یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
مقالات خطیب اعظم
مصنف: خطیب اعظم مولانا سید غلام عسکری
عرض تنظیم
بانی تنظیم خطیب اعظم مولانا سید غلام عسکری اعلی اللہ مقامہ ان با عظمت افراد میں سے تھے جھنوں نے حکم خدا " اپنے کو اور اپنوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ " کو عملی جامہ پہنانے کو اپنا ہدف بنا لیا تھا۔ اگلی نسل کی تربیت و تعلیم ان کا مقصد حیات تھا۔ یہ کام انھوں نے اپنے پورے وجود سے کیا اور زبان و قلم کی ساری طاقت اس کے لئے صرف کی۔ ان کا کمال یہ تھا کہ جہاں وہ منبر سے پیغام حق پہنچانے کے ماہر تھے وہیں قلم کے ذریعہ مزاج دینداری پیدا کرتے رہے۔ ان کے مضامین جہاں ایک طرف دین اور ایمان کا پیغام پہچانے میں بے نظیر ہیں قہیں دوسری طرف مذہبی اور وادب کا شاہکار بھی ہیں۔ ان مضامین میں نہ بناوٹ ہے نہ تصنع نہ ادبی زور آزمائی اور نہ آور بلکہ شگفتگی ہی شگفتگی ہے۔ بانی تنظیم کی وفات کے بعد ان کے چند مقالات کو جمع کر کے ادارہ سے مقالات خطیب اعظم کے نام سے طبع کیا گیا تھا۔
رفیق بانی تنظیم رئیس الواعظین مولانا سید کرار حسن صاحب مرحوم طاب ثراہ سابق سکریٹری ادارہ نے ان مقالات کے مقدمہ لکھا تھا کہ
" یہ وہی مقالات ہیں جنھوں نے مذہبی تاریخ کا رخ موڑا ہے دل و دماغ میں دینی انقلاب پیدا کیا ہے۔ غیر ذمہ دارانہ تحریروں اور بے سوادہ بے مغز تقریروں کے بگاڑے ہوئے اور بے راہ روی کا شکار ہونے والے افراد کو اسلامی فکر عطا کی ہے۔
انداز تحریر کی سادگی ، برجتگی ، روزمرہ کا استعمال ، سلاست اور روانی ان مقالات کا طرہ امتیاز ہے۔ یہ مقالات ایسی سبیلیں ہیں جن سے دل و دماغ سیراب ہوتے ہیں ۔ ہلکے پھلکے الفاظ کے دامن میں مختلف علوم کے دفیق معانی و مطالب کی ایک دنیا آباد ہے۔ ان تحریروں نے جہاں کم پڑھے لکھے سیدھے سادے عوام کو علم و عمل کی روشنی عطا کی ہے وہیں اعلی تعلیم یافتہ افراد دانشوار ، ادیب ، شاعر اور جدید ذہن رکھنے والے لوگوں کی سوچ کا رخ بدلا ہے"
مقالات کی افادیت اور مذہبی ادب کی کمی پورا کرنے کے لئے خطیب اعظم جو یقیناً ادیب اعظم بھی تھے کے وہ مقالات جو تنظیم المکاتب کے علاوہ دیگر جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔ جمع کر کے سائع کئے جا رہے ہیں تاکہ جدید نسل تک بھی یہ پیغام پہنچ سکے۔ اور جدید نسل کے صاحبان قلم کو مذہبی ادب کا نمونہ بھی مل سکے۔ ان مقالات کو اس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ سلسلہ تعلیم بالغان میں اردو ادب کے طور پر انھیں پڑھایا جا سکے۔ امید ہے کہ رسم و راج سے عاجز اور اسلام محمدی کے شیدائی اہل ایمان ان مقالات سے استفادہ کریں گے۔
والسلام سید صفی حیدر
سکریٹری تنظیم المکاتب ۱۷/ جنوری ۲۰۰۴
مذہب کی واپسی
ہم کو اپنے کو خوش نصیب قرار دینا چاہئیے کہ ہمارے اس عہد مذہب کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ مذہب کی واپسی کے عمل کے ظاہری اور غیبی محرکات ہیں۔ انسان ہر طرح کے اصولوں کو آزما چکا۔ ہر فلصفہ کو اپنا چکا ۔ ہر پابندی کو قبول کر چکا۔ ہر طرح کی مطلق العنان آزادی اور بے راہ روی پرگامزن ہو چکا مگر ڈھاک کے تین پات والی صورت حال برقرار رہی۔ نہ چین تھا نہ چین ہے۔ نہ چین ملنے کی امید ہے۔ سکون کا پیاسا در در مارا پھرا مگر نہ صرف پایا رہا۔ بلکہ اس کی پیاس میں شدت کا اضافہ ہوتا گیا۔ آخر کار تھکا ہارا ۔ انسان اس مذہب کے گھاٹ کی چعف واپس ہونے لگا۔ جس کو چھوڑ کر اور چھوٹا سمجھ کر سراب کے وسیع و عریض میدان کی طرف اس کی وسعت اور چمک دمک دیکھ کر چلا آیا تھا ۔ گھاٹ پھر گھاٹ ہے۔ بنے ہوئے راستے ہی سےسرابی آزادی نے انسان سے مذہب کا گھاٹ چھڑایا تھا۔ آج سراب کی حقیقت کی معفت ہی نے مذہب کی واپسی کا عمل شروع کرایا ہے۔
حقوق انسانی کے سفر کا آج آخری سنگ میل " اقوام متحدہ " کرب کدہ بنا ہوا ہے۔ عیاری ۔ جوٹتوڑ۔ مکر و فریب کا گڑھ ہے۔ اور سارے اعمال بد انسانی حقوق کے نام پر انجام دیئے جا رہے ہیں جس طرح شکاری چارہ ڈالتا ہے اسی طرح بڑی طاقتوں کے عالمی نیک عالمی امداد عالمی قرض عالمی عدالت۔ سلامتی کو نسل وغیرہ کے چار ے ڈال رکھے ہیں جس کے ذریعہ چھوٹی قوموں کا شکار ہوتا رہتا ہے مشلاً ان کے خال مال پر قبضہ کرنا۔ پھر ان ہی کے ہاتھ کے مال کے مصنوعات کو گراں قیمت پر بیچنا۔ بھوک انسانوں کو ہتھیار فراہم کرنا تاکہ وہ اپنے ہی لہو کو پیئں اپنے ہی گوشت کو کھائیں اور اپنے ہاتھوں مر جائیں۔ ان کی سر زمین پر حفاظت علمی مدد۔ فنی تربیت کے نام پر قبضہ کرنا، مالکوں کو غلام بنا کر کام لینا۔ یہ اور اسی طرح کے ظالمانہ کام اقوام متحدہ کے ذریعہ آج کے مکار انسان انجام دے رہے ہیں۔ جس پر پڑتی ہے وہ محسوس کرنا ہے۔ جو ابھی چارہ کھانے میں مشغول ہے وہ فکر مستقبل سے بے نیاز ہے اور مگن ہے۔ جب چارہ ختم ہوگا تب محسوس کرےگا۔ اس عالمی عیار خانہ کے خلاف صرف ایران ہے جو حقائق کو بے نقاب کرتا رہتا ہے۔ اکیلا عالمی عیار خانہ کے خلاف صرف ایران ہے جو حقائق کو بے نقاب کرتا رہتا ہے۔ اکیلا مظلوموں کو متحدہ ہونے کے لئے پکارتا رہتا ہے ۔ چونکہ ایران کا جسم و قلب و دماغ سب مجروح ہو چکا ہے لہذا اس کو پوری طرح ہر مظلوم کے دکھ درد کا احساس ہے۔ اور اسی احساس کو وہ اپنے خون کی قیمت میں ہر مظلوم کے خون میں دوڑا دینا چاہتا ہے ۔ کچھ کو ہوش آنے لگا ہے۔ کچھ کان کھڑے کرنے لگے ہیں۔ کچھ نے سفر شروع کر دیا ہے۔ لیکن صدیوں کے عالمی استحصال کے مقابلہ میں ایران کی چند سالہ کوششیں ابھی محسوس نہیں ہوتی ہیں۔ جب کہ سارے ذرائع ابلاغ ایران کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں اور ایران نے اپنے لہو کے قطرات کے گرنے کی آواز کو اپنا ذریعہ بلاغ بنا رکھا ہے۔ دی الحال اور کوئی ذریعہ اس کے لئے ممکن بھی نہیں۔ بہرحال یہ ایرانی لہو کی ٹپ تُ انسانوں کو جگا رہی ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ پہاڑ جتنا بڑھتا ہے حاصل ضرب اتنا ہی زیادہ آتا ہے دو کا دو گنا چار ہوتا ہے اور ہزار کا دو گنا ہزار ہوتا ہے۔ گنا نہیں بڑھتا وہ دو گنا ہی رہتا ہے مگر د کا حاصل صرف اکائیوں میں گنا جاتا ہے اور ہزار کا حاصل ضرب ہزاروں اور لاکھوں میں گنا جاتا ہے اسی طرح کام کا آغاز مشکل ہوتا ہے۔ رفتار سست ہوتی ہے۔ ماحصل کم ہوتا ہے۔ قربانی شدید و عظیم ہوتی ہے۔ لیکن جب کام چل مکلتا ہے تو مکہ کے تیرہ سال کے مسلمان تین سو بھی نہیں ہوتے ہیں اور مدینہ کے دس سال کے مسلمان لاکھوں ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح انشاٗ اللہ وہ دن دور نہیں ہے جب مذہب کی واپسی کا یہ ہلکا پھلکا عمل جو اس وقت سست رفتاری سے جاری ہے وقت آنے پر سیلابی اور طوفانی بنے گا۔ یہ مذہب کی واپسی کے ظاہری محرکات کی طرف چند اشارے تھے جو اس تحریر میں کئے گئے اور غیبی محرک جو اصلی محرک ہے وہ عہد ظہور مہدی کی روز بروز قریب ہے۔
چناچہ کل جن باتوں کا سنانا۔ بتانا نامکن تھا آج وہ شوق سے سنی اور سمجھی جا رہی ہیں۔ جن باتوں سے کل روکنا ناممکن تھا اور مذہب خس و خاشک کی طرح بد کرداری کے سیلاب میں بہتا دکھائی دے رہا تھا۔ آج اس سیلاب سے مفرت ہو چکی ہے مذہب جسے کل خس و خاشک سمجھا جاتا تھا آج اسی سے نشیمن کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ انسان کی فطری محبت و فطری نفرت اجاگر ہو رہی ہے۔ ایسے موقع پر فطرت کی صحیح راہ نمائی بے حد ضروری ہے بے حد مفید ہے اور یہ رہبری سوائے اسلام کے سوائے اقوال معصوم کے۔ سوائے احکام معصوم کے کوئی نہیں کر سکتا۔
لیکن اس تاریخ حقیقیت سے ایک سکنڈ کے لئے آنکھ بند نہ ہونا چاہئے کہ جتنے ظلم شاہی و شا ہنشاہی نے کئے۔ اس سے زیادہ ظلم آزادی جمہوریت سو شلزم۔ کمیونزم نے کئے ہیں اور ان سب نے مل کر جتنے ظلم کئے ہیں مذہب کے نام پر مذہب کی آڑ میں وہ سارے مظلوم عیار مذہبیس سربرا ہوں نے کئے ہیں۔ تمام مذاہب نے جتنی برائیاں غلطیوں اور مظالم کئے ہیں ان کی ساری نفرطیں اسلام کے دامن پر بھی موجود ہیں یعنی واقعات و حالات و تاریخ کے آئنہ میں مذہبیت و لامذہبیت۔ مادیت و روحانیت۔ شاہی و آزادی سرمایہ داری اور کمیونزم سب کی صورت بالکل ایک طرح کی ہے اور یکساں ہے۔
صرف صدیوں کا عالمی مظلوم یعنی دین اہلبیت علیہم السلام جو دین الہیٰ ہے جو دین محمدی ہے۔ جو اصلی اسلام ہے جو کسی تاریخ کو اپنی تاریخ ماننے پر تیار نہیں ہے۔ اس کی تاریخ چودہ مظلوم معصومین کی تاریخ ہے یا ان شہداٗ علماٗ صالحین اور متقی افراد کی تاریخ ہے جنھوں نے اپنی فکر کو اپنے علم کو اپنے ذہن کو اپنے عقیدہ کو فکر معصوم کے تابع رکھا اور جنھوں نے عمل کی دنیا میں ہر سانس لینا اسی وقت جائز سمجھا جب اس کے جواز کو معصوم کی سند حاصل ہوئی مختصر یہ کہ تاریخ مذہب اہلبیت ۱۴ معصوموں کی تاریخ ہے۔ چاہے وہ مصر میں رہے ہوں یا ایران میں یا ہندوستان میں۔
ساری تاریخ میں صرف یہی تاریخ ہے جس کے دامن پر غیر کے خون کے دھبے نہیں ہیں اس لئے اس کے جسم پر غیروں کے لگائے ہوئے بےحساب زخم ضرور ہیں۔ لہذا نشر حقوق کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ نشر مذہب اہلبیت علیہم السلام بھی ضروری ہے۔ ورنہ اگر قانون نا نافذ نہ ہوا تو قانون کا کوئی فائدہ نہیں تاریخ دین اہلبیت السلام میں قانون حقوق بشر ہمیشہ نافذ رہا ہے اور آج کا اسلامی ایران پھر اسی نفاذ کے لئے قربانیاں دے رہا ہے۔
آخر کلام میں اس بنیادی بات کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ وقت بافذہ نہ قانون ساز اداروں کے پاس ہے نہ انتظامیہ اور عدلیہ کے پاس ہے نہ قومی حکومت کے پاس ہے نہ بین الاقومی تنظیموں اور اداروں کے پاس ہے نہ نام مذہب میں ہے نہ اسلام کے نام میں۔ اول و آخر قوت نافذہ و عقیدہ خدا و آخرت میں ہے۔ اسی عقیدہ سے مذہب اہلبیت شروع ہوتا ہے۔ اسی کے مطابق اس نے صدیاں طے کی ہیں اور اسی عقیدہ کے ذریعہ پوری انسانیت کو سکون دینے والا ظہور کرنے والا ہے۔ عہد ظہور ۔ عہد ظہور نہیں ہے۔ بلکہ نے چین انسانیت کی عالمی آرامگاہ ہے جس پر عقیدہ خدا و آخرت سایہ فگن ہے۔
باتیں بےحد اچھی ہوں تن بھی بیکار ہیں جب تک باتیں کرنے والے خود کو اچھائی کا نمونہ بنا لیں۔ کیا ہم غلامان اہلبیت علیہم السلام نے اپنے کو نمونہ بنانے کا ارادہ کر لیا ہے اگر ارادہ کر لیا ہے تو بسم اللہ عمل شروع ہو جانا چاہئے۔
سماجی مذہب یا حقیقی مذہب
زندگی کے بہاؤ کا نام سماج ہے بہاؤ پانی کی فطرت ہے لیکن بہاؤ کو حد کے اندر بھی رکھا جا سکتا ہے اور حد سے باہر بھی بہنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔ بہاؤ تیز بھی کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کی رفتار کو کم بھی کیا جا سکتا ہے۔ بہاؤ کو تقسیم بھی کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح دریا سے بڑی نہر اور نہر سے چھوٹی نہریں نکالی جاتی ہیں۔ اور بہاؤ کو یکجا بھی کیا جا سکتا ہے جیسے مختلف دریاؤں کو ایک دریا میں بلا دیا جاتا ہے۔ بہاؤ کو کبھی روکا بھی جستا ہے۔ اور کبھی رکاوٹوں کو دور بھی کیا جاتا ہے۔ کبھی پانی کی سطح اونچی کی جاتی ہے، کبھی سطح کو نیچا لایا جاتا ہے۔ مختصر یہ ہے کہ پانی کی فطرت ہے نشیب کی طرف بہنا لیکن اس فطرت کو سلیقے کے ٓریعے مفید بنایا جا سکتا ہے اور بیش از بیش فوائد تباہیوں بھی لا سکتا ہے۔ فطرت اور اس کے استعمال کا سلیقہ دو چیزیں ہیں۔ فطرت می٘ں انسانی عمل کو دخل نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ خالق کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ لیکن اس کے استعمال کا سلیقہ وہ کام ہے جس میں انسانی عمل کو بڑا دخل ہے۔ عمل کو ضرورت ہقتی ہے ۔ لیکن چونکہ انسان کتنا ہی باکمال کیوں نہ ہو جائے پھر بھی ناقص ہی رہتا ہے۔ لہذا اس کی تعلیم و تربیت بھی ناقص رہےگی۔ اسی بنا پر ہم ہمیشہ اپنے نظام تعلیم ، نصاب تعلیم ، انداز تعلیم، مقاصد تعلیم پر بتائج تعلیم کے پیش نظر نظر ثانی کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ انسانی نظریات اور اصول ہمیشہ تجرباتی دور میں اور رہیں گے اس انسانی کمزوری کو دور کرنے کے لیے خدا نے مذہب بھیجا۔ کیونکہ کامل کا بھیجا ہونا نظام بھی کامل ہوگا۔ اور جب اس کے لانے والے سمجھانے والے ، پھیلانے والے بھی معصوم ہیں۔ تو نظام بھی کامل ہے۔ اور اس نظام کی تعلیم و تربیت بھی نقائص سے پاک ہے۔
مذہب اسی لئے آیا ہے کہ انسان میں خواہشات کا پیدا ہونا فطری ہے مگر خواہشات کے اس فطری بہاؤ کو حدود میں رکھنا ضروری ہے، ان سدود کے مجموعہ کا نام شریعت ہے اور عربی میں شریعت کے معنی بھی گھاٹ اور کنارہ کے ہیں۔ شریعت کا کام یہی ہے کہ انسانی خواہشات کے ذریعہ پیش از پیش انفرادی اور اجتماعی فوائد حاصل کئے جائیں۔ اور خواہشات کے حرص و ہوس بن جانے کے بعد جو انفرادی ۔ خاندانی ، نسلی ، قومی ، بین الاقوامی تباہیوں آتی ہیں۔ جن کے اثرات صدیوں اور ہزاروں سال باقی رہتے ہیں کہ تباہیاں تبہایوں کو پیدا کرتی ہے رہتی ہیں بلکہ تبہایوں کا شجرہ چل پڑتا ہے اور تبہایوں کی نسلیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ اس عظیم و عریض و طویل تبہایوں سے انسان کو اور انسانی معاشرہ کو بچانا بھی دین اور شریعت کا کام ہے۔ لیکن شریعت کا فائدہ اسی قوت حاصل ہوگا اور دین معاژرہ دین اور شریعت کا پابند ہوگا۔
مگر بجائے اس کے کہ ہمارا سماج مذہب کا پابند ہوتا ہم نے دین کو اپنی خواہشات کا پوبند بنانے کے لئے سماج کو مذہب پر حاوی کر دیا ہے آج ہم مذہب سے بالکل آزاد ہو چکے ہیں۔ ہر حرام حلال ہے۔ ہر واجب ترک ہے ہر مستحب مکروہ ہے۔ اس کے برخلاف سماج جس مباح بلکہ حرام کام کو واجب کر دے اس کا بجا لانا واجب ہے۔ ہم مذہبی شعور کھو چکے ہیں۔ جہالت عیب ہے ۔ مگر دین سے جہالت کا اظہار اعلیٰ سوسائٹی کی ممبری حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ حد یہاں تک آ پہونچی ہے کہ ہ دین کو مانتے ہیں اور اس پر معترض ہونے کو دینی حق تصور کرتے ہیں۔ دینی احکام کا مضحکہ اڑانا اور مسلمان ہونا اگرچہ متضاد باتیں ہیں۔ مگر ہر ترقی پسند مسلمان اس تضاد کا مجسمون ہے اور تمام مسلمان اسی ترقی پسند مسلمان کا اتباع کرنا اپنے لئے لازم سمجھتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سماج میں جس چیز کو واجب سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کو بہرحال انجام دیا جائےگا چاہے مذہب اس کو لاکھ حرام بتائے۔
اس بیماری کا علاج یہ ہے کہ ہم سین کو تعلیم حاصل کریں اور دینی واقفیت کو سماج میں رائج کریں تاکہ سماج اور دین کتنا فاصلہ ہے اور کتنا تضاس پیدا ہو چکا ہے۔ اس کا احساس ہمارے سماج کو ہو جائے اور اس احساس کو تعمیری شکل دینے کے لئے لازم ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو حقیقی دین کا پابند بنائیں۔ اس طرح ہم اس سماجی دین سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو سماجی دین نہیں ہے بلکہ وہ بے دینی ہے۔ جس کو سماج نے اختیار کر لیا ہے اور شعور دین کو بےحس و مضلوج رکھنے کے لئے اس بےدینی کو مذہب کا لباس پہنا دیا گیا ہے اٹھئے اور اس لباس کو نوچ پھیک دیئیے تاکہ دینی کی مکروہ صورت سب کے سامنے آ جائے اور دینی تعلیم کو عام کیجئے۔ تاکہ اس کی روحانی اور پاکیزہ صورت سب کے سامنے آ جائے اور ہمارے معاشرے کا ہر فرد عاشق دین بن جائے۔
رحمت ورنہ عذاب
پرچہ جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوگا تو ماہ مبارک رمضان شروع ہو چکا ہوگا۔ کچھ مسلمان بغیر روزہ کے رمضان کی توہین کریںگے۔ اور کچھ مسلمان روزہ رکھ کر رمضان کا سامنا کریںگے۔ بہت کم ہوںگے بہت ہی کم ہوںگے وہ مسلمان جو ماہ رمضان کا جون کی سخت گرمی میں استقبال کریںگے۔ اگرچہ ہمارے ہادی و رہبر و مولی و آقا جناب امیرالمومنین علی ابن ابی طالب السلام فرماتے تھے مجھے روزہ پسند ہے گرمی کا اور جہاد پسند ہے تلوار کا۔
جناب عیسیٰ نے اپنی مادر گرامی کو زندہ کر کے پوچھا آپ دنیا میں واپس آنا چاہتی ہیں یا نہیں آپ نے فرمایا ضرور واپس آنا چاہتی ہوں لیکن صرف اس لئے کچھ نمازیں سخت ٹھنڈی راتوں میں پڑھ سکوں اور کچھ روزے سخت گرم دنوں میں رکھ سکون۔ جناب مریم سخت روزہ اور مشکل نماز کا استقبال کر رہی ہیں اور مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام سخت گرمی کے شدید روزہ کے لئے پرشوق نظر آتے ہیں۔ کیا حضرت علی اور جناب مریم کے اقوال صرف سن لینے کے قابل ہیں۔ اور یہ کہنا کافی ہے کہ قابل تعریف یہ اقوال یا خوب فرمایا ہے یا ایمان میں میں تازگی اور جلا پیدا ہوتی ہے ان اقوال سے یا یہ تو حضرت ہی فرما سکتے تھے یا اس فقرہ سے آپ کے جذبہ عبادت و راہ خدا میں آپ کی مشکل پسندی واضح ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ تعریفی اقوال اور ریمارک سے ان حضرات سے عقیدت و وابستگی کا حق ادا ہوتا ہے اور نہ ان اقوال ہی کا حق ادا ہوتا ہے۔ حق ادا کرنا ہے تو ان اقوال کا ہمارے اندر فکر پر اور رفتار عمل پر اثر پڑنا چاہئے۔ یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہم کو شکر خدا ادا کرنا چاہئے کہ ہم کو ایک عظیم عبادت کی انجام دہی کا موقع مل گیا اور ہم کو غیر معمولی ثواب حاصل کرنے اور اپنے گناہوں کو معاف کرانے کا موقع مل گیا۔ احکام خدا کی تعمیل سے فرار آج مزاج مسلم بن گیا ہے۔ نماز ہے تو سرپٹ پڑھی جا رہی ہے نہ قرائت درست نہ سانس درست نہ قیام و قعود درست نہ واجبات ادا نہ ارکان کی واقفیت۔ نماز کیا پرھ رہے جیسے کسی دوسرے کی طرف سے پڑھ رہے ہیں۔کہ کسی طرح ختم ہو۔ نماز پڑھتے وقت معلوم ہوتا ہے کوئی پیچھے ڈنڈا لئے دوڑا آتا ہے لہذا جی جان چھوڑ کر تیز سے تیز نماز پڑھی جا رہی ہے۔ سچ ہے شیطان تو ہمات کا ڈنڈا لئے دوڑا رہے ہے تاکہ کہیں جزبہ عبودیت ان کو اپنی گرفت میں نہ لے لے۔ ہم نماز میں بھی شیطان ہی کی اطاعت کر رہے ہیں یہ ہے ہماری بد نصیبی کی حد۔ فطرہ کم سے کم قیمت کا نکلے۔ اور کم سے کم نکلے بلکہنہ نکلے تو بہتر ہے۔ زکوٰۃ کسی نہ کسی طرح واجب نہ ہونے پائے۔ خمس سے بچ نکلیں اور بچ نکلنے کے لئے تاریخ خمس سے پہلے خرچ کر لیں۔ کسی کو قرض دیدیں۔ غرضکہ کچھ کر لیں مگر فطرہ زکوٰۃ ، خمس سے فرزر کا موقع مل جائے۔ یہ اور اسی طرح کی بہت سی مشالیں اس کا ثبوت ہیں کہ احکام خدا سے فرار آج مزاج مسلم بن چکا ہے۔ فرار کی پہلی منزل واجب سے بچ نکلنے کی کوشش ہے اور آخری منزل واجبترک کرنے کی ہے بلکہ بحث کرنے کی ہے کہ آکر اس گرمی میں اس روزہ کا کیا فائدہ۔ اس لئےکہ دنیاوی منفعت ۔ اور مادی فائدہ کے علاوہ تو کوئی فائدہ غین پر ایمان لانے والے مسلمان کی نظر میں ہے نہیں۔ وہ روحانی مذہب کو بھی صرف مادی حد تک مانتا ہے۔ نذر چھکنے میں بڑی عقیدت کا اظہار کرتا ہے۔ نذر کھانے میں سفا ثواب سب ہی کچھ مانتا ہے۔ لیکن روزہ رکھنے میں نہ صرف قانون شکن ہے بلکہ قانون صوم پر بھ پیٹ معترض ہے۔اور قانون شکنی کا پرجوش حامی ہے لیکن جاہل کا جہالت پر مصر رہنا۔ مریض کا بدپرہیزی پر جان دینا بچہ کا ضد کرتے رہنا۔ بری عادتوں کے لتٰیّ افراد کا اپنی عادتوں پر باقی رہنا ہر طرح برا ہے۔ قابل مذمت ہے تو مسلمان کا دین سے جاہل رہنا۔ احکام دین سے اوگروان رہنا۔ بے نمازی کا بےنمازی رہنا ۔ روزہ خوروں کا روزہ خور رہنا۔ مالی واجبات ہڑپ کرنے والوں کا مال خدا اور رسول و امام کو ہڑپ کرتے رہنا بھی ہر طرح برا ہے۔ قابل مذمت ہے ۔ قابل نفرت ہے۔ لہذا تبدیلی آنا چاہئے۔ تبدیلی لانا چاہئے ۔ تبدیلی لانے میں حصہ لینا چاہئے۔
ماہ رمضان رحمت کا مہینہ ہے۔ افطاری و سحری کی رحمت سے رمضان کی رحمتوں کو نہ پئے۔ بلکہ گناہوں کی معافی مل جانا۔ رکی ہوئی دعاؤں کا قبول ہا جانا۔ نفس میں نافرمانی سے نفرت پیدا ہو جانا۔ قلب و دماغ میں خدا کی اطاعت کا مہینہ قرار دیا گیا۔ اب یہ ہماری توفیق پر پر متحصر ہے کہ ہم ان رحمتوں کو حاصل کرتے ہیں یا رمضان میں روزہ نہ رکھنا اپنے لئے عذاب ہی عذاب مول لیتے ہیں۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں ہر وہ دن عید کا دن ہے جو گناہ کے بغیر بسر کیا جائے اور عید تب ہی عید ہے جب ہمارے اعمال کو خدا قبول کرے۔ لیکن اگر اعمال ہی نہ ہوں بلکہ اعمالیوں ہی بداعمالیاں ہوں تو پھر رحمت کے بجائے عذاب ہی عذاب کو ہم سیٹ رہے ہیں۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جس دن نہ ہلے پناہ عذاب ہمارے سامنے آئےگا اس دن ہمارے لئے نہ طاقت برداشت ہوگی نہ جائے پناہ۔ لہذا آج ہی ہماری روش بدل جانا چاہئے۔ رحمت کے دروازے کھلے ہیں۔ تو بہ کریں اور روزے رکھیں۔ استغفار کریں اور اعمال قبول کرائیں۔
ہم خدا کے بندے ہیں اور رمضان خدا کا مہینہ ہے
غیر اسلامی خیالات نے آج مسلمان کے ذہن پر اتنا قبضہ کر لیا ہے کہ ہم دین کو ہلکا سمجھتے ہیں ہم کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم دین ہلکا سمجھتے ہیں۔ چناچہ احکام اسلامی خصوصاً عبادات کا ذکر ہمارے درمیان اس طرح ہوتا ہے کہ جب خدا کا حکم ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہونا چاہئے لہذا اس عبادت کا فائدہ کیا ہے۔ اس حکم خدا کا سبب کیا ہے۔ اس کے بعد ہمارا دوسرا قدم اٹھتا ہے کہ ہم احکام الہیٰ کا فلسفہ بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ نماز کا فلسفہ ۔ روزہ کا فلسفہ حج کا فلسفہ سود ۔ گانا ۔ لہو لعب وغیرہ کے حرام ہونے کے فلسفے۔ وغیرہ وغیرہ۔ بات جب فلسفہ پر آ گئی تو ہر انسان کو بولنے ۔ سوچنے کا موقع مل گیا اور دین کھولنا بن گیا۔ حالانکہ ۹۹ فیصدی صرف احکام بیان ہوتے ہیں اور ایک فیصدی احکام کے اسباب و نتائج بیان ہوئے ہیں۔ جبکہ اسباب و نتائج کی روشنی میں ہی فلسفہ ے اور بغیر اسباب و نتائج کے تذکرہ کے کیاں بیان ہوتے ہیں ساری دنیا کا نظام اسی اصول اور انداز پر ہے ہر معمار۔ ہر بڑھئی۔ ہر مستری ۔ ہر انجینیر ۔ ہر ڈاکٹر ۔ ہر وکیل ۔ ہر منتظم مختصر یہ کہ ہر کام کرنے والا۔ ہر ماہر صرف احکام صادر کرتا ہے کہ یہ لا کر دو۔ اس طرح کرو۔ اس طرح بولو مگر اپنے عمل اور حکم کی وجہ ہر قدم پر بیان نہیں کرتا۔ بلکہ جب کبھی کوئی ایسا مسئلہ آ جاتا ہے کہ وجہ بتلائے بغیر عمل نہ ہوگا یا عملسست ہوگا یا خرابی پیدا ہوگی تو وجہ بیان کی جاتی ہے اور نتائج سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ مذہب بھی اسی اصول پر صرف احکام دیتا ہے اور اپنے ماننے والوں سے یہ امید رکھتا ہے کہ ایمان کی بنیاد پر ان کو حکم دینا کافی ہے۔ اسباب ق نتائج سے آگاہ کرنا نہ ضروری ہے نہ ممکن ہے نہ مناسب ہے۔ البتہ جب ضرورت ہوتی ہے تو اسباب اور نتائج بھی بیان کر دیتا ہے۔ ورنہ ہر عبادت کی بنیاد صرف حکم الہیٰ ہے احکام الہیٰ کے مجموعہ کا نام شریعت ہے۔ ہم جب معاملات میں عمل کی بنیاد صرف حکم خدا کو قرار دیتے ہیں تو وبادات میں بدرجہ اولیٰ پورے عمل کی بنیاد کو صرف حکم خدا ہونا چاہئے مشلاً ہم سودی معاملات نہیں کر سکتے۔ نکاح اور طلاق میں صیغہ کا جاری کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ طلاق میں گواہوں کا ہونا لازم جانتے ہیں۔ بوقت طلاق وعرت کا پاک ہونا ضروری جانتے ہیں۔ جب ان سارے معملات کی وجہ اور بنیاد صرف حکم خدا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، خمس ، جہاد ، امر بالمعروف ، نہی عنالمنکر ، تولا ، تبرا ، اعتکاف ، ومرہ ، قربانی وغیرہ میں ہم وجہ تلاش کریں اور وجہ کی بنیاد عبادت قرار دے کر ایک کرور کی چیز کو ایک کوڑی میں فروخت کر دیں۔ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے سے بڑی کون چیز ہو سکتی ہے۔ ہم اس اس دنیا میں مالداروں ، افسروں ، مزہور افراد ، باثر حضرات علماٗ ، دانشور والدین ، اعزپ ، احباب ، پڑوسی حتیٰ کہ اپنے ملازم اور نوکر کی خوشنودی کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جس کی جیسی حیشیت ہوتی ہے اتنی اہمیت اس کی خوشنودی حاصل کرنے کو دیتے ہیں تو پھر خدا جو سب سے بڑا ہے اس کی خوشنودی حاصل کرنے کو ساری دنیا کے کاموں میں سب سے زیادہ اپہم کیوں نہ قرار دیں جبکہ خدا کے بعد جتنے بڑے ہیں نبی ۔ امام سب کی خوشنودی بھی خدا کی خوشنودی کے حاصل ہونے کے بعد ہی حاصل ہو سکتی ہے۔
لہذا عبادت کی وجہ صرف حکم خدا ہونا چاہئے اور عبادت کی انجام دہی صرف خوشنودی خدا حاصل کرنے کے لئے ہونا چاہئے۔ جب کہ یہ خوشنودی نور بالائے نور اور خوشنودی بالائے خوشنودی بھی ہے۔ کہ خدا خوش تو نبی و امام سب خوش ورنہ سب ناراض۔ ایسی صورت میں مشلاً نماز صبح جلد اٹھنے اور سہانے موسم سے لطف اندرونی کے لئے پڑھنا اور روزہ درستی صحت کے لئے رکھنا کروروں کی چیز رکو کوڑیوں کے کے مول کر دینا نہیں ہے تو پھر کیا ہے ؟ ایک کرور کی کرنسی کے ساتھ اگر ایک کوڑی بھی ہم رکھدیں تو اس نازیبا حرکت کو عقل اپنی توہین قرار دیگی۔ اسی بنا پر اگر عبادت میں خوشنودی خدا کے ساتھ کوئی دوسری نیت و جزبہ و خیال و احساس شامل ہو جائے تو خدا ایسی عبادت کو واپس کر دیتا ہے اور ہر گز قبول نہیں کرتا ہے۔
ہم صرف خدا کے بندے ہیں۔ اس کے علاوہ نہ کسی نے ہم کو عقل دی ہے نہ حیات۔ نہ احساس دیے ہیں نہ جزبات، نہ آج خدا کے علاوہ کوئی روزی دیتا ہے ن کل اس کے علاوہ کسی کے قبضہ میں موت ہوگی۔ہماری حاضری بھی اسی کے سامنے ہوگی اس وقت صرف اس کی خوشنودی ہمارے کام آئےگی نہ کوئی فلسفہ کام دےگا نہ کسی کی عقل۔ نہ کسی کی تقریر و نکتہ آفترنی نہ کسی کی تحریر اور علمی موشگانی۔ نہ کسی کا شعت کام آئےگا نہ کسی کا ادبی شہپارہ۔ بلکہ ان سب کی حالت عام لوگوں سے بھی بدتر ہوگی۔ لہذا ہر حکم خدا کی تعمیل کیجئے۔ واجب کو ادا کیجئے حرام سے بشیئے مستحب ہو تو شوق ادائگی پیدا کیجئے۔ مکرہ ہو تو احساس کراہت تازہ دم رکھئے۔ ماہ مبارک آ گیا ہے جو کچھ بن سکے اس ماہ میں کر ڈالئے جو کچھ حاصل کر سکتے ہیں اس سے غفلت نہ برتئے۔ روزہدار کی نیند عبادت ہے۔ خاموشی تسبیح ہے۔ اس ماہ میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ ہر عمل کا ظواب کئی گنا ملتا ہے۔یہ مہینہ صبر کی مشق کراتا ہے۔ امیر کو غریب کے دکھ کا احساس دلاتا ہے۔ مومنین میں قوت ایثار کو ابھارتا ہے اس مہینہ میں روزی زیاد کی جاتی ہے مگر صرف مومنین کی روزی نہ کہ بد عقیدہ و بد عمل افراد کی روزی اس ماہ میں ۳/ تاریخ کو مصحف ابراہیم ۔ ۶/ کو توریت ۔ ۱۳ / کو انجیل ۔ ۱۸/ کئ زبور اور شب قدر میں قرآن مجید نازل ہوا ہے۔ اس ماہ کے پہلے دس دن رحمت کے ہیں ورآن مجید نازل ہوا ہے۔ اس ماہ کے پہلے دس رحمت کے ہین۔ دوسرے دس دن مغفرت کے ہیں اور آخری دس دن دعاؤں کے قبول ہونے کے ہیں اور دوزخ کے نجات حاصل کرنے کا زمانہ ہیں۔
اوپر لکھی تمام باتیں ارشاد رسول و ائمہ علیہم السلام کے مطابق لکھی گئی ہیں تاکہ اس ماہ میں جم کر عبادت کرنے ۔ ثواب لوٹنے ، دوزخ سے نجات حاصل کرنے اور دعاؤں کو قبول کرانے کا جزبہ ہر روزہ کے ساتھ بڑھتا جائے۔
محرم آ رہا ہے
ہمارے سماج کی پریشانیوں مین سے ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ محرم آ رہا ہے۔ بلکہ عورتیں رجب کے مہینہ سے ٹھنڈی سانس لے کر یہ کہنا شروع کر دیتی ہیں کہ بس اب محرم ہی خرچ کا زمانہ آ رہا ہے رجب میں کونڈے کرنا ہیں۔ شعبان میں شبرات کرنا ہے۔رمضان میں افطاری سحری کا انتظام کرنا ہے اگر بے روزہ گھرانہ ہے تو اُسے افطاری ، سحری کی فکر نہ سہی مگر عید کی فکر تو بہرحال ہوتی ہے۔ اور وہ فکر عید میں روزہ داروں سے زیادہ رمضان میں ڈبلے ہو جاتے ہیں۔ اللہ اللہ کر کے رمضان ختم ہوا عید میں بچوں کے کپڑے سینے کے انتظام سے چھٹی ملی تو فطرہ کی فکر کھائے جاتی ہے۔ فطرہ ہی وہ خوش نصیب دینی حکم ہے جس پر زیادہ سے زیادہ مومنین عمل کرتے ہیں۔ کیونکہ ثواب کے علاوہ فطرہ جان کی حفاظت کرتا ہے۔ اور عہد حاضر کا مومن دین کو بھی دنیا کے لئے مانتا ہے۔ جب چاہے تجرببہ کر لیجئے دس نمازیں ، بیس دعائیں ، تیس سورے نبتائے جن کے ذریعہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔ ایک مومن بھی آپ سے پوچھنے نہ آئےگا۔ کہ کیا بیان کیا تھا۔ لیکن اگر بیان کیجئے کہ نماز عشاٗ کے بعد پابندی سے سورہ واقعہ پڑھنے والے کو روزی کی تنگی کبھی نہ ہوگی تو مرد تو مرد عورتیں بچوں کو بھیج کر پوچھیںگی۔ کہ اس سورہ کا نام لکھوا لاؤ۔ کس پارہ میں ہے ؟ یہ بھی پوچھ لینا ۔ ہم آپ کو بغیر پوچھے بتائے دیتے ہیں ستائنسیوں پارہ میں ہے۔ پڑھ کر دیکھئے انشاٗ اللہ روزی کی پریشانی نہ ہوگی۔ اگر چہ فطرہ کو محافظ جان ہونے کی وجہ سے مقبولیت حاصل ہے۔ مگر پھر بھی فطرہ اللہ کی راہ میں نکالنا ہے۔ لہذا مومنین کی سالانہ حساب فہمی کا قومی مظاہر فطرہ کی قیمت طے کرتے ہیں ہوتا ہے۔ فطرہ میں تین کلو گیہوں یا جو دینا ہیں۔ جو گیہوں یا جو نہ دیں سکے وہ اتنی قیمت دے جتنے قطرہ پانے والا ۳ کلو گیہوں یا جو خرید سکے۔ فطرہ پانے والا بازار سے خریدے گا۔ فطرہ لگانے والا سرکاری غلہّ کی دوکان کا نرخ لگائے بیٹھا ہے۔ فطرہ لینے والے کو آج خریدنا ہے جبکہ غلہّ مہنگا ہو چکا ہے مگر دینے والے نے چونکہ فصل پر سستا خریدا تھا لہذا وہ اسی بھاؤ سے قیمت لگانا چاہتے ہیں۔ سو کا سیدھا جواب یہ ہے کہ گیہوں یا جو دی دیجئے۔ قیمت کے چکر میں نہ پڑیے۔ مگر ماہرین حساب جمع ہوتے ہیں۔ ایک کہتا ہے ۵/ روپیہ ۱۳ پیسے ہوتے ہیں۔ دوسرا کہتا ہے ۵ روپیہ ۱۱ پیسے ہوتے ہیں۔ ۲۲ رمضان سے بحث شروع ہوتی ہے۔ عید گزر جاتی ہے مگر حسابی مہارت کا لوہا منوانے والے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ سوچیئے اگر دو نئے پیسے خدا کی راہ میں زیادہ ہی چلے گئے تو کیا حرج ہے۔
مگر ریٹائرڈ اکاؤنٹینٹ مصر ہیں کہ نہیں حساب حساب ہوتا ہے جو۔ جو جو ہوتا ہے۔ بخشش کی بات الگ ہے۔ وہ سو سو ہو سکتی ہے۔ مگر کوئی ان سے پوچھے۔ آپ اپنے لئے کیا پسند کرتے ہیں خدا جو جو کا حساب لے یا سو سو کی بخشش کرے۔ جو اپنے لئے پسند کیجئے وہی رو راہ خدا کے لئے اختیار کیجئے۔ مگر ہماری بدنصیبی یہی ہے کہ عید کے لئے کپڑے جوتے ، سوئیاں کوشش کر کے اچھی خریدیں گے کہ جب لینا ہی ہے تو اچھی چیز لو۔ کچھ پیسے زیادہ لگ جائیں تو بھلے لگ جائیں مگر چیز تو ڈھنگ کی ہو۔ مگر فطرہ کے ذریعہ ڈھنگ کا ثواب لینے کی فکر کسی کو نہیں فطرہ اس طرح خریدتے ہیں جیسے جنت بس یہی سامان عید ہے۔ فطرہ نکال کر ایک مہینہ خالی بیٹھیے۔ کیونکہ خالی کا مہینہ آ گیا ۔ ہمارے معاشرہ میں خالی کے مہینہ کا بڑا چرچا ہے۔ اس میں کوئی خوشی کا کام ہم نہیں کر سکتے اگرچہ خدا نے آٹھویں امام کو اسی مہینہ میں پیدا کیا ہے۔ ہمارے گھروں میں خالی کے مہینہ میں بچے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ پیدائش پر ہمارا اختیار نہیں ہے۔ ویسے تاریخ پیدائش تو ہمیشہ ہمارے اختیار میں رہتی ہے۔ خالی میں پیدا ہونے والا بچہ منحوس نہیں ہے۔ ۱۱/ ذیقعدہ کو امام رضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔ بڑی خوشی کی تاریخ ہے۔ مگر یہ اللہ کے کام میں وہ خالی کے مہینہ میں کے مہینہ میں جو چاہے کر دالے مگر ہم بندے اس منحوس مہینہ میں کوئی کوشی کا کام کوئی شادی نیا کام نہیں کر سکتے۔ خالی کا مہینہ ان ہی لوگوں کے لئے منحوس ہے جن کے لئے خالق کا مہینہ (رمضان) مبارک نہیں۔ ورنہ ہر دن کا مالک خدا ہے جن دنوں کو اس نے نحس بنا دیا ہے۔ اُن کے علاوہ کسی دن یا مہینہ کو منحوس کہنے کا ہمیں کیا حق۔ مگر ہمارے سماج کا ایک جواب ہے جس کا کوئی جواب نہیں کہ سب ٹھیک ہے۔ مگر ہمارا دل نہیں بھرتا ہمیں شک آتا ہے۔ ہمارے یہاں اس مہینے میں خوشی کا کام نہیں ہوتا۔ اس " ہم " کا علاج خدا کے پاس ہے مگر اس نے علاج کا ایک دن معین کر دیا ہے۔ مگر اس دن کے بعد نہدوا ہے نہ غذا بس سزا ہی سزا ہے۔
ذیقعدہ کو خالی کا لقب عورتوں نے دیا ہے اور سماج کا پارلمینٹ اسمبلی کو نسل سب عقرتیں ہیں جو کچھ یہ پاس کر دیں وہی قانون ہے۔ ان کے قانون کو کوئی چیلینج نہیں کر سکتا ۔ جو چیلینج کرے وہ پہلے گھ سے پھر خاندان سے پھر سماج سے نکال باہر کیا جائےگا۔۔ ایسے میں کون نکوّ بنے۔ جس طرح انگوٹھا چھاپ منسٹر پڑھے لکھوں پر حکومت جھاڑتے ہیں اسی طرح عورتوں کے ذریعہ جاہلانہ رسوم، جاہلانہ شکوک ، جاہلانہ عقیدے ، جاہلانہ مصارف جاہلانہ عقیدتوں کی گرفت سماج پر مضبوط ہے۔
آئے خالی کی خالی خولی بحث سے آگے بڑھیں خالی کے بعد بقرعید کا مہینہ آ گیا بکرے کی یا قربانی کے حصہ کی فکر سب کو ہے کیونکہ قربانی سماج میں رائج ہے۔ اگرچہ مذہب میں سنت ہے۔ مگر سماج میں واجب ہے۔ مذہب کا واجب چھوڑا جا سکتا ہے مگر سماج کا مستحب چھوڑنا بھی ناممکن ہے۔ مذہب کے حرام کا اترکاب بے خوف اور بغیر کسی جھجھک کے زندگی بھر کیا جا سکتا ہے۔ مگر سماج کے مکروہ کے بجا لانے کی ہمت کسی میں نہیں۔ نماز ، روز ، حج ، زکوٰۃ ، خمس سب چھوٹ سکتے ہیں۔ روپیہ نہ ہو تو اس کو حاصل کرنے کے لئے چوری ، رشوت ، جھوٹ ، جیل سب ممکن ہے مگر باراتیوں کو بڑا کوشت کیسے کھلایا جا جا سکتا ہے۔ ناک گٹ جائے گی۔ لوگ تھو تھو کریںگے لڑکی کا معاملہ ہے جیسے بھی ہو کرنا ہے۔ ہاں اللہ کا معاملہ ہو تو دیکھ جائےگا۔ کون ابھی قیامت آئی جاتی ہے۔ اللہ معاف کر دےگا مگر بندے نہیں معاف کریںگے لہذا سماج کے احکام کی تعمیل کرو اور خدا کے احکام کی توہین کرو، ہنسی اُڑاؤ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے مسائل کا حل سماج کے احکام کی تعمیل مٰیں نہیں ہے۔
بقرعید عید سے ہلکی ہوتی ہے نئے کے بجائے دُھلے کپڑوں میں کام چل جانا ہے۔ البتہ بقرعید کے بعد ہی پورے سماج پر " محرم آ رہا ہے " کی بےچینی چھا جاتی ہے۔ کسی کو امامباڑہ کی پتائی کی فکر ہے۔ کسی کو پرانے پنجے اور پٹکے بدلوانے کی فکر ہے۔ کوئی ضریح کے لئے پریشان ہے کوئی سر پکڑے بیٹھا ہے کہ خاندانی عزاداری کا خرچ کیسے پورا کیا جائے کوئی سالانہ مجلس کے ل ۴ ے فکر مند ہے۔ کسی کو شب بیداری کی فکر ہے۔ کسی کو سبیل کی فکر ہے۔ کسی کو ۸/ محرم کی نذر کی فکر ہے۔ کسی کو اپنی انجمن کی فکر ہے۔ کسی کو اپنے ذاکر کی فکر ہے اور ذاکروں کو اپنے عشروں کی فکر ہے۔ محرم میں حلوائی سے لےکر ذاکروں تک سب کو کمانے کی فکر ہوتی ہے اور امیر عزاداروں سے لے کر غریب عزاداروں تک سب کو خرچ کی فکر ہے وہ فکر مند ہیں۔ کمانے میں کمی نہ رہ جائے۔ یہ فکر مند ہیں کہ خرچ میں ایسی کمی نہ رہ جائے کہ عورتوں کو شک آ جائے یا سماج انگلی اٹھائے۔
مگر جس کے دم سے محرم ہے اس ضسیں ۶ کے مقصد شہادت کی کسی کو فکر نہیں ہے۔ ورنہ ہم صرف عزادار یا ذاکر نہ ہوتے بلکہ خود بھی دیندار ہوتے اور محرم میں دیندار بنانے کی مہم بھی چلاتے۔ کل حسین شہید ہوئے تھے مگر دشمنوں کے ہاتھوں ۔ آج مقصد حسین شہید ہو رہا ہے عزاداروں کے ہاتھوں۔ یعنی محرم آ رہا ہے اور حسین جا رہے ہیں ۔ ہے کوئی جو حسین سے رکنے کی درخواست کرے۔
دماغ کا سوئچ آن رکھئے
نظر دیکھنے پر اور دماغ سوچنے پر مجبور ہے۔ اسلام نے دونوں باتوں کی دوعت دی ہے قرآن مجید میں یہ حکم بھی موجود ہے کہ دنیا میں گھومو، زمین کے چکر لگاؤ ، سفر کرو چلو پھرو تاکہ نظر کو دیکھنے کا سامان ملے۔ اور اس بات کی بھی شدید تاکید ہے کہ اپنی ذات سے لے کر کائنات کی ہر سرحد تک جو دیکھو اس پر غور کرو البتہ نظر ہونا یا فکر۔ آنکھ ہو یا دماغ دونوں کو پابند کیا گیا ہے نہ برائی دیکھو نہ سنو نہ سوچو۔
مولائے کائنات حضرت امیر االمومنین علی علیہ السلام کچھ ہمراہیوں کے ساتھ اس جگہ سے گزرے جہاں غلاظت غھیر تھی۔ آپ نے فرمایا شوقین لوگ جن چیزوں پر بڑھ چڑھ کر ہاتھ مار رہے تھے یہ وہی چیزیں ہیں ان کا آخری انجام دیکھو۔ اگر یہ انجام یاد رہے تو آغاز میں بھی ہاتھ مارنے کے بجائے انسان کنارہ کشی ہونے کو بہتر قرار دے۔
اسی طرح مولی علی نے ایک بار فرمایا کہ آدمی کس بات پر گھمنڈ کرتا ہے ابتدا میں ایک نجس قطرہ ہوتا ہے۔ انتہا میں نجس مردہ ہوتا ہے اور ساری زندگی نجاستوں اور غلاظتوں کو اپنے اندر بھے پھرتا ہے اپنے انجام و آغاز کو دیکھ کر آدمی کو اپنے حقیر ہونے کا احساس ہونا چاہئے نہ کہ غرور کا۔
مولی نے انداز فکر کی جو رہبری فرمائی ہے اس کے نمونہ آپ نے بھی پڑھے۔ اسی انداز فکر کی قیامت میں چند مناظر اور کچھ سین ہماری نظروں سے بھی گزرے اور ہم بھی سوچنے پر مجبور ہوئے۔ جی چاہا کہ جو نظر نے دیکھا آپ کو بھی اس کا نظارہ کرا دیں اور جو دماغ نے سوچا آپ کو بھی اپنی سوچ میں شریک کر لیں۔ شاید کبھی آپ بھی ہم کو اپنی دعائین شریک کع لیں۔
میرا رخ پورپ کی طرف تھا۔ داہنے ہاتھ پر وسیع وعریض شاہی مسجد تھی الہیٰ سمجد نہ تھی لہذا سیاح تو دیکھنے ؤتے ہیں مگر نمازی نہیں آتے تھے اور اگر کوئی آیا بھی تو اونٹ کے منھ میں زیرہ کہاں دکھائی دیتا ہے۔ بائیں ہاتھ پر ایک گندہ نالہ بہہ رہا تھا جو معلوم نہیں کب سے بہہ رہا تھا اور کہاں کہاں سے اور کیسی کیسی اور کس کی کس کی گندگیاں جمع کرتا ہوا بہہ رہا تھا میرے سامنے کی چعف سے کھلے میدان میں صاف ستھرے ۔ اسکولی ڈریس میں آ راستہ پیراستہ ، چاق و چو بند م ہنستے کھیلتے مگر اپنی تعلیم و ترقی کے لئے فکر مند کڑکوں اور کڑکیوں کے گروپ گزر رہے تھے۔ اسی وقت میری نظر اس چھوٹے سے پل پر پڑی جو گندے نالے پر بنا تھا۔ ایک شخص ایک لڑکے کو مارتا ہوا پل کے ذریعہ نالہ کے اس پار لے لے جا رہا تھا۔ مار جاری تھی کوئی بچانے والا نہ تھا۔ میں چلتے چلتے رک گیا کیونکہ یہ سوچ کر میری سانس رک گئی تھی کہ اسی طرح کل میدان محشر میں جب پابند دین افراد اپنے صاف ستھرے اعمال کے ساتھ جنت کی طعف ہنسی خوشی جا رہے ہوں گے تو دین سے جاہل اور غافل رہنے والوں کو ملائکہ مارتے ہوئے دوزخ کی طرف لے جا رہے ہوں اور اس دن نہ کوئی بچانے والا ہوگا اور نہ بولنے والا ہوگا۔ میں نے ایک بار پھر نظر بھر کر اسکول جانے والے گروپوں کو دیکھا اور یہ طے کر کے زندگی کی ڈگ پر چل پڑا کہ چاہے جو ہو جائے مگر دین کو پڑھیں گے اور پڑھائیںگے۔ دیندار بنیں گےاور دیندار بنائیںگے اور اللہ نے چاہا تو جنت جائیں گے اور جنت میں لے جائیںگے۔ میں چلتا رہا میری نظر اگرچہ دنیا میں گردش کر رہی تھی مگر میرا دماغ دنیا کے اس پات آکرت کو دیکھ رہا تھا۔
سفر جاری تھا۔ قدم ، نظر ، دماغ سب اپنے اپنے سفر میں مصروف تھے کہ ایک لمبی چڑھائی آ گئی۔ جتنا چڑھتے گئے سانس بھی چڑھتی گئی۔ ابھی آسھی چڑھائی یعنی مشکل چڑھائی باقی تھی۔ پلٹ کر دیکھا تو کچھ لوگ ہم سے بھی پیچھے رہ گئے تھے اور سامنے دیکھا تو کچھ ہم سے بھی آگے نکل گئے تھے حالانکہ سب ایک ساتھ چلے تھے۔ وجہ صاف تھی جو ہلکے پھلکے تھے اور جن کا سامان کم تھا وہ آگے تھے اور جو بھاری بھکم تھے اور سامان بھی بوجھل لادے تھے وہ پیچھے تھے۔ أج تو میدان محشر دماغ سے چپک کر رہ گیا تھا۔ سوچنے لگے کل یہی حال قیامت کے دن بھی ہوگا۔ قناعت کرنے والے اور ہلکی خواہشات رکھنے والے آگے نکل جائیںگے اللہ کے حضور میں حاضر ہو جائیںگے پروانہ پائیںگے اور جنت میں پاؤں پساریں گے۔ اور اوڑھنا بچھونا بس لالچ ، خواہش ، تمنا ، آرزو تھی دنیا کی یہ بھاری بھکم ہستیاں گناہوں کا بے حساب بوجھ لادے ہوںگی ان کا اٹھنا اور کھڑا ہونا مشکل ہوگا چلنا تو بڑی بات یہ خانہ سکیں گے بلکہ لے جائے جائیںگے خدا کے سامنے پیش ہوںگے مگر دنیا کت کشیر حلال کا دیر تک حساب دیںگے اور دنیا کے ھرام کے ڈھیروں کے عذاب ان کے سامنے ہوںگے جن میں جھونک دیے جائیںگے۔ یہ سوچ کر میں اس طرح لرزا کہ میرا وجود لرز گیا اور طے کیا کہ سمجھیںگے اور سمجھائیںگے اور قناعت کو اپنائین گے ورنہ۔۔۔
چڑھائی طے ہونے کے قریب تھی کہ ایک آدمی دیکھا جوتا ہاتھ میں لئے ہے اور ننگے پیر چل رہا ہے۔ موسم کی شدت نے پیروں کا بڑا حال کر دیا ہے۔ لنگڑا نہیں ہے مگر لنگڑا رہا ہے۔ چل رہا ہے مگر اچھلتا دکھائی دے رہا ہے ، قدم رکھتا ہے مگر قدم ٹکتا نہیں ہے۔ ہم سے اس کا حال زار دیکھا نہ گیا۔ لپکے ، قریب پہونچے کہا بھائی جوتہ موجود ہے اور تم پیروں کا بھرتا بنا رہے ہو۔ بولے ۔ دوکان پر سچا تھا۔ اسے دیکھا اور دیکھتے ہی جی لوٹ پوٹ ہو گیا زیادہ قیمت دی۔ خوشامد الگ کی۔ اس نے دام بھی لئے۔ احسان بھی رکھا۔ ہم خوشی خوشی گھر لے آئے۔ آج پہن کر نکلے کہ اپنی شان خود بھی دیکھیں گے اور دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ دل کو یہی یقین تھا کہ ہر قدم شاندار ہوگا۔ اشتہار میں بھی یہی پڑھا تھا مگر تھوڑی دور چلے تھے کہ چھالے پڑ گئے پہن تو لیا تھا مگر اتازنا مشکل ہو گیا۔ پہننے میں انگلی چچی ہوئی تھی۔ اتارنے میں پیرز خمی ہو گیا۔ گوشت سے ناخن جدا ہو گیا۔ اب نہ پہن سکتے ہیں ۔ پھینک سکتے ہیں جس حال میں ہیں تم خود دیکھ رہے ہو۔ حد ہے کہ اجنبی ہو مگر ہمارے لئے رو رہے ہو۔ جوڑا بڑا خوبصورت تھا مگر بے جو نکلا۔ وہ آپ بیتی سنا کر پھر چل پڑا اور مجھے اپنے پڑوسی یاد آئے جو خوبصورتی ، جہیز ، بڑا گھر دیکھ کر اگر اس نے جوتے اور پیر دونوں کو دیکھ لیا ہو تو آرام سے چلتا۔ انھوں نے بھی اگر دینداری کی بنیاد پر شادی کی ہوتی تو خوف خدا دونوں کو ہر تکلیف و اذیت سے محفوظ رکھتا۔
میرا دماغ ابھی ہچکولے کھا رہا تھا کہ کان میں ایک چیخ سنائی دی " ہائے مر گئے " پلٹ کر دیکھا تو ایک صاحب اپنا سر مع ناک کے پکڑے بیٹھے تھے اور دوسرا اپنے جوتے میں سے اٹھا کر پھر اپنی لاٹھی میں لٹکا کر اور لاٹھی کندھے پر رکھ کر روانہ ہونے والا تھا۔ پہلے ہم ہائے مر گئے طرف متوجہ ہوئے کہ آپ زندگی میں کیوں مر گئے انھوں نے کہا یہ دیہاتی اپنی لاٹھی اس ندھے سے اس کندھے پر رکھ رہا تھا کہ لاٹھی نے پوری وقت سے میرے سر پر سے سفر کیا۔ مزید برآں یہ کہ اس کے نعلدار وزنی جوتوں نے عینک اور ناک دونوں کو توڑ دیا۔ سر کی چوٹ عینک کا نقصان تو برداشت کر سکتا ہے مگر ناک کی چوٹ کون برداشت کر سکتا ہے لہذا ہم تو زندگی ہی میں مر گئے۔
ہم دیہاتی کی طرف لیکے کہ گاؤں کی لاٹھی کا شہر کی گنجان آبادی میں کیا کام ہے پھر جو ہاتھ میں رہنے والی چیز ہے اس کا کندھے پر کیا کام پھر لاٹھی بھی کوئی جنازہ ے کہ کاندھا بدلا جائے۔ اس نے ہم کو گھور کر دیکھا اور ہم کو عالم تصور میں لاٹھی اپنے سر پر سے سفر کرتی ہوئی محسوس ہوئی پھر بھی ہم نے پوچھ لیا کہ اور یہ بھی بتاؤ کہ جوتے پہننے کے ل ۴ ے ہوتے ہیں کہ لٹکانے کے لئے۔ اس نے بار دیگر گھورا اور گرجا قانون رکھو تم اپنے شہر میں۔ ہم ؔزاد لوگ ہیں چاہے کسی کا سر ہھوٹے کہ اگر یہ آزادی ہے تو پھر آوارگی اور درندگی کیا ہوگی کہ اس نے جوتا لٹکانے کا فلسفہ بھی بیان کیا کہ یہ جوتے داد کے ہیں اور ہمارا پوتا پہنےگا۔ مالک نے پیر دیے اور داد نا ے جوتے اور یہ کہہ دیے کہ چمری جائے تو جائے مگر دمڑی نہ جائے اور واقعی چمڑی جا چکی تھی۔ اسی سڑک پر ایک کے پیروں کا بھرتہ بن گیا تھا اور دوسرے کی کھال مردہ ہو چکی تھی۔ اس نے پھر تیسری مرتبہ دیکھا۔ اس مرتبہ اس کی نگاہ کہہ رہی تھجی کہ جاتے ہو کہ دوں ہاتھ اور فوراً ہماری سمجھ میں دے ہاتھ کا معنی سمجھ میں آ گئے۔
اسی طرح سوچ بچا ر میں سفر طے ہو گیا ہمارے ایک امیر عزیز ہوائی جہاز سے آئے تھے۔ ہم ان سے ملنے آئے تھے مگر ان کو دیکھ سکے نہ مل سکے کیانکہ وہ بری طرح سردی میں جکڑے تھے اور ایک پل کے لئے بھی ان کی کھانسی نہیں رکتی تھی۔ ہر کھانسی پر کلیجہ پکڑ لیتے تھے۔ سب کھڑے تھے اور یہ پڑے تھے سب دیکھ سکتے تھے مگر کوئی مل نہیں سکتا تھا۔ حال پوچھا معلوم ہوا ایک بریف کیس لئے ہوئے کناڈا سے چلے ہوائی جہاز میں اُڑے۔ مزے اڑاتے دہلی آ گئے۔ وہاں سے ٹرین سے چلے۔ برفباری ہو چکی تھی۔ بریف کیس میں لاکھوں تھے مگر کام نہ آئے۔ ہم دیدار کر کے پلٹے۔ مگر ہمارا دماغ وہیں رہ گیا بلکہ ایک چھلانک میں پھر آخرت پہونچ گیا کہ جو دولت والے بغیر پکے ایمان اور سچے اور اچھے اعمال کے محشر پہونچیں گے وہ اسی طرح تڑپیں گے اور کوئی کام نہ آئےگا۔
آخرت کے بار بار تصور نے حافظہ کا ڈھکنا اٹھا دیا تھا اور اپنے کئے ہوئے نےشمار گناہ یاد آ رہے تھے۔ ہم جہاں سے آئے تھے وہاں واپس جا رہے تھے مگر گناہوں کی سیریز کو حافظہ اگل رہا تھا اور ہمارے ہاتھ پیروں کی طات جواب دے چکی تھی۔ ہم میں واپس جانے کی طاقت بھی نہ تھی۔ اسی عالم مجبوری میں دیکھا کہ ایک شریر بچے کو اس کی ماں مار رہی تھی۔ بچہ تڑپتا تھا روتا تھا مگر ماں ہی سے لپٹ جاتا تھا۔ آخر ماں نے کلیجہ سے لگا لیا بچے کے انسو پوچھے اور کہا آئندہ شرارت نہ کرتا۔ بچہ ماں کے کلیجے ے لگا تھا مگر اب اس کا دل دھک دھک نہیں کر رہا تھا۔ اس منظر کو دیکھ کر خیال آیا کہ جب ماں اتنی رحم دل ہوتی ہے تو رحمٰن و رحیم خالق اور کریم مالک کتنا مہربانی ہوگا مگر پھر بھی بری طرح ڈرے مگر خدا سے روئے مگر خدا کے سامنے اور خدا ہی کے نام پر چودہ معصوموں کو مدد کے لئے پکارا کہ ہماری توبہ قبول کرا دیں۔ بس توبہ کا تصور آتے ہی دل کی دھک دھک ختم ہو گئی اور ہم تیزی سے جہاں سے آئے تھے وہاں دوبارہ حاضر ہونے کے لئے روانہ ہو گئے۔
آئیے خواب دیکھیں مگر۔
خواب ہم روزہ دیکھتے ہیں۔ مگر خواب کی حقیقیت ہم کو نہیں معلوم۔ اپنی ہی حقیقت سے بےخبر ہونے کے بعد بھی ہمارا اپنے بارے میں یہی خیال ہے کہ ہم نے زیادہ باخیر پیدا ہی نہیں ہوا۔ یہ دو منزلہ جہالت ہے جس کو علماٗ لوگ جہل مرکب کہتے ہیں۔ خیر
ہم خواب روز دیکھتے ہیں مگر ہمارے اکثر خواب جھوٹے ہوتے ہیں جو ہمارے معدہ کی پیداوار ہوتے ہیں۔ معدہ ٹھیک ہوتا ہے تو اچھے اچھے خواب نظر آتے ہیں اور معدہ چوپٹ ہوتا ہے تو ڈروؤنے خواب ہم کو کئے کئے دن تک طوپٹ رکھتے ہیں ڈراؤنے خواب کے ڈر کو باقی رکھنا بھی چوپٹ معدہ کا کام ہوتا ہے چوپٹ معدہ اپنے کو خود جتنا چوپٹ رکھتا ہے۔ اپنی اس ڈیوٹی ( ڈر باقی رکھنے میں) اتنا ہی چوکس رہتا ہے۔ اور اس کی چوکسی ہم کو خواب کی تعبیر پوچھنے پر مجبور کرتی ہے۔ ملاجی ، مولوی صاحب عامل صاحب پنڈت جی کے پاس ہم کو ہمارا یہ معدہ لے جاتا ہے۔ ان کو اپنے خوابوں کی تعبیر نہیں معلوم تو وہ ہمارے خواب کی تعبیر کیا بتلائیں گے۔ مگر معدہ کی بھی ایک برادری ہے اور برادری کا خیال برادری والا نہ کرےگا تو کون کرےگا۔
ملا ، مولوی ، عامل ، پنڈت سب کے معدے خالی پڑے تھے۔ ہمارا چوپٹ معدہ ہم کو ان کے پاس لے گیا۔ انھوں نے علم یا عقل کے مطابق نہیں کیونکہ علم و عقل ان کے پاس ہوتے ہی کب ہی البتہ اپنے خالی معدوں کے مطابق تعبیر بتلا دی۔ خواب نے تو چوپٹ کیا ہی تھا کہ ہم بوکھلائے ہوئے بلکہ بولائے ہوئے تعبیر پوچھتے پھر رہے تھے۔ تعبیر نے اور بھی چوپٹ کیا۔ عقل تو ماری ہی گئی تھی۔ دولت بھی ماری گئی۔ کسی کو پیسہ دیا۔ کسی کو مرغا دیا۔ کسی کو لوبان اور زعفران دیا۔ کسی کو گپ رقم دی تاکہ جو بلا آنے والی ہے وہ دفع ہو جائے۔ غرضکہ ہمارے چوپٹ معدہ نے اپنی برادری کی مدد کی۔ خالی معدے بھ گئے بلکہ اتنے بھرے کہ وہ بھی چوپٹ ہو گئے۔ اور برادری تب مکمل ہوئی جب ملا۔ مولوی ۔ عالم ۔ پنڈت کو بھی ڈراؤنے خواب نظر آنے لگے۔ یہ ہے خوابوؓ کا چکر۔ یہ چکر صرف اردو کا چکر نہیں ہے کہ سر چکرانے پر ختم ہو جائے بلکہ علماٗ لوگ اسے دور کہتے ہیں اور ایجوکیٹڈ لوگ اسے سر کل کہتے ہیں۔ غرض کہ خوابوں کا یہ دور تسلسل کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ حتی کہ تعبیر کے نام پر لوٹنے والے ملا۔ مولوی عالم پنڈت کو خواب میں تعبیر پوچھنے والے ان کا گلا گھوٹتے دیکھائی دیتے ہیں۔
البتہ کوئی خواب سچا بھی ہوتا ہے۔ مگر ہم جب خواب دیکھتے ہین تو اس وقت ہم کو اس کی سچائی کا علم نہیں ہوتا اور جب وہ سچا ثابت ہوتا ہے تو ہم کچھ کرنے سے مجبور ہوے ہیں۔ یہ ہے خوابوں کی وہ مجبوری۔ جس کو اگر ہم اپنی گرہ میں باندھ لیں تو پہلے اپنے معدے سے جھٹک دیں اور اپنے کاموں میں مصروف ہو جائیں۔ لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ ٓبح کی نماز کے وقت خواب دیکھا ہے لہذا ضرور سچا ہوگا مگر خواب تو سچا نہ ہوگا البتہ یہ بات ضرور سچی ہو جائےگی کہ ہم نماز کے وقت بھی نماز صبح پڑھنے کے بجائے خواب ہی دیکھتے ہیں۔ کیونکہ دین ایک خواب ہے جو ہم نے ماں کی گود میں دیکھا تھا۔ دین کی باتیں ہمیں بھولی بھولی خواب کی طرح یاد آ جاتی ہیں۔ لیکن دین ہمارے خیال میں نہیں ہے۔ اور ہمارا خیال اتنا بڑا بھی نہیں ہے کہ اس میں دین اور دنیا دونوں کو جگہ مل سکے۔ دنیا کی اس مختصر زندگی میں ہم دین کا خیال بھلا کہاں کر سکتے ہیں۔ البتہ قبر میں ہزاروں سال سونا ہوگا دین کے خواب وہاں دیکھ لیں گے مگر سنا ہے کہ جو دنیا میں دین کا خیال نہیں کرتا ہے ۔ ملائکہ اسے قبر میں پہلے ہی دن گرز مار کر قیامت تک کے لئے اس کی قبر کو آگ سے بھر دیتے ہیں پھر قیامت کے دن قبر نکال کر دوزخ میں ٹھونس دیتے ہیں لہذا اچھا تو یہی ہے بلکہ ضروری ہے بلکہ ضروری سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ قبر میں چین سے سونے کے ل ۴ ے اور جنت میں اڈمشن ملنے کے لئے دنیا میں پہلے دین کا خیال کریں۔ تو خدا ہماری دنیا کا بھی خیال کرےگا اور دین کا بھی۔ مگر بس بات دل کو قابو میں رکھنے کی ہے۔ اور یہ کام کچھ مشکل بھی نہیں۔ البتہ اپنے کو دل کے ہاتھوں میں دینے کے بجائے دل کو ہاتھ میں لینا ہوگا۔ مگر ہماری عادت تو دوسروں کے دلوں کو توڑنے کی پڑ گئی ہے دلوں کو ہاتھوں میں لینا تو ہم نے سیکھا ہی نہیں ہے۔
خیر ۔ بات خواب کی چل رہی تھی۔ بعض لوگوں کو خوابوں میں بشارتیں ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ یہ ہدایت بھی ہوتی ہے کہ ایک درجن خطوب میں یہ بشارت لوگوں کو لکھ کر بھیجو ورنہ آفت میں پھنسوگے اور جسے لکھواے بھی ایک درجن خطوب میں بشارت لکھنا لازم ہے ورنہ وہ بھی آفت میں پھنسے گا شیطان بھی کیا کیا چکر چلاتا ہے۔ قرآن و حدیث لاکھ بیان ہو کہ نماز ۔ روزہ ۔حج ۔ زکوٰۃ ۔ خمس ۔ اطاعت والدین و غیر واجبات نہ ادا کروگے تو ضرور آفت میں پھنسو گے۔ جس سے چھٹکارا ملنے والا نہٰ ہے مگر ہم اسلام کے اقرار کے آگے عمل اور احکام کی پابندی میں پھنسے پر تیار نہیں ہیں۔ لیکن بشارت کے جھوٹے ۔ فرض خطوط کے شیطانی چکر سے ہم اپنے کو نہیں نکال سکتے۔ سب کو شک آتا ہے کہیں کوئی آفت نہ آ جائے عورتوں کو زیادہ۔ ان سے زیادہ مالداروں کو۔ ان سے زیادہ ظالم رشوت خور افسروں کو شک آتا ہے لہذا خطوط لکھے جائیں گے۔ لکھوائے جائیں گے۔ سائکواسٹائل ہوں گے فوٹو اسٹیٹ کا پیاں نکلائیں جائیں گی۔ پھر پتے ڈھنڈھے جائیں گے۔ ملک میں نہیں ملیں گے رو فارن کے پتوں پر بشارتی خطوط روانہ ہوں گے۔ ہم مشہور آدمی ہیں لہذا فرضی بشارتی خطوط سے ہماری روی کی توکری خالی نہیں رہتی ۔ اور روی کی ٹوکری کے پاس شیطان بیٹھا منہ بسورتا رہتا ہے اور ہم خدا کے فضل سے ہمستے رہتے ہیں اور اللہ نے چاہا تو ہمارا یہ مضمون شیطان کو موٹے موٹے آنسوں سے رلائےگا مگر وہ بڑا شیطان ہے اور کوئی طریقہ ایجاد کر لےگا۔ فرضی بشارتیں ۔ فرضی کہانیاں ۔ فرضی معجزہ سب اسی ملعون کے ہتھکنڈے ہیں۔ جن سے صرف معرفت و ایمان و یقین والے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ ان کو شک نہیں آتا باقی سب پھنس جاتے ہیں۔
مقدس خواب والوں کی ایک قسم زیارت والوں کی ہے کسی کو نبی کی زیارت ہوتی ہے کسی کو امام کی زیارت ہوتی ہے۔ کسی کو معسومہ ۶ اور کسی کو شہدٗ اکی زیارت ہوتی ہے۔ یہ لوگ بذریعہ بیان اپنے خواب کی زیارت دوسرقں کو کراتے ہیں اور جس کے چہرہ پر ان کو زیارت کی بشارت کے بجائے سناٹا دکھائی دیتا ہے۔ ان کو اس کے ایمان ۔ اسلام بلکہ حالی ہونے میں شک ہو جاتا ہے۔ اور اگر یہ اعلان ہو گیا کہ جسے شک ہو وہ مسلمان اور مومن نہیں ہے تو شک والے اپنے شک کا اظہار لردیں گے لیکن اگر یہ اعلان ہوا کہ صرف حلالی ہی کو یقین آتا ہے تو ہر شخص اپنی ماں کی عزت کی خاطر اقرار کر لیتا ہے۔
اب تک ان جوابوں کا ذکر تھا جو ہم سوتے میں دیکھتے ہیں۔ اب ان کوابوں کا بھی ذرا چرچا ہو جائے جو ہم جاگتے میں دیکھتے ہیں۔ بغیر پرھے پاس ہو جانے کا خواب ۔ بغیر کمائے دولت مند ہا جانے کا خواب۔ یہ لاٹری اور معمہ کے ذریعہ بہت دیکھے جاتے ہیں۔ پہلے لاٹری کے خواب ماہوار آتے تھے اب ہر ہفتہ بلکہ روزانہ آنے لگے ہیں۔ بغیر آمدنی سے قرض لینا اور ادا ہو جانے کا خواب بھی دیکھا جاتا ہے۔ الکشن جیتنے کا خواب ان کو بھی دکھائی دیتا ہے جن کو کوئی نہیں جانتا۔ بعض لوگوں کو شادی ۔ شاعری ۔ ذاکری ۔ مصنف ہونے کے بھی خواب دکھائی دیتے ہیں جن کے تعبیر ہمیشہ الٹی ہوتی ہے۔ اب الٹی تعبیرں سنئے۔
لڑکے فیل ہوتے ہیں۔ گھ اور کالج سے نکالے جاتے ہیں اور سڑک چھاپ زندگی بسر کرتے ہیں۔ دین دنیا دونوں برباد ہو جاتی ہے لاٹری نہیں نکلتی ہے ایک دن فٹ پاتھ پر مرتے ہیں اور چندہ سے کفن دیا جاتا ہے۔ قرض ادا نہیں ہوتا ہے جائداد مع عزت کے نیلام ہوتی ہے سر چھپانے کی جگہ نہیں رہ جاتی۔ مگر سب سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ الکشن میں ضمانت ضبط ہوتی ہے۔ شادی کے نام پر بےوقوف بنائے جاتے ہیں۔ شزعری کے ذریعہ بے عزتی کراتے ہیں۔ ذاکری میں ہوٹنگ نصیب ہوتی ہے۔ تصنیف کے شوقین صرف اپنی ناکارہ زندگی کے مصنف بنتے ہیں۔ ان سے گھ روالے عجز رہتے ہیں مگر وہ کاغذ گودا کرتے ہیں۔ آخر میں ملک الموت کا غذات لے کر آجاتے ہیں۔ اور نامہ عمل شکل میں ان کی زندگی تصنیف ان کے ہاتھوں میں دی جاتی ہے۔
اگر ہم ایسے سارے خوابوں کے دیکھنے والوں کو محروم ۔ بدنصیب کام چور قرار دیتے ہیں تو ایک خواب ایسا ہے جو ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ نہ دین جانیں گے نہ دین پڑھیں گے نہ دین کی باتیں پوچھیں گے بلکہ جو سن لیں گے اسے یا جھٹلائیں گے ورنہ کم از کم عمل نہ کریں گے بلکہ ہر واجب طھوڑ دیں گے اور ہر حرام کرتے رہیں گے اور خواب دیکلھیں کہ جنت مل جائے گی۔ قبر بھی جنت کا باغ بن جائے گی مگر جب تعبیر الٹی ہوگی تو کیا ہوگا۔ اگر یہ بات ہم سوچ لیں تو جنت کا خواب دیکھنے کے بجائے جنتی زندگی دین کے سایہ میں بسر کرنا شروع کریں۔
بہترین موت
عموماً بگڑی فطرت رکھنے والے انسانوں کا مشغلہ ہوتا ہے دوستوں میں ۔ عزیزوں میں لڑائی کرا دیتا ہے ۔ ان کو لڑائی کرانے میں ۔ لڑائی دیکھنے میں مزا آتا ہے۔ جن کے پاس پیسے زیادہ ہوتے ہیں وہ لڑائی کے ذوق کی تسکین کے بڑے بڑے سامان کرتے ہیں میچ ۔ دنگل ۔ باکسنگ انسانوں میں لڑائی کے فنگشن ہیں۔ مرغ لڑانا ۔ بٹیر لڑانا اور دوسرے جانوارون کی لڑائی کا انتظام کرنا ان کو لڑنے کی تربیت دینا۔ سب اسی جنگلی ذوق ، کا نتیجہ ہیں۔ یہی ذوق ۔ سیاست و تجارت میں الکشن اور کمپٹیشن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
آج ہر ملک اپنی دولت کا نصف سے زیادہ حصہ دماغ کے نام پر فوج ہتیار اور لڑائی کے سائنس پر اور جنگی تحقیقات پر صرف کر رہا ہے جب سماج کا ذوق لڑائی ہے تو غریب دین اس کی زد سے کیونکہ محفوظ رہ سکتا تھا۔ چناچہ کچھ دیندار ۔ خدا و رسول میں لڑائی کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ان کے خیال میں اگر رسول کو علم غیب مل گیا۔ اعجازی طاقت مل گئی۔ نبی کو قابل تعظیم و احترام کا مستحق لیا گیا تو ان غریب اللہ والوں کے ناچارہ خدا کے پاس کچھ رہ نہیں جائےگا۔ خام خیالی کے ان مریضوں کو کون بتائے کہ خدا نے دنیا میں سب کچھ بھر دیا پھر ساری دنیا کا اقتدار انسان کو دیا۔ اور انسانوں سے زیادہ اقتدار ۔ توانئی نبیوں کو دی۔ جو کچھ سارے نبیوں کو دیا تھا۔ اس کا لاکھوں گنا کمال حضور کو دیا مگر اس کے بعد بھی اس کی خدائی میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ لیکن مسلمان میں خدا اور رسول کے نام پر لڑائی ہو گئی۔ جماعت بندی ہو گئی۔ اللہ والے ۔ رسول والے الگ پارٹیوں کے نام پڑ گئے۔ مسجدیں تقسیم ہو گئیں اور اس تقسیم کے لئے مسجدوں میں جہاد ہو گئے اور قاتل و مقتول دونوں بہ آسانی دوزخ میں پہونچ گئے۔
جو لوگ اس لڑائی میں حصہ نہ لے سکے انھوں نے لڑائی کا دوسرا میدان اہلبیت پیغمبر والے جمع ہو گئے مگر ان بیچاروں کو خبر نہیں ہوئی کہ خدا و رسول اور اہلبیت علیہم السلام سب مسجد میں ایک حاکم ہے دوسرا حاکم کا نمائندہ ہے تیسرے نمائندے کے نمائندے ہیں۔ جو ان کے نام پر لڑنے والوں سے اظہار نفرت و برائت کر رہے ہیں اور یہ طے ہے کہ جو ان کی نفرت کا مستحق بن گیا اس کو صرف جہنم ہی اپنی آغوش میں لے سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ دین کے نام دین کے ماننے والوں میں بہت سی مہمل ۔ مضر اور فاسق لڑاائیاں جاری ہیں۔ مشلاً عبادت خدا اور محبت اہلبیت علیہم السلام میں کون افضل ہے۔ اہلبیت اور قرآن مجید میں کون افضل ہے۔ ضحور اور بارہ امام علیہم السلام کو بالکل برابر رکھا جائے یا حضور کو ان اماموں کا نبی مان کر ان اماموں کے لئے قابل تعظیم مان لیا جائے۔ زکوٰۃ و خمس میں کون زیادہ اہمیت رکھتا ہے وغیرہ وغیرہ حالانکہ خدا نے محبت اہلبیت علیہم السلام کو عبادت قرار دیا ہے اور ایسی عبادت قرار دی جس کے بغیر ہر عبادت رد ہے اور اہلبیت علیہم السلام نے انسانوں کو عبادت خدا کا پابند بنانے کے لئے اپنی جانیں قربان کردیں۔ قرآن آج تک حقوق اہلبیت علیہم السلام کی حفاظت کر رہا ہے اور کل قرآن کو بچانے کے لئے اہلبیت علیہم السلام کے سروں نے نوک نیزہ پر بلند ہونا اپنا فریضہ قرار دے لیا تھا۔ حجور نے فرمایا کہ ہم سب محمد ہیں۔ ہم سب چھوٹے اور بڑے کمالات میں کمیوں میں اور سرداع اہلبیت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے تھے میں محمد کے غلاموں سے ایک غلام ہوں۔ اگر کسی مال میں زکوٰۃ اور خمس دونوں واجب ہو جائیں تو کسی ایک کا نکالنا کافی نہ ہوگا بلکہ دونوں کی ادائگی کے بعد ہی مال پاک ہوگا اور مال کا مالک اس مال کو خرچ کرنے کا حق دار ہوگا۔ معلعم ہوا دین اور مقابل لاکر اور بڑی قیمت دے کر دوزخ خرید رہے ہیں۔
غرض کہ بے بنیاد ۔ نام نہاد اور فرضی لڑائیاں ۔ افراد میں ۔ خاندانوں میں ۔ عزیزوں میں ۔ دوستوں میں ۔ اداروں میں۔ جماعتوں میں جاری ہین سمجھدار کا فرض ہے کہ ان لڑائیوں سے دور رہے بلکہ ان لڑائیوں کو دور کرے اور ان کو ختم کرے۔ یہ مضمون اسی سلسلہ کی ایک کوشش ہے۔ کچھ لوگ دین اور دیندار میں لڑائی کرانے کے لئے اپنی ساری ذہنی توانائی کو برباد کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ دانشور ہیں جو دین کو افیون کا نام دیتے ہیں۔ عہد جاہلیت کی یادگار قرار دیتے ہیں۔ سرمایہدارنہ نظام کی دین قرار دیتے ہیں۔ عہد حاضر میں دین کی کوئی ضرورت نہیں ہے دین ترقی سے روکتا ہے۔ دین مٹ جائے تو انسان ایک ہو جائیں وغیرہ قسم کے نعرہ دے کر دین کو دنیا کے اس پار پھینک دینا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف وہ دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے ہیں۔ جن کی عقل سکڑ گئی ہے۔ جو جہالت کو علم ، ضد کو وضعداری سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کے ساتھ وہ فنکار ہیں جو اپنی عیاری کے ذریعہ دین کے نام پر دنیا کمانا چاہتے ہیں۔ ان دونوں گرہوں کی لڑائی کے میدان دین اور دنیا میں دونوں کا خیال ہے کہ دنیا اور دین جمع نہیں ہو سکتے ۔ ایک دنیا کے لئے دین کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔ دوسرے دین کے کام کے لئے دنیا چھوڑنا چاہتے ہیں۔ نیک دل گوتم بدحواسی غلط فہمی کا شکار ہوئے۔
راہبوں نے ۔ پادریوں نے ۔ نننوں نے ۔ فقیروں نے ۔ پیروں نے ۔ شاہ صاحبان نے۔ صوفیوں نے۔ سادھوؤں نے بھی اسی راستے کو اپنایا مگر پیر کا دنیا چھوڑ دینا۔ مگر مرید کا دنیا کما کر پیر کو نذرانہ پیش کرنا۔ سادھو کی سیوا کے ذریعہ پاپ والے کاپن والا ہو جانا۔ گرجوں کے تہ خانوں میں کنوارے پادریوں اور کنواری نننوں کی ناجائز اولاد کی چھوٹی چھوٹی قبریں۔ شاہ صاحبان اور عالموں اور ملاؤں کی عیاشیاں سادھوؤں کا سونا دونا کرنے کا فریبی کا روبار وغیرہ اس نظریہ کا کھو کھلاپن اور مکروہ کردار واضح کر رہے ہیں۔
مسلمانوں میں حکومت میں حصہ نہ پانے والے ہوں اقدار کے متوالوں نے امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانہ میں صونی ازم کی بنیاد رکھنی تاکہ حکومت زمین پر قبضہ کر لے اور یہ زمین کی پیداوار پر قبضہ کریں۔ حکومت ٹیکس لء یہ نذرانہ لیں۔ حکومت بیعت لے یہ حلقہ ارادت میں شامل کریں حاکم محل میں رہیں یہ خانقا ہوں میں رہیں اور اس کو شاہی محل سے بھی بہتر بنیاد دونوں جگہ گدی چلی۔ جھگڑے ہوئے ۔ قتل ہوئے ۔ قبضے ہوئے ۔ انھوں نے تلوار کو ذریعہ بنایا۔ انھوں نے تسبیح کو تلوار بنایا۔ انھوں نے کھل کر ریشمی زندگی بسر کی۔ انھوں نے ٹاٹ پہن کر ریشمی زندگی حاصل کی۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے اس فرقہ کی گمراہی واضح کی۔ اس کے خلاف علمی جہاد کیا اور عملی مقابلہ اس طرح کیا کہ ضعیفی اور بڑھاپے میں دو غلاموں کے سہارے جلتی دوپہر میں اپنے باغ اور کھیتی کی دیکھ بھال کے لئے جایا کرتے تھے۔ ایک دن صوفیوں کے سردار نے ملاقات کی۔ تاکہ اعتراض کر کے اپنے حامیوں میں اہمیت حاصل کریں اور ان کی تعداد میں اضافہ کر لے۔ بڑے طمطراق سے مع اپنی جماعت کے امام کی خدمت میں آئے اور کہا کہ اگر اس وقت موت آ جائے تو کیسی بڑی موت ہوگی اور آپ کا ایسا فرزند رسول اس طرح دنیا حاصل کرے۔ بہت معیوؓ بات ہے۔ حضرت نے غلاموں کا سہارا چھوڑ دیا۔ تن کر کھڑے ہوئے اور فرمایا میں اپنے ویال کی روزی حاصل کرنے جا رہا ہوں اگر اس وقت موت آ جائے تو بہترین موت ہوگی کہونکہ میں بہترین عبادت میں مصروف ہوں۔
دین اور دنیا میں کوئی لڑائی ممکن نہیں ہے ایک کو خدا نے پیدا کیا ہے دوسرے کو خدا نے بھیجا ہے۔
دین نام ہے دنیا کو صحیح بنانا۔ دنیا کی جنت کا نمونہ بنانا۔ دنیا کے دوزخ کو اطاعت خدا کے ذریعہ بجھنا۔ یہی پیغام تھا جسے ہمارے پانچویں امام نے خاص طور پر پیش کیا۔ کیونکہ صوفی فرقہ نے اسی عہد میں جنم لیا تھا۔
۵۷ کی یکم رجب کو امام محمد باقر علیہ السلام پیدا ہوئے۔ جب آپ کے دادا امام حسین زندہ تھے۔ آپ کربلا میں ۳ سال کے تھے جب قیدی بنے۔
اور ۱۱۴ میں ذی الحجہ میں امام صادق کو دین سونپ کر خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ آپ زہر سے شہید کئے گئے اور جنت البقیع میں مدینہ منورہ میں دفن ہوئے۔
فہرست
عرض تنظیم ۴
مذہب کی واپسی ۵
سماجی مذہب یا حقیقی مذہب ۸
رحمت ورنہ عذاب ۱۰
ہم خدا کے بندے ہیں اور رمضان خدا کا مہینہ ہے ۱۲
محرم آ رہا ہے ۱۴
دماغ کا سوئچ آن رکھئے ۱۷
آئیے خواب دیکھیں مگر۔ ۲۱
بہترین موت ۲۴