شہر مقدس قم کے بارے ميں مختصرمعلومات
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف الشیعہ ڈاٹ او آر جی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


شہر مقدس قم کے بارے ميں مختصرمعلومات

ماخذ: الشیعہ ڈاٹ او آر جی


خيرمقدم

شہر مقدس قم ميں آپ کی آمد پر ہم خوش آمدید کہتے ہيں ۔ہماری سعی وکوشش ہے کہ ہم آپ کی خدمت عاليہ ميں نفع بخش معلومات پيش کرسکيں ۔

یہاں اس ملکوتی خاتو ن اور شفيعہ روز جزا کی آرامگاہ ہے کہ ہمارے معصوم ائمہ عليہم السلام نے جس کی زیارت کی جزا کو فردوس بریں قرار دیاہے ،اور ان کی عالمگير شفاعت کی بشارت دیا ہے ۔

اس بارگاہ مقدس کے سونے کا گنبد عاشقوں کے دلوں کا کعبہ ہے ، اس کی ضریح مطہر بے چين دلوں کی بوسہ گاہ ہے ،اس کے سونے کے ایوان اور آئينے خستہ دلوں کی منزل ہيں ۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں ملکہ عقيدت علم وفضيلت و معارف دینی کی ميزبانی فرماتی ہيں ۔بيشک وہ افراد خوش نصيب ہيں جو معصومہ قم سلام الله عليہا کے مقام و منزلت کی معرفت کے ساته زیارت کرتے ہيں ۔

آپ کی منزلت و فضيلت کے لئے یہی کافی ہے کہ آٹهویں امام عليہ لسلام نے آپ کو معصومہ کا لقب دیا ہے ۔اور فرمایا:

”من زر المعصومہ بقم کمن زارنی” جس نے قم ميں معصومہ کی زیارت کی گویا اس نے ميری زیارت کی۔

خدا وند عالم سے دعا ہے کہ آپ حضرات سلامتی کے ساته اس مقدس جگہ سے اپنی دنيوی و اخروی مرادیں اور معنوی تحفہ لے کر اپنے وطن واپس ہوں ۔

التماس دعا


قم کی تاريخ:

تاریخی شواہد کی روشنی ميں شہر قم اسلام سے پہلے ایران کے آباد شہروں ميں شمار کيا جاتاہے ۔اور اس شہرکی پہلی بنيادکی نسبت بادشاہ “ تہمورث پيشدادی ” کی طرف دی گئی ہے ۔ اور اسی کے مقابلے ميں بہت سے مورخين نے اس شہر کو اول قرن ہجری کے شہروں ميں شمار کيا ہے۔ لہٰذا اس قول ميں کچه حقيقت پائی جاتی ہے۔ قم کا علاقہ چوں کہ ایک لق و دق بے آب و گياہ صحراء سے متصل ہے ،اس لئے اس شہر کی آب و ہوا بہت اچھی نہيں ہے بعض صاحبان علم کا کہنا ہے کہ خداوند عالم نے اس مقدس شہر کو ظالم و جابر حکام سے محفوظ رکهنے کے لئے یہاں کی آب و ہوا کو مرغوب نہيں بنایا ۔ چنانچہ قم ميں کبهی کسی ظالم و جابر نے رہائش اختيار نہيں کی ہے ۔

موجودہ قم آج جہاں آباد ہے ماضی بعيد ميں وہاں آباد نہيں تھا کسی منصوبہ کی تحت نہيں بسا تھا بلکہ سر سبز علاقہ اور مجمع البحرین ہونے کی وجہ سے صحرانشين اور چرواہوں نے مستقل رہایش کے لئے گھر بنا لئے تھے ان گھروں کو “کومہ ” کہتے تھے ۔یہی لفظ کومہ “ کثرت استعمال سے “کم” ہوگيا پھر جب اسے معرب کیا گياتو “ قم ” بن گيا ایک شيعہ روایت ميں ہے کہ رسول خدا معراج پر تشریف لے گئے تو اس مقدس شہر کی سرزمين پر ابليس ملعون کو دوزانو اور افسوس کی حالت ميں بيٹهے ہوئے دیکھاتوآپ نے فرما یا “قم یاملعون ” اے ملعون یہاں سے اٹه جا ۔ اس لئے اس شہر کو قم کہا جانے لگا۔

بعض حضرات قم کو قدیم شہروں ميں شمار کرتے ہيں اور اسے آثار قدیمہ ميں سے ایک قدیم اثر سمجهتے ہيں نيز شواہد و قرائن کے ذریعہ استدلال بهی کرتے ہيں مثلا قمی زعفران کا تذکرہ بعض ان کتابوں ميں ملتا ہے کہ جو عہد ساسانی سے مربوط ہيں ۔ نيز شاہنامہ فردوسی ميں ٢٣ ء ه کے حوادث ميں قم کا ذکر بهی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ کہ قم اور ساوہ بادشاہ “ تہمورث پيشدادی ” کے ہاتھوں بنا ہے ۔

ليکن حقيقت تو یہ ہے کہ یہ تمام دليليں مدعا کو ثابت نہيں کرتيں کيونکہ عہد ساسانی ميں قم کی جغرافيائی و طبيعی حالت ایسی نہ تھی کہ وہاں شہر بنایا جا تا بلکہ ایسا شہر تہمورث کے ہاتھوں بنا یا جا نا ایک قدیم افسانہ ہے جس کی کوئی تاریخی اہميت نہيں ہے علاوہ ازیں شاہنامہ فردوسی ميں ٢٣ ء ه کے حوادث ميں قم کا ذکر اس بات کی دليل نہيں ہے کہ اس دور ميں بهی یہ زمين اسی نام سے موسوم تھی کيونکہ فردوسی نے اپنے اشعار ميں محل فتوحات کے نام اس زمانے کے شہرت یافتہ و معروف ناموں سے یاد کيا ہے نہ کہ وہ نام کہ جو زمان فتوحات ميں موجود تھے ۔ اسناد تاریخ اور فتوحات ایران کہ جو خليفہ مسلمين کے ہاتھوں ہوئی اس ميں سرزمين قم کو بنام “ شق ثميرة ” یاد کيا گيا ہے ۔ اس بنا پر شہر قم بهی نجف اشرف ، کربلامعلی ، مشہد مقدس کی طرح ان شہروں ميں شمار ہوتا ہے جو اسلام ميں ظاہر ہوئے ہيں ایسی صورت ميں اس کے اسباب وجود کو مذہبی و سياسی رخ سے دیکھنا ہوگا ۔

زمانہ انقلاب اہل قم نے ١٩ /دی ماہ ١٣ ۵۶ ئه ش شاہ کے خلاف قيام کرکے اس شہر کے لئے سند افتخار حاصل کيا ہے۔ایران عراق جنگ ميں اس شہر نے تقریبا ۵ ٢٠٠ شہيد دیئے ہيں اور تقریبا ٧ ۶ ٠٠ جانباز وں نے جنگ ميں شرکت کرکے اس شہر کا سر بلندکر دیا ہے۔اور آج بهی رہبر انقلاب حضرت آیت الله خامنہ ای اندرونی اور بيرونی دشمنوں کے مقابل ميں ایک سيسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند کهڑے ہوئے ہيں اور خدا وند عالم کے لطف و کرم کے اميد وار ہيں کہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے زمينہ ہموار ہو جائے انشاء الله۔

قم کے بارے ميں زیادہ معلومات حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کی طرف مراجعہ فرمائيں ۔

١۔تاریخ قم ۔ انتشارات زائر

٢۔ تربيت پاکان ۔ انتشارات زائر

٣۔ فروغی از کوثر۔ انتشارات زائر

۴ ۔ کریمہ اہلبيت ،انتشارات حاذق

۵ ۔تاریخ مذہبی قم ۔ انتشارات زائر

۶ ۔حضرت معصومہ فاطمہ دوم ۔ انتشارات علامہ

صوبہ قم کا مختصرجغرابيائی خاکہ

صوبہ قم کا رقبہ حدودا ١١٢٣٨ کلو ميٹر مربع ہے ۔ یہ صوبہ ایران کے مرکز ميں واقع ہے ۔

اس کے شمال ميں صوبہ تہران ، مشرق ميں صوبہ سمنان ، جنوب ميں صوبہ اصفہان اور مغرب ميں صوبہ مرکزی (اراک) واقع ہے۔

سمندر کی سطح سے اس شہر کا ارتفاع تقریبا ٩٢٨ ميٹر ہے ۔ اس صوبہ کا بلند ترین نقطہ مناطق کوہستانی ہے (کوہ وليجا) کہ تقریبا ٣٣٣٠ ميٹر بلند ہے اور پست ترین نقطہ دریاچہ نمک ہے کہ حدودا ٧٠٠ ميٹر نيچا ہے۔

شہر قم کی آبادی تقریبا دس لاکه ہے ۔


قم کے دستی صنعت اور سوغات

فرش ابريشم

ہاتھ کی بنی ہوئی قالين ابریشم ایران کے نفيس ترین صناع دستی ميں شمار ہوتا ہے۔اس کے رنگ آميزی اور نقشہ کے اعتبار سے اصل ایرانی طرز پر ہوتا ہے اور کيفيت کے اعتبار سے درجہ یک شمار کيا جاتا ہے۔اس کے بنانے والی اکثر عورتيں ہوتی ہيں ۔

مٹی کی بنی ہوئی اشيائ

یہ دستی ہنر اباو اجداد سے چلا آرہا ہے ، اس شہر کا یہ تاریخی پيشہ ہے ۔داخل ملک اور بيرون ملک قم کی مٹی کے ظروف بهی بہت ہی مشہور ہيں اور اس کے خاص طرفدار ہيں ۔

کاشی کاری

یہ اسلامی ہنر بہت ہی زیبا و خوشنما ہيں دیکھنے والوں کو اپنی طرف جذب کر ليتے ہيں ۔ کاشی کاری کا کام بہت ہی استادانہ کام ہے جس کو قم کے ہنر منداسلامی طرز پر خوبصورت انداز ميں خاک و گل کی صورت ميں لوگوں کے سامنے پيش کرتے ہيں ۔

لکڑی کے اشياء پر نقش و نگار

مختلف قسم کے ميز ،کرسی اور لکڑی کی دوسری چيزوں بہترین و خوبصورت نقش و نگار بنانا قم کے ماہرین استاد کے ذریعہ انجام پاتا ہے ۔اور یہ اشياء یورپ اور ایشيا کے مختلف ممالک سے آرڈر پر بنایا جاتا ہے اس کے بعد اسپورٹ کيا جاتا ہے۔

سوہان (سوہن حلوہ)

سوہان قم کی بہترین ميٹهائيوں ميں شمار کيا جاتا ہے ۔ اس مٹهائی کو دنيا کے تمام لوگ پسند کرتے ہيں ۔اس ميٹهائی کے اجزا ميدا ، شکر ،روغن ،پستہ ،بادام اور زعفران ہے ۔

قم کی فضيلت

امام جعفر صادق عليہ السلام کا ارشاد ہے: ”ان لعلیٰ قم ملکا یرفوف عليها بجناحيه لا یرید ها جبار بسوء الا اذا به الله کذوب الملح فی الماء “

قم کے اوپر ایک فرشتہ اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہے جو جابر و ظالم بهی قم کے بارے ميں برا ارادہ کرتا ہے خدا اسے ایسے ہی پگهلا دیتا ہے جسے پانی ميں نمک گهل جاتا ہے ۔ (بحار ) ۶ ٠/ الانوار،ج/ ٢١٧

”اذا اصابتکم بلية وعناء فعليکم بقم فانهاماوی الفاطميين و مستراح المومنين و سياتی زمان ینفراولياء نا و محبونا عناویبعدون منا و ذالک مصلحة لهم لکن لا یعرفوا بولایتنا یحقنوا بذالک وما لهم و اموالهم وما اراد احدبقم و اهلها سو الا آله اللّٰه ابعده من رحمته “ - جب تم پر کوئی مصيبت آئے تو قم پہچ جا و کيو نکہ وہ فاطميوں کے لئے پناہ گاہ اور مومنين کے لئے پر سکون ہے ۔ عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ ہمارے دوستدار ہم سے کنارہ کشی کرےں گے ۔ہم سے دور ہو جائيں گے ، کہ اسی ميں ان کی مصلحت ہے تاکہ وہ ہماری ولایت کے قائلےن کی حيثيت سے نہ پہچانے جائيں اور اس طرح وہ اپنی جان و مال کی حفاظت کر سکيں ۔ اور جو بهی قم اور اس کے باشندوں کے لئے برا چاہے گا خدا اسے ذليل کرے گا اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا۔(بحار الانوار،ج/ ٢١ ۵/۶ ٠/)

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

”سلام الله علیٰ اهل قم سقی اللّٰه بلادهم الغيث وینزل عليهم البرکات ویبدل الله سيئاتهم حسنات هم اهل رکوع و سجود و قيام و قعود، هم الفقهاء العلماء الفهماء هم اهل الدرایة و الروایة و حسن العبادة

قم والوں پر خدا کا سلام ہو ، خدا وند عالم ان کے شہروں کو بارش سے سيراب کرتاہے اور ان پر برکات نازل کرتاہے اور ان کی برائيوں کو حسنات سے بدلتا ہے یہ لوگ اہل رکوع وسجود وقعوداور قيام ہيں ۔یہ لوگ فقہا ،علماء اور بافہم ہيں ، یہ لوگ صاحبان حقایق وروایت ہيں اور اچھی عبادت کرنے والے ہيں ۔

( ۶ ٠/ بحار الانوار،ج/ ٢١٧)

امام موسیٰ کاظم عليہ السلام کا ارشاد ہے:

رجل من اهل قم یدع الناس الیٰ الحق یجتمع معه قوم کزبر الحدید لا تزلهم الریاح العواصف ولا یکلون من الحرب ولا یجبنون و علی الله یتوکلون والعاقبة للمتقين “ ”قم والوں ميں سے ایک شخص لوگوں کو حق کی طرف بلائے گا ایک گروہ اس کے پاس جمع ہو جائيں گے جو فولاد کی مانند ہوں گے انهيں تيز ہوائيں متزلزل نہيں کر سکے گا ، وہ جنگ سے نہيں اکتائيں گے ، وہ صرف خداپر توکل کریں گے ،آخر کار متقين کا مياب ہوں گے۔

( بحار الانوار ج/ ۶٠ ص/ ٢١۶)

قم اور اہل قم کی فضيلت ميں رسول اکرم اور ائمہ معصومين (س) سے بہت سی روایات وارد ہوئی ہيں ۔ امام جعفر صادق عليہ السلام سے روایت ہے کہ آپ (س) نے فرمایا: ”الا ان اللّٰه حرما وهو مکة الا ان لرسول اللّٰه حرما وهو مدینة الا ان لا مير المومنين حرما وهو الکوفة الا ان حرمی و حرم ولدی من بعدی قم الا ان قم کوفة صغيرة الا ان للجنه ثمانية ابواب ثلثة منها الیٰ قم تقبض فيها امراة هی من ولدی و اسماها فاطمة بنت موسیٰ یدخل شفاعتها شعتی الجنة باجمعهم

آگاہ ہو جاؤ خدا کا ایک حرم ہے اور وہ ہے مکہ اور رسول اسلام کا حرم مدینہ ہے اور حضرت علی کا حرم کوفہ (نجف) ہے ميرا اور ميری اولاد کا حرم قم ہے ۔قم چھوٹا کوفہ (نجف) ہے۔ جنت کے آٹه دروازے ہيں جن ميں سے تين دروازے قم طرف کھلتے ہيں ميری اولاد ميں سے ایک خاتون فاطمہ بنت موسیٰ بن جعفر قم ميں وفات پائے گی کہ جس کی شفاعت سے ميرے تمام شيعہ جنت ميں داخل ہوں گے۔

آپ کا ارشاد ہے: ”اذا عمت البلدان الفتن ولبلایا فعليکم یقم وهو اليها و نواحيها فان لبلابامدفوع عنها “ جب شہروں ميں ميں فتنے پهيل جائيں تو تم قم اور اس کے اطراف و اکناف ميں پناہ لينا کيوں کہ قم سے بلا کا گزر نہيں ہوگا۔

امام رضا عليہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”للجنة ثمانية ابواب فثلث منها الیٰ اهل قم فطوبیٰ لهم ثم طوبیٰ لهم “ جنت کے آٹه دروازے ہيں ان ميں سے تين اہل قم کی طرف کھلتے ہيں خوش نصيب ہيں وہ درحقيقت وہ خوش نصيب ہيں ۔

قم کی فضيلت و قداست کے سلسلہ ميں متواتر روایات وارد ہوئی ہيں چنانچہ قم کو عش و حرم اہل بيت سے تعبير کيا گيا ہے ۔

امام جعفر صادق عليہ السلام کا ارشاد ہے:

تربة قم مقدسة واهلها مناونحن منهم لا یرید هم جبارا لا عجلت عقوبة مالم یخونوا اخوانهم فاذا فعلوا ذالک سلط الله عليهم جبابرة سوا ما انهم انصار قائمنا و دعاة حقن(١) قم کی خاک مقدس و مطہر ہے اس کے باشندے ہم ميں سے ہيں جو ظالم و جابر ان کی طرف بڑهنے کا ارادہ کرتا ہے اس کی گوش مالی ميں عجلت ہو جاتی ہے ۔ اس لئے ہو تا ہے کہ مومن اپنے بهائيوں سے خيانت نہيں کرتے ہيں ۔ اور جب خيانت کریں گے تو خدا ان پر برے ظالموں کو مسلط کرے گا ۔ واضح رہے قم والے ہمارے قائم کے ناصر و مددگار اور ہمارے حق کے مبلغ ہيں ۔

اس کے بعد آسمان کی طرف رخ کرکے فرمایا: ”اللّٰهم اعصمهم من کل فتنه و بخهم من کل هلکة “ اے الله انهيں ہر فتنے سے محفوظ رکه اور ہر خطرے سے بچالے۔(٢) قم عش آل محمدوماسیٰ شيعتهم ولکن سيهلک جماعة من شبابهم بمعصية ابائهم والا ستحقاف والسخية بکبرائهم و مشائخهم مع ذالک یدفع الله عنهم الشرالاعادی وکل سوء “ قم آل محمد کا گھر ہے اور ان کی پيروی کرنے وا لوں کی پناہ گاہ ہے ۔ليکن کچه جوان اپنے بزرگوں کی نافرمانی ، مسخرہ بازی اور بزگوں کی تعظيم نہ کرنے کی پاداش ميں ہلاک ہوں گے۔ اس کے باوجود خدا انهيں دشمنوں کے شر سے بچائے گا اور ان سے ہر برائی کو دوررکهے گا ۔(٣)

آپ (س)ہی کا ارشاد ہے: ”اهل خراسان اعلا منا واهل قم انصا رنا واهل الکوفه اوتادنا واهل هذا السوادمنا ونحن منهم ۔”(۴)

اہل خراسان ہمارے سرخيل ہيں ، قم والے ہمارے انصارومعين ہيں اور کوفہ والے ہمارے پشت پناہ ہيں ۔

____________________

١ ۔بحار الانوار ،ج/ ۶ص/ ٢١٨ ، سفينة البحار ج/ ٢ص/ ۴۴٧

٢۔ تاریخ قم ص/ ٩٣ منقول از کریمہ اہل بيت(س)

٣۔ بحار الانوار ج/ ۶٠ ،ص/ ٢١۴ ۔سفينة البحار ج/ ٢ص/ ۴۴۶ ،تاریخ قم ص/ ٩٨ منقول از حضرت فاطمہ معصومہ قم

۴۔ تاریخ قم ص/ ٩٨


حضرت معصومہ کی زيارت کی فضيلت

حضرت معصومہ عليہا السلام کے سلسلہ ميں یہ بات قابل غور ہے کہ چودہ معصومين عليہم السلام کی زیارت کے بعد جتنی ترغيب آپ کی زیارت کے سلسلہ ميں دلائی گئی ہے اتنی ترغيب کسی بهی نبی یا اوليا ء خدا کے سلسلے ميں نہيں ملتی ۔ تين معصوم شخصيت نے آپ کی زیارت کی تشویق دلائی ہے ۔ جن روایات ميں آپ کی زیارت کی ترغيب دلائی گئی ہے ان ميں سے بعض آپ کی ولادت سے قبل معصوم سے صادر ہوئی تھيں ، بعض روایات ميں تو اس بات کی بهی وضاحت کی ہے کہ اس وقت آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم عليہ السلام کی بهی ولادت نہيں ہوئی تھی۔

تين معصومين عليہم السلام کا ارشاد ہے کہ حضرت معصومہ کی زیارت کے ثواب ميں جنت نصيب ہوگی ۔ معصومين عليہم السلام کی زبان سے حضرت معصومہ کی زیارت کی فضيلت کے سلسلہ ميں چند حدیثيں ملاحظہ فرمائيں : شيخ صدوق نے صحيح سند کے ساته حضرت امام رضا عليہ السلام سے روایت کی ہے کہ:

من زارها فله الجنة (١) جو ان کی زیارت کرے گا اسے جنت نصيب ہوگی ۔ حضرت امام محمد تقی عليہ السلام کا ارشاد ہے: من زارعمتی بقم فلہ الجنة جس شخص نے بهی قم ميں ميری پهوپهی کی زیارت کی وہ جنتی ہے ۔

حضرت امام صادق عليہ السلام کا ارشاد ہے :ان زیارتها تعادل الجنة زیارت معصومہ جنت کے برابر ہے ۔

حضرت امام رضا عليہ السلام کا ارشاد ہے :یا سعد ! من زارها فله الجنة او هو من اهل الجنة اے سعد جو شخص بهی ان کی زیارت کرے گا اسے جنت نصيب ہوگی یا وہ اہل بہشت سے ہے ۔

علامہ مجلسی نے بحار الانوار ميں امام رضا عليہ السلام کے اصحاب کی کتابوں سے روایت کی ہے کہ امام رضا عليہ السلام نے سعد بن سعد اشعری کو مخاطب کر کے فرمایا : ”اے سعد تمهارے یہاں ہم ميں سے ایک کی قبر ہے ” سعد نے کہا ميں نے عرض کيا : ميں قربان ! وہ دختر امام موسی کاظم عليہ السلام حضرت فاطمہ (س)کی قبر ہے ؟ فرمایا :نعم من زارها عارفا بحقها فله الجنة ، فاذا اتيت القبر فقم عند راسها مستقبل القبلة کبرا ربعا و ثلاثين تکبيرة و سبح ثلاثا و ثلاثين تسبيحة و احمد الله ثلاثا و ثلاثين تحميدة ثم قل : السلام علی آدم صفوة الله الخ

ہاں جس شخص نے ان کے حق کی معرفت کے ساته ان کی زیارت کی وہ جنتی ہے ۔

جب تم قبر مطہر کے پاس جاو تو سر اقدس کے پاس قبلہ رخ کهڑے ہوکر ٣ ۴ مرتبہ الله اکبر ٣٣ مرتبہ سبحان الله اور ٣٣ مرتبہ الحمد لله پڑهو اس کے بعد اس طرح زیارت پڑهو :السلام علی آدم صفوة الله الخ

آداب زيارت

خاندان عصمت و طہارت کے زائرین کو چاہئے کہ اماکن مقدسہ اور روضات مشرفہ پر حاضری سے قبل مندرذیل آداب زیارت کی رعایت کریں :

١۔ پورے سفر ميں گناہ و لغزشوں سے اجتناب کریں کيونکہ اس سے زیارت قبول نہيں ہوتی ہے ۔

٢۔ اس سرزمين پر قدم رکهنے سے قبل غسل کریں ۔

٣۔ زیارت با وضو کریں ۔

۴ ۔ طاہر و پاک لباس پہنيں ۔

۵ ۔ خوشبو لگائيں

۶ ۔ زیارت سے قبل ایسی چيز نہ کهائيں جس سے دوسروں کو اذیت ہو ۔

٧۔ معصومين کے مرقدوں کی زیارت سے قبل رجاء غسل کریں ۔

٨۔ روضہ امام حسين ميں زیارت وارث ، زیارت عاشورا ، جامعہ کبيرہ ، امين الله و غيرہ پڑهيں ۔

٩۔ جو شخص شب ميں غسل زیارت کرے وہ غسل صبح تک اور جو شخص دن ميں غسل زیارت کرے وہ شام تک کافی ہے ۔ ليکن بہتر یہ ہے کہ وضو کے باطل ہوجانے کے بعد دوبارہ غسل کرلے ۔

١٠ ۔ حرم کے اندر داخل ہوتے وقت اذن دخول پڑهے ۔ اگر پڑهنے والے کے دل پر رقت طاری ہوجائے اور اشک جاری ہوجائيں تو اسے اذن دخول سمجهے ۔

١١ ۔ اس بات کے پيش نظر کہ حرم ، رسول کا دولت کدہ اور ملائکہ کا محل نزول ہے اس لئے خضوع و خشوع اور بهر پور توجہ کے ساته حرم ميں داخل ہونا چاہئے ۔

١٢ ۔رجحان قلبی اور خضوع کے ساته ظاہری ادب کی رعایت بهی ضروری ہے ۔

١٣ ۔ حرم ميں بلند آواز سے گفتگو نہ کریں ۔

١ ۴ ۔ دوسرے زائرین کے لئے مشکل ایجاد نہ کریں ۔

١ ۵ ۔ اگر کوئی زائر کچه معلوم کرنا چاہتا ہے تو اس کی کامل راہنمائی کریں ۔

١ ۶ ۔ زائروں اور خادموں کا احترام کریں ۔

١٧ ۔ معصومين کے حرم ميں سامنے کهڑے ہو کر زیارت پڑهيں ۔

١٨ ۔ معصوم سے منقول زیارت کے متن کو کامل توجہ اور صحيح تلفظ کے ساته پڑهيں ۔

١٩ ۔ زیارت کے بعد مسجد بالائے سر یا کسی متصل مسجد ميں دو رکعت نماز زیارت ادا کریں ۔

٢٠ ۔ نماز زیارت ميں بہتر ہے کہ پہلی رکعت ميں الحمد کے بعد سورہ یٰس اور دوسری رکعت ميں الحمد کے بعد سورہ رحمن پڑهيں ۔

٢١ ۔ نماز زیارت کے قنوت ميں خدا سے اپنی اور دیگر مومنين کی حاجتوں کو طلب کریں کہ یہاں دعا قبول ہوتی ہے ۔

٢٢ ۔ نماز زیارت کے بعد معصومين سے ماثور ، دعا ، مکارم اخلاق عاليہ المضامين و غيرہ پڑهيں ۔

٢٣ ۔ سب سے پہلے حضرت بقية الله الاعظم کے فرج کی دعا کریں ۔

٢ ۴ ۔ نماز زیارت اور دعا و نماز کے بعد ادب اور دوسروں کے حق کی رعایت کرتے ہوئے ضریح مقدس کے قریب جائيں اور بوسہ دے کر خدا سے راز و نياز کریں ۔

٢ ۵ ۔ دور سے زیارت پڑهنے ميں بهی ادب کی رعایت ضروری ہے ۔

٢ ۶ ۔والدین ،بہن ،بهائی ،احباب و اساتذہ ، شيعيان امير المومنين اور ان لوگوں کی طرف


سے زیارت پڑهيں جنهوں نے پڑهنے کی درخواست کی ہو۔

٢٧ ۔ حرم مطہر اور اولياء الله کے مرقد ميں پورے غور و خوض کے ساته قرآن پڑهيں اور صاحب مرقد کو ہدیہ کریں ۔

٢٨ ۔ معصومين عليہم السلام سے آگے بڑه کر واجب و مستحب نماز نہ پڑهيں ۔ ٢٩ ۔ اگر نماز زیارت کے دوران نماز جماعت شروع ہو جائے تو نماز زیارت کو ترک کرکے نماز جماعت بجا لائيں ۔

٣٠ ۔ حرم سے نکلتے وقت ضریح کی طرف پشت نہ کریں ۔

٣١ ۔ جب تک حرم ميں رہيں خضوع و خشوع کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں ۔

٣٢ ۔ اماکن مقدسہ ميں گزشتہ گناہوں پر پشيمانی اور توبہ کے ساته مستقبل ميں مرتکب نہ ہونے کا قصد کریں ۔

٣٣ ۔ حرم سے رخصت ہوتے وقت زیارت و دعائے وداع پڑهيں اور خدا سے دعا کریں کہ ہمارے لئے یہ زیارت آخری نہ ہو۔

٣ ۴ ۔ لوٹنے کے بعد زیارت کے نور کو اپنی پيشانی پر باقی رکهيں یعنی گناہ کے مرتکب نہ ہوں ۔

مذکورہ آداب تمام اماکن مقدسہ کے لئے ہيں ليکن حرم معصومہ کے زائرین کو مذکورہ نکات کی رعایت کے علاوہ اس بات پر بهی توجہ رکهنا چاہئے کہ قم خاندان عصمت و طہارت اہل بيت عليہم السلام کا حرم ہے لہٰذا جہاں تک ہو سکے تمام معصومين عليہم السلام کو یاد رکهيں اور کم از کم سب پر سلام و درود بهيجيں مفاتيح الجنان ميں محدث قمی نے صلوٰت بر حجج طاہرہ کے عنوان سے نقل کی ہے ۔

معصومہ کے پہلو ميں خاندان عصمت و طہارت کی کچه اور بی بياں بهی مدفون ہيں ۔ ان کی زیارت سے بهی غفلت نہ کریں ۔ کم از کم زیارت کی نيت سے اتنا ضرور پڑهيں : ”اَلسَّْلاَمُ عَلَيکُْنَّ اٰی بَنَاتِ رَسُولِ اللهّٰ وَ رَحمَْةُ اللهِّٰ وَ بَرَکَاتُه

زیارت کا طریقہ

اس سے قبل ہم وہ حدیث نقل کر چکے ہيں جو علامہ مجلسی نے امام رضا عليہ السلام سے نقل کی ہے اس حدیث شریف ميں امام ( ع ) نے معصومہ (س) کی زیارت کی فضيلت و کيفيت بيان کی ہے ۔ زیارت کا طریقہ یہ ہے کہ قبر مطہر کے پاس پہنچ کر آپ (س) کے سر اقدس کے نزدیک رو بہ قبلہ کهڑے ہو ں ۔ اس کے بعد ٣ ۴ مرتبہ الله اکبر ، ٣٣ مرتبہ سبحان الله اور ٣٣ مرتبہ الحمد لله بڑهيں پھر اس طرح زیارت شروع کریں :

اَلسَّلاَمُ عَلَی آدَمَ صَفوَْةِ اللهِّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَی نُوحِْ نَبِیِّ اللهِّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَی ابراهيم خليل اللهّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَی عِيسَْی رُوحِْ اللهّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی رَسُولُْ اللهّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی خَيرَْ خَلقِْ اللهِّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی صَفِیَّ اللهِّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی مُحَمَّدَ بنَْ عَبدِْ اللهِّٰ خَاتَمَ النَّبِيِّينَْ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی امِيرَْ المُْومِْنِينَْ عَلِیِّ بنَْ ابِيطَْالِب وَصِیَّ رَسُولِْ اللهِّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَيکِْ اٰی فَاطِمَةُ سَيِّدَةَ نِسَاءِ العَْالَمِينَْ اَلسَّلاَمُ عَلَيکُْمَا اٰی سِبطَْی نَبِیِّ الرَّحمَْةِ وَ سَيِّدَی شَبَابِ اهلِْ الجَْنَّةِ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی عَلِیِّ بنِْ الحُْسَينِْ سَيِّدَ العَْابِدِینَْ وَ قُرَّةَ عَينِْ النَّاظِرِینَْ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی مُحَمَّدَ بنَْ عَلِیٍّ بَاقِرَ العِْلمِْ بَعدَْ النَّبِی اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی جَعفَْرَ بنَْ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ البَْارِّ الامَينِْ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی مُوسَْ یٰ بنَْ جَعفَْرٍ الطَّاهِرَ الطُّهرِْ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی عَلِیِّ بنَْ مُوسَْ یٰ الرِّضَا المُْرتَْض یٰ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی مُحَمَّد بنَْ عَلِیٍّ التَّقِی اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی عَلِیَّ بنَْ مُحَمَّدٍ النَّقِیَّ النَّاصِحَ الامِينَْ اَلسَّلاَمُ عَلَيکَْ اٰی حَسَنَ بنَْ عَلِیٍّ اَلسَّلاَمُ عَلَی الوَْصِیِّ مِن بَعدِْهِ اللهُّٰمَّ صَلِّ عَلَی نُورِْکَ وَ سِرَاجِکَ وَ وَلِیِّ وَلِيِّکَ وَ وَصِیِّ وَصِيِّکََ وَ حُجَّتِکَ عَلَی خَلقِْکَ

اَلسَّلاَمُ عَلَيکِْ اٰی بِنتَْ رَسُولِْ اللهّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَيکِِْ اٰی بِنتَْ فَاطِمَةَ وَ خَدِیجَْةَ اَلسَّلاَمُ عَلَيکِِْ اٰی بِنتَْ امِيرِْ المُْومِْنِينَْ اَلسَّلاَمُ عَلَيکِِْ اٰی بِنتَْ الحَْسَنِ وَ الحُْسَينِْ اَلسَّلاَمُ عَلَيکِِْ اٰی بِنتَْ وَلِیِّ اللهِّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَيکِِْ اٰی اختَْ وَلِیِّ اللهِّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَيکِِْ اٰی عَمَّةَ وَلِیِّ اللهِّٰ اَلسَّلاَمُ عَلَيکِِْ اٰی بِنتَْ مُوسَْی بنِْ جَعفَْرٍ وَ رَحمَْةُ اللهِّٰ وَ بَرَکَاتُه

اَلسَّلاَمُ عَلَيکِِْ عَرَّفَ اللهُّٰ بَينَْنَا وَ بَينَْکُم فِی الجَْنَّةِ وَ حَشَرنَْا فِی زُمرَْتِکُم وَ اورَْدَنَا حَوضَْ نَبِيِّکُم وَ سَقَانَا بِکَاسِ جَدِّکُم مِن یَّدِ عَلِی بنِْ ابِيطَْالِب صَلَوَاتُ اللهِّٰ عَلَيکُْم اسالُ اللهِّٰ ان یُّرِیَنَا فِيکُْمُ وَ ان لا یَسلُْبَنَا السُّرُورَْ وَ الفَْرَجَ وَ ان یَّجمَْعَنَا وَ اِیَّاکُم فِی زُمرَْةِ جَدِّکُم مُحَمَّدَ صَلَّی اللهُّٰ عَلَيهِْ وَ آلِه وَلِیٌّ قَدِیرٌْ اتَقَرَّبُ اِلَی اللهِّٰ بِحُبِّکُم وَ البَْرَائَةِ مِن اعدَْائِکُم وَ التَّسلِْيمِْ اِلَی اللهِّٰ رَاضِياً مَعرِْفَتِکُم اِنَّه رَاضٍ نَّطلُْبُ بِذَالِکَ وَجهِْکَ یَا مُحَمَّدٌ وَ بِه غَيرَْ مُنکِْرٍ وَ لاٰ مُستَْکبِْرٍ وَ عَلَی یَقِينِْ مَا اتَی بِه بِه سَيِّدِی اللهُّٰمَّ وَ رِضَاکَ وَ الدَّارَ الآْخِرَةَ اٰی فَاطِمَةُ اشفَْعِی لِی فِی الجَْنَّةِ فَاِنَّ لَکِ عِندَْ اللهِّٰ شَانْاً مِّنَ الشَّانِْ اللهُّٰمَّ اِنِّی اسئَْلُکَ ان تَختِْمَ لِی بِالسَّعَادَةِ فَ لاٰ تَسلُْب مِنِّی مَا انَا فِيهِْ وَ لاٰ حَولَْ وَ لاٰ قُوَّةَ اِلا بِاللهِّٰ العَْلِیِّ العَْظِيمِْ اللهُّٰمَّ استَْجِب لَنَا وَ تَقَبَّلهُْ بِکَرَمِکَ وَ عِزَّتِکَ وَ بِرَحمَْتِکَ وَ عَافِيَتِکَ وَ صَلَّی اللهُّٰ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ اجمَْعِينَْ وَ سَلَّمَ تَسلِْيمْاً اٰی ارحَْمَ الرَّاحِمِينَْ


حضرت معصومہ (س)کے مختصر حالات

تاريخ ولادت

حضرت معصومہ (س) کی تاریخ ولادت کے سلسلہ ميں کئی اقوال ہيں بعض نے لکهاہے کہ حضرت فاطمہ بنت امام موسیٰ ابن جعفر (س) ابتدائے ذیقعدہ الحرام ١٨٣ هء ميں مدینہ منورہ ميں ولادت پائی۔

صاحب مستدرک سفينہ لکهتے ہيں کہ حضرت فاطمہ بنت موسیٰ بن جعفر (س)نے یکم ذیقعدہ الحرام کو ولادت پائی(١) ۔ ولادت کے سلسلہ ميں تو بعض صاحبان قلم نے قطعی طور پر لکها ہے کہ یکم ذیقعدہ کو ولادت پائی ،ليکن ولادت کے سال ميں علماء تاریخ متردد ہيں ۔ بعض نے ١٧٣ هء اور بعض نے ١٨٣ هء کو سنہ ولادت تحریر کيا ہے ليکن آخری قول کا بطلان بدیہی ہے کيوں کہ اس سال حضرت موسیٰ بن جعفر (س) نے شہادت پائی اور شہادت سے قبل آپ نے چار سال قيد خانہ ميں گزارے ۔(٢) اس کی تصریح موجود ہے کہ آپ کو ١٧٩ ئه ميں گرفتار کيا گيا ہے ۔(٣)

دوسرے یہ بهی مسلم ہے کہ حضرت موسیٰ بن جعفر (س) کی چار بيٹياں تھيں اور سب کے نام فاطمہ سے مرکب تھے چنانچہ بعض مورخين نے تحریر کيا ہے کہ:

١۔ فاطمہ کبریٰ ،ملقب بہ معصومہ قم ۔ قم ميں مدفون ہيں ۔

____________________

١۔مستدرک سفينہ منقول از کریمہ اہل بيت

٢۔ اصول کافی / ١ص/ ٣١٢

٣۔ اصول کافی / ١ص/ ٣٩٧


٢۔ فاطمہ صغریٰ ،ملقب بہ بی بی ہيبت ۔ روس ميں آذربائيجان کے شہر باکو ميں مدفون ہيں ۔

٣۔ فاطمہ وسطیٰ ، ملقب بہ ستی فاطمہ ۔ اصفہان ميں مدفون ہيں ۔(١)

۴ ۔ فاطمہ اخریٰ ، معروف بہ خواہر امام (س) ۔ایران کے شہر رشت ميں مدفون ہيں ۔ اس لحاظ سے معصومہ قم (س) اپنی چار بہنوں ميں سب سے بڑی ہيں چنانچہ یقينا آپ (س) نے ١٧٩ هء سے چند سال قبل ولادت پائی ہوگی لہٰذا ١٨٣ هء آپ کا سنہء ولادت نہيں ہو سکتا۔

اسماء و القاب

شریعت اسلاميہ ميں نام گزاری کو بہت اہميت دی گئی ہے ۔بہت سی روایت ميں وارد ہوا ہے کہ والدین پر اولاد کا ایک حق یہ بهی ہے کہ وہ ان کےلئے نام کا انتخاب کریں ۔(٢)

نيک نام کے انتخاب کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ رسول اسلام صلى الله عليه وسلم نے ان لوگوں کو نام تبدیل کرنے کی تاکيد کی تھی جن کانام شائستہ نہيں تھا ۔(٣) اسی طرح یعقوب سراج سے امام حضرت موسیٰ بن جعفر (س) نے فرمایا تھا کہ جاؤ اپنی لڑکی کے اس نام کو بدل دو جو تم نے کل رکها تھا کيوں کہ اس نام کو خدا پسند نہيں کرتا ہے ۔( ۴)

یعقوب سراج کہتے ہيں کہ ميں نے اپنی نوزاد لڑکی کا نام “ حميراء” رکها تھا لہٰذا اپنے مولا کے حکم سے اپنی بيٹی کا نام بدل دیا ۔( ۵)

اس بات کی بهی تاکيد کی گئی ہے کہ اپنے بيٹوں کے لئے انبياء و ائمہ کا نام انتخاب کرو خصوصا محمد وعلی نام رکهو اور بيٹيوں کے لئے بہترین نام فاطمہ ہے ۔( ۶) اور چوں کہ ائمہ حضرت صدیقہ طاہرہ سلام الله عليہا کی عظمت و منزلت کو جانتے اور سمجهتے تھے لہٰذا نام فاطمہ (س) کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (س) کو جب یہ خبر ملی کہ آپ کے صحابی “ سکونی” نے اپنی بيٹی کا نام فاطمہ رکها ہے ،تو فرمایا: آہ آہ اس کے بعد فرمایا: تم نے اپنی بيٹی کا فاطمہ نام رکها ہے لہٰذا اسے گالی نہ دینا ،اس کو طمانچہ نہ مارنا اور برا بهلا نہ کہنا ۔(٧) چنانچہ ائمہ معصومين (س) نے اپنی ایک یا سب بيٹيوں کا نام فاطمہ ضرور رکها ہے ۔ حضرت علی (س) نے جن کی ماں اور زوجہ کا نام فاطمہ تھا ،اپنی ایک بيٹی کا نام فاطمہ رکها تھا۔(٨)

____________________

١۔ بحار الانوار ج/ ۴٨ ص/ ٢٨۶

٢۔فروع کافی ،ج ۶ ص/ ١٨

٣۔ناسخ التواریخ ،ج/ ٢ص/ ۶٨

۴۔ ٢۔فروع کافی ،ج ۶ ص/ ١٨ ۔تہذیب ،ج/ ٧ص/ ۴٣٧

۵۔ وسائل الشيعہ ،ج/ ٢١ ص/ ٣٩٠

۶۔فروع کافی ،ج ۶ ص/ ١٩

٧۔ فروع کافی ،ص/ ۴٣٨

٨۔ارشاد مفيد ،ج/ ١ص/ ٣۵۵


اہل سنت کے مشہور عالم سبط بن جوزی نے اپنی کتاب تذکرة الخواص ميں امام موسیٰ بن جعفر (س) کی اولاد کے نام تحریر کئے ہيں اور آپ کی چار بيٹيوں کے نام اس طرح تحریر کئے ہيں ۔

١ (فاطمہ کبریٰ

٢ (فاطمہ صغریٰ

٣ (فاطمہ وسطیٰ

۴ ( فاطمہ اخریٰ(١)

لقب معصومہ

صاحب ناسخ التواریخ تحریرفرماتے ہيں کہ معصومہ کا لقب آپ کو حضرت امام رضا عليہ السلام نے دیا تھا۔ اس سلسلہ ميں آپ کا ارشاد ہے:

”من زار المعصومة بقم کمن زارنی(٢)

جس نے قم ميں معصومہ کی زیارت کی گویا اس نے ميری زیارت کی۔ ميرزا نوری نے اپنی کتاب “ دارالسلام ” ميں رویائے صادقہ نقل کيا ہے کہ جس کو صحيح تسليم کيا ہے جس کو ہم آئندہ بيان کریں گے۔

____________________

١۔ تذکرة الخواص ،ص/ ٣١۵

٢۔ناسخ التواریخ ،ص/ ۶٨


کيا لقب معصومہ آپ کی عصمت پر دلالت کرتا ہے ؟ اس سوال کا جواب لکهنے سے قبل مقدمہ کے طور پر ہم چند چيزیں سپر د قلم کرتے ہيں ۔

١۔ اس بات پر شيعوں کا اجماع ہے کہ انبياء وملائکہ سب معصوم ہيں ۔ ان سے ہرگز کوئی گناہ کبيرہ و صغيرہ سرزد نہيں ہوتا ہے ۔ نہ قبل از بعثت نہ بعد از بعثت نہ امامت سے پہلے نہ امامت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد نہ عمدا نہ سہواً(١)

٢۔ حضرت رسول خدا صلى الله عليه وسلم ،حضرت فاطمہ زہرا (س) اور ائمہ عليہم السلام عصمت کے آخری و اعلیٰ درجہ پر فائز ہيں ۔ مذکورہ حضرات سے نہ صرف پوری زندگی ميں کوئی گناہ کبيرہ و صغيرہ سرزد نہيں ہوا بلکہ ترک اولیٰ بهی نہيں ہوا ہے جب کہ ترک اولیٰ عصمت کے منافی نہيں ہے ۔ اسی لئے انهيں چودہ معصوم کے نام سے یاد کيا جاتا ہے ۔

بنا بر ایں عصمت ان ہی چودہ اشخاص ميں منحصر نہيں ہے بلکہ ان کے علاوہ بهی معصوم ہيں ، جيسا کہ ہم نے مقدمہ کی پہلی شق ميں بيان کيا ہے کہ انبياء ، ائمہ اور تمام فرشتوں کی عصمت پر علماء اماميہ کا اجماع ہے ۔

٣۔ اسی لحاظ سے عصمت کے مدارج و مراتب اور اس کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر چودہ معصوم فائز ہيں اور اس کے بعد والے درجہ پر انبياء و فرشتے فائز ہيں ۔

۴ ۔ علماء اسلام ميں سے کسی نے اس بات کا دعویٰ نہيں کيا ہے کہ معصوم صرف چودہ اشخاص ہی ہيں ۔

۵ ۔ اور کسی دانشور نے حضرت ابوالفضل العباس (س)و حضرت علی (س)اکبر ،حضرت زینب (س) اورحضرت معصومہ کے بارے ميں یہ دعویٰ نہيں کيا ہے کہ وہ معصوم نہيں تھے بلکہ بعض نمایاں شخصيتوں نے ان کی عصمت کو ثابت کيا ہے ۔(٢)

____________________

١۔ اعتقادات ،شيخ صدوق ،ص/ ١٠۵ ،نہج الحق ، علامہ حلی ،ص/ ١۴٢ و ١۶۴

٢۔ اتقان المقال،/ ٧۵


۶ ۔ عبد الرزاق مرحوم نے اپنی کتاب “ العباس” ميں حضرت ابو الفضل العباس عليہ السلا کی عصمت کی دليليں اور “ علی الاکبر ” ميں حضرت علی اکبر عليہ السلام کی عصمت کے دلائل پيش کئے ہيں(٢) اور اس سلسلہ ميں ایت الله شيخ محمد حسين اصفحانی اورعلامہ ميرزا محمد علی اردو بادی کے نظریات سے استفادہ کيا ہے ۔(٣)

٧۔ نقدی مرحوم نے اپنی کتاب “زینب الکبریٰ ” ميں اسی موضوع کو ثابت کيا اگرچہ حضرت زینب(س) کی عصمت کا دعوی نہيں کيا ہے ۔( ۴)

٨۔ اس بناپر اگر کوئی معصومہ کی عصمت کا دعوی کر تاہے تو وہ کو ئی بے جابات نہيں کہتاہے ۔ واضح ہے کہ حضرت معصومہ کا نام فاطمہ ہے ،اوردوران حيات آپ کو معصومہ کا لقب نہيں ملا تھا ، بلکہ معصومہ آپ کے اوصاف کے لحاظ سے کہا گيا ہے بنا براین حدیث کے یہ معنی ہوں گے :

جوشخص بهی قم ميں معصومہ کی زیارت کرے گویا اس نے ميری زیارت کی کيونکہ وہ معصومہ ہيں ۔ا س حدیث کی بنا پر معصومہ کی عصمت ميں کوئی شک باقی نہيں رہتاہے ۔ آپ کی عصمت پر ایک دليل یہ بهی ہے ک آپ کی تجہيز وتشييع ميں امام رضا وامام جواد عليہما السلام شریک تھے ۔اور شيعہ اعتقاد کی روسے معصوم کو معصوم ہی غسل وکفن دے سکتاہے اور دفن کرسکتا ہے ۔( ۵)

____________________

٢۔ العباس / ١٢٩ و ١٣٣ ۔ علی الاکبر / ۴٣

٣۔ سردار کربلا / ٢۴٨ و ٢۵٣

۴۔ زینب کبریٰ / ٣٣ و ٣۶

۵-بحار الانوار ،ج/ ۴٨ ص/ ٢٩٠ وج/ ۶٠ ص/ ٢١٩


کریمہ اہل بيت (س)

حضرت معصومہ (س) کے عقيدت مند شيعہ عہد قدیم سے آج تک نظم و نثر ميں کریمہ اہل بيت (س) کہتے چلے آرہے ہيں ،ليکن ایک بزرگ کے رویائے صادقہ کی رو سے یہ لقب معصومين عليہم السلام سے آپ کو ملا ہے۔

نساب عالی قدر آیت الله سيد محمود مرعشی نجفی متوفی ١٢٢٨ هء حضرت صدیقہ طاہرہ کی قبر کا سراغ لگانے کے سلسلہ ميں بہت ہی کوشاں تهے ،اس مقصد ميں کاميابی کے لئے انهوں نے چاليس شبوں کا ایک چلہ کيا ۔ چاليس شب ميں وظيفہ ختم کرنے اور بے پناہ دعا مانگنے کے بعد جب سو گئے تو امام محمد باقر عليہ السلام و امام جعفر صادق عليہ السلام کو خواب ميں دیکھا امام (س) نے فرمایا: “ عليک بکریمہ اهل بيت ” تم کریمہ اہلبيت (س) سے توسل کرو،انهوں نے یہ سوچ کر کہ کریمہ اہل بيت سے حضرت زہرا سلام الله عليہا مرادہيں عرض کی : یہ چلہ ميں نے ان ہی کی قبر مبارک معلوم کرنے کے لئے کيا ہے تاکہ قبر کا صحيح نشان معلوم ہو جائے ،جس سے ميں زیارت قبر سے مشرف ہو سکوں ۔امام (س) نے فرمایا: ميری مراد قم ميں حضرت معصومہ کی قبر ہے ۔ اس کے بعداضافہ فرمایا: کہ خدا وند عالم نے مصلحت کی بنا پر حضرت زہرا (س) کی قبر کو مخفی رکها ہے اور اس کی جلوہ گاہ حضرت معصومہ (س) کی قبر کو قرار دیا ہے ۔

مرعشی مرحوم بيدار ہوئے تو وہ حضرت معصومہ کی زیارت کے لئے ایران کی طرف روانہ ہو گئے ۔

عالمہ آل عبائ

نجف اشرف ميں شوشتریوں کے کتب خانہ ميں ایک قلمی نسخہ ميں یہ حدیث دیکھی گئی تھی کہ ایک مرتبہ کچه شيعيان امير المومنين حضرت امام موسیٰ کاظم عليہ السلام کے زمانہ ميں مدینہ آئے اور اپنے شرعی مسائل دریافت کرنے کے سلسلہ ميں امام کے در دولت پر پہنچے ۔ جب انهيں یہ معلوم ہو ا کہ امام موسیٰ کاظم عليہ السلام مدینہ ميں تشریف فرما نہيں ہيں تو انهوں نے چند روز اور مدینہ ميں قيام کرنے کا ارادہ کر ليا ،ليکن امام اس مدت ميں تشریف نہيں لائے ۔ جب وہ رخصت کے لئے امام کے در دولت پر گئے تو حضرت معصومہ نے فرمایا: اگر کوئی شرعی مسئلہ دریافت کرنا چاہتے ہو تو پوچه سکتے ہو ۔ انهوں نے مسائل لکه کر پيش کئے تھوڑی دیر بعد معصومہ نے اس کے مسائل کا جواب بهيج دیا۔ قافلہ والے شکریہ ادا کرکے چلے گئے مدینہ سے نکلتے وقت امام موسیٰ کاظم عليہ السلام سے ان کی ملاقات ہوئی ۔ مدینہ آنے کی وجہ بيان کی جب امام نے مسائل کا جواب دیکھا تو تائيد فرمائی اور فرمایا:“ فداها ابوها فداها ابوها”(١)

محدثہ آل محمد

طبقات رواة ميں بہت سی عورتيں بهی شامل ہيں جن ميں سر فہرست حضرت فاطمہ زہرا(س) اور ازواج نبی ہيں ۔ چنانچہ صاحب اسنی المطالب نے مناقب علی بن ابی طالب (س) کے سلسلے ميں ایک حدیث نقل کی ہے کہ جس کے سلسلہ سند ميں حضرت معصومہ قم ہيں سلسلہ یہ ہے ۔

ابو بکر بن عبدالله بن محب مقدسی نے ام محمد ،زینب دختر احمد بن عبد الرحيم مقدسی سے انهوں نے ابو مظفر محمد بن فتيان بن مسينی سے انهوں نے ابو موسیٰ بن ابی بکر حافظ سے انهوں نے قاضی ابو القاسم عبد الواحد بن محمد بن عبد الواحد مدینی سے انهوں نے ظفر بن داعی علوی سے انهوں نے اپنے والد داعی بن مہدی اور ابو احمد بن مطرف مطرفی سے اور ان دونوں نے ابو سعيد ادریسی سے انهوں نے ابو العباس محمد بن محمد بن حسن رشيدی سے انهوں نے ابو الحسن محمد بن جعفر حلوانی سے انهوں نے علی بن محمد بن جعفر اہوازی سے انهوں نے بکر بن احمد قصری سے انهوں نے دختر علی بن موسیٰ الرضا فاطمہ سے انهوں نے فاطمہ زینب و ام کلثوم بنت موسیٰ بن جعفر سے ۔ انهوں نے فاطمہ بنت جعفر صادق سے انهوں نے فاطمہ زینب و ام کلثوم بنت موسیٰ بن جعفر سے ۔ انهوں نے فاطمہ بنت جعفر صادق سے انهوں نے فاطمہ بنت محمد باقر سے انهوں نے فاطمہ بنت علی بن الحسين بن ابی طالب سے انهوں نے فاطمہ بنت الحسين بن علی ابن ابی طالب سے انهوں نے ام کلثوم بنت فاطمہ بنت رسول اکرم صلى الله عليه وسلم سے انهوں نے فاطمہ بنت رسول سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

ا نسيتم قول رسول اللّٰه صلی اللّٰه عليه و آله و سلم یوم غدیر خم ، من کنت مولاه فعلی مولاه وقوله انت منی منزلة هارون من موسیٰ“

کيا تم لوگ رسول کی اس قول کو بهول گئے جو غدیر خم کے روز فرمایا تھا کہ : جس کا ميں مولاہوں اس کے علی (س) مولا ہيں اور آپ کی حدیث اے علی (س) تم ميرے لئے ایسے ہی ہو جيسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے ۔

____________________

١۔ یہ واقعہ انصاری قمی نے بيان کيا ہے ۔ صاحب کریمہ اہل بيت نے بهی ص/ ۶٢ پر نقل کيا ہے۔


آپ کے دیگر القاب

١ (طاہرہ

٢ (حميدہ

٣(رشيدہ

۴ ( تقييہ

۵ ( رضيہ

۶ ( نقية

٧ (مرضيہ

٨ (سيدہ

٩(اخت الرضا(س)

یہ القاب اس زیارت نامہ ميں مندرج ہيں جس کو شيخ محمد علی نے انوار المشعشعيں ميں نقل کيا ہے ۔ یہ کتاب ١٣٢٧ هء ميں طبع ہو چکی ہے حيدر خوانساری نے اپنی کتاب زبدة التصانيف ميں ایک اور زیارت نامہ نقل کيا ہے اور اس ميں آپ کے دیگر لقب صدیقہ اور سيدة نساء العالمين بهی تحریر کئے ہيں ۔


ایران کی طرف روانگی

ابهی آپ کی عمر دس سال ہی تھی کہ آپ کے والد ماجد کو ہارون رشيد نے قيد خانہ ميں زہر جفا سے شہيد کر دیا اور معصومہ کے قلب پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔ صرف امام رضا عليہ السلام ہی سے آپ کو سہارا تھا کےونکہ امام رضا (س) ہی آپ (س)کے حقيقی (یعنی دونوں ایک ماں اور باپ سے ) بھائی تھے(١) اور پدر بزرگوار کی شہادت کے بعد حجت خدا ،امت کے مددگار اور مظلوم کے حامی تھے ليکن ان پر بهی ہارو ن رشيد کی نگرانی تھی۔ ہارون رشيد کی موت کے بعد اس کے بيٹے مامون نے بهی وہی راستہ اختيار کيا جو کہ اس کے باپ تھا ۔ چنانچہ اس نے آٹهویں امام کو اہل بيت سے جدا کيا ظاہرا احترام کے ساته خراسان بلاليا۔حضرت معصومہ(س) نے تقریبا ایک سال تک داغ جدائی برداشت کيا ۔اس کے بعد صبر نہ ہو سکا لہٰذا بھائی سے ملاقات کی غرض سے “مرو ”کی طرف روانہ ہوئيں ۔ظا ہر ہے کہ جس با فضيلت آغوش عصمت ميں اس خاتون نے تربيت پا ئی تھی اور جس کی تربيت امام موسی کاظم (س)و امام رضا (س)عليہ السلام نے کی تھی وہ دین وار ساتهيوں کے بغير مدینہ سے “مرو”کا قصد نہيں کر سکتی تھيں ۔آپ کے بھائی بھتيجے سب ہی ایران کے سفر کے لئے تيار تھے ۔ان کی ہمراہی ميں آپ نے اپنے بھائی سے ملاقات کی خاطر پر خطر سفر کا ارادہ کر ليا ۔

اس سفر ميں حضرت معصومہ (س)کے پانچ بھائی :فضل ،جعفر ،ہادی ،قاسم ،زید اور کچه غلام اور کنيزیں آپ کے ہمراہ تھيں ۔اس زمانہ کے سفر کی دشواریوں کو برداشت کرتے ہوئے آپ “ساوہ”پہنچيں ۔

آج تو شہر ساوہ کے باشندے سب ہی شيعہ اور خاندان عصمت و طہارت کے شيدا ئی ہيں ليکن اس زمانہ ميں سخت ترین دشمن تھے ۔لہٰذا جب حضرت معصومہ (س)کا قافلہ “ساوہ ”پہنچا تو “اہل ساوہ”نے ان پر حملہ کردیا اور شدید جنگ ہوئی ۔اور آپ کے بھائی بھتيجے سب ہی شہيد ہو گئے ۔حضرت معصومہ (س) نے اپنے ٣٢ بھائی بهتيجوں کو خون ميں غرق دیکھا تو اس غم ميں عليل ہو گئيں ۔(٢)

____________________

١۔ دلائل الاماميہ ،ص/ ٣٠٩

٢۔ریاض الانسان ،ص/ ١۶٠ منقول از کریمہ اہل بيت ،ص/ ١٧۵


قم کی طرف روانگی

اہل قم ہميشہ خاندان عصمت و طہارت کے دوستدار و محب رہے ہيں ۔انهوں نے ولایت امير المومنين عليہ السلام کے ساته اسلام قبول کيا تھا اور فدک غصب کرنے والوں کی کبهی اطاعت نہيں کی تھی ۔ان لوگوں نے جب اس دل خراش فاجعہ کی خبر سنی تو وہ “ساوہ” گئے اور حضرت معصومہ (س) کو بڑے احترام کے ساته قم لے آئے ٢٣ /ربيع الاول ٢٠١ هء کو آپ قم ميں وارد ہوئيں ۔

موسیٰ بن خزرج قم ميں خاندان اشعری کے سردار ، خود ناقہ کی مہار تھامے ہوئے تھے اور بہت سے لوگ کجاوہ کے ارد گرد چل رہے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ کی سواری اس جگہ بيٹه گئی جسے ميدان مير کہا جاتا ہے اور موسیٰ بن خزرج کو آپ کی سترہ دن کی ميزبانی کا شرف حاصل ہوا۔

قم کی عورتيں جوق در جوق آپ کی زیارت کے لئے جاتی اور آپ کو آپ کے بهائيوں کا پر سہ دیتی تھيں ۔ موسیٰ بن خزرج کے گھر کو آپ کی سترہ روزہ مہمانی کے احترام ميں مدرسہ بنا دیا گيا جو کہ “مدرسہ سيدہ ” کے نام سے موسوم ہوا ۔مدرسہ کے داخل ہونے والے دروازہ کے پاس ہی آپ کی محراب عبادت ہے جس کو آج تک بيت النور کہا جاتا ہے۔

وفات حسرت آیات

حضرت معصومہ نے غم اور بيماری کی حالت ميں موسیٰ بن خزرج کے گھرميں ١٧ روز عبادت کی اور ١٠ ربيع الثانی ٢٠ ١ هء کو بھائی کی ملاقات کی مشتاق بہن نے بھائی کی ملاقات سے اپنی آنکهوں کو ٹهنڈاکيئے بغير عالم غربت ميں وفات پائی آپ کے وفات سے قم ماتم کدہ بن گيا ۔

اہل قم نے آپ کے مقدس جنازہ کہ تشييع ميں شرکت کی اور شہر سے باہر اس جگہ کہ جہاں آج حرم ہے آپ کو سپرد خاک کرنے کے لئے لے گئے ۔جب قبر تيار ہوگئی تو لوگوں ميں اس بات پر بحث ہونے لگی کہ آپ کو قبر ميں کون اتارے ضعيف العمر اور پرہيزگار “قادر”نام کے ایک شخص پر سب متفق ہوگئے ۔کسی کو بهيجا کے ان کو بابلان سے لے آئے ۔ قادر کے پہنچنے سے قبل خدا نے دو نقاب پوش سواروں کو بهيج دیا، ان ميں سے ایک قبر ميں داخل ہوااور دوسرے نے جنازہ اٹهاکر دیا۔وہ دونوں دفن کے مراسم بعد کسی کسی سے گفتگو کئے بغير اپنے گهوڑں پر سوار ہوئے اور آنکهو ں سے اوجهل ہوگئے(١) سيرت ائمہ کا قاری اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ دو نقاب پوس حضرت امام علی رضا عليہ السلام اور آپ کے فرزند امام محمد تقی عليہ السلام تھے جو کہ معصومہ (س) کے کفن و دفن ميں شرکت کے لئے با عجاز خراسان سے قم تشریف لائے تھے ۔

حرم حضرت معصومہ عليہا السلام

دفن کے بعد آپ کی قبر پر موسیٰ بن خزرج نے چٹائی کا ایک سائبان ڈال دیا ۔ اس کے بعد زینب بنت امام محمد تقی عليہ السلام نے پختہ گنبد بنوادیا ۔ ۴ ١٣ هء ميں حرم مطہر پر کاشی کا نفيس رنگ کيا گيا ۔ ۵ ٢٩ هء ميں نيا گنبد بنایا ، ۵ ٩٢ هء ميں گنبد کی تجدید ہوئی ۔ ١٢١٨ هء ميں گنبد پر سونے کا غلاف چڑهایا گيا کہ جس ميں سونے کی ١٢٠٠٠ اینٹيں لگيں ۔ ١٢٧ ۵ ئه ميں چاندی کی ضریح بنائی گئی ۔ ١٢٠٣ هء ميں نيا صحن بنایا گيا۔

حضرت معصومہ قم عليہا السلام کے معجزات

١۔ رقيہ امان پور پر تين ماہ سے فالج کے مرض مبتلا تھی ۔ ڈاکٹروں نے اسے جواب دے دیا تھا کہ ہم اس کا علاج نہيں کرسکتے ۔ رقيہ کا تعلق ماکو شہر سے ہے جو کہ آذر بایجان کے مغرب ميں ترکی کی سرحد پر واقع ہے یہ نيک بخت لڑکی ٢٨ شعبان ١ ۴ ١ ۴ ء ه ميں دو مہلک امراض ميں مبتلا ہوئی ۔

١۔ پيروں پر فالج گرا اور چلنے اور کهڑے ہونے سے معذور ہوگئی ۔ ٢۔ کهانسی کا شدید حملہ ہوا جس سے سانس لينا بهی دشوار ہو گيا۔ والدین خوئی شہر کے اسپيشلسٹ ڈاکٹروں کے پاس لے گئے ۔ بہت سے ٹسٹ ہوئے ميں مبتلا ہے ۔ مگرہم M.I.A ہوا اور ڈاکٹروں نے یہ تشخيص دیا کہ لڑکی C.T.SCAN تبریز ميں علاج سے قاصر ہيں شوط شہر کے ایک مولانا حجة الاسلام شيخ احمد اسد نژاد ، جو کہ حوزہ علميہ قم ميں مقيم تھے ، ان کے بھتيجے بهی ایسی ہی بيماری ميں مبتلا ہوچکے تھے جنهيں تہران کے ڈاکٹروں اور اطباء کے پاس لے جایا گيا تھا اور ڈاکٹروں نے ایک حد تک مرض کی تشخيص کر دی تھی ۔

انهوں نے رقيہ کے چچا سے رابطہ قائم کيا اور کہا کہ رقيہ کو قم لے آو وہاں سے ڈاکٹر سمعی کے پاس تہران لے جائيں گے ۔ اس زمانے ميں رقيہ کے والدین فریضہ حج کی ادائےگی کے سلسلے ميں مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے ۔

قم کی روانگی کے لئے ٢/ ذی الحجہ روز جمعہ مقرر ہوا تا کہ سنيچر کی صبح کو تہران پہنچ جائيں ۔ شب جمعہ ميں رقيہ نے ایک سعادت آفرین خواب دیکھا کہ : “ سفر کا راستہ بدل دو ۔ ” اس خواب نے ہميشہ کے لئے اسے ڈاکٹر سے بے نياز کردیا ۔خواب کا مختصر قصہ خود رقيہ اس طرح بيان کرتی ہے ۔

جس جمعہ کی صبح کو قم کی طرف سفر کرنے کا پروگرام تھا اسی شب ميں نے خواب ميں سفيد گهوڑوں پر چند سفيد پوش خواتين کو اپنے گھر کی طرف سے گزر تے ہوئے دیکھا ان ميں سے ایک خاتون ميری جانب متوجہ ہوئيں اور فرمایا: ”بيٹی ميں معصومہ ہوں ،تمهارے مرض کا علاج ميرے پاس ہے ضروری نہيں ہے کہ تم ڈاکٹر کے پاس جاؤ ۔ کل تم قم آؤ گی ۔ميرے پاس آجانا ۔شفایاب ہو جاؤگی ۔ اگر ڈاکٹر کے پاس ہی جانا چاہتی ہو تو بعد ميں چلی جانا۔

جب رقيہ خواب سے بيدار ہوئی تو اس کی آنکهوں ميں اميد کی کرن صاف عيان تھی خوشی سے سفر کے لئے تيار ہوگئی اس نے اپنے چچا و چچی سے خواب بيان کيا اور قم پہنچنے کے لئے لمحے شمار کرنے لگی ۔ دوسری ذی الحجہ کی شب جمعہ رات ساڑهے تين بجے وہ اپنے چچا اور چچی اور مولانا اسد نژاد کے بھائی کے ہمراہ --“شوط” سے قم کی طرف روانہ ہوئی اور ساڑهے سات بجے شام کو قم پہنچ گئی۔ محلہ نيروگاہ ميں جناب اسد نژاد کے گھر اپنے پہنچنے کی اطلاع کرادی اور اپنی پهوپهی ، ہاشم نژاد کے گھر چلی گئی ۔ نماز ظہر و عصر پهوپهی کے گھر پر پڑهی ۔ مختصر عصرانہ کرنے کے بعد چچا چچی کے ساته ،حرم مطہر ( روضہ حضرت معصومہ) کی زیارت کے لئے گھر سے نکلنے سے قبل پهوپهی نے یہ کہاتھا کہ اس کی بيساکهيوں کو حرم ميں نہ لے جانا لہٰذا بيساکهيوں کو کار ہی ميں چھوڑ دیا اور چچا ،چچی کے کندهوں پر سہارا دے کر رقيہ حرم ميں وارد ہوئی ۔ رقيہ زیارت پڑهنے لگی اور پوری توجہ سے زیارت پڑهتی رہی چچا اور چچی اس کے ہمراہ رہے ۔ زیارت پڑهنے کے دوران رقيہ کو ایک جانی پہچانی آوازسنائی دی --- یہ معصومہ قم کی آواز تھی جو کہ اس نے خواب ميں سنی تھی ---- رقيہ کہتی ہے : ابهی ميں نے آدها زیارت نامہ ہی ختم کيا تھا کہ ميرے کان ميں وہی آواز آئی جو کہ ميں نے گزشتہ شب سنی تھی ۔ مجه سے کہا : “ اٹهو ! ميں نے تمهيں شفاء دی ۔

ميں نے زیارت پڑهنے کا سلسلہ جاری رکها کہ دو بارہ وہی آواز سنائی دی رقيہ نے پورا زیارت نامہ ختم کيا ۔تيسری بار پھر وہی دلنواز آواز ميرے کانوں ميں آئی ۔اٹهو! ميں نے تمهيں شفا دے دی ہے ۔ رقيہ کی چچی نماز ميں مشغول تھيں ۔لہٰذا اپنی پهوپهی سے کہا: ميں کهڑی ہونا چاہتی ہوں ۔ نہ بيٹی !گر پڑو گی تمهاری چچی نماز سے فارغ ہو جائيں تاکہ ہم دونوں کے سہارے کهڑی ہو۔رقيہ اٹهتی ہے اور اپنے پيروں پر گهڑے ہوکر تيز ی سے ضریح مقدس کی طرف بڑهتی ہے اور اشک مسرت کے ساته خاتون دوسرا کا شکریہ ادا کرتی ہے ۔ جن زائرین نے رقيہ کو تھوڑی دیر پہلے معذور دیکھا تھا انهوں نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو اس کے چاروں طرف حلقہ کر ليا ایک ازدحام ہو گياچنانچہ رقيہ کی پهوپهی اور چچا و چچی نے بڑی جانفشانی سے اسے ازدحام سے رہائی دلائی اور مسجد بالا سر ميں لے گئے ۔

یہ پر مسرت واقعہ حرم معصومہ ميں رات کے ساٹهے نوبجے رو نما ہوا ۔ چنانچہ زائروں اور باشندوں نے اپنی آنکهوں سے دیکھا کہ اب اس سعادت مند و نيک بخت کو بيساکهيوں کی ضرورت نہيں رہی اب وہ اپنے پيروں پر کهڑی ہے ۔ اس وقت حرم کے نقارہ بجانے والے موجود نہيں تھے لہٰذا نقارہ کی کيسٹ لاؤڈاسپيکر پر لگا دیا گياپهر دوسرے روز رسمی طور پر نقارے بجائے گئے ۔

جب رقيہ کو ان کی پهوپهی کے گھر لے گئے اور عطر و گلاب اس کے چہرے پر ملا تو معلوم ہوا کہ وہ کهانسی بهی ختم ہو گئی ہے ،۔ رقيہ کو پہلے نسخوں کے ساته تہران ميں ڈاکٹر کے پاس لے گئے تو اس نے بتایا کہ اب رقيہ کو علاج کی ضرورت نہيں ہے ۔ ٢۔ پروین محمدی ،تشنج اعصاب کے مرض ميں مبتلا ہوئی ۔بہت سے ڈاکٹروں سے علاج کرایا ليکن فائدہ نہ ہوا ۔اہل خانہ کی زندگی بهی دوبهر ہو گئی ۔ ڈاکٹروں کے علاج سے مایوس ہو کر ،کرمانشاہ سے امام رضا عليہ السلام کی زیارت کومشہد مقدس کی جانب روانہ ہوئے جب رات دو بجے کے بعد قم پہنچے ایک مسافر خانہ ميں رات بسر کی صبح کو ٩بجے حرم معصومہ کی زیارت سے شرف یاب ہوئے ۔ اس کی چادر کے ایک گوشے کو ضریح سے بانده دیا اوردعائے توسل پڑهنے لگے ضریح کے کنارے اس مریضہ کو نيندآگئی ۔ چوں کہ پروین کو ایک مدت سے نيند نہيں آئی تھی ، اس لئے اس کی ماں نے بيٹی کو سوتے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوئی اور اشک مسرت و خلوص کے ساته دعا کرنے لگيں دل کی گہرائی سے کریمہ اہل بيت سے توسل کيا ۔

اچانک پروین کی ماں نے محسوس کيا کہ پورا حرم ایک غير معمولی عطر کی بو سے معطر ہو گيا ہے اور پروین کی چادر کا ضریح سے بندها ہوا گوشہ کهل گيا ہے اس عطر آگين فضا ميں پروین نے آنکهيں کهول دیں اور اپنی ماں سے کہا: اماں ! ميں بهوکی ہوں ۔ اس کی ماں حيرت زدہ ضریح مقدس سے لپٹ گئی اور کریمہ اہل بيت کا شکریہ ادا کرنے کے بعد حرم مطہر سے شادمان باہر نکلی ۔

٣۔ ابو فضل امير کوہی صوبہ صوبہ ساری مازندران کے باشندے ہيں انهوں نے حضرت معصومہ کے ذریعہ اپنی شفا یابی کا معجزہ اس طرح بيان کيا ہے ۔ ميں تين سال قبل کمر درد اور فالج ميں مبتلا ہوگيا تھا ۔ اپنے علاج ميں تمام پونجی خرچ کردی تھی ليکن کوئی فائدہ نہيں ہوا تھا ۔ بالکل زمين گير ہوگيا تھا ۔ قم مشہد اور تہران کے ہسپتالوں ميں مہينوں ایڈمٹ رہا مگر کوئی نتيجہ حاصل نہ ہوا ۔ ہر جگہ سے مایوس ہوگيا تو ثامن الحجج حضرت امام رضا عليہ السلام کے روضہ ميں پناہ لی اور امام سے شفا مانگی ليکن نصيب نہ ہوئی ۔

حضرت امام حسين عليہ السلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر یعنی ٣/ شعبان کو سارے شيعہ خوشياں منا رہے تھے اور ميرے خاندان والے رنجيدہ و محزون تھے ، ميں بهی اپنے اہل خانہ کے ساته روضہ امام رضا عليہ السلام ميں داخل ہوا مگر صابر امام نے صبر سے کام ليا ۔ جب حرم سے باہر نکلا تو مولا کو مخاطب کر کے عرض کی مولا آپ تو غير مسلموں کو بهی محروم نہيں کرتے ہيں ۔ مجه رو سياہ پر کيوں لطف نہيں فرماتے ؟ ميں تو آپ کا شيعہ اور آپ کا ہمسایہ ہوں ۔ تہی دست اپنے گھر پلٹ آیا اور حضرت معصومہ سلام الله عليہا کی خدمت ميں شرفيابی کا قصد کيا ۔ چنانچہ ۴/ شعبان المعظم شب ولادت حضرت ابولفضل عليہ السلام ميں ۔ ميں نے حضرت معصومہ سلام الله عليہا کو خواب ميں دیکھا کہ ہمارے غریب خانہ پر تشریف لائی ہيں ۔ ميں نے شفا مانگی تو فرمایا “ قم آجاو ميں تمهيں شفا دونگی ” بيدار ہونے کے بعد ميں نے اپنے خاندان والوں سے خواب بيان کيا ، ليکن کمزوری اور ناداری کی وجہ سے قم جانا آسان نہيں تھا اسی طرح کئی دن گزر گئے تو پھر ایک مرتبہ حضرت معصومہ سلام الله عليہا کو خواب ميں دیکھا کہ فرماتی ہيں : “ قم کيوں نہيں آتے ” ميں نے عرض کی اس حالت ميں کيوں کر قم پہنچوں ؟ مجهے یہيں شفا عطا کردیجئے ۔ فرمایا : “ تم آو ” بيدار ہونے کے بعد ميں نے یہ طے کيا جس طرح بهی ہوگا قم جاوں گا اگر چہ تين سال کی طویل علالت کے سلسلے ميں گھر کا سارا اثاثہ بک چکا تھا اب قابل فروخت کوئی چيز باقی نہ تھی۔ کوکاکولا کی کچه شيشياں تھيں انهيں فروخت کرکے بيٹے نے اسباب سفر فراہم کئے اپنے خسر معظم کی معيت ميں ١ ۴ / شعبان ١ ۴ ١ ۵ ء ه ق کو دوشنبہ کی صبح ميں قم پہنچ کر حرم معصومہ سلام الله عليہا ميں شرف یاب ہوا ۔

ضریح مقدس کے کنارے مجهے جگہ دی گئی اور ضریح سے بانده دیا گيا تضرع و زاری ، راز و نياز ، اور کمزوری کی وجہ سے مجهے نيند آگئی تو سبز نقاب اور سياہ چادر ميں ملبوس حضرت معصومہ سلام الله عليہا کو خواب ميں دیکھا کہ آپ (س) نے مجهے ایک پيالی چائے عنایت کی ہے اور فرماتی ہيں اسے پيو اور اٹهو تم بيمار نہيں ہو ۔ بيدار ہونے کے بعد ميں نے محسوس کيا کہ اب ميں بيمار نہيں ہوں ۔ ميں ضریح مقدس سے لپٹ گيا اور بہ آواز بلند کہا : “ معصومہ (س) نے مجهے شفا عطا کی ہے “

۴ ۔ روس ميں کميونزم کی شکست و ریخت کے بعد روس کے علاقہ آذربائيجان کے باشندوں کے لئے ایران کا راستہ کهول دیا گيا ۔ اسلامی علوم کے فروغ اور اس کی نشر و اشاعت کے پيش نظر حوزہ علميہ قم کے کچه ذمہ دار آذربائيجان گئے تا کہ وہاں سے مستعد جوانوں کو منتخب کر کے حوزہ علميہ قم لائيں اور انهيں معارف اسلامی کی مناسب تعليم دے کر ان کے وطن واپس کردیں تا کہ وہ شيعہ تذہيب و ثقافت کے اس خلاء کو پر کر سکيں جو کميونسٹ کے تسلط کے زمانہ ميں واقع ہوگيا تھا۔

نخجوان سے ایک نوجواں ، حمزہ قم آتا ہے ليکن حوزہ علميہ کے ذمہ داروں نے اس کا داخلہ لينے سے اس لئے عذر خواہی کی کہ اس کی ایک آنکه خراب تھی ۔ ظاہر ہے کہ ایسے مقرر و خطيب کی بات موثر ثابت نہيں ہوتی ہے ۔ حمزہ نے اصرار کيا کہ استعداد و لياقت کے باوجود مجهے اس سعادت سے کيوں محروم کيا جارہا ہے ؟ ذمہ داران نے انسانی عواطف کی بنا پر داخلہ کے شرائط کے بر خلاف سيکڑوں طلبہ کے ساته اس کا بهی انتخاب کر ليا ۔ تہران ميں ان آذربائيجانی طلبہ کا پرتپاک استقبال کيا گيا ۔ اس پروگرام ميں ٹی وی کے افراد اس منظر کو فلمانے کے لئے آئے تھے ۔ تصویر لينے والے نے کيمرہ کا رخ زیادہ تر حمزہ کی حد سے زیادہ ابهری ہوئی آنکه کی طرف رکها ۔ جب حوزہ علميہ قم ميں ان آذربائيجانی طلبہ کو ایک مدرسہ ميں جگہ دے دی گئی تو س پروگرام کی کيسٹ مدرسہ کے سرپرست کو دے دی گئی وہ محفوظ رکهے ۔ مدرسہ کے سرپرست نے ایک دن وہ کيسٹ مدرسہ ميں دکهائی کہ جس ميں حمزہ کی ابهری ہوئی ایک آنکه کا مضحکہ خيز منظر دیکھ کر طلبہ کو بے ساختہ ہنسی آگئی ۔

اس ویدؤ کيسٹ کے دیکھنے کے بعد حمزہ کو اپنے کمتروری کامزید احساس ہوا زندگی تلخ ہوگئی ۔حوزہ علميہ چھوڑ نے اور وطن لوٹنے کا عزم بالجزم کر ليا ، شکستہ دل اور اشکبار آنکهوں سے معصومہ قم سے رخصت ہونے اور حرم کی آخری زیارت کے لئے گيا ۔ عرض کی : “ اے باب الحوائج کی بيٹی : ميں سيکڑوں فرسخ کی مسافت طے کرکے اس لئے یہاں آیا تھا کہ آپ کے زیر سایہ تعليم حاصل کروں اور مذہبی مبلغ بنوں ليکن ميں اس حقارت کو برداشت نہيں کرسکتا لہٰذا ميرا وطن پلٹنا اور آپ کا ہمسائيگی سے محروم ہونا نا گزیر ہے ” ۔ حمزہ نے اپنادرد دل حضرت معصومہ سلام الله عليہا کی خدمت ميں بيان کيا اور ہميشہ کے لئے خدا حافظ کہہ کر چل دیا ۔ جب حرم سے باہر نکلا تو اس کی ملاقات اپنے ایک ہم کلاس سے ہوئی ۔ حمزہ نے اسے سلام کيا ۔ اس نے اجنبی کی طرح سلام کا جواب دیا ۔ حمزہ نے جب اس طالب علم کا نام لے کر آواز دی تو واپس آیا اور تعجب سے کہنے لگا حمزہ آپ ہيں !!!؟

حمزہ کہتا ہے : جی ہاں ميں ہوں ! طالب علم کہتا ہے : تمهاری آنکه کا کيا ہو ا؟! اب حمزہ متوجہ ہوا کہ معصومہ کے لطف سے اس کی آنکه صحيح ہو گئی ہے ۔ جب وہ آذر بائيجان جائے گا تو اس کے ساته معصومہ کا معجزہ بهی ساته ہوگا ۔ فی الحال حمزہ حوزہ علميہ کا طالب علم ہے اور فراخ دلی سے محافل و مجالس ميں شریک ہوتا ہے معيوب آنکه کے ثبوت کے لئے اس کے ہم کلاس طلبہ کے پاس ویڈیو کيسٹ اب بهی موجود ہے ۔

۵ ۔ چاليس سال قبل احمد شيریں کلام نے حرم معصومہ ميں شفا پائی تھی ۔ احمد شيریں کلام نے اپنے بھائی عباس شيریں کلام کو نظم و نثر ميں اپنی بيماری کی اطلاع دی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے ، عباس کہتا ہے :

١ ٣٣٢ ء ه ش ميں ميرے بھائی احمد شيریں کلام بيمار ہوگئے ۔ دوسرے دن ميں تہران پہنچا تو دیکھا کہ اس کی حا لت بہت نازک ہے ۔ عزیز و اقارب جمع ہيں ایک سيد دعا کر رہے ہيں ۔ چمچے سے پانی پلایا جا رہا ہے دوماہ کی مدت ميں ایک سے ایک ڈاکٹر و طبيب کا علاج کرایا ليکن حالت روز بروز بگڑتی گئی ۔ اعزاو اقارب اس سے نا اميد ہوگئے اور تجہيز و تدفين کے اسباب فراہم کرنے لگے ۔ ميں نے انهيں قم لے جانے کا ارادہ کرليا کار ميں لٹا کر کریمہ اہل بيت کی بارگاہ کی طرف چل دئيے ۔ تقریباً نماز مغرب کے وقت قم پہنچے او راس شب توسل کيا ۔

شفائے کامل پائی ۔ ١٨ روز تک ہم نے انهيں قم ہی ميں رکها جشن مسرت منعقد کيا اور شاعران مودت نے قصيدہ خوانی کی ١٨ روز بعد اپنے پيروں سے چل کر وہ صحيح و سالم تہران گئے ۔

چونکہ وہ خود کو معصومہ کا ر ہين منت سمجهتے تھے اس لئے انهوں نے تہران ميں قيام مناسب نہ سمجها اور قم ميں اقامت گزیں ہوگئے ۔

۶ ۔ جناب حاج شيخ اسماعيل سے ابطحی صاحب نے ایک داستان نقل کی ہے اور ان کی توثيق کی ہے ۔ داستان یہ ہے:

شيخ اسماعيل کہتے ہيں جنگ کے زمانے ميں وطن ميں رہنا ميرے لئے مشکل ہو گيا ، قم آیا ، آیت الله العظمیٰ گلپایگانی کی خدمت ميں پہنچا ۔ انهوں نے پوچها قيام کے قصد سے آئے ہو ؟ یا واپسی کا ارادہ ہے ؟ ميں نے عرض کی جناب معصومہ کے جوار ميں رہنے کے قصد سے آیا ہوں ليکن سر چهپانے کو گھر تو مل جائے تا کہ اہل و عيال کے لئے مشکل پيش نہ آئے دوسری طرف ميرے پاس پيسہ بهی نہيں ہے ۔ البتہ حضرت بقية الله الاعظم عجل الله تعالیٰ سے توسل کيا ہے ۔

آیت الله العظمیٰ گلپایگانی نے فرمایا :“حضرت بقية الله الاعظم ( ارواحنا فداہ ) حجت خدا ہيں ۔ سارا عالم ان کے زیر فرمان ہے ليکن یہاں حضرت معصومہ کی حکومت ہے ۔ تم کریمہ اہل بيت کی خدمت ميں آئے ہو ، حرم جاو ۔ وہی سر چهپانے کی جگہ مرحمت کریں گی ۔

جناب شيخ اسماعيل کہتے ہيں : ميں حرم مطہر گيا ۔ معصومہ سے سر چهپانے کی جگہ طلب کی ۔ حرم سے باہر نکلا تو ایک شخص سے ملاقات ہوئی جس نے مجهے مناسب گھر کا سراغ بتایا ، ایک لاکه چاليس ہزار تومان ميں گھر کی بات ہوگئی ۔

آیت الله العظمیٰ گلپایگانی کی خدمت ميں پہنچا اور واقعہ سنایا تو انهوں نے تيس ہزار تومان عنایت کئے اور کہا کہ کسی اور سے قرض لے لو ۔ ميں دوبارہ حضرت معصومہ کی خدمت ميں شرفياب ہوا اور عرض کی : بی بی ! کسی ایسے شخص کی طرف ميری راہنمائی کردیجئے جو مجهے قرض دیدے ! اس درخواست کے بعد ميں حرم سے باہر آیا تو وسط صحن ميں ميری ملاقات ایک آشنا سے ہوئی انهوں نے پوچها خيریت تو ہے ۔ نصيب دشمنان ميں آپ کو محزون دیکھ رہا ہوں ميں نے واقعہ سنایا ۔ انهوں نے کہا کہ ميں آپ کو قرض دیتا ہوں اسی دن پيسہ کا انتظام ہوگيا ۔ اس نے مجهے قرض دےدےا ۔ ميں نے گھر لے ليا ۔ جس دن ميں نے قرض ادا کرنے کا وعدہ کيا تھا وہ دن بهی آگيا اور ميری جيب ميں پيسہ نہيں تھا ۔ ميں پھر حضرت معصومہ کی خدمت ميں شرفياب ہوا اور عرض کی اے خاتون ! دوسری بار ميں یہاں خود نہيں آیا ہوں ، مجهے بهيجا گيا ہے ۔ آج قرض کی ادائےگی کا دن ہے ۔ کسی ایسے آدمی کو بهيج دیجئے جو مجهے پيسہ ہبہ کردے ۔

ميں حرم سے باہر آیا تو صحن ميں ایک جانے پہچانے آدمی سے ملاقات ہوئی اس نے بهی یہی کہا خيریت تو ہے ۔ ميں آپ کو رنجيدہ و محزون دیکھ رہا ہوں ميں نے واقعہ کی تفصيل بتائی تو انهوں نے پوچها آپ کو کتنا پيسہ چاہئے ميں نے کہا تقریباً ٩٠ ہزار تومان ۔ اس نے نوے ہزار تومان مجهے ہبہ کردیئے ۔ ميں نے وعدہ کے مطابق قرض ادا کيا اور ہميشہ کے لئے آرام ہوگيا ۔

٧۔ کریمہ اہل بيت کے مولف نے اپنے ایک معتبر و معتمد دوست سے نقل کيا ہے کہ انهوں نے کہا : ميری طالب علمی کا ابتدائی زمانہ تھا ۔ ميری چچا زاد بہن “خرم درہ ” ميں ساکن تھی خدا نے متعدد بار اسے اولاد عطا کی ليکن سب مرگئے ۔ کوئی باقی نہ بچا ۔ معصومہ قم کی زیارت کے لئے قم آئی ميں اس زمانے ميں دارالشفاء ميں رہتا تھا ۔ ميری چچا زاد بہن نے اپنی آپ بيتی مجه سے بيان کی اور بہت روئی ميں نے کہا : آپ اس وقت قم ميں ہيں ۔ یہ حرم اہل بيت ہے اور یہی کریمہ اہل بيت ہيں ۔ باب الحوائج کی لخت جگر ہيں ان ہی سے اولاد زندہ رہنے کی دعا کيجئے ۔

انهوں نے پوچها : ميں معصومہ سے کس طرح توسل کروں ؟ چونکہ ميری طالب علمی کا ابتدائی زمانہ تھا ، ميری سمجه ميں کوئی بات نہيں آئی ۔ ميں نے کہا آپ ایک دن روزہ رکهيں اور افطار کئے بغير حرم معصومہ ميں جا کر دعا کریں ۔ چنانچہ انهوں نے روزہ رکها اور افطار کئے بغير حرم ميں پہنچيں اور دختر باب الحوائج سے اپنی حاجت طلب کی اور رات بهر وہيں دعا اور راز و نياز ميں مشغول رہيں ۔چوں کہ روزہ رکها تھا اور گریہ و زاری کی وجہ سے تھک گئی تھيں اس لئے نيند آگئی تو خواب ميں ایک معظمہ کو دیکھا کہ تشریف لائی ہيں اور کپڑے ميں لپيٹ کر لڑکا مجهے دیا ہے ۔ خواب سے بيدار ہوئی تو خوشی خوشی گھر آئی اور وطن چلی گئی ۔ اس توسل کے بعد خدا نے انهيں تين بيٹے عطا کئے ۔ تينوں زندہ ہيں اور بڑے ہوگئے ہيں ۔ خود ميری چچا زاد بہن بهی زندہ ہيں “ خرم درہ ” ميں زندگی بسر کر رہی ہيں ۔

٨۔ ایک مداح اہل بيت بيان کرتا ہے : اہل قم ميں سے ایک دیندار حضرت معصومہ (س)کی زیارت کے لئے آرہے تھے ان کے ایک دوست نے کہا : حضرت معصومہ (س) کی خدمت ميں ميرا سلام عرض کيجئے گا اور ميری فلاں حاجت روائی کے لئے دعا کيجئے وہ مومن حرم آیا ، زیارت پڑهی ۔ اپنے دوست کی طرف سے سلام عرض کی اور خاتون دوسرا کی خدمت ميں اس کی حاجت بهی پيش کی ۔ جب یہ مومن رات کو سوگيا تو خواب ميں حضرت معصومہ کو دیکھا کہ فرما رہی ہيں : ہم نے تمهارے دوست کی حاجت پوری کردی ہے ليکن وہ چاليس دن سے ہمارے یہاں نہيں آیا ہے ۔

٩۔ حرم مطہر کے ایک معتبر خادم سيد محمد رضوی مرحوم سے متواتر سند کے ساته منقول ہے کہ : ميں نے ایک شب خواب ميں حضرت معصومہ کو دیکھا کہ آپ فرمارہی ہيں : اٹهو گلدستوں اور مناروں کے چراغ روشن کرو ۔ ميں نے گهڑی دیکھی تو دیکھا کہ صبح کی اذان ميں ۴ گهنٹے باقی ہيں ۔ ميں دوبارہ سوگيا ۔ پھر ميں نے وہی خواب دیکھا کہ آپ فرمارہی ہيں : کيا ميں نے چراغ روشن کرنے کے لئے نہيں کہا تھا؟ اٹهو ! گلدستوں کے چراغ روشن کرو ۔ ميں اپنی جگہ سے اٹها ، دیکھا کہ شدید برف باری ہوئی ہے ۔ ساری فضا سفيد پوش تھی ۔ شدید سردی ہو رہی تھی ۔ جب کہ پہلے دن مطلع بالکل صاف تھا ۔ ميں صحن حرم ميں کهڑا تھا ۔ ميں نے زائروں کی ایک جماعت دیکھی جو یہ گفتگو کررہے تھے “معصومہ کا ہم جتنا بهی شکریہ ادا کریں کم ہے ۔ اگر تھوڑی دیر اور چراغ روشن نہ ہوتے ہم سردی سے ہلاک ہوجاتے ۔ بعد ميں معلوم ہوا کہ وہ لوگ شدید برف باری کی بناء پر راستہ سے بهٹک گئے تھے اور بيابان ميں یہ نہيں سمجه پا رہے تھے کہ کيا کریں جب حرم کے چراغ روشن ہوئے تو شہر کی سمت کا علم ہوا اور وہ لوگ شہر پہنچے اور شدید سردی سے رہائی پائے ۔

١٠ ۔ شيخ حاج حسن علی تہرانی مرحوم کے سلسلے ميں رونما ہونے والا معجزہ شيخ / علی مرحوم آیت الله مروارید کے پر نا نا ہيں لہٰذا بہتر ہے کہ ان ہی کی زبانی سنا جائے ۔ ٢٣ ذیقعدہ ١ ۴ ١ ۴ ء ه کو ہم امام رضا عليہ السلام کی زیارت کے لئے شرف یاب ہوئے کچه لوگوں کے ہمراہ آیت الله مروارید کی خدمت ميں حاضر ہوئے اور داستان کو ان سے سنا ۔ داستان کچه اس طرح ہے :

حاج حسن علی تہرانی بن حاج محمود تاجر تبریزی اپنے زمانہ کے عالم ، ميرزا شيرازی کے شاگرد اور اس عہد کے نمایاں استاد تھے ۔ جب ميرزا نماز جماعت کے لئے نہيں آتے تھے تو وہی نماز جماعت بهی کراتے تھے اور متقی و نيکو کار و پرہيزگار لوگ ان کی اقتداء کرتے تھے ۔ ميرزا ئے شيرازی کے انتقال کے دوسال بعد وہ تہران لوٹ آئے ۔ کچه دنوں کے بعد مشہد تشریف لے گئے ۔ مسجد گوہر شاد ميں نماز جماعت پڑهانے لگے ۔ جو شخص کسی کی اقتداء ميں نماز نہيں پڑهتا تھا وہ ان کی اقتداء ميں نماز پڑهنے لگا ۔ بہت سے فضلاء آپ کے درس ميں شریک ہوتے تھے ۔ ١ ۴ / رمضان ١٣٢ ۵ ء ه کو مشہد ميں وفات پائی ۔

آپ کے بھائی ميرزا حاج حسين علی ناصر الدین شاہ کے دربار ميں تھے ۔ شاہ کے لباس ان ہی کی نگرانی ميں سلتے تھے ۔ ایک روز حاج حسين مرحوم زیارت امام رضا عليہ السلام پڑهنے ميں مشغول تھے کہ لوگوں نے آپ کو بھائی کے انتقال کی خبر دی ۔ آپ نے بہت گریہ کيا اور امام رضا عليہ السلام سے دعا کی ۔ ميرے بھائی دربار ميں تھے یقينا ان کی گردن پر بہت سے حقوق و مظالم ہوں گے آپ ان کی شفاعت فرما دیجئے ۔

تہران سے بڑی شان و شوکت کے ساته ان کا جنازہ قم لایا گيا اور ضریح معصومہ کا طواف کرانے کے بعد -صحن حرم ميں سپرد خاک کر دیا گيا۔ اسی شب ایک متقی عالم دین نے خواب ميں دیکھا کہ لوگ تہران سے قم کی طرف ایک جنازہ لا رہے ہيں اور عذاب کے فرشتے راستہ ميں اس پر عذاب کر رہے ہيں ۔جب جنازہ صحن مطہر ميں پہنچا تو عذاب کے فرشتے دروازہ حرم پر ہی ٹهہر گئے اور معصومہ کے احترام ميں صحن مطہر ميں داخل نہ ہوئے اس وقت حرم مطہر سے ایک معظمہ نکلی اور عذاب کے فرشتوں سے فرمایا: ان کے بھائی نے ميرے بھائی سے ان کی شفاعت طلب کی ہے اور بھائی نے مجهے سے ان کی شفاعت کی ہے ۔

لہٰذا تم پلٹ جاؤ ۔ اور وہ اطاعتکرتے ہوئے پلٹ گئے ۔

واضح رہے معصومہ کے اتنے ہی معجزات نہيں ہيں بلکہ ہم نے بے شمار معجزات ميں سے دس ہی منتخب کئے ہيں تاکہ کتاب کا حجم زیادہ نہ ہو جائے ۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام الله عليہا شعراء کی زبانی

تاریخ کی رہ گزر ميں مکتب امامت و ولایت کی ترویج اور فضائل و مناقب اہلبيت عصمت و طہارت کے نشر ميں اسلامی شاعروں کا ایک اچھا کردار رہا ہے ۔ جن کے حکمت آموز اشعار نے ہميشہ عاشقان خاندان نبوت و رسالت کے قلوب کو جلا بخشی ہے اور ایک زندہ جاوید سند کی حيثيت سے مکتب لالہ زار علوی اور بے کراں دریائے فضائل اہلبيت عليہم السلام کو اجاگر کر کے دنيا کے سامنے پيش کيا ہے ۔

اسی رہ گزر ميں کریمہ اہل بيت عليہم السلام کی عظمت نے ان منادیا ن حق شعراء کو بارگاہ ملکوتی حضرت معصومہ عليہا السلام ميں عرض ادب پيش کرنے پر مجبور کردیا اور اس طرح وہ پر معنیٰ اشعار و قصائد کہنے کے لئے آمادہ ہوگئے ۔

زبان فارسی ميں تو ان اشعار کی تعداد بے حد و حساب ہے ہے کہ اگر بطور مستقل اس پر کام کيا جائے تو ایک دیوان ہوجائے گا ۔ ليکن مولف محترم نے چند برگزیدہ اشعار کو کتاب ميں جمع فرمایا ہے اور اسے ایک فصل قرار دیا ہے ۔

واضح ہے کے اردو داں افراد کے لئے یہ شعری مجموعہ سود مند نہ ہوگا لہٰذا یہ طے پایا کہ ان اشعار کی جگہ اردو زبان کے شعراء کے اشعار پيش کئے جائيں ۔ ليکن افسوس ہے کہ اس سلسلے ميں ہميں قدیم شعراء کے اشعار دستياب نہ ہو سکے بلکہ جہاں تک حقير کی معلومات ہے ہمارے قدیم مشعراء نے اس موضوع پر طبع آزمائی نہيں فرمائی ہے ۔


بارگاہ فاطمی (س) پر ایک نگاہ

حرم مطہر کا گنبد :

موسی بن الخزرج کے ایک حصيری سائبان بنانے کے بعد جو سب سے پہلا گنبد فاطمہ معصومہ سلام الله عليہا کی تربت پاک پر برافراشتہ ہوا وہ برجی شکل کا ایک قبہ تھا کہ جو حضرت زینب بنت امام جواد عليہ السلام کے ہاتھوں اینٹ و پتهر اور چونے کے ذریعہ اواسط قرن سوم ميں بنایا گيا ۔ زمانے کے گذر نے اور حضرت معصومہ عليہا سلام کے جوار ميں کچه علوی خواتين کے دفن ہونے کے بعد اس گنبد کے پاس دوسرے دو گنبد بنائے گئے ۔ جس ميں تيسرا گنبد مدفن حضرت زینب بنت امام محمد تقی عليہ السلام قرار پایا ۔ یہ تين گنبد ۴۴ ٧ هء تک باقی تھے ۔ اسی سال مير ابولفضل عراقی ( وزیر طغرل کبير ) نے شيخ طوسی کے تشویق دلانے پر ان تين گنبدوں کے بجائے ایک بلند و بالا گنبد بنایا جس کا داخلی قطر تقریبا ١١ اور اونچائی ١ ۴ ميٹر تھی ۔ اس گنبد کو نگين نقش و نگار اور کاشی کاری کرکے بنایا تھا جس ميں ایوان اور حجرے نہ تھے یہ گنبد تمام سادات کے قبور پر محيط تھا ۔

٩٢ ۵ هئميں شاہ بيگی بيگم دختر شاہ اسماعيل کی ہمتوں سے اسی گنبد کی تجدید بنا ہوئی جس ميں معرق کاشی استعمال ہوا اس ميں ایوان اور دو منارے نيز صحن ( عتيق ) بنایا گيا ۔ گنبد کی خارجی سطح معرق کاشی سے آراستہ ہوئی ۔

یہ گنبد ١٢١٨ ه ء ميں زر نگار اینٹوں سے مزین کيا گيا ۔ جس ميں ١٢ / ہزار سنہری اینٹيں استعمال کی گئيں ۔ اس گنبد کی بلندی سطح زمين سے ٣٢ اور چهت کی سطح سے ٢٨ ۔ اور اس کا قطر ١٢ ميٹر / ٣ ۵ ، اور اندر سے ۶۶ / ١ ۶ ميٹر تھی ۔ اس کا محيط باہر سے ۶ اور اس کی لمبائی ( لمبی گردن کی طرح ) ۶ ميٹر تھی ۔

چهت کی سطح سے نچلا حصہ نوے ٩٠ سينٹی ميٹر تک تراشے ہوئے اینٹوں سے اور اس کے اوپر ایک ميٹر خشتی فيروزہ والی کاشی اس کے اوپر ( تمام دیوار ) سنہری اینٹوں سے مزین ہے گنبد کے نچلے حصے پر ایک کتبہ جو فتح علی خان صبا کے اشعار ہيں جو خط نستعليق ميں لکهے ہيں ۔(١)

بارگاہ ملکوتی کریمہ اہل بيت عليہا سلام کے گنبد کا یہ ایک تاریخی خاکہ تھا جو شروع سے لے کر آج تک اسلامی ہنر اور معماری کا شاہکار ہے نيز عتبات عاليات کی عمارتوں ميں کم نظير ہے

٢ ( حضرت کا مرقد : )

حضرت معصومہ سلام الله عليہا کا مرقد ( بقعہ مبارکہ کے در ميان ) بلندی کے اعتبار ١ ميٹر ہے ۔ جو بہترین نفيس و خوبصورت زرفام ( / ٢ در ٢٠ / ١١ اور طول و عرض ٩ ۵ / سے ٢٠ آغاز قرن ہفتم ) کاشيوں سے مزین ہے ۔

۴ ميٹر ہے ۔ جو / ۴ در ۴ ٠ / مرقد منور کے ارد گرد دو ميٹر دیوار اور طول و عرض تقریبا ٨٠ ٩ ۵ ٠ ء ه ميں بنایا گيا ہے اور یہ مرقد معرق کاشی سے آراستہ ہے ۔ اس وقت یہ دیوار ایسی ضریح ہے جس ميں چاندی پوش چھوٹی چھوٹی کهڑکياں ہيں ۔(٢)

۶ ٠ ۵ ئه ميں امير مظفر احمد بن اسماعيل خاندان مظفر کے مورث اعلیٰ اس زمانے کے بزرگ ترین استاد کاشی نے محمد بن ابو طاہر کاشی قمی کو مرقد مطہر پر رنگا رنگ کاشيوں کے لگانے پر بر انگيختہ کيا ۔ وہ آٹه سال تک اس کام ميں مشغول رہے ۔ آخر کار ۶ ١٣ ئه ميں کاشی کاری تمام ہوئی ٩ ۶۵ ئه ميں شاہ طہماسب صفوی نے سابق مرقد کے ارد گرد اینٹوں کی ایک ضریح بنوائی جو ہفت رنگ کاشيوں سے آراستہ تھی جس ميں نقش و نگار کے ساته ساته معرق کتبے بهی تھے نيز اس کے اطراف ميں دریچے بهی کهولے گئے تھے تا کہ مرقد کی زیارت بهی ہو سکے اور زائرین اپنی نذریں بهی مرقد کے اندر ڈال سکيں ۔(٣) اس کے بعد مذکورہ شاہ کے حکم سے سفيد و شفاف فولاد سے اسی اینٹوں والی ضریح کے آگے ایک ١٠ تھی ۔ جس ميں / ۴ ،اور بلندی ٢ / ٢ ۵ ،اور چوڑائی ٧٣ / ضریح بنائی گئی جس کی لمبائی ١٠ ۵ ٢٠ مضلع کهڑکياں تھيں ١٢٣٠ ہجری ميں فتح علی شاہ نے اس ضریح کو نقرہ پوش کر دیا تھا جو طول زمان سے فرسودہ ہو گئی تھی لہٰذا ١٢٨٠ ہجری ميں اس زمانے کے متولی کے حکم سے ضریح کی شکل بدل دی گئی اور موجودہ ضریح کو ( مخصوص ہنری ظرائف و شاہکار کے ساته ) اس کی جگہ پر نصب کيا گيا جو آج تک حضرت فاطمہ معصومہ عليہا السلام کی نورانی تربت پر جلوہ فگن ہے ۔( ۴)

____________________

١۔تربت پاکان ج/ ١ص/ ۵۶ وص/ ۵٠ مولف مدرس طباطبائی

٢۔گنجينہ آثار قم ج/ ١ص/ ۴١۶

۴ ۔ مدرک سابق ص/ ۴٧۵


٣ (حرم مطہر کے ایوان )

ايوان طلائی ایوان طلاء اور اس کے بغل ميں دو چھوٹے چھوٹے ایوان روضہ مقدسہ کے شمال ميں واقع ہيں ۔ جنهيں ٩٢ ۵ هء ميں گنبد کی تجدید بنا صحن عتيق اور گلدستون کے بناتے وقت شاہ ٩٨ ميٹر اور / اسماعيل صفوی کے زمانے ميں بنایاگيا۔ یہ ایوان طول وعرض کے اعتبار سے ٧٠ ١ ميٹر کی / بلندی کے لحاظ سے چودہ ميٹر ہے ۔ دیوار کا نچلا حصہ ( تين طرف سے ) ٨٠ بلندی تک آٹه گوشہ فيروزے والے کاشی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے آراستہ ہے اس کے درميان کتهئی رنگ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہيں جو کاشی کے حاشئے کو ( لاجوردی نقش و نگار ) چاروں طرف سے گهيرے ہيں ان کے اوپر ایک کتبہ ہے جس کا ایک سوم سفيد لاجوردی زمين ميں ایوان کے کے ارد گرد دکهائی دیتا ہے جس کا متن نورانی حدیث “ الا و من مات علی حب آل محمد مات شہيدا ” تا آخر حدیث ۔

اس کتبے کے بعد ایوان کادو ميٹر کے بلندی تک معرق کاشيوں سے آراستہ ہے جو عہد صفوی کے آغاز کا شاہکار ہے ۔ اس کے بعد ہر طرف کتبہ دکهائی دیتا ہے اور اس کے اوپر ایوان کی چهت زرفام اینٹوں سے مزین ہے ۔(٢)

دوسرے دو ايوان

ایوان طلا کے دونوں طرف ایوان ہيں ۔ جن کی بلندی دس اور چوڑائی دو اور دو نوں طرف کا فاصلہ پانچ ميٹر ہے ۔ یہ صفوی دور کی عمارتيں ہيں اس کا سارا جسم ایوان طلا کی طرح معرق کاشيوں سے آراستہ ہے ۔

ايوان آئينہ

رواق مطہر کے شرقی جانب بهی ایوان طلا کی طرح ایک بلند و بالا ایوان ہے جس کی ٨٧ ميٹر ہے آئينہ کاری کی وجہ سے ایوان آئينہ کے نام سے مشہور ہے ۔ /٧ ، لمبائی چوڑائی ٩ دیوار کے نيچے ایک ميٹر کی بلندی تک سنگ مرمر ہے جس کا ہر حصہ پتهر کے ایک ٹکڑے سے آراستہ ہے اور اس کے اوپر سارے حصے ميں چهت تک آئينہ کاری ہے ۔

ایوان کے بيچ ميں ایک سنگ مرمر کا کتبہ ہے جس کی چوڑائی تقریباً ٣٠ سينٹی ميٹر ہے جس پر آیہ شریفہ “ الله نور السموات و الارض ۔۔۔ ” منقوش ہے ۔ شرقی رواق کے در ميان ایک چھوٹا سا ایوان ہے جو اصلی ایوان کی طرح مزین ہے جس کے صدر دروازے پر حدیث شریف “ من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنة ” کالے حروف سے خط نستعليق ميں دیکھی جاسکتی ہے ۔

یہ شگفت انگيز ہنری مجموعہ قاجاری دور کے ارزشمند ہنر کا شاہکار ہے ۔ ( جو استاد حسن معمار قمی کے ہاتھوں تشکيل پایا تھا ) جو صحن نو کے ساته ميرزا علی اصغر خان صدر اعظم کے دستور پر بنا تھا ۔(٣)

____________________

٢۔ تربت پاکان ج / ١ ، ص / ۶٢

٣ ۔ تربت پاکان ج / ١ ، ص / ٢٩


۴ ( صحن عتيق کے منارے )

) ١٧ / صحن عتيق ميں بر فراز ایوان طلا دو رفيع و بلند منارے ہيں جن کی بلندی ۴ ٠ ١ ہے ۔ منارے کی کاشی پيچ و خم کے ساته مزین ہے / چهت کی سطح سے ) اور قطر ۵ ٠ جس کے در ميان اسماء مبارک “ الله ” “ محمد ” “ علی ” بخوبی پهڑے جاسکتے ہيں منارے کے بالائی حصے کو تين ردیف ميں رکها گيا ہے جس کے نيچے بخط سفيد کتبہ ہے جس پر آیہ شریفہ “ ان اللّٰہ و ملائکتہ یصلون علی النبی ” ( غربی منارے ميں ) “ یا ایها الذین آمنو صلوا عليہ و سلمو تسليما ” ( شرقی منارے ميں ) مرقوم ہے ۔

یہ منارہ محمد حسين خان شاہسون شہاب ملک حاکم قم کے حکم سے ١٢٨ ۵ ء ه ميں بنایا گيا ہے جس کا قبہ ١٣٠١ ء ہجری ميں طلا کاری کيا گيا ہے ۔

ايوان آئينہ کے منارے

بر فراز پایہ ایوان دو منارے ہيں جن ميں سے ہر ایک چهت کی سطح سے ٢٨ ، ميٹر اور ٣ ميٹر ہے یہ آستانے کی بلند ترین عمارت ہے ۔ یہ منارہ سطح بام سے تين ميٹر / گھرائی ٣٠ ٢ ميٹر تک / اور آٹه متساوی الاضلاع پھر آدها ميٹر تزئين پھر ایک ميٹر لمبا ہے ۔ اس کے بعد ۵ بارہ برجستہ گوشے ہيں اور تمام کے بعد ( لکڑی کے منارے کے نيچے ) ایک استوانہ ہے جس پر ایک کتبہ ہے اس کی چوڑائی تقریباً ایک ميٹر ہے ان مناروں ميں سے ایک کے کتبے کا متن یہ ہے : “ لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظيم ” ۔ اور دوسری طرف : “ سبحان الله و الحمد لله و لا الہ الا الله و الله اکبر ” ہے ۔ پھر ایک بلند عمارت ہے جس کی چوڑائی تقریبا ایک ميٹر ہے اس کے اوپر ایک چوبی منارہ ہے جس کا قبہ موجود ہے دونوں منارے اوپر سے نيچے تک گرہی کاشی سے مزین ہيں جن کے در ميان خداوند عالم کے نام دیکھے جاسکتے ہيں ۔(١)

____________________

١ ۔ آیة الله العظمیٰ فاضل لنکرانی

۶ ( حرم مطہر کی مسجدیں (


مسجد بالاسر

مسجد بالا سر حرم مطہر کے وسيعترین علاقوں ميں شمار ہوتی ہے ۔ جہاں عمومی مجلسيں ، نماز جماعت بر قرار ہوتی ہے صفوی دور ميں یہ علاقہ چوڑائی ميں ۶ ، اور لمبائی ميں ٣ ۵ ، ميٹر آستانہ کے مہمانسرا ميں شمار ہوتا تھا ۔ قاجاری دور ميں تقی خان حسام الملک فرزند فتح شاہ کی طرف سے اس عمارت کی نو سازی ہوئی اور بصورت مسجد اس ميں دو گنبد بنائے گئے جس کا شمار آستانے کے بزرگترین علاقوں ميں ہوا ۔

١٣٣٨ ء ه ميں جو مسجد کے غربی حصے ميں زمين تھی اس کو ملانے سے اس کی مساحت ١ ۴ در ۴ ٨ ميٹر ہوگئی جو تين محکم اینٹوں کے ٣ در ٢ ميٹر ستون پر استوار ہے ۔

یہ بنائے مقدس اپنی جگہ اسی طرح برقرار تھی ليکن جب مسجد اعظم ایک خاص وسعت و زیبائی کے ساته بنائی گئی تو چونکہ مسجد بالا سر کی قدیمی عمارت مسجد اعظم اور حرم مطہر کے درميان خوشنما نہيں تھی لہٰذا متولی وقت آقائے سيد ابو الفضل توليت نے اس کے نو سازی کا اقدام کيا ۔ قدیم عمارت کو زمين کی سطح سے ہٹا دیا گيا اور اس کی جگہ پر ایک بلند و بالا عمارت ١ ۴ در ۴ ٨ ميٹر ( بدون ستون ) معماری کی بے شمار خصوصيات کے ساته بنائی گئی جو آج حرم مطہر کی خوبصورت و عمدہ عمارت ميں شمار ہوتی ہے ۔

مسجد طباطبائی

مسجد طباطبائی کی گنبد پچاس ستونی ہے جو قدیم زمانے ميں صحن کی جگہ روضہ مطہر کے جنوبی حصے ميں بنائی گئی ہے یہ گنبد بيچ ميں چوڑائی کے اعتبار سے ١٧ ، اور بلندی کے لحاظ سے ١٧ ميٹر ہے ۔ جس کی مساحت ميں اضافہ ہونے کی وجہ سے اس کے ٢ ۴ ميٹر ہے ۔ اس مسجد ميں بشکل مثلث رواق ہيں جس کے نچلے / ٢ ۴ در ٢٠ / اطراف ٨٠ ٣ کی / حصے ١ ۵ / ميٹر ہےں ۔ اس کے گنبد کو اینٹوں کی بنياد پر ٢ در ٢ ، ميٹر کے قطر ٣٠ بلندی ميں بنایا گيا ہے ۔ پھر تمام بنيادوں کو نيچے سے تراشا گيا اور ستونوں کے چاروں گوشے سے ایک ستون ( بہت اچھے مسالے کی مدد سے جس ميں سيمنٹ ، چهڑ ، لوہا و غيرہ مخلوط تھا ) اوپر لایا گيا پھر اندر سے ان چاروں ستونوں کو یکجا کر دیا گيا ۔ اور اس طرح یہ عظيم گنبد ٣٢ سے ۴ ٠ ۔ ستونوں پر بر قرار ہوا ان ستونوں کے اوپر جن پر سيمنٹ تھی مشينوں سے تراشے ہوئے سنگ مر مر چوڑائی ميں دس اور بلندی ميں پچاس سينٹی ميٹر تک مزین کئے گئے ۔ اس طرح سب کے سب ستون سنگ مر مر کے لباس سے مزین ہو گئے اور اس گنبد کے ستونوں کے نيچے مدرجی شکل ميں بُرُنز ( ایک فلز جو سونے کی طرح ہوتا ہے ) سے صيقل کرکے اس کی زیبائی ميں ایسا اضافہ کيا گيا کہ اس ميں چار چاند لگ گئے ۔ اس بلند گنبد کے ستونوں کی تعداد رواق اور اطراف کے ستونوں کو ملا کر پچاس ستونوں تک پہنچتی ہے ۔ اس بلند و بالا اور با عظمت مسجد کے بانی حجة الاسلام جناب محمد طباطبائی فرزند آیة الله حسين قمی ہيں ۔ اس عمارت ميں تقریباً ١٠ سال صرف ہوئے ۔ (

١٣ ۶ ٠ ء ه سے لے کر ١٣٧٠ ء ه تک ( اس مکان مقدس کے شمال غربی علاقے ميں بزرگ علماء و شہدا کی قبریں ہيں مثلا آیة الله ربانی شيرازی ، شہيد ربانی املشی ، شہيد محمد منتظری ، شہيد آیة الله قدوسی ، شہيد محلاتی جس نے اس مکان مقدس کی معنویات ميں اور اضافہ کردیا ۔

مسجد اعظم

لمسجد اسس علی التقوی من اول یوم احق ان تقوم فيه “ با عظمت دینی آثار ميں سے ایک عظيم اثر مسجد اعظم ہے جو عالم تشيع علی الاطلاق مرجع تقليد آیة الله العظمیٰ بروجردی قدس سرہ کی بلند ہمتی کا ثمرہ ہے ۔ یہ مسجد حضرت فاطمہ معصومہ سلام الله عليہا کے حرم کے نزدیک زائروں کی آسانی کے لئے بنائی گئی ہے ۔ یہ بلند و بالا عمارت آستانہ رفيع فاطمی کے کنارے ایک فرد فرید مسجد ہے ۔

____________________

١ ۔ آیة الله العظمیٰ فاضل لنکرانی


١١ / ذیقعدہ ١٣٧٣ ء ہجری روز ولادت با سعادت حضرت علی بن موسیٰ الرضا عليہما السلام کو ایک خاص جاہ و حشم کے ساته اس مسجد کی بنياد رکهی گئی ۔

مسجد کا معماری خاکہ :

مسجد کی مجموعی مساحت تقریبا ١٢٠٠ مربع ميٹر ہے ۔ پوری عمارت محکم مسالوں ( جس ميں سيمنٹ چھوٹے چھوٹے پتهر ، لوہے کے چهڑ و غيرہ استعمال کئے گئے ہيں ) سے بنائی گئی لہٰذایہ مسجد از نظر استحکام اسلامی عمارتوں ميں کم نظير شمار ہوتی ہے ۔ مسجد ميں چار شبستان ( حال ) ہيں جس ميں گنبد کے نيچے والے شبستان کی مساحت ۴ ٠ مربع ميٹر اور اس کے دونوں طرف ہر شبستان کی مساحت ٩٠ مربع ميٹر ہے ۔ نيز مسجد کے شمالی حصے ميں گهڑی کے نيچے ایک شبستان ہے جس کی مساحت ٣٠٠ مربع ميٹر ہے ۔ تمام شبستانوں کی چهتوں کی بلندی اس کی سطح سے تقریبا ١٠ ميٹر ہے ۔ مسجد کے غربی حصے ميں بيت الخلاء اور مسجد کا وضو خانہ ہے نيز خادموں کے لئے ایک حال بنام “ آسائشگاہ ” ہے ۔ اسی طرح مسجد کے غربی حصے ميں ایک لائبریری بنائی گئی ہے ۔ جس ميں دو حال ہيں ۔ ایک مطالعہ کے لئے اور دوسرا حال کتابوں کا مخزن ہے ۔ لائبریری ميں داخل ہونے کا راستہ مسجد اعظم ميں داخل ہونے والی راہرو سے ہے ۔

اس مسجد ميں ایک بڑا سا صحن ہے جس ميں وارد ہو نے کے متعدد دروازے ہيں ۔ صحن ميں ایک خوبصورت حوض ہے جس نے اس مکان مقدس کو خوش منظر بنا دیا ہے ۔ مسجد اسلامی معماری کی روش پر بنی ہے ۔

اس مسجد ميں ایک بڑا سا گنبد ہے جس کا قطر ٣٠ مربع ميٹر اور بلندی سطح بام سے ١ ۵ مربع ميٹر ہے اور شبستان سے اس کی بلندی ٣ ۵ مربع ميٹر ہے اس کے بلند وبالا گلدستے سطح بام سے ٢ ۵ مربع ميٹر اور سطح زمين سے ۴۵ مربع ميٹر ہيں اسی طرح گهنٹی بجنے والی خوبصورت گهڑی پر ایک چھوٹا سے گنبد ہے جو چاروں طرف سے دکهائی دیتا ہے یہ مسجد تزین اور کاشی کاری کے اعتبار سے آخری صدی ميں اسلامی ہنر کا ایک عظيم نمونہ شمار ہوتی ہے۔

اب یہ مقدس مکان محققين کی تحصيل کے لئے ایک مناسب ترین مکان ہوگيا ہے کيونکہ ایام تحصيلی ميں اکثر و بيشتر مراجع تقليد اسی مقدس مکان ميں درس دیتے ہيں اور طلاب و فضلاء کی کثير تعداد ان کے علمی فيوض سے بہرہ مند ہوتی ہيں ۔ اسی طرح مختلف مذہبی پروگرام جو مسجد کی شان ہے بڑی شان و شوکت کے ساته برپا ہوتے ہيں ۔

٧ ( حرم مطہر کے صحن نو ( اتابکی ))

صحن نو ایک وسيع و خوش منظر و قابل دید بنا ہے جس نے اپنی خاص معنویت کے ذریعہ بارگاہ فاطمی کی جلالت و عظمت ميں اضافہ کردیا ہے یہ خوبصورت صحن چار ایوانوں شمالی جنوبی شرقی غربی پر مشتمل ہے ۔ اس کا شمالی ایوان آستانے کے ميدان کی طرف سے وارد ہونے کا راستہ ہے ۔ اور جنوبی ایوان خيابان موزہ ( ميوزیم روڈ ) سے وارد ہونے کا راستہ ہے ۔ اور شرقی ایوان خيابان ارم ( ارم روڈ ) سے وارد ہونے کا راستہ ہے ۔ ان تمام ایوانوں ميں ہنری و معماری کے ظریف آثار ہر فنکار وہنر شناس کی نگاہوں کو اپنی طرف کهينچ ليتے ہيں ۔

وہيں غربی ایوان طلا ہے جو صحن نو سے روضہ مقدسہ ميں داخل ہونے کا راستہ ہے ۔ ان با جلالت ایوانوں ( خصوصا ایوان آئينہ ) کے وجود اور صحن مطہر کے وسط ميں بيضوی شکل کے حوض ( جس کی اپنی خاص خصوصيت ہے ) نے اس مقدس مکان کی زیبائی ميں چار چاند لگا دیا ۔

یہ صحن مرزا علی اصغر خان صدر اعظم کے آثار ميں ہے ۔ جس کا تعميری کام ٨/ سال کے طویل عرصے تک چلا۔ ( ١٢٩ ۵ ه سے ١٣٠٣ ه ) اس صحن ميں بہت سارے علماء کی قبریں ہيں ۔ مثلا مشروطيت کے زمانے ميں شہيد ہونے والے بزرگوار آیة الله شيخ فضل الله نور شہيد آیة الله مفتح ، بزرگ عالم شيعہ قطب الدین راوندی ۔ حضرت فاطمہ معصومہ سلام الله عليہا کے زائروں کے لئے سزاوار ہے کہ ان راہ امامت و ولایت کے فداکاروں کی زیارت سے مشرف ہوں اوران کی زیارت سے کبهی غافل نہ ہوں ۔

صحن عتيق ( صحن قديم)

صحن عتيق جو روضہ مبارکہ کے شمال ميں واقع ہے وہ ایک سب سے پہلی عمارت ہے جو قبہ مبارکہ پر بنائی گئی ہے۔

اس صحن کو تين خوبصورت ایوان اپنے گهيرے ميں لئے ہوئے ہيں ایک وہ با عظمت ایوان جو جنوب ميں واقع ہے جو وہی ایوان طلا ہے جو روضہ مطہر سے صحن ميں وارد ہونے کا راستہ ہے ۔ ایوان غربی جو صحن سے مسجد اعظم ميں وارد ہونے کا راستہ ہے ۔ مشرقی دالان صحن عتيق سے صحن نو ميں وارد ہونے کا راستہ ہے ، یہ صحن چھوٹا ہونے کے باوجود باجلالت ایوانوں اور متعدد حجروں کی وجہ سے ایک خاص خوبصورتی کا حامل ہے ۔ اس صحن اور اس کے اطراف کے ایوانوں کو شاہ بيگی بيگم دختر شاہ اسماعيل صفوی نے ٩٢ ۵ هء ميں بنوایا تھا۔

یہ آستانہ مقدسہ حضرت معصومہ عليہا السلام کے ہنری و معماری آثار کا ایک مختصر خاکہ تھا ۔ اسلامی ہنری مندوں کے لئے مناسب ہے کہ اس بلند و بالا عمارت کو جس ميں ہنرکے خزانے پوشيدہ ہيں نزدیک سے دیکھيں اور اس کے موجد وں کو داد وتحسين سے نوازیں ۔


حرم کے ستارے

بعض مشہور شخصيتيں جو حرم مطہر ميں دفن ہيں :

مسجد اعظم

آیت الله العظمیٰ سيد حسين طبا طبائی بروجردی

مسجد بالا سر

آیت الله العظمیٰ شيخ عبد الکریم حائری یزدی حجة الاسلام حکيم

آیت الله العظمیٰ سيد محمد تقی خوانساری علامہ طباطبائی

آیت الله العظمیٰ سيد صدر الدین صدر آیت الله ميرزا ہاشم آملی

آیت الله العظمیٰ سيد محمد رضا گلپائگانی آیت الله محمد تقی بافقی

آیت الله العظمیٰ شيخ محمد علی اراکی آیت الله شہيد مطہری

آیت الله العظمیٰ سيد محمد علی بہاء الدینی آیت الله عبد النبی عراقی

آیت الله العظمیٰ سيد احمد خوانساری آیت الله پسندیدہ

آیت الله مرتضیٰ حائری آیت الله شيخ ابوالقاسم قمی

آیت الله سيد مصطفی خوانساری آیت الله سيد محمد انگجی

آیت الله حاج آقا روح الله کمالوند آیت الله سيد عباس مہری

حجة الاسلام و المسلمين اشراقی

مسجد طباطبائی

حجة الاسلام مولائی ( سابق متولی حرم ) شہيد آیت الله ربانی شيرازی

شہيد آیت الله ربانی املشی شہيد حجة الاسلام محمد منتظری

شہيد حجة الاسلام فضل الله محلاتی آیت الله وجدانی

شہيد حجة الاسلام موسوی دامغانی شہيد آیت الله قدسی

شہيد حجة الاسلام عباس شيرازی

صحن بزرگ ( اتابکی(

) آیت الله شيخ فضل الله نوری ( حجرہ ، ۴ ١ ) آیت الله محقق داماد ( حجرہ ، ۴ ١

) شہيد حاج مہدی عراقی )حجرہ ، ۴ ٣ ) حجة الاسلام کوثری ( حجرہ ، ۴ ٣

) شہيد سر لشکر قرنی ( حجرہ ، ٣٧ ) آیت الله سيد رضا صدر ( حجرہ ، ٣١

) آیت الله سيد احمد زنجانی )حجرہ ، ٣١ ) شہيد آیت الله مفتح ( حجرہ ، ٢ ۴

شہيد محمد جواد یالمہ ( حجرہ ، ٢ ۴ ) قطب راوندی( صحن اتابکی(

) حجة الاسلام شيخ حسن نوری( حجرہ ، ٣) شاعر پروین اعتصامی( حجرہ ، ١

) حجة الاسلام سيد عزیز طباطبائی ( حجرہ ، ١ ۴

صحن عتيق

) آیت الله فيض قمی( ایوان طلا) مقبرہ خدام آستانہ مقدس ( حجرہ ، ١و ١١

) عارف فرزانہ حاج اسماعيل دولابی( حجرہ ، ٢

نوٹ: جن بزرگوں کے نام یہاں پر ذکر کئے گئے ہيں ان کے علاوہ اور بهی شخصيتيں ہيں

جو حرم مطہر حضرت معصومہ عليہا السلام ميں دفن ہيں ۔

حرم مطہر ميں منعقد ہونے والے پروگرام

نماز جماعت:

نماز صبح :۔ پہلی جماعت ۔ آیة الله صلواتی دامت برکاتہ کی اقتدا ميں

دوسری جماعت ۔ آیة الله شبيری زنجانی دامت برکاتہ کی اقتدا ميں

نماز ظہر و عصر:۔

حرم مطہرم ميں آیة الله اشتہاردی کی اقتدا ميں

مسجد اعظم ميں آیة الله سبحانی دامت برکاتہ کی اقتدا ميں

مغرب عشاء:۔

حرم مطہرميں آیة الله شبيری زنجانی دامت برکاتہ کی اقتدا ميں

مسجد اعظم ميں آیة الله امينی دامت برکاتہ کی اقتدا ميں

دوسرے پروگرام

احکام شرعی کا بيان:۔ہر روز آدها گهنٹہ نماز مغرب سے پہلے

ختم قرآن :۔ہر روز نماز ظہر و عصر کے بعد

پيام حرم :۔ہر پنجشنبہ و جمعہ کو شعراء سے شروع ہو کر خطبا ء پر ختم ہو تا ہے ۔

دعائے توسل:۔ہر چہار شنبہ کی شب ميں نماز مغرب و عشاء کے فوراًبعد۔

شبی با قرآن :۔ہر چہار شنبہ ميں مختلف قرّا کی موجودگی ميں نماز مغربين کے فوراًبعد ۔

دعائے کميل :۔ہر شب جمعہ بعد از نماز مغربين۔

دعائے ندبہ :۔ہر روز جمعہ ہنگام طلوع آفتاب

زیارت جامعہ کبيرہ :۔ہر شب جمعہ دس بجے

ان کے علاوہ حرم مطہر کے خدّام کا ہرروز صبح ساڑهے سات بجے وشام ٧/بجے اپنا

مخصوص پروگرام ضریح مطہر کے سامنے منعقد ہوتا ہے ۔

حرم مطہر کے دفتری امور

حضرت فاطمہ معصومہ “سلام الله عليہا”کی ملکوتی بارگاہ آپ کے دفن ہونے کے دن (دس ربيع الثانی ٢٠١ هء)سے آج تک ائمہ اطہار و بزرگان دین و تمام مواليان اہلبيت (س) کے لئے مرکز احترام ٹهہری ہے ،اس بارگاہ کی ہر طرح کی خدمت خدام کے لئے ایک فخر کی بات ہے ۔ حرم مطہر کے دفتری امور ہر زمانے ميں اسی وقت کے متولی کی مصلحت اندیشی کے مطابق مختلف رہے ہيں ۔

ليکن ان امور ميں جس قدر ترقی حضرت آیة الله حاج شيخ علی اکبر مسعودی خمينی کے متولی ہو نے کے بعد جنهيں رہبر معظم نے اس عہدہ کے لئے انتخاب کيا دیکھنے ميں آئيں وہ واقعاًقابل داد و تحسين ہيں ۔

لہٰذا اس مقام پر ہم چاہتے ہيں کہ قارئين کی خدمت ميں ان دفتری امور کا ایک مختصر خاکہ پيش کریں ۔

مال و متاع سے متعلق دفتر:۔

اس ادارے کی ذمہ داریاں کا فی اہم ہيں ہر طرح کے مالی امور کے فرائض اسی دفتر ميں انجام دیئے جاتے ہيں ۔

حساب و کتاب کا دفتر:۔

اس ادارے کا کام چار حصوں پر مشتمل ہے ۔

١) دستاویز کا جاری کرنا

٢)دستا ویز کے تحقيقی امور کا انجام دینا

٣) انهيں رکارڈ ميں رکهنا

۴) انهيں ایک خاص روش پر منظم کرنا اور انهيں نئے حساب وکتاب کے آلات سے منظم کرنا،

جمع اور خرچ کا دفتر:۔

یہ ادارہ چار شعبوں پر مشتمل ہے جن کے اسماء اس طرح ہيں ۔

١(ہدایا ونذورات

٢) دایرہ وصول

٣) واحد بودجہ و اعتبارات

۴) واحد در آمد۔

سرمايہ کی حفاظت کا دفتر:۔

اس ادارہ پر تمام اموال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے جيسے حرم سے متعلق تمام عمارتوں اور اسٹور ميں رکهی تمام اشياء پر دقيق نظارت ۔ حرم کے تمام متاع کو آئين نامہ کے مطابق تدوین کرنا اور ان اشيا ء سے مربوط دفاتر ميں رجسٹر ڈ کرانا ۔اشياء پر ان کا کوڈ لکه کر حرم مطہر کے دفتر اموال کے سپرد کرنا۔

خادموں سے متعلق دفتر:۔

یہ ادارہ حر م مطہرکی ایک خاص خدمت کرتا ہے جيسے حرم کی مخصوص ضرورتوں کو مہيا کرنا خدّام کی تنخواہ مقرر کرنا انہيں انعامات سے نوازنا۔ ان سے متعلق امور کی چهان بين کرنا خدام کی مشکلات کو حل کرنا ،تمام چيزوں کو حرم کے مخصوص قانون اور ملک کے عمومی قانون کے مطابق کرنا ۔

تعميری امور سے متعلق ادارہ :۔

یہ ادارہ حرم کے اندر تمام چھوٹے بڑے تعميری کام کو انجام دیتا ہے ۔

بعض وہ امور جنهيں ادارے نے گزشتہ قریب ميں انجام دیا ہے مندرجہ ذیل ہيں : صحن بزرگ کے تعميری کام ،تمام ایوانوں کی مرمت خاص کر ایوان آئينہ ،صحن عتيق،حجروں کے اندرونی حصوں اور چهتوں کی مرمت ،مقبروں کی مرمت ۔

اسی طرح ضریح بنوانا روشن دانوں کی مرمت ،گنبد کے سونے کی تبدیلی اس ادارے کی نا قابل فراموش کار کردگياں ہيں ۔

مشينری دفتر :۔

یہ ادارہ مختلف شعبوں پر مشتمل ہے حرم کے تمام برقی امور کی ذمہ داریاں اسی ادارے کے سپرد ہيں حرم کے تمام سردی و گرمی کے سيسٹم اسی ادارے کے سپرد ہيں صاف پانی کا تہيہ کرنا اور اس طرح کے تمام امور اس ادارے کے ذمّہ ہيں ،برق چلے جانے کے بعد جنليٹر کے ذریعے بجلی کی سپلائی اسی ادارے کی ذمہ داری ہے ۔

سکريٹری:۔

یہ ادارہ حرم کے تمام دفتری مکتوباب اور دستاویز کو ضبط و ثبت کرتا ہے اور انهيں نئے آلات ميں ریکارڈ کرتا ہے۔

حرم کے وسائل سے متعلق ادارہ:۔

اس ادارہ کی ذمہ داریاں ہر ان چيزوں کو مہيہ کرنا جن کی ضرورت حرم کے مہمان سرا اور دوسرے شعبوں کو ہے ، حرم مطہر ميں خدمت کرنے والے افراد کی مشکلات کا حل بهی یہی ادارہ کرتا ہے مخصوص افراد کو تحائف سے نوازنا قرض الحسنہ دینا اور اسی طرح کی دوسری امداد اور کهانے کے ٹوکن کی تقيم کرنا۔

تمام املاک کی نظارت کا دفتر:۔

یہ ادارہ مختلف شعبوں پر تقسيم ہوتا ہے موقافات کے سلسلے کے ضروری امور کی انجام دہی شہری ملکيت ،زراعتی ملکيت ميں ضروری اقدامات اٹهانا۔

ہيلته سينٹر:۔

اس ادارے کے تحت نظر مختلف ہسپتال ہيں جن ميں ایک ہسپتال شہر جعفریہ ميں واقع ہے اور ایک کلينک حضرت معصومہ کے نام سے منصوب ہے جو حرم ہی سے متصل ہے۔صحت و سلامتی کے ضروری دستورات بهی اسی ادارے کی ذمہ داریاں ہيں ۔

نشر و اشاعت کا دفترة۔

تمام تبليغی اور تحقيقی امور اسی ادارے کی ذمہ داری ہے کتب خانوں کی تاسيس اور کتابوں کی نشر و اشاعت بهی اسی ادارے کی ذمہ داری ہے ۔حرم کے زائرین کے لئے ہرطرح کی شہولت فراہم کرتا ہے۔

١٣٨ ۴ ئه ش سے شورای فرہنگی نامی ادارہ قائم ہوا ہے اس کے بعد ١٣٨ ۵ ئه ش ميں معاونت فرہنگی نامی ادارہ کی تاسيس ہوئی ۔

آرٹ سے متعلق دفتر:۔

ان تمام امور کی نگہداری اور انهيں ان کی اور انهيں اپنی حالت پر باقی رکهنا اس ادارے کی ذمہ داریاں ہيں ۔

ميوزیم:۔

اس ميوزیم ميں تمام آثار قدیمہ کی حفاظت کی جاتی ہے جو چند شعبوں پر مشتمل ہے ۔

خطی قرآن ، ظروف سفال (مٹی کا ایک قسم کا برتن) کاشی کاری ، قيمتی اشياء کی حفظ و نگہداری ۔

بين المللی دفتر۔

دور دراز سے آئے ہوئے زائرین کا استقبال ان کی رہنمائی کرنا اس ادارے کی ذمہ داری ۔ تمام مکتوباتی اور ارتبابات ، ملک سے باہر کتاب کا بهيجنا اور حرم سے مخصوص سائٹ کی تنظيم کرنا اس ادارے کی اہم ذمہ داریوں ميں سے ایک ہے ۔ : (( www.masoumeh.com سائٹ کا ایڈریس

حرم مطہر کا مرکزی دفتر:۔

اس ادارے کی مختلف ذمہ داریاں ہيں ہر طرح کا نظم برقرار کرنا ۔ کفش داریوں ( جوتا چپل رکهنے کی جگہ) کے سلسلے ميں ضروری اقدامات اٹهانا ، امانت کے طور پر رکهے گئے سامان کے رکهنے کی جگہ کے سلسلے ميں کوشاں رہنا ۔اسی حرم کے تمام دفاتر سے مربوط رہنا اس ادارے کی ذمہ داریاں ہيں ۔

اقتصاديات کا دفتر:۔

یہ ادارہ اقتصادی امور کا نگراں ہے جو مجموعا پانچ شعبوں پر مشتمل ہے: زراعت کے امور، بنجر زمينوں کے سلسلے ميں خصوصی اقدامات اٹهانا۔ نشر و اشاعت کے امور اسی طرح کے تعميری امور اس ادارے کے ذمہ ہيں ۔جن کا مختصر خاکہ قارئين کی خدمت ميں پيش کرتے ہيں :

کهيتی باڑی اور جانوروں نگہداری کا شعبہ۔

کهيتی باڑی کے مخصوص اصول اور اس فن کے ماہرین سے بنجر زمينوں کے احياء کے لئے مدد حاصل کرنا اسی طرح فصل کی زیادتی کے سلسلے ميں ضروری اقدامات اٹهانا جو ملکيت جعفر آباد ، مزرعہ عصمتيہ ، واليجرد، شریف آباد ، علی آبادسراجہ اور چہار دانگہ سيرو ميں واقع ہے۔

جعفر آباد کی زمين :۔

یہ ملکيت موسسہ زائر کے تحت نظر زمينوں ميں ایک وسيع زمين ہے ،جگہ کے لحاظ سے بہت ہی ممتاز ہے کيونکہ کهيتی باڑی اور جانوروں کی نگہداری کے لئے کا فی مناسب ہے۔

ادارہ ہر طرح سے نظارت کے فرائض انجام دیتا ہے چاہے وہاں کام کرنے والے ۵ ٢ /کسا ئی کی کار کردگی ہو یا وہاں ضرورت کی چيزوں کو وقت پر مہيہ کرنا ہو ۔

اس کے علاوہ بهی ادارہ کی کار کردگی نا قابل فراموش ہے جيسے پستہ انگور وانار کے باغات لگانا اور ان کی بہتری کے لئے ہر طرح کی جدید معلومات حاصل کرنا ۔

اگر آپ اس زمين کو غائرانہ نظر سے دیکھيں تو آپ کو بہ خوبی احساس ہو گا کہ یہاں پر ادارہ نے تمام ان چيزوں کی رعایت کی ہے جسے اس فن کی ماہرین نے بتایا ہے ۔

اس زمين پر چار گہرے کنوئيں اور ایک دوز نالی ہے جو اس ١١٠ /هيکٹر زمين کو پانی فراہم کرتے ہيں ۔

مزرعہ عصمتيہ :۔

بہترین استعداد کی حامل یہ زمين کهيتی باڑی ،جانوروں کی نگہداری اور صنعتی امور کے لئے کافی ناسب ہے ليکن پانی کی کمی کی وجہ سے اس جگہ کهيتی کرنا کافی سخت ہے ۔

ان تمام مشکلات کے باوجود قابل دادو تحسين ہيں مزرعہ عصمتيہ کے عہدیداران جن کی غير معمولی سعی وکوشش کے نتيجے ميں یہ زمين کافی نفع بخش ثابت ہوئی ۔

اہم کار کردگی :۔

١۔پستہ و انگور کے باغ لگانا ٢۔مختلف قسم کی اناج اور دوسرے اشياء کی زراعت ٣۔ ۵ ٠٠٠ /ہزار گوسفند اور ١٠٠٠ /گائے کی نگہداری

موقوفہ واليجرد :۔

اس منطقہ کا شمار قم کے قناتی علاقے ميں ہوتا تھا یہ پورا وقف ١٢٠ /هيکٹر زمين اور دو قسم کے ٹيوب ویل (جس ميں ایک اليکٹریک اور دوسرا ڈیزل سے چلتا ہے )پر مشتمل ہے: یہاں پر بهی ایک بيس هيکٹر کا باغ لگایا گيا اور مختلف اقسام کی زراعت ہو تی ہے ۔

موقوفہ شريف آباد :۔

یہ وقف کی زمين قم کے شمال ميں واقع ہے اس کی مساحت ٢ ۵ ٠ / ہيکٹر ہے۔ اس جگہ پر بهی پستہ کا ایک وسيع باغ لگایا گيا ہے جس کی مساحت ٧٢ /ہيکٹر ہے دوسرے اوقاف کی طرح یہاں پر بهی مختلف انواع و اقسام کی زراعت ہوتی ہے۔

علی آباد سراجہ

اس زمين کی مساحت ٢٧٠ /ہيکٹر ہے جس ميں تين گہرے کنویں ہيں شہر قم کے جنوب ميں پچيس کلوميٹر پر واقع ہے زمين کے زمين کے نمکذار اور بلندی کی وجہ سے یہاں کی زراعت کافی متاثر ہے اسی وجہ سے یہاں زراعت کے امور تدریجا انجام دیئے جاتے ہيں ۔ اس جگہ پر بهی ایک پستہ کا باغ لگایا ہے جس کی مساحت ١٠٠ /ہيکٹر ہے ۔ مختلف انواع کی زراعت بهی یہاں ہوتی ہے۔

چہار دانگہ سيرو

۵ ٠ /ہيکٹر پر مشتمل یہ نا ہموار زمين قم کے جنوب ميں واقع ہے یہاں پر پستہ و زرد آلو و بادام اور انگور کے باغات لگائے گئے ہيں جس کی مساحت ۵ ٠ /ہيکٹر ہے۔

بخش فنی و عمرانی

اس ادارے کی ذمہ داریاں حرم سے باہر ،حرم کی تمام ملکيت کا تعميری کام کرانا اور اس کے علاوہ وہ دوسرے تمام امور کو انجام دینا جو ضروری ہيں ۔

بخش فرہنگی و انتشاراتی

یہ شعبہ چاپ و نشر کے فرائض انجام دیتا ہے۔ اس شعبہ کی اہم کارکرگی ذیل ہيں ۔ ١۔ کتاب کی نشر و اشاعت

٢۔ صحافت

٣۔ کتابوں کے اسٹال

بخش بازرگانی

یہ شعبہ کتابوں اور دوسری اشياء جو حرم کی جانب سے ہوتی ہيں انهيں فروخت کرتا ہے ۔

امور شرکت ها

چوں کہ بعض کمپنيوں ميں حرم مطہربهی شریک (سہم رکهتا) ہے اسی وجہ سے یہ شعبہ وجود ميں آیا تاکہ اس سلسلے کے تمام امور اچھے طریقہ سے انجام پا سکے ۔


حرم مطہر کے دفاتر کے فون نمبر:۔

دفتر متولی محترم : ۶ ۔ ٧٧ ۴ ١ ۴ ٣ ۴

نمابر آستانہ: ٧٧ ۴ ١ ۴ ٣ ۵

دفتر معاون محترم : ٧٧١ ۴ ٣٧

امور بين الملل : ٧٧ ۴ ١ ۴۴ ١

مدیریت حرم: ٧٧ ۴ ٣٠ ۵ ٧

دفتر انتظامات صحن حرم : ٧٧ ۴ ١ ۴ ٨٧

مسجد اعظم: ٧٧ ۵۵ ٨٨٠

دفتر مدیر نظافت: ٧٧ ۴ ١ ۴ ٣٩

ميوزیم: ٧٧ ۴ ١ ۴ ٩١

کتب خانہ: ٧٧ ۴ ١ ۴۴ ٠

پيام آستانہ: ٢٩٢ ۴۴۴ ٨

دفترمجلہ کوثر: ٧٧٣ ۵۴ ٧٨

موسسہ زائر: ٢٠ ۔ ٩٣٧٣١ ۶

کتاب فروشی: ٧٧ ۴ ٢ ۵ ١٩

ہوٹل قم: ١ ۵ ۔ ٧٧١٩٨٠٨

ادارہ املاک: ٧٧ ۴ ١ ۴ ٨٩

معاونت فرہنگی: ٧٧٣ ۵ ٢٢ ۵

بعض قابل دید اماکن کا تعارف

بيت النور:۔

ميدان مير ( ۴۵ ميتری عمار یاسر) ميں ایک عزاخانہ اور مدرسہ ستيہ نامی واقع ہے جو حضرت فاطمہ معصومہ کی حيات طيبہ ميں موسی بن خزرج کا مکان تھا ۔حضرت معصومہ نے اسی جگہ اپنی زندگی کے باقی پر برکت دن یاد خدا ميں بسر کيا۔

منزل امام خمينی:۔

یہ قابل دید جگہ محلہ یخچال قاضی خيابان معلم قم ميں واقع ہے ،یہ دو منزلہ عمارت تہہ خانہ پر مشتمل ہے عمارت کے جنوبی حصہ ميں صحن واقع ہے مکان کا نقشہ اس طرح ہے کہ وہاں واقع دو سيڑهيوں نے مکان کو دو اندرونی و بيرونی حصوں ميں تقسيم کر دیا ہے ۔ عمارت کے شرق ميں موجودہ کمرہ مراجع کرام و امام خمينی کے مخصوص جلسوں کے کام آتا تھا ۔ عمارت کی ظاہری حالت دیکھ کر اس بات کا اندازہ باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی تعمير اس قرن کے اوائل ميں ہوئی تھی۔

اس گھر کو امام خمينی نے ١٣٣ ۵ ء ه ش ميں خرادا اور ١٣ ۴۵ ئه ش تک آپ کا یہ گھر تھا ليکن پہلوی حکومت نے جس وقت آپ کو در بدر کيا یہ گھر دفتر بن گيا۔

آج بهی یہ جگہ آپ کی یاد ميں باقی رکهی گئی ہے جہاں روز آنہ بہت سے لوگ دور دور سے اس کو دیکھنے کے لئے آتے ہيں ۔

مدرسہ فيضيہ :۔

مدارس کی دنيا کا ایک مشہور ترین مدرسہ ہے تيرهویں قرن کے نصف اول ميں یہ مبارک مدرسہ مدرسہ آستانہ کا جاگزیں بنا۔

معتبر متون تاریخی کے مطابق یہ مدرسہ چهٹے قرن (ہجری قمری) کے اواسط ميں موجود تھا ، دو طبقوں پر مشتمل یہ مدرسہ جس کے نيچے کے چاليس کمرے عصر قاچار سے تعلق رکهتے ہيں ۔ اوپری چاليس کمروں کی تعمير چودهویں قرن (ہجری قمری) ميں حضرت آیة الله العظمیٰ شيخ عبد الکریم حائری کی انتهک کوششوں کا نتيجہ ہے۔ مدرسہ کا سب پرانہ حصہ مدرسہ کے جنوبی ایوان ميں جو ٩٢٩ ئه ق خوبصورت کاشی کاری سے مزین تھے ۔مدرسہ حرم سے اتنا قریب ہے کہ حرم مطہر کے صحن عتيق کا دروازہ مدرسہ فيضيہ کی جانب سے ہے۔

مسجد جامع:۔

شہر قم کی دو ایوانی مساجد ميں سے ایک ہے جو بشکل مربع و مستطيل تعمير ہوئی ہے اس کے گنبد خانوں کا باہم متوازن اتصال چهٹے قرن (ہجری قمری) سے تعلق رکهتا ہے۔

مسجد امام حسن عسکری کے بعد یہ مسجد قم کی سب سے قدیمی مسجد ہے متون تاریخی کے مطابق اس کے گنبد کی تعمير ۵ ٢٩ هء ق ميں ہوئی جو فتح علی شاہ کا زمانہ تھا ۔ اس بات کی تصدیق مسجد کے کتيبوں سے ہوتی ہے ۔

ليکن مسجد کا جنوبی ایوان اور گنبد کی رنگ کاری کا تعلق صفوی دور سے ہے ۔ مسجد کا شمالی ایوان اور شرق و غرب ميں واقع شبستان عصر قاچار کے شاہکار ہيں ۔

مسجد امام حسن عسکری (س):۔

مرکز شہر ميں حرم کے ابتدائی سڑک رودخانہ کے پہلو ميں واقع ہے مسجد کافی وسيع ہے یہ مسجد امام حسن عسکری عليہ السلام سے منسوب ہے ۔ تيسرے قرن ہجری ميں امام حسن عسکری (س) کے وکيل نے امام کے حکم سے اس مسجد کی تعمير کروائی ، یہ مسجد عظيم خصوصيات کی حامل ہے اس مسجد ميں آیة الله محمد تقی خوانساری کا درس بهی ہوتا تھا ، جس درس ميں امام خمينی و آیة الله اراکی جيسی شخصيت شرکت فرماتی تھيں ۔

آج بهی اس عظيم الشان مسجد ميں مستقل نماز جماعت اور مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہيں ۔ ١٣٧٧ ئه ش سے اس مسجد ميں پھر سے تعميری کام شروع کيا گيا ہے دوسری زمين کا بهی مسجد ميں اضافہ کيا گيا ہے ۔ جس کی وجہ سے اب ہزاروں افراد ایک وقت ميں مسجد سے شرفياب ہو سکتے ہيں ۔

حرم مطہر کا ميوزيم:۔

یہ ميوزیم روئے زمين کے عظيم خزانوں پر مشتمل ہے ميوزیم بننے سے پہلے وقف و ہدئے کی چيزوں کی خزانہ نامی جگہ پررکهی جاتی تھيں ليکن اشياء کی حفاظت نے متولی حضرات کی نظر ميوزیم کی طرف مبزول کرائی۔

اسی وجہ سے آبان ماہ (شمسی مہينہ ) ١٣١ ۴ ئه ش ميں ميوزیم بنایاگيا جو ١٣ ۴ ٣ ئه شمسی تک باقی رہا اس کے بعد ان تمام نایاب کم نظير آثارکی حرم ہی سے ملحق ایک عمارت ميں نمائش لگائی گئی یہاں تک کہ اس ١٣٧٠ ئه ش ميں ایک مخصوص عمارت ميوزیم کے لئے آمادہ کی گئی اس عمارت کے بعد ميوزیم کو ایک حيات نو حاصل ہو ئی ١٩ /تير ١٣٧٢ ئه ش سے اعلیٰ پيمانے پر ميوزیم کا آغاز ہوا اس جدید یہ عمارت کی مساحت ایک ہزار ميٹر بشکل مربع ہے دو طبقہ اس عمارت کو چند شعبوں ميں تقسيم کيا گيا ہے ایک شعبہ نمائش کا ہے ایک شعبہ کا تعلق ميوزیم کے دفتری امور سے ہے اسی عمارت ميں ایک شعبہ بنایا گيا ہے جس کا کام ميوزیم کی موجودہ اشياء کی ہر طرح سے حفاظت ہے یہ عمارت حرم مطہر سے ملحق ایک وسيع ميدان ميں واقع ہے جسے ميدان آستانہ کہا جاتا ہے۔

مسجد جمکران:۔

حسن بن مثلہ بيان کرتے ہيں : سہ شنبہ بتاریخ ١٧ /رمضان المبارک ٢٩٣ هء آدهی رات گزر چکی تھی ميں اپنے غریب خانہ ميں محو خواب تھا اسی اثنا مجهے ایک جماعت نے یہ کہہ کر اٹهایا کہ تمهيں امام زمانہ نے یاد کيا ہے۔ ميں خو کو آمادہ کرکے دروازہ پر پہنچا اور ان نورانی ہستيوں کو سلام کيا ان لوگوں نے ميرے سلام کا جواب دیا پھر ميں ان کے ہمراہ اس جگہ پر پہنچا جہاں آج مسجد جمکران واقع ہے۔

ميری نظر ایک تخت پر پہنچی جس پر نہایت نفيس قالين بچها ہوا تھا اور اس پر دو نورانی شخصيت تشریف فرما تھيں ۔ جن ميں ایک کی عمر مبارک تيس سال رہی ہوگی تکيہ سے ٹيک لگائے بيٹهے ہوئے تھے ، اسی پرنور شخصيت کے قریب ہی ایک سن رسيدہ نورانی شخصيت بهی تشریف فرما تھی جن کا سن مبارک تقریبا ۶ ٠ /سال رہا ہوگا ان بزرگ کے ہاتھوں ميں ایک کتاب تھی جسے وہ اس جوان کے سامنے پڑه رہے تھے۔ تخت کے اطراف ميں پروانوں کی طرح لوگوں کی ایک جماعت تھی جن کی تعداد ساٹه کے قریب رہی ہوگی۔ان ميں سے بعض سفيد اور بعض سبز لباس ميں یاد خدا ميں مصروف تھے۔

ان نورانی شخصيتوں ميں سے جن کا سن زیادہ تھا یعنی حضرت خضر (س) نے مجهے بيٹهنے کے لئے کہا اور پھر امام وقت نے مجهے ميرے نام سے مخاطب کيا اور فرمایا: جاؤ اور حسن مسلم سے کہو کہ تم اس زمين پر جو بهی کام کرتے ہو وہ صحيح نہيں ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمين پر کسی طرح کا کام کرنے کی اجازت نہيں ہے کيوں کہ اس زمين کو خدا وند عالم نے دوسری زمينوں پر فضيلت دی ہے۔

اس جگہ پر ایک مسجد بنائی جائے،حسن مسلم سے کہو کہ اگر ہمارے حکم کی تعميل نہ کی تو جس طرح دو جوان بيٹوں کا غم دیکھا ہے اسی طرح پھر مشکلات کے ذریعہ خدا وند عالم انهيں آگاہ کرے گا۔

حسن بن مثلہ کہتے ہيں : ميں نے عرض کيا مولا کتنا اچھا ہوتا اگر ميری بات پر آپ کی جانب سے کوئی تائيد ہوتی تاکہ اسے سچ ہونے کا یقين ہو جائے ۔ امام عليہ السلام نے فرمایا: تم سيد ابو الحسن الرضا ( یہ شہر قم کی بزرگ شخصيت ميں سے تھے ) کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ تمهارے ہمراہ جائيں ۔ حسن مسلم سے ہمارا حق لے کر ایک مسجد بناؤ ۔پهر امام نے فرمایا: لوگوں سے کہو اس جگہ کا احترام کریں اور جب یہاں آئيں تو چار رکعت نماز مذکورہ طریقہ پر پڑهيں ۔ دو رکعت نماز احترام مسجد مثل نماز صبح بجا لائيں جس کی ہر دو رکعت ميں سورہ “حمد” کے بعد سات مرتبہ سورہ “قل هوالله احد ” پڑهيں اور رکوع و سجود ميں ذکر رکوع اور سجود بهی سات مرتبہ پڑهيں اس کے نماز تمام کریں ۔

پهر دو رکعت نماز صاحب الزمان (س) پڑهےں ،او رجب سورئہ حمد پڑه رہے ہوں اور“اِیَّاکَ نَعبُْدُ وَ اِیَّاکَ نَستَْعِينُْ ” پر پہنچےں تو اسے ١٠٠ /مرتبہ پڑهيں اس کے بعد سورئہ حمد مکمل کرےں اور اس کے بعدسورہ “قل هو اللّٰه احد ” پڑهيں ۔ دوسری رکعت بهی اسی طرح پڑهےں اور ہر رکوع و سجدہ ميں اس کا ذکر سا ت مرتبہ پڑهےں اور جب نماز تمام ہو جائے حمد پروردگار کرےں اور حضرت فاطمہ زہرا (س)کی تسبيح پڑهےں اور تسبيح پڑهنے کے بعد سر سجدہ ميں رکهےں اور ١٠٠ /مرتبہ محمد وآل محمد پر صلوات بهيجیں ۔

اور اس وقت حضرت نے اس طرح فرمایا : “فَمَن صَلاّ هٰا فَکَا نَّما صَلیّٰ فِی البَْيتِْ العَْتِيق “َ جس نے بهی یہ دو رکعت نماز پڑهی گویا اس نے خانہ کعبہ ميں نماز پڑهی ہے۔ حسن بن مثلہ کہتے ہيں : جب امام کا بيان ختم ہو اتو مجه سے فرمایا: اب جاؤ ابهی ميں آپ کی خدمت سے رخصت ہو رہا تھا کہ مجهے پھر صدا دی اور کہا: ایک بکری جس کی نشانياں یہ ہيں اسے جعفر کاشانی کے گلہ سے خرید نا اور کل شب جو ١٨ /رمضان ہے اسے اسی مکان پر لاکر ذبح کرنا ۔ اس کا گوشت بيماروں کے درميان تقسيم کرنا تاکہ خدا وند عالم انهيں شفا عطا فرمائے۔

امام (س) کا بيان سننے کے بعد جيوں ہی ميں چلا امام نے پھر فرمایا:ميں سات ( یا ستّردن) اسی جگہ ہوں ۔

گهر لوٹنے کے بعد صبح کے انتظار نے مجهے سونے نہ دیا ، صبح کے پہلے ہی پہر ميں اپنے دوست “ علی المنذر ” کے گھر پہنچا اور اسے پورے واقعہ سے آگاہ کيا پھر اپنے دوست کے ہمراہ اسی جگہ پر پہنچا جہاں کل رات مجهے لے جایا گيا تھا ۔ خدا کی قسم جس طرح سے امام نے گزشتہ رات فرمایا تھا ، اس زمين کے چاروں طرف زنجير اور کيلوں لگا ہوا دیکھا۔

ميں بہت تيزی کے ساته شہر قم سيد ابو الحسن الرضا کے گھر کی طرف چل پڑا ان کے دولت کدے پر پہنچ کر دروازے پر موجود افراد سے ميں نے اپنا تعارف کرایا تو ان لوگوں نے کہا تمهارا انتظار تو سيد ابو الحسن الرضا صبح سے کر رہے ہيں ۔ گھر ميں داخل ہونے کے بعد ميں نے سلام کيا ۔ سيد ابو الحسن الرضا نے ميرا والہانہ استقبال کيا اور اس سے پہلے کہ ميں کچه عرض کروں وہ گویا ہوئے حسن مثلہ ميں نے کل رات ميں خواب ميں دیکھا کہ کوئی مجه سے کہہ رہا ہے حسن بن مثلہ نامی ایک شخص جمکران سے تمهارے پاس آئے گا اس کی بات پر بهروسہ کرنا کيوں کہ وہ جو کچه کہے گا وہ ميری بات ہے اس کی باتوں کو نظر انداز نہ کرنا۔

بتاؤ بات کيا ہے ۔ حسن بن مثلہ کہتے ہيں ميں نے پورا واقعہ تفصيل کے ساته ان کی خدمت ميں بيان کيا واقعہ تمام ہونے کے بعد بلافاصلہ گهوڑے آمادہ کئے گئے اور ہم دونوں جمکران کی طرف نکل پڑے وہاں پہنچے تو جعفر کاشانی نامی گلہ بان پہلے ہی سے موجود تھا ہم اس بکری کی طرف لپکے جس کی نشاندہی امام (س) نے کی تھی اسے پکڑنے کے بعد جعفر کاشانی کے پاس آئے اس نے بکری دیکھ کر کہا کہ اس سے پہلے ميں نے اس بکری کو کبهی نہيں دیکھا صبح سے ميں اسے پکڑنا چاہ رہا تھا ليکن یہ ميری گرفت ميں نہ آسکی جب کہ آپ حضرات نے اسے بآسانی پکڑ ليا۔

حسن بن مثلہ کہتے ہيں کہ بکری لے کر ميں اسی جگہ پر پہنچے جہاں کل رات بتایا گيا تھا اسے اسی جگہ ذبح کيا اور اس کے گوشت کو مریضوں کے درميان تقسيم کيا پھر اس جگہ پر لکڑی کی ایک مسجد بنائی ۔ سيد ابو الحسن الرضا نے زنجيروں کو جمع کيا اور اسے اپنے گھر لے جا کر ایک صندوق ميں بند کر دیا ۔ جس کسی مریض نے اپنے کو اس زنجير سے مس کيا خدا وند عالم نے اسے شفا عطا فرمائی ۔ سيد ابو الحسن الرضا کی وفات کے بعد جب اس صندوق کا قفل کهولا گيا تو وہاں کيلوں اور زنجيروں کا نشان تک نہ ملا۔( نجم الثاقب( اس عظيم الشان مسجد ميں آج ہزاروں عقيدت مند سر نياز خم کرکے کاسہ گدائی پر کرتے ہيں ۔

مسجد کی عمارت گزشتہ کئی صدیوں سے بدلتی رہی اور آج اس مسجد کا شمار ایران کی بڑی مساجد ميں ہوتا ہے ۔ شمع ولایت کے پروانے ہر ہفتہ جمع ہو کر شمع حيات کے ظہور کی دعا مانگتے ہيں ۔

مسجد جمکران دو بہاڑیوں کے درميان قم و کاشان کے راستے ميں واقع ہے ۔ ١٣٧٩ ئه ش ميں آیة الله وافی، رہبر معظم انقلاب اسلامی کے حکم سے مسجد کے اولين متولی اور نگراں بنائے گئے۔


شہر قم ميں مشہو ر امام زادہ

شہر قم یوں تو ہميشہ سے شيعوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے ليکن حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی وفات کے بعد ائمہ طاہرین عليہم السلام کے چاہنے ولوں کا وطن بن گيا ۔ ائمہ کی اولاد اور بزرگان دین کے حضور نے اس آسمان ولایت پر چار چاند لگا دیا ہے اس بات کا اندازہ ائمہ کی کثير تعداد اولاد جو چار سو چوليس تک پہنچتی ہے بہتر طور پر لگایا جا سکتا ہے۔

اس مقام پر ہم بہتر سمجهتے ہيں کہ ان ميں سے بعض مشہور ہستيوں کی زیارت گاہوں کا ایک اجمالی خاکہ قارئين کی خدمت ميں پيش کریں ۔ ١۔ امام زادہ احمد بن محمد حنفيہ کا مقبرہ ،بلوار ١ ۵ / خرداد پر واقع ہے۔

٢۔ امام زادہ شاہ سيد علی کی زیارت گاہ ،بلوار ١ ۵ / خرداد،ميدان شہيد صادقی پر واقع ہے۔

٣۔ چارامام زا دوں کا مقبرہ ( حسين اور ان کے فرزند حسن ، محمد اور محسن ) ایک ساته

بلوار ١ ۵ / خرداد ٢٠ /متری حائری پر واقع ہے۔

۴ ۔ امام زادہ شاہ احمد بن قاسم کی زیارت گاہ، خيابان سميہ ميدان معلم پر واقع ہے۔

۵ ۔ امام زادہ حمزہ کا مقبرہ، خيابان آیة الله طالقانی ميدان کہنہ کے روبرو واقع ہے۔

۶ ۔ امام زادگان چہل اختران ، خيابان آیة الله طالقانی پر واقع ہے۔

٧۔ امام زادہ موسیٰ مبرقع کا مقبرہ ، خيابان طالقانی ،چہل اختران ہی ميں واقع ہے۔

٨۔ امام زادہ علی موسیٰ الرضا کی زیارت گاہ نکوئی ہسپتال کے سامنے خيابان آیہ الله طالقانی پر واقع ہے۔

٩۔ امام زادہ سيد سر بخش (اسماعيل) کی زیارت گاہ خيابان آیة الله طالقانی پر واقع ہے۔

١٠ ۔ امام زادہ ناصر الدین کا مقبرہ ،چہار راہ بازار،مسجد امام حسن عسکری کے سامنے واقع ہے۔

١١ ۔ امام زادہ جمال و جعفر غریب کے مقبرے ،کاشان روڈ پر قبرستان بقيع سے پہلے واقع ہے۔

١٢ ۔ امام زادہ سلطان محمد شریف کی زیارت گاہ خيابان انقلاب مسجد چہار مرداں کے سامنے واقع ہے۔

١٣ ۔ امام زادہ علی ابن جعفر کا مقبرہ خيابان انقلاب ميدان امام حسين (س)،گلزار شہدا پر واقع ہے۔

١ ۴ ۔ امام زادہ ابراہيم اور ان کے والد محترم محمد کا مقبرہ خيابان نيروی ہوائی(شاہ ابراہيم) پر واقع ہے ۔

١ ۵ ۔ امام زادہ شاہ جعفر کی زیارت گاہ خيابان نيروی ہوائی (شاہ ابراہيم ) پر واقع ہے۔

١ ۶ ۔ امام زادہ سيد معصوم کی زیارت گاہ نيروگاہ کے آخر ميں پٹرول پمپ سے پہلے واقع ہے۔

١٧ ۔ امام زادہ سيد عبد الله ابيض ( قلعہ صدری ) کا مقبرہ خيابان نيروی ہوائی “ہائی وے روڈ


کے بعد” واقع ہے۔

١٨ ۔ امام زادہ سيد جمال الدین (شاہ جمال) کا مقبرہ خيابان اراک پر چيک پوسٹ سے پہلے واقع ہے۔

١٩ ۔ امام زادہ احمد اور ان کے فرزند کا مقبرہ خيابان امام موسیٰ صدر ميدان الہادی پر واقع ہے۔

٢٠ ۔ امام زادہ صفورا کی زیارت گاہ خيابان خاکفرج فلکہ الہادی پر واقع ہے۔

حوزہ علميہ کا اجمالی تعارف

گزشتہ کئی سالوں سے شہر قم دنيائے شيعيت کا علمی و ادبی مرکز بنا ہوا ہے ،قم کی یہ مرکزی حيثيت مراجع تقليد و علماء دین و سطوع عاليہ کی طالب علموں کی وجہ سے ہے۔

یہ طلاب ، طالب علمی کے زمانے سے ہی سے تاليف و تحقيق ميں مشغول رہتے ہيں ۔

یہی چيزیں سبب بنی کی سطح کے طلاب دین کا اس شہر ميں ہجوم ہے۔ اس عظيم الشان حوزہ علميہ کے سلسلے ميں ائمہ (س) کے نورانی کلام ملتے ہيں ،مصحف ناطق حضرت امام صادق (س) فرماتے ہيں : ایک زمانہ آئے گا جب قم سے علوم و ادب کی کرنيں پهوٹيں گی جو مشرق ومغرب کو شامل ہوں گی ۔یہاں تک کہ دوسرے شہروں کے لئے ایک نمونہ بن جائے گا اور اس روئے زمين پر ایسا کوئی نہ ہوگا جس تک قم کے علمی و دینی فيوض نہ پہنچ سکے وہ وقت خدا کی حجت اور ہمارے قائم کے ظہور کا ہوگا۔ (بحار الانوار ) ،ج/ ۶ ٠ ص/ ٢١٣

معصوم کے قول ميں حوزہ علميہ قم کا ذکر سبب بنا کہ ہم اپنی اس کتاب ميں اس حوزہ کی تاریخ کا اجمالی خاکہ قارئين کی خدمت ميں پيش کریں ۔ شہر مقدس قم کی مذہبی و علمی کاوش اشعریوں کے زمانے کی طرف پلٹتا ہے یہ ستم دیدہ افراد عراق کی ظالم و جابر حکومت سے پریشان ہو کر عش آل محمد ميں آگئے ۔

اس شہر ميں ہجرت کے بعد ان افراد نے یہاں تعميری کام کے علاوہ مذہب حقہ کی ترویج ميں بهی پيش قدم رہے مذہبی کارواں کے مير کارواں عالم ، محدث عبد الله بن سعد اشعری تھے جنهوں نے اس شہر کو آباد کرنے کے علاوہ اس زمين پر علمی و مذہبی مسائل کے پودا بهی لگایا۔ اس کے آنے والے افراد جيسے زکریا بن آدم ، احمد بن اسحق قمی ، ابراہيم بن ہاشم ، علی بن بابویہ (شيخ صدوق) وغيرہ نے اس پودے کے رشد و نمو کے لئے انتهک سعی و کوشش کيں یہاں تک کہ یہ ننہا سا پودا توانا درخت ہو گيا ۔ اب نقل روایات کا سلسلہ چل نکلا اس خلوص کے ساته یہ کام شروع کيا گيا تھا کہ یہ بات مشہور ہو گئی کہ شہر قم کے رجال حدیث مورد اطمينان ہيں ۔

نقل حدیث کوئی آسان کام نہيں ہے اسی لئے علماء قم نے اس وادی ميں احتياط کا دامن نہيں چھوڑا بغير فحص و جستجو کے کسی کی تائيد نہيں فرماتے تھے یہ لوگ اس سلسلے ميں اس قدر سخت تھے کہ جو لوگ اس مورد ميں سادہ لوح یا سست عقيدہ تھے انهيں اس شہر سے باہر کر دیا کرتے تھے ۔ دوسری طرف مرحوم ملاصدرا جيسے نادر الزمن فلسفی اور حکيم کی اصفہان سے قم کی طرف ہجرت کی ۔ قم کی علم و حکمت کا یہ دوسرا صفحہ ہے ۔ ان ولایت کے پروانوں کا اس شہر ميں یکے بعد دیگرے جمع ہونا جيسے حکيم فيض کاشانی کا آنا اس شہر کے حسن کو دوبالا کرتا ہے۔

ان بزرگ ہستيوں کے آنے کے بعد اس شہر ميں باب العلم کی بيٹی کی چوکهٹ پر فيضيہ نامی ایک مدرسہ کی سنگ بنياد رکهی گئی جس کے سبب قم کے شہریوں ميں فکری رشد و نمو ہوا شمع علم کے روشن ہونے کے بعدظاہر ہے کہ علم کے پروانوں کو کون روک سکتا ہے ہر طرف سے علم کے دوست افراد پروانہ وار اس شہر کی طرف بڑهنے لگے۔ انصاف نہ ہوگا اگر ہم اس جگہ ميرزا قمی جيسے نادرالرمن کا ذکر نہ کریں آپ کی انتهک کوششوں نے علمی مناروں کو کافی بلند کيا۔

قاچاریہ حکومت کی بهی اس شہر پر خاص توجہ رہی ہے ۔( یہ ایک ترک قبيلہ کا نام ہے جس نے ایران ميں قاچاری حکومت قائم کی تھی) قاچاریہ حکومت کے آخری دور اور پہلوی حکومت کے ابتدائی دور ميں حوزہ علميہ نجف اشرف اپنی دیرینہ اور طولانی تاریخ کے ساته علم دین کے عاشقوں کے اجتماعی کا مرکز بن گيا۔اب علم دوست حضرات کی تمام توجہ اس مقدس شہر کی جانب مبذول ہو گئی ۔ حوزہ علميہ قم ميں ایک خاموشی سی چها گئی تھی ۔ ليکن اس شہر ميں مقيم علماء طلاب وطلاب کرام مرکز علم سے کافی دور ہونے کے بعد بهی بزرگوں کی اس یاد کو مٹنے نہ دیا درس و تدریس کے جلسوں سے علم و فضيلت کے چراغوں کو روشن رکها۔یہ ادا خالق اکبر کو اس قدر پسند آئی کہ اس نے اراک سے طلوع ہونے والے ایک آفتاب علم یعنی آیة الله العظمیٰ حاج شيخ عبد الکریم حائری کو ١٣٠٠ ئه ميں بهيج دیا ۔ آپ کے علمی جلسوں نے شہر قم کو ایک بار پھر چراغاں کر دیا طالب علموں اور دانش مندوں کے جسموں ميں ایک تازہ روح بهونگ دی۔

آپ نے ایک اساسی قدم اٹهایا اور یہ کہ مدرسہ فيضيہ کے بالکل بغل ميں مدرسہ دارالشفا کی بنياد رکهی یہ اس دور کے جوان طلاب کرام کی خوش نصيبی کی ایک واضح نشانی ہے۔ انهيں چند سالوں ميں حوزہ علميہ قم کا نام حوزہ علميہ نجف اشرف کے برابر لکها جانے لگا۔

آیة الله العظمیٰ شيخ عبد الکریم حائری کی وفات کے بعد اس حوزہ کا دور زرین ختم ہوتا نظر آنے لگا کيوں کہ ظلم و جور کے بادل پہلوی حکومت کی شکل ميں اس حوزہ کے سر پر منڈلانے لگے ليکن بہت جلد حضرت معصومہ کے طفيل علماء ثلاث مرحوم آیة الله حجت ،مرحوم آیة الله سيد محمد تقی خوانساری اور مرحوم آیة الله صدرکی شکل ميں ایک تيز آندهی نے ان بادلوں کو چهانٹ دیا۔

١٣٢٢ ئه ميں حضرت آیة الله حاج آقای حسين طباطبائی بروجردی کی ہجرت اور آپ کے عميق دروس اور اس دور کے فضلا کے تمدن و تہذیب کے سلسلے ميں کئے جانے والے اساسی کام قم حوزہ کی طاقت ميں اضافہ تھا ، دوسری طرف مرحوم آیة الله العظمیٰ حاج سيد ابوالحسن اصفہانی کی وفات ( شہر نجف اشرف ميں ) کے بعد عالم تشيع کا مرجع قم بن گيا کيوں کہ آیة الله بروجردی قم ہی ميں مقيم تھے لہٰذا اب طلاب علوم دینيہ کا رخ نجف سے قم کی جانب ہوا آپ کے بابرکت نے حوزہ علميہ قم کو حوزہ نجف اشرف کے ہم ردیف کر دیا ، گرچہ آپ کی وفات کے بعد حوزہ علميہ قم ميں کافی نشيب و فراز آئے اور طلاب دین ایک مرتبہ پھر نجف اشرف کی جانب ہجرت کرنے لگے مگر اب حوزہ علميہ قم کی جڑ یں کافی مضبوط ہو چکی تھيں لہٰذا کوئی خاص اثر نہ پڑا۔

پہلوی حکومت کے خلاف امام خمينی کے قيام اور ١ ۵ / خرداد ، ١٣ ۴ ١ هء ش ميں طلاب اور عام لوگوں کا قتل عام حکومت کی طرف سے حوزہ پر اثر انداز ہوا۔علم دوست حضرات اس پرآشوب ماحول ميں بهی اپنے ہدف سے دور نہ ہوئے تھے بلکہ ذمہ داری بڑه گئی تھی یہاں تک کہ ١٣ ۵ ٧ ئه ش ميں امام خمينی کی عاقلانہ رہبری کے ساته انقلاب اسلامی کامياب ہو ا حوزہ علميہ کی رونق ميں بهی کافی اضافہ ہوا۔

انقلاب اسلامی کے بعد عراق کی بعثی حکومت نے ایران پر ایک دیر پا جنگ لاد دی اور حوزہ علميہ نجف پر ظلم و بربریت کا پہاڑ توڑ ا ۔ بعثی حکومت نے حوزہ علميہ نجف کے بلند مرتبہ علماء کو شہيد کيا ، قيد خانوں ميں رکهاان کو شکنجہ دیااورکچه کو شہر بدر کياگيا ۔ ایسے ماحول ميں حوزہ علميہ قم نے ان علمی ہستيوں کو اپنے جوار ميں پناہ دی جس کے نتيجہ ميں آج بهی اس ملکوتی شہر ميں علماء و فقہا کی ایک کثير تعداد موجود ہے حال حاضر ميں تقریبا ساٹه ہزار و دانشمند حضرات درس و تدریس ميں مشغول ہيں ۔ مراجع کرام کی زعامت اور ایک خاص نصاب جس ميں زیادہ تر کام خاص علوم پر ہو رہا ہے جو ایک روشن مستقبل کی نوید دے رہے ہيں ۔اس شہر مقدس ميں مدارس کی تعداد تقریبا پچاس تک پہنچتی ہے۔

ان علمی مدارس کے علاوہ آج حوزہ علميہ قم ميں بہت زیادہ تعداد ميں تحقيقی ادارہ بهی ہيں یہ ادارے خود ایک مستقل علمی دریا ہيں ۔حوزہ علميہ قم کے یہ تمام امتيازات حضرت فاطمہ معصومہ کے برکتی وجود سے ہيں ۔اور اس سلسلے ميں غير معمولی کوشش انقلاب اسلامی اس اس کے قائد امام خمينی کی ہيں اور آج اس انقلاب اسلامی کے ناخدا رہبر معظم حضرت آیة الله العظمیٰ سيد علی خامنہ ای دامت برکاتہ ہيں ۔ آخر ميں ہم موت کی آغوش ميں سونے والے بزرگان کے علو درجات اور موجودہ حضرات کی توفيقات ميں اضافہ کی دعا کرتے ہيں ۔

مرکز جہانی علوم اسلامی

انقلاب اسلامی کے بعد دنيا بهر سے علوم اسلاميہ کے دوستداران کسب علوم کی خاطر اس مقدس شہر کی جانب عازم سفر ہوئے ۔ حوزہ علميہ قم کا یہ شعبہ رہبر معظم کی نظارت ميں مرکز جہانی علوم اسلامی کے نام سے تاسيس ہوا۔ الحمد لله آج تقریبا دس ہزار طلاب دنيا کے نوے ملک سے آکر اس مرکز کے زیر نظر حصول تعليم اور تحقيق ميں مشغول ہيں ۔

جامعة الزہراء (س)

انقلاب اسلامی کے ابتدائی دور ہی سے خواتين کے اسلامی علوم و معارف کے تحصيلی اشتياق کو دیکھتے ہوئے قم کے حوزہ علميہ نے ایک شعبہ خواتين سے مخصوص “ جامعة الزہراء” کے نام سے تاسيس کيا یہ پہلا قدم تھا اس سلسلے کا ۔ مگر اس کے بعد اس جيسے بہت سے مدارس وجود ميں آئے۔

حال حاضر ميں بيس ہزار طالبات موجود ہيں جن ميں ایرانی و غير ایرانی دونوں ہيں جو اس مدارس ميں علمی مدارج طے کر رہی ہيں ۔


قم کے بعض تحقيقی و تعليمی مراکز

بنياد نہج البلاغہ۔ خيابان حجتيہ ۔ مدرسہ حجتيہ کے سامنے۔

پژوہشکدہ باقر العلوم۔ ميدان جانبازان ، ابتدائے خيابان دورشہر۔

دانشکدہ دار الحدیث ۔ خيابان ١ ۵ / خرداد ، قم کاشان روڈ پرہے۔

پژوہشکدہ حوزہ و دانشگاہ ۔ بلوار امين بلوار شہيد صنيع خانی۔

جامعة القرآن ۔ خيابان شہداء ، کوچہ ممتاز ، فرعی دوم پلاک ٢ ۵ ۔

دبير خانہ کنگرہ دین پژوہان کشور۔ خيابان شہداء ،کوچہ ممتاز۔

مجمع جہانی اہلبيت (س)۔ابتدای بلوار امين ،بلوار جمہوری اسلامی ۔

مرکزپژوہشہای اسلام صداوسيما ۔بلوار امين ۔

مرکز تحقيقات کمپيوٹری علوم اسلامی ۔ابتدای بلوار امين ،بلوار جمہوری اسلامی۔

مرکز جہانی علوم اسلامی ۔چہار راہ شہدا ،خيابان معلم ،ہوٹل صفا کے سامنے ۔

موسسہ آل البيت لاحياء التراث۔خيابان فاطمی ،کوچہ ٩،پلاک ١،٣ ۔

موسسہ تنظيم و نشر آثار امام خمينی ۔خيابان شہدا،کوچہ ممتاز،پلاک ٨ ۴ ۔

کتب خانہ آیت الله العظمی نجفی ۔خيابان آیت الله نجفی ،ٹيلفون : ٧٧ ۴ ٩٩٧٠ ۔

کتب خانہ آیت الله خامنہ ای ۔خيابان ساحلی ،ٹيلفون : ٧٧٢٠٧ ۶ ٠ ۔

مدرسہ وکتب خانہ آیت الله گلپایگانی ۔خيابان آیت الله نجفی ،ٹيلفون : ٧٧٠٣٠٧ ۶ ۔

مجتمع فرہنگی ،ہنری ،ورزشی نور ۔خيابان توحيد (نيروگاہ )،بلوار شاہد،ٹيلفون: ٨٨٢ ۴۶ ١ ۵ ۔

فرہنگسرای جوان ۔انتہای خيابان ١٩ دی (باجک )،ٹيلفون : ۶۶۵ ٨٨ ۶۵ ۔

نگارستان اشراق ۔خيابان شہدا،ٹيلفون : ٧٧ ۴۴۵ ٢٧٠ ۔

کتب خانہ و دارالتحقيق آستانہ مقدسہ۔ميدان آستانہ،ٹيلفون ٧٧ ۴ ١ ۴۴ ٠ ۔

حوزہ کے مراکز

حوزہ علميہ کے قم کے مدیریت۔ خيابان حضرتی مدرسہ دارالشفاء ۔ فون ٧٧٠٠٢٨ ۴

مرکز جہانی علوم اسلامی۔ خيابان معلم روبرو ہوٹل صفا۔

جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم ۔ خيابان معلم ۔ ٣۔ ٧٧ ۴ ٠٧٧١

دفتر تبليغات اسلامی۔ چہار راہ شہداء ۔ ٧٧٣٠٠٠١

جامعة الزہراء ۔ سالاریہ خيابان بو علی سينا

آيات عظام کے دفاتر

دفتر مقام معظم رہبری مدظلہ العالی۔ خيابان شہداء ۔ فون : ٧ ۴ ٧ ۴

آیة الله العظمیٰ بہجت ۔ خيابان شہداء ۔فون: ٧٧ ۴ ٣٢٧١

آیة الله العظمیٰ فاضل لنکرانی ۔ سہ راہ بازار ۔ فون : ٧٧ ۴ ٢٠ ۵ ٠

آیة الله العظمیٰ تبریزی خيابان ارم کوی ارک ۔ فون: ٧٧ ۴۴ ٢٨ ۶

آیة الله العظمیٰ وحيد خراسانی ۔ خيابان شہدا ء ۔فون: ٧٧ ۴ ٠ ۶ ١١

آیة الله العظمیٰ زنجانی ۔ بلوار شہيد منتظری ۔ فون : ٧٧ ۴ ٠٣٢٢

آیة الله العظمیٰ مکارم شيرازی۔ خيابان شہداء ۔فون: ٧٧ ۴ ٣١١١

آیة الله العظمیٰ صافی گلپایگانی۔ خيابان انقلاب۔ فون: ٧٧١ ۵۵ ١١

آیة الله العظمیٰ نوری ہمدانی ۔خيابان شہداء کوچہ بيگدی: ٧٧ ۴ ١٨ ۵ ٠

آیة الله العظمیٰ سيستانی ۔ خيابان معلم محلہ یخچال قاضی : ٧٧ ۴ ١ ۴ ١ ۶

دينی سوالوں کے جوابات کے دفاتر

سوالات شرعی حرم مطہر ۔فون: ٣٣ ۔ ٧٧ ۴ ١ ۴ ٢ ۵

صحن عتيق۔ (داخلی) ٣٢٨٣ صحن اطابکی: (داخلی) ٣٢ ۶ ٨

سوالات عقيدتی۔ فون: ٧٧ ۴ ٣١١١ و ٧٧ ۴ ٣١٢٠

سوالات علوم قرآنی و تفاسير۔ فون: ٧٧ ۴ ٠٨٠ ۴

سوالات حدیث۔فون: ٧٧١٠٠١٠

عورتوں سے متعلق سوالات( جامعة الزہراء) فون: ٢٩٣ ۵ ٨ ۴ ٨

پوسٹ بکس نمبر: ٣٣٧ ۵ ۔ ٣٧١٨ ۵ ۔

بعض اشاعتی مراکز

الہادی (چاپ قرآن) خيابان خاکفرج ، ميدان الہادی ، جنب مدرسہ الہادی۔ فون--: ۶۶ ١١١٢ ۵

انصاریان (دنيا کے مختلف زبانوں کی اسلامی کتابوں کی چاپ) خيابان شہداء ابتدائی کوچہ ٢٢ ۔فون : ٧٧ ۴ ١٧ ۴۴ ۔

دفتر انتشارات اسلامی( جامعہ مدرسين قم) بلوار امين ، بلوار جمہوری اسلامی ۔ فون: ٢٩٣٣ ۵ ١٧

زائر ( انتشارات حرم مقدس) ابتدائے ۴۵ متری صدوق ، ميدان شہيد مفتح ۔ فون: ٢٩٣ ۴۵ ٠٠ موسسہ در راہ حق( عقيدتی کتابيں ) ميدان شہداء خيابان آیة الله نجفی مرعشی ، کوچہ ٢٠ پلاک ۶ ۔ فون: ٧٧ ۴ ٣٢٣٢

مسجد مقدس صاحب الزمان ( امام زمانہ سے مربوط کتابيں ) مسجد جمکران ۔ فون : ٧٧٢٧ ۶۵۶ بوستان کتاب (انتشارات دفتر تبليغات اسلامی ) ميدان شہدائ

قم کے رسالہ و مجلات

اخبار ہفتہ، ١٩ دی ۔ خيابان شہدا کوی ٢ ۵ پلاک ٢ ۔ فون: ٧٧٣ ۵۵۵۵

اخبار ہفتہ ،پيام۔ خيابان حجتيہ جنب قرآن و عترت ۔ فون: ٧٧٣ ۶ ٧٢ ۶

اخبار ایمان ۔ خيابان انقلاب پلاک ۵ ٠ ۶ ، فون : ٧٧ ٢ ۵ ٢٢٢

فوجی ، انتظامی پوليس اور ٹرافک پوليس کے مراکز

پوليس چوکی شمارہ ٢٢ ۔ حرم مطہر ، خيابان ساحلی۔ فون: ٧٧ ۴ ١ ۴ ٢ ۴

پوليس چوکی شمارہ ١١ ، ابتدائے خيابان دور شہرکوچہ(١)

پوليس چوکی شمارہ ٢چہار راہ بازار ۔ ابتدائے خيابان ١٩ دی ۔ فون: ٧٧٢٢٢٠٢ ۴

پوليس چوکی شمارہ ١٣ خيابان استگاہ راہ آہن ، فون: ۶۶ ٠ ۶ ٠٨ ۴

پوليس چوکی ١ ۵ ،خرداد ۴۵ متری ١ ۵ خرداد ۔فون: ٧٧٢٢٠٨٠

پوليس چوکی شمارہ ١ ۵ بلوار امين ، کوی صادقی ، فون: ٢٩٢٢٣٩٠

پوليس چوکی شہرک امام خمينی ابتدائے شہرک ، فون : ٢٩٢٩٩٢٠

پوليس چوکی شمارہ ١٧ خيابان امام خمينی ۔ فون: ۶۶ ٠٢٠٣٣

پوليس چوکی شيخ آباد ، شيخ آباد ۔فون: ٨٨٣ ۴ ٧١ ۵

پوليس چوکی جمکران۔جادہ کاشان ، روستای جمکران ۔ فون ٣٣٢٠ ۔ ٠٢ ۵ ٢٣٢٣

پوليس چوکی کہک ۔ جادہ کاشان ۔ بخش کہک ۔فون: ٣ ۴ ٣٢ ۔ ٠٢ ۵ ٢ ۴ ٢٢

پوليس چوکی حاجی آباد ۔ خيابان ایستگاہ چہار اہ حاجی آباد ،فون: ٣٣ ۶۴ ۔ ٠٢ ۵ ٢٣٢٣

دفتر آگاہی ۔ خيابان ساحلی ، لواسانی ، فون: ١٣٠ و ٧٧٢٢٠ ۴ ٢

پوليس چوکی ،شمارہ ، ٨ ۔ خيابان امام خمينی بلوار شہيد حاج خداکرم، فون : ۶۶ ٠٠٢٣

پوليس چوکی جعفر آباد ، جادہ قم گازران بخش جعفرآباد ،فون: ٢٨٠٠ ۔ ٠٢ ۵ ٢ ۶ ٢٢

دفتر مبارزہ با مواد مخدر۔ بلوار امين ، ٢٠ متری گلستان ، فون: ١٢٨ و ٢٩٣٣٠ ۶ ٨

دفتر اجتماعی ۔ خيابان ساحلی ، لواسانی ، فون: ٧٧٢٧٩٠٠

دفتر ٹرافک پوليس ۔ ابتدائے بلوار امين ۔ فون: ٢٩٢٢٠٣٠ و ٢٩٣٣٠٠٠

عدالتی مراکز

داد گستری ۔ خيابان ساحلی لواسانی ، فون: ٣ ۴ ۔ ٧٧٢٢٠٣٣

داد گاہ خانوادہ۔ خيابان ایستگاہ ۔ فون ٧۔ ۶۶ ٢٠٨ ۵۵

ستاد خبری داد گستری۔ ١٩ ۵

داد سرا نظامی ۔ خيابان امام موسیٰ صدر خاکفرج

دادگاہ انقلاب ۔ خيابان ساحلی لواسانی ،فون: ٧٧٢٧ ۴ ٧٢

ضروری ٹيليفون نمبر،تين رقمی

ٹلی فون لائن ميں خرابی:فون۔ ١١٧ ٹيلی فون سے متعلق جواب کے لئے: فون ۔ ١١٨

ٹلی فون پر بات کرنااور دن: فون۔ ١٢ ۶ اطلاعات ٹيلی فون ایکسچينج : فون ۔ ١٣ ۵

ٹيلی فون پوسٹ :فون ۔ ١٩٣ ٹائم اورشرعی اوقات کی معلومات: فون۔ ١١٩

پوليس نيروی انتظامی کا مرکزی دفترفون۔ ١١٠ پوسٹ آفس: فون۔ ١ ۴ ٠

پوليس کا مرکز:فون ١١ ۶ پوليس کا دفتر اطلاعات فون۔ ١ ۴۶

یکسی ڈنٹ ٹرافيک پوليس :فون۔ ١٩٧ ستاد مبارزہ بامواد مخدار : فون۔ ١٢٨

دفتر ثبت نام مواد مخدر : فون ۔ ١٢٠ ادارہ معلومات :فون ۔ ١٣٠

دفترامر بالمعروف و نہی از منکر۔ ١ ۴۵ حراست دادگستری۔ ١٩ ۵

ستاد خبری ادارہ اطلاعات۔ ١١٣ اطلاعات سپاہ پاسداران ۔ ١١ ۴

ستاد خبری ادارہ بازرسی۔ ١٢ ۴ قم کاامرجينسی مرکز۔ ١١ ۵

مرکز پيام آتش نشانی : ۔ ١٢ ۵ گيس کمپنی کا امداد و حوادث کا نمبر ١٩ ۴

امداد و حوادث شعبہ لائٹ۔ ١٢١ موسم کے بارہ ميں معلومات ۔ ١٣ ۴

ٹيلی فون ٹيکسی ۔ ١٣٣ ندائے قرآن ۔ ١ ۴۴

مختلف اہم مراکز کے ٹيليفون نمبر

استانداری ۔ خيابان ساحلی فون ۔ ٧٧١ ۶ ٠٢٠١

ستاد تسہيلات زائر۔ بلوار شہيد منتظری ۔ ٧٧ ۴۴۶ ٣ ۵

شہر داری قم۔ خيابان باجک فلکہ جہاد فون ۔ ٧٧٠ ۴ ٠٠١

بنياد مستضعفان و و جانبازان ۔ بلوار ١ ۵ / خردادرفون۔ ٧٧١ ۶ ٩٢ ۶

بنياد شہيد ۔ خيابان شہيد فاطمی (دور شہر ) ۶ ۔ ٧٧٣ ۶ ٩٩ ۵

اوقاف و امور خيریہ۔ گلزار شہدا ميدان امام حسين ، فون ۔ ٣۔ ٧٧ ۵۶ ٠٢٠١

ادارہ اماکن ۔ ميدان شہداء ٧٣ ۶ ٧٢ ۴

فرمانداری قم ۔ ميدان جہاد ٧٧١١ ۵ ٢ ۴

ریڈیو اسٹيشن قم ۔ خيابان بلوار امين، ٢۔ ٢٩٣٩٠ ۴ ٠

ریلوے اسٹيشن قم۔ خيابان استگاہ ، ۵ ۔ ۶۶ ١٧١ ۴ ١

ادارہ آموزش و پرورش۔ خيابان ساحلی، لواسانی ميراث فرہنگی۔ خيابان انقلاب فون۔ ٧٧٣ ۶ ٠٨٢

اتوبوسرانی۔ جادہ قدیم تہران، فون ۔ ١١ ۔ ۶۶ ٢٠٣٠٨

بينگ پوسٹ خيابان امام خمينی ، فون ٣۔ ٧٧ ۵ ٧ ۵۴ ١

بنياد ١ ۵ ، خرداد ۔ خيابان آیة نجفی ٧٧ ۴ ٣٠٨ ۵

پوسٹ آفس ميدان ٧٢ تن ،فون ۶۶۵ ٨ ۴ ٣٩

تعزیرات حکومتی۔ ١۔ ۶۶ ١٩٠ ۶

ٹيکسی یونين ۔ميدان ٧٢ تن ۶۶۵۶۵۵۶

بازرسی و نظارت ٩۔ ۶ ٠٧٠٨٨

سازمان تبليغات اسلامی بلوار امين خيابان جمہوری اسلامی

ادارہ فرہنگ و ارشاد اسلامی بلوار امين ، جمہوری اسلامی


قم کے مرکزی بينک

بينک ملی ۔ خيابان انقلاب : ٨٨ ۶۴ ١٧٢

بينک صادرات ۔ بازار ٧٧٢٣٣١٢

بينک کشاورزی ۔ خيابان امام : ۶۶ ٠١٠١٣

بينک مسکن ۔ خيابان ١٩ دی ، ٧٧٢٢٢٨ ۶

بينک ملت۔ ۴۵ متری عمار یاسر : ٧٧٢ ۶ ٠١٢

بينک سپہ خيابان امام ۔ فون: ٣۔ ۶۶ ٢٠ ۴ ٢١

بينک تجارت ۔ خيابان آذر ، ۵ ۔ ٧٧ ۵۶ ٢١

بينک رفاہ کار گران۔ ميدان مطہری ۔ ۶۶ ١٢٧٣ ۴

بيمہ کے مراکزی شعبے

دانابلوار امين ، ٨۔ ١٩١ ۶ ٧٧

ایران۔ خيابان شہدا ۔ ٧٧٣٢٧٧ ۴

البرج، خيابان شہدا فاطمی۔ ٩۔ ٧٧٣٣ ۴ ٢٨

آسيا، ميدان امام خمينی۔ ٢۔ ۶۶ ١ ۶ ٩٨١

پارک اور کهيل کے ميدان

پارک شہيد (دور شہر) ۔ دور شہر فلکہ جانبازان

پارک عوارض ( ٧٢ تن ) ابتدائے توبان قم تہران

بوستان علوی ۔ ابتدائے جادہ قدیم اصفہان

بوستان مہدی ۔ انتہائے خيابان ١٩ دی

پارک شاہد ۔ فلکہ ٧٢ تن

پارک لالہ ۔ فلکہ ٧٢ تن

سنيما حال

استقلال ۔ خاکفرج خيابان آیت الله خامنہ ای ، ۶۶ ٣ ۵ ٠٠٩

تربيت خيابان شہيد فاطمی ( دور شہر) ۔ ٧٧٣٢١٨٠

نور ۔ خيابان نيروگاہ بلوار شاہد ۔ ٨٨ ۵۴۶ ١ ۵

شقایق۔ خيابان آزادگان ۔ ۶۶ ٣ ۶۶۴ ٧

سوينگ پولز

الوند۔ ٣٠ متری ہنرستان: ٧٧ ۴۴ ٨ ۴۴

نور ۔نيروگاہ بلوار شاہد،مجتمع فرہنگی ، ہنری ورزش نور: ٨٨ ۵۴۶ ١ ۵

نيک اندیش۔ابتدائے جادہ اراک: ٨٨٢ ۴ ٣ ۶ ١

پہلوان تختی۔خيابان شہيد فاطمی ، ورزشگاہ پہلوان تختی: ٧٧٣٩ ۴ ٩٣

شہدائے ٧تير۔ميدان ٧٢ تن ورزشگاہ شہدائے ٧تير: ۶۶۵ ١٣٣٠

شہيد بنيادی۔ميدان ٧٢ تن: سودہ (بانوان)۔ميدان ٧٢ تن ، ورزشگاہ شہدائے ٧ تير: ۶۶۵ ٣٩ ۴ ٠

ورزش گاہيں

مجتمع ورزشی شہيد حيدریان ۔ بلوار امين ، ۶ ۔ ٢٩٣٢٩ ۵

ورزشگاہ جہان پہلوان تختی۔ خيابان شہيد فاطمی دور شہر ، ٧٧٢٢٠٨٩

ورزشگاہ شہدائے نيرو گاہ۔ خيابان نيرو گاہ خيابان جواد الائمہ ، ٨٨٢٢٠٨٨

ورزشگاہ شہيد طاہریان۔ ميدان آزادگان ، ۶۶۵ ٨٧٠ ۶

ورزشگاہ شہدائے ٧تير۔ ميدان ٧٢ تن ، ۶۶۵ ١٣٣٠

پارکنگ

مرکزی ۔ خيابان آیت الله نجفی : ٧٧ ۴ ٣٠١٧

مہدیہ ۔ خيابان ١٩ /دی ، ٧٧٠٣ ۵۴ ٨

رود خانہ ۔جنب پل حجتيہ

پيٹرول پمپ

انجمن حمایت از زندانيان ،خيابان نيروگاہ ، ٨٨ ۵ ٠٧٧

البرز۔جادہ قدیم تہران۔قم، ۶۶۴ ٠٢٧٢

امام خمينی۔ خيابان امام، ۶۶ ٢٠٩٢ ۴

مہدیہ ۔ انتہای ۴۵ متری کار گر جواد الائمہ ۔ ميدان ٧٢ تن ۶۶۶ ٢٢٣٣

صادقی ۔ ابتدائے جادہ اراک ، ٨٨٢ ۵ ٣٩ ۴

ضابطی ۔ خيابان آیت الله طالقانی، ٧٧٢ ۵ ٢ ۶ ٠

مقدس زادہ ۔ ابتدائے جادہ اصفہان ، ٢٩٢٣٢ ۵ ٠

ٹيليفونی ٹيکسی

توحيد ۔ دور شہر، ٧٧٣٣٣ ۶۴

معلم ۔خيابان سميہ، ٧٧٣ ۴ ٣٠٠

مہاجر ۔ ميدان مطہری ۶۶ ٠٢٢١٢

خيام ۔ خيابان امام ، ۶۶ ٠١ ۵ ٠٠

امين ۔ بلوان امين ، ٢٩٣٢ ۵ ٠٠

ميثم ۔ ساحلی ، ٧٧٢ ۶ ٣٠٠

رفاہ ۔ نيروگاہ ، ٨٨٣٧ ۵ ٧ ۵

ٹيکسی سيار ۔ ١٣٣


ہوٹل ، آپارٹمانی ہوٹل اور ریسٹورینٹ

ہوٹل

ہوٹل بين الملل قم۔ خيابان حضرتی ، مقابل دارالشفاء : ٨۔ ٧٧١٩٢٠ ۵

آریا۔ميدان آستانہ

ارم۔خيابان آیت الله نجفی، ٩١ ۔ ٨٩٧٧ ۴۴ ٠

الزہرا۔بلوار شہيد محمد منتظری، ٧۔ ٧٧ ۴۴ ٢٧٠

النبی۔بلوار شہيد محمد منتظری، ۴ ۔ ٧٧ ۴۴ ٢٧٠

رز۔ ميدان امام خمينی ، ١۔ ۶۶ ١٣٣٠٠

کوثر۔ خيابان اراک ، کوی قم نما : ٧٧٩ ۵۵ ٧٨

بی بی۔ خيابان اراک ، کوی قم نما : ۶۶ ٠٠٣٢ ۴

اپارٹمانی ہوٹل

باباعلی۔ انتہای خيابان انقلاب، ٧٧٣١٩١

٧٧٣٢ ۴ ٩٩ ، صفا ۔ خيابان معلم ، نبش کوی شمارہ ٩

قدس ۔ خيابان انقلاب کوی الوندیہ ۔ ٧٧٣ ۵ ٢٩٩

فردوسی۔ خيابان انقلاب

قدیمی طرز کے ہوٹل

باغ صبا۔ فلکہ زنبيل آباد ، ٢٩٣٧٣٧ ۴ ٣

شبستان۔ فلکہ ٧٢ تن ، ۶۶۵ ٩٩ ۵۵

ہزار و یکشب۔ بلوار امين ، فلکہ ایران مرینوس ۔ ٢٩٢٣٢ ۴۵

استقباليہ ہال

سالن غذا خوری ایران۔ بلوار امين ، استگاہ دکتر صادقی : ٢٩٢٧٩ ۶ ٨

رستوران ایرج۔بلوار امين ، استگاہ دکتر صادقی: ٢٩٣ ۵۶ ٠ ۶

سالن غذا خور ميہن ۔خيابان آیت الله نجفی : ٧٧ ۴ ٣ ۴ ٣٣

رستوران مروارید۔بلوار امين ، استگاہ زینبيہ: ۴ ۔ ٢٩٣ ۵۶۵ ٣

سالن غذا خوری شاندیز۔ ۴۵ متری عمار یاسر: ٧٧ ۵ ١ ۴ ٧ ۵

چلو کباب توحيد۔ميدان شہيد مطہری: ۶۶ ٠٣٠٩ ۴

چلو کباب نمونہ۔ابتدای بلوار امين : ٢٩٣ ۵ ٩٧

رستوران ناصر۔ ۴۵ متری صدوق: ٢٩٣٠٣٧٧

چلو کباب اميد۔خيابان شہدا ء: ٧٧ ۴ ٢١١١

پيتزا کندو۔بلوار امين : ٢٩٣ ۴۴ ٣٨

مسافروں کو سہولتيں پہنچانے والے دفاتر

راہ آہن ۔خيابان ایستگاہ : ۶۶ ١٧١ ۵ ١

آی سودا۔بلوار امين جنب تامين اجتماعی: ٣۔ ٢٩٣٣ ۶ ١١

اعتماد۔ابتدای ۴۵ صدوق ميدان مفتح: ٢۔ ٢٩٣ ۴ ٠ ۵

جبروت۔بلوار امين ابتدای سالاریہ : ٢٩٣٢ ۶۶ ٢

سجاد۔ ۴۵ متری عمار یاسرمقابل ٧متری: ٧٧١٠٢٩٧

شادی تور۔ ۴۵ متری عمار یاسرجنب مسجد امام حسين : ٧٧١٨٢٠٠

شہاب تور۔ابتدای ٢٠ متری زاد : ٨٨٢٣ ۶ ٣ ۶

شاہين تور۔بلوار امين۔ جنب ہواپيمای ہما: ٢٩٣٢٧٩٧

طاہا تور۔بلوار امين مقابل کوی زینبيہ : ٢٩٣٢٣١٧

فاخر ۔ابتدای بلوار امين جنب چلو کبابی نمونہ : ٢٩٢ ۴ ٢ ۴ ٩

فردیس۔ابتدای ۵۵ متری عمار یاسر نبش کوی عربستان: ٧٧١٨٧٧١

کریمہ۔بلوار نيایش جنب مصلی قدس: ٧٧٣ ۶ ٠٧٣

مراجان تور۔ميدان امام خمينی : ۶۶ ٣١١٩١

نظام زادہ۔بلوار امين مقابل کوی زینبيہ : ٢٩١ ۴ ٢٠٨

ہدیہ تور۔بلوار امين جنب دفتر ہوا پيمای دفتر ہواپيمائی ہما۔بلوار امين ایستگاہ دکتر صادقی: ٢٩٣٣٠٩ ۶

ترمينال مسافر بری قم۔جادہ قدیم قم تہران: ۶۶ ٠ ۴ ٠٠٠

گلزار شہدا ء اور قبرستان

باغ رضوان۔خيابان امام موسیٰ صدر

باغ بہشت۔خيابان انقلاب: ٧٧٣٢٧ ۶۵

بہشت معصومہ۔اتوبان تہران قم : ۶۶ ٠ ۴ ٠٩ ۵

قبرستان ابو حسين۔خيابان امام موسیٰ صدر: ۶۶ ٠٩٩ ۶ ٣

قبرستان بقيع۔جادہ کاشان : ٧٧٢ ۴ ٧٩٩

قبرستان نو۔خيابان اراک : ۶۶ ١٠٨٣ ۶

گلزار شہدای انقلاب اسلامی شيخان۔خيابان آیت الله نجفی: ٧٧٣ ۴۵ ٨٣

گلزار شہدای انقلاب اسلامی ٢ (باغ ملی)۔خيابان آیت الله نجفی

گلزار شہدای انقلاب اسلامی ٣ ( علی بن جعفر) ۔خيابان انقلاب امامزادہ علی ابن جعفر

٧٧٣٢٢٠ ۶۵

گلزار شہدای انقلاب اسلامی ۴ ٣ (امامزادہ ابراہيم) ۔خيابان نيروی ہوای امامزادہ ابراہيم ٨٨٢ ۶ ١ ۴۴

وادی السلام ۔خيابان امام موسیٰ صدر : ۶۶ ٠٢٢٧٩

ہسپتاليں

نکویی ،ہدایتی ( دولتی)۔خيابان آیت الله طالقانی ميدان نکویی سابق: ۵ ۔ ٧٧١ ۴ ٠٠١

کامکار عرب نيا( دولتی)۔خيابان ١٩ دی: ۵ ۔ ٧٧١٣ ۵ ١١

کودکان فاطميہ،سہاميہ ( دولتی)۔خيابان شہيد لواسانی جنب دانشگاہ علوم پزشکی : ٧۔ ٧٧١ ۵ ٢١ ۴

زنان و زایشگاہ الزہرا ( دولتی)۔خيابان نيروی ہوای نرسيدہ بہ پل شہيد دستغيب: ٩۔ ۶۶۵ ١٨٠٢

حضرت ولی عصر (خيریہ)۔بلوار جمہوریہ اسلامی یزدان شہر ٢٩٢ ۴ ٣١٠

حضرت آیت الله گلپایگانی ( خيریہ)۔خيابان مولوی چہار راہ مولوی: ۵ ۔ ۶۶ ١ ۵۵ ١١

شہيد بہشتی ( خصوصی)۔بلوار شہيد بہشتی : ۶ ۔ ۶۶ ١٨١١

٢ ۴ گهنٹے کهلے رہنے والے دواخانے

دکتر سعيدی ۔خيابان آیت الله طالقانی ميدان نکویی : ٧٧٢ ۵ ٣ ۴ ٨

دکتردہقان ۔نيرو گاہ بعد از فلکہ حافظ : ٨٨ ۵ ٣٩٨ ۵

دکترزرین اقبال۔ميدان شہدا : ٧٧ ۴ ٢٣ ۵ ٠

نوزدہ دی۔خيابان ١٩ دی جنب بيمارستان کامکار: ٧٧٠ ۵ ٨٨٨

بيمارستان کودکان۔خيابان شہيد لواسانی : ٧۔ ٧٧١ ۵ ٢١ ۴

طبی مراکز

دارالشفاء آل محمد ۔ خيابان امام خمينی بالا تر از ميدان : ۶۶ ٠٠٠ ۶۴

درمانگاہ حضرت معصومہ ۔ ميدان آستانہ جنب حرم مطہر : ٧٧ ۴ ١ ۴ ٣٩

دار الشفاء قرآن و عترت۔ ميدان شہداء خيابان حجتيہ : ٧۔ ٧٧ ۴ ١ ۵ ٢ ۶

مسجد مقدس جمکران۔ ٢٢ ۵ ٣٢٩٩،٠٢ ۵ ٣

حضرت ابو الفضل العباس(س)۔خيابان نيرو ہوائی مقابل ٢٠ متری شہيد مطہری : ٨٨٢٩١ ۵ ٣

٧٧ ۴ ٣٣٩١ : بقية الله اعظم (س)۔ خيابان شہيد فاطمی جنب سينما تربيت کوی ٧

شہيد مصطفےٰ فتاحی ۔ خيابان امام خمينی ٢٠ متری شہيد بہشتی : ۶۶ ٠٠١١١


فہرست

خيرمقدم ۴

قم کی تاريخ: ۵

صوبہ قم کا مختصرجغرابيائی خاکہ ۶

قم کے دستی صنعت اور سوغات ۷

فرش ابريشم ۷

مٹی کی بنی ہوئی اشيائ ۷

کاشی کاری ۷

لکڑی کے اشياء پر نقش و نگار ۷

سوہان (سوہن حلوہ) ۷

قم کی فضيلت ۷

حضرت معصومہ کی زيارت کی فضيلت ۱۱

آداب زيارت ۱۲

زیارت کا طریقہ ۱۴

حضرت معصومہ (س)کے مختصر حالات ۱۶

تاريخ ولادت ۱۶

اسماء و القاب ۱۷

لقب معصومہ ۱۹

کریمہ اہل بيت (س) ۲۲

عالمہ آل عبائ ۲۲


محدثہ آل محمد ۲۳

آپ کے دیگر القاب ۲۴

ایران کی طرف روانگی ۲۵

قم کی طرف روانگی ۲۶

وفات حسرت آیات ۲۶

حرم حضرت معصومہ عليہا السلام ۲۷

حضرت معصومہ قم عليہا السلام کے معجزات ۲۷

حضرت فاطمہ معصومہ سلام الله عليہا شعراء کی زبانی ۳۴

بارگاہ فاطمی (س) پر ایک نگاہ ۳۶

حرم مطہر کا گنبد : ۳۶

٢ ( حضرت کا مرقد : ) ۳۶

٣ (حرم مطہر کے ایوان ) ۳۸

دوسرے دو ايوان ۳۸

ايوان آئينہ ۳۸

۴ ( صحن عتيق کے منارے ) ۴۰

ايوان آئينہ کے منارے ۴۰

مسجد بالاسر ۴۱

مسجد طباطبائی ۴۱

مسجد اعظم ۴۲

مسجد کا معماری خاکہ : ۴۳


٧ ( حرم مطہر کے صحن نو ( اتابکی )) ۴۳

صحن عتيق ( صحن قديم) ۴۴

حرم کے ستارے ۴۵

مسجد اعظم ۴۵

مسجد بالا سر ۴۵

مسجد طباطبائی ۴۵

صحن بزرگ ( اتابکی( ۴۶

صحن عتيق ۴۶

نماز جماعت: ۴۶

نماز ظہر و عصر:۔ ۴۷

مغرب عشاء:۔ ۴۷

دوسرے پروگرام ۴۷

حرم مطہر کے دفتری امور ۴۷

مال و متاع سے متعلق دفتر:۔ ۴۸

حساب و کتاب کا دفتر:۔ ۴۸

جمع اور خرچ کا دفتر:۔ ۴۸

سرمايہ کی حفاظت کا دفتر:۔ ۴۹

خادموں سے متعلق دفتر:۔ ۴۹

تعميری امور سے متعلق ادارہ :۔ ۴۹

مشينری دفتر :۔ ۴۹


سکريٹری:۔ ۴۹

حرم کے وسائل سے متعلق ادارہ:۔ ۵۰

تمام املاک کی نظارت کا دفتر:۔ ۵۰

ہيلته سينٹر:۔ ۵۰

نشر و اشاعت کا دفترة۔ ۵۰

آرٹ سے متعلق دفتر:۔ ۵۰

ميوزیم:۔ ۵۱

بين المللی دفتر۔ ۵۱

حرم مطہر کا مرکزی دفتر:۔ ۵۱

اقتصاديات کا دفتر:۔ ۵۱

کهيتی باڑی اور جانوروں نگہداری کا شعبہ۔ ۵۱

جعفر آباد کی زمين :۔ ۵۲

مزرعہ عصمتيہ :۔ ۵۲

اہم کار کردگی :۔ ۵۲

موقوفہ واليجرد :۔ ۵۲

موقوفہ شريف آباد :۔ ۵۳

علی آباد سراجہ ۵۳

چہار دانگہ سيرو ۵۳

بخش فنی و عمرانی ۵۳

بخش فرہنگی و انتشاراتی ۵۳


بخش بازرگانی ۵۴

امور شرکت ها ۵۴

حرم مطہر کے دفاتر کے فون نمبر:۔ ۵۵

بعض قابل دید اماکن کا تعارف ۵۵

بيت النور:۔ ۵۵

منزل امام خمينی:۔ ۵۶

مدرسہ فيضيہ :۔ ۵۶

مسجد جامع:۔ ۵۶

مسجد امام حسن عسکری (س):۔ ۵۷

حرم مطہر کا ميوزيم:۔ ۵۷

مسجد جمکران:۔ ۵۸

شہر قم ميں مشہو ر امام زادہ ۶۱

حوزہ علميہ کا اجمالی تعارف ۶۲

مرکز جہانی علوم اسلامی ۶۴

جامعة الزہراء (س) ۶۵

قم کے بعض تحقيقی و تعليمی مراکز ۶۶

حوزہ کے مراکز ۶۶

آيات عظام کے دفاتر ۶۷

دينی سوالوں کے جوابات کے دفاتر ۶۷

بعض اشاعتی مراکز ۶۸


قم کے رسالہ و مجلات ۶۸

عدالتی مراکز ۶۹

ضروری ٹيليفون نمبر،تين رقمی ۶۹

مختلف اہم مراکز کے ٹيليفون نمبر ۷۰

قم کے مرکزی بينک ۷۲

بيمہ کے مراکزی شعبے ۷۲

پارک اور کهيل کے ميدان ۷۲

سنيما حال ۷۳

سوينگ پولز ۷۳

ورزش گاہيں ۷۳

پارکنگ ۷۳

پيٹرول پمپ ۷۴

ٹيليفونی ٹيکسی ۷۴

ہوٹل ، آپارٹمانی ہوٹل اور ریسٹورینٹ ۷۵

ہوٹل ۷۵

اپارٹمانی ہوٹل ۷۵

قدیمی طرز کے ہوٹل ۷۵

استقباليہ ہال ۷۶

مسافروں کو سہولتيں پہنچانے والے دفاتر ۷۶

گلزار شہدا ء اور قبرستان ۷۷


ہسپتاليں ۷۷

طبی مراکز ۷۸