امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت
گروہ بندی امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
مصنف آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت

تالیف

آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی

 

ترجمہ

عرفان حیدر

 


امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت

مؤلف : آیت اللہ سید مرتضیٰ مجتہدی سیستانی

 ترجمہ : عرفان حیدر 

نظر ثانی : زین  العابدین  علوی

کمپوزنگ : ..................  .موسی علی عارفی،ذیشان مہدی سومرو

طبع: .............................  اول

تاریخ طبع :........................2010 مئ ی

تعداد:. ............................2000

قیمت: .............................۱۵۰

ناشر................................الماس  پرنٹرز  قم  ایران

ملنے  کاپتہ:           جامعہ امام صادق بک سینٹر علمدار روڈ کوئٹہ بلوچستان

فون نمبر:2664735 ۔ 081

امامیہ سیلز پوائنٹ قدمگاہ  مولاعلی،حیدرآباد   سندھ

  فون نمبر :2672110 ۔ 0333

ایمیل:        irfanhaidr014@gmail.com

ویب سائٹ:        www.almonji.com

ایمیل مولف:        info@almonji.com


بسم اللہ الرحمن الرحیم

انتساب

عطیہ ٔ الٰہی ، سیدہ ٔ کائنات، دل پیغمبر کاقرار ام ابیھاکا مصداق  مظلومۂ

تاریخ ر اضیۂ مرضیہ ،صدیقۂ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے نام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

مقدمہ مترجم

یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ذمہ دار ہدایت،پاک پروردگار عالم  نے،ابتدائے خلقت سے عالم بشریت کے لئے ہادی و رہنما کا انتظام کیا ہے ۔اگر اس خدائے ازلی و ابدی نے قرآن مجید میں ان لفظوں کے ذریعہ اعلان کیا:''ا ِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدَی ، وَِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالُْولَی'' (1) تو اس کو بطور احسن اس طرح سے انجام دیا کہ ہادی و راہنما کا انتظام پہلے کیا،ہدایت پانے والوں کو بعد میں خلق کیا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے ہدایت کرنے والوں کو پہلے خلق کیا اور ہدایت پانے والوں کو بعدمیں۔اس لئے جناب آدم علیہ السلام پہلے ہادی و رہنما بھی ہیں اور پہلے انسان بھی۔لیکن یہ سلسلہ یہیں پر ہی ختم نہیں ہوا بلکہ خدائے بے نیاز نے اس سلسلہ کی ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی کڑیوں کو سلسلہ ٔنبوت و ہدایت کے دھاگے میں اس طرح پرویا کہ کائنات کے چپے چپے پر ہدایت کا عکس ابھرنے لگا۔انبیاء کا سلسلہ ابھی ٹوٹنے بھی نہ پایا تھاکہ ہدایت کی ذمہ داری امامت کے مضبوط و مستحکم کندھوں پر آگئی کیونکہ امامت تکمیل نبوت کا نام ہے۔

آخری نبی کا دور نبوت ابھی ختم بھی نہیں ہونے پایاتھاکہ آپ نے ہدایت کے لئے امامت کی وہ سلسبیل   جاری کر دی کہ رہتی دنیا تک تشنہ روح انسانیت سیراب ہوتی رہے گی کہ آج بھی زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہے۔

--------------

[1]۔ سورہ لیل،آیت:  11،12


کیونکہ رسول اکرم  (ص)نے فرما یا تھا:

''ابشروا با المهدی ،ابشر وا باالمهدی،ابشروا باالمهدی یخرج علی حین  اختلاف من الناس و زلزال شدید،یملأ الارض قسطا و عدلا،کما ملئت ظلما وجوراً،یملأ قلوب عباده عبادة و یسعهم عدله '' (1)

تمہیں مہدی علیہ السلام کے بارے میں بشارت دیتا ہوں ،مہدی علیہ السلام کے بارے میں بشارت دیتا ہوں، مہدی علیہ السلام کے بارے میں بشارت دیتا ہوں،  جب لوگوں میں شدید اختلافات ہوں گے تو اس وقت امام زمانہ (عج)ظہور کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پر کریں گے جس طرح سے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔وہ خدا کے بندوں کے قلوب کو حالت عبادت و بندگی سے سرشار کریں گے اور سب پر ان کی عدالت کا سایہ ہوگا۔

آج پوری کائنات اور کائنات کے ذرّہ ذرّہ کو اس ہادی برحق کا انتظار ہے کہ جب انسانیت سسک رہی ہے ،ظلم و جور کابول بالا ہے،مظلومیت دم توڑ رہی ہے،  شریعت  آہ و فریاد کر رہی ہے، بشریت گمراہی کے دلدل میں پور پور دھنستی جا رہی ہے۔  ہواو ہوس کی حکمرانی ہے،مظلوم کے مکان میں ظالم مکین ہے،مسجد و منبر اپنے وارث حقیقی کو آواز دے رہے ہیں،بیت المقدس کو اپنے حقیقی حق دار کا انتظار ہے،بقیع حیران ہے تو کعبہ فریاد کنان......

وہ آئے گا، وہ ضرور آئے گااور پوری کائنات کو اس صبح نو کا انتظار ہے،جب

 آفتاب ہدایت طلوع ہو کر پورے عالم انسانیت کو اپنے حصار میں لے لے  گا  ۔مگر  یہ

یہ انتظار کب ختم ہو گا؟!

--------------

[1]۔ الغیبة نعمانی: 111


کیونکہ''الانتطار اشدّ مِن الموت'' مگر یہی انتظارمؤمنوں کے لئے حیات نو ہے ۔ یہی ہادی و راہنماانہیں گمراہی و تاریکی سے نکال کر ساحل نجات سے ہمکنار کرے گا۔ہر شخص اور کائنات کی ہر چیز اپنے اپنے اعتبار سے اس ہادی برحق کا انتطار کر رہی ہے،جو ظالم سے مظلوم کا حق طلب کرے گا،امن و امان ،صلح و آشتی کا قیام ہو گا،عدل و انصاف کا بول بالا ہو گا،تمام فرقے تمام مذاہب اور سب رنجشیں ختم ہوجائیں گی اور صرف ایک دین ہو گا ،دین مرتضیٰ۔

کیونکہ قرآن مجید میں خداوند کریم کا ارشاد ہے:

'' وَعَدَ اﷲُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُم فِی الَْرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِینَهُمْ الَّذِی ارْتَضَی لَهُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ َمْنًا یَعْبُدُونَنِی لاَیُشْرِکُونَ بِی شَیْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ فَاُوْلَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُون'' (1)

وہی سلسلہ ہدایت جو آدم سے شروع ہو کر قائم  پرختم ہو جاتا ہے ،جو اس سلسلہ کی آخری کڑی ہے جن کے ظہور کے بعد ان کے پرنور دور حکومت کی خصوصیات کو اس کتاب میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔آٹھ ابواب پر مشتمل یہ کتاب اسی ہادی برحق کی بے مثال حکومت کی عکاسی کرتی ہے ۔

حقیر نے اپنی بھرپور کوشش کو بروئے کار لاتے ہوئے کتاب کے اعلیٰ اہداف اور مصنف کے مقاصد کی ترجمانی کی ہے۔لیکن یہ معرکہ مجھ ناچیز سے تنہا سر ہونے والا نہیں تھا۔لہذا میں شکر گزار ہوں ان تمام دوست و احباب کا جنہوں نے اس کار خیر میں میری مدد فرمائی

--------------

[1]۔ سورہ نور،آیت :55


خصوصاََاس عظیم ماں کا جس نے ولایت اہلبیت علیہم السلام اپنے دودھ میں پلایا،اس محترم باپ کا جس کا محب اہلبیت علیھم السلام  سے سرشار لہو میری رگ رگ میں دوڑتا ہے،اپنے اساتیدجناب  محمد جمعہ اسدی اور اکبر حسین زاہدی صاحب کا کہ جن کی  زحمتوں کے نتیجے میں ناچیزاس مقام تک پہنچا  اوراپنے بھائیوں عمران حیدر شاہد اور علی اسدی کا کہ جن کی شفقت اور تشویق  نے مجھ میں حوصلہ پیداکیا کہ میں اس عظیم کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکوں۔

میں  اپنے  ان  تمام  دوست  احباب  کا  بھی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے اس کتاب کو زیور طبع سے آراستہ کرنے کے سلسلہ میں تعاون فرمایا۔ خدا ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے۔اورمیں تہہ دل سے ممنون و مشکور ہوں جناب زین العابدین علوی جونپوری  اورسید تاجدار حسین زیدی  میراپوری صاحب کا کہ جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر کتاب پر نظر ثانی فرمائی ۔

آخر میں خداوند متعال سے دعا گو ہوں کہ پرودگارا !ہماری اس ناچیز کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرما اور اپنی آخری حجت،امامت کی آخری شمع  امام زمانہ حجت بن الحسن  علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل فرما اور ہمیں ان کے انصار میں قرار دے۔

 عرفان حیدر   

17 .رب یع الاوّل1431 ھ

     قم المقدس (ایران) 


بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش گفتار

    پیش گفتار :

    بہترین فکر ''انتظار'' میں پوشیدہ ہے

    ظہورکے بارے میں سوچنا

    امام مہدی علیہ السلام کے مقام سے آشنائی

    ظہور کے درخشاں زمانے سے آشنائی

    اس کتاب کی تألیف کا مقصد

    لازم تذکرہ


پیش گفتار :

انسان کے تکامل میں مثبت افکار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انسان اچھے افکار کے ذریعہ ٹھہراؤکو توڑ کر اعلٰی اہداف کی طرف قدم بڑھا کر انہیں حاصل کر سکتا ہے۔جس طرح برے اور منفی افکار انسان کی بربادی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جس طرح بہت سے افرادکی خطرناک اور منفی سوچ نے دوسروں کو تباہ و برباد کر دیا۔

یہ ایک ایسا قانون ہے کہ جو ہماری دنیا میں حاکم ہے کہ اگر مثبت،نیک اور اچھے افکار ہوں تو وہ انسان کو ترقی اور بلندی کی طرف لے جاتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں گناہ اور فاسد خیالات سے آلودہ کردیا جائے تو پھر انسان اپنی  تباہی کا سامان خود ہی فراہم کر دیتا ہے۔

جس طرح خشک زمین کو سیراب کرنے اور اس پر محنت کرنے سے وہ باغ میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اگر اسے چھوڑ دیا جائے اور اس کا خیال نہ کیا جائے تو وہ خار دار جنگل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح انسان اپنے ضمیر کو بھی اچھے اور اہم افکار سے سرشار کر کے اس سے ثمر بھی لے سکتا ہے  اور اس کو منفی،برے اور گندے افکار سے آلودہ کر کے تباہ و برباد بھی ہو سکتا ہے۔

پس ہم نفسانی خواہشات اور شیطانی افکار کو کنٹرول کرنے سے نہ صرف شخصی اور چھوٹے افکار سے نجات پا سکتے ہیں۔بلکہ اپنے نفس کو بزرگ،مفید اور عالمی افکار کے حصول کے لئے  تیار کر سکتے ہیں۔


  بہترین فکر ''انتظار'' میں پوشیدہ ہے

جی ہاں !اب سب دانشور تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں غور و فکر بہت اہم کردار کے حامل ہیں۔منفی سوچ انسان کو معاشرے کا منفی فرد بنادیتی ہے اور مثبت سوچ شخصیت ساز ثابت ہوتی ہے ،جو انسانی معاشرے کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے۔چھوٹی سوچ انسان کو زمان و مکان کے لحاظ سے محدود کر دیتی ہے لیکن بلند سوچ سے انسان کی شخصیت پروان چڑھتی ہے ۔

 انسان اور دنیاکے تکامل لحاظ سے کیسی فکر تمام انسانوں کی نجات کے لئے مکمل اور مثبت ہے؟ ظہور کے زمانے کے بارے میں سوچنے سے زیادہ کون سی سوچ، انسان اور دنیاکے تکامل کے بارے میں سوچنے سے  بہتر ہو سکتی ہے؟

دنیا میں زندگی بسر کرنے والے اربوں انسانوں میں سے اکثر اپنے شخصی مقاصد اور اپنی زندگی سے وابستہ افراد کے بارے میں ہی سوچتے ہیں(اگرچہ ان کے اہداف نیک ہیں) ایسے افراد کی سوچ بھی بہت چھوٹی ہے۔کیونکہ ہر انسان دنیا کے تمام افراد اور کائنات کی تمام مخلوقات کے مقابلہ میں بہت چھوٹا ہے۔

اگر انسان فقط اپنی ترقی اور اپنے خاندان  کی فلاح اور ترقی کے بارے میںہی سوچے تو کیا یہ افکار بہت چھوٹے شمار نہیں ہوں گے؟

 کیا یہ صحیح ہے کہ جو انسان خاندان وحی علیھم السلام کے حیات بخش فرمودات سے راہنمائی لے کر کائنات کی مخلوقات کی نجات،پوری دنیا کے لوگوں کی فلاح و بہبود،تکامل اور ترقی کے  بارے میں  سوچ سکتا ہو، لیکن اس کے باوجود بھی اس کی سوچ فقط اس کی اپنی انفرادی زندگی اور اپنے خاندان والوں تک محدود ہو؟

کیا کسی ایک فرد یا ایک سر زمین کے لوگوں کے بارے میں سوچنا بہتر ہے یا دنیا کے تمام انسانوں کی فلاح و بہبود کے سوچنا؟


حضرت امیر المؤ منین  علی  علیہ السلام  فرماتے ہیں:

'' أبلغ ما تستدرّ به الرّحمة أن تضمر لجمیع الناس الرحمة  '' (1)

جو چیزیں رحمت (الٰہی) پہنچانے کا وسیلہ بنتی ہیں ان میں سے بہترین یہ ہے کہ تمام لوگوں کے لئے  رحمت کے بارے میں سوچیں۔

اس بناء پر پوری انسانیت و بشریت کو مشکلات و مصائب سے نجات دلانے کے بارے میں سوچیں نہ کہ کسی ایک فرد،ایک گروہ ،ایک قوم یا ایک ملک کی فلاح کے بارے میں سوچیں۔بلکہ دنیا کے تمام لوگوں کی فلاح کے بارے میں سوچیں ۔

کائنات کی نجات صرف حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور ان کی آفاقی حکومت کے وسیلہ سے ہی ممکن ہے۔

 

  ظہورکے بارے میں سوچنا

اس دن  کے بارے میں سوچنا کتنا پر مسرت اور خوشی کا باعث ہے کہ جب دنیا اور دنیا والوں پر خاندان وحی  علیہم السلام کی حکومت ہو گی۔جب کائنات میں فقر و تنگدستی ، فساد ، لڑائی جھگڑے اور  نفرتوں کا نام و نشان نہیں ہو گا اور پوری کائنات میں عدالت و انسانیت کا پرچم لہرائے گا۔

جب تمام دنیا والوں کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے۔کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہو گا کہ جو اس وقت کی حکومت سے راضی نہ ہو۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم:ج۲ص۴۷6


اس زمانے میں انسانیت و بشریت کا ہر گروہ ہر قبیلہ اور ہر قوم و ملت امام مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت سے خوش ہو گی۔حضرت حجت (عج)کی عالمی حکومت  کے دوران میسر آنے والی  خوشیوں کے   بارے میں سوچنے ہی سے انسان کو راحت اورسکون محسوس ہوتا ہے۔ اس دن کی خصوصیات  سے آگاہ ہو جانے کے بعد انسان اس دن کے آنے کا شدت سے انتظار کرتا ہے اور اس دن کی آمد کے لئے ہر لحظہ شمار کرتا ہے اور اس دن کے جلد آنے کے لئے  خدا کے حضور عاجزی و انکساری سے دعا  دعا کرتا ہے۔

کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ صرف امام مہدی علیہ السلام کی  الٰہی حکومت کے تشکیل پانے اور حکومت فاطمی  کے آنے  ہی سے گھروں میں کوئی غم نہیں ہو گا،کسی یتیم  بچے کی پرورش  سے پریشان ہو کر ا س کی ماں آنسو نہیں بہائے گی،اس زمانے میں پانی کی طرح انسان کا خون نہیں بہایا جائے گا،معصوم بچوں کو ان کے ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے قتل نہیں کیا جائے گا......

لیکن اس موجودہ زمانے میں انسان نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بربادی اور بد بختی کا سامان مہیا کیا ہو ا ہے۔ہر کوئی ان مسائل سے پریشان ہے۔

اس حال میں کون سکون کی سانس لے سکتا ہے؟ اس زمانے میں کون آرام اور راحت سے زندگی گزار سکتا ہے؟

کون ہے کہ جو اشکوں کے کارواں،غموں کے پہاڑوں اور حسرت کے صحراؤں میں شریک نہ ہو؟

 جی ہاں!طاغوتی حکومتوں کے فرسودہ اور منحوس قوانین و مقررات لوگوں پر حاکم ہیںاور کہیں بھی عدل و انصاف کی کوئی خبر نہیں۔ہر طرف نفرت اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔ کوئی ان کی اصلاح کرنے والا نہیں۔لیکن ہر سیاہ رات کے بعد روشن دن ضرور آتا ہے ۔آخر کار ایک ایسے دن کا سورج بھی طلوع کرے گا کہ جب تاریخ کے سب سے قدیمی معبد سے دنیا والوں کے کانوں سے ایک دلنواز آوازٹکرائے گی اور دنیا والوں کے دلوں میں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔اس دن دنیا کے لوگوں کو آپس میں لڑانے والوں ،ایک دوسرے کا خون بہانے والوں اور  فساد برپا کرنے والوں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔


اگرچہ اب تک  پریشانیوں سے انسانیت و بشریت کو نجات دلانے کے لئے بہت سے لوگوں نے  بہت سرمایہ خرچ کیا ہے اور بعض تنظیموں نے انسانی حقوق کے دفاع کے لئے آوازیں اٹھائیں  اور بہت سے افراد نے کمزور لوگوں اور انسانی حقوق کے لئے قیام بھی کیا ۔تاریخ میں اب تک ظلم کو ختم کرنے کے لئے کر وڑوں لوگوں نے خون کا نظرانہ پیش کیا ہے۔لیکن نہ ہی تو لوگوں کی زندگی پر کوئی اثرپڑا اور نہ ہی کمزور افراد ظالموں کے ظلم سے نجات پا سکے ہیں۔

افسوس کہ ماضی کی طرح اب بھی دنیا میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔یہ تب تک جاری رہے گا کہ جب تک دنیا میں انسانوں کی زندگی کے لئے کوئی صحیح قانون وضع نہ ہوجائے۔اب تک دنیا پر  ایسے افراد ہی حکومت کرتے چلے آئیں ہیں کہ جنہیں اپنے وجود اور خلقت کائنات کے اسرار و رموز کا تھوڑا سا بھی علم نہیں ۔جو انسان کی بنیادی ضروریات کو بھی صحیح طرح سے نہیں جانتے۔وہ کیا انسان کی فلاح کے لئے کوئی کام کریں گے۔ انہیں تو صرف اپنی ظالم حکومت کو قائم رکھنے کی فکر ہے۔

مکتب نبوت  علیہم السلام کی نظر میں دنیا والوں کی نجات کا سامان وہی فراہم کر سکتے ہیں کہ جو اولیاء خدا ہوں اور قدرت ولایت کے مالک ہوں۔جب دنیا کی لگام ان کے ہاتھوں میں ہو اور وہ علم لدنی سے دنیا والوں کی ہدایت فرمائیں  تو تب ہی انسان سکھ کا سانس لے پائے گا۔


امام صادق  علیہ السلام ( ایک زیارت عاشورہ میں) نے عبداللہ بن سنان سے فرمایا:کہو!

'' اللّهم انی سنّتک ضائعة، و احکامک معطّلة، و عترة نبیک فی الارض هائمة،اللّهم فأعن الحق وأهله، و اقمع الباطل واهله ومُنّ علینا بالنجاة واهدنا الی الایمان ،وعجل فرجنا، وانظمه بفرج اولیائک واجعلهم لنا وُدّا واجعلنا وَفداََ '' (1)

اے پروردگار!تیری سنت ضائع ہو گئی اور تیرے احکام جاری نہیں ہوتے اور پیغمبر (ص) ک ی عترت زمین پر سرگرداں ہے۔ خداوندا!حق اور اہل حق کی مدد فرما،باطل اور اہل باطل کا قلع و قمع فرما اور نجات کے ذریعہ ہم پررحم فرما اور ایمان کی طرف ہماری ہدایت فرما اور ہمارے فرج کے ظہور میں تعجیل فرما اوراپنے اولیاء   کے ظہور کے ذریعہ سے ہمیں  نجات عطا فرما اور ہمیں  ان کے ساتھ سرخروفرما۔

   اس بناء پر انسان کی نجات کا سامان اولیاء خدا کے ظہور ہی سے فراہم ہو سکتا ہے۔پس ظہور اور خاندان نبوت   کی حکومت کے بعد ہی ہم ان مشکلات و مصائب  سے نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔

لیکن موجودہ دور کے کیمیا دان سائنس میں جس قدر ترقی کر لیں ، پھر بھی وہ ان مشکلات کا حل تلاش نہیں کر سکتے بلکہ ان کے نت نئے تجربات سے انسان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوتا  جا رہاہے۔ پس اس زیارت کی رو سے ہمیں خدا سے دعا کرنی چاہیئے کہ خدا اپنی آخری حجت امام زمانہ (عج) کے ظہور  میں تعجیل فرما  اور ان کے ظہور کے ذریعہ سے ہمیں نجات عطافرما اور ہمیں ان کے انصار میں سے قرار دے۔

--------------

[1]۔ صحیفہ مہدیہ :166


  امام مہدی علیہ السلام کے مقام سے آشنائی

 معرفت میں اضافے کی ایک اہم راہ حضرت امام مہدی  علیہ السلام  کے رفیع مقام کو پہچانناہے۔ اگر ہم یہ جان لیں  امام زمانہ (عج) محور عالَم ہیں اور خلیفة اللہ کے مقام کی بناء پر وہ نہ صرف دنیا میں خدا کے جانشین ہیں بلکہ وہ تمام کائنات،کہکشاؤں ،ستاروں،سیاروں حتی ملائکہ اور حاملین عرش پر بھی حاکم ہیں۔یوں ان کے بلند مقام کے بارے میں ہم اپنی معرفت میں اضافہ کر سکتے ہیںاور اس سے ان کے لئے ہماری محبت و مودت میں بھی اضافہ ہو گا۔پھر ہمیں معلوم ہو گا کہ ہم اب تک امام عصر (عج) کے مقام سے  ناآشنا  اور وجود امام زمانہ (عج) سے غافل تھے۔

آئمہ اطہارعلیہم السلام نے اپنے فرمودات میں لوگوں کو حضرت صاحب الامر(عج) کے مقام  سے آگاہ فرمایا ہے۔ان ارشادات کو آپ مفصل کتابوں اور صحیفہ مہدیہ میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام  فرماتے ہیں:

'' یکون هذا الامر فی اصغرنا سنّاََ،واجعلنا ذکراََ، ویورثه اللّه علماَ ولا یکله الی نفسه '' (1)

ہم میں سے یہ امر(دنیا کی اصلاح) اس کے توسط سے انجام پائے گا کہ جو ہم آئمہ میں سے سنّ کے لحاظ سے سب کم سن ہے اور اس کا ذکر ہم سب میں سے بہتر ہے خداوند اسے ارث میں علم عطا فرمائے گا......۔

آئمہ طاہرین علیہم السلام میں سے ہر ایک کا ذکر کرنا بہتر اور اچھا ہے ۔لیکن کیوں آخری امام حضرت مہدی  علیہ السلام کا ذکر کرنا سب سے بہتر ہے؟

--------------

[1]۔عقد  الدرر:6۹،۱۸۸،۲۱۲


کیونکہ رسول اکرم (ص) اور آئمہ طاہر ین علیہم السلام  کی تمام جانفشانی اور کوششوںکو امام زمانہ (عج)  نتیجہ  تک پہنچائیں گے۔رسول اکرم(ص)   ک ی رسالت اور آئمہ طاہرین  علیہم السلام  کی امامت کا نتیجہ آنحضرت  کے توسط سے ظاہر ہو گا۔پس امام زمانہ (عج) اور ان کے ظہور کو یاد کرنا ، رسول اکرم (ص) اور آئمہ طاہر ین علیہم السلام کو یا دکرنا ہی ہے۔

  ظہور کے درخشاں زمانے سے آشنائی

جس طرح اب تک ہم امام زمانہ(عج) کی یاد سے غافل تھے ،اسی طرح ہم ظہور کے بابرکت  اور درخشاںزمانے کی عظمتوں اور برکتوںسے بھی غافل ہیں ۔ حلانکہ ظہور کے منور زمانے اور اس کی خصوصیات کی پہچان سے ایمان و اعتقادمیں اضافہ ہوتاہے۔

اس نکتہ کومدنظر رکھیں کہ ظہور کا زمانہ اس قدر باعظمت،بابرکت  اور درخشاں ہے کہ جس طرح اسے بیان کرنے کا حق ہے ،ہم اسے بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ہم نے اس کتاب میں جو کچھ لکھا،وہ ظہور کے پر نور زمانے کے فضائل کی نامکمل'' الف با ''ہے۔

غیبت کے زمانے کی تاریکی میں آنکھ کھولنے والے ا وراس زمانے کی لطافت،حلاوت سے ناواقف کس طرح اس زمانے کی خصوصیات کو کماحقہ بیان کر سکتے ہیں؟

جی ہاں!جب تک ہم خود اس درخشاں زمانے کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں،تب تک ہم اسزمانے کی خصوصیات کی مکمل طور پر توصیف بیان نہیں کر سکتے۔  لیکن اس کے باوجود خاندان نبوت  علیہم السلام کے فرمودات  سے استفادہ کرکے ،ہم اس دن کی یاد سے اپنے دل کو جلا بخش سکتے ہیں۔

جیسا کہ ہم نے کہا کہ زمانہ ظہور کی معرفت و شناخت ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔کیونکہ غیبت کے زندان میں زندگی بسر کرنے والا کہ جس نے ظہور کے زمانے کی حلاوت کو نہ چکھا ہو ،وہ کس طرح  بند آنکھوں سے زمانۂ ظہور کی نورانیت کو دیکھ سکتا ہے؟


یہ واضح ہے کہ جب تک غیبت کے زندان سے رہائی نہ پا لیں اور زمانۂ ظہور کو درک نہ کر لیں ، تب تک اس بابرکت دن کی عظمت سے آگاہ نہیںہوا جا سکتا۔یقیناََجب تک اس پر نور اور باعظمت زمانے کو نہ دیکھ لیں ،تب تک اس کی خصوصیات اور جذابیت کو مکمل طور پر نہیں جان سکتے۔

اگر اس کتاب میں موجود مطالب آپ کے لئے نئے ہوں تو  اس بابرکت زمانے کا انکار نہ کر یں کہ ایسا زمانہ کبھی نہیں آئے گا۔اگر کتاب میں بیان کئے گئے مطالب آپ کے لئے حیران کن ہوں توجان لیں کہ یہ مطالب اس زمانے کی خصوصیات کی چھوٹی سی جھلک ہیں۔کیونکہ اس زمانے کی تمام خصوصیات و برکات کو مکمل طور پر بیان کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔اس زمانے کی برکات ہمارے تصور سے کہیں زیادہ ہیں۔

گفتم ھمہ ملکِ حسن سرمایۂ تست                              خورشید فلک چوذرّہ درسایۂ تست

گفتا غلطی زمان شان نتوان یافت                              از ما تو ھرآنچہ دیدہ ای  پایۂ تست

اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے کتاب بحار الانوار سے اپنی بات کو امام محمد باقرعلیہ السلام سے زینت بخشتے ہیں:

'' قلت لابی جعفر:انّما نصف (صاحب)هذا  الأمر بالصفة الّتی لیس بها احد من الناس

فقال :لا واللّه لا یکون ذلک ابداََ حتی یکون هو الّذی یحتجّ علیکم بذلک و یدعوکم الیه بیان:قوله'' بالصفة الّتی لیس بها أحد '' أی نصف دولة القائم و خروجه علی وجه لایشبه شیئاََ من الدول، فقال :لا یمکنکم معرفته کما هی حتی تروه...''(1) امام باقر  علیه السلام س عرض کیا:هم(صاحب) حکومت الٰهی کی ایس توصیف کرت هی که لوگو می س کوئی ایک بهی وه صفت نهی رکهتا

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج52ص366ح149


آنحضرت  نے فرمایا:نہیں خدا کی قسم !جیسا تم کہہ رہے ہو ایسا بالکل نہیں ہے ،حتی کہ وہ خود اس سے حجت قائم کریں اور تمہیںاس کی طرف بلائیں۔

مرحوم علامہ حلی اس روایت کی توضیح میں فرماتے ہیں:ہم امام مہدی علیہ السلام  کی حکومت کی ایسے توصیف کرتے ہیں کہ کوئی حکومت بھی ان کی حکومت کی طرح نہیں ہے۔امام علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جیسے اس دن کو پہچاننا چاہیئے ،تمہارے لئے اسے ویسے پہچاننا ممکن نہیں ہے۔مگر یہ کہ اس دن کو خود دیکھ لو۔

جی ہاں !دنیا کا مستقبل اس قدر نورانی اور درخشاں ہے کہ ابھی ہم اسے دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتے۔لیکن اس کے باوجود ہم سب کو اپنے تمام وجود کے ساتھ اس دن کے آنے کی فکر کرنی چاہیئے اور اس مبارک دن کی آمد کا دل سے انتظار کرنا چاہیئے۔کیونکہ انتظار کی حالت نہ صرف سب سے بہترین حالت ہے بلکہ بہترین جہاد،کوشش اور بافضیلت ترین عمل اور افضل ترین عبادت بھی ہے۔رسول اکرم (ص) کا ارشاد ہے:

''افضل جهاد امّتی انتظار الفرج '' (1) میری امت کا بہترین جہاد انتظار فرج ہے۔

امام جواد علیہ السلام  فرماتے ہیں:

''افضل اعمال شیعتنا انتظارُ الفرج '' (2)

ہمارے شیعوں کا افضل ترین عمل انتظار فرج ہے۔ خاندان نبوت علیہم السلام  کی نگاہ میں  وہ  بابرکت دن اس قدر اہمیت کا حامل ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج77ص143

[2]۔  بحار الانوار:ج51ص156


  اس کتاب کی تألیف کا مقصد

اس کتاب کو لکھنے میں میرا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ مکتب اہلبیت علیہم السلام کے پیروکار دنیا کے اس اہم ترین مسئلہ سے آگاہ ہو جائیں۔بلکہ اس کا مقصد اس پرنور،مبارک ،باعظمت اور بابرکت دن کے آنے اور اس دن خاندان رسالت کی آفاقی و کریمانہ حکومت کے نافذ ہونے کے لئے کوشش کرنا ہے۔

اس بناء پر اب جب کہ ہم نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا ہے ، اب ہمیں مصمم ارادہ کرنا چاہیئے کہ ہم اس کتاب میں موجود اہم نکات کے بارے میں غور و فکر کریں گے اور دوسروں کو ان نکات سے آگاہ کرنے کے لئے کوشش کریں۔کیونکہ علم اگر عمل اورفعالیت کے ہمراہ نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔لہذا اس کتاب کا مقصد دصرف کتاب میں موجود مطالب کو پڑھنا ہی نہیں ہے، بلکہ دنیا کے اس اہم ترین حیاتی مسئلہ کی طرف سعی وکوشش کرنا بھی ہے۔

  لازم تذکرہ

ظہور کے زمانے کے بارے میں بحث اس قدر خوشی،مسرت ،راحت اور سکون کا باعث ہے کہ قلم حرکت سے رکتا ہی نہیں ۔اسی وجہ سے مصنف نے ظہور کے درخشاںزمانے کے بارے میں  خاندان وحی علیھم السلام  کے فرمودات کی روشنی میں قلم فرسائی کرتے ہوئے  زمانۂ ظہور کی بحث کو چند عنوان میں تقسیم کیا۔

1 ۔دن یا کے مستقبل کے بارے میں حضرت امام علی علیہ السلام کے ارشادات۔

اگرچہ  حضرت امیر المؤمنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام   کے ارشادات و فرمودات اتنے زیادہ ہیں کہ جن کے بیان کے لئے کئی مستقل کتابوں کی ضرورت ہے۔


2 ۔امام مہد ی  علیہ السلام کی آفاقی حکومت کے آغاز  میں دنیاکے متعلق خاندان وحی علیہم السلام   کے فرمودات،دنیا کے تسخیر ہونے کی کیفیت ،زمانۂ ظہور کے اصحاب کے بارے میں مہم نکات۔اس بارے میں بھی الگ سے تالیف کی ضرورت ہے۔

3 ۔حضرت امام مہد ی  علیہ السلام   کی کریمانہ و آفاقی اور عالمی حکومت  کے بارے میں اہلبیت عصمت و طہارت    علیھم السلام  کے ارشادات۔

 یہ کتاب حضرت بقیة اللہ الاعظم(عج)  کی والدہ ماجدہ حضرت نرجس خاتونعلیھا السلام کے حضور ہدیہ پیش کرتاہوں تاکہ یہ کتاب ثواب کی حامل بن جائے اور حضرت بقیة اللہ الاعظم(عج) کی عنایات ہمارے شامل حال  ہوں اوراس کے ذریعہ ہمارے دلوں پہ جما زنگ دور ہو جائے ۔ اس باعظمت زمانے اور طاوس جنت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت  کے آنے سے ریحانۂ رسول، بنت پیغمبر،مظلومہ کائنات ،صدیقہ طاہرہ جناب فاطمہ زہرا  علیھا السلام کو شادمانی ملے گی اور دنیا میں عدل  کا نظام قائم ہو گا۔

جی ہاں!اس وقت زمین وزمان کے ولی،صاحب امر حضرت بقیہ اللہ الاعظم (عج)   اپنی ولایت کو ظاہر کریں گے،جس سے دنیا والوں کو علم ہو جائے گا کہ زمین،ساتوں آسمان بلکہ فرش سے عرش تک ہرچیز پرخاندان عصمت و طہارتعلیھم السلام کی قدرت ہے۔اگر کسی زمانے میںانہوں نے  خلافت چھوڑ دی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ  اس کی قدرت نہیں رکھتے تھے،بلکہ وہ یہ بتانے کے لئے تھا کہ  فرعون و ہامان میں ولایت کی قدرت نہیں ہے اور جبت و طاغوت خدائی قدرت نہیں رکھتے اور اگرچہ قارون خزانوں کا مالک ہے ،لیکن آخر میں یہ خزانے اس سے جدا ہو گئے  ،اگرچہ شدّاد نے زمین پر جنت بنا لی ،لیکن اس میں قدم تک نہ رکھ سکا۔امام زمانہ  علیہ السلام  کی آفاقی حکومت ،صالحین کی حکومت ہے ،جس میں ظالموں اور جابروں کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔

سید مرتضیٰ مجتہدی سیستا نی 


پہلاباب

عدالت

    عدالت پیغمبروں کا ارمان

    معاشرے میں عدالت یا عادلانہ معاشرہ؟

    عصرِ ظہوراور عدالت

    عدالت کی وسعت

    دنیا کی واحد عادلانہ حکومت

    عدالت کا ایک نمونہ

    ہر طرف عدالت کا بول بالا

    عدالت کا نفاذ اور حیوانات میں بدلاؤ

    حیوانات کا رام ہونا

    حیوانات پر مکمل اختیار

    الیکٹرک پاور سے بڑی قوّت

    ایک اہم سوال اور اس کا جواب

    حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کا تابناک نور

    حیوانات کی زندگی پر تحقیق


 عدالت پیغمبروں کا ارمان

عدالت کا مسئلہ اور انسانی معاشرے میں اس کی اہمیت اتنی ضروری ہے کہ خداوند متعال  نے تمام نبیوں  اور آسمانی کتابوں کو امتوں کے درمیان عدل قائم کرنے اور ظلم و ستم کو ختم کرنے کے لئے مبعوث کیا۔  خداوندکریم کا سورہ ٔحدید میں ارشاد ہے:

''لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْط '' (1)

بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تا کہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں۔

اس بناء پر پیغمبروں کی رسالت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد معاشرے میں عدل قائم کرنا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر دور کے قابیل کی سازشوں اور عدل کی راہ میں  کانٹے بچھانے والوں کی وجہ سے ابتداء سے لے کر آج تک اور حضرت  بقیة اللہ الاعظم (عج) کے قیام اور حکومت سے پہلے تک کسی بھی انسانی معاشرے میں عادل حکومت قائم نہیں ہو سکی ۔ کسی بھی معاشرے میں عادلانہ نظام قائم نہ ہوسکا  ۔(2)

--------------

[1]۔ سورہ حدید  آیت: 25

[2]۔  حضرت امیرالمؤمنین علی  کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں بھی دشمنوں نے حکومت  کے خلاف ہر طرح کی سازشیں رچائیں  اور اس دور میں بھی فدک غاصبوں کے قبضہ میں باقی رہا۔


  معاشرے میں عدالت یا عادلانہ معاشرہ؟

قرآن کی آیت شریفہ میں پیغمبروں کی رسالت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا  ہدف ومقصد عادلانہ نظام اور عادلانہ معاشرہ تشکیل دینا قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح وہ خود بھی عدل پر عمل کریں نہ کہ حکومتِ الٰہی ان کے درمیان عدل کے حکم کو جاری کرے  ۔

لوگوں میں عدالت کو رواج دینا اور امتوں میں عدل قائم کرنا بزرگ پیغمبران الٰہی کا وظیفہ ہے کہ جسے حضرت  بقیة اللہ الاعظم(عج) کی الٰہی حکومت عملی جامہ پہنائے گی۔ان کی عادلانہ حکومت پوری دنیا اور تمام اقوامِ عالم پر قائم ہو گی۔

خدا کے تمام پیغمبروں نے  لوگوں کے درمیان عدل  قائم کرنے اور عدل کی حاکمیت کے لئے جو  زحمتیں ،تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کیں ،ان سب کا نتیجہ امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت ہے۔ اس وقت ظالموں اور ستمگروں کی فائل ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گی اور اس مبارک دن میں کفر و گمراہی  کے پرچم ہمیشہ کے لئے سرنگوں ہو جائیں گے۔اس زمانے میں دنیا کے تمام مظلوم ستمگروں اور ظالموں کے شر سے نجات پا جائیں گے۔تب انسانوں کا نظامِ زندگی بدل جائے گا اور انہیں ایک نئی حیات ملے گی۔    اس طرح خدا کے پیغمبروں اور خاندانِ  نبوت علیہم السلام کا دیرینہ ارمان پوراہو جائے گا اور صدیاں گزرنے کے بعد عدل دنیا میں عملی طور پر نافذ ہو گا۔اسی وجہ سے حضرت  بقیة اللہ الاعظم (عج) سب امتوں کے لئے موعود ہیں۔لہذا امام زمانہعلیہ السلام کی زیارت میں پڑھتے ہیں:

''السلام علی  المهدی الّذی وعد اللّٰه عزّوجل به الامم '' (1)

حضرت مہدی  علیہ السلام   پر سلام ہو کہ خداوند کریم نے تمام امتوںسے جن کے ظہور و حکومت کا وعدہ کیا ہے۔

--------------

[1]۔ صحیفہ مہدیہ: 636


عصرِ ظہوراور عدالت

حضرت ولی عصر  علیہ السلام کی عادلانہ حکومت میں ایسے عظیم اور مہم بدلاؤوجود میں آئیں  گے کہ ستمگروں اور بدعت گزاروں کی دنیا اجڑ جائے گی۔بلکہ ان کے ظلم اور رائج بدعتوں کے آثار بھی ختم ہوجائیں گے۔اس اہم نکتہ کو درک کرنے کے لئے تفکر و تعقل کی  ضرورت ہے کہ اب تک ستمگروں اور بدعت گزاروں نے دنیا میں کیسے پلید اور نقصان دہ نتائج پیش  کئے ہیں؟انہوں نے کس طرح لوگوں کو اقتصادی  مسائل اور فکری و معنوی  فقر میں مبتلا کر رکھا ہے؟

 نجات اور رہائی کے دن ،دنیا اتنی  خوبصورت  ہوگی کہ اس وقت نہ صرف ستمگروں اور ظالموں بلکہ ان کے ظلم و ستم کے نشان بھی مٹ جائیں گے۔

 ہم اس حیات بخش اور کامل زمانے کی تصویر کشی کرنے کے لئے توانا فکر کے نیاز مند ہیں تاکہ عصر ظہور کی نورانیت و درخشندگی کو ذہن میں تصور کرسکیں۔

 یہاں ہم نے جوانتہائی اہم نکتہ اخذکیاہے  وہ یہ ہے کہ حضرت  بقیة اللہ الاعظم (عج)عادلانہ حکومت میں حتی کہ مظالم و بدعتوں کے آثار بھی نہیں ملیں گے یہ

ایسی حقیقت ہے کہ جو ہم نے مکتب اہلبیت علیہم  السلام سے سیکھی۔


حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

 ''هذه الآیة ''اَلَّذِینَ اِن مَکَّنَّا هُم (1) '' نزلت فی المهدی و اصحابه یملکهم مشارق الارض و مغاربها، و یظهر اللّه بهم الدین حتی لا یری اثر من الظلم و البدع '' (2)

یہ آیہ شریفہ''یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے زمین میں اختیار دیا''حضرت مہدی علیہ السلام  اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔خدا انہیں زمین پر مشرق و مغرب کا مالک بنائے گا ،ان کے  ذریعے دین کو ظاہر کرے گا ۔یہاں تک کہ ظلم اور بدعت کے آثار بھی د کھائی نہیں دیں گے۔

کیا اس حیات بخش زمانہ کو نہ دیکھیں؟کیا اس زمانہ کو درک کر سکتے ہیں؟

عدالت کی وسعت

آپ کو معلوم ہے کہ عصرِ ظہور ،عدل و عدالت سے سرشار زمانہ ہے۔جیسا کہ ہم نے خاندانِ عصمت و طہارت  کے فرامین سے نقل کیا کہ اس زمانے میں ظلم و ستم کے آثار باقی نہیں رہیں گے۔

اس وقت ستمگروں کی طرف سے لوگوں پر لادے گئے ہر قسم کے مسائل اور فقر و نیاز نہ صرف برطرف ہوجائیں گے بلکہ ان کا جبران بھی ہوگا۔

--------------

[1]۔ سورہ حج، آیت:41

[2]۔ احقاق الحق:ج۱۳ص۳۴۱


پوری دنیا میں عدل کا بول بالا ہوگا عدل کا پرچم بلند اور ظلم کا پرچم سرنگوں ہوگا۔تمام مظلومان ِ عالم ظالموںکے شر سے نجات پائیں گے ۔حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی عدلانہ حکومت پوری دنیا کے لوگوں کے سروں پر رحمت و عدالت کا سایہ کرے گی۔

 اس وقت صرف حکومتی اداروں میں ہی نہیں بلکہ بازاروں ،شاہرائوں ،تجارتی مراکز بلکہ گھروں کے اندر بھی عدل و عدالت قائم ہوگی اور ظلم و ستم کا نام و  نشان مٹ جائے گا۔

عدالت ایک قوی انرجی کی طرح ہر جگہ حتی ہر گھر میں سرایت کرجائے گی ۔ جس طرح سردی اور گرمی ہر جگہ کواپنے احصارمیں لے لیتی ہے۔اسی طرح آنحضرت کی عدالت بھی ایک عظیم  طاقت کی طرح ہرجگہ پھیل جائے گی۔اس بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اما واللّه لیدخلن علیهم عد له جوف بیوتهم کما یدخل الحرّ و القرّ  '' (1)

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عدالت حتمی اور قطعی طور پر گھروں میں داخل ہوجائے گی جس طرح گرمی و سردی داخل ہوتی ہیں۔

اب ممکن ہے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ عدالت ،پوری دنیا کواپنی  آغوش میں لے لے کہ جس طرح انرجی و حرارت ہر جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے؟یہ کس طرح ممکن ہے کہ پوری دنیا میں عدالت قائم ہوجائے کہ پھر ظالموں کا زور اور ظلم و ستم صفحہ ہستی سے مٹ  جا ئے؟ اگر اس زمانے  کے لوگ بھی ہمارے زمانے والوں کی طرح ہوں تو کیا ہر جگہ عدالت کا حاکم ہونا ممکن ہے؟کیا ممکن ہے کہ ظالموں اور ستمگروں کا زور اور دہشت دوسروں کو اپنی زنجیروں میں نہ جکڑے؟

--------------

[1]۔ الغیبة مرحوم نعمانی :297


اس کے جواب میں یوں کہیں کہ جب تک بشریت اپنی اوّلی اور سالم فطرت کی طرف نہ لوٹے اور اس کی عقل و فکر تکامل کی حدوں تک نہ پہنچے،تب تک یہ ممکن نہیں کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں اور دنیا میں ظلم و ستم کی جگہ عدل و انصاف قائم ہونے دیں۔

 اسی وجہ سے حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) حکومتِ عدلِ الٰہی کو استقراردینے کے لئے تمام انسانوں کے وجود میں اساسی تحول ایجاد کریں گے جس سے بشریت تکامل کی طرف گامزن ہوکر عدل و انصاف کا رخ کرے گی اور ظالموں کے وجود اور ان کے مظالم سے متنفر ہوجائے گی۔

یہ اساسی تحوّلات فقط اس صورت میں متحقق ہوسکتے ہیں کہ جب انسانوں کے وجود میں تکامل ایجاد ہو اور تکامل کے ایجاد ہونے سے ان کی روحانی و فکری اور عقلی قدرت میں اضافہ ہوگا۔پھر وہ نفس امّارہ  اور نفسانی خواہشات کی مخالفت سے تکامل کی طرف گامزن ہوں گے۔

   دنیا کی واحد عادلانہ حکومت

جیسا ہم نے کہا تھا کہ حضرت امام مہدی  علیہ السلام کی عادلانہ الٰہی حکومت عالمی ہوگی،جو پوری دنیا پر حکومت کرے گی۔زمین کے کسی خطے حتی کہ بیابانوں ،پہاڑوں میں بھی ان کی قدرت و حکومت کے علاوہ کوئی حکومت نہیں ہوگی ۔پوری دنیا ان کی عادلانہ و شریفانہ حکومت سے سر شار و مستفید ہوگی۔

ہم حضرت  بقیة اللہ الاعظم (عج)  کی زیارت میں یوں پڑھتے ہیں:


''و تجمع به الممالک کلّها ،قریبها و بعیدها ،عزیزهاوذلیلها شرقها وغربها،سهلها و جبلها صبا حا و دبورها،شمالها و جنوبها ،برّها و بحرها ،خزونها و وعورها ،یملاها قسطا و عدلاََ کما ملئت ظلماََ وجوراََ '' (1)

ان کے ذریعہ تمام حکومتوں کو ایک حکومت میں تبدیل کردیا جائے گا۔وہ ان میں سے نزدیک اور دور باعزت و ذلیل، مشرق و مغرب کی حکومتوں کو اور ان کے صحرا ؤں اور پہاڑوں ،چراگاہوںاور بیابانوں کو شمال و جنوب ،خشکی و تری اور ان میں سے ذرخیز و بنجر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہو گی۔

  اس بناء پر  حضرت  بقیة اللہ الاعظم (عج) سب حکومتوں کو ایک عادلانہ حکومت میں تبدیل کر یں گے وہ دنیا کی تمام حکومتوں کو اپنی حکومت کے زیر تسلط  لے آئیں گے۔چاہے وہ حکومت مشرق میں ہو یا مغرب میں ،چاہے وہ قدرت کے لحاظ سے طاقتور ہو یا کمزور ۔وہ پوری دنیا پر فتح و نصرت کے ذریعہ واحد عادلانہ حکومت قائم کریںگے ۔ دنیا کی تمام حکومتیں ان کی حکومت میںمل جائیں گی۔

رسول اکرم(ص)فرماتے ہ یں:

''الآئمة من بعدی اثنا عشر اوّلهم انت یا علی و آخرهم القائم الذی یفتح اللّٰه تعالٰی ذکره علٰی یدیه مشارق الارض و مغاربها '' (2)

میرے بعد بارہ امام ہوں گے جن میں سے پہلے امام یا علی آپ ہیں اور آخری امام قائم  ہیں کہ  خدا اس کے ہاتھوں سے زمین کے مشرق و مغرب کو فتح کرے گا۔

--------------

[1]۔ صحیفہ مہدیہ: 618

[2]۔ بحارالانوار:ج52ص378


ساری دنیا پر فتح پانے سے دنیا کے ہر خطے میںخدا کی عادلانا حکومت حاکم ہو گی۔کہیں بھی ظلم و ستم کا چھوٹا سا نمونہ بھی دکھائی نہیں دے گااسی وجہ سے دنیا کے سب مظلوم حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادل حکومت کے منتظر ہیں وہ اسی حکومت کے انتظار میں ہیں کہ جب پوری دنیا میں عدل و انصاف حاکم ہوگا۔

 ہم آنحضرت کی زیارت میں  پڑھتے ہیں:

  '' السلام علیک ایّها المومّل لِاحیاء الدّولة الشریفة '' (1)

سلام ہو تجھ پر کہ جس کی شریف(عادلانہ)حکومت کو زندہ رکھنے کے لئے آرزو کی جاتی ہے۔

حضرت امام باقر علیہ السلام،ان کی درخشاں حکومت اور عصرِ ظہور کے بارے میں میں فرماتے ہیں:

''یظهر کالشهاب ، یتوقد فی اللیلة الظلمائ، فان ادرکت زمانه قرّت عینک'' (2)

جس طرح رات کی تاریکی میں شہاب شعلہ ور ہوتا ہے،اگر ان کے زمانہ کو دیکھو گے تو تمہاری آنکھیں روشن ہوجائیں گی۔

جس طرح سیاہ رات میں اگر کوئی روشن ستارہ نمودار ہو تو وہ سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتا ہے۔حضرت مہدی  علیہ السلام  کے ظہور کا زمانہ بھی ایسا ہی ہو گا۔

جب سب انسان گمراہی ،تاریکی اور فساد میں مبتلا ہوں گے ،تو لوگوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کاظہور اس قدر درخشاں و منور ہوگا کہ سب لوگ اسی کی جانب متوجہ ہو جائیں گے تاکہ ضلالت و گمراہی کی تاریکی سے نکل کر ہدایت و نجات کی طرف آسکیں۔

--------------

[1]۔ صحیفہ  مہدیہ:620

[2]۔ الغیبة مرحوم نعمانی:150


اس وقت منتظرین اور انتظار کرنے والوںکی آنکھیں روشن ہوجائیں گی ۔ان کی تھکاوٹ و خستگی ختم ہوجائے گی اور ان میں خوشی و مسرّت کی لہر دوڑ جائے گی۔جب لوگوں میں رات کے گھپ اندھیرے کی طرح اختلافات ،جنگ و جدال ،ظلم و ستم، خونریزی و فساد اپنے عروج پر ہوگا تو آنحضرت  کی عادلانہ حکومت ان مظلوم اور بے آسرا لوگوں کو وحشت و اضطراب سے نکالے گی۔ایسے دن کے بارے میں رسول اکرم (ص)نے فرما یا:

''ابشروا با المهدی ،ابشر وا باالمهدی،ابشروا باالمهدی یخرج علی حین  اختلاف  من الناس و زلزال شدید،یملأ الارض قسطا و عدلا،کما ملئت ظلما وجوراً،یملأ قلوب عباده عبادة و یسعهم عدله '' (1)

 تمہیں مہدی علیہ السلام کے بارے میں بشارت دیتا ہوں  مہدی علیہ السلام کے بارے میں بشارت دیتا ہوں، مہدی  علیہ السلام کے بارے میں بشارت دیتا ہوں،جب لوگوں میں شدید اختلافات ہوں گے تو اس وقت امام زمانہ  علیہ السلام   ظہور کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پر کریں گے جس طرح سے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔وہ خدا کے بندوں کے قلوب کو حالت عبادت و بندگی سے سرشارکریں گے سب پر ان کی عدالت کا سایہ ہوگا۔

رسول اکرم(ص)نے فرما یا:

 '' یحل بامتی فی آخر الزمان بلاء شدید من سلاطینهم لم یسمع بلاء اشد منه حتی لا یجد لارجل ملجائ، فیبعث اللّٰه رجلا من عترتی اهل بیتی یملأ الارض قسطاً و عدلاً کما ملئت ظلما و جورایحبه ساکن الارض و ساکن السماء ، وترسل السماء قطرهاو تخرج الارض نباتها لاتمسک فیها شیئا……. یتمنی الاحیاء الاموات مما صنع اللّه بأهل الارض من خیره ''   (2)

--------------

[1]۔ الغیبة نعمانی: 111

[2]۔ احقاق الحق :ج۱۳ص۱۵۲


آخری زمانے میں میری امت کو اپنے بادشاہوں و حکمرانوں کی طرف سے سخت مشکلات کا سامنا ہوگاکہ کسی نے بھی اس سے زیادہ سختی کا نہیں سنا ہوگا۔انسان کو کوئی پناہگاہ اور ان سے فرار کی جگہ میسر نہیں ہو گی۔

 پس خدا وند متعال میری عترت و اہلبیت علیہم السلام سے  ایک شخص کو ان کی طرف بھیجے گا ۔جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی تھی۔

 زمین و آسمان کے مکین اسے دوست رکھتے ہیں ۔آسمان بارش برسائے گا زمین نباتات اُگائے گی اوراس میں سے کوئی چیز بھی اپنے اندر نہیں رکھے گی ،اس وقت زندہ افراد آرزو کریں گے کہ کاش ان کے مردے بھی ان کے ساتھ ہوتے ۔ان کی اس آرزو کی وجہ  اس زمانے میں اہل زمین پر کی جانے والی خوبیاں ہیں۔

ہم حضرت مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت کے جلد آنے کی امید کرتے ہیں اور ہم

ان بزرگوار کی عالمی حکومت کے قائم ہونے کے شاہد ہوں۔

عدالت کا ایک نمونہ

 ابتدائے تاریخ سے آج تک ہمیشہ طاقتوروں اور دولتمندوں نے اپنی طاقت اور دولت کے زور پرفقیر ، مستضعف اور کمزور لوگوں کے حقوق کو پامال کیا۔

اب تک ثروت مند نہ صرف دنیاوی امور بلکہ ایسے عبادی امور میں بھی پیش قدم ہوتے ہیں کہ جن میں دولت و ثروت کا اہم کردار ہوتا ہے اور ضعیف و ناتواں افراد فقط ان کا منہ دیکھتے رہتے۔

امام عصرعلیہ السلام کی عادل حکومت میں دولت و ثروت کایہ حال نہیں ہوگا۔ بعض افراد کی دولت ، دوسرے افراد کی محرومیت کا باعث نہیں ہوگی۔


اس زمانے میں ہر انسان کے لئے بغیر کسی امتیاز کے عدالت بہترین طریقے سے نافذ ہوگی۔

 اب ہم جو روایت ذکر کرنے جارہے ہیں،وہ  عالمی عدالت  کے ایک نمونے کو بیان کرتی ہے:

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

اوّل مایظهر القائم من العدل ان ینادی منادیه:

''ان یسلم صاحب النافلة لصاحب الفریضة الحجر الاسود و الطواف''(1)

حضرت قائم علیہ السلام سب سے پہلے جس عدالت کا قیام  کریں گے وہ یہ ہے کہ آنحضرت  کا منادی  ندادے گا کہ جو افراد مستحب حج انجام دے رہے ہیں وہ محل طواف اور

حجر اسود ان لوگوں کے اختیار میں دے دیں کہ جن پر حج واجب ہے۔

اگر آج کے زمانے میں کچھ ثروتمندمقدس مقامات کی زیارت کی قیمت و اخراجات اتنے بڑھا دیتے ہیں کہ بہت سے لوگ اس سعادت سے محروم ہوجاتے ہیں لیکن اس درخشاں زمانے میں محرومیت کا نام و نشان نہیں ملے گا ۔سب لوگ خانۂ خدا اور مقدس مقامات کی زیارت کرسکیں گے۔اسی لئے عبادی امور میں بھی لوگوں کی شرکت بہت زیادہ ہوگی۔

اسی وجہ سے حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)  کا پیغام خانۂ خدا کے تمام زائرین تک پہنچے گا کہ جنہوں نے اپنے واجب اعمال انجام دے دیئے ہیں وہ دوسروں کے لئے زحمت و محرومیت کا باعث نہ بنیں۔

یہ اس  عالمی عدالت کا اوّلین کارنامہ ہے کہ جس پر ابتدائے ظہور میں عمل ہوگا۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار :ج۵۲ ص۳۷۴


 ہر طرف عدالت کا بول بالا

جیسا کہ روایت میں وارد ہوا ہے کہ ظہور کے زمانے میں دنیا سے ظلم و ستم کا نام و نشان مٹ جائے گا اور پوری دنیا عدل و انصاف سے بھر جائے گی ۔اس دن ظلم و ستم،جنگ و جدال اور خونریزی کا نشان باقی نہیں رہے گا۔حضرت ولی عصرعلیہ السلام کی حکومت کے زیر سایہ انسانیت و بشریت سکون کا سانس لے گی ۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ ہزاروں سال پہلے لوگوں کو اس دن کے آنے کی خبر دی گئیاور آخرکار دنیا خود اس دن کی گواہ ہوگی۔

اس مسئلہ میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے۔کیونکہ عقلوں کے تکامل کا لازمہ اصلی انسانی فطرت  کی طرف لوٹنا اور طبیعتوں کا پاک ہونا ہے اور یہ فقط ظہور کے درخشاںزمانے میں  ہی متحقق ہوگا۔

  عدالت کا نفاذ اور حیوانات میں  بدلاؤ

یہاں ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس دن حیوانات کی کیا کیفیت و حالت ہوگی ؟

کیا درندے اس وقت کے مظلوم انسانوں کی زندگی کا اپنی درندگی سے اختتام کریں گے؟

اگر ایسا ہو تو پھر کس طرح سے کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانے میں انسانی معاشرے میں ظلم نہیں ہوگا اور خونریزی و غارت گیری کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا؟اس حقیقت پر توجہ کریں کہ ظہور کا زمانہ ،یوم اللہ ہے۔اس دن زمین پر حکومت الٰہی ہوگی تو پھر یہ کس طرح سے ممکن ہے کہ حیوانات میں کسی قسم کا تحول نہ آئے اور درندے اپنی درندگی کو جاری رکھیں؟

جی ہاں! حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام کی عادلانہ ،اور عالمی حکومت کا لازمہ یہ ہے کہ دنیا میں امن و امان ہو اور اہل دنیا ہر قسم کے شر و طغیان اور ظلم و بربریت سے محفوظ رہیں۔


اس دن دنیا میں امن اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب درندوں سے ان کی درندگی ختم ہو جائے۔ موذی اور درندہ صفت حیوانات کی زندگی بدل جائے اور ان میں اساسیتبدیلیاں ایجادہوںگی۔ورنہ درندہ صفت حیوانات میں پائی جانے والی درندگی کے ہوتے ہوئے انسان اور کمزور حیوانات کس طرح سے ان کے شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

  حیوانات کا رام ہونا

اب ہم اس بارے میں وارد ہونے والی بعض روایات پر توجہ کریں ۔

 رسول  اکرم(ص)نے امام عصرعلیہ السلام کی بشارت دی ہے اور عصر ظہوراور ان کی حکومت کی خصوصیات کو متعدد مرتبہ ارشاد فرمایا ہے اور اس وقت دنیا اور اہل دنیا حتی کہ حیوانات میں ہونے والے مہم تحوّلات و تغیّرات کی خبر دی ہے۔رسول اکرم  (ص) اپنے ایک خطبے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں:''و تنزع حُمة کلّ دابّة حتی یدخل الولید یده  ف فم الحنش فلایضره،وتلقی الولیدة الاسد فلا یضرها،و یکون ف الابل کأنّه کلبها و یکون الذئب فالغنم کانّه کلبها وتملأ الارض من الاسلام و یسلب الکفّار ملکهم ولا یکون الملک الاّ للّه و للاسلام وتکون الارض کفاثورالفضة تنبت نباتها کما کانت علی عهد آدم؛یجتمع النفر علی القثاء فتشبعهم و یجتمع النفر علی الرّمّانة فتشبعهم ویکون الفرس بدُرَیهمات '' (1) ہر حیوان سے گزند و ضرر سلب کر لیا جائے گا ۔حتی کہ چھوٹا بچہ زہریلے سانپ کے منہ میں اپنا ہاتھ ڈال دے تو وہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔اگر بچہ شیر کے آمنے سامنے ہو تو شیر اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ اونٹوں کے درمیان شیر ایسے ہوگا جیسے ان کا کتا ہو۔بھیڑوں کے درمیان بھیڑیابھی ان کے کتے کی طرح ہوگا۔پوری روئے زمین پر اسلام کا چرچا ہوگا۔کفّار سے ان کی  ثروت و جائیداد  سلب ہو جائے گی۔کوئی حکومت نہیں ہوگی

--------------

[1]۔ التشریف باالمنن: 299


مگر خدا اور اسلام کی حکومت۔  زمین چاندی کے دسترخوان کی طرح ہے ،جو اپنے نباتات اسی طرح اگائے گی جس طرح وہ آدم   کے زمانے میں اگاتی تھی۔

 کچھ لوگ مل کر ایک خیار( کھیرا) کھائیں تو وہ سب سیر ہوجائیں گے۔ اگر کچھ مل کر ایک انار کھائیں تو وہ ان سب کو سیر کردے گا۔ایک گھوڑے کی قیمت چند درہم ہوگی۔

اس روایت میں ظہور کے منوّر و درخشاں زمانے میں دنیا میں ہونے والی اہم تبدیلیوں پر توجہ کریں:

1 ۔درندہ ح یوانات سے ان کی درندگی لے لی جائے گی۔

 ۲۔شیر اور بھیڑیئے  جیسے وحشی اور درندہ حیوانات پالتو جانوروں کی طرح ہوجائیں گے اور وہ اونٹ اور بھیڑوں کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔

 3 ۔جو کفار اپنے کفر پر باق ی رہیں گے ان سے ان کاتمام مال و دولت لے لیا جائے گا ۔

 4۔اس زمانے میں دنیا پر فقط اسلام کی حکمرانی ہوگی ۔خدا اور رسول(ص) ک ی حکومت ہوگی اور اس کے علاوہ کسی حکومت کا وجود نہیں ہوگا۔

 5 ۔اس زمانے م یں خیر و برکت اس قدر زیادہ ہوجائے گی کہ آج کی بہ نسبت پھلوں کی مقدار بہت زیادہ ہوجائے گی کہ کھیرا اور انار جیسا ایک پھل چند لوگوں کو سیر کرے گا۔

 6 ۔اش یاء بہت سستی وکم قیمت ہوجائیں گی کہ ایک گھوڑا چند درہم میں خریدا اور فروخت کیا جا ئے گا۔

 اس بناء پر اسلام عالمی حکومت،آسمانی برکات ،اقتصادی ترقی،زراعت میں اضافہ اوردرندوں سے وحشت و درندگی کا خاتمہ  اس زمانے کی اہم تبدیلیوں میں سے چند ہیں

 یہ تمام عصرِ ظہور کی خصوصیات میں سے ہیں کہ روایت میں پیغمبر اکرم (ص) نے اہل زم ین کو اس کی نوید سنائی ہے۔


 وحشی حیوانات کا تابعہوجانا اور درندوں سے امان اس زمانے کی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ حیوانات میں تحوّل و تبدّل اور بدلاؤ ،حضرت بقیة اللہ الاعظم  (عج) کی قدرتِ ولایت اور اس زمانے کی موجودات پر ان کے  اختیار کی دلیلہے۔

 اس زمانے میں نہ صرف درندے حیوانات سے درندگی ختم ہوجائے گی ،بلکہ اس زمانے میں لوگوںپر زمینی و آسمانی برکات نازل ہوں گی۔اسی طرح مختلف اشیاء میں ہر قسم کا تکامل،تحوّل،تبدّل اور ترقی بھی امامِ عصرکے ظہور اور ان کی قدرت ِ ولایت کی وجہ سے ہوگا۔ کیونکہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں  کہ مسئلہ ظہور فقط حضرت حجة بن الحسن العسکری (عج)کامادی و جسمانی ظہور نہیں ہے،بلکہ آنحضرت کے ظہور کا مقصد دنیا میں قدرت ِ ولایت و تصرّف سے استفادہ کرنا ہے اسی وجہ سے حضرت بقیة اللہ الاعظم(عج) کے ظہور سے عالمِ تکوین میں آنحضرت کے تصرفات ظاہر ہوں گے اور سب لوگ پوری دنیا میں ان عجیب  تبدیلیوں کے گواہ ہوں گے۔

 حضرت امام جعفر صادق  علیہ السلام  فرماتے ہیں:

 '' ینتج اللّه تعالی فی هذه الامة رجلا منی و انا منه یسوق اللّه تعالٰی به برکات  السمٰوات و الارض، فینزل السماء قطرها و یخرج الارض بذرها و تأمن وحوشها و سبأها و یملأ الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا،و یقتل حتی یقول الجاهل لو کان هذا من ذریة محمدلرحم '' (1)

 خدا وند متعال اس امت میں سے ایک مرد کو بھیجے گا کہ جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، خداوند اس کے ذریعہ آسمان و زمین کی برکات جاری کرے گا ۔پس آسمان بارش برسائے گا اور زمین زراعت و نباتات پیدا کرے گی ۔وحشی اور درندے حیوانات پر امن ہوجائیں گے۔وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی وہ خاندانِ اہلبیت علیھم السلام کے دشمنوں کو قتل کرے گا ،یہاں تک کہ جاہل کہیں گے اگر یہ محمد(ص) کی ذریت سے ہوتا تو یقینا رحم کرتا۔

--------------

[1]۔ الغیبة شیخ طوسی: 115


 ہم  نے جو روایتذکرکی ،اس میں امام جعفر صادقعلیہ السلام سے امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں بہترین تعبیر نقل ہوئی ہے۔اس روایت میں امام جعفر صادق  علیہ السلام  نے فرمایا: رجلا منی و انا منہ ایسا مرد کہ جو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔

 یہ ایک ایسی تعبیر ہے کہ جو امام جعفر صادقعلیہ السلام سے امام عصر کی تجلیل و تعریف کو بیان کرتی ہے۔یہ وہی تعبیر ہے کہ جو  رسول اکرم (ص)نے امام حسن  عل یہ السلام اور امام حسین  علیہ السلام کے بارے میں فرمائی۔

 اس روایت میں موجود دیگر نکات یہ ہیں:

1۔ زمینی و آسمانی برکات کا نازل ہونا۔

2 ۔ بارانِ رحمت کا برسنا۔

3 ۔ زراعت و نباتات ک ی پیداوار میں اضافہ کہ جو زراعت اور اقتصاد کی ترقی کا باعث ہے۔

4۔ وحشی حیوانات سے درندگی کا ختم ہوجانا۔

5 ۔ دنیا کا عدل و انصاف سے سرشار ہونا۔

6۔ روایت کے آخر میں  امام صادق علیہ السلام  کا یہ ارشاد ،و یقتل حتی یقول الجاهل ،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مخالفین میں سے اعتراض کرنے والے موجود ہوں گے۔کیونکہ وہ کہیں گے کہ اگر یہ محمد (ص) کی نسل و ذریّت سے ہوتے تو حتماً رحم کرتے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت رسول خدا(ص) اور ان کے رحیم ہونے کے معتقد ہوں گے۔لیکن امام زمانہعلیہ السلام کی امامت کے قائل نہیں ہوںگے۔اسی وجہ سے وہ امام  زمانہعلیہ السلام پر اعتراض کریں گے۔یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ ان میں قتل و غارترونما ہوگا۔


اب اصل مطلب کی طرف آتے ہیں اور حیوانات کے رام ہونے کی بحث کوجاری رکھتے  ہیں کہ جس کے بارے میں خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام کی روایات میں تصریح ہوئی ہے۔

 روایات کی بناء پر درندے حیوانات میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ وہ گوشت خوری کو چھوڑ کر چارہ کھانے و الے جانور بن جائیں گے۔

اس بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ درندوں سے درندگی اور خونریزی کی صفت سلب  ہوجائے گی اور وہ چارہ کھاکر اپنی غذائی ضروریات کو پورا کریں گے۔

  حضرت امام حسن مجتبی  علیہ السلام فرماتے ہیں:

 '' تصلح فی ملکه السباح '' (1)

حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت میں درندے ایک دوسرے کے ساتھ صلح و امن سے رہیں گے۔

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

 ''اصطلحت السباع و البهائم '' (2)

درندے اور چارپائے آرام اور صلح سے رہیں گے۔

--------------

[1]۔ بحارالاانوار:ج۵۲ص۲۸۰

[2]۔ بحارالاانوار:ج۵۲ص۳۱6


یہ چیزیں ایسے افراد کے لئے دیکھنا مشکل ہوگا کہ جنہوں نے اپنے دلوں پر مہر لگا دی ہو اور وہ  موجود ہ اشیاء سے بڑھ کر کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتے ۔لیکن جو آنے والی دنیا اور دنیا کے آئندہ  حالات اور مسائل کے بارے میں گہری نظر رکھتے ہوں،ان کے لئے یہ مسائل دیکھنا آسان ہے ۔کیونکہ وہ جانتے ہیں  کہ زمین و زمان میں رونما ہونے والے عجیب واقعات و تبدیلی ،کرہ زمین کے موجودات پر اچھے اثرات چھوڑیں  گے اور تمام  موجودات کوکامیابی و کامرانی کی طرف لے جائیں گے۔

اس حقیقت پر توجہ کرنے کے بعد اب یہ کہنے میں کیا حرج ہے کہ انسان تقویت ِ ارادہ  اور یقین ِ محکم کے ذریعہ حتی حیوانات کو بھی  اپنا مطیع و فرمانبردار بنا لے؟

جس طرح شیخ بہائی اور ان جیسے افراد کی با قدرت نگاہ تانبے کو سونے میں تبدیل کردیتی تھی ، عقلوں کے تکامل کے دن انسان اپنے ارادے کو حیوانات پر القاء کرسکتاہے کہ جو عقلاً مشکل ہے۔

اگر ہم اس دن کو موجودہ دور کے لوگوں کی طرح مانیں تو پھر اس حقیقت و واقعیت کو قبول کرنا مشکل ہوگا۔لیکن جیسا کہ ہم نے کہا کہ وہ دن ،عقلوں کے تکامل، اور انسانی قدرت کے قوی ہونے کا دن ہے۔اس بیان پر توجہ کرنے سے ایسے واقعات کو قبول کرنا بہت سہل و آسان ہوجائے گا۔


  حیوانات پر مکمل اختیار

اب اس مطلب کے بیان  کے لئے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ جو حیوانات میں تصرف و تحوّل کے امکان کی واضح دلیل ہے تاکہ یہ واضح ہے ہوجائے کہ ہر طرف اور ہر جگہ عدالت کے نفاذ کے لئے حیوانات کے وجود میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔حیوانات کے دماغ و اعصاب میں تصرّف سے یہ کام بڑی آسانی سے انجام پاسکتاہے۔

البتہ یہ بات مد نظر رہے کہ ہم عصرِ ظہور کی حیرت انگیز تبدیلیوں کو بیان کرنے کے لئے کسی ایسے واقعہ کو نقل کرنے کے لئے مجبور نہیں ہیں کہ جو غیبت کے دوران پیش آیا ہو۔ہم یہ واقعہ صرف اس کے  لئے بطور ایک دلیل  ذکر کر رہے ہیں۔بلکہ یہ مطلب بعض افرادکے ذہن کے نزدیک کرنے کے لئے ہے شاید غیبت کے دوران حکومتِ الہٰی کے غاصبوں کی زرق و برق اور نمائشی زندگی ان پر اثر انداز ہوئی ہو۔

مذکورہ نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس واقعہ پر توجہ کریں۔

 ''ڈل گاڈو''نامی ایک شخص بُل فائٹر تھا۔ہم اس کے بُل فائٹنگ کے ایک مقابلہ کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

بُل فائٹنگ کے ایک مقابلے میں لوہے کا دروازہ کھلا اور ایک انتہائی طاقتور بیل وہاں سے نکل کر میدان کی طرف بھاگا وہ بھاگتا ہوا سیدھا ''ڈل گاڈو''کی طرف آرہا تھا۔وہ ''ڈل گاڈو'' کے بدن کے حساس ترین حصے کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ہزاروں تماشائی،فوٹو گرافر اور اخباری نمائندے اس منظر کو دیکھ رہے تھے اور ان کے دل بہت تیزی سے دھڑک رہے تھے۔سب اس خوفناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔کوئی بھی انہیں اس خوفناک منظر سے نکالنے والا نہیں تھا۔

 میدان میں صرف ایک غضبناک بیل کے دوڑنے کی آواز گونج رہی تھی۔ہر کوئی اس لمحے کا منتظر تھا کہ کب بیل اپنے سینگوں سے ''ڈل گاڈو''کو اٹھا کر آسمان کی طرف پھنیکے یا اپنے تیز اور نوکیلے سینگوں سے اس کے سینہ کو پھاڑ دے!


 ''ڈل گاڈو'' نے بُل فائٹنگ کا مخصوص لباس بھی زیبِ تن نہیں کیا ہوا تھا اس نے تلوار کے بجائے ایک چھوٹا  سا ''ترکش'' پکڑا ہوا تھاکہ جس پر کچھ بٹن نصب تھے۔وحشی بیل بہت تیزی سے ''ڈل گاڈو''کی طرف بڑھ رہا تھا ۔صرف ایک لمحہ باقی تھا کہ بیل،ڈل گاڈو کو اٹھاکر ہوا میں پھینک دے۔ہر کسی کی آنکھیں صرف اسی منظر پر جمی ہوئیں تھیں۔کسی کو خبر نہیں تھی کہ کیا ہوگا؟

 ''ڈل گاڈو'' نے ایک بٹن دبایا تو بیل رک گیا،اس نے ڈل گاڈو کی طرف دیکھا اور بے ساختہ آہستہ اور مغموم حالت میں اپنی پہلے والی جگہ کی طرف واپس جانے لگا۔لوگ ابھی تک خوف زدہ تھے کہ اگر وہ چیخیں تو بیل دوبارہ غصے میں نہ آجائے لیکن اب بیل غصے میں نہ تھا۔ ڈل گاڈو نے بیل کے دماغ میں ایک چھوٹی سی سم نصب کی تھی کہ جس سے اس نے بیل کو واپس جانے کا حکم صادر کیا۔نہ صرف اس نے بیل کو واپس لوٹنے کا حکم دیا بلکہ اس کے غصے کو بھی ختم کردیا۔بیل اپنی جگہ سے واپس چلا گیا اور پھر سب لوگوں نے دیکھا کہ ایک بٹن دبانے سے وہ بیل پھر سے ڈل گاڈو کی طرف بھاگا اور دوبارہ بٹن دبا کر ڈل گاڈو نے اسے واپس لوٹنے اور غصہ ختم کرنے کا حکم دیا۔بیل پھر واپس اپنی جگہ چلا گیا۔

تماشائیوں نے شور مچانا شروع کیا ۔لیکن بیل پھر بھی بڑے آرام سے بیٹھا رہا۔یہ تجربہ کئی بار کیا گیا اور ہر بار  تجربہ کرنے سے یہ معلوم ہوا کہ بیل کے ذہن میں ایک چھوٹی سی الیکٹرک سِم کے ذریعے بیل کو اپنے کنٹرول میں کرسکتے ہیں(1)

 حیوان کو انجکشن لگا کر بیہوش کرتے ہیں اور اس کے سر چاقو کے ذریعے چاک کرکے آپریشن کرتے ہیں۔کھوپڑی کی ہڈیوں میں سوراخ کرتے ہیں اور اس میں ایک چھوٹی سی سِم نصب کردیتے ہیں کہ جس کا کچھ حصہ سر سے باہر ہوتا ہے۔پھر زخم پر پٹی باندھ دی جاتی ہے تاکہ زخم ٹھیک ہوسکے۔

--------------

[1]۔ عجائب حس ششم:54


بیٹری کے ذریعہ کام کرنے والے آلہ کی مدد سے لہروں کو سرمیں موجود سم سے جوڑا جاتا ہے۔اس آلے کا کام یہ ہے کہ وہ الیکٹرسٹی کی کچھ مقدار کو حیوان کے دماغ تک پہنچائے تاکہ یہ اس کے ذہن کو متحرک کرے۔(1)

 1960 ء م یں محققین کے ایک گروہ نے ایسا طریقہ دریافت کیا کہ جس کی مدد سے خارج میں ایک بجلی کا آلہ تیار کر کے اس سے دماغ کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔اس میں دماغ میں الیکٹرک سم ڈالنے کی بھی ضرورت نہیں۔اس بارے میں ہونے والے تجربات میں یہ سب سے آسان اور سادہ طریقہ ہے ۔(2)

  الیکٹرک پاور سے بڑی قوّت

ظہو ر کے درخشاں زمانے میں نہ تو سرجری کے کسی چاقو کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی دماغ میں الیکٹرک سم رکھنے کی ضرورت ہوگی ۔کیونکہ اس وقت الیکٹرک پاور سے بڑی قوّت، دنیا کو اپنے احصار میں لے لے۔ تمام اشیاء حتی کہ حیوانات کے دماغ میں بھی انوارِ ولایت جلوہ گر ہوں گے۔جس سے نظامِ کائنات میں عجیب تحولا ت رونما ہوں  گے۔

اب ان حیرت انگیز اور عجیب تغیّرات کے بارے میں رسول اکرم (ص)کے فرام ین پرغور فرمائیں۔

اس روز حیوانات کے دماغ اورعصبی نظام میں تحوّلات کے بارے میں حضرت رسول اکرم (ص)یوں فرماتے ہیں:

--------------

[1]۔ عجائب حس ششم:5۸

[2]۔ عجائب حس ششم:6۵


'' یقول الرجل لغنمه و لدوابه:اذهبوا فارعوا فی مکان کذا و کذا و تعالوا ساعة کذا و کذا،تمر الماشیة بین الزرعین لا تأکل منه سنبلة و لا تکسر بظلفها عوداً،والحیات والعقارب طاهرة لا تؤدی احد و لا یؤذیها احد، والسبع علی ابواب الدور تستطعتم لا تؤذی احداً……'' (1)

اس ددن لوگ اپنی بھیڑ بکریوں اور چارپایوں کو کہیں گے کہ جائو اور فلاںجگہ جاکر چرو اور فلاں وقت واپس لوٹ آؤ۔اس دن حیوانات دو زراعت کی فصلوں سے گزریں گے لیکن فصل کا ایک خوشہ بھی نہیں کھائیں گے۔کوئی اپنی لاٹھی سے درخت کو شاخوں کو نہیں توڑے گا۔سانپ اور بچھو آزاد پھریں گے لیکن وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے اور کوئی انہیں اذیت نہیں پہنچائے گا۔

درندے حیوانات خوراک طلب کرنے لوگوں کے دروازوں پر آئیں گے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

حیوانات کے شعور میں تکامل و پیشرفت کے بارے میں وارد ہونے والی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ چارپائے لوگوں کے دستورات کو درک کرنے کی قدرت رکھتے ہوں گے۔اور وہ اپنے مالکان کے فرمان کو سمجھ سکیں گے اور ان کی اطاعت کریں گے۔

اسی وجہ سے کسی کو چارپایوں کے ساتھ چراگاہ جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔انہیں چرنے کے لئے زمان و مکان بتا دیا جائے گاتو وہ اپنے مالکوں کی طرف سے صادر کئے گئے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے معین شدہ چراگاہ جائیں گے اور معین وقت پر واپس لوٹ آئیں گے۔

نہ صرف انسانوں کا حیوانات سے باتیں کرنا ممکن ہے۔ بلکہ تاریخ میں ہمیں ایسے بہت سے موارد ملتے ہیں کہ جن میں حیوانات نے پیغمبروں،آئمہ اور اولیائِ خدا سے گفتگو کی۔

--------------

[1] ۔ التشریف بالمتن:203


بھیڑئے کا حضرت ابوذرسے بات کرکے انہیں رسول معظم اسلام(ص)ک ی بعثت کی خبر دینا،اس کا ایک نمونہ ہے۔

ہم نے جو روایات ذکر کی۔اس میں رسول  اکرم(ص)نے انسانوں ک ی چارپایوں سے بات کرنے کے مورد کو بیان فرمایا۔یہ ظہور  کے زمانے کی خصوصیات میں سے ہے۔جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی تصریح بھی ہوئی ہے۔

حالانکہ حیوانات،قوة عقل سے عاری ہوتے ہیں۔لیکن ظہور کے درخشاں زمانے میں ان کے اعصابی نظام میں تصرّف اور ان میں تغیر و تحول سے حیوانات میں مہم تغیرات ایجاد ہوں گے۔

خلقت کی دنیا میں حیوانات اس طرح سے خلق ہوئے ہیں کہ ان کے اعصابی نظام میں تغیر وتبدل ان میں تازہ افعال کو انجام دینے کا سبب بنے گا۔میں اس تغیرو تحول لا منشاء ان کے وجود میں خدا نے نظامِ خلقت سے ہی قرار دیا ہے۔

  ایک اہم سوال اور اس کا جواب

ظہور کے درخشاں و منوّر زمانے میں حضرت مہدی  علیہ السلام کے شفا بخش اور مبارک ہاتھوں سے انسان کی عقلی قدرت میں افزائش ایسے مسائل میں سے ہے کہ جن کے بارے میں خاندان عصمت و طہارت علیھم السلام کی روایات میں بھی وارد ہوا ہے۔اس کتاب میں یہ وضاحت سے ذکر ہوئے ہیں۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حیوانات میں وجود میں آنے ولاے تحولات اور ان کے اعصابی نظام میں تصرّف اور حیوانی شعور میں ہونے والی پیشرف کی کیا صورت ہوگی؟

یہ درست ہے کہ انسان کو حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے شفا بخش ہاتھوں سے عقلی تکامل اور روحانی قدرت میں افزائش حاصل ہوگی۔لیکن حیوانات میں ایجاد ہونے والے تحولات کس طرح انجام پائیں گے؟


ہم اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ شیطانی وائرس سے متأثر انسانی دماغ امامِ عصرکے دستِ مبارک سے شفا پائے گا اور ان کے عقلی خزانے پر لگے قفل کھل جائیں گے۔ان میں مخفی قدرت ظاہر ہوگی اور اسے بروئے کار لایا جائے گا۔

لیکن اس اہم ترین نکتہ کو مد نظر رکھیں کہ ظہور کے زمانے میں انسانوں کا تکامل،اور اس عظیم اور حیرت انگیز قدرت تک رسائی کے مختلف عوامل ہیں کہ جن تک لوگ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)  کے وسیلہ سے پہنچ پائیں گے۔ان عوامل میں سے ایک آنحضرت  کے شفا بخش دستِ مبارک ہیں۔

  حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کا تابناک نور

اس زمانے کے مہم تحوّلات  و تغیّرات میں سے ایک حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کا تابناک نور ہے کہ جو  پوری کائنات پر پھیلا ہوگا اور جو دنیا کو سورج کے نور سے بھی بے نیاز کردے گا۔

جس طرح سورج کا نور دنیا کے ذرات پر مہم ،حیاتی اور لازمی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اسی طرح   اس زمانے میں ظاہر ہونے والاحضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)  (جو نور اللہ ہیں) کا تابناک و درخشاں نور پورے عالم میں عظیم تحوّلات کو جنم دے گا ۔جو عالم ِ خاکی کو عالم ِ پاکی میں تبدیل کردے گا۔

  حیوانات کی زندگی پر تحقیق

اب یہ واضح ہوگیا کہ اس دن کا نور بہت سے حیوانات کی زندگی میں واضح آشکار اثرات مرتب کرے گا ۔ہم حیوانات کی زندگی کے بارے میں بحث کرنے کے بعد اب اس کے کچھ نمونے نقل کرتے ہیں ۔


 کروڑوں حیوانات کی زندگی ،ان کی پیدائش اور ان کی خلقت کے راز سے آشنا ہونے اور ان پر تدبر و تفکر کرنے سے ان کے عظیم اور با قدرت خالق پر انسان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جس طرح خدازمین و آسمان اور انسانوں کی خلقت کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔ اسی طرح وہ حیوانات کی خلقت کو بھی اپنی توانائی و قدرت کی نشانی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔''وَ مِن آیاتِهِ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرْضِ وَ مَا بَتَّ فِیهِمَا مِنْ دَابَّةِِ '' (1)

اور اس کی نشانیوں میں سے زمین و آسمان کی خلقت اور ان کے اندر چلنے والے تمام جاندار ہیں۔

اسی طرح قرآن میں ارشاد خدا وند ہے:'' وَفِیْ خَلْقِکُمْ وَمَا یَبُثُّ مِن دَابَّةٍ آیَات لِّقَوْمٍ یُوقِنُونَ '' (2)

اور تمھاری خلقت میں بھی اور جن جانوروں کو وہ پھیلاتا رہتا ہے،ان میں بھی صاحبان یقین کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

خداوند کریم سورہ انعام میں ان کے اجتماع کے بارے میں فرماتا ہے :

'' وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْهِ ِلاَّ أُمَم أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِی الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ ِلَی رَبِّهِمْ یُحْشَرُونَ'' (3)

اور زمین میں کوئی رینگنے والا یا دونوں پروں سے پرواز کرنے والا طائر ایسا نہیں ہے جو اپنی جگہ پر تمہاری طرح کی جماعت نہ رکھتا ہو۔ہم نے کتاب میں کسی شیء کے بیان میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔اس کے بعد سب اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔

--------------

[1]۔ سورہ شوریٰ آیت:29

[2]۔ سورہ جاثیہ آیت:4

[3]۔ سورہ انعام آیت:38 


اس آیہ شریفہ میں خدا وند تعالی حیوانات کے گروہ گروہ ہونے کو بیان فرمایا ہے۔

حیوانات کی زندگی میں دقت سے انسان قادر و مختار خالق کے وجود پر اپنے ایمان و اعتقاد کو مزیدمحکم کرتا ہے۔ہم یہاں حیوانات کی زندگی کا ایک چھوٹا سا نمونہ نقل کرتے ہیں کہ جو حیوانات کے گروہ گروہ ہونے پر شاہد ہے۔ نیز یہ دلالت کرتا ہے کہ سورج کی تپش میں اضافہ اور دن کا طولانی ہونا،کس طرح سے سے ان کے اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے اور کس طرح سے ان کی زندگی میں تحوّل ایجاد کرتا ہے۔

مختلف انواع و اقسام کے لاکھوں پرندے گرمیوں کے آخر میں ایسے مقامات کی طرف ہجرت کرتے ہیں کہ جہاں سردیوں میں آب و ہوا نسبتاًگرم ہو اور پھر سردیوں کے آخر میں اپنے اصلی وطن کی طرف واپس چلے جاتے ہیں۔

بعض پرندے ہرسال ہجرت کے سفر میں32 ہزار کلو م یٹر سے زیادہ پرواز کرتے ہیں ۔وہ اپنے آبائی مقام کو دقت سے یاد رکھتے ہیں۔ان پرندوں میں سے بعض تنہا اور بعض ایک ساتھ مل کر ہجرت کرتے ہیں۔

دن لمبے ہونے  کے ساتھ ہی پرندوں کی ہجرت کا آغاز ہوجاتا ہے۔دنوں کا طولانی ہونا،ان کے اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔جب دن چھوٹے ہوجاتے ہیں تو پرندوں کا عصبی نظام خاص پیغام دریافت کرتا ہے کہ گرم علاقوں کی طرف ان کی پرواز کا موجب بنتا ہے۔جب دنوں میں معین  حد تک اضافہ ہوجائے تو ان کے ذہن کو ایک دوسرا پیغام موصول ہوتا ہے کہ جو ان کے اپنے آبائی وطن میں واپس آنے کا باعث بنتا ہے۔(1)

ہم منتظرہیں اور ہمیں امید ہے کہ جلد از جلد حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے تابناک نور کے طلوع ہونے سے پوری دنیا میں عظیم تحوّلات وجود میں آئیں گے اور حیوانات،جمادات،نباتات اور انسانوں کے وجود میں  ترقی و پیشرفت کے نئے دور کا  آغازہو گا ۔یعنی اس دن جب زمین اور زمین میں موجود دوسری اشیاء بہتر صورت میں تبدیل ہوجائیں گی۔

--------------

[1]۔ پرسشہائے عجیب،پاسخہائے عجیب تر:2 98


دوسراباب

قضاوت

    قضاوت کے بارے میں بحث

    آغاز ظہور میں قضاوت اپنی اوج پر

    ظن و گمان کی بنیاد پر قضاوت

    قضاوت میں فہم و فراست

    قضات، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے قضاوت سیکھیں

    حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام

    بحث روائی

    قضاوتِ اہلبیت علیہم السلام اور حضرت دائود علیہ السلام

    امام مہدی علیہ السلام کے فیصلے

    زمانِ ظہور میں امام عصر علیہ السلام کے قاضیوں کے فیصلے

    بحث کے اہم نکات


 قضاوت کے بارے میں بحث

کفار و منافقین کے لشکر کی شکست اور دنیا کے ستمگروں کی نابودی سے پوری کائنات میں حکومت عدل ِ الٰہی مستحکم ہوگی۔ظالموں اور ستمگروں کے نامہ اعمال کی چھان بین کی جائے گی اور اگر کوئی روئے زمین پر کسی پہ ظلم کرے تو اسے برطرف کرکے اس کا جبران کیا جائے گا۔

کیونکہ پوری دنیا میں ظلم و ستم کو ختم کرنے کا مقصد صرف اپنی رعایا پر ظلم و ستم کرنے والے بادشاہوں اور حکمرانوں کو نابود کرنا نہیں ہے۔بلکہ سب ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔چاہے انہوں نے کسی ایک ہی فرد پر ظلم کیوں نہ کیا ہو۔اس وقت تمام مظلومین،ظالموں کے شرسے نجات پائیں گے۔یہ صحیح ہے کہ دوسروں پر ظلم کرنے والے بہت سے ظالم ،خود کو ظالم نہیں سمجھتے اور وہ انجام دیئے  گئے ظلم و ستم کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔یہ ظالموں اور مظلوموں کے درمیان اختلاف کا باعث ہوگا۔کیونکہ ظالم اپنے تمام افعال کو عدل کا  لبادہ پہنائیں گے اور مظلوم انہیں ظلم قرار دیں گے۔ہر کوئی خود کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم شمار کرے گا۔

ایسے موارد میں دونوں میں سے کسی کو بھی انجام دیئے گئے امور میںاختلاف  و اعتراض نہیں ہوگا۔ان کے اختلاف کی وجہ  یہ ہوگی کہ کیا وہ کام ظالمانہ تھا یا نہیں تھا!بعض موارد میں ظالم اپنے ظلم کا انکار کریں گے ۔وہ یہ قبول نہیں کریں گے کہ انہوں نے ایسا کام انجام  دیا ہے ۔یہ دو افرا د  یا دو گروہوں کے  درمیان اختلاف کے  دو نمونے ہیں۔

ایسے موارد میں قضاوت کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ علم و یقین سے ظالم و مظلوم کو ایک دوسرے سے تشخیص دے سکیں اور ظالم سے مظلوم کا حق لیا جائے۔یہ بھی واضح ہے کہ بہت سے موارد میں طرفین میں سے کوئی بھی ایسا شاہد و گواہ نہیں لاسکے گا کہ جس کی شہادت قابل قبول ہو۔


اس صورت میں فقہی مسائل کی رو سے یمین و قسم کا دامن تھاما جائے گا۔لیکن ممکن ہے کہ منکر جھوٹی قسم کھاکر دوسرے کے حق کو پامال کرے اور ظالمانہ طریقے سے اس کا حق غصب کرے۔اسی طرح ممکن ہے کہ جھوٹی گواہی کے ذریعہ بھی صاحبِ حق کے حق کو  پامال کیا جائے۔

  آغاز ظہور میں قضاوت اپنی اوج پر(1)

جیساکہ ہم نے بیان کیا کہ امام عصر (عج) کی حکومت کے آغاز سے ہی پاکسازی  اور ظلم و ستم کو رفع کرنے کا آغاز ہوجائے گا ۔اسی وجہ سے ظہور کے آغاز میں ہی قضاوت کا مسئلہ اپنی اوج پر ہوگا تاکہ صحیح اور عادلانہ قضاوت کے ذریعے ظالموں اور ستمگروں سے مظلومین کا حق لے کر حقدار کو دیا جائے ۔

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس با شکوہ  زمانے میں حقائق و واقعات کی روشنی میں فیصلے کئے جائیں گے  اور اس وقت قضاوت کے مسئلہ میں کسی قسم کا شک و شبھہ باقی نہیں رہ جائے گا۔

اس زمانے میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) جن افراد کو لوگوں کے درمیان قاضی کے عنوان سے معین فرمائیں گے ،وہ غیبی امداد سے سرشار ہوں گے اور تکامل عقل اور تہذیبِ نفس کی وجہ سے کبھی بھی ان کے دل میں ظالم کے حق اور منافع میں فیصلہ کرنے کا خیال بھی پیدا نہیں ہوگا ۔وہ خود کو خدا کے حضور اور حضرت ولی عصر (عج)  کے محضر مبارک میں پائیں گے ۔اسی وجہ سے وہ حق کا حکم صادر کریں گے۔

--------------

[1]۔ یہ واقعہ ظہور کے آغاز میں واقع ہو گا اور حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی ربّانی و آفاقی اور اجتماعی حکومت   کے قائم ہونے کے بعد عدل و انصاف اپنی اوج پر ہو گا  پھر کسی طرح کے اختلافات نہیں ہوں گے کہ جس کے لئے قضاوت کی ضرورت پیش آئے۔


قابل توجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں عقلوں کے تکامل کی وجہ سے لوگ بھی عادلانہ حکم کے اجراء  اور اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔یہ حضرت ولی عصر (عج) کی عادلانہ حکومت کا لازمہ ہے۔

اس زمانے میں قاضی تذکیہ نفس اور غیبی امداد جیسی صفات کی بناء پر صحیح حکم صادر کرکے فتنہ کی آگ کو خاموش کریں گے اور عدل کے حکم سے ظلم کو نابودکریں گے ۔اس طرح سے وہ ظلم و ستم کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے اور عدل و انصاف کی بنیادوں کو مضبوط کریں گے۔

ظہور  کے زمانہ میں ظلم و ستم کے نابود ہونے والے موارد میں سے ایک ظالمانہ قضاوت ہے۔یعنی ایسی قضاوت کہ جسے قاضی شخصی اغراض کی وجہ سے انجام دیتے ہیں۔

کیونکہ یہ واضح ہے کہ اگر قاضی خود ساختہ نہ ہواور وہ خود کو محضرِ خدا میں نہ دیکھے تووہ جو حکم صادر کرے گا ،اس سے نہ صرف ظلم و ستم کے درخت کی جڑیں کھوکھلی نہ ہوں گی ،بلکہ وہ اپنے فیصلے سے ظلم وستم کے اس درخت کی آبیاری بھی کرے گا ۔اب ہم جو داستان ذکر کر رہے ہیں،وہ اس کا ایک نمونہ ہے۔

ایک شخص نے اپنے کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردیا۔لوگ غصے میں آگ بگولہ ہوگئے،انہوں نے اسے بہت زد و کوب کیااور اسے نیم مردہ حالت میں قاضی کے سامنے پیش کیا گیا۔قاضی نے اس سے سابقہ عداوت کی وجہ سے اور فتنے کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اسے آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا۔

اس شخص نے فریاد کی کہ میری التجا بھی سنیں۔قاضی نے اسے بولنے کی  اجازت دی۔

اس گناہگا ر نے کہا!جب کتے کی موت قریب آئی تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔بے زبان جانور کی زبان پر لگی مہر ٹوٹ گئی اور وہ ہم انسانوں کی طرح بولنے لگا۔


اس نے میرا نام لے کر مجھے وصیت کی کہ میری میراث فلاں درّے میں فلاں پتھر کے نیچے پوشیدہ ہے۔وہاں سے وہ مال و زر لے لینا اور مجھے صالحین کے قبرستان میں دفن کردینا اور اس مال کا آدھا نزدیکی قاضی کو دے دینا تاکہ وہ اسے نیک امور میں صرف کرے اور مجھے دعائے خیر میں یاد رکھے۔

جب میں نے کتے کو بولتاہوا دیکھا تو مجھے اس کی بات پر یقین ہوگیا۔میں نے درّے میں جاکر  وہ مال بھی دیکھا کہ جو وہاں موجود تھا۔

قاضی نے آدھے مال کی لالچ میں کہا! سبحان اللہ، یہ حیوان اصحابِ کہف کے کتے کی نسل سے تھا لہٰذا تم نے اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرکے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے۔(1)

ہم نے جو داستان نقل کی ہے ۔وہ ایسے قاضی کی قضاوت کو بخوبی بیان کرتی ہے کہ جس نے اپنے مقام و منصب کی عظمت کو نہیں سمجھاجس نے خود کو محضرِ خدا میں نہیں دیکھا اور جو رشوت  لے کرفیصلہ کرتا تھا ۔ لہذا قضاوت کے لئے وسیع علم و آگاہی کا ہونا ضروری ہے تا کہ دنیا میں ظلم و ستم جھوٹی قسموں کے پردے میں باقی نہ رہ جائے ۔

یہی وہ مقام ہے جہاں غیبی امداد اور معنوی قوت و طاقت کی ضرورت  کو محسوس کیا جا سکتا ہے کہ جو ظلم و ستم کو ادامہ دینے والی ہر چیز کو ختم کرے اور ظلم و ستم کا سدّ باب کرے ۔ چاہے یہ جھوٹی قسمیں ہوں یا خریدے ہوئے جھوٹے گواہ ۔اگر ظالموں اور ستمگروں کو بے لگام چھوڑ دیا گیا اور انہیں ان کے ظلم سے نہ روکا گیا ۔ تو پھر زمان غیبت اور ظہور کے درخشاں زمانے میں کیا فرق ہوگا؟پھر اس دن کو کس طرح سے عدل و انصاف، حکومت عدل اور ظالموں کی نابودی کا دن قرار دے سکتے ہیں؟

--------------

[1] ۔ دوازدہ ہزار مثل فارسی:60


  ظن و گمان کی بنیاد پر قضاوت

اس زمانے میں نفاذِ عدالت کے لئے لوگوں میں علم و آگاہی اس قدرزیادہ ہوگی کہ کبھی بھی ظن وگمان اور شخصی فہم وادراک کی بناء پر کوئی حکم صادر نہیں کیا جائے گا۔کیونکہ ظن و گمان پر اطمینان،عادلانہ  حکومت کے منافی ہے۔ ایک حکومت فقط اس صورت میں عادلانہ حکومت بن سکتی ہے کہ جب اس میں حقیقت  کے مطابق اور علم کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔لیکن اگر ظن کی بناء پر فیصلہ کیا جائے ( جس میں خلافِ واقع ہونے کا احتمال ہو) تو پھر اس ظنی فیصلہ کو کس طرح سے عادلانہ اور واقعی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے؟

اس بناء پر چونکہ اس زمانے میں حکومت مکمل طور عادلانہ ہوگی ۔لہٰذا اس زمانے میں ہر قضاوت اور فیصلہ کا محور عدالت  ہو گی اور عدالت کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلہ حقیقت  کے مطابق اور علم و یقین کی بنیاد پر ہو نہ کہ ظن و گمان کی بناء پر ۔

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

'' لیس من العدل ،القضاء علی الثقة بالظن '' (1)

ظن و گمان پر اطمینان کرتے ہوئے حکم و قضاوت کرنا عدل میں سے نہیں ہے۔

ظہور کے پر نور زمانے میں علمی و فکری رشد اتنا وسیع ہوگا کہ کبھی بھی کوئی حکم علم و آگاہی کے بغیر صادر نہیں ہوگا۔کیونکہ یہ عادلانہ حکومت کا لازمہ ہے۔روایات سے یہ بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ بعض موارد میں بینہ اور یمین کی بنیاد پر کئے گئے فیصلے اور قضاوت سے نہ صرف عدالت کا شجرثمربار نہیں ہوگا،بلکہ اس سے حقدار کا حق بھی پامال ہوگا۔اس مطلب کی وضاحت کے لئے اس روایت پر توجہ کریں۔

--------------

[1]۔ نہج البلاغہ، کلمات  قصار : 211


رسول اکرم (ص) فرماتے ہ یں:

''انما اقضی بینکم بالبینات والایمان و بعضکم الحن بحجته من بعض، فایما رجل قطعت له من مال اخیه شیئا یعلم انه لیس له فانما اقطع له قطعة من النار '' (1)

میں تمہارے درمیان گواہ اور قسم کے ذریعے حکم و قضاوت کرتا ہوں۔تم میں سے بعض،دوسروں کی بہ نسبت بہتر طریقے سے اپنی دلیل بیان کرنے کی قدرت رکھتے ہو(اچھے بیان و خطاب کی وجہ سے اپنی بات کو بخوبی ثابت کرسکتے ہو)پس اگر میں نے گواہی و قسم  کی بنیاد پر کسی کو اس کے بھائی کے مال سے کچھ دے دیا ہو اور اسے بھی معلوم ہو کہ یہ اس کا مال نہیں ہے تو میں نے حقیقت میں اسے  آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ گواہی و قسم  ہمیشہ حقیقت اور واقعیت کے مطابق نہیں ہوتی۔پس جن موارد میں ایسا ہوا ہو،وہاں حقیقی عدالت کا نفاذ نہیں ہوا، بلکہ حکمِ ظاہری کی بنیاد پر فیصلہ ہو ا ہے۔

قضاوت میں فہم و فراست

امامِ عصر(عج) کے زمانۂ غیبت میں قاضی کو قضاوت کے مسائل جاننے کے علاوہ قضاوت میںعقل اور تیز بینی سے بھی سرشار ہونا چاہیئے تاکہ وہ جھوٹے گواہ اور جھوٹی قسم کو سمجھ پائے۔

--------------

[1] ۔ مستدرک الوسائل  :ج۱۷ص۳66


لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ قدیم زمانے سے اس کی رعایت نہیں ہوئی ہے۔

قاضی کو حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی قضاوت سے درس لینا

چاہیئے اور اسے یہ جاننا چاہیئے کہ کبھی گواہوں اور قسموں کے بغیر ہی فہم و فراست اور بصیرت سے حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس صورت میں قاضی بینہ و قسم سے مدد لے سکتا ہے کہ جب حقیقت تک پہنچنے کے راستے مفقود ہوجائیں اور واقعیت کو حاصل کرنے کاکوئی راستہ دکھائی نہ دے۔

 قضات، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے قضاوت سیکھیں

اسی وجہ سے حضرت امیرالمؤمنین علی  علیہ السلام  نے شریح قاضی کی سرزنش اور مذمت کی تھی کہ اس نے تحقیق کئے بغیر منکرین کے قسم کھانے کے بعد ان کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔

'' یا شریح، هیهات! هکذا تحکم فی مثل هذا؟ '' (1) اے شریح افسوس کہ تم ایسے مورد میں اس طرح حکم کرتے ہو؟

مرحوم علامہ مجلسی نے بحارالانوار کی چودہویں جلد میں اور تھوڑے سے فرق کے ساتھ چالیسویں جلد میں نقل کیا ہے۔

ایک دن امیر المؤمنین علی علیہ السلام مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان گریہ وزاری کر رہا ہے اور کچھ افراداس کے ارد گرد جمع ہیں۔

--------------

[1]۔بحار  الانوار:ج۱۴ص۱۱


امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اس کے بارے میں سوال پوچھا۔

اس نے کہا!شریح نے ایک مورد میں ایسے قضاوت کی ہے کہ جس میں میرے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام  نے پوچھا کہ واقعہ کیا ہے؟

نوجوان نے اپنے پاس کھڑے افراد کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے کہا!یہ لوگ میرے باپ کے ساتھ مسافرت کی غرض سے گئے تھے۔یہ تو سفر سے واپس آگئے ،لیکن میرا باپ واپس نہیں آیا۔میں نے ان سے اپنے باپ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ مر گیا ہے۔پھر جب میں اپنے باپ کے  پاس موجود مال کے بارے میں پوچھا تو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں ہے؟

شریح نے ان سے کہا کہ تم لوگ قسم کھاؤ کہ تم اس کے مال سے بے خبر ہو۔انہوں نے قسم کھالی تو شریح نے مجھ سے کہا کہ اب تم اپنے موقف سے ہاتھ اٹھالو حضرت امیرالمؤمنین علی  علیہ السلام  نے قنبر سے فرمایا!لوگوں کو جمع کرو اور شرطة الجمیس کو حاضر کرو۔(1) حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام بیٹھ گئے۔ان  لوگوں کو بلایا اور نوجوان بھی ان کے ہمراہ تھااس نے جو کچھ کہا حضرت امیرالمؤمنین  علی  علیہ السلام   نے اس کے بارے میں سوال پوچھے۔نوجوان نے اپنا ادّعا دوبارہ  بیان کیا اور رونا شروع کردیا اس نے کہا:

--------------

[1]۔ جمیس بمعنی جنگ، اور شرطة الجمیس خاص افراد کو کہا جاتا تھا کہ جن میں سے ایک اصبغ ابن نباتہ تھے۔ اس سے پوچھا گیا کہ آپ کو شرطة الجمیس کیوں کہا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے امیرالمؤمنین علی کے ساتھ شرط کی ہے کہ ہم ان کے لشکر میں سب سے آگے جنگ کریں گے ، یہاں تک کہ ہم قتل ہوجائیں اور امیرالمؤمنین نے ہمیں فتح و نصرت کا وعدہ دیا ہے۔ (بحار  الانوار:ج۱۴ص۱۱)


اے امیرالمؤمنین  !خدا کی قسم میں انہیں اپنے باپ کی موت کے بارے میں متہم سمجھتا  ہوں۔کیونکہ یقینا یہ حیلہ و مکاری سے میرے باپ کو شہر سے باہر لے گئے،جب کہ ان کی نظریں میرے باپ کے مال پر تھیں۔

حضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام  نے ان سے سوال کیا تو ان لوگوں نے وہی کچھ کہا،جو انہوں نے شریح سے کہا تھا کہ اس کا باپ فوت ہوگیا ہے اور ہمیں اس کے مال کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ان کے چہرے پر نگاہ کی اور فرمایا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ کیا میں نہیں جانتا کہ تم لوگوں نے اس جوان کے باپ کے ساتھ کیا کیا؟ اگر ایسا ہو تو گویا میں بہت کم علم رکھتا ہوں۔

پھر حکم دیا کہ انہیں مسجد کی مختلف جگہوں پر جدا جدا بٹھادیا جائے اور اپنے کاتب عبیداللہ ابن ابی رافع کو بلایا اور فرمایا۔بیٹھ جائو۔پھر ان چند افراد میں سے ایک شخص کو بلایا اور کہا کہ اب مجھے یہ بتائوکہ تم لوگ کب گھر سے نکلے اور کیا اس جوان کا باپ تمہارے ساتھ تھا؟

اس نے کہا کہ میں فلاں روز سفر کے لئے نکلا۔

حضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام   نے ابن ابی رافع سے فرمایا کہ یہ لکھ لو   پھر فرمایا کہ کس مہینے میں سفر پر گئے تھے ۔اس شخص نے مہینے کو تعین کیا۔

حضرت  نے فرمایا: اسے بھی لکھ لو۔

پھر فرمایاکہ کس سال سفر پر گئے تھے؟

اس نے فوت ہونے کا سال بتایا اور عبیداللہ ابن ابی رافع نے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا۔


پھر فرمایا کہ وہ کس بیماری کے سبب فوت ہوا؟

اس نے مرض کا نام بتایا۔

فرمایا کس جگہ فوت ہوا؟

اس نے جگہ کا بتایا۔حضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام نے فرمایا کہ اسے غسل و کفن کس نے دیا؟اس نے کہا، فلاں نے اسے غسل و کفن دیا۔

فرمایا!کس چیز کا کفن دیا گیا ؟اس نے کفن کو تعین کیا۔

فرمایا!اس پر نماز جنازہ کس نے پڑھی؟

کہا!فلاں نے نماز جنازہ پڑھی۔

فرمایا!کس نے اسے قبر میں اتارا؟اس نے اسے قبر میں اتارنے والے شخص کا نام بتایا۔

عبیداللہ ابن ابی رافع نے ان سب کو قلمبند کر لیا۔

جب اس شخص نے دفن کا اقرار کیا توحضرت امیرالمؤمنینعلیہ السلام  نے بلند آواز سے تکبیر کہی کہ جسے تمام اہل مسجد نے سنا۔

پھر حکم دیا کہ اس شخص کو اس کی جگہ پر لے جائیں اور ان میں سے دوسرے شخص کو بلایا۔ پھرحضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام   نے اس سے بھی وہی سوال کئے کہ جو حضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام نے پہلے شخص سے پوچھے تھے۔لیکن اس کے جواب مکمل طور پر پہلے کے جوابات سے مختلف تھے۔عبیداللہ ابن ابی رافع نے اس کے بھی تمام جوابات کو لکھ لیا۔

اس سے بھی تمام سوالات پوچھنے کے بعد حضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام   نے پھر بلند آواز میں تکبیر کہی کہ جسے تمام اہل مسجد نے سنا۔

پھر فرمایا کہ ان دونوں کو مسجد سے زندان میں لے جائو اور زندان کے دروازے پر رکھو۔


پھر تیسرے شخص کو بلایا اور پہلے والے دو افراد سے پوچھے گئے سوالات اس سے بھی پوچھے۔اس نے ان دونوں کے برخلاف جواب دیے۔اس کے جوابات کو بھی تحریر کرلیاگیا۔حضرت امیرالمؤمنین  نے تکبیر کی صدا بلند کی اور فرمایا کہ اسے بھی اس کے دونوں دوستوں کے پاس لے جائو۔پھر چوتھے فرد کو بلایا گیا۔

وہ بات کرتے وقت بہت مضطرب تھا اور اس کی زبان پر لکنت طاری ہورہی تھی۔

حضرت علی  علیہ السلام   نے اسے نصیحت فرمائی اور ڈرایا تو اس شخص نے اعتراف کرلیا کہ اس نے اور  اس کے دوستوں نے مل کر اس جوان کے باپ کو مال کی خاطر قتل کیا ہے اور اسے کوفہ کے نزدیک فلاں مقام پر دفن کیا ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علی  علیہ السلام   نے حکم دیا کہ اسے زندان کی طرف لے جائواور پھر پانچویں فرد کو بلایا اور اس سے فرمایا!کیا تم گمان کرتے ہو کہ وہ شخص خود ہی مر گیا،حالانکہ یقینا تم نے اسے قتل کیا ہے؟تم نے اس کے ساتھ جو کچھ کیا،وہ صحیح صحیح بتائو ورنہ تمہیں سخت قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی ہو ں گی۔

اس نے بھی اس شخص کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ۔جس طرح اس کے دوست نے اعتراف کیا تھا پھر بقیہ افراد کو بلایا گیاتو انہوں نے بھی قتل کا اعتراف کیا اور انہوں نے جو کچھ کیا،اس پر انہوں نے ندامت و پشیمانی کا اظہار کیا ۔پھر سب نے اس شخص کو قتل کرنے اور اس کا مال لینے کا اعتراف کیا۔

حضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام نے حکم دیا کہ کوئی ان کے ساتھ اس جگہ جائے،جہاں انہوں نے وہ مال دفن کیا ہوا ہے۔انہوں نے وہ مال لاکر مقتول کے فرزند کو دے دیا۔

پھرحضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام   نے اس جوان سے فرمایا!تمہارا ان کے بارے میں کیا ارادہ ہے؟ اب تمہیں معلوم ہے کہ انہوں نے تمہارے باپ کے ساتھ کیا کیا ؟


نوجوان نے کہا!میں چاہتا ہوں کہ میرے اور ان کے درمیان قضاوت خداوند متعال کے نزدیک ہو۔میں اس دنیا میںان کے خون سے ہاتھ اٹھا تا ہوں۔

حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام   نے ان پر قتل کی حد جاری نہ کی ۔لیکن انہیں سخت سزا دی۔

شریح نے حضرت امیرالمؤمنینعلیہ السلام سے کہا کہ آپ نے کس طرح یہ حکم صادر فرمایا؟

حضرت امیرالمؤمنین علی  علیہ السلام نے اس سے فرمایا:

حضرت دائود کچھ بچوں کے پاس  سے گزرے تھے کہ جو کھیل کود میں مصروف تھے۔ان بچوں نے ایک بچے کو '' مات الدین''کے نام سے آواز دی اور اس نے بھی دوسرے بچوں کو جواب دیا۔

دائود علیہ السلام اس بچے کے پاس گئے اور کہا کہ تمہارا نام کیا ہے؟

بچے نے کہا! میرا نام'' مات الدین''ہے۔

دائود علیہ السلام نے اس سے فرمایا کہ کس نے تمہارا یہ نام رکھا ہے؟

اس نے کہا کہ میری ماں نے۔

دائود علیہ السلام نے کہا تمہاری ماں کہاں ہے؟

اس نے کہا گھر میں۔

پھر دائود علیہ السلام نے کہا میرے ساتھ اپنی ماں کے پاس چلو۔جب دائود علیہ السلام بچے کے ساتھ گھر پہنچے تو بچے نے ماں کوبلایا۔

دائود علیہ السلام نے بچے کی ماں سے پوچھا ،اے کنیز ِ خدا تمہارے اس بچے کا کیا نام ہے؟


عورت نے کہا کہ اس کا نام ''مات الدین'' ہے۔

دائود علیہ السلام نے عورت سے کہا کہ اس کا یہ نام کس نے رکھا ہے؟

عورت نے جواب دیا کہ اس کے باپ نے۔

دائود علیہ السلام نے کہا کہ اس کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟

عورت نے کہا! وہ سفر کے لئے گھر سے نکلا اور اس کے ہمراہ کچھ لوگ تھے اور میں حاملہ تھی۔میرے شکم میں یہ بیٹا تھا۔وہ سب لوگ تو سفر سے واپس آگئے لیکن میرا شوہر واپس نہیں آیا۔میں نے ان سے اپنے شوہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ مرگیا ہے۔جب میں نے اس کے مال کے بارے میں پوچھا۔تو انہوں نے کہا کہ اس نے کوئی مال نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کہا کہ تمہارا شوہر کہہ رہا تھا کہ تم حاملہ ہو ۔چاہے بیٹا پیدا ہو یا بیٹی،اس کا نام '' مات الدین''  رکھنا ۔پس میں نے اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بیٹے کا نام ''مات الدین ''رکھ دیا۔

دائودعلیہ السلام نے کہاکہ کیا تم ان لوگوں کو جانتی ہو؟

عورت نے کہا ! جی ہاں۔

دائود علیہ السلام نے کہا ،ان کے گھر جائو اور انہیں  یہاں لے آئو۔

وہ دائود علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے تو دائود علیہ السلام نے ایسا فیصلہ کیا کہ جس سے ان پر مرد کا خون ثابت ہوگیا اور ان سے مال لے لیا۔پھر عورت سے فرمایا!اے کنیزِ خدا ،اپنے فرزند کا نام ''عاش الدین''   رکھو  ۔(1) اس رویات سے یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ شریح کا منکرین کی قسم پر تکیہ کرنا اشتباہ تھا۔ان کی جھوٹی قسم ناحق قضاوت کا سبب بنی۔

--------------

[1] ۔ بحارالانوار: ج40ص 259


حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام

عدلِ الہٰی کی حکومت کے زمانے میں قضاوت میں غیبی امداد بھی کارفرما ہوگی تاکہ کوئی جھوٹی قسم اور جھوٹے گواہوں کے ذریعے حقیقت کے چہرے کو مسخ کرکے کسی پر ظلم و ستم نہ کرے۔

اسی وجہ سے حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)  کو قضاوت میں کسی گواہ  اور قسم  کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ حضرت ولی عصرعلیہ السلام    بھی حضرت دائودعلیہ السلام    کی طرح اپنے علم کے مطابق عمل کریں گے۔

ہم اس بارے میں روایت نقل کرنے سے پہلے،حضرت دائودعلیہ السلام اور حضرت سلیمان  علیہ السلام      کے بارے میں  خدا کے پیغمبروں میں سے بعض ممتاز صفات کے مالک تھے جیسے حضرت دائود  اور حضرت سلیمان  علیہ السلام۔اس حقیقت کو قرآن نے بھی بیان فرمایا ہے۔اس بارے میں قرآن کی سورۂ نمل میں سے ایک نکتہ بیان کرنا چاہیں گے۔

ارشاد خداوندی ہے:

'' وَلَقَدْ آتَیْنَا دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ عِلْماً وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلَی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ '' (1)

اور ہم نے دائود اور سلیمان کو علم عطا کیا تو دونوں نے کہاکہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بہت سے بندوں پر فضیلت عطا کی ہے۔

--------------

[1] ۔ سورہ نمل، آیت:15


سورہ انبیاء میں ان دو پیغمبروں کے بارے میں ارشاد ہے:

'' وَکُلّاً آتَیْنَا حُکْماً وَعِلْما '' (1) اور ہم نے سب کوقوّت فیصلہ اور علم عطا کیاتھا۔

سورۂ ''ص'' میں حضرت دائود علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا ہے:

'' یَا دَاوُودُ اِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَةً فِیْ الْأَرْضِ فَاحْکُم بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ '' (2)

اے دائود ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنادیا ہے،لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔

حضرت دائود علیہ السلام  اور سلیمان علیہ السلام خدا کے فضل و عنایت سے ایسے واقعات سے آگاہ ہوتے تھے کہ جن کے بارے میں دوسروں کو علم نہیں ہوتا تھا۔لہٰذا ان کی حکومت و قضاوت میں کچھ خاص خصوصیات تھیں کہ جن کی وجہ سے انہیں قضاوت کرنے کے لئے گواہوں اور قسموں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔

  بحث روائی

بعض معتقد ہیں کہ حضرت دائودعلیہ السلام کا  بینہ و شاہد کے بغیر قضاوت کرنا ،صرف چندموارد میں واقع ہوا ہے۔ان روایات پرغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود  علیہ السلام کا حقیقت کے مطابق گواہوں  کے بغیر قضاوت کرنا صرف ایک مورد میں منحصر نہیں ہے۔کیونکہ لوگوں میں اختلاف کا باعث بننے والی ایک چیز نہیں تھی کہ جس میں انہوں نے حضرت دائود علیہ السلام کی طرف رجوع کیا۔اس مطلب کی وضاحت کے لئے ان روایات پرغور فرمائیں۔

--------------

[1]۔ سورہ انبیاء،آیت:79

[2]۔ سورہ ص، آیت: 26


امام صادق  علیہ السلام سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:

حضرت دائو د  علیہ السلام   نے خدا سے عرض کیا ۔خدایا!میرے نزدیک حق کو اس طرح سے نمایاں و آشکار کردے ،جیسے وہ تمہارے سامنے آشکار ہے تاکہ میں اس کے مطابق قضاوت کروں۔

خدا وندِ کریم نے ان پر وحی کی اور فرمایا کہ تم میں اس کام کی طاقت نہیں حضرت دائود علیہ السلام    نے پھر اس بارے میں اصرار کیا۔ایک مرد ان کے پاس مدد مانگنے آیا کہ جو دوسرے شخص کی شکایت کررہا تھا کہ اس شخص نے میرا مال لے لیا ہے۔

خدا وند نے حضرت دائود  علیہ السلام پر وحی کی کہ جو شخص مدد مانگنے آیا ہے ،اس نے دوسرے شخص کے باپ کو قتل کرکے اس کا مال لے لیا ہے۔

حضرت دائود  علیہ السلام نے مدد مانگنے ولاے شخص کو قتل کرنے اور اس کا مال دوسرے شخص کو دینے کا حکم دیا لوگ آپس میں اس حیرت انگیز واقعہ پر چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ حضرت دائود علیہ السلام کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے خدا سے چاہا کہ وہ ان سے امور کے حقائق کا علم  واپس لے لے۔خداوند کریم نے ایسا ہی کیا اور پھر وحی کی!

لوگوں میں بیّنہ اور گواہوں کے ذریعہ حکم کرو اور اس کے علاوہ انہیں میرے نام کی قسم کھانے کو کہو۔(1)

اس روایت کو علامہ مجلسی  محمد بن یحیٰی سے، اس نے احمدبن محمد سے،اس نے حسین بن سعید سے، اس نے فضالہ ابن ایوب سے ،اس نے ابان بن عثمان سے،اور ابان نے اس سے روایت کی ہے کہ جس نے اسے خبر دی ہے۔

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ابان بن عثمان نے روایت کی سند کو نا مکمل نقل کیا ہے۔علاوہ از این وہ خود بھی بعض بزرگان جیسے علامہ حلی کے نزدیک موردِ قبول نہیں ہے۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار :ج4ص 10،وسائل الشیعہ: ج18 ص 167


اس روایت میں موردِ اختلاف مال و ثروت بیان ہو اہے۔دوسری روایت میں جس شخص کے بارے میں شکایت کی جاتی ہے،وہ شکایت کرنے والے کے ادّعا کو قبول کرتا ہے۔شکایت کرنے والا معتقد ہوتا ہے کہ ایک جو ان،اس کی اجازت کے بغیر باغ میں داخل ہوا اور اس نے انگور کے درختوں کو خراب کیا۔جوان نے بھی یہ شکایت قبول کی ۔حضرت دائود  علیہ السلام    نے حکمِ واقع کی بناء پر جوان کے حق میں حکم کیا اور باغ جوان کی تحویل دے دیا۔

ایک دیگر روایت ہے کہ جس میں تصریح ہوئی ہے کہ حضرت دائودعلیہ السلام نے ایک بار بیّنہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقت کی بناء پر قضاوت کی۔ اختلاف ایک گائے کی مالکیت کے بارے میں تھا کہ طرفین میں سے ہر ایک نے اپنے لئے گواہ پیش کئے تھے۔

 قضاوتِ اہلبیت علیہم السلام اور حضرت دائود علیہ السلام

ہم نے کچھ روایات بیان کیں،جن میں حضرت دائود علیہ السلام  کی حکومت کا تذکرہ کیا گیا۔جو اس  بات کی دلیل ہے کہ حضرت دائودعلیہ السلام کی قضاوت میں بعض ایسی خصوصیات تھیں کہ جن میں سے ایک گواہوں سے بے نیازی تھی۔

یہ روایات کس طرح آئمہ اطہارعلیھم السلام   کی قضاوت کو بھی بیان کرتی ہیں۔

اس روایت توجہ کریں:

'' عن الساباطی قال، قلت لابی عبداللّٰه :بما تحکمون اذا حکمتم ؟ فقال: بحکم اللّٰه و حکم داؤد ،فاذا ورد علینا شء لیس عندنا تلقّانا به روح القدس؟ '' (1)

ساباطی کہتا ہے کہ میں نے امام صادق  علیہ السلام سےعرض کی!  قضاوت کرتے وقت آپ کس چیز سے حکم کرتے ہیں؟

--------------

[1]- بحارالانوار:  ج52 ص 56


حضرت امام صادق علیہ السلام  نے فرمایا!حکم خدا اور حکم دائود سے۔  جب بھی ہم تک کوئی ایسی چیز پہنچے کہ جس کے بارے میں ہمارے پاس کوئی چیز نہ ہو تو روح القدس اسے ہم پر القاء کرتے ہیں۔

اس روایت پر بھی غور فرمائیں:

'' عن جعید الهمدانی (و کان جعید ممن خرج الحسین  بکربلا قال:فقلت للحسین جعلت فداک: بای شء تحکمون؟ قال :یا جعید نحکم بحکم آل داؤد،فاذا عیینا عن شء تلقّانا به روح القدس؟ ''(1)

جعید ہمدانی (جو امام حسین  علیہ السلام  کے ساتھ کربلا گیا تھا) کہتا ہے کہ میں نے امام حسین  علیہ السلام سے عرض کیا! میں آپ قربان جائوں ،آپ کس چیز سے حکم کرتے ہیں؟حضرت امام حسین  علیہ السلام نے فرمایا!اے جعید ہم آل دائود کے حکم سے حکم کرتے ہیں،اور جب بھی کسی چیز سے رہ جائیں تو روح القدس اسے ہم پر القاء کردیتے ہیں۔

اس روایت کو مرحوم مجلسی نے جعید اور انہوں نے امام سجادعلیہ السلام سے نقل کیا ہے۔(2)

اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا لازم ہے کہ ایسے جوابات اہل مجلس کی ذہنی ظرفیت کے مطابق ہوتے ہیںورنہ روح القدس مکتب اہلبیت کا طفل مکتب ہے۔ جیسا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان ہے:

روح القدس نے ہاتھ نہ لگے ہو ئے ہمارے باغ سے علم سیکھا۔ (3)

--------------

[1] ۔۔ بحارالانوار:  ج52 ص 5۷

[2]۔بحارالانوار : ج25 ص 56

[3]۔بحار الانوار:ج26ص265


امام صادق علیہ السلام  سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے:

''عن حمران بن اعین قال:قلت لابی عبداللّه علیه السلام انبیاء  انتم؟قال:لا،قلت فقد حدّثنی من لا اتهم انک قلت :انکم انبیائ؟قال من هو ابو الخطاب؟قال :قلت:نعم قال:کنت اذا اهجر؟قال قلت بما تحکمون؟ قال نحکم بحکم آل داؤد؟ '' (1)

حمران ابن اعین کہتا ہے کہ :میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا:کیا آپ انبیاء ہیں؟ انہوں نے فرمایا !نہیں۔

میں نے کہا!جس کی طرف کوئی جھوٹ کی نسبت نہیں دیتا ،اس نے مجھ سے کہا ہے کہ آپ سب  انبیاء ہیں۔

امام  نے فرمایا!کون ہے،کیا وہ ابوالخطاب ہے؟

میں نے کہا ! جی ہاں۔

آنحضرت  نے فرمایا!اس بناء پر کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟

میں نے کہا !آپ کس چیز سے حکم کرتے ہیں؟

امام نے فرمایا!ہم حکمِ آل دائود سے فیصلہ کرتے ہیں۔

ایک روایت میں امام محمد باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں:

''انه اتهم زوجته بغیره فنقر رأسها و اراد ان یلا عنها عندی،فقال لها:بینی وبینک من یحکم بحکم داؤد و آل داؤد و یعرف منطق الطیر و لا یحتاج الی الشهودفاخبرته ان الذی ظنّ بها لم یکن کما ظنّ،فانصرفا علی صلح'' (2)

--------------

[1]۔بحارالانوار:ج25 ص320

[2]۔بحارالانوار :ج 46ص 256


اس نے اپنی زوجہ پر الزام لگایا  تھا کہ وہ کسی اور کے ساتھ بھی ملوث ہے۔پس وہ اس پرٹوٹ پڑا،وہ اسے میرے سامنے لعان کرنا چاہتا تھا۔اس کی زوجہ نے کہا!میرے اور تمہارے درمیان وہ فیصلہ کرے کہ جو حکم دائود اور آل دائود سے فیصلہ کرتا ہو جو پرندوں کی باتوں کو سمجھتا ہو اور جو کسی شاہد و گواہ کا محتاج نہ ہو۔پس میں نے اس سے کہا!تم اپنی زوجہ کے بارے میں جیسا سوچتے ہو ویسا نہیں ہے۔لہٰذا وہ دونوں صلح کے ساتھ واپس چلے گئے۔

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قضاوت کیلئے آئمہ اطہار  علیہم السلام بھی حضرت دائودعلیہ السلام  کی طرح دلیل و گواہ  کے محتاج نہیں تھے۔اس بناء پر ان تمام روایات سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ حضرت دائود  اپنے علم کی بنیاد پر عمل کرتے اور بینہ کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے۔کبھی آئمہ اطہار علیہم السلام  بھی ایسی ہی قضاوت کرتے تھے۔

حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) بھی اپنے علم کی بنیاد پر قضاوت فرمائیں گے اور انہیں بھی گواہوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔

امام مہدی علیہ السلام کے فیصلے

اب ہم امام عصرعلیہ السلام کی قضاوت پر دلالت کرنے والی روایت کو نقل کریں گے کہ قضاوت کے لئے امام عصرعلیہ السلام کودلیل  و گواہوںکی ضرورت نہیں ہوگی۔جس طرح حضرت دائودعلیہ السلام بھی گواہوں  کے محتاج نہیں ہوتے تھے۔اب اس روایت پر توجہ کریں۔

حسن بن ظریف نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو خط لکھا، جس میں اس نے امام عصرعلیہ السلام  کی  کیفیت قضاوت کے بارے میں سوال کیا اور کہتا ہے :


'' اختلج فی صدری مسألتان و اردتُ الکتاب بهما الی ابی محمد،کتبت اسأله عن القائم بمَ یقضی؟فجاء الجواب:سألت عن القائم ،اذا قام یقضی بین الناس بعلمه کقضاء داؤد،ولا یسأل البیّنة '' (1)

میرے سینے میں دو مسئلے پیدا ہوئے تو میں نے ارادہ کیا کہ دونوں مسئلے امام حسن عسکری   علیہ السلام کو لکھوں ، پس میں نے انہیں خط لکھا جس میں ان سے سوال کیا۔

قائم آل محمد  علیہ السلام کس چیز سے قضاوت کریں گے؟

امام  کی طرف سے جواب آیا ! تم نے قائم علیہ السلام   سے سوال کیا ۔جب وہ قیام کریں گے تو وہ لوگوں کے درمیان اپنے علم سے قضاوت کریں گے ۔ جس طرح دائود علیہ السلام   کی قضاوت کہ جو گواہ طلب نہیں کرتے تھے۔

امام صادق علیہ السلام نے ایک روایت میں ابو عبیدہ سے فرمایا:'' یاابا عبیده ؛ انه اذا قام قائم آل محمد ، حکم بحکم داؤد و سلیمان لایسأل الناس بیّنة '' (2) وسائل الشیعہ میں یہ روایت امام محمد باقرعلیہ السلام  سےنقل ہوئی ہےاے ابا عبیدہ ؛جب بھی قائم آل محمد قیام کریں گے تو وہ حکم دائود و سلیمان سے حکم کریں گے اور لوگوں سے گواہ طلب نہیں کریں گے۔ابان کہتا ہے کہ میں نے امام صادق علیہ السلام   سے سنا کہ انہوں نے فرمایا:'' لا یذهب الدنیا حتی یخرج رجل منّی یحکم بحکومة آل داؤد لا یسأل عن بیّنة،یعطی کل نفس حکمها '' (3)

--------------

[1]۔ بحارالانوار :ج 5ص264،ج52ص320،ج95ص31،مستدرک الوسائل :ج17 ص364 

[2] ۔ بحارالانوار :ج23 ص 86،ج26 ص177،ج52ص320،مستدرک الوسائل :ج17 ص 364

[3]۔ بحارالانوار : ج52 ص 320،وسائل الشیعہ :ج18 ص 168،مستدرک الوسائل :ج17 ص 364  


دنیا تب تک تمام نہیں ہوگی،جب تک ہم میں سے ایک مرد حکومت آل دائود کی مانند حکومت  نہ کر ے، وہ گواہ کا سوال نہیں کرے گا بلکہ ہر شخص پر واقعی حکم جاری ہوگا۔

یہ روایت ابان ابن تغلب سے یو ں بھی نقل ہوئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

''سیأتی فی مسجد کم ثلاث مأة و ثلاثة عشر رجلایعنی مسجد مکة.یعلم اهل مکة انه لم یلد(هم) آبائهم و لا اجدادهم،علیهم السیوف،مکتوب علی کل سیف کلمة تفتح الف کلمة،فیبعث اللّه تبارک و تعالی ریحاً فتنادی بکل وادِِ: هذا المهدی یقضی بقضائِ داؤد و سلیمان، لا یرید علیه بینة '' (1)

آپ کی مسجد (مسجد مکہ) میں تین سو تیرہ افراد آئیں گے کہ مکہ کے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ وہ اہل مکہ کے آباء و اجداد کی نسل سے نہیں ہیں۔ان پر کچھ تلواریں ہوں گی کہ ہر تلوار پر کلمہ لکھا ہوگا،جس سے ہزار کلمہ نکلیں گے۔خدا وند تبارک و تعالی کے حکم سے ایسی ہوا چلے گی کہ جو ہر وادی میں نداء دے گی! یہ مہدی  علیہ السلام ہیں ، جو دائودعلیہ السلام   اور سلیمان  علیہ السلام کی قضاوت سے قضاوت کریں گے اور بیّنہ و گواہوں کوطلب نہیں کریں گے۔

اسی طرح حریز کہتا ہے کہ میں نے امام صادق  علیہ السلام   سے سنا کہ انہوں نے فرمایا:

'' لن تذهب الدنیا حتی یخرج رجل منا اهل البیت یحکم بحکم داؤد و آل داؤد ؛لا یسأل الناس بیّنة ''  (2)

دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی کہ جب تک ہم اہلبیت  علیہم السلام میں سے ایک مرد خروج نہ کرے گا ،وہ حکم دائود و آل دائود سے حکم کرے گا اور وہ لوگوں سے گواہ طلب نہیں کرے گا۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار: ج52 ص286  اور 369

[2]۔ بحارالانوار:  ج52 ص 319


عبداللہ ابن عجلان نے روایت کی ہے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) جو نہ صرف مقامِ حکومت   میں گواہوں کی ضرورت نہیں ہوگی ،بلکہ وہ دیگر پنہاں و مخفی امور سے آگاہ ہوں گے وہ ہر قوم کو ان کے دل میں پوشیدہ بات کی خبر دیں گے۔

امام صادق  علیہ السلام فرماتے ہیں:

'' اذا قام قائم آل محمد حکم بین الناس بحکم دائود لا یحتاج الی بیّنة یلهمه اللّٰه تعالی فیحکم بعلمه،و یخبر کلّ قوم بما استبطنوه،و یعرف ولیّه من عدوّه باالتّوسم قال اللّه سبحانه'' اِنّ فِیْ ذَلِکَ لآیَةً لِّلْمتَُوَسِّمِیْن،وَِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقیْم''  (1]،[2)

جب قائم آل محمدعلیہ السلام قیام کریں گے تو وہ حکم دائود سے لوگوں کے درمیان  حکومت کریں گے  انہیںگواہوں کی ضرورت نہ  ہوگی۔خداوند کریم ان پر الہام کرے گا اور وہ اپنے علم سے فیصلہ کریں گے ۔ہر قوم نے اپنے دل میں جو کچھ چھپایا ہو وہ اسے اس کی خبر دیں گے۔وہ دوست اور دشمن کو دیکھ کر ہی پہچان جائیں گے۔

خدا وند عالم فرماتا ہے:

ان باتوں میں صاحبانِ بصیرت کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں اور یہ بستی ایک مستقل چلنے والے راستہ پر ہے۔

ہم جو دوسری روایت نقل کرنے لگے ہیں کہ جس میں صراحت سے بیان ہوا ہے کہ حضرت مہدی  علیہ السلام  قضاوت دائود سے حکومت کریںگے۔لیکن اس میں گواہوں کی ضرورت ہونے یا نہ ہونے  کا  ذکر نہیں ہے۔

--------------

[1]۔ سورہ حجر: آیت:75، 76

[2]۔ بحارالانوار :ج52 ص 339


پیغمبر اکرم  (ص) فرماتے ہ یں:'' و یخرج اللّه من صلب الحسن قائمنا اهل البیت علیهم السلام یملا ها قسطاًوعدلاً کما ملئت جوراً و ظلماًله هیبة موسی و حکم داؤد و بهاء عیسی،ثمّ تلا: '' ذُرِّیَّةً بَعْضُهَا مِن بَعْضٍ وَاللّهُ سَمِیْع عَلِیْم '' (1)،(2)

خداوند عالم حسن علیہ السلام    کے صلب سے ہم اہلبیت علیھم السلام کے قائم کو خارج کرے گا ،جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا،جس طرح وہ ظلم وجور سے پر ہوچکی ہوگی۔وہ ہیبت موسیٰ،حکم دائود اور بہاء عیسیٰ کا مالک ہوگا۔پھر رسول اکرم  (ص)نے اس آ یت کی تلاوت فرمائی:یہ ایک نسل ہے جس میں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور اللہ سب کو سننے اور جاننے والا ہے۔

ہم ایک اور روایت نقل کرتے ہیں۔لیکن اس میں حضرت دائود علیہ السلام   کی کیفیت ِ قضاوت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔لیکن اس میں تصریح ہوئی ہے کہ امام عصر  علیہ السلام  اپنی قضاوت کے دوران گواہ کے بارے میں سوال نہیں کریں گے۔

امام صادق علیہ السلام  فرماتے ہیں:''دمان فی الاسلام حلال من اللّه عزوجل لا یقضی فیهما احد بحکم اللّه حتی یبعث اللّه عزوجل القائم من اهل البیت علیهم السلام،فیحکم فیهما ، بحکم اللّه عزوجل لا یرید علی ذالک بیّنة  الزانی المحصن یرجمه و مانع الزکاة یضرب رقبته '' (3) اسلام میں خدا کی طرف سے دو خون مباح ہیں۔ان میں کوئی ایک بھی حکم الہٰی سے فیصلہ نہیں کرتا،یہاں تک کہ خدا وند عالم ہم اہلبیت علیہم السلام میں قائم کو بھیجے گا ۔وہ ان دو خون میں حکم الہٰی سے فیصلہ کرے گا اور وہ اس کام کے لئے گواہ طلب نہیں کرے گا۔

--------------

[1]۔ سورہ آل عمران،آیت: 34

[2]۔ بحارالانوار :ج36 ص 313

[3]۔ کمال الدین: 671


1 ۔ وہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کرے گا

2 ۔ جو زکات نہ دے وہ اس ک ی گردن مار دے گا۔

ہم نے جو روایت ذکر کی،وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حضرت  مہدی علیہ السلام قضاوت کے دوران دلیل اور گواہ کے محتاج نہیں ہوںگے اور وہ اپنے علم کے مطابق عمل کریں گے۔جیساکہ حضرت  قضاوت میں گواہ طلب نہیں کرتے تھے۔

مرحوم علامہ مجلسی بھی اسی عقیدہ کو قبول کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

روایت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب حضرت قائم  علیہ السلام    ظہور فرمائیں گے تو وہ واقعیت کے مطابق اپنے علم کے ذریعے فیصلہ کریں گے نہ کہ گواہوں کے ذریعہ۔لیکن دوسرے آئمہ اطہار   علیہم السلام ظاہر سے فیصلہ کرتے تھے اور کبھی وہ اس کے باطن کو کسی وسیلہ کے ذریعے بیان کرتے۔جیسا کہ حضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام     نے بہت سے موارد میں یہ کام انجام دیا ہے۔

شیخ مفید  کتاب ''المسائل''میںفرماتے ہیں کہ امام  اپنے علم سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔جس طرح وہ گواہوں کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں۔لیکن جب انہیں معلوم ہو کہ گواہی واقعیت و حقیقت کے خلاف ہے تو وہ گواہ کی گواہی کے باطل ہونے کا حکم کرتے ہیں اور خدا وند ِ متعال کے دیئے ہوئے علم کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں۔(1)

--------------

[1]۔ بحارالانوار :ج 26ص177


  زمانِ ظہور میں امام عصر علیہ السلام کے قاضیوں کے فیصلے

دنیا میں عدالت کا رواج اور ظلم وستم کا خاتمہ صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب ظہور کے پر نور زمانے میں قاضیوں کی قضاوت بھی حقیقت اور واقعیت کی بناء پر ہو نہ کہ ظاہر کی بناء پر ۔یہ اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب حقیقت و واقعیت کو درک کرنے کے لئے قاضیوں کے پاس دلیل و گواہ  کے علاوہ اور راستہ بھی ہو۔

روایات سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)   کی حکومت میں نہ صرف امام زمانہ علیہ السلام کو گواہوں اور دلائل کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ان کی طرف سے بنائے گئے اور معین قاضیوں کو بھی غیبی امداد حاصل ہوگی۔وہ بھی دلیل و گواہ سے بڑھ کر دوسرے امور سے سرشار ہوںگے۔جو کبھی بھی جھوٹی قسم اور جھوٹے گواہوں  کی چال بازیوں اور مکاریوںمیں گرفتار نہیں ہوں گے۔کیونکہ وہ پوری دنیا میں عدل و انصاف کے قیام  اور ظلم و جور کا قلع قمع کرنے پر مأمور ہوں گے۔

روایات میں اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے کہ ظہور کے درخشاں زمانے میں قاضیوںکی کیفیت قضاوت کیا ہوگی؟اس بارے میں امام صادق  علیہ السلام  فرماتے ہیں:'' اذا قام القائم بعث فی اقالیم الارض فی کل اقلیم رجلاً،یقول:  عهدک فی کفک، فاذا ورد علیک امر لا تفهمه ولا تعرف القضاء فیه فانظر الی کفّک واعمل بما فیهما '''' قال!و یبعث جندا الی القسطنطینیّة، فاذا بلغوا الخلیج کتبوا علی اقدامهم شیئاً ومشوا علی الماء فاذا نظر الیهم الرّوم یمشون علی الماء قال: هؤلاء اصحابه یمشون علی الماء فکیف هو؟فعند ذلک یفتحون لهم ابواب المدینة فیدخلونها، فیحکمون فیها مایشاؤون''  (1)

جس زمانے میں قائم قیام کریں گے تو زمین کے ہر خطے میں ایک مرد بھیجیں گے اور اس سے فرمائیں گے کہ تمہارا عہد و پیمان  (یعنی جو تمہارا وظیفہ ہے اسے انجام دو)تمہارے ہاتھ کی ہتھیلیوں میں ہے۔

--------------

[1]۔ الغیبة مرحوم نعمانی : 319


پس جب بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آئے کہ جسے تم نہ سمجھ سکو کہ اس کے بارے میں کس طرح قضاوت و فیصلہ کرو تو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھو اور جو کچھ اس میں موجود ہو،اس کی بناء پر فیصلہ کرو۔

امام صادق  علیہ السلام فرماتے ہیں:

وہ اپنی فوج کے ایک لشکر کو قسطنطینیہ کی طرف بھیجیں گے ۔جب وہ خلیج میں پہنچے گے تو ان کے پائوں پر کچھ لکھا جائے گا ۔جس کی وجہ سے وہ پانی پر چلتے ہوئے دیکھیں گے تو کہیں گے۔یہ پانی پر چلنے والے اس کے یاور و انصار ہیں تو پھر وہ کس طرح ہوگا؟

پھر ان کے لئے شہر کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور شہر میں داخل ہوجائیں گے اور وہاں وہ جس چیز کا چاہیں ،حکم کریں گے۔

اگر چہ بعض مؤلفین اس روایت میں ایک دوسرے معنی کا بھی احتمال دیتے ہیں کہ جو ظاہر روایت کے خلاف ہے۔کیونکہ ظاہر ِ روایت یہ ہے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) جس شخص کو دنیا کے کسی خطے میں قضاوت کے لئے بھیجیں گے ،اسے غیبی امداد بھی حاصل ہوگی۔اس کے علاوہ امام زمانہ  علیہ السلام کی فوج میں شامل ہر سپاہی میں  بھی ایسی خصوصیات ہوں گی۔ جیسا کہ روایت کے آخر میں اس کی وضاحت ہوئی ہے کہ وہ کسی ظاہری وسیلہ کے بغیر پائوں پر کچھ لکھنے سے پانی پر چلیں گے۔

اس بیان کے رو سے ہم کیوں غیبی امداد کی موبائل جیسی چیز سے توجیہ کریں۔

قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ روایت میں  بیان ہوا  ہے کہ ظہور کے درخشاں زمانے میں قاضیوں کو غیبی امداد حاصل ہوگی ۔اسی طرح وہ اپنے علم و فہم کے ذریعہ  دوسروں کے فہم و بصیرت سے بھی فائدہ حا صل کریں گے۔

 امام محمد باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں:


'' ثم یرجع الی الکوفة فیبعث الثلاث مأئة والبضعة عشر رجلاً الی الآفاق کلها فیمسح بین اکتافهم و علی صدورهم ،فلا یتعایون فی قضاء....'' (2) پھر کوفہ لوٹ جائیں گے اور تین سو تیرہ افراد کو آفاق کی طرف بھیج دیں گے۔وہ ان کے کندھوں  اور سینوں پر ہاتھ پھیریں گے کہ جس کی وجہ سے وہ فیصلہ کرنے میں غلطیاں نہیں کریں  گے۔اس روایت سے کچھ نکات حاصل ہوتے   ہیں:

1 ۔امام عصر علیہ السلام کے تین سو تیرہ افراد دنیا کے حاکم ہوں گے اور دنیا کے تمام خطے حضرت امام مہدی  علیہ السلام   کے یا ور و انصار کے ہاتھ میں ہوں گے۔

2۔ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) (جو ید اللہ ہیں)ان کے سینوں اور کندھوں پر ہاتھ پھیریں گے ۔ جس  کی وجہ سے انہیں غیبی امداد حاصل ہوگی اور وہ کبھی بھی قضاوت اور حق کا حکم صادر کرنے میں عاجز وکمزور نہیں ہوں گے۔

3۔دنیا کے مختلف خطوں میں بھیجے جانے والے تین سو تیرہ افراد مرد ہوں گے۔جیسا کہ اس روایت میں بھی اس کی وضاحت ہوئی ہے ۔(3)

--------------

[2]۔ بحارالانوار:ج52 ص345

[3]۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ اما م  کے اصحاب و انصار میں مرد اور خواتین کی مجموعی تعداد تین سو تیرہ ہوگی۔لیکن یہ نطریہ صحیح نہیں ہے۔کیونکہ اصحاب ِ و یاورانِ امام مہدیمیں چند عورتیں بھی ہوں گی لیکن وہ ان تین سو تیرہ افراد میں سے نہیں ہوںگی کہ جو دنیا میں عدلِ الہٰی کی حکومت کو قائم کرنے کے لئے دنیا کے مختلف حصوں میں بھیجے جائیں گے۔ اس نظریہ کی وجہ یہ ہے کہ تین سو تیرہ افراد کے بارے میں وارد ہونے والی اکثر روایات لفظ''رجلاً'' سے تعبیر نہیں ہوئیں۔لیکن دوسری روایات پر توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تین سو تیرہ افراد سب مرد ہوں گے۔اگرچہ معنوی شان و مرتبت کے لحاظ سے کچھ خواتین بھی ان تین سو تیرہ افرادکی طرح ہوں گی۔


بحث کے اہم نکات

اب چند نکات پرتوجہ کریں ۔

1 ۔ متعدد  روایات میں تصریح ہوئی ہے کہ امام عصر  کو قضاوت کرنے کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔

2 ۔ بعض دوسر ی روایات کے ظاہر سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو گواہوں کی ضرورت ہو گی۔

لیکن ان روایات میں دوسری روایات سے تعارض کی توانائی نہیں ہے۔

3 ۔ اگر فرض کر یں کہ یہ روایات دوسری روایات کے متعارض ہیں تو پھر روایات کے مابین   طریقہ جمع سے استفادہ کرنا ہوگا جس میں  مخالف روایات کو حکومت ِ امام زمانہ  کے ابتدائی دور پر  حمل کرسکتے کہ جب حکومت پوری طرح مستقر نہ ہوئی ہو۔کیونکہ حکومت کے استقرار کے بعد روئے زمین پر امام عصرعلیہ السلام کے یاور و انصار میں تین سو تیرہ افراد کو غیبی امداد حاصل ہوگی۔جس کی وجہ سے وہ جھوٹے گواہوں کی گواہی سے غلطی میں مبتلانہیں ہوں  گے اور دوسری قسم کی روایات کو امام کی مستقر حکومت سے منسلک کر سکتے ہیں۔

4۔ جن کا یہ کہنا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام  نے فقط ایک بارحقیقت کی بناء پر قضاوت کی،ہم ان سے کہیں گے کہ :کیا یہ معقول ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام  نے فقط ایک بار واقع کی بناء پر قضاوت کی ہو اور ان کی قضاوت اتنی مشہور ہوجائے؟

5۔اگر فرض کریں کہ حضرت دائود علیہ السلام  نے ایک ہی بار علمِ واقعی کے مطابق عمل کیا اور ان کی قضاوت اس قدر شہرت کی حاملبنگئی،تو اما م مہدی  علیہ السلام  کی قضاوت کو حضرت دائودعلیہ السلام  کی قضاوت سے تشبیہ دینا ،فقط اسی قضاوت کی وجہ سے ہے کہ جو مشہور ہوگئی۔


6 ۔ اگر ہم یہ قبول بھی کرلیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام  نے ایک بار اپنے علم واقعی کے مطابق قضاوت کی تو پھر ان روایات کا کیا جواب دیں گے کہ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام  اور آل دائودگواہ کا سوال کئے بغیر قضاوت کرتے تھے۔

7۔ جیسا کہ ہم نے رسول اکرم(ص)کے فرمان سے نقل کیا کہ گواہوں  کی بنیاد پر قضاوت کا خلافِ واقع ہونا ممکن ہے کہ جو ایک قسم کا ظلم ہے۔اگر ایسا ہو تو پھر یہ کس طرح حضرت مہدی  علیہ السلام   کی حکومت سے سازگار ہوسکتا ہے؟

8۔ ان سب کے علاوہ بھی اس روایت کے مطابق کہ جس میں حضرت دائودعلیہ السلام   نے خدا سے گواہی کی بنیاد پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا،اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پیروکار حکم واقعی کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھے۔لیکن ظہور امام زمانہ علیہ السلام کے وقت لوگوں کی عقلی اعتبار سے تکامل کی منزل پر فائز ہوں گی۔لہٰذا اس وقت واقع کے مطابق قضاوت سے دستبردارہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔


 تیسراباب

اقتصادی ترقی

    ظہور کے زمانے میں اقتصادی ترقی

    کنٹرول کی قدرت

    دنیا میں ،800 مل ین سے زائد بھوکے

    نعمتوں سے سرشار دنیا

    زمانۂ ظہور میں برکت

    دنیا کے روشن مستقبل کے بارے میں رسول اکرم(ص)ک ی بشارت

    دنیا میں خوشیاں ہی خوشیاں

    شرمساری


 ظہور کے زمانے میں اقتصادی ترقی

ظہور کے زمانے میں اقتصادی ترقی و پیشرفت کو بیان کرنے سے پہلے غربت اور تنگدستی کے بارے میں ایک اہم نکتہ بیان کرتے ہیں کہ جو اقتصادی نظام کی ناکامی کی دلیل ہے۔ غیبت  کے زمانے میں پوری دنیا میں بہت سے جرائم مالی پریشانی، غربت اور اقتصادی فقر کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں اور آئندہ بھی رونما ہوتے رہیں گے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو قتل و غارت ،خونریزی،چوری اور راہزنی کے بہت سے واقعات کی بنیاد ہے۔

جو اپنے عقیدے کے مطابق قتل،خونریزی،چوری اور دوسرے جرائم کے خلاف مبارزہ آرائی کررہے ہیں اور معاشرے کوان جرائم سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔انہیں ان جرائم کے علل و اسباب (جس میں سے ایک مہم علت غربت اور فقر ہے) کو ختم کرنا چاہیئے تاکہ معاشرے میں کسی حد تک جرائم کو ختم کیا جاسکے۔

جرائم کے وقوع کادوسرا اہم سبب زیادہ مال کی ہوس اور لالچ ہے۔پہلے سبب کی بنسبت یہ دوسرا سبب زیادہ اہم ہے۔کیونکہ اگر کوئی فقیر اور غریب غربت کی وجہ سے کسی گھر میں چوری کرتا ہے یا کسی کو قتل کرتا ہے تو قدرت مند اور حریص مال و دولت میں اضافے کی غرض سے معاشرے کو غارت کرتا ہے اور قوم و ملت کا خون بہاتا ہے۔

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ جس طرح امیر، ثروتمند اور صاحبِ قدرت شخص کے پاس فقیر وضعیف انسان کی بنسبت خدمت کے زیادہ وسائل ہوتے ہیں ۔اسی طرح اس کے پاس خیانت کے وسائل بھی فقیر و محتاج سے زیادہ ہوتے ہیں۔

اس بنا پر غریبوں اور ضرورتمندوں کی غربت اور اس سے بڑھ کر دولت مندوں اور قدرت مندوں کے مال و دولت میں اضافے کی خواہش غیبت  کے زمانے میں جرائم کے رونما ہونے کی دو اہم وجوہات ہیں۔


ظہور کے پر نور زمانے میں نہ صرف یہ دو عامل بلکہ جنایت و خیانت اور جرائم کے تمام عوامل نابود ہوجائیں گے اور نجات و سعادت کے عوامل فساد و تباہی کے عوامل کی جگہ لے لیں گے۔

قدرتمندوں اور دولت مندوں کی ایک اہم ذمہ داری فقیر اور ضعیف افراد کی مدد کرنا ہے تاکہ ان کے اقتصادی فقر کا جبران ہوسکے اور خود ان کی سرکشی اور ظلم کے لئے بھی مانع ہو جس کے نتیجہ میں تباہی اور فساد کے دو اہم عوامل برطرف ہوجائیں گے۔لیکن افسوس کہ ہم یہ اہم ترین ذمہ داری بہت سسی دوسری ذمہ داریوں کی طرح بھول چکے ہیں۔لیکن ظہور کے درخشاں زمانے میں اگر کوئی شخص کسی کی دستگیری اور مدد کرنا چاہے تو اسے ڈھونڈنے سے بھی کوئی فقیر نہیں ملے گا۔

ہم نے جو قابل توجہ نکتہ ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا میں جرائم کے عوامل میں سے فقر سے بڑا عامل ثروتمندوں اور قدرتمندوں کی اپنے مال میں اضافہ کی حرص و طمع ہے۔

کیونکہ مال دار افراد مال کو بڑھانے اور قدرت مند اپنی قوّت و طاقت کو بڑھانے کے لئے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔

حقیقت میں دوسرا سبب ،پہلے سے زیادہ وسیع ہے اور یہ پہلے سبب کے ساتھ شریک بھی ہے۔کیونکہ معاشرے میں فقر کے اہم اسباب میں ایک سبب ایسے صاحبِ ثروت افراد ہیں کہ جو اپنے سرمائے کو زیادہ کرنے کے لئے انتہائی پست قسم کے حربے آزماتے ہیں۔ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں بے تہاشا اضافہ فقر و تنگدستی کا باعث بنتے ہیں۔خاندانِ وحی و عصمت و طہارت علیھم السلام کے کلمات میں بھی اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔

اس امر پر بھی توجہ کریں کہ زمین کا کاروبار کرنے والے خود تو بنگلوں اور محلوں میں زندگی گزارتے ہیں  اور ہزاروں ایکڑاراضی پر قبضہ کرکے زمین کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔جس کے نتیجے میں ضرورتمند زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا خریدنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔


اس بناپر بہت سے دولت مند اموال کو ذخیرہ کرکے نہ صرف فقر ایجاد کرتے ہیں بلکہ فقر میں اضافہ کا باعث بھی بنتے ہیں،جو بعض ضرورت مند افراد کے لئے جرم و فساد کے ارتکاب کا مقدمہ بنتا ہے۔اسی طرح مال میں اضافے کی خواہش ،اور ہوس ان کے ارتکاب جرم اور شرعی و عقلی اخلاقیات کو ترک کرنے کا بھی باعث ہے۔اب اس واقعہ پر توجہ کریں:

''خان مرد''تہران کے امیر ترین افراد میں سے تھا۔جس نے شہر میں مسجد و مدرسہ بھی تعمیر کروایا۔جو اب تک اسی کے نام سے مشہور ہے۔کہتے ہیں کہ خان مرد کے پرانے دوستوں میں  سے ایک ہر روز اس کے گھر کے سامنے لگے ہوئے چنا رکے درخت کے ساتھ کھڑا خان کے گھر سے نکلنے کا انتظار کرتا کہ شاید گھر سے نکلتے وقت وہ اس کی طرف دیکھے اور اس پر کچھ لطف و مہربانی کرے۔لیکن خان نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔جب خان اپنے منصب سے معزول ہوکر خانہ نشین ہوگیا تو اس کا یہ دوست اس سے ملاقات کرنے گیا۔

خان نے اس سے گلہ و شکوہ کیا کہ تم نے مجھے اتنی مدت تک یاد ہی نہیں کیا اور تم مجھ سے ملنے نہیں آئے۔اس شخص نے ہردن اس کے گھر کے سامنے آنے کا واقعہ بیان کیا تو خان نے کہا!میں اس وقت اپنے گھر کے سامنے لگے ہوئے چنار کے درخت کو نہیں دیکھتا تھا تو پھر تمہیں کیسے دیکھتا کہ جو اس درخت کے نیچے کھڑے ہوتے تھے۔(1)

جی ہاں ! امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ایسے بہت سے ثروتمند ہیں کہ جو دائرہ انسانیت سے ہی نکل چکے ہیں۔جو شرعی و عقلی اخلاقیات  کے ذریعہ بھی اپنے سرکشی و گمراہی کو کنٹرول نہیں کرسکے۔

--------------

[1] ۔ دوازدہ ہزار مثل فارسی : 432


اس نکتے کو مد نظر رکھتے ہوئے اب یہ سوال پید اہوتا ہے کہ ظہور کے زمانے میں بے تحاشا دولت کس طرح سے ان کی سرکشی و گمراہی کا باعث نہیں بنے گی ۔ حالانکہ اس وقت دنیا بھر کے تمام افراد بے نیاز اور صاحبِ ثروت ہوں  گے؟

یعنی اگر یہ تمام منحوس اور برے آثار زیادہ دولت کی وجہ سے ہیں تو پھر ظہور کے زمانے میں لوگ کیوں اتنے سرمائے اور دولت کے مالک ہوں گے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ حلال طریقے سے حاصل ہونے والی ثروت میں کبھی بھی نحوست اور منفی اثرات نہیں ہوتے۔بلکہ ممکن ہے کہ وہ خیرات کا وسیلہ ہو۔لیکن یہ دولتمند اپنی دولت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اگردولت خود بری ہوتی تو پھر سب دولتمند وں کو ایسا ہونا چاہیئے تھا ۔حالانکہ ایسا نہیں ہے۔بلکہ بعض ثروتمند افراد نے معاشرے کی قابل قدر خدمت کی ہے۔ جنہوں نے بہت سے مستضعف اور غریب افراد کی مدد کی ہے۔خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام کے فرامین میں ایسے افراد کی مدح کی گئی ہے(اگرچہ دورِ حاضر میں ایسے افراد بہت کم ہیں)اور یہ ایسے ثروتمندوں کی کم عقلی کی دلیل ہے کہ جو ہمیشہ اپنی دولت میں اضافہ اور اپنے ورثاء کے لئے مال و دولت چھوڑ جانے کی فکر میں رہتے  ہیں۔ورنہ خود مال و دولت ایسا  ذریعہ ہے کہ جس سے انسان دشمن کو بھی اپنے قریب لاسکتا ہے اور بے گناہ افراد کا خون بھی بہا سکتا ہے۔

علاوہ ازاین !ظہور کے پر نور زمانے میں انسان معنوی تکامل اور فکری و عقلی رشد اور سعادت کی وجہ سے ہلاکت و گمراہی سے محفوظ رہیں گے۔

اس مبارک اور پر نور زمانے میں مال و دولت کی کثرت ہوگی۔لیکن اسے ذخیرہ کرنے اور اس میں اضافے کی خواہش نہیں ہوگی ۔اس وقت مال و دولت،سرمایہ اور کثیر نعمتیں ہوں گی۔لیکن ہلاکت اور گمراہی اور دین کی حدود کی پامالی نہیں ہوگی۔


اس زمانے میں دنیا میں موجود تمام دولت (چاہے وہ زمین کے اندر چھپی ہوئی ہویا روئے زمین  پر) آنحضرت کے پاس جمع ہوگی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین کے سینے میں قیمتی پتھر،سونے چاندی اور دوسری بہت سی قیمتی اشیاء کے خزانے پوشیدہ ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین نے اپنے اندر سونے کے پہاڑ چھپا رکھے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ قدیم بادشاہ اور دولت مند حضرات اپنا بیش بہا سرمایہ زمین میں چھپاتے تھے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ زلزلوں کی وجہ سے بہت بڑا سرمایہ زمین کیسینہ میں پنہاں ہے؟

ظہور کا زمانہ ، مخفی و پنہاں امور کے آشکار ہونے اور آگاہی کا زمانہ ہے۔ اس وقت زمین میں مخفی ثروت و سرمایہ آشکار ہوجائے گا ،جس سے ظہور  کے زمانے کے افراد استفادہ کریں گے۔

  کنٹرول کی قدرت

ہم نے جو کچھ ذکر کیا ،خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام   میں اس کی تصریح ہوئی ہے۔ ہماری اس بات کی شاہد حضرت باقرالعلوم  علیہ السلام  کی یہ روایت ہے:

'' یقاتلون واللّه حتی یوحّد اللّه ولا یشرک به شء و حتی یخرج العجوز الضعیفة من المشرق تریدالمغرب ولا ینهاها احد و یخرج اللّه من الارض بذرها،  وینزل من السّماء قطرها،و یخرج الناس خراجهم علی رقابهم الی المهدی ویوسع اللّه  علی شیعتنا و لو لا ما یدرکهم من السعادة لبغوا ''  (1)

--------------

[1]۔ بحارالانوار :ج 25ص345


خد اکی قسم وہ جنگ کریں گے حتی کہ سب خدا کو یک و یکتا سمجھیں، اورکسی چیز کو اس کا شریک نہ جانیں ۔ حتی کہ ایک کمزور بوڑھی عورت مشرق سے مغرب کے قصد سے نکلے اور کوئی اسے اس کام سے نہ روکے۔

خدا وند زمین سے بیج کو خارج کرے گا اور آسمان سے بارش برسائے گا۔لوگ اپنے مال سے خراج نکال کر حضرت مہدی  علیہ السلام طرف لے کر جائیں گے ۔خدا ہمارے شیعوں میں اضافہ کرے گا ۔ اگر انہیں یہ سعادت حاصل نہ ہوتی تو وہ یقیناگمراہی و ہلاکت میں مبتلا ہوجاتے۔

جس طرح ثروت و فقر انسان کی سعادت کا سبب واقع ہوسکتے ہیں اسی طرح یہ ظلم و خیانت کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔یعنی فقر اور مال دونوں جرائم کی زیادتی میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔جیسا کہ یہ دونوں انسان کی سعادت کا وسیلہ بھی بن سکتے ہیں۔

مال میں اضافہ کی طمع و حرص سے بھی جرائم وجود میں آتے ہیںاور اس کی اہم وجہ غیبت  کے زمانے میں طمع و حرص کو کنٹرول کرنے کی قدرت کا نہ ہونا ہے۔

معاشرے کا مقام ِ ولایت سے آشنانہ ہونا اور انسان کا خاندانِ وحی علیہم السلام کے عظیم مرتبہ کی طرف توجہ نہ کرنا،اس سے سعادت کے چھن جانے کا باعث بنتا ہے۔ جو اسے مقامِ ولایت سے دور کردیتا ہے جو کہ قدرت و طاقت کو کنٹرول کرنے والا ہے۔

لیکن ظہور کے پر نور اورمبارک زمانے میں بشریت ولایت کی پناہ میں ہوگی اور پوری دنیا کے لوگوں کے سروں پر رحمت الہٰی کا سایہ ہوگا ۔جو انہیں حضرت مہدی  علیہ السلام کی الوہی ولایت کی قدرت سے محفوظ وکنٹرول کرے گا ۔اسی عظیم سعادت کی وجہ سے ظہور کے پر مسرّت زمانہ میں لوگوں کے مال میں چاہے کتنا بھی اضافہ ہوجائے، مگر وہ ان کی گمراہی و سرکشی کا باعث نہیں بنے گا۔


جی ہاں!دنیا کے تمام لوگوں پر قدرت ِ ولایت کا سایہ ہونے کی وجہ سے وہ تمام قوّت وطاقت،قدرت و توان اور تمام امکانات و وسائل کواس کے زیر سایہ قرار دے کر خود کو کنٹرول کریں گے اور ظلم و زیادتی اورگمراہی و ضلالت سے دوررہیں گے۔

یہ وہی سعادت و خوش بختی ہے جس کی امام  باقر علیہ السلام نے روایت کے آخر میں  تصریح فرمائی ہے:

''و لو لا ما یدرکهم من السعادة لبغوا ''

زمانۂ ظہورکی خصوصیات میں سے ایک سب کے لئے کنٹرول کا ہونا ہے ۔ عصرِ ظہور میں مال و ثروت، قدرت  وطاقت جتنی بھی زیادہ ہوجائے پھر بھی سب کو ظہورِ ولایت کی وجہ سے سعادت و نیک بختی حاصل ہوگی ۔ سب میں حرص وطمع کو کنٹرول کرنے کی قدرت ہوگی ۔کیونکہ نعمتوں سے سرشار زندگی کے ساتھساتھ عقلی تکامل بھی ہوگا۔

اب امام صادق علیہ السلام  کی اس بہترین روایت پر توجہ کرتے ہیں۔

''  تواصلوا تبارّوا و تراحموا، فوالذی فلق الحبّة و برأ النسمة لیاتینّ علیکم وقت لا یجد احدکم لدیناره و درهمه موضعاً، یعنی لا یجد عند ظهورالقائم موضعاً یصرفه فیه لاستغناء الناس جمیعاً بفضل اللّه و فضل ولیه ''

فقلت:و انّی یکون ذالک؟

'' فقال:عند فقدکم امامکم فلا تزالون کذالک حتی یطلع علیکم کما تطلع الشمس،آیس ما تکونون،فایّاکم والشک والارتیاب،وانفوا عن انفسکم الشکوک و قد حذّرتکم فاحذروا، اسأل اللّه و ارشادکم ''(2)

--------------

[2]۔ الغیبةمرحوم نعمانی : 150


ایک دوسرے کے ساتھ مرتبط رہو اور آپس میں نیکی اور مہربانی کرو، اس کی قسم کہ جو دانے کو اگاتا ہے اور اس میں روح ڈالتا ہے۔یقینا تم لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے کسی کو دینار یا درہم کے  مصرف کرنے کی جگہ نہیں ملے گی یعنی حضرت قائم علیہ السلام کے ظہور کے زمانے میں کوئی ایسی جگہ نہیں ملے گی کہ جہاں اپنا پیسہ خرچ کیا جائے۔کیونکہ خداوند اور اس کے ولی کے فضل سے سب لوگ بے نیاز ہوجائیں گے۔

میں نے عرض کیا یہ کون سا زمانہ ہے؟

امام  نے فرمایا!جب تمہیں تمہارے امام نہیں ملیں گے تو ایسا ہوگا کہ تم پر ایسا زمانہ ظاہر ہوگا کہ جس طرح سورج طلوع کرتا ہے،یہ اس زمانے میں ہوگا کہ جس میں آنحضرت  کے ظہور کے زمانے سے زیادہ نا امیدی ہوگی۔

پس شک کرنے یا خود کو شک میں مبتلا کرنے سے پرہیز کرو،خود سے شک کو دور کرو ۔یقینا میں  نے تمہیں ڈرایا،پس تم اس سے ڈرو اور آگاہ ہوجائو۔ میں خدا سے تمہارے لئے توفیق وہدایت کی دعا کرتا ہوں۔

اس روایت میں دلوں کو یأس و نا امیدی اور شک سے دور رہنے کے بارے میں بہترین نکتہ بیان ہوا ہے کہ جس کی تشریح کیلئے مفصل بحث کی ضرورت ہے۔

اس روایت کا موردِ استدلال حصہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے  ظہور کا وہ نورانی اور مبارک زمانہ ہے کہ جس کے بارے میں امام صادقعلیہ السلام   نے فرمایا:

اس زمانے میں سب لوگوں کے بے نیاز ہونے کی وجہ سے کوئی ایسا نیاز مند نہیں ملے گا کہ ثروت مند اپنے مال سے جس کی مدد کرسکیں۔


  دنیا میں ، 800  ملین سے زائد بھوکے

اگر ہم اپنے زمانے کو ظہور کے درخشاں و منوّر زمانے سے مقائسہ کریں (کہ جب چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی کوئی نیازمند اور ضرورتمند نہیں ملے گا)تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہمارے موجودہ دور میں  پوری دنیا میں کروڑوں بھوکے افراد موجود ہیں جن کی فلاح و نجات کے لئے کوئی بھی مؤثر اقدام نہیں کیا گیااس بارے میں آپ اس رپورٹ پر توجہ کریں۔

عالمی بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دنیا کے ایک ارب افراد دنیا کے اقتصاد کو چلا رہے ہیں ۔ دنیا کی %80 آمدن ی ان سے مختص ہے۔حالانکہ دنیا کی بقیہ آبادی پانچ ارب ہے۔جو دنیا کی %20    آمدن ی پر زندگی گزار رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے خوراک و زراعت کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں بھوکے افراد کی تعداد18   مل ین سے بڑھ کر ،842   مل ین تک پہنچ چکی ہے۔

اب پیرس کے ایک اخبار ''ونت مینوت''16 اکتوبر  2002 ء بروز بدھ ک ی رپورٹ ملاحظہ کریں:

دنیا میں  ہر چار سیکنڈ میں بھوک کی وجہ سے ایک انسان  ہلاک ہوتا ہے۔دنیا میں840   مل ین افراد غذا کی وجہ سے پریشان حال ہیںاور ان میں سے799 مل ین افراد ترقی پذیرممالک میں زندگی گزار رہے ہیں۔

دنیا کے30 ممالک م یں  اضطراری حالت کا اعلان ہو چکاہے اور صرف افریقا میں67 مل ین افراد کو فوری اور اضطراری مدد کی ضرورت ہے۔ایشیا میں %20 ( 496 مل ین)آبادی بھوک کی وجہ سے پریشان ہے۔

اقوام متحدہ کے  ذیلی ادارہ  برائے خوراک و زراعت کے مطابق روزانہ24 ہزار افراد بھوک ک ی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔بھوک کی وجہ سے ہرسال پانچ سال سے کم عمرکے ساٹھ لاکھ بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

یہ تمام پریشانیاں ،بھوک،تنگدستی،بے روزگاری دنیا کے ممالک کی ناقص مدیریّت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


اگر دنیا کی سیاسی شخصیات ان نقائص کے اسباب کو جان کر مخلصانہ طریقے سے انہیں ختم کرنے کی کوشش کریں تو دنیا میں اتنی زیادہ تعداد میں بھوکے افراد نہ ہوں۔

بھوک کی ایک بنیادی وجہ کمر توڑ مہنگائی اور قیمتوں میں بے تحاشااضافہ ہے۔بھوک کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لئے نرخوں میں اضافے کی روک تھام کے لئے مناسب اور فوری اقدام کرنا انتہائی ضروری ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک اس بارے میں کوئی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہوئی۔

اب ذرا ایران میں مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی یہ رپورٹ ملاحظہ کریں۔

سال

۵۷

۸۲

ملکی  آبادی

۳۵۰۰۰۰۰۰

۴۰۰۰۰۰۰۰

۴6 ۰۰۰۰۰۰

۸6 ۰۰۰۰۰۰


نرخوں  میں  اضافہ

سال

یونجہ

جو

جوکھر

کھلی/کھل

دودھ

بچھڑازندہ

گائےزندہ

۵۷

۸۲

شرح  اضافہ

۸۳

۸

۱۲۰۰

۱۵۰گنا

۱6 ۰۰

۷

۱۲۰۰

۱۷۲گنا

۱۵۰۰

۳

6 ۲۰

۲۰6 گنا

۹

۲۰6

۱۸۰گنا

۲۷

۲۰۰۰

۷۲گنا

۲۱۰

۱۴۰۰۰

6 ۷گنا

۱۵۰

۱۰۰۰۰

6 ۷گنا

یہ دنیا کے ایک حصے میں اجناس کی قیمتوں کا چھوٹا سا نمونہ ہے۔ جیسا کہ آپ نے مشاہدہ کیاکہ25 سال م یں ایران کی آبادی میں تقریباً دو گنا اضافہ ہوا ہے اور بعض اجناس کی قیمتوں میں تقریباً دو سو گنا اضافہ ہوا ہے۔اب اس تفاوت سے کم از کم یہ تو معلوم ہوگیا کہ آبادی نرخوں میں اضافے کا باعث نہیں ہے۔

قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ صرف ایران یا کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ مالک جیسے امریکہ،جاپان،کوریا بھی اس مسئلہ سے پریشان ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں مہنگائی نے  غریب عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔

اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اس چیز کی دلیل ہے کہ ان کی اقتصادی سیاست نرخوں کو کنٹرول کرنے اور انہیں معتدل  رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔دنیا کے اقتصاد پر قابض ثروت مند افراد کو اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرنے سے نہ تو کسی قسم کا دکھ ہوتا ہے اور نہ ہی غریب عوام پر رحم آتا ہے۔بلکہ وہ جان بوجھ کر اشیاء کے نرخوں میں اضافہ کرکے اپنے سرمائے میں کئی گنا اضافہ کرتے ہیں۔اب اس رپورٹ پر غور کریں۔


عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق تینارب سے زائد افراد دن بھر میںایک ڈالر سے بھی کم پر زندگی گزار رہے ہیںاور ایک ارب افراد کی روزانہ کی آمدنی ایک ڈالر سے بھی کم ہے۔دنیا کی نصف آبادی غربت سے بھی نچلی سطح پرزندگی گزار رہی ہے۔اور تین ارب انسانوں کی روزانہ کی آمدنی تین ڈالر سے بھی کم ہے۔

اقوام ِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دھائی میں دنیا کے 45 ممالک اور ز یادہ غریب ہوگئے۔6 / 4 ارب انسان یعنی تقریباً800 مل ین افراد کو زندگی گزارنے کے لئے مکمل خوراک میسر نہیں ہے۔

یہ دنیا کے پریشان حال افراد کی وضع زندگی کا چھوٹا سا نمونہ تھا۔جسے ہم نے زمانِ غیبت کے مسائل سے آشنائی کے لئے ذکر کیااب ہم اس ذکر کو یہیں ترک کرکے اور ان پریشانیو ں اور غموں کو بھلا کر اس درخشاں زمانے کی توصیف کرتے ہیں کہ جس میں نہ تو کوئی ضرورت ہو گی اور نہ ضرورتمند ۔


ایسا دن کہ جوبے تحاشا نعمتوں اور بے انتہا دولت سے سرشار ہو۔جس سے دنیا کے تمام نیازمند،بے نیاز ہوجائیں گے۔اس وقت دنیا میں800 مل ین بھوکے افراد نہیں ہوں گے۔اس وقت کو اقتصادی بُحران نہیں ہوگا۔

عصرِ ظہور میں غربت اور تنگدستی کا نام و نشاں نہیں ہوگا۔حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام  کی حکومت دنیا کوجنت بنادے گی ۔پوری روئے زمین پر مسرت و شادمانی اور خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی۔

  نعمتوں سے سرشار دنیا

اب جب کہ نعمتوں سے بھرپور اور سرشار اس بے مثال زمانے کا تذکرہ ہوا ہے تو بہتر ہے کہ ہم اس بارے میں رسول اکرم(ص)   ک ی روایت کو نقل کریں:

'' تنعّم امتی فی زمن المهدی نعمة لم ینعموا مثلها قطّ،ترسل السماء علیهم مدراراً، و لا تدع الارض شیئا من النّبات الّا اخرجته،والمال کدوس،یقوم الرجل یقول:یامهدی اعطنی فیقول: خُذ ''  (1)

میری امت کو مہدی  علیہ السلام  کے زمانے میں اتنی نعمتیں میسر آئیں گی کہ جو اسے پہلے کبھی نہیں ملی ہوں گی۔آسمان سے ان کے لئے مفید بارش برسے گی،زمین اپنے اندر چھپی ہر نباتات کو خارج کرے گی اس زمانے میں مال و دولت فروان ہوگی۔ایک شخص کھڑا ہوگا اور مہدی  علیہ السلام  سے کہے گا : مجھے عطا کرو۔تو کہیں گے :لے لو۔

یہ واضح ہے کہ روزِ نجات ،دنیا کے تمام مکاتب گمراہی سے نجات پا لیں گے۔پوری دنیا میں اسلام کا پرچم لہرائے گا۔جس کی وجہ سے اس زمانے کے تمام افراد رسول اکرم(ص)کی امت شمار ہوںگی۔اسی لئے رسول اکرم (ص)نے اس زمانے کے لوگوں کو ''امتی''یعنی میری امت سے تعبیر کیا ہے۔

--------------

[1]۔ التشریف باالمنن:149


رسول اکرم(ص)ک ی امت یعنی ہماری دنیا کے لوگ اس روز خوشحال ہوں گے اور ان میں دوعمومی خصوصیات ہوں گی ۔تقوی و ایمان کہ جو اس زمانے سے پہلے کبھی موجود نہیں تھی۔سب ان دوخصوصیات کے مالک ہوں گے۔جس سے آسمان کے دروازے کھل جائیں گے اور لوگوں پر رحمتِ الہٰی کی بارش برسے گی۔

اس زمانے میں یہ دوعظیم معنوی خصلتیں کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں ہوں گی بلکہ سب ان سے بہرہ مند ہوںگے۔ان دو خصلتوں کے عام ہونے کی وجہ سے دنیا سے غضبِ الہٰی اٹھا لیا جائے گا اور لوگوں پر نعمتوں اور برکات کا نزول ہوگا۔

اس مطلب کے اثبات کے لئے ہم قرآن و سنت کا رخ کرتے ہیں۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

'' و لینزلنّ البرکة من السماء الی الارض حتی ان الشجرة لتقصف بما یرید اللّٰه فیها مناالثمرة،ولتأکلن ثمرة الشتاء فی الصیف و ثمرة الصیف فی الشتاء ، وذلک قوله تعالی ''وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَی آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَیْهِم بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَاء ِ وَالأَرْضِ وَلَکِن کَذَّبُواْ فَأَخَذْنَاهُم بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُون ''  (1)

یقیناًآسمان سے زمین کی طرف برکت نازل ہوگی ۔حتی کہ خدا درخت سے جو پھل چاہے،پیدا کرے گا۔گرمیوں کا پھل سردیوں اور سردیوں کا پھل گرمیوں میں کھائیں گے۔اسی لئے ارشاد پروردگار ہے:

اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین و آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ،لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی گرفت میں لے لیا۔

اس آیت ا و رروایت میں بہترین نکات موجود ہیں کہ جن میں سے ہم بعض کو بیان کرتے ہیں:

--------------

[1]۔ سورہ اعراف،آیت:96۔بحاراانوار :ج 53ص 63


1 ۔آ یت کے اس جملے'' فَأَخَذْنَاه ُم بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُون'' میں فاء تفریعہ دلالت کرتا ہے کہ حقائق الہٰی کی تکذیب ،رسول ِ اکرم(ص)کے احکام پرعمل نہ کرنا اور انہ یں ردّ کرنا ،لوگوں کے لئے مؤاخذہ کا سبب بنا۔ان کے عمل کی وجہ سے لوگوں پر آسمانی برکات کا نزول بند ہوجاتا ہے اور بد بختی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

اس بناء پر ہمیں یہ جان لینا چاہیئے کہ تمام جنایت و جرائم ،قتل وغارت،فساد اور بد امنی رسول ِ خدا کے فرامین سے روگردانی ان پر ایمان نہ لانے اور تقویٰ نہ ہونے کا نتیجہ ہیں۔

اگر لوگ ابتدا ء ہی سے خدا کے پیغمبروں کی تکذیب نہ کرتے،ان پر ایمان لے آتے اور ایمان کی بنیاد پر تقویٰ اختیار کرلیتے تو وہ کبھی بھی مصیبتوں،غموں اور بلائوں کے گرداب میں مبتلا نہ ہوتے۔

  زمانۂ ظہور میں برکت

2 ۔ ظہور  کے زم انے میں ایمان و تقویٰ کی وجہ سے ان پر زمین و آسمان سے خدا کی برکات برسیں گی۔خدا کسی بھی درخت سے جس پھل کا بھی ارادہ کرے وہ اسی درخت سے پیدا ہوگا۔اسی طرح کوئی بھی پھل کسی خاص موسم سے مختص نہیں ہوگا۔گرمیوں میں درخت سردیوں کے پھلوں اور سردیوں میں گرمیوں کے پھلوں سے لدے ہوں گے۔

برکت کا مسئلہ ایک ایسی بڑی حقیقت ہے کہ جس کی وجہ سے ظہور کے بابرکت زمانے میں دنیا کا چہرہ ہی بدل جائے گا اور زمانِ ظہور میں برکتوں کے نزول کی وجہ سے لوگ غیبت کے زمانے کے سخت مصائب بھول جائیں گے۔

جیساکہ ہم نے کہا کہ اس وقت دنیا کا نیا روپ سامنے آئے گا۔پوری روئے زمین قدرت،طاقت،ثروت اور نعمتوں سے بھری ہوگی۔فقر و تنگدستی کا نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔اس منوّر زمانے میں ضعف،ناتوانی اور شکستگی کو شکست ہوجائے گی ان کی جگہ قدرت،توانائی اور خوشیاں آجائیں گی۔


اس پُر مسرّت زمانے میں لبوں پر مسکراہٹیں اور دل شادی اور شادمانی سے  لبریز ہوں گے۔

ملائکہ کے توسط سے برکت وجود میں آئے گی ۔مادّی لحاط سے گندم کی پیداوار کے لئے اسے زمین میں بونے اور پھر اسے ہوا و پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن جو غیر محسوس امور سے آشنائی رکھتے  ہوں،ان کے لئے اشیاء کو ایجاد کرنا فقط عادی و طبیعی وسائل میں منحصر نہیں ہے۔بلکہ وہ غیر طبیعی طریقوں سے بھی طبیعی محصول کو ایجاد کر سکتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ خدا وند متعال نے مختلف کاموں کو وسائل و اسباب کی بنا پر قرار دیا ہے ۔لیکن اس وجہ سے ہمیں وسائل و اسباب میں اتنا مشغول نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم مسبب الاسباب کو ہی فراموش کردیںاور یہ گمان کریں کہ خدا وند کریم نے ایجاد  امورکے لئے جو اسباب قرار دیئے ہیں،وہ صرف مادّی یا ایسے امور میں منحصر ہیں کہ جن سے ہم آگاہ ہیں۔

3 ۔ ظہور کے زمانہ م یں لوگ گمراہی و ضلالت سے نکل کر ہدایت پالیں گے۔یہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)کی عالمی حکومت اور اسلام کے عالمی دین ہونے کی دلیل ہے۔

دورِ حاضر کے برخلاف عصرِ ظہور میں دنیا کے سب لوگ رسولِ اکرم(ص) کے دستورات اور اسلام کے آئ ین پر ایمان لائیں گے اور تقویٰ اختیار کریں گے۔

یہ بدیہی و واضح ہے کہ رسول اکرم(ص) کے دستورات،مکتبِ اہلب یت علیہم السلام اور قرآن کی پیروی کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے اور آنحضرت(ص) کا اجرِ رسالت فقط مودّت ذو ی القربیٰ ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے۔


'' قُلْ لَّا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ'' (1)

آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا ،علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو۔

دنیا کے تمام لوگوں کے عقلی تکامل کی وجہ سے زمانِ نجات میں سب لوگ رسولِ اکرم(ص)کے فرام ین کو قبول کریں گے اور خاندانِ وحی علیھم السلام     کی مودّت کو ادا کریں گے۔ مودّت اہلبیت علیہم السلام  سے ایسی محبت مراد ہے کہ جو ان کے نزدیک انسان کے تقرّب کا باعث بنے۔

''المودة ، قرابة مستفادة '' (2)

مودّت سے قرب و نزدیکی حاصل ہوتی ہے۔

اس روایت کی بناء پر معاشرے میں ایمان و تقویٰ آسمانی دروازوں کے کھلنے اور برکاتِ الہٰی کے نزول کا سبب ہے۔پس اگر آغاز بعثت سے لوگ پیغمبراکرم(ص)کے احکامات کو قبول کرے اور خاندانِ عصمت و طہارت  عل یھم السلام کی ولایت سے ہاتھ نہ اٹھاتے تو آج دنیا گرانی و ضلالت اور تباہی و بربادی کا منظر پیش نہ کررہی ہوتی اور خداوند کریم آسمانی برکات اور عطائے نعمت سے دریغ نہ کرتا۔

لیکن افسوس کہ جہالت و گمراہی کی آستین سے ستمگروں کے ہاتھ باہر نکلے اور سقیفہ میں خلافت کا ایسا بیج بویا کہ جو بعد میں تن آور درخت کی صورت اختیار کرگیا۔جس کے نتیجہ میں ظلم و ستم اور اختلافات کی آگ بھڑک اٹھی کہ جس کے شعلے آج بھی بلند ہورہے ہیںاور جب تک آستینِ عدالت سے امام عصر کا ظہور نہ ہوجائے،تب تک یہ آگ روشن رہے گی۔اماممہدی علیہ السلام اپنے عدل اور رحمت سے اس آگ کو بجھائیں گے۔

--------------

[1]۔ سورہ شوریٰ،آیت: 23

[2] ۔ بحارالانوار :ج74ص165

  دنیا کے روشن مستقبل کے بارے میں رسول اکرم (ص)ک ی بشارت

پیغمبر اکرم (ص)اس زمانے م یں آئندہ کے واقعات سے آگاہ تھے اور انہوں نے لوگوں کو فتنہ و فساد اور تباہی و بربادی سے آگاہ کیا تھا اورحضرت مہدی  علیہ السلام  کے ظہور تک اس کے تداوم کی خبر دی تھی۔جیسا کہ انہوں نے اس زمانے میں نعمتوں کی فراوانی اور دنیا کے بہتر اقتصاد کو بھی بیان کیا تھا۔ہم یہاں ظہور قائم آل محمد علیہ السلام  اور اس زمانے کے مستحکم اقتصاد کے بارے میں رسول اکرم(ص) ک ی بشارتوں کے کچھ نمونے پیش کرتے ہیں۔

پیغمبر مقبول اسلا م(ص)نے فرما یا:

'' ابشّرکم بالمهدی یبعث فی امّتی علٰی اختلاف من الناس وزلازل فیملأ الارض قسطاََ و عدلاََ کما ملئت ظلماََ و جوراََ یرضٰٰی به ساکن السماء یقسّم المال صحاحاََ ''

قلنا:وما الصحاح؟

'' قال بالسویّة بین الناس ،فیملأ اللّه قلوب اُمّة محمد غنیٰ و یسعهم عدله حتّیٰ یأمر منادیاً فینادی:من له فی مال حاجة؟ ''

'' قال:فلا یقوم من الناس الا رجل،فیقول :انا ،فیقول له،انت السادنیعنی الخازنفقل له ،ان المهدی یأمرک ان یعطینی مالاً ''

'' فیقول له:احثیعنی خذ.حتّی اذا جعله فی حجره و ابرزه (ندم) فیقول:کنت اجشع امّة محمد نفساً او عجز عنّی ما وسعهم ؟ ''

'' قال فیردّه فلا یقبل منه،فیقال له،انا لا نأخذ شیئاً اعطیناه ''

میں تمہیں مہدی علیہ السلام   کے بارے میں بشارت دیتا ہوں ،جو میری امت میں بھیجا جائے گا کہ جب لوگوں میں اختلاف ہوگا اور زلزلے رونما ہورہے ہوں۔

پس وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے پُر ہوچکی ہوگی اس کام سے آسمان میں رہنے والے راضی ہوں گے۔


مال کو صحیح طور پر تقسیم کرے گا۔

ہم نے کہا صحاح سے کیا مراد ہے؟

فرمایا:لوگوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کرے گا ۔پس خدا وند متعال رسول اکرم (ص) ک ی امت کے دلوں کو بے نیازی سے سرشار فرمائے گا۔اس کی عدالت سب کو احاطہ کرے گی۔یہاں تک کہ وہ منادی کو ندا کا حکم دے گا اور منادی ندا دے گا کہ ہے کوئی جسے مال کی احتیاج و ضرورت ہو؟

پس لوگوں میں  سے کوئی کھڑا نہیں ہوگا مگر ایک شخص اور وہ کہے گا !مجھے ضرورت ہے۔وہ اسے کہے گا کہ خزانہ دار کے پاس جائو اور اسے کہو کہ مہدی علیہ السلام نے حکم دیاہے کہ مجھے مال دو،خزانہ دا ر اسے کہے گا کہ لے لو۔ جب وہ اپنے لباس میں مال ڈالے گا تو وہ پشیمان ہوکر کہے گا۔میرا نفس امت رسول میں حریص ترین ہے اورکیا جس نے ان کو عطا کیا وہ مجھ کو عطا کرنے سے عاجز تھا۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ شخص خزانہ دار کو مال واپس دے دے گا ۔لیکن وہ اس سے مال واپس نہیں لے گا اور کہے گا !ہم جو چیز دے دیں وہ واپس نہیں لیتے۔

اس روایت میں اختلاف ، زلزلے ،پوری دنیا میں ظلم و ستم ،فقر،  تنگدستی اور ضرورت مندی کو امام عصر علیہ السلام  کے ظہور کی نشانیوں کے طور پر شمار کیا گیا ہے۔ حضرت ولی عصر علیہ السلام  کے ظہور کے  بعد ان سب کا خاتمہ ہوجائے گا اور روئے زمین پر عدل کا بول بالا ہوگا۔سب لوگ بے نیاز ہوںگے۔


دوسری روایت میں رسول اکرم  (ص)فرماتے ہ یں:

''یحثی المال حثیاً لایعده عداً یملأ الارض عدلا کما ملئت جوراً و ظلماً ''  (1)

وہ لوگوں کے سامنے مال ڈال دے گا اور اسے شمار نہیںکرے گا۔زمین کو عدالت سے بھر دے گا ۔ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔

  دنیا میں خوشیاں ہی خوشیاں

اسی طرح رسول اکرم (ص)ا س ح یات بخش زمانے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب دنیا میں ہر طرف خوشیاں ہوں گی۔

''یرضی عنه ساکن السماء و ساکن الارض ،ولا ندع السّماء من قطرها شیئاً الّا صبّته،ولا الارض من نباتها شیئاً الّا اخرجته حتیٰ یتمنّی الاحیاء الاموات''  (2)

زمین وآسمان کے رہنے والے اس راضی ہوں گے۔آسمان بارش کے آخری قطرے تک کو برسا دے گااور زمین آخری دانہ تک کو باہرکر دے گی یہاں تک کہ اس وقت زندہ افراد آرزو کریں گے کہ کاش ان کے مردے بھی زندہ ہوتے۔

--------------

[1] ۔ التشریف بالمنن:147

[2]۔ التشریف بالمنن: 164


اس بناء پر مسرت و خوشحالی صرف کرہ زمین پر بسنے ولاوں سے مخصوص نہیں ہے۔بلکہ ساکنینِ آسمان بھی آنحضرتسے راضی و خوشنود ہوں گے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت ولی عصر  علیہ السلام کی حکومت ایک عالمی حکومت ہوگی کہ جو آسمان و زمین پر بسنے والے تمام افراد کی رضائیت کو جلب کرے گی۔

قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ رسول اکرم(ص)ا یک دوسری روایت میںزمانِ ظہور کے بارے میں شادمانی و خوشحالی فقط انسانوں سے مخصوص نہیں سمجھتے ۔بلکہ فرماتے ہیں :

فرحت و مسرّت میں اس وقت کے حیوانات بھی شامل ہوں گے۔

رسول مقبول اسلام (ص)فرماتے ہ یں:

'' هو رجل من ولد الحسین کانه من رجال شنسوة،علیه عباء تان قطوا نیّتان اسمه اسمی،فعند ذلک تفرح الطیور فی اوکارها،والحیتان فی بحارها،و تمد الانهار،و تفیض العیون و تنبت الارض ضعف اکلها،تم یسیر مقدمته جبرئیل وساقته اسرافیل فیملأ الارض عدلاً و قسطاً کما ملئت جورا و ظلماَ '' (1)

وہ حسین  علیہ السلام کے فرزندوں میں سے ایک مرد ہے۔گویا وہ شنسوة مردان میں سے ہے۔اس پر روئی سے بنی ہوئی دو عبائیں ہوں گی۔اس کا اسم میرا اسم ہے۔اس وقت پرندے اپنے آشیانوں میں اور مچھلیاںدریائوںمیںخوش ہوجائیں گی۔ نہریںبڑھ جائیںگئی اور چشمے جاری ہوجائیں گے۔زمین سے بہت زیادہ پھل اور نباتات پیدا ہوں گی۔پھرجبرئیل ان کے لشکر کی ابتداء اور اسرافیل درمیان میں سیر کرے گا۔وہ زمین کو عدل و انصاف سے پُر کردے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے پُر ہوچکی ہوگی۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار:ج 52ص 304


جی ہاں!جس لشکر میں جبرئیل و اسرافیل جیسے حاملین عرش شامل ہوں،وہ اہل زمین کی نجات کا ذریعہ ہوگا۔دوسری مخلوقات و موجودات کے لئے بھی خوشیوں کا باعث ہوگا۔وہ غاصبوں سے لوگوں کے حقوق لے گا اور مقروضین کے قرض ادا کرے گا۔چاہے وہ کوہ کی مانند بہت زیادہ ہو یا پھر کاہ یعنی تنکے کی مانند بہت کم ہے۔

مفضل نے اما م صادق  علیہ السلام  سے عرض کی:

'' یا مولای، من مات من شیعتکم و علیه دین لاخوانه ولاضداده کیف یکون؟

قال الصادق:اوّل ما یبتدی المهدی ان ینادی فیجمیع العالم ؛الا من له عند احد من شیعتنا دین فلیذکره،حتی یردّ التومة والخردلة فضلاً عن القناطیر المقنطرة من الذّهب والفضة والاملاک فیوفّیه ایّاه '' (1)

اے میرے آقاو مولی!اگر آپ کے شیعوں میں سے کوئی مرجائے گا کہ جس پر بردرانِ مؤمن اور مخالفین کا قرض ہو تو کیا ہوگا؟

امام صادق  علیہ السلام نے فرمایا:مہدی علیہ السلام  سب سے پہلے جو کام شروع کریں گے،وہ یہ ہوگا کہ پوری دنیا میں منادی ند ادے گا:

آگاہ ہوجائو کہ جس نے بھی میرے شیعوں میں کسی کو قرض دیا ہو تو بتائے تاکہ سونا چاندی کے قناطیر مقنطرہ سے بھی زیادہ اس کے مالک کو دے دیا جائے۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج۵۳ص۳۴


  شرمساری

اب تک ہم نے زمانِ ظہور کو مختلف عناوین سے یاد کیا۔عصرِ حیات و زندگی،نجات کا دن،فلاح کا دن،ظہور کا درخشاں زمانہ،ظہور کا پُر نور اور پُر مسرّت زمانہ،منوّر زمانہ ،عقلوں کے تکامل کا زمانہ۔  اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ ہم نے اس حیات بخش اور نجات زمانے کے لئے کیا کام انجام دیئے ہیں۔ہم نے عالمی عادلانہ حکومت کے نزدیک ہونے کے لئے کون سا اقدام کیا ہے،اس راہ میں ہم نے اپنی کتنی ثروت و دولت خرچ کی ہے؟

جس طرح ہم اپنے اور اپنے اہل خانہ اور فرزندوں کی زندگی کو پُر آسائش بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے آئندہ کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔کیا ہم نے کبھی آئندہ آنے والی دنیا اور اس کے متعلق اپنے وظیفہ و ذمہ داری کے بارے میں بھی سوچا ہے؟

یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی ظہور کا منتظر ہو لیکن اس راہ میں کوئی قدم نہ اٹھائے ۔کیا دولت کے حصول اور اموال کے جمع کرنے میں  کے لئے تمام کوششیں اور دنیا کی نجات کے لئے اپنے دینی اور انسانی فریضہ کو بھلا دینا انتظار امام زمان سے مناسبت رکھتا ہے؟

کیا یہ صحیح ہے کوئی ظہور کا معتقد بھی ہو اور منتظر بھی،لیکن اس کے باوجود صبح سے شام تک اپنا سارا دن مادّی ترقی کی جستجو میں صرف کرے اور شرعی وظیفہ بالکل فراموش کردے۔

بعض دولتمندوں کو اس وقت انتہائی شرم کا سامنا پڑے گا کہ جب عصرِ ظہور میں امام عصر علیہ السلام  ان کی مذمت کریں گے اور آنحضرت دنیا پرستی اور دنیا کا مال جمع کرنے کی وجہ سے لوگوں کی تنقید کریں گے۔


ایک روایت میں حضرت باقر العلوم علیہ السلام  فرماتے ہیں:

'' یجمع الیه اموال الدنیا من بطن الارض و ظهرها،فیقول للناس تعالوا الی ماقطعتم فیه الارحام،و سفکتم فیه الدّماء الحرام و رکبتم فیه ما حرّم اللّه عزّوجلّ، فیعطی شیئاً لم یعطه احد کان قبله و یملأ الارض عدلاً و قسطاً و نوراً کما ملئت ظلماً و جوراً و شرّاً ''  (1)

زیر زمین ثروت اور روئے زمین پر موجودتمام ثروت اوردنیا کا مال و دولت اس کے پاس جمع  ہوگا۔پھر وہ لوگوں سے کہے گا:

آئو اس چیز کی طرف کہ جس کی وجہ سے تم لوگوں نے قطع رحم کیا،ناجائز خون بہایااور خدا کی حرام کردہ چیزوں کے مرتکب ہوگئے۔

پس وہ اس قدر مال و دولت عطا کرے گا کہ جو اس سے پہلے کسی نے دوسرے کو عطا نہیں کی ہوگی۔وہ زمین کو عدل و انصاف اور نور سے بھر دے گا ۔جس طرح وہ ظلم و جور و شر سے پُر ہوچکی تھی۔

جی ہاں!وہ شرمساری اور شرمندگی کا زمانہ بھی ہے۔ایسے لوگوں کے لئے شرمندگی کہ جن کوتمام مادّی وسائل مہیّا تھے،لیکن اس کے باوجود انہوں نے کبھی بھی انسانوں کی نجات اور ان کی مشکلات کو رفع کرنے کی کوشش نہیں کی۔اس سے بھی زیادہ شرمسار وہ ہوں گے کہ جنہوں نے نہ صرف انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اپنا مال خرچ نہیں کیا۔بلکہ امام زمانہ علیہ السلام کے مال پر بھی قبضہ جما کر بیٹھ گئے اور انہوں نے وہ مال ایسے موارد میں بھی صرف نہیں کیا کہ جن میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی رضائیت شامل تھی۔

کیا ایسے افراد کو اپنے گفتار و کردار پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت نہیں ہے؟

--------------

[1] ۔ نوادرالاخبار:275،بحارالانوار:ج 51ص  29،الغیبة مرحوم نعمانی:237 باب 13 ح26


 چوتھا باب

بیماریوں کا خاتمہ

    بیماریوں کاخاتمہ

    قوّت و طاقت کا دوبارہ ملنا

    انسان بیماریوں کا خاتمہ کرنے سے عاجز


بیماریوں کاخاتمہ

جس روز دنیا خوشیوں کا گہوارہ بن جائے گی اور پوری کائنات بہشتِ بریں کی طرح شادمان ہوگی۔لیکن بیمار،نابینا اور دوسرے امراض میں مبتلا کس طرح ان خوشیوں میں شریک ہوسکتے ہیں؟

یہ کس طرح ممکن ہے کہ ولایت کے نور کی شعائیں ہر جگہ اور ہر شخص کو اپنے احصار میں لے لیںلیکن مشکلات اور بیماری میں گرفتار اس سے محروم اور اسی طرح غمگین اوراداس رہیں؟

پوری دنیا کے تمام افرادان عالمی خوشیوں میں شریک ہوں گے۔ولایت اہلبیت علیھم السلام کی قدرت سے سب مشکلات اور مصائب کا خاتمہ ہوجائے گا اور امراض کسی بھی انسان کونقصان نہیں پہنچائیں گے،کیونکہ ایسی حکومت کہ جس میں فقط خداوندعالم حکومت کرے،اس کا لازمہ یہ ہے تمام اہل دنیا قدرتِ ولایت کی پناہ میں ہوں۔اس وقت شیطان اور ستمگرشیطان پرستوں کا کوئی نشان نہیںرہ جائے گا۔ سب کو پُر آسائش زندگی میسر ہوگی۔

اب ہم ضروری سمجھتے ہیں  کہ یأس و ناامیدی کی زندگی بسر کرنے والوں کے لئے خاندانِ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے یہ عظیم بشارت نقل کریںتاکہ ناامیدی کے سائے تلے زندگی گزارنے والوں کے لئے امید کی شمع روشن ہوجائے اور ان کے وجود میں ناامیدی ختم ہوجائے اور اس کی جگہ امید اور انتظار لے لے جو  ان کے افکار سے شیطانی وسوسوں کو نکال باہر کرے۔اب اس آسمانی بشارت پر توجہ کریں۔حضرت امام باقر علیہ السلام  فرماتے ہیں:

''من ادرک قائم اهل بیتی من ذی عاهة برأ،و من ذی ضعف قوی ''  (1)

جو بھی  میرے قائمِ اہلبیت  علیہم السلام کو درک کرے،اگر مریض ہو تو شفا پائے گا اور اگر ضعیف ہو تو قوی ہوجائے گا۔

--------------

[1] ۔ بحارالانوار :ج۵۲ ص۳۳۵


اس روایت کی وضاحت ملاحظہ کریں:

ظہور کے پُر نور اور بابرکت زمانے میںنہ صرف جسمانی مرض میں مبتلا افراد شفایاب ہوجائیں گے بلکہ تمام افراد کی روحانی و نفسانی بیماریاں بھی برطرف ہوجائیں گی ۔کیونکہ حضرت باقرالعلوم علیہ السلام نے تمام ضعیف افراد کے توانا ہونے کا وعدہ کیا ہے اور یہ فقط جسمانی بیماریوں سے مخصوص نہیںہے۔

بلکہ ہرقسم کی کمزوری و ناتوانی ختم ہوجائے گی ، جیسے عزم و ارادے میں ضعف ،پست ہمت،تمرکز فکر میں ناتوانی، اسی طرح صرف بیماریاں اور ضعف ہی برطرف نہیں ہوگا بلکہ اس کی جگہ انسان کو قدرت اور سلامتی حاصل ہوگی۔

پس امام باقر علیہ السلام  کے فرمان (و من ذی ضعف قوی  یعنی صاحبِ ضعف قوی ہوجائے گا) سے دو بنیادی و اساسی نکات استفادہ کئے جاتے ہیں۔

1 ۔ یہ فرمان مطلق ہے جو فقط جسمانی ضعف و ناتوانی سے مخصوص نہیں ہے۔بلکہ اگر کسی میں نفسیاتی لحاظ سے بھی کوئی کمی ہو تو وہ بھی برطرف ہوجائے گی۔

قابل توجہ یہ ہے کہ بہت سے جسمانی امراض،نفسانی مسائل کی وجہ سے جنم لیتے ہیں ۔ لیکن ظہور کے بابرکت زمانے میں ہر قسم کی روحانی و نفسانی کمزوری زائل ہوجائے گی جس کی وجہ سے جسمانی امراض کا خود بخود ہی خاتمہ ہوجائے گا۔


  قوّت و طاقت کا دوبارہ ملنا

2 ۔ روا یت سے حاصل ہونے والا دوسرا نکتہ پہلے سے بھی زیادہ اہم اور پسندیدہ ہے۔وجہ یہ ہے کہ اس روایت میں نہ فقط بیماریوں اور کمزوریوں کے برطرف ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔بلکہ ان کی جگہ پر قدرت و صحت کی بھی تصریح ہوئی ہے۔

کیونکہ حضرت  امام باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے:

'' و من ذی ضعف قوی ''

جو بھی ضعف و کمزوری میں مبتلا ہو،وہ قوی ہوجائے گا۔

اس بناء پر روئے زمین پر نہ صرف ضعیف و ناتوان افراد کا وجود نہیں ہوگا بلکہ سب کو صحت، قوّت اور توانائی حاصل ہوگی۔

امام صادق علیہ السلام نے امام باقر علیہ السلام اور انہوں نے امام سجّاد علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے۔ جس میں اس مطلب کی تصریح فرمائی ہے ۔  اورآنحضرت  نے فرمایا:'' اذا قام القائم اذهب اللّه عن کل مؤمن العاهة،وردّ الیه قوّته ''  (1)

جب قائم قیام کریں گے تو خدا وند متعال ہر مؤمن  کے مرض کا خاتمہ کردے گا اور اسے قوّت و طاقت عطا کرے گا۔

ظہور کے درخشاں زمانے میں دنیا کے تمام افرادصاحب ایمان اور مؤمن ہوں گے، اس حقیقت پر توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس زمانے میں کوئی مریض بھی موجود نہیں ہوگا۔ بلکہ اسے قوّت و طاقت اور توانائی دے دی جائے گی۔

اب جبکہ پوری دنیا مریض،ضعیف اور ناتواں افراد سے بھری ہوئی ہے،کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ ان تمام بیماریوں کے برطرف ہونے کے لئے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں اور اس دن کے آنے کی دعا کریں۔جب انسان کو تمام مصائب اور مشکلات سے نجات حاصل ہوجائے گی؟

--------------

[1]۔ الغیبة نعمانی: 317


کیالوگوں کے لئے یہ جاننا ضروری نہیں کہ ایک ایسا پُر مسرّت دن بھی آئے گا کہ جب پوری کائنات میں ایک مریض اور مشکلات میں گرفتار شخص نہیں ملے گا؟

کیا یہ جاننا بھی ضروری نہیں ہے کہ خلقت کائنات کے کروڑوں برسوںاور خلقتِ انسان کے ہزاروں سال گزرنے کے باوجود ابھی تک خدا کا انسان کوپیدا کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوا؟کیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ خدا نے دنیا کو اسی موجودہ قابلِ افسوس حالت کے لئے خلق کیا تھا؟کیا خدا کی عظیم قدرت اور علم کو مد نظر رکھتے ہوئے ان تمام ضعیف،ناتوان،معلول،  ناقص الخلقة اور مریض افراد کا ہونا،اس چیز کی دلیل نہیں ہے کہ ابھی تک دنیا کے نظم کو عدل الہٰی کی حکومت کا سایہ نصیب نہیں ہوا؟

کیا آپ نہیں جانتے کہ خدا وند کریم خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام کی برکت سے مشکلات میں گرفتار تمام  افراد کو غم و اندوہ اور مشکلات و مصائب سے نجات دے دے گا۔

جی ہاں!جس دن پوری کائنات ولایت کے تابناک انوار سے منوّر ہوگی،اس روز خداوند بزرگ و برتر،خاندانِ وحی علیھم السلام کے درخشاں انوار کی برکت سے انسانوں کو ہر قسم کی مصیبت و مشکل سے نجات عطا فرمائے گا۔پھر پوری کائنات میں کہیں بھی کوئی پریشان حال اور بیمار شخص نہیں ملے گا۔اب امام حسین علیہ السلام  کے فرمانِ مبارک پر توجہ کریں:

''.... ولا یبقیٰ علی وجه الارض اعمیٰ ولا مقعد ولا مبتلیٰ الّا کشف اللّه عنه بلاوّه بنا اهل بیت علیهم السلام ''  (1)

زمانِ ظہور میں روئے زمین پر کوئی نابینا(2) زمین گیراور مشکلات میں مبتلا شخص باقی نہیں رہے گا ، مگر یہ کہ خدا وند کریم ہم اہلبیت  علیہ السلام کے طفیل  اس کی مصیبت کو برطرف کردے۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار :ج 53ص۲

[2]۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دور حاضر میں دنیا میں 45 میلیون نابینا افراد زندگی گزاررہے ہیں۔


اس کلام سے استفادہ کرتے ہیں کہ اس پُر مسرّت اور بابرکت دن اس زمانے کے لوگوں کے لئے کسی قسم کی کوئی مصیبت و مشکل نہیں ہوگی۔ہر کسی سے ہر طرح کی بیماری ، ناراحتی اور بلا برطرف ہوجائے گی ۔ پوری دنیا خوش و خرم ہوگی ۔ یہ اہلبیت اطہار علیہم السلام کی قدرت ِ ولایت کی وجہ سے ہے کہ اس دن وہ پورے عالم میں خدا وند مہربان کی مرضی و خوشنودی کے مطابق حکومت کریں گے۔

قابل توجہ امر یہ ہے کہ بقراط کے زمانے کے معروف یونانی ماہرین طب سے آج تک کے ماہرین طب کی بیماریوں کے بارے میں تحقیق کے مطابق انسان کو چالیس ہزار بیماریاں نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ انہوں نے ان بیماریوں کی علامات بھی مشخص کی ہیں اور اگر ان کی کوئی دواہے تو اسے بھی مشخص و معین کیا ہے۔(1)

البتہ یاد رکھیں کہ زیادہ گناہوں کی وجہ سے جدید بیماریاں رونما ہوتی ہیں ۔ کیونکہ روایات میںوارد ہوا ہے کہ کثرت ِ گناہ نئی بیماریوں کو جنم دینے کا سبب ہیں۔

  انسان بیماریوں کا خاتمہ کرنے سے عاجز

تمام ترقی یافتہ ممالک علمی ترقی و پیشرفت کے بڑے بڑے دعوے تو کرتے ہیں۔لیکن ابھی تک وہ بیماریوں کا خاتمہ کرنے سے عاجز ہیں۔بلکہ وہ ان میں کمی کرنے سے بھی عاجز ہیں۔ گناہوں کے علاوہ ، علمی ناتوانی،ضعیف انتظام، اقتصادی بحران، حفظانِ صحت کے وسائل کا نہ ہونا،ہواکی آلودگی، ناقص علاج ا ور ناقص ادویات نے پوری دنیا کے انسانوں کو ہزاروں بیماریوں میں مبتلا کردیا ہے۔(2)

--------------

[1]۔ مغز متفکر جہانِ شیعہ:387

[2] ۔ صرف ایران میں دورانِ علاج ڈاکٹروں سے سالانہ 000،55 غلطیاں سرزد ہوتی ہیں،جن میں سے 500،10 موت اور 23000 اعضائِ بدن میں نقص کا باعث بنتی ہیں


اب بھی لاکھوں افراد بیماری کے بستر پر پڑے رنج و الم کی زندگی گزار رہے ہیں اور علمی ترقی اور تمدن کا نعرہ لگانے والے ممالک ان بیماریوں کے جراثیم اور اصلی عوامل کو بھی ختم نہیں کرسکے۔بیمار کو تیمار کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن حفظانِ صحت اور میڈیکل سائنس میں ترقی وکامیابی کے دعوے کرنے والے ابھی تک کیوں ان بیماریوں کا علاج تلاش نہیں کرسکے؟مگر کیا ایسا نہیں ہے کہ ہر درد کا مداوا بھی ہے،بلکہ ہزاروں درمان ہیں،بقول سنایی:

درد در عالم از فراوان است

ہر یکی را ہزار درمان است

دنیا کی رہبری و قیادت کا ادعا کرنے والے ہر مرض کا ایک علاج (نہ ہزار) تو لے آئیں ورنہ صائب کے بقول:

( دکّان بی متاع چرا و اکند کسی )

یہ تمام زمانہ غیبت کی تلخیاں ہیں اور دنیا والوں کا حضرت بقیة اللہ الاعظم  علیہ السلام کی عالمی عادلانہ حکومت سے دوری کا نتیجہ ہے۔

اگر وہ مقتدر اور آگاہ رہبر لوگوں پر حکومت کرتا تو دنیا والوں پر ایسی نادانی و ناتوانی کا سایہ نہ پڑتا۔کیونکہ ظہور کا زمانہ تمام قیمتی،بیش بہا اور مثبت عوامل ظاہر کرنے اور زندگی کے تمام شعبوں کے منفیاور مضر عوامل کو نابود کرنے کا زمانہ ہے۔

جی ہاں!جب خدا کیاحکامات سب پر حاکم ہوںاور دنیا والوں پر حکومت الہٰی قائم ہو تو پھر جہل و ناتوانی و نادانی کا نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔کیونکہ تمام فاسد اور منفی عوامل و اسباب کو آشکار کرکے نابود کردیا جائے گا۔

لیکن عصرِ غیبت میں حق اور ناحق آپس میں مل چکے ہیں۔مثبت اور منفی عوامل میں تشخیص امکان پذیر نہیں ہے۔اسی وجہ سے بہت سے امراض کے اصلی عوامل ابھی تک معلوم نہیں ہوسکے۔


ہم یہاں ان میں سے ایک نمونہ بیان کرتے ہیں:مردوں میں موبائل فون کی وجہ سے اسپرم کی مقدار میں کمی کی بیماری کو ابھی تک ٹھیک طرح سے تشخیص نہیں دیا جاسکا۔مجارستانی دانشوروں کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا استعمال مردوں کی جنسی قوت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے''زگد''یونیورسٹی کے محققین مجارستان میں کہتے ہیں''موبائل فون سے نکلنے والی لہریں مردوں میں3 / 1 حد تک اسپرم کو کم کرسکت ی ہیں۔اس مطالعہ سے معلوم ہوا کہ جو مرد سارا دن موبائل کو روشن رکھ کے اپنے پاس رکھیں ،ان میں اسپرم کی مقدار3 / 1 حد تک کم ہوجات ی ہے۔حتی کہ بقیہ اسپرم کی حرکت بھی غیر عادی ہوجاتی ہے۔اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ موبائل فون مردوں کی جنسی قوّت اور اسپرم پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

یورپ میں انجمن تولید انسانی کے سابقہ سربراہ پروفیسر''ہانس ایورس'' نے بیان کیا کہ اس تحقیق میں مردوں کی جنسی قوّت پر اثر انداز ہونے والے دیگر عوامل پر تحقیق نہیں کی گئی ۔اسی وجہ سے موبائل فون کے اسپرم پر مرتب ہونے والے آثار پر دقیق تحقیقات کی جائیں۔(1)

بعض بیانات و تحقیقات کے مطابق موجودہ صنعتی وسائل بہت سی بیماریوں کے عوامل ہیں:

1۔ایک بیان میں ذکر ہوا ہے : موبائل فون سے نکلنے والی الیکٹرو مقناطیسی شعاعوں کا انسان کی سلامتی پر اثر انداز ہونے کا خوف موجود ہے۔بالخصوص یہ بدن کے سیلز،مغز اور قوّت مدافعہ پر منفی اثرات چھوڑسکتی ہیں۔جس سے مختلف بیماریوں مثلاً کینسر یا آلزایمر وغیرہ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

--------------

[1]۔ مجلہ دانشمند مہر ماہ 1383 ،شمارہ492،صفحہ25


یورپ کی لیبارٹریز کی تازہ ترین تحقیقات کے مطابق موبائل فون کی ریڈیو لہریں دائمی طورپر انسان اور حیوان کے DNAمیںداخل ہوکر ان کے سیلز میں تغییر پیدا کرتی ہیں۔یہ تغییرات کینسر کا باعث بن سکتی ہیں۔اس بارے میں اس سے آگے تحقیق نہیں ہوسکی اور یہ کہ کیا سیلز کی تغییر کسی خاص  بیماری تک پہنچتی ہے یا نہیں۔اس بارے میں انہوں نے اپنے نظریے بیان نہیں کئے۔

دیگر تحقیقات میں بھی بیالوجیکلتبدیلیوں  کو بیان کیا گیا ہے۔جس میں چوہوں پر تجربات سے معلوم ہوا کہ موبائل فون سے نکلنے والی لہریں ان چوہوں کی سلامتی کے  لئے نقصان دہ ہیں۔لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کیا یہ تحقیقات مستقیم طور پر انسانوں سے بھی مربوط ہیں یا نہیں۔

فن لینڈ کے دانشوروں کی تحقیقات سے2002 ء م یں معلوم ہوا کہ یہ لہریں انسان کے ذہن و دماغ کی طاقت پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔لیکن انہوں نے کہا کہ اس بارے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کیا یہ لہریں زندہ انسانوں پر بھی اسی طرح اثر انداز ہوتی ہیں یا نہیں؟

بعض سوئیس دانشوروں نے بھی2002 ء م یں دعوی کیا کہ موبائل فونز کے درمیان رابطہ پیدا کرنے والی لہریں دماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔تحقیقات کے مطابق سب سے پہلے بننے والے موبائل فون استعمال کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کے درمیان مقائسہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موبائل فون استعمال کرنے والوں میں سے تیس فیصد ذہنی امراض کے شکار ہیں۔

اسی طرح بعض تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض افراد موبائل فون استعمال کرنے کے بعد سردرد یا تھکاوٹ کا احساس کرتے ہیں یا وہ کسی چیز پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتے۔


2 ۔موبائل فون سے خارج ہونے وال ی لہریں بدن کے سیل اور انسان کے DNA کو نقصان پہنچاتی ہیں لمبے عرصے تک الیکٹرک مقناطیسی لہروں کا خارج ہونا DNA سیلز کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے کہ جو پھر قابلِ ترمیم نہیں ہے۔

موبائل کو دریافت ہوئے برسوں گزرگئے لیکن ابھی تک انسانوں کے ذہن اور اعصاب پر اس کے منفی اثرات سے بہت سے محققین نا آشنا ہیں۔

لیکن جس دن سب لوگ مکتبِ اہلبیت علیھم السلام کی تعلیمات کے آب شیریں سے سیراب ہوں گے تو اس وقت کوئی مبہم اور نا شناختہ نکتہ باقی نہیں رہے گا۔اس زمانے میں نہ صرف مختلف بیماریوں  کے اسباب و علل سے آگاہی حاصل ہوجائے گی بلکہ بیماریوں کے تمام عوامل بھی برطرف ہوجائیں گے۔

کیا ہم سب کو ایسے بابرکت  اور پر مسرت دن کی آمد کے لئے خدا کی بارگاہ میں دعا  کے لئے ہاتھ نہیں اٹھانے چاہئیں کہ جب سب لوگ سلامتی ، تندرستی اور قدرت و طاقت سے سرشار ہوں گے؟


پانچواں  باب

عقلی  تکامل

    عقلی تکامل               وجود انسان میں بدلاؤ ضروری ہے

    امام مہدی علیہ السلام اور عقلی تکامل            اتحاد و یگانگت سے سرشار دنیا

    عصر ظہور میں تکامل عقل کی وجہ سے ناپسندیدہ صفات پر غلبہ        عالم غیب سے ارتباط        غیب کا مظہر کامل

    مرحوم سید بحر العلوم کی زندگی کے کچھ اہم واقعات      علامات و نشانیاں       ایک عام انسان اور حیرت انگیز دماغ

    اسے یہ قدرت کیسے حاصل ہوئی؟         کسی انجان چیز کا اس کے دماغ میں بدلاؤ ایجاد کرنا

    دوسری زبان میں کلام        کسی انجان قوّت کا اس کے دماغ کو مطلع کرنا

    بے زبانوں سے گفتگو        ریڈار کے نام سے پروگرام          عقل کی آزادی

    سالم فطرت کی طرف لوٹنا

    کیا ظہور سے پہلے عقلی تکامل کا حصول ممکن ہے؟

    کیا یہ عقیدہ صحیح ہے ؟

    دماغ کی قوّت و طاقت

    غیر معمولی حافظہ دماغ کی عظیم قدرت کی دلیل

    دماغ کا ما فوق فطرت، قدرت سے رابطہ

    جدید علم کی نظر میں عقلی تکامل

    عقلی تکامل اور ارادہ


عقلی تکامل

انسان کے وجود کی تخلیق بہت حیرت انگیز اور مہم ہے۔ یعنی اگر انسان خود پہچان لے تو وہ بہت سے غیر معمولی اور اہم کام انجام دے سکتا ہے۔لیکن اگر وہ اپنے اندر پوشیدہ قوّتوں سے آگاہ نہ ہو تو وہ صرف اپنی زندگی بسر کرکے بہت بڑے عظیم سرمائے کو ضائع کردیتا ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام  نے اپنے  ارشادات میں بارہا انسانوں کو اس حقیقت سے آگاہ فرمایا ہے اور انہیںہوشیارکیا ہے کہ وہ کہیں یہ گمان نہ کریں کہ وہ ایک چھوٹی سی مخلوق اور کم قیمت جزء ہے۔ بلکہ جان لو کہ انسان کے وجود میں اسرار کی ایک دنیا موجود ہے۔

افسوس کہ اس وقت کے معاشرے میں ایسے عظیم رہبر کی قیادت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں تھی۔انہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام  سے اس بارے میں کوئی سوال نہ کیا۔جب مولائے کائنات امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے سب کو بتایا کہ میں زمین سے زیادہ آسمان کے اسرار و رموز سے آگاہ ہوں، مجھ سے سوال کرو تاکہ تمہیں اس کا جواب دوں، تو اتنے بڑے مجمع میں سے صرف ایک شخص اٹھا اور اس نے سوال پوچھا کہ مولا میرے سر پر بالوں کی تعداد کتنی ہے؟تاریخ میں یہ ثبت نہیں ہوا کہ وہاں موجود لوگوں کی اتنی بڑی  تعدادمیں سے کسی نے اس احمقانہ سوال پر اس کی سرزنش کی ہو۔

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے انسانوں کو دماغ کی حیرت انگیز قدرت سے آگاہ فرمایا اور انہیں ایسی پوشیدہ قوّتوں کے بارے میں خبر دی کہ جنہیں انسان بیدار کرکے بروئے کار لائے۔ لیکن آنحضرت کے چند خاص اصحاب کے علاوہ کسی نے دماغ کی ناشناختہ قدرت کے بارے میں کچھ نہ سیکھا۔

اس دن سے آج تک صدیاں گزرگئیں۔لیکن ابھی تک بہت سے لوگوں کو دماغ کی عجیب اور حیرت انگیز قدرت سے آگاہی حاصل نہیں ہے اور جنہوں نے اسے درک کرلیا،ان کے لئے بھی ابھی دماغ کی بہت سی مخفی قدرتوں کو پہچاننا باقی ہے۔


وجود انسان میں بدلاؤ ضروری ہے

حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) حکومت کے دوران دنیا اور دنیا والوں کو نظم اور پُر آسائش زندگی دینے کے لئے غیر معمولی معنوی قدرت یعنی اپنی ولایت کے عظیم مقام سے استفادہ کرتے ہوئے دنیا میں تغییر اور دنیا والوں میں عقلی تکامل ایجاد کریں گے۔

انسان کس طرح سے خلقت کے عظیم اسرار اور ولایت کے اعلی مقام سے واقفیت حاصل کرسکتا ہے،حالانکہ انسان کے دماغ کے وسیع پہلو ابھی تک فعّال نہیں ہوئے اور اب بھی سوچ و فکر اور آلودہ دلوںپر دھند لکا چھایا ہوا ہے؟

اسی وجہ سے حضرت ولی عصر (عج) لوگوں کو حقائق معارف ِ الہٰی کی تعلیم دینے سے پہلے ،انسان کے وجود میںبدلاؤ اور ذہنِ بشر میں تبدیلی ایجاد کریں گے۔

علم و دانش اور دین کے مسائل میں عجیب پیشرفت اور انسان کانیک و بزرگ افکار کوقبول کرنے کی آمادگی کے لئے انسان کے وجودمیں یہ تبدیلی ایک لازمی ضرورت ہے۔

اہلبیت اطہار علیہ السلام   کے عالی علوم و معارف کو درک کرنے اور انسان کی استعداد و صلاحیت میں اضافہ کے لئے یہ بدلاؤ ایک واقعی ضرورت ہے۔لہٰذا دنیا والوں میں یہ بدلاؤ ایجاد ہونا چاہیئے۔اہل دنیا میں تبدیلی پیدا ہونے سے خود دنیا میں بھی بہت سی مثبتتبدیلیاں جنم لیں گی۔

زمین کے طبیعی نظام میں تبدیلی دنیا اور اہل دنیا میں اساسی تغیر آئندہ دنیا میں تکامل کی شرط ہے۔

جس طرح کام،روزگار اور اجتماعی امور کے لئے بچوں کا سنِ جوانی تک پہچنا ضروری ہے،جیسا کہ انسان میں جب تک بعض غرائز پیدا نہ ہوں ،وہ بعض امور کو درک نہیں کرتا۔


اسی طرح جب تک انسان کے دل و دماغ میں پوشیدہ عظیم قدرت فعال نہ ہوجائے ،تب تک اس کے لئے ترقی یافتہ امور اور عالی معارف کی معرفت ممکن نہیں اس دلیل کے رو سے انہیں درک کرنے کے لئے دنیا اور اہل دنیا میں تحوّل و تغیّر اوربدلاؤ ایجاد ہونا ضروری ہے۔

کیا بچپن میں (جب ابھی تک چلنا نہیں سیکھا تھا اسے چاہ چالہ (فارسی محاورہ) کے خطرے کی خبر نہ تھی ) انسان سیاہ چالہ (BLACK HOLE) کی عظمت و سختی کے بارے میں بات کرسکتا تھا ۔(1)

کیا انسان بچپن میں دنیا کی وسعت کو بیان کرسکتا تھا کہ جب وہ چاہ و راہ کے درمیان فرق پیدا نہیں کرسکتا تھا؟

بچپن کے عالم میں انسان کو اپنی انگلیوں کی تعداد کا علم نہیں تھا تو وہ  فضا کی وسعت اور بادلوں  کی تعداد کو کس طرح سے بیان کرسکتا تھا؟

یہ بالکل واضح ہے کہ ان مطالب کو درک کرنے کے لئے بچے کو رشدو تکامل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان علمی مطالب کو درک کرنے کی آمادگی کے بعد اسے ان کی تعلیم دی جائے۔

اسی لئے انسانوں میں انتہائی مہم اور عظیم مسائل کو قبول کرنے کے لئے حیاتِ قلبی اور دماغی سیلز کے فعّال ہونے کی ضرورت ہے تاکہ انسان میں عقلی تکامل اور حیاتِ قلب سے مہم امور کو درک کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور انہیں دل و جان سے قبول کرے۔

--------------

[1]۔ سیا ہ چالہ Black hole فضا میں ایک ایساجسم ہے کہ جس میں شدید جاذبہ ہے ،جس سے کوئی چیز حتی کہ نور بھی گزر کر فضا میں داخل نہیں ہوسکتا۔


  امام مہدی علیہ السلام اور عقلی تکامل

کون انسان کے وجود میں بدلاؤ پیدا کرسکتا ہے؟

کس قدرت میں یہ توانائی ہے کہ وہ انسان کے دماغ میں مخفی عظیم قوّتوں کو فعّال کرکے بروئے کار لائے تاکہ سب آسانی سے اخلاقی فضیلتوں کے مالک اوراحکامات الہٰی پر عمل کرنے والے بن جائیں؟

کیا اس دنیا کی اصلاح کرنے والے مصلح عالم کے سوا کوئی اور تمام انسانوں میں ایسیقوت و انرجی پیدا کرسکتا ہے کہ جو سب کو جود انسان میں مخفی قدرت  و قوّت و اسرار سے آشنا کرے؟

اس سلسلہ میں حضرت باقر العلوم علیہ السلام کی روایت میں دنیا کے تکامل کے راز سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ تکامل حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے دستِ مبارک سے انجام پائے گا۔ آنحضرت  فرماتے ہیں:

''اذا قام قائمنا وضع یده علی رؤوس العباد ،فجمع به عقولهم و اکمل به اخلاقهم ''  (1)

جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو وہ بندگانِ خدا کے سروں پر اپنا دستِ مبارک رکھے گا اس طرح  سے ان کی عقلوں کو متمرکز اور ان کے اخلاق کی تکمیل کرے گا۔

اس روایت میں کچھ شفاف، پاک اور مہم نکات موجود ہیں،کیونکہ یہ واضح ہے کہ کوئی بھی خاندانِ اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کے فرامین و کلمات میں موجود اسرار و رموز سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوسکتا۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار : ج52ص  336


حضرت امام صادق علیہ السلام سے زید ذرّاد ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں معارف اہلبیت علیہ السلام کے مہم نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

''قلت لابی عبداللّٰه  :نخشی ان لا یکون مؤمنین ''

''قال:و لم ذلک؟فقلت وذلک أنّالا نجد فینا من یکون أخوه عنده آثر من درهمه و دیناره،و نجد الدینار والدرهم آثر عندنامن أخ قد جمع بیننا و بینه موالاة امیرالمؤمنین''

'' قال کلاّ! أنّکم مؤمنون ، ولکن لاتکلمون ایمانکم حتی یخرج قائمنا،فعندنا یجمع اللّه احلامکم،فتکونون مؤمنین کاملین ولو لم یکن فی الارض مؤمنون کاملون،اذا لرفعنا اللّه الیه و انکرتم الارض و انکرتم السّمائ'' (1)

میں نے امام صادق علیہ السلام سے کہا:ہم ڈرتے ہیں کہ کہی ایسا تو نہیں ہے کہ ہم مؤمن نہیں ہیں؟

امام  نے فرمایا:کس لئے ڈرتے ہو۔

میں نے عرض کیا: کیونکہ ہم میںایسا کوئی نہیں ہے کہ جس کے نزدیک اس کا بھائی درہم و دینار سے زیادہ عزیز و پیاراہو۔ہم درہم و دینار کو ایسے بھائی سے زیادہ عزیز و پیارا سمجھتے ہیں کہ جو ہمارے اور اس کے درمیان امیرالمؤمنین  علیہ السلام کی دوستی کو جمع کرتا ہے۔

حضرت  نے فرمایا: تم لوگ یقینا مؤمن ہو۔لیکن تم اپنے ایمان کو کامل نہیں کرتے کہ جب تک ہمارا قائم علیہ السلام  قیام کرے گا تواس وقت خدا وند کریم تمہاری عقلوں کو جمع و متمرکزفرمائے گا۔پس مؤمنین کامل ہوجائیں گے اور اگر زمین میں کامل مؤمن افراد نہ ہوئے تو خدا وند کریم ہمیں تم میں سے اٹھالے گا اور تم زمین و آسمان کے منکر ہوجائوگے۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار :ج67ص 350


اس روایت سے بہت سے نکات حاصل ہوتے ہیں ۔ہم ان میں سے بعض نکات بیان کرتے ہیں:

1 ۔ جب تک حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام قیام نہ فرمائیں تب تک لوگ کامل ایمان نہیں رکھتے ہیں۔

2۔اپنے دینی بھائیوں سے زیادہ مال و دولت کی اہمیت کے قائل ہیں۔

3۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں لوگوں کی عقلیں کامل و متمرکز ہو جائیں گی۔

4۔ عقل کامل ہونے کے نتیجے میں لوگوں کا ایمان بھی کامل ہوجائے گا۔

5۔ ظہور سے پہلے کامل ایمان رکھنے والے افراد بہت کم ہوں گے۔

6۔ زمین پر ان کا وجود ، اہلبیت علیھم السلام کے مقدس وجود کا باعث ہوگا۔

7۔ اگر اہلبیت عصمت و طہارت  علیھم السلام زمین پر نہ ہوں تو لوگوں میں اس قدر بھی ایمان نہ ہو۔

8۔ روایت سے ایک دوسرا نکتہ بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ ظہور کے مقدس زمانے میں عقلوں کے تکامل کی وجہ سے لوگوں میں ایسا خلوص اور جذبہ ایجاد ہوگا کہ وہ ایمان کو مال وثروت پر مقدم سمجھیں گے اور ایک دوسرے سے ایسا برتائو کریں گے جیسے وہ مال میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوں ۔


  اتحاد و یگانگت سے سرشار دنیا

مرحوم علامہ مجلسی ''بحارالانوار '' میں روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر  علیہ السلام سے کہا گیا:

''انّ اصحابنا بالکوفة جماعة کثیرة فلو أمرتهم لأطاعوک واتّبعوک فقال:یجیٔ احدهم الی کیس اخیه فیأخذ منه حاجتة؟''فقال:لا .

قال: فهم بدمائهم أبخل

ثم قال: انّ النّاس فی هدنة نناکحهم و نوراثهم و نقیم علیهم الحدود ونؤدّی اماناتهم حتی اذا قام القائم جائت المزاملة و یأتی الرجل الی کیس اخیه فیاخذ حاجته لا یمنعه "(1)

کوفہ میں ہمارے بہت سے اصحاب ہیں۔اگر انہیں حکم کریں تو وہ آپ کی اطاعت کریں گے  اور آپ کی پیروی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

امام باقر  علیہ السلام نے فرمایا:کیا ان میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کی جیب سے ضرورت کے مطابق لیتا ہے؟

میں نے کہا!نہیں۔

امام  نے فرمایا:(جب وہ اپنے مال کے لئے اتنے بخیل ہیں) وہ اپنوں کی بہ نسبت بہت زیادہ بخیل ہوں گے۔

پھر امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:اب لوگ میل و ملاپ اور امن و امان میں ہیں ان سے نکاح کرتے ہیں ، ارث لیتے ہیں،ان پر حد جاری کرتے ہیں اور ان کی امانتیں انہیں لوٹا دیتے ہیں کہ جب قائم  علیہ السلام قیا م کریں گے تولوگوں کے مابین مخلصانہ و صادقانہ رفاقت پیدا ہوگی اور مرد اپنے بھائی کی جیب کی طرف بڑھے گا اور اس میں سے ضرورت کے مطابق لے لے گا اور صاحبِ مال بھی اسے اس کام سے نہیں روکے گا۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار:ج 52ص 372


عقل  کے تکامل سے معاشرے میں خلوص و محبت کی ایسی فضا قائم ہوجائے گی کہ سب عقل کامل ہونے کی وجہ سے پیار،محبت،یگانگت اور اتحاد ایجاد کرنے کی کوشش کریں گے۔اس زمانے میں اجتماعی زندگی میں مہر و محبت ہوگی کہ سب اپنے مال میں دوسروں اور دوسروںکے مال میں خود کو شریک سمجھ کر اس سے استفادہ کریں گے اور یہ سب امام عصر علیہ السلام کے عادلانہ نظام اور حکومت الہٰی کے حاکم ہونے کی وجہ سے ہوگا۔پھر انسان تکامل عقل سے بہرہ مند ہوکر پیار،محبت،اخوت اور بھائی چارے کی دنیا کی طرف گامزن ہوجائیں  گے۔

اب ہم جو روایت پیش کر رہے ہیں۔اس پر توجہ کریں:

امام محمد باقر  علیہ السلام نے سعید بن حسن سے فرمایا:

'' أیجیء احدکم الی اخیه فیدخل یده فی کیسه ،فیأخذ حاجتة فلا یدفعه؟فقلت:ما أعرف ذلک فینا

فقال ابو جعفر:فلا شیء اذاً قلت:فالهلاک اذاً،فقال:ان القوم لم یعطوا احلامهم بعد''(1)

کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنے دینی بھائی کی جیب میں ہاتھ ڈال کر اس سے حسبِ ضرورت لے لے اور صاحبِ مال بھی اسے منع نہ کرے؟

میں نے جواب میں کہا!ہم نے اپنوں میں ایسا نہیں دیکھا۔

امام  نے فرمایا:اس بناء پر ایسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔

میں نے کہا!پس کیا اب ہم ہلاک و گمراہ ہوجائیں گے؟

--------------

[1]۔ اصول کافی :ج۱ص۱۷۳،بحارالانوار: ج74ص 254


امام نے اس احتمال کی نفی کرتے ہوئے فرمایا!ابھی تک لوگوں کو ان کی عقلیں عطا نہیں ہوئیں۔

اس روایت کی بناء پر جب تک معاشرہ ایسی اعلیٰ صفات کا مالک نہ بن جائے،تب تک وہ کامل عقل سے بہرہ مند نہیں ہے۔امام محمد باقر  علیہ السلام کے فرمان کے مطابق ابھی تک ان کو عقلیںنہیں دی گئی ہیں۔

گویا معاشرے کے لئے تمام عقلی قوّتوں سے استفادہ کرنا ممکن نہیں ہے۔جس طرح لوگ سونے کے خزانوں کو خاک تلے پنہاں کردیتے ہیں،اسی طرح لوگوں نے اپنی فکری قدرت و طاقت کو بھی زیرِ خاک دفن کر رکھا ہے۔

لیکن اس وقت انسان کی عقلیں کامل ہوجائیں گی ۔جس کے نتیجے میں نہ صرف بخل بلکہ تمام صفات رذیلہ بھی زائل ہوجائیں گی،بری اور نا پسندیدہ عادات ختم ہوجائیں گی۔پھر سب اعلیٰ انسانی خصوصیات و صفات سے سرشار ہوں گے۔کیونکہ یہ کامل عقل کا لازمہ ہے۔

  عصر ظہور میں تکامل عقل کی وجہ سے ناپسندیدہ صفات پر غلبہ

خاندانِ عصمت و طہارت علیہم السلام کے خاص اصحاب اور اولیاء خدا نے ایسے اعمال انجام دیئے کہ جن کے نتیجہ میں وہ ناپسندیدہ صفات و عادات پر غالب آگئے اور انہوں نے اپنی عقلائی قوت سے طبائع سوء کو مغلوب و مقہور کرکے کمال کے درجہ تک رسائی حاصل کی۔


یہ ایک فطری و طبیعی موضوع ہے کہ جب عقل کامل ہوجائے تو وہ نہ صرف برے اعمال و کردار بلکہ بری عادتوںپر بھی غالب آجاتی ہے۔ جیسا کہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

''والعقل الکامل قاهر الطبع السوء '' (1)

عقلِ کامل ، بری طبیعت پر غالب آجاتی ہے۔

اس بناء پر کامل عاقل اپنی تمام بری صفات حتی کہ ایسی صفات پر بھی قاہر و غالب آجاتا ہے کہ جو اس کی ذات کا حصہ بن چکی ہوں۔پھر وہ انہیں عقلی قوّت کے ذریعے مقہور و مغلوب کرے گا۔

حضرت مولا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے فرمان سے یہ اہم نکتہ حاصل ہوتا ہے کہ اولیاء خدا اور صاحبانِ عقل کامل میں اعلیٰ و بلند مقامات پر فائز ہونے سے پہلے بری عادتوںکا ہونا ممکن ہے۔

یہ ایسے لوگوں کے لئے بشارت ہے کہ جو خود کو طبیعت و صفات بد کا مالک سمجھتے  ہیں۔وہ ناامید نہ ہوں بلکہ خود کو دعا و کوشش کے ذریعے کمال تک پہنچائیں۔حتی حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے اسی روایت میں کمال تک رسائی حاصل کرنے کے خواہاں افراد کو عملی راہ بھی دکھا دی اور ایک وظیفہ کے عنوان سے فرمایا۔

''وعلی العاقل ان یحصی علی نفسه مساویها فی الدین والرأی والاخلاق والادب فی  جمع ذلک فی صدره او فی کتاب و یعمل فی ازالتها '' (2)عاقل کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے نفس کی تمام برائیوں کو دین، رائے اوراخلاق و ادب میں شمار کرے اور انہیں اپنے حافظے میں یا لکھ کر جمع کرے اور انہیں ختم کرنے کے لئے کوشش کرے۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار:ج۷۸ص6

[2]۔ بحارالانوار:ج۷۸ص6


حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے تمام عقل مندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ غلطیوں کو یاد کرکے انہیں زائل و برطرف کرنے کی کوشش کریں۔یہ ایک ایسا بہترین آئین  و اصول ہے کہ اگر اس کے مطابق عمل کریںتو یہ آپ کو اعلی ٰ مقامات تک پہنچا کر معنویت کے طولانی راستے کو نزدیک کردے گا۔

کیونکہ اس کام سے آپ کے تجربات میں اضافہ ہوگا اور جس کا تجربہ زیادہ ہو،اس کی عقل زیادہ ہوتی ہے جس کی عقل زیادہ ہو وہ سو سالہ راستہ جلد ہی طے کرلیتا ہے۔

تجربہ کی وجہ سے عقل کی زیادتی،ایسا نکتہ ہے کہ جس کی حضرت امیرالمؤمنین  نے اسی روایت کے آغاز میں تصریح فرمائی ہے:

''العقل عقلان:عقل الطبع و عقل التجربة و کلاهما یؤدی الی المنفعة '' (1)

عقل دو طرح کی ہے۔ عقل طبیعی اور عقل تجربی ۔یہ دونوں انسان کو منفعت تک پہنچاتی ہیں۔

اس بناء پر افراد کی ذاتی و فطری عقل کے علاوہ تجربی عقل بھی وجود رکھتی ہے۔جیسا کہ حضرت امیرالمؤمنین علی  علیہ السلام نے فرمایا کہ دونوں عقلیں منافع پر منتہی ہوتی ہیں۔

ان تمام مطالب سے درج ذیل نکات حاصل ہوتے ہیں۔

1 ۔ عقل دو طرح کی ہے،ذاتی و تجربی

2۔ جس طرح ذاتی عقل انسان کو منافع اور خوبیوں تک پہنچاتی ہے تجربی عقل بھی اسی طرح ہے۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار: ج۷۸ص6


3 ۔عاقل پر واجب ہے کہ وہ اپن ی اخلاقی و دینی برائیوں کویاد کرکے انہیں ختم کرنے کی کوشش کرے۔

4۔ انسان کو ماضی میں سرزد ہونے والی غلطیوں کی وجہ عالی و بلند مقامات تک پہنچنے سے ناامید اور مایوس نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ اسے حضرت امیر المؤمنین علی  علیہ السلام کے فرمان سے درس لے کر اپنے مستقبل کے لئے پُر امید ہونا چاہئے۔

5 ۔ خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے خاص اصحاب اور تمام اولیاء خدا ابتداء ہی سے عظیم ذات اورنیک طبیعت کے مالک نہیں تھے۔بلکہ انہوں نے زحمت و کوشش سے وہ مقام حاصل کیا۔

6۔ کامل عقل یا اولیاء خدا اپنی بری صفات پر قوّہ عقل کے ذریعہ غلبہ حاصل کرتے ہیں۔

7 ۔ ہر کامل عقل کا مالک اعل ی مقامات کا مالک ہوتا ہے کیونکہ جو عقلِ کامل اورسالم طبیعت  رکھتا ہو وہ عالمِ ملکوت کے ساتھ ارتباط پیدا کرکے ملکوتی ہو جاتا ہے۔

ایسے افرادشرح صدر پیدا  کرتے ہوئے نور الٰہی کے مالک بن جاتے ہیں  اور اسی نور الٰہی کی وجہ سے حقائق کو دیکھتے ہیں۔

خدا وند متعال کا قرآن میں ارشاد  ہے:

''أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلِْسْلَامِ فَهُوَ عَلَی نُورٍ مِّن رَّبِّهِ فَوَیْْل لِّلْقَاسِیَة ِقُلُوبُهُم مِن ذِکْرِ اللَّهِ أُوْلٰئِکَ فِیْ ضَلَالٍ مُبِیْنٍ '' (1)

کیا وہ شخص جس کے سینے کو خد انے اسلام کے لئے کشادہ کر دیا ہے تو وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نورانیت کا حامل ہے، گمراہوں جیسا ہوسکتا ہے !افسوس ان لوگوں کے حال پر جن کے دل ذکر خدا کے لئے سخت ہو گئے ہیں تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

--------------

[1]۔ سورہ زمر ،آیت:22


جی ہاں !کمال عقل کے ذریعہ راستہ پانے والے افراد ایسے ہیں کہ جن کے قلب بینا ہیں اور جنہوں نے دل کے اندھے پن سے نجات حاصل کرلی جو کہ بدترین اندھا پن ہے۔

حضرت محمد مصطفیٰ(ص) نے فرمایا:

''  شرّ العمی عمی القلب '' (1)

بدترین اندھا پن، دل کا اندھا پن ہے۔

  عالم غیب سے ارتباط

یہ واضح ہے کہ جب کوئی دل کے اندھے پن سے نجات حاصل کرے اور اس کا دل روشن ہوجائے تو وہ درخشاں انوار کا واضح مشاہدہ کر سکتا ہے۔ایسا دل حضرت امام آخرالزمان (عج) کے مبارک نور سے منوّر ہو جائے گا۔جس طرح حضرت '' ھالو "(2) امام عصر علیہ السلام کی آواز سن کر سمجھ جاتے تھے کہ امام آخرالزمان (عج) انہیں دنیا کے کس حصے سے آواز دے رہے ہیں۔وہ آواز سن کر خود کو امام کے محضر میں پہنچاتے،وہ بھی دل کی آنکھوں سے آنحضرت کودیکھتے تھے۔حضرت امام سجاد علیہ السلام  ایک طولانی روایت میں  ارشاد فرماتے ہیں:

--------------

[5]۔ بحارالانوار:ج۷۰ص۵۱

[2] ۔ حضرت ھالو ظاہراََ ایک عادی فرد تھے وہ اصفہان میں کام کرتے تھے لیکن حقیقت میں امام عصر کے مأمورین میں سے ایک تھے۔ آنحضرت بعض کام انجام دینے کے لئے انہیں مأمور فرماتے تھے ۔


'' اَلا انّ للعبد اربع أعین:عینان یبصربهما امر دینه و دنیاه و عینان یبصربهما امر آخرته، فاذااراد اللّه بعبد خیراََ فتح له العینین الّتین ف قلبه فابصر بهما الغیب وامر آخرته و اذا اراد به غیر ذالک ترک القلب بما فیه '' (1)

آگاہ ہو جاؤ !  بندے کی چار آنکھیں ہیں ۔ دو آنکھیں ایسی ہیں کہ جن سے اپنے دین و دنیا کے امر دیکھتا ہے اور دو ایسی آنکھیں ہیں کہ جن سے اپنی آخرت کے معاملات کو دیکھتا ہے۔ جب بھی خد ا کسی بندے کے لئے خیر کا ارادہ کرے تو اس کے دل میں پنہاں اس کی دو آنکھیں کھول دیتا ہے۔پس وہ ان کے ذریعہ غیب اور اپنی آخرت کے معاملات کو دیکھے گا۔اگر کوئی اپنے بندے سے اس کے غیر کا ارادہ کرے تو وہ اس کے دل کو جیسا ہے ویسا چھوڑ دیتاہے۔

  غیب کا مظہر کامل

غیب کے امور میں سے ایک بلکہ اس کا اہم ترین مورد حضرت امام مہدی علیہ السلام کامقد س وجود ہے۔ کچھ مومنین باطنی آنکھوں سے آنحضرت کودیکھیں گے۔ قرآن مجید کی اس آیہ شریفہ''الذین یؤمنون بالغیب ،، (2) میں آنحضرت  کوغیب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جیساکہ اہلبیت علیھم السلام سے وارد ہونے والی تفاسیر میں اس موضوع کی تصریح ہوئی ہے۔

گزشتہ روایت کوقرآن کی آیت سے ضمیمہ کرنے سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ خدا وند متعال نے جن کی باطنی آنکھوں کو کھول دیا ہے۔وہ یقیناََزمانہ غیبت میں حضرت ولی عصر(عج) سے ارتباط پید اکرکے دل کی آنکھوں سے ان کی زیارت سے شرفیاب ہوں گے۔حلانکہ آنحضرت غیب کے کامل مظہر ہیں۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار:ج۷۰ص۵۳

[2]۔، سورہ بقرہ آیت :3


مرحوم سید بحر العلوم کی زندگی کے کچھ اہم واقعات

مرحوم سید بحر العلوم ایسے افراد میںسے تھے کہ جن کے دل کی آنکھیں روشن ہونے کی وجہ سے وہ ایسے امور دیکھتے کہ جنہیں دیکھنے سے دوسرے  عاجزتھے۔اس بحث کو ثابت کرنے کے لئے اس بزرگ کی زندگی کے کچھ اہم واقعات نقل کرتے ہیں۔مرحوم محدث نوری کتاب دارالسلام میں مرحوم شیح تقی ملّا سے حکایت کرتے ہیںکہ جومرحوم آیت اللہ سید بحر العلوم  کے شاگردوں میں سے بھی ہیں۔

میں ایک سفر میں مرحوم سید بحر العلوم  کے ہمراہ تھا میں اور سید جس قافلہ میں تھے  اس میں ہم منزل بہ منزل سفر کر رہے تھے۔سفر میں ایک ایسا شخص بھی تھا ،جو کسی اور منزل کی طرف سفر کر رہا تھا لیکن وہ بھی قافلہ کے ہمراہ تھا۔ایک بارراستہ  میں  سید نے اسے دیکھا اور اس کی طرف اشارہ کرکے اسے اپنی طرف بلایا۔

وہ سید کے قریب آیا اور اس نے سید کی دست بوسی کی۔پھر سید نے اس سے تمام افراد کی خیریت دریافت کی کہ جن میں بہت سے مرد اور خواتین شامل تھے۔اس شخص نے جواب دیا کہ سب خیریت سے ہیں۔جب وہ شخص چلاگیا تو میں نے سیّد  سے پوچھا کہ اس مرد کے لباس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق عراق سے نہیں ہے۔سیّد نے فرمایا ؛ہاں وہ یمن کا باشندہ تھا۔

میں نے کہا ؛آپ تو یمن تشریف نہیں لے گئے،لیکنآپ کو اس گرو ہ کانام کیسے معلوم ہوا کہ جن کے بارے میں آپ نے سوال کیا اور آپ جن کے مرد و خواتین سے بھی آگا ہ ہیں؟

سیّد نے جواب میں کچھ تأمل فرمایا اور کہا؛سبحان اللہ،اس میں تعجب کی کیا بات ہے،اگر مجھ سے تمام روئے زمین میں سے چپے چپے کے بارے میں سوال کرو تو میں سب کو جانتا اور پہچانتا ہوں۔


محدث نوری کہتے ہیں کہ اس  بزرگ کے اس فرمان کا مؤید یہ ہے کہ نجف اشرف میں تمام مقامات مقدسہ جیسے مسجد کوفہ،مسجد حنّانہ، قبر مطہرکمیل بن زیاد ، حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام  کا گھر ، حضرت ہود علیہ السلام اور صالح   علیہ السلام کی قبر مبارک کومرحوم سید بحر العلوم نے معین کیااور تعمیر کروایاورنہ اسے زمانے سے مرحوم سیّد کے زمانے تک ان کے آثار باقی نہ تھے۔مرحوم سید بحر العلوم  کے زمانے کے تمام علماء   مرحوم سیدکے فرمودات کو اپنا فریضہ سمجھتے اور انہیں قبول کرتے اور کوئی بھی ان پراعتراض نہ کرتا۔حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح  علیہ السلام کی قبریں واد ی السلام میں باقی ہیں۔ لیکن سید نے فرمایا کہ یہاں ان کی قبریں نہیںہیں۔پھر انہوں نے دوسری جگہ کو معین فرمایا کہ جو اب ان بزرگ ہستیوں کا مزار اور لوگوں کے لئے زیارت گاہ ہیں۔(1) کتاب تاریخ کوفی میں  لکھتے ہیں:بزرگ علّامہ سید محمد مہدی نجفی  کہ جو بحر العلوم کے نام سے مشہور ہیں۔ان کے جاویدانی آثار ہیں۔ان میں سے ایک مقدس مقام مسجد کوفہ ہے کہ جسے گزشتہ زمانے میں زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے اور دین میں بصیرت رکھنے والے بہت کم افراد کے  علاوہ کوئی انہیں نہیں جانتا تھا۔ اس رو سے مرحوم سید بحر العلوم نے ان مقدس مقامات کو معین کرنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی۔اس میں کچھ نشانات اور محراب تعمیر کئے اور محراب النبی میں قبلہ کو تعیین کرنے کے لئے پتھروں کا ایک ستون بنایا۔یہ ایک ایساشاخص ہے کہ جو آج بھی ،،رخامہ،،کے نام سے جانا جاتا ہے  ۔(2)

--------------

[1]۔ گلزاراکبری:358

[2]۔ تاریخ کوفہ:72


مرحوم سید بحر العلوم کے آثار میں سے ایک یہ ہے کہ مسجد سہلہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام   کے لئے ایک مقام موجو تھا ۔لیکن لوگ اس مقام کو نہیں جانتے تھے ۔  سید بحر العلوم نے حکم دیا کہ فلاں مقام پر ایک گنبد تعمیر کیا جائے تاکہ وہ مقام مشخص ہو جائے۔(1)

بزرگ علّامہ شیخ عراقین (کوفہ و بصرہ)شیخ عبد الحسین تہرانی جب مقامات عالیہ کی زیارت کےقصد سے عراق گئے تو انہوں نے ان مقامات کو دوبارہ تعم یر کروانے کا اقدام کیا۔مسجد کوفہ کے گوشہ میں جناب مختار کی آرامگاہ کے بارے میں جستجو کی تا کہ اس کو بھی دوبارہ سے تعمیر کیا جا سکے۔ان کے پاس قبر کی فقط ایک نشانی تھی کہ وہ جامع مسجد سے متصل صحن مسلم بن عقیل میں ہانی بن عروہ کے حرم کے سامنے واقع ہے۔

لہذا انہوں نے اسے کھودا تو وہاں حمام کے آثار ملے جس سے واضح تھا کہ یہان مختار کی قبر نہیں ہے اور اس کے آثار ختم ہو چکے ہیں۔لیکن ابھی تک شیخ اس کی جستجو میں تھے کہ آیت اللہ بحر العلوم  طباطبائی کے فرزند علّامہ شیخ سید رضا نے ان سے کہا؛جب بھی ان کے والد بزرگوار مسجد کوفہ کے سامنے سے مشرقی دیوار کے ساتھ سے گزرتے کہ جو اب جناب مختار کی زیارت گاہ ہے تو کہتے؛ جناب مختار کے لئے سورہ فاتحہ پڑھ لیں اور پھر وہ سورہ فاتحہ پڑھتے۔ شیخ نے حکم دیا کہ اس جگہ کو کھودا جائے ۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس جگہ کو کھودا گیا تو وہاں سے پتھر نمودار ہوا جس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ مختار بن ابی عبیدہ   ثقفی کی قبرہے۔ لہذا مشخص ہو گیا کہ وہاں جناب مختار کی آرامگاہ ہے۔(2)

--------------

[1]۔ تاریخ کوفہ:7۳

[2]۔ تاریخ کوفہ:7۳


  علامات و نشانیاں

خاندان وحی علیہم السلام کے فرمودات میں ظہور کے باعظمت زمانے کے بارے میں مہم نکات موجود ہیں کہ بعض لوگ انہیں برداشت کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ جیسا کہ انہوں نے دوسرے مسئلوں  کے بارے میں فرمایا کہ جنہیں سب قبول کرنے کی قوّت نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے خاندان عصمت وطہارت علیھم السلام نے اصحاب کواپنے اسرار سے آگاہ کیا ہے۔جس طرح وہ نااہل لوگوں سے ایسی باتیں پوشیدہ رکھتے۔

انہوں نے اسرار آمیز نکات کے علاوہ دیگر نکات بھی ارشاد فرمائے کہ جنہیں وہ وجود خارجی کی وجہ سے قبول کر سکیں ۔ لہذا خدا ئے بزرگ و برتر نے اتمام حجت اور لوگوں کے ذہنوں میں حقائق قریب کرنے کے لئے خارج میں ایسے واقعات کو وجود دیا کہ جس کے ذریعہ اہلبیت نبوت  علیہم السلام  کے فرمان لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہو جائیں۔

غیبت کے زمانے میں زندگی گزارنے والے کہ جنہوں نے ظہور کے زمانے کی نورانیّت کو دیکھا ہی نہیں ہے تو وہ کس طرح ایسے مبارک زمانے کا تصور کر سکتے ہیں؟

غیبت کے زمانے کی تلخیوں اور سختیوں میں زندگی گزارنے والے کہ جنہوں نے نجات کے زمانے کی آزادی کو دیکھا ہی نہیں وہ کس طرح ظہور کے زمانے کے لوگوں کی ترقی و کامیابی کا یقین کرسکتے ہیں؟ خود کو زمین کا مالک سمجھنے والے دنیا کے کوتاہ فکر سیاستدان اور کس طرح ناشناختہ ہاتھوں کے ذریعہ اپنے مال و دولت کی تباہی کا یقین کر سکتے ہیں؟ جو لوگ کسی چیز کو آنکھوں سے دیکھے  بغیر قبول نہیں کر سکتے خداوند متعال کس طرح ان پر اپنی حجت تمام کرے گا؟


  ایک عام انسان اور حیرت انگیز دماغ

تاریخ کے صفحات کی طرف رجوع کرنے سے اس سوال کا جواب دینا بہت آسان ہو جائے گا کہ غیبی امداد،طول تاریخ میں رونماہونے والے حیرت انگیز اور غیر معمولی واقعات ،ایسے لوگوں کے لئے محکم جواب ہیں۔

تاریخ کے ستمگروں کوحیرت  زدہ کرنے والے تعجب خیز اور حیرت انگیز واقعات بہت زیادہ ہیں۔لہذا ہم اصل بحث کی طرف واپس آتے ہیں کہ جو ظہور کے بابرکت زمانے میں انسانوں کے عقلی تکامل سے تعبیر کیا  ہے۔

ہم اس بارے میں یہ کہیں گے انسان محدود دماغ کے ساتھ کس طرح اتنی حیرت انگیز قدرت کامالک بن سکتاہے؟

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ہم ایک مرد کے حیرت انگیزواقعہ کو نقل کرتے ہیں،جو اپنے دماغ میں تحوّلات کے ایجاد ہونے کی وجہ سے عجیب انجانی قدرت کا مالک بن گیا۔البتہ ہمیں ایسے واقعات کو نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہم ایسے واقعات پر جاں نثار کرنے والے افراد کے تقریبِ ذہن کے لئے نقل کرتے ہیں۔

ہالینڈ کے ''پیٹر ہارکس ''کودنیا کا عجیب ترین انسان کہا گیا ہے اور اسے ریڈار کا نام لقب دیا گیا ہے۔کیونکہ اس میں تمام انسانوں میں حوّاس خمسہ کے علاوہ ایک چھٹی حسّ بھی تھی۔ وہ لوگوں کے افکار پڑھتا اور انہیں بتا دیتا کہ وہ کس چیز کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔اس شخص کے ساتھ دنیا کی بے  زبان اور جامد مخلوق بھی گفتگو کرتیں اور وہ اپنی چھٹی حسّ کے ذریعہ گزرے واقعات اور اشخاص کی زندگی کے واقعات کوکشف کرتا۔وہ دنیا اور اشخاص کے مستقبل کے بارے میں حیران کن پیشن گوئیاں کرتا کہ جو ہمیشہ صحیح ثابت ہوتیں۔

''پیٹر ہارکس '' کو مورد تجربہ قرار دینے والے تمام ڈاکٹروں اور ماہرین نفسیات نے اس کی  تصدیق بھی کی ۔اب تک دنیاکے سولہ مختلف ممالک کی پولیس اس کی مدد سے جرائم کے مختلف واقعات کا پتہ لگا چکی ہے اور اب اس کے پاس بین الاقوامی پولیس کا قانونی کارڈ ہے۔


  اسے یہ قدرت کیسے حاصل ہوئی؟

پیٹر کی زندگی میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اسے یہ چھٹی حس (ریڈار) شکم مارد سے نہیں ملی۔وہ بتیس سال تک ایک عام اور معمولی انسان کی طرح ہی تھا۔جس کے پاس پانچ حسوں کے علاوہ کوئی حس نہیں تھی ۔ لیکن1943 ئم یں ایک دن جب وہ آشیانہ ہوا پیما (ہوائی جال) سے دس میٹر کی بلندی سے زمین پر گرا اور بیہوش ہو گیا۔وہ خود کہتاہے کہ زمین سے ٹکرانے سے پہلے میرے ذہن میں میری زندگی کے تمام واقعات آگئے۔حتی کہ مجھے یہ بھی یاد آ گیا کہ ایک بار کتّے نے میرے پاؤں پر کاٹا تھا ۔ جب میںزمین اور آسمان کے درمیان تھا تو میں صرف ایک ہی چیز کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ میں مرنانہیں چاہتا۔

اس واقعہ کے چار دن بعد جب اسے ہسپتال کے بستر پر ہوش آیا تو وہ سر میں شدید درد محسوس کررہا تھا اور وہ شدّت ِ درد سے چیخ رہا تھا۔نرس نے اسے بتایا کہ گرنے کی وجہ سے اس کا سر پھٹ گیا ہے اور اسے بہت گہری چوٹ آئی ہے۔ جب پیٹر نے یہ پریشان کن خبر سنی تو وہ اس کا جواب نہ دے سکا ۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا۔لیکن وہ خود کو ایک عجیب حالت میں محسوس کررہا تھا۔جب نرس کمرے سے باہر نکل گئی تو پیٹر نے بیماری کی حالت میں ہی ساتھ والے بستر پرسوئے ہوئے مریض کی طرف بڑھا، یہ وہ لمحہ تھاکہ جب اس میں معجزانہ طور پریہ قوّت پیدا ہوگئی۔

پیٹر میں الہام جیسی کیفیت پیدا ہوئی ۔اس نے اپنے ساتھ دیگر مریضوں کو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔اور اس نے اس سے پہلے کبھی ان سے بات نہیں کی تھی ۔ لیکن ایک ہی لمحہ میں اس نے یہ محسوس کیا کہ وہ ان بیماروں کے ماضی اور مستقبل کو جانتا ہے۔ یہ الہام اس قدر عجیب تھا کہ وہ اپنے ذہن میں پید اہونے والے الہام کے اظہار سے پرہیز نہ کر سکا اور اس نے کہا کہ تم لوگ حق شناس انسان نہیں ہو۔بیمار غصے میں بولا؛جی ہاں، مگر تم یہ بات کیسے جانتے ہو؟


پیٹر نے کہا کہ اس لئے کہ تمہارا باپ ایک ہفتہ پہلے مر گیا تھا اور اس نے تمھیںیاد گار کے طور پر ایک قیمتی گھڑی دی تھی۔لیکن تم نے اپنے باپ کی یاد گار گھڑی کو فروخت کر دیا۔ساتھ بستر پر لیٹے ہوئے مریض نے حیرت میں کہا کہ تمھیں یہ کیسے معلوم ہوا؟

اس دن کے بعد وہ شخص پیٹر کو شیطان یا جنّ بھوت سمجھتا تھا اور اس سے ڈرتا تھا۔یوں پیٹر نے پہلی بار اپنی عجیب قوّت کو استعمال کیا کہ جس نے اس کی زندگی کو  یکسر بدل دیا۔

  کسی انجان چیز کا اس کے دماغ میں بدلاؤ ایجاد کرنا

وہ خود کہتاہے کہ میں نہیں جانتا کہ آخر کیاہوا لیکن اتناضرورجانتاہوں کہ ایک بجلی کی طرح کی لہر نے میرے دماغ کو صاف کر دیا اور اس میں دیگر افکار ڈال دیئے۔ بعض اوقات سوچتا ہوں کہ میں پاگل ہو گیا ہوںکبھی دل سے یہ خواہش کرتا ہوں کہ کہ واقعاََ پاگل ہو جاؤں تاکہ اس چھٹی حسّ سے نجات پاجاؤں کیونکہ جو کوئی بھی میرے کمرے میں داخل ہوتا ،میں ایک ہی لمحہ میں اس کا چہرہ دیکھ کر اس کے ماضی کو جان جاتا ۔اس کی تمام خواہشات اور غموں کو بھی جان جاتا۔ایک ہی لمحہ میں اپنے دل میں کہتا : یہ چور ہے،آج اس نے اپنی بیوی پر تشدد کیا ہے ،اس نے آج فلاں کام کیا ہے.....

لیکن یہ سب کچھ جان کر مجھے دکھ ہوتا ہے۔میں لوگوں کے راز کی باتیں نہیں جاننا چاہتا لیکن میرے پاس اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔کسی سے اس بارے میں بات کرنے سے پہلے ہی میرا دماغ مجھے اس کے بارے میں سب کچھ بتا دیتا ہے۔ ہوش میں آنے کے چار یا پانچ دن کے بعد پیٹر نے ایک بیمار کو دیکھا کہ جو ہسپتال سے جارہا تھا پیٹر اس سے ہاتھ ملا رہا تھا کہ یہ اسے الوداع کہتے ہوئے اچانک سے سمجھ گیاکہ شخص اپنے ادعا کے برخلاف ہالینڈ کا باشندہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق انگلینڈسے ہے جو ایک خفیہ انٹیلی جنٹ ایجنسی کا جاسوس ہے اور جاسوسی کی غرض سے ہالینڈ آیا ہے۔


پیٹر اسی وقت سمجھ گیا کہ گشتاپو(جاسوسی کے خلاف جرمنی کی بنائی جانے والی فورس) کو اس جاسوس کے بارے میں پتہ چل چکا ہے اور وہ جلدہی اسے گرفتار کرکے قتل کر دیں گے۔وہ اپنے ذہن میں جاسوس کے ٹھہرنے کی جگہ سے بھی واقف ہو گیاکہ وہ کالور اسٹریٹ میں رہتا ہے۔وہ اس جاسوس کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتاتھا ،لیکن وہ جلدی میں وہاں سے نکل چکا تھا۔

پیٹر نے یہ سار اماجرا ڈاکٹر کو بتایا کہ وہ ہر قیمت میں جاسوس کو اس واقعہ سے آگاہ کر دے۔دو دن کے بعد جرمن اہل کاروں نے اس جاسوس کاکالور اسٹریٹ  پرپیچھا کیا اور اسے قتل کر دیا۔پیٹر کی پیشن گوئی کا نہ صرف اس جاسوس کو کوئی فائدہ ہوا بلکہ اس کی وجہ سے ہالینڈ کے اہل کار اس پر بھی شک کرنے لگے اور اسے کہنے لگے کہ جب تمھیں پہلے ہی سے علم تھاوہ انگلینڈ کے جاسوس کا پیچھاکریں گے تو یقیناََ تم بھی گشتاپو کے جاسوس ہو۔اس گمان میں اتنا اضافہ ہوگیا کہ دو دن کے بعددو افراد تکیہ کے ذریعہ پیٹر کی سانس بند کرکے اسے مارنے کے لئے ہسپتال میں آئے۔لیکن اس بار بھی پیٹر کی چھٹی حسّ نے اس کی مدد کی اور اسے موت کے منہ سے بچا لیا۔

  دوسری زبان میں کلام

اسے قتل کرنے والوں میں سے ایک ہسپانوی تھا۔جب وہ شخص پیٹر کے منہ اور ناک پرتکیہ رکھ کر دبا رہا تھا تو پیٹر نے اسے ہسپانوی زبان میں کہا کہ،،کومو آبودورو دا لا موئرنہ،،حلانکہ پیٹر ہسپانوی زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتا تھا۔ ہسپانوی شخص نے تکیہ  ہٹا کر کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ یہ مجھے کہہ رہا ہے کہ تم مجھے قتل کرنے سے ڈر رہے ہو اور میں اس وقت اسی بارے میں سوچ رہا تھا۔کچھ دیر سکوت کے بعد ہسپانوی شخص نے  اس کے ہاتھ کو دبا کر کہا کہ میں تمہاری بات پر یقین کرتا ہوں لیکن تم مجھے برا بھلا مت کہنا۔آخر ایسی عجیب قوّت کوکس طرح قبول کیا جا سکتا ہے؟


اس مدت کے دوران پورے ہسپتال میں پیٹر کا واقعہ مشہور ہو گیا۔اب وہ یہ محسوس کر رہا تھا کہ جلد ہی ایک استثنائی انسان بن جائے گا۔اب وہ اپنی چھٹی حس سے خوفزدہ نہیںتھا ۔ بلکہ وہ اس کے ذریعہ اپنی زندگی کے اخراجات مہیا کرنا چاہتا تھا ۔ جب وہ اپنے گھر واپس گیا تو تقریباََ سب گھر والوں نے اسے نہ پہچانااس کی ماں کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا خیالاتی ہو گیا ہے۔پیٹر خود بھی کہتا تھا کہ میں پہلے جن مشکلات کا سامنا کر رہا تھا اب بھی انہیں مشکلات کا سامنا کر رہا ہوں۔جب کوئی ہمسایہ میری چاپلوسی  یا خوشامدکرتا تو میں اس کے دماغ کو پڑ ھ کر بتا دیتا کہ  وہ  جھوٹ بول رہا ہے۔میں یہ بھی سمجھ چکا تھا کہ میر ی ماں ،بہنیں اور بھائی بھی مجھ سے بہت سی باتیں چھپاتے ہیں۔لیکن اب کوئی مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔لیکن جب میں لوگوں کے جھوٹ کو جان جاتا تو مجھے بہت دکھ ہوتاہے۔

  کسی انجان قوّت کا اس کے دماغ کو مطلع کرنا

کیا یہ چھٹی حس کوئی ہدیہ و تحفہ تھی یا کوئی تکلیف؟

اس بارے میں پیٹر کا کہنا تھا کہ میںاس بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔ مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ کوئی دوسری  قوّت ذہنی اطلاعات اور پیشن گوئیاں میرے دماغ میں داخل کر دیتی ہے۔ اب میں سب انسان سے پہلے خدا سے نزدیک ہو جاناچاہتا ہوں ۔ کیونکہ خدا نے کروڑوں انسانوں میں سے فقط مجھے اس حسّ سے نوازا ہے۔ لہذا میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ اس ریڈار جیسی حس کو لوگوں کے فائدے کے لئے استعمال کروں۔ اب مجھے ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہے کیونکہ اب میں اپنے سابقہ کام انجام نہیں دے سکتا تھا۔اس نئی اور غیر معمولی حسّ کے آنے سے میں نے اپنی معمولی حسّ کھو دی ہے۔ میں کسی بھی موضوع کے بارے میںدس یا پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں سوچ سکتا تھا ۔ کیونکہ ہر لمحہ میرے دماغ میں ہزاروں مطالب گردش کرتے تھے۔


 اگر میں خود کو کسی موضوع کے بارے میں مجبور کرکے فکر کروں مثلاََ اگر ایک کیل ٹھونکنے کے لئے فکر کروں تو اچانک میرا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے میری سانس بند ہونے لگتی اور میرے نیچے کرسی بھی لرزنے لگتی۔

  بے زبانوں سے گفتگو

جب بھی میرے کمرے میں کوئی داخل ہوتا تو میرا دماغ اس کے بارے میں فکر کرنا شروع کر دیتا اور مجھے اس کے گزشتہ اور آئندہ  سے آگاہ کر دیتا۔یہ صرف اشخاص کی حد تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کے زیر استعمال اشیاء سے بھی آگاہ ہو جاتا۔جیسے بیگ،کتاب،اشیائ،تصاویر،رومال وغیرہ۔حتی کہ صحرا میں تنہائی کے دوران بھی  مجھے راحت اور آرام نصیب نہیں تھا۔پتھر،درخت بھی مجھے اپنی کہانی سناتے۔اس آفت سے نجات کا راہ حل یہ تھا کہ میں کسی ایسے خالی کمرے  میںبیٹھا رہوں کہ جہاں کوئی چیز بھی موجود نہ ہو اور اس کمرے سے بالکل باہر نہ نکلوں۔ لیکن میری طرح کا34 سالہ شخص بالکل راہبوں ک ی طرح زندگی نہیں گزار سکتا تھا ۔

میرے پاس صرف ایک راستہ تھا کہ میں  ایسی راہ کا انتخاب کرتا کہ جن میں ایسی چھٹی حس سے استفادہ کرتے ہوئے میں اپنی زندگی کی ضروریات کو مہیا کرتا۔اب جب کہ مجھے اس حس سے ایک منٹ کی بھی چین و سکون نہیں تھا۔لہذا میں اس کے اوامر کی اطاعت کرنے کے لئے مجبور تھا۔اس دن سے پیٹر کی زندگی،اسی چھٹی حس کے ساتھ جڑ چکی تھی۔میں نے ملّی جشن کے دوران لوگوں کے سامنے اپنی چھٹی حس کو ثابت کیا ۔میں نے  ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے حالاتِ زندگی ایک یا دو گھنٹے تک مسلسل بیان کیے۔


  ریڈار کے نام سے پروگرام

پیٹر بہت جلد ہی ہالینڈ، فرانس اور پورے یورپ میں مشہور ہوگیا ۔آج پیٹر امریکہ کا باشندہے جو ٹیلی ویژن پر ریڈار کے نام سے ایک پروگرام کررہا ہے۔

اس پروگرام میں وہ ٹی وی اسٹوڈیو میں بیٹھا ہوتا ہے اور دیکھنے والے سینکڑوں کلو میٹر  کے فاصلے سے ٹیلی ویژن کے ذریعے اس سے سوال پوچھتے ہیں ۔وہ ان لوگوں کو دیکھے اور پہچانے بغیر سینکڑوں کلو میٹر کی دوری سے ان کے سوالات کے جواب دیتا ہے۔اور ان کی موجودہ زندگی اور مستقبل سے آگاہ کرتا ہے۔

وہ خود بھی کہتا ہے کہ میرا حقیقی ہدف ایسے انسانوں کی مدد کرنا ہے کہ جنہیں میری ضرورت ہو۔مثلاً میں چاہتا ہوں کہ لوگوں  کے کاموں میں ان کی مدد کروں یا گمشدہ بچوں کو تلاش کروں ۔

پیٹر نے ہزاروں گمشدہ کو تلاش کیا ۔پولیس کو چوری کے سینکڑوں واقعات کی پیشگی اطلاع دی ، سینکڑوں معدن کشف کئے۔کئی بار مجرموں اور قاتلوں کو پہچاننے کے لئے پولیس کی مدد کی ۔ لیکن وہ اپنے شخصی منافع اور جوئے میں اپنی چھٹی حس سے استفادہ نہیں کرتاکیونکہ کہ اگر وہ جواکھیلے تو وہ ہر ایک سے دنیا کی ساری ثروت حاصل کرلے۔

وہ خود بھی کہتا ہے کہ میںاچھی طرح جانتا ہوں کہ خدا نے لوگوں کی مدد کے لئے مجھے چھٹی حس عطا کی ہے نہ کہ مال و دولت جمع کرنے کے لئے۔

ایک دن ونیکوتن سٹی میں آتش زدگی کے واقعہ کے بعد ہالینڈ پولیس نے پیٹر سے اس واقعے کے اسباب کے بارے میں مدد طلب کی۔کیونکہ پولیس چار مہینے کی تحقیق کے با وجود اس کے اسباب سے آگاہ نہ ہوسکی تھی۔

پیٹر نے فوراً انہیں بتایا کہ میں ایک عورت کو دیکھ رہا ہوں کہ جس نے اپنا ایک دستانہ حادثہ رونما ہونے والی جگہ  پر رکھا ہے اور وہ افیون اور دوسری منشیات میں ملوث ہے۔


اس وقت تک پولیس نے وہاں کوئی دستانہ نہیں دیکھا تھا ۔ لیکن جب وہ دوبارہ وہاں گئے تو انہیں دستانہ مل گیا۔یہ دستانہ پیرس کی ایک دکان سے خریدا گیا تھا، اس کے مالک کو ڈھونڈنا بہت مشکل تھا۔ لیکن پیٹر نے اس عورت کے دوسرے مشخصات بھی بیان کئے کہ اس عورت کا شوہر نہیں ہے اور وہ افیونی بھی ہے۔

جب پیٹر کی اطلاعات کے ذریعے اس عورت کوگرفتار کیا گیا تو اس نے اعتراف کیا کہ افیونی ہے اور اس نے منشیات کے اڈے کے لئے ایک جگہ بھی کرائے پر لی ہے۔یوں پولیس نے پیٹر کی مدد سے منشیات کی اسمگلنگ کا منصوبہ بھی ناکام بنادیا ۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے باقاعدہ طور پر پیٹر کا شکریہ ادا کیا۔

ہم سب چھٹی حس رکھتے ہیں ۔ امریکہ کے مشہور اور بزرگ استاد پروفیسر ''پوہاریس'' ایک سال سے پیٹر کے بارے میں مطالعہ کر رہے ہیں ۔انہوں نے اعلان کیا کہ پیٹر کی چھٹی حس میں کوئی شک نہیں کہ جو ریڈار کی طرح ہر چیز کو دور سے تشخیص دیتی ہے ۔ لیکن علمی لحاظ سے میں ابھی تک اس مسئلہ کی توجیہ نہیں کرسکا ۔میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اس کی چھٹی حس دیگر حواس خمسہ کی بہ نسبت حسّاس ہے جب وہ مریض ،تھکا ہوا یا غصے میں ہو تو اس کی چھٹی حس دیگر حواس سے جلد متاثر ہوجاتی ہے۔

طولِ تاریخ  میں  دو یا تین دیگر پیشن گوئی کرنے والے بھی تھے کہ جن کے پاس بھی یہی حس تھی ۔ لیکن پیٹر وہ واحد شخص ہے کہ یہ حس پیدائشی طور پرنہیں بلکہ32 سال کی عمر میںحادثے کے بعد حاصل ہوئی۔وہ خود بھی کہتا ہے کہ سب لوگوں کے پاس کم و بیش چھٹی حس ہوتی ہے۔


کبھی آپ کو بھی یہ اتفاق ہواہوگا کہ حادثہ سے پہلے اس کے بارے میں جان لیں۔مثلاً کبھی کسی دیہات میں داخل ہوں تو آپ کو ایسا محسوس ہو کہ آپ اسے ایک مرتبہ پہلے بھی کہیں دیکھ چکے ہوں۔میرے خیال میں انسان کے دماغ حواس خمسہ کی طرح چھٹی حس کی بھی ایک مخصوص جگہ ہے۔ میرے ساتھ ہونے والے حادثے نے اس حس کو بیدا ر کردیا۔(1)

اس بناء پر حادثے میںگرنے اور دماغ پر چوٹ لگنے کی وجہ سے پیٹر میں مخفی قدرت بیدار ہوگئی ۔ اسے ایسی قدرت نصیب ہوئی کہ جو دوسروں کو حاصل نہیں تھی انسان عقل کے تکامل کی وجہ سے  مخفی قوتوں کو حاصل کرسکتا ہے۔

  عقل کی آزادی

جب انسان اپنے اندرپوشیدہ طاقتوں تک رسائی حاصل کرلے اور تکامل عقلی کی منزل تک پہنچ جائے تو اس کی عقل اسارت سے آزاد ہوجاتی ہے۔یہ آزادی کی عظیم ترین اقسام میں سے ایک ہے ۔ جوظہور کے تکامل بخشیں زمانے میں تمام انسانوں کو حاصل ہوگی۔عقل کے شیطانی و نفسانی قید سے آزاد ہونے کے بعد انسان آسانی سے اپنی عقلی قوت سے استفادہ کرسکتا ہے۔ ہر انسان کی عقل میں کچھ قوتیں اور طاقتیں کار فرما ہوتی ہیں کہ جو ایک سپاہ کی حکمِ عقل کے تابع  ہوتی ہیں ۔ خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام کے فرامین میں اس کی وضاحت ہوئی ہے۔جو کہ وجودِ بشر کے تمام پہلوؤںسے آگاہ ہیں ۔ امام صادق علیہ السلام ایک عظیم روایت میں عقل و خرد کی سپاہ کے تمام افراد کو بیان فرماتے ہیں۔(2)

--------------

[1] ۔ ہفت روزہ خبر 25 اردیبہشت سال 1376

[2]۔ البتہ اس میں جہل سے مراد نفس ہے نہ کہ لاعلمی ،کیونکہ جہل بمعنی لاعلمی،خود جہل بمعنی نفس کی فوج میں سے ایک ہے کہ جو اس روایت میں بیان ہوئی ہے۔


اس روایت میں ستّر عالی و برجستہ صفات کو ''عقل کی فوج'' کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔اس کے مقابل جہل کے لئے ستر رذیلہ صفات بھی بیان  ہوئی ہیں۔(1)

غیبت کے تاریک زمانے میں نفس کا بہت بڑا لشکر ہے۔اکثر افراد سپاہ نفس کے ہاتھوں گرفتار ہیں۔نفس ان سے جو کہے وہ وہی کرتے ہیں۔لیکن ظہور کے پر مسرت اور با برکت زمانے میں عقل کے تکامل کی وجہ سے انسانوں کا نفس بھی پاک و پاکیزہ ہوجائے گا ،پھر وہ عقل و خرد کے حکم کا مطیع ہوگا۔

انسانوں میں عقلی تکامل سے مراد انسان میں سپاہ عقل کی قدرت کا کامل ہونا ہے۔اس بناء پرانسانوں میں علم ،قدرت۔فہم اور ارادہ کامل ہوجائے گا ۔پھر نفس کے لشکر جیسے ضعف، جہل اور عجز کو شکست ہوگی۔

سالم فطرت کی طرف لوٹنا

یہ بات بالکل واضح ہے کہ نفس کے لشکر کی شکست اور عقل کی ستر قوتوں کے تکامل سے انسانوں کو ایک نئی زندگی ملے گی ۔پھر ہر انسان اپنی اصل فطرت کی طرف لوٹ آئے گا ۔ فطرت اوّلیہ کے حصول کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو ایسی قدرت حاصل ہوجائے کہ جیسے وہ پہلے جہل اور نفس و شیطان کی پیروی کی وجہ سے بروئے کار نہیں لاسکا ۔ لیکن اب فطرت اولیہ کی وجہ سے ان سے فائدہ اٹھائے ۔

--------------

[1]۔ اصول کافی : 1  20


اگر ہم اصول کافی کی عقل و جہل کے سپاہیوں کے بارے میں روایت ذکر کرتے اور پھر اس کا ترجمہ و تشریح بھی کرتے تو بحث بہت طولانی ہوجاتی ۔لہٰذا ہم نے اس روایت کو ذکر کرنے سے گریز کیا اور انہی مطالب کو بیان کرنے پر اکتفا کیا۔

مذکورہ روایت اور عقل و جہل (نفس) کے لشکر کے ستر ستر سپاہیوں پر دقت کرنے سے اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ انسانی معاشرہ  ہوا و ہوس کے گرداب میں غرق  اور نفس کے تابع ہے۔بہت کم لوگوں  کے علاوہ کسی کا عقل  سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں تھا۔اس روایت کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ کامل عقل کا مالک وہ ہے کہ جو مکمل طور پر لشکرِ عقل سے منسلک ہو اور جس نے لشکرِ جہل کو شکست دے کر نابود کر دیا ہو۔

حضرت امام مہدی علیہ السلا م کاقیام بشریت اور عقل  کے سپاہیوں کو حیات بخشنے اور انہیں تکامل عطا کرنے کے لئے ہو گا۔سپاہِ عقل کے تکامل سے سپاہِ جہل کی نابودی لازمی ہے کہ پھر جہل کا کوئی اثر بھی باقی نہیں رہے گا ۔ لشکرِ جہل و نفس کی نابودی اور سپاہِ عقل کے تکامل سے بشریت میں حیرت انگیز تبدیلیاں ایجاد ہوں گی۔ان تبدیلیوںسے کائنات کا نقشہ بدل جائے گا۔برائیو ںکی جگہ نیکیاں لے لیں گی۔انسانیت و بشریت کے تکامل اور برائیوں کی جگہ نیکیوں کے آنے سے حیرت انگیزتبدیلیوں کا وجود میں آنا یقینی ہے۔ روایات کی رو سے اس وقت دوسری اشیاء بھی تکامل کی طرف گامزن ہوں گی۔

  کیا ظہور سے پہلے عقلی تکامل کا حصول ممکن ہے؟

بعض لوگ  معتقد ہیں کہ اہل دنیا عقلی رشد اور فکری تکامل پیدا کریں تا کہ حضرت  بقیة اللہ الاعظم  عجل اللہ فرجہ  کا ظہور متحقق ہو اور جب تک ایسا تکامل حاصل نہ ہو تب تک ظہور بھی متحقق نہیں ہو گا۔


  کیا یہ عقیدہ صحیح ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ اہل دنیا کے عقلی و فکری رشد  و تکامل سے حضرت امام مہدی  علیہ السلام کے ظہور اور حکومت کے لئے زمینہ فراہم ہو گا۔لیکن یہ  بات یاد رہے کہ حضرت ولی عصر (عج) کا ظہور تمام دنیا والوں کے عقلی رشدو تکامل سے وابستہ نہیں ہے۔ حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام کے ظہور کے متعلق کثیر روایات کی روشنی میں مذکورہ عقیدے کا بطلان واضح ہے۔

اگر حضرت ولی عصر (عج) کا ظہور تمام دنیا والوں کے عقلی رشدو تکامل کے بعد واقع ہو تو پھر ایسی بہت سی روایات کو نکال باہر پھینکنا ہو گا کہ جن میں امام زمانہ علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی جنگوں کا تذکرہ ہے۔ مخالفین کا موجود ہونا اور ان کا حضرت امام مہدی علیہ السلام سے جنگ کرنا فکری رشد اور عقلی تکامل کے نہ ہونے کی واضح دلیل ہے۔پس کس طرح یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ظہور سے پہلے سب لوگ عقلی تکامل کی منزل تک پہنچ چکے ہوں گے تا کہ ان میں امام زمانہ علیہ السلام  کی حکومت کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔

علاوہ ازیں اس مطلب پر بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں کہ ظہور سے پہلے لوگوں کو عقلی و فکری تکامل حاصل نہیں ہو گا۔روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح علم و دانش کے مراحل کی تکمیل امام عصر علیہ السلام کی ظہور سے وابستہ ہے اسی طرح معاشرے کا فکری رشد  اور عقلی تکامل بھی  حضرت ولی عصر (عج) کے ظہورسے وابستہ ہے۔


  دماغ کی قوّت و طاقت

اب ہم دماغ کی عظیم قوّ ت و طاقت کے بارے میں بحث کرتے ہیں ۔ لہذا ہم کہتے ہیں کہ ابھی تک انسان اپنے دماغ سے مکمل طور پر فائدہ حاصل نہیں کر سکا۔

 بہت سے مصنفین نے دماغ کی قدرت سے فائدہ نہ اٹھانے  اور اپنے عجزوناتوانی کا اعتراف کیا ہے یہاں ہم ایسے ہی اقوال کے کچھ نمونے پیش کرتے ہیں۔عام طور پرہمارے دماغ کی قدرت کے بہت کم حصے سے کام لیا جاتا ہے۔حلانکہ اس کی قدرت ہر شخص کے اختیار میں قرار دی گئی ہے۔لیکن افسوس کہ ہم کبھی کبھار ہی اس قدرت سے کسی حدتک استفادہ کرتے ہیں۔(1)

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ انسان اپنی تمام تر استعداد اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے باوجود بھی اپنے دماغ کے کروڑویں حصہ سے بھی  کم کوکام میں نہیں لاتا۔(2)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم ابھی تک نہیں جان سکے کہ خلاقیت  و تفکر کے وقت ہمارا دماغ کیا کام کرتا ہے۔حالانکہ تحقیق میں تجرباتی روش  سے استفادہ کرتے ہوئے بہت سے تجربات  کے ذریعہ دماغ کی ساخت اور تفکّر کے عمل کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کی گئی ہیں۔(3)

یہ مطلب انسان کے وجود میں فکر کی قدرت اور اس سے مکمل طور پر استفادہ نہ کئے جانے کو بیان کر رہا ہے ۔ لیکن جس روز دستِ الٰہی کا لوگوں کے سروں پر سایہ ہو گا اس روز انسان کے دماغ میں پوشیدہ قوّتیں  ظاہر ہو جائیں گی اور انسان کی عقل کامل ہو جائے گی۔

--------------

[1]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:14

[2]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:32

[3]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:17


انسان کے تمام افکار کی فعالیت اور تمام مرام و قیود کی پناہ گاہ دماغ کے پردے ہیں۔جو چھوٹے چھوٹے خلیوںسے تشکیل پاتے ہیں۔جس کی تعداد دس سے تیرہ ارب سے بھی زیادہ ہے۔ان میں  سے ہر ایک درخت کے پتوں کی رگوں کی مانند ہوتی ہیںاور ایک دوسرے تک الیکٹرک پیغام منتقل کرتی ہیں ۔

 عملی تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسانوں میں سے ذہین ترین فرد بھی ان ذخائر کے تھوڑے سے حصہ کو مصرف میں لاتا ہے۔(1)

انسان کا دماغ چودہ ارب عصبی خلیوں سے تشکیل پاتا ہے اور ہر خلیہ کے دوسرے خلیوں سے پانچ ہزار ارتباط ہیں۔اسی طرح ان میں دیگر مختلف قسم کے ارتباط بھی پائے جاتے ہیں ۔ دماغ میں خلیوں اور مختلف حالتوں کی بالقوة تعداد انسان کے تصور سے بھی زیادہ ہے۔

ایک عام اور اسی طرح ذہین انسان بھی اپنی تمام زندگی میں ایک ارب میں سے ایک حصے کو بھی استعمال میں نہیں لاتا۔اگر دماغ کی ظرفیت ،توانائی اور ارب میں سے ایک حصہ ہی استعمال میں لایا جائے تو ان کے درمیان دکھائی دینے والا  تفاوت کیفی ہو گا نہ کہ کمّی۔(2)

اب جب کہ آپ نے یہ جان لیا کہ تمام افراد اپنے دماغ کی تھوڑی سی مقدار کو استعمال میں لاتے ہیں تو ا ب اس بیان پر غور کریں۔

--------------

[1]۔ نسخہ عطار:134

[2]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:347


آج کی دنیا میں ایک کمپیوٹر کا حافظہ ایک لاکھ اطلاعاتی ذرائع سے کام کرتا ہے کہ جسے کمپیوٹر کی زبان میں بائٹ کا نام دیا  جاتا ہے۔انسان کا دماغ بھی اسی طرح کام کرتا ہے مالیکیول حافظہ اور عصبی اطلاعات کے بٹن کو ذخیرہ سازی کے لئے آمادہ کرتے  ہیں۔گہوارے میں پڑا بچہ بھی یہی عمل انجام دیتا ہے۔ اگرچہ یہ انجان طور پر یہ کام انجام دیتا ہے ۔ ہم پوری زندگی اطلاعات و معلومات کوجمع کرتے ہیں تاکہ جس دن ہمیں ان کی ضرورت ہو ،ہم ان سے استفادہ کر سکیں ۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارا دماغ علم ودانش کو ذخیرہ کرنے کے لئے قابلِ اطمینان نہیں ہے۔کیونکہ انسانی دماغ پندرہ ارب بٹنوں سے کام کرتا ہے اور  جدید ترین کمپیوٹر میں اس کی تعداد صرف ایک کروڑ ہے۔پس ایک کمپیوٹر پر  انسان سے زیادہ اعتماد کیوں کیا جاتا ہے؟حالانکہ دماغ کے نو حصوں سے کام نہیں لیا جاتا ۔ لیکن کمپیوٹر کے تمام سسٹم فعّال ہوتے ہیں۔(1)

آپ شاید اس بات کا یقین نہ کریں کہ دماغ کے پندرہ ارب بٹن ہیں اور شاید اس بات کا بھی یقین نہ کریں کہ انسانی دماغ زندگی کے آغاز سے موت تک ہونے والے تمام تر واقعات و سانحات  اور حادثات کو اپنے اندر محفوظ کر لیتا ہے۔انسان کا دماغ ہر اس چیز کو ذخیرہ کر لیتا ہے کہ جو اس نے دیکھی،سنی یاانجام دی ہو۔(2)

انسان اپنی زندگی میں جو کچھ انجام دیتا ہے وہ اس کی زندگی کے آخری لمحات میں اس کے سامنے جلوہ گر ہوتا ہے۔یہ حقیقت ہمیں خاندانِ وحی علیہم السلام نے سکھائی ہے کہ جو ہماری خلقت کے شاہد ہیں۔

اسی لئے ہمیں ظہور کے پر نور اور بابرکت زمانے میں دماغ کی ناشناختہ قوّتوں اور طاقتوں کے ظاہر ہونے میں ذرّہ برابر بھی شک نہیں ہے اور ہم معصومین علیہم السلام کے ہر فرمان کو کمی و بیشی کے بغیر قبول کرتے ہیں۔

--------------

[1]۔ بازگشت بہ ستارگان:76

[2]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:121


  غیر معمولی حافظہ دماغ کی عظیم قدرت کی دلیل

ہمارے پاس اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے فرامین ور اعتقادی مسائل کا ایسا ذخیرہ موجود ہے کہ ہمیں دوسروں کے واقعات اور ان کی باتوں کو نقل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔لیکن اپنی بات سب پرثابت کرنے کے لئے ایسے افراد کے واقعات کو ذکر کرنا بھی لازمی ہے کہ جو غیر معمولی حافظہ کے مالک تھے کہ جس سے یہ معلوم ہو جاتاہے کہ انسانی دماغ میں بہت سی مخفی طاقتیں  موجود ہیں اگائون نامی شخص نے اپنی زندگی میں2500 کتب کا مطالعہ ک یا اور اسے یہ تمام کتابیں حفظ تھیں۔اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز یہ ہے کہ وہ ایک لمحہ سوچے بغیر ان کتابو ں  کے کسی بھی حصے کو پڑھ سکتا تھا۔(1)

حال ہی میں دنیا بھر کے خبر رساں ادارے حسین قدری کے استثنائی حافظہ کے بارے میں خبریں نشر کر رہے تھے کہ جو تاریخ،واقعات،تاریخی شخصیات اور ان کی زندگی کے واقعات کے بارے میں بغیر سوچے ہر سوال کا جواب دے سکتا تھا۔حسین قدری کے حافظہ میں بہت سے بزرگوں کے یومِ تولّداور یوم وفات کی تاریخیںمحفوظ تھیں۔اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ اس نے ہجری برسوںکی ایک جنتری بنائی تھی کہ جو دو حصوں پر مشتمل تھی۔ایک حصے کو سو سالہ دور کی صورت میں مرتّب کیا گیا تھا۔جس میں ہفتے کے ایّام اور1901 ءسے 2000 ء تک تمام دنوں کو بیان کیا گیا تھا اور جس میں ہر ماہ کے اہم واقعات کو بھی جمع کیا گیا تھا ۔ دوسرے حصے میں 1501 ء سے 2070ء سال تک کے ایّام کو بیان کیا گیا تھا۔اس حصے میں ہر دن ،ایّام ہفتہ و ماہ اور بزرگ شخصیات کے یومِ تولّداور یوم وفات کی تاریخوں کو بھی مرتب کیا گیا تھا۔اس میں مذکورہ دو حصوں کے علاوہ ایک اضافی حصہ بھی تھا  کہ جس میں دورِ مسیحیت کے آغاز  سے 3000ء  تک کے ایّام کو بیان کیا گیا تھا۔ (2)

--------------

[1]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:45

[2]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:46


موجودہ رائج مسائل میں سے ایک تقویمی محاسبات کی بناء پر مطرح ہونے والا مسئلہ ہے۔ریاضی کے بعض عجوبے اپنے ذہن میں ایک ہی لمحہ میں صدیوں اور ہزاروں سال طے کرلیتے ہیں۔مثلاََ وہ ریاضی کی بنیاد پر حساب کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ میںسات دن،ایک دن میں چوبیس گھنٹے،ہر گھنٹے میں ساٹھ منٹ اور ہر منٹ میں ساٹھ سیکنڈ ہوتے ہیں۔اسی ترتیب سے وہ چند سیکنڈ میں کئی صدیوں کے عملیات اپنے ذہن میں انجام دیتے ہیں اور آخر میں یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ  مثلاًیکم جنوری1880 ء کو جمعہ کا دن تھا۔اس طرح وہ بہت س ی ذہنی پیچیدگیاں حل کرتے ہیں ۔مثلاَ وہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ روم کے شہنشاہ نرون کی موت سے سقوط قسطنطنیہ تک کتنے سیکنڈ گزر چکے ہیں؟ایک بار ایسے ہی دو حساب کرنے والے'' ایناودی  اور داگیر ''سے ایک پروگرام میں ایسے ہی کچھ سوالات کئے جا رہے تھے کہ13 ،اکتوبر 284444 ء کو ک یا دن ہو گا؟(3)

انسان کے دماغ کی قدرت کو ثابت کرنے کے لئے  دیگر ممالک میں بھی ایسے افراد کا وجود اس کی واضح دلیل ہے۔اسی طرح یہ غیبت کے تاریک زمانے میںانسان کے عقلی تکامل کو بھی بیان کر رہا ہے ۔ ریاضی کے یہ ماہر ترین افرد چند سیکنڈ میں بعض ایسے مسائل حل کر دیتے ہیں کہ جنہیں ماہر ریاضی دان چند ماہ کی کوششوں کے بعد انجام دے سکتے ہیں اور پھر اس کے نتائج کی تائید کے لئے بھی طولانی مدّت درکار ہوتی ہے کہ جس کے لئے کمپیوٹر سے بھی مدد لی جاتی ہے۔

--------------

[3]۔ تونائی ھای خود را بشناسید53


  دماغ کا ما فوق فطرت، قدرت سے رابطہ

ریاضی کے یہ عجوبہ کس چیز سے مدد لیتے ہیں ؟

کیا ان کو بچپن سے یہ خاص استعداد حاصل ہوتی ہے یا نوجوانی کے عالم میں  انہیں ایک عرصہ تک مشق کرنے اور تکامل کے  ذریعہ یہ استعداد وصلاحیت حاصل ہوتی ہے؟

محصول حافظہ کے عنوان سے اس توانائی کو بیان کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ماہرینِ نفسیات اسے ''حدّت حافظہ'' کا نام دیتے ہیں۔اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے کہ اس خاص مقام میں یقیناََ ہمارے سامنے ایک قوی حافظہ ہے لیکن ہم اس کی ماہیت کو بھی بیان نہیں کر سکتے۔(1)

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ریاضی کے ایسے عجوبہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کس طرح سے اپنے ذہن  میں یہ محاسبات انجام دیتے ہیں ۔  ان کا کہنا ہے کہ ہم صرف گنتے اور شمار کرتے ہیں اور پھر یہ سب کس طرح ہو جاتا ہے ،یہ خدا ہی جانتا ہے۔

اس جواب پر بالکل حیران نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ ان افراد میں سے بعض افراد کاملاََ ان پڑھ تھے۔ ایسے بااستعداد افراد ہمیشہ سے ماہرین نفسیات اور ریاضی دانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے ہیں تاکہ وہ ان میں پائی جانے والی پوشیدہ طاقت و قوت اور صلاحیت کو کشف کر سکیں۔ اس سے بھی بڑھ کر بعض ایسے افراد میں موجود قدرت کے اسرار معلوم کرنے کی کوشش کر نے کے علاوہ عقلی تکامل تک رسائی کے لئے بھی کوشاں ہیں۔

--------------

[1]۔ تونائی ھای خود را بشناسید:54


  جدید علم کی نظر میں عقلی تکامل

عقل کے تکامل اور اس کے لزوم و کیفیت کی بحث نے بہت سے مغربی دانشوروں کو اپنی جانب مائل کیا ہے۔ وہ اپنی علمی ترقی کا ادعا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ معتقد ہیں کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب آج کی بنسبت انسان کی عقل کھربوں گنا زیادہ ہو گی۔

مغربی دانشوروں میں سے ایک'' کرزویل'' ہے۔جس کا کہنا ہے کہ آپ دماغ میں فقط سو  کھرب اتصالات برقرار کر سکتے ہیں۔ممکن ہے کہ آپ کی نظر میں یہ بہت بڑا  عددہو۔ لیکن دماغ میں اطلاعات ذخیرہ کرنے کی روش اب بھی غیر فعّال ہے۔ کیونکہ آئندہ زمانے میں انسان کا دماغ موجودہ دور سے کھربو ں گنا زیادہ ہو گا۔

اس میں اہم اور مورد توجہ نکتہ یہ ہے کہ وہ حقائق عالم سے ناآشنا ہونے اور مکتب اہلبیت علیہم السلام سے دور ہونے کے باوجود اگرچہ عقلی تکامل کو تسلیم کرتے ہیں لیکن انہیں اس کی کیفیت اور اس کے حصول کی آگاہی نہیں ہے۔ اسی لئے وہ اپنی توجیہات میں غلطیاں کرتے  ہیں۔

خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے جاودانی اور حیات بخش مکتب سے دوری کے باعث یہ   لوگ ہر چیز حتی کہ عقلی تکامل جیسے اہم ترین مسئلہ کو بھی مادّی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ الیکٹرک سسٹم کے ذریعہ اپنے خیالات و افکار کو تکامل دیا جا سکتا ہے۔


  عقلی تکامل اور ارادہ

یہاں تک ہم دماغ کی قدرت و توانائی سے آگاہ ہوئے اور ہم نے یہ درک کیا کہ انسان اب تک اپنے وجود کی عظیم قدرت  سے بے خبر تھا ۔ اب ہم قوّت ارادہ اور تکاملِ عقل کے بارے میں بحث کا آغاز کرتے ہیں ۔ انسان کی عقل کے تکامل کالازمہ اس کے ارادہ کا قوی ہونا ہے ۔ کیونکہ جس طرح حدیث جنودِ عقل میں نقل ہوا ہے کہ عقل کی سپاہ میں سے ایک ارادہ بھی ہے۔ عقل کے تکامل سے ارادے کی قدرت میں اضافہ ہوتا ہے، ارادے کے حرکت میں آنے اور فعّال ہونے سے انسان میں اساسی و حیاتی تحوّل کا ایجاد ہونا بالکل واضح ہے۔

اگر قوّت ارادی کامل ہو تو انسان غیر معمولی اور حیرت انگیز کام انجام دے سکتا ہے ۔ کیونکہ جب قوّت اردی اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو انسان کسی فرد یا کسی چیز میں کوئی حالت یا خصوصیت ایجاد کر سکتا ہے۔اسی طرح یہ اسے نابود یا اس میں اضافہ بھی کر سکتا ہے۔اعمالِ ارادہ سے انسان کسی ایسی چیز سے بھی آگاہ ہو سکتا ہے کہ جس کے بارے میں اسے کوئی اطلاع نہیں ہوتی۔جیسا کہ ہم نے عرض کیاہے کہ ارادہ عقل کی قدرت کا ایک حصہ  ہے۔عقلی تکامل سے قوّت ارادی اور عقلی قدرت بھی تکامل تک پہنچ کر فعّال ہو جاتی ہیں۔اس بناء پر ظہور کے زمانے میں انسانوں کی عقل کے تکامل کے نتیجہ میں ان کی قوّت ارادہ میں بھی اضافہ ہو گا او وہ مزید قدرت مند ہو جائے گا۔ ظہور  کے زمانے میں انسان کی عقل شیطان کی قید اور نفس کی غلامی سے آزادہو جائے گی ۔ سپاہ عقل بھی ضعف و ناتوانی سے نجات پائے گی اور ان میں پوشیدہ اور مخفی طاقتیں ظاہر ہو کر فعّال ہو جائیں گی۔

غیبت کے تاریک اور سیاہ زمانے میں بہت سے انسان اپنی خواہشات اور آرزؤں کوحاصل  نہیں کر سکے ۔ لیکن ظہور کے بابرکت زمانے میں ایسا نہیں ہو گا۔اس وقت اگر کوئی کسی نامعلوم چیز سے آگاہ ہونا چاہے تو اس  سے پردے اٹھا لئے جائیں گے اوراس وقت  وہ جس چیز کے بارے میں چاہے آگاہ ہوسکتا ہے۔ ہم نے یہ حقائق خاندان نبوت علیہم  السلام سے سیکھیں ہیں ۔


ہم دل و جان سے ان معصوم ہستیوں کے ارشادات و فرمودات قبول کرتے ہیں تا کہ ظہور کے پُر نور زمانے میں ہم پورے وجود سے اس حقیقت کو محسوس کر سکیں ۔اس بناء پر عصرِ تکامل میں پہلے ارادہ انجام پائے گا اور اس کے بعد آگاہی متحقق ہو گی۔اس کی دلیل کے طور پر ہم خاندانِ وحی علیہم السلام کے فرامین میں سے سید الشہداء حضرت امام حسین  علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں۔'' اِن اللّه لیهب لشیعتنا ترامة لا یخفی علیهم شیء فی الارض وما کان فیها حتّی اَنّ الرجل منهم یرید ان یعلم علم اهل بیتیه فیخبرهم بعلم ما یعلمون '' (1) خدا وند متعال یقیناََ ہمارے شیعوں (زمانہ ظہور میںد نیا کے تمام لوگ خاندان نبوت علیہم السلام کے پیرو ہوں گے)کو ایسی کرامات بخشے گا کہ ان سے زمین اور اس میں موجود کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رہے گی۔ حتی کہ اگر کوئی مرد اپنے اہل خانہ کے حال سے آگاہ ہونا چاہے تو پس وہ آگاہ ہو جائے گا کہ وہ جو کام بھی انجام دے رہے ہوں یہ ان سے باخبر ہو گا۔اگر  انشاء اللہ ہم اس بابرکت زمانے کو درک کریں تو ان تمام حقائق کو دیکھ سکیں گے۔کیونکہ ہم نے یہ مطالب مکتب اہلبیت  علیہم السلام  کی تعلیمات سیکھے ہیں اور ہم انہیں شک و تردید کے بغیر قبول کرتے  ہیں۔ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان معصوم ہستیوں کے لئے ماضی حا ل اور مستقبل میں کوئی فرق نہیں ہوتا وہ تمام واقعات سے ایسے ہی آگاہ ہوتے ہیں کہ جیسے کسی نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ہم نے یہ چیزیں خاندان عصمت  علیہم السلام   سے قبول کی ہیں اور عالم ذر سے ان کے ساتھ یہ عہد وپیمان کیاہے کہ جس طرح ہم اب ان پر پابند ہیں آئندہ بھی ایسے ہی ان کے پابند رہیں گے۔البتہ یہ بات ضرور جان لیں کہ زمانہ غیبت میں  کچھ ایسے استثنائی افراد بھی تھے کہ اگر وہ کسی چیز سے آگاہ ہونا چاہتے تو وہ اپنی قوّت ارادی سے اس سے آگاہ ہو جاتے۔ایسے افراد وہ تھے کہ جو غیبت کی تاریکی میں بھی نور تک پہنچ گئے۔ہم نے اس بحث میں نمونہ کے طور پر مرحوم سید بحر العلوم  کی زندگی کے واقعات نقل کئے تا کہ بعض افراد ظہور کے زمانے کے بعض واقعات کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار :ج۵۳ص6۳


چھٹا باب

معنوی تکامل

    معنوی تکامل          انسان کا معنوی و مادّی پہلو

    ہماری ذمہ داریاں

    تکامل کی دعوتِ عام

    امر عظیم

    امر عظیم کیا ہے؟

    معارف الٰہی

    زبان رسول اکرم(ص)سے زمانہ ظہور کے لوگ

    محسوس اور غیر محسوس دنیا میں حکومت

    عالم ملک و عالم ملکوت

    وہ کس طرح عالم ملکوت سے غافل تھے؟

    عالم ملکوت تک رسائی یا زمانہ ملکوت کی خصوصیات

    اہم نکتہ یا احساس ظہور

    غیرت مندوں سے خطاب

    زمانہ ٔ ظہور اطمینان کا زمانہ

    عصر ظہور،عصر حضور


معنوی تکامل

مادّی مسائل میں غرق اور طبیعی علوم کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے انسان معنوی امور ،غیبی امداد اور عالمِ غیب کے حقائق پر توجہ کرنے سے دور ہو چکا ہے۔

انسان مادّی امور کے جال میں پھنس چکا ہے جسے معنوی امور پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ بہت سے افراد مادّی دنیا کے پوجا ریوں کی صحبت میں رہ کر انہیں کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں اور ان کے غلط افکار و عقائد سے متأثر ہو جاتے ہیں۔ کائنات کے حقائق سے دوری کی وجہ سے انہیں معنوی امور  اور خاندان عصمت علیھم السلام کی غیبی امداد کا علم نہیں ہے۔

ان حقائق کے روشن ہونے ، معنوی امور پر ایمان و اعتقاد پیدا کرنے اور غیبی امدد کے لئے عالمِ مادہ پر فریفتہ ہونے سے ہاتھ اٹھانا ہو گا۔کیونکہ جس نے اپنی آنکھوں پر مادّیت کی پٹی باندھی ہواور جس پرمادیت کے حصول کا بھوت سوار ہو وہ کس طرح مادّی دنیا سے بھی زیادہ خوبصورت دنیا کو دیکھ سکتا ہے؟

اگر کوئی کسی رنگین عینک کے ذریعہ اطراف کی اشیاء کو دیکھے توکیا وہ اشیاء کا حقیقی و واقعی رنگ  دیکھ سکتا ہے؟ جس نے اپنے ارد گرد مادّیت کی دیوار کھڑی کر رکھی ہو وہ کس طرح اس حصار سے باہر کی د نیا کا مشاہدہ کر سکتا ہے؟

جس نے خود کو کسی بند مکان میں قید کر رکھا ہو کیا وہ ہاہر کی خوشیوں، مسرتوں اور شادابیوں کا نظارہ کر سکتا ہے؟

غیبت  کے زمانہ میں جنم لینے والا انسان زندان میں قید کسی ایسے شخص کی طرح ہے کہ جسے وہاں سے رہائی کاکوئی راستہ بھی میسر نہ ہو۔بلکہ غیبت کے زمانے میں زندگی بسر کرنے والے لوگوں کا حال تو ایسے قیدی سے بھی زیادہ بدتر ہے۔کیونکہ قیدی کم از کم یہ تو جانتے ہیں کہ وہ قید میں ہیں اور وہ قید سے نجات پانے کی آرزو میں زندگی گزاررہے ہوتیہیں اور ہمیشہ قید خانے سے رہائی پانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔لیکن افسوس کہ غیبت کے زمانے میں جنم لینے والے اور اس میں پرورش پانے والے اس زمانے کے علاوہ کسی اور زمانے سے آگاہ نہیں ہیں۔ان کی مثال کنویں کے مینڈک جیسی ہے جو کنویں کو ہی پوری کائنات سمجھتاہے۔


 انہوں نے ظہور  کے زمانے کا مزہ ہی نہیں چکھا اور نہ ہی کسی نے انہیں ظہور کے زمانے کی حلاوت  و شیرینی سے آگاہ کیا ہے۔اسی وجہ سے وہ زمانۂ غیبت کے زندان، ظلمتوں اور سختیوں میں ہی گھرے ہوئے ہیں۔وہ نہ تو پہلے اس وحشتناک زمانے سے نجات اور اس طولانی قید سے رہائی پانے کی فکر میں  تھے اور نہ ہی اب اس کی فکر میں ہیں۔

ہم اور زندانِ غیبت کے تمام قیدی ظہور کے درخشاں زمانے سے غافل ہونے کی وجہ سے اپنی قید میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ہم غیبت کے زندان میں گرفتار ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم خوابِ غفلت سے بیدار نہیں ہو رہے ہیں۔ غیبت کے زمانے کی موجودہ اسیری معاشرے کی غفلت اور معنوی قدروں کو فراموش کرنے کا نتیجہ ہے۔

  انسان کا معنوی و مادّی پہلو

انسان روح اور جسم سے مل کر خلق ہوا ہے ۔لہذا اسے فقط مادّی ، دنیوی اور جسمانی پہلو پر ہی توجہ نہیں دینی چاہیئے۔ بلکہ اسے چاہیئے کہ وہ معنوی پہلو پر بھی غور کرے ورنہ اگر ایک ہی پہلو کو مدنظر رکھیں اور دوسرے پہلو کو نظر انداز کر دیں تو یہ اپنے وجوداور اپنی زندگی کے اہم ترین پہلو کو فراموش  کرنے کے مترادف ہو گا۔زمانہ ٔ غیبت میں اکثر انسان معنوی پہلو سے اس طرح مستفیدنہیں ہو سکے جس طرح اس سے بہرہ مندہونے کا حق تھا۔لیکن ظہور کے زمانے میں کہ جوانسانوں کی شخصیت کے تکامل کا دن ہے، تمام انسانی معاشرہ مادّی اور معنوی دونوں پہلوؤں میں تکامل تک پہنچ جائے گا۔اس روز انسان کے عملی و نظری افکارپلیدگی سے پاک ہو کر مکتبِ اہلبیت علیہم السلام کے افکار و رفتار کاپیرو ہو گا اور انسان کا وجود علم ودانش اور نورانیّت سے سرشار ہو گا۔اسی لئے اس دن انسان کے احساسات وادراکات ناپاکی اور غلاظت سے پاک ہو جائیں گے اور انسان شیطان کی چال بازیوں سے غلطیوں میں گرفتار نہیں ہو گا۔


پس اس زمانے کودرک کرنے والے خوش نصیب ہوں گے اور جس طرح وہ ظہور کے زمانے میں امام زمانہ علیہ السلام  کے فرمانبردار ہوں گے اسی طرح وہ غیبت کے زمانے میں بھی آنحضرت  کی پیروی کرتے ہوں گے۔ اہلبیت  علیہم السلام نے اس حقیقت کی  وضاحت فرمائی ہے۔اس حقیقت کو بیان کرنے والی روایات میں ظہور کے نورانی زمانے کے اہم نکات بیان ہوئے ہیں ۔ جن میں  غیت کے زمانے میں انسانوں کے وظائف اور عملی برنامہ بیان ہوا ہے۔اسی طرح ان روایات میں مکتبِ اہلبیت علیہم السلام کے پیروکاروں کی شادمانی و سرور کی حالت کا بھی بیان ہے۔

امام صادق علیہ السلام ،رسولِ اکرم (ص)سے نقل فرما تے ہیں۔

'' طوبٰی لمن ادرک قائم اهل بیتوهو مقتدبه قبل قیامه یتولّٰی ولیّه و یتبرّأ من عدوّه و یتولّٰی الآئمة الهادیة من قبله اؤلئک رفقاء و ذوو ودّ ومودّتواکرم امٰتی علیّ ''  (1)

خوش نصیب ہے وہ شخص جو میرے اہلبیت  علیہم السلام کے قائم  کو درک کرے وہ ان کے قیام سے پہلے ان کی پیروی کرتا ہو ان کے دوست کو دوست رکھتا ہو اور ان کے دشمن سے بیزار ہو اور ان سے پہلے آئمہ ھدیٰ   علیہم السلام کی ولایت پر یقین رکھتا ہو۔وہ میرے رفقاء اور میری محبت و مودّت کے ہمراہ ہوگاور وہ میرے لئے میری امت کے معزز ترین افرادمیں سے ہوگا۔اس بناء پر انسان کے فہم و ادراک کی شناحت کا معیار و میزان اس حد تک ہو کہ وہ آنحضرت کی دوستی کا ادّعا کرنے والوں میں سے ان کے دوستوں کو پہچان سکے اور قاطعانِ طریق کو امام زمانہ (عج) کے دوستوں اور غلاموں کے عنوان سے نہ پہچانے۔

اگرچہ مذکورہ روایت ظہور کے مبارک زمانے سے متعلق ہے لیکن اس میں غیبت کے زمانے کے دوران ہماری ذمہ داریوں اور بہت سے وظائف کو بھی بیان کیا گیا ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نہ تو ہم انہیں زمانۂ غیبت کی ذمہ داریاں شمار کرتے ہیں اور نہ ہی صحیح طرح سے ان پر توجہ کرتے ہیں۔

--------------

[1] ۔ الغیبة شیخ طوسی:275


  ہماری ذمہ داریاں

ظہور کے زمانے میں وہی سرفراز ہو گا کہ جس نے غیبت  کے زمانے میں اپنے وظائف پر عمل کیا ہواور اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہوں ۔ ہم یہاں چند ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہیں۔

۱۔زمانۂ غیبت میں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کے دستورات و احکامات سے آگاہ ہو کر انہیں انجام دیناچاہیئے۔ امام عصر سے محبت و دوستی ،ان کے ظہور کا انتظار اور ان کے ظہور کو درک کرنا اسی صورت میں مکمل ہو گا کہ جب انسان زمانۂ غیبت میں امام زمانہ  علیہ السلام کاتابع و مطیع ہو۔

2 ۔غیبت کے زمانے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم حضرت امام مہدی علیہ السلام سے محبت کرنے والوں کو دوست رکھیں اور ان سے محبت کریں۔

3 ۔انہ یں دوست رکھنا ان کی شناخت پرمنحصرہے ۔ کیونکہ جب تک انسان کو یہی معلوم نہ ہو کہ آنحضرت کے چاہنے والے کون ہیں، تو کس طرح انہیں دوست رکھا جا سکتا ہے۔

4۔ ہمیں امام زمانہ (عج) کے دشمنوں سے متنفر ہونا چاہئے اور ان سے بیزاری کا اظہار کرنا چاہیئے۔

5 ۔ حضرت امام مہد ی علیہ السلام کے دشمنوں سے اظہار نفرت بھی ان کی شناخت پر موقوف ہے۔

لہذا امام زمانہ علیہ السلام کے دشمنوں سے متنفر ہونے کے لئے بھی امام کے دشمنوں کو پہچاننا ضروری ہے۔

ان ذمہ  داریوں کے علاوہ اور بھی ذمہ داریاں ہیں۔امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کو درک کرنے کی صورت میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مکمل طور پر آنحضرت کے اطاعت گزار اور ان کے دستورات کے مطیع ہوں ۔


امام صادق علیہ السلام یہ حقیقت ابو بصیر کو یوں بیان فرماتے ہیں:

'' یا ابا بصیر: طوبی لمحّب قائمنا المنتظرین لظهوره ف غیبة والمطیعین له ف ظهوره اولیاء اللّه لاخوف علیهم ولاهم یحزنون '' (1)

اے ابو بصیر:ہمارے قائم  کے چاہنے والے خوش نصیب ہیں کہ جو زمانہ غیبت میں ان کے ظہور کے منتظر ہوں اور ظہور کے زمانے میں ان کے فرمانبردار ہوں، ان کے اولیائ، خدا کے اولیاء ہیں ۔ انہیں نہ تو کوئی رنج و غم  ہے اور نہ ہی مغموم ہوں گے۔

اس روایت کی بناء پر خدا اور امام زمانہ (عج) کے اولیاء وہ ہیں کی جو آنحضرت  کے انتظار اور دوستی کے علاوہ ظہور کو درک کرنے کی صورت میں ان کے مطیع  و فرمانبردار ہوں اور ایسے گروہ میں سے نہ ہوں کہ جوظہور کی ابتداء ہی میں آنحضرت کے لشکر سے جدا ہوکر دشمنوںکی صف میں جا کھڑے ہوں۔

ایسے افراد حقیقت میں آنحضرت کے ظہور کے منتظر نہیں تھے ۔ بلکہ وہ خود کسی مقام و مرتبہ تک پہنچنے کے منتظر تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے مقاصدپانی پر بنائے گئے قدموں کے نشانات کی مانند ہیں اورجب انہیں کسی مقام کے ملنے کی کوئی امیدنہ ہو تو وہ امام زمانہ (عج) کے لشکر سے جدا ہوجائیں گے۔

--------------

[1]، احقاق الحق:ج۱۳ص۳۴۹، ینابیع المودّة:422


  تکامل کی دعوتِ عام

حضرت امام مہدی  علیہ السلام کے اہم پروگراموں میں سے ایک تمام لوگوں کو آئینِ اسلام کی طرف   عام دعوت دینا ہے۔اس وقت دنیا کے ہر مذہب و مکتب سے تعلق رکھنے والوں کو اسلام کی دعوت دی جائے گی اور سب سے کہا جائے گا کہ وہ باطل سے دست بردار ہو جائیں  اور خدا کے پسندیدہ و حقیقی دین یعنی اسلام  اور حقیقی اسلام یعنی تشیع کو اختیار کریں۔ اس عمومی دعوت کے ساتھ کچھ ایسے  واقعات بھی ہوں گے کہ جس سے پوری دنیا والوں کے دلوں کو سکوں ملے گا۔اس دوران ایسے واقعات رونما ہوں گے کہ جس سے یہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لے گا اور لوگ جوق درجوق اسلام قبول کریں گے۔

اس بارے میں قرآن میں ارشادِ قدرت ہے:

''ا ِذَا جَاء نَصْرُ اﷲِ وَالْفَتْحُ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِی دِینِ اﷲِ افْوَاجًا '' (1)

جب خدا کی مدد اور فتح کی منزل آئے گی اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ دین خدا میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔

اس بناء پر اس زمانے میں لوگ گروہ کی صورت میں اسلام پر ایمان لائیں گے اور گروہ در گروہ اسلام قبول کریں گے۔

دنیا کے لوگوں کا اسلام کی طرف مائل ہونا حضرت امام مہدی  علیہ السلام کی لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت کے بعد ہو گا۔یہ کچھ حیرت انگیز واقعات کی وجہ سے ہو گا کہ جسے وہ ابتدائے ظہور میں آنحضرت اور ان کے اصحاب میں دیکھیں گے۔جس سے لوگوں پر ان کی حقّانیت ثابت ہو گی اور یوں گروہ کی صورت میں خدا کے دین کا رخ کریں گے۔

--------------

[1]۔ سورہ نصر،آیت: 1،2


حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اذا قام القائم دعا النّاس الی الاسلام جدیداََ و هداهم الی امر قد دثر و ضل عنه الجمهور اِنّما سمّ القائم مهدیاََ،لانّه یهد الیٰ امر مضلول عنه و سمّ القائم لقیامه بالحقّ'' (1)

جب قائم  علیہ السلام  قیام کریں گے تو وہ لوگوں کو دوبارہ اسلام کی طرف دعوت دیں گے اور ان کی ایسے امر کی طرف ہدایت و راہنمائی کریں گے کہ جو پرانا ہے اور جسے چھوڑ کر اکثر لوگ گمراہ ہو چکے ہیں۔ اسی لئے قائم  علیہ السلام  کا نام مہدی   علیہ السلام  ہو گا ۔کیونکہ وہ گمشدہ امر کی طرف ہدایت کرے گا اور اسے قائم کا نام دیا گیا کیونکہ وہ حق کے لئے قیام کرے گا۔

اس روایت سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ حضرت ولی العصر(عج) قیام کے بعد لوگوں کو اسلام کی طرف ایک جدید دعوت دیں گے اور انہیں گمشدہ امر کی ہدایت کریں گے کہ جس سے وہ لوگ گمراہ ہوئے ہیں ۔ اس روایت میں قتل و غارت کاتذکرہ نہیں ہے۔ بلکہ قیام کے بعد اسلام کی طرف دعوت دی جائے گی اور ہدایت و راہنمائی کا عمل شروع ہوگا۔ انسانوں کو اسلام کی طرف دعوت اور راہ حق کی طرف راہنمائی کے لئے دلیل و برہان کی ضرورت ہے۔ روایات کے مطابق یہ وہی پروگرام ہے کہ جسے حضرت بقیة اللہ الاعظم  علیہ السلام انجام دیں گے۔

دلیل و برہان اور اعجاز کے ہمراہ اس دعوت کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ اسلام پر ایمان لائیں گے اور ہدایت کی طرف گامزن ہوں گے۔اس وقت قرآن کی طراوت و شادابی بحال ہو جائے گی ۔ فرسودگی کے بعد اسلام کو نئی حیات ملے گی۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار :3051،الارشاد: 344، نوادرالاخبار:272


حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی زیارت میں وارد ہوا ہے:

''السلام علی یا ابا الامام المنتظر، الظاهرة للعاقل حجّته،الثابتة فی الیقین معرفته، والمحتجب عن اعین الظالمین،والمغیّب عن دولة الفاسقین،  والمعید ربّنا به الاسلام جدیداََ  بعد الانطماس والقرآن غضّاََبعد الاندراس'' (1)

اے امام زمانہ علیہ السلام کے پدر آپ پر سلام ہو کہ عاقل شخص کے لئے ان کی حجت وبرہان ظاہر ہے ان کی معرفت مخزن یقین میں ثابت ہے۔وہ امام ظالموں کی آنکھوں سے پردہ ٔ غیب میں ہیں، وہ  فاسقوں کی حکومت سے پنہاں ہیں ۔ خدا وند کریم ان کے وسیلہ سے اسلام کو تغییر کے بعد تازہ حیات بخشے گا اور قرآن کو پژمردہ ہونے کے بعد طراوت بخشے گا۔

لغت میں کلمہ'' انطماس '' نابود ہونے کے معنی میں آیا ہے۔اس روایت میں حضرت امام حسن عسکری  علیہ السلام نے دونوں معنی مراد لئے ہیں۔غیبت کے زمانے میں اسلام پر ہونے والے بدلاؤ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے قیام کے بعد ختم ہو جائیں گے اور اسلام اپنی اصلی حالت میں آجائے گا۔اگرچہ بہت سے ایسے اسلامی ممالک ہیں کہ جو اسلامی حکومت کے نام سے تو مشہور ہیں، لیکن ان میں دین کے احکامات پر عمل نہیں ہوتا ۔اگرچہ ان میں ظاہراََ اسلام کانام موجود ہے لیکن جب تک

وہاں اسلام کے احکامات پر عمل نہ ہو تو گویا ان ممالک میں اسلام نابود ہو چکا ہے۔

--------------

[1]۔ مصباح الزائر:410،الصحیفة المہدیة:614


  امر عظیم

حضرت بقیة اللہ الاعظم  علیہ السلام دنیا والوں کے لئے جو کچھ ظاہر فرمائیں گے روایات میں کبھی اسے امر عظیم اور کبھی امر جدید کے عنوان سے مطرح کیا گیا ہے۔

ابی سعد خراسانی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے عرض کی :

'' المهدی والقائم واحد؟فقال:نعم فقلت:لاّ شیء سمّی  المهدی:

قال:لانّه یهدی الیٰ کلّ امر خف و سمّی القائم لانّه یقوم بعد ما یموت،انه یقوم بامر عظیم ''(1)

کیا مہدی علیہ السلام اور قائم ایک ہی فردکے نام ہیں؟

امام  نے فرمایا :جی ہاں ۔

میں نے عرض کیا کہ انہیں مہدی علیہ السلام کیوں کہا جاتا ہے؟

فرمایا:کیونکہ وہ ہر مخفی امر کی طرف ہدایت کریں گے۔لہذا انہیں قائم کا نام دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے نام کے مرنے کے بعد قیام کریں گے۔یقیناََ وہ امر عظیم کے ساتھ قیام کریں گے۔

آپ نے ملاحظہ کیا کہ اس روایت میں بھی تصریح ہوئی ہے کہ حضرت قائم  علیہ السلام عظیم امر اور بزرگی کے لئے قیام کریں گے۔حضرت قائم علیہ السلام جس امر کو قائم کرنے کے لئے قیام کریں گے وہ اس قدر بزرگ ہے کہ کس کی عظمت کی وجہ سے آنحضرت کو قائم علیہ السلام  کا نام دیا گیا۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۵۱ص۳۰


امام عصر علیہ السلام جس امر کے لئے قیام کریں گے کیا یہ وہیمنشور ہے کہ جو رسول اکرم(ص)اور آئمہ اطہار  عل یہم السلام کے توسط سے لوگوں کے لئے قرار یا گیااور پھر مقام خلافت کے غصب ہونے،بدعتوں کے ظہور اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ فراموشی کے سپرد ہو گیا یا ان کے علاوہ کوئی اور عظیم آئین و منشورہے کہ جسے خاندانِ وحی علیہم السلام نے بیان نہیں فرمایا اور اب اسے امام زمانہ علیہ السلام سب لوگوں کے لئے ظاہر فرمائیں گے؟

اس سوال کے جواب سے پہلے امام صادق  علیہ السلام سے نقل شدہ اس روایت پر توجہ کریں۔

امام صادق  علیہ السلام  فرماتے ہیں:

''اذا قام القائم جاء بأمر جدید کما دعی رسول اللّه ف بدو الاسلام الٰی امر جدید'' (1)

جب قائم  علیہ السلام قیام کریں گے تو وہ نیا اورجدید امر لائیں گے جس طرح ابتدائے اسلام میں رسول اکرم نے لوگوں کو جدید امر کی طرف دعوت دی۔اس روایت میں امام صادق نے امام زمانہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایسی چیز لائیں گے کہ جو صدر اسلام میں رسول اکرم (ص)لائے تھے۔اگرچہ یہ روایت اس سلسلہ میں صریح نہیں ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام پہلے بیان نہ ہونے والا کوئی جدید امر لائیں گے ۔  لیکن کم از کم یہ اس بارے میں  صراحت رکھتی ہے ۔ممکن ہے کہ بعض لوگ حضرت امام صادق علیہ السلام سے بیان ہونے والی روایت میں موجود تشبیہ پر توجہ نہ کریں اور کہیں:

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۵۲ص۳۳۸


چونکہ اسلام کے بہت سے احکامات لوگوں تک نہیں پہنچے پس انہیں  بیان کرنا ان کے لئے جدید امر ہے۔ لہذا اسے جدید امر کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

اس کے جواب میں کہتے ہیں :اگر ہم اس روایت کے ظہور یا صراحت سے دستبردار ہو جائیں تو بھی ہم ایک دوسرا نکتہ بیان کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ کیا رسول اکرم(ص)نے نہ یں فرمایا تھا!

''اِنّا معاشر الانبیاء نکلّم الناس علٰی قدر عقولهم '' (1)

ہم پیغمبر لوگوں سے ان کی عقل کے مطابق بات کرتے ہیں۔

اس روایت اورظہور کے زمانے میں عقلی تکامل پر توجہ کرنے سے معلوم ہو گا کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) لوگوں کے عقلی رشد کی وجہ سے ان کے لئے جدید مطالب بیان کریں گے کہ جن سے انسانی معاشرہ اس سے پہلے بالکل آگاہ نہیں تھا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ ہر جدید امر اور نیا دستور اسلام کے حیات  بخش آئین ہی میں سے ہو گا نہ کہ امام زمانہ لوگوں کے لئے ایک نیا آئین اور دین ایجاد کریں گے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۲ص۲۴۲


  امر عظیم کیا ہے؟

اب یہ سوال پیداہوتا ہے کہ اس روایت میں بیان ہونے والے امرِجدید  سے مراد وہی امر عظیم ہے کہ جس کی گزشتہ روایت میں تصریح ہوئی ہے؟

اگردونوں (امر جدید اور امر عظیم) سے ایک ہی چیز مراد ہو تو پھر وہ امر

جدید اور امر عظیم کیا ہے کہ جس کی خاطر حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) قیام فرمائیں گے؟

اسرار سے آگاہ ہی ا س سوال کے جواب سے آگاہ ہیں۔ اہلبیت اطہار علیہم السلام کی روایات میں اس  بارے میں چند اشارات اور کچھ سرسری نکات ملتے ہیں۔ان کے معنی و تفسیر سے فقط چند خواص ہی آگاہ ہیں  کہ جواہلبیت عصمت وطہارت علیہم السلام کے کلمات کے اسرار ورموز سے واقف ہیں اور جو ان کے فرمودات میں موجود کنایات و اشارات سے عظیم علمی مطالب اخذ کرتے ہیں۔

حضرت امام صادق  علیہ السلام  ایک  روایت میں فرماتے ہیں:

'' حدیث تدریه خیر من الف ترویه، ولا یکون الرجل منکم فقیهاََ حتّی یعرف  معاریض کلامنا، وانّ الکلمة من کلامنا لتصرف علی سبعین وجهاََلنا من جمیعها المخرج '' (1)

ایک رویات کے معنی کوسمجھنا ہزار روایتیں نقل کرنے سے بہتر ہے۔تم میں سے کوئی شخص بھی فقیہ نہیں ہو سکتا کہ جب تک وہ ہمارے فرمودات میں اشارہ نہ سمجھ لے۔یقیناََ ہمارے کلام کے ہر ایک کلمہ سے ستّر معنی نکلتے ہیں کہ ہمارے لئے ان سب کے تکمیل معنی کے لئے راہ موجود ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۲ص۱۸۴


مکتب اہلبیت علیہم السلام میں ایسے افراد کو فقیہ کہا جاتا ہے کہ جو ان کلمات کودرک کرنے کی قدرت رکھتے ہوں۔پس فقیہ وہ ہے کہ جو فرمودات آئمہ علیہم السلام کے معنی اور ان میں موجود اشارات سمجھ سکے۔امر عظیم کی وضاحت اور اس

کا اجمالی جواب ذکر کرنے سے پہلے اس روح افزاء نکتہ پر غور کریں۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ کہ جو خانہ کعبہ میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی ملکوتی آواز سن کر لبیک کہیں گے اور اس مہربان امام کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے قیام کریں گے۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ کہ جن کو ظہور کا بابرکت زمانہ نصیب ہوگا ۔ جو دین میں ہر قسم کی خرافات سے دستبردار ہوجائیں گے اور حضرت مہدی  علیہ السلام کی زیر سرپرستی ان کی عادلانہ حکومت کے شاہد ہوں گے۔    اس زمانے کے لوگ حضرت صاحب العصر والزمان (عج) کی حکومت کے سائے میں حیاتِ قلب ، تکامل عقل  اوراعلی معارف کی طرف پرواز کریں گے اور پھر وہ امر عظیم کی خلقت کے سرّ و راز سے آگاہ ہوجائیں گے ۔

اس زمانے کے لوگ سمجھ جائیں گے کہ جس خدا نے انسان کی خلقت سے خود کواحسن الخالقین کا خطاب دیا ہے اس نے انسان کے وجود میں کوئی قدرت و توانائی پوشیدہ کی ہے۔لیکن غیبت کے تاریک زمانے میں زندگی گزارنے والوں کے دلوں پرخاندان وحی  علیھم السلام کے تابناک انوار کی کرنیں پڑ رہیں تھیں مگر وہ اس سے بے خبر تھے۔

حضرت مہدی علیہ السلام کے شفا بخش ہاتھوں سے اس زمانے کے لوگوں کی عقل و خرد کامل ہوگی اسی طرح وہ ان کے دلوں کو معنوی حیات بخشیں گے جس کے ذریعہ وہ عالم ملکوت کا نظارہ کر سکیں گے۔

اب امر عظیم کے بارے میں  پیدا ہونے والے سوال کا جواب دیتے ہیں


کہ امر عظیم اہلبیت کی ولایت کے سلسلہ میں مہم نکتہ ہے، ظہور  کے زمانے میں امر عظیم آشکار ہو گا۔

غیبت کے زمانے کی تاریکی کی وجہ سے لوگوں میں ولایت کے رمز اور اہلبیت علیھم السلام کے رموز و اسرار کو سمجھنے  کا میزان اور انسا ن کی عقل کی حدیں محدود ہیں، جس میں ولایت کی مکمل معرفت اور خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام سے متعلق مہم امور کو مکمل طور پرپہچان نہیں ہے، جب ان کے دست مبارک سے انسان کی عقل کامل ہو جائے گی تو اس میں عظیم معنوی مسائل کو سمجھنے کی قدرت پیدا ہو جائے گی۔اس زمانے میں عقل تکامل کی منزل تک پہنچ جائے گی اور آشفتگی سے نجات حاصل کرے گی ۔ امام مہدی علیہ السلام لوگوں  کے لئے معارف کے عظیم نکات بیان فرمائیں گے اور قرآن اس کی گواہی دے گا ۔یہی بات جناب محمد بن عمرو بن الحسن سے روایت ہوئی ہے۔

'' ان امر آل محمد علیهم السلام أمر جسیم مقنّع لا یستطاع ذکر ولو قد قام قائمنا لتکلّم به وَ صدقه القرآن '' (1)

امر اہلبیت علیہم السلام  ایک ایسا عظیم امر ہے کہ پردے میں چھپا ہوا ہے جسے ذکر کرنے کا امکان نہیں ہے اور جب ہمارا قائم قیام کرے گا وہ اسے بیان کرے گا اور قرآن اس کی تصدیق کرے گا۔

اس بیان سے واضح ہو گیا کہ ولایت کے باعظمت امر کو غیبت کی تاریکیوں میں عام لوگوں کے لئے بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن جب عقل  کے تکامل کی راہ میں مانع ایجاد کرنے والے ستمگر اور ظالم ختم ہو جائیں گے تو امام زمانہ  علیہ السلام کے ظہور اور ان کی عنایات سے انسانوں کی عقل و فہم کی تکمیل ہو جائے گی،اس وقت خدا وند بزرگ و برترحکم دے گا کہ امام عصرعلیہ السلام حق کو ظاہر کریں۔اس زمانے میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے لبوں کی جنبش سے ہی حق و حقیقت آشکار ہوجائیں گے پھر لوگوں کے لئے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہے گا۔

--------------

[1]۔ بصائر الدرجات:28،بحار الانوار:ج۲ص۱۹۲


وہ بزرگوار اپنے ایک مکتوب میں یوں بیان فرما تے ہیں :

'' اذا أذن اللّه لنافی القول ظهرالحق واضمحل الباطل، وانحسرعنکم '' (1)

جب خدا  مجھے بولنے کا اذن دے گا تو حق ظاہر ہو جائے گا ، باطل نابود ہ ہوجائے گا اور تم لوگوں  کے لئے یہ سب آشکار ہو جائے گا۔

  معارف الٰہی

خاندان نبوت  علیہم السلام نے روایات میں جہان زمانۂ غیبت کی سختیوں کو بیان کیاہے وہاں ظہور کے  بابرکت زمانے کی سعادتوں اور برکتوں کو بھی بیان کیا ہے اور اس زمانے کی سعادتوں کو ہلاکت سے نجات پانے والوں کے ذریعہ توصیف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس زمانے کو درک کرنے والے خوش نصیب ہیں۔

امام صادق علیہ السلام حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے بارے میں فرماتے ہیں۔

''هو المفرّج للکرب عن شیعته بعد ضنک شدید و بلاء طویل و جور فطوبی لمن ادرک ذالک الزمان '' (1)

وہ اپنے شیعوں سے ہر طرح کی سختی کوبرطرف کریں گے اور یہ سخت مصائب، طویل بلاؤں اور ظلم و ستم کے بعد ہو گا۔پس اس زمانے کو درک کرنے والے خوش نصیب ہیں۔

--------------

[1]۔ الغیبة شیخ طوسی: 176

[2]۔ کمال الدین :647


جی ہاں ؛ خوش نصیب ہیں وہ لوگ ، جو اس زمانے کو دیکھیں گے ۔ اس روزدنیا کو خلق کرنے کا مقصد پورا ہو جائے گا ۔ وہ عقلی تکامل کا زمانہ ہو گا اور ہر طرف نور ہی نور ہو گا اس زمانے میں لوگ خضوع وخشوع  اور کمال بندگی سے خدا کی عبادت کریں گے وہ نفس کو شکست دے کر شیطان کو نابود کرکے عقلی تکامل سے خدا کی بندگی کریں گے اور خاندان وحی کے نورانی مقام کی معرفت پیداکریں گے۔خدا  فرماتا ہے:

''وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ ِلاَّ لِیَعْبُدُونِ '' (1)

میں نے جن و انس کوخلق نہیں کیا مگر یہ کہ وہ میری عبادت کریں۔

اس  بناء پر صدیاں گزرنے کے بعد علم و معرفت سے سرشار دن کی آمد پر خلقت کامقصد پورا ہو جائے گا۔اس مبارک زمانے میں دنیا کے تمام انسان تکامل کی راہ پر گامزن ہوں گے اور عالم بشریت کے مسیحا کے شفا بخش ہاتھوں کے لمس سے  خدا کے عبد تکامل ِعقل تک پہنچ جائیں گے اور انسان شیطانی ا فکار اور وسوسوں سے نجات پا کر معرفت کی منزل تک پہنچ جائے گا۔

 زبان رسول اکرم (ص)سے زمانہ ظہور کے لوگ

اس زمانے میں لوگ خدائے واحد کی عبادت کریں گے اور اہلبیت  علیہم السلام کے نورانی مقام سے آگاہ ہو کر اس کی معرفت حاصل کریں گے،اسی لئے وہ نورانیّت سے سرشار پاک سیرت ہوں گے۔رسول اکرم زمانہ ظہور کے لوگوں کو چودہویں کے چاند اور مشک و عنبر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ایک طولانی روایت میں حضرت امام جواد علیہ السلام  اپنے پدر بزرگوار اور وہ رسول اکرم (ص)سے آل محمد علیہم  السلام کے قائم   کے قیام کا واقعہ نقل فرماتے ہیں۔

--------------

[1]۔ سورۂ الذاریات،آیت: 56


"یخرج جبرئیل عن یمینه و میکائیل عن یسرته و سوف تذکرون ما اقول لکم و لو بعد حین و افوّض امر الی اللّٰه عزّوجلّ

یا ابیّ طوبی لمن لقیه و طوبی لمن احبه و طوبی لمن قال ینجّیهم من الهلکة وبالاقرار باللّٰه و برسوله و بجمیع الآئمّة یفتح اللّٰه لهم الجنّة مثلهم ف الارض کمثل المسک الّذ یسطع ریحه فلا یتعیّر ابداََ و مثلهم ف السماء کمثل القمر المنیر الّذی لا لطفأ نوره ابداً ''(1)

مہدی  علیہ السلام  اس حال میںقیام کریں گے کہ ان کے دائیں طرف جبرئیل اور بائیں طرف میکائیل ہوں گے میں  تمہارے لئے جو کچھ بیان کر رہا ہوں تم اسے ایک دن ضرور یاد کرو گے۔ اگرچہ یہ طولانی  مدّت کے بعد رونما ہو گااور اپنامعاملہ خدائے پاک پر چھوڑتاہوں۔

اے ابی :خوش نصیب ہے وہ جو ان سے ملاقات کرے اور ان سے محبت کرنے والا، خوش نصیب ہے اورخوش نصیب ہے وہ کہ جو معتقد ہو کہ وہ ہلاکت سے نجات دیں گے۔خدا،رسول اور آئمہ کا اقرار کرنے کی وجہ سے خد اان کے لئے جنت کے در وازے کھول دے گا۔زمین میں اس کی مثال مشک کی مانند ہے کہ جس کہ خوشبو تو پھیلتی ہے لیکن وہ خود کبھی متغیر نہیں ہوتا۔آسمان میں اس کے نور کی مثال چاند کے نور کی مانند ہے کہ جس کا نور کبھی ختم نہیں ہوتا۔

ظہور کے زمانے کے لوگوں کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح نورانی ہو گا۔جس سے معلوم ہو گاکہ انہیں ملکوت کا جلوہ بخشا گیا ہے۔ان کے سینوں میں معارف الٰہی کے تابناک انوارسے ان کے چہرے منوّ ر ہو جائیں گے۔وہ عالم ملکوت کا نظارہ کر سکیں گے جو کہ کتناخوبصورت نظارہ ہو گا۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۵۲ ص۳۱۱


امام جواد علیہ السلام امام صادق علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے حضرت الیاس علیہ السلام(1) سے فرمایا:

'' فوددت انّ عینیک تکون مع مهدی هذه الامّة والملائکة بسیوف آل داؤد بین السماء والارض تعذّب أرواح الکفرة من الاموات و تلحق بهم ارواح اشباههم من الاحیاء ثم اخرج سیفاً ثم قال ها:انّ هذا منها '' (2)

مجھے پسند ہے کہ تمہاری آنکھیں اس امت کے مہدی علیہ السلام  کو دیکھیں کہ ملائکہ آل داؤد کی تلواروں سے آسمان اور زمین کے درمیان  دنیا سے جانے والے کافروں کو عذاب دیتے ہیں اور زندہ کفار کو ان سے ملحق کرتے ہیں۔پھر امام صادق  علیہ السلام نے اپنی تلوار نکالی اور فرمایا :

ہاں یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

ملائکہ کا یہ نظارہ بھی کتنا خوبصورت ہو گا کہ جو اپنی تلواروں سے کافروں کو جہنم کی راہ دکھائیں گے۔

  محسوس اور غیر محسوس دنیا میں حکومت

خاندان اہلبیت علیہم السلام  کے معارف کے باب میں علم امام کامسئلہ ایک اہم اعتقادی مسئلہ ہے۔ بہت سی روایات کی دلالت کی رو سے آئمہ اطہار  علیھم السلام کے علم کا مسئلہ اعتقادی بحثوں سے متعلق ہے۔ ہم امام عصر علیہ السلام کی زیارت میں پڑھتے ہیں:

--------------

[1] ۔ حضرت الیاس علیہ السلام  ان چار پیغمبروں میں سے ہیں کہ جو اب بھی باحیات ہیں۔ وہ زمانہ ظہور اور زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام  کے ناصر ومددگار وںمیں سے ہیں ۔

[2] ۔ بحار الانوار:ج۴6ص۳6۴


'' قد اتاکم اللّٰه یا آل یاسین خلافته وعلم مجاری امره فیما قضاهو دبّره ورتّبه  واراده فی ملکوته '' (1)

اے آل یاسین!خداوند کریم نے آپ کو اپنی  خلافت وجانشینی بخشی ہے اوروہ ملکوت میں اپنے امر کے مجاری سے جو امر،تدبیر و نظم اور ارادہ کرتا ہے،اس سے آپ کو علم و آگاہی عطا کی ہے۔

اس مقدمہ کو بیان کرنے کے بعد اس امر پر ضرور غور کریں کہ ظہور کے زمانے اور امام زمانہ کی حکومت میں علم وحکمت کے در وازے کھل جائیں گے اور اس با عظمت دن میں حضرت مہدی علیہ السلام اپنے علم کی بنیاد پر پوری کائنات میں عدالت قائم کریں گے  اور یوں وہ محسوس و غیر محسوس دنیا کو نئی حیات بخشیں گے۔

ظہور کے زمانے کے بارے میں وارد ہونے والی بہت سی روایات سے استفادہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت امام عصر علیہ السلام  نہ صرف محسوس دنیا کی تکمیل و پاک سازی کریں گے بلکہ غیر محسوس دنیا سے پلیدگی کے وجود کو پاک کریں گے۔

اس بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ امام زمانہ  علیہ السلام کے ظہور کا صرف محسوس پہلو ہی نہیں ہے بلکہ وہ عالم ظاہر کے علاوہ غیر محسوس دنیا کی بھی تکمیل کریں گے۔غیر محسوس عالم کی موجودات بھی آنحضرت کی حکومت الٰہی سے فیضیاب ہوں گی۔

پس امام عصر  علیہ السلام کا قیام ہر لحاظ اور ہر پہلو سے کامل ہے امام زمانہ (عج) اپنے قیام سے محسوس اور غیر محسوس عالم کو تکامل بخشیں گے۔اس بناء پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ آنحضرت کا قیام فقط مادّی و ظاہری لحاظ سے انقلاب برپا کرے گا۔جس میں صرف محسوس و ظاہری دنیا ہی شامل ہو گی۔بلکہ یہ یاد رکھیں کہ غیر محسوس موجودات (جنّات و شیاطین) پر بھی امام مہدی  علیہ السلام کی حکومت ہو گی  اور وہ بھی پاکسازی کے عمل سے گزر کر تکامل کی منزل تک پہنچ جائیں گے۔

--------------

[1] ۔ صحیفہ مہدیہ:571


  عالم ملک و عالم ملکوت

باطنی قوّت اور اندرونی حواس کے ذریعہ عالم غیب اور عالم ملکوت تک پہنچنا چاہئے۔زمانہ ظہور عالمِ ملک اور ملکوت کے عظیم عالم تک پہنچنے کازمانہ ہے۔ اگرچہ غیبت کے زمانے میں بھی انسان عالم غیب تک پہنچنے کا اسرار اور اس کی کلید حاصل کر سکتا ہے اور انسان کی باطنی قوّت اسے عالم ملکوت تک پہنچا  سکتی ہے۔لیکن زمانہ غیبت میں بہت کم افرد عالم ملکوت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں ۔ لیکن زمانہ ظہور میں عالم ملکوت کی آشنائی ایک عام بات ہو گی۔اس بابرکت زمانے کے عام افراد بھی وہاں تک رسائی حاصل کر  سکیں گے۔

اگر کوئی پیدائشی اندھا یا بہرا  ہو توایسا شخص دیکھنے اور سننے والی اشیاء کو ویسے درک نہیں کر سکتا جیسی وہ ہیں اور اگر وہ ان کا انکار کرے تو یہ خود اس کے نقص و عیب کی دلیل ہے نہ کہ اس سے اس چیز کی نفی ہو جائے گی۔اسی طرح اگر کوئی عالم ملکوت کا منکر ہو تو یہ خود اس کے نقص و عجز کی دلیل ہے کہ جو عالم ملکوت کو درک کرنے کی قدرت نہیں رکھتا نہ کہ اس سے عالم ملکوت کی نفی ہوجائے گی۔جیسے اگر کوئی معجزہ رونما ہوجائے اور نابینا شخص دیکھنے کی صلاحیت حاصل کرلے تو وہ دکھائی دینے والی چیزوں کو عادی حالت میں دیکھ سکے گا۔اسی طرح ظہور کے پُر نور زمانے میں بھی باطنی حواس اور اندرونی طاقتوں سے اس زمانے کے لوگ نہ صرف عالم ملکوت سے آشنا ہو جائیں گے بلکہ اسے دیکھ سکیں گے یہ ان کے لئے عادی اور معمولی حالت ہو گی۔

ملائکہ کو دیکھنا، ان کے ہمراہ بیٹھنا اور ملائکہ کے ساتھ سیر ایسے امور ہیں کہ جن کی روایات اہلبیت میں تصریح ہوئی ہے۔نعمتوں سے سرشار اس زمانے میں لوگوں کو معلوم ہو گا کہ وہ کس طرح عالم ملک اور مادی دنیا سے دل لگا بیٹھے ہیں؟


  وہ کس طرح عالم ملکوت سے غافل تھے؟

وہ اپنی زندگی کے کئی سال گزارنے کے باوجود بھی حضرت مہدی علیہ السلام کے بابرکت  وجود سے کیوں استفادہ نہیں کر سکے اگرچہ ظاہراََ آنحضرت پردہ غیب میں تھے؟

جب وہ اپنے بہت سے گزرے ہوئے عزیزوں اور رشتہ داروں کے بارے میں سوچیں گے تو ان کی حسرت ویأس میں اضافہ ہوجائے گا اور وہ سوچیں گے کہ وہ لوگ عالم ملکوت کا نظارہ کئے بغیرہی  دنیا سے چلے گئے۔وہ ایسے نابینا شخص کی مانند تھے کہ جو دنیامیں نابینا پید اہوئے اور دنیا کی کسی چیز کو دیکھے بغیر ہی دنیا سے چلے گئے۔اسی طرح ان کے عزیز ورشتہ دار بھی عالم ملکوت کو دیکھے بغیر ہی دنیا کو الوداع کہہ گئے۔اسی لئے وہ خواہش کریں گے کہ کاش ان کے عزیز بھی زندہ ہوتے اور ظہور کے بابرکت زمانے میں تکامل تک پہنچ کر عالم ملکوت کودیکھتے اور اس سے مستفید ہوتے۔

آئمہ اطہار علیہم السلام نے بار ہا یہ حقیقت بیان فرمائی ہے تاکہ سب اس حقیقت سے آگاہ ہو جائیں لیکن افسوس کہ عالم مادہ نے ہمیں مادی دنیا میں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ ہم عالم ملکوت کے عظیم حقائق  سے بھی غافل ہو چکے ہیں۔

  عالم ملکوت تک رسائی یا زمانہ ملکوت کی خصوصیات

جیسا کہ ہم نے کہا کہ زمانہ ظہور میں دنیا کے تمام لوگ پاک سیرت ہوں گے اس وقت سب مرد اور خواتین نیک و صالح ہوں گے کیونکہ جب صالحین کی حکومت ہو تو سب کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتی ہے اس بارے میں خدا وند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :


''اِنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ '' (1)

امام مہدی  علیہ السلام  کی آفاقی، کریمانہ او ر عادلانہ حکومت کی اہم خصوصیات میں سے ایک بشریت کی رہنمائی کرنا ہے کیونکہ فساد اور تباہی کے اسباب کی نابودی اور ہدایت کے وسائل کی فراہمی کے بعد فساد کی کوئی راہ باقی نہیں بچتی ہے۔دنیا کے تمام لوگ اپنے اندربنیادی تبدیلی پیدا ہونے کی وجہ سے گمراہی سے دور ہو کر تکامل کا رخ کریں گے گمراہی سے دور ہونے اور ہدایت کا رخ کرنے کی وجہ سے اس روز ایک مکمل  نیک و صالح انسانی معاشرہ وجود میںآئے  گا ۔اس روز انسانی معاشرہ کے لئے عالم ملکوت کے در وازے کھول دیئے جائیں گے۔انسان غیر محسوس ملکوتی دنیا کا نظارہ کر سکے

گااور یہ  نیک وصالح اعمال کا نتیجہ ہوگا صالح اعمال انسان کے وجود میں  تبدیلی ایجاد کریں گے حضرت ادریس کے صحیفۂ نجات میں ذکر ہوا ہے:

'' وبالعمل الصالح ینال ملکوت السماء '' (2)صالح اعمال کی وجہ سے انسان ملکو ت آسمانی تک پہنچ سکتا ہے۔

اب تک دنیا جہاں تک پہونچ سکی ہے وہ کائنات کا بہت چھوٹا سا حصہ ہے دنیا اب تک صرف اس کے مادی پہلو تک رسائی حاصل کر سکی ہے نہ کہ اس کے ملکوتی پہلو تک ۔زمانہ ظہور میں نیک اعمال انجام پانے سے برے اعمال کا قلع و قمع ہو جائے گا جس کی وجہ سے انسان ملکوت آسمانی تک پہنچ جائے گا ۔پس اس با برکت زمانہ میں معاشرہ ملکوتی دنیا تک رسائی حاصل کرے گا جو بہت عظیم خصوصیات سے آراستہ ہو گا۔ہم امید کرتے ہیں کہ پروردگار عالم جلد از جلد رہائی و نجات کا وہ دن پہونچا دے اور بشریت کو امام زمانہ (عج) کی عادلانہ حکومت کے زیر سایہ کمال و تمدن کی اوج تک پہونچا دے ۔

--------------

[1]۔ سورہ انبیاء،آیت: 105

[2]۔ بحارالانوار:ج۹۵ص۴6۵


حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی الٰہی حکومت میں انسان کے لئے خلقت کائنات کے لئے راز واضح ہو جائیںگے اور سب ایسی چیزیں دیکھ پائیں گے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی کیونکہ اس وقت سب پاک سیرت ہوں گے لہذا وہ کائنات کے اسرار و رموز بھی دیکھ پائیں گے۔ حضرت محمد مصطفٰی(ص) فرماتے ہ یں :

'' غضوا ابصارکم ترون العجائب'' (1)

اپنی آنکھوں کو (حرام اور دنیا کی محبت سے) بند کروتو دنیاکے عجائب دیکھ پائو گے ۔

کیونکہ عالم وجود کے زیادہ تر عجائب عالم غیب میں پوشیدہ ہیں اگر چہ محسوس دنیا میں بھی بہت سے عجائب ہیں لیکن غیر محسوس عجائب کی دنیا کے مقابلہ میں بہت کم ہیں۔محسوس و غیر محسوس دنیا ،عالم خلقت  کے اسرار و رموز اور ان کے عجائب دیکھنے کے لئے اپنی آنکھوں کو نا صرف حرام بلکہ ہر اس چیز سے بچائیں جو دنیا سے انسان کی دل لگی کا سبب بنے اگر کوئی انسان دنیا کے ساتھ دل نہ لگائے تو اس کا دل گناہوں کی آلودگی سے پاک ہو جائے گا پھر وہ کائنات کے اسرا ر اور عالم خلقت کے عجائبات کو دیکھ سکے گا۔اس بارے میں رسول اکرم (ص) فرماتے ہ یں :

''لولا ان شیاطین یحومون علیٰ قلوب بنی آدم لنظروا الیٰ  الملکوت '' (2)

اگر انسان کے دل  میں  شیاطین جگہ نہ بنائیں تو وہ عالم ملکوت کا نظارہ کر سکتا ہے۔

اس بنا پر جس دن ابلیس اور شیاطین نابود ہوں گے اور جب ان کے گمراہ کن وسوسوں میں کوئی اثر نہ ہو گا تو پھر انسان کا دل نورانیت و پاکیزگی سے سرشار ہوگااور عالم ملکوت کی نورانی دنیا کو دیکھ سکے گا۔

--------------

[3]۔ مصباح الشریعہ :9

[4]۔ بحارالانوار:ج70 ص59


  اہم نکتہ یا احساس ظہور

اب اس اہم نکتہ پر توجہ کریں کہ کیا  ظہور  کے زمانے کے دوران عالم ملک و ملکوت میں کوئی وجود حضرت بقیہ اللہ الاعظم (عج)کے وجود سے زیادہ ملکوتی ہو سکتا ہے ؟پس اس زمانہ میں آپ کائنات کے جس گوشہ میں بھی ہوں حضرت مہدی   علیہ السلام  کے با برکت وجود کو دیکھ سکیں گے اور خود کو آنحضرت کے حضور میں پیش کر سکیں گے۔ احساس ظہور کی مزید وضاحت کے لئے ابو بصیر کی احساس ظہور کی بہترین روایت کی طرف رجوع کریں ۔(1)

یا درکھیں کہ غیبت کے زمانے میں دو اہم عامل احساس ظہور اور انسانوں کے عالم ملکوت تک پہونچنے اور اسے دیکھنے کی راہ میں رکاوٹ ہے ان دو موانع میں سے ایک شیطان اور دوسرا نفس امارہ ہے۔ لیکن ظہور کے پر نور اور با برکت زمانہ میں شیطان نابود ہو جائے گا اور انسانوں کا نفس امارہ تبدیلی  ایجاد ہونے کی وجہ سے معنوی بلندی تک رسائی حاصل کر لے گا ۔اسی وجہ سے زمانۂ ظہور کے نیک و صالح معاشرہ میں عالم ملکوت تک رسائی کی راہ میں کوئی مانع نہیں ہو گا ۔

لیکن موجود  دور میں شیطان اپنی سازشوں اور نفس امارہ کے ذریعہ انسان کو فریب دیتا ہے اور نفس کی مدد سے وہ عالم ملکوت تک پہونچنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ وہ انسان کو مادی دنیا ہی میں مگن کردیتا ہے اور انسان بھی اس کے فریب میں آکر دنیا ہی سے دل لگا لیتا ہے۔ اس بنا ء پر غیبت کے زمانے میں معاشرہ نہ صرف عالم ملکو ت کو نہیں دیکھ سکتا بلکہ انسان اس کا انکار بھی کر دیتا ہے۔ اس وجہ سے ہمارے معاشرہ کی اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ دونوں زمانہ میں فرق کو ملاحظہ کرے شاید اسی فرق کو پہچان لینے سے نجات کا کوئی ذریعہ پیدا ہو جائے ۔

--------------

[1] ۔ صحیفہ مہدیہ :93


  غیرت مندوں سے خطاب

زمانۂ ظہور اور زمانۂ غیبت کے درمیان فرق کے بہت سے بنیادی نکات موجود ہیں جن کی رو سے معلوم ہوجاتا ہے کہ  ظہور کا زمانہ غیبت کے تاریک زمانے سے برترہے ۔لیکن افسوس کہ ہمارا معاشرہ ان خصوصیات سے آگا ہ نہیں ہے اسی وجہ سے ہم مکتب اہلبیت  علیہم السلام  کے معارف کے عظیم باب کی آشنائی سے محروم ہیں۔ ہر غیرت مند شیعہ پر ایسے امور کو جاننا لازم ہے کہ جو اس کے ٹھہرائو کا سبب بنیں، اسی طرح اسے رشد و تکامل کے عوامل سے بھی آگاہ ہونا چاہیئے، ہر شیعہ کو یہ جاننا چایئے کہ اس کے بال و پر کیوں بندھے ہوئے ہیں وہ انہیں کس طرح سے کھول سکتا ہے ؟ اس کے ٹھہراؤ کا سبب کیا ہے اور اس کے کیا عوامل ہیں؟

ان سوالات کو مطرح کرنے کی یہ وجہ ہے کہ اگر ہمارا معاشرہ ان سوالات کے جوابات سے آگاہ ہو جائے تو انہیں جاننے اور ان پر عمل پیراں ہونے سے امام زمانہ (عج) کی کریمانہ حکومت کے لئے زمینہ فراہم ہوگا ۔

اے غیور شیعہ جوانو!

اے مکتب اہلبیت  کے پاک سیرت پیروکارو !

صدیوں سے امیرالمومنین علیہ السلام  کی غصب شدہ خلافت پر اشک بہانے والو اور اس زمانہ کے مسلمانوں کے سکوت پر آہ بھرنے والو!

کیا تم بھی ان لوگوں کی طرح آرام سے بیٹھے رہو گے؟

کیا اب بھی اہلبیت  علیہم السلام  کا مقام غصب رہے گا ؟

کیا امام زمانہ  علیہ السلام  سے ہماری جدائی اور زمانۂ غیبت کی بارہ صدیاں کافی نہیں ہیں ؟


کیوں اہلبیت علیہ السلام کی مظلومیت صدیوں سے جاری ہے؟

لیکن شیعہ ابھی تک اس اہم امر سے غافل کیوں ہیں ؟آخر ایسا کیوں ہے؟

ہم ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے کہیں گے کہ ٹوٹ جائیں وہ ہاتھ کہ جنہوں نے دنیا کوصدیوں سے اصل دین سے غافل کر دیا ہے کہ جس کی وجہ سے لوگ ولایت کے در سے دور ہو گئے اور اسے بھلا دیا۔نیست و نابودہو جائیں وہ ہاتھ کہ جو امریکہ اور برطانیہ کی آستینوں سے نکل کر ابلیس کی پیروی کرتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔البتہ ا س میں خود امت کی بھی غلطی و کوتاہی ہے۔

اب ایسے منحوس ہاتھوں کو کاٹنے اور انہیں شکست دینے کی امید کرتے ہوئے ا صل مطلب کی طرف واپس آتے ہیںاور حضرت ولی عصر صاحب الزمان (عج) کی آفاقی اورعادلانہ حکومت کی ایک اور خصوصیت بیان کرتے ہیں۔

  زمانہ ٔ ظہور اطمینان کا زمانہ

زمانہ  ٔ غیبت کی بنسبت ظہور کے با برکت زمانہ کے خصوصیات اور امتیازات بہت زیادہ ہیں ہم نے اس کتاب میں ان میں سے چند نمونہ ذکر کئے ہیں ،ان میں سے ایک ہماری بحث سے بھی متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ ظہور کا زمانہ اطمینان اور آرام کا زمانہ ہو گاظہور کے زمانہ میں دل سے شک و شبہ اور  گمان زائل ہو جائے گااسی طرح زمانہ ظہور اور زمانہ نجات میں دل سے سیاہ افکار ،افسردگی اور فرسودگی بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ اس روز شیطان کی نابودی سے انسان کی عقل میں تکامل اور نفس میںتبدیلی ایجاد ہو گا پھرانسان خدا اور امام زمانہ کا ذکر کرے گا جو کہ خود اطمینان کا باعث ہے کیونکہ ذکر خدا اور یاد خدا دلوں کو سکون اور اطمینان عطا کرتی ہے۔


خدا وند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

''ا َلاَبِذِکْرِاﷲِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب '' (1)

آگاہ ہو جاؤ دلوں  کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

یادِ خدا انسان کے لئے یقین میں اضافہ کا باعث بھی ہے یقین کی وجہ سے انسان میں اطمینان اور آسودگی کی حالت پیدا ہوتی ہے یعنی اس دل کو آرام ملتا ہے کہ جس سے شک و شبھہ کی کوئی جگہ باقی نہیں رہ جاتی ہے یوں انسان اپنے نفس پر مسلط ہو گا اور شیطانی وسوسوں سے بھی محفوظ رہے گا کیونکہ  شیطانی وسوسے اس صورت میںاثر انداز ہوتے ہیں کہ جب وہ انسان کو کسی کام کے لئے اکسائے یا اس میں کسی کام کو کرنے کے لئے ابھارے۔ لیکن جو صاحب یقین ہو اور اطمینان و سکون کی حالت میں ہو اس پر کسی قسم کا وسوسہ اثر انداز نہیں ہوتا ہے مگر یہ وہ اپنا اطمینان کھو دے اس بناء پر جب تک انسان کا دل مطمئن ہو اور وہ آرام و سکون کی حالت پر باقی رہے تو شیطان اور نفس پر غالب رہے گا پھر وہ حضور کو بھی محسوس کر سکے گا جس طرح حالت حضور انسان کو اطمینان بخشتی ہے اور اس کو گناہ سے دور رکھتی ہے اب اس روایت پر غور کریں۔ حضرت امیرالمومینن  علیہ السلام  سے پوچھا گیا گناہوں سے بچنے کے لئے کس چیز سے مدد لے سکتے ہیں۔

حضرت امیرالمومنین علی  علیہ السلام  نے اس کے جواب میں فرمایا :

'' بالجمود تحت السلطان المطلع علی سرّک'' (2)

خود کو اپنے رازوں سے آگاہ سلطان کے حضور میں قرار دے کر۔

--------------

[1]۔ سور ہ  رعد ،آیت:28

[2]۔ مصباح الشریعة:9


اگر انسان کو معلوم ہو کہ خدا اور اس کے جانشین انسان کے ظاہر وباطن سے آگاہ ہیں اور وہ ہر لمحہ ان کے حضور میں ہے اور اس حقیقت سے غفلت نہ برتے تو وہ ہر اس چیز سے آنکھیں بند کر لے گا کہ جو بھی دنیا سے دل لگانے کا باعث بنے۔اسی وجہ سے بعض اولیاء خدا اغیار سے منہ موڑنے اور معنوی مقام و منزلت تک پہنچنے کے لئے حالت حضور کی رعایت کرتے اور خود کو امام زمانہ علیہ السلام کے محضر میں دیکھتے۔ حالتِ حضور جتنی زیادہ ہو جائے وہ خود کو امام عصر   علیہ السلام کے محضر میں محسوس کرے گا۔پھر وہ ایسے کام انجام دینے سے باز آ جائے گا، جو امام  علیہ السلام  کی مرضی کے خلاف ہو۔پھر ان میں دھیرے دھیرے حالت حضور پیدا ہو جائے گی۔کیونکہ نیک اعمال کی طرف مائل ہونے کے لئے حالت حضور بہترین ذریعہ ہے۔

  عصر ظہور،عصر حضور

حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام  سے مذکورہ حدیث پرغور کرنے سے معلوم ہو گا کہ انسان خود کو اپنے باطن اور اپنے اسرار سے آگاہ شخص کے محضر میں قرار دے کر حرام کاموں سے بچ سکتا ہے۔ وہ بھی غیبت کے زمانے میں کہ جو شیاطین اور نفسانی خواہشات کا زمانہ ہے۔اس دور میں انسان اپنی آنکھوں کا مالک بن کر انہیں کنٹرول کرے ۔ اس بناء پر انسان ظہور کے زمانے میں بھی کامل اطمینان حاصل کر سکتاہے۔ کیونکہ وہ زمانہ شیطانِ رجیم کے شرّ اور نفس امّارہ سے نجات کازمانہ ہو گا۔ جیسا کہ ہم نے کہا تھا کہ دل پاک اور مطمئن ہونے سے انسان عالم ملکوت کا نظارہ کر سکتا ہے، پھر یوں وہ حالت حضور کو محسوس کرے گا۔ابھی تک حالتِ حضور اور زمانۂ ظہور میں انسان کی معنوی قوّت اور اسی طرح حضور کے معنی بھی واضح نہیں ہو سکے۔لہذا ہم اس اہم ترین حیاتی پہلو کی مزید وضاحت کرنا لازم سمجھتے ہیں۔اس بارے میں روایات نقل کرنے سے پہلے ہم کہتے ہیں:


ظہورکے باعظمت اور بابرکت زمانے میں انسان کی توانائی اپنے اوج پر ہو گی۔گویا وہ نئی شخصیت کے مالک بن جائیں گے۔ انسان ظہور کے پیشرفتہ زمانے میں نہ صرف مہم روحانی و معنوی مسائل اور عقلی قوّت میں حیرت انگیز ترقی کرے گا بلکہ جسمانی لحاظ سے بھی حدّ کمال تک پہنچ جائے گا۔جس سے کائنات کے صفحات پر ایک نئی تاریخ رقم کی جائے گی۔کیونکہ ہمیں تاریخ میں کہیں بھی ظہور کے زمانے جیسا تکامل نظر نہیں آتا۔

ظہور کے زمانے میں انسان حضرت حجت ابن الحسن علیہ السلام کی امامت و رہبری میں اپنے وجود کی تمام قوّتوں کو ظاہر کرے گا اور وہ زمانہ نعمتوں سے سرشار ہو گا۔جس طرح اس زمانے میں زمین اپنے تمام خزانوں کو آشکار کرے گی اور زمین کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہر چیز ظاہر ہو جائے گی ۔ اسی طرح اس زمانے میں انسان کے وجود میں قدرت و توانائی بھی ظاہر ہو گی اور وہ آسانی سے اپنے وجود کی غیر معمولی صلاحیتوں سے استفادہ کر سکے گا۔

اگرچہ انسان مادی و جسمانی لحاظ سے چھوٹا ہے لیکن اس میں اسرارو رموز اور مخفی طاقتوں کی ایک دنیا ہے کہ جو ظہور کے زمانے میںا شکار ہو گی۔یوں کائنات کاایک نیا چہرا نمودار ہو گا۔

ظہور کے پُر نور،  باعظمت اور بابرکت زمانے میں کائنات میں مختلف تبدیلیاں رونما ہو ں گی کہ ان میں سے کچھ کو ہم خاندان عصمت و طہارت   علیھم السلام کے ارشادات سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔


 ساتواں باب

تکامل علم و فرہنگ

    عصر ظہور یا عصر تکامل علم و فرہنگ

    خاندان نبوت علیہم السلام کی نظر میں مستقبل میں علمی ترقی

    روایت کے اہم نکات

    روایت کی تحلیل

    پیغمبروں کے زمانے سے اب تک مشترکہ پہلو

    حصول علم کے دیگر ذرائع   1 ۔ حس شامہ    2 ۔ حس لامسہ    3 ۔ حس ذائقہ

    4۔ حواس کے علاوہ دیگر ذرائع سے علوم سیکھنا

    زمانہ ظہور میں حیرت انگیز تحوّلات

    خاندانِ اہلبیت علیہم السلام کا علم

    علوم کے حصول میں امام مہدی علیہ السلام کی راہنمائی

    حصولِ علم میں حضورِ امام مہدی علیہ السلام کے اثرات

    زمانۂ ظہور کی ایجادات

    اس بارے میں زیارت آل یٰس کے بعد دعا سے درس

    واحد عالمی حکومت

    ظہور یا نقطہ آغاز


    دین یعنی حیات اور صحیح ترقی یافتہ تمدّن

    صحیح اور جدید ٹیکنالوجی فقط دین کے زیر سایہ ممکن ہے

    موجود ایجادات میں نقص

    عصر ِ ظہور میں قدرت کے حصول کی تحلیل

    روایت میں تفکر

    موجودہ صنعت پر ایک نظر

    زمانۂ ظہور اور موجودہ ایجادات کا انجام

    مضر ایجادات کی نابودی

    علم دنیا کی رہبری نہیں کر سکتا

    دنیا کا مستقبل اور عالمی جنگ

    ایٹم کے علاوہ دوسری منفی اور مضر ایجادات

    پہلی قسم کی ایجادات

    آئن اسٹائن کا ایک اور واقعہ

    آئن اسٹائن کا دوسرااشتباہ

    آئن اسٹائن کی خطا

    ادینگتون کی غلطی

    ارسطو، کپرنیک اور بطلمیوس کی خطائیں

    ارشمیدس کا اشتباہ


    تیسری قسم کی ایجادات

    جنگی آلات سے بے نیازی

    دوسری قسم کی ایجادات

    علم دنیا مشکلات حل نہیں کر سکتا

    علم ودانش سوداگروں کا آلہ کار

    علم کی محدویت

    مغرب کی تبلیغات

    پوزیدونیوس کا اشتباہ

    کس کی پیروی کریں؟


 عصر ظہور یا عصر تکامل علم و فرہنگ

دنیا  تیزی سے ترقی و پیشرفت اور علم و دانش کے عظیم اسرار و رموز کے حصول کی آرزو کر رہی ہے اور وہ اس روز کا انتظار کر رہی ہے کہ جن میں عظیم تحوّلات و تغییرات سے دنیا کا چہرہ چمک اٹھے اور کائنات بہشت بریں کا روپ دھارلے۔

یہ خواہش اس وقت پوری ہوگی کہ جب کائنات میں ہر طرف دنیا کے مصلح کی حیات بخش صدا گونجے گی۔اور تمام لوگ حضرت مہدی   علیہ السلام کی آواز سنیں گی۔

اس وقت دنیا میں عظیم تحوّلات کا آغاز ہوجائے گا ۔ حضرت ولی عصر  علیہ السلام  قیام فرمائیں گے وہ غیر معمولی اور حیرت انگیز قوّت سے سرشار پاک انسانوں اور نامرئی اور غیبی طاقتوں کی مدد سے دنیا کی تقدیر بدلنے کے لئے قیام کریں گے۔کچھ ہی مدت میں وہ پوری کائنات کو ظالموں اور ستمگروں کے وجود سے پاک کردیں گے۔پھر انسانی معاشرہ تکامل کی طرف گامزن ہوگا کہ جو ہماری سوچ سے بھی بالاتر ہے۔

ظہور کے زمانے میں عقلی تکامل سے عظیم تمدن وجود میں آئے گا کہ جوہماری قوّت درک سے بڑھ کرہے ۔ ہم حضرت ولی عصر  کی جاودانی حکومت کی عظمت کو کس طرح اپنے ذہن میں تصور کریں؟

کمپیوٹر سسٹم میں ترقی اور کمپیوٹر کے ذریعے اس حقیقت کو ذہن سے نزدیک کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ  کمپیوٹر ہمیں جو سہولیات اور حیرت انگیز چیزیں مہیا کررہا ہے۔آج سے کچھ سال پہلے تک ہم ان کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

یہ ترقی و پیشرفت ، اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ انسان تکامل کی وجہ سے ایسے عظیم رموز سے پردہ اٹھا سکتا ہے کہ جو ہمارے تصور سے بھی کہیں زیادہ  ہیں۔


اس بناء پر ہم ایسے دن کے منتظر ہیں کہ جب امام عصر علیہ السلام کی راہنمائی سے انسان اپنے ذہن کی تمام صلاحیتوں کو اجاگر کرکے،ان سے استفادہ کرسکے گااور ظہور کی بہشت بریں میں آخرت کی بہشت کی طرح فقط نیکیوں اور اچھائیوں کو ہی طلب کرے گا اور انہیں ہی انجام دے گا۔

  خاندان نبوت علیہم السلام کی نظر میں مستقبل میں علمی ترقی

اب ہم ایسی روایت بیان کرتے ہیں کہ جو متعدد طرق سے نقل ہوئی ہے ۔ جو اس زمانے میں پوری کائنات کے لوگوں اور تمام شیعوں میں علم و دانش کی وسعت کی گواہ ہے ۔ اما م صادق علیہ السلام  فرماتے ہیں:

'' العلم سبعة و عشرون حرفاً، فجمیع ما جاء ت به الرسل حرفان، فلم یعرف الناس حتی الیوم غیر الحرفین، فاذا قام قائمنا اخرج الخمسة والعشرون حرفاً،فبثها فی الناس، و ضمّ الیها الحرفین،حتی یبثها سبعة و عشرین حرفا '' (1)

علم کے ستائیس(27) حروف ہیں، جو تمام پیغمبر لائے وہ دو حروف ہیں۔آج تک لوگ ان دو حروف کے علاوہ کچھ نہیں جانتے ،جب قائم علیہ السلام  قیام کریں گے تو وہ بقیہ پچیس (25) حروف خارج کرکے لوگوں میں پھیلائیں گے اور وہ دیگر دو حرف کا بھی اضافہ کریں گے تاکہ پورے ستائیس (27) حروف لوگوں کے درمیان پھیل جائیں۔

--------------

 [1] ۔ بحارالانوار: ج۵۲ ص۳۳6، مختصر البصائر: 325، نوادرالاخبار:278، الخرائج:842


  روایت کے اہم نکات

اس روایت میں دقت طلب اورقابل توجہ نکات موجود ہیں کہ جو آئندہ کی درخشاں اور علم و دانش سے سرشار دنیا کی حکایت کرتے ہیں۔اب ان میں سے اہم نکات پر غور کریں:

1 ۔امام صادق عل یہ السلام کا اس حدیث میں یہ فرمانا کہ''فبثها فی الناس''   یہ ایک انتہائی اہم مطلب کی دلیل ہے اور وہ معاشرے کے تمام افراد میں علم کے عام ہونے اور علم کی وسعت سے عبارت ہے۔اس کی دلیل کلمہ ''الناس'' میں موجود الف و لام ہے۔

اس بناء پر اس زمانے میں تمام لوگ علم کے بلند مقام تک پہنچ جائیں گے ۔علم و دانش معاشرے کے بعض مخصوص افراد سے مختص نہیں ہوگا۔اس زمانےمیں دنیا کے تمام لوگ علم کی نعمت سے مستفیض ہوں گے ۔

2 ۔ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے قیام سے پہلے معاشرے  کے تمام افراد میں علم و دانش عام نہیں ہوگا ۔ بلکہ یہ چند مخصوص افراد سے مختص ہوگا، اور وہ بھی تمام علوم  سے آشنا نہیں ہوں گے۔ بلکہ بعض علوم سے آشنائی رکھتے ہوں گے۔

3 ۔ تکامل  کے زمانے م یں علم، آج کے زمانے میں علم و دانش کی طرح نہیں ہے ۔ کیونکہ اس زمانے میں علم و دانش کا دامن بہت وسیع ہوگا اور اس زمانے میں معاشرے کے افراد علم ودانش کی تمام انواع واقسام سے آگاہ ہوں گے۔

کلمہ ''العلم'' میں'' الف و لام ''سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے علم کی تمام انواع  و اقسام مراد ہیں۔یعنی جو بھی علم شمار ہو،ان سب کا مجموعہ( ماضی،حال اور قیام سے پہلے اور ظہور کے بعد تک) ستائیس حروف ہیں ۔


پیغمبروں کے زمانے سے زمانۂ غیبت کے اختتام تک علم و دانش جتنی بھی ترقی کرلے وہ دو حروف سے زیادہ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔ لیکن عصرِ ظہور میں ان کے ساتھ علم کے دوسرے پچیس حروف بھی ضمیمہ ہوں گے۔ پھر لوگ تکامل کی منزل پرپہنچ جائیں  گے ۔(1)

پیغمبروں کے زمانے سے امام صاددق  علیہ السلام کے زمانے تک اور پھر امام عصر علیہ السلام کے قیام کے زمانے سے پہلے تک جو کچھ بھی ہوگا، وہ علم کے دو حروف ہیں۔

پیغمبروں کے زمانے سے امام صادق  علیہ السلام کے زمانے تک ہونے والی تمام علمی پیشرفت اور امام صادق  علیہ السلام کے وجود سے نکلنے والے علوم کے چشمے اور اس کے علاوہ دیگر علوم کہ جو انہوں نے جابر ا ور اپنے دوسرے خاص اصحاب کو تعلیم فرمائے اور اس کے علاوہ امام زمانہ  کے قیام سے پہلے تک ہونے والی تمام علمی ترقی کے باوجود سب دوحروف سے زیادہ نہیں جانتے۔یہ نکتہ اس وقت حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ جب امام صادق  علیہ السلام  کے وجود سے ظاہر ہونے والے علوم کے  سمندر سے دانشور ابھی تک تعجب میں مبتلا ہیں۔لیکن اس کے باوجود وہ فقط دو حرف ہیں۔

4۔ اس وقت لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ علم کیا ہے؟اور دانشور کون ہے؟کیونکہ اس زمانے میں علم و دانش کا سرچشمہ وحی ہوگی کہ جو حضرت بقیة اللہ الاعظم(عج) کی عنایات سے لوگوں کو تعلیم دی جائے گی۔

اس زمانے میں لوگوں کے درمیان حقیقی و واقعی علم رائج ہوگا نہ کہ وہ علوم کہ جن کی بنیاد فرض اور تھیوری پر قائم ہوتی ہے۔

--------------

[1] ۔ اگر ہم ظاہر روایت پر عمل کریں تو علمی ترقی کی حد یہاںتک ہوگی ۔ لیکن اگر روایت کی توجیہ کریں تو عصرِ غیبت کے اختتام تک علم کا مجموعہ ظہور  کے زمانے میں علمی ترقی کے ساتھ قابلِ مقائسہ نہیں ہے ۔


5 ۔اس زمانے م یں جھوٹے علم کی کوئی خبر نہیں ہوگی اور دانشوروں کی فریب کاریوں سے معاشرے گمراہ نہیں ہوں گے۔اس زمانے میں علم و دانش لوگوں کی راہنمائی کا ذریعہ ہوگا اور پھر کوئی ''ارشمیدس'' کی طرح ایک ہزار چھ سو سال تک لوگوں کو گمراہ نہیں کرسکے گا۔

اس زمانے میں استعمار کی طرف ضعیف ممالک کے لئے بنائی گئی گمراہ کن اور وقت برباد کرنے والی کتابوں کا وجود نہیں ہوگا اور نہ ہی ڈالر کی طاقت سے لئے گئے نمبر اور سفارش کے زور سے حاصل کی گئی اسناد  اور جعلی ڈگریوں کی کوئی اہمیت ہو گی۔

اس زمانے کے سب لوگ دانشور ہوں گے ۔ تمام دانشورحقیقی علم اور ترقی یافتہ کلچر کے مالک ہوں گے۔جعلی ڈگریوں کے ذریعہ ان کاشمار دانشوروں میں نہیں ہوگا۔

6 ۔ تمام علوم مکمل ہو کر لوگوں م یں منتشر ہوجائیں گے ۔یعنی لوگوں کے درمیان علم کا ہر شعبہ اپنی اوج میں رائج ہوگا اور لوگ اس سے مستفید ہورہے ہوں گے۔

جس طرح ظہور کے درخشاں ،پُر نور اور بابرکت زمانے میں لوگ اقتصادی ، زراعتی اور امن و امان کے لحاظ سے ترقی یافتہ ہوں گے اسی طرح لوگ علم و دانش سے بھی مکمل طور پر بہرہ مند ہوں گے۔ ان میںکسی طرح کا علمی فقد ان نہیں ہوگا۔

  روایت کی تحلیل

روایت میں  قابل غور نکتہ یہ ہے کہ پیغمبروںکے زمانے سے معصومین  علیہم السلام کے زمانے تک اور زمانہ ظہور سے پہلے تک علم و دانش یکساں تھا اور ان تمام زمانوں میں علم دو جزء سے  نہ بڑھ سکا اور نہ بڑھ سکے گا۔

کیونکہ امام صادق  علیہ السلام کے فرمان کے مطابق:

1 ۔ تمام پیغمبر جو علوم لائے وہ فقط دو حروف ہیں۔

2۔ امام صادق  علیہ السلام کے زمانے تک لوگ علوم کے دو حرف کے علاوہ کچھ نہیں جانتے تھے۔


3 ۔ جب حضرت قائم  عل یہ السلام قیام کریں گے تو پچیس دیگر حروف خارج کریں گے اور انہیں ان دو حرف کے ساتھ لوگوں میں پھیلائیں گے۔

امام صادق  علیہ السلام کے زمانے میںاور حضرت قائمعلیہ السلام کے ظہور سے پہلے تک علم و دانش، پیغمبروں کے زمانے کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہوگا۔

اب روایت کے ظاہر سے قطع نظرکرتے ہوئے یہ کہنا پڑے گا کہ امام  کی مراد و مقصود کچھ اور تھی کہ جسے راوی نے واضح طور پر بیان نہیں کیا ہے۔

کیونکہ یہ واضح ہے کہ رسول اکرم (ص) اور آئمہ اطہار عل یھم السلام نے  ایسے علوم و معارف تعلیم  فرمائے ہیں کہ جو اس سے پہلے پیغمبروں میں سے کسی نے بیان نہیں کئے تھے۔

رسول اکرم (ص) اور ان کے اوص یاء جو علوم معارف لے کر آئے،کیا یہ وہی علوم تھے کہ جنہیں گزشتہ انبیاء بھی لائے اور خاندانِ نبوت  علیھم السلام نے ان میں کسی قسم کا تحوّل ایجاد نہ کیا اور ان علوم میں کسی چیز کا اضافہ نہ کیا۔

اگر ایسا ہو تو پھر اسلام ،دیگر ادیان پر کیا برتری رکھتاہے؟

کوئی اس بات کا معتقد نہیں ہوسکتا کہ رسول اکرم(ص) کا علم و دانش گزشتہ نب یوں کا ہی علم ہے۔ اس بناء پریہ کہنا پڑے گا کہ اس روایت میں ایک ایسا نکتہ موجود ہے کہ جسے جاننے کے لئے تفکر وتدبر کی ضرورت ہے۔

کیونکہ ظاہر روایت سے علمی ترقی میں ٹھہراؤکا استفادہ ہوتا ہے۔ یعنی پیغمبروں کے زمانے سے آئمہ اطہار علیھم السلام کے زمانے تک اور اس زمانے سے امام عصر علیہ السلام کے قیام سے پہلے تک ایک ہی حالت اور فضا قائم تھی اور امام زمانہ (عج) کے قیام سے یہ انجماد ٹوٹے گا۔


اگراب  پیغمبروں اور آئمہ اطہار علیھم السلام کے زمانے ( امام عصر کے قیام سے پہلے کے زمانے) میں علم کو ایک ہی طرح کا تصور کریں تو یقینا یہ بہت بڑا اور واضح اشتباہ ہے۔کیونکہ امام صادق  علیہ السلام  اور اسی طرح تمام آئمہ اطہار  علیھم السلام نے بہت سے ایسے علوم بیان فرمائے ہیں کہ جو گزشتہ پیغمبروں کی زبان سے نقل نہیںہوئے تھے۔

اس بناء پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یکساں ہونے کا مطلب علمی مقدار کے لحاظ یکساں ہونا ہے۔لیکن ہم یہ کہہ  سکتے ہیں کہ حصول علم کے لئے جن حواس کی ضرورت ہوتی ہے (یعنی دیکھنے اور سننے کی قوت) ان سے استفادہ کرنے میں اب بھی یکسانیت باقی ہے۔

  پیغمبروں کے زمانے سے اب تک مشترکہ پہلو

انبیاء الہٰی کے ذریعہ ابتدائے خلقت سے اخذ کئے گئے علوم و معارف ان کی تعلیم کا طریقہ اور اسی طرح اب تک خاندانِ عصمت علیھم السلام کے علوم و معارف کی تمام ترقی  پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ سب ایک نقطہ میں مشترک ہیں کہ ان میں کسی قسم کی افزائش اور تغییر وجود میں نہیں آئی۔

کیونکہ تمام انبیاء الہٰی نے لوگوں کو جو علوم و معارف تعلیم دیئے اور اسی طرح رسول اکرم(ص) اور ان کے بعد خاندانِ وح ی  علیھم السلام اور اس کے بعد دانشوروں نے عام لوگوں کی تعلیم دیئے وہ دو حالتوںمیں سے ایک سے خالی نہیں ہے۔

وہ یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو ان کے مکتب سے بہرہ مند ہوتے ہیں،وہ  یا سمعی طور پر مستفید ہوتے ہیںیا بصری طور پر ۔ یعنی پیغمبروں کے زمانے سے اب تک علم سیکھنے والوں نے یا کتابوں پر لکھنے یا پیغمبروں یا دوسروں سے سن کر علم حاصل کیا۔

البتہ علم حاصل کرنے کی دوسرے راستے بھی ہے کہ جس سے عام لوگ استفادہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔لیکن  بعض افراد  اس طریقہ سے بھی استفادہ کرتے تھے اور کرتے ہیں۔


پس پیغمبروں کے زمانے سے اب تک ہونے والی علمی ترقی آنکھوں یا کانوں سے استفادہ کرنے سے حاصل ہوئی۔

اس بناء پر ممکن ہے کہ ان دو جزء سے یہ مراد ہو کہ اب تک حصول علم کے یہ ہی دو طریقے تھے اور  حضرت قائم  علیہ السلام  کے قیام سے پہلے تک بھی ایسا ہی ہوگا کہ علم سننے یادیکھنے کے ذریعے حاصل ہوگا ۔ یعنی حصول علم یا سمعی طریقے سے ہو گا یا بصریطریقہ سے ہو گا ۔

تمام لوگ عموماً انہی دو طریقوں سے علم حاصل کرتے ہیں۔لیکن عقلوں کے تکامل سے تحصیل علم کے دیگر ذرائع بھی وجود میں آئیںگے۔جو مذکورہ دو طریقوں کے علاوہ ہوں گے۔

جیسے ملائکہ کے توسط سے دلوں میں القاء ہونے کے ذریعہ،یہ نہ تو سمعی ہے نہ بصری۔بعض  روایات میں اس کی وضاحت بھی ہوئی ہے۔

اگر اس توجیہ کو قبول کریں تو اس زمانے میں ہونے والی علم و دانش کی عجیب پیشرفت سے آگاہ ہوجائیں گے۔کیونکہ روایت کے معنی کی رو سے تحصیل علم کے ذرائع تیرہ گنا زیادہ ہو جائیں گے، نہ کہ مجموعاً علوم تیرہ گنا ہوں گے۔

اب تک علم نے جو ترقی کی ہے۔اگر یہ ظہور کے زمانے میں تیرہ برابر ہوتو انسانوں کے عقلی تکامل کے لحاظ سے یہ بہت کم ترقی ہوگی۔

روایت میں دلائل،یا کم از کم ایسے قرائن موجود ہیں کہ جن سے معلوم ہوگا کہ اما م صادق  علیہ السلام  کی علم کے ستائیس  حرف سے علم کی ستائیس قسمیں مراد نہیں ہیں ۔ کیونکہ وہ فرماتے ہیں پیغمبروں کے زمانے سے حضرت قائم علیہ السلام کے قیام تک علم کے دو حرف ہیں۔


اگر آنحضرت کی علم کے دو حرف سے مراد علم کے دو جزء ہوں تو پھر پیغمبروں کے زمانے سے لے کر امام زمانہ  علیہ السلام کے قیام سے پہلے تک کسی بھی طرح کی علمی پیشرفت نہیں ہونی چاہیئے اور اس زمانے سے قیام امام عصر علیہ السلام تک لوگوں کو علم کے دو جزء سے بہرہ مند ہونا چاہیئے۔علمی ترقی میںتوقف اور اس میںٹھراؤہونا چاہیئے۔ حالانکہ یہ واضح ہے کہ پیغمبروں کے زمانے سے اب تک اور پھر ظہور کے زمانے تک علم میںہزار گنازیادہ ترقی ہوئی ہے اور دینی اور غیر دینی مسائل میں انسانوں کے علم میں ہزار برابر اضافہ ہوا ہے۔اس بناء پر معلوم ہوا کہ اس سے مراد تحصیل علم کے ذرائع ہیں۔

اسی طرح یہ بھی واضح ہے کہ پیغمبروں کے زمانے سے ظہور  کے زمانے تک انسانوں کے لئے سمعی اور بصری طریقے کے علاوہ کوئی اور ذریعہ موجود نہیں ہے۔البتہ یہ انسانوں کے لئے ہے نہ کہ اولیاء خدا کے لئے۔

کیونکہ انسان پڑھنے،لکھنے یا دروس وتقاریر سننے یا کمپیوٹر ،ٹی وی،ریڈیو اور دیگر وسائل سے استفادہ کرکے علم حاصل کرتا ہے اور یہ سب سمعی یا بصری طریقوں سے خارج نہیں ہیں۔

اگر امام صادق علیہ السلام  اس زمانے میں فرماتے کہ تحصیل علم کے ستائیس طریقے ہیں اسے کتنے لوگ قبول کرتے حتی کہ اس موجودہ زمانے میں بھی کتنے لوگ اس مطلب کو پوری طرح قبول کرتے ہیں؟

ایک دوسرا بہترین نکتہ جس پر دقت کرنا ضروری ہے،وہ یہ ہے کہ اکثر کتابیں کہ جس میں اس روایت کو نقل کیا گیا ہے، وہاں حرفاً یا حرفین کی تعبیرذکر کی گئی ہے اور حرف و حروف خود علم سیکھنے کا وسیلہ ہیں۔

ممکن ہے کہ حرف سے تعبیر کرنے سے امام کی مراد علم سیکھنے کا وسیلہ ہو نہ کہ حروف اور حرفین سے ایسا معنی مراد ہو کہ جو ابتداء ًہمارے ذہن میں آتاہے۔


جس طرح کبھی آیات و روایات میں کلمہ وکلمات کے دو لفظ ہمارے ذہن میں  پہلے سے موجود معنی کے علاوہ دوسرے معنی میں استعمال ہوتے ہیں  اور اس سے مراد وہ الفاظ و حروف ہیں کہ زبان کے ذریعہ جن سے تکلم کیا جاتا ہے۔ پس اگر رسول اکرم(ص)اور اہلب یت اطہار علیہم السلام اور اسی طرح حضرت عیسیٰ  علیہ السلام کے بارے میں ''کلمة اللہ''سے تعبیر ہو تو اس کلمہ سے مراد الفاظ و حروف نہیں ہیں۔

اگر ہم کلمہ و کلمات کے ذریعے اپنا ارادہ ظاہر کرتے ہیں اور کلمہ و کلام ہمارے ارادے کا مظہر ہے تو کلمة اللہ بھی ایسی چیز ہے کہ جن کے ذریعہ خدا وند تعالیٰ کا ارادہ خارج میں ظاہر ہوتا ہے۔اسی وجہ سے اہل بیت اطہار علیہم السلام کے بارے میں ''کلمات اللہ'' سے تعبیر ہوئی ہے۔(1)

اگرچہ حروف کا بھی اوّلی معنی کچھ اور ہے کہ جو الفاظ کو تشکیل دیتے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں یہ دوسروں کو علم و دانش سکھانے کا ذریعہ ہیں۔حضرت امام ہادی علیہ السلام اس آیت'' وَلَوْ أَنَّمَا فِیْ الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَام وَالْبَحْرُ یَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اللَّهِ ِنَّ اللَّهَ عَزِیْز حَکِیْم '' (2) کے بارے میں  فرماتے ہیں:

'' نحن الکلمات التی لا تدرک فضائلنا ولا تستقصی '' (3) ہم کلمات خداوند ہیں کہ ہماری فضیلتیںدرک نہیں ہوسکتیں اور ان کی کوئی انتہانہیں ہے۔

اس توضیح کی بناء پر علم کے ستائیس حرف،یعنی علم و دانش کے حصول کے ستائیس ذرائع ہیں ۔ اگرچہ انسان ظہور سے پہلے دو طریقوں سے علم حاصل کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔لیکن عصرِ ظہورمیں حصول علم کے ستائیس ذرائع مہیّا ہوں گے۔

--------------

[1]۔ شرح دعا ء سمات:41 از مرحوم آیت اللہ سید علی قاضی

[2]۔ سورہ لقمان، آیت:27

[3]۔ بحارالانوار:ج50 ص 166


حصول علم کے دیگر ذرائع

1۔ حس شامہ

حواس میں سے ایک دحس شامہ یا سونگھنے کی حس ہے۔جس کے تکامل کی صورت میں انسان اس کے ذریعے افراد سے بہت زیادہ علم و آگاہی حاصل کرسکتا ہے۔

بعض افراد سامعہ اور باصرہ حس کے علاوہ حس شامّہ کے ذریعہ بھی بہت سے مطالب درک کرکے اپنے علم میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

اگر آپ نے غور کیا ہو تو روایات میں وارد ہوا ہے کہ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

''تعطّروا بالاستغفار ولا تفضحکم روائح الذنوب '' (1)

استغفار کے ذریعہ خود کو معطر کرو تاکہ گناہوں کی بو تمہیں رسوا نہ کرے۔

بعض افراد بعض لوگوں کی سانسوں کی بوسونگھ کر اس کے انجام دیئے گئے اعمال سے آگاہ ہوسکتے ہیں۔اسی لئے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا کہ استغفار کرو تاکہ تم نے جو گندے اعمال انجام  دیئے ہیں ،ان سے دوسرے آگاہ نہ ہوں۔

--------------

[1] ۔ بحارالانوار: ج6ص۲۲


2۔ حس لامسہ

ہمیں معلوم ہے کہ انسان کے بدن کے اطراف کو کچھ دائروں نے احاطہ کیا ہوا ہے کہ جن کے رنگ اور کیفیت سے کسی شخص کے اعمال و رفتار سے آگاہ ہوا جاسکتا ہے۔

جو انسان کے گرد ان دائروں اور ان کی انواع و اقسام کی پہچان رکھتا ہو،وہ مدمقابل کی شخصیت سے آگاہ ہوسکتا ہے اور وہ اس کے بارے میں جان سکتا ہے کہ وہ کیسا شخص ہے۔

انسان کے اطراف ِ بدن میںان دائروں کا مرکز زیادہ تر ہاتھ ہوتا ہے۔اسی وجہ سے بعض افراددوسرے سے ہاتھ ملاکر اور اس سے لمس کر کے اس کے افکار بتا سکتے ہیں اور اس کے حالات سے بھی باخبر ہوجاتے ہیں۔اس بناء پر حس شامہ بھی علم و آگاہی کے بہت مؤثر اسباب ہیں۔بعض افراد دوسرے کا لباس اور اس کی زیرِ استعمال کسی چیز کو پکڑ کر اس کی شخصیت اور اس کی نفسیات و حالات کی خبر د سکتے ہیں۔مختلف کتابوں میں ایسے بہت سے واقعات لکھے گئے ہیں۔

3۔ حس ذائقہ

حس ذائقہ بھی حصول علم کے لئے مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔اولیاء خدا سے نقل ہونے والے واقعات میں تصریح ہوئی ہے کہ وہ کھانا کھانے سے، اس کے پکانے والے کے حالات سے آگاہ ہو جاتے اور اس کی خبر دیتے تھے۔

اس بناء پر حواس خمسہ کے قدرت مند ہونے اور( نہ صرف آنکھوں اور کانوں سے)  ان سب کی حقیقی و واقعی حیات حاصل ہونے سے انسان ان سب کو علم کے حصول کا ذریعہ قرار دے سکتا ہے۔ اسی طرح انسان باطنی حواس کے ذریعے سے بھی علم حاصل کرسکتا ہے۔


4۔ حواس کے علاوہ دیگر ذرائع سے علوم سیکھنا

ایک بہترین اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ سمع و بصر کے ذریعہ علم حاصل کرنا،انسان کی حسی قوّت  سے استفادہ کرناہے اوریہ دونوں انسان کے ظاہری حواس خمسہ میں سے ہیں۔لیکن ظہور کے زمانے میں (جو دلوں کی حیات،عقلوں کے تکامل کا زمانہ ہوگا)انسان حواسِ خمسہ سے بڑھ کر دیگر ذرائع سے بھی علم حاصل کرسکے گا۔

ہم نے جو کچھ ذکر کیا اس میںغور کرنے سے معلوم ہوگا کہ دل کی حیات اور تکامل عقل علم و دانش کے حصول کی راہوں کو کھول دیتی ہے۔لہذا اس زمانے میں جب (جب اکثر افراد  قلبیحیات اور عقلی تکامل کے مالک ہوں گے) علم فقط دیکھنے اور سننے میں ہی منحصر نہیں ہوگا۔بلکہ انسان حس سے بڑھ کر دیگر ذرائع سے اپنے علم میں اضافہ کرے گا۔قلبی مشاہدات جو کہ حیات قلبی سے حاصل ہوتے ہیں ، ماوراء حس سے علم حاصل کرنے کا بہترین نمونہ ہے۔ ظہور کے درخشاں،منوّراور علم و دانش سے سرشار زمانے میں انسانی حیات قلب کی وجہ سے حس سے بڑھ کر دیگر قدرت تک رسائی حاصل کرے گا ۔ یوں وہ اپنے علم ،دانش اور فرہنگ میں اضافہ کرے گا۔

ظہور کے بابرکت زمانے میں انسان نہ صرف آنکھ اور بصارت کے ذریعہ بلکہ قلب و بصیرت کے ذریعہ بھی علوم و معارف حاصل کرسکے گا۔زمانہ ظہور میں دیگر حواس کے فعّال ہونے اور حس سے بڑھ کر حصولِ علم کے دوسرے دروازے کھلنے سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ حصولِ علم کے ذرائع صرف آنکھ اور کان ہی میں منحصر نہیں ہیں۔

اس زمانے میں دیگر ذرائع جیسے القاء بھی سب کو میسر ہوں گے۔سب اس سے استفادہ کریں گے ۔ جیسا کہ روایت میںوارد ہوا ہے۔آج اپنے شعبہ میں ماہر ،متخصص دانشور دیگر علوم درک کرنے سے ناتواں ہے۔


کیونکہ حصولِ علم کے فقط دو ذرائع ہیں،سمع و بصر۔ جو تمام لوگوں میں علم کے فروغ اور اسی طرح دانشوروں میںبھی حصول ِ علم کے لئے محدودیت ایجاد کرتا ہے لیکن دلوں کے پاک ہونے، تہذیب واصلاحِ نفس،شیطان کی موت اور عقلوں کے تکامل سے عام لوگوں کے لئے بھی حصولِ علم کی دوسری راہیں بھی فراہم ہوں گی۔ پھر لوگ سمع و بصر کے علاوہ دوسری راہوں سے بھی علم حاصل کرسکیں  گے۔

  زمانہ ظہور میں حیرت انگیز تحوّلات

خدا ہی جانتا ہے کہ علمی ترقی اور عقل و خرد کے تکامل سے دنیا میں کیسی عظیم تبدیلیاں رونما ہوں گی ۔ عالمِ خلقت اور کائنات کے کون کون سے اسرار و رموز آشکار ہوں گے۔

غیبت کے تاریک زمانے میں کبھی ایک چھوٹی سی اختراع  و ایجادسے عصرِ غیبت کے لوگوں کے افکارمیں عجیب تحولات ایجاد ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر دوربین اور خود بین کی ایجاد انسانوں پر کس قدر اثر انداز ہوئی؟اس سے ستاروں اور زمین کی کیفیت کے بارے میں دانشوروں اور فلاسفہ کے افکار و نظریات میں کتنی تبدیلی آئی؟

اس سے انسان کے علم و آگاہی میں کتنا اضافہ ہوا؟

اسی طرح ظہور کے پُر نور زمانے میں علم و تمدن کے تکامل کی وجہ سے رونما ہونے والی ایجادات سے عالم خلقت اور کائنات کے اسرار کے بارے میں انسان کے علم میں کتنا اضافہ ہوگا۔ہم غیبت کے تاریک زمانے میں اسے تصور کرنے کی توانائی نہیں رکھتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس زمانے میں کیسی اختراعات وجود میں آئیں گی اور اس کے آثار کس حد تک ہوں گے؟

سائنس دان اب بھی ''ماوراء طبیعت ، وقت کی سرحدوں سے عبور اور عالم غیب تک رسائی '' جیسے مسئلوں کو حل نہیں کر پائے ہیں؟


کیا آپ جانتے ہیں یہ راز حل ہونے اور اس اسرار کے فاش ہونے سے عالم خلقت میں کیسی عجیب تبدیلیاں رونما ہوں گی؟ کیا ہم زمانہ غیبت کی ناچیز آگاہی سے اس کی عظمت سے آگاہ ہوسکتے ہیں؟

  خاندانِ اہلبیت علیہم السلام کا علم

مکتبِ اہلبیت علیہم السلام کے اعتقادکی بناء پر ہر دور کے انبیاء ،اس دور کے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ علم ودانش کے مالک ہوتے ہیں۔کوئی دانشور اور عالم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔بحث و مناظرہ  میں  انبیاء انہیں مغلوب کردیتے ہیں۔

اسی طرح آئمہ اطہار علیہم السلام  کا علم بھی ہر دور کے علماء سے زیادہ ہوتا ہے۔کسی بھی بڑے عالم کا علم ، ان کے علم سے قابل مقائسہ نہیں ہے۔

دوسرے لوگوں پر انبیاء اور آئمہ اطہار علیہم السلام کے علم کی برتری کہ یہ وجہ  ہے کہ ان کاعلم اکتسابی نہیں  ہے۔انہیں علم تحصیل کے ذریعہ حاصل نہیں ہوا۔بلکہ ان کا علم لدنّی ہے ۔ جو انہیں خدا وند مہربان کی طرف سے عطاہو اہے۔

اس بناء پر وہ بزرگ ہستیاں علم مخزوں اور عالم غیب کے عالِم ہیں، اسی وجہ سے ان کا علم ، دوسروں کے علم سے برتر ہے۔

اگر چہ آئمہ اطہا رکے علم اور اس کی حدود کے بارے میں روایات مختلف ہیں ۔ جن کے بارے میں بحث اور تجزیہ و تحلیل بہت طولانی ہے۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں: آئمہ علیھم السلام کے مخاطبین ان کی سطح علمی و ظرفیت اور اسے قبول کرنے کی طاقت میں اختلاف کی وجہ سے اس بارے میں روایات بھی مختلف ہیں۔


ہم کہتے ہیں: حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کا علم دنیاکے تمام لوگوں کے علم سے برترہے۔ آنحضرت  تمام علوم کے مالک گے۔ آنحضرت کی زیارت میں وارد ہوا ہے:

'' انک حائز کلّ علم '' (1)

آپ ہر علم کے مالک ہیں۔

زیارت ندبہ میں پڑھتے ہیں:

'' قد أتاکم اللّه یا آل یاسین خلافته، وعلم مجاری أمره فیما قضاه،و دبّره ورتّبه و اراده فی ملکوته '' (2)

اے آل یٰسین!خدا وند نے اپنی جانشینی کا مقام آپ کو دیا ہے۔عالم ملکوت میں اپنے حکم اور اس کے جاری ہونے کی جگہ اور تدبیر و تنظیم کا علم آپ کو دے دیا ہے۔اس زیارت شریف میں آنے والے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اہلبیت علیھم السلام کے علممیںنہ صرف عالم ملک بلکہ عالم ملکوت بھی شامل ہیں۔عصرِ ظہور کی برکتوں کے بارے میںوارد ہونے والی روایات سے استفادہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) عالم ملکوت کی بھی تکمیل فرمائیں گے۔اس بناء پر آنحضرت  کے قیام کا صرف ملکی و مادی پہلو نہیں ہے۔بلکہ وہ عالم ظاہر کے علاوہ باطن و نامرئی عالم کی تکمیل فرمائیںگے۔جس میں غیر مرئی عالم کی موجودات بھی آپ  کے پرچم تلے آجائیں گے۔علمِ امام کا مسئلہ معارفِ اہلبیت علیہم السلام کے باب میں بہت اہم مسئلہ ہے۔اس کی حدود و کیفیت کے بارے میں بہت سے ابحاث مطرح ہوئے ہیں کہ جن کا تجزیہ و تحلیل اس کتاب کے موضوع سے خارج ہے ۔ اس بناء پر ہر دور کا اما م  اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے اعلم ہوتا ہے۔

--------------

[1]۔ مصباح الزائر:437، صحیفہ مہدیہ:630

[2]۔ بحارالانوار: ج۹۴ص۳۷، صحیفہ مہدیہ: 571


اس زمانے کے تمام دانشوروں کو چاہیئے کہ وہ علوم وصنایع کے ہر شعبے میں اپنی مشکلات ائمہ اطہار علیھم السلام کے توسط سے برطرف کریں۔کیونکہ مقامِ امامت اور رہبری الہٰی کا لازمہ یہ ہے کہ وہ ہر علم میں سب لوگوں سے زیادہ اعلم ہوں۔یہ خود امام  علیہ السلام کے فضائل میں سے ایک ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس مفضول کو فاضل پر مقدم کرنا لازم آتا ہے۔

اس بیان سے واضح  ہوجاتا ہے کہ ظہور سے پہلے تک جتنی بھی علمی ترقی و پیشرفت ہوجائے،پھر بھی امام  کا علم اس سے زیادہ ہوگا۔اب ہم جو روایت ذکر کررہے  ہیں۔اس میں یہ مطلب صراحت سے بیان ہوا ہے۔حضرت امام رضا  علیہ السلام فرماتے ہیں:'' انّ الانبیاء والائمّة علیھم السلام یوفّقھم اللّٰہ و یؤتیھم من مخزون علمہ و حکمتہ مالایؤتیہ غیرھم، فیکون علمھم فوق علم اھل زمانھم فی قولہ عزّوجلّ:

''أَفَمَن یَهْدِیْ ِلَی الْحَقِّ أَحَقُّ أَن یُتَّبَعَ أَمَّنْ لاَّ یَهِدِّیْ ِلاّٰ أَنْ یُهْدٰی فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ'' (1)

یقینا خدا وند انبیاء و آئمہ کوتوفیق عنایت کرتا ہے اور اپنے علم و حکمت کے خزانے سے انہیں علم عطا کرتا ہے کہ جو اس نے ان کے علاو ہ کسی کو عنایت نہیں کیا۔اسی وجہ سے ان کا علم ہر دور کے لوگوں کے علم سے زیادہ ہوگا۔

یہ آیت اس حقیقت پردلالت کرتی ہے:

کیا جو شخص لوگوں کو راہ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے وہ ہدایت کازیادہ حقدار ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر نہیں آتا ہے ،مگر یہ کہ کوئی اس کی راہنمائی کرے؟اس بناء پرکسی بھی شعبے میں علوم جتنی بھی ترقی کرلیں،وہ سب امام کے وسیع علم کے دامن میں شامل ہوں گے۔جس طرح دریابارش کے قطروں کو اپنے اندر جگہ سمو لیتا ہے اور خود قطرے کا وجود مٹ جاتا ہے۔اسی طرح تمام علوم و فنون بھی امام کے بحر علم میں فناہوجائیں  گے۔

--------------

[1]۔ سورہ یونس آیت:35، کمال الدین 689، اصول کافی:ج۱ص۲۰۲


جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے کہ ظہور کے پُر نور زمانے میں پوری دنیا میں برہان و استدلال عام ہوگا۔پوری کائنات میں سب انسان منطق و استدلال سے صحیح علم و دانش سے سرشار ہوں گے ۔ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے یاور اپنے بیان و گفتار سے اپنے مخالفین کو راہ راست پر لائیں گے اور حقیقت کی طرف ان کی راہنمائی کریں گے۔

آنحضرت  بھی اپنی گفتار سے لوگوں کی مکتب اہلبیت  علیہم السلام کی طرف ہدایت فرماکردنیا کو جدید علم ودانش سے سرشار فرمائیں گے۔یوں وہ حق کو ظاہر اور باطل کونابود کریں گے اور انسانوں کے دلوں کو ہر قسم کے شک  و شبہ سے پاک کریں گے۔یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کی امام نے تصریح فرمائی  ہے اور اسے اپنی توقیعات میں بیان فرمایا ہے:

حضرت بقیة اللہ الاعظم  (عج) نے اپنی ولادت کے پہلے گھنٹے میں فرمایا:

''زعمت الظلمة انّ حجّة اللّه داحضة ولو اُذن لنا فی الکلام لزال الشکّ '' (1)

ظالم گمان کرتے ہیں کہ حجت خدا باطل ہوگئی ہے۔اگر ہمیں بولنے کی اجازت دی جائے تو شکوک  برطرف ہوجائیں گے۔

یہ واضح ہے کہ شک کے برطرف ہونے سے دل ایمان و یقین سے سرشار ہوجائے گا۔قلب کے یقین سے سرشار ہونے سے اہم حیاتی اکسیر تمام لوگوں کے اختیار میں ہوگی، جو انسان کی شخصیت کو تکامل بخشے گی۔

  علوم کے حصول میں امام مہدی علیہ السلام کی راہنمائی

ظہور کے پُر نور ، درخشاں، بابرکت، عقلوں کے تکامل،دلوں کی پاکیزگی تلاش وکوشش،علم و دانش اور تمام خوبیوںسے سرشار زمانے کی آشنائی اور اس زمانے میں رونما ہونے والے عظیم تحوّلات و تغیّرات کی آگاہی کے لئے ان سوالوں پر توجہ کریں۔

--------------

[1]۔ الغیبة شیخ طوسی:147


دنیا کے سر بہ فلک چوٹیوں اور بلند وبالا پہاڑوں ،وسیع و عریض صحرائوں ،دریائوں کی طغیانیوں اور سمندر کی گہرائیوں میں کون کون سی اور کیسی کیسی عجیب مخلوقات زندگی گزاررہی ہیں؟

ان میں کیسے حیرت انگیز اور عجیب حیوانات موجود ہیں؟

کیا عالم خلقت کے رموز کی شناخت ممکن ہے؟

ان تمام موجودات کے اسرار خلقت سے کس طرح آگاہ ہوسکتے ہیں؟

کیا جن کے سامنے خلقت ہوئی ہے ان کے علاوہ کوئی ان سب سے آگاہ ہوسکتا ہے؟

کیا اس زمانے میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے علاوہ کو ئی ان تمام سوالوں کے جواب دینے کی قدرت رکھتا ہے؟

جی ہاں!ظہور کے بابرکت زمانے میں امام زمانہ  علیہ السلام دنیا کو برہان و استدلال کے ذریعہ علم و آگاہی سے سرشار کردیں گے۔پوری کائنات میں دنیا کے لوگوں کو دلیل و برہان کے ساتھ علم وآگاہی اور دانش و فہم سے آرستہ فرمائیں گے۔

حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ، حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے اس اہم مطلب کے بارے میں فرماتے ہیں:

'' یملأ الارض عدلاً وقسطاً و برهاناً '' (1)

آنحضرت  دنیا کو عدل و انصاف اور برہان سے بھردیں گے۔

اس زمانے میں دنیا کے لوگ ایک رات میں سو سال کا سفر طے کریں گے اور جو نکات پوری زندگی میں نہیں سیکھ سکتے، چند کلمات کے ذریعہ ان نکات سے باخبر ہوجائیں گے۔

علم و آگاہی کے زمانے میں علم و فہم کی ترقی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہم ایک سوال مطرح کرتے ہیں:

--------------

[1]۔ بحارالانوار:ج۴۴ص۲۱، ج۵۲ ص۲۸۰


اگر کوئی شخص کسی وسیع موضوع کے بارے میں تحقیق اور اس کے تمام اہم نکات سے آگاہ ہونا چاہے لیکن اگر وہ ا س موضوع  کے ماہر، شفیق استاد جیسی نعمت سے محروم ہو اور مددگار کتب بھی دستیاب نہ ہوں تو اسے کتنی طولانی تحقیق و جستجو کرنا ہو گی اور کس قدر ناکام تجربات سے گزرنا ہو گا۔تب شاید کہیں وہ کسی حد تک اپنے مقصد کے نزدیک  پہنچ سکے؟

لیکن اگر یہی شخص کسی دانا اور ماہر استاد سے استفادہ کرتا تو وہ بہت کم مدت میں اس موضوع کے بارے میں سیر حاصل مطالب سے آگاہ ہوسکتا تھا۔

بالفاظ دیگر انسان دو طرح سے علم و دانش سیکھ سکتا ہے۔

1 ۔ اس علم کے ماہر اور متخصص استاد سے علم حاصل کرسکتا ہے۔

2 ۔اگر اسے اس علم کے بارے م یں استاد یا کتب مہیا نہ ہوں تو پھر جستجو اور تجزیہ و تحلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر تلاش و کوشش کے ذریعہ تحقیق کرنی چاہیئے تاکہ اگر ممکن ہو تو انسان اپنے ہدف  اور نتیجہ تک پہنچ سکے۔

حصول علم کی راہ میں تجزیہ و تحلیل اور تعلیم (استاد کے ذریعہ علم حاصل کرنا) کا فرق واضح ہے۔ہم یہاں ان کے دو اہم ترین فرق بیان کرتے ہیں:

1 ۔آگاہ اور ماہر استاد سے استفادہ کرنے کی صورت میں طولانی اور زیادہ وقت صرف کرنے والی تحقیق کے بغیر سرعت سے علوم کو حاصل کریا جا سکتا ہے۔

2۔ وقت تلف کرنے والی بے نتیجہ تحقیق کے بغیر ماہر استاد سے علم و دانش کا قطعی نتیجہ حاصل کرنا۔


  حصولِ علم میں حضورِ امام مہدی علیہ السلام کے اثرات

ظہور کے زمانے کے انسانوں کو بے نتیجہ اور وقت ضائع کرنے والی تحقیق کی ضرورت نہیں ہوگی۔کیونکہ امام حسن مجتبیٰ  علیہ السلام  کے فرمان کے مطابق ،اس روز دنیا دلیل کے ساتھ علم و دانش اور معارف سے سرشار ہوگی۔

جی ہاں! اگر لوگ معاشرے میں ظہور و حضور امام  کی نعمت سے بہرہ مند ہوں تو وہ بہت جلد عظیم علمی منابع تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔وہ علم لدنّی کے ذریعہ علم برہانی حاصل کریں گے اور یوں وہ قطعی نتائج تک پہنچ جائیں گے۔

اب اس مطلب کو کاملاً واضح کرنے کے لئے حیوانات کی مختلف انواع کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔پھر ایک روایت نقل کرنے کے بعد بحث سے نتیجہ اخذ کریں گے۔

جیساکہ ہم نے کہا کہ دریائوں کی گہرائی پہاڑوں کی بلندی اور صحرائوں کی وسعت میں  بہت سی  عجیب مخلوقات موجود ہیں ۔ یہ مخلوقات اتنی کثیر تعداد میں موجود ہیں کہ ہمارے لئے ان کی زندگی گزارنے کی راہ و روش ، خصوصیات اور ان کی تولید نسل کی شناخت کرنا ممکن نہیں ہے۔اب تک کی تحقیق کے مطابق ہماری دنیا میں86000 پرندے زندگ ی گزار رہے ہیں۔(1)

حشرات الارض میں سے اب تک چار لاکھ کی شناخت ہوچکی ہے کہ جن میں سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ اقسام ایران میں بھی موجود ہیں۔حیوانات کی اتنی کثیر انواع و اقسام ہیں کہ اگرکوئی حیوان شناسی کے علم میں دنیا میں موجود لاکھوں اقسام کے حیوانات میں افزائشِ نسل کے عمل کو جاننا چاہے کہ ان میں افزائشِ نسل کا عمل کیسے ہوتا ہے؟

--------------

[1] ۔ ان پرندوں میں سب سے بڑا پرندہ افریقی شتر مرغ ہے۔ لیکن یہ پرواز نہیں کرسکتا۔کیونکہ متوسط لحاظ سے اس کا وزن 135 کلو اس کا قد 40/2ہے دقیق اطلاعات کے مطابق زمین پر سب سے زیادہ عمر گزارنے والا پرندہ کوّا ہے اور اس کے بعد دریائی کوّا ہے۔ دائرة المعارف 1001 جذاب نکات:263


ان میں سے کون سے حیوانات انڈے دیتے ہیں اور کون سے بچے۔

تو اس کے لئے  لاکھوںبرس کی تحقیق و جستجو کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ دریائوں، صحرائوں، سمندروں اور پہاڑوں میں زندگی گزارنے والے لاکھوں حیوانات کی کس طرح آشنائی حاصل کرسکتے ہیں؟

لیکن اگر یہ ہی شخص یہ مطالب تحقیق و جستجو اور تجربہ سے نہیں بلکہ کسی ایسے سے سیکھے کہ جو اسرارِ خلقت سے آگاہ اور مخلوقات کی خلقت کاشاہد ہو تو یہ چند لاکھ سالوں کی نا ممکن تحقیق سے حاصل ہونے والے مطالب دو منٹ میں جان سکتا ہے؟اس حقیقت کی مزیدوضاحت کے لئے اس روایت کو نقل کرتے ہیں:

مرحوم حاجی معتمد الدولہ فرہاد میرزا اپنے مجموعہ میں امیر کمال الدین حسین فنائی کی مجالس سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے ام جابر سے پوچھا کس چیز کے بارے میں جاننا چاہتے ہو؟

اس نے عرض کی میں چرندوں اور پرندوں کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے کون انڈے دیتے ہیں اور کون بچے؟امام  نے فرمایا: اس کے بارے میں اتنا سوچنے کی ضرورت نہیں۔

لکھو! جن حیوانات کے کان باہر کی طرف ہوں، وہ بچے دیتے ہیں اور جن کے کان اندر کی طرف ہوں اورسر سے چپکے ہوں ،وہ انڈے دیتے ہیں۔''ذلک تقدیر العزیز العلیم ''

باز اگرچہ پرندہ ہے اور اس کے کان اندر کی طرف ہیں ۔ لہٰذا وہ انڈے دیتا ہے۔ کچھواچرندہ ہے ۔ چونکہ وہ بھی اسی طرح ہے لہٰذا وہ بھی انڈے دیتا  ہے۔ چمگادڑکے کان باہر کی طرف ہیں اور سر سے بھی چپکے ہوئے نہیں ہیں ۔ لہٰذا وہ بچہ دیتی ہے۔(2)

--------------

[2]۔ گلزار اکبری:626


اس عمومی قانون کی رو سے حیوان کا پرندہ ہونا، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ،چونکہ وہ پرندہ ہے ۔ لہٰذا وہ انڈے دے گا۔اسی طرح حیوان کا چرندہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ بچے دے گا۔کیونکہ ممکن ہے کہ اگرچہ اس کے پستان ہوں۔

لیکن اس کی افزائش نسل انڈے دینے کے ذریعے ہوتی ہو نہ کہ بچے دینے سے۔

حیوانات میں سے ایک بہت عجیب قسم کا حیوان ہے۔ اس کی مرغابی کی طرح چونچ ہے ۔  لہٰذا وہ ''اردکی'' کے نام سے معروف ہے۔اگرچہ اس حیوان کے پستان ہیں لیکن اس کے باوجود وہ پرندوں کی مانند انڈے دیتا ہے۔ اب اس بیان پر توجہ کریں۔

ممکن ہے کہ ''اردکی ''حیوانات میں  سب سے زیادہ عجیب نہ ہو لیکن عجیب ضرور ہے یہ ایک پستان دار جانور ہے اور تمام پستان والے حیوانات کی طرح اس کی کھال  ہے اور اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔لیکن اس کی مرغابی کی طرح چونچ  اور اس کاپرہ دار پنجہ بھی ہے۔اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز یہ ہے کہ یہ حیوان تمام پرندوں کی مانند انڈے دیتا ہے۔یہ حیوان آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے۔جس کی لمبائیتقریباً50 سینٹی میٹر ہے۔ اس کی چونچ بہت نوکیلی اور تیز ہے ۔ نہاتے وقت یہ اپنی چونچ پانی سے باہر رکھتا ہے اور اسی کے ذریعہ سانس لیتا ہے۔یہ نہروں میں رہتا ہے۔اس کی مادہ وہاں انڈے دیتی ہے اور اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ (1) ہم نے گزشتہ ابحاث میں ظہور کے زمانے کی ایک اہم خصوصیات بیان کی ۔ جو اس زمانے کے تمام معاشروں میں علم کا عام ہونا ہے اور ہم نے جو مطالب یہاںذکر کئے ہیں، ان سے عصر ظہور کی دو دیگر خصوصیات پر روشنی ڈالی ہے ۔

1 ۔ زیادہ وقت لینے والی تحقیق و جستجوکے بغیر سرعت سے علوم کا حصول۔

2 ۔ بے حاصل اور بے نت یجہ تحقیق اور تجزیہ و تحلیل کے بغیرتعلیم کا قطعی نتیجہ حاصل کرنا۔

یہ واضح سی بات  ہے کہ زمانۂ ظہور کی ان دو خصوصیات سے انسان کو کس قدر علمی ترقی اور معاشرہ کو بلندی حاصل ہو گی۔

--------------

[1]۔ شگفتی ہای آفرینش:20


  زمانۂ ظہور کی ایجادات

ہم نے عرض کیا کہ ظہور کے زمانے کی خصوصیات میں سے ایک سرعت سے علم و دانش کا حصول ہے ۔ اس بابرکت زمانے میں لوگ آسانی سے دقیق علمی مطالب تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔

اس زمانے میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی ہدایت و راہنمائی حصولِ علم کی سرعت کا اصلی عامل ہوگا ۔ اس کے علاوہ رشد اور علمی ترقی ایک اور اہم سبب بھی ہوگا اور وہ بھی حضرت امام مہدی علیہ السلام  کے بابرکت وجود مبارک کے طفیل سے ہوگا جو کہ تکامل عقل اور فکری رشد ہے۔

حضرت ولی عصر کی کریمانہ وعادلانہ حکومت میں لوگ عقلی اور فکری رشد کے مالک ہوں گے۔

عقلی تکامل کی بحث میں ہم نے اس نکتہ کی تصریح کی ہے کہ زمانہ ظہور و تکامل میں انسان کو حاصل ہونے والی مہم آزادی میں سے ایک عقلی آزادی ہے کہ اس زمانہ میں عقل اسارت کی زنجیر سے نجات حاصل کرلے گی۔

اس منور زمانے میں سپاہِ نفس،قوہ عقل کی زنجیروں میں قید ہوجائے گی ۔ اس وقت عقل،نفس پر حاکم ہوگی۔ عقلی آزادی سے انسان بزرگ افکار تک رسائی اور بچگانہ افکار سے رہائی حاصل کرلے گا۔

اسی وجہ سے ہم معتقد ہیں کہ اور تفکر معاشرے کے افراد کے لئے زمانہ ظہور کی اہم خصوصیات اور   خصلتوں میں سے گہری نظر اور بزرگ افکار ہیں۔

یہ بھی  واضحات میں سے ہے کہ جب معاشرے کے افراد میں بزرگ افکار اور دقیق سوچ و فکر کی صلاحیت پیدا ہوجائے تو پھر نہ صرف دینی معارف بلکہ ٹیکنالوجی ، صنعت اور دیگر علوم و فنون میں کیسے حیرت انگیزبدلاؤ ایجاد ہوں گے۔

غیبت کے زمانے کے دوران لاکھوں افرادنئے نکات اور نئی ایجادات تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر کچھ محدود افراد ہی اپنے ارادے اور کوشش میں کامیاب ہوتے ہیں۔


لیکن عقلی  تکامل کے زمانے میں انسان کمال کے اعلی ٰ ترین درجات پر فائز ہوگا۔ زمانۂ ظہور کے لوگوں کی فکر مؤثر ثابت ہوگی اور وہ جس چیز کے لئے کوشش کریں، جلد ہی اس تک رسائی حاصل کرلیں گے ۔

  اس بارے میں زیارت آل یٰس کے بعد دعا سے درس

حضرت امام  مہدی علیہ السلام کی بہت اہم زیارات میں سے ایک زیارت آل یٰس اور اسی طرح اس کے بعد پڑھی جانے والی دعا ہے جس میں معارف اور اعتقادی مسائل کا بہت بڑا خزانہ مخفی ہے۔اس کے علاوہ اس میں تکامل یافتہ انسانوں کی قدرت کے بارے میں بہت اہم نکات موجود ہیں۔

جو بھی اس زیارت اور اس کے بعد والی دعا پڑھے،وہ خدا وند متعال سے چاہتا ہے کہ اسے بلند مراحل و مقام پرپہنچا دے ۔ اگرچہ ممکن ہے کہ دعا پڑھنے والا کچھ پڑھ رہا ہو وہ اس کی اہمیت و عظمت کی طرف متوجہ نہ ہو۔

یہاں ہم اپنی بحث سے مربوط اس کا ایک نمونہ بیان کرتے ہیں؛

زیارت آل یٰس کے بعد پڑھی جانے والی دعا میں ہم خدا کے حضور عرض کرتے ہیں:

'' و فکری نور النیّات، وعزمی نور العلم '' (1)

میری فکر کو تصمیم و ارادوں کا نور اور میرے عزم و ارادے کو علم کا نور عنایت فرما۔

ممکن ہے کہ اب تک سیکڑوں یا ہزاروں بار یہ دعا پڑھی ہو۔لیکن ابھی تک ہم نے اپنی درخواست اور اس کی عظمت پر غور نہیں کیا ہے ۔

--------------

[1] ۔ صحیفہ مہدیہ:567


اس دعا سے لیا جانے والا درس یہ ہے :

روشن فکر وہ ہے کہ جو تاریک سوچ و فکر سے نجات پاکرقوّتِ ارادہ کامالک ہواور اس کانفس ارادے کی شکست کا باعث نہ ہو۔اور صاحبانِ عزم و ارادہ وہ  ہیں کہ جن میں علم و دانش کانور روشن ہو اور اس کا وجود علم و آگاہی کے نور سے منوّر ہوا ہو۔

زمانہ ظہور انسان کی بزرگ و درینہ خواہشات کی تکمیل اور بشر کے اعلٰی مقام تک رسائی کا زمانہ ہے۔انسانوں میں روشن افکار اور نورانی ارادوں کی پرورش تکامل کا سبب ہے۔

اس بابرکت زمانے میں افکار میں ارادے کی قدرت و نورانیت ایجاد ہوگی اور لوگوں کے عزم وارادے میں نور اور علم و دانش کے حصول کی توانائی ایجاد ہوگی۔

اس زمانے میں انسانی تفکر کی طاقت کے نہ ہونے اور عزم و ارادے میں سستی سے نجات پاکر علم و آگاہی کی طرف گامزن ہوگا۔

اب یہ واضح سی بات ہے کہ فکری حیات اور ارادوں کی آزادی سے معاشرے میں کیسی علمی ترقی  وجود میں آئے گی۔

  واحد عالمی حکومت

یہاںہم ایک ایسا مطلب بیان کرتے ہیں کہ جو ظہور کے زمانے کے منتظرین کے لئے بہت دلچسپ ہے ۔ وہ یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے عالمی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس وقت پوری کائنات میں حضرت حجت بن الحسن العسکری علیہ السلام کی حکومت کے علاوہ کوئی حکومت نہیں ہوگی ۔ ساری دنیا کی واحد حکومت آنحضرت کی حکومت ہوگی۔

یہ کہنا ضروری ہے کہ حضرت ولی عصر (عج) کی حکومت کے مقابل میںکوئی اور قدرت نہیں ہوگی پوری دنیا پر امام عصرعلیہ السلام کی واحد حکومت حاکم ہوگی۔


اس کے علاوہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی حکومت دنیا والوں کے لئے ایسی نعمتیں فراہم کرے گی ۔ مادّی و معنوی لحاظ سے حیرت انگیز ترقی اور اس کے علاوہ پوری دنیا میں علم و دانش کی نعمت فراوان ہوگی۔دنیا کے بڑے بڑے شہروں سے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں تک ہر کوئی ان نعمتوں سے مستفیض ہوگا۔پوری دنیا میں علم و دانش عام ہوگا۔زمین کے ہر خطے میں علمی فقدان ختم ہوجائے گا۔

سب کو آرام ، سکون، راحت اورتمام سہولتیں فراہم ہوں گی ۔ سب لوگوں میں ثروت مساوی طور پر تقسیم ہوگی۔

ان سہولتوں کا عام ہونا اور معاشرے کے تمام افراد کا ان نعمتوں اور سہولیات سے استفادہ کرنا ظہور کے زمانے کی خصوصیات میں سے ہے۔اس مہم مسئلہ کے روشن ہونے کے لئے ہم اس کی مزید وضاحت کئے دیتے ہیں۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ غیبت کے زمانے میں دنیا کے تمام ممالک کے تمام لوگوں کو مال ودولت ، علم و دانش ،قدرت اور ظاہری سہولیات میسر نہیں ہیں ۔ بلکہ دنیا کے ہر ملک کے بعض لوگوں  کے پاس مال و دولت تھا اور اب بھی ہے۔اکثر لوگ مال کے نہ ہونے یا اس کی کمی کی وجہ سے پریشان حال ہیں۔

پوری دنیا میں طبقاتی نظام موجود ہے ۔ خاص طبقہ سہولیات سے استفادہ کر رہا ہے۔ لیکن معاشرے کے اکثر افراد بنیادی حقوق اور سہولیات سے بھی محروم ہیں ۔ لیکن ظہور کے پُر نور زمانے میں ایسا نہیں ہوگا۔

اس زمانے میں طبقاتی نظام اور قومی تبعیضات ختم ہوجائیںگی ۔ علم وحکمت عام ہوگی ۔ طبیعی  دولت معاشرے کے تمام افراد کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہوگی ۔ دنیا کے تمام خطوں میں عدالت اور تقویٰ کا بول بالا ہوگا۔دنیا کے سب لوگ عادل اور تقوی ٰ دار ہوں گے۔

ہم نے جو کچھ عرض کیا ۔ اب اس کا نتیجہ اخذ کرتے ہیں ۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں پوری دنیا کے لوگ علم و دانش و حکمت، اچھائیوں اور نیکیوں کے مالک ہوں گے۔ہر کوئی ان سے مستفیض ہوگا۔


اس دن غیبت کے زمانے کی طرح نہیں ہوگا کہ ایک طبقہ زندگی کی ہر سہولت اور ہر جدید صنعتی وسائل سے مستفید ہورہاہولیکن دوسرے افراد زندگی کی بنیادی سہولیات کو بھی ترستے ہوں۔

اس بناء پر ظہور کے زمانے کی علمی ترقی لوگوں کو ہرجدید اور اہم وسیلہ فراہم کرے گی ۔ جوظہور سے پہلے والے وسائل کی جگہ لے لیں گے۔پوری دنیا میں سابقہ وسائل ناکارہ ہوجائیں گے اور لوگ ظہور  کے زمانے کی جدید ایجادات سے استفادہ کریں گے۔

اگر فرض کریں کہ اس بابرکت اور نعمتوں سے بھرپور زمانے  میں کچھ صنائع اپنی خصوصیات برقرار رکھ سکیں تو ان سے استفادہ کرناواضح ہے۔کیونکہ وہ زمانہ دنیا کی تمام اقوام کے لئے خوبیوں کا زمانہ ہوگا۔ اس بناء پر ہم جدید صنعت کو کلی طور پر محکوم نہیں سمجھتے۔لیکن موجودہ صنعت غیبت کے زمانے سے مناسب ہے نہ کہ یہ ظہور کے پیشرفتہ زمانے کے مطابق  ہے۔

اب تک جو کچھ کہا وہ ان کا نظریہ ہے کہ جو  ظہور کے بارے میں خاندانِ اہلبیت علیہم السلام کے فرامین سے آگاہ ہوکر عقلی تکامل اور روشن زمانے کے اسرار و رموز کو جانتے ہیں۔

ممکن ہے کہ ان کے مقابل میں محدودسوچ کے مالک افراد بھی ہوں کہ جو گمان کرتے ہوں کہ وہ دنیا کی تمام ایجادات سے واقف ہیں ۔ ایسے افراد نہ صرف آج بلکہ گزشتہ زمانے میں بھی موجود تھے۔ڈیڑھ صدی پہلے کچھ افراد کا گمان تھا کہ جن چیزوں کو ایجاد کرنا ممکن تھا، انسان نے  وہ سب ایجاد کر لی ہیں ۔ یہاں ہم ایسے ہی کچھ افکار سے آشنا ئی کرواتے ہیں۔

1865ء میں امریکہ میں  نئی ایجادات کرنے والوں کا نام اندراج کرنے والے دفتر کے سربراہ نے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ اب یہاں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ اب ایجاد کرنے کے لئے کوئی چیز باقی نہیں رہی۔


امریکہ کے ماہر فلکیات نے ریاضی کی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ جو چیز ہوا سے وزنی ہو وہ پرواز نہیں کرسکتی ۔ لیکن جہاز کی پہلی پرواز کے باوجود بھی وہ اپنی غلطی ماننے کو  تیار نہیں تھا۔بلکہ اپنی غلطی کی غلط توجیہات کرنے لگا کہ جہاز سے کوئی مفید کام نہیں لیا جا سکتا۔

1887 ء م یں ''مارسلن برتولو'' نے اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا:

''اب کے بعد دنیا کا کوئی راز باقی نہیں رہا''

جو زمانۂ ظہور کو غیر معمولی ترقی کا زمانہ نہیں سمجھتے ہیں ۔ وہ ایسے افراد کی طرح ہی سوچتے ہیں۔

ہم نے یہ جو ذکر کیا ہے وہ ایسے لوگوں کا ایک نمونہ تھا۔جو یہ سمجھتے ہیں کہ علم و صنعت کے لحاظ سے دنیا اپنے عروج پر ہے۔یعنی دنیا ترقی کی آخری سیڑھی پر قدم رکھے ہوئے ہے۔

جی ہاں! یہ توہمات گزشتہ صدیوں میں موجود تھے اور اب بھی بعض گروہ انہی میں مبتلا ہیں ۔ ان باطل نظریات میں مزید اضافہ ہو نا بھی ممکن ہے۔

  ظہور یا نقطہ آغاز

اگر ہم کہیں کہ ابتداء ظہور تکامل کا آغاز ہے تو ایسے افراد کے لئے اس کا یقین کرنا مشکل ہو گا ۔ کیونکہ وہ یہ قبول نہیں کرسکتے کہ ظہور کا آغاز ترقی کی ابتداء ہے؟

اس سوال کا جواب بیان کرنے کے لئے اس مطلب کی تشریح کرنا ضروری ہے۔لہٰذا ہم ایسے غلط نظریات کی پیدائش کے علل و اسباب بیان کرتے ہیںتاکہ قارئین محترم جان لیں کہ بعض لوگ یہ نہیں جانتے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے ظہور کے ہمراہ ترقی و پیشرفت اور تکامل کی ابتدا ہوجائے گی؟


کیونکہ وہ موجودہ دور کو اس قدر ترقی یافتہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس سے بھی ترقی یافتہ دنیا کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں؟

ہم یہاں دو مختصر نکات بیان کرنے کے بعد اس بارے میں تفصیلاً گفتگو کریں گے۔

1 ۔ ایسے افرادموجودہ دنیاکو قدیم دنیا اور گزشتہ زمانے سے مقائسہ کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ موجودہ دور کو ہی پیشرفتہ ترین  دورسمجھتے ہیں۔

2 ۔ ا یسے افراد آئندہ کی دنیا کے بارے میں کسی قسم کی اطلاع و آگاہی نہیں رکھتے ۔ اسی لئے ان کا کہنا ہے کہ اب ایجاد کرنے کے لئے کوئی اور چیز موجود نہیں ہے۔

 دین یعنی حیات اور صحیح ترقی یافتہ تمدّن

دنیا کے  بہت سے لوگ دین کے حیات بخش اور زندگی ساز منشور سے آگاہ نہیں ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ مکتب اہلبیت علیہم السلام نے معاشرے کے تمام پہلوئوں کو مد نظر رکھا ہے اور وہ لوگوں کی تمام ضروریات سے آگاہ ہے ۔ لہٰذا وہ دین کو صرف چند احکامات کا مجموعہ سمجھتے ہیں کہ جس کا تمدّن  اور صنعت کے ساتھ کوئی سروکار نہیں ہے۔

ایسے بعض افراد خود ساختہ اور استعماری مکتب کے پیروکار ہوتے ہیں اور وہ تحریف شدہ ادیان کے تابع ہوتے ہیں۔لہذاوہ جس چیز کو قبول کریں ،اسے ہی دین سمجھتے ہیں۔

اگر مکتب اہلبیت علیہم السلام کے پیروکاروں میں سے کسی گروہ کے ایسے اعتقادات ہوں تو یہ دین کے آئین اور اصولوں  کے بارے میںمکمل آگاہی نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔


کیونکہ دین کا یہ معنی نہیں ہے کہ انسان ترقی اور صحیح تمدن اور صنعت سے دور ہو۔بلکہ تمدّن اور صنعتی ترقی دین کے زیرِ سایہ وجود میں آتی ہے ۔ پس دین اور دینداری صنعت و تمدّن کی نفی کا نام نہیں ہے۔بلکہ دین کا آئین ہی صنعتی ترقی اور تمدنی ترقی کا ذریعہ ہے۔

تاریخ میں نہ صرف آئندہ بلکہ ماضی میں بھی ایسے دور گزرے ہیں کہ جب بزرگ دینی تمدن نے لوگوں کو اپنے دامن میں جگہ دی۔اس وقت کے لوگ علم و صنعتی ترقی کے مالک تھے کہ ہمارا آج کا متمدّن دور جسے لانے سے عاجز ہے۔

یہ نہ صرف تاریخ کے صفحات میں بلکہ بعض امکانات میں ایسے ترقی یافتہ تمدن کے آثار موجود ہیں کہ اب بھی انسان جن کی عظمت کو درک کرنے سے قاصر ہے۔

ہم آپ کے لئے اس کا ایک نمونہ ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ بخوبی واضح ہوسکے کہ دین کبھی بھی ترقی اور تمدن کا مخالف نہیں تھا۔بلکہ مذہبی حکومت خود صحیح تمدّن لانے کا عامل ہے۔

آپ حضرت سلیمان علیہ السلام  کی دینی حکومت کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

کیا حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو معبد بنایا تھا اور اب بھی اس کے ایسے آثار موجود ہیں کہ جنہیں اب تک پہچانا گیا۔کیا آپ اس سے آگاہ ہیں؟

اب اس بارے میں مزید جاننے کے لئے یہ واقعہ ملاحظہ کریں۔

تقریباً دو صدیاں پہلے ''بنیامین فرینکلن ''نے برق گیر ایجاد کیا۔یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔

یہ امر بھی مسلم ہے کہ تقریباًتین ہزار سال پہلے حضرت سلیمان علیہ السلام کا معبد چوبیس بر ق گیر سے تیار کیا گیا تھا۔معبد کوہرگز شارٹ سرکٹ کاخطرہ نہیں تھا۔ ''فرانسوا آراگو ''نے اٹھارویں صدی میں اس بارے میں یوں وضاحت کی۔


معبد کی چھت کو انتہائی ظرافت سے تعمیر کیا گیا تھا،جسے ضخیم ورق سے ڈھانپا گیا تھا اور پوری چھت کو فولاد سے تیار کیا گیا تھا۔لوگ کہتے ہیںکہ چھت کی تیاری میں ان سب چیزوں کا استعمال صرف اس وجہ سے تھا کہ اس پر پرندے نہ بیٹھیں۔

معبد کے سامنے ایک حوض تھا کہ جو ہمیشہ پانی سے لبریز ہوتا۔اب ہمارے پاس ایسے شواہد و قرائن موجود ہیں کہ جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ برق گیر کسی ہدایت کرنے والی کی ہدایت کا نتیجہ ہیں ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ہم اب تک ایسے مسائل سے بہرہ مند نہیں ہوسکتے۔

اسی طرح معبد بیت المقدس کو بھی گزشتہ صدیوں کا کامل نمونہ قرار دے سکتے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے تھا اور اب بھی اسی طرح باقی ہے۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام  اور ان کی آرٹیٹکٹ برق گیر کے راز سے آگاہ تھے۔ لیکن انہوں نے یہ راز دوسروں کو کیوں نہیں بتایا؟کسی سے اس بارے میں بات کیوں نہیں کی؟

اب تحقیق و جستجو کرنے والے دانشور کہ جنہوں نے وادی علم میں قدم رکھے ہیں ۔ جو بہت سے مجہولات کو معلومات میں تبدیل کرتے ہیں، اب ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کو سلجھائیں اور اس کا صحیح جواب معلوم کریں۔(1)

جیسا کہ آپ نے غور کیا کہ انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ ہم اب تک ایسے امکانات اور وسائل میں سے کسی ایک سے مستفیض نہیں  ہو سکے۔

یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں علمی اور صنعتی ترقی کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا۔یہ اس بات کی  دلیل ہے کہ دین اورالہٰی حکومت صنعت اور ٹیکنالوجی کی نفی نہیں کرتے۔بلکہ وہ خود انہیں وجود میں لاتے ہیں۔

--------------

[1]۔ تاریخ نا شناختہ بشر:11


اس کی اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت میں ایسی سہولتوں سے استفادہ ہوتا تھا ۔ لیکن آج کا متمدن معاشرہ اور ترقی یافتہ انسان ان سے مستفید ہونے سے عاجز ہے۔ قرآن کریم کی آیات اور اہلبیت علیھم السلام کی روایات میں ان کی تصریح ہوئی ہے۔

آج کی دنیا ترقی و پیشرفت اور علم و تمدن کے دعوں کے با وجود فزیکل وسائل کے بغیر ایک قلم کو دنیا کے ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک منتقل کرنے سے عاجز ہے۔لیکن حضرت سلیمان  علیہ السلام    کا شاگر ایک بار آنکھ جھپکنے کے ذریعہ بلقیس کے تخت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی قدرت رکھتا تھا ۔ اس نے یہ کام عملی طور پربھی انجام دیا۔

یہ واضح دلیل ہے کہ انسان کو عظیم قوت و طاقت کے حصول کے لئے مابعد مادّہ قدرت کی ضرورت ہے۔ جب تک اسے یہ قدرت حاصل نہ ہو تب تک وہ مادہ کی قید ہی میں رہے گا یعنی زمان ومکان کے تابع رہے گا ۔ مابعد مادہ قدرت کا حصول دین کے علاوہ ممکن نہیں ہے۔

اس بناء پردین نہ صرف علم و دانش کی ترقی کے لئے  مانع نہیں ہے بلکہ دین خود ترقی و پیشرفت اور جدید ٹیکنالوجی اور صحیح صنعت وجود میں لانے کا اصلی سبب ہے۔

دنیا حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی الہٰی حکومت میں ایسی اہم ترقی کی شاہد ہوگی۔اس وقت انسان نہ صرف معنوی مسائل کی اوج پر ہوگا بلکہ جدیدترین ٹیکنالوجی و صنعت کا بھی مالک ہوگا۔

ہمیں  چاہیئے کہ ہم اپنے پورے وجود اور خلوص سے خداوند متعال سے اس بابرکت دن کی جلد آمد کی دعا کریں اور خود کو اس با عظمت زمانے  کے لئے تیار کریں۔ یہ بھی جان لیں  کہ انسان کی خلقت کا مقصد قتل غارت،ظلم و ستم، فساد اور ظالم و جابر حکومت  تشکیل دینا نہیں تھا ۔ بلکہ الہٰی حکومت کی تشکیل اور اسے استقرار و دوام دینے کے لئے کوشش کرنا  ہے۔لیکن اب تک ظالم اس راہ میں مانع  ہیں۔


ہم خداوند متعال سے دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ظہور کے تمام موانع برطرف کرکے جلد از جلد حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کی حکومت قائم فرمائے اور ہمیں حضرت ولی عصرعلیہ السلام کے خادموں میں شمار فرمائے۔

 صحیح اور جدید ٹیکنالوجی فقط دین کے زیر سایہ ممکن ہے

اب ایک اہم حیاتی نکتہ کی تشریح کرتے ہیں۔یہ نکتہ پڑھنے کے بعد قارئین محترم کا دین کے پیشرفتہ آئین کے بارے میں نظریہ تبدیل ہوجائے گا۔

اس نکتہ کو بیان کرنے سے پہلے ایک مختصر مقدمہ بیان کرتے ہیں ۔ وہ یہ ہے کہ انسان فقط ایک مادّی موجود و مخلوق نہیں ہے۔ کیونکہ انسان روح بھی رکھتا ہے۔ لیکن کیا انسان صرف جسم اور روح سے مرکب ہوا ہے؟ یا نفس اور جسم سے مرکب ہوا ہے؟ یا انسان روح ،عقل، نفس اور جسم کے مجموعہ کا نام ہے؟

یہ بہت اہم سوال ہیں کہ انسان کا وجود کن چیزوں سے تشکیل پایا ہے؟ گزشتہ زمانے سے ادیان کے پیروکاروں نے اس بارے میں بحث کی اور انہوں نے اپنی فہم کے مطابق جو چیزیں درک کیں، انہیں ہی بیان کیا۔ ان تمام نظریات کے کچھ طرفدار ہیں اور ہر کوئی اپنا نظریہ ثابت کرنے کے لئے کچھ دلائل پیش کرتے  ہیں۔

ہمیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ انسان روح اور جسم سے مرکب ہے اور وہ مستقلاً عقل و نفس کا مالک ہے، یا یہ دونوں روح اور جسم کے تابع ہیںیا یہ ان دونوں سے ایجاد ہوئے ہیں؟

کیونکہ ان عقائد و نظریات میں سے ہر ایک میں روح مستقل وجود رکھتی ہے نہ کہ یہ انسان کے جسم کے تابع ہے۔

ہم نے مکتبِ اہلبیت علیہم السلام کی پیروی سے یہ مطلب سیکھا کہ روح مستقل وجود رکھتی ہے۔ لیکن بعض مادّی مکاتب اس کے بر خلاف روح کو جسم کے تابع سمجھتے ہیں۔


  موجود ایجادات میں نقص

روح کے آثار اور روحانی قوّت کے نتیجہ کی بحث میں اس اہم نکتہ کا اضافہ کرتے ہیں کہ دنیا نے اب تک صنعت اور ٹیکنالوجی کے عنوان سے لوگوں کو جوکچھ عطا کیا ہے ۔ وہ ایسی ایجادات تھیں کہ جنہوں نے انسان کی روح کو جسم کا اسیربنا کر رکھ دیاتھا اور اسے جسم کا محتاج بنادیاتھا۔ان میں کوئی ایسی روحانی قوّت موجود نہیں ہے کہ جو انسان کے جسم کو روح کے تابع قرار دے۔

یہ موجودہ ٹیکن الوجی کابہت بڑا نقص ہے ۔ افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ غیبت  کے زمانے کے دانشور اس بارے میں کوئی صحیح پروگرام حاصل نہیںکرسکے۔

البتہ یاد رکھیں کہ ہمارا یہ کہنا کہ زمانۂ غیبت کی ٹیکنالوجی میں نقص و عیب پایا جاتاہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ ہم اس زمانے کے برق رفتار وسائل کا بگھی اور تانگہ وغیرہ سے مقائسہ نہیں کررہے۔ لیکن خدا نے انسان کے وجود میںبے شمار قوّتیں قرار دی ہیں ۔ انہیں کی تخلیق کی وجہ سے وہ خود کو''احسن الخالقین'' قرار دیتے ہوئے فرماتاہے:

'' فَتَبَارَکَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْن '' (1)

اس عظیم مخلوق پر توجہ کریں تومعلوم ہوگا کہ انسان نے اپنے وجود کے ایک پہلو سے ا ستفادہ کیا ہے۔ لیکن دوسرے پہلوؤں کو فراموش کردیا ہے۔

ہمارا یہ کہنا ہے کہ انسان میں روح بھی ہے۔ لہذاہ میشہ روح کو جسم کے تابع قرار نہ دیں۔انسان کو یہ سوچنا چاہیئے کہ انسان اپنے وجود کے دوسرے پہلوؤںسے استفادہ کرکے جسم کو روح کے تابع قرار دے۔ یوں وہ خود کو مادّہ اور زمانہ کی قید سے آزادکرے۔ لیکن زمانۂ غیبت کی تمام ایجادات مادّی  تقیّدات سے مقید ہیں۔

--------------

[1]۔ سورہ مؤمنون، آیت: 14


اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ عصرِ غیبت کی تمام ٹیکن الوجی ناقص ہے۔اس میں جو تکامل ہونا چاہیئے تھا، وہ نہیں ہوا اور یہ تکامل سے عاری ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ ظہور کاباعظمت ،بابرکت اور پُر نور زمانہ ہرلحاظ سے تکامل کی اوج پر ہوگا۔وہ زمانہ ما بعد مادہ سے بڑھ کربہت عظیم قدرت سے سرشار ہوگا ۔ جس کی وجہ سے نہ صرف ٹیکن الوجی اور مادّی صنعت میںترقی ہوگی ۔ بلکہ  برتر قدرت ،طاقت سے بھی مستفیض ہوگا۔

ہم اپنے اس دعوے کو خاندانِ عصمت وطہارت علیھم السلام کے حیات بخش فرامین سے ثابت کرتے ہیں ۔ لہذا ہم ایسی روایت نقل کرتے ہیں کہ جس سے بعض لوگ  ظہور کے زمانے کی پیشرفتہ صنعت کے لئے استدلال کرتے ہیں۔اب اصل روایت پر توجہ کریں۔

ابن مسکان کہتے ہیں کہ میں نے اما م صادق علیہ السلام سے سنا کہ کہ آنحضرت نے فرمایا:

''ان المؤمن فی زمان القائم وهو بالمشرق لیری أخاه الّذی فی المغرب وکذا الّذی فی المغرب یری اخاه الّذی فی المشرق'' (2)

یقینا قائم علیہ السلام کے زمانے میں مؤمن شخص مشرق میں ہوگا۔ لیکن وہ مغرب میں موجود اپنے بھائی کو دیکھ سکے گا۔اسی طرح جو مغرب میں ہوگا وہ مشرق میں موجود  اپنے بھائی کو دیکھ سکے گا۔

--------------

[2]۔ بحارالانوار: ۵۲ ص۲۹۱


  عصر ِ ظہور میں قدرت کے حصول کی تحلیل

روایت سے جو بہترین نکتہ استفادہ کیا جا سکتا ہے،وہ یہ ہے کہ زمانۂ ظہور میں بشریت کے لئے حیرت انگیز تبدیلیاںوجود میں آئیں گی کہ جس کی وجہ سے انسان روئے زمین کے کسی دور دراز   علاقے میں بیٹھے اپنے دوستوں اور عزیزوں کو دیکھ سکے گا۔ہزاروں کلو میٹر کی دوری کے باوجود انہیں  آسانی سے دیکھاجا سکے گا  اور ان کے حالات سے آگاہی حاصل کی جا سکے گی۔

زمانۂ ظہور میں انسان کو حاصل ہونے والی اس قدرت کی چند صورتوں سے تجزیہ و تحلیل کرنا ممکن ہے ۔

1 ۔جس طرح انسان ک ی قوّت فکر کامل ہوجائے گی اور اس کی قوّت ارادہ بھی قوی ہوگی۔ پھر ارادہ اور فکر کے متمرکز ہونے سے وہ دنیا کے ہر حصے کو ملاحظہ کر سکے گا ۔یعنی اس کی ظاہری نظر میں وسعت آجائے گی،یا یہ کہ رؤیت سے مراد رؤیت باطنی

یا دل کی آنکھوں سے دیکھنا مقصود ہے۔گز شتہ ابحاث میں زمانہ ظہور میں تحوّل فکر اور تقویت ارادہ کے بارے میں بیان کئے گئے مطالب کی رو سے یہ تحلیل ایک فطری امر ہے۔

2 ۔ ظہور کے درخشاں اور نعمتوں سے سرشار زمانے م یں صنعت اور ٹیکنالوجی میں ایسی ترقی ہو   گی کہ انسان جدید وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کائنات کے مشرق و مغرب میں دیکھ سکے گا۔

البتہ یہ نکتہ بھی مد نظر رکھنا چاہیئے کہ اب ہمارا ذہن کمپیوٹر،انٹر نیٹ اور ٹیلی وژن سے آشنا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ ہم انٹر نیٹ کے ذریعہ ایک دوسرے کی تصویردیکھ سکتے ہیں۔ایسے تصویری وسائل کی وجہ سے ممکن ہے کہ ہم آئندہ کی پیشرفتہ ایجادات کو بھی ایک قسم کا تصویری وسیلہ سمجھیں۔حالانکہ ممکن ہے کہ آئندہ انسان کے اختیار میں آنے والے وسائل نہ صرف تصویری ہوں بلکہ ان کے تجسّم کو بھی دکھائیں۔

3 ۔ اس کی دیگر تحلیل بھی کی جاسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آئندہ معنوی اور مادّی لحاظ سے انسان کے لئے جو حیرت انگیز اور بے نظیر پیشرفت میسر آئے گی۔انسان ان دونوں سے استفادہ کرسکے گا کہ جنہیں ہم نے بیان کیا۔


4۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا،اس کے لئے ایک اور تحلیل کرنا بھی ممکن ہے اور وجہ یہ ہے کہ باطنی قوّت میں اضافہ سے انسان اپنے مثالی وجود کو دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے ہوئے اپنے عزیز یا دوست  کے سامنے حاضر کرسکے گا وہ اپنے مثالی وجود کو تجسّم بخشے گا یا تجسّم کے بغیر ہی  اپنے بھائیوں کو دیکھ سکے گا۔

اس رویات کی توضیح میں جس نکتہ کا اضافہ کرنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ چاہے ہم گزشتہ تحلیلات میں سے سب یا کچھ یا کسی ایک تحلیل کو قبول کریں  یا روایت کی توضیح میں کوئی اور تحلیل لائیں۔لیکن اس مطلب کوضرورمدنظر رکھیں کہ اس روایت کے ظاہر سے یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ قدرت یعنی دنیا کے کسی خطے میں بیٹھے انسان کو دیکھنا،ایک ایسی حالت ہے کہ جو عام لوگوں کے لئے وجود میںآئے گی۔یعنی روایت سے عمومی حالت استفادہ ہوتی ہے۔

اس بناء پر جس روایت سے بھی رؤیت کی وضاحت کریں،لیکن یہ جان لیں کہ ظہور کے زمانے میں دور افتادہ علاقوں سے رؤیت صرف کسی خاص گروہ کی خصوصیات میں سے نہیں  ہے۔بلکہ عام لوگوں میں یہ قدرت پیدا ہوگی۔

5 ۔ رؤ یت اور ایک دوسرے کو دوسری طرح دیکھنا بھی ممکن ہے اور وہ طرف مقابل کا انسان کے پاس حاضر ہونا ہے۔مذکورہ بعض صورتوں کے برعکس ۔ روایات میں اسی طرح کی اور روایات بھی وارد ہوئی ہیں کہ جو بھی حضرت خضر علیہ السلام کو سلام کرے ،وہ ان کے نزدیک حاضر ہوتے ہیں۔ اب اس روایت پرتوجہ کریں۔

ایک روایت میں حضرت امام رضا علیہ السلام ، حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں فرماتے ہیں: ''انہ لیحضر حیث ماذکر، فمن ذکرہ فیکم فلیسلّم علیہ ''(1) انہیں جب یا د کیا جائے وہ حاضر ہوجاتے ہیں۔پس تم میں سے جوبھی انہیں یاد کرے،ان پر سلام بھیجے۔ہم نے جوصورتیں ذکر کی ہیں،ان میں سے بعض کا لازمہ انسان کا دو یا دو سے بیشتر جگہوں پر ہونا ہے۔

--------------

[1]۔ صحیفہ مہدیہ: 98


6 ۔ظہور کے درخشاں اور با عظمت زمانے کی تبدیلیوںمیں سے ایک تبدیلی انسان کی آنکھوں اور بصارت میں رونما ہوگا۔ اس کی قوّت ِ بصارت میں اس قدر اضافہ ہو گا کہ اس میں دور  دراز کے علاقوں کو دیکھنے کی قدرت فراہم ہوجائے گی۔ (2)

--------------

[2] ۔ اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے کہ ظہور کے زمانے میں انسان کے جسم میں جوتحوّلات وجود میں آئیں گے۔ وہ انسان کی آنکھوں اور قوة باصرہ پر بھی اثر انداز ہوں گے، گزشتہ زمانے میں بھی کچھ ایسے افراد تھے کہ جن کے قوت بصارت بہت  قوی تھی۔ان میں سے ایک ابو علی سینا ہیں ۔ ا ن سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں دن کے وقت ستارہ عطارد کو دیکھا کہ مقار ن وقت میں وہ سورج پر ایسے  تھا جیسے چہرے پر تل ہو ۔اگرچہ عطارد دوسرے آسمان اور سورج چوتھے آسمان پر ہے۔ لیکن چونکہ مقارن تھے۔یعنی ایک برج اور ایک دقیقہ میں جمع ہوئے تھے۔لہذا ایسے لگتا تھا جیسے سورج کے چہرے پرتل ہو(گلزار کبریٰ383)

قصص العلماء میں ان کی قوت باصرہ کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کی بصارت اس حد تک تھی کہ وہ چار فرسخ کے فاصلے سے مکھی کو دیکھ لیتے تھے۔ایک روز وہ سلطان کی مجلس میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس نے دور بین لگائی ہوئی ہے۔

شیخ نے پوچھاکہ یہ دوربین کس لئے لگائی ہے؟سلطان نے کہا:چار فرسخ سے ایک سوارآرہا ہے میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ کون ہے؟

شیخ نے کہا چار فرسخ کے لئے دوربین کی کیا ضرورت ہے پھر شیخ نے اس جانب دیکھ کر کہا کہ فلاں شکل اور لباس میں ملبوس ایک سوار آرہا ہے۔اس کا گھوڑافلاں رنگ کا ہے۔وشیرینی کھارہا ہے۔سلطان نے کہا کہ شیرینی مطعومات میں سے ہے نہ کہ مرئیات میں سے ہے ۔ پس آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ شیرینی کھا رہا  ہے؟

ابو علی سینا نے اس کے جواب میں کہا! کیونکہ اس کے منہ کے ارد گرد کچھ مکھیاں اڑ رہی ہیں ۔ یہ اس چیز کی علامت ہے کہ وہ شیرینی کھارہا ہے۔جب وہ سوار آیا تو اس سے اس بارے میں پوچھا گیاتو اس نے وہی کہا۔جو کچھ شیخ نے کہا تھا ۔ اسی طرح اس کی شکل صورت، لباس اور گھوڑے کا رنگ بھی ویسا ہی تھا، جیسے شیخ نے بتایا تھا۔ایک قول کے مطابق شیخ نے کہا کہ وہ روٹی  کھارہا ہے۔ کیونکہروٹی کے ذرات اس کی داڑھی اور مونچھوںمیں گرے ہوئے ہیں ۔ تفحص کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ جیسا شیخ نے کہا تھا ،وہ درست تھا۔

(گلزار کبریٰ:382) ہمارے زمانے میں بھی کچھ ایسے افراد ہیں کہ کاقوّہ باصرہ بہت قوی ہے۔


 انسان کی بصارت میں ایجاد ہونے والا تحوّل ایسا ہوگا کہ اس میں حیرت انگیز  اضافہ وجود میں آئے گا۔ زمانۂ ظہور میں انسان کی قوّہ باصرہ میں حیران کن اضافہ کے بارے میں اس روایت پر توجہ کریں ۔امام صادق  علیہ السلام  فرماتے ہیں:

''انّ قائمنا اذا قام مدّ اللّٰه لشیعتنا فی أسماعهم و أبصارهم حتی (لا) یکون بینهم و بین القائم برید، یکلّمهم فیسمعون و ینظرون الیه وهو فی مکانه '' (1)

بے شک جب ہمارا قائم  علیہ السلام  قیام کرے گا تو خداوند متعال ہمارے شیعوں کے کانوں اور آنکھوںمیں کشش پیدا فرمائے  گا۔(ان کی قدرت میں اضافہ فرمائے  گا) یہاں تک کہ ان کے اور حضرت قائم علیہ السلام کے درمیان کسی واسطہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔وہ ان کے ساتھ بات کرے گا اور وہ سنیں گے اور وہ  ان کی طرف دیکھیں گے۔حالانکہ وہ اپنی جگہ پر ہوں گے۔

یہ روایت واضح طور پر دلالت کرتی  ہے کہ زمانۂ ظہور میں خدا وند متعال انسان کے دیکھنے اور سننے کی قدرت میں اضافہ فرمائے گا۔سب حضرت بقیةاللہ الاعظم (عج) کو دیکھ سکیں گے۔ چاہے وہ کسی بھی جگہ پر ہوں،اسی طرح وہ آنحضرت  کی آواز بھی سن سکیں گے۔

 روایت میں تفکر

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض مصنفین ایسی روایا ت کا مصداق ٹیلیویژن کو قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ روایت میں موجود تعبیر کو دیکھ کر کسی بھی صورت میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ روایت میں امام صادق کی مراد و مقصود ٹیلیویژن ہے۔

--------------

[1] ۔ بحارالانوار: ج ۵۲ص۳۳6


کیونکہ:

1 ۔امام صادق عل یہ السلام  فرماتے ہیں:مؤمن اپنے بھائی کو دیکھے گا ۔اگر آنحضرت  کی مراد ٹیلیویژن ہوتی تو پھر دنیا کے سب لوگ ٹیلیویژن پر دکھائی دینے چاہیئں  تاکہ ان کے بھائی انہیں کرۂ زمین  کے دوسری طرف سے بھی دیکھ سکیں۔کیونکہ''المؤمن'' میں الف و لام جنس کے لئے آیاہے ۔جو کہ مطلق ہے۔جس میں تمام مؤمنین شامل ہیں ۔حالانکہ ٹیلیویژن سے ایسا استفادہ نہیں کیا جاسکتا کہ ہر کوئی اس میں اپنے بھائی کو دیکھ سکے ۔بلکہ صرف انہی کو ہی ٹیلیویژن پردیکھا جاسکتا ہے کہ جو ریکارڈنگ یافلم میں موجود ہوں۔

اب تک دنیا کی کروڑوں اربوں افرادکی آبادی میں سے کتنے افراد نے اپنے بھائیوں کوٹیلی ویژن پر دیکھا ہے۔

روایت میں کچھ دیگر قابل توجہ نکات بھی موجود ہیں کہ جو اس مطلب کی تائید کرتے ہیں۔یعنی جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اپنے برادرِ مؤمن کو کرۂ زمین کے دوسری طرف دیکھنا یقینی  ہے۔

کیونکہ :

1 ۔ یہ روایت جملہ اسمیہ سے شروع ہوئی ہے۔

2۔ اس کی ابتداء میں کلمہ'' اِنَّ '' ہے۔

3 ۔ ''ل یری اخاہ'' میں  لام لایا گیا ہے ۔یہ سب اصل مطلب کی تاکیدپر دلالت کرتے ہیں ۔

ان نکات پر توجہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ ظہور کے بابرکت زمانے میں ہر مؤمن شخص اپنے بھائی کو بہت دور دراز کے علاقوں سے دیکھ سکے گا۔یہ ایسا مطلب ہے کہ جسے امام صادق علیہ السلام نے روایت میں کئی تاکیدات کے ساتھ بیان کیا ہے۔

2 ۔ ظاہر روایت یہ ہے کہ مشاہدہ میں بھائی کوئی خصوصیت نہیں رکھتا بلکہ امام  نے اسے مثال کے طور پر بیان کیا ہے۔ورنہ اس زمانے میں مؤمن نہ صرف اپنے بھائی بلکہ ماں،باپ،بہن،بیٹی،بیوی اور تمام دیگر رشتہ داروں کو بھی دیکھ سکے گا۔


لیکن اگراس سے مراد ٹیلیویژن ہو تو پھر کوئی ایسا پروگرام ہونا چاہیئے تاکہ مؤمن انہیں دیکھ سکے۔

3 ۔ ظاہر روا یت یہ ہے کہ اس روایت میں دیکھنے سے مراد طرفینی ہے۔یعنی جس طرح مشرق  میں بیٹھا ہوا شخص ،مغرب میں بیٹھے ہوئے اپنے بھائی کو دیکھ سکے گا۔اسی طرح جو مغرب میں ہوگا وہ مشرق میں بیٹھے ہوئے اپنے بھائی کوبھی دیکھ سکے گا۔یعنی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے۔لیکن ٹیلیویژن میں ایسا نہیں ہے۔کیونکہ ٹیلیوژن دیکھنے والا پروگرام میں حاضر افراد کو تو دیکھ سکتا ہے۔ لیکن وہ اسے نہیں دیکھ سکتے۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے قوّہ سامعہ  اور قوہ باصرہ کو حضرت  مہدی علیہ السلام  کے  قیام کے زمانے سے مقید کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو......

اس سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ آنحضرت  کے قیام سے پہلے قوہ باصرہ اور سامعہ اس قدر قوی نہیں ہوں گے۔

اس بناء پر  یہ نہیں کہ سکتے کہ آنحضرت کی مراد ٹیلیویژن نہیں تھی ،جیسا کہ چند مصنفین نے اس روایت میں امام صادق علیہ السلام کے فرمان کا مصداق ٹیلیویژن کو قرار دیا ہے کہ جو پہلے ایجاد ہوا ہے ۔ کیونکہ  روایت  کا ظاہریہ ہے کہ آنحضرت زمانہ ظہور کی خصوصیات کو بیان کررہے ہیں۔

4۔ اگر اس کلام سے امام  کی مراد ٹیلیوژن ہوتی تو یہ  امام  کے زمانۂ ظہورکے لئے کوئی امتیازنہیں ہے۔کیونکہ ٹیلیوژن آنحضرت  کے قیام سے پہلے ایجاد ہوا ہے۔جس نے غیبت کے زمانے میں بہت سے لوگوں کو مزید تاریکی میں دھکیل دیا ہے۔

5 ۔ اگر ٹیلیوژن دیکھنے سے انسان مختلف افراد کو دنیا کے دور دراز علاقوں سے دیکھ سکتا ہے۔لیکن صنعتی وسائل کے ذریعے دیکھنے سے قوّہ باصرہ اور سامعہ میں اضافہ کا کوئی معنی نہیں بنتا۔

6۔ اس روایت میں ذکر شدہ خصوصیت شیعوں سے مختص ہے ۔کیونکہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں''مدّ اللّٰہ لشیعتنا''حالانکہ ٹیلیوژن سے استفادہ کرنا فقط شیعوں سے مخصوص نہیں ہے۔


7 ۔ ٹیلیویژن دیکھنے سے نہ صرف قوّت باصرہ قوی نہیں  ہوتی ہے بلکہ دانشوروں کے مطابق ٹیلیویژن دیکھنا آنکھوں کے لئے مضر ہے۔پس معلوم ہوا کہ ٹیلیوژن دیکھنا قوت باصرہ میں اضافہ  کاباعث نہیں ہے۔

8۔ اگر روایت سے مراد ظاہرسے مراد ظاہر ی وسائل ہوں تو ہمارے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ وسیلہ ٹیلیویژن ہی ہے۔شایدٹیلیوژن کے علاوہ کوئی اور جدید ترین وسیلہ و ذریعہ ہو۔پس اگر یہ احتمال بھی دیا جائے تو آنحضرت  کی مقصود ٹیلیوژن کے علاوہ کوئی چیز ہے توآپ کس دلیل کی بناء پر امام  کے کلام کو ٹیلیوژن پر حمل کرسکتے ہیں؟

9 ۔ بہت س ی روایات میں یہ بہترین نکتہ موجود ہے کہ جو اس مطلب کی تصریح کرتا ہے کہ دیکھنے اور سننے کی حس میں جو تبدیلیاں رونما ہوںگی  ،وہ زمانہ ظہور اور آنحضرت کے قیام کے بعد واقع ہوں گی۔

اس بناء پر پر ٹیلیوژن ،کمپیوٹر،انٹرنیٹ اور ایسے ہی دوسرے وسائل و آلات کہ جو آنحضرت کے ظہور سے پہلے ہوں،اس سے ان سب کی نفی ہوتی ہے اور اس روایت میں یہ سب شامل نہیں  ہیں۔

امام صادق علیہ السلام نے انسان کے جسم میں رونما ہونے والے تحوّلات کوحضرت مہدی  علیہ السلام کے ظہور اور قیام کے بعد سے مقیّد کیا ہے اور فرمایا ہے (انّ قائمنا اذا قام۔۔) جس میں اس بارے میں تصریح ہوئی ہے کہ انسا ن میں واقع ہونے والی عظیم تبدیلیاں امام  کے قیام کے بعد واقع ہوںگی۔

10 ۔ دوسرا بہترین نکتہ یہ ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام  فرماتے ہیں(مد اللّٰہ لشیعتنا فی أسماعھم و أبصارھم ۔۔۔)خداوند کریم ہمارے شیعوں کی آنکھوں اور کانوں میںکشش ایجاد کرے گا۔جس سے ان کے دیکھنے اور سننے کی قدرت میں اضافہ ہوگا۔اگرآنحضرت کی اس تبدیلی سے مراد ٹیلیوژن و کمپیوٹر جیسا ظاہری وسیلہ ہو تو یہ واضح سی بات ہے کہ ان سے افراد کی بصارت اور سماعت میں کسی قسم کی تبدیلی پیدا نہیں ہوا اور ان کی قدرت میں بھی کسی قسم کا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔


11 ۔ ایک اور  قابل غور نکتہ یہ ہے کہ امام صادق  علیہ السلام فرماتے ہیں(مد اللّٰہ۔۔۔)یعنی وہ اس تبدیلی کو خدا سے نسبت دیتے ہیں اور اسے خدا کا کام سمجھتے ہیں۔یعنی امام مہدی  علیہ السلام کے  قیام کے بعد خدا  لوگوں میں تبدیلی ایجاد فرمائے گا۔جو ایک غیر طبیعی وغیر فطری تبدیلی کی دلیل ہے۔عبارت سے واضح ہے کہ ٹیلیویژن یا دیگر وسائل کی ایجاد کو خدا وند کریم سے نسبت نہیں دیتے۔

12 ۔ حضرت ول ی عصر (عج) اپنی حکومت اور نظام حکومت میں غیر معمولی معنوی قوّت و قدرت سے استفادہ کریں گے ۔اسی طرح وہ دنیا اور دنیا والوں کے تکامل کے لئے لوگوں میں تبدیلی ایجاد کریں گے۔

اس بیان کی رو سے بعض لوگوں کی یہ خام خیالی بھی واضح ہوجاتی ہے۔لہذا انہیں اپنے افکار کی اصلاح کرنی چاہیئے۔یہ چھوٹی سوچ رکھنے والے گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنی اس سوچ کے ذریعہ دنیا کا نظام چلا سکتے ہیں۔

13 ۔ زمانہ ظہور ک ی خصوصیات میں سے ایک زمان و مکان کی محدودیت کا ختم ہوجانا ہے۔لیکن افسوس کہ اب تک ایسے ابحاث کے بارے میں تحقیق و جستجو نہیں کی گئی کہ جو ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی مفید اور  برکت کاباعث ہیں۔ ظہور کے زمانے کی برکتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے برکتوں کا زمانہ کہہ سکتے ہیں۔

ممکن ہے کہ ظہور  کے زمانے میں زمان و مکان کے مسئلہ میں تبدیلی کے بارے میں بحث ہمارے لئے نئی ہو،لیکن روایات اور خاندانِ عصمت و طہارت  علیہم السلام کے فرامین میں جستجو کرنے سے معلوم ہوگا کہ ان کے بارے میں ابحاث موجود ہیں۔لیکن معاشرے کاایسے مہم مطالب سے آشنانہ ہونا اس چیزکی دلیل نہیں ہے کہ یہ ابحاث اہلبیت علیھم السلام کی روایات میں بیان نہیں ہوئی ہیں۔

ہم نے جو یہاں روایت نقل کی،وہ اس کا چھوٹا سا نمونہ تھا کہ جس میں امام صادق علیہ السلام نے ظہور  کے زمانے میں مکان کی محدودیت کے ختم ہونے سے پردہ اٹھایا اور اسے ایک قطعی و حتمی مطلب کے طور پر بیان کیا۔


اس بناء پر جیسا کہ روایت کے متن سے واضح ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام کے اس فرمان ''مد اللّٰہ لشیعتنا''سے مرادانسان کے وجود میں  تبدیلی ہے نہ کہ ان کے وجود سے باہر کوئی تبدیلی کہ جو ظاہری اسباب و وسائل کے ذریعے ہو۔

طولِ تاریخ میں  اب تک انسان کا زمان و مکان کی قید سے مقید ہونا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس کے لئے توضیح اور بحث کی ضرور ت ہو۔ بلکہ یہ سب کے لئے واضح ہے کہ انسان زمان و مکان کی قیدمیں اسیر تھا اور اسیر ہے۔اب تک انسان نے اس قید سے نکلنے کی بہت سی کوششیں کیں ۔ لیکن یہ محدودیت فقط ظہور کے زمانے ہی میں ختم ہوگی۔

امام صادق علیہ السلام نے یہ جو جملہ ارشاد فرمایا:(لیریٰ اخاه الذی فی المغرب...) یہ محدودیت مکانی کے برطرف ہونے کی دلیل ہے ۔کیونکہ اس روایت میں حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے ظہورکے زمانے کو یوں توصیف کیا گیا ا ہے کہ اس زمانے میں یقینا مؤمن دنیا کے مشرق سے مغرب میں بیٹھے ہوئے بھائی کو دیکھے سکے گا۔

یہ نکتہ اس چیز کی دلیل ہے کہ ان دونوں افراد کے درمیان ہزاروں کلومیٹرکا طولانی فاصلہ اور دونوں کا ایک دوسرے سے دور ہونا،اس چیزکی دلیل نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے۔ بلکہ کہ ان کے درمیان اتنے زیادہ فاصلے کے باوجود وہ  ایک دوسرے کودیکھ سکیں گے۔

یہ خود مکان کے مسئلہ کے برطرف ہونے کی دلیل ہے ۔ کیونکہ اتنی مسافت و دوری کے باوجود بھی وہ گویا یا ایک ہی جگہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے۔کیا یہ تمام پیشرفت اس تبدیلی کی وجہ سے ہے کہ جوایک وسیلہ و آلہ کی ایجاد سے انسان کی بصارت میں اضافہ کرے گی؟

علم و دانش کسب کرنے کے لئے عقلی تکامل (سمع و بصر کی قدرت کے علاوہ) اور مادّہ سے بڑھ کر دیگر قدرت کو کسب کرنے کا بہت مہم ذریعہ ہے۔


مذکورہ تمام احتمالات کے با وجود ممکن ہے کہ زمانہ ظہور میں مشرق و مغرب سے ایک دوسرے کو دیکھنا کسی اور طرح سے ہی ہوگا کہ جہاں تک ہماری فکرنہیں پہنچ سکتی۔

  موجودہ صنعت پر ایک نظر

ہم نے ظہور کے بابرکت اور درخشاں زمانے میں علم و دانش کی حیرت انگیز پیشرفت اور امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت میں عقلی تکامل کے بارے میں جو مطالب ذکر کئے،ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دور حاضر میں صنعتی ٹیکنالوجی کے بہت سے وسائل اس وقت بے کار اور ناکارہ ہوجائیں گے ۔ اگرچہ آج انسان ان سے استفادہ کرتا ہے۔اس کی دلیل اس وقت عملی و علمی ترقی اور عقلی تکامل ہے ۔ جیسا کہ آج کل انسان نے جدید اور تیز ترین گاڑیوں کے آنے سے بگھی ،تانگہ وغیرہ کو چھوڑ دیا ہے ۔ اس زمانے میں بھی انسان علم و دانش میں ترقی کی وجہ سے موجودہ دور کے جدید وسائل کو چھوڑ کر علمی وعقلی تکامل کے زمانے کے وسائل سے استفادہ کرے گا۔

کیا یہ صحیح ہے کہ بشریت علم اور زندگی کے ہر شعبے میں بے مثال ترقی کرنے کے باوجود گزشتہ زمانے کے وسائل سے استفادہ کرے؟

کیاجدید وسائل کے ہوتے ہوئے پرانے زمانے کے وسائل سے استفادہ کرنا پسماندگی اور گزشتہ زمانے کی طرف لوٹنا شمار نہیں ہوگا؟

کسی شک و تردید کے بغیرقطعی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح انسان سوئی اور دھاگے کو چھوڑ کر جدید سلائی مشینوں سے استفادہ کرتا ہے۔جس طرح تانگہ اور بگھی کو چھوڑ کر جدیدترین اور آرام دہ گاڑیوں پر سفر کر تا ہے۔اسی طرح انسان آج کی علمی و صنعتی ترقی سے دورِ حاضر کے جدیدوسائل سے استفادہ کررہا ہے


لیکن جب یہ علمی و صنعتی ترقی تکامل کی حد تک پہنچ جائے تو پھر انسان موجودہ دور کے وسائل کو چھوڑ کر اس دور کے جدید ترین وسائل سے استعمال کرے گاکہ آج کے دور کے وسائل کی ان کے سامنے کوئی اہمیت  نہیں ہو گی۔

اس مطلب کی وضاحت کے لئے ایک مثال ذکر کرتے ہیں:

اگر کوئی سورج سے توانائی حاصل کرکے گاڑی چلاسکے تو کیا پیٹرول یا ڈیزل استعمال کرکے  فضاکو آلودہ کرنا صحیح ہے؟

جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ اس زمانے میں نہ صرف انسان علم و صنعت میں موجودہ مادی وسائل کی بہترین اور کاملترین انواع سے میں استفادہ کرے گا۔بلکہ معنوی امور میں پیشرفت اور  ملکوت تک رسائی سے بہت سی ناشناختہ  قوتیں حاصل کرے گا کہ جن سے استفادہ کرکے انسان بہت ہی پیشرفتہ اور جدید  وسائل تک رسائی حاصل کرکے ان سے استفادہ کرسکتا ہے۔

اس بناء پر ہم یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے جدید وسائل (سب کے سب یا ان میں سے اکثر)علم و دانش کے اس درخشاں زمانے میں ترک کردیئے جائیں گے۔

یہ واضح ہے کہ اس کام سے گزشتہ زمانے کی طرف لوٹنا لازم نہیں آتا ہے ۔ بلکہ عقل و علم کے تکامل سے انسان زمانۂ ظہور اور امام زمانہعلیہ السلام کی الہٰی حکومت میں علم و صنعت کے تکامل سے جدیدترین وسائل کو استعمال کرے گا۔اگر انسان اس زمانے میں بھی موجودہ دور کے آلات و وسائل سے استفادہ کرے تو یہ ایسے ہی ہوگا جیسے آج ہم برق رفتار اور جدید ماڈل کی آرام دہ گاڑیوں کے باوجود تانگہ اور بگھی سے استفادہ کریں۔

ظہور کے پر نور زمانے کی تبدیلیوں اور اس زمانے کے علمی و عقلی تکامل سے آگاہ افراد کے لئے یہ ایک واضح حقیقت ہے۔

کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس طرح گزشتہ زمانے کی بہ نسبت علمی ترقی نے آخری ایک صدی  کے دوران صنعت و ٹیکنالوجی میں بہت سی تبدیلیاں وجود میں لائی ہیں ۔اسی طرح امام مہدی علیہ السلام کی الہٰی حکومت کے دوران غیر معمولی  علمی ترقی سے بہت سی حیران کن تبدیلیاںوجود میں آئیں گی کہ موجودہ ترقی جن کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں رکھتی۔


سورج نور ، روشنی اور انرجی کا بہترین منبع ہے۔انسان علمی ترقی کے بڑے بڑے دعوں کے باوجود بھی ابھی تک سورج کی انرجی سے مکمل طور پر استفادہ نہیں کرسکا۔جس طرح انسان پانی کو مختلف  طریقوںسے ذخیرہ کرکے اسے ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔اسی طرح سورج سے انرجی ذخیرہ کرکے اسے بہت سے کاموں کے لئے استعمال میں لاسکتے ہیں۔

اب تک انسان اپنے علم کے ذریعہ یہاں تک آگاہی حاصل کرسکا ہے کہ سورج حیات کے لئے  مہم منبع اور توانائی کاسب سے بڑا ذریعہ ہے۔

لیکن یہ کہ اس سے کس طرح استفادہ کرسکتے ہیں؟کس طرح اس تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں؟کس طریقے سے تیل ،پیٹرول اور ڈیزل کی بجائے سورج کی انرجی اور توانائی سے استفادہ کرسکتے ہیں؟

یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پر اب بھی ابہام کا  پردہ پڑا ہوا ہے۔ اب تک اس سے بہت کم موارد میں فائدہ لیا گیا ہے۔سورج اور اس کی توانائی کے علاوہ چاند بھی توانائی کامنبع ہے کہ جس کی توانائی زمین پر بہت سی اشیاء پر اثر انداز ہوتی ہے۔

لیکن انسان اپنی علمی ترقی کے تمام تردعوؤں کے باوجود چاندکی توانائی کو ذخیرہ نہیں کرسکا کہ جسے وہ اپنے اختیار میں قرار دے کراس سے استفادہ کرسکے۔

چاند کی روشنی کا زمین کے پانی اور دریاؤںکے مدّ و جزر انسان کے جسم اور نفسیات پر اثرات اور اسی طرح اس کا دوسری اشیاء پر اثرانداز ہونا ایسے مطالب ہیں کہ جن تک انسان کی تحقیق پہنچ سکی ہے۔ لیکن چاند کی روشنی کو ذخیرہ کرکے اس سے ضروری موارد میں استفادہ کرنے کے بارے میں کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔(1)

--------------

[1] ۔ چاند کے نور اور روشنی کے بارے میں جاننے کے لئے قدیم کتب میں سے مرحوم آیت اللہ شیخ علی اکبر نہاوندی کی کتاب گلزار اکبری اور جدید کتب میں سے لیال واٹسن کی فارسی میں ترجمہ شدہ کتا ب فوق طبیعت کی طرف رجوع فرمائیں ۔


چاند اور سورج تو درکنارستاروں کی روشنی اور کہکشاؤں میں بھی بہت زیادہ  توانائی ہے۔اب تک   دنیا کی علمی ترقی کے دعویدار اس راز سے بھی پردہ نہیں اٹھا سکے۔وہ انہیں ذخیرہ کر کے انہیں بروئے کار لانے سے عاجز ہیں ۔خداوند کریم نے اہل زمین کے لئے سورج اوربعض ستاروں کے طلوع کرنے میں ایسی حیران کن تأثیر قرار دی ہے کہ بہت سے افراد کو اس کا یقین نہیں ہوتا ۔کیونکہ یہ ان کی سطح فکری اور یقین  کی منزل سے بلند ہے۔

ہم نے اپنا راستہ بہت طولانی کر دیا۔زمین سے چانداور سورج پر چلے  گئے اور وہاں سے کہکشاؤں کے سفر پر نکل گئے ۔ اب ہم اپنے وطن یعنی زمین پر واپس آتے ہیں ۔ کیونکہ ابھی تک اس کے بہت سے اسرار باقی ہیں کہ جنہیں درک کرنے سے ہمارا علم عاجز ہے۔ابھی تک تو خلقتِ زمین کے اسرار سے پردہ اٹھنا بھی باقی ہے۔

جس دن تمام دنیا پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی مطلق حکومت ہو گی اور جب زمین و آسمان اور چاند سورج کی خلقت کے شاہد ظاہر ہو کر ان پر حکومت کریں گے تو وہ کائنات کو اپنے علم سے منوّر فرمائیں گے اور معاشرے سے جہالت کی تاریکی دور کریں گے پھر انسان پر خلقتِ کائنات کے اسرار کھل جائیں گے۔

جی ہاں جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ اس دن ہر چیز کا علم ہو گا جہالت کے بادل چھٹ جائیں گے اور کوئی پنہان راز باقی نہیں رہے گا۔(1)

اب ہم اس دن کی یاد سے اپنے دل کو شاد کرتے ہیں کہ جب اسرار ِ کائنات سے پردہ اٹھ جائے گا اور کوئی راز مخفی نہیں رہے گا۔اس بابرکت، باعظمت، منوّر اور درخشاں دن کی آمد کے لئے درد بھرے دل اور سرد آہوں کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ شاید ہمارے شکستہ دلوں کی آہوں میں کوئی اثر ہو۔

--------------

[1]۔ یہ حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی اس روایت کی طرف اشارہ ہے: مامن علم الّا و انا افتحہ والقائم یختمہ۔


  زمانۂ ظہور اور موجودہ ایجادات کا انجام

ہم دو اہم اور بنیادی اسباب ذکر کرتے ہیں۔

1 ۔ حضرت صاحب العصر والزمان (عج) کا دن یا کو ہ دایت کرنا ۔

2 ۔زمانۂ ظہور کے لوگوں کا فکر ی و عقلی رشد او رتکامل ۔

ان دواسباب کی وجہ سے انسان تیزی سے علم حاصل کر سکے گا ۔ جس سے عظیم تمدّن نصیب ہو گا۔اب ہم ایک اور سوال مطرح کرتے ہیں کہ ظہور کے زمانے کی عجیب علمی ترقی اور تمدن کے بعد موجودہ دور کی ایجادات کا کیا ہوگا؟کیا وہ نابود ہوجائیں گی؟

کیا اس زمانے کے لوگ ان سے استفادہ کریں گے؟اور کیا........

ممکن ہے کہ یہ اور ایسے کئی سوال بعض افراد کے ذہنوں میں پیدا ہوں۔لہذا اس کا تسلّی بخش جواب دینا ضروری ہے۔ہم اس سوال کا مفصل جواب دینے کے لئے موجودہ دور کی ایجادات کو کچھ قسموں میں تقسیم کرتے ہیں تا کہ قارئین محترم کے لئے بہترین جواب فراہم کیا جا سکے۔

  مضر ایجادات کی نابودی

موجودہ ایجادات میں سے ایسے وسائل بھی ہیں کہ جو نسان کی تباہی و بربادی کا باعث ہیں ۔ جنہیں جنگوں اور قتل و غارت میں ہی بروئے کار لایا جاتا ہے ۔ مثلاََ ایٹم بم......


یہ واضح ہے کہ ایسی ایجادات نے معاشرے کو تباہی و بربادی ااور خونریزی کے سوا ء کچھ نہیں دیا۔ظلم و ستم اور فسادات کے علاوہ ان کا کوئی اور ثمر نہیں ہے اور ایسی ایجادا ت امام مہدی  علیہ السلام کی عادلانہ و کریمانہ اور آفاقی حکومت سے سازگار نہیں ہیں۔ایسے وسائل کی نابودی ہی میں معاشرے کی بھلائی ہے ۔ انسانوں اور دوسری مخلوقات کی نجات کے لئے ایسے مخرّب وسائل کی نابودی ضروری ہے ۔ یہ فقط حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت میں ہی نہیں بلکہ تاریخ میں بعض اوقات انسانیت سے محبت کرنے والے بادشاہوں نے بھی ایسے وسائل بنانے کی سختی سے ممانعت و مخالفت کی ۔ حلانکہ ان کی حکومت کو ان کی اشد ضرورت تھی ۔ جنہوں نے بربادی کے ایسے ذرائع بنانے کی مخالفت کی ان میں سے ایک''لوئی پانزدہم'' ہے ۔ یہ ایسے بادشاہوں میں سے تھا کہ جس کا علم و حکمت سے قریبی ناطہ تھا۔وہ محققین کو ہر ممکن سہولت مہیا کرتا اور دانشوروں کے لئے غیر معمولی احترام کا قائل تھا۔اس کی حکومت میں ایک ماہر کیمیا دان تھا کہ جس کانام'' دوبرہ'' تھا اس نے ایک ایسا آتش گیر مادہ ایجاد کیا تھا کہ جس کا کوئی توڑ نہ تھا اور نہ ہی اس سے بچنا ممکن تھا۔حتی کہ اس سے لگائی جانے والی آگ کو پانی سے بھی بجھانا ممکن نہیں تھا۔

''دوبرہ ''نے بادشاہ کے سامنے اپنی ایجاد پیش کی اور اس کا تجربہ کیا گیا ۔ بادشاہ بہت حیران ہوا جب اس نے دیکھا کہ یہ مادہ کئی شہروں کو قبرستان بناسکتا ہے ، بڑی بڑی افواج کو ابدی نیند سلا سکتا ہے تو اس نے حکم دیا کہ اس ایجاد کو فوراََ نابود کر دیا جائے اور اسے بنانے کا فارمولا ہمیشہ پوشیدہ رکھا جائے۔ حلانکہ اس زمانے میں وہ برطانیہ کے ساتھ جنگ کر رہا تھا جسے دشمن کی بحری فوج کو ختم کرنے کے لئے ایسے ہی کسی اسلحہ کی ضرورت تھی لیکن اس نے انسانیت کو نجات دلانے کے اسی میں مصلحت جانی کہ اس اسلحہ کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔(1)

--------------

[1] ۔ تاریخ ناشناختہ بشر:105


 علم دنیا کی رہبری نہیں کر سکتا

اگرچہ سترہویں اور اٹھارویں صدی میں حاصل ہونے والی علمی ترقی کی بدولت بہت سے دانشوریہ گمان کر رہے تھے کہ ایک ایسا دن بھی آئے گا کہ جب علم دنیا کہ رہبری و قیارت کرے گا اور علم سے استفادہ کرکے وضع کئے گئے قوانین کے سائے میں یہ دنیا کو غم والم سے نجات دے گا۔لیکن زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ثابت ہو گیا کہ انہوں نے جو کچھ سوچا تھا حقیقت اس کے برعکس ہے ۔

کیونکہ علمی ترقی نہ صرف دنیا کو بے عدالتی اور مصائب سے نجات نہیں دے سکتی بلکہ اس نے معاشرے کی مشکلات و تکالیف اور مصائب میں مزید اضافہ کر دیاہے۔

تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اب تک کی علمی ترقی سے لاکھوں افرد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ لاکھوں افرد بے سروسامانی کے عالم میں پڑے ہیں۔یہ سب صرف اس وجہ سے ہے کہ علم نے ترقی کی ہے۔ اس سیانسان کی انسانیت میں تقویت نہیں آئی۔حلانکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ترقی ہونی چاہئے نہ کہ کسی ایک شعبہ میں۔علم اس صورت میں معاشرے کو تکامل کی طرف لے جا سکتا ہے کہ جب وہ عقل و انسانیت کے ہمراہ  ترقی کرے۔لیکن اگر علم ان کے بغیر ترقی کرے تو تو وہ بشریت کی تباہی و بربادی کا باعث بنتا ہے۔

چودزدی با چراغ آید     گزید ہ تر برد کالا

نظام خلقت صحیح تکامل کی بناء پر قرار دیا گیا ہے۔یعنی جس روز تمام مخلوقات نباتات، حیوانات اور انسان خلق ہوئے، اسی دن سے ان کے تکامل کے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اگر وہ اپنی اسی حالت پر باقی رہیں کہ جو خلقت کے پہلے دن تھی تو پھر دنیا کا کیا حال ہو گا؟


اس بناء پر اس معنی میں تکامل زندگی کی حتمی شرائط میں سے ہے ۔ اس میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جسمانی تکامل ،روحانی و فکری تکامل کے ساتھ ہونا چاہیئے

یعنی جس طرح بچہ جسمانی اعتبار سے رشد پاتاہے اسی طرح انہیں فکری و روحانی اعتبار سے بھی رشد پانا چاہیئے ۔ اگربچہ جسمانی طور پر تو رشد پائے لیکن جسمانی و روحانی طور پر رشد نہ پائے بلکہ اس کے بچپن کے افکار میں کوئی تبدیلی  پیدا  نہ ہوتو معاشرہ کس حال تک پہنچ جائے گا؟

پس انسان کا جسمی تکامل ان کے فکری تکامل اور عقلی رشد کے ساتھ ہونا چاہیئے اور یہ ہمراہی زندگی کے تمام شعبوں میں برقراررہنی چاہیئے ورنہ اگر انسان ایک اعتبار سے تکامل کی منزل تک پہنچ چکا ہو اور دوسری جہت سے تنزلی کی طرف جا رہا ہو یا اسی طرح ہی متوقف رہے تو اس معاشرے سے  تعادل منتفی ہو جائے گاکہ جو معاشرے کی تباہی کا سبب بنے گا۔

اس بناء پر جس طرح معاشرہ علم و صنعت کی راہ میں کوشش کررہا ہے اور علم وصنعت کے تکامل اور مادی امور کی پیشرفت میں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے ۔ وہا ں اسے معنوی و روحانی مسائل میں بھی تکامل کی طرف گامزن رہنا چاہیئے ورنہ روحانی و معنوی مسائل میں توجہ کئے بغیر علمی و صنعتی ترقی خطرناک اور تاریک مستقبل کے علاوہ کچھ نہیں دیتی۔

اگر انسانی معاشرہ اور دنیا کی ترقی کے خواہاں جہاں دنیا کو ترقی و تکامل کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں انہیں فکری و معنوی اور روحانی تکامل کی بھی کوشش کرنی چاہیئے نہ کہ فقط کچھ مادی  آلات و وسائل بنانے ہی میں مگن رہیں ۔ سب سے پہلے انسان کے وجود میں شخصیت، افکار اور نظریات کے اعتبار سے بدلاؤ اور تکامل ایجاد ہونا چاہیئے تاکہ صنعت و تمدن میں واقعی پیشرفت وجود میں آئے ورنہ کسی ایک شعبہ میں ترقی دنیا کو نابودی کے سواء کچھ نہیں دے سکتی۔


 دنیا کا مستقبل اور عالمی جنگ

ماضی اور حال میں دنیا کی معروف ترین شخصیات دنیا کی نابودی اور تباہی  وبربادی سے خوفزہ تھیں اور اب بھی ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں ہی نے دنیا کو اس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ایسے ہی افرد میں سے ایک'' آئن اسٹائن'' بھی ہے۔

'' رسل '' کہتا ہے کہ ایٹم بم اور اس سے بھی بڑھ کر ہائیڈروجن بم سے انسانی معاشرے کی تباہی کے خوف وہراس میں اور زیادہ اضافہ ہوا ہے  اکثر علمی ترقی انسان کوموت کے منہ میں دھکیلنے کا سبب بنی ہے حتی کہ اس میں بعض جید شخصیات اور صاحب نظر حضرات کہ جن میں سے ایک آئن اسٹائن ہے۔(1)

'' دکنت دونوئی '' کہتا ہے :آج دنیا ایٹمی توانائی کے نتیجہ میں مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑی  ہے۔دنیا اب متوجہ ہوئی ہے کہ ان کی نجات کا واحد راستہ انسان کا اخلاق حسنہ ہے۔انسانی تاریح میں پہلی بار انسان اپنے ہوش وحواس سے کئے گئے کام پر بھی شرمندہ ہے۔(2) جی ہاں!اب بہت سے یورپی سیاست دان انسان اور دنیا کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں ۔ انہیں نہیں معلوم کہ ان اسلحوں سے استفادہ کرنے سے کیا دنیا پوری طرح تباہ ہوجائے گی یانہیں؟دنیا کے مستقبل کے لئے خطرے اور عالمی جنگ کا بہانہ بننے والے اسباب میں سے ایک بعض ممالک کا دوسرے ممالک کو جدید جنگی آلات فروخت کرنا ہے۔سیاست دان زیادہ دولت کمانے اور دوسرے مملک میں نفوذکرنے کے لئے ایسے کام انجام دیتے ہیں ۔ دوسرے ممالک کو جنگی سامان کی فروخت بڑے ممالک کی آمدنی کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔اسی لئے ہر روز بازار میں جدید ترین اسلحہ دکھائی دیتا ہے۔ ہر دن ایک سے بڑھ کر ایک ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ اب آپ  یہ رپورٹ ملاحظہ کریں۔

--------------

[1]۔ آیت الکرسی پیام آسمانی توحید:213

[2]۔ آیت الکرسی پیام آسمانی توحید:213


دوسری عالمی جنگ کے دوران میں جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساقی پر گرائے گئے ایٹم بموں نے بہت زیادہ تباہی پھیلائی۔حلانکہ نائیٹروجن بم ،ایٹم بم کی بہ نسبت سوئی کی نوک کے برابر بھی تباہی نہیں پھیلاتا۔اس کے پھٹنے کی قوّت بھی بہت کم ہوتی ہے۔کیونکہ اس کی اسّی فیصد توانائی نائٹروجن کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔یہ شعاعیںجس جنگی میدان یا علاقہ پر پڑیںتو یہ وہاں کی تمام موجودات حتی کہ خوردبین سے دکھائی دینے والے موجودات و مخلوقات کو نابود کردیتی ہیں۔

''ساموئل کوین'' اپنی ایجاد کی خوبیاں اور خامیاں یوں بیان کرتا ہے۔

نائٹروجن بم میں دو بڑی خامیاں ہیں۔ایک یہ کہ وہ شہروں اور عمارتوںکی نقصان نہیں پہنچاتا ، ممکن ہے کہ دشمن ان پر قبضہ کر لیں یا یہ کہ انہیں تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم کا استعمال کریں۔اس بم کی دوسری خامی یہ ہے کہ یہ بم اپنے تھوڑے سے عمل سے تمام موجودات حتی کہ خوردبین سے دکھائی دینےوالے موجودات   و مخلوقات کو نابود کردیتا ہے اور بہت بڑے شہر کو ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصہ سے پہلے خاموش قبرستان میں تبدیل کردیتا ہے۔اس سے تمام مخلوقات فناہو جاتی ہیں ۔ لیکن میرے خیال میں نائٹروجن بم، ایٹم بم کی بہ نسبت قدرے بااخلاق ہے۔ کیونکہ ایٹم بم ایٹم سے بنایا جاتا ہے اور یہ بم ہزاروں لاکھوں اموات کے علاوہ بہت سے لوگوں  کو اندھا،بہرا اور معزور کردیتا ہے۔ حلانکہ نائٹروجن بم اپنی اتنی طاقت کے باوجود کسی کو معزورباقی نہیں چھوڑتا۔(1) نائٹروجن بم بہت سی چیزوں کی حکایت کرتا ہے جیسے کہ آدم کشی ارزشوں میں شمار ہو گی۔اگر کوئی ایسا بم بنایا جائے کہ جس سے دنیا میں کوئی انسان بھی باقی نہ رہے تو یہ بہت زیادہ بااخلاق بم ہوگا۔جی ہاں!جو انسان خداسے دور ہوچکا ہو اور جس نے اخلاقی اقدار کو چھور دیا ہو ۔اس کاانجام ایسا ہی ہو گا۔(2)

--------------

[1]۔ روزنامہ کیہان:5 شھریور:1360 صفحہ 5

[2]۔ سیمای انسان کامل از دیدگاہ مکاتب:465


''برتراند راسل'' علم کے بارے میں یہ سخت تلخ اور مایوس بیان دیتے ہوئے کہا:

شاید ہم ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیںکہ جوبنی نوع انسان کے فناہونے کا زمانہ ہے۔اگر ایسا ہوا تو اس کا گناہ علم پر ہوگا۔(1)

1960 ء  ک ی دھائی میں نوجوانوں اور بالخصوص پڑھے لکھے اور یونیورسٹییوں کے نوجوانوں  میں علم دشمنی رواج پائی کیونکہ انسان کے یہ تمام مصائب و مسائل علم وفنون کی ترقی سے وجود میں آئیں ہیں ۔(1)

مغربی تمدن نے جس طرح علم کو غیر انسانی اور حقیرانہ منافع سے آلودہ کیااسی طرح انہوں نے ڈیموکریسی کو بھی اپنے اہداف کے حصول کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ جب اس تمدن کی تقدیر اس کی پیدائش اور اس کے مصرف کے بارے میں سوچیں اور انسان کی بے بسی، درماندگی ،بے اعتدالی اور خود بیگانگی کے موجبات کو پہچانیں اور ان کا راہ حل تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔ البتہ علم کو چھوڑ کر، توہمات کی بناء پر نہیں بلکہ عقل مندی سے ان کے لئے چارہ جائی کریں اور ایک دوسری دنیا اور نیا انسان بنائیں۔(3)

1945ء کے بعد سے دنیا تباہی،بربادی اور موت کے منہ میں کھڑی ہے۔کئی بار اس تو اس کے انجام تک بات جا پہنچی ۔ایٹمی اسلحوں کی وجہ سے ہمیشہ سب جاندار وں کے سروں پر موت کا سایہ منڈلاتا رہتا ہے۔فوج اور اسلحہ کی دوڑ میں ہر کوئی دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا ہے۔

--------------

[1]۔ علم،قدرت،خشونت:87

[2]۔ روان شناسی ضمیر ناخود آگاہ:73

[3]۔ روان شناسی ضمیر ناخود آگاہ:89


اس مقابلہ سے زمین اور اس کی فرہنگ و ثقافت کی بربادی کا سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔جو فوج اور سیاست دانوں کی قدرت سے کچھ سال پہلے تک طرف مقابل کو ایٹم بم سے ڈراتے اور دھمکاتے تھے ان میں سے دانشوروں نے ایٹمی اسلحہ کے خلاف آواز اٹھائی۔حلانکہ اسے بنانے اور ایجاد کرنے میں البرٹ آئن اسٹائن اور   لئو اسزیلارد  کا اہم کردار تھا۔

1962 ء  م یں ایٹمی ماہرین طبعیات نے ایٹمی تجربات کے بارے میں خبردار کیا اور باقاعدہ اعلان کیا کہ ایٹمی تجربات کی وجہ سے ایک سال میں دولاکھ معذور اور ناقص الخلقت بچے پیدا ہوئے ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے وجود میں آنے والا'' سزیوم137 ''مستق یم حمل پر اثر انداز ہوتا ہے،جس سے بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔جن کی چھ انگلیاں ہوتی ہیں یا وہ بدشکل  اور لنگڑے پیداہوتے ہیں۔

ژان روستان ،ڈاکٹر دلونی اور زیست شناسی میں انعام پانے والے امریکی پروفیسر مولر نے رسمی طور پر اپنی پریشانی کا اعلان کرتے ہوئے خبردا رکیا کہ ایٹمی دھماکوں کو بارہا تکرار کرنے سے زندگی کو اور بہت سنگین مشکلات لاحق ہو سکتی ہیں۔اس کے بعد دنیا کے بے شمار دانشور  ان کے ہمراہ ہوگئے۔

1962 ء  م یں دنیا میں زیست شناسی کے سینکڑوں مشہور ماہرین نے ایک اجلاس کا انعقاد کیا جس کا  عنوان تھا''ہم سب ایٹمی تجربات سے مر جائیں گے اگر.....''اس اجلاس میں فرانس کے مشہور ماہر طبیعات'' ژان روستان'' نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یوں خبردار کیا :رادیو آکٹیو کے مواد سے جانداروں کے سرو ںپر ہمیشہ موت کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے۔جو نابودی کا پیغام ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آئندہ نسل اندھی، بہری، گونگی، معذور اور پاگل پیدا ہو گی۔(1)

دنیا میں ایٹمی دھماکوں اور ایٹمی جنگ کے بعد وجود میں آنے والی نسل ہاتھ کی ہتھیلی سے زیادہ بڑی نہیں ہوگی۔

--------------

[1]۔ تاریخ ناشناختہ بشر:169


  ایٹم کے علاوہ دوسری منفی اور مضر ایجادات

دوسرا درپیش مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف ایٹمی صنایع بلکہ کیمیائی صنایع بھی موت کے اس مقابلے میں برابر شریک ہیں۔جیسا کہ امریکی دانشوروں نے اس بات کی تائید کی ہے کہ صرف ایکس نامی شعاعیں ایٹم کی شعاعوں سے بیس گنا زیادہ نقصان دہ ہیں۔  اسی طرح کیمیائی صنعت سے وجود میں آنے والی ادویات کہ جنہیں ہم بڑی آسانی سے میڈیکل اسٹور سے خریدتے ہیں،وہ ہمیں کن خطرات میں مبتلا نہیں کرتیں؟ان شعاعوں میں جو بھی میزان ہو البتہ یہ بات مسلّم ہے کہ وہ نسل اور نطفہ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔آسان الفاظ میں یوں کہوں کہ اگر کسی نے ایک بار ہی ریڈیو گرافی کروائی تو اس کو یہ جان لینا چاہیئے کہ یہ اس کی افزائش نسل اور جنسی قوّت پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔ٹیلیویژن اور ریڈیالوجی کی مشین میں یہ شعاعیں ہوتی ہیں۔اگرچہ مختصر مدت میں اس کے اثرات ظاہر نہ ہوںلیکن  کچھ سالوں یا آئندہ صدیوں میں ان کے مضر اثرات کوظاہرہو جائیں گے۔

''ڈاکٹر رابرٹ ویلسن ''امریکہ کی ایٹمی انرجی کمیشن کے ممبران میں سے ایک ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ٹی وی اسکرین سے نکلنے والی اکثر مضر شعاعیں ایٹمی تجربات کی وجہ سے زیادہ منتشر ہوتی ہیں۔شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ایٹمی کارخانوں کے زائد اور فاضل مواد کو کسی طرح بھی ختم نہیں کیا جا سکتا، حتی کہ اسے زمین کی گہرائی میں دفن کرنے سے بھی ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔(1)

اب ہم اپنے جواب کی مزید وضاحت کے لئے موجودہ ایجادات کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔

1 ۔ مضر، منفی اور تباہی وبربادی کا باعث بننے والی ایجادات

2۔ منفی اثرات نہ رکھنے والی ایجادات ۔ لیکن انہیں استعمال کرنے کا وقت گزر چکا ہو۔

3۔ جو ایجادات منفی اور مضراثرات نہیں رکھتی، لیکن معاشرہ اب بھی ان سے استفادہ کر رہا ہے۔

--------------

[1]۔ تاریخ ناشناختہ بشر:171


  پہلی قسم کی ایجادات

یہ واضح ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام  کی آفاقی حکومت اور عادلانہ نظام میں نہ صرف مضر ، منفی اور تمام جنگی آلات بلکہ فساد، تباہی اور انسان کے جسم و جان کی بربادی کا باعث بننے والے ہر طرح کے وسائل بھی نیست و نابود ہو جائیں گے۔اس بناء پر گزشتہ مطالب سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی عادلانہ حکومت میں صرف تباہی کا باعث بننے والے جنگی آلات کو ہی نہیں بلکہ معاشرے کے لئے مضر، منفی، شوم اور انسان کو نابود کرنے والے تمام تر آلات کو ختم کر دیا جائے گا۔

آنحضرت ان آلات و وسائل کو نابود کرکے انسانیت کو ان کے منفی اثرات سے نجات دلائیں گے ۔  پس حضرت ولی عصر (عج) کی حکومت میں بربادی کا باعث بننے والی ہر ایجاد کو نیست ونابود کر دیا جائے گا۔

  آئن اسٹائن کا ایک اور واقعہ

کلمبیا کی یونیورسٹی کے فزکس کے دو پروفیسروں نے روز ولٹ کو خط لکھا جس کا خلاصہ یوں تھا:

ایک ایسی چیز موجود ہے کہ جس کا نام ایٹمی توانائی ہے جرمن سائنسدان بھی اس پر کام کر رہے ہیں یہ ایک طاقتور اسلحہ ہے ۔صدر کو اس بارے میں سوچنا چاہیئے کہ اس بارے میںکیا کیا جائے؟

فزکس کے ان دونوںپروفیسروں کو معلوم تھا کہ صدر مملکت ایٹمی توانائی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا لیکن وہاں کوئی ایسا بھی موجود تھا کہ جو ایٹمی توانائی سے بخوبی واقف تھا اورصدر بھی اس کی بات مانتا تھا ۔


 روزولٹ پہلے اس کی تلاش میں گئے ۔ آئن اسٹائن کے لئے یہ بہت دکھ کی بات تھی کہ ایک مدّت تک صلح کا طرفدار ہونے کے باوجود ایسا کام کرنے کے لئے دستخط کرے لیکن اس نے یہ کام کیا اور جب تک زندہ رہا اسی بات پر پشیمان رہاکہ اس نے صرف ایک بٹن دبا دیا۔(1)

آئن اسٹائن کے اعتراف اور اس کا اپنے ماضی پر پشیمان ہونے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگرچہ دنیا کاایک بہترین اور نامور دانشور تھا ، لیکن وہ علم کی راہ میں اپنی ملت سے کی گئی خیانت سے بھی آگاہ تھا۔

آئن اسٹائن کا دوسرااشتباہ

آئن اسٹائن کانظریہ تھا کہ دنیا اس قدر وسیع ہے کہ اس کی چوڑائی تین ارب نوری سالوں میں بھی طے نہیں کر سکتے۔ حلانکہ 1963 ء میں ''کوآزر''کشف ہوا کہ جسے دیکھ کر ماہرین فلکیات متزلزل ہو گئے ۔جب ٹیلی اسکوپ کے ذریعہ ایک ''کوآزر'' کو دیکھا  تو انہوں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر پکڑ لئے کہ کہیں ان کا بھیجا ان کے سر سے نہ گر پڑے اور وہ پاگل نہ ہوجائیں ۔ اس''کوآزر ''کا زمین سے فاصلہ نو ارب نوری سال تھا ۔ حلانکہ آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ دنیا کی وسعت اور اس کی چوڑائی تینارب نوری سال  سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔خلاء کی وسعت کا حساب لگانے کے لئے (جسے طے کرنے کے لئے نور کو نو ہزار ملین سال درکا ہوں)یہ فکر کرنا کافی ہے کہ نور ہرسال  9500  ارب  کلومیٹر طے کرتا ہے اور 9500 کلومیٹر کونو  ارب سال سے ضرب دیں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کوآزر اور زمین کے درمیان کتنافاصلہ تھا۔

--------------

[1] ۔ آئن اسٹائن:25


اس فاصلہ کو تو چھوڑیں کہ جس کے تجسّم پر عقل قادر نہیں ہے۔جس نے علماء نجوم اور ماہرین فلکیات کی عقل کو ہلا کر رکھ دیا۔وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ کوآزر میں کس قسم کی انرجی موجود ہے کہ جس سے ایسا نور وجود میں آتاہے ۔(1)

ان مطالب پر توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ زمین کی چوڑائی کے بارے میں آئن اسٹائن کا نظریہ غلط تھا۔اب جب کہ آئن اسٹائن کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ لہذا یہ کہنا مناسب ہے کہ وہ ایک جرمن یہودی تھا کہ جس نے اپنی ملّت کے ساتھ ایسی خیانت کی کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اس نے امریکہ کو پیشکش کی کہ وہ ایٹم بم بنانے میں جرمنی سے پہل کرے۔

1932 ء  م یں ہٹلر کو اقتدار و قدرت ملی اس وقت آئن اسٹائن امریکہ میں تھا اور اس نے اعلان کیا کہ وہ جرمنی واپس نہیں جانا چاہتا ۔لہذا جرمن فوجیوں نے اس کے گھر کو توڑ دیا اور اس کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیئے۔برلین کے ایک اخبار میں یہ مقا لہ لکھا گیا جس کاعنوان تھا :

'' ایک اچھی خبر! آئن اسٹائن  واپس نہیں آئے گا''

آئن اسٹائن نے اس خوف سے کہ کہیں جرمن سائنس دان ایٹم بم نہ بنا لیں۔ لہذا اس نے  امریکہ کو پیشکش کی کہ وہ ایٹم بم بنانے میں جرمنی سے سبقت لے حلانکہ پہلے بم دھماکے سے پہلے وہ لوگوں کو اس بم کے خطرات سے آگاہ کرتا تھا۔اس نے اقوام متحدہ سے درخواست کی تھی کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں پر قابو پانے کی کوشش کرے۔(2)

شاید وہ اپنے ملک اور ملّت سے کی گئی خیانت کی وجہ سے اپنی زندگی پر پشیمان تھا ۔اپنھائمر، آئن اسٹائن کے قریبی دوستوں میں سے تھا۔یونیسکو کی جانب سے آئن اسٹائن کی دسویں  برسی کی  مناسبت سے منعقدہ اجلاس میں'' اپنھائمر'' نے کہا:

--------------

[1]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:362

[2]۔ ماہنامہ اطلاعات علمی سال19 شمارہ 3 دی ماہ 1383


آئن اسٹائن اپنی زندگی کے آخری ایّام میں مأیوس اور جنگوں سے پریشان تھا اور اس نے کہا تھا کہ اگر مجھے دوبارہ زندگی ملے تو میں ایک معمولی الیکٹرک میکینک بننے کو ترجیح دوں گا  ۔(1)

دوسرے قول کے مطابق وہ ایک موچی ہونے کو ترجیح دیتا۔لوگ جاپان کے شہر ہیروشیما میں ہونے والے جاپانیوں کے قتل کو فراموش نہیں کر سکتے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس واقعہ میں ایک ماہر فزکس دان کا فارمولا کارفرما تھا۔ان کے لئے یہ مہم نہیں تھا کہ یہ خبر سننے کے بعد اس فزکس دان نے آٹھ دن تک خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا اور گریہ کرتا تھا اور یہ سوچتا تھا کہ اگر وہ دوبارہ جنم لے تو یہ تھیوری اور فارمولا نہیں بناؤں گا اور ایک موچی بننے کو ترجیح دوںگا۔

  آئن اسٹائن کی خطا

اس کا نظریہ تھا کہ دنیا میں کسی چیزکی سرعت نور سے زیادہ نہیں ہو سکتی یعنی کائنات میں سب سے تیز چیز نور ہے۔اب یہ ثابت ہوا ہے کہ ایک ایسی چیز بھی موجود ہے کہ جس کا نام'' تاخنون'' ہے اور جس کی سرعت نور سے بھی زیادہ ہے ۔اگر آئن اسٹائن کا نظریہ صحیح ہوتا تو انسان کو آئندہ زمانے میں بہت سے خلائی سفر سے ناامید ہو ناپڑے گا۔

علاوہ ازیں: روایات اور خاندان نبوت علیہم السلام کے فرمودات کے مطابق ملائکہ جیسے جبرئیل عرش اور کہکشاؤں سے آگے زمین تک ایک لمحہ سے بھی کم مدّت میں سیر کرتے ہیں۔آئن اسٹائن اور اس جیسے دوسرے افرادخاندان نبوت علیھم السلام کے علمی معارف سے دوری کی وجہ سے ان حقائق سے آگاہ نہیں ہیں ۔

--------------

[1]۔ مقدمہ روانشناسی ضمیر ناخود آگاہ:78،علم و ترکیب سے نقل:29


''زومر فلد''نے تھیوری بنائی کہ ایسے ذرات بھی موجود ہیں کہ جن کی سرعت نور سے بھی زیادہ ہے کہ جس میں یہ خصوصیت ہے کہ ان کی انرجی جتنی کم ہوتی چلی جائے ،اس کی سرعت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔آئن اسٹائن کی تھیوری زومز فلڈ کے اس حیران کن مفروضہ کے برخلاف تھی ۔ حیرت انگیز اوراثبات نہ ہونے والی تھیوری اگر ایک بار علمی میدان میں آ جائے تو وہ اپنی کشش نہیں  کھوتی بلکہ مدّتوں مورد توجہ رہتی ہے ۔ موجودہ صدی کے آغاز میں زومر فلد نے جس دن سے اپنی تھیوری پیش کی ،اسی دن سے اب تک فزکس کے متعدد دانشوروں نے نور سے بھی زیادی تیز ذرّات کے بارے میں مطالعہ و تحقیق شروع کی۔لیکن1967 ء م یں بالآخر امریکہ کی کلمبیا یونیورسٹی  کے فزکس کے پروفیسر''جرالڈ فینبرگ'' نے ایک رسالہ کے ذریعہ نور سے بھی زیادہ تیز حرکت کرنے والے ذرّات کے بارے میں بحث کا نیا باب کھولا۔جرالڈ فینبرگ نے ان ذرّات کے لئے ایک نام کا بھی انتخاب کیا اور اسے'' تاخنون'' ( Tachionen)کا نام دیا۔

یہ یونانی زبان کے لفظ تاخیس  ( TACHYS) سے مأخوذ ہے کہ جس کے معنی تیز اور سریع کے ہیں ۔ ایک بار پھر فزکس کے ماہرین نے آواز اٹھائی کہ آئن اسٹائن کی تھیوری کی بنیاد پر کوئی چیز نور سے زیادہ تیز حرکت نہیں کرسکتی ۔ لیکن فزکس میں ایٹم کے بارے میں تحقیق کرنے والے بعض ماہرین اب اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نور سے بھی زیادہ تیز ذرّات موجود ہیں ۔ لیکن آئن اسٹائن کے بعض طرفداروں نے ان کی توجیہات پر اعتراض کئے ہیں۔

  ادینگتون کی غلطی

یہ برطانیہ کا مشہور ماہرطبعیات تھا ۔جو 1944ء میں فوت ہوا ۔ اس نے گزشتہ صدی کے آغاز اور اپنے جوانی کے عالم میں کہا تھا کہ اسّی بار اسی عدد کو خود اس سے ضرب دینے سے دنیا میں موجود ایٹم کی تعداد حاصل ہو جائے گی۔


جس دن اس نے ریاضی کے اس فارمولا کی مدد سے دنیا میں موجودایٹم کی تعداد کا حساب لگایا ،اس وقت منجّمین کا عقیدہ تھا کہ کہکشاؤں کی تعداد تقریباََ ایک ملین کے قریب ہے۔(1)

ارسطو، کپرنیک اور بطلمیوس کی خطائیں

اب ہم علم میں وارد ہونے والے اشتباہات کانمونہ پیش کرتے ہیں۔

ارسطو کا نظریہ تھا کہ سورج مکمل دائرے کی صورت میں زمین کے گرد گھومتا ہے۔کپرنیک کا خیال تھا کہ زمین ایک مکمل مدار کی صورت میں سورج کے گرد گھومتی ہے۔ان دونوں میں تضاد ہے لہذا یہ نہیں ہو سکتاکہ دونوں کے نظریات ٹھیک ہوں ۔بعد میں معلوم ہوا کہ دونوں کے نظریات غلط تھے کیونکہ زمین کا مدار گول نہیں بیضوی ہے۔(2)

اب یہ حقیقت جاننا ضروری ہے کہ'' ارسطو ''مشہور مشّائی حکیم اور اس کے پانچ صدیوں بعد آنے والے بطلمیوس نے تین سو سال قبل مسیح پندرہ صدیاں بعد تک مجموعاَ اٹھارہ سوسال علم نجوم کوپیچھے دھکیل ڈالا۔ارسطو نے بشریت کو اٹھارہ صدیاںجہالت کے اندھرے میں رکھا انسان خود کو تو اس ظلمت کدہ سے نجات نہ دے سکا لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ بشر کی علمی ترقی ارسطو کی وجہ سے اٹھارہ صدیاں رکی رہی۔

--------------

[1] ۔ مغز متفکر جھان شیعہ:367

[2]۔ علم نابخردی:103


علوم زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہیں  جن کی ایک کڑی دوسرے سے ملی ہوتی  ہے۔ ایک علم دوسرے علم کی پیدائش کا سبب ہوتا ہے۔زمین اور دوسرے سیاروں کا سورج کے گرد گردش کرنے میںانسان کے جہل کی وجہ سے اٹھارہ صدیوں تک علم کے دروازے بند ہو گئے جس کا سبب ارسطو تھا اس وقت ارسطو لوگوں میں  اس حد تک مقبول ہو چکا تھا کہ کوئی اس کے نظرئے کو رد نہیں کرتا تھا۔کوئی اس کے بطلان کو ثابت نہیں کرتا تھا۔اقوام عالم کے ذہن میں دو چیزوں نے ارسطو کے نظرئے کو تقویت دی ۔ ایک یہ کہ ارسطو کے پانچ صدیاں بعد آنے والے مصر کے مشہور جغرافیہ دان بطلمیوس نے بھی اس کے  نظریہ کی تائید کی اور ستاروں کی حرکت کے لئے ایک رائے قائم کی کہ سیارے کچھ چیزوں کے گرد گردش کرتے ہیں کہ جو خود بھی متحرک ہیں اور وہ چیزیں زمین کے گرد گردش کرتی ہیں۔لیکن زمین متحرک نہیں بلکہ ساکن ہے۔یعنی بطلمیوس نے سیاروں کی گردش کو زمین کے گرد دو طرح سے ثابت کیا اور کہا کہ وہ کچھ چیزوں کے گرد گھومتے ہیں کہ جو زمین کے اطراف میں ہیں۔ارسطو کے نظرئے کو تقویت دینے کا دوسرا سبب یہ تھا کہ یورپ کے مسیحی کلیسا، ارسطو کے نظریات کو صحیح تسلیم کرتے تھے اور انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ زمین کی حرکت کے بارے میں ارسطو نے جو کچھ کہا وہ سب صحیح ہے۔کیونکہ اگر کائنات کا مرکز یعنی زمین ساکن نہ ہوتی تو خدا کا بیٹا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) اس میں ہر گز ظہور نہ کرتا ۔(1)

--------------

[1]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:303


  ارشمیدس کا اشتباہ

ارشمیدس کہتا تھا کہ دس کے عدد کوتریسٹھ بارخود اس سے ضرب دیں تو اس سے دنیامیں موجود ذرّات کی تعداد حاصل ہو جائے گی ۔ذرّات کے بارے میں ارشمیدد س کا نظریہ تھا کہ ذرّہ، مادہ کا سب سے چھوٹا جزء ہے کہ جو دو حصوں میں تقسیم کے قابل نہیں ہے ۔ اس لئے وہ اسے جزء لایتجزّی کہتا تھا ۔(1)

  تیسری قسم کی ایجادات

ایجادات کی یہ  قسم غیبت کے زمانے میں لوگوں کے زیر استعمال ہیں ۔  جن کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے ۔ اب ایسے آلات کا مستقبل کیا ہو گا؟

ایسی ایجادات کثیر تعداد میں موجود ہیں ۔ لہذا ان کے بارے میں کہیں گے :

علم ودانش کی ترقی،عقلی تکامل ، عقل کی قدرت میں اضافہ اور فکری قوّت کے تکامل سے اہم پیشرفتہ اور جدید وسائل کا ایجاد ہونا واضح سی بات  ہے۔ جن کے ہوتے ہوئے عقب ماندہ اور قدیم وسائل کی ضرورت ختم ہوجائے گی ۔ اس مطلب کی وضاحت کئے دیتے ہیں  کہ موجودہ زمانے میں جن وسائل سے استفادہ کیاجاتا ہے اگر انہیںایک صدی قبل کے وسائل اور ا لات سے مقائسہ کریں کہ جن سے اُس زمانے میں استفادہ کیا جاتاتھا مثلاَ کیارسّی اور ڈول کا پانی کے پمپ سے موازنہ کرسکتے ہیں؟

--------------

[1]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:367


کیا کنویں اور نہر سے پانی نکالنے والی جدید موٹرکے ہوتے ہوئے رسی اور ڈول سے استفادہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟

البتہ اب بھی دنیا کے محروم مستضعف اورغربت کی چکی میں پسے ہوئے بہت سے علاقوں کے لوگ رسی اور ڈول ہی سے استفادہ کرتے ہیں۔یہ متمدن ممالک کی کمزوری ہے کہ جس کی وجہ سے یہ صنعت دنیا کے ہر خطہ کو فراہم نہیں کی جا سکی۔لیکن ظہور کے بابرکت اور نعمتوں سے سرشار زمانے میں ایسا نہیں ہو گا۔

ہم نے  امام زمانہ علیہ السلام کی آفاقی حکومت کی خصوصیات میںبیان کیا کہ ان کی حکومت کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ آنحضرت کی حکومت، عادل حکومت ہو گی۔اس کا  یہ معنی ہے کہ اس دن دنیا کے تمام لوگوں کو  ہر سہولت میسر ہو گی۔

  جنگی آلات سے بے نیازی

ہمیشہ سے جنگ اور خونریزی کے مختلف اسباب ہوتے ہیں۔جن کی وجہ سے ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرکے ایک دوسرے کا خون بہاتی ہے ۔ قتل و غارت کے دو بنیادی اسباب ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے طول تاریخ میں زمین کو لوگوں کے خون سے رنگین کیا گیا۔

1 ۔ ضعف اور کمبودی

2 ۔ حرص

تاریخ کے صفحات پر دقیق نگاہ کرنے سے معلوم ہو گا کہ تاریخ کی اہم جنگوں کے اسباب مذکورہ دونوں موارد ہیں۔کیونکہ ذرخیز زمین،پانی سے لبریز نہریں، تیل اور گیس کے ذخائر اور اسی طرح سونے اور دوسری معدنیات کے ذخائرتک رسائی کے لئے ظالم حکومتیں دوسرے ممالک پر حملہ کر دیتی ہیں تا کہ وہ ان نعمتوں پر قبضہ کر سکیں۔


تاریخ میں بہت سی جنگوں کا دوسراسبب ظالم حکومتوں کا اپنے وسائل میں اضافہ کرنے کی  خواہش ہے یعنی جنگ کی آگ بھڑکانے اور دوقوموں اور ملتوں کو آپس میں لڑانے والے ممالک  کے پاس نہ تو کسی چیز کی کمی ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں کوئی اقتصادی مسئلہ درپیش ہوتاہے۔بلکہ تمام وسائل اور سہولتیں ہونے کے باوجود وہ ان میں اضافہ کے لالچ میں دوسروں کے مال پر نظریں جمائے ہوتے ہیں۔لہذایہ اپنے ملک کو مزید ترقی دینے اور اس کی سرحدوں کو وسیع کرنے کے لئے دوسرے ممالک پر حملہ کر دیتے ہیں۔

اگر تاریخ کی طولانی جنگوں اور لشکر کشی پر نگاہ ڈالیں تو واضح ہو جائے گا کہ اکثر جنگوں کا سبب مال ودولت اور زیادہ مال کا لالچ تھا۔جیسی کہ ہم نے ذکر کیا کہ مذکورہ دونوں موارد کے علاوہ تاریخ میں ہونے والی جنگوں، قتل و غارت اور خونریزی کے دوسرے عامل بھی ہیں کہ جن کی وجہ سے جنگ کے شعلے بھڑکائے گئے اور زمین پر بے گناہ لوگوں کا خون بہایا گیا ۔ مذکورہ دونوں موارد پر غور کریں ۔ ضعف و کمبودی اور اسی طرح حرص ۔ یہ دونوں بیرونی اسباب تھے ۔ بہت سی جنگوں کی بنیاد بیرونی اسباب نہیں بلکہ حکّام کے اندرونی عوامل ہوتے ہیں۔اندرونی اسباب میں سے ایک اہم سبب  نفسیاتی گرہیں  ہیں ۔ جس کی وجہ سے بہت بار مختلف علاقوں میں جنگ چھڑ گئی اور تاریخ کے اوراق کو معصوم لوگوں کے خون سے رنگین کیا گیا۔

انسان کے عقلی تکامل سے ایسے مسائل سے رہائی یقینی ہے ۔ جنگ کے اندرونی و بیرونی اسباب نابود ہوجائیں گے ۔ پھر ساری دنیا میں  امن، صلح اور پیار و محبت کی فضا حاکم ہو گی ۔ لہذا اس وقت ایٹمی و غیر ایٹمی بم دھماکوں کی کیا ضرورت ہو گی؟


  دوسری قسم کی ایجادات

موجودہ ایجادات میں سے دوسری قسم کی ایجادات ایسی ہیں کہ جو منفی اثرات تو نہیں رکھتیں لیکن زمانہ ظہور میں ان سے استفادہ کرنے کا وقت گزر چکا ہوگا ۔ جیسے طبّی آلات اور بعض جنگی سامان کہ جن سے عادلانہ جہاد میں استفادہ کیا جاتا ہے ۔ ایسے وسائل بھی ختم ہو جائیں گے کیونکہ معاشرے کو ان کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ کیونکہ جب معاشرے کے سب افراد صحت مند اور جسمانی و روحانی لحاظ سے سالم ہوں تو پھر تباہ و برباد کرنے والے کسی جنگی سامان اور اسی طرح کسی طبی آلات کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ کیونکہ یہ استفادہ کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ پس جب کوئی بیماری ہی موجود نہ ہو تو تو پھر طبی آلات کی بھی ضرورت نہیں ہو گی ۔ لہذا  انہیں بھی ختم کر دیا جائے گا۔

علم دنیا مشکلات حل نہیں کر سکتا

2 ۔ مختلف قوانین کوحاصل کرنے کے لئے عالم مادّہ میں حاکم مقیاس اور پیمانے (جیسے سیکنڈ، سینٹی میٹر، گرام وغیرہ) حقیقت روح ، جاذبہ، نفس، روح، عقل اور ان جیسے دوسرے اسباب کو درک کرنے کے لئے استعمال نہیں کئے جا سکتے ۔ اس بناء پر ماہرین طبعیات کے نزدیک قوّت جاذبہ کی حقیقت مجہول ہے۔ اسی طرح الیکٹریسٹی ، مقناطیس یا توانائی (چاہے وہ ایٹمی ہو یا حرکتی یا الیکٹرک) کی حقیقت بھی مجہول ہے۔فزکس کے ماہرین اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ہر غیر عادی امر کی حقیقت کو سمجھنے  سے عاجز ہیں حتی کہ وہ حقیقت مادہ کو نہ سمجھنے کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔کیونکہ مادہ کی اصل ایٹم کی طرف ہے اور ایٹم پروٹان ،نیو ٹران اور ایک دوسری قوّت کے مجموعہ کا نام ہے کہ جدید علم ہمیشہ اس کی شناخت سے عاجز رہا ہے۔ (1)

--------------

[1]۔ راہ تکامل:895


۳۔علم طبعیات اب تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکا کہ ہمارے چراغ کا نور جو کہ انرجی ہے ،وہ کس طرح مادّہ میں تبدیل ہو جاتی ہے؟اگر فزکس کے علم کو اس سوال کا جواب مل جائے تو ایک ہی لمحہ میں کئی سال کا علمی سفر طے ہو جائے۔ چونکہ فزکس میں سر الاسرار یہی چیز ہے ۔ خلقت کا عظیم راز بھی اس سوال کے جواب میں مخفی ہے کہ توانائی کس طرح مادّہ میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔ مادّہ کا توانائی  میں تبدیل ہونا ہماری نظر میں عادی ہے ۔ ہم روز وشب کارخانوں ،جہازوں، کشتیوں،  گاڑیوں، گھروں حتی کہ اپنے بدن میں بھی مادہ کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیںلیکن آج تک کوئی مادہ کو انرجی میں تبدیل نہیں کر سکا ۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دنیا میں توانائی کس طرح مادہ میں تبدیل ہوتی ہے۔(1)

4۔ہم چھبیس صدیوں کے بعد ''علم  طبعیات  اورما بعد طبعیات'' کی تمام ترقی کے باوجود فزیکل اور جسمانی لحاظ سے مبداء ِ دنیا کے بارے میں چھ سو سال قبل مسیح میں یونان کے فلسفی کے نظرئے کی حدود سے باہر نہیں نکل سکے ۔ہائیڈروجن ایٹم کے عناصر میں سب سے ہلکا عنصر ہے۔ جس میںایک الیکٹران اور دوسرا  پروٹان ہے۔الیکٹران ، پروٹان کے گرد گردش کرتے ہیں لیکن اب تک فزکس کے کسی بھی نظرئے نے اس کے علمی قانون کو کشف نہیں کیا۔یہ بھی معلوم نہیں کہ کیا پہلے پروٹان وجود میں آیا تھا یا الیکٹران ،یا یہ دونوں ایک ساتھ وجود میں آئے تھے کہ جن میں سے ایک بجلی کی مثبت اور دوسرا منفی توانائی رکھتا تھا؟

اکیسویں صدی سے آج تک اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ، وہ صرف ایک تھیوری ہے۔ہم مبدأ دنیا کی شناسائی کے لحاظ سے ''آناگزیمانسر''کے دور کے یونانی لوگوں سے زیادہ نہیں جانتے۔(2)

--------------

[1]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:344

[2]۔ مغز متفکر جھان شیعہ:112


گز شتہ مطالب پر توجہ کرنے کے بعد اب ہم چند اہم نکات بیان کرتے ہیں۔

۱۔ مختلف علوم ایک دوسرے سے بے ربط نہیں ہیں۔علم کے کسی ایک شعبہ میں  غلطی  نہ صرف علمی ترقی میں ٹھراؤکا سبب بنتی ہے بلکہ علوم کے دیگر شعبوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے کہ جو اس علم سے مربوط ہیں۔

2 ۔ غیبت کے زمانے میں بعض دانشور اور اسی طرح اس زمانے سے قبل بھی بعض دانشور اپنے شاگردوں اور عوام کے درمیان نفوز کر چکے تھے ان کے شاگرد  ان کی عظمت اور شخصیت کی وجہ سے ان کے نظریات کودل و جان سے قبول کرتے تھے۔نسل در نسل ایسا ہی ہوتا رہا ۔شخصیت کا لحاظ کرتے ہوئے شاگرد پہلے شخص کے نظریات کو قبول کرتے اور اسی کو ادامہ دیتے۔کبھی استاد کی شخصیت کا لحاظ اس قدر زیادہ ہوتا کہ اگر کسی کو استاد کی غلطی کا علم بھی ہوتا تو اس میں اظہار کی جرأت نہ ہوتی کہ کہیں دوسرے اس کی مخالفت و سرزنش نہ کریں اور کہیں بے جا جنجال کھڑا نہ ہو جائے کہ جس سے اس کی آبرو ریزی ہو ۔ یوں وہ اپنے صحیح افکار کا اظہار کرنے سے ڈرتے اور اس کا اظہار نہ کرتے ۔ طول تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں۔

3 ۔ کبھ ی بعض تحریف شدہ مذاہب بے بنیاد نظریات اور علوم کی طرفداری اور پشتبانی کرتے اور لوگوں میں اپنے نفوذکی وجہ سے دوسروں سے غلط عقائد کی مخالفت کرنے کی جرأت سلب کر لیتے۔  جیسے کلیسا کی ارسطو کے نظریہ کی حمایت کرنا۔ایسے موارد میں تحریف شدہ  دین اور دانش خیالی نسل در نسل چلتی رہتی ہے جو معاشرے کو ترقی و حقیقت سے دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔

4۔ دانشوروں کی غلطیاں، اشتباہات اور ظالموں کا علم سے سوء استفادہ کرنا اورعلم کی محدودیت جیسے موانع کی وجہ سے علم دنیا کو آئیڈیل معاشرہ اور مدینہ فاضلہ نہیں بنا سکا۔


5 ۔ ظہور کے بابرکت زمانے م یں کہ جب تمام دنیا میں علم وحکمت اور دانش کا چرچاہو گا۔سب صحیح علم کے چشمہ سے سیراب ہوں گے تب نہ صرف دانش خیالی کے اظہار کی کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی بلکہ دنیا کے واحد دین اور حکومت سے دنیا کے تمام لوگ حقیقی، سچے مکتب اور تشیع کی تعلیمات کے زیر سایہ زندگی گزاریں گے ۔پھر باطل اور تحریف شدہ مکتب کا نام ونشان مٹ جائے گا۔اس وقت سب لوگ گزشتہ لوگوں کی غلطیوںسے آگاہ ہوجائیں گے۔ اس بابرکت اور مبارک دن کی آمد پر صحیح علم و دانش کے تابناک انوار کی وجہ سے نور سے فرار کرنے والے چمگادڑوں کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں بچے گی۔

  علم ودانش سوداگروں کا آلہ کار

شک وشبہ کے بغیر علم و دانش ایک ایسا چراغ ہے کہ جس کا نور انسانوں پر پڑنا چاہیئے تاکہ یہ ان کے لئے راہ روشن کر سکے نہ کہ یہ دنیا کے ظالموں اور ستمگروں  کے لئے آلہ کار بنے اور کوئی گروہ اس کے ذریعہ خیانت کرے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تاریخ اس چیز کی گواہ ہے کہ مختلف شعبوں میں علم و حکمت سے سوء استفادہ کیا گیا  اور ا سے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

دانشور اور دانشوروں کی مانند لگنے والے افرد نے دانستہ اور نادانستہ طور پرعلم سے غلط استفادہ کیا یا جہل کی تاریکی کو لوگوں کے سامنے علم کے نور سے متعارف کروایا۔اس کام سے لوگوں کا علم ودانش سے ناامید ہونا واضح تھا ۔ انہوں نے یہ یقین کرلیا کہ دانشور دنیا میں آئیڈیل حکومت قائم نہیں کر سکتے اور اسی طرح دنیا کو مدینہ فاضلہ میں تبدیل نہیں کر سکتے ۔


  علم کی محدویت

لوگوں کا علم سے ناامید ہونے کا دوسرا سبب علم کی محدودیت ہے۔

اس بارے میں ارشاد خدا وندی ہے:

''  وَمَا ُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ ِلاقَلِیلاََ'' (1)

جب تک انسان کا دماغ مکمل طور پر فعال نہ ہواور ذہین ترین فرد بھی دماغ کے کچھ حصہ سے  استفادہ کرے تو انسان کس طرح دنیا کے اسرار و رموز کو سمجھ سکتا ہے؟خاندان نبو ت علیھم السلام  کے فرمودات  میں اس حقیقت کی تصریح ہوئی ہے ۔لیکن مغرب اب کہیں جا کر اس سے آگاہ ہوا ہے۔ جب تک زمانۂ غیبت جاری رہے اور بشر عقلی تکامل تک نہ پہنچے اور دماغ مکمل طور پر فعّال نہ ہو ، تب تک علم کی محدودیت بھی باقی رہے گی۔اس بیان کی روشنی میں محدود علم کس طرح مجہول مطالب اور مشکلات کا جواب دے سکتا ہے ؟ وہ کس طرح تاریک دنیا کو مدینہ فاضلہ میں تبدیل کر سکتا ہے؟

اگر علم مشکلات اور مجہول مطالب کا جواب دینے ہی سے قاصر ہو تو پھر معاشرے میں بہت سے سوال بغیر جواب کے باقی رہ جائیں گے۔لیکن لوگ اس امر کو جان گئے ہیں کہ علم مشکلات کا حل نہیں ہے ۔ بہت سے دانشوروں نے اس حقیقت کا

اعتراف کیا ہے ۔ہم یہاں ان میں سے چند ایک کے اقوال نقل کرتے ہیں۔

۱۔ علم کی حدودمشخص ہیں ۔ یہ ہمیں اشیاء کی کیفیت کے بارے میں نہیں بتا سکتا ۔علم ہم سے کہتا ہے کہ زمین کس طرح سورج کے گرد گردش کرتی ہے انسان کس طرح پیدا ہوتے اور مرتے ہیں ۔ لیکن یہ کیوں کا جواب نہیں دے سکتا۔(2)

--------------

[1]۔ سورۂ اسراء، آیت:85

[2]۔ علم شبہ علم و علم دروغین: 45


  مغرب کی تبلیغات

مغرب خود نمائی اور دنیا کے لوگوں کواپنا فریفتہ بنانے کے لئے مختلف علوم کے بارے میں تبلیغات کر رہا ہے ان کا ایک نمونہ نفسیات ہے۔دنیا کے بڑے ممالک میں نفسیاتی مسائل کو اس حد تک بیان کیا جاتاہے کہ جس سے  وہ  خیال کرتے ہیں کہ انہیں نے اتنی ترقی کی ہے اور اس قدر جدید نکات  حاصل کئے ہیں کہ وہ نفسیات شناسی سے بڑھ کر فرارواں شناسی تک پہنچ گئے ہیں ۔ جو لوگ اب تک اپنے نفس اور وجوس کے اعتبار سے انسان کو نہیں پہچان سکے وہ کس طرح اپنی نفسیات اور اس سے بڑھ کر فراروان شناسی کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟

جی ہاں!موجودہ دنیا ایسی ہی ہے کہ جو مقام ولایت اور نظام کائنات کے سرپرست سے منہ موڑ کر اپنی ایجادات اور حاصل شدہ معلومات کی بناہ پر یہ گمان کرتی ہے کہ انہیں حقیقی راہ مل گئی ہے۔

دنیا کے طاقتور لوگ نہ صرف اب بلکہ قدیم زمانے سے اپنی قوم اور ملت کو جھوٹی تبلیغات کے ذریعہ فریب دیتے رہے ہیں۔انہوں نے چال بازی اور دھوکے سے لوگوں کو سرگرم کیا اور اپنے گندے افکار سے پاک فکر لوگوں کو گمراہ کیا۔انہوں نے انسانوں کو اپنی پاک فطرت کے ذریعہ نجات حاصل کرنے کے لئے بھی نہ چھوڑا۔انہوں نے بہت زیادہ تبلیغات سے دنیا کے لوگوں کے افکار تبدیل کئے ۔حلانکہ وہ اپنی غلطییوں سے آگاہ تھے ۔ ماضی سے حال تک تاریخ ایسے بہت سے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ زمانۂ غیبت کے بزرگترین دانشور بہت سی علمی غلطییوںمیں مبتلا تھے ۔ ارسطواور ارسطو سے پہلے اور بعد میں آج تک بہت سے دانشوروں نے  تاریخ کے صفحات میںنہ بھولنے والی غلطیاں رقم کی ہیں۔


  پوزیدونیوس کا اشتباہ

پوزیدونیوس ایک فلسفی تھا جو سو سال قبل مسیح میں مغربی اسپین میں ایک گروہ کی قیادت کرتا تھا ۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ غروب کے وقت جب بھی سورج بحر اوقیانوس میں غروب ہوتا ہے تو کیا اس میں ''فیش'' کی آواز پیدا ہوتی ہے۔(1)

  کس کی پیروی کریں؟

کیا انسان ایسے دانشوروں کی پیروی کرسکتا ہے کہ جو خیانت کار ہوں اور  جودنیا کے ستمگروں اور ظالموں کے خدمتگار ہوں؟

کیا مغرب کی تبلیغات سے دھوکا کھا کر ان کی مشینی زندگی پر فریفتہ ہونا صحیح ہے؟

قدیم الایّام سے دنیا کے جابروں، ظالموں اور ستمگروں نے خدا کے پیغمبروں کی مخالفت کی اور لوگوںکو ان کی پیروی سے منع کیا۔رسول اکرم کے زمانۂ رسالت اور خاندان اہلبیت  علیہم السلام کے زمانہ  امامت میں کائنات اور تاریخ کے شریر ترین گروہ خاندان نبوت علیہم السلام کی مخالفت کے لئے اٹھا ۔ جس نے لوگوں کو خاندان عصمت علیہم السلام  سے دور کیا اور لوگوں کو رسول اکرم(ص)کے فرمودات لکھنے سے منع کرکے باب علم کو بند کرنے سے جاہلیت کے زمانے کو تداوم دیا۔

انہوں نے لوگوں کو علم نبوت کے چشمہ سے سیراب نہ ہونے دیا ااور اس چیز کی بھی اجازت نہ دی کہ دنیا میں علم ودانش فروغ پائے لیکن پھر بھی ان بزرگوںہستیوں نے علم ودانش کے اسرار اپنے خاص اصحاب کوتعلیم فرمائے۔

--------------

[1] ۔ جھان در  500سال آیندہ:240


کیا انسان کو کسی ایسے رہبر کی پیروی کرنی چاہیئے کہ جس کے سامنے کائنات کے تمام اسرار آشکار ہوں اور جسے دنیا کی تمام موجودات کا علم ہو یا کسی ایسے دانشور کی پیروی کرنی چاہیئے کہ جو خود اپنے جہل و عجزکا اعتراف کرے اور اپنے علم کو اپنے مجہولات کے سامنے بہت کم سمجھے؟مثال کے طور پر'' اسحاق نیوٹن ''کہ جسے دنیا کے بزرگ دانشوروں میںشمار کیا جاتا ہے ، وہ اس بارے میں کہتا ہے :

مجھے نہیں  معلوم کہ میں دنیا کی نظروں میں کیا ہوں؟لیکن جب میں آنکھوں سے خود کو دیکھوں تو میں ایک ایسے بچے کی مانند ہوں کہ جو ساحل سمندر پر کھیل کود میں مشغول ہو اور خوبصورت سنگریزوں کو دوسرے سنگریزوںاور صدف کو دوسرے گوہرسے تمیز دینے میں مصروف ہو لیکن حقیقت کے اقیانوس میںہر طرف بے کرانی و طغیانی ہے  ۔(1)

یہ اعتراف ایک حقیقت ہے ۔جو نہ صرف نیوٹن بلکہ اس جیسے ہر فرد پر صادق آتا ہے ۔ البتہ بہت سے افراد بہت سعی و کوشش اور جستجو سے خوبصوت  اور نایاب صدف کے حصول میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ لیکن ہمارا سوال یہ ہے:

کیاانسان کو کھیل کود میں مصروف بچے کی پیروی کرنی چاہیئے یا کسی ایسے کو تلاش کو کرنا چاہیئے کہ جو دنیا کی خلقت کے اسرار سے آشنا ہو؟ یہ واضحات میں سے ہے کہ راہ سے بھٹک جانا گمراہی کا سبب  بنتا ہے اور گمراہی کا نتیجہ تباہی وبربادی ہے۔(2)

--------------

[1]۔ فکر، نظم ، عمل:93

[2] ۔ مغز متفکر جھان شیعہ :302


 آٹھواں باب

خلائی سفر

    خلائی سفر

    کرۂ زمین ایک قدرت کے ماتحت

    کہکشاں    سو بیلین دم دار ستارے    دو سو پچاس بیلین سورج    کھربوں کہکشاں

    دنیا میں تمدّن

    کہکشاؤں میں تمدّن

    دور حاضر میں خلائی سفر

    دورِ حاضر کے خلائی سفر میں لاحق خطرات

    خلائی سفر کا امکان

    اہلبیت اطہار علیہم السلام کاخلائی سفر

    آسمانوں تک رسائی

    ظہور کا زمانہ اورخلائی سفر

    روایت میں موجود نکات

    آسمانی مخلوقات سے آشنائی

    مافوق مادّہ قدرت سے استفادہ


خلائی سفر

ظہور کے ترقی یافتہ زمانے میں خلائی سفر کے بارے میں بہت بہترین اور دلچسپ بحث ہے ۔ قرآن اور خاندان عصمت و طہارت علیھم السلام کے فرامین میں خلائی سفر کے بارے میں بہت اہم نکات اوراشارات موجود ہیں ۔ ظہورکے زمانے میں آسمانوں اور عامل ہستی کی فضاؤں میں اوج لینے سے پہلے زمانۂ ظہور میں خلائی سفر کی اہمیت کو آشکار کرنے کے لئے کہکشاؤں، سحاب اور آسمان کی وسیع فضا کے بارے میںاہم نکات بیان کرنا ضروری ہے تاکہ ظہور کے زمانے میں خلائی سفر کی اہمیت سے آگاہ ہو سکیںاور یہ جان سکیں کہ علمی تکامل اور پیشرفت کے زمانے میں انسان کو نصیب ہونے والا خلائی سفر بہت عجیب ہو گا۔

یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے کہ آج استعماری ممالک عصر خلاء یا تسخیرخلاء کے عنوان سے جو کچھ بیان کر رہے ہیں وہ دنیا کی عظمت کو اَن دیکھا کرنے کے مترادف ہے۔میرے خیال میں ستمگر ممالک چاند پر ہوٹل میں کمرہ بک کروانے کے سلسلہ میں جو تبلیغات کر رہے ہیں یا جو خلاء کو تسخیر کرنے کا نعرہ لگا رہے ہیں،ان میں سے زیادہ تر دنیا والوں کے دماغ پر اپنی برتری ثابت کرنے ، خود نمائی اور دنیا کے لوگوں کے افکار پر تسلط جمانے کے لئے ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا اس قدرعظیم اور وسیع ہے کہ مادّہ سے بڑھ کر کوئی اور قدرت ہی اس تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔کیا چاند پر پہنچنا خلاء کو تسخیر کرنا ہے؟

  کرۂ زمین ایک قدرت کے ماتحت

ہم نے جو کچھ ذکر کیااس سے ممکن ہے کہ بعض قارئین کرام حیران ہوں اور اس بات کا یقین نہ کریں۔لہذا ہم اس مطلب کی وضاحت کے لئے اس نکتہ کا اضافہ کرتے ہیں: غیبت کے زمانے میں امام زمانہ علیہ السلام کے غیبی جلوے اس قدر ہیں کہ بڑے بڑے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ مافوق طبیعت کوئی قدرت موجود ہے ، جو ان کے رفتار و کردار کی مراقب ہے۔ دنیا میں جاسوس ایجنسیاں جیسے مافیا سیا اور اسی طرح بڑے ممالک کی ایجنسیاں جانتی ہیں کہ ایک بزرگ مادی قدرت ان کے اعمال کو دیکھ رہی ہے۔


ان میں سے بہت سے افراد نے اس حقیقت کا اعتراف بھی کیا ہے۔اب آپ اس مطلب پر توجہ کریں:

حیرت انگیز طور پر وجود میں آنے والی اشیاء کے بارے میں تحقیق کرنے والے دانشوروں اور محققین کو یقین ہے کہ زمین کا نظام کسی قدرت کے زیر نگرانی اور ایک منظم سسٹم کے تحت چل رہا ہے ۔ وہ ایسی قوّت ہے کہ جس کی ماہیت اب تک ہم پر واضح نہیں ہے ۔ یہ دنیا اسی کے زیر نظر ہے ۔ بہت سے سرکاری اور غیر سرکاری دانشوروں نے اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔(1)

یہ جاننابھی ضروری ہے کہ بڑے بڑے ممالک یہجان چکے ہیں کہ نہ صرف تمدّنی ترقی اور پیشرفتہ علم تک پہنچنے کے لئے بلکہ کہکشاؤں اور فضاؤں تک رسائی حاصل کرنے کیلئے  بھی مافوق طبیعت اور مادّہ سے بڑھ کر کسی اور قدرت کی ضرورت ہے۔صرف اسی صورت میں پہنچ سے دور ستاروں ،نورانی خلاء اور کہکشاؤں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور اسی صورت میں زمین پر علم و تمدن کی پیشرفت اور تکامل ممکن ہو سکتا ہے۔اسی لئے انہوں نے عالم غیب تک پہنچنے کی کوششیں کیں اور اس کے لئے انہوں نے اپنے معروف ترین ماہریں جیسے آئن اسٹائن اور ڈاکٹر جساپ سے مدد طلب کی۔لیکن چونکہ وہ شہر علم میں داخل ہونے کے لئے بھٹکے اور راہ سے گمراہ لوگوں سے مدد مانگ رہے تھے لہذاآ ئن اسٹائن اور ڈاکٹر جساپ نے انہیں جو برنامہ فراہم کیا ،انہیں اس میں شکست کا سامناکرنا پڑا۔اس برنامہ میں جن افراد کو مأمور کیاگیا ، وہ یا تو پاگل ہو گئے یا پھر چل بسے۔آئن اسٹائن نے اس کام سے ہاتھ کھینچ لیا اور ''ڈاکٹر جساپ''کسی کے ہاتھوں پراسرار طور پر مارا گیا۔ظہور کے پیشرفتہ زمانے میں آسمانوں تک رسائی کے عظیم مسئلہ کے لئے خلاء اور آسمانوں کی وسعت اور کائنات کی عظمت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

--------------

[1]۔ عجیب تر از رؤیا:356


  کہکشاں

زمین ایک سیارہ ہے کہ جو دوسرے سیاروں کی طرح سورج کے گرد گھومتی ہے۔اس کا قطر12750 کلو م یٹر ہے اور یہ سورج سے150 مل ین کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اب تک نو سیاروں کی شناخت ہو چکی ہے۔سورج اور اس کے سیارات مل کر منظومہ شمسی تشکیل دیتے ہیں ۔منظومہ شمسی میں  تمام سیاروں کی حرکت کو اپنے تحت قرار دیتا ہے اور وہ مختلف سرعت سے اپنے اپنے مدار مین گردش کرتے ہیں۔مدار ایسے خط کا نام ہے کہ جس میں ہر سیارہ سورج کے گرد گھومتا ہے ۔ منظومہ شمسی میں سیارات سورج سے روشنی اور حرارت لیتے ہیں سورج زمین سے ایک ملین گنا بڑا ہے۔ منظومہ شمسی کہکشاں کا چھوٹا سا حصہ ہے کہ جو800 ہزار کلو م یٹر فی گھنٹہ کی اسپیڈ سے230 مل ین سال میں ایک بار اس کہکشاں کے مرکز کے گرد گھومتا ہے ۔منظومہ شمسی کا سورج سے کہکشاں کے مرکز تک کا فاصلہ28 ہزار نور ی  سال ہے ۔ کہکشاں کئی ارب ستاروں سے تشکیل  پاتاہے جن میں سے ایک سورج ہے ۔ جو زرد ستارے میں شمار ہوتا ہے۔(1)

یہ کہکشاں دیگر کروڑوں،اربوں کہکشاؤں کے مقابلے  میں بادل کے ایک چھوٹے سے ٹکرے  کی مانند ہے۔ ان کہکشاؤں کا مجموعہ ہماری دنیا تشکیل دیتا ہے ۔ اس دنیا کے کامل تصور کے لئے یہ جاننا کافی ہے کہ کہکشاؤں کی تعداد زمین پر موجود ساحلوں پر ریت کے ذرّات کے مجموعہ سے زیادہ ہے۔(2)

--------------

[1]۔ شگفتی ھای کاوش جھان:۲۳۰

[2]۔ دوہزار دانشمند در جستجوی خدا:13


  سو بیلین دم دار ستارے

منظومہ شمسی کے گرد سو بیلین دم دار ستاروں سے تشکیل پانے والا وسیع ابر پھیلا ہوا ہے۔ جسے اس کے دریافت کرنے والے ، یان آئو رٹ، کے نام سے ابر آؤرٹ کانام دیا گیاہے ۔خوش قسمتی سے ستاروں کا یہ جھرمٹ ہم سے بہت فاصلے پر واقع ہے۔سورج سے ان کی دوری تین ٹریلین کلومیٹر ہے۔ بالفاظ دیگر ان کا سورج سے فاصلہ زمین کا سورج کے فاصلہ سے بیس ہزار گنا زیادہ ہے۔(1)

  دو سو پچاس بیلین سورج

کہکشاں  کے نطام میں دو سو پچاس بیلین سورج موجود ہیں اگر اسے طے کرنا چاہیں تو اس کی لمبائی کو ایک بیلین کلو میٹر فی گھنٹہ کی سرعت سے طے کرنے کی صورت میںبھی ایک لاکھ سال درکار ہوں گے۔(2)

--------------

[1]۔ جہان در 500 سال آئندہ:494

[2]۔ جہان در 500 سال آئندہ:520


  کھربوں کہکشاں

کائنات میں کھربوں کہکشاں پھیلے ہوئے ہیں ایک کہکشاں کا قطر ایک لاکھ نوری سال کے برابر ہے جس میں سوکھرب سے زائد ستارے ہوتے ہیں ۔ کائنات کی خلاء اس قدر وسیع ہے کہ  اگر ستاروں، منظومہ اور کہکشاؤں کو تشکیل دینے والے عناصر کو اس خلاء سے مقائسہ کریں کہ جس میں کہکشاں ہیں تو یہ اس قدر ناچیز ہے کہ جن سے صرف نظر کیا جاسکتا ہے۔

اس ناقابل یقین وسعت کے مقابلہ میں ہمارے کہکشاں ، منظومہ زمین کہ جس پر ہم زندگی بسر کر رہے ہیں، خود ہم اور ہمارے متعلق دوسری چیزیں ۔غالباََ یہ سب ایمان میں اہمیت کی حامل ہیں جو بہت اضطراب کا باعث ہے ۔ انہیں دیکھ کر خود  پر طنز کرنے کو دل چاہتا ہے کہ اقیانوس کے سامنے ایک قطرے کی کیا اہمیت ہے۔(1)

  دنیا میں تمدّن

''ڈاکٹر شپلی'' کا کہنا ہے کہ کائنات میں کم از کم سو بیلین مسکون سیارے موجود ہیں ۔ان میں سے اکثر کے رہائشی ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ان کے علاوہ دیگر ماہرین فلکیات جیسے داکٹر اتزاسٹرو،کارل ساگان،فرنیک اور کچھ دیگر دانشوروں نے  1961 ء میں مغربی ورجینیا میں گرین بنک کے مقام پر ایک دوسرے سے ملاقات کی اور دہلا دینے والانظریہ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس وسیع و عریض کائنات میں چالیس سے پچاس ملین کرّات موجود ہیں کہ جن کے رہائشی کسی طریقہ سے ہم سے رابطہ کرنے یا زمین سے پیغام سننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

--------------

[1]۔ نگاہی بہ سر نوشت جھان، انسان تاریخ:27


فرانس کے ایک دانشور ''موریس شاتلن''(جو پہلے امریکہ میں خلائی امور کا ماہر تھا )نے تین بار ریڈیو علائم موصول کئے ہیں کہ جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ احتمالاََ یہ علائم خلاء سے عاقل موجودات کی جانب سے بھیجی گئی ہیں۔ایسا لگتاہے کہ دوسری دنیابھی یہ کوشش کر رہی ہے کہ اس ذریعہ سے دوسرے سیاروں میں علم فلکیات کے دانشوروں کو اپنی موجودگی کا پتہ دے۔

دو روسی خلائی ماہرین'' تروتسکی اور کارداشف'' نے چند سال کی کوششوں سے چار ریڈیو مراکز  میں خلاء سے بھیجی گئی یہ پراسرار علائم موصول کیں۔یہ علائم کسی خلائی شٹل کے ذریعہ حاصل نہیںہوئے ۔کیونکہ یہ پیغام خلاء میں پہلی شٹل بھیجنے سے پہلے کشف ہوئے تھے۔(1)

اب تک اسی طرح سے 113 پیغام اور ارتباطی وسائل کے ذریعہ دو ہزار سے زائد پیغام موصول ہو چکے ہیں۔اس میں  سے کسی طرح کا شک وشبہ  نہیں ہے کہ خلاء دیگر کرّات اور دوسری دنیا سے پیغامات ارسال ہوئے ہیں۔لیکن ابھی تک دقیق معلومات نہیں ہیں  کہ ان پیغامات میں کیاکہا گیا ہے اورو ہ کہاں سے بھیجے گئے ہیں ۔  لیکن ممکن ہے کہ حکومتی ادارے ان اسرار سے واقف ہوں لیکن ان  سے پردا نہ اٹھانا چاہتے ہوں۔ (2)

  کہکشاؤں میں تمدّن

اس بناء پر آج کسی کو شک و شبہ نہیں ہے کہ کائنات میں زمین کے علاوہ دوسری دنیا میں بھی زندگی موجود ہے۔جب گیارہ ماہر دانشور1961 ء میں مغربی ورجینیا میں گرین بنک کے مقام پر منعقدہ کانفرنس میں شرکت کے بعد ایک دوسرے سے جدا

--------------

[1]۔ گمشدگان مثلث برمودا:192

[2] ۔ بشقاب پرندہ:212


ہونے لگے تو انہوں نے متفقہ طور پر قرار داد پیش کی کہ کچھ فارمولوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کہکشاں میں پچاس ملین سے زائد تمدّن اور ثقافتیںموجود ہیں۔

ناسا  کے ایک شعبہ کے سربراہ راجرآمک گوان نے ان نظریات کے مطابق جدید ترین خلائی پیشرفت کی ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہکشاں میں فرہنگ و ثقافت کی تعداد 135 سے زائد ہوچک ی  ہے۔(1)

  دور حاضر میں خلائی سفر

کائنات کی کشادگی اور خلاء کی وسعت پر غور کرنے سے کیا چاند اور مریخ کے سفر کو خلاء تسخیر کرنے کا نام دے سکتے ہیں؟

دنیا کی استعماری طاقتیں اپنی ظالمانہ حکومتوں کو استحکام ودوام دینے کے لئے اور ان کی بقاء اور لوگوں پر اپنا منحوس سایہ برقرار کرنے اور دنیا کے لوگوں کا دل جیتنے کے لئے ان کے سامنے اپنے خلائی سفر کو ایسے پیش کرتے ہیں کہ جیسے انہوں نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہویا کوئی غیر معمولی کام انجام دے دیا ہو۔یوں وہ اپنے منفی اور استعمارانہ اہداف دنیا پرلاگو کرتے ہیں اور دنیا والوں کے دلوں میں رعب و وحشت ایجاد کرتے ہیں تا کہ ان کے منفی برناموں کے سامنے سر تسلیم خم کر لیا جائے۔

حلانکہ ا یسی صورت  حال میں بھی وہ جانتے ہیں کہ خلائی سفر اور دور دراز ستاروں تک پہنچنے کے لئے ایسی قدرت سے بہرہ مند ہونا ضروری ہے کہ جو زمانے کی قید سے خارج ہو اور نور کی سرعت سے بھی زیادہ تیز ہو۔وہ خود بھی جانتے ہیں کہ جب پوری کائنات پر علم و حکمت کا غلبہ ہو گا اور بشر حقیقی و واقعی تکامل اور فرہنگ  وتمدّن تک پہنچ جائے گا تو وہ دورِ حاضر کی روش پر ہنسیں گے۔

--------------

[1]۔ بازگشت بہ ستارگان:40 


دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اب نہ صرف دنیا کی استعماری طاقتیںاس حقیقت سے باخبر ہیں ۔بلکہ وہ خود بھی صراحتاََ یہ نکتہ بیان کرتے اور اس کا اعتراف کر تے ہیں ۔اب ہم جو بیان کرنے جا رہے ہیں ،اس سے یہ مطلب بخوبی واضح ہو جائے گا۔

آج کا خلائی سفر بہت مہنگاہے امریکہ کی خلائی شٹل اور روس کا خلائی اسٹیشن میر کا مصرف بہت زیادہ ہے۔کیونکہ خلاباروں کو جس چیز کی بھی ضرورت ہو مثلاََکھانا پینا،آب و ہوا وغیرہ، انہیں یہ سب کچھ زمین سے اپنے ہمراہ لے جانا پڑتاہے۔ اب ایک کلو گرام کو زمین سے خلاء میں منتقل کرنے کا خرچہ دس ہزار ڈالر ہے مثلاََ1993 ء م یں خلائی ٹیلی اسکوپ ہابل (  Hubble) کو تعمیر کرنے میں پانچ سو ملین ڈالر کی لاگت آئی ۔یہ ان اخراجات کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔آئندہ آنے والے ہماری  مدیریت کے ان برناموں پر ہنسیں گے۔(1)

وہ بخوبی جانتے ہیں کہ خلائی سفر پر مصرف ہونے والے اتنے اخراجات کو دیکھ کر آئندہ نسلیں تعجب کریں گی۔اب خلائی سفر کے اخراجات کے بارے میں دو اور بیانات ملاحظہ کریں  اور اس کے بعد ہم ایک اہم نکتہ بیان کریں گے:امریکی حکومت نے ''آپولو11 '' کو چاند پر پہنچانے کے لئے پانچ مل ین سے زیادہ خرچ کئے یہ اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ جنہیں دیکھ کر انسان حیران ہو جاتا ہے۔

''آپولو''کے سفر کا خرچہ1991 ء کی خلیج فارس کی جنگ سے زیادہ تھا۔کیونکہ اس وقت چاند کا اس سے زیادہ سستا سفر دریافت نہیں ہوا تھا۔تقریباََتمام صاضب نظر شدّت سے ،آپولو، کے سفر کے نتائج کی امید کر رہے تھے ۔ میں نے  خود بھی چاند پر پہنچنے کی خبر سننے کے بعد ڈیلی ٹیلی گراف میں بہت مقالات شائع کئے اور ان تمام میں چاند پر اسٹیشن ایجاد ہونے کے قریب الوقوع ہونے کی پیشگوئی کرتا حتی کہ چاند کے ہوٹل میں دو تختوں کے ایک کمرے میں رہائش کے لئے بھی نام درج کروایا۔ (2)

--------------

[1]۔ جہان در 500 سال آئندہ:426

[2]۔ شگفتی ھای کاوش جھان:279


یہ جلد بازی میں اخذ کیاگیا نتیجہ تھا چاند کی سطح پر خلا بازوں نے جو امور انجام دئے ہمیں ان کا بھی علم نہیں تھا۔ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ چاند سے واپسی پر وہ خصوصی صنایع میں وارد ہو جائیں گے۔میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ امریکہ کی ہر خلائی شٹل کی پرواز کا خرچہ کئی سو ملین ڈالر ہے اور خلاء میں ایک کلو گرام کو منتقل کرنے کا خرچہ دس ہزار ڈالر ہے۔(3)

  دورِ حاضر کے خلائی سفر میں لاحق خطرات

اب تک ہم نے استعماری حکومتوں کے بے نتیجہ اخراجات کے بارے میں جو کچھ نقل کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اس بات سے آگاہ ہیں کہ ان کی ناتوانی پر آئندہ نسلیں حیران ہوں گی اوربے ساختہ ہنسیں گی۔اب اس اہم ترین نکتہ پر

توجہ کریں:

اس زمانے میں چاند تک نہ کہ کہکشاؤں اور ستاروں تک پہنچنے کے لئے خلائی سفر کے اخراجات استعماری حکومتوں کی ناکامی کے عوامل میں سے ایک ہے۔ کیونکہ کچھ دیگر امور بھی ہیں کہ جو خلائی سفر میں ان کی شکست کے عامل ہیں۔ان میں ایک دورِ حاضر کے خلائی سفر میں لاحق خطرات ہیں۔ظالم اور استعماری حکومتیں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے کروڑوں انسانوںکی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔خلائی سفر میں انجام دیئے جانے والے خطرناک امور اس چیز کے گواہ ہیںکہ وہ دنیاکے لوگوں کی زندگی کو بے معنی سمجھتے  اور کروڑوں لوگوں کی زندگی کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ اس کی مزید وضاحت کے لئے اس بیان پر غور کریں؛

--------------

[3]۔ جہان در 500 سال آئندہ:279


ناسا نے1997 ء م یں کاسینی نامی شٹل بتّیس کلو گرام پلاٹینیم خلاء میں بھیجی ۔ناسا نے اس کے احتمالی خطرات کی بھی تصدیق کی تھی۔اگر کاسینی سفر کے دوران پھٹ جاتی تو دنیا میں  پانچ ارب افراد  انشعاعوں سے متأثر ہوتے۔ پلاٹینیم سرطان کی افزائش کا ایک عامل سمجھا جاتا ہے حتی اگر انسان اس مادہ کے ایٹم کی کچھ مقدار سونگھے تو آنکھ جھپکنے ہی سے اس کی افزائش ہو جاتی ہے۔

''بروس گاگون''خلاء میں تسلیحات اور ایٹمی توانائی سے مقابلہ کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ فن غیر ضروری ہے اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو یہ بہت بڑی تباہی کا باعث بن سکتاہے ۔کیا ایسے برناموں کو انجام دینا انسانی معاشرے کی خدمت ہے یا خیانت؟

یہ بہت بڑا جرم ہے قابل غور نکتہ یہ ہے کہ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ اگر فرضاََ ان میں کامیابی ہوجائے تو ہم کہکشاں میں مشکل سے کئی ملین ستاروں میں

سے صرف دس یا بارہ ستاروں کا سفر کر سکتے ہیں۔

  خلائی سفر کا امکان

کائنات کی کشادگی اور خلاء کی وسعت پر غور کرنے سے کہکشاؤں کے سفر کے امکان کا انکار نہیں کر سکتے۔اگرچہ وہ ہم سے کئی نوری سال کی دوری پر ہیں۔اس مطلب کی وضاحت کے لئے ایک مقدمہ ذکر کرکے اصل بحث کی طرف آئیں گے۔

کیا علمی روش کے نقطہ نگاہ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اب تک جس انسان کو بھی دیکھا ہے وہ موجودہ صورت میں ہی تھا۔پس اب تک انسان جس صورت کا مشاہدہ کر رہا ہے اس کے علاوہ کسی اور صورت کا آنا محال ہے؟

البتہ ایسا نہیں کہہ سکتے کہ جب ہمارے مشاہدات اور تجربات دنیا کے ایک حصہ یاایک زمانے تک منحصر ہوں تو کسی صورت میں بھی ایسا حکم صادر نہیں کر سکتے ۔ جابر بن حیان کہتا ہے؛


دنیا میں کسی ایسی موجود ومخلوق کا ہونا ممکن ہے کہ جس کا حکم ان چیزوں سے مختلف ہو کہ جنہیں ہم نے اب تک دیکھا ہے یا جن سے اب تک ہم آگاہ ہیں۔ کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کے وجود کی بناوٹ ایسی ہے کہ جو تمام موجودات کی شناخت اور ان تک رسائی کی قدرت نہیں رکھتے۔جابر بن حیان نے مذکورہ نمونہ لا کر اس کلی صورت کی طرف ہماری رہنمائی کر دی ۔ کوئی یقین سے یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ غیر مشہور مخلوق بالکل مشہور موجودات و مخلوقات کی مانند ہیں یا جو کچھ ماضی میں موجود تھا یا جو مستقبل میں وجودمیں آئے گا ،وہ بالکل دورِ حاضر میں موجود اشیاء کی مانند ہوگا۔کیونکہ انسان وقت اوراحساس کے لحاظ سے ناتوں اور محدود مخلوق ہے۔

اسی طرح یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کیونکہ دنیا کے آغاز ِ پیدائش کے بارے میں علم نہیں ہے پس دنیا ازلی اور بے آغاز ہے۔میرے خیال میں جابربن حیان نے ان عبارات میں تجربی روش کو دقیق ترین ممکن وجہ سے مشخص کیا ہے۔کیونکہ وہ کہتا ہے کہ اگرچہ مشہور موجودات کا حکم غیر مشہور موجودات پر کاگو کرنا درست نہیں ہے ۔ لیکن اس چیز کا انکار نہیں کرنا چاہیئے ۔کیونکہ ممکن ہے کہ غیر مشہور اشیاء ہمارےتجربہ و مشاہدہ میں نہ ہوں۔پس ان کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

کیونکہ اس سے انسان حسّ کے محصور میں محدود ہو کر رہ جائے گا کہ جس سے بہت سی ایسی اشیاء کا انکار لازم آئے گا کہ جو  یقیناََ موجود ہیں۔ایسے لوگ بھی ہیںکہ جنہوں نے ابھی تک مگرمچھ نہیں دیکھا ۔ پس اگر کوئی ان سے کہے کہ دنیا میں ایک ایسا جانور ہے کہ جو کھاتے وقت اپنا اوپر والا جبڑا ہلاتا ہے ، کیا وہ صرف اس بنیاد پر اس حیوان کا انکار کر سکتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے ایسا حیوان نہیں دیکھا ، لہذا وہ موجود نہیں ہے ۔ پس کوئی بھی نہ دیکھنے کی بنیاد پر کسی موجود کا انکار نہ کرے بلکہ جب تک اسے اس کے وجود یا عدم پر کوئی دلیل نہ مل جائے تب تک  اپنی رائے کے اظہار سے پرہیز کرے۔


اس بناء پر کسی چیز کے نہ ہونے کا حکم اس کے مورد مشاہدہ نہ ہونے یا اس بارے میں کسی خبر کے نہ ہونے کی بناء پر نہیں کرنا چاہیئے اسی طرح جس چیز کے بارے میں دوسروں کی خبروں سے اطلاع حاصل ہو اور اسے خود مستقیماََ مشاہدہ نہ کیاہو ،ایسی چیز کا انکار بھی استدالی روش میں لا علمی کو بیان کرتا ہے۔(1)

اس بناء پر اگرچہ چاند اور مریخ کے سفر کو خلاء تسخیر کرنے کا نام نہیں دے سکتے کیونکہ خلاء اور آسمان کی کشادگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے خلاء کو تسخیر کرنا قرار نہیں دے سکتے ۔ جابر بن حیان کے استدلال کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس طرح معاصر انسان کسی ایسی چیز تک رسائی حاصل نہیں کر سکا پس کوئی اور مخلوق بھی اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی ۔ جیسا کہ جابر بن حیان نے بھی کہا کہ ایسا استدلال باطل ہے۔

  اہلبیت اطہار علیہم السلام کاخلائی سفر

جب لوگ بطلمیوس کی ہیئت اور اس کے نظرئے کے معتقد تھے کہ آسمانوں کا سفر محال ہے ،اس زمانے میں بارہا اہلبیت  کا خلائی سفر واقع ہوا ۔ حضرت امیر المؤمنین علی  علیہ السلام ، امام سجاد علیہ السلام  اور دوسرے آئمہ اطہارعلیہم السلام کے سفر کے کچھ نمونے کئی روایات میں نقل ہوئے ہیں۔رسول اکرم کی معراج خود ایک خلائی سفرہے۔ آنحضرت کی معراج پر ہم سب کا عقیدہ ہے۔لوگوں کے لئے یہ سفر اس زمانے میں نقل ہوئے ہیں کہ جب دنیا پربطلمیوس کا نظریہ حاکم تھا۔اس زمانے میں موجود جہالت پر غور کریں تو معلوم ہو گا اس زمانے میں  ایسے بہت سے سفر مخفی رکھے گئے۔ اگر اس زمانے میں اہلبیت کے لئے مطلب کو ظاہر کرنا ممکن ہوتا تو ہم تک ایسے اور بہت سے نمونے پہنچتے۔

--------------

[1]۔ تحلیلی از آرای جابر بن حیان :59


فرض کریں کہ اگر کسی کو اہلبیت علیہم السلام کے خلائی سفر میں شک ہو تو وہ اس نکتہ پر توجہ کرے کہ خدا کی مشیت یہ ہے کہ ہر زمانے میں اپنی حجت کواس زمانے میں معمول او ر موجود قدرت سے زیادہ قدرت دے۔اس مشیت کی رو سے یہ واضح ہے کہ جب پوری کائنات میں اصلاح و تکمیل کا زمانہ ہو تو پھر اس کی زیادہ ضرورت کا احساس ہو گا ۔ یعنی اگر کوئی تمام دنیا کو تسخیر کرنا چاہے تو وہ دنیا میںموجود اور رائج قدرت سے زیادہ قدرتمند ہونا چاہیئے۔ تاریخ میںکہیں بھی یہ موجود نہیں ہے کہ دنیا میں کسی دانشور نے کسی پیغمبر کو علمی مطالب میں مغلوب کیا ہو۔اگر خدانے اپنے رسول اکرم(ص) کو شمش یر اور قرآن کے ساتھ بھیجا تووہ اپنی آخری حجت کو بھی قرآن ، برہان اور آنحضرت کے قیام کے زمانے میں رائج قوّت سے زیادہ قدرت کے ساتھ بھیجے گا۔وہ ایسی قوّت وقدرت ہو گی کہ جو اس زمانے کی  تمام قوّتوں کو مغلوب کر دے گی۔اب اس روایت پر غور کریں۔

'' قال المتوکل لابن السکیت :سل ابن الرضا مسألة عوصاء بحضرت ، فسأله فقال: لِمَ بعث اللّه موسی بالعصا و بعث عیسی بابراء الأکمه والأبرص و احیاء الموتی،و بعث محمداَََ بالقرآن والسیف ؟

فقال ابو الحسن  : بعث اللّه موسی  بالعصا والید البیضاء فزمان الغالب علی اهله السحر ، فاتاهم من ذالک ماقهر بسحرهم و بهرهم و اثبت الحجّة علیهم

بعث عیسی بابراء الأکمه والأبرص و احیاء الموتی باذن اللّه تعالٰی  فزمان الغالب علی اهله الطبّ، فاتاهم من ابراء الأکمه والأبرص و احیاء الموتی باذن اللّه فقهرهم و بهرهم و بعث محمداََ(ص) بالقرآن والس یف فزمان الغالب علی ا ھ ل ہ السیف والشعر فاتا ھ م من القرآن الزا ھ ر والسیف القا ھ ر ما ب ھ ر ب ہ شعر ھ م عو ب ھ ر سیف ھ م ۔۔۔۔ '' (1)

--------------

[1]۔ بحارالانوار:۵۰ ص۱6۵


متوکل نے ابن سکّیت (جو اس زمانے کا بزرگ دانشور تھا) سے کہا کہ میرے سامنے حضرت امام ہادی علیہ السلام سے ایک مشکل مسئلہ پوچھو۔ابن سکّیت نے

امام رضا علیہ السلام سے کہا:

خدا نے کیوں موسیٰ  علیہ السلام  کو عصا، عیسیٰ  علیہ السلام  کو اندھوں کو بینائی دینے، برص کے مریضوں کو شفا اور مردوں کو زندہ کرنے اور محمد(ص)  کو قرآن کے ساتھ رسول بنا کر بھ یجا؟

امام ہادی علیہ السلام  نے جواب میں فرمایا :

خدا نے موسی علیہ السلام کو عصا اور سفید ہاتھ کے ساتھ مبعوث کیا کہ جس سے سفید نور طالع ہوتا تھا کیونکہ اس زمانے  کے لوگ سحر میں ماہر تھے ،م وسی علیہ السلام اس قدرت کے ساتھ ان کی طرف گئے تا کہ ان ے سحر کو نابود کریں ، ان پر غالب آئیں اور ان پر دلیل کو ثابت کریں۔عیسیٰ علیہ السلام  کو اندھوں کو بینائی دینے، برص کے مریضوں کو شفا دینے اور مردوں کو خدا کے اذن سے زندہ کرنے کے ساتھ مبعوث کیا کیونکہ اس زمانے کے لوگ طبّ میں غالب تھے۔ پس وہ اندھوں اور برص کے مریضوں کو شفا یاب کرنے اور مردوں کوخدا کے اذن سے زندہ کرنے کے ساتھ ان کی طرف گئے تا کہ انہیں مقہور کرکے ان پر غالب آئیں ۔ حضرت محمد(ص) کو قرآن اور شمش یر کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا گیا جب کہ اس   زمانے کے لوگ شمشیر و شعر میں ماہر تھے۔ پس وہ نورانی قرآن اور قاہر شمشیر کے ساتھ ان کی طرف گئے تا کہ ان کے ذریعہ ان کے شعر پر غالب آئے اور اور ان کی شمشیر پر کامیاب ہو۔

اس روایت پر توجہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اگر موجودہ زمانہ خلاء اور خلاء کو تسخیر کرنے کا زمانہ کہلاتاہے تو حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کے پاس جدید خلائی وسائل ہوں گے کہ جن کے سامنے دور حاضر کی خلائی شٹل بے ارزش ہو گی۔


  آسمانوں تک رسائی

اہلبیت اطہار علیہم السلام کی حکومت کا تشکیل پانا اور آنحضرت کی عظیم قدرت کا ظہور نہ صرف دنیا کے تمام پاک سیرت لوگوں کو اپنی طرف جلب کرتا ہے بلکہ اس بابرکت باعظمت اور درخشاں دن کے بارے میں بات کرنا بھی انسانوں کے دلوں میں شوق و ولولہ پیداکرتا ہے کہ جلد از جلد وہ بابرکت زمانہ آئے ۔ ظہور کے زمانے کے حیرت انگیز واقعات میں سے ایک انسان کا آسمانوں تک رسائی خلاء میں پرواز اور دوسرے کرّات پر جانا ہے ۔ آسمان کی بلندیوں میں پرواز ، آسمانی کرّات میں نشست انسان کی دیرینہ خواہش ہے ۔ جس کے حصول کی متعدد بار کوشش کی گئی اور اس کے لئے بہت سرمایہ بھی خرچ کیاگیا ۔ آسمانوں تک رسائی ملکی و مادی لحاظ سے تھی اس سے بھی اہم نکتہ تو یہ ہے کہ اس روز انسان نہ صرف ملکی و مادّی لحاظ سے پرواز کرے گا بلکہ ملکوتی اعتبار سے بھی آسمانوں تک دسترس  حاصل کرے گا اور ملکوت آسمان کا نظارہ کرے گا۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کیفیت و اہمیت کے لحاظ سے عالم ملک و ملکوت ایک دوسرے سے بہت زیادہ متفاوت ہیں ۔ یعنی عالم ملک کاعالم ملکوت سے مقائسہ نہیں کر سکتے ۔عالم ملکوت کی عالم ملک پر برتری اور صالحین کی حکومت میں انسانوں کا عالم ملکوت تک رسائی پر توجہ کرنے سے معلوم ہو تا ہے کہ انسان ظہور کے بابرکت زمانے میں کس ظاہری و معنوی عظمت کا مالک ہو گا ۔ وہ خوش نصیب  ہیں کہ جو زمانہ ظہور کو درک کریں گے اور اس مبارک دن میں زندگی گزاریں گے۔اسی طرح تاریک زمانے سے پُر نور زمانے میں جانے والے اور شادابی و شادمانی سے سرشار دنیا کا نظارہکرنے والے بھی خوش نصیب ہیں۔


  ظہور کا زمانہ اورخلائی سفر

شب معراج رسول اکرم(ص) آسمانو ں ک ی بلندیوں میں گئے اور عرش پر خدا سے ہم کلام ہوئے ۔خدا وندکریم نے حضرت مہدی علیہ السلام  کے خلائی سفر کے بارے میںرسول اکرم(ص)سے کلام ک یا ۔نہ صرف آنحضرت کے خلائی سفر بلکہ واحد عالمی حکومت ، قیامت تک اس کے تداوم پوری کائنات میں رونماہونے والے عظیم تحوّلات اور دشمنوں کے وجود سے دنیا کے پاک ہونے کی خبر دی ۔ہم یہاں ایسی ہی کچھ روایات پیش کرنے کے بعد اس بارے میں اہم ترین نکتہ بیان کرتے ہیں۔رسول اکرم (ص) نے فرما یا:''فقلت :یا ربّ هئولاء اوصیائ بعد ؟ فنودیت یا محمد؛ هئولاء اولیائ و احبّا ئ و اسفیاء،و حجج بعدک علی بریّت،وهم اوصیائک و خلفاوک و خیر خلق بعدک و عزّت و جلال لأظهرنّ بهم دین،ولأعلینّ بهم کلمت ولأطهرنّ الارض بآخرهم من اعدائ،وللاُملّکنّه مشارق الارض و مغاربها،ولاسخرنّ له الرّیاح ، ولاذلّلنّ له السحاب الصعاب ،ولا رقینّه ف الاسباب،ولانصرنّه بجند،ولا مدّنّه بملائکت،حتی یعلن دعوت،ویجمع الخلق علی توحیدی،ثمّ لادیمنّ ملکه ،ولأداولنّ الایّام بین أولیائ الی یوم القیامة '' (1)

میں نے کہا!اے پروردگار وہ میرے بعد میرے اوصیاء ہیں؟

پس میں نے ندا سنی:اے محمد!وہ میرے اولیاء میرے دوست میرا  برگزیدہ اور آپ اور آپ کی امت پرمیری حجت ہیں اور وہ تمہارے اوصیاء تمہارے جانشین اور تمہارے بعد میری بہترین مخلوق ہیں۔ میری عزّت اور میرے جلال کی قسم ،یقیناََ میں اپنے دین کو ان کے وسیلہ سے ظاہر کروں گا اور اپنے کلمہ کو ان کے  وسیلہ سے برتر کروں گا۔یقیناََ ان میں سے آخری کے ذریعہ زمین کو اپنے دشمنوں سے پاک کروں گا۔حتماََ اسے زمین کے مشرق و مغرب کا مالک بناؤں گا۔ہواؤں کو اس کے لئے مسخر کروں گا۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۵۲ص۳۱۲


سخت بادلوں کو اس کے تابع کروں گا۔اسے وسائل میںاوپر لے جاؤں گا۔  یقیناََ اپنے لشکر سے اس کی نصرت کروں گا۔اپنے ملائکہ کے ذریعہ اس کی مدد کروں گا تا کہ وہ میری دعوت کو آشکار کرے۔سب لوگوں کو توحید و یکتا پرستی پر جمع کرے گا۔پھر اس کے ملک کو پائیدار بنا کر ایّام کو قیامت تک کے لئے اپنے دوستوں میں قرار دوں گا۔

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ اس روایت میں مہم مطالب کے بارے میں بات ہوئی ہے۔اس روایت میں آئمہ اطہار علیہم السلام کی عظمت ،ان کی فضیلت و برتری ،ان کے ذریعہ دین اسلام کے ظاہر ہونے ، ان میں سے آخری کے ذریعہ زمین کو دشمنوں سے پاک کرنے ،خدا کے لشکر،ہواؤں کی تسخیر تمام مخلوق کا خدا کی توحید و یکتا پرست کے معتقد ہونے، واحد عالمی حکومت اور قیامت تک اس کے قائم رہنے کے بارے میں بیان ہوا ہے۔

  روایت میں موجود نکات

اس روایت میں ایسے نکات موجود ہیں کہ جن پر دقت و تأمل  سے بعض اہم نکات حاصل کر سکتے ہیں۔

1 ۔ روا یت میں یہ جملہ کہ خدا نے فرمایا:''لاسخّرنّ له الریاح ولذ لّلنّ له السحاب الصعاب ، ولا رقّینّه ف الاسباب''

یہ اس نکتہ کی دلیل ہے کہ آنحضرت(ص) کا آسمانوں کی طرف صعود کرنا جسمانی ہے جیسا کہ حضرت محمد  مصطفٰی (ص)کی معراج جسمانی تھی۔یعنی آنحضرت(ص) کا آسمانوں پر جانا قالب مثالی سے نہیں ہے۔جیسا کہ آسمانوں کی بلندیوں میں صعود سے مقصودبھی روحانی صعود نہیں ہے کیونکہ اگر آنحضرت کا آسمانوں پر جاناروحانی صعود ہوتا یا قالب مثالی کی صورت میں ہوتا تو پھر سحاب صعاب یا اسباب کی ضرورت نہ  ہوتی۔کیونکہ روح یا قالب مثالی کے آسمانوں کی طرف جانے کے لئے کسی خلائی وسیلہ سے استفادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔


2 ۔ اس روایت سے دوسرا حاصل ہونے والا نکتہ یہ ہے کہ اگر آنحضرت  آسمانوں کی طرف جسمانی صعود کا اراسہ کریں تو اس کے لئے بھی خلائی اسباب و وسائل کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ وہ ظاہری وسیلہ یا برّاق(جو رسول اکرم(ص)سے مخصوص تھا) سے استفادہ کئے بغیر بھی جا سکتے ہیں ۔ روایت میں اسباب و وسائل سے تعبیر ہونا اس چیز کی دلیل ہے کہ آنحضرت  کا آسمانوں میں جانا کسی انحصاری  یا  ظاہری وسیلہ (جیسے برّاق) میں منحصر نہیں ہے۔ اس بناء پر وسیلہ کے تعدد اور لفظ اسباب کے جمع ہونے سے اسباب اور وسائل اس چیز میںظہور رکھتے ہیں کہ آنحضرت کسی انحصاری وسیلہ (جیسے برّاق) سے استفادہ نہیں کریں گے ۔مورد توجہ یہ ہے کہ سحاب صعاب اور سخت بادل بھی جمع کی صورت میں  بیان کئے  گئے ہیں۔

3 ۔ اس روا یت سے یہ نکتہ بھی استفادہ کرتے ہیں کہ ظہور کے زمانے میں خلاء اور آسمان پر جانے کے لئے مختلف ذرائع ہوں گے کہ جن سے استفادہ کیا جائے گا۔اس روایت میں تین طرح سے تصریح ہوئی ہے۔

الف:  لاسخّرنّ لہ الریاح

ہواؤں کو یقیناََ اس سے تسخیر کریں گے۔ قرآن کریم میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کی عظیم بساط کے بارے میں بھی بیان ہوا ہے کہ ہوائیں ان کی بساط کو آسمان پر لے جاتیں ۔ ہواؤں اور شدید طوفان کی قدرت بہت حیرت انگیز ہے ان کی تسخیر سے مراد انہیں اپنے اختیار میں رکھنا اور ان پر مکمل  قابو ہوناہے۔ہمارے زمانے میں دانشور نہ تو طوفان کو روک سکے ہیں لیکن قرآن کریم کی آیات کی بناء پرحضرت سلیمان علیہ السلام ایسے کام کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔حضرت مہدی علیہ السلام (جو کہ ہر چیز پر ولایت رکھتے ہیں) ان پر قابو پا کر ان کے منفی آثار کو برطرف کرنے کے علاوہ انہیں تسخیر کرنے اور ان پر تسلط پا کران  سے مثبت استفادہ بھی کریں گے۔


ب:  ولذلّلنّ لہ السحاب الصعاب

یقیناَ سحاب صعاب اور سخت بادلوں کو ان کے تابع کروں گا۔ہواؤں کے علاوہ نوری بادلوں اور ان کی حیرت انگیز قدرت کا ہونا واضح ہے۔

ج:  ولا رقینّہ ف الاسباب:

حتماَ وسائل میں اسے اوپر لے جاؤں گا۔قابل توجہ یہ ہے کہ اس جملہ میں ''فی'' سے استفادہ کیا گیا ہے جس کا یہ معنی ہے کہ آنحضرت خلائی وسائل میں جائیں گے اگر اسباب سے مراد سحاب صعاب ہوتا تو بھی کلمہ''علی''استعمال کیا جاتا۔کیونکہ بادلوں پر سواری کی جاتی ہے نہ کہ بادلوں میں۔

4۔ روایت میںموجود دیگر فراوان نکات کے علاوہ اس اہم نکتہ پر بھی غور کریں کہ خداوند کریم اس حدیث قدسی میں اپنی عزت و جلال کی قسم کھانے کے بعد رسول اکرم(ص)کے لئے ب یان کرنے والے تمام مطالب کو ''لام اور نون '' کے ساتھ تاکید کیا ہے۔جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس روایت میں جن واقعات کی تصریح ہوئی ہے جیسے آنحضرت  کا خلائی ذرایع سے آسمانوں پر جانا...

ان تمام واقعات کا ظہور کے زمانے میں واقع ہونا سو فیصد یقینی ہے۔جس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

5۔ روایت سے ایک اور بہتریں نکتہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ تمام صعاب بادلوںکا تسخیر ہونا  اورخلائی وسائل  فقط آنحضرت  کے ذاتی استعمال کے لئے نہیں ہیں۔بلکہ یہ وسائل فراوان ہوں گے جو اس چیز کی دلیل ہے کہ اصحاب و انصار اور آنحضرت  کے محبّ بھی ان سے استفادہ کریں گے۔


 جیسا  کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے اصحاب جیسے سلمان علیہ السلام  کو آسمانوں پر لے گئے اور آسمانوںپر ان کا صعود اس حد تک تھا کہ جہاں سے زمیں اخروٹ کے برابر دکھائی دے رہی تھی۔(1)

یہ بھی واضح ہے کہ ان کا آسمانوں کی طرف صعود کرنے کا فاصلہ چاند اور زمین کے درمیان فاصلہ سے زیادہ ہو گا ۔یعنی وہ چاند سے بہت دور آسمانوں میں صعود کریں گے۔کیونکہ چاند زمین سے بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اخروٹ سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔پس ان کا زمین تک فاصلہ چاند اور زمین کے مابین  موجود فاصلے سے بہت زیادہ  ہے۔

6 ۔ ہم نے جو کچھ ذکر کیا اس سے یوں نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی آفاقی حکومت پوری کائنات پر ایک عالمی عادل حکومت ہے۔ کیونکہ خدا وند متعال پہلے یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ زمین کا مشرق و مغرب ظہور کے زمانے میں آنحضرت  کے زیر تسلط اور تحت ولایت قرار دیا جائے گا اور اس کے بعد مختلف ذرائع  سے خلائی سفرکو بیان فرمایا ہے ۔ اس بناء پر ظہور کے زمانے میں ملکوت آسمانی کے علاوہ اس روزمُلک و مادّی لحاظ بھی سب کچھ آنحضرت  کے اختیار میں ہو گا۔

7۔ اس روایت سے استفادہ کیا جانے والا اہم نکتہ یہ ہے کہ آسمانوں اور خلاء کی کشادگی اور کائنات کے نظام خلقت کی عظمت کے لئے روایت میں لفظ اسباب السما وات استعمال کیا گیا ہے یہ اس چیز کی محکم دلیل ہے کہ اس زمانے میں آسمان کی بلندیوں کو طے کرنے والے خلائی وسائل کی سرعت نور سے زیادہ ہونی چاہیئے ۔ پس اسباب السما وات (آسمان کی بلندیوں کو طے کرنے والے وسائل) کی تعبیر ، نور سے زیادہ خلائی ذرائع کے وجود کو ثابت کرتی ہے ۔ یعنی جو مکان جاذبہ مادہ اور زمان کی محدودیت میں مقید نہ ہو،یہ خود خلائی ترقی کا بنیادی اصول ہے۔

--------------

[1] ۔ اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے  افراد بھی  آنحضرت کی بساط پہ بیٹھے اور وہ ہواؤں کو حکم دیتے کہ ان کی بساط کو تمام افراد کے ساتھ  ہوا میں اوپر لے جائے ۔یہ واقعہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔


  آسمانی مخلوقات سے آشنائی

آسمانی موجودات ومخلوقات سے آشنائی خلائی سفر کا لازمہ ہے ۔ کیونکہ آسمانوں میں بھی مخلوقات زندگی گزار رہی ہیں ۔ آئمہ اطہار علیہم السلام نے اپنے فرامین میں کہکشاؤں میں موجود آسمانی مخلوقات کے بارے میںبتایا ہے ۔ ان رویات میں سے ایک یہ ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

'' قال امیر المٔو منین : لهذه النجوم الّتی فی السماء مدائن مثل المدائن الّتی  فی  الارض'' (1)

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:آسمانوں میں موجود ستاروں کے لئے شہر ہیں ،جیسا کہ زمین پر شہر موجود ہیں۔

یہ روایت واضح طور پر یہ حقیقت بتا رہی ہے کہ آسمان میں موجود فراوان ستاروں میں بھی آسمانی موجودات و مخلوقات زندگی گزار رہی ہیں۔جس طرح انسان نے زمین پر شہر بنا رکھے ہیں ،اسی طرح وہاں بھی شہر اور عمارتیں ہیں۔

دوسری روایت میں ابو بصیر کہتا ہے:

'' سألته عن السماوات السبع، فقال :سبع سماوات لیس منها سماء الّا و فیها خلق،و بینها و بین الاخری خلق حتی ینتهی الی السابعة ؛ قلت: والارض

قال: سبع منهنّ خمس فیهنّ خلق من خلق الربّ، واثنتان هواء لیس فیهما شء ''(2)

--------------

[1]۔ بحار الانوار :ج۵۸ص۹۱

[2] ۔ بحار الانوار :ج۵۸ص۹۷


میں نے امام صادق علیہ السلام سے سات آسمانوں کے بارے میں پوچھا  تو امام  نے فرمایا:سات آسمان ہیں کہ جن کے درمیان کوئی آسمان نہیں ہے، مگر یہ کہ اس میں کوئی مخلوق نہ ہواور اس آسمان اور دیگر آسمان کے درمیان مخلوقات موجود ہیں۔یہاں تک کہ یہ ساتویں آسمان پر منتہی ہو۔

میں نے پوچھا کہ زمین کیسی ہے؟

فرمایا:زمین بھی سات ہیں جن میں سے پانچ میں مخلوقات رہتی ہیں ۔ دوسری دو میں ہوا ہے اور ان دونوں میں کوئی چیز موجود نہیں ہے۔

دنیا اپنے وسائل کی بہت تبلیغات کرتی ہے اور ہمیشہ تکامل و ترقی کا دم بھرتی ہے ۔لیکن ابھی تک کوئی ایسا وسیلہ موجود نہیں ہے کہ جس کی رفتار نور سے زیادہ ہو ۔ اگر فرض کریں کہ ایسا کوئی وسیلہ حاصل ہوجائے تو بھی دوسرے کرّات تک پہنچنے کے لئے کیا کرنا ہو گاکہ جو ہم سے کروڑوں نوری سال کی دوری پر واقع ہیں ۔ اس کے لئے کروڑوں سال کی زندگی درکار ہو گی۔یہ خود اس چیز کی واضح دلیل ہے کہ دور دراز کے کرّات اور خلاء میں سفر کرنے کے لئے مافوق مادہ قدرت درکار ہے ۔ یہ سب ایسے نکات ہیں کہ جن کی طرف خاندان عصمت و طہارت علیھم السلام نے کئی صدیاں پہلے اشارہ کیا تھا۔

  مافوق مادّہ قدرت سے استفادہ

قرآنی آیات اور خاندان نبوت علیہم السلام سے ہم تک پہنچنے والی روایات میں متعدد موارد میں مافوق مادّہ قدرت کے بارے میں بات کی گئی ہے۔یعنی قرآن و روایات کے اعتبار سے نہ صرف مافوق مادّہ قدرت سے استفادہ کرنا ممکن ہے ،بلکہ یہ متعدد موارد میں واقع بھی ہواہے۔جو عملی صورت میں انجام پایا ہے۔


رسول اکرم(ص)اور اہلب یت اطہار علیہم السلام نے لوگوں کے لئے جو غیر معمولی اور پیشرفتہ برنامہ اجراء کئے ہیں ،ان میں صرف مافوق مادّہ قدرت سے استفادہ کرنے کی بات نہیں کی گئی بلکہ معاشرے  کے لئے اس کے وقوع کو بھی بیان کیا ہے۔

قرآن میں ایسے عالی نکات موجود ہیں کہ جن میں سے ایک مافوق مادّہ قدرت سے استفادہ بلکہ اس کا وقوع بھی ہے۔گزشتہ زمانے میں مافوق مادّہ قدرت سے استفادہ کیا جاتا تھا ،قرآن مجید نے اس کے متعدد نمونے پیش کئے ہیں۔

خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام سے ہم تک پہنچنے والی بہت سی روایات میں بھی ان کی تصریح ہوئی ہے ۔ ظہور  کے زمانے میں انسانی معاشرہ فکری و معنوی تکامل سے بہرمند ہو گا ۔ اس زمانے میں مافوق مادّہ قدرت سیفائدہ اٹھانا اپنی اوج پر ہو گا۔ ظہور کا زمانہ مافوق مادّہ قدرتوں سے مستفید ہونے کا زمانہ ہے۔

وَالسَّلام


فہرست

انتساب. 3

مقدمہ مترجم 4

پیش گفتار 8

پیش گفتار : 9

بہترین فکر ''انتظار'' میں پوشیدہ ہے.. 10

ظہورکے بارے میں سوچنا 11

امام مہدی علیہ السلام کے مقام سے آشنائی 15

ظہور کے درخشاں زمانے سے آشنائی 16

اس کتاب کی تألیف کا مقصد 19

لازم تذکرہ 19


پہلاباب. 21

عدالت. 21

عدالت پیغمبروں کا ارمان. 22

معاشرے میں عدالت یا عادلانہ معاشرہ؟ 23

عصرِ ظہوراور عدالت. 24

عدالت کی وسعت. 25

دنیا کی واحد عادلانہ حکومت. 27

عدالت کا ایک نمونہ 31

ہر طرف عدالت کا بول بالا 33

عدالت کا نفاذ اور حیوانات میں  بدلاؤ 33

حیوانات کا رام ہونا 34

حیوانات پر مکمل اختیار 40


الیکٹرک پاور سے بڑی قوّت. 42

ایک اہم سوال اور اس کا جواب. 44

حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج) کا تابناک نور 45

حیوانات کی زندگی پر تحقیق. 45

دوسراباب. 48

قضاوت. 48

قضاوت کے بارے میں بحث. 49

آغاز ظہور میں قضاوت اپنی اوج پر(1) 50

ظن و گمان کی بنیاد پر قضاوت. 53

قضاوت میں فہم و فراست. 54

قاضی کو حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی قضاوت سے درس لینا 55

قضات، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے قضاوت سیکھیں. 55


حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام 62

بحث روائی 63

قضاوتِ اہلبیت علیہم السلام اور حضرت دائود علیہ السلام 65

امام مہدی علیہ السلام کے فیصلے 68

قائم آل محمد  علیہ السلام کس چیز سے قضاوت کریں گے؟ 69

زمانِ ظہور میں امام عصر علیہ السلام کے قاضیوں کے فیصلے 74

بحث کے اہم نکات. 77

تیسراباب. 79

اقتصادی ترقی 79

ظہور کے زمانے میں اقتصادی ترقی 80

کنٹرول کی قدرت. 84

دنیا میں ، 800  ملین سے زائد بھوکے 88


نرخوں  میں  اضافہ 90

نعمتوں سے سرشار دنیا 92

زمانۂ ظہور میں برکت. 94

دنیا کے روشن مستقبل کے بارے میں رسول اکرم (ص)کی بشارت. 97

دنیا میں خوشیاں ہی خوشیاں. 99

شرمساری. 102

چوتھا باب. 104

بیماریوں کا خاتمہ 104

بیماریوں کاخاتمہ 105

قوّت و طاقت کا دوبارہ ملنا 107

انسان بیماریوں کا خاتمہ کرنے سے عاجز 109

پانچواں  باب. 114


عقلی  تکامل. 114

عقلی تکامل. 115

وجود انسان میں بدلاؤ ضروری ہے.. 116

امام مہدی علیہ السلام اور عقلی تکامل. 118

کون انسان کے وجود میں بدلاؤ پیدا کرسکتا ہے؟ 118

اتحاد و یگانگت سے سرشار دنیا 121

عصر ظہور میں تکامل عقل کی وجہ سے ناپسندیدہ صفات پر غلبہ 123

عالم غیب سے ارتباط 127

غیب کا مظہر کامل. 128

مرحوم سید بحر العلوم کی زندگی کے کچھ اہم واقعات. 129

علامات و نشانیاں. 132

ایک عام انسان اور حیرت انگیز دماغ. 133


اسے یہ قدرت کیسے حاصل ہوئی؟ 134

کسی انجان چیز کا اس کے دماغ میں بدلاؤ ایجاد کرنا 135

دوسری زبان میں کلام 136

کسی انجان قوّت کا اس کے دماغ کو مطلع کرنا 137

کیا یہ چھٹی حس کوئی ہدیہ و تحفہ تھی یا کوئی تکلیف؟ 137

بے زبانوں سے گفتگو 138

ریڈار کے نام سے پروگرام 139

عقل کی آزادی. 141

سالم فطرت کی طرف لوٹنا 142

کیا ظہور سے پہلے عقلی تکامل کا حصول ممکن ہے؟ 143

کیا یہ عقیدہ صحیح ہے ؟ 144

دماغ کی قوّت و طاقت. 145


غیر معمولی حافظہ دماغ کی عظیم قدرت کی دلیل. 148

دماغ کا ما فوق فطرت، قدرت سے رابطہ 150

ریاضی کے یہ عجوبہ کس چیز سے مدد لیتے ہیں ؟ 150

جدید علم کی نظر میں عقلی تکامل. 151

عقلی تکامل اور ارادہ 152

چھٹا باب. 154

معنوی تکامل. 154

معنوی تکامل. 155

انسان کا معنوی و مادّی پہلو 156

ہماری ذمہ داریاں. 158

تکامل کی دعوتِ عام 160

امر عظیم 163


امر عظیم کیا ہے؟ 166

معارف الٰہی 169

زبان رسول اکرم (ص)سے زمانہ ظہور کے لوگ.. 170

محسوس اور غیر محسوس دنیا میں حکومت. 172

عالم ملک و عالم ملکوت. 174

وہ کس طرح عالم ملکوت سے غافل تھے؟ 175

عالم ملکوت تک رسائی یا زمانہ ملکوت کی خصوصیات. 175

اہم نکتہ یا احساس ظہور 178

غیرت مندوں سے خطاب. 179

زمانہ ٔ ظہور اطمینان کا زمانہ 180

عصر ظہور،عصر حضور 182

ساتواں باب. 184


تکامل علم و فرہنگ. 184

عصر ظہور یا عصر تکامل علم و فرہنگ. 187

خاندان نبوت علیہم السلام کی نظر میں مستقبل میں علمی ترقی 188

روایت کے اہم نکات. 189

روایت کی تحلیل. 191

پیغمبروں کے زمانے سے اب تک مشترکہ پہلو 193

حصول علم کے دیگر ذرائع 197

1۔ حس شامہ 197

2۔ حس لامسہ 198

3۔ حس ذائقہ 198

4۔ حواس کے علاوہ دیگر ذرائع سے علوم سیکھنا 199

زمانہ ظہور میں حیرت انگیز تحوّلات. 200


خاندانِ اہلبیت علیہم السلام کا علم 201

علوم کے حصول میں امام مہدی علیہ السلام کی راہنمائی 204

حصولِ علم میں حضورِ امام مہدی علیہ السلام کے اثرات. 207

زمانۂ ظہور کی ایجادات. 210

اس بارے میں زیارت آل یٰس کے بعد دعا سے درس. 211

واحد عالمی حکومت. 212

ظہور یا نقطہ آغاز 215

دین یعنی حیات اور صحیح ترقی یافتہ تمدّن. 216

صحیح اور جدید ٹیکنالوجی فقط دین کے زیر سایہ ممکن ہے.. 220

موجود ایجادات میں نقص.. 221

عصر ِ ظہور میں قدرت کے حصول کی تحلیل. 223

روایت میں تفکر 226


موجودہ صنعت پر ایک نظر 232

زمانۂ ظہور اور موجودہ ایجادات کا انجام 236

مضر ایجادات کی نابودی. 236

علم دنیا کی رہبری نہیں کر سکتا 238

دنیا کا مستقبل اور عالمی جنگ. 240

ایٹم کے علاوہ دوسری منفی اور مضر ایجادات. 244

پہلی قسم کی ایجادات. 245

آئن اسٹائن کا ایک اور واقعہ 245

آئن اسٹائن کا دوسرااشتباہ 246

آئن اسٹائن کی خطا 248

ادینگتون کی غلطی 249

ارسطو، کپرنیک اور بطلمیوس کی خطائیں. 250


ارشمیدس کا اشتباہ 252

تیسری قسم کی ایجادات. 252

جنگی آلات سے بے نیازی. 253

دوسری قسم کی ایجادات. 255

علم دنیا مشکلات حل نہیں کر سکتا 255

علم ودانش سوداگروں کا آلہ کار 258

علم کی محدویت. 259

مغرب کی تبلیغات. 260

پوزیدونیوس کا اشتباہ 261

کس کی پیروی کریں؟ 261

آٹھواں باب. 263

خلائی سفر 263


خلائی سفر 264

کرۂ زمین ایک قدرت کے ماتحت. 264

کہکشاں. 266

سو بیلین دم دار ستارے.. 267

دو سو پچاس بیلین سورج. 267

کھربوں کہکشاں. 268

دنیا میں تمدّن. 268

کہکشاؤں میں تمدّن. 269

دور حاضر میں خلائی سفر 270

دورِ حاضر کے خلائی سفر میں لاحق خطرات. 272

خلائی سفر کا امکان. 273

اہلبیت اطہار علیہم السلام کاخلائی سفر 275


آسمانوں تک رسائی 278

ظہور کا زمانہ اورخلائی سفر 279

روایت میں موجود نکات. 280

الف:  لاسخّرنّ لہ الریاح. 281

ب:  ولذلّلنّ لہ السحاب الصعاب. 282

ج:  ولا رقینّہ ف الاسباب: 282

آسمانی مخلوقات سے آشنائی 284

مافوق مادّہ قدرت سے استفادہ 285