےاس واقعہ کے اچانک پیش آجانے کا بھی اس کو بطور امر  واقعی FAIT ACCOMPLI تسلیم کرلیے جانے میں بڑا دخل رہا ہے سقیفہ کانفرنس اس وقت اچانک منعقد ہوئی تھی جب بہت سے صحابہ رسول اللہ ص کی تجہیز


وتکفین میں مشغول تھے ان میں امام علی ع عباس ،دوسرے بنی ہاشم ،مقداد ،سلمان ابوذر ، عمار اور دوسرے بہت سے اصحاب شامل تھے ۔ جب تک سقیفہ کے شرکاء ابو بکر کو مسجد میں لے کرگئے  اور انھوں نے عام بیعت کی دعوت دی جس پر لوگ بادل خواستہ ناخواستہ بیعت کے لیے امنڈ پڑے ، اس وقت تک علی ع اور ان کے پیروکار اپنے شرعی اور اخلاقی فریضہ سے فارغ نہیں ہوئے تھے اور ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ  رسول اللہ ص کو بغیر غسل اور بغیر کفن دفن کے چھوڑ کر سقیفہ میں خلافت کے واسطے دوڑ پڑتے اور جب تک وہ اس فریضہ سے فارغ ہوئے ۔ اس وقت تک معاملہ ابو بکر کے حق میں فیصلہ بھی ہوچکا تھا ۔ اب جو کوئی ابوبکر کی بیعت سے پیچھے ہٹتا  اس کا شمار مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے ان فتنہ پردازوں میں ہوتا جن سے نمٹنا اور ضروری ہوتو انھیں قتل کردینا مسلمانوں پر واجب ہوگیا تھا ۔اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ جب سعد بن عبادہ نے حضرت ابو بکر کی بیعت میں تامل کیا تو  عمربن خطاب نے انھیں قتل کی دھمکی دی تھی ۔(1)

اس کےبعد بیعت سے انکار کرنے والے ان صحابہ کو جو علی ع کے گھر میں جمع تھے ، زندہ جلادینے   کی اور علی ع کے گھر کو آگ  لگانے دینے کی دھمکی دی گئی تھی ۔ اگر ہمیں بیعت سے متعلق عمر کی صحیح رائے معلوم ہوجائے تو بہت سے حیران کن معمّوں کا  حل نکل آئے ۔ معلوم ہوتاہے کہ عمر کا خیال یہ تھا کہ بیعت کے درست ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ کوئی ایک مسلمان بیعت میں سبقت کرلے۔ پھر باقی پر اس کی پیروی واجب ہوجاتی ہے ۔ اس پر بھی اگر کوئی مخالفت کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج  اور واجب القتل ہے ۔ آئیے دیکھیں خود عمر بیعت کےبارے میں کیا کہتے ہیں !صحیح بخاری  کی روایت  ہے ۔(2) عمر کہتے ہیں :

اس پر بڑی گڑبڑ ہوئی اورخوب شور مچا ۔ میں ڈرا کہ کہیں آپس میں

--------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 8صفحہ 26 ۔طبری ،تاریخ الامم والملوک ۔ابن قتیبہ ، الامامۃ والسیاسۃ ۔

(2):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 29 ۔"باب رجم الحبلی عن الزنا اذا احصنت "


تفرقہ پڑجائے ۔میں نے ابو بکر سے کہا:ہاتھ بڑھاؤ ۔انھوں نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے بیعت کرلی ۔ مہاجرین(1) اور انصار نے بھی بیعت کرلی ۔ ہم سعد بن عبادہ پر کود پڑے ۔انصار میں سے کسی نے کہا : تم نے سعد بن عبادہ کو مارڈالا ! میں نے کہا سعد بن عبادہ پر اللہ کی مار !

عمر کہتے ہیں کہ " جو مسئلہ ہمارے سامنے تھا ، اس کا اس سے مضبوط کوئی حل نہیں تھا کہ ابو بکر کی بیعت کر لی جائے ۔ہمیں ڈرتھا کہ اگر وہاں موجود لوگوں کوچھوڑ کرچلے گئے اور بیعت نہ ہوئی تو کہیں وہ ہمارے جانے کے بعد اپنے ہی لوگوں سے بیعت نہ کرلیں ۔ پھر یا تو ہمیں اپنی مرضی کے خلاف بیعت کرنی پڑیگی  اور اگر ہم نے مخالفت کی تو فساد برپا ہوگا ۔ اگر کوئی کسی سے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر بیعت کرے تو ان دونوں میں سے کسی کا ساتھ نہیں دیاجائیگا ۔

معلوم ہوا کہ عمر کے نزدیک سوال انتخاب ، اختیار اور شوری کا نہیں تھا ۔ صرف انتا کافی تھا کہ کوئی مسلمان بڑھ کر کسی سے بیعت کرلے تاکہ باقی لوگوں پر حجت  قائم ہوجائے ۔ اسی لیے عمر نے ابو بکر سے کہا کہ ہاتھ بڑھاؤ ۔ابوبکر نے ہاتھ بڑھایا تو عمر نے بلاجھجک اور بلا کسی سے مشورہ کیے فورا اس خوف سے بیعت کرلی  کہ کہیں کوئی دوسرا ان سے بازی نہ لے جائے ۔ اس بات کو عمر نے اس طرح بیان کیا :

ہم ڈرتے تھے کہ اگر ہم ان لوگوں کے پاس چلے گئے اور بیعت نہ ہوئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ہمارے جانے کے بعد اپنے ہی لوگوں میں سےکسی سے بیعت کرلیں ۔(عمر کوڈرتھا کہ کہیں انصار پہل کرکے

--------------------

(1):- سب مورخین کہتے ہیں کہ سقیفہ میں صرف چار مہاجر موجود تھے ۔ یہ کہنا کہ "میں نے بیعت کی اور مہاجرین نے بیعت کرلی " یہ اس قول سے متصادم ہے جو اسی خطبے میں آگے ہے کہ علی ع ،زبیر اور ان دونوں کے ساتھیوں نے مخالفت کی ۔ صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 26


اپنے میں کسی کی بیعت نہ کرلیں)۔

مزید وضاحت اگلے فقرے سے ہوجاتی ہے :

پھر یا تو ہمیں اپنی مرضی کے خلاف ان سے بیعت کرنی ہوگی یا اگر ہم نے مخالفت کی  تو فساد برپا ہوجائے گا ۔(1)

احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ہم یہاں یہ اعتراف کرلیں کہ عمر بن خطاب نے بیعت کے بارے میں اپنی رائے اپنی زندگی  کے آخری ایام میں بدل  لی تھی ۔ ہوا یوں  کہ انھوں نے جو آخری  حج کیا تھا اس کے دوران  ایک شخص نے عبدالرحمان  بن عوف کی موجودگی میں ان سے آکر کہا تھا : آپ کو معلوم ہے کہ فلاں شخص  کہتا ہے کہ اگر عمر مرجائیں تو میں فلاں سے بیعت کرلوں گا ۔ ابو بکر کی بیعت تو اچانک ہوگئی تھی جو اتفاق سے کامیاب ہوگئی ۔ یہ سن کر عمر بہت ناراض ہوئے  اور مدینے واپسی  کےفورا بعد ایک خطبہ دیا جس میں اور باتوں کے علاوہ کہا :

میں نے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی کہہ رہاتھا کہ اگر عمر مرگئے تو میں فلاں شخص کی بیعت کرلوںگا  ۔ کسی شخص کو اس  دھوکے میں نہیں رہنا چاہیے کہ ابوبکر کی بیعت  اچانک ہوئی تھی لیکن کامیاب رہی ۔ یہ بات صحیح ہے اللہ نے اس کے برے نتائج سے محفوظ رکھا ۔(2)

پھر کہا کہ

"جو شخص مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر کسی سےبیعت کرے گا تو نہ بیعت کرنے والے کی بیعت صحیح ہوگی اور نہ بیعت لینے والے کی بیعت ،بلکہ وہ دونوں قتل کردیے جائیں(3) ۔

کاش ! سقیفہ کے موقع پر بھی عمر کی یہی رائے ہوتی !

--------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 28

(2):- صحیح بخاری جلد8صفحہ 26

(3):- طبری ،تاریخ الامم والملوک ،استخلاف عمر۔ ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ ۔


اب یہ بات باقی رہ جاتی ہے کہ عمر نے زندگی کے آخری ایام میں اپنی رائے تبدیل کیوں کرلی ۔کیونکہ انھیں دوسروں سے بہتر طورپر معلوم تھا کہ وہ اپنی رائے کی وجہ سے ابوبکر کی بیعت  کی بنیادیں ڈھارہے ہیں  ، اس لیے کہ انھوں نے بھی ابو بکر  کی بیعت  مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر اچانک کی تھی ۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے اس بیان سے

خود ان کی اپنی بیعت کی بنیادیں ہل گئی اس لیے ابوبکر نے اپنی وفات  کے قریب مسلمانوں  سے مشورہ کیے بغیر ان کے لیے بیعت لی تھی ،یہاں تک کہ بعض صحابہ انے ابو بکر  کی چٹھی سنانے کے لیے عمر باہر نکلے تو کسی نے ان سے پوچھا : ابو حفص ! اس چٹھی میں کیا ہے ؟ عمر نے جواب دیا  مجھے معلوم نہیں ۔ لیکن پہلا میں شخص  ہوں گا جو ابوبکر کے حکم کو سن کر اسے قبول کرےگا ۔ اس شخص نے  اس پر کہا : مگر مجھے معلوم ہے کہ اس میں  کیا ہے ؟ اگلی بار آپ نے انھیں حکمراں بنایا تھا ، اس بار وہ آپ کو حکمران بنارہے ہیں(1) ۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسی امام علی ع نے اس وقت کہی تھی جب وہ لوگوں کو ابوبکر کی بیعت کی دعوت دے رہے تھے ، علی ع نے کہاتھا :دودھ دوہ لو ، تمھیں تمھارا حصہ مل جائے گا ۔ آج تم ان کی خلافت پکی کرو  ، کل وہ خلافت تمھیں لوٹا دیں گے(2) ۔

اہم بات یہ ہے کہ ہمیں  یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بیعت کےبارے میں عمر نے اپنی رائے کیوں بدلی ؟ میرا خیال یہ ہے کہ انھوں نے سناتھا کہ بعض صحابہ ان کے مرنے کے بعد علی ابن ابی طالب ع سے بیعت کرنا چاہتے ہیں ۔ مگر یہ بات انھیں قطعا پسند نہیں تھی ۔ عمر کو یہ گوارا نہیں تھا کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اگر عمر مرگئے تو میں فلاں  شخص سے بیعت کرلوںگا ۔خصوصا ایسی حالت میں جب کہ وہ خود عمر کے اپنے فعل سے استدلال کررہا ہے ۔ اس کہنے والے کا نام تو معلوم نہیں مگر اس میں شک نہیں کہ

--------------------

(1):- ابن قتیبہ ،الامامۃ والسیاسۃ جلد 1صفحہ 18

(2):- صحیح مسلم جلد 5 صفحہ 75 ۔صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 9


یہ کبار صحابہ میں سے کوئی صاحب ہوں گے ۔ یہ صاحب کہہ رہے تھے کہ اگر ابوبکر کی بیعت اچانک ہوئی تھی مگر مکمل ہوگئی یعنی اگرچہ یہ بیعت مشورے کےبغیر اور دفعتا ہوگئی تھی مگر یہ مکمل ہو کر ایک حقیقت بن گئی ۔ اگر عمر اس طرح ابوبکر سے بیعت کرسکتے تھے تو وہ خود کیوں فلاں  سے اس طرح بیعت نہیں کرسکتے "۔

یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ابن عبّاس ، عبدالرحمن بن عوف اور عمر بن خطاب  اس شخص کا نام نہیں لیتے جس نےیہ بات کہی تھی اور نہ اس شخص کا نام لیتے ہیں ۔جن کی یہ بیعت کرنا چاہتا تھا ۔ لیکن چونکہ یہ دونوں اشخاص مسلمانوں میں بڑی اہمیت رکھتے تھے ، اس لیے عمر یہ بات سن کر بگڑے اور پہلے ہی جمعہ کو جو خطبہ دیا اس  میں خلافت کاذکر چھیڑ کر اپنی نئی رائے کا اظہار کیا ، تاکہ جو صاحب  پھر ایک بار اچانک بیعت کا ارادہ کررہے تھے ان کا راستہ روکا جاسکے  ۔کیونکہ اس بیعت کی صورت میں خلافت فریق مخالف کے ہاتھ میں جانے کا امکان تھا ۔ اس کے علاوہ اس بحث کے بین السطور سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی شخص کی انفرادی رائے نہیں تھی ، یہ رائے بہت سے صحابہ کی تھی ، اس لیے بخاری کہتے ہیں  " اس پر عمر نے بگڑ کر کہا : میں انشااللہ شام کو  تقریر کرکے لوگوں کو ان سے خبر دار کردوں گا جو ان کے معاملات  پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتے ہیں(1) ۔

اس سے معلوم ہوا کہ عمر کی رائے میں تبدیلی کی اصل وجہ  ان لوگوں  کی مخالفت تھی جو بقول ان کے لوگوں کے معاملات  پر ناجائز قبضہ کرنااور علی ع کی بیعت کرنا چاہتے تھے اور یہ بات عمر کے لیے ناقابل قبول تھی ۔ کیونکہ انھیں یقین تھا کہ خلافت  لوگوں کے طے کرنے کا مسئلہ ہے ۔یہ علی بن ابی طالب ع کا حق نہیں ۔لیکن اگر عمر کا یہ خیال صحیح تھا تو رسول اللہ ص کی وفات کے بعد انھوں نے خود لوگوں کا حق غصب کیوں کیا تھا اور مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر ابوبکر سے بیعت کرنے میں جلدی کیوں کی تھی ؟

--------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 25


ابو حفص عمر کا رویہ ابو الحسن علی ع کے بارے میں سب کو معلوم ہے ۔عمر کی کوشش یہ تھی کہ جہاں تک ممکن ہو علی ع کو حکومت سے دور رکھا جائے ۔یہ نتیجہ ہم نے صرف مذکورہ بالا خطبے ہی سے اخذ نہیں کیا ہے بلکہ تاریخ کا متتبع کرنے والا ہر آدمی جانتا ہے کہ ابو بکر کے دور خلافت میں بھی عملا عمربن خطاب ہی حکمراں تھے ۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ابوبکر نے اسامہ سے اجازت مانگی تھی کہ عمر کو ان کے پاس چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ امور خلافت میں ان سے مدد لیتے رہیں(1) ۔

ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ابو بکر ، عمر اور عثمان کے پورے دورمیں علی بن ابی طالب کو ذمہ داری کے عہدوں سے دوررکھا گیا ۔ نہ ان کو کوئی منصب دیاگیا ۔نہ کسی صوبے کا گورنر بنایا گیا ، نہ کسی لشکر کا سالار مقررکیا گیا اورنہ خزانہ ان کی تحویل  میں دیا گیا ۔حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ علی بن ابی طالب ع کون تھے ۔

تاریخ کی کتابوں میں اس سے زیادہ عجیب بات یہ لکھی ہے کہ عمر کو مرنے کے قریب اس بات کا افسوس تھا کہ ابو عبیدہ بن جرّاح یا حذیفہ بن یمان کے آزاد کردہ غلام یاسر ، ان دونوں میں سے کوئی اس وقت زندہ نہیں ورنہ وہ ان ہی میں سے کسی کو اپنے بعد خلافت نامزد کردیتے ۔لیکن اس میں شک نہیں کہ بعد میں انھیں خیال آیا کہ اس طرح کی  بیعت کے بارے میں تو وہ اپنی راۓ پہلے ہی بدل چکے ، اس لیے ضروری ہوا کہ بیعت کا کوئی نیا طریقہ ایجاد کیا جائے جس کو درمیانی حل قرار دیا جاسکے ،جس میں نہ تو کوئی فر دواحد اس کی بیعت کرلے جس کو وہ اپنی ذاتی رائے میں مناسب سمجھتا ہو اور پھر دوسروں کو آمادہ کرے کہ وہ بھی اس کی پیروی کریں جیسا کہ خود عمر نے ابو بکر کی بیعت کے وقت کیا تھا ۔ یا جس طرح ابوبکر نے اپنے بعد خلافت کے لیے عمر کو نامزد کردیا تھا۔ یا جیسا کہ ان صاحب  کا ارادہ تھا جو حضرت عمر کی موت کا انتظار  کررہے تھے ۔تاکہ اپنے پسندیدہ شخص کی بیعت کرسکیں  ، لیکن عمر پیش  بندی کرکے ان کے

--------------------

(1):-ابن سعد نے طبقات  میں اس کی تصریح  کی ہے ۔ دوسرے مورخین نے بھی جنھوں نے سریہ اسامہ بن زید  کا ذکر کیا ہے ، ان بات کو بیان کیا ہے ۔


منصوبے کو ناکام بنادیا تھا ۔ نہ ہی عمر کے لیے  یہ ممکن تھا کہ وہ خلافت  کے معاملے کا تصفیہ مسلمانوں کے شوری پر چھوڑ دیتے کیونکہ وہ اپنی  آنکھوں سے چکے تھے کہ رسول اللہ ص کی وفات کے بعد سقیفہ میں کیسے کیسے اختلاف پیدا ہوگئے تھے اور کس طرح کشت وخون کی نوبت آتے آتے وہ گئی تھی ۔

چنانچہ حضرت عمر نے بالآخر اصحاب شوری کا اصول وضع کیا اور اس اصول کے تحت  ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کے خلیفہ کے انتخاب کا مکمل اختیار تھا اور اس کمیٹی کے ارکان  کے علاوہ مسلمانوں میں سے کسی کو اس معاملے میں دخل دینے کا حق نہیں تھا ۔ حضرت عمر کو معلوم تھا کہ ان چھ ارکان میں بھی اختلاف  پیدا ہونا ناگریز ہے اس لیے انھوں  ہدایت جاری کی کہ اختلاف کی صورت میں اس فریق کا ساتھ دیا جائے جس میں عبدالرحمان بن عوف ہوں ، خواہ  یہ ارکان  تین تین کے دو مساوی  گروہوں میں تقسیم ہوجائیں اور اس گروہ کو قتل ہی کردینا پڑے  جو عبدالرحمان بن عوف کے خلاف ہو۔لیکن عمر کو یہ بھی معلوم تھا  کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ کیونکہ سعد بن ابی وقاص عبدالرحمان  بن عوف کے چچازاد بھائی تھے اور ان دونوں کا تعلق قبیلہ بنی زہرہ تھا ۔ ۔۔۔۔عمر کو یہ بھی معلوم تھا کہ سعد بن ابی وقاص علی ع سے خوش نہیں ،ان کی دل ہیں علی ع کی طرفسے بعض ہے کیونکہ علی ع نے ان کی ننھیال عبد شمس  کے بعض افراد کو غزوات میں قتل کیا تھا ۔

عمر کو یہ بھی معلوم تھا کہ عبدالرحمان بن عوف عثمان کے بہنوئی کیونکہ ان کی بیوی  ام کلثوم عثمان کی بہن ہیں ۔

۔۔۔۔یہ بھی جانتے تھے کہ طلحہ کا بھی جھکاؤ عثمان کی طرف ہے بعض راویوں نے ان دونوں کے درمیان  تعلقات کا  ذکر کیا ہے ۔ عثمان کی طرف طلحہ  کے جھکاؤ کا ایک سبب یہ تھا کہ طلحہ علی ع کوپسند نہیں کرتے تھے ۔وجہ یہ تھی کہ طلحہ تیمی تھے اور حضرت ابو بکر کے منصب خلافت پر خلافت فائزہوجانے کے بعد سے بنی ہاشم اور بنی تیم کے تعلقات ناخوشگوار ہوگئے تھے(1) ۔

--------------------

(1):- شیخ محمد عبدہ ، شرح نہج البلاغہ جلد 1صفحہ 88


حضرت عمر کو یہ سب معلوم تھا اور انھی باتوں کے پیش نظر انھوں نے خاص طور پر ان چھ افراد کا انتخاب کیا تھا ، جو سب کے سب مہاجر اور قریشی تھے ، کوئی بھی انصار میں سے نہیں تھا ۔ ان میں سے ہر ایک کسی ایسے قبیلے  کی نمائندگی  کرتا تھا جس کی اپنی  اہمیت تھی اور اپنا اثر ورسوخ تھا ۔

1:- علی بن ابی طالب ۔ بنی ہاشم کے بزرگ ۔2:- عثمان بن عفان ۔ بنی امیہ کے بزرگ ۔

3:- عبدالرحمن بن عوف ۔ بنی زہرہ کے بزرگ ۔4:- طلحہ بن عبیداللہ ۔بنی تیم کے بزرگ ۔

5:-سعد بن ابی وقاص ان کا تعلق بھی بنی زہرہ سے تھا ۔ ننھیال بنی امیہ تھی ۔

6:- زبیر بن العوام ۔رسول اللہ ص کی پھوپھی  صفیہ کے صاحبزادے  اور اسماء  بنت ابی بکر کے شوہر ۔

یہ تھے وہ زعماء اور ارباب حل وعقد جن کا فیصلہ سب مسلمانوں کے لیے واجب العمل تھا ۔ خواہ وہ مسلمان مدینے کے باشندے ہوں یا دنیائے اسلام  میں کسی اور جگہ کے ۔مسلمانوں  کا کام چون وچرا کے بغیر حکم کی تعمیل تھا ۔ اگر کوئی تعمیل حکم نہ کرتا تو پھر اس کا خون معاف تھا ۔ یہ تھے وہ حالات جو ہم قاری  کےذہن نشین کرانا چاہتے تھے ، بالخصوص اس مقصد سے کہ یہ معلوم ہوجائے  کہ نص غدیر کے سلسلے میں خاموشی کیوں اختیار کی گئی تھی ۔اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت عمر کو ان چھ افراد کے خیالات اور ان کے طبعی رجحانات کا علم تھا تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انھوں نے اپنی طرف سے عثمان بن عفان کوخلافت  کےلیے نامزد کردیا تھا ، یا یوں کہاجاسکتا کہے کہ انھیں پہلے سے  علم تھا کہ یہ چھ رکنی کمیٹی علی بن ابی طالب ع کے حق میں فیصلہ نہیں دے گی ۔

یہاں میں ذرا رک کر اہل سنت اور ان سب لوگوں سے شوری اور آزادی  خیال کے اصول پر فخر کرتے ہیں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ وہ شوری کے اصول میں اور اس نظریے میں جو عمرنے ایجاد کیا تھا کیسے ہم آہنگی پیدا کریں گے کیونکہ اس چھ رکنی کمیٹی کو مسلمانوں نے نہیں بلکہ حضرت عمر نے اپنی رائے سے منتخب اور مقرر


کیا تھا ۔ اس صورت میں ہمیں کم از کم یہ اعتراف کرلینا چاہیے کہ اس نظریے کے مطابق اسلام میں حکومت کا نظام جمہوری نہیں ہے جیسا کہ شوری اور انتخاب کے حامی فخریہ دعوی کرتے ہیں ۔

اس بنیاد پر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ شاید عمر شوری کے قائل نہیں تھے  وہ خلافت کو صرف مہاجرین کا حق سمجھتے تھے ۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حضرت ابو بکر  کی طرح ان کا خیال یہ تھا خلافت  صرف قریش سے مخصوص ہے کیونکہ مہاجرین میں تو بہت سے غیر قریشی بھی تھے بلکہ غیر  عرب بھی تھے ۔ اس لیے سلمان فارسی  ، عمار ، بلال حبشی ، صہیب رومی ، ابو ذرغفاری اور ہزاروں دوسرے صحابہ جو قریشی نہیں تھے ، انھیں کوئی حق نہیں تھا کہ  وہ خلافت کے معاملےمیں کچھ بولیں ۔ یہ محض  دعوی نہیں ۔ حاشا وکلا ! یہ ان کا عقیدہ تھا جو انہ ہی کی زبانی تاریخ اور حدیث میں محفوظ ہے ۔ آئیے ، اس خطبے کو دوبارہ دیکھیں جو بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں قلمبند کیا ہے :

عمربن خطاب کہتے ہیں کہ :میرا ارادہ بولنے کا تھا ۔ میں نے ایک تقریر جو مجھے اچھی لگی تیار کرلی تھی۔ یہ تقریر میں  نے ابوبکر سے پہلے کرنا چاہتا تھا ۔ میں کسی حدتک ہوشیار ی سے کام لے رہا تھا ۔ جب میں نے بولنا چاہا ، ابو بکر نےکہا : ٹھہرو ! میں خاموش ہوگیا کیونکہ میں ابوبکر کو ناراض کرنا نہیں چاہتا تھا ۔ اس کے بعد ابو بکر نے خود تقریر کی ۔وہ میری نسبت زیادہ متانت اور وقار سے بولے ۔ میری تیار کی ہوئی تقریر میں کوئی ایسا لفظ نہیں تھا جو مجھے اچھا لگتا ہو ، اور ابو بکر نے فی البدیہ وہی لفظ  یا اس سے بہتر  لفظ استعمال نہ کیا ہو ۔ ابو بکر نے انصار کو مخاطب کرکے کہا : تم نے جو اپنے فضائل ومحاسن بیان کیے ہیں واقعی تم ان کے مستحق ہو ، لیکن جہاں تک اس معاملہ


کا تعلق ہے یہ قریش کا حق ہے(1)

اس سے معلوم ہوا کہ ابوبکر اور عمر شوری اور آزادی اظہار کے اصول کے قائل نہیں تھے ۔ بعض مورخین کہتے ہیں کہ ابوبکر نے اپنی تائید میں انصار کے سامنے یہ حدیث نبوی پیش کی کہ"الخلافة فی قريش " اس میں شک نہیں کہ یہ صحیح حدیث ہے ،لیکن اس کی اصل وہ حدیث ہے جو بخاری ،مسلم اور سنی اور شیعہ تمام حدیث کی مستند کتابوں کی متفقہ روایت ہےکہ  رسول اللہ ص نے فرمایا :

"الخلفاء من بعدي اثنا عشركلّهم من قريش"

میرے بعد بارہ خلفاء ہوں گے جو سب  قریش میں سے ہونگے ۔ اس سے بھی زیادہ واضح یہ حدیث ہے :

"لا يزال هذا الأمر في قريشٍ ما بقي من النّاس اثنان."

یہ چیزیں قریش ہی میں رہے گی جب تک دوآدمی بھی باقی ہیں ۔(2) ایک اور حدیث ہے کہ

"النّاس تبع لقريشٍ في الخير والشّر."(3)

سب لوگ قریش کے تابع ہیں بھلائی میں بھی ، برائی میں بھی ،برائی میں بھی ۔ جب سب مسلمان ان احادیث پر یقین رکھتے ہیں تو کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ رسول اللہ نے خلافت کا معاملہ مسلمانوں پر چھوڑ دیا تھا کہ وہ باہمی مشورے سے جسے چاہیں خلیفہ منتخب کرلیں ، آپ ہی انصاف سے بتائیں کیا یہ تضاد نہیں ؟

اس تضاد سے چھٹکارا صرف اسی صورت میں ممکن ہےجب ہم ائمہ اہل بیت ع

--------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 27 ۔صحیح باب الوصیہ ۔

(2):- صحیح بخاری کتاب الاحکام باب الامراء من قریش ۔

(3)صحیح مسلم جلد 6 کتاب الامارہ۔


ان کے شیعہ اور بعض علمائے اہل سنت کا یہ قول تسلیم کرلیں کہ جناب رسول اللہ ص نے خود خلفاء کے ناموں اور ان کی تعداد کی تصریح کردی تھی ۔ اس طرح ہم عمر کا موقف بھی بہتر طور پر سمجھ سکیں گے جو ان کے اپنے اجتہاد پر مبنی تھا ۔وہ نص کو علی کے حق میں جو قریش میں سب سے چھوٹے تھے ، قبول کرنا ضروری نہیں سمجھتے تھے بلکہ مذکورہ بالا حدیث کا اطلاق عمومی طورسب قریش پر کرتے تھے ۔

اسی وجہ انھوں نے اپنے مرنے قبل چھ ممتاز قریشیوں کی ایک کمیٹی قائم کی تھی تاکہ احادیث نبوی کے درمیان  کہ خلافت پر صرف قریش کا حق ہے ،ہم آہنگی  پیدا کرسکیں ۔

اس کے باوجود کہ یہ پہلے  سے معلوم تھا کہ اس کمیٹی کے ارکان  علی ع کا انتخاب  نہیں کریں گے ، پھر بھی علی ع کو اس کمیٹی میں شامل کرنا شاید اس کی ایک تدبیر تھی  کہ علی ع کو مجبور کیا جائے کہ وہ بھی آجکل کی اصطلاح  کے مطابق سیاست کے کھیل میں شامل ہوجائیں تاکہ ان کے شیعوں اور حامیوں کے پاس جو ان کی اولیت کے قائل ہیں کوئی دلیل باقی نہ رہے ۔ لیکن امام علی ع نے اپنے ایک خطبہ میں عوام کے سامنے اس پر گفتگو کی ۔ آپ نے کہا :

میں نے بہت دن صبر کیا اور بہت تکلیف اٹھائی ۔آخر جب وہ (خلیفہ)دنیا سے جانے لگا تو معاملہ ایک جماعت کے ہاتھ میں سونپ گیا اور مجھے بھی اس جماعت کی ایک فردخیال کیا ، جبکہ واللہ مجھے اس  شوری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا ۔ ان میں کے پہلے صاحب (ابوبکر)کی نسبت میری فضلیت میں شک ہی کب تھا جو اب ان لوگوں نے مجھے اپنے جیسا سمجھ لیا ہے؟ (لیکن میں جی کڑا کرکے شوری میں حاضر ہوگیا ) اور نشیب وفراز میں ان کے ساتھ ساتھ چلامگر ان میں سے ایک نے بغض وحسد کے مارے میرا ساتھ نہ دیا اور دوسرا دامادی اور ناگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے ادھر جھک گیا ۔(1)

--------------------

(1):- شیخ محمد عبدہ ، شرح نہج البلاغہ جلد 1 صفحہ 87۔


چھوتھی بات یہ ہے امام علی ع نے ہردلیل پیش کی گئیں بے سود ۔کیا امام علی ع ان لوگوں سے بیعت کی بھیک مانگتے جنھوں نے ان سے منہ پھیر لیا تھا ، اور جن کے دل دوسرے کی طرف جھک گئے تھے ۔ اور جو امام علی ع سے اس لیے حسد کرتے تھے  کہ ان پر اللہ کا فضل تھا یا اس لیے بغض رکھتے تھے کہ امام علی ع نے ان کے سرداروں کو قتل کیا تھا ، ان کےبہادروں کو کچل دیا تھا ، ان کی عزت خاک میں ملادی تھی ، ان کو نیچا دکھایا تھا ، ان کا غرور اپنی بہادری سے توڑدیا تھا ،یہاں تک  کہ وہ اسلام لانے اور اطاعت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ اس پر بھی علی ع سربلند تھے اور اپنے ابن عم کا دفاع کرتے تھے ۔انھیں اللہ کے راستے میں کسی کی ملامت کی پروا نہیں تھی ۔دنیا کی کوئی شے ان کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتی تھی ۔ رسول اللہ ص کو اس کا بخوبی علم تھا اور ہو ہر موقع پر اپنے چچا زاد بھائی کے فضائل ومحاسن بیان کیاکرتے تھے کبھی فرماتے :

"حبّ عليّ ٍ إيمان وّبغضه نفاق"(1)

علی کی محبّت ایمان اور علی سے بغض نفاق ہے ۔

کبھی کہہتے :

"عليٌّ مّنّي وأنامن عليّ "ٍ (2) علی ع مجھ سے ہے اور میں علی ع سے ہوں ۔

"عليّ وّليّ كلّ مؤمن ٍ بعدي "(3) علی ع میرے بعد ہر مومن کے سرپرست ہیں ۔ اور آپ نے یہ بھی فرمایا:

"عليٌّ باب مدينة علمي وأبوولدي"(4)

--------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 411 ۔ مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 126

(2):- صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 168۔

(3):- مسند احمد جلد5 صفحہ 25 ۔مستدرک حاکم جلد3 صفحہ 124 ۔

(4):- مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 126۔


علی ع میرے شہر علی کا دروازہ اور میرے بچوں کے باپ ہیں ۔ آپ نے فرمایا :

"عليٌّ سيّدالمسلمين وإمام المتقّين وقائدالغرّالمحجلين ."(1)

علی ع مسلمانوں کے سردار ،متقیوں کے پیشوا اور ان لوگوں کے سالار ہیں جو روزقیامت سرخرو ہوں گے ۔

لیکن افسوس کہ اس سب  کے باوجود ان لوگوں کا حسد اوربغض بڑھتا ہی  گیا اس لیے اپنی وفات سے چند روز قبل رسول اللہ ص نے علی ع کو بلا کر گلے سے لگایا اور روتے ہوئے کہا :

علی ! میں جانتا ہوں کہ لوگوں کے سینوں میں تمھاری طرف سے جو بغض ہے وہ میرے بعد کھل کر سامنے آجائے گا ۔ لہذا اگر تم سے بیعت کریں تو قبول کرلینا ورنہ صبر کرنا ، یہاں تک کہ تم مظلوم ہی میرے پاس آجاؤ ۔(2)

پس اگر ابو الحسن ع نے ابو بکر کی جبری بیعت کے بعد صبر کیا ، تو اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ نے انھیں وصیت کی تھی ۔اس کی مصلحت صاف ظاہر ہے ۔

پانچویں بات یہ کہ پچھلی  باتوں کے ساتھ ایک اور بات کا اضافہ کرلیجیے ۔مسلمان جب قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس کی آیات پر غور کرتا ہے ، تو اسے ان قرآنی قصّوں سے جن میں پہلی امّتوں کا ذکر ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں ہم سے بھی زیادہ ناخوشگوار واقعات پیش آئے ۔

یہ دیکھئے !

<>قابیل نے اپنے بھائی  کا سفاکی سے قتل کردیا ۔

<>جدّالانبیاء حضرت نوح ع کی ہزار سالہ کوشش کے بعد بھی بہت کم لوگ ان پر

--------------------

(1):- شیخ متقی ہندی ۔ متنخب کنزالعمال جلد 5 صفحہ 34

(2):- محبّ طبری ، الریاض النضرہ ، باب فضائل علی بن ابی طالب


ایمان لائے ۔ان کا اپنا بیٹا اور بیوی کافر تھے ۔

<>حضرت لوط کے گاؤں میں صرف ایک ہی گھر مومنین کا تھا ۔

<>فراعنہ  جنھوں نے دنیا  میں کبریائی کا دعوی کیا اور لوگوں کو اپنا غلام بنایا  ان کے یہاں صرف ایک فرد مومن تھا ، وہ بھی تقیہ کیے ہوئے تھا یعنی اپنے ایمان  کو چھپائے ہوئے تھا ۔

<>حضرت یوسف ع کے بھائیوں کو لیجیے ، انھوں نے حسد کی وجہ سے اپنے بے قصور بھائی  کے قتل کی سازش کی اور اسے محض اس لیے قتل کرنا چاہا کہ وہ ان کے باپ حضرت یعقوب کو زیادہ محبوب تھا ۔

<>اور یہ بنی اسرائیل ہیں ، انھیں اللہ نے حضرت موسی ع کے ذریعے نجات دلائی ، ان کے لیے سمندر کے پانی کو پھاڑدیا ۔ انھیں جہاد کی تکلیف بھی نہیں اٹھانی پڑی اور اللہ نے ان کے دشمنوں ، فرعون اور اس کے لشکریوں کو ڈبودیا ۔مگر ہوا کیا؟ ابھی سمندر سے باہر نکل کر ان کے پاؤں سوکھے بھی نہیں تھے کہ یہ ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جو بتوں کی پوجا کرتی تھی تو کہنے لگے :" موسی! جیسے ان کے دیوتا ہیں  ، ویسا ہی ایک دیوتا ہمارے لیے بھی بنادو ۔ موسی نے کہا : تم تو جاہل لوگ ہو ۔ اورجب  موسی اپنے پروردگار سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے  اور اپنی عدم موجودگی میں اپنے بھائی ہارون  کو اپنا قائم مقام کرگئے تو لوگوں نے ان کے خلاف سازش کی اور قریب تھا کہ انھیں مارڈالتے ۔یہی نہیں انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایک بچھڑے کی پوجا شروع کردی ۔ اس قوم کے لوگوں نے بہت سے انبیاء کو قتل کیا ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

"أَفَكُلَّمَا جَاءكُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَهْوَى أَنفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقاً كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقاً تَقْتُلُونَ"

کیاایسا نہیں ہوا کہ جب کبھی کوئی رسول تمھارے پاس وہ کچھ لایا جو تمھیں پسند نہیں تھا تو تم نے سرکشی اختیارکی اور کچھ کو جھٹلایا اور کچھ کو قتل کردیا ؟(سورہ بقرہ ۔ آیت 87)


<>حضرت  یحیی کو دیکھیے ! وہ نبی تھے ، پاک دامن تھے اور نیک تھے انھیں قتل کیا گیا اور ان کا سرتحفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی ایک رنڈی کو بھیج دیا ۔

<>یہود ونصاری نے حضرت عیسی کو قتل کرنے  اور صلیب پرچڑھانے کی سازش کی ۔ خود اس امت محمدیہ نے تیس ہزار کا لشکر رسول اللہ ص کے لخت جگر اور اہل جنّت کے سردار امام حسین ع کو قتل کرنے کے لیے تیار کیا ۔ حالانکہ ان کے ساتھ فقط ستر بہتر اصحاب تھے ۔ لیکن ان لوگوں نے امام حسین ع اور ان کے سب اصحاب کو قتل کردیا ۔ حدیہ ہے کہ امام ع کے دودھ پیتے بچے تک کو نہ چھوڑا ۔

اس کے بعد حیرت کی کون سی بات باقی رہ جاتی ہے ؟ رسول اللہ ص نے خود اپنے اصحاب سے فرمایا تھا :

تم جلد اپنے سے پہلوں کے طور،طریقوں پر چلو گے ۔تم وجب بہ وجب اور ذراح ذراع  یعنی ہو بہو ان کا اتباع کروگے ۔اگر وہ گوہ کے بھٹ میں گھسے ہوں گے تو تم بھی اس میں گھس جاؤ  صحابہ  نے پوچھا  : کیا آپ کی مراد یہود ونصاری سے ہے ؟ آپ نے فرمایا : تو اور کس سے ؟(1)

حیرت کیسی ! ہم خود بخاری و مسلم میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہ قول پڑھتے ہیں :

"قیامت  کے دن میرے اصحاب کو بائیں طرف لایا جائے گا تو میں پوچھوں گا : انھیں کدھر لے جارہے ہو؟ کہا جائے گا : جہنّم  کی طرف ۔میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! یہ تو میرے  اصحاب ہیں ۔ کہا جائے گا : آپ کو معلوم نہیں ، انھوں نے آپ کےبعد دین میں بدعت پیدا کی ۔ میں کہوں گا : دور ہو وہ جس نے

--------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 144 وجلد 8 صفحہ 151


میرے بعد  دین میں تبدیلی کی میں دیکھتا ہوں کہ ان میں سے بہت ہی کم نجات پائیں گے ۔(1)

ایک اور حدیث ہے کہ

میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جو سب کے سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے "(2)

سچ کہا ربّ العزّت نےجو دلوں کےبھید جاننے والا ہے وہ فرماتا ہے :

" وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِي "

گو آپ کا کیسا ہی جی چاہے ، اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں (سورہ یوسف ۔آیت 103)

" بَلْ جَاءهُم بِالْحَقِّ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ "

بلکہ یہ رسول  ان کے پاس حق لے کر آئے لیکن ان میں سے بیشتر حق کو ناپسند کرتے ہیں ۔(سورہ  مومنون ۔آیت 70)

" لَقَدْ جِئْنَاكُم بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ "

ہم نے حق تم تک پہچادیا لیکن تم میں اکثر حق سے بیزار ہیں ۔(سورہ زخرف ۔آیت 78)

" أَلاَ إِنَّ وَعْدَ اللّهِ حَقٌّ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ "

یاد رکھو! اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ۔(سورہ یونس ۔ آیت 55)

" يُرْضُونَكُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ "

تمھیں باتوں سے خوش کرتے ہیں اور دل ان کے انکاری ہیں اور زیادہ تر ان میں بد عمل ہیں ۔(سورۃ توبہ ،آیت 8)

---------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 209 ۔صحیح مسلم ، باب الحوض ۔

(2):- سنن ابن ماجہ ،کتاب الفتن ،مسند احمد جلد3 صفحہ 120 ۔ جامع ترمذی کتاب الایمان ۔


" إِنَّ اللّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَشْكُرُونَ "

بے شک اللہ لوگوں پر بڑاافضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر ناشکر ہیں ۔(سورہ یونس ۔آیت 50)

" يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ الْكَافِرُونَ "

یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس اس کا انکار کرتے ہیں اور اکثر ان میں سے کافر ہیں ۔(سورہ نحل ۔آیت 83)

" وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً "

ہم اس (پانی) گو ان کے درمیان تقیسم کردیتے ہیں تاکہ وہ  غور کریں ۔ تاہم اکثر لوگ ناشکرے ہوئے بغیر نہیں رہتے ۔(سورہ فرقان ۔آیت 50)

" وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللّهِ إِلاَّ وَهُم مُّشْرِكُونَ "

ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں پھر بھی شرک کیے جاتے ہیں۔(سورہ یوسف ۔آیت 106)

" بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ فَهُم مُّعْرِضُونَ "

لیکن اکثر لوگ حق سے ناواقف ہیں اس لیے اس سے روگردانی کرتے ہیں ۔(انبیاء۔آیت 24)

" أَفَمِنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ (٥٩) وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ (٦٠) وَأَنتُمْ سَامِدُونَ (٦١) "

کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ، تم غفلت میں پڑے ہوتے ہو ۔(سورہ نجم ۔آیات 59-61)


حسرت وافسوس

یہ واقعات پڑھ کر نہ صرف مجھے بلکہ ہر مسلمان کو افسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے امام علی ع کو خلافت سے دوررکھ کر اپنا کتنا بڑا نقصان کردیا ۔ امّت نہ صرف ان کی حکیمانہ قیادت سے محروم ہوگئی بلکہ ان کے علوم  کے بحر ذخار سے بھی صحیح معنی میں استفادہ نہ کرسکی ۔

اگر مسلمان تعصب اور جذباتیت  سے بالا ہوکر دیکھیں تو انھیں تو انھیں صاف نظر آئیگا  رسول اعظم  کےبعد علی ع ہی اعلم الناس ہیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ علمائے صحابہ جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تھی تو حضرت علی ع ہی کی طرف رجوع کرتے تھے اور آپ فتوی دے کر ان کی مشکل کشائی فرماتے تھے ۔ عمربن خطاب تو اکثر کہا کرتے تھے ۔

"لولا عليٌّ لّهلك عمر".

اگر علی ع نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا ۔(1)

یہ بھی یادرہے کہ خود امام علی علیہ السلام نے کبھی کسی  صحابی ے کچھ بھی نہیں پوچھا ۔

تاریخ معترف ہے کہ علی ابن ابی طالب ع صحابہ میں سب سے زیادہ بہادر اور سب سے زیادہ طاقتور تھے ۔ کئی موقعوں پر ایسا ہوا کہ دشمن نے پیش قدمی کی  تو بہادر صحابہ بھی بھاگ کھڑے ہوئے لیکن امام علی ع ہر موقع پر ثابت قدم رہے ۔اس کی دلیل کے لیے وہ امتیازی سند کافی ہے جو رسول اللہ ص نے اس

--------------------

(1):- 1:-صحیح بخاری کتاب المحاربین ،باب لایرجم المجنون ۔2:- سنن ابی داؤد باب مجنون یسرق  صفحہ 147۔3:- مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 140 ، 154۔ 4:- موطاء امام مالک بن انس کتاب الاشربہ صفحہ 186۔ 5:- مسند شافعی کتاب الاشربہ صفحہ 166۔ 6:- کنزالعمال  ملا علاء الدین متقی جلد 3 صفحہ 95۔7:- مستدرک حاکم جلد 4 صفحہ 375 ۔8:- سنن دراقطنی کتاب ۔۔۔۔۔9:- شرح المعانی آلاثار طحاوی کاب القضاء صفحہ 294۔


وقت عطا فرمائی  جب آپ نےیہ کہا کہ

" کل میں اس شخص کو علم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور رسول اس سے محبت رکھتے  ہیں ۔ جو آگے بڑھ کر حملہ کرنے والا ہے ، پیٹھ دکھانے والا نہیں ! اللہ نے اس کے دل کو ایمان  کے لیے جانچ لیا ہے ۔

سب صحابہ کی نظریں علم پر لگی تھیں مگر رسو اللہ نے علم  علی بن ابی طالب ع کو عطا فرمایا ۔(1)

مختصر یہ کہ علم وحکمت اور قوت وشجاعت امام علی ع کی ایسی خصوصیات ہیں جن سے شیعہ وسنی سب ہی واقف ہیں اور اس بارے میں دوراتیں نہیں ہوسکتیں(2) نص غدیر سے قطع نظر جس سے امام علی ع کی امامت ثابت ہوتی ہے ۔قرآن کریم قیادت وامامت کا مستحق صرف عالم  ،شجاع اور قوی کو قراردیتا ہے ۔علماء کی پیروی واجب ہونے کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشادہ ہے :

" أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لاَّ يَهِدِّيَ إِلاَّ أَن يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ "

کیا وہ شخص جو حق کا راستہ دکھائے زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو اس وقت تک راستہ نہیں دکھاسکتا  جب تک خود اسے راستہ نہ دکھایا جائے تمھیں کیا ہوگیا ہے ،تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟(سورہ یونس ۔آیت 35)

بہادر اور جری کی قیادت کے واجب الاتباع ہونے کے بارے میں قرآن کریم میں ہے ۔:

" قَالُوَاْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ

--------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 5 ۔صفحہ 12 ۔جلد 5 صفحہ 76-77 ۔ صحیح مسلم جلد 7 صفحہ ۔۔۔

(2):- بقول بو علی سینا :- علی ع صحابہ میں ایسے ہی جیسے محسوس میں معقول (یعنی جسے جسم میں روح)(ناشر)


اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ "

وہ کہنے لگے : اسے ہم پر حکمرانی کا حق کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ بہ نسبت اس کے ہم حکمرانی کے زیادہ مستحق ہیں ۔ اور اس کو  تو کچھ مالی وسعت بھی نہیں دی گئی ۔ پیغمبر  نے جواب میں کہا : اول تو اللہ تعالی نے اس کو تمھارے مقابلے میں منتخب فرمایا ہے  دوسرے یہ کہ علم  اورجسامت دونوں میں اللہ نے اس کو زیادتی دی ہے ۔ اللہ تعالی اپنا ملک جس کو چاہتا ہے دیتا ہے ۔ اللہ تعالی وسعت دینے والا ، جاننے والا ہے ۔ (سورہ بقرہ ۔ آیت 246)

اللہ تعالی نے امام علی ع کو بہ نسبت دوسرے صحابہ کے علم میں بڑی وسعت عطا کی تھی اور وہ صحیح معنی میں شہر علی کا دروازہ تھے ۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد صحابہ ان ہی سے رجوع کرتے تھے ۔ صحابہ کو جب کوئی ایسا مشکل مسئلہ درپیش ہوتا تھا جسے  وہ حل نہیں کرپاتے تھے تو کہا کرتے تھے :

"معضلةٌ وّليس لهآ إلّا أبو الحسن ".

یہ وہ مشکل  ہےجسے ابو الحسن کے سوا کوئی حل نہیں کرسکتا(1)

امام علی ع کو اللہ تعالی نے جسم میں بھی وسعت عطافرمائی تھی بہ این معنی کہ وہ واقعی اسداللہ الغالب تھے ۔ ان کی قوت وشجاعت صدیوں سے زبان زدخاص وعام ہے ۔ مورخین نے ان کی قوت وشجاعت کی ایسی داستانیں رقم کی ہیں جو معجزہ  سے کم نہیں ۔مثلا :

باب خیبر  کو اکھاڑنا جسے بعد میں 20 صحابی مل کر  ہلا بھی نہ سکے(2)

کعبے کی چھت  پر سے بڑے بت ہبل کو اکھاڑنا ۔(3) اور

اس مضبوط چٹان کو الٹ دینا جسے پورا لشکر بھی نہیں ہلا سکتاتھا ۔(4)

----------------------

(1):- مناقب الخوارزمی صفحہ 58 ۔تذکرۃ السبط صفحہ 87  اب مغازلی ترجمہ علی ع صفحہ 79

(2)(3)(4):- شرح نہج البلاغہ


جب بھی موقع ہوتا رسول اللہ ص اپنے چچازاد بھائی کی خوبیاں اورفضائل بیان فرماتے اور لوگوں کو ان کی خصوصیات اور امتیازات  سےباخبر کرتے رہتے تھے ۔ کبھی فرماتے :

"إنّ هذا أخي وصيّي وخليفتي من بعدي فاسمعواله وأطيعوه."

یہ میرے بھائی ، میرے وصی اور میرے بعد میرے خلیفہ ہیں اس لیے ان کی بات سنو اور جو کچھ وہ کہیں اس پر عمل کرو(1)

کبھی فرماتے :

"أنت منّي بمنزلة هارون من مو سى إلّا أنّه لانبي بعدي ".

یعنی جو نسبت ہارون کو موسی سے تھی وہی نسبت تمھیں مجھ سے  ہے ، بس یہ فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔(2)

کبھی فرماتے :

"من أرادأن يّحيا حياتي ويموت مماتي ويسكن جنّة الخلد الّتي وعدني فليوال على بن أبي طالبٍ فإنّه  لن يخرجكم من هدىً ولن يدخلكم في ضلالةٍ."

جو کوئی یہ چاہتا ہے کہ میری طرح جیے اور میری موت مرے اورخلد بریں میں رہے  جس کا مجھ سے میرے پروردگار نے وعدہ کیا ہے اسے چاہے کہ علی بن ابی طالب ع کا دوست بن جائے کیونکہ علی ع تمھیں کھبی ہدایت کے دائرہ سے خارج نہیں کریں گے اور نہ کبھی گمراہی کے دائرے میں داخل کریں گے ۔(3)

----------------------

(1):- طبری ،تاریخ الامم والملوک جلد 2 صفحہ 319 ۔ابن اثیر ، الکامل فی التاریخ جلد 2 صفحہ 62

(2):- صحیح بخاری باب فضائل علی ع صحیح مسلم جلد 7 صفحہ 120

(3):-مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ128 ۔طبرانی ،معجم کبیر ۔


سیرت رسول ص کا متبّع کرنےوالے کو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ص نے کبھی صرف اقوال پر اکتفاء نہیں فرمایا  بلکہ ان اقوال پر عمل بھی کرکے دکھایا ہے ۔ چنانچہ آپ نے اپنی زندگی میں کسی صحابی کو علی ع پر امیر مقررنہیں فرمایا جب کہ دوسرے صحابہ ایک دوسرے پر امیر مقرر ہوتے رہتے تھے ۔ غزوہ ذات السلاسل میں ابو بکر اور عمر پر عمر وبن عاص کو امیر مقرر فرمایا تھا(1)

اسی طرح آپ نے تمام کبار صحابہ پر ایک کم عمر نوجوان اسامہ بن زید کو اپنی وفات سے کچھ قبل امیر مقرر فرمادیا تھا ۔ مگر علی بن ابی طالب ع کو جب بھی کسی دستہ کے ساتھ بھیجا آپ ہی امیر ہوئے ۔

ایک مرتبہ آپ نے دو دستے روانہ فرمائے ایک کا امیر علی کو بنایا اور دوسرے کا خالد بن ولید کو ۔ اس موقع پر آپ نے کہا کہ تم دونوں الگ الگ رہو تو تم میں سے ہر ایک اپنے لشکر کا امیر ہے لیکن اگر اکٹھے ہوجاؤ تو علی ع پورے لشکر کے سالا ہوں گے ۔

اس تمام بحث سے ہمارے نزدیک یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ رسول اللہ کے بعد علی ع ہی مومنین کے ولی ہیں اور کسی کو ان سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے ۔لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں نے اس سلسلے میں سخت نقصان اٹھایا اور آج اٹھارہے ہیں کیونکہ اس وقت جو بویا تھا اسی کا پھل کاٹ رہے ہیں ۔ اگلوں نے جو بنیادرکھی تھی پچھلوں نے اس کا انجام دیکھ لیا !کیا علی ع کی خلافت سے بہتر خلافت راشدہ کا کوئی تصور کرسکتا ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول ص نے اس بارے میں جو پسند کیا تھا اگر مسلمان اس کا اتباع کرتے تو علی ع ایک ہی طریقے پر اس امت کی قیادت تیس سال تک بالکل اسی طرح کرسکتے تھے جیسے رسول اللہ ص نے کی تھی ۔ یہ اس اس لیے ضروری تھا کہ ابو بکر اور عمر نے متعدد موقعوں پر اپنی رائے  سے اجتہاد کیا اور بعد میں ان کا اجتھاد بھی ایسی سنت بن گیا  جس کی پیروی ضروری خیال کی جانے لگی تھی ۔ جب عثمان خلیفہ ہوئے تو انھوں نے اور بھی

--------------------

(1):- سیرۃ حلبیہ ،غزوہ ذات السلاسل ۔ابن سعد طبقات کبری


زیادہ تبدیلیاں کیں ۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے توکتاب اللہ ، سنت رسول   اللہ ص اور سنت شیخین سب کو بد ل دیا ۔ اس پر صحابہ نے اعتراض بھی کیا : اور باالآخر ایک عوامی انقلاب میں خود ان کی جان بھی گئی  لیکن اس سے امت میں ایسا فتنہ پیدا ہوا کہ آج تک اس کے زخم مندمل نہیں ہوسکے ۔

اس  کےبرخلاف علی ع سختی سے قرآن وسنت کی پابندی کرتے تھے اور ان سے سرموانحراف کے لیے تیار نہیں تھے ۔اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے اس وقت خلافت قبول کرنے سے انکار کردیا تھا جب ان پر یہ شرط عائد  کی گئی تھی کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ص کے ساتھ سنت شیخین کا بھی اتباع کریں گے پوچھنے والا پوچھ سکتا ہے کہ علی ع کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پابندی پر اس قدر زورکیوں دیتے تھے جب کہ ابو بکر ، عمر اور عثمان اجتہاد اور تغییر پر مجبور ہوگئے تھے ؟

اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ علی  ع کے پاس وہ علم تھا جو اور کسی کے پاس نہیں تھا ۔رسول اللہ  ص نے انہیں خاص طور پر علم کے ہزار دروازوں سے ممتاز فرمایا تھا اور ان ہزاروں میں سے ہر ایک سے ہزار اور دروازے کھلتے تھے(1) ۔ رسو ل اللہ ص  علی سے کہا تھا کہ :

"اے علی  ! میرے بعد میری امت میں جن امور کےبارے میں اختلاف ہوگا تم ان کو صاف صاف بیان کروگے(2) ۔رہے دوسرے خلفاء ! انھیں قرآن کی تاویل تو درکنا ر قرآن کے بہت سے ظاہری احکام بھی معلوم نہیں تھے ۔مثلا ،بخاری اور مسلم کےباب التیمم میں ایک روایت ہے کہ کسی شخص نے عمر بن خطاب سے ان کے ایام خلافت میں  پوچھا : امیر المومنین ! میں جنب ہوجاؤں اور

---------------------

(1):- ملا علاؤالدین متقی ، کنزالعمال جلد 6 صفحہ 392 حدیث 6009 ۔ابو نعیم اصفہانی ،حلیۃ الاولیاء ،حافظ قندوزی حنفی ، ینابیع المودۃ  صفحہ 73 ۔ 77 ۔ابن عساکر ،تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 483۔

(2):-مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 123 ۔ابن عساکر ،تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 488


پانی نہ ملے تو کیا کروں ؟ عمر نے کہا تو ایسی صورت میں نماز نہ پڑھو۔

اسی طرح انھیں "کلالۃ"(1) کا حکم معلوم نہیں تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ " کاش میں "کلالۃ" کا حکم رسول اللہ سے پوچھ لیتا "۔ حالانکہ یہ حکم قرآن میں  مذکور ہے ۔

کوئی شخص کہہ سکتا  ہے کہ اگر یہ بات تھی تو امام علی ع نے ان امور کی وضاحت کیوں نہ کردی جن میں رسول اللہ ص کی وفات  کے بعد اختلاف پیدا ہوا ؟اس کا جواب یہ ہے کہ جس مسئلے  میں بھی امّت  کو مشکل پیش آئی ، امام علی ع نے اس کے بیان کرنے میں کوئی کسے نہیں چھوڑی ۔ ہر مشکل  میں صحابہ ان ہی سے رجوع کرتے تھے ، وہ ہر بات کی وضاحت کرتے تھے ، مسئلے کا حل  بیان کرتے تھے اور نصیحت  کرتے تھے ۔ مگر صحابہ کو جو بات پسند آتی  تھی اور جو ان کی سیاست سے متصادم نہیں ہوئی تھی وہ اسے قبول کرلیتے تھے اور باقی کو چھوڑ دیتے تھے ۔ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اس  کی سب سے بڑی گواہ خود تاریخ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر علی بن ابی طالب ع اور ان کی اولاد میں سے ائمہ نہ ہوتے تو  عوام اپنے دین کی امتیازی خصوصیات سے ناواقف ہی رہتے ۔لیکن  لوگ ۔ جیسا کہ قرآن نے ہمیں بتایا ہے ۔حق کو پسند نہیں کرتے ، اس لیے انھوں نے اپنی خواہشات کی پیروی شروع کردی اور ائمہ اہل بیت ع کے بالمقابل  نئے نئے  مذاہب ایجاد  کرلیے ۔ ادھر حکومتیں  بھی ائمہ  اہل بیت  پر پابندیاں عائد کرتی تھیں اور انھیں کہیں آنے  جانے اور لوگوں سے براہ راست رابطہ قائم  کرنے کی آزادی نہیں دیتی تھیں ۔ امام علی ع منبر پر سے فرمایا کرتے تھے :

"سلو ني قبل أن تفقدوني!"لوگو! اس سے پہلے کہ میں تم میں نہ رہوں ، جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھ لو۔

امام ع کے علم وفضل کی یہی ایک دلیل کافی ہے کہ آپ نے نہج البلاغہ جیسا عظیم علمی سرمایہ چھوڑا ۔ائمہ اہل بیت ع نے علم کی اس قدر کثیر مقدار چھوڑی ہے کہ

---------------------

(1):- کلالۃ کے معنی میں اختلاف ہے ۔ بظاہر معنی ماں باپ اور اولاد کے علاوہ وارث ک ے ہیں ۔


اس نے چار دانگ عالم کو بھر دیا ۔ سب ہی ائمہ مسلمین خواہ سنی ہوں خواہ شیعہ اس کے گواہ  ہیں ۔اس بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اکر قسمت  علی ع کا ساتھ دیتی اور انھیں سیرت رسول ص کے مطابق تیس سال تک امت کی قیادت کرنے  موقع ملتا تو اسلام عام ہوجاتا اور اسلامی عقائد لوگوں کے دلوں میں پختگی  کے ساتھ جاگزیں ہوجاتے ، پھر نہ کوئی فتنہ صغری ہوتا نہ کوئی فتنہ کبری ،نہ واقعہ کربلا ہوتا نہ یوم عاشورا ۔

اگر علی ع کے بعد گیارہ  ائمہ  کو قیادت کا موقع ملتا جن کا تعلق  رسول اللہ ص نے کیاتھا اورجن کی مدت حیات تقریبا  تین صدی پرمحیط ہے ، تو دنیا میں ہر جگہ  صرف مسلمان ہوتے اور کرہ ارض کی تقدیر بدل جاتی اور ہماری زندگی صحیح معنی میں انسانی زندگی ہوتی ۔ مگر اللہ تعالی کا تو فرمان ہے :

"الم () أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ()"

کیا ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو چھوڑ دیا جائے  کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے  اور ان کو امتحان میں نہیں ڈالا جائیگا ۔(سورہ  عنکبوت ۔آیت 1-2)

امم سابقہ کی طرح مسلم امہ بھی اس امتحان میں ناکام رہی ۔ اس کی تصریح متعدد موقعوں پر خود رسول اللہ نے فرمائی(1)   اور اسی طرح قرآن کریم متعدد آیات میں بھی اس کی صراحت ہے ۔(2) انسان  وہ ناانصاف اور جاہل ہستی ہے

-----------------------

(1):- جیسا کہ بخاری ومسلم کی روایت میں ہے کہ مسلمان یہودی ونصاری کے طریقوں پر قدم بقدم چلیں گے اور اگر وہ گوہ کے بھٹ گھسیں گے تو مسلمان  بھی ایسا ہی کریں گے ۔ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے ، اسی طرح حدیث حوض میں روسول اللہ ص نے فرمایا  : میں دیکھتا ہوں کہ ان میں بہت ہی کم نجات پائیں گے ۔

(2):- جیسا کہ سورہ آل عمران میں ہے :" أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ" اور سورہ فرقان میں ہے:"يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً"


جس کے بارے میں رسول اللہ ص نے فرمایا ہے :

"لن يدخل الجنّة أحد بعمله إلّا أن يتغمده الله برحمته وفضله"

کوئی شیخص جنت میں اپنے اعمال  کی وجہ سے داخل نہیں ہوگا بجز اس کے کہ اللہ تعالی اپنا فضل فرمادے اور اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے ۔(1)

بحث کے آخر میں کچھ تبصرہ

میں اس طرح کے اقوال دیکھ کر اکثر دانشوروں اور پروفیسروں کی مجلس میں اس پر افسوس کیا کرتا تھا کہ خلافت اس کے صحیح حقدار علی بن ابی طالب ع کے  ہاتھ سے نکل گئی ۔ آخر ایک دن ان میں سے ایک پروفیسر صاحب نے یہ کہہ کر مجھ پر اعتراض کیا کہ

" علی بن ابی طالب ع نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے کیا کیا ہے؟انھوں نے اپنی پوری زندگی خلافت کی تگ و دو  میں گزاردی  اور اس کے لیے ہزاروں مسلمانوں کو مروادیا ۔ اس کی ساری جنگیں خلافت ہی کے لیے  تھیں ۔ اس کے برعکس ان سے پہلے خلفائے  ثلاثہ  نے اپنی زندگی اسلام کی اشاعت میں صرف کردی اور عمر بھر  اسلام کی عزت ووقار کے لیے کام کیا ۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے ملک فتح کیے اور شہرآباد کیے ۔ اگرابو بکر صدیق  نہ ہوتے تو عرب اسلام سے مرتد ہوگئے ہوتے ۔ اور اگر عمر بن خطاب نہ ہوتے تو ایران اور روم اسلام کی اطاعت قبول نہ کرتے ۔ اور اگر عثمان بن عفان نہ ہوتے تو آج آپ مسلمان نہ ہوتے "(2)

پھر ان صاحب نے اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہا :

--------------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 10 ۔ صحیح مسلم ، کتاب صفات المنافقین ۔

(2):- ان صاحب کا اشارہ عثمان بن عفّان کے عہد میں شمالی افریقہ کے فتح ہونےکی طرف تھا ۔مطلب یہ کہ اگر یہ فتح نہ ہوتی تو ہم بربر ہی رہتے ۔ ہمارا اسلام سے کوئی واسطہ نہ ہوتا ۔


جب علی ع کو خلافت  ملی  تو انھوں نے وہ طوفان کھڑا کیا کہ سارا کاروبار خلافت ہی درہم برہم کردیا ۔ انتظام بگڑگیا  اور وہ  اسلام جو ان خلفاء  کےعہد میں طاقتور  تھا ، جن کی تیجانی صاحب تنقیص کرتے اور جن کی نیکی اور پارسائی میں شک پیدا کرتے ہیں ، وہ پیچھے ہٹنے اور ناکام ہونے لگا ۔ اب اس آخری الزام کا جس پر انھوں نے اپنی بات ختم کی میں کیا جواب دیتا  بہر حال میں نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا اور جوش میں نہیں آیا ۔ میں نے استغفار پڑھ کرکہا :

"برادران عزیز! یہ پروفیسر صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں آپ اس سے متفق ہیں ؟ اکثر نےکہا :ہاں اور بعض نے جواب  نہیں دیا ،خواہ اسے لیے کہ میرا لحاظ کیا یا اس لیے کہ انھیں ان صاحب کی باتوں پر یقین نہیں تھا ۔

میں نے کہا کہ آپ کی اجازت سے میں پروفیسر صاحب کی ایک ایک بات  کو لے کر اس پر گفتگو کروں گا ، اس کے بعد فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے ۔خواہ آپ میرے حق میں فیصلہ دیں خواہ میرے خلاف ۔ میں آپ سے صرف یہ چاہوں گا  کہ آپ حق کا ساتھ دیں اور تعصب سے کام نہ لیں ۔

سب نے کہا :بسم اللہ فرمائیے !

میں نے کہا :" پہلی بات تو یہ ہے کہ علی بن ابی طالب ع نے اپنی تمام زندگی خلافت کی تگ ودو میں نہیں گزاری ،جیسا کہ پروفیسر صاحب نے فرمایا ہے ،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ خلافت سے گریزاں تھے ۔ اگر وہ خلافت کے پیچھے دوڑتے تو رسول اللہ ص کی تجیہز وتکفین کو چھوڑ کر دوسروں کی طرح جلدی سقیفہ پہنچتے اور وہاں انھیں کی بات  ور رہتی خصوصا ایسی حالت میں کہ اکثر صحابہ ان کی رائے سے اتفاق کرتے تھے ۔ پھر ہم دیکھتے  ہیں کہ جب ابو بکر کی موت کے بعد خلافت حضرت عمر  کو مل گئی ،جب بھی انھوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی مخالفت نہیں کی ۔ پھر عمر کے بعد جب انھیں خلافت  کی پیش کش ہوئی تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔کیونکہ اس پیشکش کے ساتھ جو شرائط تھیں وہ ان کے لیے قابل قبول نہیں تھیں ۔اس سے پروفیسر صاحب کے خیالات کی بالکل تردید ہوجاتی ہے ۔کیونکہ اگر علی ع خلافت کے پیچھے دوڑرہے ہوتے


تو ان کا  کیا نقصان تھا ، وہ سنت شیخین پر عمل کی شرائط کو منظور کرلیتے اور پھر جو دل چاہتا کرتے جیسا کہ عثمان نے کیا۔ اسی رویہ سے علی ع کی عظمت کا اظہار ہوتاہے ۔ علی ع نے اپنی زندگی میں ہ کبھی جھوٹ بولا اور نہ کبھی وعدہ خلافی کی ۔ ان ہی اعلی اصولوں  کی پابندی کی جہ سے علی ناکام رہے جب کہ دوسرے کامیاب ہوگئے کیونکہ وہ اپنی مقصد برآری کے لیے جوچاہتے سوکرتے تھے ۔ مگر علی ع کہا کرتے تھے ۔

"میں جانتا ہوں کہ تمھاری بہتری کسی بات میں ہے ۔مگر مجھے تمھاری بہتری کے لیے اپنی برباد ی منظور نہیں " سبحان اللہ ! کیا کہنا امام ع کی عظمت کا !  سب مورخین بیان کرتے ہیں کہ قضیہ سقیفہ کے بعد ابو سفیان نے  علی ع کے پاس آکر انھیں خلافت کا لالچ دیا اور کہا کہ میں ابو بکر اور ان کے حلیفوں سے قتال کے لیے آدمیوں کا روپیوں کا انتظام کردیتا ہوں تو آپ نے اس پیشکش کو ٹھکرادیا اور فرمایا:

" اے ابو سفیان ! فتنہ نہ پھیلا ، میں جانتا ہوں کہ تیرے دل میں کیا ہے ۔میں مسلمانوں مین فتنہ وآشوب پسند نہیں کرتا ،بہتر یہی  ہے کہ الگ رہوں اور افتراق پسندی سے اپنا دامن بچائے رکھوں "

اگر آپ خلافت کے پیچھے دوڑتے ہوتے تو اس پیشکش کو ضرورقبول کرلیتے ۔لیکن آپ نے اسلام او رمسلمانوں کی سلامتی  کی خاطر قربانی دی اور صبر سے کام لیا ۔ علی ع ہی نے تو ابن عباس سے کہاتھا کہ تمھاری دنیا کی میرے نزدیک بس اتنی وقعت ہے جتنی اس پتے کی جس کو کوئی ٹڈی اپنے منہ میں لے چبا ڈالے(1) یا اتنی جتنی کسی بکری کی رینٹ کی ہوتی ہے(2)

--------------------

(1):-"إنّ دنياكم عندي لاهون من وّرقةٍ في جرادةٍ تقمضها". (نہج البلاغہ خطبہ 221)

(2):-" ولا لفيتم دنياكم هذه أزهد عندي من عطفة عنزٍ". ( نہج البلاغہ خطبہ شقشقیہ)


(ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب امیر المومنین  امام علی ع اہل بصرہ سے جنگ کے لیے نکلے تو میں مقام ذی قار مین آنجناب کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا  کہ اپنا جوتا ٹانک رہے ہیں ۔ مجھے دیکھ کر فرمایا کہ اے ابن عباس ! اس جوتے کی کیا  قیمت ہوگی ؟ میں نےکہا : اب تو اس کی کچھ بھی قیمت نہ ہوگی ۔یہ سن کر آپ نے فرمایا : "بخدا ! اگر میرے پیش نظر حق کی سربلندی اور باطل کی نابودی  نہ ہو تو مجھے یہ جوتا تم  لوگوں  پر حکومت کرنے سے زیادہ عزیز ہے )

تو جناب آپ کا یہ فرمانا کہ علی ع خلافت کے پیچھے دوڑ تھے تھے ، اس کی تاریخی واقعات سے تردید ہوجاتی ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ کا یہ دعوی کہ انھوں نے خلافت کے حصول کی خاطر  ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرادیا اور اس کی سب لڑائیاں صرف اسی مقصد کے لیے تھیں تو یہ دعوع بھی بالکل جھوٹ اور سراسر بہتان ہے اور حقائق  کومسخ کرنا ہے ۔ اگر آپ نے ناواقفیت  کی بنا پر ایسا کہا  ہے  تو اللہ معافی مانگیں اورتوبہ استغفار کریں اور اگر آپ نے جان بوجھ کر ایسا کہا ہے تو آپ کی سب معلومات بالکل غلط اور جھوٹ ہیں کیونکہ امام ع کی وہ لڑائیاں جن کا آپ نے ذکر کیا اس کے بعد  کی ہیں جب خلافت آپ کے پیچھے دوڑتی ہوئی آپ کے پاس آچکی تھی ۔ آپ کو خلافت کے قبول کرنے پر  لوگوں نے مجبور کیا تھا بلکہ انکار کرنے کی صورت میں آپ کو قتل کرنے دھمکی بھی دی گئی تھی ۔ تاریخ شاہد ہے کہ علی چوتھا ئی صدی تک خاموش اور خانہ نشین رہے ۔ اس طویل مدّت  میں نہ خلفاء کی کسی جنگ میں حصہ لیا اور نہ تلوار میان سے نکالی  توجناب ! پھر آپ کیسے  یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کی جنگیں خلافت کے حصول کی خاطر تھیں ؟ اورکیسے یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حصول خلافت کے لیے ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا ؟۔جنگ جمل تو عائشہ(1) ، طلحہ اور زبیر نے شروع کی تھی ۔ ان ہی لوگوں نے بصرہ

--------------------

(1):- رسول اللہ ص کی ان زوجہ  محترمہ نے یہ آیہ قرآن "وقرن فی بیوتکنّ " کی خلاف ورزی کرکے سیاسی فتنوں کو عالم اسلام  میں راہ دی اگر چہ بعد میں وہ اس پر پشیمان  ہوئیں اور بولیں : کاش میرے رسول اللہ ص سے بہت سارے بچے ہوتے اور سارے مرجاتے مگر میں اس قضیے میں ہاتھ نہ ڈالتی ! (اسدالغابہ جلد 3 صفحہ 384 )(ناشر)


میں داخل ہوکر لوگوں  کو قتل کیا تھا اور بیت المال لوٹ لیا تھا(1) ۔ جنگ جمل کو جنگ عہد شکنان بھی کہاجاتا ہے کیونکہ طلحہ اور زبیر نے اس وقت بیعت توڑدی تھی جب امام علی ع نے انھیں کوفے اوربصرے کا والی بنانے سے انکار کردیا تھا ۔(2)

رہی جنگ صفین تویہ معاویہ نے گلے منڈھی تھی ۔ معاویہ ہی نے ہزاروں  مسلمانوں  کو قتل کیا ۔ سب سے بڑھ کر عمار بن یاسر کو ۔اور یہ سب کچھ خلافت کے حصول کے لیے کیا ۔تو میرے بھائی ! آپ کیوں  حقائق کو  مسخ کرتے ہیں ۔ حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ جنگ صفین کی ابتدا معاویہ نے خون عثمان  کا دعوی لے کر شروع کی تھی لیکن اصل میں معاویہ  کا مقصد حکومت پر قبضہ کرنا تھا ۔ اس کی گواہی(3) خود معاویہ نے اس خطبہ میں دی جو انھوں نے جنگ کے بعد کوفہ میں داخل ہونے کےبعد دیا تھا ۔ معاویہ نے کہا:

"میں نے تمھارے ساتھ اس لیے جنگ نہیں کہ تم نماز پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو اور زکواۃ دو ۔ یہ سب کام تو تم پہلے کرتے ہو ۔ میں نے جنگ تمھارا امیر بننے کے لیے لڑی تھی ۔ اللہ نے مجھے اس میں کامیابی دی گو تمھیں یہ بات پسند نہیں تھی ۔"

جنگ صفین کو ظالموں اور باغیوں کی لڑائی کہا جاتا ہے ۔رہی جنگ  نہروان ! یہ خوارج کی لڑائی تھی۔  یہ جنگ بھی باغیوں  نے امام علی ع پر مسلط  کی تھی ۔ یہ ہیں وہ لڑائیاں جو امام علی ع نے لڑیں ۔ امام علی ع ہر موقع پر لوگوں کو کتاب اللہ کی طرف بلاتے رہے اور اپنے مخالفین پر حجّت قائم کرتے رہے ۔

جناب! آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ آپ تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ

---------------------

(1):-طبری ابن  اثیر ، یعقوبی ، مسعودی اور وہ تمام مورخین جنھوں نے جنگ جمل کا حال لکھا ہے۔

(2):- طبری ،تاریخ الامم والملوک جلد 5 صفحہ 153 ۔ابن کثیر ،البدایہ والنہایہ جلند 7 صفحہ 227۔ ابن واضح یعقوبی ،تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 127۔

(3):- ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 131 ۔ابو الفرج اصفہانی ، مقابل الطالبین صفحہ 70 ۔ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ جلد 4 صفحہ 16


حق وباطل کو پہچان سکیں اور اولیاء اللہ پر بیجا الزام لگانے سے بچ سکیں ۔

اس موقع پر ایک اور پروفیسر صاحب نے جوشاید تاریخ کے ماہر تھے ،اپنی رائے ظاہر کرتے ہوۓ کہا:

آپ نے جو کچھ کہا بالکل صحیح ہے ۔ معاذا اللہ امام علی کرّم اللہ وجہہ خلافت کے لالچی نہیں تھے اور نہ وہ خلافت کی طمع میں کسی کو بھی قتل کرسکتے تھے ،سخت افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک بعض مسلمان علی ع پر شک کرتے ہیں جبکہ عیسائی بھی ان کا احترام کرتے ہیں ۔ میں نے حال ہی ایک عیسائی مصنف جارج جرداق کی ایک کتاب پڑھی ہے جس کا نام ہے "صوت العدالۃ الانسانیہ "(ندائے عدالت انسانی ) اس کتاب میں اس نے حیران کن واقعات بیان کیے ہیں جو شخص بھی اس کتاب کوپڑھے گا ، امام علی ع کی عظمت کےسامنے سرجھکادے گا ۔ اس پر ایک تیسرے پروفیسر صاحب ان کی بات کاٹ کر بولے : آ پ نے  شروع سے ہی یہ با  کیوں نہ کہی؟

انھوں نے جواب دیا : میں درحقیقت تیجانی بھائی کی باتیں سن رہا تھا میں انھیں پہلے سے نہیں جانتا تھا اس لیے چاہتا تھا کہ ان کا جواب سنوں اور ان کی معلومات کا اندازہ لگاؤں ۔ الحمداللہ !انھوں نے اپنے دلائل سے ہمیں لاجواب کردیا ۔دوسری بات یہ ہے کہ مجھے یقین ہے کہ یہ صاحب بھی امام علی ع کی فضیلت  کے قائل ہیں لیکن انھیں ابو بکر اور عمر کی حمایت میں جوش آگیا ، اس لیے وہ تیجانی بھائی کی باتوں کے ردّ عمل کے طور پر امام علی ع کی شان میں گستاخی کربیٹھے جس کا انھیں احساس بھی نہیں ہوا ۔

پہلے پروفیسر صاحب نے بھی اپنے ساتھی  کی اس بات کو پسند کیا کیونکہ اس طرح انھیں اس مخمصے سے نجات مل گئی  جن میں وہ سب کے سامنے اپنی ہی باتوں  کی وجہ سے پھنس گئے تھے ۔گرچہ اب حق ظاہر ہوچکا تھا  اور ان صاحب کے لیے بہتر تھا کہ اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے صحابہ کا دفاع کرتے مگر وہ ازروئے  جہالت حقائق کو مسخ کرتے ہوئے کہنےلگے :

جی ہاں ! میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خلفاء کا اسلام  اور مسلمانوں پر بڑا احسان ہے


چاہے انھوں نے کچھ بھی  کیا ہو ۔آخر کو وہ بشر تھے اور کسی نے بھی ان کے معصوم ہونے کا دعوی نہیں کیا ۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی خوبیاں بیان کریں (اور خامیوں پر پردہ پڑا رہنے دیں ) یہ صحیح نہیں ہے کہ شیعوں کی طرح خلفاء  کی فضلیت  کا انکار کریں اور حبّ علی میں  غلو سے کام لیں ۔

میں نے کہا : اگر اجازت ہوتو میں اپنا جواب مکمّل کرلوں تاکہ آپ میں سے کسی کے ذہن میں کوئی شبہ باقی نہ رہے ۔

"ان صاحب کا یہ کہنا کہ امام علی ع سے پہلے جو تین خلفاء ہوئے ان کی زندگیاں اشاعت  اسلام میں صرف ہوئیں اور ان کے عہد میں بڑی  فتوحات ہوئیں ، نیز کہ اگر وہ نہ ہوتے تو آج مسلمان نہ ہوتا ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر فتوحات کا مقصد اللہ کی رضا اور اسلام کی عزت تھا تو اللہ اس کی جزا دےگا ، لیکن اکر مقصد اپنی فوقیت جتانا ،مال غنیمت حاصل کرنا اور عورتوں کو باندیاں بنانے کے لیے قید کرنا تھا توپھر اس کانہ کوئی اجر ہے اور نہ ثواب۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب عثمان بن عفّان کی مخالفت نے زورپکڑا اور لوگ ان پر اعتراض کرنے لگے تو انھوں نے مروان بن حکم اور معاویہ بن ابی سفیان سے  مشورہ کیا ۔انھوں نے کہا " افریقہ  فتح کرنے کے لیے فوجیں بھیج دو تاکہ لوگوں کا دھیان بٹ جائے ، پھر چاہے ان کی پیٹھ پر جوئیں رینگتی رہیں انھیں فکر ہوگی تو اس کی کاٹھی  سے ان کے گھوڑوں  کی پیٹھ پر زخم پڑجائیں "(1) ۔چنانچہ  عثمان  نے اپنے  دودھ شریک بھائی عبداللہ بن ابی سرح کی قیادت میں افریقہ فتح کرنے کے لیے  فوج بھیج دی اور فتح کے بعد بلاشرکت غیرے عبداللہ بن ابی سرح کو افریقہ کا پورا خراج  دے دیا ۔ یہ عبداللہ بن ابی سرح  ایک دفعہ ایمان لانے کے بعدمرتد ہوگیا تھا اور رسول اللہ ھ نے اعلان کردیا تھا کہ اس کا خون  مباح ہے ،جو شخص چاہے  اسے قتل کردے ۔ جب رسول اللہ ص فتح مکہ کے لیے تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے اصحاب کو ہدایت  کی عبداللہ  بن ابی سرح جہاں کہین ملے اس کو قتل کردو چاہے وہ کعبے کے

-------------------------

(1):-طبری ،تاریخ الامم والملوک  باب خلافت عثمان ۔ابن اثیر الکامل فی التاریخ باب خلافت عثمان۔


پردے پکڑے ہوئے کیوں نہ ہو ۔ لیکن عثمان نے اسے  چھپالیا اور فتح کے بعد اسے رسول اللہ ص کے پاس لے کرآئے اور اس کی سفارش کی ۔ رسول اللہ ص خاموش  اور اس بات کے منتظر رہے کہ کوئی اٹھ کر اسے قتل کردے ، جیسا کہ

آپ نے بعد میں فرمایا ۔ اس پر عمر نے کہا کہ یا رسول اللہ ص مجھے آنکھ سے اشارہ کردیا ہوتا ۔ آپ نے فرمایا :

"نحن معاشر الأنبياء لاينبغي أن تكون لنا خائنة الأعين."

ہم انبیاء کے لیے آنکھ سے دھوکا دینا نامناسب  ہے "(1)

یہ تھے فتح افریقہ کے اسباب اور ایسے شخص کے ہاتھوں افریقہ کے لوگ مسلمان ہوئے ۔میں بھی اسی شخص کے توسط سے مسلمان ہوا ! یہ تو ہوئی ایک بات ۔دوسری بات یہ ہے کہ کس نے کہا ہے کہ اگر سقیفہ کا قصہ نہ ہوتا اور علی کو خلافت  سے دور نہ رکھا جاتا تو بڑے پیمانے پر اور زیادہ نفع  بخش نہ ہوتیں اورآج پورے کرہ ارض پر اسلام چھایا ہوا نہ ہوتا ؟؟ پھر یہ بھی ہے کہ انڈونیشیا کو  خلفاء نے فتح نہیں کیا تھا ، وہاں اسلام تلواروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوداگروں کے ذریعے پہنچا تھا اور آج بھی وہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ مسلمان ہیں ۔ اور انڈونشیا اس اسپین سے بہتر ہے جو ان لوگوں کے ہاتھوں تلوار سے فتح ہواتھا اور جوآج اسلام اور مسلمانوں کامخالف ہے ۔

برادران گرامی ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس سلسلے میں ایک چھوٹا سا قصہ آپ کو سناؤں :

ایک بادشاہ نے حج کو جانے سے پہلے وزیر کو اپنا قائم مقام مقررکیا تھا ۔ ان دنوں حج کے سفر میں پورا ایک سال لگتا تھا ۔ بادشاہ کے جانے کےبعد اس کے کچھ درباریوں نے وزیر کے خلاف سازش کرکے اسے قتل کردیا اور اپنے میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ وزیر مقررکردیا ۔ اس نئے وزیر نے بڑے بڑے کام کیے ۔سڑکیں اور مسجدیں بنوائیں ، سرائے اور حمام بنوائے ۔بعض سرکش قبائل کو زیر کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ

--------------------

(1):-طبری ،تاریخ الامم والملوک باب خلافت عثمان ۔ابن عبدالبر ،استیعاب ترجمہ بن ابی سرح ۔


مملکت پہلے سے بھی زیادہ  وسیع ہوگئی ۔لیکن جب بادشاہ کو حج سے لوٹنے پریہ معلوم ہوا کہ اس کے قائم مقام  کو قتل کردیا گیا  ہے تو وہ بہت افروختہ ہوا اور سب سازشیوں کے قتل کا حکم دے دیا ۔ایک نے آگے بڑھ کر کہا: سرکار عالیجاہ ! ہم نے جو آپ کی حکومت کی توسیع کے لیے بڑے بڑے کارنامے اور خدمات لائقہ انجام دی ہیں ، کیا ان کے صلے میں ہمارے جرم کو معاف نہیں کیا جاسکتا ؟ بادشاہ نے بگڑ  کر کہا : چپ رہ خبیث ! تم نے میرے وزیر کو قتل کرکے ۔ جسے میں نے اپنا قائم مقام مقررکرکے گیا تھا ۔میرےساتھ نمک حرامی کی ہے ۔ رہی وہ خدمات جو تم نے انجام دی ہیں تو وہ اکیلا اس سے کئی گناہ زیادہ کرسکتا تھا جو تم سب نےمل کرکیا ہے " یہ قصّہ سن کر سب ہنسنے لگے اورکہنے لگے کہ ہم مطلب سمجھ گئے ۔

 میں نے کہا : اب اس آخری فقرے پر آئیے جو ان پروفیسر صاحب نے کہا تھا کہ جب علی ع کو خلافت مل گئی تو انھوں نے ایک طوفان کھڑا کردیا اور ہر چیز کو اتھل پتھل کردیا !

ہم سب کو معلوم ہے کہ اورتاریخ شاہد ہے کہ طوفان تو حضرت عثمان کے عہد میں مچا اور ہرچیز اس وقت اتھل پتھل ہوئی جب انھوں نے اقربا پروری کے نتیجے میں اپنے فاسق وفاجر رشتہ داروں کو مسلمانوں پر مسلط کردیا حالانکہ اس وقت بہترین صحابہ موجود تھے ،جنھیں اس کے سوا کیا ملا کہ انھیں زدوکوب کیا گیا(1)

شہر بدر کیا گیا(2) اور ان کی ہڈی پسلیاں توڑی گیئیں(3) اسلام اس وقت پیچھے ہٹنے اور ناکام ہونے لگا جب مسلمان بنی امیّہ کے غلام بن گئے ۔

پروفیسر صاحب !آپ یہ سب حقائق لوگوں کو اور خصوصا اپنے شاگردوں کو

--------------------

(1):- جیسے عمّار بن یاسر کو زدوکوب کیا گیا ،ان کی آنت اتر آئی ، مہینوں علاج کراتے رہے ۔

(2):- ابوذر غفاری نے بورژوا طبقے کی مخالفت کی تو شہر بدر کیے گئے ۔اکیلے پڑے ہوئے جان دے دی۔

(3):- عبداللہ بن مسعود نے فاسقوں کو مسلمانوں کا مال دینے پر اعتراض کیا تو وہ ماردی گئی کہ پسلیا ں ٹوٹ گئیں ۔


کیوں نہیں بتلاتے اور ان کی صحیح رہنمائی کیوں نہیں کرتے ۔جب امام علی ع کو خلافت ملی تو انھوں نے دیکھا کہ کچھ بے دین ہیں ، کچھ ظالم ہیں اور کچھ غدّار ہیں باقی جو بچے ہو سب منافق ہیں ۔ حقیقی مسلمان صرف چند تھے جنھوں نے علی ع کی ان ہی امورپر بیعت کی جن امور پر رسول اللہ ص کی بیعت کی تھی  ۔امام علی ع نے بگاڑ کر دور کرنے ، عدالت کو قائم کرنے اور معاملات کو روبراہ لانے کی اپنی سی پوری کوشش کی یہاں تککہ وہ اسی اصلاح کی کوشش میں شہید ہوگئے ۔ اس کے بعد ان کے بیٹے شیہد ہوئے انھیں زہر دیا گیا اور وہ بھی اصلاح کی راہ میں قربان  ہوگئے ۔ اس کےبعد امام علی ع کے دوسرے بیٹے امام حسین اپنے ساتھیوں ،بھائیوں ،بیٹوں اور اہل بیت سمیت شہید(1) ہوئے ۔ ائمہ اہلبیت ع میں سے ہر امام نے شہادت پائی خواہ تلوار سے مقتول ہوکریا زبیر سے مسموم ہوکر ۔ ان سب ائمہ نے اپنے نانا کی امت کی اصلاح  کی خاطر  اپنی جان کی قربانی دی ۔

میں یہاں ایک لطیفہ بیان کرنا چاہتاہوں ، اس سے آپ کو امام علی بن ابی طالب ع کی قدرومنزلت کا اندازہ ہوگا :

ایک دفعہ ایک شخص امام علی ع کے پاس آیا اور کہنے لگا : یا امیر المومنین! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں ۔ امام ع نے فرمایا : جو چاہو پوچھو ۔ اس نے کہا: یہ کیا بات ہے کہ ابو بکر اور عمر کے زمانے میں تو حالات ٹھیک رہے لیکن آپ کے زمانے میں ٹھیک نہ ہوسکے ،امام علی ع نے برجستہ جواب دیا : ابوبکر اور عمر مجھ جیسے لوگوں پر حکومت کرتے تھے اور میں تم جیسے لوگوں پر حکومت کرتاہوں ۔ اسی لیے یہ انتشار پیداہوگیا ۔

کیا خوب اورشافی جواب ہے اس کی طر ف سے کہ تاریخ نے رسول اللہ ص کے بعد اس جیسا معلّم نہیں دیکھا ۔

اس قصّے کو سن کر سب حاضرین بہت محفوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ آخر علی ع

------------------------

(1):- ذرا غور فرمائیے کہ وہ کون سے حالات اور اسباب تھے کہ رسول  اللہ کی رحلت کے صرف پچاس سال بعد رسول اللہ ص کے نام لیواؤں نے رسول اللہ  ص کی اولاد کو بھوکا پیاسا شہید کردیا ۔ (ناشر)


شہر علم کا دروازہ تھے ۔

میں نے یہ کہہ کر اپنی بات ختم کردی کہ :ہمارے پروفیسر نے مجھ پر الزام لگایا کہ میں خلفائے ثلاثہ  کی تنقیص  کرتاہوں اور ان کے کردار کی پاکیزگی میں شبہ پیدا کرتا ہوں ، تو یہ محض تہمت ہے ۔کیونکہ میں نے فقط وہی کچھ کہا  جو  بخاری ومسلم نے کہا ہے اور اہل سنت مورخین نے کہا ہے ۔ اگر آپ اس تنقیص اور کردار کشی تصور کرتے ہیں تومجھے الزام دینے سے پہلے ان لوگوں پر الزام دیں ۔ مجھ سے تو فقط یہ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ میں کوئی ایسی سند دکھاؤں جو اہلسنت  کےنزدیک  قابل اعتماد ہو مجھے آپ صرف اس وقت الزام دے سکتے جب آپ خود ان سندوں کو دیکھ کر میرا کوئی ایک بھی جھوٹ پکڑسکیں ۔

سب نے یک زبان ہوکر کہا : واقعی اس طرح کی بحثوں میں یہی ہونا بھی چاہیے ۔ سب نے پروفیسر پر زوردیا کہ مجھ سے معذرت کریں چنانچہ انھوں نے معذرت کرلی ۔ فلللہ الحمد

امام علی ع کی ولایت کے دوسرے شواہد

چونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کی مشیت یہ ہوئی کہ امام علی ع کی ولایت کو مسلمانوں کے لیے آزمائش قراردیا جائے ۔ اس لیے اس بارے میں اختلاف پیدا ہوگیا ۔ مگر چونکہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے بندوں پر مہربان بھی ہے اور وہ اگلوں کی حرکتوں کا پچھلوں  سے مواخذہ  نہیں کرتا ، اس لیے  اس کی حکمت کا اقتضاء یہ ہوا کہ اس واقعہ میں موجود لوگ  اس واقعہ کو نقل کرتے رہیں اور بعد میں آنے والے اس واقعہ سے منسلک دوسرے واقعات سے عبرت پکڑیں ، شاید اس طرح اس واقعہ پر مسلسل گفتگو کے نتیجہ میں لوگ راہ حق پر گامزن ہوسکیں ۔

پہلا واقعہ : اس واقعے کا تعلق اس شخص کی سزا سے ہے جس نے ولایت علی ع کو اس وقت جھٹلایا تھا جب غدیر خم میں امام علی ع کے مسلمانوں پر


خلیفہ مقرر ہونے کی خبر مشہور ہوچکی تھی اور سب لوگوں کو یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ رسول اللہ ص نے فرمایا  ہے کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں ، وہ یہ خبر ان لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ۔

ہوا یوں کہ جب حارث بن نعمان فہری کو یہ خبر ملی تو اسے ذرا پسند نہیں آئی ۔ وہ رسول اللہ ص کے پاس آیا اور اپن اونٹنی مسجد کے دروازے  کے سامنے بٹھا کر سیدھا رسول اللہ ص کی خدمت میں پہنچا  اور کہنے لگا : اے محمد! تم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم یہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور تم اللہ  کے رسول  ہو ، ہم نے تمھاری یہ بات مان لی ۔ تم نے ہمیں  حکم دیا ک ہ ہم دن رات میں پانچ نمازیں پڑھیں رمضان  کے روزے رکھیں ،بیت اللہ کا طواف  کریں ، اپنے اموال  کی زکواۃ  دیں ہم نے یہ بات بھی مان لی ۔لیکن تم نے اس پر بس نہیں کی ،اپنے چچا کے بیٹے کو اونچا اٹھادیا ۔ اسے سب لوگوں سے بڑھا دیا کہہ دیا :"من كنت مولاه فعلىٌّ مولاه" اب یہ بات تمھاری اپنی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے(1) ۔

رسول اللہ  کی آنکھیں سرخ ہوگئیں ۔آپ نے فرمایا : خدائے واحد کی قسم ! یہ اللہ کی طرف سے ہے ،میری طرف سے نہیں ۔ آپ نے اس بات کوتین بار دہرایا ۔ حارث وہاں سے اٹھا اور کہنے لگا : اے اللہ محمد ص جو کہہ رہے ہیں اگر وہ

--------------------

(1):-اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بدّو مدینے سے باہر رہتے تھے ، وہ علی بن ابی طالب ع کو پسند نہیں کرتے تھے بلکہ ان سے بغض رکھتے تھے بلکہ وہ تو رسول اللہ ص کو بھی پسند نہیں کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ گنوار رسول اللہ ص کے پاس آتا ہے تو سلام نہیں کرتا ، آپ کا نام لے کر پکارتا ہے ۔ سچ کہا اللہ تعالی نے :

"الأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْراً وَنِفَاقاً وَأَجْدَرُ أَلاَّ يَعْلَمُواْ حُدُودَ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ " عرب کے بدو سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو کچھ اللہ نے اپنے رسول ص پر نازل کیا ہے اس کی حدوں  سے واقف ہی نہ ہوں "(سورہ ت توبہ ۔آیت 97)


سچ ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر دردناک عذاب بھیج ۔

راوی کہتاہے کہ وہ ابھی اپنی اونٹنی تک نہیں پہنچا تھا کہ آسمان سے ایک پتھر آیا جو اس کے سرپر گرا اور وہ وہیں ہلاک ہوگیا ۔ تب آیہ"سأل سائل" اتری ۔علاوہ ان مآخذوں کے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے (1)، اور بھی بہت سے علمائے اہل سنت نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے ۔جسے مزید حوالوں کی تلاش ہو ، ہو علامہ امینی کی الغدیر کامطالعہ کرے ۔

دوسرا واقعہ : اس کا تعلق ان لوگوں  کی سزا سے ہے جنھوں نے واقعہ غدیر کوچھپانے  کی کوشش کی اور انھیں امام علی ع کی بد دعا لگی ۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امام علی ع نے یوم رحبہ ، کوفہ میں لوگوں  کےمجمع  میں منبر پر سے اعلان  کیا کہ :

" میں ہر مسلمان  کو اللہ کی قسم دیتاہوں  کہ اگر  اس نے غدیر خم میں رسول اللہ  کو یہ کہتے ہوئے سنا  ہو کہ : "من كنت مولاه فعلىٌّ مولاه" تو وہ کھڑے ہوکر جو کچھ اس نے سنا ہو اس کی گواہی دے  لیکن وہ شخص کھڑا  ہو جس نے اپنی  آنکھوں سے یہ واقعہ دیکھا ہو اور اپنے کانوں سے سنا ہو"۔

یہ سن کر تیس صحابہ  کھڑے ہوگئے ،جن میں سے سولہ اصحاب بدر تھے ، ان سب نے شہادت دی کہ رسول اللہ  نے علی ع کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں سے کہا تھا کہ : کیا تمھیں معلوم ہے کہ مومنین پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ میرا حق ہے ؟ سب نے کہا : جی ہاں ! پھر آپ نے کہا :

"من كنت مولاه فهذا مولاه أللهمّ وال من وّالاه وعاد من عاداه"

---------------------

(1):-حافظ حسکانی ، شوہد التنزیل جل 2 صفحہ 286 ۔ ابو اسحاق  ثعلبی ، تفسیر  الکشف والبیان ۔ محمد بن احمد قرطبی  تفسیر الجامع لاحکام القرآن  جلد 18 صفحہ 278 ۔ محمد رشید رضا ،تفسیر المنار جلد 8 صفحہ 268 ۔حافظ قندوزی حنفی ینابیع المودۃ صفحہ 823 ۔حاکم نیشاپوری ۔ مستدرک علی الصحیحین  جلد 2 صفحہ 502  ۔علی بن برہان الدین حلبی  ،سیرت حلبیہ جلد 3 صفحہ 275


لیکن بعض صحابہ جو واقعہ غدیر میں موجود تھے ، علی سے حسد اور بغض کی وجہ سے بیٹھے رہے اور شہادت دینے کے لیے کھڑے نہیں ہوئے ، ان میں انس بن مالک  بھی تھے ، جب امام علی ع منبر پر سے اترے  تو آپ  نے ان سے کہا : انس ! کیا بات ہے تم دوسرے صحابہ  کے ساتھ اس دن جو کچھ  تم نے سنا تھا اس  کی شہادت  دینے کے لیے کھڑے نہیں ہوتے ؟ انس نے کہا: امیر المومنین !  اب میں بڈھا  ہوگیا ہوں مجھے  یاد نہیں رہا کیا بات ہوئی تھی ۔ امام علی ع نے کہا: اگر تم جھوٹ بول رہے ہوتو اللہ  تمھیں برص  کی بیماری میں مبتلا کردے ۔ چنانچہ انس  ابھی وہاں سے اٹھے  بھی نہ تھے کہ ان کے چہرے پر برص کے داغ پڑگئے ۔انس روتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے شہادت کو چھپایا تھا ، اس لیے مجھے عبد صالح  کی بد دعا لگ گئی ۔ یہ مشہور قصہ ہے اس کو ابن قتیبہ نے کتاب المعارف (1) میں بیان کیا ہے جہاں باب  البرص میں انس بن مالک کاشمار  ان لوگوں میں کیا ہے جن کی بیماری شے شکل بگڑ گئی تھی ۔

امام احمد بن حنبل نے بھی مسند(2) میں اس واقعہ  کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ سب کھڑے ہوگئے  سوائے تین آدمیوں  کے جنھیں علی ع کی بد دعا لگ گئی ۔ مناسب ہوگا یہا ں ان تین اشخاص کی تصریح کردیں جن کا ذکر امام احمد بن جنبل  نے احمد بن یحیی بلاذری کے حوالے سے کیا ہے ۔ وہ کہتے  ہیں:

"جب امام علی ع نے شہادت طلب کی اس وقت  منبر کے نیچے انس بن مالک ، براء بن عازب اور جریر بن عبداللہ  بجلی  بیٹھے ہوئے تھے لیکن ان تین میں سے کوئی بھی نہیں اٹھا ۔ امام علی نے اپنی بات کو دہرایا  پھر بھی ان میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ اس پر امام نے کہا " یا الہی ! جو کوئی جانتے بوجھتے اس شہادت کوچھپائے اسے اس وقت تک  دنیا سے نہ اٹھانا جب تک اس پر کوئی ایسی نشانی نہ لگ جائے جس سے وہ پہچانا جائے " چنانچہ انس بن مالک کو برص

-----------------------

(1):- ابن قتیبہ ،کتاب المعارف صفحہ 251۔

(2):- امام احمد بن جنبل ، مسند جلد1 صفحہ 119


کی بیماری لگ گئی ۔ براء بن عازب کی بینائی جاتی رہی  اورجریر ہجرت کے بعد دوبارہ بدّو بن گئے اور شرات جاکر اپنی ماں کے گھر مرے ۔ یہ ایک مشہور قصہ ہے جس کو بہت سے مورخین  نے نقل کیا ہے(1)

"فاعتبروايآ اَولى الألباب"

جو شخص  بھی اس واقعہ کے مختلف(2) پہلوؤں پر غور کرے گا ، جو تقریبا فراموش کیا جاچکا تھا اور جسے امام علی ع نے چوتھائی صدی گزرنے کےبعد دوبارہ زندہ گیا تھا ۔ وہ امام علی ع کی عظمت ،بلند ہمتی اور خلوص کا قائل ہوجائے گا انھوں نے نہ صرف صبر کا حق ادا کردیا بلکہ صبر کے حق سے بھی زیادہ صبر کیا ۔ جب بھی انھوں نے اسلام اور مسلمانوں  کے مفاد میں ضرورت  محسوس کی توبے کہے ، ابوبکر  ،عمر اور عثمان کو نصیحت  کرنے اور مفید مشورے دینے سے گریز نہیں کیا ۔ لیکن اس سب کے باوجود واقعہ غدیر ان کےذہن میں ہمیشہ مستحضر رہا اور جب بھی موقع ملا انھوں نے اسے زندہ کیا ۔ یہاں تک کہ بھرے مجمع میں علی الاعلان  انھوں نے دوسروں سے بھی اس واقعہ کی گواہی چاہی ۔

دیکھیے امام علی ع نے اس واقعہ  کی یاد کو زندہ کرنے اور سب مسلمانوں پر خواہ وہ اس واقعہ کے وقت موجود تھے یا نہیں اتمام حجّت  کرنے کا کیا دانشمندانہ طریقہ اختیار کیا ہے ۔ اگر امام علی ع یہ کہتے کہ لوگو! غدیر خم میں رسول اللہ  نے خلافت  کے لیے مجھے نامزد  کیا تھا ، تو حاضرین  پر ذرا بھی اثر نہ ہوتا بلکہ وہ الٹا اعتراض کرتے کہ امام نے اتنی طویل مدت تک خاموشی کیوں اختیار کی۔

---------------------

(1):- ابن عساکر ، تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 7 اور جلد 3 صفحہ 150 ۔شرح نہج البلاغہ تحقیق محمد ابو الفضل جلد 19 صفحہ 217 ۔میر حامد حسین موسوی ،عبقات الانوار جلد 2 صفحہ 309 ۔ ابن مغازلی ،مناقب علی بن ابی طالب صفحہ 23 ۔ علی بن برہان الدین حلبی ، سیرۃ حلبیہ  جلد 3 صفحہ 337

(2):- ایک پہلو یہ ہے کہ امام علی ع نے صحابہ  کو دعوت دی تھی کہ حدیث غدیر کی شہادت دیں ۔ اس واقعہ کو محدثین اور مورخین  کی ایک بڑی تعداد نے بیان کیا ہے ۔جن کاذکرپہلے  ہوچکا ۔جیسے امام احمد بن حنبل  ،ابن عساکر ،ابن ابی الحدید وغیرہ ۔


لیکن جب آپ نے یہ کہا کہ میں ہر مسلمان کو قسم دیتاہوں کہ اگر  اس نے وہ سنا ہو جو رسول اللہ ص نے غدیر کے دن فرمایا تھا ، تو وہ کھڑے  ہو کر اس کی شہادت دے ، تو اس واقعہ کو حدیث نبوی  کے طور پر تیس 30 صحابیوں نے بیان کیا جن میں  16 بدری تھے ۔ اس طرحی امام نے جھٹلانے  والوں ، شک کرنے والوں اور اتنی طویل مدت تک خاموشی اختیار کرنے پر اعتراض کرنے والو  کا منہ بند کردیا ۔ کیونکہ  اب آپ کے ساتھ ساتھ ان تیس صحابہ کا سکوت اس بات کی روشن  دلیل تھا کہ معاملہ دراصل نازک تھا اور جیسا کہ ظاہر ہے اس موقع پر سکوت ہی میں اسلام کا مفاد تھا ۔

شوری پر تبصرہ

گزشتہ اوراق میں ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ شیعوں کے بقول خلیفہ کا تعین اللہ کے ہاتھ میں ہے جو رسول اللہ ص وحی آنے پر کرتے تھے ۔ یہ قول  احکام اسلامی کے  فلسفے  سے مکمل مطابقت رکھتا ہے ۔کیونکہ سورہ قصص میں ہے ۔ "وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ"

اور چونکہ اللہ سبحانہ  کی مشیت یہ کہ امت محمدیہ بہترین امت ہو جو انسانوں کے لیے پیدا کی گئی ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس قیادت  دانشمندی ،پختگی ، قوت ،شجاعت ، ایمان اور زہد وتقوی کے اعلی معیار پر فائز ہو ۔ یہ صفات  صرف اس فرد  میں پائی جاسکتی ہیں جس کو اللہ تعالی نے منتخب  کیا ہو اور قیادت وسیادت کی خصوصی  صفات سے نوازا ہو ۔ سورہ حج آیت 75 میں ہے :

" اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ " اللہ انتخاب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کا اور اسی طرح آدمیوں میں سے بھی ۔بے شک اللہ خوب سننے  والا خوب دیکھنے والا  ہے ۔

جس طرح اللہ سبحانہ انبیاء کا انتخاب کرتا ہے اسی طرح اوصیاء کا بھی ۔


وہی انتخاب کرتا ہے ۔

رسو ل اللہ ص نے فرمایا ہے :

"لكلّ نبيّ ٍ وصيّ ٌ وأنا وصيّي عليّ ُبن أبي طالب "

ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے ۔ میرے وصی علی بن ابی طالب ع ہیں(1)

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت ص نے فرمایا :

"أنا خاتم الأنبياء وعليّ خاتم الأوصياء ".

میں خاتم الانبیاء ہوں اور علی ع خاتم الاوصیاء ہیں (2)

اس طرح شیعوں  نے دوسروں  کوبھی بے فکر کردیا اور خود بھی آرام سے ہوگئے انھوں نے اپنا معاملہ  اللہ اور اس کے رسول  ص کے سپرد کردیا ہے ۔اب ان میں نہ کوئی خلافت کا دعوی کرسکتا ہے ۔ نہ کسی کو خلافت  کا لالچ  ہوسکتا ہے ، نہ کسی نص کی بنیاد پر اور نہ خود اپنی مرضی سے ۔کیونکہ ایک تو نص اختیار اور شوری کی  نفی کرتی ہے ، دوسرے نص میں رسول اللہ ص نے خود مخصوص اشخاص کا ناموں کے ساتھ تعیّن کردیا ہے(3) ۔اسی لیے شیعوں میں تو کسی کو خلافت کا دعوی  کرنے کی جراءت  ہی نہیں ہوسکتی ۔اور اگر بالفرض کوئی ایسی جسارت کرے بھی تو اسے فاسق اور دین سے خارج سمجھا جائے گا۔

 لیکن اہل سنت کے نزدیک خلافت کا فیصلہ شوری اور لوگوں کی پسند سے ہوتا ہے ۔ اس طرح اہل سنت نے ایسا دروازہ  کھول دیا ہے جسے امت میں سے کسی شخص کے لیے بھی بند نہیں کیا جاسکتا اور اس طرح ہر ایرے غیرے  نتھوخیرے کے لیے موقع ہے کہ وہ خلافت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے ۔ خلافت کا حصول

--------------------

(1):-ابن عساکر ، تاریخ دمشق جلد 3 صفحہ 5 ۔ خوارزمی ،مناقب خوارزمی صفحہ 42  ۔ینابیع المودۃ صفحہ 79 ۔

(2):- حافظ قندوزی حنفی ، ینابیع المودۃ جلد 2 صفحہ 3 بحوالہ دیلمی ۔خوارزمی ،مناقب خوارزمی  ۔محب طبری ، زخائر العقبی ۔

(3):- تعداد کی روایت  بخاری ومسلم میں ہے ۔ اورتعداد  اور اسماء کی روایت کے لیے دیکھیے ینابیع المودۃ جلد 3 صفحہ 99


قریش ہی کے لیے نہیں بلکہ ایرانیوں ،ترکوں ، مغلوں حتی کہ غلاموں  کے لیے بھی ممکن ہوکیا ۔ایک شاعر نے خلافت اسلامیہ کا یوں نقشہ کھینچا ہے ۔

"هزلت حتّى بان من الهزال

كلاها وحتَى استامّها كلّ مفلس "

خلافت اس قدر لاغر ہوگئی ہے کہ دبلے  پن سے اس کے گردے نظر آنے لگے اور ہر مفلس  قلّاش  نے اسے اپنا بنا لیا ۔  وہ سب اقدار  اور شرائط  جن کا خلیفہ  میں ہونا ضروری تھا ، بھاپ بن کر ہوا میں اڑگئیں ۔ ایسا ہونا قدرتی تھا کہ کیونکہ بشر آخر بشر ہے ۔ اس کے انسانی جذبات ہیں ، خود غرضی اس کی جبلّت ہے ۔وہ اقتدار ملتے ہی بدل جاتا ہے اور پہلے سے بد تر ہوجاتا ہے ۔

ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کی  تصدیق اسلامی تاریخ سے ہوتی ہے ۔مسلمانوں  پر ایسے ایسے بد کاروں اور بد کرداروں نے حکومت کی ہے جن میں نہ حیا تھی ، نہ اخلاق اورنہ ہی ایمان ۔

مجھے دڑ ہے کہ بعض قارئین  اسے مبالغہ تصور کریں گے ۔ لیکن اگر وہ امویوں اورعباسیوں وغیرہ کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو انھیں معلوم ہوجائےگا کہ کوئی امیر المومنین کھلم کھلا شراب پیتے تھے ، بندروں سے کھیلتے تھے ، اور بندروں کو سونے کے زیور پہناتے تھے ۔ کسی امیرالمومنین  نے اپنی ایک کنیز کو اپنا لباس پہنا کر مسلمانوں  کو نماز پڑھانے کے لیے بھیج دیا تھا ۔ ایک امیر المومنین کی حبابہ نامی باندی  مرگئی تو یہ حضرت ہوش وحواس ہی کھو بیٹھے تھے ۔ ایک امیر المومنین کسی شاعر کے شعر سن کر ایسے مستائے کہ لگے اس کا عضو تناسل چومتے ۔ہم ان لوگوں کے حالات  بیان کرنے میں وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے ، کیونکہ ان کے متعلق مسلمانوں کا پہلے ہی فیصلہ ہے کہ یہ محض کٹ کھنی بادشاہت کی نمائندگی  کرتے تھے خلافت کی قطعا نہیں ۔ کیونکہ رسول اللہ ص سے ایک قول منسوب ہے کہ

"الخلافة من بعدي ثلاثون عاما ً ثمّ تكون ملكا ً عضوضا ً."


میرے بعد تیس سال خلافت رہے گی اس کےبعد کٹ کھنی بادشاہت ہوگی ۔

میرے خیال میں اس قول کو رسول اللہ ص سے  منسوب کرنا درست نہیں ہے ۔کیونکہ ثالث حضرت عثمان کو۔ جنھیں حضرت علی ع سے افضل شمار کیا جاتا ہے بلکہ ذوالنورین اور کامل الحیاء والایمان کہا جاتا ہے ۔ مسلمانوں نے قتل  کردیا تھا کیونکہ وہ ان سے تنگ آئے ہوئے تھے یہاں تک کہ انھوں نے حضرت عثمان کو  مسلمانوں کے قبر ستان "جنت البقیع " میں دفن بھی نہیں ہونے دیا ۔ چنانچہ ان ان کو بے غسل وکفن بقیع سے ملحق یہودیوں کے قبرستان " حش کوکب" میں سپر د خاک کیا گیا ۔

جو شخص تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرے گا ، اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوگا  کہ خلفاء کے کرتوت عام لوگوں سے بھی بد تر تھے لیکن اس وقت ہماری بحث  کاموضوع یہ نہیں ہے ۔ جسے اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کا شوق ہو  ۔وہ طبری  کی تاریخ الامم والملوک ، ابن اثیر  کی  کامل التاریخ ، ابو الفداء کی المختصر فی تاریخ البشر اور ابن قتیبہ دینوری کی الامامۃ والسیاسۃ  وغیرہ سے رجوع کرے ۔ میں صرف اپنی پسند سے خلیفہ مقرر کرنے کی خرابی اور اس نظریہ کابنیادی بانجھ پن دکھانا چاہتا تھا ۔کیونکہ جس کو ہم آج پسند کرتے ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ کل وہ ہماری نظروں میں مردود قرارپائے اوریہ معلوم ہو کہ ہم نے غلطی کی تھی اور ہماری پسند صحیح نہیں تھی ۔ ایسا ہوچکا ہے ۔ عبدالرحمن بن عوف نے خود عثمان  بن عفان کو خلافت کے لیے پسند کیا لیکن بعد میں پچھتا ئے مگر اس وقت کیا ہوسکتا تھاجب چڑیاں چگ گئین کھیت ۔ عبدالرحمن بن عوف سابقین اولین میں سے ایک جلیل القدر صحابی تھے ۔ جب ان کی پسند درست ثابت نہیں ہوئی تو کیسے کوئی ہوش مند شخص  ایسے بانجھ  اوربے ثمر نظریے  سے مطمئن  ہوسکتا ہے جس نے صرف فتنہ وفساد ، افراتفری  اور خونریزی  کو جنم دیا ہو ۔ جب ابو بکر  کی بیعت کی جارہی تھی ۔ جو بقول عمر بن خطاب اچانک ہوگئی تھی لیکن اللہ نے اس کے برے نتائج  سے محفوظ رکھا ۔جس کی کتنے ہی صحابہ نے مخالفت کی اورجب علی ع کی بیعت جو بر سر عام ہوئی تھی بعض صحابہ نے


توڑ دی جس کے نتیجے  میں جنگ جمل ، جنگ صفین ، اور جنگ نہروان واقع ہوئیں  تو کیسے کوئی دانش مند اس نظریے سے مطمئن ہوسکتا ہے جو آزمایاگیا  لیکن شروع ہی سے قطعی  ناکام  رہا بلکہ مسلمانوں کے لیے وبال ثابت ہوا ۔ بالخصوص جب کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ یہ لوگ جو شوری کے ذریعے سے خلیفہ کے انتخاب کے قائل ہیں ایک دفعہ کسی کے خلیفہ مقرر ہوجانے کے بعد نہ اسے تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ معزول کرسکتے ہیں ۔ جب عثمان کو مسلمانوں نے معزول کرنا چاہا تو انھوں نے یہ کہہ کرانکار کردیا کہ جو قمیص اللہ مجھے پنہائی ہے میں اسے نہیں اتاروں گا ۔

مغرب کی متمدن قومیں جو جمہوریت  کی چمپئین  بنی  ہوئی ہیں سربراہ مملکت  کے انتخاب سے متعلق ان کے طریقہ کار کو دیکھ کر ہمیں اس نظریے سے اور بھی نفرت ہوجاتی ہے ۔ہوتایہ ہے کہ مختلف سیاسی پارٹیاں اقتدارکی دوڑ میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے  کی کوشش میں لگی رہتی ہیں ، مختلف  اداروں سے سودے بازی کرتی ہیں اور ہر قیمت پر اقتدارکی کرسی تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ اس مقصد کے لیے اربوں ڈالرپروپیگنڈے پر خرچ کیے جاتے ہیں ، جب کہ قوم کے غریب اور کمزور طبقے  کو اس رقم کی سخت ضرورت ہوتی ہے جیسے ہی کوئی شخص اس سیاسی کھیل کے ذریعے  اقتدار کی کرسی تک پہنچ جاتا  ہے تو ہو فورا  اپنے حامیوں ، پارٹی ممبروں ، دوستوں اور عزیزرشتہ داروں کا وزارت کے منصوبوں ، اعلی عہدوں اور کلیدی  انتظامی ذمہ داریوں پر تقرکردیتا ہے اور دوسرے لوگ سربراہی کی معینہ مدت ختم ہونے تک حزب اختلاف  میں رہنے ہیں ۔ اور اس پوری مدت میں نہ صرف سربراہ کے لیے مشکلات اور رکاوٹیں  پیداکرتے رہتے ہیں  بلکہ حتّی  الامکان کوشش کرتے ہیں کہ اسے بدنام کریں اور ہوسکے تو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اس کا اقتدار ہی ختم کردیں ۔ اس سارے قضیے میں مجبور اوربے دست وپا قوم کی تقدیر میں صرف خسارہ ہی خسارہ ہے ۔

مغربی نظام جمہورت کے نتیجے میں کتنی انسانی اقدار پامال  ہوتی ہیں اور  آزادی اور جمہوریت کے نام پر اور پرکشش نعروں  کی آڑ میں کتنی سیاہ کاریاں فروغ پاتی ہیں !! یہاں تک کہ (بعض یورپی ملکوں مثلا برطانیہ میں ) لواطت کو قانونا جائز


قرار دے دیا گیا ۔اور نکاح کے بجائے  زنا کو ترقی پسندی شمار کیاگیا ۔ میں حیران ہوں کہ مغربی تہذیبی  کی برکات  کو کہاں تک گنواؤں !

دیار مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ہو اب زرکم عیار ہوگا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرےگی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائیدار ہوگا

اب دیکھیے ! شیعہ عقیدہ کتنا عظیم اور کتنا فراخدلانہ ہے کہ اس کے مطابق خلافت اصول دین میں شامل ہے ، کیونکہ معاشرتی اور انفرادی زندگی  کی درستگی کا دارومدار اسی پر ہے ۔

شیعوں کا یہ قول کہ منصب خلافت اللہ کے اختیار میں ہے ایک عاقلانہ  اور صحت مندانہ نظریہ ہے ،جس کو عقل قبول کرتی ہے ، ضمیر کا اطمینان ہوتا ہے اور جس کی تائید  قرآن وسنت سے ہوتی ہے اور ساتھ ہی اس سے لالچیوں ، غدّاروں  اور منافقوں کی ہمّت شکنی ہوتی ہے اور ظالموں ،گردن کشوں اور ملوک وسلاطین کا غرور خاک میں ملتا ہے ۔

اللہ تعالی نے فرمایا ہے "

"فَرِيقاً هَدَى وَفَرِيقاً حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلاَلَةُ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ اللّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ "

ایک گروہ اس نے راہ دکھا دی اور ایک گروہ ہے کہ اس پر گمراہی ثابت ہوچکی ۔انھوں نے شیطان کو اپنا رفیق بنالیا  ہے اور سمجھے ہیں کہ ہم راہ پائے ہوئے ہیں ۔(سورہ اعراف ۔آیت 30)


مسئلہ تقدیر ۔ اہل سنت کی نظر میں

میری گذشتہ زندگی میں قضا وقدر کا موضوع میرے لیے ایک چیستان بنا ہوا تھا کیونکہ مجھے اس کی کوئی ایسی وضاحت نہیں ملتی تھی جو میرے دل کو لگے اور جس سے مجھے اطمینا ن حاصل ہو ۔ میں اس سلسلے میں حیران وپریشان تھا ۔

مجھے اہل سنت کے مدرسے میں سکھایا گیا تھا کہ انسان اپنے افعال میں آزاد نہیں ، وہ وہی کچھ کرتا ہے جو اس کی تقدیر میں لکھا ہوتا ہے اور وہی کچھ بنتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس کے پاس دوفرشتے بھیجتا ہے جو اس کی عمر ، اس کی روزی اور اس کے اعمال کےبارے میں تفصیل لکھ دیتے  ہیں کہ وہ شقی ہوگیا یا سعید(1)یعنی خوش نصیب ہوگا یا بد نصیب ۔

میں عجب مخمصے میں گرفتار تھا کیونکہ ایک طرف تو مجھے یہ تعلیم دی گئی تھی،  دوسری طرف میری عقل اور میرا ضمیر یہ کہتا تھا کہ اللہ تعالی عادل ہے ، وہ اپنی مخلوق  پر ظلم نہیں کرتا ۔یہ کیسے  ہوسکتا ہے کہ وہ کسی کو ایسے افعال پر مجبور کرے جس کاو ہ بعد میں محاسبہ کرے یاکسی کو ایسے جرم کی پاداش میں عذاب دے جو خود اس سے  اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہو اور جس کے ارتکاب پر اسے مجبور کیا ہو ۔ دوسرے مسلمان نوجوانوں کی طرح میں بھی اسی فکری تضاد میں مبتلا تھا اور میرا تصور یہ تھا کہ اللہ تعالی قوی اور جبار ہے ، اس کی شان یہ ہے کہ

اس سے کچھ نہیں کی جاسکتی اور وں سے بازپرس ہوگی (2)

---------------------

(1):- صحیح بخاری کتاب القدر۔

(2):-"لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ" (سورہ انبیاء ۔آیت 23)


وہفعّا لٌ لّما يريد جو چاہتا ہے کرتا ہے  اس نے مخلوق کو پیدا کیا ، کچھ کو جنتی بنایا اور کچھ کو جہنمی ۔پھر یہ کہ وہ رحمان ورحیمی ہے وہ اپنے بندوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ،جیسا کہ قرآن میں ہے :

" تمھارا پروردگار اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ۔(1)

ایک اور آیت میں ہے :

"بے شک اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں "(2)

اوریہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے :

"اللہ تعالی اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ شفیق ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے "(3)

میں اسی فکری تضاد کے پیچ وخم میں الجھا ہوا تھا اور اس کی جھلک میرے قرآن کے سمجھنے میں بھی نظر آتی تھی ۔ میں کبھی کہتا تھا کہ انسان خود اپنا نگران ہے اور وہی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے :

"جو کوئی ذراسی نیکی کرے گا ، وہ اس کو دیکھ لے گا اور جو کوئی ذراسی بدی کرے گا ،وہ اس کو دیکھ لے گا (4)۔

کبھی تومیں یہ سمجھتا تھاکہ انسان کو کوئی دوسری طاقت چلاتی ہے ،اس کی اپنی کوئی قوت ہے اورنہ طاقت ،وہ خود انپے کو نہ نفع پہنچاسکتا ہے نہ نقصان  اور نہ اپنے لیے روزی کا بندوبست کرسکتا ہے کیونکہ بفحوائے قرآن

---------------------

(1):-" وَ مَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِلَعَبِيد" (سورہ حم سجدہ ۔آیت 46)

(2):-" إِنَّ اللّهَ لاَ يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئاً وَلَـكِنَّ النَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ " (سورہ یونس ۔آیت 44)

(3):- صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 75

(4):-" فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ () وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ ()" (سورہ زلزال ۔آیت 7-8)


تم تو بس وہی چاہ سکتے ہو جو اللہ چاہے(1) ۔

میں ہی نہیں بلکہ اکثر مسلمان اسی فکر تضاد میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علماء ومشائخ  سےجب قضا وقدر کےبارےمیں گفتگو کی جائے تو ان سے کوئی  تو ان سے کوئی ایسا جواب نہیں بن پڑتا جس سے دوسروں کو تو کیا خود انھیں بھی اطمینان ہوسکے ۔بس کہہ دیتے ہیں کہ اس موضوع پرزیادہ بحث کی ضرورت نہیں بلکہ بعض تو تقدیر کی اس بحث کو ہی حرام قراردیتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ مسلمان  کے لیے صرف اتنا ایمان لانا ضروری ہے کہ اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے ۔اگر کوئی  ضدی ان سے پوچھ بیٹھے کہ " یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ پہلے تو اپنے بندے  کو گناہ کے ارتکاب  پر مجبور کرے اور پھر اسے نار جہنم میں جھونک دے " تو فورا اس پر کافر وزندیق ہونے کا فتوی جڑدیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم دین سے نکل گئے ۔غرض ایسے ہی لغو الزام لگائے جاتے ہیں ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عقلیں ٹھٹر  کررہ گئی ہیں اور لوگوں کا عقیدہ یہ ہوگیا ہے کہ جوڑے آسمانوں میں بنتے ہیں یعنی نکاح پہلے سے قسمت میں لکھا ہوتا ہے اور اسی طرح طلاق بھی ۔ اورحد تو یہ ہے کہ زنا بھی مقدر ہوتا ہے ۔ تقدیر مبرم کے ماننے والے کہتے ہیں کہ عورت کی شرمگاہ پر ان سب مردوں کے نام لکھے ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ صحبت کرنے والے ہیں ۔ یہی حال شراب پینے اور کسی کو قتل کرنے کا ہے ۔ بلکہ یہی صورت کھانے پینے کی ہے ۔ تم وہ چیز کھاپی سکتےہو جو اللہ نے تمھارے مقدر میں لکھ دی ہے ۔

ایک مرتبہ یہ مسائل پیش کرنے کےبعد میں نے اپنے یہاں کے ایک عالم سے کہا کہ قرآن تو ان خیالات کی تکذیب کرتا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ رسول ص ، قرآن کے برعکس کچھ کہے ، نکاح کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ

جو عورتیں تمھیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو۔(2)

-----------------------

(1):-" وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ" (سورہ انسان ۔آیت30)

(2):-"فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء" (سورہ نساء ۔آیت 3)


اس آیت سے صاف اختیار اور آزادی کا اظہار ہوتا ہے ۔ طلاق کے متعلق قرآن کریم میں سے ہے :

"طلاق  تو دو ہی مرتبہ ہے ،پھر یا تو رکھ لینا ہے قاعدے کے مطابق یاچھوڑ دینا ہے خوش دلی کےساتھ "(1)

یہاں بھی وہی اختیار کی بات ہے ۔

زنا کے متعلق ارشاد ہے :

"زنا کے پاس نہ پھٹکو کہ وہ بے حیائی اوربری راہ ہے "(2)

اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی جو کچھ کرتا ہے اپنے ارادہ واختیار سے کرتا ہے ۔ شراب کے بارے میں حق تعالی فرماتاہے :

"شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب اورجوئے کے ذریعے تمھارے آپس میں دشمنی اور کینہ ڈال دے اور تمھیں ذکر الہی اور نماز سے روک دے ۔ تو کیا تم ان کاموں سے باز آجاؤگے ؟"(3)

اس آیت میں شراب اورجوئے کی ممانعت کی گئی ہے جس کے معنی یہی ہیں کہ آدمی کو اختیار ہے کہ چاہے تو شراب پئے اور جواکھیلنے یا پھر یہ کام نہ کرے ۔ قتل عمدکے بارے میں ارشاد ہے۔

"اللہ نے جس انسان کی جان کو محترم قراردیا ہے اس ناحق قتل مت کرو"(4)

--------------------

(1):-" الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ " (سورہ بقرہ۔آیت 229)

(2):-" وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاء سَبِيلاً" (سورہ بنی اسرائیل۔آیت32)

(3):-" إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللّهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ " (سورہ مائدہ ۔آیت 91)

(4):-" وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ" (سورہ انعام ۔آیت 151)


ایک اور آیت میں ہے :

جو کوئی کسی مسلمان کو قصدا قتل کرےگا اس کا ٹھکانا جہنم  ہے جہاں ہو ہمیشہ رہےگا ۔ اللہ اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرےگا اور اس کے لیے دردناک عذاب تیار رکھے گا"(1)

اس آیت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو اختیار ہے کہ وہ کسی کو قتل کرے یانہ کے ۔

کھانے پینے کے متعلق بھی اللہ تعالی نے کچھ حدود  مقرر کی ہیں ۔ چنانچہ ارشادہے :

" کھاؤ پیور لیکن اسراف نہ کرو ۔اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا "(2)

یہ آیت بھی آدمی کے اختیار پر ہی دلالت کرتی ہے ۔یہ تمام آیات سنانے کے بعد میں نے ان عالم سے کہا : قبلہ ! ان تمام قرآنی دلائل کے بعد بدی آپ یہی کہتے ہیں کہ ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے اور بندہ اپنے افعال میں مختار نہیں ، مجبور ہے ؟

ان عالم نے جواب دیا : تنہا اللہ تعالی ہی ہے جو کائنات میں جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتاہے ، اور دلیل کے طورپر انھوں نے یہ آیت پڑھی :

" اسے دنیا جہاں کے مالک توجسے چاہے دے اور جس سے چاہے حکومت چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلیل کرے ۔ ہرطرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے ۔

----------------------

(1):-" وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً " (سورہ نساء ۔آیت 93)

(2):-" وكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ " (سورہ اعراف ۔آیت 21)


بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔(1)

میں نے کہا کہ ہمارا اختلاف اللہ تعالی کی مشیّت کے بارے میں نہیں ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ جب اللہ تعالی کوئی کام کرنا چاہے تو سب جن وانس اور دیگر تمام مخلوقات مل کر بھی اس کی مشیت کے خلاف نہیں کرسکتے ۔سوال بندوں کے افعال کا ہے کہ آیا وہ ان کے افعال ہیں یا وہ اللہ کی طرف سے ہیں ؟؟

اس پر ان عالم صاحب نے "لکم دينکم ولی دين" (تمھار عقیدہ تمھارے ساتھ اور میرا عقیدہ میرے ساتھ )کہہ کر بحث کا دروازہ بند کردیا ۔ہمارے جو علمائے کرام اپنی رائے پر قانع رہتے ہیں اور اسے بدلنے پر کبھی تیار نہیں ہوتے عموما ان کی آخری دلیل ہی ہوتی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ دو دن کے بعد میں ان عالم صاحب سے پھر ملا اور میں نے کہا:

اگر آپ کا عقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالی ہی سب کچھ کرتاہے اور بندوں  کو کچھ اختیار نہیں ، تو آپ خلافت کے بارے میں بھی یہی کیوں نہیں کہتے  کہ اللہ سبحانہ ، جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پسند کرتا ہے ، بندوں کی مرضی کو کوئی دخل نہیں ۔

وہ :- جی ہاں ! میں  یہی تو کہتاہوں ۔ اللہ نے ہی پہلے ابو بکر کو پسند کیا ،پھر ابو بکر کو ، پھر عثمان کو ۔ اگر اللہ تعالی یہ چاہتا کہ علی خلیفہ اول ہوں تو جن وانس مل کر بھی علی ع کو خلیفہ اول ہونے سے نہیں روک سکتے تھے ۔

میں :-یہ کہہ کر تو آپ پھنس گئے ۔

وہ :- میں کیسے پھنس گیا ؟

----------------------

(1):-" قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" (سورہ آل عمران ۔آیت 28)


میں :-اب یا تو آپ یہ کہیں کہ اللہ نے چار خلفاء راشدین  کو تو خود پسند کرلیا ، اس کے بعد یہ کام لوگوں پر چھوڑ دیا کہ جس کو چاہیں پسند کرلیں یا پھر یہ کہیں کہ اللہ نے لوگوں کو بالکل اختیار نہیں دیا بلکہ رسول اللہ ص کی وفات سے لے کر تا قیام قیامت سب خلفاء کو وہی پسند کرتا ہے؟وہ :- دوسری شق کا قائل ہوں" قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء  "

میں:- اس کا مطلب یہ ہوا کہ تاریخ  اسلام میں بادشاہوں او رکجکلاہوں  کی وجہ سے کجی واقع ہوئی ہو اللہ کی طرف سے بھی ۔ کیونکہ اللہ نے ہی انھیں حکومت  عطا کرکے مسلمانوں پر مسلط کیا تھا ۔وہ:-جی ہاں ! یہی بات ہے ۔بعض صلحاء نے اس آیت میں "امرنا" کو تشدید کسے ساتھ پڑھا ہے یعین"وإذا أردنا أن نهلك قريةً أمرنا مترفيها" مطلب یہ کہ ہم نے انھیں حاکم بنادیا ۔

میں :-(تعجب سے) اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے ہی چاہا تھا کہ ابن ملجم  علی ع کو قتل کرے اور یزید کے ہاتھوں حسین  بن علی کا قتل ہو ۔وہ :- (فتحمندانہ لہجے میں)جی ہاں ! بالکل ۔ کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ص نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا تھا کہ بعد میں آنے والوں میں س ب سے شقی وہ ہوگا جو تمھارے سر کو دوپارہ کرکے چہرے کو خون سے تربتر کردےگا ۔ اسی طرح  رسول اللہ ص نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بتادی تھی کہ سیدنا حسین ع کو کربلا میں قتل کردیا جائے گا ۔ نیز آپ نے خبر بھی دی تھی کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں میں صلح کرائیں  گے اس طرح ہر شے ازل سے لکھی ہوئی ہے ۔ جو کچھ مقدر میں لکھا ہے اس سے انسان کو مفر نہیں ۔ اس طرح آپ ہارگئے ہیں میں نہیں ۔

میں کچھ دیر خاموش رہا ۔میں دیکھ رہاتھا کہ وہ پھولے نہیں سمارہے ہیں ۔کیونکہ بخیال خویش وہ میرے مقابلے میں جیت گئے تھے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ ان حضرت کو کیسے سمجھاؤں کہ اللہ تعالی کو کسی واقعے کا علم ہونے کے قطعی یہ معنی نہیں کہ اللہ


نے وہ واقعہ تقدیر میں لکھ دیا ہے یا لوگوں کو اس پر مجبور کردیا ہے ۔ مجھے پہلے سے معلوم تھاکہ یہ نظریہ ان صاحب کے دماغ میں بیٹھنا ممکن نہیں تھا ۔ اس لیے میں نے ایک اور سوال کیا کہ :کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے اور پرانے سب بادشاہ اور وہ سب لوگ جو اسلام اور مسلمانوں سے لڑتے رہے ہیں ، اللہ کے مقررکیے ہوئے ہیں ؟

وہ :- اس میں کیا شک ہے ۔

میں :- کیا وہ فرانسیسی نو آباد یاتی حکومت جس نے تیونس ، الجزائر اور مراکش پر قبضہ کررکھا تھا ، وہ بھی اللہ کی طرف سے تھی ؟

وہ :- جی ہاں ! اور جب مقررہ وقت آیا تو فرانس ان ملکوں سے نکل گیا ۔

میں:- بہت خوب ! پھر آپ پہلے کیسے اہل سنت کے اس نظریہ کا دفاع کررہے تھے کہ رسول اللہ  ص نے وفات پائی مگر خلافت کا معاملہ شوری پر چھوڑدیا کہ مسلمان جسے چاہیں خلیفہ بنالیں؟

وہ :- جی ہاں ! میں اب بھی اسی پر قائم ہوں اور انشااللہ قائم رہوں گا ۔

میں :- پھر آپ ان دونوں باتوں میں کیسے تطبیق دیتے ہیں : ایک اللہ کا اختیار اور دوسرے شوری کے ذریعے مسلمانوں کا اختیار؟

وہ جب مسلمانوں نے ابوبکر کو پسند کرلیا تو اس کامطلب یہ ہے کہ اللہ نے بھی انھیں پسند کرلیا ۔

میں:- کیا سقیفہ میں خلیفہ کو منتخب کرنے کے بارےمیں کوئی وح نازل ہوئی تھی ؟

وہ :-استغفراللہ ! محمد ص کے بعد کوئی وحی نازل نہیں ہوئی ۔ یہ شیعوں کا عقیدہ ہے ۔

میں :- شیعوں  کو اور ان کے باطل عقائد کو چھوڑیے ۔ آپ نے اپنے عقیدے کے مطابق ہمیں قائل کیجئے ۔ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے ابو بکر کو پسندکرلیا تھا؟

وہ :- اگر اللہ کا ارادہ کچھ اور ہوتا تو مسلمان اور سارا جہان مل کر بھی اللہ


کے ارادے کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا تھا۔اس وقت میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ نہ سوچتے ہیں ، نہ قرآنی آیات پر غور کرتے ہیں ۔ ان کی رائے کبھی بھی کسی علمی نظریے کے مطابق نہیں ہوسکتی ۔

اس پر مجھے ایک اور قصہ یاد آگیا :

ایک دن میں اپنے دوست کےساتھ کجھور  کے باغ میں ٹہل رہا تھا اور ہم قضا وقدر کےبارےمیں  باتیں  کررہے تھے۔اتنے میں میرے سرپر ایک پکی ہوئی کجھور گری ۔میں نے اسے کھانے کے لیے گھاس پر سے  اٹھا کر منہ میں رکھ لیا ۔ میرے دو ست نے کہا : تم وہی چیز کھاسکتے ہو جو تمھارے نصیب میں ہو کیونکہ دانے دانے پرکھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے ۔

میں نے کہا : اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ لکھی ہوئی ہے تو پھر میں اسے نہیں کھاؤں گا  یہ کہہ کر میں نے اسے پھینک دیا ۔

میرے دوست نے کہا: سبحان اللہ اگر کوئی چیز تمھارے نام پر لکھی ہوئی نہ ہو  تو اللہ اسے تمھارے پیٹ میں سے بھی نکال لے گا ۔

میں نے کہا : اگر بات یہ ہے تو میں اسے کھالیتاہوں ۔یہ کہہ کر میں نے اسے دوبارہ اٹھالیا ۔ میں یہ ثابت کرناچاہتا تھا کہ اس کا کھانا یا نہ کھانا میرے اختیار میں ہے ۔ میرا دوست مجھے دیکھتا رہا ، یہاں تک کہ میں اس کجھور کو چباکر نگل  گیا ۔ اس وقت میرے دوست نے کہا : دیکھا یہ تمھارے نام پر ہی لکھی ہوئی تھی  اس طرح وہ اپنے خیال میں مجھ سے جیت گیا ۔ کیونکہ یہ تو ممکن نہیں تھا کہ اب میں اس کجھو ر کو پیٹ میں سے نکال لیتا ۔

جی ہاں ! اہل سنت کا قضاوقدر کے بارے میں یہی عقیدہ ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ جب میں سنی تھا تو میرایہی عقیدہ تھا ۔

قدرتی بات ہے کہ میں اس عقیدے  کی وجہ سے جو فکری تضاد پر مبنی تھا پریشان رہتا تھا اور یہ بھی قدرتی بات ہے کہ اس عقیدے کی وجہ سے ہم لوگ جمود کا شکار ہیں ۔ ہم اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ اللہ ہماری حالت بدل دے


ہم اپنی ذمہ داری سے بھاگتے ہیں اور اپنی ذمہ داری کو اللہ پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر آپ کسی چور ، ڈاکو سے یا شرابی ،زانی اور جواری سے یا اس مجرم سے بات کریں جس نےکی نابالغ لڑکی  کو اغوا کرکے اس سے اپنی شہوت کی آگ بجھانے کے بعد اسے قتل کردیا ہو،تو وہ یہی کہے گا کہ " وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے" میں کیا کرسکتا تھا ، میری تقدیر میں یہی لکھا تھا " ۔ یہ عجب خدا ہے جو پہلے تو انسان کو حکم دیتاہے کہ اپنی بیٹی کو زندہ دفن کردے ۔ پھر پوچھتا ہے کہے" بأيّ ذنبٍ قتلت" یہ بھی   جان لیجیے کہ ان باتوں کی وجہ سے مغربی مفکرین اور دانشور ہمیں حقارت کی نظر سے دیکھتے   ہیں اور ہماری کم سمجھی پر ہنستے ہیں ۔ اہل یورپ اسی عقیدہ تقدیر کو عربوں کی جہالت اور ان کی پس ماندگی کا خاص سبب بتلاتے ہیں ۔ یہ بھی قدرتی امر ہے کہ محققین نے دریافت کیا ہے کہ اس عقیدہ کو اموی حکمرانوں نے رواج دیا ۔ وہ کہتے تھے چونکہ  اللہ تعالی نے انھیں حکومت  عطا کی ہے ، اس لیے ان کی اطاعت فرض ہے ،جس نے ان کی اطاعت کی ، اس نے اللہ کی اطاعت کی او رجو ان کی مخالفت کرتاہے وہ باغی ہے اور بغاوت کی سزاموت ہے ۔ اسلامی تاریخ میں اس کے متعدد شواہد موجود ہیں ۔

عثمان بن عفان ہی کی مثال لیں ۔ جب لوگوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ خلافت سے دستبردار ہوجائیں ، تو انھوں نے کہا کہ میں وہ قمیص نہیں اتاروں گا جو اللہ نے مجھے پہنائی ہے ۔(1) گویا  ان کی رائے  کے مطابق خلافت وہ لباس تھا جو  اللہ نے انھیں پہنایا تھا کسی کو حق نہیں تھا کہ وہ یہ لباس ان سے چھین لے ، بجز اللہ تعالی کے کہ وہی یہ لباس اتار سکتا ہے یعنی ان کی موت  کی صورت میں ۔ اسی طرح معاویہ بن ابی سفیان نے اپنے ایک "خطبے میں کہا تھا کہ " میں نے تم سے اس لیے جنگ نہیں کی تھی کہ تم نماز  پڑھو ،روزے رکھو  یا حج کرو اور زکات دو ۔ میں نے تو اس لیے جنگ کی تھی  کہ تم پر حکومت

-----------------------

(1):- تاریخ طبری اور تاریخ ابر اثیر "عثمان کا محاصرہ"


کروں ۔اللہ نے میری یہ خواہش پوری کردی حالانکہ تمھیں یہ بات ناگوار ہے "۔

یہ عثمان سے بھی ایک قدم آگے ہیں ۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالی پر الزام ہے  کہ اس نے مسلمانوں کے قتل میں مدد دی ۔ معاویہ کا یہ خطبہ مشہور ہے ۔(1)

لوگوں کی مرضی کے خلاف یزید کو زبردستی ولی عہد مقرر کرتے وقت بھی معاویہ نے یہی دعوی کیا تھا کہ اللہ نے یزید کو میرا جانشین بنادیا ہے ۔ مورخین نے معاویہ کا وہ مکتوب نقل کیا ہے جو اس نے اس موقع پر چہار طرف بھیجاتھا ۔ والی مدینہ مروان بن حکم کو لکھا تھا کہ

"اللہ نے میری زبان سے بیعت یزید کا فیصلہ صادر کرادیا ہے "(2)

جب امام زین العابدین  ع کو زنجیروں میں باندھ کر فاسق وفاجر ابن زیاد کے سامنے  لے جایا گیا تو ان نے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا  کہ یہ علی بن الحسین ع ہیں ۔ اس نے کہا : کیا اللہ نے حسین بن علی کو ہلاک نہیں کردیا ؟ امام زین العابدین ع کی پھوپھی جناب زینب نے جواب دیا : نہیں ! انھیں نے اللہ اور اس کے رسول  ص کے دشمنوں نے قتل کردیا ہے ۔ ابن زیاد نے کہا: دیکھا! اللہ نے تمھارے گھروالوں کے ساتھ کیا کیا ؟ اس پر جناب زینب  نےکہا : میں نے تو جو کچھ دیکھا  اچھا ہی دیکھا ہے ۔ اللہ نے ان کے لیے قتل ہونا لکھاتھا سو وہ اپنی قبروں  میں جا سوئے عنقریب اللہ تجھے اور انھیں ایک جگہ جمع کرےگا وہاں دیکھ لینا کیا ہوتا ہے تیری ماں تجھ پر روئے اے اب مرجانہ !(3)

اس طرح یہ عقیدہ  بنی امیہ اور ان کے حامیوں سے چل کر امت اسلامیہ میں پھیل گیا ۔

---------------------

(1):- ابو الفرج اصفہانی ،مقاتل الطالبیین صفحہ 70 ۔حافظ ابن کثیر البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 131 ۔شرح نہج البلاغہ جلد3 صفحہ 16

(2):- ابن قتیبہ ،الامامہ والسیاسہ جلد1 صفحہ 151

(3):- ابوالفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین مقتل حسین۔


قضا وقد رکے بارے میں شیعہ عقیدہ

جیسے ہی شیعہ(1) علماء سے میری واقفیت ہوئی اور میں نے ان کی کتابیں پڑھیں ،قضاوقدر کے بارے میں بالکل  نیا علم مجھ پر منکشف ہوگیا ۔ ایک مرتبہ کسی نے امام علی علیہ السلام سے قضاوقدر کے بارے میں پوچھا تھا تو آپ نے غیر مبہم ،صاف اور جامع الفاظ میں اس کی وضاحت  کرتے ہوئے فرمایا :

"افسوس ! شاید تم یہ سمجھتے ہو کہ قضاوقدر نے لازمی اور حتمی فیصلہ کردیا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر جزا وسزا  کاسوال ہی نہ ہوتا اور نہ وعدہ وعید کا کچھ مطلب ہوتا ۔اللہ نے اپنے بندوں کو جن کاموں کاحکم دیا ہے ، ان کا اختیار بھی دیا ہے اور جن کاموں سے منع کیا ہے ، ان کا نقصان بھی بتلادیا ہے اللہ نے انسان کو تھوڑے سے کام کا مکلف ٹھہرایا ہے اور کوئی مشکل کام نہیں بتلایا ۔پھر یہ کہ تھوڑے کام پر بہت زیادہ اجر کا وعدہ کیا ہے ۔ نہ کوئی اللہ کی نافرمانی پر مجبور ہے اور نہ کسی پر اس کی اطاعت  کے لیے زبردستی ہے ۔ اس نے انبیاء کو کھیل کے طور نہیں بھیجا اور کتابوں کو فضول نہیں اتارا ۔ اس نے آسمانوں کو زمین کو انو جو کچھ ان کے درمیان ہے بے مقصد پیدا نہیں کیا ۔ یہ تو کافروں کا گمان ہے ۔ ان کا فروں  کی تو دوزخ میں شامت آجائےگی "۔(2)

یہ بیان کتنا واضح اور کتنا غیر مبہم ہے ۔میں نے اس موضوع پر اس سے جامع اور قاطع بیان اور حقیقت کے اظہار میں اس سے بہتر دلیل نہیں دیکھی ۔اللہ

-------------------------

(1):- جیسے آیت اللہ محمد باقر صدر جن سے میں  خوب استفادہ کیا ۔آیت اللہ سید ابو بوالقاسم خوئی ،علامہ علی طباطبائی اورسید حکیم وغیرہ ۔

(2):- شیخ محمد عبدہ ،شرح نہج البلاغہ جلد 4 صفحہ 673


نے ہمیں حکم دیا لیکن اسے ماننے یا نہ ماننے کا اختیار بھی دیا ہے ۔

یہی مطلب ہے اس کا کہ اللہ نے اپنے بندوں کو جن کاموں کا حکم دیا ہے ان کا اختیار بھی دیا ہے ۔ اسی طرح جن کا موں سے اللہ سبحانہ نے منع کیا ہے ان کے بارے میں تنبیہ بھی کردی ہے کہ اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں وہ  سزا کا مستحق ہوگا ۔امام علی علیہ السلام نے اس مسئلے کی کہہ کر مزید  توضیح فرمادی ہے کہ نہ کوئی اللہ کی نافرمانی پر مجبور کرنا چاہتنا تو اس سے کون جیت تھا لیکن اللہ تعالی نے خود اپنے بندوں کو اطاعت اور نافرمانوں کی طالعت اور اختیا ردے دیا  ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے :

"وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاء فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاء فَلْيَكْفُرْ "

آپ کہہ دیجیے کے حق تمھارےپر دودگار کا طرف سے آچکا ہے اب جس کاجی چاہے ایمان لائے  اورجس کا جس چاہے کافر رہے ۔(سورہ کہف ۔آیت 29)

اس کے بعد امام انسانی ضمیر کو مخاطب کرتے ہیں تاکہ ہیں تاکہ بات دل کی گہرائیوں تک اتر جائے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ

"انسان اپنے افعال میں مجبور ہوتا تو انبیاء کا بھیجا جانا اور کتابوں کا نازل کیا جاتا محض ایک مذاق ہوتا ،جس سے اللہ جلّ شافہ ، پاک ہے ،کیونکہ کا آنا اور کتابوں کانازل ہونا محض لوگوں کی اصلاح ،ان کی روحانی بیماریوں بیماریوں کے علاج اور کامیاب زندگی گزارنے کے بہترین طریقے  کی وضاحت کے لیے ہے ۔"

اللہ تعالی فرماتا ہے :

"إِنَّ هَـذَا الْقُرْآنَ يِهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ "

بیشک یہ قرآن ایسے طریقے کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا


ہے "۔ (سورہ بنی اسرائیل ،آیت 9)

امام ع اپنی بات کو یہ کہہ کر ختم کرتے ہیں کہ

"عقیدہ جبر کے یہ معنی ہیں کہ زمین وآسمان اور ان کے درمیان جوکچھ ہے اس کو بے مقصد پیدا کیا گیا ہے حالانکہ  ایسا کرنا کفرہے   جس  پر اللہ تعالی نے عذاب جہنم کی دھمکی دی ہے "

جب ہم قضا وقدر کے بارے میں شیعہ نظریے کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو اسے مناسب اور معقول پاتے ہیں جب کہ ان کے مقابل میں ایک گروہ نے تفریط سے کام لیا اور وہ جبر کا قائل ہوگیا ، دوسرے نے افراط سے کام لیا اور وہ تفویض کا قائل ہوگیا ۔ پھر عقائد کی درستگی کے لیے ائمہ آئے تو انھوں نے ان دونوں فریقوں کو حق کا راستہ دکھایا اور کہا کہ

"لاجبرولاتفويض ولكن أمرٌ بين الامرين "

کام میں نہ جبر ہے نہ تفویض بلکہ حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے ۔ امام صادق ع نے اس بات کو ایک ایسی سادہ مثال سے سمجھایا ہے جس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے اور جو ہر شخص  کی عقل کے مطابق  ہے ۔ کسی نے آپ سے پوچھا کہ آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ "نہ جبر نہ تفویض بلکہ ان دونوں کے دومیان ایک چیز ؟" آپ نے اس کے جواب  میں کہا تمھارے زمین پر چلنے اور زمین پر گرنے فرق ہے ۔ مطلب یہ تھا کہ زمین پر ہم اپنے اختیار سے چلتے ہیں لیکن جب  ہم گرتے ہیں تو یہ گرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا  کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی  گرنا نہیں چاہتا ۔کون چاہے گا کہ گرے تاکہ اس کی کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ جائے اور وہ معذور ہوجائے ؟

اس لیے قضا وقدر جبر وتفویض کے درمیان ایک چیز ہے ۔ یعنی کچھ کام ایسے ہیں جو ہم اپنے ارادے اور اختیار سے کرتے ہیں ، اور کچھ کام ایسے ہیں جن پر ہمارا بس نہیں چلتا اور اگر ہم ان کو روکنا بھی چاہیں تو روک نہیں سکتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گا اور دوسری قسم کے کاموں کا حساب


نہیں ہوگا ۔اس طرح انسان کو بیک وقت اختیار ہے  بھی اور نہیں بھی ۔

الف :- جن کاموں کا انسان کو اختیار ہے وہ ان کو سوچ سمجھ کر کرتا ہے ۔ کیونکہ اسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آیا وہ اس کام کو کرے  یا نہ کرے ۔اسی کی طرف اللہ تعالی نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے:

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا () فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا () قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا () وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ()"

قسم ہے جان کی اور جس نے اسے درست کیا ، پھرنیکی اور بدی کی دونوں راہیں اسے بتادیں ۔ وہ یقینا بامراد ہوگیا جس نے  اپنی جان کو پاک کرلیا ۔اور وہ یقینا نامراد ہوا جس نے اسے گناہ کرکے دبادیا ۔(سورہ شمس ۔آیت 7تا 10)

نفس کو پاک کرنا یا نہ کرنا نتیجہ ہے اس کا کہ انسانی ضمیر کو اختیار حاصل ہے ۔ اسی طرح  کامرانی اور نامرادی منصافانہ نتیجہ ہے اختیار کے استعمال کا ۔

ب:- جن کاموں کا انسانوں کو اختیار نہیں وہ ،وہ قوانین فطرت ہیں جو کلی طو  رپر اللہ کی مشیت کے تابع ہیں ۔ مثلا مرد یا عورت ہونا انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ۔ نہ اس کا رنگ روپ اس کے اپنے اختیارمیں ہے ، نہ یہ اس کے بس میں ہے کہ اس کے ماں باپ کون ہوں ، وہ غریب گھرانے میں پیدا ہو یا خوشحال گھرانے میں ۔ نہ اس کا اپنے  قدوقامت پربس ہے نہ اپنی شکل وصورت پر اختیار ہے ۔

انسان متعدد زبردست عوامل کے تابع ہے جیسے موروثی امراض ،یا طبعی قوانین جو اس کے فائدے کے لیے کام کرتے ہیں اور اسے ان کے سلسلے میں کوئی مشقت برداشت نہیں کرنی پڑتی ۔ چنانچہ انسان جب تھک جاتا ہے تو اسے نیند آجاتی ہے اور وہ سوجاتا ہے اورجب آرام کرچکتا ہے تو جاگ جاتا ہے جب بھوک لگتی ہے تو کھانا کھاتا ہے اورجب پیاس لگتی ہے تو پانی پیتا  ہے ۔ جب خوش ہوتا ہے کھلکھلا اٹھتا ہے ، ہنستا ہے اورجب غمگین ہوتا ہے ، پژمردہ ہوجاتا ہے ۔روتا ہے ۔ اس کے جسم کے اند فیکٹریاں اور ورکشاپیں کام کررہی ہیں ۔ جو


ہارمون ، زندہ خلیے اور سیال مادے بناتی ہیں اور ساتھ ہی جسم کی عجب متوازن طریقے سے تعمیر کرتی ہیں ۔ یہ سب کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ النسان کو احساس  بھی نہیں ہونے پاتا کہ عنایت  ربّانی ہر لحاظہ اس کیے ہوئے ہے ، اس کی زندگی میں بھی بلکہ مرنے کے بعد بھی ۔ اس سلسلے میں اللہ تعالی کا ارشادہے :

" أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى () أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى () ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى () فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى () أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى"

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا یہ پہلے ایک قطرہ منی نہ تھا جو ٹپکایا تھا ۔ پھر وہ خون کالوتھڑا ہوگیا ۔ پھر اللہ نے اسے بنایا اور درست کیا۔ پھر اس کی دوقسمیں  کردیں مرد اور عورت  ۔ تو کیا اللہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کردے ۔(سورہ قیامت ۔آیات 36 تا 40)

سچ کہا تونے اے ہمارے پالنہار ! تونے ہی ہمیں پیدا کیا اور ہمارے اعضاء کو درست کیا ۔ تو ہی موت دےگا اور تو ہی پھر زندہ کرےگا ۔ پھٹکار ان پر جو  تیری مخالفت کرتے ہیں اور تجھ سے دوری اختیار کرتے ہیں انھوں نے تجھے نہیں پہچانا ۔ ہم اس بحث کو امام علی رضا کے ایک قول پر ختم کرتے ہیں ۔ مامون الرشید کے عہد میں جب کہ ابھی آپ کی عمر پورے چودہ سال بھی نہیں تھی کہ آپ کو اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم تسلیم کرلیاگیا تھا ۔(1)

ایک دفعہ کسی شخص نے آپ سے آپ کے دادا امام جعفر صادق ع کے اس قول کے معنی پوچھے کہ

"لاجبرولاتفويض ولكن أمرٌ بين الامرين "

کو آپ نے فرمایا : جو شخص یہ کہتا ہے کہ جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ کرتاہے پھر اللہ ان افعال پر ہمیں عذاب بھ دیتا ہے ، وہ جبر کا قائل ہے ۔اور جو شخص

------------------------

(1):- ابن عبد ربہ اندلسی ، العقد الفرید جلد 3 صفحہ 42


یہ کہتا ہے کہ اللہ نے پیدا کرنے اور رزق دینے کا کام اماموں کے سپرد کردیا ہے ، وہ تفویض کا قائل ہے ۔ جو شخص جبر  کا قائل ہے وہ کافر ہے اور جو تفویض کا قائل ہے وہ مشرک ہے۔

"الأمرٌ بين الامرين" کے معنی ہیں ان افعال کو بجالانا جن کا اللہ نے حکم دیا ہے اور افعال سے بچنا جن سے اس منع کیا ہے ۔بہ الفاظ دیگر اللہ تعالی نے انسان  کویہ قدرت بخشی ہے کہ وہ برائی کرے یا نہ کرے ۔ساتھ ہی اسے برائی سے منع کیا ہے ۔ اسی طرح اسے یہ بھی قدرت بخشی ہے کہ وہ نیکی کا کام کرے یا نہ کرے ۔لیکن اسے نیکی کے کام کرنے کاحکم دیا ہے ۔

جان عزیز کی قسم ! قضا وقدر کےبارے میں امام ثامن کا یہ بیان کافی وشافی ہے ،جس کو ہرشخص تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ سمجھ سکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ۔ جب آپ نے آئمہ  کے بارےمیں کہا :

"ان سے آگے نہ بڑھنا اور ان سے پیچھے نہ رہنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے  اور ان کو سکھانے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں "(1)

قضا وقدر کی بحث کے ضمن میں خلافت پر تبصرہ

اس سلسلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر چہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ جو تقدیر میں لکھا ہے وہ ہوکر رہتا ہے ۔اوربندوں کے اعمال اللہ چلاتا ہے اور بندوں کو اس ضمن میں کوئی اختیار نہیں ۔ لیکن خلافت کے معاملے میں وہ کہتے ہیں کہ اسے رسول اللہ ص نے شوری پرچھوڑ دیا تھا ۔ کہ لوگ جس کو پسند

---------------------

(1):- ابن حجر ،الصواعق المحرقہ صفحہ 148 ۔ہیثمی ،مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 163 ۔سلیمان قندوزی ، ینابیع المودۃ صفحہ 41 ۔ سیوطی ،الدر المنثور جلد 2 صفحہ 60 ۔ علی متقی ہندی کنزالعمال جلد 1 صفحہ 168

ابن اثیر اسدالغابہ جلد 3 صفحہ 137 ۔ حامد حسین عبقات الانوار جلد 1 صفحہ 184


کریں اسے خلیفہ بنالیں ۔

اس کے  بالکل برعکس ، اگر چہ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان کو اپنے سب اعمال  کا اختیار ہے اوراللہ کے بندے جوچاہتے  ہیں کرتے ہیں ۔ مگر خلافت کےبارے میں میں وہ کہتے ہیں کہ یہاں بندوں کو پسند کا کوئی حق نہیں ۔

پہلی نظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اہل سنت کے نقطہ نظر میں بھی تضاد ہے  اور اہل تشیع کے نقطہ نظر میں بھی تضاد  ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔

جب اہل سنت یہ کہتے ہیں"اللہ اپنے بندوں کے اعمال  چلاتا ہے "توان  کایہ قول فی الواقع جو کچھ ہوتا ہے اس سے متضاد ہے ۔ کیونکہ ان کے خیال کے مطابق اگر چہ اصل اختیار اللہ کو ہے لیکن ظاہری طورپر کچھ اختیار بندوں کو بھی ہے چنانچہ بروز سقیفہ بظاہر تو ابو بکر کو عمر اور دوسرے بعض صحابہ نے منتخب  کیا تھا ، لیکن درحقیقت وہ اللہ کے حکم کو عملی جامہ پہنا رہے تھے اور ان کی حیثیت اہل سنت کے خیال کے مطابق محض ایک واسطے کی تھی اس سے زیادہ  کچھ نہیں ۔

اس کے بر خلاف شیعہ جب یہ کہتے  ہیں کہ اللہ سبحانہ نے اپنے بندوں کو ان کے افعال کااختیار دیا ہے  تو ان کے اس قول میں اور اس قول میں کہ خلافت کے معاملے میں اختیار صرف اللہ کو ہے ، کوئی تضاد نہیں ہوتا ۔ کیونکہ نبوت کی طرح خلافت بھی بندوں کا عمل نہیں ، اورنہ اس کو طے کرنا  ان کے سپرد ہے ۔جس طرح اللہ تعالی اپنے رسول کو انسانوں  میں سے پسند کرکے مبعوث فرماتا ہے ، بالکل یہی صورت خلیفہ رسول کی  ہے۔لوگوں کو اختیار ہے کہ وہ اللہ کے حکم کی تعمیل کریں یا اس کی نافرمانی کریں ۔ خود انبیاء کی زندگی  میں ہمیشہ ایسے ہی ہوتارہا ہے ۔اللہ کی پسند کےبارے میں بھی بندوں کو آزادی ہے ۔نیک اور مومن اللہ کی پسند کو قبول کرتے ہیں ۔ اور کفران نعمت کرنے والے  اللہ کی پسند کو قبول کرنے سے انکار کرتے اور اس کے خلاف بغاوت اور سرکشی کرتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :

" فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى () وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً وَنَحْشُرُهُ


يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى () قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيراً ()قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى "

جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرےگا وہ نہ بھٹکے گا اور نہ لکلیف میں پڑے گا اور جو کوئی میری نصیحت سے منہ موڑےگا  اس کے لیے تنگی کا جینا ہوگا اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے ۔ وہ کہے گا اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے اندھا کیوں  اٹھایا میں تو آنکھوں والاتھا؟ اللہ کہے گا : یہ  تو ٹھیک ہے لیکن جیسے تیرے پاس ہماری نشانیاں پہنچی تھیں اور تونے انھیں بھلادیا تھا ۔ اسی طرح آج ہم تجھے بھلادیں گے"۔(سورہ طہ ۔آیات 123-126)

پھر اہل سنت والجماعت  کانظریہ اس خاص مسئلے یعنی  خلافت کے بارے میں دیکھیے ۔وہ کسی فریق کو بھی الزام نہیں دیتے ۔کیونکہ جو کچھ ہوا اور جتنا خون بہایا گیا اور جو بھی بدعنوانیاں  ہوئیں ، سب اللہ کی طرف سے تھیں ۔ ایک شخص نےجو صاحب علم ہونے کا مدعی تھا مجھ سے کہا تھا :

"ولو شاء ربّك ما فعلوه"

اگر تیرا پروردگار نہ چاہتا تو وہ یہ سب ،کچھ نہ کرتے ،

لیکن شیعہ نظریہ یہ ہے کہ ہر اس شخص کو ذمہ داری اٹھانی پڑے گی جو بھی کجروی کا سبب بنا اور جس نے بھی اللہ کی نافرمانی کی اس کو نہ صرف اپنی غلطی کا بو جھ  اٹھانا ہوگا بلکہ ان کی غلطیوں کا بھی جو قیامت تک اس کا اتباع کریں گے ،کیونکہ

"كلّكم راعٍ وكلّكم مسئولٌ عن رّعيّته"

*****


رسول ص کے ترکہ کے بارےمیں اختلاف

گزشتہ  مباحث سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ خلافت کے بارے میں اہلسنت کی کیا رائے  ہے ، اور شیعوں کی کیا رائے  ہے ، اور ہر فریق کے قول کے بموجب رسول اللہ ص نے اس سلسلے میں کیا اقدام کیا تھا ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے : کیا رسول اللہ نے کوئی ایسی قابل اعتماد چیز چھوڑی ہے جس کی طرف اختلاف کی صورت میں رجوع کیاجاسکے ، کیونکہ اختلاف کا ہونا فطری ہے جیسا کہ خود کتاب اللہ سے معلوم ہوتا ہے :

" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً "

اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی اور ان کی جو تم میں سے اولی الامر ہیں ۔ اگر تم میں کسی بات پر کوئی نزاع پیدا ہو تو اس کو لوٹادو اللہ اور رسول  کی طرف ، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور روز آخرت  پر ۔یہ طریقہ اچھا ہے اور اس کا انجام بہتر ہے۔(سورہ نساء ۔آیت 59)

جی ہاں ! رسول اللہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ امت کےلیے کوئی ایسی بنیاد چھوڑ جائیں جو امت کے لیے سہارے کا کام دے ۔ رسول اللہ ص تو رحمت للعالمین  تھے ۔ ان کی شدید ،خواہش تھی کہ ان کی امت دنیا میں بہتر ین امت ہو اور آپ کے بعد اس میں اختلاف پیدا نہ ہو ۔ اسی لیے صحابہ اور محدثین سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :

میں تمھارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں ۔ تم جب تک ان کو تھارہوگے میرے بعدکبھی گمراہ نہیں ہونگے  کتاب اللہ اور میرے اہل بیت ۔یہ دونوں ایک دوسرے سے


کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں  تک کہ میرے پاس حوض پر پہنچ جائیں گے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو ۔

یہ صحیح  حدیث ہے اور فریقین کے محدثین نے اپنی کتابوں میں تیس سے زیادہ صحابہ کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے ۔

چونکہ میری عادت ہے کہ میں شیعوں کی کتابوں اور شیعہ علماء کے اقوال سے استدلال نہیں کیا کرتا ۔ اس لیے میرے لیے ضروری ہے کہ میں ان علماء اہل سنت کے نام گنواؤں  جنھوں نے اس حدیث ثقلین  کی صحت  کا اعتراف کیا ہے اور اسے  اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ۔ اگر چہ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ شیعہ اقوال سے بھی استدلال کیاجائے ۔بہر حال یہ ہے مختصر فہرست ان علمائے اہل سنت کی ، جنھوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے :

1:- مسلم بن حجاج نیشاپوری ، صحیح مسلم فضائل علی بن ابی طالب ع جلد 7 صفحہ 122۔

2:- محمد بن عیسی سلمی ترمذی ۔،جامع الترمذی جلد 5 صفحہ 328۔

3:- احمد بن شعیب بن علی نسائی " خصائص امیر المومنین  صفحہ 21۔

4:- احمد بن محمد بن جنبل  مسند احمد جلد 3 صفحہ 17

5:- محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری  المستدرک علی الصحیحین ، جلد 3 صفحہ 109۔

6:- علاء الدین علی متقی ہندی کنز العمال من سنن الاقوال والافعال جلد 1 صفحہ 154۔

7:- محمد بن سعد زہری بصری الطبقات الکبری جلد 2 صفحہ 194۔

8:- عزالدین ابن اثیر جزری جامع الاصول جلد 1 صفحہ 187۔

9:- حافظ جلال الدین سیوطی  الجامع الصغیر جلد 1 صفحہ 353۔

10:- حافظ نورالدین علی بن ابی بکر ، ہیثمی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد جلد 9 صفحہ 163


11:- نبہانی الفتح الکبیر جلد 1 صفحہ 451۔

12:- عزالدین ابن اثیر جزری  اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد 2 صفحہ 12۔

13:- علی بن حسین  دمشقی المعروف بہ ابن عساکر تاریخ مدینہ دمشق جلد 5 صفحہ 436۔

14:- اسماعیل بن عمر المعروف بہ ابن کثیر  تفسیر القرآن العظیم جلد 4 صفحہ 113۔

15:- منصور علی ناصف  التاج الجامع للاصول جلد 3 صفحہ 308۔

ان کے علاوہ ابن حجر نے اپنی کتاب صواعق محرقہ میں اس حدیث کو بیان کیا ہے اور اسے صحیح کہا ہے ۔نیز ذہبی نے بھی تلخیص میں اسے علی شرط  الشیخین (بخاری ومسلم) صحیح قراردیا ہے ۔خوارزمی حنفی اور ابن مغازلی شافعی نے بھی یہ روایت بیان کی ہے ۔ طبرانی نے اپنی کتاب معجم میں اسے نقل کیا ہے  ۔علاوہ ازیں سیرت حلبیہ کے حاشیہ پر ، سیرت نبویہ میں اور ینابیع المودہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے ۔

کیا اس کے بعد بھی کوئی دعوی کرسکتا ہے کہ  حدیث ثقلین  (کتاب اللہ وعترتی اھل بیتی )سے اہل سنت واقف نہیں ، یہ شیعوں کی وضع کی ہوئی ، احادیث میں سے ہے ، تعصب تنگ نظری ،فکری جمود  اورجاہلانہ کٹرپن پر خدا کی مار !

صحیح بات یہ ہے کہ حدیث ثقلین جس  میں رسول اللہ ص نے کتاب اللہ اور عترت طاہرہ سے وابستہ وپیوستہ رہنے کی وصیت کی ہے وہ اہل سنت کے نزدیک بھی صحیح حدیث ہے اور شیعوں کے یہاں تو اور بھی زیادہ تواتر اور صحت سند کے ساتھ


ائمہ طاہرین سے منقول ہے ۔پھر نہیں معلوم بعض لوگ کیوں اس حدیث میں شک پیدا کرتے اور اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں کہ اس کے الفاظ کو ہو کتاب اللہ وسنتی سے بد ل دیں ۔ اس کے باوجود مفتاح کنوز السنۃ " نامی کتاب کے صفحہ 478 پر مصنف نے  وصیتہ صلی اللہ علیہ وسلم بکتاب اللہ وسنتہ رسولہ " کا عنوان بخاری ومسلم ،ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالے سے باندھا ہے لیکن اگر آپ ان چاروں کتابوں میں یہ حدیث تلاش کریں تو اس کا دور دور تک پتہ نہیں چلے گا۔ بخاری  میں ایک عنوان البتہ ہے "کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ "(1) لیکن اس عنوان کے تحت  بھی کتاب میں اس حدیث کا وجود نہیں ۔

زیادہ سے زیادہ بخاری میں ایک حدیث ملتی ہے کہ :

طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وصیت فرمائی تھی ،انھوں نے کہا: نہیں ۔ میں نے کہا :پھر باقی سب لوگوں کو وصیت کا حکم کیوں ہے ؟ عبداللہ بن ابی اولی نے کہا : آپ نے کتاب اللہ کے متعلق وصیت کی تھی(2) ۔

لیکن یہاں بھی  اس حدیث کا وجود  نہیں کہ رسول اللہ ص نے فرمایا :

"تركت فيكم الثّقلين كتاب الله وسنتي".

میں تم میں دوگراں قدر چیزیں چھوڑرہا ہوں ، ایک کتاب اللہ ،دوسرے میری سنت ۔

اگر  فرض کرلیا جائے کہ کسی کتاب میں یہ حدیث موجود بھی ہے جب  بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اجماع حدیث کے دوسرے الفاظ پر ہے ۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ۔علاوہ ازیں اگر ہم کتاب اللہ وسنتی والی حدیث پر ذرا غور کریں تو مختلف وجوہ سے یہ حدیث واقعات کی کسوٹی  پر پوری نہیں اترتی ،نہ عقلا نہ نقلا :

----------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 137۔

(2):- صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 168۔


پہلی وجہ : مورخین اور محدثین کا اس پر اتفاق ہے ہ رسول اللہ ص نے اپنی احادیث کی کتابت سے منع فرمایا تھا۔

آپ کے زمانے میں کسی کو سنت نبوی کو مدون کنے کی اجازت نہیں تھی ۔ اس لیے یہ بات دل کو نہیں لگتی کہ آپ نے "تركت فيكم الثّقلين كتاب الله وسنتي"فرمایا ہوگا۔ اس کے برخلاف جہاں تک کتا ب اللہ کا تعلق ہے وہ لکھی ہوئی موجود تھی۔ کا تبان وحی اس کے لکھنے پر مامور تھے نیز اسے صحابہ یاد کرتے تھے ، وہ سینوں میں محفوظ  تھی اس لیے ہر صحابی کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ کتاب اللہ سے رجوع کرسکے ، خواہ وہ حافظ قرآن ہویا نہ ہو۔جہاں تک سنت نبوی کا تعلق ہے وہ آپ کے زمانے میں لکھی ہوئی نہیں  تھی ، نہ آپ کے زمانے میں کوئی احادیث کا مجموعہ تحریری شکل میں موجود تھا ، جیسا کہ  معلوم ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ سنت نبوی میں آنحضرت ص کے اقوال ، افعال اور وہ تمام امور شامل ہیں جن  کی آپ نے عملا تصویب کی ہو یعنی صحابہ کو کرتے دیکھ کر منع نہ کیا ہو ۔ یہ بھی معلوم  ہے کہ آپ صحابہ کو خاص طور پر سنت نبوی سکھانے کے لیے کبھی جمع نہیں کیا کرتے تھے بلکہ مختلف موقعوں  کی مناسبت سے گفتگو  فرماتے رہتے تھے ۔ ان موقعوں پر کچھ اصحاب موجود ہوتے تھے اورکبھی کبھار ایسا بھی ہوتا تھا کہ اس وقت آپ کے ساتھ صرف ایک ہی صحابی ہوں ۔تو ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن تھا کہ رسول اللہ ص یہ فرمادیتے کہ میں تمھارے درمیان اپنی سنت چھوڑ رہا ہوں ۔

دوسری وجہ : جب وفات سے تین دن قبل رسول اللہ ص کے مرض میں اضافہ ہوگیا اور تکلیف شدید ہوگئی تو آپ نے موجودین سے فرمایا کہ شانے کی ہڈی  اور دوات لے آؤ  میں کچھ  لکھ دوں تاکہ تم پھر کبھی گمراہ نہ ہو ۔ لیکن عمربن خطاب نے کہا : "حسبنا کتاب اللہ " (1) (ہمارے لیے کتاب اللہ کافی ہے ) اگر اس سے پہلے  رسول اللہ ص یہ فرماچکے ہوتے کہ : "تركت فيكم الثّقلين كتاب الله وسنتي"تو اس صورت میں عمر بن خطاب کے لیے یہ کہنا کسی طرح جائز نہیں تھا کیونکہ اس

---------------------

(1):- صحیح بخاری بات مرضی النبی ووفاتہ جلد 5 صفحہ 138 صحیح مسلم جلد 2کتاب الوصیہ


کے معنی  یہ ہوتے  کہ وہ اور دوسرے صحابہ جنھوں نے ان کی تائید کی تھی ، رسول اللہ  ص کی تردید  کررہے ہیں جب کہ معلوم ہے کہ رسول اللہ کی تردید  کرنے والا بلاشبہ کافر ہے ۔ میرے خیال میں اہل سنت والجماعت کویہ بات کبھی بھی پسند نہیں ہوگی ۔ اس کے ساتھ یہ بھی اضافہ کرلیجیے کہ عمر بن خطاب نے خود احادیث بیان کرنے پن پابندی عائد کررکھی  تھی ۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حدیث اہل بیت ع کے کسی مخالف کی گھڑی(1) ہوئی ہے اور غالبا اہل بیت ع کو خلافت سے محروم کرنے  کےبعد گھڑی گئی ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے یہ حدیث وضع کی ہے وہ خود حیران تھا کہ کیا بات ہے کتاب اللہ سے تو لوگ تمسک کرتے ہیں مگر عترت کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی کرنےلگے ہیں ۔ اس لیے اس نے سوچا کہ وہ حدیث گھڑ کر ان لوگوں کی روش  کے لیے ایک وجہ جواز مہیا کردے تاکہ صحابہ پر یہ اعتراض نہ کیا جاسکے کہ انھوں نے رسو ل اللہ ص کی وصیت پر عمل کیوں نہیں کیا اور اس کے برخلاف کیوں کیا ۔

تیسری وجہ : ہمیں معلوم ہے کہ اپنی خلافت  کےاوائل  میں ابو بکر  کو جس مسئلے سے سب سے پہلے دوچار ہونا پڑا وہ ان کا یہ فیصلہ تھا کہ مانعین زکات  سےجںگ کی جائے ۔ عمر بن خطاب نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور دلیل کے طور پر کہا تھا کہ رسول اللہ ص نے فرمایا ہے کہ

جو توحید ورسالت  کی گواہی دے اور لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کہے اس کی جان اور اس کا مال میری طرف سے محفوظ ہے ،بجز اس کے کہ کسی حق کی وجہ سے ہو اور اس کا حساب اللہ پر ہے ۔

اگر سنت رسول  ص کو ئی معلوم شے ہوتی تو ابوبکر اس سے ناواقف نہیں  ہوسکتے تھے۔ ان کو تو سب سے پہلے اس کا علم ہونا چاہیے تھا ۔ بعد میں عمر ان حدیث کی اس تاویل سے مطمئن ہوگئے جو ابوبکر نے کی ۔ اورابو بکر کی یہ بات تسلیم کرلی  کہ زکات مال کا حق ہے ۔لیکن رسول اللہ ص کی وہ فعلی

-----------------------

(1):- احادیث کی گھڑنت کے بارے مین علامہ مرتضی عسکری کی کتاب "احیائے دین مین ائمہ اہلبیت ع کا کردار"دیکھیے !


سنت جس کی تاویل ممکن نہیں دانستہ یا نادانستہ ان لوگوں نے نظر انداز کردی ۔یہ ثعلبہ کا قصہ ہے ، جس نے رسو ل اللہ  کو زکات ادا کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ اس کے بارے میں قرآن کی ایک آیت بھی نازل ہوئی تھی لیکن رسول اللہ ص نے اس سے جنگ نہیں کی اورنہ اسے زکات ادا کرنے پر مجبور کیا ۔ کیا ابو بکر اور عمر کو اسامہ بن زید کا قصہ بھی معلوم نہیں تھا ؟ اسامہ بے بعد دشمن کا ایک آدمی اسامہ کو ملا جس نے مسلمانوں کو دیکھتے ہی کہا :"لا الہ الا اللہ " لیکن اسامہ نے اسے قتل کردیا ۔ جب یہ بات رسول اللہ ص کو معلوم ہوئی تو آپ نے اسامہ سے کہا :

کیا تم نے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی اسے قتل کردیا؟

اسامہ کہتے ہیں کہ : میں نے عرض کیا : اس نے تو اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا ۔لیکن رسول اللہ ص بار بار وہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کاش ! میں آج ہی اسلام لایا ہوتا(1)

ان تمام باتوں کے پیش نظر ہمارے  لیے کتاب اللہ وسنتی  والی حدیث پر یقین کرنا ممکن نہیں ہے ۔ جب صحابہ ہی کو سنت نبوی کا علم نہیں تھا تو بعد میں آنے والوں کا تو ذکر ہی کیا ؟ اور ان لوگوں کے متعلق کیا کہاجائے  جو مدینے سے دور رہتے تھے ۔

چوتھی وجہ : ہمیں معلوم ہے  کہ رسول اللہ ص کی وفات کے بعد صحابہ کے بہت سے اعمال  سنت رسول ص کے منافی تھ ے۔لہذا ہمارے سامنے اب دوہی صورتیں ہیں : یا تو کہیں کہ صحابہ سنت رسول ص سے ناواقف تھے یا پھر یہ کہیں کہ وہ عمدا  سنت رسول  کو چھوڑ کر اپنے اجتہاد سے کام لیتے  تھے۔ اگر ہم دوسری صورت کے قائل ہوجائیں تو وہ اس آیت  کامصداق ہوجائیں گے ۔:

"    وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَ

-------------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 36 وصحیح مسلم جلد 1 صفحہ 67 کتاب الدیات ۔


رَسُولُهُ أَمْراً أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِيناً"

کسی مومن  یا مومنہ کے لیے یہ مناسب نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول  ص کسی کا م کا فیصلہ کردیں تو وہ یہ کہیں کہ انھیں اپنے کام میں کچھ اختیار ہے ۔اورجس نے اللہ اور اس کے رسول ص کی نافرمانی کی تو وہ صریحا گمراہ ہوگیا ۔(سورہ اجزاب ۔آیت 36)

اور اگر ہم یہ کہیں کہ صحابہ رسول  ص سے ناواقف تھے ، تو ایسی حالت میں رسول اللہ ص یہ کیسے  فرماسکتے تھے کہ میں تمھارے  درمیان اپنی سنت چھوڑ رہا ہوں  جب کہ آپ  کو معلوم تھا کہ آپ کے اصحاب اور مقربین  سنت کا پورا علم نہیں رکھتے  بعد میں آنے والوں  کا تو ذکر کیا جنھوں نے آپ کو دیکھا تک نہیں ۔ایسی حالت میں تو آپ کے لیے ضروری  تھا کہ آپ صحابہ  کو احادیث لکھنے کا حکم دیتے تاکہ یہ مجموعہ احادیث مسلمانوں کے لیے قرآن کے بعد مرجع ثانی کا کام دیتا ۔ رہا یہ کہنا کہ آپ کو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں قرآن وسنت خلط ملط نہ ہوجائیں تو اس کا لغو ہونا ظاہر ہے ۔کیونکہ یہ ممکن تھا کہ وحی ایک خاص  رجسٹر میں جمع کی جاتی اور سنت ایک دوسرے رجسٹر میں ۔ اس طرح دو الگ الگ کتابیں تیار  ہوجاتیں ، جیسا  کہ ہمارے یہاں آج کل قاعدہ ہے ، اس صورت میں ضرور یہ کہنا صحیح  ہوتا کہ میں تمھارے درمیان کتاب اللہ کو اپنی سنت کو چھوڑ رہا ہوں ۔

پانچویں وجہ : یہ تو معلوم ہے کہ سنت کی تدوین  عباسی دور مین ہوئی  اس سے پہلے نہیں ۔ حدیث کی جو پہلی کتاب لکھی گئی وہ موطاء امام مالک ہے یہ فاجعہ کربلااور واقعہ حرہ کے بعد کی بات ہے ۔ واقعہ حرّہ  میں تین دن تک  مدینہ منورہ میں وجیوں  کو آزاد چھوڑ  دیا گیا تھا کہ وہ جو جی چاہے کریں ۔ اس سانحے میں صحابہ کی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی ۔ ان احادیث  کے بعد ان روایوں کا کیسے اعتبارکیا جاسکتا ہے جنھوں نے دنیا کمانے کی غرض سے حکام وقت کاقرب حاصل کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث میں اضطراب اور تناقض پیدا ہوا اور امت مسلمہ


فرقوں میں بٹ گئی ۔چنانچہ ایک فرقے کے نزدیک جو بات ثابت شدہ تھی وہ دوسرے کے نزدیک پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکی  اور جسے ایک فرقے نے صحیح قراردیا دوسرے نے اس کی تکذیب کی ۔ان حالات میں ہم کسیے مان لیں کہ رسول اللہ ص نے فرمایا ہو کہ :

" تركت فيكم الثّقلين كتاب الله وسنتي"۔رسول اللہ کو خوب معلوم تھا کہ منافقین اور منحرفین  آپ سے جھوٹی باتیں منسوب کریں گے ۔ آپ نے خود فرمایا تھا :مجھ سے بہت سی جھوٹی باتیں منسوب کی گئی  ہیں ۔ پس جو شخص مجھ سے جان بوجھ کر جھوٹ منسوب کرے ، وہ اپنا ٹھکانا  جہنّم میں بنالے ۔ (1)جب آپ کی زندگی ہی میں آپ سے بکثرت جھوٹی  باتیں منسوب  کی گئی  ہوں ، تو آپ کیسے اپنی امت کو اپنی سنت کے اتباع کا حکم دے سکتے  تھے جب کہ آپ کے بعد صحیح وغلط مین تمییز  دشوار ہوگئی ۔

چھٹی وجہ : اہل سنت  کی صحاح میں روایت ہے کہ رسول اللہ ص نے اپنے ثقلین  یعنی دوجانشین یا دوچیزیں  چھوڑیں ۔اہل سنت کبھی روایت کرتے ہیں کہ آپ نے کتاب اللہ وسنۃ رسولہ فرمایا اور کبھی کہتے ہیں کہ آپ نے  علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الرّاشدین من بعدی فرمایا ۔ ظاہر ہے کہ اس حدیث سے  کتاب اللہ  اور سنت رسول اللہ ص میں ، سنت خلفاء  کا اضافہ ہوجاتا ہے اور اس طرح شریعت  کے ماخذ دو کے بجائے تین ہوجاتے ہیں ۔ مگر یہ سب اس حدیث ثقلین  کے منافی  ہے جس پر اہل سنت اور شیعوں کا اتفاق  ہے ۔ اس حدیث میں کتاب اللہ وعترتی  کے الفاظ ہیں اور اس کے لیے ہم نے بیس سے زیادہ اہل سنت کی معتبر کتابوں کا حوالہ دیا ہے ۔ شیعہ ماخذ اس کے علاوہ ہیں جن کا ہم نے ذکر نہیں کیا ۔

ساتھویں وجہ : رسول اللہ ص کو بخوبی علم تھا کہ آپ کے اصحاب ۔گو

-----------------------

(1):-صحیح بخاری کتاب العلم جلد 1 صفحہ 35


قرآن ان کی زبان  میں اور جیسا کہ مشہور ہے ، ان کے لہجے میں نازل ہوا ہے ۔ بہت سے مقامات کی تفسیر اور تاویل سے ناواقف تھے ۔ پھریہ کیسے   توقع کی جاسکتی تھی کہ بعد میں آنے ولے ، خصوصا وہ رومی  ، ایرانی ،حبشی اور دوسرے عجمی  جن کی زبان  عربی نہیں تھی اور جو نہ عربی سمجھتے تھے اور نہ بولتے تھے ، قرآن کو کما  حقہ سمجھ پائیں گے روایت  ہے کہ  جب ابو بکر سے اللہ تعالی کے قول  وفاکھۃ وابا کے معنی پوچھے گئے تو انھوں نے کہا : میری کیا مجال کہ میں کتاب اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو ۔(1)

اسی طرح عمر بن خطاب  کو بھی اس کے معنی معلوم نہیں تھے ۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک دفعہ  عمربن خطاب نے منبر پر یہ آیت پڑھی ۔

"فأنبتنا فيها حبّاوّعنباوّقضباوّزيتوناوّنخلاوّحدايق غلباوّفاكهة وّأباً"

اس کے بعد کہا : اور تو سب ہمیں معلوم  ہےمگر یہ "ابّ" کیا ہے ؟ اس  کے بعد کہنے لگے :چھوڑو ایسی ٹوہ محض تکلیف ہے ۔اگر تمھیں اب کے معنی معلوم نہیں تو نہ ہوں  ، اس سے فرق کیا پڑتا ہے ۔کتاب اللہ میں جو واضح ہدایت ہے اس پر عمل کرو اور جو سمجھ مین نہ آئے  اسے اس کے رب پرچھوڑدو(2)

جو کچھ یہاں کتا ب اللہ کی تفسیر  کےبارے میں کہا گیا ہے ،اس کا اطلاق سنت نبوی کی تفسیر پر بھی ہوتا ہے ۔چنانچہ  کتنی ہی احادیّث  ہیں جن  کے بارے میں  صحابہ میں مختلف فرقوں میں اور شیعوں اور سنیوں  میں اختلاف  رہا ہے کبھی  اس بارے میں کہ حدیث صحیح یا ضعیف اور کبھی اس بارے میں کہ حدیث کا مفہوم کیا ہے ۔ وضاحت کے لیے میں اس اختلاف  کی چند مثالیں  پیش کرتاہوں

--------------------

(1):-قسطلانی ، ارشاد الساری جلد 10 صفحہ 298 ۔ ابن حجر ، فتح الباری فی شرح صحیح البخاری  جلد 13 صفحہ 230

(2):- تفسیر طبری جلد 3 کنزالعمال  جلد 1 صفحہ 227 ۔ مستدرک جلد 2 صفحہ 14 ۔تاریخ بغداد جلد 11 صفحہ 468 ۔تفسیر کشّاف جلد3  صفحہ 253 ۔ تفسیر خازن جلد 4 صفحہ 374 ۔ ابن تیمیہ ، مقدمہ اصول تفسیر صفحہ 30 ابن کثیر تفسیر القرآن العظیم جلد 4 صفحہ 473۔


1:- حدیث کی صحت اور عدم صحت کے بارے میں صحابہ میں اختلاف

یہ صورت خلافت ابو بکر کے ابتدائی  ایام میں اس وقت پیش آئی جب فاطمہ بنت رسول  ص  ابو بکر کے پاس
آئیں  اورفدک کی واگزاری کا مطالبہ کیا ۔ جناب فاطمہ س کا دعوی تھا کہ فد ک ان کے والد نے اپنی زندگی میں انھیں عطا کردیا تھا لیکن ان کے والد کی وفات کے بعد ان سے لے لیا گیا ۔ ابوبکر نے اس  دعوے  کو غلط قراردیا  اور اس کی تردید کی کہ رسول اللہ ص نے اپنی زندگی میں فدک جناب فاطمہ س کو دے دیا تھا۔ جناب فاطمہ س نےیہ مطالبہ بھی کیا  کہ ان کے والد کی میراث انھیں دے جائے ۔لیکن ابوبکر نے کہا کہ

رسول اللہ نے فرمایا ہے :

"نحن معاشر الأنبياء لانورث ما تركناه صدقة"

ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا ۔جو کچھ ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔

جناب فاطمہ س نے اس حدیث کو من گھڑت  قراردیا اور اس کے مقابلے  میں قرآنی آیات پیش کیں  نتیجہ یہ ہوا کہ اختلاف  او رجھگڑا بڑھ گیا ۔جناب فاطمہ مرتے دم تک ابو بکر سے ناراض رہیں ، ان سے بات نہیں کرتی تھیں ۔ جیسا کہ خود صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آیا ہے ۔

ایک اور مثال ام المومنین عائشہ  اور ابوہریرہ  کےاختلاف کی ہے :

اگر کوئی شخص رمضان میں صبح کو ناپاک اٹھے تو عائشہ  کہتی تھیں کہ اس کا روزہ درست ہے ۔ابو ہریرہ  کی رائے  تھی کہ وہ افطار  کرے ۔ امام مالک نے موطا میں اوربخاری ن ےاپنی صحیح میں ام المومنین  عائشہ  اور ام المومنین  ام سلمہ  سے روایت کی ہے وہ دونوں کہتی ہیں کہ رمضان  میں رسول اللہ صبح کو جنب اٹھتے  تھے ہم بستری  کی وجہ سے ،  احتلام  کیوجہ سے نہیں ، پھر وہ روزہ رکھ لیتے تھے ۔ ابو بکر بن عبد الرحمن کی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جن دنوں مروان بن حکم


مدینے کا امیر تھا ،ایک دن میں اور میرے والد اس کے پاس تھے ۔ اس کے سامنے ذکر آیا کہ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جو شخص صبح کو جنب  اٹھے وہ اس دن افطار کرے ۔

مروان کہنے لگا : عبدالرحمن ! میں تمھیں قسم دیتا ہوں کہ تم ام المومنین  عائشہ اور ام المومنین ام سلمہ  کےپاس جاکر ذرا ! اس بارے میں دریافت تو کرو ۔ اس پر عبدالرحمان  اور میں حضرت عائشہ  کے پاس گئے ۔ وہاں جاکر عبدالرحمن  نے سلام کیا اور کہا : ام  المومنین ! ہم مروان بن حکم کے پاس تھے ، وہاں ذکر آیا کہ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ جو صبح کو جنب ہو وہ اس دن افطار کرے ، روزہ نہ رکھے ، عائشہ  نے کہا: اس طرح نہیں جیسے ابو ہریرہ کہتے ہیں ۔ عبدالرحمان  ! کیا تمھیں رسول اللہ ص کا طریقہ پسند نہیں؟ عبدالرحمن نے کہا: بخدا یہ بات نہیں ۔ عائشہ نے کہا : اگر ایسا ہے تو میں گواہی  دیتی ہوں کہ رسول اللہ ص احتلام کے بغیر ہم بستری سے صبح کو جنب  ہوتے تھے اور پھر اس دن کا روزہ رکھ لیتے تھے ۔ ابو بکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ہم وہاں سے نکل کر حضرت ام سلمہ کے یہاں گئے ۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انھوں نے بھی وہی  کہاجو عائشہ  نے کہا تھا۔ اس کے بعد ہم واپس مروان بن حکم کے  پاس  پہنچے اورجو کچھ ان دونوں نے کہا تھا وہ مروان کو بتایا ۔

مروان نےکہا :ابو محمد  ! دروازے پر سواری  موجود ہے ۔تم فورا  سوار ہوکر ابوہریرہ  کےپاس جاؤ ، وہ عتیق میں اپنی زمین  پر ہیں ، انھیں جاکر سب بت بتلاؤ ۔ چنانچہ  عبدالرحمان سوار ہوئے میں بھی ان کے ساتھ سوار ہوا اور ہم دونوں ابوہریرہ کے پاس پہنچے ۔ عبدالرحمن  نے کچھ ویران سے ادھر ادھر کی باتیں پھر اصل موضوع  پر آئے ۔ابو ہریرہ نے کہا: مجھے تو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ، مجھ سے تو کسی نے کہا تھا (1)۔

دیکھئے ! ابو ہریرہ  جیسے صحابی جو اہل سنت کے نزدیک اسلام  میں احادیث  کےسب سے بڑے راوی  ہیں ، کیسے دینی احکام سے متعلق محض ظن وتخمین کی بناپر

---------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 232 باب الصائم یصبح جنبا ۔  تنویر الحوالک شرح موطاء مالک جلد 1 صفحہ 272 "ما جا فی الذی  يصبح جنبا فی رمضان"


فتوی دے دیتے ہیں اور پھر اسے رسول اللہ سے منسوب کردیتے حالانکہ انھیں یہ تک معلوم نہیں تا کہ یہ بات کس نے بتلائی تھی ۔ ایسے احکام جن کا ماخذ بھی معلوم نہیں اہل سنت ہی کو مبارک ہوں۔

ابو ہریرہ کا ایک اور قصہ

عبد اللہ بن محمد کہتے کہتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا ہشام بن یوسف نے اورہ کہتے ہیں کہ ہمیں بتلا یا معمر نے ، وہ روایت کرتے ہیں زہری سے ، وہ ابو سلمہ سے ، وہ ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے ہیں کہ  رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

"چھوت ، یرقان اور ہامہ (ایک فرضی پرندہ جو جاہلی عربوں کے خیال کے مطابق  اس وقت چیختا رہتا ہے جب تک مقتول کا بدلہ نہ لے لیا جائے) کوئی چیز نہیں ۔ اس پر ایک اعرابی نے کہا کہ یا رسول اللہ ص ! پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ اونٹ صحرا میں  خوبصورت  ہر نوں کی طرح کلیلیں کرتے پھرتے  ہیں پھر ان میں کوئی خارش زدہ اونٹ آملتا ہے تو سب کو خارش ہوجاتی ہے ۔ رسول اللہ ص نے کہا: یہ بتاؤ ، پہلے اونٹ کو بیماری کس نے لگائی  تھی ؟

ابو سلمہ ہی سے روایت ہے کہ میں نے بعد میں ابو ہریرہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ

"بیماری کو تندرست کے پاس نہ لے جاؤ "

ابو ہریرہ نے پہلی حدیث کا انکار کیا تو ہم نے کہا : آپ نے نہیں کہا تھا کہ چھوت کوئی چیز نہیں ۔ اس پر ابوہریرہ حبشی زبان میں کچھ کہا جو ہماری سمجھ میں نہیں آیا ۔ ابو سلمہ کہتے ہیں کہ اور کوئی حدیث ہم نے ابو ہریرہ کو بھولتے نہیں دیکھا(1)

----------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 31 باب لاہامہ ۔صحیح مسلم جلد 7 صفحہ 32 باب لاعدوی ولا طیرہ


تو قارئین  ! یہ ہے سنت رسول ص بلکہ یوں کہیے ، یہ ہیں وہ روایات جو خدا کے رسول ص سے منسوب کی گئی ہیں ۔ کبھی تو ابوہریرہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پہلے جو  حدیث سنائی تھی اس کا انھیں کچھ علم نہیں ،ان سے تو یہ بات کسی نے کہی تھی ۔ اور کبھی جب ان کی بیان کردہ احادیث میں تناقض کی نشان دہی کی جاتی ہے تو وہ کچھ  جواب نہیں دیتے بلکہ حبشی زبان میں کچھ بڑابڑادیتے ہیں ۔

معلوم نہیں اہل سنت کیسے انھیں اسلام کا سب سے بڑا راوی حدیث قرار دیتے ہیں ؟

عائشہ اور ابن عمر کا اختلاف

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں اور ابن عمر ام المومنین عائشہ کے حجرے کے ساتھ پیٹھ لگائے بیٹھے تھے اور ہمیں ان کے مسواک کرنے کی آواز آرہی تھی ، اتنے میں میں نے پوچھا : اے ابو عبدالرحمان ! کیا رسول اللہ ص نے رجب کے مہینے میں بھی عمرہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں کیا ہے ۔ میں نے عائشہ سے کہا: اماں جاں ! آپ سن رہی ہیں ابو عبدالرحمان کیا کہتے ہیں  ؟ انھوں نے کہا : کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا : یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ص نے رجب میں عمرہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا : ابو عبدالرحمن کو اللہ معاف کرے۔ آپ نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا ۔ اور جب بھی عمرہ کیا یہ تو ہر واقعہ آنحضرت کے ساتھ تھے ۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ابن عمر یہ گفتگو سن رہے تھے مگر انھوں نے نہ ام المومنین کی تصدیق کی نہ تردید ،بس چپکے ہورہے ۔(1)

عائشہ  اور ازواج نبی کا اختلاف

ام المومنین  عائشہ بیان کرتی ہیں کہ سہلہ بت سہیل  ابو حذیفہ کی جو رو جو بنی عامر کی اولاد میں سے تھی  رسول اللہ کے پاس آئی اور بو لی : یارسول اللہ !

---------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 5 بات عمرۃ القضا۔صحیح مسلم جلد 2 کتاب الحج ۔


ہم ابو حذیفہ کے غلام !سالم کو اپنا بچہ سمجھتے تھے او ر یہ کہ جب میں بے لباس ہوتی تھی وہ گھر میں اندر چلاآتا تھا ۔اب کیا کرناچاہیے کیونکہ ہمارے پاس صرف ایک ہی گھر  ہے ۔یہ سن کر رسو ل اللہ ص نے فرمایا : اسے دودھ پلادو ۔ سہلہ نے کہا: میں اسے کیونکر دودھ پلاسکتی ہوں ، اب تووہ جوان ہوگیا ہے اور اس کے داڑھی مونچھ ہے ۔ اس پر رسول اللہ ص مسکرائے اور بولے : اسے دودھ پلاؤ ، اس میں تمھارا کیا جائے گا ، اگر کچھ جائے گا تو ابو حذیفہ کا جائے گا ۔

ام المومنین عائشہ اس حدیث پر عمل کیا کرتی تھیں اورجس آدمی کو چاہتیں کہ ان کے پاس آیا جایا کرے تو اپنی بہن ام کلثوم کو حکم کرتیں اور اپنی بھتیجوں کو بھی کہ اس آدمی کو اپنا دودھ پلادیں لیکن دوسری امہات المومنین  اس کا انکار کرتی تھیں کہ بڑھ پن میں رضاعت کے سبب کوئی ان کا محرم بن کر ان کے پاس آجاسکتا ہے ۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ ص نے یہ رخصت خاص سہلہ بنت سہیل کودی بخدا !ایسی رضاعت  کے سبب کوئی ہمارا محرم نہیں بن سکتا(1)۔

تحقیق کرنے والا جب ایسی روایات دیکھتا ہے تو اسے یقین نہیں آتا ،لیکن یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ ایسی روایات جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عصمت پر حرف آتا ہے حدیث کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں ۔ یہ روایات رسول اللہ ص کو ۔ جو خصائل حسنہ کے پیکر تھے اور مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوئے تھے ۔ ایک ایسے شخض کو روپ میں پیش کرتی ہیں جو اخلاقی اقدار کی دھجیاں بکھیرتا ہے اور دین اسلام  میں ایسی مضحکہ خیز باتیں داخل کرتا ہے کہ فرزانے تو کیا دیوانے بھی بس ساختہ ہنس پڑیں ۔(غلامی رسول ص میں ،موت بھی قبول  ہے کا نعرہ بلند کرنےوالے )مسلمان کیا ایسی کوئی حدیث قبول کرسکتے ہیں جو خداکے عظیم الشان رسول ص کا اسخفاف کرتی ہو ،عقل کی کسوٹی اور اخلاق  کے معیار پر پوری نہ اترتی ہو ، ایمانی غیرت کے منافی ہو اور شرم وحیا کا جنازہ نکال دے۔

کیا کوئی غیرت مند مسلمان اپنی بیوی کو اس بات کی اجازت دےسکتا ہے

----------------------

(1):- صحیح مسلم کتاب الرضاع جلد 4 صفحہ 116 ۔ موطاء امام مالک کتاب الرضاع جلد 2 صفحہ 116


کہ وہ کسی جوان آدمی کو دودھ پلائے تاکہ وہ اس کی ماں بن جائے ؟؟

اے اللہ کے رسول ص! آپ کی ذات والا صفات ایسی بیہودہ باتوں سے بہت بلند ہے اور یہ آپ پر بہتان عظیم ہے ۔ میں کیسے باورکرلوں کہ وہ رسول ص ، جس نے مرد کے لیے نامحرم عورت کو چھونا اور اس سے ہاتھ ملانا حرام قراردیا ہے ، وہ بڑھ پن میں عورت کا دودھ پینا جائز قراردے سکتاہے ۔(العیاذ باللہ)

میں اس حدیث سازی کا مقصد تو نہیں جانتا یہ جانتا ہوں کہ بات اس حدیث کی حدود سے نکل  کرآگے بڑھ گئی اور سنت جاریہ بن گئی ۔ کیونکہ ام المومنین عائشہ اس حدیث پر عمل کرتی تھیں ۔ وہ جس شخص کو چاہتیں کہ ان کے پاس آیا جایا کرے اسے رضاعت کے لیے اپنی بہن ام کلثوم کے پاس بھیجاکرتی تھیں۔

ذوق آگہی رکھنے والوں کی معلومات کےلیے بتاتا چلوں کہ لوگوں کا ام المومنین عائشہ کا محرم بن کر ان کے پاس آنا جانا صرف اسی صورت میں جائز ہوسکتا تھا جب ان کی رضاعت پانچ دفعہ ہوئی ہو کیونکہ ام المومنین ہی کی روایت ہے کہ اللہ نے دس دفعہ رضاعت والی آیت اتاری تھی ، پھریہ پانچ دفعہ رضاعت والی آیت سے منسوخ ہوگئی ۔پس یہ آیت برابر پڑھی جاتی تھی ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ص کے انتقال کے بعد بھی قرآن میں تھی۔(1) (لیکن اب قرآن میں موجود نہیں ہے(2)۔

--------------------

(1):- صحیح مسلم جلد 4 صفحہ 167 باب التحریم بخمس رضعات۔

(2):- یہ قرآن جو ہمارے ہاتھوں میں ہے  وہی ہے جو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا اور اس میں کوئی تحریف  نہیں ہوئی ہے ۔ تیسری صدی کے  شیخ صدوق علیہ الرحمۃ سے لے کر پندرھویں صدی کے آیت اللہ خوئی دام ظلہ العالی تک شیعہ علماء کبھی تحریف قرآن کے قائل نہیں رہے، ان کی کتابیں  اور ان کے فتوے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔لیکن خدا معلوم کیوں کچھ لوگ مقطوع السند اخبار آحاد کے سہارے شیعہ دشمنی کی بھڑاس نکالتے ہیں اور شیعوں پریہ سنگین تہمت لگاتے ہیں کہ ان کا قرآن چالیس پاروں کا ہے وغیرہ وغیرہ ۔اگر کچھ مرسل ،ضعیف یا مقطوع السند  روایتیں شیعہ کتب میں ہین تو اس سے کہیں زیادہ روایات سنی کتب ،احادیث میں بھی ہیں لیکن  یہ کسی طرح بھی قائل اعتبار نہیں مثلا


<>ام المومنین بی بی عائشہ  آیہ رضاعتعشر رضعات معلومات (شیر خواری کو دس مرتبہ دودھ پلانا معین ہے) کو جزو قرآن بتاتی ہیں اور یہ صحیح مسلم ، سنن ابی داؤد ،سنن نسائی ، سنن دارمی  اور موطاء مالک میں لکھی ہے ۔

<>عمر بن خطاب آیہ رجم(الشيخ والشيخة فارجموهما البتة ) جو  جز و قرآن بتاتے ہیں اور یہ آیت صحیح بخاری ، صحیح مسلم ،جامع ترمذی ،سنن ابی داؤد  ،سنن ابن ماجہ اور موطاء میں لکھی ہے ۔

<>عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ آیت : لاترغبوا عن آبائکم فانّہ کفر بکم"لاترغبواعن آبائكم فإنّه كفرٌ بكم إن ترغبواعن آبائكم" قرآن کا جزو تھی اور ہم اسے پڑھا کرتے تھے ۔یہ آیت صحیح بخاری  ومسند احمد بن  حنبل میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

<>سنن ابن ماجہ میں ہے کہ ام المومنین نےکہا:

 زانی اور زانیہ کو سنگسار کرنے کی آیت (آیہ رجم )نازل ہوئی تھی ۔نیز یہ کہ بڑھ  پن میں دس دفعہ دودھ پلانے کی آیت(ورضاعة الکبير عشرا") نازل ہوئی تھی اور ایک کاغذ پر لکھی ہوئی میرے تخت کے نیچے رکھی تھی ،جب رسول اللہ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور ہم افراتفری کے عالم میں تھے  توبکری اسے کھاگئی ۔

<>اور صحیح مسلم میں ترقیم ہے کہ ابو موسی اشعری نے بصرے میں تین سو قاریان قرآن کو خطاب کرتے ہوئے کہا :

ہم  ایک سورہ پڑھا کرتے تھے جو طویل تھا اور  اورجس کا مضمون سورہ توبہ کی طرح سخت تھا ۔بعد میں ہم وہ سورہ بھول گئے  البتہ  اس کی یہ آیت میرے حافظہ میں باقی ہیں :"لوكان لإبن آدم وأديان من مّالٍ لايبتغى وادياً ثالثاً ولا يملاٌ إبن آدم إلّا التراب"

<>اسی طرح ہم ایک سورہ بھی پڑھا کرتے تھے جو "مسبحات " میں سے ایک مشابہ تھا ۔ ہم ہو سورہ بھول گئے  اور مجھے  اس کی فقط  یہ آیت یاد رہ گئی ہے ۔"يايّها الذين آمنوالم تقولون ما لاتفعلون فكتب شهادة في أعناقكم فتسئلون عنهايوم القيامة."


2:- سنت رسول ص کے بارے میں فقہی مذاہب کا اختلاف

سنت رسول ص کے بارے میں ابوبکر اور عمر میں اختلاف تھا(1) ۔ابو برک کا فاطمہ سے اختلاف تھا ۔(2) ازواج رسول  ص کا آپس میں اختلاف تھا ۔(3) ۔ ابو ہریرہ کاعائشہ سے اختلاف تھا ۔(4) عبداللہ بن عمر اور عائشہ کے مابین اختلاف تھا ۔(5)

-----------------------

حدیث کی معتبر کتابوں سے یہ چند نمونے ہم نے ان لوگوں کو آئینہ دکھانے کے لیے پیش کیے ہیں جو کہتے  پھرتے ہیں کہ شیعوں کا موجودہ قرآن پر ایمان نہیں ۔ حالانکہ قرآن یہی ہے جو دفتین کے بیچ ہے ، نہ کم  نہ زیادہ ۔ اور سب مسلمانوں  کا سی پر ایمان  ہے ۔جو ہم پر بہتان باندھتا ہے ،ہم اس کا اور اپنا معاملہ  اللہ کی عدالت میں پیش کرتے ہیں کہ وہ احکم الحاکمین ہے ۔

ہم تو بس اتنی سی بات جانتے ہیں کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے ، کیونکہ یہ آخری آسمانی شریعت اور خدا نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے :

"انا نحن نزلنا الذکر وانا لة لحافظون "( ناشر)

(1):- مانعین زکواۃ سے جنگ کے بارےمیں اختلاف کی طرف اشارہ ہے ۔ ہم نے اس قصہ کے ماخذ بیان کردیے ہیں ۔

(2):- قصہ فدک اور حدیثنحن معشر الانبياء لانورث کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کے ماخذ کا بیان بھی گزرچکا

(3):-بالغ مرد کو دودھ پلانے کے قصے کی طرف اشارہ ہے کہ جو عائشہ سے مروی ہے ۔لیکن دیگر ازواج رسول ص نے اس کے برخلاف کہا ہے۔

(4):- ابو ہریرہ کی اس روایت کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ ص صبح کو جنب ہوتے تھے اور روزہ رکھ لیتے تھے ۔ عائشہ نے ابو ہریرہ کی  اس بات غلط بتلایا ہے ۔

(5):- اشارہ ہے اس روایت کی طرف کہ رسول اللہ ص نے چار عمرے کیے جن میں سے ایک رجب میں تھا عائشہ نے اس کی تردید کی ہے۔


عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر کے درمیان اختلاف تھا ۔(1) علی بن ابی طالب ع اور عثمان بن عفان کے درمیان اختلاف تھا(2) ۔ جب  صحابہ کے درمیان ہی اتنا اختلاف تھا(3) تو تابعین  کے درمیان  تو اور بھی بڑھ گیا حتی کہ فقہی مذاہب ستر سے بھی زیادہ ہوگئے ۔ابن مسعود صاحب مذہب تھے ، اسی طرح ابن عمر ، ابن عباس  ، ابن زبیر ، ابن عینیہ ، ابن جریج ، حسن بصری ، سفیان ثوری ،مالک بن انس ،ابو حنیفہ ، شافعی ،احمد بن حنبل سب کے سب صاحب مذہب تھے ۔ ان کے علاوہ اور بہت ہیں ۔ لیکن سلطنت عباسیہ نے اہل سنت کے چار مشہور مذاہب کو چھوڑ کر باقی سب کاخاتمہ کردیا ۔

اگر چہ اب فقہی مذاہب چند ہی رہ گئے ہیں ، پھر بھی ان کے درمیان اکثر فقہی مسائل میں اختلاف ہے ۔ اور اس کی وجہ وہی سنت رسول ص کے بارے میں اختلاف ہے ۔ایک مذہب کسی مسئلے میں حکم کی بنیاد کسی حدیث پررکھتا ہے جسے وہ اپنے زعم میں صحیح سمجھتا ہے ، تو دوسرا مذھب اپنی رائے سے اجتہاد کرتا ہے یا کسی دوسرے مسئلے پر نص اور حدیث کی عدم موجودگی کی وجہ سے قیاس کرتا ہے ۔ اسی وجہ سے ، مثلا رضاعت کے مسئلے میں بہت اختلاف ہے ،کیونکہ اس بارےمیں احادیث باہم متضاد ہیں ۔ نتیجہ یہ کہ ایک مذہب کے مطابق ایک قطرہ دودھ پینے  سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے ۔ جبکہ دوسرے مذہب  کی رو سے دس یا پندرہ دفعہ دودھ پلانا ضروری ہے ۔

3:- سنت رسول ص کے بارے میں شیعہ سنی اختلافات

اس معاملے میں شیعہ سنی اختلاف عموما دووجہ سے ہوتا ہے  ایک تویہ کہ

---------------------

(1):-اشارہ ہے ان کے درمیان متعہ کے حلال یا حرام ہونے کے بارےمیں اختلاف کی طرف ۔ دیکھیے صحیح بخاری جلد 6 صفحہ 129۔

(2):- اشارہ ہے ان کے درمیان متعہ حج کے بارےمیں اختلاف کی طرف ۔دیکھیے صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 153

(3):- بسم اللہ کےبارے میں ، وضو کے بارےمیں ،مسافر کی نماز کے بارے میں اور ایسے ہی ان گنت دوسرے مسائل


شیعہ اس حدیث  کو صحیح نہیں مانتے جس کے راوی کی عدالت پائیہ اعتبار سے ساقط ہو خواہ وہ صحابی ہیں کیوں نہ ہو ۔

اہل سنت کے برخلاف  شیعہ اس بات کے قائل نہیں کہ تمام صحابہ ثقہ اور عادل تھے ۔

اس کے علاوہ شیعہ کسی ایسی حدیث کو بھی قبول نہیں کرسکتے جو ائمہ اہل بیت ع کی روایت سےمتصادم ہو ۔ وہ ائمہ اہل بیت ع کی روایت کو دوسروں کی روایت پر ترجیح دیتے ہیں خواہ دوسروں کا مرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو ۔ اس سلسلے میں ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جن کی قرآن وسنت سے تائید ہوتی ہے اور جن کو ان کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں ۔ ان میں بعض چیزوں کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں ۔ شیعہ سنی اختلاف  کا ایک اور سبب یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک  حدیث کا مفہوم کچھ ہے اور شیعہ اس کے کچھ اور معنی بیان کرتے ہیں ۔ مثلا وہ حدیث جس کا ہم پہلے تذکرہ کرچکے ہیں یعنی :

اختلاف امّتی رحمۃ

اہل سنت تو اس حدیث کا مفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ فقہی مسائل میں مذاہب اربعہ کا اختلاف مسلمانوں کے لیے رحمت ہے ۔

جبکہ  شیعوں کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کے پاس سفر کرکے جانا اور ایک دوسرے سے علم حاصل کرنا رحمت ہے ۔یہ تشریح امام جعفر صادق کی ہے اور ہم اسے پہلے بیان کرچکے ہیں ۔

بعض دفعہ شیعہ سنی اختلاف حدیث رسول ص کے مفہوم میں نہیں ہوتا بلکہ اس بارےمیں ہوتا ہے کہ جس شخص یا اشخاص کا حدیث میں ذکر ہے اس سے کون مراد ہے ۔مثلا قول رسول ص ہے کہ

"عليكم بسنّتي وسنّة الخلفاء الرّاشدين من بعدي"

اہل سنت خلفائے راشدین سے  ابو بکر ، عمر ،عثمان اور علی مراد لیتے ہیں مگر شیعہ بارہ ائمہ مراد لیتے ہیں ۔

اسی طرح رسو ل اللہ کا ایک اور قول ہے :

"الخلفاءمن بعدي اثنى عشركلّّهم من قريشٍ."


"میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے جو سب قریش سے ہوں گے "۔

شیعہ بارہ خلفاء سے بارہ ائمہ اہل بیت ع مراد لیتے ہیں جبکہ اہل سنت والجماعت کے یہاں  اس کی کوئی تشریح ہے ہی نہیں ۔

کبھی شیعہ سنی اختلاف ان تاریخی واقعات کے بارے میں ہوتا جن کا تعلق رسول اللہ کی ذات سے ہے ۔ جیسا کہ آپ کے یوم بارے میں اختلاف ہے ۔ اہل سنت 12 ربیع الاول کو میلاد النبی مناتے ہیں جبکہ شیعہ اس مہینے کی 17 تاریخ کو محافل میلاد منعقد کرتے ہیں ۔

سنت نبوی کے بارے میں ایسا اختلاف  ہونا قدرتی ہے ۔ اس سے بچنا ممکن نہیں ۔ کیونکہ کوئی ایسا مرجع موجود نہیں جس کی طرف سب رجوع کرسکیں اور جس کے حکم کو سب مانیں اور جس کی رائے کو سب قبول کریں اور جس پر سب کو اسی طرح اعتمادہو جیسے رسول اللہ ص کی زندگی میں آپ پر تھا ۔

امت کی زندگی میں ایسے شخص کا وجود ہر وقت ضروری ہے اور عقل بھی یہی کہتی ہے ، اس لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ رسول اللہ ص اس ضرورت کو نظر انداز کردیتے ۔ آپ کو معلوم تھا اور علام الغیوب نے آپ کو اطلاع دے دی تھی کہ آپ کی امت آپ کے بعد قرآن کی  تاویل کرےگی ۔ اس لیے آپ کے لیے ضروری تھا کہ آپ کوئی معلم مقرر کریں کہ اگر امت کے لیے واقعی ایک ایسے عظیم قائد کا انتظام کردیا تھا جس کی تعلیم وتربیت میں آپ نے ابتدا ہی سے پوری کوشش صرف کی تھی اور جب وہ درجہ کمال کو پہنچ گیا اور آپ سے اس نسبت وہ ہوگئی جو حضرت ہارون ع کی جناب موسی ع سے تھی ۔تو آپ نے یہ جلیل القدر کام یہ کہہ کر اس کے سپر دکردیا کہ

"أناأُقاتلهم على تنزيل القرآن وأنت تقاتلهم على تاويله".(1)

--------------------

(1):-مناقب خوارزمی صفحہ 44۔ ینابیع المودۃ صفحہ 332۔الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 1 صفحہ 25 ۔کفایت الطالب صفحہ 334 ۔ منتخب کنزالعمال جلد 5 صفحہ 36 ۔ احقاق الحق جلد 6 صفحہ 37


"اے علی ع! میں تنزیل قرآن کی خاطر جنگ لڑتا ہوں ، اب تم تاویل قرآن کے لیے لڑو۔"

آپ نے یہ بھی فرمایا :

"أنت يا عليّ ! تبيّن لأُمّتي ما اختلفوافيه من بعدي"

علی !جس بات میں میری امت میں میرے بعد اختلاف ہو تم اس بات کو واضح کردینا ۔(1)

قرآن جو اللہ کی کتاب ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی اس کی تفسیر  اور توضیح کے لیے لڑے یعینی جانفشانی کرے کیونکہ یہ ایک خاموش کتاب ہے جو خود نہیں بولتی  مگر ساتھ ہی متعدد معانی کی حامل ہے ۔ اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ۔جب قرآن  کی ہ صورت ہے تو سنّت  کی تشریح وتوضیح تو اور بھی ضروری  ہے اور جب قرآن وسنت دونوں تشریح طلب ہوں تو رسول اللہ ص کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دونوں ثقلین  ایسے چھوڑیں  جو خاموش اور گونگے ہوں اور جن کی حسب منشاء تاویل وہ لوگ کرسکیں  جسن کے دل میں کجی  ہے اور جو فتنہ برپا کرنا اور دنیا کمانا چاہتے  ہیں اور جن کے متعلق معلوم ہے کہ بعدمیں آنے والوں کے لیے گمراہی کا سبب بنیں گے کیونکہ لوگ ان کے ساتھ حسن ظن رکھیں گے ۔ انھیں عادل سمجھیں گے لیکن بعد میں قیامت کے دن پشیمان ہوں گے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

" يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا () وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا () رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْناً كَبِيراً"

جس دن  ان کے چہرے آگ میں الٹائے جائیں گے تو وہ کہیں گے اے کاش !ہم اللہ اور رسول ص کی اطاعت کرتے ۔ اورکہیں گے

-------------------

(1):-مستدرک حاکم جلد 4 صفحہ 122 ۔تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 488 ۔ مناقب خوارزمی صفحہ 236۔ کنوز الحقائق صفحہ 203 ۔ منتخب کنزالعمال جلد 5 صفحہ 33۔ ینابیع المودۃ صفحہ 182


کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انھوں نے ہمیں گمراہ کردیا ۔ اے پروردگار ! ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر (سورہ احزاب ۔آیات 66 تا 68)

"كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا حَتَّى إِذَا ادَّارَكُواْ فِيهَا جَمِيعاً قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لأُولاَهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاء أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ"

جب ایک کے بعد ایک جماعت (جہنم میں)داخل ہوگی تو  وہ اپنے جیسی دوسری جماعت پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب ساری جماعتیں جمع ہوجائیں گی تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی اے ہمارے پروردگار  یہ تھے  وہ جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ۔ پس تو ان کو آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ اللہ کہے گا تم میں  سےہر جماعت  کے لیے دوہرا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے ۔(سورہ اعراف ۔آیت 38)

گمراہی کا سبب یہی ہے ۔کوئی امت ایسی نہیں گزری جس کے پاس  اللہ نے نبی ہادی نہ بھیجا ہو ۔ اور اس کی امت نے اس کے بعد اللہ کے کلام میں تحریف  نہ کی ہو ۔ کیا کوئی شخص بشرط صحت اوربقائمی ہوش وحواس یہ تصور کرسکتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام  نے اپنے پیروکاروں سے کہا ہوگا کہ میں خدا ہوں ، ہرگز نہیں ! قرآن شریف میں ہے :

"مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ"

 خدایا ! میں نے ان سے وہی کہاجس کا تو نے مجھے حکم دیا ۔

لکان لالچ  اورحب دنیا نے عیسائیوں  کو تثلیث کےعقیدے کی طرف دھکیل دیا ۔ حضرت عیسی نے اپنے پیروکاروں کو حضرت محمد ص کی آمد کی بشارت دی تھی ۔


اسی طرح ان سے پہلے حضرت موسی ع نے بھی یہ بشارت دی تھی لیکن عیسائیوں نے محمد اور احمد ناموں کی تاویل کرکے ان کا مطلب نجات دہندہ بنالیا اورآج تک وہ اس نجات دہندہ کا انتظار کررہے ہیں ۔

امت محمدیہ بھی تاویل کی بدولت 73 فرقوں میں تقسیم ہوگئی جس میں سوائے ایک کے سب جہنمی ہیں ۔ اب ہم انھی فرقوں کے درمیان زندگی بسر کررہے ہیں ۔لیکن کیا کوئی ایک فرقہ بھی ایسا ہے جو خود کو گمراہ سمجھتا ہو؟ بالفاظ دیگر کیا کوئی ایک فرقہ ایسا ہے جو یہ کہتاہو کہ ہم کتاب وسنت کی مخالفت کرتے ہیں ؟ اس کے برعکس ہر فرقے کا یہی دعوی ہے کہ ہم کتاب وسنت پر قائم ہیں ۔ آخر پھر حل کیا ہے ؟

کیا رسول اللہ ص کو اس کا حل معلوم نہیں تھا یا خود اللہ تعالی کو حل معلوم نہیں تھا ۔ کیونکہ رسول اللہ ص تو عبد مامور تھے یعنی وہ تو وہی کرتے تھے جو انھیں حکم ملتا تھا ۔ جیسا کہ قرآن مین ہے ۔ :

" فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ () لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ " (1)

اللہ تعالی اپنے بندوں پر مہربان ہے اور وہ ان کی بھلائی چاہتا ہے ، اس لیے یہ ہوہی نہیں سکتا کہ ہو اس مشکل کا کوئی  حل تجویز نہ کرے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ بھی دلائل کو دیکھنے کے بعد ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ بھی دلائل  کو دیکھنے کے بعد زندہ رہے ۔ اللہ تعالی کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے بندوں کو نظر انداز کردے اور انھیں بغیر ہدایت کے چھوڑ دے ۔سوائے اس صورت کے کہ ہمارا عقیدہ یہ ہو کہ اللہ تعالی کامنشاہی یہ ہے کہ اس کے بندے افتراق وانتشار اور گمراہی میں مبتلا ہوں تاکہ وہ انھیں آتش دوزخ میں جھونک  دے ۔ یہ اعتقاد بالکل غلط اور باطل ہے  میں اللہ سے عفو کا طلب گار ہوں اور توبہ کرتاہوں اس قول سے جو اللہ کی جلالت اور حمکت کے منافی ہے ۔

-----------------------

(1):-آپ انھیں نصیحت کرتے رہیں کہ آپ نصیحت کرنے والے ہیں ۔ آپ ان  پر داروغہ نہیں ہیں ۔سورہ غاشیہ


اس لیے رسول اللہ ص سے منسوب یہ قول کہ آپ نے اپنے بعد کتاب اور سنت چھوڑی ہے ، ہماری مشکل کا کوئی معقول حل نہیں ہے ، بلکہ اس سے پیچیدگی مزیدبڑھتی ہے اور فتنہ وفساد پھیلانے والوں کی جڑ نہیں کٹتی ۔ آپ نے نہیں دیکھا کہ جب لوگوں نے اپنے امام کے خلاف بغاوت کی تو انھوں نے یہی نعرہ لگایا  یا تھا کہ :

"ليس الحكم لك يا علي ُّ وإنّما الحكم للّه".

علی ! تمھارا نہیں اللہ کا حکم چلے گا ۔

بہ ظاہر یہ نعرہ بڑا دلکش معلوم ہوتا ہے  کہ نعرہ لگانے والا اللہ کے حکم کا نفاذ چاہتا ہے اور غیراللہ کا حکم ماننے سے انکاری ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہے

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

" وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ "

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کی گفتگو  دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مافی الضمیر  پر اللہ کو گواہ بناتے  ہیں حالانکہ وہ سخت جھگڑا لو ہیں "۔(سورہ بقرہ ۔آیت 204)

جی ہاں ! ایسا اکثر ہوا ہے کہ صحیح بات کو غلط مقصد کے لیے استعمال کیاگیا ہے ۔آئیے اس کو سمجھ لیں کہ کیسے ؟:

جب خوارج امام علی ع سے یہ کہتے تھے کہ حکم آپ کا نہیں اللہ کا چلے گا ،  تو کیا ان کا مطلب یہ تھا کہ اللہ زمین پراتر کر آئے گا اور سب کے سامنے ظاہر ہو کر ان کے اختلافی مسائل  کا تصفیہ کے گا ۔ یا وہ یہ جانتے تھے کہ اللہ کا حکم تو قرآن میں ہےلیکن یہ سمجھتے تھے کہ علی ع نے قرآن کی غلط تاویل کی ہے ۔ اگر ایسا تھا تو ان کے پاس


اس کی کیا دلیل تھی  ، جب کہ علی ع ان سے زیادہ عالم تھے ، ان سے زیادہ  راستباز تھے اور ان سے پہلے اسلام لائے تھے ۔ کیا علی ع سے بڑھ کربھی کوئی اسلام کا ہمددرد اور وفادار ہوسکتا تھا ؟

معلوم ہوا کہ یہ محض دل فریب نعرہ تھا جس کا مقصد سیدھے سادھے لوگوں کو بے وقوف  بنا کر ان کی تائید اور جنگ میں ان کی معاونت حاصل کرنا تھا ۔ آج بھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔وہی زمانہ وہی لوگ ۔ مکر وفریب کم نہیں ہوئے بلکہ بڑھتے جاتے ہیں ۔ کیونکہ آج کے مکار اور عیار ۔لوگ اگلوں  کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہیں ہمارے زمانے میں بھی کتنی بار ایسا ہوا ہے کہ صحیح بات کو غلط مقصد کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔

آج بھی چمکتے دمکتے ہوئے دل فریب نعرے لگائے جاتے ہیں ۔ مثلا " وہابی ، توحید  کی حمایت اور شرک کی مخالفت کا نعرہ بلند کرتے ہیں ۔ اب کون مسلمان ہے جو اس اصول سے اتفاق  نہیں کریگا ۔ ایک فرقے نے تو اپنا نام ہی اہل سنت والجماعت رکھ چھوڑا ہے ۔کون مسلمان نہیں چاہے گا کہ وہ اس جماعت کے ساتھ ہو جو سنت رسول  کا اتباع کرتی ہو ۔

بعث پارٹی کا نعرہ ہے :

"أُمّةٌ عربيّةٌ وّاحدةٌ ذات رسالةٍ خالدةٍ"

غیر فانی پیغام کی حامل ایک متحد عرب قوم  کو ن مسلمان اس نعرے سے دھوکا نہیں کھاجائےگا اگر اسے اس پارٹی اور اس کے عیسائی بانی مائیکل عفلق کے خفیہ عزائم  کا علم نہیں ۔آفرین ہے آپ کو اے علی بن  ابی طالب ع ! آپ کے حکیمانہ اقوال آج بھی قائم ودائم ہیں اور ہمیشہ زمانے کے کانوں میں گونجتے رہیں گے !

" فکم من کلمةٍ حق يراد بها باطل "

کتنی ہی بار ایسا ہوتا ہے کہ صحیح بات کا غلط مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔

ایک عالم نے منبر پر چڑھ کر بہ آواز بلند فرمایا :


جو کہے گا میں شیعہ ہوں ، ہم اس سے کہیں گے کہ تو کافر ہے اور جو کوئی کہے گا میں سنی ہوں ، ہم اس سے بھی کہیں گے تو کافر ہے ۔ہمیں شیعہ چاہییں نہ سنی ۔ہمیں فقط مسلمان چاہیئیں۔

یہاں بھی صحیح بات کا غلط مطلب لیا گیا ہے ۔ معلوم نہیں یہ عالم  کس اسلام کی بات کررہا تھا ؟

آج دنیا میں متعدد اسلام ہیں بلکہ قرن اول ہی میں متعدد اسلام تھے ۔ علی ع کا بھی اسلام تھا اور معاویہ کا بھی اسلام تھا اور دونوں کے پیروکار بھی تھے ، آخر لڑائی تک کی نوبت پہنچی ۔

پھر حسین  ع کا بھی  اسلام تھا اور یزید کا بھی اسلام تھا جس نے اہلبیت  کو اسلام ہی کے نام پر تہہ تیغ کیا ۔ اس سے دعوی کیا تھا کہ چونکہ حسین ع نے اس کے خلاف خروج  کیا ہے اس لیے وہ اسلام  سےخارج ہوگئے ہیں ۔ پھر ائمہ اہل بیت اور اس کے حامیوں کا اسلام تھا اور حکمرانوں اور ان کے عوام کا اسلام تھا ۔ تاریخ کے ہر دور میں مسلمانوں  میں اس طرح کا اختلاف رہا ہے ۔ آج بھی ایک طرف تو ان لوگوں کا اسلام ہے جنھیں مغرب اعتدال پسند اور روشن خیال کہتا ہے کیونکہ اسلام کے پیروکار وں نے یہود ونصاری کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہوا ہے اور یہ لوگ سپر پاورز کے سامنے سجدہ ریز ہیں ۔ دوسرا اسلام   ان کے کٹر مسلمانوں کا ہے جنھیں مغرب بنیاد پرست ، متعصب ، دقیانوسی اور مذہبی دیوانے کہتا ہے ۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ اس  عالم اور خطیب نے بعد میں اپنے خیالات سے رجوع کرلیا تھا ۔

ان اسباب کے پیش نظر جو ہم نے گزشتہ اوراق میں بیان کیے ۔ اس کی گنجائش  باقی نہیں رہتی کہ کتاب اللہ وسنتی  والی حدیث کو صحیح تسلیم کیا جاسکے ۔

اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح اور عیاں ہوجاتی ہے کہ دوسری  حدیث  کتاب اللہ وعترتی ہی صحیح ہے جس پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔ اس حدیث سے تمام مشکلات حل  ہوجاتی ہیں ۔ کیونکہ اگر ہم اہل بیت ع کی طرف رجوع کریں جن کی


رجوع کر نے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ۔ تو پھر کسی آیت کی تفسیر میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا ۔ خصوصا اگر یہ ذہن میں رکھیں  کہ یہ ائمہ جن کو خود رسول اللہ ص نے مقرر کیا وہیک اس کام کے اہل ہیں اور مسلمانوں میں کوئی ان کے علم کی وسعت  میں اور ان کے زہد وتقوی میں شک نہیں کرتا ۔ وہ تمام فضائل  میں دوسروں  سے بڑھ کر ہیں ۔ لہذا وہ قرآن کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور نہ اس کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں ۔ بلکہ تا قیامت اس سے جدا نہیں ہوں گے  ۔رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔

"میں تمھارے درمیان دوچیزیں چھوڑرہا ہوں :ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے جو مثل رسی کے آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ہے اور دوسری میری عترت ہے یعنی میرے اہل بیت ع یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک  کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیںگے۔

چونکہ میں سچوں  کےساتھ شامل ہوناچاہتا ہوں اس لیے ضروری ہے کہ میں فقط حق بات کہوں گا اورکسی کی ملامت یا اعتراض کی پرواہ نہ کروں ۔ میرا مقصد لوگوں کو خوش کرنے کے بجائے  اللہ سبحانہ  کی رضا کا حصول اور خود انپے ضمیر کا اطمینان  ہو کیونکہ غیروں کا تو یہ حال ہے کہ

"وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ"

تم سے ہر گز خوش نہیں ہوں گے نہ یہود اور نہ نصاری ،جب تک تم ان کے مذہب کی پیروی نہ کرنے لگو ۔

اس کی تمام بحث میں شیعہ ہی حق پر ہیں ۔ کیونکہ اہل بیت ع کے معاملے میں انھوں نے رسول اللہ کی وصیت پر عمل کیا  ہے اہل بیت ع کی امامت کو تسلیم کیا ہے اور اہل بیت ع کی اطاعت اور ان کی متابعت کے ذریعے  اللہ کا قرب  حاصل کرنے  کی کوشش کی ہے ۔ پس شیعوں کو دنیا اور آخرت کی یہ کامیابی مبارک ہو ۔حدیث میں


ہے کہ " آدمی حشر ان کےساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔" پھر کیا کہنے اس شخص کے جو اہل بیت سے محبت بھی رکھتا ہو اور ان کا اتباع بھی کرتا ہو ۔ زمخشری نے اس بارے مین کہا :

"كثرالشّكُّ والإختلاف و كلّ

يدّعى أنّه الصّراطُ السّويّ

فتسّكتُ بلآ إله إلّا الله

وحبّي لأحمد وعلى

فازكلبٌ بحبّ أصحاب كهف

فكيف أشقى بحبّ آل النّبي

شک اور اختلاف بہت بڑھ گیا ہے اور ہر شخص کا دعوی ہے کہ وہ سیدھی راہ پر ہے ۔ ایسے میں دو چیزوں  کو مضبوطی سے تھا م لیا ہے : ایک ریسمان لا الہ الّا اللہ کو اور دوسرے احمد ص وعلی ع کی محبت کو ۔ اصحاب کہف سے محبت کے سبب اگر ایک کتا کامیاب ہوسکتا ہے تو پھریہ کیسے ممکن ہے کہ آل محمد سے محبت کے باوجود مجھے درمقصد نہ ملے ۔

سعدی گر عاشقی کنی وجوانی

عشق محمد ص بس است وآل محمد

اے اللہ ! تو ہمیں ان لوگوں میں سے بنادے جنھوں نے ولائے اہل بیت ع کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے ۔ جو ان کے راستے پر گامزن ہیں ، ان کی کشتی پر سوار ہیں ۔ ان کی امامت کے قائل ہیں اور جو ان کی جماعت میں محشور ہوں گے بے شک تو جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم پر چلنے  کی توفیق دے دیتا ہے ۔

"صراط عليّ حقّ ٌ نمسّكه"


خمس

یہ بھی ان مسائل میں سے ہے جن پر شیعوں اورسنیوں میں اختلاف ہے اس سے قبل کہ ہم کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کریں ، خمس کے موضوع پرمختصر بحث ضروری ہے ،جس کی ابتدا ہم قرآن کریم سے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔:

"وَاعْلَمُواْ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ "

اور یہ جان لو کہ جو مال تمھیں حاصل  ہو اس کا پانچواں  حصہ اللہ اور رسول  ص کے لیے ، رسول ص کے قرابتداروں کے لیے اور یتیموں  ناداروں اورمسافروں کے لیے ہے ۔(سورہ انفال ۔ آیت 41)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے :

" أمركم بأربعٍ :الأيمان بالله وإقام الصّلاة وإيتاء الزكاة وصيام رمضان وأن تؤدّوا الله خمس ما غنمتم ."

اللہ تعالی نے تمھیں چار چیزوں کا حکم دیا ہے : ایمان با اللہ کا ، نماز قائم کرنے کا ،زکات دینے کا اور اس کا کہ تم جو کچھ  کماؤ اس کا پانچواں حصہ اللہ کو ادا کرو۔(1)

چناںچہ شیعہ تو ائمہ اہل بیت ع کی پیروی کرتے ہوئے جو مال انھیں سال بھر میں حاصل ہوتا ہے اس کا خمس نکالتے ہیں ۔ اور غنیمت کی تشریح یہ کرتے ہیں

-----------------------

(1):- صحیح بخاری  جلد 4 صفحہ 44


کہ اس سے مراد نفع ہے جو آدمی کو عام طور پر حاصل ہوتا ہے ۔

اس کے برخلاف اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ خمس(1) اس مال غنیمت سے مخصوص ہے جو کفار سے جنگ کے دوران میں حاصل ہو ۔ ان کے نزدیک "ماغنمتم من شیء " کے معنی ہیں کہ جو کچھ تمھیں جنگ کے دوران میں لوٹ کے مال سے حاصل ہو(جبکہ آیت میں دارالحرب کا خصوصیت سے ذکر نہیں اور من شیء کے الفاظ عمومیت کے حامل  ہیں )

-------------------------

(1):-خمس کے موضوع پر صحیح بخاری کے علاوہ صحیح مسلم ، جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد  ،سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں حضرت رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متعدد احادیث  موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رسالتمآب نے نماز اور زکواۃ کے ساتھ خمس کی ادائیگی  کو بھی واجب قراردیا تھا ۔

اختصار کے پیش نظر ہم یہاں صرف صحیح مسلم سے ایک روایت کامتن درج کررہے ہیں ۔طالبان تفصیل  علامہ سید ابن حسن نجفی صاحب کی کتاب مسئلہ خمس ملاحظہ فرمائیں ۔

"ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض  کی یا رسول اللہ ! ہم ربیعہ کے قبیلے سے ہیں اور ہمارے دور آپ کے درمیان مضر کا کافر قبیلہ حائل ہے اور حرمت والے مہینوں کے علاوہ  دوسرے زمانے میں ہم آپ تک نہیں پہنچ سکتے ! لہذا آپ ہمیں کوئی ایسی ہدایت  فرمائیں جس پر ہم خود بھی عمل  پیراہوں  اوراپنے دوسرے لوگوں کو بھی اس پر عمل کرنے کی دعوت دیں ۔ آپ نے فرمایا : تم کو حکم دیتاہوں چار باتوں کے لیے اور منع کرتا ہوں چارباتون سے ۔پھر آپ نے تو ضیح کرتے ہوئے فرمایا کہ گواہی  دو اس بات کی کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے خداکے اور محمد ص اس  کے رسول  ہیں ۔ نیز نماز قائم کرو ، زکواۃ دو اور اپنی کمائی میں سے خمس اداکرو ۔(صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 93 مطبوعہ لاہور) (ناشر)


یہ خلاصہ ہے خمس کے بارے میں فریقین کے اقوال کا ۔ میں حیران ہوں کہ کیسے میں خود کو یاکسی اور کو اہل سنت کے قول کی صحت کیایقین دلاؤں  جب کہ میرا خیال ہے کہ اس بارے میں اہل سنت نے اموی حکمرانوں کے قول پر اعتماد کیا ہے خصوصا معاویہ بن ابی سفیان کی رائے پر ۔جب کہ معاویہ بن ابی سفیان نے مسلمانوں کے اموال  پر قبضہ کرکے  سب سونا چاندی  اپنے لیے  اور اپنے  مقربین  کے لیے مخصوص  کرلیا تھا اور اس کا نگران اپنے بیٹے یزید کوبنالیا تھا جو بندروں اور کتوں کو سونے کے کنگن پہنا تا تھا جب  کہ بعض مسلمان بھوکے مرتے تھے ۔

اس لیے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں  کہ اہل سنت خمس کو دارالحرب سے مخصوص کرتے ہیں کیونکہ یہ آیت ان آیات کے درمیان واقع ہوئی ہے جن کا تعلق جنگ سے ہے ۔ ایسی بہت سی آیات ہیں جن کی تفسیر اہل سنت اگر کوئی مصلحت  اس کی مقتضی  ہو تو ان سے پہلی یا بعد کی آیات کے معنی کی مناسبت سے کرتے ہیں ۔مثلا وہ کہتے ہیں کہ آیہ تطہیر ازواج رسول ص سے مخصوص ہے کیونکہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات میں ازواج رسول ص ہی کا ذکر ہے ۔اسی طرح  اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ یہ اہل کتاب سے  مخصوص ہے :

" وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ"

جو لوگ سونا چاندی جوڑ کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیدیجیے ۔(سورہ توبہ ۔آیت 34)

اس سلسلے میں ابوذرغفاری رض  کے معاویہ اور عثمان سے اختلاف کا اور ابوذر کا ربذہ میں شہر بدر  کیے جانے کا قصہ مشہور ہے ۔ابو ذر جو سونا چاندی جمع کرنے پر اعتراض کرتے تھے ۔ وہ اسی آیت سے استدلال کرتے تھے ۔ لیکن عثمان نے کعب الاحبار سے مشورہ کیا تو کعب الاحبار نے کہا کہ یہ آیت اہل کتاب سے مخصوص ہے ۔ اس پر ابوذر غفاری رض غصّے  سے بولے : یہودی کے بچے ! تیری ماں تجھے روئے اب تو ہمیں ہمار دین سکھائے گا ؟اس پر عثمان ناراض ہوگئے اور ابوذر کو ربذہ


میں شہر بدر کردیا ۔ وہ وہیں ! کیلے پڑے پڑے کس مپرسی کی حالت میں خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کی بیٹی کو کوئی ایسا شخص بھی دستیاب نہ ہوسکا جو ان کو غسل وکفن دے سکتا ۔

اہل سنت نے آیات قرآنی اوراحادیث نبوی کی تاویل کو ایک فن بنادیا ہے ۔ ان کی فقہ اس سلسلے میں مشہور ہے ۔ اس معاملے میں وہ ان خلفائے اولین اور مشاہیر صحابہ کا اتباع کرتے ہیں ۔ جو نصوص صریحہ کی تاویل کرتے ہیں (1)

اگر ہم ایسے تمام نصوص گنوانے لگیں تو ایک الگ کتاب کی ضرورت ہوگی  تحقیق سے دلچسپی رکھنے والے کے لیے کافی ہے کہ وہ النص والاجتہاد نامی کتاب کا مطالعہ کرے تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ تاویل کرنے والوں نے کس طرح اللہ کے احکام کو کھیل بنادیا ۔

اگر میرا مقصد تحقیق ہے تو پھر مجھے یہ اختیار نہیں کہ میں آیات قرآنی اور احادیث نبوی کی اپنی  خواہش کے مطابق یا جس مذہب  کی طرف میرا رجحان ہے اس کے تقاضوں کے مطابق تاویل کرنے لگوں ۔

لیکن اس کاکیا علاج کہ اہل سنت نے خود ہی اپنی صحاح میں وہ روایات بیان  کی ہیں جن کے مطابق دارالحرب سے باہر خمس کی فرضیت کا ثبوت ملتا ہے اور اس طرح اپنے مذہب اور اپنی تاویل کی خود ہی تغلیط  اور تردید کردی ہے ۔مگر معما پھر بھی حل نہیں ہوتا ۔

معما یہ ہے کہ آخر اہل سنت ایسی بات کیوں کہتے ہیں جس پر عمل نہیں کرتے ۔وہ اپنی حدیث کی کتابوں  میں وہی اقوال بیان کرتے ہیں جن کے شیعہ قائل ہیں ۔ لیکن ان کا عمل سراسر مختلف  ہے ۔آخر کیوں  ؟ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ۔ خمس کا موضوع بھی ان ہی مسائل میں سے ہے جن کےبارے میں سنی خود اپنی روایات پر عمل نہیں کرتے ۔

------------------------

(1):- علامہ شرف الدین اپنی کتاب النص والاجتھاد میں نصوص صریحہ میں تاویل کی سور سے زیادہ مثالیں جمع کی ہیں جسے تحقیق مقصود ہو وہ اس کتاب کا مطالعہ کرے


صحیح بخاری کے ایک باب میں ایک عنوان ہے : "فی الرّکا ز الخمس"(دفینے میں خمس ہے)۔ مالک اور ابن ادریس کہتے ہیں کہ رکاز وہ مال ہے جو قبل از اسلام دفن کیا گیا تھا ۔ یہ تھوڑا ہو یا زیادہ اس میں خمس ہے ۔جبکہ معدنی ذاخائر رکاز یا دفینہ نہیں ہیں ۔رسول اللہ ص نے فرمایا ہے کہ رکاز میں خمس ہے ۔(1)

ابن عباس کہتے  ہیں کہ عنبر رکاز نہیں ہے ۔ وہ تو ایک چیز ہے جسے سمندر پھینکتا لیکن حسن بصری کہتے ہیں کہ عنبر اور موتی میں بھی خمس ہے ۔(2) اس بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ غنیمت کا وہ مفہوم جس پر اللہ تعالی نے خمس واجب کیا ہے دار الحرب سے مخصوص  نہیں کیونکہ رکاز یا دفینہ وہ خزانہ ہے جو زمین کے اندر سےنکالا جائے ۔ یہ خزانہ ملکیت ہوتا ہے اسی کی جو اس کو نکالے لیکن اس پر خمس کی ا دائیگی واجب ہے اس لیے کہ دفینہ بھی مال غنیمت ہے ۔ اسی طرح عنبر اور موتی جو سمندر سے نکالے جائیں ان پر بھی خمس نکالنا واجب ہے ، کیونکہ وہ بھی مال غنیمت ہیں ۔بخاری نے اپنی صحیح  میں جو روایات بیان کی ہیں ان سے اور مذکور بالا احادیث سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ اہل سنت کے اقوال اور ان کے افعال میں تضاد ہے ورنہ بخاری تو اہل سنت کے معتبر ترین محدث ہیں ، ان کی روایات پر عمل نہ کرنے کے کیا معنی ؟شیعوں کی ہمیشہ مبنی بر حقیقت ہوتی ہے ۔ اس میں نہ کوئی تضاد ہوتا ہےنہ اختلاف ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ اپنے عقائد میں بھی اور احکام میں بھی ائمہ اہلبیت ع کی طرف رجوع کرتے ہیں جن کی شان میں آیہ تطہیر  اتری ہے اورجن کو رسول اللہ  نے کتاب اللہ کے ہمدوش قراردیا ہے ۔ پس جس نے ان کا دامن پکڑ لیا وہ گمراہ نہیں ہوسکتا اور جس نے ان کی پناہ حاصل کرلی وہ محفوظ ہوگیا ۔علاوہ ازیں اسلامی حکومت کے قیام  کے لیے ہم جنگوں پر بھروسہ نہیں کرسکتے ۔یہ بات

---------------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 134 باب فی الرّکاز الخمس

(2):- صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 136 باب ما یستخرج من البحر


اسلام کی وسیع النظری  اور صلح پسندی کے خلاف ہے ۔ اسلام کوئی سامراجی حکومت نہیں ہے جس کامقصد دوسری قو موں کا استحصال کرنا ، ان کے وسائل سے ناجائز فائدہ اٹھانا اور انھیں لوٹنا ہو ۔ یہ تو وہ الزام  ہےجو اہل مغرب ہم پر لگاتے ہیں ۔ جو اسلام اور پیغمبر اسلام  کا ذکر حقارت کے ساتھ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام طاقت اور تلوار کے زور سے پھیلا ہے اور اس کا مقصد غیر قوموں کے وسائل پر ناجائز قبضہ کرنا ہے ۔

مال زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔خصوصا ایسی حالت میں جبکہ اسلام کا اقتصادی نظریہ یہ ہے کہ لوگوں کو معاشی تحفظ کی ضمانت دی جائے جسے آج کال کی اصطلاح میں سوشل سیکیورٹی کہا جاتا ہے اور ہر فرد  کی ماہوار یا سالانہ  کفالت کا انتظام کیاجائے نیز معذوروں اورحاجت مندوں کو باعزت روزی کی ضمانت فراہم کی جائے ۔

ایسی حالت میں اسلامی حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس آمدنی پر انحصار کرے جو اہل سنت زکات کے نام سے نکالتے ہیں جس کی مقدار زیادہ زیادہ ڈھائی فیصد ہوتی ہے ۔یہ تناسب اتنا کم ہوتا ہے کہ حکومت کی ایسی ضروریات کے لیے ناکافی  ہے مثلا افواج کو کیل کانٹے سے لیس کرنا ، اسکول اور کالج بنانا ، ڈسپنسر یاں اور ہسپتال قائم کرنا ، سڑکیں اور پل تعمیر کرنا وغیرہ ۔ حالانکہ حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر شہر کو اتنی آمدنی کی ضمانت دے جو اس کے گزربسر کے لیے کافی ہو ۔ اسلامی حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی اور اپنے اداروں اور افرادکی بقا اورترقی کے لیے خوں ریز جنگوں پن انحصار کرے یا ان مقتولین کی قیمت پر ترقی کرے جو اسلام میں دلچسپی نہ رکھنے کی پاداش میں قتل کر دیے گئے ہوں ۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ سب بڑی اور ترقی یافتہ حکومتیں تمام اشیائے صرف پر ٹیکس لگاتی ہیں جس کی مقدار تقریبا بیس فیصد ہوتی ہے ، خمس کی بھی اتنی ہی مقدار اسلام نے اپنے ماننے والوں پر فرض کی ہے ۔ اہل فرانس  جو T.V.A ادا کرتے ہیں اس کی مقدار 1865 فیصد ہوتی ہے ۔ اسے کے ساتھ اگر انکم ٹیکس کا اضافہ کرلیا جائے تو یہ مقدار 20 فیصد یا کچھ زیادہ ہوجاتی ہے ۔


ائمہ اہل بیت ع کو قرآن کے مقاصد کا دوسروں سے زیادہ  علم  تھا اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ وہ ترجمان قرآن تھے ۔ اسلامی  حکومت کی اقتصادی  اور اجتماعی  حکمت عملی وضع کرنا ان کا کام تھا بشرطیکہ ان کی بات مانی جاتی مگر افسوس کہ اقتدار اور اختیار دوسروں کے ہاتھ میں تھا ، جنھوں نے طاقت کے بل پر زبردستی خلافت پر قبضہ کرلیا تھا اور متعدد صحابہ صالحین  کو قتل کردیا تھا اور اپنی سیاسی اور دنیوی مصلحتوں کے مطابق اللہ کے احکام میں ردّ  وبدل کردیا تھا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔ نتیجۃ امت پستی کے تحت الثری میں گرگئی جس سے وہ آج تک نہیں ابھرسکی ۔

ائمہ کی تعلیمات نے ایسے افکار اور نظریات کی شکل اختیار کر لی جن پر شیعہ آج بھی یقین رکھتے ہیں لیکن عملی زندگی میں ان کی تطبیق کی کوئی صورت نہ رہی شیعوں کو مشرق ومغرب میں ہر طرف دھتکار دیا گیا ۔ اموی اور عباسی صدیوں تک ان کا پیچھا کرتے رہے ۔

جب یہ دونوں حکومتیں ختم ہوگئیں تب جاکر شیعوں کو ایسا معاشرہ قائم کرنے کا موقع ملاجس میں وہ خمس ادا کرسکتے تھے ۔ پہلے وہ خمس خفیہ طور پر ائمہ علیھم السلام  کو ادا کرتے تھے ، اب وہ اپنے مرجع تقلید کو امام مہدی علیہ السلام کے نائب کی حیثیت میں اداکرتے ہیں ۔ اور مراجع تقلید اس رقم  کو شرعی کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔  مثلا وہ اس رقم سے دینی مدارس ،علمی مراکز ، اشاعت اسلام کے لیے اشاعتی ادارے نیز خیراتی ادارے ، پبلک لائبریاں اور یتیم خانے وغیرہ قائم کرتے  ہیں ۔دینی علوم کے طالب علموں کو ماہانہ وظائف وغیرہ بھی دیتے ہیں ۔

اس سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ شیعہ علماء حکومت کے دست نگر نہیں اس لیے کہ خمس کی رقم ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں بلکہ وہ خود مستحقین کو ان کے حقوق پہنچاتے ہیں ۔ اس لیے وہ حکمرانوں کا تقرّب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔اس کے بر خلاف ، علمائے اہل سنت حکام وقت کے دست نگر اور ان کے ملازم ہیں ۔ حکام اپنی مصلحت کے مطابق جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں اور جس کو


چاہتے ہیں نظر انداز کرتے ہیں ۔ اس طرح علماء کا تعلق عوام سے کم اور ایوان اقتدار سے زیادہ ہوگیا ہے ۔

اب آپ خود دیکھیے کہ خمس کے حکم کی تاویل کا امت کے معاملات پر کیا اثر پڑا ۔ اس صورت میں ان  مسلمان نوجوانوں کو کیسے الزام دیا جاسکتا ہے جنھوں نے اسلام کو چھوڑ کر کمیونزم کا راستہ اس لیے اختیار کرلیا کہ انھیں کمیونزم کے نظریہ میں اس نظام کی نسبت جو ہمارے یہاں رائج ہے ،دولت کی تقسیم قوم کے تمام افراد میں زیادہ منصفانہ نظرآئی۔

ہمارے یہاں تو ایک  ظالم طبقہ ایسا ہے جو ملک کی ساری دولت پر قبضہ جمائے ہوئے ہے جبکہ ملگ کی غالب افلاس میں دن گزار رہی ہے ۔ جن دولت مندوں کے دل میں تھوڑا بہت اللہ کا خوف ہے ، وہ بھی سال میں ایک مرتبہ زکات نکالنے کو کافی سمجھتے ہیں جو فقط ڈھائی فیصد ہوتی ہے اور جس سے غریبوں کی سالانہ ضرورت کا دسواں حصہ بھی پورا نہیں ہوتا ۔

"صراط عليّ حقّ ٌ نمسّكه"


تقلید

شیعہ کہتے ہیں کہ فروع دین شریعت کے وہ احکام ہیں جن کا تعلق ان اعمال سے ہے جو عبادت میں جیسے : نماز ، روزہ ، زکات اور حج وغیرہ ۔ ان کے بارے میں مندرجہ ذیل تین صورتوں میں سے کسی ایک پر عمل واجب ہے :-

الف:- یا تو آدمی خود اجتہاد کرے اور احکام کے دلائل پر غور کرے (بشرطیکہ اس کا اہل ہو)۔

ب:- یا احتیاط پر عمل کرے بشرطیکہ  احتیاط کی گنجائش ہو ۔

ج:- یا پھر کسی جامع الشرائط مجتھد کی تقلید کرے ۔

جس کی تقلید کی جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ زندہ ، عاقل ، عادل  پر ہیز گار اور دین پر عامل ہو۔ اپنی خواہشات نفسانی پر نہ چلتا ہو بلکہ احکامات الہی  کی پیروی کرتا ہو۔

فرعی احکام میں اجتہاد(1) تمام مسلمانوں پر واجب کفائی ہے ،اگر کوئی ایک بھی

--------------------

(1):-اجتہاد کی اصطلاح  شیعوں کے ہاں بھی موجود ہے لیکن اس کے اس کے وہ معنی جو سنیوں نے عملی طور پر اسے دے دیے ہیں ۔ سنیوں کے ہاں عملا اجتہاد میں "ذاتی رائےکے اظہار" کا عنصر بھی موجود ہے جبکہ  شیعوں میں اجتہاد فقط احکام الہی کو سمجھنے  کی کوشش کا نام ہے اور مجتہد کسی طور پر بھی اپنی ذاتی رائے کا اظہار نہیں کرتا۔ البتہ اصطلاح کی تعریف کرتے وقت دونوں مکاتب کی اصولی کتابوں میں ایک ہی جملہ استعمال ہوتا ہے لیکن جہاں تک عمل کا تعلق ہے سنیوں  میں فقیہ یا غیر معصوم  صحابی کی رائے   کا احکام میں دخل ہے ۔جبکہ شیعوں کا مکتب صرف خدا اور رسول کے احکامات وارشادات کو معتبر گردانتا ہے ۔مثلا امام محمد باقر ع یا امام جعفر صادق  ع یہ نہیں کہتے تھے کہ انا اقول :(میں کہتا ہوں ) کہ انا احرّم (میں حرام کرتاہوں ) بلکہ یہی کہتے تھے کہ رسول اللہ نے یوں فرمایا ہے : یا خدانے یوں فرمایا ہے ۔یہ مکتب اہل بیت ع کا امتیاز ہے ۔

مکتب اہل بیت ع کے اصول تفکر کے نمونے کے طورپر ہم آپ کے لیے ایک بزرگ عالم  


مسلمان جس میں اس کا م کی علمی لیاقت اور استعداد ہے ، اس کام کو کرلے تو باقی مسلمانوں سےیہ فریضہ ساقط ہوجاتا ہے ۔

شیعہ ان علماء کا اجتہاد کافی سمجھتے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی اجتہاد کا رتبہ حاصل کرنے میں صرف کی ہو ۔ مسلمانوں کے لیے ایسے مجتہد کی تقلید کرنا اور فروع دین میں اس کی طرف رجوع کرنا جائز ہے ۔لیکن اجتہاد کا رتبہ حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں اور نہ اس کا حصول سب کے لیے ممکن ہے ۔ اس کے لیے بہت وقت اور بہت وسیع علمی  معلومات کی ضرورت ہوتی ہے ، اوریہ سعادت صرف اسے ہی میسّر آتی ہے جو سخت محنت  اور کوشش کرتا اور اپنی عمر تحقیق وتعلم میں کھپاتا ہے ۔ ان میں بھی اجتہاد  کا رتبہ صرف خاص خاص خوش نصیبوں ہی کو حاصل ہوتا ۔

رسو ل اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے :

"من  أراد الله به خيرا يفقّهه فی الدين"

اللہ جس کے ساتھ نیکی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطاکردیتا ہے ۔

اس سلسلے میں شیعوں کا  یہ قول اہل سنت کے ایسے ہی قول سے مختلف  نہیں ۔ صرف بارے میں اختلا  ہے کہ تقلید کے لیے مجتہد کا زندہ ہونا ضروری ہے یا نہیں ۔

لیکن شیعوں اور سنیوں میں واضح اختلاف اس میں  ہے کہ تقلید پر عمل کیسے

-------------------

عثمان بن سعید عمری کا قول ہے نقل کرتے ہیں جو حضرت ولی عصر ارواحنا لہ الفداء کے نائب خاص تھے جب انھوں نے ایک شیعہ کے سوال کے جواب میں ایک عمل کی حرمت کا فیصلہ دیا تو ان الفاظ کا اضافہ کیا :

"میں یہ فیصلہ اپنی طرف سے نہیں دے رہا ۔ میرے لیے کسی صورت میں روا نہیں کہ کسی چیز کو حلال یا حرام قراردوں "(یعنی میں فقط امام علیہ السلام کا قول نقل کررہا ہوں )اصول کافی جلد 1 ۔وسائل الشیعہ جلد 18 صفحہ 100)(ناشر)


کیا جائے۔ شیعوں کا اعتقاد ہے کہ وہ مجتہد  جس میں مندرجہ ذیل بالا سب شرائط پائی جاتی ہوں امام علیہ السلام کا نائب ہے اور غیبت امام کے زمانے میں وہ حاکم اور سربراہ ہے اور مقدمات کا فیصلہ کرنے اور لوگوں پر حکومت کرنے کے اسے وہی اختیارات حاصل ہیں جو امام کوہیں ۔ مجتہد کے احکام کا انکار خود امام کا انکار ہے ۔

شیعوں کے نزدیک جامع الشرائط مجتہد کی طرف صرف فتوے کے لیے ہی رجوع نہیں کیا جاتا بلکہ اسے اپنے مقلدین پر ولایت عامہ بھی حاصل ہوئی ہے ۔ اس لیے مقلدین اپنے مقدمات کے تصفیہ کے لیے بھی اپنے مجتہد ہی سے رجوع کرتے ہیں ، جو خمس اور زکات میں امام زمانہ کے نائب کی حیثیت سے شریعت کے مطابق تصرف کرتا ہے ۔ لیکن اہل سنت والجماعت کے نزدیک مجتہد کا یہ مرتبہ نہیں ۔ وہ یہ نہیں مانتے کہ امام نائب رسول ہوتا ہے ۔ فقہی مسائل میں البتہ  وہ صاحب مذاہب اربعہ میں کسی ایک کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ ان ائمہ اربعہ کے نام یہ ہیں :

(1):-ابو حنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی (سنہ 80 ھ تا سنہ 150ھ)۔(2):-مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر اصبحی (سنہ 93 ھ تا سنہ 179 ھ)۔(3):- محمد بن ادریس بن عباس بن عثمان شافع(سنہ 150 ھ تا سنہ 198ھ)۔(4):- احمد بن محمد بن جنبل بن ہلال (سنہ 164 ھ تا سنہ 241ھ)

موجودہ  دور کے بعض اہل سنت ان میں کسی ایک معین امام کی تقلید نہیں کرتے ، بلکہ اپنی مصلحت کے مطابق بعض مسائل میں کسی ایک امام کی تقلید کرتے ہیں اور کچھ دوسرے مسائل میں کسی دوسرے امام کے قول پر عمل کرتے ہیں ۔ سید سابق جنہوں نے چاروں اماموں کے فقہ سے ماخود ایک کتاب مرتب کی ہے ، ایسا ہی کیا ہے  کیونکہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ اصحاب مذاہب کا اختلاف رحمت ہے ۔ اس لیے اگر کسی مالکی کو  اپنی مشکل کا حل اپنے امام کے یہاں نہ ملے اور امام ابو حنیفہ کے یہاں مل جائے تو وہ امام ابو حنیفہ کے قول پر عمل کرلے ۔میں اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں تاکہ مطلب واضح ہوجائے : ہمارے یہاں تیونس میں ایک بالغ لڑکی تھی ، یہ اس زمانے کی بات ہے


جب یہاں قاضی کو رٹس ہوا کرتی تھیں ۔ اس لڑکی کو ایک شخص سے محبّت ہوگئی ۔ یہ اس سے شادی کرنا چاہتی تھی مگر اس کا باپ اللہ جانے کیوں اس سے اس کے نکاح پر راضی نہیں تھا ۔ آخر باپ کے گھر سے بھاگ گئی اور اس نے اس نوجوان سے باپ  کی اجازت  کے بغیر نکاح کرلیا ۔ باپ نے شوہر کے خلاف دعوی دائر کردیا ۔ جب لڑکی اپنے شوہر  کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئی تو قاضی نے اس سے گھر سے بھاگنے اور ولی سے اجازت کے بغیر نکاح کرنے کی وجہ سے پوچھی تو اس نے کہا : "جناب عالی ! میری عمر 25 سال ہے ۔ میں  اسے شخص سے اللہ رسول  کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق شادی کرنا چاہتی تھی ، لیکن میرا باپ میرا بیاہ ایسے شخص سے کرنا چاہتا تھا جو مجھے بالکل پسند نہیں تھا ۔میں نے امام ابو حنیفہ کے مذہب کے مطابق شادی کرلی کیونکہ امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق مجھے بالغ ہونے کی وجہ سے حق ہے کہ میں جس سے چاہوں شادی کرلوں"۔

اللہ بخشے قاضی صاحب جنھوں نے یہ قصہ مجھے خود سنایا تھا ، کہنے لگے : جب ہم نے اس مسئلہ کی تحقیق کی تو معلوم ہواکہ لڑکی ٹھیک کہتی تھی۔ میرا خیال ہے شاید کسی جاننے والے عالم نے سکھایا تھا کہ عدالت میں جاکر کیا بیان دے ۔

قاضی صاحب کہتے تھے کہ میں باپ کادعوی خارج کردیا اور نکاح کو باقی رکھا ۔باپ غصہ میں بھرا ہوا عدالت سے باہر نکلا ۔وہ ہاتھ مل رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ کتیا حنفی ہوگئی "یعنی امام مالک کو چھوڑ کر امام ابو حنیفہ کا مذہب اختیار کرلیا ۔ بعد میں وہ شخص کہتا تھا کہ میں اس کتیا کو عاق کردوں گا ۔

یہ مسئلہ اجتہادی اختلاف کا ہے :-

امام مالک کی رائے ہے کہ کنواری باکرہ لڑکی کا نکاح سرپرست کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔بلکہ اگر مطلقہ یا بیوہ ہو تب بھی ولی کی اجازت ضروری ہے  ۔ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ بالغہ چاہے باکرہ ہویا مطلقہ و بیوہ اسے خود اپنا شوہر  پسند کرنے اور عقد کرنے کااختیار ہے ۔ تو اس فقہی مسئلے نے باپ بیٹی میں جدائی ڈال دی ۔ یہاں تک کہ باپ نے بیٹی کو عاق کردیا ۔


پہلے زمانے میں تیونس میں اکثر باپ مختلف وجوہ سے بیٹیوں کو عاق کردیا کرتے تھے ،جن میں سے ایک وجہ یہ ہوتی تھی کہ لڑکی جس سے شادی کرناچاہتی تھی اس کے ساتھ بھاگ گئی ۔ عاق کرنے کا انجام بڑا خراب ہوتا ہے کیونکہ جب باپ بیٹی کو میراث سے محروم کردیتا ہے تو لڑکی اپنے بھائیوں کی دشمن بن جاتی ہے اور بھائی خود  بھی بہن کوچھوڑ دیتے ہیں ، کیونکہ بہن کے بھاگنے کو بھائی اپنے لیے کلنک کا ٹیکہ سمجھتے ہیں ۔  اس طرح معاملہ ویسا نہیں ہے جیسا کہ اہل  سنت  سمجھتے ہیں کہ اصحاب مذاہب فقہاء کا اختلاف  ہمیشہ رحمت ہوتا ہے ۔ کم از کم یہ اختلاف ہر مسئلے میں رحمت  نہیں ہے ، کیونکہ ہمارے  لیے معاشرتی اور قبائلی اختلاف اور روایات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے ۔

ایک ایسے معاشرے میں جس کی نشوونما مالکی افکار پر ہوئی ہو اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ عورت کو یہ حق ہو کہ گھر سے بھاگ جائے اور باپ کی اجازت  کے بغیر کسی سے نکاح کر لے ۔ جو عورت ایسا کرے گی اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا  کہ اس نے گویا اسلام کا انکار کرلے ۔ جو عورت ایسا کرےگی اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے گویا اسلام کا انکار کیا یا ایک ناقابل معافی گناہ کا ارتکاب کیا ۔ جبکہ دوسرے مذہب کی رو سے اس نے ایسا کا م کیا جو نہ صرف جائز ہے بلکہ اسے اس  کا حق بھی ہے ۔ اسی لیے مالکی معاشرے کو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے حنفی معاشرے میں نسبتا جنسی آزادی اور آوارگی ہے ۔ ان مذہبی اختلاف  کے نتیجے میں عورت اپنے بہت سے حقوق سے محروم ہے اور وہ اس صورت حال کا الزام دین اسلام کےو دیتی ہے ۔ اسی لیے ہم ان بعض نوجوان عورتوں کو الزام نہیں دے سکتے جو اپنے مذہب کا اس لیے انکار کرنے لگتی ہیں کیونکہ ان کے بڑے ان کے ساتھ خلاف شریعت ظالمانہ سلوک کرتے ہیں ۔

اس مثال کے بعد ہم پھر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں :-

اہل سنت کے نزدیک جس امام کی تقلید  کی جائے اس تقلید سے وہ درجہ حاصل نہیں ہوجاتا جس کے شیعہ قائل ہیں یعنی نیابت رسول کا درجہ ۔ اس  کی وجہ شوری اور "خلیفہ یا امام کے انتخاب کا نظریہ ہے ۔ اہل سنت نے خود اپنے


آپ کو یہ حق دے دیا ہے کہ وہ جس کو چاہیں خلیفہ یا بہتر الفاظ میں امام بنادیں ۔ اسی طرح ان کے خیال میں انھیں یہ بھی حق ہے کہ وہ چاہیں تو امام کو معزول کردیں  یا اس کے بجائے جس اپنی دانست میں بہتر سمجھیں اسے مقرر کردیں ، اس طرح درحقیقت وہ امام کے بھی امام ہوگئے ۔یہ صورت شیعہ عقیدہ کے بالکل برعکس ہے اگر ہم اہل سنت کے پہلے امام یعنی ابو بکر صدیق پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ انھوں نے امت سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا :

" أيّهاالنّاس لقد ولّيت عليكم ولست بخيركم فإن أطعتُ فأعينوني وإن عصيتُ فقوّموني......."

لوگو! مجھے تمھارا والی چن لیا گیا ہے اگر چہ میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں ۔چنانچہ جب تک میں صحیح راستے پر چلوں  میرے ساتھ تعاون کرو اور جب میں بھٹک جاؤں ، تو مجھے صحیح راہ پر چلادو۔۔۔۔۔"۔

اس طرح ابو بکر خود اعتراف کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے ان کو پسند کیا ہے اور ان کی بیعت  کی  ہے انھیں یہ بھی حق ہے کہ معصیت اورخطا کی صورت میں وہ ان کے مقابلے میں ڈٹ جائیں ۔

اس کے برعکس  ، جب ہم شیعوں کے پہلے امام یعنی علی بن ابی طالب ع پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ ان کی امامت کے قائل ہیں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ ان کو امام مان کر  دراصل  حکم خداوندی کی تعمیل کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک امام علی ع کو ایسی ہی ولایت مطلقہ کیا ہو بھلا اس کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کوئی خطا کرے کیس معصیت کا مرتکب ہو ؟اسی طرح امت  کے لیے بھی یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ اس کے کسی حکم کی  مخالفت کرے یا اس کا مقابلہ کرے کیونکہ ارشادباری تعالی ہے :

"وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُبِيناً "


چونکہ حضرت علی ع کو مسلمانوں کا امام اللہ اور اس کے رسول ص نے مقرر کیا تھا: اس لیے ان کی حکم عدولی نہیں کی جاسکتی  تھی نہ یہ ممکن تھا کہ حضرت علی  ع کسی معصیت کا ارتکاب کریں اسی لیے رسول اللہ  ص نے فرمایا تھا :

"عليٌّ مع الحقّ والحقّ مع عليّ ٍ ولن يفرقا حتّى يردا عليّ الحوض ."

علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے ۔ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے جب تک میرے پاس حوض پر نہ آجائیں"(1) ۔

تقلید کے بارے میں فریقین کا استدلال ان کے دو مختلف نظریوں کی بنیاد پر آسانی سے سجمھ میں آسکتا ہے ۔ مطلب ہے سنیوں کا شوری کا نظریہ  اور شیعوں کا نص کا نظریہ۔

اس کے بعد تقلید  کے متعلق شیعوں  اور سنیوں میں صرف ایک اور اختلافی مسئلہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ ہے "تقلید میت کا مسئلہ "۔

اہل سنت جس ائمہ کی تقلید کرتے ہیں انھیں فوت ہوئے صدیاں گزرچکی ہیں ۔ اسی زمانے کے بعد سے اہل سنت کے یہاں  اجتہاد  کا دروازہ بند ہے ۔ ان ائمہ  کےبعد جو علماء ہوئے ان کی ساری توجہ صرف اگلی کتابوں کی شرحیں لکھنے اور مذاہب اربعہ کے مطابق فقہی مسائل کے نظم اور نثر میں مجموعے مرتب کرنے پر مرکوز رہی ۔ اب چونکہ بہت سے ایسے مسائل پیدا ہوگئے ہیں جن کا ائمہ کے زمانے میں وجود بھی نہیں تھا ۔ اس لیے بعض معاصرین آواز اٹھارہے ہیں کہ زمانے کی مصلحت کا

---------------------------

(1):- محمد بن عیسی ترمذی جامع ترمذی جلد 5 صفحہ 297 ۔علاء الدین شقی ہندی کنزالعمال جلد 5 صفحہ 30 ۔محمد بن عبداللہ  حاکم نیشاپوری مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 124۔ جار اللہ زمخشری ربیع الابرار ۔ ابن حجر ہیثمی مکی صواعق محرقہ  صفحہ 122 ۔ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 572۔حافظ ابو بکر خطیب بغدادی تاریخ بغداد جلد 14 صفحہ 321 ۔ حافظ ابن عساکر تاریخ دمشق جلد 3 صفحہ 119 ۔ ابن قتیبہ دینوری الامامۃ والسیاسۃ جلد 1 صفحہ 73۔


 تقاضا یہ ہے کہ اجتہاد کا دروازہ پھر سے کھول دیا جائے ۔

اس کے برعکس ، شیعہ میت کی تقلید جائز نہیں سمجھتے اور اپنے تمام احکام کے بارے میں ایسے زندہ مجتہد  کی طرف رجوع کرتے ہیں جس  میں وہ سب شرائط پائی جاتی ہون جن کا ہم نے گزشتہ اوراق میں ذکر کیا ہے یہ صورت امام معصوم کی غیبت کے زمانے میں ہے ۔ جب تک امام معصوم دوبارہ ظاہر نہیں ہوتے ، شیعہ قابل اعتماد علماء ہی سے رجوع کرتے رہیں گے ۔

آج بھی ایک سنّی مالکی مثلا کہتا ہے کہ امام مالک قول کے مطابق یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے ۔ حالانکہ امام مالک  کو فوت  ہوئے چودہ صدیاں گزرچکی ہیں ۔یہی صورت امام ابو حنیفہ ، امام شافعی اور امام احمد بن جنبل کے پیرو کاروں کے ساتھ ہے  کیونکہ یہ سب مذاہب اور ائمہ ایک ہی  زمانے میں تھے اور ان کا ایک دوسرے سے  استاد شاگرد کا تعلق تھا ۔ اہل سنت اپنے ائمہ  کے معصوم ہونے کے بھی قائل نہیں ۔ نہ خود ان ائمہ نے کبھی عصمت کا دعوی کیا ۔ اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ ائمہ جو اجتہاد کرتے ہیں اس  میں خطا اور صواب دونوں کا احتمال ہے ۔ صواب کی صورت میں انھیں دو اجر ملتے ہیں اور خطا کی صورت میں ایک اجر ۔ بہر کیف اجر ہر اجتہاد پر ملتا ہے ۔

شیعوں کے نزدیک تقلید کے دو دور ہیں :

۔ پہلا دورائمہ اثناعشر کا دور ہے ۔ یہ مرحلہ تقریبا ساڑھے تین سوسال پر محیط ہے ۔ اس دور میں ہر شیعہ امام معصوم کی تقلید کرتا تھا اور امام کوئی بات اپنی رائے یا اپنے اجتہاد  سے بیان نہیں کرتے تھے ۔ وہ جو کچھ کہتے تھے اسی علم اور ان روایات  کی بنیاد پر کہتے تھے جو انھیں ابا عن جد رسول اللہ ص سے پہنچی تھیں ۔ مثلا وہ کسی سوال کے جواب میں اس طرح کہتے تھے :"روایت بیان کی میرے والد نے ، انھوں یہ روایت سنی اپنے نانا سے ، انھوں نے جبریل سے انھوں نے اللہ عزوجل  سے "(1)

--------------------

(1):- ہشام بن سالم اورحمّاد بن عیسی سے روایت ہے  کہ انھوں نے کہا کہ ہم نے امام جعفر صادق ع کو


۔ دوسرا دور زمانہ غیبت کا دور ہے جو ابھی تک چل رہا ہے ۔ اب شیعہ یہ کہتا ہے کہ یہ چیز آیت اللہ خوئی کی رائے کے مطابق  یا آیت اللہ خمینی کی رائے کے مطابق حلال یا حرام ہے ۔یہ دونوں(1) مجتہد زندہ ہیں ۔ ان کی رائے سے مراد ہے  قرآن اور ائمہ اہل بیت ع کی روایات کے مطابق سنت سے احکام کے استبناط  میں ان کا اجتہاد  ،ائمہ  اہل بیت  ع کی روایات کےبعد دوسرے درجے میں صحابہ عدول یعنی معتبر صحابہ کی روایات ہیں ۔ ائمہ اہل بیت ع کو ترجیح اس لیے ہے کہ وہ شریعت کے بارے میں اپنی رائے سے قطعی احتراز کرتے ہیں اور اس کے قائل ہیں کہ :

------------------------

یہ فرماتے ہوئے سنا کہ :

"میرے حدیث میرے والد کی حدیث ہے اور میرے والد کی حدیث میرے دادا کی حدیث ہے اور میرے داداکی حدیث  حسین کی حدیث ہے اور  حسین  کی حدیث حسن کی حدیث ہے اور حسن  کی حدیث امیر المومنین علیھم السلام کی حدیث ہے اور امیر المومنین کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے اور رسول اللہ ص کی حدیث ارشاد الہی ہے "۔(اصول کافی جلد 1 صفحہ 35)

عنبسہ روایت کرتے ہیں کہ

"ایک شخص امام جعفر صادق علیہ السلام سے کوئی مسئلہ پوچھا تو آپ نے جواب دیا ۔ اس  پر اس شخص نے کہا کہ اگر ایسا اور ایسا ہوتا تو اس میں دوسرا قول نہ ہوتا ۔ آپ نے فرمایا ۔" جب کبھی ہم کسی مسئلے کاجواب دیں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے  اورہم کوئی جاوب اپنی رائے سے نہیں دیتے "۔(بصائر الدرجات صفحہ 300-301)

(1):- جن دنوں مصنف نے یہ کتاب لکھی تھی ، آیت اللہ خمینی حیات تھے ۔


"مامن شئ ٍإلّا ولله فيه حكمٌ"

   یعنی کوئی ایسی چیز نہیں جس کے بارےمیں اللہ کا حکم نہ ہو ۔

اگر کسی مسئلہ کے بارے میں ہمیں یہ حکم دستیاب نہ ہو تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالی نے اس مسئلہ کو نظر انداز کردیا ہے ۔ بلکہ یہ  ہمارا قصور ناواقفیت ہے جس کی وجہ سے ہمیں اس حکم کا علم نہیں ہوسکا ۔کسی چیز کا علم نہ ہونا اس کی دلیل نہیں کہ اس کا وجود ہی نہیں ۔ اللہ سبحانہ کا قول ہے :

"مَّا فَرَّطْنَا فِي الكِتَابِ مِن شَيْءٍ"

اس کتاب میں ہم نے کوئی چیز نظر انداز نہیں کی۔(سورہ انعام ۔آیت 38)

وہ عقائد  جن پر سنت شیعوں کو الزام دیتے ہیں

شیعوں کے کچھ عقائد ایسے ہیں جن پر اہل سنت محض اس تعصب کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں جو امویوں اور عباسیوں نے اس لیے پھیلایا تھا  کیونکہ وہ امام علی ع سے بغض اور کینہ رکھتے تھے یہاں تک کہ امویوں نے علی الاعلان 80 برس تک  منبروں سے افتخار ہر نبی وہر ولی حضرت علی ع پر لعنت کی(1) اس لیے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ یہ لوگ ہر اس شخص کو گالیاں دیتے تھے اور اس پر ہر طرح کے بہتان  باندھتے تھے جس کا ذرا بھی علی ع کی جماعت سے تعلق ہو ۔ نوبت یہاں  تک پہنچ گئی تھی مگر کسی کو یہ کہا جاتا تھا کہ تو یہودی ہے تو وہ اس کا اتنا برا نہیں مانتا تھا جتنا اگر اس کو یہ کہہ دیا جاتا تھا کہ تو شیعہ ہے ۔ ان کے حامیوں اور پیروکاروں کا بھی ہر زمانے میں اور ہرملک میں یہی طریقہ رہا۔یہاں تک کہ اہل سنت کے لیے لفظ شیعہ ایک گالی بن گیا ۔ کیونکہ شیعوں کے عقائد مختلف تھے اور سنیوں کی  جماعت سے باہر تھے ، اس لیے سنی ان پر جو چاہتے الزام لگادیتے تھے ، جس طرح چاہتے نام دھرتے تھے اور ہر بات میں ان کے طریقے کے

----------------------

(1):- تفصیلات کے لیے دیکھیے تاریخ عاشورا ،مطبوعہ تعلیمات اسلامی ۔کراچی پاکستان


خلاف کرتے تھے ۔(1)

آپ کو شاید علم ہو کہ علمائے اہل سنت میں سے ایک مشہور عالم(2) کا کہنا ہے تھا کہ "اگر چہ دائیں ہاتھ میں انگھوٹھی پہننا سنت رسول ہے ، لیکن چونکہ یہ شیعوں کا شعار بن گیا ہے اس لیے اس کا تر ک واجب ہے"۔

اور سنئے حجۃ الاسلام  ابو حامد غزالی کہتے ہیں کہ " قبر کی سطح کو ہموار کرنا اسلام میں مشروع ہے مگر رافضیوں نے اسے اپنا شعار بنالیا ہے ،اس لیے ہم اسے چھوڑ کے قبروں کو اونٹ کے کوہان کی شکل دے دی "۔

---------------------

(1):- آج بھی بعض اتنہا پسند حلقے یہ پروپیگنڈے کرتےہیں کہ " شیعہ کافر ہیں ، سبائی ہیں اور ان کی جان اور ان کا مال  محترم نہیں ہے ، ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے "۔اس طرح انھوں نے نفرت اور افتراق کا پنڈورا بکس کھول دیا ہے ۔ لیکن ہمارے علماء ہمیشہ ملت کی وحدت ویگانگت  کے داعی رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جو کوئی " لا الہ الا اللہ محمد رسو ل اللہ "کہہ دے وہ مسلمان ہے اور اس کی جان اور املاک محترم ہیں ۔

تاریخ گواہ ہے کہ جمال الدین افغانی سے لے کر آیت اللہ خمینی تک ہمارے علماء نے اتحاد  اسلامی کیلئے بھر پور کوشش کی ہیں ۔ہمارے ان ہی علماء میں سے ایک آیت اللہ کاشف الغطاء ہیں جنھوں نے قابل قدر سیاسی وسماجی خدمات انجام دی نہیں ۔ سنہ 1350 ھ میں جب آیت اللہ کاشف الغطاء موتمر اسلامی میں شرکت کے لیے القدس الشریف پہنچے تو موتمر کے بیشتر مندوبین نے آپ ہی کی اقتدا میں مسجد اقصی میں نماز پڑھی تھی ۔(ناشر)

(2):-یہ الھدایہ کے مولف شیخ الاسلام براہانن الدین علی بن ابی بکر المرغینانی (593ھ)ہیں ۔

زمخشری نے اپنی کتاب ربیع الابراء میں لکھا ہے کہ

" معاویہ بن ابی سفیان نے سب سے پہلے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا شروع کی جو خلاف سنت ہے "۔

لہذا ہم معاویہ کے طرفدار سے اتنا ہی عرض کریں گے کہ

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ ،ذرا بند قبادیکھ


اور ابن تیمیہ(1) کہتے ہیں :

بعض فقہاء کیا خیال یہ ہے کہ اگر کوئی مستحب شیعوں کا شعار بن جائے تو اس مستحب کو ترک کردینا بہتر ہے گو ترک کرنا واجب نہیں ۔کیونکہ اس مستحب پر عمل میں بہ ظاہر شیعوں سے مشابہت ہے ۔ سنیوں اور رافضیوں میں فرق کی مصلحت  مستحب پر عمل کی مصلحت سے زیادہ قوی ہے ۔(2)

حافظ عراقی سے جب یہ پوچھ گیا کہ تحت الحنک کس طرف کیاجائے ؟ تو انھوں نے کہا کہ

مجھے کوئی ایسی دلیل نہیں ملی جس سے داہنی طرف کی تعیین  ہوتی ہو ، سوائے اس کے طبرانی کے یہاں ایک ضعیف حدیث ضرور ہے ، لیکن اگر یہ ثابت بھی ہو تو شاید آپ داہنی طرف لٹکا کر بائیں طرف لپیٹ لیتے ہیں جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں مگر چونکہ یہ شیعوں کا شعار بن گیا ہے ، اس لیے تشبہ سے بچنے کے لیے اس سے احتراز ہی مناسب ہے(3)

سبحان اللہ ! یہ اندھا تعصب ملاحظہ ہو ۔یہ علماء کیسے سنت رسول ص کی مخالفت کی اجازت صرف اس بنا پر دیتے ہیں کہ اس  پر شیعوں نے پابندی سے عمل کرنا شروع کردیا ہے اور وہ ان کا شعار بن گئی ہے  ۔ پھر دیدہ دلیری دیکھیے

-------------------------

(1):-کہا جاتا ہے کہ برطانوی سامراج نے جب سرزمین حجاز میں "وہابی تحریک "کا آغاز کیا تو انھوں نے ۔مستشرقین کی تجویز کے بموجب جو اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس تحریک کے ذریعہ ابو العباس تقی الدین احمد بن عبدالحلیم المعروف بہ اب تیمیہ حرّانی  کے افکار ونظریات کو فروغ دیا کہ کیونکہ وہ اپنے افکار ونظریات کی بنا پر مطعون تھالیکن بیسویں صدی کے لوگوں نے اسے "مجدد "اور" مصلح" کاخطاب دے دیا ۔(ناشر)

(2):- منہاج السنۃ النبویہ ، ابن تیمیہ

(3):-شرح المواہب ،زرقانی ۔


کہ اس بات کا علانیہ اعتراف کرتے ہوئے بھی ذرا نہیں شرماتے ،میں تو کہتاہوں کہ شکر خدا کہ ہر صاحب بصیرت اور جویائے حقیقت پر حق واضح ہوگیا ۔ سنت کا نام لینے والو ! دیکھ سنت کا دامن کسے نے تھاما ہوا ہے ۔

الحمداللہ کہ ظاہر ہوگیا کہ یہ شیعہ ہی ہیں جو سنت رسول ص کااتباع کرتے ہیں جس کی گواہی تم خود دے رہے ہو ۔ اور تم خود ہی اس کے بھی اقراری مجرم ہو کہ تم نے سنت رسول ص کو عمدا اور دیدہ ودانستہ محض اس لیے  چھوڑدیا تاکہ تم اہل بیت ع اور ان کے شیعیان  با اخلاص  کی روش کی مخالفت کرسکو ۔ تم نے معاویہ بن ابی سفیان کی سنت اختیار کرلی جن کے شاہد عادل امام زمخشری ہیں جو کہتے ہیں کہ سنت رسول ص کے برخلاف سب سے پہلے بائیں ہاتھ  میں انگوٹھی  معاویہ  ابن ابی سفیان  نے پہنی تھی ۔ تم نے  باجماعت تراویح کی بدعت میں سنت عمر کی پیروی کی ۔حالانکہ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے مسلمانوں کو نافلہ نمازیں گھر میں فرادی پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا(1) ۔ حضرت عمر نے خود اعتراف کیا تھا کہ یہ نماز بدعت ہے :

بخاری میں عبدالرحمان بن عبدالقاری سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ماہ رمضان میں ایک دن رات کے وقت ،میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی طرف گیا تو وہاں دیکھا کہ لوگ متفرق طور پر نماز پڑھ رہے ہیں ۔ کہیں کوئی اکیلا ہی نماز پڑھ رہا تھا اور کہیں چند لوگ مل کر ۔ عمر نے کہا کہ میرے خیال میں یہ بہتر ہوگا کہ میں ایسا انتظام کردوں کہ یہ سب ایک قاری کے پیچھے نماز  پڑھیں ۔چنانچہ عمر نے ایسا ہی کیا اور ابی بن کعب کوامام مقرر کردیا ایک رات پھر مین عمر کے ساتھ گیا ۔ اس وقت سب لوگ جماعت سے نماز پڑھ رہے تھے ۔ انھیں دیکھ کر  عمر نے کہا : کتنی اچھی بدعت ہے یہ(2) ۔عمر ، جب آپ نے یہ بدعت شروع کی تھی تو آپ خود کیوں اس میں شریک نہیں ہوئے ؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب آپ ان کے امیر تھے تو آپ بھی ان کے

---------------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 99 باب مایجوز من الغضب والشدۃ لامراللہ عزوجل ۔

(2):- صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 252 کتاب صلاۃ التراویح


ساتھ نماز پڑھتے ۔ یہ کیا کہ آپ ان کا تماشا دیکھنے نکل کھڑے ہوئے ؟ آپ کہتے ہیں کہ یہ اچھی بدعت ہے ۔یہ اچھی کیسے ہوسکتی ہے جب رسول اللہ ص نے اس سے اس وقت منع کردیا تھا جب لوگوں نے آپ کے دروازے  پر جمع ہوکر شور مچایا تھا کہ آپ آکر نافلہ رمضان پڑھادیں ۔ اس پر رسول اللہ ص غصّے میں بھرے ہوئے نکلے اورآپ نے فرمایا ۔

"مجھے اندیشہ تھا کہ یہ نماز تم پر فرض ہوجائے گی ۔ جاؤ اپنے گھروں میں جاکر نماز  پڑھو۔ فرض نمازوں کے علاوہ ہر نماز آدمی کے لیے گھر میں پڑھنا ہی بہتر ہے "۔ تم نے سفر کی حالت میں پوری نماز پرھنے کی بدعت میں عثمان بن عفان کی سنت کی پیروی کی ہے ۔ تمھارا یہ عمل سنت رسول کے خلاف ہے ۔کیونکہ رسول اللہ ص تو سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے(1) ۔ اگر میں وہ سب مثالیں گنانے  لگوں جہاں تم نے سنت رسول کے خلاف طریقہ اختیار کیا ہے  تو اس کے لیے ایک پوری کتاب کی ضرورت ہوگی ۔ لیکن تمھارے خلاف تو تمھاری اپنی شہادت ہی کافی ہے جو تمھارے اپنے اقرار پر مبنی ہے ۔تم نے یہ بھی اقرارکیا ہے کہ یہ شیعہ رافضی ہیں جو سنت رسول کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں !

کیا اس کے بعد بھی ان جاہلوں کی تردید کرے لیے کسی دلیل کی ضرورت ہے جو یہ کہتے ہیں کہ شیعہ علی بن ابی طالب ع کا اتباع کرتے ہیں اور اہل سنت رسول اکرم ص کا ؟ کیا یہ لوگ یہ ثابت کرناچاہتے ہیں کہ علی ع رسول اللہ ص کے مخالف تھے اور انھوں نے کوئی نیا دین ایجاد کیا تھا ؟ کیسی سخت بات ان کے منہ سے نکلتی ہے ۔ علی ع تو سرتاپا سنت رسول ص تھے ۔ وہ سنت رسول ص کے شارح تھے اور سنت پر سختی سے قائم تھے ۔ ان کےمتعلق رسول اللہ ص نے فرمایا تھا کہ

"عليٌّ مّنّي بمنزلتي من رّبي."(2)

--------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 35  "وکذالک تاوّلت عائشۃ فصلّت اربعا صفحہ 36

(2):- ابن حجر عسقلانی ، لسان المیزان جلد 5 صفحہ 161 ۔ محب طبری ،ذخائر العقبی صفحہ 64 نور اللہ حسینی مرعشی ۔ احقاق الحق جلد 7 صفحہ 217


"علی ص کا مجھ سے وہی تعلق ہے جو میرا میرے پروردگار سے ہے " یمنی جس طرح کہ تنہا محمد ص ہی وہ شخص تھے جو اللہ تعالی  کا پیغام پہنچاتے تھے ایسے ہی تنہا علی ص وہ شخص تھے جو رسول اللہ ص کا پیغام پہنچاتے تھے ۔ علی ع کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے اپنے سے سابق خلفاء کی خلافت تسلیم نہیں  کی اور شیعوں کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے اس معاملے  میں علی ع کی پیروی کی اور ابوبکر ، عمر اور عثمان کے جھنڈے تلے جمع ہونے سے انکار کردیا ۔ اسی لیے اہل سنت انھیں "رافضی م"یعنی منکر کہنے لگے ۔

اگر اہل سنت شیعہ عقائد اور شیعہ اقوال کا انکار کرتے ہیں تو اس کے دو سبب ہیں :

پہلا سبب تو وہ دشمنی ہےجس کی آگ اموی حکمرانوں نے جھوٹے پروپیگنڈے اور منگھڑت روایات کے ذریعے سے بھڑکائی تھی ۔

دوسرا سبب یہ ہے کہ اہل سنت جو خلفاء کی تائید کرتے ہیں اور ان کی غلطیوں اور ان کے اجتھادات کو صحیح ٹھہراتے ہیں ، خصوصا اموی حکمرانوں کی غلطیوں کو جن میں معاویہ کا نام سر فہرست ہے ۔شیعہ عقائد ان کے اس طرز عمل کے منافی ہیں ۔جو شخص واقعات کا متتبع کرے گا ۔ اس  پر واضح ہوجائے گا کہ شیعہ  ،سنی اختلافات کی داغ بیل تو سقیفہ کے دن ہی پڑگئی تھی ۔ اس کے بعد اختلافات کی خلیج برابر وسیع ہوتی چلی گئی ۔ بعد میں جو بھی اختلاف پیدا ہوا اس کی اصل سقیفہ کا واقعہ ہی تھا ۔اس کی سب سے بڑی دلیل یہ کہ شیعوں کے وہ سب عقائد جن پر اہل سنت اعتراض کرتے ہیں ، ان کا خلافت کے معاملے سے گہرا تعلق ہے اور ان سب کی جڑ خلافت ہے ۔مثلا ۔ ائمہ کی تعداد ، امام کا منصوص ہونا ، ائمہ کی عصمت ، ا ن کا علم ،بدا ، تقیہ ، مہدی منتظر وغیرہ ۔

اگر ہم طرفین کے اقوال پر غیر جذباتی ہو کر غور کریں تو ہمیں طرفین کے عقائد میں بہت زیادہ بعدنظر نہیں آئے گا اور نہ ایک دوسرے پر طعن وتشنیع کا کوئی جواز ملیگا کیونکہ  جب آپ اہل سنت کی وہ کتابیں پڑھتے ہیں جن میں شیعوں کو گالیاں دی گئی ہیں تو آپ کو ذرا دیر کے لیے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا شیعہ اسلامی اصولوں  اور اسلامی احکام


کے مخالف ہیں اور انھوں نے کوئی نیا دین گھڑا ہوا ہے ۔ حالانکہ جو بھی منصف مزاج شخص شیعہ عقائد پر غور کرےگا وہ ان کی اصل قرآن وسنت میں پائیگا حتی کہ جو مخالفین ان عقائد پر اعتراض کرتے ہیں خود ان کی کتابوں سے بھی ان ہی عقائد کی تایید ہوتی ہے ۔ پھر ان عقائد میں کوئی بات خلاف عقل ونقل اورمنافی اخلاق نہیں ہے!

آیئے  ان عقائد پر ایک نظر ڈالیں  تاکہ میرے دعوے کی صحت ظاہر ہوجاتے اور آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ مخالفین کے اعتراضات دھوکے کی ٹٹی کے سواکچھ  نہیں !

ائمہ کی عصمت

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ نبی کی طرحی امام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ تمام ظاہری اور باطنی برائیوں سے بچپن سے لے کر موت تک محفوظ رہے ۔ اس سے عمدا یا سہوا کوئی گناہ سرزد نہ ہو اور بھول چوک اور خطا سے محفوظ ہو ۔ کیونکہ ائمہ شریعت کے نگراں اور محافظ ہیں اور اس لحاظ سے ان کی حیثیت وہی ہے جو نبی کی ہے ۔جس کی دلیل کی رو سے ہمارے لیے ائمہ کے معصوم ہونے کا عقیدہ بھی ضروری ہے ۔ اس معاملے میں دونوں میں کوئی فرق نہیں (1)

یہ عصمت کے باے  میں شیعوں کی رائے ہے ۔لیکن کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے جو قرآن وسنت کے منافی ہو یا عقلا محال ہو یا جس سے اسلام پر حرف آتا ہو اور اس کے شایان شان نہ ہو یا جس سے کسی نبی  یا امام کی قدرومنزلت میں فرق آتا ہو؟ ہر گز نہیں !

بلکہ اس عقیدے سے تو کتاب وسنت کی تائید ہوتی ہے ۔ یہ عقیدہ عقل سلیم کے عین مطابق ہے اور اس سے نبی اور امام کی شان میں اضافہ ہوتا ہے

-----------------------

(1):- شیخ محمد رضا مظفر  ،عقائد الامامیہ صفحہ 67 ۔یہ کتاب جامعہ تعلمیات اسلامی نے مکتب تشیع کرے نام سے شایع کردی ہے ۔


احمقانہ اور غلط بات تو یہ ہے کہ یہ کہاجائے  کہ نبی غلطی کرتا ہے اور اس کی اصلاح دوسرے لوگ کرتے ہیں ۔

عصمت ازروئے قرآن

اللہ تعالی کاارشاد ہے :

" إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً "

اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ اسے اہل بیت ع تم سے رجس کو دور رکھے اور تمھیں خوب پاک وپاکیزہ رکھے ۔(سورہ احزاب ۔آیت 33)

اگر رجس سے دور رکھنے کے معنی سب برائیوں اور گناہوں سے حفاظت ہے تو کیا اس کا مطلب عصمت نہیں ؟ ورنہ پھر اس کا مطلب اور کیا ہے؟

اللہ تعالی کا ارشادہے :

"إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ"

جو لوگ متقی ہیں ، جب انھیں کوئی شیطانی خیال ستاتا ہے تو وہ اللہ کویادہ کرتے ہیں جس سے انھیں یکایک صحیح راستہ  سمجھائی دینے لگتاہے (سورہ اعراف ۔ آیت 201)

جب شیطان کسی متقی شخص کو بہکانا اور گمراہ کرنا چاہتا ہے تو اگر وہ اللہ کو یاد کرتا ہے تو اللہ اسے شیطان کے دام فریب سے بچالیتا ہے اور اسے راہ حق دکھادیتا ہے جس پر و ہ چل پڑتا ہے جب عام مومن کی یہ صورت ہے تو ان لوگوں کا

کیا کہنا  جو اللہ کے چنیدہ بندے ہیں جنھیں اللہ نے ہر آلودگی سے پاک رکھا ہے" ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا "

پھر ہم نے وارث بنادیا کتاب کا ان کو جنھیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا ۔ (سورہ فاطر ۔آیت 32)

جسے اللہ چنے گا وہ بلاشک معصوم عن الخطاء ہوگا ۔ خاص اسی آیت سے


امام رضا ع نے ان علما کے سامنے استدلال کیا تھا جنھیں عباسی خلیفہ مامون نے جمع کیا تھا ۔ امام رضا ع نے یہ ثابت کیا تھا کہ اس آیت میں چنیدہ بندوں سے مراد ائمہ اہل بیت ہی ہین جنھیں اللہ نے کتاب کا وارث بنایا ہے ۔جو علماء وہاں موجود تھے انھوں نے امام کی یہ بات تسلیم کرلی تھی(1)

یہ قرآن کریم سے بعض مثالیں ہیں ۔ ان کے علاوہ اوربھی آیات ہیں جن سے ائمہ کی عصمت ثابت ہوتی ہے ۔جیسے مثلا"أﺋﻤﺔ يهدون ﺑﺄﻣﺮﻧﺎ" وغیرہ لیکن ہم بہ اختصار اتنے ہی پر اکتفاء کرتے ہیں

عصمت ازروئے حدیث

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"لوگو! میں تمھارے درمیان وہ چیزیں چھوڑ رہا ہوں کہ جب تک تم ان سے جڑے رہوگے ، ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ، اور وہ ہیں اللہ کی کتاب اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت ع(2) ۔

جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ، یہ حدیث ائمہ اہل بیت ع کے معصوم ہونے کے بارےمیں صریح شہادت ہے :

اولا:- اس لیے اللہ کی کتاب معصوم ہے ، اس  میں باطل کا کسی طرف سے کوئی دخل نہیں کیونکہ وہ اللہ کا کلام ہے اور جو اس میں شک کرے ،وہ کافر ہے ۔

ثانیا :- اس لیے کہ جو کتاب اور عترت کو تھامے رہے ، وہ گمراہی سے محفوظ ومامون رہتا ہے ۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتاب وعترت میں غلطی کی گنجائش نہیں ۔ایک اور حدیث میں رسول اللہ ص نے فرمایا :"میرے اہل بیت ع کی مثال کشتی نوح کی سی ہے جو اس پر

-----------------------

(1):- ابن عبدربہ اندلسی العقد الفرید جلد 3 صفحہ 42

(2):- محمدبن عیسی ترمذی جامع الترمذی جلد 5 صفحہ 328


سوار ہوگیا نجات پاگیا اور جس نے گریز کیا وہ ڈوب گیا "(1)

جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ، اس حدیث میں تصریح ہے کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام معصوم ہیں ۔ اس وجہ سے جو ان کی کشتی میں سوار ہو جائے گا وہ نجات پاجائے گا اور جو پیچھے رہ جائے گا ،گمراہی کے سمندر میں ڈوب جائے گا ۔

رسول اللہ ص نے فرمایا :

جو میری طریح کی زندگی چاہتا ہے اور میری طرح مرناچاہتا ہے اور اس جنت الخلد میں جانا چاہتا ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے ،تو وہ علی ع سے اور ان کے بعد ان کی اولاد سے دوستی رکھے ،اس لیے کہ وہ تمھیں ہدایت کے دروازے سے باہر نکلنے نہیں دیں گے اور گمراہی کے دروازے میں گھسنے نہیں دیں گے ۔(2)

اس حدیث میں تصریح ہے کہ ائمہ اہل بیت ع جو علی اور اولاد علی ہیں ہو معصوم عن الخطا ہیں کیونکہ جو لوگ ان کا اتباع کریں گے وہ انھیں گمراہی کے دروازے میں داخل نہیں ہونے دیں گے ۔ ظاہر ہے کہ جو خود غلطی  کرسکتا ہے وہ دوسروں کو ہدایت کیسے کرےگا ۔رسول اللہ ص نے فرمایا :

" أنا المنذر وعليٌّ الهادي وبك يا علي يهتدي المهتدون من بعدي".

میں ڈرانے والا ہوں اور علی ہدایت دینے والے ہیں ۔ اے علی ع ! ہدایت کے طالب میرے بعد تم سے ہدایت حاصل کریں گے(3)

-------------------------

(1):- مستدرک حاکم جلد 2 صفحہ 243 ۔کنز العمال جلد 5 صفحہ 95 ۔صواعق محرقہ صفحہ 184

(2):-کنز العمال جلد 6 صفحہ 155 ۔ مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 108 ۔ تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 99۔ مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ128 ۔حلیۃ الاولیاء  جلد 4 صفحہ 359 ۔ احقاق الحق جلد 5 صفحہ 108

(3):- طبری ،جامع البیان فی تفسیر القرآن  جلد 13 صفحہ 108 ۔رازی ،تفسیر کبیر جلد 5 صفحہ 271 ۔ابن کثیر ، تفسیر القرآن العظیم جلد 3 صفحہ 503  ۔شوکانی ،تفسیر فتح القدیر  جلد 3 صفحہ 70 ۔سیوطی تفسیر درمنثور  جلد 4 صفحہ 45 ۔حسکانی شواہد التنزیل جلد 1 صفحہ 293۔


اہل نظر پر مخفی نہیں کہ اس حدیث میں بھی عصمت امام کی تصریحج ہے ۔ امام علی ع نے خود بھی  اپنے معصوم ہونے اور اپنی اولاد میں سے دوسرے ائمہ کے معصوم ہونے کی تصرح کی ہے آپ نے کہا:

"تم کہا ں جارہے ہو اور تمھیں کدھر موڑا جارہا ہے ؟ حالانکہ ہدایت کے پرچم اڑرہے ہیں ، نشانیاں صاف اور واضح ہیں ، منارہ نور ایستادہ ہے تم کہاں بھٹک رہے ہو اور کیوں بہک رہے ہو ؟ نبی کی عترت تمھارے درمیان موجود ہے ،جو حق کی باگ ڈور ہیں ، دین کے نشان ہیں اور سچائی کی زبان ہیں ۔ جو قرآن کی بہتر سے بہتر منزل سمجھ سکو ، وہیں ان کو بھی جگہ دو ۔ ان کی طرف اس طرح دوڑ و جیسے پیاسے پانی کی طرف دوڑتے ہیں ۔

اے لوگو! خاتم النبییں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشادکو سنوکہ (انھوں نے فرمایا ):

ہم میں سے جو مرتا ہے وہ مرتوجاتا ہے مگر مردہ(1) نہیں ہوتا ۔ ہم میں سے جو بظاہر مرکربوسیدہ ہوجاتا ہے ،وہ درحقیقت کبھی بوسیدہ نہیں ہوتا ۔ تم وہ بات نہ کہو جو تمھیں معلوم نہیں ۔ کیونکہ اکثر وہی بات صحیح ہوتی ہے جس کا تم انکار کرتے ہو ۔جس کے خلاف تمھارے پاس کوئی دلیل نہ ہو اسے معذور سمجھو ۔اورمیں ایسا ہی شخص  ہوں ۔ کیا میں نے تمھارے درمیان ثقل اکبر (قرآن )پر عمل نہیں کیا ؟ اب میں تمھارے درمیان ثقل اصغر چھوڑرہا ہوں  میں نے تمھارے درمیان ایمان کا جھنڈا گاڑدیا ہے ۔"(2)

کیا ان تمام آیات قرآنی ،احادیث نبوی اور اقوال علی ع کے بعد بھی عقل

------------------------

(1):- فرشتہ موت کا چھوتا ہے گوبدن تیرا

ترے وجود کے مرکز سے دوررہتا ہے (اقبال

(2):-نہج البلاغہ خطبہ 85


ان ائمہ کی عصمت کاا نکار کرسکتی ہے جنھیں اللہ نے چنیدہ وبرگزیدہ قراردیا ہے ۔ جواب یہ ہے کہ نہیں ،ہرگز نہیں ۔ بلکہ عقل تو یہ کہتی ہے کہ ان کی عصمت ایک حتمی اور لابدی امر ہے ۔ اس لیے کہ انسانوں کی قیادت وہدایت کامنصب جن کے  سپرد کیا گیا ہو ممکن نہیں کہ وہ معمولی انسان ہوں ، جو بھول چوک اور غلطی کاشکار ہوتے ہوں اور جس کی پیٹھ پر گناہوں کی گٹھڑی لدی ہوئی ہو جن پر لوگ نکتہ چینی کرتے ہوں ، عیب لگاتے ہوں اور کیڑے نکالتے ہوں ،بلکہ عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے مین سب سے زیادہ سب سے زیادہ عالم ، سب سے زیادہ نیک ، سب سے  بہادر اور سب سے بڑھ کر متقی اور پرہیز گارہون کہ

یہی ہےرخت سفر میر کارواں کے لیے

یہی وہ صفات  ہیں جن سے قائد کی شان بڑھتی ہے لوگوں کی نگاہ اس کی عزت وعظمت میں اضافہ ہوتا ہے ، سب اس کا احترام کرتے ہیں اور پھر دل وجان سے کسی ہچکچاہٹ  اور خوشامد کے بغیر  کے بغیر ، اس کی اطاعت کرنے لگتے  ہیں ۔ جب یہ بات ہے تو پھر اس کے ماننے والوں کے خلاف یہ طعن وتشنیع کیوں اور یہ شوروغوغا کیسا ؟

اس سلسلے میں اہلسنت نے شیعوں پر جو تنقید کی ہے اگر وہ آپ سنیں اور پڑھیں تو آپ کو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا شیعہ جس کو چاہتے ہیں تمغہ عصمت پہنا دیتے ہیں ۔ یا جو عصمت کا قائل  ہے ہو کوئی کلمہ کفر منہ سے نکال رہا ہے یا گویا وہ معصوم کے متعلق کہہ ہے کہ یہ ایسا دیوتا ہے کہ نہ اس کو اونگھ آتی ہے نہ نیند درحقیقت ایسی کوئی بھی بات نہیں ۔

عصمت ائمہ نہ کوئی عجیب وغریب بات ہے نہ محال وناممکن ۔شیعوں کے نزدیک عصمت کے معنی فقط  یہ ہیں کہ معصوم اللہ تعالی کی خاص   رحمت وحفاظت میں ہوتا ہے کہ شیطان اس کو ورغلا نہیں سکتا اور نفس امارہ اس پر غلبہ پا نہیں سکتا کہ اسے معصیت کی طرف لے جائے ۔ یہ وو بات ہے جس سے اللہ کے دوسرے متقی بندے بھی محروم نہیں ۔ ابھی یہ آیت گزرچکی ہے"إِنَّ الَّذينَ اتَّقَوا إِذا مَسَّهُم طائِفٌ مِنَ الشَّيطانِ تَذَکَّروا فَإِذا هُم مُبصِرونَ"


مگر عام اہل تقوی  کی یہ عصمت وقتی اور عارضی ہوتی ہے اور اسکا تعلق ایک خاص حالت سے ہوتا ہے ۔اگر بندہ تقوی کی کیفیت سے دور ہٹ جائے تو اللہ تعالی  پھر اسے گناہوں سے محفوظ  نہیں رکھتا  مگر امام جسے اللہ منتخب کرتا ہے کسی حالت میں بھی تقوی اور خوف خدا کی راہ سے بال برابر بھی نہیں سرکتا ۔ ہمیشہ گناہوں اور خطاؤں سے محفوظ رہتا ہے

قرآن حکیم میں حضرت یوسف کے قصے میں ہے :

" وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلا أَن رَّأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاء إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ "

اس عورت نے ان کا قصد کیا اور وہ بھی اگر اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھ چکے ہوتے تو قصد کربیٹھتے ۔ پس ہم نے انھیں بچالیا تاکہ ہم ان سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھیں ۔ بیشک وہ ہمارے خاص بندوں میں سے تھے ۔(سورہ یوسف ۔آیت 24)

واضح رہے کہ حضرت یوسف ع نے ہرگز زنا کا قصد نہیں کیا تھا ، کیونکہ معاذاللہ اس قبیح فعل کا قصد انبیاء کی شان نہیں ہے ۔ البتہ آپ نے اس عورت  کوروکنے ، دھکادینے اور ضرورت  ہو تو اس کو مارنے کاقصد  ضرو رکیا تھا ۔ لیکن اللہ تعالی  نے ایسی غلطی کے ارتکاب سے آپ کو بچالیا ۔کیونکہ اگر یہ غلطی ہوجاتی تو آپ پر زنا کی کوشش کا الزام لگ جاتا اور ان لوگوں سے آپ کو نقصان پہنچتا ۔

قرآن شریف میں ایا ہے :

" وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ'

میں اپنے نفس کی برائت کااظہار نہیں کرتا ۔کیونکہ نفس تو برائی ہی سکھا تار ہتا ہے مگر یہ کہ جس پر پر وردگار رحم کرے ۔(سورہ یوسف ۔آیت 53)

جب اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے اپنے دوستوں کو چن لیتا ہے تو پھر


ان کو سکھاتا ہے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے ۔اور ان کو برائی اور گندی باتوں سے بچاتا ہےاور جب ان پر کرتا ہے ، تو انھیں کسی برائی میں ملوث نہیں ہونے دیتا ۔یہ سب اس لیے کرتا ہے کیونکہ وہ اس کے ہر معنی میں خاص بندے ہوتے ہیں۔لیکن اگر کوئی یہ تسلیم کرنا ہی چاہتا کہ اللہ تعالی اپنے خاص الخاص بندوں کو برائیوں سےبچاتا اور گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے تو وہ آزاد ہے ، اس پر  کوئی زبردستی نہیں ۔ ہم اس کی را ئے کا بھی احترام کرتے ہیں ۔ لیکن ان کا بھی فرض ہے کہ دوسروں کی رائے کا احترام کرے جو عصمت ائمہ کے قائل ہیں اور جن کے پاس اپنے دلائل ہیں ۔ خواہ مخواہ انھیں بدنام کرنے کی کوشش نہ کرے ۔جیسا کہ ایک شخص نے کی تھی جو پیرس میں لکچر دینے آیا تھا، یا جیسا کہ افسوس سےکہنا پڑتا ہے کہ اکثر علمائے اہل سنت کرتے ہیں ۔جب وہ اپنی  تحریروں میں اس موضوع کا مذاق اڑاتے ہیں ۔

ائمہ کی تعداد

شیعہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد ائمہ معصومین کی تعداد بارہ ہے ۔ یہ تعداد نہ کم ہوسکتی ہے نہ زیادہ ۔ رسول اللہ ص نے ان ائمہ کی تعداد کے ساتھ  ان کے نام بھی گنوائے ہیں(1) ان کے نام یہ ہیں :

(1):- امام علی بن ابی طالب ع(2):-حسن بن علی ع

(3):-حسین بن علی ع

(4):-علی بن الحسین ع (زین العابدین)

(5):- امام محمد بن علی ع (باقر)

(6):-امام جعفربن محمد ع(صادق)

(7):- امام موسی بن جعفر ع(کاظم)

---------------------

(1):-سلیمان قندوزی حنفی ینابیع المودۃ جزو3 صفحہ 99


(8):- امام علی بن موسی ع (رضا)

(9):- امام محمد بن علی ع (تقی)

(10):- امام علی بن محمد ع (نقی)

(11):-امام حسن بن علی ع(عسکری)

(12):- امام محمد بن حسن ع(مہدی منتظر)

یہ ہیں ائمہ اثناعشر ! جن کی عصمت کے شیعہ قائل ہیں ۔بعض افترا پرداز یہ کہہ کر کچھ مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ شیعہ  اہل بیت کی عصمت کے قائل ہیں اور دیکھو شاحسین بادشاہ  اردن بھی اہل بیت ع  میں سے ہیں اور اسی طرح شاہ حسن ثانی بادشاہ مراکش بھی اہل بیت ع میں سے ہیں ۔ اب تو کچھ لوگ یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ شیعہ امام خمینی کو بھی معصوم مانتے ہیں ۔

یہ ہے مسخرا پن ، افتراء اور سفید جھوٹ ،شیعہ علماء اور اعلی تعلیم یافتہ تو درکنار ، ایسی بات تو شیعہ عوام بھی نہیں کہتے ، ان مسخروں کی جب اور کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی تو وہ سوچتے ہیں کہ شاید اسی طرح وہ لوگوں کو خصوصا توجوانوں کو جو اس قسم کے پروپیگنڈے پر آسانی سا یقین کرلیتے ہیں ، شیعوں سے متنفر  کرسکیں ۔ شیعہ پہلے بھی اور آج بھی فقط ان ہی ائمہ کے معصوم ہونے کے قائل ہیں جن کے نام رسول اللہ نے اس وقت بتلادیے تھے جب وہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ۔ جیسا کہ ہو پہلے  ذکر کرچکے ہیں ، خود بعض علمائے اہل سنت نے ایسی روایات  نقل کی ہیں ۔بخاری ومسلم نے اپنی صحیحین میں ائمہ  کی تعداد سے متعلق حدیث نقل کی ہے جس کے مطابق ائمہ  بارہ ہیں اور وہ سب قریش میں سے ہیں(1) ان احادیث کا مطلب اسی وقت ٹھیک بیٹھتا ہے جب ہم بارہ اماموں  سے مراد ائمہ اہلبیت ع لین جن کے شیعہ قائل ہیں ۔ ورنہ اہل سنت بتلائیں کہ

----------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 127 ۔صحیح مسلم جلد6 صفحہ 3


اس چیستان کا حل کیا ہے؟

اہل سنت نے اپنی صحاح میں ائمہ اثناعشرو الی احادیث تو  نقل کی ہیں لیکن یہ آج تک معماہے کہ ان مراد کون سے بارہ امام ہیں ۔مگر پھر بھی سنیوں  کو یہ توفیق کہاں کہ وہ اس بات کو مان لیں جس کے شیعہ قائل ہیں ۔

ائمہ علم

اہل سنت کا ایک اوراعتراض یہ ہے کہ شیعہ یہ کہتے ہیں کہ ائمہ اہل بیت ع سلام اللہ علیھم کو اللہ تعالی نے ایسا خصوصی  علم عطا کیا ہے جس  میں کوئی ان کا  شریک وسہیم نہیں ہے ۔ اور یہ کہ امام اپنے زمانے کاسب سے بڑا عالم ہوتا ہے  اس لیے یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص امام سے کوئی سوال کرے اور امام سے اس کا جواب بن نہ پڑے

تو کیا شیعوں کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے ؟؟؟

ہم حسب معمول اپنی اس بحث کا آغاز بھی قرآن کریم سے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :" ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا "

پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے ان کو کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے چن لیا۔

اس آیت سے واضح طور پ ر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ  نے اپنے کچھ  بندوں کو چن لیا ہے اور انھیں کتاب کا وارث بنادیا ہے ۔کیا معلوم کرسکتے ہیں کہ یہ چنیدہ بندے کون ہیں ؟

ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ امام علی رضا ع  نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آیت ائمہ اہل بیت ع کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ اس موقع کی بات ہے جب مامون نے چالیس مشہور قاضیوں کو جمع کیا تھا اور اس میں سے ہر  قاضی نے 40 سوال امام ثامن کے لیے تیار کیے تھے ۔امام نے ان سب سوالوں


کے مسکت جواب دیے اور بالآخر سب قاضیوں کو ان کی اعلمیت کا اعتراف کرنا پڑا(1)

جس وقت ان قاضیوں اور امام کے درمیان یہ مناظرہ ہوا اور قاضیوں نے ان کی اعلمیت کا اقرار کیا ، اس وقت امام کی عمر چودہ سال سے بھی کم تھی ۔پھر اگر شیعہ  ان ائمہ کی اعلمیت کے قائل ہیں تو اس میں حیرت کای  کیا بات ہیے جبکہ خود اہل سنت  علماء بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں ۔

اگر ہم قرآن کی تفسیر سے کریں گے تو ہم دیکھیں گے کہ متعدد آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ سبحانہ نے اپنی حکمت بالغہ سے ائمہ  اہل بیت  کو ہو علم لدنی عطا کیا تھا جو ان ہی سے مختص تھا اور یہ ائمہ واقعی ہادیوں کے پیشوا اور اندھیروں کے چراغ تھے ۔

اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

" يُؤتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً كَثِيراً وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الأَلْبَابِ"

ہو جسے چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت عطا ہوگئی اسے بڑی نعمت عطا ہوگئی ۔ اور نصیحت  تو صاحبان  عقل وفہم ہی قبول کرتے ہیں (سورہ بقرہ ۔آیت 269)

ایک اور جگہ ارشاد ہے :

" فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ () وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ()إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ () فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ () لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ "

پس میں قسم کھاتا ہوں  ستاروں کی جگہ  کی اور اگر تم سجھوں تو یہ ایک بڑی قسم ہے  ۔واقعی یہ قابل احترام  قرآن ہے  ایک محفوض کتاب میں جسے کوئی مس نہیں کرسکتا بجز ان کے جو پاک

----------------------

(1):-ابن عبد ربّہ اندلسی عقد الفرید جلد 3 صفحہ 42۔


کیے گئے ہیں "۔

اس آیت میں اللہ نے ایک بڑی قسم کھا کر کہا ہے کہ قرآن کریم میں ایسے باطنی اسرار ہیں جن کی حقیقت صرف ان کو معلوم ہے جو  پاک کیے گئے ہیں ۔یہ پاکیزہ حضرات اہل بیت ع ہیں جن سے اللہ نے ہر طرح کی آلودگی کو دور رکھا ہے ۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قران سے متعلق کچھ باطنی علوم ہیں ، جن کو سبحانہ نے صرف ائمہ اہل بیت سےمختص کیا ہے ۔کسی  دوسرے کو اگر  ان علوم سے آگہی حاصل کرنا ہو تو فقط ان ائمہ کے واسطے سے ہوسکتی ہے ۔

اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

"هُوَ الَّذِيَ أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ في قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاء الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاء تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الألْبَابِ"

وہ اللہ ہی ہے جس نے آپ پرکتاب اتاری ۔اس کی بعض آیتیں محکم ہیں اور جو اس کتاب کامدار ہیں اور بعض متشابہ  ہیں ۔ توجن لوگوں کے دلوں میں کجی  ہے وہ اس حصہ کے پیچھے ہولیتے  ہیں جو متشابہ ہے تاکہ فتنہ برپا کریں اور غلط مطلب نکالیں ،جبکہ اس کا صحیح  کوئی نہیں جانتا سوائے  اللہ کے اور ان لوگوں کے جو علم میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ۔ یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے ۔ اور نصیحت تو عقل والے ہی قبول کرتے ہیں (سورہ آل عمران ۔آیت 7)

اس آیہ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے،  اللہ سبحانہ نے قرآن میں ایسے اسرار ورموز  رکھے ہیں جن کی تاویل یا وہ خود جانتا ہے یا وہ لوگ جو علم میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں


جیسا کہ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے جو گزشتہ اوراق میں نقل کی جاچکی ہیں ،  علم میں دستگاہ  رکھنے والے  یعنی راسخوں فی العلم سے مراد اہل بیت رسول ع ہیں ۔

اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ ص نے فرمایا ہے :" ان سےآگے نہ بڑھو ورنہ ہلاک ہوجاؤ
گے  اور ان سے پیچھے بھی نہ رہو  ورنہ گمراہ ہوجاؤگے  اور انھیں پڑھانے  کی کوشش نہ کرو کہ یہ تم سے زیادہ جانتے ہیں "(1) امام علی ع نے خود بھی کہا تھا :

"کہاں ہیں وہ جو یہ جھوٹا دعوی کرتے ہیں کہ راسخون فی العلم ہم نہیں وہ ہیں ، وہ ہماری مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اونچا درجہ دیا ہے اور ان کو ادنی درجہ ۔ ہمیں اللہ نے منصب امامت دیا اور ان کو محروم رکھا ۔ ہمیں (زمرہ  خواص میں )داخل کیا اور ان کو باہر نکال دیا ۔ہم ہی ہیں جن سے ہدایت  طلب کی جاسکتی ہے اور جن سے بے بصیر تی دور کرنے کے لیے روشنی  مانگی جاسکتی ہے ۔ بلاشبہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے جو اسی قبیلے  کی ایک شاخ بنی ہاشم کی کشت زار سے ابھریں گے ۔ نہ امامت کسی کو زیب دیتی  ہے اور نہ کوئی اس کا اہل ہوسکتا ہے(2) "

اگر ائمہ اہل بیت راسخوں فی العلم نہیں ، تو پھر کون ہے ؟ میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ امت میں سے آج تک ان سے بڑھ کر عالم ہونے کا دعوی کسی نے نہیں کیا ۔

اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

"فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ "

اگر تم نہیں جانتے تو جاننے والوں سے پوچھ لو ۔

-------------------------

(1):- صواعق محرقہ صفحہ 148 ۔ درمنثور جلد 2 صفحہ 60 ۔ کنزالعمال جلد ا صفحہ 168 ۔ اسد الغابہ فی معرفۃ ۔الصحابہ جلد3 صفحہ 137۔

(3):- نہج البلاغہ خطبہ 142


یہ آیت بھی اہل بیت ع کی شان میں نازل ہوئی تھی ۔(1)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد امت کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقائق  معلوم کرنے کے لیے اہل بیت سے رجوع کرے ۔ چنانچہ صحابہ کو جب کوئی بات مشکل معلوم ہوتی تھی  تو وہ اس کی وضاحت  کے لیے امام  علی ع سے رجوع کرتے تھے ۔ اسی طرح عوام مدتوں  ائمہ اہل بیت ع سے حلال وحرام معلوم کرنے کے لیے  رجوع کرتے رہے اور ان کے علوم ومعارف کے چشموں سے فیض یاب ہوتے رہے ۔

ابو حنیفہ کہا کرتے تھے ۔" اگر وہ دوسال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوگا ہوتا "(2)

یہ ان دوسالوں کی طرف اشارہ تھا جن کے دوران میں انھوں نے امام جعفر صادق سے تعلیم حاصل کی تھی ۔

امام مالک کہتے تھے کہ :

"علم وفضل ، عبادت اور زہد ،تقوی کے لحاظ سے جعفر صادق ع سے بہتر کوئی شخص نہ کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کسی کان نے سنا  اور نہ کسی کے تصور میں آیا "۔(3)

جب ائمہ اہل سنت کے اعتراف کے بموجب یہ صورت ہو تو ان تمام دلائل  کے باوجود شیعوں پر طعن وتشنیع کیوں ؟ جب اسلامی تاریخ سے ثابت ہے کہ ائمہ اہل بیت اپنے زمانے میں علم میں سب سے برتر تھے،تو پھر اس  میں حیرت کی کیا بات ہے کہ اللہ سبحانہ ، نے اپنے اولیاء کو جنھیں اس نے چن لیا تھا مخصوص حکمت اور علم لدنی سے نوازا اور انھیں مومنین کا پیشوا اور مسلمانوں کا امام مقرر کردیا ۔اگر مسلمان ایک دوسرے کے دلائل سنیں تووہ ضرور اللہ اور رسول ص کے فرمان

------------------------

(1):-تفسیر طبری جلد 14 صفحہ 134 ۔ تفسیر ابن کثیر جلد 2صفحہ 540 ۔تفسیر قرطبی جلد 11 صفحہ 272۔

(2):- شبلی نعمانی ،سیرت نعمان ۔

(3):-علامہ  ابن شہر آشوب ۔مناقب آل ابی طالب ۔ حالات صادق ع


کو تسلیم کرلیں اور ایسی امت واحدہ بن جائیں  جو ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہو ۔ پھر نہ کوئی اختلاف  رہے نہ تفرقہ ، نہ مختلف نظریات  ومذاہب  ، نہ مسالک یہ سب ہوگا  اور ضرور ہوگا اور جو ہونے والا ہے اس کے مطابق اللہ اپنا فیصلہ ضرور دےگا ۔

" تاکہ جسے برباد ہونا ہو وہ کھلی نشانیاں آنے کے بعد برباد ہو اور جسے زندہ رہنا ہو وہ بھی کھلی نشانیاں آنے کے بعد زندہ رہے "۔(سورہ انفال ۔آیت 48)

بداء

اس کے معنی ہیں کہ اللہ کے سامنے کوئی بات جس کو کرنے کا اس کا ارادہ ہو پھر اس کی رائے بدل جائے  اور پہلے  جس کام کا ارادہ تھا ، وہ اس کے بجائے کچھ اور کرلے ۔

اہل سنت شیعوں کو مطعون کرنے کے لیے بداء کا مطلب اس طرح لیتے ہیں گویا یہ نتیجہ ہے اللہ تعالی کی ذات میں جہل یا نقص کا ۔ اور کہتے ہیں کہ "شیعہ اللہ تعالی کے جہل قائل ہیں "۔

دراصل بداء کا یہ مطلب بالکل غلط ہے ۔ شیعہ اس کے کبھی قائل نہیں رہے ۔ اور جو شخص اس طرح  کاعقیدہ ان سے منسوب کرتا ہے ۔ وہ افتراء پردازی کرتا ہے ۔قدیم وجدید شیعہ علماء کے اقوال  اس کے گواہ ہیں ۔

شیح محمد رضا مظفر اپنی کتاب عقائد الامامیہ  میں کہتے ہیں :

 اس معنی میں اللہ تعالی کے لیے بداء محال ہے کیونکہ یہ نقص ہے اور اللہ تعالی کی لاعلمی ظاہر  کرتا ہے ۔ شیعہ اس معنی بداء  کے ہرگزقائل نہیں ۔ "

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

"جو شخص یہ کہتا ہے کہ بداء کے معنی " ابداء ندامہ کے ہیں ،یعنی اللہ تعالی اپنی کسی رائے کو غلط پاکر اور اس  پر نادم ہوکر


اپنی وہ ر ائے بدل دیتا ہے تو ایسا شخص کافر ہے "۔ امام صادق ہی نے فرمایا ہے کہ

"جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالی  کے بداء کی وجہ سے اس کی لاعلمی ہے ،تو میرا اس سے کوئی تعلق نہیں "  بالفاظ دیگر شیعہ جس بداء  کے قائل ہیں وہ اس قرآنی آیت کے حدود کے اندر ہے:

"يمْحُوالله ما يشاءُ وَ يثْبِتُ وَ عِنْدَهُ اُمُّ الْکِتابِ" اور اللہ جس حکم کو چاہتا ہے مٹا دیتاہے ۔ اور جس کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اصل کتاب اس کے پاس  ہے ۔(سورہ رعد ۔آیت 39)

اس بات کے اہل سنت بھی اسی طرح قائل ہیں  جس طرح شیعہ ۔ پھر شیعوں ہی پر اعتراض کیوں کیاجاتا ہے سنیوں پرکیوں نہیں ۔ وہ بھی تو یہ مانتے  ہیں کہ اللہ تعالی احکام میں تغییر کردیتا ہے ۔ موت کا وقت بدل دیتا ہے اور رزق گھٹا بڑھا دیتا ہے ۔

کیا کوئی پوچھنے والا اہل سنت سے پوچھ سکتا ہے کہ جب سب کچھ  ازل سے ام الکتاب میں لکھا ہوا ہے تو پھر اللہ تعالی اپنی مرضی کے مطابق یہ تغیر وتبدل کیوں کرتا رہتا ہے ؟

ابن مردویہ اور ابن عساکر نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ :

حضرت علی ع نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے  "يمْحُوالله ما يشاءُ وَ يثْبِتُ وَ عِنْدَهُ اُمُّ الْکِتابِ"  کے بارے میں دریافت  کیا تو رسول اللہ نے فرمایا : میں اس کا ایسا مطلب بیان کروں گا کہ خوش ہوجاؤگے  اور میرے  بعد میری امت کی آنکھیں بھی اس سے ٹھنڈی ہوں گی ۔ اگر صدقہ صحیح طریقے سے دیا جائے ، والدین کے ساتھ نیکی کی جائے ، کسی پر احسان کیا جائے ، تو یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ ان سے بدبختی خوش بختی


میں بدل جاتی ہے ، عمر بڑھتی ہے اور بری موت سے حفاظت رہتی ہے "

ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے اور بیہقی نے شعب الایمان یمں قیس بن عبّاد  رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ

"رسول اللہ نے فرمایا کہ اشہر حرم میں سے ہر مہینے کی دسویں تاریخ کی رات کو اللہ تعالی کا ایک خاص معاملہ ہوتاہے رجب کی دسویں تاریخ کو اللہ تعالی  کا ایک خاص معاملہ ہوتا ہے ۔رجب کی دسویں تاریخ کو اللہ تعالی جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور جو چاہتا باقی رکھتا ہے "۔

عبد بن حمید ، ابن جدیر اور ابن منذر نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ

"عمر بن خطاب بیت اللہ کا طواف کررہے تھے اورکہتے جاتے تھےکہ "یا الہی! اگر تونے میری قسمت میں کوئی برائی یا گناہ لکھا ہو تو اسے مٹادے اور اسے سعادت ومغفرت سے بدل دے ۔کیونکہ  تو جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور تیرے ہی پاس ام الکتاب ہے "۔(1)

بخاری نے اپنی صحیح میں ایک عجیب وغریب قصہ بیان کیا ہے ۔معراج النبی کے دوران اپنے پرودرگار سے ملاقات  کا واقعہ بیان کرتے ہو ئے رسول اکرم ص فرماتے ہیں :

"اس کے بعد مجھ پر پچاس  نمازیں فرض کردی گئیں ۔ میں چلتا ہوا موسی ع کے پاس آیا ۔ انھوں نے پوچھا کیا گزری ؟ میں نے کہا : مجھ پر پچاس نمازیں فرض کردی گئی ہیں۔ موسی ع نے کہا : مجھے لوگوں کی حالت کا آپ سے زیادہ علم ہے ۔ مجھے بنی اسرائیل کو قابو میں لانے میں بڑی دشواری کا سامنا کرناپڑا تھا ۔ مناسب یہ ہے

---------------------

(1):- سیوطی ،درمنثور جلد 4 صفحہ 661


کہ آپ اپنے پروردگار کے پاس دوبارہ جائیے اور اس سے کچھ تخفیف کی درخواست کیجیے۔

چنانچہ میں نے واپس جاکر تخفیف کی درخواست کی ۔ اللہ تعالی نے چالیس نمازیں کردیں ۔ میں پھر موسی کے پاس پہنچا تو انھوں نے پھروہی  بات کہی ۔ میں نے واپس جاکر پھر درخواست کی تو تیس نمازیں ہوگیئیں ۔پھر یہی کچھ  ہوا تو بیس ہوگئیں  پھر دس ہوئیں ۔ میں موسی کے پاس گیا تو انھوں نے پھروہی بات کہی اب کے پانچ ہوگئیں ۔ میں پھر موسی کے پاس پہنچا ، انھوں  نے پوچھا کہ کیا کیا ؟میں نے کہا : اللہ تعالی  نے پانچ نمازیں کردیں موسی نے پھر وہی بات کہی ۔ اس مرتبہ جو میں نے سلام کیا تو آواز آئی :" اب میں نے اپنے فریضہ کے بارے میں پختہ حکم دے دیا ہے ۔میں نے اپنے بندوں کا بوجھ کرم کردیا ہے اور میں نیکی کا دس گنا اجر دوں گا "(1)

بخاری ہی میں ایک اور روایت ہے ۔ اس میں ہے کہ : کئی مرتبہ کی مراجعت کے بعد جب پانچ نمازیں  فرض رہ گئیں  تو حضرت موسی نے رسول اکر م ص  سے ایک بار پھر مراجعت  کرنے کےلیے کہا۔ اور یہ بھی کہا کہ آپ کی امت پانچ نمازوں  کی  بھی طاقت نہیں رکھتی  ۔لیکن رسول اکرم ص نے فرمایا : اب مجھے اپنے رب سے کہتے ہوئے شرم آتی ہے ۔(2)

جی ہاں پڑھیے ا ور علمائے اہل سنت کے ان عقائد پر سردھنیے ، اس پر بھی وہ ائمہ اہل بیت ع کے پیروکار شیعوں پر اس لیے اعتراض کرتے ہیں کہ وہ بداء کے قائل ہیں ۔

-----------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 78 کباب بدء الخلق باب ذکر الملائکہ ۔

(2):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 250 باب المعراج ۔صحیح مسلم جلد1 صفحہ 101 باب الاسراء برسول اللہ وفرض الصلوات


اس قصے میں اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی  نے محمد ص اور امت محمدیہ پر اول پچاس نمازیں فرض کی تھیں پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مراجعت کرنے پر اسے یہ مناسب معلوم ہوا کہ نمازوں  کی تعداد چالیس کردے ۔ پھر دوسری دفعہ مراجعت کرنے پر یہ مناسب معلوم ہوا کہ نمازوں کی تعداد تیس  کردے ۔ تیسری دفعہ مراجعت کرنے پر یہ مناسب معلوم  ہوا کہ اس تعداد  کو گھٹا کر بیس کردے ۔ پھر چوتھی دفعہ مراجعت کرنے پر مناسب معلوم ہوا کہ دس کردے ۔پانچویں دفعہ مراجعت کرنے پر مناسب معلوم ہوا کہ پانچ کردے ۔

اور کون جانتا ہے کہ اگر محمد ص اپنے رب سے شرما نہ جاتے تو وہ یہ تعداد ایک ہی کردیتا یا بالکل  معاف کردیتا ۔

استغفراللہ ۔کیسی شرمناک بات ہے !

میرا اعتراض  اس پر نہیں کہ اس قصے میں بداء کیوں ہے ؟ نہیں ، بالکل نہیں  ۔"يمْحُوالله ما يشاءُ وَ يثْبِتُ وَ عِنْدَهُ اُمُّ الْکِتابِ"

ہم پہلے اہل سنت کا یہ عقیدہ بیان کرچکے ہیں کہ والدین سے حسن سلوک صدقات اور دوسروں کے ساتھ بھلائی اور احسان  سے بدبختی ،نیک بختی میں بدل جاتی ہے ، عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور برے طریقے سے موت سے حفاظت ہوجاتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ اسلامی اصولوں اور قرآن کی روح کے عین مطابق ہے ۔ قرآن میں ہے کہ :

"إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسهم"

اللہ تعالی  کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ لوگ خود اپنی حالت نہ بدلیں ۔

اگر ہمارا سب کا یعنی شیعہ اور سنی دونوں کا یہ عقیدہ نہ ہوتا کہ اللہ تعالی تغیر وتبدل کرتا رہتا ہے ،  تو ہماری یہ نمازیں او ردعائیں سب بیکار تھیں ۔ ان کا نہ کوئی فائدہ تھا اور نہ کوئی مقصد۔

ہم سب اس کے قائل ہیں کہ اللہ تعالی  احکام تبدیل کرتا ہے ۔ اسی لیےہر نبی کی شریعت جداہے بلکہ خود ہمارے نبی کی شریعت میں بھی ناسخ ومنسوخ کا


سلسلہ رہا ہے ، ایسی صورت  میں بداء کاعقیدہ نہ کفر ہے نہ دین سے بغاوت ، اہلسنت  کوکوئی حق نہیں کہ اس عقیدے کی وجہ سے شیعون  کو طعنے  دیں ۔ اسی طرح شیعوں کو بھی حق نہیں کہ اہل سنت پن اعتراض کریں ۔

لیکن مجھے مذکورہ بالا قصے پر ضرور اعتراض ہے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی نماز کے بارے میں اپنے پروردگار سے سودے بازی پر ۔ کیونکہ اس میں اللہ جل شانہ ، کی طرف جہل کی نسبت لازم آتی ہے اور تاریخ بشریت کے سب سے بڑے انسان یعنی ہمارے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   کی شخصیت کی توہین ہوتی ہے ۔ اس روایت میں جناب موسی ع حضرت محمد ص سے کہتے ہیں کہ

" أنا أعلم بالنّاس منك"

میں لوگوں کے حالات اور مزاج سے تمھاری نسبت زیادہ واقف ہوں ۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسی ع زیادہ افضل  ہیں  اور اگر وہ نہ  ہوتے تو امت محمدیہ کی عیادت کے بوجھ میں تخفیف نہ ہوتی۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ حضرت موسی ع کو کیسے معلوم ہوا کہ امت محمدیہ پانچ نمازوں کا بھی بوجھ برداشت نہیں کرسکے گی جبکہ خود اللہ تعالی  کو یہ بات معلوم نہیں تھی ، کیونکہ اس نے ناقابل برداشت عبادت کا بو جھ اپنے بندوں پر ڈال دیا تھا اور پچاس  نمازیں ان پر فرض کردی  تھیں ۔

میرے بھائی ذرا تصور کیجیے !پچاس نمازیں  ایک دن میں کیسے ادا کی جاسکتی ہیں ؟ ایسا ہوا تو پھر نہ کوئی مشغلہ ہوگا ، نہ کوئی کام ، نہ تعلیم نہ کمائی ، نہ کوشش نہ ذمہ داری ۔ سب آدمی فرشتے  بن جائیں  گے ، جن کا کام صرف  نمازیں پڑھنا  اور عبادت  کرنا ہوگا ۔ آپ معمولی  حساب لگائیں  تو آپ کو معلوم ہوجائے گا  کہ یہ روایت صحیح نہیں ہوسکتی ۔ اگر ایک نماز میں دس منٹ بھی لگیں  اور یہ ایک باجماعت نماز کے وقت کا معقول اندازہ ہے ، تو دس منٹ کو پچاس  سے ضرب دس لیجیے  تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پچاس نمازیں ادا کرنے میں تقریبا دس گھنٹے لگیں گے ۔ اب یا تو آپ اس افتاد پر صبر کریں یا اس دین کا ہی انکار کردیں جو اپنے ماننے والوں پر یہ  ناقابل برداشت


بوجھ ڈالتا ہے ۔

ہوسکتا ہے یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس حضرت موسی اور حضرت عیسی ع کے خلاف سرکشی کی کوئی قابل قبول وجہ ہو ۔ لیکن اب تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ان کا بوجھ  اتار دیا ہے اور ان کی سب زنجیریں  کاٹ دی ہیں ۔ اب محمد  صلی اللہ  علیہ وآلہ وسلم کا اتباع نہ کرنے کا ان کےپاس کیا بہانہ ہے ۔

اگر اہل  سنت شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں  کہ شیعہ بداء کے قائل  ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ جیسے مناسب سمجھتا ہے تغیّر  تبدل کرلیتا ہے تو وہ اپنے اوپر کیوں اعتراض نہیں کرتے جب  وہ خود یہ کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ  نے جب مناسب سمجھا تو ایک ہی حکم ایک ہی رات یعنی شب معراج میں پانچ دفعہ بدل دیا ۔

براہو اندھے تعصب اور عناد  کاجو حقائق   کو چھپاتا اور الٹا کرکے پیش کرتا ہے ۔ متعصب اپنے مخالف پر حملہ کرنے کے لیے صاف اور واضح امور کا انکار کرگزرتا ہے اور بات بے بات مخالف پر اعتراض کرتا ہے ، اس کے خلاف افواہیں  پھیلاتا ہے  اور ذراسی بات کا بتنگز بنادیتا ہے جبکہ خود بہت زیادہ قابل اعتراض باتیں کہتا ہے ۔ یہاں تک مجھے وہ بات یادآگئی  جو حضرت عیسی علیہ السلام نے یہود سے کہی تھی ۔ آپ نے کہا تھا:

"تم دوسروں کی آنکھ کا تنکادیکھتے  ہو اور اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں دیکھتے " ایک مثال ہے کہ :

بیماری تو اسے تھی مگر وہ مجھ سے یہ کہہ کر کہ یہ بیماری تمھیں ہے خود کھسک گئی "۔

شاید کوئی یہ کہے کہ اہل سنت کے یہاں بداء کا لفظ نہیں آیا ، گو اس کے معنی تو حکم بدلنے ہی کے ہیں لیکن پھر بھی بدا للہ کے الفاظ اہل سنت کے یہاں نہیں ۔

میں اکثر دلیل کے طور پر کہ بداء اہل سنت کے یہاں بھی ہے ۔ معراج


کا قصہ پیش کیا کرتا تھا ۔ اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیاکہ اس میں بداء کا لفظ  نہیں ہے ۔لیکن بعد میں جب میں نے انھیں صحیح بخاری کی ایک راویت رکھائی جس میں صراحت کے ساتھ بداء کا لفظ ہے اور اس میں کسی شک کی گنجائش بھی نہیں ، تو وہ مان گئے ۔

روایت حسب ذیل ہے :

بخاری نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

" بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے : ایک کے جسم پربرص کے سفید داغ تھے ، دوسرا نابینا تھا اور تیسرا گنجا تھا ۔ بد ا للہ ان یبتلیھم " اللہ کویہ (مناسب )معلوم ہوا کہ ان کا امتحان  لے ۔چنانچہ ایک فرشتے کو بھیجا ، جو پہلے مبروص کے پاس آیا اور اس سے پوچھا : تمھیں  سب سے زیادہ کیاچیز پسند ہے؟ اس نے کہا : صاف ستھری جلد اوراچھا رنگ ، کیونکہ لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں ۔ فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی اور خوبصورت رنگ نکل آیا ۔ پھر فرشتے  نے پوچھا ۔ تمھیں کس قسم کا مال پسند ہے ؟ اس نے کہا :اونٹ فرشتے نے اسے ایک دس مہینے کی گیا بھن اونٹنی دے  دی ۔

اس کے بعد فرشتہ گنجے   کے  پاس آیا ۔اس سے پوچھا : تمھیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا : خوبصورت  بال اور میری یہ بیماری جاتی رہے ، مجھ سے لوگ گھن کرتے ہیں ۔ فرشتے  نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کاگنج جاتا رہا  اور عمدہ بال نکل آئے ۔ اس کے بعد فرشتے  نے اس سے پوچھا کہ تمھیں کون سا مال سب سے زیادہ پسند ہے ؟ اس شخص نے کہا: گائیں  فرشتے نے اسے ایک گیا بھن گائے دے دی ۔

اس کے بعد فرشتہ اندھے  کے پاس آیا ۔ اس سے پوچھا !تمھیں


کون سی چیز سب سے زیادہ پسند  ہے؟ اس نے کہا: میں تو بس یہی چاہتا ہون کہ اللہ میری بینائی لوٹادے ۔ فرشتے نے ہاتھ پھیرا تو بینائی وآپس آگئی۔فرشتے  نے پوچھا تمھیں کونسا مال پسند ہے؟ اس شخص نے کہا: بھڑیں ۔ فرشتے نے اسے ایک بچوں والی بھیڑ دے دی ۔

ایک مدت کے بعد جب ان لوگوں کے پاس اونٹ گائیں اور بھیڑیں خوب ہوگئیں  اور ہر ایک کے پاس پورا گلہ ہوگیا تو وہ فرشتہ اسی شکل میں پھر آیا  اور مبروص ،گنجے اور نابینا میں سے ہر ایک کے پاس جاکر ان کے پاس جو جانور تھے ان میں سے کچھ جانور مانگے ،مبروص اورگنجے نے انکار کردیا ۔ اس پر اللہ تعالی نے ان کو پھر ان کی شکل پرلوٹا دیا ۔ نابینا نے جانور دیدیے تو حق تعالی نے اس کے مال میں اور برکت دی اور اسی کی بینائی بھی بحال رکھی(1) "

اس لیے میں اپنے بھائیوں کو یہ ارشاد ربانی یاد دلاتا ہوں :

" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْراً مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاء مِّن نِّسَاء عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْراً مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ"

اے ایمان والو ! نہ مرد مردوں کا مذاق  اڑائیں ، کیا عجب  کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا ،کیا عجب کہ ہو ان سے بہتر ہوں اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کا نام رکھو ۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام ہی برا ہے

------------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 4 باب ماذکر عن بنی اسرائیل


اور جو اب بھی توبہ نہ کریں گے ، وہی ظالم ٹھہریں گے ۔ !(سورہ حجرات ۔آیت 11)

میری ولی خواہش ہے کہ کاش مسلمانوں کو عقل آجائے ، وہ تعصب کو چھوڑیں دیں اور دشمن کے مقابلے میں بھی جذبات سے کام نہ لیں تاکہ ہر بحث میں فیصلہ جذبات کے بجائے عقل سے ہو ۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ ہو بحث وجدال میں قرآن کریم کا اسلوب اختیار کریں۔ اللہ تعالی نے اپنے رسول پر وحی نازل کی تھی کہ وہ مخالفین سے کہہ دیں کہ :

"َإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُّبِين"

کہہ دیجیے :یا ہم راہ راست پر ہیں یا تم ، اسی طرح یا ہم گمراہی میں ہیں یا تم ۔(سورہ سبا ۔آیت 24)

یہ کہہ کر رسول  اللہ نے مشترکین کی  قدر منزلت بڑھادی اور خود ان کی سطح پر آنا منظور کرلیا تاکہ مشرکین کے ساتھ انصاف ہو اور اگر ہو سچے ہوں  تو انھیں بھی اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع مل سکے۔

اب ہمیں اپنا جائزہ لینا چالینا چاہیے کہ ہم ان اعلی اخلاق پر کہاں تک عمل پیرا ہیں !

"صراط عليّ حقّ ٌ نمسّكه"


تقیّہ

ہم گزشتہ بحث میں کہہ چکے ہیں کہ اہل سنت کے نزدیک "بداء" بہت ہی قابل اعتراض اور مکروہ عقیدہ ہے ، اسی طرح تقیہ کو بھی وہ برا سمجھتے ہیں اور اس پر شیعہ  بھائیوں کا مذاق  اڑاتے ہیں بلکہ شیعوں کو منافق سمجھتے  ہیں اور کہتے ہیں  کہ شیعوں  کہ دل میں کچھ اور ہوتا ہے اور ظاہر کچھ اور کرتے ہیں ۔

میں نے اکثر اہل سنت سے گفتگو کرکے انھیں یقین دلانے کی کوشش کی  کہ تقیہ نفاق نہیں ہے لیکن انھیں تو کسی بات کا یقین ہی نہیں آتا سوائے اس  کے جو انھیں ان کی مذہبی عصبیت نے سکھادیا ہے ۔یا جو ان کے بڑوں بزرگوں  نے ان کے دل میں بٹھا دیا ہے ۔

یہ بڑے پوری کوشش کرتے ہیں کہ ان انصاف پسند اور تحقیق کے طالب لوگوں سے جو شیعوں  اور شیعہ عقائد کے متعلق معلومات حاصل کرناچاہتے ہیں ۔ حقائق کو چھپائیں اور یہ کہہ کر انھیں شیعوں سے متنفر کرنے کی کوشش کریں کہ یہ   عبداللہ بن سبایہودی کا فرقہ ہے جو رجعت ، بدا، تقیہ ، عصمت اور متعہ کا قائل ہے اور اس کے عقائد میں بہت سے خرافات اور فرضی باتین شامل ہیں جیسے مثلا مہدی منتظر وغیرہ کا عقیدہ ۔جو شخص ان کی باتوں کو سنتا ہے وہ کبھی اظہار نفرت کرتا ہے اور کبھی اظہار حیرت ۔ اور یہی سمجھتا ہے کہ ان خیالات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، یہ سب شیعوں کی منگھڑت اور فرضی باتیں ہیں ۔ مگر جب کوئی شخص تحقیق کرتا ہے اور انصاف سے کام لیتا ہے تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب عقائد کا اسلام سے گہرا تعلق ہے اور یہ قرآن وسنت کی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں سچ تو یہ ہے کہ اسلامی عقائد وتصورات ان کے بغیر اپنی صحیح شکل اختیار ہی نہیں کرسکتے۔

اہل سنت میں عجیب بات یہ ہے کہ جن عقائد کو وہ با سمجھتے ہیں ، ان ہی


عقائد سے ان کی کتابیں اور احادیث کے معتبر مجموعے بھرے ہوئے ہیں ۔ اب ایسے لوگوں کا کیا علاج جو کہتے ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں ۔ اور جو خود اپنے عقائد کی اس لیے ہنسی اڑاتے ہیں کیونکہ شیعہ ان پر عامل ہیں ۔

ہم بداء کی بحث میں ثابت کرچکے ہیں کہ اہل سنت خود بداء کے قائل ہیں لیکن اگر دوسرے بداء کے قائل ہوں تو ان پر اعتراض کرنے سے نہیں چوکتے ۔اب آئیے دیکھیں تقیہ کے مسئلہ میں اہل سنت والجماعت کیا کہتے ہیں ؟

اس کی بنا پر تو وہ شیعوں پر منافق ہونے کا الزام لگاتے ہیں ۔

ابن جریر طبری اور ابن ابی حاتم نے عوفی کے واسطے سے ابن عباس سے روایت بیا ن کی ہے کہ اس آیت"إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً" کے بارے میں ابن عباس کہتے تھے :"تقیہ" زبان سے ہوتاہے ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی کسی شخص کو ایسی بات کہنے پر مجبور کرے جو اصل میں مصیت ہے تو وہ اگر لوگوں کے ڈر کے مارے وہ بات کہہ دے جب کہ اس کا دل پوری طرح ایمان پر قائم  ہو تو اسے کچھ نقصان نہیں ہوگا یہ بھی یاد رکھو کہ تقیہ محض زبان سے ہوتا ہے "(1)

یہ روایت حاکم نے نقل کی ہے اور اسے صحیح کہا ہے ۔ بیہقی نے بھی اپنی سنن میں عطا عن ابن عباس کے حوالے سے"إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً" (مگر ہاں ایسی صورت میں کہ تم کو ان  سے کچھ اندیشہ ضرر ہو)(سورہ آل عمران ۔آیت 28)۔کا مطلب بیان کرتے ہوئے کہاہے کہ ابن عباس کہتے تھے کہ "تقۃ " کا تعلق زبان سے کہنے سے ہے بشرطیکہ دل ایمان پر قائم ہو "۔عبد بن حمید نے حسن بصری سے روایت بیان کی ہے کہ

"حسن بصری کہتے تھے کہ تقیہ روزقیامت تک جائز ہے "(2)

--------------------

(1):-سیوطی ،تفسیر درمنثور

(2):- سنن بہیقی۔مستدرک حاکم


عبد بن ابی رجاء نے نقل کیا ہے کہ حسن بصری اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے :"إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقيةً" (1)

عبدالرزاق ، ابن سعد ، ابن جریر طبری ، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے  مندرجہ ذیل روایت بیان کی ہے ، حاکم نے مستدر ک میں اسے صحیح کہا ہے ، بیہقی نے دلائل میں اس کو نقل کیا ہے ،روایت یہ ہے: مشرکین نے عمّار یاسر کو پکڑلیا اور اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک عمّار نے نبی اکرم کو گالی نہ دی اور مشرکین کے معبودوں کی تعریف نہ کی۔

آخر جب عمار کو مشرکین نے چھوڑدیا تو وہ رسول اللہ ص کے پاس آئے ۔رسول اللہ نے پوچھا : کہو کیا گزری ؟ عمارکے کہا : بہت بری گزری ، انھوں نے مجھے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک جب تک میں نے آپ کی شان میں گستاخی نہ کی اور ان کے معبودوں کی تعریف  نہ کی ۔ رسول اکرم ص نے پوچھا : تمھارا دل کیا کہتا ہے ؟ عمار نے کہا : میرا دل تو ایمان  پر پختہ اور قائم  ہے ۔ رسول اللہ ص نے فرمایا : اگر وہ لوگ تم پر پھر زبردستی کریں تو پھر ایسے ہی کہہ دینا ۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

"مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ " یعنی جو شخص ایمان لانے کے خداکے ساتھ کفر کرے مگر  وہ نہیں جو کفر پر زبردستی مجبورکردیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطئمن ہو ۔(سورہ نحل ۔ آیت 106)

ابن سعد نے محمد بن سیرین سے روایت بیان  کی ہے کہ رسول اللہ نے دیکھا کہ عمار روہ رہے ہیں ۔ آپ نے ان کے آنسو پونچھے اور کہا : (مجھے معلوم ہے کہ ) کفار

--------------------------

(1):-سیوطی ، درمنثور

(2):-ابن سعد ، طبقات الکبری


نے تمھیں پانی ڈبودیا تھا تب تم نے ایسا کہا ۔اگر ہو پھر تمھارے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں ، تو پھر یہی کہہ دینا ۔(1)

ابن جریر ، ابن منذر ، ابن ابی حاتم نے اور بیہقی نے اپنی سنن میں عن علی عن ابن عباس  کے حوالے سے بیان  کیا ہے کہ

ابن عباس اس آیت کی تفسیر  میں کہتے  تھے" من کفر با لله" کہ اللہ نے خبر دی ہے کہ جس نے ایمان  کے بعد کفر کیا ، اس پر اللہ کا غضب نازل ہوگا اور اس کے لیے سخت عذاب ہے مگر جسے  مجبور کیاگیا اور اس نے دشمن سے بچنے  کے لیے زبان سے کچھ  کہہ دیا مگر اس کے دل میں ایمان ہے اور اس کا دل اس کی زبان کے ساتھ نہیں ، تو کوئی بات نہیں کیونکہ اللہ اپنے بندوں سے صرے اس بات کا مواخذہ کرتا ہے جس پر ان کا دل  جم جائے(2)

ابن ابی شیبہ ، ابن جریر طبری ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت بیان کی ہے کہ یہ آیت مکے کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ ہوا یوں کہ یہ لوگ ایمان  لے آئے  تو انھیں بعض صحابہ  نے مدینے سے لکھا کہ ہجرت کرکے یہاں آجاؤ ۔جب تک تم ہجرت کرکے یہاں نہیں آؤگے  ، ہم تمھیں اپنا ساتھی نہیں سمجھیں گے ۔ اس پر وہ مدینہ کے اردے سے نکلے  ۔راستے میں انھیں  قریش نے پکڑ لیا اور ان پر سختی کی ۔مجبورا انھیں کچھ کلمات کفر کہہنے پڑے  ۔ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی :" إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ " (3) ۔

بخاری نے اپنی صحیح میں باب المداراۃ مع الناس میں ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق ابو لدرداء کہتے تھے ۔

کچھ لوگ ہیں جن سے ہم بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں ،

-------------------

(1):-ابن سعد ،طبقات الکبری

(2):- حافظ احمد بن حسین بیہقی ، سنن الکبری

(3):- سیوطی ، تفسیر درمنثور جلد 2 صفحہ 178


لیکن ہمارے دل ان پر لعنت بھیجتے ہیں ۔(1)

حلبی نے اپنی سیرت میں یہ روایت بیان کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ "جب رسول اللہ ص نے شہر خیبر فتح کیا تو حجاج بن علاط نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ ص ! مکے میں میرا کچھ سامان ہے  اور وہاں میرے گھر والے بھی ہیں ، میں انھیں  لانا چاہتا ہوں ، کیا مجھے اجازت ہے اگر میں کوئی ایسی بات کہہ دوں جو آپ کی شان میں گستاخی ہو ؟ رسول اللہ ص نے اجازت دے دی اور کہا : جو چاہے کہو "(2)

امام غزالی کی کتاب احیاء العلوم میں ہے کہ :

" مسلمان کی جان بچانا واجب ہے ۔اگر کوئی ظالم کسی مسلمان کو قتل کرناچاہتا ہو اور وہ شخص چھپ جائے تو ایسے موقع پر جھوٹ بول دینا واجب ہے "۔(3)

جلال الدین  سیوطی نے اپنی کتاب الاشباہ والنظائر میں ایک راویت بیان کی ہے ۔ اس میں لکھا ہے :

"فاقہ کشی  کی حالت میں مردار کھانا ،شراب میں لقمہ ڈبونا اور کفر کاکلمہ زبان سے نکالنا جائز ہے ۔اگر کسی جگہ حرام ہی حرام ہو اور حلال شاذ ونادر ہی ملتا ہو تو حسب ضرورت حرام  کاا ستعمال  جائز ہے ۔"

ابو بکر رازی نے اپنی کتاب احکام القرآن میں اس آیت"إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً" کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

مطلب یہ ہے کہ تمھیں جان جانے یا کسی عضو کے تلف

---------------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 102

(2):- علی بن برہان الدین شافعی ، انسان العیون المعروف بہ سیرت حلبیہ جلد3 صفحہ 61

(3):-حجۃ الاسلام ابو حامد غزالی ، احیاء علوم الدین  ،


ہوجانے کا اندیشہ ہو تو تم کفار سے بہ ظاہر دوستی کا اظہار کرکے اپنی جان بچاسکتے ہو ۔آیت اللہ کے الفاظ سے یہی معنی نکلتے ہیں اور اکثر اہل علمی اسی کے قائل ہیں ۔ قتادہ نے بھی"لا يتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْکافِرينَ أَوْلِباءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنينَ" کی تفسیر کرتے ہوئے  یہی کہا ہے کہ مومن کے لیے جائز نہیں کہ کسی کافر کادین کے معاملے میں اپنا دوست یا سرپرست بنائے سوائے اس کے ضرر کااندیشہ ہو ۔ قتادہ نے مزید کہا ہے کہ"إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً"  سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقیہ کی صورت میں زبانی کفر کا اظہار جائز ہے "(1)

صحیح بخاری میں عروہ بن زبیر سے روایت ہےکہ حضرت عائشہ نے انھیں بتلایا کہ

ایک دفعہ ایک شخص نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہون ےکی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا : لغو آدمی ہے ، خیر آنے دو ، جب وہ شخص آیا تو آپ نے بڑی نرمی سے اس سے بات چیت کی ۔میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! ابھی تو آپ نے کیا فرمایا  تھا   پھر آپ نے اس سے گفتگو اتنی خوش اخلاقی  سے کی ؟ آپ نے جواب دیا : عائشہ ! اللہ کے نزدیک وہ بدترین آدمی ہے جس سے لوگ اس کی بد زبانی کی وجہ سے بچیں یا اس  کی بد زبانی کی وجہ سے چھوڑدیں(2) ۔

اس قدر تبصرہ یہ دکھانے کے لیے کافی ہے کہ اہل سنت تقیہ کے جواز کے پوری طرح قائل ہیں ۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ تقیہ قیامت  تک جائز رہے گا اور ۔ جیسا کہ غزالی نے کہا ہے ، ان کے نزدیک بعض صورتوں میں جھوٹ بولنا واجب

--------------------------

(1):- ابوبکر رازی ، احکام القرآن جلد 2 صفحہ 10

(2):-صحیح بخاری  جلد 7 ،باب " لم یکن النبی فاحشا ولا متفحشا"


ہے اور بقول رازی جمہور علماء کا یہی مذہب ہے ۔ بعض صورتوں میں اظہار کفر بھی جائز ہے اور ۔ جیسا کہ بخاری اعتراف کرتے ہیں بہ ظاہر مسکرانا اور دل میں لعنت کرنا بھی جائز ہے اور ۔ جیسا کہ صاحب سیرۃ حلبیۃ  نےلکھا ہے ، اپنے مال کے ضائع ہوجانے کے خوف سے رسول اللہ ص کی شان میں گستاخی کرنا بلکہ کچھ بھی کہہ دینا روا ہے اور ۔جیسا کہ سیوطی نے اعتراف کیا ہے لوگوں کے خوف سے ایسی باتیں  کہنا بھی جائز ہے جو گناہ ہیں ۔

اب اہل سنت کے لیے اس کاقطعا جواز نہیں  کہ وہ شیعوں پر ایک ایسے عقیدے کی وجہ سے اعتراض کریں جس کے وہ خود بھی قائل ہیں اور جس کی روایات ان کی مستند حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں جو تقیہ کو نہ صرف جائز بلکہ واجب بتلاتی ہی جن باتوں کے اہل سنت قائل ہیں ، شیعہ ان سے زیادہ کچھ نہیں کہتے ۔ یہ بات البتہ ہے کہ وہ تقیہ پر عمل کرنے میں دوسروں سے زیادہ مشہور ہوگئے ہیں ۔ اوروجہ اس کی وہ ظلم وتشدد ہے جس سے شیعوں  کو اموی اور عباسی  دور میں سابقہ پڑا ۔اس دور میں کسی شخص کے قتل کردیے جانے کے لیے کسی کا اتنا کہہ دینا تھا کہ "یہ بھی شیعیان اہل بیت ع میں سے ہے"۔

ایسی صورت میں شیعوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کارہی نہیں تھا کہ وہ ائمہ اہل بیت علیھم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں تقیہ پر عمل کریں ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :"

"التقية دبنی ودبن آبائی "

تقیہ میرا اور میرے آباء واجداد کا دین ہے ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ" من لا تقية له لا دين له"

جو تقیہ نہیں کرتا ، اس کا دین ہی نہیں ۔

تقیہ خود ائمہ اہل بیت ع کا شعار تھا ، اور اس کامقصد اپنےآپ کو اور اپنے  پیروکاروں  اور دوستوں کو ضرر سے محفوظ رکھنا  ،ان کی جانیں بچانا اور ان مسلمانوں  کی بہتری کا سامان کرنا تھا جو اپنے معتقدات کی وجہ سے تشدد کا شکار ہورہے تھے ،


جیسے مثلا عمار بن یاسر ۔بعض کو تو عمار بن یاسر سے بھی زیادہ تکلیف اٹھانی پڑی ۔ اہل سنت ان مصائب  سے محفوظ تھے کیونکہ ان کا ظالم حکمرانوں کے ساتھ مکمل اتحاد تھا ۔ اس لیے انھیں نہ قتل کا سامنا کرنا پڑا ، نہ لوٹ کھسوٹ کا ، نہ ظلم  وستم کا ۔ اس لیے یہ قدرتی امر ہے کہ وہ نہ صرف  تقیہ کا انکار کرتے ہیں  بلکہ تقیہ کرنے والوں کی بنا پر شیعوں کو بدنام کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے ۔ ان ہی کی پیروی اہل سنت والجماعت نے کی ہے ۔

جب اللہ تعالی نے قرآن میں تقیہ کا حکم نازل فرمایا ہے اورجب خود رسول اللہ نے اس پر عمل کیا ہے ، جیسا کہ بخاری کی روایت میں آپ پڑھ چکے  ہیں ۔ اس کے علاوہ رسول اللہ ص نے عمار بن یاسر  کو اجازت دی کہ اگر کفار پھر ان پر تشدد کریں اور اذیت دیں تو جو کلمات   کفر کفار کہلوانا چاہیں وہ کہہ دیں ۔ نیز یہ کہ قرآن وسنت پر عمل کرتے ہوئے  علماء نے بھی تقیہ کی اجازت دی ہے تو پھر  آپ ہی انصاف سے بتائیں  کہ کیا اس کے بعد بھی شیعوں  پر طعن کرنا اور ان پر اعتراض کرنا درست ہے ؟

صحابہ کرام نے ظالم حمکرانوں کے عہد میں تقیہ پر عمل کیا ہے ۔ اس وقت جبکہ ہرشخص کو جو علی بن ابی طالب پر لعنت کرنے سے انکار کرتا ہے  تھا قتل کردیا جاتا تھا حجر بن عدی کندی اور  ان کے ساتھیوں کاقصہ تو مشہور ہے ۔اگر میں صحابہ کے تقیہ کی مثالیں جمع کروں تو ایک الگ کتاب کی ضرورت  ہوگی ۔ لیکن میں نے اہل سنت کے حوالوں سے جو دلائل پیش کیسے ہیں وہ بحمداللہ کافی ہیں ۔

لیکن اس موقع پر ایک دلچسپ واقعہ ضروربیان کروں گا جو خود میرے ساتھ پیش آیا ۔ ایک دفعہ ہوائی جہاز میں میری ملاقات اہل سنت کے ایک  عالم سے ہوگئی ہم دونوں برطانیہ میں منعقد ہونے والی ایک اسلامی کانفرنس میں مدعوتھے ۔ دوگھنٹے تک ہم شیعہ سنی مسئلے پر گفتگو کرتے رہے ۔ یہ صاحب اسلامی اتحاد کے داعی  اور حامی تھے ۔ مجھے بھی ان میں دلچسپی پیدا ہوگئی  تھی کہ لیکن اس وقت مجھے برا معلوم  ہوا جب انھوں نے یہ کہا شیعوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بعض ایسے عقائد چھوڑدیں جو


مسلمانوں میں پھوٹ ڈالتے اور ایک دوسرے پر طعن وتشنیع کا سبب بنتے ہیں ۔ میں نے پوچھا : مثلا؟

انھوں نے بے دھڑک جواب دیا : مثلا متعہ اور تقیہ ۔

میں نے انھیں سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ متعہ تو جائز ہے اور قانونی نکاح کی ایک صورت ہے اور تقیہ اللہ کی طرف  سے ایک رعایت اور اجازت ہے۔لیکن وہ حضرت اپنی بات پر اڑے رہے اور میری ایک نہ مانے ، نہ ہی میرے دلائل انھیں قائل کرسکے ۔

کہنے لگے : جو کچھ آپ نے کہا ہے ، ممکن ہے کہ وہ صحیح ہو ،لیکن مصلحت یہی ہے کہ مسلمانوں کی وحدت کی خاطر ان چیزوں کو ترک کردیا جائے ۔

مجھے  ان کی منطق عجیب معلوم ہوئی ، کیونکہ وہ مسلمانوں کی وحدت کی خاطر اللہ کے احکام کو ترکرنے کامشورہ دے رہے  تھے ۔ پھر بھی میں نے ان کا دل رکھنے  کو کہا : اگر مسلمانوں کا اتحاد اسی پر موقوف ہوتا تو میں پہلا شخص ہوتا جو یہ بات مان جاتا ۔

ہم لندن ایرپورٹ پر اترے تومیں ان کے پیچھے چل رہاتھا ۔ جب ہم ائر پورٹ پولیس کے پاس پہنچے تو ہم سے برطانیہ آنے کی وجہ پوچھی گئی ۔

ان صاحب نے کہا: میں علاج کے لیے آیا ہوں ۔ میں نے کہا کہ میں اپنے دوستوں سے ملنے آیا ہوں ۔ اس طرح ہم دونوں  کسی وقت کے بغیر وہاں سے گزر کر اس ہال میں پہنچ گئے جہاں سامان وصول کرنا تھا ۔ اس وقت میں نے چپکے سے ان کے کان میں کہا کہ :آپ نے دیکھا  کہ کیسے تقیہ (نظریہ ضرورت) ہر زمانے میں کارآمد ہے ؟ کہنے لگے : کیسے ؟

 میں نے کہا: ہم دونوں نے پولیس سے جھوٹ بولا ۔میں نے کہا میں دوستوں سے ملاقات کے لیے آیا ہوں ، اور آپ نے کہا کہ میں  علاج کے لیے آیا ہوں ۔ حالانکہ ہم دونوں کا نفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہیں ۔

وہ صاحب کچھ دیر مسکرائے ۔سمجھ گئے تھے کہ میں نے ان کا جھوٹ سن لیا ۔


پھر کہنے لگے :کیا اسلامی  کانفرنسوں میں ہمارا روحانی علاج نہیں ہوتا ؟

میں  نے ہنس کر کہا : تو کیا اس کانفرنسوں میں ہماری اپنے دوستوں سے ملاقات نہیں ہوتی ؟

اب میں پھر اپنے موضوع پر واپس آتا ہوں ۔میں کہتا ہوں کہ اہل سنت  کیا یہ کہنا غلط ہے کہ تقیہ نفاق کی کوئی شکل ہے بلکہ بات اس کی الٹ ہے کیونکہ نفاق کے معنی ہیں : ظاہر میں ایمان اور باطن میں کفر ۔ اور تقیہ کے معنی ہیں ظاہر میں کفر اور باطن میں  ایمان ۔ ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ نفاق کے متعلق اللہ سبحانہ نے فرمایا ہے :

" وَإِذَا لَقُواْ الَّذِينَ آمَنُواْ قَالُواْ آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْاْ إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُواْ إِنَّا مَعَكْمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ " جب وہ منوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی مومن ہیں اور جب اپنے شیطان کے ساتھ تنہائی میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں ۔ ہم تو مذاق کررہے تھے (سورہ بقرہ ۔آیت 14)

اس کا مطلب ہوا: ایمان ظاہر + کفر باطن = نفاق

تقیہ کے بار ے میں اللہ سبحانہ وتعالی نے کہا ہے :

"وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ"

فرعون کی قوم  میں سے ایک مومن شخص نے جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا کہا  ۔۔۔۔

اس کا مطلب یہ ہوا : کفر ظاہر + ایمان باطن =تقیہ

یہ مومن آل فرعون  اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا جس کا علم سوائے  اللہ کے کسی کو نہیں تھا ۔ وہ فرعون  اور ایک دوسرے سب لوگوں کے سامنے یہی ظاہر کرتا تھا کہ وہ فرعون کے دن پر ہے ۔ اللہ تعالی نے اس کا ذکر قرآن کریم میں تعریف کرے انداز میں کیا ہے ۔


اب قارئین  باتمکین آئیے  دیکھیں ! خود شیعہ تقیہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں تاکہ ان کے بارے میں جو غلط سلط باتیں مشہور ہیں ۔ جو جھوٹ بولا جاتا ہ اور طوفان اٹھایا جاتا ہے ، ہم اس سے دھوکا نہ کھانے پائیں ۔

شیخ محمد رضا مظفّر اپنی کتاب عقائد الامامیہ میں لکھتے  ہیں :

تقیہ بعض موقعوں پر واجب ہے اور بعض موقعوں پر  واجب نہیں ۔ اس کا دارومدار اس پر ہے کہ ضرر کا کتنا خوف ہے  تقیہ کے احکام فقہی کتابوں کے مختلف ابواب میں علماء نے لکھے ہیں ۔ ہر حالت میں تقیہ واجب نہیں ۔ صرف بعض صورتوں میں تقیہ کرنا جائز ہے ۔ بعض صورتوں میں تو تقیہ نہ کرنا واجب ہے ۔ مثلا اس صورت  میں جب کہ حق کا اظہار ، دین کی مدد ، اسلام کی خدمت اور جہاد ہو ۔ ایسے موقع پر جان ومال کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جاتا بعض صورتوں میں تقیہ حرام ہے یعنی ان صورتوں میں جب تقیہ کا نتیجہ خون ناحق ، باطل کا رواج یا دین میں بگاڑ  ہو یا تقیہ کے باعث مسلمانوں کا سخت  نقصان ہونے مسلمانوں میں گمراہی پھیلنے یا ظلم وجور کے فروغ پانے کا اندیشہ ہو۔

بہر حال شیعوں کے نزدیک تقیہ کا جو مطلب ہے وہ ایسا نہیں کہ اس کی بنا پر شیعوں کو تخریبی مقاصد کی کوئی خفیہ پارٹی سمجھ لیا  جائے ، جیسا کہ شیعوں کے بعض وہ غیر محتاط دشمن چاہتے ہیں جو صحیح بات کو سمجھنے  کی تکلیف گوارا نہیں کرتے ۔ اہم  غیر محتاط شیعوں سے بھی کہیں گے کہ

اقوال غیر جو پئے اسلام ہیں مضر

اپنی زباں سے ان کی حکایت نہ کیجیئے

اسی طرح تقیہ کے یہ بھی معنی نہیں کہ اس کی وجہ سے دین اور اس کے احکام ایسا راز بن جائیں جسے شیعہ مذہب کو نہ


ماننے   والوں کے سامنے ظاہر نہ کیا جاسکے  ۔ اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جبکہ شیعہ  علماء کی تصانیف خصوصا ان کی فقہ  ،احکام عقائد اور علم کلام سے متعلق کتابیں مشرق ومغرب میں ہر جگہ  اتنی تعداد میں پھیلی ہوئی ہیں کہ اس سے زیادہ تعداد کی  کسی مذہب  کے ماننے والوں سے توقع نہیں کی جاسکتی "۔

اب آپ خود دیکھ لیجیے کہ دشمنوں کے خیال کے بر خلاف یہاں نہ نفاق  ہے نہ مکر وفریب ، نہ دھوکا ہے نہ جھوٹ!

متعہ : معین مدت کا نکاح

 جس طر ح تمام  مسلمان فقہوں  میں نکاح کے لیے  یہ شرط ہے کہ لڑکی اور لڑکے کی طرف سے ایجاب وقبول کیاجائے اور مہر معین کیا جائے ، اسی طرح سے متعہ میں بھی مہر کو معین  کیاجانا ضروری ہے ۔ نیز طرفین کی طرف سے ایجاب وقبول بھی شرط ہے : مثلا :

لڑکی لڑکے سے کہے : " زوّجتك نفسي بمهرٍ قدره كذا ولمدّةٍ كذا .(1)

اس پر لڑکا کہے :قبلتُ       یا کہے :رضيتُ

شریعت اسلام میں عام طور سےجتنی شرطیں  نکاح کےلیے مقرر کی گئی ہیں کم وبیش وہ تمام شرطیں  متعہ کے لیے بھی مقرر کی گئی ہیں ۔ مثلا جس طرح محرم سے(یا ایک ہی وقت میں دوبہنوں سے ) نکاح نہیں ہوسکتا  اسی طرح متعہ بھی نہین ہوسکتا (اور جس طرح بعض فقہا کے نزدیک اہل کتاب سے نکاح جائز ہے اسی طرح متعہ بھی جائز ہے ) اور جس طرح نکاح کے بعد طلاق ہوجانے پر منکوحہ کے لیے عدت ضروری ہے جس کے بعد ہی وہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے اسی طرح ممتوعہ بھی متعہ کے بعد

--------------------

(1):- کذا وکذا کی بجائے  رقم اور متعہ کی مدت بولے ۔


عدت  میں بیٹھی ہے اور عدت پوری کرنے کے بعد ہی دوسرا متعہ یا نکاح کرسکتی ہے ۔ممتوعہ کی عدت دو طہر (یا پینتالیس دن) ہے لیکن شوہر  کے مرجانے کی صورت میں یہ مدت چار ماہ دس دن ہے ۔

متعہ کی خصوصیت  یہ ہے کہ  اس میں نہ  نفقہ ہے نہ میراث ، اس لیے متعہ کرنے والے مرد اور عورت ایک دوسرے  سے میراث نہیں پاتے ۔

متعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ نفقہ ہے  نہ میراث ، اس لیے  متعہ کرنے والے مرد اور عورت ایک دوسرے  سے میراث نہیں پاتے ۔ متعہ سے پیدا ہونے والے   بچے نکاح سے پیدا ہونے والے بچے کی طرح حلالی ہوتے ہیں اور انھیں عام بچوں  کی طرح میراث اور نفقہ (روٹی ،کپڑا ،مکان ،دوا  دارو وغیرہ )کے تمام حقوق  حاصل ہوتے  ہیں  اوران کا نسب اپنے باپ  سے چلتا ہے ۔ یہ ہیں متعہ کی شرائط اور حدود ۔اس کا حرام کاری سے دور کا بھی تعلق نہیں ، جیسا کہ بعض غلط الزام لگانے والے  اوربیجا شورمچانے والے سمجھتے ہیں ۔ اپنے شیعہ بھائیوں  کی طرح اہل سنت والجماعت کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ سورہ نساء کی آیت 24  میں اللہ تعالی کی طرف سے متعہ کی تشریع کی گئی ہے آیت یہ ہے :

" فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيماً حَكِيماً"

پس جن عورتوں س تم نے متعہ کیا ہے تو انھیں جو مہر مقرر کیا ہے دے دو اور مہر کے مقرر ہونے کے بعد اگر آپس میں (کم وبیش پر راضی ہوجاؤ تو اس میں  تم پر کچھ گناہ نہیں پیشک  خدا ہر چیز سے واقف اور مصلحتوں کا جاننے والا ہے ۔ اسی طرح اس پر بھی شیعہ اور سنی دونوں کا اتفاق  ہے کہ رسول اللہ نے متعہ کی اجازت دی تھی اورصحابہ نے عہد نبوی میں متعہ کیا تھا ۔

اختلاف  صرف اس پر ہے کہ کیا متعہ کا حکم منسوخ ہوگیا یا اب بھی باقی  اہل سنت اس کے منسوخ ہوجانے کے قائل  ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلے متعہ حلال تھا پھر حرام کردیاگیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ نسخ حدیث سے ہوا ہے قرآن سے نہیں


اس کے برخلاف شیعہ کہتے ہیں کہ متعہ منسوخ ہی نہیں ہوا ۔یہ قیامت تک جائز رہے گا ۔

فریقین کے اقوال پر ایک نظر ڈالنے  سے حقیقت واضح  ہوجائے گی  اور قارئین  باتمکین کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ تعصب  اور جذبات  سے بالاتر ہوکر حق کا اتباع کرسکیں ۔

شیعہ  جو یہ کہتے ہیں کہ  متعہ منسوخ نہیں ہوا اور یہ قیامت تک جائز رہے گا  ۔ اس کے متعلق ان کے اپنی دلیل ہے ۔ وہ کہتے  ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ ثابت نہیں کہ رسول اللہ نے کبھی متعہ سے منع کیا ہو۔

اس کے علاوہ ہمارے ائمہ جو عترت طاہرہ سے ہیں اسے کے حلال اور جائز ہونے کے قائل ہیں ۔ اگر متعہ منسوخ ہوگیا ہوتا تو ائمہ اہل بیت کو اور خصوصا امام علی ع کی ضرور اس کا علم  ہوتا کیونکہ گھر کا حال  گھر والوں  سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے ۔!

ہمارے نزدیک جو بات ہے ، وہ یہ ہے کہ عمر بن خطاب نے اپنے  عہد  خلافت میں اسے حرام قراردیا تھا ، لیکن یہ ان کا اپنا اجتہاد تھا ۔ اس بات کو علمائے  اہل سنت بھی  تسلیم کرتے ہیں لیکن ہم اللہ اور اس کے رسول ص کے احکام کو عمر بن خطاب کی رائے  اور اجتہاد  کی بنا پر نہیں چھوڑ سکتے ۔

یہ ہے متعہ کے بارے میں شیعوں کی رائے  کا  خلاصہ ، جو بظاہر بالکل درست اور صحیح ہے ۔کیونکہ سب مسلمان اللہ اوراس کے  رسول  ص کے احکام کی پیروی کرنے کے مکلف  ہیں ، کسی اور کی رائے کی نہیں ، خواہ اس کا رتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو خصوصا اگر اس کا اجتہاد  قرآن وحدیث کے نصوص کے خلاف ہو ۔

اس کے برعکس ، اہل سنت  والجماعت یہ کہتے ہیں کہ  متعہ پہلے حلال تھا ، اس کے متعلق قرآن میں آیت بھی اتر آئی  تھی ، رسول اللہ ص نے اس کی اجازت بھی دی تھی ، صحابہ ن ےاس پر عمل بھی کیا تھا لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا  کسی نے منسوخ کیا ۔ اس میں اختلاف کیا ہے :

 کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود انپی وفات


سے قبل منسوخ کردیا تھا۔(1)

کچھ کا کہنا ہے کہ عمر بن خطاب نے متعہ کو حرام کیا اور ان کاحرام کرنا ہمارے لیے حجت ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کافرمان ہے کہ " میری سنت اورمیرے بعد آنے والے خلفا ئے راشدین کی سنت پر چلو اور اسے دانتوں  سے مضبوط پکڑ لو۔"

اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ  متعہ اس لیے حرام ہے کہ عمر بن خطاب نے اسے حرام کیا تھا اور سنت عمر کی پابندی  اور پاسداری ضروری ہے ، توایسے لوگوں سے تو کوئی گفتگو اور بحث  بیکار  ہے ،کیونکہ ان کا یہ قول  محض تعصب  اور تکلف بے جاہے ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی مسلمان  اللہ اور رسول  ص کا قول چھوڑ کر اور ان کی مخالفت کرکے کسی ایسے مجتہد  کی رائے پر چلنے لگے جس کی رائے  بنا بر بشریت صحیح کم ہوتی ہے  اور غلط زیادہ ۔ یہ صورت بھی اس وقت ہے جب اجتہاد کسی ایسے مسئلے  میں ہو جس کے بارے میں قرآن وسنت میں کوئی تصریح  نہ ہو ۔ لیکن اگر کوئی تصریح موجود  ہو تو پھر حکم خداوندی یہ ہے :

"وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِيناً"

جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کردیں تو پھر اس بات میں کسی  مومن  مرد  اور کسی مومن عورت کو کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول  کی نافرمانی  کی وہ بالکل گمراہ ہوگیا ۔(سورہ  احزاب ۔آیت 36)

جسے اس قاعدہ  پر مجھ سے اتفاق نہ ہو اس کے لیے اسلامی قوانین کے

------------------------

(1):-یہ بات وثوق سے معلوم نہیں کہ رسول اللہ ص نےکب منسوخ کیا تھا: کچھ لوگ  کہتے ہیں کہ روزخیبر اور کچھ کہتے ہیں  کہ روزفتح  مکہ اور کچھ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں اور کچھ  کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں اور کچھ کہتے ہیں عمرۃ القضا میں  رسول اللہ  ص نے منسوخ کیا تھا (ناشر)


بارے میں اپنی معلومات پر نظر ثانی کرنی اور قرآن وحدیث کا مطالعہ کرناضروری ہے کیونکہ قرآن خود مذکورہ بالا آیت میں بتلاتا ہے کہ جو قرآن سنت کو حجت  نہیں مانتا وہ کافر اورگمراہ ہے ۔ اور ایک اسی آیت پر کیا موقوف ہے  قرآن میں ایسی  متعدد آیات موجود ہیں ۔ اسی طرح اس بارے میں احادیث بھی بہت ہیں ، ہم صرف ایک حدیث نبوی پر اکتفاء کریں گے ۔

رسو ل اللہ نے فرمایا  : "جس چیز  کو محمد  ص نے حلال  کیا وہ قیامت تک کے لیے حلال ہے اورجس چیز کو محمد ص نے حرام کیا وہ قیامت  تک کے لیے حرام ہے "۔

اس لیے کسی کو  یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ  کسی ایسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں فیصلہ کرے جس کے متعلق اللہ یا اس کے رسول  کا حکم موجود ہو

تکمیل  دین کے بعد  نہ ترمیم سوچیے

بندہ نواز ! آپ رسالت نہ کجیے

اس کے باوجود  بھی جو لوگ یہ چاہتے  ہیں گہ ہم یہ مان لیں کہ خلفائے  راشدین کے افعال واقوال اور ان کے اجتہادات پر عمل ہمارے لیے ضروری  ہے ، ہم ان سے صرف اتنا عرض کریں گے کہ :

"کیا تم ہم سے  اللہ کے بارے میں حجت کرتے ہو؟ ہو تو ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمھارا  بھی ۔ ہمارے  اعمال  ہمارے لئے ہیں  اور تمھارے  اعمال  تمھارے  لیے ۔ اور ہم تو اسی کے لیے  خالص ہیں ۔ (سورہ بقرہ ۔ آیت 139)

لہذا ہماری بحث کا تعلق صرف اس گروہ سے ہے جو یہ کہتا ہے کہ رسول اللہ ص نے خود متعہ کو حرام قراردیا تھا اور یہ کہ  قرآن کا حکم حدیث سے منسوخ ہوگیا(1)

---------------------------

(1):- واضح رہے کہ حدیث سے قرآن کا حکم منسوخ نہیں ہوتا کیونکہ قانون سازی انبیاء کا کام نہیں ہے ، ان کا کام تو بس یہ ہے کہ اللہ کے بنائے ہوئے قانون  اسے کے بندوں تک پہنچادیں" وما علی الرّسول الّا البلاغ المبين" (ناشر)


مگر  ان لوگوں کے اقوال میں بھی تضاد ہے اور ان کی دلیل کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ۔اگر چہ ممانعت  روایت صحیح مسلم میں آئی ہے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خود رسول اللہ ص نے متعہ کی ممانعت فرمادی تھی  تو اس کے علم ان صحابہ کو کیوں  نہیں ہوا جنھوں ن ےعہد ابو بکر میں ان عہد عمر کے اوائل میں متعہ کیا ، جیسا کہ اس کی روایت خود صحیح مسلم میں ہے(1)

عطاء کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ انصاری کے لیے آئے تو ہم ان کی قیام گاہ پر گئے ۔ لوگ ان سے ادھر ادھر کی باتیں پوچھتے  رہے ۔ پھر متعہ کا ذکر چھڑ گیا ۔جابر نے کہا : ہاں ہم نے رسول اللہ کے زمانے  میں بھی متعہ کیا ہے(2) اور ابو بکر  اور عمر کے عہد میں بھی ۔

اگر رسول اللہ ص متعہ کی ممانعت کرچکے ہوتے تو پھر ابو بکر اور عمر کے زمانے میں صحابہ کے لیے  متعہ کرنا جائز نہ ہوتا ۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ص نے نہ متعہ کی ممانعت کی تھی اور نہ اسے حرام قراردیا تھا ۔ ممانعت تو عمر بن خطاب نے کی ۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں آیا ہے :

ابو رجاء ن ےعمران بن حصین سے روایت کی ہے کہ ابن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ متعہ کی آیت کتاب اللہ میں نازل ہوئی تھی چنانچہ ہم نے اس وقت متعہ کی جب ہم رسول اللہ ص کے  ساتھے تھے ، قرآن میں کبھی متعہ کی حرمت نازل نہیں ہوئی ، اور نہ رسول اللہ ص نے اپنی وافات تک متعہ سے منع کیا ۔ اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے  سے جو چاہا کہا ۔

محمد کہتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے تھے کہ ایک شخص سے مراد عمر

--------------------------

(1):-صحیح مسلم جلد 4 صفحہ 158

(2):- مثلا زبیر بن العوام نے حضرت ابوبکر کی بیٹی اسماء سے متعہ کیا تھا ۔ اس متعہ کے نتیجے  میں عبداللہ بن زبیر اور عروہ بن زبیر پیداہوئے تھے ۔ جیسا کہ امام اہلسنت راغب اصفہانی نے محاضرات الادباء میں لکھا ہے (ناشر)


ہیں(1) ۔

اب دیکھیے ! رسول اللہ ص نے اپنی وفات تک متعہ سے منع نہیں کیا ۔جیسا کہ یہ صحابی تصریح کرتے ہیں ۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ نہایت صاف الفاظ میں اور بغیر کسی ابہام کے متعہ کی حرمت  کو عمر سے منسوب کرتے ہیں  ۔اور یہ بھی  کہتے ہیں  کہ عمر نے جو کچھ کہا اپنی رائے سے کہا ۔

اور  دیکھیے :

جابر بن عبداللہ انصاری صاف کہتے  ہیں کہ ہم رسول اللہ  کے زمانے میں اور ابوبکر کرے عہد خلافت میں ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی  آٹے کے عوض متعہ کیا کرتے تھے ۔ آخر عمر نے عمرو بن حریث کے قصے میں اس کی ممانعت کردی(2) ۔

روایات  سے معلوم ہوتا ہے  کہ چند دوسرے  صحابہ بھی حضرت عمر  کی رائے  سے متفق تھے لیکن اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ۔ بعض صحابہ تو اس وقت بھی عمر کے ساتھ تھے جب انھوں نے رسول اللہ پر ہذیان گوئی کی تہمت لگائی تھی اور کہا  تھا کہ ہمارے لیے کتاب خدا کافی ہے ۔

اور سنیے ! ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں جابر کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا : ابن عباس اور ابن زبیر کے درمیان متعین  کے بارےمیں  اختلاف  ہوگیا ہے ۔ اس پر جابر نے کہا : ہم نے رسول اللہ کے زمانے  میں دونوں متعے کیے ہیں ،بعد میں عمر نے ہمیں منع کردیا  تو  پھر ہم نے کوئی متعہ نہیں کیا(3) ۔

اس لیے ذاتی طور  پر میرا خیال یہ ہے کہ بعض صحابہ ن ےجو متعہ کی

---------------------

(1):-صحیح بخاری جلد 5 صفحہ 158

(2)(3):- صحیح مسلم جلد 4 صفحہ 131


ممانعت  رسول اللہ سے منسوب کی ہے اس کامقصد محض عمر کی رائے  کی تصویب اور تائید تھا ۔ ورنہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ ص کسی ایسی چیز کو حرام قراردیں  جسے قرآن نے حلال ٹھہرایا ہو ۔ تمام اسلامی احکام میں ہمیں ایک بھی ایسا حکم معلوم نہیں کہ اللہ جل شانہ نے کسی چیز کو حلال کیا ہو اور رسول اللہ ص نے اسے حرام کردیا ہو ۔ اس کا کوئی قائل بھی نہیں ۔ البتہ معاند اور متعصب کی بات اور ہے ۔

اگر ہم برائے بحث یہ مان بھی لیں کہ رسول اللہ ص نے متعہ کی ممانعت فرمادی تھی ،تو امام علی ع کو کیا ہوگیا تھا کہ انھوں نے نبی اکرم ص کے خاص  مقرّب ہونے   کے باوجود اور اسلامی احکام کی سب سے زیادہ واقفیت رکھنے کے باوصف فرمادیا کہ

"متعہ تو اللہ کی رحمت  اور بندوں پر اس کا خاص احسان ہے  اگر عمر اس کی ممانعت نہ کردیتے تو کوئی بدبخت ہی زناکرتا "(1)

اس کے علاوہ  خود عمر بن خطاب نے بھی یہ نہیں کہا کہ رسول اللہ ص نے متعہ کی ممانعت کردی تھی بلکہ صاف صاف یہ کہا تھا کہ" متعتان كانتا على عهدرسول الله وأنا أنهى عنهما وأعاقب عليهما: متعة الحج ومتعة النساء."

دو متعے  رسول اللہ ص کے زمانے میں تھے ۔ اب میں ان کی ممانعت کرتاہوں اور جو یہ متعے کرے گا اسے سزادوں گا ۔ان میں ایک متعہ حج ہے اور دوسرا عورتوں کے ساتھ متعہ ہے ۔(2) حضرت عمر کا ییہ قول مشہور ہے ۔

مسند امام احمد  بن حنبل اس بات کی بہترین گواہ ہے کہ اہل سنت والجماعت میں متعہ کے بارے میں سخت اختلاف ہے : کچھ لوگ رسول اللہ کا اتباع کرتے ہوئے  اس کے حلال ہونے کے قائل ہیں اور کچھ لوگ عمربن خطاب کی پیروی میں اسے

------------------------

(1):- تفسیر ثعلبی ۔ تفسیر طبری۔

(2):- فخر الدین رازی ، تفسیر کبیر" فمااستمتعتم به منه ن " کی تفسیر کے ذیل میں ۔


حرام کہتے ہیں ۔امام احمد نے روایت  کی ہے :

 ابن عباس بیان کرتے ہیں  کہ ایک دفعہ انھوں نے کہہ دیا کہ رسول اللہ نے متعہ کرنے کو کہا ہے ، تو عروہ بن زبیر نے کہا : متعہ سے تو ابوبکر اور عمر نے منع کردیا تھا ۔ ابن عباس بولے : یہ عروہ کا بچہ کیا کہتا ہے ؟ کسی نے کہا : یہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر نے متعہ سے منع کردیا تھا ۔ابن عباس نے کہا :مجھے تو ایسا نظر آرہا ہے کہ یہ لوگ جلد ہی ہلاک ہوجائیں گے ۔ میں کہتا ہوں : رسول اللہ ص نے کہا: اور یہ کہتے ہیں کہ ابو بکر اور عمر نے منع کردیا ۔(1)

جامع ترمذی میں ہے کہ

عبداللہ  بن عمر سے حج کے متعہ کے بارےمیں  کسی نے سوال کیا تو انھوں نے کہا: جائز ہے  ۔ پوچھنے  والے نے کہا :آپ کے والد نے تو اس سے منع کیا تھا ۔ ابن  عمر نے کہا: کیا خیال ہے ، اگر  میرے والد تمتع سے منع کریں اور رسول اللہ نے خود تمتع کیا ہو تو میں اپنے والد کی پیروی کروں یا رسول اللہ ص ے حکم  کی ؟ اس نے کہا: ظاہر ہے ،رسول اللہ ص کے حکم کی(2) :

اہل سنت  والجماعت نے عورتوں کے متعہ کے بارےمیں تو عمر کی بات مان لی لیکن متعہ حج کے بارے میں ان کی بات نہ مانی  ۔حالانکہ عمر نے ان دونوں سے ایک ہی موقع پر منع کیا تھا ۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ۔

اس پورے قصے میں اہم بات یہ ہے کہ ائمہ اہل بیت  ع اور ان کے شیعوں نے عمر کی بات کو غلط بتایا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ دونوں  متعے قیامت تک حلال  اور جائز رہیں گے کچھ علمائے اہلسنت نے بھی اس بارے میں ائمہ اہل بیت

------------------------

(1):- مسند امام احمد بن حنبل جلد 11 صفحہ 337

(2):- جامع ترمذی جلد اول صفحہ 157


کا اتباع کیا ہے ۔ میں ان میں سے تیونس کے مشہور عالم اور زیتونیہ یونیورسٹی سربراہ شیخ طاہر بن عاشور رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر  کروں گا ۔ انھوں نے اپنی مشہور تفسیر  التحریر والتنویر میں آیت"  فمااستمتعتم به منهن" کی تفسیر کے ذیل میں متعہ کو حلال کہا ہے(1) ۔

علماء کو اسی طرح اپنے عقیدے میں آزاد ہونا چاہیے  اور جذبات اورعصبیت  سے متائثر نہیں ہونا چاہیے  اور نہ کسی کی مخالفت کی پروا کرنی چاہیے ۔ اس معاملے میں فیصلہ کن اورناقابل تردید دلائل شیعوں کی تایید میں موجود ہیں اور جن کے سامنے انصاف پسند اور ضدی طبیت دونوں کو سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے" الحق يعلو  ولايعلی عليه"

حق  ہی غالب رہتا ہے ، کوئی اسے مغلوب نہیں کرسکتا ! مسلمانوں کو تو امام علی ع کا یہ قول یادرکھنا چاہیے کہ " متعہ رحمت ہے اور یہ اللہ کا احسان ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے"۔

اور واقعی اس سے بڑی رحمت کیا ہوسکتی ہے کہ متعہ شہوت کی بھڑکتی  ہوئی آگ کو بجھا تا ہے جو کبھی کبھی انسان  کو مرد  ہویا عورت  اس طرح بے بس   کردیتی ہے کہ وہ درندہ بن جاتا ہے ۔کتنی ہی عورتوں  کو مرد اپنی شہوت کی آگ  بجھانے  کے بعد قتل کردیتے ہیں !! مسلمانوں خصوصا نوجوانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ سبحانہ نے زانی اور زانیہ کے لیے  اگر شادی شدہ ہوں تو سنگسار  کیےجانے  کی سزا مقررکی ہے ، اس لیے ممکن نہیں کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے محروم  رکھے جبکہ اسی نے ان کو اور ان کی فطری خواہشات کو پیدا کیا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان کی بہتری کسی چیز میں ہے ۔ جب خدائے غفور الرحیم ن ےاپنے بندوں کو اپنےفضل وکرم سے متعہ کی اجازت

--------------------

(1):-التحریر والتنویر جلد 3 صفحہ 5


دے دی ہے تو اب زنا وہی کرے گا جو بالکل ہی بدبخت ہوگا ۔ یہی صورت چوری کی ہے ۔ چور کی سزا قطع ید ہے لیکن اگر مفلسوں اور محتاجوں کے لیے بیت المال موجود  ہے تو کوئی بدبخت  ہی چوری  کرےگا ۔

الہی ! میں معافی کا طلبگار ہوں اور توبہ کرتاہوں  کیونکہ میں نوجوانی میں  دین اسلام سے سخت  خفا  تھا اور اپنے دل  میں کہتا تھا کہ "اسلام  کے احکام  بہت سخت اورظالمانہ ہیں  جو مرد عورت دونوں کے لیے جنسی عمل پر  سزائے موت تجویز کرتے ہیں ،حالانکہ  ہوسکتاہے  کہ یہ جنسی عمل طرفین کی ایک دوسرے سے محبت کا نتیجہ ہو ۔ پھر سزائے  موت بھی کیسی ؟ بدترین  موت ! سنگسار  کرنے  کی سزا ! اور وہ بھی مجمع عام میں  کہ کل  عالم دیکھے "

اس طرح کا احساس  اکثر مسلمان نوجوانوں میں پایا جاتا ہے ، خصوصا آجکل  کے زمانے  میں ، جبکہ مخلوط  سوسائٹی ،بے پردگی  اور بے ہودہ طور طریقوں  کی وجہ سے ان نوجوانوں  کی لڑکیوں  سے مڈبھیڑ ہوتی ہے ، اسکول کالج میں ، سڑک پر اور ہرجگہ ۔

یہ کوئی معقول بات نہیں ہوگی اگر ہم ایسے مسلمان کا موازنہ جس نے قدیم طرز کے اسلامی معاشرے میں تربیت پائی ہو اس مسلمان سے کریں جو نسبتا  ترقی یافتہ ملک میں رہتا ہو جہاں ہر معاملے میں مغرب کی تقلید کی جاتی ہو ۔

اکثر نوجوانوں  کی طرح  میری بھی جوانی مغربی تہذیب اور دین کے درمیان یوں کہہ لیجیے کہ جنسی جبلت اور خواہش  اورخوف خدا وآخرت کے درمیان مستقل اور دائمی کشمکش میں گزری ہے ۔ ہمارے ملکوں میں خوف خدا ہی رہ گیا ہے ، زنا کی دنیوی  سزا غائب ہوچکی ہے اس لیے مسلمان صرف اپنے ضمیر کو جواب دہ ہے ۔اب یا تو وہ گھٹن میں وقت گزارے جس سے ایسے نفسیاتی امراض کا اندیشہ ہوتاہے جو خطرناک ہوسکتے ہیں یا پھر اپنے آپ کو اوراپنے  پرودگار  کودھوکا دیکر وقتا فوقتا بدکاری کے گڑھے  میں گرتا رہے ۔

سچ تویہ ہے کہ اسلام اور اسلامی شریعت کے اسرار جب ہی میری سمجھ  میں آئے جب مجھے تشیع سے واقفیت ہوئی ۔


میں نے شیعہ عقائد کو ایک رحمت جانا اور ان عقائد میں سماجی ، اقتصادی ، اور سیاسی مشکلات کا حل پایا ، ان ہی عقائد  کے ذریعے  سے مجھے معلوم ہوا کہ اللہ کے دین میں آسانی ہی آسانی ہے مشکل کانام نہیں ۔ اللہ نے ہمارے لیے دین میں تنگی نہیں رکھی ۔ امامت رحمت ہے ۔عصمت ائمہ  کا عقیدہ رحمت ہے ۔بداء رحمت ہے ،قضا وقدر سے متعلق  شیعہ جو کچھ کہتے  ہیں رحمت ہے ۔ تقیہ رحمت ہے ۔ نکاح متعہ رحمت ہے ۔ مختصر بات یہ  کہ یہ سب کچھ وہ حق ہے جس کی تعلیم خاتم النبیین حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی جو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجے گئے تھے ۔

مسئلہ تحریف قرآن

یہ کہنا کہ "قرآن میں تحریف ہوئی ہے " بذات خود ایسی شرمناک بات ہے ، جسے کوئی مسلمان جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتا ہو خواہ شیعہ ہو یا سنی  برداشت نہیں کرسکتا ۔

قرآن کی حفاظت ک ذمہ  دار خود رب العزت ہے جس نے کہا ہے :

"نا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون" ہم نے ہی یہ قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔"

اس لیے کسی شخص کے لیے یہ ممکن  ہی نہیں کہ قرآن مین ایک حرف  کی بھی کمی بیشی کرسکے ۔ یہ ہمارے  نبی محتشم کا غیر فانی معجزہ ہے ۔قرآن میں باطل کا کسی طرف سے دخل نہیں ہوسکتا ، نہ آگے  سے نہ پیچھے سے کیونکہ یہ خدائے حکیم وحمید کی طرف سے نازل ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ ،مسلمانوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عملی طورپر قرآن میں تحریف کا ہونا ممکن ہی نہیں  تھا ، کیونکہ بہت سے صحابہ کو قرآن زبانی یاد تھا ۔ مسلمان شروع ہی سے قرآن کو خود حفظ کرنے اور اپنے بچوں کو حفظ کرانے میں ایک دوسرے سے


بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے رہے ہیں اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اس لیے کسی فرد ،گروہ یا  حکومت کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ تحریف کرے یا قرآن کو بدل دے ۔

اگر ہم مشرق، مغرب ،شمال ،جنوب ہر طرف اسلامی ممالک میں گھوم پھر کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ساری دنیا میں بغیر ایک حرف  کی کمی بیشی کے وہی ایک قرآن ہے ۔ اگر چہ مسلمان خود  مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ لیکن قرآن وہ واحد  محرک ہے جو انھیں اکٹھا رکھے ہوئے ہے ۔ خود قرآن میں کوئی اختلاف  نہیں  ۔البتہ جہاں تک اس کی تفسیر یا تاویل  کا تعلق ہے ، ہر فرقے  کی اپنی تفسیر ہے جس پر وہ نازاں  اور مطمئن ہے ۔ یہ جوکہا جاتا ہے کہ شیعہ تحریف کے قائل  ہیں ، یہ محض شیعوں  پر بہتان ہے ۔ شیعہ عقائد  میں اس قسم کی کسی بات کا وجود نہیں ۔اگر ہم قرآن کریم کے بارے میں شیعہ عقیدے کے متعلق پڑھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ شیعوں کا اس پر اجماع ہے کہ قرآن  پاک ہر طرح کی تحریف سے پاک ہے ۔ عقائد الامامیہ کے مولف شیخ مظفر کہتے ہیں :

ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن وحی الہی ہے جو نبی اکرم ص پرنازل ہوئی اور ان کی زبان سے ادا ہوئی۔ اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے ۔ قرآن آپ کا لافانی معجزہ ہے ۔انسان  اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے ، وہ نہ فصاحت وبلاغت میں اس کا مقابلہ کرسکتا  ہے اور نہ وہ ایسے حقائق ومعارف  بیان کرسکتا ہے جیسے قرآن میں موجود ہیں ۔ اس میں کسی قسم کی تحریف  نہیں ہوسکتی ۔

یہ قرآن  جو ہمارے پاس موجود ہے اور جس کی ہم تلاوت کرتے ہیں ، بعینہ وہی قرآن ہے جو رسول  اکرم ص پر نازل ہوا ۔جو شخص اس کے علاوہ کچھ کہتا ہے  وہ گمراہ  ہےیا اس  کو غلط فہمی ہوئی ہے   بہر حال وہ صحیح راستے پر نہیں ہے ۔ اس لیے کہ قرآن پاک اللہ کا کلام ہے ، باطل اس میں دخل انداز نہیں ہوسکتا ، نہ آگے سے نہ پیچھے سے "۔


اس کے علاوہ یہ معلوم ہے کہ شیعہ کہاں کہاں آباد ہیں ۔ان کے فقہی احکام بھی معلوم ہیں ۔ اگر شیعوں کا کوئی  اور قرآن  ہوتا تو لوگوں  کو ضرور اس کا پتہ چل گیا  ہوتا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی مرتبہ  ایک شیعہ ملک میں گیا تو میرے دماغ میں اس قسم کی  کچھ افواہیں تھیں ۔ جہاں کہیں مجھے کوئی موٹی سی کتاب نظر آتی ، میں کس کو  اس خیال سے اٹھا لیتا  کہ یہ شاید شیعوں کا نام نہاد قرآن ہو ۔ لیکن جلد ہی میرا یہ خیال  بھاپ بن کر ہوا میں اڑ گیا ۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ محض جھوٹا  الزام ہے جو شیعوں  پر اس لیے لگایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو ان سے نفرت ہوجائے ۔لیکن بہر حال  ایک قابل اعتراض کتاب ضرور موجود ہے  اور اس کی وجہ سے شیعوں پر ہمیشہ اعتراض کیا جاتا ہے ۔ اس کتاب کا نام ہے : فصل الخطاب  فی اثبات تحریف کتاب ربّ الارباب " اس کے مولف کا نام محمد تقی نوری طبرسی (متوفی سنہ 1320) ہے ۔یہ شخص شیعہ تھا ۔ معترضیں  یہ چاہتے  ہیں کہ اس کتاب کی ذمہ داری شیعوں پر ڈالدی جائے ۔لیکن یہ بات بعید از انصاف  ہے ۔

کتنی ہی ایسی کتابیں لکھی کئی ہیں جو صرف  اپنے مصنف یا مؤلف کے سوا کسی کی رائے کی نمائندہ گی نہیں کرتیں ۔ ان کتابوں میں ہرقسم  کی کچی پکی باتیں  اور غلط صحیح مضامین  ہوتے  ہیں ۔ اور یہ کوئی شیعوں  کی خصوصیت نہیں سب فرقوں  میں اس قسم کی چیزیں پائی جاتی ہیں۔بلکہ یہ الزام تو اہل سنت پر زیادہ چسپان ہوتا ہے ۔(1) اب  کیا یہ درست ہوگا کہ ہم قرآن اور زمانہ جاہلیت کے اشعار سے متعلق مصر کے سابق وزیر تعلیم عمید الادب العربی ڈاکٹر طہ حسین  کی تحریروں کی ذمہ داری اہل سنت پر ڈال دیں ؟

یا قرآن میں کمی بیشی سے متعلق  ان  راوایات کی ذمہ  جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم موجود  ہیں اہل اہل سنت پر ڈال دیں؟

اس سلسلے میں جامع ازہر کے شریعت کا لج کے پرنسپل پروفیسر مدنی نےبڑی

-----------------------

(1):- فصل الخطاب کی توشیعوں کے یہاں کوئی حیثیت نہیں ۔البتہ سنیوں کے یہاں قرآن میں کمی بیشی کی راوایات ان کی معتبر ترین کتابوں بخاری ،مسلم وغیرہ میں موجود ہیں ۔


اچھی بات کہی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :

"یہ کہنا کہ شیعہ امامیہ اس کے قائل ہیں کہ موجودہ قرآن میں معاذاللہ کچھ کمی ہے ، تو یہ نہایت لغو بات ہے ۔ ان کی کتابوں میں کچھ  ایسی روایات ضرور ہیں لیکن ایسی روایات تو ہماری کتابوں میں بھی ہیں ۔مگر فریقین کے اہل تحقیق نے ان روایات کو ناقابل اعتبار اور وضعی کہا ہے ۔ جس طرح اہل سنت میں کوئی قرآن مجید میں کمی بیشی کا قائل نہیں اسی طرح اثناعشری شیعوں اورزیدی شیعوں میں بھی کوئی اس کا بھی قائل نہیں "۔

جو کوئی اس طرح کی روایات  دیکھنا چاہے وہ سیوطی کی الاتقان فی علوم القرآن میں دیکھ سکتا ہے ۔

سنہ 1498 ء میں ایک مصری نے ایک کتاب لکھی تھی جس کانام الفرقان  ہے اس کتاب میں اس نے اس قسم کی بہت سی موضوع اور ناقابل اعتبار روایات سنیوں کی کتابوں سے نقل کی ہیں ۔ جامعہ ازہر نے اس کتاب کی روایات  کےبطلان اور فساد کو علمی دلائل سے ثابت کرنے کے بعد حکومت سےمطالبہ کیا کہ اس کتاب کو ضبط کرلیا جائے ۔چنانچہ حکومت مصر نے یہ مطالبہ منظور کرکے کتاب کو ضبط کرلیا ۔ کتاب کےمصنف نے معاوضے کے لیے دعوی دائر کیا لیکن کونسل آف اسٹیٹ کی عدالتی کمیٹی نےیہ دعوی مسترد کردیا ۔

کیا ایسی کتابوں کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اہل سنت قرآن کے تقدس کے منکر ہیں یا چونکہ فلاں شخص نے ایسی روایت بیان کی ہے یا ایسی کتاب لکھی ہے اس لیے اہل سنت قرآن میں نقص کے قائل ہیں ؟ یہی صورت شیعہ امامیہ کے ساتھ ہے  ۔جس طرح ہماری بعض کتابوں میں کچھ روایات ہیں ، اسی طرح ان کی بعض کتابوں میں بھی کچھ روایات ہیں ۔ اس بارے میں علامہ شیخ ابو الفضل  بن حسن طبرسی  جو چھٹی صدی ہجری کے بہت بڑے شیعہ عالم تھے  ، اپنی کتاب مجمع البیان فی تفسیر القرآن میں لکھتے ہیں : اس بات پر تو سب کا اتفاق  ہےکہ قرآن  میں کوئی زیادتی نہیں


ہوئی ۔جہاں تک کمی کا تعلق کہے ،تو ہمارے ایک گروہ کا اور اہل سنت میں حشویہ  کایہ کہنا ہے کہ قرآن میں کمی ہوئی  ہے لیکن ہمارے اصحاب کا صحیح مذہب اس کے خلاف  ہے ۔ اسی کی تائید سید مرتضی علم الھدی (سنہ 436 ھ) نے کی ہے اور اس مسئلہ  پر بڑی تفصیل کے ساتھ مسائل الطرابلسیات کے جواب میں کئی جگہ  روشنی ڈالی ہے وہ کہتے ہیں کہ :

" یہ قرآن بالکل صحیح نقل  ہوتا چلا آیا ہے ، اس کا ہمیں ایسا ہی یقین ہےجیسا کہ مختلف ملکوں کے وجود کا یقین ، بڑے بڑے واقعات کا یقین ، مشہور کتابوں کا یقین اور عربوں  کے اشعار کا یقین ،اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ قرآن کی نقل میں بہت احتیاط  سےکام لیا گیا ہے ۔ متعدد وجوہ  سےیہ ضروری  تھا کہ قرآن کو نقل کرتے ہوئے اس کی حفاظت اور نگرانی  پر خاص توجہ دی جائے : کیونکہ قرآن رسول اللہ ص کا معجزہ ہے اور علوم شرعیہ اور احکام دینیہ کا ماخذ ہے ۔مسلمان علماء نے قرآن شریف کی حفاظت اور حمایت  میں انتہائی کوشش صرف کی ہے ۔ انھیں ہر اختلافی معاملے کا مکمل  علم ہے :جیسے  اعراب کا اختلاف  ، مختلف  قرائتیں  ، قرآن شریف  کے حروف  اور آیات کی تعداد ۔ان تمام امور پر اس قدر دل وجان سے توجہ اور احتیاط کے ہوتے ہوئے یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن کے کسی حصے کو بدل دیا جائے یا حذف کردیا جائے "(1)

ہم ذیل میں کچھ  روایات پیش کرتے ہیں تاکہ قارئین  کرام ! آپ پر یہ واضح ہوجائے کہ قرآن میں کمی بیشی کی تمہمت اہل سنت پر زیادہ چسپاں ہوتی ہے اور آپ کویہ بھی معلوم ہوجائے کہ اہل سنت کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنی کمزوری کو دوسروں سے منسوب کردیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہےکہ مجھے اپنے تمام عقائد پرنظر ثانی

-------------------------

(1):- رسالہ الاسلام شمارہ 4 جلد11 میں پروفیسر مدنی شریعت کالج جامعہ الازھر کا مقالہ ۔


کرنی پڑی ، کیونکہ میں جب بھی کسی بات پر شیعوں پر نکتہ چینی یا اعتراض کرتا تھا شیعہ یہ ثابت کردیتے تھے  کہ یہ کمزوری ان میں نہیں بلکہ اہل سنت میں ہے اور مجھے جلد معلوم ہوجاتا کہ شیعہ سچ کہتے ہیں ۔ وقت گزرنے اور بحث ومباحثہ کے نتیجے میں بحمداللہ مجھے اطمینان حاصل ہوگیا ہے ۔ شاید آپ کو بھی یہ معلوم کرنے کا شوق ہو کہ اہل سنت کی اپنی کتابوں سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ اہل سنت قرآن میں تحریف اور کمی زیادتی کے قائل ہیں تو لیجیے سنئے :

 طبرانی اور بیہقی کی روایت ہے کہ قرآن میں دو سورتیں ہیں  :

ایک یہ ہے :

"بسم الله الرّحمان الرّحيم. إنانستعينك ونستغفرك ونستعينك ونستغفرك ونثنّى عليك الخيركلّه ولا نكفرك ونخلع ونترك من يفجرك."

دوسری سورت یہ ہے :

" بسم الله الرّحمان الرّحيم. أللهمّ إيّاك نعبدولك نصلّى ونسجدوإليك نسعى ونحفدنرجوارحمتك ونخشى عذابك إنّ عذابك بالكافرين ملحقٌ."

ان دونوں سورتوں کو ابو القاسم حسین بن محمد المعروف بہ راغب اصفہانی (سنہ 502 ھ)نے محاضرات الادباء میں  قنوت  کی سورتیں کہا ہے ۔ سیدنا عمر بن خطاب ان ہی سورتوں  کودعائے قنوت کے طور پ ر پڑھتے تھے ۔ یہ دونوں سورتیں ابن عباس کے مصحف اور زید بن ثابت کے مصحف میں موجود تھیں(1)

امام احمد بن حنبل شیبانی (سنہ 241ھ) نے اپنی کتاب مسند میں ابی بن کعب  سےروایت کی ہے کہ  :" ابی بن کعب نے پوچھا کہ سورہ احزاب تم کتنی پڑھتے ہو ؟

----------------------

(1):- سیوطی الاتقان  فی علوم القرآن ۔ الدر المنثور فی التفسیر بالماثور


 کسی نے کہا : ستر سے کچھ اوپر آیتیں ہیں ۔ابی بن کعب نے کہاکہ میں نے یہ سورت رسول اللہ ص کے ساتھ پڑھی ہے ، یہ سورہ بقرہ کے برابر یا اس سے بھی کچھ بڑی ہے ، اسی میں آیہ رجم ہے(1)

اب آپ دیکھیے کہ یہ دونوں سورتیں جو سیوطی کی اتقان اور درمنثور میں  موجود ہیں اور جن کے متعلق طبرانی اور بہیقی نے روایت بیان کی ہے اور جن کو قنوت کی سورتیں کہا ہے ان کا کتاب اللہ میں کہیں کوئی وجود نہیں ۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو قرآن ہمارے پاس ہے وہ ان سورتوں  کی حدتک جو مصحف ابن عباس  اور مصحف زید بن ثابت  میں موجود تھیں ،  ناقص ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ اس مصحف کے علاوہ جو ہمارے پاس ہے اور بھی کئی مصحف تھے ۔ اس سے مجھے یاد آیا کہ اہل سنت طعنہ دیا کرتے ہیں کہ شیعہ  مصحف فاطمہ س کے قائل ہیں  ۔اب دیکھ لیجیے !

اہل سنت یہ دونوں سورتیں ہر روز صجح کو دعائے قنوت میں پڑھتے ہیں ۔ مجھے ذاتی طور پر یہ دونوں سورتیں زبانی یاد تھیں اور میں فجر کے وقت دعائے قنوت میں پڑھا کرتا تھا ۔ دوسری روایت جو امام احمد نے اپنی مسند میں بیان کی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ  احزاب تین چوتھائی کم ہے ، کیونکہ سورہ بقرہ میں 286 آیات ہیں جبکہ موجودہ سورہ احزاب میں صرف 73 آیات ہیں ۔اگر ہم حزب کے اعتبار سے شمار کریں تو سورہ بقرہ  پانچ سے زیادہ احزاب پر مشتمل ہے جبکہ  سورہ احزاب صرف ایک حزب شمار ہوتی ہے (ایک حزب تقریبا نصف پارے کا ہوتا ہے )

حیرت کا مقام ہےکہ ابی بن کعب یہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ص کے ساتھ سورہ احزاب پڑھا کرتا تھا ، یہ سورت ، سورہ بقرہ کے مساوی یا اس سے کچھ زیادہ بڑی

--------------------

(1):- احمد بن حنبل مسند جلد 5صفحہ 132


تھی ۔ یہ ابی بن کعب زمانہ نبوی کے مشہور ترین قاریوں میں سے ہیں ۔ حافظ قرآن تھے ، خلیفہ ثانی نے نماز تراویح کی  امامت کے لیے انھی کا انتخاب کیا تھا(1) ۔ ان کے اس قول سے شک بھی پیدا ہوتا ہے اور جیسا کہ ظاہر  ہے حیرت بھی ہوتی ہے ۔ امام احمد بن جنبل نے اپنی مسند میں ابی بن کعب سے ایک اور روایت بیان کی ہے کہ :" رسول اللہ ص نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قرآن پڑھ کر سناؤں  ۔چنانچہ آپ نے"لم يكن الّذين كفروامن أهل الكتاب" سے پڑھنا شروع کیا اس میں آپ نے یہ بھی پڑھا :

"ولوا أنّ ابن آدم سال وادياً مّن مّالٍ فأعطيه لسال ثانياً فلوسال ثالثاً ولايملأ جوف ابن آدم إلّا التراب ويتوب الله على من تاب وإنّ ذلك الدين القيم عندالله." (2)

حافظ ابن عساکر   کے حالات  کے ضمن میں روایت  بیان کی ہے کہ

"ابو الدرداء چند اہل دمشق کے ساتھ مدینہ گئے ، وہاں عمربن خطاب کے سامنے یہ آیت پڑھی :"إن جعل الّذين كفروا في قلوبهم الحمية حميّة الجاهلية ولوحميتهم كما حموا لفسدالمسجدالحرام."

عمر بن خطاب نے پوچھا : تمھیں یہ قراءت کس نے سکھائی ہے  ۔ ان لوگوں نےکہا :ابی بن کعب نے ۔ عمر نے ان کو بلایا ۔

--------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 252

(2):- امام احمد بن حنبل  ،مسند جلد 5 صفحہ 131


جب وہ آگئے  تو ان لوگوں سے کہا : اب پڑھو ، انھوں نے پھر اسی طرح پڑھا :

"ولو حميتم كما حموا لفسدالمسجد الحرام." ابی بن کعب نے کہا کہ ہاں  یہ میں نے ان کو پڑھا یا ہے عمربن خطاب نے زید بن ثابت سے کہا : زید تم  پڑھو ! زید نے وہی معمول کی قراءت  کے مطابق تلاوت کی ۔ عمر نے کہا مجھے بھی بس یہی قراءت  معلوم ہے اس پر ۔ ابی بن کعب ن ےکہا کہ عمر آپ جانتے ہیں کہ میں رسول اللہ ص کی خدمت میں رہتا تھا اور یہ عائب ہوتے تھے ، میں  رسول اللہ ص کے قریب تھا  یہ دور تھے ۔ آپ چاہین تو واللہ میں اپنے گھر میں گوشہ نشین   ہوجاؤں ، پھر نہ کسی سے بات کروں گا نہ مرتے دم تک کسی کو پڑھاؤں گا ۔عمر نے کہا : اللہ مجھے معاف کرے ! ابی تم جانتے ہو کہ اللہ نے تمھیں علم عطا کیا ہے ، تو جو کچھ تمھیں معلوم  ہے لوگوں کو سکھاؤ ۔

کہتے ہیں ایک دفعہ ایک لڑکا حضرت عمر کے سامنے سے گزرا ، وہ قرآن میں دیکھ کر پڑھ رہا تھا :

"النبيّ أولى بالمومنين من أنفسهم وأزواجه امّهاتهم وهو أبٌ لّهم"

حضرت عمر نے کہا: لڑکے اسکو کاٹ دو ۔ لڑکے نے جواب دیا یہ ابی بن کعب کا مصحف ہے ۔ جب وہ لڑکا ابی بن کعب کے پاس پہنچا تو ان سے جاکر اس آیت کے بارے میں پوچھا ۔ ابی نے کہا : مجھے تو قرآن میں مزا آتا تھا تم بازاروں تالیاں بجاتے پھرتے ہو ۔(1)

-------------------

(1):- ابن عساکر تاریخ مدینہ دمشسق جلد 2 صفحہ 228


ایسی ہی روایات ابن اثیر نے جامع الاصول میں ، ابو داوؤد نے اپنی سنن میں اور حاکم نے اپنی مستدرک میں بیان کی ہے ۔

قارئین کرام! اب کی دفعہ یہ میں آپ پر چھوڑتاہوں کہ آپ ان روایات پر کیا تبصرہ کرتے ہیں ۔ ایسی روایات سے اہل سنت کی کتابیں بھری پڑی ہیں لیکن انھیں اس کا احساس نہیں ۔ وہ شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں جن کی کتابوں میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ۔

ممکن ہے کہ اہل سنت  میں سے  بعض ضدی  طبیعت کے لوگ حسب عادت ان روایات کا انکار کردیں  اور امام احمد بن حنبل پر اعتراض کریں کہ انھوں نے ایسی  ضعیف  سند کی روایات  کو اپنی کتاب میں شامل کیا ۔ ممکن ہے کہ وہ  یہ بھی کہیں کہ  مسند امام احمد اہل سنت کے نزدیک صحاح  میں شامل نہیں ہے ۔  میں اہل سنت کی عادت خوب جانتا ہوں ۔ جب بھی میں ان کتابوں  سے کوئی ایسی حدیث  پیش کرتاتھا جو شیعوں کے لیے  برہان قاطع ہوتی تویہ سنی  بھاگ نکلتے تھے  اور ان کتابوں پر اعتراض کرنے لگے تھے جن کو وہ خود صحاح ستّہ  کہتے ہیں یعنی صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، جامع ترمذی ، سنن ابنی داؤد ، سنن نسائی  اور سنن ابن ماجہ ۔ بعض  لوگ ان کتابوں  کے ساتھ  سنن دارمی ، موطاء مالک اور مسند امام احمد  کو بھی صحاح میں شامل سمجھتے ہیں ۔

میں چند ایسی ہی  روایت ان ضدی لوگوں کو گھر تک پہنچانے  کے لیے  صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے پیش کرتاہوں شاید ان کی حقیقت تک رسائی  ہوسکے اور شاید وہ حقیقت  کو بغیر کسی تعصب کے قبول لرکیں ۔

امام بخاری  نے اپنی صحیح میں(1) باب مناقب عمار وحذیفہ رضی اللہ عنہما میں علقمہ سے روایت کی ہے ، وہ کہتے  ہیں ۔" جب میں دمشق پہچا تو میں نے وہاں پہنچ کر دورکعت نماز پڑھی اور پھر دعا کی کہ " اے اللہ ! مجھے کوئی نیک اور اچھا ہمنشین عطا

-------------------

(1):-صحیح  بخاری جلد 4 صفحہ 215


کردے " ۔ اس کے بعد میں کچھ  لوگوں کے پاس جاکر بیٹھا تو وہاں ایک بڑے میاں تشریف لے آئے ۔وہ آکر میرے پہلو میں بیٹھ گئے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟  معلوم ہوا کہ ابوالدرداء میں میں نے ان سے کہا کہ میں نے دعا کی تھی کہ کوئی نیک اور اچھا ہمنشین مل جائے ، اللہ میاں نے آپ کو بھیج دیا ۔ انھوں نے مجھ  سے پوچھا : تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ میں اہل کوفہ سے ہوں ۔ انھوں نے کہا : کیا تمھارا یہاں ابن ام عبد(1) نہیں ہیں جن کے پاس رسول اللہ ص کے نعلین آپ کا بچھونا  اورآپ کا لوٹا تھا ؟اور تمھارے یہاں ہو بھی تو ہیں جن کے متعلق خود رسول اللہ ص نے فرمایا کہ اللہ نے انھیں شیطان سے بچالیا ہے(2) ۔ اور کیا تمھارے  یہاں ہو بزرگ نہیں جو رسول اللہ ص کے راز دارتھے(3) جن کو وہ راز معلوم تھے جو اور کسی کو معلوم نہیں تھے ۔  پھر کہنے لگے : عبداللہ اس آیت کو کیسے پڑھتے  ہیں :"والّليل إذايغشى"؟

میں نے پڑھ کرسنایا :" والّليل إذايغشى  والنهارإذا تجلّى والّكروالأنثى." نیز یہ کہا :" مجھے رسول اللہ نے منہ در منہ ہی پڑھایا تھا "۔ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے :" یہ لوگ میرے پیچھے لگے رہے ۔ یہ مجھ سے ہو چیز  چھڑانا چاہتے تھے  جو میں نے رسول اللہ ص سے سنی تھی"۔(4)

ایک روایت میں ہے کہ

" والّليل إذايغشى  والنهارإذا تجلّى والّكروالأنثى." یہ رسو ل اللہ ص نے مجھے بالمشافہہ بٹھا کر

--------------------

(1):- عبداللہ بن مسعود

(2):- عمار یاسر

(3):- حذیفہ یمانی (ناشر)

(4):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 216


پڑھایا ہے ۔(1)

ان تمام روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو قرآن اب ہمارے پاس ہے  اس میں وماخلق کا لفظ اضافہ ہے ۔

امام بخاری نے اپنی صحیح میں ابن عباس  سے روایت  بیان کی ہے کہ عمربن الخطاب  کہتے تھے ۔ اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کی مبعوث کیا اور ان پر کتاب نازل فرمائی ، اس  میں آیت رجم بھی تھی ، ہم نے اس آیت کو پڑھا  ، سمجھا ، یاد کیا  چنانچہ رسول اللہ ص نے بھی رجم کی سزا دی  ۔آپ کے بعد ہم نے بھی سنگسار کی ۔ میں ڈرتا  ہوں کہ اگر اسی طرح وقت گزرتارہا  تو کوئی کہیں یہ نہ کہہ دے : ہمیں تو رجم کی آیت کتاب اللہ میں  ملتی ہی نہیں ۔ اور اس طرح اللہ کے حکم کو جو اللہ نے نازل کیا ہے  ، ترک کرکے لوگ گمراہ نہ ہوجائیں ۔ رجم کی سزا  برحق ہے اگرکوئی  شادی شدہ مردیا عورت  زنا کرے تو اسے یہ سزادی جائے گی بشرطیکہ ثبوت موجود ہو یا حمل رہ جائے یا مجرم اقرارکرلے ۔

اس کے علاوہ ہم کتاب اللہ میں ایک اور آیت بھی پڑھا  کرتے تھے  جو اس طرح تھی :

"ولاترغبوا عن أبائكم فإنّه كفرٌ بكم أن ترغبوا عن آبائكم" ۔یا اس طرح تیھ کہ :

"إنّ كفراً بكم أن ترغبوا عن آبائكم." (2)

امام مسلم نے اپنی صحیح میں(باب لوان لابن آدم واديين لايبتغی

-------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 218  باب مناقب عبداللہ بن مسعود ۔

(2):- صحیح بخاری جلد 8 باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت


الثا ً میں)ایک روایت بیان کی ہے کہ

ابو موسی اشعری نے بصرہ  کے قاریوں کو بلا یا تو تین سو آدمی آئے جنھوں نے قرآن پڑھا ہوا تھا ۔ ابو موسی نے کہا : آپ لوگ بصرہ کے بہتر ین آدمی ہیں ، آپ نے قرآن پڑھا ہے ۔ آپ اس آیت سے قرآن پڑھ کر سنائیں :

"لايطولنّ عليكم الأمد فتقسوقلوبكم كما قست قلوب من كان قبلكم"

ابو موسی اشعری نے بھی کہا کہ ہم ایک سورت پڑھا کرتے تھے جسے ہم طوالت اور اس کے سخت لب ولہجہ کے لحاظ سے سورہ براءۃ  کے ساتھ  تشبیہ دیا کرتے تھے ۔ اب میں وہ بھول  گیا ہوں ، لیکن اس میں سے اتنا بھی یاد ہے :

"لوكان لإبن آدم واديان من مّالٍ لايبتغى وادياً ثالثاً ولايملاُ جوف ابن آدم إلّا التراب."

اور ہم نے ایک اور سورت پڑھا کرتے تھے جسے ہم کہتے تھے کہ یہ سورت  مسبحات(1) میں سے کسی ایک سورت کے برابر ہے ، وہ بھی میں بھول گیا ہوں ، اس میں سے اتنا البتہ یا د ہے :

"ياأيّها الذين آمنوا لم تقولون مالاتفعلون فكتب شهادةً فى أعناقكم فتسئلون عنها يوم القيامة"

یہ دو فرضی سورتیں جو ابو موسی بھول گئے تھے ان میں ایک بقول ان کے براءت کے برابر تھی ۔ یعنی 129 آیات کی اور دوسری مسبحات میں سے کسی کے برابر تھی ۔ دوسرے لفظوں میں تقریبا 20 آیات کے برابر ۔ ان دونوں

-------------------------

(1):-وہ سورتیں جو سبحان ، سبّح ، یسبح ،یا سبّح  سے شروع ہوتی ہیں ۔جیسے سورہ اسراء حدید، سورہ حشر ، سورہ جمعہ  ، سورہ تغابن ، اور سورہ اعلی ،(ناشر)


سورتوں کا جود صرف ابو موسی اشعری کے ذہن میں تھا ۔ قارئین کرام ! اب آپ کو اختیار ہے  ، یہ سب پڑھ کر اور سن کر آپ حیرت سے ہنسیں یا روئیں ۔

جب اہل سنت کی کتابیں اور احادیث کے معتبر مجموعے اس طرح کی راوایات  سے پر ہیں جسن میں کبھی دعوی کیا جاتا ہے کہ قرآن ناقص ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ اس میں اضافہ کردیا گیا ہے ، پھر یہ شیعوں پر اعتراض کیسا جن کا اس پر اتفاق ہے کہ ایسے سب دعوے غلط اور باطل ہیں ؟

اگر فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب کے مصنف نے جو سنہ 1320 ھ میں فوت ہوا ، اب سے تقریبا سوسال پہلے اپنی کتاب لکھی تھی ، تو اس سے پہلے الفرقان کا مصنف مصر میں چارسو برس ہوئے اپنی کتاب لکھاچکا تھاجیسا کہ شیخ محمد مدنی پرنسپل  شریعہ کالج جامعہ ازھر کا بیان ہے(1) ۔ہوسکتا ہے کہ شیعہ مصنف نےسنی مصنف کی کتاب  الفرقان پڑھی ہو ، جس نے اپنی کتاب  میں وہ تمام روایات جمع  کردی تھیں  جو اہل سنت کی صحاح میں آئی ہیں ۔ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ اس کتاب کو جامعہ ازھر کی درخواست پر مصری حکومت نے ضبط کرلیا تھا ۔یہ تو معلوم ہے کہ" الانسان حريص علی مامنع منه" کے بمصداق  جس چیز سے منع کیا جاتا ہے اس کا دگناشوق پیدا ہوجاتا ہے ۔ یہ کتاب گو مصر میں ممنوع تھی لیکن دوسرے اسلامی ممالک میں ممنوع نہیں تھی ۔ اس لیے یہ عین ممکن ہے کہ فصل الخطاب جو چارسو برس بعد لکھی گئی الفرقان ہی کا چربہ ہو یا بغل بچہ ہو ۔ اس تمام بحث  میں اہم بات یہ ہے کہ سنی اور شیعہ علماء اور محققین  نے اس طرح کی روایات  کو باطل اور شاذ کہا ہے اور اطمینا ن بخش دلائل  سے ثابت کای ہے کہ جو قرآن ہمارے پاس ہے ،وہ بعینہ وہی قرآن ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا ۔ اس میں نہ کوئی کمی بیشی ہے اور نہ کوغی تغیر وتبدل ، پھر ان روایات کی بنیاد پر جو خود ان کے نزدیک ساقط الاعتبار ہیں ۔ یہ

--------------------

(1):- رسالہ الاسلام شمارہ 4 جلد 11 صفحہ 382 ۔383


اہل سنت کیسے شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں اور خود کو بری الذمہ ٹھہراتے ہیں جبکہ ان کی صحاح ان روایات کی صحت کو ثابت کرتی ہیں ۔ مسلمانو! یہ تو کوئی انصاف نہ ہوا ۔ سچ کہا ہے سیدنا عیسی علیہ السلام نے : "یہ لوگ دوسروں کی آنکھ کا تنکا دیکھتے ہیں مگر انھیں انپی آنکھ کاشیہتری نظر نہیں آتا " میں اس طرح کی راویات کا ذکر بڑے افسوس کےساتھ کررہا ہوں کیونکہ آج ضرورت اس ام کی ہے کہ ہم ان کے بارےمیں  سکوت اختیار کریں اور انھیں خاموشی سے رد ی کی ٹوکری کے حوالے کردیں ۔ کاش بعض مصنفین جو سنت رسول کی پیروی کے مدعی ہیں شیعوں  پررکیک  حملے نہ کرتے ۔کچھ معروف  ادارے شیعوں کی تکفیر کرنے میں ان مصنفین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور انھیں سرمایہ فراہم کرتے ہیں ۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے تو اس طرح کی کاروائیاں  اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔ میں ان سے صرف یہ کہنا چاہتاہوں کہ اپنے بھائیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ۔"واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا واذكروا نعمة الله عليكم إذ كنتم أعداء فألف بين قلوبكم فأصبحتم بنعمته إخوانا"


جمع بین الصلاتین

جن باتوں پر شیعوں  پر اعتراض کیا جاتا ہے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ شیعہ ظہر اور عصر کی نمازیں اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھتے  ہیں ۔ اہل سنت جب اس سلسلے میں شیعوں  پر اعتراض کرتے ہیں تو عموما اس طرح کی تصویر کھینچتے ہیں گویا ہو خود نماز کو صحیح طریقے سے ادا کرتے ہیں ، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

" إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا " مومنین پر نماز وقت مقررہ پر فرض کی گئی ہے ۔

اہل سنت اکثر شیعوں کو طعنہ دیا کرتے ہیں کہ شیعہ نماز کی پروا نہیں کرتے اور اس طرح خدا ورسول ص کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں ۔

اس سے پہلے کہ ہم شیعوں کے حق میں یا ان کے خلاف کوئی فیصلہ کریں ، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس موضوع کا ہر پہلو سے جائزہ لیں ،  طرفین  کے اقوال اور دلائل  سنیں اور معاملہ کو اچھی طرح سمجھ لیں تاکہ جلد بازی میں کسی کسی کے خلاف کوئی یکطرفہ فیصلہ نہ کربیٹھیں ۔

اہل سنت کا اس  پر تو اتفاق ہے کہ 9 ذی الحجہ کو عرفات کے میدان میں ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پڑھی جائیں ، اس کو جمع تقدیم کہتے ہیں اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھی جائیں ،اسے جمع تاخیر کہا جاتا ہے ۔ یہاں تک تو شیعہ  سنی کیا تمام ہی فرقوں کا اتفاق ہے ۔

شیعہ سنی اختلاف اس میں ہے کہ کیا ظہر اور عصر کی نمازیں اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نمازیں پورے سال سفر کے عذر کے بغیر بھی جمع کرنی جائز ہیں ؟ حنفی حضرات صریح نصوص کے باوجود نمازیں جمع کرنے کی اجازت کے قائل  نہیں حتی کہ سفر کی حالت  میں بھی نمازیں اکٹھی پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے ۔اس طرح حنفیوں کاطرز عمل اس اجماع امت کے خلاف ہےجس پر شیعوں اور سنیوں

دونوں کا اتفاق ہے ۔


لیکن مالکی ، شافعی اور حنبلی سفر کی حالت میں تو دو فرض نمازوں کے اکٹھا پڑھ لینے کے جواز کے قائل ہیں ۔ لیکن ان میں ان میں اس پر اختلاف ہے کہ کیا خوف ،بیماری بارش وغیرہ کے عذر  کی وجہ سے بھی دونماز وں کا اکٹھا پڑھ لینا جائز ہے ۔شیعہ امامیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ جمع بین الصلاتین  مصطلقا جائز ہے اور اس کے لیے سفر ، بیماری یا خوف وغیرہ کی کوئی شرط نہیں ۔ وہ اس سلسلے میں ائمہ اہل بیت کی ان روایات پر عمل کرتے ہیں جو شیعہ کتابوں میں موجود ہیں ۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم شیعہ موقف کو شک کی نگاہ سے دیکھیں کیونکہ جب بھی اہل سنت ان کے طریقے کے خلاف کوئی دلیل پیش کرتے ہیں وہ اسے یہ کہہ کر  رد کردیتے ہیں کہ انھیں تو ائمہ اہل بیت نے خود تعلیم دی ہے اور ان کی تمام مشکلات  کو حل کیا ہے ۔ وہ اس پر فخر کرتے ہیں کہ وہ ان ائمہ معصومین کی پیروی کرتے ہیں جو قرآن وسنت کا پورا علم رکھے ہیں ۔

مجھے یاد ہے کہ  میں نے پہلی مرتبہ جو ظہر اورعصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں وہ  شہید محمد باقر صدر کی امامت میں پڑھی تھیں ۔ ورنہ اس سے قبل میں نجف میں بھی ظہر اور عصر کی نمازیں الگ الگ ہی پڑھا کرتاتھا ۔ آخر وہ مبارک دن بھی آگیا جب میں آیت اللہ صدر کے ساتھ ان کے گھر سے اس مسجد میں گیا جہاں وہ اپنے مقلدین کو نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ ان کے مقلدین نے میرے لیے احتراما عین ان کے پیچھے جگہ چھوڑدی ۔ جب ظہر کی نماز ختم ہوگئی اور عصر کی جماعت کھڑی ہوئی تو میری جی نے کہا اب یہاں سے نکل چلو ۔ لیکن میں دووجہ سے ٹھہرارہا ۔ ایک تو سید صدر کی ہیبت تھی ۔جس خشوع سے وہ نماز پڑھا رہے تھے ،میرا دل چاہتا تھا کہ وہ نماز پڑھا تے ہی رہیں ۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ جس جگہ میں تھا وہ جگہ اور سب نمازیوں کی نسبت ان سے زیادہ قریب تھی ۔مجھے ایسا محسوس  ہورہاتھا جیسے کسی زبردست طاقت نے مجھے ان کے ساتھ باندھ دیا ہو ۔نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ ان سے سوالات  پوچھنے  کے لیے امنڈ پڑے  میں ان کے پیچھے بیٹھا ہوا لوگوں کےسوال اور ان کے جواب سنتا رہا ۔بعض سوال جواب


بہت آہستہ ہونے کی وجہ سے سمجھ میں نہیں آئے ۔لیکن مجھے شرم  آرہی تھی ۔میں ان  پر اور ۔زیادہ بوجھ بننا نہیں چاہتا تھا ۔ اس کے بعد وہ مجھے کھانا کھلانے کے لیے اپنے گھر لےگئے ۔ وہاں جاکر مجھے معلوم ہوا کہ اس دعوت کاخاص مہمان اور میر محفل میں ہی ہوں ۔ میں نے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے جمع بین الصلاتین کے بارے میں دریافت کیا ۔

آیت اللہ سید محمد باقر صدر نے جواب دیا ۔ ہمارے یہاں ائمہ معصومین علیھم السلام سے بہت سی روایات ہیں کہ رسول اللہ ص نے یہ نماز پڑھی یعنی ظہر اور عصر کی نمازوں کو جمع کیا اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا ۔ اوریہ نماز یں خوف یا سفر کی وجہ سے نہیں بلکہ امت سے حرج دورکرنے کے لیے اکٹھی پڑھیں ۔

میں :- میں حرج کا مطلب نہیں سجمھا ۔قرآن شریف میں بھی ہے :

"وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ"

سید صدر :- اللہ سبحانہ کو ہر شے کا علم ہے ۔اسے معلوم تھا کہ بعد کے زمانے میں وہ چیزیں ہوںگی جنھیں ہمارے یہاں پبلک ڈیوٹیز کہا جاتا ہے پھر اس طرح کی سرکاری ملازمتیں : جیسے گارڈ ، پولیس ،  لویز ، فوج ،پبلک اداروں میں کام کرنے والے ملازمین ،حتی کہ طلبہ اور اساتذہ بھی ۔ اگر دین ان سب کو پانچ متفرق اوقات میں نماز پڑھنے کا پابند کرے ، تویقینا ان کے لیے  تنگی اورپریشانی ہوگی ، اس لیے رسول اللہ ص کے پاس وحی آئی کہ وہ دو فرض نمازیں ایک وقت میں پڑھا دیں  تاکہ نماز کے اوقات پانچ کے بجائے  تین ہوجائیں ،یہ صورت مسلمانوں کے لیے زیادہ سہل تھی اور اس میں کوئی حرج یعنی تنگی بھی نہیں ہے ۔ میں : لیکن سنت نبوی قرآن کو تو منسوخ نہیں کرسکتی ۔

سید صدر:- میں نے کب کہا کہ سنت نے قرآن کو منسوخ کردیا ۔لیکن اگر کسی چیز کو سمجھنے میں دقت ہو تو سنت قرآن کی تفسیر وتوضیح تو کرسکتی ہے ۔

میں :- اللہ سبحانہ کہتاہے کہ" إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ


كِتَابًا مَّوْقُوتًا " اور مشسہور حدیث مین ہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ کے پاس آئے اور آپ نے دن رات میں  پانچ وقت نماز پڑھی ۔ اسی پر ان نمازوں  کے نام ظہر ، عصر ، مغرب ،عشاء اور فجر رکھے گئے ۔

سید صدر :- :" إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا "

کی تفسیر رسول اللہ نے دو طرح سے کی ہے ۔ الگ الگ نمازوں سے بھی اور جمع بین الصلاتین سے بھی ۔ اس لیے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ یہ پانچ نمازیں پانچ مختلف  اوقات میں بھی پڑھی جاسکتی ہیں ۔اور تین  اوقات میں بھی جمع کی جاسکتی ہیں ۔ دونوں صورتوں میں وہ صحیح وقت پر ادا ہوںگی ۔

میں :- قبلہ ! میں سمجھا نہیں ۔ اللہ تعالی نے پھر" كِتَابًا مَّوْقُوتًا " کیوں کہا ہے ؟

سید صدر : (مسکراتے ہوئے ) آپ کا خیال ہے ، مسلمان حج میں وقت پرنماز نہیں پڑھتے ؟ کیا وہ اس وقت احکام الہی کی خلاف ورزی کرتے ہیں جب وہ عرفات میں ظہر اور عصر کی نماز کے لیے اور مزدلفہ میں مغرب وعشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ ص کی پیروی میں جمع ہوتے ہیں ۔

میں نے ذرا سوچ کر کہا : شاید عذر کی وجہ سے ہو حجاج تھا جاتے ہیں اس لیے اللہ نے اس موقع پر ان کے لیے کچھ سہولت کردی ۔

سید صدر:- یہاں بھی اللہ تعالی نے اس امت کے متاخرین  سے تنگی دورکردی اوردین کو آسان بنادیا ۔

میں :- آپ ابھی کہا کہ اللہ تعالی نے اپنے  نبی کے پاس وحی بھیجی کہ دو وقت کی فرض نمازیں ایک وقت میں پڑھائیں تاکہ نمازوں کے وقت پانچ کے بجائے تین ہوجائیں ۔ تو یہ اللہ نے کس آیت میں کہا ہے ؟

سید صدر نے فورا جواب دیا : کون سی آیت میں اللہ تعالی نے اپنے رسول  کو حکم دیا ہے کہ وہ دونمازیں عرفات میں اور دومزدلفہ میں جمع کریں ، اور پانچ وقتوں کہ کس آیت میں ذکر ہے ؟

میں اس دفعہ خاموش ہوگیا ، کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ میں مطمئن ہوچکا تھا ۔


سید صدر نے مزید کہا : اللہ تعالی اپنے نبی کو جووحی بھیجتا ہے ،ضروری نہیں کہ وہ قرآن میں ہی ہو اور وحی متلو ہی ہو :

" قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَداً "

آپ کہہ دیجیے کہ اگر سب سمندر میرے پروردگار کی باتون کے لکھنے کے لیے روشنائی بن جائیں تو سمندر ختم ہوجائیں گے مگر میرے پروردگار کی باتیں ختم نہیں ہوں گی  اگر چہ ہم ایسا ہی سمندر اس کی مدد کے لیے آئیں ۔ (سورہ کہف ۔آیت 109)

جسے ہم سنت نبوی کہتے ہیں ، وہ بھی وحی الہی ہی ہے ، اسی لیے اللہ سبحانہ نے کہا ہے :

"وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا"

جس چیز کا رسول ص تمھیں حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو ۔

باالفاظ دیگر ۔ جب رسول اللہ صحابہ کو کسی کام کا حکم دیتے تھے یا کسی کام سے منع کرتے تھے تو صحابہ کو یہ حق نہیں تھا کہ وہ آپ  پر کوئی اعتراض  کرتے یا آپ سے یہ مطالبہ کرتے کہ کلام اللہ کی کوئی آیت پیش کریں ۔ وہ آپ کے حکم کی تعمیل  سمجھ کر کرتے تھے  کہ آپ جو کچھ بھی فرماتے ہیں وحی الہی ہوتا ہے ۔

سید باقر صدرنے ایسی ایسی باتیں بتلائیں کہ میں حیران رہ گیا ۔اس سے پہلے میں ان حقائق سے ناواقف تھا ۔

میں نے جمع بین الصلاتین  کے موضوع سے متعلق ان سے مزیدپوچھا : قبلہ! کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی مسلمان دونمازیں ضرورت کی صورت میں جمع کرلے ؟

"دو نمازوں کا جمع کرنا ہرحالت میں جائز ہے ، ضرورت ہو یانہ ہو "۔


میں نے کہا : اس کے لیے آپکے پاس دلیل  کیا ہے؟

انھوں نےکہا : اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ص نے مدینہ میں دو فرض نمازوں کو جمع کیا ہے اور اس وقت آپ سفر میں نہ تھے ۔ نہ کوئی خوف تھا نہ بارش ہورہی تھی اور نہ کوئی ضرورت تھی ، صرف ہم لوگوں سےتنگی رفع کرنے کے لیے آپ نے دونمازوں کو اکٹھا پڑھا ۔ اور یہ بات ہمارے یہاں ائمہ اطہار کے واسطے سے بھی ثابت ہے اورآپ کے یہاں ثابت ہے ۔

مجھے بہت تعجب ہوا : ہائیں ! ہمارے یہاں کیسے ثابت ہے ۔ میں نے آج تک نہیں سنا ! اورنہ میں نے اہل سنت والجماعت کو ایسا کرتے دیکھا ۔بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ اکر اذان  سے ایک منٹ پہلے بھی نماز پڑھ لی جائے تو نماز باطل ہے ،چہ جائیکہ  گھنٹوں پہلے عصر کی نماز ظہر کے ساتھ یا عشاء کی نماز مغرب کے ساتھ پڑھ  لی جائے ۔ یہ بات بالکل  غلط معلوم ہوتی ہے ۔

آیت اللہ صدر  میری حیرت کو بھانپ گئے ۔ انھوں نے ایک طالب علم کو آہستہ سے کچھ کہا ۔ وہ اٹھ کر پلک جھپکتے میں دو کتابیں لےآیا ۔ معلوم ہوا کہ ایک صحیح بخاری ہے ،دوسری صحیح مسلم ۔آقائے صدر نے اس طالب علم سے کہا کہ وہ مجھے جمع بین الفریضتین  سے متعلق  احادیث دکھائے ۔میں نے خود صحیح بخاری میں  پڑھا کہ رسول اللہ ص نے ظہر اور عصر کی نمازوں کو اور اسی طرح مغرب اور عشاء  کی نمازوں کو جمع کیا ۔ صحیح مسلم میں تو بغیر خوف ، بغیر بارش اور بغیر سفر کے دونمازوں  کوجمع کرنے  کے بارے میں پوراایک باب ہے ۔

میں اپنے تعجب  اور حیرت  کو تو چھپا نہ سکا ۔مگر پھر بھی مجھے کچھ شک ہوا کہ شاید بخاری  اور مسلم جو ان کے پاس ہیں ان میں کچھ جعل سازی کی گئی ہے میں  نے اپنے دل میں ارادہ کیا کہ تیونس جاکر میں ان کتابوں کو پھر دیکھوں گا ۔

آیت اللہ سیدمحمد باقر صدر  رح  نے مجھ سے پوچھا : اب کہیے کیا خیال ہے ؟

میں نے کہا:آپ حق پر ہیں اورجو کہتے ہیں سچ کہتے ہیں ۔ لیکن میں آپ سے ایک بات اور پوچھناچاہتاہوں ۔


"فرمائیے " ، انھوں نے کہا ۔

میں نے کہا : کیا چاروں نمازوں کا جمع کرنا بھی جائز ہے ؟ ہمارے یہاں بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں ، جب رات کو کام پر سے گھر واپس آتے ہیں ، تو ظہر ،عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازین قضا پڑھ لیتے ہیں ۔

انھوں نے کہا: یہ تو جائز نہیں ، البتہ مجبوری کی بات دوسری ہے کیونکہ مجبوری میں بہت سی باتیں جائز ہوجاتی ہیں ، ورنہ تو نماز کا وقت مقرر ہے" إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا "

میں آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ رسول اللہ ص نے نمازیں الگ الگ  بھی پڑھی ہیں اور ملا کر بھی پڑھی ہیں اور اسی سے ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ نمازوں کے اوقات کون سے ہیں ۔

اس پر انھوں نےکہا : ظہر اور عصر کی نمازوں کا وقت مشترک ہے اور یہ وقت زوال آفتاب سے شروع ہوکر غروب آفتاب تک رہتا ہے ۔مغرب اور عشاء کا وقت بھی مشترک ہے جو غروب  آفتاب سے نصف شب تک رہتا ہے ۔ فجر کی نماز کا وقت الگ ہے جو طلوع فجر سے دن نکلنے تک ہے(1) ۔ جو اس کے خلاف کرے گا ۔ وہ اس آیت کریمہ کی خلاف ورزی کرے گا کہ" إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا " اس لیے یہ ممکن  نہیں کہ ہم مثلا  صبح  کی نماز طلوع فجر نہیں ظہر اور عصر کی نماز زوال سے پہلے  یا غروب آفتاب کے بعد پڑھیں یا مغرب اورعشاء کی نمازیں غروب سےپہلے یا آدھی رات کے بعد پڑھیں ۔

میں نے آقائے صد ر کا شکرییہ ادا کیا ، گو مجھے ان کی باتوں سے پورا اطمینان ہوگیا تھا ، لیکن میں نے نمازوں کو جمع کرنا اس وقت شروع کیا جب میں تیونس  واپس آکر تحقیق اورمطالعہ میں پوری طرح مشغول ہوگیا اور میری آنکھیں

--------------------

(1):-" أَقِمِ الصَّلاَةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ " (سورہ بنی اسرائیل ۔آیت 78)۔(ناشر )


کھل گئیں ۔

جمع بین الصلاتین کےبارے میں شہید صدر سے جو میری گفتگو رہی ، یہ اس کی داستان ہے اور یہ داستان میں نے دو وجہ سے بیان کی ہے :

ایک تویہ کہ میرے اہل سنت بھائیوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ جو علما ء واقعی انبیاء کے وارث ہیں ان کا اخلاق کیسا  ہوتا ہے ۔

دوسرے یہ بھی احساس ہوجائے کہ ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ ہماری حدیث کی معتبر  کتابوں میں کیا لکھا ہوا ہے ۔ ہم ایسی باتوں پر دوسروں کو برا بھلا کہتے ہیں جن کی صحت کے ہم خود قائل ہیں اور جن کو ہم  صحیح سنت نبوی تسلیم کرتےہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ان باتوں کا  مذاق اڑاتے ہیں جن پر خود رسول اللہ ص نے عمل کیا تھا اور اس کے باوجود دعوی ہمارا یہ ہے کہ ہم اہل سنت ہیں :

میں پھر اصل موضوع کی طرف لوٹتاہوں ۔ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں شیعوں کے اقوال کو شک کی نظر سے دیکھنا ہوگا کیونکہ وہ اپنے  ہر عقیدے اور عمل کی سند ائمہ اہل بیت  ع سے لاتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ یہ نسبت صحیح نہ ہو ۔ لیکن ہم اپنی صحاح میں تو شک نہیں کرسکتے  ، ان کی صحت تو ہمیں تسلیم ہے اوراگر ہم ان میں بھی شک کرنے لگے تو میں نہین کہہ سکتا کہ پھر ہمارے پاس دین میں سے کچھ باقی بچے گا بھی  کہ نہیں !

اس لیے تحقیق کرنے والے کے لیےضروری ہےکہ وہ انصاف سے کام لے اور تحقیق سے اس کا مقصد رضائے الہی کا حصول ہو۔ اس طرح امید ہےک ہ اللہ تعالی ضرور صراط  مستقیم  کی طرف رہنمائی کرے گا ، اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور اسے جنت النعیم میں داخل کرے گا ۔ اور یہ ہیں وہ روایات جو جمع بین الصلاتین کے بارے میں علمائے اہل سنت نے بیان کی ہیں ۔ ان کو پڑھ کر آپ کو یقین ہوجائے گا کہ جمع بین الصلاتین کوئی شیعہ بدعت نہیں ہے :

<> امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ


رسول اللہ ص نےجب وہ مدینے میں مقیم تھے ،مسافر نہیں تھے  سات اورآٹھ  رکعتیں پڑھیں ۔(1)

<>امام مالک نے موطاء میں ابن عباس  سے روایت بیان کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ :

رسول اللہ ص نے بغیر خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کی نمازیں  اکٹھی پڑھیں اور مغرب اور عشاء کی اکٹھی ۔(2)

<>صحیح مسلم باب الجمع  بین الصلاۃ فی الحضر میں ابن عباس سے  روایت ہے کہ:

رسول اللہ ص نے بغیر خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور مغرب اورعشاء کی اکٹھی ۔

<>صحیح مسلم میں ابن عباس ہی سے  روایت ہے کہ  رسول اللہ ص نے مدینہ میں بغیر خوف اوربغیر بارش کے ظہر ،عصر ،مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں ۔

راوی کہتا ہے کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا کہ رسول اللہ ص نے ایساکیوں کیا ؟ ابن عباس نے کہا : اپنی امت کو تنگی سے بچانے کے لیے ۔

<>اسی باب میں صحیح مسلم کی ایک روایت سے معلوم ہوتاہے کہ جمع بین الصلاتین کی سنت صحابہ میں مشہور تھی ۔ اور اس  پر صحابہ عمل بھی کرتے تھے ۔

<>صحیح مسلم کے اسی باب کی روایت ہے کہ :

ایک روز ابن عباس نے عصر کے بعد خطبہ دیا ۔ ابھی ان کا خطبہ جاری تھا کہ سورج ڈوب گیا ، ستارے نکل آئے ، لوگ بے چین ہو کر الصلاۃ ، الصلاۃ پکارنے لگے ۔ بنی تمیم میں سے

--------------------

(1):- امام احمد بن حنبل مسند جلد 1 صفحہ 221

(2):- امام مالک  موطاء ،شرح الحوالک جلد 1 صفحہ 160


ایک گستاخ شخص الصلاۃ ،الصلاۃ کہتا ہوا ابن عباس تک پہنچ گیا ۔ ابن عباس نے کہا : تیری ماں مرے، تو مجھے سنت سکھاتا ہے ! میں نے رسول اللہ ص کو ظہر اور  عصر اور مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھتے دیکھا ہے "۔

<>ایک اورروایت میں ہے کہ :

"ابن عباس نے اس شخص سے کہاں تیری ماں مرے ، تو ہمیں نماز سکھاتا ہے ۔ ہم رسول اللہ ص کے زمانے میں جمع الصلاتین کیا کرتے تھے "۔(1)

<>باب وقت المغرب میں صحیح بخاری کی روایت ہے ،جابر بن زید کہتےہیں کہ ابن عباس کہتے تھے کہ

"رسول اللہ ص نے سات رکعتیں اکٹھی اور آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھیں "(2)

<>اسی طرح بخاری نے باب وقت العصر میں روایت کی ہےکہ ابو امہ کہتے تھے :

"ہم نے عمر بن عبدالعزیز کےساتھ ظہر کی نماز پڑھی ،پھر ہم وہاں سے نکل کر انس بن مالک کے پاس پہنچے ۔دیکھا تو عصر  کی نماز پڑھ لی ؟ کہنے لگے عصر کی ، اور یہ رسول اللہ ص کی نماز ہے جو ہم رسول اللہ ص کے ساتھ پڑھا کرتے تھے "۔(3)

اہل سنت کی صحاح کی احادیث کے اس مختصر  جائزے کے بعد ہم پوچھنا چاہیں گے کہ ان روایات کے ہوتے ہوئے اہل سنت آخر شیعوں کو برا بھلا کیوں

-----------------------

(1):- صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 151۔152 باب الجمع بین الصلاتین

(2):-صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 140 باب وقت المغرب

(3):- صحیح بخاری جلد1 صفحہ باب وقت العصر


کہتے ہیں اور ان پرکیوں اعتراض کرتے ہیں ۔ہم پھر حسب عادت وہی بات کہیں گے کہ اہل سنت کرتے کچھ ہیں اور کہتے کچھ ہیں اور ان باتوں پر اعتراض کرتے ہیں جن کی صحت کے خود قائل ہیں ۔ہمارے شہر قفصہ میں ایک دن امام صاحب نمازیوں کے درمیان کھڑے ہو کر ہمیں بدنام کرنے کے لیے ہم پر لعن طعن کرتے ہوئے کہتے لگے : "تم نے دیکھا ان لوگوں نے کیا دین نکالا ہے ۔ ظہر کی نماز کے فورا بعد عصر کی نماز پڑھنے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ یہ دین محمدی نہیں ہے کوئی نیادین ہے ۔یہ قرآن کے خلاف کرتے ہیں ۔قرآن تو کہتا ہے :

" إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا " غرض امام صاحب نے کوئی ایسی گالی نہ چھوڑیں جو انھوں نے ان لوگوں کو نہ دی ہو جو نئے نئے شیعہ ہوئے تھے ۔ ایک اعلی تعلیم یافتہ نوجوان جس نے شیعہ مذہب قبول کرلیا تھا ،ایک دن میرے پاس آیا اور بڑے رنج وافسوس کے ساتھ امام صاحب کی باتیں میرے سامنے دہرائیں ۔میں نے اسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم دیں اور اس سے کہا کہ امام صاحب کو جاکر بتاؤ کہ جمع بین الصلاتین درست ہے اور سنت نبوی ہے میں نے اس نوجوان سے کہا کہ میں امام صاحب کے پاس جاؤں گا نہیں ، کیونکہ میں ان سےجھگڑنا نہیں چاہتا ، ایک دن  میں نے ان سے خوش اسلوبی کے ساتھ سنجیدہ  بحث کرنی چاہی تھی مگر وہ گالیوں  پر اتر آئے اور غلط سلط الزامات لگانے لگے ۔ اس گفتگو میں اہم بات یہ تھی کہ میرے اس دوست نے ابھی تک ان امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنی ترک  نہیں کی تھی ۔ جب نماز کے بعد امام صاحب حسب معمول درس کے لیے بیٹھے  ،میرے دوست نے بڑھ کر ان سے جمع بین الصلاتین کے متعلق سوال کیا ۔

امام صاحب نے کہا :یہ شیعوں کی نکالی ہوئی بدعت ہے !

میرے دوست نےکہا: لیکن یہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ثابت ہے ۔

امام صاحب جھٹ سے بولے : بالکل غلط ۔میرے دوست نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم نکال کر انھیں دیں۔ انھوں نے باب الجمع بین الصلاتین پڑھا ۔ میرا دوست کہتا ہے کہ جب انھیں ان نمازیوں کے سامنے


جو ان کا درس سنا کرتے تھے حقیقت معلوم ہوئی تو وہ چکرائے اور انھوں نے کتابیں بند کرکے مجھےواپس کردیں اورکہنے لگے کہ "یہ رسول اللہ ص کی خصوصیت تھی جب تم رسول اللہ ص کے درجے پر پہنچ جاؤگے  اس وقت اس طرح نماز پڑھنا " ۔میرا دوست سمجھ گیا یہ جاہل متعصب شخص ہے اور اس دن سے میرے دوست نے ان کے پیچھے نماز  پڑھنی چھوڑدی ۔

قارئین کرام! دیکھیے  تعصب کیسے آنکھوں کو اندھا کردیتا ہے اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتا ہے ، پھر حق سجھائی نہیں دیتا۔ ہمارے یہاں ایک کہاوت ہے کہ"عنز ۃولو طارت" تھی تو بکری ہی ،اڑگئی تو کیا ہوا ۔(1)

میں نے اپنے دوست سے کہا کہ تم امام صاحب کے پاس ایک دفعہ پھر جاکر انھیں بتلاؤ کہ ابن عباس اس طرح نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی طرح انس مالک اور دوسرے صحابہ بھی پڑھتے تھے، تو پھر اس میں رسول اللہ ص کی کیا خصوصیت  ہوئی ؟

لیکن میرے دوست نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اس کی ضرورت نہیں ، امام صاحب کبھی نہیں مانیں گے خواہ رسو ل اللہ ص خود ہی کیوں نہ آجائیں ۔

رسول اللہ ص کا آنا توخیر ناممکن بات ہے مگر اس سے اس تلخ حقیقت کا اظہار ہوتا ہے جس کو اللہ عزوجل  نے سورہ روم میں اس طرح بیان کیا ہے ۔

" فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاء إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ () وَمَا أَنتَ بِهَادِي الْعُمْيِ عَن ضَلَالَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ "

--------------------

(1):-کہتے ہیں ،دوآدمی شکار کے لیے نکلے ۔دورسے کوئی سیاہ چیز دکھائی دی ۔ ایک نے کہا کہ یہ کوا ہے ۔ دوسرے نے کہا : نہیں بکری ہے ۔دونوں اپنی ضد پر اڑے رہے ۔ قریب پہنچے تو کوا پھڑا پھڑا کر اڑ گیا ۔ پہلے شخص  نےکہا : دیکھا میں نہیں کہتاتھا کہ کوا ہے ، اب مان گئے ؟ لیکن اس کا دوست پھر بھی نہ مانا ۔کہنے لگا :

"بھائی ! تھی تو بکری ہی ،مگر اڑنے والی بکری تھی ۔"


آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سناسکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیرے چلے جارہے ہوں ۔ اور آپ اندھوں کو گمراہی سے نہیں نکال سکتے ۔ آپ صرف ان کو سنا سکتے ہیں جوہماری نشانیوں پر ایمان لائے ہوں اور انھیں مانتے ہوں ۔(سورہ روم ۔آیت52- 53)

الحمد اللہ کہ بہت سے نوجوان جمع بین الصلاتین کی حقیقت سے واقف ہو کے بعد دوبارہ نماز  پڑھنے لگے ، نہیں تو وہ نماز ہی چھوڑ بیٹھے تھے کیونکہ وہ وقت پر تو نماز پڑھ نہیں سکتے تھے ۔ رات کو چار وقت کی اکٹھی  نماز پڑھتے بھی تھے تو دل کو اطمینان نہیں ہوتا تھا ۔ اب ان کی سمجھ میں آیا  کہ جمع بین الصلاتین  میں کیا حکمت ہے ۔جمع بین الصلاتین کی صورت میں سب ملازمت پیشہ ،طلبہ اور عوام نماز  وقت پر ادا کرسکتے ہیں اور ان کا دل مطمئن رہتا ہے ۔ رسول اللہ ص کے ارشاد کا مطلب کہ"کی لا اٌحرج اُمّتی " (میں اپنی امت کو ضیق میں نہ ڈالوں )ان کی سمجھ میں آگیا تھا ۔

خاک پر سجدہ

شیعوں کا اس پر اتفاق ہے کہ زمین پر سجدہ افضل ہے ۔ وہ ائمہ اہل بیت ع سے ان کے جد رسول اللہ ص کا قول نقل کرتے ہیں کہ" أفضل السّجود على الأرض"

سجدہ زمین پر افضل ہے  ۔ایک اور روایت میں ہے کہ"لايجوزالسجود إلّا على الأرض أومآ أنبتت الأرض غيرماءكولٍ وّلاملبوس ٍ." سجدہ جائز نہیں ہے مگر زمین پر یا اس چیز پر جو زمین سے اگی ہو مگر نہ کھائی جاتی ہو اور نہ پہنی جاتی ہو ۔


صاحب وسائل الشیعہ محدّث حر عاملی نے اپنی اسناد سے روایت کی ہے کہ ہشام بن حکم کہتے ہیں کہ امام جعفر الصادق  علیہ السلام نے فرمایا ہے :

"السجود على الأرض أفضل لانّه أبلغ في النّواضع والخضوع لله عزّوجلّ.

زمین پر سجدہ افضل ہے کیونکہ اس سے انتہائی تواضع اور خشوع وخضوع  کا اظہار ہوتاہے ۔ ایک اور روایت میں اسحاق بن فضل کہتے ہیں کہ : میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا چٹائیوں پر اور سرکنڈوں  سےبنے ہوئے بوریوں پن سجدہ جائز ہے ؟ آپ نےکہا : کوئی حرج نہیں ۔مگر میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ زمین پرسجدہ کیا جائے ۔ اس لیے کہ رسول اللہ ص کو یہ بات پسند تھی کہ آپ کی پیشانی زمین پر ہو ۔ اور میں تمھارے لیے وہی بات پسند کرتاہوں جو رسول اللہ ص کو پسند تھی ۔

مگر علمائے اہل سنت قالین یا دری وغیرہ بھی بھی سجدہ میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۔ اگر چہ ان کے نزدیک بھ افضل  یہ ہے کہ چٹائی پر سجدہ کیاجائے ۔ بخاری اور مسلم کی بعض روایات بتلاتی ہیں کہ رسول اللہ ص کے پاس کجھورکے

پتوں اور مٹی سے بنی ہوئی نہایت چھوٹی سی جانماز تھی جس پر آپ سجدہ کیا کرتے تھے ۔

صحیح مسلم کتاب الحیض میں عن قاسم بن محمد عن عائشہ کے حوالے سے روایت ہے  ۔ عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ص نے مجھے  سے کہا کہ ذرا یہ خمرہ مجھے مسجد سے اٹھادینا ۔میں نے کہا : مجھے  توماہوری آرہی ہے  آپ نے فرمایا :تمھاری ماہواری تمھارے ہاتھ میں تھوڑا ہی ہے۔(1) (مسلم کہتے ہیں کہ خمرہ کا مطلب ہے چھوٹی سی جانماز

--------------------

(1):-صحیح مسلم جلد اول باب جواز غسل الحائض راس زوجہا ۔سنن ابی داؤد جلد 1 باب الحائض تناول من المسجد


اتنی چھوٹی کہ بس اس پر سجدہ کیا جاسکے ۔)

بخاری نے اپنی صحیح میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ ص زمین پن سجدہ کرناپسند فرماتے تھے ۔

ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ص رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف  کیا کرتے تھے  ۔ایک سال آپ نے اعتکاف  کیا ۔جب اکیسویں کی شب ہوئی  اوریہ وہ رات تھی جس کی صبح کوآپ  اعتکاف  سے نکلنے والے تھے ، اس رات آپ نے کہا :

"جس نے میرے  ساتھ اعتکاف  کیا ہو وہ رمضان  کے آخری دس دنوں کا بھی اعتکاف کرے ۔میں نے وہ رت (لیلۃ القدر) دیکھی  تھی  پھر مجھے بھلادی گئی۔ میں نے دیکھا تھا کہ میں اس رات کی  صبح  کو گیلی مٹی پر سجدہ کررہاہوں  ۔اس لیے  تم اسے آخری دس راتوں  میں اور طاق راتوں میں تلاش کرو "۔ اس کے بعد اس رات  بارش ہوئی ۔ مسجد کجھور  کی ٹہنیوں  اور پتوں کی تو تھی ہی ٹپکنے لگی۔ میری آنکھوں نے 21 کی صبح کو رسول اللہ ص کی پیشانی  پر گیلی مٹی کا نشان دیکھا ۔(1)

صحابہ بھی خود رسول اللہ ص  کی موجودگی میں زمین پرہی سجدہ کرنا پسند کرتے تھے ۔ امام نسائی نے اپنی سنن میں روایت بیان کی ہے کہ :

جابر بن عبداللہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ ص کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھا کرتے تھے ۔ میں ایک مٹھی کنکریاں ٹھنڈی کرنے کے لیے اپنے ہاتھ میں اٹھا لیتا تھا پھر دوسرے ہاتھ میں لے لیتا تھا ۔جب سجدہ کرتا تو انھیں وہاں رکھ دیتا جہاں  پیشانی رکھنی ہوتی ۔(2) اس کے علاوہ رسول اللہ ص نے فرمایا ہے :

-------------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 2 باب الاعتکاف فی العشر الاواخر۔

(2):- سنن امام نسائی جلد 2 باب تبرید الحصی للسجود علیہ ۔


"جعلت لى الأرض مسجدًا وّطهورًا."

میرے لیے تمام زمین سجدہ کرنے اور پاک کرنے کا ذریعہ بنادی گئی ہے۔(1)

" جعلت لنا الأرض كلّهامسجدًا وّجعلت تربتها لنا طهورًا."

ہمارے لیے تمام زمین سجدہ گاہ اور اس کی خاک پاکی کا ذریعہ بنادی گئی ہے ۔(2)

پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان شیعوں کے خلاف اس لیے ضد رکھتے ہیں کہ شیعہ قالینوں کے بجائے مٹی پر سجدہ کرتے ہیں ۔؟

یہاں تک  کیسے نوبت پہنچی  کہ شیعوں  کی تکفیر کی گئی ،انھیں برابھلا کہا گیا اور ان پر بہتان باندھا گیا کہ کہ ہو بت پرست ہیں ۔

اگر شیعوں کی جیب  یا سوٹ  کیس میں سے خاک کربلا کی ٹکیہ(3) نکل آئے تو اتنی  سی بات پر شیعوں  کو سعودی عرب میں زدوکوب کیاجاتا ہے ؟

---------------------

(1):- صحیح بخاری جلد 1 کتاب التیمم ۔

(2):-صحیح مسلم جلد 4 کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ۔

(3):-آیت اللہ العظمی  آقائے خوئی البیان فی تفسیر القرآن  میں فرماتے ہیں :

"شیعہ عقیدے  کی رو سے امام حسین  علیہ السلام  کی قبر کی خاک بھی اللہ کی اسی وسیع  وعریض زمین کا ایک حصہ ہے جسے اس نے اپنے پیغمبر کے لیے ظاہر  مطہر اورجائے  سجود قراردیا ہے ۔ تاہم کیسی طاہر اور مقدس ہے وہ خاک جو جگر گوشہ رسول ص کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے اور جس میں جوانان بہشت کے سردار آرام فرمارہے  ہیں ! اس خاک کے پہلو میں وہ عظیم ہستی محوخواب ہےجس نے اپنے فرزندوں ،عزیزوں اور وفادارساتھیوں  کو راہ خدا میں قربان کردیا ۔ یہ خاک ! خاک کربلا انسانوں  کو راہ خدا میں جاں  بازی اور فداکاری کا سبق سکھاتی ہے ،انھیں شرافت وفضیلت کا درس دیتی ہے اور ایک عدیم النظیر جگر دوز


کیا یہی  وہ اسلام ہےجو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کریں اور کسی کلمہ گو موحد مسلمان کی جو نماز پڑھتا  ہو ، زکواۃ دیتا ہو ، رمضان  کے روزے رکھتا ہو اور بیت اللہ کاحج کرتا ہو ۔ توہین نہ کریں ۔ کیا کوئی شخص بقائمی ہوش وحواس یہ تصور کرسکتا ہے کہ اگر بعض لوگوں کا یہ الزام درست ہوتا کہ شیعہ پتھروں کی پوجا کرتے ہیں تو کوئی شیعہ اتنی تکلیف اٹھاکر اور اتنا مالی بوجھ برداشت کرکے حج بیت اللہ اور زیارت قبر رسول ص کے لیے آتا ؟

کیا اہل سنت آیت اللہ سید محمد باقر صدر شہید کے اس قول سےمطمئن نہیں ہوسکتے ،جو میں نے اپنی پہلی کتاب "ثم اھتدیت " (تجلّی ) میں نقل کیا ہے کہ جب میں نے ان سے خاک کربلا پر سجدے کرے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ : "ہم مٹی پر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں ۔ مٹی پر سجدہ کرنے میں اور مٹی کو سجدہ کرنے میں فرق ہے "

اگر شیعہ احتیاط کرتے ہیں کہ ان کا سجدہ  پاک جگہ پر ہو اور عنداللہ مقبول ہو تو وہ رسول اللہ اور ائمہ اطہار کے حکم  کی تعمیل کرتے ہیں ۔ خصوصا ہمارے زمانے میں جب سب مساجد میں موٹے موٹے روئیں دار قالینوں کے فرش بچھ گئے ہیں ، ان

-------------------

تاریخی واقعے  کی یاد ذہن انسانی میں تازہ کرتی ہے ۔ انھی وجوہ کی بنا پر اس خاک کی ایک خاص اہمیت اور عظمت ہے اور اس پر سجدہ کرنا شرعا صحیح ہے ۔ اس سب کے علاوہ خاک کربلا کی فضیلت میں متعدد روایات  رسول اکرم ص سے منقول  ہیں جو شیعہ اور سنی دونوں ذرائع سے آتی ہیں "۔

استاد شہید مرتضی مطہّری اپنی کتاب شہید میں فرماتے ہیں :

"جب رسول اللہ ص نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا س کو مشہور تسبیحات (34 بار اللہ اکبر 33بار الحمدللہ اور 33بار سبحان اللہ )پڑھنے کو کہا تو وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی  قبر پر گئیں  اور تسبیح تیار کرنے کے لیے وہاں سے کچھ مٹی حاصل کی ۔ان کے اس فعل کی کیا اہمیت ہے ؟ اس کی اہمیت یہ ہے کہ شہید  کی قبر متبرک ہے اور اس کے ارد گرد کی مٹی بھی متبرک ہے ۔انسان کو تسبیحات  پڑھنے  کے لیے ایک تسبیح  کی ضرورت ہوتی ہے اور اس مقصد  کے لیے پتھر ، لکڑی اور مٹی کی بنی ہوئی تسبیح استعمال  کی جاسکتی ہے لیکن ہم شہید کی قبر کے پاس کی مٹی کو ترجیح دیتے ہیں اور اس سے ہمارا مقصد شہید کی تعظیم  بجالاتا ہوتا ہے "۔(ناشر)


قالینوں میں سے بعض کی بناوٹ میں ایسا مواد استعمال کیاجاتا ہے جس سے عام مسلمان ناواقف ہیں ۔ یہ قالین مسلمان  ملکوں کے بنے ہوئے بھی نہیں ہوتے ، اس لیے ممکن ہے کہ ان میں سے بعض  کی بناوٹ میں ایسا مواد استعمال کیاگیا  ہو جو جائز نہیں ۔ ایسی صورت میں ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم اس شیعہ  کو جو نماز  کی صحت کا اہتمام  کرتا ہوں ، دھتکاریں اور محض بے بنیادشبہ کی وجہ سے اس پر کفر وشرک کا الزام لگائیں ؟

 شیعہ جو دینی امور میں خیال رکھتا ہے خصوصا نماز کا جو دین کاستون ہے اور اس کا اتنا اہتمام کرتا ہے کہ نماز کے وقت اپن پیٹی اتاردیتا ہے ،گھڑی بھی اتاردیتا ہے کیونکہ اس کا تسمہ چمڑے  کا ہے جس کی اصل معلوم نہیں ۔ بعض اوقات پتلون اتار کر ڈھیلا ڈھالا پاجامہ پہن لیتا ہے اور یہ سب احتیاط اور اہتمام اس لیے کرتا ہے کہ اسے نماز میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے ۔ اور وہ نہیں چاہتا کہ اپنے رب کے سامنے اس حال میں جائے کہ اس کے رب کو اس کی کوئی بات ناپسند ہو ۔

کیا ایسا شیعہ اس بات کامستحق ہے کہ اس کا مذاق اڑایا جائے ، اس سے نفرت کی جائے ؟ وہ تو اس قابل ہے کہ اس کا احترام کیا جائے ، اس کی تعظیم کی جائے کیونکہ وہ شعائر اللہ کی تعظیم کرتاہے جو تقوی کی بنیاد ہے ۔

اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور صحیح بات کہو !

اگر تم پر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا دنیا  میں بھی اور آخرت میں بھی ، تو جس مشغلے  میں تم پڑے تھے اس میں تم پرسخت  عذاب نازل ہوتا ۔ اس وقت جب تم اس کو اپنی زبانوں سے دہرارہے تھے اور اپنے منہ سے  وہ کچھ  کہہ رہے تھے جس کا تمھیں علم نہیں تھا اور تم اس کو معمولی بات سمجھتے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی ۔(سورہ نور ۔آیت 15)


رجعت

رجعت ان مسائل میں سے ہے جن کے صرف شیعہ قائل ہیں ۔

میں نے حدیث کی کتابوں میں ڈھونڈا مگر مجھے اس کا کہیں ذکر نہیں ملا ۔ بعض صوفی عقائد میں البتہ ایسی چیزیں ہیں جن کا تعلق مغیبات سے ہے ۔ جو ان باتوں کو نہ مانے وہ کافر نہیں ہوتا کیونکہ ایمان نہ ان امور کے ماننے پر موقوف ہے نہ ان پر اعتقاد سے ایمان  کی تکمیل ہوتی ہے ۔

زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ماننے یا نہ ماننے سے نہ کوئی نفع ہوتا ہے نہ نقصان ۔ یہ صرف روایات ہیں جن کو شیعہ ائمہ اطہار  ع سے روایت کرتے ہیں کہ

"اللہ سبحانہ ،بعض مومنین اور بعض مجرمین مفسدین کو زندہ کرے گا تاکہ مومنین آخرت سے پہلے دنیا ہی میں اپنے دشمنوں سے انتقام لیں ۔"

اگر یہ روایتیں صحیح ہیں ۔ اورشیعوں کے نزدیک تو یہ صحیح اور متواتر ہیں ۔جب بھی یہ اہل سنت کو پابند نہیں بناتیں ۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ان پر اعتقاد رکھنا اس لیے واجب ہے کہ اہل بیت ع نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ہر کز نہیں ۔کیونکہ ہم نے بحث میں انصاف اور بے تعصبی کا عہد کیا ہوا ہے ۔

اس لیے ہم اہل سنت کو انھی روایات کا پابند سمجھتے ہیں جو ان کی اپنی حدیث کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں ۔ چونکہ رجعت کی احادیث ان کی اپنی کتابوں میں نہیں آئی ہیں اس لیے وہ ان کو قبول نہ کرنے میں آزاد ہیں اور یہ بھی جب ہے ، جب کوئی شیعہ ان روایات کو ان پر مسلط کرنے کی کوشش کرے ۔

لیکن شیعہ کسی کو رجعت کا قائل ہونے پر مجبور نہیں کرتے اورنہ وہ یہ کہتے ہیں کہ جو رجعت کا قائل ہونے  پر مجبور نہیں کرتے اور نہ وہ یہ کہتے ہیں کہ رجعت کا قائل نہیں وہ کافر ہے۔ اس لیے  کوئی وجہ نہیں کہ شیعہ ، جو


رجعت کے قائل ہیں ان کو اس قدر برابھلا کہا جائے اور ان کے خلاف اس قدر شوروغوغا برپا کیا جائے !

شیعہ  مسئلہ رجعت کا ان روایات سے استدلال کرتے ہیں جو ان کے نزدیک ثابت ہیں اور جن کی تائید بعض آیات سے بھی ہوتی ہے ،جیسے "

" وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجاً مِّمَّن يُكَذِّبُ بِآيَاتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ "

اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور ان کی صف بندی کی جائے گی۔(سورہ نمل ۔آیت 83)

تفسیر قمی میں ہے کہ "

امام جعفر صادق ع نے اپنے اصحاب سے پوچھا کہ لوگ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ" وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجاً " ؟ حمّاد کہتے ہیں کہ میں نے کہا : لوگ کہتے ہیں کہ اس کا تعلق روزقیامت سے ہے ۔ امام نے کہا : یہ بات نہیں ،یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے ، قیامت میں کیا اللہ تعالی ہر امت میں سے صرف  ایک ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا اور باقی کو چھوڑ دے گا ؟

قیامت کے بارے میں دوسری آیت ہے :

" وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً "

اور ہم ان سب کو جمع کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے ۔(سورہ کہف ۔آیت 47)

شیخ محمد رضا مظفر کی کتاب عقائد الامامیہ میں ہے : اہل بیت علیھم السلام سے جو روایات آئی ہیں ان کی بنا پر شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی مردوں میں سے کچھ کو اسی دنیا میں زندہ کرے گا، ان کی شکلیں وہی ہوں گی جو ان کی زندگی میں تھیں ۔پھر ان میں سے ایک گروہ کو عزت دے گا اور ایک گروہ


کو ذلیل کرے گا ۔ اس وقت حق پرست ،باطل پرستوں سے ، اور مظلوم ، ظالموں سے بدلہ لیں گے ۔ بدلہ لینے کا یہ واقعہ قائم آل محمد کے ظہور بعد ہوگا ۔

رجعت صرف ان مومنین کی ہوگی جن کے ایمان کا درجہ بہت بلند تھا اور مفسدین میں سے صرف ان کی جو حد درجہ بہت بلند تھا اور مفسدین میں سے صرف ان کی جو حد درجہ فسادی تھے  اس کے بعد یہ لوگ پھر مرجائیں گے اور روزقیامت دوبارہ محشور ہوں گے اور ان کے استحقاق کے مطابق ثواب ثواب وعذاب دیا جائے گا ۔

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ان دوبارہ  زندگی پانے والوں اور لوٹ کر آنے والوں کی ایک تمنا کا بھی ذکر کیا ہے ۔جب دوسری دفعہ بھی ان کی اصطلاح نہیں ہوگی اور خدا کے غضب کے سوا انھیں  کچھ نہیں ملے گا ، تویہ تیسری دفعہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے ۔:

" قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَىٰ خُرُوجٍ مِنْ سَبِيلٍ"

اور وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! تونے ہمیں دوفعہ موت اور دودفعہ زندگی دی سو اب ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں ، تو کیا  کوئی صورت ہے نکلنے کی ؟(سورہ مومن ۔آیت 116)

میں کہتاہوں کہ اگر اہل سنت والجماعت رجعت پر یقین نہیں رکھتے ، تو انھیں اس کا پورا حق ہے ،لیکن انھیں یہ حق نہیں ہے کہ جو اس کے قائل ہیں اور جن کے نزدیک یہ نصوص سے ثابت ہے ان کو برا بھلا کہیں  اس لیے کہ کسی شخص  کا کسی بات  کو نہ جاننا اس کی دلیل نہیں کہ جو شخص  جانتا ہے ہو غلطی پر ہے اسی طرح کسی کے کسی چیز کو نہ ماننے یا نہ جاننے  کا یہ مطلب نہیں کہ اس چیز کا وجود ہی نہین مسلمانوں کے کتنے  ہی ناقابل  تردید دلائل ہیں  جنھیں اہل کتاب یعنی یہود ونصاری تسلیم نہیں کرتے ۔

اہل سنت کی بھی کتنی ہی روایات اور کتنے ہی اعتقادات ایسے ہیں ،خصوصا


وہ جن کا تعلق اولیاء اور صوفیا سے ہے جو ناممکن اور کریہہ نظر آتے ہیں ، لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ اہل سنت کے عقیدے کہ مذمت کی جائے اور اس سے ڈرایا جائے ۔

رجعت کا ثبوت قرآن اور سنت نبوی میں ملتا ہے اور ایسا کرنا اللہ تعالی  کے لیے ناممکن اور محال بھی نہیں ہے ۔ خود قرآن شریف میں رجعت کی کئی مثالیں  ملتی ہیں ۔ مثلا قرآن میں ہے :

" أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىَ يُحْيِـي هَـَذِهِ اللّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللّهُ مِئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ "

کیا تم نے اس شخص کے حل پر غور کیاجسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں کے بل  گرچکا اتفاق گزر ہوا تو اس نے کہا کہ اللہ اس بستی کے باشندوں کومرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا ، تو اللہ نے اس کی روح قبض کرلی اور اس کو سوسال تک مردہ رکھا ، پھر زندہ کردیا ۔(سورہ بقرہ ۔ آیت 259)

یا ایک اور آیت میں ہے :

" أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللّهُ مُوتُواْ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ "

کیا تمھیں ان لوگوں کی خبر  ہے جو شمار میں ہزاروں تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل  بھاگے تھے ، تو اللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ ، پھر انھیں زندہ کردیا ۔(سورہ بقرہ ۔آیت 243)

اللہ تعالی نے بنی اسرائیل  کے ایک گروہ کو پہلے موت دے دی اور پھر انھیں زندہ کردیا :

" وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ () ثُمَّ


بَعَثْنَاكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ()"

اور جب تم نے کہاتھا کہ اے موسی ! ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا مامنے نہیں دیکھ  لیں گے ۔ اس پر تمھاری دیکھتے دیکھتے بجلی کی کڑک نے آکر تمھیں دبوچ لیا ۔ پھر موت آجانے کے بعد ہم نے تمھیں ازسر نوزندہ کردیا تاکہ تم احسان مانو۔(سورہ  بقرہ ۔آیت 56)

اصحاب کہف تین سوسال سے زیادہ غار میں مردہ پڑے رہے :

" ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَى لِمَا لَبِثُوا أَمَداً"

پھر ہم نے انھیں زندہ کرکے اٹھا یا تاکہ معلوم کریں کہ ان دونوں گروہوں میں سے کونسا گروہ اس حالت میں رہنے کی مدت سے زیادہ واقف ہے ۔(سورہ کہف ۔آیت 12)

دیکھیے ۔ کتاب اللہ کہتی ہے کہ سابقہ امتوں میں رجعت کے واقعات ہوتے رہے ہیں ، تو امت محمدیہ میں بھی ایسے کسی واقعہ کا وقوع پذیر ہونا ممکن نہیں ہے ، خصوصا جبکہ ائمہ اہل بیت ع اس کی خبر دے رہے ہوں جو سچے  ہیں اور باخبر ہیں ۔ بعض بے جا دخل اندازی کرنے والے کہتے ہیں کہ رجعت کو تسلیم کرنا تناسخ (آواگون)کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے جو کہ کفار کا عقیدہ ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے اور اس کامقصد محض شیعوں پر الزام تراشی اور انھیں بدنام کرنا ہے۔

تناسخ کے ماننے والے یہ نہیں کہتے کہ انسان اسی جسم ، اسی روح اور اسی شکل کے ساتھ دنیا میں واپس آتاہے ۔ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی جو مرجاتا ہے ، اس کی روح ایک دوسرے انسان کے جسم میں جو دوبارہ پیدا ہوتا ہے داخل ہوجاتی ہے بلکہ اس کی روح کسی جانور کے جسم مین بھی داخل ہوسکتی ہے۔جیسا کہ ظاہر  ہے یہ عقیدہ اس اسلامی عقیدے سے بالکل  مختلف ہے جس کے مطابق اللہ تعالی مردوں کو اسی جسم اور اسی روح کے ساتھ اٹھاتا ہے ۔رجعت کا تناسخ


سے قطعا کوئی تعلق نہیں ۔ یہ ان جاہلوں کا کہنا ہے کہ جو شیعہ اور شیوعیّہ(1) میں بھی تمیز نہیں کرسکتے ۔

مہدی منتظر علیہ السلام

مہدی موعود کا مسئلہ بھی ان موضوعات میں شامل ہے جن کی وجہ سے اہل سنت شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں بلکہ بعض تو اس حدتک بڑھ جاتے ہیں  کہ تمسخر واستہزاء سے بھی نہیں چوکتے ۔ کیونکہ اہل سنت اس کو بعید ازعقل اور محال سمجھتے ہیں کہ کوئی انسان  بارہ سو برس تک زندہ مگر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ۔

بعض ہمعصر مصنفین نے تو یہاں تک کہا ہے کہ شیعوں نے امام عائب کا خیال اس لیے گھڑا ہے کہ انھیں مختلف ادوارمیں کثرت سے حکمرانوں کے ظلم وستم سہنے پڑے ہیں چنانچہ انھوں نے اس تصور سے اپنے دل کو تسلی دے  دی کہ مہدی منتظر ع کے زمانے میں جو زمین کو عدل وانصاف سےبھر دیں گے نہ صرف انھیں امن چین نصیب ہوگا بلکہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کا بھی موقع ملے گا ۔

پچھلے چند سالوں میں مہدی منتظرع کے ظہور سے متعلق چرچا بڑھ گیاہے ، خصوصا ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد جب پاسداران انقلاب ن ےیہ اپنا خاص طریقہ اور شعار بنالیا کہ وہ اپنی دعاؤں میں امام خمینی کے لیے یہ دعا کرتے تھے کہ خدایا خدایا تا انقلاب مہدی خمینی را نگہدار!

اس وقت سے مسلمان اور خصوصا تعلیم یافتہ مسلمان یہ پوچھنے لگے کہ مہدی ع کی اصلیت کیا ہے ؟۔کیا اسلامی عقائد میں مہدی کاواقعی وجود ہے یاہے یا یہ محض شیعوں کی من گھڑنت ہے ۔

اگر چہ شیعہ علماء نے ہر دور میں مہدی سے متعلق کتابوں لکھی ہیں اور

---------------------

(1):-شیوعیّہ کے معنی ہیں کمیونزم۔


داد تحقیق دی ہے ۔ نیز شیعہ اور سنی علماء کو اکثر کانفرسوں وغیرہ میں ایک دوسرے سے ملنے اور عقائد سے متعلق مختلف مسئلوں پرگفتگو کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے ، اس کے باوجود اہل سنت کے لیے یہ موضوع چیستان بنا ہوا ہے اس لیے کہ انھیں اس سے متعلق روایات سننے کا کم ہی اتفاق ہوتا ہے ۔

اسلامی عقائد میں مہدی منتظر ع کی حقیقت کیا ہے؟

اس بحث کے دوجزو ہیں :- پہلے جزو کا تعلق کتاب وسنت کے حوالے سے مہدی کی بحث سے ہے اور دوسرے کا تعلق مہدی کی زندگی ، ان کے غائب ہونے اور دوبارہ ظاہر ہونے سے ہے ۔

جہاں تک اس بحث کے پہلے جزو کا تعلق ہے ، شیعہ اورسنی دونوں کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ ص نے مہدی کی بشارت دی ہے ۔ آپ نے اپنے اصحاب کو بتلایا ہے کہ اللہ تعالی مہدی کو آخری زمانے میں ظاہر  کرے گا ۔ مہدی کی احادیث شیعہ اور اہل سنت دونوں کی معتبر  کتابوں میں ملتی ہیں ۔

میں اپنی عادت کے مطابق صرف ان روایات سے استدلال کروں گا جن کو اہل سنت صحیح اور معتبر سمجھتے ہیں ۔

سنن ابو داؤد میں ہے کہ

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :اگر دنیا کا فقط ایک دن باقی رہ جائے تو ایک ہی دن کو اللہ تعالی  اتنا طول دے گا کہ اس میں ایک شخص بھیجے گا جس کا نام میے نام پر ہوگا اور اس کی کنیت میری کنیت پر ہوگی ۔ وہ اس زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھردے گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھری ہوئی ہوگی ۔(1)

ابن ماجہ میں ہے کہ

"رسول اللہ ص نے فرمایا : ہم اہل بیت کے لیے اللہ نے دنیا سے

-----------------------

(1):- سنن ابو داؤد جلد 2 صفحہ 422۔


زیادہ آخرت کو پسند کیا ہے ۔ میرے بعد میرے اہل بیت ع کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا ، انھیں دھتکارا جائے گا ۔ پھر ایک قوم  مشرق کی طرف سے آئے گی جس کے ساتھ کا لے جھنڈے ہوں گے وہ لوگ  بھلائی مانگیں گے مگر انھیں ملے گی نہیں ۔ اس پر وہ لڑیں گے اور کامیاب ہوںگے  ۔ پھر جو وہ مانگتے تھے اس کی انھیں  پیشکش کی جائے گی مگر وہ قبول نہیں کریں گے ۔ آخر وہ (حکومت ) میرے اہل بیت ع میں سے ایک شخص کے حوالے کردیں گے جو زمین کو جو ظلم سے بھری ہوئی ہوگی ، انصاف سے بھردےگا ۔(1)

سنن ابن ماجہ میں ہے :

رسول اللہ نے فرمایا : مہدی ہم اہل بیت ع سے ہے ،

مہدی فاطمہ س کی اولاد سے ہوگا ۔

سنن ابن ماجہ ہی میں ہے کہ

" رسول اللہ ص نے فرمایا : میری امت میں مہدی ہوگا ۔ اس کا زمانہ اگر کم ہوا تو سات سال ورنہ نو سال ہوگا ۔ اس عرصے میں میری امت کو وہ آرام واطمینان ہوگا  جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا ۔ غلہ کی اتنی فراوانی ہوگی کہ ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔جو شخص مہدی سے کچھ مانگےگا  وہ اسے مل جائے گا ۔(2)

صحیح ترمذی میں آیا ہے :

رسول اللہ ص نے فرمایا : ایک شخص میری امت میں سے حکمراں ہوگا ۔ اس کا نام وہی ہوگا جو میرا نام ہے ۔ اگر قیامت آنے میں ایک دن بھی باقی ہوگا تو اللہ اس دن کو اتنا طویل

--------------------

(1):-سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4082۔

(2):- سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4086۔


کردے گا کہ یہ شخص  حمکراں ہوسکے گا ۔(1)

رسول اللہ ص نے فرمایا : دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک حکومت ایک عرب کو نہ مل جائے جو میرے اہل بیت میں ہوگا اور جس کانام میرے نام پر ہوگا ۔

صحیح بخاری میں ابو قتادہ انصاری کے آزاد کردہ غلام نافع سے روایت ہے کہ ان سے ابو ہریرہ نے کہا کہ :"رسول اللہ ص نے فرمایا : کیسا ہوگا جب ابن مریم ع تم میں نازل ہوں گے اور تمھارے امام تم میں سے ہوں گے ۔(2)

قاضی ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ

اس بارے میں متواتر احادیث ہیں کہ اس امت میں مہدی ہوں گے ۔ اور عیسی بن مریم  آسمان سے اتر کے آئیں گے اور مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔(3)

ابن حجر مکی ہیثمی نے صواعق محرقہ میں لکھا ہے :

 ظہور مہدی کی متواتر احادیث بکثرت آئی ہیں ۔(4)

صاحب غایۃ المامول کہتے ہیں کہ :

قدیم زمانے  سے علماء میں یہ مشہور ہے کہ آخری زمانے میں اہل بیت ع میں ایک شخص کا ضرور ظہور ہوگا جسے مہدی کہا جائے گا ۔ مہدی  کی احادیث  بہت سے صحابہ نے روایت کی ہیں اور اکابر محدثین نے انھیں اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ، جیسے : ابو داؤد ،ترمذی ، ابن ماجہ ،طبرانی ، ابو یعلی ، بزاز،

-------------------------

(1):- جامع ترمذی جلد 9 صفحہ 74- 75

(2):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 143 باب نزول عیسی بن مریم س ۔

(3):- فتح الباری جلد 5 صفحہ 362

(4):- صواعق محرقہ جلد 2 صفحہ 211-


امام احمد بن حنبل ،حاکم ،وغیرہ ۔جس نے بھی مہدی سے متعلق تمام احادیث  کو ضعیف کہا ہے وہ غلطی پر ہے ۔ معاصرین  میں سے اخوان المسلمین کے مفتی سید سابق نے اپنی کتاب العقائد الاسلامیہ میں مہدی  کی احادیث  نقل کی ہیں ۔ ان کے نزدیک مہدی کا تصور اسلامی عقائد کا جزو ہے جس کی تصدیق واجب ہے ۔

شیعہ  کتابوں میں بھی مہدی کی احادیث کثرت سے نقل کی گئی ہیں ۔یہ تک کہا گیا ہے کہ احادیث مہدی سے زیادہ کوئی حدیث   رسول اللہ ص سے روایت نہیں  کی گئی ہے ۔

محقق لطف اللہ صافی گلپائیگانی نے اپنی مفصل کتاب منتخب الاثر میں مہدی علیہ السلام کے متعلق ساٹھ سے زیادہ سنی ماخذوں سے نقل  کی  ہیں ، ان میں صحاح ستہ  بھی شامل ہیں اور نوے سے زیادہ شیعہ ماخذوں سے نقل کی ہیں جن میں کتب اربعہ بھی شامل ہیں ۔(1)

---------------------

(1):- اسلام میں مہدی پر اعتقاد کی جڑیں بہت گہری ہیں ۔ بعض علماء نے اس عقیدے کو دین کے واجبات  میں شمار  کیا ہے ۔ مہدی کی خصوصیات اور شخصیت کے بارے میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے متعلق زیادہ تر روایات صحیح ہیں اور جو خوشخبری ان کے بارے میں دی گئی ہے وہ متواتر ہے ۔

اس سلسلے میں یہ امر دلچسپی کا باعث ہے کہ جیسا کہ مشہور  مورخ طبری نے لکھا ہے :

" مہدی کی غیبت سے متعلق روایات شیعہ محدثین نے امام محمد باقر ع اور امام جعفر صادق ع کی زندگی ہی میں (یعنی ولادت مہدی ع سے  150 سال پہلے )اپنی کتابوں مین درج کردی تھی ۔ یہ امر بجائے خود ان روایات کی صحت کا منہ بولتا ثبوت ہے "۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کئی مقامات پر مہدی کے بارے میں روایات بلاواسطہ نقل کی گئی ہیں ۔اور اسی قبیل کی تقریبا پچاس احادیث دوسری معروف تالیفات میں بھی درج ہیں ،جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں :


دوسری بحث مہدی کی ولادت ، ان کی زندگی ، ان کی غیبت اور ان کی عدم وفات سے متعلق ہے ۔

یہاں بھی علمائے اہل سنت کی ایک خاصی بڑی تعداد یہ مانتی ہے کہ مہدی ، محمد بن الحسن العسکری ہیں جو ائمہ اہل بیت ع میں سے بارہویں امام ہیں وہ زندہ موجود ہیں اور آخر ی زمانے میں ظاہر  ہوکر زمین کو عدل وانصاف سے بھردیں گے ۔ ان سے دین  کو کامیابی حاصل ہوگی ۔ یہ علمائے اہل سنت  اس طرح شیعہ امامیہ کے اقوال کی تائید کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض علماء کے نام یہ ہیں :

(1):- محی الدین ابن عربی  سنہ 638 ھ  فتوحات مکیہ ۔(2):-سبط ابن جوزی سنہ 654ھ تذکرۃ الخواص ۔

(3):- عبدالوہاب شعرانی مصری سنہ 976 ھ عقائد الاکابر ۔(4) ابن خشاب سنہ ۔ توریخ موالید الائمہ ووفیّاتھم ۔

(5):- محمد بخاری حنفی سنہ ۔ فصل الخطاب

--------------------

جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ ، سنن ابو داؤد ، مسند احمد بن حنبل ، معجم طبرانی ، طبقات ابن سعد ، مستدرک حاکم ، صواعق  محرقہ ، منہاج النبویہ  ، ینابیع المودۃ ، دلائل النبوۃ ، فتوحات مکیہ ، الملاحم ، تاریخ بغداداور کتاب الفتن ۔

ان معتبر مآخذ میں رسول اکرم ص سے تقریبا پچاس  ایسی احادیث نقل کی گئی ہی جن میں یوم قیامت  سے پیشتر مہدی کے ظہور کے بارے میں واضح پیشین گوئی کی گئی ہے ۔ ان میں سے بیشتر احادیث صحیح ہیں اور ان کو 33 معروف صحابیوں  اور صحابیات نے آنحضرت  ص سے بلاواسطہ نقل کیا ہے جن میں سے چند یہ ہیں :

امام علی ع۔ امام حسین ع۔ ابو سعید خدری ۔ عبداللہ بن مسعود ۔ثوبان ۔ابو ہریرہ ۔ طلحہ بن مالک ۔ جبیر بن عبداللہ ۔ عثمان بن عفان ۔ عوف بن مالک ۔طلحہ بن عبیداللہ ۔ حذیفہ بن یمان ۔ عمران بن حصین ۔ عبداللہ بن عمر ۔ ام سلمہ ۔ ام حبیبہ ۔عائشہ ۔ عبدالرحمان بن عوف ۔ ابو ایوب انصاری ۔ عباس بن عبدالمطلب ۔ ابن عباس اور عمار یاسر ۔(ناشر)


(6):- احمد بن ابراہیم بلاذری سنہ الحدیث المتسلسل ۔(7):- ابن الصباغ مالکی سنہ 855ھ الفصول المہمہ ۔

(8):- العارف عبدالرحمان سنہ ۔ مرآۃ الاسرار۔ (9):- کمال الدین محمد بن طلحہ شافعی  سنہ 652ھ مطالب المسئول فی مناقب آل الرّسول ع ۔(10):- سلیمان ابراہیم قندوزی حنفی  سنہ 1294 ھ ینابیع المودۃ ۔

اگر کوئی شخص متتبع  اور تحقیق سے کام لے تو ایسے علماء کی تعداد جو مہدی ع کی ولادت ، اور ان کے اس وقت تک زندہ باقی رہنے میں یقین رکھتے ہیں جب تک ان کا ظاہر ہونا اللہ کو منظور نہ ہو ۔ اس سے کئی گناہ بڑھ جائے گی۔ اس کے بعد وہ اہل سنت باقی رہ جاتے ہیں جو احادیث کی صحت کا اعتراف کرنے کے باوجود مہدی کی ولادت  وار ان کے زندہ باقی رہنے کا انکار کرتے ہیں ، ان کا یہ انکار دوسروں پر حجت نہیں ، کیونکہ ان کا ان باتوں سے انکار اور ان کو مستبعد سمجھنے کی وجہ محض ضد اور تعصب ہے ،ورنہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔ قرآن کریم کسی ایسے نظریے کی نفی نہیں کرتا بلکہ خود اللہ نے متعدد مثالیں  بیان کی ہیں تاکہ جمود  کا شکار لوگ آزادی سے سوچ سکیں اور اپنی عقلوں کی باگ  ذرا ڈھیلی چھوڑ دیں تاکہ انھیں یقین آجائے اور وہ مان لیں کہ اللہ تعالی نے متعدد معجزات اپنے پیغمبروں کے واسطے سے دکھائے ہیں تاکہ معاندین  صرف ان چیزوں کے ساتھ نہ چمٹے رہیں  جو ان کی محدود اور ناقص  عقلوں کے مطابق ممکن الوقوع ہیں یا وہ ایسے واقعات ہیں جو عام طور پر ہوتے رہتے ہیں ۔

لیکن !

<>وہ مسلمان جس کادل نور ایمان سے روشن ہے اسے اس پر حیرت نہیں ہوتی کہ اللہ نے عزیر کو سوسال تک مردہ رکھنے کے بعد پھر زندہ کردیا ۔ حضرت عزیر نے اپنی کھانے پینے  کی چیزوں کو دیکھا تو وہ ابھی خراب نہیں ہوئی تھیں ۔ اپنے گدھے کو دیکھا تو اللہ نے اسی کی ہڈیاں درست کردیں اور ان پر گوشت چڑھادیا ۔ گدھا دوبارہ ویسا ہی ہوگیا جیسا پہلے تھا ۔حالانکہ  اس کی ہڈیاں  گل سڑ چکی تھیں۔حضرت عزیر ع نے یہ سب دیکھ کر کہا : میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔


دیکھیے ! کتنی جلدی حضرت عزیر کے خیالات بدل گئے ۔ابھی تو اجڑی ہوئی بستی کو دیکھ کر انھوں نے حیرت سےکہا تھا کہ اسے موت کے بعد اللہ کیسے زندہ کرے گا ؟

<>جو مسلمان قرآن کریم میں یقین رکھتا ہے ۔ اسے اس بات پرکوئی حیرانی نہیں  کہ حضرت ابراہیم نے پرندوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کے اجزا پہاڑوں پربکھیر دیے اور پھر جب ان کو بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے آگئے ۔

<>وہ ایمان مسلمان جسے اس پر کوئی حیرانی نہیں کہ جب حضرت ابراہیم کو  آگ میں ڈالا گیا ، تو وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی ۔ اور اس نے حضرت ابراہیم کو نہ جلایا اور نہ کوئی ضرر پنہچایا ۔

<>وہ بایمان  مسلمان جسے ان پر کوئی حیرانی نہیں کہ حضرت عیسی بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور وہ ابھی زندہ ہیں اور ایک نہ ایک دن زمین پرواپس آئیں گے ۔

<>وہ باایمان مسلمان جسے اس پرکوئی حیرانی نہیں  کہ حضرت عیسی ع مردوں کو زندہ کردیتے تھے اور پیدائشی مبروص اور اندھے کو اچھا کردیتے تھے ۔

<>وہ با ایمان  مسلمان جسے اس پر کوئی حیرانی نہیں کہ حضرت  موسی ع اور بنی اسرائیل  کے لئے سمندر پھٹ گیا  تھا اور یہ لوگ اسے کے بیچ میں سے اس طرح گزر گئے تھے کہ ان کے بدن بھی گیلے نہیں ہوئے تھ ے۔حضرت موسی ع کا عصا سانپ بن گیا تھا اور دریائے نیل کا پانی خون میں تبدیل ہوگیا تھا ۔

<>وہ باایمان مسلمان جسے اس پر تعجب نہیں کہ حضرت سلیمان پرندوں ، جنوں اور چیونٹیوں سے باتیں کیا کرتے تھے ، ان کا تخت ہوا پر اڑتا  تھا اور وہ لمحوں میں ملکہ بلقیس کا تخت منگو لیتے تھے ۔

<>وہ باایمان مسلمان جس اس پر  تعجب نہیں  کہ حضرت خضر ع ،جن کی ملاقات حضرت موسی ع سے ہوئی تھی زندہ سلامت ہیں ۔


<>وہ باایمان  مسلمان جسے اس پر تعجب نہیں کہ ابلیس ملعون زندہ ہے حالانکہ وہ حضرت آدم سے بھی پہلے کی مخلوق ہے اور ساری تاریخ انسانیت اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزری اور وہ ہر موڑ پر اس کے ساتھ رہا ہے ۔ ہو خود پوشیدہ ہے ۔ ان کی بد اعمالیوں سے سب واقف ہیں ، نہ کسی نے اس کو دیکھا ہے اور نہ کوئی دیکھے گا ۔ وہ اور اس کے چیلے چانٹے سب لوگوں کو دیکھتے ہیں مگر ان کو کوئی نہیں دیکھتا ۔

<>پس جو مسلمان ان سب باتوں پر یقین رکھتا ہے اور ان کے وقوع پذیر ہونے پر اسے کوئی حیرانی نہیں ہوتی ، اس کے لیے اس میں کیا تعجب کی بات ہے کہ مہدی ایک عرصے تک اللہ تعالی کی کسی مصلحت کی وجہ سے پوشیدہ رہیں ؟

جن واقعات کا ہم نے ذکر کیا ہے اس سے کئی گنازیادہ غیر معمولی واقعات قرآن میں مذکور ہیں ۔ یہ خارق العادت واقعات عام طور پر نہیں ہوتے ، نہ لوگ ان سے مانوس ہیں بلکہ سب لوگ مل کر بھی چاہیں تو اس قسم کے واقعات پر قادر نہیں ہوسکتے ۔ یہ سب اللہ کے اپنے کیے ہوئے کام ہیں اور اللہ کو کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں کسی کام کے کرنے سے نہیں روک سکتی ۔ مسلمان ان باتوں کی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ قرآن میں جو کچھ آیاہے مسلمان اس پ ر بغیر کسی استثناء یا ذہنی تحفظ کے ایمان لاتے ہیں ۔

اس کے علاوہ ، مہدی سے متعلق امور سے شیعہ زیادہ واقف ہیں کیونکہ مہدی ان کے امام ہیں اور شیعہ ان کے اور ان کے آباء واجداد کے ساتھ رہے ہیں ، مثل  مشہور ہے کہ :

"أهل مكّة أدرى بشعابها"

مکے کی راویوں کو اہل مکہ سے بڑھ کوئی نہیں جانتا ۔ شیعہ اپنے ائمہ کا احترام اور تعظیم کرتے ہیں ۔انھوں نے اپنے ائمہ قبروں کو پختہ اور شاندار بنایا ہے جو زیارت گاہ خلاف ہیں ۔ اگر بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام  کی وفات ، ہوچکی ہوتی تو آج ان کے قبر بھی مشہور ہوتی ۔ شیعہ یہ کہہ سکتے تھ ےکہ وہ مرنے کے بعد زندہ ہوں گے ۔ کیونکہ دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہے


جیسا کہ قرآن میں متعدد ایسے واقعات کاذکر ہے ۔ اور شیعہ تورجعت کے بھی قائل ہیں ۔

لیکن شیعہ من گھڑت اور فرضی  باتیں نہیں کرتے ، نہ ہو بہتان باندھے ہیں ، نہ خیال دنیا میں رہتے ہیں ، جیسا کہ ان کے متعصب دشمن سمجھتے ہیں ۔ اس لیے ان کا اصرار اس پر ہے کہ امام مہدی علیہ السلام زندہ ہیں ، ان کو اللہ کی طرف سے رزق  ملتا ہے ، وہ اللہ کی کسی مصلحت کے تحت پوشیدہ ہیں ۔ ممکن ہے کہ راسخون فی العلم کو یہ مصلحت معلوم بھی ہو ۔ شیعہ اپنی دعاؤں میں کہتے ہیں :

"عجّل الله تعالى فرجه"

کیونکہ مہدی کے ظہور سے مسلمانوں کی عزت وحرمت ،کامیابی وکامرانی اور صلاحج وفلاح وابستہ ہے ۔

امام مہدی علیہ السلام کے بارےمیں شیعہ سنی ، اختلاف کوئی ٹھوس اور حقیقی اختلاف نہیں ہے کیونکہ اہل سنت کا بھی عقیدہ ہے کہ امام مہدی آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے ، زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے ۔ حضرت عیسی علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے ، ان کے دور میں مسلمان تمام روئے زمین کے مالک ہوں گے خوشحالی عام ہوگی اور کوئی غریب نہیں رہے گا ۔

اختلاف فقط اس میں بے کہ شیعہ کہتے کہتے ہیں کہ ان کی ولادت ہوچکی ہے جبکہ اہل سنت کہتے ہیں کہ وہ ابھی پیداہوں گے ۔(1) لیکن  اس بات پر فریقین کا اتفاق  ہے کہ ان کا  ظہور  قیامت کے قریب ہوگا اس لیے مسلمان میں اتحاد واتفاق پیدا کرنے اور پرانے زخموں پر پھایا رکھنے کے لیے سب مسلمانوں کو چاہے کہ مل کر کیا شیعہ کیاسنی خلوص سےاپنی دعاؤں اور نمازی میں اللہ تعالی سے التجاء کریں کہ وہ امام مہدی ع کے ظہور جلدی فرمایے :

--------------------

(1):- یہ اسی خیال کا شاخسانہ تھاکہ انڈونشی خاتون زہرہ فونا مہدی کی والدہ ہونے کا ڈرامہ رچایا ۔ اور یہ کہ متعدد لوگوں نے مختلف زمانے میں "مہدویت " کا جھوٹا دعوی کیا ۔(ناشر)


کیونکہ ان کے ظہور میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہے اور ان کے خروج سے امت محمدیہ کی کامیابی وخوشحالی وابستہ ہے ۔ بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مہدی اکر زمین کو عدل وانصاف سے بھردیں ۔

سب مسلمان کیا سنی اور کیا شیعہ امام مہدی ع کے آنے پر یقین رکھتے ہیں ۔خواہ اہل سنت کے قول کے بموجب ہو پیدا ہوں یا شیعوں کے کہنے کے مطابق وہ غائب رہنے کے بعد ظاہر ہوں ۔

اہم  بات یہ ہے کہ یہ کوئی فرضی اور خیالی قصہ نہیں ہے جیسا کہ بعض شرپسند ظاہر کرناچاہتے ہیں ، بلکہ مہدی کی شخصیت  ایک حقیقی شخصیت ہے جس کی بشارت رسول اللہ ص نے دی ہے اور جواب پوری انسانیت کاخواب بن گئی ہے ۔

مسلمانوں کے علاوہ یہ عیسائیوں اور یہودیوں کا بھی عقیدہ ہے کہ ایک منجی  یا نجات دہندہ آئیگا جو دنیا کی اصلاح کرے گا ۔ اس نجات دہندہ کے یہود ونصاری بھ منتظر ہیں ، اسی لیے مہدی کے دادا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام "مہدی منتظر " رکھا ہے ۔

اے اللہ ! سب مسلمانوں کو خیر وتقوی کی توفیق دے ، ان کو صفوں مین اتحاد اور دلوں میں اتفاق پیدا کر، ان کی خرابیوں کی اصلاح کر ، اور انھیں دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی عطا کر ۔

ائمہ کی محبت میں غلو

یہاں غلوّ سے مردا حق کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کا اتباع کرنا اور محبوب کو معبود بنالینا نہیں ، ایسا کرنا تو کفر وشرک ہے جس کا کوئی مسلمان  جو اسلام کے پیغام اور حضرت محمد ص کی رسالت پر یقین رکھتا ہو قائل نہیں ہوسکتا ۔

ر سول اللہ ص نے محبت کی حدود مقرر کردی تھیں جب آپ نے امام علی علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ :

"هلك فيك اثنان محبُّ غالٍ ومبغضٌ قالٍ".


تمھارے بارے میں اپنے خیال کو بنا پر دو طرح کے لوگ ہلاک ہوجائیں گے ، ایک حد سے زیادہ محبت کرنے والا اور دوسرا حد سے زیادہ بغض رکھنے والا ۔

رسول اللہ کا ایک اور قول ہے :

"يا على إنّ فيك مثلا ًمّن عيسى بن مريم أبغضته اليهود حتى بهتوا اُمّه وأحبّه النصارى حتّى أنزلوه بالمنزلة الّتي ليس بها ."

اے علی ع ! تمھاری مثال عیسی بن مریم ع کی سی ہے ۔ یہودی  ان سے اتنا بغض رکھتے تھے کہ ان کی والدہ پر بہتان باندھتے تھے ۔ اور عیسائیوں نے ان سے ایسی محبّت  کی کہ انھیں اس درجے  پر پہنچادیا جس درجے پر وہ نہیں تھے ۔(1)

غلو یہ ہے کہ محبت کسی پر اس طرح چھا جائے کہ وہ محبوب کو معبود بنادے اور اس کو وہ درجہ دے دے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں یا بغض اس قدر غالب آجائے  کہ بہتان باندھنے اور جھوٹے اتہام لگانے لگے ۔

شیعوں  نے علی ع اور اولاد علی میں سے ائمہ  کی محبت میں غلو نہیں کیا بلکہ انھیں وہی درجہ دیا جو رسول اللہ ص نے دیا دتھا ۔ یعنی یہ کہ وہ آ پ کے وصی اور خلیفہ تھے ۔ الوہیت تو کجا کوئی شیعہ ائمہ کی نبوت کا بھی قائل نہیں ۔ فتنہ انگیزوں کو چھوڑیے جو یہ تک کہتے ہیں کہ "شیعہ تو علی کو خدا مانتے ہیں "(2) اگر یہ صحیح ہے

--------------------

(1):-مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 123۔ حافظ ابن عساکر ،تاریخ دمشق  جلد 2 صفحہ 234۔ امام نسائی ،خصائص امیرالمومنین ۔ امام بخاری ،تاریخ کبیر جلد 2 صفحہ 281 ۔حافظ سیوطی ،تاریخ الخلفاء صفحہ 173 ۔ محب طبری ذخائر العقبی صفحہ 92۔ابن حجر صواعق محرقہ صفحہ 84۔

(2):- مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قارئین کویہ بتادیا جائے کہ جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسی ابن مریم ع کی شخصیت کو اور یہودیوں نے حضرت عزیر کی شخصیت کو ایک سماوی جوہر بنادیا تھا اسی طرح مسلمانوں میں سے کچھ بد عقیدہ لوگو ں نے حضر ت علی ع کو خدائی کے درجے تک پہنچا دیا تھا ۔ انسان کو خدا بنانے کا


کہ کچھ لوگ واقعی ایسا مانتے ہیں تو ان کا تعلّق نہ شیعوں نہ شیعوں سے ہے نہ خوارج سے ۔ بہر حال یہ شیعوں کا تصور نہیں کہ قرآن کہتا ہے :

"قُلْ لا اَسْئَلُكُمْ عَلَيْه اَجْراً اِلاَّ المَوَدَّهَ في الْقُربى"

اے رسول ! اپنی امت سے کہہ دیجیے کہ میں تم سے اپنی رسالت  کا کوئی معاوضہ نہیں مانگتا بجز اپنے قرابتداروں سے مودت کے ۔یاد رہے کہ مودت کا درجہ محبت محبت سے بڑھ کرہے ۔ مودت کاتقاضایہ ہے کہ دوسرے کے لیے کچھ قربانی دی جائے ۔

--------------------

یہ عمل حضرت علی ع تک محدود نہ تھا، ان کے جانشینوں کو بھی خدائی کا رتبہ دے دیا گیا تھا ۔ ایسے بدعقیدہ لوگوں کی طرف  اشارہ کرتے ہوئے  امام ثامن امام علی بن موسی رضا اپنی دعائیں فرماتے ہیں :

 خدایا ! میں بیزار ہوں ان لوگوں سے جو ہمارے لیے ایسی بات کہتے ہیں جس کے ہم سزاوار نہیں ۔ اور میں بیزار ہوں  ان لوگوں سے جو ہم سے ایسی بات منسوب کرتے ہیں جو ہم نے کبھی کہی ہی نہیں

خدایا !زندگی اور موت دینا تجھ س مخصوص ہے اور روزی رساں بھی  صرف تو ہے ۔ میں تو فقط تیری  عبادت کرتا ہوں اور تجھی سے مدد مانگتاہوں ۔توہی میرا ، میرے آباء واجداد  کا  اور میری اولاد کا خالق ہے اور ربوبیت تیرے  سوا کسی اور کو زیبا نہیں "۔

پس جاننا چاہیے کہ جن لوگوں نے عبد کو معبود بنادیا انھوں نے عبد سے محبّت  مین غلو  کیا جو کفر کی حدوں میں آتا ہے ، جیسا کہ حضرت امیرالمومنین  ع کا قول ہے ،آپ فرماتے ہیں :

"کفر ان چار ستونوں پر قائم ہے : گناہ ۔ شک ۔ شبہ اور ۔ غلو ۔"

علامہ مجلسی رح فراتے ہیں:

<>جو شخص یہ مانے کہ اللہ نے حضرت محمد مصطفی ص اور ان کے اولیاء باصفاء کو خلق فرمایا اور پھر ساری مخلوق کی خلقت اور تربیت ان کو سونپ دی "۔وہ غالی ہے۔


اس میں شیعوں کی کیا خطا اگر رسول اللہ ص نے فرمایا ہے کہ

"علی ع! تم دنیا میں بھی سردار ہو اورآخرت میں بھی سردار ہو، جس نے تم سے محبّت  کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے تم سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔ تمھارا دوست اللہ کا دوست ہے اور تمھارا دشمن اللہ کا دشمن ہے ۔ خرابی اس کی ہے جو تم سے دشمنی رکھے! "(مستدرک حاکم جلد 3 ۔حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث علی الشرط الشیخین صحیح ہے ۔ ینابیع المودۃ ۔الریاض النضرۃ جلد 2 صفحہ 185)

--------------------

<>شیخ مفید فرماتے ہیں :

"جو شخص حضرات امیرالمومنین ع یا آپ کی اولاد میں سے کسی امام کو  خدا یا نبی مانے وہ غالی ہے"۔

<>شیخ صدوق فرماتے ہیں :

"غلات (جمع ہے غالی  کی ) یہودیوں اور نصرانیوں سے بد تر اور کافر ہیں"

غالی فرقوں میں سے (جن کا ذکر شہرستانی نے الملل والنحل میں ، نوبختی نے فرق الشیعہ میں اور مقریزی نے خطط میں کیا ہے) اکثر تو مٹ گئے ہیں مگر کچھ اب بھی کسی نہ کسی شکل میں  اور کہیں نہ کہیں باقی ہیں ۔ انھوں نے ائمہ اہل بیت ع سے محبت وعقیدت ہی میں جوش اور  مبالغے  سے کام نہیں لیا بلکہ بہت سے ایسے عقائد بھی اختیار کر لیے جن کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔جیسے تناسخ اور حلول وغیرہ ۔ حتی کہ بعض نے تو حلال حرام کی تمییز ہی اٹھادی اور حشر نشر کا بھی انکار کردیا ۔

غالیوں کا ایک فرقہ نصیری ہے جو محمد بن نصیر نمیری کی طرف منسوب ہے ۔ یہ شخص حضرت امام حسن عسکری ع کا صحابی تھا ، بعد میں آپ کی امامت کا منکر ہوگیا ۔ اور اپنی امامت کا دعوی کر بیٹھا ۔نصیری فرقہ آج بھی غالبا ملک شام کے شمالی اطراف میں آباد ہے ۔یہ فرقہ حضرت علی ع کی خدائی  کا قائل ہے ۔ اس کے علاوہ ترکی کا تختاجی فرقہ اور ترکستان کا علی اللھی فرقہ بھی آپ کی خدائی کے معتقد ہیں ۔واللہ اعلم 


رسو ل اللہ ص نے یہ بھی فرمایا :

علی ع سے محبت ایمان ہے اور علی ع سے بغض نفاق ہے ۔ (صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 48 ۔کنز العمال جلد 15 صفحہ 105)

آپ نے یہ بھی فرمایا :

 "جو شخص آخر دم تک آل محمد کی محبّت پر قائم رہا وہ شہید مرا ۔ یاد رکھوں جو آل محمد کی محبت پر مرا اس کی بخشش ہوگئی ،

یا درکھو جو آل محمد ص کی محبت پر مرا ہو گویا سب گناہوں سے توبہ کرکے مرا

-------------------------

شہر ستانی الملل والنحل میں لکھتے ہیں کہ :

ایک غالی فرقہ دعوی کرتا  تھا کہ حضرت علی ع قتل نہیں ہوئے ہیں ، وہ اب بھی زندہ ہیں ۔ ایک اور دیومالائی تصورات رکھنے والا فرقہ کہتا تھا کہ بادل حضرت علی کی دیولوک ہے ۔ یہ بادلوں کی گرج  اور بجلی کی چمک  آپ ہی کی آواز ہے "۔

ابن ابی الحدید  شرح نہج البلاغہ میں لکھتے ہیں کہ

"ایک شخص مغیرہ بن سعید کہا کرتا تھا کہ حضرت علی ع اگر چاہیں تو عاد وثمود ارو ان دونوں قوموں کے درمیان کی صدیوں کے سب لوگوں کوزندہ کردیں "۔

غلات کے ایسے ہی باطل عقائد کی بنا پر ائمہ  اہل بیت ع  میں سے حضرت امام محمد باقر ع حضرت امام جعفر صادق ع ، حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن  عسکری علیھم السلام  نے ان سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ ان پر بار لعنت کی اور اپنے اصحاب سے بھی  لعنت کرنے کو کہا ۔

پس یہ کہنا صحیح ہے کہ غالیوں کا شیعہ اثنا عشریوں سے قطعا کوئی تعلق نہیں اور ان  کے اقوال وعقائد کی وجہ سے ان پر اعتراض کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ شیعہ اپنے محبوب کو معبود نہیں کہتے ، بلکہ ان کے لیے وہ کچھ کہتے اور مانتے ہیں جو ان کا حق ہے اور جو کچھ  اللہ اور اس کے رسول ص نے ان کے مناقب میں کہا ہے ۔مختصر  یہ کہ ائمہ اہل بیت  ع کای ولایت شیعوں کی شناخت ہے کیونکہ :

ائمہ  اہل بیت ع اللہ کی حجت اور رسول اللہ ص کی ذریت ہیں ۔ یہ نفوس قدسیہ درود میں رسول اللہ ص کے ساتھ شامل ہیں ۔ یہ ساری امت سے افضل اور ممتاز ہیں کیونکہ رسول اللہ ص انھیں کو


یاد رکھو جو آل محمد ع کی محبت پرمرا وہ کامل الایمان مرا ۔ یاد رکھو جو آل محمدص کی محبت پر مرا اسے موت کا فرشتہ جنت کی بشارت دےگا۔ (تفسیر ثعلبی، تفسیر زمخشری ، تفسیر  فخرالدین رازی)

اس میں شیعوں  کی کیا خطا اگر وہ ایسے شخص سے محبت کرتے ہیں جس کے بارے میں رسول اللہ ص نے فرمایا :

کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ص سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول ص کو اس سے

--------------------

مباھلہ  میں لے کر گئے تھے ۔ یہ اصحاب کساء اورآیہ تطہیر کا مصداق ہیں ۔ انھیں کے بارے میں رسول اللہ ص نے کہا تھا کہ ان کا دوست میرا دوست ہے اور ان کا دشمن میرا دشمن ہے ۔ انھیں کی شان میں سورہ کوثر بھی اتری ۔ اور سورہ ھل اتی بھی اتری ۔ یہی رسول اللہ ص کے وہ قرابت دار ہیں جن کی مودت کو اللہ نے واجب کیا ہے ۔ یہی ائمہ  قرآن کےترجمان اور رسالت کے پاسبان ہیں اور یہی ائمہ انسانیت کے لیے ملجاواماوی ہیں ۔

ائمہ اہل بیت ع رسول اللہ ص کے بعد دین کی تبلیغ میں مصروف رہے کیونکہ رسول اللہ ص نے انھیں اپنی منیت میں قراردیا تھا ۔ انھوں نے ہی دنیا کو عبادت کاڈھنگ ار دعاء کا آہنگ سکھایا اور حلال وحرام سمجھایا ۔ یہی خانوادہ رسالت  شریعت کا امین ہے اور اس نے شریعت کی بدعت  سے انھیں کی محنتوں اورقربانیوں  کےصدقے میں باقی ہیں ۔ انھیں میں باب  مدینہ علی ہیں اور انھیں میں باب الحواج ہیں ۔ انھیں کا نام ناامیدی اور مایوسی میں مژدہ جانفزا ہے ۔ انھیں کے توسل سے  دعائیں مستجاب  ہوتی ہیں اور انھیں کی شفاعتیں باریاب ہوتی ہوئی کیونکہ انھیں اذن شفاعت دیا گیا ہے ۔

ائمہ  اہل بیت ع ہی اولی الامر ہیں  اور راسخون فی العلم ہیں ۔ یہی لوگ تو ہدایت یافتہ اور ہدایت کرنے والے ہیں۔ یہی نجات کا سفینہ اور علوم ربانی کا خزینہ ہیں ۔ یہی لوگ توہیں جن کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور جن کی مخالفت اللہ کی مخالفت ہے ۔ کیونکہ یہ اللہ کے چنیدہ اور برگزیرہ بندے ہیں ۔ انھیں کے سروروسردار حضرت علی ع کو قرآن نے تاج ولایت پہنایا ہے ۔ اور رسول اللہ ص نے ان کی ولایت کبرکی کو اللہ کا حصار بتایا ہے ۔


محبت ہے ۔ (صحیح مسلم جلد 4)

معلو ہوا کہ جس کو علی محبوب ہے وہ اللہ اور اس کے رسول ص کو محبوب ہے اور وہ مومن ہے ۔ اور جس کو علی ع ناپسند ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کو ناپسند ہے اور وہ منافق ہے ۔

امام شافعی نے حب اہل بیت ع کے بارے میں کہا ہے :

"يا أهل بيت رسول الله حبّكم

فرضٌ مّن الله فى القرأن أنزله

اے  اہل بیت رسول ص ! تمھاری محبت اللہ نے قرآن میں فرض کی ہے

"كفاكم من عظيم القدرانكم

من لم يصل عليكم لاصلواة له

تمھاری فضیلت کے بیان میں اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ جس نے نماز میں تم پر درود نہیں پڑھا  اس کی نماز نہیں ہوئی ۔

--------------------

کون ہے جو اس سے انکار کرے  کہ

حضرت علی ع سید المسلمین ہیں ، امیرا لمومنین ہیں ، امام المتقین ہیں قائد الغرّ المحجلین  ہیں ۔یا یہ کہ آپ ہی بت شکن ، خیبر شکن اور یعسوب الدین ہیں ۔ لیلۃ المبیت آپ نے بستر رسول ص پر سوکر جان نثاری کی اعلی مثال قائم کی ۔

حضرت علی ع نہج البلاغہ  میں ائمہ  اہلبیت کا تعارف کراتے ہوے فرماتے ہیں :

اس امت میں کسی کو آل محمد ص پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ۔یہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ہیں ۔ حق ولایت کی خصوصیات انھیں کے لیے ہیں اور یہی رسول اللہ کے وصی اور وارث ہیں "

بلاشبہ حضرت علی علم رسول  ص کے وارث ہیں کیونکہ رسول اللہ ص نے فرمایا تھا:"

أنا مدينة العلم وعليٌّ بابهااورخود حضرت علی ع فرماتے ہیں :

لقد علّمنى رسول الله صلّى الله عليه وآله ألف باب ٍ يفتح ألف بابٍ .ایک موقع پر آپ نے اپنے سینہ


فرزدق  اپنے مشہور قصیدہ میمیہ میں حب اہل بیت ع کےبارے مین کہتا ہے :

"من مّعشرٍ حبّهم دين ٌوّ بعضهم

كفرٌ وّقرّبهم منجىٌ وّمعتصمُ

ان کا تعلق اس خاندان سے ہے جس سے محبت کرنا دین ہے  اور جس سے بغض کفر ہے اورجس سے قرب میں نجات اورپناہ ہے ۔

إن ّ عدّأهلُ التّقى كانوا أئمّتهم

أو  قيل من خيرُ أهل الأرض قيل هم

اگر اہل تقوی کا شمار کیا جائے تو یہ ان کے امام ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ زمین پن بسنے والوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟

تو کہاجائے گا : یہی تو ہیں :

شیعہ اللہ اور اس کے رسول ص سے محبت کرتے ہیں اور اسی محبت کی وجہ سے

-----------------------

مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا : 

إنّ ههنا لعلما ً جمّاً.

ایک دوسرے موقع پر آپ نے کہا :

سلونى قبل أن تفقدوني

اور ایک بار آپ نے فرمایا تھا :

 میں زمین کے راستوں سے زیادہ آسمان کےراستوں سے واقف ہوں "۔یہ بھی آپ ہی نے کہا تھا کہ :

"اگر میں مسند قضاوت پر بیٹھوں  تو اہل تورات میں تورات سے ، اہل انجیل میں انجیل سے اور اہل قرآن میں قرآن سے فیصلہ کروں "۔

آپ  کی اعلمیت  کا اعتراف کرتے ہوئے حضرت عمر نے کہا تھا:" لولا علىٌّ لّهلك عمرُ.

آپ کی علمیت کے متعلق ہم یہ تو نہیں کہتے کہ آپ ماکان ومایکون  کا سارا علم


اور ان کو بےجا طور پر مقدس سمجھتے ہیں ۔ بہ ظاہر  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ رد عمل ہے اس کا کہ شیعہ سب صحابہ کی عدالت کے قائل نہیں ۔

چنانچہ امویوں کی یہ پالیسی تھی کہ وہ صحابہ کی شان بڑھانے تھے اور اہل بیت نبوی کا درجہ گھٹاتے تھے ، حتی کہ محمد وآل محمد ص پر درود  میں بھی  ، علی اصحابہ اجمعین کا اضافہ کردیتے  ہیں ۔ کیونکہ درود اہل بیت کی  ایسی فضیلت  ہے جس میں اگلے پچھلوں میں سے کوئی بھی ان کا شریک وسہیم نہیں بنی امیہ چاہتے تھے کہ صحابہ کو بھی اس بلند درجے تک پہنچادیں ۔ وہ یہ نظر انداز کر جاتے تھے  کہ اللہ سبحانہ  نے سب مسلمانوں کو جن میں صحابہ  کو بھی بدرجہ اولی شامل تھے حکم دیا ہے کہ  " محمد ، علی ، فاطمہ اور حسین  ع پر درود بھیجیں ، اور جس نے ان پر درود نہیں بھیجا اور فقط محمدص اکتفاء کیا ، (1)،اس کی نماز مقبول نہیں ہوگی ،جیسا کہ صحیح بخاری اور مسلم  سے ثابت ہے ۔

جب ہم یہ کہتے ہیں  کہ اہل سنت صحابہ کے معاملے میں غلو کرتے ہیں ، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل سنت معقول حد سے تجاوز کرکے سب صحابہ کی عدالت کے قائل ہیں ۔

اہل سنت کا غلو اس وقت ظاہر ہوجاتا ہے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ص غلطی کرتے تھے جس کی اصطلاح کوئی صحابی کرتے تھے ، یا وہ یہ کتے ہیں کہ شیطان

-------------------------

(1):- حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن عاصی بن وائل سہمی نے آ پ کو ابتر یعنی  بے اولاد ہونے کا طعنہ دیا تو خداوند عالم نے آپ کو کوثر (آل محمد ) عطا فرمایا  اور آپ کے دشمن کی نسل کو ،جس پر اسے گھمنڈ تھا ختم کردیا ۔ اس لیے آنحضرت ص نے فرمایا : مجھ پر صلواۃ بتراء نہ بھیجو ۔ پوچھا گیا : یا رسول اللہ ! صلواۃ بتراء  کیا ہے ؟ فرمایا :

"اللهمّ صلّ على محمّد " کہہ کر مت رک جا نا ۔ لہذا مجھ پریوں درود نہ بھیجو بلکہ کہو : " اللهمّ صلّ على محمّدوّآل محمّد .(صواعق محرقہ)

پس "صلّى الله عليه وسلّم نصلّي على رسوله الكريم , صلّى الله عليك وبارك وسلّم و أللهمّ صلّ على محمّدٍ النبيّ الأُميّ "

وغیرہ کہنا سب صلواۃ بتراء کے ذیل میں آتا ہے (ناشر)


رسول اللہ ص کی موجود گی میں تو ہنستا کھیلتا رہتا تھا لیکن ابن الخطاب کو دیکھ کر بھاگ جاتا تھا ۔

غلو اوربھی زیادہ واضح ہوجاتا ہے جب ہم دیکھتے  ہیں کہ اہل سنت رسول اللہ ص کی سنت کو چھوڑ کر صحابہ خصوصا خلفائے راشدین کی سنت کا اتباع  کرتے ہیں

<><><>

قارئین محترم !

حق وباطل  اور ہدایت وضلالت کے دوراہے پر کھڑے ہوئے لوگوں کو ڈاکٹر تیجانی نے اپنی اس بحث میں ایک راہ دکھادی ہے ۔ اب یہ حقیقت کے شیدائیوں اور ہدایت کے متلاشیوں کا کام ہے کہ وہ بھی تحقیق کا بیڑا اٹھائیں تاکہ جس طرح ڈاکٹر صاحب کا دل دس سالہ تحقیق عمیق کے بعد ایمان  کی تجلی سے پر نور ہوا ہے ، ان کے دل بھی منور ہوجائیں ۔ البتہ ہدایت کے اس سفر میں یہ بات صادق آتی ہے کہ از تو حرکت ، ازخدا برکت یعنی ڈھونڈھنے والا حق کو  ڈھونڈھے اور واقعی ظلمت الظلمات سے عزم ہجرت کرے کیونکہ ارشاد ربّانی  ہے :" وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا " ظاہر ہے کہ تلاش حق کا یہ معاملہ  انتہائی نازک اور سنجیدہ ہے کیونکہ اس کا تعلق جنت یاجہنم سے ہے نجات یا عذاب سے ہے لہذا کون چاہے گا  کہ ہو جہنم  کا ایندھن  بنے ۔ پس  متلاشی حق کو چاہیے کہ فرقہ واریت سے بالاتر ہوکر چراغ عقل کی روشنی میں غور فکر کرے اور اپنے ضمیر سے فیصلہ چاہے ،۔کیونکہ ضمیر کی عدالت میں بندہ ہوتا ہے اور خدا !

 والسلام علی من اتبع الھدی

ناشر


فہرست

خطبۃ الکتاب. 2

گفتار مولف.. 3

اسلوب تالیف.. 7

قرآن ۔اہل سنّت اور اہل تشیّع کی نظر میں. 10

سنت رسول ۔ اہل سنت او راہل تشیع کی نظر میں. 17

شیعہ اور سنی عقائد 29

اللہ تعالی کے متعلق فریقین کا عقیدہ 30

نبوت کے بارے میں فریقین  کا عقیدہ 34

فریقین کے نزدیک امامت کا عقیدہ 40

حقیقت کیا ہے ؟ 41


امامت قرآن کی رو سے 42

امامت سنّت نبوی کی رو سے 46

خلافت کے بارے میں اہل سنت کی رائے.. 51

1:- ولایت علی ع قرآن کریم میں. 55

2:- آیہ تبلیغ کا تعلق بھی ولایت علی ع سے ہے.. 58

اکمال دین کی آیت کا تعلق بھی خلافت سے ہے.. 76

یہ دعوی کہ آیت اکمال عرفہ کے دن نازل ہوئی ۔ 80

اس بحث کا ایک اہم جزو 99

حسرت وافسوس. 120

بحث کے آخر میں کچھ تبصرہ 128

امام علی ع کی ولایت کے دوسرے شواہد 138


شوری پر تبصرہ 143

مسئلہ تقدیر ۔ اہل سنت کی نظر میں. 149

قضا وقد رکے بارے میں شیعہ عقیدہ 160

قضا وقدر کی بحث کے ضمن میں خلافت پر تبصرہ 165

رسول ص کے ترکہ کے بارےمیں اختلاف.. 168

1:- حدیث کی صحت اور عدم صحت کے بارے میں صحابہ میں اختلاف.. 178

ابو ہریرہ کا ایک اور قصہ 180

عائشہ اور ابن عمر کا اختلاف.. 181

عائشہ  اور ازواج نبی کا اختلاف.. 181

2:- سنت رسول ص کے بارے میں فقہی مذاہب کا اختلاف.. 185

3:- سنت رسول ص کے بارے میں شیعہ سنی اختلافات. 186


خمس. 197

تقلید 205

وہ عقائد  جن پر سنت شیعوں کو الزام دیتے ہیں. 214

ائمہ کی عصمت. 220

عصمت ازروئے قرآن. 221

عصمت ازروئے حدیث. 222

ائمہ کی تعداد 227

ائمہ علم 229

بداء 234

تقیّہ 244

متعہ : معین مدت کا نکاح. 255

مسئلہ تحریف قرآن. 266


جمع بین الصلاتین. 281

خاک پر سجدہ 293

رجعت. 299

مہدی منتظر علیہ السلام 304

ائمہ کی محبت میں غلو 314


حکم اذاں

حکم اذاں

اصلاح کتب

مؤلف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)
: علی اصغر رضوانی
: علی اصغر رضوانی
قسم: متفرق کتب
صفحے: 328