یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
مقالات نوگانوی
تالیف : سیدپیغمبر عباس نوگانوی
حسینی انقلاب
از: سید پیغمبر عباس نوگانوی
اس بات کو سبھی مسلمان تسلیم کرتے ہیں کہ ۶۱ ھ میں امام حسین - نے اپنی اور اپنے جاں نثاروں کی شہادت پیش کرکے اسلام کو بنی امیہ کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچالیا (آپ پر لاکھوں درود و سلام )
واقعہ کربلا حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ تھا جس میں حکومت اسلامی کو ملوکیت سے محفوظ رکھنا بھی شامل تھاتاکہ بنی امیہ ایسے بدکارو نا اہل، حکومت اسلامی کو خرد برد نہ کرسکیں اس راہ میں امام عالی مقام نے اپنا سب کچھ قربان کردیا،اور اسلامی حکومت و اس کے نااہل حاکم کے درمیان خط فاصل کھینچ دی حکومت کا حق صرف خدا وند عالم کو ہے،قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
کیا تم نہیں جانتے آسمان و زمین کی سلطنت بے شبہ خاص خدا ہی کے لئے ہے(سورہ بقرہ ،آیت ۱۰۷)
اور آسمان و زمین سب خدا ہی کا ملک ہے اور خدا ہی ہر چیز پر قادر ہے(سورہ آل عمران ،آیت ۱۸۹)
اور سارے آسمان اور زمین اور جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب خدا ہی کی سلطنت ہے (سورہ مائدہ ،آیت ۱۷ ۔ ۱۸)
سارے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب خدا ہی کی سلطنت ہے اوروہی ہر چیز پر قادر ہے(سورہ مائدہ ،آیت ۱۲۰)
بے شک سارے آسمان و زمین کی حکومت خدا ہی کے لئے خاص ہے (سورہ توبہ،آیت ۱۱۶)
لہٰذاالٰہی حکومت کو صحیح طور پر چلانے کے لئے خداوند عالم نے اپنے خاص نمائندے بھیجے جو نبی یا امام کہلائے اور ساتھ میں کچھ قوانین بھی بھیجے جن کوہم شریعت کہتے ہیںچونکہ خداوند عالم کی ذات ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے اس لئے اس کی طرف سے دنیا میں آنے والے حاکم (نبی یا امام ) بھی معصوم ہونے چاہئیں ،تاکہ قوانین الٰہی ہم تک صحیح و سالم پہنچ جائیں
پس معلوم ہوا کہ دنیا میں حکومت کا حق صرف اللہ کے نمائندوں کو ہے ،اِن کے علاوہ جو بھی حکومت اسلامی پر قابض ہو وہ غاصب ہے
یزید یا بنی امیہ کے دیگر افراد نے دھوکہ ،فریب ، ظلم اور لالچ کے ذریعہ لوگوں کی کچھ بھیڑ ضرور اکٹھا کرلی تھی لیکن وہ قطعی طور پر حکومت کے حق دار نہ تھے بلکہ غاصب تھے لہٰذا حکومت ملنے کے بعد پہلی فرصت میں حضرت علی -نے فاسد گورنروں کو معزول کرنے کے احکامات جاری کردیئے ، حالانکہ بعض اصحاب نے آپ کو مشورہ بھی دیا کہ اِن کے معزول کرنے میں جلدی نہ کریں لیکن آپ نے اسی نظریہ (کہ حکومت اسلامی اولیاء اللہ کا حق ہے ،لہٰذا ایسی حکومت کے گورنر وغیرہ بھی دین دار ہوں )کی بنیاد پر فاسد گورنروں کو فوراً معزول کردیا
اس کے علاوہ حضرت علی - نے معاویہ سے مطالبہ بیعت و اطاعت کے لئے بھیجے گئے اک خط میں بنی امیہ پر خلافت و حکومت کے ناجائز ہونے کو اس طرح بیان فرمایا تھاکہ:
اے معاویہ!تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارا تعلق طلقاء (یعنی اسلام کے آزاد کردہ گروہ ) سے ہے جس کے لئے خلافت جائز نہیں ہے
(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،جلد ۳ ،صفحہ ۷۶ ، ناشر دار احیاء الکتب العربیہ ،بیروت ،لبنان ،دوسرا ایڈیشن ۱۹۶۵ ء)
اور ابن عباس نے معاویہ کے اک خط کا جواب دیتے ہوئے اس طرح مخاطب کیا تھا کہ:
”(اے معاویہ!) تم اور خلافت ؟تم اسلام کے آزاد کئے ہوئے ہو اور مشرکین کی پارٹی کے سرغنہ (ابوسفیان) اور شہید بدر (حضرت حمزہ) کا جگر چبانے والی (ہندہ ) کے بیٹے ہو
(الامامة والسیاسة، جلد ۱ ،صفحہ ۹۸ ، مطبوعہ مصر ۱۳۲۸ ھ)
حضرت علی -اور جناب ابن عباس /کے مذکورہ خطوط سے بنی امیہ کی حکمرانی ناجائز قرار پاتی ہے
حضرت علی -کے بعد امام حسن - خلیفہ ہوئے ،آپ نے بھی لوگوں کے درمیان حکومت اسلامی کا اپنے کو سب سے زیادہ حق دار بتایا ،آپ نے اپنی حکومت کا آغاز اس خطبہ سے فرمایا:
”ہم حزب اللہ ہیں، اور ہم ہی غالب ہیں ،ہم عترت رسول ہیں، آپ کے اقرباء ہیں ،ہم رسول کے اہل بیت ہیں اور تمام گناہوں سے محفوظ و معصوم ہیں ،امت کے درمیان رسول خدا نے دو گرانقدر چیزیں چھوڑیں اور فرمایا ہے:میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ،کتاب خدا اور میرے اہل بیت
اور ہم ہی کو اللہ کے رسول نے قرآن کا ہم پلہ اور عدیل قرار دیا ہے اور ہمیں قرآن کی تنزیل و تاویل کے علم سے مالا مال کیا ہے ،قرآن کے بارے میں ہم جو کہتے ہیں یقین کے ساتھ کہتے ہیں ،تخمین و ظن (اندازے) سے آیات قرآنی کی تاویل نہیں کرتے ،لہٰذا تم ہماری اطاعت کر و کہ خدا کی طرف سے تم پر واجب کی گئی ہے ،ہماری اطاعت کو خدا نے اپنی و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت سے مقرون کیا ہے:،ارشاد ہوتا ہے:اے ایماندارو! خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اور جو تم میں سے صاحبان ِ حکومت ہوں ان کی اطاعت کرو
(سورہ نساء ،آیت ۵۹)( جلا العیون ،صفحہ ۱۴۶ ، تالیف علامہ مجلسی ، مطبوعہ تہران ۱۳۱۴ ھ)
ان تمام تاکیدوں کے باوجود بے دینوں نے آپ کی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کیں،مگر امام حسن -اپنے حق سے دستبردار نہ ہوئے ،جب دشمنوں کی جانب سے حالات بدتر کردیئے گئے اور آپ کی فوج کا شیرازہ بکھرنے لگا اُس وقت آپ نے امت کو عظیم فتنہ سے محفوظ رکھتے ہوئے صلح فرمائی،اسی لئے آپ اپنے لشکر کی سستی اور جنگ نہ کرنے کی وجہ سے بہت رنجیدہ تھے ایک روز خطبہ کے دوران فرمایا کہ:
”اگر میرے ساتھی ایسے ہوتے جو دشمن خدا (معاویہ) سے جنگ کرتے تو ہرگز خلافت معاویہ کے ہاتھوں میں نہ جانے دیتا ، کیوں کہ خلافت بنی امیہ پر حرام ہے“
(جلا العیون ،علامہ مجلسی، جلد ۱ ، صفحہ ۳۴۵،۳۴۶ ناشر مکتبہ بصیرتی قم)
اور جب انتقال معاویہ کے بعد یزید نے والی مدینہ اپنے چچا زاد بھائی عتبہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ اہل مدینہ بالخصوص امام حسین سے میرے لئے بیعت لے لے ،اگر انکار کریں تو سر قلم کرکے بھیج دے جب عتبہ نے یہ خبر امام حسین - کو پہنچائی تو آپ نے اپنے فضائل و کمالات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ :
”میں نے اپنے نانا رسول اللہ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : ابوسفیان کی اولاد پر خلافت حرام ہے
(بحار الانوار ،جلد ۴۴ ، صفحہ ۳۱۲ ، ناشر موسسة الوفا، بیروت، لبنان، دوسرا ایڈیشن ۱۹۸۳ ء)
امام حسن و امام حسین کے مذکورہ بیان کی روشنی میں بنی امیہ کا حکومت اسلامی پر قبضہ غاصبانہ تھا(لہٰذا اس غاصبانہ قبضہ کی مخالفت کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری تھی)
عالم اسلام کی اتنی معتبر اور عظیم شخصیات جب کسی حکومت کو ناجائز قرار دے دیں تو ایسی حکومت کو ایک لمحے کے لئے بھی قبول نہیں کیا جاسکتا اور مسلمانوں پر مذہبی و اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ بنی امیہ کو حکومت سے دور رکھتے ،اس ذمہ داری کو بھی سب سے زیادہ اہل بیت ہی نے محسوس کیا
کیا کوئی مسلمان یہ تصور کر سکتا ہے کہ بغیر حکومت کی پشت پناہی کے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا رواج سماج میں کما حقہ ہوجائے گا؟ کیا بغیر حکومت و طاقت کے شریعت کا نفاذ ممکن ہے؟ نہیں !ہر گز نہیں، ایک دین دار حاکم ہی صحیح طور پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نفاذ کرسکتا ہے ورنہ افراط و تفریط کا اندیشہ رہتا ہے،پاکستان میں شراب کی کھلے عام دکانیں اور جسم فروشی کے اڈے افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں چوراہوں پر ٹیلی ویژن توڑنا اورلڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں عائد کرناافراط و تفریط کی زندہ مثالیں ہیں
حکومت اسلامی کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب امام حسن کی حکومت کو معاویہ کی جانب سے خطرہ بڑھا تو آپ نے اس کو بچانے کی خاطر ہر ممکن کوشش کی یہاں تک کہ آپ نے جنگ سے بھی دریغ نہیں کیا، یہ الگ بات ہے کہ آپ کے پاس معاویہ جیسی اطاعت گزار فوج کی کمی تھی
جنگِ صفین کے موقع پرلشکر کی نافرمانی کا تلخ تجربہ تاریخ کے دامن میں محفوظ ہے ، امام علی کے لشکر کی نافرمانی کی وجہ سے صفین کی جیتی ہوئی جنگ شکست میں تبدیل ہوگئی
اس کے علاوہ لشکر یا فوج کی اطاعت گزاری کے باعث فتح و کامرانی کی شیرینی ایران ولبنان میں چکھی جاچکی ہے ،جس کی وجہ سے اپنے زمانے کی سُپر پاورامریکہ و اسرائیل بھی ایران و لبنان کا اپنے دعوں کے مطابق کچھ نہ بگاڑ سکے ،جب کہ ایران و لبنانی حزب اللہ کی قیادت غیر معصومین کے ہاتھوں میں ہے اور صفین میں شیر خدا ،امام معصوم کے ہاتھ میں لشکر کی کمان تھی ،لیکن فوج اطاعت گزار نہ تھی ،اسی طرح نخیلہ میں بھی قیادت امام معصوم، حسن مجتبیٰ -کے ہاتھ میں تھی ،اور بہادری و شجاعت آپ کو ورثہ میں ملی تھی لیکن آپ کی فوج بھی نافرمان تھی ،جس کا اعتراف خود امام حسن نے اس طرح فرمایاکہ:
میں نے حکومت و زمام داری کو اس لئے معاویہ کے حوالے کردیا کہ میرے پاس معاویہ جیسی (اطاعت گزار) فوج نہیں تھی اور اگر ہوتی تو حکم خدا کے مطابق معاویہ سے رات دن فیصلہ کن جنگ کرتا
(بحا رالانوار ،جلد ۴۴ ، صفحہ ۱۴۷ ، علامہ مجلسی ،ناشر کتاب فروشی اسلامیہ ،تہران)
ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ عزت و کامرانی کا راز اپنے رہبر و قائد کی اطاعت ہی میں پوشیدہ ہے،لہٰذاہمیں اپنے رہبروں کی (جو کہ آج کل مراجع تقلید کی شکل میں ہیں )زیادہ سے زیادہ سے اطاعت کرنی چاہئے اسی صورت میں ہم دوسری قوموں سے ممتاز ہو سکتے ہیں
امام حسن مجتبیٰ کے مذکورہ بیان سے واضح ہے کہ آپ نے کاہلی یا سستی کی وجہ سے صلح کو ترجیح نہیں دی تھی،جیسا کہ آپ کے خلاف پروپیگنڈہ ہوتا ہے رہتا ہے،بلکہ ایسی فوج کے ہوتے ہوئے فیصلہ کن جنگ کرنا ناممکن تھا ،کیونکہ آپ کا لشکر پانچ گروہوں پر مشتمل تھا:
حضرت علی -کے مخلص شیعہ
خوارج (جو ہر قیمت پر معاویہ سے جنگ کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے اور یہ لوگ امام حسن کے لشکر میں صرف بغضِ معاویہ کی وجہ سے شامل ہوئے تھے امام کی محبت میں نہیں
مفاد پرست (جن کا مقصد صرف مال غنیمت تھا)
وہ لوگ جو امام حسن -کی عظمت میں شک کرتے تھے اور دوغلی پالیسی رکھتے تھے اور امام حسن -کو معاویہ پر ترجیح نہیں دیتے تھے
وہ لوگ جو دین کی خاطرنہیں بلکہ خاندانی تعصب کی بناء پر رئیس قبیلہ کی پیروی کرتے ہوئے امام حسن -کے لشکر میں شریک ہوئے تھے ،کیونکہ ان کے خاندانی مخالف و حریف معاویہ کے لشکر میں تھے
حضرت علی -کے شیعہ جنگ صفین و نہروان کے تھکے ہوئے تھے اور باقی چار گروہوں کی نظر میں حکم امام -کی کوئی اہمیت نہ تھی ،اور یہ لوگ عین جنگ کے وقت معاویہ سے جا ملے تھے اور بعض غیر جانبدار ہوکر امام -سے علیحدہ ہوگئے تھے اور کچھ نے معاویہ سے سازش کرلی تھی کہ آپ کو گرفتار کرکے معاویہ کے حوالے کردیں گے یا شہید کردیں گے
اس سازش سے امام حسن -بخوبی واقف تھے ،آپ فرماتے ہیں کہ:
”بخدا اگر میں معاویہ سے بر سر پیکار ہوا تو یہ لوگ میری گردن پکڑ کر اسیروں کی طرح مجھے معاویہ کے حوالے کردیں گے“
(ترجمہ الامام الحسن ،تالیف ابن عساکر،متوفی ۵۷۱ ھ، تحقیق الشیخ محمد باقر محمودی، ناشر مطبعة للطباعة والنشر ،بیروت ،لبنان، پہلا ایڈیشن ۱۹۸۰ ء)
اگر آپ گرفتار کرکے معاویہ کے حوالے کردیئے جاتے تو دو حال سے خالی نہ تھا :
یا تو معاویہ آپ کو بے دردی اور نہایت چالاکی سے شہید کر ڈالتے اور عوام کے سامنے اپنے آپ کو اس خون سے بری الذمہ قرار دیتے ،اس طرح خون امام رائیگاں چلا جاتا
یا آپ پر احسان کرتے ہوئے مشروط طور پر آزاد کرادیتے اور بنی امیہ سے ”طلقاء“ (یعنی آزاد کئے ہوئے)کے دھبہ کو دھونے کی کوشش کرتے اور اس طرح اپنے اُن بزرگوں کا انتقام لے لیتے جن کو رسول خدا نے قیدی بنائے جانے کے بعد آزاد کردیا تھا
امام حسن -نے معاویہ سے صلح ضرور کی مگر اپنی اور اپنے شیعوں کی عزت کو مقدم رکھا اور صلح کے شرائط خود معین کئے جن میں سے ہم صرف ایک شرط کو ذکر کررہے ہیں تاکہ قارئین پریہ بات واضح ہوجائے کہ امام حسن - کی نگاہ میں حکومت اسلامی کے قیام و دوام کی کتنی اہمیت تھی، وہ شرط یہ ہے:
معاویہ کے بعد (امام) حسن خلیفہ ہوں گے اور اگر (امام) حسن کوکوئی حادثہ پیش آجائے تو (امام )حسین خلیفہ ہوں گے
(صلح امام حسن ، صفحہ ۳۵۸ ،تالیف شیخ راضی آل یاسین ،مطبوعہ ایران)
اس شرط میں امام حسن نے واضح کردیا کہ حکومت اسلامی پر حق صرف ہمارا ہے فتنہ فروکش کرنے کی خاطر اگر معاویہ کو حکومت واگزار کردی تو کیا ہوا،معاویہ یا اُن کا خاندان اس کے بعد حکومت کی آس نہ لگائیں اور یہ بھی واضح کردیا کہ یہ حکومت آلِ رسول ہی میں رہے گی، اسی لئے آپ نے اپنے بعد امام حسین کو حکومت اسلامی کے لئے نامزد فرمایا
اس صلح نامہ کی رو سے امیر معاویہ کا یزید کو حکومت کے لئے معین کرنا غیر قانونی ،غیر شرعی اور غیر اخلاقی تھا کیونکہ معاویہ مذکورہ شرط پر راضی تھے اور انہوں نے اس پر دستخط بھی کئے اور شام کے رووسا و بزرگ اس پر گواہ تھے
امام حسن -کی شہادت کے بعد مذکورہ صلح نامہ کی رو سے امام حسین -حکومت اسلامی کے بلا اختلاف حق دار تھے
یوں تو آپ نے اپنے اس حق کی بازیابی کی تیاریاں امیر معاویہ کے زمانے سے ہی سے شروع کردی تھیں اور قیام کا زمینہ ہموار کرنا شروع کردیا تھا
حالانکہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اہل کوفہ کے خطوط کی وجہ سے مدینہ سے ہجرت فرمائی ،یا یہ کہ اگر یزید آپ سے بیعت کا مطالبہ نہ کرتا تو آپ اس سے کوئی سروکار نہ رکھتے اور خاموشی سے ایام حیات پورے کرتے،ایسا سوچنا صحیح نہیں ہے،کیوں کہ:
آپ نے ۲۸ / رجب المرجب ۶۰ ھ کو مدینہ سے ہجرت فرمائی اور آپ مکہ تشریف لے گئے ،اہل کوفہ کا پہلا خط آپ کو مکہ میں ۱۰/ رمضان ۶۰ ھ کو موصول ہوا
(الارشاد،شیخ مفید ،جلد ۲ ،باب ۳ ،فصل ۲ صفحہ ۳۵ ، ترجمہ و شرح آقای حاج سید ہاشم رسولی محلاتی ،مطبوعہ تہران )
اگر امام عالی مقام کے قیام کا اصل سبب اہل کوفہ کے خطوط ہوتے تو آپ مدینہ سے ہجرت کوفہ سے خط ملنے کے بعد ہی فرماتے اور کوفہ کے حالات سے آگاہ ہونے کے بعد اپنا سفر جاری نہ رکھتے
اسی طرح امام حسین -کی امیر معاویہ کے زمانے میں کی گئی جد و جہد سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ اگر یزید مطالبہ بیعت نہ کرتا تب بھی آپ بنی امیہ کی اس فاسد حکومت کے خلاف قیام فرماتے
چنانچہ جس وقت ۵۶ ھ میں معاویہ مدینہ پہنچے تاکہ اہل مدینہ خصوصاً امام حسین - سے یزید کی بیعت لیں ،مدینہ پہنچ کر معاویہ نے امام حسین -اور عبداللہ ابن عباس سے ملاقات کی اور اپنی گفتگو کے دوران یزید کی ولی عہدی کے مسئلہ کو بیان کیا تاکہ ان حضرات کی موافقت بھی حاصل ہوجائے ،تو امام حسین -نے معاویہ کی باتوں کا اس طرح جواب دیا:
(اے معاویہ)! جو کچھ تم نے یزید کے کمالات اور امت محمدی کا نظم و نسق چلانے کی اس کی لیاقت کو بیان کیا ہے،میں سمجھ گیا ! تم نے یزید کی تعریف اس طرح کی ہے گویا اس کی زندگی لوگوں پر پوشیدہ ہےنہ! یزید نے جس طرح اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور اپنے باطن کو آشکار کیا ہےاس کے بارے میں وہی کہو! یزید ایک ایسا جوان ہے جو کتوں اور کبوتروں سے کھیلتا ہے،بوالہوس ہے کہ اپنی عمر کو گانے بجانے اور عیش پرستی میں بسر کررہاہے ،یزید کی اِن رذائل کے ساتھ تعریف کرو اور بے فائدہ کوشش کو بالائے طاق رکھ دو،اس امت کے بارے میں جو گناہ تم نے اپنے اوپر لادے ہیں (تمہاری بربادی کے لئے)وہی کافی ہیں، ایسے کام نہ کرو جس سے پروردگار سے ملاقات کے وقت گناہوں کا بوجھ اس سے زیادہ ہوجائے ،تم نے اپنی باطل اور ظالمانہ روش کو جاری رکھا اور احمقانہ ظلم کے مرتکب ہوئے ہو،لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ،تمہارے اور موت کے درمیان چشم زدن سے زیادہ وقت باقی نہیں ہے ،آگاہ ہو کہ تمہارے اعمال پروردگار کے پاس محفوظ ہیں اور روز حساب جواب کے لئے تمہیں آمادہ رہنا چاہئے
( الامامة والسیاسة ، تالیف ابن قتیبہ دینوری،مطبوعہ مصر ۱۳۲۸ ھ)
امام حسین - کے اس جواب سے بنی امیہ کی فاسد حکومت کے خلاف آپ کی جد و جہد بخوبی آشکار ہے آپ حکومت اسلامی پر بنی امیہ کے قبضے سے ایک لمحہ کے لئے بھی راضی نہ تھے،چنانچہ آپ نے اعلانیہ طور پر معاویہ اور یزید کی آئندہ حکومت کی مخالفت کی اور یزید کے خلاف ایک مسلح قیام کے لئے زمین ہموار کرنا شروع کردی، اس مقصد کے لئے عمومی و خصوصی جلسوں میں بنی امیہ کے مظالم سے لوگوں کو آگاہ کرتے رہےمعاویہ کے جاسوس اس سلسلہ میں معاویہ کو بڑھا چڑھا کر خبریں بھیجتے رہے جس سے معاویہ نے یہ سمجھا کہ امام حسین -کی تیاریاں اس کے خلاف ہیں ،ان خبروں سے فکر مند ہوکر معاویہ نے امام حسین - کو اس مضمون کا خط لکھاکہ :
”تمہاری سرگرمیوں اور فعالیت کے بارے میں مجھے خبریں مل رہی ہیں ،اگر یہ صحیح ہیں تو میں تمہاری شایان شان نہیں سمجھتا،خدا کی قسم ہر شخص جو عہد و پیمان کرے اس کو نہ توڑے اگر میری مخالفت کروگے تو میں بھی تمہاری مخالفت کروں گا اور اگر بدی کروگے تو بدی دیکھو گے،امت کے درمیان اختلاف پھیلانے سے پرہیز کرو
(الامامة والسیاسة، جلد ۱ ، صفحہ ۱۴۸ ، مطبوعہ مصر و بحارالانوار جلد ۴۴ ،صفحہ ۲۱۲ ، مطبوعہ تہران)
امام حسین - نے معاویہ کو اس خط کا تنبیہ آمیز جواب لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے:
”(اے معاویہ!) تمہیں جو خبریں مل رہی ہیں وہ چند بے بنیاد باتیں ہیں جو چاپلوسوں ،چغل خوروں ،تفرقہ پھیلانے والوں اور جھوٹے لوگوں نے اپنی طرف سے گڑھی ہیں ،یہ گمراہ و بے دین لوگوں نے جھوٹ بولا ہے ،میں نے تمہاری مخالفت میں نہ کوئی جنگی تیاری شروع کی ہے اورنہ مسلح قیام کا ارادہ رکھتا ہوں اے معاویہ ! تم نے لکھا ہے کہ میں اس امت کے درمیان اختلاف اور فتنہ نہ پھیلاوں ،میری نظر میں اس امت کے درمیان تمہاری حکومت سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہے، جس وقت اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہوں اور دین و امت محمدی پر نظر کرتا ہوں تو اس سے بڑی کوئی ذمہ داری نہیں سمجھتا کہ تم سے جنگ کروں اور یہ جنگ راہ خدا میں جہاد ہوگا
(الامامة والسیاسة ،جلد ۱ ،صفحہ ۱۴۹ ۔ ۱۵۰ ، بحار الانوار ،جلد ۴ ، صفحہ ۲۱۳ ، مطبوعہ تہران )
اس کے علاوہ اور بھی بہت سی ایسی مثالیں ہیں جن سے تاریخ کا دامن بھرا ہوا ہے ،اگر ہم امام حسین - کے اس جواب پر دقت سے نگاہ کریں تو اُس پروپیگنڈے کی حقیقت خود بخود سامنے آجائے گی جس کو اکثر مورخین نے اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے ،اور بعض شیعہ حضرات بھی اس سے متاثر نظر آتے ہیں اور وہ یہ کہ:
”معاویہ نے یزید کو وصیت کی تھی کہ امام حسین - سے کچھ نہ کہنا بلکہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا “
معاویہ !جن کی نظر میں دین یا مذہب کی کوئی حقیقت نہ تھی بلکہ وہ صرف حکومت کے خواہش مند تھے کس طرح یزید کی حکومت کے لئے امام حسین - کو خطرے کی صورت میں برداشت کرسکتے تھے؟
جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہیں معاویہ نے یزید کو اہل مدینہ کے بارے میں اس طرح وصیت کی تھی :
”اگر (تمہیں اپنی حکومت کے زمانے میں )اہل مدینہ کی بے چینی ،شورش یا بغاوت کا احساس (یا شک) ہوجائے تو ”بنی مرہ“ کے شریر(کانے) مسلم بن عقبہ کو (ان کی سرکوبی کے لئے) بھیج دینا “(الامامة والسیاسة،صفحہ ۱۷۲)
یزید نے معاویہ کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے مسلم بن عقبہ کو مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے بھیجا ،مسلم بن عقبہ مدینہ میں داخل ہوا اور وہ انسانیت سوز اعمال انجام دیئے جس سے آسمان کو بھی زلزلہ آجائے ،مروان لشکر کی راہنمائی کررہاتھا اور مسلم بن عقبہ کا لشکر اس کے احکام کو نافذ کرکے بے رحمی سے مسلمانوں کا قتل عام ،مسلم عورتوں کی آبرو ریزی اور ان کے اموال کو غارت کررہا تھا ،معاویہ ابن ابی سفیان کی وصیت پر عمل درآمد کا مختصر نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ میں :
اصحاب نبی سے ۸۰/ افراد قتل ہوئے
اہل بدر کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا
قریش اور انصار کے ۷۰۰ / افراد کا قتل ہوا
عوام الناس سے دس ہزار افراد قتل کئے گئے
(الامامة والسیاسة ،جلد ۱ ،صفحہ ۱۷۸ ،مطوعہ مصر ۱۹۰۸ ء)
اور تین دن تک عورتوں کی آبرو ریزی کی گئی جس سے چار ہزار ناجائز بچے پیدا ہوئے
(بحار الانوار،جلد ۱۳۸ ،صفحہ ۱۹۳ ، مطبوعہ بیروت،لبنان۔ الطرائف ،جلد ۱ ، صفحہ ۱۶۶ ، تالیف سید علی بن طاوس حلی،مطبوعہ قم ۱۴۰۰ ھ)
یہاں صرف شک کی بنیاد پر اہل مدینہ کو تاراج کرنے کی وصیت کی جارہی ہے ، جبکہ امام حسین - تو علی الاعلان یزید کی آئندہ حکومت کی مخالفت کررہے تھے ،تو پھر کس طرح معاویہ یزید کو یہ وصیت کرسکتے ہیں کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا، بلکہ معاویہ ہی نے یزید کویہ وصیت کی ہوگی کہ پہلی فرصت میں امام حسین - کا کام تما م کردینا
امیر معاویہ ایسی وصیتیں اس لئے کیا کرتے تھے کیونکہ انہیں اپنا اور اپنے خاندان ”بنی امیہ“ کا اقتدار بہت عزیز تھاجس کے آگے وہ کسی بھی قانونی ،شرعی اور اخلاقی برائی کو جرم نہیں سمجھتے تھے،جس کا مشاہدہ اس وقت ہوتا ہے جب انہوں نے امام حسن سے صلح کرنے کے بعد (جس پر بڑی شدید قسمیں کھائی تھیں اور عہد و پیمان کیا تھا) حکومت کی لالچ و محبت میں اس طرح بیان دیتے ہیں:
اے اہل عراق! میں نے نماز روزہ اور حج و زکوٰة ادا کرنے (کرانے ) کے لئے تم سے جنگ نہیں کی ہے بلکہ تم سے میری جنگ فقط حکومت کے لئے تھی اور خدا نے مجھے میرے اس مقصد میں کامیاب کردیا ،اس کے باوجود کہ تم ایسا نہیں چاہتے تھے ،آگاہ ہوجاو صلح نامہ کی تمام شرطیں جو حسن بن علی + سے کی ہیں میرے پیروں کے نیچے ہیں
(صلح امام حسن ،صفحہ ۱۰۸ ،تالیف شیخ راضی آل یاسین ،مطبوعہ ایران)
بعض لوگ ائمہ معصومین کے اسم مبارک کے ساتھ لفظ حکومت کو اُن کی شان میں گستاخی تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام کو حکومت سے کیا مطلب !دنیا کے مال دولت اور حکومتیں تو ان کی ٹھوکروں میں رہتی ہیں ،یہ جذباتی نظریہ غلط ہے ،اگر ایسا مان لیا جائے تو غصب حکومت و خلافت کرنے والوں کی مذمت کیوں کی جاتی ہے؟
ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں کے ذہن میں لفظ حکومت آتے ہی ،مکر و فریب ،ظلم و تشدد اور ہر قسم کی بے راہ روی آتی ہو ،لیکن امام عالی مقام کے ہوتے ہوئے حکومت میں یہ تمام بدعنوانیاں تصور بھی نہیں کی جاسکتیں کیونکہ آپ و دیگر ائمہ ملوکیت کے شدید مخالف تھے آپ حضرات حکومتی طاقت کے ذریعہ اصلاح معاشرہ چاہتے تھے اور جس حکومت کی آپ بات کررہے تھے وہ الٰہی حکومت تھی جو اس قسم کی کثافتوں سے پاک و صاف ہوتی ہے
ایسی ہی حکومت اور اس کے حکمرانوں سے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم نے زمین میں اختیار دیا تو انہوں نے نماز قائم کی اور زکوٰة ادا کی اور نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا (سورہ حج،آیت ۴۱)
یزید اِس پاک و صاف الٰہی حکومت ہی کو داغ دار کر رہا تھا تب ہی تو امام نے قیام فرمایا
آپ نے اپنے قیام کی وجہ بتاتے ہوئے اپنے بھائی محمد حنفیہ کو اک وصیت میں اس طرف اشارہ فرمایا تھا :
میں خود خواہی اور سرکشی و ہوسرانی کی بناء پر مدینہ سے نہیں جارہاہوں ، بلکہ میرا مقصد اپنے نانا کی امت کی اصلاح ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، میں اپنے نانا اور بابا کی سیرت کو زندہ کرنا چاہتا ہوں“
امام نے اپنی وصیت کے پہلے حصہ میں ملوکیت اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کی نفی فرمائی ہے جو اکثر حکمران حکومت ملنے کے بعد انجام دیتے ہیں یعنی خود خواہی،سرکشی ،ہوسرانی ،فساد اورظلم و تشدد کویہ حکمران اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں ،اسی وجہ سے حکومت کو اہل دین و تقویٰ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اپنی وصیت کے دوسرے حصہ میں امام نے اُن پسندیدہ صفات و کمالات کو اپنے لئے بیان فرمایا ہے جو ایک حاکم اور اس کی حکومت کے لئے ضروری ہے یعنی امر بالمعروف ،نہی عن المنکر ، سیرت نبی و علی کو زندہ رکھنا اور اصلاح معاشرہ امام عالی مقام کو حکومت کی ضرورت انہیں کمالات کو معاشرے میں رواج دینے کے لئے تھی
وادی تبلیغ میں قدم رکھنے والے حضرات اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ،اگر دیندارحکومت کی پشت پناہی ہوتی ہے تو نفاذ شریعت بہت آسان ہوجاتا ہے
یزید کی حکومت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اٹھ چکا تھا ،سنت رسول اور سیرت علی - کو لوگ بھلا چکے تھے،اور رفتہ رفتہ دور جاہلیت کی طرف قدم بڑھ رہے تھے ،اس طرف سنی دانشور مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی نے اس طرح اشارہ کیا ہے:
” دنیا کی بد قسمتی تھی کہ خلفائے راشدین کے بعد دنیا کی راہنمائی کے منصبِ جلیل پر وہ لوگ حاوی ہوگئے تھے جنھوں نے اس کے لئے کوئی حقیقی تیاری نہیں کی تھی ارکانِ حکومت یہاں تک کہ بذاتِ خود خلفاء،دین و اخلاق کا کامل نمونہ نہیں تھے ، بلکہ ان میں سے بعض اشخاص میں جاہلی جراثیم اور میلانات پائے جاتے تھے،قدرتی طور پر ان کی روح اور نفسیات کا اثر قومی زندگی پر پڑ رہا تھا اور لوگ عموماً انھیں کے اخلاق و عادات و رجحانات کی تقلید کر تے تھے ،دین کی نگرانی ختم ہوچکی تھی،احتساب اٹھ چکاتھا ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا زور ختم ہوچکا تھا اس لئے کہ اس کی پشت پر کوئی طاقت اور حکومت کی حمایت نہیں تھی
( ” انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر“ تالیف مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ،صفحہ ۱۶۳ ۔ ۱۶۵ ، گیارہواں ایڈیشن ۱۹۹۲ ء، ناشر مجلس تحقیقات و نشریات اسلام ،پوسٹ بکس ۱۱۹ ،لکھنو ، ہند )
لہٰذا امام حسین نے مذکورہ سماجی برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے کربلا کے میدان میں انتہائی مصائب و آلام کے ساتھ اپنی اور اپنے اعزا و اقرباء کی قربانیاں پیش کردیںاِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ
اگر ہم بھی اپنے سماج سے ایسی برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے جدو جہد کرتے رہیں تو حسینی کہلائیں گے اس کے برخلاف اگر اپنے سماج کی ایسی حالت دیکھ کر ہم تماشائی بنے رہیں اور اصلاح کی کوئی تدبیر نہ کریں ،لوگوں کو اچھائی کا حکم نہ دیں ،انہیں برائی سے نہ روکیں تو ہم حسینی کہلانے کے مستحق نہیں ہیں
ہر سال ایام عزا میں چندرسومات کو بجالانا حسینی ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا ! مجلس و ماتم برپا کرکے ہم عزادار یا ماتم دار تو ہوسکتے ہیں لیکن حسینی نہیں، عزادار اور ماتم دار کا درجہ بھی اُس وقت ملے گا جب ہمارا یہ عمل خیر خلوص کے ساتھ ہو ،ریا کاری (دکھاوے)کی صورت میں کوئی اجرو ثواب نہ ہوگا
امام حسین -نے اپنی اور اپنے بیش بہا اقرباء و اصحاب کی قربانیاں اس لئے نہیں پیش کی تھیں کہ ہم پورے سال غفلت کی نیند سوئیں اور ایام عزا میں چند رسوماتب جالائیں اور بس! ،بلکہ امام عالی مقام کا مقصد مسلمانوں کوزیادہ سے زیادہ متحرک و فعال بنانا تھا تاکہ ایک مسلمان ہمیشہ اور ہر وقت اپنے سماج سے خبردار رہے
نوگانواں سادات میں مومنین ایام عزامیں امام حسین - کے نام پر تقریباً دو کروڑ روپئے خرچ کر ڈالتے ہیں ،ایسا ہی خرچ دوسری شیعہ بستیوں میں بھی ہوتا ہوگا ،لیکن سچ بتایئے ہم نے اس رقم سے کتنے لوگوں کوحسینی بنایا؟امام کے مشن کو کتنا آگے بڑھایا؟ امام کے نام پر کتنے رفاہی کام کئے ؟اتنی کثیر رقم خرچ کرنے کے باوجود! مقصد ِامام سے کوسوں دور !!اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم صحیح خرچ نہیں کرتے ! کیا یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ نہیں ہے؟
اور یہ بھی یاد رکھئے ! اگر ایام عزا کی رسومات برپا کرتے وقت کوئی ایسا فعل سرزد ہوجائے جس سے حقوق انسانی کے تلف ہونے کا خطرہ ہو تو بھی اشکال سے خالی نہیں ہے، مثلاً شب بیداری کے دوران ایسے طاقتور لاوڈ اسپیکر استعمال کرنا جس سے عزا خانے کے ہمسایہ یا اہل محلہ بے چین رہیں ،باعث گناہ ہوسکتا ہے
آیئے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنے سماج کی بھلائی کی خاطر سچے حسینی بن کر امام حسین کے مشن کو آگے بڑھائیں گے،تاکہ دکھی سماج کو سکون میسر ہو جائے
منحو س کاروبار
قرآن مجید کی بہت ساری آیات اور سورے اکثرروحانی و جسمانی بیماریوں اور مشکلات میں مفید و کارآمد ہیں جن کی نشاندہی ائمہ معصومین نے کردی ہے اور خدا کے نیک بندے اِن آیتوں اور سوروں کے ذریعہ مومنین کا علاج کرتے رہتے ہیں ،جس کا بے حد ثواب ہے
لیکن ایک گروہ ایسا بھی ہے جس کی نظر میں آیتوں کے تقدس سے زیادہ روپیہ پیسہ کی اہمیت ہوتی ہے جس کی خاطر یہ لوگ آیتوں کو فروخت کرنا شروع کردیتے ہیں اور پھراتنا آگے بڑھ جاتے ہیں کہ :فریب ،جھوٹ،فتنہ پروری،خداپر ایمان میں کمزوری ،شرک اور وسوسہ جیسی نحوستوں کے سہارے اپنے کاروبار کو آگے بڑھاتے ہیں
اس کاروبار میں نہ ہلدی لگتی ہے اور نہ پھٹکری(یعنی کوئی سرمایہ خرچ نہیں ہوتا)بلکہ معمولی کاغذ اور قلم کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے نتائج اور نحوستیں بہت شدید ہوتی ہیں
اکثر یہ کاروبار کرنے والے جاہل مطلق ہوتے ہیں لیکن اب اس میں مساجد کے پیش نماز بھی اپنا دامن آلودہ کرنے لگے ہیں ،فقہ جعفری کی رو سے ایسے پیش نماز کے پیچھے نماز نہیں ہوگی ،کیوں کہ :
یہ کاروبار جھوٹ کے ذریعہ چلتاہے
اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے ،ارشاد ہوتاہے :
( فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّٰهِ علیٰ الْکَاذِبِیْنَ )
(سورہ آل عمران،آیت ۶۱)
” جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں“
ان کے پاس جب کوئی مریض آتاہے تو یہ چند رَٹے رٹائے امراض اِن کے لئے تشخیص کرتے ہیں جو جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں ، مثلاً:
=کہتے ہیں کہ آپ پر خبیث،بھوت یا چڑیل ہے:
خبیث ،بھوت یا چڑیل جسم خارجی نہیں ہے بلکہ یہ کردار کے نام ہیں ،مریض اگر بد عمل ہے توخود بھی خبیث ،بھوت یا چڑیل ہوسکتاہے اور یہ علاج کرنے والا بھی خبیث وغیرہ ہوسکتاہے،اور اس کا علاج چند آڑی ٹیڑھی لکیروں سے نہیں بلکہ سیدھے راستے پر چلنے اور نیک اعمال بجالانے سے ہوتاہے
ایک صاحبہ ایک پیش نماز کے پاس گئیں اور کہا کہ :
”میری چھوٹی بہن بہت بیمار ہے اس کی فال دیکھ دیجئے پیش نماز کہنے لگے کہ تمہاری بہن کا علاج تو بعد میں ہوگا پہلے اپنا علاج کراو تمہارے اوپر خبیث ہے جو تمہارا سارا چین و سکون چھین لے گا یہاں تک کہ تمہاری شادی بھی نہیں ہونے دے گا“
یہ سن کر اِن صاحبہ کی ساتھیوں نے کہا کہ اِن کے توکئی بچے ہیں فوراً پیش نماز صاحب نے پینترا بدلا اور بولے کہ:
”پھر تو بہت ہی بڑا خبیث ہے کہ شادی شدہ پر آیا ہے؟!“
=کہتے ہیں کہ آپ پر ہوا کا اثر ہے :
ہوا کے اثر سے متعلق جب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ گندی روحوں کا اثریہ بات مسلمات میں سے ہے کہ تمام روحیں خدا وند عالم کے قبضہ میں ہوتی ہیں اسی لئے” قبض روح “کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے یعنی روحیں آزاد نہیں رہتیں کہ جو چاہے کرتی پھریں
جب مومن کی روح بغیر اذن پروردگارنہیں آجاسکتی تو گندی روحیں کس طرح مومنین کو ستانے کے لئے آزادنہ نکل پڑیں گی کیا خدا وند عالم گندی روحوں کو یہ اجازت دے گا کہ وہ مومنین کو ستائیں ؟ اور گندی روحیں تو اپنے بُرے اعمال کی سزا کاٹنے میں مصروف رہتی ہیں ،انہیں کسی کو ستانے کا ہوش کہاں رکھا ہے لہٰذا یہ بھی جھوٹ ہے کہ گندی روحیں مومنین یااللہ کے دیگر بندوں کو ستاتی ہیں
=کہتے ہیں کہ” چوکی“ چُھڑوادی ہے:
پوچھا ”چوکی “کیا چیز ہے تو کہنے لگے کہ ایک مٹی کی ہانڈی میں ہلدی ،مرچ وغیرہ رکھ کر مورد نظر شخص کا آٹے وغیرہ سے پُتلا بنا کر رکھا جاتاہے اور اس ہانڈی کو جنگل میں چھوڑ دیاجاتاہے ،ایسا کرنے سے جس کا پُتلا ہوتاہے وہ شخص یا تو مرجاتاہے یا بیمار رہنے لگتاہے
ایسا عقیدہ رکھنے والوں کو اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرکے اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہئے کیوں کہ اس عقیدہ سے کفر و شرک لاز م آتاہے ،قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے کہ موت و حیات اللہ کے ہاتھ میں ہے :
( اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَهُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْ اثُمَّ اَحْیَاهُمْ )
(سورہ بقرہ،آیت ۲۴۳)
”(اے رسول!) کیا تم نے ان لوگوں (کے حال پر) نظر نہیں کی جو موت کے ڈر کے مارے اپنے گھر وں سے نکل بھاگے اور وہ ہزاروں آدمی تھے تو خدا نے ان سے فرمایا کہ سب کے سب مرجاو (اور وہ مرگئے) پھر خدا نے انھیں زندہ کیا“
مگر ”چوکی “پر عقیدہ رکھنے والوں کے نزدیک موت وحیات اس مٹی کی ہانڈی یا اس کو جنگل میں چھوڑنے والے سے وابستہ مان لی جاتی ہے ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی قدرت و طاقت سے زیادہ ”چوکی“چھوڑنے والے کی طاقت ہے ؟! (نعو ذ باللہ )بے شک اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے،ارشاد خداوندی ہوتاہے :
( لَه مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَمَا فِیْ الاَْرْضِ یُحْییْ وَ یُمِیْتُ وَهُوَ عَلٰیْ کُلِّ شَئیٍ قَدِیْرٌ )
(سورہ حدید ،آیت ۲)
”سارے آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کی ہے وہی زندہ کرتاہے وہی مارتا ہے اور وہی ہرچیز پر قادر ہے“
اس کے علاوہ اگر اِن باتوں میں ذرا بھی صداقت ہوتی تو آج کل ملکوں میں کروڑوں اربوں روپئے فوج پر خرچ نہ کئے جاتے بلکہ جس ملک کے خلاف جب چاہتے ”چوکیاں“ جنگل میں چھوڑ دیاکرتے اور بس وہ ملک تباہ ہوجایا کرتا امریکہ کے صدر بُش نے پوری دنیا کا ناک میں دم کررکھاہے ،ایک ”چوکی“ اس کے لئے بھی کافی تھی عراقی شیعہ صدام کے ہاتھوں ۳۵/ سال تک نہ ستائے جاتے ،ایک ہی ”چوکی “ میں اس کا بھی کام تمام ہوجاتا
=کہتے ہیں کوکھ باندھ دی :
دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اس سے بچے پیدا ہونے بند ہوجاتے ہیں ،کتنا بُرا عقیدہ ہےخدا وند عالم تو چاہتاہے کہ میرا فلاں بندہ صاحب ِ اولاد ہوجائے اور کوکھ باندھنے والا اس کو صاحبِ اولاد نہیں ہونے دیتا اس عقیدہ سے اللہ کا مجبور ہونا لازم آتاہے اور جو مجبور ہو وہ خدا نہیں اور جومسلمان خدا کو مجبور مانے وہ مسلمان نہیں
مومنین حضرات ذرا سوچئے تو سہی یہ منحوس کاروبار کرنے والے آپ کا جسمانی علاج تو کیا کریں گے بلکہ یہ آپ کو کفر وشرک ایسے روحانی امراض میں مبتلا کررہے ہیں جس سے دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہیں
اس کاروبار میں دھوکہ دینا پڑتاہے:
جب کوئی مریض آیا تو کہنے لگے کہ اپنا پہنا ہوا کپڑا لاو ناپیں گے ناپ کر بتادیا کہ مثلاً چار انچ کم ہوگیا ہے یا بڑھ گیاہے مریض نے یقین کرلیا اور اسے پتہ بھی نہ چلا کہ اسے دھوکہ دے دیاگیا
لیکن جو حقیقت سے باخبر لوگ ہیں وہ دھوکہ میں نہیں بھی آتے چنانچہ ایک صاحبہ نے مجھے بتایا کہ ایک مسجد کے پیش نماز نے مجھے اس طرح دھوکہ دینا چاہا،وہ کہتی ہیں کہ :
”میں سخت بیمار ہوگئی کچھ اعزأ مجھے پیش نماز صاحب کے پاس لے گئے ،انہوں نے دیکھتے ہی کہہ دیا کہ اس پر تو خبیث ہے لہٰذا علاج ہوگامیں نے کہا کہ مجھ پر خبیث نہیں ہے بلکہ میں بیمار ہوں دوائی کی ضرورت ہے لیکن پیش نماز صاحب اسی پر اصرار کرتے رہے اور پھر ایک ضریح کے سامنے بٹھا کر کہا کہ اسے مضبوطی سے پکڑ لو” کچھ“ نظر آئے گا میں نے کہا مجھے کچھ بھی نظر نہیں آرہاہے مجھ پر” کچھ“ نہیں ہےمیں بیمار ہوں ،جتنا میں اصرار کرتی رہی وہ کہتے رہے بہت ضدی خبیث ہے بڑی مشکل سے پیچھا چھڑایا اور دہلی جا کرہسپتال میں اپنا علاج کرایا
اس کے علاوہ وہمی مریض کو پیاز کے عرق سے چند لکیریں سادے کاغذ پر کھینچ کر دے دیتے ہیں لیکن اس پر ظاہر نہیں ہونے دیتے بلکہ اس سے سادہ کاغذ ہی بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے چراغ کے سامنے رکھنا اگر تم پر کسی چیز کا ”اثر“ ہوگا تو ظاہر ہوجائے گا ،آگ کی حرارت سے پیاز کا عرق رنگ تبدیل کرلیتا ہے اور لکیریں ابھر آتی ہیں ،جس سے دھوکہ کھانے والا یہ سمجھتاہے کہ کسی چیز کا ”اثر“ہے
اس کاروبار میں فتنہ پروری ہوتی ہے:
کیونکہ یہ کاروبار کرنے والے جب وہمی مریض سے کہتے ہیں کہ تمہیں کسی نے ”کچھ “کرادیا ہے ،تو کرانے والے کاحُلیہ بھی بیان کرتے ہیں جو کسی نہ کسی دوست یا رشتہ دار پر فٹ ہوجاتاہے اور اس طرح مریض اپنے قریبی رشتہ دار یا دوست سے قطع تعلق کرلیتا ہے ، مجھے میرے ایک عزیز نے اسی سے متعلق آپ بیتی سنائی تھی ،وہ کہتے ہیں کہ :
”میرا ایک دوست تھا جو مجھے بہت چاہتاتھا لیکن اچانک اس نے مجھ سے بغیر وجہ بتائے قطع تعلق کرلیا ، مجھے اُس کی اِس حرکت پر بہت تعجب ہوا ،میں نے اپنے دیگر دوستوں کے ذریعہ اس بابت معلومات حاصل کیں تو انکشاف ہوا کہ میرا یہ دوست کسی ایسے شخص سے ملا تھا( جس کا ”منحوس کاروبار “عروج پر تھا) اور اپنی پریشانی بیان کی تھی تو کاروباری شخص نے کہہ دیا کہ تمہارے لئے کسی نے بہت سخت ”کچھ “کرادیا ہے جس کا حُلیہ یہ ہے ،اتفاق سے بتایاگیا حُلیہ میرے اوپر فٹ ہوگیا اس لئے میرے دوست نے مجھ سے کنارہ کشی کرلی “
اس کے علاوہ اور بہت سے ایسے واقعات میں نے سنے اور دیکھے ہیں جن میں بڑی اہم رشتہ داریاں اسی بنیاد پر ٹوٹ چکی ہیں
دیکھی آپ نے اس کاروبار کی نحوست !اسلام تو دلوں کو جوڑنے کی تاکید کرتاہے اور یہ بے دین لوگ جڑے ہوئے دلوں کوتھوڑے سے لالچ میں توڑ ڈالتے ہیں، فتنہ سے متعلق خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے کہ :
( اَلْفِتْنَةُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْل )
فتنہ قتل سے بھی بد تر ہے (سورہ بقرہ،آیت ۲۱۷)
لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا پڑتا ہے :
اِن کاروباری لوگوں کے پاس کوئی بھی چلاجائے ہر ایک کو یہی کہتے ہیں کہ تم پر خبیث ہے ،بھوت ہے ،چڑیل ہے ،گندی روحوں کا اثر ہے ،کوکھ بندھوادی ہے ،ترقی رکوادی ہے ،زبان بند کرادی ہے ،مَیْمْدَا چُھڑوادیاہے ،جنات کی حاضری ہے وغیرہ وغیرہ
حالانکہ اکثر حاضریاں ڈھونگ ہوتی ہیں ،کسی کو من پسند شادی نہ ہونے کی وجہ سے حاضری کاناٹک کرنا پڑتاہے،کوئی گھریلو ٹینشن کی وجہ سے حاضری بلاتاہے،کوئی پولس سے بچنے کے لئے تو کوئی قرض داروں کی وجہ سے ،اور کوئی والدین اور بھائی بہن کو پریشان کرنا چاہتا ہے تو کوئی بہو سسرال والوں سے عاجز آکر حاضری کا اقدام کرڈالتی ہے
میرے ایک دوست نے شہتوت کی قمچی سے کئی لڑکوں کی ایسی حاضریاں اتاریںکہ اِس کے بعد پھر کبھی اُن پر حاضری نہ آئی
اِس حاضری نے مذہب شیعہ کو جتنا بدنام کیاہے کسی چیز نے نہیں کیا ”کالی کے مندرمیں ہندووں کی حاضری “ ”شاہ مینا کے مزارپر اہل سنت کی حاضری“ اور ہمارے خود ساختہ مزاروں پرہماری حاضری ،اِن تینوں طریقہ حاضری میں کوئی فرق نہیں ہے تو پھر ہمارا وجہ امتیاز کیا ہوا ؟!
جس طرح حاضریاں اُن کے یہاں آتی ہیں اسی طرح ہمارے مزاروں اور درگاہوں پر ،بس یہی حاضری کے باطل ہونے کی دلیل ہے ، اس کے علاوہ آج سے ۲۵/ سال پہلے یہ حاضریاں کیوں نہیں آتی تھیں ؟یا ائمہ معصومین کے مقدس روضوں میں حاضریاں کیوں نہیں آتیں ؟ایران میں دس سالہ قیام کے دوران میں نے کسی روضہ پر اس قسم کی حاضریاں نہیں دیکھیں جیسی یہاں آتی ہیں ، توکیا یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ نہیں ہے ؟! ہم کس کی پیروی کررہے ہیں ؟! کس کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ؟! خدا وند عالم ہمیں جن و انس کے وسوسہ سے محفوظ رکھے ،وسوسہ سے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
( بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِکِ النَّاسِ اِلٰهیِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ اَلْخَنَّاسِ الَّذِی یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ مِنَ الجِنَّةِ وَالنَّاسِ ) (سورہ ناس)
”اے رسول! تم کہہ دو میں لوگوں کے پروردگار ،لوگوں کے بادشاہ ،لوگوں کے معبود کی (شیطانی ) وسوسہ سے پناہ مانگتاہوں جو (خدا کے نام سے )پیچھے ہٹ جاتاہے ،جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کرتاہے ،جنات میں سے ہو خواہ آدمیوں میں سے“
اس کاروبار کے ذریعہ مومنوں کے دلوں میں وسوسہ ڈال کر ان کے ایمان کو کمزور کیاجاتاہے ،بندوں کا رابطہ اللہ سے توڑا جاتاہے اور یہ تمام چیزیں عدالت کے منافی ہیں اور غیر عادل کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں
لہٰذاایسے پیش نماز حضرات کو چاہئے کہ اگر وہ مذکورہ” تعویذ گنڈوں کا کاروبار“ نہیں چھوڑ سکتے تو جماعت کی امامت چھوڑدیں ، کیوں کہ یہ بات پیش نماز کے شایان ِشان نہیں ہے کہ وہ جھوٹ بولے ،دھوکہ دے،فتنہ پروری کرے ،لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالے یا کسی کی بہو بیٹیوں کے کپڑے ناپے
مومنین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پیش نماز حضرات کی ضروریات کا پورا خیال رکھیں تاکہ وہ غیر شرعی طریقہ سے تلاش معاش نہ کریںدوسری ذمہ داری یہ ہے کہ اپنی مشکلات کا حل اس طرح تلاش کریں جس طرح ائمہ معصومین نے فرمایاہے
اگر مومنین طہارت کا خیال رکھیں،واجبات کو ادا کریں ، محرمات سے دور رہیں اور کم سے کم ہر شب چہار شنبہ دعائے توسل کا اہتمام کریں تو تمام مشکلات چاہے دنیاوی ہوں یا اُخروی خود بخود حل ہوجائیں گی کیوں کہ دعائے توسل میں خداوند عالم کے حضور اُن ہستیوں (چہاردہ معصو مین )کا واسطہ دیاگیا ہے جن کو خدا وند عالم سب سے زیادہ عزیز رکھتاہے
ہماری کہانیاں
دنیا میں انسانوں کے درمیان صحیح تبلیغ نہ ہونے کی وجہ سے ہی غلط رسم و رواج اور عقیدے جنم لیتے ہیں ،اور ایسی ایسی مضحکہ خیز باتیں وجود میں آتی ہیں جن کا مذہب اور عقل و منطق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتااور یہ باتیں اکثرتوحید کے منافی یا اس سے متصادم ہوتی ہیں
دوسرے مذاہب کی نسبت شیعہ مذہب نے عقل و منطق کو اہمیت دے کر افراط و تفریط کے بجائے اعتدال کی تاکید کی ہے
اشاعرہ یااہل حدیث کے یہاں صرف حدیث کافی ہے چاہے کیسی ہی کیوں نہ ہو ،عقل کا کوئی دخل نہیں ہے ،جب کہ معتزلہ کے یہاں عقل ہی سب کچھ ہے ، یہ لوگ حدیث کی تاویل بھی اپنی عقل کے مطابق کر ڈالتے ہیںلیکن شیعوں کے یہاں اعتدال پایا جاتا ہے
مگر دنیا پرستوں نے اعتدال کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسی ایسی باتیں بنام دین سماج میں رائج کردیں جو عقل و منطق ،کتاب و سنت دونوں کے منافی ہوتی ہیں اور عوام انہیں کو دین سمجھنے لگتے ہیںاگر کوئی مُصلح اصلاح کی بات کرتاہے تو عوام یہ سمجھتے ہیں کہ دین کی مخالفت ہورہی ہے لہٰذا اصلاحی تحریک کی مخالفت شروع کردی جاتی ہے ،عوام تو عوام ہیں لیکن جب بعض طلاب اور نام نہاد مولوی اصلاحی تحریکوں کی مخالفت کرتے ہیں تو حالات اور بھی بدتر ہوجاتے ہیں اورمعاشرے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے لگتا ہے
اصلاحی تحریکوں کی مخالفت کے باعث ہمارا شیعہ معاشرہ فکری طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا ہے ،اس کا بخوبی اندازہ جوگی پورہ میں ہوا، جہاں سالانہ مجالس کے موقع پر ہندوستانی شیعوں کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے ،ہم نے سَن ۲۰۰۳ ء سے ۲۰۰۶ ء تک ہر سال اِس اجتماع کے موقع پرعلمی و اصلاحی لٹریچر کا اسٹال لگایا ،جس میں سبھی عمر کے لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے افکار و عقائد کی اصلاح کے لئے کتابوں کا انتخاب کیاگیا تھا ،مگر افسوس کہ اسٹال پر ۵۰/ فی صد مراجعین قصے کہانیوں کی کتابوں کا مطالبہ کرتے تھے ، ۳۰ فی صد مراجعین ان نوحوں کی کتابوں کو مانگتے تھے جن کی دھنیں کیسٹوں کے ذریعہ اُن تک پہنچ چکی تھیں اور ۲۰ فی صد میں باقی دوسری کتابیں غرض کہ جوگی پورہ آنے جانے کا کرایہ جیب سے دے کر یہ کتابیں اسی طرح واپس لانا پڑیں
اگر فکری جمود کی اور مثال دیکھنی ہو تو لکھنو میں دیکھئے جہاں سے ”جدید شریعت“ اور ”کشف الحقائق“ جیسی ضدِروحانیت و مذہب ،گمراہ کنندہ کتابیں شائع ہوگئیں اور کسی نے اعتراض تک نہ کیا
کیا معاشرے میں کج فکری کی اس سے بڑی کوئی مثال ہوسکتی ہے کہ ہمارا سماج ائمہ معصومین کی تعلیم کی ہوئی دعاوں کے بجائے من گھڑت قصے کہانیوں سے حاجت طلب کرتا ہے!اسی لئے تو قصے کہانیوں کی کتابوں کی باڑھ سی آئی ہوئی ہے، جن میں سے چند مشہور یہ ہیں :
جناب سیدہ کی کہانی ،دس بیبیوں کی کہانی، چٹ پٹ بی بی کی کہانی،سُگت اماں بی بی شہر بانو کی کہانی، تیسرے چاند کی کہانی،بی بی سگٹ کی کہانی، حضرت عباس کی کہانی، مولا مشکل کشا کی کہانی ،جناب ام کلثوم کی کہانی اور اب آگئی ”سولہ سیدوں کی کہانی“
بک سیلر حضرات تو معاشرے کے بجائے اپنا فائدہ دیکھتے ہیں لہٰذا وہ تو ایسی کتابیں شائع کراتے ہیں جو زیادہ فروخت ہوں،چاہے معاشرے کا کچھ بھی حشر ہویہ بات لکھنو کے کئی بک سیلروں نے مجھ سے خود کہی کہ ہم تو تاجر ہیں مذہب کے خادم نہیں ہیں!
ان سب کہانیوں میں جناب سیدہ کی اُس کہانی کا کتابوں میں ضرور تذکرہ ملتا ہے جس میں جناب سیدہ یہودی کے یہاں شادی میں تشریف لے گئی تھیں اور جنتی لباس زیب تن فرمایا تھا لیکن اس میں بھی بہت سی چیزیں اضافہ کرلی گئیں ،البتہ سند کے اعتبار سے یہ بھی ضعیف ہے کیوں کہ اس کے راوی کا نام معلوم نہیں ہے ،علامہ مجلسی نے بھی بحارالانوار کی جلد ۴۳ ،صفحہ ۳۰( مطبوعہ بیروت) میں اس واقعہ کو ”رُوِیَ“سے شروع کیا ہے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ”روایت کی گئی ہے“اور جو قول ”قِیْلَ“ سے اور روایت”رُوِیَ“ سے شروع ہوتی ہے وہ سند کے اعتبار سے ضعیف مانی جاتی ہے
باقی جو کہانیاں ہیں وہ عوام ہی میں سے کسی کی ذہنی اختراع ہیں،چونکہ عوام میں علمی شعور نہیں ہوتا اس لئے ان کی وضع کی ہوئی کہانیاں بھی انہی کے جیسی ہوں گی جس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے ،لیکن افسوس تو ضلع میرٹھ کے اُس نام نہادطالب علم پر ہے جو وطن عزیز اور اعزأ و اقرباء کو چھوڑ کر علم دین حاصل کرنے کی غرض سے ملکِ شام پہنچا اور اُس پر رقومات شرعیہ بھی خرچ ہوئیں لیکن اُس نے اپنی کسی بھی ذمہ داری کو محسوس نہیں کیا اورمال کے لالچ میں ”سولہ سیدوں کی کہانی “تالیف کرڈالی
یوں تو یہ کہانی کسی سُنّی کی لکھی ہوئی ہے ،کیوں کہ سب سے پہلے ”چمن بک ڈپو“ ، ۹۱۴ گلی چاہ شیریں فراشخانہ ،دہلی “ سے یہ کہانی شائع ہوئی تھی لیکن اِس طالب علم نے شاید لفظوں میں رد و بدل کرکے اِسے اپنے نام سے شائع کرایا ہے ،چونکہ اپنے مقدمہ میں صفحہ ۴ پر اِس طالب علم نے خود اعتراف کیا ہے کہ :
”جس وقت اس عظیم کہانی یا عظیم معجزے کا مجھ کو پڑھنے کا شرف حاصل ہوا تو مجھ کو مطالعے کے بعد بڑی خوشی محسوس ہوئی اور میں نے اس وقت یہ فیصلہ کیا کہ سہی ہے کہ یہ عظیم معجزہ یا کہانی اپنے مکمل مفہوم کے ساتھ موجود ہے لیکن اگر مزید ترتیب کے ساتھ اس کوبار دیگر الفاظی و ادبی نقطہ نظر سے شائع کردیا جائے تو بہتر ہوگا“
اس طالب علم نے کہانی کے آخر میں اپنا” علمی بیان “دے کر جہالت و گمراہی کا ثبوت ہی دے دیا، یہ من گھڑت کہانی اور اس پر نام نہاد ”علمی بیان“ کتابچہ کی شکل میں مارچ ۲۰۰۷ ء میں شام سے شائع ہوا ہے
مجھے تعجب ہے !کیا ملکِ شام میں حوزہ علمیہ پر کسی بزرگ عالم دین کی نظارت نہیں ہے؟ تاکہ طلاب عزیز ،دین و مذہب کے خلاف کسی فعالیت میں شریک نہ ہوں!
کہانی تو یہ بھی لائق تبصرہ نہیں ہے ،لیکن ایک طالب علم نے عوام کو گمراہ کرنا چاہا ہے لہٰذا اس سے متعلق چند نکات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا ضروری ہیں:
۱ ۔ کوئی بھی تالیف تحقیق پر مبنی ہوتی یعنی ایک مولف جب کوئی بات پیش کرتا ہے تو استدلالی ،عقلی،منطقی اور مستند ہوتی ہے ،لیکن سولہ سیدوں کی کہانی میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے،مثلاً اس کہانی کی ابتدأ اس طرح ہوتی ہے:
”کسی شہر میں ایک بادشاہ رہتا تھا“
شہر کا نام کیا تھا ؟کس ملک میں واقع تھا؟وہ کس مذہب کا پیرو تھا؟ اس قسم کی کوئی بھی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جب کہ یہ ساری معلومات ضروری تھیں
۲ ۔ اس کہانی کے صفحہ ۴،۵ پر
” اس من گھڑت کہانی کو ”عظیم معجزہ یا کہانی “ لکھا ہے“
ایک طالب علم سے بعید ہے کہ وہ ایسی بات لکھے جو جاہل مطلق کے علاوہ کوئی نہیں لکھ سکتا ،معجزہ اور کرامت صرف انبیاء و ائمہ معصومین سے مخصوص ہے ،یہ کونسا معجزہ ہے جو من گھڑت کہانی کے مترادف ہوگیا ؟ اور اِس طالب علم نے صفحہ ۵ پر یہ بات کہاں سے لکھ دی کہ ”جو بھی( اس من گھڑت)قصے کوسنے وہ اپنی مرادیں محمد و آل محمد کے صدقے میں پائے گامحمد وآل محمد تو جھوٹ سے نفرت کرتے ہیں تو پھر اِس جھوٹے قصے سے کس طرح مرادیں پوری کریں گے؟ غور وفکر کامقام ہے!
۳ ۔ اس من گھڑت قصے میں لکھا ہے کہ:
”سائل نے منھ پھیر لیا اور بادشاہ سے وہ تھالی لئے بغیر چل دیا سائل سے انکار کا سبب دریافت کیا تو سائل نے کہا کہ :میں بانجھ گھروں سے کچھ نہیں لیتا“
اگر سائل کو یہ معلوم تھا کہ بادشاہ بے اولاد ہے اور بے اولاد کے ہاتھ سے بھیک نہیں لینا چاہئے ،تو وہ بادشاہ کے یہاں آیاکیوں ؟ اور اگر اُسے معلوم نہیں تھا تو پھر بغیر بھیک لئے واپس کیوں چلا گیا جب کہ کسی نے اُسے بتایا بھی نہ تھا کہ بادشاہ بے اولاد ہے؟!
دوسرے یہ کہ اسلام نے بے اولاد کو کبھی بھی منحوس نہیں سمجھا ہے بلکہ یہ ہمارے سماج پر اغیار کا اثر ہے جس سے ہم بے اولاد کومنحوس سمجھتے ہیں ،اسی وجہ سے سائل نے بھی بے اولاد کو منحوس سمجھا یاتو سائل خود غیر شیعہ تھا یا وہ غیر شیعوں کے کلچر سے متاثر تھا ،دونوں صورتوں میں سائل اللہ یا ولی اللہ کا نمائندہ نہیں ہوسکتا،اور نام نہاد طالب علم نے اپنے ”علمی بیان “کے صفحہ ۲۱ پر بغیر تحقیق کئے سائل کو اللہ اور ولی اللہ کا نمائندہ لکھ دیا؟!
۴ ۔ اس قصہ میں لکھا ہے کہ:
” شاہی لباس کو اُس (بادشاہ) نے اپنے تن سے اتار دیا اور اس کے عوض میں فقیری لباس پہن کر اپنی بیوی سے یہ کہتا ہوا کہ اگر رب العزت میری عزت رکھے گا(یعنی صاحب اولاد کرے گا) تو واپس آوں گا ،محل سے جنگل کی طرف روانہ ہوگیا“
اولاد کا نہ ہونا بے عزتی نہیں ہے،دوسرے یہ کہ اسلام کے نقطہ نگاہ سے اہل و عیال اورکاروبارِ زندگی کو چھوڑ کر جنگل میں چلے جانا انتہائی مذموم ہے اور یہ عیسائیوں کا وطیرہ ہے،قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے:
”( وَ رَهْبَانِیَّةَابْتَدَعُوْهَا مَاکَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ ) “
”اور رہبانیت (لذات سے کنارہ کشی) ان لوگوں نے خود ایک نئی بات نکالی تھی ہم نے اُن کو اس کا حکم نہیں دیا تھا“(سورہ حدید،آیت ۲۷)
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کوجب یہ اطلاع دی گئی کہ اصحاب کے ایک گروہ نے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں کو چھوڑدیا ہے اور گوشہ نشین ہوکر عبادت میں مشغول ہوگیا ہے توآنحضرت نے شدید سرزنش کرتے ہوئے فرمایا کہ :
”میں تمہارا پیغمبر ہوں لیکن میں نے دنیا کو ترک نہیں کیا ہے“ (نہج البلاغہ کی سیر،صفحہ ۲۹۲ ،تالیف شہید مطہری،ترجمہ و کتابت شعبہ اردو مجمع جہانی اہل بیت ایران،ناشر مجمع جہانی اہل بیت ،ایران)
اس کے علاوہ جب عثمان بن مظعون /اپنے بیٹے کی وفات سے حد درجہ رنجیدہ ہوئے اور کاروبارِ زندگی کو چھوڑ کر مسجد میں صرف عبادت کرنے لگے اور اس کی خبر رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایاکہ :
”یَا عثمان! اِنَّ اللّٰهَ تبارک و تعالیٰ لم یکتب علینا الرهبانیة ،انّما رهبانیة اُمّتی الجهاد فی سبیل اللّٰه “
”اے عثمان! اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لئے رہبانیت کا حکم نہیں دیا ہے ،بتحقیق میری امت کے لئے کوشش کرنا ہی رہبانیت ہے
یعنی ناامید ہوکر نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ اللہ کی راہ میں برابر کوشش کرتے رہنا چاہئے ،چاہے یہ کوشش تلوار کے ساتھ ہو یا قلم کے ساتھ،زبان کے ساتھ ہویا کسی اور ذریعہ سے جو لوگ کاروبارِ زندگی چھوڑ کر صرف اللہ کی عباد ت کرنا چاہتے تھے رسول خدا نے ان کی بھی سرزنش فرمائی ،تو پھر وہ بادشاہ !جو کہ پوری رعایا کا ذمہ دار ہوتاہے اور بجائے مسجد کے جنگل میں جارہاتھا سرزنش کا اور بھی زیادہ مستحق قرار پائے گا،ایسے شخص کو جس نے اسلام کے فلسفہ حیات کی مخالفت کی ہو اُسے اِس طالب علم نے اپنے نام نہاد”علمی بیان“میں صفحہ ۲۲ پر بغیر تحقیق کئے مومن ہونے کی سندبھی دے دی!کیوں؟
۵ ۔ اس قصے میں لکھا ہے کہ :”راستے میں سولہ تشریف فرما تھے“
لیکن یہ نہیں لکھا کہ یہ سولہ سید کون تھے؟کس امام کی اولاد تھے؟ وہاں پر کیا کررہے تھے؟شیعہ تھے یا سنی؟کس ملک کے کس شہر سے ان کا تعلق تھا؟ اور کیا یہ سولہ سید علم غیب بھی جانتے تھے ؟اور ان کی تعداد سولہ ہی کیوں تھی؟یہ تمام باتیں تحقیق طلب ہیں
نام نہاد طالب علم نے اپنے ”علمی بیان“میں صفحہ ۲۱ پر سائل کے بارے میں تو لکھ دیا کہ:
”بادشاہ کے دروازے پر آنے والا یہ سائل علم غیب بھی رکھتا تھا“
لیکن سولہ سیدوں کے بارے میں نہ لکھاکہ یہ بھی علم غیب جانتے تھے یا نہیں؟،حالانکہ سائل کے بارے میں بھی جھوٹ بول کر گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ،ورنہ علم غیب تو صرف اللہ کے پاس ہے ،ارشاد ہوتاہے:
( وَعِنْدَه مَفَاتِیْحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَااِلَّا هُوَ )
اور اُس(خدا) کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا(سورہ انعام ،آیت ۶۰)
اب رہا سوال یہ کہ خدا کے علاوہ نبی یا امام بھی تو علم غیب جانتے ہیں ،تو یہ چیز خدا وند عالم نے انہیں اسلحہ کے طور پر عطا کی ہے ،اور اللہ ہی اپنی مرضی سے اسے استعمال کراتا ہے،اس کی مثال بلا تشبیہ اس طرح دی جا سکتی ہے :پولس کو جو اسلحہ ملتا ہے وہ چاہے کسی بھی شکل میں ہو اُسے پولس اپنی مرضی سے نہیں چلا سکتی بلکہ اپنے حاکم کے حکم سے استعمال کرتی ہے
یہ مثال حجة الاسلام محسن قرائتی صاحب نے قم میں ایک کلاس کے دوران ہمیں بتائی تھی ،جب اُن سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ: آٹھویں امام نے زہر آلود انگورکیوں نوش فرمائے،جب کہ آپ کو علم غیب سے معلوم تھا کہ یہ انگور زہر آلود ہیں ؟
تو موصوف نے جواب میں یہی کہا تھا کہ ائمہ کو خدا وند عالم نے علم غیب اسلحہ کے طور پر دیا ہے جب اُس کی مرضی ہوتی ہے علم غیب سے استفادہ کرتے ہیں اور جب اُس کی مرضی نہیں ہوتی تو پھر علم غیب سے استفادہ نہیں کرتے ،ہو سکتا ہے جب زہر آلود انگور نوش فرمائے ہوں خدا کی مرضی سے علم غیب سے استفادہ نہ کیا ہو
۶ ۔ اس قصے میں صفحہ ۱۸ پر لکھا ہے کہ:
”کل پندرہویں تاریخ ہے ،تم قربةً الی اللہ غسل کرنا اور سحری تناول فرماکر سولہویں کا روزہ رکھنا اور چاررکعت نماز سولہ سیدوں کے نام سے ادا کرنا“
کیا اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام کی نماز ادا کرنا جائز ہے؟ نہیں! عبادت صرف خدا کے لئے مخصوص ہے اور اسی کے نام پرہوتی ہے ،ارشاد ہوتاہے :
”( وَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ) “
اور اس کے لئے نری کھری عبادت کرکے اس سے دعا مانگو (ترجمہ ،مولانا فرمان علی صاحب)سورہ اعراف، آیت ۲۹)
یعنی اگر دعا بھی کرنی ہو تو اللہ سے اور اُس کی خالص عبادت کے بعد، نہ جانے طالب علم نے یہ بات کیسے لکھ دی کہ :
”چار رکعت نماز سولہ سیدوں کے نام کی ادا کرنا“
۷ ۔ اس فرضی قصے میں لکھا ہے کہ(سولہ سیدوں نے کہا ) :
” اور پانچ پیسے کی شیرینی منگاکر ہماری کہانی سننا“
بالفرض اگر کوئی شخص اِس نام نہاد طالب علم کے بہکائے میں آکر سولہ سیدوں کی کہانی سننے لگے تو کتنے پیسے کی شیرینی منگائے ؟کیونکہ نہ تو پانچ پیسے کا سکہ رائج ہے اور نہ ہی پانچ پیسے کی شیرینی کوئی دوکاندار دینے پر راضی ہوگا
۸ ۔ اس قصے میں :
”سید بھی سولہ،روزہ رکھنے کی تاریخ بھی سولہ،روزہ رکھنے کے مہینے بھی سولہ تحریر کئے ہیں“
جس سے اِس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ کہانی کسی سنی کی لکھی ہوئی ہے،ہمارے یہاں کسی عمل میں عدد کی یہ مماثلت نہیں بتائی گئی ہے ،بلکہ خلوص نیت پر زور دیاگیاہے
عدد کی مماثلت پر اہل سنت کے یہاں زور دیاجاتا ہے ،مثلاً ربیع الآخر کی گیارہ تاریخ کو اِن کے یہاں شیخ عبد القادر جیلانی کی فاتحہ آتی ہے چونکہ یہ فاتحہ گیارہ تاریخ کو آتی ہے اس لئے اسے گیارہویں شریف کہتے ہیں اور جن چیزوں پر فاتحہ آتی ہے وہ بھی عدد کے اعتبار سے گیارہ ہوتی ہیں مثلاً:روٹی بھی گیارہ ،کباب بھی گیارہ ،کوفتے بھی گیارہ ،کیلے بھی گیارہ ،آم بھی گیارہ ،فرنی کی پیالیاں بھی گیارہ،اور فاتحہ کہنے اور کھانے والے بھی گیارہ
یہ کہانی سب سے پہلے ”چمن بک ڈپو“ ، ۹۱۴ گلی چاہ شیریں فراشخانہ ،دہلی نے شائع کی یہ ادارہ اہل سنت کی کتابیں ہی شائع کرتاہے،البتہ اس ادارہ نے اتنی احتیاط ضرور کی کہ کتابچہ کے اوپر لکھ دیا ”اختراعی داستان“لیکن شیعوں نے اتنی بھی زحمت نہ کی اس کے بعد جلال پور ،ضلع امبیڈکر نگر سے بظاہر ایک مولوی صاحب نے اسے شائع کرایااور اب ملکِ شام سے بھی اتفاقاً یا عمداً ایک مولوی صاحب نے ہی شائع کرایا ہے
۹ ۔ اس قصے میں لکھاہے کہ:
”بڑھیا نے جواب میں فرمایا کہ سب سولہ سیدوں کے نام پر روزہ رکھنے کی برکت کا نتیجہ ہے (جومکان اور مال دولت مجھے ملا ہے )
اسلام میں صرف اللہ کے نام پر روزہ رکھنا جائز ہے ،اس کے علاوہ کسی کے نام پر روزہ رکھنا صحیح نہیں ہے
دوسرے یہ کہ اللہ کے نام پر ماہ رمضان کے ۳۰ روزے رکھنے والے غریب مسلمان بھی سحری ،افطاری اور اُخروی ثواب کے حقدار ہوتے ہیں،بہترین مکانوں اور ثروت کے مالک نہیں بنتے ،تو پھر سولہ سیدوں کے نام پر سولہ روزے رکھنے سے بڑھیا کس طرح مالدار بن گئی،وہ بھی ایک ہی دن میں؟!اِس منھ بولے طالب علم نے ایسا لکھ کر مومنین کو خدا سے دور کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے ،اگر کوئی غربت کامارا مسلمان مال کے لالچ میں بجائے خدا کے سولہ سیدوں کے نام پرروزہ رکھ لے تو اِس کاعذاب اِسی طالب علم کوہوگا
۱۰ ۔ اس قصے میں لکھا ہے کہ:
”لکڑہارا شیرینی منگواکر کہانی سننا بھول گیا(جس کی وجہ سے لکڑہارے کے ہاتھ میں لوٹاشہزادے کاکٹا ہوا سر بن گیااور قاتل سمجھ کر بادشاہ نے لکڑہارے کو قید خانہ میں ڈال دیاابھی قید خانہ میں اس کو کچھ ہی دن گزرے تھے کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ وہی سولہ سید اس سے کہہ رہے ہیں کہ اے غافل تونے شیرینی منگاکر ہماری کہانی نہیں سنی“
یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اکثر و بیشتر ہماری کہانیوں کے ہیرو لکڑہارے صاحب ہی ہوتے ہیں،بہر حال اسلام میں بھول چوک پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ،مثلاً ”نماز کے واجبات میں سے بعض اس کے رکن ہیں یعنی اگر انسان انہیں بجا نہ لائے تو خواہ ایسا کرنا عمداً ہو یا غلطی سے ہو نماز باطل ہوجاتی ہے“ (توضیح المسائل آیت اللہ سیستانی،صفحہ ۱۵۲ ،مسئلہ نمبر ۹۵۱)
نماز کا واجب رکن چھوٹ جانے پر بھی سزا نہیں ہے صرف نماز دوبارہ پڑھنا پڑے گیتو پھر سولہ سیدوں کی من گھڑت کہانی سہواً یا عمداً نہ سننا کس لئے باعثِ سزا بنا ؟!
۱۰ ۔ اس قصے میں :
”جھوٹے واقعات پر پانچ جگہ محمد و آل محمد پر درود بھی بھیجا گیا “
کیا اس عمل سے اہل بیت خوش ہوں گے ؟! نہیں بلکہ ناراض ہوں گے،کیوں کہ اِسی درود کا سہارا لے کر اہل سنّت کے گڑھے ہوئے قصے کو شیعوں میں رواج دینے کی کوشش کی جارہی ہے اورساتھ ہی تقدس بھی بخشا جارہا ہے ،ورنہ جو قصہ ”چمن بک ڈپو “ دہلی یا جلال پور امبیڈکر نگر سے شائع ہوا ہے اس میں تو ایک جگہ بھی درود نہیں ہے!
۱۱ ۔ اس قصے کے صفحہ ۱۸ پر لکھا ہے کہ :
”لکڑہارے نے جواب دیا کہ : میں شیرینی منگاکر سولہ سیدوں کی کہانی سناکر شیرینی تقسیم کرنا بھول گیا تھا ،جس کی وجہ سے مجھ پر عذاب نازل ہوا“
خدا وند عالم نے گناہوں پر عذاب کا وعدہ فرمایا ہے،شیرینی تقسیم نہ کرنا یا بھول جانا گناہ نہیں ہے تو پھر سولہ سید کس طرح عذاب نازل کررہے ہیں ؟ کیا انہیں یہ اختیار ہے کہ کسی پر عذاب نازل کریں؟!
سولہ نہیں اگر سولہ کروڑ سید بھی مل کر چاہیں کہ کسی پر عذاب نازل کریں تو نہیں کرسکتے کیونکہ یہ کام صرف اللہ سے مخصوص ہے اور یہ اختیار صرف اللہ کو ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ:
”یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ“
”(خدا ہر چیز پر قادر ہے) جس پر چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے“(سورہ عنکبوت ،آیت ۲۱)
۱۲ ۔ سولہ سیدوں کی من گھڑت کہانی میں :”کہیں بھی کسی بھی لفظ سے یہ بو نہیں آتی کہ لکڑہارے یا اس کہانی کے کسی دوسرے کردارنے اہل بیت کا واسطہ دے کر دعا کی ہو ؟!تو پھر بزعم خود ”علمی بیان “میں صفحہ ۲۴ پر کس طرح یہ بات لکھ دی:
”سولہ سیدوں کی اس مبارک کہانی میں بادشاہ کے بعد بڑھیا اور بڑھیا کے بعد لکڑہارے کی مراد کا پورا ہونا عالم انسانیت کو اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ جو بھی انسان سچے دل سے محمد وآل محمد کا دامن تھامتا ہے تو خداوند عالم اس کی طلب کو رد نہیں کرتا؟!“
اِس قسم کی کہانیوں کو شیعہ معاشرے میں رائج کرانے کے پیچھے اُس شیعہ دشمن طاقت کا ہاتھ تلاش کرنا چاہئے جس نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ:
”ایسے شیعہ افراد کو تلاش کرکے ان کی مالی مدد کی جائے جو اپنی تحریروں کے ذریعہ شیعہ عقائد اور مراکز پر ضرب لگائیں اور شیعہ بنیادوں کو منہدم کرتے ہوئے اسے شیعہ مراجع تقلید کی اختراع قرار دیں“(ڈاکٹر مائیکل برانٹ ،امریکی سی آئی اے میں شیعہ سیکشن کے سابق انچارج)کا اعتراف،ماخوذ ”دین اور سیاست “تالیف سید پیغمبر عباس نوگانوی ، صفحہ ۱۸۹ ،ناشر المنتظر ثقافتی مرکز نوگانواں سادات)
ایسی کہانی پڑھ کر دعائیں مانگنا ،اہل بیت کے طریقہ دعا سے بالکل مختلف ہے ،ہمیں اہل بیت سے محبت بھی ہے اور ہم اُن کے طریقہ دعا کو بھی نہیں اپناتے؟ ! جیسا دعا کا طریقہ ہمارے رہبروں نے بتایا ہے ایسا تو کسی بھی مذہب کے پیشواوں نے نہیں بتایا ،مگر یہ ہماری بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم نے اس طریقہ کو چھوڑ کر غیروں کا طریقہ اپنالیا ہے
اس قوم کو کیا کہئے کہ جس کے پاس ایسے امام و رہبر ہوں جن کی دعائیں اور مناجاتیں قبولیت دعا کی ضمانت ہوں اور وہ پھر بھی ان سے استفادہ نہ کرے ،کیا امام علی کی دعائے مشلول و دعائے کمیل کی تعلیم ہمارے لئے نہ تھی؟ کیا امام زین العابدین - کی دعاوں کا مجموعہ ”صحیفہ سجادیہ “ ہمارے لئے نہیں ہے؟ کیا دعائے نور و دعائے ندبہ سے ہمیں فائدہ نہیں پہنچے گا؟ کیا زیارت عاشورہ کا عمل کرکے حاجت بر آنے کی ضمانت ائمہ معصومین نے نہیں لی ہے ؟اگر ایسا ہے تو پھر شیعہ سماج میں ائمہ معصومین سے منسوب دعاوں اور مناجاتوں کو چھوڑ کر عوام کی گھڑی ہوئی کہانیوں کے ذریعہ حاجت طلب کیوں کی جاتی ہے ؟!
کیا یہی اہل بیت کی پیروی ہے ؟ کیا کبھی آپ نے سنا اور پڑھا ہے کہ ہمارے ائمہ یا فقہائے عظام نے ان کہانیوں کے ذریعہ حاجت طلب کی ہو؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم کس کی پیروی کر رہے ہیں؟کس کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ؟کیا ہم ان من گھڑت کہانیوں کے ذریعہ آل محمد اور اُن کے فلسفے سے دور نہیں ہورہے ہیں ؟
آئیے ہم سب مل کر یہ کوشش کریں کہ شیعہ سماج میں ائمہ معصومین سے منسوب دعاوں اور مناجاتوں کو رواج دیں تاکہ معاشرے کی دینی و دنیوی تمام پریشانیاں دور ہوجائیں
حضرت عباس کی صفات کمالیہ
قرآن مجید کے سورہ مریم میں جناب زکریا کی دعا اور تمنا کا تذکرہ ملتا ہے جس سے جناب یحییٰ پیدا ہوئے،حضرت فاطمہ بنت اسد کی دعا اور تمنا سے حضرت علی نے دنیا کو زینت بخشی اور حضرت علی کی دعا اور تمنا سے قمر بنی ہاشم ،علمدار کربلا، سقائے حرم، عبد صالح حضرت عباس نے دنیا کو رونق بخشی،حضرت عباس کی تاریخ ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن سن ولادت میں کوئی اختلاف نہیں ہے تمام محققین نے حضرت عباس کی ولادت سن ۲۶ ہجری میں بیان کی ہے،ہندوستانی علماء نے حضرت عباس کی تاریخ ولادت میں اختلاف کیا ہے کسی نے ۱۹ جمادی لثانی،کسی نے ۱۸/ رجب، کسی نے ۲۶/ جمادی الثانی بیان کی ہے لیکن اہل ایران ۴ شعبان پر متفق ہیں،جو مطابق ہے ۱۸/ مئی ۶۴۷ ء بروز منگل،آپ کی ولادت کے ساتویں روز آپ کا عقیقہ کیا گیا اور عباس نام رکھا گیا،
عباس عبس مصدر سے ہے جس کے معنی تیوری چڑھانا،ترش رو ہونا،چیں بجبیں ہونا ہے اور اصطلاح میں بپھرے ہوئے شیر کو عباس کہتے ہیں،سن ۴۰ ہجری میں حضرت علی نے سر پر ضربت لگنے کے بعد آخری لمحات میں اپنے بیٹوں منجملہ حضرت عباس کو وصیت و تاکید فرمائی کہ :رسول اللہ کے بیٹوں حسن و حسین سے منھ نہ موڑنا پھر تمام اولاد کا ہاتھ امام حسن کے ہاتھ میں دیا اور حضرت عباس کا ہاتھ امام حسین کے ہاتھ میں دیا،جیسا کہ حضرت علی کی تمنا سے ظاہر ہے آپ نے حضرت عباس کی تربیت میں ایثار و فدا کاری کوٹ کوٹ کر بھردی تھی، حضرت علی مسلسل حضرت عباس سے اس کا اظہار فرماتے رہتے تھے کہ تمہیں ایک خاص مقصد کے لئے مہیا کیا گیا ہے ،تمہارا مقصد شہادت کے علاوہ اورر کچھ نہیں ہے ،ایک بار جناب ام البنین مادر حضرت عباس تشریف فرما تھیں اور حضرت عباس کا بچپن تھا
مولائے کائنات نے اپنے فرزند عباس کو گود میں بٹھایا اور آستین کو الٹ کر بازووں کو بوسے دینے لگے،ام البنین نے آپ کا یہ انداز محبت دیکھ کر عرض کی :مولا !یہ کیسا طریقہ محبت ہے یہ بازووں کو بوسے کیوں دیئے جا رہے ہیں ،یہ آستین کیوں الٹی جا رہی ہے
،آپ نے فرمایا: ام البنین !تمہارا یہ لال کربلا میں شہید ہوگا،اس کے شانے قلم ہوں گے،پروردگار اسے دوپر عنایت کرے گا جس سے یہ جعفر طیار کی طرح جنت میں پروز کرے گا،یہ وہ نازک لمحہ ہے جہاں ماں کی ممتا کے سامنے ایک طرف بیٹے کی شہادت ہے اور دوسری طرف جنت الفردوس ،مولائے کائنات حضرت عبا س کو مستقبل سے باخبر کرنے کے ساتھ دنیا کو متوجہ کررہے ہیں کہ ہمارے گھر کے بچے حالات میں گرفتار ہوکر قربانی نہیں دیاکرتے بلکہ آغاز حیات سے ہی قربانی کے لئے آمادہ رہتے ہیں ،جب شب عاشور زہیر قین نے یاد دلایا اور کہا عباس !آپ کو یاد ہے کہ آپ کے پدر بزرگوار نے آپ کو کس دن کے لئے مہیا کیاہے؟
تو حضرت عباس نے اس طرح انگڑائی لی کہ رکابیں ٹوٹ گئیں اور فرمایا: اے زہیر آج کے دن شجاعت دلارہے ہو،عاشور کی رات تمام ہونے دو اور صبح کا وقت آنے دو تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ بیٹے نے باپ کے مقصد کو کس انداز سے پورا کیا ہے اور عباس اپنے عہد و فا پر کس طرح قائم ہے ،دشمن کو میدان میں تلوار کا پانی پلانا واقعاً شجاعت ہے
لیکن جب جذبات تلوار چلانے پر پوری طرح آمادہ ہوں تو اس وقت اطاعت مولا کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے تلوار نہ چلانا اس سے بھی بڑی شجاعت ہے ،جناب عباس نے صرف صفین کی جنگ میں تلوار چلائی باقی موقعوں پر آپ نے اطاعت مولا کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنی تلوار نیام ہی میں رکھی ،امام حسن کے جنازے کی بے حرمتی،والد بزرگوار کی شان میں منبر سے گستاخی ،مخلصین کا بے دردی سے قتل ،کربلا میں فرات سے خیمے ہٹائے جانے کا مطالبہ یہ تمام وہ مواقع تھے جہاں حضرت عباس کے جذبات تلوار چلانے کے متقاضی تھے لیکن آپ نے ان موقعوں پر بھی اطاعت مولا کے سامنے سر تسلیم خم کرکے شجاعت کی مثال قائم کردی ،اس کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے کمالات و اوصاف سے حضرت عباس متصف تھے جو آپ کو معصوم علی جیسے امام سے ورثہ میں ملے تھے،
ان کمالات کا احصاء کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے ،یہ توہم تذکرہ کے طور پر تبرکاً تحریر کر رہے ہیں،اسلامی لشکر کی علمداری،پیاس کی شدت سے انسانوں کی جان بچا نے کو سقائی اور عبد صالح کا خطاب وہ صفات ہیں جن میں حضرت عباس کو کمال حاصل تھا،لشکر کی علمبرداری ہی کو لے لیجئے ہر قوم اپنے پرچم یا علم کو اپنی عزت و عظمت کا نشان سمجھتی ہے بالخصوص میدانِ کارزار میں جنگ کے درمیان دونوں فوجیں اپنا اپنا علم بلند رکھتی ہیں جس کا پرچم بلند رہتا ہے اُ س لشکر کو فتح مند قرار دیاجاتاہے اور جس فوج کا پرچم سرنگوں ہوجاتا ہے
وہ شکست خوردہ سمجھی جاتی تھی،اسی لئے علمدار کا باقاعدہ انتخاب کیاجاتاتھا اور علم اس شخص کو دیاجاتاتھا جس میں ایک ماہر اوربہادر کمانڈر کی تمام خوبیاں ہوتی تھیں ،جسے علم مل جاتا تھا اُس کا سر افتخار سے بلند رہتاتھا ،علمدار کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے نہج البلاغہ میں امام علی فرماتے ہیں : علم صرف بہادروں کے پاس رہنا چاہئے جو شخص مصائب کو برداشت کرسکے
اور شدائد کا مقابلہ کرسکے وہی محافظ کہاجاسکتاہے اور جو محافظت کا اہل ہوتاہے وہی پرچم کے گردو پیش رہتاہے اور چار طرف سے اس کی حفاظت کرتاہے محافظ اپنے پرچم کو ضائع نہیں کرتے ،وہ نہ پیچھے رہ جاتے ہیں کہ پرچم دوسروں کے حوالے کردیں اور نہ آگے بڑھ جاتے ہیں کہ پرچم کو چھوڑ دیں“ امام علی کے مذکورہ بیان کی روشنی میں علمدار شجاع،بہادر،محافظ، غیرت دار،ثابت قدم، مستقل مزاج اورصابر انسان ہوتا ہے ،کربلا کے میدان میں لاثانی مجاہدوں کے ہوتے ہوئے امام حسین حضرت عباس کو علم دے کر شجاع، بہادر، محافظ، غیرت دار، ثابت قدم ،مستقل مزاج اور صابر ہونے کی سند عطا کررہے تھے
،حضرت عباس کی دوسری صفت کمالیہ آپ کا سقاء ہونا ہے،سقائی یعنی پانی پلانا،کسی کو پانی پلاکر سیراب کرنا عظیم اجر و ثواب کا باعث ہے جس کے لئے بے شمار اسلامی روایات موجود ہیں لیکن جب یہی کام کسی جاندار کی زندگی بچانے کا سبب بن جائے تو صفت کمالیہ میں شمار ہونے لگتا ہے کیونکہ اس کام کو خدا وند عالم نے اپنے عظیم احسانات میں شمار کیاہے ،قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے ،اور ہم نے آسمان سے پانی اس لئے نازل کیا ہے کہ اس سے مردہ زمینوں کو زندہ بنائیں اور حیوانات و انسان کو سیراب کریں اور رسول اسلام فرماتے ہیں :جس نے ایک انسان کی زندگی بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا ،اب اگر پانی پلاکر کسی کی زندگی کو بچالیا جائے تو وہ بھی اسی زمرے میں آئے گا،پانی پلاکر زندگی بچانے کی اہمیت اس وقت اور زیادہ ہوجاتی ہے
جب شارع مقدس نمازیوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ اگر نمازی کے پاس صرف اتنا پانی ہو جس سے صرف وضو ہوسکتا ہو اور کوئی بھی جاندار پیاس کی شدت سے دم توڑ رہاہو تو وضو کا پانی پلاکر جاندار کی زندگی بچالی جائے اور نماز تیمم سے ادا کی جائے ،حضرت عباس ایسے ہی باکمال سقاء تھے آپ نے اپنی سقائی سے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں جانیں بچائیں ،سن ۳۴ ہجری میں انقلابیوں نے مدینہ میں حضرت عثمان بن عفان کے گھر کا محاصرہ کیا اور کھانا پانی تک گھر میں نہ جانے دیا اس طرح حضرت عثمان اور ان کے اہل خانہ بھوک و پیاس سے تڑپنے لگے تو ساقی کوثر حضرت علی نے کھانے کا سامان اور پانی کے مشکیزے اپنے بیٹوں کے ذریعہ حضرت عثمان کے گھر پہنچوائے
،یہاں بھی حضرت عباس کی عمر اگرچہ ۸ سال تھی لیکن آپ نے پانی پلا کر لوگوں کی جان بچائی،تعجب ہے ابن زیاد پر جس نے امام حسین اور ان کے بچوں پر پانی بند کرنے کے حکم نامے میں اس بات کا حوالہ دیاتھا کہ انہیں (اہل بیت کو ) اسی طرح پیاسا رکھو جس طرح خلیفہ عثمان کو پیاسا رکھاگیا تھا ،جن لوگوں نے حضرت عثمان اوران کے اہل خانہ کی پیاس بجھائی انہیں کو حضرت عثمان پر بندش آب کے جرم میں پیاسا رکھا گیا ،
اس سے زیادہ نا انصافی اور کیا ہوسکتی ہے،بہر حال اسی طرح سن ۶۰ ہجری میں منزل ذو خشب یا ذو حسم کے پاس جب یزیدی کمانڈر حر نے امام حسین کا راستہ روکا تو حر کے لشکر کی زبانیں شدت عطش سے باہر نکل چکی تھیں ،گھوڑے اور اونٹ بھی لب دم تھے امام حسین نے جناب عباس کو حر کے لشکر کی مع جانوروں کے پیاس بجھاکر جان بچانے کی ذمہ داری سونپی
،حضرت عباس نے حر کے لشکر کو مع جانوروں کے سیراب کردیااور جانوروں کے آگے سے جب تک پانی نہ ہٹایا گیا جب تک کہ تین مرتبہ جانوروں نے پانی سے خود منھ نہ پھیر لیا،لیکن ۶۱ ہجری میں حضرت عباس نے اپنی سقائی کو بام عروج تک پہنچادیا ،علمداری کی یہ صفت بھی آپ کو امام معصوم حضرت علی سے ورثہ میں ملی تھی ،حضرت علی کو ساقی کوثر کا خطاب ملا ہوا تھا لیکن عباس کی معراج نے اس خطاب کو مبالغہ میں بدل دیا اور اس طرح آپ سقاء کہلائے ،سقاء مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی بہت زیادہ سیراب کرنے والے،حضرت علی نے لوگوں کو مہیا پانی سے سیراب کیا لیکن کربلا میں حضرت عباس نے جو سقائی کرنا چاہی اس میں پانی بھی خود ہی مہیا کرنا تھا ،اس مقصد کے لئے آپ نے کربلا میں متعدد کنوئیں کھودے لیکن پانی نہ نکلا،ادھر امام حسین کے ۶ماہ کے بچے علی اصغر پیاس کی وجہ سے لب دم ہیں
،مچھلی جب پانی سے باہر آجاتی ہے تو اس کی تین کیفیتیں ہوتی ہیں ،پہلی یہ کہ وہ بہت زیادہ تڑپتی ہے اور دوسری کیفیت وہ جب اس کی تڑپ اور حرکت میں کمی آجاتی ہے اور تیسری کیفیت یہ کہ اُس سے تڑپا بھی نہیں جاتا وہ صرف منھ کھول کر سانس لینے کی کوشش کرتی ہے ،روز عاشور کربلا میں حضرت علی اصغر کی یہی کیفیت تھی ،آپ بے حس و حرکت پیاس کی شدت اور تکلیف سے اسی طرح برداشت کررہے تھے،بچوں کی یہ حالت جناب عباس سے نہ دیکھی گئی،ادھر آپ کی بھتیجی سکینہ نے آپ سے پانی کا مطالبہ بھی کردیا تو آپ سے رہا نہ گیا اور آ پ نے امام حسین سے اجازت طلب کی ،اجازت ملنے کے بعد آپ دریا پر پہنچے ،دریا پر قبضہ کرنے کے بعد بھی آپ نے پانی لبوں کو نہ لگایا،
بچوں کے لئے مشکیزہ بھر لیا لیکن پانی بچوں تک نہ پہنچ سکا اور آپ نے پانی مہیا کرنے پراپنی جان بھی قربان کردی اس سقائی کی حسرت آپ کے دل ہی میں رہ گئی ،حضرت عباس کی تیسری صفت کمالیہ ”عبد صالح“ کا وہ خطاب ہے جو تمام انبیاء کو بھی نصیب نہ ہوا ،قرآن مجید میں اللہ نے حضرت داود، حضرت ابراہیم ،حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت ایوب،حضرت عیسیٰ اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی کو عبد صالح کا خطاب دیا ہے،غیر انبیاء اور ائمہ میں صرف حضرت عباس کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ کو عبد صالح کا خطاب دیا گیا جس کی سند چھٹے امام جعفر صادق نے زیارت حضرت عباس میں دی ہے ،اس کی روایت ابو حمزہ ثمالی نے کی ہے ،
حضرت عباس کے لئے امام جعفر صادق فرماتے ہیں : السلام علیک ایھا العبد الصالحیعنی اے عبد صالح آپ پر خدا کی طرف سے سلامتی ہو ،ہم روزانہ نماز کے اختتام پر اللہ کے نیک بندوں (عباد الصالحین) پر سلام پڑھتے ہوئے تشہد کے بعد کہتے ہیں السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین یعنی ہمارے اوپر اوراللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو
،اس سلام میں انبیاء اور ائمہ کے ساتھ ساتھ حضرت عباس بھی شریک ہیں کیونکہ آپ عبد صالح ہیں
ساباط و کربلا ایک ہی مقصد کے دونام
ساباط و کربلا عراق کے وہ تاریخی مقام ہیں جہاں پر رسول خدا کے معصوم فرزندوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین نے مردانہ وار باطل کا مقابلہ کیا اور باط چہرے سے ہمیشہ کے لئے اسلام کا نقاب اتار دیا اور تدبر و حکمت ،عقل و فراست اور اسلامی سیاست کی وہ مثال قائم کی جس سے باطل کبھی بھی اسلامی نقاب پہن کر اسلامی حکومت کو پائمال کرنے کی جرأ ت نہیں کرے گا ،ساباط میں امام حسن نے امیر معاویہ سے صلح فرماکر اسلامی اقدار کو بچایا تو کربلا میں امام حسین نے اپنی اور اپنے اعزأ و اقرباء کی عظیم قربانی پیش کرکے ہمیشہ کے لئے دین کو مستک
امام حسن نے ۱۵رمضان المبار ک ۳ہجری کو اپنے وجود مبارک سے دنیا کو زینت بخشی ،آپ کے والد شیر خدا حضرت علی مرتضیٰ اور والدہ خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا تھیں، آپ کے بھائی شہید کربلا حضرت امام حسین اور علمدار کربلا حضرت عباس تھے اور نانا شفیع محشر حضرت محمد مصطفیٰ ہیں، آپ بہت بہادر اور شجاع تھے ،آپ نے جنگ جمل اور جنگ صفین میں اپنے بابا سے دادِ شجاعت حاصل کی تھی،آپ۲۱رمضان۴۰ہجری میں امام علی کی شہادت کے بعد شرعی و قانونی خلافت پر جلوہ افروز ہوئے ،اور اس طرح آل محمد کی دوسری بار لوگوں نے اپنی مرضی سے آزادانہ بیعت کی ،امام حسن نے اپنی حکومت کا آغاز اس فصیح و بلیغ خطبے سے فرمایا: ہم حزب اللہ ہیں ،ہم ہی غالب ہیں ،ہم عترت رسول ہیں، ہم رسول کے اہل بیت ہیں اور تمام گناہوں سے محفوظ و معصوم ہیں اور ہم ہی کو اللہ کے رسول نے قرآن کا ہم پلہ اور عدیل قرار دیا ہے اور ہمیں قرآن کی تنزیل و تاویل کے علم سے مالا مال کیا ہے ،قرآن کے بارے میں ہم جو کہتے ہیں یقین کے ساتھ کہتے ہیں اندازے سے قرآنی آیات کی تاویل نہیں کرتے، لہٰذا تم ہماری اطاعت کرو کہ خدا کی طرف سے تم پر فرض کی گئی ہے الخ(جلا العیون ،علامہ مجلسی، صفحہ ۱۴۶ ،مطبوعہ تہران، ۱۳۱۴ ھ)امام حسن کی بیعت بڑے ہی پر آشوب زمانہ میں ہوئی تھی ،
حضرت علی کے بعد سوئے ہوئے فتنے جاگ گئے تھے اور مملکت میں جال بچھانے کی سازش اپنے عروج پر تھی ،کوفہ میں اشعث ابن قیس ،عمرو ابن حریث، شیث بن ربعی وغیرہ کھلم کھلا فساد و عناد کا مظاہرہ کررہے تھے تو دوسری جانب شامی جاسوس مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کرکے افتراق کے بیج بو رہے تھے ،ادھر امیر شام نے اہل کوفہ کے بڑے بڑے سرداروں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں اپنا ہم نوا بنالیا اور اس کے بعد ایک بڑا لشکر امیر شام نے عراق پر حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا،
جس وقت امام حسن کو یہ خبر ملی تو آپ نے لوگوں کو مسجد میں جمع ہونے کا حکم دیا اور ان کے سامنے خطبہ دیا جس میں امیر شام کی لشکر کشی کی خبر دی اور لوگوں کو راہِ خدا میں جہاد اور میدان کارزار میں ڈٹ جانے کی ترغیب دلائی اور اس راہ میں صبر و تحمل و فدا کاری کی تلقین کی اور پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا امام حسن کو لوگوں کی سستی کی وجہ سے یہ خوف تھا کہ کہیں دعوت جہاد کو قبول کرنے میں پس و پیش نہ کریں اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور حضرت کے اس جنگی خطبے کے ختم ہونے کے بعد سب لوگوں پر سکوت طاری تھا اس سعی و کوشش کے بعد امام حسن چند اصحاب کے ساتھ کوفہ سے روانہ ہوئے تاکہ دوسرے لوگوں میں جذبہ جہاد بیدار ہوجائے اور کوفہ کے پاس ”نُخَیْلَہ“ میں اپنا کیمپ لگایا ،آپ نے یہاں تازہ دم فوج کے انتظار میں دس روز قیام کیا لیکن صرف چار ہزار لوگ ہی حضرت کے پاس پہنچے ،اس لئے امام حسن نے کوفہ کا دوبارہ رخ کیا تاکہ مزید فوج اکٹھا کریں ،فوج تواکٹھا ہوگئی مگر اس میں اتحاد اور جذبہ جہاد کی کمی تھی کیونکہ یہ فوج پانچ گروہوں پر مشتمل تھی: =حضرت علی کے مخلص شیعہ=خوارج، جو ہر قیمت پر امیر شام سے جنگ کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے اور یہ لوگ امام حسن کے لشکر میں فقط بغضِ امیر شام کی وجہ سے شامل ہوئے تھے ،
امام کی محبت یا پیروی میں نہیں=مفاد پرست، جن کا ہدف صرف مال غنیمت تھا =وہ لوگ جو امام حسن کی عظمت میں شک کرتے تھے اور دوغلی پالیسی رکھتے تھے اور امام حسن کو امیر شام پر ترجیح نہیں دیتے تھے=وہ لوگ جو دین کی خاطر نہیں بلکہ خاندانی تعصب کی بناء پر رئیس قبیلہ کی پیروی کرتے ہوئے امام حسن کے لشکر میں شریک ہوئے تھے کیونکہ اِن کے خاندانی حریف امیر شام کے لشکر میں تھے(جہاد حسین ،تالیف شیخ محمد مہدی شمس الدین،صفحہ ۱۳۹ ،ترجمہ محسن علی نجفی ،دوسرا ایڈیشن ۱۴۰۵ ھ، ملنے کا پتہ نجفی ہاوس ممبئی)ایسی فوج امیر شام کی ۶۰ہزار متحد فوج کے مقابلہ میں کیا کرسکتی تھی سوائے اس کے کہ شکست سے دوچار ہو،صرف امام علی کے شیعہ تھے جو دل سے امام حسن کی پیروی کررہے تھے مگر یہ لوگ جنگ جمل و صفین اور نہروان میں خستہ ہوچکے تھے اور اِن کی تعداد بھی لشکر شام کے مقابلہ بہت کم تھی ،بقیہ چار گروہوں کی نظر میں حکم امام کی کوئی اہمیت نہ تھی ،لہٰذا یہ لوگ عین جنگ کے وقت امیر شام سے جا ملے تھے اور بعض غیر جانبدار ہوکر امام سے علیحدہ ہوگئے تھے اور بعض زندگی کے طالب تھے کسی بھی صورت میں مرنا نہیں چاہتے تھے
چنانچہ جب امام حسن نے اہل عراق کے سامنے مدائن میں دو راستے رکھے :ایک یہ کہ اگر راہ خدا میں قتل ہو نا چاہتے ہو تو اٹھ کھڑے ہوو اور شامیوں کو تلواروں سے جواب دو اور اگر عافیت و زندگی چاہتے ہو تو اعلان کردو تاکہ میں تمہاری درخواست کو قبول کرلوں، امام کی تقریر جب یہاں تک پہنچی تو اِن لوگوں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ” اَلْبُقْیَہ“” اَلْبُقْیَہ“یعنی ہمیں زندگی چاہئے، ہمیں زندگی چاہئےیہ جواب اُن لوگوں کے سوال کے لئے بھی کافی ہے جو یہ پوچھتے ہیں کہ امام حسین نے جنگ کیوں کی اور امام حسن نے صلح کیوں فرمائی؟ امام حسین کے ساتھیوں نے اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے کربلا میں امام حسین سے کہا تھا کہ: خدا کی قسم اگر ہمیں قتل کردیا جائے ،پھر زندہ کیا جائے پھر ہمیں قتل کیا جائے اور ہمارے جسموں کو راکھ بنا کر ہوا میں اڑادیا جائے
اور اس عمل کو ۷۰مرتبہ دہرایا جائے تب بھی آپ سے جدا نہیں ہوں گے تا وقتیکہ آپ کی راہ میں اپنی جان قربان نہ کردیں ، کتنا فرق ہے دونوں کے ساتھیوں میں ،امام حسن کے ساتھی تو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں زندگی چاہئے ہم جنگ نہیں کریں گے اور امام حسین کے ساتھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ۷۰مرتبہ بھی قتل کئے جائیں تب بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے بہر حال امام حسن کے بعض فوجیوں نے امیر شام سے سازش کرلی تھی کہ امام حسن کو گرفتار کرکے امیر شام کے حوالے کردیں گے یا شہید کردیں گے ،اس سازش سے آپ بخوبی واقف تھے ،آپ فرماتے ہیں کہ ”خدا کی قسم اگر میں معاویہ سے بر سر پیکار ہوا تو یہ لوگ میری گردن پکڑ کر اسیروں کی طرح مجھے معاویہ کے حوالے کردیں گے(ترجمہ الامام الحسن ،تالیف ابن عساکر متوفی ۵۷۱ ھ ،تحقیق الشیخ محمد باقر محمودی ،ناشر المطبعة للطباعة والنشر ،بیروت لبنان ،پہلا ایڈیشن ۱۹۸۰ ء)اگر آپ کوگرفتار کرکے امیر شام کے حوالے کردیا جاتا تو دوحال سے خالی نہ تھا :=یا تو آپ کو بے دردی اور چالاکی سے شہید کردیا جاتا اور عوام کے سامنے اہل شام اپنے کو اس خون سے بری الذمہ قرار دیتے ،جس سے خون امام رائیگاں چلا جاتا= یا آپ پر احسان کرتے ہوئے آپ کو شرط و شروط کے ساتھ آزاد کردیا جاتا اور اس طرح بنی امیہ اپنے بزرگوں سے ”طلقاء“ کے دھبے کو دھونے کی کوشش کرتے اور اپنے اُن بزرگوں کا انتقام لے لیتے جن کو رسول خدا نے گرفتار کرانے کے بعد آزاد کردیا تھا
اس کے علاوہ آپ کے کمانڈر تک آپ کا ساتھ چھوڑ کر امیر شام سے جا ملے تھے ”عُبید اللہ بن عباس“ آپ کے خاندانی اور عزیز تھے امام حسن نے انہیں ۱۲ہزار سپاہ کا طلایہ دار مقرر کیا اور قیس بن سعد اور سعید بن قیس کو عبیداللہ کا نائب و معاون مقرر کیا اور عبیداللہ سے یہ تاکید فرمائی کہ جس مقام پر بھی لشکر شام سے سامنا ہوجائے اُسے وہیں روکے رکھنا اور آگے نہ بڑھنے دینا ،عبیداللہ نے ۱۲ہزار سپاہ کے ساتھ حرکت کی اور ”مَسْکِنْ“کے مقام پر لشکر شام سے روبرو ہوئے اور کچھ ہی دیر بعد ۱کروڑ درہم میں امیر شام سے سودا طے ہوگیا اور اُسی رات عبید اللہ بن عباس ۸ہزار فوج کے ساتھ لشکرِ شام سے جاملے (تاریخ یعقوبی، جلد ۲ ، صفحہ ۳۵۵ ،تالیف احمد بن ابی یعقوب،ترجمہ مولانا اختر فتحپوری،ناشر نفیس اکیڈمی،کراچی )غور وفکر کا مقام ہے! اگر۱۲ہزار فوج سے ۸ہزارفوج غداری کرکے مد مقابل سے جاملے تو بقیہ ۴ہزار کے حوصلے کس قدر پست ہوں گے ؟!حکم ِ امام کے مطابق ۴ہزار لشکر کی کمان قیس بن سعد نے سنبھال لی اور اپنی ولولہ انگیز تقریروں کے ذریعہ لشکر کے حوصلے بلند کئے رہے ،قیس بن سعد کا شمار امام حسن کے بہترین جانباز وفاداروں میں ہوتاتھا ،امیر شام نے قیس کو بھی خریدنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے لئے بھی ۱کروڑ درہم کی پیش کش کی(تاریخ یعقوبی، جلد ۲ ، صفحہ ۳۵۵ ،تالیف احمد بن ابی یعقوب،ترجمہ مولانا اختر فتحپوری،ناشر نفیس اکیڈمی،کراچی )لیکن کامیابی نہ ملی تو لشکر شام نے دوسرا حربہ اپنایا اور امام حسن کے لشکر میں اپنے جاسوسوں سے یہ افواہ پھیلائی کہ قیس بن سعد بھی مع لشکر امیر شام سے جا ملے ہیں اور قیس کے لشکر میں یہ جھوٹی خبر پھیلادی کہ امام حسن نے امیر شام سے صلح کرلی ہے اور اس مقصد کے لئے امیر شام نے مغیرہ بن شعبہ،عبداللہ بن عامربن کریز اور عبد الرحمن بن الحکم کو حضرت امام حسن کے پاس (فرضی ملاقات کرنے) کے لئے بھیجا اور وہ آپ کے پاس آئے ،آپ اس وقت مدائن میں اپنے خیمے میں تھے پھر وہ (بغیر کچھ کہے) آپ کے پاس سے چلے گئے اور لوگوں کے سامنے کہنے لگے کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے (مسلمانوں کو)رسول اللہ کے بڑے بیٹے کے ذریعہ خوں ریزی سے بچالیا ہے
اور آپ کے ذریعہ فتنہ کو ٹھنڈا کردیا ہے اور آپ نے صلح قبول کرلی ہے ،پھر کیا تھا اس افواہ کے نشر ہوتے ہی امام کی فوج میں افراتفری مچ گئی اور لوگوں نے ان باتوں پر یقین کرلیا اور بغیر تحقیق کئے حضرت امام حسن پر حملہ کردیا اور ان کے خیموں کو سامان سمیت لوٹ لیا اور امام حسن کے خلاف بغاوت کردی ( شرح نہج البلاغہ، شارح سنی عالم ابن ابی الحدید ،جلد ۴ ، صفحہ ۷۰۲ ،ناشر منشورات دار مکتبة الحیاة ،بیروت، لبنان ۱۹۸۳ و تاریخ یعقوبی، جلد ۲ ، صفحہ ۳۵۵ ،تالیف احمد بن ابی یعقوب،ترجمہ مولانا اختر فتحپوری،ناشر نفیس اکیڈمی،کراچی )،ان تمام حالات کے پیش نظر مصلحت کا تقاضہ یہی تھا کہ آپ امیر شام کے صلح کے پیغام کو قبول کرلیں خود امام حسن نے اِس صلح کی وجہ اس طرح بیان فرمائی ہے کہ : ”میں نے حکومت و زمام داری کو اس لئے معاویہ کے حوالے کردیا کہ میرے پاس معاویہ جیسی (اطاعت گزار) فوج نہیں تھی اور اگر ہوتی تو حکم خدا کے مطابق معاویہ سے رات دن فیصلہ کن جنگ کرتا ،میں کوفیوں کو اچھی طرح جانتا ہوں ،ان کو بارہاآزمایہ ہے یہ ایسے فاسد لوگ ہیں جن کی اصلاح نہیں ہوسکتی ،یہ لوگ نہ تو با وفا ہیں اور نہ عہد و پیمان کے پابند ،ظاہراً میری اطاعت کا اظہار کرتے ہیں اور عملی طور پر معاویہ کے ساتھ ہیں (بحار الانوار،جلد ۴۴ ،تالیف علامہ مجلسی ،ناشر کتاب فروشی اسلامیہ ،تہران) اسلام میں صرف جنگ و جہاد ہی کا قانون نہیں ہے بلکہ جس طرح اسلام نے مخصوص حالات میں دشمن سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے اسی طرح اگر جنگ سے اعلیٰ مقاصد تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو صلح کے ذریعہ ان کو حاصل کرنا چاہئے ،ہمارے سامنے رسول اللہ کی سیرت ہے کہ آپ نے بدر و احد جیسی جنگیں بھی کیں اور حدیبیہ کے مقام پر صلح بھی فرمائی (تاریخ یعقوبی، جلد ۲ ، صفحہ ۴۰ ، ناشر مطبعة الغریٰ ،نجف اشرف ،عراق، ۱۳۵۸ ھ)امام حسن کی حُسن تدبیر کا اندازہ اس صلح نامہ کی شرطوں سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے بغیر کسی جنگ کے اپنے بلند مقاصد تک پہنچنے کا کیسا بہترین انتظام کیا تھا ،اگر امیر شام آپ کی تمام شرطوں پر عمل کرلیتے تو آپ کے وہ تمام مقاصد پورے ہوجاتے جو جنگ کے ذریعہ ہوتے ،
صلح کے شرائط کچھ اس طرح ہیں جو امام حسن نے معین کئے تھے :=حکومت اس شرط کے ساتھ معاویہ کے حوالے کی جاتی ہے کہ معاویہ کتابِ خدا اور سنت ِ پیغمبر اور نیک خلفاء کی سیرت پر عمل کریں گے=معاویہ کے بعد (امام ) حسن خلیفہ ہوں گے اور اگر (امام ) حسن کو کوئی حادثہ پیش آجائے تو (امام ) حسین خلیفہ ہوں گے=معاویہ نماز میں حضرت علی پر سبّ و شتم نہیں کریں گے اور برا نہیں کہیں گے بلکہ نیکی سے یاد کریں گے=کوفہ کے بیت المال میں جو پچاس لاکھ درہم ہیں وہ مستثنیٰ ہوں گے
اور حکومت معاویہ کو نہیں دیئے جائیں گے،اس کے علاوہ معاویہ سالانہ۲۰لاکھ درہم امام حسین کے لئے بھیجیں گے ،ہدیہ دینے اور بخشش کرنے میں بنی ہاشم کو بنی امیہ پر مقدم رکھیں گے اور ۱۰لاکھ درہم جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی کی ہمراہی میں شہید ہونے والوں کے پسماندگان کے درمیان تقسیم کریں گے جوکہ قدیم فارس کے ایک علاقہ ”دارابجرد“ کے خراج کی آمدنی سے ادا کرنے ہوں گے=سبھی لوگ جہاں بھی آباد ہیں امامن میں رہیں گے،معاویہ ان کی لغزشوں سے چشم پوشی کریں گے اور کسی سے بھی گزشتہ خطاوں پر مواخذہ نہیں کیاجائے گا ،اصحاب علی جہاں بھی ہوں امن و امان میں رہیں ،شیعیان علی کو نہ ستایاجائے اور علی کے ساتھی اپنے مال اور عیال کی طرف سے بے فکر رہیں کوئی بھی ان کا تعاقب نہیں کرے گا (امام ) حسن اور (امام ) حسین و دیگر اہل بیت کی جان کے درپے ہونے کے لئے کھلم کھلا یا خفیہ طور پر کوئی سازش نہ کی جائے گی
اس کے بعد عبداللہ بن عامر (امیر شام کے نمائندے)نے مذکورہ شرائط کو امیر شام کے پاس بھیج دیا ،امیر شام نے ان تمام شرطوں کو ایک کاغذ پر اپنے ہاتھ سے لکھا اور دستخط کرکے اپنی مہر لگائی اس پر بہت سخت عہد و پیمان اور قسموں کا اضافہ کیا اور شام کے تمام روسا و بزرگوں کو گواہ کرکے اس دستاویز کو اپنے نمائندے عبداللہ بن عامر کے پاس واپس بھیج دیا ،عبد اللہ بن عامر نے اس کاغذ کو امام حسن کی خدمت میں پیش کردیا (صلح حسن ،صفحہ ۳۵۸ ،تالیف شیخ راضی آل یاسین ،ترجمہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ،ناشر موسسات انتشارات آسیا، ایران)امام حسن کے ذریعہ امیر شام سے لئے گئے عہد و پیمان کا خلاصہ پانچ احکام میں ہوتا ہے
قانون کی حفاظت= میراث کے ذریعہ زمام داری کی نفی=آزادی کا احترام=حق طلب لوگوں کا تحفظ(تاریخ اسلام ۲ ،سیرت امیرالمومنین و معصومین ،مولف اہل قلم کی ایک جماعت،ترجمہ و تصحیح نثار احمد زین پوری،ناشر انصاریان پبلیکیشنز،قم)=اقتصادی اصلاح ،۱پہلی شق میں امام حسن قانون کی قدرو قیمت پر زور دیتے ہیں کہ زمام دار کے لئے ضروری ہے کہ قانون کو نافذ کرے اور یہ سبھی جانتے ہیں کہ کتاب خدا اور سنت رسول قانون ہیں اور روش ِ خلفاء سے کنایتاً روشِ علی مراد ہے جو اجراء قانون کابہترین نمونہ ہے۱دوسری شق میں زمام دار کے انتخاب کا معیار بیان کیا ہے یعنی زمام دار کے لئے ضروری ہے کہ اُس میں علم و تقویٰ کے ساتھ شجاعت بھی پائی جائے ،اسلام نے کلی طور پر میراث کے ذریعہ زمام داری کی نفی کی ہے یعنی کوئی بھی زمام دار میراث کے طور پر حکومت کو اپنی اولاد میں منتقل نہیں کرسکتا ،
اس شق کے ذریعہ حضرت امام حسن نے قیامت تک کے لئے معیار مقرر فرمادیا اور یہ شق امیر شام کے علاوہ ایسے سبھی لوگوں پرلاگو ہوگی جو زمامداری کو میراث کے ذریعہ اپنی اولاد میں منتقل کرنے کے قائل ہیں ،اسی کے ساتھ یہ شق مسجد میں نماز جماعت اور نماز جمعہ کی امامت پر بھی لاگو ہوگی
،یعنی کوئی بھی امام جماعت و جمعہ اپنے بعد اپنے نا اہل بیٹے کو امام جماعت یا جمعہ کے طور پر نامزد نہیں کرسکتا، اِس دوسری شق کے ذریعہ امام حسن امیر شام سے یہ عہد لینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کسی کو زمام دار معین نہیں کریں گے ،کسی سے مراد یزید ہے ،امام حسن امیر شام کے ایسے تمام راستے بند کردینا چاہتے تھے جس سے کل وہ اپنے بیٹے یزید کو مسند خلافت پر نہ بٹھائیں اور اپنے بعد حکومت کی زمام اس کے اختیار میں نہ دے دیں۱تیسری شق میں امام حسن سبھی کی آزادی کا دفاع کرتے ہوئے امیر شام سے یہ عہد لیتے ہیں کہ اُن کی حکومت میں سبھی لوگ اپنے امور میںآ زادرہیں گے اور سب کا تحفظ کیاجائے گااور کسی کو بُرا بھلا نہ کہا جائے گا۱چوتھی شق میں حق طلب و حریت پسند لوگوں کی جان و عزت سے بحث ہے یہ لوگ حضرت علی کا اتباع کرنے والے تھے ،آپ کے مکتب سے انہوں نے آزادی اور آزادی مانگنے کا درس لیاتھا ،
امام حسن امیر شام سے یہ عہد لینا چاہتے ہیں کہ پیروانِ علی جہاں بھی ہیں ان کی عزت و آبرو کو محفوظ رکھاجائے گا(تاریخ اسلام ۲ ،سیرت امیرالمومنین و معصومین ،مولف اہل قلم کی ایک جماعت،ترجمہ و تصحیح نثار احمد زین پوری،ناشر انصاریان پبلیکیشنز،قم)۱ پانچویں شق میں زمام دار کے لئے بیت المال کو خورد برد نہ کرنے کی تاکیدہے ،آپ اس شق کے ذریعہ امیر شام کو بیت المال کی عادلانہ تقسیم پرپابند کررہے ہیں، اس شق کے ذریعہ امام حسن بیت المال کو صرف اسلام و مسلمانوں کے امور پر خرچ کرنے کا عہد لے رہے ہیں ،اوراپنی حکومت کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے بیت المال کے سیاسی استعمال پر پاندی عائد کرنا چاہتے ہیں وہ لوگ جو جذباتی احساسات رکھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ امام حسن کو امیر شام کے ساتھ جنگ ہی کرنی چاہئے تھی ،ایسے لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت امام حسن نے جو کچھ کیا وہ ایک ذلت آمیز شکست تھی جس کے نتیجے میں امیر شام آسانی سے اقتدار پر قابض ہوگئے
شیخ محمد مہد ی شمس الدین اپنی معرکة الآرا کتاب ”جہاد حسین “ میں صفحہ ۱۴۱ پر تجزیہ کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ : اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امام حسن کے پاس نہ فکر و تدبر کی کمی تھی اور نہ آپ جاہ طلب تھے اور نہ کسی قبیلے کے سردار کہ وہ قبیلے کی محدود سوچ سے کام لیتے بلکہ آپ ایک نظریئے اور طرز فکر کے داعی اور ایک الٰہی و ابدی مشن کے حامل تھے ،لہٰذا انہی بنیادوں پر امام کو قدم اٹھانا تھا اور جو موقف آپ نے اختیار کیا وہ اپنے مقاصد کے مطابق تھا اگرچہ یہ موقف خود امام کے لئے بھی بارگراں تھا اور ان حالات میں تین صورتوں میں سے کوئی بھی ایک صورت اختیار کرنا ناگزیر تھی := ان نامساعد حالات کے باوجود اور نتائج سے چشم پوشی کرتے ہوئے امیر شام کے ساتھ جنگ کی جائے =حکومت ،امیر شام کے حوالے کردی جائے اور خود گوشہ نشین ہوجائیں اور اپنے مقاصد کو چھوڑ کر صرف ذاتی مفاد پر اکتفا کرلی جائے
ان نا مساعد حالات کے پیش نظر وقتی طور پر مسلح جد و جہدترک کردی جائے اور نہ صرف یہ کہ حالات پر نظر رکھی جائے بلکہ اس جد و جہد کو کوئی دوسرا میدان فراہم کرنے کے لئے حالات کا رخ اپنے بلند مقاصد کے مفادکی طرف موڑ دیا جائے امام حسن اپنی عظیم ذمہ داریوں کی وجہ سے پہلی صورت کا انتخاب نہیں کرسکتے تھے کیوں کہ اگر ان نا مساعد حالات میں امیر شام سے جنگ لڑتے تو اپنے یاور و انصار سے محروم ہوجاتے جن کی آپ کو شدید ضرورت تھی اور اس میں شک نہیں ہے کہ اس صورت میں امام حسن جہاد اور استقامت کی ایک عظیم مثال قائم کردیتے ،مگر پھر بھی ایسے قیام کا نتیجہ عالم اسلام کے لئے یقینا مفید نہ رہتا۱ حضرت امام حسن کے لئے دوسری صورت اختیار کرنا بھی ممکن نہ تھا کیونکہ امام معصوم سے بعید ہے کہ وہ ہر چیز سے ہاتھ اٹھا کر ،
قوم کی رہنمائی اور اجتماعی امور میں دلچسپی لینے کو ترک کرکے عیش و آرام کی زندگی گزاریں کیونکہ یہ بات خدا وند عالم سے کئے گئے عہد و پیمان کے خلاف ہے ۱ تیسری صورت ہی ایسا راستہ تھا جسے امام حسن اختیار کرسکتے تھے اور وہ یہ کہ وقتی طور پر امیر شام کے ساتھ جنگ بندی قبول کرلی جائے تاکہ معاشرے کو انقلاب کے لئے آمادہ کیا جاسکے اور اگر ہم یہ خیال کریں کہ امام حسن نے اپنے آپ کو زحمتوں اور تکلیفوں سے بچانے کے لئے صلح کا راستہ اختیار کیا ہے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوگی ،حضرت امام حسن نے عیش و آرام کے لئے صلح نہیں کی تھی بلکہ اس لئے صلح فرمائی تھی
کہ نئے سرے سے جہاد شروع کیا جائے البتہ کسی اور مقام پر اُسی دوسرے مقام کا نام کربلا ہے یہ الگ بات ہے کہ یہ جہاد آپ کے بجائے آپ کے بھائی امام حسین نے انجام دیا ،لیکن امام حسین کے ساتھیوں کا کربلا میں یہ جملہ دہرانا کہ:” اگرہمیں ۷۰مرتبہ قتل کرکے دوبارہ زندہ کیاجائے تب بھی ہم آپ (امام حسین )کا ساتھ نہ چھوڑیں گے “امام حسن کا صلح کے بعد لوگوں میں فکری انقلاب پیدا کرنے کے باعث ہی ہوسکا تھا ،کیونکہ امام حسن تا حیات جب بھی امیر شام کی طرف سے صلح نامہ کی کسی شرط بالخصوص یزید کو ولیعہد نہ کرنے کے عہد کو نظر انداز کرتے ہوئے دیکھتے تو فوراً عوام کے سامنے تقریریں کرکے صلح نامہ کی شرطیں یاد دلاتے اور کربلا کے قیام کا زمینہ فراہم کرتے ،اسی لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”ساباط“ (عراق میں وہ مقام جہاں امام حسن نے صلح فرمائی تھی )اور ”کربلا“ ایک ہی مقصد کے دونام ہیں
اسلامی جہاد معاشرے کی اصلاح کا بہترین ذریعہ
دنیا میں ہر حاکم کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کی رعایا سب سے اچھی ہو اور انسانی و اخلاقی اقدار سے دور نہ ہوجائے ،
جو حاکم صالح نہیں بھی ہوتے وہ بھی بظاہر ایسا ہی دکھاوا کرتے ہیں حتی کہ غیر مذہبی حکومتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ان کی رعایا اور معاشرہ اخلاقی اقدار کو گم نہ کردیں کیونکہ جس معاشرے میں اخلاقی زوال آجاتا ہے وہ منتشر ہوکر برباد ہوجاتا ہے
شہروں ،بستیوں ،قصبوں اور دیہاتوں میں امن کمیٹیاں اور سماج سدھار تنظیمیں اور پولس و انتظامیہ کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی اس کی اہمیت کو بیان کرتی ہے
پوری دنیا کے اصلاح معاشرہ کے لئے یہ اقدامات ایک طرف اور اسلامی جہاد ایک طرف ،اسلامی جہاد سے معاشرہ جیسا صاف ستھرا اور پُر امن رہتا ہے ایسا کسی بھی ذریعہ سے نہیں رہ سکتا ،یہ اسلامی جہاد ہی ہے جس کی بدولت خود بخود ہر انسان اپنے آپ پر نگاہ رکھتا ہے اور اپنا محاسبہ کرکے آلودگیوں سے بچنے کے راستے فراہم کرتا ہے ،
اسے ہم جہاد بالنفس کہتے ہیں ،یہ اسلامی جہاد ہی ہے جس کی وجہ سے ہر مسلمان اپنا فرض سمجھتا ہے کہ وہ اپنے قلم کو معاشرے کی اصلاح و بھلائی میں استعمال کرے ،اسے جہاد بالقلم کہا جاتاہے ،یہ اسلامی جہاد ہی ہے جو انسانوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے برائیوں کو نہ پھیلنے دیں اسے جہاد بااللسان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ،یہ اسلامی جہاد ہی ہے جو معاشرے پر ہر قسم کے اٹیک کو ڈفینس کے ذریعہ روکنے کی تاکید کرتا ہے،ڈفینس صرف تلوار یا دیگر اسلحہ سے ہی نہیں ہوتا بلکہ معاشرے پر چاہے اقتصادی حملہ ہو یا مخرب اخلاق فلموں اور سیریلوں کے ذریعہ ثقافتی یلغار ہو دفاع کرنا ضروری ہے ،
بعض نادان لوگ مخرب اخلاق فلمیں دکھانے والے سینما گھروں کے مالکوں کو دھمکیاں دیتے ہیں یاپھر بم سے اڑادیتے ہیں یہ طریقہ کار اسلامی جہاد کے منافی ہے،اس کے دفاع کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اخلاقی قدروں پر مبنی فلموں ،سیریلوں اور لٹریچر کی معاشرے میں فراوانی کردی جائے لوگوں نے جہاد کو بغیر سمجھے اسے بدنام کرنا شروع کردیا، بدنام کرنے والوں میں ایسے بھی تھے جو اسلامی جہاد کے فلسفے سے اچھی طرح آشنا تھے مگر معاشرے میں اخلاقی اصول و ضوابط کو پنپتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے لہٰذا انہوں نے اسلامی جہاد کی مخالفت کرکے اسے دہشت گردی کا نام دے دیا ،
ایسے یہودی یا عیسائی نظریہ پرداز اگر تنہا خود یہ کام انجام دیتے تو اتنا کامیاب نہ ہوتے جتنا مٹھی بھر جاہل مسلمانوں کو استعمال کرکے ہوئے کیونکہ ان مسلمانوں نے جو بھی غیر اخلاقی و غیر انسانی کام انجام دیئے وہ جہاد ہی کے نام پر دیئے جس سے پوری دنیا میں جہاد جیسا معاشرہ ساز فریضہ نفرت میں تبدیل ہوگیا اور ڈر ہے کہ کہیں اس مقدس فریضہ کو جرم نہ بنا دیا جائے اور پھر اس کے لئے کوئی دفعہ بھی ایجاد کرلی جائےڈکشنری میں جہاد کے معنی کوشش کے ہیں اور یہ کوشش چاہے کسی بھی کام کے لئے کی جائے جہاد کہلائے گی اور اصطلاح میں معاشرے سے برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کی راہ میں کوشش کرنا جہاد کہلاتا ہے ،اسی لئے اسلامی روایات میں جہاد کی درجہ بندی میں سب سے اوپر جہاد بالنفس(اپنے نفس سے جہاد کرنا)رکھا گیا ہے یعنی اپنے نفس کو خواہشات کی پیروی اور برائیوں سے روکنا ،
روایات میں اسے ”جہاد اکبر “کا نام دیاگیا ہے یعنی سب سے بڑا جہاد ،جب ہر انسان اسلامی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے نفس کو برائیوں اور خواہشات کی پیروی سے دور رکھنے کے لئے جد و جہد کرے گا تو یہ معاشرہ جنت نظیر بن جائے گا نہ پولس کی ضرورت ہوگی نہ عدالتوں پر کروڑوں خرچ کرنے پڑیں گے، جہاد بالنفس سے خود بخودپورا معاشرہ مہذب اور با اخلاق ہو کر راحت و سکون کے ساتھ اپنی منزلیں طے کرے گا ،اسلامی روایات میں جہاد باللسان کو دوسرے درجہ میں رکھا گیا ہے یعنی برائی کو دیکھ کر انسان خاموش نہ رہے بلکہ برائی کو برا ضرور کہے،اس جہاد کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہتے ہیں ،زمانہ اتنا دگر گوں ہوگیا ہے کہ برائی کرنے والے کو برائی سے کوئی نہیں روکتا بلکہ سب اسی کو برا بھلا کہتے ہیں جو برے کو برا کہتا ہے ،
ایک طرف تو معاشرہ علماء پر یہ الزام تراشی کرتا ہے کہ علماء حضرات معاشرے کو سدھارنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے دوسری جانب اگر کوئی شخص کسی شخص کی برائی پر نگاہ رکھتا ہے اور اسے ٹوکتا ہے تو یہی معاشرہ کہتا ہے کہ میاں تمہیں کیا مطلب ؟ جو کر رہاہے کرنے دو ،اس کو اگر برائی پر ٹوکو گے تو معاشرے میں اس سے انتشار پھیلے گا ،یہ منطق برائی کوسماج میں پھیلانے کے لئے ایجاد کی گئی ہے اور اسلامی تعلیمات کے سو فی صد خلاف ہے ،قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے : ” ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر و یامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر و اولئک ھم المفلحون“اور تم میں سے ایک گروہ کو ایسا ہونا چاہئے جو خیر کی دعوت دے ،نیکیوں کا حکم دے ،برائیوں سے منع کرے اور یہی لوگ نجات یافتہ ہیں ،یہ جہاد اسلام کے نظام کا ایسا جزو ہے جو خود بخود معاشرے کی نگرانی کرتا ہے ،
ہر انسان اپنا شرعی فریضہ سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کو اس کے اعمال و رفتار سے آگاہ کرتا ہے اور یہاں یہ مثل صادق آتی ہے کہ : ”مومن ،مومن کا آئینہ ہے“اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں برائیوں کو روکنے اور اچھائیوں کو پھیلانے کا ایسا طریقہ نہیں پایا جاتا ،یہ شرف تو صرف اسلام ہی کو حاصل ہے کہ وہ معاشرے میں ہر قسم کے فساد کا مخالف ہے جو اس دنیا میں ہر صالح حکومت اورحاکم کی تمنا ہوتی ہے،اس کے بعد جہاد بالقلم یعنی معاشرے کو سدھارنے کے لئے قلم کے ذریعہ کوشش کی جائے ،اس جہاد کے بھی بے حد ثواب ہیں اور اس کا درجہ تلوار کے جہاد سے بڑا ہے ،قول معصوم ہے کہ : ”عالم کے قلم کی سیاہی کا قطرہ شہید کے خون سے افضل ہے“ اس روایت میں واضح طور پر جہاد بالسیف یعنی تلوار کے جہاد پر قلم کے جہاد کی فضیلت کو بیان کیاگیا ہے ،قلم کے ذریعہ کیاگیا جہاد سب سے زیادہ دیر پا ہوتا ہے ،
تقریریں ذہنوں سے محو ہو سکتی ہیں لیکن قلمی کاوشیں کتابوں اور لٹریچر کی شکل میں زیادہ عرصہ تک محفوظ رہتی ہیں،جس سے کئی کئی نسلیں استفادہ کر سکتی ہیں اسی لئے جہاد بالقلم کی بہت تاکید ہے اس کے بعد جہاد مالی ہے یعنی مال کے ذریعہ معاشرے کی فلاح و بہبود کا انتظام کرنا تاکہ معاشرے میں جرائم کا گراف بڑھ نہ جائے ،تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ معاشرے میں جرائم فقر و ناداری کی وجہ سے زیادہ ہوتے ہیں،لہٰذا اس راہ میں صاحب استطاعت لوگ اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرکے ایسے جرائم کو روک سکتے ہیں ،مال خرچ کرنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ تھوڑا بہت دے کر فقیری کی لت کو پروان چڑھایا جائے بلکہ نادار شخص کو اس کے پیروں پر کھڑا کردیا جائے ،ایسا کرنے سے معاشرہ خود بخود پر سکون ہوجائے گا،سب سے نچلے طبقے میں جہاد بالسیف یعنی معاشرے کی اصلاح اور اُس پر ہونے والے حملوں کے دفاع میں اسلحہ اٹھانا ،
اگر ہم تاریخ یعقوبی ،الامامہ والسیاسہ، وقعہ صفین ،شرح نہج البلاغہ، بحار الانوار ،تاریخ طبری، مروج الذہب وغیرہ تاریخی کتابوں کا مطالعہ کریں تو بزرگان اسلام کے لکھے ہوئے سیکڑوں خطوط اور کئی گئی تقریریں مل جائیں گی جو اِن بزرگوں نے معاشرے کے دفاع اور راہ خدا میں تلوار چلانے سے پہلے مد مقابل سے جہاد بالقلم اور جہاد بااللسان کے طور پر کیں بالخصوص امام حسین نے میدان کربلا میں تو اس کا بہت زیادہ اہتمام کیا ۱۰محرم ۶۱ہجری سے پہلے تک آپ برابر جہاد بااللسان اور جہاد بالقلم فرماتے رہے حتی کہ جب آپ تنہا رہ گئے
اُس وقت بھی آپ نے ان جہادوں کو ترک نہ فرمایا اور آخری مرتبہ یزیدی فوج کو مخاطب کرکے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ : ”ابھی بھی اگر تم راہ راست پر آجاو تو میں اپنے اصحاب اور اولاد کی دردناک شہادت کو بھلا سکتا ہوں “امام عالی مقام نے اس وقت تلوار چلائی جب یزیدی فوج نے کسی بھی ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کردیا ،
عالم اسلام میں اس سے اچھی مثال جہاد بالسیف کے نچلے پائیدان میں ہونے کی نہیں مل سکتی ،اور یہ اجازت بھی اسلام نے شاید اس لئے دے دی کہ اس کی نظر میں اصلاح معاشرہ بہت اہم ہے اسلام دشمن عناصر اس جہاد کو قتل و غارت گری سے تشبیہ دیتے ہیں جو کہ غلط ہے، چونکہ اسلام عالم انسانیت کے لئے امن کا پیغام لے کر آیا تھا
لہٰذا وہ طاقتیں جو معاشرے کے کمزور لوگوں کا خون چوس رہی تھیں اور ان کو سودی قرضوں میں جکڑ کر غلام بنا چکی تھیں اسلام کے اس پیغام سے بوکھلا گئیں اور ہر طرح کی مخالفت شروع کردی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے ،
لہٰذا اسلام نے بھی مسلمانوں کو اپنے دفاع کا حق دیاہے جس کو عقل بھی تسلیم کرتی ہے ۔
احکام الٰہی اور انسانی معاشرہ
یوں تو تمام مذاہب کے قوانین و اصول سماجی انصاف و بھلائی پر مبنی ہوتے ہیں مگر اسلام نے اس کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے ،اسلام کے قوانین صرف معاشرے کی فلاح و بہبود سے تعلق رکھتے ہیں ،ان پر عمل کرنے سے صرف اور صرف ہمارا فائدہ ہے ،انسان اگر اپنے آپ کو ان قوانین کا پابند بنالے تو دنیا و آخرت میں تمام مصیبتوں سے نجات مل جائے گی اور دنیا امن و آشتی کا گہوارہ نظر آئے گی ،پھر نہ کسی پر ظلم ہوگا اور نہ کوئی ستایا جائے گا
اگر دنیا میں پائے جانے والے ادیان و مذاہب کا مطالعہ کریں تو کم و بیش یہ قانون مل جائیں گے ،
مگروہ اس لئے کافی نہیں کیونکہ ان کے ماننے والوں نے اپنی طرف سے نہ جانے کیا کیا اِن قوانین میں شامل کرلیا ہے جب کہ اسلام کے قوانین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے ،اگر ہم الٰہی احکام کا مطالعہ کریں تو یہ عین فطرت انسانی کے مطابق نظر آئیں گے جن پر عمل کرنے سے حکم تعبدی کی بجا آوری اور معاشرے کو فلاح و بہبودنصیب ہوگی، شہید آیت اللہ محمد باقر الصدر تحریر فرماتے ہیں کہ: ”حکم شرعی وہ قانون ہے جو خداوند عالم کی جانب سے انسانوں کی زندگی کے نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لئے صادر ہو“(دروس فی علم الاصول ،شہید صدر،جلد ۱ ،حلقہ اولیٰ،صفحہ ۶۱ ، مطبوعہ قم)،الٰہی قوانین کا تعلق اکثر و بیشتر فروع دین سے ہے کیونکہ فروع دین عمل کا نام ہے ،اور قانون عمل پر ہی لاگو ہوتا ہے، فروع دین میں سب سے پہلے نماز ہے جس کے بے شمار فائدے معاشرے کو پہنچتے ہیں ،قرآن مجید کے سورہ عنکبوت کی ۴۵ویں آیت میں اعلان ہورہاہے : ”اِنَّ الصَّلوٰةَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرْ“بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے اس کے علاوہ نماز سے معاشرے کو اور بھی فائدے پہنچتے ہیں ،اگر باجماعت ہو تو سونے پر سہاگہ ہے کیونکہ جماعت میں اہل محلہ ایک دوسرے کی احوال پرسی کے علاوہ دردو غم کا بھی مداوا کرتے ہیں ،
اس کے لئے نماز جمعہ بھی بہترین ذریعہ ہے جس سے نہ صرف پورے شہر بلکہ پورے ملک اور دنیا کے حالات امام جمعہ کی زبانی معلوم ہوجاتے ہیں ،امام خمینی فرماتے ہیں کہ : نماز جماعت میں ایک جگہ لوگوں کا اجتماع یہ اس لئے ہے تاکہ لوگ اپنی مملکت کے حالات سے آگاہ ہوں اور ان کی مشکلات سے مطلع ہوں اور ان کو دور کریں (حکومت از دیدگاہ امام خمینی ،صفحہ ۲۶ ،ناشر ادارہ کل فرہنگ و ارشاد اسلامی تہران، پہلا ایڈیشن ۱۹۹۳ ء) نماز سے معاشرے کو اس کے علاوہ بھی فائدے پہنچتے ہیں چونکہ نمازی کے لئے ضروری ہے کہ باطہارت نماز ادا کرے جو وضو یا غسل کی صورت میں ہو ،اس طرح نمازی معنوی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ ظاہری طہارت کا بھی عادی ہوجاتا ہے اور ہر وقت صاف ستھرا رہتا ہے اور ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ انسان اگر کسی چیز کی بہت زیادہ تکرار کرے تو وہ اس کا عادی ہوجاتا ہے ،چونکہ نمازی روزانہ پانچ وقت اس شرط کا پابند ہے کہ وضو یا غسل کا پانی یا نماز پڑھنے کی جگہ کسی سے چھینی ہوئی نہ ہویا بغیر اجازت نہ ہو اس لئے وہ معاشرے میں دوسروں کے مال پر دست درازی سے بھی دور رہتا ہے
اور اس کی یہ عادت چوری ،ڈکیتی، مالی بدعنوانی، غصب، یتیموں اور کمسن بچوں کے مال ،وقف اور بیت المال کو ہڑپ کرنے سے روکتی ہےمعاشرے کی فلاح وبہبود میں روزہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ،روزہ رکھنے سے انسان پرہیز گار ہوجاتا ہے جس سے معاشرے کی بے چینیاں بہت حد تک ختم ہوسکتی ہیں ،قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے : ”یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامَ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ(سورہ بقرہ، آیت ۱۸۳) صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے ،شاید تم اسی طرح متقی بن جاو“جس طرح نماز کی صفوں میں معاشرے کے امیر و غریب سب برابر ہوتے ہیں اور کوئی تفریق نہیں رہتی اسی طرح روزہ بھی مساوی طور پر سماج کے ہر طبقے پر واجب ہے تاکہ ہر ایک کو بھوک و پیاس کی تکلیف کا احساس ہوجائے ،امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ : ”انما فرض اللّٰہ الصیام لیستوی بہ الغنی والفقیر“(من لا یحضرہ الفقیہ، جلد ۲ ، صفحہ ۷۳ ، حدیث ۱ ، شیخ صدوق، مطبوعہ تہران)
خداوند عالم نے روزہ کو اس لئے واجب کیا ہے تاکہ غنی اور فقیر برابر ہوجائیں ،نماز کی طرح روزہ بھی برائیوں سے روکتا ہے کیونکہ اہل بیت کے نزدیک صرف پیٹ کا روزہ روزہ نہیں ہے بلکہ تمام اعضاء انسانی کا اپنے کو بُرے کاموں سے بچانے کا نام روزہ ہے ،امام علی فرماتے ہیں : ”الصّیام اجتناب المحارم“(بحار الانوار، جلد ۷۱ ،صفحہ ۲۳۲ ، روایت ۱۳ ، باب ۶۷ ، مطبوعہ تہران)یعنی حرام کاموں سے دور رہنا ہی روزہ ہے، جس طرح روزہ کی حالت میں کھانے پینے سے پرہیز ضروری ہے اسی طرح زبان سے کسی کی برائی کرنا، آنکھ سے نا محرم پر نگاہ ڈالنا ،ہاتھ سے چوری کرنا ،پیروں سے چل کر کسی برے کام کے لئے جانا ،کانوں سے کسی کی برائی سننا اور بہت سے ایسے ہی ناجائز امور سے بھی پرہیز لازم ہے، اگر انسانی معاشرہ ایک مہینہ تک ایسے روزوں کے ذریعہ اپنے آپ کو سنوار لے تو اس کی یہ عادت اسے سال بھر تک برائیوں سے دور رکھے گی ،جس سے ایک بہترین معاشرہ وجود میں آسکتا ہےاسی طرح حج بھی اطاعت خدا کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لئے بے شمار فوائد کا حامل ہے اگر ہم صرف ایک ہی فائدے کو مد نظر رکھ لیں تو ہماری ساری مشکلات ختم ہوسکتی ہیں
اور وہ یہ کہ اس عظیم سیاسی عبادت کے ذریعہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک جگہ مل بیٹھ کر اسلامی دنیا کے مسائل کو درک کرنے اور ان کے حل کے لئے کوئی راہ تلاش کرنے کا موقع ملتا ہے جو حج کے علاوہ کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہے ان قوانین میں شامل اسلامی ٹیکس بھی قابل ملاحظہ ہیں : ہر حکومت یا معاشرے کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ عوام کچھ رقم اکٹھا کرے تاکہ وہ انہیں کی آسائش و ضروریات پر خرچ ہوجائے ،یہی ٹیکس اور اس کا فائدہ ہے البتہ اس کے بھی دائرے اور حدود معین ہوتے ہیں ،اسی ٹیکس سے سماج کی ایسی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں جو تنہا انسان اپنے بل پر نہیں کرسکتا ،البتہ اگر ٹیکس سے جمع کی گئی رقم کو رشوتوں اور گھوٹالوں کی نذر نہ کردیاجائے تبھی اس سے سماج کو فائدہ پہنچتا ہے،اسلام نے جو ٹیکس خمس و زکوٰة، جرمانے کفارات اور منتیں نذر و عہد کی شکل میں رکھی ہیں انہیں دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے معاشرے کی فلاح و بہبود کو کس قدر اہمیت دی ہے زکوٰة اسلام کے اقتصادی سسٹم کا ایک ایسا جزء ہے جس کے ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و خوشنودی کے علاوہ معاشرے کے ایسے افراد کی مالی اعانت ہوتی ہے جو کسی وجہ سے اپنے اور اپنے اہل و عیال کا آزوقہ (راشن پانی )فراہم کرنے سے قاصر ہوں،
اس بارے میں شہید آیت اللہ محمد باقر الصدر تحریر کرتے ہیں کہ : یہ صحیح ہے کہ زکوٰة ،نماز روزہ کی طرح ایک عبادت ہے لیکن اس کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ اس کا اقتصادی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، زکوٰة انفرادی عمل ہوتا تو اسے والی مملکت سے متعلق نہ کیاجاتا ،والی سے متعلق کرکے عمومی ضمانتِ زندگی کاذریعہ بنادینا اس بات کی دلیل ہے کہ زکوٰة تمام دوسری عبادتوں سے الگ اسلامی نظام معیشت کا ایک جزء ہے“(اسلامی اقتصادیات کا جائزہ ،صفحہ ۴۷ ، شہید صدر، ترجمہ علامہ جوادی ، مطبوعہ تہران)زکوٰة کی طرح خمس بھی معاشرے کو طبقاتی ہونے سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ،کیونکہ اسلام کے اقتصادی سسٹم میں خمس کو بہت اہمیت حاصل ہے ،خمس سے قطع نظر حکومت اسلامی کا ذریعہ آمدنی فقط زکوٰة بچتا ہے جو خوشحالی اور قحط سے خالی زمانہ میں ۲.۵% (ڈھائی فیصد) حاصل ہوتی ہے ،حکومت کے لئے اتنی قلیل آمدنی ”اونٹ کے منھ میں زیرہ“ کی حیثیت رکھتی ہے جس سے کو ئی تعمیری کام انجام پذیر نہیں ہو سکتا اس آمدنی سے نہ مدارس کی تعمیر ممکن ہے اور نہ طبی سہولتوں کی فراہمی اور نہ ہی سڑکوں کی درستگی و تعمیر ممکن ہے چہ جائیکہ وہ انفرادی اور شخصی زندگی کی معاشیات کی کفالت کرسکے
اور اسی طرح اسلامی حکومت کے لئے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنی بقا اور استحکام کے لئے جارح ممالک سے اپنا دفاع کرسکیںجب کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج بڑی حکومتیں جو ترقی یافتہ کہی جاتی ہیں وہ اپنے یہاں استعمال ہونے والی چیزوں پر ایسا ٹیکس لگاتی ہیں جو تقریباً خمس کے برابر یعنی ۲۰% ہوتا ہے اور اس میں اگر آمدنی کا ٹیکس بھی جوڑ لیاجائے تو وہ ۲۰%سے زیادہ ہوجائے گااسلامی منتوں (نذر و عہد)کا بھی معاشرے کی بہبود سے براہ راست تعلق ہے ،اسلام نے ایسی منتیں ماننے کا حکم دیا ہے جس سے معاشرے کو فائدہ پہنچے، جیسے منت پوری ہونے کے بعد حسب نیت و وعدہ یا تو دو رکعت نماز پڑھنی چاہئے یا روزہ رکھنا چاہئے یا کسی حاجت مند کی حاجت روائی کی جائے یا غریب طالب کی پڑھائی لکھائی کا خرچ برداشت کیاجائے ، ،اسی طرح اسلامی جرمانے معاشرے کی بہبود سے متعلق ہوتے ہیں مثلاً اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ماہ رمضان کا روزہ توڑ دے تو ایک غلام آزاد کرے یا ساٹھ روزے پے درپے رکھے یا ساٹھ فقیروں کوپیٹ بھر کھانا کھلائے یا ہر فقیر کو ۷۵۰گرام گیہوں یا آٹا یا روٹی دے
اسی طرح صدقہ جس کی اسلام نے بہت تاکید کی ہے اور اس کی رقم بھی معین نہیں کی ہے تاکہ ہر چھوٹا بڑا اس کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوجائے بس شرطِ قربت ہے ،یعنی اللہ کی خوشنودی کے لئے ،صدقے کے بے شمار فائدے ہیں ،جو معاشرہ صدقہ نکالنے کاعادی ہوتا ہے وہ قول رسول کی روشنی میں حادثاتی اموات اور بلائے ناگہانی سے محفوظ رہتا ہےموت دو طرح کی ہوتی ہے سببی(حادثاتی )اورطبیعی ،طبیعی موت تو اپنے وقت پر آتی ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا،لیکن حادثاتی موت جو کسی حادثے یا خودکشی وغیرہ کی وجہ سے واقع ہوتی ہے صدقہ سے ٹل جاتی ہے،مثال کے طور پر آم کا پھل ایک تو وہ ہوتا ہے جو اپنے وقت پر درخت پر پک کر گرجائے دوسرا وہ جو لاٹھی ڈنڈے یا ڈھیلے پتھر سے قبل از وقت گرادیا جائے صدقہ کی دو صورتیں ہیں واجب اور مستحب صدقہ واجب جیسے فطرہ اور زکوٰة ،غیر سادات کا صدقہ واجب سادات پر حرام ہے لیکن صدقہ مستحب حرام نہیں ہے ، عقیقہ ،امام ضامن اور مختلف مواقع پر نکالا جانے والا صدقہ ،صدقہ مستحب میں شمار کیاجاتا ہے،صدقہ کی رقم اگر جمع کرلی جائے تو اس سے معاشرے کے ان افراد کی امداد بھی ہوجاتی ہے جو کسی بھی وجہ سے معاشرے میں پیچھے رہ گئے ہیں جس سے انہیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور عزت نفس محفوظ رہتی ہے عصر حاضر میں اسلامی احکام کو عملی طور پر ایران کی اسلامی جمہوریہ میں پرکھا جا چکا ہے جس کے حیرت انگیز فوائد دنیا کے سامنے ہیں اسی ایرانی معاشرے میں صدقے کے رواج سے جو فوائد ہورہے ہیں وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں
اس وقت پورے ایران میں خیراتی تنظیم (کمیتہ امدادا مام خمینی) ”امام خمینی امدادکمیٹی“کی جانب سے عمومی مقامات جیسے گلی کوچوں ،چوراہوں، بس ٹیکسی اسٹینڈ،ریلوے اسٹیشن،ائیر پورٹ،مسافر خانے،ہوٹل، ،پارک، اسپتال،سکول،کالج، مدرسے اور یونیورسٹی وغیرہ میں اسٹیل کے Box لگائے گئے ہیں جن پر صدقہ کی فضیلت میں ایک حدیث مع ترجمہ بہت ہی خوبصورت جلی الفاظ میں ابھری ہوئی تحریر میں درج ہوتی ہے ،اِن میں روزانہ لاکھوں تومان صدقے کے اکٹھا ہوتے ہیں جو جمع ہوکر کروڑوں تومان ماہانہ ہوجاتے ہیں جن کو مذکورہ تنظیم معاشرے کے ضرورت مندوں
،یتیموں، بیواوں،بے سہارا اور بیکسوں کی مدد کے علاوہ ایران میں زلزلہ، سیلاب اور آگ لگنے جیسے حادثات سے متاثرہ افراد کی امداد بھی اسی بیسہ سے کرتی ہے اور اس طرح ایران ایسے مواقع پر امریکہ و برطانیہ جیسے مغرور و متکبر ملکوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو مجبور نہیں ہوتا
اور نہ ہی عالمی بینک کے سودی جال میں پھنس کر اپنی قومی آزادی کا سودا کرنا پڑتا ہے،صدقہ جیسے سنت حکم کو معاشرے میں رائج کرکے جب اتنی عزت ،استقلال اور منفعت حاصل ہوتی ہے اور دنیا میں فخر سے سر اونچا رہتا ہے تو اگر کوئی معاشرہ تمام احکام کا پابند ہوجائے تو اس کو کتنی بھلائی، خیر و برکت اور عزت نصیب ہوگی،ایران کی عزت و قدرت کا راز انہی الٰہی احکام کو معاشرے میں عملی طور پر رائج کرنے میں پوشیدہ ہے جس سے آج استعمار کے وہ سارے پروپیگنڈے اور دعوے کھوکھلے ثابت ہوگئے جن کی رو سے یہ لوگ اسلام کو صرف چند مذہبی رسومات کا دین کہتے ہیںہماری جتنی بھی پریشانیاں ہیں وہ الٰہی احکام سے دور ہوجانے کے باعث ہیں، ہمارے سماج میں رسومات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جب کہ رسمیں انسان ے لئے کامیابی کی ضمانت نہیں ہیں، رسموں پر ہم اتنی سختی سے عمل کرتے ہیں کہ غیر مسلم معترضین اسلام پر اعتراض کرتے ہیں جب کہ ان کے اشکالات اسلام پر نہیں بلکہ مسلمانوں کی رسموں پر وارد ہوتے ہیں ، افسوس ! کہ ہندوستان یا دیگر ممالک میں ہم اسلام کا صحیح تعارف پیش نہ کرسکے جس سے لوگ اسلام کے قریب نہیں آتے ،بعض افراد عیسائیوں کے اُن کاموں سے متاثر ہوکر جو معاشرے کی بہبود کے لئے کئے جاتے ہیں عیسایئت کے گرویدہ ہوجاتے ہیں
اور وہ اسلام جو سماجی انصاف و فلاح و بہبود کی خاطر ہی ظہور میں آیا ہو لوگ اس سے نفرت کریں ؟! یہ صرف ہماری وجہ سے ہے ،ہم نے اسلام کو صحیح ڈھنگ سے پیش ہی نہیں کیا بیکسوں ،مریضوں، یتیموں وغیرہ کی جس خدمت کے لئے ہندوستان میں مدرٹریسا مشہور ہے ،اس کا حکم اسلام نے دیا ہے ،مدر ٹریسا نے اس پر عمل کیا تو اسی کو عزت و شہرت مل گئی ،صرف ایک مدرٹریسا ہی پر ہی کیا منحصر ہے پوری عیسائی مشینری کی کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے اب تو سمجھ لینا چاہئے کہ اسلام عمل چاہتا ہے صرف زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہونے والا، ایک عام مسلمان سے اگر کوئی رسم چھوٹ جائے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اُس کا اسلام خطرے میں پڑگیا،جب کہ اسلام !احکام الٰہی پر عمل نہ کرنے اور معاشرے سے لا تعلق رہنے سے خطرے میں پڑتا ہے جب بھی احکام الٰہی پر عمل کی بات آتی ہے تو عام مسلمان اپنے کو بری الذمہ قرار دے کر احکام الٰہی پر عمل صرف علماء کا حق تصور کرتے ہیں اور غیر مسلم یہ سمجھتے ہیں کہ الٰہی احکام صرف مسلمانوں سے مخصوص ہیں جب کہ یہ احکام نہ علماء سے مخصوص ہیں اور نہ مسلمانوں سے بلکہ خدا وند عالم کے یہ احکام پورے انسانی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں
دنیا میں جتنی بھی کمپنیاں ہیں وہ اپنی مشینری کے ساتھ گائڈ بک بھی دیتی ہیں جس میں مشین کا طریقہ استعمال اور حفاظت کے قاعدے درج ہوتے ہیں جو سبھی کے لئے ہوتے ہیں اب جو بھی ان قوانین پر عمل کرلے گا اس کی مشین اتنی ہی زیادہ دنوں تک چل سکے گی اور اس کی مرمت میں روپیہ پیسہ بھی خرچ نہیں ہوگا ،اسی طرح خدا وند عالم نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے لہٰذا وہی جانتا ہے کہ انسان کے لئے کیا مضر ہے اور کیا مفید ،جو چیز بھی انسان کے لئے مضر یا مفید ہے وہ سب خدا وند عالم نے قرآن کے ذریعہ انسانوں تک پہنچادی ہے ،قرآن مجید میں بہت ساری آیتوں کی ابتدأ : ”یَا اَ یُّھَا الْاِنْسَان“سے ہونا اور پورا اسورہ انسان اس پر شاہد ہے
کیا سود خوری کے نظام سے صرف مسلمانوں کا نقصان ہوتا ہے ؟کیا شراب خواری سے صرف مسلمانوں کی صحت اور گھر برباد ہوتے ہیں ؟ کیا رشوت کے لین دین سے صرف اسلامی معاشرہ تباہ ہوتا ہے ؟ کیا جھوٹی گواہی سے صرف مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا؟ نہیں !بلکہ پورا انسانی معاشرہ مذکورہ رذائل سے تباہی کی کگار پر پہنچ جاتا ہے ،تو پھر خدا کے ان احکامات کو جس میں پوری انسانیت کی بھلائی ہے کسی ایک گروہ یا فرقے سے مخصوص و منحصر کیوں کیا جاتا ہے ؟ دنیامیں جو بھی معاشرہ الٰہی احکام پر عمل کرے گا وہ مصیبتوں اور پریشانیوں سے نجات پائے گا ،لہٰذا تمام انسانوں بالخصوص مسلمانوں کو ان پر عمل کرنا چاہئے ،مسلمان اگر صرف زبانی مسلمان رہیں گے تو انہیں سماج میں کوئی امتیاز نہیں ملے گا بالکل اسی طرح جیسے زبان سے حلوہ کہنے سے منھ میٹھا نہیں ہوتا ۔
تین ہجری کا ہندی مسلمان رتن سَین
تاریخ نویسوں نے ہندوستان میں اسلام کی آمد حجاج بن یوسف کے نو عمر کمانڈر محمد بن قاسم سے منسوب کی ہے
اور یہ ایسی ذہنیت کا نتیجہ ہے جو اسلام کو تلوار کے زور پر پھلتا پھولتا مانتی ہے ،یہاں بھی یہی ظاہر کیاگیا ہے کہ محمد بن قاسم نے ہندوستان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ہندوستان میں اسلام کی داغ بیل پڑ گئی ،لیکن تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے
کہ حضور سرکار رسالت مآب کے معجزہ شق القمر سے ہندوستان ضیاء اسلام سے منور ہوگیاتھا، کتاب ”بیان الحق و صدق المطلق“ مطبوعہ تہران ۱۳۲۲ھ میں فخر الاسلام لکھتے ہیں کہ حافظ مرّی نے ابن تیمیہ سے نقل کیا ہے کہ بعض مسافروں نے بتایا کہ ہم نے ہندوستان میں ایسے آثار دیکھے جو معجزہ شق القمر سے متعلق تھے
جن میں سے ایک درگاہ ضلع جے پی نگر کی تحصیل دھنورہ میں نوگانواں سادات سے تقریباً ۱۶کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے گنگا کے کنارے موجود ہے جس میں کنور سین اور ان کے وزیر حاجی رتن سین دفن ہیں اور تحصیل دھنورہ کے مال خانے میں اس کا اندراج درگاہ شق القمر کے نام سے ہے ،اس درگاہ کی ۳۰۰بیگھا زمین ہے جس کا بیشتر حصہ خورد برد ہوچکا ہے ،اور اس درگاہ پر ہولی کے بعد آنے والی جمعرات کو عرس و میلا بھی لگتاہے
۱۳شعبان قبل ہجرت پورن ماشی کے موقع پر ہندوستان میں جب راجا مہا راجاوں نے چاند کو دو حصوں میں دیکھا تو انہیں بڑی حیرت ہوئی ،نجومیوں سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ عربستان سے محمد نام کے پیغمبر نے یہ معجزہ دکھایا ہے
،راجاوں نے اپنے نمائندے تصدیق کے لئے عربستان روانہ کئے جن میں شمالی ہندوستان کی چھوٹی سی ریاست کھابڑی کے راجا کنور سین نے بھی اپنے وزیر رتن سین کو مدینہ منورہ کے لئے روانہ کیاکھابڑی ریاست موجودہ اترپردیش کے ضلع جے پی نگر و بجنور کے دریائے گنگا سے متصل علاقوں پر محیط تھی ،اس ریاست میں پراکرت زبان بولی جاتی تھیرتن سین کے مدینہ جانے اور مع ساتھیوں کے ایمان لانے پر تو سب متفق ہیں مگر
ان سے متعلق جو داستانیں سنائی جاتی ہیں اُن سے علماء نے اختلاف کیا ہے ،شمس الدین بن محمد جزری کہتے ہیں کہ میں نے عبد الوہاب بن اسماعیل صوفی سے سنا کہ جب ہم ۶۷۵ہجری میں واردِ شیراز ہوئے تو ہماری ملاقات شیخ معمر محمود بن رتن سین سے ہوئی انہوں نے ہمیں بتایا کہ میرے بابا رتن سین نے معجزہ شق القمر دیکھا تھا اور یہی معجزہ ان کی ہندوستان سے عرب ہجرت کا سبب بنااور جب رتن سین مدینہ پہنچے تو مسلمان (جنگ احزاب کے لئے) خندق کھود رہے تھے، (رتن سین)نے رسول اللہ کی صحبت اختیار کی
(تذکرة الموضوعات، مولف محمد طاہر بن علی ہندی، متوفی ۹۸۶ھ ناشر امین ،قج، بیروت، لبنان)رتن سین کے بارے میں عرب و عجم محققین و علماء نے ۶۰۰سال سے زائد طولانی عمر بیان کی ہے جس کا مآخذ سنے سنائے قصے ہیں”دائرة المعارف قاموس عام لکل فن و مطلب“کی آٹھویں جلد مطبوعہ لبنان میں ر،ت،ن کے ذیل میں رتن کا تذکرہ کرتے ہوئے معلم بطرس بستانی نے لکھا ہے کہ : رتن ہندی نے دوبار رسول اللہ کی زیارت کی
اور آپ نے انہیں طولانی عمر کی دعا دی جس سے اِن کی عمر ۶۰۰سال سے زائد ہوئی ،علامہ ابن حجر مکی نے الاصابہ فی معرفة الصحابہ میں اور علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال اور لسان العرب میں رتن سین کی طولانی عمر کے قصے کو فرضی قرار دیاہے، ہندوستان میں جو دستاویز رتن سین اور ان کے راجا کنور سین سے متعلق موجود ہیں ان سے رتن سین کی عمر ۶۰۰سال ثابت نہیں ہے ،بلکہ سن ۳ہجری میں رتن سین مشرف بہ اسلام ہوئے ،۳ہجری سے ۷ہجری تک مدینہ میں قیام کیا
اور ۱۱ہجری میں وفات پائی،لہٰذا رتن سین کی ۶۰۰سال عمر والا قصہ بے بنیاد ہے ،ماسٹر سیداختر عباس نوگانوی رٹائرڈ پرنسپل گورنمنٹ کالج امروہہ کی تحقیق کے مطابق رتن سین سے متعلق معلومات کنور سین کی قبر پر لگے کالے قیمتی پتھر (سنگ موسیٰ) سے ریلوے پولس انسپکٹر سید صادق حسین ،نانوتہ ،سہارنپور اور مولوی ارتضیٰ حسین امروہوی مقیم ریاست رامپور کو ۱۹۳۱ء میں حاصل ہوئی تھیں جس کا پتہ سید صادق حسین نانوتوی کو سید احمد حسین رضوی حسن پوری نے دیاتھا ،
انسپکٹر صادق حسین اور مولوی ارتضیٰ حسین صاحبان نے اس پتھر کی عبارت پڑھنے اور ترجمہ کرنے کے لئے مرادآباد کے محلہ کسرول سے پنڈت برہما نند کو تلاش کیا جن کی عمر اُس وقت ۹۵سال تھی ،پنڈت برہما نند نے اس پتھر کو دیکھ کر بتایا کہ یہ پراکرت زبان میں ہے ،بہر حال پنڈت برہما نند ترجمہ کرتے رہے اور یہ لوگ لکھتے رہے ،
اس کی اجرت پنڈت برہمانند نے اُس وقت (۱۹۳۱میں) ۳۰۰روپیہ لی تھی،راجا کنور سین کی قبر کے اس پتھر پر یہ عبارت حاجی رتن سین نے ۲۵ذی قعدہ۸ہجری کو راجا کے دفن کے بعد کندہ کرائی تھی،رتن سین نے اس پتھر پر دیگر اہم باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھ تھا کہ میں نے ۳سال خدمت رسول اللہ میں رہ کر بھوج پتر پر حالات تحریر کئے ہیں جو کتاب کی شکل میں مجاور کے پاس ہیں اور اس کو ہدایت کردی ہے کہ اس کو ضائع نہ کرے ،
جب صادق حسین کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے مجاور شیخ عبدالرزاق سے کہا کہ اگر آپ واقعی اس درگاہ کے مجاور ہیں تو ضرور آپ کے پاس بھوج پتر پر لکھی کتاب ہوگی ورنہ اصل مجاور کوئی اور ہے اس بات کو سن کر شیخ عبدالرزاق گھر میں گئے اور ٹین کے ڈبے میں بند مطلوبہ بھوج پتر پر لکھی ہوئی کتاب نکال کر لائے اور دور سے صادق حسین کو دکھادی ،صادق حسین نے کہا کہ یہ کتاب امانت کے طور پر ترجمہ کے لئے دے دو ،
اس پر مجاور شیخ عبدالرزاق نے کہا کہ میں اسے چھونے بھی نہیں دوں گا ،اس کے بعد ۱۹۷۵میں صدر العلماء مولانا سید سلمان حیدر صاحب نوگانوی نجفی، مولانا روشن علی صاحب سلطان پوری نجفی، مولانا مشکور حسین صاحب نوگانوی اور مولانا نعیم عباس صاحب نوگانوی وغیرہ بھی درگاہ پہنچے اور مجاور سے کتاب کاترجمہ کرانے کی خواہش ظاہر کی لیکن اس نے ایک نہ سنی ،
اگر مجاور با شعور مسلمان ہوتا تو از خود کوشش کرکے اس کتاب کا دنیا کی تمام زندہ زبانوں میں ترجمہ کراکے شائع کرادیتا جس سے تاریخ نویسوں کو بہت مدد ملتی اور اثبات حق کے لئے یہ کتاب بہترین دستاویز شمار ہوتی ،مجاور اور اس کے گھروالوں نے نہ یہ کہ کتاب ترجمہ کے لئے نہ دی بلکہ پتھر کی عبارت کا ترجمہ سن کر راتوں رات قبر سے اکھاڑ کر پتھر بھی غائب کرادیا،جب بے شعور مسلمانوں کی یہ حالت ہے تو ہم حکومت کے محکمہ آثار قدیمہ سے کیاشکایت کریں ،اگر آثار قدیمہ نے اس اہم دستاویز کو ضائع ہونے سے بچالیا ہوتا تو آج محققین کو اس میں شک نہ ہوتا کہ ہندوستان نورِ اسلام سے حضرت محمد مصطفی کی حیات طیبہ ہی میں منور ہو گیاتھا ،مجاوروں نے وہ تمام پتھر بھی ہٹوادیئے جن پر تاریخیں کندہ تھیں ،رتن سین کی قبر کا پتھر بھی غائب کرادیا ،مگر ان کتبوں اور پتھروں کی نقول کاغذاتِ مال میں دھنورہ تحصیل میں موجود ہیں ،راجہ کنور سین کی قبر پر لگے پتھر کی عبارت کے ترجمے سے چند تاریخی حقائق اور واضح ہوجاتے ہیں ،
پتھر پر معجزہ شق القمر کی تاریخ ۱۳شعبان قبل ہجرت پورن ماشی کے موقع پر لکھی ہے ،آیت اللہ مکارم شیرازی تفسیر نمونہ کی جلد ۲۳مطبوعہ قم میں صفحہ ۱۸پر سورہ قمر کی پہلی آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ بعض روایات سے استفادہ ہوتاہے کہ یہ معجزہ ہجرت کے نزدیک مکی زندگی کے آخری ایام میں رونما ہوا تھااور حضور نے یہ معجزہ اُن حقیقت کے متلاشی افراد کے کہنے پر انجام دیا تھا جو مدینہ سے خدمت پیغمبر میں مکہ آئے تھے اور عقبہ میں انہوں نے حضور کی بیعت کی تھی، اس روایت کو علامہ مجلسی نے بحارالانوار کی جلد ۱۷کے صفحہ ۳۵پر درج کیا ہے ،لی بعض علماء نے معجزہ شق القمر کو ہجرت سے ۸سال قبل بیان کیا ہے جس کو حضور نے ابو جہل و ابو لہب کے کہنے پر انجام دیا، بہر حال رتن سین کا تعلق اُسی معجزے سے ہے جو حضور نے مکی زندگی کے آخری ایام میں انجام دیا، رتن سین کے مدینہ منورہ پہنچنے کی تاریخ ۵رمضان ۳ہجری اور کھابڑی واپس آنے کی تاریخ ۱۲صفر۸ہجری درج ہے اور رتن سین کی قبر پر لگے پتھر پر رتن سین کی تاریخ وفات ۱۱ہجری درج ہے
رتن سین نے راجا کی قبر کے پتھر پر یہ بھی لکھوایا تھا کہ مدینہ پہنچنے پر رتن سین اور ان کے ساتھیوں کو حضرت علی کے یہاں مہمان رکھاگیا اور بہت شاندار ضیافت کی گئی رتن سین کے مدینہ پہنچنے کے ۱۰روز بعد ۱۵رمضان ۳ہجری کو رسول خدا کے پہلے نواسے حضرت امام حسن کی ولادت ہوئی ،رتن سین نے امام حسن کو سچے موتیوں کی مالا پہنائی جو رنگ تبدیل کرکے سبز ہوگئی اس پر رتن سین کو بڑی حیرت ہوئی اور رسول خدا سے اس کا سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا یہ میرا فرزند زہر دغا سے شہید کیاجائے گا (جس سے بدن سبز ہوجائے گا)سن ۴ہجری میں رسول اسلام کے دوسرے نواسے حضرت امام حسین کی ولادت ۳شعبان المعظم کو ہوئی ،اس بچے کو دیکھ کر رتن سین بہت خوش ہوئے اور ان کے گلے میں بھی سفید سچے موتیوں کی مالا پہنائی ،رتن سین کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مالا کے موتی سرخ ہوگئے ،رسول اللہ نے اس کا سبب یہ فرمایا کہ کربلا کے میدان میں یہ میرا فرزند تین دن کا بھوکا پیاسا مع عزیز و اقربا شہید کیاجائے گا ،یہ فرماکر رسول اللہ بے ساختہ رونے لگے
رتن سین نے رسول اللہ سے ۳۰۰حدیثیں بھی روایت کی ہیں جن میں چند حدیثوں کو الاصابہ فی معرفة صحابہ میں ابن حجر مکی نے ،لسان العرب و میزان الاعتدال میں ذہبی نے رتن سین کی موضوعہ حدیثوں کے طور پر بعنوان مثال نقل کیا ہے ،حدیثیں یہ ہیں: =رتن سین کہتے ہیں کہ ہم خزاں کے موسم میں رسول اللہ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھے اور ہوا چل رہی تھی جس سے پتے گر رہے تھے یہاں تک کہ اس درخت پر ایک بھی پتہ باقی نہ بچا تو رسول اللہ نے فرمایا کہ جب مومن فرض نماز کو جماعت سے پڑھتا ہے تو اس سے گناہ اسی طرح ختم ہوجاتے ہیں جیسے اس درخت سے پتے=رتن سین کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس نے کسی مالدار کی عزت اس کے مال کی وجہ سے کی
اور محتاج کی بے عزتی اس کی ناداری کی وجہ سے کی تو اس پر ہمیشہ اللہ کی لعنت ہوگی مگر یہ کہ توبہ کرلے=رتن سین کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایاکہ:جو شخص آل محمد کی دشمنی پر مرے گا وہ کافر کی موت مرے گا=رتن سین کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ عالم کے لباس پر اس کی دوات کی سیاہی کا نقطہ اللہ کو شہید کے پسینہ کے سو قطروں سے زیادہ پسند ہے =رتن سین کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جو روز عاشورا امام حسین پر گریہ کرے گا وہ قیامت کے روز اولو العزم پیغمبروں کے ساتھ محشور ہوگا=رتن سین کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ روز عاشور کا گریہ قیامت میں نور تام (کا باعث )ہوگا رتن سین کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جس نے تارک الصلوٰة کی ایک لقمہ سے مدد کی گو یا اس نے تمام انبیاء کے قتل میں مدد کی ، اگر ہم رتن سین کو سچا مان لیں تو پھر رتن سین محدث ،صحابی رسول ،محب اہل بیت اور ہندوستان کے اولین مسلمان شمار ہوں گے ،
اور اگرعلمائے رجال ابن حجر اور علامہ ذہبی کے مطابق رتن سین کو ثقہ نہ مانیں تو صحابی رسول ، محب اہل بیت اور ہندوستان کے اولین مسلمان تو تھے ہی حالانکہ مذکورہ حدیثیں بھی کسی نہ کسی راوی کے ذریعہ ہم تک پہنچ چکی ہیں رتن سین کے علاوہ موجودہ مدھیہ پردیش کے مالوہ میں ریاست دھار کے راجہ بھوج بھی معجزہ شق القمر کے بعد ایمان لے آئے تھے اور انہوں نے اپنے عہد میں تین مسجدیں ایسی بنوائیں جو آج تک صحیح حالت میں ہیں ،ایک مسجد دھار میں ہے دوسری بھوجپور میں اور تیسری مانڈوہ میں ہے جنہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی آمد محمد بن قاسم کے حملے سے نہیں بلکہ رسول اسلام کے معجزہ شق القمر کی برکت سے ہوئی تھی،
اس کے علاوہ ایک اور ہندوستانی راجا کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ مجلسی نے اپنی ۱۱۰جلدی کتاب کی ۵۱ویں جلد میں باب ۱۹صفحہ ۲۵۳پر لکھاہے کہ یحیٰ بن منصور نے کہا کہ ہم نے ”صوح“ شہر میں ہندوستانی راجا کو دیکھا جس کا نام سرباتک (کسی ہندی نام کا بگڑا ہوا عربی لفظ)تھا اور وہ مسلمان تھا ،وہ راجا کہتاتھا کہ رسول االلہ کے دس صحابہ حذیفہ بن یمان، عمرو بن العاص، اسامہ بن زید، ابو موسیٰ اشعری، صہیب رومی اور سفینہ وغیرہ نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور میں نے اسلام قبول کرلیا اور نبی کی کتاب( نبی کا خط یا قرآن )کو قبول کرلیامحققین کو چاہئے کہ وہ اس موضوع پر سنجیدگی سے تحقیق کریں ،بے شمار سندیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام اپنے انقلاب کے ابتدائی ایام ہی میں وارد ہوگیاتھا
فہرست
حسینی انقلاب ۴
از: سید پیغمبر عباس نوگانوی ۴
حضرت علی -کے مخلص شیعہ ۷
منحو س کاروبار ۱۵
ہماری کہانیاں ۲۱
حضرت عباس کی صفات کمالیہ ۳۰
ساباط و کربلا ایک ہی مقصد کے دونام ۳۴
اسلامی جہاد معاشرے کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ۴۱
احکام الٰہی اور انسانی معاشرہ ۴۴
تین ہجری کا ہندی مسلمان رتن سَین ۵۰