سقيفہ كے حقائق ( روایت ابومخنف كي روشني ميں)
گروہ بندی متن تاریخ
مصنف تارى، جليل
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب کا نام : سقیفہ کے حقائق ( روایت ابومخنف کی روشنی میں)

مؤلف : تاری، جلیل

مترجم / مصحح : سید نسیم حیدر زیدی

ناشر : مجمع جهانی اہل بیتعليه‌السلام

نشر کی جگہ : قم (ایران)

نشر کا سال : ۲۰۰۶

جلدوں کی تعداد : ۱


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیض یاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے ہیں غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کر لیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں،چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و مؤسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگھی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل، فطرت انسانی سے ہم آھنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا،اس لئے تیئیس برس کے مختصر سے عرصے میں ہی اسلام کی عالم تاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تھذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تھذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذھبِ عقل و آگھی سے رو برو ہونے کی توانائی کھو دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاھب اور تھذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گراں بھا میراث کہ جس کی اہلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروؤں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرندان اسلام کی بے توجھی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بھت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناھی کی ہے ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبھات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاھیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذھبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بیتاب ہیں،یہ زمانہ علمی و فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بھتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جھانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیتعليه‌السلام عصمت وطھارت کے پیروؤں کے درمیان ہم فکری و یکجھتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بھتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے،تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے، زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے،ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماھرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طھارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علم بردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوںخواروں کی نام نھاد تھذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جھالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنٰی خدمت گار تصور کرتے ہیں،

زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل آقای علّام جلیل تاری کی گراں قدار کتاب حقائق سقیفہ کو فاضل جلیل مولانا سید نسیم حیدر زیدی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار اور مزید توفیقات کے آرزو مند ہیں،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنٰی جھاد رضائے مولٰی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الکرام

مدیر امور ثقافت: مجمع جھانی اہل بیت علیہم السلام


بیاں اپنا

تمام تعریفیں اس خدائے وحدہ لا شریک سے مخصوص ہیں جو عالمین کا پالنے والا ہے اور بے شمار درود و سلام ہو اس کی بھترین مخلوق حضرت محمد اور ان کی پاکیزہ آل پر جنھوں نے بشریت کی تعلیم تربیت اور راھنمائی کے لئے فرش زمین پر قدم رکھ کر پیغام الٰھی کو پھونچایا اور انسانوں کو ہر طرح کی پستی سے نکال کر معراج عبودیت تک پھونچایا۔

واقعۂ سقیفہ: تاریخ اسلام کا وہ عظیم سانحہ ہے جس نے دین اسلام کو تہتر فرقوں میں تقسیم کر کے امت محمدیہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داغدار بنا دیا، سقیفہ کے موضوع پر کل بھی کتابیں لکھی گئی تھیں اور آج بھی لکھی جارہی ہیں اور آئندہ بھی محققین اپنے قلم کا کرشمہ دکھاتے رہیں گے مگر اس کتاب میں جس انداز اور جن پہلوؤں سے بحث کی گئی ہے وہ قابل قدر ہیں اور اس کے مصنف لائق تحسین اور قابل مبارک باد ہیں۔

حقیر نے اس کتاب کو مجمع جہانی اہل البیتعليه‌السلام کی فرمائش پر اردو زبان حضرات کے لئے نہایت دقت کے ساتھ اردو کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے، پھر بھی اگر ترجمے میں کوئی نقص نظر آئے تو برائے مہربانی حقیر کو مطلع فرمائیں تاکہ اس کی اصلاح ہوسکے۔

خالق لوح و قلم کی بارگاہ میں اہل بیتعليه‌السلام طاھرین کے وسیلے سے دعاگو ہوں کہ پروردگارا! اس ناچیز کوشش کو بطفیل قائم آل محمد (عج) شرف قبولیت عطا فرما، کتاب کے مصنف اور ناشر کو مزید خدمت دین کی توفیق عطافرما۔ آمین

آخر میں اپنے تمام دوستوں کا شکر گذار ہوں جنہوں نے اس کام میں میری مدد فرمائی ہے خصوصاً برادر عزیز حجة الاسلام مولانا سید حسین اختر رضوی اعظمی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس ترجمہ میں میری راھنمائی فرمائی ہے۔ انہ ولی التوفیق

سید نسیم حیدر زیدی۔ قم المقدسہ ۳ صفر ۱۴۲۶ ہجری


پیش لفظ

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے فوراً بعد پیش آنے والا ایک عظیم سانحہ "واقعۂ سقیفہ" ہے جو آپ کی وفات کے بعد رونما ہونے والے بہت سے حوادث و نظریات کا پیش خیمہ ہے جس طرح اس واقعہ کے ابتدائی مرحلہ ہی میں اس کے طرفدار اور مخالفین موجود تھے، اُسی طرح آج بھی مسلمانوں کے درمیان فرقہ بندی کا اہم سبب واقعہ سقیفہ ہی ہے۔

لھٰذا ممکن ہے کہ اس سلسلے میں علمی اور استدلالی بحث، طالب حق انسان کے لئے رہنما ثابت ہو۔

"سقیفہ" لغت میں چھت دار چبوترہ کو کہتے ہیں یہ مدینہ کے ایک گوشہ میں ایک امکان تھا جس کی بڑی چھت تھی اور یہ مکان بنو ساعدہ بن کعب خزرجی کا تھا اسی وجہ سے سقیفہ بنی ساعدہ کے نام سے مشھور تھا۔ انصار اس مکان میں جو ایک مجلس مشاورت کی حیثیت رکھتا تھا اپنے فیصلوں کے لئے جمع ہوئے تھے(۱)

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد انصار کا ایک گروہ جس میں اوس و خزرج(۲) دونوں ہی شامل تھے یہاں جمع ہوئے تاکہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت کے سلسلے میں کوئی چارہ جوئی کریں(۳) ۔

انصار کیوں اور کس مقصد کے تحت وھاں جمع ہوئے؟ کیا تقریریں ہوئیں اور ان کا نتیجہ کیا نکلا؟ یہ تمام موضوعات ایسے ہیں جن کے بارے میں اس کتاب میں تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ایک اچھی خاصی اہمیت کا حامل تھا اور ہے اور بہت سے مورخین کی توجہ کا مرکز بنا رہا اس کے باوجود محدثین نے اس اہم واقعہ کے فقط چند پہلوؤں کے بیان پر ہی اکتفا کی ہے لیکن ابو مخنف ان راویوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اس واقعہ کی باریکیوں کو تفصیل سے بیان کیا بلکہ سقیفہ کے موضوع پر ایک پوری کتاب بھی لکھی ۳ لیکن ہمارے پاس اس کتاب کا فقط وہ حصہ موجود ہے جو تاریخ طبری میں نقل ہوا ہے۔

اس کتاب میں ہماری کوشش ہے کہ ابو مخنف (جو تاریخ اسلام کے ایک عظیم اور باریک بین محدث ہیں) کے تعارف کے ساتھ ساتھ واقعۂ سقیفہ کے بارے میں ان کی اہم روایت پر محققانہ اور منصفانہ نظر کی جائے نیز معتبر تاریخی کتابوں سے متن روایت کو پیش کریں اور حاشیہ پر مآخذ و منابع کا ذکر کرتے ہوئے دوران بحث ہر قسم کی جانبداری اور بے بنیاد باتوں سے پرہیز کریں۔

مصنف نے اپنی کم علمی کے باوجود بے حد کوشش کی ہے کہ واقعہ سقیفہ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معتبر کتابوں کا سہارا لیا جائے، اور ہر مسئلہ میں طرفین کے نظریہ اور تنقید کو بیان کرتے ہوئے ایک خاص نظر پیش کی جاتی۔

امید ہے کہ اس کتاب کے اسلوب تحریر سے تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا، جسے "اجتہادی تاریخ" کے نام سے یاد کیا جاسکتا ہے۔

آخر میں خدا کے شکر کے بعد تمام ان افراد کی قدر دانی کو ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے میری تعلیم و تربیت میں مؤثر کردار ادا کیا بالخصوص اپنے محترم والدین، بھائی، اساتذہ نیز جناب ڈاکٹر صادق آئینہ وند اور حجة الاسلام والمسلمین رسول جعفریان کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کی تخلیق میں میری رہنمائی فرمائی۔

جلیل تاری۔ ۱۴۲۳ ہجری

____________________

۱. صاحب حسن اللغات کے مطابق سقیفہ ایک ایسا خفیہ مکان تھا جہاں عرب باطل مشوروں اور بے ہودہ باتوں کے لئے جمع ہوتے تھے (مترجم)

۲. مدینہ کے دو بڑے قبیلوں کے نام ہیں۔ (مترجم)

۳. رجال نجاشی: ص۳۰۲


پہلا حصہ: تمہیدات

ابو مخنف کا تعارف

کیونکہ ہم سقیفہ سے متعلق ابو مخنف کی روایت کے بارے میں گفتگو کریں گے لھٰذا ضروری ہے کہ سب سے پہلے ان سوالات کا مختصر جواب دے دیا جائے جن کا قارئین کے ذہن میں ابھرنے کا امکان ہے، مثال کے طور پر ابو مخنف کون تھے؟ کس دور میں تھے؟ شیعہ اور سنی علماء ان کے بارے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں ان کا مذہب کیا تھا؟ کتاب کا یہ حصہ انہیں سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔

ابو مخنف کون تھے؟

ابو مخنف کا نام، لوط بن یحيٰ بن سعید بن مخنف(۵) بن سُلیم ازدی(۶) ہے ان کا اصلی وطن کوفہ ہے اور ان کا شمار دوسری صدی ہجری کے عظیم محدثین اور مورخین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد سے اموی حکومت کے آخری دور تک کے اہم حالات و واقعات پر کتابیں لکھیں، جیسے کتاب المغازی، کتاب السقیفہ، کتاب الردہ، کتاب فتوح الاسلام، کتاب فتوح العراق، کتاب فتوح خراسان، کتاب الشوريٰ، کتاب قتل عثمان، کتاب الجمل، کتاب صفین، کتاب مقتل أمیر المؤمنین کتاب مقتل الحسن (علیہ السلام) کتاب مقتل الحسین (علیہ السلام) و ۔ ۔ ۔

جو مجموعی طور پر اٹھائیس کتابیں ہیں اور ان کی تفصیل علم رجال کی کتابوں میں موجود ہے(۷) ۔ لیکن ان میں سے اکثر کتابیں ہماری دسترس میں نہیں ہیں البتہ ان کتابوں کے کچھ مطالب ان کے بعد لکھی جانے والی کتابوں میں روایت ابی مخنف کے عنوان سے موجود ہیں مثلاً تاریخ طبری(۸) میں ابو مخنف سے مجموعی طور پر پانچ سو سے زیادہ روایتیں موضوعات پر نقل ہوئی ہیں اور ان نقل شدہ روایات میں سے اکثر کا تعلق کہ جو تقریباً ایک سو چھبیس روایتیں ہیں حضرت علی علیہ السلام کے دوران حکومت کے حالات و واقعات سے ہے۔ ایک سو اٹھارہ روایتیں واقعۂ کربلا اور ایک سو چوبیس روایتیں حضرت مختار کے قیام کے بارے میں ہیں۔

صدر اسلام میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں ابو مخنف کی روایات اس قدر دقیق، مفصّل اور مکمل جزئیات کے ساتھ ہیں جو ہر قسم کے تعصب سے دور ہونے کے علاوہ ہر واقعہ کے پہلوؤں کی طرف قارئین کی رہنمائی کرتی ہیں یہاں تک کہ اس کے بعد لکھی جانے والی شیعہ اور سنی تاریخی کتابوں نے ان کی روایات سے کافی استفادہ کیا ہے اور روایت کے ذکر کے ساتھ ساتھ اس پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے۔

ابو مخنف کا دور

اگر چہ ان کی تاریخ ولادت معلوم نہیں ہے لیکن ان کی تاریخ وفات عام طور سے سن ۱۵۷ ہجری قمری نقل کی گئی ہے ان کی تاریخ ولادت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بعض علماء رجال غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں۔ بعض نے انہیں امام علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام، اور امام حسین علیہ السلام کا صحابی کہا ہے، جب کہ بعض علماء نے انہیں امام جعفر صادق علیہ السلام کا صحابی جانا ہے، جیسا کہ شیخ طوسی علیہ الرحمہ(۹) نے "کشّی" سے نقل کیا ہے کہ ابو مخنف امام علی علیہ السلام امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہیں۔ لیکن ان کا خود یہ نظریہ نہیں ہے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ابو مخنف کے والد "یحیيٰ" امام علی علیہ السلام کے صحابی تھے جب کہ خود ابو مخنف (لوط) نے آپ کا زمانہ نہیں دیکھا ہے۔

شیخ نجاشی کا کہنا ہے کہ ابو مخنف امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہیں(۱۰) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی روایت نقل کی ہے۔ مگر یہ قول صحیح نہیں ہے شیخ نجاشی کے قول کے مطابق ابو مخنف صرف امام صادق علیہ السلام سے روایت نقل کرتے تھے اور آپ کے اصحاب میں سے تھے اور انہوں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے کوئی روایت نقل نہیں کی چہ جائیکہ وہ امام علی علیہ السلام سے روایت نقل کرتے۔ تمام شواھد و قرائن شیخ نجاشی کے قول کی تصدیق کرتے ہیں اس لئے کہ

۱۔ تاریخ طبری میں ابو مخنف کی جو روایت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے وہ بغیر کسی واسطہ کے ہے جب کہ امام محمد باقر علیہ السلام سے ان کی روایت ایک واسطہ کے ساتھ نقل ہوئی ہے(۱۱) ۔

۲۔ حضرت امام علی علیہ السلام کے خطبات اور حضرت فاطمہ زھرا (س) کے خطبہ سے متعلق ابو مخنف کی روایت دو واسطوں کے ذریعہ نقل ہوئی ہے(۱۲) ۔

۳۔ اگر ابو مخنف کی تاریخ وفات کو ملحوظ نظر رکھا جائے جو ۱۵۷ہجری ہے اور یہ کہا جائے کہ انہوں نے امام علی علیہ السلام کا زمانہ بھی دیکھا ہے (یعنی کم از کم وہ اس دور میں شعور رکھتے تھے) تو ایسی صورت میں وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً ایک سو تیس سال ہوجائے گی(۱۳) جب کہ کسی راوی نے بھی اس قسم کی بات کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔

یہ تمام قرائن شیخ نجاشی کے قول کے صحیح ہونے کی دلیل ہیں کہ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے اور آپ ہی سے روایت کرتے تھے۔

لیکن کتاب "الکافی"(۱۴) میں ابو مخنف کی ایک روایت بغیر کسی واسطہ کے حضرت امام علی علیہ السلام کے دور حکومت سے متعلق نقل ہوئی ہے۔ اس حدیث میں ان کا بیان ہے کہ شیعوں کا ایک گروہ امیر المومنین علیہ السلام کے پاس آیا۔ ۔ ۔ لیکن یہ حدیث ھرگز یہ ثابت نہیں کرتی کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے دور میں تھے۔ اس لئے کہ ممکن ہے یہ حدیث "مرسلہ"(۱۵) ہو جو بات یقینی ہے وہ یہ کہ ابو مخنف کے پر دادا "مخنف بن سلیم" رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے(۱۶) اور آپ کی طرف سے شہر اصفہان کے گورنر مقرر ہوئے(۱۷) اور جنگ جمل کے دوران حضرت علی علیہ السلام کی فوج میں قبیلہ ازد کے دستہ کی سالاری کے فرائض انجام دیتے ہوئے اس جنگ میں شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔

سوانح حیات سے متعلق اکثر کتابوں کے مطابق ان کی شہادت جنگ جمل میں ہوئی مثلاً "الکنی والالقاب" شیخ عباس قمی "الذریعہ" آقا بزرگ تہرانی، "اعلام" زرکلی اور اسی طرح "تاریخ طبری"(۱۸) میں ابو مخنف کی روایت اسی چیز پر دلالت کرتی ہے، لیکن اسی تاریخ طبری(۱۹) میں مخنف بن سلیم کی ایک روایت واقعہ صفین سے متعلق نقل ہوئی ہے جو اس بات سے تناسب نہیں رکھتی کہ وہ جنگ جمل میں شہید ہوئے تھے۔

اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب "رجال" اور "فہرست"(۲۰) میں ابو مخنف کے والد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آپ حضرت علی علیہ السلام کے صحابی تھے جب کہ جو چیز مسلم ہے وہ یہ کہ ابو مخنف کے والد یحیيٰ حضرت علی علیہ السلام کے صحابی نہ تھے بلکہ آپ کے پردادا حضرت کے اصحاب میں سے تھے لھٰذا یہ بات قابل توجہ ہے کہ مخنف بن سلیم، ابو مخنف کے نہ والد ہیں اور نہ دادا جیسا کہ بعض افراد ان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں اور انہیں ابو مخنف کا دادا کہا ہے(۲۱) جب کہ وہ ابو مخنف کے پردادا ہیں۔

ابو مخنف شیعہ اور سنی علماء کی نظر میں

اہل تشیع کی علم رجال سے متعلق کتابوں سے یہ بات روشن ہے کہ ابو مخنف ایک قابل اعتماد شخص تھے، شیخ نجاشی ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ابو مخنف کوفہ کے بزرگ راویوں کے شیوخ (اساتذہ) میں سے ہیں ان کی روایت پر اعتماد کیا جاسکتا ہے(۲۲) شیخ طوسی(۲۳) نے اپنی علم رجال کی کتاب میں انہیں امام جعفر صادق علیہ السلام کا صحابی کہا ہے شیخ عباس قمی نجاشی جیسی عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ابو مخنف عظیم شیعہ مورخین میں سے ایک ہیں نیز آپ فرماتے ہیں کہ ابو مخنف کے شیعہ مشھور ہونے کے باوجود طبری، اور ابن اثیر(۲۴) ، جیسے علماء اہل سنت نے ان پر اعتماد کیا ہے، آقا بزرگ تہرانی نجاشی کی چند عبارتیں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں "ان کے شیعہ مشہور ہونے کے باوجود علمائے اہل سنت جیسے طبری اور ابن اثیر نے ان پر اعتماد کیا ہے بلکہ ابن جریر کی کتاب تاریخ الکبیر(۲۵) تو ابو مخنف کی روایات سے پُر ہے۔ آیة اللہ خوئی نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے اور شیخ طوسی (رح) سے ابو مخنف تک جو سند ہے اسے آپ نے صحیح جانا ہے(۲۶) ۔

لیکن بعض علماء اہل سنت نے ان کے شیعہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ان کی روایت کو متروک قرار دیا ہے اور بعض افراد نے ان کے شیعہ ہونے کا ذکر کئے بغیر ان کی روایت کو ضعیف کہا ہے جیسا کہ یحیيٰ بن معین کا کہنا ہے "ابو مخنف لیس بشئ(۲۷) یعنی ابو مخنف قابل اعتماد نہیں ہیں) اور ابن ابی حاتم نے یحیی بن معین کا قول نقل کیا ہے کہ وہ ثقہ نہیں ہیں(۲۸) اور دوسروں سے بھی اس بات کو نقل کیا ہے کہ وہ "متروک الحدیث" ہیں(۲۹) ۔

ابن عدی یحیيٰ بن معین کا قول نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ گذشتہ علماء بھی اسی بات کے قائل ہیں، (یوافقہ علیہ الائمہ) اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ ابو مخنف ایک افراطی قسم کے شیعہ ہیں، ان کی احادیث کی سند نہیں ہے ان کی احادیث کی سند نہیں ہے ان سے ایسی ناپسندیدہ اور مکروہ روایات نقل ہوئی ہیں جو نقل کرنے کے لائق نہیں(۳۰) ۔

ذھبی کا کہنا ہے کہ وہ متروک ہیں(۳۱) اور دوسری جگہ پر کہا ہے کہ ابو مخنف نے مجھول افراد سے روایت نقل کی ہے(۳۲) دار قُطنی کا قول ہے کہ ابو مخنف ایک ضعیف اخباری ہیں(۳۳) ابن حجر عسقلانی کا کہنا ہے کہ ان پر اطمینان نہیں کیا جاسکتا ہے پھر بعض علماء کا قول نقل کرتا ہے کہ ابو مخنف قابل اعتماد اور مورد اطمینان نہیں ہیں(۳۴) ۔

لیکن ابن ندیم کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ میں نے احمد بن حارث خزار کے ھاتھ سے لکھی ہوئی تحریر میں دیکھا ہے کہ علماء کا کہنا ہے، کہ ابو مخنف کی عراق اور اس کی فتوحات سے متعلق روایات سب سے زیادہ اور سب سے بہتر ہیں، جس طرح سے خراسان، ھندوستان اور فارس کے بارے میں مدائنی، حجاز و سیرت کے بارے میں واقدی، اور شام کی فتوحات کے بارے میں ان تینوں کی معلومات یکساں ہیں(۳۵) یہ عبارت یاقوت حموی نے بھی اپنی کتاب "معجم الادباء" میں ذکر کی ہے،(۳۶) مجموعی طور پر اکثر علماء اہل سنت نے یحیيٰ بن معین کے قول کا سہارا لے کر ابو مخنف کو غیر ثقہ قرار دیا ہے۔

البتہ ابو مخنف کے بارے میں ابن ندیم اور حموی نے جس حقیقت کا اظھار کیا ہے اس کی وجہ سے ان کے قول کے متروک ہونے کے باوجود اہل سنت کے برجستہ علماء نے ان سے روایات نقل کی ہیں اور شاید عراق کے وہ حالات و واقعات جو تاریخ اسلام کے عظیم تحولات کا سبب ہیں ان تک ابو مخنف کی روایات کے بغیر دسترسی ناممکن ہے، لھٰذا علماء اہل سنت کے نظریات کے سلسلے میں اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ شاید ان کے نزدیک ابو مخنف کے متروک ہونے کی وجہ وھی ہو جو ابن عدی نے اپنے کلام کے آخر میں کہی ہے اور وہ یہ کہ ابو مخنف کی روایات میں ایسے واقعات کا ذکر ہے کہ جو بعض افراد پر گراں گزرتے ہیں کیونکہ وہ واقعات ان کے مفروضہ عقائد اور نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ابو مِخنف کا مذھب

ابو مخنف کے مذھب کے بارے میں اقوال ہیں:

شیخ طوسی کا اپنی کتاب "فہرست" میں اور نجاشی کا اپنی کتاب "رجال" میں ان کے مذھب کے بارے میں کوئی رائے پیش نہ کرنا ان کے شیعہ ہونے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ شیخ عباس قمی اور آقا بزرگ تہرانی نے واضح طور پر ان کے شیعہ ہونے کو بیان کیا ہے بلکہ یہاں تک کہا ہے کہ ان کا شیعہ ہونا مشھور ہے لیکن آقا خوئی نے اپنی کتاب "معجم رجال الحدیث" میں ان کے شیعہ یا غیر شیعہ ہونے کو بیان کئے بغیر انہیں ثقہ کہا ہے۔

اکثر علماء اہل سنت نے ان کے شیعہ ہونے کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں کیا یہاں تک کہ ابن قتیبہ اور ابن ندیم نے شیعہ افراد کے لئے ایک الگ باب تحریر کیا ہے لیکن ابو مخنف کے نام کا وھاں ذکر نہ ہونا ان کے غیر شیعہ ہونے کو ظاھر کرتا ہے(۳۷) علماء اہل سنت میں سے ابن ابی الحدید وہ ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ ابو مخنف کا شمار محدثین میں ہوتا ہے اور وہ امامت پر اعتقاد رکھتے تھے۔ لیکن ان کا شمار شیعہ راویوں میں نہیں ہوتا(۳۸) صاحب قاموس الرجال اقوال پر تنقید کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ابو مخنف کی روایت ان کے متعصب نہ ہونے کی وجہ سے قابل اعتماد ہے لیکن ان کے شیعہ ہونے کے بارے میں کوئی رائے پیش نہیں کی جاسکتی(۳۹) ۔

لھٰذا ان کے مذھب کے بارے میں بحث کرنے کا کوئی خاص عملی فائدہ نہیں ہے لیکن اگر ابو مخنف کی روایات پر غور و فکر کیا جائے جو اکثر سقیفہ، شوريٰ، جنگ جمل، جنگ صفین، مقتل امام حسین علیہ السلام سے متعلق ہیں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ وہ شیعی افکار کے مالک تھے، البتہ ممکن ہے کہ ان کی روایات میں بعض مطالب ایسے پائے جاتے ہوں جو کامل طور پر شیعہ عقیدہ کے ساتھ مطابقت نہ رکھتے ہوں لیکن ہمیں چاھیے کہ ہم ابو مخنف کے دور زندگی کو بھی پیش نظر رکھیں کیونکہ بعض اوقات ائمہ معصومین علیہم السلام بھی تقیہ کی وجہ سے ایسے مطالب بیان کرتے تھے جو اہل سنت کے عقیدہ کے مطابق ہوا کرتے تھے اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ ایک معتدل شخص تھے جس کی وجہ سے اہل سنت کی اکثر کتابوں میں ان کی روایات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

بہر حال تاریخ ابو مخنف کی عظمت غیر قابل انکار ہے اور شیعہ و سنی تمام مورخین نے ان سے کافی استفادہ کیا ہے اور چونکہ تمام شیعہ علماء نے انہیں ثقہ جانا ہے اور ان کی روایت پر اعتماد کا اظھار کیا ہے لھٰذا ان کی روایات کے مضامین پر غور و فکر کرنے سے صدر اسلام کے بہت سے اہم حالات و واقعات کی صحیح نشاندھی کی جاسکتی ہے۔

____________________

۵. مخنف، منبر کے وزن پر ہے۔

۶. الفہرست۔ ابن ندیم، ص ۱۰۵

۸. بعض افراد نے تاریخ طبری میں ابو مخنف کی روایات کی تعداد پانچ سو پچاسی کہی ہے جب کہ تحقیق کے بعد مصنف کا کہنا یہ ہے کہ ان کی تعداد پانچ سو باسٹھ ہے ممکن ہے کہ بعض روایات کے چند حصے الگ الگ جگہ نقل ہوگئے ہوں۔

۹. رجال طوسی۔ ص۸۱، الفہرست شیخ طوسی۔ ص۱۲۹

۱۰. رجال نجاشی۔ ص۳۲۰

۱۳. اس بات کے پیش نظر کہ حضرت علی (ع.کی تاریخ شہادت سن چالیس ہجری قمری ہے۔

۱۴. الکافی۔ ج۲ ص۳۱۔

۱۵. مرسلہ ایسی روایت کو کہتے ہیں جس میں راوی ایک یا چند واسطوں کو حذف کرنے کے بعد معصوم سے روایت نقل کرتا ہے (مترجم)

۱۶. الطبقات الکبريٰ: ج۶ ص۳۵، الفہرست ابن ندیم: ج۱۰۵، ۱۰۶

۱۷. ذکر اخبار اصفہان: ترجمہ دکتر کسائی، ص۱۸۹

۱۸. تاریخ طبری۔ ج۴ ص۵۲۱

۱۹. تاریخ طبری۔ ج۴ ص۵۷۰

۲۰. رجال طوسی۔ ص۸۱، فہرست، ص۱۲۹

۲۱. الکنی والالقاب۔ ج۱ ص۵۵، الذریعہ۔ ج۱ ص۳۱۲۔

۲۲. رجال نجاشی : ص۳۲۰۔ (ابو مخنف شیخ اصحاب الاخبار بالکوفہ وجھہم وکان یسکن الی ما یرویہ)

۲۳. رجال طوسی۔ ص۲۷۵

۲۴. الکنی والالقاب۔ ص۱۵۵

۲۵. الذریعہ۔ ج۱ ص۳۱۲

۲۷. تاریخ یحیيٰ بن معین ج۱ ص۲۱۰

۲۸. قابل اعتماد۔ (مترجم)

۳۱. دیوان الضعفاء والمتروکین: ج۲ ص۲۶۵

۳۲. سیر اعلام النبلاء۔ ج۷ص۳۰۱

۳۳. الضعفاء والمتروکین: ص۳۳۳

۳۵. الفہرست: ابن ندیم۔ ص۱۰۵، ۱۰۶

۳۶. معجم الادباء: ج۵ ص۲۲۵۲۔

۳۷. نقل از قاموس الرجال تستری۔ ج۸ ص۶۲۰

۳۸. شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۱ ص۱۴۷ (ابو مخنف من المحدثین وممن یری صحة الامامة بالاختیار ولیس من الشیعه ولا معدوداً من رجالها )


روایت ابی مخنف کی تحقیق کا طریقۂ کار

ابو مخنف کی روایات کے متن کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں فیصلہ کرنا آسان کام نہیں ہے کیونکہ ابو مخنف کو تاریخی روایات نقل کرنے والوں میں ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے لھٰذا دوسری روایات کے پیش نظر ان کی روایت کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ تاریخ کے تمام راوی جیسے ھشام کلبی، واقدی، مدائنی، ابن سعد وغیرہ یہ سب ان کے دور کے بعد سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی کے مرہون منت ہیں۔

کافی غور و فکر اور جستجو کے بعد اس کتاب میں تحقیق کا جو طریقۂ کار اپنایا گیا ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ سب سے پھلے ابو مخنف کی اس روایت کے مضمون کو تاریخ کی اہم کتابوں سے، جو تاریخ طبری سے پہلے اور اس کے بعد لکھی گئی ہیں نیز خود تاریخ طبری کی متعدد روایات سے اس کا موازنہ کیا جائے اس کے بعد تمام قرائن و شواھد کی روشنی میں اس کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کیا جائے، اس سلسلے میں جن کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے وہ تاریخ کی معتبر، معروف و مشھور کتابیں ہیں جن میں سے اکثر کتابیں اہل سنت کی ہیں۔ ہم آپ کی معلومات کے لئے ان کتابوں کے نام کے ساتھ ساتھ ان کا مختصر تعارف کرانا بھی ضروری سمجھتے ہیں(۴۰)

البتہ اس سے پہلے کہ تاریخ طبری سے پہلے لکھی جانے والی کتابوں کا تعارف کرایا جائے سب سے پہلے خود تاریخ طبری کا تعارف پیش کرتے ہیں کیونکہ یہ ہماری بحث کا محور ہے اور تاریخ کی ایک جامع کتاب ہے۔

تاریخ طبری:

اس کتاب کا نام "تاریخ الامم والملوک یا تاریخ الرسل والملوک" ہے جس کے مولف ابو جعفر محمد بن جریر طبری ہیں وہ ۲۲۴ ہجری میں آمل طبرستان (مازندران: ایران کا ایک شہر) میں پیدا ہوئے اور تحصیل علوم کے سلسلے میں مقامات کا سفر کیا پھر بغداد میں سکونت اختیار کرلی اور ۳۱۰ ہجری میں وھیں انتقال کر گئے(۴۱) ۔

آپ کا شمار فقہ، تفسیر اور تاریخ کے عظیم علماء میں ہوتا تھا خاص طور پر آپ کی تاریخ اور تفسیر کی کتابیں تو علماء اہل فن کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔

طبری نے اپنی کتاب میں اکثر روایات اپنے سے پہلے والے راویوں سے نقل کی ہیں اور طبری کے پاس ان کے ما قبل لکھی جانے والی کتابوں کا کافی ذخیرہ موجود تھا جن سے انھوں نے خوب استفادہ کیا اور چونکہ ان میں سے بعض کتابیں زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ناپید ہوگئیں تو ان کتابوں کے مطالب کو نقل کرنے کا واحد مآخذ فقط تاریخ طبری ہی ہے اسی لئے یہ کتاب ایک خاص اہمیت کی حامل ہے اور ابو مخنف کی کتاب "مقتل حسینعليه‌السلام " جو اپنی نوعیت کی واحد کتاب تھی اور اس بات کا زندہ ثبوت ہے کیونکہ اس کتاب کی روایتیں تاریخ طبری میں متعدد مقامات پر کثرت سے ذکر کی گئی ہیں(۴۲)

تاریخ طبری نے خلقت کی ابتداء، اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر خاتم الانبیاء تک اور پھر ان کی ہجرت سے لیکر ۳۰۲ ہجری تک کے ہر سال کے حالات و واقعات کو الگ الگ بیان کیا ہے۔

طبری کا کسی بھی واقعہ یا حادثہ کو نقل کرنے کا طریقہ جس کا تذکرہ انہوں نے اپنے مقدمہ میں کیا ہے(۴۳) یہ ہے کہ کسی واقعہ کے بارے میں راویوں سے روایتوں کو سند کے ساتھ نقل کرنے کے بعد اس کے بارے میں اپنی رائے دئے بغیر اسے قارئین کی نظر پر چھوڑ دیتے ہیں، البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ طبری کے پاس جو روایتیں موجود تھیں ان میں سے انہوں نے صرف چند روایتوں کا انتخاب کر کے انہیں اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے لیکن واقعہ غدیر کے بارے میں انہوں نے ایک روایت بھی ذکر نہیں کی ہے۔

وہ تمام راوی جن سے طبری نے روایتوں کو نقل کیا ہے وثاقت کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں۔ جیسے ابن اسحاق، ابو مخنف، مدائنی، زُھری اور واقدی یہ تمام افراد وہ ہیں جنہوں نے تاریخی واقعات کو نقل کرنے میں ایک خاص طریقۂ کار اپنایا ہے اور اسی طبری کے راویوں میں سے ایک سیف بن عمر بھی ہے جو صرف روایتیں گڑھتا تھا اور نہایت ہی جھوٹا آدمی تھا(۴۴) ۔

اگر چہ طبری سنی مذھب تھے مگر زندگی کے آخری لمحات میں ان کے تشیع کی طرف مائل ہونے کا احتمال دیا جاسکتا ہے۔

طبری سے پھلے لکھی جانے والی وہ کتابیں جو اس گفتگو کے لئے منتخب کی گئی ہیں

۱۔ السیرة النبویہ لابن ھشام:

در اصل اس کتاب کے مولف ابن اسحاق ہیں، اور سیرت نبوی پر لکھی جانے والی اہم اور مصادر کی کتابوں میں اس کا شمار ہوتا ہے اس سے پہلے سیرت نبوی پر اتنی جامع کتاب نہیں لکھی گئی تھی۔ عبدالملک بن ھشام (وفات ۲۱۳ یا ۲۱۸ ہجری ) نے اس کتاب کی تلخیص کی اور اپنے خیال میں اس کی کچھ غیر ضروری عبارتوں کو حذف کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ مطالب کا اضافہ بھی کیا(۴۵) اس کے بعد یہ کتاب "السیرة النبویہ ابن ھشام" کے نام سے مشہور ہوگئی۔

۲۔ المغازی واقدی:

اس کتاب کے مولف محمد بن عمر واقدی (ولادت ۱۳۰ ہجری وفات ۲۰۷ ہجری ) ہیں ان کا تعلق عثمانی مذھب سے تھا وہ مدینہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۸۰ ہجری میں بغداد تشریف لائے اور مامون کی طرف سے بغداد کے قاضی مقرر ہوئے اور اسی شہر میں انتقال کرگئے، وہ غزوات اور فتوحات کے سلسلے میں اچھی خاصی معلومات رکھتے تھے انہوں نے ہجرت سے لیکر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت تک کی روایات کے بارےمیں عمدہ تحقیق کی ہے جس کی وجہ سے وہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جنگوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے۔

۳۔ الطبقات الکبريٰ:

اس کتاب کے مولف محمد بن سعد (ولادت ۱۶۸ ہجری وفات ۲۳۰ ہجری ) ہیں وہ کاتب واقدی کے نام سے مشہور تھے اور ایک نہایت ہی متعصب قسم کے سنی تھے ان کا تعلق بصرہ سے تھا اور پھر بغداد جاکر واقدی کے پاس ان کے کاتب کی حیثیت سے تعلیم میں مشغول ہوگئے، انھوں نے اپنی کتاب کی پھلی دو جلدوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور اس کے بعد کی جلدوں میں صحابہ اور تابعین کے بارے میں بحث کی ہے جو اس سلسلے کی ایک اہم ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔

۴۔ تاریخ خلیفہ بن خیاط (وفات ۲۴۰ ہجری ):

خلیفہ بن خیاط تیسری صدی ہجری کے ایک اہم مورخ سمجھے جاتے ہیں جو سنی مذھب سے تعلق رکھتے ہیں، ابن کثیر نے انہیں امام تاریخ کہہ کر یاد کیا ہے(۴۶) یہ کتاب تاریخی کتابوں میں قدیم ترین کتاب ہے کہ جس نے تاریخی حالات و واقعات کو ہر سال کے اعتبار سے پیش کیا ہے۔

۵۔ الامامہ والسیاسة:

یہ کتاب ابن قتیبہ دینوری (ولادت ۲۱۳ ہجری وفات ۲۷۶ ہجری ) کی طرف منسوب ہے جن کا شمار تیسری صدی ہجری کے اہل سنت سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور مورخین میں ہوتا ہے، ان کی ولادت بغداد میں ہوئی مگر کچھ عرصہ دینور میں قاضی رہے اگر چہ اس کتاب کی نسبت دینوری کی طرف مشکوک ہے لیکن بہر حال یہ کتاب سن تین ہجری کے آثار میں سے ایک اہم کتاب ہے۔

۶۔ انساب الاشراف:

یہ کتاب احمد بن یحیيٰ بلاذُری (ولادت ۱۷۰ ہجری سے ۱۸۰ ہجری کے درمیان، وفات ۲۷۹ ہجری ) نے لکھی ہے جو تیسری صدی ہجری کے برجستہ مورخین اور نسب شناس افراد میں سے ایک تھے وہ سنی مذھب اور عباسیوں کے ہم خیال افراد میں سے تھے، اس کتاب میں تاریخ اسلام سے متعلق خاندانوں کا نام اور ان کا نسب وغیرہ بیان کیا گیا ہے۔

۷۔ تاریخ یعقوبی:

اس کتاب کے مولف احمد بن ابی یعقوب اسحاق بن جعفر بن وھب بن واضح ہیں ۲۸۴ ہجری میں انتقال ہوا، آپ کا تعلق شیعہ مذھب سے تھا یہ کتاب تاریخ کی موجودہ قدیم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔

تاریخ طبری کے بعد لکھی جانے والی وہ کتابیں جن سے اس گفتگو میں استفادہ کیا گیا ہے یہ ہیں۔

۱۔ السقیفہ و فدک:

یہ کتاب ابوبکر جوھری (وفات ۳۲۳ ہجری ) نے لکھی مگر زمانے کے گذرنے کے ساتھا ساتھ گم ہوگئی اس کتاب کے عمدہ مطالب دوسری کتابوں میں موجود ہیں، یہ کتاب ابن ابی الحدید کے پاس موجود تھی انہوں نے شرح نہج البلاغہ میں اس کتاب سے بہت کچھ نقل کیا ہے، اب یہ کتاب محمد ھادی امینی کی کوششوں سے مآخذ سے جمع آوری کے بعد "السقیفہ و فدک" کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔

۲۔ مروج الذھب:

یہ کتاب علی بن حسین مسعودی (وفات ۳۴۶ ہجری ) نے لکھی ہے، ممکن ہے کہ وہ شیعہ اثنا عشری ہوں مگر اس بات کا اندازہ "مروج الذھب" میں موجود مطالب سے نہیں لگایا جاسکتا بلکہ اس سے فقط ان کے مذھب شیعہ کی طرف مائل ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے یہ کتاب مقامات کے سفر کر کے نہایت تحقیق اور جستجو کے بعد لکھے جانے کی وجہ سے کافی اہمیت کی حامل ہے، انہوں نے اپنی کتاب میں ابو مخنف کا بہت ذکر کیا ہے۔

۳۔ الارشاد:

اس کتاب کے مولف شیخ مفید (ولادت ۳۳۶ ہجری وفات ۴۱۳ ہجری ) ہیں وہ ایک شیعہ متکلم، فقیہ اور نامور مورخ ہیں، یہ کتاب اگر چہ شیعوں کے آئمہعليه‌السلام کی زندگی کے بارے میں لکھی گئی ہے لیکن اس کے باوجود اس کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی سے متعلق بھی بہت سے واقعات ملتے ہیں۔ شیخ مفید کے علمی مقام و مرتبہ اور تقويٰ و پرہیز گاری کی وجہ سے انکی تحریریں شیعہ علماء کے نزدیک ایک معتبر سند کی حیثیت رکھتی ہیں۔

۴۔ المنتظم فی تاریخ الملوک والامم:

یہ کتاب ابن جوزی (ولادت ۵۰۸ ہجری وفات ۵۹۷ ہجری ) نے لکھی ہے، وہ چھٹی صدی ہجری کے مفسرین، خطباء اور مورخین میں سے ایک تھے، یہ کتاب عام طور سے بعد میں آنے والے مورخین کے لئے بہت زیادہ قابل استفادہ قرار پائی۔

۵۔ الکامل فی التاریخ:

یہ کتاب ابن اثیر (ولادت ۵۵۵ ہجری وفات ۶۳۰ ہجری ) نے لکھی ہے، انہوں نے اس کتاب میں ایسی دلچسپ روش اور طریقۂ کار کا انتخاب کیا ہے کہ جس نے اس کتاب کو تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے تمام افراد کے لئے قابل استفادہ بنا دیا ہے، انہوں نے مطالب کی جمع آوری اور انھیں نقل کرنے کے سلسلے میں بہت محنت اور توجہ سے کام لیا ہے۔

۶۔ البدایہ والنھایہ:

یہ کتاب ابن کثیر (ولادت ۷۰۱ ہجری وفات ۷۷۴ ہجری ) نے لکھی ہے۔ اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ ابن تیمیہ(۴۷) کے شاگردوں میں سے ہیں۔

اس کتاب میں بعض بحثیں جیسے سیرت نبوی کو مختصر طور پر بیان کرنے کے بعد نظریات پر تنقید کے علاوہ ان کی تحقیق کی گئی ہے۔

یھاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ یہ جتنی بھی کتابیں ذکر کی گئی ہیں یہ ہماری بحث کے تاریخی مآخذ ہیں اور اس سے ھرگز مراد یہ نہیں ہے کہ ہم نے فقط ان ہی کتابوں پر اکتفا کی ہے۔ بلکہ بعض مقامات پر احادیث کی کتابوں سے بھی استفادہ کیا ہے جیسا کہ اہل سنت کی احادیث کی کتابوں میں سے صحیح بخاری، مسند احمد بن حنبل اور شیعہ احادیث کی کتابوں میں سے کافی اور بحار الانوار کو اس گفتگو کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اگر چہ بعض مخصوص مطالب کے سلسلے میں ان کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے جو انہیں موضوعات پر لکھی گئی ہیں مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کتاب میں تحقیق کا جو طریقۂ کار اپنایا گیا ہے اگر چہ وہ بہت مشکل اور سنگین کام ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ طریقۂ کار بہت سی تاریخی مباحث کی تحقیق کے سلسلے میں مفید ثابت ہو۔

____________________

۴۳. طبری۔ ج۱ ص۷، ۸

۴۵. السیرة النبویہ ابن ھشام ج۱ ص۴ (ابن اسحاق نے ایسے مطالب کا ذکر نہیں کیا کہ جو رسول خدا (ص.سے متعلق نہیں تھے یا یہ کہ بعض مطالب غیر مناسب تھے)

۴۶. منابع تاریخ اسلام۔ ص۱۲۱

۴۷. ابن تیمیہ کے افکار ہی در حقیقت وھابیت کی بنیاد ہیں۔


دوسرا حصہ: سقیفہ کے بار ے میں ابو مخنف کی روایت کا مضمون

تمھید

واقعہ سقیفہ کے بارے میں نظریات رکھنے کی بنا پر اکثر محدثین نے اسے تفصیل کے ساتھ پیش نہیں کیا ہے لیکن خوش قسمتی سے بعض محدثین اور مورخین نے اسے تفصیل سے نقل کیا ہے عام طور پر وہ اہم اور معتبر مآخذ جن کے ذریعہ سقیفہ کے حالات سے کافی حد تک آگاھی حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہیں، روایت ابی مخنف(۴۸) روایت جوھری(۴۹) روایت خلیفئہ دوم(۵۰) روایت دینوری(۵۱) اور روایت ابن اثیر(۵۲) ۔

ابو مخنف کی روایت جسے طبری نے نقل کیا ہے جو ہر لحاظ سے معتبر ہے اس کتاب میں سقیفہ کی بحث کے لئے یھی روایت محور قرار دی گئی ہے، اور یہ حصہ اس روایت کے مضمون کو مکمل طور سے بیان کرنے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔

سقیفہ کے بار ے میں ابو مخنف کی روایت کا عربی متن:

حدّثنا هشام بن محمد، عن أبی مخنف ، قال: حدّثنی عبدالله ابن عبد الرحمن بن أبی عمرة الانصاری، أنّ النبی صلی الله علیه وآله وسلم لما قُبض اجتمعت الأنصار فی سقیفة بنی ساعدة، فقالوا: نولی هذا الأمر بعد محمد علیه السلام سعد بن عبادة، و أخرجوا سعداً الیهم وهو مریض، فلما اجتمعوا قال لابنه أو بعض بنی عمّه: انی لا أقدر لشکو ای ان اسمع القوم کلّهم کلامی: ولکن تلقّ منّی قولی فاسمعهموه؛ فکان یتکلم و یحفظ الرجل قوله، فیرفع صوته فیسمع أصحابه،

فقال بعد ان حمد الله واثنی علیه: یا معشر الأنصار! لکم سابقة فی الدین و فضیلة فی الاسلام لیست لقبیلة من العرب، ان محمداً علیه السلام لبث بضع عشرة سنة فی قومه یدعوهم الی عبادة الرحمن وخلع الأنداد و الاوثان، فما آمن به من قومه الا رجل قلیل، و کان ما کانوا یقدرون علی ان یمنعوا رسول الله؛ ولا ان یعزّوا دینه، ولا ان یدفعوا عن انفسهم ضَیماً عُمُوّا به؛ حتی اذا اراد بکم الفضیلة، ساق الیکم الکرامة و خصکم بالنعمة، فرزقکم الله الایمان به و برسوله ،والمنعَ له ولأصحابه، والا عزازَ له ولدینه؛ والجهاد لأعدائه؛ فکنتم اشد الناس علی عدوّه منکم، واثقله علی عدوه من غیرکم؛ حتی استقامت العرب لامر الله طوعا و کرها؛ واعطی البعید المقادة صاغراً داخراً؛ حتی اثخن الله عزّ و جل لرسوله بکم الارض، و دانت بأسیافکم له العرب؛ و توفاه الله و هو عنکم راض؛ و بکم قریر عین استبدّوا بهذا الامر فانه لکم دون الناس

فأجابوه بأجمعهم: ان قد وُفِّقتَ فی الرأی واصبت فی القول، ولن نعد وما رأیت، و نولیک هذا الأمر، فانک فینا مَقنعٌ و لصالح المؤمنین رضا

ثم اِنهم ترادّوا الکلامَ، فقالوا: فان ابت مهاجرة قریش، فقالوا: نحن المهاجرون و صحابة رسول الله الاولون؛ و نحن عشیرته و أولیاؤه؛ فعلام تنازعوننا هذا الامر بعده ! فقالت طائفة منهم: فانا نقول اذاً: منا امیرو منکم امیر؛ ولن نرضی بدون هذا الأمر ابداً فقال سعد بن عبادة حین سمعها: هذا أول الوهن!

و أتی عمرَ الخبرُ فاقبل الی منزل النبی صلی الله علیه وسلم ، فأرسل الی ابی بکر و ابوبکر فی الدار و علی بن أبی طالب علیه السلام دائب فی جهاز رسول الله صلی الله علیه وسلم؛ فارسل الی ابی بکر أن اخرج الی، فأرسل الیه: انّی مشتغل؛ فأرسل الیه أنه قد حدث أمرٌ لا بد لک من حضوره، فخرج الیه، فقال: أما علمتَ أنّ الانصار قد اجتمعت فی سقیفه بنی ساعدة، یریدون ان یولّوا هذا الامر سعد بن عبادة، أحسنهم مقالة مَن یقول: منا امیر و من قریش أمیر!

فمضیا مسر عین نحوهم؛ فلقیا أبا عبیده بن الجراح؛ فتما شَوا الیهم ثلاثتهم، فلقیهم عاصم بن عدی و عُوَیم بن ساعدة، فقالالهم: ارجعوا فانه لایکون ما تریدون، فقالوا: لا نفعل، فجاعوا وهم مجتمعون

فقال عمر بن الخطاب: اتیناهم و قد کنتُ زوّرت کلاماً اردت أن اقوم فیهم فلما أن دفعتُ الیهم ذهبتُ لأبتدی ء المنطق، فقال لی ابوبکر: رُوَیداً حتی أتکلّم ثم انطق بعد بما أحببت فنطق، فقال عمر: فما شیء کنتُ اردت أن أقوله الّا وقد أتی به او زاد علیه

فقال عبد الله بن عبد الرحمن(۵۳) : فبدأ أبوبکر، فحمد الله وأثنی علیه؛ ثم قال؛ أنّ الله بعث محمداً رسولاً الی خلقه، و شهیداً علی امته ، لیعبُدوا الله و یوحّدوه وهم یعبدون من دونه آلهة شتی؛ ویزعمون أنها لهم عنده شافعة، ولهم نافعة؛ وانّما هی من حَجَر مَنحوت، وخشب منجور، ثم قرأ: (و یعبدون من دون الله ما لا یضّرهم ولا ینفعهم و یقولون هؤلاء شفعاؤنا عند الله)(۵۴) و قالوا: (ما نعبدهم الا لیقرّبونا الی الله زلفی)(۵۵) ؛ فعظُم علی العرب ان یترکوا دین آبائهم، فخصّ الله المهاجرین الأولین من قومه بتصدیقه، والایمان به، والمؤساة له، والصبر معه علی شدة اذی قومهم لهم؛ تکذیبهم ایاهم؛ وکل الناس لهم مخالف، زارٍ علیهم، فلم یستوحشوا لقلّة عددهم و شَنَفِ الناس لهم واجماع قومهم علیهم، فهم أول مَن عبدالله فی الارض و آمن بالله و بالرسول؛ وهم أولیاوه و عشیرته، وأحقٌ الناس بهذا الأمر من بعده؛ ولا ینازعهم ذلک الا ظالم، وأنتم یا معشر الانصار، من لاینکر فضلُهم فی الدین ولا سابقتُهم العظیمة فی الاسلام، رضیکم الله أنصاراً لدینه و رسوله، و جعل الیکم هجرته و فیکم جِلّة أزواجه وأصحابه؛ فلیس بعد المهاجرین الاوّلین عندنا [أحد](۵۶) بمنزلتکم؛ فنحن الامراء وأنتم الوزراء، لاتُفتاتون بمشورة، ولا نقضی دونکم الامور

قال: فقام الحُباب بن المنذر بن الجموع، فقال: یا معشرَ الانصار، املکوا علیکم امرکم؛ فان الناس فی فیئکم وفی ظِلکم، ولکن یجتریء مجتریء علی خلافکم؛ ولن یصدر الناس الّا عن رأیکم ، انتم اهل العزّ والثروة، واولوا العدد والمنعة والتجربة، ذو والباس والنجدة؛ وانما ینظر الناس الی ما تصنعون؛ ولا تختلفوا فیفسد علیکم رأیکم؛ و ینتقض علیکم أمرکم؛ (فان) أبيٰ هؤلاء الّا ما سمعتم؛ فمنّا أمیر ومنهم أمیر

فقال عمر: هیهات لا یجتمع اثنان فی قرن! والله لا ترضی العرب ان یؤمّروکم و نبیها من غیرکم؛ ولکن العرب لا تمتنع أن تولّی أمرها من کانت النبوة فیهم و وَلی أمورهم منهم؛ ولنا بذلک علی مَن أبی من العرب الحجة الظاهرة والسلطان المبین؛ من ذا یناز عنا سلطانَ محمد و امارته، ونحن أولیاوه و عشیرته الامُدلٍ بباطل، او مُتَجانِف لاثم، و مورِّط فی هَلَکة!

فقام الحُباب بن المنذر فقال: یا معشر الأنصار ، أملِكُوا علی أیدیکم، ولا تسمعوا مقالة هذا و أصحابه فیذهبوا بنصیبکم من هذا الأمر؛ فاِن أبوا علیکم ما سألتموه، فاجلُوهم عن هذه البلاد، و تولوا علیهم هذه الأمور؛ فأنتم والله أحقّ بهذا الامر منهم؛ فانه بأسیافکم دان لهذا الدین من دان ممّن لم یکن یدین؛ جذیلها المحكّک ، و عذیقها المرجب! اما والله لئن شئتم لنعیدنّها جذعة؛ فقال عمر: اذاً یقتلک الله! قال: بل ایاک یقتل!

فقال أبو عبیدة: یا معشرَ الانصار؛ انّکم أوّل من نصر و آزرَ؛ فلا تکونوا اوّل من بدّل و غیر

فقام بشیر بن سعد ابو النعمان بن بشیر فقال: یا معشر الأنصار؛ انا والله لئن کنا أولی فضیلة فی جهاد المشرکین، و سابقة فی هذا الدین؛ ما اردنا به اِلّا رضا ربنا و طاعة نبینا، و الكَدح لأنفسنا؛ فما ینبغی لنا أن نستطیل علی الناس بذلک ولا نبتغی به من الدنیا عرضا؛ فان الله ولی المنة علینا بذلک؛ اَلا انّ محمداً صلی الله علیه وسلم من قریش، و قومه أحقّ به و أولی، وایم الله لا یرانی الله أنا زعهم هذا الأمر أبدا، فاتقوا الله ولا تخالفوهم ولا تنازعوهم!

فقال ابوبکر : هذا عمر، و هذا أبو عبیده، فأیهما شئتم فبایعوا فقالا: لا والله لا نتوّلی هذا الأمر علیک، فانک افضل المهاجرین و ثانی اثنین اذهما فی الغار، و خلیفة رسول الله علی الصَّلاة؛ و الصَّلاة افضل دین المسلمین؛ فمن ذا ینبغی له ان یتقدّمک او یتولّی هذا الامر علیک! ابسُط یدک نبایعک فلما ذهبا لیبایعاه، سبقهما الیه بشیر بن سعد، فبایعه، فناداه الحباب بن المنذر: یا بشر بن سعد: عقّتک عقاق؛ ما احوجَک الی ما صنعت، أنفستَ علی ابن عمّک الامارة! فقال: لا والله؛ ولکنی کرهت ان انازع قوماً حقاً جعله الله لهم

ولما رأت الاوس ما صنع بشیر بن سعد، و ما تدعُوا الیه قریش، و ما تطلب الخزرج، من تأمیر سعد بن عبادة، قال بعضهم لبعض، و فیهم أسَید ابن حضیر، وکان احد النقباء: والله لئن ولیتها الخزرج علیکم مرّة لا زالت لهم علیکم بذلک الفضیلة؛ ولا جعلوا لکم معهم فیها نصیباً أبداً فقوموا فبا یعوا أبابکر فقاموا الیه فبایعوه، فانکسر علی سعد بن عبادة و علی الخزرج ما کانوا أجمعو له من امرهم

قال هشام: قال أبو مخنف: فحدثنی ابوبکر بن محمد الخُزاعی، أن أسلَم أقبلت بجماعتها حتی تضایقّ بهم السکک، فبایعوا ابابکر؛ فکان عمر یقول: ما هو الّا أن رأیتُ أسلم فأیقنتُ بالنّصر

قال هشام، عن أبی مخنف: قال عبدالله بن عبد الرحمن: فأقبل الناس من کلّ جانب یبایعون أبابکر، وکادوا یطئون سعد بن عبادة، فقال ناس من أصحاب سعد: اتقوا سعداً لا تطئوه، فقال عمر: اقتلوه قتله الله! ثم قام علی رأسه، فقال: لقد هممتُ أن أطأک هتی تُندَر عَضُدک؛ فأخذ سعد بلحیة عمر، فقال: والله لو حصصتَ منه شعره ما رجعت و فی فیک واضحة؛ فقال ابوبکر: مهلاً یا عمر! الرّفق هاهنا أبلغ فأعرض عنه عمر

وقال سعد: أما والله لو أنّ بی قوّة ما، أقوی علی النهوض، لسمعتَ منّی فی أقطارها و سککها زَئیراً یجحرِک واصحابک؛ أما والله اذاً لألحقنک بقوم کنتَ فیهم تابعاً غیر متبوع! احملونی مِن هذا المکان، فحملوه، فادخلوه فی داره، وترک ایاماً ثم بعث الیه أن أقبِل فبایع فقد بایع الناس و بایع قومک؛ فقال: أما والله حتی أرمیکم بما فی کنانتی من نبلی، وأخضِب سنان رمحی، وأضربکم بسیفی ماملکته یدی، وأقاتلکم بأهل بیتی ومن أطاعنی من قومی؛ فلا أفعل، وایمُ الله لو أنّ الجنّ اجتمعت لکم مع الانس ما بایعتُکم، حتی أعرَض علی ربّی، وأعلَم ما حسابی

فلما أتی ابوبکر بذلک قال له عمر: لا تَدَعّه حتی یبایع فقال له بشیر بن سعد: انه قد لجّ و أبی؛ ولیس بمبایعکم حتی یقتل، ولیس بمقتول حتی یقتل معه ولدُه وأهل بیته و طائفة من عشیرته؛ فاترکوه فلیس تركُه بضارّکم؛ انما هو رجل واحد فترکوه و قبلوا مشورة بشیر بن سعدو استنصحوه لما بدالهم منه؛

فکان سعد لا یصلّی بصلاتهم، ولا یجمع معهم و یحجّ ولا یفیض معهم بافاضتهم؛ فلم یزل کذلک حتی هلک ابوبکر رحمه الله

ترجمہ:

ھشام بن محمد نے ابو مخنف سے روایت کی ہے کہ عبد اللہ بن عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری کھتے ہیں کہ جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت ہوئی تو انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور کہا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اس کام (امر ولایت) کو سعد بن عبادہ کے سپرد کردو اور سعد بن عبادہ جو، ان دنوں بیمار تھے انھیں بھی وھاں لے آئے، جب سب جمع ہوگئے تو سعد بن عبادہ نے اپنے بیٹے یا چچا زاد بھائی سے کہا کہ بیماری کی وجہ سے میری آواز تمام لوگوں تک نہیں پھونچ سکتی لھٰذا تم میری بات سنو اور ان تک پھونچادو، اس کے بعد سعد نے گفتگو شروع کی اور وہ شخص سعد کی بات کو سن کر بلند آواز سے بیان کرتا رہا تاکہ سب سن لیں۔ سعد نے خدا کی حمد و ثنا کے بعد کہا کہ اے گروہ انصار اسلام میں درخشاں ماضی کے سبب جو شرف تم لوگوں کو حاصل ہے وہ عرب میں کسی کو حاصل نھیں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقریباً دس سال اپنی قوم کے درمیان رہے، انھوں نے خدائے رحمٰن کی عبادت کا حکم دیا اور بتوں کی پرستش سے روکا مگر کچھ ہی لوگ ایمان لائے اور وہ چند افراد پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع اور اسلام کی حمایت کی قدرت نہیں رکھتے تھے اور نہ ظلم و ستم سے بچ سکتے تھے یہاں تک کہ خدا نے تم لوگوں کو عزت و شرف بخشا، اپنے اور اپنے رسول پر ایمان کی نعمت سے نوازا نیز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے دوستوں کے دشمنوں سے مقابلہ کی ذمہ داری تمھیں سونپ دی، اور تم لوگوں نے ان کے دشمنوں سے اپنا پرایا دیکھے بغیر خوب مقابلہ کیا اور سختیاں برداشت کیں یہاں تک کہ عرب نہ چاھتے ہوئے بھی حکم خدا کے سامنے تسلیم ہوگئے اور اطاعت کرنے لگے، خدا نے تم لوگوں کی مدد سے اس سر زمین کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطیع بنایا، اور عرب تم لوگوں کی شمشیر کے خوف سے ان کے ارد گرد جمع ہوگئے ، اور جب خدا نے انھیں اس حال میں اپنے پاس بلایا تو وہ تم لوگوں سے راضی و خوشنود تھے، لھٰذا اس امر ولایت و حکومت کو لے لو اور اسے دوسروں کے حوالے نہ کرو اس لئے کہ یہ صرف تم لوگوں کا حق ہے۔

سب نے کہا کہ آپ کی یہ رائے نھایت مناسب اور بالکل صحیح ہے، ہم آپ کی اس رائے سے اختلاف نہیں کریں گے لیکن ہم اس کام کی ذمہ داری خود آپ پر عائد کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کفایت شعار اور تمام مومنین کے نزدیک مورد رضایت ہیں۔

اس کے بعد آپس میں گفت و شنید ہونے لگی اور کھنے لگے کہ اگر قریش کے مھاجرین اس بات پر راضی نہ ہوئے اور کھنے لگے کہ ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دیرینہ یارو مدد گار، ان کے عزیز، اور ہمیشہ سے ان کے دوست ہیں اور اب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد تم لوگ ہم سے اس امر ولایت و حکومت میں جھگڑ رہے ہو تو کیا جواب دیں گے؟ تو ایسے میں ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اگر مھاجرین نے ایسا کیا تو ہم ان سے کھیں گے کہ ایک امیر تمھارا ہوگا اور ایک امیر ہمارا اور کسی بھی صورت اس کے علاوہ راضی نہ ہونگے، جب سعد بن عبادہ نے یہ بات سنی تو کھنے لگے کہ یہ تمھاری پھلی غلطی ہوگی۔

جب عمر اس واقعہ سے باخبر ہوئے تو سیدھے ابوبکر کے پاس گئے جو اس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر میں تھے جب کہ علی علیہ السلام پوری توجہ کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل و کفن میں مصروف تھے ابوبکر کو پیغام دیا کہ باھر آؤ مگر ابوبکر نے کہا کہ میں یہاں مصروف ہوں لیکن عمر نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ باھر آؤ ضروری کام ہے یہ سن کر ابوبکر باھر آگئے، عمر نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے ہیں تاکہ اس امر (ولایت و حکومت) کو سعد بن عبادہ کے حوالے کردیں جب کہ ایک گروہ نے یہ رائے پیش کی ہے کہ ایک امیر تمھارا ہوگا اور ایک امیر ہمارا، یہ سن کر ابوبکر، عمر تیز رفتاری سے سقیفہ کی طرف چل دئے راستے میں ابوعبیدہ جراح سے ملاقات ہوئی اور پھر تینوں سقیفہ کی طرف روانہ ہولئے، اتنے میں عاصم بن عدی اور عویم بن ساعدہ سے بھی ملاقات ہوئی انھوں نے کہا کہ پلٹ جاؤ اس لئے کہ تم لوگ جو چاھتے ہو وہ نہیں ہوگا مگر ان تینوں نے جواب دیا کہ ہم واپس نہیں پلٹیں گے اور انصار کے اجتماع میں جا پھنچے۔

عمر نے کہا کہ جب ہم وھاں پھنچ گئے تو میں نے اپنے ذھن میں کچھ باتیں تیار کر رکھی تھیں اور چاھتا تھا کہ انھیں بیان کروں ابھی میں کچھ کھنا ہی چاھتا تھا کہ ابوبکر نے کہا ٹھرو ذرا صبر کرو پھلے میں اپنی بات کہہ لوں اس کے بعد جو چاھے کھنا، ابوبکر نے بات شروع کی، عمر کا کھنا ہے کہ میں جو کچھ کھنا چاھتا تھا وہ سب کچھ ابوبکر نے کہہ دیا بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔

عبد اللہ بن عبد الرحمٰن کا کھنا ہے کہ ابوبکر نے خدا کی حمد و ثنا کے بعد کہا کہ خدا نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور اپنی امت کے لئے گواہ بنایا تاکہ وہ خدا کی عبادت کریں اور اس کی وحدانیت پر ایمان لائیں جب کہ یہ وہ وقت تھا کہ وہ کئی خداؤں کی پرستش کرتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ یہ لکڑی اور پتھروں کے بت خدا کے نزدیک ان کے شفیع اور مددگار ہیں۔

اس کے بعد ابوبکر نے قرآن کی اس آیت کی تلاوت کی جس میں خدا فرماتا ہے " اور وہ خدا کے علاوہ ان چیزوں کی عبادت کرتے تھے کہ جو نہ ان کے لئے باعث نقصان ہے اور نہ مفید اور کھتے تھے کہ یہ خدا کے نزدیک ہمارے شفیع ہیں ۵۷۔ اور ہم ان کی عبادت فقط خدا سے نزدیک ہونے اور اس کے تقرب کے لئے کرتے ہیں(۵۸) گویا عربوں کے لئے یہ نھایت سخت مرحلہ تھا کہ وہ اپنے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑ دیں اور یہ مھاجرین وہ پھلی قوم ہیں جنھوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لے آئے اور ان کے ساتھ ہمدردی کی اور صبر و استقامت کا مظاھرہ کیا جب ان کی قوم انھیں سخت قسم کی اذیتیں دیتی اور انھیں جھٹلاتی تھی، تمام لوگ ان کے مخالف اور ان کے خلاف قیام کئے ہوئے تھے لیکن یہ اپنی قلت، قوم کی مخالفت اور دشمنی کے باوجود نہیں ڈرے اور یہ سب سے پھلے افراد تھے جنھوں نے اس سرزمین پر خدا کی عبادت کی اور خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان لائے اور یہ لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوست اور عزیز ہیں لھٰذا اب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتقال کے بعد وہ اس امر کے زیادہ مستحق ہیں اور جو بھی ان سے لڑائی جھگڑا کرے وہ ظالم ہے اور اے گروہ انصار کوئی بھی شخص دین کی نصرت کے سلسلے میں تم لوگوں کے درخشاں ماضی کا منکر نہیں ہے، خدا نے تم لوگوں کو اپنے دین اور اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انصار بنایا اور اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کے لئے تم لوگوں کا انتخاب کیا اور ان کی اکثر ازواج مطھرہ اور اصحاب تم لوگوں میں موجود ہیں، لھٰذا سابقہ مھاجرین کے علاوہ کوئی شخص بھی ہمارے نزدیک تم لوگوں سے زیادہ عزیز نہیں ہے، پس ہم امیر ہیں اور تم لوگ وزیر تم لوگوں کے مشورہ کے بغیر کوئی کام انجام نہیں دیا جائے گا۔

ایسے میں حباب بن منذر بن جموع کھڑے ہوگئے اور کہا اے گروہ انصار اپنا حق لے لو اس لئے کہ یہ لوگ تم لوگوں کے مرہون منت ہیں اور کوئی شخص بھی تم لوگوں کی مخالفت کی جرأت نہیں رکھتا اور لوگ تم لوگوں کے حق میں ہی رائے دیں گے تم لوگ ہی مکمل عزت و شرف، قدرت، تجربہ اور شجاعت کامل کے مظھر ہو۔ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ تم لوگ کیا کرتے ہو (تاکہ وہ ویسا ہی کریں) آپس میں اختلافات نہ کرنا ورنہ تباہ و برباد اور پست ہمت ہوکر رہ جاؤ گے اگر یہ لوگ اس بات کو قبول نہیں کرتے تو پھر ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر ان میں سے ہوگا۔

عمر نے کہا کہ دو (تلواریں) ایک نیام میں نہیں رہ سکتیں(۵۹) خدا کی قسم عرب ھرگز اس بات کو قبول نہیں کریں گے کہ حکومت تم لوگوں کے حوالے کردی جائے جب کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تم لوگوں میں سے نہیں ہیں لیکن ان کے لئے اس بات میں کوئی قباحت نہیں کہ حکومت اور اس کے امور کی ذمہ داری ان افراد کے سپرد کردی جائے کہ جن سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعلق تھا ہمارے پاس اس سلسلے میں مخالفین کے لئے واضح اور روشن دلیل ہے، اور جو شخص بھی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولایت کے سنبھالنے میں ہماری مخالفت کرے گا تو وہ گمراہ، خطا کار اور ھلاک ہونے والوں میں سے ہوگا اس لئے کہ ہم ان کے دوست اور ان کے خاندان والے ہیں، اتنے میں حباب بن منذر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ اے گروہ انصار، خبردار اس شخص اور اس کے دوستوں کی باتوں میں نہ آنا، یہ چاھتے ہیں کہ اس امر میں سے تمھارے حصے کو ختم کردیں اور اگر وہ تم لوگوں کی مخالفت کرتے ہیں تو انھیں اپنے علاقہ سے باھر نکال دو اور حکومت اپنے ھاتھوں میں لے لو کہ تم لوگ ان سے زیادہ اس کے مستحق ہو، اس لئے کہ تم ہی لوگوں کی شمشیر زنی کی بدولت لوگ مسلمان ہوئے ہیں، میں تجربہ کار اور زمانہ کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہوں اگر تم لوگ چاھو تو از سر نو آغاز کریں۔

عمر نے کہا کہ خدا تجھے ھلاک کرے تو حباب نے جواب میں کہا کہ خدا تجھے بھی ھلاک کرے۔

ابو عبیدہ نے کہا اے گروہ انصار تم لوگوں نے سب سے پھلے دین کی نصرت اور مدد فرمائی لھٰذا اسے اپنے اصل راستے سے منحرف کرنے اور تبدیل کرنے میں پھل نہ کرو، نعمان بن بشیر کے والد بشیر بن سعد کھڑے ہوگئے اور کہا اے گروہ انصار! اگر ہمیں اس دین میں درخشاں ماضی اور مشرکین کے ساتھ جھاد کرنے کی فضیلت حاصل ہے تو یہ کام ہم نے اپنے لئے نہیں بلکہ خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رضا و خوشنودی اور اطاعت کی خاطر کیا ہے، اب یہ نامعقول بات ہے کہ اس کی وجہ سے ہم دوسروں پر اپنی برتری جتائیں ہم نے جو کچھ کیا مال دنیا اکٹھا کرنے کی خاطر نہیں کیا، یہ تو ہم پر خدا کا ایک احسان تھا۔ جان لوکہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تعلق قریش سے ہے اور ان کی قوم اس امر کی زیادہ حقدار ہے خدا نہ کرے کہ ہم ان سے اس امر پر لڑیں خدا سے خوف کرو اور اس بات پر ان سے لڑائی جھگڑا مت کرو، ابوبکر نے کہا کہ یہ عمر ہے اور یہ ابو عبیدہ ، ان میں سے جس کی چاھے بیعت کر لو لیکن عمر اور ابوعبیدہ نے کہا کہ جب تک تم موجود ہو ہم اس عھدہ کی ذمہ داری نہیں لے سکتے، اس لئے کہ تم مھاجرین میں سب سے بھتر اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غار کے ساتھی ہو، تم کو نماز میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانشینی کا شرف حاصل ہے اور نماز مسلمانوں کے دین کا سب سے اہم رکن ہے، پھر کون تم سے زیادہ اس حق اور اس عھدہ کا سزاوار ہوسکتا ہے؟ لھذا اپنا ھاتھ آگے لاؤ تاکہ تمھاری بیعت کی جائے۔

ابھی یہ دونوں ابوبکر کی بیعت کرنا ہی چاھتے تھے کہ بشیر بن سعد نے ان سے پھلے آگے بڑھ کر بیعت کرلی، حباب بن منذر نے بشیر سے کھا: اے بشیر یہ تم نے اچھا کام نہیں کیا، آخر کس چیز نے تمھیں اس کام پر مجبور کیا؟ کیا چچا زاد بھائی کی حکومت کے حسد نے؟(۶۰) کہا ھرگز نہیں بلکہ میں یہ چاھتا ہوں کہ جو حق خدا نے انھیں دیا ہے اس میں ان سے نہ لڑوں۔

جیسے ہی قبیلہ اوس والوں نے بشیر بن سعد کا یہ عمل دیکھا اور قریش کی دعوت سنی یہ سمجھ گئے کہ خزرجی (قبیلہ خزرج والے) سعد بن عبادہ کی حکومت چاھتے ہیں تو بعض افراد نے (جن میں اُسید بن حضیر جو حریفوں میں سے تھا) بعض سے کہا کہ خدا کی قسم اگر خزرجی ایک دفعہ بھی تم پر حاکم بننے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیشہ تم پر برتری جتائیں گے اور حکومت میں تمھیں کسی قسم کا کوئی حصہ نہ دینگے، اٹھو اور ابوبکر کی بیعت کرو بس وہ سب اٹھے اور ابوبکر کی بیعت کرلی، اس طرح وہ پلان جس پر سعد بن عبادہ اور خزرجی متحد ہوگئے تھے خراب ہوکر رہ گیا۔

ابوبکر بن محمد خزاعی کا کھنا ہے کہ قبیلہ اسلم نے بھی اس اجتماع میں حاضر ہوکر ابوبکر کی بیعت کرلی تھی، عمر کا کھنا ہے کہ جب میں نے دیکھا کہ قبیلہ اسلم کے افراد بیعت کر رہے ہیں تو اپنی کامیابی کا یقین ہوگیا، عبداللہ بن عبدالرحمٰن کا کھنا ہے کہ ہر طرف سے لوگ ابوبکر کی بیعت کے لئے آرہے تھے یہاں تک کہ سعد بن عبادہ کے کچل جانے کا ڈر ہوا، اسی اثنا میں اس کے چاھنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ ذرا ہوشیار کھیں ایسا نہ ہوکہ سعد بن عبادہ کچل جائیں، عمر نے کہا کہ اسے مار دو کہ خدا اسے ھلاک کرے پھر سعد بن عبادہ کے پاس آکر کھنے لگے میں تو چاھتا تھا کہ تمھیں کچل کر رکھ دوں اور تمھارے دونوں ھاتھ توڑ دوں، سعد نے بھی عمر کی داڑھی کو پکڑ لیا اور کہا خدا کی قسم اگر میرا ایک بال بھی کم ہوجاتا تو تمھاری جان بھی سالم نہ رہتی ، اسی اثنا میں ابوبکر نے عمر سے کہا کہ صبر و تحمل سے کام لو یہاں نرمی بھتر ہے اس کے بعد عمر اس کے پاس سے ھٹ گئے۔

سعد نے کہا کہ اگر مجھ میں کھڑے ہونے کی ہمت و طاقت ہوتی تو مدینے کی گلی کوچوں میں اتنی چیخ و پکار کرتا کہ تم اور تمھارے ساتھی کھیں نظر نہ آتے، خدا کی قسم میں تمھیں ایسوں کے پاس بھیجتا کہ تم ان کی اتباع کرتے نہ یہ کہ وہ تمھاری اتباع کرتے، مجھے یہاں سے لے چلو اور پھر خزرجی اسے اس کے گھر لے گئے۔

حکام نے چند روز تک اس سے کوئی سروکار نہ رکھا اس کے بعد اس کے پاس ایک شخص کے ذریعہ پیغام بھجوایا کہ آکر بیعت کرو کہ تمام افراد اور تمھاری قوم نے بھی بیعت کرلی ہے، سعد نے جواب دیا کہ خدا کی قسم ھرگز تمھاری بیعت نہ کرونگا یہاں تک کے میرے ترکش میں جتنے تیز ہیں سب کو مار مار کر ختم کردوں اور نیزہ کی نوک کو خون سے رنگین کردوں اور بھرپور طاقت سے تم پر تلوار کا وار کروں اور اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ مل کر تم سے لڑوں، خدا کی قسم اگر تمام انس و جن بھی تمھارے ساتھ مل جائیں پھر بھی تمھاری بیعت نہ کروں گا یہاں تک کہ خدا کے حضور میں حاضر ہوکر اپنا نامۂ عمل دیکھ لوں۔

جب یہ جواب ابوبکر کو ملا تو عمر نے کہا کہ جب تک کہ بیعت نہ کر کے اس کا پیچھا نہ چھوڑنا لیکن بشیر بن سعد نے کہا کہ وہ ھٹ دھرم اور ضدی ہے بیعت نہیں کریگا چاھے اسے قتل کردو اور وہ اس وقت تک قتل نہ ہوگا جب تک کہ اس کے بیٹے اہل خانہ اور قریبی عزیز قتل نہ ہوجائیں اس سے سروکار نہ رکھو کہ وہ تمھارے لئے مضر نہیں ہے وہ ایک شخص ہی تو ہے، انھوں نے بشیر بن سعد کے اس مشورہ کو قبول کرلیا اور پھر سعد سے کوئی واسطہ نہ رکھا۔

سعد نہ ان کی نماز جماعت میں آتا تھا اور نہ ہی اجتماعات میں شرکت کرتا تھا اور جب حج پر جاتا اس وقت بھی ان کے ساتھ نہیں ٹھرتا تھا یہاں تک کہ ابوبکر انتقال کر گئے خدا ان پر رحمت نازل کرے۔

____________________

۴۸. تاریخ طبری۔ ج۳ص ۲۱۸

۴۹. سقیفہ و فدک۔ ص۵۴، شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۶ ص۵۔

۵۰. صحیح بخاری۔ ج۴ ص۳۴۵، حدیث۔ ۶۸۳۰

۵۱. الامامة والسیاسة۔ ج۱ ص۲۱

۵۳. ہو راوی الخبر

۵۴. سورہ یونس ۱۸۔

۵۵. سورہ زمر ۳۔

۵۶. من ب

۵۸. سورہ یونس آیت ۱۸

۵۹. زمر آیت ۳

۶۰. دوسری روایت میں عمر کا یہ جملہ اس طرح ہے "دو تلواریں ایک غلاف میں نہیں رہ سکتیں"


تیسرا حصہ: سقیفہ کے رونما ہونے کی صورت حال

تمھید

عام طور سے تاریخ میں رونما ہونے والے ہر حادثہ کا پیش خیمہ کوئی نہ کوئی گذرا ہوا واقعہ ہوتا ہے بلکہ ممکن ہے کہ گذرے ہوئے واقعہ کو آئندہ واقع ہونے والے واقعہ کی علت کہا جائے، واقعۂ سقیفہ اگر چہ ایک اتفاق اور ناگھانی حادثہ تھا لیکن گذشتہ عوامل اس کے وقوع پذیر ہونے میں مؤثر تھے۔

روایت ابی مخنف خود اس اہم واقعہ کو تو بیان کرتی ہے مگر اس کے عوامل و اسباب کی طرف کوئی اشارہ نہیں کرتی یا بھتر ہے کہ یہ کہا جائے کہ تاریخ طبری نے ابو مخنف کی کتاب سقیفہ میں سے صرف اسی حصہ کو نقل کیا ہے اور اگر ہمارے پاس خود اصلی کتاب موجود ہوتی تو شاید اس کے پھلوؤں سے مزید واقفیت ہوتی بھر حال ہر محقق اصل واقعہ کو بیان کرنے سے پھلے اس کے علل و اسباب کی تلاش میں رہتا ہے اور اجمالی طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے حالات و واقعات سے آگاھی ذھن میں اعتراضات کا سبب بنتی ہے خاص طور پر جب واقعہ غدیر پر نظر کی جائے، اس لئے کہ حدیث غدیر کا شمار متواتر احادیث میں ہوتا ہے(۶۱) کہ شیعہ اور سنی اس پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۱۰ ہجری میں حجة الوداع کے بعد اٹھارہ ذی الحجہ کو غدیر خم کے مقام پر تمام افراد کو ٹھرنے کا حکم دیا اور پھر ایک طویل خطبہ پڑھا اور فرمایا "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" جس کا میں مولا ہوں بس علی علیہ السلام بھی اس کے مولا ہیں، تاریخ کے اس اہم واقعہ کے رونما ہونے میں کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قول کی صراحت اور بے شمار قرائن حالیہ اور مقالیہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مولا سے مراد ولایت اور جانشینی ہی ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی منصف مزاج اور مخلص محقق اس قدر شواھد اور ادّلہ کے باوجود اس بات میں ذراسی بھی تردید رکھتا ہو۔

پھر آخر کیا ہوا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد ابھی واقعۂ غدیر خم کو دو ماہ اور چند روز ہی گزرے تھے کہ لوگوں نے ہر چیز کو بھلا دیا تھا، اور سب سے عجیب بات یہ ہے وہ انصار جو اسلام میں درخشاں ماضی رکھتے تھے جنھوں نے اس سلسلے میں اپنی جان و مال تک کی پروانہ کی وہ سب سے پہلے سقیفہ میں جمع ہوکر خلیفہ اور جانشین پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انتخاب کرنے لگے۔

اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ شیعہ اور سنی روایات(۶۲) کے مطابق پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا عباس بن عبد المطلب، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات تک آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یھی پوچھتے رہے کہ کیا آپ کے بعد ولایت و ولی عھدی ہمارے خاندان میں ہے؟ اگر ہے تو ہم اسے جان لیں اور اگر نہیں ہے تو لوگوں کو ہمارے بارے میں وصیت کردی جائے۔

اگر پیغبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم وحی سے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین بنادیا تھا تو اس سوال کاکیا مطلب ؟اور وہ بھی نزدیک ترین فرد کے ذریعے؟یہ ایک ایساسوال ہے جو مستند اور صحیح جواب چاھتا ہے اور فقط چند ادبی عبارتوں اور شاعرانہ گفتگو سے اس کاجواب نہیں دیا جا سکتا۔

اس سوال کے مستند اور صحیح جواب کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ان واقعات پر ایک سر سری نگاہ ڈالی جائے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے لے کر واقعہ سقیفہ تک رونما ہوئے، اور ان کے عوامل و اسباب کا بغور جائزہ لیا جائے، پھر سقیفہ کے واقعے کی ابو مخنف کی روایت کی روشنی میں تحقیق کی جائے۔

ہجرت سے لیکر غدیر خم تک کے واقعات

۱۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کے اسباب

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی نبوت کے ابتدائی حصہ ہی میں قریش سے تعلق رکھنے والے بدترین دشمنوں کا سامنا کرنا پڑا اور بے انتھا زحمت و مشقت کے بعد بھی صرف چند لوگ ہی مسلمان ہوئے ان میں سے اکثر کا تعلق معاشرے کے غریب و فقیر عوام سے تھا جب کہ امیر اور دولت مند افراد آپ کی مخالفت پر اڑے ہوئے تھے اور اسلام کو ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے رہے لھٰذا انھوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس قدر تنگ کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس ہجرت کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دین اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں کسی قسم کی کوئی کوتاھی نہ برتی بلکہ ذرا سی فرصت سے بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے رہے، یھی وجہ تھی کہ جب آپ کی ملاقات بزرگان مدینہ اور وھاں کے معزز افراد سے ہوئی تو آپ نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام کو قبول کرلیا اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عھد و پیمان کیا جسے "بیعة النساء" کہا جاتا ہے، شاید اس کے بیعة النساء کھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس عھد و پیمان میں کوئی جنگی معاہدہ نہیں ہوا تھا(۶۳) ۔

مشرکان قریش نے اسلام کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قتل کا منصوبہ بنایا لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحی کے ذریعہ ان کے ارادہ سے باخبر ہوگئے لھذا آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ رات کو پوشیدہ طور پر مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر جائیں تاکہ مشرکین آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مکہ سے باھر جانے سے باخبر نہ ہونے پائیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام سے کہا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور اس طرح حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان پر اپنی جان کو فدا کردیا اور اطمینان کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر لیٹ گئے اور اپنے یقینِ کامل اور مستحکم ایمان کی وجہ سے ایک لمحہ کے لئے بھی شک و تردید اور خوف و ہراس کا شکار نہ ہوئے اور اپنے آپ کو ایسے خطرہ میں ڈال دیا کہ جس کے بارے میں جانتے تھے کہ کچھ ہی دیر بعد دشمنوں کے نیزے اور تلواریں مجھ پر ٹوٹ پڑیں گی(۶۴) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس فرصت سے فائدہ اٹھایا اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔

۲۔ ہجرت کے بعد کے حالات اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت میں انصار کا کردار

آخرکار پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور اہل مدینہ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دوسرے تمام مھاجرین کا شاندار استقبال کیا اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور دین خدا کی خاطر ان کے سخت ترین کینہ پرور دشمنون یعنی مشرکین مکہ کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اور سچ بات تو یہ ہے کہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوشش اور قربانی سے دریغ نہ کیا، قرآن نے سورۂ حشر(۶۵) میں ان کے ایثار و فداکاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی مدح سرائی کی ہے۔

مختصر یہ کہ انصار پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت اور دین اسلام کی بقاء و ترقی کی خاطر مشرکین قریش سے نبرد آزما ہونے اور اپنے آپ کو سخت ترین جنگوں میں مشغول رکھنے پر آمادہ ہوگئے، انھوں نے جو پھلی جنگ مشرکین قریش سے لڑی وہ جنگ بدر تھی جس میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ نہ تھی، اس کے باوجود مشرکین قریش کے ستر افراد کو قتل کردیا جن میں اکثر سردار قریش تھے(۶۶) اورمسلمانوں کے کل چودہ افراد شھادت کے درجہ پر فائز ہوئے جن میں آٹھ افراد کا تعلق انصار سے تھا(۶۷) ۔

ابھی جنگ بدر کو ختم ہوئے کچھ وقت نہ گزرا تھا کہ جنگ احد واقع ہوگئی اور اس میں بھی مسلمان، مشرکین کے تیئیس افراد ھلاک کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن بعض مسلمانوں کی تساہلی کی وجہ سے جنھیں عینین نامی پھاڑی پرجمے رہنے کو کہا گیا تھا مسلمانوں کے تقریباً ستر افراد شھید ہوگئے(۶۸) ۔ معمولاً دو بڑی جنگوں کے درمیان کچھ سریہ اور غزوات بھی یکے بعد دیگرے وقوع پذیر ہوتے رہتے تھے۔

ہجرت کے پانچویں(۶۹) سال تمام دشمنان اسلام متحد ہوگئے اور اسلام کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے دس ھزار کے لشکر کے ساتھ مدینہ کا اس طرح محاصرہ کیا کہ پورے مدینہ میں خوف وہراس پھیل گیا، تاریخ میں اس جنگ کو جنگ خندق یا جنگ احزاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

لیکن مولا علی علیہ السلام کی شجاعت و بھادری اور آپ کی وہ تاریخی ضربت جو آپ نے عمر و بن عبدود (جو عرب کا ایک نامور پھلوان تھا) کے سر پر لگائی تھی اس نے اس جنگ کو مسلمانوں کے حق میں کردیا اور پھر شدید بارش اور طوفان کی وجہ سے مشرکین نھایت خوف زدہ ہوگئے اور انھوں نے مدینہ کا محاصرہ ختم کردیا(۷۰) ، مجموعی طور پر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ ہجرت کے بعد دس سال کے عرصہ میں چوھتر جنگوں کا سامنا کیا جن میں سریہ اور غزوات بھی شامل تھے(۷۱) ان تمام جنگوں میں انصار نے اہم کردار ادا کیا یہاں یہ کھنا غلط نہ ہوگا کہ اسلام نے انصار کی مدد کی وجہ سے کافی ترقی کی اور اسی نصرت و مدد کی وجہ سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انھیں انصار کے نام سے یاد کیا۔

مسلمانوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا تھا اور اس دوران بعض لوگ اسلام کو حق سمجھتے ہوئے مسلمان ہورہے تھے جبکہ بعض افراد اسلام کی قدرت اور شان و شوکت دیکھ کر یا پھر اس منفعت کے مد نظر مسلمان ہوئے جو انھیں اسلام قبول کرنے کے بعد حاصل ہوسکتی تھی۔

بالآخر آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہوا اور اسلام سارے جزیرة العرب پر چھا گیا، اہل مکہ نے جب اسلام کے سپاھیوں کی یہ شان و شوکت دیکھی تو ان کے پاس اسلام لانے کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہ تھی(۷۲) ، اس وقت مسلمانوں کی تعداد اپنے عروج پر پھنچ چکی تھی لیکن وہ ایمانی لحاظ سے مضبوط نہ تھے اور چند حقیقی مسلمان اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مطیع و فرمانبردار افراد کے علاوہ اگر بقیہ تمام افراد کو مصلحتی مسلمان کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔

مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے اب انصار جزیرة العرب کے تنھا مسلمان نہ تھے بلکہ مسلمانوں کے جم غفیر میں ایک چھوٹی سی جماعت کی حیثیت رکھتے تھے لیکن پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمیشہ انصار کی حمایت اور ان کی قدر دانی کرتے تھے اس لئے کہ انھوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا تھا، عرصہ دراز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم و تربیت کے زیر سایہ رہنے کی وجہ سے ان کی اکثریت با ایمان تھی یہاں تک کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی انھیں فراموش نہ کیا اور ان کے سلسلے میں سب کو یہ وصیت فرمائی۔ "انہم کانو عیبتی التی أویتُ الیھا فأحسنوا الی محسنہم و تجاوزوا عن مُسیئتہم"(۷۳) "انصار میرے قابل اعتماد اور ہم راز تھے میں نے ان کے پاس پناہ لی لھٰذا ان کے نیک افراد کے ساتھ نیکی اور ان کے بروں سے در گذر سے کام لینا" انصار بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عنایات اور حمایت کی وجہ سے ہمیشہ جوش و خروش سے سرشار رہتے تھے۔

____________________

۶۱. سعد بن عبادہ بشیر بن سعد کے چچا زاد بھائی تھے۔

۶۲. اس روایت کی تمام اسناد کو علامہ امینی نے اپنی کتاب "الغدیر" میں بیان کیا ہے۔

۶۴. السیرة النبویہ: ابن ھشام۔ ج۲ ص۷۳۔

۶۵. تاریخ طبری: ج۲ ص ۳۷۲، التفسیر الکبیر: ج۶ ص۵۰۔

۶۶. آیت۱۹۔

۶۹. تاریخ یعقوبی۔ ج۲ ص۴۹

۷۰. الکامل فی التاریخ۔ ج۱ ص۵۶۸

۷۱. تاریخ یعقوبی۔ ج۲ ص۵۰

۷۲. الطبقات الکبرىٰ۔ ج۲ ص۵، ۶ (غزوات کی تعداد ۲۷ اور سریہ کی تعداد ۴۷، غزوہ یعنی وہ جنگ جس میں پیغمبر اکرم (ص.خود شریک تھے، سریہ یعنی وہ جنگ جس میں پیغمبر اکرم (ص.خود شریک نہیں تھے بلکہ کسی کی سپہ سالاری میں فوج بھیج دیتے تھے)

۷۳. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۶۰ (قریش نہ چاھتے ہوئے بھی حکم خدا کے سامنے تسلیم ہوگئے)


حضرت علیعليه‌السلام کی جانشینی کے سلسلے میں ابلاغ وحی کی کیفیت

سورہ( اذا جاء نصر الله والفتح ) (۷۴) نازل ہونے کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قسم کے جملے ادا کررہے تھے جن سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب آپ کی وفات کے دن نزدیک ہیں(۷۵) نیز حجة الوداع میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خطبات میں صریحی یا غیر صریحی طور پر اپنی وفات کے نزدیک ہونے سے باخبر کر رہے تھے(۷۶) ، تو ایسی صورت میں یہ ایک طبیعی و فطری بات تھی کہ لوگوں کے ذھن میں یہ سوال پیدا ہو کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چلے جانے کے بعد مسلمانوں کے امور کس کی زیر قیادت انجام پائیں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ ظاھری طور پر ہر قوم و قبیلے کی یھی کوشش تھی کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جانشین ان میں سے ہو اور اس سلسلے میں وہ اپنے آپ کو اس امر کا زیادہ سزاوار سمجھتے تھے اور اسی فکر میں ڈوبے رہتے تھے۔ اگر چہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مواقع پر حضرت علیعليه‌السلام کی جانشینی کا اعلان کر چکے تھے(۷۷) لیکن اب تک جو اعلان ہوا تھا معمولاً وہ بھت ہی کم افراد کے سامنے ہوا لھٰذا غدیر خم پر یہ وحی آئی کہ اس بارے میں ہر قسم کے شک و شبہ کو دور کردیا جائے اور حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کا واضح اعلان کیا جائے، وحی کے نزول کے بعد پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مناسب موقع کی تلاش میں تھے تاکہ اس پیغام کو تمام لوگوں تک پھونچایا جاسکے لیکن چونکہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس وقت کے ماحول سے اچھی طرح واقف تھے لھٰذا ایسے ماحول کو ابلاغ وحی کے لئے مناسب نہیں سمجھتے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ پھلے اچھی طرح میدان ہموار ہوجائے اور نھایت مناسب موقع ملتے ہی وحی کے اس پیغام کو پھونچا دیا جائے، البتہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ضروری ہے کہ وحی الھی نے صرف حضرت علی علیہ السلام کی خلافت اور جانشینی کے اعلان کا حکم دیا تھا اور اس کے اعلان کے لئے مناسب موقع کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صوابدید پر چھوڑ دیا تھا(۷۸) اب اگر بعض روایات(۷۹) اس بات کی نشاندھی کرتی ہوں کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابلاغ وحی کے سلسلے میں تاخیر سے کام لے رہے تھے تو اس کا مقصد ہر گز کوتاھی نہیں ہے جیسا کہ شیخ مفید (رح) فرماتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر پہلے ہی وحی نازل ہوگئی تھی لیکن اس کا وقت معین نہیں کیا گیا تھا لھذا پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک مناسب موقع کی تلاش میں تھے اور جب غدیر خم کے مقام پر پھنچے تو آیۂ تبلیغ نازل ہوئی(۸۰) اور یہ کہ اس سلسلے میں پہلے ہی وحی آچکی تھی اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مناسب موقع کی تلاش میں ہے اس کے لئے آیۂ تبلیغ(۸۱) خود منہ بولتا ثبوت ہے اس لئے کہ آیت میں کہا گیا ہے "اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جو کچھ آپ پر وحی کی جاچکی ہے اسے پھونچادیں" اور اس کے بعد آیت تھدید کرتی ہے کہ اگر اس کام کو انجام نہ دیا تو رسالت کا کوئی کام انجام نہ دیا یعنی یقینی طور پر اس سلسلے میں آپ پر پہلے کوئی وحی ضرور نازل ہوئی ہے جب ہی تو آیت میں کہا گیا ہے کہ جو کچھ آپ پر نازل کیا جاچکا ہے اسے پھونچا دیجئے اور آیت میں جو تھدید موجود ہے اس سے یہ بات ظاھر ہوتی ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسباب کی بنا پر ابلاغ وحی کو مناسب موقع کے لئے چھوڑے ہوئے تھے اور اس کے بعد آیت میں ارشادِ قدرت ہے( والله یعصمک من الناس ) "یعنی خدا آپ کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے گا"۔

اس آیت اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابلاغ وحی کی کیفیت پر غور کرنے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس وقت کس قسم کے حالات در پیش تھے اور معاشرہ کس نھج پر تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابلاغ وحی میں مناسب موقع تک تاخیر کردی؟ اگر اس سوال کا صحیح اور درست جواب مل جائے تو اس سلسلے میں اٹھنے والے بھت سے شبھات اور سوالات کا جواب دیا جاسکتا ہے اور ہمیں اس وقت کے مسلمانوں کے سماجی اور سیاسی حالات کے بارے میں کافی حد تک معلومات ہوسکتی ہیں۔

تو آیئے ان سوالات کے صحیح جوابات جاننے کے لئے ہم اس دور کے مسلمانوں کے کچھ اہم سیاسی اور سماجی حالات کے بارے میں بحث اور تحقیق کرتے ہیں۔

۱۔ نئے مسلمانوں کی اکثریت

اگر چہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کے آخری لمحات میں مسلمانوں کی تعداد اپنے عروج پر پھنچ چکی تھی مگر ان میں اکثریت نئے مسلمانوں کی تھی، اگر چہ ان میں ایسے افراد بھی تھے جو پختہ ایمان رکھتے تھے لیکن ایسے افراد کی تعداد ان افراد کے مقابلے کچھ بھی نہ تھی جو صلابتِ ایمانی کے مالک نہ تھے(۸۲) اس لئے کہ بعض افراد اپنے مفاد کی خاطر مسلمان ہوئے تھے تو بعض اقلیت میں رہ جانے کی وجہ سے اور ان کے پاس مسلمان ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، اور بعض افراد ایسے بھی تھے جو آخری دم تک اسلام اور مسلمانوں سے لڑتے رہے اور جب لڑنے کے قابل نہ رہے تو پھر دوسرا راستہ اپنا لیا۔ ابوسفیان اور اس کے ماننے والے اسی قسم کے افراد تھے اور فتح مکہ میں ان کا شمار طلقا (آزاد شدہ) میں ہوتا تھا لھٰذا ایسی صورت حال میں واضح سی بات ہے کہ اس امر عظیم کو پھونچانا کوئی آسان کام نہ تھا بلکہ یہ بھت سی مشکلات کا پیش خیمہ بن سکتا تھا۔

۲۔ مسلمانوں کے درمیان منافقین کا وجود

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دور میں ایک سب سے بڑی مشکل مسلمانوں کے درمیان منافقین کا وجود تھا یہ گروہ ظاھری طور پر مسلمان تھا مگر باطنی طور پر اسلام پر کسی قسم کا اعتقاد نہ رکھتا تھا بلکہ موقع ملتے ہی اسلام کو نقصان پھونچاتا اور مسلمانوں کی گمراھی کا سبب بنتا۔

قرآن کریم نے اس سلسلے میں سوروں میں سخت ترین لھجہ میں ان سے خطاب کیا ہے جیسے سورہ بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انفال، توبہ، عنکبوت، احزاب، فتح، حدید، حشر اور منافقون نیز مجموعی طور پر قرآن میں سینتیس مقامات پر کلمۂ نفاق استعمال ہوا ہے۔

یہ افراد جن کی تعداد جنگ احد میں تمام مسلمانوں کی ایک تھائی تھی "عبد اللہ بن ابی" کی سر کردگی میں جنگ کرنے سے الگ ہوگئے اور مسلمانوں میں تفرقہ کا باعث بنے کہ سورۂ منافقون انھیں لوگوں کے بارے میں نازل ہوا ہے(۸۳) اب آپ خود سوچیں کہ جب کہ نہ ابھی اسلام کے اس قدر طرفدار موجود ہیں اور نہ اس کے پاس کوئی خاص اقتدار ہے اور اعتقاد کو چھپانے کا بھی کوئی خاص مقصد دکھائی نہیں دیتا اس کے باوجود مسلمانوں کی کل آبادی میں سے ایک تھائی تعداد منافقین کی تھی تو اب آپ اندازہ لگائیں کہ جب اسلام مکمل طور سے بر سر اقتدار آگیا اور سارے جزیرة العرب پر چھا گیا تھا تو ان کی تعداد کس قدر بڑھ چکی ہوگی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ اس گروہ کی مخالفت سے دوچار رہتے تھے اور خاص طور پر حجة الوداع میں یہ تمام افراد پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھے اور یہ بات واضح و روشن تھی کہ یہ لوگ کسی بھی صورت حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کو قبول نہ کرینگے اور فتنہ و فساد پھیلائیں گے اور امنیت خطرہ میں پڑ جائے گی اور اس طرح خود اسلام اور قرآن کو نقصان پھنچے گا لھٰذا ایسی صورت حال کے پیش نظر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فکر مند ہونا خالی از امکان نہ تھا۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کے آخری لمحات تک منافقین کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا یہاں تک کہ عمر آپ کی وفات کا انکار کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ کچھ منافقین یہ خیال کر رہے ہیں کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وفات پاگئے ہیں(۸۴) اور اسی طرح بعض تاریخی کتابیں اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ اسامہ کے جوان ہونے پر اعتراض کر کے ان کی سرداری سے انکار کرنے والے افراد منافقین ہی تھے(۸۵) ، یہ گروہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں آپ کا بدترین دشمن سمجھا جاتا تھا لیکن نہیں معلوم آخر کیا ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد خلفاء ثلاثہ کے لئے کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئی اور یہ گروہ ایک دم سے غائب ہوگیا۔ کیا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد یہ سب کے سب ایک دم بالکل سچے مسلمان ہوگئے تھے یا کوئی مصلحت ہوگئی تھی یا پھر ایسے افراد بر سر اقتدار آگئے تھے کہ جو منافقین کے لئے کسی بھی طرح مضر نہ تھے؟!

۳۔ بعض افراد کی حضرتعليه‌السلام سے کینہ پروری

عربوں کی ایک نمایاں خصلت کینہ پروری ہے(۸۶) اور اس بات کے پیش نظر کہ حضرت علیعليه‌السلام نے ابتداء اسلام ہی سے متعدد جنگوں میں شرکت کی اور بھت سے افراد آپ کے دست مبارک سے قتل ہوئے اور ان مقتولین کے ورثاء مسلمانوں کے درمیان موجود تھے اور یہ افراد شروع سے ہی اپنے دلوں میں حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے کینہ رکھتے تھے لھٰذا یہ امکان تھا کہ یہ لوگ ھرگز آپ کی خلافت پر راضی نہ ہوں گے۔

یہ کھنا کہ یہ لوگ سچے مسلمان ہوگئے تھے اور انھوں نے ماضی کے تمام واقعات و حوادث کو بھلادیا تھا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ عربوں کی خصلت سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں خاص طور پر اس زمانے کے عربوں سے،مثال کے طور پر جب سورۂ منافقون نازل ہوا اور عبد اللہ بن ابی (جو منافقین کا سردار تھا) رسوا ہوگیا تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنے باپ کو خود ہی قتل کردوں اس لئے کہ میں یہ نہیں چاھتا کہ کوئی دوسرا اسے قتل کرے اور میں اس کا کینہ اپنے دل میں رکھوں(۸۷) ، صدر اسلام میں اس قسم کی بھت سی مثالیں موجود ہیں لیکن غور کیا جائے تو صرف یھی ایک مثال کافی ہے کہ کس طرح سے ایک آدمی اس بات پر راضی ہے کہ وہ اپنے ھاتھوں سے اپنے باپ کو قتل کردے لیکن کوئی دوسرا اسے قتل نہ کرے کھیں ایسا نہ ہو اس کا کینہ اپنے دل میں لئے رکھے، اس واقعہ سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ بعض افراد حضرت علی علیہ السلام سے کینہ کیوں رکھتے تھے۔

۴۔ حضرت علیعليه‌السلام کے جوان ہونے پر اعتراض

بعض افراد دور جاہلیت کے افکار رکھنے کی وجہ سے کسی بھی صورت میں اس بات پر راضی نہ تھے کہ وہ اپنے سے کم سن ایک جوان کی اطاعت کریں یہ لوگ ایک جوان کی حکومت کو اپنے لئے باعث ننگ و عار سمجھتے تھے، مثال کے طور پر عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: عمر کے دور خلافت میں ایک روز میں عمر کے ساتھ جارہا تھا انھوں نے میری طرف رخ کر کے کہا کہ وہ (حضرت علیعليه‌السلام ) تمام افراد میں اس امر خلافت کے سب سے زیادہ سزاوار تھے لیکن ہم دو چیزوں سے خوفزدہ تھے ایک یہ کہ وہ کمسن ہیں اور دوسرے یہ کہ وہ فرزندان عبد المطلب کو دوست رکھتے ہیں(۸۸) ، دوسری مثال یہ کہ جب حضرت علی علیہ السلام کو زبردستی ابوبکر کی بیعت کے لئے مسجد میں پکڑ کر لائے اور ابو عبیدہ نے دیکھا کہ حضرت علی علیہ السلام کسی بھی صورت بیعت نہیں کر رہے ہیں تو اس نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف رخ کیا اور کہا کہ آپ کمسن ہیں اور یہ آپ کی قوم کے بزرگ ہیں اور آپ ان کی طرح تجربہ کار نہیں ہیں لھٰذا ابوبکر کی بیعت کرلیں اور اگر آپ آئندہ زندہ رہے تو آپ صاحب فضل و معرفت، متدین، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قریب ترین فرد ہونے کی وجہ سے اس امر کے لئے سب سے زیادہ سزاوار ہیں(۸۹) ، تو حضرت علی علیہ السلام کو امر حکومت کا سب سے زیادہ سزاوار اور مناسب سمجھنے کے باوجود اس بات کو قبول کرنے پر راضی نہ تھے کہ ایک جوان ان پر حکومت کرے۔

اس چیز کا مشاہدہ زید بن اسامہ کے لشکر میں بھی کیا جاسکتا ہے جب پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسامہ کو ایک ایسے فوجی دستہ کی سرداری کے لئے منتخب کیا کہ جس میں قوم کے بزرگان بھی شامل تھے تو بعض افراد نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس انتخاب پر اعتراض کیا جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس اعتراض کا پتہ چلا تو آپ غصہ ہوئے، منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: کہ تم لوگ اس سے پھلے اس کے والد کے انتخاب پر بھی اعتراض کرچکے ہو حالانکہ یہ اور اس کے والد سرداری کی لیاقت رکھتے تھے اور رکھتے ہیں(۹۰) ۔

اگر چہ ایک لحاظ سے اس کی وجہ حسد بھی ہوسکتی ہے کیوں کہ جب ان افراد نے اس چیز کا مشاہدہ کیا کہ ایک جوان "حضرت علیعليه‌السلام " جیسا کہ جو اس قدر صلاحیت اور لیاقت رکھتا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلے جانے کے بعد یھی جوان ہمارا امیر اور حاکم ہوگا تو شدت سے آپ سے حسد کرنے لگے۔

۵۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے احکام کی نافرمانی

مسلمانوں کے درمیان بعض ایسے افراد بھی تھے کہ جو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت بعض شرائط کے ساتھ کیا کرتے تھے جب تک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ان کے لئے مضر نہ ہوتو کوئی بات نہیں لیکن اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوئی ایسا حکم دیتے کہ جو ان کی خواھشات کے مطابق نہ ہوتا یا یہ کہ وہ اپنی ناقص عقل سے اس کی مصلحت درک نہیں کرپاتے تھے تو کھلے عام یا مخفی طور پر اس سے سرپیچی کرتے تھے، مثال کے طور پر حجة الوداع کے موقع پر کچھ فرائض کو انجام دینے سے بعض افراد نے مخالفت کی، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حج کے دوران فرمایا: اگر کوئی شخص اپنے ساتھ قربانی کے لئے جانور نہیں لایا تو وہ اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کردے اور جو اپنے ساتھ جانور لائے ہیں وہ اپنے احرام پر باقی رہیں، بعض افراد نے اس امر کی اطاعت کی اور بعض افراد نے مخالفت کی(۹۱) اور ان مخالفین میں سے ایک عمر بھی تھے(۹۲) اور اس کی دوسری مثال صلح حدیبیہ کے موقع پر عمر کا اعتراض کرنا ہے(۹۳) ، اسی کی ایک اور مثال اسامہ کی سرداری پر اعتراض(۹۴) اور ان کے ساتھ جانے سے انکار کرنا ہے جب کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بار بار اس امر کی تاکید کر رہے تھے کہ مھاجرین اور انصار سب کے سب اسامہ کے لشکر کے ساتھ مدینہ سے باھر چلے جائیں لیکن بعض بزرگ مھاجرین نے بھانے بنا کر اس امر کی مخالفت کی(۹۵) یہاں تک کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان لوگوں پر لعنت بھی کی جنھوں نے آپ کے اس حکم کی مخالفت کرتے ہوئے اسامہ کے لشکر میں شرکت نہیں کی(۹۶) ۔

نیز اس کی ایک اور مثال نوشتہ لکھنے کا واقعہ ہے کہ جو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کے آخری لمحات میں پیش آیا(۹۷) ، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ قلم اور دوات لے آؤ تاکہ تمھارے لئے ایک ایسی چیز لکھ دوں جس کے بعد تم لوگ گمراہ نہ ہوگے! لیکن عمر نے کہا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھذیان بک رہے ہیں بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ بعض افراد نے کہا کہ بات وھی قابل قبول ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھی ہے اور بعض نے کہا کہ عمر صحیح کہہ رہے ہیں(۹۸) یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ عمر اور بعض دوسرے افراد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے امر کی مخالفت کرتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ھذیان کی تہمت لگا رہے تھے!!! جس کے بارے میں قرآن نے صریحی طور پر فرمایا:( ما ینطق عن الهويٰ ) (۹۹) ۔

گذشتہ بیان کی روشنی میں اس بات کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ آخر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابلاغ وحی کے سلسلے میں کسی مناسب موقع کی کیوں تلاش میں تھے؟ یقیناً صرف اس لئے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسلمانوں کے حالات سے اچھی طرح واقف تھے کہ وہ ان کی مخالفت کریں گے یعنی اگر وہ حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی اور خلافت کا اعلان کریں تو بعض لوگ کھلم کھلّا پیغمبر کے مد مقابل آجائیں گے اور ھرگز اس امر پر راضی نہ ہونگے لیکن آیۂ تبلیغ کے آخر میں خداوند عالم نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اطمینان دلایا کہ خداوند عالم آپ کو محفوظ رکھے گا یعنی خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوگوں کے شر اور ان کی علنی مخالفت سے محفوظ رکھے گا۔ اس بات کی تائیدہ وہ روایت کرتی ہے جو جابر بن عبداللہ انصاری اور عبداللہ بن عباس سے تفسیر عیاشی میں نقل ہوئی ہے "فتخوّف رسول الله ان یقولوا حامىٰ ابن عمّه وان تطغوا فی ذلک علیه "(۱۰۰) یعنی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس بات کا خطرہ تھا کہ لوگ کھیں گے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ کام اپنے چچا زاد بھائی کی حمایت میں کیا ہے اور اس طرح سرکشی کریں گے، اگر چہ بعض(۱۰۱) نسخوں میں "حامی" کی جگہ خابيٰ اور "تطغوا" کی جگہ یطعنوا آیا ہے کہ ایسی صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خوف لوگوں کے طعنوں کی وجہ سے تھا، اگر یہ لفظ بھی ہو تو تب بھی ہماری گذشتہ بات پر دلالت کرتا ہے لیکن یہ چیز بعید ہے کہ پیغمبر محض لوگوں کے طعنوں سے بچنے کی خاطر ابلاغ وحی کو کسی مناسب موقع کے لئے ٹال رہے ہوں، ظاھراً تطغوا والی عبارت زیادہ صحیح ہے، یعنی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو علنی مخالفت اور سرکشی کا خطرہ تھا۔

ہماری اس وضاحت کے بعد اس اعتراض کا جواب بھی دیا جاسکتا ہے کہ اگر آیت کی مراد یہ تھی کہ ولایت علیعليه‌السلام کا اعلان کرو اور پھر خدا نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھنے کا وعدہ بھی کیا تھا تو پھر کیونکر حضرت علیعليه‌السلام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد خلافت پر نہیں پھنچ پائے مگر کیا ممکن ہے کہ خدا کا وعدہ پورانہ ہو ؟!(۱۰۲) اس کا جواب یھی ہے کہ وحی الھی نے وعدہ کیا تھا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوگوں کی کھلم کھلا مخالفت اور سرکشی سے محفوظ رکھے گا اور ایسا ہی ہوا جیسا کہ روایات غدیر اس بات کی شاھد ہیں۔

اس کے علاوہ یہ کہ آیت میں کہا گیا ہے( والله یعصمک من الناس ) یعنی خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا اور اس سے مراد بھی وھی ہے جو بیان کیا جاچکا ہے کہ خدا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لوگوں کی علنی مخالفت سے محفوظ رکھے گا اور آیت میں یہ نہیں کہا گیا "والله یعصمه من الناس " کہ خدا اسے (یعنی حضرت علی علیہ السلام کو) لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ ہم اس آیت کو حضرت علی علیہ السلام کی ظاھری خلافت کے لئے وعدہ الھی قرار دیدیں۔

۶۔ غدیر خم کے بعد اہل بیتعليه‌السلام کے خلاف سازشیں

غدیر کے واقعہ نے مسلمانوں اور اسلامی معاشرہ کے لئے واضح طور پر ان کے آئندہ کا وظیفہ بیان کردیا تھا، جو لوگ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطیع و فرمانبردار تھے انھوں نے اسے دل و جان سے قبول کرلیا اور جو لوگ اندرونی طور پر اس کے مخالف تھے مگر اس وقت اس کا اظھار کرنے کی قوت نہ رکھتے تھے انھوں نے بھی ظاھری طور پر اسے قبول کرلیا اور حضرت علیعليه‌السلام کو ان کی جانشینی پر مبارک باد پیش کی اور اس کی واضح مثال ابوبکر اور عمر کا وہ معروف جملہ ہے "بخٍ بخٍ لک یا بن أبی طالب " ۔(۱۰۳)

جو لوگ حضرت کی جانشینی اور خلافت کے مخالف تھے اور حکومت حاصل کرنا چاھتے تھے اگر چہ ظاھری طور پر اسے قبول کرچکے تھے مگر باطنی طور پر بھت سخت پریشان اور فکر مند تھے اور ہر ممکن کوشش کر رہے تھے کہ کسی بھی طرح حضرت علیعليه‌السلام کو راستے سے ھٹا کر خود حکومت پر قابض ہوجائیں اور اس بات پر بھت سے شواھد موجود ہیں جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کر رہے ہیں۔

____________________

۷۴. السیرة النبویة ابن ھشام: ج۴ ص۳۰۰، الطبقات الکبرىٰ: ج۱ ص۲۵۰، ۲۵۱، انساب الاشراف: ج۲، ص۷۲، نھج البلاغہ: خطبہ۶۸، ص۵۲۔

۷۵. سورہ مبارکہ نصر: آیت۱ (جب خدا کی مدد اور فتح کی منزل آجائے گی)

۷۶. الطبقات الکبرىٰ ج۱ ص۱۹۲، ۱۹۳۔

۷۷. الطبقات الکبرىٰ ج۱ ص۱۸۱۔

۷۸. جیسے، حدیث طیر، منزلت وغیرہ۔

۷۹. المیزان فی تفسیر القرآن۔ ج۴۴۶

۸۰. تفسیر عیاشی۔ ج۱ ص۳۶۰، بحار الانوار۔ ج۳۷ ص۱۶۵، جامع الاخبار۔ ص۱۰۔

۸۱. ارشاد۔ ج۱ ص۱۷۰

۸۲. سورہ مبارکہ مائدہ آیت ۶۷

۸۳. اس روایت کی روشنی میں جو یہ بیان کرتی ہے کہ پیغمبر اسلام (ص.کی وفات کے بعد لوگ مرتد ہوگئے تھے، جیسے روایت ابن اسحاق میں ہے کہ "ارتد العرب" (عرب مرتد ہوگئے.السیرة النبویة: ابن ھشام۔ ج۴ ص۳۱۶۔

۸۴. سنی اور شیعہ تفاسیر اس چیز کو بیان کرتی ہیں۔

۸۵. انساب الاشراف۔ ج۲ص ۷۴۲

۸۶. تاریخ طبری۔ ج۳ ص۱۸۴، الکامل فی التاریخ ج۲ ص۵۔

۸۷. تاریخ ادبیات عرب۔ ص۳۵۔

۸۸. تفسیر طبری۔ ج۱۴ جز ۲۸، ص۱۴۸۔ (حدیث ۲۶۴۸۲)

۸۹. السقیفہ و فدک، ص۵۲، ۷۰

۹۱. السیرة النبویة: ابن ھشام ج۴ ص۲۹۹، ۳۰۰۔ الطبقات الکبرىٰ۔ ج۱ ص۱۹۰، ۲۴۹، تاریخ یعقوبی۔ ج۲ص۱۳، الکامل فی التاریخ۔ ج۲ ص۵۔

۹۲. الطبقات الکبرىٰ۔ ج۱ص۱۸۷، ارشاد۔ ج۱ ص۱۷۴

۹۳. ارشاد۔ ج۱ ص۱۷۴

۹۴. تاریخ طبری: ج۲ ص۶۳۴

۹۵. السیرة النبویة: ابن ھشام ج۴ ص۲۹۹، الطبقات الکبرىٰ ج۱ ص۱۹۰۔

۹۷. السقیفہ و فدک: ص۷۴، ۷۵۔

۹۸. الطبقات الکبرىٰ: ج۱ ص۲۴۴۔ انساب الاشراف۔ ج۲ ص۷۳۸، تاریخ طبری۔ ج۳ ص۱۹۲

۱۰۰. سورۂ مبارکہ نجم: آیت۳ (پیغمبر ھرگز اپنی مرضی سے بات نہیں کرتے)۔

۱۰۱. تفسیر عیاشی۔ ج۱ ص۳۶۰

۱۰۲. تفسیر عیاشی۔ ج۱ ص۳۶۰ کا حاشیہ، تفسیر میزان ج۶ ص۵۴۔


اول: عام شواھد

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واقعہ غدیر کے بعد اکثر حضرت علیعليه‌السلام کی جانشینی اور آپ کے فضائل کا تذکرہ کرتے رہتے تھے اور ہمیشہ اہل بیتعليه‌السلام کے سلسلے میں وصیت فرماتے تھے اور مسلسل لوگوں کو اپنے چلے جانے کے بعد خطرات سے آگاہ کر کے اتمام حجت کررہے تھے اور اس کی روشن مثال وہ حدیث ہے جو اکثر شیعہ اور سنی احادیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ارشاد فرمایا: (أقبلت الفتن کقطع اللیل المظلم )(۱۰۴) یعنی فتنے پے درپے اور مسلسل تاریک راتوں کی طرح آئیں گے اکثر روایات کے الفاظ یھی ہیں کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس جملے کی تکرار اس رات زیادہ کر رہے تھے کہ جب آپ اہل بقیع کے لئے استغفار کرنے گئے ہوئے تھے آخر اسلامی معاشرے میں ایسا کونسا حادثہ رونما ہوا تھا اور کس قسم کے حالات پیش آنے والے تھے جو اس قدر دلسوز کلمات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے جاری ہوئے تھے اور وہ بھی زندگی کے آخری دنوں میں اور ان تمام تر زحمتوں اور مشقتوں کے بعد جو خداوند متعال کے قوانین کے مطابق اسلامی معاشرے کی تشکیل کے سلسلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے برداشت کیں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے یہ جملے سننے کے بعد ایک با ایمان مسلمان کا دل غم و اندوہ سے پر ہوجاتا ہے اور وہ آہ سرد کھینچتا ہے آخر ایسا کیوں نہ ہوا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انتھک محنت کے بعد کم از کم اطمینان اور آرام و سکون کے ساتھ اس امت سے رخصت ہوکر اپنے پروردگار عالم کی طرف رحلت کر جاتے۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس قسم کے بیانات در حقیقت ان سازشوں کی طرف اشارہ تھے کہ جو بعض لوگ مخفی طور پر اسلام کو اس کے اصل محور سے ھٹانے کے سلسلے میں کوشاں تھے گویا آپ آئندہ اٹھنے والے فتنوں کی پیشین گوئی کر رہے تھے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ فتنہ گر کون تھے اور ان کے مقاصد کیا تھے؟ یہاں ہماری یھی کوشش ہوگی کہ تاریخی حوالوں کے ذریعہ ان فتنہ گروں کی نشاندھی کردیں۔

دوم: بنی امیہ اور ان کے ہم خیال افراد کی سازشیں

بنی امیہ ہمیشہ اپنے آپ کو حکومت کا زیادہ حقدار سمجھتے تھے اور ہمیشہ اس سلسلے میں بنی ھاشم سے نزاع کرتے رہتے تھے اسی وجہ سے اعلان بعثت کے بعد شدت سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کر رہے تھے یہاں تک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف سازشیں کر کے لوگوں کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف جنگ کے لئے آمادہ کیا لیکن اس کا نتیجہ ذلت و خواری کے ساتھ شکست اور مجبور ہوکر اسلام قبول کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ ہوا مگر حکومت کا نشہ ان کے اندر پھر بھی اپنی جگہ باقی رہا۔

یہ لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ جب تک پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زندہ ہیں ان کی تمنائیں اور آرزوئیں پوری نہیں ہوسکتیں لھٰذا وہ لوگ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتقال کے منتظر تھے لیکن کیوں کہ یہ لوگ مسلمانوں کے درمیان کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے لھٰذا یہ جانتے تھے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد حکومت کو ھاتھ میں نہیں لیا جاسکتا ایسے میں ضرورت تھی کی وہ حکومت کو حاصل کرنے کے لئے ایک طویل پلان ترتیب دیں اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ کام انھوں نے کیا یہ بات صرف ایک دعويٰ نہیں بلکہ بھت سے شواھد اس بات پر دلالت کرتے ہیں جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

دینوری(۱۰۵) اور جوھری(۱۰۶) کا کھنا ہے کہ جب بعض افراد نے سقیفہ میں ابوبکر کی بیعت کی تو بنی امیہ عثمان بن عفّان کے گرد جمع ہوکر ان کی خلافت پر اتفاق نظر رکھتے تھے(۱۰۷) ، یہ چیز خود اس بات کی شاھد ہے کہ بنی امیہ حکومت حاصل کرنا چاھتے تھے اور اس منصب کے لئے عثمان کو پیش کیا جو بنی امیہ کے درمیان تقریباً ایک معتدل شخص تھے اور دوسرے افراد کی طرح سابقہ بد کرداری سے بر خوردار نہ تھے۔ اس لئے کہ انھیں کو اس وقت اس امر کے لئے بھترین فرد سمجھتے تھے، اگر چہ ہماری نظر میں یہ اجتماع اس وقت کسی خاص حقیقت پر مبنی نہ تھا بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ فقط ایک سیاسی کھیل تھا تاکہ آئندہ کے لئے میدان کو ہموار کیا جائے جس کا شاھد یہ ہے کہ جب عمر نے دیکھا کہ بنی امیہ عثمان کے گرد جمع ہوگئے ہیں تو کہا کہ آخر تم لوگوں نے ایسا کیوں کیا؟ آؤ اور ابوبکر کی بیعت کرو تو اس مجمع میں سب سے پھلے عثمان اور پھر تمام بنی امیہ نے ابوبکر کی بیعت کی(۱۰۸) ۔

جوھری سے روایت ہے کہ جب عثمان کی بیعت ہوئی تو ابوسفیان نے کہا کہ پھلے حکومت قبیلہ تیم کے پاس چلی گئی جب کہ ان کا حکومت سے کیا تعلق؟ اور پھر قبیلہ عدی میں جاکر اپنے مرکز و محور سے دور ہوگئی اور اب یہ اپنی صحیح جگہ واپس آئی ہے لھٰذا اسے مضبوطی سے تھامے رکھو،(۱۰۹) یہ روایت اس قدر گویا ہے کہ جس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، البتہ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا تھا تو آخر ابوسفیان نے شروع ہی میں ابوبکر کی بیعت کیوں نہ کی؟ اور حضرت علی علیہ السلام کے پاس جا کر کہا کہ اگر آپ چاھیں تو ابوبکر کے خلاف مدینہ کو لشکروں سے بھر دوں(۱۱۰) ۔

اس سوال کا جواب بعض افراد نے اسے قبیلہ پرستی کے تعصب کہہ کردیا ہے اور کہا ہے کہ ابوسفیان نے قبیلہ پرستی کے تعصب کی بنا پر یہ کام کیا تھا،(۱۱۱) جیسا کہ پھلی نظر میں اس قسم کا ہی پیدا ہوتا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس امر کی علت کوئی دوسری چیز تھی اور وہ یہ کہ ابوسفیان بنی امیہ کے نھایت چالاک اور ہوشیار لوگوں میں سے ایک تھا لھٰذا یہ بات یقین سے کھی جاسکتی ہے کہ وہ اس کے پیچھے کوئی خاص اور بلند مقاصد رکھتا تھا۔

ممکن ہے کہ اس کام سے اس کا مقصد ایک ساتھ کئی چیزیں حاصل کرنا ہو، ایک یہ کہ ابوبکر کی بیعت کی مخالفت کرکے ان کی طرف سے کچھ امتیازات چاھتا تھا اور اگر وہ حضرت علیعليه‌السلام کو ابوبکر کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا تو اس جنگ کے فاتح بنو امیہ اور ابوسفیان ہوتے اس لئے کہ اس کا مقصد ان دونوں گروھوں کو لڑا کر کمزور کرنا اور بنی امیہ کی پوزیشن کو مستحکم کرنا تھا یا کم از کم وہ ابوبکر کو مجبور کر رہا تھا کہ وہ ان کی بیعت اس صورت میں کرے گا جب کہ وہ اس کے لئے کسی امتیاز کے قائل ہوں اور در حقیقت وہ اس امر میں کامیاب بھی ہوا اور اس طرح اس نے کافی مالی فائدہ بھی اٹھایا جیسا روایت کے بقول ابوسفیان جب زکات وصول کر واپس پلٹا تو ابوبکر نے عمر کے کھنے سے جتنی جمع شدہ زکوٰة تھی سب کی سب ابوسفیان کی فتنہ گری کو روکنے کے لئے اسے بخش دی اور اس طرح وہ بھی اس پر راضی ہوگیا(۱۱۲) اس کے علاوہ اس چیز میں بھی اسے کامیابی حاصل ہوئی کہ حکومت میں کوئی عھدہ اپنے بیٹے معاویہ کے لئے مخصوص کرسکے(۱۱۳) ،اس وضاحت کے بعد اس چیز کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے ابوسفیان کی پیش کش کو ٹھکرا کر اسے اپنے سے کیوں دور کیا اور فرمایا: خدا کی قسم تو اس بات سے فقط فتنہ پروری چاھتا ہے تو ہمیشہ اسلام کا دشمن رہا ہے مجھے تیری ہمدردی اور خیر خواھی کی ضرورت نہیں ہے!(۱۱۴) حضرت علیعليه‌السلام کے خطبات سے اس بات کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ ابوسفیان کا اصل مقصد شر اور فساد پھیلانا تھا اور قبیلہ پرستی تعصب جیسا کوئی مسئلہ نہ تھا۔

اس واقعہ سے متعلق اکثر روایات سے یہ چیز سمجھ میں آتی ہے کہ بنی امیہ میں فقط ابوسفیان، ابوبکر کی بیعت کا مخالف تھا جیسا کہ جب وہ مسجد میں بنی امیہ کے اجتماع کے درمیان گیا اور انھیں ابوبکر کے خلاف قیام کی دعوت دی تو کسی نے بھی اس کا مثبت جواب نہ دیا،(۱۱۵) اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ یہ مخالفت اور قیام کی دعوت محض ایک دکھاوا تھا اس لئے کہ بنی امیہ کے درمیان ابوسفیان کی حیثیت اور لیڈری غیر قابل انکار چیز ہے اور یہ ھرگز ممکن نہ تھا کہ بنی امیہ ابوسفیان کے قول پر کان نہ دھریں اور اسے منفی جواب دیدیں۔ اس چیز کو حضرت علی علیہ السلام کے ابوسفیان کی لشکر جمع کرنے والی گفتگو سے سمجھا جاسکتا ہے اس لئے کہ اس نے اس گفتگو میں بڑے اعتماد کے ساتھ مدینہ کو لشکروں سے بھر دینے کو کہا تھا(۱۱۶) اور حضرت علی علیہ السلام کے اس جواب سے بھی یہ چیز سمجھی جاسکتی ہے کہ ابوسفیان اس پیش کش میں کس حد تک سنجیدہ تھا۔

بنی امیہ اس چیز کو جانتے تھے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتقال کے فوراً بعد ان کے لئے میدان اس قدر ہموار نہیں ہوگا کہ وہ حکومت اپنے ھاتھ میں لے لیں، لھٰذا اس فتنہ پروری سے ان کا مقصد اپنے لئے میدان ہموار کرنا اور حکومت کے حصول کے سلسلے میں پھلا قدم اٹھانا تھا وہ در حقیقت ابوبکر کی خلافت کو قریش سے بنی امیہ کی طرف خلافت کے منتقل ہونے کے لئے ایک اہم پل سمجھتے تھے اسی لئے اس سے موافق تھے اور اس کی مدد تک کرتے تھے اگر چہ تاریخی تحریفات کی وجہ سے ان کے تعاون کی فھرست بیان کرنا ایک مشکل کام ہے لیکن بعض قرائن اس چیز کی نشاندھی کرتے ہیں اور جیسے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتقال کے دن عمر، یقین کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کا انکار کر رہے تھے اور جیسے ہی ابوبکر پھونچے تو عمر نے ابوبکر کی زبان سے قرآن کی آیت سن کر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتقال کا یقین کرلیا(۱۱۷) یہ بات واضح تھی کہ اس کام سے عمر کا مقصد فقط ابوبکر کے پھنچنے تک حالات کو قابو میں رکھنا تھا اور قابل غور بات تو یہ ہے کہ فقط عمر ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتقال کے منکر نہ تھے بلکہ عثمان بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انتقال نہ ہونے کے دعویدار تھے اور کہہ رہے تھے کہ وہ مرے نہیں ہیں بلکہ عیسيٰ کی طرح آسمان پر چلے گئے ہیں(۱۱۸) یہ تمام چیزیں ان کی آپسی ساز باز اور اتفاق رائے کی نشاندھی کرتی ہیں۔

خلاصۂ کلام یہ کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد حکومت کو اپنے ھاتھوں میں لینے کی کوششیں اس زمانے کے آگاہ افراد سے ھرگز پوشیدہ نہ تھیں جیسا کہ انصار اس بات کو بخوبی جانتے تھے اسی لئے حباب بن منزر نے سقیفہ میں ابوبکر سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اظھار کیا تھا کہ ہمیں آپ لوگوں سے کوئی ڈر نہیں ہے لیکن ڈر اس بات کا ہے کہ کھیں ایسا نہ ہو کہ آپ لوگوں کے بعد وہ لوگ برسر اقتدار آجائیں کہ جن کے باپ دادا اور بھائیوں کو ہم نے اپنے ھاتھوں سے قتل کیا ہے(۱۱۹) اور یقیناً وہ لائق تحسین ہے کہ اس نے اچھی طرح حالات کا رخ دیکھ کر صحیح پیشن گوئی کی تھی، البتہ بنی امیہ کے علاوہ بنی زھرہ بھی حکومت حاصل کرنا چاھتے تھے اور وہ لوگ سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف پر اتفاق کئے ہوئے تھے(۱۲۰) ۔ اسی طرح کہ ایک روایت کے مطابق مغیرہ بن شعبہ وہ شخص تھا جس نے ابوبکر اور عمر کو سقیفہ میں جانے کے لئے ابھارا تھا(۱۲۱) ۔

سوم: حکومت حاصل کرنے کے لئے بعض مھاجرین کی کوششیں۔

ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ وہ نمایاں افراد تھے جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد حکومت کے حصول اور حضرت علیعليه‌السلام کو مسند خلافت سے ھٹا کر حالات پر قابو پانے میں سب سے زیادہ کوشاں دکھائی دیتے تھے جس کے بھت سے شواھد موجود ہیں مگر ہم یہاں فقط چند مثالوں پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔

۱۔ سقیفہ کے خطبہ میں عمر کا کھنا تھا کہ "واجتمع المهاجرون الی ابی بکر " یعنی مھاجرین ابوبکر کی خلافت پر متفق تھے، اس کے بعد ان کا کھنا تھا کہ میں نے ابوبکر سے کہا کہ آؤ انصار کے پاس چلتے ہیں جو سقیفہ میں جمع ہیں ان عبارات پر غور کرنے سے حکومت حاصل کرنے کی ان لوگوں کی کوششوں کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس لئے کہ اگر مھاجرین کا ابوبکر پر اتفاق اور ان کے لئے ان کی رضایت کو محض ایک دعويٰ نہ سمجھا جائے تو سب کی موافقت اور رضایت حاصل کرنے کے لئے کافی مذاکرات اور مسلسل رابطوں کی ضرورت ہے لھٰذا ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے فوراً بعد سب کے سب ابوبکر پر اتفاق رائے کرلیں اس لئے کہ سقیفہ سے پھلے ظاھراً کوئی جلسہ تشکیل نہیں پایا تھا کہ جس سے تمام مھاجرین کے نظریات کا پتہ چل جاتا کہ وہ کیا چاھتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پھلے ہی ایک ایک مھاجر سے ملتے اور اسے اپنی طرف کر لیتے تھے۔

۲۔ تاریخ اور احادیث کی اکثر کتابوں میں یہ بات موجود ہے کہ مھاجرین میں سے یہ لوگ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے اس بات پر مامور تھے کہ اسامہ بن زید کی سرداری میں مدینہ سے باھر چلے جائیں ان روایات میں سے بعض نے تو ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ تک کے نام بھی لئے ہیں، جیسے وہ روایت کہ جو "صاحب الطبقات الکبرىٰ" نے ذکر کی ہے جس میں کہا گیا ہے۔ "فلم یبق احد من وجوه المهاجرین الاوّلین والانصار الّا انتدب فی تلک الغزوة و فیهم ابوبکر الصدیق و عمر بن الخطاب و ابوعبیدة الجراح وسعد بن ابی وقاص و "(۱۲۲) ۔ یعنی مھاجرین اور انصار کے بزرگوں میں سے ایک بھی باقی نہ بچا کہ جسے اس غزوہ میں جانے کو نہ کہا گیا ہو اور ان بزرگوں میں ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، ابوعبیدہ اور سعد بن ابی وقاص وغیرہ بھی شامل تھے۔

لیکن یہ لوگ بھانوں کے ذریعے اس لشکر کے ساتھ جانے میں ٹال مٹول کرتے رہے اور اس طرح پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کر رہے تھے(۱۲۳) ، اگر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اسامہ کے لشکر کے ساتھ جانے پر مسلسل تاکید اور ان لوگوں کی نافرمانی پر غور کیا جائے تو اس سے ان افراد کی نیتوں اور ان کی سازشوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

۳۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بیماری کی شدت کی وجہ سے بار بار بے ہوش ہورہے تھے ایسے میں نماز کا وقت آپھونچا،بلال نے اذان کھی لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیونکہ مسجد تک جانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے لھٰذا لوگوں سے کہا کہ نماز پڑھ لیں(۱۲۴) اور کسی بھی شخص کو امامت کے لئے معین نہ کیا اسلئے کہ شاید اب یہ لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتنی تاکیدات اور فرامین کے بعد دیکھیں کہ ہمیں کس کے پیچھے نماز پڑھنی ہے، جیسا کہ بلال سے نقل شدہ روایت بھی اسی چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے، بلال کھتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض تھے اور جب آپ کو نماز کے لئے بلایا گیا تو آپ نے فرمایا:یا بلال لقد ابلغتُ فمن شاء فلیصلّ بالناس ومن شاء فلیدع "(۱۲۵) اے بلال میں نے اپنے پیغام کو لوگوں تک پھونچا دیا اب جو چاھے لوگوں کو نماز پڑھائے اور جو چاھے نماز نہ پڑھائے۔

یہ بات بھت ہی واضح تھی کہ ایسے میں امامت کے فرائض کون انجام دیے؟ لازمی سی بات ہے کہ حضرتعليه‌السلام ! اس لئے کہ حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین اور خلیفہ تھے اس کے علاوہ یہ کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امر کے مطابق تو دوسرے تمام بزرگ انصار اور مھاجرین اس بات پر مامور تھے کہ وہ اسامہ بن زید کی سرداری میں مدینہ سے باھر چلے جائیں، لیکن تعجب کی بات ہے کہ اہل سنت کی اکثر کتابوں میں یہ بات ملتی ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خود ابوبکر کو حکم دیا تھا کہ وہ آپ کی جگہ نماز پڑھائیں(۱۲۶) ، یہ روایات خود ایک دوسرے سے تناقض رکھتی ہیں اس لئے کہ ان روایات میں ابوبکر نے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ نمازیں پڑھائی ان کی تعداد اور ان کی کیفیت میں اختلاف پایا جاتا ہے جیسا کہ بعض نے یہ کہا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوبکر کی اقتداء میں نماز پڑھی(۱۲۷) جب کہ بعض کا کھنا ہے کہ ابوبکر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو دیکھ کر نماز پڑھ رہے تھے اور باقی تمام افراد ابوبکر کی اقتداء کر رہے تھے(۱۲۸) ، اس کے علاوہ بھی مختلف قسم کی روایات کتاب الطبقات الکبرىٰ کے اندر موجود ہیں(۱۲۹) کہ جن کا ایک دوسرے کے مخالف ہونا خود اس بات کے غلط ہونے کو ثابت کرتا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوبکر کو نماز پڑھانے کے لئے کہا تھا۔

البتہ یہ بھی یہ ممکن ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعض ازواج نے خود اپنی طرف سے اس کام کو انجام دیا ہو اور اس کی نسبت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف دیدی ہو اس بات کی تائید اس سے ہوسکتی ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک دن اپنی بیماری کے ایام میں فرمایا کہ حضرت علی علیہ السلام کو بلایا جائے لیکن جناب عائشہ نے ابوبکر کو بلا لیا اور حفصہ نے عمر کو اور جب وہ دونوں پیغمبر کے پاس آئے تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا(۱۳۰) ۔ یہ روایت اگر چہ نماز کے بارے میں نہیں ہے لیکن اس کے ذریعہ بعض ازواج کی نافرمانی کو سمجھا جاسکتا ہے تو جب ایسے موقع پر کہ جھاں پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا قول بالکل صریح ہو اور وہ اس کی نافرمانی کرسکتی ہیں تو یہاں پر بھی اپنی مرضی سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کسی قول کی نسبت دے سکتی ہیں؟؟؟ اس کے علاوہ بھت سی دلیلیں ہیں جو اس بات کی نشاندھی کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوبکر اور عمر کو اس قسم کا کوئی حکم نہیں دیا تھا اس لئے کہ:

پھلے یہ کہ ابوبکر اس بات پر مامور تھے کہ وہ لشکر اسامہ کے ساتھ مدینہ سے باھر چلےجائیں اور اگر وہ اس امر کی اطاعت کرتے تو ایسی صورت میں انھیں اس وقت مدینہ سے باھر ہونا چاھیے تھا اور کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوبکر کو لشکر میں جانے سے مستثنيٰ کیا ہو بلکہ روایات کے بالکل واضح الفاظ ہیں کہ ابوبکر اور عمر کو لشکر اسامہ کے ساتھ جانے کو کہا تھا(۱۳۱) پھر کس طرح ممکن ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اسامہ کے لشکر کے ساتھ بھیجنے پر مصر بھی ہوں اور یہ حکم بھی دیں کہ تم نماز پڑھاؤ؟!

دوسرے یہ کہ اہل سنت کی بعض روایات اس چیز کو بیان کرتی ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کا اصرار کر رہے تھے کہ ابوبکر نماز پڑھائیں لیکن جناب عائشہ کہہ رہی تھیں کہ ابوبکر کمزور دل کے مالک ہیں لیکن پیغمبر کے اصرار کی وجہ سے وہ چلے گئے اور نماز پڑھائی اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسی بیماری کی حالت میں کہ جس میں آپ چل کر مسجد تک نہیں آسکتے تھے دو آدمیوں کا سھارا لیکر مسجد تشریف لائے (غالباً وہ دو آدمی حضرت علی علیہ السلام اور فضل بن عباس تھے) ابوبکر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھ کر ایک طرف ہوگئے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوبکر کے پاس بیٹھیں گئے اور اس طرح ابوبکر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نماز کو دیکھ کر نماز ادا کرتے تھے اور باقی افراد ابوبکر کی نماز کو دیکھ کر نماز ادا کر رہے تھے(۱۳۲)

اب ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خود ابوبکر کو نماز کی امامت کے لئے کہا تھا اور ابوبکر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے نماز پڑھا رہے تھے تو کیا وجہ تھی کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس شدید بیماری کی حالت میں کہ جناب عائشہ کے بقول آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر خط دے رہے تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کھڑے ہونے تک کی طاقت نہ رکھتے تھے اور پھر مسجد میں تشریف لائیں اور نماز کو بیٹھ کر خود پڑھائیں؟ کیا ایسا نہ تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شروع ہی سے ابوبکر کی امامت پر راضی نہ تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ جس طرح بھی ممکن ہوسکے انھیں نماز پڑھانے سے روکا جائے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ ابوبکر نماز تمام کرلیتے، اگر ابوبکر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستور اور اصرار کے مطابق نماز پڑھا رہے تھے تو یہ ناممکن تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس شدید بیماری کی حالت میں مسجد آئیں اور بیٹھ کر ہی سھی مگر نماز خود پڑھائیں۔

خلاصۂ کلام یہ کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ نماز پڑھانے میں پیش قدمی کرنا ایک ایسا مسئلہ تھا کہ جس سے وہ اپنی جانشینی اور خلافت کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ لوگ یہ خیال کریں کہ کیونکہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انھیں اس امر کا حکم دیا ہے لھٰذا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد یھی خلیفہ ہونگے بالفرض اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قسم کا کوئی امر کرتے بھی تو یہ امر ان کی جانشینی پر یقیناً دلیل نہیں بنتا اس لئے کہ دوسرے افراد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صحت و سلامتی کے موقع پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ نماز پڑھا چکے تھے(۱۳۳) تو اگر یہ امر ان صاحب کی جانشینی اور خلافت کی دلیل بن سکتا ہے تو اس جانشینی اور وصایت کے وہ لوگ زیادہ حقدار ہیں جنھوں نے آپ کی صحت و سلامتی کے موقع پر نماز پڑھائی۔

۴۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کے حالات کو زیر نظر رکھنے کی غرض سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کی اندرونی خبریں حاصل کرنا بھی حکومت حاصل کرنے کے سلسلے میں اس گروہ کی سازشوں کا ایک حصہ ہے اور یہ کام جناب عائشہ بنت ابوبکر اور جناب حفصہ بنت عمر کے ذریعہ انجام پاتا تھا، اہل سنت کی بعض روایات کے مطابق پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنی بعض ازواج سے فرمایا تھا کہ "تمھاری مثال ان خواتین کی سی ہے جو یوسف کی مصیبت و ابتلاء کا باعث بنیں" ۔(۱۳۴)

طبری نے ایک مقام پر نقل کیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ حضرت علیعليه‌السلام کے پاس کسی کو بھیج کر انھیں بلاؤ ایسے میں جناب عائشہ نے کہا: ابوبکر کو بلا لاؤ اور حفصہ نے کہا کہ عمر کو، جب ابوبکر اور عمر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آئے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ اس لئے کہ اگر تمھاری ضرورت ہوتی تو تمھیں بلایا ہوتا یہ سن کر وہ دونوں چلے گئے(۱۳۵)

یہ روایت ہماری اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ حضرات محض یہ دکھانے کے لئے کہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ترین افراد میں سے ہیں جلد بازی کرتے ہوئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پھونچے کہ شاید جو بات وہ حضرت علیعليه‌السلام سے کھنا چاھتے ہیں وہ ہمیں بتادیں اگر چہ بعض روایات میں حضرت علی علیہ السلام کا نام ذکر نہیں بلکہ اس قسم کی عبارت موجود ہے، میرے حبیب یا میرے دوست کو بلاؤ(۱۳۶) لیکن تمام روایات اس بات پر متفق ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان افراد کو واپس کردیا حتيٰ کہ آپ نے ان سے منہ تک پھیر لیا اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کا نام لیا تھا اور کوئی دوسرا لفظ استعمال کیا بھی تھا تب بھی یہ بات تو واضح ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو نہیں بلایا تھا، بھر حال ہر کام میں خود بخود پھل کرنا حتيٰ کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر پھونچنے میں بھی پھل کرنا اس چیز کی نشاندھی کرتا ہے کہ وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر میں بھی حضرت علی علیہ السلام کو راستے سے ھٹا کر حکومت اور ولایت کے حصول کے لئے کوشاں تھے۔

۵۔ عمر اور ان کے ہم فکر افراد کا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نوشتہ لکھنے سے روکنا بھی خود حضرت علی علیہ السلام کو راستے سے ھٹا کر حکومت حاصل کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے اور اس بات میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ عمر نے اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے سلسلے میں کچھ لکھنا چاھتے ہیں لھٰذا انھوں نے بھرپور کوشش کی کہ یہ نوشتہ نہ لکھا جائے چاھے اس سلسلے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ھذیان ہی کی تہمت لگانی پڑے۔ !!

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نوشتہ لکھنے کے سلسلے میں تاریخ اور احادیث کی کتابوں میں بے انتھا روایات موجود ہیں جو سب کی سب اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ھذیان کی تہمت لگائی گئی اب ان روایات میں سے بعض نے صریحی طور پر عمر کا نام لیا ہے(۱۳۷) اور بعض نے کسی خاص شخص کا نام ذکر نہیں کیا ہے ۔(۱۳۸)

مجموعی طور پر ان تمام روایات میں عمر کے علاوہ کسی دوسرے شخص کا نام نہیں آیا ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ھذیان کی تہمت لگانے والے شخص عمر ہی تھے لیکن کیوں کہ اہل سنت کے بعض راوی عمر کا نام لینا نہیں چاھتے تھے اس لئے کوئی نام ذکر نہیں کیا۔

بعض علماء اہل سنت نے عمر کی طرف سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ھذیان کی تہمت لگائے جانے کی قباحت کو کم کرنے کے لئے اس کی مختلف تاویلیں بھی کی ہیں، مثال کے طور پر یہ کہ عمر کا مطلب یہ تھا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بیماری کا غلبہ ہوگیا ہے(۱۳۹) لیکن لغت کے اعتبار سے یہ تاویل کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں ہے جیسا کہ صاحب السان العرب نے ابن اثیر کا قول نقل کیا ہے کہ عمر کا یہ جملہ سوالیہ صورت میں ہونا چاھیے أھَجَرَ تاکہ اس کو اس معنی میں لیا جائے "تغیر کلامه واختلط لأجل مابه المرض " ان کے کلام میں تبدیلی آگئی ہے اور وہ بیماری کی شدت کی وجہ سے کچھ کا کچھ کہہ رہے ہیں لیکن اگر یہ جملہ سوالیہ نہ ہو بلکہ خبریہ ہو (جیسا کہ اکثر روایات میں ہے) تو یا تو یہ گالی ہے یا پھر ھذیان کے معنی میں ہے پھر وہ کھتے ہیں کہ کیوں کہ یہ بات کھنے والے شخص عمر ہیں لھٰذا ان سے اس قسم کی امید نہیں ہے۔اگر بالفرض اس تاویل کو قبول کر بھی لیا جائے کہ ھذیان کے معنی یہ تھے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بیماری کی شدت کی وجہ سے نہ جانے کیا کیا کہہ رہے رہیں گویا اس حالت میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کلام کا کوئی اعتبار نہیں ہے تو کیا پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف اس قسم کے کلام کی نسبت دینا پھلے کلام کے مقابلے میں کچھ کم قباحت رکھتا ہے؟ جس کے بارے میں قرآن فرما رہا ہو،( وما ینطق عن الهويٰ ان هو الّا وحی یوحی ) (۱۴۰) کہ وہ وحی کے بغیر بات نہیں کرتے، بھر حال عمر کے کلام کا مطلب کچھ بھی ہو سب سے اہم بات یہ ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عمر کے اس جملے کو سننے کے بعد سخت ناراض ہوئے جیسا کہ اہل سنت کی بعض روایات میں یہ ملتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ جملہ سننے کے بعد غم و اندوہ میں ڈوب گئے تھے(۱۴۱) اور بعض نے یہاں تک کہا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ جملے سننے کے بعد اس قدر غصہ ہوئے کہ انھیں اپنے پاس سے اٹھا دیا(۱۴۲) ، اس کے بعد جو دوسرے افراد آپ کے پاس موجود تھے کہنے لگے کہ کیا قلم و دوات لائیں؟ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اب سب کچھ کہنے کے بعد، نہیں اب اس کی ضرورت نہیں لیکن ھاں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ خیر و خوبی کے ساتھ پیش آنے کی وصیت کرتا ہوں(۱۴۳) یہاں واضح ہے کہ آخر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر کے کھنے کے بعد کیوں نہ چاھا کہ کچھ لکھین اس لئے کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لکھ بھی دیتے تو جو شخص پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی موجودگی میں گستاخی اور مخالفت کرسکتا ہے تو یقیناً وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چلے جانے کے بعد اس میں اضافہ کرتا اور مزید الٹی سیدھی نسبتیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیتا اور عملی طور پر یہ تحریر معتبر نہ سمجھی جاتی۔

بعض متعصب علمائے اہل سنت نے یہ مضحکہ خیز دعويٰ کیا ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوبکر کی خلافت کے بارے میں کچھ لکھنا چاھتے تھے!(۱۴۴) جب کہ نوشتہ سے متعلق جتنی بھی روایات نقل ہوئی ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی ھلکا سا اشارہ بھی اس بات کی طرف نہیں کیا بلکہ روایات کے متن اور دوسرے تمام شواھد اس کے برعکس ہیں کہ جن کا بیان کرنا یہاں اس بحث میں ممکن نہیں ہے البتہ ہم یہاں ایک چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ عمر جو ابوبکر پر ہمیشہ جان دینے کو تیار دکھائی دیتے تھے اور در حقیقت یہ عمر ہی کی کوششیں تھیں جن کی وجہ سے ابوبکر منصب خلافت پر فائز ہوگئے اور یہ بات ہر خاص و عام جانتا ہے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ ابوبکر کی خلافت کے لئے لکھے جانے والے نوشتہ کو روکیں اور پھر چند ہی گھنٹوں بعد ان کی خلافت کے لئے تلوار نکال لیں اور جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر تک کو آگ لگانے پر تیار ہوجائیں کیا کوئی عاقل انسان اس قسم کےمضحکہ خیز دعوے کو قبول کرسکتا ہے!؟

۶۔ ایک اور چیز جو اس گروہ کی سازشوں کی روشن دلیل ہے وہ عمر کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات سے انکار کرنا ہے یہ واقعہ بھی بھت سی تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہے(۱۴۵) ، عمر کے اس کام کی علت یہ تھی کہ ابوبکر کے پھونچنے تک ماحول کو پرسکون اور قابو میں رکھا جائے اور ابوبکر کے پھونچتے ہی عمر نے یہ اعلان کردیا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات ہوگئی ہے، یہ واقعہ ان کے آپس میں پھلے سے طے شدہ پروگرام کا پتہ دیتا ہے۔

۷۔ سقیفہ میں انصار کے اجتماع کی خبر بھت ہی پوشیدہ طور پر صرف عمر اور ابوبکر کو دی گئی(۱۴۶) اور جب ابوبکر اور عمر جلدی جلدی سقیفہ کی طرف جارہے تھے تو وہ افراد جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر میں موجود تھے اس ماجرے سے بے خبر تھے اور ابوبکر اور عمر نے اس بات کو تمام مسلمانوں یا کم از کم قوم کے بزرگ افراد کے سامنے پیش نہ کیا کہ اگر کوئی شرارت کرنا چاھتا ہے تو سب کی رائے سے اس کے بارے میں چارہ جوئی کی جائے، کیا یہ چیز ان کے حکومت کو حاصل کرنے کے سلسلے میں پھلے سے تیار شدہ سازشوں کی نشاندھی نہیں کرتی؟

سازشوں کے خلاف پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اقدامات

ہیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحی الھی کے مطابق غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنی جانشینی پر منصوب کرنے کے باوجود مناسب موقوں پر اس کی یاد آوری کراتے رہے، لیکن بعض لوگوں کی طرف سے حکومت حاصل کرنے کی مسلسل کوششوں کو دیکھتے ہوئے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس بات پر مجبور ہوگئے کہ حضرت علیعليه‌السلام کی جانشینی اور خلافت کو مضبوط کرنے کے لئے کچھ اور اقدامات بھی کریں ان میں سے ایک روم کے لشکر سے نبرد آزما ہونے کے لئے لشکر کی تیاری بھی تھی، اس لشکر کی تیاری پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات میں ہوئی اور اسامہ بن زید کو اس لشکر کا سردار بنایا گیا اور تمام انصار و مھاجرین کے بزرگ حضرات خصوصاً ابوبکر، عمر، ابوعبیدہ سے تاکیداً کہا گیا کہ وہ اسامہ کی سرداری میں مدینہ سے باھر چلے جائیں اور جس مقام پر اسامہ کے والد شھید ہوئے تھے وھاں کے لئے روانہ ہوجائیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کام کو چند مقاصد کی خاطر انجام دینا چاھتے تھے، ان میں سے ایک مقصد بقول شیخ مفید یہ تھا کہ مدینہ میں کوئی فرد بھی ایسا باقی نہ رہے جو حضرت علی علیہ السلام کی خلافت و حکومت پر ان سے نزاع کرے(۱۴۷) اور اس سے بھی اہم بات یہ تھی کہ اسامہ جو ابھی سترہ سالہ جوان(۱۴۸) تھے لشکر کا سردار بنایا گیا جب کہ وہ تمام بزرگ حضرات اور تجربہ کار لوگ موجود تھے جو اس سے پھلے جنگ احد، جنگ بدر اور خندق میں حصہ لے چکے تھے لیکن اسامہ کو لشکر کا سردار بنا کر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سب پر یہ واضح کردیا کہ کھیں ایسا نہ ہو کہ تم کل کے دن حضرت علی علیہ السلام کے جوان ہونے کا بھانہ بنا کر ان کی اطاعت سے سرپیچی کر بیٹھو۔

جب بعض افراد نے اسامہ کے انتخاب پر اعتراض کیا تو جیسے ہی اس اعتراض کی اطلاع پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی گئی تو آپ غصہ ہوئے اور فوراً منبر پر تشریف لائے اور اسامہ کے با صلاحیت اور اس امر کے لئے ان کی لیاقت کے بارے میں تقریر کی(۱۴۹) ، لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد عمر نے ابوبکر سے کہا کہ اسامہ کو لشکر کی سرداری سے ھٹا دیا جائے مگر ابوبکر نے عمر کی داڑھی پکڑ کر کہا کہ آپ کی ماں آپ کے غم میں بیٹھے، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے اس امر کے لئے منصوب کیا تھا اب تم چاھتے ہو کہ میں اسے ھٹادوں(۱۵۰) ۔

جو لوگ ھرگز یہ نہیں چاھتے تھے کہ حکومت ان کے ھاتھوں سے چلی جائے وہ اسامہ کے لشکر کے ساتھ جانے سے منع کر رہے تھے اور مختلف بھانوں سے اس میں تاخیر کرا رہے تھے جب اسامہ نے ان افراد کے ان بھانوں کو دیکھا تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ جب تک آپ کی طبیعت بالکل صحیح نہیں ہوجاتی لشکر مدینہ سے باھر نہ جائے اور جب آپ صحت یاب ہوجائیں تو پھر لشکر کوچ کر جائے گا لیکن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسامہ سے کہا کہ حرکت کرو اور مدینہ سے باھر چلے جاؤ۔ اسامہ بار بار پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کی بیماری کا حوالہ دے رہے تھے مگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر بار انھیں جانے کے لئے کہہ رہے تھے، یہاں تک کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسامہ سے کہا کہ جو کچھ تمھیں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو اور کوچ کر جاؤ اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بے ہوش ہوگئے، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہوش میں آنے کے بعد پھلا سوال اسامہ کے لشکر کے بارے میں کیا اور اس بات کی تاکید کی کہ اسامہ کے لشکر کو بھیجو اور جو شخص بھی ان کے ساتھ جانے سے منع کرے خدا اس پر لعنت کرے اور اس جملے کو کئی بار دھرایا(۱۵۱) ۔

آخرکار اسامہ کے لشکر نے کوچ کیا اور "جرف" نامی جگہ پر جاکر ٹہر گیا(۱۵۲) ، یہ لوگ مسلسل مدینے آتے جاتے رہے یہاں تک کہ جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید بیماری کی وجہ سے مسجد نہ جاسکے تو ابوبکر فوراً پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ پر گئے اور نماز شروع کردی۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے اسی حالت میں حضرت علی علیہ السلام اور فضل بن عباس کا سھارا لیکر مسجد آئے اور ابوبکر کو ھٹنے کے لئے کہا اور ان کی نماز کی کوئی پروا نہ کی اور خود پھر سے نماز پڑھائی(۱۵۳) پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھانے کے بعد گھر تشریف لے گئے اور ابوبکر، عمر اور چند دوسرے افراد کہ جو مسجد میں حاضر تھے انھیں بلایا اور کہا کہ کیا میں نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ اسامہ کے لشکر کے ساتھ مدینہ سے باھر چلے جاؤ، کھنے لگے جی ھاں یا رسول اللہ تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم لوگوں نے اس پر عمل کیوں نہ کیا؟ ہر ایک نے ایک بھانہ پیش کردیا، پھر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تین مرتبہ اس جملہ کی تکرار کی: کہ اسامہ کے لشکر کے ساتھ جاؤ(۱۵۴) ، اس سلسلے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوششوں میں سے ایک کوشش ابوسفیان کو زكٰوة کی جمع آوری کے سلسلے میں مدینہ سے باھر بھیجنا ہے جس کو مختلف روایات بیان کرتی ہیں(۱۵۵) اور شاید ابوسفیان کو یہ ذمہ داری دینے کی وجہ بھی یھی تھی۔

مخالفین کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک کوشش نوشتہ لکھنا بھی تھا لیکن جیسا کہ پھلے عرض کیا جاچکا ہے کہ بعض افراد نے اسے عملی نہ ہونے دیا ممکنھے کہ یہ سوال پیدا ہو کہ آخر نوشتہ لکھنے کا کام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی صحت و تندرستی کے زمانہ میں کیوں نہ انجام دیا تاکہ یہ شبہ ہی پیدا نہ ہوتا۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ پھلی بات تو یہ کہ اس چھوٹے سے واقعہ نے بھت سے لوگوں کے چھروں کو بے نقاب کردیا کہ وہ کس حد تک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یقین اور اعتماد رکھتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لشکر اسامہ کی ترتیب سے مسئلہ کو حل شدہ دیکھ رہے تھے لیکن بعض افراد کی مخالفت کی وجہ سے مسئلہ برعکس ہوگیا کیونکہ ابھی تک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کی ایسی کھلی ہوئی مخالفت نہ ہوئی تھی جیسا کہ شیخ مفید نے ذکر کیا ہے کہ جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوبکر، عمر اور بعض دوسرے افراد کی لشکر اسامہ میں جانے کی مخالفت کو دیکھا تو نوشتہ لکھنے کا ارادہ کیا(۱۵۶) نتیجہ یہ کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت اور جانشینی کو مضبوط کرنے کے لئے ہر ممکنہ قدم اٹھایا مگر اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاھیے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھرگز اس بات کو نہیں چاھتے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام کو لوگوں پر مسلط کردیا جائے یا کوئی ایسا کام کریں جس سے یہ معلوم ہو کہ زبردستی لوگوں پر حضرت علیعليه‌السلام کو مسلط کیا جارہا ہے بلکہ آپ چاھتے تھے ابلاغ وحی کے سلسلے میں اپنے وظیفہ پر اچھی طرح عمل کریں اور لوگوں کو یہ بات سمجھا دیں کہ آپ ان کی فلاح و بھبود اصلاح اور ھدایت کے علاوہ کچھ نہیں چاھتے اور یقیناً آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسا ہی کیا اب جو چاھے ھدایت کا راستہ اختیار کرے اور جو چاھے گمراھی کا۔ حضرت علی علیہ السلام خود بھی یہ نہیں چاھتے تھے کہ جس طرح بھی ممکن ہوسکے سیاسی گٹھ جوڑ کر کے اپنی حکومت کو مضبوط کیا جائے اس لئے کہ حضرت علی علیہ السلام حکومت کو انسانوں کی ھدایت کے لئے چاھتے تھے اور انسانوں کی ھدایت زور زبردستی اور سیاسی حربوں کے بعد ممکن نہیں خاص طور سے جب کہ سیاسی گٹھ جوڑ خود نقص غرض کا حصہ ہو۔

حضرت علی علیہ السلام ان تمام چیزوں سے بلند و بالا ہیں کہ وہ حکومت حاصل کرنے کے لئے اس کے پیچھے دوڑ لگائیں اور اسے لوگوں پر تحمیل کریں اس لئے کہ اگر لوگ ان کی حکومت کے طلبگار ہوتے تو خود ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وصیت پر عمل کرتے ورنہ ان کی بھاگ دوڑ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیتوں سے زیادہ مؤثر نہیں ہوسکتی تھی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد عباس نے جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا تھے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ اپنا ھاتھ آگے بڑھائیے تاکہ آپ کی بیعت کروں اور تمام بنی ھاشم آپ کی بیعت کریں، آپ نے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا بھی ہے جو ہمارے حق کا انکار کرے؟ عباس نے فرمایا کہ آپ بھت جلد دیکھ لیں گے کہ لوگ ایسا ہی کریں گے(۱۵۷) ۔

ہمای نظر میں جو کچھ عباس دیکھ رہے تھے حضرت علی علیہ السلام اسے بخوبی جانتے تھے لیکن در اصل بات یہ تھی کہ اگر لوگ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وصیت پر عمل کرنا چاھتے تو پھر پوشیدہ طور پر کسی بیعت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی یا آج کی اصطلاح حکومت کا تختہ پلٹنے کی ضرورت نہیں تھی، اگر لوگ حضرت علی علیہ السلام کی قدر و منزلت کو نہیں جانتے اور آپ کی حکومت نہیں چاھتے تو پھر اس کوشش اور محنت کی کوئی معنوی قدر و قیمت نہ ہوتی اور اس کا کوئی خاص فائدہ بھی نہ تھا، اس لئے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کچھ وصیت کرنا تھی وہ کرچکے تھے اب یہ ذمہ داری مسلمانوں کی تھی کہ وہ خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اعتماد و یقین کر کے ان کی اطاعت کرتے اور یہ بات حضرت علی علیہ السلام کے ان جملوں سے بخوبی سمجھی جاسکتی ہے جو آپ نے عثمان کے قتل کے بعد جب لوگ آپ کے پاس بیعت کرنے کے لئے آئے تو آپ نے تقریر کے دوران ادا کئے۔ دور خلفاء میں حضرت علی علیہ السلام کا سکوت ھرگز اس بات پر دلیل نہیں کہ آپ ان کے پابند، ان کے ہم خیال اور انھیں اس کا حقدار سمجھتے تھے بلکہ بارہا اپنی مخالفت کو واضح طور پر بیان کرتے رہے اور اس امر میں ھرگز کوتاھی سے کام نہیں لیا اور اگر آپ کے موافقین کی تعداد زیادہ ہوتی تو یقینی بات ہے کہ آپ حکومت سے دستبردار نہ ہوتے مگر جو لوگ آپ کے ساتھ تھے ان کی تعداد اتنی کم تھی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ آپ مسلحانہ انداز میں قیام کریں اور یھی وہ سیرت اور طریقہ کار ہے جس کا مشاہدہ اور دوسرے معصومینعليه‌السلام کی زندگی میں بھی کیا جاسکتا ہے البتہ یہ ایک طویل بحث ہے کہ جس کا یہاں موقع نہیں ہے۔

انصار کی چارہ جوئی

گذشتہ بیان کی روشنی میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ انصار سقیفۂ بنی ساعدہ میں اس لئے جمع ہوئے تھے کہ رونما ہونے والے یہ تمام حوادث کسی سے پوشیدہ نہ تھے کہ کوئی ان سے بے خبر ہوتا، انصار اور مھاجرین کا ہر فرد یہ جانتا تھا کہ مدینہ میں جلد ہی تبدیلیاں آنے والی ہیں اور حادثات رونما ہونے والے ہیں لیکن کوئی مکمل طور سے اس بات کو نہیں جانتا تھا کہ آخر کیا ہونے والا ہے؟ اسی لئے مختلف گروہ حکومت کے حصول کے لئے مکمل کوشاں تھے۔

لھٰذا یہ مسئلہ واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد مدینہ کے حالات اس قابل نہ تھے کہ جس میں حضرت علی علیہ السلام کی خلافت اور حکومت کا قیام عمل میں آتا یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب بھی اس سلسلے میں یہ سوال کر رہے تھے کہ کیا لوگ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کو قبول کر لیں گے یا نھیں؟ یہ بات قابل غور ہے کہ عباس کا سوال اس بات کے بارے میں نہیں تھا کہ حکومت کا لائق اور سزاوار کون ہے؟ اس لئے کہ عباس، حضرت علی علیہ السلام سے زیادہ کسی کو اس امر کے لائق نہیں سمجھتے تھے اور ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام کو بیعت کی پیشکش کرتے تھے(۱۵۸) ، جتنے بھی مآخذ و منابع عباس بن عبدالمطلب کے اس سوال کا ذکر کرتے ہیں ان میں یہ چیز بیان نہیں ہوئی کہ عباس نے پوچھا ہو کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کی جانشینی کا کون مستحق ہے؟ بلکہ عباس کا سوال یہ ہے کہ آخر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کیا ہوگا؟ کیا حکومت بنی ھاشم میں باقی رہے گی یا نھیں۔ شیخ مفید نے اسے بھترین انداز میں بیان کیا ہے کہ عباس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھاوان یکن هذا الأمر فینا مستقرّاً بعدک فبشّرنا (۱۵۹) یعنی اگر ولایت و حکومت آپ کے چلے جانے کے بعد ہمارے درمیان باقی رہے گی تو ہمیں اس کی بشارت دیجئے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ آپ لوگ میرے بعد مستضعفین میں سے ہوں گے، یہاں سوال یہ نہیں کہ یہ حق کس کا ہے بلکہ بحث اس پر ہے کہ یہ حق جو حضرت علی علیہ السلام کا ہے کیا انھیں مل بھی جائے گا یا نھیں؟ عباس واقعہ غدیر سے بے خبر نہ تھے مگر اس کے بعد کے حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے اس قسم کے سوالات کر رہے تھے۔

انصار کہ جنھوں نے قریش کے خلاف بڑھ چڑھ کر جنگوں میں حصہ لیا تھا اس بات سے خوفزدہ تھے کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد حضرت علی علیہ السلام مسند خلافت پر نہ بیٹھے کہ جس پر بھت سے شواھد و قرائن دلالت کر رہے ہیں، تو کیا ہوگا؟ انصار کو زیادہ تر خوف اس بات کا تھا کہ کھیں ایسا نہ ہو کہ بنی امیہ کہ جو حکومت کے حصول کے لئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں برسر اقتدار آجائیں تو ایسی صورت میں انصار کی حالت بدتر ہوجائے گی اور وہ ہمیشہ بنی امیہ کے انتقام کا نشانہ بنے رہیں گے۔

ایسی صورت میں انصار کے لئے ضروری تھا کہ آئندہ کے لئے کوئی چارہ جوئی کریں کیوں کہ مدینہ ان کا اپنا وطن تھا اور مھاجرین دوسری جگہ سے ہجرت کر کے ان کے وطن میں آئے تھے لھذا اس اعتبار سے وہ اپنے آپ کو حکومت کا زیادہ حقدار سمجھ رہے تھے اسی لئے وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے فوراً بعد سقیفہ میں جمع ہوگئے کہ آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا اگر کوئی حادثہ پیش آگیا تو انھیں کیا کرنا ہے۔

اس وقت کے تمام قرائن اور شواھد کی روشنی میں جب انھوں نے یہ دیکھا کہ حضرت علی علیہ السلام کو خلافت و حکومت ملنا ممکن نہیں ہے تو بھتر یھی سمجھا کہ اپنے درمیان سے ہی کسی ایک کو اس امر کے لئے منتخب کرلیں، لھٰذا سعد بن عبادہ کو بلایا کہ وہ اس اجتماع میں شریک ہوں تاکہ ان کی بیعت کی جائے کیونکہ جب نوبت یہاں تک پھنچ گئی کہ حضرت علی علیہ السلام کو خلافت ملنے والی نہیں ہے تو پھر ان سے زیادہ اس امر کا سزاوار کون ہوسکتا ہے ہماری اس بات کی تائید کے لئے بھت سے شواھد موجود ہیں جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

۱۔ انصار کو حضرت علی علیہ السلام کی خلافت پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہ تھا بلکہ وہ مکمل طور سے اس پر راضی تھے۔ جیسا کہ طبری(۱۶۰) اور ابن اثیر(۱۶۱) نے نقل کیا ہے کہ سب کے سب یا بعض انصار نے سقیفہ میں ابوبکر اور عمر کے سامنے یہ بات کھی تھی کہ ہم حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کی بیعت نہ کریں گے اور اسی طرح یعقوبی نے بھی اس بارے میں کہا ہے کہ "وکان المهاجرون والانصار لا یشکون فی علی "(۱۶۲) "انصار و مھاجرین کو حضرت علی علیہ السلام کی خلافت پر کوئی اعتراض نہ تھا" اور دوسری جگہ نقل کیا ہے کہ عبد الرحمٰن بن عوف نے انصار سے کہا کہ کیا تمھارے درمیان ابوبکر، عمر اور حضرت علی علیہ السلام جیسے افراد موجود نہیں ہیں تو انصار میں سے ایک نے کہا کہ ہم ان افراد کی فضیلت کے منکر نہیں ہیں اس لئے کہ ان کے درمیان ایک ایسا شخص موجود ہے کہ اگر وہ اس امر خلافت کو طلب کرے تو ہم میں سے کوئی بھی اس کی مخالفت نہیں کریگا یعنی علی بن ابی طالب علیہ السلام(۱۶۳) اس کا مطلب یہ ہے کہ انصار غدیر خم کے واقعہ سے بے خبر نہ تھے اور ھرگز حضرت علیعليه‌السلام کی خلافت کے منکر نہ تھے اور سقیفہ میں ان کا جمع ہونا ھرگز حضرت علی علیہ السلام کو خلافت سے دور کرنے کے لئے نہ تھا لیکن وہ یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ کچھ لوگ حکومت حاصل کرنے کے لئے بے انتھا کوشش کر رہے ہیں جب کہ حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے حکومت کے لئے کسی بھی قسم کی سیاسی اور سماجی کوششیں دیکھنے میں نہیں آرہی تھیں لھٰذا انھیں یقین ہوگیا تھا کہ ایسی صورت حال کے پیش نظر حضرت علی علیہ السلام کسی بھی طرح خلافت پر نہیں آسکتے۔ بلکہ بھتر ہوگا کہ یوں کہا جائے کہ بعض افراد کسی بھی صورت میں حضرت علیعليه‌السلام کو خلافت تک نہیں پھنچنے دیں گے۔ لھٰذا انصار کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے لئے کوئی چارہ جوئی کریں گویا وہ مستقل طور پر اپنے لئے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنا چاھتے تھے۔

۲۔ انصار کا سقیفہ میں مھاجرین کو یہ پیشکش کرنا کہ ایک امیر ہمارا اور ایک امیر تمھارا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انصار فقط یہ چاھتے تھے کہ وہ بھی حکومت میں شریک رہیں اور اس طرح وہ قریش کے احتمالی خطرات سے محفوظ رہنا چاھتے تھے، (گویا ہر صورت میں حکومت میں حصہ دار بن کر اپنے آپ کو محفوظ رکھنا چاھتے تھے)۔

۳۔ سقیفہ میں انصار کی گفتگو ان کے اھداف کو واضح کرتی ہے اس کے علاوہ قاسم بن محمد بن ابوبکر کی روایت بھی انصار کے سقیفہ میں اجتماع کے مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ (ولکنا نخاف اَنۡ یلیه اقوام قَتَلنا آبائهم واِخوتهم )(۱۶۴) لیکن ہمیں ڈر اس بات کا ہے کہ کھیں ایسا نہ ہو ان کے بعد وہ لوگ بر سر اقتدار آجائیں کہ جن کے باپ اور بھائیوں کو ہم نے قتل کیا تھا، جیسا کہ دینوری اور جوھری نے نقل کیا ہے کہ انصار نے کہا ہے کہ ہمیں ڈر اس بات کا ہے کہ کل کھیں وہ لوگ بر سر اقتدار نہ آجائیں کیونکہ نہ وہ ہم میں سے ہیں اور نہ تم میں سے(۱۶۵) ۔

اس بیان سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ انصار مکمل طور سے اس بات کو جانتے تھے کہ بعض ایسے افراد حکومت کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں کہ جو سالھا سال مسلمانوں سے جنگ کرتے رہے ہیں اور یہ وھی لوگ ہیں جن کے باپ اور بھائیوں کو جنگ میں انصار نے قتل کیا تھا اگر وہ حکومت اپنے ھاتھ میں لے لیں گے تو انصار ان کے انتقام سے کسی صورت نہیں بچ سکتے اور وہ بنی امیہ اور ان کے طرفداروں کے علاوہ کوئی اور نہ تھا، اگرچہ خود ابوبکر سے انھیں اس قسم کا خوف نہ تھا(۱۶۶) لیکن با تجربہ اور زیرک انصار جیسے حباب بن منذر اس بات کو بخوبی سمجھ رہے تھے کہ اگر آج ابوبکر جیسے لوگ مسند خلافت پر بیٹھ جائیں گے تو کل یقینی طور پر حکومت ان لوگوں کے ھاتھ میں ہوگی کہ جن کی انصار سے نہ بنے گی اور وہ ان سے انتقام اور بدلہ لینے کی فکر میں رہیں گے، حباب بن منذر کی یہ پیشین گوئی بیحد لائق تعریف ہے اس لئے کہ انھوں نے جیسی پیشین گوئی کی تھی ویسا ہی ہوا اور ابھی کچھ وقت بھی نہ گزرا تھا کہ فرزندان طلقاء(۱۶۷) اقتدار میں آگئے اور اسلام و مسلمین نیز پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیتعليه‌السلام پر وہ ظلم ڈھائے کہ جس کی ایک مثال واقعۂ کربلا ہے۔

۴۔ در حقیقت سقیفہ میں انصار کا جمع ہونا ایک مخفیانہ عمل تھا اور کسی کو اس کی اطلاع نہ تھی اب اگر ان کا مقصد تمام مسلمانوں کے لئے خلیفہ کا انتخاب تھا تو اس صورت میں اس قسم کا خصوصی جلسہ ان کی شایان شان نہ تھا، اگر چہ وہ جلسہ کے اختتام پر اس نتیجہ پر پھنچے کہ خلیفہ کا تعین کیا جائے، مگر وہ اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ یہ کام تمام مسلمانوں کے نزدیک قابل قبول نہ ہوگا جیسا کہ ابو مخنف کی روایت اس چیز کو بیان کرتی ہے(۱۶۸) کہ اگر مھاجرین نے قبول نہ کیا تو کیا کھیں گے؟ یہ تمام باتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ درحقیقت وہ اپنے لئے سقیفہ کے اجتماع کے ذریعہ آئندہ کا لائحہ عمل تیار کر رہے تھے اور بعد میں اس نتیجہ پر پھنچے کہ خلیفہ کا انتخاب بھی کر ہی لیا جائے۔

۵۔ انصار ابوبکر کی تقریر کے بعد کہ جس میں انھوں نے انصار کو وزارت اور مشاورت کا عھدہ دینے کا وعدہ کیا(۱۶۹) اختلاف کا شکار ہوگئے، بعض انصار جیسے حباب بن منذر اور سعد بن عبادہ ابوبکر پر اعتماد نہ رکھتے تھے لھٰذا یہ کہا کہ اس کی بات پر توجہ نہ کرو، لیکن بعض دوسرے افراد جیسے، بشیر بن سعد کہ جو سعد بن عبادہ کا چچا زاد بھائی تھا اور اس سے حسد اور کینہ رکھتا تھا ابوبکر کی طرف مائل ہوگیا اور سب سے پھلے ابوبکر کی بیعت کی(۱۷۰) اور انصار میں دوسرا اختلاف اوس و خزرج کی آپسی رقابت کی وجہ سے پیش آیا کہ جس کے سبب قبیلہ اوس نے ابوبکر کی بیعت کرلی(۱۷۱) اور پھر جو ہونا تھا وہ ہوا، اس سلسلے میں ہم شیخ مفید کا قول نقل کرتے ہیں جو نھایت متین ہے وہ یہ کہ جو کچھ ابوبکر کے حق میں ہوا اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انصار آپس میں اختلاف رکھتے تھے نیز طلقاء اور مولفة القلوب بھی یہ نہیں چاھتے تھے کہ اس کام میں تاخیر ہو کہ کھیں ایسا نہ ہو کہ تاخیر کے سبب بنی ھاشم کو فرصت مل جائے اور یہ حکومت اپنی جگہ پر پھونچ جائے اور چونکہ ابوبکر وھاں موجود تھے اس لئے ان کی بیعت کرلی(۱۷۲) ۔

گذشتہ مباحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انصار کی پیشین گوئی اور ان کا خدشہ مکمل طور سے بجا تھا لیکن ان کا یہ اجتماع پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین سے پھلے کسی بھی صورت میں صحیح نہ تھا بلکہ یہ ان کی جلد بازی اور بے نظمی کی دلیل ہے جس کے نتیجے میں دوسرے افراد کو یہ موقع ملا کہ انھوں نے اپنی رائے ان پر مسلط کردی، البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ انصار پر بھی پھلے ہی سے کام کیا گیا ہو اور انھیں بنی امیہ سے بیحد ڈرایا گیا ہو، اگر انصار صبر سے کام لیتے یا اسی سقیفہ میں حضرت علی علیہ السلام کی حمایت میں ثابت قدمی کا مظاھرہ کرتے تو یقینی طور پر دوسرے لوگ بآسانی حضرت علی علیہ السلام کے ھاتھ سے حکومت لینے میں کامیاب نہ ہوتے اس لئے کہ اس وقت انصار ایک ممتاز مقام رکھتے تھے جس کی دلیل خود ابوبکر اور عمر کا انصار کے اجتماع میں آنا ہے، اس لئے کہ اگر انصار اس امر میں کوئی اہمیت نہ رکھتے تو ابوبکر اور عمر کسی صورت میں جلدی جلدی اپنے کو اس اجتماع میں پھونچا کر وھاں اپنی حکومت کی بنیاد نہ رکھتے۔

____________________

۱۰۴.الطبقات الکبريٰ۔ ج۱ ص۲۰۴۔ انساب الاشراف۔ ج۳ ص۷۱۶۔ تاریخ طبری۔ ج۳ ص۱۹۸، ارشاد۔ ج۱ ص۱۸۱۔ الکامل فی التاریخ۔ ج۲ ص۶۔

۱۰۵. الامامة والسیاسة۔ ص۲۸

۱۰۶. السقیفہ و فدک۔ ص۶۰

۱۰۷. "اجتمعت بنو امیہ اليٰ عثمان بن عفان"

۱۰۹. السقیفہ و فدک ص۳۷

۱۱۱. کتاب "عبداللہ ابن سبا" علامہ عسکری، ج۱ ص۱۰۱

۱۱۲. السقیفہ و فدک ص۳۷

۱۱۳. تاریخ طبری۔ ج۳ ص۲۰۹

۱۱۴. تاریخ طبری ج۳ ص۲۰۹، ارشاد۔ ج۱ ص۱۸۹

۱۱۵. الارشاد: ج۱ ص۱۹۰۔ (فحرّضہم علی امر فلم ینھضوا لہ)

۱۱۶. السقیفہ و فدک: ص۳۷، تاریخ طبری: ج۳ ص۲۰۹۔

۱۱۷. السیرة النبویة ابن ھشام: ج۴ ص۳۰۵، ۳۱۱، تاریخ الطبری: ج۳ ص۲۱۰، البدایہ والنھایہ: ج۵ ص۲۶۲، انساب الاشراف: ج۲ ص۷۴۲۔

۱۱۸. انساب الاشراف۔ ج۲ ص۷۴۴۔

۱۱۹. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۶۲، الطبقات الکبرىٰ: ج۳ ص۱۸۲۔

۱۲۳. الارشاد۔ ج۱ ص۱۸۴۔

۱۲۴. انساب الاشراف۔ ج۲ ص۷۲۹ والارشاد ج۱ ص۱۸۲ (یصلّی بالناس بعضہم)

۱۲۵. السقیفہ و فدک۔ ص: ۶۸۔

۱۲۶. انساب والاشراف: ج۲ ص۷۲۷،۷۲۹، ۷۳۱، ۷۳۲، ۷۳۵، تاریخ طبری: ج۳ ص۱۹۷۔

۱۲۷. الطبقات الکبرىٰ: ج۲ ص۲۲۲، ۲۲۳، دلائل النبوة۔ ج۷ ص۱۹۱، ۱۹۲

۱۲۸. دلائل النبوة: ج۷ ص۱۹۱، ۱۹۲، الطبقات الکبرىٰ: ج۲ ص۲۱۸ تاریخ الطبری: ج۳ ص۱۹۷

۱۲۹. الطبقات الکبرىٰ: ج۲ ص۲۱۵ تا ۲۲۴ و ج۱۳ ص۱۷۸ تا ۱۸۱۔

۱۳۱. الطبقات الکبرىٰ: ج۱ ص۱۹۰، ۲۴۹، السقیفہ و فدک: ص۷۴، ۷۵، تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۱۳، الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۵

۱۳۳. الطبقات الکبرىٰ: ج۴ ص۲۰۵

۱۳۶. الامامة والسیاسة: ص۲۰۔

۱۳۷. السقیفہ و فدک: ص۷۳: الطبقات الکبرىٰ: ج۱ ص۲۴۳، ۲۴۴۔ الارشاد: ج۱ ص۱۸۴

۱۳۹. تاریخ الطبری: ج۳ ص۱۹۳ (حاشیہ.والسقیفہ و فدک: ص۷۳ (ایک روایت کے ضمن میں)

۱۴۰. سورہ نجم آیت ۳۔

۱۴۱. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۳۸

۱۴۲. الطبقات الکبرىٰ: ج۱ ص۲۴۳، والسقیفہ و فدک: ص۱۷۳ (فرفضہ النبی: پس اس معنی میں نبی (ص.پہلے رافضی ہیں)

۱۴۳. ارشاد۔ ج۱ ص۱۸۴

۱۴۴. البدایة والنھایة ج۵ ص۲۷۱۔

۱۴۵. السیرة النبویہ: ابن ھشام ج۴ ص۳۰۵، ۳۱۱، انساب الاشراف:ج۲ ص۷۴۲، تاریخ طبری: ج۳ ص۲۱۰۔ البدایة والنھایة:ج۵ ص۲۶۲، ۲۶۳۔

۱۴۶. انساب الاشراف" ج۲ ص۷۶۴۔ السقیفہ و فدک: ص۵۵۔ تاریخ طبری: ج۳ ص۲۰۳۔

۱۴۷. الارشاد: ج۱ ص۱۸۰، ۱۸۱۔

۱۴۸. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۱۳۔

۱۴۹. السیرة النبویہ: ابن ھشام ج۴ ص۲۹۹، ۳۰۰۔ الطبقات الکبرىٰ: ج۱ ص۱۹۰، ۲۴۹۔

۱۵۲. السیرة النبویہ: ابن ھشام ج۴ ص۳۰۰ (فخرج اسامہ و خرج جیشہ معہ حتی نزلوا الجرف من المدینہ علی فرسخ)

۱۵۳. الارشاد: ج:۱ ص۱۸۳۔

۱۵۴. الارشاد۔ ج:۱ ص۱۸۴

۱۵۵. السقیفہ و فدک۔ ص۳۷، البتہ انساب الاشراف ج۲، ص۷۷۳ نے اس بات کو واقدی سے نقل کیا ہے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ ابوسفیان پیغمبر (ص.کی وفات کے وقت مدینہ میں تھا لھٰذا ایسی صورت میں یہ دلیل قابل قبول نہیں ہے۔

۱۵۶. الارشاد: ج۱ ص۱۸۴۔

۱۵۸. انساب الاشراف: ج۲ ص ۷۶۷، الامامة والسیاسة:ص۲۱۔

۱۵۹. ارشاد: ج۱ ص۱۸۴

۱۶۰. تاریخ طبری: ج۳ ص۲۰۲۔

۱۶۱. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۰۔

۱۶۲. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۲۴۔

۱۶۳. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۲۴

۱۶۴. الطبقات الکبری: ج۳ ص۱۸۲، انساب الاشراف: ج۲ ص۷۶۲۔ السقیفہ و فدک: ص۴۹۔

۱۶۶. الطبقات الکبرىٰ: ج۳ ص۱۸۲

۱۶۷. آزاد شدہ

۱۶۸. تاریخ طبری: ج۳ ص۲۱۸، ۲۱۹۔

۱۶۹. تاریخ طبری: ج۳ ص۲۲۰، الطبقات الکبرىٰ ج۳ ص۱۸۲۔

۱۷۰. تاریخ طبری: ج۳ ص۲۲۰۔

۱۷۱. تاریخ طبری: ج۳ ص۲۲۱۔


چوتھا حصہ: ابو مخنف کی روایت پر کئے گئے اعتراضات اور ان کے جوابات

تمھید

واقعہ سقیفہ کے بارے میں ابو مخنف کی روایت کے مطالعہ کے بعد ممکن ہے کہ کسی کے ذھن میں اپنی سوچ یا تاریخی معلومات کی بنا پر کچھ اعتراضات ابھریں کہ جنھیں وہ واقعاً اعتراض سمجھتا ہو یا ان کے بارے میں صحیح اور مستند جواب چاھتا ہے، کتاب کا یہ حصہ اعتراضات کے بیان اور ان کے جوابات کے لئے مخصوص کیا گیا ہے، اس حصہ میں ذکر ہونے والے اعتراضات محص فرضی نہیں ہیں بلکہ یہ وہ اعتراضات ہیں جو اہل سنت(۱۷۳) کے ایک مورخ نے ابو مخنف کی روایت(۱۷۴) کے بارے میں کئے ہیں لھٰذا ہم اس بحث کو صحیح صورت میں آپ کے سامنے پیش کرنے کے لئے ان اعتراضات کو ذکر کرنے کے بعد منصفانہ طور پر ان کا جواب دیں گے۔

پھلا اعتراض؛ روایت کی سند سے متعلق

اس سلسلے میں سب سے پھلا اعتراض یہ ہے کہ روایت صرف ابو مخنف نے نقل کی ہے اور ابو مخنف کے ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ ھشام بن کلبی بھی ضعیف ہونے کے اعتبار سے ابو مخنف سے کم نہیں ہے، اس کے علاوہ یہ کہ "عبداللہ بن عبد الرحمان بن أبی عمرہ" اس واقعہ کا عینی شاھد نہ تھا اس لئے کہ وہ اس زمانہ میں موجود نہ تھا(۱۷۵) ۔

جواب:

اس اعتراض میں چند مختلف مطالب کی طرف اشارہ ہے لھٰذا ہم ایک ایک کر کے ان کا جواب دے رہے ہیں۔

الف۔ یہ دعويٰ کہ اس روایت کو تنھا ابو مخنف نے نقل کیا ہے۔

یہ بات صحیح نہیں ہے بلکہ یہ معترض کی کم علمی اور ضروری تحقیق نہ کرنے کی دلیل ہے اس لئے کہ ابو مخنف کی روایت کا مضمون یا وھی مضمون کچھ اضافہ کے ساتھ دوسرے مورخین نے بھی نقل کیا ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

۱۔ دینوری نے اپنی کتاب "الامامة والسیاسة" میں یہ روایت جس سند کے ساتھ نقل کی وہ یہ ہے ۔حدثنا ابن عُفیر، عن أبی عون، عن عبدالله بن عبدالرحمان الانصاری رضی الله عنه (۱۷۶)

۲۔ دوسری سند جسے جوھری نے یوں نقل کیا۔أخبرنی احمد بن اسحاق قال: حدثنا احمد بن سیار، قال: حدثنا سعید بن کثیر بن عفیر الانصاری: ان النبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (۱۷۷)

۳۔ ابن اثیر سلسلہ سند کی طرف اشارہ کئے بغیر اعتماد کے ساتھ کھتا ہے، و قال ابو عمر الانصاری: لمّا قبض النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (۱۷۸)

خلاصہ یہ کہ یہ تین یا چار سندیں ایک ہی روایت کو بیان کرتی ہیں یہاں تک کہ ان میں بہت سے الفاظ اور جملے بھی ایک جیسے ہیں، ان چار سندوں میں سے صرف ایک سلسلۂ سند میں ابو مخنف ہیں۔

ب۔ دوسری بات جو اعتراض کے عنوان سے پیش کی گئی وہ یہ ہے کہ ابو مخنف اور ھشام بن کلبی دونوں ضعیف ہیں۔

ابو مخنف اور ان کی روایت پر اعتماد کے بارے میں حصہ اول میں تفصیل کے ساتھ بحث کی جاچکی ہے جس میں بیان کیا گیا کہ شیعہ علماء رجال نے ان پر مکمل اعتماد کیا ہے اور اہل سنت کے مورخین نے بھی معمولاً ان پر اعتماد کیا ہے اور بعض نے تو فقط ان کی روایت ہی کو نقل کرنے پر اکتفا کی ہے کیا یہ چیز ان کے قابل اعتماد ہونے کی نشاندھی نہیں کرتی ہے؟

اور ھشام بن کلبی بھی شیعہ علماء رجال کے نزدیک ایک معروف اور قابل اعتماد شخصیت ہیں جیسا کہ نجاشی ان کے بارے میں کھتے ہیں کہ وہ فضل و علم کے حوالے سے مشھور اور امام صادق علیہ السلام کے نزدیک ترین اصحاب میں سے تھے(۱۷۹) ۔

اہل سنت کے علماء نے فقط انھیں شیعہ ہونے کی وجہ سے "متروک" جانا ہے اور ظاھراً شیعہ ہونے کے علاوہ کوئی دوسری وجہ ضعیف ہونے کی ذکر نہیں کی، جیسا کہ ابن حبان نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ "وکان غالیاً فی التشیع"(۱۸۰) اور ذھبی کا کھنا ہے کہ "وترکوه کأبیه و کانا رافضین "(۱۸۱) ۔

لیکن یاقوت حموی کا کھنا ہے "الاخباری، النسّابه، العلامه، کان عالماً بالنسب واخبار العرب و ایامها و وقائعها و مثالبها "(۱۸۲) اخباری، نسابہ، علامہ اور عربوں کے شجرۂ نسب اور ان کے مختلف ادوار کے حالات و واقعات اور عیوب کے عالم تھے، یہ پوری عبارت ان کی علمی عظمت پر دلالت کرتی ہے لھٰذا ہمارے پاس کوئی ایسی خاص دلیل نہیں ہے کہ جس کی بنا پر انھیں چھوڑ دیا جائے اسی لئے ہم انھیں قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔

ج۔ البتہ یہ دعويٰ کہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اس زمانہ کو درک نہیں کیا لھٰذا وہ اس واقعہ کا عینی شاھد نہیں ہوسکتا بالکل صحیح ہے اور اس طرح یہ روایت منقطع ہوکر رہ جائے گی لیکن یہ چیز کسی خاص مشکل کا سبب نہیں بنے گی اور اس اعتراض کے دو جواب ہیں، نقضی اور حلّی۔

نقضی جواب:

اول یہ کہ علماء کرام تاریخی واقعات کے متعلق روایات کی سند کے بارے میں کوئی خاص توجہ نہیں دیتے ہیں البتہ اس کا مطلب ھرگز یہ بھی نہیں کہ جس خبر کو جہاں سے سنا اسے قبول کرکے نقل کردیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح فقھی روایات کی سند پر غور کیا جاتا ہے اس طرح کی توجہ یہاں نہیں کی جاتی بلکہ اگر کوئی خبر کسی ایسے عالم سے سنی جائے جو مشھور و معروف اور قابل اعتماد ہو اور عقلاء اس پر اطمینان کا اظھار کریں تو اسے کافی سمجھتے ہیں اور سند کے بجائے اس کے مضمون پر غور کرتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ اگر پوری تاریخ کو سندی اعتبار سے دیکھا جائے تو شاید ہی تاریخ میں کوئی چیز باقی رہے۔ اس لئے کہ ایسی صورت میں اکثر روایات کو ختم کردیا جائے اور فقط ان صحیح روایات پر اکتفا کی جائے جو احادیث کی کتابوں میں موجود ہیں تو ایسے میں گزشتہ واقعات کی صحیح تصویر پیش نہیں کی جاسکتی۔

تیسرے قابل توجہ بات یہ ہے کہ یھی احادیث کی کتابیں جب تاریخی واقعات کو بیان کرتی ہیں تو مرسل، منقطع و ۔ ۔ روایات سے پُر دکھائی دیتی ہیں، ہم یہاں بعنوان مثال فقط ان چند روایات کا تذکرہ کرتے ہیں جو واقعۂ سقیفہ کے بارے میں ہیں اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ معترض نے ابو مخنف کی روایت کے لئے جن روایات کا سھارا لیا ہے خود ان کا تعلق بھی "مرسلہ روایات" سے ہے۔

جو روایت مسند احمد بن حنبل(۱۸۳) میں حمید بن عبد الرحمٰن سے نقل ہوئی ہے یہ روایت ابوبکر اور عمر کے سقیفہ میں جانے نیز ابوبکر کی سقیفہ میں تقریر کہ جس میں انھوں نے انصار کی فضیلت اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کو نقل کیا ہے جس میں آپ نے فرمایا: "حکومت قریش میں ہونی چاھیے" اس کے بعد سعد بن عبادہ کی تصدیق اور بیعت کرنے کو بیان کرتی ہے۔

معترض نے بارہا ابو مخنف کے مطالب کو رد کرنے کے لئے اس روایت سے استفادہ کیا ہے جب کہ یہ بھی ایک "مرسلہ روایت" ہے، جیسا کہ ابن تیمیہ، جو اُن کے نزدیک شیخ الاسلام ہے "منھاج السنہ" میں اس روایت کے بارے میں کھتا ہے"هذا مرسل حسن "(۱۸۴) یہ روایت مرسل اور حسن ہے۔

اور عجیب بات تو یہ ہے کہ معترض نے حاشیہ پر خود ابن تیمیہ کا یہ جملہ نقل کیا ہے(۱۸۵) لیکن اپنے آپ سے یہ سوال نہیں کیا کہ آخر میں خود اس روایت کے مرسل ہونے کے باوجود کیوں اتنے وثوق سے اس پر عمل کر رہا ہوں۔

۱۔ وہ روایت جو ابن ابی شیبہ(۱۸۶) نے ابو اسامہ کے توسط سے بنی زریق کے ایک آدمی سے واقعہ سقیفہ کے بارے میں نقل کی ہے اور یہ روایت چونکہ بنی زریق کے نامعلوم شخص سے نقل ہوئی ہے لھٰذا یہ سندی ابھام سے دوچار ہے اس کے باوجود معترض نے اس روایت پر بھی اعتبار کیا ہے(۱۸۷) ۔

۲۔ وہ روایت جو "الطبقات الکبريٰ"(۱۸۸) میں قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق تمیمی سے نقل ہوئی ہے یہ روایت بھی مرسل ہونے کے باوجود معترض کے لئے قابل استناد ہے(۱۸۹)

یہ مرسلہ روایات کی چند مثالیں تھیں تاریخ کے دسیوں سیکڑوں ابواب میں سے ایک خاص باب کے بارے میں اور یھی روایات ان لوگوں کی نظر میں قابل اعتماد و استناد ہیں جو تاریخ کی اسناد کے بارے میں مختلف شکوک و شبھات پیدا کرتے ہیں۔

چوتھے یہ کہ خود معترض نے اپنی کتاب کے مقدمہ(۱۹۰) میں یہ بات کھی ہے کہ ایک مورخ کو فقط خبر پر نظر نہیں کرنی چاھیے بلکہ اس کے مختلف پھلوؤں پر بھی غور کرنا چاھیے، لھٰذا کسی خبر کے بارے میں اس کی صحت اور ضعف کا فیصلہ کرنا اس کے مختلف پھلوؤں کے مطالعہ کے بعد ہی صحیح ہے اس لئے کہ کبھی اس کا نتیجہ مسلّم حقائق کے انکار کا موجب بنتا ہے اور اپنے قول کی تائید کے سلسلے میں امام مالک کے اس قول کو بعنوان شاھد پیش کرتا ہے کہ "صحابہ کی بد گوئی نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بدگوئی کے مترادف ہے"۔

اس بنا پر اگر کوئی خبر کتنی ہی صحیح السند کیوں نہ ہو لیکن اگر وہ ایسے مطالب کو بیان کرے جو قابل قبول نہ ہوں مثال کے طور پر کسی صحابی کے عیوب و نقائص کو بیان کرتی ہو تو یہ روایت ان کے نزدیک ضعیف ہے، لھٰذا سند کی تحقیق کرنے سے پھلے اس کے مطالب پر نظر کی جائے کہ کھیں کسی کےمسلم نظریات سے تعارض نہ رکھتی ہو تو اگر اس خبر کے مطالب قابل قبول ہیں تو سند کو بھی صحیح کرلیا جائے گا!!

ایسی صورت میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے کلام کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ جھاں اس نے کہا ہے کہ یہ حدیث مرسل و حسن ہے، یعنی مرسل بھی ہے اور حسن بھی، اور اس طرح ابن عدی کے کلام کو ابو مخنف کے بارے میں بھی بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ ابن عدی کا کھنا ہے کہ ابو مخنف نے ایسی روایات کو نقل کیا ہے کہ دل نہیں چاھتا کہ انھیں نقل کیا جائے(۱۹۱) در حقیقت ابو مخنف کے ضعیف ہونے کا سبب ان کی روایات کا متن اور مضمون ہے جو ان کے مفروضہ نظریات کے خلاف ہے۔

لھٰذا تاریخ کی سند میں غور و فکر اور شک و شبہ کے دعويٰ کی نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ کوئی گنجائش ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دعویدار اس قسم کی باتوں سے اپنے مخالفین کے وجود سے میدان کو صاف کرنا چاھتے ہیں، لیکن جب بات اپنی اور اپنے عقائد کے اثبات کی آجاتی ہے تو پھر روایت کا متن اور اس کے مطالب ہی سب کچھ ہوتے ہیں (اور پھر سند کی صحت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا)۔

حلّی جواب:

ممکن ہے کہ سلسلۂ اسناد میں سے کلمۂ "عن" حذف ہوگیا ہو یعنی در حقیقت اس طرح ہو۔ عبداللہ بن عبدالرحمن [ عن ابیہ] عن ابی عمرة الانصاری یہ محض ایک ضعیف احتمال نہیں ہے بلکہ اس کی بھت سی مثالیں موجود ہیں، اس کے علاوہ ہم اس مطلب کی تائید کے لئے شواھد اور قرائن بھی رکھتے ہیں اور وہ یہ کہ ابن اثیر کھتا ہے "قال ابو عمرة الانصاری"(۱۹۲) یہ بات اس چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو نسخہ اس کے پاس موجود تھا اس میں اس روایت کو ابو عمرة انصاری سے نقل کیا گیا ہے نہ عبداللہ بن عبد الرحمٰن سے اور اگر بالفرض اس احتمال کو قبول نہ کریں تو یہ بات واضح ہے کہ جب عبداللہ بن عبدالرحمٰن خود اس واقعہ کا شاھد عینی نہیں ہے تو یقیناً اس نے یہ خبر اپنے والد اور اس کے والد نے ابی عمرة انصاری (اس کے دادا) سے نقل کی ہے، اور عزیز و اقارب میں سلسلۂ سند کا حذف کر دینا اس دور میں ایک معمول تھا۔

اس کے علاوہ ان تینوں (ابو مخنف، جوھری اور دینوری) کی نقل شدہ روایات کے سلسلۂ اسناد میں جو معروف افراد اور علماء موجود ہیں یہ خود روایات کے متن اور اس کے صحیح ہونے پر دلیل ہیں۔ خاص طور پر وہ روایت کہ جسے جوھری نے نقل کیا ہے اس میں ایسے اشخاص موجود ہیں کہ جن کے بارے میں اہل سنت مکمل اعتماد و اطمینان کا اظھار کرتے ہیں، جیسے احمد بن سیارکو ابن ابی حاتم اور دار قطنی نے قابل اعتماد کہا ہے(۱۹۳) ، نیز سعد بن کثیر کو ابن ابی حاتم نے صدوق (بھت زیادہ سچ بولنے والا) کہا ہے اور وہ کھتا ہے کہ وہ دوسروں کی کتابوں سے نقل کرتا تھا(۱۹۴) ، اور انھیں کے بارے میں ذھبی کا کھنا ہے کہ "کان ثقة، اماماً، من بحور العلم"(۱۹۵) وہ ثقہ، امام اور علم کے سمندروں میں سے تھے۔ یقینی طور پر اس قسم کے برجستہ اور قابل اعتماد افراد ہر خبر کو آسانی سے نقل نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض ابو مخنف کی روایت کی سند پر وارد نہیں ہوتا ہے۔

دوسرا اعتراض؛ سعد بن عبادہ کی تقریر کے تنھا راوی ابو مخنف ہیں

یعنی ابو مخنف کی روایت ہی میں فقط سعد بن عبادہ کی تقریر کا ذکر آیا ہے جس میں انھوں نے انصار کو حکومت کے لئے سب سے زیادہ مستحق کہا ہے(۱۹۶) ۔

جواب:

پھلی بات تو یہ کہ سعد بن عبادہ کی وھی تقریر مزید تین سلسلوں سے نقل ہوئی ہے اور وہ تین سلسلے جوھری، دینوری اور ابن اثیر ہیں جنھوں نے اسے ذکر کیا ہے اور اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ سعد بن عبادہ کی تقریر کو فقط ابو مخنف نے نقل کیا اور کسی دوسرے راوی نے اسے نقل نہیں کیا تو جب بھی یہ چیز اس کی نفی پر دلیل نہیں ہے۔

دوسرے یہ کہ عموماً وہ تمام روایات جو اہل سنت سے سقیفہ کے بارے میں نقل ہوئی ہیں نھایت ہی مختصر اور نقل بہ معنی ہیں سوائے اُس روایت کے کہ جو سقیفہ کے بارے میں عمر کے خطبہ پر مشتمل ہے کہ وہ ایک طویل خطبہ میں سقیفہ کے ماجرے کو بیان کرتے ہیں، عمر کا خطبہ اس لحاظ سے کہ وہ واقعۂ سقیفہ کے عینی شاھد اور خلافت کے امید واروں میں سے ایک تھے خاصی اہمیت کا حامل ہے یہ خطبہ تاریخ اور احادیث کی معتبر کتابوں میں نقل ہونے کی(۱۹۷) وجہ سے ایک اہم سند شمار ہوتا ہے، وہ مطالب جو عمر کے خطبہ میں بیان ہوئے ہیں اگر چہ ابو مخنف کی روایت سے تھوڑے سے مختلف ہیں لیکن مجموعی طور پر ابو مخنف کی روایت کے اصلی اور بنیادی مطالب کی تائید کرتے ہیں، یہ بات آئندہ کی بحث میں روشن ہوجائے گی۔

اگر چہ عمر اپنے خطبہ میں سعد بن عبادہ کی تقریر کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے

لیکن یہ بات یقین سے کھی جاسکتی ہے کہ اس سے پھلے کہ ابوبکر اور عمر انصار کے اجتماع سے باخبر ہوتے اور سقیفہ پھنچتے سعد بن عبادہ کی مختصر سی تقریر ختم ہوچکی تھی۔ لھٰذا جب انھوں نے سعد بن عبادہ کی تقریر کو سنا ہی نہیں تو وہ اس کی طرف کیا اشارہ کرتے۔لیکن یہ بات کہ انصار سقیفہ میں اپنے آپ کو امر حکومت کے لئے زیادہ سزاوار سمجھ رہے تھے ابو مخنف کی روایت میں سعد بن عبادہ کے قول کی روشنی میں نقل ہوئی ہے اور اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں اس لئے کہ سقیفہ میں انصار کے خطباء کی تقاریر سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے جیسا کہ عمر نے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم تھوڑی دیر بیٹھے تو انصار کے خطیب نے خدا کی حمد و ثناء کی اس کے بعد کہا (اما بعد نحن انصار الله و کتبیة الاسلام وانتم معشر المهاجرین رهط )(۱۹۸) یعنی ہم خدا کے انصار اور اسلام کے لشکر ہیں جب کہ تم لوگ گروہ مھاجرین سے ہو اور راندۂ درگاہ ہو، اگر چہ عمر نے اس خطیب کا نام نہیں لیا لیکن وہ خطیب حباب بن منذر انصاری تھا(۱۹۹) ، بھر حال انصار کے خطیب کی یہ تقریر ان کے امر خلافت میں اپنے آپ کو سب سے زیادہ مستحق سمجھنے کی دلیل ہے اور اگر معترض کا کھنا یہ ہے کہ خود سعد بن عبادہ اس قسم کی کوئی فکر نہ رکھتا تھا تو یہ بات قطعی طور پر غلط ہے اس سلسلے میں ہم آئندہ مزید بحث کریں گے۔

تیسرا اعتراض؛ انصار نے سقیفہ میں موجودہ مھاجرین کی مخالفت نہیں کی

ابو مخنف نے انصار کے بارے میں جو یہ کہا ہے کہ "جب انھوں نے آپس میں یہ فیصلہ کر لیا کہ امر ولایت سعد بن عبادہ کے سپرد کردیا جائے تو پھر کھنے لگے کہ اگر قریش کے مھاجرین نے اسے قبول نہ کیا اور وہ کھنے لگے کہ ہم مھاجر اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سب سے پھلے صحابی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ تو سعد نے ان کی مخالفت میں یہ کہا کہ یہ تمھاری پھلی غلطی ہوگی" یہ جملے اس بات پر دلیل ہیں کہ انصار پھلے ہی سے مھاجرین کی مخالفت کرنے کے سلسلے میں اتفاق رکھتے تھے جب کہ یہ چیز بالکل غلط ہے اس لئے کہ صحیح روایات اس چیز کو بیان کرتی ہیں کہ انصار رضی اللہ عنہم، ابتدا میں اپنے اجتھاد کے مطابق اور حکم سے ناواقفیت کی وجہ سے سعد کی بیعت کرنا چاھتے تھے یھی وجہ تھی کہ جب ابوبکر نے امر ولایت کے سلسلے میں صحیح حکم ان تک پھونچا دیا تو ان سب نے اسے قبول کرلیا اور کسی نے بھی اس کی مخالفت نہ کی(۲۰۰) ۔

جواب

۔ یہ اعتراض دو دعوؤں پر مشتمل ہے۔

پھلے تو یہ کہ صحیح روایات اس چیز کو بیان کرتی ہیں کہ انصار ابتداء میں اپنے اجتھاد اور صحیح حکم کے نہ جاننے کی وجہ سے سعد کی بیعت کرنا چاھتے تھے۔

دوسرے یہ کہ جب ابوبکر نے صحیح حکم ان کے سامنے بیان کیا تو سب نے اسے قبول کرلیا اور کسی نے بھی اس کی مخالفت نہ کی۔

معترض کے یہ دونوں دعوے باطل ہیں۔

پھلا دعويٰ یہ کہ اس نے گذشتہ بیان کی نسبت صحیح روایات کی طرف دی ہے یہ ایک بے بنیاد بات ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ہے اس لئے کہ ہم نے بے انتھا تحقیق اور اصل مضامین میں نھایت تلاش و جستجو کے بعد بھی ایسی کوئی روایت نہیں پائی جو یہ بیان کرتی ہو کہ انصار حکم نہ جاننے اور اپنے اجتھاد کی روشنی میں سعد کی بیعت کرنا چاھتے تھے اور خود معترض نے جتنی بھی روایات اپنی کتاب میں ذکر کی ہیں ان میں سے ایک بھی اس قسم کے مطلب کو بیان نہیں کرتی لھٰذا معترض کے لئے ضروری تھا کہ وہ ایسی صورت میں صحیح روایات کے معنی کو مزید واضح طور پر بیان کرتا۔

صرف بعض روایات میں یہ ملتا ہے کہ انصار ابوبکر کی وہ تقریر سننے کے بعد جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہم امیر ہیں اور تم وزیر، ابوبکر کی بیعت کرنے پر راضی ہوگئے(۲۰۱)

اور اسی طرح ایک دوسری روایت میں یہ ملتا ہے کہ سعد بن عبادہ نے ابوبکر کی اس بات کی تصدیق کی کہ ولایت و حکومت قریش میں ہونی چاھیے، اس روایت کے قرینوں سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ سعد بن عبادہ نے بغیر کسی اعتراض کے ابوبکر کی بیعت کرلی تھی(۲۰۲) لیکن اس قسم کی روایات اہل سنت کی ان روایات سے تعارض رکھتی ہیں جو صحیح السند ہیں ہم اس مطلب کی وضاحت دوسرے دعوے کے جواب میں کریں گے۔

لیکن جو چیز قابل توجہ ہے وہ یہ کہ عام طور سے انصار صاحبِ نظر تھے اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بعض جنگوں میں ان کی رائے کے مطابق عمل کیا کرتے تھے(۲۰۳) ، ابوبکر نے بھی سقیفہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس روایت کی طرف اشارہ کیا تھا جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اگر تمام لوگ ایک طرف جائیں اور انصار دوسری طرف تو میں اسی طرف جاؤں گا جس طرف انصار گئے ہیں(۲۰۴) ۔

ان تمام اوصاف کے ہوتے ہوئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انصار نادان اور ہر چیز سے بے خبر تھے اور فقط صحیح حکم کے جاننے کی وجہ سے سعد بن عبادہ کی بیعت کرنا چاھتے تھے اور جب ابوبکر نے انھیں صحیح حکم سے آگاہ کیا تو سب نے اسے قبول کرلیا کیا یہ بات حقیقت سے دور نہیں ہے؟ کیا یہ انصار اور اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تحقیر نہیں ہے؟ کیا حقیقتاً انصار اس قدر جاہل اور ابوبکر کی تقریر کے دو جملوں کے محتاج تھے؟

اس کے علاوہ اگر ابوبکر کی تقریر پر غور کریں تو اس میں کوئی بات ایسی نہیں تھی کہ جس کا حکم انصار پھلے ہی سے نہ جانتے ہوں لھٰذا ضروری ہے کہ اعتراض کرنے والوں سے یہ پوچھا جائے کہ آخر ابوبکر نے انصار کو ایسا کون سا حکم سنایا تھا جو ان سے پوشیدہ تھا؟ ابوبکر نے انصار کی فضیلت اور ان کے جھاد کا ذکر کیا تھا جس کے بارے میں وہ خود ان سے بھتر جانتے تھے، ابوبکر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سببی رشتے دار تھے یہ بھی سب جانتے تھے اور اس روایت کے مطابق کہ جو نقل کی گئی کہ خلافت اور خلیفہ کا تعلق قریش سے ہوگا(۲۰۵) ، یہ بھی انصار بخوبی جانتے تھے جس کی دلیل یہ ہے کہ وہ روایت یہ بھی کھتی ہے کہ سعد بن عبادہ نے یہ روایت پھلے سے سن رکھی ہے اور اس سلسلے میں ابوبکر کی تصدیق بھی کی تھی(۲۰۶) ، خلاصہ یہ کہ آخر وہ کیا حکم تھا جو انصار سے پوشیدہ تھا اور ابوبکر نے اسے ان کے سامنے بیان کیا تھا؟!

اور دوسرا دعويٰ کہ جس میں کہا گیا ہے کہ ابوبکر کی تقریر کے بعد سب نے اسے قبول کرلیا اور کسی نے بھی اس کی مخالفت نہ کی یہ بھی مکمل بے بنیاد ہے اگرچہ اہل سنت کی بعض روایتیں اس دعوے کی تصدیق کرتی ہیں کہ تمام انصار ابوبکر کے سامنے مکمل طور سے تسلیم ہوگئے اور کھنے لگے خدا کی پناہ جو ہم ابوبکر پر سبقت کریں(۲۰۷) جیسا کہ وہ روایت ہے کہ جس میں سعد بن عبادہ نے ابوبکر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حاکم قریش سے ہونا چاھیے(۲۰۸) اور مزید چند روایتیں کہ جن میں کہا گیا ہے کہ انصار نے ابوبکر کی بیعت کی۔

لیکن ہم اس کے جواب میں یھی کھیں گے کہ ان دو حدیثوں میں سے ایک حدیث مرسل ہے جسے ابن تیمیہ نے مرسل حسن کہا ہے اور دوسری حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے(۲۰۹) ، لھٰذا یہ حدیث ھرگز ایسے افراد کی طرف سے سند کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی جو صرف یہ چاھتے ہیں کہ تاریخ میں فقط صحیح احادیث کا سھارا لیا جائے، اس کے علاوہ یہ روایتیں ان دو روایتوں سے تعارض رکھتی ہیں جو اہل سنت کے نزدیک مقبول و معروف ہیں نیز یہ اہل سنت کے عظیم مورخین کے اقوال سے بھی تعارض رکھتی ہیں جس کی چند مثالیں آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

۱۔ عمر نے اپنے مشھور و معروف خطبہ میں واقعۂ سقیفہ کو اس طرح بیان کیا ہے کہ جب ابوبکر کی تقریر ختم ہوگئی اور انھوں نے کہا کہ ان دو افراد (عمر یا ابو عبیدہ) میں سے کسی کی بیعت کر لو تو انصار کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کھنے لگا "منّا امیر ومنکم امیر یا معشر قریش" اب اگر انصار سب کے سب ابوبکر کے سامنے تسلیم تھے (جیسا کہ اعتراض کرنے والے نے کہا ہے) تو پھر کیا وجہ تھی کہ قریش حکومت کو قبول نہیں کر رہے تھے اور چاھتے تھے کہ ان میں سے بھی ایک امیر ہو؟

۲۔ اگر ایسا ہی تھا کہ جیسا اعتراض کرنے والا شخص کہہ رہا ہے کہ جب ابوبکر نے انصار کے لئے صحیح حکم کو بیان کیا تو سب نے قبول کرلیا اور کسی نے بھی اس کی مخالفت نہ کی تو پھر یہ عمر اپنے خطبہ میں کیا کہہ رہے ہیں کہ جب ابوبکر کی تقریر ختم ہوگئی اور انصار کے خطیب نے اپنا الگ امیر بنانے کا اعلان کیا تو "فکثر اللغط وارتفعت الاصوات حتی فرقت من الاختلاف " ایک ھنگامہ اور شور و غل کا سماں تھا کہ مجھے وھاں اختلاف پیدا ہونے کا خدشہ ہوگیا، سوال یہ ہے کہ اگر سب نے قبول کرلیا تھا تو پھر یہ ھنگامہ آرائی اور شور و غل کیسا تھا کہ عمر نے کہا کہ مجھے ڈر تھا کہ کھیں اختلاف نہ پھوٹ پڑے؟

کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انصار اس حکومت کو قبول کرنا نہیں چاھتے تھے؟ یا یہ کہ خود ان کے درمیان آپس میں اختلاف تھا، بھر حال ان تمام باتوں کی روشنی میں یہ دعويٰ بالکل بے بنیاد اور کھوکھلا ہے کہ یہ کہا جائے کہ ابوبکر کی تقریر سننے کے بعد تمام انصار نے اسے قبول کرلیا تھا اور کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی تھی!

۳۔ عمر اپنے اسی خطبے کے آخر میں کھتے ہیں کہ "خشینا ان فارقنا القوم ولم تکن بیعة ان یبایعوا رجلاً منهم بعدنا " یعنی ہمیں اس بات کا ڈر تھا کہ کھیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس قوم سے بیعت لئے بغیر جدا ہوجائیں اور یہ اپنے ہی میں سے کسی آدمی کی بیعت کرلیں، یہ عبارت واضح طور پر انصار کی نظر اور ان کی رائے کو منعکس کر رہی ہے کہ وہ ابوبکر اور عمر پر کسی بھی قسم کا اعتماد نہ رکھتے تھے اس کے علاوہ ابوبکر اور عمر کی تقریر کے بعد بھی وہ یھی چاھتے تھے کہ اپنے ہی افراد میں سے کسی کی بیعت کرلیں۔

۴۔ ابن ابی شیبہ نے ابو سامہ سے جو روایت نقل کی ہے(۲۱۰) اس میں کہا گیا ہے کہ جب ابوبکر قریش کے فضائل بیان کر چکے تو اس کے بعد کہا کہ آؤ اور عمر کی بیعت کرو تو انھوں نے منع کردیا عمر نے کہا کیوں؟ تو انصار نے کہا کہ انانیت و خود خواھی سے ڈر لگتا ہے(۲۱۱) ، لھٰذا سوال پیدا ہوتا ہے اگر انصار ابوبکر پر مکمل اعتماد کرتے تھے تو پھر عمر کے بارے میں کیوں ابوبکر کی پیش کش کو رد کردیا؟

۵۔ وہ روایت جو "الطبقات الکبريٰ"(۲۱۲) میں ذکر ہوئی ہے "قال: لما ابطأ الناس عن ابی بکر، قال: من احقّ بهذا الأمر منّی؟ ألستُ اول من صلی؟ ألست؟ قال: فذکر خصالاً فعلها مع النبی " اور جب لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کرنے میں سستی اور بے رغبتی کا مظاھرہ کیا تو انھوں نے کہا کہ کون اس منصب کے لئے مجھ سے زیادہ سزاوار ہے کیا وہ میں نہیں ہوں کہ جس نے سب سے پھلے نماز پڑھی اور کیا میں وہ نہیں کیا میں وہ نہیں وغیرہ وغیرہ (راوی کا بیان ہے کہ) پھر وہ تمام کام جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ انجام دئے تھے بیان کئے، یہ روایت بھی بخوبی انصار کی ابوبکر سے بے رغبتی پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس بات پر مجبور ہوگئے کہ اپنی تعریفیں خود ہی کرنے لگے تاکہ انصار سے اپنی بات منوائی جاسکے، اگر چہ ہم ان فضیلتوں پر بھی یقین نہیں رکھتے ہیں اس لئے کہ یقینی طور پر ابوبکر وہ پھلے آدمی نہیں ہیں جنھوں نے نماز پڑھی ہے۔

۶۔ ابن اثیر سقیفہ کے واقعات کے بارے میں لکھتا ہے کہ ابوبکر نے کہا کہ میں اس بات پر راضی ہوں کہ تم عمر یا ابوعبیدہ میں سے کسی ایک کی بیعت کرلو تو ایسے میں تمام یا بعض انصار نے کہا کہ ہم حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کی بیعت نہیں کریں گے(۲۱۳) ، یہ مطلب اس چیز کو ثابت کرتا ہے کہ انصار حضرت علی علیہ السلام سے زیادہ کسی کو اس امر کا سزاوار نہیں سمجھتے تھے اور شیخین کی طرف کسی قسم کی کوئی خاص رغبت نہیں رکھتے تھے اور اگر شیخین بیعت کے معاملے میں جلدی نہ کرتے تو حالات کی نوعیت کچھ اور ہوتی جس کی طرف عمر نے اپنے خطبہ میں اشارہ بھی کیا ہے۔

۷۔ بہت سے شواھد موجود ہیں کہ سعد بن عبادہ نے کسی بھی صورت ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی، ہم اس سلسلے میں بھت جلد بحث کریں گے، لھٰذا یہ دعويٰ کہ ابوبکر کی بیعت سے کسی ایک شخص نے بھی انکار نہ کیا کم از کم سعد بن عبادہ کے بارے میں صحیح نہیں ہے، اور اس بات سے صرف نظر کرتے ہیں کہ بھت سے افراد نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی اور یہ کہ سعد بن عبادہ ان میں سے ایک تھا، لھٰذا وہ روایت جو اعتراض کرنے والے نے پیش کی ہے کہ سعد بن عبادہ نے ابوبکر کی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ "حکومت قریش میں ہونی چاھیے" ان کی بیعت کرلی تھی، مرسلہ ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت سے بالکل دور اور محض جھوٹ ہے۔

۸۔ مسعودی مختصر مگر واضح طور پر سقیفہ کے واقعہ کو اس طرح بیان کرتا ہے "فکانت بینہ و بین من حضر من المھاجرین فی السقیفۃ منازعة طویلة و خطوب عظیمة"(۲۱۴) یعنی اس کے اور سقیفہ میں حاضر بعض مھاجرین کے درمیان کافی دیر تک لڑائی جھگڑا اور تلخ کلامی ہوتی رہی۔ ان تمام دلیلوں اور شواھد کی روشنی میں اب اس بے بنیاد دعوے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ جس میں کہا گیا ہے کہ تمام انصار ابوبکر کے سامنے تسلیم ہوگئے تھے اور بڑے تعجب کی بات ہے کہ کیا اعتراض کرنے والے نے ان تمام شواھد اور دلیلوں کو نہیں دیکھا؟ یا یہ کہ تعصب کی بنا پر ان حقائق سے انھوں نے اپنی آنکھیں بالکل بند کرلیں اسی لئے انھیں بالکل نظر انداز کردیا ہے!

چوتھا اعتراض؛ واقعہ سقیفہ کے وقت حضرت علیعليه‌السلام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل میں مشغول نہ تھے

"ابو مخنف کی روایت کچھ مطالب کے بیان کرنے میں دوسرے اکثر مصادر و مآخذ سے تعارض رکھتی ہے (مثال کے طور پر) ابو مخنف کی روایت میں ہے کہ جب عمر کو (انصار کے سقیفہ میں جمع ہونے کی) خبر ملی تو وہ سیدھے وھاں سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر گئے جھاں ابوبکر موجود تھے اور حضرت علی علیہ السلام مکمل توجہ کے ساتھ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین میں مصروف تھے یہ خبر اس خبر صحیح سے تعارض رکھتی ہے جو یہ بیان کرتی ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجہیز و تکفین منگل کے دن شروع ہوئی جب کہ واقعہ سقیفہ پیر کے دن رونما ہوا۔ اور اسی طرح مالک اور دوسرے افراد سے جو روایت نقل ہوئی ہے کہ اس میں یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر گوشہ نشینی اختیار کرلی تھی نیز ابن اسحاق کا کھنا ہے کہ جب ابوبکر کی بیعت ہوگئی تو لوگ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین کے لئے آئے اور اسی بات کو طبری نے ذکر کیا ہے اور ابن کثیر نے پانچ مقام پر یہ کہا ہے اور ابن اثیر نے بھی اسی کو نقل کیا ہے ۔"(۲۱۵)

جواب۔

یہ اعتراض، جو ایک خاص اور اصلی نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ یہ کہ حضرت علی علیہ السلام پیر کے دن جس دن واقعۂ سقیفہ پیش آیا پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل و کفن میں مصروف نہ تھے، اس لئے کہ پھلی بات تو یہ کہ صحیح روایات کا کھنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجھیز و تکفین منگل کے دن شروع ہوئی اور دوسری روایات یہ بتاتی ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر میں گوشہ نشین تھے۔

در حقیقت یہ اعتراض بالکل بے بنیاد اور حقیقت سے بھت دور ہے اور اس کی دونوں دلیلیں باطل ہیں اس سے پھلے کہ ہم اس اعتراض کی دونوں دلیلوں کے بارے میں بحث کریں اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین سے مراد ان کا غسل و کفن ہے تو یقینی طور پر اس کام کو حضرت علیعليه‌السلام ہی نے انجام دیا تھا جس میں جناب عباس بن عبدالمطلب، فضل بن عباس اور چند خاص افراد نے آپ کی مدد کی تھی، اگر چہ یہ بات اتنی واضح ہے کہ جس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں لیکن نمونہ کے طور پر چند مقام کو بیان کرتے ہیں۔

۱۔ ابن ھشام نے "السیرة النبویہ"(۲۱۶) میں واضح طور پر کہا ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حضرت علیعليه‌السلام نے غسل دیا۔

۲۔ بلاذری نے "انساب الاشراف"(۲۱۷) میں بھت سی روایات ذکر کی ہیں اور تمام روایتیں اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے ہی پیغمبر کو غسل دیا تھا اور اسی طرح ایک روایت (جو ابو مخنف کی روایت کی تائید کرتی ہے) وہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور عباس، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین میں مشغول تھے تو دو آدمی آئے اور ابوبکر کو سقیفہ کی کاروائی کی اطلاع دی(۲۱۸) ۔

۳۔ ابن جوزی نے "المنتظم"(۲۱۹) میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل کی جزئیات کو مکمل تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جسے حضرت علی علیہ السلام نے انجام دیا تھا۔

۴۔ یعقوبی(۲۲۰) نے بھی عتبہ بن ابی لھب کا حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں یہ شعر نقل کیا ہے "ومن لہ جبرئیل عون لہ فی الغسل والکفن" یعنی حضرت علی علیہ السلام وہ ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل و کفن میں جبرئیل ان کے مددگار تھے۔

۵۔ ابن اثیر نے بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل دینے والوں میں حضرت علی علیہ السلام، عباس، فضل، قثم، اسامہ بن زید اور شقر ان کا نام لیا ہے(۲۲۱) ۔

لھٰذا اس بات میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے ہی خاص افراد کے ساتھ مل کر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو غسل دیا تھا۔

لھٰذا یہ بات یقین سے کھی جاسکتی ہے کہ خود معترض اور ہر وہ محقق جو تاریخ کے بارے میں ذرا بھی معلومات رکھتا ہو وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا، اب اس نکتہ کی طرف توجہ کے بعد اعتراض کرنے والے کی دونوں دلیلوں کے بارے میں بحث و تبصرہ کرتے ہوئے ان کا حال معلوم کرتے ہیں۔

پھلی دلیل: اعتراض کرنے والے کا کھنا ہے کہ صحیح روایات کے مطابق پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین منگل کے دن شروع ہوئی، لھٰذا ابو مخنف کی روایت میں جو یہ بات موجود ہے کہ سقیفہ کے دن جو پیر کا دن تھا حضرت علی علیہ السلام پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجھیز و تکفین میں مشغول تھے یہ بھت سی روایات سے تعارض رکھنے کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہے۔

لیکن جب ہم نے معترض کے کلام کے ثبوت میں حاشیے پردئے گئے ان کے حوالوں کے مطابق سیرۂ ابن ھشام کی طرف رجوع کیا تو وھاں اس قسم کی کوئی روایت موجود نہ تھی کہ جو یہ بیان کر رہی ہو کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین منگل کے دن شروع ہوئی بلکہ ابن ھشام نے ایک جگہ یہ کہا ہے(۲۲۲) کہ "لوگ ابوبکر کی بیعت کے بعد منگل کے دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تدفین کے لئے گئے" یہ وھی مضمون ہے کہ جسے معترض نے ابن اسحاق سے بھی نقل کیا ہے جس کی عربی عبارت یہ ہے۔ "لمّا بویع ابوبکر اقبل الناس علی جھاز رسول اللہ یو الثلاثا، طبری اور دوسرے افراد نے بھی اسی قسم کا مضمون نقل کیا ہے۔

یہ جملہ معترض کے دعوے کے برعکس یہ بیان کرتا ہے کہ لوگ ابوبکر کی بیعت کے بعد منگل کے دن تجھیز پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے لئے پھنچے اور اس میں اس بات کا ذکر نہیں ہے

کہ پھنچنے کے بعد انھوں نے کیا کیا، جو شخص کچھ بھی سمجھدار ہوگا وہ بآسانی جان لے گا کہ معترض کے جملے "پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین منگل کے دن شروع ہوئی" اور ابن اسحاق، ابن ھشام اور دوسرے افراد کے اس جملے میں "لوگ ابوبکر کی بیعت کے بعد منگل کے دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین کے لئے پھنچے" میں کس قدر فرق ہے اور یہ نھایت افسوس کی بات ہے! (کہ مطلب کو موڑ توڑ کے پیش کیا گیا) اب روایت کے مضمون کی روشنی میں یہ بیان کرتے ہیں کہ روایت جو چیز بیان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ ابوبکر کی بیعت کے بعد منگل کے دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین کے لئے پھنچے، لیکن اس چیز کو بیان نہیں کرتی کہ لوگ کس حد تک تجھیز و تکفین میں حصہ لے سکے، اب جب کہ یہ بات روشن ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حضرت علی علیہ السلام نے غسل دیا تھا تو اس سے کھاں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین میں کوتاھی سے کام لیا اور اسے بعد کے لئے ٹال دیا؟ اور یہ کہ لوگوں کا منگل کے دن پیغمرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین کی طرف متوجہ ہونا کس طرح اس بات پر دلیل بن سکتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام پیر کے دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین سے فارغ نہیں ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ اگر دوسرے افراد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین سے زیادہ اہم کام میں مصروف تھے یعنی وہ سقیفہ میں حکومت کے لئے ایک دوسرے سے زور آزمائی کر رہے تھے تو حضرت علی علیہ السلام کسی بھی کام کو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین پر ترجیح نہیں دے رہے تھے، پھر آخر کس وجہ سے وہ اس کام میں تاخیر کرتے؟ اور یہ ایسی چیز ہے کہ جسے بعض روایات سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ جب بعض انصار نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا کہ اگر آپ ابوبکر سے پھلے بیعت کا مطالبہ کرتے تو کوئی بھی شخص آپ کے بارے میں اختلاف نہ کرتا تو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا تم لوگ یہ کھنا چاھتے ہو کہ میں حکومت حاصل کرنے کے لئے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنازے کو اسی حالت میں چھوڑ دیتا؟!(۲۲۳) اور جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ جب عمر اور ان کے دوست و احباب حضرت علی علیہ السلام سے بیعت طلب کرنے کے لئے جناب فاطمہعليه‌السلام کے دروازے پر آئے تو انھوں نے دروازے کے پیچھے سے عمر کو خطاب کرتے ہوئے کھا:

"ترکتم رسول الله جنازة بین ایدینا وقطعتم امرکم بینکم "(۲۲۴) یعنی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنازے کو ہمارے سامنے چھوڑ کر تم نے اپنا کام کر دکھایا، یہاں ہم اس بات سے صرف نظر کرتے ہیں کہ اس وقت خاندان رسالت پر کیا گذر رہی تھی۔

بعض مورخین کی عبارتیں بھی اسی امر کی تائید کرتی ہیں جیسا کہ مسعودی اس بارے میں کھتا ہے کہ "جب بعض افراد سقیفہ میں نزاع میں مشغول تھے تو حضرت علی علیہ السلام، عباس اور بعض دوسرے مھاجرین پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجھیز و تکفین کر رہے تھے"(۲۲۵) ، نیز ابن ھشام کا کھنا ہے "جب ابوبکر کو سقیفہ کی کاروائی کی اطلاع دی تو اس وقت تک پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز مکمل نہ ہوئی تھی"، اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ تجھیز شروع تو ہوچکی تھی مگر مکمل نہ ہوئی تھی(۲۲۶) ، یہ بیان ابن ھشام کی ایک نقل کی بنا پر تھا جب کہ وہ دوسری جگہ کھتا ہے "فلما فرغ من جهاز رسول الله یوم الثلاثاء "(۲۲۷) یعنی جب منگل کے دن پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجھیز و تکفین مکمل ہوئی ۔ ۔ ۔، یہ عبارت بھی اعتراض کرنے والے کے دعوے کے مضمون سے مطابقت نہیں رکھتی اس لئے کہ اس عبارت میں کہا گیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین منگل کے دن مکمل ہوئی جب کہ معترض کا کھنا تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین منگل کے دن شروع ہوئی، ان دو عبارتوں کا فرق واضح ہے اور نہ فقط یہ کہ ایک معنی میں نہیں بلکہ ممکن ہےکہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے معارض بھی ہوں اور عجیب بات یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے نے ایسا مکمل واضح اور روشن بیان ہونے کے باوجود ابن ھشام کی اسی عبارت کا حوالہ دیا ہے جب کہ اگر پھلی عبارت کا حوالہ دیتا تو شاید کچھ بات بھی بنتی۔

ان تمام باتوں کے علاوہ ابن اسحاق اور ابن ھشام کی عبارتیں بنیادی طور پر آپس میں ایک دوسرے سے معارض ہیں اور وہ روایات یہ ہیں جو یہ بیان کرتی ہیں کہ "پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسی دن عصر کے وقت یا منگل کی شب کو دفن ہوئے" اگر ان روایات کو قبول کرلیا جائے تو پھر ابن ھشام کی یہ روایت جس میں کہا گیا ہے کہ "پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تجھیز و تکفین منگل کے دن مکمل ہوئی" شاید اور سند کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی اس لئے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سے پھلے دفن ہوچکے تھے۔

البتہ یہ کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کس دن دفن ہوئے اس بارے میں روایات اور اقوال بھت ہی زیادہ مختلف ہیں جس کی وجہ سے یقینی طور پر کسی نتیجہ تک پھنچنا بھت مشکل ہے البتہ بعض قرائن اور شواھد کی بناء پر بعض اقوال کو بعض پر ترجیح دی جاسکتی ہے، شیخ مفید نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن ہونے کا وقت وھی پیر کا دن بیان کیا ہے(۲۲۸) بعض روایات میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تدفین کا دن منگل کہا گیا ہے جیسے عائشہ کی روایت، وہ کھتی ہیں کہ "ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دفن سے اس وقت آگاہ ہوئے جب منگل کی رات، وقت سحر بیلچوں کی آوازیں سنیں"(۲۲۹) ، بعض دیگر افراد نے بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تدفین کا دن منگل ہی بتاتی ہے، جیسے کہ ابن اثیر(۲۳۰) نے اور بعض نے بدھ کے دن کو بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تدفین کا دن کہا ہے(۲۳۱)

ہماری نگاہ میں یہ قول کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسی پیر کے روز یا منگل کی شب کو دفن ہوئے دوسرے اقوال پر زیادہ ترجیح رکھتا ہے اس لئے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پیر کے روز میں وفات پائی(۲۳۲) اور حضرت علیعليه‌السلام نے بغیر کسی تاخیر کے اپنے احباب کے ساتھ مل کر آپ کو غسل و کفن دیا، اس کے بعد آپ نے انفرادی طور پر آنحضرت کی نماز جنازہ ادا کی(۲۳۳) حضرت علی علیہ السلام کے بعد آپ کے تمام دوست احباب اور اصحاب سب ہی نے ایک ایک کر کے نماز جنازہ پڑھی(۲۳۴) پھر حضرت علی علیہ السلام نے ان ہی افراد کی مدد سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اقدس کو سپرد خاک کردیا(۲۳۵) اور تدفین کے بعد جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر تشریف لائے اور خلافت کے غصب ہوجانے پر احتجاجاً گوشہ نشین ہوگئے اور پھر گھر سے باھر نہ آئے(۲۳۶) اس کے بعد انصار اور مھاجرین میں سے بھی بعض صحابہ سقیفہ کی کاروائی پر اعتراض کے سلسلے میں جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر میں گوشہ نشین ہوگئے(۲۳۷) ، منگل کے دن ابوبکر کی عام بیعت کے(۲۳۸) بعد ابوبکر کے فرمان کے مطابق عمر چند سپاھیوں کے ہمراہ جناب فاطمہعليه‌السلام کے دروازے پر آئے(۲۳۹) تاکہ جس طرح بھی ممکن ہوسکے ان افراد سے ابوبکر کی بیعت لی جاسکے جو جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر میں گوشہ نشین ہیں(۲۴۰) ۔

جو بات مسلم ہے وہ یہ کہ حضرت علی علیہ السلام اور بنی ھاشم نیز پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض صحابہ نے حضرت علی علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ابوبکر کی بیعت کرنے سے انکار کردیا(۲۴۱) لیکن عمر نے دہمکی دی کہ اگر بیعت نہ کی تو گھر کو آگ لگادی جائے گی(۲۴۲) ایسے میں بعض نے عمر سے کہا کہ اس گھر میں تو جناب فاطمہعليه‌السلام ہیں، عمر نے کہا کہ چاھے جناب فاطمہ ہی کیوں نہ ہوں(۲۴۳) ، بعض تاریخی کتابوں میں یہ بات ملتی ہے کہ عمر کی دہمکی کے بعد جناب فاطمہعليه‌السلام نے گھر میں موجود افراد کو عمر کی دہمکی سے آگاہ کرتے ہوئے انھیں اس بات پر راضی کیا کہ وہ گھر سے باھر چلے جائیں، لھٰذا انھوں نے ایسا ہی کیا اور جاکر ابوبکر کی بیعت کرلی(۲۴۴) لیکن اس بات کے پیش نظر کہ گوشہ نشین افراد کی اکثریت بنی ھاشم پر مشتمل تھی اور بنی ھاشم نے اس وقت تک بیعت نہ کی(۲۴۵) جب تک کہ حضرت علی علیہ السلام نے بیعت نہ کی اور اکثر مورخین کا کھنا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے جب تک حضرت فاطمہعليه‌السلام زندہ رہیں بیعت نہ کی(۲۴۶) لھٰذا یہ بات یقین سے کھی جاسکتی ہے کہ عمر نے اپنی دہمکی کو عملی کر دکھایا(۲۴۷) اور حضرت علی علیہ السلام کو زبردستی مسجد تک کھینچتے ہوئے لائے اور دہمکی دی کہ اگر بیعت نہ کی تو انھیں قتل کردیا جائے گا(۲۴۸) ، لیکن جناب فاطمہعليه‌السلام کی طرف سے حضرت علی علیہ السلام کی زبر دست حمایت کی وجہ سے ابوبکر، حضرت علی علیہ السلام کو مجبور نہ کرسکے(۲۴۹) ، حضرت علیعليه‌السلام جب وھاں سے باھر آئے تو سیدھے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر پر گئے(۲۵۰) ۔

اس واقعہ کو ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تاریخ کی کتابوں نے دقیق طور پر اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ یہ واقعہ کس دن پیش آیا اور معمولاً اسے سقیفہ کے بعد ذکر کیا ہے، اب اگر یہ تمام واقعات منگل کے دن ہوئے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام مسجد سے باھر آنے کے بعد سیدھے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر پر گئے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یقینی طور پر منگل سے پھلے دفن ہوچکے تھے، تو اب شیخ مفید کے بقول یا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسی روز یعنی پیر کے دن دفن ہوئے یا پھر جناب عائشہ کی روایت کے بقول آپ منگل کے دن دفن ہوئے البتہ یعقوبی(۲۵۱) کے کھنے کے مطابق آپ کی وفات (نومبر یا دسمبر) میں ہوئی اور اس زمانے میں دن چھوٹے ہوتے ہیں اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات وسط روز میں ہوئی ہے تو منگل کی شب دفن ہونے والا قول زیادہ قوی محسوس ہوتا ہے بھر حال دونوں اقوال میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

پھلے اعتراض کے جواب میں اس وضاحت کے بعد اس اعتراض کا جواب بھی روشن ہوجاتا ہے کہ "جناب علی علیہ السلام جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر میں گوشہ نشین تھے" اس لئے کہ ہم نے یہ ثابت کردیا کہ حضرت علی علیہ السلام تجھیز و تکفین کے بعد جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر گوشہ نشین ہوئے تھے اور آپ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل و کفن میں کسی بھی قسم کی تاخیر اور کوتاھی نہیں کی تھی اور اس سلسلے میں ہم نے بھت سے شواھد آپ کے سامنے پیش کردئے۔

اب ہم اعتراض کرنے والوں سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ حضرت علی علیہ السلام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل و کفن اور دفن سے پھلے ہی جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر میں گوشہ نشین ہوگئے تھے، اب چاھے وہ کسی بھی وجہ سے ہو، چاھے ابوبکر کی بیعت پر اعتراض کے سلسلے میں یا بعض روایات(۲۵۲) کے مطابق قرآن کی جمع آوری کے سلسلے میں تو پھر ایسے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کس نے غسل دیا؟!

جو چیز مسلم و ثابت ہے وہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حضرت علی علیہ السلام نے غسل و کفن دیا اور دفن کیا اب اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل سے پھلے ہی آپ ابوبکر کی بیعت پر اعتراض کی وجہ سے جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر گوشہ نشین تھے تو مشھور یہ ہے کہ جناب فاطمہعليه‌السلام کی وفات تک آپ نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تو ذرا سوچئے کہ اس وقت تک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جنازہ پر کیا گذری ہوگی؟ کیا اس وقت تک غسل و کفن اور دفن انجام نہ پایا تھا اور اگر یہ سب کام ہوچکا تھا تو پھر اسے کس نے انجام دیا تھا؟

____________________

۱۷۳. کتاب مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری، یہ کتاب "یحيٰ بن ابراھیم بن علی یحیيٰ" نے ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری کے زیر نظر لکھی اور ۱۴۱۰ ہجری قمری میں دار العاصمہ ریاض میں چھپی ہے۔

۱۷۴. ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابی مخنف کی روایت پر کئے گئے اعتراضات در حقیقت ایک خاص راوی کے بارے میں ایک خاص شخص کے اعتراض نہیں ہیں بلکہ یہ اہل سنت کے ایک خاص گروہ کا کام ہے جو ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ شیعوں کے ہر نظریہ کو کمزور قرار دیا جائے اور کیونکہ اہل تشیع کی اکثر تاریخی روایات کا تعلق ابو مخنف سے ہے لھٰذا ابو مخنف کی روایات کو ضعیف ثابت کر کے وہ اپنے مقصد تک پھنچنا چاھتے ہیں۔

۱۷۶. الامامة والسیاسة: ج۱ ص۲۱

۱۷۷. السقیفہ و فدک جوھری: ص۵۴، شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۶ ص۵

۱۷۸. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۲۔

۱۸۰. کتاب المجروحین: ج۲ ص۹۱ (وہ ایک غالی شیعہ ہیں)

۱۸۲. معجم الادباء: ج۶ ص۲۷۷۹۔

۱۸۳. مسند احمد بن حنبل: ج۱ص ۱۹۸ (حدیث ۱۸)

۱۸۴. منھاج السنہ: ج۱ ص۵۳۶

۱۸۵. مرویات أبی مخنف فی تاریخ الطبری: ص۱۶۶

۱۸۶. الکتاب المصنف: ج۷ ص۴۳۳ (حدیث ۴۰، ۳۸۰)

۱۸۸. الطبقات الکبريٰ: ج۳ ص۱۸۲۔

۱۹۰. مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: ص۹۔

۱۹۱. الکامل فی ضعفاء الرجال: ص۲۴۱ " و انما لہ من الاخبار المکروہ الذی لا استحب ذکرہ"

۱۹۲. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۲۔

۱۹۳. تھذیب الکمال: ج۱ ص۳۔ ۴۹۲

۱۹۴. الجرح والتعدیل: ج۴ ص۵۶۔

۱۹۵. سیرہ اعلام النبلاء: ج۱ ص۴۔ ۵۸۳

۱۹۷. تاریخ طبری: ج۲ ص۲۰۳۔ ۴۰۳، السیرة النبوة: ابن ھشام ج۴ ص۳۰۹، الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۱، انساب الاشراف ج۲ ص۷۶۷، المنتظم: ج۴ ص۶۴، صحیح البخاری ج۴ ص۳۴۵ (حدیث ۶۸۳۰)، مسند احمد بن حنبل: ج۱ ص۴۴۹ (حدیث۳۹۱)

۱۹۸. سقیفہ سے متعلق عمر کا خطبہ۔

۱۹۹. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۶۶۔

۲۰۲. مسند احمد بن حنبل: ج۱ص۱۹۸

۲۰۳. الطبقات الکبريٰ: ج۳ ص۵۶۷۔ (حباب بن منذر کی سوانح حیات میں)

۲۰۵. مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: ۱۱۶۔

۲۰۶. ممکن ہے کہ کوئی یہ کھے کہ اس حدیث کو ابوبکر اور سعد بن عبادہ نے سنا ہوگا اور دوسرے افراد اس سے بے خبر تھے تو ہم جواب میں کھیں گے کہ ھرگز ایسا نہ تھا، اس لئے کہ پھلی بات تو یہ کہ اگر اس حدیث پر عمل کرنا سب پر لازم تھا تو پیغمبر (ص.نے اس حکم کو سب کے لئے کیوں بیان نہ کیا، دوسری بات یہ کہ اگر سعد بن عبادہ اس بات کو جانتے تھے تو پھر سقیفہ میں کیوں حکومت حاصل کرنا چاھتے تھے؟ تیسری بات یہ کہ آخر سعد بن عبادہ نے ابوبکر سے پھلے ہی اس حدیث کو لوگوں کے سامنے کیوں نہ بیان کیا؟ مختصر یہ کہ اس قسم کا دعويٰ در حقیقت پیغمبر اسلام (ص.پر اپنی رسالت کے سلسلے میں کوتاھی کرنے کی تہمت اور بعض صحابہ کی توھین ہے کہ وہ ریاست طلب تھے اور وہ بھی ان لوگوں کی طرف سے جو توھین صحابہ کو توھین پیغمبر (ص.سمجھتے ہوں۔

۲۰۷. مسند احمد بن حنبل: ج۱ ص۲۸۲ (حدیث ۱۳۳)

۲۰۸. مسند احمد بن حنبل: ج۱ ص۱۹۸۔

۲۰۹. مرویات أبی مخنف فی تاریخ الطبری: ص۱۱۵، )ھیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے نقل کرتے ہوئے اس کی سند کے ایک راوی کو ضعیف کہا ہے)

۲۱۰. الکتاب المصنف: ج۷ ص۴۳۳ (حدیث ۴۰، ۳۷)

۲۱۱. "فقالوا: نخاف الاشرہ"

۲۱۲. الطبقات الکبريٰ: ج۳ ص۱۸۲۔

۲۱۳. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۰۔ تاریخ الطبری: ج۳ ص۲۰۲

۲۱۴. التنبیہ والاشراف: ص۲۴۷

۲۱۶. السیرة النبویہ: ج۴ ص۳۱۲

۲۱۷. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۴۷، ۷۴۸، ۷۵۲، ۷۶۴

۲۱۹. ج۴ ص۴۴، ۴۵، ۲۹

۲۲۰. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۲۴

۲۲۲. السیرة النبویہ: ج۴ ص۳۱۲۔

۲۲۳. السقیفہ وفدک:ص ۶۱۵، شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۶ ص۱۳، الامامة والسیاسة: ص۳۰۔

۲۲۴. الامامة والسیاسة: ص۳۰۔

۲۲۵. التنبیہ والاشراف: ص۲۴۷۔

۲۲۶. السیرة النبویہ: ج۴ ص۳۰۷۔

۲۲۷. السیرة النبویہ: ج۴ ص۳۱۴۔

۲۲۸. الارشاد؛ ج۱ ص۱۹۸ "وکان ذلک فی یوم الاثنین" اور اس کے ذیل میں فرماتے ہیں "جب ابوبکر کی بیعت ہوچکی تو ایک شخص امیر المومنین علیہ السلام کے پاس آیا اس وقت آپ پیغمبر اسلام (ص)کی قبر بنانے میں مصروف تھے، اس نے امیر المومنین (ع.سے کہا کہ لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کی ہے"

۲۲۹. المنتظم: ج۴ ص۴۹؛ الطبقات الکبريٰ: ج۲ ص۳۰۵ (البتہ جناب عائشہ سے ایک اور روایت بھی نقل ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپ کی تدفین شب بدھ کو ہوئی)

۲۳۰. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۵۔

۲۳۲. جیسا کہ ابو مخنف کی روایت میں تھا اور ہم نے اسے حصہ سوم میں ثابت بھی کیا تھا۔

۲۳۳. الارشاد: ج۱ ص۱۸۷۔ انساب الاشراف: ج۲ ص۷۵۵۔ الطبقات الکبريٰ: ج۲ص۹، ۲۸۸۔

۲۳۴. الارشاد: ج۱ ص۱۸۷۔

۲۳۵. المنتظم: ج۴ ص۴۹، انساب الاشراف: ج۲ ص۷۵۷، تاریخ الطبری: ج۳ ص۲۱۳ (ابن اسحاق کی نقل کے مطابق)

۲۳۶. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۶۹ (أبی نضرہ سے)

۲۳۷. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۲۴۔

۲۳۸. تاریخ خلیفہ بن خیاط: ص۶۲۔ مروج الذھب: ج۲ ص۳۰۱۔ المنتظم: ج۴ ص۶۴ نقل از ابن اسحاق۔

۲۳۹. السقیفہ و فدک: ص۵۰، ۶۰۔

۲۴۱. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۲۴۔ مروج الذھب: ج۲ ص۳۰۱۔ الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۴ نقل از زھری۔

۲۴۲. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۷۰۔ الامامة والسیاسة: ص۳۰۔ تاریخ الطبری: ج۳ ص۲۰۲۔

۲۴۳. الامامة والسیاسة: ص۳۰۔

۲۴۴. السقیفہ و فدک: ص۳۸۔

۲۴۵. مروج الذھب: ج۲ ص۳۰۱۔ الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۴ نقل از زھری

۲۴۶. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۷۰۔ مدائنی نے جناب عائشہ سے نقل کیا ہے۔ مروج الذھب: ج۲ ص۳۰۱، ۳۰۲۔ الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۰ اور ۱۴۔

۲۴۷. اس احتمال کی تائید میں بھت سی روایات بھی موجود ہیں جس کے لئے کتاب "مآساة الزھرا" علامہ جعفر مرتضيٰ عاملی کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔

۲۴۸. الامامة والسیاسة: ص۳۰

۲۴۹. الاماة والسیاسة: ص۳۱

۲۵۱. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۱۳

۲۵۲. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۷۰۔ السقیفہ و فدک: ص۶۴۔


پانچواں اعتراض؛ ابو مخنف نے بعض افراد کے نام ذکر کئے ہیں جو دوسر ے راویوں نے بیان نہیں کئے ہیں

ابو مخنف نے اپنی روایات میں بعض ایسے افراد کے نام ذکر کئے ہیں جن کا نام دوسرے راویوں نے ذکر نہیں کیا جیسا کہ انہوں نے ان دو آدمیوں میں سے جنہوں نے راستے میں ابوبکر اور عمر سے ملاقات کی ایک کا نام عاصم بن عدی بتایا ہے جب کہ صحیح یہ ہے کہ ان میں سے ایک کا نام "معن بن عدی" تھا (نہ عاصم بن عدی)(۲۵۳)

جواب

۔ جیسا کہ ابو مخنف نے اپنی روایت اور عمر نے اپنے خطبہ میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ جراح سقیفہ جارہے تھے تو دو آدمیوں سے ان کی ملاقات ہوئی جنہوں نے ان حضرات کو سقیفہ میں جانے سے روکا مگر ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ ان دونوں کی باتوں کی پروا کئے بغیر سقیفہ روانہ ہوگئے۔

اب وہ دو آدمی کون تھے؟ عمر نے اپنے خطبہ(۲۵۴) میں ان دونوں کا نام ذکر نہیں کیا بلکہ فقط اتنا کہا ہے کہ راستے میں دو نیک و صالح افراد سے ملاقات ہوئی جب کہ ابو مخنف کی روایت میں ان دو افراد کے نام ذکر کئے گئے ہیں کہ ان میں سے ایک "عویم بن ساعدہ" اور دوسرا شخص "عاصم بن عدی" تھا۔ مآخذ و منابع میں تحقیق اور جستجو کے بعد یہ پتہ چلا کہ ان دو آدمیوں میں سے ایک شخص یقینی طور پر "عویم بن ساعدہ" تھا جب کہ دوسرے شخص کو معمولاً "معن بن عدی" کہا گیا ہے اور فقط ابو مخنف نے اس کا نام "عاصم بن عدی" بتایا ہے لھٰذا اس اعتبار سے ابو مخنف کی روایت باقی راویوں کی روایت سے تعارض رکھتی ہے، اور کیونکہ اکثر تاریخ اور احادیث کی کتابوں نے اس کا نام "معن بن عدی" بتایا ہے اس لئے یہ قول ترجیح رکھتا ہے لھٰذا یہ اعتراض اس اعتبار سے بجا ہے لیکن بعض روایات میں یہ بات ذکر ہے کہ سقیفہ میں انصار کے اجتماع کی خبر جس شخص نے ابوبکر اور عمر کو دی وہ معن بن عدی تھا(۲۵۵) جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص پہلے ہی سے ابوبکر اور عمر سے مل کر انہیں سقیفہ کے اجتماع سے آگاہ کر چکا تھا، لھٰذا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص ان سے دوبارہ ملا ہو اور انہیں وھاں جانے سے روکا ہو؟!

اس بیان کے پیش نظر ابو مخنف کے کلام کو قابل قبول تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ دو آدمی ایک عویم بن ساعدہ اور دوسرا عاصم بن عدی تھا نہ معن بن عدی اس لئے کہ معن بن عدی پہلے ہی ان کے پاس آچکا تھا (واللہ العالم!)

چھٹا اعتراض؛ سقیفہ میں ابوبکر کی تقریر کے تنہا راوی ابو مخنف ہیں

"ابو مخنف کی روایت میں ابوبکر کا سقیفہ میں جو خطبہ نقل ہوا ہے وہ دوسری کسی بھی جگہ لفظی یا معنوی اعتبار سے نقل نہیں ہوا ہے"(۲۵۶) ۔

جواب۔

یہ بات تو کسی بھی صورت قابل تردید نہیں کہ ابوبکر نے سقیفہ میں مفصل خطبہ ضرور دیا ہے اس لئے کہ عمر کا کہنا ہے کہ میں نے پہلے ہی سے کچھ مطالب بیان کرنے کے لئے اپنے ذھن کو تیار کر رکھا تھا لیکن ابوبکر نے مجھ سے پہلے ہی خطبہ دے دیا اور مجھ سے بھی زیادہ کامل تر خطبہ دیا(۲۵۷) ۔

اور اسی طرح روایت احمد میں جو حمید بن عبد الرحمٰن سے نقل ہوئی ہے کہا گیا ہے کہ "فتکلم ابوبکر ولم یترک شیاً انزل فی الانصار ولا ذکره رسول الله، من شأنهم الّا و ذکره "(۲۵۸) یعنی ابوبکر نے اپنی تقریر شروع کی تو جو کچھ انصار کے بارے میں قرآن میں آیا تھا اور جو کچھ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا تھا سب کچھ کہہ ڈالا اور کوئی چیز بھی باقی نہ چھوڑی اور نیز ابن ابی شیبہ ابو اسامہ سے روایت نقل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ابوبکر نے انصار سے اس طرح خطاب کیا اے گروہ انصار ہم آپ لوگوں کے حق کے منکر نہیں ہیں۔ ۔ ۔(۲۵۹)

یہ تمام موارد سقیفہ میں ابوبکر کی مفصل تقریر پر دلالت کرتے ہیں لیکن روایات نے ابوبکر کی تقریر کو معنوی اعتبار سے نقل کیا اور ان کی تقریر کے کچھ ہی مطالب کے بیان پر اکتفا کیا ہے لیکن ابو مخنف کی روایت نے باریک بینی اور تفصیل کے ساتھ ابوبکر کی تقریر کو بیان کیا ہے

لھٰذا یقینی طور پر تاریخی اعتبار سے ابو مخنف کی روایت کافی اہمیت کی حامل ہے اس لئے کہ اس میں ایک واقعہ کے ان تمام پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے جو اس میں پیش آئے تھے اس بنا پر ابو مخنف کی روایت کا ان تمام روایات سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا جو نقل بہ معنی ہیں، اس کے علاوہ یہ کہ وھی خطبہ جو ابو مخنف نے سقیفہ کے بارے میں نقل کیا ہے تاریخ کی دوسری کتابوں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جیسے الامامة والسیاسة(۲۶۰) ، الکامل فی التاریخ ابن اثیر(۲۶۱) ، السقیفہ و فدک جوھری(۲۶۲) ان تمام نے اسے مختلف اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے لھٰذا یہ دعويٰ کہ سقیفہ میں ابوبکر کی تقریر کے تنہا راوی ابو مخنف ہیں یہ بے بنیاد اور باطل ہے۔

ساتواں اعتراض؛ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج سے متعلق

ابو مخنف کی روایت میں ہے کہ ابوبکر نے سقیفہ میں انصار سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ "و فیکم جُلة ازواجه " یعنی پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اہم ازواج تم میں موجود ہیں ابوبکر کی طرف اس قسم کے بیان کی نسبت دینا صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام ازواج قریش سے تھیں اور کوئی بھی معتبر سند اس چیز کو بیان نہیں کرتی کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کسی بیوی کا تعلق انصار سے رہا ہو(۲۶۳) ۔

جواب۔

پہلی بات تو یہ کہ یہ بات قابل تردید نہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام ازواج کا تعلق قریش سے تھا اور انصار سے نہ تھا لیکن اس جملے کے معنی ھرگز وہ نہیں جو اعتراض کرنے والے سمجھے ہیں اور معترض کے عرب ہونے کی بنا پر یہ بات نہایت باعث تعجب اور قابل افسوس ہے کیونکہ اس جملہ کا متن یہ ہے "وجعل الیکم هجرته وفیکم جُلة ازواجه واصحابه " اب اگر لفظ جلہ کو جیم پر پیش کے ساتھ پڑھا جائے تو اس جملے کے معنی اس طرح ہوں گے "خدا نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کو آپ لوگوں کی طرف قرار دیا اور آپ لوگوں کے درمیان اور آپ ہی کے معاشرے (مدینہ) میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اکثر ازواج مطھرہ اور ان کے اصحاب موجود ہیں"۔ اور اگر جلہ کی جیم پر زیر دے کر پڑھا جائے تو معنی یہ ہوں گے، "اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کو آپ لوگوں کی طرف قرار دیا اور آپ کے معاشرے (مدینہ) میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور گرانقدر اصحاب موجود ہیں"۔

بہر حال "جلہ" کو کسی بھی طرح پڑھا جائے اس کے معنی میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ہوگا اس لئے کہ بنیادی نکتہ لفظ "فیکم" کے معنی میں موجود ہے کہ جس کے معنی "آپ لوگوں کے درمیان میں ہیں" اور ھرگز اس کے معنی یہ نہیں کہ وہ تم میں سے ہیں اس لئے کہ اس قسم کے معنی کے لئے کلمہ منکم سے استفادہ کیا جاتا ہے، لھٰذا یوں کہا جاتا "ومنکم جلة ازواجه واصحابه " لیکن جو چیز متن روایت میں ذکر ہے وہ یہ ہے "وفیکم جُلة ازواجه واصحابه " لھٰذا معترض کے لئے ضروری ہے کہ ایک بار پھر اچھی طرح عربی کے قواعد کو سیکھے تاکہ انہیں فیکم اور منکم کے فرق کا پتہ چل جائے۔

دوسری بات یہ کہ "الامامة والسیاسة" نیز "السقیفہ و فدک" جوھری میں یہ روایت ابو مخنف کی روایت کے الفاظ کے عین مطابق نقل ہوئی ہے اس میں یہ جملہ "و فیکم جلة ازواجه واصحابه " موجود نہیں ہے اور کتاب الکامل ابن اثیر(۲۶۴) میں اس جملہ کو بریکٹ میں قرار دیا گیا ہے، اور اس کے بعد حاشیہ میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ جملہ ابو مخنف کی روایت میں موجود نہیں ہے اور طبری نے سیاق جملہ کے پیش نظر اس کا اضافہ کیا ہے بس اگر ایسا ہے تو یہ اعتراض بنیادی طور پر ہی مخدوش ہے اس لئے کہ یہ عبارت ابو مخنف کی نہیں ہے اور اگر یہ اعتراض صحیح ہے تو طبری پر ہے نہ کہ ابو مخنف پر۔

آٹھواں اعتراض؛ حباب بن منذر اور عمر کے درمیان نزاع سے انکار

"ابو مخنف کی روایت کے علاوہ کسی دوسری روایات میں یہ بات نہیں ملتی کہ حباب بن منذر اور عمر کے درمیان کافی دیر تک تلخ کلامی اور نزاع ہوا ہو جب کہ جو چیز روایات میں بیان ہوئی ہے وہ اس کے برعکس ہے جیسا کہ احمد کی روایت میں ذکر ہوا ہے کہ تمام انصار نے کہا کہ ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں کہ اس امر میں ابوبکر سے پیش قدمی کریں"(۲۶۵) ۔

جواب۔

حقیقت یہ ہے کہ حباب بن منذر اور عمر کے درمیان گفتگو بہت سی تاریخی کتابوں میں ذکر کی گئی ہے، لھٰذا بنیادی طور پر یہ بات غیر قابل انکار ہے اور اسی طرح یہ بات بھی یقینی ہے کہ "انا جُذَیلها المحکک و عُذیقها المرجّب منّا امیر و منکم امیر یا معشر قریش " یہ جملہ کھنے والا شخص حباب بن منذر ہے، رہی یہ بات کہ ان دونوں کے درمیان کوئی نزاع بھی ہوا تھا یا بقول معترض کہ انصار کے قبول کر لینے کے ساتھ ساتھ تمام چیزیں بخوبی انجام پاگئیں تھیں، ہم اس بحث کو روشن اور واضح کرنے کے لئے تاریخ اور احادیث کی کتابوں کے مضامین کے چند نمونے آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

۱۔ الطبقات الکبريٰ میں قاسم بن محمد سے نقل ہے کہ حباب بن منذر جو جنگ بدر کے شرکاء میں سے ایک ہے کھڑا ہوگیا اور کہا کہ ایک امیر ہمارا اور ایک امیر تمہارا، حباب بن منذر کی گفتگو کے بعد عمر نے کہا: اگر ایسا ہے تو پھر مرجاؤ(۲۶۶) یہ روایت حباب بن منذر کی گفتگو اور عمر کے ساتھ اس کی تلخ کلامی اور نزاع کو بیان کرتی ہے۔

۲۔ جو روایات نسائی نے نقل کی ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں، انصار نے کہا کہ ایک امیر ہمارا ہو اور ایک امیر تم لوگوں کا ہوگا تو عمر نے کہا: ایک نیام میں دو تلواریں رکھنا صحیح نہیں ہیں(۲۶۷) ، روایت کا یہ حصہ بالکل اس مضمون جیسا ہے جسے ابو مخنف نے نقل کیا ہے بس فرق یہ ہے کہ اس روایت میں انصار میں سے جس شخص نے یہ بات کہی تھی اس کا نام نہیں لیا جب کہ ابو مخنف اور دوسرے افراد نے انصار کی طرف سے بولنے والے شخص کا نام بتایا ہے کہ وہ حباب بن منذر تھا۔

۳۔ عمر نے اپنے خطبہ میں کہا ہے کہ انصار میں سے ایک شخص نے کہا کہ "میں ایک تجربہ کار شخص ہوں اور دنیا کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہوں لھٰذا ایک امیر ہمارا اور ایک امیر تمھارا ہوگا، اے گروہ انصار! اس کے بعد اس طرح شور و غل اور ایک ھنگامہ آرائی ہوئی کہ مجھے ڈر تھا کہ کھیں اختلاف نہ ہوجائے"(۲۶۸) عمر کے اس کلام کی روشنی میں انصار کی طرف سے بولنے والے شخص کے بعد اس طرح شور و غل شروع ہوا کہ عمر اختلاف پیدا ہوجانے سے خوفزدہ تھے۔

لھٰذا جیسا کہ تیسرے اعتراض کے جواب میں ہم نے عرض کیا کہ ایسا نہ تھا کہ انصار بغیر کسی چون و چرا کے ابوبکر اور عمر کے سامنے جھک گئے تھے، بلکہ یقینی طور پر کافی دیر تک بحث و مباحثہ اور تلخ کلامی کا سلسلہ چلتا تھا اور وہ روایت کہ جسے معترض نے نقل کیا ہے کہ تما انصار ابوبکر کے سامنے جھک گئے تھے (جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے) وہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہونے کے علاوہ اہل سنت کی صحیح روایت سے مکمل تعارض بھی رکھتی ہے۔

۴۔ الامامة والسیاسة(۲۶۹) اور سقیفہ و فدک جوھری(۲۷۰) نے بھی حباب بن منذر اور عمر کے درمیان سخت گفتگو ہونے کو نقل کیا ہے اور ابن اثیر نے الکامل(۲۷۱) میں اس گفتگو کے علاوہ ابو مخنف کی عین عبارت کو بھی نقل کیا ہے کہ ان دونوں نے ایک دوسرے سے کہا "خدا تجھے موت دے" الامامة والسیاسة نے اس مطلب کے علاوہ حباب بن منذر اور عمر کے درمیان پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے کی دشمنی کا بھی ذکر کیا ہے۔

۵۔ طبری نے تو سیف بن عمر کے حوالے سے یہاں تک نقل کیا ہے کہ عمر اور حباب بن منذر کے درمیان بات اتنی بڑھ گئی کہ نوبت مار پیٹ تک پہونچ گئی(۲۷۲)

گذشتہ بیان کی روشنی میں نہ فقط دوسری روایات ابو مخنف کی روایت سے تعارض نہیں رکھتی ہیں بلکہ اس کی تائید کرتی ہیں، اور اگر بات تعارض کے بارے میں کی جائے تو جو کچھ تمام روایات میں بیان کیا گیا ہے وہ روایت احمد سے تعارض رکھتا ہے جسے خود معترض نے سند کے طور پر پیش کیا ہے، نہ کہ روایت ابو مخنف سے۔

نواں اعتراض؛ انصار کی طرف سے مہاجرین کو ڈرانے دہمکانے کا انکار

مہاجرین کے بزرگ افراد کو مدینہ سے باھر نکالنے سے متعلق حباب بن منذر کی گفتگو اور انہیں ڈرانا دہمکانا ان باتوں سے تعارض رکھتا ہے جو کچھ قرآن نے انصار کے بارے میں فرمایا ہے، قرآن سورہ حشر کی آیت نمبر نو میں فرماتا ہے "اور جن لوگوں نے دارالہجرت اور ایمان کو ان سے پہلے اختیار کیا تھا وہ ہجرت کرنے والے کو دوست رکھتے ہیں اور جو کچھ انہیں دیا گیا ہے اپنے دلوں میں اس کی طرف سے کوئی ضرورت نہیں محسوس کرتے ہیں اور اپنے نفس پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں چاھے انہیں کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو، اور جسے بھی اس کے نفس کی حرص سے بچا لیا جائے وھی لوگ نجات پانے والے ہیں" جو کچھ یہ آیت انصار کے ایثار کے بارے میں بیان کرتی ہے اسے روایت کے مطالب کے ساتھ کیسے جمع کیا جائے؟ اور کس طرح محبت و نفرت، اخوت و دشمنی ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوسکتے ہیں؟ لھٰذا اگر کوئی شخص انصار کے ایمان اور ایثار سے اچھی طرح واقف ہو تو وہ ھرگز اس بات پر یقین نہیں کرسکتا کہ جسے ابو مخنف کی روایت نے بیان کیا ہے بلکہ وہ اسے محض جھوٹ ہی کھے گا(۲۷۳) ۔

جواب۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ انصار کے فضائل اور ان کے ایثار میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے انہوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کے ساتھ کمال محبت اور ایثار کا برتاؤ کیا ہے اور اس سے بھی انکار نہیں کہ انہوں نے یہ کام صرف خدا کی خوشنودی کے لئے کیا تھا اور یہ بات واضح ہے کہ انصار کی طرف سے مہاجرین کے ساتھ یہ محبت و ایثار خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خالصانہ اور ان کی فرماں برداری کی بنا پر تھا۔

اب اگر انصار یہ گمان کریں کہ بعض مہاجرین ولایت و حکومت کے بارے میں وحی الھی اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسلسل تاکیدات سے سرپیچی کر کے حکومت پر قبضہ کرنا چاھتے ہیں اور ان کا مقصد اہل بیتعليه‌السلام کو خلافت سے دور کرنا اور انصار پر غلبہ حاصل کرنا ہے تو ایسی صورت میں نہ فقط ان کی نسبت محبت کی کوئی راہ باقی نہیں رہ جاتی ہے بلکہ اگر خدا کی خاطر ان سے بغض رکھا جائے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔

دوسری بات یہ کہ کیا تمام انصار کا اطلاق حباب بن منذر پر ہوتا ہے؟ اسی طرح کیا تمام مہاجرین فقط وہ تین ہی افراد ہیں کہ اگر ایک انصار ایک مہاجر کے ساتھ سخت لہجہ میں بات کرے تو ہم کہیں کہ یہ چیز قرآن کی اس آیت کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "انصا، مہاجرین کی نسبت دوست اور ایثار گر ہیں" لھٰذا اگر ایک انصاری کوئی نازیبا الفاظ ادا کرتا ہے تو اس سے دوسرے انصار کی شان و شوکت میں کوئی کمی نہیں آتی، جیسا کہ سقیفہ میں اس بات کا مشاہدہ بھی کیا گیا کہ بعض انصار نے حباب ابن مندر کی اس پیشکش کا کوئی مثبت جواب نہ دیا اسی طرح اگر بعض مہاجرین پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قرابتداری کا حوالہ دے کر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنازہ کو اسی حالت پر چھوڑ کر سقیفہ میں حکومت حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے تھے تو اگر ایسے مہاجرین کے ساتھ اچھی طرح پیش نہ آیا جائے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ تمام مہاجرین کے بارے میں انصار کی یہی رائے ہے اور حباب بن منذر کی پوری گفتگو کا تعلق صرف سقیفہ میں موجود مہاجرین ہی سے تھا۔ اس لئے کہ وہ کہتا ہے "ولا تسمعوا مقالة هذا و اصحابه فان ابوا علیکم ما وسألتموه فاجلوهم عن هذه البلاد "(۲۷۴) یعنی اس شخص (عمر) اور اس کے ساتھیوں کی گفتگو پر کان مت دھرو اور اگر انہوں نے تمہاری مرضی اور چاھت کے خلاف کوئی کام انجام دیا تو انہیں یہاں سے باھر نکال دو، اس بیان کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ حباب بن منذر کی مراد سقیفہ میں موجود چند افراد تھے، اس لئے کہ انگلیوں پر گنے جانے والے چند افراد کے علاوہ اکثر مھاجرین وھاں موجود نہ تھے اور ان میں سے اکثر سقیفہ کی کاروائی کے مخالف تھے(۲۷۵)

اور تیسری بات یہ کہ آیت کا مفہوم اور اس کی تفسیر ھرگز اس معنی میں نہیں کہ جس کا معترض نے دعويٰ کیا ہے اس لئے کہ آیت ایک تاریخی واقع کو بیان کرتی ہے جو ایک خاص زمانے میں پیش آیا ہے اور وہ تاریخی واقع یہ تھا کہ جب بعض مہاجرین نے سر زمین مدینہ کی طرف ہجرت کی تو مدینہ کے رہنے والوں نے ان کا گرم جوشی سے والھانہ استقبال کر کے ان کے لئے ایثار و قربانی کا مظاھرہ کیا اور یقینی طور پر آیت کے معنی ھرگز یہ نہیں ہیں کہ مہاجرین اور انصار میں سے کسی ایک فرد کا دوسرے کے ساتھ کسی بھی زمانے میں لڑائی جھگڑا نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ ایسے بے شمار مواقع پائے جاتے ہیں جو آیت کی نقض قرار پائیں گے، مثال کے طور پر وہ لڑائی جھگڑے جو خلفاء ثلاثہ کی حکومتوں کے دوران پیش آّئے کہ جن میں ایک مسئلہ خود عثمان کے قتل کا تھا نیز حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں شدید قسم کی جنگیں ہوئیں جیسے جنگ جمل، جنگ نہروان، جنگ صفین کہ ان جنگوں میں دونوں طرف مہاجرین اور انصار کی تعداد موجود تھی اور کیا یہی مہاجرین اور انصار نہ تھے جو ان جنگوں میں ایک دوسرے کو قتل کر رہے تھے، اب اس کے بعد بھی کیا قرآن مجید کے مطابق ایسی کج فہمی کی کوئی تاویل ممکن ہے؟ یہ کتنا ضعیف اور فضول اعتراض ہے کہ جو معترض کی طرف سے کیا گیا ہے؟!

دسواں اعتراض؛ سقیفہ میں اوس و خزرج کے درمیان اختلاف سے انکار

ابو مخنف کی روایت کا ایک جملہ یہ ہے کہ قبیلہ اوس والوں کا کہنا تھا کہ اگر خزرج والے ایک مرتبہ خلافت پر آگئے تو ہمیشہ اس پر باقی رہیں گے ظاھراً اس بات کے پیش نظر قبیلہ اوس والوں کا ابوبکر کی بیعت کرنا در حقیقت خزرج والوں کی حکومت سے جان چھڑانا تھا نہ یہ کہ ان کی بیعت ابوبکر کی فضیلت یا اسلام میں سبقت کی وجہ سے تھی اور یہ چیز ان دونوں قبیلوں کے درمیان اسلام سے پہلے جیسی دشمنی کی نشاندھی کرتی ہے اور یہ کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تربیت، خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد سب کا سب عارضی اور وقتی تھا جس کا اب کوئی اثر تک باقی نہ تھا ایسا کہنا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اصحاب پر بہت بڑی تہمت لگانا ہے جب کہ صحیح روایات اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تربیت شدہ افراد کے سامنے جب حکم خدا کو سنایا گیا تو ان سب نے اسے قبول کرلیا اس لئے کہ ابوبکر کے ساتھ کوئی لشکر تو نہیں تھا کہ جو وہ خوف و ہراس کی وجہ سے بیعت کرنے پر مجبور ہوگئے ہوں(۲۷۶) ۔

جواب۔

پہلی بات تو یہ کہ کوئی شخص بھی انسانوں کی تربیت کے سلسلے میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسلسل کوششوں کا منکر نہیں ہے اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حتی الامکان کوشش کرتے تھے کہ قبیلوں کے درمیان جو پرانی دشمنیاں چلی آرہی ہیں انہیں جڑ سے ختم کردیا جائے اور انہیں یہ بات سمجھائی جائے کہ کوئی قبیلہ کسی قبیلہ پر برتری اور فوقیت نہیں رکھتا اس کا معیار صرف تقويٰ الھی ہے۔( انّ اکرم کم عند الله اتقاکم ) (۲۷۷) ۔ بے شک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلے میں بے انتہا کوششیں کیں اور اپنے کار رسالت کو احسن طریقہ سے انجام دیا اور اپنی مکمل ذمہ داری ادا کی( وما علی الرسول الّا البلاغ المبین ) (۲۷۸) ۔

لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ کیا لوگوں نے بھی ان تمام دستورات و احکام پر عمل کیا اور ان تمام تعصّبات کو مکمل طور پر ختم کردیا؟ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی انتھک کوششوں کے نتیجہ میں قبیلوں کے درمیان شدید جنگیں تو ختم ہوگئیں مگر بحث بازی اور آپسی رقابت ختم نہ ہوئی اس لئے کہ اس زمانے میں نہ یہ کام ممکن تھا اور نہ شاید یہ مصلحت رہی ہو کہ اس رقابت کو مکمل طور سے ختم کردیا جائے، عربوں میں قوم اور قبیلہ کا تعصب اس قدر عمیق اور پرانا ہے کہ اسے اتنی جلدی ختم نہیں کیا جاسکتا تھا اور سچ بات تو یہ ہے کہ اس بات کا تعلق فقط عربوں سے ہی نہیں بلکہ عصر حاضر میں غیر عرب بھی اپنے قوم و قبیلہ اور تنظیموں کی طرف تمایل اور رغبت رکھتے ہیں اور یہ بیماری آخری دم تک انسانوں کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

اور یہ واضح ہے کہ یہ چیز پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے کسی بھی طرح نقص شمار نہیں ہوتی اس لئے کہ آپ کی ذمہ داری فقط تبلیغ کی تھی جسے آپ نے کما حقہ انجام دیا اب جو چاھے مومن ہوجائے جو چاھے کافر(۲۷۹) ۔

جیسا کہ بعض لوگوں کی گمراھی اور خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات سے ان کی سرپیچی کرنا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے کوئی نقص محسوب نہیں ہوتا اسی طرح وہ لوگ جو ایمان لے آئے سب کے سب ایمان کے ایک درجہ پر نہیں تھے بعض ایمان کے بلند درجہ پر فائز تھے اور بعض ایمان کے نچلے درجہ پر ہی باقی رہے، اب ان افراد کے ایمان کا کمزور ہونا بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے کسی بھی قسم کا نقص نہیں ہے اس لئے کہ تمام افراد کی استعداد، کوششیں اور جد و جہد و امکانات ایک جیسے نہیں ہوتے، یا یوں کہا جائے کہ ہر آدمی اپنی ظرفیت کے مطابق اس دریائے بے کراں سے سیراب ہوا۔

انصار اور مہاجرین اور دوسرے اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی سب کے سب ایمان کے ایک درجہ پر فائز نہ تھے جسے قرآن نے بھی بیان کیا ہے کہ بعض تو فقط اسلام ہی لائے تھے اور ایمان نہ رکھتے تھے اور یہ بات واضح ہے کہ وھی شخص اپنے قوم و قبیلہ کے تعصب پر قابو پاسکتا ہے کہ جو بہت ہی زیادہ ایمان ایمان اور تقويٰ کی دولت سے مالا مال ہو، اب اگر کوئی اپنے ایمان کی کمزوری کی وجہ سے قبیلہ کے تعصب کو قابو میں نہیں کرسکتا تو اس کا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کیا ربط ہے اور یہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے کس طرح نقص ہے؟!

اس کے علاوہ اہل سنت کی بہت سی روایات اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد بہت سے مسلمان مرتد ہوگئے تھے، جیسا کہ جناب عائشہ کی روایت ہے آپ فرماتی ہیں "لما توفيٰ رسول الله ارتد العرب " ۲۸۰، یعنی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد عرب مرتد ہوگئے تھے۔ اب یہ نہیں معلوم کہ مسلمانوں کا مرتد ہوجانا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے نقص شمار ہوگا یا نہیں مگر بعض لوگوں کی قبیلہ پرستی تعصب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے لئے نقص سمجھی جاتی ہے؟!

دوسری بات کہ اگر ابو مخنف کی روایت نے قبیلۂ اوس والوں کی طرف یہ نسبت دی ہے کہ وہ قبیلہ جاتی تعصب کا شکار تھے اور یہ چیز پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعلیمات پر انگلی اٹھانے کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہے اس لئے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جن افراد کی تربیت کی تھی وہ تمام کے تمام ہر قسم کے تعصب سے پاک تھے۔ تو اب ایسے میں بہتر ہے کہ ہم یہاں ابوبکر کی سقیفہ میں کی جانے والی تقریر کو بیان کردیں کہ جسے اہل سنت کی صحیح روایات نے نقل کیا ہے تاکہ یہ اندازہ ہوجائے کہ اس میں انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے کس حد تک استفادہ کیا ہے۔

عمر نے سقیفہ کے بارےمیں جو معروف خطبہ دیا تھا اس میں سقیفہ کی کاروائی کے دوران ابوبکر کی تقریر کو انہوں نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ابوبکر نے کہا "ولن یعرف هذا الامر الّا لهذا الحی من قریش هم أوسط العرب نسباً و داراً " ۲۸۱، یعنی یہ عہدۂ خلافت قریش کے علاوہ کسی اور کے لئے مناسب نہیں اس لئے کہ وہ نسب اور شہر کے اعتبار سے سب پر شرف رکھتے ہیں، کیا یہ کلام قبیلہ کی برتری جتانے کو ظاھر نہیں کرتا؟ کیا قریش کا نسب اور ان کا شہر دوسروں پر برتری کا سبب بن سکتا ہے؟ مگر کیا ابوبکر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعلیمات سے بے بہرہ تھے کہ جو قبیلے اور شہر کی برتری کی گفتگو بیچ میں لے آئے، کیا انہوں نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی تھی( انّ اکرمکم عند الله اتقاکم ) ؟!(۲۸۲)

دوسری روایت کہ جسے ابن ابی شیبہ نے ابو اسامہ سے نقل کی ہے، وہ کھتا ہے کہ ابوبکر نے سقیفہ میں انصار سے خطاب کرتے ہوئے اس طرح کہا "ولکن لا ترضيٰ العرب ولا تقر الّا علی رجل من قریش لانهم افصح الناس ألسنة وأحسن الناس وجوهاً،و واسط العرب داراً واکثر الناس سجّیة "(۲۸۳) "لیکن عرب راضی نہ ہونگے اور قبول نہ کریں گے جب تک کوئی شخص قریش میں سے نہ ہو اس لئے کہ وہ فصیح، خوبصورت، جگہ کے لحاظ سے صاحب شرف، نیک فطرت اور خوش مزاج لوگ ہیں" اور کیا کھیں؟ سقیفہ میں ابوبکر کی یہ گفتگو کہ جس میں قریش کی برتری کو بیان کیا جارہا ہے واضح طور پر ان کے قبیلہ جاتی تعصب کی نشاندھی کر رہی ہے جب کہ انہوں نے تقويٰ اور پرہیزگاری کی کوئی بات ہی نہیں کی، اب ایسی صورت میں ابوبکر جو بعض اہل سنت کے نزدیک بہت ہی زیادہ فضائل کے حامل ہیں بلکہ بعض نے تو یہ تک کہا ہے کہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے افضل مرد ہیں جب ان کا حال یہ ہے تو اوس اور خزرج سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟

معترض نے اپنے اعتراض کے آخری حصے میں بہت ہی عجیب و غریب بات کہی کہ "جب انصار نے حکم خدا کو سنا تو سب کے سب ابوبکر کے سامنے تسلیم ہوگئے"، ہم اس کا جواب دے چکے ہیں کہ کیا ابوبکر کی گفتگو کے بعد سب کے سب تسلیم ہوگئے تھے یا نہیں؟ اب رہی یہ بات کہ معترض نے ابوبکر کی تقریر کو حکم خدا بیان کرنے سے تعبیر کیا ہے، ہم معترض سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کس طرح تمام انصار میں ایک فرد بھی حکم خدا سے آگاہ نہ تھا اور صرف ابوبکر ہی حکم خدا جانتے تھے؟! کس طرح ممکن ہے کہ وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جو احکام الھی کے ابلاغ پر مامور تھے انہوں نے اس حکم خدا کو لوگوں کے لئے بیان نہ کیا ہو؟ اور یہ بات کہنا کہ ابوبکر حکم خدا سے باخبر تھے اور انہوں نے لوگوں کو حکم خدا سے آگاہ کیا، کیا یہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر احکام تبلیغ کے سلسلے میں کوتاھی کرنے کی تہمت نہیں ہے؟

آخر کیا بات ہے کہ حضرت علی علیہ السلام و جناب فاطمہعليه‌السلام کہ جو اہل بیتعليه‌السلام وحی ہیں نیز بنی ھاشم اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے صحابہ نہ فقط یہ کہ اس حکم سے بے خبر تھے بلکہ وہ اس حکم کو قبول بھی نہیں کررہے تھے وہ حکم ابوبکر کی بیعت کرنا تھا۔

کیا واقعاً، وہ حکم جو ابوبکر نے سنایا تھا وہ حکم خدا تھا یا خود ان کا ذاتی حکم تھا؟۔

____________________

۲۵۴. صحیح بخاری کے نقل کے مطابق۔

۲۵۸. مسند احمد بن حنبل: ج۱ ص۱۹۸

۲۵۹. کتاب المصنف: ج۷ ص۴۳۳ (حدیث ۴۰، ۳۷)

۲۶۰. الامامة والسیاسة: ص۲۳، ۲۴،

۲۶۱. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۳

۲۶۲. السقیفہ و فدک: ص۵۶، ۵۷۔

۲۶۴. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۳۔

۲۶۶. الطبقات الکبريٰ: ج۳ ص۱۸۲

۲۶۷. فضائل الصحابہ: ص۵۵، ۵۶

۲۶۸. سقیفہ میں عمر کا خطبہ۔

۲۶۹. الامامة والسیاسة: ص۲۵

۲۷۰. السقیفہ و فدک: ص۵۸۰

۲۷۱. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۳

۲۷۴. سقیفہ کے بارے میں ابو مخنف کی روایت کا مضمون۔

۲۸۰. السیرة النبویہ: ابن ھشام: ج۴ ص۳۱۶۔

۲۸۱. سقیفہ کے بارے میں عمر کا معروف خطبہ۔

۲۸۲. سورہ مبارکہ حجرات: آیت۱۳۔

۲۸۳. الکتاب المصنف: ج،۷، ۴۳۳۔


گیارہواں اعتراض؛ ابوعبیدہ کی تقریر کے تنہا راوی ابو مخنف ہیں

انصار سے ابو عبیدہ کا خطاب کرنا فقط ابو مخنف کی روایت میں ملتا ہے اور کسی دوسری روایت میں اس کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہے(۲۸۴) ۔

جواب

۔ ابو عبیدہ وہ شخص ہے جو ابوبکر اور عمر کے ساتھ سقیفہ گیا اور اس کی کاروائی میں موجود تھا شروع میں ابوبکر نے لوگوں کو ابوعبیدہ اور عمر کی بیعت کرنے کی پیشکش کی اور اسی چیز سے اس جلسہ میں اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ممکن ہے کہ اس نے بھی اس جلسہ میں تقریر کی ہو جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے کہ جو روایات سقیفہ کی کاروائی کو بیان کرتی ہیں وہ نہایت مختصر اورنقل بہ معنی ہیں اس لئے دوسرے راویوں کا نقل نہ کرنا ابو مخنف کی مفصل روایت کے بارے میں اس کی ضعیف ہونے پر دلیل نہیں ہے، اس کے علاوہ ابو عبیدہ کے خطاب کو فقط ابو مخنف ہی نے نقل نہیں کیا بلکہ دینوری نے الامامة والسیاسة(۲۸۵) میں، ابن اثیر(۲۸۶) نے الکامل میں اور یعقوبی(۲۸۷) نے اسے اپنی تاریخ یعقوبی میں بالکل ابو مخنف کی روایت کی طرح نقل کیا ہے۔

بارہواں اعتراض؛ سعد بن عبادہ اور عمر کے درمیان نزاع سے انکار

اس بات پر اتفاق ہے کہ عمر نے سقیفہ میں سعد بن عبادہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا "قتل الله سعداً " یعنی خدا سعد کو قتل کرے لیکن عمر کے اس جملہ سے مراد جیسا کہ کتاب غریب الحدیث میں ذکر ہوا ہے کہ "دفع الله شرّه " یعنی خدا اس کے شر کو دفع کرے نہ یہ کہ خدا سعد کو موت دے، جب کہ ابو مخنف کی روایت عمر اور سعد بن عبادہ کے درمیان بحث و مباحثہ اور تلخ کلامی کو بیان کرتی ہے اور دوسری تمام روایات اس کے برعکس ہیں(۲۸۸) ۔

جواب۔

پہلی بات تو یہ کہ بہت سی تاریخ اور احادیث کی کتابوں نے واضح طور پر اس تلخ کلامی کی طرف اشارہ کیا ہے۔

۱۔ انساب الاشراف(۲۸۹) میں روایت نقل ہوئی ہے کہ عمر نے سعد کے بارے میں کہا "اقتلوہ فانہ صاحب فتنہ" یعنی اسے قتل کردو کہ وہ فتنہ گر ہے۔

۲۔ یعقوبی(۲۹۰) کا کہنا ہے کہ عمر نے کہا "اقتلوا سعداً قتل الله سعداً " یعنی سعد کو قتل کردو، خدا سعد کو ھلاک کرے۔

۳۔ عمر کے خطبہ کے سیاق و سباق سے بھی یہی معنی سمجھ میں آتے ہیں اس لئے کہ اس سے پہلے کہ عمر یہ بات کہیں لوگوں کے ازدھام کی وجہ سے سعد کے ایک قریبی فرد نے کہا کہ "کہیں سعد کچل نہ جائے" تو عمر نے یہ جملہ سننے کے بعد کہا "قتل الله سعداً " اللہ سعد کو موت دے دے(۲۹۱) ۔

۴۔ دینوری(۲۹۲) نے بھی اس تلخ کلامی کو ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے "اقتلوہ (اسے قتل کردو) قتلہ اللہ (خدا اسے موت دے)" اگر چہ اس نے اس قول کے کہنے والے کے نام کو ذکر نہیں کیا لیکن یہ بات متفق علیہ ہے کہ وہ شخص عمر ہی تھے اور یہ صراحت اور وضاحت جو اس عبارت میں موجود ہے ہر قسم کی تفسیر اور تاویل کے راستہ کو بند کردیتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ ۔ "قتل الله سعداً " در حقیقت اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا سعد کو ھلاک کرے۔ لھٰذا اگر اس جملے کے کہنے والے کی مراد اس کے حقیقی معنی نہ ہوں اور وہ اسے مجازی معنی میں استعمال کر رہا ہو تو اسے دو مسئلوں کی طرف توجہ رکھنی چاھیے، ایک یہ کہ حقیقی اور مجازی معنی کے درمیان رابطہ ضروری ہے اور دوسری بات یہ کہ حقیقی معنی کو مجازی معنی میں استعمال کرنے کے لئے قرینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہاں پر کسی بھی قسم کا تناسب اور رابطہ حقیقی معنی اور معترض کے کلام میں نہیں پایا جاتا ہے اس لئے کہ جملہ کے حقیقی معنی ایک قسم کی بددعا ہے جب کہ معترض کے معنی اس کے برعکس ہیں جو ایک قسم کی دعا سمجھی جاتی ہے اور اسی طرح کوئی قرینہ ایسا موجود نہیں ہے کہ جو اس بات پر دلالت کرتا ہو کہ کلام کے کہنے والے نے اسے مجازی معنی کے لئے استعمال کیا ہے، اس لئے کہ کسی بھی تاریخ اور حدیث کی کتاب میں قرینۂ مذکور موجود نہیں ہے اور نہیں معلوم کہ جن لوگوں نے یہ مضحکہ خیز تاویل پیش کی ہے اس لئے ان کی کیا دلیل ہے؟۔

ظاھراً معترض اور جن لوگوں نے اس تاویل کو پیش کیا ہے شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سعد بن عبادہ نے سقیفہ میں ابوبکر کی بیعت کرلی تھی اور انہوں نے کسی قسم کی کوئی مخالفت نہ کی لیکن یہ ایک نہایت ہی غلط فکر ہے اس لئے کہ تاریخ اور احادیث کی بہت سی کتابوں میں سعد بن عبادہ کی طرف سے ابوبکر اور عمر کی شدید قسم کی مخالفت نقل ہوئی ہے کہ جس کی تفصیل تیرہویں اعتراض کے جواب میں بیان کی جائے گی۔

تیرہواں اعتراض؛ سعد بن عبادہ کا ابوبکر کی بیعت نہ کرنے سے انکار

''سقیفہ کے بارے میں تمام محدثین اور مورخین نے جو روایات نقل کی ہیں ان کی روشنی میں تمام مہاجرین اور انصار کے ساتھ سعد بن عبادہ نے بھی ابوبکر کی بیعت کرلی تھی اور فقط روایت ابو مخنف میں ہے کہ سعد بن عبادہ نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی اور اس قسم کے دوسرے مسائل جیسے اس کا ان کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہونا وغیرہ کیا سعد بن عبادہ کا ابوبکر کی بیعت کرنے یا نہ کرنے کا ان پر کوئی اثر ممکن ہے کہ جس کی اطاعت پر امت نے اجماع کرلیا تھا؟ بہر حال کوئی صحیح روایت ایسی نہیں ملتی جو سعد بن عبادہ کے بیعت نہ کرنے کو بیان کرتی ہو بلکہ جو کچھ نقل ہوا ہے وہ اس کے بیعت کرنے کو بیان کرتا ہے(۲۹۳)

جواب۔

معترض کا دعويٰ یہ ہے کہ تمام مہاجرین اور انصار نے ابوبکر کی بیعت کرلی تھی لیکن ہمارا کہنا یہ ہے کہ محدثین اور مورخین نے جو سقیفہ کے بارے میں روایات نقل کی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ سقیفہ کی کاروائی کے بعد بہت سے انصار اور مہاجرین نے جن کا شمار رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اکابر صحابہ میں ہوتا تھا ابوبکر کی بیعت کرنے سے انکار کردیا تھا، ذیل میں ہم چند مثالیں بیان کرتے ہیں۔

۱۔ سقیفہ کے بارے میں عمر اپنے خطبہ میں کہتے ہیں کہ "خالف عنّا علّی والزبیر ومن معهما "(۲۹۴) یعنی حضرت علی علیہ السلام اور زبیر اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے انہوں نے ہماری مخالفت کی! اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام اور تمام بنی ھاشم اور زبیر اور ان کے قوم اور دوست و احباب نے ابوبکر اور عمر کی مخالفت کی۔

۳۔ یعقوبی کا کہنا ہے "و تخلّف عن بیعة ابی بکر قوم من المهاجرین والانصار، ومالوا مع علی بن ابی طالب، منهم: العباس بن عبد المطلب والفضل بن العباس والزبیر بن العوام بن العاص و خالد بن سعید والمقداد بن عمرو و سلمان الفارسی و ابوذر الغفاری و عمار بن یاسر و البرّاء بن عازب و ابی بن کعب "(۲۹۵) یعنی انصار اور مہاجرین کے ایک گروہ نے بیعت نہیں کی اور وہ لوگ حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کرنا چاھتے تھے جن میں عباس بن عبدالمطلب، فضل بن عباس، زبیر بن عوام بن عاص، خالد بن سعید، مقداد بن عمرو، سلمان فارسی، ابوذر غفاری، عمار یاسر، برّاء بن عازب اور ابی بن کعب شامل ہیں۔

۴۔ مسعودی کا کہنا ہے کہ جب تک حضرت علی علیہ السلام نے بیعت نہیں کی بنی ھاشم میں سے کسی نے بھی بیعت نہیں کی(۲۹۶) اس بات کو ابن اثیر نے بھی لکھا ہے(۲۹۷) ۔

ہم نے ابوبکر کی بیعت کے مخالفین کے عنوان سے جن چند افراد کے نام پیش کئے ہیں وہ فقط بعنوان مثال اور بطور شاھد ہیں و گرنہ تاریخی کتابوں میں ابوبکر کی بیعت کے مخالفین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی گئی ہے(۲۹۸) ۔

ان مطالب کے پیش نظر اور تاریخی کتابوں پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ معترض کا یہ دعويٰ کہ پوری امت نے ابوبکر کے مقدم ہونے اور ان کی اطاعت پر اجماع کرلیا تھا بے بنیاد اور بلا دلیل ہے اور یہ بات کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے اس لئے کہ یہ کیسا اجماع تھا کہ جس کے مخالف حضرت علی علیہ السلام، اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور تمام بنی ھاشم جیسے لوگ تھے؟ نیز یہ کس قسم کا اجماع تھا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جلیل القدر صحابہ جیسے سلمان فارسی، ابوذر غفاری، مقداد اور عمار یاسر وغیرہ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی مخالفت کر رہے تھے؟!

رہی یہ بات کہ بیعت کے مخالفین پر کیا گذری اور ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہوا اس سلسلے میں تاریخ کی کتابوں میں بہت اختلاف ہے لیکن مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ان مخالفین میں سے بعض نے دہمکیوں(۲۹۹) سے خوفزدہ ہوکر اور بعض نے مال کی لالچ(۳۰۰) میں بیعت کرلی تھی، اور ان میں بعض وہ تھے کہ جو جبر و اکراہ کے باوجود بھی ابوبکر کی بیعت کرنے پر راضی نہ تھے(۳۰۱) ان افراد میں حضرت علی علیہ السلام تھے کہ جو جبر و اکراہ کے باوجود ابوبکر کی بیعت کرنے پر راضی نہ ہوئے(۳۰۲)

اور یہ کہ حضرت علی علیہ السلام اپنے آپ کو خلافت کا مستحق سمجھتے تھے اور شروع میں انہوں نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی یہ بات ناقابل انکار حقیقت ہے بلکہ اس بات پر اجماع ہے جب کہ بعض نے کہا ہے کہ اگر چہ وہ ابتداء میں ابوبکر کی بیعت کرنے پر تیار نہ تھے لیکن کچھ ہی عرصہ بعد ابوبکر کی بیعت کرلی تھی اور اس سلسلے میں مشھور قول یہ ہے کہ جناب فاطمہعليه‌السلام کی شھادت کے بعد ابوبکر کی بیعت کی(۳۰۳)

سب سے پہلے ہم اس چیز کو بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کرنے سے کیا مراد ہے؟

اگر بیعت سے مراد یہ لیا جائے کہ ابوبکر قانونی طور پر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جانشین اور خلیفہ تسلیم کرنا ہے تو حضرت علی علیہ السلام نے ھرگز اس معنی میں کبھی بھی ابوبکر کی بیعت نہیں کی اس لئے کہ آپ نے ابتداء میں ہی ابوبکر کی بیعت نہ کرکے یہ ثابت کردیا تھا کہ آپ انہیں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خلیفہ نہیں مانتے تھے بلکہ اپنے آپ کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا برحق خلیفہ سمجھتے تھے اور اس سلسلے میں آپ کبھی بھی متذبذب نہیں رہے لھٰذا آپ کے بارے میں اس معنی میں بیعت کا گمان کرنا آپ پر ظلم کے مترادف ہے اس لئے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے اپنی گذشتہ غلطی کا اقرار کرلیا تھا۔

اور اگر بیعت کے معنی مقابلہ نہ کرنے، مخالفت نہ کرنے، خلفاء کے کاموں میں مداخلت نہ کرنے اور مسلمانوں کی مشکلات کے حل کے لئے ان کی مدد اور اسلامی معاشرہ کو انحراف سے بچانے کے ہیں تو اس سلسلہ میں یہ کہنا بہتر ہوگا کہ وہ تو ابتداء ہی سے اس کے پابند تھے نیز جب لوگ کسی اور کی طرف رخ کر رہے تھے تو ان سے سلمان فارسی کا یہ کہنا کہ تمھارا بیعت کرنا اور نہ کرنا سب برابر ہے(۳۰۴) حضرت علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن کے بعد جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر تشریف لائے اور گوشہ نشین ہوگئے(۳۰۵) اور حفظ اسلام اور مصالح مسلمین کی خاطر خلفاء سے جنگ اور مقابلہ کے لئے کوئی اقدام نہ کیا بلکہ اگر کسی نے لوگوں کو کسی بھی قسم کے اقدام کے لئے تیار بھی کیا تو آپ نے انھیں روک دیا جیسا کہ عتبہ بن ابی لہب نے ایک جوشیلی تقریر میں بنی ھاشم سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کچھ کریں تو آپ نے انہیں خاموش رہنے کا حکم دیا(۳۰۶) اور ابوسفیان کہ جو خاندان عبد مناف کی طرف سے مسلحانہ قیام چاھتا تھا اسے آپ نے اپنے سے دور کردیا(۳۰۷) ۔

لیکن خلفاء کی بیعت کیونکہ اتفاقی و ناگہانی ہوئی تھی(۳۰۸) لھٰذا ان کا خیال تھا کہ لوگ حضرت علی علیہ السلام کی طرف ضرور رجوع کریں گے اور حضرت علیعليه‌السلام بھی اپنا حق لے کر رہیں گے اس لئے انھوں نے جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر میں لشکر کشی میں عجلت کا مظاھرہ کیا اور زبردستی حضرت علی علیہ السلام کو مسجد میں لے آئے اور ان سے ابوبکر کی بیعت طلب کی لیکن آپ نے منع کردیا اور فرمایا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا برحق خلیفہ میں ہوں(۳۰۹) ، لیکن کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد خلیفہ اس بات کو اچھی طرح جان گئے کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے تحفظ کی خاطر اپنے مسلّم حق سے سبکدوش ہوسکتے ہیں، اور اسلامی معاشرہ کی اصلاح کے لئے ہر ممکن کوشش کرینگے۔ بس یہ خلفاء تھے کہ جنہیں اپنی کی ہوئی غلطی کا احساس ہوگیا تھا جس کے نتیجہ میں انہوں نے حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ اپنے رویہ کو تبدیل کیا نہ یہ کہ حضرت علی علیہ السلام ان کو خلیفۂ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سمجھتے تھے۔

گذشتہ بیان کی روشنی میں زندگی کے آخری لمحات میں ابوبکر کی زبان سے نکلے ہوئے جملوں کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ "اے کاش میں نے جناب فاطمہعليه‌السلام کے گھر پر لشکر کشی نہ کی ہوتی(۳۱۰) اس لئے کہ انہیں بعد میں اس بات کا احساس ہوا کہ اس کام سے نہ انہیں کوئی فائدہ پہونچا اور نہ اس کی ضرورت ہی تھی بلکہ اس سے جناب فاطمہعليه‌السلام کا غضب جن کا غضب خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا غضب ہے(۳۱۱) ان کے شامل حال ہوگیا(۳۱۲) اور اس بنا پر دنیا و آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگئے۔

لھٰذا اگر بیعت پہلے والے معنی میں مراد لی جائے تو حضرت علی علیہ السلام نے ان کو ھرگز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خلیفہ اور جانشین نہیں مانا اور ان کی بیعت نہ کی اور اگر بیعت کے دوسرے معنی مراد لئے جائیں تو حضرت علی علیہ السلام نے پہلے ہی دن سے خلفاء کے بارے میں چشم پوشی کو اپنا وظیفہ سمجھا اور گوشہ نشین ہوگئے اور کسی بھی صورت ان کا مقابلہ اور ان کے خلاف بغاوت نہ کی۔

یہاں تک تو ہم نے یہ بیان کیا کہ بعض صحابہ نے کس طرح ابوبکر کی بیعت کی تھی لیکن ان تمام افراد کے درمیان ایک فرد ایسا بھی تھا کہ اس نے (ظاھراً اپنی ضد کی وجہ سے) ابوبکر کی بیعت نہ کی اور وہ سعد بن عبادہ تھا بہت سی روایات کے مطابق اس نے ھرگز ابوبکر اور عمر کی بیعت نہ کی اور پھر وہ شام چلا گیا اور وھاں پر مشکوک انداز میں قتل کردیا گیا۔

معترض کا دوسرا دعويٰ یہ ہے کہ سعد بن عبادہ نے سقیفہ میں ہی ابوبکر کی بیعت کرلی تھی اور فقط ابو مخنف کی روایت میں سعد بن عبادہ کے بیعت نہ کرنے کا ذکر ہے جب کہ کسی بھی صحیح روایت میں ایسا بیان نہیں ہے تمام روایتیں اس کے بیعت کرنے کو بیان کرتی ہیں، بہر حال سعد بن عبادہ کی بیعت کرنا یا نہ کرنا کون سا ایسا خاص اثر رکھتی ہے؟

ہم مدعی کے اس دعوے کو باطل کرنے کے لئے فقط چند مثالوں پر ہی اکتفاء کریں گے۔

۱۔ بلاذری نے مدائنی سے روایت کی ہے کہ : سعد بن عبادہ نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی اور پھر عمر نے اس کے پاس ایک شخص کو بھیجا کہ یا تو بیعت کرے یا پھر قتل ہونے کے لئے تیار رہے اور بیعت نہ کرنے کے سبب عمر کے حکم سے اسے قتل کردیا گیا(۳۱۳) ۔

۲۔ مسعودی کا کہنا ہے کہ سعد بن عبادہ نے بیعت نہیں کی اور مدینے سے شام چلا گیا اور ہجرت کے پندرہویں سال قتل کردیا گیا(۳۱۴) ،

۳۔ ابن جوزی(۳۱۵) کا کہنا ہے کہ تمام انصار و مہاجرین نے بیعت کی مگر سعد بن عبادہ نے بیعت نہ کی اس کے بعد وہ ابن اسحاق سے نقل کرتا ہے کہ سعد بن عبادہ نے بیعت نہیں کی اور ان کی نماز جماعت میں بھی شریک نہ ہوتا تھا اور یہ نقل ابو مخنف کی روایت کے مطالب سے شباھت رکھتی ہے۔

۴۔ جوہری کتاب السقیفہ و فدک(۳۱۶) میں کہتا ہے کہ سعد بن عبادہ نے ابوبکر، عمر اور کسی کی بھی بیعت نہیں کی، اور اس کے نماز میں شریک نہ ہونے کو بھی بیان کیا ہے، ۔ ۔ ۔ جیسا کہ ابو مخنف کی روایت بیان کرتی ہے۔

۵۔ دینوری(۳۱۷) نے ابو مخنف کی اصل عبارت کو نقل کیا ہے کہ وہ ان کی نماز جماعت میں شریک نہ ہوتا تھا وہ عمر کے دور خلافت میں شام چلا گیا اور وھاں اس کا انتقال ہوگیا جب کہ اس نے کسی کی بیعت نہیں کی تھی۔

۶۔ ابن اثیر(۳۱۸) نے بھی سعد کے آخری دم تک بیعت نہ کرنے کو ذکر کیا ہے۔

۷۔ ابن سعد(۳۱۹) کا کہنا ہے کہ ابوبکر نے جس آدمی کو سعد سے بیعت لینے کے لئے بھیجا تھا سعد نے اسے منفی جواب دیا اور کہا "لا والله لا ابایع " یعنی خدا کی قسم ھرگز میں بیعت نہ کروں گا۔

۸۔ ان تمام شواھد کے باوجود بھی کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ سعد بن عبادہ کی بیعت نہ کرنے کو فقط ابو مخنف نے نقل کیا ہے کیا واقعاً ان تمام شواھد میں سے ایک نمونہ بھی معترض کی نظر کے سامنے سے نہیں گزرا، یا عمداً ان حقائق سے چشم پوشی کی گئی ہے؟

اور معترض نے کس طرح یہ اعتراض کرتے ہوئے صرف محدثین اور مورخین کے اقوال کا سہارا لیا ہے اور کسی بھی صحیح روایت کا حوالہ نہیں دیا لیکن اس مطلب کے جواب کے سلسلے میں صحیح روایت کی تلاش میں ہے کیا یہ تاریخ اور احادیث کی کتابیں معتبر نہیں ہیں اور فقط مسند احمد بن حنبل کی نقل شدہ مرسلہ روایت صحیح اور قابل قبول ہے؟!

اس کے علاوہ یہ کہ ہم اہل سنت کی صحیح روایات کے ساتھ اس روایت کے تعارض کو بیان کرچکے ہیں، نیز وہ تمام روایتیں جن کو معترض نے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے(۳۲۰) سعد بن عبادہ کی ابوبکر کی بیعت کرنے کو بیان نہیں کرتیں، اس کے علاوہ مسند احمد بن حنبل(۳۲۱) کی روایت میں بھی سعد بن عبادہ کی طرف سے ابوبکر کی بیعت کرنے کا بیان نہیں ہے، بلکہ روایت میں یہ ہے کہ سعد نے ابوبکر کی گفتگو کی تصدیق کی تھی جب کہ ہم اس روایت کے غلط ہونے کو پہلے ہی ثابت کرچکے ہیں۔

اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سعد بن عبادہ بیعت کریں یا نہ کریں اس سے ابوبکر کی ولایت و حکومت پر کیا اثر پڑتا ہے؟

تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ سعد بن عبادہ قبیلہ خزرج کا سردار تھا لھٰذا اس کا بیعت کرنا یا نہ کرنا اہمیت کا حامل تھا، اس کے علاوہ اس کا شمار پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جلیل القدر اصحاب میں ہوتا تھا، کس طرح وہ لوگ کے جو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام صحابہ کے طیب و طاھر ہونے کے دعویدار ہیں مگر جب سعد بن عبادہ کا نام آتا ہے تو ایسا ہوجاتے ہیں کہ جیسے وہ کوئی تھا ہی نہیں؟! اور اگر سعد بن عبادہ ابوبکر کی بیعت کرنے میں پیش پیش ہوتا تو کیا واقعاً بعض کے نزدیک اس کا یھی مقام ہوتا؟

حرف آخر

اگر چہ سقیفہ میں جس چیز کی بنیاد رکھی گئی اور پھر ہر ممکنہ کوشش کے ذریعہ اسے مضبوط کیا گیا کہ جو اہل بیتعليه‌السلام رسول کی گوشہ نشینی اور لوگوں کے لئے علم و معارف کے سرچشمہ سے محرومی کا سبب بنی، اس کے باوجود اہل بیتعليه‌السلام اطہار کا حق تعصب کی کالی گھٹاؤں کے اندر بھی خورشید کے مانند درخشاں اور قابل نظارہ ہیں۔

ہم امید رکھتے ہیں کہ محترم قارئین نے اس کتاب کے مطالعہ سے اس بات کا اندازہ کرلیا ہوگا کہ جمود و انکار اور اتہامات کے گرد و غبار کے ڈھیروں تلے دبے ہوئے حقائق تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں ہے اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عترت کی حقانیت اور صداقت کو جاننے کے لئے دل کا ذرہ برابر پاکیزہ اور انصاف پسند ہونا ہی کافی ہے، یہاں تک کہ ان چیزوں کا مشاہدہ ان کتابوں میں بھی بآسانی کیا جاسکتا ہے جو ان کے حقائق پر پردہ ڈالنے کے لئے لکھی گئیں ہیں۔

(وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین )

سید نسیم حیدر زیدی، قم المقدسہ ۳ صفرالمظفر ۱۴۲۶ ہجری

____________________

۲۵۴. صحیح بخاری کے نقل کے مطابق۔

۲۵۸. مسند احمد بن حنبل: ج۱ ص۱۹۸

۲۵۹. کتاب المصنف: ج۷ ص۴۳۳ (حدیث ۴۰، ۳۷)

۲۶۰. الامامة والسیاسة: ص۲۳، ۲۴،

۲۶۱. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۳

۲۶۲. السقیفہ و فدک: ص۵۶، ۵۷۔

۲۶۴. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۳۔

۲۶۶. الطبقات الکبريٰ: ج۳ ص۱۸۲

۲۶۷. فضائل الصحابہ: ص۵۵، ۵۶

۲۶۸. سقیفہ میں عمر کا خطبہ۔

۲۶۹. الامامة والسیاسة: ص۲۵

۲۷۰. السقیفہ و فدک: ص۵۸۰

۲۷۱. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۳

۲۷۴. سقیفہ کے بارے میں ابو مخنف کی روایت کا مضمون۔

۲۸۰. السیرة النبویہ: ابن ھشام: ج۴ ص۳۱۶۔

۲۸۱. سقیفہ کے بارے میں عمر کا معروف خطبہ۔

۲۸۲. سورہ مبارکہ حجرات: آیت۱۳۔

۲۸۳. الکتاب المصنف: ج،۷، ۴۳۳۔

۲۸۵. الامامة والسیاسة: ص۲۵۔

۲۸۶. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۴۔

۲۸۷. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۲۳

۲۸۹. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۶۵۔

۲۹۰. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۲۳۔

۲۹۲. الامامة والسیاسة: ص۲۷۔

۲۹۴. سقیفہ کے بارے میں عمر کا خطبہ۔

۲۹۵. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۲۴۔

۲۹۶. مروج الذھب: ج۲ ص۳۰۱۔

۲۹۹. السقیفہ و فدک: ص۳۸۔

۳۰۰. السقیفہ و فدک: ص۳۷۔

۳۰۱. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۶۹، ۷۷۰، تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۲۶۔ السقیفہ و فدک: ص۶۰۔

۳۰۴. انساب الاشراف: ج۴ ص۷۷۶

۳۰۵. السیرة النبویہ ابن ھشام: ج۴ ص ۳۰۷، انساب الاشراف: ج۲ ص۷۷۶ سب نے (حضرت علی علیہ السلام گوشہ نشین ہوگئے.عبارت نقل کی ہے۔ الکامل میں ابن اثیر، عمر کا خطبہ نقل کرتے ہوئے کہتا ہے (علی علیہ السلام، زبیر اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری مخالفت کی جناب فاطمہ (ع.کے گھر میں ہیں.حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے خطبہ سوم شقشقیہ میں فرماتے ہیں کہ کیوں کہ مصلحت نہ دیکھی لھٰذا صبر و تحمل کو ہی قرین فہم و عقل سمجھا۔

۳۰۶. تاریخ یعقوبی: ج۲ ص۱۲۴

۳۰۸. انساب الاشراف: ج۲ ص۷۶۶، السقیفہ و فدک ص۴۴، ابوبکر کا قول ہے کہ (میری بیعت ایک اتفاق اور حادثاتی تھی)

۳۰۹. الامامة والسیاسة: ص۲۸، ۲۹۔

۳۱۰. السقیفہ و فدک: ص۷۳، الامامة والسیاسة: ص۳۶۔

۳۱۱. الامامة والسیاسة: ص۳۱، الغدیر: ج۷ ص۲۳۱ سے ۲۳۵ تک مجموعی طور پر انسٹھ طریقوں سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔

۳۱۲. الامامة والسیاسة: ص۳۱، (عمر نے ابوبکر سے کہا کہ جناب فاطمہ (ع.کی خدمت میں چلتے ہیں کہ ہم نے انہیں ناراض کیا ہے.والبدایة والنہای: ج۵ ص۲۷۰ (جناب فاطمہ (ع.ابوبکر سے ناراض تھیں اور آپ نے آخر دم تک ان سے بات نہیں کی)، الغدیر: ج۷ ص۲۲۶ سے ۲۳۱ تک۔

۳۱۴. مروج الذھب: ج۲ ص۳۰۱۔

۳۱۵. المنتظم: ج۴ ص۶۷۔

۳۱۶. السقیفہ و فدک: ص۵۹، ۶۰۔

۳۱۷. الامامة والسیاسة: ص۲۷۔

۳۱۸. الکامل فی التاریخ: ج۲ ص۱۴۔

۳۱۹. الطبقات الکبريٰ: ج۳ ص۶۱۶۔

۳۲۰. مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: ص۱۱۲ سے ۱۱۸ تک۔

۳۲۱. مسند احمد بن حنبل: ج۱ ص۱۹۸۔


فھرست منابع

۱۔ قرآن کریم۔

۲۔ نہج البلاغہ۔ حضرت علی علیہ السلام کے خطبات۔ مترجم سید جعفر شہیدی، شرکت انتشارات علمی و فرہنگی، طبع ہفتم ۱۳۷۴ ہجری شمسی۔

۳۔ اعلام۔ خیر الدین زرکلی، بیروت دار العلم (ملایین) طبع ہفتم ۱۹۸۶ میلادی۔

۴۔ الارشاد فی معرفة حجج اللہ علی العباد شیخ مفید، تحقیق مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، مطبع مہر قم، ناشر مؤتمر العالمی لالفیہ الشیخ المفید طبع اول۔۱۴۱۳ ہجری قمری۔

۵۔ الامامة والسیاسة۔ ابن قتیبہ دینوری، تحقیق علی شیری، انتشارات الشریف رضی طبع اول ایران قم ۱۴۱۳ ہجری قمری۔

۶۔ انساب الاشراف۔ بلاذری، تحقیق سہیل زکاو ریاض زرکلی، دار الفکر بیروت، طبع اول ۱۴۱۷ ہجری قمری۔

۷۔ بحار الانوار، علامہ مجلسی، بیروت دار احیاء التراث العربی، مؤسسة الوفاء، طبع سوم ۱۴۰۳ ہجری قمری۔

۸۔ البدایة والنہایة۔ ابن کثیر، تحقیق مکتب تحقیق التراث، بیروت، موسسة التاریخ العربی دار احیاء التراث العربی طبع اول ۱۴۱۲ ہجری قمری۔

۹۔ تاریخ ادبیات عرب۔ رژی بلاشر، مترجم آذر نوش مؤسسہ مطالعات، تحقیقات فرہنگی تہران ۱۳۶۳ ہجری شمسی۔

۱۰۔ تاریخ التراث العربی، فواد سزگین، اعراب گذاری محمود فہمی حجازی، مکتبہ مرعشی نجفی، قم، طبع دوم۔ ۱۴۱۲ ہجری قمری۔

۱۱۔ تاریخ الخلفاء بن خیاط، تحقیق سہیل زکا، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۴ ہجری قمری۔

۱۲۔ تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک) ابو جعفر محمد بن جریر طبری تحقیق محمد ابو الفضل، بیروت طبع دوم۔ ۱۳۸۷ ہجری قمری۔

۱۳۔ تاریخ یحیيٰ بن معین، تحقیق عبداللہ۔ احمد حسن، دار القلم بیروت۔

۱۴۔ تاریخ یعقوبی۔ احمد بن ابی یعقوب بن واضح، منشورات شریف رضی۔ طبع اول۔ امیر قم۔ ۱۴۱۴ ہجری قمری۔

۱۵۔ تفسیر الطبری (جامع البیان) دار الفکر، بیروت، ۱۴۱۵ ہجری قمری۔

۱۶۔ تفسیر العیاشی۔ محمد بن مسعود عیاش، بیروت مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، تحقیق سید محمد ھاشم رسولی محلاتی طبع اول ۱۹۹۱ میلادی۔

۱۷۔ التفسیر الکبیر۔ فخر رازی، تحقیق مکتب تحقیق دار احیاء التراث العربی، بیروت طبع اول، ۱۹۹۵ میلادی۔

۱۸۔ تہزیب الاحکام فی شرح المقنعہ، محمد بن حسن الطّوسی، تحقیق محمد جعفر شمس الدین، دار التعارف مطبوعات ۱۴۱۲ ہجری قمری۔

۱۹۔ تہذیب الکمال، جمال الدین ابی المحجاج، تحقیق بشار عواد معروف، بیروت مؤسسةالرسالة ۱۹۸۵ میلادی۔

۲۰۔ التنبیہ والاشراف، علی بن حسین مسعودی، تحقیق عبد اللہ اسماعیل صاوی، منابع الثقافہ الاسلامیہ دار الصاوی قاھرہ۔

۲۱۔ جامع الاخبار، محمد بن الشعیری، منشورات مکتبة حیدریہ (اور نجف کی دیگر مطبع) ۱۳۸۵ ہجری قمری۔

۲۲۔ الجرح والتعدیل، ابن ابی حاتم، بیروت، احیاء التراث العربی۔

۲۳۔ دلائل النبوة، ابی بکر احمد بن حسین بھیقی، تحقیق عبد المعطی قلعجی بیروت، دار الکتب العلیہ طبع اول ۱۴۰۵ ہجری قمری۔

۲۴۔ دیوان الضعفاء والمتروکین، ذھبی بیروت، دار القلم ۱۴۰۸ ہجری قمری۔

۲۵۔ الذریعة امی تصانیف الشیعة، آقا بزرگ تہرانی، مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان۔ ایران قم۔

۲۶۔ ذکر اخبار اصفہان، حافظ ابو نعیم اصفہانی، ترجمہ۔ نور اللہ کسائی۔ سروش تہران ۱۳۷۷ ہجری قمری شمسی۔

۲۷۔ رجال طوسی، محمد بن حسن طوسی، تحقیق جواد القیومی الاصفہانی موسسہ النشر الاسلامی، جامعہ مدرسین قم طبع اول ۱۴۱۵ ہجری قمری۔

۲۸۔ رجال النجاشی ابی عباس احمد بن علی النجاشی۔ تحقیق سید موسيٰ الشبیری الزنجانی مؤسسہ النشر السلامی، جامعہ مدرسین قم، طبع پنجم ۱۴۱۶ ہجری قمری۔

۲۹۔ السقیفہ۔ الشیخ محمد رضا المظفر، نشر موسسہ انصاریان، مطبع بہمن، قم طبع دوم ۱۴۱۵ ہجری قمری۔

۳۰۔ السقیفہ و فدک۔ ابی بکر بن عبدالعزیز الجوھری، پیشکش، جمع آوری اور تحقیق محمد ھادی امینی، مکتبة نینوی الحدیثہ تہران۔

۳۱۔ سیر اعلام النبلاء، الذھبی، تحقیق شعیب ارنؤوط اور حسین الاسد۔ بیروت مؤسسہ الرسالہ ۱۹۹۴ میلادی۔

۳۲۔ السیرة النبویہ۔ عبدالملک بن ھشام، تحقیق مصطفيٰ السقا۔ ابراھیم الابیاری، عبدالحفیظ شلبی، افست مصر، انتشارات ایران، مطبع مہر قم، ۱۳۶۳ ہجری شمسی۔

۳۳۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، تحقیق محمد ابو الفضل ابراھیم، بیروت دار احیاء التراث العربی طبع دوم ۱۳۸۵ ہجری قمری۔

۳۴۔ صحیح البخاری حاشیة امام سندی، دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۹ ہجری ، طبع اول۔

۳۵۔ الضعفاء والمتروکین، دار قطنی، تحقیق موفق عبداللہ بن عبد القادر، مکتبة معارف الریاض ۱۴۰۴ ہجری قمری۔

۳۶۔ الطبقات الکبريٰ، ابن سعد، دار بیروت ۱۴۰۵ ہجری قمری۔

۳۷۔ عبداللہ ابن سبا۔ علامہ سید مرتضيٰ عسکری۔ ترجمہ۔ احمد فہری زنجانی۔ ناشر مجمع علمی اسلامی مطبع سپھر۔ ۱۳۶۰ ہجری شمسی۔

۳۸۔ الغدیر، علامہ امینی، دار الکتب السلامیہ، تھران طبع دوم ۱۳۶۶ ہجری شمسی۔

۳۹۔ فضائل الصحابہ۔ احمد بن شعیب نسائی، تحقیق فاروق حمادہ، دار الثقافة الدار البیضاء المغرب، طبع اول ۱۴۰۴ ہجری قمری۔

۴۰۔ الفہرست ابن ندیم مطبع تجدد۔ تہران ۱۳۹۳ ہجری قمری۔

۴۱۔ الفہرست، شیخ طوسی، تحقیق محمد صادق آل بحر العلوم، ناشر شریف رضی، ایران قم (افست نجف)۔

۴۲۔ قاموس الرجال: محمد تقی شوشتری نشر و تحقیق مؤسسہ النشر الاسلامی، جامعہ مدرسین قم۔ طبع دوم ۱۴۱۰ ہجری قمری۔

۴۳۔ الکافی، محمد بن یعقوب الکلینی، تحقیق علی اکبر غفاری، دار لاضواء بیروت ۱۴۰۵ ہجری قمری۔

۴۴۔ الکامل فی الضعفاء الرجال۔ ابن عدی، تحقیق عادل احمد الموجود محمد معوض، دار الکتاب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۸ ہجری قمری۔

۴۵۔ الکامل فی التاریخ۔ ابن اثیر، تحقیق مکتب تراث، مؤسسہ التاریخ العربی بیروت طبع چہارم ۱۴۱۴ ہجری قمری۔

۴۶۔ کتاب المجرومین، محمد بن حبان، تحقیق محمود ابراہیم زاید۔ ناشر دار التوعی، حلب، طبع دوم ۱۴۰۲ ہجری قمری۔

۴۷۔ الکتاب المصنف فی الاحادیث والآثار، ابی بکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ، تحقیق محمد عبدالسلام شاھین، بیروت دار الکتب العلمیہ، طبع اول ۱۴۱۶ ہجری قمری۔

۴۸۔ الکنی والالقاب، شیخ عباس قمی، حیدریہ نجف، ۱۳۸۹ ہجری قمری۔

۴۹۔ لسان العرب ابن منظور، تحقیق علی شیری، دار احیاء التراث العربی بیروت طبع اول ۱۴۰۸ ہجری قمری۔

۵۰۔ لسان المیزان۔ ابن حجر عسقلائی، تحقیق محمد عبدالرحمٰن مرسلی، بیروت (ناشر) دار احیاء التراث العربی۔ طبع اول۔ ۱۴۱۶ ہجری قمری۔

۵۱۔ مأساة الزھراء (س) سید جعفر مرتضی عاملی، دارالسیرة، بیروت۔ طبع اول۔ ۱۴۱۷ ہجری قمری۔

۵۲۔ مروج الذھب۔ مسعودی، تحقیق یوسف اسعد داغر (ناشر) دارالاندلس، بیروت۔ طبع اول ۱۳۵۸ ہجری قمری۔

۵۳۔ مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری، یحیيٰ بن ابراھیم، دار العصامہ۔ ریاض، طبع اول ۱۴۱۰ ہجری قمری۔

۵۴۔ مسند احمد بن حنبل۔ تحقیق شعیب ارنؤوط اور عادل مرشد (ناشر) موسسہ الرسالہ، بیروت طبع اول ۱۴۱۶ ہجری قمری۔

۵۵۔ معجم الادباء۔ یاقوت حموی، تحقیق احسان عباس (ناشر) دار الغرب الاسلامی، بیروت طبع اول ۱۹۹۳ میلادی۔

۵۶۔ معجم رجال الحدیث، ابوالقاسم خوئی ناشر۔ الثقافة الاسلامیہ۔ طبع پنجم ۱۴۱۳ ہجری قمری۔

۵۷۔ المغازی، الواقدی تحقیق مارسدن جونس (ناشر) موسسۃ الاعلمی ، بیروت طبع دوم ۱۴۰۹ ہجری قمری۔

۵۸۔ منابع تاریخ اسلام۔ رسول جعفریان، انصاریان۔ قم۔ طبع اول ۱۳۷۶ ہجری قمری۔

۵۹۔ المنتظم ۔ ابن جوزی۔ تحقیق محمد عبد القادر عطا، مصطفيٰ عبدالقادر عطاء (ناشر) دارالکتب العلمیہ بیروت طبع اول ۱۴۱۲ ہجری قمری۔

۶۰۔ منہاج السنة۔ ابن تیمیہ، تحقیق محمد رشاد سالم (ناشر) ادارة الثقافة والنشر جامعہ عربستان سعودی ۱۴۹۶ ہجری قمری۔

۶۱۔ المیزان فی تفسیر القرآن۔ سید محمد حسین طباطبائی (ناشر) دارالکتب السلامیہ تہران۔ طبع چہارم ۱۳۶۵ ہجری شمسی۔

۶۲۔ وقعة الطف، ابو مخنف، تحقیق محمد ھادی یوسفی غروی۔ موسسة النشر الاسلامی۔ جامعہ مدرسین قم ۱۳۶۷ ہجری شمسی۔


فہرست

حرف اول ۴

بیاں اپنا ۶

پیش لفظ ۷

پہلا حصہ: تمہیدات ۹

ابو مخنف کا تعارف ۹

ابو مخنف کون تھے؟ ۹

ابو مخنف کا دور ۱۰

ابو مخنف شیعہ اور سنی علماء کی نظر میں ۱۱

ابو مِخنف کا مذھب ۱۲

روایت ابی مخنف کی تحقیق کا طریقۂ کار ۱۶

تاریخ طبری: ۱۶

۱۔ السیرة النبویہ لابن ھشام: ۱۷

۲۔ المغازی واقدی: ۱۷

۳۔ الطبقات الکبريٰ: ۱۸

۴۔ تاریخ خلیفہ بن خیاط (وفات ۲۴۰ ہجری ): ۱۸

۵۔ الامامہ والسیاسة: ۱۸

۶۔ انساب الاشراف: ۱۸

۷۔ تاریخ یعقوبی: ۱۸

۱۔ السقیفہ و فدک: ۱۹


۲۔ مروج الذھب: ۱۹

۳۔ الارشاد: ۱۹

۴۔ المنتظم فی تاریخ الملوک والامم: ۱۹

۵۔ الکامل فی التاریخ: ۲۰

۶۔ البدایہ والنھایہ: ۲۰

دوسرا حصہ: سقیفہ کے بار ے میں ابو مخنف کی روایت کا مضمون ۲۱

تمھید ۲۱

سقیفہ کے بار ے میں ابو مخنف کی روایت کا عربی متن: ۲۱

تیسرا حصہ: سقیفہ کے رونما ہونے کی صورت حال ۳۰

تمھید ۳۰

ہجرت سے لیکر غدیر خم تک کے واقعات ۳۱

۱۔ پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کے اسباب ۳۱

۲۔ ہجرت کے بعد کے حالات اور پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت میں انصار کا کردار ۳۲

حضرت علی عليه‌السلام کی جانشینی کے سلسلے میں ابلاغ وحی کی کیفیت ۳۵

۱۔ نئے مسلمانوں کی اکثریت ۳۶

۲۔ مسلمانوں کے درمیان منافقین کا وجود ۳۶

۳۔ بعض افراد کی حضرت عليه‌السلام سے کینہ پروری ۳۷

۴۔ حضرت علی عليه‌السلام کے جوان ہونے پر اعتراض ۳۸

۵۔ پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے احکام کی نافرمانی ۳۹

۶۔ غدیر خم کے بعد اہل بیت عليه‌السلام کے خلاف سازشیں ۴۰


اول: عام شواھد ۴۳

دوم: بنی امیہ اور ان کے ہم خیال افراد کی سازشیں ۴۳

سوم: حکومت حاصل کرنے کے لئے بعض مھاجرین کی کوششیں۔ ۴۶

سازشوں کے خلاف پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اقدامات ۵۱

انصار کی چارہ جوئی ۵۵

چوتھا حصہ: ابو مخنف کی روایت پر کئے گئے اعتراضات اور ان کے جوابات ۶۲

تمھید ۶۲

پھلا اعتراض؛ روایت کی سند سے متعلق ۶۲

جواب: ۶۲

نقضی جواب: ۶۳

حلّی جواب: ۶۵

دوسرا اعتراض؛ سعد بن عبادہ کی تقریر کے تنھا راوی ابو مخنف ہیں ۶۶

جواب: ۶۶

تیسرا اعتراض؛ انصار نے سقیفہ میں موجودہ مھاجرین کی مخالفت نہیں کی ۶۷

جواب ۶۷

معترض کے یہ دونوں دعوے باطل ہیں۔ ۶۸

چوتھا اعتراض؛ واقعہ سقیفہ کے وقت حضرت علی عليه‌السلام پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غسل میں مشغول نہ تھے ۷۱

جواب۔ ۷۲

پانچواں اعتراض؛ ابو مخنف نے بعض افراد کے نام ذکر کئے ہیں جو دوسر ے راویوں نے بیان نہیں کئے ہیں ۸۱

جواب ۸۱


چھٹا اعتراض؛ سقیفہ میں ابوبکر کی تقریر کے تنہا راوی ابو مخنف ہیں ۸۱

جواب۔ ۸۱

ساتواں اعتراض؛ پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج سے متعلق ۸۲

جواب۔ ۸۲

آٹھواں اعتراض؛ حباب بن منذر اور عمر کے درمیان نزاع سے انکار ۸۳

جواب۔ ۸۳

نواں اعتراض؛ انصار کی طرف سے مہاجرین کو ڈرانے دہمکانے کا انکار ۸۵

جواب۔ ۸۵

دسواں اعتراض؛ سقیفہ میں اوس و خزرج کے درمیان اختلاف سے انکار ۸۷

جواب۔ ۸۷

گیارہواں اعتراض؛ ابوعبیدہ کی تقریر کے تنہا راوی ابو مخنف ہیں ۹۱

جواب ۹۱

بارہواں اعتراض؛ سعد بن عبادہ اور عمر کے درمیان نزاع سے انکار ۹۱

جواب۔ ۹۱

تیرہواں اعتراض؛ سعد بن عبادہ کا ابوبکر کی بیعت نہ کرنے سے انکار ۹۲

جواب۔ ۹۳

حرف آخر ۹۷

فھرست منابع ۱۰۰