شیعہ ہی اہل سنت ہے
گروہ بندی ادیان اور مذاھب
مصنف محمد تیجانی سماوی (تیونس)
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404

شیعہ

ہی

اہل سنٖت ہیں

مؤلف

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی


بسمہ تعالیٰ

حرف مترجم

بحمد اللہ، عالمی شہرت کے مالک، محقق یگانہ، روشن فکر  و بے باک مناظر اور صاحبِ قلم، سابق اہل سنت والجماعت علامہ محمد تیجانی سماوی کی چوتھی گرانقدر کتاب " الشیعہ ھم اہل السنت" کے ترجمہ کا شرف بھی ناچیز ہی کو حاصل ہوا۔ یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ" فاسئلوا اهل الذکر" کے بعد فاضل نبیل کہ کوئی نئی کتاب بھی آئے گی۔ اور اس کے ترجمہ کا شرف مجھ ہی ناچیز کو حاصل ہوگا۔ کیونکہ مؤلف نے" اهل الذکر " میں بظاہر تمام چیزیں سمودی تھیں لیکن چوتھی کتاب سے یہ معلوم ہوا کہ کسی بھی چیز کو حرفِ آخر نہیں قرار دیا جاسکتا۔ میں بھی اچانک بننے والے پروگرام کے تحت وطن چلا گیا تھا اور لوٹنے کی کوئی امید بھی نہیں تھی۔ مایوسی کفر ہے۔ لیکن بازگشت کے متعلق میری آس بالکل ٹوٹ چکی تھی۔ حوزہ علمیہ قم المقدسہ کے صبح و شام، یہاں کی پاک و پاکیزہ فضا، روحانیت کا پر کیف منظر۔ خاندان عصمت و طہارت کی ایک کڑی  حضرت معصومہ ع کا روضہ صحنِ حرم میں تسبیح و تہلیل کے ساتھ مؤمنین و طلباء کا مخلصانہ مصافحہ، علمی مباحثے یہ تمام چیزیں یاد ماضی بن کر ذہن میں گردش کرتی رہتی تھیں اور  ہمہ وقت امام مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر ورد زبان رہتا تھا۔

ہاں دکھادے اے تصوٰر پھر وہ صبح و شام تو

لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

غیبی تائید شامل حال ہوئی اور میں یک بیک قم کی مقدس و مبارک سرزمین پر پہنچ گیا۔ آئے ہوئے چند ہی روز گزرے تھے کہ محترم انصاریان کا پیغام ملا: جتنی جلد ہوسکے مجھ سے مل لیں ، کیونکہ موصوف صاحبِ فراش تھے۔ لہذا میں عیادت کے فریضہ اور ان کی مذہبی خدمات و اخلاقی اقدار کے تحت ان کے پاس گیا۔ موصوف کا آپریشن ہوچکا تھا۔ اُٹھ کر بیٹھ نہیں


سکتے تھے۔ لیکن وہ نشر علوم آل محمدص اور دیگر تبلیغی امور کے تحت اپنی تکلیف و بیماری سے بے پرقاہ تھے۔ مجھ سے کہا: علامہ تیانی کہ یہ چوتھی کتاب آگئی ہے۔ آپ جلدی سے اس کا ترجمہ کردیں۔ میں قبول کرلیا اور اب بحمدہ و امتنانہ ترجمہ اپنے تمام مراحل سے گزر کر قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ گیا ہے۔ اگر کتابت میں تاخیر نہ ہوتی تو دو ماہ قبل ہی کتاب شائع ہوگئی ہوتی اور    شائقین کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑتا۔

ترجمہ کے دوران کتاب کے متعلق میں نے جو رائے قائم کی ہے وہ یہ ہے کہ کتابِ ہذا کا ہر موضوع تحقیق کا بیش بہا خرانہ ہے اور اپنے اندر ذہنوں کو بدل دینے والی بے پناہ طاقت لئے ہوئے ہے جو مسلمان بھی مذہبی تعصب اور تنگ نظری سے ہٹ کی اس کا مطالعہ کرے گا اسے یہ معلوم ہوجائے گا کہ شیعہ ہی اھل سنت ہیں۔ انھوں نے سنتِ نبی@کے خلاف کبھی کوئی عمل انجام نہیں دیا ہے چنانچہ سنت نبی@ان کا شعار بن گئی ہے۔ لہذا اہل سنت کا صحیح مصداق شیعہ ہی ہیں۔ اور ان اشخاص کی حقیقت بھی واضح ہوجائے گی کہ جنھیں جعلی حدیثوں اور ظالم و جابر نام نہاد مسلمان خلفاء و حکام نے جنتی بنارکھا ہے۔ اسی طرح اس قوم کی بھی حقانیت و مظلومیت آشکار ہوجائے گی کہ جس کو غلط پروپیگنڈے اور مسلسل تبلیغات نے منفور بنادیا ہے اور اس بات کاراز بھی فاش ہوجائے گا کہ اہل سنت والجماعت نے ائمہ اہل بیتع کو چھوڑ کر ان لوگوں کی اقتداء کیون کی جن کا عصمت و طہارت اور خانۃ وحی سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ اسی کتاب میں ڈاکٹر موسی موسوی کی کتاب ، اصلاح شیعہ،کا بھی جواب مل جائے گا۔

اُمید ہے کی مسلمان کھلے ذہن سے اس کتاب کا مطالعہ کریں گے اور حق کے سامنے سپر انداختہ ہو کر شیعوں کے ہم خیال بن جائیں گے او ر بے بنیاد عقائد و فرسودہ خیالات کو ذہن سے نکال کر ائمہ اہل بیتع کی اقتداء کریں گے اور تمام مسلمان ایک مذہب کے پرچم کے نیچے جمع ہوکر خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کریں گے۔

نثار احمد زین پوری


خطبہ الکتاب

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، الرحمان الرحيم، قاهر الجبّارين والمتکبّرين ناصر المظلومين والمستضعفين، المتفضّل علی عباده اجمعين من المؤمنين والکافرين والمشرکين والملحدين، المنعم علی خلقه کلّهم بالهداية والرعاية والتکريم، فقال جلّ و علا:{ ولقد کرّمنا بنی آدم و حملناهم فی البرّ والبحر ورزقناهم من الطيّبات وفضّلناهم علی کثير ممّن خلقنا تفضيلا} (الاسرا، آیت ۷۰)

والحمد لله الذی اسجد لنا ملائکته المقربين و من أبی أصبح من الملاعين، الحمد لله الذي هدانا لهذا وما کنا لنهتدی لولا أن هدانا الله، والحمد لله الذی عبّد لنا الطريق و مهّد لنا السّبيل لنصل بعنايته و تحت عبادته إلی مراتب الکمال العليّة، و أنار لنا الظّلام و أوضح لنا الحقيقة بالحجج القويّة والبراهين الجليّة، و أرسل لنا رسلا منّا تتلو علينا آياته و تخرجنا من الظلمات إلی النّور و تنقذنا من الضلالة العميّةو جعل لنا العقل إماما قائما نهتدی به کلّما شکّت حواسنا فی أمر مبهم أو قضية.

والصلاة والسّلام، والبرکات والتحيات علی المبعوث رحمة للانسانية، سيّدنا و مولانا و قائدنا محمّد بن عبد الله خاتم الرّسل و سيد البشريّة، صاحب الفضيلة والوسيلة والدرجة الرفيعة، صاحب المقام المحمود واليوم الموعود والشفاعة المقبولة والخلق العظيم و علی آل بيته الطيّبين الطاهرين الذين أعلی الله مقامهم


 و جعلهم أمان الأمّة من الهلکة و منقذی الملّة من الضلالة و نجاة المؤمنين من الغرق، المتمسّک بحبل ولائهم مؤمن طيّب الولادة، والناکب عن صراطهم منافق رديء الولادة محبهم ينتظر الرّحمة و مبغضهم ليس له إلاّ النّقمة، لا يصل العبد إلی ربّه إلا من طريقهم ولا يدخل إلا من بابهم.

ثمَالرّضوان علی شيعتهم و محبّيهم من الصاحابة الاولين الذين بايعوهم علی نصرة الدّين، و ثبتوا معهم علی العهد و کانوا من الشاکرين، و علی من تبعهم بإحسان إلی يوم الدّين.

اللّهم إنّا نرغب إليک فی دولة کريمة تعز بها الإسلام و أهله، و تذلّ بها النّفاق و أهله، وتجعلنا فيها من الدّعاة إلي طاعتک، والقادة إلي سبيلک، و ترزقنا بها کرامة الدّنيا والآخرة، برحمتک يا ارحم الرّاحمين.

ربّ اشرح لی صدری، و يسّر لي أمری، واحلل عقدة من لساني يتقهوا قولی، واجعل کلّ من يقرأ کتابي يميل إلی الحق بإذنک، ويترک التعصّب بمنّک و احسانک، فإنک أنت الوحيد القادر علی ذالک ولا يقدر عليه سواک.

فبعزّتک و جاللک و بقدرتک و کمالک، و بمحبّتک لعبادک افتح بصائر المؤمنين الموحّدين الذين آمنوا برسالة حبيبک محمّد علی الحقّ الذی لا شکّ فيه، حتّی يهتدوا إليه بفضلک و يعرفوا قيمة الأئمة من آل بيت نبيّک، و يتوحّدوا لإعلاء کلمة الدّين بالحکمة البالغة والموعظة الحسنة والأخوة الصّادقة، فلقد عمّ الفساد في البرّ والبحر.

ولو لا الصبر الذي خلقته و ألهمتنا إيّاه، لدبّ اليأس إلی قلوبنا ولأصبحنا من الخاسرين، لأنّه لا يبأس من روح الله إلا القوم الکافرون، فاجعلنا اللّهم من الصابرين و لا تجعلنا من اليائسين.

اللّهم، کن لوليّک الحجّة ابن الحسن، صلواتک عليه و علی آبائه في هذه


 السّاعة و في کلّ ساعة، وليّا و حافظا و قائدا و ناصرا، و دليلا و عينا، حتّی تسکنه أرضک طوعا و تمتّعه فيها طويلا، واجعلنا من أنصاره و أعوانه والمستشهدين بين يديه في طاعتک و سبيلک، إنّک أنت السّميع العليم.

ربّنا لا تزع قلوبنا بعد اذ هديتنا، وهب لنا من لدنّک رحمة إنّک أنت الوهّاب.

ربّنا إنّک جامع النّاس ليوم لا ريب فيه، إنّ الله لا يخلف الميعاد.

وآخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العالمين، اللّهم صلّ علی محمّد و آله الطيّبين الطاهرين.


مقدمہ

الحمد لله ربّ العالمين والصلوة والسّلام علی اشرف الأنبياء والمرسلين سييّدنا و مولانا محمّد و علی آله الطيّبين الطاهرين وبعد

مداد العلماء افضل عند الله من دماء الشهداء.

علماء (کے قلم) کی سیاہی خدا کے نزدیک شہیدوں کے خون سے افضل ہے۔ ہر عالم اور ہر صاحب قلم کا فریضہ ہے کہ وہ لوگوں کے لئے ایسی چیز لکھے جو انکی ہدایت کی صلاحیت رکھتی ہو اور ان کی اصلاح کرسکتی ہو، انھیں تاریکیوں  سے نکال کر روشنی میں لاسکتی ہو اور متحد کرسکتی ہو۔ کیوں کہ راہ خدا میں شہید ہونے والے یعنی عدل کے قائم کرنے کی دعوت میں جان دینے والے کی قربانی و شہادت سے وہی متاثر ہوتا ہے جو اس وقت موجود تھا۔ لیکن لوگوں کو تعلیم دینے والے اور ان کے لئے لکھنے والے سے قوم کے نونہال اور بہت سے مطالعہ کرنے والے متاثر ہوتے ہیں اور آنے  والی نسلوں کے لیے اس کی کتاب منار ہدایت


بن جاتی ہے۔ پھر ہر شئی خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے۔ لیکن علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ خرچ کرکے اس میں اضافہ کرو۔

نیز رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے:

"لئن دی الل بک رجلا واحدا خرا لک مما طلعت الشمس و خر لک من الدنا لک من الدنا و فا"

" اگر تمھارے ذریعہ خدا ایک شخص کی ہدایت کردے تو وہ تمھارے لئے ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج نے روشنی ڈالی ہے یا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔"

کتنے صاحبان قلم کو موت کی آغوش میں سوئے ہوئے صدیاں گذر گئیں، ان کی ہڈیاں بھی بوسیدہ ہوگئیں، لیکن ان کے افکار و علوم کتاب کی صورت میں موجود ہیں اور وہ کتاب نسلوں کے گذرنے کے ساتھ ساتھ سینکرڑوں مرتبہ زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہے اور لوگ اس سے ہدایت حاصل کرتے ہیں، جس طرح شہید اپنے رب کے نزدیک زندہ ہیں اور رزق پارہے ہیں اسی طرح وہ عالم بھی خدا کے نزدیک اور لوگوں کے درمیان زندہ  ہیں جو لوگوں کی ہدایت کا سبب تھا لوگ اس کے لئے استغفار کرتے ہیں اور اس کا ذکر خیر کرتے ہیں۔

لیکن میں علماء میں سے نہیں ہوں اور نہ ہی اپنے لئے اس کا دعویدار ہوں، انانت سے میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں، میں تو علماء و محققین کا خادم ہوں ان کے نقش قدم پر ایسے ہی چلتا ہوں جس طرح غلام اپنے آقا کا اتباع کرتا ہے۔

خدا نے مجھے"ثم اهتديت " لکھنے کی توفیق عطا کی اور قارئین نے میری ہمت افزائی کی تو اس کے بعد دوسری کتاب "لاکون مع الصادقين " "ہوجاؤ سچوں کے ساتھ " تحریر کی اور اس نے بھی مقبولیت پائی اور اس نے مجھے مزید بحث و

تحقیق پر


 ابھارا تو میں نے اسلام اور نبی اسلام سے دفاع، اور آپ پر لگائے جانے والے اتہام، حقیقت کے انکشاف اور آپ کے اہل بیت (ع)کے خلاف کھیلی جانے والی سازشوں کا پردہ چاک کرنے کے لئے تیسری کتاب" فاسئلوا اهل الذکر" تحریر کی.

عربی اور اسلامی ممالک کے علاوہ دنیا بھر سے میرے پاس مشفقانہ اور محبت آمیز خط آئے۔ اسی طرح دنیا کے ہر گوشہ و کنار میں ہونے والی مختلف فکری کانفرنسوں میں مجھے دعوت دی گئی چنانہاس سلسلہ میں میں نے امریکہ کی متحدہ جمہوریاؤں ، اسلامی جمہوریہ( ایران )برطانیہ ، ہندوستان، پاکستان، کینیا، مغربی افریقہ اور سویڈن کا سفر کیا۔

ہر جگہ روشن فکر افراد اور ذہین و جدت پسند نوجوانوں سے میری ملاقات ہوئی میں نے ان میں مزید موقت تشنگی کا احساس کیا، وہ سوال کرتے تھے کیا اس کے علاوہ بھی کچھ اور ہے؟ کوئی نئی کتاب لکھی ہے؟

میں نے اس سعادت پر خدا کا شسکر ادا کیا اور مزید توفیق و عنایت کی دعا کی اور اس کتاب کو لکھنے کے سلسلے میں مدد چاہی جسکو میں مسلمان قارئین کے سامنے پیش کررہا ہوں حق کے متلاشی جن افراد سے پہلی تین کتانوں کا مطالعہ کیا ہے امید ہے کہ اگر وہ اس  کتاب کا مطالعہ کریں گے تو انھیں معلوم ہوگا کہ" شیعہ امامیہ ہی " فرقہ ناجیہ اور شیعہ ہی در حقیقت اہل سنت ہیں یہاں میری مراد سنت حقیقی اور سنتِ محمدیص ہے جو کہ نبی ص نے وحی رب العالمین کے مطابق پیش کی تھی۔

نبی تو ٖصرف وہی کہتے تھے جو ان پر وحی ہوتی تھی۔ قارئین کے سامنے عنقریب میں وہ اصطلاح پیش کروں گا جس پر شیعہ زعماء اور ان کے حریف اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے۔ حقیقت میں یہ ان کے زعم کے لحاظ سے سنت ہے جبکہ خدا نے اس سلسلہ میں کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے اور رسول ص بھی اس سے بری ہیں۔

کتنی ہی جھوٹی باتیں رسولصکی طرف منسوب کردی گئی ہیں اور آپ صکے کتنے ہی


اقوال و افعال اور احایث کو مسلمانوں تک، اس دلیل سے نہیں پہنچنے دیا گیا ہے کہ کہیں کتاب خدا اور حدیثِ نبی( ص)مخلوط نہ ہوجائے۔ اگر چہ اس دلیل میں کوئی دم خم نہیں ہے بیت عنکبوت کی سی ہے۔ بہت سی احادیث کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیاگیا ہے۔اور  ان کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے اور کتنی ہی خیالی چیزیں نبی ص کے بعد احکام بن گئیں اور ان ہی سے منسوب ہوگئیں۔ ایسے کتنے ہی لوگ میاں مٹھو بن بیٹھے ہیں جن کی حقارت اور ذلت کی تاریخ گواہی دے رہی ہے۔

وہی نبی ص کے بعد امت کے قائد و رہبر بن گئے اور(آج) ان کی غلطیوں کی تاویل کی جاتی ہے۔

اور کتنی ہی قدآور شخصیتیں، کہ جن کی شرافت و عالی منزلت کی تاریخ شاہد ہے، گوشہ نشین ہوگئیں کوئی ان کی طرف مڑ کر دیکھنے والا نہیں ہے۔ بلکہ ان کے عظیم موقف کی بنا پر لوگ ان پر لعنت کرتے ہیں اور انہیں کافر کہتےہیں، اور بہیتر ے پرکشش اور چمکیلے نام ہیں جن کے پیچھے کفر و ضلالت چھپی ہوتی ہے کتنی ایسی ہی قبروں کی زیارت ہورہی ہے جن کے مردے جہنمی ہیں۔

خداوند عالم نے اس کو بہترین تعبیر میں پیش کیا ہے۔

" اے رسول ص لوگوں میں سے وہ بھی ہے جس کی باتیں دنیا میں تمھیں بہت بھاتی ہیں اور وہ اپنی دلی محبت پر خدا کو گواہ مقرر کرتاہے۔ حالانکہ وہ دشمنوں میں سے سے زیادہ جھگڑالو  ہے اور جب تم سے الگ ہوا تو ملک میں فساد پھیلانے کے لئے اِدھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگاتا کہ زراعت و مویشی کا ستیاناس کرے اور خدا فساد کو اچھا نہیں سمجھتا اور جب کہا جاتا ہے کہ خدا سے ڈرو تو اسے غرور، گناہ پر ابھارتا ہے پس ایسے کے لئے تو جہنم کافی ہے اور بہت براٹھکانہ ہے"


شاید میں نے اس حکمت کے اوپر عمل کر کے مبالغہ نہیں کیا ہے کہ اس کے بر عکس بھی دیکھاہے۔" لوعکست لاصبت" اور محقق کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان چیزوں کو کافی اور مسلمات میں سے نہ سمجھے جو  اس کے پاس ہیں۔ بلکہ اس کے مقابل والی چیزوں کو بھی دیکھے اور غور کرے تاکہ وہ مٹی ہوتی حقیقت اور اس کے دھندلے نقوش سے آگاہ ہوجائے کیونکہ وہ ہر زمانہ میں سیاسی کھلواڑ کا نشانہ بنی رہی ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی چیز کے ظاہر سے فریب نہ کھائے اور نہ ہی کثرت سے متاثر ہو اس سلسلہ میں خداوند عالم  کا ارشاد ہے:

"اگر تم زمین پر رہنے والوں کی اکثریت کی اطاعت کروگے تو وہ تمہیں راہِ خدا سے بھٹکا دیں گے کیونکہ وہ ظن کا اتباع کرتے ہیں اور بالکل بے تکی باتیں کیاکرتے ہیں۔ (سورۃانعامآیت116 )

لوگوں کو گمراہ کرنے اور دھوکہ دینے کے لئے باطل حق کی نقاب ڈال لیتا ہے۔

اور اکثر  کم عقل لوگوں میں کامیابی بھی حاصل کر لیتا ہے، کبھی حق کے خلاف باطل کی مدد کی جاتی ہے اور حق والوں کے پاس خدا کے اس وعدہ کے انتظار " باطل مٹ جائے گا اور وہ تو مٹنے ہی والا ہے اور صبر کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں رہتا ہے۔

اس کے لئے بہترین مثال وہ ہے جو جناب یعقوب ع اور ان کی اولاد کے بارے میں بیان کی ہے:

"وہ رات کو روتے ہوئے اپنے والد کے پاس آئے اور کہنے لگے بابا ہم شکار کے لئے چلے گئے تھے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس  چھوڑ دیا تھا پس انھیں بھیڑیا کھا گیا اور آپ ہماری بات کو تسلیم کرنے والے نہیں ہیں خواہ ہم سچے ہی کیوں نہ ہوں" سورۃیوسفآیت 16،17

اگر وہ( برادران یوسف) سچٌے ہوتے تو انھیں یہ کہنا چاہئے تھا : آپ ہماری بات





"بلکہ ان کے پاس حق آیا جب کہ ان میں سے اکثر حق کو پسند نہیں کرتے۔( سورہ بقرہ آیت 249) 

ان ہی اسباب کی بناء پر حق کے پرستار حسین(ع) کے خلاف باطل پرست یزید کی مدد کی گئی اور اسی طرح دیگر  ئمہ معصومین (ع) کے حق کے سلسلے میں امیٌہ بنی عباس کے حکام کی مدد کی گئی اور ائمہ نے اسلام و مسلمین کی مصلحت کے پیش نظر شہادت قبول کی۔

چنانچہ باطل کے خوف سے بارہویں امام(عج)  نے غیبت اختیار کی مدد کرنے والے  پائے جائیں گے۔ اس وقت خدا انھیں ظہور کا حکم دے گا تاکہ عالمی پیمانے پر حق باطل کے خلاف علم بلند کرے۔ امام مہدی(عج) زمین کو ایسے ہی عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے زمین کو ایسے ہی حق سے لبریز کردیں گے جس طرح وہ باطل سے چھلک رہی ہوگی۔

باوجودیکہ اکثر لوگ حق سے کراہیت کرتے ہوں گے وہ باطل کے طرف دار ہوں گے اور حق کو دوست رکھنے والوں کی تعداد قلیل ہوگی لیکن وہ قلیل ہی خدا کی معجزاتی مدد سے باطل پر فتحیاب ہوں گے اور یہ تو ان تمام معرکوں اور جنگوں میں واضح ہے جن میں حق والوں نے باطل کے خلاف محاذ قائم کیا تھا، کتنی ہی چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آگئی ہے اور خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ۔

جو لوگ حق کے لئے صبر کرتے ہیں اگر چہ کہ ان کی تعداد مختصر ہوتی ہے۔ تب بھی خدا معجزات  کے ذریعہ ان کی مدد کرتا ہے اور ملائکہ کو بھیجتا ہے جو ان کے شانہ بشانہ جنگ کرتے ہیں اور اگر ساتھ کے ساتھ خدا مداخلت کرتا تو باطل پر حق کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔

اس تلخ حقیقت کو تو ہم آج اپنی زندگی میں بھی دیکھ رہے ہیں، سچَے مؤمن، حق کے طرف دار مغلوب ہیں جبکہ خدا کے منکر باطل کے طرف دار حاکم بنے بیٹھے ہیں، کافروں اور


مستکبرین کے مقابلے میں مستضعف و مؤمنین خدا کی نصرت ہی سے کامیاب ہوسکتے ہیں۔

ہمارے مدعا کے ثبوت میں وہ روایات موجود ہیں کہ جو ظہور امام مہدی(عج) کے ساتھ معجزات کے ظاہر  ہونے پر دلالت کررہی ہیں۔

لیکن واضح رہے یہ چیزیں جمود اور ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہنے کی دعوت نہیں ہیں اور اب کیوں کر ہوسکتا ہے جببکہ میں نے ابھی یہ بیان کیا تھا کہ آپ(ص) اسی وقت ظہور فرمائیں گے جب اعوان و انصار موجود ہوں گے، سچٌے مومنین کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان میں اسلام کی صحیح فکر اور روح بس جائے اور وہ ولایتِ اہل بیت(ع) کے قائل ہوجائیں۔ یعنی ثقلین، کتابِ خدا اور عترت نبی (ص) سے متمسک ہوجائیں تاکہ وہ امام مہدی(عج) منتظر کے اعوان و انصار قرار پائیں۔

اگر میرا یہ قول اکثر لوگوں کی رائے کے لحاظ سے غلط ہے اور اقلیت کے اعتبار سے صحیح ہے تو مجھے اکثریت کی ملامت کی پرواہ نہیں اور اقلیت کی مدح کی خواہش نہیں ہے مجھے تو خدا اور اس کے رسول(ص) اور ائمہ معصومین(ع) کی رضا عزیز ہے۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے تابع ہیں پھر ان کی خواہشیں پراگندہ ہیں، اور اگر حق ان کی خواہشوں کا اتباع کرتا تو آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے برباد ہوجاتا۔(سورۃ مؤمنون آیت ۷۱) اور  ویسے بھی اکثر لوگ حق سے منحرف ہیں حد ہوگئی انوں نے حق کی عداوت میں کہ جس پر وہ اپنی نفسانی خواہشوں کے ساتھ ساتھ گامزن نہیں ہوسکتے تھے۔ اپنے رسولوں کو قتل کردیا۔

"کیا تم اس قدر بددماغ ہوگئے کہ جب کوئی پیغمبرتمھارے پاس تمھاری خواہش نفسانی کے خلاف کوئی حکم لے کر آیا تو تم اکڑ بیٹھے۔ پس تم نے بعض پیغمبروں کی جھٹلایا اور بعض کو قتل کرڈالا۔"

پس اگر وہ بعض افراد جو حق کو تحمل نہیں کرتے ہیں جیساکہ پہلی کتابوں کے ذریعہ میں نے حق پیش کیا اور انہیں اس بات کا اختیار تھا کہ وہ علمی دلیل حجت سے میری بات


کی تردید کرتے لیکن انھوں نے مجھ پر سب و شتم کیا جیسا کہ جاہلوں کی عادت ہے۔

اب مجھے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ مجھے کوئی دھمکی اور لالچ میں مبتلا کرسکتا ہے۔ میں اپنے قلم اور اپنی زبان کے ذریعہ محمد رسول اللہ(ص) اور ان کے اہل بیت صلوات اللہ علیہم اجمعین سے دفاع کرتا وہوں گا امید ہے کہ انکی بارگاہ میں میری یہ سعی مقبول ہوگی، اور میں کامیاب ہوجاؤں گا۔

وما توفقی الا بالل عل توکلت و ال انب.

محمد تیجانی سماوی تیونسی.


شیعوں کا تعارف

جب ہم بغیر کسی تعصب وتکلف کے فرقہ شیعہ (شیعہ سے ہماری مراد یہاں امامیَہ اثناعشری ہیں) جنہیں امام جعفر صادق(ع)کی نسبت جعفری بھی کہا جاتاہے ہماری بحث کا تعلق دوسرے فرق اسماعیلیہ اور زیدیہ قغیرہ سے نہیں ہے ہمارے نزدیک وہ ایسے ہی ہیں جیسے وہ دیگر فرق جو حدیث ثقلین سے تمسک نہیں رکھتے ہیں اور انہیں رسول (ص) کے بعد حضرت علی(ع) کی امامت کاعقیدہ کوئی فائدہ نہیں پہونچائے گا۔) کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ اسلامی فرقوں میں سے ایک ہے جو کہ اہل بیت مصطفیٗ (ص) میں سے علی(ع) اور ان کے گیارہ فرزندوں کا محب و معلد ہے اور تمام فقہی مسائل میں ان ہی کی طرف رجوع کرتا ہے ، اور رسولِ خدا (ص) کےسوا ان پر کسی اور کو فضیلت نہیں دیتا۔

اختصار کے ساتھ یہ ہے شیعہ کا "حقیقی" تعارف متعصب لوگوں کی ان باتوں کو چھوڑئیے کہ شیعہ دشمنِ اسلام ہیں یا وہ علی(ع) کی نبوت یا رسالت کے قائل ہیں یا اس مذہب کا موجد عبد اللہ بن سبا یہودی ہے۔


میں نے چند ایسے مقالات و کتب کا مطالعہ کیا ہے کہ جن کے لکھنے والوں نے اپنی پوری کوشش اس بات پر صرف کی ہے کہ شیعہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

لیکن ان کے اقوال محض افترا اور صریح جھوٹ ہیںانھوں نے دشمنِ اہل بیت(ع) اپنے آباؤ اجداد ہی کے اقوال کو دھرایا ہے اور نواصب کے ( تھوکے لقموں کو چبایا ہے) جو کہ امَت پر  مسلط ہوگئے تھے، اور انھیں دور افتادہ علاقوں میں رہنے پر مجبور کرتے تھے، برے القاب سے نوازتے تھے۔

شیعوں کے دشمن کی کتابوں میں رافضی یا روافض ایسے القاب مرقوم ہیں۔چنانچہ قاری بادی النظر میں یہ سوچتا  ہے کہ شیعہ رسالتِ نبی(ص) و قوانین اسلام کے منکر اور اس پر عمل پیرا نہیں ہوںگے۔

در حقیقت بنی امیہ و بنی عباس کے حکام اور ان کے چاپلوس علما نے شیعوں کو ان برے القاب سے یاد کیا  ہے کیونکہ شیعہ حضرت علی(ع) کے محب تھے اور ابوبکر، عمر اور عثمان کی خلافت کے منکر تھے اور ای طرح بنی امیہ و عباس کے حکام کی خلافت کا بھی انکار کرتے تھے۔ شاید حکام بعض حدیث وضع کرنے والے صحابہ کی مدد سے امت پر مسلط ہوئے تھے۔ کیوں کہ صحابہ ان کی خلافت کو شرعی بتاتے تھے اور خداوندِ عالم کے اس قول کو بہت رواج دیتے تھے۔

 ا اّا الذن آمنوا اطعوا الل و اطعوا الرسول و اولی الامر منکم

" ایمان لانے والو! اللہ کی اطاعت کرو  اور اس کے رسول(ص) اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔"

وہ اس آیت سے انہی حکام کو مراد لیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ آیت ان ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے وہ صاحبانِ امر ہیں مسلمان پر ان کی اطاعت واجب ہے،


 کبھی حکام ان لوگوں کو کرایہ پر لیتے تھے جو نبی(ص) کی طرف سے جھوٹی حدیثیں گھڑت کرتے تھے۔

چنانچہ رسول(ص) سے یہ حدیث نقل کردی گئی تھی۔

لس احد خرج من السلطان شبرا فمات عل الا مات الجالة

"کسی کو حاکم کے خلاف ایک بالشت بھی جانے کا حق نہیں ہے اور جو اس حالت میں مر گیا تو گویا وہ جاہلیت کی موت مرا"

پس  کسی مسلمان کو بادشاہ کی اطاعت سے نکلنے کا حق نہیں ہے۔

اس سے ہماری سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے کہ شیعہ حکام کے مظٖالم کا نشانہ کیوں بنے رہے اس لئے کہ انھوں نے ان کی بیعت سے انکار کردیا تھا اور خلافت کو اہل بیت(ع) کا مغصوب حق تصور کرتے تھے لہذا حکام عوام فریبی کے لئے یہی کہتے رہے کہ شیعہ اسلام کے دشمن ہیں وہ اسے نابود کردینا چاہتے ہیں جیسا کہ یہی چیز ایسے بعض صاحبانِ قلم نے لکھی ہے کہ جن کے بارے میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ سابقین و لاحقین کے عالم تھے۔

اور جب ہم اس کھیل کی طرف رجوع کریں گے جو حق کو باطل سے ملاتا ہے تو معلوم ہوگا کہ جو اسلام کو مٹادینا چاہتا ہے وہ اور ہے اور جو فاسق و ظالم حکام کے خلاف خروج کرتا ہے وہ اور ہے اور اس سے ان کا مقصد حق کو حقدار تک پہونچانا تھا، تاکہ عادل حاکم کے ذریعہ اسلام کے قوانین کانفاذ ہوسکے۔ بہر حال یہ بات تو ہم اپنی سابعہ کتابوں"ثم اہتدیت" لاکون مع الصادقین اور اہل ذکر کی بحثوں میں بیان کرچکے ہیں کہ شیعہ ہر فرقہ ناجیہ ہے کیوں کہ وہ ثقلین " کتابِ خدا اور عترت رسول(ص) سے متمسک ہے۔

ہم نے بعض منصف مزاج علمائے اہل سنت کوبھی اس حقیقت کا معترف پایا ہے۔ چنانچہ ابنِ منظور اپنی کتاب "لسان العرب" میں شیعہ کے معنی بیان کرتے ہیں "شیعہ" وہ قوم ہے جو عترتِ نبی(ص) کی عاشق و محب ہے" اسی طرح ڈاکٹر عبد الفتاح عاشور نے مذکورہ


کتاب کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ :

جب شیعہ اس قوم کو کہا جاتا ہے جو عترت نبی(ص) کی عاشق و محب ہے تو مسلمانوں میں ایسا کون ہے جو شیعہ ہونے سے انکار کرے گا؟

نسلی تعصب وعداوت  کا درد واپس لوٹ چکا ہے، روشنی اور آزادی فکر کا زمانہ آگیا ہے ذہین وجدت پسند جوان آنکھیں کھولیں اور شیعوں کی کتابوں کا مطالعہ کریں ان سے ملیں اور ان کے علماء سے گفتگو کریں اور اس طرح حق کو پہچان لیں ۔ کتنی شیرین زبانوں کے ذریعہ ہمیں دھوکہ دیا گیا اور کتنی بے بنیاد باتیں سنائی گئیں۔

آج جنکہ دنیا ہر ایک انسان کے ہاتھ میں ہے اور شیعہ بھی اس زمین کے چپہ چپہ پر آباد ہیں پھر کسی محقق کو یہ حق نہیں پہونچتا کہ وہ شیعوں کے بارے میں شیعوں کے دشمنوں سے سوال کرے ان لوگوں سے پوچھے جو کہ عقیدہ کے لحاظ سے ان کی مخالفت   کرتے ہیں اور ان سے سائل کیا توقع رکھتا ہے جو کہ ابتدا ہی سے شیعوں کے دشمن ہیں؟ شہعی کوئی خفیہ مذہب  نہیں ہے کہ جس کے عقائد سے کوئی واقف نہ ہوسکے بلکہ اس کی کتانیں اور منشورات دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور ہر طالب علم کے لئے ان کے مدارس اور خوزات علمیہ کھلے ہوئے ہیں، ان کے علماء کی طرف سے کانفرنس، سیمنار منعقد ہوتے رہتے ہیں وہ امت اسلامیہ کو اتحاد کی دعوت دیتے ہیں اور انھیں ایک مشترک کلمہ پر جمع ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ اگر ملتِ اسلامیہ کے منصف مزاج افراد سنجیدگی اور جانفشانی سے اس مسئلہ کی تحقیق کریں گے تو وہ حق سے قریب ہوجائیں گے اور حق کے سوا تو ضلالت و گمراہی ہے اور جو چیز ان کے حق تک پہونچنے میں رکاوٹ بنتی ہے وہ دشمنان شیعہ کا جھوٹا پروپگنڈہ ہے یا شیعہ عوام میں سے  کسی کی غلطی ہے۔(کتاب کے آخر میں یہ بات واضح ہوجائے گا کہ شیعہ عوام میں بعض کے افعال سے اہل سنت کے ذہین و روشن خیال جوان بد ظن  ہوجاتے ہیں اور پھر ان میں حقیقت تک رسائی کے لئے بحث و تحقیق کی بھی ہمت نہیں رہتی ہے۔)


کیونکہ اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ( سی انسان کے قلب سے) شبہ زائل ہوجاتا ہے اور باطل افسانہ محو ہوجاتا ہے پھر آپ دیکھیں گے کہ شیعہ دشمن خود شیعہ ہوگیا ہے۔

یہاں مجھے اس شامی کا قصہ یاد آگیا جس کو اس زمانہ کے ذرائع ابلاغ نے گمراہ کردیا تھا۔ جب وہ قبر رسول اعظم کی زیارت کی غرض سے مدینہ میںداخل ہوا تو اہاں گھوڑے پر سوار ایک باوقار شخص کو دیکھا کہ جس کے چاروں طرف اس کے اصحاب کھڑے ہوئے ہیں اور اس کے اشارے کے منتظر ہیں۔

شامی یہ کیفیت دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا کیونکہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا میں معاویہ سے زیادہ بھی کسی کی تعظیم کی جاتی ہے اس نے اس شخص کے متعلق دریافت کیا توجواب دیا گیا یہ حسن بن علی ابی طالب(ع)  ہیں۔ اس نے کہا : یہی خارجی ابن ابی تراب ؟ اس کے بعد اس نے امام حسن(ع)  اور  آپ  کے پدر اور اہل بیت پر سب و شتم کرنا شروع کردیا۔

امام حسن(ع) کے اصحاب نے اسے قتل کرنے کے لئے تلواریں کھینچ لیں لیکن امامِ حسن(ع) نے انہیں منع کردیا اور گھوڑے سے اتر پڑے اور اسے خوش آمدید کہا اور محبت آمیز لہجہ میں فرمایا:

کیا ا س شہر میں تم مسافر و غریب ہو؟ شامی نے کہا ہاں ، میں شام سے آیا ہوں اور میں امیر المؤمنین سید المرسلین معاویہ بن ابی سفیان کا چاہنے والا ہوں ،امام(ع) نے دوبارہ اسے  خوش آمدید کہا اور فرمایا : تم میرے مہمان ہو ، شامی نے انکار کیا لیکن امام حسن(ع) نے اسے مہمان ہونے پر راضی کرلیا اور بنفس نفیس کئی روز تک اس کی ضیافت کرتے رہے چوتھے روز شامی شرمندہ ہوگیا اور امام حسن(ع) کی شان میں جو گستاخی کی تھی اس کی معافی طلب کرنے لگا، امام حسن(ع) نے اس کے سب و شتم کے مقابلہ میں احسان و درگذشت اور مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا جس سے شامی پشیمان ہوا۔ امام حسن(ع) اور شامی کے درمیان اصحاب امام حسن(ع)  کے سامنے کچھ اور گفتگو بھی ہوئی تھی جسے ہم ذیل میں نقل کررہے ہیں۔


امام حسن(ع) : میرے عرب بھائی کیا تم نے قرآن پڑھا ہے؟

شامی: مجھے پورا قرآن حفظ ہے۔

امام حسن(ع) کیا تم جانتے ہو کہ اہل بیت (ع) کون ہیں جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا اور ایسے پاک رکھا جو حق ہے؟

شامی: معاویہ اور آل ابی سفیان ہیں۔

حاضر ین کو اس کی با ت پر بڑا تعجب ہوا، اور امام حسن(ع) نے مسکراتے ہوئے فرمایا: میں علی بن ابی طالب(ع) کا فرزند حسن (ع) ہوں جو کہ رسول اللہ (ص) کے ابن عم اور بھائی ہیں۔میری مادر گرامی فاطمہ زہرا سیدہ نساء العالمین، میرے جد رسول اللہ سید الانبیاء والمرسلین(ص)، میرے چچا سید الشہداء جناب حمزہ اور جعفر طیار(ع) ہیں خدا نے ہمیں پاک و پاکیزہ رکھا ہے اور تمام مسلمانوں ہماری محبت واجب کی ہے۔ خدا اور اس کے ملائکہ ہم پر صلوات بھیجتے ہیں اور مسلمانوں کو ہم پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے ، میں اور میرے بھائی حسین(ع) جوانان جنت کے سردار ہیں۔ اس کے علاوہ امام حسن(ع) نے اہل بیت(ع) کے کچھ اور فضائل شمار کرائے اور اس حقیقت سے آگاہ کیا تو شامی آپ کا محب ہوگیا اور رونے لگا اور امام حسن(ع) کے دست مبارک کو بوسہ دیا اور  اپنی باتوں پشیمان ہوا اور کہا:

قسم اس خدا کی جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ جب میں مدینہ میں داخل ہوا تھا اس وقت روئے زمین پر آپ میرے نزدیک مبغوض ترین انسان تھے اور اب میں آپ(ع) کی محبت و مودت اور آپ (ع)کے دشمنوں سے برءت کے ذریعہ خدا کا تقرب حاصل کروںگا۔

امام حسن(ع) اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

"تم اسے قتل کرنا چاہتے تھے اور اب وہ ذبح گیا کیوں کہ اس نے


حق کو پہچان لیا اور جو حق کو پہچان لیتا ہے اس سے عناد نہیں رکھا جاتا اور شام میں لوگ ایسے ہی ہیں اگر وہ حق کو پہچان لیتے تو ضرور اس کی اتباع کرتے۔"

اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی:

إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَن بِالْغَيْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ (سوره یس آیت11)

آپ(ص)  تو صرف ذکرِ (قرآن) کا اتباع کرنے والے اور غیب کے خدا سے ڈرنے والے کو ڈرا سکتے ہیں۔ پس اسی کو بخشش اور اجرِ عظیم کی خوشخبری دے دو ۔

جی ہاں اسحقیقت سے اکثر لوگ نا واقف ہیں، افسوس کہ بہت سے لوگ ایک عمر تک حق سے عداوت و معاندت رکھتے ہیں لیکن جب انھیں یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم خطا پر ہیں تو فورا توبہ و استغفار میں مشغول ہو جاتے ہیںاور یہ تو ہر انسان پر واجب ہے جیسا کہ مقولہ بھی ہے،حق کی طرف بڑھنے  میں فضیلت ہے۔

مصیبت ان کی ہے جو اپنی آنکھوں سے حق دیکھتے  ہیں۔ محسوس کرتے ہیں لیکن پھر بھی اپنی دنیوی اغراض اور پوشیدہ کینہ کی بنا پر حق سے برسر پیکار رہتے ہیں۔

ایسے لوگوں کے متعلق رب العزَت کا ارشاد ہے:

تم انھیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے والے نہیں ۔" (یس آیت 10)

ان کےساتھ وقت خراب کرنے اور انکے حال پر افسوس کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہارے اوپر صرف یہ واجب ہے کہ ہم ان منصف مزاج افراد کے لئے ہر شئی کو واضح کردیں جو حق کے متلاشی ہیں اور حق تک پہنچنے کے لئے جدو جہد کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے  ربَ العزَت کا ارشاد ہے:

تم تو صرف اس شخص کو ڈراسکتے ہو جو نصیحت قبول کرے اور ان دیکھےخد ا کا خوف


رکھے لہذا تم بھی اسے مغفرت کی اور عظیم اجر کی بشارت دیدو۔

دنیا کے تمام روشن خیال شیعوں پر واجب ہے کہ وہ ملت کے نونہالوں کو حق سے متعارف کرانے کے سلسلے میں اپنا وقت اور اموال خرچ کریں کیونکہ ائمہ اہل بیت(ع) صرف شیعوں کا ذخیرہ نہیں ہیں بلکہ وہ سارے مسلماںوں کے لئے ائمہ ھدی اور تاریکی کو چھاٹنے والے چراغ ہیں۔

جب تک عام مسالمان ہی ائمہ کو نہیں پہچانیں گے خصوصا اہل سنت کے روشن خیال جوان بھی ان سے بے خبر رہیں گے تو اس وقت تک شیعہ عند اللہ جواب دہ ہیں۔

اسی طرح جب تک لوگ کافر وملحد ہیں اور اس دین خدا سے بے خبر ہیں جسے محمد سید المرسلین(ص) لائے تھے اس تک سارے مسلمان عند اللہ جواب دہ ہیں۔


اہلِ سنت کا تعارف

مسلمان کا وہ بڑا فرقہ جو پوری دنیا میں مسلمانوں کا ۳/1حصَہ ہے اور ائمہ اربعہ ابو حنیفہ، مالک ، شافعی اور احمد ابن حنبل کی تقلید کرتا ہے ۔ اور انہی کے فتووں کے مطابق عمل کرتا ہے۔

اس فرقہ کی بعد میں ایک اور شاخ نکلی جس کو سلفیہ کہا جاتا ہے اس کے خطوط ابن تیمیہ نے مقرر کئے اسی لئے یہ لوگ ابن تیمیہ کو  مجدد السنہ کہتے ہیں۔ پھر فرقہ وہابیت وجود میں آیا اس کے بانی محمد بن عبد الوہاب ہیں اور سعودی عرب کا یہی مذہب ہے۔

اور جب سب ہی اپنے کو اہل سنت کہتے ہیں اور کبھی "والجماعت" کا بھی اضافہ کرلیتے ہیں۔ اور اہل سنت والجماعت کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔

تاریخی بحث سے یہ بات آشکار ہوجاتی ہے کہ جس کو اہل سنت خلافتِ راشدہ یا خلفائے راشدین کہتے ہیں۔وہ "ابوبکر، عمر، عثمان" اور علی(ع) سے عبارت ہے( آنے والی بحثوں سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اہل سنت والجماعت حضرت علی (ع) کو خلفائے راشدین


 میں شمار نہیں کرتے تھے۔ بلکہ عرصہ دراز کے بعد شمار کرنا شروع کیا ہے) اہل سنت ان کی امامت کا اعتراف کرتے ہیں خود ان کے زمانہ میں بھی انھیں امام تسلیم کرتے تھے اور اس زمانہ میں بھی انھیں امام مانتے ہیں۔

اور جو شخص خلافتِ راشدہ کا منکر اور اس کو غیرِ شرعی قرار دیتا ہے اور نص سے حضرت علی(ع) کی خلافت ثابت کرتا ہے وہ شیعہ ہے۔

یہ بھی واضح ہے کہ ابوبکر سے لے کر خلفاء بنی عباس تک تمام حکام ایل سنت سے راضی تھے اور تمام باتوں میں ان سے متفق تھے۔ لیکن شیعیان علی(ع) پر غضب ناک رہتے تھے اور ان سے انتقام لینے کے درپے رہتے تھے۔

اس بنیاد پر وہ علی (ع) اور ان کے شیعوں کو اہل سنت والجماعت میں شمار نہیں کرتے تھے۔ گویا اہل سنت والجماعت والی اصطلاح شیعوں کی ضد گھڑی گئی تھی۔ اور رسول خدا(ص)  کی وفات کے بعد ملتِ اسلامیہ کے شیعہ و سنی میں تقسیم ہونے کا سبب بنی تھی۔

اور جب ہم تاریخی موثق مصادر کےذریعہ اسباب کا تجزیہ کرینگے اور حقائق سے پردہ ہٹائیں گے تو معلوم ہوگا کہ فرقوں کی تقسیم رسولِ خدا کی وفات کے فورا ہی بعد ہوگئی تھی۔ جبکہ ابوبکر تختِ خلافت پر بیٹھ چکے تھے اور صحابہ کی اکثریت نے ان کی بیعت کرلی تھی۔ جبکہ علی ابن ابی طالب(ع) ، بنی ہاشم اور صحابہ میں سے وہ چند افراد جن میں اکثر غلام تھے۔ س خلافت کے مخالف تھے۔ واضح ہے کہ بر سرِ اقتدار حکومت نے ان لوگوں کو مدینہ سے دور رہنے پر مجبور کردیا۔ اور بعض کو جلاوطن  کردیا اور انھیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھنے لگے اور ان سے مقابلہ کے لئے وہی سلوک روا رکھا جو کہ کوفروں کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا اور ان پر وہی اقتصادی ، اجتماعی اور سیاسی پابندیاں عائد کیں جو کافروں پر عائد کی جاتی تھیں۔


ظاہر ہے کہ آج کے اہل سنت والجماعت اس زمانہ میں کھیلی جانے والی سیاست کے پہلوؤں کا ادراک نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس دور کے اس بغض و عداوت کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو کہ رسول(ص) کے بعد تاریخِ بشریت کی عظیم شخصیت کے معزول کرنے کا سبب بنا تھا، آج کے اہل سنت والجماعت کا یہی عقدیدہ ہے کہ خلافائے راشدین کے زمانی میں تمام امور کتابِ خدا کے مطابق انجام پاتے تھے۔ لہذا وہ خلفائے راشدین کو ملائکہ صفت سمجھتے ہیں جو کہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور ان کے درمیان کوئی حسد و کینہ نہیں ہوتا ہے۔ اور نہ ہی ان میں پست خصلت کا شائبہ ہوتا ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ اہل سنت تمام صحابہ کے بارے میں بالعموم اور خلفائے راشدین کے بارے میں بالخصوص شیعوں کے نظریات کی تردید کرتے ہیں۔ اہل سنت والجماعت نے اپنے علماء کی لکھی ہوئی تاریخ بھی نہیں پڑھی ہے بلکہ انھوں نے اسلاف سے عام صحابہ کی خصوصا خلفائے راشدین کی مدح سرائی کو سنکر کافی سمجھ لیا ہے۔ اگر وہ چشم بینا اور فراخ دلی سے کام لیتے اور اپنی تاریخ اور حدیثوں کی کتابوں کی ورق گردانی کرتے اور ان میں حق جوئی کا جذبہ ہوتا تو یقینا ان کا عقیدہ بدل جاتا۔ اور یہ چیز صرف صحابہ کے عقیدہ ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ اور بھی بہت سے احکام کو صحیح سمجھتے ہیں جبکہ وہ صحیح نہیں ہیں۔

میں اپنے سنی بھائیوں کے لئے کچھ ایسے حقائق پیش کرتا ہوں جن سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور اختصار کے ساتھ ایسے روشن و آشکار نصوص کی نشادہی کرتا ہوں جو باطل کو مٹاتی اور حق کو ظاہر کرتی ہیں۔ امید ہے کہ یہ مسلمانوں کے اختلاف و تشتت کے لئے مفید دواء ثابت ہوں گی اور انھیں سلکِ اتحاد میں پیرونے کا باعث قرار پائیں گی۔

لاریب آج کے اہل سنت والجماعت متعصب نہیں ہیں اور نہ ہی وہ امام علی(ع) اور اہل بیت (ع) کے مخالف ہیں لیکن ان سے محبت و احترام کے ساتھ ساتھ ان کے دشمنوں سے بھی محبت کرتے ہیں۔ اور اس اعتبار سے ان کی اقتداء کرتے ہیں کہ ان سب نے رسول(ص) کو دیکھا


ہے۔

اہل سنت والجماعت اولیاء اللہ سے محبت اور ان کے دشمنوں سے برائت والے قاعدے پر عمل نہیں کرتے بلکہ وہ سب  سے محبت رکھنے کے قائل ہیں وہ معاویہ بن ابی سفیان کو بھی دوست رکھتے ہیں اور حضرت علی(ع) کو بھی۔

انھیں اہل سنت والجماعت کا چمکتا ہوا نام بہت ہی پسند ہے۔ لیکن اسکی آڑ میں کھیلی جانے والی سازش سے وہ بے خبر ہیں اگر انھیں یہ معلوم ہوجائے کہ سنت محمدی(ص)  محض علی بن ابی طالب(ع) ہیں۔ اور یہی وہ باب ہیں جس سے سنتِ محمدی(ص) تک پہونچا جاتا ہے۔ جبکہ اہل سنت ہر چیز میں انکی مخالفت کرتے ہیں اور وہ بھی ہر چیز میں ان کے مخاف ہیں۔ تو وہ اپنا موقف بدک دیتے اور سنجیدگی سے اس موضوع پر بحث کرتے اور پھر شیعیانِ علی(ع) و شیعیانِ رسول(ص) کے علاوہ اہل سنت کا کہیں  نشان نہ ملتا۔ لیکن ان تمام چیزوں کے لئے ان بڑی سازشوں سے پردہ ہٹانا ضروری ہے۔ جنھوں نے سنتِ محمدی(ص) سے لوگوں کو دور رکنھے میں بڑا کردار ادا کیا ہے اور اسے جاہلیت والی بدعتوں سے بدل دیا ہے جو کہ مسلمانوں کے لئے مصیبت اور صراط مستقیم سے ہٹانے کا سبب قرار پائیں اور ان میں تفرقہ و اختلاف کاباعث بنیں اور بعض نے بعض کو کافر کہا  اور ایک نے دوسرے سے جنگ کی یہی چیزیں ان کے علم اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کا باعث بنیں اور اس طرح ان پر غیروں کی جرائت بڑھ گئی اور وہ انھیں حقیر و پست شمار کرنے لگےاور ہمہ وقت جنگ کی دعوت دینے لگے۔

شیعہ و سنی کے اس مختصر تعارف کو پیش کرنے کے بعد اس بات کو بیان کردینا ضروری ہے کہ شیعہ، سنت کی ضد نہیں ہے۔ جیسا کہ عامۃ الناس کا خیال ہے جبکہ وہ خود کو فخر سے اہل سنت کہتے ہیں اور دوسروں کو سنت کا مخالف سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ صرف ہم ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحیح سنت سے متمسک ہیں کیونکہ شیعوں نے اسے اس  کے باب علی ابن ابی طالب(ع) سے حاصل کیا


ہے اور ان (شیعوں ) کا عقیدہ ہے۔ رسول (ص) تک اسی کی رسائی ہوسکتی ہے۔ جو علی (ع) کے واسطہ سے جاتا ہے۔

ہم عادت کے مطابق حق تک رسائی کے لئے غیر جانب دار ، راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ اور اس سلسلہ میں قارئین محترم کے لئے ہم تاریخی واقعات پیش کریں گے۔ اور اس سلسلہ میں بھی دلیل و برہان پیش کریں گے کہ شیعہ ہی اہل سنت ہیں جیسا کہ ہم نے کتاب کا نام بھی یہی رکھا ہے۔

اس  کے بعد قارئین کو حاشیے اور رائے کی آزادی کا اختیار ہے۔


شیعہ اور سنی کی تقسیم

یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب رسول(ص) مسلمانوں کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کے لئے لکھ دینا چاہتے تھے۔ لیکن عمر ابن خطاب اور دیگر صحابہ نے رسول(ص) کو قلم دوات دینے سے انکار کردیا تھا۔(بخاری و مسلم میں رزیہ یوم الخمیس مشہور ہے)

اور آپ کی عظمت و عزَت کا کوئی احترام نہیں کیا تھا اور نہایت ہی سنگ دلی سے پیش آئے تھے یہاں یک کہ آپ(ص) پر ہذیان کا اتہام لگادیا تھا اور صاف کہدیا تھا ہمیں رسول(ص)  کے نوشتہ کی ضرورت نہیں ہے ہمارے لئے کتابِ خدا کافی ہے۔

اس حادثہ سے کہ جس کو ابن عباس مصیبت کا دن کہا کرتے تھے، یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اکثر صحابہ سنتِ نبوی(ص) کے مخالف تھے اور انھیں اس ی ضرورت نہیں تھی ان کا یہی کہنا تھا ہمارے لئے کتابِ خدا کافی ہے۔

لیکن علی(ع) اور دیگر چند صحابہ جن کو رسول (ص) نے علی(ع) کا شیعہ کہا تھا وہ رسول (ص) کے


احکام کی اطاعت کررہے تھے اور وہ آپ کے کل اقوال وافعال کو واجب الاتباع سمجھتے تھے بالکل ایسے ہی جیسے کتابِ خدا کو واجب الاتباع سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

ـاالّا الذن آمنوا اطعوا الل واطعوا الرسول ـ

"ایمان لانے والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول(ص) کی اطاعت کرو۔"(نساء)

عمر بن خطاب کی عادت کو تو سارے مسلمان جانتے ہی ہیں کہ وہ ہمیشہ رسول(ص) سے ٹکراتے رہے ( اہل ذکر میں ہم نے نبی(ص) سے عمر کی مخالفت کو تفصیل سے بیان کیا ہے) زبان حال کہتی ہے کہ عمر بن خطاب سنت نبوی(ص) کی قید کو برداشت نہیں کرتے تھے اور۴ یہ بات قارئین ان کی خلافت کے زمانہ میں صادر ہونے والے احکام سے بخوبی سمجھ لیں گے وہ نص نبوی(ص) کے مقابلہ میں اجتہاد کرتے تھے( صرف یہی نہیں ہے) بلکہ خدا کی روشن نص کے مقابلہ میں بھی اجتہاد کر لیتے تھے اور حلالِ خد ا کو حرام اور حرام خدا کو حلالِ خدا قرار دیتے تھے۔ ( مولفۃ القلوب کا حصہ اور متعہ حج و متعہ نساء کو حرام قرار دیا۔ جبکہ خدا نے انھیں حلال کیا تھا۔ تین طلاقوں کو ایک طلاق کے ذریعہ حلال کردیا جبکہ خدا نے اسے حرام قرار دیا تھا۔)

اور زبان حال یہ بھی بتارہی ہے کہ صحابہ میں سے عمر کی تائید کرنے والوں کا بھی وہی مسلک تھا اور ان کے چاہنے والوں میں سلف و خلف نے بدعت حسنہ میں ان کی اقتداء کی ہے جیسا کہ انھوں نے خاد اسے (مثلا تراویح کو)  بدعت حسنہ کہا۔ آیندہ بحثوں میں اس بات کو واضح کیا جائے گا کہ صحابہ نے سنتِ نبی(ص) کو چھوڑدیا تھا۔ اور عمر بن خطاب کی سنت کا اتباع کرنے لگے تھے۔


مخالفت نبی(ص) کا دوسرا واقعہ

رسول (ص) نے اپنی وفات سے دو روز قبل ایک لشکر تشکیل دیا اور اسامہ کو اسکا کمانڈر مقرر کیا اور تمام صحابہ کو اس لشکر میں شریک ہونے کا حکم دیا لیکن صحابہ اس میں شریک نہ ہوئے۔

یہاں تک کہ رسول (ص) کو صحابہ نے مطعون کیا کہ آپ(ص) نے ہمارا سردار 17 سال کے بے ریش نوجوان کو مقرر کردیا ہے۔

ابوبکر و عمر اور دوسرے بعض نے خلافت کے چکر میں اس لشکر میں شرکت نہیں کی باوجود اس کے کہ رسول(ص) نے لشکر اسامہ میں شریک نہ ہونے والوں پر لعنت کی تھی ۔ (جیش اسامہ سے تخلف کرنے والوں پر خدا لعنت کرے ۔ملل والنحل  شہرستانی، ج۱، ص29)

لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی(ع) اور ان کے پیروکاروں کو جیش اسامہ میں شریک ہونے کا حکم نہیں دیا تھا اور یہ کام آپ(ص) نے اختلاف کو  ختم کرنے کے لئے کیا تھا تاکہ حکمِ خدا سے ٹکرانے والوں کو مدینہ سے باہر بھیج دیا جائے ظاہر ہے کہ وہاں سے یہ


 لوگ اسی وقت لوٹ پائیں گے جب حضرت علی(ع) کی خلافت مستحکم ہوچکی ہوگی، خلافت کے بارے میں یہ تھا خدا اور رسول(ص) کا ارادہ، لیکن قریش کے زیرک و چالباز افراد اس بات کو سمجھ گئے اور انھوں نے آپس میں یہ طے کرلیا کہ ہم مدینہ سے باہر نہ جائیں گے چنانچہ انھوں نے اتنی سستی کی کہ رسول (ص) کا انتقال ہوگیا اور وہ اپنے منصوبہ میں کامیاب ہوگئے اور رسول(ص) کی خواہش کو ٹھکرادیا یادوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ انھوں نے سنتِ رسول(ص) کا انکار کردیا۔

اس واقعہ سے یہ بات بھی ہم پر عیاں ہوجاتی ہے  کہ ابوبکر، عمر، عثمان، عبدالرحمن بن عوف، ابوعبیدہ،عامر بن جراح سنتِ نبی(ص) کے منکر تھے۔ وہ دنیوی اور خلافت کی مصلحت کی خاطر بے دھڑک اجتہاد کرلیا کرتے تھے۔ اور اس سلسلہ میںخدا اور رسول(ص) کی معصیت سے بھی نہیں ڈرتے تھے۔

لیکن علی(ع) اور ان کا اتباع کرنے والے سنتِ نبی(ص) کے پابند تھے اور جہاں تک ممکن ہوتا تھا وہ سنت پر عمل کرتے تھے۔ چنانچہ ان سنگین حالات میں بھی علی(ع) کو وصیت رسول(ص) پر عمل پیرادیکھتے ہیں۔ جبکہ تمام صحابہ رسول(ص) کو بے غسل و کفن چھور کر امر خلافت طے کرنے کے لئے سقیفہ پہونچ گئے تھے۔ علی(ع) رسول(ص) کے  غسل اور تجہیز و تکفین اور تدفین کے کاموں میں مصروف تھے۔ علی(ع) رسول(ص)  کے ہر حکم پر عمل کرتے رہے اور اس سے انھیں کوئی باز نہیں رکھ سکتی تھی اگرچہ آپ(ع) بھی سقیفہ میں جاسکتے تھے۔ اور صحابہ کے منصوبے کو خاک میں ملاسکتے تھے لیکن آپ کے پیشِ نظر سنتِ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا احترام اور اس کے مطابق عمل کرنا تھا۔

لہذا آپ(ع) اپنے ابن عم کے جنازہ کے پاس رہے۔ہرچند کہ خلافت سے دست بردار ہونا پڑا۔


یہاں مختصر وقفہ کے لئے سہی لیکن اس خلقِ عظیم کا جائزہ لیان ضروری ہے جو کہ علی(ع)  کو مصطفی(ص) سے ورثہ میں ملا تھا۔

علی علیہ السلام سنتِ بنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفاذ کے لئے خلافت کو ٹھکرادیتے ہیں اور دوسرے خلافت کی طمع میں سنتِ نبی(ص) کو ٹھکرادیتے ہیں۔


شیعہ اہل سنت کے مقابلہ میں

وہ اہم ترین موقف ہے جو کہ اکثر صحابہ نے سقیفہ میں اس لئے اختیار کیا تھا تاکہ خلافت علی(ع) کے سلسلہ میں نبی(ص) کی اس صریح نص کی مخالفت کریں۔ جس کے ذریعہ آپ نے حجۃ الوداع کے بعد روزِ غدیر علی(ع) کو خلیفہ مقرر کیا تھا اور یہ تمام صحابہ اس روزموجود تھے۔

باوجود یکہ  خلافت کے سلسلہ میں انصار و مہاجرین میں اختلاف تھا لیکن آخر میں سنتِ نبی(ص) کو چھوڑ دینے اور ابوبکر کو خلافت کے لئے پیش کر دینے پر سب متفق ہوگئے تھے۔ اور یہ طے کر لیا تھا کہ خلیفہ ابوبکر ہی رہیں گے ۔ اگر چہ اس سلسلے میں بہت سے لوگوں کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے اور ابوبکر کی خلافت سے اختلاف کرے اسے قتل کردیا جائے خواہ وہ نبی(ص) کا قریب ترین ہی کیوں نہ ہو۔ ( اس کی دلیل فاطمہ زہرا(س) کے گھر کو جلادینے کی دھمکی ہے)۔

اس حادثہ میں بھی صحابہ کی اکثریت نے سنتِ نبی(ص) سے انکار کرنے اور اسے اپنے اجتہاد سے بدلنے میں ابوبکر و عمر کی مدد کی۔ ظاہر ہے یہ سب اجتہاد کے حامی تھے۔

اسی طرح مسلمانوں کی اس اقلیت نے ایک شکل اختیار کی جو کہ سنتِ نبی(ص) سے


متمسک تھی اور ابوبکر کی بیعت سے انکار کرچکی تھی۔ یعنی علی(ع) اور ان کے شیعہ۔

جی ہاں مذکورہ تین حوادث کے بعد اسلامی معاشرہ میں دو فریق یا دو مخصوص پارٹیاں وجود میں آگئیں، ایک ان میں سے سنتِ نبی(ص) کا سالک اور اس کے نفاذ کا قائل تھا۔ دوسرا سنتِ نبی(ص) کو اپنے اجتہاد سے بدل دیتا تھا ۔ یہ اکثریت والے اس گروہ کا کام تھا جو حکومت تک رسائی چاہتا تھا یا اس میں شرکت کے خواہاں تھے۔ اب ایک پارٹی یعنی علی(ع) اور ان کے شیعہ سنی قرار پائے ۔ اور دوسری پارٹی یعنی ابوبکر و عمر اور دوسرے صحابہ اجتہادی قرار  پائے۔

دوسری پارٹی نے ابوبکر کی قیادت میں پہلی پارٹی کی عظمت و شوکت ختم کرنے میں مہم شروع کی اور اپنے مخالف کو زیر کرنے لے لئے متعدد تدبیریں سوچیں۔

اقتصادی حملہ

برسر اقتدار پارٹی اپنے مخالف گروہ کے رزق و اموال پر حملہ آور ہوتی ہے۔ چنانچہ ابوبکر نے جنابِ فاطمہ زہرا(س) سے فدک چھین لیا۔ ( کتب تواریخ میں فدک کا قصہ اور جناب فاطمہ (س) کا ابوبکر سے ناراض ہونا اور اسی حالت میں دارِ فانی سے کوچ کرنا مشہور ہے۔) اور اسے تمام مسلمانوں کی ملکیت قرار دے دیا۔ اور کہا یہ فدک ٖصرف فاطمہ(س) سے مخصوص نہیں ہے جیسا کہ ان کے والد نے فرمایا ہے۔ ابوبکر نے فاطمہ(س) کو ان والد کی میراث سے محروم کردیا اور کہا ، انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا خمس بھی بند کردیا جبکہ رسول(ص) نے خمس اپنے اور اپنے اہل بیت(ع) سے مخصوص کیا تھا کیوں کہ ان پر صدقہ حرام ہے۔

اس طرح علی(ع) کو اقتصادی لحاظ سے کمزور بنادیا وہ فدک غصب کرلیا کہ جس سے خاصا نفع ہوتا تھا۔ ان کے ابن عم کی میراث سے محروم کردیا۔ خمس بھی بند کردیا۔ چنانچہ علی(ع) ان


کی بیوی اور بچے پیٹ بھرنے کو محتاج ہوگئے اور یہ ٹھیک وہی بات ہے جو ابوبکر نے جناب زہرا(س) سے کہی تھی: ہاں خمس میں آپ کا حق ہے لیکن میں اس سلسلہ میں وہی عمل کروںگا، جو رسول(ص) کیا کرتے تھے۔ ہاں آپ(ع) کے روٹی کپڑے کا انظام کیا جائے گا۔

جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ حضرت علی(ع) کا اتباع کرنے والے اور ان کے پیروکار وں میں اکثر غلام تھے جن کے پاس دولت وثروت نام کے کوئی چیز نہ تھی اور حکمران  پارٹی کو بھی ان سے خوف نہیں تھا۔ اور لوگوں کی عادت یہ ہے کہ وہ مالدار کی طرف جھکتے ہیں فقیر کو حقیر شمار کرتے ہیں۔

معاشرہ کی نظر وں میں گرانا

حکمران پارٹی نے اپنے حریف علی ابن ابی طالب (ع) کی پارٹی کو کمزور بنانے  کے لئے معاشرہ میں ان کی عظمت کو مخدوش کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

ابوبکر و عمر نے پہلا اقدام یہ کیا کہ لوگوں کو رسول (ص) کے قرابت داروں کے احترام و تعظیم سے منع کردیا۔

چنانچہ عترت طاہرہ کے سردار و رئیس نبی(ص) کے ابنِ عم علی(ع) کو جو فضیلت خدا نے عطا کی تھی صحابہ بھی اس سے حسد کرتے تھے۔ چہ جائیکہ منافقین ! وہ تو موقع کی تلاش میں تھے ہی۔

نبی(ص) کی امت میں تنہا فاطمہ(س)  آپ(ص) کی یادگار تھیں جن کو خود نبی (ص) نے ام ابیہا اور عالمین کی عورتوں کی سردار کہا تھا۔ لہذا  سارے مسلمان فاطمہ(س) کا احترام کرتے تھے اس لحاظ سےبھی مسلمان انھیں معزز سمجھتے تھے کہ رسول(ص) ان کی تعظیم کرتے تھے اور ان احادیث کے لحاظ سے


بھی جو رسول(ص) نے فاطمہ(س) کی فضیلت و شرافت اور طہارت کے بارے میں فرمائی تھیں۔

 لیکن ابوبکر و عمر نے لوگوں کے دلوں سے یہ احترام نکال کر پھینک دیا۔ اب عمر ابن خطاب بے دھڑک خانہ فاطمہ(س) پر آگ اور لکڑیاں لے کر پہونچ گئے اور قسم کھا کر کہا اگر ابوبکر کی بیعت نہیں کروگے تومیں گھر کو رہنے والوں سمیت پھونک دوں گا۔ علی(ع) و عباس اور زبیر جنابِ فاطمہ(س) کے گھر میں تھے کہ ابوبکر نے عمر بن خطاب کو بھیجا کہ ان کو فاطمہ(س) کے گھر سے نکال لاؤ، اگر وہ آنے سے انکار کریں توان سے جھنگ کرو، عمر حکم سنتے ہی آگ لے کر پہونچ گئے، تاکہ گھر  کو اس کے رہنے والوں سمیت جلادیں، فاطمہ زہرا(س) پسِ در آئیں اور کہا خطاب کے بیٹے کیا ہمارے گھر کو آگ  لگانے آئے ہو؟

عمر نے جواب دیا۔ ہاں یا تم بھی وہی کرو جو امت نے کیا ہے (یعنی ابوبکر کی بیعت کرو)(العقد الفرید، ابن المبدربہ ، ج۴)

جب فاطمہ زہرا (س) عالمین کی عورتوں کی سردار، جیسا کہ صحاح اہل سنت میں منقول ہے اور ان کی فرزند حسن(ع) و حسین(ع)   سید ا شباب اہلِ الجنۃ، ریحانہ نبی(ص)  کو بھی وہ حقیر و پست تصور کرتے تھے۔ یہاں تک کہ عمر ابن خطاب  نے لوگوں کے سامنے قسم کھا کر کہا اگر یہ لوگ ابوبکر کی بیعت سے انکار کردیں گے تو میں گھر کے ساتھ ان کو بھی پھونک دوںگا۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں کے قلوب میں ان معزز افراد( فاطمہ، حسن، حسین ) کے احترام کا باقی رہنا یا حضرت علی(ع) کی عظمت کا  سمجھنا مشکل تھا۔ پھر یہ کہ لوگ علی(ع) سے پہلے ہی سے بغض رکھتے تھے۔ مزید برآں وہ حزبِ مخالف کے رئیس بھی تھے اور پھر آپ کے پاس مالِ دنیا میں سے کوئی چیز ایسی نہ تھی جس سے لوگ آپ کی طرف مائل ہوتے۔

بخاری نے اپنی صحیح میں حدیث نقل کی ہے کہ:

فاطمہ (س) نے ابوبکر سے  اپنے والد  رسول اللہ (ص) کی اس میراث کا مطالبہ کیا جو خدا نے رسول(ص) کو مدینہ ، فدک اور خیبر کے خمس کی فئ عطا کی تھی، ابوبکر نے میراث دینے سے منع


کردیا ، تو فاطمہ(س) ابوبکر سے نارض ہوگئیں اور ان (ابوبکر) سے قطع تعلقی کر لی اور مرتے دم تک کلام نہ کیا، نبی(ص) کے بعد فقط چھ ماہ زندہ رہیں، جب انتقال فرمایا تو آپ(ع) کے شوہر علی(ع) نے رات کی تاریکی میں غٖسل دیا، کفن پہنایا اور دفن کردیا اور ابوبکر کو اس کی اطلاع نہ دی۔

حیاتِ فاطمہ(س) میں تو علی (ع) کی عزت و عظمت تھی۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد لوگوں کے رخ بدل گئے تو علی (ع) نے ابوبکر سے مصالحت کر لی۔ ہاں حیاتِ فاطمہ (س) میں مصالحت نہ کی تھی۔(صحیح بخاری، جلد۵، ص84، باب غزوہ خیبر صحیح مسلم، کتاب الجہاد)حزبِ مخالف علی (ع) کی اقتصادی ناکہ بندی اور مالی حالت بگاڑ کر اور سوشل بائیکاٹ کر کے کامیاب ہوگیا۔ علی (ع) کی حیثیت لوگوں کی نظروں سے ختم ہوگئی۔ اب کوئی قدر ومنزلت نہ تھی۔ خصوصا جنابِ زہرا (س) کی وفات کے بعد تو لوگوں کے رخ بدل گئے تھے۔ چنانچہ آپ (ع) ابوبکر سے مصالحت کرنے پر مجبور ہوگئے جیسا کہ بخاری و مسلم دونوں نے روایت کی ہے۔

بخاری کی عبارت " کہ لوگوں کے رخ بدل گئے تھے" سے واضح ہوجاتا ہے کہ رسول(ص) اور فاطمہ (س) کی وفات کے لوگوں کو علی (ع) سے کتنی دشمنی ہوگئی تھی اور آپ (ع) کتنے سخت ترین حالات سے دوچار تھے۔ شاید بعض صحابہ تو آپ پر سب و شتم بھی کرتے تھے اور مضحکہ اڑاتے تھے۔ کیوں کہ چہرہ پر نفرت کے آثار اسی شخص کو دیکھنے سے نمودار ہوتے ہیں۔ جس سے انسان خوش نہیں ہوتا۔

اس فصل میں ہم بالترتیب علی(ع) کی تاریخ اور مظلومیت کو جیسا پاہتے تھے بیان نہیں کرسکتے ۔ اگر چہ وہ تلخ حقیقت کا اظہار ہے۔ اس علی (ع) کو لوگوں نے نظر انداز کردیا جو سنّتِ نبی(ص) کا علم بردار اور باب علم رسول اللّہ(ص) تھے اور ان کے مدِ مقابل اجتہادی گروہ کو جو کہ سنت نبی(ص) کا انکار کرتا تھا حکومت مل گئ اور اکثر صحابہ نے اسکی تائید کردی۔


سیاسی میدان سے علیحیدگی

ہم  بیان کرچکے ہیں کہ بائیکاٹ اور اقتصاد کو توڑ دینے  اور  غصب کرلینے کے بعد علی (ع) کو اسلامی معاشرہ سے بھی علیحیدہ کردیا تھا۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے علی(ع) سے منہ پھیر لیا تھا۔لیکن برسرِ اقتدار پارٹی نے اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ انھیں سیاسی میدان سے بھی الگ کردیا اور انھیں حکومت کے کسی بھی امر سے دور رکھا حکومت کو کوئی منصب و ذمّہ داری اس کے سپرد نہ کی اگر چہ انھوں نے بنی امیہ کے ان طلقا و فساق میں حکومت کے منصب تقسیم کردیتے تھے جو کہ رسول (ص) کی حیات میں اسلام سے برسرپیکار تھے۔چنانچہ علی(ع) پچیس سال ابوبکر ، عمر، عثمان کے زمانہ خلافت تک سیاسی میدان اور حکومت کے منصب و  امور سے علیحدہ رکھے گئے۔ جب کہ اسی زمانہ میں بعض صحابہ نے اموال جمع کر کے دریچے بھر لئے تھے اور چاندی ، سونے کا ذخیرہ کرلیا تھا۔اور علی(ع) یہودیوں کے باغوں کی سینچائی کرتے اور محنت شاقہ سے اپنا پسینہ بہا کر روزی کماتے تھے۔باب العلم ، حبرالامامت اور علم بردار سنتِ نبی(ص) ایسے ہی اپنے گھر بیٹھے رہے اور کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ ہاں انگشت شمار وہ صحابہ ضرور قدر کرتے تھے جو کہ آپ کے شیعہ تھے لیکن نادار تھے۔ اور جب حضرت علی(ع) نے اپنی خلافت کے زمانہ میں لوگوں کو قرآن و سنت کی طرف پلٹانا چاہا تو عمر ابن خطاب کے اجتہاد کے حامی چیخ پڑے ۔ ہائے سنتِ عمر!

ان تمام باتوں سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ سنتِ نبی(ص) سے صرف علی(ع) اور شیعہ ہی متمسک تھے اور وہی اس پر عمل پیرا تھے۔ وہ کبھی سنت سے دستبردار نہیں ہوئے جبکہ باقی لوگوں سے ابوبکر،عمر، عثمان اور عائشہ کو اختیار کرلیا تھا اور ان کی  بدعت کو بدعت حسنہ کا نام دیتے تھے۔(صحیح بخاری، جلد۲، ص254، باب صلواۃ التراویح القباج، ص98)


یہ صرف دعوا نہیں ہے بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اور اہل سنت نے اپنی صحاح میں نقل کیا ہے۔ اور ہر ایک محقق اس سے واقف ہے۔

علی(ع) قرآن کی حفاظت کرتے تھے اور اس کے کل احکام کو جانتے تھے اور سب سے پہلے آپ (ع) ہی نے قرآن ایک جگہ جمع کیا تھا جیسا کہ بخاری نے تحریر کیا ہے ۔ جبکہ ابوبکر، عمر  اور عثمان کو قرآن سے کوئی سروکار نہیں تھا اور نہ ہی اس کے احکام  سے واقف تھے۔(احادیث کی کتابوں میں مشہور ہے کہ عمر کلالہ کے احکام نہیں جانتے تھے اسی طرح تیمم کے احکام سے بھی ناواقف تھے۔ جنھیں سب جانتے ہیں ملاحظہ فرمائیے بخاری ج۱،ص90) مورخین لکھتےہیں کہ عمر نے ستر (70) مرتبہ " لولا علی لھلک عمر" کہا ہے ابوبکر  اور ابوبکر نے کہا کرتے تھے اے ابوالحسن (ع) میں زمانہ میں زندہ نہ رہوں جس میں آپ نہ ہوں۔ لیکن عثمان کے بارے میں جو کچھ کہے حرج نہیں ہے۔


سنتِ نبوی(ص) اور حقائق و اوھام

عمر ابن خطاب اہل سنت والجماعت کے یہاں صحابہ میں سے بڑے عالم اور الہام ہونے والے افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ جب کہ صحابہ کے درمیان سب سے بڑے عالم نہیں تھے جیسا کہ خود ان ہی کی نقل کردہ روایت سے ثابت ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی(ص) نے عمر کو اپنا جھوٹا پانی دیدیا اور علم سے اس کی تاویل ، خود عمر کہتے ہیں کہ مجھے نبی(ص) کی بہت سی حدیثیں یاد نہیں ہیں اور پھر انھیں حدیث سے کچھ لگاؤ نہ تھا اس لئے کہ انھیں تو بازاروں میں تجارت ہی سے فرصت نہیں تھی!!

بخاری نے اپنی صحیح کے باب الحجۃ میں کسی کا قول نقل کیا ہے کہ : احکام نبی(ص) آشکار تھے کیونکہ سب ہی تو نبی(ص) کے ساتھ رہتے تھے۔ اسلام کے امور کا مشاہدہ کرتے تھے۔

این روز ابوموسی نے عمر کے پاس جانے کی اجازت طلب کی لیکن عمر مشغول تھے اس لئے وہ لوٹ آئے ، عمر نے کہا مجھے عبداللہ ابن قیس کی آواز سنائی دے رہی ہے اسے بلاؤ ، بلایا گیا تو عمر نے کہا تم واپس کیوں چلے گئے تھے؟

ابوموسی نے کہا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، عمر نے کہا اپنے اس دعوی کی دلیل پیش


کرو، ورنہ تمھیں اس کا بھگتان کرنا ہوگا۔ ابوموسی انصار کے پاس گئے ، انصار نے کہا ہم میں سب سے چھوٹا اس کی گواہی دے گا۔ پس ابوسعید خدری اٹھے اور کہا یقینا ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ عمر نے کہا مجھ سے نبی(ص) کا یہ حکم مخفی رہا۔ ہاں بازاروں میں مجھے تجارت نے مشغول رکھا ۔(صحیح بخاری، ج۲، ص157، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، صحیح مسلم ، ج۶، ص179، باب لاستئذان من کتاب الآداب)

تعلیق :اس قصہ میں کچھ لطائف ہیں جن کا بیان کرنا ضروری ہے۔

اسلام میں اجازت طلب کرنے کا قضیہ مشہور ہے نبی(ص) کی اس سنت کو ہر خاص و عام جانتا ہے۔ کیوں کہ جب لوگ رسول (ص) کے پاس آتے تھے تو پہلے اجازت طلب کرتے تھے اور پھر  یہ اسلام کے آداب و مفاخر میں سے ایک ہے۔

۱۔اس واقعہ سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ عمر ابن خطاب کے پاس دربان و چوکیدار رہتے تھے جو لوگوں کو بغیر اجازت کے ان کے پاس نہیں جانے دیتے تھے۔ ابو موسی نے بھی تین دفعہ اجازت مانگی  انھیں اجازت نہ ملی تو وہ لوٹ گئے۔ لیکن عمر کے یارو مددگار سب بنی امیہ تھے وہ انھیں نبی(ص) پر فضیلت دینا چاہتے تھے۔ اس لئے انھوں نے یہاں تک کہدیا کہ وہ بغیر کسی محافظ و باڈی گارڈ کے سرِراہ سوجاتے تھے مزید کہا تم نے عدل کیا تو (یہاں) سوگئے ۔ ( مطلب یہ ہے کہ اگر عدل نہ کرتے تو سرِراہ تھوڑی ہی سوسکتے تھے۔ کوئی بھی قتل کردیتا۔)

گویا وپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عمر بنی(ص) سے بھی بڑے عادل تھے کیوں کہ نبی(ص) کے پاس محافظ و دربان رہتے تھے ورنہ یہ بات کیسے کہی گئی کہ عمر کے مرنے سے عدل بھی مرگیا؟

۲۔اس روایت سے ہمیں عمر کا مغلوب الغضب  ہونا اور ان کی کٹھور طبیعت اور   مسلمانوں سے ان کے بے جارویہ کا پتہ چلتا ہے۔


ابوموسی اشعری" صحابہ میں سب سے بزرگ " مسئلہ اجازت طلبی پر حدیث بنی(ص) سے استدلال کرتے ہیں اور عمر کہتے ہیں کہ قسم خدا کی اگر تم نے اپنے مدعا پر کوئی شہادت پیش نہ کی تو میں تمھیں پشت وشکم کے درد میں مبتلا کردوں گا۔(صحیح مسلم، ج۶، ص179، کتاب الآداب باب الاستیذان)

ابوموسی کی اس سے بڑی اہانت و تذلیل اور کیا ہوگی کہ انھیں لوگوں کے سامنے جھٹلادیا  اور حدیث نبی(ص) سنانے پر انھیں اذیت باک سزا کی دھمکی دی۔ جبکہ ، حدیث کی صحت پر گواہی موجود تھی، ابی ابن کعب نے عمر ابن خطاب سے کہا کہ رسول اللہ (ص) کے اصحاب کے لئے ہر گز عذاب نہ بننا۔(حوالہ سابق)

مجھے تو اکثر امور میں عمر کا استبداد کے علاوہ کوئی نرم و نیک رویہ نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ وہ کتاب خدا وسنت نبی(ص) کی مخالفت کرتے تھے۔ اور غضب ناک ہوتے اور ڈراتے تھے ان کی اس سخت مزاجی نے بہت سے صحابہ کو حق چھپانے پر مجبور کیا جیسا کہ تیمم کے سلسلہ میں عمر نے عمار یاسر کو سنتِ نبوی(ص) بیان کرنے سے منع کیا اور جب عمر نےزیادہ تہدید کی تو عمار نے کہا اگر تم کہو تو میں یہ واقعہ کسی سے بیان نہ کروں۔(صحیح مسلم، ج۱، ص193، باب التیمم ، صحیح بخاری، باب التیمم)

اس سلسلہ میں بے شمار شواہد موجود ہیں کہ عمر نے زمانہ ابوبکر ہی میں صحابہ کو احادیث نبی(ص) بیان کرنے سے منع کردیا تھا اور اپنی دس سالہ خلافت کے دوران اس بات پر شدت سے عمل کیا تھا۔ اور صحابہ نے جو احادیث نبی(ص) جمع کرلی تھیں انھیں نذر آتش کردیا تھا مزید برآں بیان کرنے سے منع کردیا تھا۔ چنانچہ بعض صحابہ کو محبوس بھی کردیا تھا۔( اس موضوع کو ہم اہل ذکر میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔ شائقین کے لئے اس کا مطالعہ کافی ہوگا۔

عمر کی خلافت سے قبل ابوبکر نے اور عمر کی خلافت کے بعد عثمان نے نقل حدیث پر سخت پابندی لگادی تھی۔


اس کے باوجود ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ تمام خلفاء سنتِ نبی(ص) پر عمل کرتے تھے جبکہ صحابہ حدیث نبی(ص) کو پیش بھی نہیں کرسکتے تھے کیوں کہ جلادیا جاتا تھا؟

۳۔اس روایت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ عمر ابن خطاب اکثر نبی(ص) کی مجلس سے غائب رہتے تھے اور وہ بازاروں میں تجارت کے کاموں میں مشغولیت کی بنا پر حدیث نہیں سن پاتے تھے۔

اسی لئے وہ اکثر حدیثوں کو نہیں جانتے تھے جب کہ صحابہ میں سے ہر خاص و عام ان کو جانتا تھا یہاں تک کہ ان کے بچے بھی جانتے تھے۔ چنانچہ جناب ابوموسی کو جب عمر نے دھمکی دی اور وہ انصار کے پاس آئے تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ اس حدیث کو ہمارا چھوٹا بچہ پیش کرے گا۔ پس ابوسعید خدری ان کے ساتھ گئے جب کہ وہ سب سے چھوٹے تھے۔ انھوں نے گواہی دی کہ میں نے یہ حدیث نبی(ص) سے سنی ہے۔

یہ مسند خلافت پر بیٹھنے والے عمر کی توہین ہے کہ وہ حدیث نبی(ص) سے نا واقف ہے۔ جبکہ ایک بچہ اسے جانتا ہے ۔ اور رسول (ص) کی اس حدیث پر کیوں عمل نہیں ہوا  کہ جس میں فرمایا ہے!

جب کسی کو کسی رعایا کے امور کی باگ ڈور دی جاتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس قوم میں مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے تو اس نے خدا و رسول (ص) اور مؤمنین کے ساتھ خیانت کی۔

میرا خیال تو یہ ہے کہ عمر ابن خطاب نے نبی(ص) کی ایسی احادیث سنی تھیں۔ اور ان کا حیاتِ نبی(ص) میں ہی انکار کردیا تھا۔کیوں کہ ان سے مطمئن نہیں ہوتے تھے اور ان کے مقابلے میں اپنا اجتہاد شروع کردیا تھا۔

ہمیں ابو حفصہ کے لئے خود انھیں کی طرح ان کی جہالت کا اعتراف کرلینا چاہئے کیونکہ جب وہ بعض صحابہ سے بحث و مباحثہ میں زیر ہوجاتے تھے تو کہتے تھے اے عمر تمام لوگ تجھ


 سے زیادہ جانتے ہیں جہاں تک حجلہ نشین عورتیں بھی تجھ سے زیادہ علم رکھتی ہیں۔ کبھی کہتے " اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا" اور کبھی اظہار نادانی ان الفاظ میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، احادیث نبی(ص) سے مجھے بازاروں کے کاموں نے بیگانا بنائے رکھا ۔ اور جب عمر حدیث سے بیگانوں کا سا رویہ اختیار کرکے بازاروں کے لہو و لعب میں مشغول رہتے تھے تو قرآن سے بھی ویسے ہی بے اعتنا رہتے ہوں گے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ مشہور حافظ ابی ابن کعب سے بھڑگئے اور ان کی قرائت کا انکار کر دیا اور کہنے لگے ہم نے تو آج سے پہلے یہ قرائت کسی سے نہیں سنی، ابی ابن کعب نے کہا جناب عمر ہمیں قرآن سے دلچسپی تھی جبکہ آپ بازاروں میں مشغول رہتے تھے۔ ( تاریخ ابن عساکر، ج۲، ص228، ایسے ہی حاکم نے مستدرک میں اور ابوداؤد نے سنن اور ابن اثیر نے جامع الاصول میں روایت کی ہے۔)

پس عمر تجارت و بازاروں کے لہو ولعب میں مشغول رہتے تھے اور اسے صحابہ میں ہر خاص و عام جانتا تھا خصوصا ان لوگوں سے تو یہ چیز قطعی طور پر مخفی نہیں تھی۔ جو کتابِ خدا اور حدیث رسول(ص) کے عارف تھے۔

اس لئے میرا عقیدہ ہے کہ عمر جہل مرکب میںمبتکا تھے۔ کیونکہ جو چیزیں مسلمانوں کے بچوں کو یاد تھیں وہ بھی عمر کو یاد نہیں تھیں جو ایک بچہ جانتا تھا وہ عمر نہیں جابتھ تھے اسی طرح ایک جانب علی(ع) ہیں جن کی عمر ابھی تیس ۳۰ سال نہیں ہے کتابِ خدا اور حدیث رسول(ص) کے سلسلہ میں ان کی رائے صحیح ہوتی ہے۔ ان کے بارے میں صحابہ کے سامنے عمر نے کہا " اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا"

ایک مرتبہ مسجد کے آخری کونہ سے ایک عورت کھڑی ہوتی ہے اور تمام نمازیوں کےسامنے منبر پر بیٹھے ہوئے عمر پر عورتوں کے مہروں کے بارے میں احتجاج  کرتی ہے اور جب عمر سے جواب نہیں بن پڑتا تو کہتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ حجلہ نشین عورتیں فقہ جانتی ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ عمر نے اپنی جہالت کی پردہ پوشی اوراپنے موقف کے استحکام کے


لئے جو کچھ کیا ہے اسے تواضع اور کسرِ نفسی کا نام نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ آج بہت سے لوگ کہتے ہیں۔

بلکہ ان سے جہاں تک ہوسکتا تھا انھوں نے سنتِ نبی(ص) کو مٹایا اور کتابِ خدا اور سنتِ رسول (ص) کے خلاف اپنا اجتہاد کیا، عمر کی سوانح حیات کا محقق اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ اعلانِ رسالت کے بعد عمر گیارہ سال یا اس سے بھی کم نبی(ص) کے ساتھ رہے۔

اپنے متعلق وہ خود فرماتے ہیں۔

میں اور بنی امیہ میں سے میرے پڑوسی زید باری، باری رسول(ص) کے پاس جایا کرتے تھے۔ ایک روز زید اور ایک روز میں جاتا اور  وحی وغیرہ کی خبر لاتااور ایک روز زید جاتے تو وہ بھی وہی کام انجامدیتے تھے۔ (صحیح بخاری،ج1، کتاب العلم باالتناوت فی العلم)

عمر کا یہ قول خود بتاتا ہے کہ وہ رسول (ص) کی مسجد سے کہیں دور رہتے تھے اس لئے عمر نے اپنی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا ایک روز رسول(ص) کو دیکھنے جاتے اور ایک روز  شید جاتے تھے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا ہ مسافت زیادہ ہونے کی بنا پر عمر زحمت برداشت نہیں کرتے تھے اور نہیں جاتے تھے۔ یا مسافت زیادہ نہں ہوتی تھی بلکہ عمر بازاروں میں تجارتی کاموں میں مشغول ہوجاتے تھے۔

اور جب ہم ابوموسی اشعری کے قضیہ میں، جو کہ پہلے بیان ہوچکا  ہے، عمر کے اس قول کا اضافہ کرتے ہیں کہ مجھے تجارت نے نبی(ص) کی خدمت سے ہٹاکر بازار میں بھیج دیا اور پھر  اس کے فورا بعد ابی ابن کعب کا قول ہمیں قرآن سے شغف تھا اور اے عمر تمھیں بازار سے دلچسپی تھی۔ تو ان چیزوں سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ عمر نے رسولص) کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارا تھا۔

عمر اکثر رسول(ص) کے پاس سے غائب رہتے تھے یہاں تک ان عظیم مناسبتوں میں بھی غائب رہتے تھے ۔ جن میں سب مسلمان جمع ہوتے ہیں جیسے عید الفطر و عید الاضحی کیونکہ


 عمر بعد میں ان لوگوں سے سوال کرتے تھے جنھیں ذکرِ خدا اور اقامتِ نماز سے تجارت باز نہیں رکھتی تھی۔ چنانچہ عمر پوچھتے تھے۔ رسول(ص) نے نماز عید الفطر و عید الاضحی میں کیا پڑھا تھا۔

مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب العیدین میں عبید اللہ ابن عبد اللہ ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ عمر نے ابو واقد اللیثی سے پوچھا رسول(ص) نے نمازِ عید الفطر و عید الاضحی میں کیا پڑھا تھا۔ انھوں نے کہا" ق والقرآن المجید اوراقترب الساعة والنشق القمر" ( صحیح مسلم ، ج3، ص61، کتاب الصلاة باب ما یقرا به الصلوة لاعیدین)

خود ابو واقد اللیثی سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا : مجھ سے عمر نے پوچھا کہ عید کے دن رسول (ص) نے کیا پڑھا تھا میں نے کہا " اقترب الساعۃ اور ق والقرآن المجید" صحیح مسلم ، ج3، ص61، کتاب الصلوۃ )

عبید اللہ اور ابو واقد اللیثی کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمر یہ نہیں جانتے تھے کہ نبی(ص) نے نماز عیدین میں کونسی  سورت پڑھی تھی اور ابی ابن کعب نے نیز عمر کے قول سے واضح ہوتا ہے کہ وہ قرآن نہیں سنتے تھے بلکہ خرید و فروخت کے لیے بازروں میںرہتے تھے اس کے باوجود ایسے فتوے تراشتے تھے جن سے آج تک علما متحیر ہیں مثلا جس مجنب کو پانی نہ ملے وہ نماز چھوڑدے اسی طرح تیمم کے احکام سے بھی ناواقف تھے۔ جبکہ قرآن و حدیث میں اس کے احکام بیان ہوچکے تھے۔ کلالہ کے احکام سے بھی جاہل تھے اور نہ جانے ایسے کتنے ہی متناقض فیصلے کرڈالے۔ اگر چہ قرآن مجید میں وہ بیان ہوچکے تھے اور حدیث میں ان کی تفصیل مذکور تھی لیکن عمر انھیں مرتے دم تک نہ سمجھ پائے( بیہقی نے اپنی سنن میں روایت کی ہے کہ عمر نے نبی(ص) سے بھائی کی موجودگی میںدادا کی میراث کےبارے میں معلوم کیا تو آپ نے فرمایا عمر  تم اس چیز کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ تم اس کے جاننے سے قبل مرجاؤ گے۔ ابنِ مسیب کہے ہیںعمر اس سے بے خبر ہی مرے۔)


اگرعمر اپنے دائرہ میں رہتے اور مسائل کو سیکھنے کی کوشش کرتے تو وہ ان کے اور تمام مسلمانوں کے حق میں بہتر ہوتا۔ لیکن انھیں انانیت نے گناہ کی طرف کھینچ لیا۔ اور انھوں نے خدا اور رسول(ص) کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دے دیا جیسے متعہ حج۔ و متعہ نساء اور مولفتہ القلوب کا حصہ اور جن چیزوں کو خدا اور اس کےرسول(ص) نے حرام قرار دیا تھا انھیں حلال قرار دے دیا،مثلا تین طلاق کو جائز کردیا اور مسلمانوں پر جاسوس چھوڑنا وغیرہ ( ملاحظہ فرمائیں شرف الدین صاحب کی النص والاجتہاد)

شاید یہی وجہ تھی جو عمر اور ان کےدوست ابوبکر پہلے دن رسول(ص) کی احادیث بیان کرنے پر پابندی لگارہے تھے۔ اس کی تدوین اور تحریر سے منع کرتے تھے۔ یہاں تک کہ دونوں نے صحابہ کی جمع کی ہوئی حدیثوں کو نذر آتش کردیا۔ احادیث کو جلا دینے میں ان کے تین فائدے تھے ایک علی(ع) اور اہل بیت(ع) کے ان فضائل و حقائق کا مٹانا جو رسول(ص) نے بیان فرمائے تھے ۔ دو تاکہ نصِ نبوی(ص) میں سے کوئی چیز ایسی نہ بچے جو ان کی سیاست کے خلاف اور احکام کے سلسلہ میں ان کے اجتہاد کے برعکس ہو۔ تین عمر ابن خطاب رسول(ص) کی چند ہی حدیثیں جانتے تھے۔

امام احمد ابن حنبل نے اپنی مسند میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ عمر اس بات میں متحیَر تھے کہ اگر نماز میں شک ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ ابن عباس سے کہا تم نے رسول اللہ(ص)  یا صحابہ  میں سے کسی سے سنا ہے کہ اگر کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو وہ کیا کرے۔ ( مسند امام احمد ابن حنبل، ج1، ص190)

قسم خدا کی عمر ابن خطاب کا قضیہ ہی عجیب ہے وہ اپنی نماز بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے تھے بلکہ اس کے متعلق صحابہ کے بچے سے سوال کرتے تھے۔ حالانکہ یہ ایسا مسئلہ تھا۔ جسے عام مسلمان یہاں تک کہ ان پڑھ بھی جانتے ہیں اور اس سے زیادہ حیرت انگیز تو اہل سنت کا یہ قول ہے" کہ عمر صحابہ میں سب سے بڑے عالم تھے اگر صحابہ کے اعلم کی یہ کیفیت ہے


تو  حسنِ ظن ہی ٹھیک ہے  حقیقت نہ پوچھئے۔

ہاں  تھوڑے احکام ان کے اجتہاد ات سے بچ گئے تھے وپ بھی اس لئے کہ ان سے خلافت کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ جیسے ابوموسی کااجازت طلب کرنے والا قضیہ یا ابی ابن کعب کا اس قرآئت سے استدلال جسے عمر نہیں جانتے تھے، لہذا یہاں عمر فخر کے ساتھ اعتراف کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں ہاں میں بازار کے کاموں میں الجھا رہتا تھا۔

لیکن علی(ع)  فرماتے ہیں:

 میں رسول (ص) کے پاس بطور خاص دو مرتبہ جاتا تھا۔

"ایک مرتبہ صبح او ر ایک مرتبہ شام میں۔"

یہ صبح و شام کی مجلس علی(ع) سے مخصوص تھی ۔ اس کے علاوہ علی(ع) ہمیشہ عام مجالس میں بھی شریک رہتے تھے۔

لوگوں میں سب سے زیادہ نبی(ص) کے نزدیک علی(ع) ہی تھے وہی سب سے زیادہ آپ سے متصل رہتے تھے اور پیدائش کے دن  ہی سے وہ رسول(ص) سے مخصوص تھے، رسول(ص) نے انھیں اپنی آغوش میں پالا  یہاں تک عنفوانِ شباب  آگیا تو علی(ع) آپ کے پیچھے پیچھے ایسے چلتے تھے جیسے اونٹ کا دودھ   پیتا بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے یہاں تک نزولِ وحی کے ؂وقت غارِ حراء میں بھی آپ کے ہمراہ رہتے تھے انھوں نے گہوارے ہی سے رسالت  کا دودھ  پیا  اور سنت نبوی(ص)  کے معارف سے سیراب ہوئے۔

سنت و حدیثِ رسول(ص) کے سلسلہ میں ان سے بہتر اور کون ہے؟ کیا ان کے علاوہ کوئی اور اس کا دعویدار ہوسکتاہے ۔ انصاف کرنے والے بتائیں؟

یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ علی(ع) اور ان کے شیعہ جو کہ ان کا اتباع کرتے ہیں وہی سنتِ محمدی(ص) کی علامت اور اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ کسی اور کو سنتِ محمدی(ص) سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے نہ اس کی ہدایت اس طرف


ہوئی ہے ہر چند وہ خود کو غفلت و تقلید کی بنا پر "اہل سنت" کہتے ہیں۔

اس چیز کو  ہم انشاء اللہ آیندہ وضاحت کے ساتھ پیش کریںگے۔

" ایمان لانے والو: اللہ سے ڈرو! اور سیدھی سیدھی بات کرو۔

اللہ تمھارے اعمال کی اصلاح کرے گا اور تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور جس نے اللہ اور اس کےرسول(ص) کی اطاعت کی اس نے عظیم کامیابی حاصل کی۔"( احزاب،70،71)


اہل سنت،سنتِ نبی(ص) کو نہیں جانتے

قارئین محترم ! آپ عنوان سے پریشان نہ ہوں آپ تو اللہ کے فضل سے حق پر چل رہے ہیں اور آخر کار مرضئ  خدا کو حاصل کرلیں گے، شیطانی وسوسے اور انانیت آپ کو غرور میں مبتلا نہ کرے اور اندھا تعصب آپ پر طارینہ ہو کیونکہ وہ حق تک رسائی نہیں ہونے دیتا اور بہشت برین تک نہیں پہونچنے دیتا ہے۔

جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ " اہل سنت" وہ لوگ  کہلاتے ہیں جو خلفائے راشدین " ابوبکر، عمر، عثمان اور علی(ع)  کی خلافت کے قائل ہیں اس بات کو آج سبھی جانتے  ہیں۔

لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ علی ابن ابی طالب(ع) کو اہل سنت خلفائے راشدین میں شمار نہیں کرتے تھے اور نہ ہی آپ کی خلافت کو شرعی سمجھتے تھے۔

علی(ع) کو عرصہ دراز کے بعد خلفائے ثلاثہ والے زمرہ میں شامل کیا ہے۔ یعنیسنہ 220 ھ میں امام احمد ابن حنبل کے زمانہ میں علی(ع) کو چوتھا خلیفہ تسلیم کیا گیا۔


غیر شیعہ صحابہ خلفا، بادشاہان اور ابوبکر کے زمانے کے حکام یہاں تک کہ عباسی خلیفہ محمد بن الرشید اور معتصم کے زمانہ کے حکام بھی نہ صرف یہ کہ علی(ع)  کی خلافت کے قائل نہیں تھے۔ بلکہ ان میں سے بعض تو آپ پر لعنت کرتے تھے اور آپ کو مسلمان تک نہیں سمجھتے تھے۔ اگر مسلمان سمجھتے ہوتے تو پھر منبروں سے ان پر سب وشتم کرنے کے کیا معنی ؟

اس سیاست کو تو ہم سمجھ گئے کہ ابوبکر و عمر نے علی(ع) کو خلافت و حکومت سے کیوں دور رکھا ان دونوں کے بعد مسندِ خلافت پر عثمان بیٹھتے ہیں اور وہ اپنے دوستوں سے بھی زیادہ علی(ع)  کی اہانت کرتے ہیں۔ یہاں تککہ ایک مرتبہدھمکی دی کہ آپ کو بھی  ابوذر کی طرح شہر بدر کردیا جائے گا۔ اور جب بادشاہت معاویہ کے ہاتھوں میں آئی تو اس نے اس کو اور وسعت دی اور علی(ع) پر سب وشتم کرنے لگا اور لوگوں کو بھی سب وشتم کرنے پر مجبور کیا۔چنانچہ بنی امیہ کے تمام حکام نے ہر شہر اور ہر دیہات میں یہ رسم بد شروع کردی اور اسی(80 )سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ ( صرف ان میں سے عمر بن عبدالعزیز مستثنی ہیں۔)

بلکہ یہ لعن طعن اور ان سے برائت  اور ان کےشیعوں سے برائت  کا سلسلہ اس سے بھی زیادہ زمانہ تک جاری رہا۔ عباسی خلیفہ متوکل کی عداوت و کینہ توزی دیکھئے وہ سنہ 240 ھ میں قبرِ علی(ع) و قبرِ حسین بن علی(ع) کو کھد وا ڈالتا ہے۔

اپنے زمانہکے امیر المؤمنین ولید بن عبد الملک کو ملاحظہ فرمائیے جمعہ کے روز خطبہ دیتے ہوئے لوگوںسے کہتے ہیں:" رسول(ص) سے جو یہ حدیث نقل کی جاتی ہے  کہ (اے علی(ع) ) تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے موسی (ع) کے لئے ہارون(ع) تھے۔" صحیح ہے لیکن اس میں تحریف کردی گئی۔ کیو نکہ رسول(ص)  نے ان (علی) کو مخاطب کرکے فرمایا تھاتم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے موسی (ع) کے لئے قارون تھاسننے والے کو اشتباہ ہوگیا۔(تاریخ بغداد ، ج8، ص266)

معتصم کے زمانہ میں زندیقوں اور ملحدوں کی اکثریت تھی ،متکلمین کا زمانہ تھا خلافت  راشد ہ کا زمانہ ختم ہوچکا تھا۔ لوگوں کے لئے نئ نئ مشکلات کھڑی ہوگئیں تھیں۔


امام احمد بن حنبل کو اس بات پر کوڑے لگوائے گئے تھے کہ وہ قرآن کو قدیم مانتے تھے، لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر چل رہے تھے اور قرآن کو مخلوق کہہ رہے تھے۔ چنانچہ احمد بن حنبل نے خوف  کے مارے قرآن کو مخلوق کہہ کرجان بچائی لیکن متوکل کے زمانے میں حنبل کا ستارہ  چمکا اور اسی زمانہ میں حضرت علی(ع)  کو خلفا ثلاثہ سے ملحق کیا گیا۔ ( اہل حدیث یعنی اہلِ سنت)

شاید احمد بن حنبل کو ان احادیث نے حیرت میں ڈالدیا تھا جو حضرت علی بن ابی طالب(ع) کے بارے میں وارد ہوئی تھیں ۔احمد بن حنبل کہتے ہیں ، جتنی احادیث علی ابن ابی طالب(ع) کے فضائل کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں اتنی کسی اور کے متعلق وارد نہیں ہوئی ہیں۔

دلیل

طبقات حنابلہ ۔جو کہ ان کی معتبر ترین کتاب ہے اس میں ابن ابی یعلی اور دیزہ الحمصی کے اسناد سے مرقوم ہے کہ اس نے کہا :

میں اس وقت احمد بن حنبل کے پاس گیا۔ جب وہ علی(ع) کو چوتھا خلیفہ تسلیم کرچکا تھا( اس محدث کو ملاحظہ فرمائیے جو کہ علی(ع) پر سب و شتم نہیں کرتا ہے اور نہ یہ لعنت کرتا ہے بلکہ رضی اللہ عنہ کہتا ہے۔ لیکن اس بات پر راضی نہیں ہے کہ علی(ع) خلفا میں شمار کئے جائیں اسی لئے احمد بن حنبل سے بحث کرتا ہے اور اس کا جمع کا صیغہ استعمال کرنے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اہل سنت کی جماعت نے احمد بن حنبل کے پاس بھیجا تھا۔) میں نے ان سے کہا اے ابو عبداللہ یہ طلحہ و زبیر پر لعن طعن ہے انھوں نے کہا تم نے بہت بری با ت کہی ہے، کیا ہم اس قوم کے جھگڑوں اور  قصوں ہی میں پڑے رہیں؟ میں نے کہا! خدا آپ کی اصلاح کرے میں نے یہ بات اس لئے کہی ہے کہ آپ نے علی(ع)  کو چوتھا خلیفہ قرار دیا ہے اور ان کی خلافت کو واجب جانا ہے جبکہ ائمہ نے ان کی خلافت کو واجب نہیں جانا ہے۔


انھوں نے کہا: اس سے مجھے کونسی چیزروک سکتی ہے؟ میں نے کہا حدیثِ ابنِ عمر انھوں نے کہا: عمر اپنے بیٹے سے افضل ہیں وہ علی(ع) کو مسلمانوں کا خلیفہ بنانے پر راضی تھے اور علی(ع) کو خلیفہ منتخب کرنے والی کمیٹی کا ممبر بھی  بنایا تھا اور علی(ع) نے خود اپنا نام امیرالمؤمنین رکھا  ہے ۔ کیا میں یہ کہوں کہ میں مؤمنوں کا امیر نہیں ہوں؟ راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد میں اٹھ کر چلا آیا۔(طبقات الحنابلہ، ج1، ص292)

اس قصہ سے واضح ہو جاتا ہے " اہل سنت" علی(ع) کو خلیفہ نہیں مانتے تھے ہاں خلافت کی صحت کے احمد بن حنبل کے بعد قائل ہوئے ہیں۔

اور یہ بھی عیاں ہوجاتا ہے کہ یہ محدثِ اہل سنت والجماعت کے سردار اور ان کے ترجمان تھے۔ کیونکہ علی(ع) کی خلافت کےرد کرنے پر عبداللہ بن عمر کے قول سے حجت قائم کرتے تھے ۔ چونکہ بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ اور اہل سنت صحیح بخاری کو  کتابِ خدا کے بعد صحیح ترین کتاب کہتے ہیں۔اس لئے علی(ع) کی خلافت کا انکار کرنا ضروری ہے۔

اگر چہ ہم اس حدیث کو اپنی کتاب "فاسئلوا اہل الذکر" میں نقل کرچکے ہیں لیکن عام فائدے کے پیش نظر اسے دوبارہ نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اعادہ میں افادیت ہے۔ بخاری نے اپنی صحیح میں عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا ہم ( صحیح بخاری، ج4،ص191، کتاب بداء الخلق باب  فضل ابی بکر بعد نبی(ص)) زمانہ نبیٌ(ص) میں ابوبکر کو سب سے افضل سمجھتے تھے۔ان کےبعد عمر اور ان کےبعد عثمان کا مرتبہ تھا۔

ایسے ہی بخاری نے ابن عمر سے ایک اور حدیث نقل کی ہے جو کہ پہلی حدیث سے صاف وصریح ہے۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں:

ہم زمانہ نبی(ص) میں کسی کو بھی ابوبکر سے افضل نہیں سمجھتے تھے۔ انکے بعد عمر کا مرتبہ تھا اور پھر عثمان تھے اور انکے بعد  تو سارے اصحا ب برابر تھے ان میں سے ہم کسی کو کسی پر فضیلت ، نہیں دیتے تھے۔( صحیح بخاری، ج4، ص203، باب مناقب عثمان بن عفان من کتاب بدءالخلق)


اور اس حدیث کی رو سے کہ جس میں رسول (ص) کو رائے دینے کا بھی حق نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں ان کا کوئی کردار ہے، بلکہ عبداللہ بن عمر کی ایجاد ہے۔ جس کی علی(ع) سے عداوت و حسد  مشہور ہے۔ اہل سنت والجماعت کے مذہب کی بنیاد ہی حضر ت علی(ع) کی خلافت کے نہ ماننے پر  استوار ہے۔

ایسی احادیث کیبنا پر بنی امیہ نے علی(ع) پر سب وشتم اور لعنت کرنے کو مباح قرار دیا اور معاویہ کے زمانہ سے مروان بن محمد بن مروان کے زمانہ یعنی سنہ132ھ تک حکام کا وتیرہ تھا کہ وہ منبروں سے علی(ع) پر لعنت کرتے اور ان کے شیعوں کو تہ تیغ کرتے تھے۔( صرف عمر بن عبدالعزیز کی دو سالہ خلافت کے دوران لعنت بند رہی لیکن عمر بن عبد العزیز کے قتل کے بعد یہ سلسلہ شروع  ہوگیا تھا اور اسی پر اکتفاء نہیں کی تھی ۔ بلکہ علی(ع) کی قبر  کھود ڈالی تھی او ان کے نام پر نام رکھنے کو حرام قرار دیدیا تھا۔)

پھر سنہ132ھ میں حکومت بنی عباس کے ہاتھوں میں آئی اور متوکل کے زمانہ یعنی سنہ247ھ تک اسی خاندان میں رہی۔بنی عباس کی حکومت کے دوران بھی مختکف طریقوںسے حضرت علی(ع) اور انکے شیعوں سے مخفی طور پر برائت کا اظہار کیا جاتا رہا کیونکہ بنی عباس  کو حکومت اہل بیت(ع) اور ان کے شیعوں سے ہمدردی کے طفیل میں نصیب ہوئی تھی اس لئے وہ اور ان کے حکام کھلم کھلا علی(ع) پر لعنت نہیں کرسکتے تھے ۔ کیونکہ حکومت کی مصلحت کا تقاضا یہی تھا۔ لیکن خفیہ طور پر یہ بنی امیہ سے کہیں زیادہ کھیل، کھیل رہے تھے۔ اہل بیت(ع) اور ان کےشیعوں کی مظلومیت آشکار ہوچکی تھی اور فطری طور پر لوگوں میں ان سے ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوچکا تھا۔ لہذا حکام نے مکاری و چالاکی سے کام لے کر ائمہ اہل بیت(ع)  کا تقرب ڈھوںڈا ورنہ انھیں اہل بیت(ع)  سے کوئی محبت  تھی اور نہ ہی ان کے حق کا اعتراف کرتے تھے بلکہ ان کی خاموشی اس اٹھنے والی شورش کے سبب تھی جو کہ ان کی حکومت کے لئے چیلنج بن سکتی تھی۔ چنانچہ مامون رشید نے بھی امام رضا(ع) کو ولی عہد بنایا تھا۔ لیکن جب داخلی حالات سے مطئن ہوگیا


تو ائمہ اور ان ے شیعوں کی اہانت کرنے لگا۔ ایسے ہی متوکل نے بھی جب فضا سازگار دیکھی تو علی(ع) سے بغض و حسد کا کھل کر اظہار کیا۔ یہاں تک کہ آپ کے فرزند حسین(ع) کی قبر مبارک تک کھدوا ڈالی۔

ان ہی تمام  باتوں کی بناء پر ہم یہ کہتے ہیں کہ " اہل سنت والجماعت " نے علی(ع) کو خلیفہ تسلیم نہیں کیا تھا ہاں احمد بن حنبل کےبعد تسلیم کرنے لگے تھے۔

یہ بات صحیح ہے کہ سب سے پہلے احمد بن حنبل علی(ع) کی خلافت کے قائل ہوئے لیکن وہ اس سے اہل حدیث  کو مطمئن نہ کرسکے ، جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں، کیونکہ وہ عبداللہ بن عمر کی اقتدا کرتے رہے۔

ظاہر ہے احمد ابن حنبل کی فکر کو لوگ  اتنی آسانی سے قبول نہیں کرسکتے تھے۔ بلکہ اس کےلئے ایک طویل زمانہ درکار تھا۔ اٌصل  حنابلہ کا اہل بیت(ع) کے سلسلہ میں انصاف دربننا اور ان کا تقرب ڈھونڈنے کا بھی ایک سبب تھا ۔ اور وہ یہ کہ خود کو اپنے دیگر سنی مذاہب مالکی، حنفی اور شافعی  سے ممتاز کرلیں اور اس طرح اپنی تائیدکرنے والوں کادائرہ وسیع کرلیں ظاہر ہے اس کے لئے ایک فکر کا قائل ہونا ضروری تھا۔

مرور زمان  کے تحت سارے " اہل سنت والجماعت" وہی کہنے لگے جو احمد ابن حنبل  نے کہاتھا اور علی(ع) کو چوتھا خلیفہ تسلیم کرلیا ۔ اور ان کے لئے اسی چیز کو واجب سمجھنے لگے جو دیگر تین خلفا کے لئے واجب سمجھتے تھے جیسے احترام اور رضی اللہ عنہ وغیرہ کہنا۔

کیا یہ اس بات پر بہترین دلیل نہیں ہے کہ اہل سنت والجماعت کا تعلق پہلے نواصب سے تھا جو کہ علی(ع)  سے بغض رکھتے ہیں ان کی توہین و تنقیص کرتے ہیں؟

جی ہاں جب زمانہ گذر گیا ، ائمہ اہل بیت(ع) دنیا سے چلے گئے اور(بظاہر) نہیں لوٹیں گے اور حکام و بادشاہوں کا خوف ختم ہوگیا اور اسلامی خلافت ٹکڑوں میں بٹ گئی، اور غلام و مٖغل اور تا تار اس پر قابض ہوگئے دین میں اضمحلال آگیا اور اکثر مسلمان شراب و


کباب اور لہو ولعب میں مبتلا ہوگئے ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، نماز کو انھوں نے فراموس کردیا، شہوتوں میں غرق ہوگئے۔ نیک کاموں کو برا سمجھنے لگے۔ اور برے افعال کو  نیک تصور کرنے لگے خشک وتر میں فساد پھیل گیا، اب مسلمان اپنے اسلاف کو رونے لگے۔ ان کی عظمتوں کو یاد کرنے لگے۔ ان کے دنوں کا نقشہ کھینچنے لگے اور ان دنوں کو سونے کا زمانہ کہنے لگے ہر چند کہ ان کے نزدیک افضل ترین زمانہ صحابہ کا تھا کیون کہ انھوں نے ہر شہروں  کو فتح کیا تھا اور مشرق ومغرب میں اسلامی مملکت کی داغ بیل ڈالی تھی، قیصر و کسری ان کی سامنے ہیچ تھے۔ اس لئے وہ تمام صحابہ کر رضی اللہ عنہ کہنے لگے چونکہ علی ابن ابی طالب علیہماالسلام بھی صحابہ میں شامل تھے۔ لہذا انھیں بھی رضی اللہ عنہ کہنے لگے۔ اور جب اہل سنت والجماعت تمام صحابہ کی عدالت کے قائل ہوگئے تو ان کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ علی علیہ السلام کو صحابہ کے زمرہ سے خارج کردیں۔

اور اگر علی علیہ السلام کو صحابہ کے زمرہ سے خارج کرنے کےلئے کہتے تو مصیبت میں پھنس جاتا اور ہر عاقل پر ان کی بات کا انکشاف  ہو جاتا لہذا انھوں نے عوام فریبی کے لئے  خلفائے راشدین میں سے علی(ع)  کو چوتھا خلیفہ، باب مدینۃ العلم، رضی اللہ عنہ اور کرم اللہ  وجہہ کہنا شروع کردیا۔

اہل سنت والجماعت سے ہمارا ایک سوال ہے اور وہ یہ کہ اگر تم علی(ع) کوصحیح طور پر باب مدینۃ العلم  تسلیم کرتے ہو تو اپنے دینی اور دنیوی امور میں ان کا اتباع کیوں نہیں کرتے؟

تم نے جان بوجھ کر باب علمکو کیوں چھوڑدیا اور ابو حنیفہ، مالک و شافعی احمد بن حنبل اور ابن تیمیہ کی تقلید کیوں کی،  کیا یہ لوگ علم و عمل اور فضل و شعف میں علی(ع) سے آگے بڑھ گئے تھے، چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ اگر تمھارے پاس عقل ہوتی تو


کبھی علی(ع) اور معاویہ کا موازنہ ہی نہ کرتے۔

رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی تمام نصوص سے قطع نظر اور اس چیز سے صرف نظر کرتے ہوئے جو کہ نبی(ص) کے بعد علی(ع) کا اتباع تمام مسلمانوں پر واجب کرتی ہے، خود اہل سنت والجماعت میں سے کسی کا قول ہے کہ علی(ع) کے فضل ان کے سابق الاسلام ہونے ۔ راہِ خدا مین جہاد کر کے ان کے علم ، ان کے عظیم شرف اور ان کے زہد کو سب جانتے تھے۔ بلکہ اہل سنت علی علیہ السلام سے بخوبی واقف ہیں اور وہ شیعوں سے زیادہ ان سے محبت کرتے ہیں۔ ( اس زمانہ میںاس قسم کی باتیں اکثر اہلِ سنت کیا کرتے ہیں)

ان لوگوں سے ہماری گزارش ہے کہ:

کہاں آگے بڑھے چلےجارہے ہو ذرا اپنے  اسلاف اور علما کو بھی دیکھ لو جنھوں نے دو سو سال  تک منبروں سے خضرت امیر المؤمنین علیہ السلام پر لعنت کی ہے ۔ ہم  نے ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی یہ نہیں سنا اور نہ تاریخ نے ہمیں بتایا کہ فلاں شخص نے علی(ع) پرلعنت کرنے سے انکار کردیاتھا یا فلاں شخص علی(ع) کی محبت کی بنا پر قتل کردیا گیا تھا۔ علمائے اہل سنت میں سے نہ ایسا کوئی تھا اور نہ آئندہ ہوگا۔ جو ایسا جرت مندانہ کارنامہ انجام دے سکے اس کے برعکس وہ سلاطین و امراء اور حکام کے مقرب رہے ہیں کیوں کہ ان کی بیعت  اور رضامندی سے عطیات ملتے تھے۔چنانچہ انھوں نے بیعت سے انکار کرنے والے ان بزرگوں کے قتل کے فتوے دئیے جو  علی(ع) اور ان کی ذریت کے محب تھے۔ ایسے علما ہمارے اس زمانے میں بھی موجود ہیں۔

نصاری یہودیوں کو صدیوں سے اپنا دشمن سمجھتے چلے آرہے تھے اور جنابِ عیسی بن مریم کے قتل کا جرم انھیں کے سر تھوپتے تھے۔ لیکن جب نصاری میں ضعف پیدا ہوگیا اور عقائد میں پراگندگی پیدا ہوگئی اور اکثر کا مذہب الحاد بن گیا۔ اور کلیسا اس موقف کے لئے کباڑ گھر بن گیا جو علم و علما کے خلاف تھا۔ اور یہودی مضبوط


 ہوگئے اور جرات بڑھ گئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے عرب کے اسلامی علاقوں پرقبضہ کرلیا۔مشرق و مغرب میں انھوں نے اثر ونفوذ پیدا کر لیا اور اسرئیل حکومت بنالی تو بابائے کلیسا یوحنا بولس ثانی علما (احبار) یہود کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور انھیں جنابِ مسیح کے قتل کے جرم سے بری قرار دیدیتے ہیں۔

لوگ، لوگ ہیں زمانہ، زمانہ ہے۔


اہل سنت، سنت

کو مٹانے والے

اس فصل میں ہم اس اہم چیز کی وضاحت کرناچاہتے ہیں کہ جس میں غور کرنے سے کوئی محقق مستغنی نہیں ہوسکتا تاکہ بغیر کسی اشتباہ کے یہ بات واضح ہوجائے کہ جو لوگ خود کو اہل سنت کہتے ہیں، حقیقت میں انھیں سنتِ نبی(ص) سے کوئی سروکار نہیں ہے اور  سنتِ نبی(ص) میں سے کوئی چیز ان کے پاس ایسی نہیں ہے جس کا ذکر کیا


جاسکے۔ کیوں کہ ان کا یا صحابہ و خلفائے راشدین میں سے انکے اسلاف کا موقف بدرجہ اولی سنتِ نبی(ص) کے خلاف تھا۔ یہاں تککہ انھوں نے حدیثوں کو جلا ڈالا تھا، ان کے لکھنے پر پابندی کگادی تھی اور بیان کرنے سے منع کردیا تھا اور اہلِ سنت والجماعت ان ہی کی محبت سے خدا کو تقرب ڈھونڈتے ہیں۔( تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں ہماری کتاب " فاسئلوا اھل الذکر" ص200، اور اس سے بعد)

اگر چہ ہم اس چیز کی وضاحت کرچکے ہیں لیکن اس پست سازش سے پردہ ہٹانا ضروری ہے کہ جو نبی(ص) کی سنت مطہرہ پر پابندی لگانے اور حکام کا اسے اپنی بدعت و اجتہاد اور صحابہ کی آراء و تاویل سے بدلنے کے لئے کی گئی تھی۔

اوَلین حکام کی کارستانیاں

۱ ۔ایسی جھوٹی احادیث گھڑی جو کہان کے مذاہب کی تائید میں نبی(ص) کی عام سنت اور احادیث لکھنے کی مخالفت تھیں۔

جیسا کہ مسلم اپنے صحیح میں ہداب بن خالد الازدی سے ہمام نے زید بن اسلم سے انھوں نے عطا بن یسار سے اور انھوں نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے۔ رسول(ص) نے فرمایا:

"میری کوئی بات نہ لکھنا اور جس نے قرآن کے علاوہ میری کوئی بات تحریر کرلی ہے وہ اسے مٹادے ہاں میری حدیث بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے"۔

(صحیح مسلم، ج۸، ص۲۲۹، کتاب الزھد والرقائق باب التسبت فی الحدیث و حکم کتابۃ العلم)


اس حدیث کو گھڑنے کا مقصد ہی ابوبکر و عمر کے افعال کی برائت تھی کیونکہ انھوں نے بعض صحابہ کی جمع کی ہوئی  احادیث نبوی(ص) کو جلادیا تھا۔ یہ تو واضح ہے کہ یہ حدیث خلفائے راشدین کے عہد کے بعد گھڑی گئی ہے لیکن گھڑنے والے چند امور سے غافل تھے۔

الف: اگر رسالت مآب نے یہ حدیث فرمائی تھی تو وہ صحابہ بھی اس پر عمل کرتے جنھوں نے رسول(ص) کی حدیثیں قلم بند کر لی تھیں  اور انھیں ابوبکر و عمر کے زمانہ خلافت سے پہلے محو کردیتے کہ جنھوں نے وفات نبی(ص) کے کئی سال بعد  انھیں نذر آتش کیا۔

ب: اگر یہ حدیث صحیح ہوتی توو اول ابوبکر ،دوسرے عمر اس حدیث سے استدلال کرتے تاکہ احادیث کی تحریر اور محو کرنے والے فعل سے بری ہوجاتے وہ اور انکے سامنے صحابہ بھی عذر پیش کرتے جنھوں نے بھولے سے احادیث لکھ لی تھیں ۔اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو ابوبکر وعمر پر ان احادیث کا محو کرنا واجب تھا نہ کہ جلادینا۔

ث: اگراس حدیث کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ سے لےکر آج تک سارے مسلمانوں نے گناہ کیا ہے کیونکہ وہ اس فعل کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جس سے رسول(ص) نے منع کیاتھا۔ اور سب سے پہلے عمر بن عبد العزیز ہیں کہ جس نے علما کو احادیث جمع کرنے اور ان کی تدوین کا حکم دیا تھا۔ بخاری ومسلم دونوں ہی اس حدیث  کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ اور پھر دونوں گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں کہ ہزاروں احادیث نبی اکرم(ص) سے نقل کرتے ہیں۔

ج: اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو باب مدینۃ  العلم  علی ابن ابی طالب (ع) سے کیونکر مخفی رہی کہ جنھوں نے نبی(ص) کی احادیث کو اس صحیفہ میں جمع کیا ہے جس کا طول ستر(۷۰) گز ہے۔ اور جس کا صحیفۃ الجامعۃ نام ہے ( اس صحیفہ سے متعلق انشاء اللہ عنقریب بیان آئے گا)

۲۔بنی امیہ کے حکام کا سارا زور اس بات پر تھا کہ رسول(ص) معصوم عن الخطا نہیں تھے


بلکہ وہ بھی دیگر لوگوں کی طرح بشرتھے ان سے غلطی بھی ہوتی تھی اور صحیح کام بھی انجام پذیر ہوتےتھے۔چنانچہ اس سلسلہ میں وہ متعدد احادیث بیان کرتے ہیں۔ در اصل ان احادیث کو گھڑنے کا مقصد یہ تھا کہ نبی(ص) اپنی رائے سے اجتہاد  فرماتے تھے۔ چنانچہ ان سے اجتہاد میں خطا بھی ہوتی تھی جسے بعض صحابہ صحیح کرتےتھے۔ جیسا کہ تابیرالنخل (کھجوروں کے گابھ) اور  حجاب والی آیت کے نزول کا واقعہ گواہ ہے یا منافقین کے لئے استغفار کرنا،بدر کے قیدیوں کی طرف سے فدیہ قبول کرنا اور ایسے ہی نہ جانے کتنے واقعات ہیں جنھیں اہلِ سنت والجماعت نے اپنی صحاح میں نقل کیا ہے وہ محمد(ص) کو رسول(ص) نہیں مانتے ہیں۔

اہلِ سنت والجماعت سے ہماری گذارش ہے کہ:

جب رسول اللہ (ص) کے متعلق تمھارا یہ اعتقاد و مذہب ہے تو پھر یہ دعوا کیوں کرتے ہو کہ ہم ان کی سنت سے تمسک رکھتے ہیں جبکہ رسول(ص)  کی حدیث و سنت تمھارے اور تمھارے اسلاف کے نزدیک غیر محفوظ ہے، نا معلوم ہے۔ لکھی ہوئی بھی تو نہیں ہے۔ ( کیونکہ حدیث کی تدوین عمر بن عبد العزیز کے زمانہ میں یا اس کے بعد ہوئی ہے جبکہ اس سے قبل حکام و خلفا احادیث کو جلا چکے تھے اور اس کے لکھنے اور بیان کرنے سے منع کرچکے تھے۔)

ہمارے اوپر ان ناقص خیالات اور جھوٹ  کے پلندوں کا باطل کرنا واجب ہے۔ انشاء اللہ ہم آپ کی صحاح اور دوسری کتابوں ہی سے آپ کی بات رد کردی گے۔( تعجب  کی بات تو یہ ہے کہ اہلِ سنت  بہت سی احادیث اپنی کتابوں میں نقل کرتے ہیں جبکہ ان کی نقیض بھی خود اسی کتاب میں موجود ہوتی ہے اور اس سے زیادہ تعجب خیز  بات تو یہ ہے کہ جھوٹی حدیث پر عمل کرتے ہیں اور صحیح کو چھوڑدیتے ہیں۔)

امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب العلم میں اور باب کتابۃ العلم میں ابوہریرہ  سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا:  اصحاب نبی (ص) میں سے کسی کو بھی مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد نہیں تھیں لیکن عبداللہ بن عمرو کو مجھ سے زیادہ یاد تھیں کیونکہ وہ لکھتے تھے میں لکھتا


نہیں تھا ۔ ( صحیح بخاری،ج۱، ص۳۶، باب کتابۃ العلم)

اس روایت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اصحاب نبی(ص) میں سے کچھ لوگ آپ کی احادیث لکھتے تھے اور جب ابوہریرہ سنکر نبی(ص) سے چھ ہزارحدیثیں نقل کرتے ہیں تو عبد اللہ بن عمرو بن عاص کے پاس تو اس سے کہیں زیادہ حدیثیں ہو ں گی کیونکہ وہ لکھتے تھے۔ چنانچہ ابوہریرہ کو بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص کو مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد ہیں اس لئے کہوہ لکھتے تھے۔ لاریب اور بھی بہت سے صحابہ نبی(ص) کی حدیث لکھتے تھے۔ لیکن ابوہریرہ نے ان کا  تذکرہ شاید اس لئے نہیں کیا ہے کہ وہ اس بات میں مشہور نہیں تھے کہ انھیں زیادہ تر نبی(ص) کی حدیثیں یاد ہیں۔

ان حافظانِ حدیث میں ہم علی ابن ابی طالب(ع) کا بھی اٖضافہ کرتے ہیں جو کہ منبر سے الجامعہ نامی صحیفہ کو متعارف کراتے ہیں۔ اس صحیفہ میں نبی(ص) سے منقول وہ احادیث موجود تھیں جن کی لوگوں کو ضرورت ہوسکتی ہے۔ یہ صحیفہ ائمہ اہلِ بیت(ع) کو ایک دوسرے سے  میراث ملتا چلا آرہا ہے اور وہ اکثر اسی سے حدیثیں بیان فرماتے ہیں:

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ :

" ہمارے پاس ایک صحیفہ ہے جس کا طول ستر(۷۰) گز ہے۔ یہ رسول(ص) کا املا ہے۔ جس کو علی(ع) نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ تمام حلال و حرام اور جن چیزوں کی لوگوں کو ضرورت ہوسکتی ہے وہ سب اس میں مرقوم ہیں۔ ہر واقعہ یہاں تک کہ خدش ارش بھی اس میں مرقوم ہے۔" (اصول کافی، ج۱، ص۲۳۹)

خود بخاری نے اپنی صحیح میں اس صحیفہ کا ذکر کیا ہے جو کہ متعدد ابواب پر مشتمل علی(ع) کے پاس تھا۔ لیکن جیسا کہ بخاری کی عادت کتربیونت کے ساتھ نقل کرنا ہے۔ لہذا اس


صحیفہ کےمتعلق بھی کتربیونت کے ساتھ تحریر کیا ہے اور اس کے بہت سے خصائص مضامین کو حذف کردیا ہے۔

بخاری نے باب کتابۃ العلم میں شبعی سے انھوں نے جحفہ سے روایت کی ہے کہ میں نے علی(ع) سے عرض کی:

کیا آپ (ع) کے پاس کوئی (اور) کتاب ہے؟

آپ نے فرمایا کتابِ خدا اور وہ فہم جو اس نے ایک مسلمان مرد کو عطا کیا ہے کے علاوہ یہ صحیفہ ہے۔

میں نے کہا اس صحیفہ میں کیا ہے؟

آپ نے فرمایا :

اس میں عقل اور قیدی کی رہائی اور یہ کافر کے بدلہ مسلمان قتل نہیں کیا جائے گا،تحریر ہے۔ (صحیح بخاری،ج۱،ص۳۶)

بخاری ہی میں دوسری جگہ اعمش ابراہیم تمیمی اورابراہیم کے والد سے مروی ہے کہ علی(ع) نے فرمایا:

ہمارے پاس کتابِ خدا  اور اس صحیفہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ جس میں احادیث نبی(ص) مرقوم ہیں۔(صحیح بخاری، ج۲،ص۲۲۱، صحیح مسلم، ج۴، ص۱۱۵)

ایک دوسرے باب میں بخاری ابراہیم تمیمی اور ان کے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : علی (رضی اللہ عنہ) ہمارے درمیان اینٹوں کےمنبر سے خطبہ دے رہے تھے ۔ اور ان کے پاس ایک تلوار تھی جس میں صحیفہ لٹکا ہوا تھا۔

آپ(ع) نے فرمایا:

قسم خداکی ہمارے پاس کتابِ خدا اور اس صحیفہ کے علاوہ ایسی کوئی کتاب نہیں ہے جو پڑھی جاتی ہے۔(صحیح بخاری، ج۸، ص۱۴۴)


بخاری نے الجامعۃ نامی صحیفہ کے متعلق امام جعفر صادق(ع) کا قول نقل نہیں کیا کہ اس میں کل حرام و حلال، انسانوں کی ہر ضرورت ، یہاں تک کہ ارش خدش بھی تحریر ہے۔ یہ  رسول اللہ (ص) کا املا ہے جسے علی(ع) نے اپنے ہاتھوں سے لکھا ہے۔

بخاری اسے ایک مرتبہ ان الفاظ میں مختصر کرتے ہیں۔ اس عقل ( سے مربوط باتیں) قیدی کی رہائی ، اور یہ کہ کافر کے عوض مسلمان قتل نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جگہ کہتے ہیں اسے علی(ع) نے ظاہر کیا تو اس میں اونٹ  کی عمر مرقوم ہے۔ جبکہ اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ مسلمانوں کی ایک پناہ گاہ ہے۔ اور یہ بھی تحریر تھا کہ جو کسی قوم کا ولی بنے در حالانکہ اس قوم کی اجازت نہ ہو۔

یہ حقائق کی پردہ پوشی ہے ورنہ یہ بات باور کی جاسکتی ہے کہ علی(ع) ایک صحیفہ میں چار جملے لکھیں اور اسے تلوار میں لٹکائیں اور جہاں بھی خطبہ دیں اس کو ساتھ رکھیں اور کتابِ خدا کے بعد اسے دوسرا مرجع متائیں ، چنانچہ فرماتے ہیں : ہم نے نبی(ص) سے قرآن اور اس صحیفہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں لکھا؟

کیا ابوہریرہ کی عقل حضرت علی بن ابی طالب (ع) کی عقل سے بڑی تھی؟

کیونکہ ابوہریرہ کو بغیر لکھے ہوئے رسول (ص) کی ایک لاکھ حدیثیں یاد تھیں!

قسم خدا کی ان لوگوں کا عجیب معاملہ ہے۔ یہ ابوہریرہ سے تو بغیر لکھے ہوئے ایک لاکھ حدیثیں قبول کرلیتے ہیں جو کہ صرف  نبی(ص)  کے ساتھ تین سال  رہے اور پڑھنے  لکھنے سے بھی جاہل تھے۔ اور جس علی(ع) کو علم کا سرچشمہ ، صحابہ کو معارف کی تعلیم دینے والا تصور کرتے ہیں ، اسے ایک صحیفہ اٹھائے ہوئے دکھلاتے ہیں کہ جس میں چار حدیثیں ہیں اور زمانہ رسول(ص) سے اپنی خلافت کے زمانے تک اسے اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں۔ اگر منبر پر تشریف لے جاتے ہیں تو وہ تلوار میں لٹکا ہوا صحیفہ بھی ساتھ ساتھ ہوتا ہے؟ یہ سب افترا اور جھوٹ ہے۔


اگرچہ بخاری کا اتنا ہی لکھا ہوا محققین  اور عقلمند لوگوں کے لئے کافی ہے۔ بخاری نے یہ لکھا ہے کہ اس میں عقل سے مربوط باتیں ہیں۔ یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں بہت سی چیزیں ہیں جو عقل بشری اور فکرِ اسلامی سے مخصوص ہیں۔

ہم اس بات پر دلیل قائم نہیں کرنا چاہتے کہ صحیفہ کیا مرقوم ہے اہلِ مکہ اس کی فصول و ابواب سے اچھی طرح واقف ہوں گے اور گھر والے گھر کی بات اچھی طرح جانتے ہیں۔ اہل بیت(ع)  ہی نے فرمایا ہے کہ اس میں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی لوگوں کو ضرورت ہوسکتی ہے۔ چاہے وہ حلال ہو یا حرام یہاںتک کہ خدش ( وہ جرمانہ جو کسی چیز میں نقص یا خراش پیدا کرنے کے سبب دینا پڑتا ہے) ارش بھی اس میں تحریر ہے۔

اس بحث میں جو چیز ہمارے لئے اہم ہے وہ یہ ہے کہ صحابہ احادیث نبی(ص) لکھتے تھے ابوہریرہ کو یہ قول کہ عبداللہ بن عمرو  احادیث نبی(ص) کو لکھتے تھے اور حضر ت کا قول کہ ہم نے رسول (ص) سے صرف قرآن اور یہ صحیفہ لکھا ہے۔ خوداس بات کی قطعی دلیل ہے کہ رسول(ص) نے اپنی  احادیث لکھنے سے کبھی بھی منع نہیں فرمایا تھا۔ بلکہ اس کے برعکس صحیح ہے اور جس حدیث کو مسلم نے اپنے صحیح  میں نقل کیا ہے کہ " قرآن کے علاوہ میری اور کوئی چیزنہ لکھا کرو اور اگر کسی نے لکھی ہے تو اسے مٹادے" وہ جھوٹی ہے، اس سے خلفاء کےمددگاروں نے خلفاء کی تائید کی اور ابوبکر و عمر اور عثمان کو احادیث جلانے اور سنانے  پر پابندی لگانے کے سلسلہ میں بری قرار دیا۔

اورجو چیز ہمارے اس یقین کو مزید استحکام بخشتی ہے کہ نبی(ص) نے اپنی احادیث لکھنے سے منع نہیں کیا تھا بلکہ لکھنے  کا حکم دیا تھا وہ حضرت علی (ع) کو قول ہے جو کہ نبی(ص) سے بہت قریب تھے، ہم نے نبی(ص) سے قرآن اور صحیفہ کےسوا کچھ نہیں لکھا ہے، اسی کو بخاری نے بھی صحیح مانا ہے۔

اور جب ہم اس پر امام جعفر صادق(ع) کے قول کا اضافہ کرتے ہیں کہ صحیفہ جامعہ


رسول(ص) کا املا ہے۔ جسے علی(ع) نے اپنے ہاتھ سے تحریر کیا ہے ۔ تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ رسول(ص) نے علی(ع)  کو (احادیث) لکھنے کا حکم دیا ہے۔

قارئین محترم کے مید اطمینان کے لئے ہم اسی سے متعلق چند دیگر روایات پیش کرتے ہیں۔

حاکم نے اپنی مستدرک میں ابوداؤد نے  اپن صحیح میں اور احمد بن حنبل نے اپنی مسندمیں اور دارمی نےھ اپنی سنن میں ایک بہت ہی اہم عبداللہ بن عمرو سے مخصوص ایک حدیث نقل کی ہے ، جن کے متعلق ابوہریرہ نے یہ بیان کیا تھا کہ عبد اللہ بن عمرو حدیث لکھ لیتے تھے۔

عبداللہ بن عمرو  خود  کہتے ہیں کہ میں جو چیز بھی رسول اللہ (ص) سے سنتا تھا اسے لکھ  لیتا تھا لیکن قریش  نے مجھے لکھنے سے منع کردیا اور کہا: تم ہر  اس چیز کو لکھ لیتے ہو جو رسول(ص) سے سنتے ہو جبکہ وہ بشر ہیں وہ غیظ و غضب کے  عالم میں بھی گفتگو کرتے ہیں اور سنجیدگی کی حالت میں بھی!

عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے حدیث  لکھنی بند کردی ۔ ایک روز میں نے اس واقعہ کا تذکرہ رسول(ص) کی خدمت کیا تو آپ (ص) نے مجھے لکھنے کا حکم دیا اور فرمایا:

" تم لکھاکرو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری زبان سے صرف حق بات نکلتی ہے"

(مستدرک ، ج۱، ص۱۰۵)

اس واقعہ سے ہم پر یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ عبداللہ بن عمرو ہر اس چیز کو  لکھ لیا کرتے تھے جو نبی(ص) سے سنتے تھے اور نبی(ص) نے انھیں کبھی اس سے منع نہیں کیا تھا۔ بلکہ انھیں حدیث لکھنے سے قریش نے منع کیا تھا لیکن عبد اللہ بن عمرو  نے ان افراد کے ناموں کی تصریح نہیں کی۔


جنھوں نے حدیث لکھنے سے منع کیا تھا، کیونکہ ان کی ممانعت میں رسول(ص)  پر اعتراض تھا۔ اس لئے اس قول کی نسبت قریش کی طرف دی گئی ظاہر ہے قریش سے مراد مہاجرین کے رئیس و سردار ابوبکر و عمر، عثمان ، عبدالرحمان بن عوف ابو عبیدہ اور طلحہ و زبیر اور وہ لوگ تھے جو ان کی تقلید کرتے تھے۔

واضح رہے عبداللہ کو حدیث لکھنے سے حیاتِ نبی(ص) میں منع کیا گیا تھا جس سے اس سازش  کی گہرائی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اور پھر عبد اللہ نے نبی(ص)  سے کچھ معلوم کئے بغیر قریش کی بات پر کیسے  اعتماد کیا؟ ایسے ہی ان کے اس قول سے کہ رسول اللہ (ص) بشر ہیں وہ غیظ کے عالم میں بھی گفتگو کرتے ہیں اور سنجیدگی کی حالت میں بھی کلام کرتے ہیں، اس کے سلسلہ میں ان کے عقیدہ کی کمزوری کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ رسول(ص) کے بارے میں وہ مشکوک رہتے تھے کہ رسول(ص)  ( معاذ اللَہ) لاف گزاف بکتے ہیں، غلط فیصلہ کرتے ہیں خصوصا غضب کی حالت میں اور جب عبد اللہ بن عمرو نے رسول (ص) سے یہ بتایا کہ قریش نے مجھے حدیث لکھنے سے منع کیا ہے تو آپ (ص) نے فرمایا:

" تم لکھو! قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے( اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا) جو کچھ اس سے  نکلتا ہے وہ حق ہوتا ہے۔"

یہ اس بات کی دوسری دلیل ہے کہ رسول (ص) جانتے تھے کہ قریش میری عدالت کے سلسلے میں مشکوک ہیں۔ وہ رسول(ص) سے خطا سرزد ہونے کو جائز سمجھتے ہیں اور ان کی زبان سے لاف گزاف کو بھی ممکن تصور کرتے ہیں۔ اسی لئے رسول(ص) نے خدا کی قسم کھا کر فرمایا کہ جو بات میری زبان سے نکلتی ہے وہ حق ہوتی ہے آپ (ص) کا یہ قول بالکل حق ہے کیونکہ قرآن میں خدا کا ارشاد ہے:


" وہ (رسول (ص))  تو اپنی خواہش نفس سے کچھ کہتے ہی نہیں ہیں بلکہ وہی کہتے ہیں جو ان پر وحی ہوتی ہے۔"

(النجم، ۳۔۴)

رسول(ص) معصوم عن الخطا ہیں اور بے ہودہ گوئی سے پاک ہیں۔ ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ایسی احادیث کہ جن سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ " محمد رسول(ص) نہیں ہیں۔ وہ امویوں  کے زمانہ کی گھڑی ہوئی ہیں۔ وہ قطعی صحیح نہیں ہیں ۔ جیسا کہ مذکور حدیث ہمیں یہ بات بھی سمجھاتی ہے کہ عبداللّہ بن عمرو  قریش سے بہت متاثر تھے یہاں تک کہ ان کے منع کرنے سے آپ نے حدیث لکھنا بند کردی، جیسا کہ خود فرماتے ہیں ، میں نے حدیث لکھنے سے ہاتھ کھینچ  لیا ۔ اور کافی دنوں تک کچھ نہ لکھا۔ یہاں تک ایک مباسبت آئی اور وہ عصمتِ رسول(ص) کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک کے  ازالہ کے لئے رسول(ص) کی خدمت میں پہونچے۔ ایسے ہی اور بہت سے لوگوں کے اقوال ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ بعض نے آپ(ص) کے سامنے ہی اظہار کردیا تھا۔ جیسے " کیا آپ (ص) بر حق نبی(ص)  ہیں" ( صلح حدیبیہ میں عمر بن خطاب نے کہا  تھا۔ ملاحظہ فرمائیں بخاری، ج۲،ص۱۲۲، )  آپ ہی ہیں جو اپنے کو  نبی(ص) سمجھتے ہیں ( عائشہ بنت ابوبکر نے نبی(ص) سے کہا تھا۔ ملاحظہ فرمائیں غزالی کی احیاء العلوم، ج۲، ص۲۹) قسم خدا کی یہ تقسیم خدا کی خوشنودی کے لئے نہیں ہوئی(انصار میں ایک صحابی نے کہا تھا۔ بخاری، ج۴، ص۴۷)

اسی طرح عائشہ نے نبی(ص)  سے کہا تھا: ہم نے تو آپ (ص) کے خدا کو آپ کی خواہش کے سلسلہ میں  جلد باز پایا ہے۔ ( بخاری ، ج۶، ص۲۴، نیز  ج۶، ص۱۲۸)

اکثر صاحبِ خلقِ عظیم ، مہربان ورحیم نے اس شبہات کو اس طرح رد کیا ہے۔ میں حکم (خدا) کا بندہ ہوں۔ کبھی فرمایا: قسم خدا کی میں خدا ہی کے لئے نیکیاں کرتا ہوں اور اسی کا تقوای اختیار کئے ہوں۔ کبھی فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری زبان سے جو کچھ نکلتا ہے وہ حق ہوتا ہے ۔ بسا اوقات فرماتے : خدا  میرے بھائی موسی پر


 رحم کرے ۔ انھیں اس سے زیادہ اذیت دی گئی لیکن انھوں نے صبر کیا۔

پس یہ دل برما دینے والے کلمات  جو کہ نبی(ص) کی عصمت میں خدشہ ظاہر کرتے ہیں اور نبوت میں شک پیدا کرتے ہیںوہ معمولی افراد یا منافقین نے استعمال نہیں کئے ہیں بلکہ بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ یہ کلمات آپ کے اصحاب کی نمایاں شخصیتوں کی زبان سے نکلے ہیں۔ یا ام المؤمنین نے اداکئے ہیں اور یہ لوگ اہل سنت والجماعت کے قائد  و اسوۃ حسنہ ہیں ۔لاحول ولا قوة الا بالله العلی العظیم

اور ہمیں یقین ہے کہ یہ حدیث " مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ بہ لکھا کرو،گھڑی ہوئی اور بے بنیاد ہے۔ یہ رسول خدا (ص) کا کلام نہیں ہے۔ خود ابوبکر بھی رسول(ص) کی بعض احادیث لکھا کرتے تھے۔اور وہ انھوں نے عہد رسول(ص) ہی میں جمع کرلی تھیں، لیکن خلیفہ بنے تو بداء واقع ہوگیا اور احادیث کو کسی  بات کے پیش نظر  جلادیا ۔ اس بات کو صاحبانِ مطالعہ و تحقیق جانتے ہیں۔

اب ان کی بیٹی عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے والد نے رسول(ص) کی پانچ سو احادیث جمع کی تھیں ۔ ایک شب ان کا ارادہ بدل گیا۔ ارادہ میں تبدیلی کسی شک یا کسی اور چیز کی بناء پر رونما ہوئی تھی۔ جب صبح ہوئی تو مجھ سے کہا ، بیٹی وہ احادیث لے آو جو تمہارے پاس ہیں، میں نے لاکر ان کے سپر د کردیں تو انھوں نے احادیث کو نذر آتش کردیا۔ ( کنز العمال ، ج۵، ص۳۳۷، ابن کثیر البدایہ والنہایہ، تذکرۃ الحفاظ ، ج۲، ص۵)

ایک روز عمربن خطاب نے اپنی خلافت کے زمانہ میں خطبہ دیتے ہوئے کہا : تم میں سے جس کےپاس بھی کوئی کتاب لکھی ہوئی ہے وہ میرے پاس پہونچا دے میں اس سلسلہ میں کچھ کام کرنا چاہتا ہوں ، لوگوں نے سوچا کہ ابن خطاب احادیث کو دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ایک نہج پر جمع ہوجائیں اور کوئی اختلاف باقی نہ رہے لہذا انھوں نے اپنی اپنی کتاب لاکر عمر کے حوالے کردی اور عمر نے سب کو جلاڈالا۔ ( الطبقات الکبری لابن سعد،ج۵، ص۱۸۸ ؛ یہی


خطیب بغدادی نے تقلید میں لکھا ہے۔)

اسی طرح انھوں نے دوسرے شہروں میں یہ حکم بھیجا کہ جس کے پاس حدیث کے سلسلہ میںلکھی ہوئی کوئی چیز موجود ہے وہ اس کو مٹادے۔ ( جامع بیان العلم لابن عبد البر)

عمر کا یہ فعل خوداس بات کی دلیل ہے کہ عام صحابہ خواہ مدینہ کے باشندے ہوں یا دوسرے اسلامی شہروں کے رہنے والے، سب نے احادیث رسول(ص) جمع کر رکھی تھیں اور زمانہ رسول(ص) ہی میں انھیں کتابوں کی صورت دیدی تھی۔ لیکن افسوس پہلے ابوبکر نے ان کتابوں کو جلایا پھر عمر  دوسرے شہروں میں محفوظ کتابوں کو برباد کیا۔ ( خدا آپ کے سلامت رکھے ذرا، سنت نبی(ص) کے ساتھ ابوبکر و عمر اس بے جا سلوک کو اور اس نقصان کو ملاحظہ فرمائیں کہ جس کا جبران ناممکن ہے۔ اس امتِ اسلامیہ پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔ قسم اپنی جان کی جن احادیث کو ملیامیٹ کیا گیا ہے وہ سب صحیح تھیں کیونکہ انھیں صحابہ نے بالمشافہ لکھا تھا، کوئی واسطہ درمیان میں نہیں تھا جبکہ بعد میں جمع کی جانے والی احادیث میں اکثر جعلی حدیثیں ہیں۔ کیونکہ بہت سے مسلمان حوادث کے بھینٹ چڑھ چکے تھے اور جو بعد میں لکھی گئیں وہ ظالم حکام کےحکم سے لکھی گئیں۔)

اس بات کی ہم ہی کیا کوئی بھی عقلمند تصدیق نہیں کرے گا کہ رسول(ص) نے صحابہ کو اپنی احادیث لکھنے سے منع کردیا تھا خصوصا اس آگہی کے بعد کہ اکثر صحابہ کے پاس احایث کی کتاب موجود تھی خاص طور سے وہ صحیفہ جو حضرت علی(ع) کا جز لاینفک  بن چکا تھا۔ جس کا طول ستر(۷۰) گز تھا۔ اور جس میں تمام چیزوں کا بیان ہے ۔ جس کو الجامعہ کہتے ہیں۔

لیکن حکومت اور اس کی سیاست کا یہی تقاضا تھا کہ سنتِ نبی(ص) کو مٹادیا جائے ، کتابوں کو جلادیا جائے اور بیان کرنے پر پابندی لگادی جائے۔ پھر ان کی خلافت کی تائید کرنے والے صحابہ ان کے حکم کی اطاعت کرتے تھے۔ اسے نافذ کرتے تھے، سنت کے مٹ


جانے کے بعد صحابہ اور تابعین میں سے ان کا اتباع کرنے والوں کے پاس اجتہاد بالرائے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ تھا یا پھر وہ سنتِ ابوبکر، عمر ، عثمان اور سنتِ معاویہ و یزید ، سنتِ مروان بن حکم  و عبد الملک بن مروان اور سنتِ ولید بن عبد الملک ، سنتِ سلیمان بن عبد الملک پر عمل کرتے تھے۔ یہاں تک عمر بن عبد العزیز  کا زمانہ آگیا اوراس نے ابوبکر حزمی سے احادیثِ رسول(ص) یا سنتِ عمر بن خطاب لکھنے کے لئے کہا: (موطا۔ لامام مالک،ج۱،ص۵)

اس طرح ہم پر یہ بات بھی روشن ہوجاتی ہے کہ جس زمانہ میں احادیثِ نبوی(ص) کی تدوین کو بہت اہمیت دی جارہی تھی اور اس کے مٹ جانے اور مستقل پابندی میں جکڑے رہنے کے سو سال بعد ہم سلسلہ اموی کے معتدل مزاج حاکم کو سنتِ نبی(ص) کو سنتِ خلفائے راشدین سے ملاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ چنانچہ عمر بن عبد العزیز سنتِ رسول(ص) اور سنتِ عمر کو جمع کرنے کا حکم دیتا ہے گویا عمر بن خطاب  محمد (ص) کی رسالت میں شریک ہیں۔

اور پھر عمر بن عبد العزیز نے اپنے ہم عصر اہل بیت (ع)  سے احادیث نبی(ص) کے سلسلہ میں کیوں رجوع نہیں کیا کہ وہ اسے صحیفہ الجامعۃ کا ایک نسخۃ دیدیتے، اور احادیث نبی(ص) جمع کرنے کی ان سے کیوں درخواست نہ کی کہ وہ اپنے جد کی حدیث کے دوسروں کی بہ نسبت اعلم تھے؟؟

کیا ان احادیث سے اطمینان  حاصل ہوسکتا ہے جن کو بنی امیہ کے اعوان و انصار، اہل سنت والجماعت نے جمع کیا تھا۔اور جن پر قریش کی خلافت کادارومدار رتھا۔ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اور آپ کی سنت کے بارے میں قریش کی عقیدت کا حال تو ہمیں معلوم ہے؟!

اس حالت کے بعد واضح ہے کہ بر سرِ اقتدار پارٹی زمانہ دراز تک اجتہاد و قیاس اور آپسی مشوروں پر عمل کرتی رہی۔

اس کے ساتھ ہی برسرِ اقتدار پارٹی نے حضر ت علی علیہ السلام کو سیاسی میدان سے


الگ کردیا اور انھیں نظر انداز کردیا ۔ حالانکہ اس پارٹی کے پاس ان کتابوں کو جلانے کے سلسلے میں کوئی دلیل نہیں تھی جن کو خود رسول(ص) نے املا کرایا تھا اور صحابہ نے آپ کے زمانہ حیات ہی میں انھیں لکھ لیا تھا۔

 فقط علی ابن ابی طالب(ع)  صحیفہ کی حفاظت کرتے رہے کہ جس میں لوگوں کی احتجاج کی تمام چیزیں جمع تھیں یہاں تک کہ ارش  خدش بھی موجود تھا اور جب خلافت علی(ع) تک پہونچی تو اسے تلوار میں لٹکا کر خطبہ دینے کے لئے منبر پر تشریف لے جاتے اور اس صحیفہ کی اہمیت  بتاتے تھے۔

یہ بات ائمہ (ع) سے تواتر کے ساتھ ثابت ہےکہ وہ صحیفہ ایک امام سے دوسرے کو میراث میں ملتا رہا اور وہ اپنی پیروی کرنے والے ہمعصر وں کو ضرورت کے وقت  اس صحیفہ سے فتوا دیتے رہے۔ اور شاید یہی وجہ تھی جو امام صادق(ع) و امام رضا(ع) اور دیگر ائمہ(ع) فرماتے تھے ہم اپنی رائے سے لوگوں کو فتوا نہیں دیتے ہیں، اگرہم اپنی رائے اور خواہش نفس سے لوگوں کو فتوی دیتے تو ہلاک ہو جاتے لیکن اوریہ صحیفہ جامعہ رسول اللہ(ص)  کے آثار میں سے ہے جو ہم اہل علم کو باپ سے بیٹے کومیراث میں ملتا ہے اور ہم اسے  ایسے ہی محفوظ رکھتے ہیں جیسے لوگ سونے چاندی کو محفوظ رکتھے ہیں۔( معالم المدرستین، مرتضی عسکری، ج۲، ص۳۰۲)

آپ (ص) ہی کا ارشاد ہے:

"میری حدیث میرے والد کی حدیث ہے اور میرے والد کی حدیث میرے جد کی حدیث ہے اور میرے جد کی حدیث حسین(ع) کی حدیث ہے اور ان کی حدیث حسن(ع) کی حدیث ہے اور حسن(ع) کی حدیث امیر المؤمنین(ع)  کی حدیث ہے اور امیر المؤمنین (ع)  کی حدیث رسول(ص) کی حدیث ہےاور حدیث رسول (ص) خدا کا کلام ہے۔"

( اصول کافی، ج۱، ص۵۳)

حدیثِ ثقلین متواتر ہے:


" ترکت فکم الثقلن کتاب الل و عترتی ما ان تمسکم بما لن تضلوا بعدی ابدا "

" میں تمھارے درمیان دو گرانقد چیزیں چھوڑ رہا ہوں (ایک) کتابِ خدا (دوسرے) میری عترت  جب تک تم دونوں سے متمسک  رہو گے میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔"

(صحیح مسلم، ج۵، ص۱۲۲، صحیح ترمذی، ج۵،ص ۶۳۷) 

یہ حق ہے اس کے بعد ضلالت و گمراہی ہے نبی(ص) کی صحیح سنت کا نگہبان و محافظ اہلبیت (ع) مصطفے میں سےائمہ اطہار(ع)  کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔

اس بات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شیعیان اہل بیت(ع) نے عترت (رسول (ص)) سے متمسک  کیا جو کہ اہل سنت ہیں " اہل سنت والجماعت ، تو اس چیز کا دعوی کررہے ہیں جو ان کے پاس نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان کے دعوے پر کوئی دلیل ہے۔

والحمد لل الذی دانا لذا....


شیعہ ، اہل سنت کی نظر میں

بعض ان معاصر  علما سے قطع نظر  کہ جنھوں نے اپنی کتابوں میں وہی تحریر کیا جو کہ ان پر اسلامی اخلاق نے فرض کیا تھا، اہل سنت کے گذشتہ  اور موجودہ علما بنی امیہ کی عقل کے تحت ہمیشہ شیعوں کے خلاف لکھتے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ انھیں ہر وادی میں سرگرداں و سرگشتہ پائیں گے۔ وہ  ایسی بات کہتے ہیں جسے خود بھی نہیں سمجھتے ، شیعیانِ اہل بیت(ع) پر سب وشتم  کرتے ہیں ، بہتان لگاتے ہیں جبکہ خود ان چیزوں نے بری نہیں ہیں۔ وہ ناحق شیعوں پر بہتان لگاتے ہیں وہ اپنے سلف صالح معاویہ وغیرہ کی اقتدا کرتے ہوئے کہ جنھوں نے قہر و قوت سے خلافتِ  اسلامیہ پر قبضہ جمالیا تھا۔ شیعوں کو کافر کہتے ہیں۔ انھیں برے القاب سے نوازتے ہیں۔

کبھی لکھتے ہیں کہ فرقہ شیعہ کا بانی عبد اللہ بن سبا، یہودی ہے کبھی لکھتے  ہیں کہ شیعوں کی اصل مجوس ہے اور وہ رافضی ہیں خدا ان کا برا کرے یہ اسلام کے خلاف یہود و نصاری کے پیک ہیں۔ کبھی لکھتے ہیں کہ یہ منافق ہیں کیونکہ تقیہ پر عمل کرتے ہیں ، یہ محرموں سے نکاح


کو جائز جانتے ہیں اور متعہ ، جو  کہ زنا ہے، کو  حلال قرار دیتے ہیں۔ ان (اہل سنت) میں سے بعض لکھتے ہیں۔ شیعوں کا قرآن اور ہے ہمارا اور، شیعہ علی(ع) اور ان کے بیٹوں میں سے ائمہ کی عبادت کرتے ہیں، محمد (ص) اور جبرئیل (ع) سے دشمنی رکھتے ہیں یہ ایسے ہیں یہ ویسے ہیں۔

ایک سال کبھی نہیں گزرتا  کہ بزعم خود  و بقلم خود علمائے اہل سنت کی طرف سے  ایک نہ ایک کتاب شیعوں کے خلاف منظر عام پر آجاتی ہے اور ہر ایک میں شیعوں کو کافر کہا جاتا ہے اور ان کی اہانت کی جاتی ہے۔

ان کی اس قسم کی تحریروں سے کوئی نیکی یا دفاع مقصد نہیں ہوتا بلکہ ان کا مقصد  اپنے ان گرو گھنٹال  لوگوں کو خوش کرنا ہے جن کا مفاد ہی ملتِ اسلامیہ کے تفرقہ ور تباہی میں ہے۔

وہ جو کچھ لکھتے ہیں وہ بے بنیاد ہوتا ہے، اندھے تعصب اور دلی دشزمنی کے علاوہ اس پر کوئی دلیل نہیں ہوتی، بغیر کسی تحقیق کے سلف کی تقلید کرتے ہیں، ان کی مثال بالکل طوطے کی سی ہے جو سنتے ہیں وہی دھراتے ہیں ، اموی خدام نواصب کی کتابوں سے نسخہ برداری کرتے  ہیں وہی لوگ ہیں جو یزید و معاویہ کی بھی مدح سرائی کرتے ہیں۔( سعودی عرب کے وزراۃ المعارف  نے " حقائق عن امر المؤمنین یزید بن معاویہ ، نام کی ایک کتاب شائع کی ہےاور وزارتِ تعلیم نے اس کو مدارس کے نصاب میں داخل کردیا ہے)

جب ان کے سلف صالح، یزید اور اس کا باپ معاویہ  اپنے ہمنواؤں کو سونے و چاندی کی جھلکیوں سے اندھا بنائے رہتا تھا اور ان کے ضمیروں کو خریدتا تھا تو آج ملیون ڈالر، لندن و پیرس میں عظیم الشان و بے مثال قصر اور ان میں چنچل گلابی رخسار دو شیزائیں  اور بہترین شراب کے عوض ان اہل سنت کے علما کے ضمیر ، دین اور وطن کو خریدا جاتاہے ۔

اگر وہ سنتِ نبی(ص) کے صحیح معنوں میں پیروکار ہوتے تو جیسا کہ ان کا گمان بھی ہے تو پیغبر(ص) کے عالی اخلاق اپناتے اور دوسروں کا احترام کرتے خواہ عقیدے کے لحاظ سے وہ ان کے


مخالف ہوتے۔

کیا نبی(ص) کی حدیث یہ نہیں کہتی:

" مسلمان ، مسلمان کے لئے ایسا ہے جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کہ جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو سہارا دیتا ہے۔"

نیز فرمایا:

" مسلمان آپس میں ایسے ہی ہیں جیسے ایک بدن کہ جب اس کا کوئی عضو کسی تکلیف  میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا بدن اس کی وجہ سے مضطرب ہوجاتا ہے۔"

کیا نبی(ص) نے اس کی صراحت نہیں فرمائی تھی کہ:

" مسلمان پر سب و شتم کرنے والا فاسق اور اسے قتل کرنے والا کافر ہے۔"

اگر خود اہل سنت والجماعت کہلانے والے سنتِ نبی(ص) سے واقف ہوتے تو کلمہ پڑھنے والوں ، نماز قائم کرنے  والوں ، زکوۃ دینے والوں، روزہ رکھنے والوں، حج بجالانے والوں اور نیکیوں کا حکم دینے والوں اور برائیوں سے منع کرنے  والوں  کو کبھی کافر نہ کہتے:

اہلِ سنت اصل میں اموی اور قریش کی سنت کےپیروکار ہیں وہ جاہلیت والی عقل اور قبائلی افکار کے تحت قلم اٹھاتے ہیں اب جو کچھ بھی لکھیں وہ تعجب خیز نہیں ہے۔ کیونکہ جس برتن میں جو ہوتا ہے اس سے وہی ٹپکتا ہے۔

کیا رسول(ص) نے نہیں  فرمایا تھا جس کو قرآن نے نقل کیا ہے کہ:

اے اہلِ کتاب آؤ تم  اور ہم اس کلمہ پر اتفاق کرلیں جو ہمارے اور تمھارے درمیان مساوی ہے۔( آل عمران، ۶۴)


اگر وہ حقیقت میں اہلِ سنت ہوتے تو اپنے شیعہ بھائیوں کو اس کلمہ پر اتفاق کی ضرور دعوت دیتے جو ان کے اور شیعوں کے درمیان مساوی ہے۔

کیوں کہ اسلام تو اپنے دشمنوں یہود و نصاری کو مساوی کلمہ پر تفاہم  و اتحاد کی دعوت  دیتا ہے، تو وہ لوگ  آپس میں کیوں متحد نہیں ہوتے کہ جن کا خدا ایک، قبلہ ایک اور مقصد ایک ہے۔

پس علمائے اہلِ سنت اپنے شیعہ بھائی علماء کو کیوں دعوت نہیں دیتے،ان کے ساتھ بحث کی میز پر کیوں نہیں بیٹھتے اور احسن طریقہ سے ان سے مناظرہ کیوں نہیں کرتے اور اگر ان کے عقائد فاسد ہیں تو ان کی اصلاح کیوں نہیں کرتے ؟

ایک اسلامی کانفرنس منعقد کیوں نہیں کرتے کہ جس میں فریقین کے علماء شریک ہوں، اور اختلافی مسائل  کو تمام مسلمانو ں کے سامنے پیش کریں تا کہ وہ بھی راہِ راست اور کذب و بہتان سے آگاہ ہوجائیں۔

خصوصا اہلِ سنت والجماعت جو کہ پوری دنیا کے مسلمانو ں کو ۳/۱ ہیں اور ان کے پاس مادی امکانات بھی ہیں اور حکومتوں میں بھی ان کا اثر و رسوخ ہے ان کے لئے یہ بہت ہی آسان ہے کیوں کہ وہ تو فضائی سیارات کے بھی مالک ہیں۔

لیکن اہلِ سنت والجماعت ایسا ہرگز نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس علمی مقابلہ کے لئے تیار ہوسکتے ہیں کہ جس کی طرف کتابِ خدا دعوت دے رہی ہے۔

" اے رسول(ص) ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اپنے دعوا میں سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔"( بقرہ آیت ۱۱۱)


" اے  رسول(ص) ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم کچھ جانتے ہو تو ہمارے سامنے بھی پیش کرو، تم لوگ توصرف خیالِ خام کی پیروی کرتے ہو  اور اٹکل  بچو باتیں کرتے ہو۔( انعام آیت ۱۴۸)

اسی لئے آپ انھیں شیعوں پر سب و شتم کرتے ہوئے اور بہتان و افتراء باندھتے ہوئے پائیں گے اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ دلیل و حجت شیعوں ہی کے پاس ہے۔

میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ اہلِ سنت والجماعت  ایسا کرنےسے اس لئے ڈرتے ہیں کہ کہیں حقائق کے انکشاف پر اکثر مسلمان شیعہ نہ ہوجائیں۔

جیسا کہ مصر کی یونیورسٹی کے اکثر علماء کے ساتھ ہوا ہے انھوں نے حق کی تلاش میں زحمتیں اٹھائیں تو انھیں حق ملا اور انھوں نے مذہبِ شیعہ اختیار کرلیا اور عقیدہ سلفِ صالح کو چھوڑ دیا۔

اہلِ سنت کے علماء اس خطرہ کو اچھی طرح محسوس کرتے ہیں کہ جو  ان کے نظام کو درہم برہم کرنے کے لئے چیلنج ہے اسی لئے انھوں نے اپنے مقلدوں اور اتباع کرنے والوں پر  شیعوں کے پاس بیٹھنا حرام قرار دیدیا ہے  اسی طرح ان (شیعوں ) سے بحث کرنے ، ان کی لڑکی سے شادی کرنے انھیں لڑکی دینے اور ان کے ذبیحہ کے کھانے کو حرام قرار دیدیا ہے۔

ان کے اس موقف سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ سنتِ نبی(ص) سے کتنا دور ہیں اور سنتِ اموی سے کتنا نزدیک ہیں کہ  جنھوں نے امتِ محمدی(ص)  کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ گمراہ کرنا چاہا کیوں کہ ذکرِ خدا کےلئے ان کے دل نرم نہیں تھے اور نہ ہی اس کا نزول  حق کی طرف سے مانتے تھے زبردستی اسلام قبول کیا تھا۔

جیسا کہ حکومت حاصل کرنے کی غرض سے نیک صحابہ کو  قتل کرنے والے اہلِ سنت


والجماعت  کے پیشوا معاویہ ابن ابی سفیان نے ایک خطبہ میں کہا تھا:

" میں نے تم سے نماز پڑھنے ، روزہ رکھنے اور حج کرنے کے لئے جنگ نہیں کی ہے میں نے تو اس لئے جنگ کی ہے تاکہ تم پر میری حکومت قائم ہوجائے ۔سو خدا نے مجھے عطا کی جبکہ تم اس سے خوش نہیں ہو۔"

خداوند عالم کا ارشاد ہے:

" جب بادشاہ بستیوں میں داخل ہوتے ہیں تو انھیں برباد کردیتے  ہیں اور ان دیہاتوں کے باعزت و شرف لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں ، ایسا ہی انھوں نے کیا۔( نمل، آیت۳۴)


اہلِ سنت ، شیعوں کی نظر میں

شیعہ عوام میں سے بعض متعصب لوگوں سے قطع نظر جو کہ اہلِ سنت والجماعت کو  ناصبی کہتے ہیں ، شیعوں کے گذشتہ اور موجودہ علماء  اہلِ سنت والجماعت کو اپنا بھائی سمجھتے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اہلسنت بنی امیہ کے فریب میں آکر سلفِ صالح کے متعلق  حسن ظن رکھتے ہیں اور آنکھ  بند کرکے ان کی اقتداء کرتے ہیں۔ چنانچہ امویوں نے انھیں صراطِ مستقیم سے ہٹادیا اور ثقلین ۔ کتابِ خدا اور عترتِ رسول(ص) سے دور کردیا جو اپنے متمسک کو ضلالت و گمراہی سے محفوظ رکھتے ہیں اور اس کی ہدایت  کے ضامن ہیں۔

آپ نے شیعوں کو دیکھا ہوگا کہ جو کچھ لکھتے ہیں اپنے نفسوں سے دفاع اور اپنے معتقدات کی تعریف کے ساتھ ساتھ  اپنے سنی بھائیوں کو انصاف اور توحیدِ کلمہ کی دعوت دیتے ہیں۔

بعض شیعہ علماء نے تحقیق کی تکمیل اور مذاہت کو ایک چادر پر بٹھا کر گفتگو کرنے کےسلسلہ میں مختلف ملکوں اور شہروں میں مراکز قائم ہیں۔

اور ان میں سے بعض نے اہلِ سنت کے منارہ "علم و معرفت ازہر شریف" تک پہنچ


کر بحث و مباحثہ کیا ہے او ازہر کے علماء سے (علمی) مقابلہ کیا ہے اور ان سے بطریق احسن مناظرہ کیا ہے اور بٖغض و عداوت  دور کرنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ امام شرف الدین موسوی نے مولانا سلیم الدین بشری سے ملاقات کے دوران مناظرہ کیا تھا اور اسی ملاقات و خط و کتابت کے نتیجہ  میں المراجعات نامی کتاب وجود میں آئی تھی ان کا مسلمانوں کو ایک  دوسرے سے قریب لانے میں بہت بڑا کردار  رہے۔ اس طرح مصر میں شیعہ علماء کی کوشش کامیاب ہوئی اور امام محمود شلتوت مفتی مصر نے اس وقت یہ فتوا دیا کہ شیعی جعفری مذہب قبول کرنا جائز ہے اور اسی وقت سے جامعہ ازہر میں فقہ جعفری کا درس دیا جانے لگا۔

ائمہ معصومین (ع) اور مذہب جعفری کے سلسلہ میں یہ ہے شیعہ اور خصوصا ان کے علماء کا کردار ،مذہب جعفری ہر طرح سے اسلام کی مکمل تصویر ہے، اس سلسلہ میں انھوں نے بہت سی کتابیں اور مقالات تحریر کئے ہیں اور اجتماعات منعقد کئے ہیں خصوصا ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں وحدتِ اسلامی کے نام سے اور تقریب المذاہب کے عنوان سے کانفرنس منعقد  ہوتی رہتی ہیں اور سب بغض و عداوت  کو ترک کرنے کی سچی دعوت ہیں اور سب  کا مقصد  مسلمانوں میں بھائی چارگی کی روح  پھونکنا اور ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظ رکھنا ہے۔

ہر سال وحدتِ اسلامی کانفرنس میں شیعہ و سنی  علماء اورمفکرین کو بلایا جاتا ہے اور یہ لوگ ایک ہفتہ تک سچی اخوت کے سایہ میں زندگی گذارتے ہیں ، ایک دوسرے کےساتھ کھاتے پیتے  رہتے ہیں ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں ۔ دعا کرتے ہیں ۔ تبادلہ خیال کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے افکار سے استفادہ کرتے ہیں۔

ان کانفرنسوں کا مقصد تالیف قلوب  اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قریب لانا ہے ۔ تاکہ ایک دوسرے سے آشنا ہوجائیں  اور دشمنی کو چھوڑدیں یقینا اسی میں بھلائی اور  عظمت ہے اور عنقریب اس کا ثمرہ  انشاء اللہ مسلمانوں کو معلوم ہو جائے گا۔


آپ کسی بھی شیعہ کے  گھر میں داخل ہو کر دیکھئے آپ کو وہاں شیعہ کتب کے ساتھ ساتھ اہلِ سنت کی کتابیں  ضرور  مل جائیں گی چہ جائیکہ علما اور روشن فکر شیعوں کے گھر میں نہ ملیں اس کے بر عکس اہلِسنت  والجماعت کے گھروں میں صرف ان کے علماء ہی کی کتابیں ملیں گی۔ شیعوں کی ایک کتاب بھی نہیں ملے گی اگر با فرض محال مل بھی گئی تو ایک یا دو کتابیں ملیں گی۔ اسی لئے اہلِ سنت حقائق شیعہ سے بے خبر رہتے ہیں ،انھیں فقط بہتانوں کا علم رہتا ہے جو شیعوں کے دشمن  تراشتے ہیں۔

ایک عام شیعہ کو  بھی آپ تاریخ اسلام سے آشنا پائیں گے کیونکہ وہ تاریخ کے  بعض واقعات کو محفوظ رکھنے کے لئے اجتماعات  منعقد کرتے ہیں۔

جبکہ سنی عالم کو بھی آپ تاریخ کو اہمیت دیتا ہوا نہیں دیکھیں گے وہ اسے بیہودہ داستان تصور  کرتے ہیں اور اسے کریدنے اور اس سے باخبر ہونے کو بہتر نہیں سمجھتے ہیں  بلکہ اس سے قطع نظر  کرنے کو واجب سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے سلفِ صالح کے سلسلہ میں سوء ظن پیدا ہوتا ہے۔

جبکہ اس نے اپنے نفس  کو تمام صحابہ کی عدالت و پاکیزگی پر مطمئن کرلیا ہے اور اس چیز کی طرف مڑکر نہیں دیکھتا ہے جو تاریخ نے ان کے بارے میں محفوظ کی ہے۔ اسی لئے آپ ان کو اس شخص کے مقابلہ سے فرار ہی کرتا پائیں گے جو دلیل و برہان کے ذریعہ بحث کرتا ہے ۔ پس یا تو انھیں پہلے سے یہ معلوم رہتا ہے کہ ہم شکست کھاجائیںگے یا وہ عواطف  و میلانات  سے مغلوب ہوجاتے ہیں اور جواپنے نفس کو تحقیق کی زحمت میں مبتلا کرتا ہے اور اس کےسارے معتقدات ہوا بن کر اڑجاتے  ہیں اور وہ اہلِ بیت(ع)   مصطفی(ص)  کا شیعہ بن جاتاہے۔

پس شیعہ ہی اہلِ سنت  ہیں کیوں کہ ان کے پہلے امام علی ابن ابی طالب (ع) نبی(ص) کے بعد سنتِ نبی(ص)  کےسایہ میں زندگی گذارتے ہیں اور اسی کی فضا میں سانس لیتے ہیں۔ لوگ ان کے پاس


خلافت لے کر آتے ہیں۔ بیعت کرنے پر تیار  ہیں ، لیکن اس شرط پر کہ سیرت شیخین پر عمل کرنا ہوگا۔ علی(ع)  فرماتے ہیں ، میں کتابِ خدا  اور سنت رسول(ص) کے علاوہ کسی کی سنت پر عمل نہیں کروں گا اور مجھے ایسی خلافت کی ضرورت نہیں ہے، جس میں سنت نبی(ص) پر تو عمل ہے لیکن کتابِ خدا سے کو سروکار نہ ہے، چنانچہ آپ فرماتےہیں ۔

" تمھاری خلافت میرے نزدیک ایسی ہی ہے جیسے بکری کے ناک سے بہنے والی رینٹھ، مگر یہ کہ میں حدودِ خدا میں سے کو ئی قائم کرسکوں۔"

آپ(ع)  کے فرزند امام حسین(ع)  کو مشہور قول ہے جو کہ رہتی دنیا تک سنا جاتارہے گا۔

" اگر دینِ محمد (ص) میرے قتل ہی سے قائم رہ سکتا ہے تو اے تلوارو! آؤ مجھے باڑپہ لے لو۔"

اسی لئے شیعہ اپنے سنی بھائیوں کو محبت سے دیکھتے ہیں گویا انھیں راہِ راست اور راہِ نجات پر لانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ شیعوں کے نزدیک کسی کی ہدایت کرنا ، جیسا  کہ صحیح روایات میں وارد ہوا ہے، دنیا و فیہا سے بہتر ہے۔ رسول(ص) نے فتحِ  خیبر کے لئے علی(ع)  کو بھیجتے وقت یہی فرمایا تھا:

" ان (یہودیوں) سےاس وقت تک جنگ کرنا جب تک کہ وہ کلمہلا اله الا الله و أنَ محمدا رسول الله" نہ پڑھ لیں، پس اگر وہ یہ کلمہ پڑھ لیتے ہیں تو پھر ان کی جان و مال سے متعرض نہ ہونا، ان کا باقی حساب خدا لے گا۔ اگر خدا تمھارے ذریعہ کسی ایک شخص کی ہدایت کردے تو یہ تمھارے لئے ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پرسورج نے روشنی ڈالی ہے یا سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔( صحیح مسلم، ج۷، ص۱۲۲، کتاب الفضائل باب فضائل علی ابن ابی طالب(ع) )


جس طرح حضرت علی (ع) لوگوں کی ہدایت کرتے اور انھیں کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کی طرف بلاتے تھے اسی طرح آج ان کے شیعہ اپنے نفسوں سے ہر قسم کی تہمتوں کا دفع کرتے ہیں اور اپنے سنی بھائیوں کو حقائقِ اہلبیت(ع)  سے متعارف کراتے ہیں اور انھیں سیدھے راستے کی ہدایت کرتے ہیں۔

" یقینا ان کے قصوں میں عقلمند کے لئے عبرت ہے(قرآن) کوئی ایسی بات نہیں ہے جو  گھڑی جائے بلکہ یہ موجودہ (آسمانی کتابوں) کی تصدیق ہے ۔ اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمانداروں  کے لئے سراسر ہدایت و رحمت ہے۔(یوسف، آیت۱۱۱)


شیعوں کے ائمہ (ع) کی تعریف

شیعہ اہلِ بیت(ع) میں سے بارہ(۱۲)  اماموں کی امامت کے قائل ہیں، ان میں سے اوَل علی ابن ابی طالب(ع) پھر ان کے بیٹے حسن(ع) ان کےبعد حسین(ع) اور پھر امام حسین(ع) کی نسل سے نو معصوم امام ہیں۔

رسول(ص) نے متعدد بار ائمہ کی امامت پر واضح اور اشارے و کنایہ میں نص فرمائی ہے۔ بعض روایات میں ناموں کے ساتھ  ائمہ کا تذکرہ ہے ۔ یہ روایات  شیعہ سنی علما نے نقل کی ہیں۔

بعض اہلِ سنت ان روایات پر اعتراض کرتے  ہیں اور  کہتے ہیں کہ رسول(ص) ان امور کے متعلق  کیسے کچھ فرماسکتے ہیں جو عدم کی منزلوں میں ہیں ؟ جبکہ قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے؟

" اگر میرے پاس علم ِ غیب ہوتا تو بہت سی نیکیاں جمع کر لیتا اور مجھے کو ئی تکلیف چھو کے نہ جاتی۔" ( اعراف، آیت ۱۸۸)

ان لوگوں کے اعتراض  کا جواب یہ ہے کہ (مذکورہ ) آیت رسول(ص) کے علمِ غیب کی نفی


 نہیں کرتی ہے۔ بلکہ آیت ان مشرکین کی رد میں نازل ہوئی ہے  جو آپ(ص) سے یہ کہتے ہیں ہمیں یہ بتائیے کہ قیامت کب آئے گی  قیامت کے آنے کا وقت خدا نے اپنی ذات سے مخصوص کیا ہے۔

" وہ عالمِ الغیب ہے اور اپنی غیب کی بات ظاہر نہیں کرتا مگی یہ کہ کسی پہغمبر کو اس کے لئے منتخب کرلے۔"(جن، آیت ۲۶،۲۷)

اس آیت کی صاف دلالت  اس بات پر ہے کہ خدا اپنے رسولوں میں سے جس کو  چاہتا ہے اسے علمِ غیب سے مطلع کردیتاہے چنانچہ اپنے قید کے ساتھیوں سے جنابِ یوست(ع)  کا قول اس کی واضح مثال ہے: ارشاد ہے۔

" تمہیں جو کھانے کو دیا جاتا ہے وہ آنے بھی نہ پائے گا کہ میں اس کے تمھارے پاس آنے سے قبل ہی تمھیں اس کی تعمیر بتادوں گا اور یہ  من جملہ ان باتوںکے ہے جو جھے میرے  خدا نے تعلیم دی  ہیں۔"

دوسری جگہ ارشاد ہے:

" ہمارے بندوں میں سے دونوں نے ایک (خاص)  بندہ (خضر) کو  پایا جس کو ہم نے اپنی بارگاہ سے رحمت کا حصہ عطا کیا تھا اور اسے علم لدنی میں سے کچھ سکھایا تھا" (کہف، آیت۶۵)

سنٌی ، شیعہ مسلمانوں کے درمیان اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ رسول (ص)  علم غیب جانتے تھے، سیرت نگاروں نے علم غیب سے متعلق واقعات لکھے ہیں۔ منجملہ ان کے چند یہ ہیں۔

عمٌار تمھیں باغی گروہ قتل کرے گا۔

حضرت علی(ع) سے فرمایا:


" شقی ترین انسان تمھارے سر پر ضرب لگائے گا۔

اور تمھاری ریش خون سے خضاب ہوجائے گا۔"

امام حسن(ع) کے متعلق فرمایا:

" بے شک میرے بیٹے حسن (ع)  کےذریعہ خدا مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں  صلح کرائے گا۔"

ابوذر کے متعلق فرمایا :

" انھیں عنقریب غربت میں موت آئے گی۔"

اس کے علاوہ اور بہت سے واقعات  و اخبار ہیں جیسا کہ بخاری و مسلم نے اور دیگر محدثین نے ایک مشہور حدیث نقل کی ہے جس میں آپ(ص)  نے اپنے بعد  کے بارہ ائمہ(ع)  کی خبر دی ہے۔

ارشاد ہے:

" میرے بعد بارہ ائمہ(ع) ہوں گے جو کہ قریش سے ہوںگے۔"

بعض روایات میں قریش کے بجائے لفظ بنی ہاشم  وارد ہوا ہے یعنی وہ ائمہ سب بنی ہاشم سے ہوں گے۔

ہم اپنی پہلی کتابوں ، مع الصادقین اور اہل ذکر میں یہ ثابت کرچکے ہیں کہ اہل سنت نے اپنی صحاح و مسانید میں ایسی احادیث  نقل کی ہی اور انھیں صحیح تسلیم کیا ہے کہ جن کی واضح دلالت  بارہ ائمہ کی امامت پر ہے۔

اور جب کوئی پوچھنے والا ان سے پوچھتا ہے کہ تم بارہ ائمہ  کو چھوڑ کر چار کی اقتدا کیوں کرتے ہو جب کہ تمھیں ان احادیث  کا اعتراف ہے اور ان کو صحیح مانتے ہو؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ : سلف صالح چونکہ سب خلفائے ثلاثہ ابوبکر و عمر اور عثمان کہ جنھیں سقیفہ نے جنم دیا ہے ، یا رو مددگار ہیں، ان سب کو اہلِ بیت(ع) اور علی(ع) سے نفرت تھی اور ان کی اولاد سے عداوت تھی اس لئے انھوں نے سنتِ نبی(ص) کو برباد کیا اور اپنے


اجتہاد سے بدل ڈالا۔

اسی وجہ سے رسول(ص) کے بعد امت دو  فرقوں میں تقسیم ہوگئی" سلف صالح" اور ان کے پیروکار اور ان کی رائے کا اتباع کرنے والے کہ جن کی اکثریت تھی، اہل سنت والجماعت بن گئے  اور جن لوگوں نے (ابوبکر کی)  بیعت نہیں کی تھی، علی(ع) اور ان کے شیعہ " جو کہ اقلیت میں تھے اور  اسی وجہ سے ان کی کو ئی پرواہ بھی نہیں تھی، حکومت کے عتاب کا  نشانہ بنے رہتے تھے، لوگ انھیں رافضی کہتے تھے۔

باوجود اس کے کہ اہل سنت صدیوں تک امت پر حکم ران رہے ۔ اس کے مقدر  کا قلم انھیں کے ہاتھ میں تھام بنی امیہ اور بنی عباس سارے ہی تو اس مدرسہ خلافت کے  پیروکار تھے جس کی بنیاد ابوبکر ، عمر ، عثمان و معاویہ اور یزید (لعن)نے رکھی تھی۔ ( ہم نے یہاں جان بوجھ کر حضرت علی(ع) کی خلافت کا تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ کیونکہ اہلسنت والجماعت  انھیں خلیفہ نہیں مانتے تھے جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ہاں احمد بن حنبل کے زمانہ سے ماننے لگے تھے۔ ملاحظہ فرمائیں ، اہل سنت ، سنتِ نبوی(ص) کو نہیں مانتے")

جب خلافت کی ہوا کھڑ گئی ، ہیبت  جاتی رہی اور غلاموں ، اجنبیوں کے ہاتھوں میں پہونچ گئی، اس وقت رسول(ص) کی ان احادیث کو ایک جا جمع کرنے کی بات سنی گئی جن کو اوَلین مسلمان مٹانے اور چھپانے کی کوشش کرچکے تھے اور اس کے بغیر ان کی نہیں چلی تھی۔ ان احادیث نے بھی انھیں انگشت بدندان کردیا تھ۔ کیونکہ یہ ان کے مکتب کے سراسر  خلاف تھیں۔

بعض لوگوں نے ان حدیثوں میں اور جوان کے عقیدہ کے خلاف تھی ان میں توافق کرنا چاہا اور اہل بیت(ع) سے محبت  کا اظہار کرنے لگے اور علی(ع) کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ و  کرم اللہ وجہہ کہنے لگے ۔ تاکہ یہ لوگ سمجھیں  کہ وہ اہل بیت(ع)  کے دشمن نہیں ہیں۔

کوئی مسلمان ، یہاں تک کہ منافق بھی، اہل بیت نبی(ص) سے عداوت کا اظہار نہیں کرسکتا ، کیونکہ اہل بیت (ع)  کا دشمن رسول (ص) کا دشمن ہے اور رسول (ص) کی دشمنی اسلام سے خارج کردیتی ہے۔


ان تمام باتوں کا لبِ لباب یہ ہے کہ سلف صالح اہل بیت (ع) کے دشمن ہیں کہ جنھوں نے اپنے کو خود  اہل سنت کہا یا ان کے انصار نے اہل سنت والجماعت کا نام دیا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ ان چار مذاہب پر عمل کرتے ہیں۔ جنھیں اس وقت کے حکام نے ایجاد  کیا تھا( عنقریب ہم اس کی تفصیل بیان کریں گے) ان کے مذہب میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ جس کے سلسلہ میں وہ فقہ اہل بیت(ع) سے رجوع کرتے ہوں  یا بارہ اماموں میں سے کسی کی طرف رجوع کرتے ہوں۔

در حقیقت شیعہ امامیہ ہی اہلِ سنت ہیں کیونکہ وہ فقہی احکام میں ائمہ اہلِ بیت(ع) کر طرف رجوع کرتے ہیں۔ جنھوں نے اپنے سے صحیح سنت میراث میں پائی ہے۔ وہ اس میں اپنی رائے داخل نہیں کرتے ہیں اور نہ اجتہادات و اقوال خلفاء کو اس میں شامل کرتےہیں۔

فقط شیعہ ہی طول تاریخ میں نصوص کے پابند رہے ہیں اور ںص  کے مقابلہ میں اجتہاد کو ٹھکراتے رہے ہیں جیسا کہ وہ خلافتِ علی(ع) اور ان  کے بیٹوں کی خلافت کے قائل ہیں کیوں کہ اس پر رسول(ص) نے نص فرمادی تھی  سو وہ علی(ع)  اور ان کے فرزندوں کو خلیفہ رسول(ص) کہتے ہیں اگر چہ ظاہری خلافت علی(ع) کو سوا ان میں سے  کسی کو نہیں ملی، اسی طرح ان حکام  کی خلافت  کا انکار کرتے ہیں جو شروع سے آخر تک خلافت کو ادلتے بدلتے  رہے کیونکہ اس کی بنیاد ہی بے سوچے، سمجھے رکھی گئی تھی، جس کے شر سے خدا ہی نے محفوظ رکھا ہے یہ  وہ خلافت تھی جو  خدا رسول(ص)  کے احکام کو ٹھکرا دیتی تھی اور خلافت راشدہ تو ایک میراث بن گئی تھی۔ اور جانے والا آنے والے کو متعین کرتا تھا۔ خواہ جنگ اور قہر و غلبہ ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ ( ایسے سیاہ کارناموں سے صرف علی ابن ابی طالب (ع)  کی خلافت مستثنی ہے۔ صرف یہ تن تنہا ہیں جسے گذر جانے والے خلیفہ نے متعین نہیں کیا اور نہ ہی آپ(ع)  طاقت کے زور سے خلیفہ بنے بلکہ مسلمانوں نے آزادانہ بیعت کی اور اصرار کر کے خلافت قبول کرنے کی دعوت دی۔


ان ہی وجوہ کی بنا پر اہل سنت  کو  مجبور ا ہر ایک فاسق و فاجر کی امامت کا قائل ہونا پڑا ،اسی لئے انھوں نے فاسق حکام تک کی خلافت کو بھی صحیح مانا ہے۔

شیعہ امامیہ امام کے لئے عصمت کو واجب سمجھتے ہیں پس امامت کبری اور امامت و قیادت کا استحقاق صرف معصوم امام کو ہے اور اس امت میں ان لوگوں کے سوا کوئی معصوم نہیں ہے جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا اور ایسے پاک رکھا جو کہ حق ہے۔


اہلِ سنَت کے ائمہ کا تعارف

اہلِ سنت والجماعت  فروع دین میں ائمہ اربعہ " ابو حنیفہ، مالک ، شافعی اور احمد بن حنبل کی تقلید کرتے ہیں۔

یہ ائمہ اربعہ کے صحابی نہیں ہیں اور نہ ہی تابعین میں ان کا شمار ہوتا ہے، نہ انھیں رسول(ص) جانتے ہیں اور نہ انھوں نے آپ(ص) کو دیکھا ہے۔ عمر کے لحاظ سے ان میں سب سے بزرگ ابوحنیفہ ہیں ، ابوحنیفہ اور نبی(ص) کے درمیان سو (۱۰۰)  سال سے زائد کافاصلہ ہے کیوں کہ ابوحنیفہ    ۸۰؁ھ میں  پیدا ہوئے اور   ۱۵۰؁ھ  میں  انتقال کیا، اور ان (ائمہ اربعہ) میں سب سے بعد میں احمد بن حنبل ہیں جو کہ سنہ ۱۶۵ھ  میں پیدا ہوئے اور سنہ ۲۴۱ھ  میں انتقال کرگئے۔

اصول دین میں اہلِ سنت والجماعت امام ابوالحسن بن اسماعیل ، اشعری کے تابع ہیں جو کہ سنہ۲۷۰ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ ۳۳۵ھ میں انتقال کرگئے۔

ان ائمہ میں نہ آپ کو کوئی اہلِ بیت(ع) میں سے نظر آئےگا اور نہ اصحابِ رسول(ص) میں سے


کوئی ملے گا کہ جس کے بارے میں رسول(ص)  نے کچھ فرمایا ہو یا اس کی طرف امَت کی ہدایت کی ہو ؟

ہرگز ایسی کوئی چیز نہیں ملے گی یہ کام بڑی مشکل ہی ہو سکتا تھا۔

اور جب اہلِ سنت والجماعت یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم نے سنت نبی(ص) کا دامن تھام رکھا ہے تو پھر یہ مذاہب اربعہ اتنی تاخیر سے کیوں وجود میں آئے ہیں؟ اور اس سے قبل اہلِ سنت والجماعت کہاں تھے؟ کسی کی بات تسلیم کرتے تھے؟ احکام کے سلسلہ میں کس سے رجوع کرتے تھے؟

اور ان لوگوں کی تقلید پر کیسے اکتفا کرلی جو کہ نبی(ص) کے زمانہ میں نہیں تھے اور آپ کو جانتے بھی نہیں تھے ، یہ ائمہ اربعہ تو پیدا بھی اس وقت ہوئے ہیں جب فتنے پھوٹ پڑے تھے، صحابہ ایک دوسرے کو قتل کرچکے تھے اور بعض ، بعض کو کافر کہتے تھے، جبکہ خلفاء قرآن و سنت میں اپنی من مانی کرچکے تھے اور ان میں اجتہاد سے کام لے چکے تھے، جبکہ یزید بن معاویہ  کی خلافت  کا دور گذر چکا تھا۔ کہ جس نے اپنے لشکر کے لئے مدینہ رسول(ص) کو مباح قرار دیدیا تھا وہ جو چاہے کرے۔ چنانچہ ایک مدت تک فوجِ یزید  نے فساد برپا رکھا اور ان صحاب اخیار کو تہہ تیغ کردیا  جنھوں نے یزید کی بیعت بہیں کی تھی، عورتوں کو مباح سمجھ لیا، اور کسی کا کوئی  پاس و لحاظ نہ رکھا یہاں تک بے شمار عورتیں حاملہ ہوگئیں۔

ایک عقلمند ان ائمہ پر کیسے اعتماد کرسکتا ہے کہ جن کا تعلق بشریت کے اس طبقہ سے تھا جو فتنوں میں لتھڑا ہوا ہے جس کی غذا رنگ برنگ کا دودھ ہے مکر و فریب کی بنیاد پر پڑی ہو اور پلی بڑھی ہے اور اس کا ہر کام جعلی علم پر قرار ہے۔ پس ان سے وہی لوگ وجود  میں آئے جن سے حکومت راضی تھی اور وہ حکومت سے خوش تھے۔ ( آنے  والی بحثوں میں یہ بیان ہوگا اموی اور عباسی حکام ہی نے ان مذاہب کو وجود دیا اور لوگوں پر تھوپا ہے)

اور سنت سے تمسک رکھنے والا، باب مدینہ علم، علی(ع) اور جو انان جنت  کے سردار حسن(ع) و حسین(ع) اور عترت نبی(ص) سے دیگر ائمہ طاہرین کو کیونکر چھوڑا جاسکتا ہے کہ جنھوں نے اپنے جد رسول(ص)


 اللہ کے علوم ہیراث میں پائے ہیں اور کوئی شخص ان ائمہ کا کیونکر اتباع کرسکتا ہے۔ جنھیں سنتِ نبی(ص) کی خبر تک نہیں ہے بلکہ اموی سیاست سے وجود میں آئے ہیں؟

اور اہلِ سنت والجماعت یہ دعوی کیسے کرسکتے ہیں کہ ہم سنتِ نبی(ص) کا اتباع کرتے ہیں جب کہ انھوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے خلاف محاذ بنایا ؟ اور نبی(ص) کے ان اوامر اور  وصیتوں کو پسِ پشت ڈال دیاجنمیں آپ(ص)  نے عترت طاہرہ سے تمسک رکھنے کے لئے  فرمایا تھا۔ پھر بھی دعوی ہے کہ ہم اہلِ سنت ہیں؟

کیا کسی تاریخِ اسلام کے ماہر اور قرآن و سنت کا مطالعہ رکھنے والے مسلمان کو اس بات میں کوئی شک ہوگا کہ اہلِ سنت بنی امیہ و بنی عباس کا اتباع نہیں کرتے ہیں؟ اور کیا تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے والا اور قرآن و سنت سے آگہی رکھنے والا کوئی مسلمان اس بات میں شک کرے گا کہ شیعہ عترتِ نبی(ص) کے مقلد اور ان کے محب نہیں ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ شیعہ ہی سنتِ نبی(ص) کا اتباع کرتے ہیں کسی اور کو یہ دعوی کرنے کا حق نہیں ہے کہ وہ سنتِ نبی(ص) کا اتباع کرتا ہے۔

قارئین محترم ! کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ سیاسی امور کیسے بدل جاتے ہیں اور وہ باطل کو حق اور حق کو باطل کیسے بنادیتے ہیں۔! پس جب نبی(ص) اور ان کی عترت سے محبت رکھنے والوں کو رافضی اور بدعت کار کہا جانے لگا اور بدعت گذاروں ، سنت و عترت نبی(ص) کو چھوڑنے والوں اور ظالم حکام کے اجتہاد پر عمل کرنے والوں کو اہلِ سنت  والجماعت  کہا جانے  لگا ، تو اس سے زیادہ اور تعجب خیز بات کیا ہوسکتی ہے؟

لیکن میں تو یقین کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ ایسے  لوگوں کو اہلِ سنت کا نام دینے میں قریش کا ہاتھ ہے کیونکہ اس کام میں ان (قریش) کی کامیابی تھی۔

یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ قریش نے عبداللہ ابن عمرو کو احادیثِ رسول(ص) لکھنے سے منع کردیا تھا اور اس دلیل کے ساتھ کہ نبی(ص) معصوم نہیں ہیں۔


در حقیقت قریش وہ لوگ تھے جن کا عرب کے قبائل میں خاندانی اورمعنوی اثر و رسوخ تھااسی لئے بعض مورخین نے انھیں " دھاۃ العرب" (یعنی عرب کے زیرک اور چالاک ترین اشخاص ) لکھا  ہے۔ کیونکہ مکر و فریب زیرکی اور امور کے انتظام  میں فوقیت طلبی میں وہ مشہور تھے۔ ان ہی لوگوں کو بعض حضرات نے اہلِ حلَ و عقد بھی کہا ہے۔

اور ان ہی میں سے ابوبکر ، عمر ، عثمان، ابوسفیان ، معاویہ، عمرو عاص، مغیرہ بن شعبہ، مران بن الحکم ، طلحہ بن عبداللہ، عبد الرحمن بن عوف اور ابو عبیدہ عامر بن جراح وغیرہ ہیں۔

( ہم نے حضرت علی(ع) کی مستثنی کیا ہے کیونکہ حکمت کے لحاظ سے ہوشیار و عقلمند ہونا اور حسن تدبیر  کا حامل ہونا ہے اور دھوکہ دہی والی زیدکی اور نفاق اور ہے۔ اور حضرت علی(ع) نے خود متعدد  بار فرمایا ہے کہ اگر میں فریب و نفاق سے کام لیتا تو عر ب کا زیرک ترین انسان ہوتا۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں بھی بیان ہوا ہے ويمکرون  ويمکروا الله والله خير الماکرين مکر خدا حسن تدبیر و حکمت ہے. اور مشرکین  کا مکرو فریب دھوکہ ، نفاق اور بہتان ہے۔)

جیسا کہ کبھی کبھی یہ لوگ کسی امر کے مشورے  اور کسی چیز کو نافذ کرنے کے لئے مٹینگ  کرتے تھے جب اسپر اتفاق ہو جاتا تھا اسے مضبوط ومستحکم بنانے کے لئے لوگو ں کے درمیان پھیلاتے تھے تاکہ کچھ دنوں کے بعد وہ حقیقت کی جامل ہوجائے اور لوگ اس کا راز سمجھے بغیر اس پر عمل پیرا ہوجائیں۔

ان کے مکر اور فریب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ محمد(ص) معصوم نہیں ہیں بلکہ تمام لوگوں کی طرح وہ بھی بشر ہیں ان سے خطا سرزد ہوسکتی ہے۔ اس طرح وہ نبی(ص)  کی تنقیص کرتے تھے اور حق کے سلسلہ میں آپ (ص) سے مجادلہ کرتے تھے جبکہ حق کو جانتے تھے۔

ان ہی چالاکیوں  میں سے ان کا علی(ع)  کو ابو تراب کہہ کر پکارنا، ان پر سب وشتم کرنا اور لوگوں کو یہ باور کرانا بھی کہ علی(ع)  (معاذ اللہ) خدا اور رسول(ص) کے دشمن ہیں۔

ایسی ہی ہوشیاریوں سے میں ، ان کا عمار  یاسر کو عبید اللہ بن سبایا ابن سوداء کے


نام سے پکارنا اور ان کی تحقیر کرنا ہے۔ عمار یاسر  کی صرف یہ خطا تھی کہ وہ خلفاء کے موقف کے خلاف تھے اور لوگوں کو علی(ع) کی امامت کی دعوت دیتے تھے۔ ( اس سلسلہ میں ڈاکٹر مصطفی کامل الشببی مصری کی کتاب الصلہ بین التصوف والتشیع ملاحظہ فرمائیں ، مؤلف نے دسیوں دلیلوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ عبد اللہ بن سبا ، یہودی یا ابن سوداء ،عمار یاسر ہی ہیں)

ان کی مکاریوں میں سے شیعیانِ علی(ع) کو رافضی کہنا بھی ہے تاکہ لوگوں کے  ذہنوں میں یہ بات بٹھادیں کہ شیعوں نے  محمد(ص)  کی نبوت  کا انکار کر دیا ہے اور  علی(ع)  کے پیچھے ہولئے۔

خود کو اہلِ سنت والجماعت  کا نام دینا ایک زیرکی ہے تاکہ مخلص مؤمنین فریب کھائیں اور روافض کے عقائد کو سنت نبی(ص)  سے متمسک سمجھنے لگیں اور شیعوں کو سنت  کا منکر سمجھنے   لگیں۔

حقیقت میں ان کے نزدیک سنت وہ بدترین  بدعت ہے جس کا آغاز ہی انھوں نے امیر المؤمنین (ع)اور اہل بیت نبی(ص) پر ہر مسجد کے منبر  سے لعنت سے کیا تھا۔ چنانچہ  ہر شہر و دیہات کی مسجد سے یہ فعل بد انجام  دیا   جاتاتھا ۔ اور یہ بدعت اسی(۸۰) سال تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ خطیب جب نماز کے لئے منبر سے علی(ع) پر لعنت کئے بغیر اترتا  تھا تو مسجد میں موجود لوگ چلانے لگتے تھے ۔ " تم نے سنت کو ترک کردیا۔"

اور جب عمر بن عبد العزیز  خداوند عالم کے اس قول کے مطابق " بے شک خداوند عالم عدل و احسان اور قرابت داروں کو ان کا حق دینے کا حکم دیتا ہے۔" ( سورہ نحل، آیت ۹۰)

اس سنتِ بد کو بدل دیتا ہے تو اس کے خلاف شورش ہوجاتی ہے اور مسلمان اسے قتل کردیتے ہیں۔ کیونکہ عمر بن عبد العزیز  نے ان کی سنت کو برباد کردیا تھا اور اسلاف کے اقوال کو باطل قرار دیاتھا کہ جنھوں نے اسے تختِ  خلافت پر بٹھایا تھا، لہذا اسے زہر دیکر قتل کردیا گیا جب کہ اس کی عمر ۳۸ سال تھی۔ اور صرف دو سال تک خلافت کی تھی۔


کیونکہ اس کے چچا زاد بھائی اپنی سنت کادم گھٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے اور پھر اس سے ابوتراب اور ان کی اولاد کی شان بڑھ رہی تھی۔

اور جب بنی امیہ کی خلافت کی تباہی کے بعد خلافت  بنی عباس کے ہاتھ آئی ، تو انھوں نے بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور ان کےشیعوں پر مصیتوں  کے پہاڑ توڑے چنانچہ جب جعفر بن معتصم الملقب بہ متوکل  کا زمانہ آیا تو اس نے بھی حضرت علی(ع) اور ان کی اولاد سے بہت زیادہ دشمنی کا اظہار کیا اس کا بغض  و کینہ توزی یہاں تک پہنچ گیا تھا کہ امام حسین(ع)  کی قبر مبارک کو کھدوا دیا تھا اور لوگوں کو اس کی زیارت سے منع کردیا تھا۔ متوکل اسی کو  عطایا دیتا تھا جو حضرت علی(ع) پر سب وشتم کرتا تھا۔

علم نحو کے  مشہور عالمِ دین ابن سکیت کی زبان صرف اس جرم میں گدی سے کھنچوالی تھی کہ اس نے علی(ع) اور ان کے اہلِ بیت(ع)  سے اس  وقت محبت کا اظہار کردیا تھا جس زمانہ میں متوکل کے بچوں کوپڑھاتاتھا۔

متوکل کی دشمنی و عداوت کی انتہا یہ تھی کہ اس نے بچے کو بھی قتل کرنے کا حکم دیدیا تھا  جس کا نام اس  کے ماں باپ نے علی رکھ دیا تھا کیونکہ متوکل کے نزدیک علی نام بھی مبغوض ترین نام تھا۔ دشمنی کی حد و انتہا ملاحظہ فرمائیں  کہ جب مشہور شاعر  علی بن الجھم  متوکل کے پاس گیا تو کہنے  لگا اے امیر المؤمنین میرے  والدین نے مجھے عاق کردیا متوکل نے پوچھا کیوں ؟

اس نے کہا اس لئے کہ انھوں نے میرا نام علی رکھا تھا اور مجھے یہ نام پسند نہیں ہے اور مجھے یہ بھی گوارا نہیںہے کہ کسی کا یہ نام رکھا جائے ۔ اس بات پر متوکل نے قہقہہ لگایا اور اسے انعام سے نوازا۔

متوکل کی مجلس میں ایک شخص میر المؤمنین  علی ابن ابی طالب(ع) کی شبیہ بنتا ہے۔ اور  لوگ اسے دیکھ کر ہنستے ہیں اور کہتے ہیں ، گنجا اور پیٹو آرہا ہے (معاذ اللہ ) اہلِ مجلس اس سے مسخراپن کرتے ہیں اور اس سے خلیفہ کو تسلی ہوتی ہے۔


واضح رہے جس متوکل کو علی(ع) سے اتنی عداوت تھی اور یہی چیزیں اس کے نفاق و فسق کا موجب تھیں، وہ اہلِ حدیث کو بہت محبوب اور وہ اسے محی السنۃ کے لقب سے نواز تے ہیں۔ اہلِ حدیث یعنی اہلِ سنت والجماعت۔

یہ بات تو دلیل سے ثابت ہوچکی ہے کہ اہلِ سنت علی بن ابی طالب (ع) سے بغض و عداوت  اور برائت  کو سنت کہتے ہیں؛

اور خوارزمی کایہ قول تو اس کو اور واضح کردیتا ہے کہ ہارون بن خیزران  اور جعفر متوکل " علی الشیطان لا علی الرحمان" اسی کو پیسہ ، کوڑی یا کھانا روٹی دیتے تھے جو آلِ ابی طالب(ع) پر  لعنت کرتا تھا اور نواصب کے مذہب کی مدد کرتا تھا ۔ ( کتاب الخوازرمی،ص۱۳۵)

ابن حجر نے عبد اللہ بن احمد بن حنبل  سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا : جب نصر بن  علی بن صھبان نے یہ حدیث بیان کی کہ ، رسول اللہ (ص) نے حسن و حسین(ع)  کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :" جو مجھ سے محبت رکھتا ہے اور ان دونوں ( حسن و حسین علیہما السلام)  سےمحبت رکھتا ہے اور ان کے والد و  والدہ سے محبت رکھتاہے قیامت کے دن وہ اور میں ایک درجے میں ہوں گے۔"

اس پر متوکل نے نصر بن علی بن صھبان کو سو(۱۰۰)  کوڑے لگوائے  تھے ۔ جس سے وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گئے تھے پھر جعفر بن عبد الواحد نے کہا : اے امیر المؤمنین یہ تو سنی ہے یہ سنکر متوکل نے اسے چھوڑدیا ۔ ( تہذیب التہذیب ، ابن حجر حالات نصر بن علی بن صھبان)

متوکل سے جعفر عبدالواحد نے جو بات  کہی تھی اس سے ہر ایک عقلممند یہ نتیجہ نکال سکتا ہے نصر سنی تھا۔ اس لئے وہ قتل سے بچ گیا۔ نیز یہ دوسری دلیل ہے کہ اہلِ بیت (ع) کے دشمن ہی اہلِ سنت بن بیٹھے تھے۔ جبکہ متوکل کہ اہل بیت(ع)  سے سخت دشمنی تھی اور ہر اس غیر شیعہ  کو بھی قتل کردیتا تھ جو ان کی کسی فضیلت کو بیان کردیتا تھا۔ ( تہذیب التہذیب ، ج۵، ص۳۴۸) مشہور ہے کہ عثمانی لوگ حضرت علی (ع) پر لعنت کرتے تھے اور ان پر قتل عثمان بن عفان کا الزام لگاتےتھے۔


ابن حجر لکھتے ہیں کہ کہ عبد اللہ بن ادریس ازدی سنی المسک تھے وہ کٹر عثمانی سنی  عبداللہ بن عون بصری کہتے ہیں!  عبد اللہ بن ازدی موثق ہیں وہ سنت کے معاملہ میں بہت سخت تھے اور اہلِ بدعت کے لئے برہنہ شمشیر تھے۔ ابنِ سعد کہتے ہیں کہ وہ عثمانی تھے۔ ( تہذیب التہذیب ، ج۵، ص۳۴۸)

ابراہیم بن یعقوب  جوزجاتی لکھتے ہیں کہ :

عبد اللہ بن ادریس ازدی " حریزی المذہب" یعنی حریز بن عثمان دمشقی کے پیروکار تھے اور ان کی ناصبیت مشہور تھی، ابن حیان لہتے ہیں کہ او سنت کے سلسلہ میں بڑے سخت تھے۔ ( تہذیب التہذیب ابنِ حجر ، ج۱، ص۸۲)

ان تمام باتوں سے تو  ہماری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ علی(ع)  اور اولاد علی(ع)  سے بغض رکھنے والا اور ان پر لعنت  کرنے والا اہلِ سنت کے نزدیک سنت کے معاملہ میں بڑا کٹر آدمی ہو تا ہے  اور یہ بات بھی محتاج بیان نہیں ہے کہ عثمانی اہلِ بیت(ع)  کے جانی دشمن تھے علی(ع) اور ان کے شیعوں کو ایک آنکھ نہیں دیکھ سکتے تھے۔

اہلِ بدعت سے ان کی مراد شیعہ ہیں جو کہ علی(ع) کو امام مانتے ہیں ، کیونکہ علی(ع) کی امامت کے عقیدہ کو اہلِ سنت والجماعت بدعت سمجھتے ہیں اس لئے کہ اس  سے صحابہ اور خلفائے راشدین کی مخالفت ہوتی ہے اور پھر سلفِ صالح نے ان(علی ع)  کی امامت کو تسلیم بھی نہیں کیا  تھا اور نہ انھیں وصی رسول (ص)  مانا تھا۔ اس سلسلہ میں بے پناہ تاریخی شواہد  موجود ہیں ہم نے اتنے ہی بیان کئے ہیں جن کی ضرورت تھی اور پھر اپنی عادت کے مطابق اختصار کو بھی مدِ نظر رکھا ہے۔ شائقین ( کتابوں سے ) مزید تلاش کرسکتے ہیں۔

جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کریں گے ہم ضرور انھیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے بے شک خدا احسان کرنے والوں کےساتھ ہے۔( عنکبوت،آیت ۶۹)


شیوں کے ائمہ کو نبی(ص) معین کرتے ہیں

سیرت نبوی(ص) اور تاریخِ اسلامی کا محقق اس بات کو یقینی طور پر جانتا ہے کہ شیعوں کے بارہ ائمہ  کو نبی(ص) نے معین کیا ہے اور اپنے بعد ان کی امامت و خلافت پر نص کی ہے۔

اہلِ سنت کی صحاح ستہ میں بھی ان کی تعداد بارہ ہی بیان ہوئی ہے اور وہ سب قریش سے ہوں گے۔

اہلِسنت کی بعض معتبر کتابوں میں بھی مرقوم ہے کہ رسول(ص)  نے صاف طور پر ان ائمہ کے اسماء بھی اسی طرح بیان فرمائے ہیں کہ ان میں سے پہلے علی(ع) پھر ان کے بیٹے حسن اور پھر ان (حسن ع)  کے بھائی حسین(ع)  اور پھر حسین(ع) کی نسل سے یکے بعد دیگرے نو امام ہوں گے اور ان میں آخری مہدی (عج) ہوگا۔

صاحب یبابیع المودت تحریر فرماتے ہیں کہ " الاعتل " نامی یہودی  رسول(ص) کی خدمت میں آیا اور کہا : اے محمد(ص) میں ان چند چیزوں کے بارے میں آپ سے سوال کرتا ہوں جنھوں نے


ایک زمانہ سے میرے سینہ میں طوفان مچارکھا ہے۔ اگر آپ نے جواب دے دیا تو میں مسلمان ہوجاؤں گا نبی(ص) نے فرمایا: اے ابو عمارہ سوال کرو اس نے چند  چیزوں کے متعلق   سوال کرنے کے بعد کہا آپ نے بالکل صحیح جوابات دیئے لیکن اب یہ بتایئے  کہ آپ کو وصی کون ہے؟ کیونکہ ہر ایک نبی  کا کوئی وصی ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی (موسی (ع))  کے وصی یوشع بن نون تھے۔

آپ نے فرمایا :" میرے وصی علی بن ابی طالب (ع) ہیں اور ان کے بعد میرے بیٹے  حسن(ع) اور حسین (ع) اور پھر حسین(ع)  کی نسل سے نو ائمہ ہوں گے "۔

یہودی نے کہا :ان کے اسماء بھی مجھے بتائیے۔

آپ نے فرمایا: حسین(ع) کی شہادت کے بعد ان کے فرزند علی(ع)  اور علی(ع) کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے محمد(ع) اور محمد(ع) کی شہادت کے بعد ان کے دلبند جعفر(ع) اور جعفر(ع) کی شہادت کے بعد انکے لخت جگر موسی(ع)  اور موسی(ع) کی شہادت کے بعد ان کے نورِ عین علی(ع) اور علی(ع) کی شہادت کے بعد ان کے میوہ دل حسن(ع) اور  حسن (ع) کی شہادت کے بعد ان کی یادگار مہدی(عج) ہوں گے۔ یہ اسماء سننے کے بعد یہودی مسلمان ہوگیا اور ہدایت  یافتہ ہونے پر خدا کی حمد بجالایا۔ ( ینابیع المؤددۃ ، ص۴۴۰، فرائد السمطین حموینی)

اگر اس سلسلہ میں ہم شیعوں کی کتابوں کی ورق گردانی کریں اور اس موضوع سے مخصوص حقائق  کو جمع کریں تو دفتر کے دفتر وجود میں آجائیں ۔

لیکن دلیل کے طور پر ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کے علما ء بارہ ائمہ کے قائل ہی اور وہ ہیں علی(ع) اور ان کے پاک و پاکیزہ فرزند۔

اور جو چیز ہمارے اس یقین کو اور محکم بناتی ہے کہ اہلِ بیت(ع) میں سے بارہ ائمہ(ع)


کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا ہے اور مورخین و محدثین اور سیرت نگاروں نےان کے متعلق یہ نہیں لکھا ہے کہ ائمہ اہلِ بیت(ع)  نے فلاں صحابی یا تابعین میں سے  کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ہے ۔ جب کہ امت کے دیگر علماء و ائمہ نے ایسا کیا ہے۔

مثلا ابو حبیفہ نے امام جعفر صادق(ع) سے تعلیم حاصل کی  اور مالک نے ابوحنیفہ سے درس پڑھا اور شافعی نے مالک سے علم حاصل کیا  اور مالک سے احمد بن حنبل نے کسبِ فیض کیا۔

لیکن اہلِ بیت(ع) کاعلم لدنی ہے جو انھیں ان کے عظیم باپ داد ا سے میراث میں ملتا ہے۔

یہی وہ لوگ ہیں جن کے  بارے میں خداوند عالم نے فرمایا ہے:

" پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے خاص انھیں کتاب کا وارث بنایا جنھیں منتخب کیا تھا۔(فاطر ۲۲)

ایک مرتبہ امام صادق(ع) نےاس کی حقیقت کی طرف اس طرح اشارہ فرمایا تھا۔

"تعجب ہے: لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے کل علم رسول(ص)  سے حاصل کیا ہے اور اس پر عمل کر کے ہدایت پاگئے اور کہتے ہیں کہ ہم اہلِ بیت(ع)  نے رسول(ص) سے علم نہیں لیا ہے اور نہ ہمیں ہدایت ملی ہے جبکہ ہم ان (رسول (ص))  کی ذریت ہیں۔ہمارے گھر میں وحی نازل ہوئی ہے اور ہمارے ہی در سے علم کا سوتا پھوٹا  ہے کہ جس سے لوگ سیراب ہوتے ہیں ۔ کیا تم انھیں ہدایت یافتہ اور علم میں سرشار اور ہمیں جہل و ضلالت  میں دیکھتے ہو؟

اور ان لوگوں پر امام جعفر صادق(ع) کو کیوں کر تعجب نہ ہوتا جو کہ یہ دعوی کررہے تھے کہ ہم نے رسول(ص) سے علم حاصل کیا  ہے جب کہ وہ رسول(ص) کے وارث اہل بیت(ع)  سے عداوت


کررہے تھے۔

اور اہلِ سنت کہ جنھوں نے ناجائز طریقہ سے  خود کو سنت سے منسوب کرلیا" پر تعجب ہونا ہی چاہئے جبکہ وہ سنت  کی مخالفت کرتے ہیں؟

اور  جیسا کہ تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ شیعوں  نے علی(ع) کا دامن تھام لیا تھا۔ لہذا و ہ علی(ع) کی مدد کرتے رہے اور آپ(ع)  کے دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے اور جس سے آپ کی صلح تھی اس سے صلح کرتے رہے اور  انھوں نے ہر ایک علم ان ہی سے حاصل کیا ہے۔

اہلِ سنت نے قطعی طور پر علی(ع) کی اطاعت نہیں کی اور نہ ہی ان کی مدد کی بلکہ اس کے برعکس آپ(ع) سے جنگ کی اور آپ(ع) کی حیات کا چراغ گل کردینے کے درپے رہے۔ چنانچہ آپ(ع) کے بعد آپ(ع) کی اولاد کو چن چن کے قتل کیا، قیدی بنایا اور شہروں سے نکال دیا، اکثر حکام میں اہلِ سنت نے علی(ع) کی مخالفت کی اور ان لوگوں کا اتباع کیا جنھوں نے اپنی رائے اور اجتہاد سے احکامِ خدا کو بدل ڈالا تھا۔

اور آج ہمیں ان لوگوں پر کیونکہ تعجب نہ ہو کہ جو سنت نبی(ص) پر عمل پیرا ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور خود ہی یہ بھی گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے سنتِ نبی(ص) کو چھوڑدیا ہے۔ اس لئے کہ سنت تو شیعوں کا شعار بن چکی ہے۔ ( قارئین اس سلسلہ میں " لاکون مع الصادقین" ہوجاؤ سچوں کے ساتھ مطالعہ فرمائیں، ابن تیمیہ  کہتے ہیں سنتِ نبی(ص) کو  چھوڑدو کیونکہ اب سنت شیعوں کی علامت بن چکی ہے لیکن اہلِ سنت  اس کے باوجود ابنِ تیمیہ کو مجدد السنہ کہتےہیں ۔ منہاج السنت لابن تیمیہ ج۲، ص۱۴۳ شرح المواہب للزرقانی ، ج۵، ص۱۲) کیا عجیب بات نہیں ہے؟

اور ہمیں ان لوگوں پر کیسے حیرت نہ ہو جو بزعم خود اپنے کو ، اہلِ سنت  والجماعت ، سمجھتے ہیں جبکہ وہ متعدد گروہوں حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، میں بٹے ہوئے ہیں، فقہی  مسائل میں ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں اس طرح یہ کہ یہ اختلاف رحمت ہے ! چنانچہ دینِ خدا ان


کی خواہشِ نفس اور راویوں کا مربَہ بن گیاہے۔

جی ہاں یہ متعدد  پارٹیاں ہیں جو کہ احکامِ خدا و رسول(ص) میں جدا جدا ہیں لیکن سقیفہ میں تشکیل پانے والی ظالم خلافت  کے صحیح ہونے میں سب ایک ہیں اسی طرح خلافت سے عترتِ طاہرہ کو دور رکھنے میں بھی سب کا اتفاق ہے۔

ہمیں ان لوگوں پر کیونکر تعجب نہ ہو کہ جو خود کو اہلِ سنت  کہہ کر سرخ رو ہوتے ہیں اور   رسول(ص) کے اس حکم " کہ کتابِ خدا اور میرے اہلِ بیت(ع) عترت سے تمسک رکھنا" کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ہر چند کہ اہلِ سنت  نے اس  حدیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیاہے اور اسے صحیح تسلیم کیا ہے ، لیکن وہ نہ قرآن سے تمسک رکھتے ہیں نہ اہلِ بیت(ع)  سے انکا  کوئی تعلق ہے جبکہ اہلِ بیت(ع)  سے روگردانی کرنا قرآ ن سے رخ موڑنا ہے۔ جیسا کہ حدیث یہ کہتی ہے کہ قرآن و عترت کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے جیسا کہ رسول(ص) نےاس کی خبر دی ہے۔

"مجھے لطیف و خبیر نے  خبر دی ہے کہ یہ دونوں (قرآن و عترت) ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے ، یہاں تک کہ میرے پاس خوض کوثر پر وارد ہوں گے۔"

( مسند امام احمد ابن حنبل ج۵، ص۱۸۹، مستدرک حاکم ج۲، ص۱۴۸،  حاکم کہتے ہیں شیخین کی شرط  کے لحاظ سے یہ حدیث صحیح ہے۔ ذہبی نے بھی شیخین کی شرط پر اس حدیث کو صحیح مانا ہے۔)

اور اس قوم پر ہمیں کیسے تعجب نہ ہو جو یہ دعوی کرتی ہے کہ ہم اہلِ سنت ہیں اور اس چیز کی مخالفت کرتی ہے جو ان کی کتابوں میں نبی(ص) کی حدیث اور امر و نہی موجود ہے۔ ( بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ نبی(ص) نے ماہ رمضان میں نماز تراویح جماعت کے ساتھ پڑھنے سے منع کیاتھا اور فرمایا تھا: لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو! کیونکہ سنت نمازیں گھروں میں پڑھنا بہتر ہے۔ لیکن اہلِ سنت نے اس چیز کو ٹھکرادیا ۔ جس سے رسول(ص) نے منع کیا تھا اور عمر ابن


خطاب کی بدعت کو اختیار کرلیا۔)

اور ہم اس حدیث کو صحیح تسلیم کرلیں کہ " میں تمھارے درمیان کتاتِ خدا اور اپنی سنت چھوڑ کرجارہا ہوں  جب تک تم ان سے تمسک رکھو گے  کبھی گمراہ نہ ہوگے "۔ جیسا کہ آج بعض اہلِ سنت کا رویہ ہے، تو پھر فضیحت اور بڑھ جا ئے گی اور تعجب کی انتہا نہرہے گی۔

اور عمر ابن خطاب نے تو صاف لفظوں میں کہا تھا۔" ہمارے لئے کتابِ خدا کافی ہے۔ جبکہ یہ صریح طور پر رسول(ص)  پر اعتراض  خدا پر اعتراض ہے۔

عمر کا یہ قول ہلِ سنت کی تمام صحاح میں بشمولیت بخاری و مسلم موجود ہے۔ پس جب نبی(ص) نے فرمایا تھا کہ میں تمھارے درمیان کتابِ خدا اور اپنی سنت چھوڑ کرجارہا ہوں تو اس وقت عمر نے کہا تھا  کہ ہمارے لئے کتابِ خدا  کافی ہے۔ ہمیں آپ(ص) کی سنت کی احتیاج نہیں ہے  اور جب عمر نبی(ص) کے سامنے یہ کہا کہ ہمارے لئے کتابِ خدا کافی  ہے تو ابوبکر  نے اپنے دوست کی بات کو نافذ کرنے پر زور دیا لہذا اپنی خلافت کے دوران کہا: رسول(ص) سے کوئی حدیث نقل نہ کرنا اور جو تم سے سوال کرے اس سے کہہ دینا کہ ہمارے اور تمھارے درمیان کتابِ خدا ہے اس کے حلال کو حلال  اور  اس کے حرام کو حرام سمجھو! ( تذکرۃ الحفاظ للذہبی ج۱، ص۳)

اس گروہ پر ہم کیسے تعجب نہ کریں کہ جس نے اپنے نبی(ص)  کی سنت کو پس پشت  ڈالدیا اور اس کی جگہ ان بدعتوں کو لاکر رکھدیا جن کے لئے خدا نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ہے اس پر فخر یہ کہ ہم سنی ہیں۔

لیکن تعجب اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں ابوبکر و عمر و عثمان کی معرفت ہوجاتی ہے کیونکہ وہ بھی اہلِ سنت کے بام سے واقف نہیں تھے چنانچہ ابوبکر فرماتے ہیں: اگر تم مجھ سے سنتِ نبی(ص) پر عمل کرنے کے لئے کہتے ہو تو مجھ میں اس کی طاقت نہیں ۔" ( مسند امام احمد بن حنبل ج۱، ص۴، کنزالعمال ج۳، ص۱۲۶)


ابوبکر میںسنتِ نبی (ص) کی طاقت کیوں نہیں تھی ؟ کیا نبی(ص) کی سنت کوئی امر محال تھا جو ابوبکر  کی طاقت سے باہر تھا؟

اور پھر اہلِ سنت یہ دعوی کیسے کرتے ہیں کہ ہم سنت نبی(ص) سے متمسک ہیں جبکہ ان مذہب کے مؤسس و موجد میں اس پر عمل پیرا ہونے کی طاقت نہیں تھی؟

کیا خدا وندِ عالم نے یہ نہیں فرمایا تھا، تمھارے لئے رسول خدا(ص) میں اسوہ حسنہ ہے۔(احزاب ۲۱)

نیز فرمایا :

خدا کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ہے۔ (طلاق ۷)

پھر فرمایا ہے:

ہم نے تمھارے لئے دین میں کوئی زحمت نہیں رکھی ہے۔(حج۷۸)

کیا ابوبکر اور ان کے دوست عمر یہ سمجھتے ہیں کہ رسول(ص) نے خدا کا دین نہیں پیش کیا بلکہ اس کی جگہ اپنی طرف سے کوئی یز پیش کردی ہے؟ اور پھر مسلمانوں کو اس پر عمل کرنے کا حکم  دیا جبکہ ان میں اس کی سکت نہیں ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔

بلکہ آپ(ص) اکثر فرمایا کرتے تھے: بشارت دو متنفر نہ کرو آسانیاں اختیار کرو زحمتوں سے بچو، بے شک خدا نے تمھیں چھوٹ دی ہے اب تم کسی چیز کو اپنے اوپر زبردستی نہ لادو، ابوبکر کو یہ اعتراف ہے کہ ان میں سنتِ نبی(ص) کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے اس لئے انھوں نے اپنی خواہش نفس سے ایسی بدعت  نکالی جو ان کی حکومت کی سیاست سے سازگار اور ان کی طاقت کے مطابق تھی۔

دوسرے نمبر پر شاید عمر نے بھی یہ محسوس کیا کہ مجھ میں بھی احکامِ قرآن و سنت پر


عمل کرنے کی طاقت نہیں ہے لہذا انھوں نے جنب کی حالت میں پانی نہ ملنے پر نماز ترک کرنے کا  فیصلہ کیا اور اپنی خلافت کے زمانہ میں یہی فتوی دیا جیسا کہ محدثین نے عمر کا قول نقل کیا ہے۔

پھر عمر جماع کے شوقین تھے، یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں خدا فرماتا ہے۔

" اللہ جانتا ہے کہ تم ( آنکھ بچا کر عورتوں کے پاس جاتےہو) گناہ کرتے ہو۔ بس اس نے تمھاری توبہ قبول کی۔"( بقرہ۱۸۷)

اس لئے کہ عمر روزہ کی حالت میں بھی جماع سے باز نہیں رہتے تھے پھر اس زمانہ میں پانی بھی کم یاب تھا لہذا عمر کو آسان طریقہ یہی نظر آیا کہ نما چھوڑ دی جائے ۔ جب غسل کے لئے پانی مل جائے گا تو نماز پڑھ لی جائے گی۔

عثمان نے بھی سنتِ نبی(ص) کی مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، مشہور ہے کہ عائشہ نبی(ص) کی قمیص لے کر نکلیں اور کہا عثمان نے تو نبی(ص) کاکفن کہنہ ہونے سے قبل ہی ان کی سنت کو  بھولا دیا ہے۔ یہاں تک کہ صحابہ نے ان پر الزام لگایا کہ وہ سنتِ نبی(ص) اور سیرتِ شیخین کی مخالفت کرتے ہیں چنانچہ اسی جرم میں انھیں قتل کردیاگیا۔

اور معاویہ تو ان سے بھی بازی لے گیا اس نے تو کھلم کھلا قرآن و سنت کی مخالفت کی اور ان سے لوگوں کو رجوع کرنے سے منع کیا نبی(ص) فرماتے ہیں:

" علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع)  سے ہوں جس نے علی(ع) پر  سب و شتم کیا اس نے مجھ پر سب و شتم کیااور جس نے مجھے برا بھلا کہا اس نے خدا کو برا بھلا کہا۔"

( مسدرک حاکم ج۳، ص۱۲۱، مسند احمدبن حنبل ج۶، ص۲۲۳۔ خصائص نسائی ،ص۱۷)

جب کہ معاویہ کھلم کھلا حضرت علی(ع) پر لعنت کرتا ہے اور اسی پر اکتفا نہیں کرتا ہے ، بلکہ اپنے کارندوں کو حکمدیتا ہے کہ وہ علی(ع)  پر لعنت کیاکریں اور جس نے ایسا کرنے سے انکار


کیا اسے معزول کردیتا ہے۔

اور حق کا اتباع کرنے والے شیعوں کے مقابلہ میں معاویہ خود کو اور اپنے چاہنے والوں کو اہلِ سنت والجماعت کہتا ہے۔

بعض مورخین نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ صلح امام حسن(ع)  کے بعد جس سال معاویہ تخت نشین ہوا اس سال کو عام الجماعۃ کہا جانے لگا۔

یہ تعجب اس وقت زائل ہوجائےگا جب اس بات سے پردہ ہٹے گاکہ معاویہ اور اس کی پارٹی سے وہ لوگ مراد ہیں جو جمعہ اور عید کے دن اسلامی منبروں سے علی(ع) پر لعنت کرتے تھے۔

اور جب اہل سنت والجماعت معاویہ ابن ابی سفیان کی ایجاد ہیں تو ہماری خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس بدعت پر موت دے جس کی موجد  و بانی علی بن ابیطالب(ع) اور تمام اہلِ بیت علیہم السلام ہیں!!

قارئین محترم متوجہ رہیں کہ اس لحاظ سے بدعت کار و گمراہ لوگ اہلِسنت  والجماعت بن گئے اور اہلِ بیت (ع)  میں سے ائمہ طاہرین(ع) کو بدعت گذار کہا جانے لگا۔

اہلِ سنت والجماعت کے مشہور عالم دین علامہ ابن خلدون جمہور کے مذاہب شمار کرانے کے بعد کہتے ہیں:

اور اہلِ بیت(ع) کے ایجاد کئے ہوئے مذاہب بہت کم ہیں وہ فقہ میں منفرد ہیں، ان کے مذاہب کی بنیاد تو بعض صحابہ کو برا بھلا  کہنا ہے۔( مقدمہ ابن خلدون، ص۴۹۴)

قارئین محترم!

میں نے  شروع ہی میں یہ عرض کیا تھا کہ اگر وہ تصویر کا دوسرا رخ


 بھی دیکھتے تو ضرور حقیقت تک پہنچ جاتے۔ جب فاسق ترین لوگ اور بنی امیہ اہلِسنت بن سکتے ہیں اور اہلِ بیت(ع)  کو بدعت کار کہا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ ابن خلدون نے لکھا ہے تو ایسے اسلام کو دور سے سلام اور دنیا پرخاک ۔


اہلِ سنت کے ائمہ ظالم حکام معین کرتے ہیں

اہلِ سنت کے چاروں مذاہب  کے ائمہ بھی کتابِ خدا اور سنت رسول(ص) کی مخالفت کرتے تھے، کیونکہ رسول(ص) نے عترت  طاہرہ کی اقتدارء کا حکم دیا تھا جبکہ ہمیں اہلِ سنت میں ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا  جس نے اپنے زمانہ کے امام کو پہچان لیا ہو اور ان کی کشتی پر سوار ہوگیا ہو اور ان کے سامنے گردن جھکادی ہو۔

یہ ہیں ابوحنیفہ  جنھوں نے امام صادق(ع) کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا اور آپ کے بارے میں ان (ابوحنیفہ) کا یہ قول مشہور ہے اگر یہ دو سال " کہ جن میں امام صادق(ع) سے علم حاصل کیا ہے" نہ ہوتے تو نعمان ( ابوحنیفہ) ہلاک ہوجاتا۔ اس کے باوجود انھوں نے اپنا ایک نیا مذہب بنا لیا کہ جس کی بنیاد ہی صریحِ نص کے مقابلہ میں اجتہاد تھا۔ مالک کو دیکھئے کہ جس نے امام صادق(ع)  سے علم حاصل کیا اور آپ (ع) کے بارے میں فرمایا: امام  جعفر صادق(ع)  جیسا کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور کسی کے دل میں اس بات کا خطور ہوا کہ علم و


 فقہ میں امام جعفر صادق(ع) سے افضل بھی کوئی ہوسکتا ہے ۔ انھوں نے بھی اپنے زمانے کے امام کو چھوڑ کر الگ  ڈیڑھ اینٹ  کی مسجد بنائی اور ایک مذہب ایجاد کر دیا، جبکہ مالک کو اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کے زمانہ میں علم و فقہ کے لحاظ سے امام جعفر صادق(ع)  سے بلند کوئی نہیں تھا لیکن ان کو عباسیوں نے یہ باور کرایا کہ تم بہت بڑے عالم ہو اور  انھیں دارالہجرت کا امام کہنے لگے تو پھر مالک کی حیثیت ہی بدل گئی اور رعب  و دبدبہ بھی بڑھ گیا۔

شافعی کو ملاحظہ فرمائیے کہ جن پر شیعہ ہونے کا اتہام ہے اور اہلِ بیت(ع) کے متعلق ان کے اشعار بھی ہیں:

" اے رسول(ص) کے اہلِ بیت(ع) آپ کی محبت قرآن میں خدا  کی طرف

سےواجب ہے آپ کے لئے تو یہی کافی ہے کہ جو آپ(ع)  پر درود

نہ بھیجے اس کی نماز ، نماز نہیں ہے۔"

اسی طرح مندرجہ ذیل اشعار بھی مدحِ اہلِ بیت(ع) میں شافعی کی طرف منسوب ہیں۔

" اورجب میں نے لوگوں کو  دیکھا کہ ان  کے مذاہب انھیں جہل و گمراہی کے دریا میں لے گئے  تو میں بھی اللہ کا نام لیکر نجات کے سفیبہ پر سور ہاگیا ، یعنی خاتم الرسل(ص) اہلِ بیت(ع) مصطفے (ص) کا دامن تھام لیا اور میں نے حبل اللہ سے تمسک کیا جو کہ اہلِ بیت(ع)  کی محبت  ہے جیسا کہ رسول(ص) نے ہمیں اس سے متمسک رہنے کا حکم دیاہے۔"

اسی طرح شافعی سے یہ شعر بھی منسوب ہے:

اگر آلِ محمد(ص)  کی محبت رفض ہے

تو ثقلین گواہ رہیں میں رافضی ہوں۔


لیکن جب وپ اپنے رافضی ہونے پر ثقلین کو گواہ بنا رہے ہیں تو پھر ان مذہبوں کی مخالفت کیوں نہیں کرتے جو اہلِ بیت(ع)  کی ضد میں بنائے گئے تھے نہ صرف یہ کہ ان کی مخالفت نہیں کی بلکہ خود بھی اپنا ایک نیا مذہب بنا لیا اور اپنے ہم عصر اہلِ بیت(ع) کو چھوڑ دیا۔

احمد ابن حنبل کو لیجئے  جنھوں نے حضرت علی(ع) کو چوتھا خلیفہ قرار دیا انھیں خلفائے  راشدین سے ملحق کیا اور اس سلسلہ میں کتاب الفضائل نامی کتاب لکھی اور ان کا یہ قول مشہور ہے کہ " صحیح اسناد کے ذریعہ تمام صحابہ سے زیادہ علی(ع) کے فضائل نقل ہوئے ہیں ۔ جناب نے بھی اپنے نام سے ایک مذہب کی بنیاد ڈالی کہ جس کو آج کل حنبلی کہا جاتا ہے ۔ جبکہ ان کے زمانے کے علماء کہتے تھے کہ احمد بن حنبل فقیہ نہیں ہیں۔ شیخ ابو زہرہ کہتے ہیں کہ متقدمین میں سے اکثر علماء احمد بن حنبل کو فقیہ نہیں مانتے تھے۔ جیسے ابن قتیہ ابن جریر طبری جو کہ ان کے زمانہ سے قریب تھے۔ ( ملاحظہ فرمائیں ابوزہرہ کی کتاب احمد بن حنبل  ص۱۷۰)۔

ابن تیمیہ آتے ہیں اور مذہب حنبلی کو  جھںڈا اٹھاتے ہیں اور اس میں کچھ نئے نظریات داخل کردیتے ہیں۔ مثلا قبور کی زیارت کرنے اور ان پر عمارت بنانے کو حرام قرار دیتے ہیں ۔

اور اہل بیت نبی(ص) سے تمسک کو شرک بتاتے ہیں۔

یہ ہے مذاہب اربعہ اور یہ ہیں ان کے ائمہ اور یہ ہیں ان کے وہ اقوال جو  اہلِ بیت(ع)  طاہرین سے متعلق ہیں۔

پس یہ تو لوگ وہ بات کہتے ہیں جس پر عمل نہیں کرتے اور یہ خدا کو  بہت ناپسند ہے انھوں نے یہ مذاہب نہیں بنائے تھے بلکہ اموی اور عباسیوں کے دم چھلوں نے ظالم حکام کی مدد سے ان مذاہب  کی بنیاد رکھی تھی اور ان ( ائمہ اربعہ) کی وفات کے بعد ان کی طرف منسوب کردیا تھا۔ اس حقیقت کو ہم انشاء اللہ آیندہ بحثوں میں واضح کریں گے۔

کیا آپ کو ان ائمہ پر تعجب  نہیں ہے جو کہ اہلِ بیت(ع) میں سے ائمہ ھدی کے کے ہمعصر تھے اور اس کو باوجود صراط مستقیم سے ہٹ گئے اور ان سے ہدایت


حاصل نہیں کی اور نہ ان کے نور سے فیضیاب ہوئے ان سے ان کے جد رسول(ص) کی احادیث بھی نقل نہیں کیں بلکہ اس کی بر خلاف کعب الاخبار یہودی  اور ابو ہریرہ کی دوستی سے رسول(ص) کی احادیث لیں اسی ابوہریرہ کے بارے میں امیرالمؤمنین علی(ع) نے  فرمایا ہے۔

ابوہریرہ نے رسول(ص) پر سب سے زیادہ جھوٹ باندھا ہے اور بالکل یہی بات عائشہ بنت ابوبکر نے بھی کہی ہے۔

اہلِ سنت نے اہلِ بیت نبی(ص)  پر  عبد اللہ بن عمر ایسے ناصبی دشمن علی(ع) کو مقد م کیا ہے جس نے علی(ع) کی بیعت سے انکار کردیا تھا جبکہ حجاج بن یوسف  ایسے گمراہ کی بیعت کر لی تھی۔

اور اسی طرح معاویہ کے وزیر عمرو بن العاص  ایسے دھوکہ باز کو اہلِبیت (ع) پر مقدم کرتے ہیں۔

کیا آپ کو ان ائمہ پر تعجب نہیں ہوتا  جنھوں نے دین خدا میں اپنے نفسوں کے لئے حق تشریع اور اجتہاد کو مباح کرلیا تھا یہاں تک کہ انھوں نے سنتِ نبوی(ص) کو چھوڑ دیا تھااور خود  قیاس  و استصحاب سدیاب الذرایع اور مصالح المرسلہ ایسے قواعد ایجاد کر لئے تھے۔

اس کے علاوہ اور نہ جانیں کتنی بدعتیں ہیں جن کے لئے خدا نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ہے۔ کیا خدا اور اس کو رسول(ص) اکمال دین سے غافل تھے  اور انکے لئے یہ مباح کردیا تھا کہ وہ اپنے اجتھادات کو کامل کریں اور جس چیز کو چاہیں حرام کریں جس کو چاہیں حلال قرار دیں ۔  کیا ان مسلمانوں پر توجب نہیں ہوتا جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم تو سنت کا اتباع کرتے ہیں۔ اور پھر ایسے ائمہ کی تقلید کرتے ہیں کی جو نبی(ص) کی معرفت نہیں رکھتے تھے اور نہ نبی(ص) ہی انھیں جانتے تھے؟

یا اس سلسلے میں ان کے پاس کتابِ خدا سے کوئی دلیل موجود ہے  یا مذہب کے موجد ائمہ اربعہ کی تقلید کے اوپر سنت رسول(ص)  دلالت کررہی ہے؟!

میں انسانوں اور جنات دونوں کو چیلنج کر کے کہتا ہوں کہ اس سلسلہ میں کتابِ خدا یا


سنتِ رسول(ص) سے ایک ہی دلیل پیش کردو۔ قسم خدا کی ایسا ہرگز نہیں کرسکتے اور ہرگز دلیل نہیں لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے لئے مددگار ہی کیوں نہ بن جائیں۔

قسم خدا کی کتاب اور سنت رسول(ص)  میں ایسی  کوئی دلیل نہیں ہے ہاں ائمہ طاہرین(ع) کی تقلید و اتباع پر بہت سی دلیلیں مضبوط حجتین اور روشن حقائق دلالت کررہے ہیں ۔ موجود ہیں۔

 آنکھیں رکھنے  والو، عبرت حاصل کرو۔ (حشر ۲)

کیوں کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں بلکہ سینہ میں جو دل ہے وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔( سورہ حج/۴۶)


سنَی مذاہب کی ترقی کا راز

تاریخی کتابوں اور اسلاف کی جمع کردہ چیزوں پر نظر رکھنے والا بغیر شک و تردید کے اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ اس زمانہمیں سینوں کے مذاہب اربعہ کی ترقی میں بر سر اقتدار پارٹی کا ہاتھ تھا لہذا اکثر لوگوں نے انھیں قبول کیا کیوں کہ لوگ اپنے بادشاہوں کے دین کو اختیار کرتے ہیں۔

اسی طرح ایک محقق اس بات کو بھی جانتا ہے کہ اس زمانہ میں اور دسیوں مذاہب اس لئے فنا ہوگئے تھے کہ حاکمِ وقت ان سے راضی نہیں تھا مثلا مذہبِ اوزاعی اور مذہبِ حسن بصری، ابوغنیہ ، ابن ذویب، سفیان ثوری، ابن داؤد اور لیث  بن سعد وغیرہ۔

مثلا لیث بن سعد مالک ابن انس کا دوست تھا اور علم فقہ میں ان سے کہیں آگے تھا لیکن اس  کا مذہب اس لئے برباد ہوگیا کہ اس سے حکومت راضی نہیں تھی۔جیسا کہ شافعی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے۔(مناقب شافعی، ص۵۲۴)

احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ : ابن ابی ذویب مالک بن انس سے افضل تھے۔ لیکن مالک


رجال میں ماہر تھے۔ ( تذکرۃ الحفاظ ، ج۱، ص۱۷۶)

لیکن جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو مالک کو صاحب مذہب دیکھتے ہیں کیونکہ  انھیں حکومت کا تقرب حاصل تھا حکام کے کہنے پر چلتے تھے لہذا یہ مشہور عالم بن گئے اور خوف طمع کے ذریعہ ان کے مذہب کی ترویج ہونے لگی خصوصا اندلس میں کہ جہاں مالک کے شاگرد یحیی نے اندلس کے حاکم سے رسم و راہ بڑھا کر تقرب حاصل کیا تو حاکم نے انھیں  قاضیوں کے سلکشن کا اختیار دے دیا۔ لہذا قضاوت کا منصب اسی کو دیا جاتا تھا جو  مالکی ہوتا تھا۔

اسی ابوحنیفہ کی وفات کے بعد ان کے مذہب کی ترقی کا باعث ابویوسف اور شیبان تھے یہ دونوں ابو حنیفہ کے پیروکار اور ان کے مخلص ترین شاگرد تھے اور عباسی خلیفہ ہارون رشید کے مقربین میں سے تھے اور ہارون کی حکومت کی پائیداری میں ان کا بڑاکردار تھا دوشیزاؤں کا رسیا اور لہو لعب کا شوقین ہارون ان کی موافقت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتا تھا۔

لہذا یہ دونوں اسی شخص کو قاضی بناتے تھے جو حنفی ہوتا تھا۔ چنانچہ اس زمانہ میں ابو حنیفہ اعظم العلماء اور ان کا مذہب اعظم المذاہب الفقہیہ بن گیا باوجود یکہ ان کے ہمعصر  علماء نے ان کے کافر ہونے اور زندیق بن جانے کا فتوی دیا تھا۔ فتوی دینے والوں میں سے امام احمد بن حنبل اور ابو الحسن اشعری ہیں۔

اور مذہب شافعی تو تقریبا مٹ جانے کے بعد زندہ ہوا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب ظالم و غاصب حکومت نے ان کی تائید  کی لہذا وہی مصر کہ جہاں شیعہ ہی شیعہ تھے شافعی بن گیا اور یہ صلاح الدین ایوبی کے زمانہ میں اس وقت ہواجب وہ شیعوں کے خون سے ہولی کھیلنے لگا اور انھیں بے دردی کے ساتھ ذبح کرنے لگا۔

اسی طرح اگر معتصم عباسی حنبلی مذہب کی تائید نہ کرتا تو آج کوئی اس مذہب


 کا نام لینے والا نہ ہوتا اور یہ اس وقت ہوا جب احمد بن حنبل نے خلق قرآن کے نظریہ سے برائت کا اظہار کیا ، اور متوکل کے زمانہ میں تو اس کا ستارہ اور اچھے طریقہ سے چمک گیا۔

ابھی ماضی قریب میں برطانیہ کے استعمار  کی مدد سے مذہب وہابیت نے فروغ پایا ہے۔ پھر برطانیہ نے آل سعود کو یہ ذمہ داری سونپی لہذا اس نے فورا شیخ محمد بن عبد الوہاب کی مدد اور حجاز و جزیرہ العرب میں اس کے مذہب کی نشر و اشاعت میں بھر پور تعاون کیا۔

اس طرح مذہب حنبلی کو تین ائمہ ملے پہلے امام احمد بن حنبل جنھیں خود اپنے فقیہ ہونے کا اقرار نہیں تھا، بلکہ وہ اہلِ حدیث  سے تعلق رکھتے تھے، ان کے بعد ابنِ تیمیہ ہیں جن کو اہلِ سنت نے شیخ الاسلام اور مجدد السنۃ  کا لقب دیا ہے جب کہ ان زمانے میں علماء ان کو اس لئے کافر کہتے تھے کہ وہ تمام مسلمانوں کو اس لئے مشرک کہتے تھے کہ وہ نبی(ص) سے توسل رکھتے تھے اس کے بعد زمانہ ماضی میں محمد بن عبد الوہاب برطانوی استعمار کے  چیلے اٹھتے ہیں اور مذہب حنبلی کی تجدید کی کوشش کرتے ہیں، وہ ابنِ تیمیہ کے فتاوے پر عمل کرتے  ہیں اس طرح احمد حنبل کانَ کی خبر ہوگئے کیونکہ اب اس مذہب کو لوگ مذہب وہابی کہتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے  کہ ان مذاہب کی ترقی ، شہرت اور سربلندی حکام کی مرہونِ منت ہے۔

اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ وہ تمام حکام ائمہ اہلِ بیت(ع) کے دشمن تھے۔ کیونکہ وہ اپنے نظام کے لئے  انھیں  (ائمہ اہلِ بیت(ع) ) چیلنج اور اپنی بادشاہت کا زوال تصوَر کرتے تھے لہذا وہ ہمیشہ ان کو الگ رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور امت میں جھوٹا بنا کر پیش کرتے تھے اور ان کے شیعوں کو تہہ تیغ کرتے تھے۔

بدیہی تھا کہ وہ حکام بھی بعض چاپلوس  قسم کے علماء کے بڑے بڑے عہدوں اور مناصب سے نوازیں تاکہ ان علماء کے فتاوے حکام کے مطابق ڈھلتے رہیں اور فتاوے لوگوں کی


دائمی ضرورت ہےکیونکہ ان میں شریعی مسائل رچ بس گئے ہیں۔

حکام کسی زمانہ میں بھی شریعت  کی کسی چیز سے واقف نہیں تھے اور نہ فقہہ کے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے لہذا ان کے لئے ایسے علما کا رکھنا ضروری تھاجو ان کے نام پر فتوا دیتے تھے اور لوگوں کو یہ باور کراتے تھے کہ دین الگ چیز ہے اور سیاست ایک الگ چیز ہے۔

اسی طرح خلیفہ سیاسی آدمی ہوتا تھا اور فقیہ دینی آدمی ہوتا تھا جیسا کہ آج بھی اسلامی ممالک میں رئیس جمہور سیاسی ہوتا ہے اور کوئی عالم دین اس کی مدد کرتا ہے جس کو مفتی جمہوریہ کہا جاتا ہے اس عالم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عبادات، دینی نعرے اور جوانوں کے مسائل کو مدِ نظر رکھے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کو فتوا یا حکم دینے کا اختیار نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ وہی کتہا ہے جو حکومت و حاکم کی مرضی ہوتی ہے یا کم از کم اس کو فتوی حکومت اور اس کے دستورات کے مخالف نہ ہو۔

در حقیقت یہ فکر خلفائے ثلاثہ ابوبکر و عمر اور عثمان کے زمانہ سے چلی آرہی ہے انھوں نے دین و حکومت میں تفریق کرکے اپنے لئے حق تشریع  کا باب کھول لیا تھا اور اسی پر ان کی خلافت کی مصلحت و ضمانت اور اس کا باقی رہنا موقوف تھا۔

اور جب ان خلفائے ثلاثہ نے نبی(ص) کے ساتھ رہتے ہوئے وہی حدیثیں محفوظ کی  تھیں جو ان کی سیاست کے خلاف نہیں تھیں۔

مشہور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ ۹ ہجری میں مسلمان ہوا اور بہت مختصر زمانہ تک نبی(ص) کے ساتھ رہا اور قابلِ ذکر حدیثیں اسے یاد نہیں تھیں لہذا اس نے مجبورا ابوہریرہ ، عمرو بن العاصاور بعض صحابہ کو اس بات پر معین کیا کہ میری خواہش کے مطابق فتوی دیا کرو۔

معاویہ کے بعد بنی امیہ و بنی عباس نے بھی اس سنت حمیدہ پر عمل کیا چنانچہ ہر حاکم کی بغل می ایک قاضی القضاۃ  موجود رہتا ہے جس کا فرضہ ہی یہ ہے کہ وہ منصب قضاوت پر


ان لوگوں کو معین کرے جو حکومت کے موافق اور اس کے دستور کے مطابق عمل کرنے والے ہوں۔

اب بعد  آپ کے لئے ان قاضیوں کی ماہیت کا جاننا ضروری ہے کہ جو اپنے سیدَ  و سردار  کو خوش کر کے اپنے رب کو غضبناک کرتے ہیں۔

اس کے بعد یہ معلوم ہوجائے گا کہ حکومت کے مناصب سے ائمہ اطہار(ع) کو کیوں الگ رکھا جاتا تھا ، طول تاریخ میں آپ کو ان میں سے کوئی  قاضی نہیں ملے گا اور نہ ہی مسند فتوی پر متمکن ملے گا۔

اور ہم سنَی مذہب کی ترقی کے سلسلہ میں ، جو کہ حکام کی مرہون منَت تھی، زیادہ تحقیق کریں گے تو ہم مذہبِ امام مالک سے پردہ ہٹانے کے لئے ایک مثال پیش کریں گے کیوں کہ یہی سب سے عظیم اور وسیع مذہب تصوَر کیا جاتا ہے۔

مالک صاحبِ موطا کی تالیف سے مشہور ہوئے تھے، یہ کتاب انھوں نے خود تالیف کی تھی۔ چنانچہ اہلِ سنت کے نزدیک قرآن کے بعد یہ صحیح ترین کتاب ہے بعض اہلِ سنت تو اسے صحیح بخاری پر بھی فوقیت دیتے ہیں۔

مالک نے بے پناہ شہرت پائی تھی ، یہاں تک کہا جانے لگا تھا کہ کیا مدینہ میں مالک کے ہوتے  ہوئے کو ئی فتوی دے سکتا ہے؟ انھیں دارالہجرۃ(مدینہ) کے امام کا لقب دیا گیا تھا۔

واضح رہے جب امام مالک نے بیعت اکراہ کے حرام ہونے کا فتوی دیدیا تھا اس وقت والی مدینہ جعفر بن سلیمان نے ان کو ستر کوڑے لگوائے تھے۔

اسی چیز کو مالکی ہمیشہ پیش کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ مالک تو ہمیشہ حکومت کی مخالفت کرتے تھے یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ جو یہ لوگ  قصَہ بیان کرتے ہیں وہی اس کے بعد والا قصہ بھی بیان کرتے ہیں اب ہم آپ کے سامنے اس کی تفصیل پیش  کرتے ہیں۔

ابن قتیبہ کہتے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ جب مالک کو کوڑے  لگنے کی اطلاع ابوجعفر منصور


 کو ملی تو انھیں بہت صدمہ ہوا اور مدینہ سے جعفر بن سلیمان کی معزولی کا خط لکھا اور اس کو بغداد آنے کا حکم دیا۔

اس کے بعد مالک ابن انس کو  خط لکھ کر بغداد  تشریف لانے کی دعوت دی لیکن مالک نے انکار کر دیا اور ابوجعفر  کو خط لکھا کہ مجھے اس سے معاف رکھا جائے اور میرے عذر کو قبوک کیا جائے ابوجعفر نے پھر لکھا کہ آئندہ سال آپ مجھ سے حج میں ملیں انشاء اللہ حج کو جاؤں گا ۔ ( تاریخ خلفا سے ابن قتیبہ جلد۲، ص۱۴۹)

جب امیرالمؤمنین ابوجعفر  خلیفہ عباسی منصور اپنے چچازاد بھائی جعفر بن سلیمان بن عباس کو مدینہ کی گورندی سے صرف اس باتپر معزول کرتا ہے کہ اس نے امام مالک کو ، کوڑے لگوا دئیے تھے تو یہ بات خود سوچنے اور غور کرنے کی دعوت دیتی ہے!

کیونکہ جعفر بن سلیمان نے اپنے چچازاد بھائی کی خلافت کی تائید ہی میں کوڑے لگوائے تھے۔ اس لحاظ سے ابوجعفر منصور کو  والی مدینہ کی ترقی اور عزت افزائی کرنا چاہئے تھی نہ کہ اس طریقہ سے اس کی اہانت ومعزولی کرنا چاہئے تھی کہ اسے معزول کر کے سختی کے  ساتھ مدینہ بلایا جائے پھر خلیفہ خود مالک سے خط لکھ کر عذر خواہی کرتا ہے۔ اور انھیں خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے ، یہ عجیب بات ہے!

اس سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ والی مدینہ جعفر بن سلیمان سے حماقت میں یہ کام انجام پاگیا تھا وہ سیاست اور اس کی باریکیوں  سے واقف نہ تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ مالک خلیفہ  کا معتمد اور حرمین شریفین کا مرکز ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو منصور کبھی اپنے بھائی کو مدینہ کی گورنری سے معزول نہ کرتا کیوں کہ مالک نے بیعت اکراہ کی حرمت کا فتوی دے دیا تھا اس لحاظ سے وہ سزا کے مستحق تھے سو جعفر نے سزا دی تھی۔

اور ایسا تو آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے کہ کوئی حاکم  حکومت کی ہیبت اور ملک میں امن و امان برقرار رکھنے  کے لئے کسی کو جیل بھیج دیتا ہے اور بعد میں جب اس


کی حیثیت کا پتہ چلتا ہے کہ وہ وزیر  محترم کے قریبی ہیں یا رئیس جمہور کی زوجہ کے آشناؤں میں سے ہیں تو حاکم کو اپنے منصب سے معزول ہونا پڑتا ہے اور اسے کوئی اور ذمہ داری سونپی جاتی ہے کہ جس کے بارے میں وہ حاکم صاحب خود بھی کچھ نہیں جانتے ۔

یہاں مجھے وہ واقعہ یادآ  گیا جو تیونس میں فرانس کے  تسلط کے زمانہ میں رونما  ہوا تھا۔ واقعہ یہ تھا کہ عیساویہ کا شیخ طریقت اور اس کی جماعت ایک شب روڈ سے اللہ اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے شمشیر و چھری اور چاقوؤں کی جھنکاروں کے ساتھ چلا جارہا تھا۔

یہاں تک کہ اپنی عادت کے مطابق وہ تکیہ شریف پہونچ گئے ۔ ( جیسے صوفیوں کا فرقہ قادریہ  ہے۔)

ان کے راستہ میں ایک پولیس افسر کا مکان بھی واقع تھا ان کو ہا ہو  سے پریشان ہو کر گھر سے باہر نکلا اور ان کی تلواریں وغیرہ توڑ پھینک دیں  اور ان کے مجمع کو متفرق کردیا کیوں کہ انھوں نے آنے جانے والوں کے قانون کا احترام نہیں کیا تھا۔ پھر رات بارہ(۱۲) بج چکے تھے۔

اور جب وہاں کی سی  آئی ڈی نے گورنر کو اس حادثہ کی اطلاع دی تو وہ پولیس افسر پر بہت غضبناک ہوا اور اسے معزول کردیا اور اسے تین روز کے اندر اندر شہر قفصہ چھوڑ دینے کا آرڈر دے دیا۔

عیسایہ کے شیخ طریقت کو بلا کر فرانس کی حکومت کی طرف سے عذر خواہی کی اور انھیں و افسر مال دے کر راضی کر لیا اور یہ مال اس لئے دیا تھا تا کہ وہ اپنی تلوار، چھری چاقو   خرید لیں۔

اور جب ایک مقرَب بارگاہ نے گورنر صاحب سے دریافت کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے لئے ان وحشیوں کی ایسی ہی چیزوں میں


مشغول رکھنا افضل ہے ورنہ ہمارے لئے مشکلات کھڑی کردیں گے اور ہمیں نگل جائیں گے کیوں کہ ہم نے ان کی حقوق  غصب کر رکھے ہیں۔

اب ہم امام مالک کی طرف پلٹتے ہیں تاکہ خود ان کی زبانی ابوجعفر منصور سے ان کا ملاقات کا حال سنیں۔


منصور سے مالک کی ملاقات

اس ملاقات  کو عظیم مورخ ابنِ قتیبہ نے اپنی کتاب تاریخ الخلفا میں خود مالی سے نقل  کیا ہے۔ لہذا ہم قارئین کے لئے ان کی عبارت کا ترجمہ پیش کررہے ہیں۔

امام مالک کہتے ہیں : میں منی سے پلٹ کر خیموں کی طرف گیا وہاں میں نے اجازت طلب کی مجھے اجازت ملی۔ اجازت دینے والے نے مجھے اندر بلایا، میں نے اس سے کہا جب وہ قبہ کچھ دور رہ جائے گا جس میں امیرالمؤمنین ہیں تو تم مجھے بتادینا، وہ مجھے ایک خیمہ سے دوسرے خیمہ میں اور ایک قبہ سے دوسرے قبہ میں لے گیا جہاں ہر ایک میں مختلف اصناف کے لوگ ہاتھوں میں برہنہ تلواریں لئے ہوئے بیٹھے تھے۔ دربان نے مجھ سے کہا وہ قبہ ہے یہ کہہ کر چلا گیا۔

میں خود اس قبہ میں پہونچا جس میں امیر المؤمنین تشریف فرما تھے وہ مجلس برخاست کرچکے تھے اور تنہا بیٹھے تھے۔ انھوں نے ایسا موٹا  لباس پہن رکھا تھا کہ جس کی مثال نہیں ملتی تھی اور  یہ سب کچھ میرے آمد کی تواضع کے سلسلہ میں تھا۔ قبہ میں صرف ایک محافظ تلوار لئے


 کھڑا تھا۔

جب میں قریب پہونچا تو انھوں نے خوش آمدید کہا اور اپنے قریب بلایا۔

کہا میرے قریب تشریف لائیں ، میں نے تشریف رکھنے کے لئے  اشارہ کیا لیکن انھوں  نے پھر اصرار کیا میرے پاس آئے یہاں تک کہ مجھے اتنا قریب بٹھایا کہ میرا زانو ان کے زانو کو چھونے لگا۔

پھر انھوں نے باتوں کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے کہا: اے عبداللہ قسم اس خدا  کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے نہ تو جعفر بن سلیمان کو (کوڑے لگانے کا ) حکم دیا تھا اور نہ مجھے اس کی خبر تھی اور جب مجھے اطلاع ملی تو بہت رنجیدہ ہوا۔

مالک کہتے ہیں کہ میں نے کہا خدا امیرالمؤمنین  کو عافیت میں رکھے اور شان بنائے رکھے، میں نے اسے( جعفر سلیمان کو ) رسول(ص)  اور آپ کی قرابت کی بنا پر معاف کردیا۔

ابو جعفر منصور نے کہا: خدا آپ  کو اور آپ کا اتباع کرنے والوں کو معاف فرمائے۔

مالک کہتے ہیں: پھر انھوں نے مجھ سے سلف و گذشتگان اور علما کے سلسلہ میں


 گفتگو کا آغاز کیا تو میں نے انھیں لوگوں سے واقفیت کے متعلق اعلم پایا۔ پھر انھوں نے مجھ سے علم فقہ کے متعلق گفتگو کی تو میں نے انھیں متفق علیہ چیزوں میں عالم ترین انسان پایا اور اختلاف والی باتوں میں بھی اعلم پایا اور مرئی باتوں کا حافظ اور سنی گئی چیزوں کا بخوبی یاد رکھنے والا پایا۔پھر مجھ سے کہا اے عبداللہ اس علم کو جمع کرو  اور اسے کتابی شکل دو، اور عبداللہ بن عمر کی شدُتوں ، عبداللہ بن عباس اور ابن مسعود کی نرمی و اختصار کو مد نظر اور میانہ روی اختیار کرنا اور اس چیز  کو اپنا جس پر ائمہ اور صحابہ متفق ہوں تاکہ ہم لوگوں کو آپ کے علم پر چلائیں اور تمام شہروں میں آپ کی کتاب کی نشرو اشاعت کریں اور لوگوں سے کہہ دیں کہ اس کتاب کی مخالفت نہ کریں اور اسی کے مطابق فیصلے کریں۔

میں(مالک) نے کہا: خدا امیر کی اصلاح کرے، اہلِ عراق ہمارے علم سے راضٰی نہ ہوں گے اور نہ ہماری بات پر عمل کریں گے۔

ابوجعفر منصور نے کہا: ہم انھیں اس پر زبردستی چلائیں گے اور ان کے سر قلم کردیں گے اور کوڑوں سے ان کی کمر نیلی کردیں گے اس کام میں جلدی کرو عنقریب میرا بیٹا المہدی تمہارے پاس آئے تاکہ اس کتاب کو تم سے سنے ، یقینا اس وقت تک تم اس کام سے فارغ ہوچکے  ہوں گے انشاءاللہ۔

مالک کہتے ہیں کہ : ابھی ہم بیٹھے ہی تھے کہ پشت قبہ سے منصور کا چھوٹا لڑکا آیا۔ جب بچے نے مجھے دیکھا تو گھبرا گیا اور پچھلے پیروں  پلٹ گیا، ابوجعفر منصور نے کہا! آؤ میرے پیارے آؤ یہ اہلِ حجاز کے  فقیہ ابو عبداللہ ہیں اس کے کے بعد ابوجعفر میری طرف ملتفت کرتے اور کہا! اے ابو عبداللہ تم جانتے ہو یہ لڑکا کیوں گھبرا گیا اور اور کیوں نہیں آیا؟ میں نے کہا مجھے نہیں معلوم!

ابو جعفر منصور نے کہا ، قسم خدا کی اس نے مجھے آپ سے تنہایی میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تو واپس پلٹ گیا اور مداخلت کو صحیح نہ سمجھا۔

مالک کہتے ہیں اس کے بعد منصور نے مجھے ایک ہزار سونے چاندی کے دینار دینے کے


لئے حکم دیا اور خلعت عطا کیا نیز میرے بیٹے کو ایک ہزار دینار دینے کا حکم دیا، پھر میں نے اجازت طلب کی، انھوں نے رخصت کیا، میں نے بھی خدا حافظ کہا، انھوں نے بھی وداع کیا، پھر  ایک خواجہ سرا میرے پاس آیا اور اس نے ایک چادر میرے کندھے پر ڈال دی اور یہ رویہ دربار  کی طرف سے ہر اس شخص کے ساتھ روا رکھا جاتاہے جس کو عزَت و عظمت دی جاتی ہے وہ اس چادر کو لے کر لوگوں کے سامنے آتا ہے پھر خواجہ سرا کو دیتا ہے۔

پس جب وہ چادر میرے کندھے پر ڈالی تو میرا کندھا اس کے بوجھ سے جھک گیا۔

میں نے کہا : بھائی مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے ۔

ابو جعفر نے کہا: اسی مالک کی سواری تک پہنچادو۔ ( تاریخ خلفا ج۲، ص۱۵۰)


ضروری حاشیہ

امام مالک اور ابوجعفر منصور کی اس ملاقات سے ان کے درمیان ہونے والی گفتگو سے ہم چند چیزوں کا پتہ لگاتے ہیں۔

۱: ہم عباسی خلیفہ کو اپنے چچا زاد بھائی ، جوکہ مدینہ میں اس کو گورنر تھا، کو معزول اور اس کی اہانت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اس کے برعکس امام مالک سے معذرت  کرتا ہے اور قسم کھا کر کہتا ہے کہ جو بیداد و ستم آپ کے ساتھ روا رکھا گیا ہے میں اس میں قطعی شریک نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے اس کا علم تھا اسی لئے جب مجھے اس کی اطلاع ملی تو مجھے بہت رنج ہوا۔

یہ تمام چیزیں ان دونوں کے گہرے تعلقات کی نشاندہی کرتی ہیں اور ابوجعفر منصور خلیفہ کے نزدیک مالک کی عظمت و مرتبت کا پتہ دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ خلیفہ نے ان سے شخصی اور گھریلو لباس میں ملاقات کی اور اس ملاقات کے دوران کوئی بھی ان کے پاس نہیں آسکتا تھا۔ ملاقات کی کیفیت دیکھ کر خلیفہ کا بیٹا بھی گھبرا گیا تھا۔ چنانچہ جب اس نے اپنے


باپ کے پہلو سے پہلو ملا ہوا دیکھا تو واپس پلٹ گیا تھا۔

۲: اور منصور نے جو مالک سے یہ بات کہی تھی کہ مکہ اور مدینہ والے اس وقت تک امان میں ہیں جب تک آپ ان کے درمیان ہیں اور خدا نے انھیں ایک عظیم مصیبت سے بچالیا ۔

ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ اور مدینہ والے خلیفہ اور ظالم حکام کے خلاف شورش و انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے لیکن مالک نے انھیں ڈرایا  اور اپنے فتوؤں کے ذریعہ اس شورش کو دبا دیا مالک کےانھیں فتوؤں میں سے ایک یہ تھا کہ خدا و رسول اور الوالامر کی اطاعت واجب ہے لہذا لوگ خاموش ہوگئے  اور ڈر کے مارے خلیفہ سے جنگ نہ کی پیسے سے خریدے ہوئے فتوے نے خدا کے عذاب سے لوگوں کو محفوظ رکھا۔ ( بیعت اکراہ حرام اور بادشاہ کی اطاعت واجب والے دونوں فتوؤں میں کتنا تناقض ہے اس سلسلہ میں اہلِ سنت کے یہاں بہت سی روایات  ہیں ، نمونہ کے طور پر ان میں سے ایک پیش کرتا ہوں ، جو بادشاہ کی نافرمانی پر مرے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا ، بادشاہ کی باتوں کو سنو! اور عمل کرو خواہ وہ تمھارے اموال کو ہڑپ کرلے اور تمھاری پشت پر کوڑے لگائے۔)

اسی لئے منصور نے امام مالک سے کہا تھا : مکہ اور مدینہ والے فتنہ برپا کرنے میں بہت آگے ہیں اور فتنے کو دبانے میں نہایت ہی کمزور ہیں۔ خدا انھیں غارت کرے یہ کہاں بہکے چلے جارہے ہیں۔

۳: خلیفہ ، مالک کو یہ بات باورکراتا ہے کہ پوری دنیائے اسلام میں میرے نزدیک سب سے بڑے عالم آپ ہی ہیں، پھر مالک کے مذہب پر لوگوں کو زبردستی چلاتا ہے ور ترغیب و ہشت کے ذریعہ امام مالک کا اتباع کراتاہے۔

ترغیب کے سلسلہ میں اس کا یہ قول ہے : ہم تمام شہروں میں یہ اعلان کرادیں گے کوئی آپ (مالکی) کی کتاب کی مخالفت نہ کرے اور اسی سے فیصلے کریں  اور ایام حج میں ان (مالک) کے پاس وفود نمائندے بھیجیں۔


دہشت دلانے کے بارے میں اس کا یہ قول ہے : ہم اہلِ عراق کو اسی کتاب جپر عمل کرنے کے لئے مجبور کریں گے اور اگر وہ اس پر عمل نہیں کریں گے تو ہم تلوار سے ان کے تن و سر  میں جدائی ڈال دیں گے اور کوڑے سے پشت کو نیلی کردیں گے۔

اس فقرے سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ظالم حکام نے شیعوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ہوگا انھیں ائمہ اہلِ بیت(ع) سے جدا کر کے امام مالک کی پیروی پر مجبور کیا گیا ہوگا۔

۴: ہم جانتے ہیں کہ امام مالک اور خلیفہ منصور ان ہی عقائد و مفاضل کے حامل تھے بالخصوص صحابہ اور ان خلفاء کے متعلق ان کا یہی عقیدہ تھا جو کہ تختِ خلافت پر زبردست متمکن  ہوگئے تھے۔ اس کا اظہار خود مالک فرماتے ہیں پھر انھوں (منصور) نےعِلم و فقہ کے بارے میں گفتگو کا آغاز کیا تو میں نے انھیں لوگوں میں عالم ترین پایا۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ابوجعفر منصور نے تبادلہ خیال کیا اور وہی چیزیں باور کرائیں جو اسے محبوب تھیں کیونکہ اس سے قبل امام مالک سے ایک ملاقات کے درمیان وہ کہہ چکا تھا قسم خدا کی امیر المؤمنین کے بعد میں نے آپ کو اعلم پایا ہے( تاریخ الخلفا ابن قتیبہ جلد۲ ص۱۴۲)

(امیر المؤمنین سے منصور کی مراد وہ  خود ہی تھا)

مزید یہکہ ابن مالک نقلِ حدیث کے سلسلہ میں عبداللہ بن عمر ایسے ناصبی شخص پر اعتماد کرتے تھے کہ جو یہ کہتا  ہے۔ ہم زمانہ رسول(ص) میں ابوبکر و عمر اور عثمان کو بتدریج سب سے افضل سمجھتے تھے اور ان کے بعد تو سب ہی برابر تھے۔

عبداللہ بن عمر موطا اور فقہ میں مالک کے مشہور ترین راوی ہیں۔

۵: ہم یہ بھی ملاحظہ کرتے ہیں کہ جس سیاست کی بنیاد ظلم وجور پر استور تھی اس کا اقتضی یہ تھا کہ لوگوں کو ایسے فتوؤں سے راضی کرلیں جس کو وہ دوست رکھتے ہیں اور ان کو اس چیز کی تکلیف نہ دی جائے جو نصوصِ قرآن و سنتِ نبی(ص) کا لازمہ ہے۔


منصور نے مالک سے کہا تھا اس عم کو کتابیشکل میں جمع کرو اور عبداللہ بن عمر کی سختی، عبداللہ بن عباس کی برمی اور ابنِ مسعود کی اختصار پسندی کو مدِ نظر رکھو اور درمیانی راستہ کو اختیار کرو اور اس چیز پردھیان دو جس پر صحابہ کا اجماع ہے تاکہ آپ کی کتاب اور علم کو لوگوں کو پابند بناسکیں ، منصور کے اس قول سے یہ بات آشکار ہوجاتی ہے کہ مذہب  اہلِ سنت والجماعت عبداللہ بن عمر کی سختی ، عبداللہ بن عباس کی نرمی اور ابنِ مسعود کی اختصار  پسندی اور اس چیز کا معجون ہے جس کو مالک نے میانہ روی سمجھا ہو کہ جس پر صحابہ یعنی ابوبکر و عمر و عثمان اور ان صحابہ کا اجماع تھا اور خلیفہ ابوجعفر منصور بھی ان سے راضی تھا۔

موطا ابنِ مالک میں ایسی کوئی حدیث نہیں ہے کہ جو ائمہ طاہرین(ع) سے مروی ہو جبکہ بعض ائمہ (ع) مالک و منصور کے ہم عصر تھے۔ اس کے برعکس خلیفہ ابو جعفر منصور نے ان پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا  تھا اور انھیں ہر چیز سے الگ  رکھا تھا۔

سب سے پہلے موطا ابنِ مالک میں صحابہ اور تابعین کی بیان کی ہوئی احادیث کو جمع کرنے کا خلیفہ نے حکم دیا تاکہ ان پر لوگوں کو چلایا جائے۔

لہذا لابدی طور پر ان احادیث کو اموی اور عباسیوں کی گھڑی ہوئی ہونی چاہئے تھیں کہ جو ان کی مصلحت کے مطابق اور ان کی سلطنت کے استحکام کا باعث ہوں اور ان اسلامی حقائق سے لوگوں کو دور رکھنے کا موجب قرار پائیں جن سے نبی(ص)  نے آگاہ کیا تھا۔

۷: امام مالک کو صرف عراق والوں سے خوف تھا کیونکہ وہ علی بن ابی طالب(ع) کے شیعہ تھے اور ان ہی کے عِلم وفقہ سے وہ مطمئن تھے اور آپ(ع) ہی کی اولاد سے ائمہ طاہرین(ع) کی تقلید کرتے تھے اور مالک جیسوں کو قطعی کوئی  اہمیت نہیں دیتے تھے ، کیونکہ و جانتے تھے کہ یہ سب ناصبی ہیں اور احکام کی چاپلوسی کرتے ہیں اور درہم و دینار میں اپنا دین بیچ چکے ہیں۔

اس لئے مالک نے خلیفہ سے کہا تھا : خدا میر کی اصلاح کرے عراق والے ہمارے


علم پر راضٰ نہ ہوں گے اور نہ ہی ہماری بات پر عمل کریں گے ۔ پس منصور نے نہایت غرور و تکبَر سے کہا تھا ہم جبرا تمھاری بات منوائیں گے اور تلوار سے ان کے سر وتن  میں جدائی ڈالدیں گے اور کوڑوں سے ان کی کمر سیدھی کردیں گے۔

اس سے ہم پر یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ حکام کے ایجاد کردہ مذاہب کہ جن کو اہلِ سنت  کا نام دیا گیا وہ کس طرح دنیا میں پھیلے۔ اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ابوجعفر مالک کے مخالف اور مالک ان کے خلاف اور دونوں شافعی و حنبلی کے دشمن اور یہ دونوں بھی ان کے مخالف ہیں شاید ہی کوئی مسئلہ ایسا ہو جس پر چاروں متفق ہوں اس کے باوجود سب کے سب اہلِ سنت والجماعت ہیں یہ کون سی جماعت ہے؟ مالکی یا حنفی یا شافعی یا حنبلی؟ نہ یہ ہے نہ وہ ہے بلکہ یہ معاویہ  بن ابی سفیان کی جماعت ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے علی(ع) پر لعنت کرنے کے سلسلہ میں معاویہ کی موافقت کی تھی اور اسی(۸۰)  سال تک لعنت کرتے رہے۔ ایک مسئلہ میں عظیم اختلاف اور متفرق آراء اور متعدد فتوے ہونے کے باوجود یہ اختلاف رحمت ہے لیکن یہ مذاہب اربعہ ہی کے لئے رحمت ہے ہاں اگر کوئی دوسرا مجتہد ان کی مخالفت کردے تو وہ ان کی نظروں میں کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

لیکن شیعوں کا عذر قابل عفو نہیں ہے کیوں کہ وہ امیر المؤمنین علی(ع) پر کسی کو فوقیت  نہین دیتے ہیں اور اسی اختلاف کو ہلِ سنت والجماعت برداشت نہیں کرسکتے جب کہ مذاہب اربعہ  کا علی(ع) کو خلافت سے دور رکھنے اور ان کی فضیلت چھپانے کے سلسلہ میں اتفاق ہے۔

۸: جن حکام نے زبردستی مسلمانوں کے اموال کو ہڑپ کرلیا تھا ہم انھیں چاپلوس علما کے درمیان کھلے دل سے سخاوت  کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اس طرح وہ ان کے دین اور ضمیر کو خرید لیتے ہیں۔

مالک کہتے ہیں : پھر مجھے ایک ہزار سونے چاندی کے دینار دینے کا حکم دیا اور میرے بیٹے کو بھی ایک ہزار دینار دلوائے۔


مالک کو اس بات کا اعتراف ہے کہ کبھی عطایا اس سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں لیکن انھیں بیان نہیں کیا جاتا کیونکہ مالک اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے کہ تمام عطایا کو ظاہر کرنے میں نقصان ہے اس لئے وہ چاہتے تھے لوگ ان عطایا کو دیکھنے نہ پائیں جیسا کہ وہ فرماتے ہیں جب خواجہ سرا نے وہ دیناروں والی گونی میرے کندھے پر رکھی تو میں اس کے بوجھ سے جھک گیا اور کہا  اسے کندھے سے اتاردو۔

جب منصور نے یہ محسوس کیا کہ اسے میں نہیں لے جاسکتا ہوں تو اس نے خواجہ سرا کو حکم دیا لوگوں کی نظروں سے بچا کر اسے سواری تک پہونچا دے۔


عبّاسی حاکم اپنے زمانہ کے علما کا امتحان لیتا ہے

عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور بڑا زیرک تھا وہ لوگوں کی عقلوں پر چھاجانا اور ان کے ضمیروں کی خرید لینا  جانتا تھا وہ اپنے اثر رسوخ اور اپنے ملک کی توسیع کے لئے لالچ اور  دہشت گردی کو استعمال کرتا تھا۔

ابوجعفر نے کہا : میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ کو میں نے اس گھر میں بٹھایا تو آپ نے خانہ خدا کے معمار بن گئے اور میں لوگوں کو آپ کے علم پر چلا رہا ہوں اور دیگر شہر والوں سے آپ کے پاس وفود بھیجنے کا حکم دے رہا ہوں اور ایام حج میں آپ کے پاس اپنے نمائندے بھیجنے کے لئے کہہ رہا ہوں تاکہ وہ تمھارے دینی امور کو راہِ راست پر لے آئیں اس میں کوئی شک نہیں ہے اہلِ مدینہ ہی کا علم علم ہے۔ لیکن تم ان میں اعلم ہو ( تاریخ الخلفا ابن قتیبہ جلد۲ ص ۱۴۲)

ابن قتیبہ کہتے ہیں کہ جب ابو جعفر منصور تخت خلافت پر متمکن ہوا تو اس نے  مالک ابنِ انس ابی ذویب اور ابنِ سمعان  کو ایک ہی وقت میں بلا کر دریافت کیا۔


تمھارے نزدیک میرا شمار کن لوگوں میں ہوتا ہے؟ ائمہ عدل میں یا ائمہ جور میں؟

مالک نے کہا: اے امیر المؤمنین میں خدا سے تمھارے ذریعہ توسل کرتا ہوں اور محمد(ص) سے تمھاری قرابت کے لحاظ سے شفاعت کا طلب گار ہوں اس سلسلہ میں مزید گفتگو سے مجھے معاف فرمائیں ، منصور نے کہا امیر المؤمنین  نے تمھیں معاف کیا۔

ابنِ سمعاننے کیا : اے امیرالمؤمنین آپ سب سے اچھے ہیں ، خانہ خدا کا حج بجالائے ہیں ، دشمنوں سے لڑتے ہیں، راستوں کو محفوظ بناتے ہیں ، آپ کے سبب طاقتور کمزور کو چٹ نہیں کرسکتا، آپ سے دین قائم ہے۔ پس آپ لوگوں میں سب سے موزوں اور عادل امام ہیں۔

لیکن ابنِ ابی ذویب نے کہا: سم خدا کی میرے نزدیک تم سب سے زیادہ شرپسند ہو  خدا اور رسول(ص) اور ذی القربی ، مساکین اور یتیموں کا مال کھا رہے ہو، کمزوروں کو فنا کے گھاٹ اتار رہے ہو اور طاقتوروں کے ناک میں دم کر رکھا ہے ان کے اموال کو روک لیا ہے پس خدا کے سامنے کیا جواب دوگے۔

ابو جعفر نے کہا: خدا تمھیں غارت کرے تم کیا کہہ رہے ہو؟ سمجھ بھی رہے ہو؟ اپنے سامنے دیکھو! کیا ہے؟

ابنِ ذویب نے کہا: جی ہاں میں اپنے سامنے تلواروں کو دیکھ رہاہوں ، جو کہ موت ہیں اور موت سے کسی کو مفر نہیں ہے۔ لہذا تاخیر سے بہتر جلد جانا ہے۔

اس گفتگو کے بعد منصور نے ابنِ ابی ذویب اور ابنِ سمعان کو رخصت کردیا، اور مالک سے تنہائی میں گفتگو کے دوران کہا۔

اے ابو عبداللہ آپ امن و امان اور سلامتی کے ساتھ اپنے شہر واپس تشریف لے جائیں اور اگر چاہیں تو ہمارے پاس رہیں ہم کسی کو بھی آپ سے فوقیت نہیں دیں گے اور نہ مخلوق میں کسی کو آپ پر امیر سمجھیں گے۔


اس کے بعد ابنِ قتیبہ لکھتے ہیں کہ اگلے روز ابو جعفر منصور نے ہر ایک (امام مالک، ابنِ ذویب اور سمعان) کے پاس اپنے پولیس آفیسر کے ہاتھ پانچ پانچ ہزار  دینار کی تھیلیاں بھیجیں اور اس سے کہا:

ہر ایک کو ایک تھیلی پیش کرو اگر مالک لیتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے اور اگر واپس کرتے ہیں تو ان کا کوئی جرم نہیں ہے۔

لیکن اگر بنِ ابی ذویب لیتے ہیں تو ان کا سر قلم کر کے میرے پا س لے آنا اور اگر لینے سے انکار کرتے ہیں تو ان کا یہ ہی مسلک ہے اور کوئی جرم نہیں ہے۔

اور اگر ابنِ سمعان واپس کرتے ہیں تو ان کا سر قلم کر کے لاناق اور اگر لے لیتے ہٰیں تو اسی  میں ان کی عافیت ہے، مالک کہتے ہیں پولیس آفیسر (officer  ( تینوں کے پاس پہونچا ابنِ سمعان نے تھیلی لے لی لہذا محفوظ رہے لیکن ابنِ ابی ذویب نے واپس کردی وہ بھی بچ گئے ، رہا میرا مسئلہ تو  قسم خدا کی میں اس کا محتاج تھا اس لئے لے لی۔ ( تاریخ الخلفاء ابنِ قتیبہ جلد۲ ص۱۴۴)

اس قصہ سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ مالک خلیفہ کے ظلم و جور کو پہچانتے ہیں لیکن اپنے اور خلیفہ کے تعلقات کی بنا پر محمد(ص)  کا نام لیتے ہیں اور منصور کی آپ(ص) سے قرابت کا تذکرہ کرتے ہیں۔

ظاہر ہے عباسی حکام کو یہ  چیز  بہت پسند تھی اور وہ اس بات کو بہت اہمیت دیتے تھے کہ لوگ ان کی تعظیم کریں اسی لئے انھیں مزید گفتگو کی زحمت نہ دی۔

ابنِ سمعان نے بھی وہ راستہ اختیار کیا جس میں قتل کا خوف نہ تھا کیونکہ تلواریں بیام سے باہر خلیفہ کے حکم کی منتظر تھیں۔

لیکن ابنِ ابی ذویب شجاع تھے وہ خدا کے سلسلہ مٰیں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے وہ مخلص مؤمن تھے صرف خدا اور رسول(ص) اور مؤمنین کے لئے وقف تھے۔ اس


لئے انھوں نے حقیقت بیان کردی اور اس کی لاف گزاف کا انکار کردیا اور جب منصور نے قتل کی دھمکی دی تو کشادہ پیشانی سے اسے قبول کرلیا لیکن اس سے نہیں ڈرے ہم خلیفہ کو وافر مال کے ذریعے دو افراد کا امتحان لیتے ہوئے اور مالک کو اس امتحان سے مستثنی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں چنانچہ امام مالک کو اس سے معاف رکھا گیا اگر وہ مال قبوک کرلیتے ہیں تب بھی، واپس کردیتے ہیں تب بھی محفوظ ہیں۔

لیکن اگر ابنِ ذویب مال لے لیتے تو ان کا سر قلم کر لیا جاتا اور اگر ابنِ سمعان واپس کردیتے تو ان کی گردن ماردی جاتی۔

ابو جعفر منصور بڑا مکار تھا اسی لئے اس نے مالک کی عظمت بڑھائی، اس کے مذہب کو قبول کرنے کو واجب قرار دیا جبکہ ابنِ ذویب کے خلاف ہوگیا جو کہ امام مالک سے علم میں کہیں زیادہ تھے، جیسا کہ امام احمد بن حنبل کو اس کا اعتراف ہے۔

اسی طرح لیث بن سعد کے مذہب کو دبا دیا گیا جبکہ وہ شافعی کے بقول احمد بن حنبل سے بڑے فقیہ تھے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اس زمانہ میں امام جعفر صادق(ع) علم و فقہ میں سب سے افضل تھے اور سب ہی کو اس بات کا اعتراف بھی تھا۔

تو پھر امت میں سے کس کی جرأت ہوسکتی ہے کہ وہ علم و عمل میں ان (امام جعفر صادق (ع)) سے مقابلہ کرے جبکہ ان کے جد علی ابن ابی طالب(ع) ہیں جو کہ رسول(ص) کے بعد سب سے بڑے عالم و فقیہ ہیں۔

لیکن سیاست کا تقاضہ ہے کہ وہ ایک گروہ اٹھاتی ہے اور دوسرے کو دباتی ہے ایسے ہی مال ایک کو بڑھاتا ہے دوسرے کو گراتا ہے۔

اس بحث میں ہم جس چیز کو واضح وسیلوں اور ٹھوس حجتوں سے ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ " اہلِ  سنت والجماعت" کے چاروں مذاہب سیاست کی کرشمہ سازی کا


نتیجہ ہیں جو کہ لالچ و خوف سے لوگوں پر تھوپے گئے ہیں اور پھر لوگ اپنے بادشاہ کے دین کا اتباع کرتے ہیں۔

اس موضوع سے متعلق جو حضرقت تحقیق کے خواہاں ہیں وہ شیخ اسد حیدر رحمۃ اللہ کی کتاب " الامام الصادق والمذاہب الاربعہ" کا مطالعہ فرمائیں  اس سے معلوم ہوجائے گا کہ بادشاہ کے نزدیک امام مالک کی کیا حیثیت و عظمت تھی۔

یہاں تک امام شافعی امام مالک تک رسائی حاصل کرنے کے لئے مدینہ کے گورنر کا وسیلہ ڈھونڈتے ہیں اور شافعی سے گورنر کہتا ہے کہ مدینہ سے مکہ پیادہ سفر کرنے والا میرے نزدیک اس انسان سے افضل ہے جوکہ مالک کے دروازے پر ٹھہرے کیوں کہ میں مالک کے دروازہ پر کھڑے ہونے کو سب سے بڑی ذلت  تصور کرتا ہوں۔

ظہر الاسلام مٰیں احمد امین مصری تحریر فرماتے ہیں کہ : مذہب اہلِ سنت کی نصرت اور ترقی میں حکومتوں کا بڑا ہاتھ رہا ہے اور جب حکومت مضبوط و قوی ہوتی ہے اور وہ کسی مذہب کی مدد کرتی ہے تو لوگ اس کی تقلید کرتے ہیں اور پھر ایک کے بعد دوسری حکومت ان مذاہب کی مددگار بنتی رہی۔

ہم کہتے ہیں کہ مذہب امام جعفر صادق(ع) مذہب اہلِ بیت(ع) ہے مسلمانوں کی عادت کے لحاظ سے ہم اسے مذہب کہتے ہیں۔ ورنہ حقیقت میں وہ صحیح اسلام ہے۔ جسے رسول اللہ لائے تھے جس کی نہ کسی حاکم نے مدد کی تھی اور نہ کسی نے اسے تسلیم کیا تھا۔ بلکہ تمام حکام نے اسے نابود کرنے کی کوشش کی اور مختلف طریقوں سے لوگوں کو اس سے نفرت دلانے کی تگ و دو میں رہے۔

پس وہ گھٹا ٹوپ تاریکی چھوٹ گئی اور خدا کے فضل سے ہر  زمانہ میں اور ہر ظالم صدی میں اس کا اتباع کرنے والے موجود رہے کیوں کہ نورِ خدا کو پھونکوں سے نہیں بجھایا جاسکتا ، اور نہ ہی تلواروں سے اس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جھوٹے پروپیگنڈوں


سے بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑا جاسکتا کہ جس سے خدا پر لوگوں کی حجت قائم ہوجائے یا وہ یہ کہنے لگیں کہ ہم اس سے بے خبر تھے۔

یقینا قریش نے ابتداء بعثت ہی میں محمد(ص) کا قصہ تمام کرنے کی کوشش کی تھی اور جب قریش فضلِ خدا اور ابوطالب اور علی(ع)  کی حمایت کی وجہ سے اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے تو محمد(ص)  کو ابتر کہہ کے اپنے دلوں کو تسلی دی۔

لیکن خدا نے رسول(ص)  کو کوثر عطا کیا اور محمد (ص) حسنین(ع) کے نانا بن گئے اورلوگوں کو بشارت دی کہ حسن(ع) و حسین(ع) دونوں امام ہیں خواہ یہ صلح کریں یا جنگ اور یہ تمام أئمہ امام حسین(ع) کی نسل سے ہونگے یہ تمام باتیں قریش کے لئے چیلنج تھیں۔

قریش اسے کبھی برداشت نہیں کرسکتے تھے چنانچہ نبی(ص)   کے بعد انھیں موقع مل گیا اور عترت طاہرہ(ع) کا خاتمہ کرنے کی انتھک کوشش میں لگ گئے یہاں تک فاطمہ(ع) کے گھر پر آگ اور لکڑی لے کر جمع ہوگئے اگر علی(ع) خاموشی اختیار نہ کرتے اور حق خلافت سے دست کش نہ ہوتے اور صلح و آشتی سے کام نہ لیتے تو عترت طاہری(ع)  کا خاتمہ بالخیر تھا اوراسی روز اسلام کا قصہ تمام ہوجاتا۔

پھر قریش حکومت چھین لینے کے بعد اس وقت تک خاموش رہے جب تک نسل محمدی(ص) سے کوئی ان کے منافع کے لئے چیلنج نہ بنا اور جیسے ہی خلافت علی(ع) کے ہاتھ میں آئی ویسے ہی قریش نے فتنہ وفساد کی آگ بھڑکادی اور اس وقت تک آرام سے نہ بیٹھے جب تک خلافت کو خبیث ترین شخص کو ہاتھوں میں نہ دے دیا، چنانچہ پھر خلافت قیصری بادشاہت ہوگئی جو باپوں سے بیٹوں کو میراث ملتی ہے اور جب امام حسین(ع) نے یزید کی بیعت سے انکار کیا تو قریش کی آتش حمیت بھڑک اٹھی اور اس نے عترتِ طاہرہ(ع) کو قصہ ہی ختم کرنے کی ٹھان لی بلکہ ہر اس چیز  کو نابود کرنے کا ارادہ کر لیا جس پر نسل محمد بن عبداللہ (ص) کا اطلاق ہوتا تھا۔


پس کربلا کی قتل گاہ میں نھوں نے ذریت نبی(ص) کو ذبح کر ڈالا یہاں تک کہ کمسن اور شیر خوار بچوں کو بھی تہہ تیغ کردیا ان کا ارادہ یہ تھا کہ شجر نبوَت(ص)  کی ہر  شاخ کو قلم کردیں۔

لیکن اللہ نے جو محمد(ص) سے وعدہ کیا تھا اے پورا کیا اور علی ابنِ ابی الحسین (ع)  کو بچالایا اور بقیہ ائمہ (ع) ان ہی کی نسل سے ہوئے اور زمین کو مشرق سے مغرب تک اولادِ  محمد(ص) سے بھر دیا یہی وہ کوثر ہے جو اللہ نے اپنے نبی(ص) کو عطا کیا تھا۔ اب ہر شہر و قریہ اور ہر خطہ زمین میں نسلِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم موجود ہے اور لوگوں کے درمیان وہ محبوب و محترم ہے۔

دشمنوں کی تمام بےنتیجہ کو ششوں کے بعد آج پوری دنیا میں شیعہ جعفری لوگوں کی تعداد ۲۵۰ مِلینَ ہے اور سب ائمہ اثناعشری کی تقلید کرتے ہیں اور ان کی مودت و محبت سے خدا کا تقر ب حاصل کرتے ہیں اور ان کے حد کی شفاعت کے امید وار ہیں۔

دیگر مذاہب میں سے کسی ایک کی بھی اتنی بڑی تعداد آپ کو ہرگز نہیں ملے گی۔اگرچہ ہر ایک مذہب کی حکومتِ وقت نے مدد کی ہے۔ وہ مکر کرتے ہیں ۔ خدا تدبیر کرتا ہے اور اللہ تدبیر کرنے والوں میں سب سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ (انفال/۳۰)

کیا فرعون نے بنی اسرائیل کے ہر نومولود  لڑکے کو اس وقت قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا کہ جب اسے نجومیوں نے یہ بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیری بادشاہت ختم کردے گا؟

لیکن بہترین تدبیر کرنے والے نے موسی(ع) کو فرعون کے مکر سے بچالیا اور اس کے گھر بھیجدیا اور خود فرعون کی آغوش میں پرورش کرائی اور اسی کے ذریعہ اس کی بادشاہت برباد کرائی اور فرعون کے گروہ کو ہلاک کردیا اور خدا کا حکم پورا ہوکر


 رہتا ہے۔

کیا (فرعون زمانہ) معاویہ نے علی(ع) پر لعنت نہیں کی اور ان کو ، ان کی اولاد کو اور ان کے شیعوں کو قتل نہیں کیا؟

کیا علی(ع) کی کسی بھی فضیلت کے بیان کرنے کو حرام قرار نہیں دیا تھا؟ کیا  اس نے اپنی پوری کوشش سے نور خدا کو بجھادینے کی کوشش نہیں کی اور لوگوں کو جاہلیت کی طرف پلٹانا نہیں چاہا تھا؟ لیکن خیرالماکرین نے علی(ع) کے ذکر کو بلند کیا باوجودیکہ معاویہ اور اس کی پارٹی ناک رگڑ  کر مرگئی اور آج تمام شیعہ ، سنی مسلمانوں کی زبان پر نامِ علی(ع) ہے بلکہ یہود و نصارا کی زبان پر بھی علی(ع)  کا ورد  ہے آج قبرِ رسول(ص) کے بعد علی(ع) کی قبر زیارت گاہ خاص و عام بنی ہوئی ہے۔ لاکھوں مسلمان قبر  کا طواف کرتے ہیں عقیدت کے آنسو بہاتے ہیں اور آپ

آپ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں، آپ کا قبہ اور گلدستہ اذان سونے کا ہے جو کہ آنکھ کر خیرہ کرتا ہے۔

جب معاویہ جیسے بادشاہ کا نام مٹ گیا جس نے زمین پر بادشاہت کی اور اس میں فساد پھیلایا ، کیا آج کہیں اس کا نام و نشان ہے؟ کیا کہیں اس کا ایسا مزار ہے؟

ایک تاریک و متروک مقبرہ ہے بے شک باطل کے لئے قرار نہیں ہے اور حق کے لئے ثبات و قرار ہے۔

پس صاحبان عقل عبرت حاصل کریں۔

حمد ہے اس خدا کی جس نے ہماری ہدایت کی حمد  ہے اس خدا کی جس نے ہمیں اس بات کی شناخت کرائی کہ شیعہ ہی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عمل کرتے ہیں اور وہی اہلِ سنت ہیں کیونکہ وہ اہلِ بیت(ع) کی اقتداء کرتے ہیں اور


گھر کی بات گھر والے ہی بہتر جانتے ہیں۔

اہلِ بیت(ع) ہی وہ ہیں جنھیں خدا نے منتخب کیا پھر انھیں علم کتاب کا وارث بنایا اس نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ " اہلِ سنت والجماعت" سلف وخلف میں حکام کا اتباع کرتے ہیں جس چیز کا وہ دعو ا کرتے ہیں اس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔


حدیث ثقلین شیعوں کی نظر میں

جو  چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شیعہ ہی نبی(ص) کی صحیح سنت کا اتباع کرتے ہیں وہ رسول(ص) کی حدیث ہے جس کو حدیث ثقلین کہتے  ہیں ارشاد رسول(ص) ہے:

" میں تمھارے درمیان دو گران قدر چیزیں چھوڑ نے والا ہوں ، کتاب خدا اور میرے اہل بیت(ع) عترت ، اگر تم ان سے متمسک رہوگے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ان پر سبقت لے جانے کی کوشش نہ کرنا، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور ان سے الگ نہ ہوجانا ورنہ برباد ہوجاؤ گے اور (دیکھو) انھیں سکھانے کی کوشش نہ کرنا کیوں کہ وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔" ( صحیح ترمذی، صحیح مسلم، مستدرک حاکم، مسند احمد بن حنل، کنز العمال، خصائص نسائی ، طبقات ابن سعد طبرانی ، سیوطی ، ابن حجر ،ابن اثیر مزید تفصیل کے لئے المراجعات کا صفحہ ۸۲۰ سے مطالعہ فرمائیں)

بعض روایات میں ہے مجھے لطیف و خبیر نے اطلاع دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز ایک


دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس وارد ہوں گے۔

حدیث ثقلین کو اہلِ سنت والجماعت نے اپنی بیسیوں صحاح و مسانید میں نقل کیا ہے جبکہ شیعوں نے اپنی ہر حدیث کی  کتاب میں نقل کیا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ اہلِ سنت والجماعت گمراہ ہو گئے ہیں کیوں کہ انھوں نے دونوں (قرآن و عترت) سے ایک ساتھ تمسک اختیار نہیں کیا اور اس لئے ہلاک ہوگئے کہ انھوں اہلِ بیت(ع) پر ابوحنیفہ ، مالک ، شافعی، حنبل، کو مقدم کیا ان کی تقلید کی اور عترتِ طاہرہ(ع)  کو چھوڑ دیا۔

ان میں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ : ہم نے قرآن سے تمسک رکھا ہے ، تو اس پر بھی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس لئے کہ قرآن میں تمام چیزیں پر کلی طور پر بیان ہوئی ہیں اس میں احکام کی تفصیل کا تذکرہ نہیں ہے اس میں بہت سے احتمالات ہیں ۔ اس کے لئے مفسر  و بیان کرنے والے کا ہونا ضروری ہے اور بالکل یہی کیفیت سنتِ رسول(ص) کی بھی ہے اس کے لئے بھی ثقہ راویوں ، مفسرین اور عالموں کی ضرورت ہے۔

اس مشکل کو کوئی حل نہیں ہے مگر یہ کہ ائمہ اطہار(ع) کی طرف رجوع کیا جائے کہ جن کے بارے میں رسول(ص) نے وصیت فرمائی ہے۔

اور جب حدیثِ ثقلین کے ساتھ ان احادیث کا اضافہ کرتے ہیں کہ جن کا وہی مفہوم ہے جو حدیث ثقلین ، مثلا

" علی(ع) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی(ع) کےساتھ ہے یہ دونوں کبھی جدا یہ ہوں گے ۔ یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر وارد ہوں گے۔" ( مستدرک حاکم جلد۳ ص۱۲۴)

نیز فرمایا :

علی(ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی(ع) کےساتھ ہے اور یہ ہرگز جدا


نہ ہوں گے یہاں تک کہ روزِ قیامت حوض پر میرے پاس وارد ہوںگے"۔

( منتخب کنز العمال جلد۵ ص ۳۰ تاریخ ابنِ عساکر جلد۳ ص۱۱۹ تاریخ بغداد ج۱۴ ص۱۲۱ تاریخ الخلفا ابن قتیبہ جلد۱ ص۷۳)

ان تمام چیزوں سے ہماری اور تمام محققین  کی سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ جس نے علی(ع)  کو چھوڑ دیا اس نے قرآنِ کریم  کی حقیقی تفسیر کو چھوڑدیا اور جس نے علی(ع) سے بے اعتنائی کی اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور باطل کو اختیار کرلیا کیونکہ حق کے بعد صرف باطل ہی رہ جاتا ہے۔

ہمارے نزدیک یہ بات بھی ثابت ہے کہ اہلِ سنت والجماعت نے قرآن اور سنت نبوی(ص) دونوں کو چھوڑ دیا کیوں کہ انھوں نے حق یعنی علی ابن ابی طالب (ع) کو چھوڑ دیا۔

چنانچہ نبی(ص) کی حدیث ہے کہ میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی اور ان میں سے صرف ایک فرقہ باجی ہوگا۔ اور یہ فرقہ وہی ہے جو امام علی(ع) کا اتباع کر کے حق و ہدایت پر گامزن ہوتا ہے۔ علی(ع) کے دشمن سے جنگ اور آپ(ص) کی صلح کے تحت صلح کرتا ہے آپ کے علم میں آپ(ص) کی اقتداء کرتا ہے اور آپ(ص) کی اولاد میں ائمہ میامین پر ایمان رکھتا ہے۔

یہی لوگ تمام مخلوقات سے بہترین ہیں ان کی جزاء ان کے پروردگار کے  پاس ہمیشہ رہنے کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے خدا ان سے راضٰ اور وہ اس سے خوش۔


حدیث ثقلین اہلِ سنت کی نظر میں

ہم گذشتہ فصل میں اس حدیث کو بیان کرچکے ہیں جسے بیس سے زیادہ اپنے مشہور مصادر  میں اہلِ سنت  والجماعت نے علی(ع) سے نقل کیا ہے اور اس کے صحیح ہونے کا اعتراف ہے۔

جب انھوں نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا اعتراف کر لیا تو حتمی طور پر اپنے گمراہ ہونے کا بھی اقرار کرلیا انھوں نے ائمہ اہلِ بیت(ع) سے کو ئی واسطہ نہیں رکھا اور اپنے فضول مذاہب کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیا کہ جن پر نہ خدا نے کوئی دلیل نازل کی ہے اور نہ حدیث نبوی(ص)  میں ان کا وجود ہے۔

تعجب تو آج  کے علمائے اہل سنت پر ہے وہ اس زمانہ میں بھی کہ جس میں علمی بحث و تحقیق کے بے پناہ وسائل موجود ہیں اور بنی امیہ کو ہلاک ہوئے بھی ایک عرصہ گذر گیا ہے لیکن وہ اب بھی تونہ نہیں کرتے ہیں۔ اور خدا کی طرف رجوع  نہیں کرتے ہیں تاکہ خدا بھی ان کے شامل حال ہوجائے۔


" اور جو شخص تونہ کرے اور ایمان لائے نیک کام انجام دے اور ثابت قدم رہے تو میں اسے ضرور بخش دوں گا۔" ( طہ/۸۲)

اور آج جبکہ لوگ ایسے زمانہ میں زندگی گذار رہے ہیں کہ جس میں ایسی خلافت نہیں ہے جو زبردستی لوگوں سے بادشاہ کا اتباع کرائے تو پھر حق کو اپنانے کے لئے کونسی چیز  مانع ہے۔ اور کسی بھی ملک کا بادشاہ دینی امور میں اس وقت تک مداخلت نہیں کرتا تا جب تک اس کی کرسی محفوظ ہے وہ ڈیموکریسی اور ان کے حقوق کو بہتر سمجھتا ہے کہ جس میں ضمنی طور پر عقیدہ اور فکر کی آزادی بھی موجود ہے۔


کتاب اللہ و عترتی یا کتاب اللہ و سنتی؟

اس موضوع پر ہم اپنی کتاب" معالصادقین" میں بحث کرچکے ہیں۔ اختصار کے ساتھ یہاں اتنا عرض کردینا چاہتے ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں ایک دوسرے کی نقیض نہیں ہیں کیوں کہ نبی(ص) کی صحیح سنت عترتِ طاہرہ(ع) کے پاس محفوظ ہے اور گھر کی بات گھر والے ہی بہتر جانتے ہیں پھر علی ابن ابی طالب(ع)  سنتِ نبوی(ص) کے باب ہیں۔ وہ راوی اسلام کہلوانے کے زیادہ حق دار ہیں نہ کہ ابو ہریرہ ، کعب الاخبار اور واہب بن منبہ۔

لیکن مزید وضاحت کے لئے چند باتیں قلم بن کرنا ضروری ہے اگر چہ اسکی تکرار  بھی ہوگی مگر اعادہ میں افادیت ہے اور ممکن ہے بعض حضرات نے " مع الصادقین" میں بحث نہ پڑھی ہو لہذا وہ اس کتاب کے ذریعہ اس سے بھی آگاہ ہوجائیں گے  کہ دوسری کتاب میں یہ بحث تفصیل کےساتھ موجود ہے۔

ممکن ہے قارئین محترم کو اس بحث میں وہ جوہر مل جائے جو انھیں اس بات سے مطمئن کردے کہ " کتابَ اللہ و عترتی" ہی اصل ہے۔ جسے خلفا نے جان بوجھ کر "کتابَ


اللہ و سنتی " سے بدل دیا ہے تاکہ وہ اس طرح اہلِ بیت(ع) کو صحن سے دور کردیں۔

یہ بات ملحوظ خاطر  رہے کہ " حدیث کتاب اللہ و سنتی" اہلِ سنت والجماعت کے لحاظ سے بھی صحیح نہیں ہے کیوں کہ ان کی صحاح میں یہ روایات موجود ہیں کہ نبی(ص) نے اپنی احادیث لکھنے منع فرمایا تھا۔

پس اگر حدیث لکھنے سے منع کرنے والی حدیث صحیح ہے تو نبی(ص) کو یہ حکم فرمانے کا حق نہیں ہے کہ میں نے تمھارے درمیان اپنی سنت چھوڑی ہے جبکہ وہ مکتوب شکل میں نہیں تھی!؟

اور اگر حدیث " کتاب اللہ وسنتی" صحیح تھی تو عمر بن خطاب کو رسول (ص) پر اعتراض کرنے اور یہ کہنے کا حق نہیں تھا کہ ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے؟

اور جب رسول(ص) نے مکتوب صورت میں سنت چھوڑی ہے تو پھر ابوبکر و عمر کے لئے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ سنتِ رسول(ص) کو جلا ڈالیں !

اور جب حدیث " کتاب اللہ و سنتی" صحیح ہے تو وفاتِ نبی(ص) کے بعد ابوبکر یہ خطبہ کیوں دیتے ہیں: لوگو! رسول(ص) کی کوئی حدیث بیان نہ کرنا اور اگر تم سے کوئی پوچھے تو یہ کہہ دینا کہ ہمارے تمھارے پاس کتاب خدا موجود ہے اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو! ( تذکرۃ الحفاظ ، ذہبی جلد۱ ص۳)

اور جب حدیث" کتاب اللہ و سنتی" صحیح ہے تو ابوبکر اور ان کے ہمنوا صحابہ کو جنابِ زہرا(ع) کی بے حرمتی کرنے کا جواز کہاں سے مل گیا تھا اور ان کے گھر پر آگ و لکڑی لیکر جمع ہونے اور یہ دھمکی دینے کا حق کہاں سے حاصل ہو ا تھا کہ ہم گھر کو مع رہنے والوں سمیت


جلادیں گے ۔ کیا سیدہ(ع) کے متعلق انھوں نے رسول(ص) کی یہ حدیث نہیں سنی تھی۔

" فاطمہ(ع) میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے غضبناکی کیا اس نے مجھے غضبناک کیا اور جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی"؟

قسم خدا کی انھوں نے ضرور رسول(ص) کی حدیث سنی تھی اور انھیں یاد تھی کیا انھیں خدا کا یہ قول نہیں معلوم تھا۔

"قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى" (شوری/23)

(اے رسول(ص)) آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت کرو"۔

یہ آیت جنابِ فاطمہ(ع) ، ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کی شان میں نازل ہوئی ہے کیا یہی محبت اہلِ بیت(ع) ہے کہ انھیں جلانے کی دھمکی دی جائے؟ اور بطنِ فاطمہ(ع) پر دروازہ گرادیا جائے کہ جس سے انکا بچہ ساقط ہوجائے؟؟!

اور جب حدیث " کتاب اللہ و عترتی" صحیح ہے معاویہ اور اس کی بیعت کرنے والے صحابہ نے علی(ع) پر لعنت کرنے اور منبروں سے ان پر سب و شتم کرنے کو کیسے حلال قرار دیا، کیا انھوں نے خدا کا یہ فرمان نہیں سنا تھا کہ ان (علی (ع))  پر ایسے ہی صلوٰت بھیجو جس طرح رسول(ص) پر بھیجتے ہو؟ کیا انھوں نے رسول(ص) کی یہ حدیث  نہیں سنی تھی۔

" جس نے علی پر سب و شتم کیا اس نے مجھے پر سب و شتم  کیا اور  جس نے مجھے برا بھلا کہا اس نے خدا کو بر بھلا کہا"؟

( مستدرک  حاکم جلد۳ ص۱۲۱، شیخین کی شرط کے لحاظ سے یہ حدیث صحیح ہے لیکن انھوں نے اسے اپنی صحاح میں نقل نہیں کیا ۔ تاریخ الخلفا ، سیوطی ص۷۳، خصائص نسائی ص۲۴ مناقب خوارزمی ص۸۲)

اور جب حدیث " کتاب اللہ و سنتی" صحیح ہے تو پھر اکثر صحابہ سے یہ سنت کیسے


غائب رہی ، انھوں نے اسے کیوں نظر انداز کیا اور اپنی رائے سے کیوں فتوے دینے لگے اور پھر آزاد روش اختیار کی چنانچہ انھوں نے قیاس اجتہاد اجماع ، سدباب الذرائع ، مصالح المرسلہ، استصحاب ، صوافی الامر اور اخف الضررین ایسے خود ساختہ قواعد ایجا د کئے ( جامع بیانالعلم جلد۲ ص۱۷۴)

اور جب رسولٰ(ص) نے " کتابِ خدا اور اپنی سنت" چھوڑی ہے تاکہ یہ دونوں لوگوں کو گمراہی سے بچائیں تو پھر ان قواعد کو ایجاد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی جن کو اہلِ سنت نے تراش لیا ہے  یہ سب چیزیں بدعت ہیں اور ہر بدعت ضلالت ہے اور ہر ضلالت کا نتیجہ جہنم ہے۔ جیسا کہ حدیث میں منقول ہے۔

پھر عقل اور علم و معرفت رکھنے والے نبی(ص) پر لعن طعن کریں گے کہ جس نے سنت کو چھوڑی لیکن اس کی تدوین  کو اہمیت نہیں دی اور نہ اس کی تدوین و حفاظت کا کوئی بندوبست فرمایا کہ جس کے سبب وہ تحریف ، اختلاف ، جعلی حدیثوں سے محفوظ رہتی اس کے باوجود لوگوں سے فرماتے ہیں میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان سے متمسک رہوگے ۔ میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے کتاب خدا اور میری سنت۔

لیکن جب ان عقلاء کو یہ بات بتائی جائے گی کہ نبی(ص) نے لوگوں کو اپنی سنت لکھنے سے منع فرمایا تھا تو اس وقت نبی(ص) کا مذاق بھی اڑائیں گے کیونکہ یہ فعل عاقلانہ نہیں ہے۔ کیونکہ لوگوں کو اپنی سنت لکھنے سے منع کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں میں تمھارے درمیان اپنی سنت چھوڑے جارہا ہوں مزید برآں کتابِ خدا ہے کہ جس کو مسلمان صدیوں سے لکھتے چلے آرہے ہیں اس میں بھی ناسخ و منسوخ ، خاص و عام محکم و متشابہہ ہے۔ یہ قرآن کا خاصہ ہے۔ اگر چہ پورا قرآن صحیح ہے۔ کیونکہ خدا نے خود اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے اور پھر وہ مکتوب ہے۔ لیکن حدیثِ رسول(ص) میں صحیح سے زیادہ تو گھڑی ہوئی حدیثیں ہیں لہٰذا حدیثِ رسول(ص)


کے لئے کسی معصوم کا ہونا ضروری ہے جو صحیح اور جعلی حدیثوں میں امتیاز کرسکے ظاہر ہے اس کو ٖغیر معصوم انجام نہیں دے سکتا اگر چہ وہ علامہ ہی کیوں نہ ہو۔

اسی طرح قرآن اور حدیث دونوں ایک ایسے متبحر عالم کی محتاج ہیں جو ان کے احکام و امور سے آگاہ ہو تاکہ نبی(ص) کے بعد لوگوں کے اختلاف اور جہالت کو دور کرسکے۔

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ خداوندِ کریم نے قرآنِ مجید میں اس  بات کی طرف اشارہ فرمایا ہےکہ قرآن کسی بیان کرنے والے کا محتاج ہے چنانچہ ارشاد ہے۔

" ہم نے تم پر قرآن نازل کیا تاکہ لوگوں کو وہ چیزیں بتاؤ جو ان پر  نازل کی گئی تھیں" ( نحل/۴۴)

پس اگر نبی(ص) ان چیزوں کو بیان نہ فرماتے جو ان پر نازل کی گئی تھیں تو لوگ احکامِ خدا کو قطعی نہیں جان سکتے تھے اگر چہ قرآن انھیں کی زبان میںنازل ہوا تھا۔

تو یہ واضح ہے کہ قرآن میں نماز و زکوٰۃ ، روزہ حج واجب کیا گیا ہے۔ لیکن مسلمان ان کی وضاحت کے سلسلہ میں نبی(ص) کے محتاج ہیں وہی بتائیں گے نماز کیسے ادا کی جائے  زکوۃ کا نصاب کیا ہے، روزہ کے احکام کیا ہیں اور حج کے مناسک کیا ہیں ، اگر نبی(ص) نہ ہوتے تو لوگ قرآن مجید سے ان کو  نہیں سمجھ سکتے ۔

اور جب قرآن ایسی متفق علیہ کتاب، جس میں کسی بھی سمت سے باطل داخل نہیں ہوسکتا، کسی بیان کرنے والے کی محتاج ہے تو حدیثِ نبی(ص) کسی محافظ و بیان کرنے والے کی اس سے کہیں زیادہ محتاج ہے کیوں کہ حدیث میں بہت اختلاف  اور نراکھوٹ اور جھوٹ ہے: بات تو فطری ہے بلکہ ضرورت عقل میں سے ہے کہ ہر رسالت پر مبعوث ہونے والا نبی(ص) اپنے پروردگار کے حکم سے اپنا وصی اور قائم مقام بناتا ہے۔

تاکہ رسالت ان کی موت کے بعد ہی ختم نہ ہو جائے ، چنانچہ ہر  ایک نبی کا کوئی نہ کوئی وصی ضرور تھا۔


ایسے ہی رسول(ص) نے بھی اپنی خلافت و جانشنی کے لئے علی(ع)  کی تربیت کی تھی اور بچپنے ہی سے انھیں اخلاقِ نبوی(ص) سے آراستہ کیا اور عالمِ جوانی میں اولین و آخرین کے علم سے مزین کیا اور ایسے رموز و اسرار بتائے جنھیں کوئی  نہیں جانتا امت کو بھی بارہا بتایا کہ تمھارے درمیان یہ میرے بھائی ،میرے وصی اور میرے خلیفہ ہیں نیز فرمایا:

" میں خیرالانبیاء ہوں اور علی (ع) خیر الاوصٰیاء ہیں میرے بعد سب سے بہتر و افضل ہیں ، اور فرمایا : علی(ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی(ع) کے ساتھ ہے، علی(ع) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ہے نیز فرمایا : میں نے نزول قرآن کے سلسلہ میں جنگ و جہاد کیا ہے اور علی(ع) اس کی تاویل پر  جہاد کریں گےیہی ہیں جو میرے بعد میری امت کے اختلافی مسائل حل کریں گے۔ علی(ع) کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی ہے تھی، علی(ع)  مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں ، وہ میرے علم کا باب ہیں ۔"

( اہل سنت کے نزدیک یہ تمام حدیثیں صحیح ہیں، ان کے علما نے انھیں نقل کیا ہے اور صحٰیح بتایا ہے اس سے پہلی کتابوں میں ہم ان کا تذکرہ کرچکے ہیں، اگر قارئین مصادر دیکھنا چاہتےہیں تو المراجعات کا مطالعہ فرمائیں۔)

علمی دلیل اور تاریخ و سیرت سے یہ بات ثابت ہے کہ علی(ع) تمام صحابہ کے مرجع تھے آپ(ع) کے پاس عالم و جاہل تمام صحابہ آتے تھے ۔ اہل سنت کے لئے تو اتنا ہی کافی  ہے کہ عبداللہ ابن عباس جن کو اہل سنت خیر الامت کہتے ہیں وہ علی(ع) کے شاگرد ہیں اسی طرح یہ دلیل بھی مستحکم ہے کہ مسلمانوں کے تمام علوم کا سرچشمہ حضرت علی(ع) کی ذات سے پھوٹا ہے ۔

( ابن ابی الحدید کی شرح نہج البلاغہ کا مقدمہ ملاحظہ فرمائیں ۔)

بہتر یہ ہے کہ حدیث " کتاب اللہ و عترتی" کو حدیث " کتاب اللہ و سنتی" پر مقدم کیا جائے تاکہ عاقل مسلمان کے لئے اہلِ بیت(ع) سے رجوع کرنا آسان ہوجائے اور وہ ( اہل بیت (ع)


بھی اس کے سامنے قرآن و سنت کے مفاہیم بیان کریں۔

لیکن اگر حدیث " کتاب اللہ وسنتی " کو صحیح مان لیا جائے تو قرآن و حدیث کے سلسلہ میں مسلمان حیرت و سر گشتہ رہیں گے اور انھیں کوئی ایسا موثق مرجع نہیں ملے گا جس سے وہ سمجھ میں نہ آنے والے احکام دریافت کرسکیں ، یا ان احکام کے بارے میں استفسار کرسکیں جن کے متعلق علما کے درمیان شدید اختلاف ہے اور ائمہ مذاہب نے ان احکام کے متعلق متعدد اقوال پیش کئے ہیں یا جن اقوال میں تناقض  پایا جاتا ہے۔

ایک مذہب کو قبول کرنا اور دوسرے کو چھوڑ دینا تعصب اور اندھی تقلید ہوگی اور اس سلسلہ میں خداوند عالم کا ارشاد ہے۔

" ان میں سے اکثر ظن کا اتباع کرتے ہیں بے شک ظن حق کے سلسلہ میں ذرہ برابر فائدہ نہیں پہچاسکتا "( یونس/۳۶)

قارئین محترم کے لئے ایک مثال پیش کرتا ہوں تاکہ حق واضح ہوجائے۔

اگر ہم قرآن اٹھا کر آیت وضو پڑھیں:

"وامسحوا برؤوسکم و ارجلکم الی الکعبين" ( مائدہ/۶)

"اپنے سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پیروں کا مسح کرو۔"

تو بادی النظر میں ہم یہی سمجھیں گے کہ جس طرح سر کا مسح ایسے ہی پیروں کا بھی مسح کرنا چاہئے اور جب مسلمانوں کےعمل کو دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ اس مسئؒلہ میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔ تمام اہلِ سنت والجماعت سر دھوتے ہیں اور سارے شیعہ سر کا مسح کرتے ہیں۔

یہاں ہم حیرت و شک میں مبتلا ہو کر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ کو ن سا فعل صحیح ہے۔

اور اہلِ سنت والجماعت کے علما و مفسرین  سے رجوع کرتے ہیں تو ان کے درمیان بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ کیوں کہ اس آیت میں " ارجلکم " کو دو طرح زَبر اور زِیر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔


پھر اہلِ سنت دونوں قرآئتوں کو صحیح قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں جو شخص " ارجلکم " کو زَبر کے ساتھ پڑھے اس کے لئے سر دھونا واجب ہے اور جو شخص زِیر کے ساتھ پڑھے اس پر سر کا مسح کرنا واجب ہے۔

پھر ہماری ملاقات اہلِ سنت کے اس عظیم عالم سے ہوتی ہے جو عربی کا ماہر ہے وہ کہتے ہیں کہ: خواہ آیت کو زبر کے ساتھ پڑھیں یا زیر کے ساتھ دونوں صورتوں میں مسح واجب ہے۔ کیوں کہ ارجل یا محل کی بنا پر منصوب ہے یا جر جوار کی وجہ سے مجرور ہے ، پھر کہتے ہیں کہ قرآن میں مسح کا حکم ہے اور حدیث میں سر دھونے کا حکم ہے۔

قارئین محترم آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ علماے اہلِ سنت کے اقوال ہمارے شک و  اضطراب کو زائل نہیں کرسکتے بلکہ ان کے آخری قول نے تو ہمارے شک مٰیں اضافہ کردیا ہے۔ کیا سنت قرآن کی مخالفت ہے ہرگز نہیں نبی(ص)  قرآن کی مخالفت نہیں کرسکتے اور وضو میں پیر کے مسح کے بجائے پیر نہیں دھوسکتے ۔ اگر نبی(ص) وضو میں پیر دھوتے تھے تو پھر صحابہ کے لئے نبی(ص) کی مخالفت  کرنا جائز نہیں تھی خواہ وہ علم و معرفت کے کسی بھی مرتبہ پر فائز ہوتے اور نبی(ص) سے قریب ہوتے جیسے علی ابن ابی طالب(ع) ، ابن عباس، اور حسن(ع) و حسین(ع) حذیفہ بن یمان اور انس بن مالک اور دیگر تمام صحابہ نے ارجل کو زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر صحابہ نے مسح کو واجب جانا ہے اور ائمہ اطہار(ع) کی اقتداء کرنے والے تمام شیعہ مسح کے وجوب کے قائل ہیں۔

حل کیا ہے؟!

کیا آپ نے غورنہیں  کیا کہ اس  طرح ایک مسلمان اپنے شک ہی میں مبتلا رہے گا اور جب تک اپنے معتمد علیہ سے رجوع نہیں کرے گا اس وقت تک ارہِ صواب سے نا آشنا رہے گا اور یہ نہیں جان سکے گا صحیح حکمِ خدا کیا ہے اور غلط کیا ہے؟

یہ مثال میں آپ کے سامنے قرآن مجید سے پیش کروں گا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ علمائے اہلِ سنت کے درمیان ان چیزوں میں کس قدر اختلاف ہے۔ جنھیں نبی(ص) ایک دن میں


متعدد بار انجام دیتے تھے اور تیئس سال ان پر عمل پیرا رہے۔

فرض یہ ہے کہ اصحابِ نبی(ص) ( قرآن کے ) خاص و عام سے واقف تھے بلکہ علمائے اہلسنت جب مذکور ہ آیت کی تلاوت کرتے ہیں تو کچھ زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور کچھ ، مجرور پڑھتے ہیں نتیجہ میں مختلف احکام مرتب کرتے ہیں۔

کتاب خدا  کی تفسیر اور متعدد آیتوں کے مطابق احکام مرتب کرنے کے سلسلہ مٰیں علما کے درمیان شدید اختلاف ہے جیسا کہ یہ بات تحقیق کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں ہے۔ اور جب کتابِ خدا کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہے تو سنتِ نبی(ص) میں بدرجہ اولیٰ اختلاف ہوگا۔ لیکن حل کیا ہے؟

اگر آپ یہ کتہے ہیں کہ ایسے شخص  کی طرف رجوع کرنا واجب ہے جو قرآن و سنت سے صحیح احکام بیان کرے تو ہم آپ سے ایسے شخص کا مطالبہ کریں گے جو کہ عاقل متکلم ہو کیونکہ قرآن و سنت ضلالت سے نہیں بچا سکتے کیونکہ دونوں صامت ہیں کچھ نہیں بول سکتے اور پھر وہ متعدد وجوہ کے حامل ہیں جیسا کہ ہم آیت وضو میں بیان کرچکے ہیں، قارئین محترم یقینا ہمارا اس بات پر اتفاق ہےکہ قرآن وسنت کےحقائق سے واقف علما کی تقلید کرنا واجب ہے ۔ رہا ایسے علما کی معرفت کا مسئلہ کہ جو حقائقِ قرآن وسنت سے واقف ہیں۔

۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ سب ہی علمائے امت اور ان کے راس  و رئیس  صحابہ حقائق  قرآن و سنت سے واقف ہیں تو ان کے اختلاف کو ہم آیت وضو اور دیگر مسائل میں ملاحظہ کر چکے ہیں اس کے علاوہ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں ایک دوسرے کو کافر  کہتے ہیں لہذا ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ ہاں ان میں سے حق والوں پر اعتماد کرنا صحیح ہے۔ باطل پرستوں پر صحیح نہیں ہے۔ پھر بھی مشکل حل نہیں ہوتی۔

اگر ایسی صورت میں آپ ائمہ اربعہ کی طرف رجوع کرنا چاہیں تو ان کے درمیان کا اختلاف بھی آپ پر پوشیدہ نہیں ہے ان میں سے ایک کہتا ہے کہ نماز میں بسم اللہ پڑھنا


مکروہ ہے ۔ دوسرا بغیر بسم اللہ کےنماز کو باطل قرار دیتا ہے۔ اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ مذاہب ظالم حکام کی ایجاد ہیں اور یہ کہ یہ مذاہب عہد رسالت(ص) سے بہت بعد میں وجود میں آئے ہیں۔ انھیں تو صحابہ بھی نہیں جانتے تھے چہ جائیکہ نبی(ص) ان سے واقف ہوتے۔

اب ہمارے سامنے ایک ہی حل رہ جاتا ہے اور وہ ہے ائمہ اطہار(ع) کی طر ف رجوع کرنا کہ جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا اور کما حقہ پاک رکھا ، وہ عالم و عامل ہیں ان کے علم و  ورع اور تحفظ  و تقوی تک کوئی نہیں پہونچ سکتا  وہ ںصِ قرآنی( انما يريد اللهليذهب عنکم الرجس اهل البيت و يطهرکم تطهيرا) اور حدیث نبوی(ص) کی رو سے وہ معصوم عن الخطا والکذب ہیں (قول نبی(ص) ہے ۔کتاب الله و عترتی ان تمسکتم  بهما لن تضلوا بعدی ابدا ۔ پس جس طرح کتاب خدا معصوم عن الخطا ہے ۔ اسی طرح عترت طاہر(ع) بھی معصوم ہے ۔ کیونکہ غیر معصوم ہدایت نہیں کرسکتا ہے اس سے خطا سرزد ہوسکتی ہے وہ خود ہدایت کا محتاج ہے۔)

خدا نے انھیں منتخب فرماکر علم کتاب کا وارث بنایا ہے رسول(ص) سے انھیں ہر اس چیز کا علم دیا ہے جس کو لوگوں کو احتیاج ہوسکتی ہے اور ان کی طرف آن حضرت(ص) نے اسی طرح امت کی راہنمائی فرمائی۔

" میرے اہلِ بیت (ع) کی مثال کشتی نوح کی سی ہے جو اس پہ سوار ہوا اس نے نجات پائی اور جس نے روگردانی کی وہ غرق ہوا۔"

علمائے اہل سنت میں سے ابن حجر نے اس حدیث کی شرح لکھنے اور اس کو صحیح قرار دینے کے بعد تحریر کیا ہے۔

اہلِ بیت(ع)  کو کشتی سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ جس نے ان سے محبت کی اور ان کی عظمت کا قائل ہوگیا اور ان کی بڑائی کا شکریہ ادا کیا اورجس نےان کے بتائے ہوئے راستہ کے مطابق عمل کیا وہ گمراہیوں سے محفوظ رہا اور جس نے اس سے روگردانی کی وہ کفر و ضلالت کے سمندر میں ڈوب گیا اور


 طغیانیوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔

ایک بات کا میں یہاں اضافہ کرتا ہوں اور وہ یہ کہ آپ کو عہد صحابہ سے لیکر آج تک ملّت اسلامیہ کے گذشتہ اور موجود ہ علما میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملے گا جس نے اپنے متعلق یہ دعویٰ کیا ہو کہ میں عترت نبوی(ص) کے ائمہ (ع) سے افضل ہوں اسی طرح پوری امت میں آپ کو کوئی ایسا نہیں ملے گا جس نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ اس نے ائمہ اہلِ بیت(ع) میں سے کسی کو  تعلیم دی ہے۔ یا کسی امر کی طرف ان کی راہنمائی کی ہے۔

قارئین محترم مزید تفصیل کے لئے المراجعات اور الغدیر کا مطالعہ فرمائیں ۔ انصاف پسند حضرات کے لئے اتنا کافی ہے جتنا میں نے پیش کیا ہے۔ پس حدیث" ترکت فيکم کتاب الله و عترتی" برحق ہے ۔ اسے عقل و وجدان بھی قبول کرتی ہے اور قرآن و سنت سے بھی یہی ثابت ہے۔

ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر ہمارے لئے  واضح دلیلوں سے یہ بات آشکار ہوجاتی ہے کہ حقیقی معنوں میں شیعہ ہی اہلِ سنت ہیں ، چونکہ اہلِ سنت والجماعت نے اپنے سرداروں اور  گور و گھنٹالوں کا اتباع کیا اور انھوں نے انھیں گمراہ کردیا اور تاریکی میں انھیں پریشان و بھٹکتا ہوا چھوڑ دیا اور کفر کے دریا میں غرق کردیا اور طغیانیوں میں جھونک کر ہلاک کردیا جیسا کہ ابن حجر شافعی کا قول ہے۔

الحمدلله ربَ العالمين علیٰ هدايته لعباده المخلصين


شیعوں کے نزدیک شریعت کے سرچشمے

شیعہ امامیہ کی فقہ کا مطالعہ اور تحقیق کرنے والا جانتا ہے کہ شیعہ تمام فقہی احکام میں " مسائل کو چھوڑ کر " ائمہ اثناعشر کے طریق سے نبی(ص) کی طر ف رجوع کرتے ہیں۔

شریعت کے سرچشمے شیعوں کے نزدیک صرف دو ہیں۔

کتابِ (خدا)  سنتِ (نبی (ص)) یعنی

مصدر  اوّل قرآن

مصدر دوّم سنتِ نبی(ص) ہے۔

یہ ہیں گذشتہ اور موجود شیعہ علما کے اقوال بلکہ یہ ان ائمہ اہلِ بیت(ع) کے اقوال ہیں کہ جن میں سے کسی ایک نے بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ یہ میرا اجتہاد ہے۔

چنانچہ جب پہلے حضرت علی ابن ابی طالب(ع) کے پاس لوگ خلافت لے کر آئے اور  یہ شرط پیش کی ، اگر آپ(ع) امت میں سنتِ ابوبکر و عمر کے لحاظ سے عمل کریں گے تو خلافت حاضر ہے۔ آپ(ص) نے فرمایا، میں کتابِ خدا اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے


مطابق عمل کروں گا۔ ( بعض روایات میں ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا : اس کے علاوہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا یہ مکتب اجتہاد کے طرف داروں کا اضافہ ہے ۔ کیونکہ امام علی(ع) نے ایک روز بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا بلکہ وہ تو ہمیشہ سے کتابِ خدا اور سنت رسول(ص) سے مسائل کا استنباط کرتے تھے یا فرماتے تھے: ہمارے پاس الجامعہ ہے اس میں لوگوں کی ضرورت  کی تمام چیزیں موجود ہیں ۔ یہاں تک خدش الارش بھی تحریر ہے۔ الجامعہ وہ صحیفہ ہے جو رسول(ص) کا املا اور علی(ع) کی تحریر ہے۔ صحیفہ جامعہ کے بارے میں ہم تفصیلی بحث "اہل السنۃ سنت کو مٹانے والے"والی فصل میں کرچکے ہیں۔ آنے والی بحثوں میں ہم اس بات کی وضاحت کریں گے کہ علی(ع) ہمیشہ سنتِ نبی(ص) کے پابند رہے اور اس سے کبھی چشم پوشی نہیں کی اور لوگوں کو سنتِ نبی(ص) پر پلٹانے کے لئے پوری کوشش کرتے رہے ۔ یہاں تک خلفا آپ(ع) سے ناراض ہوگئے اور خدا کے لئے آپ(ع) کو سختی اور سنتِ نبی(ص) کو نافذ کرنے کی پاداش میں لوگوں کی نفرت نصیب ہوئی۔

جیسا کہ امام محمد باقر(ع) ہمیشہ فرمایا کرتے تھے۔

" اگر ہم اپنی رائے سے تمھیں مسائل بتاتے تو ایسے ہی

گمراہ ہوجاتے جس طرح ہم سے پہلے لوگ گمراہ ہوگئے

تھے ہم جو کچھ تمھیں بتاتے ہیں اس پر ہمارے پروردگار

کی وہ واضح دلیل موجود ہے جو اس نے اپنےنبی(ص) ہے بیان

 کی تھی اور نبی(ص) نے ہم کو تعلیم دی ہے"۔

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

" اے جابر اگر ہم تمھیں اپنی رائے اور ہوا وہوس سے

کوئی بات بتاتے تو ہلاک ہوگئے ہوتے ہم تو تمھیں وہی بتاتے ہیں جو ہم نے نبی(ص) کی احادیثِ رسول(ص) جمع کی


 ہیں اور ہم نے ایسے ہی ذخیرہ کیا ہے جیسے لوگ سونا

چاندی ذخیرہ کرتے ہیں"۔

اور امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں:

" قسم خدا کی ہم اپنی رائے اور ہوائے نفس سے کوئی چیز

 بیان نہیں کرتے بلکہ جو کچھ کہتے ہیں وہ قولِ خدا

ہوتا ہے جب بھی ہم تمھیں کوئی جواب دیتے ہیں وہ

 ہماری رائے سے نہیں ہوتا بلکہ وہ قول رسول(ص) ہوتا ہے "۔

ائمہ اہلِ بیت(ع) کی اس سیرت سے تمام اہلِ علم اور محققین واقف ہیں ۔ اسی لئے تو انھوں نے کسی ایک امام کے بارے میں بھی یہ نہیں تحریر کیا کہ وہ رائے کی قائل تھے یا قرآن و سنت کے علاوہ کسی قیاس و استحسان وغیرہ کے قائل تھے۔

اور جب ہم اپنے ہم عصر مرجع اکبر شہید آیت اللہ محمد باقر الصدر ( رضوان اللہ علیہ) کے رسالۃ عملیہ کو دیکھیں گے تو عبادات و معاملات کے واضح فتاوی میں ملاحظہ کریں گے ۔ وہ تحریر فرماتےہیں ۔

ہم آخر میں اختصار کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان واضح فتوؤں کے استنباط میں ہم نے جن عظیم مصادر پر اعتماد کیا ہے وہ قرآن مجید اور وہ حدیث شریف سے عبارت ہیں اور موثق لوگوں سے منقول ہے خواہ ان کا کوئٰی بھی مذہب رہاہو ۔ ( الفتاوی الواضحہ الشہید باقر الصدر ص۹۸)

لیکن قیاس و استحسان پر اعتماد کرنا ہم شرعی نقطہ نظر سے جائز نہیں سمجھتے ہیں۔

ہاں دلیل عقلی میں مجتہدین اور محدثٰین کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا اس پر عمل


کرنا جائز ہے یا نہیں۔

اگر چہ ہم اس بات کوقبول کرتے ہیں کہ اس پر عمل رنا جائز ہے لیکن ہمیں ایسا کوئی حکم  نہیں ملتا کہ جس کا اثبات ان معنوں میں دلیل عقلی پر موقوف ہو بلکہ جو حکم دلیلِ عقلی سے ثابت ہوتا ہے وہی کتاب وسنت سے ثابت ہوتا ہے۔

اجماع کتاب وحدیث کی طرح مصدر نہیں ہے اور نہ ہی اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ، ہاں بعض حالات میں اجماع اثبات کا وسیلہ قرار پاتاہے ۔

اس  طرح کتابِ (خدا) اور سنتِ (نبی (ص)) ہی مصدر ہیں ، دعا ہے کہ خداوند عالم ہمیں ان کے متمسکین میں قرار دے بے شک جس نے ان کا دامن تھام لیا اس نے عروۃ الوثقی کو پکڑ لیا کہ جس میں کوئی خدشہ نہیں ہے اور خدا سننے اور جاننے والا ہے۔

جی ہاں ہمیں گذشتہ اور موجودہ شیعوں میں یہی صفت ملتی ہے وہ فقط کتاب و سنت پر عمل کرتے ہیں ۔ ان میں سے کسی ایک کا فتوی بھی آپ کو ایسے نہیں ملے گا جو قیاس و استحسان کا نتیجہ ہو۔

چنانچہ امام جعفر صادق(ع) اور ابوحنیفہ کا واقعہ مشہور ہے کہ امام صادق (ع) نے کس طرح ابوحنیفہ کو قیاس آرائی سے منع کیا تھا اور فرمایا تھا:

دینِ خدا مٰیں قیاس سے کام نہ لو۔ کیونکہ جب شریعت میں قیاس آرائی ہوتی ہے تو مٹ جاتی ہے اور سب سے پہلے ابلیس نے یہ کہہ کر قیاس کیا تھا کہ میں اس (آدم (ع)) سے بہتر وافضل ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔

حضرت علی(ع) کے زمانہ سے لے کر آج تک یہی شیعوں کےنزدیک شریعت کےسرچشمے ہیں ۔ اہلِ سنت والجماعت  کے مصادرِ تشریع کیا ہیں؟


اہلِ سنت والجماعت کے منابع تشریع

جب جہم اہلِ سنت والجماعت کے منابع تشریع کی تحقیق کریں گے تو معلوم ہوگا کہ بہت سی چیزیں قرآن وحدیث کی حدود سے نکل گئی ہیں۔

کتاب وسنت کے علاوہ ان  کے مصادر تشریع ، سنت خلفائے راشدین ، سنت صحانہ، سنت تابعین ، علما کی رائے ، سنت حکام کہ جس کو اہلِ سنت صوافی الامر کہتے ہیں، قیاس ، استحسان، اجماع اور سدباب الذرائع ہیں ۔

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اہلِ سنت کے نزدیک مصادر تشریع دس ہیں۔

اور ہر ایک سے دینِ خدا میں حکم لگاتے ہیں۔ تاکہ ہماری بات دلیل کے بغیر نہ رہے کو ئی ہم پر  مبالٖغہ آرائی کا الزام نہ لگائے۔ اس لئے ہم ان ہی کی کتابوں اور اقوال سے دلیلیں پیش کریں گے تاکہ قارئین پر  حقیقت واضح ہو جائے۔

پہلے دو مصدروں ( کتاب و سنت) کے سلسلہ میں ہمارا اہلِ سنت والجماعت سے کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ متفق علیہ ہیں بلکہ یہ ایسا واجب ہے جس پر عقل و نقل اور اجماع


دلالت کررہی ہیں اور خدا کے اس قول کے مصداق ہیں۔

جو رسول(ص) تمھیں دیں اسے لے لو اور جس سے روک دیں اسے سے رک جاؤ ۔ (حشر/۷)

اور طاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اس کے رسول(ص) کی ۔ ( مائدہ/۹۲)

اور جب خدا اور اس کا رسول(ص) فیصلہ کردیں۔ ( احزاب/۳۶)

اور بہت سی واضح آیات اس بات پر دلالت کررہی ہیں کہ کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) سے احکام اخذ کرنا واجب ہے۔

لیکن اہل سنت سے ہمارا ان  مصادر کے بارے میں اختلاف ہے جو انھوں نے اپنی طرف سے ایجاد کر لیئے ہیں۔

اوّلا:۔ سنتِ خلفائے راشدین

سنتِ خلفائے راشدین پر اہلِ سنت حسب ذیل حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ:

عليکم بسنتی و سنه الخلفاء المهديين الراشدين تمسکوا بها وعضوا بالنواجذ (ترمذی ، ابن ماجه،بیهقی اوراحمدبنحنبل)

" تم پر میری اور سنتِ خلفائے راشدین کا اتباع واجب ہے سنتِ خلفاء سے تمسک اختیار کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔

ہم اپنی کتاب " مع الصادقین " ہوجاؤ سچوں  کے ساتھ " میں یہ لکھ چکے ہیں کہ اس حدیث میں خلفائے راشدین سے مراد ائمہ اہلِ بیت(ع) ہیں یہاں میں ان لوگوں کے لئے چند دلیلین اور پیش کرتا ہوں جو اس بحث کو نہیں دیکھ سکے ہیں۔

بخاری و مسلم بلکہ تمام محدثین نے نقل کیا ہےکہ رسول اللہ(ص) نے اپنے خلفا کی تعداد بارہ (۱۲)  بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:


الخلافاء من بعدی اثناء عشر کلهم من قريش

میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے وہ سب قریش سے ہوں گے اس حدیث کی دلالت اس  بات پر ہے کہ نبی(ص) کی مراد ائمہ اہلِ بیت(ع) ہیں وہ حکام مراد نہیں ہیں جنھوں نے خلافت  غصب کرلی تھی۔

کوئی بھی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس حدیث سے مراد خواہ ائمہ اہلِ بیت(ع) ہوں ۔ جیسا کہ شیعہ کہتے ہیں یا چار خلفائے راشدین ہوں جیسا کہ اہل سنت کہتے ہیں۔ مصادر تشریع تین ہیں۔ قرآن ، سنت ، اور سنتِ خلفاء۔

اہلِ سنت کے نقطہ نظر سے یہ بات صحیح ہے جبکہ شیعوں کے نقطہ نظر سے غلط ہے۔ کیونکہ ائمہ اہلِ بیت(ع) اپنی رائے  واجتہاد سے شریعت بناتے جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں بلکہ وہ اپنے جد رسول(ص) کے اقوال کو دھراتے ہیں جو کہ انھوں نے وقت ضرورت کے لئے محفوظ کر رکھے ہیں۔

لیکن اہلِ سنت والجماعت کی کتابیں ابوبکر و عمر کی سنت کے استدلال سے بھری پڑی ہیں بالکل ایسے ہی جیسے اسلامی مصدر ، خواہ وہ کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کے مخالف ہی کیوں نہ ہو۔

اور جو چیز  ہمارے اس یقین کو مزید مستحکم بناتی ہے کہ حدیثِ نبی(ص) سے ابوبکر و عمر مراد نہیں ہیں، وہ یہ ہے کہ حضرت علی(ع) نے ان کی سنت پر عمل کرنے سے اس وقت منع کردیا تھا جب صحابہ نے خلافت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ شیخین کی سنت پر عمل کرنے کا وعدہ کریں تو ہم خلافت آپ کو دیتے ہیں۔

اگر خلفائے راشدین سے رسول (ص) کی مراد ابوبکر وعمر ہوتے تو علی(ع)  رسول(ص) کی بات کو رد نہیں کرسکتے تھے اور سنت ابوبکر عمر پر عمل کرنے سے انکار نہیں کرسکتے تھے۔ پس حدیث کی دلالت اس بات پر ہے کہ ابوبکر وعمر خلفائے راشدین میں شامل نہیں ہیں۔


جب کہ اہلِ سنت والجماعت ابوبکر و عمر اور عثمان ہی کو خلفائے راشدین کہتے ہیں کیوں کہ وہ پہلے علی(ع) کو خؒیفہ ہی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ہاں بعد میں زمرہ خلفا میں شامل کرلیا تھا۔

جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اور منبروں سے علی(ع) پر لعنت کی جاتی تھی وہ سنت علی(ع) کا کیونکر  اتباع  کرسکتے تھے۔؟؟!

اور جب ہم جلال الدین سیوطی کی تاریخ الخلفا والی عبارت کا مطالعہ کریں گے ۔ تو یہ بات واضح ہوجائےگی کہ ہمارے مسلک صحیح ہے۔

سیوطی حاجب بن خلیفہ سے نقل کرتے ہیں میں نے عمر بن عبدالعزیز کو ان کی خلافت کے زمانہ میں خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ۔انھوں نے اپنے خطبہ میں فرمایا : آگاہ ہوجاؤ جو رسول(ص) اور ان کے دو دوستوں کی سنت ہے وہ دین ہے ہم اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کی حد میں رہتے ہیں اور ان دونوں کی سنت کے علاوہ کسی کی بات نہیں مانتے۔( تاریخ الخلفا ص۱۶۰)

حقیقت تو یہ ہے کہ چوٹی کے صحابہ اور اموی و عباسی حکام نے اسی بات کو رواج دیا کہ ابوبکر و عمر اور عثمان کی سنت دین ہے۔ اسی پر عمل کیا اور اسی کے دائرہ میں محدود رہے۔ اور جب خلفائے ثلاثہ نے سنت رسول(ص) پر پابندی لگادی جیسا کہ گذشتہ صفحات میں ہم  عرض کر چکے ہیں تو پھر ان ہی لوگوں کی بنائی ہوئی سنت تھی ۔جس پر عمل ہوتا تھا وہی احکام لائق اتباع ہوتے تھے جن کا وہ حکم دیتے تھے۔

ثانیا عام صحابہ کی سنت

اس بات پر بہت سی دلیلیں موجود ہیں کہ اہلِ سنت والجماعت عام صحابہ کی سنت کی اقتداء کرتے ہیں۔

اور اس پر ایک جھوٹی حدیث سے حجت قائم کرتے ہیں اس موضوع پر ہم " مع الصادقین میں سیر حاصل بحث کرچکے ہیں۔ وہ حدیث یہ ہے:


اصحابی کالنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم﹒

میرے صحابہ کی مثال ستاروں کی سی ہے جس کی بھی تم اقتداء کرو  گے ہدایت پاجاؤ گے۔

ابن قیم جوزیہ نے اس حدیث سے صحابی کی رائے کی حجیت قائم کی ہے ( اعلام المرقعین ج۴ ص۱۲۲)

شیخ ابوہریرہ نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے  چنانچہ وہ کہتے ہیں۔

یقینا ہم نے تمام فقہائے اہلِ سنت کو صحابہ کے فتوؤں پر عمل پیرا پایا ہے پھر دوسرے پیرگراف میں تحریر فرماتے ہیں۔

جمہور کا مسلک یہ ہے کہ وہ صحابہ کے اقوال اور فتوؤں کو حجت سمجھتے ہیں جب کہ شیعوں کا مسلک اس کے بر خلاف ہے۔ ابنِ قیم جوزیہ چھیالیس وجوہ سے جمہور تائید کرتا ہے اور وہ سب قوی ہیں۔ ( یہ شیخ ابو زہرہ کا دوسرا اعتراف ہے جو ہمارے اس قول کی تاکید کرتا ہے شیعہ شریعتِ الہی میں کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کے سوا کسی اور کو داخل نہیں کرتے)

شیخ ابوہریرہ سے ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ چیز کیسے قوی حجت بن سکتی ہے جو کتاب  خدا  اور سنتِ رسول(ص) کے مخالف ہوتی ہے؟!

ابنِ قیم نے جتنی بھی دلیلیں پیش کی ہیں وہ بیت عنکبوت کی طرح کمزور اور رکیک ہیں اور پھر  موصوف نے تو خود ہی انھیں یہ کہہ کر باطل کردیا ہے۔

لیکن شوکانی کتہے ہیں : صحابہ کا قول حجت نہیں ہے کیوں کہ خدا نے اس امت میں ہمارے نبی محمد (ص) کے علاوہ کسی کو مبعوث نہیں کیا ہے۔ اور صحابہ اور ان کے بعد والے اس نبی کی شریعت کے اتباع  کے سلسلہ میں مساوی طور پر مکلف ہیں یعنی کتاب و سنت میں جو کچھ ہے اس کا اتباع اور اس پر عمل کرنا سب کے لئے واجب ہے۔ پس  جو  شخص دینِ خدا میں کتاب خدا اور سنتِ رسول(ص) کےعلاوہ کسی اور چیز کو حجت تسلیم کرتا ہے تو وہ دینِ خدا کے بارے


میں ایسی بات کتہا ہے جو کہ ثابت نہیں ہے بلکہ یہ شرعی طور پر ثابت ہے کہ خدا نے ایسی باتوں کا حکم نہیں دیا ہے۔( کتاب شیخ ابوہریرہ ص۱۰۲)

قابلِ سلام ہیں شوکانی کہ جنھوں نے حق کہا اور  صداقت سے کام لیا اور اپنے مذہب سے متاثر نہیں ہوئے ان کا قول ائمہ اطہار(ع) کے قول کے موافق ہے اگر ان کے اعمال ان کے اقوال کے مطابق  ہو ں گے تو خدا  ان سے راضی ہوگا اور انھوں نے خدا کو راضی کر لیا ہوگا۔

ثالثا : سنت تابعین ، علماء الاثر

اسی طرح اہلِ سنت والجماعت تابعین کی رایوں پر عمل کرتے ہیں اور تابعین کو علما ء الاثر کے نام سے یاد کرتے ہیں جیسے اوزاعی، سفیان ثوری، حسن بصری، اور ابنِ عینیہ وغیرہ اہلِ سنت ائمہ اربعہ کے اجتہادات کو بھی بسر و چشم قبول کرتے ہیں ان ہی کے مقلد ہیں باوجودیکہ یہ ائمہ اربعہ تبع تابعین میں شمار ہوتے ہٰیں ۔ اور پھر خود صحابہ نے متعدد  بار اپنی خطاؤوں کا اعتراف کیا ہے اور وہ ایسی بات کہی ہے جنہیں وہ نہیں جانتے تھے۔

ابوبکر نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا : میں عنقریب اپنی رائے سے جواب دوںگا اگر جواب صحیح ہوگا تو وہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہوگا تو وہ میری یا شیطان کی طرف سے ہوگا ۔ عمر کہتے ہیں:

شاید میں تمھیں ایسی چیزوں کا حکم دوں کہ جن میں صلاح وفلاح نہ ہو اور ممکن ہے ایسی چیزوں سے منع کروں جن مجیں تمھاری صلاح ہو۔ ( تاریخ بغداد جلد ۱۴ ص۸۱، ایسے لوگوں سے ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اتنے کم علم والوں کو تم اس ذات والا صفات پر کیوں ترجیح دیتے ہو جس کے پاس اوّلین و آخرین کا علم ہے  اور امت کو اس کی رہبری سے کیوں محروم کردیا اور اسے فتنہ و جہالت اور گمراہی میں کیوں چھوڑدیا ۔)جب صحابہ کے مَبلغ علم کی یہ کیفیت ہےکہ وہ ظن کا اتباع کرتے ہیں جو کہ حق کے سلسلہ


میں ذرہ برابر فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے تو پھر اسلام سے آشنا کوئی مسلمان ان کے افعال و اقوال کو اپنے لائحہ عمل کیسے بنا سکتا ہے اور ان ( اقوال و افعال) کو مصدر شریعت کیسے تسلیم کرسکتا ہے کیا اس کے بعد اصحاب کالنجوم والی حدیث کی کوئی اہمیت باقی بچتی ہے۔

اور جب رسول(ص) کی مجلس میں حاضر ہونے والے اور ان سے علم حاصل کرنے والے صحابہ کی یہ کیفیت ہے تو صحابہ کے بعد آنے والے افراد کا کیا حال ہوگا ظاہر ہے وہ بھی فتنہ میں ان کے شریک ہوجائیں گے۔

اور جب ائمہ اربعہ دین خدا میں اپنی رائے سے کام لیتےہیں اور صریح طور پر خطا کے امکان کا اظہار کرتے ہیں، ان میںسے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میرے عقیدہ کے لحاظ سے یہ صحیح ہے اور کبھی میرے غیر کی رائے صحیح ہوتی ہے۔اس صورت میں مسلمانوں کے لئے یہ کیسے جائز ہوگیا کہ وہ ان کی تقلید کو اپنے اوپر لازم کرلیں ؟!

رابعا: سنتِ حکام

سنت حکام کو اہل سنت والجماعت صوافی الامر کہتے ہیں اور اس پر خداوندِ عالم اس قول سے استدلال کرتے ہیں:

أَطيعُوااللَّهوَأَطيعُواالرَّسُولَوَأُولِيالْأَمْرِمِنْکمْ(نساء /۵۹)

( اس موضوع کو ہم اپنی کتاب " مع الصادقین " میں دلیلوں سے واضح کرچکے ہیں کہ اولی الامر سے مراد ائمہ اطہار(ع) ہیں ، غاصب حکام مراد نہیں ہیں کیوں کہ یہ محال ہےکہ خدا ظالموں ، فاسقوں اور کافروں کی اطاعت کا حکم دے۔)

اہلِ سنت تما حکام کو اولی الامر تسلیم کرتے ہیں خواہ وہ حکام زبردستی ان پر مسلط ہوگئے ہو ں ان کا عقیدہ ہے کہ ان حکام کو خدا نے اپنے بندوں کا امیر قرار دیا ہے لہذا ان کی اطاعت کرنا اور ان کی سنت پر عمل کرنا واجب ہے۔


ابنِ حزمظاہری نے سختی سے اہل سنت کےاس نظریہ کی تردید کی ہے وہ کہتے ہیں تمھارے نظریہ کے مطابق امراء کو یہ حق ہےکہ وہ شریعت سے جس حکم خدا و رسول(ص) کو چاہیں باطل کردیں ۔ اسی طرح حکام کو شریعت میں اضافہ کا حق حاصل ہے۔ کیوں کہ کمی بیشی میں کوئی فرق نہیں ہے اور جس کو یہ نظریہ ہے وہ اجماع کے لحاظ سے کافر ہے۔( ابن حزم ملخص ابطال القیاس ص۳۷)

یہتقیر بلاکل غلط ہے اور فحش غلطی ہے: کیوں کہ داؤد بن علی اور ان کے پیروکاروں کو چھوڑ کر امت کا اس بات پر اجماع ہےکہ امت کے اولی الامر ( یعنی حاکموں ) کو  یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان امور میں اپنی رائے اور اجتہاد سے فیصلہ کریں جن کے بارے میں نص نازل نہیں ہوئی ہے۔

ہاں اگر انھیں نص کو علم ہے تو پھر وہ اپنی رائے اور اجتہاد سے حکم نہیں لگاسکتے ۔پس یہ ظاہر ہوگیا کہ ان کو شریعت میں اضافہ کرنے کا حق ہے لیکن صرف جائز چیز کا اضافہ کرسکتے  ہیں مگر شریعت کی کسی بھی چیز کو باطل نہیں قرار دے سکتے۔

ذہبی سے ہماری بھی ایک گذارش ہے اور وہ یہ ہے کہ جناب ذہبی نے اجماع امت کا دعوا کیا ہے اور خود آپ ہی نے داؤد بن علی اور ان کے پیروکاروں کو مستثنی قرار دیا ہے۔ لیکن داؤد بن علی کے پیروکارں کا نام آپ نے تحریر نہیں کیا ہے؟ اور پھر اس سے آپ نے شیعیان ائمہ کیوں مستثنی نہیں کیا ؟ کیا وہ آپ کے نزدیک ملت اسلامیہ میں شامل نہیں ہیں؟! یا اس چیز کے اظہار سے تمھیں ان حکام کی چاپلوسی روکے ہوئے تھی کہ جن کے لئے تم نے شریعت میں اضافہ کو بھی مباح قرار دیدیا تھا۔ تاکہ وہ آپ کی شہرت و عطایا میں اضافہ کردیں؟!

اور جو لوگ اسلام کے نام پر مسلمانوں کے حاکم بنے بیٹھے تھے کیا وہ نصِ قرآن و نصِ سنت سے واقف تھے کہ جو وہ اس کے حدود میں رہتے؟

اور  جب شیخین ابوبکر و عمر نے جان بوجھ کر نص قرآن و ںصِ سنت کی مخالفت کی تھی۔


جیسا کہ ہم گذشتہ بحثوں میں بیان کرچکے ہیں۔ تو ان کے بعد آنے والا اس فعل سے محفوظ کیسے رہ سکتا تھا؟

اور جب اہل سنت والجماعت کے فقہاء امراء  و حکام کے بارے میں یہ فتوی دیتے ہیں کہ وہ جو چاہیں دینِ خدا  میں رد و بدل کریں پھر ذہبی کا ان کی تقلید کرنا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔

طبقات فقہا میں سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا: میں نے عبداللہ ابن عمر سے ایلا کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا ، تم یہ چاہتے ہو کہ یہ کہتے پھرو کہ ابنِ عمر نے کہا ہے: میں نے کہا ہاں ہم آپ کے قول سے راضی اور مطمئن ہو جائیں گے۔ ابن عمر نے کہا : اس سلسلہ میں امراء ہی نہیں بلکہ رسول(ص) کہتے ہیں :

سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ رجاء بن حیواۃ شام کے بڑے فقہا میں شمار  ہوتے تھے۔ لیکن جب میں نے اسے ازمایا تو میں نے انھیں شامی پایا کیونکہ اس نے کہا: اس سلسلہ میں عبدالملک بن مروان نے ایسے ، ایسے فیصلہ کیا ہے۔ ( طبقات الفقہہاء ترجمہ ،سعید بن جبیر)

طبقات ابن سعید میں مسیب بن رافع کے بارے میں مرقوم ہے کہ اس نے کہا۔ جب کوئی فیصلہ آئے اور اس کا قرآن و سنت میں ذکر نہ ہو تو اسے" صوافی الامراء" کی طرف لوٹا دینا چاہئیے۔ پس جس چیز پر ان صاحبان علم کا اتفاق ہوجائے گا۔ وہ  حق ہے( طبقات ابن سعید، جلد۶، ص۱۷۹)

ہم کہتے ہیں کہ اگر حق ان کی خواہشِ نفس کا اتباع کرتا تو  آسمان و زمین تباہ ہوجاتے بلکہ ان کے پاس حق آیا لیکن ان میں سے اکثر حق سے بیزار ہیں۔

خامسا: اہل سنت کےدیگر مصادر تشریع

ان میں سے ہم قیاس ، استحسان ، استصحاب ، سد الذرائع اور اجماع کو بیان کریں گے اجماع تو ویسے بھی ان کے یہاں کافی شہرت یافتہ ہے۔


امام ابو حنیفہ نے احادیث رد کر کے قیاس پر عمل کرنے میں شہرت پائی جبکہ مالک نے اہل مدینہ کے رجوع اور سد باب الذرائع سے مشہور ہوئے شافعی نے صحابہ کے فتؤوں کی طرف رجوع کرنے میں نام پایا، ان فتؤوں میں شافعی نے درجات قائم کئے اولیت عشرہ مبشرہ کے فتوؤں کو دی پھر ان کے بعد مہاجرت میں سبقت کرنے والوں کو رکھا، پھر انصار کو اور آخر  میں طلقا یعنی فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے کی نوبت رکھی گئی۔( مناقب امام شافعی جلد۱ ص۴۴۳)

چنانچہ امام احمد بن حنبل نے اجتہاد سے چشم پوشی اور فتوؤں سے علیحدگی اور صحابہ کی رائے پر عمل نہ کرنے میں شہرت پائی۔

خطیب بغدادی نے امام احمد بن حنبل سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے ان ( احمد بن حنبل) سے حلال و حرام کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: خدا تمھیں عافیت عطا کرے کسی اور سے پوچھ لو، اس شخص نے کہا: ہم تو صرف آپ سے جواب چاہتے تھے۔ پھر احمد نے کہا خدا تمھیں عافیت عطا کرے کسی اور  سے دریافت کرلو۔ فقہا سے پوچھ لو، ابو ثور سے معلوم کرلو۔ ( تاریخ بغداد جلد۲، ص۶۶)

ایسے ہی مروزی نے امام احمد بن حنبل سے نقل کیا ہے:

علم حدیث سے تو ہم مطمئن نہیں ہیں لیکن شرعی مسائل کے بارے میں ، میں نے یہ طے کیا ہے کہ جو بھی مجھ سے کوئی مسئلہ معلوم کرے گا میں اس کا جواب نہیں دوں گا۔( مناقب امام احمد بن حنبل ص۵۷)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ احمد بن حنبل ہی نے صحابہ کے عادل ہونے کی فکر  پیش کی تھی اسی لئے اہل سنت والجماعت میں ان کا مذہب زیادہ مقبول ہے ۔ خطیب بغدادی اپنی تاریخ کی جلد۲ میں محمد بن عبدالرحمن الصٰیر فی سے نقل کیا ہے کہ انھوں


نے کہا :

میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا:

جب اصحابِ رسول(ص) کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف نظر آئے تو کیا اس وقت ہم ان کے اقوال کا جائزہ لے سکتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ حق پر کون ہے اور اسی کا اتباع کیا جائے؟

امام احمد بن حنبل نے کہا:

اصحابِ رسول(ص) کا تجزیہ کرنا جائز نہیں ہے۔ میں نے کہا پھر ایسے موقع پر ہم کیا کریں؟

کہا ان ( صحابہ) میں سے جس کی  چاہو تقلید کرلو۔

قارئین فیصلہ کریں، کیا اس شخص کی تقلید کرنا جائز ہے جو حق و باطل میں تمیز نہ کرپاتا ہو؟ جناب شیخ کے نقش قدم یوں بھی اور یوں بھی احمد بن حنبل فتوی دینے کے مخالف بھی ہیں اور فتوی دیتے بھی ہیں اور کہتے ہیں:

جس صحابی کو تم دوست رکھتے ہو اسی کی تقلید کرلو لیکن راہ صواب کے لئے ان کے اقوال کا تجزیہ و تحلیل نہ کرو۔

اہلِ سنت والجماعت اور شیعوں کے نزدیک اسلامی تشریع کے مصادر کے مختصر  تذکر ہ کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سنت نبوی(ص) کی حدود میں مقید   رہنے والے فقط شیعہ ہیں۔ وہ آنِ واحد کے لئے بھی اس سے جدا نہیں ہوئے یہاں تک سنتِ نبی(ص) ان کی علامت و شناخت بن گئی جیسا کہ ان کے دشمن بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔

حالانکہ اہلِ سنت والجماعت ہر ایک صحابی ، تابعی اور حاکم کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔


ان کی کتابوں اور اقوال خود ان کے خلاف گواہ ہیں آنے والی فصل میں انشاءاللہ ہم ان کے افعال کے سلسلہ میں بحث کریں گے اور یہ بتائیں گے کہ ان کا کوئی عمل سنتِ نبی(ص) کے موافق نہیں ہے۔

اس بات کا فیصلہ ہم قارئین ہی پر چھوڑتے ہیں کہ کون اہل سنت ہے اور کون بدعت کار؟


حاشیہ نا گزیر ہے

اس بات کی طرف اشارہ کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مصادر تشریع میں سے شیعہ کتاب و سنت کے پابند ہیں اور کسی چیز  کو مصادر تشریع میں شامل نہیں کرتے کیوں کہ جن مسائل کی لوگوں کو ضرورت ہوسکتی ہے ان کے بارے میں ان کے ائمہ کے پاس کافی نصوص ہیں۔

اس بات سے بعض لوگوں کو تعجب ہوتا ہے وہ ائمہ اہلِ بیت(ع) کے پاس ایسے نصوص کے وجود کو بعید از عقل تصور کرتے ہیں کہ جو قیامت تک لوگوں کی ضرورتوں کو ہر زمانہ میں پورا کرتی رہیں گی۔

قارئین کے ذہن سے اپنی بات قریب کرنے کے لئے چند امور کی طرف اشارہ کررہا ہوں ۔ جب کسی مسلمان کا یہ اعتقاد ہو جائے کہ خداوندِ عالم نے محمد(ص) کو ایسی شریعت ہے ساتھ مبعوث کیا ہے جو کہ گذشتہ شریعتوں کو کامل کرنے والی اور ان کے اوپر حاکم ہے اور اس لئے بھیجا ہے تاکہ روئے زمین پر انسانیت کا راستہ مکمل ہوجائے اور اس کے بعد وہ حیات ابدی کی طرف پلٹ جائے۔


وہ دہی جس نے اپنے رسول(ص) کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ وہ تمام ادیان پر غالب آجائے۔(توبہ/۳۳)

اور جب کسی مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا کا ارادہ یہ ہے کہ انسان اپنےتمام اقوال و افعال میں خدا کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردے اوراپنے امور کی زمام اسی پر چھوڑدے ۔

بے شک دین خدا کے نزدیک اسلام ہی ہے۔( آل عمران/۱۹)

اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین لائے گا تو وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ ( آل عمران/۸۵)

اس لحاظ سے احکامِ خدا کا کامل ہونا اور اس کے دامن پر اس چیز کا ہوںا  ضروری ہے جس کی ضرورت  انسان کو اپنے دشوار راستہ میں پیش آسکتی ہے تاکہ وہ منزل مقصود تک پہونچانے پر اس چیز کا مقابلہ کرسکے جو رکاوٹ بنتی ہے۔

ان ہی تمام باتوں کی بنا پر خداوند عالم نے یہ تعبیر بیان کی ہے:

ہم نے اس کتاب میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے۔(انعام/۳۸)

اس بنیاد پر یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی جاسکتی ہے کہ تمام چیزیں قرآن مجید میں موجود ہیں لیکن انسان اپنی محدود عقل کی بنا پر ان تمام چیزوں کا ادراک نہیں کرپاتا ہے ۔ جن کو  خدا نے اپنی حکمت بالغہ سے بیان کردیا ہے جب کہ وہ اہلِ معرفت پر مخفی نہیں ہیں۔ اسی لئے ارشاد ہے:

تمام اشیاء خدا کی تسبیح کرتی ہیں لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ہو۔ ( اسراء/۴۴)

ان من شئی ،اس مفہوم پر دلالت کررہا ہے کہ انسان ، حیوان سب ہی تسبیح کرتے ہیں اور کبھی انسان حیوان و نبات کی تسبیح کو سمجھتا ہے۔ لیکن اس کی عقل پتھر وغیرہ کی تسبیح کو نہیں سمجھ پاتی ۔ مثلا ارشاد خدا ہے۔


ہم  نے پہاڑوں کو ان کے تابع کردیا تھا پس وہ صبح و شام تسبیح کرتے ہیں۔ ( نحل/۱۸)

جب ہم ان چیزوں کو تسلیم کرتے ہیں اور ان پر ایمان رکھتے ہیں تو اس بات کو تسلیم کرنا بھی ناگزیر ہے کہ کتابِ  خدا میں وہ تمام احکام موجود ہیں جن کہ قیامت تک لوگوں کو ضرورت پیش آتی رہے گی لیکن ہم اس وقت تک اس کا ادراک اور اس کے معانی سے آگہی حاصل نہیں کرسکتے جب تک رسول(ص) سے رجوع نہ کریں گے جیسا کہ ارشاد ہے۔

اور ہم نے آپ(ص) پر کتاب نازل کی جو ہر چیز کو بیان کرنے والی ہے۔ ( ںحل/ ۸۹)

اور جب ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خدانے اپنے رسول (ص) کو تمام چیزیں  بتادی تھیں تاکہ وہ لوگوںکو بتائیں کی ان کےمتعلق کیا نازل ہوا ہے تو ہمیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ رسول(ص) نے وہ تمام چیزیں بیان کردی تھیں جب کی لوگوں کو قیامت تک ضرورت پیش آسکتی ہے۔

اگر وہ بیان ہم تک نہیں پہنچا ہے یا آج ہم اس سے واقف نہیں ہیں تو اس میں ہمارا ہی قصور ہے۔ یہ ہماری جہالت کا نتیجہ ہے۔ یا ان لوگوں کی خیانت کا نتیجہ ہے جو ہمارے اور رسول(ص) کےدرمیان واسطہ ہیں یا صحابہ کی جہالت کا نتیجہ ہےکہ انھوں نے رسول(ص) کی بیان کردہ چیزوں کو یاد نہیں کیا۔

لیکن خداوندِعالم ان احتمالات کے امکان یا ان کےواقع ہونے کو جانتا تھا۔ لہذا اس نے اپنی شریعت کو ضائع نہیں ہونے دیا۔ پس اس نے اپنے مخصوص بندوں میں سے ائمہ منتخب کئے اور ان کو علم کتاب کا وارث بنایا تاکہ خدا لوگوں کی حجت باقی نہ رہے۔

چنانچہ ارشاد ہے:

پھر ہم نے اپنے مخصوص بندوں میں سے وارثِ کتاب انھیں بنایا جنھیں ہم منتخب کرچکے تھے۔(فاطر/۳۲)


رسول(ص) نے لوگوں کی ضرورت کی ہر چیز کو بیان کیا اور آپ (ص) کے بعد جس چیز کی ان کو قیامت تک ضرورت پیش آسکتی تھی اس کے بیان کے لئے اپنے وصی علی(ع) کو مخصوص کیا یہ وہ  فضیلتیں تھیں جن سے تمام صحابہ کےدرمیان علی(ع) سرفراز تھے، ذہانت میں سب سے آگے، زد و فہم قوی حافظہ اور تمام چیزوں کو سننے کے بعد محفوظ رکھتے تھے لہذا نبی(ص) نے ان تمام چیزوں کی علی(ع) کو تعلیم دی جن کا آپ(ص) کو علم تھا اور امت سے بتادیا کہ علی(ع) وہ باب ہیں جن سے سب کچھ مل سکتا ہے اور اگر کوئی کہنے والا یہ کہتا ہے کہ خدا نے رسول(ص) کو تمام لوگوں کا نبی(ص) بناکر بھیجا ہے تو پھر رسول(ص) کو اس بات کا حق نہیں ہےکہ وہ بعض لوگوں کو اپنے علم سے سرفراز کریں اور بعض کو اس سے محروم رکھیں تو ہم کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں رسول(ص) کو کوئی اختیار  نہیں ہے بلکہ وہ حکم کے بندے ہیں وہ اسی حکم کا نافذ کرتے ہیں جن کی ان کو وحی کی جاتی ہے، خدا نے انھیں اس کا حکم دیا تھا۔ کیونکہ اسلام ہی فقط دین توحید ہے اور ہر چیز کے اعتبار سے وحدت پر مبنی ہے۔ پس لوگوں کے اتحاد کے لئے ایک ہی قائد کا ہونا ضروری ہے اور یہ وہ بدیہی بات جس کو کتابِ خدا نے ثابت کیا ہے اور عقل جس کا حکم دیتی ہے۔

خداوند عالم کا ارشاد ہے:

اگر زمین و آسمان میں دو خدا ہوتے تو دونوں برباد ہوجاتے۔ ( انبیاء/ ۲۲)

نیز فرمایا ہے:

اس کے ساتھ اور کوئی خدا نہیں ہے ورنہ ہر خدا اپنی اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی  کرتا۔ ( المؤمنون/۹۰)

اور اسی طرح اگر خدا و رسولوں کو ایک ہی زمانہ میں مبعوث فرماتا تو لوگ ضرور دو امتوں میں تقسیم ہوجاتے اور وہ متحارب گروہوں میں بٹ جاتے۔


اسی طرح ہر نبی کا کوئی وصی ہوتا ہے جو اس کی امت میں اس کا خلیفہ ہوتا ہے تاکہ وہ تفرقہ و پراکنگی کا شکار نہ ہوجائے۔

قسم اپنی جان کی یہ تو فطری  چیز ہےکہ جیسے علما اور ان پڑھ مومنین و کافرین سب جانتے ہیں۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہر قبیلہ ، گروہ اور حکومت کا ایک ہی رئیس و صدر ہوتا ہے جو اس کا  قائد اور زمام دار ہوتا ہے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک وقت میں دو سرداروں کے حکم کی پیروی کریں۔

ان ہی وجوہ کی بنا پر  خدا نے ایک رسول ملائکہ میں سے اور ایک انسانوں میں سے منتخب کیا اور اپنے بندوں کی قیادت کےشرف سے انھیں سرفراز کیا اور انھیں امام بنایا  جو اس کے حکم کے مطابق ہدایت کرتے۔

ارشاد خداوند ہے:

" بے شک خدا نے آدم و نوح اور آل ابرہیم و آل عمران کو عالمین میں سے منتخب کرلیا ہے۔ (آل عمران/۳۳)

اور محمد(ص) کی ختمِ رسالت پر خدا نے جن لوگوں کو منتخب کیا وہ ائمہ نبی(ص) کی عترت میں سے ہیں اور سب کےسب آل ابراہیم (ع) سے ہیں اوران میں سے بعض ، بعض کی ذریت سے ہیں۔ رسول(ص) خدا نےان کی طرف اس طرح اشارہ کیا ہے، میرے  بعد بارہ(۱۲) خلیفہ ہوں گے وہ سب قریش سے ہوں گے( بخاری ج۸،ص۱۲۷، مسلم ج۶، ص۳، بعض روایات میں ہے کہ وہ خلفا سب بنی ہاشم سے ہوں گے ۔ خواہ بنی ہاشم سے ہوں اور خواہ قریش سے بہر حال سب نسلِ ابراہیم(ع) سے ہوں گے۔)

ہر زمانہ کا امام معین و معلوم ہے پس جو اپنے زمانہ کے امام کی معرفت کے بغیر مرتا ہے وہ جہالت کی موت مرتا ہے اور خداوند عالم جس کی امامت کے لئے منتخب فرماتا ہےاس کو پاک و پاکیزہ رکھتا ہے ۔ اسے زبور عصمت سے آراستہ کرتا ہے، علم کے خزانہ سے


مالا مال کرتا ہے اور حکمت اسی کودی  جاتی ہے جو اس کا مستحق اور اہل ہوتا ہے۔

اورجب  ہم اصل موضوع یعنی معرفت امام کا جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ ہر وہ چیز جس کی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے جیسے نصوص قرآن  و ںصوص سنت سے  احکام کا نکالنا اور قیامت میں جن چیزوں کی بشریت کو احتیاج ہوگی وہ سب ان کے پاس ہیں۔

ہم نے ائمہ اہلِ بیت(ع) کےعلاوہ ملت اسلامیہ میں سے کسی کو اس بات کا دعوی کرتے نہیں دیکھا جبکہ انھوں نے متعدد بار صریح طور پر یہ فرمایا : ہمارے پاس رسول(ص) کا املا کیا ہوا اور علی ابن ابی طالب(ع) کے ہاتھ کا لکھا ہوا، الجامعہ صحٰیفہ موجود ہے اور اس میں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی لوگوں کو  قیامت تک ضرورت ہوگی۔ یہاں تک اس میں ارش الخدش بھی مرقوم ہے۔

ہم اس صحیفہ جامعہ کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ جس کو علی(ع) اپنے ساتھ رکھتے تھے ۔نیز بخاری و مسلم نے مختصر لفظوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے اس لئے کوئی مسلمان اسےجٹھلانہیں سکتا۔

اس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیعہ ائمہ اہلِ بیت(ع) سے احکام لیتے ہیں کہ جو شریعت میں نصِ قرآن و نصِ سنت سے حکم لگاتے ہیں وہ ان ( کتاب و سنت) کے علاوہ کسی اور چیز کے محتاج نہیں ہیں اور ائمہ اثناعشر کا زمانہ کم از کم تین سو سال پر  محیط ہے۔لیکن اہل سنت والجماعت خلیفہ اوّل ہی کے زمانہ سے نصوص کے فقدان اور ان سے ان کی سربراہوں کے جاہل ہونے کی بنا پر قیاس و اجتہاد کے محتاج ہیں۔

اور پھر خلفا نے ںصوص نبوی(ص) کو نذر آتش کردیا اور اس پرعمل کرنے اورانھیں قلم بند کرنے سے منع کردیا تھا۔

انکے سردار نے تو سنت نبوی(ص) کو دیوار پر دے مارا تھا اور صاف کہدیا تھا کہ ہمارے لئے کتابِ خدا کا فی ہے جب کہ وہ احکام قرآن کے سلسلہ میں واضح ںصوص کے محتاج تھے۔

اور اس بات کو تو سب ہی جانتے ہیں کہ قرآن کےظاہری احکام بہت ہی مختصر ہیں اور


 وہ اس کے عموم میں بھی نبی(ص) کے بیان کے محتاج ہیں لہذا ارشاد ہے:

ہم نے آپ(ص) پر  ذکر نازل کیا تاکہ لوگوں کو وہ چیز بتائیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔( نحل/۴۴)

اور جب قرآن اپنے احکام و مقاصد کے بیان کے سلسلہ میں سنتِ نبوی(ص) کا محتاج ہے۔

اور جب اہل سنت والجماعت کے اقطاب نے قرآن کو بیان کرنے والی سنتِ نبی(ص) کو نذر آتش کردیا تھا  تو اس کے بعد ان کے پاس قرآن کو بیان کرنے والی ںصوص نہیں رہ گئی تھیں اور نہ ہی سنتِ نبوی(ص) کو بیان کرنے والی کوئی چیز باقی بچی تھی۔

اس لئے ناچار انھوں نے اجتہاد ، قیاس علما کے مشورے استحسان اور مصلحتِ وقت کے مطابق عمل کیا۔

بدیہی بات ہے کہ وہ نصوص کے  فقدان کی وجہ سے ان چیزوں کے محتاج قرار پائے اور ان  کے علاوہ کوئی چارہ کار نظر نہیں آیا تھا۔


تقلید و مرجعیت ، شیعوں کی نظر میں

وہ بالغ و عاقل جو خود مجتہد نہ ہو۔ یعنی شریعت کے احکام کا قرآن وسنت سے استنباط کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو۔ اس کے لئے ضروری ہےکہ وہ علم و عدل اور تقوی و زہد کے پیکر جامع الشرئط مجتہد کی تقلید کرے چنانچہ اس سلسلہ میں خدا ندِ عالم کا ارشاد ہے:

اگر تم نہیں جانتے تو صاحبان علم سے پوچھ لو۔(نحل/۴۲)

جب ہم اس موضوع پر بحث کریں گے تومعلوم ہوگا کہ شیعہ امامیہ حادثات سے با خبر تھے پس ان کے یہاں وفات نبی(ص) سے آج تک علمیت و مرجعیت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا ہے۔

شیعوں کی تقلید کا سسلسلہ ائمہ اثںا عشر تک پہونچتا ہے اور ان ائمہ کا سلسلہ تین سو سال تک ایک ہی  نہج پر  جاری رہا ۔ ان میں سے کبھی ایک نے دوسرے کے قول کی مخالفت نہیں کی ۔ کیونکہ ان کےنزدیک نصوصِ قرآن و سنت ہی لائق اتباع تھیں۔ لہذا انھوں نے کبھی قیاس و اجتہاد پر عمل نہیں کیا اگر وہ ایسا کرتے تو ان کا اختلاف بھی مشہور ہوجاتا ، جیسا کہ اہل سنت والجماعت کے ائمہ اور قائدوں کےدرمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔


ان باتوں سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ مذہب " اہل سنت والجماعت " خواہ وہ حنفی ہو یا مالکی ، شافعی ہو یا حنبلی، اس شخص کی رائے پر مبنی ہے جو زمانہ رسالت سے کافی بعد میں پیدا ہوا اور جس کا نبی(ص) سے کوئی ربط نہیں ہے۔

لیکن مذہب شیعہ امامیہ ذریٰت نبی(ص) کے بارہ(۱۲) ائمہ سے تواتر سے ثابت ہے ان میں سے بیٹا باپ سے روایت کرتا ہے۔ چنانچہ ایک امام کی حدیث ہے کہ میری حدیث میرے پدر کی حدیث ہے اور میرے والد کی حدیث میرے جد کی حدیث ہے اور میرے جد کی حدیث امیرالمؤمنین علی(ع) کی حدیث ہے اور علی(ع) کی حدیث رسول(ص) کی حدیث ہے اور رسول(ص) کی حدیث جبرئیل کی حدیث ہے اور وہ کلامِ خدا ہے۔

اگر یہ خدا کے علاوہ کسی دوسرے کا کلام ہوتا تو تم اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے (نساء/۸۲)

معصوم امام کی غیبت کے بعد سے آج تک لوگ جامع الشرائط فقیہ کی تقلید کرتے ہیں۔ اور اس زمانہ سے آج تک مستقل طور پر فقہاء کا سلسلہ چلاآرہا ہے۔ ہر زمانہ میں امت میں سے ایک یا متعدد شیعہ مراجع ابھرتے ہیں اور شیعہ ان کے رسائل عملیہ کے مطابق عمل کرتے ہیں جو کہ انھوں نے کتاب و سنت سے استنباط کئے ہیں۔ واضح رہے کہ وہ مجتہدین ان جدید مسائل کے لئے اجتہاد کرتے ہیں جو اس صدی میں علمی پیشرفت وار تقاء اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے سامنے آتے ہیں جیسے آپریشن کے ذریعہ دل نکال کر دوسرے انسان کا دل رکھنا یاجسم کے کسی بھی عضو کی جگہ دوسرے انسان کا عضو  رکھنا  یا انجکشن کے ذریعہ نطفہ منتقل کرنا یا بینک وغیرہ کے معاملات وغیرہ۔

او ر مجتہدین کے درمیان سے وہ شخص نمایان مقام پر فائذ ہوتا ہے جو ان میں اعلم ہوتا ہے اسی کو شیعوں کا  مرجع یا زعیم حوزات علمیہ کہا جاتا ہے۔

شیعہ ہر زمانہ میں اس زندہ فقیہہ کی تقلید کرتےرہے ہیں جو لوگوں کی مشکلات


کو سمجھتا ہے۔ ان کے مسائل کو اہمیت دیتا ہے چنانچہ لوگ اس سے سوال کرتے ہیں اور وہ انھیں جواب دیتا ہے۔

اس طرح شیعوں نے ہر زمانہ میں شریعتِ اسلامیہ کے دونوں اساسی مصادر یعنی کتاب و سنت کی حفاظت کی ہے اور ائمہ اثنا عشر سے منقول نصوص نے شیعہ علما کو قیاس وغیرہ سے مستغنی بنائے رکھا ہے اور پھر شیعوں نے حضرت علی بن ابی طالب (ع) ہی کے زمانہ سے تدوین حدیث کو اہمیت دی ہے خود حضرت علی(ع)  صحیفہ جامعہ کو محفوظ رکھے ہوئے تھے کہ جس میں وہ تمام چیزیں موجود تھیں جن کی قیامت تک لوگوں کو ضرورت ہوگی اور وہ صحیفہ باپ سے بیٹے کو میراث میں ملتا رہا اور وہ ایسے ہی اس کی حفاظت کرتے رہے جیسے لوگ سونے چاندی کی حفاظت کرتے ہیں۔

اس سلسلہ میں ہم شہید ّآیت اللہ باقر الصدر کا قول نقل کرچکے ہیں کہ:

ہم صرف قرآن و سنت  پر اعتماد کرتے ہیں:

ہم نے شہید صدر کی مثال پیش کی ہے ورنہ تمام شیعہ مراجع کا یہی قول ہے۔

شرعی تقلید اور دینی مرجعیت کے سلسلہ میں مختصر بحث سے یہ بات آشکار ہوجاتی ہے حقیقت میں شیعہ ہی قرآن اور ان احادیث رسول(ص) کے اہل میں جو کہ باب العلم ، عالم ربانی نبی(ص) کے بعد امت کے مرشد ثانی ، جس کو قرآن میں نفس نبی(ص) کہا گیا ہے ، سے منقول ہیں۔ ( آیت" قل تعالوا ندع انفسنا و انفسکم" کی طرف اشارہ ہے کہ نفس کی جگہ رسول(ص) علی(ع) کو لے گئے تھے۔ ملاحظہ فرمائیں مسلم باب فضائل علی علیہ السلام)

پس جو شہر میں آنا چاہتا ہے اور اس کے دروازہ سے داخل ہوتا ہے وہی شفا بخش چشم تک پہونچتا ہے، فائدہ اٹھاتا ہے اور شفا بخش علاج سے مستفید ہوتا ہے  اور اس رسی سے متمسک ہوتا ہے جس میں کوئی خدشہ نہیں ہے چنانچہ خداوندِ عالم کا  ارشاد ہے:


گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ (بقرہ ۱۸۹)

جو دروازہ کو چھوڑ کر کسی اور راستہ سے گھر میں داخل ہوتا ہے  وہ چور کہلاتا ہے اور جو گھر میں داخل نہ ہوا اور سنت نبی(ص) کو نہ پہچان سکا۔ اس  پر خدا عقاب کرے گا۔


تقلید اہل سنت والجماعت کی نظر میں

جب ہم اس موضوع ، تقلید و مرجعیت اہل سنت کی نظر میں سے بحث کرتے ہیں تو متحیر رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنا سلسلہ رسول(ص) سے جوڑتے ہیں لیکن ہم سب ہی جانتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کے ائمہ اربعہ ، ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور ابن حنبل کی تقلید کرتے ہیں اور یہ چاروں رسول(ص) کو  نہیں پہچانتے تھے اور نہ ہی ان کی صحبت میں رہے تھے۔

جبکہ علی ابن ابی طالب(ع) کی تقلید کرتے ہیں کہ جو ہمیشہ رسول(ص) کی خدمت میں رہے اور علی(ع) کے بعد جوانانِ جنت کے سردار امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) فرزندانِ نبی(ص) کی تقلید کرتے ہیں۔ پھر امام زین العابدین(ع) کی ان کے بعد ان کے فرزند باقر(ع) کی اور ان کے بعد ان کے لختِ جگر صادق(ص) کی تقلید کرتے ہیں، اس زمانہ میں اہل سنت والجماعت کا کہیں وجود بھی نہیں تھا اور نہ ہی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس وقت اہل سنت والجماعت کہاں تھے اور ان کا امام کون تھا کہ جس کی تقلید کرتے تھے اور شریعت کے حلال و حرام احکام کے سلسلہ میں نبی(ص) کی وفات سے لے کر ان مذاہب اربعہ کے وجود میں آنے تک وہ کس کی طرف رجوع کرتے تھے؟


اس کے بعد مذاہبِ اربعہ ائمہ کی زندگی کا محور بھی واضح ہو جاتا ہے ۔ اگر چہ بنی عباس کے حکام کے حسبِ منشا ائمہ اربعہ کے زمانہ میں تفاوت ہے جیسا کہ ہم گذشتہ صفحات میں بیان کرچکے ہیں۔

اس کےبعد یہ بھی ظاہر ہوجاتا ہے چاروں مذاہب ایک بڑے ہی دلفریب نعرہ "اہلِ سنت والجماعت"  کے نیچے جمع ہوگئے۔ اور ہر دشمنِ علی(ع) آکر ان ہی میں شامل ہوگیا اور خلفاء ثلاثہ اور بنی امیہ و بنی عباس کے حکام کا شیدائی بھی ان میں مل گیا۔ پس لوگوں نے زبردستی بادلِ نخواستہ اس مذہب کی ترویج کررہے تھے۔ پھر لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر چلتے ہیں۔

پھر ہم اہلِ سنت والجماعت کو ائمہ اربعہ کی موت کے بعد اپنے علما پر دروازہ اجتہاد بند کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ پس وہ مردہ لوگوں ہی کی تقلید کرسکتے ہیں۔

شاید ان کے حکام و امراء ہی نے ان کے لئے دروازہ اجتہاد اس خوف سے بند کردیا تھا کہ کہیں لوگ فکری آزادی حاصل نہ کرلیں اور ہماری حکومت و نظام کے لئے چیلنج نہ بن جائیں لہذا انھوں نے نقد و تبصرہ کا حق بھی علما سے چھین لیا۔

لہذا اہلِ سنت والجماعت ایک ایسے مردہ شخص کے مقلد اور  کے پابند ہوکے رہ گئے کہ جس سے ان کی دید و شنید اور شناسائی تک نہیں ہے کہ جس سے اس کے عدل و ورع اور علم سے مطمئن ہوجاتے وہ صرف اسلاف کے سلسلہ میں حسنِ ظن رکھتے ہیں ان میں سے ہر فریق اپنے امام کے خیالی مناقب بیان کرتا ہے جبکہ ان کے ائمہ کے فضائل خواب و خیال یا ظن و وہم کی پیداوار ہیں ہر ایک گروہ اپنی ہی چیز پر خوش ہے۔

اگر آج اہلِ سنت والجماعت کے ذہین و روشن فکر ان نے ہودگیوں کو دیکھیں کہ جو ان کے بزرگوں نے بیان کی ہیں یا ان کے اقوال میں موجود اس تناقض کا جائزہ لیں کہ  جس کے نتیجہ میں ایک دوسرے کو کافر کہنے لگا اور جنگ و جدال کا سلسلہ شروع ہوگیا، تو وہ


ضرور ان ائمہ کو چھوڑ دیں گے اور ہدایت پا جائیں گے۔

پھر ایک مسلمان دورِ حاضر میں اس شخص کی کیسے تقلید کرسکتا ہے کہ جو زمانہ کی جدتوں اور ایجاد کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور نہ ہی کسی مسئلہ سے واقف ہے۔

طے شدہ بات ہےکہ مالک اور ابوحنیفہ اور اہلِ سنت سے قیامت کے روز اظہار برائت کریں گے اور کہیں گے۔ پروردگارا ان چیزوں کے بارے میں ہماری گرفت نہ فرما جن کے ہ مرتکب ہوئے ہین ہم تو انھیں جانتے بھی نہیں ہیں اور یہ بھی ہمیں نہیں جانتے اور ہم نے کبھی ان سے یہ نہیں کہا کہ ہماری تقلید واجب ہے۔

مجھے نہیں معلوم اہلِ سنت والجماعت اس روز کیا جواب دیں گے جب خداوندِ عالم ثقلین کے بارے میں سوال کرے گا؟ پھر اس کے لئے رسول(ص) کو گواہی میں پیش کرے گا اور اہلسنت رسول(ص) کی گواہی نہیں جھٹلا سکیں گے ۔ خواہ یہ  عذر ہی کیوں نہ پیش کریں کہ ہم نے اپنے سرداروں کی اطاعت میں ایسا کیا ہے۔

اور جب ان سے خدا یہ سوال کرےگا کیا تم نے میری کتاب یا میرے رسول(ص) کی سنت میں مذاہبِ اربعہ کے اتباع میں کوئی عہد وپیمان یا محبت دیکھی ہے؟

اس کا جواب معروف ہے اس کے لئے مزید علم کی ضرورت نہیں ہے۔ کتابِ خدا  اور سنت رسول(ص) میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ کتابِ خدا اور سنت رسول(ص) میں صاف طور پر عترتِ طاہرہ(ع) سے تمسک کا حکم ہے اور ان سے روگردانی ۔ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ شاید وہ کہیں گے۔

پروردگارا ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہمیں ایک مرتبہ پھر لوٹا دے تاکہ ہم نیک کام کریں اب تو ہم کو پورا یقین آگیا ہے۔(سجدہ ۱۲)

لیکن ان کی بات قبول نہ کی جائے گی اور کہا جائے گا کہ یہ تو تم پہلے بھی کہا کرتے تھے ۔ اور رسول(ص) فرمائیں گے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑدیا۔ میں نے انھیں اپنی عترت کے


بارے میں وصیت کی اور اپنے قرابتداروں کے متعلق ان تک تیرا حکم پہنچادیا ، لیکن انھوں نے میری بیعت توڑ ڈالی اور مجھ سے قطع رحم کیا میرے بیٹوں کو ذبح کر ڈالا اور میری حرمت کو مباح سمجھا۔ انھیں میری شفاعت نصیب نہ ہو۔

ایک مرتبہ پھر ہم پر یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ " اہل سنت والجماعت نے نہ رسول(ص) کے ساتھ صلہ رحم کیا اور نہ ان کی آل سے محبت کی اور جس نے عترت کو چھوڑدیا اس نے قرآن کو  چھوڑدیا اور جس نے قرآن کو چھوڑدیا  اللہ اس کا سرپرست و مددگار نہیں ہے۔

اور جس روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹنے لگیگا اور کہے گا اے کاش میں

 بھی رسول(ص) کے ساتھ ہوگیا ہوتا ہائے افسوس ! کاش میں فلاں

 کو دوست نہ بناتا یقینا اس نے میرے پاس نصیحت آنے کے بعد

مجھے بہکایا اور شیطان تو انسان کو رسوا کرنے والا ہے۔(الفرقان ۲۷/۲۹)


خلفائے راشدین شیعوں کی نظر میں

یعنی نبی(ص) کی عترتِ طاہرہ(ع) میں سے بارہ ائمہ۔

۱: امیرالمؤمنین، امام المتقین، سفید پیشانی والوں کے پیشوا، مسلمانوں کےسردار، بادشاہ دین و شریعت، اسد اللہ الغالب علی بن ابی طالب(ع) ہیں، شہر علم کے وہ باب ہیں جنھوں نے عقلوں کو متحیر نفوس کو ہکابکا، دلوں کو ضیاء بار کردیا، اگر رسول(ص) کے بعد وہ نہ ہوتے تو دین قائم نہ رہتا۔

۲: امام ابو محّمد حسن بن علی(ع)، جوانانِ جنت کے سردار  ہیں جو کہ اس امّت میں نبی(ص) کا پھول ، عابد، زاہد اور سچے ناصح تھے۔

۳: امام ابو عبداللہ الحسین بن علی(ع) جوانان جنت کےسردار ہیں جو کہ اس امت میں نبی(ص) کا پھول، سید  الشہداء اور کشتۃ کربلا ہیں جس نے امت کی اصلاح کے لئے جامِ شہادت نوش کیا۔

۴: امام علی بن الحسین زین العابدین(ع) سید الساجدین ہیں۔


۵: امام محمد بن علی(ع) ہیں جو کہ اوّلین و آخرین کے علوم کی تہوں میں اترے ہوئے تھے۔

۶: امام جعفرِ صادق بن محمد(ع) ہیں کہ ان جیسا نہ کسی آنکھ نےدیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دلِ میں نہ خطور ہوا کہ علم و عمل اور فقہ میں کوئی ان سے بڑا بھی ہوگا۔

۷: امام موسیٰ کاظم بن جعفر(ع) ہیں جو کہ سلیل النبوّت اور معدن علم ہیں۔

۸: امام علی بن موسیٰ رضا(ع) ہیں  جنھیں بچپن ہی میں حکمت عطا کی گئی تھی۔

۹: امام محمّد بن علی الجواد(ع) ہیں جو کہ امام الجود والکرم اور اخلاق کے بلند پایہ پر فائز ہیں۔

۱۰: امام علی بن محمّد ہادی(ع) صاحبِ فضل و ہدایت ہیں۔

۱۱: امام حسن العسکری(ع) جوکہ زاہد و تقوی کے مرقع ہیں۔

۱۲: امام محمّد بن الحسن المہدی(عج) ہیں جوکہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے پر کردیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی اور ابنِ مریم ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔ خدا ان کے ذریعہ اپنے نور کو کامل کرے گا اور مؤمنوں کو فرحت بخشے گا۔یہ ہیں شیعوں کے بارہ ائمہ پس جب کہیں شیعہ اثناعشری، جعفری کا نام آتا ہے ۔ وہاں شیعہ مراد ہوتے ہیں۔ کوئی اور نہیں! کیونکہ شیعوں کے علاوہ اسلامی فرقوں میں کوئی بھی بارہ ائمہ کی امامت کا قائل نہیں ہے۔اور جب ہم ان کی شان میں نازل ہونے والی قرآنی آیات کی چھان بین کرتے ہیں جوکہ ان کے فضل و شرف ، عظمت اور طینت کی پاکیزگی اور ان کے نفوس کی طہارت اور شان و شوکت  کو بیان کرتی ہیں ، جیسے آیت مودّت، آیت تطہیر ، آیت مباہلہ، آیت ابرار و صلوٰۃ وغیرہ۔

اور جب ہم ان کی شان میں نقل ہونے والی احادیث نبوی(ص) کی تحقیق کرتے ہیں جوکہ امت پر ان کی فضیلت و تقدم اور ان کے اعلم و معصوم ہونے کو بیان کرتی ہیں۔ تو اس وقت ہم قطعی طور پر ان کی امامت کے قائل ہوجاتے ہیں اور یہ بھی تسلیم کرلیتے ہیں کہ وہی امت کے لئے باعث امان اور راہِ ہدایت ہیں۔

اور عنقریب یہ بھی آشکار ہوجائے گا کہ شیعہ ہی کامیاب ہیں کیونکہ انھوں نے اللہ کی رسی کو


 مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔ یعنی ولایتِ اہلِ بیت(ع) کے معتقد ہیں اور اس مستحکم سلسلہ سے تمسک کر رکھا ہے جس میں کہیں خدشہ نہیں ہے۔ یعنی مودّت و محبّت اہلِ بیت(ع) کو دل میں سما رکھا ہے۔ چنانچہ وہ نجات کی کشتی پر سوار ہوکر ڈوبنے اور ہلاک ہونے سے بچ گئے ہیں۔

لہذا ہم پورے یقین ومعرفت اور اعتماد کےساتھ یہ بات کہتے ہیں کہ شیعہ امامیہ ہی اہلِ سنت ہیں۔

ارشاد خداوند ہے:

" یقینا تم غفلت میں پڑے تھے پس ہم نے تمھارے سامنے سے پردہ ہٹا دیا تو آج تمھاری آنکھیں چار ہوگئیں ۔"(ق/۲۲)


خلفائے راشدین اہلِ سنت کی نظر میں

وہ چار خلیفہ جو وفاتِ رسول(ص) کے بعد تختِ خلافت پر متمکن ہوئے خلافت کی ترتیب کے لحاظ سے اہلہِ سنت والجماعت انھیں نبی(ص) کے تمام صحابہ سے افضل سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ آج اہلِ سنت کی زبان سے ہمسنتے ہیں۔ پہلے بھی ہم اس بات کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ علی بن ابی طالب(ع) کو اہلِ سنت دیگر خلفا میں بھی شمار نہیں کرتے تھے چہ جائے کہ خلفائے راشدین میں انھیں گنتے ہوں۔ عرصہ دراز کے بعد امام احمدبن حنبل نے علی(ع) کو زمرہ خلفا میں شامل کیا جچکہ اس سے قبل تمام اسلامی شہروں کے منبروں سے اور اموی بادشاہوں کی طرف سے آپ(ع) پر لعنت کی جاتی تھی۔

مزید تحقیق اور قارئین کو اس افسوس ناک حقیقت سے مطمئن کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آنے والی عبارت کو مدِّ نظر  رکھا جائے۔

ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہی کہ عبداللہ بن عمر اہلِ سنت والجماعت کے بڑے فقہا میں سے ایک ہیں۔ موطا میں مالک نے اور بخاری و مسلم نے صحاح میں ان پر بہت اعتماد کیا ہے


اور دیگر محدثین نے بھی بڑے باپ کے بیٹے ہونے کی وجہ سے انھیں اہمیت دی ہے۔

جب کہ عبداللہ بن عمر پکا ناصبی ہے۔ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب(ع) سے جس کا بغض آشکار ہے، تاریخ گواہ ہے کہ اس نے خدا، امیر المؤمنین (ع) کی بیعت سے انکار کردیا تھا۔ جبکہ دشمن خدا و رسول(ص) حجاج ملعون کی بیعت کے لئے دوڑ پڑا تھا۔ ( حجاج بن یوسف ثقفی اپنے فسق و کفر اور  جرائم میں مشہور تھا اور دوسروں کی نظروں میں دین کو حقیر بنارکھا تھا۔ حاکم نے مستدرک  ج۳ ص ۵۵۶، ابن عساکر نے ج۴ ص۶۹ پر تحریر کیا ہے کہ حجاج کہتا تھا کہ ابنِ مسعود یہ گمان کرتے ہیں کہ انھوں نے خدا کا قرآن پڑھا ہے! قسم خدا کی وہ قرآن نہیں ہے بکلہ عربوں کا ایک رجز ہے۔ وہ کہتا تھا کہ جہاں تک تم سے ہوسکے اس سے ڈرتے رہو! اس کا کوئی ثواب نہیں ہے۔ امیرالمؤمنین عبدالملک بن مروان کی بات سنو اور اطالعت کرو۔ کیوں کہ یہی کارِ ثواب ہے ابنِ عقیل نے کتاب النصائح الکافیہ کے ص۸۱ پر تحریر کیا ہے کہ حجاج نے کوفہ میں خطبہ دیا اور نبی(ص) کی زیارت کرنے والوں کے بارے میں کہا ہلاکت ان لوگوں کے لئے ہے جو لکڑی اور گیلی مٹی کا طواف کرتے ہیں ۔ امیرالمؤمنین عبدالملک کے قصر کا طواف کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ لوگوں کا خلیفہ وہ شخص ہے جو ان کے رسول(ص) سے بہتر ہے۔)

عبداللہ بن عمر نے اپنی دلی کیفیت اور پوشیدہ راز کا اس وقت انکشاف کیا جب اس نے علی(ع) کی کسی ایک بھی فضیلت و شرافت و منقبت کا اعتراف نہ کیا یہاں تک کہ عثمان بن عفان کے بعد چوتھے درجے میں بھی آپ(ع) کو نہ رکھا۔

اس کی نظروں میں ابوبکر وعمر اور عثمان سب سے افضل ہیں جبکہ علی(ع) کو ایک عام انسان سمجھتا ہے آپ کے سامنے میں ایک اور حقیقت پیش کرتا ہوں جس کو محدثین و مورخین نے نقل کیا ہے اس سے عبداللہ بن عمر کی علی(ع)  اور تمام ائمہ اطہار(ع) سے دشمنی اور کینہ توزی واضح ہوجائے گی۔

نبی(ص) کی الائمہ اثناعشری بعدی حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے عبداللہ بن عمر کہتا ہے کہ رسول(ص) کی یہ حدیث


کہ میرے بعد بارہ(۱۲) خلیفہ ہوں گے اور سب قریش سے وں گے  کا مطلب یہ ہے کہ اس امت میں بارہ خلیفہ ہوں گے اور وہ ہیں۔

ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان ذوالںورین، معاویہ اور مقدس زمین کا بادشاہ وہ اس کا بیٹا، سفاح، سلام ، منصور ، جابر، مہدی، امین، اور میرے العصیب یہ سب بنی کعب بن لوی کی اولاد میں سے ہیں اور سب صالح ہیں ان کی مثال نہیں ہے۔ ( تاریخ الخلفا ، سیوطی ص۱۴۰، کنزالعمال جلد۶ ص۶۷ تاریخ ابن عساکر و ذہبی۔)

قارئین محترم اہلِ سنت والجماعت کے اس عظیم فقیہہ کے بارے میں پڑھئے اور تعجب کیجئے کہ وہ کس طرح حقائق کو بدل دیتا ہے اور معاویہ، اس اس کے بیٹے یزید اور سفاح کو تمام بندگان خدا سے افضل قرار دیتا ہے اور صریح طور پر کہتا ہے، وہ سب صالح تھے ان کی مثال نہیں ہے۔

بغض و عداوت نے اسے اندھا بنادیا تھا ۔اسی طرح حسد و بغض نے اس کی بصیرت چھین لی تھی چنانچہ امیرالمؤمنین علی(ع) کی اسے کوئی فضیلت ہی نظر نہیں آتی تھی اسی لئے تو اس نے آپ(ع) پر معاویہ اور اس کے بیٹے یزید زندیق اور مجرم سفاح کو مقدم کیا ۔ پڑھئے اور اس قولِ رسول(ص) کو فراموش نہ کیجئے کہ جس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے کہ علی بن ابی طالب(ع) کی محبت ایمان ہے اور ان کا بغض نفاق ہے اور زمانہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں منافقین  بغضِ علی(ع) ہی سے پہچانے جاتے تھے۔)عبداللہ بن عمر یقینا اپنے باپ کا حقیقی بیٹا تھا۔ کیوںکہ برتن میں جو ہوتا ہے اس سے وہی ٹپکتا ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کے باپ نے علی(ع) کو خلافت سے الگ رکھنے اور لوگوں کی نظروں میں حقیر بنانے کی حتی المقدور کوشش کی تھی۔

یہ ان ہی کا کینہ توزی اور شقی بیٹا ہے۔ عثمان کے بعد علی(ع) کے خلیفہ ہونے اور انصار و مہاجرین کے بیعت کر لینے کے باوجود عبداللہ بن عمر نے علی(ع) کی بیعت  نہ کی اور آپ(ع) کی شمع حیات کو گل کرنے کے درپے رہا اور آپ(ع) کی حکومت کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتارہا۔ اسی لئے تو مسلمانوں سے


کہتا تھا کہ علی(ع) کی حیثیت تھوڑی ہی ہے وہ تو ایسے ہی ہیں جیسے عام آدمی۔

لیکن عبداللہ بن عمر اموی حکومت کی بے لوث خدمت کرتا اور معاویہ و یزید(لع)  کو جھوٹی خلافت کا تاج پہناتا ہے اور نبی(ص) پر بہتان لگاتا ہے ۔ منصور و سفاح اور بنی امیہ کے تمام فاسق و فاجر کی خلافت کو تسلیم کرتا ہے اور انھیں مسلمانوں کے سردار ، نص قرآن و سنت سے مومنین کے ولی پر مقدم کرتا ہے اور علی(ع) کی خلافت کا اعتراف نہیں کرتا ہے یہ چیزیں یقینا تعجب  خیز ہیں۔

آنے والی بحثوں میں ہم عبداللہ بن عمر سے پھر ملاقات کریں گے تاکہ ان کی حقیقت کا انکشاف کرسکیں۔ اگر چہ ان کو غیر معتبر قرار دینے اور دائرہ عدالت سے خارج کرنے اور دائرہ نواصب میں رکھنے کے لئے ہمارا گذشتہ بیان کافی ہے۔ یہ ہیں مذہبِ اہل سنت والجماعت کی بنیاد رکھنے والے ابنِ عمر چنانچہ آج وہی ان کے بڑے فقیہہ اور عظیم محدث بھی ہیں۔

اگر آپ مغرب و مشرق کی خاک چھانیں اور اہلِ سنت والجماعت کی ساری مسجدوں میں نماز پڑھیں اور ان کے علما سے گفتگو کریں تو ان کے علما سے یہ" عن عبدالل ه بن عمر" سنتے سنتے آپ کے کان پک جائیں گے۔


نبی(ص) کو اہل سنت والجماعت کی تشریع قبول نہیں

گذشتہ بحثوں سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ شیعہ ائمہ اہل بیت(ع) کی اقتداء کرتے ہیں۔ اور رائے و قیاس پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان دونوں کو حرام جانتے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک رائے و قیاس نصِ نبوی(ص) سے حرام ہیں اور یہی فکر ان میں نسلا بعد چلی آرہی ہے۔ جیسا کہ اس صحیفہ جامعہ کا ذکر ہوچکا ہے کہ جس کا طول ستر (۷۰) گز ہے اور جس میں مسلمانوں کی قیامت تک کی مایحتاج  چیزیں مرقوم ہیں۔

یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اہل سنت والجماعت ہر عمل میں رائے اور قیاس کے محتاج ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس نصوص نبوی(ص) نہیں ہیں۔ جبکہ یہ اس کے محتاج ہیں ۔ کیونکہ ان کے بڑے سرداروں نے نصوصِ نبوی(ص) کا انکار کیا اور انھیں نذرِ آتش کردیا اورلوگوں کو ان کی تدوین وجمع آوری سے منع کردیا تھا۔

اس کے بعد اجتہاد ورائے کےقائلوں نے اپنے مذہب کی تائید اور حق کو باچل سے مشتبہ کرنے کے لیے رسول(ص) ک طرف سے حدیثیں گھڑیں اور کہا کہ جب رسول(ص) نے معاذ بن جبل


کو یمن بھیج اتوان سے پوچھا تم کیسے فیصلے کروگے؟ معاذ نے کہا: میں کتابِ خدا سے فیصلہ کرونگا نبی(ص) نےفرمایا:

کتابِ خدا میں اس کا حکم نہ ہو تو؟

معاذ نے کہا:

تو سنتِ رسول(ص) سے فیٓصلہ کروں گا۔

رسول(ص) نے فرمایا:

اگرسنت رسول(ص) میں بھی نہ ہو توؕ

معاذ نےکہا:

اس وقت میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔

اس وقت نبی(ص) نے فرمایا:

حمد و ستائش ہے خدا کی کہ جس نے رسول اللہ(ص) کے نمائندہ کو ایسی توفیق عطا کی جس سے اللہ اور اس کا رسول(ص) راضی ہے۔

یہ حدیث باطل ہے۔ رسول اللہ(ص) ایسی بات نہیں کہہ سکتے اورنبی(ص) معاذ سے کیونکر کہہ سکتے تھے اگر تمھیں کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) میں اس چیز کا حکم نہ ملے؟ جب کہ خدا نے اپنے رسول(ص) سے فرمایا تھا:

اور  ہم نے تم پر کتاب نازل کی جس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے۔ (نحل/۸۹)

ہم نے کتاب میں کوئی بات بھی بیان کئے بغیر نہیں چھوڑی ہے۔(انعام/۳۸)

جو کچھ رسول(ص) تمھارے پاس لائیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔(حشر/۷)


نیز اپنے رسول (ص) سے فرمایا:

ہم نے حق کے ساتھ تم پر کتاب نازل کی تاکہ تم خدا کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے درماین فیصلہ کرو۔(نساء/۱۰۵)

ان آیتوں کے بعد نبی(ص) معاذ سے ایسی بات کیونکر کہہ سکتے تھے کہ اگر تمھیں کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) میں کوئی حکم نہ ملے تو؟ کیا یہ اس بات کا اعتراف نہیں ہے کہ کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) ناقص ہے؟ اوردونوں ہمارے قضاوت کےمسائل کو حل نہیں کرتی ہیں!

کو ئی کہنے والا جیہ بات کہہ سکتا ہے ہ معاذ بن جبل سے یہ بات تبلیغِ رسالت کے ابتدائی زمانہ میں کہی گئی تھی کہ جس وقت قرآن کامل طور پر نازل نہیں ہوا تھا۔

ہم کہتے ہیں: یہ دعوی صحیح نہیں ہے: اوّل تو خود معاذ کا یہ قول کہ میں کتابِ خدا سے فیصلہ رونگا، اس بات پر دلالت کررہا ہےکہ کتابِ خدا ان کے پاس کامل طور پر موجود تھی۔

اور پرھر ان کے اس ول سے کہ مین سنتِ رسول(ص) سے فیصلہ کروں گا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حدیث عرصہ دراز کے بعد اس وقت گھڑی گئی جب نص کے مقابل اجتہاد و رائے اقوال کی کثرت ہوگئی تھی کیونکہ نبی(ص) کےبعد کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کی اصلاح ہمیشہ استعمال ہوتی ہے۔

ثابیا :یہ بات اس لحاظ سے صحیح نہیں ہے کہ یہ ہر ایک احکامِ خدا سے جاہل انسان کے لئے نص بن جائے گی اور وہ اپنی رائے سےاجتہاد کرے گا اور اپنے نفس کو نصوص خود تلاش کرنے کی تکلیف نہدے گا۔

ثالثا:  درجِ ذیل قولِ خدا کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔اور جو لوگ خدا کی نازل کردہ (کتاب) کےمطابق فیصلہ نہیں کرتے ہیں وہ کافر ہیں اور جو لوگ خداکی نازل کی ہوئی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ  ظالم ظالم ہیں اور جو لوگ خداکی نال کی ہوئی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔(مائدہ/۴۴، ۴۵، ۴۷)

رابعا : اس لئے صحیح نہیں کہ جو شخص احکامِ خدا سے جاہل ہو اسے قضاوت کرنے اور


 فتوی دینے کا حق نہیں ہے یہاں تک کہ وہ اس سلسلہ میں حکمِ خدا اور رسول(ص) سے آگاہ ہوجائے۔

اور جب خدا نے اپنے نبی(ص) کو امت کے لئے حقِ تشریع عطا کردیا تھا۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔

اور کسی مؤمن مرد اور مؤمن عورت کو خدا و رسول(ص) کےفیصلہ کے بعد اپنے امر کا اختیار نہیں ہے۔

لیکن اس کے باوجود آپ(ص) نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی اپنی رائے و اجتہاد سےکوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ آپ ہمیشہ نصوصِ الہی کے پابند رہے، جس کو جبرئیل لےکر نازل ہوئے تھے، اور جو روایات اس حقیقت کی مخالفت کرتی ہیں وہ سب گھڑی ہوئی ہیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود ہم قارئین کے مزید اطمینان کے لئے اہلِ سنت سے ایک دلیل پیش کرتے ہیں۔ بخاری اپنی صحیح  میں لکھتے ہیں:

 جب بھی نبی(ص) سے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تھا کہ جس کے متعلق اس وقت تک وحی نازل نہیں ہوئی تھی تو آپ(ص) صاف فرمادیتے تھے: مجھے معلوم نہیں ہے اس وقت تک جواب نہیں دیتے تھے جب تک وحی نازل نہیں ہوجاتی تھی، اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ نہیں کہتے تھے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔

جیسی خدا نے تمھاری ہدایت کی ہے۔(نساء/۱۰۵) بخاری جلد۸ ص۱۴۸)

جی ہاں احکم الحاکمین ربّ العالمین اپنے رسول(ص) کے متعلق فرماتا ہے:

ہم نے آپ(ص) پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے جو دوسری (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس کی نگہبان ہے پس جو کچھ خدا نے تم پر نازل کیا ہے اسکے مطابق فیصلہ کرو۔(مائدہ/۴۸)

جی ہاں قرآنِ کریم محمد(ص) کی شان میں فرماتا ہے:


ہم نے حق کے ساتھ آپ(ص) پر کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ(ص) خدا کی ہدایت کے مطابق لوگوںکے درمیان فیصلہ کریں۔(نساء/۱۰۵)

اور جب اہلِ سنت ہی کے بقول نبی(ص) اپنی رائے اور قیاس سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے تو ان کے لئے اس پر عمل کرنا کیسے جائز ہوگیا؟ اورکس لحاظ سے احکامِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کی مخالفت کرنے لگے اور پھر خود کو اہلِ سنت کہتے ہیں واقعا یہ عجیب بات ہے۔


ضروری تنبیہہ

آنے والی فصلوں می جہاں ہم "اہلِ سنت" سے متعلق بحث کریں گے وہاں ہماری مراد دورِ حاضر کے مسلمان نہیں ہونگے کیونکہ یہ بے قصور ہیں اور جو کچھ سلف نے کہا ہے اس کا گناہ ان پر نہیں ہے بلکہ یہ فریب خوردہ  ہیں اور امویوں و عبّاسیوں کو دام فریب کا شکار ہیں جو کہ سنتِ بنوی(ص) کو  محو کر کے جاہلیت کی طرف پلٹ جانا چاہتے تھے۔

یقینا ہم بھی انہی کے راستہ پرتھے خدا نے ہم پر  احسان کیا اور سفینہ نجات کی طرف پوری امّت اسلامیہ کی رہنمائی فرمائے یہاں تک حق کا بول بالا ہوجائے۔

اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ یہ تو صحابہ پر تنقید ہے جس سے مسلمانوں کی اکثریت کے جذبات مجروح ہوتے ہیںکیونکہ وہ تمام صحابہ کو عادل سمجھتے  ہیں اور نبی(ص) کےبعد انھی۸ں سب افضل قرار دیتے ہیں، تو ہم ان کے جواب میں یہ کہتے ہیں: مسلمانوں سے صرف خدا و رسول(ص)


پر اعتقاد رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ان چیزوں پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے جن کو انھوں (خدا و رسول(ص)) نے فرض کیا ہے۔ اور ان کی معین کردہ خدود کی پابندی کا مطالبہ کیا گیا اور اس میں صحابہ کے ساتھ تمام مسلمانوں کی بھی نجات ہے جو اس سے خارج ہوگا وہ جہنم  میں جائے گا خواہ وہ نبی کا چچا ہو یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔

بے شک بعض صحابہ پر تنقید کرنے کو تاریخی حوادث نے فرض کیا ہے کیونکہ انھوں نے تاریخ کو متاثر کیا اور اختلاف کیا اور وہی امت کے اختلاف و مصیبت کا سبب بنے۔


حقیقت کا انکشاف

جب محقق کے سامنے اہلِ سنت والجماعت کی حقیقت آئے گی تو وہ مبہوت رہ جائے گا اور اس کو تسلیم کرلے گا کہ اہل سنت عترت طاہر(ع)  کے دشمن ہیں کیونکہ اہلِ سنت ان لوگوں کا اتباع کرتے ہیں۔ جنھوں نے اہلِ بیت(ع) سے جنگ کی، ان پر منبروں سے لعنت کی اور انھیں تہہ تیغ کیا۔

اسی لئے آپ اہلِ سنت کو ان محدثین کی توثیق کرتے ہوئے پائیں گے جو خوارج اور عثمانی نواصب ہیں اور ان محدثین کو متہم کرتا ہوا پائیں گے جو اہلِ بیت(ع) کے چاہنے والے ہیں۔

یہ بات تو آپ ان کی کتابوں میں صراحت کےساتھ ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ وہ تمام صحیح احادیث کو محو کردینے ک کوشسش کرتے ہیں جو علی بن ابی طالب(ع)  کے فضائل کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں اور ان احادیث کے راویوں کی یہ کہ کر توہین کرتے ہیں کہ اس کی سند فلاں شخص رافضی ہے۔( رافضی یعنی شیعیان علی(ع) اور خلفاء ثلاثہ کی خلافت کا مخالف۔)

اور ان جھوٹی احادیث کو صحیح ثابت کرنے کی (ناکام) کوشش کرتے ہیں جو کہ دوسرا


 خلفا کے فضائل کے لئے گھڑی گئی ہیں، خواہ ان احادیث کے راوی ناصبی ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ اہلِ سنت کے نزدیک ناصبیت سنت میں سختی و صلابت سے عبارت ہے۔

چنانچہ ابن حجر عبداللہ بنادریس الازدی جس کی ناصبیت مشہورر ہے، کے متعلق لکھتے ہیں وہ اہلِ سنت والجماعت میں سے تھے، سنت کے معاملہ میں سخت گیر تھے وہ عثمانی تھے۔

اور ابن حجر ہی عبداللہ بن عون البصری کے متعلق رقم طراز ہیں۔ وہ موثق ہیں اور سنت میں بڑے سخت ہیں اور اہلِ بدعت کے لئے قہر ہیں۔ ابن سعد کہتے  ہیں عبداللہ بن عون البصری عثمانی تھے۔ ( عثمانی وہ نواصب جو علی(ع) کو کافر کہتے تھے اور قتل عثمان کا آپ(ع) پر الزام لگاتے تھے، ان کا سردار معاویہ بن ابی سفیان تھا۔

ایسے ہی ابنِ سعد ابراہیم بن یعقوب الجوزی جانی کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ بغض علی(ع) کے سلسلہ میں مشہور تھا اور حریزی المذہب تھا یعنی حریز بن عثمان دمشقی کے مذہب کا پیروکار تھا اس کی ناصیت مشہور تھی ۔ ( خوارج نواصب قاسطین اور ناکثین جو علی(ع) اور ان کے اہلِ بیت (ع) کے دشمن تھے انھوں نے آپ(ع) کے لئے علم دشمنی بلند کیا آپ(ع) سے جنگ اور شہادت کے بعد آپ پر لعنت کی۔)

یہاں اس بات کی طرف اشارہ کردینا مناسب سمجھتا ہں کہ جس ناصبی کی وہ مدح سرائی کررہے ہیں اور سنت میں صلابت اور حافظ حدیث بتا رہے ہیں جس کے دروازہ پر محدثین کا اجتماع رہتا تھا وہ ایک روز اپنی کنیز کو مرغ دے کر بھیجتا جہے اور وہ پورے شہر کا چکر لگاتی ہے اور پھر اپنے آقا جوزجانی کے پاس پلٹ کر آتی ہے اور کہتی ہے کہ مجھے کوئی مرغ ذبح کرنے والا نہیں ملا، اس وقت جوزجانی نے چیخ کر کہا:

سبحان اللہ! کوئی مرغ ذبح کرنے والا نہیں ملتا، جبکہ صبح سے آفتاب بلند ہونے تک علی(ع) بیس ہزار سے زیادہ انسانوں کو قتل کرتے ہیں۔دشمنان اہلِ بیت اور نواصب ایسی چال بازیوں اور مکر و فریب کے ذریعہ لوگوں کو حق سے


منحرف کرتے تھے۔ اور جھوٹ کے پلندوں سے بہکاتے تھے یہاں تک کہ انھوں نے مسلمانوں کے دلوں کو خصوصا محدثین کے دلوں کو علی ابن ابی طالب(ع) کے بغض و حسند سے بھر دیا۔ چنانچہ انھوں نے علی(ع) پر سب و شتم اور لعنت  کو مباح قرار دیدیا۔

اس چیز کا مشاہدہ تو آپ  آج بھی کرسکتے ہیں باوجودیکہ ہمارے زمانہ کے اہلِ سنت  اس بات دعوی کرتے ہیں کہ ہم بھی اہلِ بیت(ع) سے محبت کرتے ہیں۔

اور سیدنا علی( کرم اللہ وجہہ) کو  بھی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ لیکن جب آپ حضرت علی(ع) کی فضیلت کے سلسلہ میں کوئی حدیث سنائیں گے تو دیکھیں گے کہ وہ کس طرح آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور اتنی ہی بات پر آپ کو شیعہ قرار دیں گے اور کہیں گے یہ دین  میں بدعت و غلو  کررہا ہے۔

اور جب آپ شیخین ابوبکر و عمر کے یا کسی بھی صحابی کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ اور حسبِ دل خواہ ان کی فضیلت بیان کریں گے اور غلو سے کام لیں گے تو وہ آپ کی باتوں کو فراخ دلی سے سنیں گے اور مطمئن ہوجائیں گے۔

اور آپ کو علم کا دریا اور گہرے مطالعہ کا حامل قرار دیں گے۔

ی بالکل ان کے سلفِ صالح کا عقیدہ ہے۔ مورخین نے لکھا ہے کہ امام احمد بن حنبل اہلِ حدیث میں سے ہر اس شخص کو ضعیف قرار دیتے تھے جو ابوبکر وعمر یا عثمان کی تنقیص کرتا تھا، جیسا کہ ابراہیم جوزجانی ایسے ناصبی کا احترام کرتے ہیں، اس سے خط و کتابت رکھتے تھے چنانچہ منبر سے اس خط کو پڑھا اور اس کے ذریعہ احتجاج کیا ۔

جب احمد بن حنبل کا یہ حال ہے کہ جس نے اپنے ہمعصر لوگوں پر یہ بات ملسلط کی تھی کہ وہ علی(ع) کو چوتھا خلیفہ تسلیم کریں، تو پھر ان لوگوں کا تو حال نہ پوچھئے کہ جو آپ(ع)  کی کسی ایک فضیلت کے بھی معترف نہیں تھے یا ان لوگوں کی کیا کیفیت جو جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں منبروں  حضرت علی(ع) پر لعنت کرتے تھے۔


دار قطنی کہتے ہیں: ابنِ قتیبہ متکلم اہلِ سنت تشبیہ کی طرف مائل اور اہلِ بیت(ع) سے منحرف تھے۔( لسان المیزان جلد ۳ ص۳۵۷)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ سنت کی اکثریت عترتِ رسول(ع) سے منحرف ہے۔

متوکل کو دیکھئے جس کو اہلِ حدیث " محی السنہ " کہتے ہیں، جس کو احمد بن حنبل بڑی عظمت و عزت دیتے ہیں اور قضاوت (ججوں) کے انتخاب میں اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں۔ متوکل علی(ع) اور اہل بیت(ع) کا سخت ترین دشمن تھا اس کی دشمنی کی انتہا یہ تھی کہ اس نے امام حسین(ع) کی قبر کو ویران کردیا تھا اور زیارت پر پاندی لگادی تھی جو شخص علی(ع) سے خود کو منسوب کرتا تھا اسے تہہ تیغ کردیتا تھا، خوارزمی نے اپنے رسائل میں اس کا تذکرہ کیا ہے ۔ کہتے ہیں: متوکل اسی کو مال و دولت دیتا تھا جو آل ابی طالب(ع) پر سبّ و شتم کرتا تھا وہ نواصب کے مذہب کی مدد کرتا تھا۔ (رسائل ، خوارزمی ص۱۳۵)

واضح رہے کہ نواصب کا مذہب وہی ہے جو اہلِ سنت والجماعت  کا مذہب ہے متوکل نے ان کے مذہب کی مددد کی تھی لہذا وہ محی السنہ " بن گیا! سوچئے۔

ابن کثیر البدایۃ والنہایہ میں لکھتے ہیں کہ جب اہلِ سنت والجماعت اعمش سے حدیث طیر، جس میں حضرت علی بن ابی طالب(ع) کی فضیلت ہے سنتے تھے تو اس کو مسجد سے نکال دیتے تھے اوراس جگہ کو پاک کرتے تھے جہاں وہ بیٹھتے تھے۔ ( البدایۃ والنہا یۃ جلد۱۱ ص۱۴۷)

اسی طرح انھوں نے امام محمد بن جریر طبری ، صاحبِ تفسیر کبیر اور عظیم مورّخ ، کو اس لئے دفن نہیں ہونے دیا تھا کہ انھوں نے حدیث غدیر " من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ" کو صحیح کہہ دیا تھا اور متعدد طریقوں سے اس کی ان روایات کو جمع کردیا تھا جو کہ حدّ  تواتر تک پہونچ چکی ہیں۔

ابنِ کثیر کہتے ہیں: میں نے ان کی وہ تالیف دیکھی ہے جس میں انہوں نے حدیث غدیر کو جمع کیا ہے۔ یہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ ایک اور کتاب ہے جس میں انھوں نے


حدیث طیر مشوی کی روایات جمع کی ہیں۔ ( البدایۃ والنہایۃ جلد۱۱ ص۱۴۷)

اسی چیز کو ابن حجر نے بھی لسان المیزان میں تحریر کیا ہے۔ جریر طبری عظیم مفسر ، ثقہ، صادق تھے، ان میں شیعیت سرایت کر آئی تھی اور موالات میں کوئی ضرر نہیں ہے۔ ( لسان المیزان ، ابنِ حجر ترجمہ ابنِ جریر طبری)

امام نسائی جو کہ صحاح ستہ کے مؤلفوں میں سے ایک ہیں جب انھوں نے امیر المؤمنین علی(ع) کے فضائل میں ایک کتاب تحریر کی تو لوگوں نے ان سے فضائل معاویہ کے بارے میں پوچھا : تو انھوں نے جواب دیا: مجھے معاویہ کی صرف ایک فضیلت معلوم ہے اور وہ یہ کہ خدا اسے کبھی شکم سیر نہ کرے۔ یہ سنکر لوگوں نے ان کے عضو تناسل پروار کیا جس سے وہ بے ہوش ہوگئے اور ایک روایت کے مطابق اسی ضرب سے مرگئے۔

ابن کثیر اپنی تاریخ میں ۳۶۳ھ کے واقعات کے ذیل میں ان حوادث کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جو کہ بغداد میں شیعوں اور سنیوں کے درمیان یومِ عاشورا کی مناسبت کے سلسلہ میں رونما ہوئے تھے۔

اہلِ سنت کی ایک جماعت نے عائشہ کی اقتدا کی ، بعض کہتے ہیں طلحہ کی اتباع کی۔ بعض کہتے ہیں زبیر کی پیروی کی اور کہا ہم اصحاب علی(ع) سے جنگ کریں گے۔ چنانچہ اس کے نتیجہ میں خلقِ کثیر موت کے گھاٹ اتر گئی۔ ( البدایۃ والنہایۃ ابنِ کثیر جلد۱۱ ص۲۷۵)

بالکل یہی سلوک آج ہندوستان میں اہلِ سنت والجماعت شیعوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں روزِ عاشورہ ان پر حملہ کرتے ہیں ، تاکہ انھیں تعزیہ داری سے باز رکھ سکیں، جس کی وجہ سے بہت سے بیک سرشت مسلمانوں کا خون بہہ جاتا ہے۔

ان واقعات کے  بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت علی(ع) کے دشمن اور اہلِ بیت(ع) کے خون کے پیاسوں نے اپنا نام اہلِ سنت والجماعت رکھ لیا ہے اور یہ تو واضح ہے  کہ سنت سے ان کی مراد کیا ہے اور جماعت کے وہ کیا معنی مراد لیتے ہیں۔


یہ بات دلیل کی محتاج نہیں ہے کہ جو عترتِ نبی(ع)  کا دشمن ہے وہ ان کے جد رسول(ص) کا بھی دشمن ہے اور جو دشمن رسول(ص) ہے وہ دشمن خدا ہے۔

اور یہ بھی عیاں ہے کہ خدا و رسول کا دشمن اور عدوے اہلِ بیت رحمن کا بندہ نہیں ہے اور اس کا سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ سنتِ ابلیس کا سالک ہے۔

کیونکہ سنتِ رحمن، رسول(ص) اور اس کے اہلِ بیت(ع) سے محبت و مؤدت رکھنا اور ان کے راستہ پر چلنا ہے جیسا کہ ارشاد ہے۔

قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى‏ (شوری /۲۳)

کہدیجئے میں تم سے اپنے قرابت داروں کی محبت کے سوا کوئی اجر نہیں چاہتا ۔

اور پھر معاویہ کو علی(ع) سے کیا نسبت اور ائمہ ضلال کو ائمہ ہدی(ع) سے کیا نسبت اور اہل سنت والجماعت کو شیعوں سے کیا نسبت ؟!

یہ لوگوں کے لئے واضح بیان اور متقین کے لئے ہدایت و وعظ ہے۔"

( آل عمران /۱۳۸)


اہلِ سنّت کی صلوٰت میں تحریف

خدا آپ کو سلامت رکھے اس فصل میں غور فرمائیں تا کہ اہلِ سنت کی خفیہ سازشوں سے آگاہ ہوجائیں اور اس بات کا انکشاف ہو جائے کہ ان کو عترتِ نبی(ص)  سے کتنی دشمنی تھی انھوں نے ہر ایک فضیلت میں تحریف کرڈالی۔

ان ہی تحریف شدہ امور میں سے ایک محمد وآل محمد پر صلوٰت بھیجنا ہے خدا نے قرآن میں محمد و آل محمد پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ اہلِ سنت کے تمام محدثین نے خصوصا بخاری و مسلم نے روایت کی ہے کہ جب آیۃ : انّ اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی الخ، نازل ہوئی تو صحابہ نبی(ص) کے پا س آئے اور عرضکی یا رسول اللہ(ص) ہم آپ پر کس طرح صلوٰت بھیجیں؟ ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا طریقہ معلوم نہیں؟

نبی(ص) نے فرمایا:الل ه م صلی علیٰ محمد و آل محمد کما صليت علی ابراهيم و علیٰ آل ابراهيم انک حميد مجيد ۔( صحیح بخاری جلد ۴ ص۱۱۸)

اور بعض لوگوں نے رسول(ص) کے اس قول کا بھی اضافہ کیا لہے کہ تم مجھ پر ناقص صلوٰت نہ بھیجا کرو۔ اصحاب نے دریافت کیا یا رسول اللہ(ص) ناقص صلوٰت کونسی ہے؟ فرمایا: تم اللہم صلی علی محمد کہکر خاموش ہو جاتے ہو، خدا  کامل ہے اور وہ کامل ہی چیز کو قبول کرتا ہے۔

امام شافعی نے اس کی وضاحت کی ہے کہ جو محمد(ص) اور ان کے اہلِ بیت(ع) پر درود نہیں بھیجتا خدا اس کی نماز قبول نہیں کرتا ہے۔


سنن دار قطنی میں ابی مسعود انصاری کی سند سے منقول ہے کہ : رسول (ص) نے فرمایا: جو شخص نماز میں مجھ پر اور میرے اہلِ بیت(ع) پر درود نہ بھیجتا خدا اس کی نماز قبول نہیں کرے گا۔( سنن دار قطنی ص۱۳۶)

ابنِ حجر صواعق میں لکھتے ہیں کہ دیلمی نے روایت کی ہے کہ نبی(ص) نے فرمایا: جب تک مجھ پر اور میرے اہلِ بیت(ع) پر درود نہیں بھیجی جائے گی اس وقت تک دعا محجوب رہے گی۔ ( صواعق المحرقہ ص۸۸)

طبرانی نے اوسط میں حضرت علی(ع) سے روایت کی  ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا: ہر ایک دعا محجوب ہے جب تک محمد وآلِ محمد پر درود نہ بھیجی جائے۔( فیض القدیر جلد۵ ص۱۹ کنز العمال جلد۱ ص۱۷۲)

اور جب ہم اہلِ سنت والجماعت کی صحاح سے درود کی کیفیت کو سمجھ گئے تو یہ بھی سمجھ گئے کہ خدا اس بندہ کی نماز قبول نہیں فرماتا جو اپنی نماز میں محمد وآل محمد پر درود نہیں بھیجتا اور اسی طرح اس مسلمان بندہ کی دعا بھی محجوب رہتی ہے جو محمد وآل محمد پر درود نہیں بھیجتا ۔

قسم اپنی جان کی یہ بہت بڑی فضیلت اور واضح منقبت ہے۔ جو محّمد و آلِ محمّد کو تمام انسانوں پر دی گئی ہے۔ پس انھیں کے ذریعہ مسلمان کو خدا کا تقرّب ڈھونڈھنا چاہئے۔

لیکن اہلِ سنت والجماعت نے اہلِ بیت(ع) کی اس فضیلت کو چھوڑدیا اوراس کے بھیانک نتائج کو محسوس کرلیا۔

کیونکہ ابوبکر، عمر وعثمان اور تمام صحابہ کے جھوٹے فضائل اور خیالی مناقب گھڑ دیئے جانے کے بعد بھی وہ اس منزل پر فائز نہ ہوسکے اور اس لند مقام پر نہ پہنچ سکے۔ کیونکہ خدا ان کی اور ان کی جماعت کی نماز قبول نہیں فرماتا اس لئے کہ وہ محمّد(ص) کے بعد علی بن ابی طالب(ع) جو کہ عترت کے سردار ہیں، ان پر درود نہیں بھیجتے۔


اس لئے اہلِ سنت نے صلوٰۃ میں تحریف کر کے اپنے محبوب خلفاء کے نام کا اضافہ کر دیا۔ تاکہ ان کی عظمت بڑھا سکیں۔

جبکہ رسول (ص) نے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا۔ چنانطہ وہ پہلی صدی ہی سے ناقص صلوٰۃ پڑھتے چلے آرہے ہیں۔ آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ ان کی کتابوں میں ناقص صلوٰۃ مرقوم ہوتی ہے۔

وہ صرف محمد یا نبی یا رسول (ص) لکھتے ہیں اور آل کے ذکر کے بغیر صلی اللہ علیہ و سلم تحریر کردیتے  ہیں۔

اور اس زمانہ میں اگر آپ ان میں سے کسی سے گفتگو کریں اور اس سے کہیں کہ محمد پر درود بھیجئے تو وہ جواب میں صلی اللہ علیہ وسلم کہے گا اورف آل کا ذکر نہیں کرے گا۔ اگر چہ ان میں سے بعض بڑی ہی پیچ دار صلوٰۃ پڑھتے ۔ چنانچہ آپ صل و سلم کے علاوہ کچھ نہیں سمجھ پائیں گے۔

لیکن جب آپ کسی بھی عربی یا عجمی شیعہ سے درود بھیجنے کے لئے کہیں گے ۔ تو وہ اللہم صلّ علٰی محمد و آل محمد پوری صلوٰۃ پڑھے گا۔

جبکہ اہل سنت والجماع کی کتابوں میں نبی(ص) کا یہ قول، قولو! اللہم صلی علیٰ محمد و آل محمد منقول ہے۔ جو کہ حاضر اور مستقبل کے صیغہ کی صورت میں ہے اور خداسے طلب دعا ہے۔

لیکن اہلِ سنت صلی اللہ علیہ وسلم ہی پر اکتفا کرتے ہیں جو کہ ماضی کا صیغہ ہے جو کہ خبر دے رہا ہے۔

اہل سنت والجماعت کے سردار معاویہ ابن ابی سفیان کی تو پوری یہ کوشش تھی کہ اذان سے بھی محمد (ص) کا نام صاف کردیا جائے۔ ( ملاحظہ فرمائیں اہلِ ذکر)

اس کے پیروکاروں کے لئے یہ کوئی انوکھی بات نہ تھی کہ صلوات میں تحریف کردیں اور یہی نہیں اگر ان میں صلوات کو حذف کرنے کی طاقت ہوتی تو ضرور حذف کردیتے لیکن اب تو ان کے لئے افسوس ہی افسوس ہے۔


آج آپ ان کے ہر ایک منبر سے خصوصا وہابیوں کے منبروں سے تحریف شدہ صلوات سن سکتے ہیں۔ ان کی ناقص صلوات کی گونج رہتی ہے۔ لیکن اگر وہ مجبورا پوری صلوات پڑھتے ہیں تو اس میں " وعلی اصحابہ اجمعین" کا اضافہ کردیتے ہیں۔ یا اس سے بھی آگے بڑھ کر کہتے ہیں۔ وعلی اصحابہ الطیبین  الطاہرین، اور اس طرح وہ یہ بات باور کرانا چاہتے ہیں کہ آیت تطہیر صحابہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ لہذا صحابہ اور اہلِ بیت علیہم السلام برابر ہیں۔

اور اس فریب کاری اور تحریف کا علم انھوں نے اپنے فقیہ اوّل اور قائد اکبر عبداللہ بن عمر سے حاصل کیا ہے جو کہ اہلِ بیت(ع) کا کٹر دشمن تھا۔

مالک نے اپنی موطا میں تحریر کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر نبی(ص) کی قبرِ مبارک کے پاس آتے تھے اور آپ پر درود بھیجنے کے ساتھ ساتھ ابوبکر و عمر پر درود بھیجتے تھے۔( تنویر الحوالک فی شرح موطا مالک جلد۱ ص۱۸۰)

قارئین محترم جب آپ سنجیدگی سے غور فرمائیں گے تو نہ قرآن میں لفظ صحابہ ملے گا اور نہ سنت میں نظر آئے گا۔

کیابِ خدا اور سنتِ نبی(ص) نے تو صرف محمد وآل محمد(ص) پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے اور یہ امر ( صلوات بھیجنا) تمام مکلفین سے پہلے صحابہ پر واجب ہے۔

اور صلوات میں یہ صحابہ کا اضافہ اہلِ سنت والجماعت ہی کے ہاں ملے گا اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے انھوں نے تو نہ جانے دین میں کتنی بدعتین ایجاد کر کے انھیں سنّت کا نام دیدیا ہے اس سے ان کا مقصد فضیلت کو چھپانا اور حقیقت پر پردہ ڈالنا ہے۔

یہ لوگ اپنے منہ سے ( پھونک مار ) کر نورِ خدا کو بجھا دینا چاہتے ہیں۔ جبکہ خدا اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ اگر چہ یہ بات کافرین کو ناگوار ہی کیوں نہیں لگے۔( الصف/۸)

" اور اس سے ہم پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حقیقی اہلِ سنت کون ہیں"۔


جھوٹ حقائق کا انکشاف کرتا ہے

اس فصل می ہم ہر عاقل ، آزاد تعصّب سے بری انسان کے لئے اس کی بصیرت و بصارت سے پردہ اٹھائیں گے تاکہ وہ حق و ہدایت تک پہنچ جائے۔

ایسے افراد سے ہماری گذارش ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کے تمام اقطاب اوران کے کل ائمہ نے سنتِ نبوی(ص) کی صریح طور پر مخالفت کی ہے اور اسے پسِ پشت ڈالدیا اور جان بوجھ کر اسے چھوڑدیا ہے۔

کسی مسلمان کو ادھر ادھر ان کی مدح سرائی سے فریب نہیں کھانا چاہئے ۔ کیونکہ اس کی بنیاد کسی واضح دلیل اور روشن برہان پر نہیں ہے۔

ہم حقیقت کا انکشاف کررہے ہیں ان پر اتہام نہیں لگارہے ہیں اور وہی چیز بیان کررہے ہیں جو انھوں اپنی صحاح و مسانید  اور تواریخ میں بیان کی ہے۔ ان حقائق میں سے ہم بعض کو اپنی دیگر کتابوں میں بیان کرچکے ہیں اور ان سے شرفانہ انداز میں گذر آئے ہیں۔ یہاں ان کو تفصیلی طور  پر بیان کررہے ہیں تاکہ ہدایت کا سورج روشن ہوجائے اور ضلالت و گمراہی کا بادل چھنٹ


جائے  اور تاریکی کی جگہ نور مستقر ہوجائے۔

یہ بات ہم پہلے بھی کہہ چکے  ہیں کہ تکرار میں فائدہ ہے اورجب واقعات کو مختلف انداز میں بیان کیا جاتا ہے تو قارئین اس سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں۔ کیونکہ اسلوب کے تحت لکھی جانے والی کتاب کو قارئین کسی تھکن کے پڑھ ڈالتے ہیں۔ اور یہ  چیز ہم نے قرآن کریم سے جانی ہے جیسا کہ جنابِ موسی(ع)  وعیسی(ع) کے واقعات کے متعدد سوروں میں بیان کیا ہے اور مختلف انداز میں پیش کیا ہے جو کہ ایک دوسرے کو مستحکم بناتے ہیں۔

ہم عنقریب ان اقطاب و ائمہ کے حالات قلم بند کریں گے جن پر اہلِ سنت والجماعت اعتما د کرتے ہیں اور انھیں علم و فقہ کا منارا تصور کرتے ہیں اور انھیں ائمہ اطہار(ع) پر فوقیت دیتے ہیں۔ ان صحابہ سے قطع نظر جن کے فسق وفجور اور روحِ اسلام سے ان کی دوری کو ہر خاص و عام جانتا ہے اور علما و غیر علما سب ہی واقف ہیں۔ معاویہ اور اس کے بیٹے یزید(لع) ، ابنِ عاص، ابنِ مروان اور ابن شعبہ وغیرہ کے سیاہ کارناموں سے واقف ہیں۔ ( عبداللہ بن حنظلہ عسیلۃ الملائکہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا: قسم خدا کی ہم جب بھی یزید کے پاس جاتے تھے تو ہمیں اس بات کا ڈر رہتا تھا کہ کہیں ہم پر آسمان سے پتھر نہ برسنے لگیں وہ شخص اپنی مان ، بہنوں اور بیٹیوں سے نکاح کرتا تھا ، شراب پیتا تھا ، تارک الصلاۃ تھا قسم خدا کی میرے ساتھ نہ ہوتا تو قربۃ الی اللہ اس کا قصہ تمام کردیتا۔( طبقات ابن سعد ج۱ ص۴۷) جی ہاں اسی فاسق و فاجر یزید (لع) نے ریحانہ رسول(ص) اور ان کی عترت کو قتل کیا اور اپنے لشکر کے لئے مدینہ رسول(ص) کو مباح قرار دیا اس کے باوجود آپ آج نام نہاد اسلامی حکومت دیکھیں گے کہ وہ یزید کے سلسلہ میں اس عنوان سے حقائق عن امیر المؤمنین یزید بن معاویہ ، کتاب لکھ رہی ہے۔

اگر آپ عرب کے اہلِ سنت والجماعت " کے بعض اسلامی ممالک کا سفر کریں تو وہاں ان کا ذکر عظمت و بزرگی ، ان کے نام پر سڑکوں کے نام اور خلافت کی صحت اور حسنِ سیاست کے سلسلہ میںکتابوںکے انبار مل جائیںگے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم ان کے سلسلہ میں کتاب لکھنے اوران کی حقیقت کا انکشاف کرنے کے


متعلق اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے۔ ہمارے لئے بعض آزاد مورخین و مفکرین کا لکھا ہوا ہی کافی ہے۔

لیکن ہم اس بحث میں ان لوگوں پر ضرور تبصرہ کریں گے جو صلاح و عدل ، زہد و تقوی میں شہرت پاگئے ہیں اور اہلِ سنت کے عمدہ افراد سے تعلق رکھتے ہیں تاکہ قریب سے اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ انھوں نے سنت نبوی(ص) میں کس کس نہج سے تغیر و تحریف کی اور اس امت میں ایسی ایسی بدعتین ایجاد کردیں کہ جن سے تفرقہ و گمراہی پھیل گئی اور اس کی عظمت کی وہ بنیاد اکھڑ گئی جس کی رسول(ص) نے مضبوط بنادیا تھا اور آپ(ص) کی پوری عمر شریف اس کی حفاظت و ثبات کے سلسلے میں صرف ہوئی تھی۔

میں نے اہلِ سنت والجماعت کے اقطاب میں سے بارہ(۱۲) اشخاص کو چنا ہے جنھوں نے دین کے نشانات کو مٹانے اور امت میں تفرقہ پیدا کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔


اہلِ سنت والجماعت کے ائمہ اور اقطاب

 ۱: خلیفہ اوّل ابوبکر بن ابی قحافہ

۲: خلیفہ ثانی عمر بن خطاب

۳: خلیفہ ثالث عثمان بن عفان

۴: طلحہ بن عبیداللہ

۵: زبیر بن العوام

۶:سعد بن ابی وقاص

۷: عبدالرحمن بن عوف

۸: ام المؤمنین عائشہ بنتِ ابی بکر

۹: خالد بن ولید

۱۰: ابوہریرہ دوسی

۱۱: عبداللہ بن عمر

۱۲: عبداللہ بن زبیر


مذکورہ افراد کو میں نے اہل سنت والجماعت کے بے شمار اقطاب کے درمیان سے اس لئے منتخب کیا ہے کہ ان ہی کے زیادہ فضائل بیان ہوئے ہیں یا ان کی روایات زیادہ ہیں اور بزعم اہلسنت ان ہی کی ذات سے علم سوتا پھوٹتا ہے۔

ہم عنقریب ہر ایک کے متعلق ایک مختصر بحث پیش کریں گے اور بتائیں گے کہ ہر ایک نے عمدا یا جہالت کی بنا پر سنت نبوی(ص) کی مخالفت کی ہے اس سے محقق کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ اہلِ سنت والجماعت جس چیز کادعوا  کرتے ہیں وہ ان کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ اپنی ہوس کی پیروی کرتے ہوئے یہ تصور کرتے ہیں کہ ہم ہی حق پر ہیں ۔ باقی سب گمراہ ہیں۔

۱: ابو بکر صدّیق" ابنِ ابی قحافہ

ہم اپنی دیگر کتابوں میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کر چکے ہیں کہ ابوبکر نے نبی(ص) کی پانچ سو احادیث جمع کرکے نذر آتش کردی تھی اور خطبہ کے دوران کہا تھا: رسول(ص) سے کوئی حدیث نقل نہ کرنا اوراگر کوئی تم سے سوال کرے تو  اس  سے کہدو ہمارے ، تمھارے درمیان قرآنِ مجید ہے اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو!

ہم یہ بھی بیان کرچکے ہیں کہ ابوبکر نے نوشتہ لکھنے کے سلسلہ میں نبی(ص) کی مخالفت کی  اور عمر کے اس قول کی تائید کہ رسول(ص) معاذ اللہ ہذیان بک رہے ہیں ہمارے لئے کتابِ خدا کافی ہے۔

اسی طرح علی(ع) کی خلافت غصب کر کے آپ(ع) کی خلافت سے متعلق نصوص محمدی(ص) کی مخالفت کی۔

اسامہ کی امارت اور ان کے لشکر میں شریک نہ ہو کر سنتِ نبی(ص) کی مخالفت کی جگر گوشہ رسول(ص) فاطمہ زہرا(ع) کو اذیت پہنچا کر اور انھیں دھمکی دے کر سنتِ نبی(ص) کی مخالفت کی۔

مانعین زکوٰۃ مسلمانوں سے جنگ کرکے اور انھیں تہہ تیغ کر کے سنتِ رسول(ص) کی مخالفت کی۔


فجات سلمی کو جلا کر جس سے نبی(ص) نے منع کیا تھا، سنتِ نبی(ص) کی مخالفت کی مؤلفہ القلوب کا حصہ نہ دے کر اور عمر کے قول کی تائید کر کے سنتِ رسول(ص) کی مخالفت کی۔

عمر کو مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر مسلمانوں کا خلیفہ بناکر سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تمام مخالفتوںسے اہل سنت کی صحاح اور تواریخ بھری پڑی ہیں۔

پس  جب سنتِ نبی(ص) کا یہ حال ہے، جیسا کہ علمانے بیان کیا ہے، کہ ابوبکر نے سنت یعنی قولِ رسول(ص) فعلِ رسول(ص) اور تقریر رسول(ص) کی مخالفت کی ہے۔

قول رسول(ص) کی مخالفت : نبی(ص) نے ارشاد فرمایا:" فاطمہ (ع) میرا ٹکڑا ہے جس نےاسے غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا۔"اور فاطمہ(س) نے دنیا سے اس حالت میں رحلت کی کہ ابوبکر پر غضبناک تھیں جیسا کہ بخاری نے تحریر کیا ہے۔

رسول(ص) کا قول ہے کہ:جیش اسامہ میں شرکت نہ کرنے والے پر خدا کی لعنت ہے اور یہ آپ(ص) نے اس وقت فرمایا تھا: جب  صحابہ نے اسامہ کو امیر بنانے کے سلسلہ میں اعتراض کیا تھا اور ان کے لشکر میں شریک ہونے سے انکار کر دیا تھا ان تمام خلاف ورزیوں کے باوجود ابوبکر خلیفہ بن گئے تھے۔

فعلِ رسول(ص) کی مخالفت:

رسول(ص) نے مؤلفۃ القلوب کو حکم خد اسے حصہ دیا لیکن ابوبکر نے انھیں اس حق سے محروم کردیا جس پر قرآن کی نص موجود ہیں اور رسول(ص) نے اس پر عمل کیا ہے چونکہ عمر نے یہ کہدیا تھا کہ اب ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے ابوبکر نے بھی دست کش ہوگئے۔

تقریرِ رسول(ص) کی مخالفت :

نبی(ص) نے اپنی خاموشی سے اس بات کی اجازت دیدی تھی کہ لوگ آپ(ص) کی احادیث لکھیں


اور لوگوں کے درمیان نشر کریں لیکن ابوبکر نے ان حدیثوں کو جلا ڈالا اور ان کی نشر و اشاعت پر پابندی لگادی۔

ابوبکر قرآن کے بہت سے احکام سے ناواقف تھے ان سے کلالہ کے متعلق سوال کیا گیا کہ جس کا حکم قرآن میں موجود ہے، تو کہا میں اپنی رائے سے فیصلہ کرسکتا ہوں اگر وہ فیصلہ صحیح ہوگا تو خد اکی طرف سے اور غٖلط ہوگا تو شیطان کی طرف سے ہے۔ ( تفسیر طبری، تفسیر ابنِ کثیر،تفسیر خازن، تفسیر جلال الدین سیوطی، تمام مفسرین نے سورہ نساء کی اس آیت کے ذیل میں تحریر کیا ہے۔(ليستفتونک قل الله يفتيکم فی الکلالة)

مسلمانوں کے اس خلیفہ کے بارے میں کیونکر حیرت نہ ہو کہ جس سے کلالہ کا حکم پوچھا جاتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرتے ہیں جبکہ خد انے قرآن میں او ر رسول(ص) نے اپنی احادیث میں کلالہ کو واضح طور پر بیان کیا ہے ۔ لیکن خلیفہ کو ان دونوں سے سروکار ہی نہیں تھا۔

پھر خود ہی اس بات کا بھی اعتراض کرتے ہیں کہ شیطان ان کی رائے پر مسلط رہتا ہے۔ اور یہ خلیفہ مسلمین ابوبکر کے لئے کو اتفاقی امر نہیں تھا بلکہ انھوں نے ایسی  باتیں بارہا کہی ہیں۔ میرا ایک شیطان ہے جوکہ بہکاتا رہتا ہے۔

واضح رہے علمائے اسلام کا صریح فیصلہ ہے کہ جو شخص کتابِ خدا کےبارے میں اپنی رائے سے کام لے وہ کافر ہے ، جیسا کہ نبی(ص) نے کبھی اپنی رائے اور قیاس سے کچھ نہیں فرمایا:

ابوبکر کہا کرتے تھے: مجھے اپنے نبی(ص) کی سنت پر زبردستی نہ چلاؤ کیونکہ مجھ میں اس کی طاقت نہیں ہے۔

پس جب ابوبکر میں سنتِ نبی(ص) پر گامزن ہونے کی طاقت نہیں ہے تو پھر ان کے انصار و مددگار یہ دعوی کیسے کرتے ہیں کہ ہم اہلِ سنت ہیں۔

شاید ابوبکر سنتِ رسول(ص) کا اس لئے اتباع نہیں کرسکتے تھے کہ سنت انھیں یہ بتاتی کہ ان کا عمل رسالتِ مآب(ص) کے عمل سے بالکل مختلف ہے جبکہ خدا نے فرمایا ہے کہ:


" دین میں تمھارے لئے کوئی حرج نہیں ہے۔" ( حج۷۸)

" خدا تمھارے لئے آسانی کا ارادہ رکھتا ہے تنگی کا نہیں۔" ( بقرہ ۱۸۵)

" خدا کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔" (بقرہ۲۸۶)

" جو رسول(ص) تمھیں دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے بازرہو۔" ( حشر ۷)

ابوبکر کا یہ قول کہ مجھ میں سنتِ نبی(ص) کے اتباع کی طاقت نہیں ہے ان آیتوں کی تردید کررہا ہے اور جب نبی(ص) کے فورا بعد خلیفہ اوّل ابوبکر اس زمانہ میں سنتِ نبی(ص) پر عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے تو دورِ حاضر کے مسلمانوں سے کیونکر قرآن و سنتِ نبی(ص) پر گامزن  رہنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟

اور ہم تو ابوبکر کو ایسے آسان امور میں بھی سنتِ نبی(ص) کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ جن پر ناتواں اور جاہل بھی عمل کرتا ہے۔

چنانچہ ابوبکر نے قربانی کو ترک کردیا جبکہ رسول (ص) خود بھی قربانی کرتے تھے اور اس کی تاکید فرماتے تھے۔ تمام مسلمان جانتے ہیں کہ قربانی مستحب مؤکد ہے پھر خلیفہ مسلمین نےاسے کیونکر ترک کردیا؟

محدثین اور امام شافعی نے کتاب الام میں بیان کیا ہے کہ ( بیہقی نے سنن الکبریٰ کی ج۹ ص۳۶۵ اور سیوطی نے جمع الجوامع کی جلد۳ ص۴۵ پر نقل کیا ہے)

ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں قربانی نہیں کرتے تھے اور وہ اس خیال کے تحت کہ کہیں دیگر افراد ہماری اقتدا میں اسے واجب نہ سمجھنے لگیں!یہ تعلیل باطل ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں ہےکیونکہ تمام صحابہ جانتے تھے کہ قربانی سنت ہے  واجب نہیں ہے۔اور اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ لوگ قربانی کو واجب سمجھنے لگتے تو بھی کیا حرج تھا جبکہ عمر نماز تراویح کی بدعت ایجاد  کردیتے ہیں جو کہ نہ سنت ہے  اور نہ واجب۔

بلکہ اس کے برخلاف نبی(ص) نے اس سے منع فرمایا تھا اور آج اکثرِ اہلِ سنت نمازِ تراویح کو واجب سمجھتے ہیں۔


شاید ابوبکر و عمر قربانی نہ کرکے اور سنت نبی(ص) کا اتباع نہ کرکے لوگوں کو اس شک میں مبتلا کرنا چاہتے تھے کہ جو فعل بھی رسول(ص) نے انجام دیا ہے وہ واجب نہیں ہے۔ لہٰذا اسے ترک کیا جاسکتا ہے۔

اور اس سےان کےاس قول کی تقویت ہوتی ہے کہ "ہمارے لئے کتاب خدا ہی کافی ہے اور ابوبکر کےاس قول کو بھی سہارا ملتا ہے کہ نبی(ص) سے کوئی حدیث نقل نہ کیا کرو بلکہ یہ کہا کرو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتابِ خدا موجود ہے اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو!

اس بنیا د پر اگر کوئی شخص ابوبکر پر قربانی والی سنتِ نبی(ص) کے ذریعہ احتجاج کرتا ہے تو ابوبکر صاف کہدیتے تھے مجھ سے تم رسول(ص) کی حدیث بیان نہ کرو، مجھے تو کتاب  میں اس کا حکم دیکھاؤ کہاں ہے۔

اس کےبعد ایک محقق بخوبی اس بات کو سمجھ لے گا کہ اہلِ سنت کے یہاں سنتِ نبی(ص) کیونکر متروک و مجہول رہی اور انھوں نے اپنی رائے قیاس اور استحسان کے ذریعہ کیسے خدا و رسول(ص) کے احکام کو بدل ڈالا۔

یہ وہ مثالیں ہیں جن کو میں نے ابوبکر کے ان کارناموں سے نکالا ہے جو انھوں نے سنتِ نبی(ص) کے سلسلہ میں انجام دیئے ہیں۔ جیسے سنت کی اہانت ، احادیث کا جلانا اوران سے چشم پوشی کرنا ، اگر ہم چاہتے تو اس موضوع پر مستقل کتاب لکھدیتے۔

اتنے کم علم والے انسان سے ایک مسلمان کیسے مطمئن ہوسکتا ہے جس کا یہ مبلغِ علم ہے اور سنتِ نبوی(ص) سے جس کا یہ برتاؤ  ہے تو اس کی پیروی کرنے والے کیونکر اہلِ سنت کہلواتے ہیں؟

اہلِ سنت نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں اور نہ اسے نذر آتش کرسکتے ہیں۔

ہرگز ، بلکہ اہلِ سنت وہ ہیں جو اس کا اتباع کرتے ہیں اور اسے مقدس سمجھتے ہیں۔

("اے رسول (ص)) کہدیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو


 میرا اتباع کرو( پھر) خدا بھی تم سے محبت کرے گا اور تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ غفور و رحیم ہے۔

( اے رسول(ص)) کہدیجئے کہ اللہ اور رسول(ص) کی اطاعت کرو اگر روگردانی کرو گے تو خدا  کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے۔ ( آل عمران ۳۱۔۳۲)

۲: عمر بن خطاب ۔ فاروق

ہم اپنی دیگر کتابوں میں تحریر  کرچکے ہیں کہ سنت نبوی(ص) سے ٹکرانے میں عمر بڑے جسور تھے۔یہ وہ جری ہے جس نے رسول(ص) سے بےڈھڑک کہدیا تھا ہمارے لئے کتابِ خدا کافی ہے اور اس رسول(ص) کے قول کوجو کہ اپنی خواہش نفس سے کچھ کہتا  ہی نہیں اسے اہمیت نہیں دی، اس لحاظ سے عمر اس امت کی گمراہی کا سبب بنے۔( اس کی دلیل قولِ رسول(ص) ہے ۔، اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعدہ ابدا: میں تمھارے لئے نوشتہ لکھدوں کہ جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ابنِ عباس کہتے ہیں اگر وہ نوشتہ لکھا گیا ہوتا تو امت کے دو افراد کے درمیان کبھی اختلاف نہ ہوتا لیکن عمر نے رسول(ص) کو وہ نوشتہ نہ لکھنے دیا اور آپ(ص) پ رہذیان کی تہمت لگائی تاکہ رسول(ص) لکھنے پر اصرار نہ کریں۔ اس سے یہ  بات واضح ہوگئی کہ امت کی گمراہی کا سبب عمر ہیں جس نے امت کو ہدایت سے محروم کیا۔)

ہم یہ بھی جانتے ہیںکہ عمر نے فاطمہ زہرا(س) کی اہانت کی اور آپ(س)  کو اذیّتین دیں۔ آپ(س) کو اور آپ کے چھوٹے چھوٹے بچّوں کو اس وقت خوف زدہ کیا جب رسول(ص) کی لختِ جگر کے گھر پر یورش کی اور گھر کوآگ لگادینے کی دھمکی دی۔

ہم اس سے بھی بے خبر نہیں ہیں کہ عمر ہی نے حدیث کی کتابیں جمع کرکے نذر آتش کردی تھیں۔ اور لوگوں کو احادیثِ رسول(ص) بیان کرنے سے منع کردیا تھا۔

عمر نے اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اور خود رسول(ص) کے سامنے آپ(ص) کی سنت کی مخالفت کی جیسا کہ جیش اسامہ میں شرکت نہ کر کے سنتِ بنی(ص) کی مخالفت کی اور ابوبکر کی خلافت کو مستحکم بنانے کی


غرض سے جیشِ اسامہ کے ساتھ نہیں گئے تھے۔

مؤلفۃ القلوب کو ان کا حق نہ دیکر قرآن و سنت کی مخالفت کی۔

اسی طرح متعہ حج و متعہ نساء  کو حرام قرار دیکر قرآ نو سنت کی مخالفت کی۔

تین طلاقوں کو ختم کر کے ایک طلاق کو کافی بتا کر قرآن و سنت کی مخالفت کی۔

اور  پانی نہ ہونے کی صورت جمیں فریضہ تیمم کو ختم کر کے قرآن و سنت کی مخالفت کی۔

مسلمانوں کو جاسوسی کا حکم دیکر قرآن و سنت کی مخالفت کی۔

اسی طرح اذان سے ایک جزو ختم کر کے اور اپنی طرف سے ایک جزو کا اضافہ کر کے قرآن و سنت کی مخالفت کی۔

خالد بن ولید پر حد جاری نہ کر کے قرآن وسنت نبی(ص) کی مخالفت کی جبکہ خود اسے خد کی اجراء سے خوف زدہ کرچکے تھے۔جیسا کہ تراویح کو جماعت سے پڑھنے کا حکم دیکر سنتِ نبی(ص) کی مخالفت کی۔

بیت المال کی تقسیم کے سلسلہ میں سنتِ نبوی(ص) کی مخالفت کر کے طبقاتی نظام کی بدعت جاری کی اور اسلام میں طبقہ بندی کو جنم دیا۔مجلس شوریٰ بناکر اور ابنِ عوف کو اس کا رئیس مقرر کرکے سنتِ نبوی(ص) کی مخالفت کی۔

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کے باوجود اہل سنت والجماعت انھیں معصوم سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں عدل تو عمر کے مرتے ہی ختم ہوگیا تھا، اور جب انھیں قبر میں رکھا گیا اور منکرو  نکیر سوال کرنے آئے تو عمر ان پر برس پڑے اور پوچھا تمھارے پروردگار کون ہے؟ اہلِ سنت والجماعت کہتے ہیں کہ عمر فاروق ہیں کہ جس کے ذریعہ خدا نے حق و باطل میں فرق کر دیا۔

کیا یہ بنی امیہ نے اسلام اور ،مسلمانوں کا مذاق نہیں اڑایا ہے؟انھوں نے ایک سخت مزاج شخص کے لئے ایسے مناقب گھڑ دیئے جو کہ مستقل طور پر رسول(ص) سے لڑتا رہا۔ ( مسلم نے اپنی صحیح میں متعہ کے سلسلے میں ابن عباس اور ابن زبیر کا اختلاف درج کیا جہے ۔ جابر بن عبداللہ نے  کہا ہم رسول(ص) کے


ز مانہ میں متعہ حج اور متعہ نساء دونوں پر عمل کرتے تھے حج جمیں عمر نے دونوں کو حرام قرار دیدیا۔) گویا انکی زبانِ حال مسلمانوں سے یہ کہہ رہی ہے کہ محمد(ص)  کا زمانہ اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ ختم ہوگیا اب ہمارا زمانہ ہے۔ اب ہم جس طرح چاہیں گے دین میں ردّ و بدل کریں گے اور شریعت بنائیں گے ۔ اب تم ہمارے  غلام ہو تمھاری اور تمھارے نبی(ص) کی ناک رگڑی جا ئے گی۔ اور ردّ عمل کے طور پر انتقام لیا جائے گا تاکہ حکومت قریش ہی کی طرف لوٹا دی جائے جس کی زمام بنی امیہ کے ہاتھوں میں رہے گی جو کہ اسلام اور رسولِ اسلام سے مستقل طور پر لڑتے چلے آرہے ہیں۔

عمر بن خطاب سدا سنت نبوی(ص) کو مٹانے کی کوشش میں لگے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے اور ہیشہ اس کی مخالفت کرتے رہے یہاں  کہ نبی(ص) کے سامنے بھی مخالفت کی تو اب نہ تعجب خیز بات نہٰیں ہے کہ قریش حکومت کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں می دیدیں اور انھیں اپنا قائد اعظم  تسلیم کرلیں کیونکہ وہ ظہور اسلام کے بعد قریش کی بولتی ہوئی زبان تھے۔ اور ان کی طرف سے جھگڑنے والے تھے۔ اسی طرح وفاتِ نبی(ص)  کے بعد وہ قریش کی برہنہ  شمشیر اور ان کے خوابوں کی تعبیروں کو  وجود میں لانے کا مرکز اور حکومت تک ان کی رسائی کا ذریعہ اور ان کی جاہلیت والی عادتوں کی طرف پلٹانے کا سبب تھے۔

یہ کوئی اتفاقی امر نہیں جہے کہ ہم عمر کو ان کے زمانہ خلافت میں سنت نبوی(ص) کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور  انھیں  خانہ کعبہ میں مقام ابراہیم (ع) سے الگ ایسے عمل کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جیسے زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا۔

ابنِ سعد نے اپنی طبقات میں اور دیگر مورخین نے نقل کیاہے کہ:

جب نبی(ص) نے مکہ فتح کیا تو مقام ابراہیم(ع) کو اس طرح خانہ کعبہ سے ملادیا جس طرح عہد ابراہیم(ع) و اسماعیل(ع) میں تھا کیونکہ زمانہ جاہلیت میں عرب نے مقام ابراہیم(ع) کو اس جگہ کردیا تھا جہاں آج ہے۔ لیکن بعد میں عمر بن خطاب نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسی  جگہ کردیا تھا جہاں آج ہے جبکہ عہد ِ رسول(ص) اور زمانہ ابوبکر میں خانہ کعبہ سے ملا ہوا تھا۔( طبقات ابن سعد جلد ۳ ص۲۰۴، تاریخ الخلفا حالاتِ خلافت


عمر بن خطاب)

کیا آپ عمر بن خطاب کے لئے کوئی عذر پیش کرسکتے ہیںجب کہ وہجان بوجھ کر اس سنتِ رسول(ص) کو محو کرتے تھے جو کہ آپ(ص) نے ابراہیم و اسماعیل(ع) کے عمل کے مطابق کردی تھی اور عمر نے جاہلیت والی سنت کو زندہ کیا اور مقامِ ابراہیم(ع) وہیں کردیا جہاں زمانہ جاہلیت میں تھا۔

پس قریش عمر کو کیسے فوقیت نہ دیتے اور ان کے لئے ایسے فضائل کیونکر گھڑتے جو خیالات کی سرحدوں میں مقید ہیں یہاں تک کہ ان کے دوست ابوبکر کہ جن کو عمر نے خود خلافت میں مقدم کیا تھا وہ بھی اس مقام تک نہیں پہونچے اور پھر بخاری کی روایت کے مطابق ان کے (علم کے کنویں سے ڈول) کھینچنے میں ضعف تھا لیکن عمر نے ان سے لے لیا اور اسے آسانی سے کھینچ لیا۔اور یہ ان بدعتوں کا عشر عشیر  بھی نہیں ہے جو کہ عمر نے اسلام میں ایجاد کی ہیں۔ اور یہ بدعتیں سب کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کی مخالف ہیں۔اگر ہم ان کی بدعتوں کو جمع کریں اور ان احکام کو یکجا کردیا جائے جو کہ انھوں نے اپنی رائے سے صادر کئے ہیں اور ان پر لوگوں کو زبردستی عمل کرنے کے لئے کہا تو  دفتر کے دفتر  وجود میں آجائیں گے لیکن ہمارے پیشِ نظر اختصار ہے۔

اور کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے : عمر بن خطاب نے کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کی کیسے مخالفت کی جیسا کہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو خدا و رسول(ص) کے فیصلہ کے بعد کسی امر  کا اختیار نہیں ہے اور جو خدا اور اس کے رسول(ص) کی نافرمانی کرے گا وہ تو کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہے۔( احزاب/۳۶)

اس بات پر آج اکثر لوگ بحث کرتے ہیں اور ان باتو ں کو جھٹلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عمر نے ان چیزوں کا ارتکاب نہیں کیا ہے۔

ایسے لوگوں سے ہماری گذارش ہے کہ: یہ وہ چیزیں ہیں جو کہ اہلِ سنت میں سے عمر کے یارو انصار نے ثابت کی ہیں ۔ اور  اب   لاشعوری طور پر عمر کو نبی(ص) پر فضیلت دیتے ہیں۔


اگر یہ باتیں جو عمر کے بارے میں کہی گئی ہیں سب جھوٹی ہیں تو اہلِ سنت کی صحاح ( ستہ) کا کوئی اعتبار نہیں رہے گا ۔اور پھر ان کے کسی عقیدہ پر کوئی دلیل باقی نہ بچے گی۔ کیونکہ تواریخ کے اکثر واقعات اہلِ سنت کی حکومت کے زمانہ میں لکھے گئے ہیں اور ان لوگوں کے نزدیک عمر بن خطاب کا جو احترام و محبت ہےوہ سب پر عیاں ہے۔

اور جب یہ بات صحیح ہے اور ناقابل ترید حقیقت ہے تو آج مسلمانوں کو اپنے موقف کا جائزہ لینا چاہئے اور اپنے عقائد کے بارے میں سوچنا چاہئے اگر وہ اہلِ سنت والجماعت ہیں۔

اسی لئے آج کے اکثر محققین کو آپ دیکھیں گے کہ وہ ایسی روایات اوران تاریخی واقعات کو جھٹلاتے ہیں جن پر علما و محدثین کا اجماع ہے۔ اگر چہ انھیں جھٹلانے کی ان کے اندر طاقت نہیں ہے۔اسی لئے وہ تاویل کیا کرتے ہیں اور ایسے واہیات قسم کے عذر و بہانے کرتے ہیں۔

جن کی بنیاد علمی دلیل پر استوار نہیں ہوتی ہے بعض نے تو ان (عمر) کی بدعتیں جمع کر کے ان کے مناقب میں شامل کردی ہیں۔

شاید خدا و رسول(ص) دونوں ہی مسلمانوں کی مصلحت سے ناواقف تھے۔ اسی لئے تو وہ ان بدعتوں سے غافل رہے ( استغفر اللہ) چنانچہ عمر ابن خطاب نے ان مصلحتوں کا انکشاف کیا اور رسول(ص) کی وفات کے بعد انھیں مسلمانوں کے لئے سنت قرار دیدیا۔

ہم بہتان عظیم ، کھلے کفر ، رائے خطا اور فکری لغزشوں سے خد اکی پناہ چاہتے ہیں اور جب عمر جیسا اہلِ سنت والجماعت کا امام و قائد ہے ۔ تو میں ایسی سنت اور ایسی جماعت سے خدا کی بارگاہ میں برائت کا اظہار کرتا ہوں۔

خدا سے میری دعا ہے کہ وہ مجھے سنتِ خاتم النبیین سید المرسلین ، سیدنا محمد (ص) و علی(ع) اور اہلِ بیت طاہرین(ع)  کے راستہ پر موت دے۔


۳: عثمان بن عفان" ذوالنورین"

یہ تیسرے خلیفہ ہیں جو کہ عمر بن خطاب کی تدبیر سے اور عبدالرحمن بن عوف کی زیرکی سے خلافت پر متمکن ہوئے ، ابن عوف نے عثمان سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ ان کے درمیان کتابِ خدا ، سنتِ رسول(ص) اور سنت ابوبکر و عمر کے مطابق حکومت کے فیصلے کریں گے۔

مجھے خود دوسری شرط میں شک ہے کہ جس میں سنتِ نبی(ص) کے مطابق فیصلہ کرنے کو کہا گیا ہے۔

کیونکہ عبدالرحمن ابن عوف دوسروں سے زیادہ اس بات کو جانتے تھے کہ ابوبکر و عمر نے سنت نبوی(ص) کے مطابق نہ حکومت کی ہے  اور نہ کوئی فیصلہ کیا ہے بلکہ انھوں نے ہمیشہ اپنی رائے اور اجتہاد سے کام لیا ہے۔ شیخین کے  زمانہ میں سنتِ رسول(ص) معدوم ہوگئی ہوتی اگر علی(ع) اس کو زندہ رکھنے کے لئے ہر قسم کی قربانی نہ دیتے۔

ظن غالب یہ ہے کہ عبدالرحمن  بن عوف نے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب(ع) کے سامنے یہ شرط رکھی تھی کہ آپ کتابِ خدا اور سیرت شیخین کے مطابق حکومت چلائیں گے۔ تو ہم آپ(ع) کو خلیفہ بناتے ہیں۔ علی(ع) نے اس پیش کش کو یہ کہکر ٹھکرادیا تھا کہ میں صرف کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کے مطابق حکومت کروںگا۔ لہذا آپ(ع) کو خلافت نہ دی گئی کیونکہ وہ سنتِ نبی(ص) کو زندہ کرنا چاہتے تھے عثمان نے اس شرط کو قبول کر کے خلافت لے لی۔ پھر ابوبکر و عمر نے صریح طور پر متعدد بار یہ کہدیا تھا کہ ہمیں سنتِ نبی(ص) کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ اس کی حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو!

ہمارے مسلک کے صحیح ہونے کا اس بات سے اور زیادہ یقین ہوجاتا ہے کہ عثمان بن عفان اس شرط ( کہ سیرت شیخین کے مطابق عمل کرنا ہوگا)  سے یہ سمجھ گئے تھے کہ احکام کےسلسلہ میں اپنے دونوں دوستوں کی طرعح اپنی رائے سے اجتہاد کرلیا جائے گا اور یہ وہ سنت تھی جس کو


 شیخین نے نبی(ص) کے بعد ایجاد کیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ ہم عثمان کو رائے اور اجتہاد کے سلسلہ میں اپنےدوستوں سے بھی زیادہ مطلق العنان پاتے ہیں۔ اسی بناء پر اکثر صحابہ نے ان پر تنقید کی اور ملامت کرتے ہوئے عبدالرحمن بن عوف کے پاس آئے اور کہا یہ تمھارا کارنامہ ہے۔

اور جب تنقید و شور وغل عثمان کے خلاف بہت زیادہ ہوگیا تو ایک روز انھوں نےصحابہ کے درمیان خطبہ دیتےہوؕے کہا: تم لوگوں نے عمر بن خطاب کے اجتہاد پر کیوں تنقید نہیں کی تھی؟ اس لئے کہ وہ تمھیں اپنے درے سے صحیح رکھتے تھے!

ابنِ قتیبہ کی روایت ہے کہ: جب لوگوں نے عثمان پر تنقید کی تو وہ  خطبہ دینے کے لئے منبر پ رکھڑے ہوئے اور کہا ! اے گروہ مہاجرین و انصار قسم خدا کی تم  نے مجھ پر بہت چیزیں تھوپی ہیں اور بہت سے امور کو دشوار بنادیا ہے۔ جبکہ عمر بن خطاب  کے لئے تم خاموش رہے۔کیونکہ انھوں نے تمھاری زبانیں بند کر رکھی تھیں اور تمھیں ذلیل و خوار بنا رکھا تھا، تم میں سے کسی میں یہجراؔت نہ تھی کہ انھیں آنکھ  پھر کر دیکھ لینا اور نہ ہی آنکھ سے اشارہ کرسکتا تھا۔ قسم خدا کی میرے پا س ابنِ خطاب سے زیادہ افراد  اور مدد کرنے والے موجود ہیں۔ ( تاریخ الخلفا، ابنِ قتیبہ ص۳۱)

میر اذاتی عقیدہ یہ ہےکہ مہاجرین و انصار میں سے صحابہ نے  عثمان کے اجتہاد پر تنقید نہیں کی تھی ، کیونکہ وہ اجتہاد کے پہلے ہی روز سے عادی تھے اور اسے بابرکت سمجھتے تھے ۔ لیکن صحابہ نے اس لئے عثمان پر تنقید و اعتراض کی بوچھار کی تھی کہ عثمان نے انھیں معزول کرکے کرسیاں اور مناصب اپنے ان فاسق قرابت داروں کو دیئے تھےجو  کہ کل تک اسلام اور مسلمانوں سے جنگ کر رہے تھے۔

یقینا مہاجرین وانصار نے ابوبکر کے خلاف زبان نہیں کھولی تھی۔ کیونکہ ابوبکر و عمر نے انھیں حکومت میں شریک کا ربنا لیا تھا اور ایسے مناصب دیدئیے  تھے جن سے مال و عزت دونوں حاصل


ہوتے تھے۔

لیکن عثمان نے اکثر مہاجرین و انصار کو معزول کردیا تھا اور بنی امیہ کے لئے بیت المال کا دروازہ کھول دیا تھا چنانچہ صحابہ سے یہ نہ دیکھا گیا اور انھوںنے اعتراضات و شبہات کا سلسلہ شروع کردیا یہاں تک کہ عثمان قتل کردئیے گئے۔

رسول(ص) نے اس حقیقت کی طرف اس طرح اشارہ فرمایا تھا:

" مجھے تمہاری طرف سے اپنے بعد یہ خوف  نہیں ہے کہ تم مشرک ہوجاؤ گے۔ لیکن یہ خوف ہے کہ تم مقابلہ بازی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔"

حضرت علی(ع)  فرماتے ہیں :

" گویا انھوں نے خدا کا یہ قول  سنا ہی نہیں : ہم نے آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے مہیا کیا ہے جو  نہ زمین پر سربلندی کے خواہاں  اور نہ فساد پھیلاتے ہیں اور عاقبت متقین کے لئے ہے۔" (قصص/۸۳)

" قسم خداکی انھوں نے اس کو سنا اور محفوظ کیا لیکن دنیا ان کی آنکھ میں بن سنور گئی اور اس کی خوبصورتی نے انھیں لبھا لیا۔"

حقیقت تو یہی ہے، لیکن اگر ہم اس بات کے قائل ہوجائیں کہ صحابہ نے عثمان پر سنتِ نبی(ص) کو بدلنے کی وجہ سے تنقید و اعتراضات کئے تھا تو یہ بات معقول نہیں ہے کہ اس لئے کہ انھوں ابوبکر و عمر پر اعتراضات نہیں کئے تھے ۔ تو پھر عثمان پر اعتراض کرنے کا حق کہاں سے پیدا ہوا۔ جبکہ ابوبکر و عمر سے کہیں زیادہ عثمان کے ناصر و مددگار تھے۔ جیسا کہ خود عثمان نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ پھر عثمان بنی امیہ کے سردار تھے جو کہ قبیلہ تمیم و عدی، ابوبکر و عمر کے قبیلہ ، کی


بہ نسبت نبی(ص) سے قریب تھا اور طاقت و نفوذ میں زیادہ  اور حسب و نسب میں بلند تھا۔

لیکن صحابہ نہ صرف یہ کہ ابوبکر وعمر  پر اعتراضات نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی سنت کی اقتدا بھی کرتے تھے۔

اس بات کی دلیل یہ ہے کہ یہی صحابہ ایسی بہت سی مجلسوں میں شریک رہتے تھے جن میں عثمان سنتِ نبی(ص) کو بدل دیتے تھے جیسے سفر میں پوری نماز پڑھنا ، تلبیہ سے منع کرنا ، نماز میں تکبیر نہ کہنا اور حجِ تمتع سے منع کرنا۔ ان موقعوں پر حضرت علی(ع) کے علاوہ کسی نے بھی عثمان پر اعتراض نہ کیا ۔ انشاء اللہ عنقریب ہم اسے بیان کریں گے۔

صحابہ سنتِ نبی(ص) سے واقف تھے اور خلیفہ عثمان کو راضی رکھنے کے لئے سنتِ نبی(ص) کی مخالفت کو برداشت کرتے تھے۔

بیہقی نے اپنی سنن میں عبد الرحمن بن یزید سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا: ہم عبداللہ بن مسعود کے ساتھ تھے۔ پس جب ہم مسجد منیٰ میں داخل ہوئے تو عبداللہ بن مسعود نے کہا : امیرالمؤمنین ( یعنی عثمان) نے کتنی رکعت نماز پڑھی ہے۔ لوگوں نے بتایا چار رکعت تو  انھوں نے بھی چار ، رکعت نماز ادا کی ، راوی کہتا ہے کہ ہم نے کہا : کیا آپ نے ہم سے نبی(ص) کی یہ حدیث بیان نہیں کی تھی کہ نبی(ص) دو رکعت  پڑھتے تھے اور ابوبکر بھی دو رکعت پڑھتے تھے؟!

ابن مسعود نے کہا: جی ہاں اور اب بھی تم سے میں وہی حدیث بیان کرتا ہوں ۔ لیکن وہ امام  ہیں اس لئے میں ان کی مخالفت نہیں کرسکتا اور پھر اختلاف میں ہے۔( السنن الکبری جلد۳ ص۱۴۴)

پڑھئے اور عبداللہ بن مسعود ایسے عظیم صحابی پر تعجب کیجئے کہ جنھوں نے عثمان کی مخالفت کرنے کو شر سمجھا اور رسول(ص) کی مخالفت کو خیر تصوّر کیا۔

کیا  اس کے بعد بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ صحابہ نےسنتِ نبی(ص) ترک کردینے کی بناء پر


 عثمان پر اعتراضات کئے تھے؟!

اور سفیان بن عینیہ نے جعفر بن محمد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا : عثمان منیٰ میں مریض ہوگئے تھے، علی(ع) تشریف لائے تو لوگوں نےعرض کی آپ(ع) جماعت سے نماز پڑھا دیجئے ۔

علی(ع) نے فرمایا : اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں تیار ہوں لیکن وہی نماز پڑھاؤں گا جو رسول(ص) پڑھتے تھے۔ یعنی دو رکعت:

لوگوں نے کہا : نہیں صرف امیرالمؤمنین عثمان والی نماز چار رکعت ہونی چاہئے ۔ اس پر علی(ع) نے نماز پڑھانے سے انکار کر دیا۔( محلی، ابن حزم ، جلد۴،ص۲۷۰)

پڑھئے اور ان صحابہ پر افسوس کیجئے جن کی تعداد ہزاروں پر مشتمل تھی ۔ کیونکہ وہ حج کے زمانہ میں منیٰ  میں تھے ۔ وہ کیسے صریح طور پر سنتِ رسول(ص) کا انکار کررہے تھے اور صرف عثمان کی بدعت ہی پر راضی تھے۔ اور عبداللہ بن مسعود نے عثمان کی مخالفت کو شر تصور کیا تھا، اور چار ،رکعت نمازادا کی تھی باوجود یکہ انھوں نے دو رکعت والی حدیث بیان کی تھی، ممکن ہے عبد اللہ بن مسعود  ان ہزاروں افراد کے خوف سے، جو عثمان کے فعل ہی سے راضی تھے اور سنتِ رسول(ص) کو دیوار پر دے مارا تھا، تقیہ کیا ہو اور چار ، رکعت نماز ادا کی ہو۔

ان تمام باتوں کے بعد نبی(ص)  اور امیر المؤمنین علی بن ابی طالب(ع) پر درود و سلام بھیجنا نہ بھولئے کہ جنھوں نے عثمان کے چاہنے والوں کو رسول(ص) کی نماز کے علاوہ کسی بھی دوسری نماز پڑھانے  سے انکار کر دیا تھا۔ علی(ع) اپنے عمل سے سنتِ رسول(ص) کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور صحابہ آپ(ع) کی مخالفت کررہے تھے لیکن سنتِ رسول(ص) کے احیاء کے سلسلہ میں علی(ع) نے کسی مالمت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کی اور نہہی ان کی کثیر تعداد سے خائف ہوئے۔

عبداللہ بن عمر کا قول ہے کہ : سفر میں تو نماز دو رکعت ہے اور جس نے سنت کی مخالفت کی وہ کافر ہے۔( سنن بیہقی جلد۳ ص۱۴۰ اور ایسے ہی طبرانی نے معجم کبیر میں اور حصاص نے احکام القرآن کی جلد۲ ص۳۱۰ میں تحریر کیا ہے۔)


اس طرح عبداللہ بن عمر نے خلیفہ عثمان کو اور ان تمام صحابہ کو کافر قرار دیدیا جو عثمان کا اتباع کرکے سفر میں پوری نماز پڑھتے تھے ۔ اب ہم پھر فقیہ ، عبداللہ بنعمر کی طرف پلٹتے ہیں تاکہ اسے بھی اس دائرہ میں داخل کردیں جس میں اس نے دوسروں کو داخل کیا  ہے۔

بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے: ابنِ عمر  نے کہا : میں نے مکہ اور مدینہ کے درمیان عثمان و علی(ع) کی گفتگو سنی ، عثمان ، متعہ حج اور  متعہ نساء سے منع کررہے تھے جب کہ علی(ع) دونوں پر عمل کرنے کا حکم دے رہے تھے اور فرمارہے تھے۔لبيک عمرة ، حجة معا : عثمان نے کہا  : آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں لوگوں کو ایک چیز سے منع کررہا ہوں اور  آپ اس کا حکم دے رہے ہیں؟ علی(ع) نے  فرمایا : میں کسی کے کہنے سے سنتِ رسول(ص) کو ترک نہیں کرسکتا ہوں ۔ ( صحیح بخاری، جلد۲ ص۱۵۱ باب التمتع والاقران من کتاب الحج۔)

کیا آپ کو مسلمانوں کے اس خلیفہ پر تعجب نہیں ہوتا جو کہ صریح سنت کی مخالفت کرتے  ہیں اور لوگوں کو بھی اس پر عمل کرنے سے منع کرتے ہیں  لیکن کوئی شخص ان پر اعتراض نہیں کرتا ہاں علی بن ابی طالب(ع) سنتِ رسول(ص) پر عمل کرتے ہیں اور جان کی بازی لگا کر اسے زندہ رکھتے ہیں۔

سچ بتائیے کیا ابوالحسن علی(ع) کے علاوہ صحابہ میں کوئی تھا بھی حاکم کے ہم خیال تھے۔علی(ع) نے کبھی سنت رسول(ص) کو ترک نہ کیا ۔ہمارے اس مسلک پر اہل سنت  کی صحاح وغیرہ شاہد ہیں کہ علی(ع) نے ہمیشہ  سنت نبی (ص) کے احیاء کے لئے اور لوگوں کو س کی طرف پلٹانے کی پوری  کوشش کی۔ لیکن اس رائے کی حقیقت ہی کیا ہے جس پر عمل نہ کیا جاتا ہو۔ جیسا کہ خود حضرت علی(ع) نے فرمایا ہے۔اس زمانہ میں شیعوں کے علاوہ، جو کہ ان سے محبت رکھتے تھے ، ان کا اتباع کرتے تھے اور تمام احکام ان ہی سے لیتے  تھے، کوئی بھی آپ(ع) کی اطاعت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی آپ کے اقوال پر عمل کرتا تھا۔

اس سے ہمارے اوپر یہ بات اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے کہ صحابہ نے عثمان پر سنت


میں تبدیلی کی بنا پر تنقید نہیں کی تھی جیسا کہ ہم ان کی صحاح میں یہ دیکھتے ہیں کہ صحابہ نے کس طرح سنتِ نبی(ص)ٌ کی مخالفت کی۔ لیکن عثمان کی بدعت کی مخالفت نہیں کی لیکن دنیائے دنی کی وجہ سے اور مال و دولت حاصل کرنے کی بنا پر وہ آپے سے باہر ہوگئے۔

یہی لوگ صؒح کے بجائے حضرت علی(ع) سے جنگ کرتے رہے کیوںکہ آپ انھیں عہدوں پر فائز نہیں کرتے تھے اس کے برعکس ان سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ جو ناحق مال جمع کرلیا ہے اسے مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کردو تاس کہ ناداروں کی کفالت ہوسکے۔

لائق  تبریک و تحسین ہیں آپ(ع)  اے ابوالحسن (ع) کہ جس نے اپنے پروردگار کی کتاب اور رسول(ص) کی سنت کی محافظت کی۔ آپ(ع) ہی امام المتقین اور مستضعفین کے ناصر ہیں، آپ کے شیعہ ہی کامیاب ہیں۔

کیونکہ وہ کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) سے متمسک رہے اور آپ(ع) کی خدمت میں شرفیاب رہے۔ اور آپ(ع) سے احکام لیتے رہے۔

قارئین محترم کیا ان تمام باتوں کے بعد بھی عثمان بن عفان کا اتباع کرنے والے اہلِ سنت ہیں اور علی(ع) کا اتباع کرنے والے رافضی و بدعت گذار؟

اگر آپ منصف مزاج ہیں تو فیصلہ کیجئے۔" بے شک خدا تمھیں امانت والوں کی امانت لوٹانے کا حکم دیتا ہے، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا تو عدل و  انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا۔( نساء/۵۸)

۴ : طلحہ بن عبید اللہ :

آپ مشہور اور بڑے صحابہ میں سے ایک ہیں اور عمر بن خطاب نے جو خلیفہ کے انتخاب کے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی اس کے ایک رکن بھی تھے۔ اور عمر نے ان ہی کے متعلق فرمایا تھا:  اگر یہ خوش ہوں تو مؤمن،غضبناک ہوں تو کافر، ایک روز انسان دوسرے روز شیطان


ہیں۔ بزعم اہل سنت والجماعت عشرہ مبشرہ میں آپ بھی شامل ہیں۔

جب ہم اس شخص کے متعلق تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے بندے تھے، ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے دنیا کے حصول کے لئے دین بیچ دیا اور گھاٹے سے دو چار ہوئے ۔ ان کی اس تجارت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ قیامت کے دن پشیمان ہوں گے۔

یہ وہی طلحہ ہے جس نے رسول(ص) کو یہ کہہ کر تکلیف پہنچائی تھی، اگر رسول(ص) مرجائیں گے تو میں عائشہ سے  نکاح کرلوں گا، وہ میری چچازاد ہیں۔ شدہ شدہ رسول(ص) تک بھی یہ بات پہونچ گئی۔ چنانچہ آپ (ص) کو بہت قلق ہوا۔

اور جب آیہ حجاب ( پردے والی آیت) نازل ہوئی اور نبی(ص) کی ازواج پردہ کرنا شروع کردیا تو طلحہ نے کہا : کیا محمد(ص) ہماری چچازاد بیٹیوں کو ہم سے پردہ کرائیں گے ؟ ہماری عورتوں سے نکاح کریں ؟ اگر کوئی حادثہ رونما ہو گیا تو ہم ان (نبی(ص))  کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کریں گے۔ ( تفسیر ابنِ کثیر ، تفسیر قرطبی، تفسیر آلوسی وغیرہ سب میں خداوندِ عالم کے اس قول کی تفسیر میں یہ واقعہ درج ہے۔ماکان ان توذوا رسول الل ه ولا ان تنکحوا ازواجه بعده)

جب رسولِ خدا(ص) کو اس بات سے تکلیف ہوئی تو یہ آیت نازل ہوئی ۔

اور تمھیں رسول(ص) کو تکلیف پہنچانے کا حق نہیں ہے اور نہ ہی ان کے بعد کبھی ان کی ازواج سے نکاح کرنے کا حق ہے بے شک خدا کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔( احزاب/۵۳)

یہ وہی طلحہ ہیں جو ابوبکر کے انتقال سے قبل اس وقت ان کے پاس گئے تھے۔ جب انھوں نے عمر کو خلافت کا پروانہ لکھ دیا تھا اور کہا آپ اپنے خدا کو کیا جواب دیںگے جبکہ آپ نے ہمارے اوپر ایک سخت مزاج  کو مسلط کردیا ہے؟ ابوبکر نے سخت کلام میں ان پر سب و شتم کیا۔ ( الامامت  والسیاست ابنِ قتیبہ فی باب وفات ابی بکر و استخلافہ عمر)


لیکن بعد میں ہم ان کو خاموش اور نئے خلیفہ سے راضی دیکھتے ہیں اور ان کے انصار میں نظر آتے ہیں اور اموال جمع کرنا اپنے ذمہ لے لیا ہے۔  خصوصا اس وقت تو اور  خیر خواہ بن گئے جب عمر نے انھیں خلیفہ ساز چھ رکنی کمیٹی کا رکن بنادیا اور جناب کو بھی اس کی طمع ہونے لگی۔یہ وہی طلحہ ہے جس نے علی(ع) کو حقیر تصوّر کیا اور عثمان کے طرف داروں میں ہوگئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خلافت عثمان ہی کو ملے گی اور پھر اگر علی(ع) کو خلافت مل بھی جاتی تو ان کی طمع پوری نہیں ہوسکتی تھی ۔ چنانچہ حضرت علی(ص) نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے: ان میں سے ایک تو بغض اور کینہ کی وجہ سے ادھر جھک گیا اور دوسرا دامادی اور دیگر ناگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے ادھر چلاگیا۔۔۔۔۔

شیخ محمد بن عبدہ اپنی شرح میں تحریر فرماتے ہیں۔ طلحہ عثمان کی طرف زیادہ مائل تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے درمیان قرابت تھی  جیسا کہ بعض راویوں نے نقل کیا ہے اور عثمان کی طرف ان کے میلان اور علی(ع) سے منحرف ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ تیمی ہیں اور جب سے ابوبکر خلیفہ بنے تھے اس وقت سے بنی ہاشم اور بنی تیم کے درمیان رسہ کشی چلی آرہی تھی۔ ( شرح نہج البلاغہ محمد عبدہ جلد۱، ص۸۸، خطبہ شقشقیہ۔)

اس میں کوئی شک نہیں ہے غدیر میں بیعت کرنے والے صحابہ میں یہ بھی شامل تھے۔ اور انھوں نے بھی رسول(ص) کی زبان سے ، من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ سنا تھا۔بے شک انھوں نے رسول(ص) کو فرماتے ہوئے سنا تھا ۔ علی(ع) کے ساتھ  ہیں اور حق علی(ع) کے ساتھ ہے۔ خیبر میں بھی آپ اس وقت موجود تھے جب رسول(ص) نے حضرت علی(ع) کو علم دیا تھا اور فرمایا تھا: علی(ع) خدا اور اس کے رسول(ص) کو دوست رکھتے ہیں اور خدا و رسول(ص) انھیں دوست رکھتے ہیں۔ طلحہ یہ بھی جانتے تھے کہ علی(ع)  نبی(ص) کے لئے ایسے ہی ہیں جیسے موسی(ع) کے لئے ہارون(ع) تھے اور اس کے علاوہ اور بہت سی باتیں جانتے تھے۔

لیکن طلحہ کے سینے میں بغض کی آگ دبی ہوئی تھی، حسد سے دل لبریز تھا وہ جو بھی دیکھتے خاندانی تعصب کی نظر سے دیکھتے تھے پھر اپنی چچازاد بہن عائشہ کی طرف مائل تھے جس سے نبی(ص)


کے بعد شادی رچانا چاہتے تھے لیکن قرآن نے ان کی تمناؤں پر پانی پھیر دیا۔

جی ہاں طلحہ عثمان سے مل گئے ، ان کی بیعت کر لی کیونکہ وہ انھیں انعام واکرام سے نوازتے تھے۔ اور جب عثمانتختِ خلافت پر متمکن ہوگئے تو طلحہ کو بے حساب مسلمانوں کا مال دے دیا۔ ( طبری ، ابنِ ابی الحدید اور طہ حسین نے فتنۃ الکبری میں اس کا ذکر کیا ہے طلحہ عثمان کاپچاس ہزار کا مقروض تھا ایک روز طلحہ نے عثمان سے کہا کہ مٰیں نے تمہارا قرض چکانے کے لئے پیسہ جمع کر لیا ہے ایک روز ویہ پیسہ جو عثمان سے ملتا تھا۔ بھیج دیا تو عثمان نے کہا کہ یہ تمھاری مروت کا انعام ہے۔ کہا گیا کہ عثمان نے مزید دو لاکھ طلحہ کو دیئے۔

پس ان کے پاس اموال غلاموں اور چوپایوں کی کثرت ہوگئی یہاں تک ہر روز عراق سے ایک ہزار دینار آتے تھے۔

ابنِ سعد طبقات میں تحریر فرماتے ہیں۔ جب طلحہ کا انتقال ہوا اس وقت ان کا ترکہ تین ملین درہم تھا اور دو ملین دو  لاکھ دینار نقد موجود تھے۔

اسی لئے طلحہ سرکش ہوگئے اور جرت بڑھ گئی اور اپنے جگری دوست عثمان کو راہ سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگے تاکہ خود خلیفہ بن جائیں ۔

شادی ام المؤمنین عائشہ نے بھی انھیں خلافت کی طمع دلائی تھی۔ کیوں کہ عائشہ نے بھی پوری طاقت سے عثمان کو خلافت سے ہٹانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا۔ عائشہ کو یقین تھا کہ  خلافت ان کے چچازاد طلحہ کو ملے گی۔ اور جب انھیں عثمان کے قتل کی اطلاع ملی اور یہ خبر پہنچی کہ لوگوں نے طلحہ کی بیعت کر لی ہے تو وہ بہت خوش ہوئیں اور کہا: نعثل کی ہلاکت کے بعد خدا سے غارت کرے اور خوش ہو کر کہا کہ مجھے جلد میرے ابنِ عم کے پاس پہنچا دو لوگوں کو  خلافت کے سلسلہ میں کو ئی طلحہ جیسا کہ نہ ملا۔

جی ہاں طلحہ نے یہ عثمان کو  احسان کا بدلہ دیا ہے۔ جب عثمان نے انھیں مالدار بنا دیا تو طلحہ نے خلافت حاصل کرنے کی غرض سے انھیں چھوڑ دیا اور لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکانے لگے اور ان


 کے سخت مخالف بن گئے۔ یہاں تک محاصرہ کے زمانہ میں خلیفہ کے پاس  پانی بھیجنے کو منع  کردیا تھا۔

ابنِ ابی الحدید کہتے ہیں کہ عثمان نے محاصرہ  کے زمانہ میں کہا تھا:

خدا طلحہ کو غارت کرے میں نے اسے اتنا سونا چاندی دی اور وہ میرے خون کا پیاسا ہے  اور لوگوں کو میرے خلاف اکسا رہا ہے، پروردگارا وہ اس (  مال) سے فائدہ نہ اٹھانے پائے اور اسے اس کی بغاوت کا مزہ چکھادے۔

جی ہاں یہ وہی طلحہ ہے جو عثمان کی طرف جھک گیا تھا اور اس لئے انھیں خلیفہ بنا دیا تھا تاکہ علی(ع)  خلیفہ نہ بن سکیں۔ چنانچہ عثمان نے بھی انھیں سونے چاندی سے مالا مال کیا آج وہی لوگوں کو عثمان سے بدظن کررہے ہیں  اور ان کے قتل پر اکسا رہے ہیں۔ اور ان کے پاس جانے سے منع کررہے ہیں  اور جب دفن کے لئے ان کا جنازہ لایا گیا تو انھیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے سے منع کیا۔ پس  حشِ کو کب " یہودیوں کے قبرستان " میں دفن کیا گیا۔( تاریخ طبری، مدائنی ، واقدی نے مقتلِ عثمان میں لکھا ہے۔)

قتلِ عثمان کے بعد ہم طلحہ  کو سب سے پہلے علی(ع) کی بیعت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، پھر وہ بیعت توڑ دیتے ہیںاور مکہ میں مقیم اپنی چچازاد  بہن عائشہ سے جاملتے ہیں اور اچانک عثمان کے خون کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں، سبحان اللہ، کیا اس  سے بڑھ کر بھی کوئی بہتان ہے؟!

بعض مؤرخین نے اسکی یہ علت  بیان کی ہے کہ علی(ع) نے انھیں کوفہ کا گورنر بنانے سے انکار کردیا  تھا اس لئے انھوں نے بیعت توڑی تھی اور اس امام سے جنگ کیلئے  نکل  پڑے تھے جس کی کل بیعت کرچکے تھے۔

یہ اس شخص کی حالت ہے جو کہ سر سے پیروں تک دنیوی خواہشات میں غرق ہوچکا ہے اور آخرت کو بیچ چکا ہے اور اس کی تمام کوششیں جاہ و منصب کے لئے ہوتی تھیں ۔ طہ حسین کہتے ہیں۔ طلحہ کی جنگ خاص نوعیت کی حامل ہے۔ جب تک ان کو ان کی مرضی کے مطابق دولت و عہدہ ملتا رہا خوش رہے جب اور طمع بڑھ گئی تو جنگ کے لئے تیار ہوگئے ۔ یہاں تک کہ خود بھی


ہلاک کرتے اور دوسروں کو بھی ہلاکت میں ڈال دیا۔ ( الفتنۃ الکبری، طہ حسین جلد۱ ص۱۵۰)

یہی وہ طلحہ ہیں جنھوں نے کل علی(ع) کی بیعت کی تھی اور چند روز کے بعد بیعت توڑ کر رسول(ص) کی زوجہ عائشہ کو بصرہ لے گئے کہ جس سے نیکو کاروں کا قتل، اموال کی تباہی اور لوگوں میں خوف پھیل گیا یہاں  تک کہ علی(ع)  کے اطاعت گذاروں میں تفرقہ پڑ گیا۔ اور نہایت ہی بے حیائی کے ساتھ اپنے زمانہ کے اس امام سے جنگ کرنے لگے کہ جس  کی اطاعت کا قلادہ  بیعت کے ذریعہ اپنی گردن میں ڈال چکے تھے۔

جنگ شروع ہونے سے قبل  امام علی(ع) نے کسی کو اس کے پاسبھیجا تو محاذ پر فوج کی صف میں ان سے ملاقات ہوئی۔آپ(ع) نے پوچھا : کیا تم نے میری بیعت نہیں کی تھی؟ اے طلحہ تمھیں کس چیز نے خروج پر مجبور کیا ؟

طلحہ : خونِ عثمان کے انتقام نے۔

علی(ع) : ہم میں سے جو قتلِ عثمان میں ملوث ہے  خدا اسے قتل کرے۔

ابنِ عساکر کی روایت ہے کہ علی(ع) نے ان سے کہا۔

"اے  طلحہ میں تمھیں  خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے رسول(ص) کو یہ فرماتے نہیں سنا تھا۔"

من کنت مولا فعلی مولا، اللم وال من والا و عاد من عادا؟

جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی(ع) مولا ہیں خدا یا ان کے دوست کو  دوست اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ؟

طلحہ نے کہا : ہاں آپ(ع) فرمایا پھر تم مجھ سے کیوں جنگ کررہے ہو؟ طلحہ نے جواب دیا خون  کا انتقام ، جس کو علی(ع)  نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ خدا ہم  میں سے پہلے اسے قتل کرے جس نے عثمان کو قتل کیا ہے ۔ خدا  نے علی(ع) کی دعا قبول فرمائی اور طلحہ اسی روز قتل ہوگئے ، طلحہ کو قتل کرنے


والا مروان بن حکم تھا۔ جو کہ طلحہ کے ساتھ  علی(ع) سے جنگ کرنے آیا تھا۔

طلحہ فتننہ و بہتان کو برنگیختہ کرتا تھا اور حقائق کو الٹ پلٹ کرتا تھا اس سلسلہ میں قطعی احتیاط نہیں کرتا تھا، عہد کو پورا نہیں کرتا تھا، ندائے حق پر  کان نہیں دھرتا تھا علی(ع) نے اسے ( نبی(ص) کی حدیث)  یاد دلائی گمراہ ہوئے دوسروں کو گمراہ کیا اپنے فتنہ کی وجہ سے ایسے نیکو کاروں کو قتل کردیا۔ جن کا قتلِ  عثمان سے  کوئی سروکار نہیں تھا اور نہ ان کی عمر کی مدت کوجانتے تھے اور نہ بصرہ سے باہر نکلے تھے۔ابنِ ابی الحدید نقل کرتے ہیں کہ جب طلحہ  بصرہ  پہنچے تو عبداللہ بن الحکیم تمیمی وہ خط لے کر طلحہ کے پاس آئے جو کہ انھوں نے انھیں لکھے تھے اور طلحہ سے کہا ۔

اے ابو محمد یہ آپ کے خط ہیں؟ کہا : جی ہاں۔

عبداللہ نے کہا کل تم نے یہ لکھا تھا کہ خلافت سے عثمان کو  اتار دو اور انھیں قتل کردو۔ یہاں تک کہ انھیں قتل کر ڈالا اب ان کے خان کا مطالبہ کرتے ہو، یہ  تمہارا کونسا مسلک ہے؟ تم صرف دنیا کے بندے لگتے ہو اگر تمھارا یہی نظریہ تھا تو تم  نے علی(ع) کی بیعت کیوں کی تھی اور اب کیوں توڑ ڈالی اب ہمیں اپنے فتنہ میں پھنسانے آئے ہو۔ ( شرح ابن ابی الحدید ج۲ ص۵۰۰)

جی ہاں یہ طلحہ بن عبیداللہ کی واضح حقیقت ہے  جیسا کہ اہلِ سنت والجماعت کے اہلِ سنن و تواریخ نے بیان کیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ طلحہ کو ان دس افراد میں شمار کرتے ہیں جن کو جبت کی بشارت دی گئی جہے۔

وہ جنت کو ہلٹن کی سرئے سمجھتے ہیں کہ جن میں ملینوں دلال ہیں جہاں قاتل و مقتول اور ظالم و مظلوم ، مومن و فاسق نیک و بد سے مل جائیں گے۔ کیا ان میں سے ہر شخص اسکا متمنی ہے کہ وہ نعمتوں والی جنت میں داخل ہوگا۔ ( معارج ۳۸) کیا جن لوگوں نے ایمان قبول کیا ہے اور نیک اعمال انجام دیئے ہیں ان کو ہم ان لوگوں کے برابر قرار دیں جو روئے زمین پر فساد پھیلایا کرتے ہیں یا ہم پرہیز گاروں کو بدکارو ں کے مثل بنادیں۔ ( ص۴۲۸)

کیا مومن فاسق کے برابر ہے یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔( سجدہ/۱۸)


لیکن جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال بجالائے ہیں ان کے لیئے باغات ( جنت) ہیں اور یہ ضیافت کے سامان ان نیکیوں  کا بدلہ ہے جو انھوں نے کی تھیں۔ اور جن لوگوں نے برے کام کئے ان کا ٹھکانہ جہنم  ہے جب بھی وہ اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے ( اسی وقت) اس میں ڈھکیل دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائےگا ۔ جہنم کے جس عذاب کو تم جھٹلاتے تھے اس کا مزہ چکھو! ( سجدہ/۱۹۔۲۰)


۵: زبیر بن العوام:

آپ بھی بزرگ صحابہ اور اوّلین مہاجرین میں سے ہیں اور رسول(ص) سے ان کی قریب کی عزیزداری ہے۔ آپ صفیہ بنتِ عبد المطلب رسول(ص) کی پھوپھی کے بیٹے ہیں۔

" اور اسماء بنت ابوبکر عائشہ کی بہن بھی ان سے منسوب تھی اور خلیفہ کے انتخاب کے لئے عمر بن خطاب کی تشکیل دی ہوئی چھ رکنی کمیٹی کے بھی رکن ہیں" ( یقینا عمر بن خطاب اس فکر کے مؤجد ہیں اور  یہ فکر اپنی جگہ زیرکی ہے، یہ کمیٹی دی تھی تاکہ وہ حضرت علی(ع) سے موابلہ کرے کیونکہ تمام صحابہ اس بات کو  بخوبی جانتے تھے کہ خلافت حضرت علی(ع) کا حق ہے جس کو قرش  نے غصب کر لیا تھا اور جب فاطمہ(س) نے احتجاج  کیا تو انھوں نے کہا اگر آپ(س) کے شوہر ہمارے پاس پہلے آجاتے تو ہم ان پر کسی کو ترجیح نہ دیتے ۔ عمر بن خطاب اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ خلافت اپنے شرعی حقدار  تک پہنچے اس لئےانھوں نے مقابلہ کے لئے ایک کمیٹی بنادی، جس سے  ہر فرد کے دل میں خلافت کی طمع پیدا ہوگئی ان کے دلوں میں رئیس بننے کی امیدیں کروٹ لینے لگیں اس طرح انھوں نے اپنے دین کو دنیا کے عوض بیچ دیا اور اس تجارت نے انھیں کو ئی فائدہ نہ دیا۔)

اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ بھی ان دس افراد میں شامل ہیں جنھیں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔

اس میں کوئی تعجب  نہیں ہے کہ وہ طلحہ کی صحبت میں رہتے تھے۔ جب طلحہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو زبیر کا ذکر بھی اس کے ساتھ لازمی ہوجاتا ہے اور جب زبیر کا ذکر ہوتا ہے تو طلحہ بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔

یہ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے دنیا حاصل کرنے کے لئے مقابلہ آرائی کی اور اس سے اپنے پیٹ بھی لئے ، طبری کی روایت کے مطابق زبیر بن العوام کا ترکہ ، پچاس ہزار دینار ، ایک ہزار گھوڑے اور ایک ہزار غلام تھے اور بصرہ و کوفہ میں بہت ساری جائیداد تھی۔


اس سلسلہ میں طہ حسین کہتے ہیں:

زبیر کے اس ترکہ میں اختلاف ہے جو وارثوں میں تقسیم ہو ا جو لوگ ترکہ کم بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وارثوں کے درمیان تقسیم ہونے والا ترکہ ۳۵ ملین تھا۔ اور زیادہ کے قائل کہتے ہیں کہ ورثاء نے ۵۲ ملین تقیسم کیا معتدل حضرات کا کنہا ہے کہ چالیس لاکھ تقسیم ہوا۔

اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ فسطاط میں ، اسکندریہ میں ، بصرہ میں اور کوفہ میں بھی زبیر کی زمینیں تھیں اور صرف مدینہ میں ان کے بارہ مکان تھے اس کے علاوہ اور بہت سی چیزیں چھوڑی تھیں۔( الفتنۃ الکبری،جلد۱، ص۱۴۷)

لیکن بخاری کی روایت یہ ہے کہ زبیر نے دو لاکھ پچاس ملین ترکہ چھوڑا تھا۔ ( صحیح بخاری جلد۴ ص۵۳ باب فرض الخمس باب برکۃ الغازی فی مالہ حیا و میتا۔)

اس سے ہمارا مقصد صحابہ کا محاسبہ ہرگز نہیں ہے جو انھوںنے جانفشانی سے جائیداد حاصل کی اور اموال جمع کئے وہ ان کا ہے دارا مالِ حلال ہے۔ لیکن ہمیں یہ دو اشخاص طلحہ و زبیر دنیا کے حریص نظر آتے ہیں۔ ہم جانتے  ہیں  ان دونوں نےامیر المؤمنین علی بن ابی طالب(ع) کی بیعت توڑدی تھی کیونکہ آپ(ع۹) نے ان اموال کو واپس لینے کا عزم کر لیا تھا جو کہ عثمان نے مسلمانوں کے بیت المال سے ( اپنے چاہنے والوں کو) دے دیئے تھے، ایسے موقع پر مذکورہ دو اشخاص کی بیعت شکنی ہمیں اور شک میں ڈالدیتی ہے۔

جب حضرت علی(ع) مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ(ع) نے لوگوں سنتِ نبوی(ص) کی طرف لوٹانے میں تعجیل کی اور سب سے پہلے بیت المال کو تقسیم کیا اور ہر ایک مسلمان کو تین دینار دیئے خواہ وہ مسلمان عرب کا باشندہ ہو یا عجم کا، اور اسی طرح نبی(ص) اپنی پوری حیات  میں تقسیم کرتے رہے۔اس طرح علی(ع) نے عمر بن خطاب کی وہ بدعت ختم کردی جو کہ انھوں نے عربی کو عجی پر فضیلت دی اور عربی کو اعجمی کے دو برابر دیا جاتا تھا۔

علی بن ابی طالب(ع) سنتِ نبوی(ص) کی طرف لوگوں کو لوٹانے کی کوشش کرتے رہے ۔ یہاں تک


کہ وہ صحابہ آپ کے خلاف ہوگئے ، جو کہ عمر کی بدعتوں کو دوست رکھتے تھے۔

یہ ہے عمر سے قریش کی محبت و عقیدت کا راز کہ جس سے ہم غافل تھے۔ عمر نے تمام مسلمانوں پر قریش کو فضیلتدے کر ان میں قومی ، قبائلی او طبقاتی تکبر و غرور کی روح پھونک دی۔

پس علی(ع) پچیس سال کے بعد قریش کو اس جگہ کیسے پلٹا سکتے تھے جس پر رسول(ص) کے زمانہ میں تھے کہ جس میں مساوی طور پر بیت المال کی تقسیم ہوتی تھی۔ چنانچہ بلالِ حبشی کو نبی(ص) کے چچا عباس کے برابر حصہ ملتا تھا اور قریش اس مساوات کے سلسلہ میں رسول(ص) پر اعتراض کرتے تھے ہم سیرت کی  کتابوں میں دیکھتے ہیں کہ وہ اکثر نبی(ص) سے اس تقسیم کے بارے میں جھگڑتے تھے۔

اس لئے بھی طلحہ و زبیر نے امیر المؤمنین علی(ع) کے خلافف علم بغاوت بلند کیا کیونکہ آپ(ع) نے مساوات سے کام لے کر سب کو برابر دیا اور ان کا امارت والا مطالبہ ٹھکرا دیا اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان کوگوں سے ان اموال کا محاسبہ کر لیا جو انھوں نے جمع کیا تھا تاکہ اس مسروقہ  اموال کو واپس لے کر ناداروں میں تقسیم کردیں۔

جب زبیر کو یہ یقین ہوگیا کہ علی(ع) مجھے بصرہ کا گورنر نہیں بنائیں گے اور نہ ہی دوسروں پر  مجھے فوقیت دی گے بلکہ اس کے بر خلاف مجھ سے ان اموال  کے متعلق بازپرس ہوگی جو کہ بلازحمت جمع کر لیا تھا ۔ تو اپنے دوست طلحہ کے ساتھ حضرت علی(ع) کی خدمت میں آئے اور عمرہ ( بجالانے) لے لئے ( مکہ) جانے ک اجازت طلب کی ، حضرت علی(ع) بھی ان  کے ارادے کو تاڑ گئے اور فرمایا:

" قسم خدا کی تمھارا عمرہ کا ارادہ نہیں ہے بلکہ تمھارا عذر کا ارادہ ہے'

عائشہ بنت ابوبکر سے ملحق ہونے والے دوسرے زبیر ہیں اور کیوں نہ ہو وہ زبیر کی زوجہ کی بہن تھیں۔چنانچہ طلحہ و زبیر انھیں بصرہ لے آئے اور جب عائشہ پر چشمہ حوب کے کتے بھونکنے لگے اور انھوں نے پلٹ جانے کا ارادہ کیا تو انھوں نے پچاس افراد سے جھوٹی گواہی دلوادی تاکہ عائشہ اپنے خدا اور شوہر کی نافرمانی کی مرتکب ہوجائیں اور ان کے ساتھ بصرہ چلی جائیں کیونکہ وہ


 اپنی زیرکی سے یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ لوگوں میں عائشہ کا ہم سے زیادہ اثر ہے اور پھر پچیس سال تک زحمتیں اٹھا کر لوگوں کو یہ بات باور کرائی تھی کہ عائشہ رسول خدا(ص) کی چہیتی بیوی ہیں اور حمیراء ابوبکر صدیق کی بیٹی ہیں کہ جن کے پاس نصف دین ہے اور زبیر کے قصہ  میں عجیب بات یہ ہے کہ یہ بھی خون عثمان کا انتقام لینے کے لئے نکلے جبکہ صحابہ نے ان پر یہ تہمت لگائی تھی کہ یہی عثمان کے قتل کا سبب ہیں۔

چنانچہ میدانِ جنگ میں جب ان سے حضرت علی(ع) کی ملاقات ہوئی تو آپ(ع) نے فرمایا :

کیا تم مجھ سے خون عثمان کا بدلہ لوگے جبکہ تم نے خود انھیں قتل کیا ہے۔ ( تاریخ طبری جلد۵،ص۲۰۴، تاریخ کامل جلد۳ ص۱۰۲)

مسعودی کی عبارت یہ ہے کہ : آپ(ع) نے زبیر سے فرمایا: اے زبیر تجھے خد اغارت کرے تجھے کس چیز نے خروج  پر مجبور کیا ہے؟ زبیر نے کہا: خون عثمان کے انتقام نے : علی(ع) نے فرمایا : خدا ہم میں سے اسے پہلے قتل کرے جس نے عثمان کو قتل کیا ہے۔

جیسا کہ حاکم نے مستدرک میں نقل کیا ہے کہ ، طلحہ و زبیر بصرہ پہونچے تو لوگوں نے ان سے پوچھا تم کس وجہ سے یہاں آئے ہو؟ انھوں نے کہا : ہم خونِ عثمان کا انتقام لینا چاہتے ہیں ۔ حسین نے ان سے کہا ۔ سبحان اللہ، کیا لوگوں کے پاس عقل نہیں ہے وہ تو کہتے ہیں کہ تم نے انھیں قتل کیا ہے۔

یقینا زبیر نے بھی اپنے دوست طلحہ کی طرح عثمان کو دھوکہ دیا تھا اور لوگوں کو ان کے قتل پر ابھارا تھا اور پھر حضرعلی(ع) کی برضا و رغبت بیعت کی تھی اور پھر توڑدی اور پھر خونِ عثمان کے انتقام کے بہانے بصرہ پہونچ گئے۔

اور بصرہ پہنچ کر ان ہی جرائم میں خود شریک ہوگئے اور ستر سے زیادہ بیت المال کے محافظ کو قتل کر دیا اور بیت المال کو برباد کردیا مؤرخین کا بیان ہے کہ انھوں نے بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف کو فریب آمیز خط لکھا اور یہ عہد کیا کہ ہم بصرہ میں علی(ع) کی آمد تک ہر طرح حفاظت  کریںگے۔


پھر اس عمہد کو توڑدیا اورعثمان بن حنیف پر اس وقت حملہ آور ہوئے جب وہ نماز عشا پڑھ رہے تھے ، پس ان کے ساتھیوں میں سے بعض کو قتل کردیا اور بعض کو قیدی بنالیا اور عثمان بن حنیف کو بھی قتل کردینا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے بھائی سہیل بن حنیف  مدینہ کےگورنر سے ڈر گئے اور سوچا کہ اگر انھیں یہ اطلاع ملے گی تو وہ ہمارے خاندان سے انتقام  لے لیںگے۔ اس لئے انھیں بہت مارااور ان  کی مونچھ داڑھی نچوادی اور بیت المال پر  حملہ کر کے چالیس بگہبانوں کو  تہہ تیغ کردیا۔

طہ حسین طلحہ و زبیر کی خیانت اور ان کے منصوبوں کے متعلق لکھتے ہیں۔

ان  لوگوں نے بیعت شکنی ہی پر اکتفا نہ کی بلکہ اس معاہدہ کی بھی خلاف ورزی کی جس  کے ذریعہ عثمان بن حنیف سے صلح کرلی تھی اور بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور اہل بصرہ میں سے جن افراد نےاس فریب کارانہ خط کی مخالفت کی جو کہ عثمان بن حنیف کو لکھا گیا تھا اور بیت المال کے غصب کرنے سے روکا انھیں بھی قتل کردیا۔( الفتنۃ  الکبری)

اس کے باوجود جب علی(ع) بصرہ پہنچے تو ان ( سرکشوں) سے جنگ نہ کی بلکہ انھیں کتابِ خدا کی طرف  بلایا پس ان لوگوں نے انکار کردیا اور قرآن کی طرف بلانے والوں کو قتل کرنے لگے ۔ پھر  بھی امام (ع) نے زبیر کو آواز دی  اور طلحہ کی طرح ان سے کہا:

اے زبیر!میں تمھیں وہ دن یاد دلاتا ہوں جب میں رسول(ص) کے ہمراہ بنی غنم کے درمیان سے گذر رہا تھا۔انھوں نے میری طرف دیکھا اور مسکرائے میں بھی مسکرا دیا تم نے کہا۔ اے ابنِ ابی طالب(ع) غرور نہ کرو۔ اس پر رسول (ص) نے تم سے کہا تھا خاموش ہوجاؤ یہ غرور نہیں کرتے اور تم ان (علی (ع))  سے ضرور جنگ کرو گے اور ان کے حق میں ظالم قرار پاؤگے۔ ( تاریخ طبری واقعہ جمل کے ذیل میں ، تاریخ مسعود و تاریخ اعشم کوفی وغیرہ)

ابنِ ابی الحدید نے حضرت علی بن ابی طالب(ع) کا ایک خطبہ نقل کیا ہے۔ اس میں آپ(ع) نے فرمایا ہے:

خدا یا ان دونوں نے میرے حقوق کو نظر انداز  کیا ہے اور مجھ پر


 ظلم ڈھایا ہے اور میری بیعت توڑدی ہے اور میرے خلاف لوگوں کو اکسایا ہے لہذا جو مشکلات انھوں نے کھڑی کیں انھیں حل فرمادے اور جو انھوں نے منصوبے بنائے ہیں انھیں  کامیاب نہ ہونے  دے ۔ اور انھیں ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھادے میں نے تو انھیں جنگ چھڑنے سے  قبل باز رکھنا چاہا اور جنگ سے پہلے انھیں بیدار کرتا رہا۔ لیکن انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اور عافیت کو ٹھکرا دیا۔

( شرح ابن ابی الحدید  جلد۱ ص۱۰۱۔) اور ان کے نام بھیجے جانے والے خط میں تحریر فرمایا:

بزرگوارو! اپنے اس رویہ سے باز آجاؤ کیوں کہ ابھی تمہارے سامنے ننگ و عار ہی کا بڑا مرحلہ ہے اس کے بعد تو ننگ و عار کے ساتھ آگ بھی جمع ہوجائےگی۔ والسلام، ( نہج البلاغہ شرح محمد عبدہ ص۳۰۶)

یہہے تلخ حقیقت اور زبیر کی انتہا جب کہ بعض مؤرخین ہمیں اس بات سے مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب علی(ع) نے زبیر حدیث رسول(ص) یاد دلائی اور انھیں یدا آگئی تو زبیر نے توبہ کرلی تھی اور جبگ سے پلٹ کر واپس جارہے تھے۔ لیکن واد السباع میں ابنِ جرموز نے انھیں قتل کردیا ۔ لیکن مؤرخین کا یہ قول نبی(ص) کی خبر کے موافق نہیں ہے ۔ کیونکہ آپ(ص) نے یہ فرمایا تھا عنقریب تم علی(ع) سے جنگ کرو گے اور ان کے حق میں ظالم قرار پاؤ گے۔

بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ جب علی(ع)  نے زبیر کو رسول(ص) کی حدیث یاد دلائی تو انھوں نے جنگ سے پلٹ جانے کا ارادہ کر لیا لیکن ان کے بیٹے عبداللہ نے ان کے اس ارادہ کو بزدلی کہا۔ پس ان پر حمیت طاری ہوگئی اور وہ واپس آکر جنگ کرتے ہوئے قتل ہوگئے۔

یہ قول واقع کے مطابق اور اس حدیث شریف سے قریب ہے جس میں غیب کی خبر دی گئی ہے اور یہ اس کا کلام ہے جو کہ اپنی خواہشِ نفس سے کچھ کہتا ہی نہیں۔


اور پھر اگر زبیر نے توبہ کرلی تھی اور اپنے کئے پر پشیمان ہوگئے تھے اور گمراہی و تاریکی سے نکل آئے تھے تو انھوں نے رسول(ص) کے اس قول پر کیوں عمل نہیں کیا۔"

" من کنت مولاه فعلی مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاداه وانصر من نصره واخذل من خذله"

حضرت علی(ع) کی مدد کیوں نہ کی اور ان سے کیوں خوش نہ ہوئے؟ فرض کیجئے کہ ان کے لئے یہ ممکن نہ تھا، تو ان لوگوں کے درمیان جو کہان کی رکاب میں جنگ کرنے آئے تھے، خطبہ دے کر انھیں یہ خبر  کیوں نہ دی کہ میں حق سے قریب ہوگیا ہوں اور وہ حدیث کیوں یاد نہ دلائی جس کو بھول گئے تھے۔ اور انھیںجنگ سے کیوعں نہ روکا کہ جس کی وجہ سے نیکو کار مسلمانوں کا خون بہہ گیا؟

لیکن انھوں نے ایسا کوئی اقدام نہ کیا تو ہم سمجھ گئے توبہ اور میدانِ جنگ سے ہٹ جا نے والی داستان ان لوگوں کی گھڑی ہوئی ہے۔ جنھوں نے حق کو اور زبیر کے باطل کو چھپانے میں کسر اٹھا نہ رکھی، باوجودیکہ زبیر کے دوست طلحہ کو مروان  بن حکم نے قتل کیا تھا۔ لیکن انھوں نے طلحہ و زبیر کی حرکتوں کی پردہ پوشی کرنے کے لئے کہا کہ انھیںابن جرموز نے دھوکہ سے قتل کردیا تھا وہ ان کے جنت میں داخل ہونے کو حرام نہیں سمجھتے ظاہر ہے جب تک وہ جنت کو اپنی ملکیت سمجھتے رہیںگے جس کو چاہیں گے داخل کریں گے اور جس کو  چاہیں داخل نہ ہونے دیں گے۔

اس روایت کی تکذیب کے لئے امام علی(ع) کا خط کافی ہے جس میں آپ(ع) نے طلحہ و زبیر کو جنگ سے واپس پلٹ جانے کی دعوت دی ہے۔ آپ(ع) کا قول ہے۔فان الان اعظم امر کما العار من قبل ان ي جمع العار والنار

بے شک تمھارے سامنے ابھی ننگ و عار کا بڑا مرحلہ ہے اور اس کے بعد ننگ و عار کے ساتھ آگ بھی جمع ہوجائے گی۔

کسی ایک شخص نے بھی یہ نہیں بیان کیا کہ طلحہ و زبیر نے علی(ع) کی آواز پر لبیک کہا اور آپ(ع)


 کے حکم کی اطاعت کی اور آپ(ع) کے خط کا جواب دیا ہو۔

یہاں میں ایک چیز کا  اضافہ کرتا ہوں اور وہ یہ کہ امام(ع) نے معرکہ سے قبل انھیں کتاب خدا کی طرف بلایا ۔ لیکن انھوں نے آپ(ع) کی دعوت کو قبول نہ کیا اور اس جوان کو قتل کردیا جوکہ ان کے لئے قرآن لے گیا تھا۔ اس پر حضرت علی(ع) نے ان سے جنگ کرنے کا مباح قرار دے دیا۔

آپ مؤرخین کی بعض رکیک باتوں کا مطالعہ فرمائیں گے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے  بعض حق کی معرفت رکھتے تھے اور نہ ہی اس کی تقدیر کو جانتے تھے، ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ جب زبیر کو یہ معلوم ہوا کہ علی بن ابی طالب(ع) کے لشکر میں عمار یاسر بھی شریک ہیں تو ان کے بدن میں رعشہ پڑگیا اور انھوں نے اسلحہ ایک دوسرے شخص کو دیدیا تو ایک ساتھی نے کہا:

میری ماں میرے غم میں بیٹھے یہ وہی زبیر ہے جس کے ساتھ میں نے زندہ رہنے اور مرنے کا ارادہ کیا  تھا؟ قسم اس  ذات کی جس قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ یہ راہ زبیر نے ایسے ہی اختیار نہیں کی ہے بلکہ اس سلسلہ میں یا رسول(ص) سے کچھ سنا ہے یا دیکھا ہے۔( تاریخ طبری جلد۵ ص۲۰۵)

اصل میں ان روایات کے گھڑنے سے ان کا مطلب یہ ہے کہ زبیر کو نبی(ص) کی یہ حدیث یادآگئی تھی۔

خدا عمار پر رحم کرے کہ انھیں باغی گروہ قتل کرے گا۔

اس کے بعد ان پر ہراس طاری ہوگیا، بدن کانپنے لگا اوراس خوف سے بدن کے جوڑ مضمحل ہوگئے ہم باغی گروہ میں سے ہیں!

حقیقت یہ ہےکہ ایسی روایات گھڑنے والے ہماری عقل کا مضحکہ اڑانا چاہتے ہیں اور ہم سے تمسخر کرتے ہیں ۔ لیکن خدا کا شکر ہے ہماری عقلیں کامل و سالم ہیں ہم ان کی باتوں کو قبول نہیں کرسکتے ۔ زبیر پر اس سے خوف طاری ہوگیا اور وہ نبی(ص) کی اس حدیث سے کانپنے لگے کہ عمار کا باغی گروہ قتل کرے گا، لیکن نبی(ص) کی ان  بے شمار حدیثوں سے نہیں ڈرے جو آپ(ص) نے حضرت علی ابن ابی


طالب(ع) کے متعلق فرمائی تھیں؟ کیا زبیر کے نزدیک عمار علی(ع) سے افضل و اشرف تھے؟ کیا زبیر نےرسول(ص) کا یہ قول نہیں سنا تھا۔ اے علی(ع) تمھیں وہی دوست رکھے گا جو مومن ہوگا اوروہی دشمن سمجھے گا جو منافق ہوگا؟ کیا زبیر نے رسول(ص) کا یہ قول نہیں سنا تھا ،علی(ع) حق کے ساتھ اور حق علی(ع) کے ساتھ ہے اور وہ جہاں بھی ہوں حق ان کا تابع جہے۔ آپ(ص)  ہی نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں اس کے  علی(ع) مولا ہیں۔ بارِ الہا : ان کے محب کو دوست رکھ اور ان کے دشمن کو دشمن رکھ جو ان کی مدد کرے اس کی مدد فرما اور جو انھیں رسوا کرے اسے ذلیل فرما: نیز آپ(ص) نے فرمایا: اے علی(ع)  جس ے آپ(ع)  کی جنگ ہے اس سے میری جنگ ہے اور جس سے آپ کی صلح ہے اس سے میری صلح ہے۔ آپ ہی کا ارشاد ہے۔ میں ضرور اپنا علم اس شخص کو دونگا جو خدا اور اس کے رسول(ص) کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول(ص) بھی اسے دوست رکھتے ہیں۔ آپ(ص) ہی کا فرمان ہے: میں نے ان سے تنزیل قرآن پر جنگ کی  اور علی(ع) تم قرآن کی تاویل پر ان سے جنگ کروگے۔ نیز فرمایا: اے علی(ع) تم سے میری وصیت ہے ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے  جنگ کرنا۔اور بہت سی حدیثیں ہیں ۔ ان ہی میں سے ایک وہ ہے جو خود زبیر سے بیان کی تھی کہ عنقریب تم علی(ع) سے جنگ کروگے اور ان کے حق میں ظالم قرار پاؤگے۔ زبیر ان حقائق سے کیسے بے خبر رہے جن سے دور و  دراز  کےلوگ بھی واقف تھے انھیں کیا ہوگیا تھا وہ تو نبی(ص) اور علی(ع) کے پھوپھی زاد بھائی تھے؟

وہ عقلیں جمود وبے حسی کا شکار ہیں جو تاریخی واقعات اور اس کے حقائق میں امتیا ز نہیں کر پاتیں۔ وہ عبث اس بات  میں اپنی کوشش صرف کرتےہیں کہ انھیں عذر مل جائے تاکہ لوگوں کو دھوکہ دیا جاسکے اورلوگوں کو یہ باور کرایا جاسکے کہ طلحہ و زبیر کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔

" یہ ان کی امیدیں ہیں آپ(ص) کہدیجئے اگر تم سچے ہو کہ ہم ہی جنت میں جائیں گے تو اپنی دلیل پیش کرو۔( بقرہ/۱۱۱) جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے منہ موڑا ان کے لئے آسمان کےدروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہونگے یہاں تک اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل ہوجائے اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزادیتے ہیں۔


۶: سعد بن ابی وقاص :

آپ بھی سابق الاسلام اور عظیم صحابہمیںسےہیںاوراناولینمہاجرینمیںسےہیںجوجنگبدر میں شریک تھے او عمر کی بنائی ہو ئی اس چھ رکنی کمیٹی کے بھی ممبر ہیں جس کو خلیفہ منتخب کرنے کا اختیار دیا تھا اور ان دس افراد میں بھی شامل ہیں جن کوبزعم اہلسنت والجماعت جنت کی بشارت دی گئی ہے۔

اور عمر بن خطاب کی خلافت کے دوران ، قادسیہ کی جنگ کے ہیرو بھی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ بعض صحابہ کو ان کے نسب میں شک تھا اس سلسلہ  میں طعنہ دیتے تھے اور اس طرح انھیں تکلیف پہونچاتے تھے ، یہ روایت بھی کی گئی ہے کہ نبی(ص) نے ان کے نسب کوثابت کیا  تھا اور ان کا تعلق بنی زہرہ سے ہے۔

ابن قتیبہ اپنی کتاب الامامۃ والسیاسۃ میں رقمطراز ہیں : وفات نبی(ص) کے بعد بنی زہرہ ، سعد ابن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف کے پاس مسجد میں جمع ہوئے ۔ پس جب  ان کے پاس ابوبکر اور ابوعبیدہ آئے تو عمر   نے کہا: مجھے کیا ہوگیا ہے کہ تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم دیکھتا ہوں؟ اٹھو! اور ابوبکر کی بیعت  کرو، میں نے تو ان کی بیعت کر لی ہے اور انصار  نے بھی ان کی  بیعت کر لی ہے۔ الامامۃ والسیاسہ ج۱ ، ص۱۸۔

روایت کی گئی ہے کہ عمر نے سعد کو گونری سے معزول کردیا تھا لیکن خلیفہ نے وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد اگر سعد بن ابی وقاص  خلیفہ نہ بن سکے تو انھیں گورنر لازمی بنایاجائے ۔ کیوں کہ انھیں کسی خیانت کی بناء پر معزول نہیں کیا گیا تھا۔ چنانچہ عثمان نے اپنے دوست کی وصیت کو  پورا کیا اور سعد کو کوفہ کا گورنر  مقرر کردیا۔

واضح رہے کہ سعد ابن ابی وقاص  نے اپنے دوستوں کی طرح ترکہ میں بہت زیادہ مال


نہیں چھوڑا تھا۔ روایت کی روسے ان کا ترکہ تین لاکھ  تھا۔ اسی طرح وہ قتل عثمان میں بھی ملوث نہیں تھے اور طلحہ و زبیر کی مانند لوگوں کو اکسایا بھی نہیں تھا۔

ابن قتیبہ نے اپنی تاریخ میں روایت کی ہے کہ : عمر ابن العاص نے سعد بن ابی وقاص کو خط لکھ کر دریافت کیا : عثمان کو کس نے قتل کیا ہے؟

سعد نے جواب لکھا: تم نے مجھ سے قتل عثمان کے متعلق سوال کیا ہے: سو میں تمھیں خبردار کئے دیتا ہوں وہ عاشئہ کی خفیہ تلوار سے قتل ہوئے ہیں کہ جس پر طلحہ نے  صیقل کی  تھی ۔ ابنِ ابی طالب نے اس کو زہر آلود کیا ۔ زبیر ساکت رہے اور اپنی طرف اشارہ کر کے کہا اپنی جگہ ٹھہرے رہے ، اگر چاہتے تو ان سے دفاع کرسکتے تھے لیکن عثمان زوو بدل کی اور خود بھی بدل گئے اچھا اور برا کیا۔پس اگر ہم نے نیک کام کئے ہیں تو اپنے لئے اور اگر برے کئے ہیں تو  خدا سے بخشش کے طلبگار ہیں۔

میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ زبیر پر خواہشات اور خاندان والوں کا غلبہ ہے اور طلحہ کو اگر اس شرط پر کرسی ملے کہ ان کا پیٹ چاک کیا جائے تو وہ اسپر  بھی تیار ہیں۔ الامامۃ والسیاسۃ ج۱ ص۴۸۔

لیکن تعجب ہے سعدبن ابی وقاص نے امیر المؤمنین حضرت علی(ع) کی بیعت نہیں کی اور  نہ ہی آپ (ع) کی مدد کی جبکہ آپکی  برحق امامت اور فضیلت سے واقف تھے ۔ انہون نے خود حضرت علی(ع) کے متعلق حدیثیں نقل کی ہیں جنہیں امام نسائی اور امام مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔

سعد کہتے ہیں کہ میں نے رسول(ص) سے علی(ع)  کی ایسی تین خصلتیں سنی ہیں کہ اگر  ان میں سے میرے لئے ایک بھی ہوتی تو وہ میرے لئے تمام نعمتوں سے افضل تھی۔ میں نے رسول(ص) سے سنا :علی (ع) میرے لئے ایسے ہیں جیسے موسی(ع) کے لئے ہارون(ع) تھے۔ بس میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

میں نے نبی(ص) سے سنا : کل میں اس شخص کو علم دوں گا جو خدا و رسول(ص)  کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول(ص) اسے دوست رکھتے ہیں۔


میں نے رسول(ص) سے سنا: لوگو! تمہارا ولی کون ہے؟ کہا ! خدا اور اس کا رسول(ص) پھر آپ نے علی(ع) کا ہاتھ پکڑا  کر بلند کیا اور فرمایا : جس کے ولی خدا اور رسول(ص) ہیں یہ علی(ع) بھی اس کے ولی ہیں۔ پروردگارا ! علی(ع) کے دوست کو دوست اور ان کے دشمن کو دشمن رکھ۔ خصائص امام نسائی ص۱۸ ۔ ۳۵۔

صحیح مسلم میں سعد ابن ابی وقاص سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول(ص) کو علی(ع) کے متعلق ارشاد فرماتے ہوئے سنا : کیا تم اس بات پر راضی  نہیں ہو کہ میرے لئے ایسے ہی ہو جسے موسی(ع) کے لئے ہارون(ع) تھے۔ بس میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

نیز میں نے خیبر کے روز آپ(ص) سے سنا : میں اس شخص کو علم دوں گا جو خدا و رسول(ص)کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول(ص) اسے دوست رکھتے ہیں۔ یہ سنکر ہمارے دلوں میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ علم ہمیں مل جائے لیکن آپ نے فرمایا : علی(ع) کو بلاؤ!

اور جب آیہ"فقل تعالوا ندع ابناءنا و ابناءکم " نازل ہوئی تو رسول(ص) نے علی(ع) و فاطمہ(س) اور حسن(ع) و حسین(ع) کو بلایا اور فرمایا : بارالہا یہی میرے اہلبیت ہیں۔

سعد بن ابی وقاص نے ان تمام حقائق سے واقفیت کے بعد امیرالمؤمنین(ع) کی بیعت  سے کیسے انکار کردیا؟ سعد نے کیا خاک  رسول(ص) کا یہ قول سنا تھا کہ جس کے ولی خدا و رسول(ص) ہیں علی(ع) بھی اس کے ولی ہیں۔ بارالہا ! ان کے دوست کو دوست اور ان کے دشمن کو دشمن رکھ! یہ روایت خود انہی کی نقل ہوئی ہے پھر بھی علی(ع) کو ولی نہ مانا اور نہ آپ کی مدد کی۔!اور سعد ابن ابی وقاص سے رسول(ص) کی یہ حدیث کیوں  کر مخفی رہی کہ جو شخص بغیر امامِ وقت کی بیعت کے مرگیا وہ جاہل کی موت مرا! اس حدیث کے ناقل عبداللہ بن عمر ہیں۔ پس سعد جاہلیت کی موت مرے انہوں نے امیر المؤمنین، سید الوصیین اور قائد الغرا المحجلین  کی بیعت سے روگردانی کی تھی؟!

مؤرخٰین کا بیان ہے کہ سعد عذر خواہی کے لئے حضرت علی(ع) کے پاس آئے اور کہا:


اے امیرالمؤمنین(ع) قسم خدا کی مجھے اس بات میں قطعی شک نہیں ہے کہ آپ سب سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور دین و دنیا میں امین ہیں یہ الگ بات ہے کہ لوگ اس سلسلہ میں آپ سے جنگ کریں گے لیکن اگر آپ مجھ سے بیعت لینا چاہتے ہیں تو مجھے ایک ایسی تلوار دیجئے  جو یہ بتائے کہ اسے لےلو اور اسے چھوڑ دو۔

حضرت علی(ع) نے ان سے فرمایا: کیا تم نے کسی کو قول و عمل میں قرآن کے مخالف پایا ہے؟ یقینا مہاجرین و اںصار نے میری اس شرط پر بیعت کی ہے کہ میں ان کے درمیان کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کے مطابق حکومت کروں گا ۔ اگر تم مائل ہو تو بیعت کرو ورنہ اپنے گھر بیٹھو! میں تم سے زبردستی بیعت  نہیں لوںگا۔ تاریخ اعثم ۔ ص۱۶۳۔

سعد بن ابی وقاص کا موقف عجیب !!! علی(ع) کے بارے میں خود کہتے ہیں کہ مجھے اس  بات مٰں قطعی شک نہیں ہے کہ آپ سب سے زیادہ خلافت کے حقدار ہییں اور یہ کہ دنیا و آخرت میں امین ہیں لیکن اس کے بعد بھی تلوار کا مطالبہ کرتے ہیں جو بولتی ہے اور اس کو بیعت کی شرط قرار  دیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ وہ حق و باطل کو پہچان لیں؟!

کیا یہ تناقض نہیں ہے جسکو صاحبان عقل رد کرتےلیں ؟ کیا وہ چیز نہیں طلب کررہے ہیں جو کہ محال ہے ۔ جبکہ صاحب رسالت اکثر حدیثوں میں حق کو پہنچوا چکے تھے جن میں سے پانچ حدیثیں خود سعد نے نقل کی ہیں ۔

کیا سعد ابوبکر و عمر و عثمان کی بیعت کے وقت موجود نہیں تھے ۔ کہ جس کے بارے میں ہر ایک نے یہ حکم دیا تھا کی جو بیعت سے انکار کرے اسے قتل کرو کیونکہ اس  سے فتنہ کا خوف ہے؟

جبکہ انہی سعد نے بغیر کسی شرط کے عثمان کی بیعت کی اور دل و جان سے ان کی طرف جھگ گئے در آنحالیکہ عبدالرحمن بن عوف حضرت علی(ع) کے سر اقدس  پر ننگی تلوار لے کر تہدید کررہے تھے اپنے  خلاف راستہ نہ کھولو۔ یہ تلوار ہے کچھ اور نہیں ہے۔ الامامۃ والسیاسۃ ج۱،ص۳۱۔


سعد اس وقت بھی موجود تھے جب حضرت علی(ع)  نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا تھا اور عمر بن خطاب نے آپ  کو  تہدید  کرتے ہوئے کہا تھا بیعت کرلو ورنہ قسم اس خدا کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہم تمہاری گردن مار دیں گے ۔ الامامۃ والسیاسۃ ج۱، ص۲۰۔

کیا عبد اللہ ابن  عمر، اسامہ ابن زید اور محمد ابن مسلمہ کو حضرت علی(ع) کی بیعت سے منحرف کرنے اور انھیں برا بھلا کہنے کا سبب سعد بن ابی وقاص ہی نہیں تھے۔؟

آپ نے ان پانچ اشخاص کے حالات ملاحظہ فرمائے کہ جنہیں عمر ابن خطاب نے خلافت کے سلسلہ میں حضرت علی(ع)  سے مقابلہ کےلئے معین کیا تھا، انھوں نے ٹھیک وہی کردار ادا کیا جس کا عمر ابن خطاب نے نقشہ کھینچا تھا اور وہ یہ تھا کہ علی(ع)  خلافت تک نہ پہونچے ۔ چنانچہ عبدالرحمن نے اپنے بہنوئی عثمان کو خلیفہ بنادیا اور علی(ع) سے کہا : اگر تم نہیں کروگے تو قتل کردئیے جاؤگے کیوں کہ عمر نے اس جماعت کو بات ماننے کے لئے کہا تھا جسمیں عبدالرحمن شامل ہو۔

اور عبدالرحمن بن عوف کی موت کے بعد اور عثمان کے قتل ہونے کے بعد خلافت کے سلسلہ میں علی(ع) سے کوئی مقابلہ کرنے والا نہیں تھا۔ بس یہی تین اشخاص ، یعنی طلحہ و زبیر اور سعد تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عثمان نے مرنے سے پہلے ہی علی(ع) کے مقابلہ میں ایسے نئے شخص کو کھڑا کردیا تھا جو ان سب سے زیادہ خطرناک اور مکرو دغا بازی میں کہیں آگے تھا اوران سے زیادہ اس کے افراد تھے عثمان نے پہونچنے کے لئے راستہ ہموار کیا اور چھوٹی چھوٹی حکومتوں کو بھی اس کی حکومت میں ضم کردیا جن پر وہ بیس سال تک حکومت کرتا رہا۔ ( واضح رہے، ان علاقہ جات کا ٹیکس پوری اسلامی حکومت کو دو تہائی ہوتا تھا۔

اور وہ ہے معاویہ  کہ جس کے پاس نہ دین تھا نہ اخلاق غرض یہ کہ اس کے پاس خلافت تک پہونچنے کے سوا کوئی کام  نہیں تھا۔ وہ تختِ خلافت پر متمکن ہونے کے لئے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتا تھا۔


اس کے باوجود امیر المؤمنین علی(ع) نے طاقت کے زور سے لوگوں سے بیعت نہیں لی اگرچہ گذشتہ خلفاء  زبردستی بیعت لیتے تھے۔ ہاں انہوں نے احکام کو قرآن و سنت میں مقید کردیا تھا اور ان میں کوئی رد  وبدل نہیں کی تھی ۔ کیا آپ نےعلی(ع) کا وہ قول نہیں پڑھا جو کہ سعد سے فرمایا تھا: کہ مہاجرین و انصار نےمیری بیعت اس شرط پر کی ہے کہ میں کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کے مطابق عمل کروں گا۔ اگر تم رغبت  رکھتے ہو تو بیعت کرلو ورنہ اپنے گھر بیٹھو ، میں تم سے زبردستی بیعت نہیں لوں گا۔

مبارک ہو آپ کو اے ابنِ ابی طالب، آپ نے قرآن و سنت کو اس وقت زندہ کیا جب انھیں دوسروں نے مردہ بنادیا تھا ۔ کتاب خدا آواز دے رہی ہے۔

جو لوگ آپ کے ہاتھوں پر بیعت کررہے ہیں وہ ( در حقیقت ) خدا کے  ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں ان  کے ہاتھوں پر خدا کا ہاتھ ہے پس جو بیعت توڑے گا تو وہ اپنے ہی نقصان کے لئے توڑتا ہے  ۔ اور جس نے اس عہد کو پورا کیا  جو  اس نے خدا سے کیا ہے تو اس کو عنقریب اجر عظیم فرمائے گا۔ ( سورہ فتح/۱۰)

کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو تاکہ وہ سب کےسب مطیع و فرمانبردار  ہوجائیں۔ یونس/۹۹۔

دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ اور نہ ہی اسلام میں بالجبر بیعت لینا صحیح ہے کہ نہ خدا نےاپنے بنی(ص) کو یہ حکم دیا کہ تم  لوگوں سے بیعت کے لئے جنگ کرو۔

سنت و سیرتِ نبی(ص) تو یہ نہیں بتاتی ہے کہ آپ کبھی کسی پر بیعت کے لئے زبردستی نہیں کی۔ لیکن خلفاء اور صحابہ نے یہ بدعت ایجاد کی اور لوگوں سے کہا اگر ہماری بیعت نہیں کرو گے تو قتل کردیئے جاؤگے۔

خود فاطمہ(س) کو گھر جلا دینے کی دھمکی دی گئی ۔ اگر بیعت سے منحرف لوگ آپ کے گھر سے نہ نکلے تو گھر جلادیا جائے گا ۔ علی(ع) کہ جن کو رسول(ص) نے خلیفہ منصوب کیا تھا ان پر تلوار کھینچ لی جاتی ہے۔


 اور خدا کی قسم کھا کر کہا جاتا ہے کہ اگر تم (علی) بیعت نہیں کروگے تو ضرور ہم  تمہیں قتل کردیںگے جب ایسی معزز شخصیتوں  سے اس قسم کا سلوک روا رکھا جاتا تھا تو عمار و سلمان اور بلال نادار جیسے صحابہ کے ساتھ تو نہ پوچھیئے کہ کیا سلوک روا رکھا ہوگا۔

اہم بات یہ  ہے کہ سعد بن ابی وقاص نےعلی(ع) کی بیعت  سے انکار کردیا اور اسی طرح ان پر سب و شتم کرنے سے بھی اس وقت  انکار کردیا تھا جب معاویہ نے انھیں سب و شتم کرنے کا حکم دیا تھا جیسا کہ صحیح مسلم میں منقول ہے ۔ لیکن سعد کہتے ہیں اتنا کافی نہیں ہے اور نہ ہی ان کے لئے جنت کی ضمانت ہے ۔کیونکہ ان کے غیر جانب دار مذہب کی بنیاد اس نعرہ پر تھی ، میں نہ تمہارے ساتھ ہوں اور نہ تمھارے دشمنوں کے ساتھ ہوں۔ اس بات کو اسلام نہیں مانتا ۔ اسلام کا صرف ایک ہی قول ہے اور وہ یہ کہ حق کے بعد ضلالت ہی ضلالت ہے۔

اور پھر یہ کہ کتاب خدا اور سنتِ رسول(ص) نے فتنہ کی نشاندہی کردی ہے ، اس سے خبردار  کردیا ہے اوراس کی حدیں معین کردی  ہیں تاکہ جو ہلاک ہو وہ بھی دلیل کے بعد اورجو ہدایت پائے وہ بھی دلیل کے بعد۔

رسول(ص) نےعلی(ع) کے متعلق درج ذیل حدیث بیان فرما کر تمام چیزیں بیان کردیں۔

پروردگارا! علی(ع) کے دوست کو دوست اور ان کے دشمن کو دشمن رکھ اور جو انکی مدد کرے اس کی مدد فرما اور جو انھیں رسوا کرے اسے ذلیل فرما اور حق کو ان کا تابع کردے۔

خود حضرت علی(ع) نےسعد کے بیعت نہ کرنے کے اسباب بیان فرمائے ہیں ۔ چنانچہ خطبہ شقشقیہ میں ارشاد ہے، ایک شخص ان میں سے دامادی کی وجہ سے ادھر چلاگیا۔

اس جملہ کی تشریح میں شیخ محمد عبدہ فرماتے ہیں۔

سعد ابن ابی وقاص  کو ذاتی طور سے علی( کرم اللہ وجہہ) سے اپنے ماموؤں کےسلسلہ میں پرخاش تھی کیونکہ انکی ماں، حمنۃ بنتِ سفیان بن امیہ بن عبدالشمس تھی اور علی(ع) نے انکے بڑوں


 بڑوں کو تہ تیغ کیا تھا جیسا کہ مشہور ہے ۔ شرح نہج البلاغہ ، شیخ محمد عبدہ مصری ج۱ ص۸۸۔

پس دلی دشمنی اور اندھے حسد کی وجہ سے سعد نے  ایسا  ہی سمجھا جیسا علی(ع) کے دشمن نے ان ہی سے نقل کیا گیا ہےکہ جب عثمان نے انھیں کوفہ کا گورنر مقرر کیا تو انھوں نے خطبہ دیتے ہوئے کہا:

سب سے بہترین انسان امیرالمؤمنین عثمان کی اطاعت کرو۔

پس سعد بن ابی وقاص حیات عثمان ہی میں ان کی طرف مائل تھے چنانچہ قتل کے بعد بھی ان سے متاثر رہے اور اسی وجہ سے انہوں نے حضرت علی(ع)  پر یہ اتہام لگایا کہ عثمان کو قتل کرنے والوں میں سے علی ابن ابی طالب(ع) بھی شریک  ہیں ۔ جیسا کہ عمرو ابن العاص کے خط کے جواب میں لکھا تھا، عثمان عائشہ کی خفیہ تلوار سے قتل کئے گئے ہیں اور علی(ع) بھی اس میں ملوّث ہیں۔

یہ اتہام ہے جس کو تاریخ کی شہادت جھٹلا رہی ہے ۔ کیوں کہ عثمان کے لئے علی(ع) سے زیادہ مخلص ناصح کو ئی نہ تھا۔ اگر آپ(ع)  کی بات کو عثمان قبول کرتے اور اس پر عمل کرتے۔ جس کو ہم نے سعد کے مدد نہ کرنے والے موقف سے خلاصہ کے طور پر بیان کیا ہے وہ ٹھیک وہی چیز ہےجس سے حضرت علی(ع) نے انھیں متصف کیا ہے کہ وہ دشمنی کی وجہ سے  ادھر جھک گیا۔

پس باوجود اس کے کہ وہ حق کی معرفت رکھتے تھے لیکن ناروا باتیں اور دشمنی ان کے اور حق کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ زجر توبیخ  کرنے والے ضمیر کے درمیان حیران و متحیر کھڑے دیکھا گئے۔ ان کے نفس نے انھیں جاہلیت والی عادتوں کی طرف پلٹا دیا اور سعد پر نفس امارہ غالب آگیا اور انھیں حق کی نصرت سے باز رکھا۔

اس بات پر دلیل وہ چیز ہے جس کو ان کے متحیر موقف کے سلسلہ میں مؤرخین نے نقل کیا ہے۔ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں تحریر کیا ہے کہ:


ایک روز سعد ابن ابی وقاص معاویہ ابن ابی سفیان کے پاس گئے تو معاویہ نے ان سے کہا : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ علی(ع) سے جنگ نہیں کرتے؟

سعد نے کہا: میرے قریب  سے سیاہ آندھی گذری تو میں نے کہا : اخ اخ اور اپنی سواری کو بٹھادیا۔ جب ہوا گذر گئی تو پھر میں راست سمجھ گیا اورسفر شروع کردیا۔

معاویہ نے کہا: کتابِ خدا میں اخ اخ نہیں ہے  بلکہ خداوند عالم نے یہ فرمایا ہے اگر مؤمنین میں سے دوگروہ آپس میں جنگ کرنے لگیں تو دوںوں میں صلح کرادو ، پس اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ خدا کےحکم کی طرف رجوع کرے۔ حجرات/۹۔

قسم خدا کی تم عادل کے خلاف باغی کےساتھ نہیں تھے اور نہ ہی باغی کے خلاف  عادل کےساتھ تھے ۔

اب سعد نےکہا : میں اس شخص سے ہر گز جنگ نہیں کروں گا جس کے بارے میں رسول(ص) نے یہ فرمایا  ہے:

تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے موسی(ع) کے لئے  ہارون(ع)  تھے ۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

معاویہ نے کہا یہ حدیث تمھارے ساتھ اور کس نے سنی تھی؟

سعد: فلاں فلاں نے اور ام سلمہ نے  ، معاویہ اٹھا اور امّ سلمہ سے پوچھا تو امّ سلمہ نے وہی حدیث بیان کی جو سعد نے بیان کی تھی ، معاویہ نے کہا:

اگر  یہ  حدیث میں آج سے پہلے سن لیتا تو علی(ع) کا خدمت گذار بن جاتا یہاں تک کہ میں یا وہ موت سے ہمکنار ہوتے۔" تاریخ ابنِ کثیر ج۸ ص۷۷۔

مسعودی نے بھی اپنی تاریخ میں سعد اور معاویہ کی ایسی ہی گفتگو نقل کی ہے اور جب سعد نے معاویہ کو حدیثِ منزلت سنائی تو اس نے کہا : تم میرے ہرگز نہیں تھے اور نہ اب


ہو اور نہ انکی بیعت سےمنحرف تھے؟ لیکن اگر میں یہ حدیث نبی(ص) سے سن لیتا جو کہ تم نے سنی تھی تو میں زندگی بھر علی(ع)  کا غلام رہتا۔ " مروج الذہب ، حالات سعد ابن ابی وقاص۔"

اور فضائل علی(ع) کےسلسلہ میں ابی وقاص نے جو حدیث معاویہ سے بیان کی تھی یہ ان سینکڑوں حدیثوں میں سے  ایک ہے جو کہ ایک ہی مقصد پر دلالت کرتی ہیں اور وہ یہ کہ علی بن ابی طالب(ع) تن تنہا وہ شخص ہیں جو رسول(ص) کےاور اسلام کے پیغام کو پہونچانے والے ہیں اور آپ(ع)ے علاوہ کسی اور میں اس کی طاقت نہیں ہے ۔ اور جب بات یہ ہے تو سزوار ہے کہ تمام صالح مومنین تا حیات علی(ع) کی خدمت کریں۔

اور معاویہ کا یہ کہنا کہ اگر آج سے پہلے میں یہ حدیث سن لیتا تو میں زندگی بھر علی(ع) کی خدمت کرتا حق ہے اور علی(ع) کی خدمت ہر مؤمن اور مؤمنہ فخر تصور کرتے ہیں۔

لیکن معاویہ نے  یہ بات سعد بن ابی وقاص کا مضحکہ اڑانے کے لئے کہی تھی تاکہ ان پر سب وشتم کریں اور تہین کریں اس  لئے کہ سعد نے علی(ع) پر لعنت کرنےسےانکار کردیا تھا اور وہ اس  سے راضی نہیں تھے۔

ورنہ معاویہ فضائل علی ابن ابی طالب(ع) کے سلسلہ میں حدیث منزلت سے  زیادہ حدیثیں جانتا تھا اور اس بات سے بے خبر نہیں تھا کہ رسول(ص) کےبعد علی(ع) سب سے افضل ہیں جیسا کہ اس نے اس بات کو صراحت کےساتھ اس خط میں لکھا ہے جو کہ محمد ابن ابی بکر کو  لکھا  تھا انشاء اللہ عنقریب ہم اسے بیان کریں گے۔

اور کیا  سعد سے یہ حدیث سن کر ، کہ جس کی ام سلمہ نےبھی تصدیق کی تھی ، معاویہ نے علی(ع) پر سب وشتم کا سلسلہ بند کردیا تھا۔

ہرگز نہیں ، اس کی گمراہی میں اور اضافہ ہوگیا تھا اور گناہوں کے ارتکاب سے عزت حاصل کرتا تھا پس علی(ع) اور اہلبیت علی(ع) پر لعنت کرنے لگا اور لوگوں سے زبردستی لعنت کراتا تھا اور یہ لعنت کا سلسلہ اسی(۸۰) سال تک جاری رہا کہ جس میں بچہ جوان اور جوان  بوڑھا ہوجاتا ہے۔


پس جب تمہارے پاس علم آچکا ہے اگر اس کے بعد بھی کوئی تم سے حجت کرے  تو تم کہدو کہ ہم اپنے بیٹوں کو لائیں تم اپنے بیٹوں کو لاؤ ،ہم اپنی عورتوں کو لائیں تم اپنی عورتوں کو لاؤ، ہم اپنے نفسوں کو لائیں تم اپنے نفسوں کو لالؤ پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر خدا کی  لعنت کریں۔ " آل عمران آیۃ۶۱۔"


۷: عبدالرحمن بن عوف

زمانہ جاہلیت میں ان کا نام عمرو تھا ۔ نبی(ص) نے عبدالرحمن رکھ دی تھا، ان کا تعلق بنی زہرہ سے تھا اور سعد ابن ابی وقاص  کے چچا زاد بھائی تھے۔

آپ بھی بزرگ صحابہ اور اولین مہاجرین میں سے تھے اور ہر جگہ نبی(ص) کے ساتھ رہتے تھے اور اس چھ رکنی کمیٹی کے ممبر بھی تھے جو کہ عمر بن خطاب نے خلیفہ منتخب کرنے کے لئے بنائی تھی ممبر ہی نہیں بلکہ کمیٹی کے صدر تھے۔ اور ان سب پر مقدم تھے کیونکہ عمر نے کہا تھا کہ جب تمھارے درمیان خلافت کےسلسلہ میں اختلاف ہوجائے تو جس طرف عبدالرحمن بن عوف ہوں گے اس کو  حق سمجھنا۔

آپ ان دس افراد میں بھی شمار ہوتے ہیں جن کو اہلِ سنت والجماعت کے عقیدہ کے مطابق جنت کی بشارت دی گئی ہے۔

اور یہ بھی مشہور  ہے کہ عبدالرحمن بن عوف قریش کے بڑے تاجروں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے بھی مؤرخین کی تحریر کے مطابق خاصی ثروت اور بے مال چھوڑا تھا، ایک ہزار اونٹ سوگھوڑے ، دس ہزار بھیڑ بکریاں اور بہت سی ترائی کی زمنین تھیں۔ جب میں زراعت ہوتی تھی۔ اور ان کے ترکہ سے ان کی چار عورتیں میں سے ہر ایک کو چوراسی ہزار ملے تھے۔ ( طبری ، مروج الذہب ابن سعد اور طہ حسین وغیرہ)

عبدالرحمن بن عوف عثمان بن عفان کے بہنوئی تھے۔ کیونکہ انھوں نے ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط سے  شادی کی تھی جو کہ عثمان کی مادری بہن تھی۔

تاریخی کتابوں کے مطالعہ سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حضرت علی(ع) کو خلافت سے الگ رکھنے کے لئے سیرت شیخین کی شرط رکھ کر بہت بڑا کردار  ادا کیا تھا، ابن عوف جانتے تھے کہ علی(ع) اس شرط کو کبھی قبول نہیں کریں گے کیونکہ ان کی سنت و سیرت کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کے


 خلاف تھی۔

ہمارے لئے یہی ایک چیز کافی ہے جو عبدالرحمن کے جاہلیت والے تعصب اور سنت محمدی(س) سے دور اور عترت طاہرہ(ع) کے خلاف کی جانے والی سازش میں شریک تھے۔ اور خلافت کو قریش میں قرار دینے والے تھے۔

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الاحکام کے " کیف یبائع الناس" والے باب میں روایت کی ہے کہ مسعود نے کہا : رات کا کچھ حصہ گذر جانے کے بعد عبدالرحمن میرے پاس آئے  اتنا دروازہ کھٹکھٹایا کہ میں بیدار ہوگیا ۔ انھوں نے کہا میں تمھیں نیند میں محسوس کررہا ہوں۔ قسم خدا کی اس شب مجھے نیند نہیں آئی۔ جاؤ زبیر اور سعد کو بلا کے لاؤ میں نے ان سے کہا عبدالرحمن نے آپ لوگوں کو بلایا ہے( وہ آئے) انھوں نے ان سے مشورہ کیا پھر مجھے بلایا اور کہا جاؤ علی(ع) کو بلا کے لاؤ ۔ میں بلانے گیا۔ وہ آگئے تو ان سے بھی مشورہ کیا ۔ یہاں تک آدھی رات گذر گئی ۔ پھر علی(ع) ان کے پاس سے اٹھ  گئے ۔ جبکہ وہ خلافت کے خواہاں تھے اور عبدالرحمن علی(ع) کی طرف سے ڈر رہے تھے۔ پھر مجھ سے کہا جاؤ عثمان کو بلا کے لاؤ میں  بلا لایا پھر  ان سے مشورہ کیا اور ان دونوں میں صبح کی  اذان تک گفتگو ہوتی رہی۔

پس جب لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور منبر کے پاس جماعتیں جمع ہوگئیں تو مہاجرین و انصار میں سے جو وہاں موجود تھا اسے اس کے خاندان کے پاس بھیجا اور لشکر کے سرداروں کے پاس بھی آدمی بھیجا گیا۔ وہ اس  عہد کو پورا کررہے تھے جو عمر کے ساتھ کرچکے تھے۔

جب سب جمع ہوگئے تو عبدالرحمن نے کلمہ شہادتیں  پڑھا اور کہا۔ اما بعد اے علی(ع) میں نے لوگوں کے امر میں غور کیا  اور مشورہ کیا لیکن وہ عثمان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ہیں ۔ وہ عثمان کو زیادہ دوست رکھتے ہیں پس آپ(ع) اپنے خلافت راستہ نہ بنائے ۔ اس کے بعد عثمان کو مخاطب کر کے کہا : میں سنت خدا و رسول(ص) پر اور سیرتِ شیخین پر تمہاری بیعت کرتا ہوں ۔ پس عبدالرحمن نے بیعت کی تو مہاجرین و انصار ، لشکر کے سرداروں اور دیگر مسلمانوں نے عثمان کی بیعت کی ۔


 ( صحیح بخاری جلد۸،ص۱۲۳)

ایک محقق بخاری کی نقل کردہ روایت سے یہ بات اچھی طرح  سمجھ سکتا ہے کہ سازش رات ہی میں ہوچکی تھی اور اس چالبازی کو بھی سمجھ سکتا ہے جس سے عبدالرحمن ابن عوف فائدہ اٹھارہے تھے اور جس کام کے لئے عمر نےانھیں معین کیا تھا وہ اس  سے معاف نہیں کئے جاسکتے تھے۔

مسور ، راوی کے قول  میں تامل کیجئے ۔ میں علی(ع) کو بلا کے لایا پس دونوں نے مشورہ کیا پھر علی(ع) کے پاس کھڑے ہوگئے جبکہ وہ خلافت کے خواہاں تھے۔

اس سے یہ بھی معلوم  ہوتا ہے کہ عبدالرحمن ابن عوف وہ شخص ہے جس نے علی(ع) کو خلافت کا یقین دلایا تھا یہاں تک اس چاپلوس شوریٰ میں علی(ع) کو شامل کر لیا اور ایک بار پھر امت کے تفرقہ کا باعث بن گئے جیسا کہ اس سے قبل سقیفہ میں ابوبکر کی بیعت کے سلسلہ میں ہوچکا تھا۔ اور  اس احتمال کے صحیح ہونے کی تاکید مسور کا قول کررہا ہے ۔ عبدالرحمن علی(ع) کے متعلق کس چیز سے ڈر رہے تھے ۔ اسی لئے عبدالرحمن نے ایک دھوکا دینے والا کھیل کھیلا چنانچہ رات میں علی(ع) کو خلافت کے بارے میں اطمینان دلایا اور جب صبح کو ، لشکر کے سردار ، قبیلوں کے رئیس اور قریش کےسربرآوردہ افرد جمع ہوئے اس وقت عبدالرحمن بن عوف پھر  گیا اور ناگہاں علی(ع)  سے کہا۔لوگ عثمان کے برابر کسی کو تصور نہیں کررہے ہیں حضرت علی(ع) کو با دلِ نخواستہ یہ بات قبول کربا پڑی ورنہ اپنے خلاف ایک محاذ اور مشکلات ایجاد کر لیتے ( یعنی اگر ان کے بنائے ہوئے خلیفہ عثمان کی مخالفت کرتے تو قتل کردیئے جاتے)

ایک  محقق اس کھیلی جانے والی سازش سے اس وقت بخوبی یہ بات سمجھ لے گا کہ جب روایت کا یہ فقرہ پڑھے گا کہ" پس جب لوگ جمع ہوگئے تو عبدالرحمن نے کلمہ پڑھا اور پھر کہا: اے علی(ع) میں نے لوگوں کےسلسلہ میں بہت غور کیا لیکن وہ کسی کو بھی عثمان کے برابر نہیں سمجھتے لہذا تم اپنے خلاف محاذ نہ کھڑا کرو۔ اور پھر عبدالرحمن نے اس بھرے پرے مجمع میں علی(ع) ہی کو کیوں مخاطب کیا یہ کیوں نہ کہا: اے علی(ع) و اے طلحہ اور اے زبیر؟!


اسی سے تو ہم یہ بات سمجھے کہ رات میں معامہ کچھ اور تھا اور پوری جماعت عثمان کو خلیفہ بنانے اور حضرت علی(ع) کو خلافت سے دور رکھنے کے سلسلہ میں متفق تھی۔

ہم یقین کےساتھ یہ بات کہتے ہیں کہ یہ تمام لوگ علی(ع) سے خوفزدہ تھے اور سوچتے تھے کہ اگر علی(ع) خلیفہ بن جائیں گے تو انھیں عدل و مساوات کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کریں گے ۔ اور ان کے درمیان سنت نبی(ص)  کو زندہ کریں گے اور  عمر بن خطاب کی اس بدعت کا جنازہ نکال دیںگے جس میں انھون نے عرب کو عجم پر فوقیت دیدی تھی اور خود عمر بن خطاب نے بھی مرنے سے قبل اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا اور انھیں علی(ع) کے خطرہ سے خبردار کیا تھا: اگر علی(ع) اس امت کے خلیفہ بن جائیں تو وہ اس کو ٹھیک راستہ پر  پھر لگادیں گے ۔ یعنی سنتِ نبوی(ص) پر چلائیں گے لیکن اس بات کو عمر دوست نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی قریش کو یہ بات پسند تھی۔ اگر انھیں ذرا بھی سنتِ نبی(ص) سے محبت ہوتی تو وہ ضرور  علی(ع) کو خلیفہ بناتے اور آپ(ع) بھی ان سے ضرور سنت پر عمل کراتے اور دوبارہ اس کی طرف لوٹا دیتے پھر آپ(ع) ہی رسول(ص) کے جانشین تھے اور  ان کی سنت پر ثابت و قائم  تھے۔اور جیسا کہ ہم طلحہ و زبیر اور سعد والی بحثوں میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے کانٹے بوئے اور شرمندگی اور خسارت کاٹی ہے۔

اب عبدالرحمن بن عوف اور اس کی تدبیر کا نتیجہ دیکھنا چاہئے ۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف اس وقت بہت پشیمان ہوئے جب انھوں نے عثمان کو سنتِ شیخین کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھا اور دیکھا کہ عثمان حکومت کے عہدے اور لمبی لمبی رقمیں اپنے اقارب میں تقسیم کررہے ہیں۔ چنانچہ ایک روز ان کے پاس گئے اور ان پر غضبناک ہوئے اور کہا: میں نے تمہیں صرف اس لئے مقدم کیا تھا کہ تم ہمارے درمیان سیرتِ ابوبکر و عمر پر  عمل کروگے اب تم ان کی مخالفت کررہے ہو بنی امیہ میں اموال تقسیم کررہے ہو اور انھیں مسلمانوں کی گردن پر مسلط کررہے ہو۔ ( اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ عبدالرحمن بن عوف نے استبدادی طور پر عثمان کو خلیفہ بنایا تھا اس میں لوگوں کے مشورہ کا کوئی دخل نہیں تھا جیسا کہ اہل سنت کا گمان ہے۔)


عثمان نے کہا: عمر نے اپنے وقرابتداروں  سے خدا کے لئے صلہ رحم نہیں کیا ۔ میں اپنے قرابتداروں سے خدا کے لئے صلہ رحم کرتا ہوں۔ عبدالرحمن نے کہا: قسم خد ا کی میں اب تم سے کبھی کلام نہیں کروں گا اور عبدالرحمن مرگئے۔لیکن عثمان سے کلام نہیں کیا اور قطع تعلقی رکھی ۔ ایک مرتبہ عیادت کےلئے عثمان انکے پاس گئے تو انھوں نے دیوار کی طرف رخ پھیر لیا اور ان سے بات تک نہ کی ۔ ( تاریخ ابوالفداء جلد۱،ص۱۶۶، انساب الاشراف ، بلاذری جلد۵، ص۵۷، العقد الفرید، ابنِ عبدربہ مالکی جلد۲، ص۲۶۱)

اور اس طرح خدا نے علی(ع) کی وہ بد دعا سن لی جو آپ(ع)  نے عبدالرحمن کے لئے فرمائی تھی جیسا کہ طلحہ و زبیر کے بارے میں بھی آپ(ع) کی دعا مستجاب ہوئی تھی اور وہ دونوں اسی روز قتل ہوگئے  تھے جس دن بد دعا کی تھی۔

ابن ابی الحدید معتزلی شرحِ نہج  البلاغہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ شوری کے روز علی(ع) غضبناک ہوگئے تھے اور عبدالرحمن کی سازش کو سمجھ گئے تھے اور اس سے فرمایا تھا:

" قسم  خدا کی تم نے عثمان کو خلافت اس لئے دی ہے کہ تمھیں ان سے امید ہے جیسا کہ تمھارے دوست (عمر) کو اپنے دوست ( ابوبکر) سے امید تھی خدا  تمھارے درمیان نفرت و عداوت پیدا کرے ۔" ( شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید جلد۱ ص۶۳)

حضرت علی(ع) کی مراد یہ ہے کہ عبدالرحمن یہ جانتے ہیں کہ عثمان اپنے بعد عبدالرحمن کو خلیفہ بنادیں گے جیسا کہ ابوبکر نے اپنے بعد عمر کو خلیفہ بنادیا تھا اور علی(ع) نےعمر سے  فرمایا تھا:

اچھی طرح دودھ لو اس میں تمھارا بھی حصہ ہے آج تم ان کی حکومت مضبوط کردو تاکہ وہ کل تم ہی کو لوٹا دیں۔

پس خدا نے آپ(ع) کی دعا سن لی اور چند ہی سال کے بعد عثمان اور عبدالرحمن کے درمیان خدا نے بغض و عداوت پیدا کردی اور ایسی دشمنی کہ عبدالرحمن نے اپنے سالے عثمان سے مرتے دم تک کلام


 نہ کیا اور اپنے جنازہ پر نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی۔

اس مختصر بحث سے ہم پر یہ بات بھی آشکار ہوجاتی ہے کہ عبدالرحمن بن عوف قریش کے ان لوگوں کے راس و رئیس تھے جنھوں نے سنتِ رسول(ص) کو چھپایا اور اسے خلفا کی بدعت سے بدل دیا۔ جیسا کہ ہم  پر یہ بھی عیاں ہوچکی ہےکہ امام علی(ع) تنہا وہ ہیں جنھوں نے خلافت اور اس کے فوائد  کو سنتِ محمدی(ص) کی حفاظت پر قربان کردیا۔ جوکہ آپ(ع) کے ابن عم محمد بن عبداللہ صلوٰت اللہ و سلامہ علیہ  وعلی آلہ الطیبین الطاہرین لائے تھے۔

قارئین محترم نے شک آپ اہل سنت والجماعت کی حقیقت  سے واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اہل سنت کون ہیں۔ پس مؤمن دھوکا کھا سکتا ہے لیکن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاسکتا۔


۸ : امّ المؤمنین عائشہ بنت ابی بکر :

آپ زوجہ نبی(ص) اور ام المؤمنین ہیں ۔ آپ سے نبی(ص)نے ہجرت کے دوسرے یا یسرےت سال نکاح کیا تھا اور مشہور قول یہ ہے ۔ عائشہ اٹھارہ سال کی ہوئی تو رسولِ خدا(ص) نے رحلت فرمائی۔

اس بات کی طرف اشارہ کردینا مناسب ہے کہ ہر اس عورت کو ام المؤمنین کہا جاتا ہے جس سے رسول(ص) نے نکاح کیا تھا۔ جیسا کہ ام المؤمنین خدیجہ ، ام المؤمنین حفضہ، ام المؤمنین ماریہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔

میں نے بہت سے لوگوں سے گفتگو کے دوران یہ اندازہ لگایا کہ وہ لفظ ام المؤمنین کے معنی نہیں سمجھ پاتے اور یہ نہیں جانتے کہ ازواجِ نبی(ص) کو ام المؤمنین کیوں کہا جاتا ہے۔

اہل سنت اگر چہ نبی(ص) کی دیگر ازواج سے بھی حدیث نقل کرتے ہیں لیکن زیادہ تر عائشہ سے نقل کرتے ہیں۔ اورع نصف دین انھوں حمیراء عائشہ سے ہی لیا ہے۔

گویا لفظ ام المؤمنین کو  ایک عظیم فضیلت تصور کرتے ہیں جو کہ تمام ازواج کو چھوڑ کر عائشہ سے مخصوص ہے۔

حال یہ ہے کہ خدا نے نبی(ص) کی وفات کے بعد ازواجِ نبی(ص) کو مؤمنین پر حرام قرار دیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہے۔

اور تمھارے لئے یہ جائز نہیں ہےکہ تم نبی(ص) کو اذیت دو اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ تم انکے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو! بیشک یہ خدا کے نزدیک بڑا گناہ " ہے ۔ نیز ارشاد ہے۔ نبی(ص) تو مؤمنین پر ان کی جانوں سے بڑھ  کر حق رکھتے ہیں اور ان کی ازواج مؤمنین کی مائیں ہیں ۔ ( الاحزاب۔ ۵۳ اور ۶)

گزشتہ بحث میں ہم اس بات کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ نبی(ص) کو طلحہ کے اس قول سے تکلیف پہونچی تھی  کہ " محمد(ص) کا انتقال  ہوجائے گا تو میں اپنی چچازاد عائشہ سے نکاح کرلوں گا۔


پس خداوندِ متعال نے چاہا کہ نبی(ص) کی ازواج کو مؤمنین پر اسی طرح حرام کردے جس طرح ان پر ان کی مائیں حرام ہیں۔

جبکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ عائشہ بانجھ تھیں اور وہ کبھی حاملہ نہیں ہوئیں اور نہ ہی کو ئی اولاد چھوڑی ہے ۔، ہاں تاریخ مسلمین کی وہ بڑی شخصیتوں میں شمار ہوتی ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے کسی کو تختِ  خلافت  پر بٹھانے اور کسی کو خلافت سے دور رکھنے میں بڑے کردار ادا کئے ہیں۔ انھوں نے ایک قوم کو فروغ دیا اور دوسری کو پراکندہ کردیا۔

جنگوں میں شرکت کی۔ کمانڈری کی، قبائل کے رئیسوں کے پاس خط بھیجے۔ حکمرانی کی، بہت سی چیزوں سےروکا، لشکروں کے سرداروں کو معزول کیا اور نئے سرداروں کا تقرر کیا اور جنگِ جمل میں تو ان کی حیثیت تو چکی میں  اس کیل کی سی تھی جس کے چاروں طرف پاٹ گھومتا ہے۔ چنانچہ طلحہ و زبیر نے جو کچھ کیا ان کی قیادت میں کیا۔

ہم ان کی زندگی کے ادوار کو  ترتیب وار شمار نہیں کرانا چاہتے ۔ ان کے حالات ہم اپنی کتاب " فاسئلوا اہل الذکر" میں تفصیلی طور پر بیان کر چکے ہیں۔ تفصیل کے خوہان مذکورہ کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔

اس بحث می ہمارے لئے جو چیز اہم ہے وہ ان کا اجتہاد اور سنتِ بنی(ص) کو بدک دینا ہے۔ اس کے لئے بعض مثالوں کا بیان کردینا ضروری ہے تاکہ ہم ان عظیم لوگوں کے سلسلہ کو  سمجھ جائیں جو  کہ بڑے افتخار کے ساتھ خود کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں اور ان افراد کو جو ان کی اقتداء کرتے ہیں اور انھیں ئمہ طاہرین(ع) پر مقدم کرتے ہیں۔

در حقیقت یہ پہلی تحریک ہےجس میں سنتِ نبی(ص) کو محو  کرنے اور اس کے نشانات کو مٹانے اور  اس کے نور جو بجھانے  کےلئے مستقل طور  پر جاری رہی اور اگر علی(ع) اور ان کی ذریت سے ہونے والے ئمہ نہ ہوتے تو  آج ہمیں سنت کا نشان بھی نہ ملتا۔

یہ  تو ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ عائشہ سنتِ رسول(ص) پر عمل نہیں کرتی تھیں اور نہ ہی اس کی اہمیت سمجتھی  تھیں جب کہ انھوں نے اپنے شوہر سے حضرت علی(ع)  کے متعلق بہت سی حدیثیں سنی تھیں۔ لیکن سب کو  ٹھکرا دیا تھا اور سراسر ان کے خلاف عمل کیا اور حکمِ خدا  و حکمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کی ۔ گھر سے


 نکل کر جنگِ جمل میں ایسی گھناونی جنگ کی  قیادت فرمائی کہ جس میں حرمت ضائع ہوئی۔ نیکوکار قتل ہوئے اور عثمان بن حنیف کو لکھے گئے  عہد نامہ کے سلسلہمیں  خیانت ہوئی اور جب ان کے سامنے قیدی لائے گئے تو ان کی گردن مارنے کا حکم دیا گیا۔ گویا انھوں نے نبی(ص) کا یہ قول سنا ہی نہیں تھا کہ مسلمانوں پر سب وشتم کرنا فسق ہے اور انھیں قتل کرنا کفر ہے۔( بخاری ج۸ ص۹۲)

ان جنگوں اور فتنوں کو چھوڑئیے جن کی آگ ام المؤمنین عائشہ نے بھڑکائی تھی اور جن سے نسلیں اور کھیتیاں اجڑ گئیں تھیں ، آپ ہمارے ساتھ آئیے اور دینِ خدا  میں ان کی تاویل ملاحظہ فرمائیے اور جب صرف صحابی صاحب رائے ہے اور اس کو قول حجت ہے تو پھر اس ذات کا کیا حال ہوگا جس سے ںصف دین لیا کیا ہے؟!

بخاری نے اپنی صحیح کے ابواب التقصیر میں زہری سے اور انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ عائشہ نے کہا : پہلے نماز دو ہی رکعت فرض کی گئی تھی اس کے بعد وہ سفر کے لئے معین ہوئی اور حضر میں پوری نماز فرض ہوئی۔ زہری کہتے ہیں کہ میں نے  عروہ سے کہا پھر عائشہ کو کیا ہوگیا کہ وہ  سفر میں بھی پوری نماز پڑھتی ہیں؟ عروہ نے کہا کہ عثمان کی طرح تاویل کر لی ہوگی۔ ( صحیح بخاری ج۲، ص۳۶)

کیا یہ بات قابل تعجب نہیں ہے کہ ام المؤمنین ، زوجہ رسول(ص) اس سنتِ نبی(ص) کو ترک کررہی ہیں جس کی خود راوی ہیں اور پھر عثمان بن عفان کی بدعت کا اتباع کررہی ہیں کہ جس کے قتل پر لوگوں یہ کہہ کر ابھارتی تھیں کہ اس (عثمان) نےسنتِ نبی(ص) کو بدل ڈالا اور رسول(ص) کا کفن میلا ہونے سے پہلے ہی سنت کو بھلادیا ہے۔

یہ ہیں عائشہ کے وہ کارنامے جو انھوں نے عہد عثمان میں انجام دیئے ۔ لیکن معاویہ بن ابی سفیان کے زمانے میں ان کی رائے بدل گئی اور کتنی جلد ام المؤمنین کی رائے بدل گئی۔ ابھی کل ہی کی بات ت ہے جب کوگوں کو قتل عثمان پر اکسارہی تھیں اور جب یہ خبر ملی کہ عثمان کو لوگوں نے قتل کردیا اور علی(ع) کی بیعت کرلی تو ان کی رائے بدل گئی اور عثمان پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں اور ان کے خون کا


 انتقام لینے کے لئے نکل کھڑی ہوئیں۔

روایت کا مفہوم یہ  ہے کہ عائشہ نے معاویہ کے زمانہ میں نمازِ سفر دو کے بجائے چار رکعت پڑھی کیونکہ معاویہ اپنے چچازاد بھائی اور ولی نعمت عثمان بن عفان کی بدعت کو رائج دیکھ  کر خوش ہوتا تھا۔

لوگعوذں کا وی دین ہوتا ہے جو ان کے بادشاہوں کا ہوتا ہے اور پھر عائشہ ان لوگوں میں سے تھیں جنھوں نے دشمنی اور عداوت کے بعد معاویہ سے صلح کرلی تھی ورنہ معاویہ نے عائشہ کے بھائی محمد بن ابی بکر کو قتل کیا تھا اور بری طرح مثلہ کیا تھا۔

پھر دنیا کے مشترک مصالح دشمنوں میں اتحاد پیدا کردیتے ہیں اور اضداد کو ملادیتے ہیں، اسی لئےمعاویہ عائشہ سے اور عائشہ معاویہ سے قریب ہوگئیں اور معاویہ ان کے پاس تحائف و ہدئیے اور اموال و عطیہ بھیجنے لگا۔

مؤرخین کا کہنا ہے  کہ جب معاویہ مدینہ آیا تو  عائشہ کی زیارت کے لئے بھی گیا ۔جب بیٹھ گیا تو عائشہ نے کہا: اے معاویہ تم نے اسے چھپارکھا ہے اور امان  دے رکھی ہے جس نے میرے بھائی محمد  ابی بکر کو قتل کیا ؟

معاویہ نے کہا: میں امان کے گھر میں داخل ہوگیا ہوں ۔

عائشہ نے کہا: تم حجرابن عدی اور ان کے دوستوں کے قتل کرنے میں خدا سے نہیں ڈرے؟

معاویہ نے کہا: انھیں تو اس شخص نے قتل کیا ہے جس نےان کے خلاف گواہی دی ہے۔( تاریخ ابن کثیر  و استیعاب حالات حجر ابن عدی")

یہ بھی روایت ہے کہ معاویہ عائشہ کے پاس ہدئیے اور خلعت بھیجتا تھا اور انھیں اس زمانہ کے بڑے لوگوں میں شمار کرتا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ ان کے لئے ایک لاکھ درہم بھیجے۔ ( تاریخ ابن کثیر ج۷ ص۱۲۶، مستدرک حاکم ج۴،ص۱۳)

اور دوسری بار جب عائشہ مکہ  میں تھیں ایک ہار بھیجا جس کی قیمت ایک لاکھ تھی اسی طرح معاویہ


 نےعائشہ کا اٹھارہ ہزار دینار قرض ادا کیا اور جو کچھ وہ لوگوں کو دیدیتی تھی وہ بھی معاویہ ہی کی طرف سے آتا تھا ۔ (تاریخ ابن  کثیر ج۷ ص۱۳۷)

ہم اپنی کتاب" فاسئلوا اہل الذکر " میں لکھ چکے ہیں کہ  عائشہ نے ایک قسم کے کفارہ میں چالیس غلام آزاد کئے تھے۔ ( صحیح  بخاری جلد۷ ص۹۰، اور کتاب الادب، باب الہجرت)

اسی طرح بنی امیہ کے حکام اور امراء بھی عائشہ کے پاس اموال و ہدایا بھیجتے تھے۔ ( مسند امام احمد بن حنبل ج۶ ص۷۷)

جب ہم عائشہ اور معاویہ کی اس باہمی قربت کے بارے میں تحقیق کرتے  ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان کبھی دوری اور عداوت تھی ہی نہیں چہ جائیکہ کہا جائے کہ ان میں پھر  قربت پیدا ہوگئی تھی۔ کیوں کہ معاویہ کو شام کا حاکم مقرر کرنے میں ابوبکر شریک تھے اور معاویہ کو ابوبکر کا وہ احسان ہمیشہ یاد رہا۔ پس  اگر ابوبکر یہ احسان نہ کرتے تو معاویہ کبھی بھی خلافت تک پہنچنے کا خواب نہیں دیکھ سکتا تھا۔

پھر معاویہ اس جماعت کی سازش میں شریک ہوگیا جو سنت نبی(ص) کو محو کرنے اور عترتِ طاہر(ع) کے خلاف ہورہی تھی ۔ پس مہم کو آپس میں تقسیم کرلیا جس طرح افراد نے احادیث کو جلا ڈالا اور عترت کا نام ونشان مٹانے کا کام معاویہ پر چھوڑ دیا لہذا معاویہ نے بھی اپنی ذمہ داری پوری کی یہاں تک کہ لوگوں کو عترتِ طاہرہ پر لعنت کرنے پر مجبور کیا۔ اسی کی سازش سے علی(ع) کے خلاف جوارج وجود میں آئے۔ اسی کی ریشہ دوانی سے علی(ع) شہید ہوئے اور اسی کے ایماء پر امام حسن(ع) کو زہر سے شہید کیا گیا اور معاویہ کے بیٹے یزید (لع) نے بقیہ عترتِ طاہرہ(ع) کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس سے زمین اور آسمان لرز اٹھے۔

پس  معاویہ اور عائشہ کے درمیان کبھی عداوت نہیں تھی اور یہ جو عائشہ نےمعاویہ سے کہا تھا کہ اس بات سے مطمئن ہو کہ تمھارے دامن میں میرے بھائی محمد ابن ابی بکر کا قاتل


چھپارہے؟ تو اس کی حیثیت ایک مذاق سے زیادہ کی نہیں ہے۔ کیوں  کہ عائشہ کو ابنِ الخشعمیہ بن ابی بکر سے قطعی محبت نہیں تھی اس لئے کہ یہ وہی محمد ابن ابی بکر ہیں جو علی(ع) کے شانہ بہ شانہ عائشہ سے جنگ کررہے تھے اور ان کے قتل کو مباح سمجھتے تھے۔

پھر عائشہ بغض ابوتراب کےسلسلہ میں معاویہ سے مل گئیں ۔ ایسا بغض جس کی حد ہے نہ انتہا  اور ایسی دشمنی جو تصور کی حدود سے بھی باہر ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ ابوتراب کی دشمنی میں کون فوقیت رکھتا تھا ، آیا وہ شخص آگے تھا جس نے آپ(ع) سے جنگ کی، لعنت کی اور آپ(ع) کے نور کو خاموش کرنے کی کوشش میں لگا رہا۔

یا عائشہ آگے تھیں کہ جس نے آپ کو خلافت سے دور رکھا، آپ(ع) سےجنگ کی اور آپ(ع) کا نام مٹانے کی کوشش کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ علی(ع) کا نام بھی نہیں لیتی تھیں اور جب انھیں ابوتراب کے قتل کی خبر ملی تو فورا سجدہ شکر ادا کیا۔

اور آپ(ع) کی اولاد  سے بھی ہمیشہ بغض رہا۔ یہاں تک کہ امام حسن (ع) کو ان کے جد رسول(ص)  کے پہلو میں دفن کرنے سے منع کرنے کے لئے آشکارا طور   خچر پر سوار ہوکر آئیں اور اس سلسلہ میں بنی ہاشم  کے خلاف بنی امیہ سے مدد مانگی اور کہا کہ جس کو  میں دوست نہیں رکھتی  اسے میرے گھر میں داخل نہ کرو۔ اب دوبارہ جنگ کی آگ بھڑکا نا چاہتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کے بعض قریبی عزیزوں نے کہا  کیا ہمارے لئے جمل والا دن کافی نہیں تھا کہ اب خچر والی بات بھی سننا پڑے گی ۔بے شک وہ بنی امیہ کے حکم سے اپنے راستہ پر قائم رہیں اور فرازِ منبر سے علی(ع) و اہلبیت(ع) پر لعنت سنتی  رہیں لیکن کبھی اس فعل بد سے انھیں منع نہ کیا۔ ممکن ہے خفیہ طور پر انھیں جرءت دلا رہی ہوں۔

احمد ابن حنبل نے اپنی مسند میں روایت کی  ہے : ایک شخص عائشہ کے پاس آیا وہ علی(ع) اور عمار کے بارے میں گفتگو کرنے لگا۔ عائشہ نے کہا : میں علی(ع) کے بارے میں تم سے کچھ نہ کہوں گی۔لیکن عمار کے بارے میں، میں نے نبی(ص) سے سنا ہے کہ عمار دو امروں میں سے اسی کو اختیار کرتے ہیں


جو زیادہ استوار اور ہدایت والا ہوتا ہے۔ ( مسند امام احمد بن حنبل ج۶ ص۱۱۳)

ہمیں اس بات پر قطعی تعجب نہیں ہے کہ انھوں نے سنتِ نبی(ص) کو ٹھکرا دیا اور عثمان کی بدعت کو زندہ رکھنے اور معاویہ اور بنی امیہ کےحکام کو خوش کرنے کے لئے سفر میں پوری نماز پڑھی کہ جو سفر  و حضر میں ان  کا اتباع کرتے تھے اور ان کو عظمت دیتے تھے اور دین ان ہی سے  لیتے تھے۔

جیسا کہ عائشہ نے انھیں رضاعتِ  کبیر کے سلسلہ میں فتوی دیا، وہ یہ سمجھتی تھیں کہ مرد عورتوں کا دودھ پی کر ان کے محرم بن سکتے ہیں۔ ( اس بے ہودہ فعل کو ہم اپنی کتاب " لاکون مع الصادقین" کے عائشہ و دیگر ازواج نبی(ص)  کے  اختلاف  والے باب میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔

اور جو کچھ مالک نے اپنی موطا میں تحریر کیا ہے اس سے تو ہر مومن اور مؤمنہ کا نپ اٹھے گا۔ مالک کہتے ہیں کہ وہ مردوں کو  اپنی بہن ام کلثوم اور اپنے بھائی کی بیٹیوں کے پاس بھیجتی تھیں مرد ان کا دودھ پی کر آتے تھے اور اس رضاعت کے بعد ام المؤمنین عائشہ ان کی محرم ہوجاتی تھیں اور ان کے سامنے بغیر پردے کے جاتی تھیں۔ ( موطا ، مالک ج۲، ص۱۱۶ باب رضاعۃ الکبیر) کیونکہ عائشہ کی نظر میں دودھ پینے  والے  عائشہ کے محرم ہوجاتے تھے۔

یہاں ایک مسلمان کو فض کیجئے  کہجس کی بیوی کے کسی اجنبی مرد سے تعلقات ہوں اور وہ اجنبی اس کی بیوی کے پستانوں سے کھیل رہا ہو اور جب مسلمان دیکھے تو  اس کی بیوی کہدے کہ میں اس کو دودھ پلا کر محرم بنارہی ہوں تاکہ یہ بغیر کسی روک ٹوک کے ہمارے گھر آسکے۔

مرد بے چارہ عائشہ  کی بدعت کو برداشت کرے اگر چہ اس میں وہ نقصان ہی محسوس کرتا ہو لیکن جو فیصلہ ہوگیا اسے تسلیم کرنا ہے۔

میں محققین اور تجربہ کرنے والوں کی توجہ اس عظیم مصیبت کی طرف مبذول کراتا ہوں کیونکہ انکشافِ حقیقت اور حق و باطل  میں امتیاز کے لئے رضاعت کبیر والا مسئلہ کافی ہے۔


اس واقعہ سے ہم پر یہ بات بھی آشکار ہوجاتی ہے کہ اہل سنت والجامعت ان نصوص کے ذریعہ خدا کی عبادت کرتے ہیں جب پر خدا نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے اور نہ اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ نہ وہ ثابت ہوتی ہے ۔ اگر وہ اس بدعت کی تحقیق کریں تو یقینا وہ اس سے نفرت کرنے لگیں گے اوراس سے دستبردار ہوجائیں گے۔

یہ بات جب بھی میں نے بعض علماء اہل سنت کے سامنے پیش کی ہے اور وہ اس رضاعتِ کبیر  والی حدیث سے مطلع ہوئے ہیں تو انگشت بدندان رہ گئے ہیں اور حیرت سےکہنے لگے ہم نے  یہ حدیث کبھی نہیں سنی۔

اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے یہ تو اہل سنت والجماعت کےساتھ اکثر ہوتا ہے۔

چنانچہ بہت سی ایسی احادیث ان کی صحاح میں موجود ہیں کہ جن سے شیعہ ان پر حجت قائم کرتے ہیں جب کہ اہل سنت ان سے بے خبر ہیں۔ اور اس کے بیان کرنے والے کو کافر گردانتے ہیں۔

اور خدا نے کافروں کے لئے نوح اور لوط کی بیویوں کی مثال بیان کی ہے کہ یہ دونوں ہمارے صالح بندوں کی تصرف میں تھیں ،دونوں نے اپنے شوہروں سے دغا کی تو ان کے شوہر خدا کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا داخل ہونے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی جہنم میں داخل ہوجاؤ۔( تحریم ۱۰)


۹:  خالد بن ولید :

خالد ابن ولید ابن مغیر مخزوم سے تعلق رکھتے ہیں اور اہل سنت والجماعت انھیں سیف اللہ کہتے ہیں۔

خالد کا باپ ان مالدار اور صاحب ثروت لوگوں میں سے ایک تھا جن کی ثروت کی تھاہ مہیں تھی، عبا محمود کہتا جہے کہ وہ اپنے زمان کے تمام مشہور مالدار میں سب سے غنی تھا، اس کے پاس سونا چاندی، باغات، تجارت،زمینیں خدمت گار، کنیزیں اور غلام تھے اسی لئے ان کو وحید کہتے تھے۔ ( عبقریہ خالد عباس عقاد ص۲۴)

خالد کا باپ  ولید بنمغیرہ ہے  جس کے بارے میں قرآن کی آیت نازل ہوئی اور اسے جہنم کی آگ اور برے ٹھکانہ ڈرایا ہے۔

ارشاد ہے!

اس شخص کو چھوڑدیجئے جس کو میں نے اکیلا  پیدا  کیا ہے اور اسے بہت سا مال دیا اور نظروں کے سامنے رہنے والے لڑکے دیئے اور اسے ہر طرح کے سامان میں وسعت دی پھر اس پر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اور بڑھاؤں یہ ہر  گز نہ ہوگا۔ یہ تو میری آیتوں کا دشمن ہے ، میں عنقریب اسے سخت عذاب میں متلا کروں گا۔ اس نے غور کیا اور  تجویز کرلی تو جس طرح بھی ہو یہ مار ڈالا جائے اس نے کیونکر تجویز کی پھر سوچا سمجھا ، پھر تیوری چڑھائی اور ناک بھوں چڑھا لیا، پھر بیٹھ کر چالا گیا اور اکڑکر بیٹھا پھر کہنے لگا یہ تو بس جادو  ہے ۔ جو کہ چلا آرہا ہے، یہ تو آدمی کا کلام ہے۔ تو میں اسے عنقریب جہنم میں جھونک دوں گا۔ ( مدثر ۱۱۔۲۶)

روایت ہے کہ ولید نبی(ص) کے پاس آیا اور کہا یہ نیا دین چھوڑدیجئے ہم آپ کو مال و دولت


 دیدیںگے تو خدا نے یہ آیت نازل کی۔

اور تم اس کی باتوں میں نہ آنا جو بہت قسمیں کھاتا  ہے، ذلیل ہے۔ عیب جو پرلے درجہ کا چغلخور، مال کا بخیل ، بہت بڑا گناہگار، تند مزاج اور اس کے علاوہ بد ذات بھی ہے  چونکہ مال اور بہت سے بیٹے رکھتا ہے ۔ جب اس کےسامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں، ہم عنقریب اس کی ناک پرداغ لگائیں گے۔ ( قلم ۱۰۔۱۶)

ولید کا عقیدہ تھا کہ وہ محمد(ص) سے زیادہ نبوت کا حقدار ہے چنانچہ ایک روز اس نے کہا : کیا محمد(ص) ایسے فقیر و یتیم پر قرآن نازل کردیا گیا اور مجھ جیسے قریش کے سردار نظر انداز کردیا گیا۔

اسی عقیدہ پر خالد بن ولید کی تربیت ہوئی ! اسے بھی اس اسلام اور رسول(ص) اسلام سے دشمنی تھی جس نے اس کے باپ کے خیال کو بے وقوفی کا خواب بتایا اور اس کی چولیں بلادیں۔ چنانچہ رسول اللہ(ص)  سے لڑی جانے والی جنگوں میں خالد شریک رہا۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خالد کا بھی وہی عقیدہ تھا جو اس کے باپ کا تھا۔ وہ محمد(ص) ایسے فقیر و یتیم سسے زیادہ خود کو نبوت کا حقدار سمجھتا تھا کیونکہ خالد اپنے باپ کی طرح قریش کا سردار تھا۔ اگرچہ مطلق طور پر وہ سب سے عظیم نہیں تھا۔ پس اگر خالد کےباپ پر قرآن و نبوت نازل ہوگیا ہوتا  تو خالد کو ان دونوں ( نبوت و قرآؔن میں سے  وافر حصہ ملتا جیسے جناب سلیمان (ع) نے داؤد(ع) سے میراث پائی تھی ایسے ہی خالد بھی ادشاہت و نبوت کی میراث پاتا۔ قرآن نے ان کے اعتقاد کو اس طرح بیان کیا ہے۔

اور جب ان کے پاس حق آگیا تو کہنے لگے یہ تو  جادو ہے اور ہم تو ہرگز اس کے ماننے والے ہیں ہیں اور لہنے لگے یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔( زخرف/ ۳۰۔۳۱)

پس اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اگر وہ محمد(ص) اور ان کی دعوت کے خلاف اقدام


 کرتاہے۔ چنانچہ ہم اسے غزوہ احد می پیسے کے زور پر بہت بڑا لشکر تیار کرتے ہوئے دیکھتے اور نبی(ص) کو ختم کرنے کے لئے کمین گاہ میں بیٹھتا ہے اور صلحِ حدیبیہ والے سال بھی اس نے کھیل ، کھیلنا چاہا تھا لیکن خداوندِ عالم نےاس کے منصوبہ کو ناکام بنادیا اور ہر جگہ اپنے نبی(ص) کی مدد کی۔

اور جب قریش  ے دیگر سرکردہ افراد کی طرح خالد بھی یہ سمجھ گیا کہ رسول اللہ(ص) شکست کھانے والے نہیں ہیں اور دیکھا کہ لوگ جوق در جوق  دینِ خدا میں داخل ہو رہے ہیں تب اس نے حسرت و یاس سے اسلام قبول کیا خالد نے فتح مکہ  سے چار ماہ قبل ہجرت کے آٹھویں سال اسلام قبول کیا، خالد کب مسلمان ہوا؟ وہ تو ہر موقع پر حکمِ رسول(ص)  کی مخالفت کرتا تھا فتح مکہ کےدن آپ(ص) نے قتل سے منع کیا تھا لیکن خالد تیس(۳۰)  افراد سے زیادہ کو قتل کر کے  مکہ میں داخل ہوا تھا، قتل ہونے والوں میں اکثر قریش تھے جبکہ نبی(ص) نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ کسی ایک کو بھی قتل نہ کرنا۔

اگر چہ عذر کرنے والے خالد کی طرف سےیہ عذر پیش کرتے ہیں کہ انھیں مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جارہا تھا اور مکہ والے اسلحہ لئے ہوئے تھے۔لیکن یہ چیز نبی(ص) کے منع کرنے کے بعد  خالد کے لئے  قتل مباح نہیں کرسکتی۔ پھر خالد کسی دوسرے دروازہ سے آسکتے تھے اور بغیر قتل کے داخل مکہ ہوسکتے تھے ۔ جیسا کہ دیگر افراد نےکیا تھا، یا نبی(ص)  کے پاس کسی کو بھیج کی ان لوگوں سے قتال کےبارے میں مشورہ کرتے جو کہ داخل نہیں ہونے دےرہے تھے۔

لیکن بات یہ نہیں تھی،  بلکہ خالد نے اس نص کے مقابلہ میں اجتہاد کیا تھا جس جو نبی(ص) سے سن چکا تھا۔

اور یہ جوہم  نے نص کے مقابلہ میں اجتہاد کہا ہے شائستہ کلامی کی بناء پر کہا کیونکہ بعد میں اس کے بہت یارو مددگار ہوگئے تھے یا یہ کہئے کہ اس کا ایک مدرسہ قائم ہوگیا تھا  کہ جس سے صحابہ اور شریعت والے فارغ التحصیل ہوتے تھے اور بعد میں اس مدرسہ کو مکتبِ خلفا کہا جانے لگا۔

اس بات کی طرف اشارہ کردینا بہت  ضروری ہے کہ معنی میں خالد کا اجتہاد خدا و رسول(ص) کی نافرمانی ہے اور یہ جو ہم نے کہا ہے کہ خالد نے نص کے مقابلہ میں اجتہاد کیا ۔ یہ اصطلاح وضع کی


گئی ہے اس  سے ایسا لگتا ہے جیسے کہ جائز امر ہو در حقیقت ہمیں چاہئیے تھا کہ خالد نے حکمِ رسول(ص) کی نافرمانی کی لیکن ہم نے اس کی بجائے یہ کہا کہ خالد نے نص کے مقابلہ میں اپنی رائے سے  اجتہاد کیا۔ جیسا کہ رسول(ص) نے ہمیں تعلیم دی ہے۔

" و عصی آدم ربه فغویٰ" (طہ/ ۱۲۱)

آدم(ع) نے نافرمانی کی وہ نے راہ ہوگئے اس لئے کہ خدا نے اس  درخت کا پھل کھانے سے منع کیا تھا  لیکن آدم(ع) نے اس کا پھل کھالیا ، پس ہم یہاں یہ نہیں کہہ سکتے کہ آدم(ع)  نے نص کے مقابلہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کرلیا تھا۔

مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی حد میں رہے اور کسی مسئلہ میں اپنی رائے سے یہ نہ کہے  کہ اس سلسلہ میں خدایا رسول(ص)  کی طرف سے امر  ہے یا نہی وارد ہوئی ہے کیونکہ یہ کھلا ہوا کفر ہے۔

خدا نے ملائکہ سے فرمایا تھا"اسجدوا الآدم" یہ امر ہے "فسجدوا" انھوں نےسجدہ کیا یہ طاعت و امتثال امر ہے۔

ابلیس (لع) نے اطاعت نہیں کی اس نے اپنی رائے سے اجتہاد کیااور  کہا: میں اس (آدم(ع))  سے بہتر و افضل ہوں ، کیسے اسےسجدہ کروں ؟ یہ عصیان و سرکشی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ افضل کون ہے، آدم (ع) یا ابلیس(لع) ؟ خداوندِ عالم نے یہ فیصلہ کیا۔

" اور نہ ہی کسی ایمان دار مرد کے لئے مناسب ہے اور نہ کسی ایمان عورت کے لئے  کہ جب اللہ و رسول(ص) کسی کام کا حکم دیں تو ان کو بھی اپنے کام کا اختیار ہو"۔(احزاب/۲۶)

اسی بات کی طرف امام  جعفر صادق(ع) نے ابو حنیفہ سے گفتگو کے دوران اشارہ فرمایا تھا کہ : قیاس نہ کیا کرو کیوں کہ جب شریعت میں قیاس کیا جاتا ہے  تو مٹ جاتی ہے اور پھر سب سے پہلے ابلیس(لع) نے قیاس کیا ، جبکہ اس نے کہا میں  اس (آدم(ع))  سے افضل ہوں کیونکہ مجھے تو نے


 آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے  بنایا ہے۔

امام جعفر صادق(ع) کا ہی قول ہےکہ جب شریعت میں قیاس کیا جاتا ہے تو مٹ جاتی ہے، یہ قیاس کےباطل ہونے پر بہترین دلیل ہے  پس اگر نص کے مقابلہ میں لوگ مختلف راویوں پر  عمل کریں تو شریعت باقی نہیں رہے گی، اگر حق ان کی خواہشات کا اتباع کرتا تو زمین و آسمان تباہ ہوجاتے۔

اجتہاد کےسلسلہ میں اس مختصر بحث کے بعد ہم اپنے موضوع پر  خالد کے حالات کے تجزیہ کی طرف پلٹتے ہیں۔ خالد نے ایک بار پھر حکمِ رسول خدا(ص)  کی نافرمانی کی جبکہ آپ(ص) نے اسے بنی حذیفہ کے پاس دعوتِ اسلام کے لئے بھیجا تھا اور قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔

 خالد ان کے پاس گیا، ان کےدرمیان ٹھہرا اور جب وہ اسلام کا اعلان کرچکے تو انھیں دھوکہ سے قتل کردیا۔ یہاں تک کہ عبدالرحمن بن عوف نے جوکہ خالد کے ساتھ اس حادثہ میں موجود تھے۔ خالد پر یہ تہمت لگائی کہ اس نے اپنے چچا کا انتقام  لینے کی وجہ سے قتل عام کیا ہے۔ ( عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں قسم خدا کی خالد نے مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔ خالد نے کہا میں نے تمھارے باپ عوف بن عوف کے عوض انھیں قتل کیا ہے۔ عبدالرحمن نے کہا میرے باپ کو عوض تم نے انھیں قتل نہیں کیا  ہے ۔  تم نے  اپنے چچا کے قصاص میں انھیں قتل کیا ہے۔ خدا آپ کو سلامت رکھے ذرا غور فرمائیے کہ خالد کو اس بات کا اعتراف ہےکہ اس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔ لیکن اس اعتراف کے ساتھ میں نے عبدالرحمن کے والد عوف کے قصاص  میں انھیں قتل کیا ہے  کیا دینِ خدا میں اسے یہ ۔۔۔۔۔ کہ وہ ایک شخص کے عوض پوری قوم کو قتل کردے اور کیا یہ جائز ہے کہ ایک کافر کے بدلے ۔۔۔۔مسلمانوں کو قتل کیا جائے۔) جب رسول(ص) نےاس حادثہ کے بارے میں سنا تو خدا سے اس فعل کےمتعلق تین مرتبہ اظہار برائت فرمایا جس کا ارتکاب خالد نے کیا تھا۔

تاریخ کے صفحات کے سیاہ کارناموں  اور کتابِ خدا و سنتِ رسول(ص)  کی نافرمانی سے بھرے


 پڑے ہیں ایک محقق کے لئے زمانۃ ابوبکر میں خالد کے یمامہ والا واقعہ کا مطالعہ کافی ہے۔

اس نے مالک نویرہ او ر ان کی قوم کو فریب دیا اور انھیں بے چارگی کی حالت میں قتل کردیا جب کہ وہ سب مسلمان  تھے اور  اسی حادثہ کے بعد فورا ہی مالک بن نویرہ کی زوجہ سے خالد نے نکاح کیا اور اس سلسلہ میں شریعتِ اسلام اورعرب کی مروَت کا قطعی پاس و لحاظ  نہ کیا۔یہاں تک احکام کو زیادہ اہمیت نہ دینے والے عمر بن خطاب نےبھی اس فعلِ قبیح پر  خالد کو شرزنش کی اور اسے دشمنِ خدا کہا اور سنگسار کردینے کی دھمکی دی۔

محققین غیر جانب دار ہوکر تنقیدی نظر اور بصیرت کی نگاہوں سے تاریخ کا مطالعہ فرمائیں اور مذہبی عصبیت کو ایک طرف رکھ دیں ۔ تو حقیقت تک پہونچ جائیں گے ۔ کیونکہ احادیثِ نبی(ص) کو بیان کرنے والے جھوٹے افراد بھی ملتے ہیں ۔ کیونکہ اہل سنت والجماعت یعنی بنی امیہ اپنی طرف سے حدیث گھڑا کرتے تھے اور تاریخی حادثات کو محو کردیتے تھے تاکہ تحقیق کرنے والے حقیقت تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔

اور ان میں سے کوئی بھی آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ : خالد کے لئے تو رسول خدا(ص)  نے فرمایا ہے۔" مرحب سیف اللہ" اس جھوٹی حدیث کو ان نیک سرشت اور سادہ لوح مسلمانوں نے نقل کردیا جو کہ حسنِ ظن رکھتے ہیں اور بنی امیہ کے مکرو فریب  سے واقف نہیں ہیں اور اس کے بعد خالد کے ہر ایک حقیقت جر مبنی فعل کی تاویل کرتے ہیں اور اس کے لئے عذر تراشی  کیا کرتے ہیں ۔اس سلسلہ میں ایک مثال ملاحظہ فرمائیں : نبی(ص)  کے چچا ابوطالب(ع) کے بارے میں ایک ضعیف قول ہے کہ وہ ( معاذ اللہ) کافر مرے اور نبی(ص) نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ ابوطالب(ع) کی پنڈلیوں تک آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور اس طرح ان کےدماغ کو اذیت دی جائے گی۔

اس جھوٹی حدیث کی بنا پر اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ ابوطالب(ع)  مشرک تھے اور وہ جہنم میں ہیں۔ اس حدیث  کے بعد وہ کسی بھی ایسی عقلی تحلیل کو قبول نہیں کرتے جو انھیں حقیقت تک پہنچا دے اور اسی حدیث کی وجہ سے وہ ابو طالب(ع) کی پوری زندگی اور دعوتِ اسلام کے سلسلہ


 میں اپنے بھتیجے کی حمایت اور راہِ اسلام میں ان کے جہاد کا بالکل ختم کردیتے ہیں جب کہ ابوطالب(ع) نے اپنے بھتیجے کی اتنی حمایت کی کہ آپ  کی قوم  آپ کے دشمن ہوگئی اور آپ اپنے بھتیجے کے ساتھ مکہ کے غار میں تین سال تک قید رہنے پر راضی ہوگئے کہ جہاں درختوں کے پتے کھا کر زندگی گزاری۔ لیکن اہلِ سنت والجماعت ان کے دلیرانہ موقف  کو چاٹ  جاتے ہیں  اور نبی(ص) کو تبلیغ کی نصرت کےسلسلہ میں ان کےاعتقادی اشعار کو ہضم کرجاتے ہیں اور ہر اس فعل پر خاک ڈالدیتے ہیں جو نبی(ص) نے اپنے چچا کے لئے انجام دیا تھا۔ انھیں غسل دیا ، اپنے کرتے کا کفن دیا، ان کی قبر میں اترے اور جس سال ابوطالب(ع)  کا  اتنقال ہوا اس کا عام الحزن قرار دیا اور فرمایا : قسم خدا کی قریش کی جرت میرے چچا ابوطالب(ع) کے مرنے کے بعد بڑھی ہے  بے شک میرے خدا نے مجھے وحی کے ذریعہ بتایا  ہے کہ اب مکَہ سے نکل جاؤ تمھارا مددگار مرچکا ہے۔ پس اسی روز مکہ سے ہجرت کی۔

دوسری مثال ابوسفیان  ابنِ حرب معاویہ کے باپ کی لیجئے کہا جاتا ہے کہ وہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوا اور نبی(ص) نےاس کے بارے میں فرمایا جو ابوسفیان کے  گھر میں داخل ہوجائے گا اس کے لئے امان ہے۔

اس حدیث کی بنا پر  کہ جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی فضیلت ہے۔ اہلِ سنت والجماعت  کا عقیدہ ہے کہ ابوسفیان مسلمان ہوگیا تھا اور وہ جنت میں ہے اس لئے کہ اسلام ما قبل کے  کے گناہوں معاف کردیتا ہے۔

اسی حدیث کی وجہ سے وہ کوئی ایسی عقلی تحلیل و تجزیہ قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہوتے جو انھیں حقیقت تک پہنچادے اور اسی حدیث کی وجہ سے وہ ابوسفیان کے تمام افعال سے چشم پوشی کرلیتے ہیں جو  کہ اس نے رسول(ص) اور تبلیغِ اسلام کے خلاف انجام دیئے تھے۔ اور اس کی بھڑکتی ہوئی تمام جنگوں کو فراموش کو دیتے ہیں اور محمد(ص) کے خلاف اس کی ساری سازشوں کو یکسرہ بھولا دیتے ہیں اور  نبی(ص) سے سارے بغض و حسد کو کالعدم تصور کرتے ہیں۔ جب کہ ابوسفیان اس وقت اسلام لایا جب لوگوں نے آکر اس سے کہا یا اسلام لے آؤ ورنہ تمھاری گردن ماردی جائے گی ۔ اس پر  ابوسفیان نے کہا:اشهد ان


 ان لا اله الله ، لوگوں نے کہا:اشهد ان محمَد رسول الله بھی تو کہو تب اس نےکہا : میرے باطن میں ایک چیز ہے جو مجھے کلمہ پڑھنے سے روکتی ہے۔

اور جب مسلمان ہونے کے بعد نبی(ص) کے ساتھ بیٹھا تو اپنے دل میں کہا : انھوں نے کس چیز کے ذریعہ مجھ پر غلبہ حاصل کیا ہے؟ تو نبی(ص)  نے فرمایا : اے ابوسفیان میں نے اللہ کی مدد سے تم پر غلبہ پایا ہے۔

ہم نے اسلامی واقعات میں سے یہ دو مثالیں پیش کی ہیں تاکہ محققین پر یہ بات واضح ہوجائے کہ لوگوں پر خواہشاتِ نفسانی کا کیا اثر ہوتا ہے اور کیسے ان سے حق کو  چھپا دیتا ہے اور اسی سے ہم یہ سمجھتے ہیں۔ اہل سنت والجماعت نے صحابہ پر جعلی اور جھوٹی حدیثوں کا غلاف چڑھا دیا ہے جس سے وہ غافل لوگوں کی نظروں میں  مقدس  بن گئے۔ چنانچہ اہل سنت والجماعت صحابہ پر کسی ناقد  کی تنقید اور کسی ملامت گر کی ملامت سننے کو تیار نہیں ہیں۔

اور جب کسی مسلمان کا یہ اعتقاد ہو کہ رسول(ص) نےانھیں ( صحابہ کو ) جنت کی بشارت دی ہے تو اس کی بعد ان کے بارے میں کوئی بات  قبول ہی نہیں کرے گا۔ بلکہ ہر فعل کے لئے عذر تراشی کرے گا اور ان کے تمام افعال کو معمولی بنا کر پیش کرے گا اور تاویلات سے کام لے گا کیوں کہ پہلے دن سے اس کا دروازہ بند نہیں کیا گیا تھا۔

اس کے لئے اہلِ سنت  نے اپنے ہر ایک بزرگ کے لئے ایک لقب وضع کرلیا ہے  اور اس لقب کو رسول(ص) کی طرف منسوب کردیا ہے، اس طرح کسی کو صدیق کسی کو فاروق، کسی کو ذوالنورین کسی کو عاشق رسول(ص) ، کسی کو حورائی رسول(ص) ، کسی کو رسول(ص) کی چہیتی،کسی کو امین الامت کسی کو راویۃ الاسلام ، کسی کو کاتبِ وحی، صاحبِ نعلین، حجامِ رسول(ص) ، سیف اللہ جیسے القاب سے نوازا ہے۔

در حقیقت اللہ کے میزانِ عدل میں ان القابات کی کوئی حقیقت  و اہمیت نہیں ہے ۔ یہ  وہی اسماء ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ داد نے رکھ دیئے تھے خدا  نے اس سلسلہ میں کوئی دلیل نہیں نازل کی ہے خدا کے نزدیک نفع وضرر کا معیار اعمال ہیں۔


اور ان کے اعمال کا بہترین شاہد تاریخ ہے ۔ ان ہی اعمال کے ذریعہ ہم انسان کی شخصیت کو پرکھتے ہیں اور  اس کی قدر و قیمت معین کرتے ہیں اور اس انسان کا کوئی معیار نہیں سمجھتے جس کے لئے جھوٹ و بہتان والی چیزیں بیان کی جاتی ہیں۔

اور یہ ٹھیک وہی بات جو امام علی(ع) کا مقولہ ہے: حق کو پہچان لو، تو اسکے ذریعہ اہلِ حق خود  پہچان لئے جائیں گے۔ ہم نے تاریخ کو چھان بین کی اور خالد بن ولید کے  کارناموں سے آگاہی حاصل کی اور حق کو باطل سے جدا کرلیا۔ پس ہم خالد کو کبھی سیف اللہ نہیں کہہ سکتے بلکہ ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ اہلِ سنت سے  یہ سوال کریں کہ رسول(ص) نے کس وقت خالد کو سیف اللہ کے لقب سے نوازا تھا؟ آیا فتح مکہ کے روز جب اس نے اہل مکہ کو قتل کیا تھا، جبکہ رسول(ص) نے کسی کو بھی قتل کرنے سے منع کیا تھا؟ یا اس وقت سیف اللہ کہا تھا جب اسے زید بن حارثہ والے سریہ میں روانہ کیا تھا اور فرمایا تھا کہ زید کے قتل ہوجانے پر جعفر بن ابی طالب(ع) علم دار ہوں گے اور جعفر کے قتل ہونے پر عبداللہ بن رواحہ علم سنبھالیں گے چنانچہ چوتھے نمبر پر  خالد کو فوج کا سپہ سالار مقرر کیاتھا اور جب تین افراد کے قتل ہوجانے پر  خالد  نے کمانڈری سنبھالی تو  باقی فوج کو لیکر میدانِ کارزار سے فرار کر گیا؟!

کیا اس وقت سیف اللہ کہا تھا جب خالد آپ(ص) کے ساتھ غزوہ حنین میں بارہ(۱۲) ہزار کے لشکر کے ضمن شریک تھا اور رسول(ص) کو میدان کا رزار میں تنہا چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا تھا اور آپ کے ساتھ صرف(۱۲) افراد رہ گئے تھے۔ جبکہ خداوندِ عالم کا ارشاد ہے :

جو شخص جبگ کے روز کفار کی طرف سے پیٹھ پھیرے گا وہ یقینا خدا کے غضب کا نشانہ بنے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔(انفال/۱۶)

یہ خصوصیت سیف اللہ (خالد) کو کیسے فرار کی اجازت دے سکتی ہے؟ یہ بات تو بہت ہی تعجب خیز ہے!


میرا عقیدہ ہے کہ زمانہ رسول(ص) میں خود خالد بھی اس لقب سے نہیں واقف تھے اور نہ رسول(ص) نےانھیں اس لقب سے نوازا تھا ہاں ابوبکر نے  خالد کو یہ لقب اس وقت دیا تھا جب انھٰیں اپنے مخالفین کی سرکوبی کے لئے بھیجا تھا  اور انھوں نے ابوبکر کے حکم کو عمل جامہ پہنا دیا تھا ۔چنانچہ عمر نے اس حرکت پر خالد کو سرزنش کی اور ابوبکر سے کہا یقینا خالد نے ظلم کیا ہے اور یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا ورنہ خالد انھیں اچھی طرح جانتے تھے۔ اس پر ابوبکر نے کہا : خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک ہے۔ اس نے تاویل کی تھی خطا ہوگئی ( یہ ہے سیف اللہ کے لقب کا مبداء)

طبری نے ریاض النضرہ میں روایت کی ہے کہ بنی سلیم اسلام سے پھیر گئے تھے اس لئے ابوبکر نے خالد بن ولید کو ان کے پاس بھیجا۔ خالد نے انھیں جمع  کر کے جلادیا ، شدہ شدہ یہ خبر عمر ابن خطاب تک پہنچی وہ ابوبکر کے پاس آئے اور کہا اس شخص کو دور کرو  جو خدا  کا عذاب دیتا ہے۔

ابوبکر نے کہا: قسم خدا کی میں اس تلوار کو ہرگز نیام میں نہیں رکھوں گا ۔ جس کو خدا نے اپنے دشمنوں کے لئے کھینچ رکھی ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود نیام میں رکھ لے۔ اس کے بعد خالد کو مسیلمہ کی طرف جانے کا حکم دیا۔

یہیں سے اہل سنت والجماعت نےخالد کو اللہ کی شمشیر برہنہ کہنا شروع کیا یہ الگ بات ہے کہ خالد نے حکمِ رسول(ص) کو ٹھکرا کر اور سنت کو دیوار  پر مار کر لوگوں کو آگ میں جلادیا۔

بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے فرمایا : آگ کا عذاب خدا کے علاوہ کوئی کسی کو نہیں دے سکتا۔ آپ(ص) ہی کا قول ہے ۔ آگ کےذریعہ کو ئی عذاب نہیں دے سکتا ہاں اس کا  رب اس کے ذریعہ عذاب دے گا۔ ( صحیح بخاری جلد۴،ص۳۲۵)

یہ بات ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ابوبکر نے اپنی موت سے پہلے کہا تھا اے کاش میں فجاۃ سلمی کو نہ جلاتا!

اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اے کاش ابوبکر عمربن خطاب سے یہ پوچھتے اور کہتے، جب تم جانتے تھے کہ آگ کا عذاب صرف خداہی دے سکتا ہے اور کسی کو آگ سے عذاب دینے کا حق نہیں ہے تو آپ


نے رسول (ص) کی قفات کے بعد کل یہ قسم کیوں کھائی تھی کہ قسم خدا کی میں زہرا(س) کے مکان کو مع مکینوں کے جلادوں گا؟! اگر علی(ع) تسلیم نہ ہوئے ہوتے اور اپنی جماعت کو گھر سے نکلنے کا حکم نہ دیا ہوتا تو تمہاری مراد پوری ہوجاتی۔

بعض اوقات مجھے شک کشمکش میں مبتلا کردیتا ہے اور میں یہ سوچنے لگتا ہوں کہ کہ عمر کا ابوبکر سے جھگڑنا بعید ہے اور میں ان کی اور ان کی نزاع کی طرف ملتفت نہیں ہو پاتا ہوں۔

حقیقت میں یہ عجیب بات ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ابوبکر عمر کا مقابلہ نہیفں کرتے تھے اور ان سے قیل و قال کی ان میں ہمت نہیں تھی اور یہ تو بارہا دیکھنے میں آیا ہے کہ ابوبکر عمر سے کہتے تھے آپ سے میں نے کہا تھا اس کام کے لئے ۔مجھ سے آپ قوی ہیں لیکن آپ نے مجھ پر  زبردستی  کی اور ایک بار جب مولفۃ القلوب سے ابوبکر کا سفارش نامہ لے کر عمر نے اس پر تھوکا او ر پھاڑ ڈالا تو وہ شکایت کے لئے ابوبکر کے پاس  گئے اور کہا: خلیفہ آپ ہیں یا عمر؟ تو ابوبکر نے کہا وہی ہیں۔

اسی لئے میں کہتا ہوں شاید خالد کے افعالِ قبیحہ کے متعلق جھگڑنے والے علی بن ابی طالب(ع) تھے لیکن اولین مؤرخین اور راویوں نے آپ(ع) کا نام ہٹا کر عمر کا نام رکھ دیا جیسا کہ بعض ایسی روایات وارد ہوئی ہیں کہ جن کی سند ابی زینب  یا کسی اور شخص کی طرف دی ہے اور راویوں کی مراد علی(ع) ہیں۔ لیکن انھوں نے اس کی صراحت نہیں کی۔

یہ فقط احتمال ہی نہیں ہے یا ہم بعض مؤرخین کا قول قبول کرلیں کہ عمر بن خطاب خالد سے بر ہم تھے یہاں تک اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے  تھے کیوں کہ اس نے خون بہایا تھا لیکن خالد نے اپنی کامیابیوں سے لوگوں کے دلوں میں جگہ پیدا کرلی اور یہ کہاجانے لگا زمانہ جاہلیت میں خالد عمر سے لڑ گئے تھے اور انھیں مغلوب کردیا تھا اور ان کی ایک ٹانگ توڑ دی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ جب عمر خلیفہ ہوئے تو انھوں نے خالد کو معزول کردیا لیکن ان پر سنگسار والی حد جاری کہ کی جیسا کہ پہلے دھمکی دی تھی۔

اگر چہ خالد بن ولید اور عمر بن خطاب  مغلوب الغضب اور سختی و شدت میں دونوں  برابر تھے ہر ایک بد مزاج تھا ہر ایک سنتِ نبی(ص) کے خلاف عمل کرتا تھا اور نبی(ص) کی حیات میں اورمرنے کے بعد بھی نبی(ص)


کی نافرمانی کرتا تھا، اسی طرح دونوں کو نبی(ص) کے وصی سے عداوت تھی ہر ایک ان کو ( خلافت سے ) دور رکھنے کے لئے کوشاں تھا اور نبی(ص) کی وفات کے بعد خالد نے علی(ع) کے خلاف ابوبکر و عمر کا ساتھ دیا۔( ملاحظہ فرمائیں احتجاج طبرسی) لیکن خدا نے ان سے نجات دی اور اس کا امر پورا ہونے والا ہے۔

خالد بن ولید کی شخصیت کی مختصر تحقیق کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہوگئی کہ اہل سنت والجماعت جب کا نام گنگنایا کرتے ہیں ان میں سے اکثر سنتِ نبوی(ص) سے دور ہیں اور یہ ان ہی کی اقتدا کرتے ہیں جنھوں نے سنت کی مخالفت کی اور اسے پسِ پشت ڈال دیا اور حرام و حلال کے سلسلہ میں نہ کتابِ خدا کی پروا کی اور نہ سنتِ رسول(ص) کا خیال رکھا۔


۱۰ :ابوہریرہ دوسی :

ابوہریرہ ان صحابہ میں سے ہیں جو بہت بعد میں مسلمان ہوئے تھے جیسا کہ ابن سعد نے اپنی طبقات میں ترتیب قائم کی ہے اور ابوہریرہ کو نویں یادسویں طبقہ میں رکھا ہے۔

یہ ہجرت کے ساتویں سال کے آخر میں رسول(ص) کی خدمت میں پہنچے تھے اسی لئے مؤرخین کہتے ہیں، ابوہریرہ تین سال سے زیادہ نبی(ص) کے ساتھ نہیں رہے۔ ( صحیح بخاری ج۴ ص۱۷۵۔) بعض مؤرخین کہتے ہیں ابوہریرہ کو صرف دو سال نبی(ص) کی خدمت میں رہنے کا موقع ملا کیونکہ نبی(ص) نے انھیں ابن حضرمی کے ساتھ بحرین بھیج دیا تھا اور رسول(ص)  کے انتقال کے وقت وہ بحرین ہی میں تھے۔

ابوہریرہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو اپنی شجاعت یا جہاد کے ذریعہ پہچانے جاتے ہیں اور نہ ہی زیرک و دور اندیش مفکرین سے ان کا تعلق ہے اور نہ ہی حافظ فقہاء میں شمار ہوتے ہیں ۔ وہ قرت اور لکھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ رسول(ص) کے پاس اپنا پیٹ بھرنے کے لئے آئے تھے جیسا کہ خود انہوں نے اس بات کی تصریح کی ہے اور نبی(ص)  نے بھی یہی سمجھا تھا چنانچہ انھیں اہل صفہ میں داخل کیا اور جب بھی نبی(ص) کے پاس صدقے میں کھانے والی چیزیں آتی تھیں تو آپ اہل صفہ کے پاس بھیجدیتے تھے اور  جیسا کہ ابوہریرہ خود بیان کرتے ہیں کہ انھیں بہت زیادہ بھوک لگتی تھی اس لئے وہ صحابہ کے راستہ میں کھڑے ہوجاتے تھے ، ان سے گفتگو کرتے ہوئے چلے جاتے تھے تاکہ وہ انھیں گھر لے جائیں اور کھانا کھلائیں۔

لیکن یہ شخص نبی(ص) سے احادیث نقل کرنے میں مشہور ہوگیا اور صرف انکی بیان کی ہوئی احادیث کی تعداد چھ ہزار تک پہونچ گئی ۔ میں محققین کی توجہ اس چیز کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں ، ایک تو ابوہریرہ رسول(ص) کے ساتھ بہت کم رہے پھر ایسی احادیث اور واقعات بیان کئے  جن کے وقوع کے وقت وہ ہرگز موجود نہیں تھے۔

بعض محققین نے خلفائے راشدین ، عشرہ مبشرہ ، امہات المؤمنین اور اہل بیت طاہرین(ع)  کی بیان کردہ احادیث کو جمع کیا ہے لیکن ان سب کی بیان کی ہوئی احادیث ابوہریرہ کی بیان


کی ہوئی احادیث کا عشرِ عشیر بھی نہیں ہیں ۔ ( باوجودیکہ ان میں حضرت علی(ع)  شامل ہیں جوکہ تیس(۳۰) سال تک رسول اکرم(ص)  کے ساتھ رہے ہیں۔)

یہیں سے ابوہریرہ پر انگلیاں اٹھنے لگیں اور انھیں حدیث گھڑنے والا، جھوٹا ، تدلیس کرنے والا کہا جانے لگا۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ پہلے راوی ہیں جو اسلام میں متہم ہوئے۔

لیکن اہل سنت والجماعت انھین " راویۃ الاسلام " کے لقب سے نوازتے ہیں ، بے پناہ انکا احترام کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ احتجاج کرتے ہیں  ۔ شاید ان میں سے بعض کا عقیدہ ہےکہ ابوہریرہ  علی(ع) سے بڑے عالم تھے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں خود ابوہریرہ کی بیان کردہ ایک حدیث بھی ہے، کہتے ہیں :

میں نے  رسول(ص) سے عرض کی میں آپ(ص) سے بہت سی حدیثیں سنتا ہوں لیکن  میں بھول جاتا ہوں ۔ رسول(ص) نے فرمایا: اپنی ردابچھاؤ، میں نے بچھادی، پھر چلو کی طرح آپ(ص) نے اسے مس کیا اور مجھ سے فرمایا : اسے سمیٹ لو میں نے سمیٹ لی پھر اس کے بعد میں حدیث نہیں بھولا۔ ( صحیح بخاری ج۱ ص۳۸ ۔ کتاب العلم ، باب حفظ العلم، ایضا ج۳ ص۲۔)

ابوہریرہ رسول(ص) سے بہت حدیثیں نقل کرتے  تھے یہاں تک کہ ایک روز عمر ابن خطاب  نے انھیں درہ سے مارا اور کہا بہت حدیثیں بیان کرنے لگے ہو اور رسول(ص) پر جھوٹ باندھتے ہو۔ واقعہ یوں ہے کہ ابو ہریرہ نے یہ روایت نقل کی کہ: خدا نے زمین و آسمان کو سات روز میں خلق کیا ہے ۔ جب عمر کو اس کی اطلاع ملی تو انھوں نے ابوہریرہ کو بلایا اورکہا : ذرا پھر وہ سات روز والی حدیث سناؤ، انہوں نے شروع کردی۔ بس پھر کیا تھا عمر کو درہ برسنے لگا اور کہا : خدا نے کہتا  ہے کہ میں نے چھ روز میں زمین و آسمان پیدا کئے ہیں اور تم نے کہتے ہو کہ سات روز میں پیدا کئے ہیں ۔ ابوہریرہ  نے کہا : حضور میں نے یہ حدیث کعب الاحبار سے سنی تھی۔ عمر نےکہا : جب تک تم حدیثِ نبوی(ص) اور کعب الاحبار کی حدیثوں میں تمیز نہیں کرسکتے اس وقت تک حدیث بیان نہ کرنا۔ ( ملاحظہ فرمائیں محمود ابوریہ المصر کی ابوہریرہ۔)


اسی طرح روایت ہے کہ علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا: آگاہ ہوجاؤ سب سے زیادہ ابوہریرہ نے رسول(ص) پر جھوٹ باندھا ہے ۔( شرحِ ابن ابی الحدید ج۲ ص۶۸۔)

ایسے ہی ام المؤمنین عائشہ نےمتعدد احادیث کے بارے میں ابوہریرہ کے  جھٹلایا جبکہ انکی نسبت رسول(ص) کے طرف دیتے تھے۔ایک مرتبہ عائشہ نے انکی بیان کردہ حدیث کی تردید کی اور کہا: تم نے رسول(ص) سے یہ حدیث کب سنی تھی؟ ابوہریرہ  نے کہا: آپ کو حدیث رسول(ص) سے کوئی مطلب نہیں تھا ، آپ تو اپنے سرمے ، آیئنہ اور خضاب کرنے میں مشغول رہتی تھیں،لیکن جب عائشہ کو تکذیب پر اصرار ہوا اور انہوں نے اس کو ہوادی تو مروان بن حکم نے اس میں مداخلت کی اور کہا اس حدیث کی صحت کو بیان کرو تب ابوہریرہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ(ص)  سے نہیں سنی بلکہ فضل بن عباس سے سنی تھی۔ ( صحیح بخاری ج۲ ص۲۳۲ باب الصائم یصبح جنباء و موطاء مالک ج۱ ص۲۷۲۔)

خصوصا اس روایت میں تو انھیں ابن قتیبہ نے بھی متہم کیا ہے اور کہا ہے: ابوہریرہ نے فضل ابن عباس کی موت کے بعد اس حدیث کو انکی طرف منسوب کیا تھا تاکہ لوگوں کو یہ باور کرادیں کہ انھوں نے مرحوم سے سنی ہوگی۔ ( سیر اعلام النبلاء ۔ ذھبی۔)

ابن قتیبہ اپنی کتاب " تاویل مختلف الحدیث " میں تحریر کرتے ہیں کہ : ابوہریرہ کہا کرتے تھے کہ رسول(ص) نے ایسے ایسے فرمایا: جبکہ وہ حدیث کسی اور سے سنی تھی۔

اسی طرح ذہبی نے اپنی کتاب " اعلام النبلاء " میں روایت کی ہے کہ : یزید ابن ابراہیم نے شعب بن حجاج سے سنا کہ وہ کتہا ہےکہ : ابوہریرہ حدیث میں تدلیس کرتے ہیں۔

اور ابنِ کثیر کی " البدایۃ والنہایۃ" میں منقول ہے کہ : یزیر ابن ہارون نے سنا کہ اس  سلسلہ میں شعبہ کہتے ہیں کہ : ابوہریرہ حدیث میں تدلیس کرتے تھے۔ یہ بھی روایت ہے کہ وہ رسول(ص) اور کعب الاحبار  کی حدیثوں میں تمیز نہیں کرپاتے تھے۔

ابو جعفر اسکافی کا کہنا ہے : ابوہریرہ ہمارے علما کے نزدیک مشکوک ہیں اور اس کی بیان کردہ احادیث مقبول نہیں ہے۔( شرح ابنِ ابی الحدید ج۴ ص۶۸۔)


اور ابو ہریرہ نے اپنی حیات ہی میں صحابہ کے درمیان یہ شہرت حاصل کرلی تھی کہ ، وہ جھوٹ بولتے ہیں، تدلیس کرتے ہیں اور اکثر گھڑی ہوئی احادیث بیان کرتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض صحابہ اس سلسلہ میں ان کا مذاق اڑاتے تھے اور جو چاہتا تھا ان سے احادیث گھڑ والیتا تھا۔

روایت ہےکہ قریش میں سے ایک شخص نے نیا جبہہ پہنا اور اس پر فخر کرتے ہوئے ابوہریرہ کے پاس سے گذرا اور ان سے کہا : اے ابوہریرہ تم نے رسول(ص) سے بے شمار احادیث سنی ہیں : کیا تم نے میرے اس  جبہ کے بارے میں بھی کوئی حدیث سنی ہےؕ

ابوہریرہ نے کہا میں نے ابوالقاسم (ص) کو فرماتے ہوئے سنا ہے؟!

تم سے پہلے ایک شخص تھا جو کہ اپنے لباس پر فخر کرتا تھا،خدا نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اسی حالت میں رہےگا۔ قسم خدا کی میں نہیں جانتا شاید وہ تمھارے خاندان یا جماعت سے تھا۔( البدایۃ والنہایۃ ج۸ ص۱۰۸)

اور ابوہریرہ کی روایات میں لوگ کیسے شک نہ کریں جب کہ ان میں تناقض پایا جاتا ہے۔ایک حدیث بیان کرتے ہیں پھر اس کی نقیض  بیان کرتے ہیں اور جب لوگ پہلی حدیث کے متعلق ان سے سوال و جواب کرتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لیتے ہیں یا حبشی زبان میں بڑبڑانے لگتے ہیں۔ ( صحیح بخاری ج۳۱ باباالاہانہ۔)

اور لوگ انھیںدروغ گوئی اور حدیث گھڑی والا کیسے نہ کہتے جب کہ انہوں نے خود کہا میں اپنے ترکش سے حدیث بیان کرتا ہوں اور اسے نبی(ص) کی طرف منسوب کردیتا ہوں۔

بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ ابوہریرہ  نے کہا: نبی(ص) نےفرمایا : بہترین صدقہ وہ ہے جو غنی دے اور دینے والا لینے والے سے بہتر ہے پہلے اپنے اہل و عیال کوشکم سیر کرو، عورت کہتی ہے یا مجھے شکم  سیر کردیا طلاق دے دو،  غلام کہتا ہے مجھے کھانا کھلاؤ کام لو اور بیٹا کہتا  ہے مجھے مرتے دم تک کھانا کھلاؤ ۔ لوگوں نے پوچھا : اے ابوہریرہ تم نے یہ حدیث رسول(ص) سے سنی ہے؟!ابوہریرہ نے کہا: نہیں یہ اپنی جیب سے بیان کی ہے۔ ( صحیح بخاری ج۶، ص۱۹۰ باب وجوب


 النفقیہ علی الاہل والعبال ۔)

ملاحظہ فرمائیے ابوہریرہ  حدیث کی ابتداء کس طرح کرتے ہیں : نبی(ص) نے فرمایا: اور جب لوگوں نے استفسار کیا  تو مجبورا اعتراف کیا وہ ابوہریرہ کی جیب سے ہے!

یہ جھوٹ اور داستانوں سے لبریز ابوہریرہ کو مبارک ہو۔ واضح رہے ابوہریرہ کو معاویہ اور  بنی امیہ کے زمانے میں فروغ ملا، وہ حدیثوں سے عزت و اموال جاہ عظمت کمارہے تھے، اسی لئے معاویہ نے انھیں مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا تھا اوران کے  لئے  عقیق کا قصر بنایا تھا اور اس شریف عورت سے انکی شادی کرائی تھی جس کے ابوہریرہ غلام تھے۔

ابوہریرہ معاویہ کا مقرب وزیر تھا اس نبا پر نہیں کہ ان کا کوئی فضل و شرف تھا وہ عالم تھے بلکہ معاویہ کو ان کے پاس ایسی حدیثیں ملی تھیں جنکی اسے ضرورت تھی اور انکی نشر و اشاعت معاویہ کے لئے مفید تھی جبکہ صحابہ علی(ع) پر لعنت کرنے کے سلسلہ میں عذر کرتے تھے اور اسے برافعل سمجھتے تھے تو اس وقت ابوہریرہ گھر میں بیٹھ کر علی(ع) پر سب و شتم  کرتا تھا اور شیعوں کے درمیان بھی اس سے نہیں چوکتا  تھا۔

ابن ابی الحدید نے روایت کی ہے کہ ، جب ابوہریرہ عام الجماعت میں معاویہ کے ساتھ عراق آیا تو مسجد میں گیا جب اس نے اپنے استقبال کرنے والوں کی کثرت دیکھی تو دو زانوں بیٹھ کر پھر اپنے سر پر مار کر کہا اے عراق والو! کیا تم یہ سمجھتے  ہو کہ میں رسول(ص) پر جھوٹ باندھتا ہوں اور خود کو آگ میں جلاتا ہوں ، قسم خدا کی میں نے رسول(ص) سے سنا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: ہر نبی کا کوئی حرم ہوتا ہے اور میرا حرم عبر سےشور کے درمیان مدینہ ہے۔ پس جس نے بھی اس میں کوئی حادثہ کیا اس پر خدا اور اس کے ملائکہ اور  تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ اس میں علی(ع) نے حادثہ کیاہے۔

جب معاویہ کو یہ خبر ملی تو اس نے ابوہریرہ کو  انعام و اکرام سے نوازا اور مدینہ کا گورنر مقرر کیا ۔ ( شرح ابن ابی الحدید ج۴ ص۶۷۔)دلیل کے طور پر ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ وہ معاویہ کی طرف سے مدینہ کا گورنر تھا اور اس


میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ آزاد محققین ہر اس شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے جس کو خدا و رسول(ص) کو دشمن اور ولی خدا و رسول(ص) کا عدو گورنر بنائے گا۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ابوہریرہ اس بلند مقام پر ایسے ہی فائز نہیں ہوا اور اسے اسلام کے دارالحکومت مدینہ کی گورنری ایسے ہی نہیں مل گئی تھی بلکہ اس  کے لئے معاویہ اور بنی امیہ  کے حکام کی خدمت کی تھی۔ پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جو حالات بدل دیتی ہے۔ جب ابوہریرہ مدینہ آیا تھا تو اس وقت اس کے پاس شرگاہوں کو چھپانے کے لئے فقط ایک اونی چادر تھی اور زندگی گذارنے کے لئے بھیک مانگتا تھا۔

جب ایسا شخص اچانک مدینہ منورہ کا گورنر بن جائے اور اسے ایک دم عقیق کے محل میں رہائش مل جائے اور اس کے پاس اموال و خدمت گار اور غلاموں کی بہتات ہوجائے اور کوئی اس سے بغیر اجازت بات نہ کرے۔

یہ سب کچھ ان کے کشکول کی برکت تھی، آپ کے لئے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔ آپ آج بھی وہی حالت دیکھتے ہیں، تاریخ اپنے کو دہراتی ہے، آج بھی ایسے گمنام اور جاہل لوگ ہیں جنہوں نے حاکموں کا تقرب حاصل کیا، کسی پارٹی سے منسلک ہوئے تو وہ بارعب حاکم و سردار بن گئے۔ ۔۔۔ دنیا ان کے اشارہ پر ناچتی ہے اور ٹھہرتی ہے و سیر و سیاحت کرتے ہیں ، انکے قبضہ بے حساب مال رہتا ہے، ایک سے ایک کاران  کے استعمال میں رہتی ہے۔ ایسی چیزیں کھاتے ہیں جو بازاروں میں نہیں ملتیں ۔ ان تمام باتوں کے باوجود حسنِ کلام  سے عاری ہوتے ہیں، بلاغت سے تو ان کا کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ وہ پیٹ  کے علاوہ زندگی کا مفہوم ہی نہیں سمجھتے ، ابوہریرہ کی طرح  انکے پاس بھی جیب ہے، اگرچہ دونوں میں فرق ہے لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی ہے یعنی حاکم کو خوش رکھنا اور اس کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیئے  اس کی ترویج کرنا اور  اس کے دشمنوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا۔

ابوہریرہ عثمان بن عفان ہی کے زمانہ سے امویوں کو دوست رکھتے تھے اور وہ انھیں محبوب


سمجھتے تھے پس عثمان کےبارے میں انکی رائے مہاجرین و اںصار میں سے تمام صحابہ کے خلاف تھی۔ وہ ان  صحابہ کو کافر کہتے تھے جو قتلِ عثمان میں شریک تھے اور انکی عداوت پر متفق تھے۔

بےشک انہوں نے علی بن ابی طالب(ع)  پر قتلِ عثمان  کی تہمت لگائی تھی اور مسجد کوفہ میں جو حدیث ابوہریرہ نے بیان کی تھی کہ علی(ع)  نے مدینہ میں حادثہ کیا  ہے اور ان پر نبی(ص) ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے جیسا کہ حدیث سے آشکار ہے۔

اس لئے ابن سعد اپنی طبقات میں تحریر کرتے ہیں کہ جب سنہ۹ھ میں ابوہریرہ کا انتقال ہوا تو عثمان کے بیٹے ان کا جنازہ لے کر بقیع تک پہنچے کیونکہ عثمان کے متعلق ابوہریرہ کے نظریہ کا بھرم رکھنا تھا۔ ( طبقات ابنِ سعد ج۲ ص۶۷۔)

بے شک خدا کی مخلوق کے مختلف حالات ہوتے ہیں ۔ قریش کے سردار عثمان بن عفان مسلمانوں کے خلیفہ  جب کو اہل سنت والجماعت ذوالنورین کہتے ہیں ، جن سے ملائکہ کو شرم آتی ہے وہ بھیڑ  کی طرح ذبح کئے جاتے ہیں ۔ قتل سے موت واقع ہوجاتی ہے، نہ غسل دیا جاتا ہے نہ کفن یہاں تک کہ تین روز تک دفن بھی نہیں ہونے دیا جاتا  اورپھر یہودیوں کے قبرستان میں دفن کئے جاتے ہیں۔

اور اوہریرہ عزت کی موت مرتے ہیں جب کہ وہ گمنام تھے کوئی ان کے قوم و قبیلہ سےبھی واقف نہیں تھا اور قریش سے انکی کوئی قربت  نہ تھی۔ ان کا جنازہ عہد معاویہ کے حکام خلیفہ سابق کی اولاد اٹھاتی ہے اور بقیعِ رسول(ص) میں دفن کرتے ہیں۔

ابھی آپ ہمارے ساتھ ابوہریرہ کا جائزہ لیں تاکہ سنتِ نبوی(ص) کےسلسلہ میں ان کے موقف سے آشنا ہوجائیں۔

بخاری نے صحجیح میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا : میں نے رسول(ص) کی دو حدیثیں یاد کی تھیں ایک تو میں نے نشر کردی لیکن اگر دوسری کو بیان کرتا تو میرے حلقوم پر تلوار چل جاتی۔ ( صحیح بخاری، ج۱ ص۳۸، باب حفظ العلم۔)


گذشتہ صفحات میں ہم یہ کہہ چکے ہیں کہ ابوبکر اور عمر نے لکھی ہوئی سنتِ رسول(ص) کو ںذر آتش کردیا تھا اور محدثین کو نقل کرنے سے منع کردیا تھا۔ ابوہریرہ ایسی چیز  کو بیان کررہے ہیں جو مخفی تھی اور اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ یہ وہی بیان کررہے ہیں جس کی خلفاء اجازت دیتے ہیں۔اس بنیاد پر  یہ کہا جاسکتا ہے کہ ابوہریرہ کے پاس دور کیسے تھے ایک انھیں بیان کرنے پر ابھارتا تھا چنانچہ ایک انھوں نے بیان کردی یعنی  ایک حدیث ہم سے بیان کردی اور جس میں حاکموں کی مصلحت تھی اسے مخفی رکھا ۔ لیکن جو دوسری حدیث ابوہریرہ نے مخفی رکھی اور اپنا گلاکٹ جانے کے خوف سے بیان نہیں کی وہ نبی(ص) کی صحیح حدیث تھی۔اگر ابوہریرہ ثقہ ہوتے  تو وہ نبی(ص) کی حقیقی حدیثوں کو نہ چھپاتے اور اوہام وجھوٹ کو ظالموں کی تائید میں بیان نہ کرتے جبکہ وہ جانتے تھے کہ بینات کو چھپانے والے پر خدا لعنت کرتا ہے۔بخاری نے خود ابوہریرہ ہی کا قول نقل کیا ہے : کہتے ہیں ،لوگوں کا کہنا ہے کہ ابوہریرہ  بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتاہے ۔ اگر قرآن میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں ایک بھی حدیث بیان نہ کرتا۔ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی۔

إِنَّ الَّذينَ يَكْتُمُونَ ما أَنْزَلْنا مِنَ الْبَيِّناتِ وَ الْهُدى‏ مِنْ بَعْدِ ما بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتابِ أُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللاَّعِنُون

" بے شک جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات " ہمارے بیان کردینے کے بعد بھی" کو چھپاتے ہیں ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔"

اور ہمارے مہاجرین بھائی تو بازاروں میں خرید فروخت میں مشغول رہتے تھے اور انصار برادران اپنے مالی امور میں لگے رہتے تھے او ابوہریرہ نے اپنا پیٹ بھرنے کی وجہ سے نبی(ص) کے ساتھ رہنا اپنے لئے لازم کر لیا تھا۔چنانچہ وہ اس وقت حاضر رہتے تھے جب وہ ( مہاجرین و انصار) حاضر نہیں ہوتے تھے اور وہ اس چیز کو حفظ کرتے تھے جس کو دوسرے حفظ نہیں کرتےتھے ۔ ( صحیح بخاری، ج۱ ،ص۳۷، باب حفظ  العلم)پس ابوہریرہ کیسے کہتے ہیں کہ اگر قرآن میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں ایک بھی حدیث بیان نہ کرتا


جب کہ خود ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے رسول(ص) سے دو چیزیں سنی تھیں ان میں سے ایک بیان کردی ہے اور دوسری کو مخفی رکھے ہوئے ہوں ، اگر اسے بیان کردوں تو  میرا  سرقلم کردیا جائے ۔ کیا اس سے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ابوہریرہ نے حق چھپایا  ہے جب کہ کتابِ خدا میں حق چھپانے والے کی مذمت میں دو آیتین موجود ہیں۔؟!

اور جب نبی(ص) نے اپنےاصحاب کے لئے یہ فرمایا تھا کہ: تم اپنے اہل کی طرف پلٹ جاؤ اور انھیں سکھاؤ ، تعلیم دو، ( صحیح بخاری ج۱ ص۳۰۔) نیز فرمایا : اکثر پہچانے والے سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتے ہیں۔

بخاری نے ہدایت کی ہے کہ نبی(ص) نے عبدالقیس کے وفد کو ایمان اور علم کی حفاظت پر ابھارا اور ( کہا ) اپنے بعد والوں کو اس کی خبر دینا۔( صحیح بخاری، ج۳ص۳۰۔)

کیا ہمیں اور دیگر محققین کو یہ سوال کرنے کا  حق ہے کہ ایک صحابی کو حدیث نبی(ص) بیان کرنے کے سلسلہ میں قتل کیوں کیاجاتا ہے اور اس کے گلے پر تلوار کیوں رکھی جاتی ہے؟!

ضروری ہے کہ اس حدیث میں کوئی ایسا راز پوشیدہ ہے جس کے فاش ہونے کو صحابہ دوست نہیں رکھتے ہوں گے اور ہم اپنی کتاب" فاسئلوا اہل الذکر" میں اس راز کی طرف اشارہ کرچکے ہیں اور وہ راز حضرت علی(ع) کی  خلافت کے لئے نص ہے۔

اور پھر ابوہریرہ پر ملامت کیوں نہیں کی جاسکتی جب کہ انکی قدر قیمت معلوم ہوچکی ہے اور وہ خود اپنے متعلق کہہ چکے ہیں کہ جو حدیث نبی(ص) کو چھپائے گا اس  پر خدا  اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔

لیکن ملامت کے مستحق اہل سنت والجماعت ہیں جو ابوہریرہ کو راوی سنت کہتے ہیں جب کہ ابوہریرہ کو اس بات کا اعتراف ہے کہ انھوں نے حدیث نبی(ص) کو چھپایا، وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ انہوں نے حدیث میں تدلیس کی ہے اور جھوٹی حدیث بیان کی ۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ نبی(ص) اور دیگر لوگوں کی حدیثوں میں تمیز نہیں کرپاتے۔

یہ سب حدیثیں اور اعترافات صحیح ہیں جو کہ صحیح بخاری اور دیگر صحاحِ اہلِ سنت میں منقول


ہیں۔

اہلِ سنت اس شخص سے کیسے مطمئن ہوگئے جس کی عدالت کو حضرت علی ابن ابی طالب(ع) نے مخدوش قرار دیا اور اسے جھوٹا بتایا اور فرمایا وہ( ابوہریرہ) رسول(ص) پر جھوٹ باندھتا ہے اس طرح عمر بن خطاب نے بھی اس پر تہمت لگائی اور مارا اور شہر بدر کرنے کی دھمکی دی ، اسے عائشہ نے بھی مطعون کیا اور متعدد بار جھٹلایا : متعدد بار صحابہ نے اسکی تکذیب کی اور اسکی متناقض حدیثوں کو رد کیا ۔ چنانچہ ایک مرتبہ ابوہریرہ نے اس کا اعتراف کیا اور دوسری مرتبہ  حبشی زبان میں بڑبڑانے لگے، بہت سے علمائے اسلام نے بھی اس کو مطعون کیا ہے اور اس پر جھوٹ اور تدلیس اور معاویہ  کے دسترخوان اور چاندی سونے کا حریص بتایا ہے۔

ان تمام چیزوں کے باوجود  ابوہریرہ  کیسے راوی اسلام بن گئے اور مسلمان ان سے دینی احکام کیسے لیتے ہیں۔؟!

بعض علماء محققین نے تاکید کی ہے کہ ابوہریرہ ہی نے اسلام میں یہودیوں کے عقائد داخل کئے ہیں اور اسرائیلیات کو اسلام میں شامل کردیا ہے جن سے حدیث کی کتابیں بھری پڑی  ہیں ، کعب الاحبار یہودی نے ابوہریرہ کے ذریعہ ایسا کیا ہے ،اسی لئے ایسی روایات ( مسلمانوں کی) کتابوں میں آگئی ہیں جن سے خد اکا مجسم ہونا اور حلول کرنا معلوم ہوتا ہے اور انبیاء کے بارے میں جتنے بھی منکر اقوال ہیں وہ سب ابوہریرہ کے بیان کئے ہوئے ہیں۔

کیا اہل سنت والجماعت اپنے راستہ ہٹ سکتے ہیں تاکہ وہ اس شخص سے واقف ہوسکیں جن سے انہوں نے سنت لی ہے اور جب وہ ہم سے سوال کریں گے تو ہم کہیں گے ، باب مدینۃ العلم اور ان کے ذریت سے ہونے والے ائمہ (ع) کے دروازہ پر آؤ ،وہی سنت کی حفاظت کرنے والے ، امت کے لئے باعثِ امان ، سفینۃ النجات ، ائمہ ہدیٰ، مصابیح الدجیٰ ، عروۃ الوثقیٰ اور حبل اللہ ہیں۔


۱۱ : عبداللہ بن عمر :

آپ کا تعلق ان مشہور صحابہ سے ہے جن کا ان حوادث میں بڑا کردار رہا ہے جو  زمانہ معاویہ اور عہد بنی امیہ مین رونما ہوئے تھے اور اہل سنت والجماعت میں ان کے محبوب ہونے کے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ عمر بن خطاب ان کے باپ ہیں ، اس لئے اہلِ سنت انھیں بڑا فقیہ اور حفاظ احادیث میں سے ایک سمجھتے ہیں ۔ امام مالک نے تو اپنے اکثر احکام میں انہی پر اعتماد کیا ہے چنانچہ اپنی کتاب" موطا" میں انہی کی احادیث بھری ہیں۔

اہل سنت والجماعت کی کتابوں کی ورق گردانی کیجئے تو معلوم ہوگا کہ وہ عبداللہ بن عمر کی تعریف سے بھری پڑی ہیں۔

اس کے علاوہ جب ہمایک محقق کی نگاہ سے ان کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ صدق و عدالت سے ، سنتِ نبوی(ص) سے ، فقہ سے اور شرعی علوم سے بہت دور تھے۔

وہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب (ع)  کے شدید ترین دشمن تھے اس سلسلہ میں وہ غیبت کی حد تک پہونچ گئے تھے اور لوگوں کو آپ(ع) کی دشمنی کی طرف کھینچ رہے تھے۔

گذشتہ بحثوں میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ انہوں نے جھوٹی حدیثوں کو رواج دیا جن کا لب لباب یہ ہے کہ وہ عہد نبی(ص) میں اور آپ(ص) کے سامنے ابوبکر کو سب سے افضل قرار دیتے تھے اوران کے بعد پھر عمر کی نوبت تھی پھر عثمان کا نمبر تھا ان کے بعد سب لوگ برابر تھے ۔ ان کی یہ بات نبی(ص) سنتے تھےلیکن اس کی تردید نہین کرتے تھے۔ ( بخاری و مسلم وغیرہ)

جیسا کہ آپ جانتے ہین یہ سفید جھوٹ  ہے اس سے عقلاء کو ( بے ساختہ) ہنسی آجاتی ہے ہم حیاتِ نبی(ص) میں عبداللہ ابن عمر کو دیکھتے ہیں تو ایک نابالغ نوجوان ہیں اہل حل و عقد میں ان کا شمار نہیں ہے اور نہ ہی ان کی رائے سننے کے قابل ہے اور جب رسول اللہ(ص) نے وفات پائی تو اس وقت ان کی عمر زیادہ سے زیادہ ۱۹ سال تھی۔


پھر وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم عہد نبی(ص) میں (فلاں) کو فضیلت دیتے تھے؟ مگر یہ کہ یہ گفتگو ابوبکر و عمر اور عثمان کی اولاد کے درمیان ہو، اس کے باوجود یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ نبی(ص)  یہ سنتے تھے اور اس سے منع نہیں کرتے تھے، اس کی واضح دلالت اس بات پر ہے کہ یہ واقعہ جھوٹا ہے اور ان کی نیت  غلط ہے۔

اس پر ایک بات کا میں اضافہ کرتا ہوں ۔ نبی(ص) نے عبداللہ ابن عمر  کو غزوہ خندق کے سوا کسی جگہ بھی اپنے ہمراہ جانے کی اجازت نہیں دی جب کہ خندق کے بعد بھی غزوات ہوئے ہیں اور وہ اس وقت پندرہ(۱۵) سال کے ہوچکے تھے۔( صحیح بخاری کتاب الشہادات باب بلوغ الصبیان ، ج۳ ص۱۵۸)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ غزوہ خیبر میں شریک تھے چونکہ غزوہ خیبر ہجرت کے ساتھویں  سال واقع ہوا تھا اور انہوں نے اپنی دونوں آنکھوں سے حضرت ابوبکر کی ہزیمت دیکھی تھی اور اسی طرح  اپنے باپ عمر کی شکست دیکھی تھی اور اس جنگ میں رسول(ص)  کا قول بھی یقینا سنا ہوگا کہ :

کل میں اس شخص کو علم دوں گا جو  خدا و رسول(ص) کو دوست رکھتا ہوگا اور خدا و رسول(ص) اس کو دوست رکھتے ہوں گے ، بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے والا ہے ، فرار نہیں ہے، خدا نے ایمان کے لئے اس کے قلب کا امتحان لے لیا ہے۔

اور جب صبح ہوئی تو آپ نے علم قاطع الذَات، مفرَق الجماعات، مفرَج الکبریات، صاحب کرامات، اسداللہ الغالب علی بن ابی طالب(ع) کو علم دیا۔حدیث رایت حضرت علی(ع) کی فضیلت بیان کررہی ہے اور تمام صحابہ سے افضل قرار دے رہی ہے اور خدا  و نبی(ص) کے نزدیک جو آپ کی عظمت تھی اسے بیان کررہی ہے اور انھیں خدا  و رسول(ص) کی محبت میں کامیاب بتارہی ہے لیکن عبداللہ بن عمر نے بغض کی بناء پر علی(ع) کو عام لوگوں میں شامل کردیا ہے۔

گذشتہ بحث میں بھی ہم یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ اہل سنت والجماعت  اپنے سید و سردار عبداللہ بن عمر کی بیان کی ہوئی اس حدیث پر عمل کرتے تھے وہ حضرت علی ابن ابی طالب(ع)  ، خلفائے راشدین کی فہرست میں شمار نہیں کرتے تھے اور نہ ہی انکی خلافت کے معترف تھے، ( ہاں) احمد بن حنبل


 کے زمانہ میں آپ(ع) کو خلیفہ تسلیم کیا گیا۔ جیسا کہ ہم ثابت کرچکے ہیں کہ جب وہ ایک زمانہ میں جس میں حدیث اور محدثین کی کثرت ہوگئی تھی اور ان کی طرف  انگشتِ تہمت اٹھنے لگی تھی اور وہ اہل بیت نبوی(ص)  کے بغض و حسد کی وجہ سے خاموش تھے اور اس بات کو سارے مسلمان جانتے ہیں کہ علی(ع) سے بغض رکھنا نفاق کی سب سے بڑی شناخت ہے۔

اور جب وہ حضرت علی(ع) کو خلیفہ تسلیم کرنے پر اور انھیں خلفائے راشدین میں شامل کرنے پر  مجبور ہوگئے تو انھیں اہلِ بیت(ع) سے بھی اظہار محبَت کرنا پڑا۔

کیا کوئی سوال کرنے والا ابن عمر سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ نبی(ص) کی وفات کے بعد تمام مسلمانوں نے یا چند مسلمانوں  نے اس شخص کے بارے میں کیوں اختلاف کیا جو کہ خلافت کا مستحق تھا یا اس کے لئے اولیٰ تھا، انہوں نے علی(ع) اور ابوبکر کے بارے میں اختلاف کیا لیکن اپنے والد عمر اور عثمان کے بارے میں اختلاف نہ کیا کیونکہ انکی حکومت کے زمانہ میں ان کا بھاؤ تھا۔

اور کیا کوئی ابنِ عمر سے یہ سوال کرسکتا ہے کہ جب آپ کورسول(ص) نے آپ کی رائے پر قائم رکھا ہے اور آپ ابوبکر کے برابر کسی کو نہ سمجھتے تھے اور ابوبکر کے بعد عمر کو اور پھر عثمان کو سب سے اٖفضل سمجھتے تھے تو رسول(ص) نے اپنی وفات سے دور روز قبل ایک ایسے نوجوان کو کہ جسکی میں بھی نہیں بھیگی تھیں اور  سن کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا ان سب کا  امیر و ولی کیوں مقرر کیا ، انھیں انکی قیادت میں جانے کا حکم کیوں دیا کیا آپ ( عبداللہ بن عمر) بھی اپنے والد کی طرح یہ کہیں گے کہ رسول(ص) نے ہذیان کہا ہے؟!

اور کیا ابن عمر سے کئی یہ پوچھ سکتا ہے کہ مہاجرین و اںصار نے ابوبکر کی بیعت سے اگلے  روز فاطمہ زہرا(س) سے یہ کیوں  کہا تھا کہ : قسم خدا کی اگر آپ(س) کے شوہر ہمارے پاس ابوبکر سے پہلے آگئے ہوتے تو ہم ان علی(ع) پر کسی کو  فوقیت نہ دیتے ، یہ صحابہ کا واضح اعتراف ہےکہ وہ کسی کو بھی علی(ع) سے افضل نہیں سمجھتے تھے ، اگر ابوبکر کی بیعت میں جو کہ بے سوچے سمجھے ہوگئی تھی جلدی نہ کی گئی ہوتی تو عبداللہ بن عمر ایسے مغرور کے نظر یہ کی کیا قیمت ہوسکتی تھی جو کہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اپنی زوجہ کو طلاق دینے


کے بارے اصحاب کبار کی کیا رائے ہے۔؟!

اور کیا کوئی پوچھنے والا عبداللہ بن عمر سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ بزرگ صحابہ نے عمر کے قتل کے بعد علی(ع) کو کیوں خلافت کے لئے منتخب کیا تھا اور عثمان پر کیوں فوقیت دی تھی، اگر علی(ع) ابنِ عوف کی سیرت سیرتِ شیخین والی شرط کو نہ ٹھکراتے (تو علی (ع) افضل ہوجاتے یا نہیں)؟! ( تاریخ طبری ج۵، ص۴۰، تاریخ الخلفاء سیوطی، ص۱۰۴، تاریخ ابنِ قتیبہ اور اسی طرح مسند احمد ابنِ حنبل ج۱ ص۱۲۱)

لیکن عبداللہ ابن عمر اپنے باپ کے نقش قدم پر چلے۔ انہوں نے ابوبکر ، عمر اور عثمان کی خلافت کے زمانہ میں عمر گذاری تھی، وہ دیکھتے تھے کہ علی(ع) کو دور کردیا گیا ہے، جماعت میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے اور نہ ہی حکومت میں کوئی منصب ان کے لئے ہے اور ان کے ابنِ عم کے انتقال کے بعد لوگوں نے ان سے اور ان کی زوجہ سیدہ رخ موڑ لیا ہے اوران کے پاس کوئی ایسی چیز  نہیں ہے جس کے لالچ میں لوگ ان کے پاس جائیں۔

اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے باپ سے سب سے زیادہ قریب تھے وہ انکی بات سنتے تھے، ان کے دوستوں اور دشمنوں کو پہچانتے تھے چنانچہ وہ علی(ع) سے خصوصا اور اہل بیت(ع) سے عموما بغض اور عداوت کی فضا میں جوان ہوئے ، اسی لئے وہ دن ان کے لئے بہت ہی دشوار اور غم انگیز تھا جس دن انہوں نے دیکھا کہ قتل عثمان کے بعد مہاجرین و انصار نے علی(ع) کی بیعت کرلی ہے۔ چنانچہ وہ اس کو برداشت نہ کرسکے اور اپنی چھپی ہوئی دشمنی کا اظہار کردیا اور امام المتقین ولیَ المؤمنین کی بیعت کرنے سے انکار کردیا، دشمنی کی حد ہوگئی ، عمرہ کے بہانے مدینہ چھوڑ کر مکہ پہنچ گئے۔

اس کے بعد ہم عبداللہ  بن عمر ک ودیکھتے ہیںہ وہ اپن پوری طاقت کےساتھ لوگوں کو حق کی نصرت سے باز رکھنے اور باغی گروہ" کہ جس سے خدا نے جنگ کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ حکمِ خدا نافذ ہوجائے"۔ کی مدد کرنے پر ابھار رہے ہیں ۔ پس عبداللہ بن عمر اپنے زمانہ کے مفترض الطاعت امام کی مدد نہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ اور جب علی (ع) قتل کردیئے گئے اور معاویہ بظاہر امام حسن(ع) پر غالب آگیا اور آپ(ع) سے


خلافت چھین لی تو معاویہ  نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: میں نے تم سے اس لئے جنگ نہیں کی کہ تم نماز پڑھو! یا روزہ رکھو اورحج  کرو، میں نے تو تم سے اس لئے جنگ کی تھی تاکہ تم پر میری حکومت قائم ہوجائے۔

اس وقت ہم عبداللہ ابن عمر کو بیعت معاویہ کے لئے  دوڑتے ہوئے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں لوگوں نے متفرق ہونے کے بعد ان پر اجماع کر لیا ہے!

میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ انہوں نے ہی اس سال کا نام عام الجماعہ رکھا تھا ۔ کیوں کہ وہ خود اور بنی امیہ میں سے ان کے پیروکار اسی وقت سے اہل سنت والجماعت کہلوانے لگے تھے اور روزِ قیامت تک ایسے ہی باقی رہیں گے۔

کیا کوئی ابنِ عمر اور اہل سنت والجماعت میں سے ان کے ہم خیال سے یہ سوال کرسکتا ہے کہ تاریخ میں بھی خلیفہ پر اس طرح اجماع ہوا ہے جس طرح امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب(ع) پر ہوا تھا؟!

ابو بکر کی خلافت تو ایک اتفاقی امر تھا جس کی شر سے خدا ہی نے محفوظ رکھا اور اکثر صحابہ نے اس سے روگردانی کی تھی۔   

اور عمر کی خلافت بغیر مشورہ کےہوئی تھی بلکہ وہ ابوبکر کی رائے تھی صحابہ کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا نہ عملی لحاظ سے اور نہ قولی اعتبار سے۔

اور عثمان کی خلافت ان تین افراد کی رائے کا نتیجہہے جنہیں عمر نے منتخب کیا تھا بلکہ عمر نے اپنے استبداد سے فقط عبدالرحمن بن عوف کو مالک بنادیا تھا۔

لیکن علی(ع) کےہاتھوں پر مہاجرین و اںصار نے بغیر کسی زبردستی کے بیعت کی تھی اور آپ کی بیعت کے لئے آفاق میں خط لکھے گئے تو سوائے معاویہ کے  سب نے بیعت کرلی تھی۔ ( فتح الباری ابن حجر ج۷، ص۵۸۶)

اور مفروض یہہے کہ ابن عمر اور اہل سنت والجماعت  معاویہ بن ابی سفیان سے جنگ کرتے جس نے طاعت کو ٹھکرادیا اور خود خلافت کا خواہاںہوا جیسا کہ اہلِ سنت نے اپنی صحاح میں


 روایات نقل کی ہیں کہ رسول(ص) نے فرمایا: جب دو خلفا کی ایک ہی وقت میں بیعت کی جائے تو ان میں سے ایک کو قتل کردو۔ ( صحیح مسلم ج۶ ص۲۳، مستدرک حاکم ج۲ ص۱۲۶، سنن بیہقی ج۱ ص۱۴۴۔)

رسول(ص) نے فرمایا : جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں نقل ہوا ہے : جو شخص کسی امام کی بیعت کرتا ہے اگر وہ استطاعت رکھتا ہے اپنےہاتھ کی کمائی اور ثمرہ قلب اسے دینا چایئے اور  اگر کوئی دوسرا خلیفہ سے جنگ کرے تو اس کی گردن مارنا چاہیئے۔

لیکن عبداللہ بن عمر نے آیات و حدیث نبی(ص) کے اس حکم کے بر خلاف ، کہ معاویہ سے جنگ کرو اور اسے قتل کردو، کیوں کہ اس نے مسلمانوں کے خلیفہ سے جنگ کی، فتنہ کی آگ بھڑکائی ہے، علی(ع) کی بیعت سےروگردانی کی ہے، جب کہ علی(ع) کی بیعت پر تمام مسلمان متفق تھے اور عبداللہ بن عمر طاعت سے روگردان ،امام زمانہ سے جنگ کرنے والے اورنیکوکاروں کو قتل کرنے والے معاویہ کی بیعت کی تھی جو کہ ایسے فتنہ کا سبب بنی جس  کے آثار آج تک باقی ہیں۔

میرا عقیدہ تو یہہے کہ عبداللہ بن عمر ہر اس گنا ہ و جرائم اور ہلاکت میں شریک ہیں جس کا معاویہ مرتکب ہوا ہے کیوں کہ عبداللہ بن عمر نے معاویہ کی حکومت مضبوط کی اور اس کی خلافت کو مستحکم کرنے میں مدد کی جو کہخدا ورسول(ص) نے طلقاابن طلقا اور لعین وابنِ لعین پر حرام قرار دی تھی۔

اور عبداللہ ابن عمر  اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ یزید (لع) بن معاویہ کی بیعت بھی دوڑ کر کرلی، کون یزید شراب خور، فاجر ، کافر ، فاسق، طلیق ابن طلیق ، لعین ابن لعین۔

جبکہ عمر ابن خطاب کا کہنا ہے، جیسا کہ ابنِسعد نے اپنی طبقات میں لکھا ہے کہ، خلافت طلیق اور ابن طلیق اور فتح مکہ کے روز ہونے والے مسلمان کے لئے زیب نہیں دیتی۔( طبقات ابنِ سعد ج۳ ص۲۴۸۔)

پس عبداللہ اس سلسلہ میں اپنے باپ کی مخالفت کس منہ سے کرتےہیں اور پھر جب امر خلافت میں عبداللہ بن عمر کتابِ خدا اور سنت رسول(ص) کی مخالفت کرتےہیں تو یہ کوئی تعجب کی جا نہیں


کہ وہ اپنے باپ کی مخالفت کریں۔

اور کیا ہم عبداللہ بن عمر سے یہ پوچھ سکتےہیں کہ: یزید (لع) بن معاویہ کی بیعت پر کون سا اجماع ہوا تھا؟ اس کے برخلاف امت کے سرآوردہ اور مہاجرین و انصار کے بقیہ السلف کہ جن میں سے جوانان جنت کے سردار حسین بن علی(ع) ، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عباس اوران کے پیروکاروں نے یزید(لع) کی بیعت سے انکار کردیا تھا۔

بلکہ مشہور یہہے کہ شروع میں خود عبداللہ بن عمر بھی یزید(لع) کی بیعت کے مخالف تھے لیکن معاویہ جانتا تھا کہ انھیں کس طرح  اپنی طرف کھینچا جاسکتا ہے چنانچہ اس نے ایک لاکھ درہم بھیجدیئے اور انھوں نے قبول کرلئے اور جب معاویہ نےاپنے بیٹے یزید (لع)  کی بیعت کا ذکر کیا تو ابن عمر  نے کہا:کیا مجھ سے یہی چاہتےہو؟ اس صورت میں تو میرا دین بہت ہی کم قیمت ہر بک جائے گا۔

جی ہاں ! عبداللہ بن عمر نے حقیر قیمت پر اپنا ایمان بیچ دیا جیسا کہ انہوں نے خود کہا ہے۔وہ امام المتقین کی بیعت سے بھاگے اور باغیوں کے سربراہ معاویہ اور فاسقین کے سردار یزید(لع)  کی بیعت کرلی اور معاویہ ایسے ظالم کے گناہوں میں شریک ہوئے اسی طرح یزید(لع) کے جرائم میں خصوصا حرمتِ رسول(ص) کی ہتک اور جوانان جنت کے سردار اور عترت نبی(ص) اور صالحین کے ساتھ جو کربلا اور  واقعہ حرہ میںہوا، اس میں وہ برابر کے شریک ہیں۔

عبداللہ بن عمر نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کی کہ یزید(لع) کی بیعت کرلی بلکہ انہوں نے لوگوں کو بھی یزید(لع) کی بیعت پر مجبور کیا اور زبردستی بیعت کرائی اور جو بھی خود  کو یزید(لع) کے خلاف خروج کرنے پر تیار کرتا اسے جناب خوف دلاتے اور ڈراتے تھے۔اور بخاری نے اپنی صحیح میں اور دیگر محدثین نے تحریر کیا ہے کہ: عبداللہ ابن عمر نےاپنے بیٹوں اور  اصحاب و موالی کو جمع کیا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب اہل مدینہ نے یزید(لع) ابن معاویہ کی بیعت توڑ دی تھی اور کہا : ہم نے خدا و رسول(ص) کی بیعت پر اس شخص (یزید) کی بیعت کی ہے۔( کیا خدا و رسول(ص) نے فاسقوں  اور مجرموں کی بیعت کا حکم دیا ہے؟ یا  اس نے اپنے اولیاء و صالحین


کی بیعت کے لئے فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ہےؕ "إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ "(مائدہ /۵۵)

او ر میں نے رسول(ص) سےسنا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: جوشخص کسی کے ساتھ بدعہدی کرے گا اس کے لئے قیامت کے دن ایک پرچم بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا : اس نے فلاں کے ساتھ  بدعہدی کی ہے اور خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے بعد سب سے بڑی بدعہدی یہ ہے کہ انسان خدا اور رسول(ص) کی بیعت پر کسی شخص بیعت کرے اور پھر توڑدے۔ ( اے کاش یہی بات عبداللہ بن عمر طلحہ اور زبیر سے بھی کہدیتے کہ جنہوں نے علی(ع)  کی بیعت توڑ دی تھی اور ان سے جنگ کی تھی، اے کاش اہل سنت والجماعت تقسیم رجال میں اس حدیث پر عمل کرتے اور جب  بیعت توڑ دینا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے تو طلحۃ و زبیر کے بارے میں کیا خیال ہے جنہون نے نہ صرف بیعت توڑ دی تھی، بلکہ ہتک عزت، بیکوکاروں کا قتل ، اموال کی غارت گری اور عہد شکنی کا بھی ارتکاب کیا تھا۔)

تم میں سے کوئی ہرگز یزید(لع) کی بیعت نہ توڑے اور کوئی اس امر میں تردد کا شکار نہ ہو ورنہ میرے اور تمہارے درمیان تلوار ہوگی۔ ( صحیح بخاری ج۱ ص۱۶۶، مسند احمد ج۲ ص۹۶، سنن بیہقی ج۸ ص۱۵۹)

یقینا عبداللہ بن عمر کی دوستی  سے یزید کی حکومت اور تسلط مضبوط ہوا اور ابن عمر نے لوگوں کو یزید(لع) کی بیعت پر اکسایا ۔ یزید(لع) نے ایک لشکر تیار کیا اور مسلم ابن عقبہ جیسے فاسق ترین انسان کو اس کا کمانڈر مقرر کیا اور مدینہ رسول(ص) پر حملے کا حکم دے دیا اور کہا جو تم چاہو مدینہ میں کرنا چنانچہ ابنِ عقبہ نے ہزاروں صحابہ کو تہ تیغ کیا، انکی عورتوں کو ساتھ بد سلوکی کی اور اموال لوٹ لئے، سات سو حافظ قرآن کو قتل کیا جیسا کہ بلاذری نے نقل کیا ہے اور مسلمان عورتوں سے زنا کیا ، نتیجہ میں ہزار سے زیادہ بچے پیدا ہوئے اور باقی بچ جانے والوں سے " اس بات پر بیعت لی کہ وہ اپنے سردار یزید(لع) کے غلام رہیں گے۔


کیا ان تمام چیزوں  میں عبداللہ ابن عمر یزید(لع) کا شریک کار نہیں ہے، کیا انہوں نے اس کی حکومت کو مضبوط نہیں کیا ہے؟ اس سے نتیجہ نکالنے کا کام قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

عبداللہ بن عمر نے اسی پر اکتفا نہ کی اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور مروان بن حکم ، چھپکلی لعین، طلیق اور فاجر کی بیعت کی جس نے علی(ع) سے جنگ کی اور طلحہ کو قتل کیا اور بہت سے سیاہ کارنامے انجام دیئے۔ جیسے خانۃ خدا کو آگ لگانا اور منجنیق سے پتھر برسانا،یہاں تک کہ اس کا رکن منہدم ہوگیا، اور کعبہ کے اندر عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنا اور بہت سے اعمال ہیں جن کے ذکر سے بھی جبین (انسانی) پر پسینہ آتا ہے۔

پھر عبداللہ بن عمر بیعت کے سلسلہ میں بہت آگے نکل جاتے  ہیں اور حجاج بن یوسف ثقفی ایسے زندیق کی بیعت کرتے ہیں کہ جس  نے قرآن کا مذاق اڑایا اور کہا یہ اعراب کا  رجز ہے اور اپنے سردار عبدالملک بن مروان  کو رسول(ص)  پر فضیلت دی جس کے کرتوتوں  سے ہر خاص و عام واقف ہے۔ مؤرخین نے یہاں تک لکھا ہے کہ اس نے کل ارکان، اسلام کا پامال کردیا تھا۔

حافظ بن عساکر نے اپنی تاریخ میں تحریر کیا ہے کہ حجاج کے متعلق دو اشخاص کے درمیان اختلاف ہوگیا، ایک نے کہا: وہ کافر ہے، دوسرے نےکہا: وہ گمراہ مومن ہے جب بات زیادہ بڑھی تو دونوں نےشعبی سے پوچھا انہوں نے کہا: وہ طاغوت پر ایمان رکھتا تھا اور خدا کا منکر و کافر تھا ۔ ( تاریخ ابن عساکر ج۴ ص۸۱۔)

یہ ہے مجرم حجاج جو کہ خدا کی حرام کردہ چیزوں پر عمل کرتا ہے جس کے متعلق مؤرخین نے لکھا ہےکہ وہ بے دردی سے قتل کرتا تھا، انسانیت سوزسزا دیتا تھا اور امت کے نیکوکار اور مخلص افراد کو خصوصا شیعیان آلِ محمد(ص) کو مثلہ کردیتا تھا۔ انھیں حجاج سے جو تکلیفیں پہنچی ہیں وہ کسی اور سے نہیں پہنچیں۔

ابن قتیبہ نےاپنی تاریخ میں تحریر کیاہے کہ حجاج نے ایک دن ستر ہزار سے بھی زیادہ


لوگوں کو قتل کیاتھا یہاں تک کہ راستوں میں خون ہی خون تھا اور مسجد کے دروازہ تک خون بہہ کر پہنچ گیا تھا۔( تاریخ الخلفاء ، ابن قتیبہ ج۲ ص۲۶۔)

ترمذی اپنی صحیح میں تحریر فرماتے ہیں : جب ان مقتول قیدیوں کو شمار کیا گیا جن کو حجاج نے قتل کیا تھا تو ان کی تعداد اکیس ہزار تھی۔ ( صحیح ترمذی ج۹ ص۶۴۔)

اور ابن عساکر نےان لوگوں کے قتل کے بعد ، جو کہ حجاج کے ہاتھ سے قتل ہوئے تھے  تحریر کیا ہے ،حجاج کی موت کے بعد اس کے قید خانے میں اسی(۸۰) ہزار افراد پائے گئے جن میں تیس ہزار عورتیں تھیں۔ّتاریخ ابن عساکر ج۴ ص۸۰)

حجاج خود  کو خدائے عزوجل سے تشبیہ دیتا تھا چنانچہ جب وہ ایک مرتبہ قید خانہ کی طرف سے گذرا اور قیدیوں کی آہ و زاری اور استغاثہ سنا تو  کہا : اسی میں خست اٹھاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو۔

یہی وہ حجاج ہے جس کے بارے میں رسول(ص) نے وفات سے قبل ہی خبردار کیا اور فرمایا تھا: بے شک بنی ثقیف میں ایک کذاب اور ظالم ہے اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس روایت کے راوی خود عبداللہ ابن عمر ہیں۔ ( صحیح ترمذی ج۹ ص۶۴، مسند احمد بن حنبل ج۲ ص۹۱۔)

جی ہاں ! عبداللہ ابن عمر  نے نبی(ص) کے بعد سب سے افضل انسان کی بیعت نہیں کی اور  نہ ان کی مدد کی اور نہ ہی ان کی اقتداء میں نماز ادا کی لہذا خدا نے انھیں ذلیل کیا چنانچہ جب وہ حجاج کے پاس گئے اور کہا : میں نے رسول(ص) سے سنا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا : جوشخص بغیر بیعت کے مرا وہ جاہلیت کی موت مرا، حجاج نے انھیں ذلیل کیا اور  ان کی طرف اپنا پیر بڑھادیا اور کہا اس وقت میرا ہاتھ خالی  نہیں ہے ( پیر سے بیعت کرلو) عبداللہ ابن عمر حجاج ایسے زندیق اور اس کے کارندے نجدہ بن عامر، خوارج کے سردار پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔( طبقات الکبری ابن سعد ج۴ ص۱۱۰، محلی ابن حزم ج۴ ص۲۱۳۔)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عبداللہ بن عمر نے ان لوگوں کی اقتداء میں نماز پڑھنا


مناسب سمجھا کیوں کہ وہ ہر نماز کے بعد علی(ع) پر لعنت کرنے میں مشہور تھے۔ لہذا ابن عمر  کے کینہ کی آگ اور حسد کی تپش کے لئے وہی ماحول مناسب تھا۔ وہ علی(ع)  پر لعنت ہوتے ہوئے سنتے تھے اور ان کا قلب و جگر ٹھنڈا ہوتا تھا۔

اور اسی لئے آج اہل سنت کو یہفتوی دیتےہوئے سنتے ہیں کہ ہر نیک و بد اور فاسق و فاجر اور مومن و فاسق کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے اس سلسلہ میں ان کے پاس انکے سید و سردار اوران کے مذہب کے فقیہ عبداللہ ابن عمر کا فعل بطورِ سند موجود ہے کہ انہوں نے حجاج ایسے زندیق اور نجدہ بن عامر ایسے  خارجی کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔

لیکن رسول(ص) نے فرمایا : اس شخص کو امام بناؤ جو کتابِ خدا کو بہترین قرائت سے پڑھتا ہو، پس اگر قرائت کے لحاظ سے برابر ہوں تو جو  احادیث رسول(ص) کوسب سے زیادہ جانتا ہو اسے پیش نماز بناؤ، اگر سنت کے سلسلہ میں بھی سب برابر ہوں تو  جو ان میں ہجرت کے لحاظ سے سابق ہے اسے پیش امام بناؤ اوراگر ہجرت کے اعتبار سے بھی سب برابر ہوں تو جو ان میں سابق الاسلام ہون ان کے پیچھے نماز پڑھو۔لیکن عبداللہ ابن عمر نے اس حدیث کو دیوار پر دے مارا۔

اور یہ چاروں صفات۔ حافظ قرآن ، حافظ سنت ، ہجرت کے لحاظ سے سابق یا اسلام کے اعتبار سے سابق ہونا ان میں سے  کسی میں یہ  صفات نہیں  پائی جاتی تھیں جن کی عبداللہ ابن عمر  نے بیعت کی اور جن کی  اقتداء میں نماز پڑھی ۔ نہ معاویہ میں ، نہ یزید میں ،  نہ مروان میں ، نہ حجاج میں اور نہ نجدہ بن عامر خارجی میں یہ صفتیں تھیں۔

اور عبداللہ بن عمر  نے اس سنتِ نبوی(ص) کے خلاف عمل کیا اور اسے دیوار پردے مارا  کیوں کہ انہوں نے عترت طاہرہ(ع) کے سردار علی(ع) کو چھوڑدیا تھا کہ جن میں یہ چاروں خصلتیں موجود تھیں اور ان کے علاوہ بہت سے صفات تھیں لیکن ابنِ عمر نے ان کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کی بلکہ فساق، خوارج ، ملحدین اور دشمن خدا و  رسول(ص) کی اقتداء میں نماز پڑھی۔


اور فقیہ اہل سنت والجماعت عبداللہ بن عمر نے بہت سی جگہوں پر کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کی مخالفت کی ہے ۔ اگر ہم ان سب کو جمع کریں تو اس کے لئے الگ ایک کتاب درکار ہے۔ لیکن اہل سنت والجماعت کی صحاح اور دیگر کتابوں سے بعض مثالیں نقل کردینے کو مناسب سمجھتا ہوں تاکہ وہ حجت بالغہ ہوجائیں۔

قرآن اور حدیث سے ابنِ عمر کا اختلاف :

قرآن مجید میں خداوند عالم کا ارشاد ہے:

پس زیادتی کرنے والے سےاس وقت تک جنگ کرو یہاں تک کہ وہ بھی حکمِ خدا کو تسلیم کرلے۔( حجرات/۹)

رسول(ص) نے فرمایا : اے علی(ع) آپ میرے بعد ناکثین ، قاسطین اور مارقین کے ساتھ جنگ کریں گے۔

پس عبداللہ ابن عمر نے نصوصِ قرآن اور سنت نبوی(ص) کی مخالفت کی اور اسی طرح مہاجرین و اںصار کے اجماع کی مخالفت کی جو کہ آپ کے ساتھ ہوکر دشمنوں سے جنگ کررہے تھے، لیکن ابنِ عمر  نے کہا : میں فتنہ میں جنگ نہیں کروں گا اور جس کو غلبہ ہوگا اس کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ ( طبقات الکبری ج۴ ،ص۱۱۰)

جیسا کہ ابن حجر نے تحریر کیا ہے کہ عبداللہ ابن عمر نے اپنی رائے سے جنگ میں شرکت نہ کی اور کہا یہ فتنہ ہے اگر چہ ظاہر ہوگیا تھا کہ ایک جماعت حق پر ہے اور دوسری باطل پر۔ ( فتح الباری۔ ابن حجر ص۳۹)

قسم خدا کی عبداللہ ابن عمر کا عجیب قصّہ ہے جو کہ ایک طرف حق دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف باطل۔ لیکن پھر بھی باطل کے خلاف حق کی نصرت نہیں کرتے اور نہ ہی امر خدا کو  پورا کرنےکے لئے باطل سے دست بردار ہوتے ہیں اور غالب کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں خواہ باطل ہی کیوں نہ ہو۔


معاویہ کو کامیابی مل گئی اور وہ امت پر مسلط ہوگیا اور ذلیل کر کے حاکم بن بیٹھا تو ابن عمر آئے اور معاویہ کی بیعت کی اور اس کے پیچھے نماز پڑھی جب کہ وہ جانتے تھے کہ معاویہ نے کیا کیا؟ اس نے وہم و گمان سے بالاتر جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

باطل پرست حکام کو کثرت کی بنا پر حق یعنی ائمہ اہل بیت(ع) پر کامیابی ملی اور طلقا و فساق، گمراہوں اور مجرمین نے طاقت اور قدرت سے امت پر حکومت قائم کریں۔

ابنِ عمر نے پورے طور سے حق کو چھوڑ دیا۔ تاریخ نےابنِ عمر کی اہل بیت(ع) سے محبت و مودت کو نہیں لکھا ہے جب کہ ان کی حیات میں پانچ ائمہ(ع) کا زمانہ گذرا ہے اور ابنِ عمر نے کسی ایک کی بھی اقتداء مین نماز نہیں پڑھی اور نہ کسی امام سے کوئی روایت نقل کی ہے اور نہ ان میں سے کسی فضیلت و فضل کا اعتراف کیا ہے۔

یہ بات ہم اس  کتاب کی فصل " ائمہ اثناعشر" میں بیان کرچکے ہیں ۔ خلفائے اثناعشر کے بارے میں ابنِ عمر کا نظریہ یہ تھا کہ ابوبکر، عمر ، عثمان، معاویہ، یزید، سفاح، سلام، منصور، اور جابر و مہدی، امین و امیر  العصیب ہی خلیفہ تھے، کہتے ہیں بنی کعب بنی لوی میں سے ہی بارہ خلیفہ ہیں ۔ سب صالح تھے اور کوئی ان کا مثل نہیں ہے۔ ( تاریخ سیوطی، کنز العمال، تاریخ ابنِ عساکر و ذہبی۔)

جو نام ابنِ عمر نے شمار کرائے ہیں ان میں سے کوئی نام آپ نے عترت نبی(ص) میں سے ائمہ ہدیٰ (ع) کا بھی دیکھا ہے؟ جن کے متعلق رسول(ص) کا ارشاد ہے: وہ سفینۃ  نجات اور قرآن کا ہم پلہ ہیں۔؟!

یہی وجہ ہےکہ اہل سنت والجماعت کے یہاں ائمہ اطہار(ع) میں سے کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی وہ ائمہ اہل بیت(ع) میں سے کسی کی اقتداء کرتے ہیں۔

یہ تو تھا کتابِ خدا اور حدیثِ رسول(ص) کی مخالفت میں ابنِ عمر کا کردار اور اب کتابِ  خدا اور  حدیثِ نبی(ص) سے ابنِ عمر کی جہالت ملاحظہ فرمائیے۔


کہا جاتا ہے کہ نبی(ص) نے حالت احرام میں عورتوں کو جوتے پہننے کی اجازت دی تھی لیکن ابنِ عمر اس سے بے خبر تھے لہٰذا انہوں نے جوتے پہننا حرام قرار دے دیا۔ ( سنن ابو داؤد ج۱ ص۲۸۹، سنن بیہقی ج۵ ص۲۵، مسند احمد ج۲ ص۲۹)

عہد رسول(ص) اور ابوبکر و عمر و عثمان کے زمانہ میں یہاں تک کہ معاویہ کے زمانہ میں عبداللہ ابن عمر  اپنے کھیتوں کو کرایہ پر دیتے تھے ۔ ایک مرتبہ معاویہ کی حکومت کے آخری زمانہ میں کسی صحابی نے یہ کہہ کر چونکا دیا کہ اسے تو رسول(ص) نے حرام قرار دیا تھا۔( صحیح بخاری و مسلم ج۵ ص۲۱۔)

جی ہاں ! یہی ہیں اہل سنت والجماعت کے فقیہ جو یہ بھی نہیں جانتے کہ کھیتوں کو کرایہ ، پر دینا حرام ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ عبداللہ ابنِ عمر  عہد نبی(ص)  سے لے کر معاویہ کے زمانہ یعنی پچاس سال تک اس کے حلال ہونے کے سلسلہ میں فتویٰ دیتے رہے ہوں گے۔

کچھ چیزوں میں عائشہ سے انکی مخالفت تھی،  مثلا انہوں نے فتویٰ دیا کہ بوسہ لینے سے وضو باطل ہوجاتا ہے یا ان  کا فتویٰ تھا اگر میت پر  زندہ لوگ گریہ کریں تو مرنے والے پر عذاب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اذان صبح کے بارے میں اختلاف یا ان کا  یہ کہنا کہ ۲۹ روز کا مہینہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت چیزوں میں دونوں کے درمیان اختلاف تھا۔

ان میں سے کچھ چیزوں کو شیخین یعنی بخاری و مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ عبداللہ ابن عمر سے کہا گیا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں : میں نے رسول(ص) سے سنا ہے : جو ایک جنازہ کی تشیع کرتا ہے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے۔

عبداللہ ابن عمر نے کہا : ابوہریرہ اکثر ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ پس عائشہ نے ابوہریرہ کی تصدیق کی اور کہا : میں نے بھی رسول(ص) سے یہ حدیث سنی تھی۔ اس پر ابنِ عمر نے کہا : ہم نے بہت سے اجر ضائع کردیئے۔ (  صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب اتباع الجنائز۔)

ہمارے لئے عبداللہ کے سلسلہ میں ان کے باپ ابنِ خطاب ہی کا قول کافی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ بعض تملق پسند افراد نے بستر مرگ پر دراز عمر سے کہا: آپ اپنے


 فرزند عبداللہ کو خلیفہ بنادیجئے تو  انہوں نے کہا: میں لوگوں پر اسے کیسے حاکم بنادوں جو اپنی بیوی کو طلاق دینا بھی نہیں جانتا۔

یہ ہیں ابنِ عمر ! اور پھر اپنے بیٹے کو باپ سے زیادہ کون پہچانے گا۔

لیکن جن جھوٹی حدیثوں کے ذریعہ اس نے اپنے آقا معاویہ کی خدمت کی ہے وہ بہت  زیادہ ہیں ۔ ہم مثال کے طور پر ان میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں۔

ابنِ عمر کہتے ہیں: رسول(ص) نےفرمایا : تمہارے پاس اہل جنت میں سے ایک شخص آنے والا ہے، پس معاویہ نمودار ہوئے۔ پھر اگلے روز آپ نے فرمایا : تمہارے سامنے اہل جنت میں سے ایک شخص آنے والا ہے ، پس ہم نے دیکھا کہ معاویہ چلے آرہے ہیں۔ تیسرے دن پھر فرمایا: تمہارے سامنے اہل جنت میں سے ایک شخص آنے والا ہے ، پس معاویہ آئے۔

ابنِ عمر کا قول ہےکہ جب آیۃ الکرسی نازل ہوئی اس وقت رسول(ص) نے معاویہ سے فرمایا: اسے لکھ لو ، معاویہ نے کہا میں کیا لکھوں ، اس کے لکھنے سے مجھے کیا ملے گا۔ رسول(ص) نے فرمایا: جب بھی کوئی اس کو پڑھے گا تمہارے لئے ثواب لکھا جائے گا۔ نیز کہتے ہیں جب روز قیامت معاویہ کو اٹھایا جائے گا تو ان پر ایمان کی چادر پڑی ہوگی۔

لیکن میں اس بات کو نہیں سمجھ سکا کہ اہل سنت والجماعت نےا پنے سردار معاویہ کاتبِ وحی کو عشرہ مبشرہ میں کیوں شامل نہیں کیا،جب کہ ان کےسردار ابنِ عمر نے تین تین بار اس کی تاکید کی کہ معاویہ کو پے  درپے تین روز تک اہل جنت میں قرار دیا اور جب روز قیامت تما لوگ عریان ہوں گے اس روز معاویہ پر ایمان کی چادر پڑی ہوگی!!! پڑھئے اور تعجب کیجئے۔

یہ ہیں عبداللہ ابنِ عمر اور یہ ہے ان کا مبلغ علم اور یہ ہے انکی فقہ اور یہ ہے کتابِ (خدا) اور سنت نبی(ص) سے ان کا اختلاف ،اور یہ ہے امیرالمؤمنین اور ائمہ طاہرین(ع)  سے ان کی عداوت اور یہ ہے دشمن خدا اور دشمنِ انسانیت لوگوں سے ان کی محبت اور چاپلوسی۔


کیا آج کوئی اہل سنت والجماعت میں سے ان حقائق کو قبول کرے گا کہ سنتِ محمدی(ص) صرف عترتِ طاہرہ(ع) کا اتباع کرنے والوں ہی کے پاس ہے۔ اور وہ ہے شیعہ؟

جہنمی اور جنتی دونوں برابر نہیں ہیں ( کیونکہ) جنت والے ہی کامیاب ہیں ۔( حشر/۲۰)


۱۲ : عبداللہ بن زبیر

ان کے باپ زبیر بن العوام ہیں جو کہ جنگ جمل میں قتل کئے گئے تھے واضح رہے حدیثِ نبوی(ص)  میں اسے حزب الناکثین کہا گیا ہے ان کی مان بنت ابی بکر بن قحافہ ہیں ، ان کی خالہ ام المؤمنین زوجہ نبی(ص) عائشہ بنتِ ابی بکر ہیں یہ بھی امام علی(ع) کے سخت ترین دشمن اور بغض رکھنے والے تھے۔

شاید وہ اپنے جد ابوبکر کی خلافت اور اپنی خالہ ام المؤمنین عائشہ پر فخر کرتے تھے اور حسد و عداوتِ علی(ع) انھیں سے ورثہ میں ملی تھی اور اسی ماحول میں پرورش پائی تھی امام علی(ع) نے زبیر سے فرمایا تھا کہ ہم تو تمہیں بنی عبدالمطلب میں سمجھتے تھے لیکن تمھارا بیٹا، برائیوں کا پلندہ ہے اس نے ہمارے اور تمھارے درمیان جدائی ڈال دی ہے۔

تاریخ میں مشہور ہے کہ جناب نے بھی جنگ جمل میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ یہاں تک کہ  ایک روز عائشہ نے انھیں نماز  میں امامت کے لئے بڑھادیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ طلحہ و زبیر  کے درمیان امامت کے سلسلہ میں اختلاف ہوگیا دونوں ہی امام بننا چاہتے تھے لہذا عائشہ نے ان دونوں کو معزول کردیا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنی خالہ عائشہ کے پاس یہی پچاس افراد لائے تھے جنھوں نے جھوٹی گواہی دی تھی کہ یہ ( حوب) کا مقام نہیں ہے  لہذا عائشہ نے ان کےساتھ راستہ طے کیا۔

یہ وہی عبداللہ ہیں جنھوں نے اپنے باپ کو اس وقت بزدل کہا تھا اور ان پر خوف کھانے کی تہمت لگائی تھی کہ جب انھیں حضرت علی(ع) نے نبی(ص) کی یہ حدیث یاد دلائی تھی کہ تم علی(ع) سے جنگ کرو گے اور ان کے حق میں ظالم ہوگے۔ وہ میدانِ جنگ  سے پلٹ جانے پر تیار ہوگئے تھے ۔ لیکن جب بیٹے نے زیادہ  پریشان کیا تو  کہا ، خدا تجھے رسوا کرے تجھے کیا ہوگیا ہے ۔ ( تاریخ اعثم و شرحِ ابن ابی الحدید ج۲ ،ص۱۷۰)

کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے باپ کو اتنی غیرت دلائی کہ انھوں  نے علی(ع) کے لشکر پر حملہ


 کردیا اور قتل ہوگئے اور اس طرح وہ اپنے باپ کے اس قول کا مصداق قرار پائے کہ  کتنا برا لڑکا ہے۔

ہم نے اسی روایت کو منتخب کیا ہے کیونکہ یہ واقعہ زبیر کے کینہ توز نفس سے اور ان کے فرزندوں سے بہت ہی قریب ہے اور اتنی آسانی سے زبیر میدا ن جنگ سے نہیں ہٹ سکتے تھے طلحہ اور ان کے اصحاب و موالی اور وہ غلام جو بصرہ تک ان کے ساتھ آئے تھے اور ام المؤمنین اپنی زوجہ کی بہن کو جوکہ ہلاکت سے قریب تھیں انھیں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ اوراگر ہم یہ بات تسلیم بھی کرلیں کہ انھوں نے لشکر والوں کو چھوڑ دیا تھا ۔ تو بھی  لشکر والوں نے انھیں نہیں چھوڑا تھا خصوصا ان کے بیٹے عبداللہ نے جس کے ارادہ سے ہم واقف ہوچکے ہیں۔

مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہےکہ عبداللہ بن زبیر علی(ع) پر لعنت کرتا تھا کبھی کہتا تھا تمھارے پاس کمینہ اور بدبخت آگیا ہے اور اس کی  مراد علی(ع) ہوتے تھے ۔ اہل بصرہ کے درمیان اس نےخطبہ دیا اور انھیں جنگ و جدال پر ابھارا ۔ کہا: اے لوگو! علی(ع) نے خلیفہ برحق عثمان مظلوم کو قتل کیا ہے۔ پھر لشکر تیار کیا تاکہ تم پر حکومت کرے اور تمھارے شہر کو تم سے چھین لے۔ پس تم اپنے خلیفہ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اٹھو! اوراپنے حریم کی حفاظت کرو اور اپنی عورتوں بچوں اور اپنے حسب ونسب سے دفاع کرو، آگاہ ہوجاؤ کہ علی(ع)  اس سلسلہ میں تمھاری کوئی رعایت نہیں کریں گے ، قسم خدا کی اگر وہ تم پر فتحیاب ہوگئے تو تمھارے دین اور دنیا کو ضرور برباد کردیں گے ۔ ( شرح نہج البلاغہ ۔ ابن ابی الحدید ج۱ ص۳۵۸۔ تاریخ مسعودی جلد۵، ص۱۶۳)

عبداللہ بن زبیر کو بنی ہاشم سے بالعموم اور حضر ت علی(ع) سے بالخصوص شدید دشمنی تھی  چنانچہ اسی حسد و کینہ توزی کی بنا پر انھوں نے چالیس روز تک محمد(ص) پر بھی صلوات نہ بھیجی اور کہا مجھے صلوٰت بھیجنے سے کوئی چیز نہیں روکتی لیکن اس سے کچھ لوگوں کی ناک اونچی ہوجائے گی اس


 لئے صلوات نہیں بھیجتا ہوں۔( تاریخ یعقوبی جلد۳ ص۷ شرح ابن ابی الحدید جلد۱ ص۳۸۵)

جب انکا بغض و حسد اتنا بڑھ گیا تھا کہ انھوں نے نبی(ص) پر صلوات بھیجنا بند کردی تھی تو ان سے یہ بات بعید نہیں ہے کہ وہ لوگوں پر جھوٹ باندھیں  اور حضرت علی(ع)  پر تہمت لگائیں اور ہر بری چیز کو آپ(ع) سے منسوب کردیں چنانچہ اہل بصرہ  کے درمیان انھوں نے  جو خطبہ دیا تھا اس میں یہ بھی کہا تھا: قسم خدا کی اگر علی(ع) کو فتح ملی تو وہ ضرور تمھارے دین و دنیا کو برباد کریں گے۔

یہ عبداللہ  ابن زبیر کا کھلا جھوٹ اور عظیم بہتان ہے وہ قطعی حق کو اپنے دل میں راہ نہیں دیتے۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب(ع)  کو فتح ملی اور حزبِ مخالف کی اکثریت کو اسیر کیا گیا اور ان ہی قید ہونے والوں میں عبداللہ ابن زبیر بھی تھے۔ لیکن علی(ع) نےسب کو معاف کردیا اور آزاد چھوڑ دیا۔

اور عائشہ کو با عزت ان کے پردہ کے ساتھ مدینہ پہنچا دیا اور اسی طرح آپ(ع) نے اپنے اصحاب سے غنیمت کا مال لینے، عورتوں اور بچوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے سے منع کردیا اور زخمی کو قتل کرنے سے منع کیا یہاں تک کہ لشکر والوں میں سے بعض لوگوں نے آپ(ع) کو برا بھلا کہا اور آپ(ع) کے متعلق خیال آرائیاں کرنے لگے۔

پس علی(ع) محض سنتِ نبی(ص) ہیں اور آپ(ع) ہی کتابِ خدا کے عارف ہیں۔ آپ(ع) کےسوا کوئی اس سے واقف نہیں ہے۔ آپ کے لشکر میں سے بعض رذیل منافقین اکٹھا ہوکر آپ(ع) کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے ان لوگوں سے جنگ کرنا ہمارے لئے کیسے مباح ہوگیا اور ان کی عورتوں کو بے پردہ کرنا کیونکر حرام ہوا؟

منافقین نے اس بات سے بہت سے فوجیوں کو بہکایا یہ الگ بات ہے علی(ع) نے کتابِ خدا سے ان پر حجت قائم کی اور ان سے فرمایا:

تم اپنی ماں عائشہ کے لئے قرعہ اندازی کرنے کو پسند کروگے اس وقت وہ


لوگ سمجھے کہ آپ(ع) حق پر ہیں اور کہنے لگے استغفراللہ یقینا ہم غلطی پر تھے۔

پس عبداللہ بن زبیر کا قول جھوٹ اور کھلا بہتان تھا۔ انھیں بغض علی(ع) نےاندھا بنا دیا تھا اور ایمان سے خارج کردیا تھا ( واضح رہے) عبداللہ بن زبیر نے اس کے بعد توبہ نہیں کی اور  ان جنگوں سے انھوں نے درس ( عبرت) لیا اور نہ نصیحت حاصل کی۔

انھوں نے نیکیوں کا مقابلہ برائیوں سے کیا اور بنی ہاشم سے اور عترت طاہرہ(ع) کے سرداروں سے ان کا بغض و حسد بڑھتا چلاگیا ۔ یہاں تک کہ بنی ہاشم کا چراغ گل کرنے کے لئے انھوں نے حتیٰ القدور کوشش کی۔

مؤرخین نے روایت کی ہے کہ وہ حضرت علی(ع) کے شہید ہوجانے کے بعد لوگوں کو اپنے امیر و خلیفہ ہونے کی دعوت دینے کے لئے کھڑے ہوئے چنانچہ کچھ لوگ ان کے پاس جمع بھی ہوگئے اور ان کی شان و شوکت مستحکم ہوگئی تو انھوں نے علی(ع) کے فرزند محمد بن الحنفیہ کو اور اسی طرح  حسن بن علی(ع) اوران کےساتھ بنی ہاشم کے دیگر سترہ(۱۷) اشخاص  کو قید کر لیا اور انھیں جلانے کے لئے دروازہ پر بہت ہی لکڑیاں جمع کردی تھیں اور ان میں آگ لگادی تھی لیکن مختار کا لشکر عین اسی وقت وہاں پہنچ گیا اس نے آگ بجھائی اور انھیں آگ سے نکالا ورنہ ابنِ زبیر تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا تھا۔( تاریخ مسعودی جلد ۵ ص۱۸۵) شرح ابن ابی الحدید جلد۴ ص۴۸۷)

مروان نے حجاج کی سرکردگی میں ابنِ زبیر سے مقابلہ کےلئے ایک لشکر بھیجا کہ جس نے  محاصرہ کر کے انھیں قتل کیا اور حرم میں سولی پر لٹکا دیا۔

اس طرح عبداللہ بن زبیر  کا قصہ تمام ہوا جیسا کہ اس سے قبل ان کے باپ کا قصہ تمام ہوا تھا دونوں ہی دنیا کے بندے اور حکومت و امارات کے حریص تھے۔ اور اپنی بیعت کرانا چاہتے تھے اسی لئے انھوں نے جنگ کی اور لوگوں کو ہلاک کیا خود بھی ہلاک ہوئے لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔


فقہ میں عبداللہ بن زبیر کا ایک مقام ہے اصل میں فقیہ اہل بیت(ع) سے بغض رکھنے والوں کا رد عمل ہے چنانچہ صیغۃ متعہ کی حرمت کے سلسلہ میں ان کا قول مشہور ہے۔

ایک مرتبہ انھوں نے عبداللہ بن عباس سے کہا ۔ اے اندھے اگر تم نے متعہ کیا تو میں تمھیں سنگسار کردوں گا۔

ابن عباس نے جواب دیا: میں تو آنکھ سے اندھا ہوں لیکن تم دل کے اندھے ہو اگر تم متعہ کی حلیت کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے بارے میں اپنی ماں سے پوچھ لو۔ ( آنکھ کا اندھا۔ اس لئے کہ بڑھاپے میں عبداللہ بن عباس کی بھویں آنکھوں پر آگئی تھیں لیکن ابنِ عباس کا یہ کہنا متعہ کےبارے میں اپنی ماں سے پوچھنا تو یہ اس لئے کہا کہ زبیر نے اسما سے متعہ کیا تھا۔عبداللہ متعہ ہی کی اولاد ہےیہ بھی کہا جاتا ہے کہ عبداللہ اپنی ماں کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کیا میں نے تمھیں ابنِ عباس کے منہ لگنے سے منع نہیں کیا تھا وہ عرب کے عیوب کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔)

ہم اس موضوع کو وسعت نہیں دینا چاہتے۔اس پر بہت بحث ہوچکی ہے ہم تو صرف عبداللہ بن زبیر کی اہل بیت(ع) سے ہر چیز کے بارے میں مخالفت کی ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی مخالفت کی حد یہ تھی وہ فقہی امور میں بھی مخالفت کرتے تھے جبکہ ان میں انھیں مہارت نہیں تھی۔

افسوس ان میں ہر ایک اپنے خیرو شر کے ساتھ چلاگیا اور مظلوم امت کو خون کے دریا میں غوطہ زن اور بحر ضلالت میں غرق کر گیا امت والوں سے اکثر حق کی معرفت نہیں رکھتے  ہیں ۔ طلحہ و زبیر نے اس کی تصریح کی ہے اور اسی طرح سعد بن ابی وقاص نے بھی وضاحت کی ہے۔

لیکن تنہا وہ ذات اپنے رب کی طرف سے دلیل بنی ہوئی ہے، جس نے چشم زدن کے لئے بھی حق کے متعلق شک نہیں کیا ہے اور وہ ہیں علی ابن ابی طالب(ع) کہ جن کےساتھ ساتھ حق گردش کرتا ہے۔


قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جو آپ(ع) کی اقتدا کرتے ہیں کیونکہ رسول(ص) کا ارشاد ہے۔

اے علی(ع) قیامت کے روز آپ(ع) اور آپ(ع) کے شیعہ ہی کامیاب ہونگے۔ ( در منثور جلال الدین سیوطی۔ سورہ بینہ)

اور جو حق  کی ہدایت کرتا ہے وہ واقعا قابلِ اتباع ہے یا جو ہدایت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی ہدایت کی جائے ۔ تمھیں کیا ہوگیا ہے اور کیسا فیصلہ کررہے ہو۔( یونس /۳۵)


کیا حدیث قرآن کی مخالف ہے؟

شیعہ اور اہل سنت والجماعت میں سے طرفین کے عقیدہ کی بحث و تحقیق کے بعد ہم نے  یہ محسوس کیا ہے کہ ششیعہ اپنے تمام فقہی امور میں کتاب ِ خدا اور سنت نبوی(ص) کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کسی چیز سے سروکار نہیں رکھتے۔

وہ قرآن کو پہلا رتبہ دیتے ہیں اور حدیث کو دوسرا رتبہ دیتے ہیں اور اسے اچھی طرح پرکھتے ہیں اور کتابِ خدا سے مطابقت کرتے ہیں ۔ پس جو حدیث کتاب ِخدا کے موافق ہوتی ہے اسے  لے لیتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور جو کتاب خدا کےخلاف ہوتی ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں اور اس کا کوئی وزن نہیں سمجھتے ۔ ( قسم اپنی جان کی یہ وہ بہترین منطق ہےجس نے ان پر محدثین کا راستہ بند کردیا ہے جنھوں نے تدلیس حدیث میں شہرت پائی تھی اور اسے رسول(ص) کی  طر ف منسوب کردیا تھا جب کہ آپ(ص)  اس سے بری ہیں۔

اصل میں شیعوں کے اس نظریہ  کا سرچشمہ وہ حدیث ہے جو ائمہ اہل بیت(ع) نے اپنے جد رسول (ص) سے نقل کی ہے۔ آپ (ص) کا ارشاد ہے: جب تمھارے پاس کوئی حدیث آئے تو تم ( پہلے)


اسے کتاب خدا  پر رکھ لو۔ اگر وہ اس کے موافق ہے تو اس پر عمل کرو اور اگر مخالف ہے تو دیوار پر دے مارو۔

امام صادق (ع) نے متعدد بار فرمایا : جو حدیث قرآن کے موافق نہیں ہے وہ جھوٹی ہے۔

اصول کافی میں منقول ہے کہ رسول (ص) نے منیٰ میں لوگوں کے درمیان خطبہ دیا اور فرمایا : لوگو! میری طرف سے جوبات تم تک پہونچتی ہے۔ ( اگر) وہ کتاب خدا کےموافق ہے تو وہ واقعا میرا قول ہے۔ اور جو بات میری طرف سے نقل ہو اور وہ کتابِ خدا کے خلاف ہو تو وہ میرا قول نہیں ہے۔

شیعہ امامیہ نے اسی مضبوط اساس پر اپنے عقائد اور فقیہ کی تعمیر کی ہے۔ پس جب حدیث  اسناد کے لحاظ سے صحیح ہوتو اس وقت اسے اس میزان پر تولنا ضروری ہے اور اس کتاب پر پرکھنا ضروری ہے جس میں کسی بھی طرف سے باطل داخل نہیں ہوسکتا ۔

فرق اسلامیہ کے درمیان صرف شیعہ ہی ایک ایسا فرقہ ہے جس نے یہ شرط رکھی ہے خصوصا باب تعارض میں۔ یعنی جہاں دو (۲) روایات و اخبار ایک دوسرے کے مخالف ہوں۔

شیخ مفید نے اپنی " تصحیح الاعتقاد " نامی کتاب میں تحریر کیا ہے، کتابِ خدا ،احادیث و روایات پر مقدم ہے اور اس کےذریعہ اخبار و احادیث کے ضعف و صحت کا علم حاصل کیا جا تا ہے پس جو اس (قرآن) پر پوری اتر ے وہ حق ہے اور اس کےخلاف باطل ہے۔

اور اس شرط کی بنا پر حدیث کو کتابِ خدا پر تولتے ہیں لہذا اہل سنت والجماعت سے شیعہ بہت سے فقہی احکام اور عقائد میں ممتاز ہیں۔

شیعوں کے عقائد اور احکام کو ہر ایک محقق کتاب خدا کے موافق پائے گا۔ اس کے برخلاف اہل سنت والجماعت کے عقائد اور احکام کو صریح  طور پر قرآن کے خلاف پائے گا۔ عنقریب ہم اس بحث کو تفصیلی طور پر بیاں کریں گے اور دلیل سے ثابت کریں گے۔


تحقیق کرنے والا اس بات کو بھی اچھی طرح محسوس کرے گا کہ شیعہ اپنی کسی بھی حدیث کی کتاب کو مکمل طور پر صحیح نہیں کہتے ہیں۔ اور نہ ہی اسے قرآن کے برابر ٹھہراتے ہیں جیسا کہ اہل سنت والجماعت ان تمام حدیثوں کو جن کو بخاری و مسلم نےجمع کیا ہے صحیح کہتے ہیں باوجودیکہ ان میں سینکڑوں حدیثیں ایسی ہیں جو سراسر کتاب خدا کے خلاف ہیں۔

آپ کی اطلاع کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ شیعوں کی کتاب کافی باوجود اپنے مؤلف محمد بن یعقوب کلینی کی قدر و منزلت کے اور علم احادیث میں انکے تبحر علمی کے باوجود شیعہ علما نے ایک روز بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ جو کچھ کلینی نے جمع کیا  ہے وہ سب صحیح ہے بلکہ اس کے برعکس بعض شیعہ علما نے اس کے نصف سے زیادہ حصہ کو غیر صحیح قرار دیا ہے ۔ خود  مؤلف نےیہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ جو کچھ میں اس کتاب میں جمع کیا ہے وہ سب صحیح ہے۔

شاید یہ سب کچھ سیرت خلفا کا نتیجہ ہے پس  اہل سنت والجماعت نےجن ائمہ کی اقتداء کی وہ احکام قرآن و سنت سے جاہل تھے یا جانتے  تھے لیکن بعض اسباب کی بنا پر اپنی رائے سے اجتہاد کر لیتے تھے ان میں سے بعض اجتہادات کا ہم گذشتہ بحثوں میں تذکرہ کر چکے ہیں۔

لیکن شیعہ ائمہ اطہار (ع) کی قتدا کرتے  ہیں جو کہ قرآن کے ہم پلہ اور اس کے ترجمان ہیں وہ نہ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ اس میں اختلاف کرتے ہیں۔

                     جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کا گواہ بھی                                 ہے۔اور اس سے پہلے کتابِ موسیٰ گوہی دے رہی ہے جو کہ رحمت و پیشوا تھی۔

صاحبان ایمان اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ  اس کا انکار کرتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ خبردار تم قرآن


کے بارے میں شک میں مبتلا نہ ہونا وہ تمھارے پر وردگار کی طرف سے برحق ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے ۔( سورہ ہود : آیت۱۷)


قرآن و حدیث اہل سنت کی نظر میں

ہم یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ شیعہ امامیہ قرآن کو سنت پر مقدم کرتے ہیں اور اسے سنت کا قاضی و حاکم قرار دیتے  ہیں لیکن اہل سنت والجماعت اس سلسلہ میں شیعوں کے خلاف ہیں وہ قرآن پر سنت کو مقدم کرتے ہیں اور اسے حاکم و قاضی قرار دیتے ہیں۔

اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ اسی لئے خود کو اہل سنت کہتے ہیں کہ انھوں نےسنت ہی کو  سب کچھ سمجھ لیا ہے ورنہ وہ اپنے کو اہل قرآن و سنت کیوں نہیں کہتے ہیں۔ جب کہ وہ اپنی کتابوں میں یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ بنی(ص) نے فرمایا:

" میں تمھارے درمیان قرآن اور اپنی سنت چھوڑے جارہا ہوں۔"

انھوں نے قرآن کو چھوڑ دیا اور اسے مرتبہ پر رکھا اور خیالی سنت سے تمسک کرلیا اور اسے  پہلے مرتبہ پر رکھا ۔ ہم ان کے قول کا اصلی مقصد سمجھتے ہیں کہ سنت قرآن پر حاکم و قاضی ہے یہ بات عجیب ہے۔ میرا تو عقیدہ یہ ہے کہ اہل سنت یہ فیصلہ کرنےپر اس وقت مجبور ہوئے جب انھوں نے دیکھا کہ ہمارے اعمال قرآن خلاف ہیں اور جب ان کے مخدوم حکام نے ان پر یہ بات تھوپ دی کہ تم یہ لکھو کہ سنت  قرآن پر مقدم ہے تب انھوں نے لکھا اور ان کے اعمال کی برئت کے لئے جھوٹی حدیثیں گھڑ کر نبی(ص)  کی طرف  منسوب کردیں ۔ جب وہ احادیث احکام قرآن کے خلاف ظاہر ہوئیں تو کہا : سنت قرآن پر حاکم وقاضی ہے یا وہ قرآ ن  کو منسوخ کرتی ہے۔

اس کے لئے میں ایک واضح مثال دیتا ہوں جس کو ایک مسلمان دن بھر میں چند مرتبہ انجام دیتا ہے اور وہ ہے ہر نماز سے قبل وضو قرآن مجید میں خداوند عالم کا ارشاد ہے۔


' اے ایمان لانے والو: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو( اس وقت) اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولیا کرو اور اپنے سروں کے بعض حصّہ کا اور پیروں کا گٹوں تک مسح کیا کرو۔( مائدہ/۶)

نصب و جر کی قرت سے قطع نظر، جیسا کہ ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ لغت عرب میں ماہر اہلسنت والجماعت کے مشہور عالم فخررازی دونوں قرت واجب جانتے ہیں۔( تفسیر کبیر  فخررازی جلد۱۱، ص۶۱)

ابن حزم نےبھی کہا ہے: خواہ لام کو کسرے کے ساتھ پڑھا جائے یا فتحہ کے ساتھ پڑھا جائے بہر صورت وہ رؤس پر عطف ہوگا۔ خواہ لفظی اعتبار سے خواہ وضع کے لحاظ اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے۔( المحلی۔ ابن حزم جلد۲ ص۵۴)

اگر ہم سورہ مائدہ میں نازل ہونے والی آیت وضو میں غور کرتے جیسا کہ مسلمانوں کا اجماع اس بات پر ہے کہ جو سورہ مائدہ آخر میں نازل ہوا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نبی(ص) کی وفات  سے صرف دو ماہ قبل نازل ہوا ہے پس نبی(ص) نے کیسے اور کب حکم مسح کو منسوخ کیا ؟ اور نبی(ص) نے ۲۳ سال تک وضو مسح کیا اور ہر روز متعدد بار مسح کرتے تھے۔

کیا یہ بات عقل می آی ہے کہ وفاتِ نبی(ص) سے دو ماہ قبل آیت" وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ " نازل ہوئی اور رسول(ص) نے حکمِ قرآن کے خلاف مسح کے بجاے پیر دھوئے ؟!! اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔

پھر لوگ اس نبی(ص) کو کیسے تسلیم کریں گے جو کہ انھیں قرآن کی طرف بلایا ہے اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے بے شک یہ قرآن سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرتا ہے اور پھر خود اس کے برعکس عمل کرتا ہے؟! کیا یہ معقول ہے کیا اسے دانشور افراد قبول کریں گے؟!

کیا نبی(ص) سے جھگڑالو، مشرک اور منافق یہ نہ کہیں گے جب آپ(ص) خود اس کے خلاف  عمل کرتے ہیں تو ہمیں اس پر عمل کرنے کے لئے  کس منہ سے  کہتے ہیں؟ اس وقت نبی(ص) ہکا پکا رہ جائنگے


اور ان کےاعتراض کو رد کرنے کے لئے کوئی جواب نہیں بن سکے گا۔ اسی لئے ہم اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے جس کو عقل اور نقل دونوں رد کرتی ہیں اور جو بھی قرآن و سنت سے تھوڑا سا واقف ہے وہ بھی  اس کی تصدیق نہیں کرے گا۔

لیکن اہل سنت والجماعت جو کہ در حقیقت بنی امیہ کے حکام اور ان کا اتباع کرنے والے ہیں جیسا کہ گذشتہ صفحات میں آپ ملاحظہ کرچکے ہیں کہ انہوں نے اپنے گمراہ پیشواؤں کے اجتہاد ات اور  راویوں کو صحیح بنانے کی وجہ سے احادیث گھڑیں اور انھیں سے دین و شریعت کے احکام نکالے اور نص کے مقابلہ میں اجہادات کے لئے ایک علت بھی ڈھونڈ نکالی اور وہ یہ کہ نبی(ص) خود بھیایسا ہی کیا کرتے تھے، آپ(ص) بھی تو قرآن کی نص کے مقابلہ میں اجتہاد کرتے تھے اور قرآن کی جس آیت کو  چاہتے تھے منسوخ کردیتے تھے، اس طرح بدعتی لوگ جھوٹ اور  بہتان کی وجہ سے نصوص کی مخالف کرنے میں رسول(ص) کے پیرو کاربن گئے۔( کیونکہ آپ بھی ںصوص کی  مخالفت کرتے تھے۔ اور  آج  اہل سنت بھی مخالفت کرتے ہیں۔)

گذشتہ بحثوں میں ہم قوی حجتوں اور ٹھوس دلیلوں سے یہ بات ثابت کرچکے ہیں کہ بنی(ص) نے ایک روز بھی اپنے رائے سے کوئی بات نہیں کہی بلکہ آپ وحی کا انتظار  کرتے تھے اور خدا کے حکم  ایک روز بھی اپنی رائے سے کوئی بات نہیں کہی بلکہ آپ وحی کا انتظار کرتے تھے اور خدا کے حکم کے مطابق عمل کرتے تھے جیسا کہ خدا وند عالم کا ارشاد ہے:

آپ حکم خدا کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ  کریں : ( نساء ۱۰۵،۔ صحیح بخاری ج۸ ، ص۱۴۸۔)

کیا اس بات کا کہنے والا اپنے پروردگار کا مبلغ نہیں ہے:

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو جن لوگوں کو  ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے وہ کہتے ہیں اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن پیش کیجئے یا اس کو بدل دیجئے ۔ آپ کہہ دیجئے میں اسے اپنے اختیار سے نہیں بدل  سکتا میں صرف اس  حکم پر عمل کرتا ہوں جس کی مجھ پر وحی کی جاتی ہے میں


 اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب کا خوف ہے۔( یونس۔۱۵)

کیا خدا نے نبی(ص) کو اپنی طرف ایک جھوٹی نسبت دینے کے سلسلے میں سخت تہدید نہیں کی تھی؟ جیسا کہ ارشاد ہے:

اگر پیغمبر  ہماری طرف سے کوئی بات گھڑ لیتا تو ہم اس کے ہاتھ کاٹ لیتے اور پھر یقینا ہم اس کی گردن اڑا دیتے اور تم میں سے مجھے کوئی روک نہیں سکتا تھا۔(الحاقہ۴۳تا ۴۷۔)

یہ ہے قرآن اور یہ ہیں بنی(ص) جہنوں نے قرآن پیش کیا۔ لیکن اہل سنت والجماعت ، علی ابنِ ابی طالب(ع) اور اہلبیت" علیہم السلام" سے شدید عداوت کی بنا پر ہر چیز میں ان کی مخالفت کرتے ہیں یہاں تک کہ علی(ع) اور ان کے شیعوں کی مخالفت ان کا شعار بن چکی ہے  خواہ ان  کے نزدیک سنتَ نبی(ص) ثابت بھی ہو۔( ہماری مراد اوائل کے وہ افراد جنہوں نے علی(ع) اور آپ(ص) کے بعد آپکی اولاد سے دشمنی رکھی اور مذہب اہل سنت والجماعت کی بنیاد رکھی۔)

امام علی(ع) کے متعلق یہ مشہور تھا کہ آپ(ع) سنتِ رسول(ص) کو زندہ رکھنے کے لئے اخفاتی نمازوں میں بھی بسم اللہ۔۔۔ بآواز بلند پڑھے تھے۔بعض لوگوں نے کہا نماز  میں بسم اللہ۔۔۔۔ پڑھنا مکروہ  ہے اسی طرح ہاتھ باندھنا یا کھولنا اور دعائے قنوت وغیرہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق نماز پنجگانہ سے ہے۔

اور اسی لئے انس بن مالک گریہ کررہے تھے اور  کہہ رہے تھے: قسم خدا کی آج میں ایک چیز بھی ایسی نہیں دیکھتا جس پر رسول(ص) عمل کرتے تھے۔ لوگوں نے کہا : اور یہ نماز ؟ مالک نے جواب دیا: اس میں بھیتم بہت سی رد و بدل کی ہے۔(بخاری۔ج۱ ص۷۴)

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت ان اختلافات پر خاموش رہتے ہیں کیوں کہ  ان ہی سلسلہ میں مذاہت اربعہ کے درمیان اختلاف ہے لہذا اس میں اہل سنت کو کوئی


 جرم  معلوم نہیں ہوتا بلکہ اس اختلاف کو رحمت قرار دیتے ہیں۔

لیکن اگر شیعوں سے کسی مسئلہ میں اختلاف ہوجائے تو پھر قیامت آجائے گی ، ان پر  طعن و تشینع کی بوچھار ہوجائے گی  اور رحمت ، زحمت میں بدل جائے گی۔ وہ صرف اپنے ہی ائمہ کی راویوں کو قبول کرتے ہیں اور عترتِ طاہرہ(ع) کے ائمہ کو علم و عمل اور فضل  وشرف میں ان کے برابر نہیں سمجھتے ہیں۔

جیسا کہ ہم پیروں کے دھونے کے سلسلہ میں بیان کرچکے ہیں باوجودیکہ انکی کتابیں گواہی دے رہی ہیں کہ قرآن میں مسح واجب ہے اور یہی سنتِ بنی(ص) سے ثابت ہے۔ ( طبقات الکبری ابن سعد ج۶ ص ۱۹۱۔) لیکن اس سلسلہ مین شیعوں کی بات قبول نہیں کرتے ہیں بلکہ انھیں تاویل کرنے والے اور دین سے خارج بتاتے ہیں۔

اور دوسری مثال کہ جس کا ذکر ضروری ہے وہ نکاح متعہ ہے جس کا حکم قرآن میں نازل ہوا ہے اور نبی(ص) کے زمانہ میں اس پر عمل ہوا ہے لیکن اہل سنت متعہ کو حرام قرار دینے والے عمر ابن خطاب کے اجتہاد کی برت کے لئے جھوٹی حدیثیں گھٹ لیںاور انھیں نبی(ص) کی طرف منسوب کردیا ہے اور اس نکاح کو مباح سمجھنے والے شیعوں پر طعن و تشنیع کرنے لگے، متعہ کی حلیت پر شیعوں کے پاس علی(ع) کا قول موجود ہے اور خود اہل سنت کی صحاح بھی گواہی دے رہی ہیں کہ صحابہ نے زمانہ نبی(ص) اور عہد ابوبکر میں نیز ایک مدت تک عمر کی خلافت کے دور میں متعہ کیاہے، اس  بات کو بھی بیان کررہی ہیں کہ متعہ کے حلال ہونے اور حرام ہونے کے سلسلہ میں صحابہ کے درمیان اختلاف ہے۔

ایسے موارد کے لئے کہ جہاں جھوٹی حدیثوں سے انھوں نے نصِ قرآنی کو منسوخ کیا ہے ، بہت سی ثالیں ہیں جس میں سے ہم نے صرف دو مثالیں مذہب اہل سنت سے پردہ ہٹانے اور قارئین کی اطلاع کے لئے پیش کی ہیں کہ وہ قرآن پر حدیث کو مقدم کرتے ہیں اور صریح طور پر کہتے ہیں کہ سنت قرآن پر حاکم و قاضی ہے۔


اہل سنت والجماعت کے فقیہ اور محدث اما عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ متوفی ۲۷۶ہج کھلے لفظوں میں کہتے ہیں: سنت قرآن پر حاکم ہے جبکہ قرآن سنت پر حاکم و قاضی نہیں ہے۔

صاحب مقالات الاسلامیین ، امام اشعری جو کہ اصول میں اہل سنت والجماعت کے امام ہیں ان سے نقل کرتے ہیںکہ سنت قرآن (کے کسی بھی حکم) کو  منسوخ کرسکتی ہے اور اس کے خلاف فیصلہ کرسکتی ہے۔ جبکہ قرآن سنت کو منسوخ نہیں کرسکتا ہے اور اس کےخلاف حکم لگا  سکتا ہے۔

عبداللہ تو یہ فرماتے ہیںکہ امام اوزاعی، ( یہ بھی اہل سنت والجماعت کے  بڑے امام ہیں ) کہتے ہیں: قرآن سنت کا زیادہ محتاج ہے جبکہ سنت قرآن کی محتاج نہیں ہے۔ ( جامع بیان العلم ج۲، ص۲۳۴۔)

اہل سنت کے اقوال ان کے عقیدہ کے غماز ہیں اور یہ بات تو واضح ہے کہ ان لوگوں کے اور اہل بیت(ع)  کے اس قول میں تناقض ہے کہ حدیث کو کتابِ خدا پر پرکھو! اور اس پر تو لو! کیونکہ قرآن سنت  حاکم و قاضی ہے اور یہ بھی طبیعی ہے کہ اہل سنت ان احادیث کی تردید کرتے ہیں اورانھیں قبول نہیں کرتے ہیں۔ اگر چہ ان کو ائمہ اہل بیت(ع) ہی نے بیان کیا ہو کیوں کہ ان سے ان کے مذہب کی دھجیاں اڑتی ہیں۔

بیہقی نے دالائل النبوت میں لکھا ہے: نبی(ص) کی یہ حدیث باطل ہے۔ " جب تمہارے پاس میری کوئی حدیث پہنچے تو تم اسے قرآن سے ملاؤ اگر قرآن کے موافق ہے تو میرا قول ہے اور اگر مخالف ہے تو میرا قول نہیں ہے" باطل ہے اور خود اپنے خلاف ہے  کیونکہ قرآن میں کوئی مفہوم ایسا نہیں ہے کہ جو حدیث کو  قرآن سے ملانے پر دلالت کررہا ہو!

عبدالبر نے عبدالرحمن بن مہدی سے نقل کرتے ہوئے اس بات کی صراحت کی ہے کہ یہ حدیث جو رسول(ص) سے نقل کی جاتی ہے " تمہارے سامنے جب میری کوئی حدیث نقل کی جائے تو


 تم اسے کتابِ خدا سے ملاؤ اگر کتابِ خدا کے موافق ہے تو وہ میرا قول ہے اور اگر کتابِ خدا کے خلاف ہے تو وہ میرا قول نہیں ہے۔ ایسی حدیث کی نسبت رسول(ص)  کی طرف دینا اہل علم کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔یہ حدیث خوارج اور زنادقہ کی  گھڑی ہوئی ہے۔

اس اندھے تعصب کو ملاحظہ فرمائیے کہ جس نے ان کے لئے علمی تحقیق او حق کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ اہل سنت والجماعت اس حدیث کے راوی ائمہ معصومین(ع) کو خوارج اور زنادقہ کہتے ہیں اور ان پر حدیث گھڑنے کا الزام لگاتے ہیں۔

کیا ہم ان سے یہ سوال کرسکتے ہیں کہ حدیث کو گھڑنے سےکہ جس میں قرآن کو ہر چیز کا مرجع بتایا گیا ہے خوارج اور زنادقہ کا کیا مقصد تھا؟؟

عقلمند او منصف مزاج انسان تو انہی زنادقہ اور خوارج کی طرف جھکے گا جو کہ کتابخداکو معظم اور محترم سمجھتے ہیں اور تشریع میں اسے پہلا مصدر  قرار دیتے ہیں۔ کیا اہل سنت واجماعت کی طرف مائل ہونا صحیح ہے جوکہ جھوٹی حدیث کے ذریعہ کتاب خداکے خلاف فیصلؒہ کرتے ہیں اور اپنی من گھڑت سے قرآن کے احکام کو منسوخ کرتے  ہیں۔

اس سلسلہ میں انھیں کوئی علم نہیں ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا یہ تو بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے وہ جھوٹ کے علاوہ کچھ کہتے ہی نہیں ہیں۔(کہف۔۵۰)

اہل سنت والجماعت ائمہ ہدیٰ ، مصابیح الدجیٰ کہ جن کو رسول(ص) نےامت کے لئے اختلاف سےامن کا باعث بتایا تھیا اور فرمایا تھا: قبائل عرب میں سے  جو قبیلہ انکی مخالفت کرے گا وہ پراکندہ ہوکر گروہ ابلیس بن جائے گا۔ زنادقہ اور خوارج کہتے ہیں ائمہ معصومین(ع) کا صرف یہ گناہ ہے کہ وہ اپنے جد کیسنت سے تمسک کئے ہوئے ہیں اور اس کے سوا ابوبکر ، عمر ، عظمان ، معاویہ ، یزیدلع اور مروان و امویوں کی بدعتوں کو ٹھکرا دیا ہے، ار چہ حکومت کی باگ دوڑ انہی مذکورہ افراد کے ہاتھوں میں تھی لہذا وہ اپنے مخالفوں  پر خوارج اور زنادقہ کہہ کر سب وشتم


 کرتے تھے ، ان سے جنگ کرتے اور پراگندہ کردیتے تھے ۔ کیا علی(ع) اور اہلبیت(ع)  پر ان کے منبروں سے اسی(۸۰) سال تک لعنت نہیں ہوئی؟؟ کیا انہوں نے امام حسن(ع) کو زہر اور حسین (ع) اور آپ(ع)کی ذریت کو تلواروں سے شہید نہیں کیا؟

اہلبیت (ع)  جن پر غم والم کے پہاڑ توڑے گئے اور بعد میں بھی ظلم وستم کا سلسلہ جاری رہا انھیں چھوڑتے  ہیں اور ان لوگوں کی طرف پلٹتے ہیں۔ جو کہ اپنے کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں اور قرآن پر تولنے والی حدیث کا انکار کرتے ہیں اور ابوبکر صدیق ، اور ام المؤمنین عائشہ کہ جس سے نصف دین لیا ہے کو زندیق اور خوارج نہیں کہتے۔۔ مذکورہ خدیث کو انہوں نے شہرت دی ہے اور پھر جب کوئی ایسی حدیث ان کے پاس پہنچتی تھی کہ جس کو عائشہ نہیں جانتی تھیں تو  وہ اس حدیث کو قرآن پر تولتی تھیں اگر وہ قرآن کے خلاف ہوتی تھی اسے ٹھکرا دیتی تھیں چنانچہ عمر ابن خطاب کی بیان کردہ اس حدیث کو جھٹلادیا تھا کہ میت پر اس وقت عذاب ہوتا ہے جب اس کے خاندان میں سے کوئی اس پر گریہ  کرتا ہے: عائشہ نے کہا : تمہارے لئے قرآن کافی ہے  وہ کہتا ہے: کوئی ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ( صحیح بخاری، کتاب الجنائز باب قول النبی(ص) لعذاب المیت ببعض بکاء اہلہ علیہ( کذالک مسلم کتاب الجنائز باب المیت ، یعذب ببکاء اہلہ علیہ)

ایسے ہی عائشہ نے عبداللہ ابن عمر کی بیان کی ہوئی اس حدیث کو رد کردیا تھا کہ ، نبی(ص) اس گڑھے پر کھڑے ہوئے  جس میں جنگ بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کو ڈالدیا گیا تھا۔ پھر ان س کچھ فرمایا: اور اس کے بعد اپنے اصحاب کی طرف ملتفت ہوئے اوور فرمایا: وہ یقینا میری باتوں کو سنتے ہیں۔

عائشہ نے کہا : کیا مردے بھی سنتے ہیں؟ نیز کہا: رسول(ص) نے یہ فرمایا تھا کہ وہ اس بات کو ضرور جان لیں گے جو  میں نے  ان سے کہی تھی پھر اس حدیث کی تکذیب کے ثبوت میںوہی حدیث پیش کی جس میں حدیث  کو قرآن کے ذریعہ پرکھنے کا حکم ہے اور پھر یہ آیت پڑھی۔


اور حق ان کے تابع ہے؟

ذوالنورین بھی آپ ہی ہیں ۔ ( اہل سنت والجماعت عثمان کو ذوالنورین کہتے ہیں اور اسکی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی(ص) کی دو بیٹیوں " رقیہ اور ام کلثوم سے شادی کی تھی ، حقیقت یہ ہے کہ دونوں رسول(ص) کی ربیبہ تھیں اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ بیٹی تھیں تو بھی ان کا نورین ہونا ثابت نہیںہے ۔ نبی(ص) سے  تو ان دونوں کے سلسلہ میں کوئی حدیث نہیں فرمائی ۔ یہ نور فاطمہ(س)  کیوں نہ ہوں کہ جن کے متعلق یہ فرمایا ہے: وہ عالمین کی عورتوں  کی سردار ہیں ، پس وہ نور ہیں اور اس بنیاد پر علی(ع) کو  ذوالنورین کیوں نہیں کہتے۔) آپ حسن اور حسین ( علیہماالسلام) جوانانِ جنت کے سردار اور نور نبوت کے باپ ہیں، آپ ہی سیف اللہ ہیں چنانچہ جنگ احد میں جبریل نے آپ کی شان میں فرمایا تھا

             "لافتی الاّ علی لاسیف الاّ ذوالفقار"

حقیقت یہ ہے کہ آپ ہی شمشیر خدا ہیں جس کو خدا نے مشرکین کے لئے نیام سے نکالا تھا، چنانچہ آپ نے مشکوں کے سو ماؤں کو اور ان کے جری و شجاع لشکر کو موت کے گھات اتارا اور انکی ناک رگڑدی یہاں تک کہ انہوں نے مجبورا حق کا اورار کرلیا۔ آپ(علی) اس لئے بھی شمشیر خدا  ہیں کہ آپ نے کبھی میدان جنگ سے فرار نہیں کیا اور نہ کبھی جنگ سے گھبرائے، آپ(ع) ہی نے خیبر  فتح کیا جبکہ بڑے بڑے صحابہ اسے فتح نہ کرسکے اور شکست کھا کر لوٹ آئے تھے۔

لیکن پہلی ی خلافت سے یہ سیاست چلی گئی کہ آپ کی تمام فضیلتوں کو مٹایا جائے اور ہر ایک منصب سے الگ رکھا جائے اور جب معاویہ کے ہاتھ حکومت آئی تو وہ آگے نکل گیا یہاں تک کہ علی(ع) پر لعنت اور تنقیص کا سلسلہ شروع کردیا اور اپنے ہم خیال افراد کی شان بڑھانے اور علی(ع) کے تمام القاب اور فضائل کو زبردستی دیگر صحابہ پر منطبق کرنے لگا اور اس زمانہ میں معاویہ کی تکذیب کون کرسکتاتھا اور اس سے کون ٹکر لے سکتا تھا؟ اور پھر علی(ع) پر سب و شتم اور لعنت کرنے نیز  آپ(ع) سے برت اور بیزاری کے سلسلہ میں معاویہ کی بہت سے لوگوں نے موافقت کی اور " اہل سنت والجماعت" میں سے معاویہ کا اتباع کرنے والے نے حقائق کو الٹ کر رکھدیا چنانچہ نیکی ان کے


 نزدیک برائی اور برائی ان کے نزدیک اچھائی بن گئی اور علی(ع) اور انکے شیعہ زندیق و خوارج اور رافضی بن گئے، لہذا انہوں نے ان کا خون بہانا اور ان پر لعنت کرنا مباح سمجھ لیا اور دشمن خدا و دشمن رسول خدا(ص) اور عدوئے اہل بیت(ع) " اہل سنت والجماعت " بن گئے ، پڑھئے اور تعجب کیجئے اور اگر اس سلسلہ میں آپ کو کوئی شک ہے تو تحقیق اور چھان بین کر لیجئے۔

"ان دونوں کی مثال اندھے ، بہرے ، دیکھنے والے اور سننے والے کی سی ہے کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں، کیا غور نہیں کرتے؟( ہود آیت ۲۴)


نبی(ص) کی احادیث میں تناقض

محقق کو بہت سی ایسی احادیث ملیں گی جو نبی(ص) کی طرف منسوب کی جاتی ہیں در حقیقت انھیں آپ کی وفات کے بعد بعض صحابہ نے گھڑلیا تھا اور لوگوں کو ان کا پابند بنادیا تھا اور زبردستی ان پر عمل کرواتے تھے یہاں تک کہ ان بے چاروں کا یہ اعتقاد بن گیا تھا کہ یہ نبی(ص) افعال اور ان کے اقوال ہیں۔

اسی وجہ سے ان گھڑی ہوئی حدیثوں میں تناقض ہے اور قرآن کے خلاف ہیں ، اس لئے اہلِ سنت کے علماء تاویل پر مجبور ہوئے اور کہا ایک مرتبہ رسول(ص) نے یہ فعل انجام دیا اور دوسری مرتبہ وہ فعل انجام دیا ۔ مثلا علمائے اہل سنت کہتے ہیں :ایک مرتبہ رسول(ص) نے نماز میں بسم اللہ ۔۔۔پڑھی اور ایک مرتبہ بغیر بسم اللہ ۔۔۔ کے نماز پڑھی اور ایک مرتبہ وضو میں پیروں کا مسح کیا اور ایک مرتبہ دوںوں پیروں کو دھویا ۔ اک مرتبہ نماز میں دونوں ہاتھ باندھے ، ایک مرتبہ دوںوں ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھی۔ یہاں تک کہ بعض علمائے اہل سنت نے تو یہ بھی کہدیا کہ رسول(ص) نے ایسا امّت کی آسانی کے لئے کیا تھا کہ وہ جس کو چاہئے انجام دے۔

یہ سفید جھوٹ ہے اور اسلام اس کی تردید کرتا ہے جس کے عقائد کی اساس کلمہ توحید اور عبادی توحید پر استوار ہے۔ یہاں تک کہ ظاہری چیزوں اور لباس میں بھی توحید و اتحاد ہے  چننچہ حج کے زمانہ میں محرِم (احرام باندھنے والے) کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ جیسا چاہئے مخصوص شکل رنگ کا لباس پہنے اسی طرح ماموم کو بھی الگ سے کوئی فعل انجام دینے کی اجازت نہیں ہے۔ اسے حرکات و سکنات ، قیام ورکوع اور سجود وجلوس میں اپنے امام  کا اتباع کرتا ہے۔

اس لئے بھی یہ بات جھوٹی ہے کہ اہل سنت میں سے ائمہ طاہرین(ع) نے ان روایات کا انکار  کیا ہے اور وہ عبادات می شکل و  مضمون کے اختلاف کو قبول نہیں  کرتے تھے۔


جب ہم اہل سنت والجماعت  کی متناقض احادیث کی تحقیق کریں گے تو بہت ملیں گی ۔ انشاء اللہ ہم عبقریب انھیں ایک کتاب  کی صورت  میں پیش کریں گے۔

اور جیسا کہ ہماری عادت ہے یہاں بھی ہم ختصار کے ساتھ بعض حدیثوں کو مثال طور پر پیش کررہے ہیں تاکہ قاری و  محقق کو  یہ معلوم ہوجائے کہ اہل سنت والجماعت کے عقیدہ اور مذہب کی بنیاد کس چیز پر ہے۔

صحیح مسلم  اور جلال الدیں سیوطی کی شرح موطا میں انس بن مالک سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ۔ ابوبکر ، عمر اور عثمان کی اقتدا میں نماز پڑھی ہے لیکن میں نے  ان میں سے کسی کو نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے نہیں دیکھا۔

ایک روایت  میںہے کہ رسول اللہ بلند آواز سے بسم اللہ ۔۔۔۔نہیں پڑھتے تھے اور یہ حدیث انس قتادہ اور ثابت السنبانی وغیرہ سے مروی ہے اورہر ایک نے اس کی نسبت رسول (ص) کی طرف دی ہے مگر یہ کہ آپ(ص) کے لفظ کے سلسلہ میں بہت زیادہ اختلاف ہے۔ حیرانی اور دفاع کی صورت میں ان میںسے کوئی کہتا ہے کہ وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہی نہیں تھے ،کوئی کہتا ہے  بلند آواز  سے نہیں پڑھتے تھے ، کوئی کہتا ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے اور بلند آواز سے پڑھتے تھے، کوئی کہتا ہے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کبھی ترک نہیں کرتے تھے ، کوئی کہتا ہے وہ قرائت کی ابتداء الحمد للہ ربَ العالمین سے کرتے تھے۔

کہتے ہیں : ان  پراکندہ اقوال کے ہوتے ہوئے کوئی فقیہ کسی چیز پر حجت قائم نہیں کرسکتا ہے ۔ ( تنویر الحوالک ، شرح علی موطاء مالک ج۱، ص۱۰۳، ہم کہتے ہیں شکر خدا کہ انہی میں سے ایک نے گواہی دے دی کہا انکی احادیث میں اضطراب اور تناقض ہے اور اسی طرح یہ اعتراف بھی کیا کہ اس اضطراب کے ہوتے ہوئے کسی فقیہہ  کے لئے حجت قائم نہیں ہوسکتی ۔ حجت تو صرف ائمہ اطہار(ع) کے پاس ہے  کہ جنہوں نے کسی چیز میں اختلاف نہیں کیا۔)

لیکن جب آپ اسی کے راوی یعنی انس بن مالک جو کہ رسول(ص) کے ساتھ رہتے تھے کیونکہ


 آپ کے حجب تھے کی احادیث میں تناقض و اضطراب کی معرفت کا راز حاصل کرنا چاہیں گے تو دیکھیں گے کہ وہ ایک مرتبہ روایت کرتے ہیں کہ وہ ۔۔۔۔ رسول اللہ اور خلفائے ثلاثہ ۔۔۔ بسم اللہ الرّحمن الرّحیم نہیں پڑھتے تھے اور ایک مرتبہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی اسے چھوڑا نہیں ۔

جیہاں ! یہ ایکغم انگریز حقیقت ہے کہ نقل حدیث میں اکثر صحابہ نے ان ہی کا اتباع کیا اور ہر ایک نے سیاسی مصلحت کے اقتضا ےکے مطابق اورا مراء کی مرضی کے موافق حدیثیں بیان کی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انس جنے بسم اللہ الرّحمن الرحیم نہ پڑھنے والی روایت اس وقت بیا ن کی جب بنی امیہ اور ان کے حکام و کارندے  ہر اس سنت کو محو کررہے تھے جس پر علی(ع) گامزن  تھے اور اسے زندہ رکھے ہوئے تھے۔

بنی امیہ کی سیاست کی بنیاد ہی علی(ع) کی مخالفت اور ان کے برخلاف عمل کرنے پر قائم تھی۔حضرت علی(ع)  کے بارے میں مشہور تھا کہ آپ(ع)  نمازوں میں یہاں تک اخفاتی نمازوں  می باآواز بلند بسم اللہ ۔۔۔ پڑھتے تھے۔

یہ ہمارا  یا شیعوں  کا دعوی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہم نے اہل سنت والجماعت کی کتابوں نے تصریحات سے لکھا ہے۔

امام نیشابوری نے انس بن مالک کی متناقض روایات بیان کر نے کے بعد، غرائب القرآن میں لکھا ہے کہ ان ( روایات)  پر ایک دوسری بھی تہمت ہے اور وہ یہ کہ علی( رضی اللہ عنہ) بآواز بلند بسم اللہ۔۔۔ پرھتے تھے جب بنی امیہ کا دور آیا تو انھوں علی ابن ابی طالب(ع) کے آثار کو مٹانے میں ایڑی چوٹیکا زور لگا دیا، شاید انس بن ملک ان سے ڈر گئے اور اس لئے ان ے اقوال پراگندہ ہوگئے ۔ ( تفسیر غرائب القرآن ، نیشاپوری، جو کہ تفسیر طبری کی ج۱، ص۷۷، کے حاشیہ پر  مرقوم ہے۔)

اسی سے ملتی جلتی بات شیخ ابوزہرہ نے کہی ہے: کہتے ہیں اموی حکومت نے علی(ع) کے


آثار میں سے قضاوت اور فتوؤں کو ضرور چھپایا ہے لیکن یہ ات معقول نہیں ہے کہ وہ منبروں سے علی پر لعنت کرتے اور یہ بھی معقول نہیں ہے کہ علماء کو آزاد چھوڑدیتے  کہ وہ لوگوں میں آپ(ع) کے علم اور اقوال و فتاوی نقل کریں خصوصا وہ چیزیں جو کہ اسلامی حکم کی اساس سے متصل ہوں۔

الحمد للہ کہ اس نے اہل سنت ہی کے بعض علما کی زبان سے حق کا اظہار کرادیا ہے اور انہون نے یہ اعترافکر لیا ہے کہ علی(ع) بآواز بلند بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کی کوشش کرتے تھے ۔

اس چیز سے ہم یہ  نتیجہ نکالتے ہیں کہ جس چیز نے علی(ع) کو بآواز بلند بسم اللہ ۔۔۔ پڑھنے پر ابھارا وہ یہ ہے کہ خلفا نے عمدا یا سہوا اسے چھوڑ دیا تھا اور اس سلسلہ میں لوگوں نے ان ( خلفا) کی اقتداء کر لی تھی اور یہ فعل ایک ایسی سنت بن گیا تھا جس کا اتباع ہورہا تھا۔ بے شک اخفاتی نماز میں بھی بآواز بلند بسم اللہ ۔۔۔ پڑھنے کی کوشش کیوں کی۔

پھر ہمیں انس بن مالک کی روایات سے چاپلوسی اور بنی امیہ کو راضی کرنے کی بو محسوس ہوتی ہے کہ جنہوں نے انس کو اموال میں ڈوبا دیا تھا اوران کے لئے عظم الشان محل تعمیر کرا دیا تھا ۔ انھیں بھی علی(ع)  سے دشمنی بھی ۔ طیر مشوی کے واقعہ سے ان کا بغض  ظاہر ہوگیا تھا چنانچہ جب نبی(ص) نے فرمایا : پروردگارا میرے پاس اسے بھیجدے جو تیرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے، تاکہ وہ اس پرندہ کو میرے ساتھ تناول کرے۔ علی(ع) تشریف لائے تو انس  نے آپ کو تین مرتبہ واپس کیا چوتھی بار رسول(ص)  کو معلوم ہوگیا تو انس سے فرمایا : تمہیں ایسا کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا ؟ اس نے کہا: میں چاہتا تھا کہ کوئی انصار میں سے آئے۔( حاکم نے مستدرک میں نقل کیا ہے اور شیخیں کی شرط پر اسے صحیح  قرار دیا ہے ۔ ترمذی ج۲، ص۲۹۹، ریاض النفرہ ج۲، ص۱۶۰،  تاریخ بغداد ج۳، ص۱۷۱، کنز العمال ج۶، ص۴۰۶، خصائص نسائی ص۵، اسد الغابہ ج۴، ص۳۰)

اس صحابی کے لئے  تو اتنا ہی کافی ہے کہ نبی(ص) اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ میرے پاس اسے بھیجدے جو تجھے پوری مخلوق سے زیادہ محبوب ہے اور خدا اپنے رسول(ص) کی دعا قبول کرتا ہے اور علی(ع) کو


 بھیجدیتا ہے لیکن انس کو جو آپ سے بغض تھا اس نے انس کو جھوٹ بولنے پر ابھارا اور انھوں نے علی(ع) کو یہ کہہ کر واپس کردیا کہ نبی(ص) اس وقت مشغول ہیں اور یہی پے درپے تین بار دھرایا کیونکہ انس نہیں چاہتے تھے کہ نبی(ص) کے بعد خدا کے نزدیک علی(ع) سب سے زیادہ محبوب قرار پائیں لیکن علی(ع) نے چوتھی بار بمشکل دروازہ کھولا اور داخل ہوگئے۔ نبی(ص) نے دریافت کیا اے علی(ع) تمہیں مجھ تک پہنچنے  سے کس نے روکا؟ عرض کی میں آپ کے پاس آنا چاہتا تھا لیکن انس نے مجھے تین بار واپس کیا : رسول(ص) نے فرمایا: اے انس اس کام پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا؟ انس کے کہا اے اللہ کے رسول(ص) میں نے آپ کی دعا سن لی تھی اس لئے میں چاہتا تھا کہ وہ شخص میری قوم سے ہو۔

اس کے بعد بھی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہےکہ پوری زندگی انس کے دل میں علی(ع) کا بغض باقی رہا چنانچہ جب رحبہ کے دن علی(ع) نے ان سے فرمایا : حدیث غدیر بیان کرو تو انہوں نے اس سے پہلو تہی کی اور آپ نے انس کے لئے بد دعا کی تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ بھی نہیں پائے تھے کہ برص کے مرض میں مبتلا ہوگئے پھر انس علی(ع)  کے دشمن کیوں نہ ہوتے جب کہ انھیں آپ کی ذات سے شدید نفرت تھی اور آپ کے دشمنوں کا تقرب ڈھونڈتے تھے اور آپ سے بیزاری کا اظہارکرتے تھے۔

ان ہی تما چیزوں کی وجہ سے ان کی روایت جو خصوصا بسم اللہ کے سلسلہ میں نقل ہوئی ہے وہ انہوں نے معاویہ بن سفیان کی محبت میں بیان  کی تھی۔ کہتے ہیں : میں نے نبی(ص) ابوبکر، عمر اور عثمان کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ یعنی اس طرح  وہ یہ قبول نہیں کرتے ہیں کہ میں نے علی(ع) کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور یہ بالکل وہی چیز ے جو معاویہ اور اس کے ہمنوا چاہتے تھے کہ خلفائے ثلاثہ کا ذکر بلند ہو  اور علی(ع) کا ذکر مٹ جائے اور ان کانام تک نہ لیا جائے۔

اورجو کچھ ائمہ اطہار(ع) اور ان کے شیعوں کے طریق سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ علی(ع) سورہ فاتحہ اور اس کے بعد والے سورہ کی بسم اللہ ۔۔۔ کو بآواز بلند پڑھتے تھے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کے طریق سے بھی ثابت ہوچکا ہے کہ آپ(ص) بسم اللہ۔۔۔ کو بلند آواز سے  پڑھتے تھے ۔ یہاں تک کہ اخفاتی نمازوں میں بھی ۔ پس اس سے یہ ثابتہوگیا یہی نبی(ص) کی صحیح سنت ہے۔ جس نے بسم اللہ۔۔۔ ترک


 کی اس نے ایک واجب ترک کردیا اور اپنی نماز کو باطل کردیا۔کیوں کہ سنت کی مخالفت وضلالت و گمراہی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: رسول(ص) جو تمہارے پاس لائیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔

اس کے علاوہ ہمارے پاس چند ایسے ماخذ موجود ہیں جن سے صحابہ کی روایات کا سنت نبی(ص) کے خلاف ہونا آشکار ہےان میں سے چند مثالیں ہم گذشتہ بحثوں میں بیان کرچکے ہیں اور بعض کو آنے والی بحثوں میں ذکر کریں گے۔ ان تمام  چیزوں میں اہم بات یہ ہے کہ: اہل سنت والجماعت  صحابہ کے اقوال و افعال کا اتباع کرتے ہیں۔

             اولا :ان کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کے اقوال و افعال لازمی طور پر سنت ہیں۔

             ثاینا : وہ اس شبہ میں مبتلا ہیں کہ جو کچھ صحابہ نے کہا ہے وہ سنت نبی(ص) کے خلاف نہیں ہے ۔ جبکہ صحابہ اپنی رائے سے فیصلہ کرتے تھے اور اسے نبی(ص) کی طرف منسوب کردیتے تھے۔ یہاں تک کہ لوگوں میں ان کا اثر ورسوخ ہوگیا اور اعتراض کرنے والوں سے محفوظ ہوگئے۔

پھر علی(ع) ابن ابی طالب ہی ایک مخالف تھے کہ جنہوں نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اپنے اقوال و افعال اور قضاوت کے ذریعہ لوگوں کو سنت نبوی(ص) کی طرف پلٹانے کی پوری کوشش کی لیکن آپ اس میں کامیاب نہ ہوسکے کیوں کہ مخالفین نے آپ(ع) کوجنگوں میں مشغول کردیا، ایک جنگ ختم نہیں ہوئی تھی کہ وہ دوسری جب کی آگ بھڑکادیتے تھے۔ جنگِ جمل ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے جنگِ صفیں کی آگ بھڑکادی اور ابھی جنگ صفین تمام نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے جنگِ نہروان کے شعلوں کو  ہوا دی۔ ابھی وہ ختم نہیں ہوئی تھی کہ آپ(ع) کو محراب عبادت میں شہید کردیا۔

جب معاویہ تخت خلافت پر متمکن ہوا تو اس کی پوری کوشش نور خدا کو بجھانے میں صرف ہوتی چنانچہ وہ پوری طاقت و توان کے ساتھ اس سنت نبوی(ص) کو برباد کرنے میں مشغول ہوگیا کہ جس کو امام علی(ع)  زندہ رکھے ہوئے تھے اور لوگوں کو خلفائے ثلاثہ کی اس طاعت کی طرف پلٹانے کی تگ و دو کرنے لگا کہ جس کو لوگوں کے لئے دستور العمل بنا چکا تھا اور دوسری طرف حضرت علی(ع) پر لعنت


 کا آغاز کیا اور اس  فعل شنیع کو اس قدر اہمیت دی کہ ہر ایک ذاکر برائی  ہی سے آپ(ع) کا ذکر کرتا تھا ۔ اور تمام برائیاں آپ کی طرف منسوب کرتا تھا۔

مدائنی کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ کے پاس گئے اور کہا: اے امیرالمؤمنین ! علی(ع) مرگئے اور اب تمہارے لئے کوئی خوف نہیں ہے بس اب یہ لعنت کا سلسلہ بند کرو، معاویہ نے کہا: قسم خدا کی یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب بوڑھا بالکل ضعیف اور بچہ جوان ہوجائے گا۔

مدائنی کہتے  ہیں: ایک زمانہ تک بنی امیہ اسی نہج پر باقی رہے اور یہی چیز انہوں نے اپنے بچوں ، عورتوں، خدمت گاروں اور غلاموں کو سکھائی چنانچہ معاویہ کو  اپنے مقصد میں بڑی کامیابی ملی کیوںکہ اس نے پوری ملت اسلامیہ کو ( چند کو چھوڑ کر ) اس کے حقیقی قائد و ولی سے  دور کردیا تھا اور اسے اپنے قائد کی دشمنی اور اس سے بیزاری پر پوری طرح تیار کردیا تھا اور ملت اسلامیہ کے سامنے باطل کو حق کے لباس میں پیش کیا تھا اور اسے اس بات کامعتقد بنا دیا تھا کہ وہی ( اہل سنت ہیں  اور جو علی(ع) سے دوستی رکھتا ہے اور ان کا اتباع کرتا ہے وہ بدعتی اور خارجی ہے۔

اور جب  امیر المؤمنین امام علی(ع)  پر منبروں سے لعنت کی جاتی تھی اور فآپ پر لعنت کر کے خدا کا تقرب ڈھوںڈا جاتا تھا۔ آپ کا اتباع کرنے والے شیعوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا ہوگا۔ان کے عطا کو روک دیا گیا تھا، ان کے شہر و دیار کو جلادیا گیا تھا اور انھیں کھجور کی شاخوں پر سولی دی جاتی تھی، زندہ دفنا دیا جاتا تھا، لاحول و لاقوّۃ الا باللہ العلی العظیم۔

میری نظر میں معاویہ ایک عظیم سازش کے سلسلہ کی کڑی ہے لیکن حقائق کو چھپانے اور انھیں الٹ کر پیش کرنے اور امت کو اسلام کے لباس میں ملبوس جاہلیت کی طرف لوٹانے  میں اس کو دوسروں سے زیادہ کامیابی ملی۔

اس بات کی طرف اشارہ کردینا بھی مناسب ہے کہ معاویہ گذشتہ خلفا سے زیادہ زیرک تھا ۔ بہر و پیہ موقع و محل کے لحاظ سے روپ دھار لیتا تھا، کبھی اتنا روتا تھا کہ حاضرین متاثر ہوجاتے


 تھا اور وہ معاویہ کو مخلص بندوں  میں سے بہت بڑا زاہد سمجھنے  لگتے تھا اور کبھی قساوت قلبی اور جبر کا اظہار کرتا تھا ، یہاں تک کہ حاضرین یہ سمجھنے لگتے تھے کہ وہ ملحد ہے  اور بدو تو اسے رسول اللہ(ص) سمجھتے تھے۔

بحث کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ محمد ابن ابی بکر اور معاویہ کے درمیان ہونے والی  خط وکتابت کو پیش کیا جائے ۔ ان دونوں کے خطوط میں ایسے حقائق موجود ہیں جن سے محققین کا آگاہ ہونا ضروری ہے۔


محمّد بن ابی بکر کا خط معاویہ کے نام

محمد بن ابی بکر کاخط گمراہ معاویہ بن صخر کے نام

خدا کے طاعت گذاروں پر سلام ہو کہ جنہوں نے ولیّ خدا کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہے۔

اما بعد۔

بے شک خدا نے اپنی عظمت و جلالت اور قدرت وتسلط سے اپنی مخلوق کو عبث پیدا نہیں کیا ہے اور نہ اسکی قوت میں ضعف ہے اور نہ ہی ان کی خلقت میں وہ محتاج ہے۔ لیکن خدا نے مخلوق کو مطیع و فرمانبردار پیدا کیا ہے اوران میں بعض کو ہدایت یافتہ اور بعض کو گمراہ اور بعض شقی اور بعض  کوسعید قرار دیا۔ پھر ان پر نظر ڈالی اوران میں سے محمّد (ص) کو منتخب کیا اور اپنی رسالت سے  مخصوص کیا اور اپنی وحی اور اپنے امر کی امانت کے لئے چنا ۔ انھیںرسول (ص) بنا کر

بھیجا ۔ پس وہ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بن گئے اور آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والے اور شریعتوں پر دلیل ہیں ۔ انھوں نے حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ لوگوں کو راہ خدا کی طرف دعوت دی تو سب سے پہلے علی(ع) نے قبول کیا اور رغبت کی اور ایمان لائے ، تصدیق کی، اسلام


قبول کیا اور خضوع اختیار کیا ۔ غیب کےسلسلہ میں ان کی تصدیق کی اور ہر سختی مٰں آپ(ص) کے ساتھ رہے۔ اور ہر خوف کے وقت بنفس نفیس ان  کی حمایت کی اور ہر مشکل و خوفناک وقت میں آپ کے شریک کاررہے ۔ آپ(ص) سے جنگ کرنے والوں سے جنگ کی اور جس سے آپ(ص) نے صلح کی اس  سے صلح کی۔ علی(ع) اس وقت بھی قائم رہےجب لوگوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں اور دل دہل جاتے  ہیں ، یہاں تک کہ اپنے جہاد میں وہ مقام حاصل کیا جس کی نظیر نہیں ملتی اور وہ کارنامے انجام دیئے جس میں کوئی آپ(ع) کے قریب تک نہ پہنچ سکا۔

میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم خوبیوں میں ان سے مقابلہ کرنا چاہتے ہو، تم ، تم ہو ، وہ ، وہ ہیں وہ ہر ایک نیکی میں سب سے آگے ہیں ۔ سب لوگوں سے پہلے انھوں نے اپنےاسلام  کا اظہار کیا ۔ نیت کے لحاظ سے سب سے سچے ہیں ان کی ذریت بہترین ذریت ہے۔ ان کی زوجہ سب سے نیک و افضل و اعلیٰ ہیں۔ ان کے ابن عم سب سے افضل ہیں ، انکے بھائی نے جنگ موتہ میں اپنا نفس ( خدا کے ہاتھ) بیچ دیا تاھ، سید الشہداء جناب حمزہ ان کے چچا ہیں ، ان کے والد نے ( تا حیات) رسول(ص) اور آپ(ص) کے مقصد سے دفاع کیا۔ تم لعین ابن لعین ہو اور تمھارے باپ نے ہمیشہ دینِ خدا میں فریب کاری سے کام لیا ہے اور نور خدا کو بجھانے کی کوسشش میں لگے رہے۔( اسلام پر) لشکر کشی کرتے رہے، اس سلسلہ میں مال خرچ کیا، قبائل کو دین خدا کے خلاف اکسایا۔

اس حالت میں تمھارے باپ کو موت آئی تو اپنے مقصد کے لئے تمھیں اپناخلیفہ چھوڑ گیا۔ اس کی گواہی تو تمھارے حاشیہ نشین دیں گے۔ رسول(ص) سے نفاق و دشمنی رکھنے والوں کے سرداروں نے تمھارے دامن میں پناہ لی ہے اور علی(ع) کی آشکار فضیلت اور ابتدا ہی سے تمام کاموں میں سبقت کے ساتھ ساتھ ان کے انصار گواہ ہیںجن کا خدا نے قرآن میں ذکر کیا ہے اور انصار و  مہاجرین میں سے جو ان کے ساتھ ہیں ان کی فضیلت بیانکی ہے ۔ پس انصار و مہاجرین ان(عل(ع)) کے ساتھ ایک فوجی دستہ اور بٹالین کی صورت میں ان سے دفاع کے لئے جہاد کرتے ہیں اور ان کی حفاظت و زندگی کے لئے خون بہاتے ہیں، ان کا اتباع کرنے والوں کو حق پر ان کی مخالفت


 کرنے والوں شقاوت پر سمجھتے ہیں۔

خدا تمھیں سمجھے ان تمام باتوں کے باوجود تم کیسے خود کو علی(ع) کے برابر قرار دیتے ہو جبکہ علی(ع) وارثِ رسول(ص) اور آپ(ص)  کے وصی ہیں اور نبی(ص) کے بیٹوں کے باپ ہیں، سب سے پہلے انھوں نے آپ(ص) کا تباع کیا اور سب سے زیادہ آپ(ص) سے نزدیک ہیں۔ رسول(ص) نے علی(ع) کو اپنا راز دار بنایا۔ اپنے امر سے خبردار کیا اور تم ان کے دشمن اور ان کے دشمن کی اولاد ہو؟!

پس تم اپنے باطل کے ذریعہ اپنی دنیا سے جتنا چاہو فائدہ اٹھالو، تمھارے مقصد کے حصول میں عمرو بن عاص لازمی تمھاری مدد کرے گا، گویا تمھارا وقت آ پہنچا ہے اور تمھارے مکرو فریب کے بند ڈھیلے ہورہے ہیں۔ عنقریب تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ عاقبت کس کی بلند و بہتر ہے۔

یہ جان لو کہ تم نے خدا سے مکر کیا کہ جس کی تدبیر نے تمھیں محفوظ رکھا، اس کی رحمت سے تم مایوس ہوچکے ہو اور خدا تمھاری گھات میں ہے اور تم اس سے بے خبر ہو۔

والسلام علی من اتبع الھدیٰ ۔ ( جمھرہ رسائل العرب جلد۱ ص۴۷۵) مروج الذہب مسعودی جلد۲ ص۵۹، شرح ابن ابی الحدید جلد۱،ص۲۸۳)

اس خط میں محمد ابن ابی بکر نے حقیقت کے متلاشی افراد کے لئے ٹھوس حقائق قلم بند کئے ہیں۔ وہ معاویہ کو ضال و مضل اور لعین ابن لعین قرار دیتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ معاویہ نورِ خدا کو بجھانے کے لئے پوری کوشش کرتا ہے اور دین میں تحریف کرنے کے لئے اموال خرچ کرتا ہے اور دینِ خدا میں شر پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ کہ معاویہ دشمنِ خدا اور عدوئے رسول(ص) ہے ۔ اور عمرو بن عاص کی مدد سے باطل امور کا ارتکاب کرتا ہے۔اسی طرح یہ خط حضرت علی ابنابی طالب(ع) کے ان فضائل و مناقب کا بھی انکشاف کرتا ہے کہ جو نہ کسی کو ںصیب ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے اور حق یہ ہے کہ جو فضائل و مناقب محمد بن ابی بکر نے شمار کرائے ہیں ان سے کہیں زیادہ آپ(ع) کے فضائل و مناقب ہیں۔ فی الحال اہم بات یہ ہے


کہ معاویہ ابن ابی سفیان نے بھی اس خط کا جواب دیا ہے اسے بھی پیش کررہے ہیں تاکہ آپ محققین ، پوشیدہ حقیقت اور تاریخ مخفی سازش سے آگاہ ہوجائیں اور اس سازش کے وہ تارو پود بھی آشکار ہوجائیں کہ جس نے خلافت سے اس کے شرعی حقدار کو الگ کیا تھا اورپھر امت کی گمراہی کا  سبب بنی  معاویہ کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔


معاویہ کا جواب

یہ خط معاویہ ابن صخر کی طرف سے محمد ابن ابی بکر کے نام ہے۔

                                             سلام ہو اللہ کے طاعت گزار پر

اما بعد :

تمہارا وہ خط ملا جس میں تم نے خدا کی قدرت  و عظمت اوراس کی بادشاہت بیان کی ہے، اسی طرح رسول(ص) کے اوصاف بھی کثرت سے بیان کئے ہیں لیکن اس میں تمہاری رائے ضعیف اور تمھارے والد کی سرزنش ہے۔

اس خط میں تم نے علی ابن ابی طالب(ع) کے فضائل اور ان کا تمام چیزوں میں سابق ہونا اور آپ کی رسول(ص) سے قرابت ، انکی مدد اور ہر خوف وہراس کے موقع پر علی(ع)  کا رسول(ص) کے ساتھ رہنا بیان کیا ہے گویا تم نے مجھ پر حجت قائم کی ہے اور اپنے غیر کے فضل و کمال پر تم فخر کررہے ہو۔ میں خدا کی حمد کرتا ہوں کہ جس نے یہ فضل و کمال تجھ سے ہٹا کر غیر کو عطا کیا۔

حیاتِ نبی(ص) میں ہم اور تمھارے باپ دونوں ہی علی ابن ابی طالب(ع) کے حق کو  اچھی طرح سمجھتے


 اور جانتے تھے، ان کے فضائل و کمالات  عیاں تھے پس جب خدا نے نبی(ص) کو منتخب کیا اور ان کے لئے اپنا وعدہ پورا کیا، ان کی دعوت  کو آشکار کردیا اوران کی حجت کو  قائم کردیا تو خدا نے انھیں (نبی(ص) کو) اٹھا لیا تو تمھارے اور ان کے دوست نےسب سے پہلے علی(ع) کی مخالفت کی اور زبردستی ان کا حق چھین لیا، اس میں وہ ( ابوبکر اور عمر) دونوں ہی شریک تھے اور دونوں  نے اس (خلافت) سے فائدہ اٹھایا، پھر تمھارے باپ اور ان کے دوست (عمر) نے علی(ع) سے بیعت کا مطالبہ کیا تو انھوں نے تامل کیا اور عذر کیا تو انھوں نے علی(ع) پر حملہ کیا اور ورپئے آزار ہوئے پھر حضرت علی(ع) نے ان ہی سے مصالحت کر لی لیکن تمھارے باپ اور ان کے دوست (عمر) نے یہ طے کیا کہ علی(ع) کو اپنے کسی کام میں شریک نہ کریں گے اور نہ اپنا راز بتائیں گے چنانچہ دونوں (ابوبکر و عمر) کو اسی حالت میں موت آئی اور قصہ ختم ہوا، پھر ان کا تیسرا ،" عثمان" کھڑا ہوا اور اس نے بھی انہی دونوں کا راستہ اختیار کیا اور انہی کیسیرت کو اپنایا تو اس پر تم نے اور تمھارے آقا(علی(ع))  نے حسد کیا یہاں تک کہ دور دراز کے معصیت کار بھی خلافت کی طمع کرنے لگے پس تم نے اس کے لئے چال چلی اور وہ چیز حاصل کر لی جس کا خواب دیکھا تھا۔

 ابوبکر کے بیٹے اپنے لئے اسباب فراہم کرلو، عنقریب تم اپنے ئے چکھو گے۔ اب تمجاپنے پیمانے اور تخمینہ سے اچھی طرح اندازہ کر کے دیکھو تو اس شخص سے کسی طرح بھی برابری نہیں کر سکو گے جو اپنی عقل سے پہاڑوں کو تول لیتا ہے اور وہ اپنے نیزے کی  گرفت میں نرم نہیں ہے اور کوئی اس کے صبر کا اندازہ نہیںلگا سکتا۔

تمہارے باپ نے اس کے لئے راستہ ہموار کیا اور اس کی بادشاہت  کی بنیاد کرکھی پس اگ ہم صحیح راستہ پر گامزن ہیں تو تمہارے والد اس کے پہلے سالک ہیں اور اگر ہم ظالم ہیں تو  تمہارے باپ نے ظلم کیا اورہم ان کے شریک کار ہیں ، ہم نے انکے راستہ کو اختیار کیا اور ان کے افعال کی اقتداء کی ، اگر تمہارے والد نے پہلے یہ نہ کیا ہوتا تو ہم ابن ابی طالب(ع) کی کبھی مخالفت نہ کرتے اور خلافت ان ہی پر چھوڑ دیتے لیکن ہم نے دیکھا کہ یہی کام پہلے تمہارے باپ انجام دے چکے ہیں تو ہم نے ان کی پیری کی اور ان کے افعال میں ان کی اقتداء کی پس اب تم اپنے باپ کو برا بھلا کہو یا چشم


پوشی کرلو!

                                                     والسلام علی من اناب ورجع من غوايته و تاب

( جمہرۃ رسائل العرب ج۱ ص ۴۷۷، مروج الذہب ج۲ ص ۶۰، شرحِ ابن ابی الحدید ج۱ ص۲۸۶)

معاویہ کے اس جواب سے ہم یہ نتیجہ نکالتے  ہیںکہ وہ حضرت علی ابن ابی طالب(ع) کے فضائل اور کمالات کا منکر نہیں تھا لیکن اس سلسلہ میں اس نے ابوبکر و عمر کے راستہ کو اختیار کیا ، اگر یہ دونوں نہ ہوتے وہ ( معاویہ) کبھی علی(ع) کو حقیر نہ سمجھتا اور نہ کوئی شخص آپ پر سبقت کرتا جیسا کہ معاویہ نے اعتراف کیا ہے کہ بنی امیہ کی بادشاہت اور خلافت کے لئے تو ابوبکر نے راستہ ہموار کیا ہے اور انہوںنے( ابوبکر نے) ہی انکی بادشاہت کی بنیاد رکھی ہے۔

اور معاویہ کے س خط سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ معاویہ نے رسول(ص) کی اقتداء نہیں کی اور نہ آپ کے راست پر چلا جیسا کہ جیساکہ اس نے اس بات  کا اعتراف بھی کیا ہے کہ میں نے عثمان نے ابوبکر اور عمر کی سیرت پر عمل کیا۔

اس خط سے یہ بات بھی آشکار ہوجاتی ہےکہ ان سب ( ابوبکر و عمر و عثمان اور معاریہ ) نے رسول(ص) کی سنت کو چھوڑ دیا تھا اور ایک دوسرے کی بدعت کی پیروی کرتے تھے جیسا کہ معاویہ کو اس بات  کا اعتراف ہے کہ وہ ان  گمراہ لوگوں میں سے ایک تھا جو کہ باطل امور انجام دیتے تھے اور انھیں نبی(ص) نے لعین ابن لعین کہا ہے۔

عام قائدہ کے مطابق اس خط کا تذکرہ کردینا بھی مناسب سمجھتا ہوں جو یزید(لع) ابن معاویہ نے ابنِ عمر کے جواب میں لکھا تھا۔ اگر چہ اس کا جواب بھی لب لباب وہی ہے جو اس کے باپ کے خط کا ہے ۔

             بلاذری نے اپنی تاریخ میںلکھا ہے کہ:

جب حسین ابن علی ابن ابی طالب(ع)  شہید کردیئے گئے تو عبداللہ ابن عمر نے یزید (لع) کودرج ذیل مضمون پر مشتمل ایک خط لکھا:


             امّا بعد :

غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور مصیبتیں عیاں ہوگئیں اور اسلام میں عظیم رخنہ پڑگیا اور قتلِ حسین(ع) جیسا کوئی دن نہ ہوگا۔

یزید (لع) نے جواب لکھا :

اما بعد :

اے بیوقوف ہم تو اس نئے گھر میں ، کہ جس میں فرش بچھا ہوا ہے ، تکئے لگے ہوئے ہیں ، اب آئے ہیں۔ انہوں ( حسین ابن علی(ع)) نے اس سلسلہ میں ہم سے جنگ کی۔

پس اگر یہ ہمارا حق ہے تو ہم نے اپنے حق سے دفاع کے لئے جنگ کی اور اگر یہ ہمارے غیر ( علی اور اولادِ علی(ع)) کا حق ہے تو سب سے پہلے تمہارے باپ نے یہ ریت قائم کی اور حقدار کے ہاتھ سے چھین لیا۔

اور معاویہ نے جو ابوبکر کے بیٹے کی تردید کی ہے اور یزید(لع) نے جو ابن عمر کو جواب دیا ہے اس میں ہمیں وہی منطق اور احتجاج ملتا ہے ، قسم اپنی جا ن کی یہی لازمی امر تھاکہ جس کو ضمیر کہتا ہے اور عقلمند محسوس کرتا ہے اس سلسلہ میں معاویہ اور اس کے بیٹے یزید(لع) کی گواہی بھی ضروری نہیں ہے۔

اگر حضرت علی(ع) پر ابوبکر او عمر استبداد نہ کرتے تو ملتِ اسلامیہ پر جو کچھ گذر گئی وہ نہ گذرتی اور اگر نبی(ص) کے بعد علی(ع) کو خلافت مل گئی ہوتی اور آپ مسلمانوں کے حاکم بن گئے ہوتے تو ان کی خلافت چالیس (۴۰) سال تک یعنی نبی(ص) کے بعد تیس (۳۰) سال تک باقی رہتی اور اسلام کے قوانین اور اصول و فروع کو مضبوط کرنے کے لئے یہ مدت کافی تھی اور آپ(ع) بغیر کسی تحریف و تاویل کے کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کے مطابق عمل کراتے ۔

اور جب آپ کی وفات کے بعد جوانانِ جنت کے سردار امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) اور ان کی معصوم اولاد کو خلافت ملتی تو پھر تین سو سال تک خلافتِ راشدہ کا دور رہتا کہ جس کے بعد کافروں، منافقوںاور ملحدوں کا نہوجود رہتا اور نہ اثر رہتا ظاہر ہے اس زمین کا کچھ اور ہی رنگ ہوتا اور آج


کے لوگوں کی کیتیت ہی کچھ اور ہوتی

                     لاحول ولا قوّة الا بالله العلی العظيم

اس احتمال پر بعض اہل سنت والجماعت ہمیشہ اعتارض کرتے ہیں کہ جسکی دو وجہیں ہیں۔

۱۔۔۔۔وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوا ہے وہ بھی خدا چاہتا تھا اور اس نے ایسے ہی مقدر کیا تھا ، اگر خدا علی(ع) اور ان کی اولاد کو مسلمانوں کا خلیفہ بنانا چاہتا تو ضرور ایسا ہی ہوتا، اہل سنت ہمیشہ اسی میں پڑے رہتے  ہیں کہ خدا کی اختیار کردہ چیز میں خیر ہے۔

۲۔۔۔۔وہ کہتے ہیں کہ : اگر نبی(ص) کی وفات کے فورا علی(ع) خلیفہ بن گئے ہوتے اور ان کے بعد تختِ خلافت پر حسن و حسین علیہما السلام متمکنہوئے ہوتے تو خلافت ایک میراث بن جاتی جو کہ باپ سے بیٹوں کی طرف منتقل ہوتی ہے اور اسے اسلام پسند نہیں کرتا ہے بلکہ اس نے خلافت کا مسئلہ شورای پر چھوڑا ہے۔

             اس کا جواب میں ہم کہتے ہیں :

اولا ۔۔۔ اس بات پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ جو کچھ ہوا ہے وہ خدا کا ارادہ تھا اور یہی مقدر تھا بلکہ قرآن اور حدیث میں اس کے برعکس دلیلیں موجود ہیں  چنانچہ قرآن میں ارشاد ہے:

اگر دیہاتوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور تقوا اختیار کرتے تو ہم ان پر  زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے ہمارے پیغمبر(ص) کے جھٹلایا تو ہم نے بھی ان کے کرتوتوں کی بدولت انھیں عذاب میں مبتلا کردیا۔ ( سورۃ اعراف، آیت۹۶)

اور سی طرح ارشاد ہے:

اور اگر یہ لوگ توریت او انجیل اور جو کچھ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کے مطابق احکام قائم رکھتے تو ضرور ان پر آسمان و زمین کے دروازے کھل جاتے اور وہ اچھی طرح کھاتے ان میں کچھ لوگ اعتدال پسند ہیں اور بہت سے ہیں کہ برائی کرتے ہیں(مائدہ ۶۶)


 نیز ارشاد ہے :

اگر تم خدا کا شکر کرتے اور اس پر ایمان  لاتے تو خدا تم پر کیون عذاب کرتااور خدا تو قدر دان اور واقف کا ر ہے۔(نساء ۱۴۷)

دوسری جگہ ارشاد ہے :

بے شک خدا  اس وقت تک کسی قوم ی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں۔ ( رعد ۱۱)

ان واضح اور روشن آیتوں سے یہ بات آشکار ہے کہ جو کچھ اںحرافات ہیں وہ فردی ہوں یا اجتماعی وہ سب انہی کی طرف سے ہیں۔

حدیثِ رسول(ص) ہے:

میں نے تمہارے درمیان کتابِ خدا اور اپنی عترت چھوڑی ہے، اگر تم ان دونوں سے وابستہ رہوگے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔

نیز فرمایا :

لاؤ تمہارے لئے نوشتہ لکھ دوں کہ جس سے تم  میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔

آپ(ص) نے ہی فرمایا : عبقریب میری امت (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان میں سے ایک جنتی ہے اور باقی جہنمی ہیں۔

ان تمام حدیثوں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ امت اس لئے گمراہ ہوئی کہ اس نے خدا کی اختیار کی ہوئی چیز سے منہ موڑ لیا تھا۔

ثانیا :         فرض کیجئے کہ اسلامی خلافت وراثت بن جاتی تو کوئی ( حرج نہیں تھا) کیونکہ یہ اپنی میراث نہ بنتی جیسا کہ ان کا خیال ہے کہ حاکم اپنی رعیت پر استبداد کر کے اپنیوفات سے قبل اپنے بیٹے کو اس کا حاکم بنا دیتا ہےجس کو ولی عہد کہا جاتا ہے چاہے دونوں باپ بیٹے فاسق ہوں۔ بلکہ یہ


( خلافت) خدائی میراث ہوتی، جس کو اس خدا نے اختیار کیا ہے کہ جس کے علم سے رائی کے دانے کا بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کے لئے ایسے چنیدہ افراد کو مخصوص کیا ہے جن کو اس نے منتخب کیا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کا وارث بنایا ہے  تاکہ وہ لوگوں کے امام بن جائیں۔ چنانچہ ارشاد ہے:

اور ہم نے انھیں امام بنایا وہ ہمارے حکم سے ان کی ہدایت کرتے ہیں اور ہم نے نیک کام نماز قائم کرنے اور زکواۃ دینے کے لئے ان پر وحی نازل کی ہے اور وہ ہمارے عبادت گزار ہیں۔( انبیاء ۷۳)

باوجود یکہ اہل سنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ  اسلام خلافت کے میراث قرار نہیں دیتا ہے اور اس کا فیصلہ شوری پر چھوڑتا ہے۔ لیکن مغالطہ ہے، تاریخ اور واقعات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ در حقیقت خود وراثت والے منفور نظام میں مبتلا ہیں ۔ حضرت علی(ع) کے بعد ظالم و غاصب لوگ امت کے حاکم بنے کہ جنہوں نے امت کی ناراضگی کے باوجود اپنے فسق بیٹوں کو امت کا حاکم بنادیا۔

پس ان می سے کون سا افضل ہے ، فاسق اپنی خواہش نفس سے میراث کے طور پر اپنے بیٹوں کو خلیفہ بنائیں؟ یا ائمہ طاہرین(ع) کہ جنہوں نے منتخب کیا اور جن سے رجس کو دور رکھا ہے، علم کتاب کا وارث بنیا تا کہوہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کریں اور انھیں سیدھے راستہ کی ہدایت کریں اور انھیں نعمتوں  والی جنت میں داخل کریں۔ پھر ارشاد ہے:

             داؤد (ع) نے  سلیمان(ع) کو وارث بنایا۔ ( نحل ۱۶)

میں تو سمجھتا ہوں کہ عقلمند مسلمان دوسری ہی شق کو اختیار کرےگا! گذشتہ باتوں پر افسوس کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے ہم اپنے موضوع  کی طرف پلٹتے ہیں۔جب ابوبکر و عمر نے امری المؤمنین علی(ع۹) کو تختِ خلافت سے الگ رکھا اور دونوں خلافت کی قمیص کو زبردستی پہن لیا اور اس کی آڑ میں علی(ع) فاطمہ(س) اور اہل بیت (ع) کی توہین کی تو اب معاویہ، یزید(لع) اور عبدالملک ابن مروان جیسوں کے لئے ان افعال کا انجام دینا آسان ہوگیا جن کا گذشتہ حاکم ارتکاب  کرچکے تھے اور پھر ابوبکر و عمر نے معاویہ کے لئے راہ ہموار کی اور اسے شہروں پر تسلط دیا یہاں


تک کہ وہ بیس(۲۰) سال سے زیادہ شامکا حاکم رہا اور اسے قطعی معزول کرنے کے بارے میں نہ سوچا چنانچہ لوگوں پر معاویہ کا خوف و ہراس طاری ہوگیا اور پھر اس کی خواہش کے مقابل میں طاقت دم زدن نہ رہی ۔ اپنے بعد اس نے یزید(لع) کو خلیفہ بنادیا جیساکہ یزید(لع) نے صریح طور پر  کہا ہے، ہمیں تو نئے گھر ، بچھے ہوئے فرش اورلگے ہوئے تکئے ملے ہیں، ان چیزوں کےلئے جنگ کرنا فطری بات تھی چنانچہ اس نے نواسہ رسول(ص)  کو قتل کرنے میں کوئی پرواہ نہ کی کیوں کہ اس نے اپنی ماں میسون کے پستانوں سے بغض اہل بیت(ع) کا دودھ پیا تھا اور اپنے اس باپ کی گود میں پلا بڑھا تھا جو اہل بیت(ع) پر  سبّ و شتم کرتا تھا۔ ظاہرا ایسے شخص سے ایسی چیزوں کا ارتکاب کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

                     بعض شعراء نے اپنے کلام میں اس حقیقت کا اعتراف کی اہے ۔ کہتے ہیں:

                             لو لاَ حدودَ صوارم             امضیٰ مضاربَها الخلیفه !

                             لنثرت من اسرار آلِ !          محمّد جملا ظریفه !!

                             و اریتکم ان الحسین(ع)!!     اصیب یوم السقیفه !!

اگر  دار و رسن کا خوف نہ ہوتا جو کہ خلیفہ نے معین کر رکھی ہیںتومیں ضرور ظریف جملوں میں آل محمد(ص) کے اسرار کو بیان کرتا ااور آپ کو  یہ دکھا دیتا کہ حسین(ع) تو سقیفہ کے روز ہی قتل ہوچکے تھے۔

بال کی کھال نکالنے والا محقق اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ بنی امیہ اور بنی عباس کو ابوبکر و عمر کے طفیل میں حکومت ملی تھی۔

اس لئے دوںوں حکومتوں نے ابوبکر وعمر کے ذکر کو خوب بلند کیا اوران کے اخلاقی فضائل کو ثابت کرنے کے سلسلہ می ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اور خلافت کےلئے انھیں زیادہ حقدار ثابت کیا ہے کیوںکہ وہ ( بنی امیہ اور بنی عباس) اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ان کی خلافت اسی صورت میں کامل ہوسکتی ہے کہ جب وہ ابوبکر و عمر کی خلافت کو صحیح تسلیم کریں ۔

اور دوسری طرف ہم ان سب کو اہل بیت(ع) پر انسانیت سوز مظالم کے پہاڑ توڑتے ہوئے


دیکھتے  ہیں صرف اس قصور پر کہ وہ (اہل بیت(ع))  شرعی طور پر خلافت کے وارث تھے اور ان لوگوں کی خلافت اور حکومت کے لئے چیلنج بنے ہوئے تھے۔

اور یہ بات تو حق پہچاننے والے اشخاص کے نزدیک بدیہی ہے اور اس زمانہ میں آپ بھی بعض اسلامی ممالک میں اس چیز  کو مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ چند ممالک پر ان لوگوں کی بادشاہت ہے کہ جن کا کوئی ذاتی فضل و شرف نہیں ہے مگر یہ کہ وہ بادشاہوں اور حکام کے بیٹے ہیں ، بالکل اسی طرح جیسے یزید(لع) بادشاہ بن گیا تھا کیونکہ اس کا باپ معاویہ بادشاہ تھا جوکہ قہر و غلبہ سے امت کا حاکم بنا تھا۔

پس یہ بات معقول نہیں ہے کہ سعودی عرب کے امراء اور بادشاہ اہل بیت(ع) اور ان کے شیعوں سے محبت کریں۔

اسی طرح سعودی عرب کے حکام اور ملوک کے لئے معاویہ اور یزید(لع) اور جنہوں نے ان کے لئے ولیعہدی کا دستور ایجاد کیا ، اور بنی امیہ و بنی عباس کہ جن سے آج بادشاہ مدد حاصل کرتے ہیں انھیں برا بھلا کہنا بھی معقول نہیں ہے۔

یہیں سے خلفاء کی تعظیم و تقدیس اور ان کی فضلیت و عدالت کا بھی سوتا پھوٹتا ہے اور یہی ان پر تنقید نہ کرنے اور ان کے متعلق جرح سے روکنے کا راز ہے اس لئے کہ سقیفنہ کے دن سے آج تک جتنی حکومتیں وجود میں آئی ہیں یا خدا کی زمین اور اس کی چیزوں کا وارث بنانے تک جتنی حکومتیں وجود میں آئیں گی ان سب کی بنیاد وہی لوگ ہیں۔

اس بنیاد پر یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ان لوگوں نے اپنے لئے اہل سنت والجماعت کا نام کیوں  منتخب کیا ہے اور اپنے غیر زندیق و رافضی کیوں کہتے ہیں! اس لئے کہ علی(ع) اہلبیت(ع) اور شیعوں نے اہل سنت کے خلفاء کی خلافت کا انکار کردیا تھا اور ان کی بیعت کے مطالبہ کو ٹھکرا دیا تھا  اور ہر مناسب موقع پر ان کے خلاف احتجاج کرتے تھے نتیجہ میں حکام نے بھی انھیں ذلیل و رسوا کرنے ، ان پر لعنت کرنے، جلاوطن کرنے اور قتل کرنے پر کرنے پر کمر باندھ لی تھی۔


اور جب ان اہلبیت(ع) کو قتل کیا گیا کہ جن کی محبت کو قرآن میں اجر رسالت قرار دیا گیا ہے تو پھر ان کے شیعوں اور دوستداروں کا اذیت ناک سزاؤں ، انسانیت سوز مظالم اور ذلت ورسوائی سے دوچار ہونا کوئی نئی بات نہیں تھی چنانچہ حق گمنام اور مردود بن گیا اور باطل قائد و رہبر اور واجب الطاعت بن گیا۔

پس جس نے علی(ع) سے محبت کی اور اس کا اعلان کیا وہ بدعتی اور فتنہ انگیز ہے اور معاویہ کو دوست رکھنے والا اہل سنت والجماعت ہے۔

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں کہ جس نے ہمیں عقل عطا کی ، جس کے ذریعہ ہم حق کو باطل سے ،نور کو تاریکی سے اور سفیدی کو سیاہی سے جدا کرتے ہیں۔ بے شک میرے آقا کا سیدھا راستہ ہے اور اندھے اور دیکھنے والے برابر نہیں ہوسکتے اور نہ ہی نور  و تاریکی  برابر ہوسکتے ہیں اورسایہ اور دھوپ بھی یکساں نہیں ہوسکتے اور زندہ و مردے برابر  نہیں ہوسکتے، بے شک خدا جس کو چاہتا ہے اپنی بات سنا دیتا ہے اور آپ انھیں نہیں سنا سکتے جو قبروں کو اندر رہنے والے ہیں۔( سورہ فاطر ، آیت ۱۹، ۲۲)


صحابہ شیعوں کی نظر میں

جب ہم غیر جانب دار ہوکر صحابہ کے موضوع پر بحث کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ انھیں وہی حیثیت دیتے ہیں جو قرآن و حدیث اور عقل دیتی ہے وہ سب کا کافر نہیں کہتے ہیں جیسا کہ غالی کہتے ہیں اور نہ ہی تمام صحابہ کو عادل تسلیم جیسا کہ اہل سنت والجماعت  کا مسلک ہے۔

اس سلسلہ میں امام شرف الدین موسوی فرماتے ہیں۔ جس نے صحابہ کے متعلق سنجیدگی سے ہمارے نظر یہ کا مطالعہ کیا وہ اس بات کو سمجھ گیا کہ یہی معتدل راستہ ہے۔ کیونکہ ہم اس سلسلہ میں نہ تو غالیوں کی طرح تفریط کے شکار ہیں کیوں کہ وہ تمام صحابہ کو کافر کہتے ہیں اور نہ ہی جمہوری(سنیوں) کی طر ح افراط کا شکار ہیں جو کہ تمام صحابہ کو معتبر وموثق کہتے ہیں، بے شک کاملیہ اور غلو میں  ان کا شریک تمام صحابہ کو  کافر کہتا ہے اہل سنت ہر اس مسلمان کو عادل کہتے ہیں جس نے نبی(ص) کو دیکھا یا ان سے کچھ سنا ہے۔

اگر چہ صرف صحبت ہمارے نزدیک بہت بڑی فضیلت ہے لیکن صحبت بغیر کسی قید و


 شرط کے معصوم عن الخطا نہیں ہے۔ اس اعتبار سے صحابہ بھی ایسے ہی ہیں جیسے دیگر افراد، ان میں عادل بھی ہیں۔ سربرآوردہ بھی ہیں اورعلما بھی ہیں چنانچہ ان ہی میں باغی بھی ہیں، جرائم پیشہ بھی ہیں، منافقین بھی ہیں اور جاہل بھی ہیں پس ہم ان میں سے عادلوں کو تسلیم کرتے ہیں اور دنیا و آخرت میں ان سے محبت کرتے ہیں۔

لیکن نبی(ص) کے وصی اور علی(ع)  سے بغاوت کرنے والے اور دیگر جرائم پیشہ کی جیسے ہند کے بیٹے ابن زرقا، ابن عقبہ اور ارطاہ کے خلف نا سلف ہیں۔ پس ان کی کوئی عزت نہیں ہے اور نہ ان کی حدیث کا کوئی و زن ہے اور  جن کے حالات معلوم نہیں ہیں ان کے سلسلہ میں حالات معلوم ہونے تک توقف کریں گے۔

صحابہ کے سلسلہ میں یہ ہے ہمارا نظریہ اور قرآن و حدیث بھی ہمارے اس نظریہ کی تائید کررہی ہیں جیسا کہ اصول فقہ میں مفصل طور پر یہ بحث موجود ہے لیکن جمہور نے صحابہ کی تقدیس میں اتنا مبالغہ سے کام لیا کہ میانہ روی سے نکل گئے اور اس سلسلہ میں ہر ضعیف و جعلی حدیث سے استدلال کرنے لگے اور ہر اس مسلمان شخص کی اقتداء کرنے لگے جس نے نبی(ص)  سنا ہو یا آپ(ص)  کو دیکھا ہو۔ بالکل اندھی تقلید اور جن لوگوں نے اس غلو کی مخالفت کی اس پر  انھوں نے سبّ وشتم کی بوجھار کی ۔

وہ ہمیں اس وقت بہت برا بھلا کہتے ہیں جب ہم دینی حقائق کی تحقیق اور بنی(ص) کے صحیح آثار کی تلاش میں واجب شرعی پر عمل کرتے ہوئے مجہول الحال صحابہ کی بیان کردہ حدیث کو  رد کردیتے ہیں۔

ان ہی باتوں کی بنا پر وہ ہم سے بدگمان ہیں چنانچہ جہالت و نادانی کی بنا پر وہ ہم پر رکیک قسم کی تہمتیں لگاتے ہیں، اگر وہ عقل سے کام لیتے اور قواعد علم کی طرف رجوع کرتے تو انھیں معلوم ہوجاتا کہ صحابہ کی عدالت والے مقولہ پر کوئی دلیل نہیں ہے اگر وہ (اہل سنت) قرآن میں غور و فکر کریں گے تو  معلوم ہوگا کہ منافق صحابہ کے ذکر سے قرآن بھرا پڑا ہے۔ اس کے لئے


سورہ احزاب و توبہ کا مطالعہ کافی ہے۔۔۔۔

جامعہ عین الشمس " قاہرہ" کے شعبہ عربی ادب کے پروفیسر ڈاکٹر  حامد حنفی داؤد کہتے ہیں، لیکن شیعہ صحابہ کو بھی ایسا سمجھتے ہیں جیسے عام افراد ہیں ، ان ( صحابہ) کے اور قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کے درمیان کسی فرق و فضیلت کے قائل نہیں ہیں۔

اصل میں وہ (شیعہ) صرف عدل کو پیمانہ سمجھتے ہیں چنانچہ اسی صحابہ کے افعال کو ناپنے ہیں اور اسی طرح صحابہ کے بعد آنے والوں کے افعال کو بھی اسی کسوٹی پر کستے ہیں اور پھر صحبت، کوئی فضیلت نہیں ہے مگر  یہ کہ کوئی یہ کہ انسان فضلیت کا اہل ہو اور  اس کے اندر رسالتمآب(ص)  کے پاس ٹھہرنے کی استعداد ہو ، صحابہ میں سے معصوم بھی ہیں جیسے وہ ائمہ ہیں جو کہ رسول(ص) کی صحبت سے فیضیاب ہونے ہوئے ہیں مثلا علی(ع)  اور  ان کے فرزند، ان میں ایسے عادل بھی ہیں جنہوں نے رسول(ص) کی وفات کے بعد علی(ع) کی صحبت اختیار کی۔

ان میں ، ایسے مجتہد بھی ہیں جو مصیبت ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جن کا اجتہاد غلط ہے ان میں فاسق بھی ہیں، زندیق بھی ہیں جو کہ فاسقوں سے بھی گئے گزرے ہیں اور زندیق ہی لے دائرہ میں منافق اور وہ لوگ داخل ہیں، جو کہ صرف ظاہری طہور پر خدا کی عبادت کرتے تھے۔ جیسا کہ ان میں و ہ کفار بھی ہیں جنھوں نے نفاق کے بعد توبہ نہیں کی ہے اور وہ بھی ہیں جو اسلام لانے کے بعد  مرتد ہوگئے تھے۔

شیعہ ۔جو کہ اہل قبلہ میں سے بڑا گروہ ہے ۔ تمام مسلمانوں کو ایک ترازو میں تو لتے ہیں اس سلسلہ میں ان کے یہاں صحابی ، تابعین اور متاخرین کا امتیاز نہیں ہے پھر صحبت انھیں معصوم نہیں بناسکتی ہے اور نہ اعتقادی مسائل انھیں کجی سے بچاسکتے ہیں اور اسی مستحکم  بنیاد کی وجہ انھوں نے اپنے کے لئے ۔ اجتہاد  سے ۔ صحابہ پر تنقید کرنا اور ان کی عدالت کی تحقیق کی مباح سمجھ لیا ہے۔ جیسا کہ وہ ان صحابہ پر سب و شتم کرنے کو بھی سمجھتے ہیں۔ جنھوں نے صحبت کے شرائط کو پس پشت ڈالدیا تھا اور آلِ محمد(ص) محبت کو چھوڑا دیا تھا۔


اور کیوں نہ ہو، جبکہ رسول اعظم (ص) نے فرمایا ہے:

     " إِنِّي‏ تَارِكٌ‏ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي [مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَبَداً] وَ لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ.وَ عِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونَنِي فِيهِمَا."

" میں تمھارے درمیان کتاب خدا اور اپنے اہل بیت(ع) عترت کوچھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں سے وابستہ رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض ( کوثر) پروارد ہوں گے دیکھو : میرے بعد ان دونوں کے ساتھ سلوک کرتے ہو۔"

یہ اور اس جیسی دوسری حدیثوں سے یہ معلوم  ہوتا ہے کہ اکثر صحابہ نے آل محمد(ص) پر ظلم ڈھائے اور ان پر منبروں سے لعنت کرنے کی بنا پر اس حدیث کی مخالفت کی تو ان مخالفوں کو صحبت  سے کیا شرف حاصل ہوا اور انہیں کیسے عدالت سے متصف کیا جاسکتا ہے؟صحابہ کی عدالت کی نفی کےسلسلہ میں یہ ہے شیعوںکے نظریہ کا خلاصہ در حقیقت یہ وہ علمی اور واقعی اسباب ہیں جن پر شیعوں کے حجج کے بنیاد استوار ہے۔

یہی ڈاکٹر حامد حضنی داؤد دوسری جگہ اس بات کا اعتراف کرتےء ہںکہ صحابہ پر تنقید کرنا اور ان میں عیب نکالنا صرف شیعوں کی بدعت نہیں ہے کیوںکہ زمانہ قدیم میں اس بدعت کے لئے معتزلہ نے بھی اعتقادی مسائل میں وہی چیز بیان کی ہے جو کہ شیعہ بیان کرتے ہیں اور انھوں نے اسی پر  اکتفا نہیں کی ہے کہ عام صحابہ پر تنقید کرتے ہیں بلکہ اپنے خلفا پر بھی تنقید کی ہے اور جب انھوں نے تنقید کی تھی تو اس وقت ان میں صحابہ کے موافق بھی تھے اور مخالف بھی تھے۔یہ مسئلہ "صحابہ" پر تنقید فقط صاحبان علم سے مخصوص ہے اور اس راستہ کو ان شیعہ علما نے اورانکے سربرآوردہ افراد نے طے کیا ہے جو کہ محبت آلِ محمد(ص)  میں سخت تھے۔

میں پہلے بھی اس بات کی طرف اشارہ کرچکا ہوں کہ معتزلہ کے علمائے کلام اور بزرگ افراد نے  پہلی ہی صدی سے ہی علمائے شیعہ کی فکر کو اختیار کیا ہے ۔ اس بنا پر صحابہ پر تنقید کرنا شیعیانِ آلِ محمد(ص) کی


ایجاد ہے لیکن وہ تشیع کی ایجاد ہے  خود تشیع و شیعیت نہیں ہے جیسا کہ شیعیان آل محمد(ص) اپنے عقائدی تبحر علمی سے پہچانے جاتے تھے اور یہ شہرت اس لئے تھی کہ انھوں نے درِ اہلِ بیت(ع) سے علم حاصل کیا تھا اور یہ وہ معین واصل مصدر ہےجس  سے اسلامی ثقافت صدر اسلام سے آج تک فیض حاصل کررہی ہے یہ تھا ڈاکٹر حامد داؤد کا نظریہ۔

میرا نظریہ تو یہ ہے کہ ہر حقیقت کے متلاشی انسان کو نقد و تبصرہ سے کام لینا پڑے گا ورنہ حقیقت کا ادراک نہیں کرسکے گا بالکل اسی طرح جیسے اہلِ سنت والجماعت نے صحابہ کی عدالت کے سلسلہ میں مبالغہ کیا اور ان کے حالات کی تحقیق نہ کی لہذا آج تک حق سے نا  آشنا ہیں۔


صحابہ اہل سنت والجماعت کی نظر میں

اہل سنت والجماعت صحابہ کی تقدیس و طہارت میں مبالغہ کرتے ہیں اور بلا استثنی سب کو عادل کہتے ہیں اور اس طرح وہ عقل ونقل کے دائرہ سے نکل گئے ہیں چنانچہ وہ ہر اس شخص کی مخالفت کرتے ہیں جو کسی صحابی پر تنقید کرتا ہے  یا کسی صحابی کو غیر عادل کہتا ہے، اس سلسلہ میں تمھارے سامنے ان کے کچھ اقوال پیش کرتا ہوں تاکہ آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ وہ مفاہیم قرآن اور نبی(ص) کی صحیح سنت  اورعقل و ضمیر سے ثابت شدہ چیزوں سے کتنی دور ہیں۔

شرح مسلم میں امام نووی تحریر فرماتے ہیں: بے شک صھابہ رضی اللہ عنہم سب برگزیدہ اور امت کے سردار ہیں اوراپنے بعد والوں  میں سب سے افضل ہیں ۔ سب عادل ہیں ایسے پیشوا ہیں جن میں کھوٹ نہیں ہے۔ ہاں بعد والوں میں کھوٹ پایا جاتا ہے اور ان کے بعد والے تو بالکل  بھوسی  چوکر ہیں ۔ ( صحیح مسلم جلد۸، ص۲۲)

یحی اابن معین کہتے ہیں : جو شخص عثمان یا طلحہیا رسول (ص) کے کسی بھی صحابی پر لعنت کرتا ہے وہ دجال ہے اور اس کا کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور اس پر اللہ ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔( التہذیب ج۱، ص۵۰۹)


ذہبی کہتے ہیں: کسی بھی صحابی کو برا جبھلا کہنا ، بڑا گناہ ہے پس جو شخص ان میں خامی نکالتا ہے یا ان پر لعنت کرتا ہے وہ دین سے خارج اور  ملت اسلامیہ  سے جدا ہے۔ ( کتاب الکبائر للذہبی ص۲۳۳۔  ۲۳۵)

قاضیابو یعلی سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو کہ ابوبکر پر لعنت کرتا تھا انھوں نے کہا ایسا شخص کافر ہے، کہا گیا اس پر نماز پڑھنی چاہئیے ؟ کہا نہیں۔ لوگوں نے کہا پس اس کے ساتھ کیا  سلوک کرنا چاہئیے ۔ جبکہ وہ اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا تھا؟ قاضی نے کہا اسے اپنے ہاتھوں سے چھونا بھی نہیں بلکہ لکڑی سے ڈھل کر دفن کردو۔

احمد ابن حنبل کہتے ہیں: نبی(ص) کے بعد ابوبکر اور ان کے بعد عمر اور ابن خطاب کے بعد عثمان اور ابن عفان کے بعد علی(ع) امت میں سب سے افضل ہیں اور یہی خلفائے راشدین ہیں اور ان چار کے بعد رسول (ص) کے باقی صحابہ تمام لوگوں سے افضل ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی برائی کرنا جائز نہیں ہے اور نہہی ان میں نقص و عیب نکالنا جائز ہے پس اگر کوئی شخص اس فعل کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کو سزا دینا واجب ہے۔ اسے معاف نہیںکیا جاسکتا ۔ بلکہاسے سزا دی جائے گی اور توبہ کرنے کے لئے کہا جائے گا اگر توبہ کر لیگا تو چھوڑ دیا جائے گا اور اگر توبہ نہ کرے تو دوبارہ سزا دی جائے گی اور عمر قید کردیا جائے یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مرجائے یا توبہ کر لے۔

شیخ علاء الدین طرابلسی حنفی کہتے ہیں ۔ جو شخص اصحاب نبی(ص) میں سے ابوبکر ، عمر ، عثمان، علی(ع) ، معاویہ یا عمرو بن عاص پر سب شتم کرتا  ہے اور انھیں گمراہ و کافر کہتا ہے تو قتل کیا جائے گا اور اگر صرف بر بھلا کہتا ہے تو اسے عبرت ناک سزادی جائے گی۔

ڈاکٹر حامد حنفی داؤد اختصار  کے ساتھ اہل سنت والجماعت کے چند اقوال نقل کرتے ہیں چنانچہ کہتے ہیںکہ: اہل سنت والجماعت تمام صحابہ کو عادل سمجھتے ہیں اور وہ سب عدالت میں مشترک ہیں اگر چہ درجات و مراتب میں مختلف ہیں، جو شخص کسی صحابی کی طرف کفر کی نسبت دیتاہے


وہ کافر ہے اور اگر کوٓئی کسی صحابی کی طرف فسق کی نسبت دیتا ہے تو وہ فاسق ہے اور جس نےکسی صحابی پر اعتراض کیا گویا اس نےرسول(ص) پر اعتراض کیا۔

اور اہل سنت کے بڑے بڑے علما کا نظریہ ہے کہ حضرت علی(ع) اور معاویہ کے درمیان رونما ہونے والے حالات کا تجزیہ و تحقیق کرنا جائز نہیں ہے۔

بے شک صحابہ میں سے جس نے اجتہاد کیا اور واقعہ تک رسائی حاصل کی وہ علی(ع) اور ان کے پیروکار ہیں اور معاویہ و عائشہ سے ان کے ماننے والوں سے خطائے اجتہادی ہوئی ہے۔ اوریہ لازمی امر ہے۔ اہل سنت کی نظر میں ۔ جہاں خطائے اجتہادی ہو وہاں خاموشی اختیار کرنا چاہئے۔ اور برائیوں کو نہیں بیان کرنا چاہئے۔ اہل سنت معاویہ پر بھی اس لئے سب وشتم کرنے سے منع کرتے ہیں کہ وہ صحابی تھا اور عائشہ کو برا کہنے والے کی شدت سے مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں عائشہ خدیجہ کے بعد ام المؤمنین اور رسول(ص) کی چہیتی ہیں۔

اس کےعلاوہ کہتے ہیں کہ ایسے معاملات کی تحقیق کرنا سزاوار نہیں ہے بلکہ انھیں خدا کی طرف لوٹا دینا چاہئیے ۔ اس سلسلہ میں حسن بصری اور سعید ابن مسیب کہتے ہیں ان امور سے خدانے ہمارے ہاتھوں کو محفوظ رکھا ہے تو ہمیں اپنی زبانوں کو پاک رکھنا چاہئیے۔

یہ تھا صحابہ کی عدالت کے متعلق اہل سنت کی رایوں کا خلاصہ۔ ( کتاب الصحابہ فی نظر الشیعہ الامامیہ ص۸۔۹)

جو شخص تفصیلی طور پر صحابہ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ جاننا چاہتا  ہے کہ اہل سنت والجماعت کی نظر میں اس اصطلاح کے کیا معنی ہیں۔ تو تحقیق سے معلوم ہوگا کہ اہلسنت و الجماعت یہ با شرف لقب و علامت ہر اس شخص کو ریتے ہیںجس نے نبی(ص) کو دیکھا ہو۔

بخاری کہتے ہیں : جو بھی نبی(ص) کے ساتھ رہا یا مسلمانوں میں سے کسی نے انھیں دیکھا تو وہ رسول(ص) کا صحابی ہے۔احمد ابن حنبل کہتے ہیں : بدری صحابی کے بعد سب سے افضل وہ شخص ہے جو ایک


سال یا ایک ماہ یا ایک روز رسول(ص) کی صحبت و خدمت میں رہا  یا جس نے رسول(ص) کو دیکھا ہو اس کو اسی تناسب سے صحابی کہا جائے گا جتنی اسے صحبت نصیب ہوئی ہوگی۔ ( الکفایۃ ص۵۱ ،و کتاب تلقیح فہوم اہل الآثار)

ابن حجر کہتے ہیں: جس شخص نے بھی نبی(ص) سے کوئی حدیث یا لفظ نقل کیا ہے وہ مؤمن ہے اور صحابی ہے اور جس شخص نے حالتِ ایمان میں نبی(ص)  سے ملاقات کی اور مسلمان مرا ، اور آپ(ص) کے پاس زیادہ عرصہ تک رہا ہو یا کم مدت ، آپ(ص)ٌ سے روایت کی ہو یا نہ کی ہو، کسی جنگ میں شریک ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، کسی نے نبی(ص) کو دیکھا ہو لیکن آپ(ص)  کی خدمت و صحبت سے فیضیاب نہ ہواہو اور جس نے کسی رکاوٹ کی وجہ سے آپ(ص) کی زیارت نہ کی ہو وہ صحابی ہے۔( کتاب الاصابۃ لابن حجر جلد۱ ص۱۰)اکثر اہل سنت والجماعت کا یہی نظریہ ہے، ہر اس شخص کو صحابی کہتے ہیں جس نے نبی(ص) کو دیکھا ہو یا آپ(ص) کی حیات میں پیدا ہوا ہو خواہ وہ عقل و ادراک نہ رکھتا ہو، جیسا کہ ان میں سے بعض نے محمد ابن ابی بکر کو بھی صحابی قرار دیا ہے ۔ جب کہ وہ رسول(ص) کی وفات کے وقت تین ماہ کے تھے۔ابن سعد نے اپنی کتاب" طبقات" میں صحابی کو پانچ طبقوں میں تقسیم کیا ہے۔ اور صحابِ مستدرک حاکم نیشاپوری نے بارہ طبقوں میں تقسیم کیا ہے۔

پہلا طبقہ :  وہ لوگ جو ہجرت سے قبل مکہ میں مسلمان ہوچکے تھے جیسے خلفائے راشدین۔

دوسرا طبقہ : وہ لوگ دارالندوہ میں حاضر تھے۔

تیسرا طبقہ : جن لوگوں نے ملکِ حبشہ ہجرت کی تھی۔

چوتھا طبقہ : جو لوگ عقبہ اولیٰ میں حاضر تھے۔

پانچواں طبقہ : جو لوگ عقبہ ثانی میں حاضر تھے۔

چھٹا طبقہ : جن لوگوں نے رسول(ص) کی ہجرت کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔

ساتھواں طبقہ : جو لوگ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔

آٹھواں طبقہ : جب لوگوں نے صلح حدیبیہ سے پہلے اور جنگ بدر کے بعد ہجرت کی۔


نواں طبقہ : جو لوگ بیعت رضوان میں شریک تھے۔

دسواں طبقہ : جن لوگوں نے فتح مکہ سے قبل اور صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کی جیسے خالدابن ولید و عمرو ابن عاص و غیرہ۔

گیارہواں طبقہ : جن لوگوں کو نبی(ص) نے طلقا ( آزاد) کہا۔

بارہواں طبقہ : صحابہ  کے وہ لڑکے ، بچے جو حیات نبی(ص) میں پیدا ہوئے جیسے محمد ابن ابی بکر وغیرہ۔

اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں چنانچہ چاروں مذاہب تمام صحابہ کی روایات کو بغیر تردد کے قبول کرتے ہیں اور اس حدیث پر کسی بھی تنقید و اعتراض کو برداشت نہیں کرتے ہیں۔

جب کہ آپ کو ان ( اہل سنت والجماعت) میں جرح و تعدیل کرنے والے افراد بھی ملیں  گے جنھوں نے احادیث کی تحقیق اور چھان بین کے سلسلہ میں محدثین اور رواۃ پر تنقید کرنا اپنے اوپر لازم کر لیا ہے ۔ لیکن جب وہ کسی صحابی تک پہنچتے  ہیں، خواہ کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتا ہو، وفاتِ نبی(ص) کے وقت اس کی عمر کچھ بھی رہی ہو تو فورا توقف کرتے ہیں اور اس کی روایت پر کسی قسم کی تنقید نہیں کرتے خواہ وہ حدیث عقل و نقل کے خلاف اور شکوک سے لبریز ہو۔ اہل سنت  کہتے ہیں کہ صحابہ تنقید اور جرح سے پاک ہیں وہ سب عادل ہیں!

قسم اپنی جان کی یہ تو زبردستی کی بات ہے جسے عقل نہیں قبول کرتی اور طبیعت پر گراں گزرتی ہے اور نہ ہی علم اس کو ثابت کرتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ آج کے ذہین نوجوان اس مضحکہ خیز بدعت کو قبول کریں گے۔

اس بات کو ، کوئی نہیں جانتا کہ اہل سنت والجماعت نے یہ عجیب و غریب اور روح  اسلام سے الگ افکار کہاں سے لئے ہیں۔

اے کاش میں جانتا ،اے کاش ان میں سے کوئی مجھے کتابِ خدا ، سنت رسول(ص) ، منطقی دلیل کے ذریعہ صحابہ کی خیالی عدالت سمجھادیتا!


لیکن ہم ان کی پوچ رایوں کا انحراف اور کجی سمجھ گئے ہیں، آنے والی فصل میں اس کی تشریح کریں گے۔محققین پر لازم ہے کہ وہ اپنی جگہ بعض ایسے اسرار سے پردہ ہٹائیں جو آج تک جرات و شجاعت کے دھنی کے محتاج چلے آرہے ہیں۔


صحابہ کی حیثیت

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صحابہ انسان ہیں ۔ غیر معصوم ہیں اور عام لوگوں کی طرح ان پر بھی وہی چیزیں واجب ہیں جو کہ تمام انسانوں پر واجب ہیں اور جو حقوق صحابہ کے ہیں وہی دیگر افراد کے ہیں ۔ ہاںانھیںنبی(ص) کیصحبت کا شرف حاصل  ہے جب کہ انھوں نے صحبت کو  محترم سمجھا ہو  اور  کما حقہ اس کی رعایت کی ہو ورنہ دوگنا عذاب کے بھی مستحق قرار پائیں گے۔ کیوں کہ خدا کے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ دور والے کو اتنا عذاب نہ دیا جائے جتنا قریب والے کو دیا جانا چاہئے، کیوںکہ دور والا ایسا نہیں ہے جیسا کہ وہ شخص ہے جس نے بالمشافہ نبی(ص) سے کوئی حدیث سنی ہے، نورِ نبوت کو دیکھا ہے اوسر معجزات کا مشاہدہ کیا ہے اور خود نبی(ص) کی تعلیمات سے مستفید ہوا ہے۔ چنانچہ نبی(ص) کے بعد والے زمانہ میں زندگی گزارنے والوں نے نہ آپ(ص) کو دیکھا ہے اور نہ بالمشافہ کوئی بات آپ(ص) کی زبانِ مبارک سے سنی ہے۔

رسول(ص) کےساتھ رہنے والے اس صحابی پر جو کہ آپ(ص) کے ساتھ رہا لیکن اس کے دل میں ایمان داخل نہ ہوا زبردستی اسلام قبول کیا یا نبی(ص) کی حیات میں تو صحابی متقی و پرہیزگار تھا لیکن آپ(ص) کی وفات


 کے بعد مرتد ہوگیا ایسے صحابی پر عقل و وجدا ن اس شخص کو فضیلت دینا ہے جو کہ ہمارے زمانہ میں زندگی گزارتاہے لیکن قرآن وحدیث اور ان دونوں کی تعلیمات کا احترام کرتا ہے۔

اور اسی چیز کو قرآن و حدیث اورعقل و ضمیر بھی صحیح قرار دیتے ہیںاور جو شخص قرآنو حدیث کا تھوڑا سا بھی علم رکھتا ہے وہ اس حقیقت  میں قطعی شک نہیںکرسکتا اورنہ اس سے فرار کی راہ مل سکتی ہے۔

مثال کےطور پر خداوندِ عالم کا یہ قول ملاحظہ فرمائیں:

"يا نِساءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَ كانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيراً " (احزاب ۳۰)

"اے نبی(ص) کی بیویوں جو بھی تم میں سے کھلی برائی کی مرتکب ہوگی اس کا عذاب بھی دھرا کر دیا جائے گا اور خدا کے لئے یہ بات بہت آسان ہے۔

پھر صحابہ میں وہ مؤمن بھی ہے جس نے اپنا ایمان کامل کیا۔ ان میں ضعیف الایمان بھی ہیں اور ان میں وہ بھی ہے جس کے قلب میں ایمان (کبھی) داخل نہ ہوا، ان میں متقی و پرہیز گار بھی ہے۔ ان میں بدعت گزار جاہل بھی ہیں۔ ان میںمخلص بھی ہیں، ان میں منافقین ، ناکثین ، صادقین اور مرتدین بھی ہیں۔

جب قرآنِ مجید ، حدیث نبی(ص) اور  تاریخ نے مذکورہ اقسام کو بیان کردیا ہے اور کھلے لفظوں میں اس کی  وضاحت کی ہے تو پھر اہل سنت کے اس قول کی کوئی حیثیت اور اعتبار نہیں رہ جاتا کہ تمام صحابہ عادل ہیں کیوںکہ انکو یہ قول قرآن و حدیث ، عقل و تاریخ کے خلاف ہے۔ یہ محض تعصب ہے اور ایسی بات ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔

ان امور کےسلسلہ میں ایک محقق کو اہل سنت والجماعت کی عقل پر  تعجب ہوگا جو کہ


 عقل ونقل اور تاریخ کی مخالفت کرتے ہیں۔

لیکن جب وہ اس عقیدہ ۔ یعنی صحابہ کی تعظیم اور انھیں برا نہ کہنا بلکہ عادل ماننے کے رسوخ کے سلسلہ میں بنی امیہ کے کرتوت اوران کے اتباع میں بنی عباس کے کارنوموں کو دیکھے گا تو اس کا سارا تعجب زائل ہوجائے گا اور اس بات میں قطعی شک نہیں کرے گا کہ انھوں نے صحابہ کے سلسلہ  میں کسی بھی گفتگو کو س لئے منع کیا ہے تاکہ ان کے افعال پر تنقید و تجزیہ کی نوبت ہی نہ آئے کہ جن کے ارتکاب سے انھوں نے اسلام کے دامن  کو نبی اسلام(ص)  اور ملتِ اسلامیہ کے دامن کو داغدار کیا ہے۔

کیوںکہ ، ابوسفیان ، معاویہ، یزید، عمرو ابن العاص، مروان ابن حکم، مغیرہ ابن شعبہ اور ابن ارطاۃ سب ہی صحابی ہیں ، یہ مؤمنین کے امیر و حاکم بھی رہ چکے ہیں تو ہو کیسے صحابہ کے حالات کی چھان بین کو منع نہ کرتے اور ان کیعدالت و فضیلت کے لئےکیسے جھوٹی حدیث نہ گھڑتے اور پھر اس وقت ان کے افعال وکردار پر تنقید کرنے کی کس میں ہمت تھی۔

اور اگر کسی مسلمان نے ایس کردیا تو اسے کافر و زندیق قرار دیدیا اور اس کے قتل اور بے گورو کفن چھوڑدینے کا فتوا دیدیا۔ ظاہر ہے اس مسلمان کو لکڑی سے ڈھکیل کر ہی دفن کیا جاتا تھا جیسا کہ بیان ہوچکا ہے۔ اور جب وہ شیعوں کو قتل کرنا چاہتے تھے تو ان پر صحابہ کو  برا بھلا کہنے کی تہمت لگادیتے تھے اور پھر صحابہ پر تقید و تبصرہ ہی کو وہ سبِ شتم کہتے تھے اور  یہ چیز قتل اور عبرت ناک سزا کے لئے کافی ہوتی تھی ظلم کی انتہا ہوگئی تھی اگر کوئی شخص حدیث کا مفہوم پوچھ لیتا تھا اور وہی اسکی موت کے لئے کافی ہوجاتا جیسا کہ خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں روایت کی ہے ہارون رشید کے  سمانے ابوہریری کی بیان کردہ یہ حدیث نقل ی گئی کہ موسی(ع) نے آدم(ع) سے ملاقات کی اور ان سے کہا : آپ ہی وہ آدم(ع) ہیں جس نے ہمیں جنت سے نکلوادیا؟ یہ جملہ سنکر مجلس میں موجود ایک قرشی نے کہا: موسی(ع) نے آدم(ع) سے کہاں ملاقات کی تھی؟ یہ سنکر ہارون رشید کو غصہ آگیا اور اس قرشی کے قتل کا حکم دیدیا، اور کہا زندیق رسول(ص) کی حدیث پر اعتراض کرتا ہے۔( تاریخ بغدادی، ج۱۴، ص۷) ظاہر ہے  حدیث کا مفہوم پوچھنے والا کوئی با حیثیت آدمی تھا کیوںکہ رشید  کی مجلس میں موجود تھا


اور اس بات پر اس کی گردن اڑادی گئی کہ اس نے وہ جگہ دریافت کر لی تھی کہ جہاں موسی(ع) نے آدم(ع) سے ملاقات کی تھی۔

تو اس شیعہ کی حالت پوچھئے کیا ہوئی ہوگی جو کہ ابوہریرہ کو کذاب و جھوٹا کہتا ہے جیسا کہ صحابہ اور ان کے راس و رئیس عمر ابن خطاب ابوہریرہ کو جھٹلا چکے ہیں۔ یہیں سے ایک محقق حدیث میں وارد غلط و محال اور کفریات باتوں نیز تناقضات سے واقف ہوجاتا ہے لیکن اس کے باوجود ان روایات کو صحیح کہا جاتا ہے اور انھیں تقدس کا جامہ پہنایا جاتا ہے۔

یہ سب کچھ تنقید و جرح کے ممنوع ہونے اور ہلاکت و تباہی کے خوف سے ہوتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اس شخص کو بھی قتل کردیا جاتا تھا جو حقیقت تک پہنچنے کے لئے کسی لفظ کے معنی کو پوچھ لیتا تھا اس کے بعد کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔

اور پھر انھوں نےلوگوں کو یہ بات باور کرادی تھی کہ جو شخص ابوہریرہ یا کسی عام صحابی کی  حدیث پر اعتراض کرتا ہے  تو گویا وہ رسول(ص) کی حدیث پر اعتراض کرتا ہے در اصل اس سے انھوں نے ان جعلی حدیثوں کا حصار بیادیاتھا جو کہ وفات نبی(ص)  کے بعد صحابہ نے گھڑی تھیں اور پھر وہ مسلمات میں شمار ہونے لگیں۔

میں اپنے بعض علماء  سے اس موضوع پر بہت بحث  کرتا تھا کہ صحابہ خود بھی اپنے کو اتنا مقدس  نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ ایک دوسرے کی حدیث کو مشکوک سمجھتے تھے خصوصا جب کسی کی نقل کردہ حدیث قرآن کے مخالف ہوتی تھی چنانچہ عمرابن خطاب نے ابوہریرہ کو درے مارے اور حدیث نقل کرنے  سے منع کیا اور اس پر جھوٹ کی تہمت لگائی، لیکن وہ علما ہمیشہ مجھے یہ جواب دیتے تھے کی صحابہ کو ایک دوسرے پر اعتراض کرنے کا حق ہے لیکن ہم صحابہ کے ہم پلہ نہیں ہیں کہ ان کے اوپر اعتراض و تنقید کریں ۔

میں کہتا ہوں۔ اللہ کے بندو! انھوں نے ایک دوسرے سے جنگ کی ایک نے دوسرے کو کافر کہا اور بعض نے بعض کو قتل کیا ؟!وہ کہتے ہیں: وہ (صحابہ) سب مجتہد تھے پس ان میں سے جس کا اجتہاد صحیح تھا اس کو دو اجر اور جس کا اجتہاد غلط تھا اسے اجر ملیگا اور ہمیں ان کے حالات کی تحقیق کا حق نہیں ہے۔


انھیں یہ دعوی ان کے آباؤ  اجداد اور سلف سے خلف کو میراث میں ملا ہے۔ پس یہ بغیر سوچے سمجھے طوطے کی طرح وہی رٹتے ہیں جو انھیں رٹا دیا گیا ہے۔

اور جب ان کے امام غزلی کا خود یہی نظریہ ہے اور انھوں نے لوگوں کےدرمیانااسی کو  رواج دیا ہے تو حجت الاسلام بن گئے وہ اپنی کتاب " المستصفیٰ" میں لکھتے ہیں :  اور جس چیز پر سلف اورخلف جمہور ہیں وہ یہ ہے کہ صحابہ  کی عدالت ثابت ہے، خدا عزوجل نے انھیں عادل قرار دیا  ہے اور اپنی کتاب میں ان کی مدح کی اور ان( صحابہ) کے بارے میں یہی ہمارا اعتقاد ہے۔

مجھے غزالی اور عام اہل سنت والجماعت کے اس استدلال پر تعجب ہے جو  کہ وہ قرآن کے ذریعہ صحابہ کیعدلات پر کرتے ہیں جب کہ قرآن  میں ایک  آیت بھی ایسی نہیں ہے جو صحابہ کی عدالت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کےبرعکس قرآن میں ایسی بہت سی آیات ہیں جو کہ صحابہ کی عدالت کی نفی کرتی ہیں اور ان کی حقیقتوں  سے پردہ ہٹاتی ہیں اور ان کے نفاق کا انکشاف کرتی ہیں۔

میں نے انی کتابِ " فالسئلوا اہل الذکر" میں اس موضوع سے متعلق پوری ایک فصل  معین کی ہے۔ تفصیل کے شائق مذکورہ کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔ تا کہ انھیں صحابہ کے سلسلہ میں خدا و رسول(ص)  کے اقوال کا علم بھی ہوجائے ، تاکہ محقق کو یہ معلوم ہوجائے کہ صحابہ نے اپنی اس عظمت ومنزلت کا کبھی خواب نہیں دیکھا ہوگا جو کہ بعد میں اہل سنت والجماعت  کے ایجاد کی ہے۔ محقق پر واجب ہےکہ وہ حدیث و تواریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرلے جو کہ صحابہ  کے برے افعال سے بھری پڑی ہیں اور بعض کو کار قرار دے رہی ہیں اور تعجب تو اس بات پر ہے کہ ان میں سے بعض اپنے منافق ہونے کے بارے میں شک کرتے تھے۔چنانچہ بخاری نے اپی صحیح میں روایت کی ہے کہ ابن ملیکہ نے تین اصحابِ نبی(ص) سے ملاقات کی اور تینوں کو اپنے منافق ہونے کا ڈرتھا اور کسی کو یہ دعویٰ نہیں کہ وہ جبرئیل کے ایمان پر قائم ہے۔(صحیح بخاری جلد۱، ص۱۷)

خود غزالی نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے کہ عمر ابن خطاب حذیفہ ابن یمان نے پوچھا کرتے


 تھے کہ رسول(ص)  نےجو تمھیں منافقین کے نام بتائے ہیں ان مین میرا نام تو شامل نہیں ہے۔( احیاء علوم الدین ۔ غزالی جلد۱،ص۱۲۹، کنز العمال جلد۷، ص۲۴)کسی کہنے ولاے کےاس قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے کہ ، منافقین  کا صحابہ سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ ان کا الگ گروہ تھا جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر شخص جس کا رسول(ص)  پر ایمان اور اس نے آپ(ص) کو دیکھا ہو وہ صحابی ہے چاہے وہ آپ(ص) کی مجلس میں نہ بیٹھا ہو۔ان کے اس قول میں کہ جو رسول(ص) پر ایمان رکھتا تھا، ضعف ہے کیوں کہ جو نبی(ص) کی صحبت میں رہتے تھے وہ کلمۃ شہادتین پڑھ لیتے تھے اور نبی(ص) بھی ان کےظاہری اسلام کو قبول فرماتے تھے چنانچہ آپ(ص) ہی کا ارشاد ہے، مجھے ظاہر پر حکم لگانے کا حکم دیا گیا ہے اور باطنی چیزوں کی ذمہ داری خدا پر ہے آپ(ص)  نے اپنی حیات مین کسی صحابی سے بھی یہ نہیں کہا کہ تم منافق ہو۔ لہذا تمھارا اسلام قابل قبول نہیں ہے!ہم تو نبی(ص) کو منافقین کو بھی اپنے صحابی فرماتے ہوئے دیکھتے ہیں جب کہ آپ(ص) ان کے نفاق سے واقف تھے بطور دلیل ملاحظہ فرمائیں۔

بخاری نے روایت کی ہےکہ عمر ابن خطاب نے رسول(ص) سے عبداللہ ابن ابی منافق کی گردن مار دینے کی اجازت طلب کی تو آپ(ص) نے فرمایا : جانے دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد(ص) تو اپنے اصحاب ہی کو قتل کررہے ہیں۔( صحیح بخاری جلد۶، ص۶۵، کتاب الفضائل القرآن سورہ منافقین، تاریخ ابن عساکر ج۴، ص۹۷)اہل سنت والجماعت کے بعض علما ہمیں یہ بات باور کرانا چاہتے ہیں کہ منافقین تو مشہور تھے تو ہم انھیں صحابہ میں نہ ملائٰیں یہ محال بات ہے جسے قبول کرنے کی کوئی سبیل نہیں ہے بلکہ منافقین صحابہ ہی کے درمیان موجود تھے کہ جن کے باطن کو خدا  ہی جانتا  ہے۔ اگرچہ وہ  نماز پڑھتے تھے، روزہ رکھتے تھے، خدا کی عبادت کرتے تھے اور ہر طرح نبی(ص) کا تقرب ڈھونڈتے تھے ۔ بطور دلیل ملاحظہ فرمائیں۔بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ عمر ابن خطاب نے رسول(ص) سے اس وقت ذی خوبصرہ کی گردن مار دینے کی اجازت مانگی جب اس نے نبی(ص) سےکہا تھا کہ عدل سے کام لیجئیے لیکن نبی(ص) نے عمر سے فرمایا : جانے دو اس کے اور بہت سے ساتھی ہیں جو ک نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں اور قرآن


پڑھتے ہیں لیکن ان کے حلق سے نہیں اترتا اور دین سے ایسے نکل جاتے ہیں جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔( صحیح بخاری،جلد۴، ص۱۷۹)

میری اس بات میں مبالغہ نہیں ہے کہ اکثر صحابہ منافق تھے جیسا کہ کتابِ خدا  کی متعدد آیتوں اور رسول(ص) کی متعدد حدیثوں نے یہ بات ثابت ہے۔ خدا وند عالم کا ارشاد  ہے:

( رسول(ص)) تو ان (صحابہ) کے پاس حق بات لے کر آیا ہے لیکن ان میں سے اکثر حق بات سے نفرت کرتے ہیں۔(مؤمنون/۷۰)

نیز ارشاد ہے۔

عرب کے گنوار کفر و نفاق میں بڑے سخت ہیں ۔( توبہ/۹۷)

دوسری آیت میں ہے:

اہل مدینہ میں سے  بعض نفاق پر اڑ گئے ہیں آپ(ص) انھیں نہیں جانتے ۔(توبہ/۰۱۰)

پھر ارشاد فرماتا ہے:

     مسلمانو! تمھارے پاس جو یہ گنوار بیٹھے ہیں ان میں سے بعض منافق ہیں۔(توبہ/۱۰۱)

مناسب ہےکہ س بات کی طرف اشارہ کردیا جائے کہ اہل سنت والجماعت کے بعض علما حقائق کی پردہ پوشی کی کوشش کرتے ہیں چنانچہ وہ آیت میں واردلفظ اعراب یعنی وہ گنوار کے وہ تفسیر کرتے ہیں کہ صحابہ سے ان کا کوئی تعلق نہٰیں ہے بلکہ وہ جزیرہ نما عرب کے اطراف میں بسنتے والے صحرا نشین ہیں۔

لیکن عمر ابن خطاب کو مرتے وقت وصیت کرتے دیکھتے ہیں وہ اپنے بعد والے خلیفہ سے کہتے ہیں کہ میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ وہ عرب کے گنور دیہاتیون کےساتھ نیکی سے پیش آئے  کیوں کہ وہی اصل عرب اور اسلام کا مادہ ہیں۔ ( صحیح بخاری جلد۴، ص۲۰۶)


پس جب اہل عرب اور مادہ اسلام  ہی کفر و نفاق پر آڑے ہوئے ہیں اور اسی قابل ہیں کہ جو کتابِ خدا نے اپنے رسول(ص) پر نازل کی ہے اس ے احکام نہ جانیں اور خدا تو جاننے والا اور حکمت والا  ہے۔ تو پھر اہل سنت والجماعت کی اس بات کا کوئی وزن نہیں رہ جاتا کہ تمام صحابہ عادل ہیں۔

وضاحت : قاری پر یہ ثابت ہوجائے کہ عام صحابہ ہی اعراب ، گنوار دیہاتی تھے جیسا اعراب کے کفر  ونفاق کے ذکر کے بعد کہ قرآن مجید میں نازل ہوا ہے۔

             " اور کچھ دیہاتی تو ایسے بھی ہیں جو خدا اور  روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے خدا کی بارگاہ میں  نزدیکی اور رسول(ص) کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں آگاہ ہوجاؤ واقعی یہ ضرور ان کے تقرب کا ذریعہ ہے خدا انھیں بہت جلدی اپنی رحمت میں داخل کرے گا بے شک خدا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ (توبہ/۹۹)

رسول(ص) کا ارشاد ہے:

     میرے صحابی کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو میں عرض کروں گا : پروردگار یہ میرا صحابی ہے جواب آئے گا ، تم نہیں جانتے انھوں نے تمھارے بعد کیا کیا بدعتیں کی ہیں ۔ میں  عرض کروں گا  جس نے میرے  بعد بدعت کی خدا اسے غارت کرے، میں ان (صحابہ) میں سے کسی کو مخلص نہیں دیکھتا ہوں یہ چوپایوں  کی طرح ہیں۔ ( صحیح بخاری، جلد۷،ص۲۰۹، باب الحوض)

اور بہت سی احادیث ہیں جنھیں اختصار کے پیش نظر ہم نے نظر انداز کردیا ہے در حقیقت اس سے ہمارا مقصد صحابہ کی زندگی کی تحقیق نہیں ہے کہ جس سے ان کی عدالت پر اعتراض


کیا جائے اس سلسلہ میں تاریخ کافی ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ان (صحابہ) میں سے بعض زناکار ، بعض شراب خور ، بعض مرتد اور بعض امت کے خیانت کار اور  نیکوکاروں کے حق میں ظالم تھے، لیکن ہم اس بات کو واضح کردینا چاہتے ہیں کہ کل صحابہ کی عدالت والا مقولہ بے عقلی کی بات ہے جس کو اہل سنت والجماعت نے اپنے ان بزرگ اور سردار صحابہ کی پردہ پوشی کے لئے ایجاد کیا ہے کہ جنہوں نے دین میں بدعتیں ایجاد کیںاور اس کے احکام کو بدل ڈالا ۔

ایک مرتبہ پھر ہم پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اہل سنت والجماعت نے جو اپنی گردن میں تمام صحابہ کی عدالت کا قلادہ ڈالا ہے اس سے ان کی حقیقی صورت سامنے آگئی ہے آگاہ ہوجاؤ وہ ہے  منافقین کی محبت اور ان کی اس بدعتوں کی اقتداء جو کہ انھوں نے لوگوں کو جاہلیت کی طرف پلٹانے کے لئے تراشی تھیں۔

اس کے ساتھ اہل سنت والجماعت نے ان ( منافقین) کے اتباع میں صحابہ پر تنقید کرنے کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اپنے اوپر دروازہ اجتہاد بند کرلیا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ خلفائے بنی امیہ اور مذاہب کی ایجاد کے وقت سے چلی  آرہی ہے۔ ان کے پیروکاروں کو یہ عقیدہ میراث میں ملا اور وہ اپنے بیٹوں کے لئے بطور میراث چھوڑ گئے جس کا سلسلہ بعد نسل چلا آرہا ہے ۔اس طرح اہل سنت والجماعت صحابہ کے سلسلہ میں آج تک تحقیق کو منع کرتے چلے آرہے ہیں۔ اور سب کو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اور جو شخص صحابہ میں سے کسی پر تنقید کرتا ہے اسے کافر کہتے ہیں۔

بحث کا خلاصہ :

اہل بیت(ع) کا اتباع کرنے والے " شیعہ" صحابہ کو وہی حیثیت و عظمت دیتے ہیں


 جس کے وہ مستحق ہیں وہ متقین صحابہ کو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔اور دشمنان خدا و رسول(ص) اور منافقین و فاسقین سے برائت کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ حقیقی اہل سنت ہیں۔ اس لئے وہ صحابہ میں سے ان سے محبت کتے ہیں کہ جن کو خدا و رسول(ص) دوست رکھتے ہیں۔ اور خدا و رسول(ص) کے ان دشمنوں سے برائت کرتے ہیں کہ  جنھوں نے مسلمانوں کی اکثریت کو گمراہ کیا ہے۔


اہل سنت والجماعت حدیثِ نبوی(ص) کی مخالفت کرتے ہیں

اس فصل میں ضروری ہے کہ ہم قاری کےسامنے اجمالی طور پر سہی یہ بات واضح کریں کہ اہل سنت والجماعت نبی(ص) کی اکثر حدیثوں کی مخالفت کرتے ہیں جیسا کہ ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ شیعہ ہی حدیث و سنت نبوی(ص) سے تمسک رکھتے ہیں اسی لئے ہم نے اس کتاب کا نام " الشیعۃ ہم اہل السنۃ" رکھا ہے۔

اس فصل میں ہم ان اہم مسائل کو پیش کرنا چاہتے ہیں جو قارئین کو اچھی طرح یہ سمجھا دیں کہ اہل سنت والجماعت اسلام کی ان تمام تعلیمات کی مخالفت کرتے ہیں جو کہ خدا نے اپنی کتاب میں اور رسول(ص) نے اپنی حدیث میں بیان کی ہیں چنانچہ وہ امت کی گمراہی کا سبب بن گئے اور مسلمانوں کی کھوپڑی الٹ گئی اور نتیجہ میں ان کے بعد والے ان کے مددگار بھی اسی سے دوچار ہوئے۔

میری نظر میں تو گمراہی کا بڑا سبب حبّ دنیا ہے کیا رسول(ص) نے نہیں فرمایا تھا کہ حبّ  دنیا ہر خطا کی جڑ ہے اور حب دنیا سے حب حکومت و بالادستی پیدا ہوتی ہے اور حکومت کے لئے قوموں کو کچلا جاتا ہے، وطنوں اور شہروں کو برباد کیا جاتا ہے اور انسان وحشی حیوان سے بھی زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے۔


 اوررسول(ص) نےاسی بات کی طرف اشارہ فرمایا تھا : مجھے اس بات کا خوف نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے ۔لیکن اس بات کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے چکر میں پڑجاؤ گے۔

ان تمام باتوں کے لئے امامت و خلافت والے موضوع کی تحقیق و تجزیہ ضروری ہے۔ یا آج کی اصطلاح  میں اسلامی حکومت کے نظام کی چھان بین لازمی ہے اس کی وجہ سے  اسلام پر  مصائب کے پہاڑ ٹوٹے اور اسی کے باعث  مسلمان ہلاک و گمراہ ہوئے۔


اسلام کی نظر میں نظامِ حکومت

اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے  کہ رسول(ص) نے کسی کی خلافت پر نص نہیںکی تھی تعیین خلیفہ کے مسئلؒہ کو لوگوں کی شوری پر چھوڑ کر چلے گئے تھے تاکہ وہ جس کو چاہیں منتخب کرلیں، خلافت کے بارے میں یہ  ہے ان کا عقیدہ چنانچہ وہ وفاتِ نبی(ص)کےدن سے آج تک اسی پر اڑے ہوئے ہیں۔

مفروض جیہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کو اس چیز پر عمل کرنا چاہئے کہ جس پر ان کا ایمان ہے اور جس سے وہ پوری طاقت و توانائی کے ساتھ دفاع کررے ہیں قطع نظر اس بات سےکہ اہل سنت والجماعت اپنے اعتقاد کے بر خلاف عمل کرتے ہیںاور ابوبکر کی بیعت سے قطع نظر کہ جس کو خود  اہل سنت ایک اتفاق امر کہتے ہیں کہ جس کے شر سے خدا ہی نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا، ابوبکر نے اسلام میں ولی عہد کی فکر ایجاد کی چنانچہ مرنے سے قبل اپنے دوست عمر ابن خطاب کو ولی عہد بنادیا۔

اسی طرح عمر ابن خطاب نے بھی انتقال سے قبل عبدالرحمن ابن عوف کو یہ  اختیار دیدیا کہ وہ نامزد پانچ اشخاص میں سے جس کو چاہئے خلافت کے لئے منتخب کرے اور تفرقہ پھیلانے والے مخالفوں کی گردن ماردے۔


اور جب معاویہ تخت خلافت پر بیٹھا تو اس نے بھی اس چیز پر عمل کیا اور اپنے بیٹے یزید(لع) کو اپن اعلی عہد بنا دیا اور پھر یزید(لع) نے اپنے بیٹے معاویہ کو اپناولی عہد مقرر کیا اور اسی وقت سے خلافت طلقا کے اور ان کے بیٹوں میں نسلا بعد نسل منتقل ہوتی رہی چنانچہ ہر ایک خلیفہ اپنے بیٹے کو ولی عہد بناتا ہے یا اپنے بھائی کو یا اپنے کسی عزیز کو اپنا ولی عہد بناتا ہے اور جس دن سے بنی عباس کو خلافت ملی تھی اور جب تک ان کے ہاتھوں میں رہی ل۔ وہ  بھی اسی سنت پر عمل کرتے رہے  اسی طرح عثمانی حکومت میں خلافت ورثہ میں منتقل ہوتی رہی جو کہ اس صدی میں زمانہ اتاتارک میں کمزور ہوئی۔

اور چوں کہ ان خلافتوں یا حکومتوں پر اہل سنت والجماعت ہی کا قبضہ رہا لہذا وہ دنیا کے چپہ چپہ پر پہنچ گئے۔ چنانچہ آپ انھیں اسلامی تاریخ میں اور آج سعودی عرب و مغرب میں اور اردن میں نیز  تمام خلیجی ممالک میں ولی عہد والے عقیدے پر عمل پیرا دیکھتے  ہیں اگر اس نظریہ کو صحیح تسلیم کر لیا جائے  کہ نبی(ص) نے خلیفہ سازی کا کام شوری اور قرآن پر چھوڑ دیا تھا تو بھی صحابہ نے قرآن و حدیث کی مخالفت کی اور شوری ، ڈیموکریسی ، والے نظام کو ولی عہد اور استبدادی حکومت کے نظام سے بدل دیا۔

لیکن اگر یہ فرض کیا جائے کہ نبی(ص) نے علی ابن ابی طالب(ع) کی خلافت پر نص کی تھی جیسا کہ شیعہ کہتے ہیں ، تو بھی اہل سنت والجماعت نے نبی(ص) کی صریح حدیث اور قرآن مجید کی مخالفت کی ہے کیونکہ رسول(ص) نے کوئی کام خدا کی اجازت کے بغیر انجام نہیں دیا ہے۔

اسی لئے آپ دیکھیں گے کہ اہل سنت شوری والے نظریہ کو بھی غلط سمجھتے ہیں جیسا کہ وہ اس نظریہ کو رسول(ص) کی اس حدیث سے مخدوش بتاتے ہیں کہ میرے بعد تیس(۳۰) سال تک خلافت رہے گی اس کے بعد کاٹ کھانے والے بادشاہ ہوں گے، گویا وہ اپنے غیر کو اس چیز سے مطمئن کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ خود مطمئن ہیں اور وہ یہ کہ حکومت خدا کی ہے وہ جسے چاہتا ہے دیدیتا ہے اور بادشاہوں کو وہی لوگوں پر حاکم و بادشاہ بناتا ہے لہذا ان کی اطاعت کرنا واجب ہے اور ان کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔یہ بحث بہت لمبی ہےجو کہ ہمیں قضا و قدر تک لےجاتی ہے کہ جس کو ہم اپنی " کتاب


مع الصادقین" میں بیان کرچکے ہیں، اس لئے ہم اسے دہرانا نہیں چاہتے، بس اتنا جان لینا کافی ہے کہ اہل سنت والجماعت کوقدر یہ بھی کہا جاتا ہے۔

مختصر یہ کہ اہل سنت والجماعت ولی عہد پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے شرعی خلافت سمجھتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ رسول(ص)  نے اس کا حکم دیا ہے ، آپ(ص)  نے اپنا ولی عہد معین کیا تھا، کیوںکہ اس کی تو وہ شروع سے مخالفت کرتے ہیں۔ بلکہ اس کو غیر شرعی سمجھتے ہیں کہ ابوبکر نے عمر کو اور عمر نے چھ افراد کو اور معاویہ نے یزید(لع) کو  ولی عہد بنایا تھا، اور اہل سنت کے علما یا ائمہ مذاہب میں سے کوئی ایک بھی یہ نہیں کہتا ہےکہ اموی حکومت یا عباسی و عثمانی حکومت غیر شرعی تھی بلکہ ہم انھیں بیعت کے لئے دوڑتے اور ان کی خلافت  کی تائید و تصحیح کرتے ہوؕئے دیکھتے ہیں یہی نہیں بلکہ ان میں سے اکثر کا نظریہ ہے کہ ہر وہ  خلافت شرعی ہے جو کہ قہر و غلبہ سے وجود میں آتی ہے وہ حاکم و خلیفہ کے نیک  و بد، متقی و فاسق اور عربی و قرشی اور  ترکی و کردی ہونے کو اہم نہیں سمجھتے۔

اس سلسلہ میں ڈاکٹر احمد محمود صبحی کہتے ہیں: مسئلہ خلافت میں اہل سنت کا موقف ہے امر واقع کے سامنے تسلیم ہوجانا اس کی تائید تصدیق کرنا اس کے خلاف خروج نہ کرنا۔( نظریۃ الامامۃ مؤلف محمود صبحی ص۲۳)

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کی تائید  بھی جیسا کہ ابو یعلی الفراء نے امام احمد ابن حنبل کا قول نقل کیا ہے۔ خلافت قہر و غلبہ سے بھی ثابت ہوجاتی ہے بیعت کی  احتیاج نہیں؟

ایک روایت میں عبدوس ابن مالک العطار نے کہا ہے: جس نے تلوار سے غلبہ حاصل کرلیا  یہاں تک کہ خلیفہ بن گیا اور اسے امیرالمؤمنین کہاجانے لگا تو یہ خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے کے لئے جائز نہیں ہےکہ وہ خلیفہ کو اپنا امام تصور نہ کرے خواہ وہ نیک ہو یا بدکار، موصوف نے اس بات پر عبداللہ ابن عمر کے اس قول سے حجت قائم کی ہے کہ ہم تو غائب آجانے والے کے ساتھ  ہیں اس بنا پر اہل سنت والجماعت ولی عہد والی بدعت کے رہین منت ہو کر رہ گئے وہ ہر غالب آجانے والے ،  زبردستی حاکم بن بیٹھے والے کی بیعت کرتے ہیں اس کے علم و تقوی اور ورع و نیک کار و بدکار ہونے


سے کوئی سروکار نہیں رکھتے ۔ دلیل اس پر یہ ہے کہ اکثر صحابہ نے نبی(ص) کی رکاب میں معاویہ ابن ابی سفیان سے جنگ  کی اور بعد میں اس لئے اس کی بیعت کرلی کہ وہ امیرالمؤمنین ہے جیسا کہ انھوں نے مروان ابن حکم کی بھی خلافت کو قبول کرلیا کہ جس کو رسول(ص) نے چھپکلی کہا تھا اور مدینہ سے نکال دیا تھا اور  فرمایا تھا اسے موت و حیات میں میرا ہمسایہ نہیں ہونا چاہئیے۔

بلکہ اہل سنت نے یزید ابن معاویہ کو بھی خلیفہ تسلیم کر لیا تھا اور امیر المؤمنین کے عنوان سے اس کی بیعت کر لی تھی اور جب  فرزند رسول(ص) امام حسین(ع)  نے یزید(لع)  کے خلاف خروج کیا تاانھوں نے یزید(لع)  کی حکومت برقرار رکھنے کے لئے امام حسین(ع) اور ان کے اہل بیت(ع) کوقتل کردیا ۔ علمائے اہل سنت کا نظریہ ہے کہ امام حسین(ع) اپنےجد کی تلوار سے شہید ہوئے ہیں چنانچہ ان میں سے بعض آج تک یزید ابن معاویہ کے حق پر ہونے کے سلسلہ میں کتابیں لکھتے ہیں یہ تمام چیزیں یزید(لع)  کی خلافت کی تائید اور امام حسین(ع) کی  حقارت میں ہیں کیونکہ آپ(ع) نے یزید(لع)  کے خلاف خروج کیا تھا۔ان تمام چیزوں سے واقف ہونے کے بعد ہمارے سامنے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ ہم اس بات کا اعتراف کر لیں کہ اہل سنت والجماعت نےسنت نبی(ص) کی مخالفت کی ہے۔ کیوںکہ وہ کہتے ہیں کہ نبی(ص)  مسئلہ خلافت کو مسلمانوں کی شوریٰ پر چھوڑ گئے تھے۔

لیکن امامت کےسلسلہ میں شیعوں کا ایک قول ہے اور وہ یہ کہ خلیفہ کے لئے خدا اور رسول(ص)  کی طرف سے نص ہونی چاہئے ، شیعہ صرف نص کے ذریعہ امامت کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ اور اس طرح معصوم، اعلم، متقی ترین اور افضل ترین انسان ہی امام بن سکتا ہے ۔ شیعوں کے نزدیک مفضول (پست) کو فاضل( اعلیٰ) پر مقدم کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی لئے وہ اوّلا صحابہ کی خلافت کا انکار کرتے ہیں اور ثانیا اہل سنت والجماعت کی خلافت کا انکار کرتے ہیں۔ خلافت کےسلسلہ میں شیعہ جن ںصوص کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اہل سنت والجماعت کی صحاح میں ان کا وجود فعلی اور حقیقی مصداق موجود ہے پس ہمارے لئے اسکے علاوہ چارہ کار نہیں ہے کہ ہم اس بات کے قائل ہوجائیں کہ شیعہ ہی نبی(ص)  کی صحیح  سنت  سے تمسک


 کئے ہوئے ہیں۔

خواہ اس خلافت کو شوری کے ذریعہ تسلیم کریں یا نص کے ذریعہ فقط شیعہ ہی حق پر ہیں۔

کیوں کہ نص اور شوریٰ  کے ذریعہ صرف علی ابن ابی طالب(ع) خلیفہ منتخب ہوئے ہیں اور مسلمانوں میں کوئی بھی سنی، شیعہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ رسول(ص) نے قریب و بعید کے اشارہ کے ذریعے ولی عہد کا حکم دیا تھا۔

اور اسی طرح مسلمانوں میں سے کوئی سنی، شیعہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےاپنے اصحاب سے یہ فرمایا تھا کہ:

             میں تمھارے معاملہ کو شوری پر چھوڑ کر جارہا ہوں پس جس کو تم چاہو خلیفہ منتخب کرلو۔

ہم پوری دنیا  کو چیلنج کرتے ہیں کہ کوئی اس قسم کی ایک ہی حدیث پیش  کردے۔

پس اگر نہیں کرسکتے اور ہرگز نہیں کرسکو گے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ثابت واضح سنت اور صحیح اسلامی تاریخ کی طرف  رجوع کرو تاکہ ہدایت پاجاؤ۔ یا وہ اس بات کے قائل ہوجائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس عظیم امر کو ایسے ہی چھوڑ گئے۔

اور اس کی علامت ونشانی کو بیان نہ کیا تا کہ امت  کو مستقل فتنہ وفساد، جنگ و جدال اور افتراق میں مبتلا کردیں اور اسے صراط  مستقیم سے ہٹادیں۔ دیکھتے ہیں کہ فاسق  و ظالم حکام اپنی خلافت کے بعد اپنی قوم کے بارے میں سوچتے ہیں اور اپنی زندگی ہی میں کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کردیتے ہیں، تو اس کا کیا حال ہوگا جس کو خدا نے عالمین کے لئے رسول(ص) بناکر  بھیجا؟!


صحابہ کو عادل ماننا سنت کی صریح مخالفت ہے۔

صحابہ کے سلسلہ میں نبی(ص) کے اقوال و افعال پر نظر ڈالئے تومعلوم ہوگا کہ آپ(ص) نے ہر حق دار کو اس کا حق دیا ہے، آپ(ص)  خدا  کے لئے  غضب ناک ہوتے تھے اور اس کی رضا سے رضا مند تھے پس جو صحابی بھی حکمِ خدا  کی مخالفت کرتا تھا نبی(ص) اس سے برائت کا اظہار کرتے تھے جیسا کہ آپ(ص) نے بنی حذیمہ کے قتل کے سلسلہ میں خالد ابن ولید سے برائت کی تھی اور اسامہ پر اس وقت غضب ناک ہوئے تھے جب وہ اس عورتکی سفارشکرنے آئے تھے جس نے چوری کی تھی اور فرمایا تھا ، تمھیںکیا ہوگیا ہےجکہ تم خد ا کےحدود  کے سسلہ مین سفارش کرتےہو؟ قسم خدا کی اگر محمد(ص) کی بیٹٰی  فاطمہ(س) بھی چوری  کرتی تو میں اس کا ہاتھ کا ٹ دیتا تم سے پہلے  لوگ صرف اس لئے  ہلاک ہوئے کہ جب کوئی شریف چوری کرتا تھا تو وہ چھوڑ دیئے جاتے تھے اور جب کوئی شریر چوری کرتا تھا تو اس پر حد جاری کرتے تھے۔

کبھی بعض مخلص صحابہ کو شاباش  مرحبا بھی کہتے اور ان کے لئے دعا و استغفار کرتے تھے اسی طرح اپنے حکم کی نافرمانی کرنے والوں اور انھیں اہمیت نہ دینے پر لعنت بھی کرتے تھے جیسا کہ آپ(ص) نےفرمایا تھا، خدا اس پر لعنت کرے جو اسامہ کے لشکر میں شرکت نہ کرے ، اس کی وجہ یہ تھی کہ


صحابہ نے نبی(ص) پر اس لئے اعتراض کیا تھا کہ آپ(ص) نے کم سن اسامہ کو لشکر کا امیر بنادیا تھا۔

اسی طرح ہم رسول(ص) کو لوگوں کے سامنے بعض صحابہ کی حق  پوشی اور ان کے نفاق کو واضح طور پر بیان کرتے دیکھتے ہیں، چنانچہ ایک منافق کے بارے میں فرماتے ہیں۔

اس کے دوست ہیں جو تم سے ہر ایک کی نماز کو اپنی نماز  کے سامنے کچھ نہیں سمجھتے اور  نہ ہی اپنے روزوں کے مقابل تمھارے روزوں کو کچھ سمجھتے ہیں ، قرآن پڑھتے  ہیں لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔ ( یعنی اہمیت دیتے ) دین سے ایسے نکل جاتے ہیں جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ کبھی آپ(ص) اس صحابی پر نماز  نہیں پڑھتے ہیں جو کہ خیبر میں مسلمانوں کے لشکر میں شامل تھا اور اس کی حقیقت کا انکشاف کرتے ہیں اور  فرماتے ہیں اس نے دین خدا میں  خیانت کی ہے اور جب اس (صحابی) کے سامان کی تلاش لی گئی  تو اس میں یہودیوں کی مالاملی۔

مازودی لکھتے ہیں کہ جنگ تبوک میں نبی(ص) کو پیاس لگی تو منافقوں نے کہا محمد(ص) آسمان کی خبر بتاتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا  پانی کہاں ہے۔ پس جبرئیل نازل ہوئے اور آپ(ص)  کو ان کے نام بتادیئے ۔ اور نبی(ص) نے وہ اسماء  سعد ابن عبادہ کو بتائے تو سعد نے کہا اگر آپ(ص)  کی رضا ہوتو میں ان کی گردن اڑادوں؟ آپ(ص) نے فرمایا: ( رہنے دو) لوگ کہیں گے کہ محمد(ص)  اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں۔ لہذا جو ہمارے ساتھ  نشست برخاست رکھتا ہے ہم اس سے حسن ( صحبت) سلوک سے پیش آئیں گے۔ ( لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد(ص) اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں لیکن ہم اس کےساتھ حسن (صحبت) سلوک رکھتے ہیں۔ یہ اس بات پر واضح دلیل ہے کہ صحابہ میں منافقین کو  بھی اپنے اصحاب میں شمار کیا ہے۔)

اور صحابہ کےحق میں جس چیز کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے رسول(ص) نے اسی کو اختیار کیا ہے، خدا سچے و صادقین صحابہ سے راضی ہے ۔ اور منافقین و مرتد اور ناکثین پر غضبناک ہے اور متعدد آیتوں میں ان  پر لعنت کی ہے اس موضوع سے متعلق ہم اپنی کتاب" فاسئلوا اهل الذکر" کی


 فصل قرآن مجید صحابہ کی حقیقت کا انکشاف کرتا ہے، میں سیر  حاصل بحث کرچکے ہیں شائقین مذکورہ کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔

ہمارے لئے بعض منافق صحابہ کے اعمال سے متعلق وہ ایک مثال کافی ہے جس کےذریعہ خدا نے ان کے اعمال سے پردہ ہٹایا اور انھیں رسوا کیا ، یہ بارہ(۱۲) اشخاص تھے جو اس بہانہ سے  کہ ہمارے مکانات دور ہیں نبی(ص) کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوسکتے ، مسجد ٖ ضرار بنالی تھی، کیا اس  زیادہ بھی خلوص ملے گا؟ لوگ فریضہ نماز کوجماعت سے ادا کرنے کے لئے بھاری رقم خرچ کر کے مسجد بناتے ہیں؟

لیکن خداوند عالم پر زمین و آسمان کی کوئی چیز مخفی نہیں ہے وہ آنکھوں کی خیانت  اور دلوں میں چھپے ہوئے رازوں سے واقف ہے، انکے  بھیدوں کو جانتا ہے اورجو کچھ ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے اس سے بھی با خبر ہے۔ پس اس نے اپنے رسول(ص) کو ان کی سازش اور نفاق سے اس طرح مطلع کیا :

                     اور جن لوگوں نے مسجد ضرار بنائی تاکہ اس کے ذریعہ اسلام کو نقصان پہنچائیں اور کفر کو مضبوط بنائیں اور مومنین کے درمیان اختلاف پیدا کریں اور خدا رسول(ص) سے جنگ کرنے والے کے لئے پہلے سے پناہ گاہ بنارکھیں وہ منافق ہیں جب کہ  قسم کھاتے ہیں کہ ہم نے تو نیکی کے لئے مسجد بنائی ہے۔ اور خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ سب جھوٹے ہیں۔( توبہ/۱۰۷)

اور جس طرح خدا حق بیان کرنے شرم نہیں کرتا ہے ۔ اسی طرح کا رسول(ص) بھی واضح لفظوں میں  اپنے صحابہ سے فرماتا تھا کہ تم دنیا حاصل کرنے کے لئے آپس میں لڑ مروگے  اور تم عنقریب یہود و نصاری کی پیروی کروگے اور وہ یہودی   کرو گے جو وہ کر گز رہے ہیں اور میرے بعد کافر ومرتد ہوجاؤ گے اور قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوگے اور تم میں سے


بہت کم نجات پائیں گے جیسا کہ بنی(ص) نے چوپایوں سے تعبیر کیاہے۔۔۔۔

پس ان تمام باتوں کے باوجود اہلسنت والجماعت ہمیں اس بات سے مطمئن کر نیکی کوشش کیوں کرتے ہیں کہ تمام صحابہ عادل ہیں اور وہ سب جنتی ہیں اور ان کے احکام ہم پر لازم ہیں ، ان کی رائے اور بدعت کا اتباع واجب ہے اور ان میں سے کسی ایک پر بھی اعتراض کرنے سے دین سے خارج ہونے کا سبب ہے؟؟

اس بات کو دیوانے بھی قبول نہیں کریںگے چہ جائیکہ عقل مند حضرات یہ لغو و مہمل بات ہے جو کہ امراء و سلاطین اور ان کی بارگاہ میں رہنے والے چاپلوس علما نے گھڑی ہیں ہم تو ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرسکتے ۔کیوں کہ خدا و رسول(ص) کے قول کو رد کرنا ہے اور جو  خدا و رسول(ص) کے قول کو رد کرتا ہے وہ کافر ہے اور پھر یہ بات عقل و وجدان  کے خلاف ہے۔

اور ہم اہل سنت والجماعت پر بھی یہ لازم قرار نہیں دیتے کہ وہ اپنے اس نظریہ سے ہٹ جائیں یا اس کا انکار کریں ، وہ اپنے عقیدے میں آزاد ہیں۔ ( ہاں) اس کے بھیانک نتائج کے ذمہ دار بھی وہ خود  ہیں ان ہی سے اس کی باز پرس ہوگی۔

لیکن اہل سنت بھی اس شخص کو کافر قرار نہ دیں جو کہ صحابہ کی عدالت کےسلسلہ میں قرآن و سنت کا اتباع کرتا ہے۔ ان میں (صحابہ) سے اچھائی کرنے والے کو اچھا اور برائی کرنے والے کو برا کہتا ہے اور ان میں (صحابہ)  سے خدا و رسول(ص) کے اولیا سے محبت رکھتا ہے اور خدا و رسول(ص) کےدشمن سے بیزار ہے۔

اور اس سے یہ بات بھی عیاں ہوجاتی ہے کہ اہل سنت والجماعت قرآن و سنت کی مخالفت کرتے ہیں او ر اس چیز پر عمل کرتے ہیں جو کہ حکومتِ بنی امیہ و بنی عباس نے ان پر تھوپ دی ہے اور موازین عقلی و شرعی کو دیوار پردے مارا ہے۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ جب آپ اہل سنت والجماعت کےکسی عالم سے یہ کہیں گے کہ  جب آپ حضرات صحابہ پر سب و شتم کرنے والے کو کافر کہتے ہیں تو معاویہ اور ان صحابہ کو کیوں


کافر قرار نہیں دیتے جنھوں نے منبروں سے علی(ع)  پر لعنت کی ہے ؟ تو وہ یقینا وہی جواب دیں گے جو کہ مشہور ہے۔

             وہ ایک قوم تھی جو گزرگئی انھیں ان کے کئے کا پھل ملے گا  اور تمھیں تمھارے کئے پھل ملے گا تم سے ان کے اعمال کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔(بقرہ/۱۳۴۔)


اہل سنت حکمِ نبی(ص) کی مخالفت کرتے ہیں

گزشتہ بحثوں میں ہم حدیث ثقلینکو ثابت کرچکے ہیں جو کہ عبارت ہے:

تَرَكْتُ‏ فِيكُمْ‏الثقلين مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بعدی ابدا كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي‏إِنَّاللَّطِيف الْخَبِير نبَانی أَنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ.

میں تمھارے درمیان دو (۲) گرانقدر چیز چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم  میرے بعد ان دونوں سے وابستہ رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے ( وہ ہے) کتابِ خدا اور میرے اہل بیت عترت (ع)  اور لطیف و خبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض (کوثر) پر وارد ہوں گے۔

اور یہ بھی ثابت  کرچکے ہیں کہ یہ حدیث صحیح او ر متواتر ہے اسے شیعہ اور اہل سنت نے اپنی  صحاح و مسانید میں نقل کیا ہے۔ مشہور ہےکہ اہل سنت والجماعت  نے اہل بیت(ع) سے رخ موڑ لیا ہے ۔ اور ان چار ائمہ مذاہب کا اتباع کرنے لگے ہیں  جو کہ ظالم بادشاہوں نے ان پر تھوپ دیئے


ہیں ۔ ظاہر ہے  اہل سنت کی اس بیعت و تائید نے ان ائمہ کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔

جب ہم بحث کو وسعت دیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بنی امیہ و بنی عباس کی قیادت میں اہل سنت والجماعت ہی نے اہل بیتِ رسول(ص) سے جنگ کی ہے چنانچہ اگر آپ ان کے عقائد اور ان کی حدیثوں کی کتابوں کا مطالعہ کریں گے تومعلوم ہوگا  کہ ان کے یہاں فقہ اہل بیت(ع) میں سے کوئی چیز نہیں ہے۔ جب کہ دشمنان اہل بیت(ع) اور نواصب ، جیسے عبداللہ بن عمر ، عائشہ اور ابوہریرہ کی فقہ و حدیث سے ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔

انھوں نے نصف دین تو عائشہ حمیرا سے لیا اور ان کے نزدیک عبداللہ ابن عمر، رای اسلام ابوہریرہ اور طلقا و فرزندان طلقا دینِ خدا کے قاضی اور اس کے آشکار کرنے  والے ہیں۔

دلیل یہ ہے کہ سقیفہ سے پہلے اہل سنت والجماعت  کا  کہیں وجود نہ تھا اور نہ اس نام سے مشہور تھے۔ لیکنسقیفہ کے دن سے وہ مجموعی طور پر اہل بیت(ع) سے جنگ کرنے لگے اور ان سے خلافت چھین لی اور انھیں سیاسی میدان سے الگ کردیا تو فرقہ اہل سنت والجماعت تشکیل پا گیا۔

اصل میں فرقہ اہل سنت والجماعت  شیعوں کی ضد میں وجود میں آیا ہے۔ کیونکہ شیعہ  اہل بیت(ع) کا اتباع کرتے تھے اور قرآن و سنت کے اتباع میں ان کی امامت کے قائل تھے۔

اور یہ بات بدیہی ہے کہ حق سے ٹکرانے والوں کی کثرت بھی خصوصا جنگ اور فتںوں کے بعد ان کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تھا، ایک بات کا میں اضافہ کرتا ہوں اور یہ کہ اہل بیت(ع) کو صرف چار سال حکومت کا موقعہ ملا اور اس میں بھی دشمنوں نے جنگ کے شعلے بھڑکائے  رکھے۔

لیکن اہل بیت(ع) کے مخالفوں ، اہل سنت والجماعت کی سینکڑوں سال حکومت رہی اور مشرق و مغرب میں ان کے حکام و بادشاہ پھیلے ہوئے تھے ان کے پاس طاقت اور سونا چاندی


 کی بہتات تھی چونکہ اہل سنت والجماعت کی حکومت تھی اس لئے وہ غالب تھے اور اہل بیت(ع) کا اتباع کرنے والے شیعہ مغلوب و مظلوم اور محکوم تھے ان کو جلا وطن اور قتل کردیا جاتا تھا۔

ہم اس موضوع کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتے ہم تو صرف ان کے حقائق سے پردہ ہٹانا چاہتے ہیں کہ جنھوں نے نبی(ص) کی ان وصیتوں اور میراث کی مخالفت کی جوکہ  ہدایت کی ضامن اور گمراہی  سے بچانے والی تھیں لیکن شیعہ نبی(ص)  کی وصیت  سے وابستہ رہے اور آپ(ص)  کی عترت طاہرہ(ع) کی اقتداء کی اور اس سلسلہ میں بہت سی مصیبتیں اٹھائیں۔

سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اہل سنت والجماعت کی روگردانی اور اختلاف اور شیعوں کا اسے قبول کرنا  خصوصا قرآن و عترت سے وابستہ رہنے سے  پنجشنبہ کے مصیبت ناک حالات جنم لیا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے دوات و قلم طلب کیا ، تاکہ مسلمانوں کے لئے ایک نوشتہ لکھدیں جس سے وہ کبھی گمراہ نہ ہوں لیکن عمر نے بہت بڑا قدم اٹھایا اور حکم رسول(ص)  کا یہ کہہ کر انکار کردیا ہمارے لئے کتابِ خدا کافی ہے عترت کی ضرورت نہیں  ہے ۔

نبی(ص) فرمارہے تھے : مسلمانو! تم کتابِ خدا اور (میری ) عترت سے وابستہ رہنا اور عمر آپ(ص) کی تردید کرتے ہوئے کہہ رہے تھے ہمارے لئے قرآن کافی ہے ہمیں دوسرے ثقل ( یعنی عترت ) کی ضرورت نہیں ہے۔

عمر کے قول سے فرقہ " اہل سنت والجماعت" وجود میں آیا کیونکہ قریش ابوبکر، عثمان، عبدالرحمن ابن عوف، ابو عبیدہ ، خالد بنولید اور طلحہ ابن عبداللہ و غیرہ میں منحصر تھے اور ان سب نے عمر کے  موقف کی تائید کی تھی ابنعباس کہتے ہیں کہ ان (صحابہ ) میں سے بعض تو عمر ہی کا قول دہرارہے تھے اور بعض رسول(ص)  کی دوات و قلم دینے پر اصرار کررہے تھے۔

واضح رہے کہ علی(ع) اور آپ(ص) کے شیعہ اسی دن سے نبی(ص) کی وصیت پر عمل پیرا تھے۔ اگر چہ وہ


 تحریری شکل میں موجورد نہیں تھی پھر وہ (علی(ع) اور ان کے شیعہ)  قرآن و سنت  پر عمل کرتے تھے اور ان کے دشمن قرآن پر بھی عمل نہیں کرتے تھے اگرچہ پہلے وہ قرآن کو قبول کرتے تھے لیکن جب وہ حکومت پر قابض ہوگئے تو پھر انھوں نے قرآن کے احکام کو معطل کردیا۔

اور اپنی رایوں سے اجتہاد کرنے لگے اور کتابِ خدا و سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسِ پشت ڈال دیا۔


محبت اہل بیت(ع) اور اہل سنت

اس  میں کسی مسلمان کو شک نہیں ہے کہ خداوند عالم نے اہل بیت(ع) کی محبت کو محمد(ص) کی رسالت اس کی با فضیلت نعمتوں کے عوض واجب قرار دیا ہے چنانچہ ارشاد ہے۔

                             "قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى‏ "

کہہ دیجئے کہ میں تم سے اجر رسالت نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اہل بیت(ع) سے محبت کرو۔( شوری/۲۳)

یہ آیت مسلمانوں پر عتر ت طاہر(ع) یعنی علی(ع)، فاطمہ(س) اور حسن(ع) و حسین(ع) کی محبت واجب کررہی ہے۔ جیسا کہ اہل سنت والجماعت کے تیس(۳۰) سے زیادہ مصادر اس بات کی گواہی دے  رہے ہیں۔ ( ملاحظہ  فرمائیں مؤلف کی کتاب، مع الصادقین)

امام شافعی کہتے ہیں:

     يااهل بيت رسول الله حبکم            فرض من الله فی القرآن انزله

اے رسول(ص)کے اہلبیت(ع) خدا نے تمھاری محبت قرآن میں واجب قرار دی ہے۔


پس جب ان کی محبت قرآن میں نازل ہوئی ہے اوراہل قبلہ پرواجب کی گئی ہے. جیسا کہامامشافعی کواسبات کا اعتر اف ہے : اور جب ان کی محبت محمد(ص) کی رسالت کا اجر ہے جیسا کہ صریح طور پر بیان ہوا ہے اور جب ان کی محبت عبادت ہے جو کہ خدا سے قریب کرتی ہے تو پھر اہلِ سنت والجماعت کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اہل بیت(ع) کو کچھ نہیں سمجھتے ہیں اور انھیں صحابہ سے پست سمجھتے ہیں ۔ ( کیوںکہ اہلسنت والجماعت ابوبکر و عمر اور عثمان کو حضرت علی ابن ابی طالب(ع) سے بڑھا تے ہیں جب کہ آپ(ع) نبی(ص) کے  بعد عترت کے رئیس اور  اہل بیت(ع)  میں سب سے افضل ہیں اور اہل سنت صحابہ ثلاثۃ کے بعد اہل بیت(ع)  کو تصور کرتے ہیں۔)

ہجمین اہ ست والجماعت جسے سورال کرنے بلکہ چیلنج کرنے کا حق ہے کہ وہ کوئی آیت یا ایک حدیث ایسی پیش کر دیں جو کہ ابوبکر و عمر اور عثمان یا کسی بھی صحابی کی محبت کو لوگوں پر واجب قرار دیتی ہو!

انھیںکتابِ خدا اور سنت رسول(ص) میں ایسی کوئی چیز نہیں ملے گی ہاں اہل بیت(ع) کی شان میں متعدد آیتیں ملیں گی جو کہ انھیں تمام لوگوں سے افضل قرار دیتی ہیں اور انکی عظمت کو بیان کرتی ہیں۔

اور رسول(ص) کی ایسی بہت سی حدیثیں ہیں جو کہ اہل بیت(ع) کو افضل قرار دیتی ہیں اور تمام لوگوں پر مقدم کرتی ہیں ایسے ہی جیسے امام ماموم پر اور عالم جاہل پر مقدم ہے ۔ اس سلسلے میں ہمارے لئے  آیہ مودّۃ ، آیہ مباہلہ اور آیۃ صلوٰۃ، آیت تطہیر، آیۃ ولایت اور آیۃ اصطفا کافی ہے۔اور سنت سے حدیث ثقلین، حدیث سفینہ، حدیث منزلت، حدیث صلوٰۃ الکاملہ، حدیث نجوم، حدیث مدینۃ العلم اور حدیث الائمہ بعدی اثنا عشر کافی ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ ایک تہائی قرآن اہل بیت(ع) کی شان میں نازل ہوا ہے جیسا کہ ابن عباس وغیرہ کا قول ہے اور نہ ہی اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ تمام سنت نبوی(ص) اہل بیت(ع) کا قصیدہ ہے اور لوگوں کو ان کی عظمت و فضائل کی طرف متوجہ کرتی ہے جیسا کہ امام احمد ابن حنبل کا خیال ہے۔تمام انسانوں پر اہل بیت(ع) کی فضیلت کے سلسلہ میں ہمارے لئے وہی کافی ہے کہ جوکہ قرآن اور


 اہلسنت کی صحاح  سے ہم نے نقل کیا ہے۔

اہل سنت والجماعت کےعقائد ، ان کی کتابوں اور ان کے اس تاریخی راستہ پر جوکہ اہل بیت(ع) کے  خلاف ہے ایک مختصر نظر ڈالنے کے بعد ہم پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انھوں نے اہل بیت(ع) کے خلاف راستہ اختیار کیا اور ان کے قتل کے لئے تلوار کھینچ لی اور ان کی کسرِ شان اوران کے دشمن  کی عظمت  بڑھانے کے لئے قلم کو حرکت دی۔

اس سلسلہ میں ہمارے لئے ایک دلیل کافی ہے جو کہ حجت بالغہ بھی ہے، جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ اہلسنت  دوسری صدی ہجری میں شیعوں کی مخالفت سے پہچانے گئے ہیں۔ شیعہ اہل بیت(ع) سے وابستہ تھے اور ان ہی سے رجو ع کرتے تھے چنانچہ انکی فقہ ، عبادت اور معتقدات میں کوئی ایسی چیز  نہیں ملتی ہے جو کہ اہل بیت(ع) سے مروی نہ ہو۔ ( فرض کیجئے ان کا یہ خیال کہ ہم علی(ع) اور اہل بیت(ع) کو شیعوں سے زیادہ چاہتے  ہیں، صحیح ہے تو پھر انھوں نے، ان کے علما نے اور ائمہ مذاہب نےفقہ اہل بیت(ع) کو کیوں چھوڑا اور وہ آج ان کےیہاں کیوں سیا منسیا ہے؟ اور  وہ اپنے ایجاد کردہ مذاہب کا کیوں  اتباع کرتے ہیں کہ جس پر اللہ نے کوئی دلیل نہیں نازل کی یہ خدا کا ارشاد ہے کہ ابراہیم(ع) سے وہ لوگ محبت کرتے ہیں جو کہ ان کا اتباع کرتے ہیں، لیکن جو لوگ ان کا اتباع نہیں کرتے وہ محبت کےدعوے میں جھوٹے ہیں۔)

اور پھر گھر والے ہی گھر کی بات کو اچھی طرح جانتے ہیں وہ نبی(ص) کی عترت ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ علم و عمل میں کوئی ان سے آگے نہیں بڑھا انھوں نے تین سو سال تک امت  کی رہبری و قیادت کی اور بارہ(۱۲) ائمہ(ع) نے روحانی و دینی امامت کےذمہ داری سنبھالی اور ان میں سے ایک کی رائے دوسرے کے  خلاف نہ تھی جب کہ اہل سنت والجماعت ان چار مذاہب کے سامنے سرا پا تسلیم ہیں جو کہ  تیسری صدی میں وجود میں آئے اور ایک نےدوسرے کی رائے  کی مخالفت کی اور ساتھ ہی انھوں نے اہل بیت(ع) سے روگردانی کی اور ان سے دشمنوں جیسا سلوک کیا بلکہ ان کے شیعوں سے جنگ کی اور آج تک یہی سلسلہ جاری ہے۔


دوسری دلیل کے لئے ہم اہل سنت والجماعت کے اس مؤلف کا تجزیہ کرتے ہیں جو کہ عاشورا ایسے مصیبت ناک دن کی عزاداری کے سلسلہ میں اختیار کیاہے ۔ روزِ عاشورا الم انگیز دن ہے جس میں امام حسین(ع) ، عترت اور برگزیدہ صالح مومنین کے قتل کے  سبب ارکانِ اسلام  منہدم ہوئے۔

   اولا:

قتل امام حسین(ع) سے اہل سنت راضی تھے اور اس روز خوشی مناتے تھے اور یہ ان سے بعید بھی نہیں ہے۔ پس سارے سنیوں نے امام حسین(ع) کو قتل کیا ہے۔ چنانچہ قتلِ حسین(ع) کے لئے ابنِ زیاد نے عمر ابن سعد ابن ابی وقاص کو لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا تھا اہل سنت والجماعت تمام صحابہ کو رضی اللہ عنہم  کہتے ہیں جب کہ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو قتلِ حسین(ع)  میں شریک تھے اور اہل سنت ان کی احادیث کو موثق تسلیم کرتے ہیں اور یہی نہیں ان صحابہ میں سے ایسے  بھی تھے جو امام حسین(ع) کو خارج کہتے تھے۔ کیوں کہ آپ(ع) نے امیر المؤمنین یزید ابن معاویہ کے خلاف  خروج کیا تھا۔

یہ بات ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کے فقیہہ عبداللہ ابن عمر نے یزید ابن معاویہ کی بیعت کی اور اپنے پیروکارں کو یزید (لع) کے خلاف خروج کرنے کو حرام قرار   دیا اور کہا :

" ہم تو غالب (فتحیاب) کے ساتھ ہیں۔"

ثانیا :

ہم اہل سنت والجماعت کو روز عاشورا سے آج تک دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ وہ عاشورا کے دن محفل جشن و سرور منعقد کرتے ہیں اور اسے روز عید تصور کرتے ہیں، اس دن اپنے اموال کی زکوۃ نکالتے ہیں۔ بچوں کو مثل عید پیسے دیتے ہیں اور اسے رحمت و برکتوں کا دن سمجھتے ہیں۔


اور اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ آج تک شیعوں پر طعلن و تشنیع کرتے ہیں اور امام حسین(ع۹ پر گریہ کرنے پر تنقید کرتے ہیں بعض اسلامی ممالک میں تو عزاداری پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔ شیوں سے اسلحہ سے اور بدعتوں سے جنگ کے بہانے شیعوں کا خون بہاتے ہیں اور انھیں زخمی کرتے ہیں۔

در حقیقت وہ بدعتوں سے جنگ نہیں کرتے ہیں بلکہ بنی امیہ و بنی عباس کے حکام کا کردار  ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے ذکر حسین(ع) کو مٹانے کی پوری کو شش کی تھی یہاں تک کہ قبر امام حسین(ع)  کو  کھدوا ڈالا اور زمین سے ملادیا تھا اور لوگوں کی زیارت سے روک دیا تھا، آج اہل سنت اس ذکرِ حسین(ع) کو زندہ کرنے سے لئے ڈرتے کہ کہیں لوگ جو کہ اہل بیت(ع) کی حقیقت و عظمت سے نا واقف ہیں۔ حقیقت  سے واقف نہ ہوجائیں اور اس سے ان کے سید و سردار کی اصلیت آشکار نہ ہوجائے اورلوگ حق کو باطل سے اور مومن کو فاسق جدا نہ کرلیں۔

ایک مرتنہ پھر یہ بات آشکار ہوگئی کہ شیعہ ہی حقیقی اہل سنت ہیں کیوں کہ وہ امام حسین(ع) پر گریہ و بکاء میں سنت نبی(ص) پر عمل کرتے ہیں جیسا کہ صحیح روایت سے ثابت ہے کہ جب جبرئیل نے سانحہ کربلا سے پچاس سال قبل رسول(ص) کو حسین(ع) کے کربلا میں قتل ہونے کی خبر دی  تو آپ(ص) نے گریہ فرمایا:

یہ تو واضح ہے کہ اہل سنت والجماعت عاشورا کےروز محفل جشن متعقد کرتے ہیں اور وہ اس روز محفل منعقد کر کے یزید ابن معاویہ اور بنی امیہکا اتباع کرتے  ہیںکیوںکہ انھیں( یزید بنی امیہ کو ) اس روز امام حسین(ع) پر ( ظاہری) کامیابی ملی تھی اور آپ(ع) کے اس انقلاب کو کچل دیا تھا جو کہ ان کی حکومت و نظام کے لئے چیلنج بنا ہوا تھا اس طرح انھوں نےانقلاب کی جڑ کاٹ دی تھی۔تاریخ ہمیں یہبتاتی ہے کہ یزید اور بنی امیہ نے اس خوشی میں بہت بڑا جشن منایا تھا یہاں تک  کہ دربار یز ید (لع) میں امام حسین(ع)  کا سر اور بے پردہ ناموس پہنچے تو انھیں اس حالت میں دیکھ کر انھوں نے بہت خوشی منائی اور رسول(ص) کی شان میں گستاخی کی چنانچہ اس سلسلہ میں اشعار بھی کہے۔اہلسنت والجماعت کے علما نے ان کا تقرب حاصل کیا اور بنی امیہ کے لئے روز عاشورا سے


متعلق بہت سی احدیث وضع کرڈالیں ، جن  کا مفہوم یہ ہے روزِ عاشورا خدا نے حضرت آدم(ع) کی توبہ قبول کی اور اس دن حضرت نوح(ع) کی کشتی جو پہاڑ پر ٹھہری اور اسی دن حضرت ابراہیم(ع) کے لئے آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہوئی اور اسی دن حضرت یوسف(ع)  نے قید سے رہائی پائی اور جناب یعقوب(ع) کو دوبارہ بصارت ملی، اسی دن جناب موسی(ع) کو فرعون (لع) پر فتح ملی اور اسی دن حضرت عیسیٰ(ع) پر آسمان سے خوانِ نعمت نازل ہوا۔

اور اہل سنت والجماعت کے علما و ائمہ آج بھی عاشورہ کی ناسبت سے ان تمام روایات کو منبروں سے دھراتے ہیں۔ اور یہ روایات ان دجال لوگوں کی گھڑی ہوئی ہیں جنھوں نے علما کا لباس پہن لیا تھا اور ہر طرح حکام کا تقرب حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے دنیا کے عوض اپنی آخرت کو فروخت کر دیا تھا تو ان کو اس تجارت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوں گے۔

انھوں نے جھوٹ کی انتہا کردی ہے۔ چنانچہ یہ روایت گھڑدی کہ جب رسول(ص) نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو آپ(ص) روز عاشورا مدینہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ مدینہ کے یہودی روزہ رکھے ہوئے ہیں آپ(ص) نے روزہ رکھنے کا سبب پوچھا : انھوں نے بتایا : آج کے دن موسی(ع) کو فرعون پر فتخ حاصل ہوئی تھی ۔ پس نبی(ص) نے فرمایا: ہم موسی(ع) کو تم سے زیادہ مانتے ہیں لہذا آپ(ص) نے یہودیوں کی مخالفت میں مسلمانوں کو نویں اور دسویں محرم کو روزہ کھنے کا حکم دیدیا۔

یہ تو کھلا جھوٹ ہے کیوں کہ ہمارے ساتھ بھی یہودی زندگی گزارتے ہیں لیکن ہم نے ان کی ایسی کوئی عاشورہ نامی عید نہیں دیکھی جس میں وہ روزہ رکھتے ہوں۔

کیا ہم اپنے خدا سے یہ سوال کر سکتے ہیں کہ تو نے سوائے محمد(ص) کے آدم(ع) سے عیسی(ع) تک یہ دن مبارک کیوں قراردیا ہے جب کہ محمد(ص) کے لئے یہ دن رنج و مصیبت  کا دن ہے اسی دن آپ(ص) کی عترت و ذریت کو نے دردی سے قتل کیا گیا اور آپ(ص)  کی بیٹیوں کو قیدی بنایا گیا؟

جواب : جو کچھ وہ کرتا ہے اس کی پوچھ گچھ نہیں ہوسکتی لیکن لوگوں سے باز پرس ہوگی ( سورہ انبیاء/۲۲)


     " تمھارے پاس علم آچکا ہے اگر اس کے بعد بھی تم سے کوئی حجت کرتا ہے  تو تم ان سے کہہ دو کہ تم اپنے بیٹوں کو لاؤ ہم اپنے بیٹوں کو لائیں تم اپنی عورتوں کو لاؤ ہم اپنی عورتوں کو لائیں تم اپنے نفسوں کو لاؤ ہم اپنے نفسوں کو  لائیں پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر خدا کی پھٹکار ڈالیں۔(آل عمران/۶۱)


اہل سنت والجماعت کی دم بریدہ صلوٰت

گزشتہ فصلوں میں ہم آیت کا نزول ، رسول(ص) سے اس کی تفسیر اور کامل صلوٰت بھیجنے  کا طریقہ پیش کر چکے ہیں،اور رسول(ص) نے ناقص صلوٰت بھیجنے سے منع کیا ہے کیوں کہ اسے خدا  قبول نہیں فرماتا ہے۔ لیکن اہلسنت والجماعت کو ناقص صلوٰت بھیجنے پر مصر پاتے ہیں ان کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ صلوٰت میں آل محمد(ص) کا نام نہ آجائے اور اگر کبھی با دلِ ںخواستہ آلِ محمد(ص) کا نام لے لیا تو آلِ محمد(ص) کے ساتھ اس  صلوات میں اصحاب کا بھی اضافہ کردیتے  ہیں اور جب آپ ان میں سے کسی کے سامنے صلی اللہ علیہ و آلہ کہیں گے وہ فورا یہ سمجھیں گے کہ آپ شیعہ ہیں کیوں کہ محمد و آلِ محمد(ص) پر کامل صلوات بھیجنا شیعوں کا شعار بن چکا ہے۔

یہ وہ حقیقت ہے کہ جس میں ذراسا بھی شک نہیں  ہے میں خود بھی پہلے محمد(ص) کے بعد صلی اللہ علیہ وآلہ ، لکھنے والے کو شیعہ ہی سمجھتا تھا اور جب نام محمد(ص) کے بعد صلی اللہ علیہ و سلم دیکھتا تھا تو  سمجھتا تھا کہ اس کا لکھنے  والا سنی ہے۔

جیسا کہ علی(ع) لکھنے والے کو میں شیعہ سمجھتا ہوں اور جب کوئی کرم اللہ وجہہ لکھتا ہے تو سمجھ جاتا


 ہوں کہ یہ سنی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ پوری صلوات بھیجنے میں شیعہ سنت نبوی(ص) کی اقتداء کرتے ہیںجبکہ اہل سنت والجماعت نبی(ص) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کو اہمیت نہیں دیتے ہیں چنانچہ آپ انھیں ہمیشہ ناقص صلوات بھیجتے ہوئے پائیںگے اور جب کبھی وہ آل محمد (ص) کے نام کا اضافہ کرنے پر مجبور ہوجاتے  ہیں تو  اس وقت ان کے ساتھ اصحابہ اجمعین  کا بھی اضافہ کردیتے ہیں تا کہ اہل بیت(ع) کی فضیلت ثابت نہ ہو۔

در اصل ان تما م چیزوں کا تعلق بنی امیہ کی اہل بیت(ع) سےدشمنی سے ہے یہ عداوت ان کے دلوں میں بڑھتی رہی ۔ یہاں تک کہ انھوں نے صلوات کے بجائے منبروں سے اہل بیت(ع) پر لعنت بھیجنا شروع کردی اور خوف و طمع کے ذریعہ لوگوں کو بھی لعنت بھیجنے پر مجبورکیا۔

اہل سنت والجماعت نے بہ رضا و رغبت اہل بیت(ع) پر لعن و طعن کرنانہیں چھوڑا ہے اگر  وہ لعنت کرتے تو  مسلمانو ں میں رسوا ہوجاتے اور ان کی حقیقت آشکار ہوجاتی اور لوگ ان سے بیزار ہوجاتے اس لئے انھوں نے لعنت کوچھوڑا دیا لیکناہل بیت(ع) سے عداوت و دشمنی ان کے دلوں میں محفوظ رہی اور ان کے نور کو خاموش کرنے اور ان کے دشمنوں کے  ذکر کو بلند کرنےکی پوری کوشش کرتے رہے۔ اور ان کےلئے ایسے خیالی فضائل گھڑتے رہے کہ جن کا حق و حقیقت سے کوئی ربط نہیں  ہے ۔

دلیل یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت آج تک معاویہ اور ان صحابہ کو کچھ بھی نہیں کہتے ہیں کہ جنھوں نے اسی(۸۰) سال تک اہل بیت(ع) پر لعنت کی اس کے بر عکس ان کو رضی اللہ عنہم اجمعین کہتے ہیں۔ اور اگر کوئی مسلمان کسی صحابہ  میں کوئی نقص نکالتا ہے اور ان کے جرائم کا انکشاف کرتا ہے تو وہ اس کے کفر اور قتل کا فتوا دیدیتے ہیں۔ بعض احادیث گھڑنے والوں نے تو یہاں تک کامل صلوات  میں ( جو نبی(ص) نے اپنے اصحاب کو تعلیم دی تھی۔) ایک جز کا اضافہ کردیا ہے اور وہ اس خیال سے تاکہ اہل بیت(ع)  کی عظمت کو گھٹایا جاسکے۔ روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ(ص) نے فرمایا: قولوااللهم صلی علی


محمّد وآلِ محمّد و علی ازواجه و ذریته، تم اس طرح کہو!اللهم صلی علی محمد وآل محمد وعلی ازواجه و ذریته" ایک محقق بادی النظر میں یہ بات سمجھ لے گا اس جز کا اضافہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ عائشہ کو بھی اہل بیت(ع) کے زمرہ میں شامل کردیا جائے۔

ہم ان سے کہتے ہیں : اگر جدلی طور پر اس روایت کو صحیح بھی تسلیم کرلیں اور قبول کر لیں کہ  امہات المؤمنین بھی صلوات کے ضمن میں ہیں تو صحابہ تو ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے ۔ میں تمام مسلمانوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ قرآن یا حدیث سے اس سلسلہ میں ایک ہی دلیل پیش کردیں شاید آسمان کے ستاروں سے اس کا قریب ہونا آسان ہوگا لیکن دلیل لانا آسان نہیں ہے۔اور قرآن و حدیث ہر ایک صحابی اور قیامت تک پیدا ہونے والے  مسلمانوں کو محمد وآل محمد پر صلوات  بھیجنے کا حکم دیا ہے اور یہی ایک مرتبہ ایسا ہے جس سے  تمام  مراتب پست ہیں اور اس میں کوئی بھی ان کا شریک نہیں بن سکتا۔

پس ابوبکر و عمر اورعثمان بلکہ تمام صحابہ اور ساری دنیا کے مسلمان کہ جن کی تعداد سو(۱۰۰) ملین ہے تشہد پڑھتے وقت کہتے ہیں اللہم صلی علی محمّد وآل محمد! اگر یہ نہیں کہیں گے تو  ان کی نماز باطل ہے ۔ خدا اس نماز کو قبول نہیں کرتا ہے جس میں محمد و آل محمد(ص) پر صلوات نہ بھیجی جائے۔

             یہ ٹھیک وہی معنی ہیں کہ جو امام شافعی نے بیان کئے ہیں کہتے ہیں:

             یکفیکم من عظیم الشان انکم         من لم یصل علیکم لا صلوٰة له

اے اہل بیت (ع) آپ کی عظمت و منزلت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جو  نماز  میں تم پر صلوات نہ بھیجے  اس کی نماز ، نماز نہیں۔اس شعر کی بنا پر شافعی کے اوپر شیعیت کی تہمت لگائی گئی اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ بنی امیہ و بنی عباس کے گماشتے  ہر اس شخص کو شیعہ کہنے لگے تھے جو محمد و آل محمد(ص)  پر صلوات بھیجتا تھا ان کی شان میں کوئی قصیدہ کہہ دیتا تھا یا ان کے فضائل کے سلسلہ میں کوئی حدیث بیان کردیتا تھا۔

اس سلسلہ میں وسیع بحث ہے جو بارہا لکھی جا چکی ہے اور جب تکرار میں فائدہ ہو  تو دھرانے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔


اس فصل سے ہمیں یہ اہم بات معلوم ہوئی ہے کہ شیعہ ہی اہل سنت والجماعت ہیں اور ان کی صلوات ان کے مخالف کی نظر میں بھی کامل اور مقبول ہے جب کہ اہل سنت والجماعت اس سلسلہ میں سنتِ نبوی(ص) کی مخالفت کرتے ہیں، ان کی صلوات ان کے علما و ائمہ کی نظر میں بھی ناقص اور غیر مقبول ہے۔

یا وہ ان لوگوں سے حسد کرتے ہیں جنھیں خدا نے اپنے فضل و کرم سے بہت  کچھ عطا کیا ہے  اور ہم نے تو آلِ ابراہیم کو کتاب و حکمت اور ملکِ عظیم عطا کیا ہے۔ (نساء/۵۴)


عصمت نبی(ص) اور اہل سنت والجماعت پر  اس کا اثر

عصمت کے سلسلہ میں مسلمانوں کے مختلف نظریات  ہیں اور یہ تنہا وہحقیقت ہے کہ جو مسلمانوں پر احکام نبی(ص) کے بے چون  و چرا قبول کرنے کو واجب قرار دیتی ہے اور جب مسلمان اس بات کے معتقد ہیں کہ نبی(ص) اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتا ہے مگر جو کہتا ہے وہ وحی ہوتی ہے جو کہ اس پر کی جاتی ہے پس اگر مسلمان نبی(ص) کے ان اقوال احکام پر ایمان نہیں رکھتے کہ وہ قرآن پڑھا جانے والا  قرآن ہے تو اس صورت میں وہ فقط نبی(ص) ہی کا اجتہاد ہوگا۔

لیکن جو مسلمان اس بات کے معتقد ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ساری چیزیں خدا کی طرف سے ہیں، نبی(ص) تو صرف بیان کرنے اور پیغام پہنچانے والے ہیں تو وہ فقط شیعہ ہیں اور بہت سے صحابہ کا بھ ی یہی اعتقاد مشہور ہے اور ان کے سردار علی(ع) کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ انھوں نے سنتِ نبی(ص)  کو وحی خدا سمجھا اور اس میں کسی قسم کی رد و بد ل نہ کی  پس احکام خدا کے مقابلہ میں اپنی رائے اور ذاتی اجتہاد کو استعمال  کرنا جائز نہیں ہے۔

لیکن جن مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی(ص) اپنے قول و فعل میں غیر معصوم ہیں اور صرف


قرآن کی تبلیغ اور اس کی آیات کی تلاوت کے وقت معصوم ہیں اس کے علاوہ تمام انسانوںکی مانند ہیں ، وہ صحیح امور بھی انجام دیتے ہیں اور خطا کے بھی مرتکب ہوتے ہیں اس نظریہ کی رو سے اہل سنت والجماعت نبی(ص) کے ان احکام اقوال کے مقابلہ مین صحابہ اور علما کے اجتہاد کو جائز قرار دیتے ہیں جو کہ عام لوگوں کی مصلحت کے مطابق اور ہر زمانہ کے حالات سے سازگار ہیں

یہ بات محتاج بیان نہیں ہےکہ ( علی(ع) کے علاوہ) خلفائے راشدین سنتِ نبوی(ص) کے مقابلہ میں  اجتہاد کر لیا کرتے تھے پھر اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور نصوص قرآن کے مقابلہ میں بھی اجتہاد  کرنے لگے اور بعد  میں ان کی رائیں اہل سنت والجماعت میں احکام بن گئیں ۔ چنانچہ وہ ان ہی پر عمل کرتے ہیں اور ان ہی کو مسلمانو ں پر تھوپتے ہیں۔

ہم اپنی کتاب " مع الصادقین" میں ابوبکر وعمر اور عثمان کے اجتہاد کے متعلق بحث کر چکے ہیں اسی طرح " فاسئلوا اہل الذکر میں اشارہ کرچکے ہیں ، انشاء اللہ مستقبل میں ان کے اجتہاد سے متعلق خاص کتاب پیش کریں گے۔

ہم جانتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت اسلامی تشریع کے دو اساسی مصادر ( قرآن و سنت)  میں کچھ مصادر کا بھی اضافہ کرتے ہیںمن جملہ ان کے شیخین ابوبکر عمر" کی سیرت اور صحابہ کا اجتہاد ہے ۔ اور اس کا سرچشمہ ان کا وہ اعتقاد ہے جس میں نبی(ص) کو غیر معصوم کہا جاتا ہے ، بلکہ کہا جاتا ہے نبی(ص) اپنی رائے سے اجتہاد کرتے تھے چنانچہ بعض صحابہ آپ کی رائے کی اصلاح کرتے تھے۔

 اس سے ہم پر یہ بات عیاں ہوجاتی  ہے کہ جب اہل سنتوالجماعت  یہ کہتے ہیں کہ نبی(ص) معصوم نہیں تھے تو اس قول سے وہ شعوری یا لاشعوری طور پر  نبی(ص) کی مخالفت کو جائز  قرار دیتے ہیں۔

اور عقلی اور شرعی اعتبار سے غیر معصوم کی طاعت واجب نہیں ہے اور جب تک ہمارا یہ اعتقاد رہے گا کہ رسول(ص) سے خطا سرزد ہوتی تھی اس وقت ! ان کی طاعت واجب نہیں ہوگی۔ اور پھر خطا کار کی کیسے طاعت کریں؟


اسیطرح یہ بھی ہم جپر واضجح ہوگیا کہ شیعہ نبی(ص) کو مطلق طور پر معصوم مانتے ہیںاور آپ(ص) کی طاعت کو واجب سمجھتے ہیں کیوں کہ آپ(ص) معصوم عن الخطا ہیں۔ پس کسی بھی صورت میں آپ کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے اور جو آپ(ص) کی مخالفت کرے گا یا آپ(ص) سے منہ پھرائےگا وہ اپنے پروردگار کی نافرمانی کرے گا جیسا کہ متعدد  آیتوں میں اس بات کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

             جو رسول(ص) تمھارے پاس لائے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو۔( حشر/۷)

             اللہ کی اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی اطاعت کرو۔ (آل عمران/۱۳۲)

             کہدیجئیے کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میرا تباع رکرو، خدا بھی تم سے محبت کرے گا۔(آل عمران/۳۱)

اور بہت سی آیتیں ہیں جو  مسلمانوں پر نبی(ص) کی اطاعت کو واجب قرار دیتی ہیں اور  آپ(ص) کی مخالفت و نافرمانی سے روکتی ہیں کیونکہ آپ(ص) معصوم ہیں اور نبی(ص) اسی امر کی تبلیغ کرتے ہیں جس کا خدا کی طرف سے حکم ہوتا ہے۔

اور اس سے یہ بات بدیہی طور پر ثابت ہے کہ شیعہ ہی اہل سنت ہیں۔ کیوں کہ وہ سنت کو معصوم تسلیم کرتے ہیں اور اس کے اتباع کو واجب سمجھتے ہیں اسی سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ" اہل سنت والجماعت" سنت نبی(ص) سے بہت دور ہیں۔ کیوں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ سنت میں خطا واقع ہوئی ہے۔ اور اس کی مخالفت کرنا جائز  ہے۔

سب ایک ہی دین پر تھے۔ پس خدا نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے پیغمبروں کو بھیجا اور ان کے ساتھ بر حق کتاب بھی نازل کی تاکہ لوگوں کے درمیان اختلاف


 والی چیزوں کا فیصلہ کریں اور اس حکم سے ان لوگوں نے اختلاف کیا جن کو کتاب دی گئی تھی جب ان کے پاس خدا کے صاف صاف احکام آچکے اور انھوں نے پھر شرارت کی تو خدا نے اپنی مہربانی سے ایمانداروں کو راہ حق دکھا دی جس میں ان لوگوں نے اختلاف ڈال رکھا تھا۔ اور خدا  جس کو چاہتا ہے راہِ راست  کی ہدایت کرتا ہے۔ (بقرہ/۲۱۳)


ڈاکٹر موسوی اور ان کی کتاب اصلاح شیعہ

کچھ روشن فکر اور ذہین نوجوانوں سے پیرس میں میری ملاقات میرے عالم جوانی کے دوست اور خاندانی عزیز کے دولت خانہ پر اس وقت ہوئی جب طویل انتظار کے بعد خدا نے انھیں فرزند عطا کیا تھا اور اس پر انھوں نے دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا تھا ، وہاں ہمارے درمیان شیعہ  اور سنی کے موضوع پر  بحث چھڑ گئی شیعوں پر تنقیدیں کرنے میں الجزائر کے اکثر وہ لوگ تھے جو اسلامی انقلاب میں پیش پیش ہیں۔ وہ خیالی داستانوں کو دھرا رہے تھے، ان میں آپس میں بھی اختلاف تھا۔ بعض منصت مزاج کہہ رہے تھے کہ شیعہ ہمارے دینی بھائی ہیں اور بعض کہہ رہے تھے شیعہ گمراہ ہیں۔

اور جب ہم نے سنجیدگی سے بحث و استدلال شروع کیا تو ان میں سے بعض میرا مذاق اڑانے لگے اور یہ کہنے لگے تیجانی ان لوگوں میں سے ہیں جو کہ ایران کے اسلامی انقلاب سے متاثر ہوگئے ہیں، میرے دوست نے انھیں یہ بات باور کرانے کی لاکھ کوشش کی کہ میں بڑا محقق ہوں اور حاضرین کے سامنے میری تعریف  کرتے ہوئے کہا، انھوں نے اس موضوعات پر  متعدد کتابیں تحریر کی ہیں۔

لیکن ان میں سے ایک نے کہا: میرے پاس ایک دلیل و حجت ہے کہ جس کے بعد کوئی دلیل


و حجت نہیں ہے، سب خوموش ہوگئے میں نے اس حجت کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: چند منٹ کی اجازت دیجئے، وہ دوڑتا ہوا اپنے گھر گیا اور ڈاکٹر موسی موسوی کی کتاب" الشیعہ والتصحیح" لایا، جب میں نے کتا ب دیکھی تو مجھے ہنسی آگئی اور کہا ، کیا  یہی وہ حجت ہے۔ جس کے بعد کوئی حجت نہیں؟ وہ حاضرین کی طرف ملتفت ہوا اور کہنے لگا۔

یہ شیعوں کا بہت بڑا عالم اور ان کے مراجع میں سے ایک مرجع ، اس کے پاس اجازہ اجتہاد بھی ہے اور اس کے باپ دادا شیعوں کے بڑے علما میں شمار ہوتے تھے لیکن اس نے حق پہچان لیا اور شیعیت چھوڑ کر مذاہب اہل سنت والجماعت اختیار کر لیا۔

اور مجھے یقین ہے کہ اگر میرے بھائی ( تیجانی) بھی اس کتاب کا مطالعہ کرتے تو شیعیت سے کبھی دفاع نہ کرتے اور ان (شیعوں) کے انحرافات کو پہچان لیتے۔

مجھے ایک مرتبہ پھر ہنسی آگئی اور اس سے کہا: میں آپ کو یہ بتادوں کہ میں نے اسے ایک محقق کی حیثیت سے پڑھا ہے اسی کتاب سے میں سب کے سامنے آپ کو وہ  حجت پیش کروں گا کہ جس کے بعد کوئی حجت نہیں ہے۔

             حاضرین کے ساتھ اس نے افسوس کے ساتھ کہا: لائیے ہم بھی تو سنیں۔

             میں نے کہا مجھے کتاب کا صفحہ تو یاد نہیں ہے لیکن اس کی شہ سرخی یاد ہے میں نے اسے اچھی طرح یاد کیا ہے۔ اور وہ  ہے۔ اقوال ائمہ الشیعہ فی الخلفاء الراشدین" شیعوں کے ائمہ کے اقوال خلفائے راشدین کے بارے میں۔

             اس نے کہا: اس میں کیا ہے؟

میں نے کہا : اسے حاضرین کے سامنے پڑھیئے اس کے بعد  میں آپ کے سامنے وہ حجت پیش  کروں گا۔

اس نے  وہ عبارت نکالی اور حاضرین کے سامنے پڑھی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ " امام جعفر صادق(ع)" اپنے کو ابوبکر سے نسبت دینے پر افتخار کرتے تھے  چنانچہ ایک مرتبہ آپ(ص) نے فرمایا کہ


 مجھے! ابوبکر سے دھری نسبت ہے اور جن لوگوں نے اس روایت کو بیان کیا ہے ان ہی لوگوں نے وہ روایت بھی نقل کی ہیں کہ جن امام جعفر صادق(ع) نے ابوبکر پر لعن طعن کی ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر موسوی  حاشیہ لگاتے ہیں کہ کیا یہ بات معقول ہے کہ ایک مرتبہ امام جعفر صادق(ع)  ایک لحاظ سے اپنے جد (ابوبکر) پر فخر کریں اور دوسری مرتبہ دوسرے اعتبار سے ان پر لعن طعن کریں؟ اس قسم کی باتیں تو  کوئی بازاری ہی کرسکتا ہے۔ امام ایسی بات کہہ سکتے یں؟

تمام حاضرین نے مجھ سے پوچھا ، اس میں کیا حجت ہے؟ نیز سب نے کہا یہ تو معقول اور  منطقی بات ہے۔

میں نے کہا : امام جعفر صادق(ع) کے اس قول سے کہ مجھے ابوبکر سے دھری نسبت ہے۔ ڈاکٹر موسوی نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ وہ اپنے جد پر فخر کرتے ہیں۔ جب کہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس سے ابوبکر کی مدح و ستائش ہو اور  پھر امام صادق(ع)  ابوبکر کے خاص نواسے نہیں ہیں بلکہ ابوبکر آپ(ع) کی مادر گرامی کے جد ہیں کیوں کہ امام صادق(ع) ابوبکر کی وفات سے ستر(۷۰) سال  کے بعد  متولد ہوئے ہیں آپ(ع) نے ہرگز ابوبکر کو نہیں دیکھا۔

سب نے کہا اس  سے ہم آپ کا مقصد سمجھ گئے کیا ہے؟!

میں نے کہا : اس شخص کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے کہ جو کہ اپنے خاص جد او ر اپنے باپ کے والد پر فخر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اپنے معاصرین میں اعلم ہوں اور تاریخ اس کا مثل پیش نہیں کرسکتی اور پھر  کہے کہ میں نے ان سے درس و ادب حاصل کیا ہے، کیا اس کے بعد بھی ان پر اعتراض کیا جاسکتا ہے اور   کی اایک عقلمند انسان اس بات کو قبول کرسکتا ہے کہ وہ کسی شخص پر ایک اعتبار سے افتخار کرے اور دوسری جہت سے اسے کافر ثابت کرے؟!

سب نے کہا: یہ تو معقول نہیں ہے اور کبھی نہیں ہوسکتا۔

میں نے کہا اس کتاب کے پہلے صفحہ کی عبارت پڑھئے تو معلوم ہوگا کہ ڈاکٹر موسوی ایسے ہی ہیں۔


اس نے پڑھا : میں نے اس گھر میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا جس کے ہاتھ شیعوں کی قیادت تھی اور میں نے اس شخص سے درس پڑھا جس کو تاریخ تشیع میں زمانہ غیبت میں زعیم اکبر اور دینی قائد کہا جاتا ہے اور وہ ہیں میرے جد امام الاکبر السید ابوالحسن الموسوی کہ جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہانھوں نے اپنے سے پہلے کے علما کی یاد کو بھلا دیا تھا اور بعد والوں کے لئے مثال چھوڑدی  تھی۔

میں نے کہا ، حمد خدا ہی کے لئے ہے کہ جس نے خود موسوی کی زبان سے اس حجت کا اظہار کرادیا اور اس نے خود اپنے خلاف فیصلہ کردیا جیسا کہ آپ نے اس کا قول پڑھا ہے کیا یہ معقول ہے کہ ایک جہت سے اپنے جد پر افتخار کریں اور دوسرے لحاظ سے ان پر اعتراض کریں؟ جب کہ وہ خود کہہ چکے ہیں کہ ایسی بات تو کوئی بازاری ہی کہہ سکتا ہے۔

اور یہ  وہ شخص  ہے جو اپنے دادا کے لئے ایسے عظیم اوصاف گنوارہا ہے جو کہ ان کے علاوہ بڑے بڑے علما کو نصیب نہ ہوئے اور اس بات کا دعویدار ہے کہ میں نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ کیا ہے اور ان ہی سے حاصل کئے ہیں ان تمام باتوں کے بعد تو انھیں جاہل و بازاری ہی مورد طعن ٹھہراتا ہے۔

اس سے تمام حاضرین کے سر جھک گئے اور میرے صاحب خانہ نے مسکراتے ہوئے کہا : کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ برادرم تیجانی  موضوع اور منطق کے مطابق بحث کرتے ہیں؟

میں نے جواب دیا: اگر حقیقت یہ ہوتی جو آپ  کہہ رہے ہیں تو ڈاکٹر صاحب کو اپنے جد اور اس استاد سے برائت کا اظہار کرنا واجب تھا جس نے انھیں اجتہاد کا اجازہ دیا ہے ان پر افتخار کرنا جائز نہیں تھا ایک طرف ان کو لاشعوری طور پر کافر قرار دیتا ہے اور دوسری طرف ان پر فخر کرتا ہے۔

اگر میں ڈاکٹر موسوی کی تحریر کے متعلق آپ سے مباحثہ کرنا چاہتا تو تمھیں حیرت انگیز  چیزیں دکھا دیتا۔

ان اشکالات کے شروح اور توضیحات کے بعد اس ملاقات کا اختتام بحمد اللہ مثبت نتائج


 پر ہوا، ان بحث کرنے والوں میں سے بعض تو میری تینوں کتابوں کو مطالعہ کرنے کے بعد شیعیت سے قریب ہوگئے ہیں۔

اس موقع سے  فائدہاٹھا کر قارئین  محترم کے سامنے اپنی اس تحریر کو پیش کرتا ہوں جو کہ میں نے " الشیعۃ والتصحیح" کے متعلق عجلت میں قلم بندی کی تھی، کیوںکہ مذکورہ کتاب نے وہابیوں کے علاقوں میں بہت مقبولیت پیدا کی ہے ، پھر وہابیوں کے پاس مال و دولت کی کمی نہیں ہے بعض علاقوں میں ان کا خاص اثر و نفوذ ہے لہذا و ہ ان نوجوانوں کو دامِ فریب میں پھنسا لیتے ہیں جو کہ شیعیت کو نہیں پہچانتے ہیں، اس کتاب کے ذریعہ انھیں بہکانے ہیں اور انھیں مفید تحقیق کرنے سے منع کرتے ہیں اور اس طرح ان کےاور حقیقت کے درمیان ایک رکاوٹ کھڑی کردیتے ہیں۔ یہ اعتراض کرنے والے ڈاکٹر موسوی کی کتاب "  الشیعہ و التصحیح " کوشیعوں پر حجت قرار دیتے ہیں۔ اس کتاب کو ان حکومتوں نے ملینوں کو تعداد میں چھپوا کر مفت تقسیم کیا ہے کہ جن کے مقاصد کو ہر خؒاص وعام جانتا ہے۔ ان نے  چاروں کا خیال خام یہ ہے کہ انھوں نے مذکورہ کتاب کو نشر  و اشاعت کے ذریعہ شیعوں کی دہجیاں اڑادی ہیں تاکہ یہ حجت بن جائے اور پڑھنے والے پڑھ لیں، کیوں کہ اس کے مصنف " آیت اللہ موسوی"  شیعہ تھے۔

لیکن وہ بے چارے بعض چیزوں سے بے خبر ہیں انھوں نےت اس کتاب کا مطالعہ صحیح طور پر تجزیہ ہی نہیں کیا ہے اور اس سے رونما ہونے والے ان بھیانک نتائج کے بارے نہیں سوچا کہ جو ان کے لئے وبال جان بن جائیں گے۔

میں نے خود ڈاکٹر موسی موسوی کے جھوٹ کے پلندے کا جواب لکھنے میں اپنا قیمتی وقت نہیں صرف کروں گا، میں سمجھتا ہوں  کہ میری کتاب" مع الصادقین" موصوف کے مفتریات کے مسکت جواب ہے اگر چہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی اس کتاب سے قبل ایک کتابچہ تحریر  کیا تھا کہ  جس میں شیعوں کے ان معتقدات کا اظہار کیا تھا کہ جن کا مدار قرآن مجید اور نبی(ص) کی صحیح سنت اور بمع اہلسنت و الجماعت تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اور ہم نے ان کے ہر ایک عقیدہ کو اہل سنت والجماعت کی صحاح سے ثابت کیاہے۔


اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ڈاکٹر موسیٰ موسوی کا کلام خرافات کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس پر نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی اسلامی منطق بلکہ وہ شیعوں سے پہلے اہل سنت والجماعت پر طعن و تشنیع ہے۔

اور  یہ بھی عیاں ہے کہ اس کی کتاب کو رواجدینے والے افراد اسلامی حقائق سے بلکل بے خبر  ہیں اور اس سے ان کی جہالت و حقیقت کا  انکشاف ہورہا ہے۔

اور عقائد شیعہ میں سے جس چیز پر بھی موصوف نے تنقید کی ہے اور ان پر زبان طعن دراز کی ہے وہ بحمد اللہ اہل سنت والجماعت کی صحاح میں موجو د ہے۔

پس اس سے شیعوں پر کوئی نقص نہیں وارد ہوا بلکہ خود ڈاکٹر موسیٰ موسوی اور اہل سنت والجماعت میں عیب نکلا ہے کہ جنھیں یہی معلوم نہیں ہے کہ ان صحاح و مسانید میں کیا بھرا  پڑا ہے۔

پس امامت کا قائل ہونا اور ان بارہ(۱۲) خلفا کی خلافت پر نص جو کہ سب قریش سے ہوں گے  یہ شیعوں کی ایجاد نہیں ہے یہ تو اہل سنت والجماعت کی صحاح میں موجود ہے۔ اور امام مہدی(ع) کے وجود کا قائل ہونا اور یہ کہ وہ عترتِ طاہرہ(ع)  میں سے ہونگے اور اسی طرح زمین کو عدل و اںصاف سے پر کریں گے جیسا کہ وہ ظلم وجور سے پر ہوچکی ہوگی، بھی شیعوں کی من گھڑت نہیں ہے یہ بھی اہل سنت والجماعت کی صحاح میں موجود ہے۔

اور اس بات کا قائل ہونا کہ حضرت علی ابن ابی طالب(ع) رسول اللہ(ص) کے وصی ہیں یہ بھی شیعوں کی بدعت نہیں ہے بلکہ یہ اہل سنت والجماعت کی صحاح میں موجود ہے۔

اسی طرح تقیہ پر عمل کرنا اور اس کو صحیح تسلیم کرنا بھی شیعوں کے خیال کی پیداوار نہیں ہے بلکہ تقیہ کے سلسلہ میں قرآن میں آیت نازل ہوئی ہے اور یہ سنت نبوی(ص) سے ثابت ہے اور یہ سب کچھ اہل سنت والجماعت کی صحاح میں موجود ہے۔

اور متعہ کو جائز و حلال ماننا بھی شیعوں کی ذہنی اپج نہیں ہے بلکہ اسے تو خدا اور اس کے رسول(ص) نے حلال قرار دیا ہے اور عمر ابن خطاب نے حرام قرار دیا ہے ۔ جیسا کہ اہل سنت والجماعت کی


صحاح میں موجود ہے۔

اور سال بھی کی آمدنی میں سے خمس نکالنے کو صحیح تسلیم کرنا بھی شیعوں کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اسے بھی کتابِ خدا اور سنت رسول(ص) نے واجب قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اہل سنت والجماعت کی صحاح گواہی دے رہی ہیں۔

اور بداء کا قائل ہونا اور یہ کہ خدا جس کو چاہتا ہے محو فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ثبت فرماتا ہے، یہ بھی شیعوں کی خیالی پلاؤ نہیں ہے بلکہ صحیح بخاری سے ثابت ہے۔

اور بغیر عسر و ضرورت کے " جمع بین الصلاتین" یعنی دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا قائل ہونا بھی شیعوں کی اختراع نہیں ہے بلکہ یہ قرآن کا حکم ہے اور اس پر رسول(ص) نے عمل کیا ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کی صحاح سے ثابت ہے۔

خاک شفا پر اور زمین پر سجدہ کرنا  بھی شیعوں کی ایجاد نہیں ہے بلکہ سید المرسلین(ص)  نے بھی زمین ہی  پر سجدہ کیا ہے اور یہی اہل سنت والجماعت  کی صحاح سے ثابت ہے۔

اور اس کے علاوہ جو  باتیں ڈاکٹر موسیٰ موسوی نے کہی ہیں کہ جن کا مقصد صرف تہویل و تھریج ہے، جیسے تحریف قرآن کو دعوا ، تو اہل سنت والجماعت اس تہمت کے زیادہ مستحق ہیں جیسا کہ اس سلسلہ میں ہم اپنی کتاب " مع الصادقین" میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔

مختصر یہ کہ ڈاکٹر موسیٰ موسوی کی  تالیف ، اصلاح شیعہ" پوری پوری قررآن و سنت رسول(ص) ،اجماع مسلمین اور عقل  و وجدان کے سراسر خلاف ہے۔

موسوی نے بہت سے ضروریات دین کا انکار کیا ہے جب کہ وہ کتابِ خدا میں موجود ہیں اور رسول(ص) نے ان پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا ہے اور ان پر مسلمانوں کا اجماع ہے اور ان کا انکار کرنے والا مسلمانوں کےاجماع سے کافر  ہے۔

پس اگر موسوی کی مراد اس " اصلاح" سے ان کا عقائد و احکام کا بدلنا ہے تو وہ ( موسوی) کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور تمام مسلمانوں پر اس کا مقابلہ کرنا واجب ہے۔ اور اگر "اصلاح "


 مراد خود اپنے عقائد بدلنا ہے جیسا کہ ان کی کتاب سے میری سمجھ میں یہی آیا ہے  لیکن موصوف کی تحریر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شیعیت کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے والد کےقتل کا ذمہ دار شیعوں کو ٹھہرایا تھا ( جیسا کہ ص۵ پر تحریر کرتے ہیں) قاتل مذہبی شخص کے لباس میں تھا ۔ اور میرے باپ کو جانور کو طرح ذبح کردیا گیا تھا۔

شیعوں کے بارتے میں بچپن ہی سے ان کایہ عقیدہ تھا جب کہ ان کا اس قتلجسے کوئی رابطہ نہیں تھا لیکن انھوںنے اہل سنت والجماعت کی طرف رخ پھیرا لیا اور اہل بیت(ع) کا اتباع کرنے والوں سے بغض کینہ میں ان کےشریک بن گئے جب کہ وہاں کوئی مقام نہ ملا اب نہ وہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے ، وہ صرف ان باتوں سے واقف ہیں جو شیعوں کے دشمن نے ان کی طرف منسوب کردی ہیں اور اسی طرح اہل سنت والجماعت کےمتعلق سوائے نماز جمعہ کے ( اگر شریک ہوتے تو) کچھ نہیں جانتے ہیں۔

اگر اصلاح سےان کی یہی مراد ہے تو ان پر ان غلط و فاسد  عقائد کی اصلاح کرنا واجب ہےکہ جن سے امت کےاجماع کی مخالفت کی ہے۔

پس جب ڈاکٹر موسیٰ موسوی نے تعلیم و تربیت ( جیسا کہ انھوں نے اپنی کتاب کے صفحہ ۵ پر  تحریرکیا ہے ) اور درس و ادب اس شخص سے حاصل کیا ہے کہ جس کو آج تک تاریخ تشیع میں دینی قائد اور زعیم اکبر کہا جاتا ہے اور وہ ہیں خود ان  کے دادا  امام اکبر ابوالحسن موسوی کہ جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اپنے پہلے والوں کی یاد فراموش کردی اور  آنے والوں کو  عاجز کردیا۔ ڈاکٹر نے ان کے دروس کو حفظ نہ کیا اور ان کے آداب سے آراستہ نہ ہوئے اور ان کے راستہ کو اختیار نہ کیا ، ان کے علم سے سیراب نہ ہوئے بلکہ ہم تو انھیں ان کی جد امام اکبر اور زعیم دینی کے عقائد کا مذاق اڑاتے ہوئے دیکھتے ہیں، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹر نے اپنے والدین کو عاق کردیا ہے۔ بلکہ اس کا عاق یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اس نے اپنے دادا اور والدین کو کافر قرار دیدیا ہے۔ پس جب موسوی کی نظروں میں شیعہ کافر ہیں تو ان کے قائد  بھی جو کہ موسوی کےجد ہیں ۔ کفر سے


 زیادہ قریب ہیں۔

ڈاکٹر موسوی کا اپنے جد ابوالحسن الموسوی ( رحمۃ اللہ) کی کتاب " وسیلۃ النجاۃ" سے جاہل رہنا ایسا ننگ و عار ہے کہ جس کے بعد کوئی ننگ و عار نہیں ہے اور پھر یہ دعوی ہے کہ میں (ڈاکٹر موسوی) نے ان کے سامنے زانوائے تلمذ تہ کیا ہے!

اور اس سے بڑی رسوائی یہ ہے کہ تیونس  کا ایک جوان جو کہ نجف اشرف سے ہزاروں کلومیٹر دور کا باشندہ ہے وہ امام اکبر ابوالحسن الموسوی کی کتاب " وسیلۃ النجاۃ" سے واقف ہے اور اس کے مطالعہ سے اہل بیت(ع) کے حقائق سے آگہی حاصل کرتا ہے جب کہ ان کا پوتا کہ جس نے ان کے گھر اور نگرانی میں تربیت پائی ہے وہ اس سے واقف نہیں ہے۔

امام اکبر ابوالحسن الموسوی اصفہانی( قدس سرہ) نے جو کچھ اپنی کتاب" وسیلۃ النجاۃ" میں تحریر کیا ہے اس کی ان کے پوتے ڈاکٹر موسوی نے تردید کی ہے اور مرحوم کا مذاق اڑاتا ہے اور انھیں دائرہ اسلام سے خارج جانا ہے۔

منطق یہ کہتی ہے کہ اگر اس امام اکبر اور قائد دینی کا عقیدہ صحیح و سالم ہے تاریخ شیعیت میں جس کی مثال نہیں ملتی( جیسا کہ ان کے پوتے کا نظر یہ ہے) تو ان کے پوتے کا عقیدہ کفر و  گمراہی ہے۔

اور اگر ان کےپوتے ڈاکٹر موسیٰ موسوی کا عقیدہ صحیح و سالم ہے تو ان کے جد کا عقیدہ کفر و ضلالت ہے، اس صورت میں ڈاکٹر کا ان سے برائت کا اظہار کرنا واجب ہے اور ان سے نسبت پر افتخار کرنا صحیح نہیں ہے اور نہ ہی ان کی نگرانی میں تربیت پانے کا قصیدہ پڑھنا صحیح ہےجیسا کہ موصوف نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں فخر وفروشی کی ہے۔

اس منطق اور اس حجت سے ڈاکٹر موسوی کے اس اجازہ اجتہاد کو بھی دیوار پر دے مارا جاتا ہے جو کہ اس نے آلِ کاشت الغطا سے حاصل کیا تھا۔

اوّلا : کیونکہ انھوں نے اپنی کتاب میں جو اجازہ اجتہاد کی فوٹو کاپی شائع کی ہے وہ


 فقط اجازہ روایی ہے اور یہ کوئی خاص اجازہ نہیں ہوتا ہے بلکہ مراجع عظام اکثر طلبا کو دیدیتے ہیں۔ میرے پاس خود ایسے ہی دو اجازے ہیں ایک آیت اللہ العظمی خوئی(رح) نے نجف میں دیا تھا اور دوسرا آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی(رح) نے قم میں دیا تھا۔

پس روائی اجازہ کی اسلامی فقہ میں کوئی اہمیت نہیں ہے جیسا کہ ڈاکٹر موسوی نے ان لوگوں کو فریب دیا ہے جو کہ حوزات علمیہ کے درسی مراحل سے ناواقف ہیں۔

ثانیا: امام اکبر کا پوتا تصحیح و اصلاح کا دعوا  کرتا ہے لہذا اس نے اس امانت میں خیانت کی ہے جو کہ اسے اس کے استاد نے دی تھی ، موسوی کا دعویٰ ہےکہ اس کے پاس اجازہ اجتہاد ہے جب کہ مرجع دینی، زعیم حوزہ علیہ نجف اشرف مرحوم شیخ محمّد حسین آلِ کاشف الغطا نے اس اجازہ میں کہ جس کو موسوی نے اپنی کتاب میں شائع کیا ہے۔ صاف طور پر تحریر کیا ہے کہ میں نے انھیں ان کی اہلیت کی بنا پر یہ اجازت دیتا ہوں کہ وہ مجھ سے ان روایات کو نقل کرسکتے ہیں جن کی صحت میرے نزدیک بزرگوں اور اساتذہ کرام کے ذریعہ ثابت ہے۔

اور ہم نےیہ دیکھا  ہے کہ موسوی ہر اس چیز کا مذا ق اڑاتا ہے کہ جس کو مرجع دینی اور زعیم حوزہ علمیہ آل کاشف الغطا  نے اپنے بزرگوں اور اساتذہ کرام سے اپی کتاب " اصل الشیعہ و اصولہا" میں نقل کیا ہے ۔ اس کتاب میں انھوں نے شیعوں کےسارے معتقدات اور احکام نقل کئے ہیں۔

پس کتاب الشیعہ والتصحیح کی جس کو ان کے خیانت کار شاگرد نے تحریر کیا ہے  کتاب اصل الشیعہ و اصولہا، مؤلفہ مرجع اعلیٰ کاشف الغطاء کے سامنے کیا حیثیت ہے۔

جب کاشف الغطا اعلیٰ دینی مرجع ہیں اور حوزہ علمیہ نجف اشرف کے زعیم ہیں جیسا کہ موسوی نے اپنی کتاب کے ص۱۵۸ پر اس کا اعتراف کیا ہے اور جب موسوی اس اجازہ کےذریعہ افتخار کرتا ہے جو کہ تیس(۳۰) سال قبل اس نے کاشف الغطا سے حاصل کیا تھا تو ان کا ادنیٰ و حقیر شاگرد اپنے اس استاد کے متعقدات کا کیسے مذاق اڑاتا ہے کہ جس نے اسے تعلیم دی اور ان کے خیال کے مطابق اجازہ اجہتاد  بھی دیا؟پس اگر زعیم حوزہ علمیہ شیخ محمد حسین آل کاشف الغطا حق پر ہیں اور ان کے معتقدات صحیح ہیں


 تو موسوی باطل پر ہیں اور اس کے سارے معتقدات غلط ہیں۔

اور اگر دینی مرجع باطل پر ہے اور ان کے معتقدات غلط ہیں اور موسوی ان کا مضحکہ اڑاتا ہے تو موسوی پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کو یہ فریب نہ دے کہ وہ اسلامی فقہ میں  درجہ اجتہاد پر فائز ہے اور زعیم حوزہ نے اس کو اجازہ اجتہاد دیا ہے۔

اور اگر موسوی کے معتقدات صحیح ہیں جیساکہ وہ خود  دعویدار ہیں، تو انھوں نے اپنے جد سید ابو الحسن موسوی اصفہانی کو کافر  قرار دیدیا کہ جن کو وہ خود کہتے ہیں کہ وہ تاریخ تشیع میں غیبت سے آج تک زعیم اکبر اور دینی قائد شمار ہوتے ہیں۔

جیسا کہ ڈاکٹر موسوی نے اپنے استاد اور اجازہ دینے والے کاشف  الغطا کو کافر قرار دیا اور روز سقیفہ سے لے کر آج تک کے ملینوں شیعوں کا کافر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

میں ڈاکٹر  موسی موسوی کی کتاب " الشیعہ والتصحیح پڑھتے وقت اپنے پروردگار سے یہ عہد کیا تھا کہ میں پڑھنے سے پہلے کوئی حکم نہیں لگاؤں گا چنانچہ میں نے انہماک کے ساتھ مطالعہ شروع کیا ۔ شاید مجھے کوئی ایسی چیز مل جائے۔

جو مجھ سے چھوٹ گئی تھی اور  میرا نقص کا مل ہوجائے ۔لیکن مجھے اس میں جھوٹ تناقضات نصِ قرآن کی مخالفت ، سنت نبی(ص) کا استہزا، اور مسلمانوں کے اجماع کی مخالفت کے سوا کچھ نہ ملا۔ اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ موسوی نے صحیح بخاری بھی پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے جو کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک صحیح ترین کتاب ہے اور ڈاکٹر موسوی نےاپنے خیال خام کے مطابق جن چیزوں کو شیعوں سے منسوب کرنے کی کوشش کی ہے کہ شیعہ حکم خدا کو پس پشت ڈالدیتے ہیں۔ اگر یہ جید عالم صاحب کہ جس نے ظاہرا بیس(۲۰) سال کی عمر میں فقہ اسلامی میں اجازہ اجتہاد  حاصل کرلیا تھا ( خدا  جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے ) کیوں کہ اس کے بعد موصوف نے ۱۹۵۵ء میں تہران یونیورسٹی سے فقہ اسلامی میں ڈاکٹر یٹ کی سند حاصل کی تھی اور اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ وہ ؁۱۹۳۰ء میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے تھے اور ۱۹۵۹ء میں پیرس یونیورسٹی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی تھی۔


میں کہتا ہوں کہ اگر موسوی صحیح بخاری پڑھ لیتے جو کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک موثق ترین کتاب ہے ۔ تو اس گرداب میں نہ پھنستے کہ جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے مگر یہ کہ خدا سے مخلصانہ توبہ کرلیں ورنہ انھیں یہ سندیں " ڈگریاں" اور موٹے موٹے القاب کوئی فائدہ نہ پہنچائیں گے۔ اور نہ ہی وہ مال کام آئے گا جو کہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے  خرچ کیا جارہا ہے۔ خداوند عالم کا ارشاد ہے: جن لوگوں نے کفر اختیار کیا وہ اپنے اموال کو اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں تو یہ خرچ بھی کریں گے اور اس کے بعد ان کے حصہ میں حسرت بھی آئے گی اور آخر میں مغلوب ہوجائیں گے اور کافروں کو جہنم میں جھونگ دیا جائے گا۔( انفال/۳۷)

بہر حال اس کی کتاب ایسے تناقضات سے بھری پڑی ہے کہ جن کے راز کا ہر محقق پتا چلاسکتا ہے اور جب موسوی مذہب شیعہ کے عقائد و احکام کی اصلاح و تصحیح کے لئے خود کو کافی سمجھتے ہیں، تو میں ( تیجانی) اسے ٹیلی ویژن پر یا کسی بھی علمی جگہ پر کہ جہاں محققین و صاحبان علم جمع ہوسکیں مناظرہ کی دعوت دیتا ہوں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اصلاح کا محتاج کون ہے اور اسی کی قرآن مجید دعوت دیتا ہے اور جو آزاد فکر حق تک پہنچ جاتا ہے اسے چاہیئے کہ مجمع عام میں اسے پیش کرے تاکہ مسلمانوں پر ان کا امر واضح ہوجائے تاکہ وہ نادانی کی بنا پر کسی قوم کو کافر قرار نہ دیں کہ جس سے بعد میں شرمندگی اٹھانا پڑے۔

             کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہوتو اپنی دلیل پیش کرو۔( بقرہ/۱۱۱)

ہمارے لئے ایک چیز باقی بچتی  ہے وہ یہ کہ ان چیزوں کے بارے میں خود ڈاکٹر موسوی سے اںصاف طلب کیا جائے جو کہ اس نے اپنی کتاب میں بڑے تین عنوانات کے تحت تحریر کی ہیں۔

     ۱ : عاشورا کے روز زنجیر کا ماتم کرنا یا بیڑیاں پہننا

     ۲ : علی ولی اللہ کہنا۔

     ۳ : دہشت گردی۔

عاشورا کے روز بیڑیاں پہننے اور زنجیر کا ماتم کرنے کا شیعوں نے عقائد سے تعلق نہیں ہے۔


 اور نہ یہ چیزیں دین سے متعلق ہیں یہ تو عوام کے اعمال ہیں، یہ صرف شیعوں ہی سے مخصوص نہیں ہے۔ اہل سنت والجماعت میں بھی صوفیوں کا فرقہ اعیساویہ شمال افریقہ میں ان اعمال کو شیعوں سے زیادہ بجالاتا ہے جب کہ وہ غم حسین(ع) کے لئے ایسا نہیں کرتے ہیں اور نہ غمِ اہل بیت(ع) میں زنجیر کا ماتم کرتے ہیں۔ ان کی اصلاح میں ہم ڈاکٹر کی موافقت کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو ایسے افعال و اعمال سے روکنے کے لئے اس کے شریک کار ہوں گے، شیعوں کے مخلص علما نے ہمیشہ ان چیزوں سے منع کیا ہے اور انھیں واجب نہیں کہا بلکہ انھیں ختم کرنیکی کوشش کی ہے جیسا کہ خود موسوی نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔

لیکن اذان میں تیسری شہادت اشہد ان علیا ولی اللہ کہنا تو اس بات کو موسوی بھی جانتا ہے کہ شیعوں نے کے تمام علما اسے جزو اذان قرار نہیں دیتے ہیں بلکہ اگر کوئی شخص اسے واجب سمجھ کر یا اذان کا جزو جان کر کہتا ہے تو اذان و اقامت باطل ہوجاتی ہے اور موسوی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے لیکن وہ کسی بھی چیز کے ذریعہ بزعم خود مذاق اڑانا چاہتا ہے۔

اور دہشت گردی کا تو ہم بھی اس طرح کھلم کھلا انکار کرتے ہیں جس طرح موسوی اس کے منکر ہیں۔ ڈاکٹر موسوی کو شیعوں پر یہ تہمت نہیں لگانا چاہئے تھی۔ کیوں کہ وہ دہشت گردی جو کہ گزشتہ چند برسوں  میں دیکھنے میں آئی ہے وہ شرق و غرب ، شمال و جنوب کے درمیان مستقل طور پر جاری رہنے والی جنگ کا نتیجہ ہے جو کہ مستکبرین اور مستضعفین اور غاصبین اور مغصوبوں کے درمیان جاری ہے۔

اور ڈاکٹر موسوی ان اعمال شنیعہ کو شیعوں سے کیوں جوڑتے ہیں؟ جب کہ تاریخ گواہ ہے کہ شیعہ استعمار اور دیگر حکومتوں کا نشانہ بنے رہے ہیں اس کے باوجود وہ ہر ایک قسم کی دہشت گردی کے مخالف ہیں۔

اور موسوی نے معاویہ کی دہشت گردی اور مسلمانوں کی صفوں میں چیدہ افراد کو قتل کرنا کیوں بیان نہیں کیا۔ یہاں تک کہ امام حسن(ع) کو زہر سے شہید کیا اور مومنین میں سے جو بھی اس کی مخالفت کرتا تھا وہ اسی کو زہر کے ذریعہ قتل کردیتا تھا اور پھر کہتا تھا شہید کی مکھیاں خدا کے لشکر ہیں۔


اور جب دنیا کی اسلامی تحریکیں جیسے فلسطین ، مصری، سوڈان، تیونسی، جزائری، افغانی اور مغربی ممالک میں سے ماسک ، کورس اور ائرلینڈ وغیرہ کی تحریکوں کو دہشت گردی سے متصف کیا جاتا ہے تو کیا وہ سب شیعہ ہیں؟

اور جب ڈاکٹر موسوی اغوا کرنے اور ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کرنے اور انھیں اڑانے کو دہشت گردی کہتے ہیں تو  ایسا فلسطینی عوام کہ جنھیں اسرائیل نے دور دراز رہنے پر مجبور کردیا ہے اور جلا وطن  کردیا ہے،اںھوں نے ہی ؁ ۷۲ء    میں ہونے والے اولمپیک کے دوران میونخ کے اسٹیڈیم  میں دہشت  پھیلائی تھی اور بعض اسرائیلیوں کو قتل کر ڈالا تھا اور چند ہوائی جہازوں کو ہائٰ جیک کر کے ڈائنامٹ سے اڑا دیا تھا ۔ یہ سب کچھ انھوں نے دنیا والوں کے ضمیروں کو بیدار کرنے اور اپنے  اوپر ہونے والے ان مظالم کو پہچنوانے کی خاطر کیا تھا کہ جن کی مثال تاریخ بشریت میں نہیں ملتی ہے۔ اور اس بات کو موسوی بھی قبول کرتا ہے کہ وہ شیعہ نہیں ہیں لیکن ڈاکٹر موسی غیروں کی ان خبر رساں ایجنسیوں  سے متاثر ہیں کہ جو کہ ان تہمتوں کو شیعوں کےسر تھوپنے کی کوششش کرتی ہیں اور یہ سب کچھ سیاسی اغراض اور ایران کے اسلامی انقلاب کی دشمنی کی وجہ سے ہوتا ہے ملکی پیمانے پر اغوا اور قتل کی  لسٹ میں لیبیا، شام کے نام سر فہرست ہیں اور ان میں سے کوئی بھی شیعہ نہیں ہیں۔

تو پھر ڈاکٹر موسوی اپنی کتاب " اصلاح شیعہ" میں دہشت گردی کا الزام شیعوں پر کیون لگاتا ہے جب کہ وہ خود صفحہ ۲۲ پر لکھتا ہے کہ ایران کی شیعی حکومت کلی طور پر خود کو شیعہ نہیں کہتی ۔ یہاں تک کہ ایران میں بھی شیعہ نہیں کہتی ہے۔ جب صورتِ حال یہ ہے  تو ڈاکٹر موسوی کو اپنے فہم و افکار کی تصحیح کرنا چاہئیے۔

اس سے ہم نے ڈاکٹر موسوی کی باتوں کا تجزیہ کردیا ہے اور حق کو باطل سے اور صحیح کو غلط سے جدا کر دیا ہے۔ اور قارئین محترم کے سامنے یہ ثابت کردیا کہ شیعہ امامیہ کے سارے عقائد صحیح ہیں کیوں کہ وہ قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں۔

ہاں طمع پرور اور فتنہ انگیز ، دشمن خدا و رسول(ص) اور اعدائے اسلام پیروانِ عترت طاہرہ(ع) پر ناروا  تہمت لگاتے ہیں اور ان کے عقائد کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کرتے ہیں ۔ عنقریب ان کی کوششیں ناکام ہوجائے گی اور ان کا ظلم  ختم ہوجائے گا۔


     "جھاگ خشک ہوکر فنا ہوجاتا ہے اور جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہے ۔وہ زمین میں باقی رہ جاتا ہے اور خدا اسی طرح مثالین بیان کرتا ہےؕ"(رعد/۱۷)

خداوند عالم سے دعا ہے کہ ہم سب کی ہدایت فرمائے اور ہمیں ان کاموں کی توفیق عطا فرمائے کہ جنھیں وہ دوست رکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ ہمیں ہماری ترقی کی راہ دکھا دے ہم سے اپنے غضب  کو نفرت کو ہٹا دے، ہمارے کرب والم کو حجت المنتظر (عج) کے ظہور سے خوشی اور مسرت میں بدل دے اور ہمارے لئے ان کے ظہور میں تعجیل فرما، وہ انھیں دور دیکھتے ہیں اور ہم انھیں قریب دیکھتے ہیں۔

     و آخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العالمین و افضل الصلاة و از کی التسلیم علی المبعوث رحمته للعالمین سیدنا و مولانا محمد و علیٰ آله الطیبین الطاهرین

                             المذنب الذی لایر جو الا رحمته ربه و شفاعة رسوله

                           محمد تیجانی سماوی


فہرست

حرف مترجم 2

خطبہ الکتاب. 4

مقدمہ 7

شیعوں کا تعارف.. 18

اہلِ سنت کا تعارف.. 26

شیعہ اور سنی کی تقسیم 31

مخالفت نبی(ص) کا دوسرا واقعہ 33

شیعہ اہل سنت کے مقابلہ میں. 36

سیاسی میدان سے علیحیدگی 41

سنتِ نبوی(ص) اور حقائق و اوھام 43

اہل سنت،سنتِ نبی(ص) کو نہیں جانتے 53


دلیل. 55

اہل سنت، سنت. 62

کو مٹانے والے 62

اوَلین حکام کی کارستانیاں. 63

شیعہ ، اہل سنت کی نظر میں. 78

اہلِ سنت ، شیعوں کی نظر میں. 84

شیعوں کے ائمہ (ع) کی تعریف.. 89

اہلِ سنَت کے ائمہ کا تعارف.. 95

شیوں کے ائمہ کو نبی(ص) معین کرتے ہیں. 103

اہلِ سنت کے ائمہ ظالم حکام معین کرتے ہیں. 113

سنَی مذاہب کی ترقی کا راز 118

منصور سے مالک کی ملاقات. 126


ضروری حاشیہ 130

عبّاسی حاکم اپنے زمانہ کے علما کا امتحان لیتا ہے.. 136

حدیث ثقلین شیعوں کی نظر میں. 145

حدیث ثقلین اہلِ سنت کی نظر میں. 148

کتاب اللہ و عترتی یا کتاب اللہ و سنتی؟ 150

شیعوں کے نزدیک شریعت کے سرچشمے 161

اہلِ سنت والجماعت کے منابع تشریع 165

اوّلا:۔ سنتِ خلفائے راشدین. 166

ثانیا عام صحابہ کی سنت. 168

ثالثا : سنت تابعین ، علماء الاثر 170

رابعا: سنتِ حکام 171

خامسا: اہل سنت کےدیگر مصادر تشریع 173


حاشیہ نا گزیر ہے.. 177

تقلید و مرجعیت ، شیعوں کی نظر میں. 184

تقلید اہل سنت والجماعت کی نظر میں. 188

خلفائے راشدین شیعوں کی نظر میں. 192

خلفائے راشدین اہلِ سنت کی نظر میں. 195

نبی(ص) کو اہل سنت والجماعت کی تشریع قبول نہیں. 199

ضروری تنبیہہ 204

حقیقت کا انکشاف.. 206

اہلِ سنّت کی صلوٰت میں تحریف.. 212

جھوٹ حقائق کا انکشاف کرتا ہے.. 216

اہلِ سنت والجماعت کے ائمہ اور اقطاب. 219

۱: ابو بکر صدّیق" ابنِ ابی قحافہ 220


فعلِ رسول(ص) کی مخالفت: 221

تقریرِ رسول(ص) کی مخالفت : 221

۲: عمر بن خطاب ۔ فاروق. 225

۳: عثمان بن عفان" ذوالنورین" 230

۴ : طلحہ بن عبید اللہ : 236

۵: زبیر بن العوام: 244

۶: سعد بن ابی وقاص : 253

۷: عبدالرحمن بن عوف.. 264

۸ : امّ المؤمنین عائشہ بنت ابی بکر : 270

۹:  خالد بن ولید : 278

۱۰ :ابوہریرہ دوسی : 290

۱۱ : عبداللہ بن عمر : 300


۱۲ : عبداللہ بن زبیر 316

کیا حدیث قرآن کی مخالف ہے؟ 322

قرآن و حدیث اہل سنت کی نظر میں. 326

نبی(ص) کی احادیث میں تناقض.. 336

محمّد بن ابی بکر کا خط معاویہ کے نام 344

معاویہ کا جواب. 348

صحابہ شیعوں کی نظر میں. 358

صحابہ اہل سنت والجماعت کی نظر میں. 363

صحابہ کی حیثیت. 369

اہل سنت والجماعت حدیثِ نبوی(ص) کی مخالفت کرتے ہیں. 379

اسلام کی نظر میں نظامِ حکومت. 381

صحابہ کو عادل ماننا سنت کی صریح مخالفت ہے۔ 386


اہل سنت حکمِ نبی(ص) کی مخالفت کرتے ہیں. 391

محبت اہل بیت(ع) اور اہل سنت. 395

اہل سنت والجماعت کی دم بریدہ صلوٰت. 402

عصمت نبی(ص) اور اہل سنت والجماعت پر  اس کا اثر 406

ڈاکٹر موسوی اور ان کی کتاب اصلاح شیعہ 410