کامیابی کے اسرار
تالیف
آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی
جلد- 1
ترجمہ
عرفان حیدر
مؤلف : آیت اللہ سید مرتضیٰ مجتہدی سیستانی
ترجمہ : عرفان حیدر
نظر ثانی : مختار حسین رحیمی
کمپوزنگ : .................. موسی علی عارفی، ذیشان مہدی سومرو
طبع: ............................. اول
تاریخ طبع :........................ 2010مئی
تعداد:. ............................2000
قیمت: .............................۱۵۰
ناشر................................الماس پرنٹرز قم ایران
ملنے کاپتہ:
جامعہ امام صادق بک سینٹر علمدار روڈ کوئٹہ بلوچستان
فون نمبر:2664735۔081
امامیہ سیلز پوائنٹ قدمگاہ مولاعلی، حیدرآباد سندہ
فون نمبر : 2672110۔0333
ایمیل: irfanhaidr014@gmail.com
ویب سائٹ: www.almonji.com
ایمیل مولف: info@almonji.com
بسم الله الرحمن الرحیم
السَّلام عَلَیک یَا فٰاطمةَ الزَّهراء
یَا بنتَ رَسول اللّٰه یَا قرَّةَ عَین المصطَفٰی
ولایت و امامت کے دفاع میں شہید ہونے والی اسلام کی اس پہلوشکستہ بی بی کے نام جنہوں نے دفاع ولایت کی خاطر ایسے ایسے مصائب برداشت کئے کہ اگر روشن دنوں پر پڑتے تو وہ سیاہ راتوں میں تبدیل ہو جاتے اور جن کے بارے میں امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
"انّ فَاطمةَ صدیقَة شَهیدَة"
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد للّٰه الذی جعلنا من المتمسکین بولا یة علی بن ابی طالب
وصلّی اللّٰه علی محمّد وآله الا ئمة المعصومین
تمام تعریفیں پرور دگار عالم کے لئے ہیں جو عالمین کا خالق و مالک ہے اور بے شمار درود و سلام ہو اس کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی اور ان کی عترت طاہرہ پر جنہوں نے اپنی تعلیمات کے ذریعے بشریت کی راہنمائی فرمائی اور انسانوں کو گمراہی و ضلالت سے نکال کر ہدایت کا راستہ دکہا یا ۔
قارئین کرام ! کا میابی کی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے ہر انسان کا میاب زندگی کا خواہاںہے لیکن اکثر صحیح راہنما میسر نہ آنے سے انسان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو تی اور اسے نا کامی کا منہ دیکہنا پڑتا ہے ۔ آپ کے پیش نظر یہ کتاب آیت اللہ سید مرتضیٰ مجتہدی سیستا نی مد ظلہ کی فارسی کتاب ''اسرار موفقیت '' کا ترجمہ ہے یہ کتاب کا میابی کی تلاش و جستجو کرنے والوں کے لئے انمول تحفہ اور یأس و نا امید ی میں مبتلا افراد کے لئے امید کی کرن ہے ۔
اس کتاب میں معاشرے کی ضروریات کے مطابق کچہ موضو عات کو زیر بحث لا یا گیا ہے ۔ موضوعات کی مناسبت سے خاندان عصمت وطہارت علیہم السلام کے فرامین نے کتاب کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ ترجمے کے دوران آسان ، عام فہم اور سلیس اردو کا استعما ل کیا گیاہے ۔ ثقیل اور غیر مانوس کلمات سے پر ہیز کیا گیا ۔ البتہ اس بات کا فیصلہ تو قارئین فرمائیں گے کہ میں مفاہیم ومطالب کو منتقل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہا پہر بہی آپ سے استدعا ہے کہ ترجمے میں نقائص سے ضرور مطلع فرمائیں ۔
میں اپنے دوستوں ادیب علی آدا بی ، سید علی شاہ عابدی ، مشتاق حسین عمرانی ، ذیشان مہدی اور بالخصوص برادرعزیز علی اسدی اور عمران حیدرشاہد کا شکر گزار ہوں ، جنہوں نے اس کتاب کے سلسلے میں تعاون فرمایا۔ نیز حجة الا سلام و المسلمین مختار حسین رحیمی کا بہی شکرگزارہوں کہ جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر کتاب پرنظر ثانی فرمائی ۔آخرمیں میںاپنے والدین ، اسا تید حجة الا سلام والمسلمین محمد جمعہ اسدی اور حجة الا سلام والمسلمین اکبر حسین زاہدی کا ممنون و مشکور ہوں جن کی شفقت اور تربیت نے مجہے مکتب اہل بیت کا خادم بنایا ۔ خدا کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ پرور دگارا ! محمد و آل محمد کے طفیل اس نا چیز کاوش کو شرف قبولیت عطا فرما اور ہمیں حقیقی معنوں میں دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما ۔
عرفان حیدر
قم المقدس ( ایران )
18 ذلحجہ روز عید سعید غدیر30 14 ہ
بسم الله الرحمن الرحیم
عظیم لوگوں کی کامیابی کا راز تفکر و تدبّر ہے ۔ اگر آپ بہی ان کے نقش قدم پر چلیں تو سعادت اور کامیابی و کامرانی آپ کے قدم چومے گی ۔ لیکن اس کے لئے فکر کی طاقت سے بہرہ مند ہوناضروری ہے۔ آپ مثبت سوچ کے ذریعے اپنے اندر کمی کا جبران کریں تاکہ اپنے عالی اہداف تک پہنچ کر اپنے معاشرے کو مثبت افکار سے آشنا کرواسکیں۔ جب بہی آ پ کو صحیح فکر کرنے کے لئے مدد کی ضرورت ہو تو آگاہ اور مخلص افراد سے مشورہ کریں کہ جن میں مشاور کی شرائط ہوں ۔ ایسے افراد کی سوچ و فکر سے استفادہ کریں ۔ ان کے مشورے سے استفادہ کرتے ہوئے اعلیٰ اہداف سے آشنا ہوں اور بہترین اہداف کا انتخاب کریں پہر تر قی اور کامیابی کی اہم شرط یعنی پختہ ارادے اور بلند ہمت کے ذریعہ اپنے اہداف کے مطابق برنامہ تشکیل دے کر انہیں عملی جامہ پہنائیں ۔ کیو نکہ صحیح برنامہ اور نظم وضبط ہدف اور منزل تک پہنچنے کا آسان راستہ ہے ۔ جو آ پ کو جلد اپنی منزل تک پہنچا تا ہے ۔
وقت سے استفادہ کریں اور فرصت کے لمحات میں نیک اور صالح افراد کی صحبت میں بیٹہ کر مستفید ہوں ان کی ہمنشینی وصحبت سے آپ کی روح تازہ اور ان کی دل نشین گفتار سے آپ کا دل منور ہوجائے گا آپ ان بزرگان کی صحبت سے ان کی روحانی و معنوی قوت سے خود بہی قدرت حاصل کریں اور انہیں نفس کی مخالفت اورسالوں کی محنت و کوشش سے حاصل ہونے والے تجربات سے استفادہ کریں ۔
آپ کو اپنے نفس پر اختیار ہو تو صبر و استقامت کو اپنا ہتہیار بنا کر اپنی روحانی قوت کو متمر کز کریں پہر آپ کی معنوی قدرت پروان چڑہے گی ۔ کیو نکہ نفسانی خواہشات کے مقابل میں صبر کرنے سے آپ کا باطن برائیوں سے پاک ہو جائے گا پہر آپ کو اسرار خدا میں سے ایک راز یعنی اخلاص کا مقام حاصل ہو جائے گا ۔
اس صورت میں آپ کا دل رحمانی الہامات سے روشن ہو جائے گا آپ کی زبان پر علم و حکمت کے چشمے جاری ہو ں گے اورپہر علم و دانش سے بہرہ مند ہوں کہ جو عالی درجات کی جانب ارتقاء اور خداکے تقرب کا ذریعہ ہے ۔ اگر باب علم سے وابستہ ہو جائیں تو آپ کی شرافت و فضیلت میں اضافہ ہو گا اس طرح آپ معارف اہل بیت سے اپنے دل کو منور کریںاور ایک شمع کی طرح آپ اپنے معاشرے کو روشن کریں اور انہیں اہل بیت کے حیات بخش مکتب سے آشنا کریں اور زنگ آلود قلوب کو ان کے نورانی افکارو گفتار سے منور کریں ۔
ایسی خد مات کو انجام دینے کے لئے کوشش کریں تاکہ توفیق الٰہی آپ کے شامل حال ہو۔ کیو نکہ توفیق کے حصول کے علاوہ دعا، سعی و کوشش اور تلاش و جستجو بہی ضروری ہے ۔ جب تک خدا کی توفیق ہماری دستگیری نہ کرے ، ہم حقیقت کے کاروان تک نہیں پہنچ سکتے ۔
کاروان رفت و تو در خواب وبیابان در پیش
کی روی ؟ رہ ز کہ پرسی ؟ چہ کنی ؟ چون باشی ؟
کاروان چلا گیا اور تم سوتے رہے،تمہارے سامنے بیابان ہے اور تم تنہا رہ گئے ہو۔اب تم کب جائو گے؟کس سے راستہ پوچہو گے اور کیا کرو گے؟
اگر آپ حقیقت تک پہنچنا چاہو تو اغیارکے طعنوں سے نہ گہبراؤ ۔بلکہ منزل کی جانب گامزن رہو کسی جگہ تہک کر نہ بیٹہو اور عظیم لوگوں کی اہم ترین صفت یعنی مقام یقین حاصل کرو ۔
معاشرے کی ضرورت کو مد نظر رکہتے ہوئے میں نے معاشرے کے لئے مفید موضوعات پر روشنی ڈالی ، انہیں مفید موضوعات کے ضمن میں ، میں نے خاندان رسالت کے فرامین اور بالخصوص صاحب ولایت امیر المو منین علی بن ابی طالب کے ارشادات کو بیان کیا ہے اور انہیں عوام الناس کے اختیار میں قرار دیا امید ہے کہ یہ کتاب معصومین علیہم السلام کے نورانی اور تابناک فرامین کے وجہ سے بہٹکے ہوئے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ اور معنوی تکامل اور روحانی افزائش کے لئے مدد گار ثابت ہوگی ۔
سید مرتضیٰ مجتہدی سیستانی
پہلاباب
فکر
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' علیک با لفکر فانّه رشد من الضلال و مصلح الا عمال ''
تم پر فکر کرنا لازم ہے کیو نکہ یہ گمرا ہی سے ہدایت اور اعمال کی اصلاح کر تی ہے ۔
فکر کی اہمیت
فکر کی پرواز
فکر کی اہمیت کے کچہ راز
گناہ کے بارے میں فکر کرنے کا اثر
تفکر ایمان و یقین میں اضافہ کا باعث ہے
تفکر بصیرت اور دور اندیشی کا وسیلہ
روزۂ فکر
صحیح و سالم فکر کے طریقے
1۔ دقت اور سوچ سے فکر کو سالم کر نا
2 ۔ پر خوری سے پر ہیز کرنا
3 ۔ فکری اشتباہات میں مبتلا افراد سے پر ہیز کرنا
نتیجۂ بحث
ہر انسان کے ذہن میں ایسے قیمتی اور گراں قدر خزانے موجود ہوتے ہیں کہ جنہیں وہ سوچ کے ذریعہ حاصل کرکے استفادہ کر سکتا ہے ۔ لیکن افسوس کہ کچہ لوگ اپنے اندر موجود ان پر قیمت وانمول خزا نوں سے ا ستفادہ کر نے کی بجائے خاک میں چہپے ہوئے اموا ل اور خزا نوں کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں ۔
اگر وہ یہ جان لیں کہ خدا وند متعال نے زمین میں دفن خزانوں سے بڑہ کر خزانے ان کے وجود میں قرار دیئے ہیں تو وہ کبہی بہی اپنی عمر زمین کی خاک چہاننے میں ضائع نہیں کریں گے ۔ وہ لوگ مال و زر کے حصول کے لئے زمین کہو دتے ہیں اور غوطہ خور دریاؤں اور سمندروں کی تہہ میں موجود جواہرات کے حصول کے لئے غوطہ لگاتے ہیں ۔ جبکہ مومن و صاحب تزکیہ حقیقی خزانے کے حصول کے لئے اپنی فکر کے عمیق دریا میں غوطہ ور ہوتا ہے ۔
حضرت امیر المومنین علی (ع) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں :
''المومن مغمور بفکرته''( 1)
مومن اپنی افکار میں ڈوبا ہوا ہو تاہے ۔
مومن اپنی افکار کے بیکراں دریا سے ایسے گرانبہا گوہرحاصل کر تا ہے کہ سونے ، چاندی کے مادی خزانے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ وہ اپنے افکار سے ایسے با ارزش جواہر پاتا ہے کہ جو، ابدی وجاویداں ہیں کہ جن کی واقعی قیمت و ارزش آ خرت میں اہمیت کی حامل ہے ۔
افکار میں غوطہ زن ہونا ( نہ کہ توہمات میں ) روح کو تقویت دیتا ہے اور چہپے ہوئے خزانوں کے حصول کے لئے آمادہ کر تا ہے ۔ سوچ و فکر کے ذریعہ آپ کے روح و نفس پرورش پاتے ہیں جس طرح جسمانی ورزش انسان کے جسم کی پرورش کا باعث ہے اسی طرح مثبت سوچ و فکر انسان کے روح و نفس کو تقویت دیتی ہے ۔ کیو نکہ تفکر انسان کے ضمیر کے لئے ایک قسم کی آموزش ہے تفکر کے ذریعہ باطنی حالات قوی ہوتے ہیں اور انسان کی روحانیقدرت آشکار ہوتی ہے ۔ کیونکہ فکر روح کے تکامل وپرورش کا باعث ہے .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) نہج البلاغہ ، کلمات قصار 335 .
انسان کو چاہئے کہ وہ توہمات وتخیلات کی دنیا سے نکل کر حقیقت کا رخ کرے اور حقائق ہستی میں فکر انسان کو عالم و ہم و گمان سے نکا ل کر ایک حقیقی و واقعی مفکر بناتی ہے اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ (ع) اپنے ارشادات میں فرماتے ہیں :
''غوّر.... قلبک الفکر'' (1) اپنے قلب کو سوچ و فکر کی عادت ڈالو۔تفکر سے قدرت فکر و تمرکز زیادہ ہو جاتی ہے جب فکر قوی ہو تو وہم و خیال ضعیف ہو جاتے ہیں اور وہم و خیال کے ضعیف ہونے اور تقویت فکر سے شیطان اور دشمنان دین کی گمراہ کنندہ تبلیغات ضعیف ہو جاتی ہیں ۔ کیو نکہ جس انسان کو تفکر و تدبر و تعقل کی عادت ہو وہ اسے اپنے اعتقادات ومعلومات کا اساس قر ار دیتا ہے ۔مو لائے کا ئنات امیر المومنین علی (ع) کا فرمان ہے:''لاعلم کالتفکر '' (2) تفکر کی مانند کوئی علم نہیں ہے ۔
انسان کے ذہن میں موجود قیمتی خزانوں میں تفکر و تدبر اور ان سے استفادہ کرنا بزرگ اشخاص کی صفات میں سے ہے ۔ ان کے فکر کی پرواز اور مو جو دات کا ئنات کی شناخت سے ان کے ایمان و یقین میں اضافہ ہو تا ہے ۔ اسی وجہ سے ان کے افکار و پراکندہ و بے رونق نہیں ہیں ۔ پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا :'' من صفات المومن ان یکون جوّال الفکر '' (3)
مومن کی صفات میں سے ہے کہ وہ جولان فکری رکہتا ہو ۔
وہ فکری پرواز کے ذریعہ اپنی روح کو بلندی پر لے جاتے ہیں اور عالی ترین ہدف رکہتے ہیں اور اس کے بعد مضبوط ارادہ اور قوی ہمت حاصل کر تے ہیں وہ قوی اور مضبوط فکر و ارادہ کے ذریعہ اپنے مقدس اہداف میں کامیابی کے لئے خدا وند متعال سے مدد چاہتے ہیں .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔بحار الانوار :ج14ص 329، تنبیہ الجواہر:ج2ص 229
[2] ۔ بحار الانوار:ج69 ص 409 ۔ نہج البلاغہ کلمات قصار: 109
[3] ۔ بحار الانوار :ج67 ص 310
غور وفکر حقائق جہان کی طرف مستقیم راستہ ہے جب فکر معنوی مسائل میں تداوم پیدا کرے تو یہ انسان کو معنویت کی طرف لے جاتی ہے۔ فکر میں ایک قوت جاذبہ ہے کہ جو متفکر اور اس مسئلہ کےدرمیان ایک ارتباط کو بر قرار کر تی ہے کہ جس کے بارے میں متفکر فکر کر تا ہے ۔ اس قوت کا وجود ، غور وفکر کی اہمیت کے مہم رازوں میں سے ایک اہم راز ہے ۔ اس قوت کی بناء پر انسان جب خوبیوں اور بدیوں کے بار ے میں سوچتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ خوبیوں یا ان چیزوں کو جلب کرتا ہے کہ جن کے بارے میں وہ فکر کرتا ہے ۔خاندان عصمت و رسالت علیہم السلام کی بہت سی روایات و ارشادات میں اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے ۔ اس وجہ سے پسندیدہ افکار ، قلب انسان کی پاکیزگی و زینت اور انسان کے باطن کی نورانیت کا باعث ہیں ۔ جس طرح نا پسندیدہ و برے افکار انسان کے دل میں تاریکی و ظلمت کو ایجاد کرتے ہیں ۔
حضرت امیر المومنین علی (ع) فرماتے ہیں :''الفکر تورث نوراً والغفلة ظلمة '' (1) سوچ و فکر نورانیت اور غفلت ظلمت و تاریکی کو ایجاد کر تی ہے ۔اگر تفکر حق اور کمال کی جستجو کی بناء پر ہو تو یہ حقیقت کو آشکار کرتا ہے اور متفکر کے لئے کائنات کی واقعیت کو بیان کر تا ہے ۔ یہ بذات خود نورانیت و پاکیزگی کو ایجاد کر تا ہے لیکن ان حقائق سے غفلت اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے ۔انسان کے دل میں زیادہ غور و فکر سے ایجاد ہونے والے تحولات اسے عمل کے لئے تیار کر تے ہیں ، اس و جہ سے تفکر قوہ عاملہ کو بھی ایجاد کرتا ہے۔ پس فکر نہ صرف انسان کو مورد تفکر مسائل کی انجام دہی کے لئے آمادہ کرتی ہے بلکہ تداوم فکر کی وجہ سے انسان میں قوہ عاملہ کو بھی ایجاد کرتی ہے اور اسے عمل کی طرف جذب کرتی ہے تاکہ سوچ و فکر عملی صورت میں ظاہر ہو حضرت امام صادق (ع) فرما تے ہیں:“التفکر یدعوا الی البرّ والعمل به” (2) فکر انسان کو خوبیوں اور ان پر عمل کی طرف دعوت دیتی ہے۔انسان کی خلقت و پیدائش کے سرّ و راز اور اس کی عاقبت کے بارے میں فکر انسان کو نیکی اور مقام عبودیت عطا کرتی ہے ، آپ فکر کے ذریعہ مقام عبودیت اور اپنے وجود میں پنہان و پوشیدہ عظیم قوت کو بیدار کر کے مقام فعلیت میں لا سکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ تحف العقول 93
[2] ۔ بحار الانوار :ج71ص 322، اصول کافی:2 ص 55
انسان میں ہر اچہی و بری ، نیک و بد صفت کے خلق ہونے کی آمادگی مو جود ہوتی ہے ۔ اچہے اور برے کے بارے میں سو چ و فکر سے ان کی فعلیت و انجام دہی میں تبدیلی آ جاتی ہے ۔ پہر یہ امکان کے مرحلہ سے نکل کر واقعیت کا جامہ پہن لیتی ہے ۔ یہ ایک عام اور کلی حقیقت ہے کہ جو صرف اچہے اور پسندیدہ کاموں کے ساتہ مختص نہیں ہے ، یعنی جس طرح انسان اچہائیوں کے بارے میں سوچنے سے ان ہی کی طرف مائل ہو تا ہے ۔ اور انہیں انجام دیتا ہے اسی طرح حیوانی لذتوں اورگناہوں کے بارے میں سوچنا بہی انسان کو ان ہی کی طرف لے جاتا ہے اور پہر انسان ان کا مرتکب ہو تا ہے ۔
حضرت امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں :''من کثر فکره فی المعاصی ، دعته الیها ''(1) جو کوئی گناہوں کے بارے میں زیادہ فکر کر ے تو وہ ان کی طرف آجاتا ہے ۔اسی طرح دوسرے فرمان میں ارشاد ہے : ''من کثر فی اللذات ، غلبت علیه ''(2)
جو کو ئی لذتوں کے بارے میں زیادہ سوچے تو یہ اس پر غالب آجاتی ہیں ۔اس بناء پر انسان کی سوچ و فکر اس کےمستقبل کو تبدیل کرسکتی ہے اور اس کی زندگی میں عظیم تبدیلیاں اور تحو لات ایجاد کر سکتی ہے اسی وجہ سے خاندان عصمت و طہارت کے دلنشین کلمات وفرمودات میں تفکر و تعقل کی اہمیت کو بیان فرما یا گیاہے اور انہوں نے اپنے محبوں اور پیرو کاروں کو اس کی اہمیت کے با رے میں امر فر مایا ہے۔ کیو نکہ اچہا عمل و کردار ، اہم اور باارزش مو ضوعات میں فکر اور سوچ و بیچار کا نتیجہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غرر الحکم:ج5 ص 321
[2] ۔ شرح غرر الحکم:522
نظام کائنات اور مخلوقات جہان کے با رے میں تفکر انسان کے دل میں ایمان و یقین کو تقویت دیتا ہے ۔ پہر اس کا وجود باری تعالیٰ اور تمام مذہبی عقائد پر اعتقاد مزید محکم ہو جاتا ہے ۔ کہکشانوں میں موجود اربوں ستاروں اور اس کے علاوہ آسمان پر موجود انگنت ستاروں کی خلقت اور پہر ان کا ایک منظم نظام کے تحت رواں و دواں رہنا ، ایک مدبر و قادر خالق کے وجود کی بہت واضح اور بڑی دلیل ہے۔ انسان کی فکر کائنات کی عظمت کو درک کرنے سے قاصر ہے ۔ دنیا بہر کے محققین کو خلقت کائنات کے بارے میں تحقیق کے دوران ایسے ایسے اسرار و رموز کا سامنا ہوا کہ انہوں نے ان کی حقیقت کو درک کرنے سے اپنے آپ کو عاجز پا یا ۔ لیکن انہوں نے واضح آیا ت و نشانیوں کا مشاہدہ کیا کہ جو صاحبان عقل کے دلوں کو احیاء و جلا بخشتی ہے ۔ جی ہاں ! اس کائنات کی عظمت کے بارے میں تفکر کرنا خالق کائنات قادر و مہربان کے وجود پر یقین و ایمان میں اضافہ کا سبب ہے ۔
عالم ملکوت سے لو لگانا اولیاء خدا کی صفات میں سے ہے وہ غور و فکر کے ذریعہ کائنات کے رموز واسرار کو کشف کرتے ہیں ۔ وہ نہ صرف عالم ملکوت کی طرف رخ کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے دوستوں اور قرابتداروں کو بہی اسی چیز کی سفارش و تلقین کرتے ہیں ۔
حضرت لقمان کی اپنےبیٹوں کو کی گئی وصیت میں ذکر ہوا ہے :
''اطل التفکر فی ملکوت السمٰوٰت و الارض والجبال و ما خلق اللّٰه فکفیٰ بهذا واعظاً لقلبک ''(1)
اپنی فکر کو آسمانوں ، زمین ، پہاڑوں ، اورخدا کی دیگر خلق کردہ اشیاء کے بارے میں طولانی کرو۔ ایسی سوچ و فکر تمہارے قلب کو وعظ و نصیحت کے لحاظ سے کفایت کرے گی ۔
ملکوت کے بارے میں تفکر ( جس کے بارے میں لقمان نے اپنے فرزندوں کو وصیت کی) کے بہت سے اثرات ہیں کہ اگر انسان ان کو انجام دینے کی توفیق پیدا کرے تو اس کے مستقبل میں بہت عظیم تحولات رونما ہوتے ہیں ۔ کیو نکہ ملکوت و آسمانوں و زمین اور خدا کی دیگر مخلوقات کے بارے میں تفکر سے اعتقاد ایجاد ہو تا ہے ۔
قرآن مجید میں ارشاد خداوند ہے :
''ا نَّ فی خَلق السَّماوات وَ الأَرض وَ اختلاف اللَّیل وَ النَّهار َلآیاتٍ لأولی الأَلباب،الَّذینَ یَذکرونَ اللّٰه قیامًا وَ قعودًا وَ عَلی جنوبهم وَ یَتَفَکَّرونَ فی خَلق السَّماوات وَ الأَرض رَبَّنا ما خَلَقتَ هذا باطلاً سبحانَکَ فَقنا عَذابَ النّار ''(2)
بے شک زمین و آسمان کی خلقت لیل ونہار کی آمد و رفت میں صاحبان عقل کے لئے قدرت خدا کی نشانیاں ہیں ۔ جو لوگ اٹہتے بیٹہتے لیٹتے اور ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں کہ پرور دگار تو نے یہ سب بیکار خلق نہیں کیا ہے ۔ پرورگار تو پاک و بے نیاز ہے ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ فرما ۔
ان کا آسمان و زمین کی خلقت کے بارے میں غور و فکر کرنا صرف ملکی پہلو سے مختص نہیں ہے بلکہ یہ ملکوتی پہلو کو بہی شامل کر تا ہے ۔ وہ کائنات کی مادی و ملکوتی خلقت میں تفکر کے ذریعہ اپنے ایمان ویقین میں اضافہ کر تے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج 13 ص 431
[2]۔ سورہ آل عمران آیت: ۱۹۰ اور ۱۹۱
انسان جس کام کو انجام دینا چاہے ، اگر اس کے بارے میں غور وفکر سے کام لے تو وہ اس کام کے نتیجہ تک پہنچ جائے گا اور اسے افسوس اور پشیمانی کا سامنا بہی نہیں کرنا پڑے گا ۔
حضرت علی (ع) اپنے دلنشین گفتار کے ضمن میں فرماتے ہیں :
'' اذا قدّمت الفکر فی جمیع افعالک ، حسنت عواقبک فی کل امرٍ ''
اگر ہر کام کو انجام دینے سے پہلے اس کے بارے میں سو چو تو ہر کام میں تمہاری عاقبت اچہی ہو گی ۔
کیو نکہ ہر کام کے بارے میں سوچنا اس کام کے بارے میں بصیرت کا باعث ہے ۔ اولیاء خدا ، عظیم لوگ اور جو بارگاہ خداوند متعال میں نعمت تقرب رکہتے اور خاندان وحی کے پر فیض محضرمیں حضور رکہتے اور جوا ن بزرگان کے مدد گار اور اصحاب میں سے تہے ۔ وہ کسی کام کو سر انجام دینے سے پہلے تفکر کی عظیم نعمت سے بہرہ مند ہوتے تہے ۔
جنہوں نے سر چشمہ ولایت سے آب حیات نوش کیا ، جنہوں نے خاندان وحی و عصمت کے تابناک انوار سے لو لگائی ، جنہوں نے اپنے دل و جان کو علوم و معارف اہلبیت سے منور کیا ۔ انہوں نے خداوند کریم کی عظیم نعمت یعنی فکر سے استفادہ کیا اور وہ بصیرت اور دور اندیشی کے مالک بن گئے ۔
شناخت ، ہدایت ، روشن فکر اور حقائق امر سے آگاہی صرف سوچ و فکر سے ایجاد ہو تی ہے ۔ حضرت امیرالمومنین علی (ع) کے علمی بحر بیکراں میں سے ایک گوہر نایاب یہ ہے :
'' لابصیرة لمن لا فکر له ''(1) جو فکر نہیں رکھتا وہ روشن بینی و بصارت نہیں رکھتا ۔
وہ بصیرت نہیں رکہتا اور اس کا قلب نورانیت سے بہرہ مند نہیں ہے ۔ لہذا سوچ و فکر دل کے غبار و زنگ کو مٹاتی ہے اور دل کو پاک کر کے اس کی ظلمت و تاریکی کو نورانیت و بصیرت میں تبدیل کرتی ہے ۔
جس طرح حر ( رضوان اللہ علیہ ) حضرت فاطمہ زہرا کے احترام کا قائل ہونے کی وجہ سے یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ حسین سے جنگ و مقاتلہ کا اس کے لئے کیا نتیجہ بر آمد ہوگا حضرت زہرا صدیقہ کبریٰ کے احترام کے قائل ہونے کی وجہ سے اس کی سوچ و فکر نے اسے گمرا ہی و ضلالت اور ہلاکت سے نجات دلا کر کربلا کے شہداء کی صف میں قرار دیا ۔
حر نے تفکر و تأمل کی بنیاد پر امام حسین (ع) کو جواب دیتے وقت غصے اور تندی کی بجائے تحمل و تواضع سے کام لیا ۔ اسی مناسبت سے امیر المو منین کا ایک کلام ہے کہ جو انسانوں کی حیات کو نجات دیتاہے کہ جس میں مو لائے کا ئنات فرماتے ہیں :
'' دع الحدّة و تفکر فی الحجة من الخطل ، تامن الزلل '' (2)
تند روی کو ترک کرو اور حجت و دلیل کی بناء پر تفکر کرو ، اور غلط و باطل بات کہنے سے پر ہیز کرو تاکہ لغزش سے آمان میں رہو ۔جناب حر نے بہی اسی طرح کیا اور بصیرت و دور اندیشی سے اپنے مستقبل کو نجات دی جس طرح حرنے غور و فکر سے کام لیا ، کاش اسی طرح سقیفہ میں جمع ہونے والے دنیا پرست بہی اپنی عاقبت کے بارے میں سوچتے تو چہرہ خورشید پر غم کے بادل نہ چہا جا تے ۔لیکن افسوس صد افسوس !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم:ص 6ص 401
[2] ۔ شرح غرر الحکم:ج 4ص 19
حضرت امیر المومنین علی (ع) بصیرت و دور اندیشی کو فکر کے آثار میں سے قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
'' من فکّر ابصر العواقب '' ( 1 )
جو فکر سے کام لے وہ امور کی عاقبت و نتیجہ سے آگاہ ہو جا تاہے۔
امیر المو منین علی (ع) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :
'' من طالت فکرته ، حسنت بصیرته ''( 2 )
جس کی فکر طولانی و دقیق ہو اس کی بصیرت اچہی ہو جا تی ہے ۔
کیونکہ اگر فکر شخصی اغراض سے آلودہ نہ ہو تو یہ شفاف آئینہ کی مانند حقائق کو جلوہ گر اور آشکار کرتی ہے ۔
حضرت علی(ع) فرماتے ہیں :
'' الفکر مرآ ة صافیة '' ( 3 )
فکر ایک شفاف آئینہ ہے ۔
جب فکر ایک شفاف و درخشاں آئینہ کی مانند آپ کو واقعیت سے آگا ہ کرتی ہے تو پہر روزہ فکر سے استفادہ کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شرح غرر الحکم:ج 5ص 324[1]
[2] ۔ شرح غرر الحکم:ج 5ص 72 2
[3]۔ ا ما لی الطوسی:ج 1ص 114 ،بحا ر الانوار:ج 77ص 403
اسلام میں خاموشی اور سکوت کے روزے کا وجود نہیں ہے جیسا کہ راتوں کو کہانے پینے سے پرہیز کرتے ہوئے رات کے روزے کا کوئی معنی نہیں ہے ۔ لیکن جو عالی و بلند معنوی مقام و مراتب کےحصو ل کی جستجو میں ہیں ، وہ چپ کا روزہ رکہنے کی بجائے فکر کا روزہ رکہتے ہیں اور اپنے ذہن کو زشت وناپسندیدہ افکار سے آلو دہ نہیں کر تے ۔ یہ خاندا ن رسالت علیہم السلام سے ہم تک پہنچنے والا ایک دستور ہے ۔حضرت علی (ع) فر ما تے ہیں :
''صیام القلب عن الفکر فی الاثام افضل من صیام البطن عن الطعام '' (1)
گنا ہوں کے بارے میں فکر کرتے ہوئے دل کا روزہ ،خوراک سے پر ہیز کرتے ہوئے پیٹ کے روزے سے افضل ہے ۔
اگرخود کوبرے افکار سے آلودہ نہ کریں تو یہ گو یا گناہوں اور نا پسندید ہ اعمال کے لئے بیمہ ہے ۔ اس صورت میں فکر شفاف و درخشان آئینہ کی مانند آ پ کو واقعیت و حقیقت دکہا ئے گی ۔ روزہ فکر نجات لئے موثر ترین اور بہترین راہ انسان کے اختیار میں ہے اور یہ سیر معنوی کے لئے انسان کو کامران و کامیاب کرتا ہے ۔ فکر کا روزہ انسان کی روح کو عالم معنی کی بیکراں فضا میں پرواز کروا تا ہے اور اسے ترقی و پیشرفت کی اوج تک پہنچا تا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غرر الحکم:ج 4ص 214
اگر آپ فکر کا روزہ رکہنے میں کامیاب ہو گئے تو آپ شیطان کو شکست دے سکتے ہیں اگر چہ مومنین کے لئے شیطان کی دشمنی بہت ضعیف ہے اور انسان کی گمراہی کے لئے اس کی قدرت و طاقت بہت کم ہے ۔ لیکن وہ انسانوں کے سر کش نفس سے استفادہ کر تا ہے کہ جو ہمیشہ انسانوں کے ہمرا ہ ہے ۔ وہ انسانوں کے نفس میں وسوسہایجاد کرکے نفس کو اپنا ہم عقیدہ بنا لیتا ہے اور نفس کی مدد سے انسان کی ہستی کو تباہ کر دیتا ہے اور دونوں جہانوں کی سعادت سے دور کر د یتا ہے ۔ شیطانی وسواس اور نفس کی غلامی سے نجات کا راستہ دنیاوی افکار کی نفی ہے جو اپنے نفس کو دنیاوی افکار سے بچالے وہ برے اعمال اورگناہوں کا مرتکب نہیں ہو تا ۔ اس طرح اسے جاویدا نی سعادت حاصل ہو تی ہے ۔ کیو نکہ صحیح و سالم فکر انسان کو غم و اندوہ اور دنیاوی افکار سے نجات دیتی ہے کہ جو افکار انسان کی سعادت و خوشبختی کو ویران کرتی ہیں ۔
دقت و تامل ، افکار کی بر رسی ، تصحیح فکر اور فاسد فکر کو ختم کرنے میں مہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ خدا کے مقرب ملک جبرائیل امین پیغمبر اکرم(ص) کے لئے مناجات لائے تا کہ وہ امت کے لئے مورد استفادہ قرار پائے ان مناجات میں ہے :
'' والهمتنی رشدی بتفضلک و اجلیت بالرجاء لک قلبی وازلت خدعة عدوی عن لبّی و صححت با لتامل فکری ''(1)
پرور دگار ا تو نے اپنے فضل سے میری ہدایت کا الہام فرمایا ، تجہ سے امیدواری نے میرے دل کو جلا بخشی اور تامل کے ذریعہ میری فکر کو سالم کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحا ر الانوار :ج95ص 63 1
فکر کی تصحیح اور تامل پر قدرت کے لئے پر خوری سے پر ہیز و خود داری کر نا بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ کہانا ، پینا اگر اعتدال کی حدسے بڑہ جائے تو یہ فکر کو فاسد کرنے میں اثر انداز ہو تا ہے ۔ آ سائش فکری ، آسائش جسمی سے مرتبط ہے ۔
فکر اس صورت میں آسائش و راحت میں ہو گی کہ جب پر خوری کا احساس نہ ہو ۔ اس وقت انسان کو ذہن زشت و شیطانی افکار کے طغیان سے محفوظ رہے گا ۔
حضرت امیر المو منین (ع) فر ماتے ہیں :
'' من اقتصر فی اکله کثرت صحته و صلحت فکرته ''(1)
جو کہا نے میں لازم حد تک اکتفا کرے ، اس کی صحت جسمی بیشتر ہو گی اور فکر میں اصلاح ہوگی ۔
پر خوری کی وجہ سے بدن کے بخا رات زیادہ ہو کر دماغ کی طرف جا تے ہیں اور شیاطین کے نفوذ کی قدرت بڑہ جا تی ہے اسی وجہ سے فاسد افکار اور شیطانی وسوسے بہی زیادہ ہو جاتے ہیں ۔ زیادہ کہانے سے پر ہیز کی صورت میں بدن کے بخا رات کم ہو کر نفوذ شیاطین کے راہ بہی کمتر ہو جاتے ہیں پہر وسوسہ شیطانی اور فاسد افکار کم ہو جاتے ہیں اور فکر اصلاح پا تی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم:ج 5 ص 2 7 3
صحیح و سالم فکر کے لئے ایسے افراد سے پر ہیز کرنا ضروری ہے کہ جو فکری اشتبا ہات کا شکار ہوں ۔ زود باور افراد سے کنارہ گیری و دوری انسان کو ان کے فکری اشتبا ہات سے محفوظ رکہتی ہے جلدی باور کرنے والے سادہ لوح افراد اور جو لوگ جلدی دوسروں سے فریب کہا جائیں وہ فکری لحاظ سے ضعیف و کمزور ہو تے ہیں ۔
حضرت امیر المو منین علی (ع) فرما تے ہیں :
'' من ضعفت فکرته قویت غرّته ''(1)
جس کی فکر ضعیف ہو ، اس کا فریب کہانے کا امکان قوی ہو جاتا ہے۔
ضعیف فکر انسان کے دہو کا کہا نے کے امکا نات مہیا کر تی ہے ۔ کیو نکہ جب ایسے افراد میں غور وفکر کی قدرت کم ہو تو ان میں وہم و خیال کی قوت زیادہ ہو جاتی ہے اسی لئے وہ دوسروں کی رائے اور نظریات کو جلدی قبول کر لیتے ہیں کیو نکہ وہم و خیال کا غلبہ قبول کرنے کی حالت کو ایجاد کر تا ہے لیکن سوچ و فکر دلیل و برہان اور قبول کرنے کی حالت کو شرائط کے ساتہ تسلیم کر تی ہے اسی وجہ سے تعلیمات وفرمائشات اہل بیت عصمت و طہارت میں فکری لحا ظ سے ضعیف افراد سے مصاحبت و واسطہ سے منع کیا گیا ہے تا کہ ان کی صحبت و ہمنیشی کی وجہ سے ان کے اشتبا ہا ت دوسروں تک سرایت نہ کریں ۔ تمرکز فکر، غور وفکر کی قدرت میں اضا فہ کا با عث ہے ۔جو کوئی غور و فکر کر رہا ہو اس کے لئے ذہنی اطمینان و آرام و سکون ہونا ضروری ہے کیو نکہ تشویش ذہنی ، تمر کز فکر سے مانع ہے پس جب فکر متمر کز نہ ہو تو اس کی قدرت کم ہو جائے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم:ج 5 ص 80 2
تمر کز فکر کے لئے پر سکون اور آرام دہ محیط و ماحول ہو جو محیط فکر کو پرا کندہ کرے ، اسی طرح ہیجان اور روحی آشفتگی کے وقت بہی فکر کومکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتے ۔
اگر تمرکز فکر کی قدرت پیدا ہو جائے تو قوی و قدرتمند فکر حاصل ہو گی ۔ کیو نکہ اس میں کوئی شک وتردید نہیں کہ تمرکز فکر کی قدرت کو کئی حد تک بڑہا تا ہے ۔ لہذا تمر کز فکری کا طریقہ سیکہیں اور اس کے موانع کو بر طرف کریں ۔
تمر کز فکر انسان کے باطنی و روحی حالات سے حاصل ہو تا ہے ۔ لہذا اسے بہت تیزی سے حاصل کرنے کے لئے تمرین و مشق کریں تا کہ وقت کے ساتہ ساتہ ہم میں یہ قدرت ایجاد ہو سکے ۔ جب تمر کز فکر کی قدرت پیدا ہو جائے اور اس سے استفادہ کریں تو آپ کے لئے کامیابی تک پہنچنے کے راستے کہل جائیں گے ۔
بہت سے دانشمند و طالب علم نوابغ کی حالت میں غبطہ و حسادت کا شکار ہو جاتے ہیں کیو نکہ وہ ذہین نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہو تے ہیں جب کہ بعض مصنفین معتقد ہیں :
'' ایک ذہین اور عادی یا عام فرد کی فکر میں فرق ہے کہ ذہین شخص اپنے ذہن کو خاص اور بیشتر طریقہ سے مورد استفادہ قرار دیتا ہے ۔ آپ بہی اپنے ذہن کو خاص اور بیشتر طریقہ سے مورد استفادہ قرار دینے پر قادر ہیں '' ۔
بعض گمان کر تے ہیں کہ ذہین افراد بچپن سے ہی غیر معمولی حافظے کے مالک ہو تے ہیں لیکن ان کی یہ سوچ درست نہیں ہے کیو نکہ بہت سے ذہین افراد میں بڑے ہونے تک ذہانت نامی کوئی چیز موجود نہیں ہوتی ۔ حتی کہ بعض اپنے والدین اور تربیت دینے والوں کی نظر میں بچگا نہ ذہن کے مالک تہے ۔ آئن سٹائن کہ جو اس دنیا میں ایک ذہین ترین فرد کے طور پر پہچا نا جا تا ہے ، وہ بہی ان ہی افراد میں سے ایک تہا ۔
بہت سے ذہین افراد نے اپنی ذہانت کو اپنی عمر کے آخری حصوں میں نکہا را اگرچہ بعض ذہین افراد میں ذہانت کی علامات بچپن ہی سے جلوہ گر ہوتی ہیں ۔
لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ تمام ذہین افراد میں ذہانت کی علامات ونشانیاں بچپن سے آشکار ہو تی ہیں کیو نکہ جس طرح ہم نے عرض کیا کہ ممکن ہے کہ انسان قوہ فکری سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جدید ، فوق العادہ اور استثنائی شخصیت کا مالک بن جائے ۔
تمر کز فکر ذہنی و فکری قوة اور قدرت فکر سے بیشتر استفادہ کرنے کاایک موثر ذریعہ ہے ۔ فکر اور تمرکز فکر اس قدر اہم ہے کہ ہم نے ابہی تک اس کے ہزا روں میں سے ایک راز کو بہی دریافت نہیں کیا۔ افکار کو تجسم دینا اور فکری موجود ات کو ایجاد کرنا فکر کے نا شناختہ مسائل میں سے ایک ہے جس طرح ہم روح کی حقیقت کو نہیں جانتے اسی طرح حقیقت فکر بہی ہمارے لئے مجہول ہے۔ کیو نکہ غور وفکر کا سرچشمہ انسان کی روح ہے ۔ کیو نکہ جو انسان اپنی روح کو کہودے وہ تفکر و تدبر پر قادر نہیں ہے ۔ بس روح سے فکر جنم لیتی ہے اور ذہن ایک وسیلہ ہے کہ جس کے ذریعہ روح انسان کے غور وفکر کو ظاہر کرتی ہے۔ جس طرح آنکہ روح کے لئے وسیلہ ہے کہ انسان تسلط روح کے ذریعہ آنکہوں سے اشیاء کو دیکہتا ہے ۔
آ پ غور و فکر اورتفکر و تعقل کے ذریعہ دنیا کے عالی ، عظیم ترین اور قیمتی خزانوں کو اپنے ذہن سے نکالیں اور تامل و دقت کے ذریعہ اپنی افکار سے پر ارزش گوہر حاصل کریں کہ جس کے سامنے بہت سے قیمتی خزانے کوئی قیمت نہیں رکہتے ۔ اپنی فکر کو متمر کز کریں اور تمر کز فکر کی قدرت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی عقلی و ذہنی قوت کی افزائش کریں ۔ غور وفکر کے ذریعہ آپ نہ صرف ذہین اور ا پنے آگاہ ضمیر میں تبدیلیاں ایجاد کر سکتے ہیں ۔بلکہ آپ اپنے اس ضمیر میں بہی تبدیلی لا سکتے ہیں کہ جو اپنے سے آگاہ نہیں ہے ۔فکر آپ کے نفس و روح کے لئے مقناطیس ہے کیو نکہ آپ جس موضوع کے بارے میں سوچیں وہ آپ کو اس کی طرف جذب کرے گا ۔
تفکر کے ذریعہ فضائل ومناقب اہل بیت علیہم السلام سے اپنی روح کو بلندیوں پر لے جائیں تا کہ اس خاندان وحی کے لئے مجذوب بن سکیں ۔اس کائنات ، ملکوت آسمان و زمین اور آیات الٰہی سے آشکار عظمتوں میں تدبر و تامل سے آپ میں عظم تبدیلیاں و تحولات وجود میں آئیں گے ۔اشتبا ہات فکری کے شکار افراد کی صحبت و ہمنشینی سے گریز کریں اور عالی و بزرگ فکر کے مالک افراد کی مجلس میں بیٹہیں ۔
بہ یک تدبیر نیکو آن توانکرد
کہ نہ تو ان با شپاہ بیکران کرد
بہ رأیی لشکری را بشکنی پشت
بہ شمشیری یکی تا دہ تو ان کشت
ایک اچہی سوچ و فکر وہ کام بہی کر سکتی ہے کہ جسے بہت بڑا لشکر بہی انجام نہیں دے سکتا ۔ رائے ونظریہ کے ذریعہ لشکر کو شکست و مات دے سکتے ہیں لیکن تلوار کے ذریعہ ایک سے دس افراد کو ہی قتل کیا جاسکتا ہے ۔
دوسراباب
مشورہ
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' افضل من شاورت ذو التجارب ''
تجربہ کار سے مشورہ کرنا سب سے بہتر ہے ۔
مشورہ کرنے کی ضرورت
مشورہ ترقی و پیشرفت کااہم ذریعہ
کس کے ساتہ مشورہ کریں ؟
مشورہ کے بعد اس پر عمل کریں
مشورہ نہ کرنے کا انجام
نتیجۂ بحث
سعی و جستجو اس صورت میںمفید ثابت ہو تی ہے کہ جب وہ صحیح راہ پر قرار پائے اور اس کا درست نتیجہ ہاتہ آئے ۔ اگر انسان کی فعالیت و کوشش صحیح شرائط کے ساتہ انجام نہ پائے تو اتلاف عمر اور تہکاوٹ کے علاوہ کچہ حاصل نہیں ہو گا ۔ لہذا ہر کام اور پروگرام کو شروع کرنے سے پہلے اس پر دقت کریں اور کامیا بی وناکامی کی تمام شرائط کی تحلیل و بررسی کریں ۔ اس کے بعد اگر آپ دیکہیں کہ اس کام سے اچہا اور عالی نتیجہ حاصل ہو رہا ہے تو اس کام کا آغاز کریں اگر اس کام کا نتیجہ آپ کے لئے روشن نہ ہوسکے تو کسی ایسے شخص سے مشورہ طلب کریں کہ جو آ پ کا ہمدرد ، دلسوز اور اس مسئلہ سے مطلع وآگاہ ہو پہر اگر اس کام میں کوئی صلاح دکہائی دے تو اس کام کا آ غاز کریں ۔
حضرت رسول اکرام(ص) ایک روایت میں فرماتے ہیں :
'' تَواضع للّٰه ، یَر فَعکَ اللّٰه وَلاَ تَقضیَنّ الاَّ بعلمٍ فَانّ اشکل علیک امر فسل ولا تستحیی ، واستشر ثمّ اجتهد فانّ اللّٰه عزّ وجلّ ان یعلم منک الصدق یوفقک ''(1) خدا کے لئے تواضع کرو، تا کہ خدا تمہیں سر بلند کرے اور تم قضاوت نہ کرو مگر جس کے بارے میں تم علم و آ گاہی رک ھ تے ہو ۔ پس اگر کوئی امر تمہارے لئے مشکل ہو تو اس کے بارے میں سوال کرو اور سوال کرنے میں مت شرماؤ، اس کے بارے میں مشورہ کرو اور پ ھ ر اس کام کو انجام دینے کی کوشش کرو، کیو نکہ خداوند متعال اگر تم میں صداقت جانے تو تمہیں کامیاب فرما ئے گا ۔جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ پیغمبر اکرم(ص)نے ارشاد فرمایا : '' مشکل امور میں دوسروں سے پوچ ھ و اور مشورہ کرو اور اس کے بعد اس کام کو انجام دینے کی کوشش کرو ''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج 21ص 408
جو معنوی مقام کی اوج پر اور بندگی خدا وند کے عا لی در جات پر فائز ہیں اور جو راہ کمال کے حصول کے لئے کوشاں اورتقرب اہل بیت کی جستجو میں ہیں وہ یہ جان لیں کہ مشورہ عظیم لوگوں کی ترقی وپیشرفت میں بہت اہم کردار کاحامل ہے ۔ اب جنہوں نے معنوی سفر کا آغاز کیا ہے اور جو آیات وروایات اور اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے ارشادات سے نا واقف ہیں کہ جو انسان کو سید ھ ا راستہ دک ھ اتی ہیں ۔ لہذا وہ کسی عاقل ، متقی اور فہمیدہ انسان سے مشورہ کریں اور ان کے تجربات اور رہنمائی سے استفادہ کریں ۔ ایسے بزرگ افراد سے مشورہ کریں کہ جو نعمت علم و فہم سے آراستہ ہوں اور جن کو صحیح راستہ مل گیا ہو اور اس پر گامزن ہوں نہ کہ ان لوگوں سے مشورہ کریں کہ جو آد ھ ے راستے میں بیٹ ھ گئے ہوں اور کاروان کو ب ھ ی اس پر چلنے سے روکے رک ھ ا ہو ۔حضرت امیر المو منین (ع) ایسے افراد سے مشورہ کو ہدف و مقصد تک پہنچنے کا بہترین ذریعہ قرار دیتے ہیں کہ جنہیں صحیح راستہ مل چکا ہو ۔'' لا ظهیر کا لمشاورة ''(1)
انسان کے لئے مشورہ سے بڑہ کر کوئی مدد گار نہیں ہے ۔
فتحی کہ جہاں از او گشادند در بازوی مشورت نہا دند
گر عقل تو عقدہ می گشاید با ناخن شور خوشتر آید
وہ فتح کہ جس کے ذریعہ دنیا کو فتح کیا وہ مشورہ کے ذریعہ سے حاصل ہو تی ہے اور اگر آ پ کی عقل گرہ کہو ل سکتی ہے تو یہ ناخن کے ذریعہ گر ہ کہولنے سے بہتر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج 75ص 104
امام صادق (ع) مشاور کی شرئط کے بارے میں فرماتے ہیں:
''استشیر العاقل من الرجال الورع ، فانّه لا یأمر االاَّ بخیرٍ ...''
عاقل مر دوں کے ساتہ مشورہ کرو کہ جو پر ہیز گار ہو ں ۔ کیونکہ وہ تمہاری راہنما ئی نہیں کریں گے مگر خیر و اچہا ئی کی طرف ۔اس امر سے بہی متوجہ رہیں کہ کبہی مشورہ ، مشورہ کرنے والے کے لئے بہت نقصان کا سبب بنتا ہے کہ جب بعض موارد میں یہ اسے گمراہی و ضلالت کے تاریک کنویں میں دہکیل دیتا ہے اسی وجہ سے خاندان وحی (ٕع) نے مشورہ کے بارے میں کچہ شرائط ذکر فر مائی ہیں تا کہ ایسی غلطیوں اور اشتبا ہات سے محفوظ رہ سکیں-آپ جس شخص سے مشورہ کرنا چا ہتے ہوں اس میں مشاور کی صلاحیت ہونی چاہئے اور اس سے جس موضوع کے بارے میں سوال کیا جائے وہ اس کے جواب کے لئے مکمل آ مادگی رکہتا ہو ۔ لہذا روایات اہل بیت علیہم السلام کی نظر میں ایسے شخص سے مشورہ کیا جائے کہ جو اس کی تمام خصوصیات کامالک ہو ۔
امام صادق (ع) فرماتے ہیں : '' شاور فی امور ک ممّا یقتضی الدین من فیه خمس خصالٍ عقل ،و حلم ، و تجربة ، ونصح ، و تقویٰ ''(1)
اپنے امور میں کہ دین جن کا اقتضا ء کر تا ہے کسی ایسے سے مشورہ کرو کہ جس میں پانچ خصوصیات موجود ہوں :
1 ۔ عقل 2 ۔ حلم 3 ۔ تجر بہ 4 ۔ نصحیت کرنے والا 5 ۔ تقویٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج 75ص 104
مشکل مسا ئل میں فقط ایسے شخص سے مشورہ کیا جائے کہ جو فہمیدہ ، تجر بہ کار ، تقویٰ دار ، بردبار ، وحلیم اور اہل نصیحت ہو اور جن افراد میں یہ خصو صیات نہ ہو ان سے پر ہیز کیاجائے ور نہ ممکن ہے کہ انسان ہدایت کی بجائے ضلا لت و گمراہی میں مبتلا ہو جائے ۔ لہذا ایسے شخص سے مشورہ کیا جائے کہ جو اس کے لئے آما دگی رکہتا ہو ۔
بہ ہر کار با کاروان راز گوی در چارہ از رأیی او باز جوی
زدن با خداوند فر ہنگ رأیی بہ فر ہنگ باشد تو ر اہنما ئی
امام صادق (ع) ایک اور روایت میں ایسے شخص کو بیشتر شرائط بیان فرما تے ہیں کہ جس سے مشورہ کیاجائے:
'' انّ المشورة لاتکون الاَّ بحدودها، فمن عرفها والاَّ کانت مضرّ تها علی المستشیر اکثر من منفعتهاله ، فأ وّلها ان یکون الذی یشاوره عاقلاً ، والثانیة ان یکون حرّاً متدیناً ، والثالثة ان یکون صدیقاً مواخیاً، والرابعة ان تطلعه علی السرّک فیکون علمه به کعلمک بنفسک ، ثمّ یستشر ذالک و یکتمه فانّه اذا کان عاقلاً انتفعک بمشورته، واذا کان حراً متدیّناً جهد نفسه فی النصیحة لک ، و اذا کان صدیقاً مواخیاً کنتم شرک اذا طلعته علیه ، و اذا اطلعته علی سرک فکان علمه به کعلمک تمت المشورة وکملت النصیحة ''(1)
مشورہ کی کچہ شرائط ہیں اگر کوئی اسے جان لے تو اچہا ہے ور نہ مشورہ کرنے والے کو فائدے سے زیادہ نقصان کا سامنا ہو گا ۔
1 ۔ مشاور عاقل و فہمیدہ ہو ۔
2 ۔ وہ آز اد اور متدین ہو ۔
3 ۔ آپ سے برادرا نہ صدا قت رکہتا ہو ۔
4 ۔ آپ اسے اپنے راز سے آگاہ کریں تا کہ وہ آپ کی طرح مورد مشورہ کیتمامپہلوؤں سے آگاہ ہو جائے اور پہر اسے مخفی و پوشیدہ رکہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج 75ص 103
اگر وہ عاقل و فہمیدہ ہو تو اس سے مشورہ کرنا مفید ثا بت ہو گا اگر وہ آزاد و متدین ہو تو آ پ کو نصیحت کی سعی و کوشش کرے گا اور جب وہ برا درا نہ صداقت رکہتا ہو تو وہ آپ کے رازو ں کو پوشیدہ رکہے گا ۔ اور جب آپ اس کو اپنے راز بتا دیں کہ جس طرح آپ اس مسئلہ سے آ گاہ ہیں تو وہ آ پ کو کامل اور صحیح مشورہ دے گا ۔ پس نصیحت کامل ہو جائے گی ۔
گویند کہ بی مشاورت کار مکن الحق سخنی خوشست انکار مکن
لیکن بہ کسی کہ از غمت غم نخورد گر در ز ذہن بریذد اظہار مکن
کہتے ہیں کہ مشور ہ کے بغیر کوئی کام نہ کرو اور حق یہ ہے کہ کسی اچہی بات کا انکار نہ کرو ، لیکن جو تمہارے غم میں غم خوار نہ ہو اگر وہ اپنے منہ سے موتی بہی نچہاور کرے تو اس کا اظہار نہ کرو ۔
اس بناء پر بے خبراور نادان افراد سے مشورہ کرنا بہت خطر ناک ہو سکتا ہے کہ جن میں مشاور کی شرا ئط نہ ہو ۔ کیو نکہ وہ انسان کو گمراہی و تبا ہی میں مبتلا کردے گا ۔
امیر المو منین(ع) فرما تے ہیں :
'' لا تشاور من لا یصدّقه عقلک ''(1)
جسے عقل قبول نہ کرے اس سے مشورہ نہ کرو ۔
طبیبی کہ باشد و زرد رو ی ازاو داوری سرخ روئی مجوی
جو طبیب خود ہی بیمار ہو اس سے صحت یابی کی امید رکہنا عقل مندی نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الا نوار:ج 75ص 3 0 1
شائستہ افراد سے مشورہ کرنے میں آپ کا ہدف و مقصد ان کی رائے کو قبول کرنا ہو اور حقیقت مل جانے کی صورت میں اسے قبول کر کے اس پر عمل کریں نہ کہ فقط اس کی صحبت میں وقت گزار کر ، آگاہ افراد کی نصیحت کو ان سنا کر کے فراموش کر دیں ۔ کیو نکہ اس صورت میں افسوس و پریشانی آپ کا استقبال کرے گی ۔
حضرت امیر المو منین (ٕع) فرما تے ہیں :
'' اما بعد فانّ معصیة الناصح الشفیق العالم لمجرب تورث الحسرة و تعقب الندامة '' (1)
شفیق ومہر بان ، عالم و صاحب تجر بہ نصیحت کرنے والے شخص کی مخالفت کے بعد حسرت و پشیمانی حاصل ہو گی۔
اس بناء پر اگر آپ کسی آگاہ و شائستہ شخص کی صحبت میں بیٹہ کر اس کی نصیحتوں کو سنیں اور اس کی باتوں اور نصیحتوں پر عمل کر نے کے لئے کمر ہمت باندہ لیں تو آپ سعا دت مند ہو جائیں گے اور پہر آپ پشیمانی ، افسوس اور فکری پریشانی کا شکار نہیں ہوں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ نہج البلا غہ خطبہ: 35
مختلف کاموں میں مشورہ نہ کر نے کی وجہ لاعلمی و نا آگا ہی ہے یا اس کی وجہ استبداد رائے ہے ۔ یعنی جو اپنے کردار و رفتار کو سو فیصد صحیح اور بے اشکال سمجہے اور کسی سے مشورہ کرنے کے لئے تیار نہ ہو ، وہ استبداد رائے میں مبتلا ہے ۔ ایسے افراد اس صفت کی وجہ سے اپنے کو خطرے میں ڈالتے ہیں حضرت علی(ع)نے نہج البلاغہ میں فرمایا:
''والاستشارة عین الهدایة و قد خاطر من استغنیٰ برأیه ''(1)
مشورہ کرنا ہدایت کا چشمہ ہے اور اگر کوئی اپنی شخصی رائے کی وجہ سے اپنے کو دوسروں سے مستغنی سمجہے تو وہ اپنے کو خطرے میں ڈالتا ہے ۔دنیا کے بہت سے حکمرا نوں میں غرور ، استبداد رائے کی صورت میں ظاہر ہو تا ہے جس کی وجہ سے وہ کبہی اپنے اور کبہی اپنی مملکت کو نیست و نابود کر دیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے کائنات میں منصب امامت کے لئے پہلے شائستہ ترین امام حضرت علی (ع) نے فرمایا :جو اپنے کو اپنی شخصی رائے کی وجہ سے دوسرو ں سے بے نیاز و مستغنی سمجہے وہ اپنے کو خطرے میں مبتلا کر تا ہے ۔اس بناء پر جو دوسروں کے ساتہ مشورہ کر نے کو بیٹہنے کے لئے تیار نہ ہو اور جو اپنی رائے و عقیدے کو دوسروں سے بہتر و بر تر سمجہتا ہو ، وہ اپنی رائے میں استبداد رکہتا ہے جو کہ ہلا کت و نابودی کو سبب ہے کیو نکہ ایسا شخص کسی کام کو بہی انجام دیتے وقت دوسروں سے اپنی شخصی رائے اور عقیدے کے علاوہ کسی اور راہ کا انتخاب نہیں کرتا اگر چہ اس کا منتخب کیا ہوا راستہ غلط ہی کیوں نہ ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ نہج البلا غہ ، کلمات قصار: 202
حضرت امیر المو منین(ع) فرما تے ہیں :
'' من استبدّ برأیه هلک و من شاور الرجال شارکها فی عقو لها ''(1)
جو اپنی رائے میں مستبدّ ہو ، وہ ہلاک ہو جاتا ہے اور جو دوسرے لو گوں سے مشو رہ کرے گو یا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہو جا تا ہے ۔
ان فرامین و ارشادات سے یہ استفادہ کرتے ہیں کہ جو کسی کام میں مشورہ نہیں کر تا اور استبداد رائے کا مالک ہو وہ بہت بڑے نقصان کا متحمل ہو تا ہے اور جو دوسروں سے مشورہ کر تے ہیں وہ نہ صرف ہلاکت سے رہائی پاتے ہیں بلکہ صاحبان نظر کی عقلوں میں بہی شریک ہو تے ہیں ۔
بنای کار خود را با مشاورت ننہی نہ حق شرع گذاری نہ داد عدل دہی
مکن غرور و بکن مشورت بہ اہل خرد کہ در مشاورت از سہو و از خلل برہی
اگر اپنے کاموں کی بنیاد مشورے کے ذریعہ نہیں رکہو گے تو آپ کو نہ ہی تو شرع گزاری کا حق ہے اور نہ ہی فیصلہ اور عدل کرنے کا ۔ غرور نہ کرو بلکہ اہل عقل و خرد سے مشورہ کرو کیو نکہ مشورے سے سہو و خلل کے ذریعہ نجات پا سکتے ہیں ۔
مادی مسائل میں بہی کبہی مشورہ نہ کر نے سے ناقبل جبران نقصان ہو تا ہے اب نمونہ کے طور پر ایک مورد کو ذکر کرتے ہیں : جب سب لوگ سونے کی تلاش و جستجو میں تہے تو '' داربی '' نامی شخص کے ایک چچاکو بہی سونے کی ہوس کا بخار ہو گیا اس نے غرب کا رخ کیا تا کہ زمین کہود کر مال و ثروت حاصل کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ نہج البلا غہ ، کلمات قصار:152
اس نے یہ نہیں سنا تا کہ انسان کے ذہن میں موجود سونا ، زمین میں مخفی سونے سے بیش قیمت ہے وہ اجازت نا مہ لے کر بیلچہ اٹہا ئے زمین کو کہود نے لگا ایک ہفتہ کی کوشش کے بعد وہ سونے کی سطح تک پہنچ گیا اب سے کسی وسیلہ و آلہ کی ضرورت تہی کہ جس کی مدد سے وہ زمین کا سینہ چیر کر سونے کو نکال سکے اور کسی کو اس کی خبر بہی نہ ہو ۔ لہذا اس نے اس معدن کو چہپاد یا اور واپس اپنے شہر چلا گیا اس نے اپنے رشتہ داروں اور بعض ہمسایو ں کو بتایا ، وہ سب جمع ہوئے اور انہوں نے مل کر زمین کہود نے کے لئے ایک مشین خریدی اور سونے کی کان والی جگہ آگئے '' داربی'' اور اس کے چچا کام میں مصروف ہوگئے جب انہوں نے وہاں زمین کہود کر مٹی کا پہلا ٹرک نکا لا تو معلوم ہوا کہ انہیں سونے کی بہت بڑی کان ملی ہے سونے والی مٹی کے چند ٹرک نکالنے کے بعدانہو ں نے تمام قرض ادا کر دیئے اور پہر انہیں بہت زیادہ منافع بہی ہوا وہ جتنی زمین کہودتے داربی اور اس کے چچاؤں کی ہوس بڑ ہ جاتی یہاں تک کہ سونے کی وہ سطح گم ہو گئی اور پہر سونے کی کان کے کوئی اثرات نہ ملے لیکن انہوں نے اپنے کام کو جاری رکہا مایوسی کے عالم میں بہی انہوں نے سونے کی تلاش کے لئے نئے سرے سے آغاز کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے لہذا انہو ں نے ارادہ کیا کہ اب اس کام سے ہاتہ اٹہا لیں ، انہوں نے زمین کہود نے کی مشین چند سو ڈالر میں فروخت کردی اور ریل کے ذریعہ اپنے علاقے میں واپس آ گئے ۔
جس نے وہ مشین خریدی ، اس نے ایک انجینئر سے تقاضا کیا کہ وہ معدن کا معائنہ کرے انجینئر نے بتایا کہ زمین کہود نے والے معدن کے اصو لوں اور قوا نین سے نا آشنا تہے اور وہ ہار کر واپس چلے گئے ۔ انجینئر نے بتا یا کہ انہوں نے جس جگہ کام چہوڑا تہا اس سے90 سینٹی میٹر کے فاصلے پر سونے کی سطح ہے لیکن وہ ہار کر واپس لوٹ گئے ۔
جس شخص نے زمین کہود نے کی مشین خریدی تہی وہ ایک بہت اہم حقیقت سے واقف تہاکہ کسی چیز میں ہار ماننے اور کام کو چہوڑ نے سے پہلے اس کے ماہر سے مشورہ کرناضرور کریں ۔
مادی و معنوی امور میں آگاہ ، فہمیدہ و پر ہیز گار شخصیات سے مشورہ ترقی و پیشرفت کا ذریعہ ہے ایسے افراد سے مشورے کے ذریعہ آپ ان با صلا حیت و صاحب نظر افراد کے افکار و تجربات سے مستفید ہو سکتے ہیں ان کی راہنما ئی سے استفادہ کر تے ہوئے آپ اپنے کو حیرت و سر گردا نی سے نجات دے سکتے ہیں ۔ ان کے خدا پسندا نہ نظریات کی مدد سے عظیم اہداف سے آشنا ہو کر ان عالی اہداف و مقاصد کے لئے قدم بڑہا ئیں ان دلسوز او ر بزرگ افراد سے مشورہ کر کے ان کی سالہا سال کی زحمت اور تلاش و کوشش سے استفادہ کریں ۔
با صلاحیت افراد کے مشورہ سے استفادہ کر کے ان کی فکر سے مستفید ہوں اور اعلیٰ اہداف کی اہمیت و ارزش سے آگا ہ ہو ں اور ان اہداف تک پہنچنے کی تلاش و جستجو کریں تا کہ آئندہ افسوس اور پشیمانی میں دچار نہ ہوں۔
مشاورت تر ک کر نے سے نہ صرف معنوی مسائل بلکہ مادی امور میں بہی نا قابل تلافی نقصان ہو تا ہے پرہیز گار و بزرگ افراد سے مشورہ آپ کی شکست کے لئے مانع ہے ۔
ہر کہ بی مشورت کند تد بیر غالباً بر ہدف نیاید تیر
بیخ بی مشورت چو بنشانی بر نیار د بہ جز پشیمانی
جو بہی مشورہ کے بغیر تدبیر کرے تو غا لباً اس کا تیر نشانے پر نہیں لگتا ۔ اور اگر کسی چیز کی مشورہ کے بغیر بنیاد دکہو گے تو پشیما نی کے سوا کچہ حاصل نہیں ہو گا ۔
تیسراباب
ہدف
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' جمیل المقصد یدلّ علیٰ طهارة المولد ''
خوبصورت ( با ارزش ) ہدف مولد کی طہارت پر دلالت کرتا ہے ۔
بہتر ین ہدف کا انتخاب کریں
ہدف کے نتیجہ پر توجہ کریں
انسان کی تخلیق کا کیا ہدف ہے؟
مقصد وہدف تک پہنچنے کے ذرا ئع
1 ۔ اپنے ہدف کے حصول کی امید
ایک نکتہ کا تذکر
2 ۔ ہدف کے حصو ل میں طلب و جستجو کا کردا ر
3 ۔ بزرگ ہستیوں کی خدمت میں رہنا
4 ۔ عالی اہداف تک پہنچنے کے لئے نفس کی مخالفت
5 ۔ عظیم اہداف تک پہنچنے کے لئے اہل بیت سے توسل
نتیجۂ بحث
اس کم فر صت اور محدود عمر میں وقت کو ضائع کرنے والے امور سے گریز کریں اور ایسے مہم اور ضروری مسائل میں وقت صرف کریں کہ جو دنیا و آخرت کے لئے سود مند ہو ں ۔
ہم مہم ترین اور ضروری مسائل کو اپنا ہدف قرار دیں اور ان تک پہنچنے کے لئے کو شش کریں ۔ کیونکہ غیر ضروری اور غیر مہم مسائل میں وقت صرف کرنے سے ہم اساسی و باارزش امور بہول جائیںگے اورخلقت کے عالی ہدف و مقصد تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔
حضرت امیر المو منین(ع) فر ماتے ہیں :
'' من اشتغل بغیر المهمّ ، ضیّع الدهمّ ''(1)
جو غیر مہم امور میں لگا رہے وہ مہمترین امور کا ضائع کر دیتا ہے ۔
اہمیت نہ رکہنے والے غیر ضروری مسائل میں مصروف رہنے سے بزرگ و اعلیٰ اہداف سے پیچہے رہ جائیں گے یہ ایک حقیقت ہے کہ جسے حضرت امیر المو منین نے مختصر سے کلام کے ضمن میں بیان فر مایا ہے تا کہ اس سے بشریت بالخصو ص جوان و نو جوان نسل درس لے ۔ اگر بشریت مولا کے اس فرمان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم:ج 5ص 0 33
سے درس لے تو دنیا میں عظیم تبدیلیاں و تحولات وجود میں آئیں گے چو نکہ ہماری عمر محدود ہے اور ہم میں تمام امور کو احاطہ کرنے کی قدرت و توانا ئی نہیں ہے ، لہذا اسے بہترین اور باعظمت امور میں صرف کریں اور بے ارزش امور میں وقت صرف کرنے سے پر ہیز کریں کہ جو عمر کے ضیاں و تبا ہی وبربادی کے علاوہ کچہ نہیں ۔عمر سے اچہے طریقہ سے استفادہ کرنے اور اسے مہم و با ارزش امور پر صرف کرنے کے لئے ہماری فکر جزئی مسائل کی طرف مشغول نہیں ہو نی چاہئیے تا کہ ہم بہترین اہداف ومقاصد کو حاصل کرسکیں ۔
حضرت امیر المو منین(ع) فرما تے ہیں :
'' انّ رأ یک لا یتّسع بکلّ شیئٍ فضرّ عنه للمهمّ ''(1)
تمہاری فکر تمام امور کو احاطہ کرنے کی وسعت نہیں رکہتی لہذا اسے مہم امور کے لئے استعمال کرو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم :ج2ص 606
مہم ترین و بہترین ہدف کے انتخاب کے لئے اس کاانجام و نتیجہ کا ملاً واضح و معلوم ہو لہذا ایسے کام اور پروگرام ترتیب دیں کہ جس کے انجام کو ہم اپنا ہدف قرار دیں اور اس کے بارے میں ہمیں مکمل شناخت ہو اور تحقیق و بررسی کے بعد اس کا نتیجہ ہمارے لئے روشن ہو ۔
اس کے نتیجہ کو خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام سے حاصل ہونے والی فر ما ئشات سے موازنہ کے بعد اپنی ہمت کو ہدف تک پہنچنے کے لئے تقویت دیں اور سستی و غفلت اور فراموشی کو ترک کر دیں ۔
پیغمبر اکرم(ص) نے فر ما یا :
'' اذا هممت بامرٍ فتدبّر عاقبته فان کان خیراً فَاَشرع الیه و ان کان شرّاً فانته عنه ''(1)
جب کسی کام کو کرنے کے لئے ہمت کرو تو اس کے انجام کے بارے میں تدبر کرو اگر وہ کام اچہا اور پسندیدہ ہو تو اس کو انجام دو اور اگر وہ برا اوربرا ہو تو اسے انجام دینے سے باز رہو ۔جب آ پ کسی کام کو اپنا ہدف قرار دیں تو اس کے انجام کے بارے میں بررسی و تحلیل کریں اور اس کے آئندہ کو اچہی طرح تشخیص دینے کے بعد اس کام کو شروع کریں پہر اسے آج کل انجام دینے کی بجائے فر صت سے استفادہ کرتے ہوئے اس کام کو انجام دیں کہ جب تک آپ کے لئے کوئی مانع درپیش نہ آئے یہ وہ راستہ ہے کہ جس پر بزرگان چلے آپ بہی ان کے نقش قدم ہر چلتے ہوئے اس مسیر کو طے کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج 72ص 342
جس طرح ہم نے کہا کہ انسان کا زندگی میں کوئی ہدف ہونا چاہیئے لہذا اسے عا لی ترین اہداف کی شناخت ہو ،تا کہ ان میں سے بہترین کا انتخاب کرے خلقت انسان کے سر و راز سے آشنائی ہماری راہنمائی کر سکتی ہے اور ہمارے لئے حقیقت کو آ شکار کر سکتی ہے ۔خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فر ماتا ہے : '' وما خلقت الجنّ والا نس الاَّ ما لیعبدون '' (1) میں نے جن و انس کو خلق نہیں کیا مگر یہ کہ وہ میری عبادت کریں۔تفسیر نو ر الثقلین میں اس آیت کے ذیل میں امام صادق سے ایک روایت کو ذکر کیا گیا ہے :'' قال خرج الحسین بن علیّ علیٰ اصحابه- فقال : ایّها النّاس انّ اللّٰه عزّ وجلّ ذکره ، ماخلق العباد الاَّ لیعرفوه، فاذا عر فوه عبدوه ، فقال له رجل یابن رسول اللّٰه بابی انت و امّی فما معرفت اللّٰه - قال: معرفة اهل کلّ زمان امامهم الّذی تجب علیهم طاعته ''(2)
امام صادق نے فرمایا : کہ امام حسین اپنے اصحاب پر وارد ہوئے اور فرمایا : اے لوگو ! خدا نے بندوں کو خلق نہیں کیا مگر یہ کہ وہ اسے پہچانیں جب وہ اسے پہچان لیں تو پہر اس کی عبادت کریں اور پہر اس کی عبادت کے ذریعہ غیر کی بندگی سے بے نیاز ہوجائیں ۔ ایک شخص نے آنحضرت سے عرض کی اے فرزند پیغمبر میرے ماں ، باپ آپ پر قربان ہوں ،معرفت خدا سے کیا مراد ہے ؟ امام حسین نے فرمایا : معرفت خدا سے یہ مراد ہے کہ ہر زمانے کے لوگ اپنے وقت کے امام کو پہچانیں کہ جس کی اطاعت ان پر واجب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ سورہ الذا ریات آ یت: 56
[2] ۔ تفسیر نو ر الثقلین:ج 5ص 122
اس یہ آیہ شریفہ اور وایت مذکورہ سے واضح و روشن ہو جا تا ہے کہ جنّ وا نس کی خلقت کا مقصد مقام عبودبیت تک پہنچنا ہے ۔ یہ اس صورت میں متحقق ہو گا کہ جب معرفت خدا کے ہمراہ ہو جو خدا کی معرفت و شناخت رکہتا ہو وہ امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے مقام سے بہی آشنائی رکہے ۔
پس آج کے زمانے میں ہمارا یہ وظیفہ ہے کہ ہمیں امام زمان ارواحنا لہ فداہ کی معرفت و پہچان ہو اور امام کی خدمت کو اپنی زندگی کا ہدف و مقصد قرار دیں ۔ کیو نکہ امام صادق اپنے زرین کلام میں اس زمانے کے تمام شیعوں اور مقام ولایت کے پروانوں کا وظیفہ یوں بیان فرما تے ہیں :
'' لو ادرکته لخدمته ایّام حیاتی ''(1)
اگرمیں انہیں( امام زمانہ)کو درک کر لوں تو ساری زندگی ان کی خدمت کروں۔
گزشتہ مطالب سے استفادہ کرتے ہو ہم مقام عبودیت تک پہنچنے اور معارف دینی کو کسب کرنے کے بعد امام ز مان ارواحنا فداہ کی بہتر خدمت کریں تا کہ اس وجود مقدس کے لطف و کرم سے بہرہ مند ہوں اور اس بزرگوار کے خدمت گاروں میں شمار ہوں ۔
جی ہاں ، ہر زمانے میں دین ، امام اور حجت زمان کی خدمت ان لوگوں کا شیوہ رہا ہے کہ جنہوں نے مقام عبودیت کو پالیا ، سلمان ، ابو ذر ، قنبرو مقداد اور خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے تمام خاص اصحاب مقام بندگی اور پرور دگار کی عبودیت کے بعد پوری زندگی اہل بیت علیہم السلام کی خدمت میںکوشاں رہے اور کامیاب ہو گئے ۔
یہ ان لوگوںکی راہ ہے کہ جو ہدف خلقت کے ہدف کو پہچان گئے آپ بہی ان کے راستے پر چلیں تا کہ کامیاب ہو جائیں ۔
در زندگی اگر ہدف نہ داری از گنج جہان بہ جز خزف نداری
اگرتمہا ر ا زندگی میں کوئی ہدف و مقصد نہ ہو تو تمہیں دنیا کے گنج و خزانے سے اینٹ کے علاوہ کچہ حا صل نہیں ہو گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[3] ۔ بحار الانوار :ج51ص 148
بہت سے لوگ علوم و معارف میں بلند مقام اور پیشرفت کے خواہاں ہو تے ہیں تا کہ وہ بہی بزرگ افراد کی طرح اپنی ملت کیتقدیر کے لئے مؤثر کردار ادا کر سکیں اور لوگوں کو معنویت کا راستہ دکہا ئیں اور ان کی راہنا ئی کریں ۔
یہ ایک ایسی چاہت ہے کہ جو بہت سے افراد میں پائی جاتی ہے لیکن وہ عظیم لوگوں کی کامیابی کے راز سے مطلع نہیں ہیں کہ جنہوں نے تاریخ کے صفحات کو اپنے نام سے روشن کیا ۔وہ اس آرزو سے نا امید ہو کر اسے صرف خام خیالی سمجہتے ہیں ۔ مکتب اہل بیت علیہم السلام سےسیکہے ہوئے انسان سازی کے دروس کو مد نظر رکہتے ہوئے اور ان بزرگان کی حیات بخش راہنما ئی (جو ہمارے قلوب کو منور کر تی ہے ، اس سے یہ حقیقت آشکار ہو تی ہے کہ عالی مقاصد و اہداف اور بزرگ آرزو ایسے امور میں سے ہے کہ خاندان وحی و عصمت و طہارت نے اپنے پیرو کاروں اور محبّوں کو اس کی تلقین کی اور انہیں یأس و ناامیدی سے نکا لا ۔
ان عظیم ہستیوں نے نہ صرف اپنی گفتار و فرامین بلکہ اپنی دعاؤں میں بھی ہمیں امید و آرزو کا درس دیا ، لہذا انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ جمعہ کے روز یہ دعا پڑھو :'' الّلهمّ اجعلنا من اقرب من تقرّب الیک '' (1) پرور دگار ا ہمیں انکے نزدیک قرار دے کہ جنہوں نے تم سے تقرب پالیا ۔ ایسی دعا ئیں ہر اس شخص کے لئے امید کا درس ہے کہ جو اپنے میں حقارت کا احساس کر تے ہیں اور یہ دعا ئیں مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکا روں کے دلوں میں عالی اہداف تک پہنچنے کے لئے امید کی شمع ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار :ج90ص 339
اپنے اہداف کے مخالف اور نا امید افراد سے ہمنشینی نہ کریں ان کے ساتہ بیٹہنے سے یأس وناامیدی ایجاد ہوتی ہے جو اور آپ کے ارادہ و ہدف تک پہنچنے پر اثر انداز ہو گی ، اگر آپ ایسے افراد کے ساتہ بیٹہنے پر مجبور ہوں تو ان کو اپنے ارادہ و ہدف سے آگاہ نہ کریں اور یہ راز اپنے دل میں مخفی رکہیں ۔
بعض لوگ دوسروں کا تمسخر و مذاق اڑانے سے ان کے مستقبل کو بدل دیتے ہیں اور وہ اپنی طرح انہیں بہی عالی و عظیم اہداف تک پہنچنے سے مایوس کر دیتے ہیں اور ان کی کامیابی کی راہ میں روڑہے اٹکاتے ہیں ۔ ایسے افراد آپ کی ترقی کی راہ میں رکا وٹ ہیں وہ چند کلمات کے ذریعہ آپ کو آپ کے اہداف و کا میابی سے منحرف کر سکتے ہیں ایسی صورت میں آپ کا یہ وظیفہ و ذمہ داری ہے کہ ایسے افراد کو پہچانیں اور ان کے زہر آلود کلمات سے دل سرد اور مسموم نہ ہوں ۔
انسان کو بلند و عالی مرتبہ مقا مات کے حصول سے روکنے میں شیطان کی سازشیں بہی اثر انداز ہوتی ہیں ۔ شیطان مختلف قسم کے وسواس ڈالتا ہے کہ کیا تمام مشکلات کے با وجود اس راستے پر چلنا ممکن ہے ؟ کیا اپنے ہدف کو اس کی پوری عظمت کے ساتہ مکمل کر سکتے ہو ؟ اور کیا ؟
کبہی شیطان نہ صرف فعالیت کو شروع کرنے سے پہلے وسوسوں اور گمراہ کنندہ خیالات سے یأس وناامید ی کو ایجاد کر تا ہے بلکہ کبہی آدہے راستے میں راہ سے گمراہ کر دیتا ہے ۔
عظیم مقاصد و اہداف کے طالب توجہ کریں کہ انسان اس طرح سے خلق ہوا ہے کہ اگر کچہ مدت تک سختیوںکو برداشت کرے تو اس کی مشکلات و سختیاں ،سہل و راحت میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔ اگر ابتداء میں کوئی کام مشکل بہی ہو تو تکرار کے ذریعہ اس کی عادت ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خداوندمتعال عظیم اہداف رکہنے والوں کی مشکلات کو آسان فرما تا ہے اور اہل بیت عصمت و طہارت کی مدد ودستگیری فر ما کر ان کی مشکلا ت کو حل فر ماتا ہے۔ خداوند کریم بہت سے سنگین ا و ر بڑے مسائل کو بر طرف کردیتا ہے ۔
حقیقت بہی ان ہی مسائل میں سے ایک ہے کیو نکہ حق تلخ و سنگین ہو تاہے بالخصوص ایسے افراد کے لئے کہ جو گناہوں کی آلودگی ہیں غرق اور نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کے تابع ہوں ، ایسے افراد کے لئے حق بہت سنگین ہو تا ہے کیو نکہ یہ ان کی چاہت سے ساز گار نہیں ہو تا لیکن حقیقت کے طلبگار اور حقیقت تک پہنچنے کی خواہش رکہنے والوں کے لئے حق سنگین نہیں ہو تا ۔
حضرت امیر المو منین (ع) فرماتے ہیں :
'' والحق کلّه ثقیل و قد یخففه اللّٰه علیٰ اقوام طلبوه العاقبة ''(1)
تمام حق سنگین ہیں ، لیکن خدا عاقبت کی جستجو کرنے والوں کے لئے اسے سبک کر دیتا ہے۔
ان فرامین سے یہ معلوم ہو تاہے کہ طلب و جستجو مشکلات کی آسانی میں بہت مؤثر ہے بڑے اہداف کو مشکل اور ان تک دسترس کو محال سمجہنے والے ایسے افراد ہیں کہ جو آرزو و طلب کو پانے کی ہمت نہیں رکہتے ۔
جنہوں نے صمیم قلب کے ساتہ اپنی چاہت و مقصد کو پانے کی کوشش کی ، وہ اپنے مقصد تک پہنچ گئے ۔ اگر چہ ان کا مقصد و چاہت بہت مشکل تہا ، لیکن کیو نکہ وہ مکمل طور پر اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے بالآخر ان کی سختیاں اور مشکلات سہو لت و آسانی میں تبدیل ہو گئیں کہ و ہ خود بہی یہ تصور نہیں کر سکتے تہے کہ انہوں نے اپنے مقصد کو پا لیا ہے ۔
یقین کریں کہ کسی چیز کی طلب کے لئے جستجو کرنا اور اس کے حصو ل کی سر توڑ کو شش سے اس کے حصول کے بعد مسرت و راحت ہو تی ہے ۔
لہذا کامیابی اور عظیم مقاصد و اہداف تک پہنچنے کے لئے کو شش کریں ، اس کے حصول کی جستجو کریں تا کہ اس کے حصول کا زمینہ فراہم ہو سکے ۔ گوشہ نشینی اور ہاتہ پر ہاتہ دہرے ، خیا لات میں کہوئے رہنے سے انسان اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکتا ۔ وہ لوگ اپنی دلی خوا ہشات اور مقاصد حاصل کر سکتے ہیں جو ان کے حصو ل کی کوشش کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم :ج5ص 05 3
اگرکوئی اپنے مقصد کو پانے کی جستجو و طلب کرے تو ایسا نہیں کہ اسے اس سے کچہ بہی حاصل نہ ہو، اگر وہ تمام مقصد کو نہ پاسکے تو اسے کسی حد تک ضرور حا صل ہو گا ۔ یہ بذات خود ایک اہم نتیجہ ہے کہ جو طلب میں پو شیدہ ہے ۔
حضرت امیر المو منین علی (ع) فرما تے ہیں :
'' من طلب شیئاً ناله او بعضه ''(1)
اگر کوئی کسی چیز کی طلب کرے تو وہ اس تمام چیز یا ا س کی کچہ مقدار کو حاصل کرے گا ۔
اس بناء پر بڑے اور با ارزش ہدف کا انتخاب کریں اور اس کے حصول کی تلاش و جستجو کریں اس صورت میں آپ اپنے مقصد تک پہنچ جائیں گے یااپنے ہدف کی کچہ مقدار کو پالیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم:ج 5ص 05 2
مکتب اہل بیت علیہم السلام میں کمال کے عالی مراتب و مراحل تک پہنچنے کو بہت اہم قرار دیا گیا ہے اسی وجہ سے آئمہ ہدیٰ علیہم السلام کے بہت سے ہدایت کنندہ کلمات میں اس بارے میں وارد ہواہے اگر انسان ان پر عمل کرے تو اس کا مستقبل روشن ہو گا ۔ ان فرمائشات و ارشادات میں سے ایک بزرگ ہستیوں کے ہمرا ہ ان کی خدمت میں رہنا ہے کہ جو عظیم اہداف کو پانے میں کامیاب ہو گئے ۔ امام صادق(ع) سے ایک شعر کے ضمن میں نقل ہوا ہے :
'' عَلَیکَ باَهل العلیٰ ''(1)
تم پر لازم ہے کہ تم اعلیٰ مرتبہ شخصیات کے ساتہ رہو ۔
کیونکہ ایسے افراد کو دیکہنا ،ان سے ہمنشینی ان کی صحبت اور ان کی محافل میں بیٹہنا ، انسان کے افکار و رفتار پر اثر انداز ہو تا ہے اور یہ انسان کے ارادہ کو قوی بنا کر ا سے بلند اہداف کی راہ دکہا تا ہے ۔ایسے افراد کی ہمت ، ضعیف و کمزور ارادہ کے مالک افراد کی ہمت کو بلند کر تا ہے ان کا عالی مقام بے ہدف افراد کو بیدار کر تا ہے ۔
جی ہاں ، آپ ان بزرگ ہستیوں کے محضر مقدس میں با ارزش ہدف سے آ شنا ہوں گے اور آپ میں ان اہداف تک پہنچنے کا اشتیاق بڑے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج 4ص7 24
جو بلند اہداف کو پانا چاہتا ہے وہ سستی و کاہلی کو چہوڑ دے اور نفسانی خوا ہشات سے مردانہ وار مبارزہ کرے ۔
حضرت امیر المو منین فر ماتے ہیں :
'' من احبّ نیل الدرجات العلیٰ فلیغلب الهویٰ ''
جو بلند درجات تک پہنچنے کو دوست رکہتا ہے وہ اپنے ہواء نفس پر غالب آئے
یہ ملکوتی فرمان صاحب ولایت ملک و ملکوت حضرت امیر المو منین کی زبان سے صادر ہوا ہے اس میں تمام انسانوں کے لئے ایک درس ہے کہ جو بلند اہداف کے حصول کی تلاش میں ہیں اور جو بلند دینی و معنوی مقاما ت کے لئے کوشاںہیں ۔
یہ آسمانی فرمان تمام ا نسانوں بالخصوص نو جوانوں اور جوانوں کے لئے بہت بڑا پیغام ہے کہ جو روشن مستقبل کی آرزو رکہتے ہیں
جیسا کہ ہم بعد میں ذکر کریں گے کہ انسان کو ہر نیک اور پسندیدہ کام کو انجام دینے کے لئے تین چیزوں کی احتیاج ہوتی ہے ۔
1 ۔ارادہ
2 ۔ مورد نظر ہدف کوانجام دینے کی قدرت
3 ۔ خدا وند متعال کی جانب سے توفیق کہ جو ا س کی دستگیری فر مائے
ان تین موارد میں سے اگرکسی میں بہی ضعف ہو تو کام کو انجام دینے میں پیشرفت نہیں ہو گی اور کام متوقف ہو جائے گا ۔
ان تین شرائط کے لے اور ہدف و مقصد تک پہنچنے کے لئے خاندا ن وحی کو وسیلہ قرار دیں ہم زیارت امیرالمومنین (ع) میں پڑہتے ہیں :
'' بک اتوسّل الی اللّٰه فی بلوغ مقصودی ''(1)
اپنے ہدف و مقصد تک پہنچنے کے لئے خدا کی طرف آپ کو وسیلہ قرار دیتا ہوں ۔
نہ صرف کام کی ابتداء اور مذکورہ شرائط کے حصول کے لئے بلکہ ہدف و مقصد کے حصول تک متوسل رہیں اور جانشیناں خدا ور امیران کائنات کو فیوضات الٰہی اور اہداف تک پہنچنے کے لئے واسطہ قرار دیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج 100ص 332
بہترین و عالی ترین ہدف کو پہچانیں اور اس کا انتخاب کریں پختہ و مصمم ارادے سے ہدف تک پہنچنے کی جستجو کریں ۔
بے ہمت افراد سے پر ہیز کریں اور بلند اہداف رکہنے والے افراد سے مصاحبت و ہمنشینی رکہیں تاکہ اس ذریعہ سے آپ کا عالی و با ارزش ہدف مشخص ہو سکے جب آپ حقیقی و واقعی طور پر بہترین ہدف کے حصول کی سعی کر یں گے تو خداوند مہربان آپ کے لئے سختیوں اور مشکلات کو آسان فر مائے گا ۔
ہوشیار رہیں کہ یہ رنگا رنگ دنیا آپ کو آپ کے عالی انسا نی ہدف سے دور نہ کردے اور آپ سراب کو آب نہ سمجہ بیٹہیں ۔
خلقت انسان کا ہدف خدا وند کریم کی عبادت و بندگی اور مقام عبودیت تک پہنچناہے ۔ یہ اس صورت میں متحقق ہو گا کہ جب مقام ولایت کی شناخت ہو اور کسب معارف الٰہی سے مستفید ہو ں کہ جو تقرب خداوند کانتیجہ ہے ۔
یقین رکہیں کہ مقام عبودیت اور معارف کو کسب کرنے کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے حیات بخش مکتب اور بالا خص امام زمان کی خدمت کریں ۔ یہ تقرب خداوند کی بہترین راہ ہے خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے اس راہ کو اپنا ہدف قرار دیں اور اس تک پہنچنے کی سعی و کوشش کریں ۔
تا رشتہ زندگی بہ کف می باشد اقبال تو در برخ شرف می باشد
عمر تو بود صدف در این بحر وجود درّ صدف عمر ، ہدف می باشد
جب تک انسان کا زندگی سے رشتہ و ناطہ رہے تمہا ری عزت ، شرف کی بلندیوں کو چہوتی رہے ۔ تمہاری عمر وجود کے اس سمندر میں ایک صدف کی طرح ہو اور عمر کا گوہر صدف تمہارا ہدف رہے ۔
چوتھاباب
بلند ہمت اورمستحکم ارادہ
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :'' ما رفع امرئً کهمّته ولا وضعه کشهوته ''
ہمت سے بڑہ کر کوئی چیز انسان کو سر بلند نہیں کر تی اور شہوت سے بڑہ کر کوئی چیز پست نہیں کرتی ۔
ارادہ کی اہمیت
ارادہ سے پہلے اخلاص
اپنے ارادہ کو صحیح سمت دیں
بلند حوصلہ رکہیں
اپنے ارادہ پر عمل کریں
قوت ارادہ کے ذریعہ اپنی طبیعت پر غالب آنا
ملّا صالح مازندرانی، ایک پختہ ارادہ کے مالک شخص
اپنے ارادہ اور نیت کو تقویت دینا
ارادہ کو تقویت دینے کے طریقے
1 ۔ ذوق و شوق آ پ کے ارادہ کو تقویت دیتا ہے
2 ۔ امید و آرزو سے ہمت میں اضافہ ہو تا ہے
3 ۔ خدا سے پختہ ارادہ و بلند ہمت کی دعا کریں :
نتیجہ ٔبحث
انسان اپنے نفس کو پہچا نے اور اس کی ذات میں خدا وند مہربان نے جو قوت و طاقت و توا نائی ودیعت کی ہے ، اس سے آشنا ہو اور آہستہ آہستہ انہیں قوت و طاقت کے مرحلہ سے فعلیت تک پہنچائے انہی مہم قوت و طاقت میں سے ایک قوة ارادہ ہے ۔ اگر انسان اپنے ارادہ کی پرورش کرے اور اسے تقویت دے تو اس با عظمت قوت کے ذریعہ اپنی روحا نی و جسما نی اور معاشرے کی مشکلات کو حل کرسکتاہے ۔
جو انسان اپنے نفس کو نا پاکیوں سے پاک کرلے تو اس کا ارادہ بہی پاک ہو جا تا ہے اور خدا کے پسندید ہ کاموں میں مد د گار ثابت ہو تاہے ۔ پس اگر انسان اپنے ارادہ کی پرورش کرے اور پختہ ارادے کا مالک ہو تو وہ اسے احیاء دین کے راستے اور انسا نوں کو اہل بیت علیہم السلام کے انسان ساز مکتب اور لوگوں کی خدمت میں استعمال کر سکتاہے ۔
تاریخ انسانیت پر مختصر سی نگاہ میں آپ ملاحظہ کریں گے کہ دنیا کے نامور لوگ بلند ہمت کے مالک تہے ۔ جو روحانی ضعف ،کم ہمت یا احساس کمتری میں مبتلا ہوں وہ کبہی بہی عظیم اہداف تک نہیں پہنچ سکتے ۔
پس وہ احساس کمتری کو چہوڑ کر رو حانی ضعف سے نجات حاصل کریں اپنے ارادہ کو قوی کریں اور یقین رکہیں کہ جس خدا نے بزرگان دین کو توفیق عطا کی وہ آپ کو بہی کامیابی و کامرانی تک پہنچاسکتا ہے ۔
کسی بہی پروگرام ا ور کام کو انجام دینے سے پہلے اس کام کی طرف متحرک کرنے وا لی قوت کو پہچا ننا ضروری ہے کیا آپ کو کوئی رحمانی قوت مورد نظر ہدف کی طرف دعوت دیتی ہے یا یہ انگیزہ کوئی شیطانی محرک ہے ؟ یا کوئی نفسانی عامل آپ کو آپ کے ہدف کی طرف کہینچتا ہے ؟
تحریک نفس اور شیطانی وسوسہ کے شکار نہ ہونے کے لئے کب ھ ی ب ھ ی آپ کے عمل میں یہ دو محرک نہیں ہونے چاہئیں ۔ ارادہ سے پہلے اپنے دل سے تمام وسوسے اور غیر رحمانی تحریکات کو نکال دیں ۔ پ ھ ر رضائے الٰہی کے لئے مورد نظر پروگرام کا ارادہ کریں ۔حضرت امام صادق (ع) فرما تے ہیں : '' اذا اردت الحجّ فجرّد للّٰه من قبل عزمک من کلّ شاغلٍ وحجاب کلّ حاجب ''(1)
جب بہی حج پر جانے کا ارادہ کرو تو ارادہ کرنے سے پہلے اپنے دل سے ہر اس چیز کو نکال دو کہ جو تمہیں اپنی طرف مشغول کرے اورجو تمہارے اور خدا کے در میان حائل ہو ۔
اگر چہ یہ فرمان حج کے بارے میں صادر ہوا ہے لیکن اس میں عظیم مقصد و ہدف تک پہنچنے کے خواہاں ہر شخص کے لئے ایک کلی راہنمائی ہے ۔
ہر کام کو شروع کرنے سے پہلے اپنے دل کو دنیا وی اغراض سے پاک کر کے فقط خداکی رضا کو مد نظر رکہیں ۔ پہر اپنے ارادے کی ابتداء کریں اور اپنے ہدف کے لئے عملی اقدام کر یں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحا ر الانوار:ج 99ص 124
ہمارے ذہن میں موجود خیالا ت ہماری زندگی پر اثر انداز ہو تے ہیں نہ کہ ہم جسے زبان پر لائیں ، ہمارے افکار و اعتقادات اور دل کی عمیق آرزوئیں ہماری زندگی میں تحولات ایجاد کر تی ہیں نہ کہ جن چیزوں پر ہمارا قلبی اعتقاد نہیں ۔
بہت سے انسان اپنے لئے کسی ہدف کا انتخاب کرتے ہیں اور ہمیشہ اس کا دم بہر تے ہیں ۔ لیکن اس کے حصول کی کوشش نہیں کرتے ، لہذا وہ کبہی بہی اسے حا صل نہیں ہو تا ۔ ان کے مقابل کچہ ایسے افراد بہی ہوتے ہیں جو وقت گزر نے کے ساتہ ساتہ اپنے ہدف تک پہنچ جا تے ہیں اور ان کا قیل و قال کہنا واقعیت پیدا کرتا ہے اور ان کی دیر ینہ آرزو پوری ہو جاتی ہے ۔
کیوں کچہ لوگ اس طرح ہیں اور کچہ اپنی پوری زندگی اپنی آرزو وخوا ہش کے پوارا ہونے کے انتظار میں گزار دیتے ہیں لیکن ان کی آرزو پوری نہیں ہو تی ؟
حا لا نکہ ہر انسان کو ارادہ جیسی نعمت حاصل ہے کہ جس کے ذریعہ وہ اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں حتی کہ جو افرادخود کو قوة ارادہ سے عاری سمجہتے اور گمان کر تے ہیں کہ ان کے ارادہ کی قوت ختمہو چکی ہے ، ان میں بہی ارادہ کی قدرت ہو تی ہے
مثال کے طور پر منشیات کے عادی افراد یہ خیال کر تے ہیں کہ منشیات کے استعمال سے ان کی قوت ارادہ ختم ہو گئی ہے اور وہ کسی چیزکا ارادہ کرنے کی قدرت کو کہو چکے ہیں ۔ لیکن اس کے با وجود جب وہ نشہ آور چیز کو حاصل کرنے کے بارے میں سوچیں تو ان کا ارادہ قوی و پختہ ہو جاتا ہے کہ وہ کسی بہی صورت میں نشہ حاصل کریں گے ۔
اسی طرح اگر کسی تن پرور شخص کو قید کیا جائے اور قید خانے میں اس سے مشقت لی جا جائے تو وہ زندان سے فرار کرنے کے لئے ہر مشکل اور خطر ناک کام کو انجام دینے کے لئے تیار ہو گا ۔
اس بناء پر معلوم ہو اکہ ایسے افراد بہی نعمت ارادہ کے مالک ہیں ، لیکن ان کا ارادہ کوئی سمت نہیں رکہتا ۔ وہ بہی اپنے ارادے کو سمت دیں اور اس کی سیدہے راستے کی طرف ہدا یت کریں اور ان سے صحیح راستے میں ان سے استفادہ کریں نہ کہ اپنے ارادہ کو منشیات کے حصول یا کام سے فرار کے لئے استعمال کریں پس جو اپنے ارادہ کو صحیح سمت دیتا ہے وہ اپنی ترقی کے لئے اسباب فراہم کر تا ہے ۔
اگر اپنے ہدف و مقصد تک پہنچنا چاہو تو معنویت کی وسیع فضا میں پرواز کرو ۔ بلند حوصلے اور مردانہ ہمت کے ساتہ عالم معنی کی فضا میں سیر کرو ۔ جس طرح پرندے اپنے بال و پر کے ذریعہ پرواز کر تے ہیں ، اسی طرح بزرگ شخصیات اپنی ہمت و ارادے کے ذریعہ عالم معنی کے نورانی آسمان کی طرف پرواز کرتے ہوئے مادی دنیا سے جدا ہو جاتے ہیں ۔ بزرگ اس واقعیت کو ایک چہوٹی مگر پر معنی مثال کے ذریعہ یوں بیان کرتے ہیں :
'' المرء یطیر بهمّته ''(1) انسان اپنی ہمت کے ذریعہ پرواز کر تا ہے۔
انسان کی ہمت جتنی بلند ہو وہ معنوی فضا میں اتنا ہی اوج پر پرواز کر تا ہے اور اگر عالی ہمت کا مالک نہ ہو تو یوں پرواز نہیں کر سکتا ہے ۔
لہذا اگر انسان کا ہدف تو بڑا ہو لیکن اس ہدف تک پہنچنے کی ہمت نہ ہو تو وہ کبہی بہی اپنے ہدفتک نہیں پہنچ سکتا ۔ انسان عظیم ہدف کے علاوہ پختہ ارادہ ، بلند حوصلہ اور ہمت کا بہی مالک ہو ۔
اولیاء خدا مقاما ت عالیہ تک پہنچنے کے لئے قوی ارادے اور بلند ہمت سے آراستہ تہے اور انہوں نے ہمیشہ معنوی مسیر میں استقامت سے کام لیا اورضعف و سستی سے پر ہیز کیا ، عظیم مقصد ، مردا نہ ہمت ، بلند حوصلہ اور اعلیٰ ہدف ان بزرگون کی صفات تہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ، بحار الانوار:ج 18ص 0 8 3
ہمت بلند دار کہ مردان روز گار از ہمت بلند بہ جایی رسیدہ اند
یعنی بزرگ شخصیات بلند ہمت والے تہے اور وہ اپنی ہمت کے ذریعہ ایک مقام و منزلت تک پہنچ گئے ۔
حضرت امیر المو منین(ع) فرما تے ہیں :
'' قدر الرجل علیٰ قدر همّته ''(1)
ہر شخص کی قدر وقیمت ، اس کی ہمت کے لحاظ سے ہے۔
کیو نکہ بلند ہمت و حو صلہ انسان کو بہت اہمیت عطا کر تا ہے ہمارے بزرگ کہ جو صاحبان اسرار اہل بیت عصمت و طہارت تہے اور جنہوں نے ان کی رضا کی راہ میں جا نفشا نی سے کام لیا وہ کس طرح عالی مقامات پر فائز ہو ئے اور کس طرح اہل بیت علیہم السلام کے معنوی چشمہ سے سیراب ہوئے ؟
ان افراد کا ظرف ایسا تہا کہ اہل بیت کے لطف نے جن میں کسی قسم کی خود پسندی اور تکبر ایجاد نہ کیا ۔ وہ جس مقام کی جانب جائیں ، ان پر عنا یات بہی اتنی زیادہ ہو جاتی ہیں ۔ لیکن جو ایک خواب دیکہنے یا کسی معنوی سیر کے اتفاق یا امام سے کسی مادی حاجت کے پورا ہونے سے پہولے نہ سمائے ، کیا وہ بلند حوصلہ و ہمت رکہتا ہے ؟ یا جو کوئی خواب سننے یا معنوی سیر کے اتفاق یا مادی حاجت کے پورا ہونے پر تعجب کرے اور اس کا انکار کرے ، کیا یہ اعلیٰ و بلند ہمت سے بہرہ مند ہے ؟
حضرت امیرالمومنین (ع) فر ماتے ہیں :
'' من صغرت همّته بطلت فضیلته ''(2)
جس کی ہمت کم ہو وہ اپنی فضیلت کہو دیتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم:ج 4ص 500 ، بحار الانوار:ج 78ص 14
[2] ۔ شرح غرر الحکم:ج 5 ص 210
بہت سے موارد میں ممکن ہے کہ انسان کسی مناسب وقت و فرصت کو ضائع کر دے اور پہر اس پر افسوس کرے اور پشیمان ہو ، ایسی پشیمانیوں سے بچنے کے لئے تمام مناسب اور اچہے مکا نا ت و سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے ارادہ پر عمل کریں ۔
امام صادق (ع)ایک روایت میں فر ما تے ہیں :
'' اذا همّ احدکم بخیرٍ فلا یؤخّره ''(1)
جب بہی تم میں سے کوئی کسی اچہے کام کو انجام دینے کا ارادہ کرے تو اس میں تاخیر نہ کرو۔
اسی طرح امام صادق (ع) ایک دوسری روایت میں فرما تے ہیں :
'' اذا همّت بخیرٍ فبادر فانّک لا تدری ما یحدث ''(2)
جب بہی کسی اچہے کام کا ارادہ کرو تو اسے شروع کرو ، کیو نکہ تم نہیں جانتے کہ بعد میں کیا چیز در پیش آجا ئے ۔
مختلف حوادث کے پیش آنے سے انسان بہت سی سہولیات و امکا نا ت کو گنوا دیتا ہے جس کے نتیجہ میں ہم نے جس کام کو انجام دینے کا ارادہ کرتے ہیں اسے انجام دینے میں کامیاب نہیں ہو تے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحارالانوار:ج 71ص 17 2 ، مجالس شیخ مفید: 28 1
[2] ۔ بحا ر الا نوار:ج 71ص 2 2 2 ، اصول کا فی:ج 2ص 42 1
قدرت در تصمیم گیری ، عامل پیروزی
وضعف در آن ، عامل شکست است
کامیابی کا عامل ارادہ کی قدرت ہے اور اس میں ضعف شکست کابا عث ہے ۔
جس طرح نیک کام کے لئے بلند حوصلہ و ہمت مقام انسان کی عظمت پر گوا ہ ہے ، اسی طرح ارادہ میں کمزور ی انسان کی ہار کی دلیل ہے ۔ پچیس ہزار افراد کے بارے میں تحقیق ومطالعہ سے یہ معلوم ہو اکہ ان کے ہدف تک نہ پہنچنے اور شکست کہانے کے اکتّیس اسباب میں سے اہم سبب عامل کمزورا رادہ تہا آج کے کام کو کل پر چہوڑ نا اور مسامحہ مضبوط ارادہ کے مخالف ہیں اس پر غلبہ پانا ضروری ہے ۔
اپنے ہدف تک پہنچنے والے ہزاروں افراد کے مطا لعہ سے یہ معلوم ہو گا کہ وہ پختہا رادہ کے مالک تہے اور اپنے عزم و ارادہ پر ثابت قدم رہتے تہے ۔
اپنے ہدف و مقصد تک نہ پہنچنے والے افراد ایسے ہو تے ہیں کہ جو ارادہ نہیں کر سکتے یا اپنے ارادہ کو بہت جلد بدل دیتے ہیں ۔
پس اپنی قدرت کے مطابق قوت ارادہ کو مزید مضبوط کریں کیو نکہ ارادہ جس قدرپختہ ہوگا ، آپ کے لئے بیشتر آثار فراہم کرے گا پہر آپ بلند حوصلہ و ہمت کے ساتہ منزل مقصود تک پہنچ سکیں گے ۔
حضرت امیر المومنین(ع) فر ماتے ہیں :
'' من کبرت همّته عزّ مرامه ''(1)
جس کی ہمت بلند ہو وہ عزیز و محترم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شر ح غرر الحکم:ج 5ص 88 2
نہ ہر در خت تحمل کند جفای خزاں غلام ہمّت سروم کہ این قدم دار
ہردرخت میں خزاں کی سختی و جفا کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ لیکن یہ میرا ہی سرو ہے جو خزاںکی سختیوں کو برداشت کررہا ہے۔
پس عالی ہمت و ایسے افراد احترام کے لائق ہیں کہ جو اپنے مصمم ارادے کی بناء پر اپنے ہدف کو پانے میں کامیا ب ہوگئے ۔ لوگ ایسی شخصیات کو عزت کی نگاہ سے دیکہتے ہیں اور ان کی مدح و تعریف کر تے ہیں لوگ ایسے افراد کی رفتار و روش کو احترام کی نگاہ سے دیکہتے ہیں اور دوسروں کی نظروں میں یہ شخصیات ممتاز و بے نظیر شمار ہوتی ہیں ۔
ایسے افراد اگر اپنی ہمت و ارادے کو معنوی مسائل اور تقرب خدا کی راہ میں قرار دیں تو یہ خدا اور خاندان رسالت کے نزدیک ارزش و تقرب حاصل کریں گے کہ جو دوسروں کے لئے مورد غبطہ ہو ۔
ہمت عالی ز فلک بگذرد مرد بہ ہمت ز ملک بگذ رد
اگر عالی اور بلند ہمت آسمان سے بہی آگے بڑہ جائے تو مرد اپنی ہمت کے ذریعہ ملائکہ سے بہی آگے بڑہ سکتا ہے ۔
انسان کی طبیعت ایسی ہے کہ وقت گزرنے کے سا تہ ساتہ اس کا کردار و رفتار اس کے خلق اور ذات کا حصہ بن جا تا ہے جب اس کی عادت ہو جائے تو پہر اس سے جدا ہو نا ممکن نہیں ہو تا ۔
امام صادق (ع) فر ماتے ہیں :
'' الخلق خلقان ، احدهما نیّة والآخرة سجیّة قیل فایّهما افضل ، قال : النیّة لانّ صاحب السجیّة مجبول علی امرٍ لا یستطیع غیره وصاحب النیّة یتصبّر علی الطاعة تَصَبّراً فهذا افضل ''
اخلاق کی دو قسمیں ہیں :
۱۔نیت کے ذریعہ حاصل ہو نے والا اخلاق ۔
۲۔ انسان کا طبیعی و ذاتی اخلا ق ۔
امام صادق سے پو چہا گیا کہ ان میں سے کون سا اخلاق افضل ہے ؟ امام صادق نے فرما یا : نیت کے ذریعہ حاصل شدہ اخلاق افضل ہے کیو نکہ جس کا اخلاق اس کی طبیعت سے اخذ ہو ، تو اس کی خلقت ایسی ہے کہ جو اس کے علا وہ کسی اور کام کے انجام دینے پر قادر نہیں ہو تا لیکن جو اپنے ارادہ سے پسندیدہ
اخلاق کا مالک بنے وہ صابرانہ اپنے پرور دگار کی اطاعت کر تا ہے پس یہ شخص افضل ہے ۔
عظیم لوگ اپنے قوة ارادہ کے ذریعہ اخلاق حسنہ کو اپنی طبیعت کا حصہ بنا لیتے ہیں اور اپنی مضبوط نیت و پختہ ارادے کے ذریعہ اخلاق رذیلہ اور نا پسندید ہ عا دات کو اپنے سے دور کرتے ہیں ۔ ذو القر نین نے دنیا کے مشرق و مغرب کو طے کیا مختلف اقوام عالم کو نزدیک سے دیکہا اور ان کے رفتار و کردار کا مشا ہدہ کیا انہوںنے تمام لوگوں میں سے چند ایسے لوگوں کو بہی دیکہا کہ جن کی آسان زندگی ان کے لئے حیرت کا سبب تہی وہ اعلیٰ ترین اور خوبصور ت زندگی گزار رہے تہے ان میں قتل و خونریزی اور خیانت کے آثار دکہائی نہیں دیتے تہے صاحب ثروت ، نچلے طبقے کو کچہ نہیں دیتے تہے ۔
لہذا ذو القر نین بہت حیران ہوئے اور ان سے بہت سے سوالات پوچہے اور ان سے قانع کنندہ جوابات لیئے انہوں نے ان سے پوچہا:'' فما لکم لا تسبّون ولا تقتلون ؟ قالو: من قبل انّا غلبنا طبائعنا با لعزم و سنّنا انفسنا بالحلم ''
ذو لقرنین نے ان سے پوچہا : تمہارے معاشرے میں فحش و دشنام اور قتل و غارت کیوں اور کس وجہ سے نہیں ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کیو نکہ ہم مصمم ارادے کے ذریعہ اپنی طبیعت پر غالب آچکے ہیں اور ہم نے قوی ارادہ سے بری عادات کو اپنے سے نکال دیا ہے اور بردبادی و حلم کو اپنی نفسانی روش قرار دیا ہے ۔
اس بناء پر اگر انسان طبیعتاً ظالم و جنایت کار ، جہوٹا یا ریا کار ، سست و کاہل ہو یا اس میں کوئی اور بری صفت ہو تو وہ مضبوط عزم اور پختہ ارادہ سے انہیں بر طرف کر سکتا ہے اور اپنے کو صفات حسنہ سے مزین کرسکتا ہے ۔
کوہ نتوان شدن سدّ رہ مقصود مرد ہمت مردان بر آرد از نہاد کوہ گرد
یعنی ایک بلند و با لا پہاڑ انسان کی منزل و مقصود میں رکاوٹ نہیں بن سکتا کیونکہ مردکی ہمت اس پہاڑ کو بہی خاک کے ذرات میں تبدیل کر دیتی ہے ۔
پس اگر آپ خود میں کسی پہاڑ کے برابربری صفات و عا دات کو دیکہیں تو آپ قوت ارادہ اور مردا نہ ہمت کے ذریعہ انہیں نابود کر سکتے ہیں بلکہ آپ انہیں اچہی صفات میں تبدیل کر نے کی بہی قدرت رکہتے ہیں ۔
صالح مازندرانی ایسے صاحب تصمیم و پختہ ارادہ کے مالک تہے کہ جنہوں نے بہت کم وسائل کے باوجود اپنے مقصد کو پالیا وہ علا مہ مجلسی اول کے داماد اور نامور شیعہ علماء میں سے تہے یہ ہر اس شخص کے لئے نمونہ ہیں کہ جو اعلیٰ مقاصد و اہداف رکہتے ہیں ۔
وہ کہتے ہیں کہ میں دینی علوم حاصل کرنے والوں کے لئے حجت ہوں کیو نکہ مجہ سے بڑہ کر کوئی فقیر نہیں تہا اور میرا حا فظہ سب سے ضعیف و بد تر تہا کبہی میں اپنے گہر تو کبہی اپنے فرزند کا نام بہول جا تا میری عمر کے تیس سال گزر چکے تہے کہ میں نے ( الف ، با ) سیکہنی شروع کی اور اتنی سعی و کوشش کی کہ خدا نے فضل کیا ۔
وہ فقر ، کند ذہن اور ضعیف حافظہ کے با وجود پختہ ارادہ رکہتے تہے جس کی بدولت انہوں نے باارزش کتب کی تالیف کا مصمم ارادہ کیا اور کامیاب ہوئے ، وہ کتب آج بہی شیعہ علماء کے لئے مورد استفادہ ہیں ۔
ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اس قدر کم حافظہ رکہتے تہے کہ اپنے استاد کے گہر کو بہول جاتے اور اتنے فقیر و غریب تہے اور اتنا پرا نا لباس پہنتے کہ شرم کے مارے مجلس درس میں وارد نہ ہوتے وہ محل درس سے با ہر بیٹہتے اور ہڈیوں اور چنار کے درخت کے پتوں پر درس لکہتے ایک بار کوئی مسئلہ مورد اشکال قرار پایا اور وہ چند روز تک جاری رہا مرحوم مجلسی کے ایک شاگرد نے دیکہا کہ ملا صالح مازندرانی نے اس اشکال کا جواب چنار کے پتوں پر لکہا ہے ، اس نے درس میں علامہ مجلسی کا جوا ب دیا ۔
علامہ مجلسی سمجہ گئے کہ یہ اس کا جواب نہیں ہے لہذا انہوں نے اس سے پوچہا کہ یہ کس کا جواب ہے اور اس بارے میں اصرار کیا تو اس شاگرد نے بتا یا کہ یہ اس کا جواب ہے کہ جو مجلس درس کے باہر بیٹہا ہوا ہے ۔ علامہ مجلسی نے دیکہا تو ملا محمد صالح دروازے کے باہر بیٹہے ہوئے تہے ، علامہ نے ملا ّ محمد صالح کو لباس دیا اور درس میں حاضر ہونے کو کہا وہ علامہ مجلسی کے اتنے مورد تو جہ قرار پائے کہ وہ انہیں اپنے گہر لے گئے اور ان سے اپنی بیٹی کی شادی کی ! اور انہیں کو گہر کا کتابخانہ دیا ۔
بہ ہر کاری کہ ہمت بستہ گردد اگر کاری بود ، گل دستہ گردد
یعنی جو کام بہی ہمت سے وابستہ ہو اور آپ اسے ہمت سے انجام دیں تو اگر وہ کام کانٹوں کی صورت میں بہی ہو تو وہ گل دستے میں تبدیل ہو جائے گا ۔
علامہ صالح مازندرا نی نے بہت سی مشکلات کے با وجود پختہ ارادہ کے ذریعہ علمی مراحل طے کرکے بلند مقام حاصل کیا اگر آپ چاہیں تو خدا آپ کو ب ھ ی یہ مقام عنایت فرمائے گا لیکن اس کے لئے اپنی نیت وارا دے میں کو تاہی نہ برتیں حضرت امیر المو منین اپنے ایک خط میں لک ھ تے ہیں : '' فانّ اللّٰه یعطی العبد بقدر نیّته ''(1)
بے شک خدا ہر بندے کو اس کی نیت کے برابر عطا فرما تا ہے ۔جس قدر انسان کی نیت کی اہمیت ہو ، خدا بہی اسی لحاظ سے اسے عطا کر تا ہے آپ کی نیت جس قدر بہتر اور خالص ہو گی ، اسی لحاظ سے اجر و ثواب بہی زیاد ہو گا اس بناء پر اپنی نیت کو خالص کریں نہ کہ صرف اپنے اعمال کو زینت دیں ۔
خدا کے بزرگ بندے اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے خدا کی توفیقات و عنایات کا دامن پکڑتے ہیں ایک روایت میں امام صادق اس راز سے پردہ اٹہا تے ہوئے فرما تے ہیں :
'' انّما قدّر اللّٰه عون العباد علیٰ قدر نیّاتهم ، فمن صحّت نیّته تمّ عون اللّٰه له ومن قصرت نیّته ، قصرعنه العون بقدر الّذی قصر ''(2) خداوند تعالی لوگوں کی نیت کے مطابق ان کی مدد کو مقدر کر تا ہے جو صحیح و کامل نیت رک ھ تا ہو تو خداب ھ ی کامل طور پر اس کی مدد کر تا ہے اور جس کی نیت کم ہو اسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحا ر الانوار:ج 33ص 88 5
[2] ۔ بحار الانوار:ج 0 7ص 11 2
لحاظ سے اس کی مدد میں بہی کمی آتی ہے۔
امام صادق (ع) اپنے اس قول میں کامیاب لوگوں کی کامیابی اور نا کام لوگوں کی ناکامی کے راز کو بیان فرماتے ہیں : کیو نکہ لوگوں کو خدا کی مدد ان کی نیت کے لحاظ سے پہنچتی ہے ۔
نیت و ارادہ اس قدر کا رساز اور پر قدرت ہے کہ اگر اپنے ارادہ کو تقویت دیں تو آپ کے جسم کا ضعف دور ہو جائے گا اور آپ جسمانی لحاظ سے بہی ہر مشکل کام ا نجام دینے کو تیار ہوں گے کیو نکہ نیت میں پختگی آپ کے بدنی ضعف کو دور کرتی ہے حضرت امام صادق(ع) فرماتے ہیں :
'' ما ضعف بدن عمّا قویت علیه النیّة ''(1)
نیت کے ذریعہ سے قوی ہونے والے بدن کو کوئی ضعف لا حق نہیں ہو سکتا۔
بہت سے ورزش کار اور کہلاڑی جسمی تمرینات سے زیادہ روح کو تقویت دینے سے استفادہ کرتے ہیں کیو نکہ نیت سے فکر اور ارادہ کو تقویت دینا، صرف بدن کو طاقت ور بنا نے سے بہتر ہے بہت سے افراد معتقد ہیں کہ جوا نی و بڑہا پا اور قوت و ضعف کا سر چشمہ ایک غیر جسمی منشاء ہے اگر چہ اس موضوع کو تمام قبول نہیں کرتے لیکن اس فرض کی بناء پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ فکر و اندیشہ انسان کی صحت و مرض ،اور بندی قدرت و ضعف حتی کہ حیات وموت میں بہی مؤثر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ اما لی صدوق: 8 9 1 ، بحار الا نوار:ج 7 ص 5 0 2
شیطان گناہ کار کو گمراہی کے راستے دکہا تا ہے اور گناہ اور وسوسہ کی طرف متحرک کر تا ہے تاکہ اس کے ذریعہ انسان کو راہ راست سے بہٹکا دے اور ابدی نقصان میں مبتلا کردے گمراہی کے راستوں میں سے ایک شہوت کا فراوان شوق ہے خدا وند متعال فرما تا ہے :
'' و یرید الّذین یتّبعون الشّهوات ان تمیلوا میلاً عظیماً ''(1)
شہوات کی پیرو ی کرنے والے چاہتے ہیں کہ تمہیں بالکل ہی راہ حق سے دور کردیں ۔
ان میں شہوت کو پورا کرنے کا شوق اور نفس امارہ اور شیطان کی طرف تحرک کا اشتیاق ایجاد ہوجاتا ہے ۔ جنہیں انجام دینے سے وہ بدترین و زشت ترین گناہ میں گرفتار ہو جاتے ہیں ۔
جس طرح شہوت کو پورا کرنے کا اشتیاق انسان کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اسی طرح اپنے عالی اہداف تک پہنچنے کا ذوق و شوق انسان کوا علیٰ علمی و معنوی مراتب پر فائز کر تاہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ سورہ نساء آیت: 7 2
پس اگر آپ اعلیٰ اہداف کے حصول کی طرف مائل ہیں اور آپ آ سانی سے انہیں حاصل کر نا چاہتے ہیں تو اپنے میں شدید ذوق و شوق ایجاد کریں پہر سختیاں آسانی ، دشواریاں سہل اور ہدف سے دوری نزدیکی میں تبدیل ہو جائے گی ذوق و شوق سے ہر قسم کے مانع و دشواری کو بر طرف کر سکتے ہیں پہر آپ کا ارادہ ہدف تک پہنچنے کے لئے قوی ہو جائے گا کسی موضوع کے بارے میں ذوق و شوق ، بہت سے دیگر مسائل کو بہی بر طرف کر دیتا ہے لہذا آ پ شوق کی بنیاد پر مختلف و پرا کندہ مسائل سے نجات پا کر عظیم ہدف تک پہنچنے کے لئے فعالیت کریں بہترین ہدف کا انتخاب کریں اور اس کے حصول کے لئے اپنے میں ذوق و شوق ایجاد کریں ۔
امام صادق(ع) سے منسوب ایک روایت میں ذکر ہواہے :
'' مثل المشتاق مثل الغریق ، لیس له همّة الاَّ خلاصه وقد نسی کلّ شیئیٍ دونه ''(1)
مشتاق شخص کی مثال کسی ڈوبنے والے شخص کی مانند ہے کہ جو اپنی نجات کے علاوہ کچہ اور نہیں سوچتا اور اس کے علاوہ ہر چیز کو فراموش کر دیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحا ر الا نوار:ج 70 ص4 2
انسان کی جتنی زیادہ امید ہو ، اتنی ہی ہمت بیشتر ہو جاتی ہے جس انسان میں امید ہو ، اس میں شوق بہی بڑہ جا تا ہے لہذا جو نو جوان اپنے روشن مستقبل کی امید رکہتے ہیں ، ان کی آرزو معنویت اور روحانیت سے سرشار ہے انہیں بہتر مستقبل و مقام کی آرزو ہو تی ہے لہذا وہ زیادہ محنت اور کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن جن لوگوں کو نہ کوئی شوق ہو اور نہ امید وہ اپنے مستقبل کے بارے میں مأیوس وناامید ہو تے ہیں اسی مایوسی کے عالم میں وہ اچہے مستقبل کی تلاش و کوشش کو چہوڑ دیتے ہیں حا لا نکہ ہرروشن فکر انسان کا اولین و ظیفہ جستجو اور کوشش کرنا ہے اور ہر شیعہ اس امر سے آگاہ ہے مایوس و ناامید غم واندوہ کے عالم میں صرف شب و روز گزار رہا ہو تا ہے ، اس کے غموں میں مزید اضافہ ہو تا چلا جا تا ہے ۔ لیکن وہ ان سے نجات کی نہ تو کوشش کر تا ہے اور نہ ہی ما یوسی کے عالم میں اسے امید کی کوئی کرن دکہائی دیتی ہے وہ نہ تو اپنی مشکلات کی گرہوں کو کہول سکتے ہیں اور نہ دوسروں کی ۔
جی ہاں ، یہ ان افراد کی زندگی گا نتیجہ ہے کہ جو خدا کی رحمت سے نا امید اور اہل بیت عصمت وطہارت علیہم السلام کی حیات بخش عنایات سے مایوس ہو جاتے ہیں ۔
خاندان وحی و رسالت علیہم السلام سے منقول دعا ئیں اور مناجات و توسلات انسان کی تربیت کی بہترین روش اور زندگی کا بہترین شیوہ ہیں عظیم اہداف ، بلند حوصلہ و ہمت اور پختہ و راسخ ترین ارادہ اہل بیت علیہم السلام کے انسان ساز مکتب سے سیکہیں ۔
ان مقدس ہستیوں نے ہمیں نہ صرف اپنے اقوا ل و فرامین بلکہ دعاؤں اور مناجات میں بہی زندگی کا بہترین درس سکہا یا ۔ امام سجاد(ع) اپنی مناجات میں خدا کی در گاہ میں عرض کرتے ہیں :
'' اسألک من الهمم اعلا ها ''(1)
پرور دگار میں تجہ سے عالی ترین ہمت کا طالب ہوں ۔
امام سجاد (ع) اپنی مناجات کے اس جملہ سے اپنے تمام پیرو کاروں کے دلوں میں امید کی شمع روشن فرماتے ہیں اور بے ہمت انسانوں کو دعا و درخواست کے ذریعہ بلند ہمت کی امید دلا تے ہیں ۔
یہ گفتار تمام لوگوں کو بیدار کرتی ہے سب یہ جان لیں کہ عالی ہمت افراد کے کسی خاص گروہ سے مختص نہیں ہے بلکہ مکتب تشیع کے تمام پیروکار خدا وند متعال سے بلند ہمت کی دعا کریں اور اس کے حصول کی کوشش کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج 94ص 55 1
پختہ ارادہ اور بلند ہمت خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ہے ان کے ذریعہ آپ معنویت کے آسمان کی اوج پر پرواز کر سکتے ہیں خود میں یہ قدرت ایجاد کرو اور ضعف ، کاہلی و سستی سے پر ہیز کرو تاکہ آپ کی شرافت و عظمت میں اضافہ ہو قوةارادہ کا کمزور ہونا آپ کے توقف و ٹہہراؤ کا باعث ہے ، قوہ ارادة کو تقویت دینے سے آپ کامیابی کے نزدیک ہو سکتے ہیں امام صادق کے فرمان کی رو سے آپ مصمم ارادہ کے ذریعہ اپنے اندر پائی جانے والی بری عادات اور نا پسند ید ہ اخلاق کو ختم کر کے اچہے اور پسند یدہ اخلاق و عادات کو حاصل کر سکتے ہیں ہدف تک نہ پہنچنے میں نا کامی سے آپ کا ارادہ کمزور نہیں ہونا چاہئے بلکہ ناکامی سے عبرت کا درس لیں اور اپنی قوہ ارادہ کو مزید مضبوط بنائیں ۔
پختہ ارادے اور مردانہ ہمت سے آپ صرف اعلیٰ انسانی مقامات حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ملائکہ کے در جات بہی حا صل کر سکتے ہیں بلکہ اس سے بڑہ کر وہ مقام و مرتبہ بہی حاصل کر سکتے ہیں کہ جب ملائکہ آپ کی خدمت کر کے فخر و مباہات محسو س کریں پس فرصت سے استفادہ کریں اور پختہ ارادے کے ذریعہ اپنی خلقت کے ہدف و مقصد کو حا صل کرنے کی کوشش کریں ۔
بہ زندگانی اگر عزم آہنین داری بہ زیر پا شودت کوہ چون زمین ہموار
اگر آپ زندگی میں پختہ عز م و ارادہ رکہتے ہوں توآپ کے پاؤں تلے پہاڑ بہی ہموار زمین کی مانند ہو جائے گا ۔
پانچواں باب
نظم و ضبط
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' اوصیکما و جمیع ولدی و اهلی و من بلغه کتابی بتقوی اللّه ونظم امرکم ''
تمہیں وصیت کر تا ہوں کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور اپنے امور میں نظم و ضبط کی رعایت کرو ۔
نظم وضبط کی اہمیت
نظم و ضبط آشفتگی کو ختم کر تا ہے
نو جوانوں کی صحیح نظم و ضبط میں مدد کریں
نظم و ضبط : وقت سے استفادہ کرنے کا بہترین طریقہ
مرحوم شیخ انصاری کا منظم پروگرام
نتیجۂ بحث
نظم و ضبط اہداف تک پہنچنے کے لئے ایک بہترین وسیلہ ہے اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے آپ منظم پروگرام تشکیل دے کر اپنی زندگی کے لمحات کو خوشگوار اور پر ثمر بنا سکتے ہیں۔ کو شش اور مصمم ارادے سے ایک صحیح اور منظمپروگرام تشکیل دے کر اس پر عمل کریں ، صحیحمنشور پر عمل انسان کو منظم ، متعہد اور انجام دیئے جا نے والی چیز کا معتقد بنا تا ہے کو شش کریں کہ زندگی کا ہر کام آپ کے منظم پروگرام کے مطابق ہوتا کہ اپنی زندگی کے لمحات سے بہتر طور پر استفادہ کر سکیں اور زندگی میں سر خرو ہوں۔ یہ وہ راستہ ہے کہ تاریخ کے عظیم ترین افراد نے جس کی پیروری کی اور اس کے پابند رہے آپ بہی ان کے راستے کو منتخب کریں اور کسی بہی لمحے خدا پسند ، منظم اور صحیح آئین کی تشکیل اور اس پر عمل پیرا ہو نے میں غفلت نہ کریں جس حد تک ممکن ہو ، کوشش کریں کہ آ پ کا آئین و منشور اور پروگرام خاندان وحی و عصمت علیہم السلام کے حیات بخش مکتب کی ترویج کا باعث ہو س صورت میں آپ اپنے سر پر ان ہستیوں کاکریمانہ شفیقانہ ہاتہ محسوس کریں گے ۔
حضرت امیر المومنین (ع) نے اپنے زندگی کے آخری لمحات میں اپنے تمام فرزندوں ، اہل خانہ اور ہر اس شخص کو یہ وصیت فرمائی ، کہ جو ان کی اس وصیت سے مطلع ہو جائے ، انہوں نے فرمایا کہ کاموں میں نظم و ضبط کی رعایت کریں اور منظم پروگرام بنا کر اپنی زندگی کو کامیاب بنائیں ۔ '' قال امیر المو منین : عند وفاته للحسن و الحسین علیهما السلام ، اوصیکما و جمیع ولدی و اهلی و من بلغه کتابی بتقوی اللّٰه ونظم امرکم ''(1)
حضرت امیر المومنین نے اپنی وفات کے وقت امام حسن اور حسین سے فرمایا کہ : آپ ، میرے تمام فرزندوں اور اہل و عیال اور ہر اس شخص کو کہ جس تک میرا یہ فرمان پہنچے یہ وصیت کر تا ہوں کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور اپنے امور میں نظم و ضبط رکہو ۔یہ کا ئنات کے پہلے امام امیر المو منین علی کا پیغام ہے کہ جس سے نظم و ضبط کی اہمیت کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ نہج البلاغہ ، مکتو ب 7: 4 ، بحا ر الا نوار:ج 75ص 4 2
جب آپ اپنی زندگی کے امور اور کاموں میں نظم و ضبط رکہتے ہوں اور پختہ ارادے سے اس پر عمل کریں تو آپ بہت سے باطنی تضاد اور بے حاصلسو چ و فکر سے نجات پاجائیں گے ۔
نظم و ضبط عدم تضاد اور افراد کی آراء و افکار میں اختلاف کی بہترین دلیل ہے ۔ حکومتوں یا اداروں کے منشور میں اختلاف حکومتی یا اداری نظام میں نظم و ضبط کے نہ ہونے کی واضح دلیل ہے جہاں بڑے یا چہوٹے اجتماع میں اختلاف ہو وہاں نظم وضبط نہیں ہو تا ہر جگہ نظم ہونا چاہئے کیو نکہ یہ اس جگہ پر قدرت تدبیر کے موجود ہونے کا پتہ دیتا ہے کائنات کے نظام میں موجود نظم ، اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات کا نظام ایک منظم تدبیر کے تحت چل رہا ہے ۔ اگر آپ نظام کائنات میں دقت کریں تو معلوم ہو گا کہ جس طرح کائنات کے چہوٹے چہوٹے ذرات میں نظم ہے ۔اسی طرح کہکشانوں میں نظم ہے انیسو یں صدی کے وسط میں انسان کو ذرات کے بارے میں تحقیقات سے کچہ معلومات حاصل ہوئی کہ ذ رات کے اندر بہی ایک نظم و قا نون کا رفرما ہے کہ جس میں تعطل نہیں ہو تا ، ایٹم میں مو جود الیکٹرون ہر سکینڈ میں تین کاٹر یلیون مرتبہ ایٹم کے گرد گردش کر تا ہے کہ کوئی چیزبہی اس گردش کو نہیں روک سکتی ۔
لوہے کے ایک ذرّے میں موجود الیکٹرون بہی ہر سکینڈ میں تین کاٹریلیون مرتبہ اپنے مر کزکے گرد گردش کر تا ہے ۔
جب لوہے کو اس قدر حرارت دیں کہ وہ گیس میں تبدیل ہو جائے تو پہر بہی الیکٹرون تین کاٹریلیون(۳۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰) مرتبہ ایٹم کے گرد گردش کرے گا ۔
فقط ایک صورت میں ممکن ہے کہ اس دائمی حرکت کو مختل کیا جا سکتا ہے کہ جب ایٹم کو توڑ دیا جائے اس صورت میں الیکٹرون اپنے مرکز سے دور ہو جائے گا ۔ لیکن یہ نہیں کہ وہ حرکت نہیں کر ے گا بلکہ اس صورت میں وہ ایک جدید مرکز و مدار کے گرد گردش شروع کرے گا ۔
جس قانون و نظام کے تحت الیکٹرون ، ایٹم کے گرد اتنی تیزی سے حرکت کر تاہے اسی طرح زمین ، سورج کے گرد اور سورج تمام ستاروں کے گرد اور یہ سب کہشاں اور کہشاں کسی دیگر چیز کے گرد گردش کر تے ہیں کہ جس سے ہم آگاہ نہیں ہیں لیکن اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں کہ وہ بہی گردش کرتے ہیں ۔
کائنات کا یہ عجیب نظم اس بات کی دلیل ہے کہ امر خلقت میں کسی قسم کی آشفتگی نہیں ہے کیو نکہ اگر اس میں تضاد و آ شفتگی ہو تی تو کائنات کا نظم درہم برہم ہو جاتا ہے ۔
امام صادق (ع) مفضل سے فرماتے ہیں :
'' والتضاد لا یأتی بالنّظام '' (1)
تضاد سے نظم و جود میں نہیں آتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحا را لا نوار:ج 3 ص 3 6
جس طرح خلقت کائنات میں نظم اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات کی تدبیر میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اسی طرح چہوٹے ، بڑے اجتماعات میں نظم ، ان میں عدم اختلاف کی دلیل ہے پس نہ صرف خلقت کے مسئلہ میں بلکہ جس مورد میں بہی نظم کی ضرورت ہو وہاں کسی صاحب تدبیر شخص کی بہی ضرورت ہو تی ہے ، پس تضاد و اختلاف اس امر کی دلیل ہے کہ وہاں کوئی تدبّر کے ذریعہ نظم قائم کرنے والا نہیں ہے ۔
اس بناء پر اختلاف و تضاد کو رفع کر نے کے لئے عملی پروگراموں میں نظم بر قرار رکہیں اور فردی واجتماعی زندگی سے اختلافات کاقلع قمع کریں ۔
صرف اجتماعی و خانوادگی پروگراموں میں ہی نظم و ضبط افکار میں عدم تضاد کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ شخصی پروگراموں میں بہی نظم وضبط کے وجود پر دلالت کر تا ہے کہ انسان کی زندگی میں تضاد و آشفتگی نہیں ہے اور یہ ایک منظم آئین کی پیرو ی کر رہا ہے ۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ انسان کی زندگی تضاد سیبہری پڑی ہے ۔ مختلف نفسانی افکار خواہشات اور عقلی دستورات انسان میں تضاد ایجاد کر تے ہیں بہت سے موارد میں افکار میں آشفتگی اور مشوش ہونا انہی تضاد کی وجہ سے ہے ایسے تضاد کبہی باعث بنتے ہیں کہ انسان کام کو چہوڑ دے اور اپنی زندگی حوادث کے سپرد کر دے ۔
نظم و برنامہ ایسے تضاد و اضطرا بات کو ختم کر تا ہے اور افکار و تخیلات کی تشویش کو ایک صحیح منشور کی راہ دکہاتا ہے وقت گزرنے کے ساتہ مضطرب فکر کو ایک صحیحآئین و منشور کا سایہ فراہم ہو جا تا ہے ۔
مختلف تخیلات و افکار کی وجہ سے عمو ماً نو جوان امور میں نظم وضبط اور پروگرام تشکیل دینے کی مکمل قدرت نہیں رکہتے ان کے سر پرست روزا نہ کے پروگرام کو منظم کرنے میں ان کی مدد کریں تا کہ عمر کے لحاظ سے رشد پانے کے ساتہ ساتہ انہیں امور میں نظم و ضبط بر قرار کرنے کی قدرت بہی حاصل ہو جائے ۔
جب جوانوں میں پینتیس سال کی عمر میں اندرونی تضاد اور جنسی و شہوانی خواہشات میں کمی آجاتی ہے تو ان کے لئے اس دور میں منظم پروگرام اور نظم کی پیروری کرنا آسان ہو جا تاہے ۔
امام رضا علیہ السلام کا فرمان انسان کے نفسانی امور پر اس کے جسمانی حالات کی کیفیت و تاثیر کی تشریح کر تا ہے ۔
'' قال مو لانا الرضا صلٰوات اللّٰه علیه فی الرسالة الذهبیّة ثمّ یدخل فی الحالة الثالثة الیٰ ان تتکامل مدّة العمر ستین سنة فیکون فی سلطان المرّ ة السّوداء وهی سنّ الحکمة والموعظة وا لمعرفة والدرایة و انتظام الامور وصحّة النظر فی العواقب و صدق الرّأ یی ''(1)
پہر انسان اپنی تیسری حالت ، یعنی پینتیس سال سے ساٹہ سال کی عمر تک ، میں سوداء انسان پر مسلط ہو تا ہے اور یہ حکمت و موعظہ ، معرفت و درایت کا دور ہو تا ہے ۔ اسی طرح یہ امور میں نظم وضبط اور انسان کی صحیح دور اندیشوں اور درست رائے کا وقت ہو تا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار :ج62 ص 7 1 3
اس بناء پر انسان اپنی زندگی کے تیسرے مرحلہ میں داخل ہونے سے پہلے صحیح پروگرام اور نظم و ضبط کا زیادہ نیاز مند ہو تا ہے تا کہ اس دوران نفسانی تحرکات سے واقع ہونے والے انحرافی مسائل سے محفوظ رہا جا سکے اور جوانان و نو جوانان کی حیاتی مسائل کی طرف ہدایت و راہنمائی ہو ۔
حضرت امام رضا (ع) زندگی کے تیسرے حصے ، یعنی ساٹہ سال کی عمر تک کو انتظام امور کا دور قرار دیتے ہیں اور اس دور کو معارف و حکمت کے حصول کا زمان سمجہتے ہیں امام کے فرمان کی رو سے اس وقت انسان کو اس طرح سے پیش آنا چا ہیئے کہ اپنے آئندہ کے کا موں کو صحیح طور پر پرکہ سکے اور اس کی رائے و عقیدہ بہی درست ہو ۔
زندگی کے لمحات اور وقت کو ضائع نہ کرنے کے لئے ایک منظم پروگرام تر تیب دیں اور اس کے مطابق عمل کرنے کا تعہد کریں اگر آپ کے اصل اعمال صحیح ہو اور
صحیح و مرتب پروگرام کے مطابق عمل کریں تو آپ کی زندگی با بر کت و خوشگوار ہو گی ۔
حضرت امیر المومنین (ع) فر ماتے ہیں :
'' برکة العمر فی حسن العمل '' (1)
زندگی کی برکت ، عمل کی اچہائی میں ہے ۔
عمل کی اچہائی صرف اصل عمل کے نیک ہو نے پر ہی نہیں ، بلکہ اس کی روش کے نیک ہونے پر بہی دلالت کر تی ہے ۔اسی وجہ سے ہمارے بزرگان ایک منظم ومرتب پروگرام کے پابند تہے ۔ لہذا وہ پر ثمر و با ارزش زندگی سے بہرہ مند ہوئے ۔ مثال کے طور پر ہم دنیائے تشیع کی معروف شخصیت مرحوم شیخ انصاری کی زندگی کے کچہ حصے کو بیان کر تے ہیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم:ج 3 ص 2 6 2
مرحوم شیخ کی سیرت میں سے یہ تہا کہ ان کی ماں ایک عبادت گزار خاتون تہیں جنہوں نے مرتے دم تک نماز شب تر ک نہیں کی ، مرحوم شیخ اپنی ماں کے لئے تہجد کے لوازم و سائل خود انجام دیتے تہے حتی کہ ضرورت کے وقت ان کے لئے وضو کا پانی بہی گرم کر تے ، کیو نکہ ان کی والدہ اپنی عمر کے آخری ایام میں نابینا ہو گئیں تہیں ، لہذا شیخ انصاری انہیں مصلاّ پر کہڑا کرنے کے بعد خود نوافل شب میں مشغول ہوجاتے ۔
مرحوم شیخ کی ایک یہ عادت تہی کہ وہ تدریس سے واپس آنے کے بعد سب سے پہلے اپنی ماں کے پاس جاتے اور ان کا دل جیتنے کے لئے ان سے گفتگو کرتے اور لوگوں کی طرز زندگی اور حکایات کے بارے میں پوچہتے ،مزاح کرتے اور اپنی والدہ کو ہنساتے اور پہر عبادت ومطالعہ کے کمرے میں چلے جاتے ایک دن شیخ نے اپنی ماں سے کہا : آپ کو یاد ہے کہ جب میں مقدمات میں مشغول تہا اور آپ مجہے گہر کے کاموں کے لئے بہیجتی تہیں اور میں درس و مباحثہ کے بعد انہیں انجام دیتا تہا آپ ناراض ہو کر کہتی تہیں کہ میرا فر زند نہیں ہے اور اب تمہارا بہی فرزند نہیں ہے ؟ ماں نے مزاح میں کہا ہاں ! اب بہی کیو نکہ تم اس وقت گہر کی ضروریات کو پو را نہیں کرتے تہے اور اب تم اس اعلیٰ مقام پر فائز ہو لیکن تم وجو ہات شرعیہ میں صرف جوئی اور ا حتیاط سے مجہے تحت تاثیر قرار دیتے ہو ۔
ایک روز ان کی ماں نے شیخ پر اعتراض کیا اور کہا ! اطراف کے شیعہ تمہارے پاس اتنی زیادہ مقدار میں وجو ہات شرعیہ لاتے ہیں تم اپنے بہائی منصور سے کچہ رعایت کیوں نہیں کرتے اور اسے لازم مخارج کیوں نہیں دیتے ۔
مرحوم شیخ نے فوراً اس کمرے کی چابی ماں کو دی کہ جس میں وجوہات شرعیہ رکہی تہی ، اور کہا آپ جتنا مناسب سمجہتی ہیں اپنے فرزند کو دے دیں ، لیکن روز قیامت آپ خود اس کا جواب دیں ۔
کیو نکہ وہ ایک صالحہ و عابدہ خاتون تہی ، انہوں نے یہ کام نہیں کیا اور کہا کہ میں کبہی بہی اپنے بیٹے کی چند دن کی فلاح کے لئے قیامت میں اپنے کو گرفتار و مبتلا نہیں کر وا نا چاہتی ۔
شیخ کی والدہ 9 7 12 قمری کو نجف اشرف میں اس دنیا سے کو چ کر گئیں ۔ ان کی موت نے شیخ کی زندگی پر بہت گہرا صدمہ واثر چہوڑا ، یہاں تک کہ ان کے بعض اصحاب نے اعتراض کیا شیخ نے ان کے جواب میں فرمایا : میں اپنی ماں کی موت پر نہیں روتا ، بلکہ اس لئے روتا ہوں کہ ان کی وجہ سے مجہ پر سے بہت سی بلائیں اورمصیبتیں رفع ہو جاتی تہی ۔ خدا ان کے وجود کی وجہ سے مجہ پر رحم فرما تا تہا ۔
مرحوم شیخ انصاری اپنے منشور اور آئین میں اس حد تک احتیاط کرتے کہ ان کے استاد مرحوم صاحب جواہر انہیں کثرت احتیاط سے منع فرماتے ۔
صاحب جواہر نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں حکم دیا کہ ایک ایسی مجلس کا اہتمام و انعقاد کیا جائے کہ جس میں نجف اشرف کے تمام جید علما شرکت کریں مجلس منعقد کی گئی لیکن ان میں شیخ انصاری موجود نہیں تہے ۔
صاحب جواہر نے فرمایا کہ شیخ انصا ری کو بھی حاضر کریں تلاش کرنے کے بعد دیکھا گیا کہ شیخ انصاری حرم میں یا صحن مبارک میں روبہ قبلہ کھڑے ہو کر صاحب جواہر کی شفا یابی کے لئے دعا گو تھے شیخ کی دعا کے بعد انہیں مجلس میں لے جا یا گیا ۔ صاحب جواہر نے شیخ کو اپنی بالین پر بیٹھا یا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر ا پنے دل پر رکھا اور کہا :'' الآن طاب لیی الموت '' اب موت میرے لئے گوارا ہو گئی ہے اور حاضرین سے کہا کہ :'' هذا مرجعکم من بعدی '' یہ میرے بعد تمہارے مرجع ہیں ۔ اور شیخ سے فرمایا:'' قلل من احتیاطک ، فان الشریعة سهلة '' یعنی اپنی احتیاط کو کم کرو کیو نکہ اسلام آسان دین ہے ۔
صاحب جواہر کا یہ عمل اس لئے تہا کہ شیخ کی شہرت اور زیادہ ہو جائے ور نہ مقام مرجعیت کے لئے یہ لازم نہیں کہ پہلے ولا مرجع کسی کو تعیین کرے حالانکہ صاحب جواہر نے انہیں کمتر احتیاط کرنے کی سفارش کی مگر مرحوم شیخ اپنی احتیاطات پر عمل کرتے چالیس میلین شیعوں کی طرف سے آنے والی وجوہات شرعیہ کے با وجود فقیرا نہ زندگی گزارتے حتی کہ اگر انہیں کوئی تخفہ یا ہدیہ کے عنوان سے کوئی مال دیتے تو وہ اس مال کو طلاب و ضرورت مندان میں تقسیم کر دیتے ۔ ان میں سے کچہ مال مشہد کے راستے ترکمانیوں کے ہاتہوں اسیر ہونے والے زواروں کی رہائی کے لئے بہیجتے ۔
مرحوم شیخ نے اپنے عبادی پروگرام کو سن بلوغ سے آخر عمر تک بر قرار رکہا فرائض اور نوافل شب وروز ، ادعیہ اور تعقیبات کے علا وہ ہر روز ایک جزء قرآ ن ،نماز جعفر طیار ، زیارت جامعہ اور زیارت عاشورہ پڑہتے یہ شیعہ مکتب کے ایک درخشان چہرے کے عملیپروگرام کا ایک حصہ تہا ۔
ہمارے مکتب کی تاریخ میں ایسے بہت سے نمونے ملیں گے بزرگان کی زندگی کے بارے میں پڑہ کر ان کی زندگی کے آئین سے آشنائی حاصل کریں ۔
ہمارے مکتب کی بر جستہ و بزرگ شخصیات کی راہ و روش یہ تہی کہ وہ اپنی زندگی نظم و ضبط اور مرتب پروگرام کے تحت گزارتے تہے ۔ خاندان عصمت و طہارت کے تمام پیروکارو شیدائی معنوی پیشرفت اور کائنات کے حقائق سے آشنائی کے لئے نظم وضبط قائم کریں اور ایک صحیح منشور کی پیروی کریں ۔
اسی لئے حضرت امیر المو منین نے اپنی وصیت میں ہمیں اور ہر اس شخص کو پیغام دیا کہ جو ان کی اور اپنی وصیت سے آگاہ ہونے والے ہر شخص کو پیغام دیا کہ تقویٰ و پر ہیز گاری اختیار کرو اور امور میں نظم رکہو ، لہذا ہمیں ایک منظم و مرتب پروگرام ترتیب دے کر اس پر عمل کرنا چاہیئے تا کہ سر گردا نی تضاد اور اندرونی تشویش سے نجات پاکر بہتر مستقبل کو حاصل کر سکیں ۔
آپ اپنے مستقبل کی فکر کریں روشن مستقبل کے حصول کے لئے منظم پروگرام تشکیل دے کر اس پر عمل کریں نیز کوشش کریں کہ اپنے آئین و منشور کے ذریعہ اہل بیت اطہار کے جا ویدانی و حیات بخش مکتب کی تبلیغ و ترویج کریں ۔ اس صورت میں آپ کی زندگی کے لمحات صفا و معنویت کی اوج پر پہنچ جائیں گے اور روحی و معنوی راہ کے تکامل میں کامیاب ہو جائیں گے ۔
از جہان عبرت انگیز این در سخن بہ گوشت آویز
خواہی بکمال راہ یا بی با صبغہ نظم ، عمل بیا میز
دنیا سے عبرت حاصل کرواور اس قیمتی بات کو اپنے ذہن میں بٹہا لو۔اگر کمال تک پہنچنا چاہو تو نظم و ضبط اور منظم پروگرام کے ذریعہ عمل انجام دو۔
چھٹاباب
وقت سے استفادہ کرنا
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' تدارک فی آخر عمرک ما اضعته فی اوّله تسعد بمنقلبک ''
جس چیز کو ماضی میں نابود و تلف کردیا ہو اس کا مستقبل میں جبران کرو تا کہ روز قیامت سعادت مند ہو جاؤ ۔
وقت سے استفادہ کرنا
علامہ مجلسی کا وقت سے استفادہ کر نا
وقت ضائع نہ کریں
بیکاری کا نتیجہ
وقت تلف کرنا یا تدریجی خود کشی
اپنے ماضی سے عبرت حاصل کریں
دوسروں کے ماضی سے سبق سیکہیں
اپنا وقت دوسروں کے شخصی اہداف کے لئے ضائع نہ کریں
فرصت سے استفادہ کریں
آخری سانس تک زندگی سے استفادہ کریں
نتیجہ ٔ بحث
انسان محدود زندگی کا مالک ہے اس کے بر عکس اسرار و علوم اور اطلاعات کی ایک دنیا ہے ۔ ہمارا محدود ذہن حیاتی مسائل ، ارزش مند موضوعات اور دیگر تمام امور کو کس طرح احاطہ کر سکتا ہے ؟ ہماری فکر محدود ہے اس محدود مدت میں ہمیں زندگی کے مہم امور کو اہمیت دینی چا ہئے اور بے ارزش مسائل کی طرف توجہ نہیں کرنا چا ہئے ۔
بے جا تفریحات ، بے ارزش کتب کا مطالعہ ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے مختلف پروگرامز بہت آسانی سے ذہن اور فکر کو مشغول کر تے ہیں اور اسے زندگی کے اہم امور کی جانب توجہ دینے سے روکتے ہیں عالی اہداف کے حصول کے لئے ایسے بے ارزش امور سے چشم پوشی کریں اور اپنے ذہن کو ان چیزوںمیں مشغول نہ کریں تا کہ مہم امور کو وقت دے سکیں ۔
حضرت امیر المو منین (ع) فرماتے ہیں :
'' احذروا ضیاع الاعمار فیما لا یبقیٰ لکم فغائتها لا یعود ''(1)
اپنی عمر کو ان چیزوں میں ضائع کرنے سے گریز کریں کہ جو آپ کے لئے باقی نہیں رہتیں کیو نکہ گزری ہوئی زندگی واپس نہیں آتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم:ج 2ص 2 8 2
آپ ابہی سے یہ تعہد کریں کہ آ پ کا مستقبل ، ماضی کی بنسبت بہتر ہو اور
اگر آپ اپنے ماضی پر پشیمان ہوں تو کوئی ایسا کام نہ کریں کہ مستقبل میں بہی افسوس و پشیمانی کا سامناہو۔
حضرت امیرالمومنین علی (ع) فرما تے ہیں :
'' بادر الفرصة قبل ان تکون غصة '' (1)
فرصت سے استفادہ کریں اس سے پہلے کہ پشیمانی و افسوس ہو ۔
جہاں پر بھی ضرر کا اندیشہ ہو ، وہاں سے واپس لوٹنے میں ہی آپ کے لئے فائدہ ہے پس آپ جہاں بھی ہوں ، سعی و کوشش کریں کہ آنے والا وقت ، گزرے ہوئے وقت سے بہتر ہو ،آپ وقت اور فرصت سے استفادہ کریں ، جب تک مہلت ہو اپنی زندگی کے لمحات سے بہتر طور سے استفادہ کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ نہج البلاغہ مکتوب: 31
تاریخ کے نامور معروف اور بزرگ شخصیات نے اپنے نیک اور خدا پسندانہ کردار کے ذریعہ وقت سے بہترین طریقے سے استفادہ کیا اور اپنے نام کو نیک و جاویدان بنا یا ۔ آپ بہی شائستہ اعمال اورنیک کردار کے ذریعہ ااور زندگی کے لمحات سے استفادہ کرتے ہوئے دائمی نتیجہ حاصل کرسکتے ہیں ۔
حضرت امیر المومنین (و) فر ماتے ہیں :
'' الایّام صحائف آجالکم فخلّدوها احسن اعمالکم ''(1)
ایام تمام اموات کے لئے صحائف کی طرح ہیں پس نیک اعمال کے ذریعہ انہیں جا ویدان بناؤ ۔
علامہ مجلسی ایک بے نظیر شخصیت ہیں کہ جنہوں نے اس طرح عمل کیا اور اپنے نام کو جاویداں بنایا ۔انہوں نے اپنی گرانبہا زندگی سے بہت بہتر طریقے سے استفادہ کیا اور وقت و فرصت کو اعلیٰ طریقے سے استعمال میں لائے علامہ مجلسی حامی دین اسلام ، مجدد شرایع و سنن رسول اکرم(ص) اور اہل بیت کے آثار کو زندہ کرنے والے ہیں انہوں نے اپنے قلم سے اسلام و مسلمین کی خدمت کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غرر الحکم:ج 2ص 120
مرحوم علامہ بحر العلوم سے نقل ہوا ہے کہ ان کی آرزو تہی کہ ان کی تمام تالیفات مجلسی کے دیوان عمل میں درج ہوں اور اس کے عو ض ان کی فارسی کتب میں سے ایک کتاب ان کے دیوان عمل میں درج کی جائے ۔ مرحوم علامہ مجلسی کی فارسی کتب کے فارسی زبان والوں کے دلوںپر بہت گہرے اثرات ہیں ۔
ایک دن صاحب جواہر نے جلسہ درس میں فرمایا کہ کل رات ایک خواب دیکہا کہ جیسے کسی بہت بڑی مجلس میں داخل ہوا ہوں کہ جس میں علماء کا گروہ جمع ہے ، دروا زے پر دربان کہڑاتہا ، اس کی اجازت سے مجلس میں وارد ہوا اور دیکہا کہ وہاں متاخرین و متقدمین علماء تشریف فرما ہیں اور مجلس کی صدارت علامہ مجلسی فرما رہے ہیں میں نے تعجب کیا ور در بان سے ان کے تمام علماء پر مقدم ہونے کی علت دریافت کی ، اس نے کہا کیو نکہ آئمہ معصومین کے نزدیک علامہ مجلسی باب العلماء کے نام سے معروف ہیں ۔
علامہ مجلسی کے شاگردوں کی تعداد ہزار افراد سے زیادہ تہی علامہ مجلسی سن7 3 10 میں متولد ہوئے ستائیس رمضان سن 0 111 کی رات دنیا سے رحلت فرما گئے ۔ ان کی قبر مبارک جامع مسجد اصفہان میں ان کے والد کی قبر کے نزدیک واقع ہے جو لوگوں کے لئے زیارت گاہ ہے ۔
جی ہاں ، علامہ مجلسی نے وقت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی زندگی نیک کردار ،بہترین کتب کی تالیف اور مکتب اہل بیت کی ترویج میں بسر کی اور رہتی دنیاتک اپنے نام کو درخشاں اور زندہ و جاوید بناگئے ۔
انسان حدود و قیود میں محدود و مقید ہے ان میں سے ایک قید زمان ہے ہمارے تمام بزرگان نے محدود زمان میں پیشرفت و تر قی کی اور اعلیٰ اہداف کو حاصل کیا اگر ہم نے گزشتہ زندگی ، ان کے مطابق نہیں گزاری تو باقی ماندہ مہلت کو کافی جان کر اس کی اہمیت و ارزش کو سمجہیں ۔
فرصت غنیمت است حریفان در این چمن
فردا ست ہمچو گل ہمہ بر باد رفتہ چمن
ہم زندگی کے لمحات کو گزار رہے ہیں اور آہستہ آ ہستہ مہلت کو ہاتہ سے کہو رہے ہیں ۔ عقل مند اور ذہین وہ ہے کہ جو فراغت کو غنیمت شمار کر کے اس سے بہترین طریقے سے استفادہ کرے ۔
حضرت امیر المومنین علی (ع) فرماتے ہیں :
'' لوصحّ العقل لا غتنم کلّ امرئٍ مهلة ''(1)
اگر عقل سالم ہو تو ہر شخص موجود مہلت کو غنیمت شمار کر تا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غرر الحکم:ج 5ص 2 1 1
ہمیں اس امر کی جانب متوجہ رہنا چاہیئے کہ وقت ہماری زندگی کا اہم ترین سر مایہ ہے عقل اس حقیقت کی شاہد ہے اسی وجہ سے ہر انسان کو مہلت اور فرصت کو غنیمت سمجہ کر اس سے استفادہ کرنا چاہیئے ۔
آنچہ ندارد عوض ای ہوشیار عمر عزیز است غنیمت شمار
جس چیز کا کوئی عوض نہیں ہے وہ انسان کی زندگی ہے لہذا اسے غنیمت شمار کرو ۔
جی ہاں ! اہلبیت اطہار علیہم السلام نے وقت کی اہمیت و ارزش کے بارے میں بہت سے ارشادات وفرامین بیان فر مائے ہیں انہوں نے اپنے ارشادات میں ہمیں آگاہ کیا ہے کہ اپنی زندگی کے لحظات کے بارے میں ہوشیار رہیں اور زندگی کے کسی لمحے کو بہی استفادہ کئے بغیر نہ گزاریں۔ نیز توجہ کریں کہ ہم جس لمحے کو بہی گزار دیں تو اسی قدر ہماری زندگی کم ہو جاتی ہے ۔
حضرت امیر المومنین علی (ع) فرماتے ہیں :
'' العمر تفنیته اللحظات ''(1)
لحظات کا گزرنا عمر کو فانی بناتا ہے ۔
ہمارے سانس لینے اور لمحات کے گزر نے سے ہماری زندگی بتدریج کم ہوتی جاتی ہے ۔
روز را رایگان زدست مدہ نیست امید آن کہ باز رسد
کسی بہی دن کو رائیگاں نہ جانے دو ۔ کیو نکہ اس کے دوبارہ واپس آنے کی امید نہیں ہے ۔
جو اپنے دن رات، نیک اور پسندیدہ کاموں کو انجام دینے میں گزارتے ہیں اور وقت کو ضائع کرنے اور زندگی کو تلف کرنے سے گریز کر تے ہیں وہ اپنے صحیفہ اعمال میں درخشاںصفحات کا اضافہ کرتے ہیں اور ابدی و جاویداں نتیجہ حاصل کر تے ہیں ۔
کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم بہی ایسے افراد میں سے ہوں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غرر الحکم :ج1 ص2 9
بیکار شخص کا کوئی ہدف و مقصد نہیں ہوتا کہ جس کے حصول کی وہ کوشش و ہمت کرے ۔ لہذا وہ بیکار بیٹہا رہتا ہے وہ اپنا قیمتی وقت خیا لات ، توہمات یا بے فائدہ و حرام گفتگو میں گزار تا ہے اور اپنے دل کو شیاطین کی آماج گاہ قرار دیتا ہے ۔ با ایمان شخص کو کبہی بہی بیکار نہیں بیٹہنا چاہیئے تا کہ اس کا دل شیاطین کی جائیگاہ اور اس کا ذہن زشت اور پست افکار کا مرکز قرار نہ پائے ۔
حضرت امیر المو منین (ع) اپنے کلمات قصار میں فرماتے ہیں :
'' المومن مشغول وقته ''(1)
مومن کا وقت ہمیشہ مشغول ہے ۔ یعنی مومن ہمیشہ مصروف رہتا ہے ۔
کیو نکہ وہ یا ضروریات زندگی کو مہیا کرنے کے لئے مادی کا موں میں مشغول ہو تا ہے یا پہر خداوند کریم کی عبادت و ذکر سے اپنی آخرت کو آباد کر تا ہے ۔ اتنی مصروف زندگی کے باعث اسے ناشائستہ اور زشت اعمال کو ا نجام دینے کی فرصت نہیں ہو تی ۔ اکثر وبیشتر افراد بیکاری و فراغت کے وجہ سے برے کاموں کے مرتکب اور غلطیوں میں مبتلا ہو تے ہیں ۔
مخصوصاً جوانوں کو کبھی بیکار اور فارغ نہیں بیٹھنا چاییئے تا کہ ان کے لئے غلط کا موں کو انجام دینے کا ذریعہ و وسیلہ فراہم نہ ہو ۔روایات میں وارد ہو اہے :'' انّ اللّٰه یبغض الشباب الفارغ '' خداوند تعالی بے کار اور فارغ جوانی سے عداوت رکھتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ نہج البلاغہ کلمات قصار: 5 2 3
ہم نے جو کچہ عرض کیا ، اس کی بناء پر اس مہم ترین نکتہ کی جانب توجہ کریں کہ وقت گزارنا اور ضروری برناموں میں آج کا کام کل پر چہوڑ نا اور ضروری کاموں کو انجام دینے میں تاخیر کرنا انسان کے لئے بہت سے محرومیوں کا باعث ہے ۔
یہ جان لیں کہ ہمارا گزرا ہوا کل اور آج ، ہمارے آنے والے کل کے لئے ثمر ہے ۔ ماضی اور حال ایک جڑ کی طرح ہمارے مستقبل کی زندگی کے درخت کو تشکیل دیتا ہے ۔
مکن در کار ہا زنہا ر تاخیر کہ در تاخیر آفتہا ست جانسوز
بفرد ا افکنی امروز کارت ز کند بہای طبع حیلت آموز
قیاس امروز گیر از کار فردا کہ ہست امروز تو فردای دیروز
اپنے کاموں میں ایک دن کی بہی تاخیر نہ کرو کہ اس تاخیر میں زندگی کو بر باد کرنے والی آفات ہیں آپ اپنے آج کے کام کو کل پر نہ چہوڑیں بلکہ آ ج ہی انجام دیں کیو نکہ آپ کا آج گزرے ہوئے کل میں آنے والا کل تہا ، یعنی آپ نے گزشتہ کل بہی یہ ہی کہاتہا کہ آ پ آج وہ کام انجام دیںگے مگر آج بہی گزر گیا لہذا کبہی بہی اپنا آج کا کام کل پر نہ چہوڑو ۔
زندگی اور وقت کو تلف کرنے سے آپ نہ صرف اپنے ماضی سے بہرہ مند نہیں ہو سکتے ہیں ، بلکہ اپنے مستقبل کو بہی بے ثمر بناتے ہیں ۔ در حقیقت اتلاف وقت کو تدریجی خود کشی سمجہیں ۔
دنیا کے اتار ، چڑہاؤ اور سر د و گرم سے عبرت لینا بزرگ شخصیات کی صفات میں سے ہے وہ دوسروں کے حالات زندگی کی بررسی اور اپنے گزشتہ امور پر دقت سے بہت بڑا سبق لیتے ہیں اور اسی کی بناء پر وہ اپنے مستقبل کو بہتربناتے ہیں وہ اپنے اور دوسروں کے ماضی سے عبرت لے کر اپنے مستقبل کو روشن و درخشاں بناتے ہیں ۔
اپنے گزرے ہوئے وقت اور فراغت کے گزرے ہوئے لمحات سے عبرت لینا بقیہ زندگی کی قیمت و ارزش کو روشن کر تا ہے اور انسان کو متنبہ کر تا ہے کہ اپنے مستقبل کو بہی ماضی کی طرح تباہ نہ کرے اور اپنی باقی ماندہ زندگی سے ایسا نتیجہ حاصل کرے کہ گزرے ہوئے وقت کا جبران ہو سکے۔
حضرت امیر المو منین (ع) فرما تے ہیں :
'' لو اعتبرت بما اضعت من ماضی عمرک لحفظت مابقی '' (1)
اگر اپنے ماضی سے عبرت لو گے کہ جسے تم نے ضائع کردیا تہا تو تم اپنی بقیہ زندگی کو محفوظ کر سکتے ہو ۔
اگر آپ نے ابہی تک اپنی زندگی کے بہت سے لحظات و لمحات سے مستفیض و مستفید ہوئے بغیر گزار دیئے ہوں تو اپنی بقیہ زندگی کی بیشتر اہمیت و ارزش کے قائل ہوں اور بے حا صل ماضی کا با برکت وروشن مستقبل کے ذریعہ جبران کریں ۔ اگر آپ نے گزشتہ زندگی کو رایگاں گزار دیا ہو تو اپنی بقیہ زندگی کی زیادہ قدر کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ شرح غرر الحکم :ج5 ص 5 11
ہم نے تجر بہ کی بحث میں عرض کیا کہ ہم نہ صرف اپنے بلکہ دوسروں کے تجربات سے بہی سبق سیکہیں ۔ تاریخ کا مطالعہ کریں اور مکتب تشیع کی بزرگ شخصیات کے بارے میں بررسی کریں ۔ ان کی فعالیت و تجربات اور ان کی فردی و اجتماعی کو ششوں سے استفادہ کریں ۔
دوسروں کے تجربات سے استفادہ کرنے کے فوائد میں سے ایک وقت سے فائدہ اور فراغت سے استفادہ کرنا ہے دوسرے جس راستے پر چلے ، دوسروں نے جو بر نامے انجام دینے اور انہوں نے جو نتیجہ حاصل کیا ، ہمیں ان سے تجر بہ لینا چاہیئے ۔ گزشتگان کی راہ و روش اور ان کے پسندیدہ کاموںکو بہتر اور جلد اپنائیں اور انہوں نے جس غلط راستے اور کا موں کا مشاہدہ کیا ، انہیں ترک کریں ۔ اپنی قیمتی زندگی کو غلط کا موں میں تجربہ کر کے ضائع نہ کریں کہ جسے دوسروں نے انجام دیا ہو ۔
جس چیز کے بارے میں ہمیں مکمل آشنائی نہ ہو ، اس کے بارے میں تجربات سے اپنی زندگی تلف نہ کریں بلکہ گذشتگان کے حالات زندگی اور ان کے بارے میں مطالعہ سے اس کام کے نتیجہ کو حاصل کریں ۔ دوسروں کے اشتباہات کو تکرار کر کے اپنی زندگی کی قیمتی گہڑیوں کو ضائع نہ کریں ۔ عظیم لوگ وہ ہیں کہ جو اپنی کوششوں سے تاریخ کو متحول کریں نہ کہ وہ جو دوسروں کی غلطیوں کو دہرا کر تاریخ کو دہرائیں
پس دوسروں کی غلط راہوں کے بارے میں آشنائی حاصل کرنے کی کوشش کریں کہ جنہیں دوسروں نے انجام دیا ہے آپ اپنا قیمتی وقت ان غلط پروگراموں کو تکرار کرکے ضائع نہ کریں ۔
بہت سے لوگ اپنی زندگی کے با ارزش لمحات کو مختلف کاموں اور فعالیت میں گزار تے ہیں سستی و کاہلی سے گریز کرتے ہیں اور کوشش و تلاش کے لئے ہاتہ پاؤں مارتے ہیں ۔ لیکن اپنی سر مایہ زندگی سے نہ تو کوئی سود حاصل ہو تا ہے اور نہ ہی ان کی زحمات کا کوئی ثمر و فائدہ ہو تا ہے ۔
اس بارے میں حضرت امیر المو منین (ع) فر ماتے ہیں :
'' یفنی عمره فی منفعتة غیره ''(1)
اپنی زندگی کو دوسروں کی منفعت میں گنوا دیتے ہیں ۔
دنیا کے اجتماع میں بہت سے کاریگر ، طالب علم اور مادی ا مور میں کمی و پریشان حال افراد ایسے ہی افراد میں سے ہیں ۔
وہ بہت سی زحمات ، سختیاں اور تلخیاں برداشت کر تے ہیں مگر ان کی کوششوں کا کو ئی ماحصل نہیں ہو تا ۔ وہ دوسروں کے ہاتہوں استعمال ہوتے ہیں کائنات میں بہت سے ایسے مظلومین ہیں کہ جو اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم سے بہی آگاہ نہیں ہیں ۔
حضرت امیر المو منین (ع) جو کہ مظلومین کے داد رس اور رنجیدہ لوگوں کی
پناہگار ہیں ، اپنے مختصر سے کلام میں تمام لوگوں کو آگاہ کر رہے ہیں کہ اپنی زندگی کو دوسروں کی منفعت میں ضائع نہ کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ نہج البلاغہ کلمات قصار: 61 2
عالی اہداف تک پہنچنے والی تمام بزرگ شخصیات کہ جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں بہت سے کامیابیاں حاصل کیں ۔ انہوں نے اپنی زندگی سے استفادہ کیا اور وقت کو غنیمت سمجہا انہوں نے وقت کو تلف کرنے سے گریز کیا اور فرصت و فراغت سے بہترین طریقے سے استفادہ کیا ۔
تمام لوگوں کو فراغت کے لمحات میسر آتے ہیں ۔ لیکن انہیں غنیمت سمجہ کر ان سے عالی طور پر مستفید ہونا چاہئے ۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ صورت حال ہے کہ وقت کی اہمیت کے بارے میں زیادہ توجہ نہیں دی جاتی اور فرصت کے ایام ضائع ہو جاتے ہیں اگر ان کے ضائع ہونے کے بعد ان کی طر ف متوجہ ہوں اور اس پر پشیمان ہوں تو پہر اس پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔
حضرت امیر المو منین علی (ع) فرماتے ہیں :
'' الفرص خلس '' (1) فرصت سے مراد کسی چیز کو جذب کرنا ہے ۔
یعنی میدان عمل میں فرصت کو سعا دت سے گزاریں ۔ فراغت بہت جلد گزر جا تی ہے لیکن فرصت کے ایام ضائع کرنے کے بعد پچہتا نے کا کیا فائدہ ہے ؟ ہماری زندگی کا ہر دن اور ہر لمحہ ہمارے لئے فرصت ہے کہ اسے غنیمت سمجہ کر اس سے استفادہ کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غرر الحکم:ج 1ص 49
ہمیں آخری سانس اور آ خری لحظہ تک اپنے وظیفہ کو انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیئے اور اپنی زندگی کے لحظات کو ایسے امور میں ضائع نہ کریں کہ جن میں خدا کی رضایت شامل نہ ہو ۔
حضرت امیر المو منین (ع) فرما تے ہیں :
'' انّ انفا سک اجزاء عمرک ، فلا تفنها الاَّ فی طاعةٍ تزلفک ''(1)
تمہاری سانسیں تمہاری زندگی کے اجزا ء ہیں لہذا انہیں ضائع نہ کریں مگر ایسی عبادت میں کہ جوتمہارے لئے بیشتر تقرب کا باعث بنے۔
ہمارے بزرگان نے زندگی کے آخری لمحات اور آخری سانسوں تک فرصت اور وقت سے بہترین استفادہ کیا ۔
شیعہ تاریخ کے علماء و بزرگ شخصیات میں سے بر جستہ شخصیت آیت اللہ العظمیٰ حاج سید محمد حجت ایسے افراد میں سے تہے ۔
مرحوم آیت اللہ العظمیٰ شیخ مرتضی حائری اس بزرگوار کے بارے میں یوں لکہتے ہیں کہ وہ آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کے زمان میں تقریباً مرجع مطلق یا اکثر آذر بائیجان کے مرجع تہے تہران میں مقیم آذر بائیجانی اور بعض غیر آذر بائیجانی ان کی طرف مراجعہ کرتے تہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ غرر الحکم :ج2 ص9 9 4
جس سال سردیوں کے اوائل میں وہ مرحوم ہوئے ، اس وقت موسم ابہی تک مکمل طور پر سرد نہیں ہوا تہا ، وہ گہر کی تعمیر میں مشغول تہے گہر کے ایک حصے کو توڑ چکے تہے تا کہ جدید گہر تعمیر کر سکیں اور گہر کے دوسرے حصے میں کاریگر دوسرے کاموں میں مصروف تہے جیسے کنویں کی کہودائی یا اس میں پتہر لگانا ، ان تعمیرات کے بانی ان کے ایک ارادتمند تہے ۔ ایک دن صبح کے وقت ان کی خدمت میں حاضر ہوا وہ تخت پر تشریف فرما تہے اور ان کی حالت عادی تہی وہ اکثر دمہ کی وجہ سے سر دیوں میں نفس تنگی کا شکار ہوتے تہے لیکن اس وقت سرد موسم کے باوجود ان کی حالت عادی و معمول کے مطابق تہی ۔ مجہے اطلاع ملی کہ انہوں نے ٹہیکے دار اور دیگر کاریگر وں کو کام سے فارغ کر دیا ہے ۔ میں نے کہا کہ آغا آپ نے انہیں کیوں جواب دے دیا ؟ انہوں نے بڑے وثوق و صراحت سے کہا کہ ! مجہے لگتا ہے کہ میں مرجاؤں گا تو پہر یہ گہر کی تعمیر کس لئے ؟
پہر میں نے بہی کچہ نہ کہا دوسرے دن شاید بروز چہار شنبہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا سید احمد زنجانی ان کے پاس بیٹہے تہے انہوں نے جائیداد کے کاغذات و اسناد آغا زنجانی کو دیئے اور ایک چہوٹے صندوق میں پڑہی نقد رقم مجہے دی کہ اسے معین مصارف میں صرف کرو ں اور اس میں سے کچہ حصہ مجہے عطا فرمایا ۔
اس سے پہلے انہو ں نے وصیت کو چند نسخوں میں لکہا تہا کہ جن میں سے ایک انہوں نے مجہے بہیجوا یا تہا جواب بہی موجود ہے ۔ انہوں نے وصیت کی تہی کہ ان کے اور ان کے وکلا کے پاس تمام موجود رقم سہم امام ہے ۔
انہوں نے جو زمین مدرسہ کے نام پر خریدی تہی ، وہ ان کے نام پر تہی کہ جس کا یک بڑا حصہ بعد میں آغا بروجردی کی مسجد میں شامل ہو گیا انہوں نے وصیت نامہ لکہا تہا کہ وہ زمین بہی سہم مبارک امام سے جو ارث میں نہیں دی جاسکتی اور اگر آغا بروجردی نے چا ہا تو انہیں مسجد کے لئے دے دیں ۔
ان کی رقم وہ ہی صندوق میں موجود رقم میں ہی منحصر تہی اور چند دن سے وجوہات شرعیہ نہیں لیتے تہے انہوں نے جب وہ رقم مجہے دی کہ میں وہ ان کے موارد میں صرف کروں تو انہوں نے آسمان کی طرف ہاتہ بلند کئے اور کہا کہ خدا یا میں نے اپنی تکلیف پر عمل کیا اب تو میری موت کو پہنچا دے ۔
میں نے ان کی طرف دیکہا اور کہا کہ آغا آپ ویسے ہی اس قدر ڈر رہے ہیں آپ ہر سال سردیوں میں اسی بیماری میں مبتلا ہو تے ہیں اور پہر ٹہیک ہو جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ نہیں میں ظہر کے وقت فوت ہو جاؤں گا میں خاموش رہا اور ان کے فرمان کے مطابق کاموں کو انجام دینے کے لئے نکل پڑا میرے دل میں خیال آیا کہ کہیں یہ اسی دن ظہر کے وقت وفات نہ پاجائیں اور ان پیسوں کے بارے میں تکلیف معلوم نہ ہو کہ کیا ورثہ کو دیں یا ان موارد میں خرچ کریں ۔ اسی شک میں میں سوار ہوا اور ظہر تک ان کو انجام دیا وہ اس دن ظہر کے وقت فوت نہ ہوئے بلکہ اس چہار شنبہ کے بعد آنے والے ہفتہ کو ظہر کے وقت اپنے خالق حقیقی سے جاملے میں گہر سے باہر آیا تو اسی وقت مدرسہ حجتیہ سے اذان کی صدا بلند تہی ۔
انہیں راتوں میں سے ایک رات انہوں نے مجہے کہا کہ مجہے قرآن دو انہوں نے قرآن کہو لا تو پہلے صفحہ پر یہ آیت شریفہ تہی ، '' لہ دعوة الحق '' ظاہراً انہوں نے گریہ کیا اور انہوں نے اسی رات یا دوسری رات اپنی مہر توڑدی ۔
وفات کے نزدیک ایک دن وہ اپنی آنکہیں دروازے پر لگائے بیٹہے تہے اور ایسے لگتا تہا کہ وہ کسی چیز کا مشاہدہ فر ما رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ! آغا علی تشریف لائیں لیکن کچہ دیر بعد وہ عادی حالت پہ واپس آگئے ۔ آخری دوتین دن وہ ذکر اور خدا سے راز ونیاز میں زیادہ مشغول ہوتے تہے ۔
ان کی وفات کے دن میں نے بڑے اطمینان سے گہر میں مکاسب کا درس دیا اور پہر ان کے چہوٹے کمرے میں گیا کہ جہاں وہ لیٹے تہے ۔ اس وقت فقط ان کی بیٹی وہاں موجود تہی کہ جومیری زوجہ بہی تہیں لیکن آغا کا چہرہ دیوار کی طرف تہا اور وہ ذکر و دعا میں مشغول تہے ۔ انہوں نے کہا کہ آغا آج کچہ مضطرب ہیں ظاہراً ان کے اضطراب کی دلیل وہ ہی زیادہ ذکر و دعا تہا میں نے سلام کیا انہوں نے میرے سلام کاجواب دیا ور کہا آج کیا دن ہے میں نے کہا ، ہفتہ ، انہوں نے فر مایا کہ آج آغابروجردی درس پہ گئے تہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ، انہوں نے صمیم قلب سے چند بار کہا ۔ الحمد للہ ۔
غرض یہ کہ ان کی بیٹی نے کہا کہ انہیں تہوڑی سی تربت امام حسین (ع) دیں ۔ میں نے کہا ٹہیک ہے وہ تربت لائیں میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ نوش فرمائیں وہ بیٹہ گئے میں ان کے سامنے گلاس لے گیا انہوں نے سو چا غذا یا دوا ہے انہوں نے کچہ تلخ لہجے میں کہا یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا ، تربت امام حسین ۔ ان کا چہرہ کہل گیا اور تربت اور پانی نوش فرمایا اس کے بعد میں نے ان سے یہ کلمہ سنا کہ انہوں نے کہا'' آخر زادی من الدنیا تربة الحسین '' دنیا سے میرا آخری توشہ تربت امام حسین (ع) ہے۔ وہ دوبارہ لیٹ گئے میں نے دوسری مرتبہ ان کی فرمائش پر دعاء عدیلہ قرائت کی ۔ ان کے دوسرے بیٹے آغا سید حسن رو بہ قبلہ بیٹہے تہے اور آغا تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹہے ہوئے پڑہ رہے تہے اور وہ خدا وند متعال کے سامنے بڑی شدت اور صمیمیت سے اپنے عقائد کا اظہار کر رہے تہے ۔
مجہے یاد ہے کہ وہ امیر المو منین علی(ع) کی خدمت کے اقرار کے بعد ترکی زبان میں یہ کہہ رہے تہے :بلافصل ، ہیچ فصلی یخدی ، لاپ بلا فصل لاپ بلا فصل ، کیمین بلا فصل وار؟
آئمہ معصو مین علیہم السلام کے بارے میں انہوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی '' الم تر کیف ضرب اللّٰه مثلاً کلمةً طیّبةً کشجرةٍ طیّبةٍ اصلها ثابت و فرعها فی السماء ''(1)
کیا تم نے نہیں دیکہا کہ اللہ نے کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے ۔
میں وہاں کہڑا اس معنو ی منظر کا مشاہدہ کر رہا تہا میرے ذہن میں آیا کہ ا ن سے کہوں کہ آغا میرے لئے بہی دعا فرمائیں لیکن شرم مانع ہوئی کیو نکہ وہ اپنے حال میں مشغول تہے اور کسی دوسری جانب متوجہ نہیں تہے کیو نکہ وہ موت سے پہلے اپنے خدا کے ساتہ راز ونیاز کر رہے تہے اور معنوی وظائف انجام دے رہے تہے اور ثانیاً یہ تقا ضا کرنا اس چیز کی طرف اشارہ تہا کہ ہم بہی آغا کی موت کی طرف متوجہ ہیں اور ان کی موت کے سامنے تسلیم ہو چکے ہیں ۔
میں خاموشی سے کہڑا اس ماجرا کو دیکہ رہا تہا وہاں آغا سید حسن ، ان کی بیٹی اور خاندان کے دوسرے افراد موجود تہے۔ میں نے یہ بہی سنا کہ آغا کہہ رہے تہے ! خدا یا میرے تمام عقائد حاضر ہیں وہ تمام تجہے سپرد کر دیئے اب مجہے لوٹا دو ۔
میں وہیں کہڑا ہوا تہا اور وہ بہی اسی حالت میں تکیہ پر ٹیک لگائے رو بہ قبلہ
بیٹہ تہے ۔ اچانک انکی سانس رک گئی ہم نے سوچا کہ شاید ان کا دل بند ہوا ہے ہم نے ان کے منہ میں کرامین کے چند قطرے ڈالے لیکن دوا ان کی لبوں کی اطراف سے باہر نکل آئی ۔ وہ اسی وقت وفات پاگئے تہے اس پانی اور تربت امام حسین کے بعد کرامین کے چند قطرے بہی ان کے حلق تک نہیں پہنچے تہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ ابراہیم آیت: 4 2
مجہے یقین ہوگیا کہ آغا فوت ہوگئے ہیں میں گہر سے باہر آیا تو مدرسہ حجتیہ سے اذان کی آواز سنی ان کی وفات اول ظہر کے قریب تہی جس کے بارے میں انہوں نے چہار شنبہ کو کہاتہا کہ میری موت ظہر کے وقت واقع ہو گی ۔
یہ مرد بزرگوار وہ تہے کہ جنہوں نے زندگی کے اس سفر میں ، سفر کی تمام قید و شرط کی رعایت کی اور وجوہات شرعیہ کے مصرف کو بہی کاملاً واضح کرد یا کہ اس میں ورثہ کو کچہ بہی نہ ملا ۔
ایک ایمان محکم شخص کی یہ گزشتہ داستان چند چیزوں پر مشتمل ہے :
1 ۔ ان کا ظہر کے وقت اپنی موت کے بارے میں خبر دینا اور پہر حقیقتاً ان کی موت ظہر کے وقت واقع ہوئی ۔
2 ۔ وہ مکاشفہ کہ جس میں انہوں نے حضرت امیر المو منین(ع) کو دیکہا تہا ۔
3 ۔ ان کا یہ خبر دینا کہ ان کا آخری توشہ تربت امام حسین (ع)ہو گا اور پہر ایسا ہی ہوا ۔
مرحوم آیة اللہ العظمیٰ آغا حجت مو لا امیر المومنین (ع) کے فرمان کے واضح مصداق ہیں کہ :
'' انّ انفاسک اجزاء عمرک فلا تفنها الاَّ فی طاعة تزلفک ''
انہوں نے زندگی کے آخری لمحے اور آخری سانس کو راہ عبادت اور اطاعت خداوند میں بسر کیا ۔
جولوگ شیعہ بزرگوںکی زندگی سے درس لیتے ہیں وہ آخری لحظہ تک مقام عبودیت اور اپنی ذمہ داری کو انجام دیتے ہیں آخرت میں خداوند کریم کا خاص لطف ان کے شامل حال ہو گا ور اہل بیت علیہم السلام کے جوار رحمت میں قرار پائیں گے ۔
وقت اہم ترین نعمت ہے کہ جو خداوند تعالیٰ نے آپ کو عنایت کی ہے یہ آپ کی زندگی اور وجود کا بہترین اور بزرگترین سرمایہ ہے اسے بہترین راہ اور عالی ترین ہدف میں مصرف کریں ۔
آپ کی موجودہ وضعیت ، آپ کے گزشتہ اعمال و کردار کا نتیجہ و محصول ہے اور آپ کا مستقبل ، آپ کے حال کی رفتار و کردار کا ثمرہ ہوگا ۔
اگر آپ ارزشمند اور اعلیٰ اہداف کے خواہاں ہیں اگر آپ روشن مستقبل کے امید وار ہیں تو اپنے وقت کو فضول ضائع نہ کریں ۔
آپ متوجہ رہیں کہ اگر آپ نے اپنے ماضی سے استفادہ نہ کیا ہو اور آپ کو گزرے ہوئے کل پر افسوس ہو تو آپ اب اس طرح سے زندگی بسر کریں کہ آپ کو آئندہ اپنے آج پر شرمندگی و افسوس نہ ہو ۔
جستجو اور کوشش کے ذریعہ اپنے ماضی کا جبران اور باقی ماندہ فرصت سے بہترین طریقے سے استفادہ کریں اورجو لوگ اپنے گزرے ہوئے وقت سے درس عبرت لیتے ہیں اپنے لئے درخشاں اور روشن مستقبل کا انتخاب کرتے ہیں ۔
قدر وقت از نشناشی تو و کاری نکنی
پس خجالت کہ از این حاصل اوقات بری
اگر آپ وقت کی قدر و اہمیت کو نہیںپہچانیں گے اور کوئی کام انجام نہیں دیں گے تو وقت ضائع کرنے کے بعد صرف شرمندگی حاصل ہو گی ۔
ساتواں باب
اہل تقویٰ کی صحبت
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' اکثر الصّلاح و الصّواب فی صحبة اولی النهیٰ والا لباب ''
اکثر و بیشتر اصلاح اور درستی صاحبان عقل و خرد کی صحبت میں ہے ۔ ۔
صالحین سے ہمنشینی کی اہمیت کا راز
جن افراد کی صحبت روح کی تقویت کا باعث ہے
1 ۔ علماء ربانی کی صحبت
2 ۔ صالحین کی صحبت
اپنے ہمنشینوں کو پہچانیں
جن افراد کی صحبت ترقی کی راہ میں رکاوٹ
1 ۔ چہوٹی سوچ کے مالک افراد کی صحبت
2 ۔ گمراہوں کی صحبت
3 ۔ خواہش پرستوں کی صحبت
۴ ۔ شکّی لوگوں کی صحبت
نتیجۂ بحث
معنوی مقاصد تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں لیکن ان میں سے کون سا راستہ اہم ترین ہے کہ جو انسان کو جلد منزل و مقصد تک پہنچا دے ۔
اس بارے میں مختلف عقائد و نظریات ہیں ہر گروہ کسی راہ کو اقرب الطرق کے عنوان سے قبول کرتاہے اور اسے نزدیک ترین ، بہتر اور سریع ترین راہ سمجہتے ہیں ان میں سے بعض نیک اور صالح افراد کے ساتہ ہمنشینی کو اقرب الطرق سمجہتے ہیں ۔
ان میںسے جو نظریہ صحیح لگتاہے وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے ہمنشینی کہ جو خدا کو خدا کے لئے چاہیں نہ کہ اپنے لئے ، اور ان کی صحبت کہ جو اپنے اندر حقیقت ایمان کو واقعیت کے مرحلہ تک پہنچا ئیں ۔ یہ فوق العادہ اثر رکہتا ہے ۔
اسی وجہ سے کائنات کے پہلے مظلوم حضرت امیر المو منین(ع) اپنے دل نشین کلام میں فرماتے ہیں :
'' لیس شیء اوعیٰ لخیر و انجیٰ من شرّ من صحبة الاخیار '' (1)
اچہے افراد کی صحبت سے بڑہ کر کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو انسان کو بیشتر خوبیوں کی دعوت دے اور برائیوں سے نجات دے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غر ر الحکم :ج5ص 87
کیو نکہ معاشرے کے شریف اور صالح افراد کے ساتہ بیٹہنا انسان کے لئے شرف و ہدایت کا باعث ہوتا ہے جو زنگ آلود دلوں کو صاف اور منور کر تا ہے اور انسان کو معنویت کی طرف مائل کرتاہے ۔
حضرت امام زین العابدین (ع) فر ماتے ہیں :
'' مجالسة الصالحین داعیة الی الصلاح '' (1)
صالح افراد کی صحبت انسان کو صلاح کی دعوت دیتی ہے ۔
ایسے افراد میں معنوی قوت و طاقت ، ان کے ہمنشین حضرات میں بہی نفوذ کرتی ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتہ ان کے اعمال و کردار و رفتار ان ہی کی مانند ہو جاتے ہیں ۔
کبہی ایسے افراد کا دوسروں میں معنوی نفوذ جلد ہو تا ہے جس میں طولانی مدت کی صحبت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ بلکہ ایک نشست یا ایک نگاہ یا ایک دلنشین جملہ دوسروں کی فکر ی و اعتقادی وضعیت کو بدل کر ان میں حیات جاویداں ایجاد کر تا ہے ۔
جی ہاں ، نیک افراد کے مجمع میں دوسرے بہی ان سے معطر ہو کر نیک اور اچہے لوگوں کی صف میں آجاتے ہیں نیک لوگوں کی نورانیت و پاکیزگی دوسروں پر بہی اثر انداز ہوتی ہے اور ان کے قلب کی آلودگی و ظلمت کو دور کر کے اپنی طرف جذب کر تی ہے۔
نیک اور پاکیزہ افراد کی صحبت سے قلب کی پاکیزگی میں اضافہ ہو تا ہے ۔ اچہے لوگوں کے ساتہ رہنا اچہائی سکہا تا ہے اور نیک اور خود ساختہ افراد کے ہمراہ رہنا ، انسان بناتا ہے اور ان پر ہونے والی توجہات ان کے ہمراہ رہنے والوں کو بہی شامل ہو تی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ اصول کافی:ج 1ص 20
یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کی طرف دعاؤں میں بہی اشارہ ہواہے ۔ مرحوم شیخ مفید کتاب مزار میں ایک دعانقل فرماتے ہیں کہ آئمہ معصومین کی زیارت کے بعد اس دعا کو پڑہنا مستحب ہےاوراس دعا کے ایک حصے میں یوں بیان ہو اہے :
'' یا ولیّ اللّٰه عزّ و جلّ حظّی من زیارتک تخلیطی بخالصی زوّارک الّذین تسأل اللّٰه عزّ و جلّ فی عتق رقابهم و ترغب الیه فی حسن ثوابهم ''
اے ولی خدا ! اپنی زیارت سے مجہے اپنے خالص زوار وں میں سے قرار دے کہ جن افراد کی خداوند کریم سے آزادی چاہتے ہو اور جن کے لئے خدا سے نیک ثواب اور جن کے لئے خدا کی رغبت چاہتے ہو ۔ ۔
جس طرح خشک و تر ایک ساتہ جل جاتے ہیں جس طرح پہول اور کانٹے ایک ہی چشمہ سے سیراب ہو تے ہیں جس طرح باغبان کی گلستان پر پڑنے والی محبت آمیز نگاہ میں باغ میں موجود کانٹوں کو بہی شامل کر تی ہے اور پہول کی خوشبو سے کانٹے بہی معطر ہو جاتے ہیں جس طرح پہول فروخت کرنے والے پہول کو کانٹوںکے ساتہ فروخت کر تے ہیں اسی طرح خریدار بہی پہول کو کانٹوں سمیت خرید تا ہے اسی طرح جو نیک افراد کی خدمت میں حاضر ہو وہ ان پر پڑنے والے تابناک انوار سے بہی بہرہ مند ہو تا ہے ۔
اسی لئے زیارت کے بعد پڑہی جانے والی دعامیں امام کی خدمت میں عرض کر تے ہیں کہ اے ولی خدا ! مجہے اپنی زیارت سے اپنے خالص زوار وں میں سے قرار دے ۔
نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹہنا ایک ایسے نسخہ کیمیا کی مانند ہے کہ جو اولیاء خدا کے اطراف بدن میں موجود ہو تا ہے کہ جو ان کے ہمراہ اور ان کی صحبت میں بیٹہنے والے شخص میں موجود ضعف کو ختم کرکے اسے شہامت و ا چہائی عطا کر تے ہیں اسے بال و پر عطا کر تے ہیں تاکہ وہ معنویت کی بیکراں فضا میں پرواز کر سکے اور عالم معنی کی لذّتوں سے مستفید ہو ۔
انسان ایک دوسرے کی صحبت اور ہمنشینی سے ایک دوسرے پر مثبت و منفی اثرات مرتب کر تا ہے انسان کی نفسیات اور اعتقا دات مختلف ہو تے ہیں جس کی وجہ سے ان میں کیفیت کے لحاظ سے بہت تفاوت ہو تا ہے ۔ اسی طرح ان افراد میں ایک دوسرے پر اثر گزاری کی مقدار و کمیت کے لحاظ سے بہی درجات کا اختلاف ہو تا ہے ۔
افراد کی ایک دوسرے سے مصاحبت ، ہمنشینی اور رفاقت سے افراد کی فکری اور اعتقادی خصوصیات ایک دوسرے کی طرف منتقل ہو تی ہیں ۔
عام طور پر صاحب یقین افراد دوسروں پر زیادہ اثر چہوڑ تے ہیں کیو نکہ یہ ارادہ و نفوذ رکہتے ہیں لہذا یہ اپنی فکری اور اعتقادی خصوصیات دوسروں میں ایجاد کر تے ہیں یا انہیں تقویت دیتے ہیں ۔ معنوی افراد کی صحبت ، صرف مقابل کی فکری خصو صیات میں تحول ایجاد کر تا ہے اور غیر سالم اور غلط افکار کو صحیح اعتقادات میں تبدیل کر تا ہے لیکن یہ ایک قانون کلی ہے کیو نکہ جس طرح دین ایک آگاہ و عالم شخصیت کو دستور دیتا ہے کہ جاہل اور نا آگاہ افراد میں جا کر انہیں دین و مذہب کی طرف لائیں اور انہیں تشیع کے حیات بخش دستورات سے آشنا کروا ئیں ۔ اسی طرح وہ دستور و حکم دیتا ہے کہ پست اور منحرف افراد سے ہمنشینی سے دور رہو کہ جب ان کے ساتہ آمد و رفت تم پر اثر انداز ہو ۔
یہ تشخیص دینا عالم اور با خبر شخص کی ذمہ داری ہے کہ جاہل افراد کی ہمنشینی کس حد تک منفی یا مثبت اثرات رکہتی ہے ؟ کیا وہ دوسروں میں نفوذ کر تا ہے اور ان افکار و عقائد کو کمال کی طر ف لے جارہا ہے یا ان کی نفسیات اس پر مسلط ہو چکی ہے اور ان کی صحبت اس پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہے؟ کیا وہ دوسروں پر اثر انداز ہو رہا ہے یا دوسرے اس پر اثر انداز ہو رہے ہیں ؟
لہذا اہل علم کا یہ وظیفہ و ذمہ داری ہے کہ وہ لو گوں کو تبلیغ کریں اور اپنے روحانی و نفسانی حالات کی جانب بہی متوجہ رہیں تاکہ دوسروں کے تحت تاثیر قرار نہ پائیں ۔
ہم جلد ایسے افراد کے بارے میں بحث کریں گے کہ جن کی صحبت انسان کی علمی و عملی ترقی کے لئے نقصان دہ ہے اب ہم نمونہ کے طور پر چند ایسے افراد کا ذکر کر تے ہیں کہ جن کی صحبت اور ہمنشینی معنوی سیر اور پرواز کا باعث ہے :
ان افراد کی صحبت اور ہمنشینی کے بہت زیادہ آثار اور فوائد ہیں مخصوصا اگر انسان ان کے لئے خاص احترام و محبت کا قائل ہو ۔
پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں :
'' لا تجلسوا عند کلّ عالمٍ الاَّ عالم یدعوکم الی الاخلاص '' (1)
ہر عالم کے پاس نہ بیٹہو مگر اس عالم کے پاس کہ جو تمہیں ریا سے روکے اور اخلاص کی طرف لے کر جائے ۔
جو آپ کوصحیح راستہ کی طرف لے جا کر اللہ کی طرف دعوت دے اس کی رہنمائی اور گفتار کا ہدف اپنی طرف دعوت دینا نہیں ہے ۔ ایسے ربانی علماء کی صحبت آپ پر اثر انداز ہو گی اور آپ کو اہل بیت کے نورانی معارف سے آشنا کر ے گی وہ تمہارے دل کو خاندان وحی کی محبت سے پیوند لگا دیں گے اور تمہیں منافقین تاریخ کی کالی کر توتوں سے آگاہ کر کے تمہارے دلوں میں ان کے لئے نفرت کو زیادہ کریں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]بحار الانوار:ج 1 ص5 20۔
پیغمبر اکرم(ص) اپنے ارشادات میں مجالست و مصاحبت کے مورد میں اپنے محبوں اور دوستوں کی رہنمائی فرماتے ہیں اور انہیں تاکید فرماتے ہیں کہ پر ہیز گار اورمو من افراد میں سے اپنے ہمنشینی منتخب کریں اور بے ہدف اور دنیا پرست افراد کی صحبت سے پر ہیز کریں ۔ آپ نے اپنے ایک مفصل ارشاد میں عبد اللہ بن مسعود سے یوں فرمایا :
'' یابن مسعود فلیکن جلساؤک الا برار واخوانک الا تقیاء والزّهاد ، لانّ اللّٰ هتعالیٰ قال فی کتاب ه: الاخلاَّئ یو مئذٍ بعضهم لبعضٍ عدوّ والاَّ المتّقین ''(1)
اے ابن مسعود ، تمہارے ہمنشین نیک افراد ہوں او ر تمہارے بہائی متقی اور زاہد ہوں کیو نکہ خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : آج کے دن صاحبان تقویٰ کے علاوہ تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجا ئیں گے ۔
رسول اکرم(ص) نے جناب ابوذر کو کی گئی وصیت میں ارشاد فرمایا :
'' یا اباذر لا تصاحب الاَّ مومناً '' (2)
اے ابوذر ! اپنے لئے کسی مصاحب کو منتخب نہ کرو ، مگر یہ کہ وہ مومن ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ زخرف ، آ یت 67 ، بحار الا نوار:ج 77ص 2 10
[2]۔ بحار الانوار:ج 77ص 86
کیو نکہ زندگی کا لطف ، اولیاء خدا اور نیک لو گوں کی صحبت میں ہے حضرت امیر المومنین اپنے ایک حیات بخش فرمان میں رسول(ص) سے فرماتے ہیں :
'' هل احبّ الحیاة الاَّ بخدمتک والتّصرّف بین امرک و نهیک ولمحبّة اولیائک ''(1)
کیا زندگی کو دوست رکہتا ہوں مگر آپ کی خدمت ، آپ کے امر و نہی کی اطاعت اور آپ نے اولیا ء و محبین سے محبت کے لئے ؟
دنیا کی ارزش و اہمیت صرف اولیاء خدا ور نیک و خود ساختہ افراد کی وجہ سے ہے ورنہ زندگی صرف رنج و غم کا نام ہے جیسا کہ حضرت امیر المومنین کی نظر میں دنیا کی کوئی ارزش و واقعیت نہیں ہے زندگی میں کچہ بے ارزش ، رنج آور اور نا راحت کرنے والے و اقعات ہو تے ہیں لہذا صرف اولیاء خدا کا وجود ہی خدا کے بندوں کے لئے دنیا میں زندگی گزار نے کا سبب ہے نہ کہ دنیا کی زرق برق رونقیں اس بناء پر خدا کے بندوں کے لئے جو چیز دنیا میں زندگی بسر کرنے کو شیریں بنا تی ہے وہ اولیاء خدا اور نیک لوگوں کا وجود ہے کہ جن کی صحبت انسان کے دل میں یاد خدا اور اہل بیت کو زندہ کرتی ہے یہ چیز ان شخصیات کے لئے دنیا میں زند گی گزار نے کے لئے شیرینی ، مسرت و فرحت کا باعث ہے کہ جنہوں نے دنیا کو فروخت کر دیا ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[3]۔ بحا ر الانوار:ج 19ص 81
ان دو قسم کے افراد کے درمیاں فرق کو مد نظر رکہیں کہ جن میں سے بعض کا ہدف اپنے نام چمکانا ہوتا ہےاور کچہ کا ہدف اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے نام کی نشر و اشاعت کے علاوہ کچہ نہ ہو ، انہیں ایک دوسرے سے تشخیص دیں ۔ افراد کی پہچان اور ان کو آزمانے سے پہلے ان پر اطمینان ہلا کت وگمراہی یا توقف کا باعث بن سکتا ہے ۔ حضرت جواد الائمہ امام تقی (ع) فرما تے ہیں :
'' من انقاد الیٰ الطّمانینة قبل الحبرة ، فقد عرض نفسه للهلکة و لعاقبة المتعبة ''(1)
جو کسی کو آزمانے سے پہلے ان پر اطمینان کرے وہ اپنے نفس کو ہلا کت میں ڈالتا ہے جس کا انجام بہت سخت ہو گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحار الا نوار :ج71 ص 40 3
اکثر دہو کا کہانے والے یا پہر آسمان سے گرنے اور کہجور پر اٹہکنے کے مصداق وہ افراد ہیںجوحسن ظن ، جلدی فریفتہ ہو نے والے اور تحقیق کے بغیر اطمینان کر نے کی وجہ سے دہو کا دینے والوں کے چکر میں پہنس جاتے ہیں ۔ اگر وہ مکتب اہل بیت کی پیروی کرتے ہوئے کسی سے دل لگی اور محبت سےپہلے ان کو آزمالیں تو وہ کبہی بہی ہلاکت اور گمراہی میں مبتلا نہ ہوں ۔
اسی وجہ سے ہمیں اپنے دوستوں اور ہمنشین افراد کو پہچا ننا چاہیئے ۔ ان کی کامل پہچان کے بعد ان پر اطمینان و اعتماد کریں اور یہ صحیح و کامل شناخت انہیں آزمانے کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے ۔
حضرت امیر المو منین (ع) فرماتے ہیں :
'' یعرف النّاس بالا ختیار '' (1)
لوگوں کو امتحان اور آزمائش کے ذریعہ پہچانو ۔
پس کیوں سب پر بہروسہ کریں؟ کیوں کسی بہی قسم کے افراد کے ساتہ ہمنشینی و رفاقت کے لئے تیار ہو جائیں ؟ ہمیں اپنی زند گی کا برنامہ اہل بیت کے ہدایت کر نے والے ارشا دات کے مطابق قراردیں اور ان کے فرامین پر عمل پیرا ہو کر اپنے مستقبل کو درخشاں بنا ئیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ اصول کافی :ج۱ ص30
خاندان وحی علیہم السلام نے ہمیں اپنے فرامین میں لوگوں کے چند گروہوں کی صحبت و دوستی سے پر ہیز کرنے کا حکم دیا ہے
جو معا شرے میں اپنا مقام و مرتبہ اور شخصیت بنانا چاہتے ہیں وہ اپنے اطرافی اور دوستوں کی شناخت کی سعی و کوشش کریں کہ ان کا ماضی اور اس پر لوگوں کے اعتبار کو مد نظر رکہیں ۔ انجان دوست ، یاجو لوگوں میں اچہی صفات سے نہ پہچا نا جا تا ہو ، وہ نہ صرف مشکل میں انسان کی پشت پنا ہی نہیں کرے گا بلکہ اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا ۔
حضرت امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں :
'' واحذر صحابة من یفیل رایه و ینکر عمله فانّ الصّاحب معتبر بصاحبه ''(1)
کمزور و ضعیف الرأی شخص کی ہمنشینی اور صحبت اختیار نہ کرنا کہ جس کے اعمال نا پسند یدہ ہوں کیو نکہ ساتہی کا قیاس اس کے ساتہی پر کیا جا تاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ نہج البلاغہ مکتوب: 69
کیو نکہ لوگ ظاہر کو دیکہ کر قضاوت کر تے ہیں ۔ ہمیشہ انسان کی اہمیت اس کے دوستوں کی اہمیت کے مانند ہو تی ہے ۔لہذا معاشرے میں بے ارزش اور ضعیف الرأی افراد کی دوستی سے دور رہیں تا کہ ان کے منفی روحانی حالات سے محفوظ رہیں ۔ نیز اجتماعی و معاشرتی لحا ظ سے بہی ا ن کے ہم ردیف شمار نہ ہوں ۔
یہ کائنات کے ہادی و رہنما حضرت امیر المو منین علی کی را ہنمائی ہے جس سے درس لے کر اور زندگی کے برنامہ میں اس پر عمل پیرا ہو کر آپ اپنے آئندہ کو درخشاں بنا سکتے ہیں ۔ اپنے روزانہ کے برنامہ و اعمال اور رفتار کو تشیع کے غنی ترین مکتب کی بنیاد پر قرار دیں تا کہ ابدی سعادت حاصل کر سکیں۔
ملاحظہ فرمائیں کہ سید عزیز اللہ تہرانی کس طرح چہوٹی فکر والے افراد سے کنارہ کش ہو کر عظیم معنوی فیض تک پہنچ گئے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نجف اشرف میں شرعی ریاضتوں مثلا نماز ، روزہ اور دعاؤں میں مشغول رہتا اور ایک لمحہ کے لئے بہی اس سے غافل نہ ہوتا ۔ جب عید الفطر کی مخصوص زیارت کے لئے کربلا مشرف ہوا تو میں مدرسہ صدر میں ایک دوست کا مہمان تہا ۔ بیشتر اوقات حرم مطہر حضرت سید الشہداء امام حسین (ع)میں مشرف ہو تا اور کبہی آرام و استراحت کی غرض سے مدرسہ چلاجاتا ۔
ایک دن کمرے میں داخل ہوا تو وہاں چند دوست جمع تہے اور واپس نجف جانے کی باتیں ہو رہی تہیں ، انہوں نے مجہ سے پوچہا کہ آپ کب واپس جائیں گے ؟ میں نے کہا کہ آپ چلے جائیں میں اس سال خانہ خدا کی زیارت کا قصد رکہتا ہوں اور محبوب کی زیارت کے لئے پیدل جاؤں گا ۔ میں نے حضرت سید الشہداء (ع)کے قبہ کے نیچے دعا کی ہے اور مجہے امید ہے کہ میری دعا مستجاب ہو گی ۔
میرے دوست مجہے مذاق کر رہے تہے اور کہہ رہے تہے کہ سید ایسا لگتا ہے کہ عبادت و ریاضت کی کثرت سے تمہارا دماغ خشک ہو گیاہے ۔ تم کس طرح توشہ راہ کے بغیر بیابانوں میں ضعف مزاج کے ساتہ پیدل سفر کر سکتے ہو ۔ تم پہلی منزل پر ہی رہ جاؤ گے اور بادیہ نشین عربوں کے چنگل میں گرفتار ہو جاؤگے ۔
جب ان کی سر زنش حد سے بڑہ گئی تو میں غصہ کے عالم میں کمرے سے باہر چلا آیا اور شکستہ دل اور پر نم آنکہوں کے ساتہ حرم کی طرف روانہ ہو گیا کسی چیز کی طرف توجہ نہیں کر رہا تہا ۔ حرم میں مختصر زیارت کی اور بالا سر حرم مطہر کی جانب متوجہ ہوا جس جگہ ہمیشہ نماز اور دعا پڑہتا وہاں بیٹہ کر گریہ و توسل کو جاری رکہا ۔
اچانک ایک دست ید اللّٰہی میرے کندہے پر آیا ، میں نے دست مبارک کی طرف دیکہا وہ عربی لباس میں ملبّس تہے ۔ لیکن مجہ سے فارسی زبان میں فرمایا کہ کیا تم پیا د ہ خانہ خدا کی زیارت سے مشرف ہونا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا ! جی ہاں ۔ انہوں نے فرمایا ! کچہ نان جو تمہارے ایک ہفتہ کے لئے کافی ہوں ؟ ایک آفتابہ اور احرام اپنے ساتہ لے کر فلاں دن فلاں وقت اسی جگہ حاضر ہو جاؤ اور زیارت و داع انجام دو تا کہ ایک ساتہ اس مقدس جگہ سے منزل مقصود کی طرف حرکت کریں ۔
میں ان کے حکم کی بجا آوری و اطاعت کا کہہ کر حرم سے باہر آیا ۔ کچہ گندم لی اور بعض رشتہ دار خواتین کو دی کہ میرے لئے نان تیار کر دیں ۔ میرے تمام دوست نجف واپس چلے گئے اور پہر وہ دن بہی آگیا ۔ اپنا سامان لے کر معین جگہ پہنچ گیا ، میں زیارت وداع میں مشغول تہا کہ میں نے ان بزرگوار سے ملاقات کی ، ہم حرم سے باہر آئے ، پہر صحن اور پہر شہر سے بہی خارج ہوگئے ۔ کچہ دیر چلتے رہے نہ تو انہوں نے مجہے اپنے شیرین سخن سے سر فراز فرمایا اور نہ ہی میں نے ہی ان سے بولنے کی جسارت کی کچہ دیر کے بعد پانی تک پہنچے ۔ انہوں نے فرمایا : یہاں آرام کرو۔ اپنا کہانا کہاؤ اور انہوں نے زمین پر ایک خط کہینچا اور فرمایا یہ خط قبلہ ہے نماز بجا لاؤ عصر کے وقت تمہارے پاس آؤں گا ۔ یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گئے میں وہیں ٹہہرا رہا ، کہا نا کہایا ، وضو کیا اور پہر نماز پڑہی ۔ عصر کے وقت وہ بزرگوار تشریف لائے اور فرمایا : اٹہو چلیں ، چند گہنٹے چلنے کے بعد پہر اک جگہ اور پانی تک پہنچے، انہوں نے پہر زمین پر خط کہینچا اور فرمایا
: کہ یہ خط قبلہ ہے رات یہیں ٹہہرو ،میں صبح آؤ ں گا اور انہوں نے مجہے کچہ ذکر تعلیم فرمائے ۔ یہاں تک کہ سات دن اسی طرح گزر گئے دوران سفر نہ تو مجہے کوئی تکلیف ہوئی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی تہکا وٹ ہوئی ۔
ساتویں صبح انہوں نے فرمایا : اس پانی میں میری طرح غسل کرو اور احرام باندہ لو اور جس طرح میں لبیک کہوں تم بہی کہو ۔میں نے تمام امور میں اس بزرگوار کی پیروی کی ۔پہر کچہ دیر چلنے کے بعد ایک پہاڑ کے پاس پہنچے میری سماعتوں سے کچہ آوازیں ٹکڑائیں ۔ میں نے عرض کی ! یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اس پہاڑ پر چڑہنے کے بعد تم ایک شہر کو دیکہو گے ، اس شہر میں داخل ہو جاؤ پہر وہ مجہ سے جدا ہو گئے میں آگے بڑہا اور تنہا پہاڑ سے اتر کر ایک بڑے شہر میں داخل ہو گیا ۔
وہاں لوگوں سے پوچہا کہ یہ کون سی جگہ ہے ؟
انہوں نے کہا : مکہ اور وہ بیت اللہ الحرام ہے ۔
اس وقت میں اپنی حالت سے آگاہ ہوا ۔ میں جان گیا کہ میرا بخت بیدار تہا لیکن میں خواب غفلت میں تہا ۔ مجہے بہت افسوس ہو اکہ میں نے اس مدت میں ان بزرگوار کو کیوں نہیں پہچا نا اس وقت پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں تہا پشیمان ہوا اور عقل کو اپنے جہل کی وجہ سے شکوہ کیا۔(1)
مر حوم سید عزیز اللہ تہرانی کے اس واقعہ پر دقت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں حاصل ہونے والی عظیم زیارت معنوی مسائل میں چہوٹی سوچ رکہنے والے دوستوں سے کنارہ کشی کر نے کی وجہ سے نصیب ہوئی ۔ اگر وہ ان دوستوں کے وسوسوں اور باتوں میں آجاتے تو کبہی بہی اس عظیم زیارت سے مشرف نہ ہوتے ۔ ان کی انجام دی گئی ریاضت و زحمات نے چہوٹی فکر رکہنے والے دوستوں سے کنارہ کشی کے لئے آمادہ کیا اور اس کو اما م زمان ارواحنا لہ فداہ کی زیارت اور ان کی ملاقات نصیب ہوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ معجزات وکرامات آئمہ اطہار علیہم السلام: 0 11
جب دین کے دشمنوں سے مبارزہ اور بر سر پیکار ہونے کا امکان نہ ہو تو منفی مبارزہ سے مدد لیں آپ منفی مبارزہ کے ذریعہ دشمنان دین کو نقصان پہنچا سکتے ہیں انہیں ان کے مذموم مقاصد تک پہنچنے سے روک سکتے ہیں ان سے بے اعتنائی ، کنارہ کشی اور ان سے صحبت نہ کرنا منفی مبارزہ کی ایک نوع شمار ہوتا ہے ۔ ایسا کرنا اگر ان کی شکست کا وسیلہ نہ ہو تو کم از کم ان کے شرّ سے ایک طرح کی حفاظت ہے ۔
امام صادق(ع) ایک روایت میں فرما تے ہیں :
'' لا تصحبوا اهل البدع ولا تجالسوهم فتصیروا عند النّاس کواحدٍ منهم ، قال رسول اللّٰه ، المرئ علیٰ دین خلیله و قرینه ''(1)
بدعت گزاروں سے صحبت نہ کرو اور ان کے ساتہ نہ بیٹہو ۔ کیو نکہ ان کی مصاحبت و مجالست سے تم بہی لوگوں کی نظروں میں ان ہی میں سے ایک شمار ہوگے ۔ پہر انہوں نے فرمایا : رسول اکرم(ص) نے فرمایا : انسان اپنے دوست اور نزدیکی فرد کے دین پر ہو تا ہے ۔
اس بناء پر ان لوگوں کی صحبت سے پر ہیز کر نا اور ان سے دوری سے انسان بد نامی کے خطرےسے اور تاثیر فکری کے لحاظ سے بہی امان میں ہو تا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ اصول کافی :ج2 ص 75 3
خواہش پرست دوستوں کی ہمنشینی اور ایسے افراد کی کہ جنہیں اصلاً عالم معنی و آخرت سے کوئی سرو کار نہ ہو ، مو من افراد کے دلوں سے ایمان کو نکالنے اور گمرا ہ کرنے والے شیاطین کے حضور کا باعث بنتے ہیں ۔ ہوا و ہوس پرست جو مجلس تشکیل دیتے ہیں اور جب وہ ایک دوسرے کے ساتہ مل کر بیٹہتے ہیں تو یہ حق و حقیقت کو نابود کرنے کی ایک چال ہوتی ہے ابتداء اسلام سے اہل بیت کے دشمنوں نے ایسی مجالس اور اجتماعات تشکیل دے کر اپنے شیطانی اور مذموم مقاصد حاصل کئے ۔
کائنات کے پہلے مظلوم حضرت امیر المومنین (ع) ایسے اجتماعات کو شیاطین کی مجمع گاہ قرار دیتے ہیں اور نہج البلاغہ میں اس حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں :
'' مجالسة اهل الهوٰی منسأة للایمان و محضرة للشّیطان''(1)
خواہش پرستوں کی ہمنشینی ایمان والی ہے اور شیاطین کو ہمیشہ سامنے لانے والی ہے ۔
حضرت امیر المو منین (ع) خدا کے بہترین بندوں کی صفات میں سے ایک ہوس پرست لوگوں سے دوری کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :'' احبّ عباد اللّٰه الیه عبداً...خرج من صفة العمیٰ و مشارکة اهل الهوٰی ''(2)
خدا کے نزدیک اس کے محبوب ترین بندے وہ ہیں کہ جو کور دلی کو چہوڑ کر ہو ا وہوس پرست لوگوں کے ساتہ شرکت کرنے سے گریز کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ نہج البلاغہ خطبہ: 86
[2]۔ نہج البلاغہ خطبہ: 86
اہل فسق و فجور کے ساتہ اٹہنا ، بیٹہنا اور ان کے ساتہ انس نہ صرف عام لوگوں کی زندگی پر اثر انداز ہو تا ہے بلکہ کبہی یہ معاشرے کے نیک افراد کے کردار و رفتار پر منفی اثرات مرتب کر تا ہے ۔ ان سے نیک صفات سلب کر کے انہیں معاشرے کے شریر افراد کے ردیف میں قرار دیتا ہے ۔
حضرت امیر المو منین (ع) فرماتے ہیں :
'' مجالسة الابرار للفجّار تلحق الا برار بالفجّار '' (1)
نیک افراد کا اہل فسق و فجور سے ہمنشینی ، انہیں فجار کے ساتہ ملحق کر دیتا ہے۔
دوسری روایت میں فرماتے ہیں :
'' ایّاک و مصاحبة الفسّاق '' (2)
فساق افراد کی مصاحبت سے پر ہیز کرو ۔
یہ خاندان عصمت و طہارت کے فرامین و ارشادات کے کچہ نمونے ہیں کہ جو تمام انسانوں کی ہدایت کا سبب فراہم کر تے ہیں ۔اس بناء پر جو لوگ حقیقت کی جستجو میں ہو اور عالی مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں ہوں ، وہ ایسے افراد کی دوستی سے گریز کریں کہ جن کا ہدف و مقصد صرف مادیات تک پہنچنا ہو اور جوذکر اللہ اور یاد خدا سے غافل ہوں کیونکہ جن کا مقصد صرف دنیا کی زندگی ہو اور جو آخرت کے بارے میں فکر نہ کرتے ہوں ، وہ دوستی و رفاقت کی صلاحیت نہیں رکہتے ۔ خدا وند تعالیٰ قر آن مجید میں ارشاد فرما تاہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔بحار الانوار:ج۷۴ص۱۹۷
[2]۔ شرح غرر الحکم:ج 2 ص 28۹
'' فَأعرض عَن مَن تَوَلّٰی عَن ذکرنَا وَلَم یرد الاَّ الحَیَاةَ اَلدّنیَا '' (1)
لہذا جو شخص بہی ہمارے ذکر سے منہ پہیرے اور زند گانی دنیا کے علاوہ کچہ نہ چاہے ، آپ بہی اس سے کنارہ کش ہو جائیں ۔
کیو نکہ اس گروہ کا ہدف صرف مال و دولت اور مادی دنیا سے استفادہ کرنا ہے وہ جتنا مال بہی جمع کر لیں ان کی ہوس میں اضافہ ہو تا رہتا ہے ۔ گویا وہ قارون کے خزانے کی تلاش میں ہیں قرآن اس واقعیت و حقیقت کی یوں تصریح کر تا ہے :
'' قَالَ اَلَّذینَ یریدونَ اَلحَیَاةَ اَلدّنیَا یَا لَیتَ لَنَا مثلَ مَااوتیَ قَارون انّه لَذوحَظٍّ عَظیمٍ''(2)
جن لوگوں کے دل میں زندگانی دنیا کی خواہش تہی ، انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ کاش ہمارے پاس بہی یہ ساز و سامان ہو تا ، جو قارون کو دیا گیا ہے ۔ یہ تو بڑے عظیم حصہ کا ملک ہے۔
اگر فرض کریں کہ ایسے افراد کو قارون کا خزانہ بہی مل جائے تویہ پہر بہی بیشتر ثروت و قدرت کی جستجو کریں گے کیا ایسے خواہش پرست لوگوں کی دوستی صحبت انسان کو خدا سے نزدیک کر تی ہے یا فانی دنیا کی طرف لے جا تی ہے ؟
ایسے ا فراد اس ننگی اور تیز تلوار کی طرح ہیں کہ جو انسان کے پیکر وبدن سے اس کی جان کو نکال دے ، اسی طرح یہ افراد بہی اپنے ہمنشینوں کی اہمیت اور ارزش کو ختم کر دیتے ہیں ۔
حضرت امام جواد(ع) فرما تے ہیں : '' ایّاک ومصاحبة الشریر فانّه کالسّیف الملول یحسن منظره و یقبح اثره ''(3)
شریر لوگوں کی صحبت و ہمنشینی سے پر ہیز کرو کیو نکہ وہ اس ننگی تلوار کی مانند ہے کہ جو ظاہراً اچہی ہے ، لیکن اس کا اثر قبیح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ نجم آیت: 9 2
[2]۔ سورہ قصص آیت: 79
[3]۔ بحار الا نوار :ج78 ص 64 3
با بدان کم نشین کہ بد مانی خو پذیر است نفس انسانی
من ندیدم سلامتی زخسان گر تو دیدی سلام ما برسان
یعنی برے لوگوں کے ساتہ مت بیٹہو، کیونکہ انسان کا نفس دوسروں کے اثرات کو قبول کرتا ہے۔ میں نے برے اور کمینہ صفت افراد کے ساتہ بیٹہنے میں کوئی اچہائی اور فائدہ نہیں دیکہا اگر تم نے ایسا کوئی فائدہ دیکہا ہو تو اس تک ہمارا سلام پہنچانا۔
جس طرح اولیاء خدا اور بزرگان کی صحبت انسان کی عقل و فہم کی دلیل ہے ۔ اسی طرح اشرار کی صحبت اس کے بر عکس ہے ۔
حضرت امیر المو منین (ع) فرماتے ہیں :
'' لیس من خالط الا شرار بذی معقول '' (1)
اشرار افراد کی صحبت و ہمنشینی میں بیٹہنے وا لا صاحب عقل اور معقول فرد نہیں ہے۔
کیو نکہ شریر افراد کی ہمنشینی زندگی کی ارزشوں کو ویران کر دیتی ہے اور انسان کو اولیاء خدا کی نسبت سے بد گمان کر نے کا باعث بنتی ہے ۔
مہذب ، نیک اور صالح افراد کے بار ے میں حسن ظن گمراہ و شریر افراد کی صحبت کی وجہ سے ان افراد کے بار ے میں سو ء ظن میں تبدیل ہو جا تا ہے ۔ اس واقعیت کو حضرت امیر المو منین (ع) یوں بیان فرماتے ہیں :
'' صحبة الا شرار تورث سوء الظنّ با لا خیار '' (2) شریر افراد کی صحبت ، اہل خیر افراد کے بارے میں سوء ظن کا باعث بنتا ہے ۔
کیو نکہ نہ صرف ان کے پاس تنہا رہنا اور ان سے ملا قات منفی اثرات رکہتی ہے بلکہ ان کی زہر آلود باتیں اور مسموم افکار بہی گمراہی و ضلالت کا سبب بنتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[9]۔ شرح غررالحکم :ج5 ص 86
[10]۔ بحار الانوار: ج78 ص 2
بہت سے افراد گمراہ اور کثیر الشک افراد کی ہمنشینی اور دوستی کی وجہ سے واضح مسائل میں بہی مشکل میں دچار ہو جاتے ہیں یہ روایت امام صادق (ع) سے منسوب ہے کہ آپ نے فرمایا :
'' لاتجالس من یشکل علیه الواضح '' (1) جس کے لئے واضح امر بھی مشکل ہو ، اس سے مجالست و مصاحبت نہ کروایسے افراد میں دین کے بارے میں بہت کم اطلاعات کی وجہ سے شیطانی وسوسے رسوخ کرجاتے ہیں اور وہ اسے اپنے دوستوں اور ہمنشینوں میں القاء کر تے ہیں انکے دوست بھی کمزور اعتقاد کی وجہ سے ایسے شبہات کو قبول کر تے ہیں جس کے نتیجہ میں پاک لیکن سادہ لوح افراد شکاک افراد کی دوستی اور ہمنشینی کی وجہ سے ان ہی کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں ۔
حضرت امام صادق (ع) فرماتے ہیں :'' من جالس اهل الریب فهو مریب '' (2) جو اہل شک کی صحبت میں بیٹھے وہ بھی شک میں مبتلا ہو جائے گا ۔
گویند زمرگ سخت تر چیزی نیست باور منما کہ ہست ، گویم بہ تو چیست
با مردم بد سر شت محشور شدن سخت است ز صد ہزار مرد ن و زیست
یعنی کہا جاتا ہے کہ کوئی چیز موت سے بڑہ کر اذیت ناک اور تکلیف دہ نہیں ہے مگر اس بات کا یقین نہ کرومیں بتاتا ہو کہ اس سے بہی زیادہ تکلیف دہ چیز کون سی ہے؟ برے لوگوں کی صحبت میں بیٹہناہزار بار مرنے سے بہی زیادہ اذیت ناک اور تکلیف دہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحار الا نوار:ج 70ص 307
[2]۔ بحار الانوار:ج 74ص 97 1
خوبیوں کو جذب کرنے کے لئے بزرگ ، نیک و صالح افراد کی صحبت اختیار کرو ۔ اس کے بہت سے مثبت اثرات ہیں ۔ ایسے افراد کی صحبت سے استفادہ کریں اور اپنی روحانی قوت کو مزید قوی بنائیں خد ا اور آل رسول اللہ کی طرف دعوت دینے والی بزرگ شخصیات کی صحبت و مجالست روح کی بالیدگی وبلندی اور معنوی قوت کی افزائش کا باعث ہے ۔ یہ ایک ایسی عظیم حقیقت ہے کہ جسے ہم نے مکتب اہل بیت سے سیکہا ہے ۔ اس بناء پر اس سے غافل نہ رہیں اور بزرگان دین کے محضر میں بیٹہ کر ان کے دستورا ت اور ارشادات اور ان کی رہنمائی سے اپنے قلبی اعتقادات کو محکم بنائیں اور انہیں اپنے دل کی گہرائیوں میں بسالیں ۔
چہوٹی فکر ، شکّاک ، خواہش پرست اور گمراہ افراد کی صحبت سے بچو تا کہ آپ کا اعتقاد ی سر مایہ تاراج نہ ہو جائے اور شیاطین ، جن و انس کے شر سے محفوظ رہیں ۔ جب آپ افراد سے ہمنشینی و صحبت کی شرائط کی رعایت کریں گے تو آپ عالی مقاصد کی طرف اپنی راہ ہموار کر سکیں گے ۔
با بدان کم نشین کہ صحبت بد گر چہ پاکی ، تو را پلید کند
آفتابی بہ این بزرگی را پارہ ای ابر نا پدید کند
یعنی برے لوگوں کی صحبت میں مت بیٹہوان کی بری صحبت تمہاری اچہائیوں پر اثر انداز ہو کر انہیں ختم کر دے گی،جیسا کہ اتنے بڑے سورج کو بادل کا چہوٹاسا ٹکڑا چہپا دیتا ہے۔
آٹھواں باب
تجربہ
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' من عنی عن التجارب عمی عن العواقب ''
جو تجربات سے مستفید ہو وہ کبہی بہی امور کے نتائج پر پشیمان نہیں ہو گا ۔
روحانی تکامل کے لئے تجربہ کی ضرورت
تجربہ اور سر پرستی وحکومت
علمی و صنعتی مسائل میں تجربہ
تجربہ عقل کی افزائش کا باعث
تجربہ ، فریب سے نجات کا ذریعہ
مشکلات میں دوستوں کو پہچاننا
تجربہ سے سبق سیکہیں
دوسروں کے تجربات سے استفادہ کریں
دوسروں کے تجربہ سے استفادہ کرنے کا طریقہ
تجربات فراموش نہ کریں
نتیجہ ٔ بحث
نہ صرف تحصیل علم و دانش اور اعلیٰ علمی مقامات تک پہنچنے اور نہ ہی معنوی و روحی مراتب کے حصول بلکہ ہر قسم کے ہدف تک پہنچنے کے لئے تجربہ کی ضرورت ہے کہ جن تک پہنچنا مشکل ہو ۔
اس بارے میں حضرت امیر المو منین (ع) فرماتے ہیں :
'' کلّ معونة تحتاج الی التجارب '' (1)
ہر مشکل امر تجربہ سے مدد لینے کا محتاج ہے۔
جو انسان بلند مقامات و اہداف تک پہنچنے کی جستجو میں ہو وہ مختلف شخصیات اور ایسے لوگوں کے تجربات سے استفادہ کریں کہ جو اس مقام تک پہنچ چکے ہوں تا کہ جلد اپنے مقصد تک پہنچ سکیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحار الا نوار:ج 7ص8 6
عدالت کے پیکر اور تاریخ کی مظلوم ترین شخصیت امیر المو منین(ع) سر پرستوں اور حکمرانوں کے تجربہ کو لازمی شرائط میں سے قرار دیتے ہیں حضرت امیر المومنین (ع) ، حضرت مالک اشتر کو اپنے ولایت نامہ (جس میں تمام ملتوں اور نسلوں میں عدالت کو قائم کرنے کی راہنمائی موجود ہے ) میں یوں فرماتے ہیں :
'' ثمّ انظر فی امور عمّالک فاستعملهم اختباراً ، ولا تولّهم محاباة و اثرة ، فانّهما جماع من شعبٍ الجور والجیانة و توّخ منهم اهل التجربة والحیاء من اهل البیو تات الصالحة ''(1)
اس کے بعد اپنے عاملوں کے معاملات پر نگاہ رکہنا اور انہیں امتحان کے بعد کام سپرد کرنا اور خبردار انہیں تعلقات یا جانبداری کی بناء پر عہدہ نہ دے دینا کیو نکہ یہ باتیں ظلم اور خیانت کے اثرات میں شامل ہو تی ہیں ان میں بہی مخلص تجربہ کار اور غیر ت مند اور جوا چہے گہرانے کے افراد تلاش کرنا ۔
اس فرمان میں مولائے کائنات علی کسی کام میں سر پرستی کے لائق ہونے کے لئے چند امور کو شرط سمجہتے ہیں ۔ وہ غیرت مند و صاحب حیاء ہونے کے علاوہ اس کام میں تجربہ رکہتا ہو کہ جو اسے سونپا جائے تا کہ اپنے تجربہ سے استفادہ کرتے ہو ان کا موں کو اچہے طریقے سے انجام دے اور ان سے عہد بر آہو سکے اور احسن طریقہ سے اپنی ذمہ داری کو نبہا سکے حضرت امیر المو منین نے اپنے فرمان میں افراد کے انتخاقب میں حیا اور تجربہ کو اس لئے شرط قرار دیا ہے کہ کوئی ناخوش گوار و نا شائستہ واقعہ در پیش نہ آئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ نہج البلاغہ مکتوبات:۵۳
تجربہ نہ صرف مملکتی امور میں بلکہ علم و دانش اور علمی مسائل میں بہی مؤثر نقش رکہتا ہے اسی وجہ سے جابربن حیّان علمی مقامات تک پہنچنے کے لئے تجربہ کو اہم شرط سمجہتے ہیں ۔ انہوں نے آج کے دور میں رائج لفظ تجربہ کی بجائے ، لفظ تدبیر کو استعمال کیا ان کے نزدیک ایک حقیقی دانش مند کی ا ساسی شرط تدبّر ہے ۔
وہ کہتے ہیں کہ حقیقی اور واقعی دانش مند وہ ہے کہ جو تجربہ سے استفادہ کرے اور جو اس روش کو استعمال میں نہ لائے اسے دانشمند نہیں سمجہا جا سکتا ۔ ہر علوم و صنا ئع میں تجربہ کی اہمیت کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ جو صنعتگر اپنے کام میں تجربے سے استفادہ کر تا ہے اس کی مہارت میں روز بروز اضافہ ہو تا چلا جاتاہے لیکن جو تجربے کو استعمال میں نہ لائے وہ اسی طرح راکدہی رہتا ہے ۔
تجربہ سے نہ صرف انسان کی علمی قوت و مہارت کو بڑہ جاتی ہے بلکہ یہ انسان کی عقلی قدرت کو بہی بڑہاتا ہے ۔حضرت امیر المو منین انسان کے لئے ذا تی و طبیعی عقل کے علاوہ تجربی عقل کو اہم قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس طرح طبیعی عقل سے استفادہ کر سکتے ہیں ، اسی طرح تجربی عقل سے بہی بہت سے فوائد لے سکتے ہیں ۔ حضرت امیر المو منین علی (ع) فرماتے ہیں :
'' العقل عقلان : عقل الطبع عقل التجربة ، وکلا هما یؤدی الی المنفعة ، وا لمو ثوق به صاحب العقل والدین ''(1)
کی دو قسمیں ہیں :
1 : عقل طبیعی
2 : عقل تجربی
عقل کی یہ دونوں قسمیں سود و منفعت کا سبب ہیں اور صاحب عقل و دین پر اعتماد و اطمینان کر نا چاہیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحار الا نوار:ج 78 ص 6
اس بناء پر جتنا انسان کا تجربہ بڑہتا جائے اتنا ہی اس کی عقل تجربی بہی بڑہتی ہے عقل و تکامل میں اضافہ کے لئے تجربے سے استفادہ کریں اور تجربہ حاصل کرنے اور حاصل شدہ تجربے کے مطابق عمل کو انجام دینے کے لئے تکامل عقلی سے استفادہ کریں ۔
گزشتہ روایت کے علاوہ حضرت امام حسین (ع) سے ایک اور روایت میں نقل ہے کہ آپ نے فرمایا:
'' طول التجارب زیادة فی العقل الشّرف و التقویٰ '' (1)
تجر بہ کے زیادہ ہونے سے انسان کی عقل و شرف اور تقویٰ میں بہی اضافہ ہو تا ہے ۔
ان ارشا دات کی بناء پر درک کر تے ہیں کہ اہم امور اورپروگرام کی مسؤلیت اپنے کندہوں پر لینے والاتجربہ کار ہونا چاہیئے تا کہ اس کے ذریعہ سے وہ عقل ذاتی کے علاوہ عقل تجربی سے بہی استفادہ کرسکے اور اپنی عملی قدرت کو افزائش دے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحار الا نوا:ج۸۷ ص 8 2 1
ایک اور نکتہ کہ جس کی جانب متوجہ رہیں کہ ہماری آج کی دنیا ، دنیا پرستوں ، فریبیوں سے بہری پڑی ہے وہ مختلف انداز سے سادہ لوح افراد کو اپنے جال میں پہانس کر فریب دیتے اور گمراہ کرتے ہیں .لہذا ہمیں اس بارے میں علم ہونا چاہیئے تا کہ پہر دوسروں کو بہی اس سے آگاہ کر یں ۔
ان کے فریب سے نجات کی ایک راہ تجربہ ہے ، ہم تجربہ کے ذریعہ ان افراد کو پہچانیں اور اس طرح ان کے فریب سے امان میں رہیں ۔
حضرت امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں :'' من لم تجرّب الا مور خدع ، و من صارع الحقّ صرع '' (1)
جو امور کے بارے میں تجربہ نہ کرے وہ فریب کہائے گا اور جو حق سے ٹکرائے گا حق اسے پچہاڑدے گا ۔
تجربہ انسان کو ہوشیار کر تا ہے اور انسان کی معلو مات و اطلا عات میں اضا فہ کر تا ہے تجربہ کار انسان نے دنیا دیکہی ہوتی ہے ، لہذا وہ مکار ، فریبی اور گمرا ہ کرنے والوں کے ہاتہوں فریب کہا نے سے محفوظ رہتا ہے ۔
تجربہ کے ذریعے انسان ، راہ اور چاہ میں فرق کر سکتا ہے سعادت صرف اس کی ہے کہ جو صحیح راستہ کو دقیقاً جانتا ہو اور اپنے کو تبا ہی سے بچا سکے شقا وت ایسے افراد کے عمل کا نتیجہ ہے کہ جو تجربات سے نہیں سیکہتے اور اپنے کو دوبارہ گزشتہ مسائل میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحا ر الا نوار:ج 77 ص 22 4
حقیقی دوستوں کو سختیوں اور تلخیوں میں پہچان سکتے ہیں اور ان کی صداقت کے میزان کو جان سکتے ہیں۔ اہل بیت علیہم السلام کو در پیش آنے والے مصائب و مشکلات اور اسی طرح امام زمان کی غیبت حقیقی اور واقعی شیعوں کوپہچا ننے کا اہم ذریعہ ہے کیو نکہ فقط سچے پیروکار ، اپنے رہبر وں کی شدید مشکلات میں بہی حمایت و پیروری کر تے ہیں اور تجربہ و امتحان میں سر فراز ہو تے ہیں ۔
اسی وجہ سے جب حضرت یوسف زندان سے آزاد ہوئے تو انہوں نے زندان میں لکہا :
'' هذا قبور الاحیاء و بیت الا حزان و تجربة الا صدقاء و شماتة الا عداء ''(1)
زندان ، زندوں کی قبور ، غموں کا گہر ، دوستوں کو آزمانے اور دشمنوں کو سر زنش کرنے کا وسیلہ ہے ۔
اس بناء پر مشکلات و مصائب جیسے بہی ہوں، ان کے ذریعے انسان دوستوں کو آزما سکتا ہے حقیقی دشمن وہ ہو تے ہیں کہ جنہوں نے دوستی کا لبادہ اوڑہا ہوا ہو لیکن سخت مشکلات میں دوست کو تنہا چہوڑدیں اور دشمن سے بڑہ کر نقصان پہچائیں مشکلات و تکالیف ایسے افراد کو پہچا ننے کا وسیلہ وذریعہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحار الا نوار :ج12 ص 4 9 2
ہماری زندگی میں اچہے برے ، تلخ اور شیرین تجربات ہماری زندگی کو بہتری کی جانب لے جاتے ہیں ۔ یہ ہمارے مستقبل کے لئے عبرت کے بہترین درس ہیں تاکہ ہم ان کے ذریعہ گزشتہ اشتبا ہات کو تکرار نہ کریں اور مستقبل میں مفید برنا موں سے مطلع ہو سکیں ۔ اگر ہم تجربہ سے سبق نہ سیکہیں تو پہر ہم کس بر نامہ سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں ؟
حضرت امیر المو منین (ع) فرما تے ہیں :
'' من لم ینفعه اللّٰه با لبلاء و التجارب لم ینتفع بشی ئٍ من العظة ''(1)
خدا جسے مصائب و مشکلات اور تجر بہ کے ذریعہ نفع نہ پہچائے وہ کسی بہی وعظ و نصیحت سے مستفید نہیں ہو سکتا ۔
اس بناء پر مشکلات ، مصیبتوں اور حاصل ہونے والے تجربے سے بہترین طور پر استفادہ کریں اور اپنے کو بہتر زند گی کے لئے آمادہ کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ نہج البلا غہ خطبہ: 75 1
تاریخ بہت سے عظیم واقعات کی شاہد ہے کہ تجر بے کے عنوان سے جن سے درس عبرت لیا جائے ماضی میں لوگوں کی اجتماعی یا انفرادی رفتار و کردار سے بر آمد ہونے والے اچہے یا برے نتائج سے استفادہ کریں کیو نکہ تجربے سے پند و نصیحت اور درس لینا فقط آپ کے انجام دیئے گئے اعمال سے مختص نہیں ہے بلکہ دوسروں کے تجربات سے بہی مستفید ہوسکتے ہیں ۔
کبہی بہت زیادہ مشکلات اور موانع انسان کو ہدف تک پہنچنے سے نا امید و ما یوس کر دیتے ہیں لیکن دوسروں کے تجربات سے استفادہ کر کے ان مشکلات و موانع کو برطرف طرف کر کے نا امید ی کو امید میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔
یہ ان بزرگ اور عمر رسیدہ افراد کا انداز ہے کہ جو زندگی کے ہر موسم کو دیکہ چکے ہیں ، انہوں نے اپنے دوستوں اور قرابتداروں کو دوسروں کے تجر بات سے استفادہ کرنے کی سفارش کی ہے ۔ ان میں سے ایک عوف بن کنانہ ہے ۔ انہوں نے اپنی وصیت میں کہا ہے :
'' خذوا من اَهل التَّجارب ''(1)
اہل تجربہ سے استفادہ کریں ۔
کیونکہ جو بہی کسی کام کو انجام دینا چاہتا ہو وہ اس شعبہ میں تجربہ کا ر افراد سے استفادہ کرے اور ان کے تجربہ سے بہرہ مند ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الا نوار:ج 51 ص 2 24
تاریخ کے معالعہ اور تاریخ رقم کرنے والوں کے حالات ، معاشرے میں ان کے نفوذ کرنے کی کیفیت اور ان کے سقوط کے علل و اسباب ، خصوصاً بنی اسرائیل کی تاریخ کے تجزیہ و تحلیل اور ان ستمگر فرعونوں کی حکومت کے مطالعے سے ہم اپنی فردی و اجتماعی زندگی میں بہت زیادہ تجربہ حاصل کر سکتے ہیں ۔
عظیم لوگوں کی شخصیت اور ان کے حالات زندگی کا تجزیہ و تحلیل ، ان کی شخصیت کوپہچاننے کی بہترین راہ ہے ۔ ہمیں بزرگوں کی معنوی زند گی کا مطالعہ کرنا چاہیئے ان کی رفتار و کردار ہمارے لئے بہترین تجربہ و درس ہے گزشتہ افراد کے شخصی اعمال میں ہمارے لئے تجربہ کا درس ہے اور ان کے اجتماعی کردار میں ہمارے معاشرے کے لئے درس تجربہ ہے ہم بزرگوں کے حالات ، گزشتہ زمانے میں ان کے فردی و اجتماعی تجربات اور ان کو در پیش آنے والے واقعات کی بر رسی کر کے استفادہ کریں ۔
مثال کے طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ گزشتہ انبیاء کے ظہور و غیبت کے علل کی تحلیل اور ان کے ساتہ زمان غیبت میں بعض افراد کے شخصی ارتباط کی برر سی سے ہمارے لئے تجربہ و راہنما ئی ہے کہ جو غٰبت و ظہور امام عصر کے مسئلہ میں ہمارے راہنما ئی کر تا ہے ۔ شخصی اور دوسروں کے تجربات سے استفادہ کر نا خداکی عظیم نعمتوں میں سے ہے کہ جو تمام افراد کو میسر نہیں ہے مختلف تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج کو فراموش کرنا انسان کی کم سعادتی اور بدنصیبی کی دلیل ہے ۔
حضرت امیر المو منین (ع) فرماتے ہیں :
'' انّ الشّقی من حرم نفع ما اوتی من العقل التجربة '' (1)
یقیناً بد خت وہ ہے جو عقل و تجربہ کے ہوتے ہوئے بہی اس کے فوائد سے محروم رہے ۔
جو تجربہ سے استفادہ نہ کرے وہ ایسے مسافر کی مانند ہے کہ جوکسی راہنما کے بغیر بیابان میں گہومتا رہے اور مدتوں رنج و مشقت برداشت کرنے کے بعد اپنی پہلے والی جگہ پر آجائے ۔ ایسے افراد کو مسافرت سے حاصل ہونے والا نتیجہ صرف رنج و مشقت ہے ۔ وہ فوائد و منفعت حاصل کرنے کی بجائے اپنے کو زحمت میں ڈالتا ہے اور اپنی زندگی کو تباہی کی جانب لے جاتا ہے ۔
لہذا عقل کا یہ تقاضا ہے کہ عاقل انسان تجربات سے استفادہ کرے اپنے اور دوسروں کے اچہے ، برے تجربات سے عبرت کا درس لے اور نتیجتاً گزشتہ تجربات آئندہ کے لئے سبق ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ نہج البلاغہ مکتوب: 78
عقل تجربات کی نگہدا ری کی اساس ہے ۔ جن کے پاس کامل قوت عقل نہ ہو وہ زندگی میں حاصل ہونے والے تجربات کو بہلا دیتے ہیں جن موارد میں ان تجربات سے استفادہ کرنا چا ہیئے وہ اصلاً گزشتہ تجربات کی طرف متوجہ نہیں ہو تے ۔ لیکن عقل مند کسی صورت میں بہی تجربہ سے حاصل ہونے والے درس کو فراموش نہیں کر تا ۔
حضرت امیر المو منین علی (ع) اپنی وصیت میں امام حسن مجتبیٰ(ع) سے فرماتے ہیں :
'' والعقل حفظ التجارب و خیرمٰا جرّبت ما وعظک '' (1)
عقل مند ی تجربات کے محفووظ رکہنے میں ہے اور بہترین تجربہ وہی ہے جس سے نصیحت حاصل ہو ۔
اس بناء پر تلخ یا شیریں، شخصی یا دوسروں سے حاصل ہو نے والے ، تمام تجربات کو محفوظ رکہنا اور ضروری موارد میں ان سے استفادہ کر نا ، انسان کے عقل مند ہونے کی دلیل ہے کیو نکہ تجربات کو محفوظ کرنا اور ان سے سبق سیکہنا ، قوت عقل سے صادر ہو تا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحا را لا نوار :ج1 ص 0 6 1 ،نہج البلاغہ مکتوب: 31
حضرت امیر المو منین(ع) ایک اور روا یت میں فرما تے ہیں :
'' من التّوفیق حفظ التجر بة '' (1)
تجربات کو محفوظ کرنا توفیقات الٰہی میں سے ہے ۔
ہر حاصل ہونے والے تجربہ کو محفوظ کرو اگر چہ وہ دوسروں کے توسط سے ہی حاصل ہوا ہو ، اور ضرورت کے وقت اس سے استفادہ کرو ۔ اس صورت میں تو فیق الٰہی انسان کے شامل حال ہو گی ، لہذا بہترین تجربہ وہ ہے کہ جس سے انسان درس لے ، عبرت لے اور اپنے آئندہ کے برناموں میں اس سے استفا دہ کرے ۔
پس اگر تجربہ فراموش کردیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور پہر اس سے مستفید نہیں ہو سکتے جس طرح تاریخ اپنے کو دہرا کے بہت سے بہولے ہوئے مسائل کو زندہ کر دیتی ہے اسی طرح وقت گزرنے کے ساتہ ، زندگی کے اوراق کی ورق گر دانی کرنے سے گزرے ہوئے تلخ تجربات بہی تکرار ہو تے ہیں اور گزشتہ تجربہ دوبارہ سے انسان کے ذہن میں نقش ہو جا تا ہے ۔
پس زندگی میں منتخب کئے گئے ہدف تک پہنچنے کے لئے حاصل ہونے والے تجربات کو محفوظ کریں اور ان سے پند و نصیحت لیں. نیز ایسا بہی نہ ہو کہ غفلت کی وجہ سے گزشتہ تلخ تجربات آپ کی زندگی میں دو بارہ تکرار ہو اور جس تجربہ و نتیجہ کا سالوں پہلے سامنا ہوا تہا اب سالوں بعد پہر اس کا سامنا کرنا پڑے ۔
جی ہاں ! تجربات کو محفوظ کرنا اور ضرورت کے وقت ان اسے استفادہ کرنا بزرگان دین کی روش تہی چاہے انہیں وہ تجربات خود حاصل ہوئے ہوں یا انہوں نے دوسروں سے سیکہے ہو ں۔ اس برنامہ سے استفادہ کر تے ہوئے آ پ موجودہ فرصت سے بہترطور پر استفادہ کر سکتے ہیں اور بیشتر توفیقات کو اپنا مقدر بنا سکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[2]۔ بحار الا نوار:ج 69ص 10 4
جو عظیم اہداف کی جستجو میں ہوں اور اعلیٰ علمی و عملی مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں ہوں وہ تجربہ کے ذریعہ اپنی علمی و معنوی قدرت و قوت کر بڑہائیں ۔
تجربہ آپ کی علمی وعملی قوت کی افزائش کرتا ہے ، کیو نکہ تجربہ کے ذریعہ آپ کی عقل تجربی میں اضافہ ہو تا ہے اور آپ پہر اپنے حقیقی دوستوں کو احسن طریقہ سے پہچان سکتے ہیں اور فریبیوں اور مکاروں کے شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔
تجربہ کے ذریعہ آپ اپنے ماضی کے نقصان و کمی کا جبران اور اپنے آئندہ کو درخشاں بناسکتے ہیں ان کے علمی و عملی تجربات کی بنیاد پر ہے اپنے اور بزرگ شخصیات کے تجربات سے اپنی خوابیدہ قوتوں کو بیدار کریں اور ان سے استفادہ کر تے ہوئے دنیا کی علمی و معنوی فضا میں پرواز کر یں ۔ اس بناء پر ہم سب تجربہ کے محتاج و ضرورت مند ہیں ۔
یک نصیحت بشنو از من کا ندر آن نبود غرض
چون کنی رأی مہمی ، تجربت از پیش کن
مصلحت از لفظ دینداری کا مل عقل جو
مشورت با رأی نزدیکان دور اندیش کن
جب کسی امر میں اپنی رائے کا اظہار کرو تو اپنے سابقہ تجربات سے کام لو،دینداری اور عقل کامل سے امور کی مصلحتوں کو جاننے کی کوشش کرو ہمیشہ دور اندیش دوستوں سے مشورہ لو۔
نواں باب
نفس کی مخالفت
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' عظَم ملکٍ ملک النَّفس ''
عظیم ترین ملکیت نفس کی ملکیت ہے۔
مخالفت نفس یا نفس پر حکومت
عقل پر نفس کا غلبہ
نفس کا معالجہ
اصلاح نفس کے لئے دعا
مخالفت نفس کی عادت
اصلاح نفس کے ذریعہ روحانی قوت سے استفادہ کرنا
قدرت نفس
نتیجۂ بحث
انسان نفس کی مخالفت اور خواہشات نفسانی پر کنٹرول کرنے سے ذہنوں سے بالاتر روحانی طاقت حاصل کر سکتا ہے اور روح کی عجیب قوت سے بہرہ مند ہو سکتا ہے انسان روحانی قوت کے تشکّل اور حصول سے اپنی اور دوسروں کی بہت سی مشکلات کو آسان کر سکتا ہے ۔
جس طرح نفس کی مخالفت یا نفس پر حکومت پراکندہ روحانی قوتوں کو جمع کرتی ہے اور انہیں فعال اور کارساز بنا تی ہے ۔
مخالفت نفس کو پانی کے سامنے باندہے گئے بند سے تشبیہ دے سکتے کہ جو نہ صرف اسے ضائع ہونے سے بچا تا ہے بلکہ پانی کے جمع ہونے کی صورت میں بجلی کی پیداوار کا بہترین ذریعہ بہی ہے کہ جس سے شہر روشن اوربڑے بڑے کارخانے آباد ہوتے ہیں ۔
اسی طرح نفس کی مخالفت انسان کی روحانی اور آسمانی قوتوں کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے بلکہ روحانی قوت کے جمع ہونے کی صورت میں یہ ایک عام اور معمولی انسان کو صاحب ارادہ اور باشخصیت انسان میں تبدیل کر دیتی ہے ۔
عقل اسی بند کی مانند ہے خداوند تعالی نے جسے انسان کی ذات میں قرار دیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ نفس کو لگام ڈال سکے اور روحانی قوتوںکو متمرکز کر سکے۔
کیا آپ نفس کی مخالفت سے اس عظیم روحانی طاقت سے استفادہ کرنے کو تیار ہیں جسے خداوند کریم نے آپ کے وجود میں قرار دیا ہے ؟
جس طرح زمین کی گہرائیوں میں بہت سے قیمتی خزانے موجود ہیں ، اسی طرح ہماری نفسانی خواہشات کے پس پردہ بہی عجیب روحانی طاقتیں موجود ہیں ۔ جس طرح خاک اور مٹی کو ہٹانے کے بعد خزانے تک پہنچ سکتے ہیں ، اسی طرح نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرکے روح کی قوت حاصل کر سکتے ہیں ۔
جس طرح نفس کی موافقت روحانی قوت وطاقت کو نابود کر دیتی ہے اسی طرح نفس کی مخالفت اور خواہشات نفسانی کو ترک کرنے سے آپ میں روحانی طاقت ظاہر ہوگی اور آپ کا دل صاحب حیات بن جائے گا۔ اس صورت میں آپ ایسی بزرگ طاقت کے مالک بن جائیں گے کہ جس کے وجود کی وجہ سے آپ خود تعجب کریں گے ۔
حضرت رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں:
'' بمَوت النَّفس یَکون حَیَاة القَلب '' (1)
نفس کی موت سے دل کو حیات ملتی ہے ۔
جب نفس سے حیوانی خصلت ختم ہوجائے تو رحمانی حالات اس میں مستقر ہوجاتے ہیں اور قلب کی حیات کا وقت آجاتا ہے ۔ اس روایت کے ضمن میں رسول اکرم(ص) نے انوار معارف سے بیکراں دریا کو بیان فرمایا ہے حیات قلب سے روحانی ومعنوی توانائی ایجاد ہوتی ہے اور بے مثال معنوی قدرت حاصل ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار:ج 70ص19۳،مصباح الشریعہ: 61
قوت نفس اس قدر قوی و سرکش ہے کہ جو انسان کے فطری مسائل کو بہی تبدیل کر سکتا ہے اور اسے اپنے عزیز ترین اور قریبی ترین فرد کو قتل کرنے کے لئے آمادہ کر سکتا ہے ۔ حالانکہ قرابتداروں سے محبت انسان کی فطرت وطبیعت میں شامل ہے ۔ لیکن نفس ان کی محبت کو دل سے نکال کر اس کی جگہ بغض و عداوت ڈال سکتا ہے قابیل وہ پہلا فرد ہے کہ جس سے یہ جنایت سرزد ہوئی اس بارے میں خداوند متعال فرماتا ہے ۔
'' فَطَوَّعَت لَه نَفسَه قَتلَ اَخیه فَقَتَلَه فَاَ صبَحَ من الخَاسرینَ''(1)
پہر اس کے نفس نے اسے بہائی کے قتل پر آمادہ کیا اور اس نے قتل کردیا اور وہ خسارہ والوں میں شامل ہوگیا ۔
اس بناء پر نفس نہ صرف انسان کی صفات کو تغییر دے سکتا ہے بلکہ وسوسہ کہ ذریعہ انسان کے فطری مسائل کو بہی بدل سکتا ہے ۔ جس طرح قابیل نے اپنے دل میں ہابیل کی محبت کے بجائے اس کے لئے بغض و عداوت اور دشمنی کو جگہ دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] سورہ مائدہ آیت30:
اور اسے قتل کر کے اس کے خون سے اپنے ہاتہوں کو رنگین کیا۔ایسے موارد میں نفس عقل پرحکومت کرتا ہے ۔ کیونکہ کبہی نفس اتنا قوی ہوتا ہے کہ عقل اپنی تمام تر توانائی و طاقت کے باوجود ارشاد اور راہنمائی سے قاصر ہوتی ہے۔
حضرت امیرالمومنین (ع) فرماتے ہیں :
'' وَکَم من عَقل ٍاَسیر تَحتَ هویٰ اَمیرٍ''(1)
عقل کا نفس کے تابع اور نفس کا حاکم ہونا بہت زیادہ ہے ۔
بہت سے افراد بہت زیادہ عقلی قوت سے آراستہ ہوتے ہیں اور ذاتاً اعلیٰ اہداف تک پہنچنے کے لئے آمادہ و تیار ہوتے ہیں ۔ لیکن وہ نہ صرف اس پر ارزش معنوی سرمایہ سے استفادہ کرتے ہیں بلکہ نفس امّارہ کی پیروی سے عقل کو نفس کے تابع کرتے ہیں اور عقل کی ارشاد وراہنمائی کی قدرت کو نابود کردیتے ہیں ،اسی بناء پر اپنے نفس کا علاج کریں اور عقل کو اس کی اسارت سے نجات دیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ نہج البلاغہ کلمات قصار: 202
نفس ایک عجیب موجود ومخلوق ہے کیونکہ یہ انسان کو انسانیت کے بالاترین درجات تک لے جاسکتا ہے جس طرح یہ اسے رذالت کے خوفناک درّوں میں قرار دے سکتا ہے انسان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے نفس کو آزاد نہ چہوڑیں اور اس کی چاہت کو آزاد نہ چہوڑیں ۔
حضرت امام صادق (ع) فرماتے ہیں :
'' لَا تَدَع النَّفسَ وَ هوَاها''(1)
نفس اور خواہشات کو آزاد نہ چہوڑیں۔
کیونکہ نفس ایک عظیم قوت ہے لیکن سرکش اور نا فرمان ہمیں اس پر غالب آنا چاہیئے تا کہ اس کی قدرت سے استفادہ کرسکیں۔
امام صادق (ع) ایک روایت کے آخر میں نفس کی دوا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
'' وَکَفّ النَّفس عَمَّا تَهوی دَوَاها''(1)
نفس کو اس چیز سے روکنا کہ جس کی وہ ہوس یا خواہش کرے،نفس کی دوا ہے۔
نفس کے معالجہ سے اسے ایک سالم و رحمانی قدرت میں تبدیل کریں اور آپ کے وجود میں موجود اس روحانی قوّت سے بہرہ مند ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ اصول کافی:ج 2ص 336
نفس کی مخالفت سے اپنے وجود میں بالقوة موجود قدرت اور عظیم قوّت کو فعلیت کی منزل پر لاکر آپ اس سے بہتر طریقہ سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
جو اپنے مستقبل کو روشن و درخشان کرنا چاہیں وہ ولایت معصومین کے تابناک انوار سے منوّر ہوکر نفسانی حالات کو ختم کرکے ان میں تحول ایجاد کریں۔جب انسان اپنے نفسانی حالات کو تغیر دے تو اس کے معنوی حالات بہی تبدیل ہوجائیں گے۔
خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:
'' انَّ اللّٰه لَا غَیّر مَا بقَومٍ حتّٰی یغَیّروا مَا باَنفسهم''(1)
خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کرے۔
اس بناء پر معاشرے کی سرنوشت ،نیک بختی اور بد بختی کی بنیاد ان کے نفسانی خواہشات ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ سورہ رعد آیت:11
ہوس نفسانی اور خواہشات نفسانی سے نجات کے لئے خدا کی بارگاہ میں دعا اور اہل بیت عصمت علیہم السلام سے متوسل ہوں ایسا کرنا بہت مئوثر ہے ۔ اسی وجہ سے اائمہ اطہار علیہم السلام بہت سی روایات میں ہماری راہنمائی فرماتے ہیں کہ خواہشات نفسانی کے بر طرف ہونے کے لئے دعاکریں۔
نمونہ کے طور پر ہر شب چہار شنبہ پڑہی جانے والی دعا میں وارد ہوا ہے :
'' اللهم-----اَصلح مَا بَینی وَ بَینَکَ وَاجعَل هوَایَ فی تَقوٰکَ''(1)
پروردگارا ! میرے اور اپنے درمیان اصلاح فرما اور میری خواہشات کو اپنی مخالفت سے پرہیز کی صورت میں قرار دے ۔
مہذب نفس کی خواہشات نفسانی تقوی الہی کے علاوہ کچہ نہیں ہوتی ۔ لہٰذا اگر ہم پست نفسانی خواہشات سے دور رہنا چاہیں تو تہذیب نفس و اصلاح نفس اور خود سازی کی دعا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار:ج 193ص90 ، البلد الامین127 ، المصباح 123
جو عمل بہی نفس کی خاطر انجام پائے ، اگر چہ وہ بہت چہوٹا کام ہو تو وہ عمل روحانی طاقت کی کچہ مقدار کو زائل کر دیتا ہے نفس کی مخالفت سے انسان میں یہ قوت متمرکز ہوتی ہے کہ جس سے نورانیت ایجاد ہوتی ہے جس قدر نفس کی مخالفت زیادہ ہو اسی قدر روحانی قوت بہی بیشتر ہوجاتی ہے ۔ نفس کی مخالفت کے ہمراہ بہت سی مشکلات ا ور سختیاں بہی آتی ہیں کہ بہت سے لوگ ان ہی مشکلات کی وجہ سے اس کام سے ہاتہ روک لیتے ہیں دوسرا گروہ خواہشات نفسانی کے ساتہ مبارزہ آرائی کرتا ہے لیکن استقامت اور ثابت قدم نہ ہونے کی وجہ سے کچہ مدت کے بعد وہ اپنے کو آزاد چہوڑدیتا ہے اور پہر وہ اپنی نفسانی خواہشات کے پیچہے چل پڑتا ہے۔
ایک نکتہ کی جانب توجہ کرنے سے آپ ایسے افراد کو روحانی اعتبار سے تقویت دے سکتے ہیں اور جو اس راہ کو ادامہ نہیں دے سکے ، ان میں امید کی شمع روشن کر سکتے ہیں۔ وہ نکتہ نیک کاموں کی عادت ڈالنے کی اہمیت سے عبارت ہے نفس کی مخالفت سے وجود میں آنے والی سختیاں اور زحمات نیک کاموں کے عادی ہوجانے سے بر طرف ہوجاتی ہیں کہ پہر مخالفت نفس کو ترک کرنا مشکل ہوجائے گا ، اسی وجہ سے حضرت امام باقر(ع) کا فرمان ہے :
'' عَوّدوا اَنفسَکم اَلخَیرَ'' (1)
اپنے نفوس کو نیک کاموں کی عادت ڈالو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار :ج46 ص244،الخرائج229
کیونکہ نیک کاموں کی عادت سے نہ صرف انسان برے کاموں سے ہاتہ اٹہا لیتا ہے بلکہ نیک کاموں کی مزید عادت ڈالتا ہے اگرچہ وہ کام بہت مشکل اور پر زحمت ہی کیوں نہ ہو ں کسی بہی چیز کی عادت انسان کی ذات کا حصہ اور فطرت ثانیہ بن جاتی ہے ، پہر انہیں انجام دینا مشکل نہیں ہوتا بلکہ انہیں ترک کرنا رنج والم کا باعث بنتا ہے ۔ لہٰذا کار خیر کو انجام دینے اور ان کی عادت سے آپ نہ صرف بہت آسانی سے نفس کی مخالفت کرسکتے ہیں ، بلکہ ان کی عادت ہوجانے سے ان کو ترک کرنا آپ کے لئے رنج آور ہوگا ۔
جب کوئی خائن شخص پہلی بار چوری یا کوئی اور خیانت انجام دے تو اس کا ضمیر شرم وگناہ محسوس کرے گا ، اس کا ضمیر قبول کر لے گا کہ اس کے نفس نے زشت وناپسندیدہ کام انجام دیا ہے لیکن گناہ کو تکرار کرنے سے آہستہ آہستہ اس میں سے احساس شرم وندامت ختم ہوجائے گی پہر گناہ کو انجام دینے سے اسے نہ گناہ وشرم کا احساس ہوگا بلکہ اس کی عادت پڑ جانے سے اس کو چہوڑنا بہی بہت مشکل ہوجائے گا ۔
جس طرح وقت گزرنے کے ساتہ ساتہ گناہ کو بارہا تکرار کرنے سے بعض اس کے عادی ہوجاتے ہیں پہر ان کے لئے ترک کرنا مشکل ہوجاتا ہے اسی طرح اولیاء خدا اور اہل بیت کے تقرب کی راہ میں جستجو کوشش کرنے والوں کے لئے سخت عبادی برنامہ کو انجام دینے میں کوئی مشکل وزحمت نہیں ہوتی۔
بلکہ انہیں اس سے لگن ہوجاتی ہے کہ پہر وہ کسی صورت بہی اسے ترک نہیں کر سکتے مخصوصا ًجب وہ اپنے اور برنامہ کے مہم آثار کو جانتے ہوں تو اس طرح بعض افراد کے لئے مخالفت نفس مشکل ہوتی ہے، اسی طرح ان کے لئے موافقت نفس مشکل ہوتی ہے۔
بعض افراد کو مخالفت نفس کی عادت ڈالنے اور خواہشات نفسانی کو ختم کرنے کے لئے مرور زمان کی ضرورت نہیں ہوتی وہ ناگہانی تفسیر سے اپنے نفس میں تحول ایجاد کرتے ہیں اور ایک نئی شخصیت کے مالک بن جاتے ہیں۔ پوریا ولی ان ہی افراد میں سے ایک ہیں۔
پوریا ایک پہلوان تہا کہ اس کے شہر میں کوئی بہی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تہا وہ دوسرے شہروں میں جاکر بہی تمام پہلوانوں کو مغلوب کردیتا۔پہر اس نے دارالخلافہ جانے کا قصدکیا تاکہ وہاں جاکر بہی تمام پہلوانوں کو شکست دے اور خود ان کی جگہ بیٹہے۔
اس کی طاقت کا چرچابہت دور دور تک ہو ررہا تہا اسی وجہ سے جب اس نے دارالخلافہ جانے کا قصد کیا تو وہاں کے پہلوانوں کے دل میں اس کا بہت رعب بیٹہ گیا اور وہ مہموم ومتفکر ہو گیا اس کی ماں نے پریشانی کی وجہ پوچہی تو ا س نے اپنی پریشانی کی علت بیان کی ۔
اس کی ماں ایک صالحہ اور بااعتقاد عورت تہی وہ متوسل ہوئی اورہر روز نذر کرتی وہ حلوا پکاتی اور شہر کے دروازے پر بیٹہے فقراء و مساکین میں تقسیم کرتی ۔پہر ایک دن پوریا اس شہر کے دروازے پر پہنچا تو اس نے دیکہا کہ ایک عورت بیٹہی ہے جس کے سامنے کچہ حلوا پڑا ہے وہ قریب آیا اور پوچہا اس کی کتنی قیمت ہے؟ عورت نے کہا کہ فروخت کرنے کے لئے نہیںبلکہ نذر کی ہے؟
عورت نے کہا : میرا بیٹا دارالخلافہ کا پہلوان ہے اور اب کسی پہلوان نے یہاں آکر اسے شکست دینے کا ارادہ کیا ہے ۔ اگر ایسا ہو اتو ہمارا مال اور اعتبار دونوں برباد ہوجائیں گے ۔ پوریا نے دیکہا کہ وہ عورت حضرت حق سے متوسل ہوئی ہے یہاں اسے قرآن کی یہ آیت یاد آگئی:
'' یا اَیّهاالَّذینَ اٰمَنوا کونوا اَنصَارَالله ''(1)
اس نے سوچا کہ اس جوان کو پچہاڑدوں تو سلطان کے دارالحکومت کا پہلوان بن سکتا ہوں اور اگر اپنے نفس کو شکست دے دوں تو خدا کے دارالحکومت کا پہلوان بن جائوں گا پس اس نے اپنے آپ سے کہا کہ رضائے خدا کے لئے اس بوڑہی عورت کو ناامید نہیں کروں گا۔
پہر اس نے عورت کی طرف دیکہ کر کہا کہ ماں تمہاری نذر قبول ہو گئی۔ اس نے اپنے چالیس حامیوں میں حلوا تقسیم کیا اور شہر میں وارد ہو گئے ۔
معین دن میں دارلحکومت کا پہلوان ، ہواس باختہ پوریا کے ساتہ کشتی لڑنے کے لئے حاضر ہوا۔پوریا کے حامیوں نے اس سے کہا کہ ہم میدان میں جاکر اس کو سبق سکہاتے ہیں۔انہوں نے بہت اصرار کیا لیکن پوریانے قبول نہ کیا اور کہا کہ یہ میرا کام ہے اور کسی دوسرے کو اس سے سروکار نہیں۔
پوریا میدان میں گیا وہ اپنے نفس کو ہرانے کی ہمت رکہتا تہا دارالحکومت کا پہلوان اس سے لڑنے کے لئے آیا ۔پوریا نے اپنے آپ کو سست کرلیا اور اس کے حریف نے دیکہا کہ وہ بہت سست ہے اس کا دل قوی ہوگیا اس نے پوریا کو اٹہا کر زمین پر دے مارا اور اس کے سینہ پر بیٹہ گیا ۔ جب پوریا کی پیٹہ زمین پہ لگی تو اس کے لئے بہت سے راز منکشف ہو گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ صف آیت :14
افتادگی آموز اگر قابل فیضی ہر گز نخورد آب زمینی کہ بلند است
اگرچہ اس جوان نے پوریا کو پچہاڑ دیا ۔ لیکن خدا نے اسے اولیاء پاک میں سے قرار دیا یہ شعر پوریا ولی کے سرود میں سے ہے ۔
گر بر نفس خود امیری مردی وربر دگری نکتہ نگیری مردی
مردی نبود فتاد را پای زدن گر دست فتادہ ای بگیری مردی
اگر تمہیں اپنے نفس پر اختیار ہواور دوسروں پر نکتہ چینی نہ کرو تو تم مرد ہو،گرے ہوئے کو ٹہوکر مارنا مردانگی نہیں ہے بلکہ گرے ہوئے کو تہامنا مردانگی ہے۔آپ بہی پوریا کی طرح پختہ عزم وارادہ اور خدا کی امداد اور مہربانی سے نفس کی مخالفت کر سکتے ہیں اور مختصر مدت میں اس پر قابو پا سکتے ہیں۔
نفس کے بارے میں بحث بہت اہم ہے جالب اور قابل توجہ ہے جس کی تفصیل کے لئے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے ۔ لیکن ہم خلاصتًا کہتے ہیں کہ جس طرح نفس ہمیں اپنے فطری مقام سے حیوانات کے درجہ پر گرادیتا ہے اسی طرح یہ ہمیں نورانی، روحانی اور ملکوتی ملکوت کے بلند مقام پر پہنچاسکتا ہے ۔
حضرت امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں :
'' مَن اَصلَحَ نَفسَه مَلَکَها ''(1)
جو اپنے نفس کی اصلاح کرے وہ اس کا مالک ہے ۔
جو اپنے نفس کا مالک ہوا وہ اس کی قوت و قدرت سے بہرہ مند ہوتا ہے ۔کیونکہ اصلاح وتہذیب نفس سے نفس عقل کے تابع ہوجاتا ہے ۔ اس وقت پست نفسانی خواہشات کنٹرول ہوجاتی ہیں حتی کہ نفسانی خطورات بہی آسانی سے صفحہ ذہن کو آلودہ نہیں کرسکتے ۔
اب اس وقت نفسانی خواہشات نیز گرائش رحمانی حاصل کر لیتی ہیں۔پہر آہستہ آہستہ نفس عقل کے ہمراہ اور ہمقدم ہوجائے گا پہر وہ عقل سے مبارزہ نہیں کرے گا بلکہ قوت عقلی کی پشتیبانی کرے گا جب آپ کی نفسانی قدرت مکمل طور پر قوہ عقلی کے ماتحت وتابع ہوجائے تو حالت( تروّح) ایجاد ہوتی ہے اس دوران آپ اپنے جسم سے مادیت کے آثار کو نکال سکتے ہیں اور مادہ کے اثرات کو ختم کرکے خوبصورت اور جذاب ترین حالات ایجاد کرسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غرر الحکم:ج ۵ ص۱6۰
بزرگوں میں سے ایک بزرگ نفس کی قدرت یوں بیان کرتے ہیں ۔
نفس اپنے مقام میں خلّاقیت سے خالی نہیں ہے کیونکہ انشائ صور کرتا ہے اور اس وجہ سے خلاقیت حق کی صفت کا مظہر ہے ۔
اے عزیز ! تم میں بہی یہ مظہریت ہے لیکن تمہارا اثر مطلوب ضعیف ہے ،چونکہ تمہارا وجود ضعیف ہے۔ تم آگ کا دریا خلق کرتے ہو حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ صور خیالیہ اگر قوی ہوجائیں تو اثر پیدا کرتی ہیں انبیاء کے معجزات میں سے ایک قوت نفس تہی کہ جسے محض ارادہ کرنے سے خلق کردیتے تہے لیکن چونکہ ہمارا نفس ضیّق ہے جو اس سے بڑہ کر توان و قوت نہیں رکہتا اسی وجہ سے بہشت میں نفوس قوت پائیں گے پس ایسا کام کرو کہ یہ نفس اسی دنیا میں کامل ہوجائے
کیونکہ جب انسان کا نفس اصلاح وتکمیل کے ذریعہ خلّاقیہ قدرت سے آراستہ ہوگا محض فکر وخطور سے جس چیز کا ارداہ کرے اسے خارج میں متحقق کرسکے گا ۔
جی ہاں ! جس طرح حضرت امیرالمومنین (ع) فرماتے ہیں :
'' مَن قَویَ عَلیٰ نَفسه تَنَاهٰی فی القدرَة''(1) جو اپنے نفس پر قوی ہوجائے وہ قدرت کے لحاظ سے انتہاء کو پہنچ جا تا ہے
آپ بہی پختہ ، سنجیدہ عزم و ارادہ کے ذریعہ خداوند متعال سے مدد طلب کرکے اپنے نیک رفتاروکردار سے اپنے مستقبل میں عظیم تحول ایجاد کریں اور ایک جدید اور ممتاز قدرت وشخصیت حاصل کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غرر الحکم: ج ۵ ص۱۵۴
خداوند کریم نے انسان کو اس طرح خلق کیا ہے کہ جو اپنے اندر موجود عظیم روحانی قدرت سے استفادہ کر سکتا ہے لیکن انسان کا نفس اسے نابود اور برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔نفس کی مخالفت خود سازی کے اساسی عوامل وشرائط میں سے ہے اپنے نفس کو کنٹرول کریں تاکہ عقلی قوت رشد وپرورش پائے آپ اپنے نفس کی مخالفت سے اپنی عقل کو قوی بنائیں اور نہ صرف اس قوت کو نابودی کے خطرے سے بچائیں بلکہ اسے فعال بنا کر خلاقیت بخشیں ۔
روحانی قوت کے لحاظ سے پیشرفت کرکے تکامل تک پہنچیں بلکہ کاملاً نفس کی مہار اپنے ہاتہوں میں لیں اور خواہشات نفسانی کی مخالفت کرکے اس کی اصلاح کریں تاکہ آپ کے وجود میں عجیب اور ذہنوں سے بالاتر قدرت فعال ہوجائے اور پہر اس سے استفادہ کریں اور بزرگان کی طرح روحانی قوت کے ذریعہ دین اور مکتب اہل بیت کی بہترین طریقے سے خدمت کریں۔
زد سحر طایرقدسم زسرصد رہ صفیر کرد کہ در این دا مگہ حادثہ آرام مگیر
بال بگشا وصفیر از شجر طوبی زن حیف باشد چوتو مرغی کہ اسیرقفسی
طائر قدسی ہمہ وقت یہ آواز دے رہا ہے کہ خبردار اے جال میں پہنسے پرندے آرام سے نہ بیٹہو بلکہ دام سے نکل جانے کی بہرپور کوشش کرو ،اور ہمیشہ بال و پر مارتے رہو تاکہ قفس سے آزاد ہوجائو لیکن صد افسوس کہ تم جال میں پہنس چکے ہو۔
دسواں باب
صبر و استقامت
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
''مَرَارَة الصَّبرتَذهبهاَ حَلَاوَة الظَّفر ''
صبر کی تلخی کامیابی کی حلاوت و شیرینی ختم کر دیتی ہے ۔
صبر اسرار کے خزانوں کی کنجی
صبر واستقامت ارادہ کی تقویت کا باعث
صبر حضرت ایوب (ع)
اپنے نفس کو صبر واستقامت کے لئے آمادہ کرنا
مرحوم علی کَنی اور ان کے صبر کا نتیجہ
صبر قوت وقدرت کا باعث
نتیجۂ بحث
جن تلخیوں میں صبر سے کام لیں تو پہر انسان ان تلخیوں کو بہول جاتا ہے اور انسان کے لئے سختیاں آسان ہوجاتی ہیں ۔
بزرگان الہی شیریں نتائج تک پہنچنے کے لئے صبر سے کام لیتے اور صبر کو اسرار کے خزانوں کی چابی سمجہتے ۔ وہ معتقد تہے کہ ان خزانوں تک پہنچنے کے لئے ان کی چابی یعنی صبر کا ہونا ضروری ہے ۔
حضرت امام حسن (ع) اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں :
فَلَستم اَیّهاالناس نَائلین مَا تحبّونَ الَّا بالصَّبرعَلیٰ مَا تکرهون(1)
اے لوگو ! تم جسے چاہتے ہو اس تک نہیں پہنچ سکتے مگر یہ کہ جس چیز سے تمہیں کراہت ہو اس پر صبر کرو ۔
اس فرمان میں امام حسن مجتبی (ع) ہدف تک پہنچنے کے لئے صبر کومستقیم راہ قرار دیتے ہیں ۔ مورد نظر اہداف تک پہنچنے کے لئے شرط موانع اور مشکلات کے مقابلہ میں صبر کرنا ہے کیونکہ صبر قوت وارادہ کی ہمت میں اضافہ کا باعث ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحار الانوار:ج 50ص44
ارادہ کی بحث میں ہم نے اس کے مثبت اثرات کو ذکر کیا اور ہم نے عرض کیا کہ کہ ہر بلند اہداف رکہنے والے کے لئے ارادہ کا وجود ضروری ہے نیز ہم نے ارادہ کو ایجاد اور اسے تقویت دینے کے طریقے بہی ذکر کئے اب ہم مورد بحث موضوع میں اس کی اہمیت کو بیان کریں گے ۔
صبر ارادہ کی مئوثر ترین راہ ہے اس کی وجہ سے صبر کرنے والے شخص کی قدرت ارادہ قوی ہوجاتی ہے۔ قدرت ارادہ کے قوی ہونے سے مشکلات اور سختیاں آسانی سے حل ہوجاتی ہیں خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے :
'' وَاصبر عَلیٰ مَا اَصَابَکَ انَّ ذٰلکَ من عَزم الامور'' (1)
اس راہ میں جو مصیبت پڑے اس پر صبر کرو یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ سورہ لقمان آیت:۱۷
اگر ز سہم حوادث مصیبتی رسدت
درین نشین حرمان کہ موطن خطر ست
مکن بہ دست جزع دام صبوری چاک
کہ آہ ونالہ دراینجا مصیبت دگر ست
اگر تمہیں زمانے کے حوادث میں سے کوئی مصیبت پیش آئے تو اس کی وجہ سے مایوس نہ ہو جانا کیونکہ دنیا مصیبتوں کا گہر ہے مصیبتوں پر واویلا کرکے صبر کا دامن چاک نہ کرناکیونکہ یہاں آہ و واویلا کرنا ایک اور مصیبت ہے۔
جو مصیبتوں سختیوں اور مشکلات کے سامنے صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں تو مشکلات کو تحمل کرنے سے ان میں عزم وارادہ قوی اور راسخ ہوجاتاہے ۔کیونکہ صابر انسان جب مشکلات و مصائب کو برداشت کرتا ہے تواس سے اس میں قوت ارادہ تقویت پاتی ہے اور اسے دیگر موانع کے سامنے بہی صبر واستقامت کے لئے آمادہ کرتا ہے۔کبہی قوت مقاومت اس قدر زیادہ ہوجاتی ہے کہ اس کا دل لوہے کی طرح مضبوط ہوجاتاہے ۔
پہر وہ ہر قسم کے شیطانی وسوسہ اور خواہشات نفسانی کے مقابلے میں مقاومت کر سکتا ہے ایسا انسان اپنی توانائی کے مطابق امر ولایت آل اللہ کو قبول کرتا ہے اور خاندان وحی کے عقائدومعارف کو دل وجان سے قبول کرتا ہے اور خدا کے امتحان سے عہدہ برآمد ہوتا ہے ۔
حضرت ایوب (ع) وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے مشکلات ومصائب کے سامنے صبر کیا اور خداوند متعال کے سخت امتحان سے بخوبی عہدہ برآمد ہوئے ۔
وہ مختلف گرفتاریوں اور مصائب میں مبتلا ہونے سے پہلے چالیس سال تک انہیں خدا کی عظیم نعمتیں میسر رہیں ۔ہر دن ہزار افراد ان کی نعمتوں کے دسترخوان سے استفادہ کرتے اور ان کی زراعتی زمین اس حدتک تہی کہ انہوں نے امر فرمایا تہا کہ ہرانسان یا حیوان ان کی زراعت سے جس چیز سے بہی چاہے استفادہ کر سکتا ہے چار سو غلام ان کے اونٹوں کے ساربان تہے ۔
پہر ایک دن حضرت جبرئیل نازل ہوئے اور کہا ! اے ایوب تمہاری نعمتوں کا زمانہ ختم ہوگیا اب مصیبتوں اور گرفتاریوں کا وقت آپہنچاہے، اب ان کے لئے آمادہ و تیار رہو ۔
حضرت ایوب (ع)مصیبتوں کے آنے کے منتظر تہے ۔ ایک دن نماز صبح کے بعد اچانک ایک آواز آئی یہ پر دردناک آواز تہی جس کی طرف آپ متوجہ ہوئے،یہ شبان کی آواز تہی۔
جناب ایوب (ع) نے پوچہا شبان کیا ہوا ہے ؟ شبان نے کہا پہاڑوں کے دامن سے آنے والے سیلاب میں تمام گلّہ بہہ گیا ہے اسی وقت ساربان اپنی گریبان چاک کرکے آیا اور کہا ! سمانی بجلی گرنے سےتمام اونٹ ہلاک ہوگئے ۔
اسی وقت باغبان ہراسان ہوکر آیا اور کہا آندہی چلنے سے تمام درخت گر گئے ۔حضرت ایوب() یہ سب سن رہے تہے اور ذکر خدا میں مشغول تہے کہ ان کے بیٹوں کا معلم آہ وفغاں کرتا ہوا آیا اور کہا کہ آپ کے بارہ بیٹے آپ کے بڑے بہائی کے گہر مہمان تہے اچانک گہر کی چہت ان پر گری اور تمام کے تمام اس دنیا سے چلے گئے ۔
اس وقت حضرت ایوب (ع) کی حالت تہوڑی تبدیل ہوگئی لیکن وہ جلد ہی متوجہ ہوگئے اور سجدہ میں گرکر کہا:
پروردگارا! جب تم میرے ساتہ ہو تو گویا میں ہر چیز رکہتا ہوں جب ان کا تمام مال اور اولاد ختم ہوگئے تو پہر ان پر طرح طرح کی بیماریوں نے حملہ کیا وہ کئی سال تک بدترین وضعیت وکیفیت میں رہے لیکن انہوں نے اسی طرح صبر واستقامت کا دامن نہ چہوڑا اور خدا کے سخت ترین امتحان میں کامیاب ہوئے یہاں تک کہ امتحان کا وقت تمام ہوا ۔
انہوں نے سالوں بعد خدا کی بارگاہ میں عرض کیا:
''انّی مَسَّنی الضّرّوَ اَنتَ اَرحَمَ الرَّاحمین'' (1)
مجہے بیماری نے چہو لیا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے ۔
پہر ان کی دعا مستجاب ہوئی اور انہیں مشکلات ومصائب سے نجات ملی ۔
ترسم بہ عجز حمل نماید وگرنہ من شرمندہ می کنم بہ تحمل زمانہ را
میں اپنے عجز و ناتوانی سے خائف ہوں کہ کہیں وہ مجہے اپنی لپیٹ میں نہ لے ورنہ میں زمانے کی سختیوں کو برداشت کرکے شرمندہ کر سکتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ انبیاء آیت :83
بعض لوگ مصائب ومشکلات کے مقابل میں صبور وبردبار ہوتے ہیں اور بعض لوگ زندگی کی تلخیوں اور مصائب اور مشکل امور کے مقابل میں تحمل وبرداشت کی طاقت نہیں رکہتے ۔
ایسے افراد کچہ ایسی مشکلات جنہیں صبر واستقامت کے ذریعہ ختم کر سکتے ہیں ۔ ان کو ختم کرنے کے بجائے کچہ اور مشکلات ایجاد کرتے ہیں جو ان کی زندگی کو برباد کردیتی ہیں ۔
حضرت امیرالمومنین (ع) فرماتے ہیں :
'' وَ عَوّد نَفسکَ باالتَّصَبّر'' (1)
اپنے نفس کو صبر و استقامت کی عادت ڈالو ۔
کیونکہ نفس آرام پسند ہے جو کہ سختیوں اور تلخیوں سے بہاگتا ہے ۔
جو انہیں تحمل کرنے کی تاب نہیں رکہتا وہ کبہی بہی بلند مقامات تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اگر چاہتے ہیںکہ نفس مشکلات ودشواریوں کو تحمل کر سکے تو صبر کا درس سیکہیں اور اپنے نفس کو صبر کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ عظیم واعلی اہداف تک پہنچ سکیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ نہج البلاغہ مکتوب: 31
کیونکہ کہ کسی بہی کام میں اکراہ واجبار کاکوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ بہت سے موارد میں اس کے منفی اثرات ہوتے ہیں ، حتی کہ صبر واستقامت بہی اس صورت میں نافع ہے کہ نفس اسے قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو ۔ اسی وجہ سے حضرت خضر(ع)نے حضرت موسیٰ (ع)سے فرمایا :'' وَ طّن نَفسَکَ عَلی الصَّبر'' (1) اپنے نفس کو صبر کے لئے آمادہ کرو۔
جب انساں صبر واستقامت سے کام لے تو وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے ۔
صبر وظفر ہردو از دوستان قدیمند بر اثر صبر ، نوبت ظفر آید
یعنی صبر اور کامیابی دونوں قدیم دوست ہیں صبر سے کام لینے کے بعد پہر کامیابی کی باری آتی ہے۔ اسی طرح ان کے ارشادات میں سے ہے:'' رَضّ نَفسَکَ عَلی الصَّبر تخَلّص من الاثم'' (2)
اپنے نفس کو صبر پر راضی کرو تاکہ گناہوں سے نجات پا سکو ۔
کیونکہ جب آپ نے اپنے نفس کو صبر کے لئے آمادہ و راضی نہ کیا تو باطنی اکراہ اور نفس کی بے میلی برے اثرات کا موجب بنے گی ۔ پہر نفس کی طغیانی اور سرکشی آپ کی شکست کا باعث بنے گی۔
جی ہاں! اہل بیت عصمت و طہارت نے ہمیں صبر و استقامت کا امر فرمایا اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ صبر امتحانات الہی میں کامیابی کا وسیلہ ہے صبر کے ذریعہ انسان آزمائش کے طور پر آنے والے مشکلات ومصائب کے مقابلے میں اپنے اعمال وا عتقادات پر ثابت قدم رہتا ہے تمام اولیاء خدا کو یہ امتحانات در پیش آئے اور انہوں نے شدید مشکلات میں بہی مشیت خدا کے سامنے سر تسلیم خم کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج 34 ص 61
[2] ۔ بحار الانوار:ج 1ص 227
جنہوں نے مشکلات کے مقابلہ میں صبر سے کام لیا اور اپنے راسخ عزم اور ایمان کو ثابت کیا ان میں سے ایک ملّا علی کَنی ہے ۔ وہ نجف اشرف میں انتہائی فقر و احتیاج کے عالم میں زندگی بسر کررہے تہے وہ ہر ہفتہ میں ایک رات مسجد سہلہ میںجاتے اور دوسروں کو متوجہ کئے بغیر مسجد کے اردگرد کناروں میں ڈالے گئے روٹی کے ٹکڑوں کو جمع کرتے اور مدرسہ لے جاتے اور ایک ہفتہ اسی پر گزر بسر کرتے وہ مدتوں اسی طرح کرتے رہے اور صبر استقامت کو اپنی عادت بنا لیا پہر وہ نجف اشرف سے عازم کربلا ہوئے انہوں نے وہاں بہی انتہائی سختی اور تنگدستی میں زندگی گزاری لیکن کبہی صبر کا دامن نہ چہوڑا، اور استقامت سے کام لیتے رہے پہر وہ اپنی مشکلات سے نجات پانے کے لئے حضرت حر سے متوسل ہوئے یہ رسم تہی کہ تنگدست افراد چہار شنبہ کے چندہفتے حضرت حر کی زیارت کو جاتے اور ان سے متوسل ہوتے۔ جناب حر سے متوسل ہونے سے ان کی مادی مشکلات حل ہوجاتیں مرحوم علی کَنی چہار شنبہ کی رات حضرت حر کی زیارت کو جاتے اور ایک رات حضرت حر نے خواب میں ان سے فرمایا میرے آقا نے تمہیں تہران کا آقا قرار دیا ہے ۔
اگلے روز ایک مومن ملا اور اسے پانی کا مشکیزہ عطا کیا دوسرے شخص نے اس سے وہ مشکیزہ ایک سال کے لئے25 تومان پر اجارہ پہ لے لیا ۔ مرحوم علی ان پیسوں کے ذریعہ تہران پہنچ گئے دوسرے سال وہ مشکیزہ چار سوتومان پر اجارہ دیا آہستہ آہستہ ان کا حکم مانا جانے لگا ۔ یہاں تک کے ناصر الدین شاہ ان سے خائف ہونے لگا ۔
کہتے ہیں کہ شاہ کے حکم پہ تہران میں ایک خیابان بنا ئی گئی کہ جس کی وجہ سے ایک چہوٹی سی مسجد کو خراب کیا گیا چونکہ یہ شاہ کا حکم تہا لہٰذا تہران کے علماء اس کی مخالفت نہ کرسکے۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ اس مسجد کے عوض دوسری جگہ ایک بڑی مسجد بنائی جائے مرحوم کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو انہوں نے شاہ کو ایک خط لکہا جس کی ابتداء میں لکہا تہا۔
'' بسم اللّٰه الرَّحمٰن الرَّحیم اَ لَم تَرَ کَیفَ فَعَلَ رَبّکَ باَصحَاب الفیل''
شاہ مسجد کو توڑنے سے باز رہا اور خیابان کا راستہ تبدیل کردیا ایک دن ناصر الدین شاہ اپنے خدام کے ہمراہ شکار کے قصد سے شہر کے دروازے سے باہر گیا شہر سے نکلنے کے بعد تہران کا نظارہ کیا اور کچہ دیر فکر کرنے کے بعد اپنے ارادہ پر پشیمان ہوا اور واپس شہر چلا گیا اس کے بعض قرابت داروں نے اس کی وجہ پوچہی تو شاہ نے یہ جواب دیا جب شہر سے باہر نکلا تو میری نظر شہر کے دروازوں پر پڑی تہی تو مجہے خیال آیا کہ اگر حاجی علی نے حکم کیا کہ شہر کے دروازوں کو بند کردو اور پہر نہ کہولیں تو میں کیا کروں گا؟ اس خوف و وحشت سے میں نے سوچا بہتر یہ ہی ہے کہ واپس شہر چلا جائوں مرحوم علی کنی کہ تجملات ایسے تہے کہ جو شہزادوں کے لئے بہی مورد توجہ تہے۔ کہتے ہیں کہ ناصرالدین شاہ کی بیٹی عراق گئی اور نجف اشرف میں مرحوم شیخ انصاری کی زیارت سے شرفیاب ہوئی اس نے زہد عیسوی اور ورع یحیوی کی علائم شیخ میں پائے ۔ شیخ کے کمرے کے آدہے فرش پر ایک بوریا بچہا ہوا تہا حصیر کا ایک دستر خوان دیار پر آویزان تہا اور ایک چراغ تہا کہ جس سے نصف کمرے میں روشنی تہی جب اس نے کمرے کی یہ حالت دیکہی تو اس سے رہا نہ گیا اور کہا کہ اگر مجتہد وملّا ایسے ہیں تو پہر ملّا علی کیا کہتا ہے ؟
ابہی اس کی بات مکمل نہ ہوئی تہی کہ مرحوم شیخ انصاری اس حد تک غضبناک ہوئے کہ وہ رونے لگی اور کہا آقا میں تو بہ کرتی ہوں مجہے علم نہیں تہا ۔ مجہے معاف فرمائیں ۔ شیخ نے اس کی غلطی سے در گذر فرمایا اور کہا جناب علی کنی کو حق ہے کہ وہ ویسی زندگی گذاریں ۔ کیونکہ وہ تمہارے باپ کے سامنے ویسی ہی زندگی گزارے لیکن میں طلّاب کے درمیان رہتا ہوں لہٰذامیری زندگی بہی طلّاب کے مانند ہونی چاہئے اگر مرحوم علی مشکلات کے مقابل میں صبر و استقامت کا مظاہرہ نہ کرتے تو انہیں یہ تمام محبوبیت ، قدرت وعظمت کیسے حاصل ہوتی۔
خداوندتعالیٰ صبر کو مدد اور استعانت کا وسیلہ قرار دیتا ہے اور قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
''وَاستَعینوا با الصَّبر وَ الصَّلٰوة '' (1)
صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگو ۔
خداوند متعال نے صبر کو نماز کے ساتہ بلکہ اس پر مقدم فرمایاہے جو اس بات کا اشارہ
ہے کہ صبر کی وجہ سے انسان میں ایجاد ہونے والی قوت بخش آثار سےبخوبی مدد لے سکتے ہیں انسان صبر کی وجہ سے خدا کی غیبی امداد سے بہی بہرہ مند ہوتا ہے یہ غیبی امداد ملائکہ صبر کرنے والوں تک پہنچاتے ہیں قرآن نہ صرف صبرواستقامت کو انسان وظیفہ قرار دیتا ہے بلکہ اس کے علاوہ یہ حکم بہی دیتا ہے کہ دوسروں کو بہی صبر کا امر کرو ۔
خدا وند متعال قرآن میں فرماتا ہے :
'' یا ایها الَّذینَ اٰمَنوا اصبروا وَ صَابروا وَ رَابطوا ''(2)
اے ایمان والو صبر کرو صبر کی تعلیم دو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ سورہ بقرہ آیت: 45
[2] ۔ سورہ آل عمران آیت: 200
انسان صبر واستقامت کے ذریعہ بیشتر قوت و قدرت حاصل کرتا ہے جس سے وہ مشکلات اور سختیوں کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے ۔ مشکلات کو تحمل کرنے کے لئے آمادگی اورمخالف قوت کے سامنے مقاومت میں مہم نقش رکہتا ہے ۔
خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے :
'' ان یَکن منکم عشرونَ صَابرون یَغلبوا '' (1)
اگر ان میں سے بیس بہی صبر کرنے والے ہوں تو دو سو پر غالب آجائیں ۔
کیونکہ صبر انسان کی جسمانی قوت میں اضافہ کرتا ہے اوراسے دشمن کے سامنے مقاوم اور ثابت قدم رکہتا ہے ۔
پافشاری واستقامت میخ سزد از عبر ت بشر گردد
بر سرش ہرچہ بیشتر کوبی پافشاریش بیشتر گردد
یعنی استقامت اور ثابت قدمی میخ کی شان ہے جس میں انسانوںکے لئے سبق ہے کیونکہ میخ کے سر پر جتنا زیادہ مارو وہ اتنا ہی زیادہ محکم اور ثابت قدم ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ انفال آیت: 65
عظیم مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کی شرائط میں سے ایک مہم شرط صبر واستقامت ہے اپنے نفس کو صبرواستقامت پرتیار کرو تاکہ بڑی سے بڑی مشکل بہی آپ کے لئے آسان ہوجائے ۔ صبر واستقامت سے آپ کی قوت ارادہ میں بہی اضافہ ہوتا ہے ۔
صبر واستقامت پانی کے ایسے بند کی مانند ہے جو پانی کو ضائع ہونے سے روکتا ہے یہ آپ کی توانائی کو متمرکز کرتا ہے ۔
بزرگوں نے بڑے سے بڑے موانع کو بہی صبر واستقامت سے برطرف کیا اور اپنی دیرینہ آرزو کو پورا کیا اس وقت زندگی کی تمام تلخیاں ، ناکامیاں صبر کی وجہ سے لذائذ میں تبدیل ہوجاتی ہیں آپ بہی صبر واستقامت کا دامن ہاتہ سے نہ چہوٹنے دیں اور بڑی بڑی مشکلات اور مصائب کے سامنے ثابت قدم رہیں تاکہ آپ بہی کامیاب بزرگان کی طرح اپنے اعلی ٰ اور باارزش مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوسکیں۔
باغبان گر پنج روزی صحبت گل بایدش
بر جفا ی خار ہجران ، صبر بلبل بایدش
اگر باغبان پانچ دن پہول کی صحبت میں رہے تو کانٹوں کی جفا سے رونما ہونے والی جدائی میں وہ بلبل کی مانند صبر سے کام لے۔
گیارہواں باب
اخلاص
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' عندَ تَحَقّق الاخلَاص تَستَنیر البَصَائر ''
جب اخلاص متحقق ہوجائے تو بصیرت نورانی ہوجاتی ہے۔
اہمیت اخلاص
اخلاص کا نتیجہ
صاحب جواہر الکلام کا اخلاص
ہم کیا صاحب اخلاص بن سکتے ہیں ؟
زحمت اخلاص
نتیجۂ بحث
اخلاص ،یعنی انسان کے کردار ورفتار کا ریا، تظاہر اور تمام شرک آمیز امور سے پاک ہونا یہ بہت اہم اور باارزش صفات میں سے ہے کہ خداوند کریم نے اپنے بعض بندوں کو عطا کی جو عالی مراتب رکہتے ہیں ۔خداوند متعال حضرت موسیٰ (ع) کے بارے میں فرماتا ہے :
'' وَ اذکر فی الکتاب موسیٰ انَّه کَانَ مخلصاًوَ کَانَ رَسولاًنَبیّاً ''(1)
اور اس کتاب میں موسیٰ کا ذکر کیجئے وہ یقیناً برگزیدہ نبی مرسل تہے ۔
اور حضرت یوسف (ع) کے بارے میں فرمایا :
''انَّه من عبَادنَا المخلصین ''(2)
کیونکہ یوسف ہمارے برگذیدہ و مخلص بندوں میں سے تہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ سورہ مریم آیت: 51
[2]۔ سورہ یوسف آیت: 24
امام جواد (ع) اخلاص کو امام زمانہ کے تین سو تیرہ سپاہیوں کی صفات میں سے ایک قراردیتے ہیں اور انہیں اس صفت و خصلت سے آراستہ ہونے کا حکم دیتے ہیں۔
حضرت امام محمد تقی (ع) فرماتے ہیں :
'' فَاذا اجتَمَعَت لَه هٰذه العدَّة من اَهل الاخلَاص اَظهر اَمرَه ''(1)
جب اہل اخلاص میں سے یہ گروہ حضرت مہدی کی خدمت میں آئے تو امام زمان اپنے امر کو ظاہر فرمائیں گے ۔
کیونکہ وہ بزرگان غیر معمولی توانائی اور غیر عادی قدرت سے بہرہ مند ہیں ، اخلاص ان کی ضروری صفات میں سے ہے تاکہ وہ اپنی روحانی طاقت سے کاملا ًامام زمان کی ولایت وحکومت کے تحت استفادہ کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الانوار:ج28ص352
اگر ہمارا کردار ورفتار نفس کی پیروی کی بنیاد پر ہو تو ہماری زندگی تباہ ہوجائے گی۔ اور آخرت میں نقصان کے علاوہ کچہ حاصل نہیں ہوگا لیکن ہمارے اعمال میں خدا کے لئے اخلاص ہو تو ہماری زندگی پر ثمر ہوجائے گی اور دنیا و آخرت میں بہترین نتیجہ حاصل ہوگا ۔
حضرت امام صادق (ع) اپنی گفتار میں فرماتے ہیں :
'' اَلاخلَاص یَجمَع حَوَاصلَ الاَعمَال '' (1)
اخلاص اعمال کے نتیجہ کو جمع کرتا ہے ۔
جب انسان کے کردار کے ثمرات و نتائج جمع ہوتے ہیں تو اس اجتماع سے ایک عظیم قوت وطاقت تشکیل پاتی ہے جس طرح پانی کا قطرہ قطرہ دریابن جاتا ہے ۔ اخلاص بہی انسان کے رفتارو کردارکے ثمرات کو جمع کرتا ہے اور نفس میں ایک عظیم قوت کو ایجاد کرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحارالانوار :ج70 ص245
تاریخ کے صفحات کی ورق گردانی سے اس حقیقت کے بہت سے شواہد ملیں گے نمونہ کے طور پر صاحب جواہرالکلام کا تذکرہ کرتے ہیں ۔
مرحوم محدث قمی لکہتے ہیں :
اسلام میں حلال وحرام کے متعلق جواہر الکلام جیسی کتاب نہیں لکہی گئی صاحب جواہرالکلام نے پچیس سال کی عمر میں شرح شرائع یعنی جواہرالکلام کو تحریر کرناشروع کیا۔
وہ فقر وتنگدستی کے باعث ضروری کتب خرید کرنے کی قدرت نہیں رکہتے تہے لہذا انہوں نے جواہر الکلام لکہنا شروع کی تاکہ یہ شخصاً ان کے سفر میں ہمراہ ہو اور جب لوگ ان سے کوئی مسئلہ دریافت کریں تو وہ ضرورت کے وقت اس کی طرف رجوع کریں ۔
انہوں نے وہ کتاب اپنے لئے لکہی تہی نہ کہ دوسروں کے لئے ان میں کسی قسم کا ریا وتظاہر نہیں تہا۔ ان کے زمانے میں بیس علماء شرح شرائع لکہنے میں مشغول تہے ۔ لیکن ان میں سے نہ تو کوئی منتشر ہوئی اور نہ ہی مکمل ہوئی ۔
مرحوم صاحب جواہر الکلام کے ایک فرزند تہے کہ جن کا نام شیخ حمید تہا کہ جو ان کے کام اور دیگر امور انجام دیتے اور وہ اپنی کتاب کے تکمیل میں مصروف رہتے لیکن شیخ ناگہانی موت سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور صاحب جواہر الکلام کو داغ مفارقت دے گئے ۔
وہ خود فرماتے تہے کہ اپنے فرزند کی موت کے بعد مجہے دن رات چین وقرار نہیں تہا ۔ میں ہمیشہ مضطرب ومتفکر رہتا ۔
ایک رات میں کسی مجلس سے گہر جانے کے لئے نکلا تو میں راستہ میں فکر کے عالم میں جارہا تہا کہ کسی ہاتف نے میرے پیچہے سے آواز دی:
'' لَا تَفکر ،لَکَ اللّه ''
فکر نہ کرو خداتمہارے ساتہ ہے ۔
جب میں نے پیچہے مڑ کر دیکہا تو وہاں کوئی بہی نہیں تہا اس وقت خدا کی حمد کی اور خدا کی طرف متوجہ ہوگیا ۔ اس رات کے بعد خدا نے اپنی رحمت کے دروازے مجہ پر کہول دیئے ۔ میرے امور منظم ہوگئے اور حالات بہی بہتر ہو گئے ۔اس آواز کو سننے کے بعد اطمینان قلب کے ساتہ صاحب جواہر الکلام کتاب کو لکہنے میں اور اسے تمام کرنے میں مصروف ہوگئے ۔
یہ ان کے مخلصانہ عمل کا نتیجہ تہا سخت ترین حالات میں ان کی مدد کی گئی ایک ندائے غیبی کو سننے کے بعد وہ ایک علمی وپرارزش کتاب جواہرالکلام کو تکمیل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔
اگر ہاتف غیبی سے ان کی مدد نہ ہو تو ایک مفصل ترین فقہی کتاب یعنی جواہر الکلام کی تالیف مکمل نہ ہوتی ۔مرحوم صاحب جواہرالکلام ، حضرت علی (ع) کے فرمان کے روشن مصداق ہیں ۔
حضرت امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں :''طوبیٰ لمَن اَخلَصَ لله العبَادَة وَ الدّعَائَ''(1)
خوش بخت ہے وہ شخص کہ جو خدا کے لئے عبادت اور دعا کو خالص کرے ۔
وہ اپنے اس اخلاص کے ذریعہ نہ صرف اس دنیا میں سعادتمند ہوئے بلکہ آخرت میں بہی کامیاب و سرفراز ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحارالانور :ج۷۰ص۲۲۹
فرمودات اہل بیت علیہم السلام میں اخلاص کے لئے مہم و قیمتی آثار ذکر ہوئے ہیں ۔ اخلاص اس حد تک اہمیت کا حامل ہے شاید کچہ لوگ گمان کریں کہ اخلاص کا حصول، سب کا وظیفہ نہیں ہے بلکہ یہ صرف ممتاز شخصیات اور اولیاء خدا کے لئے ضروری ہے فقط وہ ہی اخلاص کی نعمت سے بہرہمند ہوں ۔ لیکن قرآن مجید ایک عمومی دعوت میں فرماتا ہے :
'' فَادعوا الله مخلصینَ لَه الدّ ینَ وَ لَوکَرهَ الکَافرونَ''(1)
پس دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرکے اللہ ہی کو پکارو اگرچہ کفار کو برا لگے۔
اس آیت سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ ہر انسان کے دینی اعمال ریاء سے پاک ہوں اور انہیں اخلاص اور خشوع اور خضوع سے بجا لائے۔ بلکہ اس طرح روایات میں آیا ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال اور رفتار وکردار میں تظاہر ریاء اور خود نمائی سے پرہیز کرے ۔
امام صادق(ع) فرماتے ہیں :
'' اخلص حَرَکَاتکَ من الرّیَائ'' (2)
اپنی حرکات کو ریاء سے پاک کرو ۔
کیونکہ انسان کی رفتار وکردار اس وقت ارزشمند ہوتی ہے جب اس میں ریاء وتظاہر نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ غافر آیت: 14
[2]۔ بحارالانوار:ج 71 ص 216
می فروشد زاہد خود بین بہ دنیا دین خویش
گشتہ معلومش کہ در عقبی متاعش باب نیست
جب متکبر اور خود پسند عبادت گزار کو یہ معلوم ہوا کہ آخرت میں اس کے لئے کوئی متاع نہیں ہے تو اس نے دنیا کے مقابل میں اپنے دین کو فروخت کر دیا ۔
پس اخلاص ایک عمومی وظیفہ ہے ہم سب کو اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہیئے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ غفلت کی وجہ سے خدا کو صرف سخت مشکلات میں مخلصانہ یاد کرتے ہیں ۔
قرآن مجید میں ارشاد قدرت ہے:
''هو الَّذی یسَیّرکم فی البرّ وَالبَحر حَتّیٰ اذَا کنتم فی الفلک وَ جَرَینَ بهم بریحٍ وَ فَر حوا بها جَائَتها بریحٍ عَاسفٍ وَ جَا ئَهم المَوج من کلّ مَکَانٍ وَ ظَنّوا اَنَّهم احیطَ بهم دَعَواللّٰه مخلصینَ لَه الدّ ین لَئن اَنجَیتَنَا من هٰذه لَنَکونَنَّ من الشَّاکرین''(1)
وہی تو ہے جو تمہیں خشکی اور دریا میں چلاتا ہے چنانچہ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور وہ لوگوں کو لے کر موافق ہوا کی مدد سے چلتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں ۔ اتنے میں کشتی کومخالف تیز ہوا کاتہپیڑا لگتا ہے اور ہرطرف سے موجیں ان کی طرف آنے لگتی ہیں وہ خیال کرتے ہیں کہ (طوفان میں ) گہر گئے ہیں تو اس وقت وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ یونس آیت: 22
اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کرکے اس سے دعا کرتے ہیں کہ اگر تونے ہمیں اس مصیبت سے بچایا تو ہم ضرور بضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے ۔
دوسرے مورد میں خدا وند تعالی ارشاد فرماتا ہے :
''فَاذَا رَکبوا فی الفلک دَعَو الله مخلصینَ لَه الدّینَ فَلَمَّا نَجَّینٰهم الی البَرّ اذَا هم یشرکونَ ''(4)
پہر جب لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان وعقیدہ کے پورے اخلاس کے ساتہ خدا کو پکارتے ہیں پہر جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچادیتا ہے تو فورا شرک اختیار کرلیتے ہیں ۔
زاہد کہ ترس روز جزا را بہانہ ساخت
بیمش ز خلق بود ، خدا رابہانہ ساخت
جو زاہدروز قیامت کو بہانہ بنا کر زہد اختیار کرے حقیقت میں لوگوں سے ڈرتا تہا مگر اس نے خدا سے ڈرنے کا بہانہ کیا۔
آیات قرآنی سے استفادہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ اخلاص ایک عمومی وظیفہ ہے ۔ ہرعبادی برنامہ میں اخلاص ہونا چاہیئے ،لیکن بہت سے لوگ خدا کو صرف شدید مشکل میں یاد کرتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[4]۔ سورہ عنکبوت آیت: 65
ایک عجولانہ قضاوت سے اپنے آپ کو مخلص شمار نہ کریں۔بلکہ یہ اعتراف کریں کہ اخلاص کا مالک بننا بہت مشکل و دشوار ہے۔
حضرت امیرالمؤمنین(ع) فرماتے ہیں:
'' تَصفیَة من العَمَل اَشَدّ من العَمَل وَ تَخلیص النّیة من الفَسَاد اَشَدّ عَلی العَاملین من طولٍ'' (1)
عمل کو خالص کرنا ،جو اصل عمل سے سخت تر ہے اور فساد سے نیت کو خالص کرنا اہل عمل کے لئے جنگ کو طول دینے سے زیادہ سخت ہے۔
دوسری روایت میں ہے امام صادق(ع) فرماتے ہیں:
'' اَلابقَائ عَلی العَمَل حتّیٰ یَخلص اَشَدّ من العَمَل '' (2)
عمل کو ادامہ دینا ،تاکہ وہ خالص ہوجائے ،اصل عمل سے سخت ہے۔
ان روایات پر دقت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیاء خدا ،برجستہ شخصیات اور علماء حقہ نے کاموں میں اخلاص کو اختیار کیا اور اپنے اعمال کو مخلصانہ طور پر انجام دیا ،انہوں نے کن سختیوں اور دشواریوں کو برداشت کیا اور مرحلہ اخلاص تک پہنچے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحار الانوار:ج۷۷ص۲۹۰
[2]۔بحار الانوار:ج۷۰ص۲۳۰
حضرت امام رضا(ع) فرماتے ہیں:
'' یَخلصونَ کَمَا یَخلص الذَّهبَ''(1)
جس طرح سونا ،سونار کے پاس حرارت کی وجہ سے زیادہ خالص ہوجاتا ہے اسی طرح وہ بزرگان بہی بہت مشکلات اور دشواریوں کو تحمل کرنے کے بعد اخلاصکی منزل تک پہنچے۔وہ اس طرح خالص ہوجاتے تہے کہ جیسے سونا خالص ہوتا ہے۔
قلب روی اندودہ نستانند در بازارحشر
خالصی باید کہ از آتش برون آید سلیم
انسان کا دل بہت سی سختیوں کو برداشت کرنے کے بعد اس قابل ہوتا ہے کہ بازار حشر میں پیش کیا جائے،جس طرح سونا تپش اور حرارت کے بعد ہی خالص ہوتا ہے اور اس میں چمک پیدا ہوتی ہے۔
اسی بناء پر رسول اکرم(ص) کے اس فرمان پر تعجب نہ کریں کہ جب رسول اکرم(ص) نے فرمایا :
''مَن اَخلَصَ للّٰه اَربَعینَ یَوماً فَجَّرَ الله یَنَابیعَ الحکمَة من قلبه عَلیٰ لسَانه''(2)
جو بہی چالیس دن اخلاص سے خدا کے لئے عمل انجام دے خداوند کریم اس کے دل سے،اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری کرتا ہے۔
کیونکہ جو اپنے وجود و جسم کو شیطان کے وجود سے پاک کرے اور خواہشات نفسانی کو ترک کرے ملائکہ کو اپنے دل میں جگہ دے اور اپنے دل کو خدا کا گہر قرار دے تو اس کی خدمت میں مامور ملائکہ اس کے دل پر حکمتیں نازل کریں گے،اس پر الہام ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار:۵۲ص۱۱۵
[2]۔ بحارالانوار:ج۷۰ص۲۴۹
ان مراحل تک پہنچنے کے بار ے میں امام صادق(ع) فرماتے ہیں:
''اَلقَلب حَرَم الله فَلَا تسکن فَی حَرَم الله غَیرَالله''(1)
دل خدا کا حرم ہے ۔ پس خدا کے حرم میں غیر خدا کو جگہ نہ دو۔
جو انسان اخلاص کی منزل کو پالے وہ تمام گناہوں سے ہاتہ اٹہا لیتا ہے۔کیونکہ اخلاص اس وقت اپنی انتہا کو پہنچتا ہے کہ جب انسان مکمل طور پر گناہوں ،اور آلودگیوں سے پاک ہوجائے۔
حضرت امیرالمؤمنین(ع) اس حقیقت کی یوں تصریح فرماتے ہیں:
''تَمَام الاخلَاص تَجَنّب المَعَاصی'' (2)
اخلاص کی انتہا ،تمام گناہوں سے پرہیز کرنا ہے۔
در راہ او شکستہ دلی می خرند و بس
بازار خود فروشی از آن سو ی دیگر است
اس کی درگاہ میں صرف شکستہ دلوں کو ہی خریدا جاتا ہے۔خود فروشی کے بازار کہیں اور ملیں گے۔
واجبات کو انجام دینے میں پاک نیت کا ہونا اخلاص کی انتہا نہیں ہے بلکہ محرمات کو ترک کرنا بہی اس کی شرط ہے ۔بلکہ جو انسان عالم معنیٰ تک پہنچے اور حقائق کی جستجو میںہو،وہ اپنی سوچ و فکر کو خالص اور پاک کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار :ج۷۷ص۲۱۵
[2]۔ بحارالانوار :ج۷۷ص۲۱۵
جس طرح رسول اکرم(ص) ایک روایت میں فرماتے ہیں:
''فَاتَّق الله تَعالیٰ وَ اَخلص ضَمیرکَ''(1)
خدا سے ڈرو اور اپنے ضمیر خالص و پاکیزہ رکہو۔
کیونکہ اگر انسان اپنے افکار و رفتار کو پاک کرے تو وہ راہ نجات تک پہنچ سکتا ہے۔
حضرت امیرالمؤمنین (ع) فرماتے ہیں :
''بالاخلَاص یَکون الخلَاصَ'' (2)
اخلاص کے ذریعہ رہائی حاصل ہوتی ہے۔
جس طرح بدن کو دہونے سے وہ ہر قسم کی گندگی و آلودگی سے پاک ہوجاتا ہے ،اسی طرح اخلاص سے خواہشات نفسانی اور شیطانی سے رہائی پا سکتے ہیں ۔
اس وقت آپ کے دل میں حکمتوں کی کے چشمے اور چ ھ پے ہوئے اسرار و رموز آپ کی زبان پر جاری ہوں گے۔یہ اس صورت میں ممکن ہے جب آپ اپنے کو خدا کے لئے خالص کریں ۔جیسا کہ اس جملہ میں ہے (مَن اَخلَصَ للّٰه)یعنی جو خدا کے لئے اخلاص اختیار کرے نہ کہ حالات و مقامات کو حاصل کرنے کے لئے۔ مراتب و مقامات تک پہنچنے کے لئے اخلاص اختیار کریں اور آپ کا ہدف مجہولات کو کشف کرنا اور حالات و مقامات ہوں تو جان لیں ،کہ آپ اپنے آپ کو بہت بڑے خطرات میں مبتلا کررہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[7]۔ بحارالانوار :ج۷۸ص۲۸۰
[8]۔ الکافی:ج ۲ص۴6۸
اخلاص اولیاء خدا کی اہم صفات میں سے ہے۔اگر آپ کے تمام اعمال و حرکات خالصتاً خدا کے لئے ہوں تو آپ با عظمت زندگی سے بہرہ مند ہو ںگے۔کیونکہ اخلاس انسان کے کردار کے اثرات کو جمع کرتا ہے اور اس کے اجتماع سے بہت بڑے اثرات حاصل ہوتے ہیں ۔
اگر اخلاص کے حصول کے لئے اپنے کردار و رفتار حتّی کہ اپنی افکار و حرکات میں بہی سعی و کوشش کریںتو آپ فلاح و نجات کی راہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
اخلاص کو ادامہ دینے کی صورت میں آپ کے دل میں حکمت کے چشمے جاری ہوں گے اور رحمانی الہامات آپ کے جسم و روح کو منور کریں گے۔ آپ اس وقت اولیاء خدا کی مخصوص ہدایت سے بہرہ مند اور مستفید ہوںگے اور اس عظیم نعمت کے ذریعہ آب و سر آب کی پہچان کے علاوہ آپ گمراہی و ضلالت اور مشکلات سے با آسانی نکل پائیں گے۔بلکہ آپ اپنے اوپر ہونے والی عنایات کی بدولت دوسروں کی راہنمائی بہی کرسکیں گے۔
ای یک دلہ صد دلہ ، دل یک دلہ کن مہر دگرانرا زدل خود یلہ کن
یک صبح ز اخلاص بیا بر در ما بر ناید اگر کام تو از ما گلہ کن
یعنی ایک دل میں سینکڑوں محبوب بسا رکہے ہیں۔اس میں صرف ایک ہی محبوب کی جگہ ہے،دوسروں کی محبت کو اپنے دل سے نکال کر ایک دن خلوص دل سے میرے در پر آئو اگر میں تمہیں تمہارے ہدف و مقصد تک نہ پہنچا دوں تو پہر مجہ سے شکوہ وگلہ کرو۔
گیارہواں باب
علم ودانش
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' اَعوَن االاَشیَائ عَلیٰ تَزکیَة العَقل التَّعلیم ''
تزکیہ نفس کے لئے تمام دیگر چیزوں کی بنسبت تعلیم زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔
علم ارتقاء کا ذریعہ
تحصیل علم میں ارادہ کی اہمیت
حصول علم کے لئے گناہوں کو ترک کرنا
کون سا علم روحانی تکامل کا باعث ہے؟
علم کی ترویج معنوی کمالات کا ذریعہ
نتیجۂ بحث
علم و دانش نہ صرف علمی بلکہ روحانی و معنوی اعتبار سے بہی انسان کو کمال کے اعلیٰ مراتب تک پہنچاتا ہے۔خدا وند تعالیٰ ،قرآن مجید میں علم کو اعلیٰ معنوی مقامات و درجات تک پہنچنے کے لئے ارتقاء کا ذریعہ شمار کرتا ہے اور صاحبان علم و دانش کو بلند درجات کے مالک قرار دیتا ہے اس بارے میں ارشاد خدا وندی ہے:
'' یَرفَع الله الَّذینَ اٰمَنوا منکم وَالَّذینَ اوتواالعلم دَرَجَات ''(1)
خدا صاحبان ایمان اور جن کو علم دیا گیا ہے ،ان کے درجات کو بلند کرنا چاہتا ہے۔
علم انسان کے نفس میں تحول ایجاد کرکے نفسانی حالات کو مضطرب کرتا ہے۔علم و دانش کی وجہ سے نفس میں ایجاد ہونے والا تحول ،انسان کو کمال کے درجات تک پہنچاتا ہے علم و دانش اور اعلیٰ مراتب پر فائز ہونا ،دانشمندوں کو جاہلوں سے ممتاز کرتا ہے ،خدا وند متعال اس بارے میں قرآن مجید میں ارشاد کرتا ہے:
'' قل هل یَستَوی الَّذینَ یَعلَمونَ وَ الَّذینَ لَا یَعلَمون''(2)
کہہ دیجئے کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ،ان کے برابر ہوجائیں گے جو نہیں جانتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.[1] سورہ مجادلہ آیت: 11
[2]۔ سورہ زمرآیت:۹
ز دانش زندہ مانی جاودانی ز نادانی نیابی زندگانی
بود پیدا بر اہل علم ،اسرار ولی پوشیدہ گشت از چشم اغیار
نہ بہرخورد وخوابی ہمچوں حیوان برای حکمت وعلمی چو انسان
تم علم و دانش ہی سے زندہ و جاوید رہ سکتے ہو نادانی و جہالت میں تمہیں زندگی نہیں ملے گی ،اہل علم پر وہ اسرار بہی کہل جاتے ہیں کہ جو جہلا کی آنکہوں سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔حیوان کی طرح کہانے پینے اور سونے میں مصروف نہ رہو بلکہ انسان کی طرح علم و حکمت کے حصول کی کوشش کرو کیونکہ علم ہی انسان کو حیوان سے ممتاز کرتا ہے۔
ہم جو کام انجام دیتے ہیں ،ہمارے نفس پر اس کا اثر ہوتا ہے ۔اسی طرح علم و دانش ہمارے نفس میں تحول ایجاد کرتا ہے اور نفس پر مرتب ہونے والے اثرات کی وجہ سے یہ اعلیٰ درجات تک پہنچتا ہے۔
دین کی نظر میں علم و دانش کا حصول انتہائی اہم ہے ۔جس کی وجہ اہمیت ہمارے اذہان سے با لا تر ہے ،البتہ کچہ شرائط کو ضرور مد نظر رکہیں کہ جنہیں خاندان عصمت و طہارت نے اپنے ارشادات میں بیان فرمایا ہے ۔علم نہ صرف انسان کی معلومات میں اضافہ کرتا ہے ،بلکہ یہ عبادات کی نوع بہی ہے۔حضرت امام باقر (ع) فرماتے ہیں:
'' تَذَکّر العلمَ سَاعَةً خَیر من قیَام لَیلَةٍ '' (1)
علمی گفتگو میں گزارنے والا ایک گہنٹا ایک رات کی عبادت سے بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحارالانوار:ج۱ص۲۰۴
یہ بدیہی ہے کہ ایک گہنٹہ علمی گفتگو میں گزارنا ،اس صورت میں ایک رات عبادت میں گزارنے سے بہتر ہے کہ تعلیم و تعلم سے تقرب الہٰی کے علاوہ کوئی قصد نہ ہو ۔اگر طالب علم کا مقصد عوام کالانعام پر حکمرانی ہو تو یہ ان سے بہی زیادہ گمراہ ہوگا۔
''اولٰئکَ کَالاَنعَام بَل هم اَضَلّ ''(1)
وہ چوپایوں جیسے ہیں ۔بلکہ ان سے بہی زیادہ گمراہ ہیں۔
علم کی فضیلت کے بارے میں رسول اکرم(ص) کا فرمان ہے:
'' قَلیل من العلم خَیر من کَثیرالعبَادَة '' (2)
کچہ علم حاصل کرنا ،بہت زیادہ عبادت کرنے سے افضل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ سورہ اعراف آیت:179
[2]۔ بحارالانوار:ج۱ص۱۷۵
علم کے ذریعہ روحانی و معنوی قوت کو حاصل کرنے کے لئے تحصیل علم میں ارادہ بہت اہم ہے تاکہ آپ کا نفس علمی و اعتقادی مسائل کو قبول کرنے کیلئے تیار رہے۔کیونکہ جن طالبعلموں کا کوئی ارادہ و ہدف نہ ہو ،ان کا مستقبل درخشاں نہیں ہوتا ۔وہ اپنے وقت اور فرصت کے لمحات سے استفادہ نہیں کرتے۔بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جو طالبعلم علمی و معنوی مقامات کے حصول کے لئے بے ہدف و بے ارادہ ہوں ،تاریک مستقبل ،ا ن کا منتظر ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے خدا وند عالم کی حضرت داؤد پر کی گئی وحی میں آیا ہے :
'' اَلمتَعَلّم یَحتَاج الیٰ رَغبَةٍ و َ ارَادةٍ'' (1)
متعلم کو شوق و ارادہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس بناء پر علم دانش حاصل کرنے کیلئے شوق کے ساتہ اگر ارادہ نہ ہو تو یہ علم حاصل کرنے اور سیکہنے کے لئے مؤثر نہیں ہوگا۔
پس اگر آپ حصول علم کی طرف مائل ہوں اور آپ کو علم حاصل کرنے کا شوق اور آرزو ہو تو اپنی منزل و مقصد کی طرف پختہ ارادہ کے ساتہ گامزن ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحارالانوار:ج۲ص۳۲
علم کی حصول کی راہ میں قابل توجہ اور مہم مسائل میں سے ایک گناہوں کو ترک ہے۔جس طرح گناہوں کا ارتکاب،ہم سے بہت سی عبادات کی توفیق کو سلب کرتا ہے ،اسی طرح یہ حصول علم کے لئے بہی مانع ہے۔بہت سے لوگ گناہوں کو انجام دینے کی وجہ سے نہ تو نور علم سے منور ہیں اور نہ ہی وہ عقائد اور معارف اہل بیت عصمت و طہارت سے زیادہ آگاہ ہیں۔
کیونکہ خداوند عالم کبہی اپنے بندوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے علم کی نعمت سے محروم کردیتاہے۔
حضرت امیرالمؤمنین (ع) فرماتے ہیں:
'' اذَا اَرذَلَ الله عَبداً حَظَرَ عَلَیه العلم ''(1)
جب پروردگار کسی بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو اسے علم و دانش سے محروم کردیتا ہے۔
اس فرمان کے رو سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے موارد میں خاندان عصمت و طہارت کے معارف سے بے بہرہ اور علم و دانش سے محروم ہونے کی وجہ انسان کی پستی ہے کہ جو اس کے گناہوں کا نتیجہ ہے۔
اسی بناء پر تشنگی علم رکہنے والے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ علوم و معارف کے حصول اور اس میں پیشرفت کے لئے اپنے کو گناہوں سے محفوظ رکہے اور اپنے کو اطاعت خدا اور زیور عبادت سے آراستہ کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار:280
تحصیل علم کی شرائط کے بارے میں گذشتہ مطالب سے روشن ہوتا ہے کہ روایات کی رو سے حصول علم با ارزش اور اہم آثار علوم کی تمام انواع کو شامل نہیں کرتے۔اگرچہ بعض افرادلفظ علم سے عمومی معنی کو مراد لیتے ہیں یعنی وہ علم کہ آج کی دنیا میں جس کا حصول رائج ہو۔لیکن روایات کی نظر میں علمی مسائل سے آگاہ بہت سے افراد کو صاحبان فضل (نہ کہ علم)شمار کیا گیا ہے۔لہٰذا مکتب عصمت و طہارت کی نظر میں ہر قسم کے مطالب کو علم کے عنوان سے سیکہنا واجب نہیں ہے۔
ایک مشہور روایت میں پیغمبر اسلام حضرت محمد(ص) سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے کہا:
'' طَلَب العلم فَریضَة عَلیٰ کلّ مسلَمٍ وَ مسلمَةٍ ''
علم کاحصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے۔
اس روایت کی تفسیر میں امام صادق (ع) فرماتے ہیں:
'' اَیّ علم التَّقویٰ وَالیَقین'' ([1)
یعنی پیغمبر(ص) کے نزدیک جس علم کو حاصل کرنا ہو مرد اور عورت پر واجب ہے وہ ایسا علم ہے کہ جس سے انسان کے تقویٰ و یقین میں اضافہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحارالانوار:ج۲ص۳۲
اس بناء پر علم و دانش کی مدح میں وارد ہونے والی روایت کا مقصود ایسے علوم ہیں کہ جو انسان کو تکامل تک پہنچائیں نہ کہ ہر قسم کا علم،بعض ایسے علوم بہی ہیں کہ جو ظاہراً علم کی صورت میں جلوہ گر ہیں۔لیکن در حقیقت وہ خیالی مسائل سے زیادہ نہیں ہیں۔
پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
انَّ من البَیَان سحراً وَ من العلم جَهلاً وَ من القَول عَیّاً
بعض خطبات و بیانات سحر ،بعض علوم جہل اور بعض اقوال میں درماندگی ہوتی ہے۔
کچہ لوگ خطاب کرنے سے عاجزہوتے ہیں اور بعض خطاب کرنے میں اس حد تک مہارت رکہتے ہیں کہ اگرچہ ان کی باتیں باطل ہی کیوں نہ ہوں ،لیکن انداز خطابت سے لوگوں پر سحر طاری ہوجاتا ہے۔
اگر ایسے افراد دنیا کی علمی محافل میں بعض خرافات علمی تہیوری کے نام پر پہیلائیں تو کیا انہیں حاصل کرنا واجب ہے؟
بطلمیوس نے ہیئت کے بارے میں ایک غلط عقیدہ پہیلاکر دنیا کے تین ہزار سال تک کے دانشمندوں حتیٰ کہ ابوعلی سینا جیسے شخص کو اشتباہ میں ڈال دیا اور انہیں اپنا ہم عقیدہ اور ہم رائے بنالیا۔یہاں تک کہ بطلمیوس کے باطل مفروضہ پر علمی پیشرفت ہونے لگی۔
ایک زمانے میں ڈارون نے تنازع بقاء کے مسئلہ کو مطرح کیا۔اور اس نے اس خرافی فرضیہ کو اس طرح سے علمی رنگ دیا کہ کچہ دانشمندوں نے اس نظریہ کو قبول کیا ۔کچہ عرصہ کے بعدمعلوم ہوا کہ ان کایہ غلط مفروضہ فریب سے قائم کیاگیا تاکہ بعض دوسرے لوگوں کو دہوکہ دے سکے۔ لیکن ان دانشمندوں کی خیانت سے پردہ اٹہ گیا،اور ان کا فریب آشکار ہوگیا۔اب ہم یہاں چند سطور کے ذکر کرنے سے ان کے فریب سے پردہ اٹہانے کی کوشش کرتے ہیں۔
گذشتہ صدی کے اوائل میں ماہرین کو کہوپڑی اور نچلے جبڑے کے کچہ نمونے ملے۔ان ماہرین میں انگلینڈ کے مشہور ماہر آثار قدیمہ'' چالز ڈیوس ''بہی شامل تہے۔ان نمونوں سے ایسا لگتا تہا کہ یہ ڈارون کے نظریہ کے مطابق بندر اور انسان کے درمیان مفقود حلقہ سے متعلق ہے۔نومبر1912 کو منچسٹر گارڈن میں اس کی خبر شائع ہوئی۔یہ نمونے ''ساسکن '' میں واقع'' پیلٹ ڈاون کمن '' کے مقام پر
ایک نشیبی علاقے میں دریافت ہوئے اور اسے پیلٹ ڈاون کا نام دیا گیا۔بعض ماہرین کا شک تہا کہ کہوپڑی اور جبڑے کے ٹکڑے ایک ہی چیز کے ہیں۔جب1917 ء میں یہ اعلان ہوا کہ دو سال پہلے بہی ایسا ہی ایک نمونہ دریافت ہوا ہے تو اکثر شکّاک خاموش ہو گئے۔
1953 ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ''وائنز ''نے اس قضیہ کے بارے میں تحقیق شروع کی تو وہ اس وقت شک میں مبتلا ہو گیا کہ جب اس کو یہ پتہ چلا کہ ابہی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ پیلٹ ڈاون کا دوسرا نمونہ کس مقام سے دریافت ہوا تہا ۔اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ''سر ویلفوڈڈیگراس کلار ''اور برطانیہ کے عجائب گہر میں آثار قدیمہ کے ماہر ''کنٹ آکلی ''سے مدد کا تقاضا کیا۔کچہ مدت کے بعدان کی کوششوں کے نتائج انگلینڈ کے میوزیم کی گزارشات میں شائع ہوئے۔اب اس میں کوئی شک نہیں تہا کہ انہوں نے جبڑے کے دانتوں کی اصلاح تہی ،تاکہ یہ انسان کی شبیہ لگے۔
مختلف تجربات سے پتہ چلا کہ کہوپڑی اور جبڑے کے نمونے بہی مختلف ہیں ۔اس سے ثابت ہوا کہ پیلٹ ڈاون کا دوسرا نمونہ خود ساختہ اور مصنوعی تہا۔وہاں سے ملنے والی حیوانات کی ہڈیوں کو جمع کرکے پیلٹ ڈاون کی شکل دی گئی۔لیکن ابہی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کس کی سازش تہی؟
پس معلوم ہوا کہ علم میں بہی دوسری چیزوں کی طرح تقلّب ممکن ہے۔نیز یہ بہی مشخص نہیں کہ عمل میں کس ہد تک تقلّب انجام پاتا ہے۔
ایسی سازشوں اور تقلّبات سے بچنے کا واحد راستہ خاندان عصمت وطہارت علیہم السلام کی تعلیمات ہیں۔ہم خاندان وحی و عصمت وطہارت علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اپنی روح کو تکامل حاصل سکتے ہیں ۔
حضرت امیرالمومنین علی (ع)، پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا :
'' وَلٰکنیّ اَخَاف عَلَیکم کلّ منَافق الجَنَان عَالم الّلسان یَقول مَا تَعرفونَ وَیَفعَل مَا تَنکرون'' ( 1 )
لیکن سارا خطرہ ان لوگوں سے ہے جو زبان کے عالم ہوں اور دل کے منافق ،کہتے وہی ہیں جو تم سب پہچانتے ہو اور کرتے وہی ہیں جسے تم برا سمجہتے ہو۔
بعض دانشمند یہ سوچتے ہیں کہ وہ معاشرے کی خدمت کے لئے جستجو کررہے ہیں ،لیکن در حقیقت وہ نادانی کی وجہ سے استعمار کے ہاتہوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں ۔استعماری طاقتیں ان کے علم ودانش کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتی ہیں۔'' آئن سٹائن '' بہی ایسے افراد میں سے ایک ہے۔
اس کا روحانی افسوس و افسردگی اور اس کے ساتہ کام کرنے والے '' رابرٹ '' کی پشیمانی اس حقیقت و واقعیت کی گواہ ہے۔ ان دونوں کو روحانی افسوس و پشیمانی اس وقت ہوئی کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ایٹم کی عظیم قوت کو انسانیت کی فلاح و فائدہ میں استعمال کرنے کی بجائے بعض ممالک کی سیاسی شخصیات اسے بعض اقوام و ملل اور انسانوں کو نابود کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ نہج البلاغہ مکتوب:27
یونیسکوکے توسط سے منعقد کی جانے والی آئن سٹائن کی دسویں برسی سے خطاب کرتے ہوئے ''آئن سٹائن '' کے قریبی دوست نے کہا:
'' آئن سٹائن '' نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں تسلیحاتی مسابقات اور جنگوں سے مایوس ہوکر کہا تہا کہ اگر میں زندگی کو دوبارہ سے شروع کر سکتا تو میں ایک الیکٹریشن بننے کو ترجیح دیتا۔
آئن سٹائن اس تمام علمی شہرت کے باوجود اپنی زندگی کی آخری ایام میں اپنے ماضی پر پشیمان تہا ۔جب اس نے اپنے علم و دانش کو استعماری اور دنیا کو برباد کرنے والی طاقتوں کے ہاتہوں استعمال ہوتے دیکہا،نہ کہ لوگوں کی خدمت میں ،تو اسے پشیمانی ہوئی۔
اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا استعمار اور دنیا کی ظالم اور ستمگر قوتوں کی خدمت میں استعمال ہونے والا علم روح کی بلندی اور معنوی درجات کے عروج کا سبب بن سکتا ہے؟
جو دانشمند نادانی کے باعث غیروں کی خدمت اور اپنوں سے خیانت کرے کس طرح ممکن ہے کہ وہ اہلبیت کی مدح و ستایش کا مستحق ہو۔
ہماری روایات میں ایسا عالم مدح و ستائش کا مستحق ہے کہ جو صرف گفتار کی حد تک نہیں بلکہ مقام عمل میں ب ھ ی دین کا خدمتگذار ہو۔اسی وجہ سے امام صادق (ع) فرماتے ہیں: ''یعنی بالعلماء مَن صَدَّقَ قَولَه فعله وَمَن لَم یصَدّق قَولَه فعله فَلَیسَ بعَالمٍ ''( 1 )
عالم سے مراد وہ شخص ہے کہ جس کا کردار اس کی گفتار کی تصدیق کرے اور جس کا کردار ، اس کی گفتار کی تصدیق نہ کرے وہ عالم نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحاراالانوار:ج 70ص 344
جو علم قلب کو حیات بخشتا ہے ،اس کی فضیلت فقط اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ عالم کے نفس میں تحولات ایجاد کرتا ہے۔بلکہ یہ دوسروں کو سکہائے تو یہ معاشرے میں تحولات ایجاد کرنے کے لحاظ سے بہی فضیلت رکہتا ہے۔کیونکہ علم کا لازمہ،اس کی نشر و اشاعت اور دوسروں کو سکہانا ہے۔تعلیم حاصل کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے افراد کو بہی
تعلیم دیں۔اس طرح سے اگرچہ علم کم ہو لیکن ایک دوسرے کو تعلیم دینے سے یہ ہزاروں افراد میں فروغ پائے گا۔اب ہم جو واقعہ بیان کرنے جارہے ہیں اس سے آپ علم کی نشر و اشاعت کی فضیلت کا اندازہ بخوبی لگاسکتے ہیں۔
مرحوم مجلسی اول بزرگ شیعہ علماء میں سے ہیں۔وہ اپنی پوری زندگی ریاضت، مجاہدہ، تہذیب اخلاق اور لوگوں کی خدمت میں مشغول رہے۔وہ اپنی ایک تحریر میں بیان کرتے ہیں:
میں زیارت کے لئے گیا ،جب نجف اشرف پہنچا تو سردیوں کا موسم شروع ہوچکا تہا ،میں نے ارادہ کیا کہ سردیاںنجف اشرف میں گزاروں رات کو عالم خواب میں حضرت امیرالمومنین کی زیارت نصیب ہوئی،انہوں نے مجہ پر بہت لطف و کرم کیااور فرمایا:اب تم نجف میں نہ رہو بلکہ واپس اپنے شہر (اصفہان)چلے جائو کیونکہ وہاں تمہاری زیادہ ضرورت ہے اور وہاں کے لئے تم زیادہ مفید ہو۔چونکہ مجہے نجف اشرف رہنے کا زیادہ اشتیاق تہا میں نے بہت اصرار کیا کہ کسی طرح مولا مجہے وہاںرہنے کی اجازت دے دیںلیکن حضرت امیرالمومنین نہ مانے اور فرمایا:اس سال شاہ عباس وفات پاجائیگا اور شاہ صفی اس کا جانشین بنے گا ،ایران میں سخت فتنہ برپا ہوگا،خدا چاہتا ہے کہ تم اس فتنہ کے دوران لوگوں کی ہدایت کرو۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ فوائدالرضویہ مرحوم محدث قمی :440
مہم نکتہ یہ ہے کہ حضرت امیرالمومنین (ع) نے فرمایا کہ تم خود تنہا خدا کی طرف آنا چاہتے ہو،لیکن خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہدایت سے ستر ہزار افراد خدا کی طرف آئیں،پس تم واپس چلے جائو ۔اس خواب کی وجہ سے میں واپس اصفہان چلا گیا۔میں نے اپنے ایک نزدیکی دوست سے یہ خواب بیان کیا،اس ننے یہ خواب شاہ صفی کو بتایا کہ جو ان دنوں مدرسہ صفویہ میں تہا ۔چند دن گذرنے کے بعد شاہ عباس مازندران کے سفر کے دوران چل بسااور شاہ صفی اس کا جانشین بن گیا۔
اس خواب کی وجہ سے مرحوم علّامہ مجلسی اول اصفہان چلے آئے اور لوگوں کو علوم و معارف اہلبیت کے تابناک انوار سے آشنا کروایا۔جی ہاں !غیبت کے دوران دانشمندوں اور خاندان عصمت و طہارت کے عقائد و معارف سے آگاہ افراد پر لازم ہے کہ ایک مہربان و شفیق باپ کی طرح دوسروں کی مدد کریں اور ان کی رہنمائی کی کوشش کریں۔اس حقیقت سے آگاہ امام حسن عسکری کی ایک روایت ہے کہ جو انہوں نے پیغمبر(ص) سے نقل فرمائی ہے: '' اَشَدّ من یتم اليَتیم الّذی انقَطَعَ عَن اَبیه،یتم يَتیمٍ انقَطَعَ عَن امَامه، وَلَايَقدرالوصول الَیه وَلَا یَدری کَیفَ حکمه فیمَايَبتَلی به من شَرایع دینه اَلَا فَمَن کَانَ من شیعَتنَا عَالما بعلومنَاوَهذا الجَاهل بشَریعَتنا،اَلمنقَطع عَن مشَاهدَتنَا،يَتیم فی حجره-اَلَا فَمَن هداه وَاَرشَدَه وَ عَلَّمَه شَریعَتَنا کَانَ مَعَنَا فی الرَّفیق الاَعلٰی ''( 1 )
اپنے باپ کا سایہ سر سے اٹہ جانے والے یتیم سے بڑہ کر بے سرپرست وہ یتیم ہے کہ جو اپنے امام سے دور ہو اور امام تک پہنچنے کی قدرت نہ رکہتا ہو وہ نہیں جانتا کہ اسے درپیش آنے والے شرعی احکامات میں اس کا کیا وظیفہ ہے؟
آگاہ ہوجائو کہ ہمارے شیعوں میں سے جو ہمارے علوم سے آشنا ہیں،ان میں سے جو بہی ایسے شخص کی ہدایت کرے اور اسے شریعت کے احکام بتائے کہ جو ہماری شریعت سے جاہل ،ہمارے دیدار سے محروم اور ہمارے حجر میں یتیم ہو تو وہ بہشت میں بلند مقام پر ہمارے ساتہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار :ج2ص 2
اس روایت میں پیغمبر اکر(ص) م علوم کی ترویج اور نا بلد و نا آشنا افراد کی ہدایت کرنے کو تکامل معنوی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
جو لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کرے گا وہ بہشت برین میں ہمارے ساتہ ہوگا۔اسی وجہ سے بہت سے علماء نے علم و دانش کو کسب کرنے کی بہت کوششیں کی،ان میں سے بعض تو اس طرح علمی صلاحیت و مسائل میں کہو جاتے کہ وہ کہانے پینے اور سونے کو ہی بہول جاتے۔
مرحوم حاج کریم فرّاش کہ جو حضرت امام حسین(ع) کے حرم کے خدام میں سے تہے وہ کہتے ہیں:میں حرم مطہر میں خدمتگذاری میں مصروف تہا خدّام نے زوّاروں کو حرم کے دروازے بند ہونے کی اطلاع دی،میں نے دیکہا کہ وحید بہہبانی اور آقا شیخ یوسف بحرانی ایک ساتہ حرم سے باہر آئے اور برآمدے میں آکر علمی مسائل پر بحث کرنے لگے،پہر خدام نے زائرین کو برآمدے کے دروازے بند ہونے کی اطلاع دی تو ان دونوں بزرگواروں نے صحن میں آکر بحث کو جاری رکہا،یہاں تک کے صحن کے دروازے بند ہونے کے بارے میں بہی زائرین کو مطلع کیا گیا۔
وہ دونوں بزرگوار صحن سے نکل کر دروازے کے پیچہے اپنی علمی گفتگو میں مصروف رہے،میں حرم کے صحن میں تہا سحری کے وقت حرم کے دروازے کہولنے گیا ،جب میں نے حرم کے دروازے کہولے تو دیکہا کہ وہ دونوں بزرگوار ابہی تک کہڑے ہیں اور علمی بحث کررہے ہیں۔
جب میں نے دیکہا تو ان کے قریب کہڑا ہوگیا اور ان کی بحث سننے لگا ،لیکن انہوں نے اپنے مباحثہ کو جاری رکہا،یہاں تک کہ مؤذن نے صبح کی اذان دی تو اس وقت آقا شیخ یوسف بحرانی حرم مطہر کی طرف چلے گئے کیونکہ وہ حرم مطہر میں امام جماعت تہے،پہر ان کی بحث تمام ہوئی۔( 1 )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ فوائدالرضویہ مرحوم محدث قمی:406
پوری شیعہ تاریخ میں علماء حقہ نے جن زحمات و تکالیف کو برداشت کیا ،ان کی زحمات لوگوں کو بتائیں اور ان کے احترام کی کوشش کریں،ان کی بدگوئی اور استخفاف سے گریز کریں۔
امام صادق (ع) فرماتے ہیں:
'' من اَفسَدَ بالعلَماء اَفسَدَدینَه''( 1 )
علماء کی اہانت کرنے والا اپنے دین کو فاسد کرتا ہے۔
یہ فرامین ان علماء کے بارے میں صادر ہوئے ہیں کہ جنہوں نے دین خدا کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کی۔ایسے علماء کی اہانت ،دین اور خدا کے دستورات کی اہانت ہے۔ کیونکہ ایسے علماء علم ودانش کو کسب کرنے کی جستجو و کوشش اور اسے معاشرے میں فروغ دینے کی وجہ سے خدا کی بارگاہ اوراہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے مقربین میں سے ہیں۔
اس بناء پر جو ان کی اہانت کرے،حقیقت میں وہ دین کی اہانت کرتا ہے،اور جو خدا کے دستورات کی اہانت کرے وہ اپنے دین کو تباہ کرتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار:ج23ص378
علم و دانش کے حصول کیلئے شوق اور ارادہ بہت اہم کردار کے حامل ہیں۔لہٰذا اپنے اندر ان دونوں صفات کو ایجاد کریںاور انہیں تقویت دیں۔اس علم کو حاصل کرنے کی کوشش کہ جس کا سرچشمہ مکتب وحی ہو،اور اپنے وجود کو ان کے تابناک انوار سے منوّر کریں۔
ان علوم کو حاصل کرنے سے آپ کے نفس میںعظیم تحولات جنم لیںگے۔کیونکہ علم و دانش شعور پر اثرانداز ہوتے ہیں اور آپ کے افکار کو بلند مقام پر پہنچاتے ہیں۔
ان روحانی تحولات کا نتیجہ جاویدانی حیات اور اغیار سے پوشیدہ اسرار تک رسائی ہے۔اس صورت میں آپ کو بلند درجات کا وسیلہ فراہم ہوجائے گا۔
آپ ان عالی اور علمی مقامات کو کسب کرنے سے معاشرے اور امت کی ہدایت اور راہنمائی کریں اور انہیں ضلالت اور گمراہی نجات دے کر مکتب اہل بیت سے آشنا کروائیں۔
چو علمت ہست خدمت کن کہ زشت آید بردانا
گرفتہ چینیان احرام و مکّی خفتہ در بطحا
تمہارے پاس علم ہے تو خدمت کرو کیونکہ عالم کے لئے زشت ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے علم سے مستفید نہ کرے ہماری غفلت کا یہ حال ہے کہ اہل چین نے احرام بہی باندہ لیا اور ہم مدینہ میں بیٹہے سو رہے ہیں۔
بارہواں باب
توفیق
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
'' لَا ینفَع اجتهاد بغیر تَوفیق ''
توفیق کے بغیر کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
انسان کی ترقی میں توفیق کا کردار
سعادت کے چار بنیادی ارکان
توفیق نیکیوں کی طرف ہدایت کا ذریعہ
کامیاب اشخاص
توفیق حاصل کرنے کے ذرائع
1 ۔ کسب توفیق کے لئے دعا کرنا
ایک اہم نکتہ
2 ۔ ماں باپ کی دعا توفیق کا سبب
3 ۔ توفیق کے حصول کے لئے جستجو اور کوشش کرنا
4 ۔ خدا کی نعمتوں میں تفکر، توفیق الٰہی کا سبب
نتیجۂ بحث
نیک کام انجام دینے کے لئیانسان کو خداوند متعال کی جانب سے توفیق اور عنایت کی ضرورت ہوتی ہے،جب تک توفیق الٰہی شامل حال نہ ہو تب تک وہ کسی بہی خدا پسندانہ کام کو انجام دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔لہٰذا اپنے اہداف تک پہنچنے اور اپنے امور زندگی میں کامیابی کے لئے خداوندعالم سے دعا کرنا ضروری ہے کہ اے پروردگار ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم اہم اور عالی اہداف و مقاصد تک پہنچ سکیں اور ان کا حصول ہمارے لئے آسان فرما۔
حضرت جوادالائمہ امام محمد تقی (ع) فرماتے ہیں:
''اَلمؤمن يَحتاج الٰی تَوفیقٍ من اللّه وَ وَاعظٍ من نفسه وَ قَبول ممَّن يَنصَحَه''(1) مومن تین چیزوں کا محتاج ہے:
1 ۔ خدا کی طرف سے حاصل ہونے والی توفیق۔
2 ۔ اپنے نفس کے ذریعہ خود کو وعظ کرنے والا ہو۔
3 ۔ جو اسے نصیحت کرے اس کی نصیحت قبول کرے۔
اس فرمان کی رو سے توفیق الٰہی ہر مومن شخص کی ضرورتوں میں سے ہے تاکہ اس کی مدد سے وہ اپنے ارادہ کو عملی جامہ پہنائے،زیارت سے مشرف ہوتے وقت جس دعا کو پڑہنا مستحب ہے،اس دعا میں کہتے ہیں:
''اَلَّلهمَّ صل نیَّتی باالتَوفیق ''(2) پروردگارا میرے ارادہ کو تو فیق کے سات ھ متصل فرما۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ تحف العقول مرحوم حرّانی:457
[2]۔ بحارالانوار:ج 102 ص162
کیونکہ جس خدا پسندانہ اور نیک کام کی نیت و ارادہ میں توفیق الٰہی شامل نہ ہو ،وہ کام کبہی بہی مؤثر نہیں ہوتا۔
لہٰذا انسان کی نیت و ارادہ ،توفیق الٰہی کے ہمراہ ہونی چاہئے تاکہ کام پایہ تکمیل تک پہنچ سکے ۔ لیکن اگر نیت کے ساتہ توفیق الٰہی شامل نہ ہو تو اس کام کا کوئی عملی اثر نہیں ہوگا،اگرچہ انسا ن وعدہ دیئے گئے ثواب سے بہرہ مند ہوجائے گا۔
اس بناء پر خدا کی توفیق ہر مؤمن کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔کیونکہ کسی نیک کام کو انجام دینے کی قدرت اور نیت ،اس کام کے وقوع پذیر ہونے کی علت تامّہ نہیںہے۔
کار خیر کو انجام دینے کے لئے نیت اور توانائی کے علاوہ توفیق الٰہی کی بہی ضرورت ہوتی ہے،اگر خدا کی توفیق آپ کے شامل حال نہ ہو تو نیک کام انجام دینے کا امکان ہی نہیں ہے۔
خدا وند متعال قرآن میں حضرت شعیب کے قول کو یوں بیان فرماتا ہے ،جو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا تہا:
'' ان اریدَ الّا الاصلَاح مَا اَستَطَعت وَ مَا تَوفیقی الَّا باللّٰه ''( 1 )
میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں، جہاں تک میرے امکان میں ہو،میری توفیق صرف اللہ سے وابستہ ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک کام کو انجام دینے کے لئے فقط استطاعت اور قدرت کافی نہیں ہے بلکہ خدا کی توفیق بہی مورد نیاز ہے۔
پروردگا ر کی توفیق اور لطف انسان کی قوت اور قدرت کی تکمیل کرتی ہے ورنہ صرف انسان کی توانائی مشکلات کو حل کرنے سے قاصر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ ہود آیت:88
اس بیان کی رو سے نہ صرف عام افراد بلکہ اولیاء خدا اور بزرگان دین بہی اسی صورت میں نیک کاموں کو انجام دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں کہ جب خدا کی جانب سے توفیق شامل حال ہو۔
اس نکتہ کی جانب توجہ نہ صرف لازم اور ضروری ہے، بلکہ اس کے بہت اہم اثرات بہی ہیں۔
اس نکتہ پر اعتقاد اور توجہ کہ تمام افراد کے لئے خداپسندانہ امور کو انجام دینے میںتوفیق الٰہی کا حاصل ہونا نہ صرف لازم اور ضروری ہے بلکہ اس کے بہت مہم اثرات بہی ہیں اور وہ یہ کہ اس سے انسان میں غرور اور تکبر پیدا نہیں ہوتا۔اولیائ خدا اور بزرگان دین اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ ان کے تمام نیک کاموں میں خدا کی توفیق شامل ہے، لہٰذا ان میں غرور اور تکبر پیدا نہیں ہوتا۔
وہ اس دنیا میں خود کو کچہ بہی نہیں سمجہتے،اس اعتقاد سے ان کے اخلاص میں اضافہ ہوتا ہے۔جو انہیں خود پسندی اور انانیّت سے باز رکہتا ہے۔
صبر بردرد، نہ از ہمت مردانہ ماست
درد از او، صبر از او، ہمت مردانہ از اوست
دگری را بہ جز او،راہ بہ ویرانہ دل
نتوان داد،کہ این گوشہ ویرانہ از او ست
شمع و پروانہ از او سوختن آموختہ اند
شعلہ شمع از او ،سوزش پروانہ از اوست
مصیبتوں پہ صبر ہماری مردانگی کی علامت نہیں ہے ، صبر درد اور ہمت مردانہ اسی کی عطا ہے لہذا اپنے دل میں اس کے علاوہ کسی اور کو نہ بٹہائوکیونکہ یہ دل اسی کا گہر ہے، شمع اور پروانے نے جلنا اسی سے سیکہا شمع کا شعلہ اور پروانے کا جلنا بہی اسی سے ہی ہے۔
توفیق کے مطابق عمل کرنے والا انسان سعادتمند ہوتاہے ،یعنی جو نیت و ارادہ اور قدرت و توفیق کے علاوہ توفیق الٰہی کو عملی صورت میں لائے اور شیطان کے فریب و وسوسہ سے توفیق کو نہ کہودے۔ بہت سے لوگ کامیابی کی تمام شرائط کے با وجود منفی و شیطانی افکار کی وجہ سے کام کو انجام دینے سے گریز کرتے ہیں اور یوں توفیق کہودیتے ہیں۔امام صادق(ع) فرماتے ہیں:
'' مَا کلّ مَن نَویٰ شَیئا قَدَرَ عَلَیه وَ لَا کلّ مَن قَدَرَ عَلیٰ شئی وفّقَ لَه وَلَا کلّ مَن وفّقَ لشَئی اَصَابَ لَه فَاذااجتَمَعَت النّيةوَالقدرَة وَالتَّوفیق وَالاصَابَةفَهنَالک تَمَّت السَّعَادَة''(1)
ایسا نہیں ہے کہ جو شخص کسی کام کو انجام دینے کا ارادہ کر ے وہ اسے انجام دینے کی قدرت بہی رکہتا ہو اور جو قدرت بہی رکہتا ہو وہ اسے انجام دینے کی توفیق بہی رکہتا ہو،نیز ایسا بہی نہیں ہے کہ جو کسی کام انجام دینے کی توفیق بہی رکہتا ہو وہ اس تک پہنچ جائے ، پس جب نیت، قدرت، توفیق اور مقصد تک پہنچنا ایک ساتہ جمع ہوجائیں تو انسان کی سعادت مکمل ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار:۵ ص۲۱۰
روایت سے لائے گئے نکتہ سے استفادہ کرتے ہیں کہ توفیق کے مسئلہ میں اجباری طور پر اجراء کی قدرت کا وجود نہیں ہے،کیونکہ سعادت تک پہنچنے کے لئے توفیق کے علاوہ مقصد تک پہنچنے کی بہی ضرورت ہے۔توفیق،ایک ایسی قوت ہے کہ جو انسان کی خوبیوں اور پسندیدہ امور کی طرف ہدایت کرتی ہے۔حقیقت میں توفیق نیک کاموں کو انجام دینے کے لئے راہنمائی کرتی ہے۔اس مسئلہ میں جبر کا کوئی عمل دخل نہیں ہے کیونکہ کامیاب فرد اسے انجام دینے کے لئے مجبور نہیں ہے البتہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قوت سے استفادہ کرے اور اسے ضائع نہ کرے۔اس بناء پر توفیق نیک اعمال کے لئے فقط راہنمائی کرتی ہے۔اس میں کسی قسم کا اجبار اور اکراہ موجود نہیں ہوتا۔اسی وجہ سے حضرت امیرالمؤمنین (ع) فرماتے ہیں:'' لَا قَائدَ خَیر من التَّوفیق'' (1) توفیق سے بہتر کوئی راہنماموجود نہیں ہے۔حضرت امیرالمؤمنین (ع) توفیق کو بہترین راہنما کے عنوان سے متعارف کرواتے ہیں ۔ کیونکہ جس طرح ہم نے کہا کہ اعطائ توفیق میں کوئی اجباری قدرت پوشیدہ نہیں ہوتی، لہٰذا کبہی خدا ہمیں توفیق عنایت کرتا ہے لیکن ہم اسے ضائع کرتے ہیں۔حضرت امیرالمؤمنین (ع) نے جو تعبیر فرمائی ہے وہ ان افراد کے لئے جواب ہے کہ جو نیک اور پسندیدہ کاموں کو انجام دینے سے گریز کرتے ہیں۔اگر ان سے اس بارے میں پوچہا جائے اور ان پر اعتراض کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ خدا وند تعالی نے ہمیں توفیق عطا نہیں کی ۔اس بیان کی رو سے واضح ہوجاتا ہے کہ بہت سے موارد میں توفیق الٰہی ہماری مدد کرتی ہے۔لیکن ہم اسے ضائع کر دیتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے اس بناء پر حتمی کامیابی اور ہدف تک رسائی کی شرائط میں سے ایک شرط توفیق الٰہی کے مطابق عمل کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار:ج9ص41
مرحوم سید محمد باقر قزوینی بزرگ شخصیت کے مالک تہے ۔ وہ عظیم و بیکران توفیق سے بہرہ مند تہے۔یہ مرحوم بزرگ علماء شیعہ میں سے اور خلق خدا کے گزار تہے ،یہ سید بحرالعلوم کے بہانجے تہے۔
ان کے بہتیجے مرحوم سید مہدی قزوینی (جو خود بہی بزرگ علماء میں سے تہے) نقل کرتے ہیں کہ عراق میں طاعون کی وباء پہیلنے سے دو سال پہلے اس بزرگ نے اس کے آنے کی خبر دی تہی اور اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں میں سے ہر ایک کو دعا لکہ کر دی اور فرمایا حضرت امیرالمؤمنین(ع) نے خواب میں مجہ سے فرمایا ہے'' وَ بکَ ختم یا وَلَدی'' طاعون کی بیماری تم پر ختم ہوجائے گی۔اس سال انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی ایسی خدمت کہ جس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔انہوں نے شہر اور شہر سے باہر ہر میت کی نماز پڑہی،وہ ہر بیس ،تیس یا اس سے کم یا زیادہ افراد پر ایک نماز پڑہتے۔طاعون کے مرض سے اتنی زیادہ ہلاکتیں ہوئیں کہ ایک دن ہزار افرادکے لئے ایک نماز بجا لائی گئی۔وہ 1246 ہ کو عرفہ کی رات نمازمغرب کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔وہ طاعون کے مرض سے ہلاک ہونے والے آخری شخص تہے۔
ایک بار وہ دسیوں علماء و صلحاء کے ہمراہ کشتی میں سوار تہے،طوفان کی وجہ سے وہ سب غرق ہونے کے قریب تہے ،لیکن اس بزرگوار نے اپنی غیر معمولی معنوی قوّت سے طوفان کو ٹال دیا اور کشتی کو غرق ہونے سے بچالیا۔ان کے بہتیجے کا کہنا ہے کہ علماء و صالحین کے ایک گروہ کے ساتہ کشتی میں سوار ہوکر کربلا سے آرہے تہے کہ اچانک بہت تیز ہوا چلنے لگی کہ جس سے کشتی کے الٹنے کا خطرہ لاحق ہوا،ہمارے ساتہ ایک شخص بہت خوفزدہ اور مضطرب ہوگیا اور اس کی حالت متغیر ہوگئی،وہ کبہی روتا تہا اور کبہی حضرت امیرالمؤمنین سے متوسّل ہوتا،لیکن اس دوران مرحوم سید اپنی عادی حالت میں بیٹہے رہے،
جب وہ شخص خوف کے مارے بہت زیادہ رونے لگا تو اس سے فرمایا:تم کس چیز سے ڈر رہے ہو؟ہوا،آندہی،اور رعد و برق یہ تمام خدا کے امر کے مطیع ہیں،پہر انہوں نے اپنی عباء کو اکٹہا کیا اور ہوا کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:آرام کرو اسی وقت طوفان تہم گیا اور کشتی بہی طوفان سے بچ گئی۔
یہ بزرگوار اس توفیق کی وجہ سے ایسے عظیم علوم حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے کہ عام حالات اور شرائط میں جن کا حصول ممکن نہیں ہے۔
اس مرحوم کی شخصیت اور غیر معمولی عظمت کو بیان کرنے والے اس واقعہ کو مرحوم محدّث نوری یوں بیان کرتے ہیں۔امام زمان نے اس بزرگوار کو بشارت دی تہی کہ مستقبل میں تمہاری روزی علم توحید ہوگا۔مرحوم فرماتے ہیں کہ اس بشارت کے بعد ایک رات خواب میں دیکہا کہ دو فرشتے آسمان سے نازل ہوئے ،ان میں سے ایک کے ہاتہ میں کچہ لوح تہے جن پر کچہ لکہا تہا اور دوسرے کے ہاتہ میں ایک میزان تہا، ان فرشتوں کے دونوں لوح ترازو کے دونوں پلڑوں میں رکہے اور انہیں تولنے لگے ،پہر انہوں نے وہ لوح مجہے دیئے اور میں نے ان پر لکہی ہوئی تحریر کو پڑہا ،پہر انہوں نے تمام لوح میرے سامنے رکہے اور میں نے انہیں پڑہا ،ان میں سے بعض لوح پر اصحاب پیغمبر (ص) اور اصحاب ائمہ اطہار (سلمان،ابوذر،سے نوّاب اربعہ تک)کے علوم و عقائد لکہے تہے اور بعض دیگر پر علماء شیعہ جیسے کلینی،صدوق،تا بحرالعلوم اور ان کے متاخرین علماء کے علوم و عقائد درج تہے،وہ دونوں فرشتے پیغمبر اکرم(ص) اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے اصحاب اور بزرگ شیعہ علماء کے علوم و عقائد کو ترازو میں رکہ کر تول رہے تہے۔اس خواب کی وجہ سے میں علوم کے بہت سے اسرار سے آگاہ ہوا کی اگرمجہے نوح کی عمر بہی مل جاتی اور میں جستجو کرتا تو اس کا ایک فیصد بہی حاصل نہ ہوتا۔
خدا وند متعال سے توفیق کی درخواست و دعا کریں تاکہ بزرگان دین کو حاصل ہونے والی توفیقات الٰہی سے ہم بہی بہرہ مند ہوسکیں ،اکثر دعائوں میں خدا وند بزرگ و برتر سے توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
1 ۔ نماز جعفر طیار کے بعد دعا میں پڑہتے ہیں :
''اللّٰهمَّ انّی اَساَلکَ تَو فیقَ اَهل الهدیٰ وَ اَعمَالَ اَهل التَّقویٰ''(1)
پروردگار ا میں تجہ سے اہل ہدایت کی توفیق اور اہل تقویٰ کے اعمال و رفتار کا سوال کرتا ہوں۔
یہ جملہ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ فقط توفیق کا حاصل ہوجانا نیک کام کو انجام دینے کی دلیل نہیں ہے ،اسی وجہ سے اس دعا میں اہل ہدایت کی توفیق طلب کرنے کے علاوہ خدا سے پرہیزگاروں کے اعمال و رفتار کا بہی سوال کرتے ہیں۔
2 ۔آیت قرآن''صرَاطَ الَّذینَ اَنعَمتَ عَلَیہم'' کی تفسیر میں امام حسن عسکری (ع) سے نقل ہوا ہے کہ امام نے فرمایا:
''قولوا اهدنَا الصّراطَ الَّذینَ اَنعَمتَ عَلَیهم باالتَّوفیق لدینک وَ طَا عَتکَ''(2)
کہو کہ ہمیں ان کے راستے کی طرف ہدایت فرما جن پر تو نے اپنے دین کو قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے کی توفیق کے ذریعہ نعمتیں نازل کی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار:۹۱ص۱۹۸
[2]۔ معانی الاخبار: 15 ، بحارالانوار: 1024، تفسیر الامام العسکری:17
اس بناء پر خدا کی اطاعت و فرمانبرداری اور دینداری کی توفیق ،خدا کی طرف سے بندوں کو عنایت ہونے والا لطف ہے۔ہم سب کو خدا سے دعا کرنی چاہیئے کہ پروردگار دنیا کے اس پر خطر سفر میں توفیق الٰہی کو ہمارا مونس و ہمسفر قرار دے تاکہ ہمارا سفر خیریت سے اختتام پذیر ہو۔
3 ۔ماہ مبارک رمضان کی تیرہویں دن کی دعا میں آیا ہے:
''اَلَّلهمَّ وَفّقنی فیه عَلی التّقیٰ وَ صحبَةالاَبرَار''( 1 )
پروردگارا! اس دن میں مجہے تقویٰ کی اور نیک و متقی افراد کی صحبت کی توفیق عطا فرما۔
4 ۔ماہ رمضان کی بائیسویں شب کی دعا میں وارد ہوا ہے :
''وَارزقنی فیها التَّوفیقَ لماوَفَّقتَ له شیعَةَ آل محمَّد ''( 2 )
پروردگارا! آج کی رات میں مجہے وہ توفیق عنایت فرما کہ جس سے تو نے پیروان آل محمد کو کامیاب فرمایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار:ج۹۸ص۳۷
[2]۔ بحارالانوار:ج۹۸ص۵۳
اگرچہ ممکن ہے کہ سائل مقربین آل محمد اور شیعوں کی توفیقات کو بہت بڑی حاجت سمجہے اور اپنے آپ کو اس عظیم نعمت کے سامنے پست اور نا اہل سمجہے ، لیکن چونکہ وہ خدا بزرگ و برتر کے حضور میں ہے اور خالق کائنات کی بارگاہ میں سوال کررہا ہے،لہٰذا وہ بہترین اور پر ثمر ترین حاجات طلب کرے ۔ کیونکہ خدا کے حضور اور خدا کی بارگاہ میں خدا کی عظمت و بزرگی کو مدّ نظر رکہیں نہ کہ فقط اپنی پستی و ذلت کو ملاحظہ کریں۔
بعض لوگ معتقد ہیں کہ انسان خدا وند متعال سے اپنی حد اور اوقات سے زیادہ طلب نہ کرے ، لہٰذا اپنی حیثیت و صلاحیت اور حدود کو مد نظر رکھ کر اپنے ہدف تک پہنچنے کی دعا کریں۔اگر فرض کریں کہ یہ عقیدہ صحیح بھی ہو تو یہ کلیّت نہیں رکھتا۔کیونکہ بعض مقامات پر اور بعض اوقات انسان خدا کے نزدیک اس قدر عظیم و عالی مقام رکھتا ہے کہ انسان خدا سے ہر قسم کی عظیم حاجت طلب کرسکتا ہے۔حضرت امیرالمؤمنین (ع) کی زیارت وداع میں پڑھتے ہیں:''اَلَّلهمَّ وَفّقنا لکلّ مَقامٍ مَحمودٍوَ اَقلبنی من هذا الحَرَم بکلّ خَیرٍ مَوجودٍ'' (1)
پروردگارا، مجہے ہر قسم کے مقام محمود کے حصول کی توفیق عطا فرما اور مجہے اس حرم سے ہر موجود خیر کے ساتہ لوٹا۔
خدا کے نزدیک حضرت امیرالمؤمنین کے حرم مطہر کی شرافت و محبوبیت کی وجہ سے زائر کو اجازت ہے کہ وہ خدا سے ہر قسم کی توفیق اور مقام محمود کو طلب کرسکتا ہے۔
اسی بناء پر اگرچہ سائل بعض مقامات کو طلب کرنے کی لیاقت و صلاحیت نہ رکہتا ہو لیکن زمان ومکان کی عظمت کی وجہ سے ایسی بزرگ حاجات کو طلب کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار:ج۱۰۰ص۳۸۲
ماں باپ کی دعا توفیق کو ایجاد کرنے میں مؤثر کردار کی حامل ہے،بعض بزرگان اپنی تمام تر توفیقات کو اپنے والدین کی دعائوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں،مرحوم مجلسی جو کہ کثرت تالیفات اور اہلبیت کی خدمت کے لحاظ سے شیعہ علماء میں کم نظیر بلکہ بے نظیر ہیں،وہ اپنی عظیم توفیقات کو اپنے والد بزرگوار کی دعائوں کے مرہون منت سمجہتے ہیں۔
مرحوم مجلسی اول فرماتے ہیں کہ ایک رات نماز شب سے فارغ ہونے کے بعد مجہ پرایک ایسی حالت طاری ہوئی کہ جس سے میں یہ سمجہا کہ اگر دعا کروں تو ضرور مستجاب ہوگی،میں ابہی اسی سوچ میں مبتلا تہا کہ آخر خدا سے کس چیز کی دعا کروں؟اچانک جہولے سے سے محمد باقر کے رونے کی آواز بلند ہوئی،میں نے کہا :پروردگار بحق محمد و آل محمدعلیہم السلام اس بچے کو شریعت محمد(ص) اور دین کا خادم اور مروّج قرار دے اور اسے بے انتہا توفیقات سے بہرہ مند فرما۔صاحب مراةالاحوال کہتے ہیں علامہ مجلسی سے ظاہر ہونے والے غیر معمولی امور مسلما ًاسی دعا کے آثار ہیں(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ فوائد الرضویہ محدث قمی:411
جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ توفیق حاصل کرنے کے ذرائع میں سے ایک خدا سے دعا کرنا ہے ۔ دل سے دعا کے لئے ہاتہ اٹہائیںاور پروردگار بزرگ و مہربان سے نیک مقاصد کے حصول کی دعا کریں،دعا کے بعد ان مقاصد کو حاصل کرنے کی سعی و کوشش بہی کریں ورنہ آپ کی دعا استہزاء اور تمسخر شمار ہوگی۔
حضرت امام رضا (ع) فرماتے ہیں:
''مَن سَاَله التَّوفیق وَ لَم یَجتَهد فَقَد استَهزَئَ بنَفسه ''(1)
جو خدا سے توفیق کا سوال کرے لیکن اس کے لئے کوشش نہ رے وہ اپنے ساتہ مذاق کرتا ہے۔
کیونکہ توفیق کی دعا کے علاوہ ایک اور بنیاد بہی ہے کی جسے سعی و کوشش کہتے ہیں ،اس بناء پر عالی مقاصد اور خدا پسندانہ اہداف کو حاصل کرنے کیلئے توفیق کی دعا کے علاوہ کوشش اور جستجو بہی کریں، جب آپ دعا کے بعد کوشش بہی کریں گے تو خدا کی توفیق آپ کے لئے شامل حال ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار:ج۷۸ص۳۵6
پروردگار کی بے شمار نعمتوں کے بارے میں تفکر کرنا توفیق حاصل کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔خدا کی مخلوقات میں تفکر سے آپ خدا کی توفیقات کو جلب کرسکتے ہیں۔حضرت امیرالمؤمنین (ع) فرماتے ہیں:''مَن تَفَکَّر فی آلائ اللّه وفّقَ '' (1) جو خدا کی نعمتوں میں تفکر کرے ،وہ کامیاب ہوگیا۔
کیونکہ انسان اس ذریعہ سے اپنے دل میں خدا کی محبت پیدا کرتا ہے۔جب دل میں خدا کی محبت پیدا ہوجائے تو وہ خدا کی طرف جذب ہوجاتا ہے اور خدا کی طرف مجذوب ہونے کے ثمرات میں سے ایک ہے۔اسی وجہ سے امیرالمؤمنین(ع) اپنے دوسرے فرمان میں ارشاد فرماتے ہیں:''التَّوفیق من جَذَبات الرَّب '' (2) توفیق خداوند تعالیٰ کے جذبات میں سے ہے۔
مذکورہ بیان کے رو سے انسان خدا کی بے شمار نعمتوں میں تفکر کے ذریعہ توفیقات کو اپنی طرف جذب کرکے درگاہ الہٰی کے مقربین سے مخصوص جذبہ ربّانی سے بہرہ مند ہوسکتا ہے۔البتہ اس امر کی جانب متوجہ رہیں کہ اہلبیت اطہار کا وجود مبارک نہ صرف خدا کی مہم ترین نعمت ہے ۔بلکہ ہم پرنازل ہونے والی ہر نعمت ان ہی مقدس ہستیوں کے طفیل ہے،یہ بزرگ ہستیاں وجہ تخلیق کائنات ہیں،اسی بناء پر اہلبیت عصمت و طہارت بالخصوص اس خاندان کی آخری کڑی حضرت امام زمان کے فضائل و مناقب میں تفکر و تامّل کے ذریعہ اپنی توفیقات میں اضافہ کریں۔اس صورت میں جذبہ رحمانی شامل حال ہوگا، اس صراط مستقیم پر عمل پیرا رہنے اور ان ہستیوں کے نقش قدم پر چلنے سے آپ بلند مقام حاصل کرسکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غرر الحکم:ج۵ ص۳۰۸
[2]۔ شرح غرر الحکم:ج۱ص۱۴۴
عظیم مقاصد اور عالی معنوی اہدا ف تک پہنچنے کے لئے ارادہ و تصمیم کے علاوہ توفیق کی قوت سے بہی بہرہ مند ہوں،توفیق راہنما کی حیثیت رکہتی ہے اسی وجہ سے اگرچہ یہ کامیابی کی علت تامہ نہیں ہے لیکن اس کے متحقق ہونے سے مؤثر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
آپ کی ذمہ داری ہے کہ توفیق کے حصول کے لئے دعا کریں اور پہر توفیقحاصل ہونے پر اکتفاء نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ یہ حاصل ہونے والی توفیق ضائع نہ ہوجائے۔
خدا کی نعمتوں اور بالخصوص وجود اہلبیت اطہارعلیہم السلام کی عظیم نعمت کے فضائل ومناقب میں تفکر کرنا ، توفیق کے مہم ترین عوامل میں سے ہے ،اپنی توفیقات میں اضافہ کے لئے حضرت بقیةاللہ (ارواحنا فداہ) کی عظمت پر تفکر کریں اور امام عصر کی غیبی امداد کو اپنے ذہن میں پروان چڑہائیں اس سے آپ کی توفیقات میں اضافہ ہوگا ،ضعف، سستی و کاہلی اور گناہوں کے ارتکاب سے فراہم ہونے والی توفیقات کو ضائع نہ ہونے دیں۔
راہ جستن ز تو ہدایت از او جہد کردن زتو عنایت ا ز او
جہد بر تو است و بر خدا توفیق زآن کہ توفیق و جہد ہست رفیق
یعنی تم کسی راہ کا انتخاب کرو اور وہ تمہاری ہدایت کرے گا۔تم کوشش کرو ،خدا عنایت کرے گا۔ جدوجہد کرنا تمہاری ذمہ داری ہے جب تم کوشش کرو گے تو خدا تمہیں توفیق عطا فرمائے گا۔کیونکہ توفیق اور کوشش ہمیشہ سے دوست ہیں۔
تیرہواں باب
یقین
حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :'' باالیَقین تد رَک غَایَة القصویٰ ' 'یقین کے ذریعہ مقصد کی انتہا حاصل ہوتی ہے ۔ یقین کی اہمیت یقین کے آثار
1 ۔ یقین دل کو محکم کرتا ہے
مجلس مباہلہ میں حاضری
۲۔ یقین اعمال کی اہمیت میں اضافہ کا ذریعہ
3 ۔ یقین آپ کے باطن کی اصلاح کرتا ہے
یقین کو متزلزل کرنے والے امور
1 ۔ شک و شبہ
2 ۔ گناہ
یقین کہودینا
تحصیل یقین کے ذرائع
1 ۔ کسب معارف
2 ۔ دعا اور خدا سے راز و نیاز
3 ۔ تہذیب و اصلاح نفس
نتیجۂ بحث
یقین با عظمت عالم غیب کی طرف جانے کا آسان اور سیدہا راستہ ہے۔ یقین عالم ملکوت تک پہنچنے اور نا مرئی دنیا سے ارتباط کے لئے صراط مستقیم ہے۔ یقین تہذیب یافتہ اشخاص اور بزرگان کی اہم ترین صفات میں سے ہے، یقین اہلبیت اطہار کے اصحاب اور اللہ کے خاص بندوں کی اہم ترین خصوصیات میں سے ہے۔یقین ،انسان میں قوی ترین روحانی قوّت کو ایجاد کرتا ہے، یقین خاندان وحی سے ارتباط کا وسیلہ ہے، دل میں یقین کا وجود معنوی پیوند کے موانع کو برطرف کرتا ہے اور اہلبیت کے تقرب اور ان تک پہنچنے کی راہ کو ہموار کرتا ہے۔یقین کی افزائش سے آپ اپنے دل کو ملائکہ کی قیامگاہ قرار دے کر اسے شیاطین کے شر اور وسوسوں سے نجات دے سکتے ہیں۔شیطان کے شر سے رہائی پانے کے بعد آپ کو بہت سے معنوی فیض حاصل ہوںگے۔اس صورت میں آپ کا دل نورانیت سے سرشار ہوجائیگا۔
اسی وجہ سے حضرت بقیة اللہ (عج) کے ظہور کے دن تمام لوگوں کے دل و جان میں یقین پیدا ہوجائیگا ، کیونکہ اس دن جب تاریخ کی قدیم ترین عبات گاہ (خانہ کعبہ) سے حضرت قائم آل محمد (عج) کی حیات بخش صدا لوگوں کی سماعتوں تک پہنچے گی توابلیس اور اس کے پیروکاروں کے دلوںمیں خوف طاری ہوجائے گا ،حضرت بقیةاللہ اعظم کے ظہور سے سب شیاطین ہلاک ہوجائیں گے۔ اس وقت لوگوں کے دل وسوسہ سے نجات پاجائیں گے اور ان کے دل و جان پر آرام و اطمینان کی حاکمیت ہوگی۔اس دن لوگوں کے دلوں میں یقین اور ایمان میں اضافہ ہوگا۔اس دن یقین پیدا کرنے والے سب امور فراہم ہوجائیں گے اور یقین کے ذریعہ سب کے باطن کی اصلاح ہوجائے گی۔ یہ بات ثابت کرنے کے لئے کہ ظہور کے وقت سب اہل یقین بن جائیں گے، ہم مقدمہ کے طور پر کچہ مطالب ذکر کرتے ہیں: خدا وند متعال قرآن مجید میں حضرت ابراہیم کے بارے میں فرماتا ہے:
'' وَ کَذٰلکَ نری َابرَاهیمَ مَلَکوت السمٰوات وَالاَرض وَ لیَکون من المؤمنین''(1)
او ر اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمان اور زمین کے اختیارات دکہاتے ہیں اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔
صفوان کہتا ہے کہ میں نے امام رضا(ع) سے پوچہا کہ خدا نے حضرت ابراہیم (ع) کے بارے فرمایاہے:
'' اَوَ لَم نؤمن قَال بلیٰ وَ لٰکن لیَطمَئنَّ قَلبی '' (2)
کیا ابراہیم کو یقین نہیں تہا اور کیا ان کے دل میں شک و شبہہ موجود تہا؟
'' قَالَ لَا،کَانَ عَلیٰ یَقینٍ وَ لٰکن اَرادَ منَ اللّٰه الزّیَا دَةَ فی یَقینه ''(3)
حضرت امام رضا (ع) نے فرمایا : نہیں ، انہیں یقین تہا لیکن اس نے خدا سے چاہا کہ اس کا یقین زیادہ ہوجائے۔
اس بناء پر حضرت ابراہیم نے ملکوت آسمانی اور زمین کو دیکہا اور ان کے یقین میں اضافہ ہوا ملکوت آسمان و زمین کو دیکہنے کی وجہ سے ان کا یقین زیادہ ہوا ، پہر ان میں دوسروں کے دلوں میں بہی یقین ایجاد کرنے کی قدرت پیدا ہو گئی۔
ظہور کے زمانے کے لوگوں کی حالت اور امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی سلطنت پر توجہ کریں کہ آنحضرت صاحب ملکوت ہیں وہ جلوہ ولایت و ملکوتی سے زمین و آسمان کا مشاہدہ کرسکتے ہیں کیا اس زمان کے لوگ یقین یقین حاصل نہیں کرسکتے؟پس عصر غیبت میں بہی ہر کوئی یقین حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔یقین حاصل کرنے سے انسان شیطان پر حاکم بنسکتا ہے اور معنویت کے صراط مستقیم پر گامزن ہوسکتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ آیت انعام:75
[2]۔ سورہ بقرہ آیت:260
[3]۔ بحارالانوار:ج۷۰ص۱۷6
آپ اپنے دل کوپند و نصیحت کے ذریعہ حیات بخش سکتے ہیں اور وعظ کے ذریعہ اس میں تازہ روح پہونک سکتے ہیں۔جس طرح ایمان کامل اور یقین کو مضبوط و قوی کرسکتے ہیں اسی طرح آپ مشکلات و موانع کے سامنے ایک پہاڑ کی مانند ڈٹ جائیںکیونکہ اگر یقین قوی و کامل صورت میں موجود ہو تو پہر وسوسہ اور تردد کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا ۔پہر ضعف،سستی اور کاہلی ختم ہوجائیگی۔اسی وجہ سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے یقین کو قوی کریں حضرت امیرالمؤمنین (ع) فرماتے ہیں:
''اَحی قَلبکَ باالمَو عظَة ------- وَ قَوّه بالیَقین''(1)
وعظ و نصیحت کے ذریعہ اپنے دل کوحیات بخشو اور یقین کے ذریعہ اسے قوّت دو۔
گر عزم تو در رہ حق، آہنین است
می دان بہ یقین کہ راہ آن یقین است
اگر راہ حق میں تمہارا عزم و ارادہ پختہ ہو تو یقین جانیئے کہ اس کا راستہ صرف یقین ہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحارالانوار:ج۷۷ص۲۱۹
جب انسان کے دل میں یقین پیدا ہوجائے تو دل محکم و استوار ہوجاتا ہے اور جب تک یقین قوی ہو تب تک شیطانی وسوسہ کے نفوذ کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا ۔اسی وجہ سے اس میں اضطراب و وہم پیدا نہیں ہوگا،وہ مصائب و مشکلات کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند قائم رہے گا۔حضرت امیرالمؤمنین (ع) فرماتے ہیں:''مَن قَویٰ یَقینه لَم یَرتَب'' ( 1 ) جس کا یقین قوی ہو اس میں شک پیدا نہیں ہوتا۔
گر بہ صورت ملَکی یا بہ لطافت حوری
تا بہ معنی نرسی ،از ہمہ دلہا دوری
اگر فرشتہ صورت یا حور کی لطافت کے مالک ہی کیوںنہ ہو تو مگر جب تک اپنے ہدف اور مقصد تک نہیں پہنچو گے تب تک تم سب کے دلوں سے دور رہو گے یعنی ان کے دلوں میں جگہ نہیں بنا پاؤ گے ۔ہمیشہ اعتقادی مسائل یا دیگر مسائل میں شک وشبہہ اسی شخص کے لئے پیدا ہوتا ہے کہ جسے قوی یقین حاصل نہ ہو۔جن میں یقین کمال کی حد تک نہ پہنچا ہو،اس میں شیطانی وسوسہ منفی اثرات مرتب کرتاہے۔لیکن جن کے دل میں یقین کی شمع روشن ہو وہ شیاطین کے شر اور ان کے وسوسہ کے سامنے فولاد کی مانند ثابت قدم رہتے ہیں۔امام باقر(ع) فرماتے ہیں:'' فَیَمرّالیَقین بالقَلب فَیَصیر کَاَنَّه زبر الحَدید '' ( 2 ) جب دل میں یقین پیدا ہوجائے تو وہ اسے لوہے کے ٹکڑے کی مانند قوی و محکم کردیتا ہے۔دل کو محکم و مضبوط کرنے سے نہ صرف انسان کے دل میں اعتقادی مسائل کے بارے میں شک و شبہہ پیدا نہیں ہوتا ہے بلکہ اسے قدرت عطا ہوتی ہیکہ وہ دوسروں کے ایمان و یقین میں بھی اضافہ کرے۔اب ہم شیعہ علم کے ایک ستون کے ایمان و یقین کی داستان رقم کرتے ہیں کہ جس نے دوسروں کے دلوں میں مسائل پر اعتقاد میں اضافہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ شرح غررالحکم:ج۵ص۲۳۰
[2] ۔ بحارالانوار:ج۷۸ص۱۸۵
شیعہ علماء نے بہت تکلیفیں اور زحمتیں برداشت کرکے خدا کے دین کی پاسداری کی اور اسے انحراف سے بچالیا۔ہمارے بزرگان نے حریم ولایت کے دفاع اور شیعہ مذہب کو اثبات کرنے کے لئے کسی قسم کی کوشش ا ور قربانی سے دریغ نہیں کیا۔
اہل بیت عصمت و طہارت کے عالی اور با عظمت مقام پر اعتقاد و یقین کی بناء پر وہ مخالفین اور دشمنوں سے مباہلہ کے لئے بہی حاضر ہوئے، اس عمل سے انہوں نے ولایت کی راہ میں حائل کانٹوں کو اکہاڑا اور دشمنوں کو نابود کردیا۔جلیل القدر عالم دین جناب محمد ابن احمد کا مباہلہ ان فداکاریوں کا ایک نمونہ ہے۔انہوں نے دشمنوں کے لئے بہی شیعہ عقائد کی حقانیت کو ثابت کیا،وہ شیعوں کے بزرگ علماء میں سے ہیں اور بعض بزرگ شیعہ علماء جیسے شیخ مفید ،ان سے روایت نقل کرتے تہے۔انہوں نے شیعہ عقائد کے بارے میں بہت سی کتابیں لکہیںاور جناب قاسم ابن علائ کے بابرکت محضر سے استفادہ کیا۔
وہ بینائی کہوجانے کے بعد پڑہنے لکہنے کی نعمت سے محروم ہوجانے کے باوجود اپنے سینے میں محفوظ معلومات کو کاتب کے ذریعہ کاغذکی نظر کرتے،اس طرح سے انہوں نے مکتب تشیع کو بہت سی گرانبہا اور انمول کتابیں فراہم کی۔وہ سیف الدولہ ہمدانی کے نزدیک اعلیٰ مقام رکہتے تہے۔ انہوں نے سیف الدولہ ہمدانی کے سامنے موصل کے قاضی سے مباہلہ کیا کہ جو جاہلانہ تعصب کی عینک اتارنے کو تیار نہ تہا،مجلس مباہلہ برپا ہوئی اور مباہلہ کے اختتام کے بعد موصل کے قاضی کو اپنی سلامتی سے ہاتہ دہونے پڑے،وہ بخار میں مبتلا ہوگیا،اس نے مباہلہ میں جو ہاتہ بلند کیا تہا وہ بہی سیاہ ہوگیا اور اگلے روز ہلاک ہوگیا۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ فوائدالرضویہ محدث قمی:388
بزرگ شیعہ عالم مرحوم محمد ابن احمدنے اپنے یقین کامل اوراعتقاد کی وجہ سے متعصب دشمن پر غلبہ پایا۔اس طرح انہوں نے اپنے اس عمل سے سب کے لئے شیعہ عقائد کی حقانیت کو مزید آشکار کیا اور ان کے دلوں میں یقین کو محکم کیا۔شیعہ تاریخ ایسے نمونوں سے بہری پڑی ہے کہ بزرگان دین نے اپنے یقین کامل اور اطمینان قلب کے ذریعہ دشمن کے ساتہ مقابلہ کیا اور دوسروں کے دلوں میں بہی یقین کا پیدا کیا۔
''میر فندرسکی ''ایسی ہی ایک اور مثال ہیں کہ جنہوں نے اپنے ایمان و یقین کامل کے ذریعہ دشمن کو محکوم و مغلوب کیا اور دوسروں کے دلوں میں یقین کا بیج بویا۔
اس واقعہ کو مرحوم نراقی کتاب'' الخزائن ''میں یوں رقم کرتے ہیں:
''میر فندرسکی''سیاحت کے ایام میں کفار کے ایک شہر میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے گفتگو کے لئے بیٹہ گئے،ایک دن ایک گروہ نے ان سے کہا کہ ہمارے عقائد کی حقانیت اور آپ کے عقائد کے بطلان کی ایک دلیل یہ بہی ہے کہ ہماری عبادت گاہیں دوہزار سال پہلے تعمیر ہوئی ہیں اور ابہی تک ان میں خرابی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔لیکن آپ کی اکثر مساجد سو سال سے زیادہ باقی نہیں رہتی اور خراب ہوجاتی ہیں چونکہ ہر چیز کی لقاء اور حفاظت،اس کی حقانیت کی دلیل ہے،پس ہمارا دین بر حق ہے اور آپ کا دین باطل ہے۔
'' میر فندرسکی '' نے اپنے یقین و اعتقاد کی بناء پر جواب دیا کہ آپ کی عبادت گاہوں کا باقی نہ رہنا اور ہماری مساجد کے خراب ہونے کی یہ وجہ نہیں ہے، بلکہ اس کا راز یہ ہے کہ ہماری مساجد میں صحیح عبادت انجام پاتی ہے اور مساجد میں خداوند بزرگ و برتر کا نام لیا جاتا ہے کہ وہ عمارت اسے تحمل کرنے طاقت نہ رکہنے کی وجہ سے خراب ہوجاتی ہیں۔
لیکن آپ کی عبادت گاہوں میں صحیح اور حقیقی عبادت انجام نہیں دی جاتی، بلکہ کبہی اس میں فاسد اعمال انجام دئیے جاتے ہیں ،لہٰذا ان میں کسی قسم کی خرابی رونما نہیں ہوتی۔اگر ہمارے پروردگار کی عبادت تمہاری عبادت گاہوں میں انجام دی جائے تو وہ اسے بہی متحمل نہیں کر پائیںگی اور خراب ہوجائیںگی۔
انہوں نے کہا یہ بہت آسان کام ہے ،آپ ہماری عبادت گاہوں میں جاکر وہاں اپنی عبادت کریں تاکہ ہماری حقانیت اور آپ کابطلان ثابت ہوجائے،سید نے قبول کیا اور وضو کرنے کے بعد خدا پر توکل اور اہل بیت عصمت و طہارت سے توسل کیا،پہر وہ ان کی بہت بڑی عبادت گاہ میں داخل ہوئے کہ جو بہت مضبوط بنی ہوئی تہی اور دو ہزار سال پرانی تہی۔
لوگوں کی بہت بری تعداداس نظارہ کو دیکہنے کے لئے بیٹہی ہوئی تہی ،سید نے عبادتگاہ میں داخل ہونے کے بعد اذان و اقامت کہی اور نماز کی نیت سے بلند آواز سے (اللہ اکبر) کہا اور عبادتگاہ سے باہر کی طرف بہاگ آئے، اچانک اس عبادتگاہ کی چہت گر گئی اور دیواریں بہی خراب ہوگئی ۔اس کرامت کی وجہ سے بہت سے کفار دین اسلام سے مشرف ہوئے۔(2)
''میر فندرسکی'' نے اپنے اعتقاد و یقین اور کامل ایمان کے ذریعہ اپنے دل کو محکم و مضبوط کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[2] ۔ جامع الدرر:ج۲ص۳۷۰، تذکرةالقبور:60
اگر کیمیا اور اکسیر کو کسی کم قیمت مادہ کے ساتہ بہی بنائیں تو یہ اس کو با ارزش اور قیمتی و دہات میں تبدیل کردیتا ہے اور اس کی قیمت کئی گنا بڑہ جاتی ہے، یقین بہی اسی طرح ہے،کیونکہ یقین اعمال کو ارزش عطا کرتا ہے۔اگر قلیل عمل کو یقین کے ساتہ انجام دیا جائے تو خدا کے نزدیک اس کی ارزش شک و شبہ میں انجام دیئے گئے بہت زیادہ عمل سے زیادہ ہے۔امام صادق(ع) فرماتے ہیں:
''انَّ العَمَلَ الدَّائمَ القَلیلَ عَلی الیَقین اَفضَل عندَالله من العَمَل الکَثیر عَلی غَیر الیَقین''(1)
خدا کے نزدیک یقین کے ساتہ انجام دیا گیا کم اور دائمی عمل یقین کے بغیر انجام دیے گئے زیادہ عمل سے بہتر ہے۔
یہ فرمان واضح دلالت کرتا ہے کہ یقین اعمال وکردارکی اہمیت میں اضافہ کا باعث ہے،یعنی یقین کے ساتہ انجام دیا گیاکم عمل،یقین کے بغیر انجام دیئے گئے زیادہ عمل سے افضل ہے۔اس بناء پر یقین اس کیمیاگری کے اس مادہ کے مانند ہے،کہ جو کم قیمت دہات کو سونے میں تبدیل کرتاہے۔ یقین بہی اسی طرح کیونکہ اس میں یہ قدرت ہے کہ یہ قلیل عمل کو یقین کے ساتہ انجام سے ارزش و قیمت عطا کرتا ہے۔
متوجہ رہیں کہ بہت سے موارد میں خدا کے نزدیک اہمیت رکہنے والے کم عمل کے ظاہراً بہی بہت سے آثار و اثرات ہوتے ہیں،اب ہم جو واقعہ بیان کرنے لگے ہیں وہ اس حقیقت کا شاہد ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ الکافی :ج۲ص۵۷
مرحوم آیةاللہ العظمیٰ خوئی یقین سے کہی جانے والی(بسم الله الرحمٰن الرحیم) کے بارے میں شیخ احمد (یہ استادالفقہاء مرحوم میرزاشیرازی کے خادم تہے)سے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں ،انہوں نے فرمایا کہ مرحوم میرزا کے ایک اور خادم بہی تہے جن کا نام شیخ محمد تہا کہ جو مرحوم میرزا کی وفات کے بعد لوگوں سے نہ ملتے اور گوشہ نشین ہوگئے تہے۔
ایک دن کوئی شخص شیخ محمد کے پاس گیا تہا اور اس نے دیکہا کہ وہ غروب آفتاب کے وقت اپنے چراغ میں پانی ڈال کر روشن کر رہے ہیں اور چراغ بہی مکمل طورپر روشن ہے۔وہ شخص بہت حیران ہوا اور اس کی علت پوچہی ؟شیخ محمد نے اس کے جواب میں کہا مرحوم میرزا کی وفات سے مجہے بہت صدمہہوا اور ان بزرگوار کی جدائی کے غم کی وجہ سے میں نے لوگوں کے ساتہ میل جول قطع کردیا اور اپناوقت گہر میں ہی بسر کرتا، میں بہت ہی غمزدہ تہا ۔ایک دن عرب طلّاب کی صورت کا ایک جوان میرے پاس آیا اور میرے ساتہ بہت پیار ،محبت اور انس سے پیش آیا وہ غروب تک میرے پاس رہا ،اس کی باتیں مجہے بہت پسند آئیں اور میرے دل کا کچہ بوجہ اور غم ہلکا ہوگیا،وہ چنددن تک میرے پاس آتا رہا اور میں اس سے مانوس ہوگیا تہا۔ایک دن وہ میرے ساتہ باتیں کررہا تہا کہ مجہے یاد آیا کہ آج رات میرے چراغ میں تیل نہیں ہے۔ اس وقت دکانیں غروب کے وقت بند ہوجاتی تہیں۔اسی وجہ سے میں یہ سوچ رہا تہا اگر میں ان سے اجازت لے کر تیل لینے کے لئے گہر سے نکلوں تو ان کی پر فیض باتوں سے محروم ہوجاؤں گا اور اگر تیل نہ خریدوں تو آج رات تاریکی میں بسر کرنی پڑے گی۔
وہ میری اس حالت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا آج تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میری باتوں کو دلچسپی سے نہیں سن رہے؟میں نے کہا نہیں ایسی بات نہیں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔انہوں نے فرمایا نہیں تم میری باتوں سے نہیں سن رہے۔میں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ آج میرے چراغ میں تیل نہیں ہے۔انہوں نے فرمایا بہت تعجب ہے کہ میں نے تمہارے لئے اتنی احادیث بیان کی اور(بسم الله الرحمن الرحیم) کی فضیلت بیان کی ،کیا تم ان سے اتنا بہی مستفید نہیں ہوئے کہ تم تیل کی خریداری سے بے نیاز ہوجاؤ؟میں نے کہا کہ مجہے یاد نہیں کہ آپ نے کوئی ایسی حدیث بیان فرمائی ہو؟
انہوں نے فرمایا تم بہول گئے ہو میں نے بتایا تہا کہ( بسم الله الرحمن الرحیم) کے خواص و فوائد میں سے یہ ہے کہ اگر تم اسے کسی قصد سے کہو تو وہ مقصد حاصل ہوجائے گا۔تم اپنے چراغ کو اس قصد کے ساتہ پانی سے بہردو کہ پانی تیل کی خاصیت رکہتاہو ،تم(بسم الله الرحمٰن الرحیم) کہو میں نے قبول کیا اور اٹہ کر اسی قصد سے اپنے چراغ کو پانی سے بہر دیا اور اس وقت کہا(بسم الله الرحمٰن الرحیم) پہر میں نے اسے جلایا تو وہ روشن ہوگیا۔اس وقت سے آج تک جب بہی یہ خالی ہوجائے تو اسے پانی سے بہرکر(بسم الله) پڑہتا ہوں تو چراغ روشن ہوجاتا ہے۔
مرحوم آیةاللہ العظمٰی خوئی اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:تعجب یہ ہے کہ اس واقعہ کیعام ہوجانے کے بعد مرحوم شیخ محمد کے اس عمل میں ذرّہ برابر فرق نہ آیا۔
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ اعتقاد و یقین کے ساتہ ایک(بسم الله) پڑہی جائے تو اس قدر غیر معمولی اثرات ظاہر ہوتے ہیں ،جو اسم اعظم کی معرفت رکہتے ہیں وہ بہی دوسرے لوگوں میں رائج اور متداول اسم سے ہی استفادہ کرتے ہیںلیکن جو چیز ان کے عمل کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے ، وہ ان کا یقین ہے کہ جو تلفظ کئے جانے والے اسم کی تاثیر میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
کبہی انسان محاسبہ کے ذریعہ اپنے ظاہر کو سنوار لیتا ہے،لیکن پس پردہ حقیقت و و اقعیت سے آگاہ نہیں ہوتا۔اسی وجہ سے وہ تشویش و اضطراب میں مبتلا ہوتا ہے۔انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ کیا اس کی گفتار و کردار مورد رضایت پروردگار ہے یا نہیں؟کیا اس کا باطن آلودگی سے پاک ہے؟یا وہ باطناً نفس اور شیطان کے ہاتہوں اسیر ہے اور خود اس سے بے خبر ہے؟اگر فرض کریں اس کا باطن آلودہ ہو تو وہ کس طرح اپنے باطن کو اس سنگین خطرے سے نجات دلا سکتا ہے؟کیا اس روحانی رنج و غم سے نجات پانے کا کوئی راستہ ہے؟
ان سوالات کے جواب میں کہتے ہیںمکتب عصمت و طہارت کے عقائد پر یقین سے باطنی و روحانی پاکیزگی حاصل کی جاسکتی ہے۔کیونکہ یقین باطن کی اصلاح کرتا ہے۔اتوار کی رات پڑہی جانے والی دعا میں آیا ہے:
'' اَلّٰلهمَّ اَصلح بالیَقین سَرَائرَنَا''(1)
پروردگا ر ا!یقین کے ذریعہ ہمارے باطن کی اصلاح فرما۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحارالانوار:ج۹۰ص۲۸6
اہل یقین نیک سیرت اور پاک ذات کے مالک ہوتے ہیں وہ فساد اور تباہی سے دور ہوتے ہیں۔ جن کے باطن میں بری صفات ہو وہ یقین پیدا کرنے سے اپنے باطن کی اصلاح کرسکتے ہیں۔
یقین نہ صرف آپ کے شعور اور ضمیر کو شیطان کے وسوسہ سے محفوظ رکہتا ہے بلکہ اگر آپ کے باطن میں کوئی فساد موجود ہو تو یہ اس کی بہی اصلاح کرتا ہے اور باطن کی برائیوں کو ختم کرتا ہے۔اسی وجہ سے حضرت پیغمبر اکرم(ص) ایک خطبہ کے ضمن میں فرماتے ہیں:
'' خَیر مَا القی فی القَلب الیَقین'' ( 1 )
مؤمن کے دل میں القاء ہونے والی بہترین چیز یقین ہے۔
کیونکہ جیسا ہم نے کہا کہ یقین نہ صرف شعور اجاگر کرتا بلکہ یہ باطن کو اخلاقی و اعتقادی اشتباہات سے بہی پاک کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحارالانوار:ج۲۱ص۲۱۱
جو انسان شک وشبہ میں مبتلا ہو وہ نہ صرف اپنی معنوی اہمیت کو کہو دیتا ہے،بلکہ جب تک وہ شک و شبہہ اور وسواس کا اسیر رہے تب تک وہ متوقف اور جمود کی حالت میں رہے گا۔وہ کبہی بہی معنوی ترقی نہیں کرسکتا۔وہ اپنی نجات کے لئے اپنے صفحہ دل سے شک و شبہ کو ہمیشہ کے لئے نکال دے۔امام صادق (ع) فرماتے ہیں:
'' الفوا عَن نفوسکم الشّکوکَ '' (1)
اپنے نفوس سے شکوک کو برطرف کریں۔
اس بناء پر روحانی و معنوی ارزشوں کو حاصل کرنے اور انہیں محفوظ کرنے کے لئے اپنے دل سے شک اور وسوسہ کو نکال دیں اور ایمان و یقین کامل پیدا کرنے کے بعد اپنے عقائد کے استحکام کی کوشش کریں۔ایسانہ کرنے کی صورت میں صرف آپ کے اعتقادات ہی متزلزل نہیں ہوںگے بلکہ آخری زمانے کے آشوب میں بہی شریک ہوں گے۔ کیونکہ شک وشبہہ ایک طرف سے آشوب، پریشانیاں اور آزمایشات الہٰی کا سامان فراہم کرتا ہے تو دوسری طرف سے شک وشبہہمیں گرفتار افراد اس امتحان میں بہی ناکام ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار: ج۵۱ ص۱۴۷
خاندان عصمت و طہارت کے فرامین و دستورات میں ہمیں اپنے دل سے شک و شبہہ کو برطرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے،یہ صرف آزمائشات الہٰی کو قبول کرنے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ فتنہ اور آشوب کے اسباب کو ختم کرنے کے لئے بہی شک و شبہہ کو بر طرف کرنے کا امر کیا گیا ہے۔ کیونکہ شک وشبہہ اور بے مورد گمان فتنہ و فساد اور امشکلات کو ایجاد کرنے کے اسباب فراہم کرتا ہے۔
امام سجاد (ع) مناجات مطیعین میں خدا سے عرض کرتے ہیں:
'' وَاَثبت الحَقَّ فی سَرَائرنَا فَانَّ الشّکوکَ وَ الظّنونَ لَوَاقع الفتَن '' ( 1 )
پروردگارا ! میرے باطن میں حق کو ثابت فرما، کیونکہ شکوک و ظنون فتنہ ایجاد کرتے ہیں۔
تاریخ کے مطالعہ سے اس حقیقت کا مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ صدر اسلام سے آج تک جن فساد و فتنہ نے مسلمان معاشرے کو گمراہ کیا ،ان میں سے اکثر ایسے افراد تہے کہ جو صراط مستقیم سے متعلق اپنے یقین کو کہوکر شک و شبہہ میں گرفتار ہوچکے تہے۔
حقیقت میں شک و شبہ گمراہ کر نے والے فتنوں اور بلائوں میں گرفتار ہونے کا وسیلہ ہے۔ شک وشبہ سے انسان فتنوں اور مصائب میں مبتلا ہونے کے علاوہ شکّاک اور متزلزل افراد کے لئے بہی مشکلات اور فتنوں کے اسباب فراہم کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار: ج۹۴ ص۱۴۷
جو انسان شک وشبہ میں مبتلا ہو وہ نہ صرف اپنی معنوی اہمیت کو کہو دیتا ہے،بلکہ جب تک وہ شک و شبہہ اور وسواس کا اسیر رہے تب تک وہ متوقف اور جمود کی حالت میں رہے گا۔وہ کبہی بہی معنوی ترقی نہیں کرسکتا۔وہ اپنی نجات کے لئے اپنے صفحہ دل سے شک و شبہ کو ہمیشہ کے لئے نکال دے۔امام صادق (ع) فرماتے ہیں:
'' الفوا عَن نفوسکم الشّکوکَ '' (1) اپنے نفوس سے شکوک کو برطرف کریں۔
اس بناء پر روحانی و معنوی ارزشوں کو حاصل کرنے اور انہیں محفوظ کرنے کے لئے اپنے دل سے شک اور وسوسہ کو نکال دیں اور ایمان و یقین کامل پیدا کرنے کے بعد اپنے عقائد کے استحکام کی کوشش کریں۔ایسانہ کرنے کی صورت میں صرف آپ کے اعتقادات ہی متزلزل نہیں ہوںگے بلکہ آخری زمانے کے آشوب میں بہی شریک ہوں گے۔ کیونکہ شک وشبہہ ایک طرف سے آشوب، پریشانیاں اور آزمایشات الہٰی کا سامان فراہم کرتا ہے تو دوسری طرف سے شک وشبہہمیں گرفتار افراد اس امتحان میں بہی ناکام ہوتے ہیں۔
خاندان عصمت و طہارت کے فرامین و دستورات میں ہمیں اپنے دل سے شک و شبہہ کو برطرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے،یہ صرف آزمائشات الہٰی کو قبول کرنے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ فتنہ اور آشوب کے اسباب کو ختم کرنے کے لئے بہی شک و شبہہ کو بر طرف کرنے کا امر کیا گیا ہے۔ کیونکہ شک وشبہہ اور بے مورد گمان فتنہ و فساد اور امشکلات کو ایجاد کرنے کے اسباب فراہم کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار: ج۵۱ ص۱۴۷
امام سجاد (ع) مناجات مطیعین میں خدا سے عرض کرتے ہیں:
'' وَاَثبت الحَقَّ فی سَرَائرنَا فَانَّ الشّکوکَ وَ الظّنونَ لَوَاقع الفتَن '' ( 1 )
پروردگارا ! میرے باطن میں حق کو ثابت فرما، کیونکہ شکوک و ظنون فتنہ ایجاد کرتے ہیں۔
تاریخ کے مطالعہ سے اس حقیقت کا مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ صدر اسلام سے آج تک جن فساد و فتنہ نے مسلمان معاشرے کو گمراہ کیا ،ان میں سے اکثر ایسے افراد تہے کہ جو صراط مستقیم سے متعلق اپنے یقین کو کہوکر شک و شبہہ میں گرفتار ہوچکے تہے۔
حقیقت میں شک و شبہ گمراہ کر نے والے فتنوں اور بلائوں میں گرفتار ہونے کا وسیلہ ہے۔ شک وشبہ سے انسان فتنوں اور مصائب میں مبتلا ہونے کے علاوہ شکّاک اور متزلزل افراد کے لئے بہی مشکلات اور فتنوں کے اسباب فراہم کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحارالانوار: ج۹۴ ص۱۴۷
گناہوں کا مرتکب ہونا،اہل بیت عصمت و طہارت کے دستورات کے منافی ہے۔یہ شرم آور اور تباہی کا باعث ہے۔ممکن ہے کہ یہ مردان خدا کے بہترین حالات کو ختم کردے۔اس بناء پر گناہ کو انجام دینا نہ صرف معنوی حالات کو ایجاد کرنے کے لئے مانع ہے۔بلکہ یہ اس ایجاد شدہ حالات کو درہم برہم کرنے کی قدرت رکہتا ہے۔امام صادق (ع)فرماتے ہیں:
'' قَالَ سَمعت اَبَا عَبدالله - یَقول-اتَّقواالله ،وَ لَا یحسد بَعضکم بَعضاً-انَّ عیسیٰ بنَ مَریَمَ کَانَ من شَریعه السَّیح فی البلَاد،فَخَرَجَ فی بَعض سَیحه وَ مَعَه رَجل من الصَّحابَةقَصیر وَ کَانَ کَثیراللّزوم لعیسی بن مَریمَ،فَلَمَّا انتَهیٰ عیسیٰ الی البَحرقَالَ بسم الله بصحّةیَقینٍ منه،فَمَشیٰ علیٰ ظَهرالمَائ فَقَالَ الرَّجل القَصیر حینَ نَظَرَ الیٰ عیسیٰ جَازَه،بسم الله بصحَّةیَقینٍ منه فَمَشیٰ عَلیٰ المَائ وَ لَحقَ بعیسیٰ،فَدَخَلَه العَجب بنَفسه "
''فَقَالَ هٰذا عیسیٰ روح الله یَمشی عَلی المَائ وَ اَنَا اَمشی عَلی المَائ فَمَا فَضله عَلَیَّ ؟قَالَ فَرمسَ فی المَائ فَااستَغَاثَ بعیسیٰ فَتَنَاوَله منَ المَائ فَاَخرَجَه، ثمَّ قَالَ لَه،مَا قلتَ يَا قَصیر؟قَالَ قلت هٰذا روح الله یَمشی عَلی المَائ وَ اَنَا اَمشی ،فَدَخَلَنی من ذَالکَ عجب ''
'' فَقَالَ لَه عیسیٰ:لَقَد وَضَعت نَفسَکَ فی غَیرالمَوضع الَّذی وَضَعَکَ الله فیه فَمَقَّتَکَ الله علیٰ مَا قلت فَتب الی الله عَزَّوَجَلَّ ممَّا قلتَ، قَالَ فَتَابَ الرَّجل وَعَادَ الیٰ المَرتَبَة الَّتی وَضَعَه الله فیها،فَاتَّقوا الله وَلَا يَحسدَنَّ بَعضکم بَعضاً''(1)
داؤد رقّی کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق (ع) سے سنا کہ آپ نے فرمایا خدا سے ڈرو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ۔
حضر ت عیسیٰ ابن مریم کی شریعت میں شہروں کی سیاحت تہی،ان سیاحتوں میں سے ایک دفعہ چہوٹے قد کا ایک مرد بہی ان کے ہمراہ تہا ، وہ حضرت عیسیٰ بن مر یم کے ساتہ بہت نزدیک تہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔بحار الانوار:ج۷۳ ص۲۴۴، اصول کافی:ج۲ص۳۰6
وہ چلتے ہوئے ایک دریا کے پاس پہنچے حضرت عیسیٰ نے اپنے صحیح و کامل یقین سے بسم اللہ کہا اور پانی پر چلنے لگے جب اس مرد نے یہ واقعہ دیکہاتو اس نے بہی صحیح یقین کے ساتہ بسم اللہ کہی اور پانی پر چلتاہوا حضرت عیسیٰ تک پہنچ گیا ۔
اسے اس وقت ایک عجیب حالت کا سامنا ہوا اور اس نے اپنے آپ سے کہا کہ یہ عیسیٰ روح اللہ ہے کہ جو پانی پر چلتا ہے میں بہی پانی پر چل سکتا ہوں پس وہ کس بات میں مجہ سے بر تر ہے ؟ اسی وقت وہ پانی میں ڈوبنے لگا ۔ پہر اس نے حضرت عیسٰی (ع)سے مدد طلب کی حضرت عیسٰی نے اسے پکڑ کر پانی سے نکالا ، اور اس سے فرمایا تم نے اپنے آپ سے کیا کہا تہا؟ اس نے اپنے آپ سے جو کچہ کہا تہا وہ حضرت عیسیٰ سے عرض کیا اور کہا کہ اسی وجہ سے میں پانی میں ڈوبنے لگا تہا ۔
حضرت عیسٰی(ع) نے اس سے فرمایا : خدا نے تمہیں جس جگہ قرار دیا تہا تم نے اپنے آپ کو اس کے علاو ہ کہیں اور قرار دیا اور تم نے حسدکی وجہ سے خدا سے دشمنی کی پس خدا کی طرف واپس لوٹ جاؤ اور تم نے جو کچہ کہا اس سے توبہ کرو ۔ اس مرد نے اسی وقت تو بہ کی اور خدا نے اسے جو رتبہ دیا تہا ، اسے دوبارہ لاٹا دیا پس خدا سے ڈرو اور تم ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ۔
یہ روایت اس واقعیت و حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ گناہ اولیاء خدا سے ان کے بہترین معنوی حالات سلب کرسکتا ہے اور انہیں معنویت کی اوج سے گرا سکتا ہے
تاریخ کی طرف رجوع کرنے اور اس کی ورق گر دانی سے ایسے افراد ملیں گے کہ جو اپنی زندگی کے ایک حصے تک یقین و اعتقاد رکہتے تہے لیکن استقامت اور ثابت قدم نہ تہے لہذا انہوں نے گناہ کی وجہ سے اپنے ایمان و یقین کو کہو دیا ۔
ایسے افراد میں سے ایک زبیر تہا جو رحلت پیغمبر اکرم(ص) کے بعد حضرت امیر المو منین اور اہل بیت وحی علیہم السلام کے دفاع میں سب سے پیش پیش تہا ، وہ امیر المو منین کے دوستو ں میں سے تہا لیکن اس کے بیٹوں کے بڑے ہونے سے ان کے شیطانی وسوسوں نے اس کے ایمان و یقین کو شک و شبہہ اور تر دید میں تبدیل کر دیا اور پہر یہ امیر المو منین سے بغاوت اور جنگ پر اتر آیا حضرت امیر المو منین (ع) اس کے بارے میں فرماتے ہیں :
ما زال کان الز بیر منّا اهل البیت حتّٰی نشاء بنوه فصرفوه عنّا(1)
زبیر ہمیشہ ہم اہل بیت علیہم السلام میں سے تہا لیکن جب اس کے بیٹے بڑے ہو گئے تو انہوں نے اسے ہم سے رو گرداں کر دیا۔
لہذا ہمیں خداوند متعال سے ایسے یقین کے لئے دعا کر نی چاہیئے کہ جس میں کبھی بھی شک وشبہ اور انکار ایجاد نہ ہو ۔ امام صادق سے نقل روز جمعہ کی دعا میں پڑھتے ہیں :'' اللّٰهمّ انّی اسألک ایما ناً صادقاً و یقینا لیس بعده کفر '' (2)
پرور دگار ا! میں تجہ سے سچے ایمان اور ایسے یقین کا سوال کر تا ہوں کہ جس کے بعد کفر و انکار نہ آئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1] ۔ بحار الا نوار:ج۲۸ص۳۴۷
[2]۔ بحار الا نوار:ج۹۰ص۴۲
ایسی تعبیرات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ گناہ کی وجہ سے یقین کی حالت کا شک وشبہ یا کفر و انکار میں تبدیل ہو نے کا امکان ہے ۔ یقین کی سر زمین پر داخل ہونے والوں کو متوجہ رہنا چاہیئے کہ نفس امارہ بہت قوی ہے ۔ اگر آپ نے غفلت برتی تو آپ یقین سے ہاتہ دہو کر کفر و انکار میں مبتلا ہوجائیں گے لہذا خدا وند کریم سے ایسے یقین کو طلب کریں کہ جس کے بعد کسی قسم کا تز لزل نہ ہو ۔
اس بناء پر جو دل یقین کے تابناک نور سے منور ہو ا ہو اور جو یقین دل میں اتر چکا ہو گناہ کی صورت میں اس کی نورانیت میں کمی واقع ہو جا تی ہے اور ایک دیگر حالت ایجاد ہو تی ہے ۔ اس وجہ سے کبہی بہی معنوی صفات کے مالک افراد اپنے اندر تکبر اور خود پسندی پیدا نہ ہونے دیں کیو نکہ جس خدا نے ان کے دلوں میں یقین کی نعمت القاء کی ہے وہ اسے تکبر اور خود پسندی کی وجہ سے واپس لینے پر بہی قادر ہے ۔
اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے بہت سے فرا مین و ارشادات میںیقین کیمقام کی فضیلت واہمیت کو بیان کیا گیا ۔ اب ذہن میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ کس طرح یقین کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب بہی خاندا ن وحی علیہم السلام کے فرمودات میں مو جود ہے ۔یقین کا مقام حاصل کر نے کا مؤثر ترین ذریعہ ، معرفت ، ہے جب انسان معارف الٰہی سے مستفید ہو تو وہ راسخ اعتقاد سے یقین کی منزل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ روایات میں اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے شب معراج خدا نے پیغمبر اکرم(ص) سے موعظہ میں فرما یا:
'' المعرفة تورث الیقین ، فاذا استیقن العبد لا یبالی لیف اصبح بعسرٍ اَم بیسرٍ '' (1)
معرفت یقین کا موجب ہے پس جب بہی بندے کو یقین حاصل ہو جائے تو پہر اس سے کوئی خوف نہیں ہو تا کہ رات کس طرح سے گزر گئی اور کیسے صبح ہو ئی ، چاہے یہ سختی میں ہو یا راحت میں ۔
اس بناء پر معلوم ہوا کہ تردد و اضطراب یقین کے نہ ہو نے سے پیدا ہو تا ہے انہیں رفع کرنے کے لئے اپنے اندر یقین کی حالت پیدا کریں اور یقین کی حالت ایجاد کرنے کے لئے معرفت حاصل کریں کیو نکہ معارف اہل بیت حاصل کرنے سے یقین کے بلند مقام تک پہنچ سکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحا رالانوار :ج۷۷ص۲۷
اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے بہت سے فرا مین و ارشادات میںیقین کیمقام کی فضیلت واہمیت کو بیان کیا گیا ۔ اب ذہن میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ کس طرح یقین کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب بہی خاندا ن وحی علیہم السلام کے فرمودات میں مو جود ہے ۔
یقین کا مقام حاصل کر نے کا مؤثر ترین ذریعہ ، معرفت ، ہے جب انسان معارف الٰہی سے مستفید ہو تو وہ راسخ اعتقاد سے یقین کی منزل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔ روایات میں اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے شب معراج خدا نے پیغمبر اکرم(ص) سے موعظہ میں فرما یا:
'' المعرفة تورث الیقین ، فاذا استیقن العبد لا یبالی لیف اصبح بعسرٍ اَم بیسرٍ '' (1)
معرفت یقین کا موجب ہے پس جب بہی بندے کو یقین حاصل ہو جائے تو پہر اس سے کوئی خوف نہیں ہو تا کہ رات کس طرح سے گزر گئی اور کیسے صبح ہو ئی ، چاہے یہ سختی میں ہو یا راحت میں ۔
اس بناء پر معلوم ہوا کہ تردد و اضطراب یقین کے نہ ہو نے سے پیدا ہو تا ہے انہیں رفع کرنے کے لئے اپنے اندر یقین کی حالت پیدا کریں اور یقین کی حالت ایجاد کرنے کے لئے معرفت حاصل کریں کیو نکہ معارف اہل بیت حاصل کرنے سے یقین کے بلند مقام تک پہنچ سکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحا رالانوار :ج۷۷ص۲۷
خدا کی بار گاہ میں دعا کرنیسے ہمارے اندر یقین پیدا ہو تا ہے اور اس سے یقین میں اضافہ بہی ہوتا ہے ؛ حضرت امیر المو منین(ع) اپنے'' معروفہ''نامی خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں :
'' عباد اللّٰه سلوا اللّٰه الیقین ''(1)
اے خدا کے بندو! خدا سے سوال کرو کہ تمہیں یقین عنایت فرمائے۔
اس بناء پر ہمیں یقین پیدا کرنے اور اس میں اضافہ کے لئے بتائے گئے ذرائع میں سے ایک ذریعہ خدا سے یقین کے حصول کی دعا کرنا ہے ، خاندان وحی علیہم السلام نے اپنے فرامین میں ہمیں یقین کی کیفیت کے بارے میں بہی راہنمائی فرمائی ہے جب انسان ہر لمحہ سقوط اور ہلاکت کے خطرے میں مبتلاہو تو ممکن ہے کہ وہ اپنا یقین کہو دے اور اس کے ایمان اور عقیدے میں ضعف پیدا ہو جائے لہذا انہوں نے ہمیں صادقانہ یقین حاصل کرنے کے لئے دعا ارشاد فرمائی : صالحین اور متقین دعا کے ذریعے صادقانہ یقین سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں ۔
جو انسان شک و شبہہ اور وسوسہ سے نجات پا کر سچے یقین کی منزل حاصل کرے وہ ایسے انسان کی طرح ہے کہ جو کفر کے بعد دوبارہ تجدید حیات کرے اور کفر کی ظلمت و تاریکی سے نکل کر عالم نور میں قدم رکہے خداوند متعال قر آن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ انعام آیت: 122
'' اومن کان میتاً فَاحیَیناه وَجَعَلنا له نوراً یَمشی به فی النّاس کَمَن مَثَلَه فی الظلمات لَیسَ بخارجٍ منها ''( 1 )
کیا جو شخص مردہ تہا پہر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور قرار دیا جس کے سہارے میں لوگوں کے درمیان چلتا ہے اور اس کی مثال اس کی جیسی ہو سکتی ہے جو تاریکیو ں میں ہو اور ان سے نکل بہی نہ سکتا ہو ۔
یہ آیت ان لو گوں کے لئے ایک مثال ہے جو شک وشبہہ اور تردید کی ظلمت سے نکل کر دلوں کو حیات عطا کرنے والے عالم یقین میں داخل ہو تے ہیں کیا ایسے افراد ان کی مانند ہیں کہ جو ابہی تک شک وشبہہ اور وسوسہ کی تاریکی میں گرفتار نہ ہو ئے ہوں ۔ جس طرح شک دلوں کو سیاہ کرتا ہے اسی طرح یقین دلوں کو نورانی کر تاہے بلکہ ان افراد کا دل نورانی ترین ہو تا ہے جو یقین کی منزل تک پہنچ چکے ہوں ۔
حضرت امام باقر(ع) فرماتے ہیں :
'' لا نور کنور الیقین '' ( 2 )
کوئی نور بہی یقین کے نور کی طرح نہیں ہے ۔
جن افراد کو وسوسہ اور شک و شبہ نے گہیرا ہوا ہو کیا ان شخصیات کے مانند ہیں جن کی دلوںکو یقین کے نور نے احاطہ کیا ہو ؟ جس انسان نے اپنے اندر موجود صفات کو شک کے ذریعہ نابود کیا ہو کیا وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے انوار یقین سے دل کو صاف اور روشن کیا ہو اب جو تازہ حیات اور قدرت کا مالک ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحا رالانوار :ج۷۷ص۲۹۳
[2]۔ بحا رالانوار :ج۷۸ص۱6۵
دل کو یقین کے تابناک نور سے روشن کر نے کے لئے خداوند کریم سے دعا کریں کہ: خدا وندا !ہمیں صادقانہ یقین عنایت فرما ؛ کیو نکہ اگر یقین صادقانہ و پختہ ہو تو یہ ہر قسم کے سخت امتحانات کو آسان کر نے کے علاوہ وہ ان کے استحکام و قوت میں بہی اضافہ کر تا ہے ۔
صادقانہ یقین فقط اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ جب وہ کسی قسم کے تزلزل کوقبول نہ کرے اور جب اس میں کسی طرح کا ضعف نہ ہو ۔ نماز ظہر کی تعقیبات میں امام صادق (ع) سے منقول دعا میں وارد ہوا ہے کہ خدا سے کس چیز کا سوال کیا جا ئے :
'' اسألک حقایق الا یمان و صدق الیقین فی المواطن کلّها ''( 1 )
خدا وندا ! میں ہر جگہ تجہ سے ایمان اور سچے یقین کا سوال کر تا ہوں ۔
امام صادق (ع)کی نماز ظہر کی تعقیب میں ذکر ہونے والی تعبیر اس نکتہ کو بیان کر تی ہے کہ تمام موارد حتی کہ سخت ترین موارد میں بہی یقین محکم اور صادق ہو کہ جو کسی طرح کے خلل و ضعف کو قبول نہ کرے یعنی سخت ترین حالات ، دشوار اور مشکل ترین امتحانات میں بہی انسان کے پاؤں متزلزل نہ ہو ں۔
ایسے یقین تک رسائی اور اس کا حصول آسان نہیں ہے ایسے یقین کو حاصل کرنے کے لئے خدا کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتہ اٹہائیں ۔ کیو نکہ صادقانہ یقین اولیاء خدا کی صفات میں سے ہے یہ ہر کسی کی دسترس میں نہیں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ بحا رالانوار :ج۸6ص۷۱
نفس کی اصلاح کے ذریعہ نفسانی اور شیطانی خطرات سے عالم یقین تک پہنچیں اور آب حیات سے سیراب ہونے کے بعد اپنے دل و جان کو اس کی طراوت سے جلا بخشیں ۔
کیو نکہ یقین انسان کو اصلی منزل و ہدف تک پہنچا تا ہے ۔ آپ اپنے نفس کی اصلاح سے یقین میں اضافہ کر سکتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ امام مو سی بن جعفر(ع) نے اس کی تصریح فرمائی ہے :
'' باصلاحکم انفسکم تزدادوا یقینا و تربحوا نفیساً ثمیناً رحم اللّٰه امرئً همَّ بخیرٍ فعمله او همَّ بشرٍّ فارتدع عنه ثمّ قال : نحن نؤیّد الّروح بالطّاعة للّه والعمل له ''(1)
اپنے نفس کی اصلاح کے ذریعہ اپنے یقین میں اضافہ کریں اور قیمتی سرمایہ و نفع حاصل کریں خداوند اس شخص پر رحمت کرے کہ جو اچہے کام کی ہمت کرے اور اسے انجام دے یا برے کام کا ارادہ کرے لیکن اپنے آپ کو اس کے انجام دینے سے روکے ۔ پہر آنحضرت نے فر مایا : ہم اہل بیت خدا کی اطاعت اور اس کے لئے عمل سے روح کی تائید کر تے ہیں ۔
پس نفس کی اصلاح سے انسان کے یقین میں اضافہ ہو تا ہے کیو نکہ یقین کا مخالف یعنی شک شیطان کے وسوسہ کی وجہ سے پیداہو تا ہے ۔ اصلاح نفس کے ذریعہ حدیث نفس اور وسوسہ شیطان مغلوب ہو جاتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہل بیت علیہم السلام کے ارشادات و فرامین سے یوں استفادہ کر تے ہیں کہ حالت یقین اور اصلاح نفس کے درمیان ملازمہ ہے ۔ یعنی اصلاح نفس کا لازمہ حالت یقین کی افزائش ہے اور یقین محکم کے وجود کا لازمہ اصلاح نفس ہے ۔
پس نفس کی اصلاح سے آپ اپنے یقین میں اضافہ کر سکتے ہیں اسی طرح یقین کو تقویت دینے سے آپ اپنے باطن اور نفس کو پاک بنا سکتے ہیں ، نفس کی پاکیزگی اور یقین کی پیدائش کے بعد روح کی بزرگ قدرت سے استفادہ کریں ۔
جن افراد سے کرامات اور غیر معمولی امور ظاہر ہوئے وہ یقین کی عظیم نعمت سے بہرہ مند تہے اس حقیقت کی شہادت کے طور پر ہم ایک واقعہ نقل کر تے ہیں مرحوم شیخ حسن علی اصفہانی نقل سے ہوا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب میں حج کے سفر کے دوران حجاز میں داخل ہوا تومیرے پاس پیسے نہیں تہے مکہ میں خاوہ(ٹیکس) کے عنوا ن سے ہر مسافر سے کچہ پیسے وصول کر تے تہے کچہ لوگ اس عنوان سے پیسے نہیں دینا چاہتے تہے لہذا ہم مجبوراً جدہ کے راستے عازم مکہ ہوئے۔ راستے میں حکومت کے مامورین سے سامنا ہوا اور انہوں نے ہم سے کہا کہ جب تک خاوہ یاٹیکس کو وصول کرنے پر ما مور افراد نہ آجائیں تم سب اسی جگہ ٹہہروا اور پیسے دینے کے بعد آگے جاؤ ور نہ آپ مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے ۔
سب لوگ خر ما کے درخت کے سایہ میں مامورین کے انتظار میں بیٹہ گئے وہاں پر موجود سب لوگوں نے پیسے جمع کئے اور مجہ سے بہی کہا کہ آپ بہی پیسے دیں میں نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ اگر تم یہ طمع کر رہے ہو کہ ہم تمہیں پیسے دیں گے تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے ہم تمہیں پیسے نہیں دیں گے اوراگر پیسے نہیں دو گے تو تم خا نہ خدا کی طرف نہں جا سکتے میں نے ان سے کہا کہ مجہے تم سے کوئی طمع نہیں ہے بلکہ خدا سے طمع کر رہا ہوں کہ جو میری مدد کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عرب کے اس بیابان میں خدا کس طرح تمہاری مدد کرے گا ؟
میں نے کہا کہ رسول(ص) سے ایک حدیث روایت ہوئی ہے کہ جو لوگوں کی خدمت کرے اور ان سے کوئی اجرت نہ لے خداوند بیابان میں گرفتار ی کی حالت میں اس کی اس طرح سے مدد کرے گا اور موانع کو بر طرف کر دے گا ۔
ایک گہنٹہ کے بعد انہوں نے اپنے سوال کو تکرار کیا میں نے بہی وہی جواب دیا تو ان لوگوں نے تمسخر سے کہا کہ معلوم ہو تا ہے کہ جیسے شیخ نے حشیش پی ہو کہ جس کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہا ہے ۔ ورنہ بیابان میں ہمارے علاوہ اور کون ہے کہ جو اس کی مدد کرے لیکن ہم بہی اس کی مدد نہیں کریں گے۔
کچہ دیر گزرنے کے بعد دور سے گرد اڑتی دکہائی دی میں نے اپنے ساتہ موجود لوگوں سے کہا کہ یہ میرے طرف آنے والی خیر ہے انہوںنے میرا مذاق اڑایا چند لمحوں کے بعد اس گرد سے دو سوار نمودار ہوئے وہ گہوڑے کو ہاتہ سے کہینچ کر لا رہے تہے اور وہ میرے قریب آگئے ۔
ان میں سے ایک نے کہا کہ تم میں سے شیخ حسن علی اصفہانی کون ہیں ؟
میرے ساتہیوں نے میری طرف اشارہ کر تے ہوئے کہا کہ یہ شیخ حسن علی ہیں انہوں نے کہا کہ شریف کی دعوت قبول کریں اور میں گہوڑے پر سوار ہو گیا اور شریف مکہ کی طرف روانہ ہو گئے جب '' شریف '' مکہ میں داخل ہوا تو میں نے دیکہا کہ مرحوم شیخ فضل اللہ نوری مرحوم شیخ محمد جواد بیدآبادی بہی وہاں موجو دہیں شریف مکہ کی کوئی حاجت تہی کہ میں نے خدا کی مدد سے اسے حل کر دیا مجہے بعد میں معلوم ہوا کہ شریف نے پہلے اپنی حاجت مرحوم شیخ فضل اللہ نوری کی خدمت میں عرض کی لیکن شیخ فضل اللہ نے اس سے فر مایا : تمہاری حاجت کو فلاں شخص انجام دے سکتا ہے تم حکم دو کہ اس شخص کو تلاش کر کے یہاں لاؤ اور یقینا وہ پیدل ہیں ۔ اسی وجہ سے شریف نے حکم دیا کہ ما مورین تمام چہوٹے راستوں پر جائیں اور جہاں بہی وہ ملیں انہیں میرے پاس لے آؤ ۔
جی ہاں !اولیاء خدا سے کرامات اور غیر معمولی امور کے ظہور پر یقین مثبت اثرات رکہتا ہے ۔
ہمارے افکار اس صورت میں اثر رکہتے ہیں کہ جب ان کے ساتہ یقین کی صفت بہی ہو جو عالی معنوی مقامات کی جستجو اور معارف الٰہی کی تلاش میں ہوں وہ اپنے اندر یقین پیدا کرنے کے اسباب ایجاد کریں ۔
جو عالم غیب کے ساتہ ارتباط رکہتے ہوں وہ اپنے میں یقین کی قوت ایجاد کر تے ہیں اور اسے تقویت دینے کی کو شش کر تے ہیں ۔ کیو نکہ یقین عالم معنی تک پہنچنے اور معنوی مقامات کے حصول کی بنیاد ی شرط ہے ۔ یقین پیدا کرنے سے آپ اپنے زنگ آلود دل کو نئی زندگی دے کر روحانی امراض اور فکری آلودگیوں کوختم کریں اس صورت میں آپ کے باطن کی بہی اصلاح ہو جائے گی اور خدا کے نزدیک آپ کے اعمال کی اہمیت میں بہی اضافہ ہو گا ۔
کسب معارف ، اصلاح نفس اور بزرگان دین و اولیاء خدا کی صحبت یقین ایجاد کر نے کے بہترین ذرائع ہیں ۔ یقین کی حفاظت کی اساسی شرط گناہوں کو ترک کرنا ہے ۔ کیو نکہ گناہ و معصیت کئی سالوں کی کوششوں سے حاصل ہونے والے یقین کو نابود کر دیتا ہے ۔
گر عزم تو محکم و متین آمدہ است
در پر تو انوار یقین آمدہ است
تا نور یقین بہ دل نتا بید ، کجا ؟
سر پنجۂ عزم ، از آستین آمدہ است
تمہارا عزم و ارادہ پختہ اور مضبوط ہو لیکن ارادے کی پختگی یقین کے ہمراہ ہو ۔جب تک دل یقین کے نور سے منور نہ ہو تب تک پختہ عزم وارادہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔
فہرست مطالب
انتساب. 3
مقدمہ مترجم 4
پیش گفتار 6
فکر کی اہمیت. 10
فکر کی پرواز 12
فکر کی اہمیت کے کچھ راز 13
گناہ کے بارے میں فکر کرنے کا اثر 15
تفکر ایمان و یقین میں اضافہ کا باعث ہے.. 16
تفکر بصیرت اور دور اندیشی کا وسیلہ 18
روزۂ فکر 21
صحیح و سالم فکر کے طریقے 23
1۔ دقت اور سوچ سے فکر کو سالم کر نا 23
2 ۔ پر خوری سے پر ہیز کرنا 24
3 ۔ فکری اشتباہات میں مبتلا افراد سے پر ہیز کرنا 25
نتیجۂ بحث. 28
مشورہ کرنے کی ضرورت. 30
مشورہ ترقی و پیشرفت کااہم ذریعہ 31
کس کے ساتھ مشورہ کریں ؟ 32
مشورہ کے بعد اس پر عمل کریں. 35
مشورہ نہ کرنے کا انجام 36
نتیجۂ بحث. 39
بہتر ین ہدف کا انتخاب کریں. 41
ہدف کے نتیجہ پر توجہ کریں. 43
انسان کی تخلیق کا کیا ہدف ہے؟ 44
مقصد وہدف تک پہنچنے کے ذرا ئع 46
1 ۔ اپنے ہدف کے حصول کی امید 46
ایک نکتہ کا تذکر 47
2 ۔ ہدف کے حصو ل میں طلب و جستجو کا کردا ر 48
3 ۔ بزرگ ہستیوں کی خدمت میں رہنا 51
4 ۔ عالی اہداف تک پہنچنے کے لئے نفس کی مخالفت. 52
5 ۔ عظیم اہداف تک پہنچنے کے لئے اہل بیت سے توسل. 53
نتیجۂ بحث. 54
ارادہ کی اہمیت. 56
ارادہ سے پہلے اخلاص.. 57
اپنے ارادہ کو صحیح سمت دیں. 58
بلند حوصلہ رکھیں. 60
اپنے ارادہ پر عمل کریں. 62
قوت ارادہ کے ذریعہ اپنی طبیعت پر غالب آنا 65
ملّا صالح مازندرانی، ایک پختہ ارادہ کے مالک شخص.. 67
اپنے ارادہ اور نیت کو تقویت دینا 69
ارادہ کو تقویت دینے کے طریقے 71
1 ۔ ذوق و شوق آ پ کے ارادہ کو تقویت دیتا ہے.. 71
2 ۔ امید و آرزو سے ہمت میں اضافہ ہو تا ہے.. 73
3 ۔ خدا سے پختہ ارادہ و بلند ہمت کی دعا کریں : 74
نتیجہ ٔبحث. 75
نظم وضبط کی اہمیت. 77
نظم و ضبط آشفتگی کو ختم کر تا ہے.. 78
نو جوانوں کی صحیح نظم و ضبط میں مدد کریں. 81
نظم و ضبط 83
وقت سے استفادہ کرنے کا بہترین طریقہ 83
مرحوم شیخ انصاری کا منظم پروگرام 84
نتیجۂ بحث. 87
وقت سے استفادہ کرنا 89
علامہ مجلسی کا وقت سے استفادہ کر نا 91
وقت ضائع نہ کریں. 93
بیکاری کا نتیجہ 95
وقت تلف کرنا یا تدریجی خود کشی 96
اپنے ماضی سے عبرت حاصل کریں. 97
دوسروں کے ماضی سے سبق سیکھیں. 98
اپنا وقت دوسروں کے شخصی اہداف کے لئے ضائع نہ کریں. 99
فرصت سے استفادہ کریں. 100
آخری سانس تک زندگی سے استفادہ کریں. 101
نتیجہ ٔ بحث. 107
صالحین سے ہمنشینی کی اہمیت کا راز 109
جن افراد کی صحبت روح کی تقویت کا باعث ہے.. 113
1 ۔ علماء ربانی کی صحبت. 113
2 ۔ صالحین کی صحبت. 114
اپنے ہمنشینوں کو پہچانیں. 116
جن افراد کی صحبت ترقی کی راہ میں رکاوٹ. 118
1 ۔ چھوٹی سوچ کے مالک افراد کی صحبت. 118
2 ۔ گمراہوں کی صحبت. 122
3 ۔ خواہش پرستوں کی صحبت. 123
۴ ۔ شکّی لوگوں کی صحبت. 127
نتیجۂ بحث. 128
روحانی تکامل کے لئے تجربہ کی ضرورت. 130
تجربہ اور سر پرستی وحکومت. 131
علمی و صنعتی مسائل میں تجربہ 132
تجربہ عقل کی افزائش کا باعث. 133
تجربہ ، فریب سے نجات کا ذریعہ 135
مشکلات میں دوستوں کو پہچاننا 136
تجربہ سے سبق سیکھیں. 137
دوسروں کے تجربات سے استفادہ کریں. 138
دوسروں کے تجربہ سے استفادہ کرنے کا طریقہ 139
تجربات فراموش نہ کریں. 141
نتیجہ ٔ بحث. 143
مخالفت نفس یا نفس پر حکومت. 145
عقل پر نفس کا غلبہ 147
نفس کا معالجہ 149
اصلاح نفس کے لئے دعا 151
مخالفت نفس کی عادت. 152
اصلاح نفس کے ذریعہ روحانی قوت سے استفادہ کرنا 157
قدرت نفس. 158
نتیجۂ بحث. 159
صبر اسرار کے خزانوں کی کنجی 161
صبر واستقامت ارادہ کی تقویت کا باعث. 162
صبر حضرت ایوب (ع) 164
اپنے نفس کو صبر واستقامت کے لئے آمادہ کرنا 166
مرحوم علی کَنی اور ان کے صبر کا نتیجہ 168
صبر قوت وقدرت کا باعث. 170
نتیجۂ بحث. 172
اہمیت اخلاص.. 174
اخلاص کا نتیجہ 176
صاحب جواہر الکلام کا اخلاص.. 177
ہم کیا صاحب اخلاص بن سکتے ہیں ؟ 179
زحمت اخلاص.. 182
نتیجۂ بحث. 186
علم ارتقاء کا ذریعہ 188
تحصیل علم میں ارادہ کی اہمیت. 191
حصول علم کے لئے گناہوں کو ترک کرنا 192
کون سا علم روحانی تکامل کا باعث ہے؟ 193
علم کی ترویج معنوی کمالات کا ذریعہ 198
نتیجۂ بحث. 202
انسان کی ترقی میں توفیق کا کردار 204
سعادت کے چار بنیادی ارکان. 207
نیت ، قدرت، توفیق، منزل تک پہنچنا۔ 207
توفیق نیکیوں کی طرف ہدایت کا ذریعہ 208
کامیاب اشخاص.. 209
توفیق حاصل کرنے کے ذرائع 211
1۔ کسب توفیق کے لئے دعا کرنا 211
ایک اہم نکتہ 213
2۔ ماں باپ کی دعا توفیق کا سبب. 214
3۔ توفیق کے حصول کے لئے جستجو اور کوشش کرنا 215
4۔ خدا کی نعمتوں میں تفکر، توفیق الٰہی کا سبب. 216
نتیجۂ بحث. 217
یقین کی اہمیت. 219
یقین کے آثار 221
1۔ یقین دل کو محکم کرتا ہے.. 221
مجلس مباہلہ میں حاضری. 223
۲۔ یقین اعمال کی اہمیت میں اضافہ کا ذریعہ 226
3۔ یقین آپ کے باطن کی اصلاح کرتا ہے.. 229
یقین کو متزلزل کرنے والے امور 231
1۔ شک و شبہ 231
1۔ شک و شبہ 233
2۔ گناہ 235
یقین کھودینا 237
تحصیل یقین کے ذرائع 239
1۔ کسب معارف.. 239
1 ۔ کسب معارف.. 240
2۔ دعا اور خدا سے راز و نیاز 241
3- تہذیب و اصلاح نفس. 244
نتیجۂ بحث. 247