شیعہ عقائد پر شبہات اور ان کے جوابات
گروہ بندی مناظرے
مصنف شیخ مرتضی انصاری پاروی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404

شیعہ عقائد پر شبہات اور ان کے جوابات

(بہ زبان اردو)

تالیف

غلام مرتضی انصاری  پاروی


بسم الله الرحمن الرحیم

مقدمہ

الحمد لله رب العالمین وصلی الله علی محمد وآله الطاهرین ولعنة الله علی اعدائهم اجمعین الی قیام یوم الدین.

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ کتاب تدوین کرنے کی توفیق ہوئی جس میں کچھ شیعہ عقائد  اور ان پر اہل سنت کی جانب سے اشکالات اور ان کے جوابات  انھیں کی کتابوں سے دینے کی کوشش کی گئی ہے .یہ کتاب دس فصلوں پر مشتمل ہے. پہلی فصل   میں عدم تحریف قرآن  ، دوسری فصل میں حدیث ،پیغمبر اسلام (ص)کے دور میں اور تیسری فصل میں مسلمانوں میں اختلافات کے اسباب چوتھی فصل میں مٹی پر سجدہ  پانچوں فصل میں شفاعت اور توسل چھٹی فصل میں بحث امامت ،ساتویں فصل میں عزاداری سے مربوط اشکالات  آٹھویں فصل میں بحث مھدویت اور نویں فصل میں مشروعیت متعہ اور دسویں فصل میں تقیہ کے بارے میں شکوک اور شبہات سے بحث کی گئی ہے اور آخر میں ایک تتمہ انشاء اللہ  مطالعہ کرنے والوں کیلئے مفید ثابت ہو.اور بندہ حقیر کیلئے باعث مغفرت.

                                            والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

        

                                                  غلام مرتضی انصاری      پاروی

                                               ۱۴۳۲؁


انسان اگر کسی جو جلائے تو شقی لیکن خدا کسی کو جلائے تو

اگر دنیا میں کوئی کسی کو جلائے تو لوگ اسے شقی القلب کہتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن کئی ملیون انسان کو جلائے جب کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ ارحم الراحمین ہے؟

ہم سب علم و حکمت الہی کی تجلی کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ قانون مند ،نظم وضبط والی ذات ہے،اسی لئے اپنےحبیب سے کہا:نماز شب پڑھا کریں تاکہ تم مقام محمود تک پہنچ سکو۔یعنی بغیر علت کے معلول تک نہیں پہنچ سکتے۔

الف : اس عالم میں آگ جلانے والی ہے ہمارا گوشت اور کھال جلنے والا ہے۔انسان سے کہہ رہا ہے کہاپنے ہاتھ کو آگ کے نزدیک نہ لے جائیں تاکہ نہ جلےاور تجھے کوئی درد بھی نہ ہو اور مرے نہ۔ایسی صورت میں اگر کوئی کہے کہ میں اپنا ہاتھ جلانا چاہتا ہوں اور ہاتھ میں آگ ڈالے اور آگ اسے نہ جلائے۔

اسی طرح کہا گیا ہے کہ جو بھی کفر اختیار کرے یا مال یتیم کھائے یا حرام مال کھائے تو گویا آگ نگل رہا ہے جو تیری جسم کو جلائےگی۔ ایسی صورت میں اگر کوئی کہے کہ یہ بھی کوئی عدالت ہے ؟ میں کافر ہوجاوں  یا ظلم کروں یا دوسروں کا مال کھاوں اور کوئی تکلیف اور درد بھی نہ ہو:

«إِنَّ الَّذِینَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِیرًا» (النساء، 10)

ترجمہ: بتحقیق وہ لوگ جو یتیموں کے اموال ان پر ظلم کرتے ہوے کھاتے ہیں حقیقت میں اپنے پیٹ میں آگ کھانے کے مترادف ہے اور وہ لوگ جلد جہنم میں پہنچیں گے


«إِنَّ الَّذِینَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِیلًا أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ إِلاَّ النَّارَ وَلاَ يُكَلِّمُهُمُ اللّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّیهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ» (البقره، 174)

ترجمہ: کسانی کہ آنچہ را خداوند از کتاب نازل کردہ پنہان میدارند و بدان بہای ناچیزی بہ دست میآورند آنان جز آتش در شکمہای خویش فرو نبرند ۱و خدا روز قیامت با ایشان سخن نخواہد گفت و پاکشان نخواہد کرد و عذابی دردناک خواہند داشت.

ب اس دنیا میں بھی انسان اپنے عقل، علم، تجربہ و خبرکے ذریعے  اجزای عالم کے خواص اور آثار سے مطلع ہوجاتے ہیں، لھذا جب بھی کوئی خطا کربیٹھتا ہے جیسے کوئی نشہ کرکے عقل ذائل ہوجائے تو اسے کہے گا : کیا تجھ سے نہیں کہا تھا کہ ایسا نہ کرو؟! بلکل اسی طرح ہے کہ خلاف کرنے والے انسان سے کہا جائے گا کہ کیا تجھے شارع نے نہیں بتایا تھا کہ ایسا نہ کرو؟!

«تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِیهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِیرٌ * قَالُوا بَلَی قَدْ جَاءنَا نَذِیرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِی ضَلَالٍ كَبِیرٍ» (الملک، 8 و 9)

ترجمہ: نزدیک است کہ (جہنم) از خشم شکافتہ شود، ہر بار کہ گروہی در آن افکندہ شوند نگاہبانان آن از ایشان پرسند مگر شما را ہشدار دہندہای نیامد؟! * گویند چرا ہشدار دہندہای بہ سوی ما آمد و[لی] تکذیب کردیم و گفتیم خدا چیزی فرو نفرستادہ است، شما جز در گمراہی بزرگ نیستید.

ج  پس اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالی کسی کو جہنم میں نہیں ڈالتا بلکہ یہ خود انسان ہے جو اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے لئے آگ جلا رہا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر عاقبت اور سزا معین نہ ہو تو انسانوں کے اعتقادات اور کردار کا کوئی نتیجہ نہیں ملے گا۔ ہاں اگر سب کا نتیجہ برابر ہو تو اس وقت اعتراض کرسکتا ہے کہ یہ غیر علیمانہ، غیر حکمیانہ و غیر عادلانہ ہے. ہاں؛خداوند متعال، رحمان، رحیم، کریم، جواد، غفار، ستار و لطیف ہے تو علیم، حکیم، عادل اور قہار بھی ہے ۔


پہلی فصل: عدم تحریف قرآن

قرآن  ہرقسم کی  تحریف سے پاک اورمنزّہ

شیعہ موجودہ قرآن کریم پر مکمل اعتقاد رکھتے  ہیں کہ یہ وہی قرآن ہے جو رسول اکرم  (ص)پر نازل ہوا ہے اور ایک لفظ بھی نہ زیادہ ہوا ہے نہ کم. جیسا کہ قرآن مجید  خود اس بات کی گواہی دے رہا ہے : انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون.اوراس کے علاوہ  بہت سی کتابوں میں بھی اس پر عقلی اور نقلی استدلال کئے ہیں.

 ہمارا عقیدہ ہے کہ اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ،مگر یہ کہ دونوں مکاتب (شیعہ اور سنی)کے کچھ راویوں نے گنے چنے ضعیف حدیثوں پر تکیہ کرکے تحریف قرآن کا ادعا کئے ہیں. انہی کو مدرک قرار دیتے ہوئے وہابی پورے مکتب تشیع پر تحریف کے قائل ہونے کی تہمت لگا کر دوسروں کے سامنے مکتب حقہ کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں،جو بہت ہی ناانصافی ہے.

اہل سنت کا عالم دین ابن الخطیب مصری ہے جس نے ایک کتاب(الفرقان فی تحریف القرآن) جو ؁1948 میلادی بمطابق 1367؁ ہجری میں لکھی تھی ، جس میں  تحریف قرآن کو ثابت کیا تھا لیکن جامعۃ الازہر کے عمادین نے فوراً سارے نسخوں کو جمع کرکے ضبط کر لیا.

اسی طرح ایک شیعہ محدث حاجی نوری نے   ؁1291 ہجری قمری میں «فصل الخطاب فی تحریف کتاب ربّ الارباب» نامی ایک کتاب لکھی جو شائع ہوتے ہی حوزہ علمیّہ نجف اشرف علماء  نے جمع آوری کرکے ضبط کرلیا ، اور اس کتاب کی رد میں خود شیعہ فقہاء نے بہت ساری کتابیں لکھی  ہیں، جیسے: 


1- فقیہ عالی قدر مرحوم شیخ محمود بن ابی القاسم، (متوفّای سال 1313)نے کتاب«کشف الارتیاب فی عدم تحریف الکتاب» لکھی ہے

2- مرحوم علّامہ سیّد محمّد حسین شہرستانی (متوفّای 1315)نے  کتاب«حفظ الکتاب الشریف عن شبهة القول بالتحریف» کتاب فصل الخطاب کی رد میں لکھی ہے.

3- مرحوم علّامہ بلاغی (متوفّای 1352) محقّق حوزہ علمیّہ نجف نے  کتاب«تفسیر آلاء الرّحمان» لکھی ہے.

4- آیۃ اللہ العظمی مکارم شیرازی نے  کتاب انوارالاصول میں عدم تحریف قرآن مجید کوثابت کرتے ہوئے فصل الخطاب کیلئے دندان شکن جواب دیا ہے.

علّامہ بلاغی  لکھتے ہیں کہ مرحوم حاجی نوری ضعیف روایات پر تکیہ کرتے تھے  اپنی کتاب لکھنے کے بعد وہ خود بھی پشیمان ہوئے  اور مجبور ہوکراپنی ہی کتاب کی رد میں ایک مقالہ لکای.2

اس کے باوجود متعصب وہابی حضرات شیخ نوری کی باتوں کو شیعہ عقیدہ  سمجھتے ہوئے قرآن کریم کی اہمیت اور سند کو مخدوش کرنا چاہتے ہیں. ہم کہیں گے کہ اگر ایک ضعیف حدیث پر مبنی کتاب شیعہ اعتقادات پر دلیل بن سکتی ہے تو  ابن الخطیب مصری کی کتاب (الفرقان فی تحریف القرآن) کو سنی اعتقادات پر دلیل بنا کرتحریف قرآن کے قائل ہونے  کی نسبت دے سکتے تھے  ، لیکن ہم یہ ناانصافی نہیں  کرتے.

اس کے علاوہ تفسیر قرطبی اوردرّالمنثور کہ یہ  دو اہل سنّت کی معروف تفسیریں ہیں جن میں  حضرت عائشہ سےنقل کرتے ہیں


: انّہا(ای سورة الاحزاب) کانت ماتی آیة فلم یبق منہا الّا ثلاث و سبعین! سورہ احزاب ۲۰۰ آیتوں پر مشتمل تھا لیکن اب صرف  ۷۳ آیتیں باقی ہیں.(1)

اس کے علاوہ صحیح بخاری اور مسلم میں بھی کئی روایتیں نقل ہوئی ہیں جن سے تحریف قرآن ثابت ہوتی ہے.(2)

حاجی نوری نےکتاب فصل الخطاب کی روایتوں کو تین  راویوں جویا فاسد المذہب یا جھوٹے  یا مجہول الحال (احمد بن محمّد السیاری فاسد المذہب، علی بن احمد کوفی کذّاب و ابی الجارود مجہول یا مردود)سے نقل کئے ہیں(3)

حضرت آیۃ اللہ مکارم شیرازی کی زیارت بیت اللہ (زیارت عمرہ)  کے دوران وزیر امور مذہبی عربستان کیساتھ  ملاقات  ہوئی استقبال کرنے کے بعد کہا:ہم نے سنا ہے کہ آپ لوگوں کا الگ  کوئی قرآن ہے :سمعت انّ لکم مصحفاً غیر صحفنا!!.

تو آپ نے فرمایا: اس کا امتحان لینا بہت آسان ہے کہ آپ یا آپ کا کوئی نمائندہ ہمارے ساتھ تہران بھیجیں اور مساجد اور گھروں میں دیکھیں کہ ہر ایک گھر وں اور مسجدوں میں سینکڑوں قرآن ملیں گے جو تمھارے پاس ہیں. آپ جیسے دانشور لوگ بھی ان جھوٹے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں. اسی طرح ہمارے بہت سارے چھوٹے بڑے قارئین محترم بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرتے ہیں اور انعام بھی حاصل کرچکے ہیں ، کیا کوئی اور قرآن ان کے پاس تھا؟(4)

--------------

(1):-تفسیر قرطبی، جلد 14، صفحہ 113 ،تفسیر الدرّ المنثور، جلد 5، صفحہ 180.

(2):- صحیح بخاری، جلد 8، صفحہ 208 تا 211 ،صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 167 و جلد 5، صفحہ 116.

(3):- رجال نجاشی ،اور فہرست شیخ.

(4):- شیعہ پاسخ می گوید، ص: 25


عدم تحریف پرعقلی و نقلی دلیلیں

قرآن :

 إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ؛ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور اس کی حفاظت کوبھی اپنے ذمہ لیاہے . (1)

دوسری جگہ فرمایا:وَ إِنَّهُ لَكِتابٌ عَزِیزٌ* لا يَأْتِیهِ الْباطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ لا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِیلٌ مِنْ حَكِیمٍ حَمِیدٍ. (2)

سوال یہ ہے کہ کیا ایسی کتاب میں کوئی تبدیلی  لاسکتا ہے  جس کی حفاظت کا ذمہ  اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہو. اور یہ قرآن، متروک اور فراموش شدہ کتاب تو نہیں تھی بلکہ ہر کسی کے زبان پر قرآن کی آیات کی تلاوت جاری تھی .

کاتبان قرآن (ُتّاب وحی) کہ جن کی  تعداد 14 افراد سے لیکر تقریباً 400 افراد بتائی  گئی ہے جو آیت کے نازل ہوتے ہی لکھ لیتے تھے  اور سینکڑوں حافظ عصر پیغمبر  میں حفظ کرلیتے تھے اور  قرآن کی تلاوت   مہمترین عبادت میں شمار ہوتے تھے اور دن رات تلاوت کرتے رہتے تھے.

عقل:

 عقل کہتی ہے کہ ایسی کتاب کبھی تحریف کا شکار نہیں ہوسکتی جس کی ضمانت خود اللہ تعالیٰٰ نے دی ہو.اور اگر تحریف کے قائل ہوجائیں تو قرآن معیار حق نہیں بن سکتا.

--------------

(1):- سورہ حجر، آیہ 9.

(2):- سورہ فصّلت، آیہ 41 و 42.


روایات:

وہ اسلامی روایات جو  آئمہ معصومین سے ہم تک پہنچی ہیں سب میں عدم تحریف کو بیان کیا گیا ہے :

 امیرالمؤمنین علی (ع)نہجالبلاغہ میں صراحت کے ساتھ فرماتے ہیں:انْزَلَ عَلَيْكُمُ الْكِتَابَ تِبْيَاناً لِكُلِّ شَىْ‏ء وَ عَمَّرَ فِیكُمْ نَبِيَّهُ ازْمَاناً حَتَّی اكْمَلَ لَهُ وَ لَكُمْ فِیمَا انْزَلَ مِنْ كِتَاب، دِینَهُ الَّذِی رَضِىَ لِنَفْسِهِ‏.

اللہ تعالیٰ نےایسا قرآن نازل کیا ہے جس میں ہر چیز بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے رسول گرامی اسلام (ص)کو اتنی عمر عطا کی کہ اپنے دین کو قرآن کے ذریعے کامل کرسکے(1)

نویں امام حضرت محمّد بن علی التقی (ع)نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا:وَ كَانَ مِنْ نَبْذِهِمُ الْكِتَابَ أَنْ اقَامُوا حُرُوفَهُ وَ حَرَّفُوا حُدُودَهُ‏ (2)

یعنی بعض لوگوں نے قرآن مجید کواس طرح  چھوڑدیا ہےکہ   اس کے مفہوم میں تحریف کئے ہیں اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ الفاظ قرآن میں کوئی  تبدیلی نہیں ہوئی ہے لیکن معنی  اپنے اپنے خیال اور مرضی کے مطابق  کئے ہیں.

ایک اور دلیل حدیث ثقلین ہے :إِنّی تَارِكٌ فِیكُمُ الثِّقْلَيْنِ كِتَابَ اللهِ وَ عِتْرَتی أَهْلَ بَيْتی مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا. (3) اگر قران میں تحریف  ہو چکا ہو تو کیسے یہ باعث ہدایت  بن جائے گا؟

--------------

(1):- نہج البلاغہ، خطبہ 86.

(2):- کافی، جلد 8، صفحہ 53.

(3):- بحارالانوار، جلد 36، صفحہ 331.


تحریف معنوی کا  امکان

تحریف والی بات جو مشہور ہوئی ہے وہ تحریف  معنوی ہے نہ لفظی.

اسی طرح ہمارے آئمہ طاہرین کی طرف سے یہ بھی حکم ہے کہ اگر کوئی روایت تمہیں ملے اسے قرآن کے ساتھ موازنہ کرو اگر خلاف قرآن نکلے تو اسے دیوار پر  دے مارو. یعنی دور پھینک دو:اعرِضُوهُمَا عَلَی كِتَابِ اللهِ فَمَا وَافَقَ كِتَابَ اللهِ فَخُذُوهُ وَ مَا خَالَفَ كِتَابَ اللهِ فَرُدُّوهُ. (1)

یہ ساری دلیلیں بتاتی ہیں کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل نہیں ہے بلکہ ان پر وہابیوں کی طرف سے صرف بہتان اور تہمت ہے.

لیکن اس کے مقابلے میں خود اہل سنت کی کتاب صحیح بخاری میں ایک روایت نقل کی ہے جس میں صراحت کےساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عمر اور حضرت عایشہ تحریف کے قائل ہیں:

سؤال 147:  کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت عمر تحریف قرآن کے قائل ہیں  اور کہتے ہیں کہ کچھ آیات جیسے  آیۃ رجم  مفقود ہوئی  ہیں؟!

جواب: صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کی روشنی میں ثابت ہے کہ حضرت عمر تحریف قرآن کے قائل تھے۔ ان کے قول کا اصل متن یہ ہے:

--------------

(1):- وسائل الشیعہ، جلد 18، صفحہ 80.


 ان اللّه بعث محمداً بالحق، و انزل علیه الکتاب، فکان مما انزل اللّه آیة الرجم فقراناها و عقلناها و وعیناها، فلذا رجم رسول اللّه ،و رجمنا بعده فاخشی ان طال بالناس زمان ان یقول قائل: و اللّه ما نجد آیة الرجم فی کتاب اللّه فیضلوا بترک فریضة انزلها الله، و الرجم فی کتاب اللّه حقّ علی من زنی اذا احصن من الرجال. ثم انّا کنا نقرا فیما نقرا، من کتاب الله: ان لا ترغبوا عن آبائکم فانه کفر بکم ان ترغبوا عن آبائکم.. (1)

سیوطی از حضرت عمر(رضی اللہ عنہ) چنین نقل کردہ:«اذا زنی الشیخ و الشیخة فارجموهما البته نکالاً من اللّه واللّه عزیز حکیم» .(2)

و حضرت عائشہ ـ رضی اللہ عنہا ـ قائل بہ ناپدید شدن دو سوم احزاب است و حضرت ابوموسی اشعری(رضی اللہ عنہ) قائل بہ ناپدید شدن دو سورہ از قرآن بہ نام حفد و خلع است.

آیا این ادعاہا بہ معنای تحریف قرآن نیست؟ و آیا ما می توانیم بہ این قرآن استدلال کنیم و در برابر یہود و نصاری مدعی سلامت قرآن و عدم سلامت تورات و انجیل موجود شویم؟!

آیا اگر حضرت عمر و عائشہ و اشعری قائل بہ تحریف قرآن ہستند ما چرا شیعہ را بہ تحریف قرآن متہم می کنیم؟

2 ـ حضرت عائشہ فرمودہ:«کانت سورة نقرا فی زمن النبی ماتی آیة، فلما کتب عثمان المصاحف لم نقدر منها الاّ ما هو الان» .(3) حضرت عائشہ ـ رضی اللہ عنہا ـ می گوید:«کان فیما انزل من القرآن: عشر رضعات معلومات یحرّمن ثم نسخن بخمس معلومات، فتوفی رسول الله ـ صلی الله علیه و سلّم ـ و هنّ فیما یقراً من القرآن» .(4)

--------------

(1):- ۔صحیح بخاری 8: 26 ـ صحیح مسلم 5: 116 ـ مسند احمد 1: 47 .

(2):- الاتقان 1: 121.

(3):- الاتقان 2: 40۔

(4):- صحیح مسلم 4: 167


حضرت عبد اللّہ بن عمر(رضی اللہ عنہ) کہتا ہے کہ بہت سی آیات گم ہوچکی ہیں:

لیقولنَّ احدکم قد اخذت القرآن کلّه و ما یدریه ما کلّه؟ قد ذهب منه قرآن کثیر، و لیقل قد اخذت منه ما ظه .(1)

 مصحف حضرت عائشہ ـ رضی اللہ عنہا ـ میں یوں بیان ہوا ہے:

«انّ اللّهَ و ملائکته یصلون علی النبی یا ایّها الذین آمنوا صلّوا علیه و سلموا تسلیماً و علی الذین یصلّون الصفوف الاول» .(2)

عبدالحسین یا عبداللہ؟!!

کیو ں شیعہ اپنے بچوں کا نام عبد العلی اور عبدالحسین  رکھتے ہیں؟

سوال یہ ہے کہ کیا شیعہ اللہ کے بندے نہیں ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عبادت کے دو معنی ہیں : پرستش اور عبادت کرنا  کہ جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کیلئے جائز نہیں ہے .

 دوسرا معنی اطاعت ہے.تو عبدالحسین اور عبد العلی اور عبدالنبی سے مراد ان کا مطیع ہونا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے :وَ أَنْكِحُوا الْأَیامی‏ مِنْكُمْ وَ الصَّالِحینَ مِنْ عِبادِكُمْ وَ إِمائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ الل ه مِنْ فَضْلِهِ وَ الل ه واسِعٌ عَلیمٌ . (3) اور تم میں سے جولوگ بے نکاح ہوں اور تمہارے غلاموںاور کنیزوں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکا ح کر دو، اگر وہ نادار ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت اور علم والا ہے.اس آیہ شریفہ میں کلمہ عبد غلاموں کے بارے میں استعمال کیا ہے  اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ غلام ضرور اپنے آقا کی اطاعت کرے.

--------------

(1):- الاتقان 2: 42 ـ41 ـ40.

(2):- الاتقان 2: 42 ـ41 ـ40.

(3):- النور : 32.


علمائے اہل سنت نے بھی اس کے جواز پر فتاویٰ دیے ہیں جن میں سےکچھ یہ ہیں:-وکذا عبد الکعبة او الدار او علی او الحسن لایهام التشریک ومثله عبد النبی علی ما قاله الاکثرون والاوجه جوازه لا سیما عند ارادة النسبة له (1)

قوله وکذا عبد النبی ای وکذا یحرم التسمیة بعبد النبی ای لایهام التشریک ای ان النبی شریک الله فی کونه له عبید وما ذکر من التحریم هو معتمد ابن حجر .(2)

اس کے علاوہ  اہل سنت کے بڑے بڑے علماء جن کے نام عبد النبی  جیسے ہیں بہت سارے ہیں:

الشیخ عبد النبی المغربی المالکی الشیخ الامام العلامة الحجة القدوة الفهامة مفتی السادة المالکیة بدمشق (3)

عبد المطلب بن ربیعة ابن الحارث بن عبد المطلب بن هاشم الهاشمی له صحبة (4)

القاضی عبد النبی الاحمد نجری من رجال المائة الثانیة عشرة صاحب جامع العلوم الملقب بدستور العلماء .(5)

عبد قیس بن لای بن عصیم من الصحابة الذین شهدوا احدا (6)

عبد النبی بن محمد بن عبد النبی المغربی ثم الدمشقی المالکی (7)

--------------

(1):-  اعانة الطالبین للدمیاطی ج 2 ص 337 ط دار الفکر بیروت.

(2):- شذرات الذہب ج 8/ ص 83 ط دار ابن کثیر بدمشق 1406 و ج 8/ ص 126، الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة ج 1/ ص 112 و تاریخ البصروی ج 1/ ص 108.

(3):- سیر اعلام النبلاء ج 3 ص 112.

(4):- قواعد الفقہ لمحمد عمیم البرکتی ج 1 ص 148 دار النشر الصدف کراشی 1407

(5):- الاصابة ج 4 ص 380

(6):- الضوء اللامع ج 5 ص 90.

(7):- فی الذیل علی کشف الظنون ج 3 ص 5


فخر الزمان عبد النبی ابن خلف القزوینی (1)

ومحمد عبد الرسول الهندی. (2)

عبد المطلب بن عبد القاهر بن محمد الماکسینی زین العابدین الشافعی (3)

عبد قیس النکری البصری من الرواة من ابن سیرین (4)

محمد ابن عبد الرسول المدنی عالم مکة .(5)

--------------

(1):-

(2):- فہرس الفہارس والاثبات ومعجم المعاجم والمسلسلات ج 2 ص 84.

(3):- الدرر الکامنة فی اعیان المئة الثامنة ج 3 ص 218.

(4):- لتاریخ الکبیر ج 2 ص 255.

(5):- البدر الطالع ج 1 ص 289


دوسری فصل:منع  حدیث

  حدیث ،پیغمبر اسلام (ص)کے دور میں

مکہ میں چوں کہ مشرکین سے برسر پیکار رہے اور زندگی کا دائرہ  حد سے زیادہ تنگ کردیا تھا حکومت بنی تو وہ پہلے والی محدودیت کم ہوگئی احادیث کی نشر اشاعت میں اضافہ ہونے لگا.

رحلت پیغمبر (ص)کے بعد مسلمان احادیث پر بہت کم لطفی کرنے لگے اور حد سے زیادہ اختلافات برپا کرنے لگے .احادیث پر جبران ناپذیر نقصانات وارد ہوئے .

بعض علمائے اہل سنت نے اس ممنوعیت  حدیث کو مشروعیت  بخشی اور کہہ دئے کہ یہ سیرت پیغمبر(ص) تھی لیکن اکثر علمائے اہل سنت اور تمام شیعہ فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ یہ ممنوعیت غیر قانونی اور غیر شرعی تھی. 

ممنوعیت، غیر شرعی ہونے پر دلیل:

۱. اسلامی ثقافت میں تعلیم و تعلّم  کی اہمیت .

•   اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذی خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذی عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسانَ ما لَمْ يَعْلَمْ (1) اس خدا کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا ہے اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے  پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے  جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے اور انسان کو وہ سب کچھ بتادیا ہے جو اسے نہیں معلوم تھا.

--------------

(1):-  علق۱.۵


•   لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْ لا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِی الدِّینِ وَ لِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ .(1)

     اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے حد بلوغ کو پہنچنا شرط ہے ، لیکن تعلیم و تعلّم کیلئے فرمایا : اطلبوا العلم من المہد الی اللحد.

     والدین پر اولاد کے حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی  تعلیم وتربیت  کا بندوبست کریں.

۲.پیغمبر(ص)کاحدیث کی نشرو اشاعت کا اہتمام کرنا

•   هُوَ الَّذی أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدی‏ وَ دینِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَی الدِّینِ كُلِّهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (2)

•   وَ ما أَرْسَلْناكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعالَمین .(3)

    روایت:

 من حفظ من امتی اربعین حدیثا  مما یحتاج الیه فی امر دینهم بعثه الله عزوجل یوم القیامة فقیهاً (4) میری امّت میں سے جوبھی کوئی ایسی چالیس حدیث یاد کرلے جس کی روز مرہ زندگی میں ضرورت  پیش آتی ہو ، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰٰ اسے فقہاء کے زمرے میں محشور فرمائے گا. اسی لئے علماء نے چہل حدیث  کی کتابیں لکھیں اس حدیث کا اہم ترین پیغام  ، حدیث کی نشر واشاعت ہے ، کیونکہ جب یہ قرار پائے کہ مسلمان قیامت تک کیلئے ان روایات کے ذریعے ہدایت حاصل کریں گے ، اسی لئے کم از کم چالیس احادیث کو حفظ کرنا شرعی فریضہ سمجھتے ہیں.

--------------

(1):- توبہ ۱۲۲.

(2):- صف۹.

(3):- انبیاء ۱۰۷.


     حجة الوداع کے خطبے میں فرمایا:فیبلغ الشاهد الغائب...

     مسجد خیف میں ایک دفعہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بندے کو خوش رکھے ، جوہماری باتوں کو سنے اور اسے کسی ایسے شخص کو سنائے ؛ خواہ وہ شخص اس سے زیادہ علم والا ہو یا کم علم والا ہو.(1)

۳. پیغمبر(ص) کا حدیث لکھنے کا اہتمام کرنا

     فرمایا:اکتبوا هذا العلم (2) اس علم کو لکھیں.

    قیّدوا العلم بالکتاب .(3) علم کو لکھنے کے ذریعے محفوظ کرو.

     روایت ہے کہ فتح مکہ کے بعد پیغمبر (ص)خطبہ دے رہے تھے ، ایک مرد شامی جس کا نام ابی شات تھا اٹھا اور کہنے لگا : اے رسول خدا (ص)! اس خطبے کو میرے لئے لکھ دیں تاکہ میں یمن والوں تک یہ پیغام پہنچاؤں ، اس وقت  آپ نےاپنے اصحاب سے فرمایا:  اکتبوا لابی شاة (4) احمد بن حنبل کہتا ہے کہ اس  حدیث سے زیادہ صحیح تر اور محکم تر اور کوئی حدیث نقل نہیں ہوئی ہے(5)

     علی کو حکم دیا کہ  آپ  احادیث کو تدوین کریں اور اپنی اولادوں کو بھی یہی حکم دیا کریں .

     اپنے آخری وقت میں قرطاس و قلم کا مانگنا ؛ تاکہ حدیث لکھیں .

     حدیث کا  املا دینے کا نتیجہ  ، کتاب علی، صحیفہ النبی، صحیفہ الصادقہ،...جیسی عظیم کتابیں وجود میں آئیں.

--------------

(1):- علی بن بابویہ قمی، شیخ صدوق،؛ الخصال،ص۵۴۱.۵۴۳.

(2):- مسند احمد بن حنبل،ج۵،ص۱۸۳.

(3):- خطیب بغدادی، تقیید العلم، ص۷۲.

(4):- المستدرک علی الصحیحین ،ج۱،ص۱۰۶.

(5):- محمد بن اسماعیل ، بخاری،؛ صحیح بخاری، ج۳،ص۹۵.


حدیث  ،صحابہ اور تابعین کے دور  میں   

پہلا خلیفہ اور منع حدیث

پیغمبر اسلام (ص)کی رحلت کے بعد ابوبکراور عمر  نے حدیث لکھنے سے منع کیا .ابوبکر   رات بھر سو نہ سکے اور جاگتے  رہے.جب عائشہ نے وجہ پوچھی تو  کہا :میں نے پیغمبر اکرم(ص) سے احادیث نقل کی ہے ، اور مجھے خوف ہے اس کی وجہ سے امّت میں ا ختلاف پیدا نہ ہوجائے ! صبح کا وقت تھا کہ میرے بابا نے کہا: اگر تیرے پاس بھی کوئی  حدیث موجود ہو تو وہ بھی میرے پاس لائیں ، (۵۰۰)پانچ سو  احادیث  میرے پاس موجود تھیں ، میں نے ان کے سامنے رکھ دیں ،  اور انہوں نے سب کو آگ لگا دی ؛ تاکہ کوئی اختلاف مسلمانوں کے درمیان میں پیدا نہ ہو(1)

ایک دفعہ لوگوں سے خطاب کرتےہوئے حضرت ابوبکر نے کہا: اے لوگو! تم نے رسول خدا(ص) سے احادیث نقل کیں اور آپس میں اختلاف کرنے لگا، اور تمہارے بعد آنے والوں میں مزید اختلافات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ،  اس لئے رسول خدا(ص) سے کوئی چیز نقل نہ کریں اور اگر کوئی تم سے سوال کرے تو کہہ دو کہ ہمارے  اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے ؛ جو اس کتاب میں حلال قرار دیا ہے اسے حلال جانو ،اور جو چیز اس میں حرام قرار پائی ہے اس سے اجتناب کرو.(2)

--------------

(1):-  تدوین السنہ الشریفہ،ص۸۸.

(2):- تذکرة الحفاظ،ج۱،ص۵.  الصائب عبدالحمید ، تاریخ الاسلام الثقافی، والسیاسی، ص۳۶۲.


دوسرا خلیفہ اور منع حدیث

حضرت عمر نے بھی اسی حکم کو جاری رکھا پہلے تواپنے اصحاب کو احادیث لکھنے کی   تشویق کرتا تھا  ،پھر ایک مہینہ  بعد کہنے لگا: خدا کی قسم میں کسی چیز کو بھی قرآن کے ساتھ مخلوط ہونے نہیں دوں گا یہ کہہ کر احادیث کے نقل اور تدوین کرنے پر پابندی لگا دی .انہوں نے بھی پہلے خلیفہ کی طرح اس بہانے سے کہ روایات میں تعارض پایا جاتا ہے جو امّت میں اختلافات کا باعث ہے ، جسے میں دور کروں گا ؛ جمع آوری کی، پھر سب کو جلا دیا(1)

خلیفہ دوم  نےبعض احادیث نقل کرنے والوں جیسے ابن مسعود کو جیل میں ڈال دیا ، بعض کو مرتے دم تک مدینہ میں نظر بند رکھا گیا.اور لوگوں کو تاکید کی  کہ احادیث کم نقل کریں. مختلف  اسلامی ممالک سے احادیث کو جمع کر کے  ان سب کو  جلا دئے گئے.عروہ نقل کرتا ہے کہ عمر بن خطاب نے احادیث رسول کو جمع کرنا چاہا ، اس بارے میں بعض اصحاب پیغمبر سے مشورہ بھی کیا گیا، وہ لوگ بھی ان کو تشویق کرنے لگے، عمر ایک مہینے تک سوچتا رہا ، اور خدا سے اس بارے میں ہدایت طلب کرتا رہا ؛ یہاں تک کہ ایک دن اللہ تعالیٰ نے ان کا عزم اور ارادے  کو مضبوط کیا اور کہا: میں چاہتا تھا سنت رسول کو لکھ دوں لیکن تم سے پہلے والی قوموں کی یاد نے مجھے احایث رسول  کو لکھنے سے روک دیا ، کیونکہ وہ لوگ اپنے زمانے کے نبیوں کی احادیث نقل کرتے ہوئے  اللہ  کی کتاب سے دور ہوگئے تھے خدا کی قسم میں کبھی اللہ کی کتاب کو کسی اور چیز سے مخلوط  ہونےنہیں دوں گا(2)

اور جب ان کو پتہ چلا کہ بعض اصحاب رسول ، احادیث  لکھنے اور جمع کرنے میں مصروف ہیں؛ تو ان سے لکھی ہوئی ساری حدیثیں لے لیں اور حکم دیا کہ ان کو جلایا جائے(3)

--------------

(1):- محمد بن احمد الذہبی؛ تذکرة لاحفاظ ، ج۱،ص۳.  علامہ عسکری ، معالم المدرستین ، ج۲،ص۴۴.

(2):- الطبقات الکبری، ج۵، ص۱۴۰. تقیید العلم. ص۵۲.

(3):- تقیید العلم، ص۵۰.


خطیب بغدادی لکھتا ہے کہ جب عمر بن خطاب کو یہ اطلاع دی گئی کہ لوگوں کے درمیان میں حدیثوں کی کتابیں آئی ہیں یہ سن کر عمر بہت ناراض ہوگیا اور کہا: اے لوگو! مجھے خبر ملی ہے کہ تمھارے درمیان کتابیں آئی ہیں جو اختلافات کا باعث بن رہی ہیں، ان کو چھوڑ دیں ، بہترین کتاب ، اللہ کی کتاب ہے جو ان کے پاس سب سے زیادہ عزیز ہے تم سب اپنی اپنی کتابوں کو میرے پاس لے آئیں ، میں ان پر نظر ثانی کروں گا. لوگوں نے سوچا ، شاید وہ ان میں موجود اختلافات اور تعارض کو ایک معیار کے مطابق  دور کرکے صرف ایک نسخہ میں تبدیل کرے گا ؛ لیکن جب اس کے پاس لائے گئے  تو سب کو آگ لگادی(1)

حضرت عمر کی تقریر

قرضہ بن کعب روایت کرتا ہے : عمر نے کہا :میں احادیث نبی اکرم(ص) کیلئے سب سے زیادہ دلسوز تھا لوگوں کو مختلف جگہوں پر بھیجتاتھا اور انکو نصیحت کرتا تھا کہ زیادہ  احادیث  لوگوں کو مت کہا کریں .بلکہ زیادہ تر قرآن سے بتایا کریں .اور جن گھروں سے تلاوت کی آواز آرہی ہو ، ان کو منع نہ کریں اور ان کو حدیث میں مشغول نہ کریں،اورکہا :  اقلوا  الروایة عن رسول الله الا فیما یعمل به. (2) کم سے کم روایت نقل کریں  ، سوائے ان روایات  کے ، جواعمال سے مربوط ہو(3)

--------------

(1):-  الطبقات الکبری، ج۵،ص۱۴۰.

(2):- تقیید العلم،ص۵۲.

(3):- تاریخ مدینہ دمشق، ج۶۷،ص۳۴۴. البدایہ و النہایہ ، ج۸،ص۱۱۵.


قرطاس وقلم لانے سے انکار

سؤال :کیایہ صحیح ہے کہ کہا جاتا ہے کہ  عمربن الخطاب نے شدیداً وصیت پیغمبر اکرم(ص) کی مخالفت کرتے ہوئے اسے رد کیا ہے ؟ چنانچہ جابربن عبداللّہ کہتے ہیں:«انَّ النبی دعا عند موته بصحیفة لیکتب فیها کتابا لایضِّلون بعده ابداً قال: فخالف علیها عمر بن الخطاب حتی رفضها. (1)

دوسری جگہ لکھا ہے :«فکرهنا ذلک اشدَّ الکراهه». (2) یعنی پیغمبر  کے وصیت کرنے سے  ہم  بہت ہی متنفر ہوگئے.

تیسرا خلیفہ  اور حدیث کی ممانعت

تاریخ بتاتی ہے ،اگرچہ خلیفہ سوم  کے دور میں احادیث کے نقل اور تدوین  کرنے میں زیادہ مخالفت نہیں ہوئی لیکن پھر بھی کسی کو حق نہیں تھا کہ وہ  احادیث  نقل کرے.عثمان نے کہا: کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ ابوبکر اور عمر کے دور میں سنی گئی حدیثوں کے علاوہ کوئی اور حدیث نقل کرے. چنانچہ کئی صحابی ،جیسے ابوزر  کو حدیث رسول (ص)کے بیان اور نشر کرنے سے روکا گیا.(3)

--------------

(1):- سنن ابن ماجہ، ج۱،ص۱۲. المستدرک علی الصحیحین ، ج۱،ص۱۰۲.

(2):- مجمع الزوائد 4: 390 و 8: 609 ـ مسند ابی یعلی 3: 395 ـ

(3):- مجمع الزوائد 4: 390 و 8: 609 ـ مسند ابی یعلی 3: 395 ـ مسند احمد 3: 349..


معاویہ  اور حدیث کی ممانعت

معاویہ کبھی بھی ان احادیث کو نقل کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا، جن میں اہل بیت (ع)کی شان و منزلت بیان ہوئی ہو.اور اس کے علاوہ جو احادیث ان کی شان میں بیان ہوئی ہو ان احادیث کو دشمنان اہل بیت کی شان میں نقل کیا کرتا تھا.اس سلسلے میں معاویہ نے  جو  کام کیا وہ یہ ہے : زر خرید لوگوں سے  بنی امیہ اور اپنی شان میں جعلی حدیثیں  کہلوائی اور رسول اللہ(ص) پر تہمت باندھتے ہوئے کہلایا کہ حدیث نقل کرنے سے آپ نے روکا ہے ۔چنانچہ ابوسعیدخدری ، زیدبن ثابت اور ابوہریرہ  کہتےہیں کہ رسول اللہ (ص) نے احادیث نقل کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:امحضوا کتاب الله و اخلصوه.یعنی الله کی کتاب کو ایک حالت میں رہنےدیں، اور اسے کسی اور چیز کے ساتھ مخلوط نہ کریں.(1)

لاتکتبوا شیئاً منی الا القرآن و من کتب غیر القرآن ولیمحوه... مجھ سے قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز مت لکھیں. اور جس نے بھی قرآن کے علاوہ کچھ لکھا اس کو مٹا دینا چاہئے...

ہم نے پیغمبر (ص) سے نقل حدیث کی اجازت مانگی لیکن انہوں نے اجازت نہیں دی ،آپ (ص) نے حکم دیا کہ کوئی حدیث نقل نہ کیا جائے .ابوہریرہ کہتا ہے کہ میں آپ کی حدیثوں کو لکھ رہا ہوں تو فرمایا: کیا اللہ تعالیٰٰ کے کلام کے علاوہ کوئی اور چیز کی تلاش میں ہو اور لکھتے ہو ؟! 

جب رسول خدا (ص) کو یہ اطلاع ملی کہ ایک گروہ آپ کی احادیث کو جمع کرنے میں مصروف ہے ؛ تو آپ نے منبر پر چڑھ کر  اللہ کی حمد و ثنا ء کے بعد فرمایا :یہ تم لوگ کیا لکھ رہے ہو ؟! میں تو صرف ایک انسان ہوں تمہاری طرح ، جس کے پاس بھی کوئی میری حدیث موجود ہو ان سب کو مٹادو.

--------------

(1):- الطبقات الکبری،ج۲،ص۳۳۶.تدوین السنة الشریفہ،ص۴۲۳.


 ابوہریرہ  کہتا ہے کہ ہم نے تمام احادیث کو جمع کئے اور  کہنے لگے : یا رسول اللہ (ص)! کیا ہم آپ سے احادیث نقل نہ کریں ؟ تو فرمایا : کبھی کبھی نقل کیا کریں ، کوئی بات نہیں ، لیکن جو بھی مجھ پر کوئی جھوٹ یا بہتان باندھے، یعنی جعلی حدیث نقل کرے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا(1)

جواب :یہ ساری حدیثیں جعلی ہیں ،  اگر یہ حدیثیں صحیح ہوں تو  پہلا اور دوسرا  خلیفہ کو کیا استثنا کئے گئے ہیں؟بلکہ بخاری نے اس حدیث کے برخلاف عمل کیا ہے اور کہا ہے : یہ حدیث موقوف ہے، اور خود ابوسعید خدری نے لکھی ہے نہ رسول خدا(ص) نے.

معاویہ کی توجیہات:

امّت میں  اختلافات کا روک تھام

جب عائشہ نے ابوبکر سے سوال کیا :بابا کیوں ان احادیث کو جلا رہے ہو؟! تو انہوں نے کہا: بیٹی مجھے خوف ہے کہ میں مر جاؤں اور لوگوں سے ایک حدیث بھی  میرے پاس باقی رہے ،جبکہ وہ حدیث رسول پاک (ص) سے نقل نہ ہوئی ہو. جس کی وجہ سے  لوگ اختلافات  کا شکار ہوجائیں(2)

--------------

(1):- مسند احمد بن حنبل، ج۳، ص۱۲،۱۳.

(2):- تقیید العلم، ص۳۵.


ابوبکر نے ایک دفعہ کہا : جو چیز ( حدیث ) تم لوگ پیغمبر (ص) سے نقل کرتے ہو ، ان میں اختلاف کرتے ہو اور بعد میں آنے والے اس سے  بھی زیادہ اختلاف کا شکار ہوجائیں گے لہذا  ہرگز  رسول خدا (ص) سے حدیث نقل نہ کریں(1)

جواب:

     یہ بات صرف ابوبکر نے کہی ہے ، لیکن اہل سنت کے کسی اور عالم نے اس بات کا دفاع نہیں کیا ہے .ابوبکر کی یہ توجیہ درست نہیں کیونکہ اولاً : حدیث ؛ آیات  کے درمیان موجود ابہامات اور اختلافات کو دور کرنے کیلئے  ہے .ثانیاً : لوگوں کے درمیان موجود اختلافات کو ختم کرنے کیلئے ہے ثالثاً: احادیث کو لوگوں کے سامنے قرآن کوتوضیح دینے  کیلئےہے نہ قرآن کو نابود کرنے کیلئے

      قرآن اور حدیث میں  موجوداختلافات کو حل کرے نہ اصل حدیث کو مٹائے .

      جس طرح عثمان  نے قرآن کریم کے مختلف نسخوں کو جمع کیا اور ان میں سے ۵ نسخوں کو اصلی منابع قرار د یا اسی طرح احادیث کو بھی دستہ بندی کرتے

     خود اہل سنت اس بات کے قائل ہیں  کہ قرآن کے مقابلے میں  سنت منبع اصلی ہے ،تو اگر اسے ممنوع قرار دے دے تو کیا ہو گا؟.

--------------

(1):-  تذکرة الحفاظ ج۱، ص۵.


حدیث ، قرآن کے ساتھ مخلوط ہوجاتی

جواب :قرآن اور حدیث کا مخلوط ہونے کی اصطلاح صحیح نہیں ہے یہ بات اعجاز قرآنی کے منافی ہے ، کیونکہ اگر ایسا ہو  تو حدیث قرآن کے برابر ہوجائے گی ، اور قرآن کریم کا سب سے بڑا معجزہ مبارزہ طلبی لغو ہوجائے گا.(1) اور اس زمانے میں قرآن کریم کو کاتبان وحی کے توسط سے  لکھا جارہا تھا ؛ تو مخلوط کیسے ہوجاتا؟!

بس  اصل وجہ  یہ تھی کہ فضائل اہل بیت (ع)ختم ہوجائیں جس کی خاطر لوگوں نے احادیث نقل اور بیان کرنے اور لکھنے پر پابندی لگا دی کیونکہ یہ لوگ چاہتے تھے کہ اہل بیت(ع) لوگوں کے درمیان  معرفی نہ ہونے پائے کیونکہ آئمہ کے سامنے اپنے آپ کو نابود سمجھتے تھے .کیونکہ ہر حدیث رسول(ص) میں کسی نہ کسی طرح اہل بیت کی فضیلت اور قدر ومنزلت بیان ہوچکی تھی جسے سن کر اہل بصیرت اور اہل انصاف سمجھ جاتے کہ وصایت اور خلافت کے حقدار وہی حضرات تھے اور جوبھی ان کی جگہ بطور خلیفہ مسند خلافت پر بیٹھے وہ غاصب تھے.اور سمجھ جاتے کہ اس کی زد میں  کون کون آتے ہیں؟!!

جمع آوری احادیث کےمراحل

یہ ممنوعیت بنی امیہ اور بنی مروان کے دور تک جاری رہی جب عبد العزیز کا دور آیا تو انہوں نے   ؁۱۰۱ میں یہ احساس کیا کہ اگر یہی صورت رہی تو علم اور علماء اور (احادیث پیغمبر) بالکل مفقود ہوجائیں گے(2)

--------------

(1):- محمد بن عجاج ، خطیب، السنة قبل التدوین، ص ۱۸۷.۱۸۹.

 (2):- محمود ابوریة ؛ اضواء علی السنة المحمدیہ ، ص۵۳،۵۴.


 لہذا اس نے اولین بار احادیث رسول (ص)کو دوبارہ سے تدوین کرنے کا حکم دیا اور سب سے پہلا جس شخص نے تدوین شروع کی وہ ابن شہاب زہری ہے ، کہ اس نے ؁۱۵۰ یعنی ۵۰ سال بعد تدوین شروع کی  .ان کے بعد جن علماء نے تدوین حدیث کا کام شروع کیا ، ان میں سے بعض کانام درج ذیل ہیں:

زکریا بن ابی زائدہ، عبدالملک بن جریح، محمد بن اسحاق،عبدا للہ بن مبارک،لیث بن سعد،ابن ابی ذئب، سفیان بن الثوری، ...

1.  تدوین: ہر  وہ حدیث جو پیغمبر اسلام (ص)سے نقل ہوئی ہے

2.  مصنفات فقہی کتابوں کے ابواب کے مطابق تدوین کیا گیا ہے جیسے مصنف ابوحنیفہ، ابن ابی شیبہ .

3.  مسانید : مسند نویسی  ایک قدم آگے ہے جہاں سنی کی بررسی اور جمع آوری کیا جاتا ہے اور وہ صحابیوں کے اعتبار سے ترتیب دیا گیا ہے : جیسے ابوہریرہ نے کیا کہا ؟ اس کی تمام باتوں اور اقوال کو ایک ساتھ جمع کیا ہے احمد بن حنبل نےکیا کہا ہے ؟ ان کے سارے اقوال کو یک ساتھ لایا گیا ہے اس طرح ۱۳۰ مسانید لکھے جاچکے ہیں ان میں سے ۱۰ بہت ہی معتبر ہیں

مسند ابی شیبہ

مسانید اربعہ احمد بن حنبل یہ باقی مسانید میں سے چیدہ چیدہ اہم باتوں کو جمع کیا ہے.

صحاح ستہ : اس مرحلے میں سند اور راویاں کے سندوں کی تحلیل کی گئی ہے .صحیح بخاری ؁۲۵۶، مسلم؁۲۶۱، سنن ابی داود؁۲۷۵، سنن ابن ماجہ ۲۷۳؁، ترمزی۲۷۹؁، نسائی۳۰۲؁


صحاح اور سنن میں فرق

صحاح میں سارے مباحث ( سیاسی، اخلاقی ، اعتقادی، ) سےبحث کی جاتی ہے لیکن

سنن میں فقط فقہی مباحث کو زیر بحث لایاجاتا ہے.

موطا ابن مالک جو علمیت کے عظیم درجے پر فائز ہے وہ ۷۰ ہزار احادیث میں سے صرف ۷۰۰ حدیثیں معتبر جانتا ہے اور اسے پیغمبر(ص) کی طرف نسبت دیتا  ہے .

یہ سات اہل سنت کے جوامع اولیہ شمار ہوتے ہیں

مصنف: یہ فقہی ابواب کے مطابق تدوین ہوا ہے ؛ جیسے نماز، روزہ ، زکواة ، ....

گام بعدی: اہل سنت کے درمیان ایک انقلاب آیا اور ان احادیث کی پاکسازی اور نقد و بررسی کرنے لگا.

حدیث کی کچھ اصطلاحات

غریب الحدیث : وہ کلمات جو قابل فہم نہیں ، جیسے ضرب المثل ،

مختلف الحدیث : ایسے احادیث کے بارے میں بحث ہوتی ہے ، ظاہراً دو حدیثیں آپس میں تناقض رکھتی ہیں ، اگرچہ درحقیقت قابل جمع ہیں

ناسخ و منسوخ: جس طرح قرآن مجید میں آیات ایک دوسرے کا ناسخ و منسوخ بنتی ہے اسی طرح احادیث بھی ایک دوسرے کا ناسخ و منسوخ بنتی ہیں .ان سے بحث کرتےہیں.


تیسری فصل:مسلمانوں میں اختلافات کے اسباب

مسلمانوں کی گمراہی کا سبب  کون؟

 مسجد نبوی میں ایک شیعہ عالم دین دعاؤں میں مصروف تھا، اتنے میں ایک سلفی مذہب کا (وہابی) آیا اور اہانت آمیز لہجے میں کہا: تم سب گمراہ ہو جس کے ذمہ دار تمہارے علماء خصوصاً شیخ کلینی اور مجلسی ہیں.

شیعہ عالم: وہ لوگ خدا کی رحمت سے  دور ہوں جو مسلمانوں کی گمراہی اور ضلالت کا باعث بنے پھر : کیا تو جاننا چاہتا ہے کہ کون گمراہی کا سبب بنا اور اس سے دوری اختیار کرے؟!

وہابی :کیوں نہیں، میں حاضر ہوں شیعہ: صحیح بخاری کو مانتے ہو؟

سنی: ہم قرآن کے بعد معتبر ترین کتاب صحیح بخاری کو مانتے ہیں اور اس کی تمام روایات معتبر اور صحیح ہیں.

شیعہ عالم :صحیح بخاری میں  سات روایات موجود ہیں جن میں پیغمبر اسلام کا آخری لمحات میں قرطاس و قلم مانگنا تاکہ امّت گمراہی سے بچے تو بعض لوگوں نے جو ان کے  ارد گرد جمع تھے انکار کیا اور مانع بنے اور رسول غصے میں آکر قوموا عنّی یعنی یہاں سے دفع ہوجاؤ کہہ کر نکال دئے گئے. کیا تمہیں معلوم ہے وہ کون تھے؟ اگر معلوم ہوجائے تو کیا اس سے  بیزاری کا اظائر کروگے؟ اس وقت وہ خاموش ہوگیا .

 شیعہ عالم نے کہا: آپ  صحیح بخاری کا مطالعہ کریں تاکہ تم پر واضح ہوجائے  کہ اختلاف اور گمراہی کامنشا شیخ کلینیؓ ہے یا دوسرے شیعہ علماء  یا وہ شخص ہے جس کی محبت کا تم لوگ دم بھرتے ہو؟!

 اس نے کہا: ان لوگوں کے باہر نکال دینے کے بعد تو رسول اللہ وہ خط لکھ سکتے تھے کیوں نہیں لکھے؟

شیعہ عالم: جب عمر نے شبہہ کی بنیاد ڈالی تواگر پیغمبر  لکھ بی  دیتے تو یہ لوگ کہہ دیتے کہ اس خط کی اہمیت نہیں ، کیونکہ رسول اللہنے حالت غنودگی  یعنی جب عقل زائل ہوچکی تھی ،میں لکھے ہیں .اور یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اسے پھاڑ دیتے.


مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے  والے کون؟

شیعہ : تم اہل سنت والے ہیں  رافضی کہتے ہو اور گمراہ سمجھتے ہو لیکن کیا تم نے اپنے بزرگوں سے کبھی سوال کیا ہے کہ گمراہی اور اختلاف کے بیج کس نے بوئے ہیں؟ اور کس نے رسول کو نجات نامہ لکھنے نہ دیا؟ ایسے شخص سے بیزاری کرنے کی بجائے تم لوگ اس کی محبت میں گرفتار ہوگئے ہو؟!

وہابی: ایسا نہیں خدا اس پر لعنت کرے جو مسلمانوں میں اختلاف کا سبب بنا .

 شیعہ: آمین یا رب العالمین. تم صحیح بخاری کا مطالعہ کرو(1) کہ کون سبب بنا کہ رسول اللہ خط لکھ نہ سکے ؟ اور ابن عباس نے کیوں گریہ کیا ؟

وہابی :جب اس بات پر متوجہ ہوا تو کہنے لگا کہ بہر حال جو کچھ  بھی ہوا  اب تو تمام مسلمانوں کو قرآن  اور سنت پر عمل کرنا چاہئے جو ہمارے اختیار میں ہے.

شیعہ: ہم شیعیان علی (ع)بھی یہی کہتے ہیں اور معتقد ہیں کی قرآن اور سنت پر عمل کریں جو آئمہ طاہرین  کے توسط سے ہم تک پہنچی ہے. لیکن تمھاری یہ بات تو:

اولاً عمر کی بات کے خلاف ہے یعنی حسبنا کتاب اللہ کا معنی  یہی ہے کہ ہمیں رسول کی لکھائی کی کوئی ضرورت نہیں.

ثانیاً اگر عمر کی بات ٹھیک تھی اور خدا کی کتاب کافی ہوتی تو اس وقت صحابہ کے درمیان اختلاف کیوں پیدا ہوئے؟

ثالثاً کیوں مسلمانوں بلکہ خود اصحاب ایک دوسرے سے لڑنے لگے؟ً کیا علی (ع)اور طلحہ و زبیر  اور معاویہ اصحاب رسول میں سے نہیں تھے؟ کیا عائشہ زوجہ پیغمبر نہیں تھی؟ کیا رسول   قرآن اپنے ساتھ لیکر گئے؟ پس اگر قرآن کافی ہے سنت کی ضرورت نہیں تو اپنے آپ کو سنّی کیوں کہتے ہو؟

--------------

(1):-  صحیح بخاری، ج۱،ص۳۳     ،ابوعبداللہ الحاکم نیشاپوری، معرفة علوم الحدیث ، ص۱۰ باب قول مریض قوموا عنّی.


وہابی: بہر حال جو ہوا سو ہوا فی الحال ہمیں کسی صدر اسلام کے مسلمانوں کو برا بھلا نہیں کانب چاہئے کیونکہ وہ کلمہ گو تھے.

 شیعہ: اگر کلمہ گو کیلئے بدگوئی اور برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے تو چھوٹی چھوٹی چیزوں پر تم لوگ شیعوں کو کیوں برابھلا کہتے ہو. اور کفر کے فتوے لگاتے ہو؟صرف اس بات پر کہ اپنے فقہ کے مطابق مٹی (سجدہ گاہ) پر سجدہ جائز سمجھتے  ہیں تو انہیں تم مشرک کہتے ہو؟ اور ایرانیوں کو مجوسی کہتے ہو؟!

وہابی: یہ خاص گروہ کیساتھ مختص ہے جن سے ہم بیزار ہیں.

شیعہ: با لآ خر تم لوگ شیعوں کو گمراہ سمجھتے ہو. خدا اس پر لعنت کرے جو مسلمانوں کی گمراہی کا سبب بنا خواہ ان کے ہم پیروکار ہوں یا تم.

وہابی جب  لاجواب ہوگیا تو کہنے لگا : کچھ بھی  ہو، ایرانی پہلے مجوسی تھے اس بات سے تمہیں ناراض نہیں ہونا چاہئے.

شیعہ: کچھ بھی ہو تم عرب  بھی بت پرست اور مشرک تھے کیا تمہیں بتادوں کہ قرآن میں ہم ایرانیوں کی مذمت میں آیت نازل ہوئی ہے یا تم عرب والوں کی؟

وہابی :کچھ فکر کرنے کے بعد کہا: ہمیں معلوم نہیں .

شیعہ: لیکن میں جانتا ہوں کہ عرب کی مذمت میں کتنی آیتیں نازل ہوئی ہیں:

1. قَالَتِ الْأَعْرَابُ ءَامَنَّا  قُل لَّمْ تُؤْمِنُواْ وَ لَاكِن قُولُواْ أَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْایمَانُ فىِ قُلُوبِكُمْ  وَ إِن تُطِیعُواْ الل ه وَ رَسُولَهُ لَا يَلِتْکمُ مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيًْا  إِنَّ الل ه غَفُورٌ رَّحِیمٌ (1) یہ بدوعرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ اسلام لائے ہیں کہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اور اگر تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا کہ وہ بڑا غفور اور رحیم ہے

--------------

(1):-  حجرات14.


2.الْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَ نِفَاقًا وَ أَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُواْ حُدُودَ مَا أَنزَلَ الل ه عَلىَ‏ رَسُولِهِ  وَ الل ه عَلِیمٌ حَكِیمٌ وَ مِنَ الْأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغْرَمًا وَ يَترََبَّصُ بِکمُ‏ُ الدَّوَائرَ  عَلَيْهِمْ دَائرَةُ السَّوْءِ  وَ الل ه سَمِیعٌ عَلِیمٌ (1)

یہ بادیہ نشین بدو کفر و نفاق میں انتہائی سخت ہیں اور اس قابل ہی نہیں کہ اللہ نے اپنے رسول پر جو کچھ نازل کیا ہے ان کی حدود کو سمجھ سکیں اور اللہ بڑا دانا، حکمت والا ہے اور ان بدوؤں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ تم پر گردش ایام آئے، بری گردش خود ان پر آئے اور اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے .

وہابی: یہ آیتیں تو عرب بادیہ نشینوں کی مذمت میں نازل ہوئی ہیں.

شیعہ : ٹھیک ہے اسے قبول کرتا ہوں لیکن اس آیت کا کیا کریں گے :وَ مِمَّنْ حَوْلَکمُ مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ  وَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِینَةِ  مَرَدُواْ عَلىَ النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ  نحَْنُ نَعْلَمُهُمْ  سَنُعَذِّبهُُم مَّرَّتَینْ‏ِ ثمُ‏َّ يُرَدُّونَ إِلىَ‏ عَذَابٍ عَظِیمٍ .(2) اور تمہارے گرد و پیش کے بدوؤں میں اور خود اہل مدینہ میں بھی ایسے منافقین ہیں جو منافقت پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے (لیکن) ہم انہیں جانتے ہیں، عنقریب ہم انہیں دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے.

 اور مہاجرین و انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جن لوگوں نے نیکی میں ان کا اتباع کیا ہے ان سب سے خدا راضی ہوگیا ہے اور یہ سب خدا سے راضی ہیں اور خدا نے ان کے لئے وہ باغات مہیا کئے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے

--------------

(1):-  توبہ ۹۷،۹۸.

(2):- توبہ 101.


جب یہ آیت  پڑھی تو سخت ناراض ہوگئے. اور کہنے لگے ان آیات کو سمجھنے کیلئے ظاہر آیات کی بجائے تفسیر کی طرف رجوع کرنا چاہئے

شیعہ: تم بھی شیعوں کے بعض اعمال کے ظاہر کو دیکھ کر فوراً کفر کا فتوی کیوں لگاتے ہو؟ کیوں اپنے مدارس میں شیعوں کے خلاف جوانوں کو تعلیم دیتے ہو؟ آخر ہم سے ان اعمال کی وجوہات اور ادلہ کے بارے میں کیوں دریافت نہیں کرتے ہو؟ اب ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا. اور جو آیا ت عرب میں سے خواہ بادیہ نشین ہوں یا شہری ، ہر صورت  میں عرب تو ہے، اور جو آیا ت منافقین و کفار و مشرکین کی مذمت میں نازل ہوئیں سب عرب والے تو تھے. سورۂ منافقون تو یقیناً مدینہ کے منافقین کی مذمت میں نازل ہوا ہے.لیکن ہم ایرانیوں کی مذمت میں نہیں بلکہ ہماری تعریف  و مدح میں آیت نازل ہوئی ہے: 

صحیح مسلم میں دیکھ لو: جب سورۂ جمعہ نازل ہوا، رسول اللہ (ص)نے آیہوَ آخَرینَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ (1) کی تلاوت کی تو یک شخص نے کہا: یا رسول اللہ (ص)آیت میں آخرین سے مراد کون لوگ  ہیں؟ آپ نے جواب نہیں دیا پھر سوال کیا، پھر جواب نہیں دیا ،پھر سوال کیا توفرمایا: کیا سلمان فارسی حاضر ہے؟ پھر اپنے دست مبارک کو سلمان پر رکھ کر فرمایا : اگر ایمان ثریا پر ہی کیوں نہ ہو یہ لوگ اسے حاصل کرکے رہیں گے.فوضع النبی یده علی سلمان ثم قال: لوکان الایمان عند الثریا لنا له رجال من هولاء . (2)   ابو ہریرہ نے روایت کی ہے رسول اللہ نے فرمایا: لو کان الدین عند الثریا لذہب بہ رجل من فارس حتی یتناولہ.(3)

 کیا اسے مانتے ہو؟  کہا ہاں یہ قول صحیح ہے.

--------------

(1):- جمعہ ۳.

(2):- صحیح مسلم، کتاب فضل صحابہ،ح 2546.

(3):- ہمان، ح254 7.


شیعہ: پس ایرانی نہ صرف مورد مذمت  نہیں ٹھہرا بلکہ خدا و رسول کی طرفسے ان کی تعریف اور مدح ہوئی ہے. پس کیوں تم لوگ ایرانیوں پر کفر کی تہمت لگاتے ہو؟

وہابی نےکہا: حقیقت میں ساری ذمہ داری ہمارے علماء پر عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگ ہمیں یوں بیان کرتے ہیں کہ شیعوں کا ہر کام بدعت اور گمراہی پر مبنی ہوتا ہے. اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں. پھر خدا حافظی کر کے چلے گئے.

یامحمد یا علی کہنا شرک؟!!

سوال : جب شیعیان یا رسول اللہ، یا علی (ع)،... کہتے ہیں؛ تو ابن تیمیہ کے ماننے والے کہتے ہیں کہ مردے کو اس طرح آواز دینا شرک ہے. پس صرف یا اللہ کہہ سکتا ہے.

جواب:

اسلام کا معیار کلمہ ٔ شہادتیں ہے. جو بھی زبان پریہ  کلمہ جاری کرے اس کی جان، مال ،آبرو اور ناموس محترم ہیں. ان باتوں کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج  نہیں ہوتا. صحیح بخاری میں ہے :قال رسول الله :امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا: لااله الا الله.فمن قال لا اله الا الله عصم منی ماله و نفسه الا بحقه و حسابه علی الله .(1)

--------------

(1):-  صحیح بخاری ح 6924.


رسول اللہ(ص) نے جنگ بدر کے دن 24 مقتولین کو ایک جگہ دفن کرنے کے تین دن بعد اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف لائے اور اس گڑھے کے روبرو کھڑے ہو کر صدا دی: یا فلان ابن فلان ویا فلان ابن فلان ایسرّکم انکم اطعتم الله و رسوله؟ فانّا قد وددنا ما وعدنا ربنا حقاً فهل وجدتم ما وعد ربّکم حقاً قال فقال عمر : یا رسول الله! ما تکلم من اجساد لا ارواح لها؟ فقال رسول الله : والذی نفس محمد بیده ما انتم باسمع لما اقول منهم. (1)

یا رسول اللہ! کیا بے روح اجساد کے ساتھ باتیں کرتے ہو؟ آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے ، تم ان سے زیادہ میری باتوں کو نہیں سن سکتے یعنی جس طرح زندہ لوگ سنتے ہیں اسی طرح مردہ لوگ بھی سنتے ہیں.

اسی طرح آپ نے اہل قبور کی زیارت کرتے ہوئے اموات کو خطاب کرکے فرمایا:

السلام علیکم یا اهل القبور یغفر الله لنا ولکم انتم سلفنا ونحن بالاثر(2)

عبد اللہ بن عمر نے رسول خدا ، ابوبکر اور عمو کی زیارت کرتے ہوئے کہا:

السلام علیک یا رسول الله!السلام علیک یا ابابکر السلام علیک یا ابتاه.(3)

اسی طرح تمام مسلمانان عالم تشھد میں کہتے ہیں:السلام علیک ایهاالنبی ورحمةالله و...

ان تمام بیانات کی روشنی میں یا رسول اللہ کہنا ، یا علی، یا حسین ، یا فاطمہ کہنا، پیغمبر (ص)  کا اہل قبور کو آواز دینا عبد اللہ بن عمر کا السلام علیک یا رسول اللہ، یا ابتاہ،یا ابابکر کہنا، شرک ہوا اور یہ لوگ مشرک.!حتی  کہ سب مسلمان جو نماز میں السلام علیک ایہا النبی ورحمة اللہ.. کہتے ہیں ، مشرک ہوگئے.

--------------

(1):- صحیح بخاری،باب قتل ابی جھل،ح39 76.   

(2):- القحطانی، صلوة المؤمن ،ح 39 76.

(3):- مجموع فتاوی بن باز، کتاب الحج والعمرہ، ج9، ص289.


اشکال:

مشرکین اور بت پرست بھی یہی کہتے ہیں:وَ الَّذِینَ اتخََّذُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلىَ الل ه زُلْفَی (1)   اور جن لوگوں نے اس کے علاوہ سرپرست بنائے ہیں یہ کہہ کر کہ ہم ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں گے؛ اور شیعہ بھی آئمہ کو قرب الہی کیلئے واسطہ قرار دیتے ہیں.  

جواب:

اس اشکال کا جواب اسی آیة میں موجود ہے. شیعوں اور بت پرستوں میں فرق یہ ہے کہ بت پرست کہتے ہیں کہ ہم بتوں کی پوجھا اس لئے کرتے ہیں کہ خدا سے نزدیک ہوجائے یعنی خود اقرار کرتے ہیں کہ ہم بتوں کی پرستش کرتے ہیں. لیکن شیعہ کبھی بھی اہل بیت کی پرستش  کو جائز نہیں سمجھتے اور کبھی بھی آئمہ کیلئے سجدہ نہیں کرتے اور بغیر قصد قربۃً  الی اللہ کوئی عبادت ، نذر ، نیاز و... جائز نہیں سمجھتے. اگر نذر امام حسین ، عباس، امام رضا(ع) کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نذر کا ثواب ان ہستیوں کیلئے ہدیہ کرنا ہے لیکن اصل نذر خدا کیلئے ہے. اور کہتے ہیں :

قُلْ إِنَّ صَلاتی‏ وَ نُسُکی‏ وَ مَحْیايَ وَ مَماتی‏ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمینَ (2)

کہہ دیجئے کہ میری نماز ,میری عبادتیں ,میری زندگی ,میری موت سب اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے دعائے کمیل میں کہتے ہیں:الهی و ربی من لی غیرک اسئله کشف ضرّی والنظر فی امری .

آیہ شریفہ :أَمَّن یجُِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوءَ وَ يَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ  أَ ءِلَهٌ مَّعَ الل ه   قَلِیلًا مَّا تَذَكَّرُون‏. (3)

--------------

(1):- زمر، ۳.

(2):- انعام،۱۶۲.

(3):- نمل62.


 بھلا وہ کون ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم لوگوں کو زمین کا وارث بناتا ہے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور خدا ہے - نہیں - بلکہ یہ لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں .

صحابہ کون؟

یہ ایک مہم نکتہ ہے کہ صحابہ کا مفہوم کیا ہے ؟ اس بارے میں اہل سنت کے ہاں مختلف نظریات موجود ہیں جن میں سے کچھ  یہ ہیں:

۱.رسول اللہ کو صرف ایک بار دیکھا ہو

کچھ نے کہا کہ ہر وہ مسلمان جس نے رسول اللہ (ص) کو اپنی زندگی میں دیکھا ہو. یہ بخاری کی تعبیر ہے :من صحب رسول اللہ او رآہ من المسلمین فہو من اصحابہ!

احمد بن حنبل معروف عالم اہل سنّت نے بھی یہی کہا :اصحاب رسول الله کلّ من صحبه شهراً او یوماً او ساعة او رآه؛ اصحاب رسول خدا (ص) ہر وہ شخص ہے جس نے ایک مہینہ یا ایک دن یا ایک گھنٹہ آپ کو دیکھا ہو یا ساتھ رہا ہو .

۲.ایک مدت تک آپ کے ساتھ رہا ہو

 قاضی ابوبکر محمّد بن الطیّب کہتا ہے عرف میں صحابی ان کو کہا جاتا ہے کہ جو : ایک مدت تک آپ کے ساتھ رہا ہو.

۳.ایک سال آپ کے ساتھ رہا ہو

 سعید بن المسیّب: صحابی پیغمبر (ص)صرف وہی لوگ ہیں جو کم از کم ایک یا دوسال ساتھ رہے ہوں اور ایک یا دو غزوہ میں رسول خدا (ص) کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں.(1)

--------------

(1):-  تفسیر قرطبی، جلد 8، صفحہ 237.


اور ان تعریفوں میں سے اکثر اہل سنت نے وسیع معنا کو لیا ہے.یعنی اگرایک مہینہ یا ایک گھنٹہ بھی رسول کی خدمت میں رہے ہوں اس صور ت میں یہ اشکال پید اہوتا ہے کہ اہل سنت کے کہنے کے مطابق یہ سب عادل ہیں اور ان کا ہر قول و فعل ہمارے لئے حجت ہے اور ان پر اشکال کرنے والا زندیق ہے !!! لیکن ان کا کردار دیکھیں تو جیسا کہ بیان کرچکا بڑے بڑے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں تو ہمارے لئے کیسے یہ لوگ عملی نمونہ بن سکتے ہیں؟!!

شیعہ کیوں صحابہ کومعیار حق نہیں مانتے  ؟

جواب: شیعہ سارے اصحاب کو ملعون نہیں مانتے ، بلکہ ایک مخصوص گروہ کو جو ثقیفہ میں جمع ہوکر خلافت کو علی(ع) سے دور رکھنے کا سبب بنے.کیونکہ خلافت کو علی کی ضرورت تھی نہ علی کو خلافت کی ، یہ طبیعی بات  ہے کہ جنگ میں کہیں بھی حلوا اور پلاؤ تقسیم نہیں ہوتا ، بلکہ تلوار ، نیزے  ،گولیوں  اور بموں ، کے ذریعے سے اس کا استقبال کیا جاتا ہے .

 قرآن کریم نے ان لوگوں پر لعن  بھیجی ہے کہ جو اللہ اور  رسول  کو اذیت دے  اور ان  کی نافرمانی کرے ، نہ صرف لعن بھیجی ہے بلکہ قیامت کے دن شدید عذاب کا  بھی وعدہ کیا ہے:إِنَّ الَّذِینَ يُؤْذُونَ الل ه وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ الل ه فِی الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذاباً مُهِیناً». (1)

یقیناً جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے اور خدا نے ان کے لئے رسوا کرنے والاعذاب مہیاّ کر رکھا ہے.

اور تاریخ میں   ثبت ہوچکا ہےکہ صحابہ نے کئی دفعہ رسول کی نافرمانی کرکے ان کے دل دکھائے ہیں، جیسے پیغمبر (ص) کے حکم کرنے کے باوجود جیش اسامہ میں شرکت نہ کرنا، آپ(ص) کے آخری ایام میں قرطاس وقلم مانگنا اور دینے  سےصحابہ کا انکار کرنا و.

--------------

(1):-  الاحزاب ۵۷.


سعد بن عبادہ نے علی ؑسے کہا : ابوبکر اب بوڑھا ہوچکا ہے ، اسے چند سال حکومت کرنے دیں پھر آپ حکومت کریں.یعنی انہوں نے اس خلافت کو  لوگوں کی مرضی اور  اختیار ی  منصب سمجھ رکھا تھا جبکہ یہ ایک الٰہی منصب تھا  جسے اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے انتخاب کیا تھا.

لعن بر صحابہ کہاں تک جائز ہے؟

اس سوال کا جواب واضح کرنے کیلئے ہم ایک مناظرہ کو نقل کرتے ہیں:

شیعہ : میں مسجد نبوی میں مفاتیح الجنان کھول کر دعا پڑھ رہا تھا اتنے میں ایک وھابی آیا جو مفاتیح سے آشنا تھا فوراً زیارت عاشورا نکالی اور کہا: یہ اول و دوم و سوم  پر لعن کیا گیا ہے ، ان سے کون لوگ مراد ہیں؟

شیعہ: کیا ہر وہ شخص جن پر لعن کرتے ہیں ان کا پہچاننا ضروری ہے؟

وہابی: انسان جس کو نہیں جانتا کیسے اس پر لعن کرتا ہے؟

شیعہ: ہم سارے مسلمان  پانچ وقت کی نماز میں کئی مرتبہ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین پڑہتے ہیں ، کیا انہیں ہم جانتے ہیں؟

وہابی: کچھ فکر کرنے کے بعد ،نہیں.

شیعہ : جن کو نہیں جانتے ہو کس طرح خدا سے دعا کرتے ہو کہ ان میں سے نہ ہو؟

وہابی: انہیں جانے یا نہ جانے ہمیں خدا کا حکم ہے کہ یہ آیت پڑھا کرے.

شیعہ: یہی حکم زیارت عاشورا میں بھی ہے کہ ان کو جانے یا نہ جانے ان پر لعن کیا کرے.

وہابی: اس زیارت میں معاویہ پر بھی لعن کی گئی ہے اسے تو جانتے ہو کہ وہ صحابی رسول اور خلفائے راشدین میں سے  ہے  جنہیں رسول خدا نے بھشت کی بشارت دی ہے. اور  صحابی رسول پر لعن کرنا گناہ  اور حرام ہے  اور شرک و کفر سے بھی بد تر ہے، اسلئے لعن کرنے والوں کو سزا ملنی چاہئے.


شیعہ : اصحاب اور خلیفۂ رسول کے ساتھ جنگ کرنا لعن کرنے سے زیادہ بڑا گناہ  ہے. اگر معاویہ کو موقع ملتا تو علی ابن ابی طالب(ع) کو شہید کرتا.جس طرح اس کے بیٹے یزید نے حسین ابن علی (ع) کو شہید کیا.

اولاً شیعہ کبھی بھی اہل بہشت پر لعن نہیں کرتے.

ثانیاً  علی ابن ابی طالب(ع)  بھی خلفائے راشدین میں سے  تھے. اور معاویہ نے ان کے ساتھ جنگ کی اور جو بھی علی  پر لعن نہیں کرتا تھا اسے سزا دیتا تھا. نماز جمعہ کے بعد ہزار مرتبہ لعن کرنا واجب قرار دیا تھا. تاریخ گواہ ہے کہ ایک دفعہ ایک شامی  علی پر لعن کرنا بھول گیا تو اس کے کفارے میں اس نے ایک مسجد تعمیر کرائی. پس بقول ترعے علی پر لعن کرنے کی وجہ سے معاویہ کافر ہوگیا؛  اور ہم کافر پر لعنت کرتے ہیں.

وہابی: معاویہ نے کب علی پر لعن کیا؟

شیعہ: کیا تم صحیح مسلم کو مانتے ہو؟ جس میں لکھا ہے:امر معاویةبن ابی سفیان سعداً  فقال : ما منعک ان تسبّ ابا تراب؟ فقال امّا ما ذکرت ثلاثاً قالهن له رسول الله فلن اسبه لان تکون لی واحدة منهن احبّ الیّمن حمر النعم.سمعت رسول الله یقول له خلّفه فی بعح مغازیه فقال له علیّ : یا رسول الله خلفتنی مع النساء و الصبیان ؟ فقال له رسول الله: اما ترضی ان تکون منّی بمنزلةهارون من موسیٰ الا انه لا نبوّة بعدی. و سمعته یوم خیبر : لاعطینّ الرایة رجلاً یحب الله و رسوله و یحبه الله و رسوله. و قال : فتطاولنا لها: فقال : ادعوا علیاً فاتی به ارمد فبصق فی عینه و دفع الرایة الیه ، ففتح الله علیه.ولما نزلت هذه الآیة : فقل تعالوا ندع ابنائنا و ابنائکم، دعارسول الله علیا و فاطمة و حسنا و حسینا فقال:اللهم هولاء اهلی .(1)

--------------

(1):-  صحیح مسلم، باب من فضائل علی ابن ابیطالب،ح2404.


یعنی معاویہ نے سعد کو حکم دیا کہ علی پر لعن کرے سعد نے کہا میں علی پر لعن نہیں کروں گا،کیونکہ ان تین خصوصیات میں سے ایک بھی اگر میرے لئے رسول اللہ (ص)نے فرمایا ہوتا جو علی کیلئے بیان کیا ہے تو اس کی قیمت میرے نزدیک سرخ رنگ کے اونٹ کی قیمت سے زیادہ تھی:

1. رسول اللہ(ص)  جب جنگ کیلئے عازم سفر تھے تو علی کو اپنا  جانشین معین کیا تو علی نے کہا: یا رسول اللہ !کیا مجھے بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑجائیں گے؟تو فرمایا: کیا تم خوش نہیں ہونگے کہ تیری نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی؟ فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا.

2. میں نے رسول خدا (ص)کو خیبر میں سنا کہ آپ فرما رہے تھے: کل پرچم اس شخص کو دونگا  جو کرار غیر فرار ہوگا جسے خدا و رسول دوست رکھتے ہیں اور وہ خدا و رسول کو دوست رکھتا ہے. دوسرے دن ہر کوئی اپنی گردنوں کو اونچی کر رہے تھے کہ شاید مجھے آواز دے ، لیکن رسول اللہ(ص) نے کہا: علی کو میرے نزدیک بلاؤ علی کو لایا درحالیکہ ان کی آنکھوں میں شدید درد تھی. اپنا  لعاب دہان علی کی آنکھوں میں ڈال کر نشان انہیں دیدیا اور خدا نے انہیں فتح و نصرت عطا کی.

3. جب آیة مبارکہقل تعالوا ندع ابنائنا و ابنائکم...وانفسنا و انفسکم نازل ہوئی تو رسول اللہ (ص)نے علی وفاطمہ و حسن و حسین کو طلب کیا اور کہا:اللهم هولاء اهل بیتی .تو تو ہی بتا کہ ایسی ذات پر میں کیسے لعن و طعن کروں ؟! اگر میں ایسا کروں تو اللہ اور رسول کی لعنت مجھ پر پڑے گی.

پس معاویہ اہل سنت کے کہنے کے مطابق فاسق اور زندیق ہے  کیونکہ اس نے صحابی رسول علی ابن ابیطالب پر لعن کیا اور ہم اگر معاویہ پر لعن کرتے ہیں تو صحابہ پر نہیں زندیق پر لعن کرتے ہیں.

بعض اصحاب منافق!!

سؤال : کیا یہ صحیح ہے کہ بعض اصحاب پیغمبر منافقین میں سے تھے اور ہرگز جنت میں نہیں جائیں گے ؟

 جواب: ہاں ،صحیح مسلم میں پیغمبر اکرم(ص) سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا میرے اصحاب میں بارہ منافقین ہیں


جن میں سے آٹھہ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ اونٹ کو سوئی کے سوراخ سے گذارا نہیں جائیگا.مقصد یہ کہ ناممکنات میں سے ہے:«فی اصحابی اثناعشر منافقاً، فیهم ثمانیة لا یدخلون الجنة حتی یلج الجمل فی سمِّ الخیاط .(1)

عثمان کے قاتل بھی صحابہ تھے

سؤال:کیا یہ درست ہے کہ عثمان کے قاتل اصحاب رسول اکرم (ص)میں سے تھے؟

۱.فروة بن عمرو انصاری اصحاب بیعت عقبہ میں سے تھا(2)

۲.محمد بن عمرو بن حزم انصاری پیغمبر اکرم(ص) نے نام رکھا تھا.ولد قبل وفاة رسول اللّه بسنتین. فکتب الیه ـ ای الی والده ـ رسول الله سمّه محمد ا. و کان اشدَّ الناس علی عثمان: المحمدون: محمدبن ابی بکر، محمدبن حذیفة، و محمد بن عمرو بن حزم. (3)

۳.جبلہ بن عمرو ساعدی انصاری بدری کہ جس نے عثمان کے جنازے کو بقیع میں دفن کرنے سےروکا :هو اوّل من اجترا علی عثمان. لمّا رادوا دفن عثمان، فانتهوا الی البقیع، فمنعهم من دفنه جبلة بن عمرو فانطلقوا الی حش کوکب فدفنوه فیه. (4)

 ۴.عبداللہ بن بدیل بن ورقاء خزاعی کہ جس نے فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا، امام بخاری کے کہنے کے مطابق اس نے عثمان کو ذبح کیااسلم مع ابیه قبل الفتح، و شهد الفتح و ما بعدها انه ممن دخل علی عثمان فطعن عثمان فی ودجه. (5)

---------------

(1):- صحیح مسلم 8: 122 ـ کتاب صفات المنافقین ـ مسند احمد 4: 320 البدایة والنہایة 5: 20.

(2):- الاستیعاب 3: 325 ـ اسد الغابة 4: 357.

(3):- الاستیعاب3:432.

(4):- الانساب 6: 160 ـ تاریخ المدینة ۱۱۲.

(5):- تاریخ الاسلام (الخلفاء) 567


۵. محمد بن ابی بکر جو حجة الوداع کے سال میں پیدا ہوا، ولدتہ اسماء بنت عمیس فی حجة الوداع و کان احد الرؤوس الذین ساروا الی حصار. امام ذہبی کے کہنے کے مطابق عثمان کےگھر کا محاصرہ کرنے والوں میں سے تھا.(1) .عثمان کی داڑھی کھینچتے ہوئے کہا: اے یہودی!اللہ تمہیں رسوا کرے.

۶.عمرو بن الحمق جو اصحاب رسول میں سے تھا  راوی کے کہنے کے مطابق حجة الوداع کے موقع پر رسول خدا کی بیعت کی ہے.قال الذهبی:وثب علیه عمرو بن الحمق و به ـ عثمان ـ رَمَق و طعنه تسع طعنات، و قال: ثلاث للّه و ستّ لما فی نفسی علیه.  راوی کہتا ہے:بایع النبی فی حجة الوداع و صحبه. کان احد من الَّب علی عثمان بن عفان .(2) و قال الذهبی: انّ المصریین اقبلوا یریدون عثمان. و کان رؤساؤهم اربعة. و عمرو بن الحمق الخزاعی .(3)

امام ذہبی کے کہنے کے مطابق نو دفعہ خنجر کا ضربہ وارد کیا اور کہا تین ضربہ اللہ کی خاطر اور چھ اپنی خاطر تجھ پر لگاؤں گا.

قرطبی: عبدالرحمن بن عُدیس، مصری شهد الحدیبیة و کان ممن بایع تحت الشجرة رسول الله و کان الامیر علی الجیش القادمین من مصر الی المدینة الذین حصروا عثمان و قتلوه (4) عبدالرحمن بن عدیس جو اصحاب بیت الشجرہ میں سے تھا ،قرطبی کے کہنے کے مطابق مصری شورش برپاکرنے والے افراد کا لیڈر اور رہبرتھا کہ آخر کار انہی لوگوں نے عثمان کو قتل کیا.

اب یہ بتائیں کہ یہ اصحاب کیسے ہمارے لئے نمونہ عمل بن سکتے ہیں؟

--------------

(1):- تاریخ الاسلام(الخلفاء) 601

(2):- صحیح بخاری 8: 26 ـ کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی.

(3):- تہذیب الکمال14: 204 ـ تہذیب التہذیب 8: تاریخ الاسلام (الخلفاء) 601

(4):- فتح الباری 2: 189 ـ الثقات لابن حبان 2: 265 ـ الطبقات الکبری3: 71.


بعض اصحاب پرا ہل سنت بھی لعن کرتے ہیں

سوال: کیا یہ صحیح ہے کہ ہم اہل سنت بھی بعض صحابہ کرام  پر لعن کرتے ہیں. عثمان کے قاتلوں پر لعن کرتے ہیں جبکہ وہ لوگ اصحاب رسول میں سے ہیں.اس کے علاوہ وہ لوگ اصحاب شجرہ  اور بیعت عقبہ میں سے ہیں ، اس کے علاوہ رسول خدا (ص)کے رکاب میں جنگ بدر ، احد اور حنین اور فتح مکہ میں بھی شریک تھے !

جواب: امام ذہبی ان پر نفرین کرتے ہوئے کہتاہے:«کل هولاء نبرا منهم و نبغضهم فی الله.نرجوله النار» یعنی ہم ان سے اظہار برائت کرتےہں  اور اللہ کی رضایت کی خاطر ان سے دشمنی کرتے ہںخ اور ان کےلئے عذاب جہنم کا طلب گار ہںں .

امام بن حزم کہتا ہے«لعن اللّه من قتله و الراضین بقتله .(1) بل هم فساق حاربون سافکون دماً حراماً عمداً بلا تاویل علی سبیل الظلم و العدوان فهم فسّاق ملعونون». اور سارےامام جمعہ بھی عثمان کے قاتلوں پر لعن کرتے ہوئے کہتے ہیں:مصر اور کوفہ کے باغی لوگوں نے حضرت عثمان پر ہجوم لائے اور شورش برپا کئے اور یہ باغی، فاجر،ظالم، بے دین ، بے مروت اور جہنمی لوگوں نے تلوار کے ذریعے عثمان کی انگلیاں کاٹ دیں.

بعض صحابہ پر حد جاری کرنا

بعض صحابہ پر رسول خدا کے زمانے میں حد جاری کی گئی. جن میں سے ایک دو مورد کو بطور مثال بیان کریں گے:

ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ برادران اہل سنت کی معتبر ترین کتب میں نقل کئے گئے ہیں کہ بعض اصحاب گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے اور ان پر رسول خدا نے حد جاری کی تو کیا ہم ان اصحاب کو بھی عادل اورمعیار حق مانیں ؟! جیسا کہ اہل سنت کہتے ہیں کہ  سارے اصحاب رسول ستاروں کی مانند ہیں جو بھی ان میں سے کسی ایک کی بھی پیروی کرے نجات پائے گا. جبکہ یہ لوگ خود گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں.

--------------

(1):-  ہمان


عقبہ بن الحرث کہتا ہے کہ«جی‏ء بالنعیمان او بابن النعیمان شارباً فامر النبی من کان بالبیت ان یضربوه. قال: فضربوه فکنت انا فیمن ضربه بالنعال» (1) ابن نعیمان کو شراب کے نشے کی حالت میں رسول اللہ کے سامنے لایا گیا تو آپ نے گھر میں موجود افراد کو حکم دیا کہ اس کی پٹائی کریں ، تو سب نے جوتوں سے اس کی مرمت کی ،جن میں سے ایک میں بھی تھا.

عن جابر انّ رجلًا من اسلم جاء النبیفاعترف بالزنا، فاعرض عنه النبی حتی شهد علی نفسه اربع مرات، فقال له النبی«ابک جنون؟ قال: لا، قال: احصنت؟ قال: نعم، فامر به فرجم بالمسجد». جابر سے روایت ہےکہ ایک مسلمان پیغمبر اکرمکی خدمت میں آیا اور زنا کے مرتکب ہونے کا اعتراف کیا ، آپ  نے اس کی باتوں پر توجہ نہیں دی ، یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اقرار کیا تو اس وقت آپ نے اس سے کہا : کیا تو پاگل ہوگیا ہے؟اس نے کہا نہیں. فرمایاکیا تو شادی شدہ ہے ؟ اس نے کہا : ہاں اس وقت آپ نے سنگسار کرنے کا حکم دیا اور لوگوں نے بھی سنگسار کیا

قصة الولید بن عقبة المعروفة «الذی صلّی صلاة الصبح وهو سکران اربع رکعات، حیث تم احضاره الی المدینة واقیم علیه حدّ شارب الخمر» (2) ولید بن عقبہ کا قصہ توبہت مشہور ہے کہ جس نے نشے کی حالت میں نماز صبح، چار رکعت پڑھائی درحالیکہ وہ مست تھا ، تو اسے مدینہ میں بلایا گیا تاکہ  شراب خوری کی حد جاری کرے ان کے علاوہ اور بھی موارد ہیں لیکن ہم انہیں بیان نہیں کرتے تاکہ بحث طولانی نہ ہو.اور ان موارد کا ذکر کرنے کا مقصد یہی تھا کہ ہم کیسے آنکھ اور کان بند کرکے ان اصحاب کو عادل،معیار حق اور اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں گے؟(3)

--------------

(1):- صحیح البخاری، ج 8، ص 13، ح 6775 کتاب الحدّ.

 (2):- صحیح بخاری،ج۸، ص 22، ح 6820.

(3):- الشیعة شبہات و ردود        ۶۳. 


 رَبَّنَا اغْفِرْ لَنا وَ لِإِخْوانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونا بِالْإِیمانِ وَ لا تَجْعَلْ فِی قُلُوبِنا غِلًّا لِلَّذِینَ آمَنُوا رَبَّنا إِنَّكَ رَؤُفٌ رَحِیمٌ (1)

اور (یہ فئے ان لوگوں کے لیے بھی ہے) جو ان کے بعد آئے ہیں، کہتے ہیں: ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی عداوت نہ رکھ، ہمارے رب! تو یقینا بڑا مہربان، رحم کرنے والا ہے۔

عدالت صحابہ‏

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر اسلام (ص)کے صحابی عظیم المرتبہ  تھے ، وحی الٰہی کو رسول خدا (ص)کی زبانی سنتے تھے ، آپ کے معجزوں کو دیکھتے  تھے، گوہر بار باتوں سے عملی نمونہ تلاش کرتے تھے اور اسوہ حسنہ سے خوب استفادہ کرتے تھے.یہی وجہ تھی  کہ ان کے درمیان بہت ساری ممتاز شخصیات  کی پرورش ہوئی، کہ جن پر عالم اسلام افتخار کرتے ہیں. لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ سارے صحابی بغیر کسی استثناء کے قابل تقلید ، قابل احترام ،مؤمن ،فداکار اور عادل تھے یا ان کے درمیان فاسق اور فاجر  بھی موجود تھے ؟!اس سلسلے میں دو متضاد عقیدے مسلمانوں کے درمیان موجود ہیں:

پہلا نظریہ: سارے صحابی باتقویٰ اور عادل تھے

اہل سنت کے اکثر لوگ اس نظریے کے قائل ہیں اس لئے جو بھی صحابہ کہیں اسے قبول کرتے ہیں.اور اگر کوئی برا کام ان سے سرزد ہوجائے تو ان کی توجیہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں. تند رو وہابی اور اکثر اہل سنت  کا یہ نظریہ ہے اسی لئے صحابہ کے بارے  میں تنقید کاایک لفظ بھی نہیں سن سکتے اگر کوئی تنقید کرے تو اسے وہ زندیق ،ملحد اور ان کا خون مباح قرار دیتے ہیں.(2)

--------------

(1):-  سورہ حشر ،۱۰.

(2):- ابوزرعہ رازی؛ کتاب الاصابة.


عبداللہ موصلی اپنی  کتاب«حتّی لا ننخدع» میں صحابہ کے فضائل بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ فضیلت عطا کی ہے کہ رسول اللہ(ص) کی ہم نشینی ان کو نصیب ہوئی ان کا ہر کلام ہمارے لئے قابل عمل ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے رسول کا وزیر بنایا ، ان کی محبت کو دین اور ایمان قرار دیا اور ان کے ساتھ دشمنی اور عداوت کو کفر و نفاق قرار دیا، لیکن جب ان کے درمیان اختلاف اور جنگ کا ذکر آتا ہے تو یہ لوگ بالکل خاموش ہوجاتے ہیں(1) اور یہ کتاب اور سنت کے منافی ہں .

دوسرا نظریہ:اصحاب میں منافق اور ناصالح افراد بھی تھے

یعنی جس طرح ان میں پاک و تقویٰ  اور عادل افراد موجود تھے ، اسی طرح ناصالح اور منافق افراد بھی موجود تھے .جیسا کہ پہلے بیان کر چکا، شیعہ اور بعض اہل سنت دانشور اس عقیدے کےقائل ہیں.

دلیل

قرآن اور رسول نے ان سے بیزاری کا اظہا ر کیا ہے:

 یا نِساءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَ کانَ ذلِكَ عَلَی الل ه يَسِیراً. (2)

خداوندنے قرآن مجید میں ہمسران پیغمبر (ص) کے بارے میں فرمایا:اے ہمسران پیغمبر (ص)!تم میں سے جو بھی آشکار طور پر گناہ کا مرتکب ہواتو اس کی سزا دوگنی ہوگی. اوریہ اللہ تعالیٰ کے لئے بہت آسان ہے

جبکہ ہمسران پیغمبر (ص) آشکارترین مصداق صحابی ہیں، قرآن تو ان کو دوگنی سزا  سنا رہا ہے لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ صحابہ کی باتوں کو بغیر کسی قید و شرط کے قبول کرنا چاہئے!

--------------

(1):-  حتّی لا ننخدع، صفحہ 2.

(2):- سورہ احزاب، آیہ 30.


قرآن فرزند نوح شیخ الانبیاء ؑکے بارے میں ان کی خطا ءکی وجہ سے خطاب کر رہا ہے :

إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صالِحٍ؛ وہ ناصالح عمل ہے  اور حضرت نوحؑ کو انتباہ کیا کہ اس کے بارے میں شفاعت نہ کرے

سوال یہ ہے کہ کیافرزند پیغمبر زیادہ قریب ہے  یا اصحاب؟

اسی طرح  ہمسر نوح و لوط (دو پیغمبر بزرگ الہی)  کے بارے میں فرمایا :

فَخانَتاهُما فَلَمْ يُغْنِیا عَنْهُما مِنَ الل ه شَيْئاً وَ قِیلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِینَ ضَرَبَ الل ه مَثَلًا لِّلَّذِینَ كَفَرُواْ امْرَأَتَ نُوحٍ وَ امْرَأَتَ لُوطٍ  كَانَتَا تَحتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَلِحَینْ‏ِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنهْمَا مِنَ الل ه شَیئًا وَ قِیلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِین (1)

اللہ نے کفار کے لےَ نوح کی بوای اور لوط کی بولی کی مثال پش  کی ہے، یہ دونوں ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیت مںا تھں مگر ان دونوں نے اپنے شوہروں سے خاَنت کی تو وہ اللہ کے مقابلے مںے ان کے کچھ بھی کام نہ آئے اور انہں  حکم دیا گا : تم دونوں داخل ہونے والوں کے ساتھ جہنم مںچ داخل ہو جاؤ قرآن مجید کہہ رہا ہے :

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرابِ مُنافِقُونَ وَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفاقِ لا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ (2)

اور تمہارے گرد و پش  کے بدوؤں مں  اور خود اہل مدینہ مںن بھی ایسے منافقنے ہںث جو منافقت پر اڑے ہوئے ہںَ، آپ انہں  نہں  جانتے (لکنے) ہم انہںّ جانتے ہںق، عنقریب ہم انہںم دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائںا گے۔ اس آیة شریفہ میں تو وضاحت کےساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اہل مدینہ میں بھی آپ کے ارد گرد منافقین  بیٹھے ہوئے ہیں جن کے بارے آپ کو اطلاع دی جارہی ہے.

--------------

(1):-  سورہ تحریم، آیہ 10.

(2):- سورہ توبہ، آیہ 101.


طلحہ اورزبیر شروع میں لشکر اسلام کے افسر تھے اور ان کو سیف الاسلام کا لقب بھی ملا تھا لیکن بعد حکومت کے ہوا و ہوس نے علی (ع)کے ساتھ بیعت اور عہد وپیمان توڑنے پر مجبور کردیا اور ہمسر پیغمبر (عایشہ) کو اپنے ساتھ ملا کر جنگ جمل کی آگ بھڑکا دی اورتقریبا 17  ہزار مسلمان اس آگ میں جل گئے. یہ لوگ قیامت کے دن جواب دہ  ہونگے .

 یا خود معاویہ کو دیکھ لیں جس نے صفین کی جنگ شروع کرکے ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کا خون بہایا. ان کے بارے میں کیا اس  سے سوال نہیں ہوگا؟!!

ان تمام حقائق کے باوجود کیسے آنکھ بند کرکے سارے صحابی کو معیار حق تسلیم کریں گے ؟

سارےصحابیوں کو عادل ماننے کی دلیل

اور یہ بھی یاد رہے کہ پہلےتو یہ عقیدہ نہ تھا بعد میں  قائم ہوا، اس کی کئی وجوہات  ہیں ، جن کو معلوم کرنا ضروری ہے ،وہ یہ ہیں :

الف:کیونکہ یہ لوگ  پیغمبر (ص) اورہمارے درمیان  حلقہ اتّصال ہیں  اور قرآن و سنت  پیغمبر (ص)انہی کے  وساطت سے ہم تک پہنچے ہیں اگر یہ لوگ ان صفات کے مالک نہ ہوں تو ہم کیسے ان پر اعتقاد کر سکتےہیں ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ سارے اصحاب ایک جیسے نہیں تھے ،بلکہ ان میں ثقہ اور مورد اعتماد افراد بھی موجود تھے جو ہمارے اور رسول کے درمیان حلقہ اتصال بن سکتے ہیں جیسا کہ اہلبیتؑ کے بارے میں ہمارا یہی عقیدہ ہے .

مزے کی بات تو یہ ہے کہ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ اس دور کے سارے صحابی ثقہ تھے اگر ایسا ہو تو ہمارا دین مکمل مٹ جاتا، بلکہ سب نے کہا کہ راویوں کے بارے میں تیق ا کرنی چاہئے کہ عادل ،موثق  اورمورد اطمنان ہیں یا نہیں اور اسی بنا پر علم الرجال، علم الحدیث اور علم الدرایہ  وجود میں آیا.


ب:بعض اصحاب پر اشکال کرنے سے مقام پیغمبر اسلام(ص) میں نقص پیدا ہوتا ہے لہذا جائز نہیں ہے .

ان کیلئے جواب یہ ہے کہ کیا قرآن کریم نے منافقین کے اوپر سخت تنقید نہیں کی ؟تو کیا اس سے رسول اسلام (ص) کی شان اور عظمت میں کمی آئی ؟!(1)

ج:اگر صحابہ کے اعمال کو مورد نقد قرار دیں گے تو پہلا دوسرا اور تیسرا خلیفہ کا منصب اور مقام مورد نقداور اشکال قرار پاتا ہے.

د:بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر صحابہ کو مورد اشکال اور نقد قرار دیں گے تو  گویا قرآن کے خلاف عمل کیا ہے کیونکہ قرآن کریم  اور احادیث نبی میں اصحاب کی شان و منزلت بیان ہوئی ہے

جواب : یہ توجیہ ٹھیک ہے لیکن قرآن نے بطور مطلق ان کے بارے میں تمجید نہیں کی ہے

بلکہ خاص صحابی تھے  جن کی مدح سرائی ہوئی ہے:وَ السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُ ه اجِرِینَ وَ الْأَنْصارِ وَ الَّذِینَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسانٍ رَضِيَ الل ه عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ وَ أَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی تَحْتَهَا الْأَنْ ه ارُ خالِدِینَ فِی ه ا أَبَداً ذلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ .(2)

اس آیہ کی ذیل میں  بہت سے اہل اسنت  کےمفسّرین نے ایک حدیث صحابیوں کے ذریعے یوں نقل کی ہیں:جمیع اصحاب رسول الله فی الجنّة محسنهم و مسیئهم .(3) سارے صحابی بہشتی ہیں خواہ وہ نیک کردار کے مالک ہوں یا بد کردار کے.مزے کی بات یہ ہے کہ درج بالا آیت بتاتی ہے تابعین اگر اصحاب کے اچھے کاموں میں اتباع یا پیروی کریں تو قیامت کے دن نجات پائیں گے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اصحاب  گناہوں سے پاک  نہیں ہیں بلکہ ممکن ہے وہ بھی گناہ کا مرتکب ہوں. اس کے علاوہ روایت میں تو صراحت کے ساتھ اس مطلب کو  بیان کیا گیا ہے.

--------------

(1):- شیعہ پاسخ می گوید، ص: 58.

(2):- سورہ احزاب، آیہ 30.

(3):- تفسیر کبیر فخر رازی و تفسیر المنار، ذیل آیہ فوق.


ان سے سوال یہ ہے کہ کیا وہ  نبی جو امّت کی اصلاح کیلئے مبعوث کیا گیا ہو ، اپنے اصحاب کے گناہوں  کو  استثناء کر سکتے ہیں، جبکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ  آپ(ص) کے نزدیک ترین افراد  یعنی امّہات المؤمنین کو بھی اگر گناہ کا مرتکب ہوجائیں  تو دو برابر سزا دی جائےگی؟(1)

اس کے برعکس دوسری جگہ حقیقی مؤمنین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

محَُّمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ  وَ الَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلىَ الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنهَُمْ  تَرَئهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَ رِضْوَانًا سِیمَاهُمْ فىِ وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ  ذَالِكَ مَثَلُهُمْ فىِ التَّوْرَئةِ وَ مَثَلُهُمْ فىِ الْانجِیلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطَْهُ فََازَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی‏ عَلىَ‏ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِیظَ بهِِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِینَ ءَامَنُواْ وَ عَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ مِنهُْم مَّغْفِرَةً وَ أَجْرًا عَظِیمَا. (2)

" محمد (ص) اللہ کے رسول ہںِ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہں  وہ کفار پر سخت گر  اور آپس مں  مہربان ہںل، آپ انہںف رکوع، سجود مںل دیکھتے ہںگ، وہ اللہ کی طرف سے فضل اور خوشنودی کے طلبگار ہںں سجدوں کے اثرات سے ان کے چہروں پر نشان پڑے ہوئے ہںہ، ان کے یی  اوصاف توریت مں  بیپ ہں  اور انجلا مںھ بھی ان کے ییق اوصاف ہںم، جسےر ایک کھیبی جس نے (زمنر سے) اپنی سوئی نکالی پھر اسے مضبوط کای اور وہ موٹی ہو گئی پھر اپنے تنے پر سد ھی کھڑی ہو گئی اور کسانوں کو خوش کرنے لگی تاکہ اس طرح کفار کا جی جلائے، ان میںسے جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالح بجا لائے ان سے اللہ نے مغفرت اور اجر عظم  کا وعدہ کا  ہے"۔

--------------

(1):- شیعہ پاسخ می گوید، ص: 63

(2):- سورہ فتح،29


کیا جنہوں نے جنگ صفین اور جنگ جمل کی آگ کو بھڑکاکرلاکھوں مسلمانوں کو خاک و خون میں نہلادیا ، ایک دوسرے کے ساتھ مہربان تھے؟!! اور ان کی جنگ کافروں کے ساتھ تھی یا مسلمانوں کے ساتھ؟!!

بنابراین مغفرت و اجر عظیم کا وعدہ  صرف ان افراد کیلئے ہے جو ایمان اور عمل صالح کے حامل ہوں.لیکن کیا جنگ جمل کے ذمہ دار افراد عمل صالح والے تھے؟!

اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو تو ایک ترک اولی کی وجہ سے بہشت سے نکال دیتا ہے ، حضرت یونس (ع)تو ایک ترک اولی کی وجہ سے ایک مدت تک مچھلی کے پیٹ میں رہا تھا ، حضرت نوح(ع) کو اپنے گناہگار بچے کی شفاعت کرنے پر مواخذہ کرتا ہے تو کیا یہ ماننے والی بات ہے کہ ہمارے نبی کے صحابی اس قانون سے مستثنی کئے گئے ہیں؟.(1)

براداران اہل سنت اس کے قائل ہیں کہ سارے صحابی عادل ہیں لیکن یہ کون سی عدالت ہے جس کی قرآن نفی کرتا ہے:

إِنَّ الَّذِینَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطانُ بِبَعْضِ ما كَسَبُوا وَ لَقَدْ عَفَا الل ه عَنْهُمْ إِنَّ الل ه غَفُورٌ حَلِیمٌ (2)

دونوں فریقوں کے مقابلے کے روز تم مںم سے جو لوگ پیٹھ پھرک گئے تھے بلاشبہ ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے شطاکن نے انہںّ پھسلا دیا تھا، تاہم اللہ نے انہںا معاف کردیا، یقینا اللہ بڑا درگزر کرنے والا، بردبار ہے۔

آیۃ شریفہ ان لوگوں کی طرف اشارہ کررہی ہےجو لوگ جنگ احد میں فرار ہوگئے تھے اور پیغمبر اکرم کو دشمنوں کے نرغے میں اکیلا چھوڑگئے.

 قرآن کہہ رہا ہے کہ جنگ احد کے موقع پر فرار ہونے والوں کو اپنے بعض گناہوں کی وجہ سے شیطان نے انہیں دھوکہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں رسول اکرم کے وجود مبارک کے طفیل میں بخش دیا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا حلیم رب ہے

--------------

(1):- شیعہ پاسخ می گوید، ص: 62

(2):- سورہ آل عمران،155


اس آیة سے نتیجہ لے سکتے ہیں کہ بعض صحابہ نے جنگ سے فرار ہوتے ہوئے رسول اکرم کو دشمن کے درمیان چھوڑ کے بہت بڑا گناہ کیا ،شیطان ان پر غالب آگیا،اس کی وجہ بھی ان کے گناہ بتاتے ہیں. یہ کون سی عدالت ہے کہ جس کے بارے میں بعض اصحاب کو قرآن نے فاسق کہا ہے :

یا أَيُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْماً بِجَ ه الَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلی‏ ما فَعَلْتُمْ نادِمِینَ. (1)

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تم تحققی کر لا  کرو، کہںا(ایسا نہ ہو کہ) نادانی مںئ تم کسی قوم کو نقصان پہنچا دو پھر تمہںہ اپنے کےی پر نادم ہونا پڑے ۔

اور یہ مفسّرین کے درمیان مشہور ہے کہ یہ آیۃ ولید بن عُقبة کی مذمت میں نازل ہوئی.کہ پیغمبر اکرم نے انہیں بنی المصطلق میں زکات جمع کرنے بھیجا تھا واپس آیا اور کہا یہ لوگ اسلام کے خلاف جنگ کرنے والے ہیں ، بعض مسلمانوں نے اس کی باتوں پر یقین کیااور اس طائفہ کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے نکلے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ اس کی باتوں پر یقین نہ کریں ورنہ پچھتاؤگے. اتفاقاً جب اس کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ طایفہ بنی المصطلق ایک با ایمان طایفہ ہے ولید کو ان سے ذاتی دشمنی تھی اس لئے ان پر یہ تہمت لگائی تھی سوال یہ ہے کہ کیا ولید صحابی نہیں تھا؟!

یہ کیسی عدالت ہے کہ اگر انہیں کچھ دیں تو رسول پر راضی ہوجاتے ہیں اور اگر نہ دیں تو رسول اکرم(ص)  پر اعتراض کرنے لگتے ہیں:

وَ مِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِی الصَّدَقاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْ ه ا رَضُوا وَ إِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْ ه ا إِذا هُمْ يَسْخَطُونَ. (2)

--------------

(1):-  ۔    حجرات،۶.

(2):- توبہ ۵۸.12 و 13 سورہ احزاب


اور ان مں  کچھ لوگ ایسے بھی ہںن جو صدقات(کی تقسمو)مںخ آپ کو طعنہ دیتے ہں  پھر اگر اس مں  سے انہں  کچھ دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہں  اور اگر اس مںا سے کچھ نہ دیا جائے تو بگڑ جاتے ہں ۔

یہ کیسی عدالت ہے کہ جنگ احزاب میں شریک تھے اور رسول خدا پر فریبکاری کی تہمت لگاتے ہیں:

وَ إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَ الَّذِینَ فىِ قُلُوبهِِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّهُ وَ رَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا (1)

اور جب منافقنَ اور دلوں مںہ بماَری رکھنے والے کہ رہے تھے: اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کام تھا وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھا۔

خدا اور اس کے  پیغمبر نے ہمارے لئے جھوٹے وعدوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا. ان میں سے کچھ لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ پیغمبر اس جنگ میں شہید ہوجائیں گے اور اسلام پر فاتحہ پڑھا جائے گا.

 اسی طرح شیعہ سنی دونوں طرف سے روایت نقل ہوئی ہے کہ جب جنگ خندق میں خندق کھودا جا رہا تھا  اور پتھر توڑا جارہا تھا اور جنگ میں کامیابی اور جیت کی بشارت دی جا رہی تھی تو ایک گروہ ان باتوں کا مزاق اڑا رہا تا ؛ سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ صحابہ میں سے نہیں تھے ؟!!(2)

 اس سے بڑھ کر پیغمبر اکرم (ص)پر خیانت کی تہمت لگانے والے بھی صحابی رسول تھے :وَ ما کانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ وَ مَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِما غَلَّ يَوْمَ الْقِیامَةِ ثُمَّ تُوَفَّی كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ وَ هُمْ لا يُظْلَمُونَ. (3)

--------------

(1):-  ۔  احزاب ۱۲

(2):- شیعہ پاسخ می گوید، ص: ۶۵.

(3):- سورہ آل عمران،161.


اور کسی نبی سے یہ نہںا ہو سکتا کہ وہ خاھنت کرے اور جو کوئی خاونت کرتا ہے وہ قاتمت کے دن اپنی خاینت (اللہ کے سامنے)حاضر کرے گا، پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہںّ کاں جائے گا۔

 یعنی اگر ان کو کوئی  سزا دے تو یہ انہی کے اعمال کا نتیجہ ہے. کیا  رسول اللہ (ص) پران تمام نا روا تہمتوں کے لگانے والے عادل اور پاکیزہ  ہو سکتے ہیں؟!!     معروف دانشور بلاذری اپنی کتاب انساب الاشراف میں نقل کرتا ہے کہ مدینہ کےبیت المال میں جواہرات اور دیگر زیورات تھے، عثمان نے ان میں سے کچھ اپنے خاندان والوں کو دیا یہ دیکھ کر لوگ ان پر سخت تپ گئے اور شدید احتجاج کرنےلگے جس سےعثمان سخت خشمگین ہوا اور منبر پر جاکر ایک خطبہ میں کہا: ہم مال غنیمت میں سے اپنی ضروریات کے مطابق لے سکتے ہیں اگرچہ بعض لوگوں کو ناگوار گذرے.

علی(ع) نے ان سے فرمایا: مسلمان تمھارا راستہ روکیں گے

عمّار یاسر نے کہا: میں  وہ پہلا شخص ہوں گا کہ عثمان کو ناک رگڑاؤں گا اور ہمیشہ اس پر اعتراض کرتا رہوں گا.

عثمان غضبناک ہوا اور کہا: تم میرے سامنے جسارت کرتے ہو؟!اسے پکڑ کر اپنے گھر لے گیا اور اس قدر اس پر ظلم کیا کہ وہ بیہوش ہوگئے. اور اسی بیہوشی کی حالت میں ام سلمہ (ہمسر پیغمبر) کے گھر لائے گئے نماز ظہر و عصر و مغرب بھی نہ پڑھ سکے جب آخر وقت ہوش آیا تو وضو کرکے نمازیں پڑھ لی اور فرمایا : یہ اللہ کی خاطر ہم پر پہلی بار ظلم نہیں ہورہا.(1)

یعنی آپ کی مراد دوران جاہلیت کے مظالم تھے .سوال یہ ہے کہ ان تمام تاریخی شواہد کےباوجود کیا ہم آنکھیں بند کرکے سارے صحابہ کا دفاع کریں اور سپاہ صحابہ تشکیل دیں تاکہ صحابہ کی ہر بات ، ہر فعل اور ہرکردار  کو بغیر کسی قید و شرط کے قبول کریں اور ان کا دفاع کریں ؟!!! کہ یہ عاقلانہ کام نہیں ہے.(2)

--------------

(1):-  انساب الاشراف، جلد 6، صفحہ 161

(2):- شیعہ پاسخ می گوید، ص: 76


علی (ع) کی مظلومیت

جو بھی تاریخ اسلام کا مطالعہ کرے نہایت افسوس کے ساتھ اس مطلب تک پہنچ جائے گا کہ امیر المؤمنین(ع) جو علم و تقویٰ کا پیکر اور پیغمبر اکرم کا سب سے قریبی دوست ، جانشین، وصی اور اسلام کا سب سے بڑا مدافع ہوتے ہوئے بھی  ان کی شان میں گستاخی اور لعنت  کرنے لگے اور آپ کے دوستوں  اور چاہنے والوں کو نام نہاد صحابویں نے ستانا شروع کیا .ان ظلم ستانی کی داستان کا کچھ  نمونہ درج ذیل ہیں:

الف: علی بن جہم خراسانی اپنے والد پر لعن طعن کرتا تھا جب ان سے وجہ پوچھی تو کہنے لگا: کیونکہ اس نے میرا نام علی رکھا ہے(1)

ب:معاویہ نے سارے ملازمین کو حکم دیا کہ جو بھی فضائل ابوتراب علی (ع)اور ان کے اہلبیت کے فضائل بیان کرے اس کی جان  مال تم پر مباح ہو.اس کے بعد سارے منبروں سے علی پر لعن اور ان سے اظہار برائت کرنے لگے(2)

 ج: سلمة بن شبیب ابوعبدالرحمان عقری سے نقل کرتا ہے :بنی امیّہ والوں کو جب بھی پتہ چلتا کہ کسی بچہ کا نام علی رکھا ہے تو اسے فوراً قتل کرتے تھے.(3)

د: زمخشری و سیوطی نقل کرتے ہیں کہ بنیامیّہ  کے دور میں ۷۰ ہزار منبر سے علی پر سب و شتم ہوتا تھا اور یہ سنت، معاویہ نے جاری کی تھی(4)

--------------

(1):-  لسان المیزان، جلد 4، صفحہ 210

(2):- النصایح الکافیہ، صفحہ 72.

(3):- تہذیب الکمال، ج 20، ص 429 و سیر اعلام النبلاء، ج 5، ص 102.

(4):- ربیع الابرار، ج 2، ص 186 و النصایح الکافیہ، ص 79 عن السیوطی.


جب عمربن عبدالعزیز نے دستور دیا کہ علی پر لعن کرنے والی اس بدعت کو ترک کردے تو مسجد میں موجود سب لوگ چیخ اٹھے:ترکتَ السنّة ترکتَ السنّة؛ تو نے سنت کو ترک کیا تو نے سنت کو ترک کیا ،یعنی تو نےکیوں اس سنت کو ترک کیا ؟(1) جب کہ صحیح روایت ہےکہ پیغمبر اکرم  (ص)نے فرمایا تھا :مَن سبّ علیّاً فقد سبّنی و من سبّنی فقد سبَّ اللهَ ؛ جو بھی علی پر لعن کرے  گویا اس نے مجھ پر لعن کیا اور دشنام دیا  اور جو مجھ پر لعن کرے گا اس نے خدا پر لعن کیا ہے !!(2)

صحابہ تین قسم کے ہیں

نتیجہ یہ نکلا کہ شیعہ عقیدے کے مطابق صحابہ تین قسم کے ہیں:

الف: جو شروع سے ہی پاک ، صالح اور صادق تھے  اور  کبھی بھی پیغمبر کے فرامین کی مخالفت نہیں کی .ان کیلئے کہاگیا: عاشوا سعداء و ماتوا السعداء.یعنی انہوں نے سعادتمند زندگی کی اور سعادتمندی کے ساتھ اس دنیا سے تشریف لے گئے.

ب: جو شروع میں تو اچھے اور صالح تھے لیکن بعد میں کسی بھی وجہ سے پیغمبر اکرم(ص) کے فرامین کی مخالفت کرنے لگے  اور عاقبت بخیر نہ ہوئے جیسے وہ لوگ جنہوں نے جنگ نہروان ، جنگ جمل اور جنگ صفین شروع کیں.اس گروہ میں طلحہ اور زبیر وغیرہ آتا ہے جن کو رسول کے زمانے میں سیف الاسلام کا لقب ملا تھا لیکن بعد میں امام وقت  یعنی علی ابن ابیطالب کے مقابلے میں جنگ کرنے آئے اور مارے گئے.

ج: جو شروع سے ہی پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ مخلص نہیں تھے ، بلکہ کسی بھی مجبوری کی وجہ سے مسلمانوں کے صف میں موجود تھے یعنی منافقین.جیسے ابوسفیان و غیرہ.

--------------

(1):- النصایح الکافیہ، ص 116 و تہنئة الصدیق المحبوب، نوشتہ سقاف، ص 59.

(2):-  اخرجہ الحاکم و صحّحہ و اقرّہ الذہبی( مستدرک الصحیحین، ج 3، ص 121


شیعہ پہلاگروہ کے بارے میں یوں دعا کرتے ہیں اور اظہار مودّت  اور محبت کرتے ہیں: رَبَّنَا اغْفِرْ لَنا وَ لِإِخْوانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونا بِالْإِیمانِ وَ لا تَجْعَلْ فِی قُلُوبِنا غِلًّا لِلَّذِینَ آمَنُوا رَبَّنا إِنَّكَ رَؤُفٌ رَحِیمٌ. (1)

یعنی اے ہمارے پروردگار! ہمیں معاف فرما اور ہمارے ان بھائیوں کو معاف فرما جنہوں نے ہم سے پہلے تجھ پر ایمان لائے ہیں ، اور ہمارے دلوں میں ان مؤمنوں کیلئے نفرت اور بغض پیدا نہ کرنا. اے ہمارے پروردگار ! تو بڑا رؤوف و مہربان اور رحم والا ہے.

باقی دو گروہ پر ہم لعن کرتے ہیں اب ان میں کوئی بھی آئے وہ مورد لعن  ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان دو گروہوں پر لعن کیا ہے

زہرا کی مظلومیت

فاطمہ زہرا(س) کے گھر پر صحابہ کا حملہ منابع اہل سنت میں

کیا ایسا واقعہ ممکن ہے کہ رسول کا صحابی ہو اور اس کی اکلوتی بیٹی پر گھر کا دروازہ گرایا ہو اور اسے شہید کردیا ہو؟!!

اس کا جواب آپ کو مثبت میں ملے گا. چنانچہ اہل سنت کی حدیث، تاریخ اور رجال کی کتابوںمیں اس واقعہ کو کسی نے شرمندگی کے ساتھ تو کسی نے احتیاط کے ساتھ تقطیع کرتے ہوئے  تو کسی نے خلیفہ ثانی کے توسط سے آگ لے کر آنے کو  تو کسی نے مسلمانوں کا   مسلحانہ محاصرہ اور حملہ آور ہونے کو بیان کیاہے:"و معه قبس من نار" (2)

«ثم قام عمر، فمشی و معه جماعة حتی اتوا باب فاطمة و بقی عمر و معه قوم فاخرجوا علیاً » (3)

--------------

(1):-  سورہ حشر، آیہ ۱۰.

(2):- معارف ابن قتیبہ میں  یہ عبارت حذف کیا گیا ہے:ان محسناً فسد من زخم قنفذ العدوی.

(3):-  تحریف در مروج الذہب، در چاپ میمنیة ج 3، ص 86


بعض نے لکھا ہے«ان عمر رفَسَ ‏فاطمة حتی اسقطت محسناً» (1)

 کہ حضرت فاطمہ  پر عمر نے ٹھوکر مارا جس کی وجہ سےآپ نے محسن کو سقط کیا

«و قد دخل الذل بیتها و انتهکت حرمتها و غصب حقها و منعت ارثها، و کسر جنبها، و اسقطت جنینها» (2)

بعض تاریخ دانوں نے لکھا ہے :یہ لوگ فاطمؑ کے گھر میں داخل ہوگئے  انہو ں نے حضرت فاطمہ کی حرمت کا لحاظ نہ کیا ،ان کا  حق   غصب کیا اور ان  کو ارث سے محروم کر دیا اور ان کی  پسلیاں توڑی اور پہلو  شہیدکیا اور جنین کو گرادیا.

بعض نے لکھا ہے  کہ  عمر نے ابوبکر سے کہا: ہم نے فاطمہ کو ناراض کیا ہے  ، آؤ چلیں فاطمؑ کے پاس ، ان سے عذر خواہی کریں .عمر اور ابوبکر دونوں علی کے گھرپر  آئے اور  فاطمہ ؑسے عذر خواہی کرنے لگے لیکن فاطمؑ نے ان  کی طرف سے چہرہ موڑ لیا  ان دونوں نے آپ کو سلام کیا  لیکن آپ نے اس کا جواب نہیں دیا.

«فقال عمر لابی بکر انطلق بنا الی فاطمة، فانا قد اغضبناها، فانطلقا جمیعاً، فاستاذنا علی فاطمة، فلم تاذن لهما، فاتیا علیاً فکلمّاه، فادخلهما علیها فلما قعدا عندها، حولت وجهها الی الحائط فسلَّما علیها فلم اجابت .

ذہبی کہتا ہے :«اتی ابوبکر فاستاذن، فقال علی: یا فاطمة، هذا ابوبکر، یستاذن علیک، فقالت: اتحب ان اذن له؟ قال: نعم، فاذنت له، فدخل علیها یترّضاها.»

 ابوبکر جب علی کی خدمت میں آئے اور حضرت فاطمہ کی زیارت اور ان  سے عذر خواہی کیلئے اجازت مانگی تو علی نے فاطمہ زہرا سے کہا : کیا آپ راضی ہیں کہ میں ان کو اجازت دوں؟ آپ نے اجازت دے دی اور وہ عذر خواہی کرنے لگا ذہبی نے یہاں تک تو ذکر کیا لیکن اجازت ملی اور معاف کیا یا نہیں کیا ، یہ حصہ چھپا کر وغیرہ وغیرہ لکھ دیا.

--------------

(1):- تحریف در مروج الذہب، در چاپ میمنیة ج 3، ص 86

(2):- جوینی شافعی، متوفی سال 722، جو شمس الدین ذہبی کا استاد ہے.


«وددت انی لم اکشف بیت فاطمة و ترکته و ان اغلق علی الحرب.» (1) بعض نے لکھا ہے کہ خلیفہ ثانی نے اپنی وفات کے وقت بیت وحی پر حملہ آور ہونے پر پشیمانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اے کاش! میں فاطمہ کے گھر پر حملہ نہ کرتااور دروازے کو نہ کھولتا اگرچہ  اس کے بند رکھنے کو اپنے ساتھ اعلان جنگ تصور کرتا.

سوال: کیا یہ واقعہ بغیر کسی تحریف کے  بھی تاریخ میں بیان ہوا ہے ؟

جواب: اکثر مؤرخین نے  تحریف کیا ہے لیکن بعض نے  صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، جن میں سے ایک ابن عبد الرب اندلسی ہے ، وہ لکھتاہے:

«بعث الیهم ابوبکر عمر بن الخطاب لیخرجهم من بیت فاطمة و قال له: ان ابوا، فقاتلهم فاقبل بقبس من نار علی ان یضرم علیهم الدار، فلقیته فاطمة، فقالت: یابن الخطاب، اجئت لتحرق دارنا؟ قال: نعم او تدخلوا فیما دخلت فیه الامة.» (2)

ابوبکر نے عمر کو فاطمہ زہرا کے گھر کی طرف بھیجا تاکہ علی کو اپنی بیعت کیلئے مسجد میں بلایا جاسکے اور وہ بھی اپنے ہاتھوں میں آگ لے کر وہاں پہنچے لیکن فاطمہ نے دروازہ نہیں کھولا اور فرمایا: اے خطاب کے بیٹے !کیا میرے گھرکو آگ لگانے کیلئے آگئے ہو؟! اس نے کہا: ہاں ، لیکن اگر آپ بھی دوسرےلوگوں کی طرح ابوبکر کی بیعت کریں تو  چھوڑ دیے جائیں گے. اس سلسلے میں مزید منابع درج ذیل ہیں:

اثبات الوصیة ص 143- الوافی بالوفیات، ج 6، ص 17، الملل و النحل، ج 1، ص 57؛ الشافی، ج 4، ص 120؛ شرح ابن ابی الحدید، ج 14، ص 193 و ج 2، ص 60؛؛ تقریب المعارف، ص 23؛ الطرائف، ص 274- و ماساة الزہراء وغیرہ .

--------------

(1):- المعجم الکبیر، ج 1، ص 62؛ شمارہ حدیث 43، کتاب الاموال بن سلام ص 174 متوفی 224 ہ۔

(2):- العقد الفرید، ج ۴، ص ۲۶۰


چوتھی فصل: مٹی پر سجدہ

شیعوں کے ہاں مہر یا سجدہ گاہ کا استعمال کرنے کی فقہی دلیل کیا ہے؟

جواب: فقہی لحاظ سے شیعہ اور دوسرے مکاتب کے درمیان اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ کیا سجدہ ہر چیز پر ممکن ہے یا کچھ خاص چیزوں پر ؟

 سنی کہتےہیں ہر چیز پر ممکن ہے لیکن شیعہ کہتے ہیں صرف زمین اور  اس سےنکلنے  والی چیزوں پر جائز ہے سوائے کھانے پینے ،بہنے اور پہننے والی چیزوں پر. پیغمبر اکرم کے زمانے میں مسلمانوں کی یہی سیرت رہی ہے  کہ گرمیوں میں اپنی مٹھی میں کچھ ریت اٹھاتے تھے تاکہ سجدہ کرتے ہوئے پیشانی نہ جلے.

 جابر بن عبد اللہ انصاریؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول خدا (ص)کے ساتھ نماز ظہر پڑھنے میں مصروف تھا کہ ریت کو اپنی مٹھی میں اٹھایا اور اس پر سجدہ کیا .(1)

ایک صحابی  کوسجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی  زمین پر رکھنے سے  اجتناب کرتے ہوئے دیکھا تو رسول خدا(ص) نے فرمایا: اپنی پیشانی کو مٹی پر رکھا کرو.دوسرے صحابی کو دیکھا کہ اس کا عمامہ پیشانی او ر سجدہ گاہ کے درمیاں حائل ہور ہا تھا تو آپ نے اسے ہٹادئے. آپ حصیر اور ٹھیکری پر سجدہ کیا کرتے تھے.(2)

مکالمہ

سنی: تم لوگ خاک  کربلا سے کیوںشفا طلب کرتے ہو؟ اور کیوں بیماروں کو کھلاتے ہو؟

شیعہ: کیا قدرت خدا پر شک کرتے ہو؟

--------------

(1):-  مسند احمد، ج 3، ص 327 حدیث جابر و سنن بیہقی، ج 1، ص 439

(2):- کنزالعمال، ج 7، ص 465 ح 19810 سنن بیہقی، ج 2، ص 105 مسند احمد، ج 6، ص 179، 377، و ج 2 ص 192، 198.


سنی: نہیں، لیکن مٹی میں اس تاثیر کو قبول کرنا ممکن نہیں.

شیعہ: اس میں کیا اشکال ہے کہ خدا نے شہدکی مکھی میں شفا قرار دیکر فرمایا:

ثمُ‏َّ کلُِی مِن کلُ‏ِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِی سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا  یخَْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مختَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِیهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ  إِنَّ فىِ ذَالِكَ لاََيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُون‏. (1)

"اس کے بعد مختلف پھلوں سے غذا حاصل کرے اور نرمی کے ساتھ خدائی راستہ پر چلے جس کے بعد اس کے شکم سے مختلف قسم کے مشروب برآمد ہوں گے جس میں پورے عالم انسانیت کے لئے شفا کا سامان ہے اور اس میں بھی فکر کرنے والی قوم کے لئے ایک نشانی ہے ".

 اسی خدا نے حضرت یوسف(ع) کی قمیص میں وہ اثر پیدا کیا جس کے ذریعے حضرت یعقوب(ع) کی آنکھوں کی بینائی پلٹ آئی:

فَلَمَّا أَن جَاءَ الْبَشِیرُ أَلْقَئهُ عَلىَ‏ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا  قَالَ أَ لَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنىّ‏ِ أَعْلَمُ مِنَ الل ه مَا لَا تَعْلَمُون‏. (2)

"اس کے بعد جب بشیر نے آکر کرتہ یعقوب(ع) کے چہرہ پر ڈال دیا تو دوبارہ بینا ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو".

جس خدا نے عصائے موسیٰ(ع) میں وہ اعجاز پیدا کرکے سب ساحروں کو مغلوب کیا ؛اسی خدا نے خاک کربلا میں بیماروں کیلئے شفا قرار دیا ہے.

--------------

(1):- نحل،69.

(2):-  یوسف96.


وضو کے طریقے میں اختلاف

سوال:شیعہ وضو کے دوران ہاتھ کو کہنیوں سے انگلیوں کی طرف دھوتے ہیں لیکن اہل سنت برعکس، اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب : شیعوں کے ہا ں صریح روایت موجود ہیں کہ آئمہ طاہرین(ع) نے انہیں یہی طریقہ سکھایا ہے. انہوں نے یہ طریقہ اپنے آئمہ طاہرین(ع) سے اخذ کیا ہے اور آئمہ طاہرین (ع)نے پیغمبر اکرم (ص)سے اخذ کیا ہے، اور اہل بیتؑ اپنے جد گرامی کی باتوں کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں کہ آپ کام کیسے کرتے تھے، جیسا کہ رسول اللہ(ص) بھی اسی طرح انجام دیتے تھے.

نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم

اشکال: شیعہ ہاتھ کھول کر نماز کیوں پڑھتے ہیں؟

 جواب: اہل سنت کے کسی بھی فرقے کے نزدیک ہاتھ باندھ کر پڑھنا واجب نہیں ہے.بلکہ سارے صحابہ ،عمر کے زمانے تک  ہاتھ کھول کر نماز پڑھتے تھے اور جب ان کا دور آیا تو انھوں نے ہاتھ باندھ کر پڑھنے کو واجب قرار دیا: قرطبی کہتا ہے :«اختلف العلماء فی وضع الیدین احدهما علی الاخری فی الصلاة فَكَرِهَ ذلک مالک فی‏الفرض واجازه فی النفل و رای قوم انّ هذا من سنن‏الصلاة و هم الجمهور». (1)

  عبداللّہ بن زبیر، حسن بصری ، ابن سیرین ، لیث بن سعد و ابراہیم نخعی وغیرہ ہاتھ کھول کر پڑھنے کے قائل تھے. پیغمبراکرم(ص) نماز میں ہاتھ نہیں باندھتے تھے اور جب علماء کے درمیان اختلاف پیدا ہوا تو مالک نے   واجب نماز میں ہاتھ باندھنا مکروہ اور مستحب نماز میں سنت قرار دیا اور یہی  جمہور اہل سنت کا نظریہ ہے...

--------------

(1):- بدایة المجتہد، ج 1، ص 136..

(2):- صحیح بخاری، ج 1، ص 135.


عن ابی حازم عن سهل بن سعد قال: کان الناس یؤمرون ان یضع الرجل الید الیمنی علی ذراعه الیسری فی الصلاة قال ابوحازم لا اعلمه الّا ان ینمی ذلک الی النَّبی» (1)

اور اس اختلاف کا سبب یہ تھا کہ کچھ صحیح روایات ہم تک پہنچی ہیں جن میں رسول خدا (ص)کی نماز پڑھنے کا طریقہ نقل ہوا ہے لیکن ان روایات میں     ہاتھ باندھنے کا طریقہ ذکر نہیں ہوا ہے جبکہ علماء حکم دے رہے ہیں کہ ہاتھ باندھ کر نماز ادا کریں.  علمائے جمہور کی دلیل بحاری کی حدیث ہے  جس کے ذیل میں ابو حازم کہتا ہے مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس کاحکم کرنے والا رسول خدا(ص) ہے  یا کوئی اور ہے.اور ہاتھ باندھنے کا حکم جن روایات میں آیا ہے وہ سب مرسلہ ہیں.(2)

تراویح کیا ہے؟

جواب: ماہ رمضان کی نوافل میں ۲۰ رکعت نماز ہے جسے تراویح کہا جاتا ہے جسےباجماعت پڑھنے  یا نہ پڑھنے میں اختلاف ہے ۔بخاری لکھتے ہیں کہ اس بدعت کو حضرت عمر نے جاری کرتے ہوئے کہا:

 انّی اری لو جمعتُ هولاء عَلی قاری‏ءغ واحد، لکان امثل، ثمّ عزم فجمعهم عَلی ابیّ‏بن کعب، ثمّ خرجت معه لیلة اخری والناس یصلّون بصلاة قارئهم. فقال عمر: نعم البدعة هذه (3)

--------------

(1):- عمدة القاری 27/5، سیوطی. التوشیح علی الجامع الصحیح، 1/463 و نیل الاوطار، ج 2، ص 187.

(2):- بخاری، ج 1، ص 342.

(3):- ارشاد الساری، ج 4، ص 656. عمدة القاری، ج 11، ص 126.


جب عمر نے لوگوں کو مسجد میں الگ الگ اس نماز میں مصروف دیکھا تو کہنے لگا : کتنا اچھا ہوتا اگر یہ سب باجماعت ادا کرتے.راوی کہتا ہے دوسری رات جب آئے اور لوگوں کو باجماعت  اسے پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا:یہ  کتنی اچھی بدعت ہے؟

عینی کہتا  ہے: حضرت عمر نے اس لئے بدعت کہا کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے کبھی اس تراویح کی نماز کو باجماعت ادا نہیں کی اور نہ ابوبکر  کے زمانے میں ادا  کی  گئی.(1)

راوی لکھای ہے: عمر سب سے پہلا شخص ہے جس نے۱۴ ہجری میں  رمضان کے نوافل کو باجماعت ادا کیا.(2)

الصَّلاةُ خَیرٌ مِنَ النَّوم

اذان میں الصَّلاةُ خَیرٌ مِنَ النَّوم تشریع اذان کے وقت تھا  یا بعد میں اضافہ کیا  ہے؟

جواب : یہ تشریع اذان کے وقت شامل نہیں تھا بلکہ بعد میں حضرت عمر نے اسے اضافہ کیا ہے. جس پر دلیل یہ ہیں:

الف: محمد بن اسحاق روایت کرتا ہے :یہ جملہالصَّلاةُ خَیرٌ مِنَ النَّوم، اس وقت موجود نہ تھا.

ب: سعید بن مسیب صریحاً لکھتا ہے: یہ جملہ(ادخلت هذه الکلمة فی صلاة الفجر) یعنی نماز صبح میں اضافہ کیا گیا ہے.(3)

ج:عن مالک: انّه بَلَغَهُ انّ الْمُؤَذِّنُ جاءَ الی عُمَرَ بنَ الْخَطّابَ يُؤْذنه لِصَلاة الصّبح، فَوَجَدَهُ نائِماً فَقالَ: الصَّلاةُ خَیرٌ مِنَ النَّومِ فَامَرَهُ عُمَرُ ان یجعَلَها فی نِداء الصّبح». (4)

--------------

(1):- ماثر الانافة فی معالم الخلافة، ج 2، ص 337.

(2):- نیل الاوطار، ج 2، ص 37.

(3):- الموطا ج 1، ص 72.

(4):- نیل الاوطار، ج 2، ص 38.


 امام مالک نے لکھا ہے مؤذن حضرت عمر کے پاس آیا تاکہ اسے بتادے کہ  صبح کا وقت داخل ہوگیا تو حضرت عمر سورہا تھا اس نے اونچی آواز میں کہا:«الصلاة خیر من النوم؛» عمر نے حکم  دیا آج کے بعد سے نماز صبح کے اذا ن میں اس جملے کو ضمیمہ کیا جائے.

د: شافعی نے اس جملے کو ایک جگہ مکروہ اور دوسری جگہ بدعت قرار دیا ہے. اور شوکانی کہتا ہے :«لَو کانَ لما انکره عَلِیّ وابنُ عُمَر وَطاوس» (1)

 اگر یہ اذان کا جزء ہوتا تو کبھی بھی حضرت علی(ع) اور عبداللہ بن عمر اور طاؤس اس پر اعتراض نہ کرتے .ٍ

ہ: ابن حزم کہتا ہے:«لا نقول بهذا الصَّلاةُ خَیرٌ مِنَ النَّومِ لانَّهُ لم یات عن رسول اللّه (ص)». (2)

ہم یہ جملہ اذان میں نہیں کہتے کیونکہ یہ جملہ رسول خدا (ص) سے نقل نہیں ہوا ہے.

تشہد ثلاثہ  کی حقیقت کیا ہے ؟

تشہد میں علی ابن ابیطالب ؑ کی ولایت کا اقرار کرنا  ہے ، یہ بحث تقریباً ۱۵ یا ۲۰ سال سے چل رہی ہے ۔ اس کی ابتداء پاکستان کا صوبہ پنجاب سے ہوئی ہے ۔ جن کا کہنا ہے کہ اگرکوئی تشہد میں ولایت علیؑ کا اقرار نہ کرے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر گندھی زبان استعمال کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ کی نسل نہیں ہے ۔  اسی بہانے مجتہدین کرام پر  بھی لعن طعن کرتے ہیں اور جنہوں نے اپنی پوری زندگی احکام خدا و  رسول اور آئمہ طاہرین  ؑ کو حاصل کرنے اور ملت تشیع تک پہنچانے  میں صرف کی اور نصف صدیاں  اس اہم وظیفہ کے انجام دینے میں گزاری ، انہیں مقصر  کہتے ہیں اور خود جو تمام احکامات سے بے خبر ہوکر صرف اس بات پرکہ نماز میں اشہدان علیاً ولی اللہ پڑھتا ہوں، مؤمن کہلاتے ہیں۔

--------------

(1):-  المحلی، ج 3، ص 0 16.

(2):- عوالی اللئالی العزیزیة فی الاحادیث الدینیة / ج1 / 198 ۔


اگرچہ یہ نعرہ برحق ہے کہ علی کا ذکر عبادت ہے لیکن اس بابرکت نام  کو بہانہ بنا کریہ کہنا کہ  اس ہستی  کا نام لینے سے تیری نماز نماز نہیں ہوتی!! کیا علی اللہ کے ولی نہیں ہیں؟ تو اس کا اقرار کرنا کیا جرم ہے؟ وغیرہ وغیرہ ؛ صحیح نہیں  ہے۔ورنہ ہم بھی ولایت علی کا منکر کو شیعہ ہی نہیں سمجھتے۔ بلکہ ولایت علی کا انکار کرنے والے کو ناجی نہیں سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا:

حب علی کا منکر دشمن ہے زندگی کا    یہ بھی اک طریقہ انسانی خودکشی کا

ایک اور شاعر کہتا ہے:

جائز نہیں شراب کوئی کائنات میں    اس بات میں گواہ خدا  کا  کلام ہے

لیکن جناب شیخ !یہ حب علی ؑکی مے     پینا نہیں حرام ،نہ پینا حرام ہے

اب آپ سے ایک سوال ہے کہ آپ کے پاس کونسی دلیل موجود ہے   جس کی بناء پر  یہ پاک ذکر نماز میں شامل کررہے ہیں؟ کیا رسول خدا (ص) نے یا کسی امام معصوم ؑنے ایسی تشہد کے ساتھ نماز پڑھی ہیں؟

کیا رسول گرامی نے ایسی نماز پڑھی ہے ؟ اگر پڑھی ہوتی تو سارے محدثین  نقل کرتے،جس طرح انہوں نے اس حدیث کو نقل کیا:

الاسوة به صلّی اللّه علیه و آله لقوله عزّ و جلّ‏«لَقَدْ کانَ لَكُمْ فِی رَسُولِ الل ه أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کانَ يَرْجُوا الل ه وَ الْيَوْمَ الْآخِرَ وَ ذَكَرَ الل ه كَثِیرا

مِنَ السَّجْدَةِ الْأَخِیرَةِ فِی الرَّكْعَةِ الْأُولَی اسْتَوَی جَالِساً ثُمَّ قَامَ وَ اعْتَمَدَ عَلَی الْأَرْضِ وَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ص صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِی أُصَلِّی‏ (1)

--------------

(1):-


اور جسے آپ دلیل کے طور پر لاتے ہیں وہ  فقہ الرضا میں مرقوم حدیث ہے جو پورا ایک صفحہ پر مشتمل ہے ، یا خود مجتہدین کی نقل کردہ روایات کو لاتے ہیں اور خود انہی  مجتہدین پر لعن کرتے ہو!!

خود انصاف سے بتائیں کہ شیعیت انہی مجتہدین کے ذریعے پھیلی ہے یا نعروں کے ذریعے ؟ بیسویں صدی میں ایک مجتہد  کی زحمتوں اور راہنمائی کا نتیجہ تھا کہ آج پوری دنیا میں شیعیت کا نام بلند ہوا  ، یہی وجہ ہے کہ آج ہر شیعہ فخر کے ساتھ اپنی شیعیت کا اظہار کرتا ہے اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی بت شکنؒ کے لئے دعائیں دیتا ہے۔ ان بزرگوں کا نام لینے کا مقصد یہ ہے کہ کبھی انہوں نے تشہد میں علی ابن ابیطالب ؑکی ولایت کا اقرار نہیں کیا۔ اگر یہ واجت تھا تو ان سینکڑوں مجتہدین حضرات کا کام ہی روایات  اور آیات کی روشنی میں احکامات کی جانچ پڑتال کرنا تھا، ان کی نگاہوں سے بھی وہ روایت گزرتی۔ 

دوسرا سوال آپ سے یہ ہے کہ صرف اس نعرہ کے علاوہ ولایت علی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ اگر ولایت علی  اور آل علی کی عظمت کو جاننا چاہتے ہوتو امام خمینی ؒ کی کتاب ۔۔۔ جو زیارت جامعہ کی شرح ہے اسے پڑھ لوورنہ آپ کا یہ نعرہ  بھی بالکل خوارج کا نعرہ (لاحکم الا للہ لاحکم الا للہ) کی طرح ہے جو علی کے خلاف بلند کر رہے تھے ۔ جبکہ علی بھی حکم خدا کو ہی رائج کرنا چاہتے تھے۔ اب آپ دیکھ لیجئے نعرہ کتنا اچھا ہے کہ اللہ کے حکم کے سوا کسی اور کا حکم ہمیں قبول نہیں ۔ اس سے سادہ لوح افراد بھٹک گئے۔اسی طرح علی کا نام تشہد میں لینے سے تیری نماز باطل ہوجاتی ہے ؟ ہم کہتے ہیں کہ جہاں نام لینے کا حکم ہے وہاں لینا چاہئے ، اور اپنی مرضی سے نہیں۔

تیسرا سوال آپ سے یہ ہے:اگر علی کا نام لینا واجب ہے تو باقی اماموں کا بھی نام لو۔ خصوصاً امام زمان ؑ کا جو ہمارے زمانے کے امام ہیں۔ اگر آپ باقی اماموں کے نام نماز میں نہیں لیتے تو کیا ان کی امامت اور ولایت کے منکر ہوگئے !!!


ذرا عقل سے کام لو  کہ اس میں یقیناً دشمن کا ہاتھ ہے کہ ایسے لطیف نعروں کے ذریعے شیعیان حیدر کرار ؑ کے درمیان تفرقہ ڈال کر اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔اصلی دشمن کو پہچان لو  ۔ علماء اور مجتہدین آپ کے دشمن نہیں بلکہ خیر خواہ ہیں ۔

چوتھا سوال آپ سے یہ ہے :کیا دین کے محافظ  وہ لوگ ہیں  جو اسٹیج پر آکر علی ولی اللہ کا نعرہ لگاکے مؤمنین کو علماء اور مجتہدین کے خلاف  اکسا کر اپنی جیب بھر کر چلے جاتے ہیں؟ اگر  یہ لوگ اتنے دین کے مخلص ہیں تو بغیر فیس کے بھی کوئی مجلس پڑھ کر دکھائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جب تک ان کے اکاونٹ میں فیس نہیں آتی ، مجلس حسین میں جانے کی زحمت نہیں کرتے ۔ میں تو کہتا ہوں کہ اس میں مؤمنین کابھی قصور ہے کہ انہی لوگوں کو سننا پسند کرتے ہیں۔اور بانی مجلس کا قصور یہ ہے کہ نام و نمود کی خاطر کہ اتنے لوگ شریک ہوئے  یعنی لوگوں کا زیادہ جمع ہونا مجلس کا معیار سمجھتا ہے ۔


پانچویں فصل

 شفاعت اور  توسل

سوال: کیا شفاعت کے جائز ہونے پر کوئی قرآنی دلائل موجود ہیں اور عقیدہ توحید کے ساتھ کس طرح سازگار ہے؟

جواب:اصل میں وہابیوں  کو جو غلط فہمی  ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اولیاء الٰہی (کہ جن کا اللہ تعالیٰٰ کے نزدیک بڑا مقام اور منزلت ہے( اور بے جان بتوں  کو ایک جیسا سمجھا ہے  جن میں نہ جان ہے اور نہ عقل و شعور.

 قرآن مجید میں مختلف آیتوں میں شفاعت کے جائز ہونے پر دلائل موجود ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

قالُوا یا أَبانَا اسْتَغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا إِنَّا كُنَّا خاطِئِینَ قالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّی إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ. (1)

 بٹواں نے کہا: اے ہمارے ابا! ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لےا دعا کےیک ، ہم ہی خطاکار تھے۔(یعقوب نے) کہا: عنقریب مںذ تمہارے لےا اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا،وہ یقینا بڑا بخشنے والا،مہربان ہے۔

فہل کان النبی یعقوب (ع)مشرکاً؟

جب برادرن یوسف  نے اپنے بھائی کا مقام اور منزلت کا نظارہ کیا اور اپنا مکروہ کردار  اور اس کا نتیجہ دیکھ لیا تو اپنے باپ کے پاس جاکر طلب شفاعت کی تو  ان کے باپ نے بھی ان کی خواہش پر  لبیک کہا : انہوں نے کہا : بابا جان ہمارے لئے استغفار کرنا کہ ہم خطا کار ہیں تو بابا نے کہا: عنقریب تمہارے لئے دعا کروں گا میرا پروردگار غفور و رحیم ہے".

--------------

(1):- یوسف ۹۷-۹۸.


 اب سوال یہ ہے کیا حضرت یعقوب پیغمبر(ع) مشرک تھے؟!

 اگر کوئی یہ کہہ دے کہ برادران یوسف نے شفاعت مانگی تو وہ لوگ خطا کار تھے اور ان کا عمل ہمارے لئے حجت نہیں! اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ شریعت کے خلاف ہوتا تو اللہ کا نبی اس سے انکار کرتے ، لیکن انہوں نے بھی مفسّرین کے کہنے کے مطابق شب جمعہ کا انتطار کیا. قرآن کہہ رہا ہے کہ جب گناہگار لوگ پیغمبر اکرم (ص)کے پاس توبہ کرنے اور استغفارکرانے کیلئے آئے تو اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے آیہ نازل ہوئی:

وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جاؤُكَ فَاسْتَغْفَرُوا الل ه وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا الل ه تَوَّاباً رَحِیماً (1)

 " کہ اگر یہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے کے بعد تمہارے پاس آئیں اور استغفار کریں اور تو بھی ان کے ساتھ ان کیلئے استغفار کرے تو اللہ تعالیٰٰ کو بڑا بخشنے والا اور مہربان پاؤگے". اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترغیب دلانا شرک ہے؟!

قرآن کریم منافقین کی مذمت  میں ارشاد فرمارہاہے:

وَ إِذا قِیلَ لَهُمْ تَعالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ الل ه لَوَّوْا رُؤُسَهُمْ وَ رَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَ هُمْ مُسْتَكْبِرُونَ. (2)

فہل یدعو القرآن الکریم الکفار والمنافقین للشرک؟

"اور جب ان سے کہا جائے: آؤ کہ اللہ کا رسول تمہارے لےی مغفرت مانگے تو وہ سر جھٹک دیتے ہںا اور آپ دیںھس  گے کہ وہ تکبر کے سبب آنے سے رک جاتے ہںں" کیا قرآن کریم کفار اور منافقین کو دعا مانگنے کا حکم دے رہا  ہے؟

--------------

(1):-  نساء۶۴.

(2):- منافقون ۵.


ہم جانتے ہیں کہ قوم لوط بدترین قوموں میں سے تھی اور جب شیخ الانبیاء ابراہیم (ع) نے ان کیلئے شفاعت کی کہ انہیں مہلت دی جائے تاکہ یہ لوگ توبہ کریں ؛ لیکن یہ لوگ پلیدگی اور برائی میں حد سے بڑھ گئے اور شفاعت کے قابل نہیں رہے تو ان کیلئے خطاب ہوا:

اے ابراہیم ان کیلئے اب طلب شفاعت کرنا چھوڑدو:

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْراهِیمَ الرَّوْعُ وَ جاءَتْهُ الْبُشْری‏ يُجادِلُنا فِی قَوْمِ لُوطٍ إِنَّ إِبْراهِیمَ‏ لَحَلِیمٌ أَوَّاهٌ مُنِیبٌ یا إِبْراهِیمُ أَعْرِضْ عَنْ ه ذا إِنَّهُ قَدْ جاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَ إِنَّهُمْ آتِیهِمْ عَذابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍ. (1)

"پھرجب ابراہیم کے دل سے خوف نکل گیا اور انہیں خوشخبری بھی مل گئی تو وہ قوم لوط کے بارے میں ہم سے بحث کرنے لگے.بے شک ابراہیم بردبار، نرم دل، اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے. (فرشتوں نے ان سے کہا) اے ابراہیم! اس بات کو چھوڑ دیں، بیشک آپ کے رب کا فیصلہ آچکا ہے اور ان پر ایک ایسا عذاب آنے والا ہے جسے ٹالا نہیں جا سکتا".

آئمہ (ع)سےخارق العادہ افعال کی درخواست کرنا شرک

 آئمہ (ع)سے غیر عادی کاموں کی درخواست کرنا  کیا(جیسے ان سے شفا طلب کرنا) شرک  نہیں ہے ؟

جواب:

سب سے پہلے تو انبیاء اور آئمہ (ع)کے توسط سے خارق العادہ کام انجام پانے میں کوئی مشکل نہیں ہے.

--------------

(1):-  ہود ۷۴-۷۶.


جب بھی کسی مخلوق سے کوئی مدد مانگتے ہیں تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی اصل قدرت اور طاقت قدرت الہی ہے. اللہ نے انہیں وہ قدرت عطا کی ہے جس کے ذریعے سے وہ یہ کام انجام دے سکتے ہیں تو اگر ہم ان اولیاء اللہ سے کوئی مدد طلب کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے ہم ان کو اللہ کی بارگاہ میں اپنا شفیع قرار دیتے ہیں جیساکہ قرآن کا حکم ہے :يَأَيُّهَا الَّذِینَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ الل ه وَ ابْتَغُواْ إِلَيْهِ الْوَسِیلَةَ وَ جَاهِدُواْ فىِ سَبِیلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ. (1) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف(قربت کا)ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو شاید تمہیں کامیابی نصیب ہو.

ان کی مثال ایسی ہے کہ جس طرح ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اپنی علاج کیلئے  تو اسے ہم شرک کیوں نہیں  جانتے؟

اللہ  مستقیماً سنتا ہے توکسی مردے کو درمیاں میں لانے کی ضرورت؟!

ہم اہل بیت (ع)سے کیوں مدد طلب کرتے ہیں جبکہ اللہ مستقیماً  سننے والا ہے؟!

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکمُ‏ْ يُوحَی إِلىَ‏َّ أَنَّمَا إِلَاهُکمُ‏ْ إِلَاهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِیمُواْ إِلَيْهِ وَ اسْتَغْفِرُوهُ  وَ وَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِین‏ (2)

کہدیجئے: میں بھی تم جیسا آدمی ہوں، میری طرف وحی ہوتی ہے کہ ایک اللہ ہی تمہارا معبود ہے لھٰذا تم اس کی طرف سیدھے رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور تباہی ہے ان مشرکین کے لیے.

يَأَيُّهَا الَّذِینَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ الل ه وَ ابْتَغُواْ إِلَيْهِ الْوَسِیلَةَ وَ جَاهِدُواْ فىِ سَبِیلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون. (3)

--------------

(1):-  مائدہ 35.

(2):- فصلت 6.

(3):- مائدہ  35.


ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچے کا وسیلہ تلاش کرو اوراس کی راہ میں جہاد کرو کہ شاید اس طرح کامیاب ہوجاؤ .

«اوُلئِكَ الّذینَ يَدعُونَ يَبتَغُونَ الی رَبِّهِمُ الوَسیلَهَ ايُّهُم اقرَبُ وَ يَرجوُنَ رَحمَتَ ه وَ يَخافُونَ عَذابَ ه انَّ عَذابَ رَبِّكَ کانَ مَحذُوراً». (1)

یہ جن کو خدا سمجھ کر پکارتے ہیں وہ خود ہی اپنے پروردگار کے لئے وسیلہ تلاش کررہے ہیں کہ کون زیادہ قربت رکھنے والا ہے اور سب اسی کی رحمت کے امیدوار اور اسی کے عذاب سے خوفزدہ ہیں یقیناً آپ کے پروردگار کا عذاب ڈرنے کے لائق ہے.

سیّد شرف الدین کی حاضرجوابی!

مرحوم آیت اللہ سیّد شرف الدین (صاحب کتاب المراجعات) ملک عبد العزیز کے دور حکومت میں حج پر تشریف لےگئے اور عید قربان کے دن سارے علماء بادشاہ  کو عید مبارک کہنے کیلئے شاہی محل میں جمع ہوگئے جب  سید کی نوبت آگئی تو آپ  نے ایک چمرے کی جلد  شدہ  قرآن مجید بطور تحفہ ان کو پیش کیا  تو بادشاہ نے اسے احتراماً چوما اور پیشانی پر رکھا تو سید شرف الدین ؓ نے ایک دم کہا : اےبادشاہ کیوں اس جلد کا بوسہ لیتے ہو جو بکری کی کھال  کا بنا ہوا ہے؟

اس نے کہا : میں اس کھال میں پوشیدہ قرآن کریم کی تکریم کررہا ہوں نہ کہ  اس کھال کی اس وقت آیة اللہ سید شرف الدین ؓ نے  بےدرنگ فرمایا: احسنت اے بادشاہ! ہم شیعیان بھی اس پنجرے اور کمرے کی تعظیم کیلئے نہیں چومتے بلکہ اس میں موجود رسول گرامی اسلام (ص) کے احترام اور تعظیم کی خاطر پنجرے کو چومتے ہیں .اس وقت سارے علماء نے تکبیر کےنعرے بلند کئے اور تصدیق کرنے لگے تو شاہ عبدالعزیز نےبھی مجبور ہوکر سارے حاجیوں کو رسول خدا(ص) کے آثار کو چومنے  کی اجازت دے دی لیکن جب ان کا ولیعہد آیا تو اس نے پھر اس قانون  پر پابندی لگا دی(2)

--------------

(1):- اسراء 57.

(2):- ماہنامہ موعود شمارہ 89 وپاسخ بہ شبہات(1)، ص: 4


آئمہ(ع) کے توسط سے الہی افعال کا انجام پانا

اشکال : وہابی کہتے ہیں کہ شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ آئمہ خدائی کام کرتے ہیں تو یہ ان کے مشرک ہونے پر دلیل ہے.

 جواب:الف: ہمارا عقیدہ ہے کہ آئمہ(ع)        جو بھی انجام دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰٰٰ  ہی کے حکم اور اس کی اجازت سے انجام دیتے ہیں: لا حول و لا قوة الا باللہ ، بحول اللہ و قوتہ اقوم و اقعد. اللہ تعالیٰٰ اگر چاہے تو اپنے اولیاء میں سے کسی کو خارق العادہ کام انجام دینے کی قدرت عطا کرسکتا ہے اور اگر خدا کی طرح کوئی کام انجام دینے لگے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بھی خدا کی طرح ہوگئے.بلکہ انسان ایک برقی وسیلہ کی مانند ہے جب تک اس میں برق موجود ہے وہ کام کرتا رہے گا  اور جب بجلی کا کرنٹ اس سے الگ ہوجائے تو وہ بھی ناکارہ ہوگیا ،لیکن  یہ فعل انسان کا  ہے نہ اللہ کا عمل.

ب: اللہ کے نبیوں نے بھی ایسے خارق العادہ کام انجام دئے ہیں: جیسے:«وَ رَسُولًا إِلىَ بَنىِ إِسْرَ ءِیلَ أَنىِ قَدْ جِئْتُكُم بَايَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنىِ أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّینِ كَهَيَةِ الطَّیرِ فَأَنفُخُ فِیهِ فَيَكُونُ طَیرَا بِإِذْنِ الل ه وَ أُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ وَ أُحْىِ الْمَوْتىَ بِإِذْنِ الل ه وَ أُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْکلُونَ وَ مَا تَدَّخِرُونَ فىِ بُيُوتِكُمْ إِنَّ فىِ ذَالِكَ لَايَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِینَ» (1) اور اسے بنی اسرائیل کی طرف رسول بنائے گا اور وہ ان سے کہے گا کہ میں تمھارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندہ کی شکل بناؤں گا اور اس میں کچھ دم کردوں گا تو وہ حکہم خدا سے پرندہ بن جائے گا اور میں پیدائشی اندھے اور مبروص کا علاج کروں گا اور حکہم خدا سے مردوں کو زندہ کروں گا اور تمہیں اس بات کی خبردوں گا کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا گھر میں ذخیرہ کرتے ہو- ان سب میں تمہارے لئے نشانیاں ہیں اگر تم صاحبانِ ایمان ہو.

--------------

(1):-  آل عمران 49.


إِذْ قَالَ الل ه يَاعِیسىَ ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتىِ عَلَيْكَ وَ عَلىَ وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُکلِ‏مُ النَّاسَ فىِ الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَ إِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَ الحِكْمَةَ وَ التَّوْرَئةَ وَ الْانجِیلَ وَ إِذْ تخْلُقُ مِنَ الطِّینِ كَهَيَةِ الطَّیرِ بِإِذْنىِ فَتَنفُخُ فِیهَا فَتَكُونُ طَیرَا بِإِذْنىِ وَ تُبرِئُ الْأَكْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ بِإِذْنىِ وَ إِذْ تخْرِجُ الْمَوْتىَ بِإِذْنىِ وَ إِذْ كَفَفْتُ بَنىِ إِسْرَ ءِیلَ عَنكَ إِذْ جِئْتَهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِینَ كَفَرُواْ مِنهُمْ إِنْ هَاذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِینٌ (1)

 جب عیسیٰ بن مریم سے اللہ نے فرمایا: یاد کیجئے میری اس نعمت کو جو میں نے آپ اور آپ کی والدہ کو عطا کی ہے جب میں میں نے روح القدس کے ذریعے آپ کی تائید کی، آپ گہوارے میں اور بڑے ہو کر لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور جب میں نے آپ کو کتاب، حکمت، توریت اور انجیل کی تعلیم دی اور جب آپ میرے حکم سے مٹی سے پرندے کا پتلا بناتے تھے پھر آپ اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا اور آپ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے صحت یاب کرتے تھے اور آپ میرے حکم سے مردوں کو (زندہ کر کے) نکال کھڑا کرتے تھے اور جب میں نے بنی اسرائیل کو اس وقت آپ سے روک رکھا جب آپ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے تو ان میں سے کفر اختیار کرنے والوں نے کہا: یہ تو ایک کھلا جادو ہے.

قَالَ الَّذِی عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا ءَاتِیكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَءَاهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَاذَا مِن فَضْلِ رَبىِ لِيَبْلُوَنىِ ءَ أَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَ مَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَ مَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبىِ غَنىٌّ كَرِیمٌ (2)

--------------

(1):-  مائدہ 110.

(2):- نمل 40.


جس کے پاس کتاب میں سے کچھ علم تھا وہ کہنے لگا: میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کر دیتا ہوں، جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس نصب شدہ دیکھا تو کہا: یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر نعمت کرتا ہوں یا کفران اور جو کوئی شکر کرتا ہے وہ خود اپنے فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار یقیناً بے نیاز اور صاحب کرم ہے.

ان قرآنی دلائل کی روشنی میں کیسے آپ شیعہ کو اس کے اعتقاد رکھنے پر کافر کہتے ہو؟!!!

قبور آئمہؑ کی زیارت شرک لیکن ابن تیمیہ کی زیارت؟

اگر شیعیان اپنے پیغمبر اکرم (ص)کی اولاد کی زیارت کرتے ہیں یا ان کا احترام کرتے ہیں تو  وہابی لوگ ان پر کفر اور شرک کا فتویٰ لگاتے ہیں جبکہ یہی لوگ ابن تیمیہ کے جنازے پر رومال پھینکتے اور تبرک کے طور پر اسے اپنے چہرے پر ملتے تھے تعجب اس بات پر ہے کہ ان کی عشق میں ان کے غسل میت کا بچا ہوا پانی تبرک کے طور پر پینے لگے اور آب سدر کو  آپس میں تقسیم کرکے لے گئے .ان کے جنازے میں خواتین بھی تھیں جو ان کے قبر پر آجایا کرتی تھیں یہاں تک کہ صبح ہوئی.(1)

سوال یہ ہے کہ اگر شیعہ قبور آئمہ طاہرین(ع) کی زیارت کرتے ہیں تو مشرک لیکن ابن تیمیہ کی قبر کی زیارت کرنے والے مؤمن ہونگے؟!!

--------------

(1):-  البدایہ و النہایہ (تاریخ ابن کثیر)، جلد 14، صفحہ 156، ناشر: داراحیاءالتراث العربی، بیروت.


شیعہ آن لائن گزارش کے مطابق " محمد عبدالعظیم خلیف" اپنی داستان یوں بیان کرتا ہے کہ میں اپنے دوست کے ساتھ رسول خدا(ص)کے حرم میں داخل ہوا تو ایک مامور ہمارے پیچھے آنے لگا اور کہا : یہاں سے آگے جانا ممنوع ہے اور ہمیں  دوسرے دروازے کی طرف  بھیجا  ، اور  ہمارے پیچھے تین وہابی جوان آنے لگے اور پیچھے سے اتنے زور سے ٹھوکر مارے کہ ہم زمین پر گر پڑے  ہمارے چہرے پر بھی ٹھوکر مارنے لگے جس سے ناک سے خون بہنا شروع ہوگیا  پھر ہمیں پولیس کے حوالے کردئے کچھ دیر کے بعد میرے دوستوں کو رہا کردئے مجھے اکیلا وہاں روکے رکھا. اس کے بعد ہیئت امر بہ معروف و نہی ازمنکر کے کمرے میں لے گئے مغرب کا وقت گزرگیا سات افراد آئے اور کہنے لگے : یا اس بات کا اعتراف کرلو کہ شیعوں کے ساتھ یہاں ہنگامہ آرائی کرنے کیلئے آیا ہے یا کہہ دو کہ" شیخ جواد الحضری" کو چاقو مارا ہے. اور شیخ جواد الحضری شہر الاحساء کے ایک شیعہ مسجد کا پیش نماز تھا جسے پچھلے ہفتے میں ہیئت امر بہ معروف و نہی از منکرسے وابستہ افراد نے پیچھے سے چاقو مارے تھے محمد عبدالعظیم خلیف کہتا ہے کہ میں نے انکار کیا اور کہا میں جھوٹ نہیں بولوں گا  کہ میں مدینہ آیا ہوں فساد کرنےکیلئے یا میں نے شیخ جواد کو چاقو مارا ہو. پھر انہوں نے ایک جیل میں مجھے منتقل کیا جہاں ۲۰ شیعہ جوان پہلے سے  نظربند کئے ہوئے تھے ، ان پر بھی ایسی ہی تہمتیں لگائی ہوئی تھی ، ان میں سے کچھ جوانوں کو جانتا بھی تھا کہ اپنے گاؤں سے ان کا تعلق تھا اس کے بعد ہم سے تعہد لیا کہ آج کے بعد کبھی حرم رسول خدا (ص) میں داخل  نہیں ہونگے(1)

--------------

(1):-  1387/ 12/ 47: 12 11- MP شیعہ آنلاین. مطالب خواندنی، ص: 3.


  زیارت پیغمبر(ص)کیلئےسفر کرنا گناہ

وافتی ابن تیمیه ان انشاء السفر لزیاره النبی غیر جائز، ویعد معصیه. وقد وصف زیارته بانها غیر واجبه باتفاق المسلمین، بل ولم یشرع السفر الیها، بل هو منهی عنه .(1)

ابن تیمیّہ نے اپنے ایک فتویٰ میں کہاہے کہ قبر رسول کی زیارت کے غرض سے سفر کرنا حرام ہے  کیونکہ یہ گناہ ہے اس کے بعد کہتا ہے کہ آپ کی زیارت واجب نہیں ہےجس پر مسلمانوں کا اتفاق ہے بلکہ زیارت کیلئے سفر کرنا جائز نہیں ہے اور ممنوع ہے :

جبکہ ابن عمر اور دیگر صحابی شام کو فتح کرنے کے بعد رسول خدا(ص)کے مزار پر آکر سلام کئے  اور کہا:السلام علیک یا رسول الله (ص) .(2)

بت پرستوں اور شیعوں میں شباہت

وہابی کہتے ہیں کہ شیعہ اور بت پرستوں میں کوئی فرق نہیں کیونکہ دونوں  مخلوقات کو اللہ کی بارگاہ میں شفیع قرار دیتے ہیں اس وجہ سے دونوں مشرک ہیں.

جواب:بت پرست لوگ کہتے ہیں :لبیک لا شریک لک الا شریكٌ هو لک تملکه و ما ملک .(3) یعنی نہیں ہے تیرا کوئی شریک مگر وہ شریک کہ جس کی ہر چیز کا تو ہی مالک ہے.جبکہ شیعہ کسی کو بھی خدا کا شریک نہیں ٹھہراتا بلکہ شفیع قرار دیتا ہے جس کا جواز  قرآن کی رو سے ثابت کرچکے.

--------------

(1):- قاعدہ جلیلہ فی التوسل والوسیلہ، ص 73، اقتضاء الصراط المستقیم، ص 430

(2):- سُبکی، شفاء السقام: 44). وفاء الوفاء: 4/ 1340)

(3):- کافی/ 4/ 542، مستدرک الوسایل 9/ 195، بحار النوار 3/ 253:


وَ لَئِن سَأَلْتَهُم مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ و سَخَّرَ الشَّمسَ وَ القَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللهُ فَانّی يُوفَکوُنَ .(1)

اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور آفتاب و ماہتاب کو کس نےمَسخّر کیا ہے تو فورا کہیں گے کہ اللہ,تو یہ کدھر بہکے چلے جارہے ہیں.

وَ لَئنِ سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ الل ه قُلِ الحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ. (2)

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے تو کہیں گے کہ اللہ، تو پھر کہئے کہ ساری حمد اللہ کے لئے ہے اور ان کی اکثریت بالکل جاہل ہے.

وَ لَئنِ سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ الل ه   قُلْ أَ فَرَءَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ الل ه إِنْ أَرَادَنىِ‏َ الل ه بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنىِ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبىِ‏َ الل ه عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَکلُِّون‏ (3) اور اگر آپ ان سے سوال کریں گے کہ زمین و آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ اللہ  تو کہہ دیجئے کہ کیا تم نے ان سب کا حال دیکھا ہے جن کی عبادت کرتے ہو کہ اگر خدا نقصان پہنچانے کا ارادہ کرلے تو کیا یہ اس نقصان کو روک سکتے ہیں یا اگر وہ رحمت کا ارادہ کرلے تو کیا یہ اس رحمت کو منع کرسکتے ہیں - آپ کہہ دیجئے کہ میرے لئے میرا خدا کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں.

--------------

(1):-  عنکبوت 61.

(2):- لقمان 25.

(3):- زمر 38۔


1- آسمان و زمین کے خالق اور بارش کانازل کرنے والا اور سبزے اگانے والا صرف خدا ہے (61 عنکبوت، 25 لقمان، 38 زمر)

: وَ يَعْبُدُونَ مِن دُونِ الل ه مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنفَعُهُمْ وَ يَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ الل ه   قُلْ أَ تُنَبُِّونَ الل ه بِمَا لَا يَعْلَمُ فىِ السَّمَاوَاتِ وَ لَا فىِ الْأَرْضِ  سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىَ‏ عَمَّا يُشْرِكُون. (1)

اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں اور نہ فائدہ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم تو خدا کو اس بات کی اطلاع دےرہے ہو جس کا علم اسے آسمان و زمین میں کہیں نہیں ہے وہ پاک و پاکیزہ ہے اور ان کے شرک سے بلند و برتر ہے.

 2.بت پرست لوگ اپنے بتوں کو خدا کے نزدیک شفاعت کرنے والے مانتے ہیں. (یونس ۱۸)

اولًا:  تو یہ ہے کہ انہوں نے بتوں کو اپنے ہاتھوں سےہی  بنا کر اپنا شفیع قرار دئے ہیں اور ان کی باتوں کا کوئی مبنا نہیں ہے

ثانیاً : سورہ یونس ۱۸ کی رو سے یہ لوگ غیر خد اکی عبادت کرتے ہیں کہ بڑے بت کو مستقل طور پر طاقت اور قدرت کے قابل  سمجھتے ہیں .اور بت کے سامنے خضوع اور خشوع کرنے لگتے ہیں.اور ان کا خدا بھی تو ایسا خدا نہیں جس کو مسلمان خدا مانتے ہیں،بلکہ ان کا خدا جز رکھتا ہے( 15 زخرف)،ملائک کو اللہ تعالیٰٰ کی بیٹیاں  مانتے ہیں( 40 اسراء)، اور اللہ تعالیٰٰ کیلئے ہمتا کے قائل ہوتے ہیں. (8 زمر).

الا لِلّهِ الدّینُ الخالِصُ وَ الَّذینَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ ه اولیاءَ ما نَعبُدُهُم الّا لِيُقَرِّبوُنا الَی اللهِ زُلفی انَّ اللهَ يَحكُمُ بَینَهُم فی ما هُم فیهِ يَختَلِفُونَ انَّ اللهَ لا يَ ه دی مَن هُوَ کاذِبٌ كَفّارٌ (2)

--------------

(1):-  یونس (18)

(2):-  زمر (3).


 آگاہ ہوجاؤ کہ خالص بندگی صرف اللہ کے لئے ہے اور جن لوگوں نے اس کے علاوہ سرپرست بنائے ہیں یہ کہہ کر کہ ہم ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں گے - اللہ ان کے درمیان تمام اختلافی مسائل میں فیصلہ کردے گا کہ اللہ کسی بھی جھوٹے اور ناشکری کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا ہے.

وَ جَعَلُواْ لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا إِنَّ الْانسَانَ لَكَفُورٌ مُّبِینٌ (1)

اور ان لوگوں نے پروردگار کے لئے اس کے بندوں میں سے بھی ایک جزؤ (اولاد) قرار دیدیا کہ انسان یقیناً بڑا کھلا ہوا ناشکرا ہے.

أَ فَأَصْفَئکمْ رَبُّكُم بِالْبَنِینَ وَ اتخَذَ مِنَ الْمَلَئكَةِ إِنَاثًا إِنَّکمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِیمًا (2)

کیا تمہارے پروردگار نے تم لوگوں کے لئے لڑکوں کو پسند کیا ہے اور اپنے لئے ملائکہ میں سے لڑکیاں بنائی ہیں؟ یہ تم بہت بڑی بات کہہ رہے ہو.

وَ إِذَا مَسَّ الْانسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِیبًا إِلَيْهِ ثمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسىَ مَا کانَ يَدْعُواْ إِلَيْهِ مِن قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِیلِهِ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیلًا إِنَّكَ مِنْ أَصحَابِ النَّارِ. (3)

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پوری توجہ کے ساتھ پروردگار کو آواز دیتا ہے پھر جب وہ اسے کوئی نعمت دے دیتا ہے تو جس بات کے لئے اس کو پکار رہا تھا اسے یکسر نظرانداز کردیتا ہے اور خدا کے لئے مثل قرار دیتا ہے تاکہ اس کے راستے سے بہکا سکے تو آپ کہہ دیجئے کہ تھوڑے دنوں اپنے کفر میں عیش کرلو اس کے بعد تو تم یقیناً جہّنم والوں میں ہو.

--------------

(1):- زخرف (15).

(2):- اسراء (40).

(3):- زمر (8)۔


ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاءَ فىِ مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنتُمْ فِیهِ سَوَاءٌ تخَافُونَهُمْ كَخِیفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ كَذَالِكَ نُفَصِّلُ الاْيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (1)

اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی مثال بیان کی ہے کہ جو رزق ہم نے تم کو عطا کیا ہے کیا اس میں تمہارے مملوک غلام و کنیز میں کوئی تمہارا شریک ہے کہ تم سب برابر ہوجاؤ اور تمہیں ان کا خوف اسی طرح ہو جس طرح اپنے نفوس کے بارے میں خوف ہوتا ہے بیشک ہم اپنی نشانیوں کو صاحب عقل قوم کے لئے اسی طرح واضح کرکے بیان کرتے ہیں.

ان بیانات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ:

1.  شیعہ  اور بت پرستوں میں کوئی شباہت نہیں  پائی جاتی، کیونکہ بت پرستوں نے اپنے لئے شفاعت کنندہ چن لئے ہیں لیکن ہمارے شفاعت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے چن  لیا ہے.

2.  وہ لوگ اپنے شفاعت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ سے مستقل مانتے ہیں جبکہ ہم اپنے آئمہ طاہرین (ع)کو کبھی اللہ تعالیٰٰ سے مستقل نہیں مانتے ہیں.

3.  وہ لوگ بتوں کی عبادت کرتے ہیں لیکن ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے پس کیسے آپ شیعوں کو بت پرستوں کی مانند جانتے ہو؟!(2)

--------------

(1):- روم (28)۔

(2):- پاسخ بہ شبہات(1)، ص: 7


مُردوں سے کسی چیز کا مانگنا ؟

یہ لوگ سورہ نمل 80، فاطر 22، نحل 20 و 21 اور کئی آیات سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مردہ لوگوں سے ارتباط پیدا کرنا شرک ہے

«انَّكَ لا تُسمِعُ المَوتی وَ لا تُسمِعُ الصُّمَّ الدُّعاءَ اذا وَ لَّوا مُدبِرینَ» (1)

آپ نہ مردوں کو سنا سکتے ہیں نہ ہی بہروں کو اپنی دعوت سنا سکتے ہیں جب وہ پیٹھ پھر کر جا رہے ہوں.

«وَ ما یستَوِی الاحیاءُ وَلَا الامواتُ انَّ اللهَ يُسمِعُ مَن يَشاءُ وَ ما انتَ بِمُسمِعٍ مَن فِی القُبُورِ» (2)

اور نہ ہی زندے اور نہ ہی مردے یکساں ہوسکتے ہیں، بے شک اللہ جسے چاہتا ہے سنواتا ہے اور آپ قبروں میں مدفون لوگوں کو تو نہیں سنا سکتے.

 «وَ الَّذینَ يَدعوُنَ مِن دوُنِ اللهِ لا يَخلُقوُنَ شَیئًا وَهُم يُخلَقوُنَ  امواتٌ غَیرٌ احیاءٍ وَ ما يَشعُرُونَ ایّانَ يُبعَثُونَ» (3)

اور اللہ کو چھوڑ کر جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو خلق نہیں کر سکتے بلکہ خود مخلوق ہیں.وہ زندہ نہیں مردہ ہیں اورانہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے.

--------------

(1):-  نمل (80)۔

(2):- فاطر (22)۔

(3):- نحل (20 و 21)۔


جواب:

آیات:

پہلی بات تو  یہ ہے کہ مردوں سے ارتباط پیدا کرنا شرک تو نہیں بلکہ ممکن ہے کہ اسے بیہودہ کام کہہ سکتا ہو، کیونکہ رسول خدا (ص)کے زمانے میں جو کام رائج تھا وہ آپ کی زندگی کے بعد شرک میں کیوں کر بدل سکتا ہے؟ اور یہ آیت آپ سے مربوط تھی کہ  رسول خدا(ص) تو مردوں کی آواز سن سکتے تھے.(1)

دوسری بات یہ ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ یہ فرمانا چاہتا ہو کہ سننے کی قدرت پیدا کرنا میرا کام ہے نہ تیرا.

تیسری بات یہ ہے کہ مؤمنون 99 و 100 ،نحل 28 کے مطابق مرنے کے بعد برزخ کی زندگی شروع ہوتی ہے تو ہمارا روح وہاں زندگی کر رہا ہوتاہے :

«الَّذینَ تَتَوَفّاهُمُ المَلائِكَهُ ظالِمی انفُسِهِم فَالقَوُا السَّلَمَ ما كُنّا نَعمَلُ مِن سُوءٍ بَلی انَّ اللهَ عَلیمٌ بِما كُنتُم تَعمَلُونَ» (2)

جنہیں ملائکہ اس عالم میں اٹھاتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کے ظالم ہوتے ہیں تو اس وقت اطاعت کی پیشکش کرتے ہیں کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے. بیشک خدا خوب جانتا ہے کہ تم کیا کیا کرتے تھے.

 «حَتی اذا جاءَ احَدَهُمُ المَوتُ قالَ رَبِّ ارجِعُونِ  لَعَلّی اعمَلُ صالحًا فیما تَرَکتُ كَلّا انَّ ه ا كَلِمَهٌ هُوَ قائِلُ ه ا وَ مِن وَرائِهِم بَرزَخٌ الی يَومِ يُبعَثُونَ» (3)

--------------

(1):- صحیح مسلم  جلد 8 صفحہ  163.

(2):- نحل (28).

(3):- مؤمنون (99 و 100).


یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آگئی تو کہنے لگا کہ پروردگار مجھے پلٹا دے شاید میں اب کوئی نیک عمل انجام دوں. ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ایک عالم ہ برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے. ان آیات سے بخوبی واضح ہے کہ مرنے والے بھی ہماری باتوں کو سمجھ جاتے ہیں لیکن ہم ان کو سننے سے قاصر  ہیں.

روایات :

صحیح مسلم اور صحیح بخاری:

صحیح بخاری اور مسلم میں بھی ہے کہ مردوں کے ساتھ  ارتباط پیدا کرنا ممنوع چیز نہیں ہے کیونکہ وہ  بھی دنیوی حالات سے باخبر ہیں اور ہماری باتوں کو سنتے ہیں.چنانچہ بخاری روایت کرتے ہیں کہ : اگر مردہ نیک انسان ہو تو وہ اپنے تشییع کرنے والوں سے کہتا ہے کہ مجھے جلدی قبر تک پہنچادیں اور اگر برا انسان ہو تو وہ کہے گا : مجھے کہاں لے جارہے ہو؟ افسوس ہو مجھ پر مجھے قبر کی طرف نہ لے جائیں.(1)

مرنے والا اس کے لواحقین کے رونے سے عذاب میں مبتلا ہوجا تا ہے.(2)

احمد بن حنبل:

مرنے والا اسے غسل وکفن دینے والے اور دفنانے والے کو پہچان لیتا ہے(3)

نماز میں ہم پھر السلام علیک ایہا النبی و رحمہ اللہ و برکاتہ کیوں پڑھتے ہیں؟اور یہ سلام مذاہب اربعہ میں واجب ہے .

--------------

(1):- صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 87.

(2):- صحیح مسلم جلد 3 صفحہ 41.

(3):- مسند احمد- الامام احمد حنبل- ج 3- ص 3.


جلال الدین سیوطی:

پیغمبر اکرم(ص) سے روایت ہے کہ جو بھی حج بیت اللہ الحرام کرے اور میری زیارت نہ کرے تو اس نے میرے ساتھ ظلم کیا ہے.(1)

ابن ابی شیبہ (بخاری کا استاد)

پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: جو میرے مرنے کے بعدمیری زیارت کرے گویا اس نے میری زندگی میں زیارت کی ہے.جیسا کہ ایک صحابی نے باران رحمت کی نزول کے لئے پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد مدد مانگی اور قبول ہوئی(2)

قبور کی  زیارت:

چار دلیلوں کے ساتھ قبور کی زیارت کرنا جائز ہے :

1. قرآن کریم:

وَ مَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ الل ه   وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ الل ه وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ الل ه تَوَّابًا رَّحِیمًا. (3)

--------------

(1):-  الدر المنشور- جلال الدین السیوطی- ج 1- ص 237.

(2):- السنن الکبری- البیہقی- ج 5- ص 246، ابن ابی شیبہ (استاد بخاری) مصنف جلد 7 ص 482، کنز العمال متقی ہندی جلد 7 ص 431

(3):- نساء 64.


اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ خدا کی اجازت سےاس کی اطاعت کی جائے اور جب یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھتے تھے تو اگر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا پاتے.

2. روایات:

خود پیغمبراکرم(ص) فرماتے ہیں :

«حَیاتی خَیرٌ لَكُمْ تحدثون و نحدث لکم و وفاتی خیر لکم تعرض علیّ اعمالکم ..» (1)

میری زندگی تمھارے لئے بہتر ہے کہ تم مجھ سے سوال کریں اور میں تم کو جواب دوں ، اسی طرح میری وفات بھی تمھارے لئے بہتر ہے کہ تم اپنے اعمال کو عارضہ کرو. اسی طرح اپنی زیارت کرنے کی بھی لوگوں کو تشویق دلائی:

«مَنْ زَارَ قَبْرِی وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِی». (2)

جو بھی میری قبر کی زیارت  کرے گا اس کیلئے میری شفاعت اور بہشت واجب ہوگی.

جو بھی میری قبر کی زیارت کرے اس کی شفاعت کرنا میرے اوپر فرض ہے .(3)

3. صحابہ کی سیرت:

حضرت عمر نے فتوحات شام کے بعد جب مدینہ پہنچےتو سب سےپہلے مسجد نبوی میں آکر آپ پر سلام بھیجا ہے.

--------------

(1):-  طرح التثریب، ص 297.

(2):- السنن الکبری، ج 5، ص 5 24.

(3):- 40 منبع از کتاب ہای اہل سنت.


 احمد بن حنبل، رملی شافعی، محبالدین طبری، زرقانی مالکی اور عزامی شافعی وغیرہ نےنقل کئے ہیں:جب احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ نے اپنے باپ سے پوچھا کہ منبر  اورقبر رسول کو ثواب کی نیت سے  چومنا،مس کرناکیسا ہے؟ اس نے جواب دیا: کوئی اشکال نہیں ہے.کہتا ہے کہ قبر رسول یا کسی اور ولی اللہ کی قبر کا تبرک کے طور پر بوسہ لینا جائز ہے .رملی شافعی اورمحب الدین طبری شافعی کا بھی یہی عقیدہ ہے(1) اسی طرح تاریخ میں ثابت ہے کہ لوگ قبر پیغمبر اکرم اور حضرت حمزہ سے مٹی جذام اور صداع جیسے امراض کیلئے شفایابی کیلئے لے جاتے تھے ، ابو سلمہ پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں :غُبارُ الْمَدِینَةِ يُطْفِی

4. عقل:

 عقل انسان کہتی ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے عزت اور عظمت دی ہے ان کی تعظیم کرنا واجب ہے اور زیارت بھی ایک قسم کی تعظیم ہے .

 ابن اثیر جزری نے پیغمبر اکرم (ص)سے نقل کیا ہے :

وَالَّذی نَفْسِی بِيَدِهِ انَّ فی غُبارِها شِفاءٌ مِنْ كُلِّ داءٍ (2)

اہل سنت بھی قبر سے تبرک  

ذہبی جو صحابی رسول ہیں کہتے ہیں: ایک آدمی نے سعد بن معاذ  کی قبر سے مٹی اٹھائی  پھر دیکھا کہ وہ مٹی اچانک مشک میں بدل گئی.(3)

-------------

(1):- کنز المطالب،ص219.اسنی المطالب،ج1،ص331.لجامع فی العلل ومعرفة الرجال،ج 2،ص 32؛وفاءالوفا،ج 4،ص 1414.

(2):- وفاء الوفا، ج 1، ص 69، ص 544.

(3):- بقات الکبری، 3، 10- سیر اعلام النبلاء، 1، 289.


ابونعیم اصفہانی و ابن حجر عسقلانی کہتے کہ عبداللّہ حدانی ۸ذی الحجة سال 183  کو مارا گیا تو لوگوں نے اس کی قبر کی مٹی تبرک کے طور پر اٹھا کر لے گئے(1)

قسطلانی کہتا ہے:وَهُوَ مِن ابشع المسائل المنقولة عنه».

ابن تیمیّہ کا زیارت قبر رسول اللہ (ص)(ص)سے روکنا ان بدترین مسائل میں سے ہے جو ان سے نقل ہوئی ہے .غزالی کہتا ہے:

«کلّ من‏یتبرک بمشاهدته (ص) فی‏حیاته، یتبرک بزیارته بعد وفاته ویجوز شدّالرحال لهذا الغرض».

جو بھی پیغمبر اکرم (ص)کی زندگی میں ان کی زیارت کرتے تھے ان کی وفات کے بعد بھی ان کی زیارت کیلئے جانا جائز ہے(2)

«إِنَّ فاطِمَةَ کانَتْ تَزُورُ قَبْرَ عَمِّها حَمْزَةَ كُلّ جُمُعَةٍ فَتُصَلّی وَتَبْكِی عِنْدَهُ. » (3)

حضرت فاطمہ زہرا  ہر جمعہ کو اپنے چچا حضرت حمزہ کی قبر کی زیارت کیلئے جاتی اور گریہ کرتی تھیں.

قبور کی تعمیر اور ان پر گنبد بنانا

نَهی رَسُول اللّه (ص) ان یجصّص القبر وان یعقد علیه وان یبنی علیه (4)   پیغمبر اکرم (ص) نے قبر کو گچ کاری اور اس پر قبہ وغیرہ بنانے سے منع فرمایا ہے. اس حدیث کو دلیل بنا کر یہ لوگ مسلمانوں کے قبور کو مسمار کرنا واجب سمجھتے ہیں.

--------------

(1):-  حلیة الاولیاء، ج 2، ص 258- تہذیب التہذیب ج 5، ص 310.

(2):- مصنف عبدالرزاق، ج 3، ص 570- معجم البلدان 2، 214.

(3):-  سنن الکبری، ج 4، ص 132؛ مصنف عبدالرزاق، ج 3، ص 572.

(4):- صحیح مسلم، ج 3، ص 63.


جواب: بہت ساری حدیثیں ایسی ہیں جن میں امر کیا ہوا ہے لیکن وہ کراہت پر حمل کئے جاتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ امر وجوب پر ہی دلالت کرتا ہو.چنانچہ حضرت فاطمہ اپنے چچا حضرت حمزہ کی قبر پر پتھروں سےعلامت بنا کر وہاں فاتحہ پڑھا کرتی تھیں.اور رسول خدا (ص)نے عثمان  بن مغطون کی قبر پر پتھر سے نشان بنایا. اور یہ کیسے ممکن ہے کہ عام انسانوں جیسے بخاری کی قبر پر گنبد بنانا جائز  لیکن آئمہ طاہرین کی قبروں پر گنبد بنانا شرک ہو جائے؟!

 ان کی صرف ایک دلیل ہے جو ابی الہیاج سے نقل ہوئی ہے  جو سند کے لحاظ سے ضعیف ہے کیونکہ وکیع اور حبیب بن ابی ثابت اہل سنت کے نزدیک مورد اعتماد نہیں  ہیں.دلالت حدیث بھی کامل نہیں ہے کیونکہ«وَ لا قَبراً الّا سوّیته» کا مطلب یہ تو نہیں  ہے کہ قبرکو مسمار کردے بلکہ اس  کا مطلب یہ ہے کہ قبر کو مسطح کیا جائے .نہ یہ کہ کوہان شترکی طرح بلند کردے.

قسطلانی کہتا ہے:«السنة فی القبر تسطیحه و انَّه لا یجوز ترک هذه السنّة لمجرّد انّها صارت شعاراً للروافض وانّه لا منافات بین التسطیح و حدیث ابی هیاج: لانّه لم يُرَد تسویته بالارض و انّما اراد تسطیحه جمعاً بین الاخبار ...» (1)

سنت پیغمبر(ص) تو یہ ہے کہ قبر کو مسطح کرتے تھے اور یہ شیعہ مذہب کا شعاربننے کی وجہ سے  ترک کرنا جائز نہیں ہے اور ابی الہیاج کی روایت سے بھی کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ روایت کا مقصد یہ نہیں کہ زمین سے ہم سطح کر دیا جائے بلکہ صاف رکھنا مراد ہے اور قبروں کے کنارے مکان اور مسجد بنانا  مسلمانوں کی سنت رہی ہے تاکہ جن میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکیں.

1.  جس طرح  قبر پیغمبر کے کنارے مسجد تعمیر کی گئی.

2.  قبور آئمہ بقیع کو ۱۳۴۵؁ کو وہابیوں نے خراب کیا.

--------------

(1):-  ارشاد الساری، ج 2، ص 468.


3.  رسول خدا کے بیٹے ابراہیم کی قبر کو جو محمد بن زید بن علی کے گھر میں تھی وہابیوں نے خراب کیا.

4.  حضرت حمزہ ؓ کی قبر پر مسجد بنی ہوئی تھی جسے دوم ہجری میں وہابیوں نے خراب کیا.

5.  سعد بن معاذ کی قبر پر عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں گنبد تعمیر کی گئی.(1)

6.  حضرت علیبن ابی طالب کی قبر پر دوسری صدی میں گنبد بنائی گئی.(2)

7.  حضرت سلمان فارسی کی قبر پر بھی گنبد بنائی گئی تھی.(3)

 خلاصہ یہ ہے کہ سارے مسلمانوں  میں یہ سیرت عام رہی ہے کہ اپنی اہم شخصیات  کی قبور  کے کنارے بارگاہیں بنایا جائے  ، مسجد تعمیر کی جائے ،تاکہ ان کو بھی یاد کریں اور ان کے توسط سے اللہ کی بارگاہ میں بھی متوسل ہوجائیں. سارے اہل سنت بھی اس کے قائل ہیں صرف وہابیوں کو ان سے اختلاف ہے.

 سند حدیث میں ابوالزبیر محمد بن مسلم آمدی- موجود  ہے جسے علمائے اہل سنت ، جیسے احمد بن حنبل اور ابن عینیہ  اور  ابو حاتم نے ضعیف قرار دیا ہے.(4) اسی طرح سند میں ربیعہ ہے جسے ازدی اور ابن ابی شیبہ اور ساجی نے مشکوک قرار دیا ہے(5)

--------------

(1):-  وفاء الوفا، ج 2، ص 545.

(2):- موسوعة العتبات 6، 97.

(3):- تاریخ بغداد، ج 1، ص 163.

(4):- تہذیب الکمال 407: 26.

(5):- تہذیبالتہذیب 2، 360- تاریخ بغداد 8، 199- سیر اعلام النبلاء 9، 31.


مناظرہ:

 شیعہ: کیوں تم قبور کی بے احترامی کرتے ہو اور گنبد کو گرا دیتے ہو؟

وہابی: کیا تو علی کو مانتے ہو؟ اس نے کہا: وہ تو میرا پہلا امام ہے اور رسول کا خلیفہ بلافصل ہیں.

وہابی: ہماری معتبر کتابوں میں تین علماء نے لکھا ہے کہ جن کا نام یحیٰ ، ابوبکر اور زہیر ہیں، وکیع سے ، اس نے سفیان سے ، انہوں نے حبیب سے ، اس نے ابی وائل سے اور اس نے ابی الہیاج اسدی سے نقل کیا ہے کہ علی ابن ابیطالب نے ابی الہیاج سے فرمایا:کیا میں تمہیں کسی ایسے کام کا حکم دوں  جس کا مجھے رسول خدا (ص)نے حکم دیا تھا؟اس نے کہا: ہاں .

 تو آپ  نے فرمایا : کسی بھی تصویر کو مٹائے بغیر نہ رکھو اور کسی بھی قبر کو باقی نہ رکھو مگر وہ زمین کے برابر کردو(1)

شیعہ : یہ حدیث سند اور دلالت دونوں لحاظ سے ضعیف ہے کیونکہ اس کے سلسلہ سند میں درج ذیل افراد موجود ہیں 1. وَکیع. 2. سُفیان. 3. حبیب بن ابی ثابت. 4. ابی وائل ، جن کی سند کو  احمد بن حنبل نے اس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے:وکیع نے پانچ سو حدیثوں میں خطا کیا ہے.(2) ، سفیان ثور ی کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ ابن مبارک نے جب سفیان کو حدیث میں تدلیس(ناحق کو حق کا جلوہ دکھاتے  ہوئے ) کرتے ہوئے دیکھا تو وہ شرمسار ہوگیا.اسی طرح حبیب بن ابی ثابت بھی.(3) اور ابی وائل کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ وہ ناصبی تھا اور امیر المؤمنین کے دشمنوں میں شمار ہوتا تھا.(4)

-------------

(1):- صحیح مسلم، ج 3، ص 61، سنن ترمذی، ج 2، ص 256، سنن نسائی، ج 4، ص 88.

(2):- تہذیب التّہذیب، ج 11، ص 125.

(3):- ہمان، ج 4، ص 115. ج 3، ص 179.

(4):- شرح نہجالبلاغہ حدیدی، ج 9، ص 99


اور قابل توجہ بات تو یہ ہے کہ سارے صحاح ستہ میں یہی ایک حدیث  ہے جسے دلیل بنا کر یہ لوگ قبور آئمہ کو مسمار کرتے ہیں.

وہابی:قبور کے اطراف میں عمارت تعمیر کرنا عرف میں تو یہ پسندیدہ عمل ہے لیکن قرآن  میں اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے.

جواب: کیوں نہیں ؟ ایک آیة مؤدت ہے :

قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی‏.

اور دوسری دلیل اصحاب کہف  کا  قصّہ ہے کہ جب یہ لوگ تین سو سال کے بعد بیدار ہوئے تو  اس غار کے کنارے کسی نے کوئی شاندار  عمارت بنانے کا مشورہ دیا تو کسی نے  وہاں مسجد تعمیر کرنے کا مشورہ دیا اور مسجد بنانے پر اتفاق ہوا : ابْنوا علی ه م بُنیاناً: لنتَّخِذَنَّ علی ه م مسجداً. (1) اور یہ اولیاے خدا  کے قبور کا احترام کرنے کا ایک انداز ہے ، تیسری دلیل لوگوں کا  قبور کے اطراف میں مساجد بنانا ،صاحب قبر کی عزت اور ان کا احترم کرنے کا انداز ہے.

قبور پر چراٖغ جلانا

سوال : کیا قبور پر چراغ جلانے کی کوئی شرعی حیثیت ہے؟

جواب:

درج ذیل دلائل کی روشنی میں قبور پر چراغ جلا نا کوئی ممنوع نہیں ہے :

اہل سنت کی روایات کی روشنی میں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے قبرستان میں جاتے وقت حکم دیا کہ وہاں چراغ جلائے جائیں(2)

--------------

(1):- کہف، 21 .

(2):- الجامع الصحیح، ج 3، ص 372


مسلما نوں کی سیرت بھی یہی رہی ہے کہ ایوب انصار ی اور زبیر بن عوام  کی قبر پر  چراغ جلایا کرتے تھے.(1) اسی طرح مقبروں میں نماز پڑھنےکو جائز قرار دیتے تھے:

 قال مالک لا باس بالصلاة فی المقابر و قال بلغنی ان بعض اصحاب النبی کانوا یصلّون فی المقبرة» (2)

--------------

(1):-  تاریخ بغداد، ج 1، ص 154  المنتظم، ج 14، ص 383.

(2):- المدونة الکبری، ج 1، ص 90.


چھٹی فصل:

 بحث امامت اور خلافت

امامت یا  خلافت پہ بحث کرنے کا کیا فائدہ  جس کی وجہ سے مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوجائے ؟ جو ہوا سو ہوا  ہم کیوں آپس میں الجھیں؟!

اس کا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے :

الف: تاریخی ہے جو گذر گئی  کہ کھبی واپس نہیں آئے گی. 

ب: دینی ہے جو ابھی تک باقی ہے اور  قیامت تک باقی رہے گا.اب کوئی موجود ہو جو ان آنے والی مشکلات کو حل کرے  اور لوگ اس کی طرف رجوع کرے یہی وجہ ہے کہ شیعہ اس بات کا معتقد ہے کہ علی اور اولاد علی  کو رسول اللہ (ص)نے بعنوان خلیفہ مقرر کیا اس سے شیعہ نظریہ تثبیت ہوجاتا ہے.جس پر حدیث ثقلین صد در صد دلالت کرتی ہے اور اس کی سند فریقین کے نزدیک صد درصد صحیح بھی ہے اور متواتر بھی یہ منصب ایک الہی منصب ہے جس کی معرفت اور پہچان بھی الہی فریضہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا اور زندگی کرنے کا طریقہ بھی بتایا اور اپنے رسول کے ذریعے ان رہنماؤں کی معرفی بھی کرائی  اور خبردار بھی کیا کہ ان سے جدا نہ ہونا. یہی وجہ ہے کہ اس بحث کو نظرانداز نہیں کرسکتا.

اگر ہم بغیر کسی تعصب  اور ٹھنڈے دماغ  کے ساتھ امامت یا خلافت سے بحث کریں تو یہ مسلمانوں کے صفوں میں اتحاد اور اتفاق کا باعث ہے.ایک دوسرے کے عقائد سے بھی آگاہ ہوجائیں گے جس کے باعث  ایک دوسرے کے قریب ہوجائیں گے.


امامت کی حقیقت شیعہ اور اہل سنت کی نظر میں

لغت میں امامت اسے کہا جاتا ہے جس کی اتباع اور پیروی کی جائے خواہ وہ انسان ہو یا کتاب ہو ،  حق ہو یا باطل ہو .یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن انہی کے ساتھ انسان کو محشور کیا جائے گا :

يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ بِيَمینِهِ فَأُولئِكَ يَقْرَؤُنَ كِتابَهُمْ وَ لا يُظْلَمُونَ فَتیلاً . (1)

 قیامت کا دن وہ ہوگا جب ہم ہر گروہ انسانی کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے اور اس کے بعد جن کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اپنے صحیفہ کو پڑھیں گے اور ان پر رائ برابر ظلم نہیں ہوگا.

لیکن اصطلاح میں امامت سے مراد رسول خدا (ص)کا جانشین ہے جو دین کی خاطر رسول کی جانب سے منتخب ہو جن کا اتباع کرنا تمام مسلمانوں پر واجب ہو.

امامت کو اصول دین میں کیوں شمار کیا جاتا ہے ؟

جواب شیعہ : ہم چونکہ امامت کو سلسلہ نبوت کی  ایک کڑی  سمجھتے ہیں  جس کے ساتھ اسے  بھی ذکر کرنا ضروری ہے

امامت کی خصوصیات 

شیعہ : وہی صفات کے حامل ہونا چاہئے کہ جس کا نبی یا رسول حامل ہوسواے  وحی کے .

اہل سنت: چار ہیں : عالم ہو، عادل ہو،  سیاسی امور سے آگاہ ہو ، اور حسن تدبیر کا مالک ہو.بعض نے کچھ اور اضافہ کیاہے جیسے : قریشی ہو، جسم کے سارے اعضاء و جوارح سالم ہو، شجاع اور دلیر ہو، بالغ ہو، مرد ہو،

--------------

(1):-  الاسراء : 71. 


اشکال : کیوں ان خصوصیات کی تعداد میں اختلاف  ہے؟

 آیة اللہ جعفر سبحانی فرماتے  ہیں:کیونکہ انہوں نے نصوص میں دقت نہیں کی ہے:

الف:امامت کے متعلق نصوص دینی  کا مطالعہ ہی  نہیں کیا ہے .ان کے پاس جو نصوص موجود ہیں ان میں امامت کے متعلق ان مذکورہ شرائط کا تعین ہی نہیں کیا گیا ہے ان کے مذکورہ شرائط کا منبع استحسان اور اعتبارات عقلی ہیں عجیب بات تو یہ ہے کہ کیسے ممکن تھا کہ رسول خدا (ص)نے شرائط اور خصوصیات امام جیسی اہم  چیز کو بیان نہیں کیاہو اور امّت پر چھوڑ  گئے  ہوں جب کہ اللہ تعالیٰ نے مکروہات اور مستحبات کو بھی مفصل بیان کیا ہے.

ب:ان کی بیان کردہ صفات ، عدالت والی صفت کے ساتھ تضاد  رکھتی ہیں.باقلانی  نے کہا : فاسق اور فاجر ہونے کی وجہ سے منصب امامت سے نہیں ہٹایا جاسکتا بلکہ اسے نصیحت اور  ہدایت کی جائے گی..(1)

ج:امیر المؤمنین(ع) کے بعد اکثر خلفاء ان صفات کے حامل نہیں تھے یعنی یہ لوگ امام حاضر کیلئے شرائط ڈھونڈتے ہیں لیکن شیعہ امامت کو نبوت کا سلسلہ مانتے ہیں لہذا وحی اور نبوت  کے سوا نبی کی تمام صفات کو امام کیلئے لازم سمجھتے ہیں .

د:مزید اشکالات: امام ہونے کے لئےقریشی ہونا شرط  رکھی گئی ، اس صورت میں غیر قریشی خلفاء کا کیا کروگے؟ اسی طرح عدالت کی صفت در حدوث یا در بقاء؟ اسی طرح عالم ہونے کی قید ذکر کی گئی تو جو جاہل خلفاء گذرے ہیں ان کا کیا گروگے؟جیسا کہ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ مروان کے پاس نہ علم تھا اور نہ دین تھا .

ان مباحث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے اپنے رسول کے  انتخاب کرنے میں کسی  سے رائے نہیں لی .یہ باتیں شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف کی وجہ تھیں، لیکن درج ذیل  چیز یں امامت کے بارے میں مورد اتفاق ہیں:

 الف: پیغمبر(ص) کے بعد کسی امام کا ہونا ضروری ہے

ب: پیغمبر(ص) کی جانب سے جو لوگوں پر حکومت کرے.

--------------

(1):-  الٰہیات،ص۵۰۸.


اثبات امامت کی راہیں اور رکاوٹیں

شیعوں کے نزدیک تین راہیں  ہیں :

1.  اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب ہو۔

2.  رسول خدا(ص) کی طرف سے منتخب ہو.

3.  پہلا امام کی طرف سے منتخب ہو.

اہل سنت کے نزدیک  بھی تین راہیں ہیں:

1.  وہی تین راہیں جن کے شیعہ معتقد ہیں. لیکن ان میں سے صرف تیسری صورت وقوع پذیر ہوئی.

2.  حل و عقد ( قوم کا سردار، ریش سفید اور زمینداروں) امام کو منتخب کریں گے.لیکن اس صورت میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سردار یا وڈیروں  اور قوم کے بزرگوں کی تعداد کتنی ہونے چاہئے؟ ایک یا دو یا تین یا چھ یا دس یا سو ؟!!

اہل سنت کے ہاں چار قول ہیں:

     کم از کم پانچ افراد ہونے چاہئے کیونکہ ابوبکر کو پانچ افراد نے  انتخاب کیا تھا.. شیعہ اشکال کرتےہیں :یہ تو نقض لازم آتا ہے ، کیونکہ عمر کو چھ افراد نے انتخاب کیا ہے .

     کم از کم دو  افراد ہونےچاہئے ، کیونکہ نکاح میں دو گواہ لازم ہے

     حد اقل ایک نفر ہونا چاہئے ، کیونکہ قاضی کا حکم نافذ ہے جب کہ وہ ایک سے زیادہ نہیں ہے .

شیعہ اشکال کرتے ہیں : اگر ایک شخص سو آدمی کو منتخب کرےتو کیا انہیں بھی قبول کریں گے؟ اس صورت میں علی (ع)کو بھی   اباذر، سلمان اور مقداد  نے اپنا امام منتخب کیا تھا ، تو انہیں کیوں نہیں بنائے گئے؟ شاید آپ جواب دیں گے:

 بائُکَ تجُر و بائی لا تَجُر.

 یعنی تیرا (با) زیر دیتا ہے لیکن میرا (با ) زیر نہیں دیتا.


     شوری کے ذریعے امام کا انتخاب  کیا جا تا ہے اہل سنت کے دانشور حضرات کہتے ہیں کہ خلیفہ یا امام شوری کے ذریعے انتخاب کیا جاتا ہے جس پر دلیل قرآنی پیش کرتے ہیں:

 فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ الل ه لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شاوِرْهُمْ فِی الْأَمْرِ فَإِذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَی الل ه إِنَّ الل ه يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِینَ. (1)

"پیغمبر یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے لہذا اب انہیں معاف کردو- ان کے لئے استغفار کرو اور ان سے امر جنگ میں مشورہ کرو اور جب ارادہ کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو کہ وہ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے".

آیة شریفہ میں حکم ہوا ہے کہ اپنے مہم کاموں میں ایک دوسرے  کے ساتھ مشورہ کرو. اور امامت یا خلافت بھی ایک اہم کام ہے  اسی لئے ہم نے بھی باہمی مشورے سے اپنا خلیفہ انتخاب کیا ہے .

شیعہ اشکال کرتے ہیں : آیة شریفہ میں ہمارے اپنے کاموں میں  مشورہ کرنے کا حکم ہے لیکن امامت کا انتخاب کرنا ہمارا کام تو نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول  کا کام ہے کہ وہ جس کا انتخاب کریں ، ان کی مرضی ہے  اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے .دوسری دلیل یہ ہے کہ ہمارے  مشورے کے مطابق عمل کرنا رسول پر واجب نہیں ہے کیونکہ فرمایا : فتوکل علی اللہ. ثالثاً بنی عامر جب مسلمان ہوئے تو رسول خدا (ص)پر منت چڑھاتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ چونکہ آپ  ہماری وجہ سے قوی ہو گئے ہیں تو اپنے بعد آپ کا جانشین ہماری قوم سے ہونا چاہئے.تو اس وقت فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں  ہے جو جس کو چاہے منتخب کرے

--------------

(1):-  آلعمران ۱۵۹.


لزوم امامت پر دلائل

سوال یہ ہےکہ امام کا ہونا کیوں ضروری ہے ؟

 جواب یہ کہ تین وجوہات کی بنا پر امام کا ہونا ضروری ہے :

۱.نبی کریم (ص)کے بعد مختلف علمی میدانوں جیسے تفسیر قرآن ، تبیین احکام، یہود و نصاری ٰکی طرف سے کئے جانے والے شکوک و شبہات  کا جواب دینے والا نیز دین مبین اسلام کو تحریفات سے بچانے والا موجود ہو.

۲.امّت اسلامی کیلئے اندرونی اور بیرونی خطرات لاحق تھے .بیرونی خطرات جیسے  روم  کی حکومت کہ جن کے ساتھ بہت سی جنگیں لڑی  گئیں .اور ایران کے اس بادشاہ نے ایک دفعہ بہت ہی اہانت کے ساتھ یمن کے والی کو لکھا : تو دو نفر کو بھیج کر  ان ( رسول خدا (ص)) کو میرے پاس  لے آؤ.اندرونی خطرات جیسے منافقین کی جانب سے تھے جو ستون پنجم کے نام سے مشہور تھے جن کی مذمت میں مکمل سورہ  منافقون نازل ہوا .

حیران کن بات یہ ہے کہ خلفائے ثلاثہ کے دور میں کبھی ان منافقین نے سر نہیں اٹھایا جو رسول اللہ (ص) کے زمانے میں ہر وقت اسلام کے خلاف جنگ کرتے رہےل تھے ، لیکن جب علی کی خلافت کا دور آیا تو پھر انہوں نے سر اٹھایا جس کی وجہ سے علی کو خلافت کے پورے چار سال جنگ اور جہاد میں مصروف رہنا پڑا .

سوال: یہ کس بات کی دلیل ہے ؟!! کیا ایسا نہیں کہ ان کے دور خلافت میں منافقین کو آسائشی زندگی میسر ہوئی؟

۳.قاعدہ لطف  ، کہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو گمراہی اور ضلالت سے بچنے کیلئے نبی کے بعد کسی ہادی یا رہبر یا امام بھیجا جائے .

اس کا منطقی قاعدہ  یہ ہے :

پہلامقدمہ : امامت کا منتخب کرنا بندوں پر ایک لطف ہے.


دوسرامقدمہ: اپنے بندوں پر لطف کر نا اللہ تعالیٰ پر واجب ہے ، کیونکہ وہ حکیم ہے اور حکمت الٰہی یہ ہے کہ بندوں کو کمال تک پہنچائے، اگر لطف نہ کرے تو نقض غرض لازم  آتا ہے

نتیجہ: اللہ تعالیٰ پر امام کا منتخب کرنا واجب ہے

اشکال: رسول خدا (ص) اپنا جانشین معین کر کے گئے ہیں، لیکن اہل سنت اس بات کو نہیں مانتے .

ابوبکر  اور عمر دونوں اپنا  اپنا جانشین معین کرکے گئے ہیں،اس بات کو اہل سنت قبول کرتے ہیں،

ہم کہیں گے کہ یہ دونوں رسول سے زیادہ عاقل اور ہوشیار تھے؟!!

اگر آپ کہیں گے : نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسول سے یہ لوگ زیادہ ہوشیار اور عاقل ہوں. تو اس کا مطلب یہ ہے کہ  ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہو گا.

اہل سنت علی ؑکو خلیفہ بلا فصل کیوں نہیں مانتے؟

اہل سنت کتہے ہیں کہ ہم علی کو خلیفہ بلا فصل نہیں مانتے کیونکہ ان کا نام قرآن میں نہیں آیا ہے .

شیعوں کا  جواب:

۱. کیا اللہ تعالیٰ کے سارے نبیوں کا نام قرآن  میں آیا ہے ؟!

۲.کیا خلیفہ اول اور دوم(ابوبکر اور عمر) کا نام قرآن میں آیا ہے؟

۳.غدیر خم میں رسول خدا(ص)نے اعلان کیا ہے :

 رُوِيَ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ ع قَالَ حَجَّ رَسُولُ الله ص مِنَ الْمَدِینَةِ وَ قَدْ بَلَّغَ جَمِیعَ الشَّرَائِعِ قَوْمَهُ مَا خَلَا الْحَجَّ وَ الْوَلَايَةَ فَأَتَاهُ جَبْرَئِیلُ ع فَقَالَ لَهُ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ الله عَزَّ وَ جَلَّ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ لَكَ إِنِّی لَمْ أَقْبِضْ نَبِیّاً مِنْ أَنْبِيَائِی وَ رُسُلِی إِلَّا بَعْدَ إِكْمَالِ دِینِی وَ تَكْثِیرِ حُجَّتِی


وَ قَدْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ ذَلِكَ فَرِیضَتَانِ مِمَّا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ أَنْ تُبَلِّغَهُمَا قَوْمَكَ فَرِیضَةُ الْحَجِّ وَ فَرِیضَةُ الْوَلَايَة...وَ أَوْحَی إِلَيَّ بِسْمِ الله الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ یا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ الْآيَةَ مَعَاشِرَ النَّاسِ مَا قَصَّرْتُ عَنْ تَبْلِیغِ مَا أَنْزَلَهُ وَ أَنَا مُبَيِّنٌ سَبَبَ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّ جَبْرَئِیلَ ع هَبَطَ إِلَيَّ مِرَاراً ثَلَاثاً يَأْمُرُنِی عَنِ السَّلَامِ رَبِّی وَ هُوَ السَّلَامُ أَنْ أَقُومَ فِی هَذَا الْمَشْهَدِ وَ أُعْلِمَ كُلَّ أَبْيَضَ وَ أَحْمَرَ وَ أَسْوَدَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ أَخِی وَ وَصِيِّی وَ خَلِیفَتِی وَ الْإِمَامُ مِنْ بَعْدِی الَّذِی مَحَلُّهُ مِنِّی مَحَلُّ هَارُونَ مِنْ مُوسَی إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِی وَلِيُّكُمْ بَعْدَ الله وَ رَسُولِهِ وَ قَدْ أَنْزَلَ الله تَبَارَكَ وَ تَعَالَی عَلَیّ بِذَلِكَ آيَةَ إِنَّما وَلِيُّكُمُ الله وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ يُقِیمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ وَ عَلِيُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ الَّذِی أَقَامَ الصَّلَاةَ وَ آتَی الزَّكَاةَ وَ هُوَ رَاكِعٌ يُرِیدُ الله عَزَّ وَ جَلَّ فِی كُلِّ حَالٍ ...

مَعَاشِرَ النَّاسِ فَضِّلُوا عَلِیّاً فَإِنَّهُ أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدِی مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنْثَی بِنَا أَنْزَلَ الله‏... وَ بَقِيَ الْخَلْقُ مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَغْضُوبٌ مَغْضُوبٌ مَنْ رَدَّ قَوْلِی هَذَا عَنْ جَبْرَئِیلَ ع عَنِ الله تَعَالَی فَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ ما قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَ اتَّقُوا الله أَنْ تُخَالِفُوا إِنَّ الله خَبِیرٌ بِما تَعْمَلُونَ معَاشِرَ النَّاسِ تَدَبَّرُوا الْقُرْآنَ وَ افْهَمُوا آيَاتِهِ وَ مُحْكَمَاتِهِ وَ لَا تَتَّبِعُوا مُتَشَابِهَهُ فَوَ الله لَهُوَ مُبَيِّنٌ لَكُمْ نُوراً وَاحِداً وَ لَا يُوَضِّحُ لَكُمْ تَفْسِیرَهُ إِلَّا الَّذِی أَنَا آخِذٌ بِيَدِهِ وَ مُصْعِدُهُ إِلَيَّ وَ شَائِلٌ بِعَضُدِهِ وَ مُعْلِمُكُمْ أَنَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ وَ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخِی وَ وَصِيِّی وَ مُوَالاتُهُ مِنَ الله تَعَالَی ‏.(1)

--------------

(1):-  روضة الواعظین و بصیرة المتعظین،  ج1،ص89.   


امام باقر(ع) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) مدینہ سے حج پر تشریف لے گئے اور حج اور ولایت کے حکم کے علاوہ اسلام کے سارے احکام لوگوں تک پہنچائے .جبرئیل امین(ع)  آئے اور فرمایا: اے محمد (ص) اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا ہے  اور فرمایا ہے کہ میں نے اپنے کسی بھی نبی یا رسول کو (لوگوں کے درمیان سے)نہیں اٹھایا ہے جب تک اپنے دین کو کامل نہ کرےاور ان کی  حجت تمام نہ ہوجائے اور تجھ پر دو فریضے باقی ہے جن کا اپنی قوم تک پہنچانا تم پر فرض ہے وہ فریضہ حج اور فریضہ ولایت ہے ...اور مجھ پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی ہے کہ جو کچھ مجھ پر نازل کیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچادوں.اس کے بعد فرمایا: اے لوگو!میں نے جو کچھ انہوں نے نازل کیا تھا ان کے پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے اور میں اس آیة شریفہ کی شان نزول بتاتا ہوں کہ جبرئیل میرے پاس تین دفعہ تشریف لائے  اور اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچایا جس کا مقصد یہ تھا کہ میں تمہارے سامنے آؤں اور سارے لوگوں (گورے ،کالے اور سرخ) کو یہ اعلان کروں کہ علی ابن ابیطالب میرا بھائی ،وصی، خلیفہ اور میرے بعد امام ہوگاجس کا مقام میری نسبت ایسا ہوگاجوہارون کی نسبت موسیٰ سے ہےمگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا.وہ تمہارے ولی ہیں اللہ اور اس کےرسول کےبعداور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی شان میں آیة ولایت نازل کی ، جس کا مصدس علی ابن ابیطالب ہیں جنھوں نے نماز قائم کی اور حالت رکوع میں زکات دی اور ہر حال میں اللہ کی رضایت کے طالب رہے... اے لوگو! علی (ع)کی فضیلت کا اقرار کرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق میرے بعدسارے مرد اور عورت میں افضل ترین انسان ہیں اور وہ لوگ لعنتی ہیں لعنتی ہیں اور مغضوب ہیں مغضوب ہیں جنہوں نے میری باتوں کو رد کیا جو جبرئیل نے اللہ تعالیٰ سے وحی نازل کی ہے .پس  ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیج دیا ہے اور اللہ کے فرامین کی مخالفت  سے ڈرتے رہو کہ وہ یقیناً تمہارے اعمال سے باخبر ہے.

اے لوگو!قرآن کریم میں غور وفکر کرو اور اس کی آیتوں کو سمجھو محکمات پر عمل کریں اور متشابہات کی پیروی نہ کریں ،خدا کی قسم وہ تمہارے لئے ایک نور کواجالا کرنے والا ہے جس کی تفسیر تمہارے لئے واضح نہیں ہوگی  سواے اس انسان   کے ذریعےجس


کے ہاتھ کو میں نے پکڑ  کر بلند کیا اور تم لوگوں کے سامنے  اعلان کیا :جس جس کا میں مولا ہوں اس اس  کایہ علی مولا ہے جو علی ابن ابیطالب ہیں ،میرے بھائی  اور جانشین ہیں ،ان کی ولایت  کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے  لوگوں پر فرض کیا گیا ہے یہ خطبہ غدیر کا اقتباس ہے جس سے قرائن حالیہ ، مقامیہ اور قرائن مقالیہ  کے ذریعے ولایت علی پر استدلال کر سکتے ہیں.کہ پہلے الست اولی بکم من انفسکم کہہ کر اقرار لینا بعد میں من کنت مولاہ... کہنا اور اکمال دین اتمام حجت کے موقع پر رسول خدا(ص) کا تکبیر کہنا ، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ولایت علی  سے مراد اولی بالتصرف ہے نہ دوست .

جانشین پیغمبر (ص)کو صحابہ نے کیوں منصب خلافت سے دور رکھا؟

اہل سنت اشکال کرتے ہیں کہ اگر  لوگوں کے سامنے علیؑ کا نام لیکر جانشین بنایا ہی تھا توپیغمبر (ص) کی رحلت کے بعد صحابہ نے کیوں علی ؑکو منصب  خلافت پر نہیں بٹھایا؟

شیعہ جواب دیتے ہیں:

 الف: سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نبی کی باتوں کو ٹھکرایا گیا.

 ب:یا نبی کی باتوں کو فراموش کیا گیا، کہ یہ ناممکن ہے کیونکہ دومہینے سے زیادہ عرصہ بھی نہیں گذرا تھا.

ج: یا انہوں نے قول نبی کے مقابلے میں اجتہاد کیا ہے .ان تینوں جواب میں سے جو بھی  جواب انتخاب کرے ، وہ لوگ  لاجواب ہوجائیں گے .

۱.دعوت ذوالعشیرہ میں علی(ع) کا نام لے کر لوگوں کے سامنے اپنا جانشینی کا اعلان کیا گیا.

۲.نام لینے سے زیادہ اوصاف اور خصوصیات کا بیان کرنا  بہتر ہے ، کیونکہ دوسرے لوگ اس سے غلط فائدہ نہ اٹھا سکے .جیسا کہ تاریخ میں بہت سے لوگوں نے امام مھدی ہونے کا جھوٹا دعوا کیا.


۳.جہاں لوگوں کو علی(ع) ہی کی دشمنی میں پیغمبر (ص) کی آواز کو حسبنا کتاب اللہ کہہ کر خاموش کرنا آسان ہوا تو ایک کاغذ کو جس پر علی (ع)کا نام لکھ دے، پھاڑ دینا تو اور بھی آسان تھا.

اگر خلفاء برحق نہیں تھے تو علی ؑنے خاموشی کیوں اختیار کی؟

جواب: امیرالمؤمنین خود فرماتے ہیں کہ ۲۵ سال کی گوشہ نشینی میرے لئے ایسا تھا کہ جیسے حلق میں ہڈی اٹکی ہوئی ہو مگر علی نے صبر کی ، ورنہ علی ولی مطلق تھے اپنا حق چھین سکتے تھے ۔کیوں نہ ہو جو زندگی میں کبھی نہیں ہارے جو کبھی کسی کی طرف محتاج نہیں رہے؛ بلکہ لوگ خود علی پر محتاج ہوتے تھے.اور وہ لوگ محتاج ہوتے تھے جو خلہا  رسول ہونے کا تو دعوا کرتے تھے لیکن کار خلافت انجام نہیں دے سکتے تھے اورمولا ؑخود فرماتے ہیں کہ یہ بات تمھارے دلوں میں ہے کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں لیکن میری بازؤں میں وہی طاقت ہے جو جنگ بدر و حنین میں تھی. 

خاموشی کی اصل وجہ یہ تھی کہ اگر علی تلوار اٹھاتے تو حضور کی ۶۳ سالہ زندگی کی تمام زحمتیں ضائع ہوجاتیں۔ علی جیت بھی جاتے اور اقتدار بھی حاصل  ہوجاتے مگر حضور کی تبلیغ رایگان ہوجاتی اور لوگ کہتے کہ علی نے رسول کی ساری محنت پر  پانی پھیر دیا خود مولا فرماتے ہیں کہ اگر میں تلوار اٹھاتا تو ایک لاکھ سے زیادہ جو مسلمان ہوئے تھے پھر اپنی اصلیت کی طرف لوٹ جاتے ، اور میرا مقصد یہ نہیں بلکہ میرا مقصد تو لوگوں کو ظلمت کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کے نور کی طرف دعوت دوں، ضرورت کے موقع پر ہدایت کرتا رہوں، یہ ہے ولی کا کام.نبی پہنچاتا ہے ولی بچاتا ہے یعنی تلوار نیام میں رکھ کر کار رسالت کی حفاظت کی ، گلے میں رسی ڈالنے کو قبول کیا کیونکہ آپ کو اپنی ولایت کی فکر نہیں تھی کار نبوت کی حفاظت کی فکر تھی.

باقی اصحاب اور امام علی میں فرق یہی تھا کہ علی، رسول کی رسالت اور کارنبوت کی حفاظت فرماتے تھے اور باقی اصحاب، نبی کے اصولوں کو مٹا کر خود اپنا اصول قائم کرتے ہیں جنگ نہروان میں آخر وقت تک لوگوں کو ہدایت کرتے رہے آخر کار تلوار اٹھانا پڑا۔


 اس وقت ۱۳ افراد بھاگ کھڑے ہوئے جن میں سے ایک ابن ملجم مرادی بھی تھا اس وقت فرمایا: یہ میرا قاتل ہے اور دوسری مرتبہ جب آپ میثم تمّار کی دکان میں تشریف فرما تھے ، ابن ملجم مرادی سامنے سے گزرا تو فرمایا: یہ میرا قاتل ہے عرض کیا:مولا!پھر اس کو کیوں مہلت دیتے ہو؟ فرمایا: جرم سے پہلے سزانہیں دی جاسکتی.

جب  امیر المؤمنین  جنگ نہروان کے بعد ایک مجلس میں تشریف فرما تھے تو آپ سے پوچھاگیا کہ آپ نےجس طرح ناکثین اور قاسطین اور مارقین  اور طلحہ اور زبیرکے ساتھ جنگ کی اسی طرح ابوبکر اور عمر کے ساتھ جنگ کیوں نہیں کی؟ تو آپ نے فرمایا: میں اپنی زندگی کے پہلے دن  سے ہی مظلوم واقع ہوا اور میرے حقوق کو دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھتا رہا تو اشعث بن قیس اٹھا اور کہا: یا امیر المؤمنین! کیوں آپ نے تلوار نہیں اٹھائی اور اپنا حق نہیں چھینا ؟ تو فرمایا : اے  اشعث! تو نے ایک ایسے مطلب کے بارے میں سوال کیا تو اس کا جواب اور دلیل کو بھی تفصیل سے سنو: میں نے چھ انبیاء الہی کی پیروی کی ہے.

1.  حضرت نوح ،  جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرما تا ہے:

فَدَعا رَبَّهُ أَنِّی مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ (1)

2.  حضررت لوط ، جس کے بارے میں فرمایا:

 لَوْ أَنَّ لِی بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِی إِلی‏ رُكْنٍ شَدِیدٍ (2) ان دونوں آیتوں میں اب اگر کوئی یہ کہہ دے کافروں سے خوف کی وجہ سے نہیں فریائے ہیں تو وہ کافر ہے تو انبیاء کے ولی اور جانشین تو خود انبیاء سے زیادہ معذور ہیں(3)

3.  حضرت ابراہیم خلیل  کہ جن کے بارے میں فرماتے ہیں :

وَ أَعْتَزِلُكُمْ وَ ما تَدْعُونَ مِنْ دُونِ الل ه (4)

--------------

(1):- بقرہ ۱۲۴.

(2):- النساء : 59.

(3):- علی عطائی، پرسش وپاسخ در مدینہ منورہ،ص 215.

(4):- احزاب 33.


4.  حضرت موسیٰ :فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ .(1)

5.  حضرت ہارون کی میں نے پیروی کی  ، جس نے فرمایا:ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِی وَ کادُوا يَقْتُلُونَنِی. (2)

کیا ہارون نے اپنی قوم سے خوف کی وجہ ایسا نہیں کیا؟ اگر اس بات کا انکار کرے گا تو  قرآن کا انکار ہوگا.

6.  میں نے اپنے بھائی حضرت محمد (ص) کی پیروی کرتے ہوئے خاموشی اختیار کی ، جس طرح انہوں نے احتیاط اور قریش والوں کے خوف سے مجھے اپنے بستر پر سلا کر خود غار  میں چھپ گئے. تو جو بھی یہ کہے کہ رسول خدا کفار قریش کے خوف سے نہیں چھپے تھے تو گویا وہ قرآن کا منکر ہوگا.

اس وقت سارے لوگ یک زبان ہوکر کہنے لگے : یا امیر المؤمنین ! آپ نے بالکل سچ کہا اور ہم اس بارے میں جاہل تھے(3)

دوسری روایت میں ہے کہ امام کوفہ میں خطبہ دے رہے تھے جس کے آخر میں فرمایا: میں لوگوں پر اولویت رکھتا ہوں جس دن مجھے رسول خدا (ص)نے اپنا جانشین بنایا لیکن جس دن رسول خدا رحلت فرماگئے تو اسی دن سے میں مظلوم واقع ہوا.تو اس وقت اشعث نے کہا: آپ ہر خطبہ میں یہی فرماتے ہو کہ میں لوگوں پر اولویت رکھتا ہوں اور میرا حق غصب ہوا اور ظلم ہوا تو کیوں ان دونوں کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی؟!

آپ نے فرمایا:اے شرابی کی اولاد! خدا کی قسم  ! میرا اپنا حق نہ لینا نہ کسی سےڈر اور خوف کی وجہ سے تھا اور نہ موت کے ڈر سے، بلکہ صرف رسول خدا (ص)کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس  کا وفا کرنا تھا.کیونکہ انہوں نے مجھے خبر  دی تھی

--------------

(1):- 

(2):-

(3):-


کہ یہ امّت میرے بعد تجھ پر جفا کریگی اور میری وصیت کو ٹھکرائے گی۔ جسے میں نے تیری خاطر کی ہے  اور کہا ہے : میری نسبت تیرے ساتھ موسیٰ اور ہارون کی نسبت ہے تو میں نے عرض کیا : اے رسول خدا ! اس وقت میرا وظیفہ کیا ہے  ؟ تو فرمایا: اگر تمھیں کوئی یار و مددگارمل جائیں تو غاصبوں کے ساتھ جنگ کرو اور اپنا حق لے لو لیکن اگر کوئی مدد کرنے والے نہ ملے تو سکوت اختیار کرلو.اور اپنا خون کی حفاظت کرنا اور مظلومانہ مجھ سے قیامت کےدن ملحق ہوجانا.پس میں نے بھی رسول خدا  کی رحلت کے بعد ان کی تجہیز و تکفین میں مصروف ہوگیا اور اس کے بعد قسم کھائی کہ جب تک قرآن کو جمع نہ کروں گھر سے نہیں نکلوں گا.اس کےبعد میں فاطمہ زہرا ، حسن اور حسین کے ہاتھوں کو پکڑ ہر اصحاب اور اہل بدر و حنین کے دروازے پر گئے لیکن ہر ایک نے انکار کیا سوائے چار افراد(سلمان، عمار، ابوذر،اور مقداد) کے.اور اپنے عزیزوں میں سے سواے عقیل اور عباس کے کسی نے بھی مدد نہیں کی.

اشعث  نے کہا:عثمان نے بھی اسی طرح استدلال کیا تھا کہ ان کا بھی کوئی یاور نہیں تھا اس لئے مظلومانہ قتل ہونے کو تسلیم کیا!

امام نے فرمایا: اے شرابی کے بیٹے!جس طرح تو نے قیاس کیا  ایسا نہیں کیونکہ عثمان  ایسے مسند پر بیٹھا تھا جس کا وہ حقدار نہیں تھا  اور کسی کا لباس پہن رکھا تھا ...اگر مجھے صرف ۴۰ نفر مل جاتے تو میں ابوبکر کا مقابلہ کرتا(1)

اہل سنت: علی (ع) کو لوگوں نے نہیں مانا اور دین بھی منہدم نہیں ہوا۔ الحمد للہ!اسلام بڑے آب و تاب کے ساتھ باقی ہے. یہاں تک  کہ ایران اور روم بھی فتح ہوا اور سب مسلمان بھی ہوگئے.

-------------

(1):-


    جواب شیعہ : اسلام پر شدید ضربہ وار ہوا ؛

     امام حق بھی دین اسلام کی حفاظت کی خاطر کبھی خاموش نہیں رہے.

     دین میں بہت سارے انحرافات پیدا ہوگئے.

     اصل استاد کا جواب یہ کہ جو داخلی خطر تھا ، اس نے اپنا کام کردیا .ورنہ سارے منافقین کہاں چلے گئے ان تینوں کے دور میں ، یہاں تک کہ علی آئے تو دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا.

: چگونہ ما منکر ولایت حضرت علی(رضی اللہ عنہ) می شویم و حال آنکہ علمای احناف ہمچو حاکم حسکانی می گوید: اولی الامر حضرت علی(رضی اللہ عنہ)است«اولی الامر هو علّی الذی ولاه اللّه بعد محمد ـ صلی الله علیه و سلّم ـ فی حیاته حین خلفه رسول اللّه بالمدینة».[ 81]

الفصول المہمة: 30 ـ مستدرک حاکم 3: 483.

[79] .ازالة الخفاء دہلوی 2: 251 ـ کفایة الطالب: 407، شرح عینیة

(آلوسی) 15 ـ المجدی (ابن صوفی): 11، ئد

تاریخ بناکتی: 98 ـ نور الابصار: 76.

[80].الاستیعاب 3: 1097.

[81] .شواہد التنزیل 2: 190.

[82] .سیر اعلام النبلاء 19: 328. «ذکر ابوحامد فی کتابه سر العالمین و کشف ما فی الدارین، فقال: فی حدیث

من کنت مولاه فعلی مولاه: ان عمر قال لعلی: بخ بخ. اصبحت مولی کل مؤمن، قال ابوحامد:

 هذا تسلیم


ورضی ثم بعد هذا غلب الهوی حباً للریاسة، وعقد البنود وامر الخلافة ونهیها، فحملهم علی الخلاف فنبذوه

وراء ظهورهم، واشتروا به ثمناً قلیلا فبئس ما یشترون.».

عصمت امام پر دلیل

1.  امام محافظ شریعت ہے  اور شریعت کی حفاظت وہی کر سکتا ہے جو خود پاک اور معصوم ہو.

2.  آیة شریفہ :وَ إِذِ ابْتَلی‏ إِبْراهِیمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قالَ إِنِّی جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً قالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِی قالَ لا يَنالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ‏. (1)

" اور اس وقت کو یاد کرو جب خدانے چند کلمات کے ذریعے ابراہیم (ع)کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنا رہے ہیں. انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت؟ ارشاد ہوا کہ یہ عہدہ امامت ظالمین تک نہیں جائے گا".

 اس آیة شریفہ سے یوں عصمت پر استدلال کیا جاتا  ہے:ظالم ہونے کی تین حالتیں ہیں:

الف: یا انسان پوری زندگی ظلم کی حالت میں گذارتا ہے

ب: یا زندگی کے شروع میں عادل تھا بعد میں ظالم ہوا ہے حضرت ابراہیم(ع) کیلئے یہ تو تصور نہیں کرسکتا کہ آپ نے ان دو گروہ کیلئے امامت کا مطالبہ کیا ہو.

--------------

(1):- البقرة : 245


ج: پہلے وہ ظالم تھا اب عادل  بن گیا ہے کہ اس کیلئے ابراہیم نے امامت کا مطالبہ کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے قبول نہیں کیا.

د: پس ایک چوتھا گروہ باقی رہتا ہے کہ امامت کے وہی لائق ہوسکتا ہے ، جو پوری زندگی میں  کبھی ظالم واقع نہیں ہوا ہو.

3.  آیة شریفہ:یا أَيُّهَا الَّذینَ آمَنُوا أَطیعُوا الل ه وَ أَطیعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِی الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فی‏ شَيْ‏ءٍ فَرُدُّوهُ إِلَی الل ه وَ الرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِالل ه وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ ذلِكَ خَيْرٌ وَ أَحْسَنُ تَأْویلاً .(1)

"ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو- یہی تمہارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے".

اس آیة شریفہ میں حکم اطاعت مطلق ہے کوئی قید نہیں  بلکہ جس طرح اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے.پس جس طرح اللہ اور رسول کی اطاعت واجب  ہے اسی طرح ان کے جانشین کا حکم بھی واجب ہے.کیسے؟

مقدمہ۱. اولی الامر نبی کے ساتھ ذکر ہوا ہے .پس اگر  یزید، ولید  اور معاویہ کو رسول کے ساتھ  رکھیں تو یہ رسالت کی اولین توہین ہے کیونکہ یہ لوگ اولی الامر کا مصداق نہیں بن سکتے.

--------------

(1):- مائدہ ۵۵.


مقدمہ ۲. اولی الامر مطلق آیا ہے جو بتاتا ہے کہ وہ بھی اللہ اور رسول کی طرح معصوم ہو. کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو نقض غرض لازم آتا ہے.ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ صرف نیک کاموں میں رسول کی طرح ہونا چاہئے.تو اس کیلئے جواب یہی ہے کہ آیة مطلق ذکر ہوا ہے.

مقدمہ ۳. آیة اطیعوا اللہ... سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ خلیفہ معصوم تا قیامت موجود ہونا چاہئے کیونکہ اسلام دین خاتم ہے اور اس کا دستور پورے عالم بشریت کیلئے ہے.

کس بنیاد پر اہل بیت  (ع)معصوم؟ ایک مختصر مناظرہ

مسجد النبی(ص)میں ایک شخص نے کہا: تم شیعہ لوگ کس بنیاد پر اہل بیت کو معصوم مانتے ہو؟

شیعہ: تم یہ بتاؤ کہ زہرا نے کونسا گناہ کا ارتکاب ہوا ہے؟ علی (ع)نے کون سا جرم کیا ہے؟ حسنین نے کون سے برا کام انجام دیا ہے ؟جبکہ تم لوگ خود معترف ہیں کہ ابوبکر و عمر لمبی مدت تک شرک و کفر کی پلیدی میں رہے ہیں اور بت پرستی کرتے رہے ہیں. عائشہ اور معاویہ علی کے ساتھ جنگ کرکے کتنے بڑے گناہوں کے مرتکب  ہوئے؟  آیہانّما یرید الل ه اور حدیث ثقلین کی تلاوت کی کیا اس سے بڑھ کر کوئی دلیل چاہئے؟پھر وہ ناراض ہو کر چلا گیا.(1)

--------------

(1):- باب فضائل علی بن ابیطالب، ص 1043،ح2408.


شیعہ اہل بیتؑ کو معصوم مانتے ہیں

شیعہ اہل بیت کو معصوم کیوں مانتے ہیں جبکہ اہل سنت نہ اہلبیت کو اور نہ خلفاء ثلاثہ کو معصوم مانتے ؟!

جواب: ہمارے پاس عقلی اور نقلی دلائل موجود ہیں جن  سے اہل سنت بھی انکار نہیں کرسکتے۔ جن کی بناء پر ہم انہیں معصوم مانتے ہیں:

1. قرآن کریم:انّما یرید الل ه لیذ ه ب عنکم الرجس ا ه ل البیت و یط ه رکم تط ه یراً .(1)

2. صحیح مسلم میں عائشہ سے نقل ہوا ہے: ایک دن رسول خدا (ص)اپنے کمرے سے باہر نکلے اپنا اونی سیاہ عبا پہنا ہوا تھا حسن و حسین آئے اس عبا کے اندر داخل ہوگئے پرں فاطمہ آئی اس میں داخل ہوگئی پھر علی آئے اور اس  عبا میں داخل ہوئے. پھر فرمایا:انما یرید الل ه .. (2)

مسند احمد بن حنبل میں نقل ہوا ہے:

انّ النبی کان یمرّ بباب فاطمه ستة اشهر اذا خرج الی صلوة الفجر یقول : الصلوة یا اهل البیت انّما یرید الل ه لیذ ه ب عنکم الرجس ا ه ل البیت و یط ه رکم تط ه یراً .(3)

عصمت

خلاصہ: انسانی کہ گاہی گناہ میکند و گاہی نمیکند، مختاراست. اگر بہ درجہ اتقیا برسد انتخاب کار خوب و ترک فعل بد نیزتقریبا ضروری می شود. شہود گناہ برای معصوم، مانند شہود آتش است برای ما. این جبر نیست.

--------------

(1):-  احزاب33.

(2):- محمد طاہری ، الکردی، ج1، ص188.

(3):- الفصول المہمة: 30 ـ مستدرک حاکم 3: 483


انسانی را فرض کنید کہ دارای ملکہ ی تقوا و عدالت نیست، گاہی گناہی را مرتکب می شود و گاہی مرتکب نمی شود. آیا این شخص را مختار می دانیم یا نہ؟ قطعاً می دانیم. اکنون فرض کنید کہ ہمین شخص در اثر مصاحبت با اتقیا و صلحا دارای ملکہ ی تقوا می شود، مانند ابوذر؛ یعنی، شان و مقام و روحیہ اش آن چنان بالا می رود کہ ہرگز دروغ نمی گوید یا مثلًا شرب خمر نمی کند، بہ مرحلہ ای می رسد کہ انتخاب کار خوب، تقریباً حکم ضرورت پیدا می کند و ترک فعل بد نیز ضروری می شود- چنین شخصی بہ مرحلہ ای می رسد کہ ہرگز مرتکب گناہ نمی شود، او مراتب معنوی را شہود می کند. شہود مراتب معنوی برای معصوم؛ مثلًا، مانند شہود آتش است برای ما. برای ما محال است کہ دست خود را وارد آتش کنیم- آیا این را جبر می گوییم؟ نہ، صفات روحی و شہود معنوی آن معصوم ہم طوری است کہ محال است مرتکب گناہ گردد؛ آیا این جبر است؟ نہ.(1)

ولایت علی پر دلیلیں

آیة شریفہ ولایت:إِنَّما وَلِيُّكُمُ الل ه وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ يُقِیمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ .(2)

ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکواة   دیتے ہیں.اس آیہ شریفہ کی شان نزول میں سارے اسلامی فرقے متفق ہیں کہ یہ علی(ع) کی شان  میں نازل ہوئی ہے چنانچہ انس بن مالک نقل کرتے ہیں کہ مسجد میں ایک سائل آیا اور اس نے خیرات مانگی، اس وقت علی(ع) رکوع کی حالت  میں  مشغول نماز  تھے انہوں نے اشارہ کیا اور اپنی انگوٹھی دیدی اس و قت کہ کوئی ایک بھی مسجد سے نہیں نکلا تھا ، جبرئیل امین یہ آیت لیکر نازل ہوا .

فخر رازی نے معنای ولایت پر کئی اشکالات کئے ہیں:


۱.اس آیت سے پہلی والی آیات کا سیاق یہودیوں اور نصیریوں سے دوستی کرنے سے روک رہا ہے ،لہذا یہاں ولایت سے مراد بھی دوستی ہے .ورنہ اس آیت اور دوسری آیات کے درمیان تفکیک لازم آتا ہے.  جواب : جہاں تفکیک پر دلیل اگر موجود ہو تو کوئی بات نہیں.نیز دوسری آیات کے ساتھ اس کا خاص رابطہ  بھی نہیں ہے.

۲.آیة شریفہ میں ہم راکعون کہہ کر جمع کا صیغہ لایا ہے اور اللہ اور رسول کے علاوہ کسی فرد واحد (علی) پر حمل کرنا درست نہیں ہے .بلکہ یہ خلاف ظاہر ہے ۔

جواب : اس آیة کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات جیسے ندعوا ابنائنا ...آئی ہیں جبکہ رسول ایک فرد کے علاوہ کوئی اور تو نہیں تھا .

ثانیاً تعظیم کی خاطر بھی صیغہ جمع استعمال ہوتا ہے

ثالثاً تشویق کیلئے بھی جمع کا صیغہ استعمال ہوتا ہے .

۳.یہ نماز میں  حضور قلب  نہ رکھنے پر دلالت کرتی ہے جو علی کی شان کے خلاف ہے .

جواب : یہ عمل خود بھی عبادت تھی اور اللہ ہی کی خاطر تھا. فقیروں کا خیال رکھنا اور ان کو خیرات دینا اللہ تعالیٰ کو صدقہ و خیرات دینے کے مترادف ہے. چنانچہ اللہ کا ارشاد ہے :

 مَنْ ذَا الَّذی يُقْرِضُ الل ه قَرْضاً حَسَناً فَيُضاعِفَهُ لَهُ أَضْعافاً كَثیرَةً وَ الل ه يَقْبِضُ وَ يَبْصُطُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ .(1)

"کون ہے جو خدا کو قرض حسن دے اور پھر خدا اسے کئی گنا کرکے واپس کردے خدا کم بھی کرسکتاہے اور زیادہ بھی اور تم سب اسی کی بارگاہ میں پلٹائے جاؤگے".


۴.زکواۃ کاادا کرنا واجب تھا ، علی نے زکواة کی ادائیگی میں تاخیر کی ہے یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا.

جواب یہاں زکواة سے مراد اصطلاحی ہے نہ لغوی،ثانیاً  زکواة مستحبی  تھا.

۵.یہ آیت ابوبکر کی شان میں نازل ہوئی ہے نہ علی کی شان میں

جواب : کوئی ایک دلیل تو لے آؤ.

پس یہاں ولایت سے مراد دوستی ، محبت، نصرت، ...نہیں بلکہ اولی بالتصرف مراد ہے دلیل: انما اداة حصر ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تمھارا ولی فقط اور فقط یہی تین ہیں ، یعنی اللہ ، رسول اور ان صفات  مذکورہ کے حامل شخص اس صورت میں اگر ہم محبت یا دوستی مراد لیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی اور مؤمن سے دوستی یا محبت نہ کرے.

ثانیاً: اللہ اور ان کے رسول سے فقط محبت کرنا کافی ہے یا اولی بالتصرف کا بھی قائل ہونا بھی ضروری ہے؟  پس  اولی الامر کو بھی ہم اسی معنی میں لیتے ہیں .

ثالثاً:کلمہ اطیعوا مطلق ہے اولی الامر کیلئے کوئی الگ اطیعوا کا ذکر نہیں ہوا ہے پس جس معنی میں رسول کی اطاعت واجب ہے اسی معنی میں علی کی اطاعت بھی واجب ہے

رابعاً عربی گرائمر میں جب بغیر کسی قید کے کوئی لفظ استعمال ہو تو اسے مختلف معنی میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے.

اہل بیت (ع)کون؟

صحیح مسلم میں ایک مفصّل روایت ذکر ہوا ہے: زید بن ارقم کہتا ہے کہ رسول خدا (ص)نے مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مفصل خطبہ دیا اور حمد و ثنائے الٰہی کے بعد کہا: اے لوگو! میں بھی ایک انسان ہوں خدا کی طرف سے مامور ہوں میں تمھارے درمیان دو گراں بہا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں. ایک کتاب خدا دوسرے میری اہل بیت. راوی کہتا ہے کہ رسول اللہ(ص)نے اس جملے کو تین بار دہرایا. زید بن ارقم سے سوال کیا اہل بیت سے کون لوگ مراد ہے؟


کیا آپ کی بیویاں بھی شامل ہیں؟ زید نے کہا: نہیں خدا کی قسم جب بیوی کو طلاق دی جاتی ہئے تو وہ اپنے والدین کے پاس چلی جاتی ہے اہل بیت کی بنیاد اور اصل مرد ہے. ایل بیت وہ لوگ ہیں جن پر رسول اللہ (ص)کے بعد صدقہ حرام ہو. زید سے سوال ہوا کہ جن پر صدقہ حرام ہے اور عدل قرآن ہے اور جن کے بارے میں رسول خدا نے سفارش کی ہے ، کون لوگ ہیں؟

زید نے کہا: آل علی ابن ابیطالب(ع) ہیں جن پر صدقہ حرام ہے.(1)

اور سب مسلمان اس بات کے قائل ہیں کہ علی(ع) نے کبھی گناہ نہیں کیا، کبھی بت پرستی نہیں کی.جبکہ سب معتقد ہیں کہ ابوبکر و عمر کی زندگی کا بیشتر حصہ بت پرستی میں گذرا ہے۔اس کے بعد مسلمان ہوگئے.

حضرت عائشہ جس نے حکم خدا کی مخالفت کرکے گناہ کا مرتکب ہوئی. خدا نے کہاتھا :وقرن فی بیوتکن .(2)

لیکن وہ نکلی اور خلیفہ رسول علی(ع) سے جنگ کرنے آئی. اور جنگ جمل کا فتنہ برپا کرکے ہزاروں مسلمانوں کہ مروا دیا. اور مسلمانوں کے درمیان پہلی بار جنگ داخلی کی بنیاد ڈالی. طلحہ وزبیر خصوصاً معاویہ نے بھی یہی رویہ اختیار کیا. یہ ہر سنی ، شیعہ کیلئے روز روشن کی طرح عیاں ہے.

 خلیفہ کا تعیّن

سنی:مسلمانوں نے رسول اللہ (ص)کی رحلت کے بعد ابوبکر کی خلافت پر اتفاق کیا اور اسے خلیفہ رسول میں   کیا لیکن تم لوگ مسلمانوں کی مخالفت کرکے ابوبکر کی خلافت کو قبول نہیں کرتے ہو.!

شیعہ: عمر کو کس نے خلافت کیلئے انتخاب کیا؟


سنی: ابوبکر نے انتخاب کیا تاکہ  مسلمانوں کو بغیر رہبر  کےنہ چھوڑا جائے۔اور ان کے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہ ہو.

شیعہ: تعجب والی بات ہے کہ ابوبکر پیغمبر(ص) سے زیادہ عقل مند اور زیادہ سمجھ دار تھا؟!

سنی: کس طرح ؟

شیعہ:بقول تیرے ، رسول اللہ(ص) نے اپنے لئے کوئی خلیفہ متعین نہیں کیا اور لوگوں کیلئے کوئی رہبر معین نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کو اپنے حال پر چھوڑدیا اور لوگوں کو اختلافات میں ڈال دیا یہاں تک کہ آپ کا جنازہ تین دن تک زمین پر پڑا رہا، تاکہ آپ کو خلیفہ مقرر کرنے کے بعد دفن کیا جائے. لیکن ابوبکر زیادہ عاقل تھا لذتا انھوں نے اپنا جانشین مقرر کیا.

کتاب التاریخ میں لکھا ہے: رسول اللہ (ص)کے جنازے کو چھوڑ کر سقیفۂ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے تین دن بعد ابوبکر کو بعنوان خلیفہ چن لیا اور اس کی بیعت کی گئی. اور چوتھے روز رسول اللہ (ص)کی تجہیز و تدفین کی طرف متوجہ ہوگئے. شیطان نے بھی اس موقع پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی بہت کوشش کی لیکن خدا کی رحمت مسلمانوں کیلئے شامل حال ہوگئی. اس کی مکر و فریب سے بچ گئے. اور ابوبکر کی بیعت پر متفق ہوگئے.(1)

ہاں ! لوگ متعین خلافت کی اہمیت کو خوب جانتے تھے اگر خلیفہ متعین نہ ہوتا تو شیطان کو فرصت ملتی اور مسلمانوں کے درمیان  اختلاف ڈال دیتا. ابوبکر و عمر بھی جانتے تھے کہ لوگوں کو بغیر کسی رہبر و امام کے چھوڑا نہیں جاسکتا. کیا  خدا نے رسول کو اس مہم کی خبر نہیں دی تھی اور رسول بھی عام لوگوں، ابوبکر  اور عمر کی طرح اس کی اہمیت سے بے خبر تھے.العیاذبالله. انّ هذا لشیئ عجاب.!

سنی: میں ان سب کو تو نہیں جانتا لیکن صرف اتنا جانتاہوں  کہ شیعیان خلیفۂ رسول کو نہیں مانتے.

--------------

(1):-  باب فضائل اھل البیت، ح 2425.  ج4،ص 568، ح14042.


شیعہ: جس خلیفہ کو تم اہل سنت والے مانتے ہو اور مسلمانوں کا حاکم مانتے ہو اس کو قبول کرنا اور نہ کرنا کسی بھی مشکل کو حل نہیں کرتا. اور اول شب قبر اس کے بارے میں سوال نہیں ہوگا کہ تمھارا حاکم کون تھا. رسول کے بعد کیا رسول کے گھر پررجوع کرینگے یا بیگانوں کے گھر؟

سنی:اصحاب پیغمبر ابوبکر اور عمر کی طرف رجوع کریں گے.

شیعہ: رسول نے فرمایا :انّی تارک فیکم الثقلین : کتاب الله و عترتی اهل بیتی و ان تمسکتم بهمالن تظلّوا بعدی.

قرآن اور عترت کی طرف رجوع کا حکم دیا ہے نہ اصحاب کی طرف. اور کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ابوبکر اور عمر کی طرف رجوع کرو. علاوہ بر این علم و دانش علی کے پاس تھا اور ابوبکر و عمر بھی علمی مسائل پیش آنے کی صورت میں علی کی طرف رجوع کرتے تھے اور ستّر بار عمر نے کہا: لولا علی لھلک عمر.

 یعنی اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا. اور تم کہتے ہو ابوبکر اور عمر کی طرف رجوع کریں ؟! 

مولود کعبہ ہوتے ہوئے بھی فضائل علی چھپاتے کیوں؟

سؤال: کیا یہ صحیح ہے کہ کہا جاتا ہے کہ  علی(رضی اللہ عنہ) کے سوا کوئی اور کعبہ  میں متولد نہیں ہوا ہے ؟

جواب:

1قال ابن صباغ المالکی: ولم یولد فی البیت الحرام قبله احد سواه وهی فضیلة خصّه الله بها اجلالا له واعلاء لمرتبته واظهاراً لتکرمته (1)

--------------

(1):-  ۔  الہیات شفا، ج 1، ص 98.


یعنی علی(رضی اللہ عنہ)سے پہلے کوئی خانہ کعبہ میں پیدا نہیں ہوااور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے  ایسی فضیلت ہے جسے علی کیساتھ  مخصوص کیا ہے.جس کے ذریعے علی کی عظمت کو بلند کرنا مقصود پروردگار ہے.لیکن تعجب والی بات یہ ہے کہ کیوں بزرگان اہل سنت اپنی زبان پر یہ فضائل نہیں لاتے ؟!جواب یہ ہے کہ اگر علی کی افضلیت پر شیعوں کے دلائل عوام تک پہنچے تو ان کو یہ خدشہ ضرور ہے کہ مکتب تشیع کی طرف بڑھنے لگیں گے.

حدیث منزلت محکم ترین اثر

سؤال: کیا یہ صحیح ہے کہ حدیث منزلت علی(رضی اللہ عنہ):"انت منی بمنزلة هارون من موسی" صحیح ترین و محکم ترین آثار میں سے ہے؟ جواب : چنانچہ قرطبی  کہتا ہے:و هو من اثبت الآثار و اصحّها.. (1)

کیا ولایت علیؑ سے انکارممکن؟!

سؤال: ہم کیسے ولایت حضرت علی(رضی اللہ عنہ) سے منکر ہونگے جب کہ حنفی علماء جءسے حاکم حسکانی لکھتاہے:«اولی الامر هو علّی الذی ولاه اللّه بعد محمد ـ صلی الله علیه و سلّم ـ فی حیاته حین خلفه رسول اللّه بالمدینة». (2) اولی الامر حضرت علی(رضی اللہ عنہ)ہے جسے حضرت محمد کے بعد ان کی زندگی میں ہی اللہ تعالیٰ نے نا کا ولی قرار دیا ہے.

خلیفہ دوم نے غدیرکے دن بیعت کی لیکن...

سؤال : کیا یہ صحیح ہے کہ عمر بن خطاب نے روز غدیر بیعت کی لیکن رحلت پیغمبر اکرم کے بعد بیعت شکنی کی؟

جواب: درست ہے انہوں نے ایسا ہی کیا ہے چنانچہ اس بارے میں ذہبی امام غزالی سے عمر بن خطاب کے بارے میں نقل کیا ہے کہ

--------------

(1):-  الاستیعاب 3: 1097.

(2):- شواہد التنزیل 2: 190


شروع میں انہوں نے علی کے ہاتھوں پرغدیر کے دن بیعت کی لیکن رحلت پیغمبر (ص)کے بعد ہوای نفس و حبّ ریاست و جاہ طلبی کا شکار ہوا اور بیعت شکنی کی (1) هذا تسلیم و رضی ثم بعد هذا غلب الهوی حبّاً للریاسة.

ابوبکر کو صدیق ، عمر کو فاروق کا لقب کس نے دیا؟

کوئی ایک حدیث صحیح پیغمبر اکرم (ص)کی طرف سے نقل نہیں ہوئی ہے جس میں ابوبکر کو صدیق اور عمر کو فاروق کا لقب دیا ہو.اگر یہ القاب ملا ہے تو وہ علی ابن ابیطالب کیلئے ملا ہے  چنانچہ طبری نے عباد بن عبدللہ سے نقل کیا ہے :«سمعت علیاً یقول: انا عبدالله واخو رسوله وانا الصدّیق الاکبر. لا یقولها بعدی الا کاذب مفتر، صلیت مع رسول الله (ص)قبل الناس بسبع سنین» (2)

راوی کہتا ہے کہ میں نے علی(ع) کو سنا ہے کہ آپ فرمارہے تھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ،اس کے نبی کا بھائی ہوں اور میں صدیق اکبر ہوں میرے بعد کسی اور کو یہ لقب نہیں ملا اگر کوئی یہ لقب رکھنا چاہے تو وہ جھوٹا ہے میں نے رسول خدا (ص)کے پیچھے سات سال کی عمر میں سب سے پہلے نماز پڑھی ہے.

خلفاء اور علیؑ کے درمیان اچھے روابط

سؤال: کیا یہ صحیح ہمارے خلیفون کے درمیان اچھے روابط موجود تھے جس کی دلیل یہ ہے کہ علی نے اپنے بیٹوں کے نام بھی ابوبکر، عمر اور عثمان رکھا؟

جواب: لیکن کیا ابوبرو ، عمر اور عثمان سے کسی نے اپنے بچوں کا نام حسن ، حسین یا علی رکھا ؟! نہیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے اور اہل بیت کے درمیان اچھے روابط نہیں تھے .

--------------

(1):-  سیر اعلام النبلاء 19: 328.

(2):-  تاریخ طبری 1: 537. مسند زید ح 973. ـ سنن ابن ماجہ 1: 4 - مستدرک حاکم 3: 44.


عمر اور ام کلثوم کی شادی کی داستان

سؤال : عمربن خطاب اور ام کلثوم دختر حضرت علی(رضی اللہ عنہ) کی شادی ایک جھوٹی داستان ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں دلیل:

اولا: سب سی پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کسی بھی  صحاح ستة میں تفصیل کے ساتھ نہیں آئی ہے.

ثانیاً: بعض اسلامی محققین کے مطابق حضرت علی(رضی اللہ عنہ) کی کوئی بیٹی ام کلثوم کے نام سے نہیں تھی(1) بلکہ حضرت زینب  کی کنیت تھی.جس نے  عبداللہ بن جعفر کے ساتھ ازدواج کیا ہے. 

ثالثاً: تشابہ اسمی ہوا کہ عمر نے ابوبکر کی بیٹی ام کلثوم کیلئے خواستگاری   بھیجالیکن عائشہ کی مخالفت کی وجہ سے وہ شادی نہ ہوسکی(2)

رابعاً: عمر کی شادی ایک عورت بنام ام کلثوم ـ ہوئی لیکن وہ جرول کی بیٹی اور عبیداللہ بن عمر کی ماں تھی(3) اورحضرت علی(رضی اللہ عنہ)کی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں.

خامساً: تاریخی حقایق اس قول کو جھٹلاتی ہے کہ اور کہتی ہے کہ  حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)کی رحلت کے بعد  محمد بن جعفر  اور اس کی موت کے بعد اس کا بھائی عون بن جعفر نے اس کے ساتھ شادی کی جبکہ تاریخ میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ یہ دونوں بھائی جنگ تستر(4) کہ جو  زمان عمر(رضی اللہ عنہ) میں واقع ہوئی تھی شہید ہوگئے تھے.

--------------

(1):-  حیاة فاطمة الزہراء: 219 (باقر شریف قرشی ـ و در بعضی از کتابہای رافضہ مانند علل الشرائع.

(2):- الاغانی 16: 103.

(3):- سیر اعلام النبلاء (تاریخ خلفاء) 87.

(4):- استیعاب 3: 423 و 315، تاریخ طبری 4: 213 ـ الکامل فی التاریخ 2: 546.


سادساً:یہ لوگ مدعی ہیں کہ ان دو بھائیوں کی شہادت کے بعد تیسرے بھائی نے ان کے ساتھ شادی کی ہےجب کہ زینب بنت علی کیساتھ پہلے شادی کرچکا تھا .اور جمع بین الاختین جائز نہیں ہے .(1)

فضائل علیؑ ممنوع لیکن ان کی شان میں گستاخی آزاد

سؤال: کیا حکومت کی طرف سے  فضائل علی(رضی اللہ عنہ)کا بیان کرنا  ممنوع اور علی پر سب و شتم کرنے میں لوگ آزاد تھے؟

جواب : ہاں نہ صرف آزاد تھے بلکہ حکومت کی طرف سے تشویق بھی کیا جاتا تھا اور علی کے فضائل بیان کرنے والوں کو سولی پر چڑائے جاتے تھے جس کی مثال تاریخ میں ملتی ہے جیسا کہ معاویہ خود کہتا کہ میں نہیں جانتا کہ میں نے بن عدی کو کس جرم میں قتل کیا!

صحابی رسول عبداللّہ بن شداد کہتا ہے کہ میری یہ آرزو تھی کہ مجھے اجازت مل جاتی کہ صبح سے لیکر ظہر تک علی کے فضائل بیان کرتا اور اس کے بعد مجھے سولی پر چڑھایا جاتا.

امام ذہبی کہتا ہے:

«... عبداللّه بن شداد: وددت أَنی قمتُ علی المنبر من غدوة الی الظهر، فاذکر فضائل علی بن ابیطالب رضی اللّه عنه ثم انزل، فیضرب عنقی» (2)

کیوں کہ رسول گرامی کا چچا زاد بھائی اور فاطمہ زہرا کا شوہر نامدار پر معاویہ کے دور حکومت میں لعن طعن کرنا شروع کیا اور ان کے فضائل بیان کرنے پر پابندی لگائی گئی؟ اس بارے میں  حموی بغدادی دربارہ سجستانی می گوید:

--------------

(1):-  الطبقات الکبری 8: 462

(2):- سیر اعلام النبلاء 3: 489.


«و اجلَّ من هذا کله انه لعن علی بن ابیطالب ـ رضی اللّه عنه ـ علی منابر الشرق والغرب ولم یلعن علی منبرها الاّ مرة وامتنعوا علی بنی امیة حتی زادوا فی عهدهم ان لا یلعن علی منبرهم احد... وای شرف اعظم من امتناعهم من لعن اخی رسول اللّه. علی منبرهم وهو يُلعن علی منابر الحرمین مکة والمدینة؟». (1)

یعنی حضرت علی(رضی اللہ عنہ) پر بنی امیہ کے دور حکومت میں تمام اسلامی ممالک میں منبروں سے لعن و طعن کرنے کا رواج دیا گیا اور صرف ایک منطقہ میں اس بدعت کی مخالفت کی گئی وہ سیستان تھا  ـ ابوالفرح اصفہانی کہتا ہے کہ المغیرة نے علی اور ان کے شیعوں پر لعن وطعن کیا جبکہ امام احمد بن حنبل لکھتا ہے (2) کہ پیغمبر (ص) کو  حضرت علی(رضی اللہ عنہ)سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :«من سبّک فقد سبنی». (3) یعنی جو بھی تجھے سب کرے اس نے مجھے سب کیا ہے .

 سؤال: امام ذہی  اور امام مالک نے کیوں فضائل علی کو چھپانے کی کوشش کی ؟

جواب کیونکہ وہ دونوں حضرت علی(رضی اللہ عنہ) کے دشمنوں  اور بنی امیہ کے طرفداروں میں سے تھے اس لئے علی کے فضائل کو چھپاتے تھے یہاں تک کہ فضیلت والی ایک روایت بھی ان لوگوں نے نقل نہیں کی ہیں. 1«ولستُ احفظ لمالک ولا للزهری فیما رویا من الحدیث شیئاً من مناقب علی(رضی الله عنه)». (4)

--------------

(1):- معجم البلدان 3. 191.

(2):- سیر اعلام النبلاء 3: 31. الاغانی 17: 138.

(3):- مسند احمد 10: 228 ح 26810.

(4):- المجروحین 1: 258 ـ


 ذہبی اور فضائل علی(ع)

ذہبی سے فضائل حضرت علی(رضی اللہ عنہ) برداشت نہیں ہوتا تھااگر کوئی حدیث ایسی ہوتی کہ جس میں علی کے فضائل بیان ہو ئے ہوں تو اسے کسی نہ کسی طرح رد کرتا تھا چنانچہ غماری سنی کہتا ہے :«الذهبی اذا رای حدیثا فی فضل علی(رضی الله عنه)بادر الی انکاره بحق و بباطل، کان لایدری ما یخرج من راسه» .(1)

کیا یہ صحیح ہے کہ پیغمبر اکرم سے جتنےعلی کے فضائل صحیح السند کے ساتھ ذکر ہوئے ہیں کسی اور صحابہ کے بارے میں بیا ن نہیں ہوئے ہیں.

جواب : ہاں اس میں کوئی شک نہیں ہے.جسکے بارے میں احمد بن حنبل،نسائی،نیشابوری اور دوسروں نے تصریح کے ساتھ بیان کئے ہیں :لم یرد فی حق احد من الصحابة بالاسانید الجیاد اکثر مما جاء فی علی(رضی الله عنه). (2)

حسکانی حنفی کہتا ہے: علی ایک سو بیس فضیلت کے مالک ہیں جن میں ایک بھی صحابی رسول شریک نہیں ہے لیکن جو فضائل دوسرے اصحاب میں موجود ہیں ان میں علی بھی شریک ہیں:

کان لعلی بن ابی طالب عشرون و مائة منقبة لم یشترک معه فیها احد من اصحاب محمد(ص) و قد اشترک فی مناقب الناس» (3)

پس ہماری تکلیف ایسے افراد کے بارے میں ہے جو علی کے فضائل چھپانا چاہتے ہیں یا دوسرے اصحاب کو ان کے برابر جانتے ہیں یادوسرے خلفاء کو ان سے مقدم جانتے ہیں جیسے بخاری؟ اس کا جواب آپ خود بیان فرمائیں .

 سؤال کیا یہ صحیح ہے کہ بہت ساری روایات اور احادیث ابوبکر اور عمر کے فضائل میں جعل کئے گئے ہیں اور یہ سب جھوٹی روایتیں ہیں جنہیں اہل سنت نے جعل کیا ہے؟

--------------

(1):- فتح الملک العلی: 20.

(2):- فتح الباری 7: 89. الاصابة 2: 508

(3):- شواہد التنزیل: 24، ح 5.


میں نے اس اعتراف کو امام عسقلانی کے کلام میں دیکھا جس سے بہت تعجب ہوا کہ ہم اپنے مذہب کی جھوٹ اور بہتان کے ساتھ تبلیغ کر رہے تھے:ینبغی ان یضاف الیها الفضائل، فهذه اودیة الاحادیث الضعیفة و الموضوعة. اما الفضائل، فلا تحصی کم وضع الرافضة فی فضل اهل البیت و عارضهم جهلة اهل السنة بفضائل معاویه، بدوا بفضائل الشیخین (1)

یعنی یہ سزاوار ہے کہ ان فضائل والی کتابوں کو جن کی کوئی سند نہیں ہےاور جعلی اور جھوٹی احادیث سے پُر ہیں ۔فضائل والی کتابوں کو تو اہل سنت نے رافضیوں (شیعوں) کے مقابلے میں لکھی  ہیں انہوں نے اہل بیت کے فضائل میں لکھی تو ہم نے ابوبکر ، عمراور معاویہ  کے فضائل میں لکھی ہیں اب سوال یہ ہے کہ کیا امام عسکلانی کا یہ اعتراف کرنا شیخین کے جھوٹی فضائل پر دلیل نہیں ہے؟!

سؤال: کیا یہ صحیح ہے کہ ابوہریرہ نے کئی روایات کو  مقام انبیاء کو کم کرنے کیلئے بیان کی ہے جسے بخاری نے اپنی کتاب میں نقل کی ہے ؟ جن میں سے کئی نمونہ یہ ہیں:

1. حضرت ابراہیم نے تین بار جھوٹ بولاہے (نعوذ باللہ(لم یکذب ابراهیم الاّ ثلاث کذبات». (2)

فخر رازی کہتا ہے :«لا یحکم بنسبة الکذب الیهم الاّ الزندیق». (3) جس نے بھی انبیاء الٰہی پر جھوٹ باندھا وہ زندیق ہے. دوسری جگہ لکھتا ہے کہ خلیل الرحمن کی طرف جھوٹی نسبت دینے سے راوی حدیث (ابوہریرہ) کی طرف جھوٹی نسبت دینا ہے. ابوہریرہ کہتا ہے: حضرت موسی ٰغسل کرنے کے بعد بالکل عریان بنی اسرائیل کے درمیان حاضر ہوئے اور آپ کا سارا بدن حتی کہ شرمگاہ بھی دکھائی دے رہی تھی نعوذ باللہ:فراوه عریانا احسن ما خلق الله، وابراهُ مما یقولون (4)

--------------

(1):- لسان المیزان 1: 106، دارالکتب العلمیة، بیروت.

(2):- صحیح بخاری 4: 112.

(3):- التفسیر الکبیر 22: 186 ـ و 26: 148.

(4):- صحیح بخاری 4: 129 / بدء الخلق 2: 247 دار المعرفة.


کیوں  اماموں کے نام قرآن میں نہیں آئے ؟

یہ اشکال کرنے والا یہ سوچ رہا ہے کہ اگر اماموں کا نام قرآن میں آتا تو مسلمانوں کے درمیان اختلافات بھی ختم ہوجاتے درحالیکہ یہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا، بلکہ کام اس کے برعکس ہوتا کہ دشمن اور حاکم وقت ان کی نسل کشی میں لگ جاتی تاکہ کوئی نسل نہ بچے، جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ یہی ہوا .

قرآن کریم کی روش یہ ہے کہ کلیات اور عمومی اصول کو بیان کرے اور اس کی تشریح اور مصادیق اور جزئیات کو پیغمبر اکرم(ص) بیان کرے.چنانچہ آیة شریفہ میں تبیّن آیا ہے.جس کا مطلب یہ ہے کہ آشکار اور وضاحت کرنا پیغمبر اکرم (ص) کا کام ہے

و انزلنا الیک الذکر لتبیّن للنّاس ما نزّل الی ه م و لعلّ ه م یتفكّرون (1)

ہاں ، کبھی نام لیکر معرفی کرنا بھی پڑتا ہے جیسے حضرت عیسی نے فرمایا: میں تمھیں  بشارت دیتا ہوں ایسے نبی کی جس کا نام احمد ہے  جو میرے بعد آنے والا ہے:و مبشّراً برسولٍ یاتی من بعدی اسم ه احمد (2)

اور کبھی تعداد بیان کرکے معرفی کی گئی ہے جیسے:اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائلب کی اولادوں میں سے بارہ  سربراہ چن لئے:

و لقد اخذ الل ه میثاق بنی‏اسرائیل و بعثنا من ه م اثنی عشر نقیباً . (3)

اور کبھی صفات بیان کرکے معرفی کی گئی ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) کی معرفی تورات اور انجیل میں  کی گئی :

الذین یتّبعون الرسول النّبىّ الامّىّ الذی یجدون ه مکتوباً عند ه م فی التوراة و الانجیل یامر ه م بالمعروف و ین ه ا ه م عن المنکر و یحلّ ل ه م الطیّبات و یحرّم علی ه م الخبائث و یضع عن ه م اصر ه م و الاغلال التی کانت علی ه م .(4)

--------------

(1):- سورة نحل (16)، آیة 44.

(2):- سورة صف (61)، آیة 6.

(3):- سورة مائدہ (5)، آیة 11.

(4):- سورة اعراف (7)، آیة 157.


ان مطالب سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بارہ اماموں کا نام  یا ان کے والدین کا نام قرآن میں ڈھونڈنا بے جا ہے کیونکہ کبھی مصلحت نام کے بیان کرنے میں ہے تو کبھی نام کے چھپانے اور صفات بیان کرنے  میں ہے پس نام ذکر کرنا اختلافات کو ختم کرنے کا  سبب نہیں بنتابلکہ معاشر میں  افراد میں قبول کرنے کی صلاحیت اور ظرفیت ہونی چاہئے. بلکہ کبھی تو پیشواؤں کا نام لینا حکومت اور ریاست میں نسل کشی کا بھی سبب  بنتا ہے .جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا. چنانچہ معروف ہے کہ لاکھوں بچوں کا سر قلم کیا  گیا تاکہ ایک کلیم اللہ موسیٰ زندہ رہے.

اسی طرح امام  مھدی  ؑکے بارے میں بھی لوگ زیادہ حساس  ہو گئے تھے اور امام عسکری ؑکو قید میں رکھا گیا تاکہ مھدی ؑدنیا میں ہی نہ آئے ، اور اگر آئے تو اسے  فوری طور پر ختم کیا جائے .

اسی طرح یہ بھی  جان لیں کہ قرآن مجید قانون اساسی ہونے کے باوجود ساری  ضروریات دین کو وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کیا : جیسے روزہ ، نماز اور زکات وغیرہ کو کلی طور پر بیان کیا ہے لیکن ان کی جزئیات کو رسول خدا (ص) نے بیان فرمایا ہے(1)

حدیث عشرہ مبشرہ کی حقیقت

سؤال:کیا یہ صحیح ہے کہ  حدیث عشرہ مبشرہ اموی و عباسی حکومتوں کی طرف سے جھوٹی اور جعلی حدیثیں ہیں ؟ اگر یہ صحیح تھا تو بخاری اور مسلم اسے نقل کرتے اور اگر یہ صحیح تھا تو کیوں  ابوبکر اور عمر ـ رضی اللہ عنہما  سقیفہ کے دن اس سے اپنی حقانیت پر  استدلال نہیں کیا جبکہ ہر ضعیف اور غیر ضعیف حدیثوں پر  استناد کئےہیں. اگر ایسی کوئی حدیث معتبر ہوتی تو اپنی موقعیت کو مضبوط اور محکم کرنے کیلئے بہت مہم اور ضروری تھا.لیکن اس حدیث کی سند یہ ہے کہ ایک سند میں   : حمید بن عبد الرحمن بن عوف ہے جس نے اپنے باپ.عبدالرحمن سے نقل کیا ہے جبکہ حمید اپنے باپ کی وفات کے وقت ایک سالہ تھا(2)

--------------

(1):- ماہنامہ موعود شمارہ 80، افق حوزہ، 3/ 5/ 1386.

(2):- تہذیب التہذیب 3 40.


صحابہ کا ایک دوسرے پر لعن کرنا

سؤال : کیایہ صحیح ہے کہ  صحابہ پیغمبر (ص) ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے تھے  چنانچہ خالدبن ولید اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان واقع ہوا کہ خالد اسے نفرین کرتا تھا اسی طرح  عمار اور عثمان کے درمیان واقع ہوا ان کے علاوہ عثمان ، عائشہ اور حفصہ نے بھی ایک دوسرے کو لعن کیا .(1) ایسی صورت میں کیا اگر کسی صحابہ کو سب کرنے سے کافر اور مرتد ہوگا؟

سؤال: کیا یہ صحیح ہے  کہ حضرت معاویہ(رضی اللہ عنہ)نے  محمد بن ابی بکر کو خط لکھا جس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ خلافت کا اصل حقدار حضرت علی رضی اللہ عنہ تھا لیکن  ابوبکر و عمر ـ رضی اللہ عنہما نے ان سے  غصب کرکے خود اس مسند پر بیٹھ گئے ہیں  جس کی کوئی مشروعیت نہیں ہے(2)

سؤال : کیا یہ کہنا صحیح کہ   حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے چار باپ تھے اور اس کی ماں بدکارہ اور پرچم دار عورتوں میں سےتھی ؟

جواب :زمخشری و ابوالفرج اصفہانی و ابن عبدر بہ و ابن الکلبی اس تلخ  حقیقت کو  نقل کرتے ہیں:ابن ُلبی کہتا ہے :«کان معاویة لعمارة بن ولید بن المغیرة المخزومی و لمسافر بن ابی عمرو، و لابی سفیان و لرجل آخر سمّاه و کانت هند امّه من المغیلمات، و کان احبّ الرجال الیها السودان...» (3)

یعنی معاویہ کو چار باپ کی طرف نسبت دی گئی ہے جن کے نام یہ ہیں :عمارة بن ولید, مسافربن ابی عمرو، ابوسفیان اور صباح ، اور اس کی ماں ہند بدکار ،پرچم دار اور فاحشہ عورتوں میں سے تھی اور کالے مردوں کو زیادہ پسند کرتی تھی .امام زمخشری نے بھی اس مطلب کو بیان کیا ہے(4)

--------------

(1):-  اعلام النبلاء 1: 425.ـ در مصنف عبد الرزاق 11: 355، ح 20732

(2):- شرح نہج البلاغہ 3: 188.

(3):- مثالب العرب: 72

(4):- ربیع الابرار 3: 549 ـ الاغانی 9: 49 ـ العقد الفرید 6: 86 - 88


  پرچم دار سے مراد یہ ہے کہ عرب جاہلیت کے دوران جو بھی عورت  جسم فروشی کرتی تھی  وہ اپنے گھر  کے دروازے پر جھنڈا کھڑی کرتی تھی یہ اس بات کی دلیل تھی کوئی بھی شخص آنا چاہے تو یہ عورت حاضر ہے.

سؤال: کیایہ صحیح ہے کہ حضرت معاویہ(رضی اللہ عنہ) اپنے دور خلافت اور امّت اسلامی کی رہبری میں شراب پیتے اور پلاتے تھے ؟

جواب : امام احمد بن حنبل ابن بریدہ سے نقل کرتا ہے:

عبداللّه بن بریده قال: دخلت انا و ابی علی معاویه، فاجلسنا علی الفرش، ثم أُتینا بالطعام فاکلنا ثم اتینا بالشراب، فشرب معاویة، ثم ناول ابی، ثم قال: ما شربته منذ حرّمه رسول الله (ص)ـ صلی الله علیه و سلّم ـ » (1)

عبداللہ بن بریدہ کہتا ہے کہ ایک دن اپنے باپ  بریدہ کے ساتھ معاویہ کے دربار میں وارد ہوا اس نے ہماری خاطرر خواہ عزت کی  اور  کھانا لایا اس کے بعد مشروب لایا گیا اس نے پیا پھر میرے باپ  کو پیش کی  تو میرے باپ نے کہا : جب سے میں نے  پیغمبر اکرم (ص)سے سنا ہے کہ یہ حرام ہے اس وقت سے اب تک منہ نہیں لگایا ہے

اشکال : وعدہ قرآن کے برخلاف دشمنان اہل بیت یعنی بنی امیہ ہزاروں موجود ہیں!!

جواب: اہداف کی بقا انسان کی بقا ہے اور اہداف  اصل ہے نہ وجود انسان اور یہ دیکھنا کس گروہ کا ہدف باقی ہےاور کس گروہ کا پرچم آج سربلند ہے؟

--------------

(1):-  مسند احمد 5: 347.


سؤال 74: آیا صحیح است کہ می گویند بسیاری از روایات و احادیث در فضائل حضرت ابوبکر(رضی اللہ عنہ) و حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)، دروغ کذب و ساختہ و پرداختہ جاہلان ما از اہل سنّت است؟

من این اعتراف را در سخنان امام عسقلانی دیدم بسیار تعجب کردم، کہ ما با دروغ و اکاذیب از مذہب خودمان تبلیغ و دفاع می کنیم:

ینبغی ان یضاف الیها الفضائل، فهذه اودیة الاحادیث الضعیفة و الموضوعة... اما الفضائل، فلا تحصی کم وضع الرافضة فی فضل اهل البیت و عارضهم جهلة اهل السنة بفضائل معاویه، بدوا بفضائل الشیخین...». [175]یعنی سزاوار است بر کتابہائی کہ ریشہ ندارد کتابہای فضائل را افزود چون اینہا پر از احادیث ضعیف و ساختہ شدہ است اما فضائل ـ ساختگی از حد شمارش خارج است چون رافضة در فضل اہل بیت حدیث وضع کردند و جّال و افراد نادان از اہل سنت برای مقابلہ با آنان احادیث دروغ و جعلی در فضائل عمر و ابوبکر و معاویہ ساختند.

راستی این یک اقرار و اعتراف بہ دروغ بودن بسیاری از فضائل شیخین نیست؟ و آیا نسبت بہ انکار فضائل اہل بیت پیغمبرـ صلی اللہ علیہ و سلّم ـ یک ادعای بیجا و گزافی نکردہ است؟!

سؤال 75: آیا درست است آنچہ می گویند کہ ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)، دزد بودہ و از اموال بیت المال مبالغ کلانی را اختلاس کردہ بود و عمربن الخطاب بہ او می گفت: «یا عدوالله وعدو کتابه سرقت مال الله» .[176] یعنی ای دشمن خدا و قرآن. اموال خدا را بہ سرقت بردی. آیا کسی کہ دشمن خدا و قران بودہ و بر اموال خدا امین نباشد می توان او را بر سنت و احادیث پیغمبر ـ صلی اللہ علیہ و سلّم ـ امین قرار داد.

سؤال 76: آیا درست است کہ می گویند: ابوہریرہ کہ راوی پنج ہزار حدیث است، و فقط امام بخاری از او بیش از چہارصد حدیث آوردہ، این شخص، مورد وثوق حضرت علی، و عمر و عائشہ(رضی اللہ عنہ) نبودہ.[177]

ابوحنیفہ می گوید: تمامی صحابہ عادل ہستند مگر: ابوہریرہ و انس بن مالک و...[178]

و عمربن الخطاب پس از تادیب او بہ او گفت:«یا عدوّالله و عدوّ کتابه» .[179]


و عائشہ در مقام اعتراض بہ او گفت: اکثرت عن رسول اللہ (ص)[180] و در جای دیگر گفتہ:«ما هذه الاحادیث التی تبلغنا انّک تحدّث بها عن النبی هل سمعت اِلاّ ما سمعنا؟ وهل رایت الاّ ما راینا؟» .[181]

و مروان حکم، در مقام اعتراض می گوید: مردم ترا متہم می کنند کہ این حجم زیاد از احادیث با مدت زمانی ـ کوتاہ ـ کہ با پیغمبر بودی تناسب ندارد.«انّ الناس قد قالوا: اکثر الحدیث عن رسول الله وانما قدم قبل وفاته بیسیر» .[182]

و گاہی کہ می گفت:«حدثنی خلیلی ابوالقاسم، حضرت علی(رضی الله عنه)او را منع کرده و گفت: متی کان خلیلا لک؟» [183] می گفت دوستم پیغمبر، برایم حدیث کرد. حضرت علی در مقام رد او می گفت: چہ زمان پیغمبر دوست تو بود!!

و فخر رازی می گوید: بسیاری از صحابہ، ابوہریرہ را مورد طعن و رد قراردادہ اند:

«انّ کثیراً من الصحابة طعنوا فی ابی هریرة وبیّناه من وجوه: احدها: انّ ابا هریرة روی انَّ النبی ـ صلی الله علیه و سلّم ـ قال: من اصبح جنباً فلاصوم له، فرجعوا الی عائشة وام سلمة فقالتا: کان النبیّ یصبح ثم یصوم. فقال: هما اعلم بذلک. انبانی بهذا الخبر الفضل بن عبّاس، واتفق انّه کان میتاً فی ذلک الوقت» .[184]

و ابراہیم نخعی دربارہ احادیث او می گوید:«کان اصحابنا يَدَعون من حدیث ابی هریرة» .[185]

و می گوید:«ما کانوا یاخذون من حدیث ابی هریرة الاّ ما کان من حدیث جنّة او نار».

سؤال 77: آیا صحیح است کہ ابوہریرہ روایاتی را در قدح و تنقیص و کوچک کردن مقام انبیاء نقل کردہ و بخاری آنرا در صحیح خود نقل می کند؟ برای نمونہ:

1 ـ حضرت ابراہیم سہ بار دروغ گفتہ (نعوذ باللہ).

«لم یکذب ابراهیم الاّ ثلاث کذبات».[ 186]


فخر رازی می گوید: کسی بہ انبیاء خدا دروغ را نسبت نمی دہد مگر زندیق باشد.«لا یحکم بنسبة الکذب الیهم الاّ الزندیق».[ 187]

و در جای دیگر می گوید: نسبت دروغ بہ راوی حدیث ـ ابوہریرہ ـ آسانتر از نسبت آن بہ خلیل الرحمن است.

2 ـ ابوہریرہ می گوید: حضرت موسی پس از غسل کردن در آب لخت و عریان در جمع بنی اسرائیل حاضر شد، و تمامی بدن او مکشوف بود، بہ گونہ ای کہ عورت او ہم ـ نعوذ باللہ ـ دیدہ شد و اتہام بہ بیماری ادرہ ـ قُر بودن ـ او نیز دفع شد.

«فراوه عریانا احسن ما خلق الله، وابراهُ مما یقولون».[ 188]

سؤال 78: آیا درست است آنچہ می گویند: حدیث عشرہ مبشرہ از موضوعات و دروغ پردازیہای حکومتہای اموی و عباسی بودہ و اگر صحیح بودہ بخاری و یا مسلم آنرا نقل می کردند.

و اگر صحیح بود: چرا ابوبکر و عمر ـ رضی اللہ عنہما ـ ، در روز سقیفہ بہ آن استدلال نکردہ، و حال آنکہ بہ ہر ضعیف و غیر ضعیفی استناد کردند. و استناد آنان بہ چنین حدیثی برای محکم کردن موقعیت خود بسیار مہم و لازم بود.

و می گویند: دو سند دارد، در سند اول: حمید بن عبد الرحمن بن عوف است. کہ حمید از پدرش عبدالرحمن نقل می کند، در حالیکہ حمید ہنگام رحلت پدر یک سالہ بودہ [189] و در سند دیگر آن عبداللہ بن ظالم است کہ بخاری، و ابن عدی، و عقیلی و دیگران او را تضعیف کردہ اند. [190]

سؤال 79: چگونہ حدیث عشرہ مبشرہ صحیح است و حال آنکہ متضمن اضداد می باشد، و این بہ معنای تضاد در دین و بطلان دین است چون جمع بین الاضداد از محالات عقلی است.[191] چون خط مشی حضرت ابوبکر با حضرت عمر فرق می کرد. و گاہی یکدیگر را نفی می کردند خط مشی حضرت عثمان با ہر دو فرق می کرد. و خط مشی حضرت علی(رضی اللہ عنہ)با ہر سہ فرق داشت. و اصلا ارزشی برای سیرہ شیخین قائل نبود. و بہ ہمین جہت در روز شوری شرط پیروی از سیرہ شیخین را نپذیرفت.[192]


خط مشی و روش عبدالرحمن بن عوف با عثمان کاملا متناقض و متضاد بود، و تا آخر عمر با او قہر کردہ [193] و در این حال فوت شد. خط مشی و روش حضرت علی(رضی اللہ عنہ)با طلحہ و زبیر فرق می کرد و لذا ریختن خونشان را مباح می دانست و آنہا نیز جنگ با حضرت علی(رضی اللہ عنہ) را جایز و قتل او را مباح می دانستند حال آیا ہمہ اینان جزو عشرہ مبشّرہ ہستند. یعنی ہمہ این روشہای متناقض امضا شدہ و، اسلام و آیین پیغمبر آنہا را می پذیرد؟

(([175] لسان المیزان 1: 106، دارالکتب العلمیة، بیروت.

[176] الطبقات الکبری 4: 335 ـ سیر اعلام النبلاء 2: 612.

[177] شرح ابن ابی الحدید 20: 31. «ذکر الجاحظ فی کتابه المعروف بکتاب التوحید: ان ابا هریرة لیس بثقة فی

الروایة عن رسول اللّه ـ صلی الله علیه و سلّم ـ قال: ولم یکن علی(رضی الله عنه)یوثقه فی الروایة بل

یتهمه ویقدح فیه وکذلک عمر وعائشة».

[178] شرح ابن ابی الحدید 4: 69:الصحابة کلهم عدول ما عدا رجالا منهم ابوهریرة وانس بن مالک .

[179] سیر اعلام النبلاء 2: 612،الطبقات الکبری 4: 335.

[180] سیر اعلام النبلاء 2: 604.

[181] سیر اعلام النبلاء 2: 605 ـ 604.

[182] ہمان.

[183] المطالب العالیہ 9: 205.

[184] ہمان.

[185] سیر اعلام النبلاء 2: 609 ـ تاریخ ابن عساکر 19: 122.


[186] صحیح بخاری 4: 112.

[187] التفسیر الکبیر 22: 186 ـ و 26: 148.

[188] صحیح بخاری 4: 129 / بدء الخلق 2: 247 دار المعرفة.

[189] تہذیب التہذیب 3: 40.

[190] تہذیب التہذیب 5: 236 ـ الضعفاء الکبیر، 2: 267 ـ الکامل فی الضعفاء 4:223.

[191] القاموس 5: 24.

[192] اسدالغابة 4: 32 ـ تاریخ الیعقوبی 2: 162 ـ تاریخ الطبری 3: 297 ـ تاریخ المدینة 3: 930 ـ تاریخ ابن خلدون

2: 126 ـ الفصول للجصاص 4: 55.

[193] ابن عبد ربہ می گوید: قال عبدالرحمن: للہ علیّ ان لا اکلمک ابدا، فلم یکلّمہ ابداً حتی مات و دخل علیہ

عثمان عائداً لہ فی مرضہ فتحوّل عنہ الی الحائط و لم یکلمہ. العقد الفرید 4: 280.)


ساتویں فصل

عزاداری سید الشہداء سے مربوط اشکالات

بسم الله الرحمن الرحیم. السلام علیک یا ابا عبدالله وعلی الارواح التی حلت بفنائک .

ایام محرم اور صفر بہترین موقع ہے کہ ہم مکتب عاشورا کی نسبت زیادہ معرفت حاصل کرکے اس فرہنگ اور مکتب سے زیادہ قریب ہوجائیں. کچھ سوالات قیام ابی عبداللہ  کے متعلق تمام لوگوں خصوصاً  نوجوانوں اور جوانوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتےہیں انہی سوالات کو مورد بحث قرار دیں گے ، تاکہ ہماری معرفت اور شناخت اباعبداللہ کی نسبت زیادہ ہوسکے.

جب ایام عزا شروع ہوتا ہے تو لوگ سیاہ کپڑے اور کالے پرچم نصب کرتے ہیں اور ماتمی دستے نوحہ خوانی اور زنجیر زنی کرتے ہیں اور لوگ آنسو بہاتے ہیں تو خودبخود یہ سوالات پیدا ہوتے  ہیں کہ:

یہ مراسم عزاداری کیوں؟

لوگ کالے کپڑے کیوں پہنتے ہیں؟

لوگ کیوں آدھی رات تک سینہ زنی اور ماتم کرتے ہیں ؟

کیوں اس قدر آنسو بہاتے ہیں؟

ان سوالات کا جواب دوطرح سے دیا جا سکتا ہے :

سادہ جواب : کیونکہ سید الشہدا کو بے دردی سے شہید کیا گیا اسلئے رونا ثواب ہے اور قیامت کے دن ہماری شفاعت کریں گے لیکن یہ جواب قانع کنندہ نہیں ہے. اس سلسلے میں چار سوال پیدا ہوتے ہیں اور یہ چاروں سوال ایک سوال میں بھی سمیٹ سکتے ہیں: کیوں یہ مراسم عزاداری اتنے اہتمام کے ساتھ منائی جائے؟!!!


پہلا سوال: ہم نے 1361 سالہ حادثہ کربلا کو کیوں زندہ رکھا؟

ہم نے 1361 سالہ حادثہ کربلا کو کیوں زندہ رکھا اور مراسم عزاداری قائم کئے؟ عاشورا ایک تاریخی واقعہ تھا جس کا زمانہ گذرگیا خواہ وہ تلخ تھا یا شیریں ، اس کے آثار ختم ہوگئے؟!!

جواب: یہ سوال بہت مشکل نہیں ہے .اسے ہر جوان اور نوجوان سمجھ سکتے ہیں کہ گذشتہ تاریخی حادثات ایک جامعہ یا انسان کیلئے آئندہ ساز ہوتا ہے اگر حادثہ مفید تھا تو یہ نشانی برکات ہوتی ہے تمام انسانی معاشرے میں یہ رسم ہے کہ کسی نہ کسی طرح گذشتہ حوادث کو زندہ رکھا جائے اور ان کا احترام کیا جائے جیسے قوم کے دانشوروں ، پہلوانوں ، علماء کی یاد منائی جاتی ہے.اسی طرح قومی دنوں کو منایا جاتا ہے اور یہ حس حق شناسی ہے جسے حق گذاری ،شکر گذاری ، قدر دانی وغیرہ سے یاد کیا جاتاہے.چونکہ ہمارا عقیدہ ہے حادثہ عاشورا بھی تاریخ اسلام کا بڑا حادثہ ہے اور یہ مسلمانوں کی سعادت مندی کا تعین کنندہ ہے اور راہ ہدایت کا چراغ ہے جس کی یاد تازہ کرنا عاقلانہ کام ہے .

دوسرا سوال :حادثہ عاشورا صرف سینہ زنی، کالے کپڑےاور...

حادثہ عاشورا کا زندہ رکھنا صرف سینہ زنی کرنا ، رونا اور شہر کو سیاہ پوش بنانا اور لوگوں کا آدھی رات تک  کاروبار کو معطل کرکے جاگے رہنا نہیں ، کیونکہ یہ سارے اقتصادی نقصان کا باعث بنتے ہیں .وہ نوجوان جس کا ذہن ابھی تک دینی تربیت حاصل نہ کرچکا ہو کہے گا کہ مباحثہ جلسے ، سیمینار ، کانفرنس اور کنونشن ،... برپا کرناچاہئے ہوسکے تو ٹی وی پر دس  مجالس جو بہترین ہو رکھی جائیں جو معاشرے کیلئے زیادہ مفید ہوگا.

جواب: ٹھیک ہے شحصیت امام حسین  کے بارے میں بحث کرنا کانفرنس ، تقاریر ، مقالات کے ذریعے بہت ہی مفید ہے اور ضروری بھی ہے اور جامعہ میں یہ چیزیں بھی پائی جاتی ہیں لیکن حادثہ عاشورا سے بہرہ برداری کیلئے یہ کافی نیںا ہے ، بلکہ احساسات و عواطف و... عوامل درونی میں سے ہے جئو خود بہ خود انسان کو تحریک میں لاتے ہیں. پس انسانی رفتار اور حرکات کیلئے دو عوامل ضروری ہیں: الف شناخت ب عواطف واحساسات .


جب ہم نے پہچان لیا کہ سید الشہدا  (ع)کے اس کارنامے  کی کس قدر اہمیت ہے اور سعادت ساز ہے لیکن فقط یہ شناخت ہمیں حرکت میں نہیں لاتی ، بلکہ ضروری ہے کہ انسان کے عواطف و احساسات بیدار ہوجائے کیونکہ ہم بھی اپنی زندگی میں محسوس کر چکے ہیں کہ اگر کسی یتیم کو یا مریض کو رقت آور حالت میں دیکھتے ہیں تو کسی شہید کے بیٹے کو دیکھتے ہیں تو جو اثر ہمارے اندر پیدا ہوجاتے ہے وہ صرف سننے سے یا جاننے سے کہ کوئی یتیم یا مریض ہے پیدا نہیں ہوتا.

پس جس قدر عواطف اور احساسات پائیدار ہوں گے اسی قدر حادثہ عاشورا ہماری زندگی میں مؤثر تر ہوگا. دیکھنے اور سننے میں فرق ہے چنانچہ حضرت موسیٰ  کوہ طور پر گئے تیس دن کے وعدے پر لیکن خدا نے دس دن اضافہ کیا اس طرح چالیس دن ہوگئے :

 وَ واعَدْنا مُوسی‏ ثَلاثینَ لَيْلَةً وَ أَتْمَمْنا ه ا بِعَشْرٍ فَتَمَّ میقاتُ رَبِّهِ أَرْبَعینَ لَيْلَةً وَ قالَ مُوسی‏ لِأَخیهِ ه ارُونَ اخْلُفْنی‏ فی‏ قَوْمی‏ وَ أَصْلِحْ وَ لا تَتَّبِعْ سَبیلَ الْمُفْسِدینَ .(1)

"جب تیس دن ہوگئے تو قوم ہارون  کے پاس آئی اور کہنے لگی : شاید موسیٰ  ہمیں چھوڑ  گئے ہیں ، سامری کو موقع ملا ، گوسالہ بنایا اور کہا:

 هذه آلهتکم و اله موسیٰ

بہت سے بنی اسرائیل والے گوسالہ کی پرستش کرنا شروع کردی. موسیٰ کو وحی آئی کہ قوم نے گوسالہ کی پرستش شروع کردی ہے اتنا زیادہ اثر نہیں ہوا

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسی‏ إِلی‏ قَوْمِهِ غَضْبانَ أَسِفاً قالَ بِئْسَما خَلَفْتُمُونی‏ مِنْ بَعْدی أَ عَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ وَ أَلْقَی الْأَلْواحَ وَ أَخَذَ بِرَأْسِ أَخیهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ قالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونی‏ وَ کادُوا يَقْتُلُونَنی‏ فَلا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْداءَ وَ لا تَجْعَلْنی‏ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمینَ (2)

--------------

(1):- اعراف،۱۴۲

(2):- اعراف۱۵۰.


لیکن جب واپس آیا اور دیکھا تو اس قدر احساسات اور عاطفہ ابھر آیا کہ اپنے بھائی ہارون کے سر اور داڑھی پکڑکر ڈانٹنے لگے ..

ہمارا مقصد پوری داستان سنانا نہیں بلکہ صرف ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ دیکھنے اور سننے میں فرق ہے حضرت موسیٰ کو یقین تھا خدا کے فرمان پر لیکن آثار غضب ظاہر نہیں ہوا لیکن جب دیکھا تو بھائی کی تلاش میں نکلے خدا نے انسان کو کچھ اس طرح خلق کیا ہے کہ سننے کی بجائے دیکھنے سے زیادہ متاثر ہوتا ہے

دوسرا جواب ہم امام صادق  (ع)سے زیادہ اور بہتر تو نہیں جانتے امام خود بھی عزاداری کیا کرتے تھے اور دیکھتے تھے کہ کس طرح لوگوں کو زیادہ سے زیادہ دین کی طرف جلب کر سکتا ہے ؟ مباحث علمی کے ذریعے یا عزاداری کے ذریعے؟

اور فرمایا:ما نودی لشیء مثل مانودی للولایة . کیونکہ ولایت انسان کو نمازی بنا سکتی ہے لیکن نماز انسان کو مولائی نہیں بنا سکتی.

تیسرا سوال: لوگ کیوں آدھی رات تک سینہ زنی اور ماتم کرتے ہیں ؟

ان احساسات اور عواطف کو اجاگر کرنے کا ذریعہ  عزاداری ، گریہ ،سینہ زنی ، زنجیر زنی تو نہیں بلکہ ممکن ہے مراسم جشن منائیں.

جواب: احساسات اور عواطف مختلف قسم کے ہیں تحریک بھی ان عواطف و احساسات سے متناسب اور سنخیت ہونا چاہئے صرف جشن اور خوشی منانا اور ہنسنا کبھی انسان کو شہادت طلب نہیں بنا سکتا ، بلکہ شہادت کیلئے تیار کرنے کیلئے آنسوؤں کی ضرورت ہے.


چوتھا سوال:امام کے مخالفین پر لعن کیوں؟

منافقین کہتے ہیں : ٹھیک ہے یہاں تک ہم نے مان لیا لیکن تم لوگ دشمنان امام پر لعن طعن کیوں کرتے ہو ؟ یہ تو ایک قسم کی خشونت اور بدبختی ہے اور ایک منفی احساس ہے کیوں کہتے ہو: اتقرب الی اللہ بالبرائة من اعدائک ؟ کیوں زیارت عاشورا میں سو مرتبہ لعن کرکے دوسروں کو بد ظن کرتے ہو ؟ آ ئیں سو مرتبہ سلام بیںں س. یہ زمانہ ایسا آیا ہے کہ سارے لوگوں کے ساتھ خوشی  اور صلح و صفائی کے ساتھ زندگی کرے کیا اسلام دین محبت نہیں ہے ؟ اسلام دین رحمت و رافت نہیں ہے ؟

فرض کریں ایک نوجوان ہم سے سوال کرے کہ کیوں قاتلان حسین  پر لعن کرتے ہیں ؟ زیارت عاشورا میں سو مرتبہ لعن کی بجائے سو مرتبہ پھر سلا م بھیجے کیا فرق پڑے گا اور یہ لعن و طعن اور اظہار برائت کی کیا ضرورت ہے؟!!

جواب: سرشت انسان جس طرح فقط شناخت سے تشکیل نہیں پایا ہے اسی طرح فقط مثبت احساسات سے بھی نہیں بلکہ شناخت اور  مثبت احساسات  کے ساتھ منفی احساسات بھی رکھتا ہے جس طرح خوشی کے ساتھ ساتھ غم بھی پایا جایا ہے پس جہاں رونا ہو وہاں رونا ضروری ہے ، جہاں ہنسنا ہو وہاں ہنسنا ضروری ہے. پس ہو مقام اور مناسبات کی تلاش کرنا چاہیئے کہ جہاں رونا ہوگا یا برعکس والا رونے اور ہنسنے کی استعداد وجود انسان میں لغو ہوجائے گا. کیونکہ رونا وجود انسان میں بہترین احساس ہے اگر گریہ خدا کے خوف  میں  یا  خدا  سے ملاقات کے شوق میں ہو تو یہ کمال انسانی کا موجب بنتا ہے خدا وند تعالیٰ ہم میں محبت کو خلق کیا ہے کہ جب اپنے دوستوں ،بہن بھائیوں سے بچھڑ جائے یا ان  پر کوئی مصیبت پڑے تو رونا کمال عقلائی و عاطفی ہے. کیونکہ  خود دنیا مؤمن کی نگاہ میں اہمیت نہیں رکھتی. اگر کسی مؤمن پر دنیوی نقصان آئے تو زیادہ مغموم نہیں ہوتا  کیونکہ خود دنیا مؤمن کی نگاہ میں اہمیت نہیں رکھتی لیکن اگر اخروی نقصان ہو اور دشمن اس کا دین چھین لے اور سعادت ابدی کو انسان سے چھین لے تو اسے برداشت نہیں کرسکتا. چنانچہ قرآن کریم بتا رہا ہے :


 إِنَّ الشَّيْطانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّما يَدْعُوا حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحابِ السَّعیرِ (1)

 "شیطان تمھارا دشمن ہے تم بھی اس سے دشمنی رکھو. شیطان کے ساتھ خوشیاں تو منا نہیں سکتا وگرنہ انسان بھی شیطان بن جائے گا".

پس اولیائے خدا سے دوستی رکھو اور دشمنان خدا سے دشمنی رکھنی چاہئے. اور یہ فطرت انسانی ہے اورتکامل اور سعادت انسانی کا عامل  ہے. اگر دشمنان خدا سے دشمنی نہ رکھے تو آہستہ آہستہ ان کی رفتار کو اپنا نے لگتا ہے اور دوستی پیدا ہوسکتی ہے اور آخر میں ایک شیطان دوسرے لوگ اس شیطان کی مانند ہوجائیں گے دیکھ لو قرآ ن کیا فرما رہا ہے:

واذرایت ْ إِنَّ الل ه جامِعُ الْمُنافِقینَ وَ الْکافِرینَ فی‏ جَهَنَّمَ جَمیعاً (2)

 یعنی جب بھی ایسے افراد سے جو ہمارے  دین کی اہانت ، استھزا اور مسخرہ کرتے ہیں ، نزدیک نہ ہو. ورنہ  آخرت میں انہیں کے ساتھ محشور ہونگے.

دوسرے  لفظوں میں ؛ دشمنوں کے ساتھ دشمنی کرنا  نقصانات کے مقابلے میں دفاعی سسٹم ہے جس طرح بدن انسان مفید مواد کو جذب کرتا ہے دفاعی سسٹم زہر اور جراثیم کو دفع کرتا ہے سفید گلوبل کا کام دفاع کرنا اور جراثیم کو مار دیاا ہے کوئی عاقل انسان یہ نہیں کہتا: اے جراثیمو ! خوش آمدید ، آؤ سر آنکھوں پر اھلاً وسہلاً ہمارے بدن میں وارد ہوجا ، تم ہمارے مامثن ہو، تو کیا ہمارا بدن اس صورت میں سالم رہے گا ؟

--------------

(1):-  فاطر6.

(2):-  انعام 68.


پس ہر جگہ مسکرانا صحیح نہیں ہے بلکہ اسلام اور دین کے دشمنوں سےصراحتاً  بیزاری کااظہار کرنا قرآن کا حکم ہے چنانچہ ابراہیم  نے فرمایا:

انا بری‏ء منکم

اے بت پرستو ! میں تم سب سے بیزار ہوں اسی لئے امریکا مردہ باد اسرائیل مردہ باد کہنا عین عبادت ہے  کیونکہ تبریٰ فروع دین میں شامل ہے.

اور یہ امریکہ و اسرائیل ہماری موت کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے:

وَ لَنْ تَرْضی‏ عَنْكَ الْيَهُودُ وَ لاَ النَّصاری‏ حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَی الل ه هُوَ الْهُدی‏ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ بَعْدَ الَّذی جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ما لَكَ مِنَ الل ه مِنْ وَلِيٍّ وَ لا نَصیرٍ (2)

"اور آپ سے یہود و نصاریٰ اس وقت تک خو ش نہںد ہو سکتے جب تک آپ ان کے مذہب کے پر و نہ بن جائںن، کہدیے ت: یقینا اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آ چکا ہے، اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پر وی کی تو آپ کے لےے اللہ کی طرف سے نہ کوئی کارساز ہو گا اور نہ مددگار"۔

پس پہلے دشمنوں پر لعن کرے بھر حسینؑ  پر سلام بھیجے.یہی دستورقرآن کا بھی ہے : پہلے دشمنوں سے اظہار بیزاری کریں پھر دوستوں سے اظہار محبت اول:

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَ الَّذینَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَی الْكُفَّارِ بعدفرمایا: رُحَماءُ بَيْنَهُمْ‏ (1)

اگرا یسا  ہو تو حسینی ہیں و رنہ حسینی ہونے کا صرف دعوا ہے.

--------------

(1):- بقرہ 120.

(2):-  فتح 29.


سوال: داستان کربلا اسلام کی ترویج اور سعادت کا باعث ؟

جواب: اوپر کے چار سوالوں کے جواب کا ماحصل یہ تھا کہ اگر حادثہ عاشورا ، داستان کربلا تاریخ میں نقش متعین کنندہ ہوجائے تو اس کی نگہداری بھی ضروری ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کیسے معلوم  ہو گا کہ داستان کربلا اسلامی ترقی اور ترویج کیلئے نقش متعین کنندہ  اور سعادت سازہے؟ !!

جواب: جس چیز پر دوست اور دشمن سب متفق ہیں یہ ہے کہ داستان کربلا اگر ایک بے مثال داستان نہ ہو تو کم نظیر داستان تو ہے یعنی نہ ایسی داستان کبھی واقع ہوئی ہے اورنہ بعد میں واقع ہوگی.  لیکن ہمارا عقیدہ ہے  کہ یہ داستان بے نظیر اور بے مثال داستان ہے کیونکہ معصوم  کا فرمان ہے اور اس کی کیفیت وقوع بھی مصیبت کے اعتبار سے قابل مقایسہ  نہیں ہے اس کی دلیل یہی ہے کہ ہر سال ہم بڑی شان و شوکت کے ساتھ عزاداری کرتے ہیں اور اوقات صرف کرتے ہیں ، پیسے خرچ کرتے ہیں اور یہ مراسم سرف اسلامی ممالک میں منعقد نہیں ہوتا

بلکہ نیویارک جیسے بڑے شہروں میں بھی عاشور کے دن تابوت اور شبیہ نکالتے ہیں  جہاں سازمان ملل (اقوام متحدہ ) کا دفتر موجود ہے .حتی اہل سنت بھی اس مراسم عزاداری میں شرکت کرتے ہیں حتی ہندوستان میں مسلمانان ایران کے دو برابر مسلمان موجود ہیں اور اسی طرح بنگلا دیش میں بعنوان ادای اجر رسالت اپنے اوپر واجب سمجھتے ہوئے عزاداری میں شرکت کرتے ہیں کیونکہ قرآن میں حکم آیا ہے :

 قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی. (1)

اور اجر رسالت کو ان کے آل کی خوشیوں اور غم میں شریک ہونے کی شکل میں ادا کرتے ہیں یہاں تک کہ بت پرست بھی عزاداری میں شرکت کرتے ہیں اور نذر ونیاز دیتے ہیں اگر آپ گذرزمان کے لحاظ سے دیکھے تو چودہ صدی گذرنے کے بعد بھی وہی طراوت اور شادابی پائی جاتی ہے اور وہی گریہ وعزاداری ہے

--------------

(1):-  الشوری  23.


 اور اس کے ساتھ ساتھ شیعیان سید الشہدا ء کی قربانیوں کو نگاہ کریں ،کسی بھی قیمت پر ان کی قبر کی زیارت کیلئے حاضرہوتے ہیں متوکل عباسی کے زمانے میں بہت  ہی سخت گیری کرتے تھے یہی متوکل تھا جس نے سید الشہدا ء (ع)کے قبرپر ہل چلا یا اور پانی گرآثار کو ختم کرنا چاہا لیکن شیعوں نے دور یا نزدیک سے قبر امام   کی زیارت کرنے کی خاطر ہاتھ پیروں اور جان تک کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کئے. یہ سب کیوں ؟ کیا یہ اتفاقی ہے؟ حتی اہل سنت اور بت پرست بھی قربانی دیتے ہیں اور عاشور کے دن علی اصغر  کے نام پر دودہ کی شربت دیتے ہیں. یہ سب اس لئے کہ خود پیغمبر(ص) اور آئمہ طاہرینؑ  نے آپ کی زیارت کے فضائل زیادہ بیان کئے ہیں حتی معصوم سے سوال ہوا : زیارت پیغمبر اور بقیہ آئمہؑ  کا کس قدر ثواب ہے ؟ تو فرمایا : زیارت پیغمبراں الٰہی کی زیارت کا ثواب ہے لیکن زیارت سید الشہداءؑ  کا ثواب مانند زیارت خدا وند در عرش برین !!!

خود آئمہ طاہرین بھی ایام محرم میں ذاکرین اور شاعروں کو دعوت دیتے ہیں اور مراسم عزاداری منعقد کرتے تھے یہاں تک کہ مؤمنوں کے دلوں میں ایام محرم کیلئے ایک حرارت پیدا ہوتی ہے :انّ للحسین فی قلوب المؤمنین حرارة لم تبرد ابدا.

انسانی زندگی پرعزاداری کا اثر

ہمارا عقیدہ ہے پیغمبر اسلام (ص) سب سے افضل ہیں کیوں آپ کی وفات پر اس طرح عزاداری نہیں کرتے ؟ یا امیر المؤمنین  پر دس دن عزاداری کیوں نہیں کرتے ؟!

جواب : ہر معصومؑ میں ایک خاص خصوصیت پائی جاتی ہے اسی طرح امام حسین (ع) میں بھی فوق العادہ خصوصیات کی وجہ سے آپ کی عزاداری حضرت آدم  نے بھی کی ہے رسول خدا(ص) نے فرمایا:حسین منیّ وانا من الحسین . اور فرمایا: وانہ لمکتوب علی ساق العرش ان الحسین مصباح الہدی وسفینة النجاة .اگرچہ ہمارے سارے امام چراغ ہدایت اورنجات کی کشتی ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امام حسین (ع) کی زندگی میں کچھ ایسی حالات واقع ہوئی کہ جو باعث بنی آپ کی شہادت کو اتنی عظمت


ملی جو تقدیر الٰہی تھی وگرنہ ایسا نہیں کہ دوسرے آئمہ اور آپ میں فرق ہو اگر امام حسن  کو  سنبل صلح کا لقب ملا لیکن آپ امام حسین  (ع)کی جگہ پر ہوتے تو آپ بھی جنگ کرتے ایساہرگز نہیں کہ آپ خشونت آمیز ہو اور دوسرا صلح طلبانہ ، بلکہ ان کے کارناموں میں اختلاف  اجتماعی شرایط میں اختلاف کی وجہ سے ہے. وگرنہ یہ دونوں ایک سکہ کے دو رخ ہیں.

اب دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح یہ خصوصیات امام حسین  (ع)میں پیدا ہوئیں کہ ان کی عزاداری سے لوگوں کو شفا ملتی ہے. حضرت آیة اللہ بروجردی  مرجع شیعیان جہان درد چشم میں مبتلا تھے عزاداران سید الشہدا  کے پیروں کے نیچے سے مٹی لیکر اپنی آنکھوں میں ملتے ہیں تو اس طرح شفا ملتی ہے کہ آخری دم تک عینک کی ضرورت نہیں پڑی. اور لوگوں کی کتنی حاجتیں اسی عزاداری کے توسط سے پوری ہوتی ہیں ، تو کیا یہ مناسب نہیں کہ اس عزاداری کیلئے اہتمام کرے. 

دوسری بات  جو قابل توجہ ہے و ہ یہ ہے کہ ہر زمانے میں انبیا ی الٰہی کی شخصیت اور اولیاء خدا کی شخصیات میں  بہت ہی ابہامات لوگوں نے پیدا کئے ہیں. حتی خود پیغمبر اسلام  کے بارے میں کہا کہ یہ مجنون ہے ،کسی نے کہا ساحر ہے حتی کانوں میں انگلیاں ڈال رکھے اسی طرح امام علی  کی ذات اور کردار کو اس طرح تحریف کیا کہ جب شام والوں نے سنا کہ علی  مسجد میں شہید ہوگئے ہیں تو تعجب کیا ، جبکہ علی  کی شخصیت عدالت اور عبادت سے پہچانی جاتی تھی ، لیکن یہ حسین کا کارنامہ ہے جس میں تحریف نہیں ملے گا ہر خاص وعام کہے گا : حسین حق کی حمایت اور اسلام  کی بقا کی خاطر شہید کئے گئے ، حتی شیر خوار بچے کی قربانی بھی دینے سے دریغ نہیں کیا اور ناموس اسیر کئے گئے. ممکن ہے جزئیات میں تحریف ہواہو، یہ تو ایک طبیعی چیز ہے کسی نے نہیں کہا کہ ایسا نہیں ہوا ہے .


اگر کوئی اہل مقام ہو اور جب جان کو خطر میں دیکھتا ہے تو کسی صلح یابچنے کا راستہ ڈہونڈتا ہے ، لیکن امام  نے شب عاشور بھی اور روز عاشور بھی اسے بیعت یزید کا پیشنہاد کرتے رہے لیکن قبول نہیں کئے فرمایا: أَلَا وَ إِنَّ الدَّعِيَّ ابْنَ الدَّعِيِّ قَدْ تَرَكَنِی بَيْنَ السَّلَّةِ وَ الذِّلَّةِ وَ هَيْهَاتَ لَهُ ذَلِكَ مِنِّی هَيْهَاتَ مِنَّا الذِّلَّة . (1) کسی مقام یا دولت حاصل کرنے کے لئے کیا ناموس اور چھوٹے بچے ساتھ لے جاتے ہیں ؟!!

پس کسی بھی صورت میں تحریف نہیں کرسکتا کہ یہ قیام جہاں ن طلبی کیلئے کیا ہے اب کیا کوئی کہہ سکتا  ہے کہ حسین نے اشتباہ کیا ہے ؟!

البتہ بعض ناصبی نے کہا  کہ امام کو یہ نہیں کرنا چاہئے تھا.لیکن اس کے باوجود ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس عزاداری کی حفاظت کرے. ایک طرف امام حسین(ع) کی یاد میں گریہ کرنے ، جان نثاری ، اور نام حسین کے ساتھ عشق لگانا اور ایک زرہ خاک کربلا کو شفا یابی کی خاطر تناول کرنا دوسری طرف اس قدر نام امام حسین(ع) کو مٹانے کی کوشش کرنا کہ قبر پر پانی  ڈالا جائے اور زائرین امام کو شہید کرنا کیوں ؟ آخر انہیں اس دشمنی سے کیا حاصل ہوا؟ اب بھی لوگ جدید اصطلاحات اور مختلف صورتوں  میں عزاداری کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں ، یہ لوگ اپنے آپ کو روشن فکر کا نام دیتے ہیں جبکہ یہ کہنا مناسب ہوگا :بیدین اور تاریک فکر لوگ. یہ لوگ کہتے ہیں امام حسین (ع) نے خشونت سے کام لیا ، ہم  کہیں گے پیغمبر اسلام (ص)نے بھی جنگ بدر و حنین جیسی جنگوں میں خشونت سے کام لیا ہے اسی طرح بنی امیہ کے ساتھ ، ہم کہیں گے جنگ میں حلوا چپاتی تو تقسیم نہیں ہوتا بلکہ قتل یا زخمی ہوتا ہے یا دوسروں کو زخمی یا قتل کرتے ہیں وہ لوگ کہتے ہیں حادثہ عاشورا خشونت پیغمبر ہی کا نتیجہ تھا پس اگر کربلا سے درس حاصل کرنا ہے تو اس طرح حاصل کرے کہ ہم کسی سے خشونت نہ کرے تا ہمارے بچوں کے ساتھ کوئی دوسرا خشونت نہ کرے!!!

-------------

(1):-  الاحتجاج علی اہل اللجاج،ج2 ،احتجاجہ ع علی اہل الکوفة بکربلاء ،  ص 300.


ان لوگوں کی نظر میں جہاد ، دفاع ، امر بہ معروف ، نہی از منکر  سب معطل ہونا چاہئے .تاکہ کوئی ہمارے ساتھ واسطہ نہ رکھے جبکہ خداوند امر کرتا ہے:قاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ الل ه بِأَيْدیكُمْ وَ يُخْزِهِمْ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَ يَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنین‏ (1)

قرآن کی صریح آیت ہے کہ ان مشرکوں کے ساتھ جنگ کرو تاکہ تمھارے ہاتھوں کو لوگ عذاب میں پڑ جائی اور انہیں رسوا کرے اور تمہیں پیروز کرے اور قلوب مؤمنین کو ٹھنڈا کرے اب معلوم ہوجائے گا کہ یہ لوگ حسین(ع) سے کیوں دشمنی کرتے ہیں؟!

اپنے  رسول کے نواسے کو بے دردی سے شہید کیا گیا؟!!

کیوں ایسی وضعیت پیدا ہوئی کہ رحلت پیغمبر کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا ان کے عزیز نواسے کو اس قدر بے دردی کیساتھ شہید کیا گیا ؟!!

اشکال: قرآن میں خشک و تر موجود ہے تو واقعہ کربلا  اس میں کیوں درج نہیں ؟

جواب: قرآن میں ایک آیت ہے :إِنَّ الل ه يُحِبُّ الَّذینَ يُقاتِلُونَ فی‏ سَبیلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْیانٌ مَرْصُوصٌ (2) ایسا لشکر ہے جو دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہے اس کی پیشانی پر شکن نہیں پڑتی اور ان لشکروں کا ذکر کروں گا جن کا تذکرہ قرآن میں ہےجو اس لشکر کا ایک ایک سپاہی میدان سے منہ نہیں موڑتا، تو وہ لشکر کہاں ہے ؟

کیا پہلا لشکر جو حضرت موسیٰ کا ہے بنی اسرائیل بہت بڑی تعداد میں ہے اور جناب موسیٰ ان کو بچانے کیلئے لیکر راتوں رات مصر کو چھوڑ رہے ہیں اور صبح ہونے کے بعد فرعون کو خبر ہوتی ہے بنی اسرائیل نے مجھے چھوڑ دیا ہے:فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدائِنِ حاشِرینَ إِنَّ ه ؤُلاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلیلُونَ وَ إِنَّهُمْ لَنا لَغائِظُونَ وَ إِنَّا لَجَمیعٌ حاذِرُونَ. شعرا۵۳..۵۶

--------------

(1):-  توبہ14.

(2):-  الصف :4 


فرعون نے قرب و جوار میں پیام رسان بھیجے جلدی جلدی لشکر بھیجو اگر لشرزمة قلیلون کیلئے اپنی فوج ہی کافی تھا تو کیوں ادھر ادھر سے مدد مانگتے ہو؟ دشمن کبھی اکیلے حملہ نہیں کرتا یہ باطل کی تاریخ ہے کیونکہ جتنا بھی قوی ہو وہ دل کے کمزور ہوتا ہے.اب اتنا لشکر جمع ہوگیا کہ بنی اسرائیل آگے سمندر پیچھے سے لشکروں کا سمندر یہ لوگ گھوڑوں پر سوار موسیٰ کو حکم ہوا عصا کو دریا پر مارو  تو حکم الہی کی اطاعت ہوئی تو دریا پھٹ گیا پہاڑیوں میں تبدیل ہوگیا وسط میں راستہ پالنے والے تو اگر کہہ دیتے دریا سے کہ میرے نبی کو راستہ دیدے تو کیا وہ تیری اطاعت نہ کرتا ؟ موسیٰ نے کہا ہو تاکہ تو آگے بڑھو اور کہو اس سےکہ راستہ دیدے کہ کلیم خدا تھے تو کیا راستہ نہ دیتا؟یہ ڈنڈا مارنے کا حکم کیوں ہوا؟ تاکہ دنیا کو یہ بتا دے کہ ڈنڈے میں بذات خود کوئی قدرت تو نہیں ہے لیکن جب کسی معصوم سے منصوب ہوتی ہے تو صاحب کرامت بن جایا کرتا ہے ، اب بنی اسرائیل سے موسیٰ  نے کہا : اب چلو وہ سب نکل گئے اور پانی کی موجیں اسی طرح کھڑی رہی تو فرعون نے کہا : یہ تو میرا معجزہ ہے ،بڑھو آگے. فرعون آگے آگے اور لشکر اس

کے پیچھے پیچھے جب درمیان میں آگیا تو موجیں مل گئیں اب بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سے خدا کی طاقت دیکھ لیا اور یہ دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ ہماری مدد کر رہا ہے یہاں سے بڑھ کر شام کے باڈر پر پہنچے تو موسیٰ نے اشارہ کیا :یا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتی‏ كَتَبَ الل ه لَكُمْ وَ لا تَرْتَدُّوا عَلی‏ أَدْبارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خاسِرینَ المائدة :  21 یہ سامنے جو زمین دکھائی دے رہی ہے تمھارے مقدر میں اللہ تعالیٰ نے لکھ دی ہے ، چلو اس کے اندر دیکھ نبی خدا اور اس کے اعجاز ، اللہ کی تائید ، فرعون کا ڈھوبنا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے مگر ایمان اتنا کمزور ہے کہ جب موسیٰ نے کہا: اللہ نے اس زمین کو تمھارے لئے لکھ دیا ہے چلو اس کو اپنے قبضے میں لے لو تو قرآن کہتا ہے کہ بنی اسرائیل نے جواب دیا:


 قالُوا یا مُوسی‏ إِنَّ فی ه ا قَوْماً جَبَّارینَ وَ إِنَّا لَنْ نَدْخُلَ ه ا حَتَّی يَخْرُجُوا مِنْ ه ا فَإِنْ يَخْرُجُوا مِنْ ه ا فَإِنَّا داخِلُونَ قالَ رَجُلانِ مِنَ الَّذینَ يَخافُونَ أَنْعَمَ الل ه عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبابَ فَإِذا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غالِبُونَ وَ عَلَی الل ه فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنینَ قالُوا یا مُوسی‏ إِنَّا لَنْ نَدْخُلَ ه ا أَبَداً ما دامُوا فی ه ا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقاتِلا إِنَّا ه اهُنا قاعِدُونَ قالَ رَبِّ إِنِّی لا أَمْلِكُ إِلاَّ نَفْسی‏ وَ أَخی‏ فَافْرُقْ بَيْنَنا وَ بَيْنَ الْقَوْمِ الْفاسِقینَ (1) اے موسیٰ ہم نے سنا ہے اس سرزمین پر بسنے والی قوم بڑی مضبوط ہے ہم تو اس کے قریب نہیں جائیں گے آپ نے کہا کیا فرعون کے لشکر سے زیادہ مضبوط ہے ان کا غرق ہونا ابھی دیکھا ہے مگر ایمانی کمزوری کا یہ عالم ہے کہ کہنے لگے : ہم تو اس میں نہیں جائیں گےاور جسارت کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ تو اور تیرے پروردگار جائیں ہم  یہیں سے تماشا دیکھتے رہیں گے. اگر اس سرزمین پر قبضہ کرنے کا شوق ہے تو اپنے پروردگار کے ساتھ خود جائیں

امام سجاد کا گریہ کیا صبر کے خلاف نہیں؟

جواب:رونا اور گریہ کرنا صبر کے خلاف نہیں  اور امام کے شان کے خلاف بھی نہیں۔اگرچہ امام زین العابدین نے بین بھی کئے ہیں ، بے تابی بھی کی ہیں۔ در اصل جو اثر مصائب ہے ہوتے ہیں سب ہوئے ہیں۔لیکن یہ بین ،مرثیہ اور رونا نہیں تھےبلکہ یہ اس قربانی کی قیمت کا اظہار تھا اور اس مقصد کی اہمیت کا احساس پیدا کرنا تھا کہ دیکھو!میرا کیسا بھائی تھا کہ جسے میں نے کس مقصد کے لئے دے دیا۔

سؤال 148: آیا صحیح است اولین کسی کہ در عزاداری، مراسم سینہ زنی بہ راہ انداخت عایشہ ـ رضی اللہ عنہا ـ بود. آنجا کہ ایشان می گوید: کہ چون احساس کردم پیغمبرـ صلی اللہ علیہ و سلّم ـ رحلت کرد: زنان را جمع کردہ و بر سینہ و صورت می زدم.

«عن عبّاد: سمعت عائشة تقول: مات رسول الله ـ صلی الله علیه و سلّم ـ ثم وضعتُ راسه علی و سادة و قمت أَلتدم ـ ای اضرب صدری ـ مع النساء و اضرب وجهی».[ 356]

--------------

(1):-  مائدہ ۲۲- ۲۵.


و ہمچنین زنان بنی سفیان در شام در عزای حضرت حسین(رضی اللہ عنہ)سینہ می زدند ابن عبد ربہ اندلسی می گوید:«قالت فاطمة: فدخلت الیهن فما وجدت فیهن سفیانیة الاّ ملتدمة تبکی». [357]

سؤال 149: آیا صحیح است کہ شامیان برای حضرت عثمان(رضی اللہ عنہ)یکسال عزاداری کردہ و برای رحلت او گریستند...اگر ما می گوئیم گریہ و نوحہ برای میت مشروع نیست. چرا در حضور معاویہ در این مدت عزاداری کردہ ولی او نہ تنہا اینکہ مانع نشد بلکہ آنان را حمایت و پشتیبانی می کرد.

ذہبی می گوید:«نصب معاویة القمیص علی منبر دمشق و الاصابع معلقة فیه و آلی رجال من اهل الشام لا یاتون النساء، و لا یمسّون الغُسل الامن حلُم، و لا ینامون علی فراش، حتی یقتلوا قتلة عثمان او تفنی ارواحهم، و بکوه سنة».[ 358]

معاویہ پیراہن عثمان و بعضی از انگشتان قطع شدہ او را بر فراز منبر آویزان کرد، و عدہ ای از شامیان سوگند یاد کردند کہ بہ بستر استراحت و خواب نروند، و با ہمسران خود مقاربت نکنند. تا اینکہ قاتلان عثمان را بہ قتل برسانند یا اینکہ کشتہ شوند، و یکسال برای او گریستند.

[356] .السیرة النبویة 4: 305.

[357] .العقد الفرید 4: 383.

[358] .تاریخ الاسلام (الخلفاء)، 452.

سؤال 150: آیا ارزش و کرامت زن نزد ما در این حد است کہ او را در کنار و ردیف سگ و خوک و خر و شتر قرار دہیم. چنانچہ در کتابہای ما آمدہ: بہ ہنگام نماز حائلی را قرار دہد تا اگر زن یا خر و یا شتر رد شود بہ صحت نماز ضرری نزند.

«قال: و الظُعن یمرُّون بین یدیه: المراة و الحمار و البعیر».[ 359]

یعنی نمازگذار با گذاشتن مانع در مقابل خود، زن، خر و شتر از برابر او را می گذرند و ضرری بہ نماز نمی زند.


ابوہریرہ می گوید:«یقطع الصلاة المراة و الحمار و الکلب».[ 360]

عبور زن و الاغ و سگ از مقابل نمازگذار نماز را باطل می کند و احمد بن حنبل فرمود:«یقطع الصلاة الکلب الاسود و الحمار و المراة»، یعنی عبور سگ سیاہ و الاغ و زن نماز را باطل می کند .[361]

البتہ این گونہ تعبیرہا بقدری سنگین و با کرامت زن تنافی دارد کہ مورد اعتراض شدید آنان قرار گرفتہ.

جناب عائشہ(رضی اللہ عنہ) می گوید:«جعلتمونا بمنزلة الکلب و الحمار...».[ 362]

یعنی ما زنان را ردیف سگ و الاغ قرار دادید!!

[359] .السنن الکبری 3: 166 و 3554 ـ مصنف ابن ابی شیبہ 1: 315.

[360] .صحیح مسلم 1: 145 ـ المحلی 4: 8.

[361] .المحلی 4: 11.

[362] .ہمان. عن عکرمة یقطع الصلاة الکلب و المراة و الخنزیر و الحمار و الیہودی و النصرانی و المجوسی.

مصنف ابن ابی شیبہ 1: 315.


آٹھویں فصل:

 امام زمان (ع) سے مربوط اشکالات

عقیدہ مہدویت کے بارے میں شیعہ اور سنی  مکتب میں کچھ مشترکات اور کچھ اختلافات پائی جاتی ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

مشترکات : وجود میں آنا، قریشی ہونا، رسول ، علی ، فاطمہ اور امام حسین(ع) کی اولاد میں سے ہونا،اسی طرح کنیت اور نام بھی اہل سنت اور شیعہ دونوں کے نزدیک  ایک جیسے ہیں. آپ کے ظہور کے بارے میں  ۶۵۷ احادیث  موجود ہیں صحیح بخاری اورصحیح مسلم  نے بھی ان احادیث کو صحیح السند مانے ہیں.

افتراقات: معصوم ہونا اور نہ ہونا، علم غیب  رکھنا اور نہ رکھنا، گیارہ اماموں کے بعد امام عسکری کی اولاد میں سے ہونا اور نہ ہونا، ولادت ہوچکی ہے اور بعد میں ہوگی، جبکہ شیعہ کے ہاں صحیح احادیث موجود ہیں ، جن میں سے ایک حدیث کو نمونے کے طور پر یہاں بیان کریں گے :

أَنَّ رَسُولَ الله ص أَوْصَی بِأَمْرِ الله تَعَالَی إِلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ع وَ أَوْصَی عَلِيُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ إِلَی الْحَسَنِ وَ أَوْصَی الْحَسَنُ إِلَی الْحُسَيْنِ وَ أَوْصَی الْحُسَيْنُ إِلَی عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَ أَوْصَی عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ إِلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَاقِرِ وَ أَوْصَی مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَاقِرُ إِلَی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ وَ أَوْصَی جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّادِقُ إِلَی مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ وَ أَوْصَی مُوسَی بْنُ جَعْفَرٍ إِلَی ابْنِهِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَی الرِّضَا وَ أَوْصَی عَلِيُّ بْنُ مُوسَی الرِّضَا إِلَی ابْنِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَ أَوْصَی مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَی ابْنِهِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ أَوْصَی عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ إِلَی ابْنِهِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَ أَوْصَی الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَی ابْنِهِ حُجَّةِ الله الْقَائِمِ بِالْحَقِّ الَّذِی لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ الله ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّی يَخْرُجَ فَيَمْلَأَهَا عَدْلًا وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْما .(1)

--------------

(1):-  الکافی    ج1،   باب السعادة و الشقاء ص 152.


اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول اکرم (ص) نے اپنے بھائی علی کو اپنا نانشین بنایا اور علی نے اپنے بیٹے حسن کو انہوں نے حسین کو یہاں تک کہ امام حسن العسکری نےامام  زمان  کو اپنا جانشین بنایا جو اس دنیا کو عدل و انصاف سے پر کریگا اگرچہ اس دنیا کی زندگی ایک دن سے زیادہ نہ بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا طول دیگا  یہاں تک کہ مھدی ظہور فرمائے گا  اور  اس دنیا کو عدل و انصاف سے اسی طرح پر کریگا جس طرح ظلم و جور سے پر ہوچکی ہے.

ٍ الاحتجاج علی اهل اللجاج ج‏1 69 ذکر تعیین الائمة الطاهرة بعد النبی ص و احتجاج الله تعالی بمکانهم علی کافة الخلق ص : 67

دَعَوْتُهُ وَ إِنْ رَجَعَ إِلَيَّ قَبِلْتُهُ وَ إِنْ قَرَعَ بَابِی فَتَحْتُهُ وَ مَنْ لَمْ يَشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِی أَوْ شَهِدَ بِذَلِكَ وَ لَمْ يَشْهَدْ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدِی وَ رَسُولِی أَوْ شَهِدَ بِذَلِكَ وَ لَمْ يَشْهَدْ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ خَلِیفَتِی أَوْ شَهِدَ بِذَلِكَ وَ لَمْ يَشْهَدْ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِهِ حُجَجِی فَقَدْ جَحَدَ نِعْمَتِی وَ صَغَّرَ عَظَمَتِی وَ كَفَرَ بِآيَاتِی وَ كُتُبِی إِنْ قَصَدَنِی حَجَبْتُهُ وَ إِنْ سَأَلَنِی حَرَمْتُهُ وَ إِنْ نَادَانِی لَمْ أَسْمَعْ نِدَاءَهُ وَ إِنْ دَعَانِی لَمْ أَسْتَجِبْ دُعَاءَهُ وَ إِنْ رَجَانِی خَيَّبْتُهُ وَ ذَلِكَ جَزَاؤُهُ مِنِّی وَ ما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیدِ فَقَامَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ الله الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ الله وَ مَنِ الْأَئِمَّةُ مِنْ وُلْدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ؟ فَقَالَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ زَيْنُ الْعَابِدِینَ فِی زَمَانِهِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ثُمَّ الْبَاقِرُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَ سَتُدْرِكُهُ يَا جَابِرُ فَإِذَا أَدْرَكْتَهُ فَأَقْرِئْهُ مِنِّی السَّلَامَ ثُمَّ الصَّادِقُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثُمَّ الْكَاظِمُ مُوسَی بْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ الرِّضَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَی ثُمَّ التَّقِيُّ الْجَوَادُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ثُمَّ النَّقِيُّ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ثُمَّ الزَّكِيُّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ثُمَّ ابْنُهُ الْقَائِمُ

بِالْحَقِّ مَهْدِيُ‏ أُمَّتِی مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ صَاحِبُ الزَّمَانِ صَلَوَاتُ الله عَلَيْهِمْ أَجْمَعِینَ الَّذِی يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً هَؤُلَاءِ يَا جَابِرُ خُلَفَائِی وَ أَوْصِيَائِی وَ أَوْلَادِی وَ عِتْرَتِی مَنْ أَطَاعَهُمْ فَقَدْ أَطَاعَنِی وَ مَنْ عَصَاهُمْ فَقَدْ عَصَانِی وَ مَنْ أَنْكَرَهُمْ أَوْ أَنْكَرَ وَاحِداً مِنْهُمْ فَقَدْ أَنْكَرَنِی بِهِمْ يُمْسِكُ الله عَزَّ وَ جَلَّ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَیالْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَ بِهِمْ يَحْفَظُ الل ه الْأَرْضَ أَنْ تَمِیدَ بِأَهْلِهَا


ای یودی از ذریت من در آخر الزمان مدی علی السّلام بیرون آید و بعد از خروج آن حضرت عیسی بن مریم از آسمان بحکم قادر سبحان بواسط نصرت و دریافت صحبت لازم المسرت آن خلاص خاندان طیبین و طارین بزمین آید و بجت تصدیق آن امام زمان در وقت ادای فرایض ایزد علام اقتدا بآن امام خاص و عام نماید و نماز دوگان در عقب آن یگان گور ولایت و نبوت بجای آرد و مزید درج ثواب و عزت آن حضرت علی السّلام گردد.

بدانید کہ جمیع ائمة الہدی از من و از علیاند و بدانید کہ این جماعتاند کہ تا قیام قیامت امامت و ولایت آنہا مستقر و ثابت است و مہدی از این طایفہ در آخر زمان خلیفہ ایزد منان است کہ حکم و عدل نماید و نہی از جور و ستم فرماید.

 احتجاج-ترجمہ غفاری مازندرانی ج1 245 ذکر بیان معنی قاسطین و مارقین و ناکثین ص : 229

احتجاج-ترجمہ غفاری مازندرانی ج1 169 فضیلت حضرت پیغمبر بر حضرت موسی بن عمران ص : 167

صد و شصت و پنجم: و نیز در ہمان کتاب از سعید بن مسیّب از سعد بن مالک حدیث کند کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ بہ علی علیہ السّلام فرمود: یا علی! مقام و منزلت تو نسبت بہ من منزلت ہارون از موسی است جز اینکہ بعد از من پیغمبری نیست، قرض مرا ادا میکنی؛ و بہ وعدہہای من وفا کنی؛ و پس از من بر تاویل (قرآن) جنگ کنی چنانچہ من بر تنزیل آن جنگ کردم، یا علی دوستی تو (نشانہ) ایمان و دشمنیات (علامت) نفاق است، و خداوند لطیف و خبیر مرا آگاہ فرمودہ کہ از صلب حسین نہ تن امامان معصوم و پاکیزہ بیرون آورد، و از ایشان است مہدی این امّت کہ در

الانصاف فی النص علی الائمة ع با ترجمہ رسولی محلاتی ترجمہفارسی 241 حرف سین ص : 231

از آن جملہ خبری است کہ در احتجاج نقل شدہ از کافری کہ مدعی تناقض قرآن بود امیر المؤمنین ذکر دلائل و کنایاتی کہ در بارہ آنہا در قرآن نازل شدہ مینماید میفرماید: ہم بَقِیَّتُ اللہ یعنی مہدی کہ میآید پس از انقضاء مہلت زمین را پر از عدل و داد میکند چنانچہ پر از جور شدہ و از آن جملہ خبری است کہ


بخش امامت-ترجمہ جلد ہفتم بحار الانوار ج2 180 بخش پنجاہ و ششم آئمہ علیہم السلام حزب اللہ و بقیة اللہ و کعبہ و قبلہ و افشاندن علم ہمان علم اوصیاء است ص : 180

از آن جملہ خبری است کہ در احتجاج نقل شدہ از کافری کہ مدعی تناقض قرآن بود امیر المؤمنین ذکر دلائل و کنایاتی کہ در بارہ آنہا در قرآن نازل شدہ مینماید میفرماید: ہم بَقِیَّتُ اللہ یعنی مہدی کہ میآید پس از انقضاء مہلت زمین را پر از عدل و داد میکند چنانچہ پر از جور شدہ و از آن جملہ خبری است کہ

مامون گفت: یا ابا الحسن نظر شما در بارہ رجعت چیست فرمود: رجعت یک واقعیت است در امتہای قبل نیز بودہ و قرآن شاہد آن است با اینکہ پیغمبر اکرم نیز فرمودہ ہر چہ در امتہای پیشین اتفاق افتادہ در این امّت نیز ہست کاملا برابر و بدون ذرہای پس و پیش و فرمودہ است وقتی مہدی از فرزندانم ظہور کند عیسی بن مریم فرود میآید و پشت سر او نماز میخواند و فرمودہ است اسلام غریب آغاز شد و در آیندہ نیز بحالت غربت خواہد رسید ای خوشا بحال

مامون گفت: یا ابا الحسن نظر شما در بارہ رجعت چیست فرمود: رجعت یک واقعیت است در امتہای قبل نیز بودہ و قرآن شاہد آن است با اینکہ پیغمبر اکرم نیز فرمودہ ہر چہ در امتہای پیشین اتفاق افتادہ در این امت نیز ہست کاملا برابر و بدون ذرہای پس و پیش و فرمودہ است وقتی مہدی از فرزندانم ظہور کند عیسی بن مریم فرود میآید و پشت سر او نماز میخواند و فرمودہ است اسلام غریب آغاز شد و در آیندہ نیز بحالت غربت خواہد رسید ای خوشا بحال


اشکال : امام غائب کا کیا فائدہ ؟

 امام کو منصوب کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو دین اور آخرت کی تعلیمات دیں اور  رہنمائی کریں ، اوریہ اس وقت ممکن ہے کہ امام لوگوں کے درمیان موجود ہو.اگر ظاہر ہی نہ ہو تو اسے کیسے قائد مانا جائے ؟!!

جواب:

1.  دوران غیبت میں اگر ہم فائدہ امام کو درک نہیں کرسکتے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ امام غائب بے فائدہ ہے

2.  غیبت کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ  ہمارے امور میں کو ئی بھی تصرف نہیں کرسکتا، بلکہ یہ ممکن ہے کہ غائب رہ کر بھی امّت کے امور میں تصرف کرے.

3.  یہ بھی معلوم ہے کہ سارے لوگوں کا امام تک رسائی ممکن نہیں ہے،لیکن بعض خاص افراد کو اپنا جانشین بنا کر لوگوں کے مسائل ان کے ذریعے حل کراتے ہیں ، انہی افراد کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے مجتہدین تک  آتا ہے

4.  امام غائب کی حکومت  بھی انہی نائبین کے ذریعے  ممکن ہے ، اور خود امام کے حاظر ہونے کی ضرورت بھی نہیں ہے .

فلسفہ غیبت امام زمان کیا ہے ؟

1.  جانی حفاظت کی خاطر غیبت کو چلے گئے ، کیونکہ اگر طبیعی طور پر زندگی کرتے تو مختصر سال زندگی کرنے کے بعد اس دنیا سے رحلت کرجاتے جبکہ رسول خدا(ص) نے فرمایا تھا کہ میرے بعد بارہ خلیفہ ہونگے اور وہ بھی سب قریشی دوسری طرف قیامت تک کیلئے یہ بارہ  جانشین سے  ہی  کو زندہ رکھنا تھا.

2.  لوگوں کا امتحان لینا مقصود تھا .

3.  اسرار الٰہی میں سے  ایک سرّ الٰہی تھا.

4.  یارا ن اوردوستوں کی کمی تھی.

5.  انبیاء الٰہی کی سنت  کا اجراء کرنا تھا.


اشکال: اتنی طولانی عمر کیسے ممکن ہے؟

جواب: اس کیلئے عقلی اور نقلی توجیہات موجود ہیں:

عقلی توجیہ: عقلاً  عمرطولانی ناممکن نہیں ہے .اگر ناممکن ہوتا تو شروع سے ہی نہ ہوتا

نقلی توجیہ:جبکہ قرآن کریم میں ایسے کئی نمونے بیان  ہوئے ہیں: جیسے حضرت نوح (ع)نے دو ہزار سال عمر کی ، اصحاب کہف نے تین سو دس سال زندگی کی ، حضرت عزیر (ع)نے ایک سوپچاس سال زندگی کی، حضرت یونس(ع):وَ ذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغاضِباً فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنادی‏ فِی الظُّلُماتِ أَنْ لا إِلهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحانَكَ إِنِّی كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ (1) کہ یہ حضرات غیر طبیعی طور پر زندگی کرچکے ہیں. یہ جواب نقضی ہے  لیکن جواب حلّی یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے یا نہیں: بالکل ہے ان اللہ علی کل شیئ قدیر. پس اللہ  تعالیٰ اپنے اہداف کے  حصول کی خاطر کسی کو زیادہ عرصے تک زندہ رکھتا ہے .اور اس میں کوئی اشکال بھی نہیں ہے .

بیالوجی اور تجرباتی توجیہ:  بھی ثابت کرچکا ہے کہ موت کسی نہ کسی بیماری  یا  حادثہ کے عارض ہونے پر واقع ہوتی ہے ، اگر یہ چیزیں نہ ہوتو عمر طولانی ہوسکتی ہے اسی لئے اگر کسی کی موت پر اسرار طریقے سے واقع ہوئی ہو تو اس ڈیڈ باڈی کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہےتاکہ معلوم ہوجا ئے کہ موت کیسے واقع ہوئی ہے ؟

اشکال : غیبت امام قاعدہ لطف کے منافی

یعنی قاعدہ لطف یہ بتاتا کہ اللہ تعالیٰ پر فرض تھا کہ انسان کی ہدایت کیلئے نبی کے بعد بھی رہبر اور امام کا بندوبست کرے ؛ لیکن آخری امام کو پردہ غیبت میں رکھ کر اپنے لطف و کرم سے لوگوں کو محروم کردیا.

جواب: امام کے غیبت میں جانے کا اصل عامل خدا نہیں بلکہ ہم انسان ہیں کہ لوگوں پر اس امام کی تبعیت اور پیروی واجب تھی لیکن نہیں کی.

--------------

(1):- .  الانبیاء ۸۷.


دوسری بات یہ ہے کہ غیبت میں جانا کالعدم تو نہیں ہے بلکہ غیبت میں رہنے امام کے بعض فیوضات سے ہم محروم ہوجاتے ہیں ، جیسے امام کی بدون واسطہ حکومت،اور مستقیم احکام الہی کا بیان  اور معارف دین کو خود امام کی زبانی سننے سے محروم ہوگئے ہیں لیکن دیگر فوائد ، جیسے باطنی اور روحانی فوائد سے مستفید ہوسکتے ہیں اسی طرح مسلمانوں  کی امداد اور واسطہ فیض الہی حالت غیبت میں بھی ممکن ہے ناممکن نہیں.علامہ حلی کلام خواجہ نصیر الدین کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : لطف الہی کی تکمیل اور اتمام کیلئے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے:

1.  اللہ تعالیٰ انجام دے دے کہ ۲۵۵ ؁ میں اللہ تعالیٰ نے امام حسن عسکری کو یہ نور مھدی موعود کی شکل میں عطا کیا.

2.  امام قبول کرے کہ امام نے بھی قبول کیا

3.  امّت ان کی تبعیت کرے ، کہ انہوں نے ان کی تبعیت کرنے سے روگردانی کئے.

مہدویت کے موضوع پر اہم کتابیں:

مجلہ انتظار، درسنامہ مھدویت خدامرادی، نگین آفرینش، امامت و فلسفہ خلقت جمکران، آخرین امید، داود الہامی، مھدی موجود جوادی آملی، مکارم شیرازی،

رجعت سے کیا مراد ہے اور کیا یہ ممکن ہے؟

جواب: رجعت سے مراد امام زمان ع کے دور میں مؤمنین اور کفار کے ایک ایک گروہ کا دوبارہ زندہ ہونا ہے اور یہ ناممکن نہیں ہے ، کیونکہ اس کی بہت ساری مثال تاریخ میں ملتی ہے جن میں سے بعض کا ذکر کروں گا:


1.  قوم موسیٰ میں سے ۷۰ افراد کا رجعت کرنا.

2.  مرنے کے بعد ہزاروں لوگوں کی رجعت :(أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ (1) .). ترجمہ

3. او کالذی مر علی قریة .(2) جو سو سال کے بعد زندہ ہوا تھا ، یہ واقعہ حضرت عزیز اور عزیر کا واقعہ ہے.

4.  سام بن نوح کی دنیا میں رجعت.

5.  فرزندان حضرت ایوب کی رجعت(3)

اسلام میں بھی رجعت کے کئی نمونے موجود ہیں : جیسا کہ اہل سنت کے علماء میں سے  ابن ابی الدنیا (متوفی۲۰۸) نے اس سلسلے میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام:من عاش بعد الموت رکھا ہے جسے عربستان میں چھاپی گئی .جس میں کئی نمونے پیش کئے ہیں، جیسے:

1 رجعت زیدبن خارجہ.

2- رجعت جوانی از انصار.

3- رجعت مردی از مقتولین مسیلمہ.

4- رجعت ابن خراش.

5- رجعت یکی از بستگان- دایی- ابن ضحاک.

6- رجعت رؤبہ دختر بیجان.

7- رجعت شخصی از بنیجُہینہ(4)

--------------

(1):-  بقرہ: 243.

(2):- بقرہ: 259.

(3):- الدرّ المنثور، ج 5، ص 316؛ جامع البیان، ج 16، ص 42؛ تفسیر نیشابوری، ص 44؛ الشیعہ و الرجعہ، ج 2، ص 154 .

(4):- ترمذی، ج 5، ص 26.


نویں فصل : مشروعیت متعہ

قرآن میں متعہ  کا حکم

وَ الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ  كِتَابَ الل ه عَلَيْكُمْ  وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَالِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم محُّْصِنِینَ غَیرَْ مُسَافِحِینَ  فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنهُْنَّ فََاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِیضَةً  وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِیمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِیضَةِ  إِنَّ الل ه کاَنَ عَلِیمًا حَكِیمًا. (1)

 اورتم پر حرام ہیں شادی شدہ عورتیں- علاوہ ان کے جو تمہاری کنیزیں بن جائیں- یہ خدا کا کھلا ہوا قانون ہے اور ان سب عورتوں کے علاوہ تمہارے لئے حلال ہے کہ اپنے اموال کے ذریعہ عورتوں سے رشتہ پیدا کرو عفت و پاک دامنی کے ساتھ سفاح و زنا کے ساتھ نہیں پس جو بھی ان عورتوں سے تمتع کرے ان کی اجرت انہیں بطور فریضہ دے دے اور فریضہ کے بعد آپس میں رضا مندی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے بیشک اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے.

اس آیہ شریفہ  کی توضیح:

میں درمیانی جملہ(فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِیضَةً) ازدواج موقت کی طرف اشارہ  ہے جسے اصطلاح میں "متعہ" کہتے ہیں. فرماتے ہیں کہ جن عورتوں سے متعہ کرتے ہو ان کا مہریہ واجب الادا کی نیت سے دیا کرو .اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ازدواج موقت کی اصل تشریع اس آیہ شریفہ کی نزول سے پہلے لوگوں کوپتہ تھا اسی لئے ان کو ان کا مہریہ دینے کا حکم دیا جا رہا ہے .اور چونکہ یہ بحث ایک فقہی اور اجتماعی بحث ہے لذا اس پردرج ذیل جہات سے  تفصیلی بحث کرنا ضروری ہے :

--------------

(1):-  النساء ۲۴.


کیا آیۃ میں قرینے موجود ہیں جو ازدواج موقت "متعہ" پر دلالت کرتے ہیں ؟

جواب: استمتعتم کلمہ متعہ سے مشتق ہے اسلام میں اس کا معنی ازدواج موقت ہے اور یہ اصطلاح اس بارے میں حقیقت شرعیہ بن چکی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) اور اصحاب کی روایات میں بھی اسی معنی میں لیاہے.(1)

الف:اگر یہ کلمہ اس معنی میں استعمال نہ ہو تو اس کی لغوی معنی (لذت اٹھانا)میں ضرور استعمال کرنا چاہئے ایسی صورت میں اس کی تفسیر یہ ہوگی : اگر نکاح دائم والی عورت سے لذت حاصل کرے تو اس کا مہریہ اسے ادا کرو. جبکہ معلوم ہے کہ ان کا مہریہ ادا کرنا ،لذت اٹھانے ہر موقوف نہیں ہے بلکہ مشہور یہ ہے کہ اس کاسارا مہریہ یا حد اقل آدھا مہریہ نکاح پڑھتے ہی دینا واجب ہوجاتا ہے

ب: اصحاب اور تابعین میں سے ابن عباس جیسے دانشور اور مفسّر ، ابی بن کعب ، جابر بن عبداللہ، عمران بن حسین و سعید بن جبیر ، و مجاھد و قتادہ و سدی اور اہل سنت اور اہل تشیع کے بڑے بڑے مفسّرین نے درج بالا آیت کی تفسیر متعہ کو لیا ہے یہاں تک کہ فخر رازی جو ہر وقت شیعوں سے مربوط مسائل پر اشکالات کرتے رہتے ہیں ، کہتے ہیں کہ اوپر والی آیۃ متعہ کے جواز پر دلالت کرتی ہے.

ج: آئمہ اطھار (ع)جو سب سے بہتر اسرار وحی سے باخبر ہیں تمام کا اتفاق ہے کہ آیہ کی اسی طرح تفسیر کی ہیں امام صادق (ع)فرماتے ہیں : المتعة نزل بها القرآن و جرت بها السنة من رسول الله‏(ص) .یعنی متعہ کا حکم قرآن نے دیا ہے اور اس کے مطابق رسول اللہ(ص) نے عمل بھی کیا ہے(2)

--------------

(1):- تفسیر نمونہ، ج3، ص: 336.

(2):- نور الثقلین جلد اول صفحہ 467 و تفسیر برہان صفحہ 360 جلد اول.


عَنْ أَبِی بَصِیرٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع عَنِ الْمُتْعَةِ فَقَالَ نَزَلَتْ فِی الْقُرْآنِ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِیضَةً وَ لا جُناحَ عَلَيْكُمْ فِیما تَراضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِیضَةِ (1)

ابی بصیر سے روایت ہے کہ میں نے امام باقر (ع)سے متعہ کے بارے میں سوال کیاتو فرمایا: اس بارے میں قرآن کا حکم ہے ؛ اور اوپر والی آیۃ کی تلاوت فرمائی یعنی قرآن نے حکم دیا اور رسول اکرم (ص) نے اس پر عمل کیا.(2) امام باقر(ع) نے عبداللہ بن عمیر لیثی کے سوال کے جواب میں فرمایا:احلها الله فی کتابه و علی لسان نبیه فهی حلال الی یوم القیامة. خدا تعالیٰ نھے اسے قرآن میں اور پیغمبر (ص)کی زبانی حلال قرار دیا ہے جو قیامت تک کیلئے حلال ہوگا(3)

کیا یہ آیة منسوخ نہیں ہوئی ہے؟

کیا متعہ پیغمبر(ص) کے زمانے میں تھا ، ایسی صور ت میں کیا بعد میں نسخ نہیں ہوا ہے؟

جواب:علماے اسلام کا اتفاق ہے کہ متعہ آغاز اسلام میں مشروع تھا ، چنانچہ آیت سے ثابت ہوا کہ یہ مسلمات میں سے ہے رسول اللہ(ص) بھی متعہ کیا کرتے تھے اور آپ کے اصحاب بھی ؛حتی حضرت عمر کے اس جملے سے تو اور بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر(ص) کے زمانے میں موجود تھا؛ متعتان کانتا علی عہد رسول اللہ و انا محرمہما و معاقب علیہما متعة النساء و متعة الحج.(4)

أَحَلَّ الله الْمُتْعَةَ مِنَ النِّسَاءِ فِی كِتَابِهِ وَ الْمُتْعَةَ فِی الْحَجِّ أَحَلَّهُمَا ثُمَّ لَمْ يُحَرِّمْهُمَا فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَنْ يَتَمَتَّعَ مِنَمد الْمَرْأَةِ فَعَلَی كِتَابِ الله وَ سُنَنِهِ نِكَاحٍ غَيْرِ سِفَاحٍ تَرَاضَيَا عَلَی مَا أَحَبَّا مِنَ الْأَجْرِ وَ الْأَجَلِ كَمَا قَالَ الله فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِیضَةً وَ لا جُناحَ عَلَيْكُمْ فِیما تَراضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِیضَةِ إِنْ هُمَا أَحَبَّا أَنْ يَمُدَّا فِی الْأَجَلِ عَلَی ذَلِكَ الْأَجْرِ فَآخِرَ يَوْمٍ مِن(5)

--------------

(1):- الکافی، ج5، ابواب المتعة، ص : 448.

(2):- از ہمان مدرک، تفسیر نمونہ، ج3، ص: 337.

(3):- تفسیر برہان ذیل آیہ .

(4):- کنز العرفان ،ج۲، ص158- تفسیر قرطبی و طبری، سنن کبرای بیہقی،ج ۷ ، کتاب نکاح.

(5):- بحار الانوار ,ج46 مناظراتہ ع مع المخالفین ,ص : 347.


اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حج تمتع اور متعة النساء کوحلال اور جائز قرار دیا ہے اور اسے حرام قرار نہیں دیا ہے اگر کوئی مسلمان عورت کے ساتھ متعہ کرنے تو اس نے کتاب الٰہی  اور سنت نبی پر عمل کیا  ہے اگر مرد اورعورت جتنی اجرت اور مدت پر راضی ہوجائے تو یہ زنا نہیں ہے بلکہ یہ نکاح ہے ، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے پس جو بھی ان عورتوں سے تمتع کرے ان کی اجرت انہیں بطور فریضہ دے دے اور فریضہ کے بعد آپس میں رضا مندی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے بیشک اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے، اگر یہ دونوں راضی ہوجائے تو اس مدت میں اضافہ کرسکتے ہیں...

أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فِی مُسْنَدِهِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ فِی مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَ اللَّفْظُ لَهُ قَالَ أُنْزِلَتِ الْمُتْعَةُ فِی كِتَابِ الله وَ عَلِمْنَاهَا وَ فَعَلْنَاهَا مَعَ النَّبِيِّ ص وَ لَمْ يَنْزِلْ قُرْآنٌ بِتَحْرِیمِهَا وَ لَمْ يُنْهَ عَنْهَا حَتَّی مَاتَ رَسُولُ الله (ص)‏ (1)

احمد بن حنبل نے اپنی کتاب میں عمران بن حصین سے متعۃ النساء اور اس کے الفاظ کے بارے میں روایت کرتے ہوئے  کہا: متعہ کا حکم قرآن میں آیا ہے اور ہم اسے جانتے بھی ہیں اس پررسول اللہ(ص) کی موجودگی میں عمل بھی کئے ہیں. اور قرآن میں کوئی آیۃ بھی نہیں اتری ہے جو اسے حرام قرار دیتی ہو اور اس سےمنع بھی نہیں کیا گیا ؛ یہاں تک کہ رسول خدا (ص) اس دار فانی سے رخصت کرگئے.اسی روایت کے ذیل میں نقل کیاہے:عبد المحمود بن داود نے کہا دیکھئے کہ صحاح ستہ کی واضح احادیث جو نکاح متعہ کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہیں کہ ان سب کا یہاں ذکر کرنے کی گنجائش نہیں اس لئے فقط یہ دیکھیں کہ ان کے خلیفہ عمر نے نبی کی شریعت میں تبدیلی لائی ہے پھر یہ دیکھیں کہ ان کے ماننے والے بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے اسے ممنوع سمجھتے ہیں پس کیا یہ جائز ہے کہ انبیاء کی شریعت میں ان کے اصحاب اور نمائندے تبدیلی لائیں یااپنے لئے ایک جدید حکم منتخب کرے جو سنت رسول کے خلاف ہو؛ توکیا یہ لوگ اس آیہ شریفہ کا مصداق نہیں ہونگے؟!!

--------------

(1):-  الطرائف فی معرفة مذاہب الطوائف،ج2459،نہی عمر عن المتعة، ص 457.


وَ مَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ الل ه فَأُولئِكَ هُمُ الْکافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ هُمُ الْفاسِقُونَ. اور اس سے بھی بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ اکثر مسلمان بھی عمر کی اب تک پیروی کرتے ہوئے اسے حرام سمجھتےہیں :         

اور جونسخ کے قائل ہوئے ہیں اور روایا ت لے کر آئے ہیں خود سرگردان اور پریشان ہیں بعض روایتیں کہتی ہیں کہ خود پیغمبر(ص) کے زمانے میں منسوخ ہوچکی ہے بعض روایتیں کہتی ہیں اس آیت کا نسخ کرنے والی طلاق کی آیت ہے :یا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذا طَلَّقْتُمُ النِّساءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ أَحْصُوا الْعِدَّةَ وَ اتَّقُوا الل ه رَبَّكُم‏ (1) اے پیغمبر ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں عدت کے حساب سے طلاق دو اور پھر عدت کا حساب رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ تمہارا پروردگار ہے جبکہ یہ آیۃ مورد بحث سے کوئی ربط نہیں ہے .کیونکہ یہ آیہ طلاق کے بارے میں بحث کرتی ہے جب کہ متعہ میں کوئی طلاق موجود نہیں ہے .مختصر اب تک کوئی ایسی ٹھوس دلیل جو قابل اعتماد ہو اس آیہ اور حکم کے نسخ پر موجود نہیں ہے

اور یہ بھی روشن ہے کہ رسول اللہ(ص) کے بعد کسی کو بھی حق نہیں کہ وہ کسی بھی حکم شریعت کو نسخ کرے یعنی باب نسخ آپ (ص) پر مسدود ہوجاتا ہے .ورنہ ہر کوئی اپنی ذاتی اجتھاد کے ذریعے احکامات میں ردو بدل کر سکتےتھے پھر تو کوئی شریعت جاودانی باقی نہیں رہ سکتی .اور جو بھی اجتہاد قول پیغمبر (ص)  کے مقابلے میں ہو وہ اجتھاد بالرای ہے جس کی شریعت میں کوئی اہمیت نہیں ہے .

مزے کی بات یہ ہے کہ صحیح ترمذی جو اہل سنت کے معروف صحاح ستہ میں سے ہے اور اسی طرح   دارقطنی میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ کسی شامی نے عبداللہ بن عمر سے اس بارے میں سوال کیا تو اس نے صراحت کے ساتھ بتا دیا کہ متعہ حلال اور نیک کام ہے .  قصہ یوں ہے :

--------------

(1):-  طلاق ۱.


 ایک مرد شامی نے عبداللہ بن عمر سے متعہ حج کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا حلال ہے. تو مرد شامی نے کہا : آپ کے والد نے تو اسے حرام قرار دیا ہے عبداللہ نےے کہا : میرے بابا نے مع کیا ہے اور رسول خدا (ص) نے اس پر عمل کیا ہے. اب تو خود بتا کہ میں کیا کروں ؟ میرے بابا کے روکنے کو عملی کروں یا سنت پیغمبر (ص) کو اپناؤں ؟! اور میں پیغمبر (ص) کی سنت کو اپناؤں گا دور ہوجا یہاں سے(1) راغب اصفہانی اپنی کتاب "محاضرات" میں لکھتا ہے : ایک مسلمان نے متعہ کرنا چاہا تو اس سے لوگوں نے سوال کیا کہ اس کا جائز اور حلال ہونے کو کہاں سے ثابت کیا ؟ تو اس نے جواب دیا : حضرت عمر سے لوگوں نے تعجب کے ساتھ کہا : یہ کیسے ممکن ہے انہوں نے تو اس سے منع کرتے ہوئے اس کے مرتکب ہونے والوں کو مجازات اور سزا کی دھمکی بھی دی ہے اس نے کہا : بہت اچھا ؛ میں بھی اسی لئے کہتا ہوں کیونکہ عمر نے کہا: پیغمبر(ص)نے اسے حلال کیا تھا  میں اسے حرام قرار دیتا ہوں تو میں اس کی مشروعیت کو پیغمبر (ص)قبول کرتا ہوں اور اس کی تحریم کو کسی سے بھی قبول نہیں کروں گا .(2) ایک اور اہم مطلب کہ جس کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں یہ ہے کہ سب سے پہلے اہل سنت کے منابع میں متعدد روایات میں تصریح کی ہے کہ یہ حکم پیغمبر کے زمانے  میں موستخ نہیں ہوا ہے بلکہ عمر کے زمانے میں اس سے روکا گیا ہے لہذا جو حضرات نسخ کے قائل ہیں ، ان کو چاہئے کہ ان روایات کا جواب تلاش کریں ،جن کی تعداد علامہ امینی نے الغدیر،ج۶ میں ۲۴ روایات ذکر کئے ہیں ، ان میں سے  ایک دو روایات کو بطور نمونہ بیان کریں گے :

۱.صحیح مسلم: رسول اللہ(ص)، ابوبکر اور عمر کی حکومت کے ابتدائی دور میں متعہ حج اور متعہ نساء کیا کرتے تھے ، جسے عمر نے منع کیا:جابر بن عبد الله یقول کنا نستمتع بالقبضة من التمر والدقیق الایام علی عهد رسول الله وابی بکر حتی نهی عنه عمر فی شآن عمر و بن حریث . عمر نے کہا: نکاح موقت سے اجتناب کریں میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں لایا جائے گا جو نکاح موقت کرے مگر اسے میں سنگسار کروں گا.(3)

--------------

(1):- سنن ترمزی،ح ۴۲۸.

(2):- کنز العرفان، ج ۲، ص 159.

(3):- باب نکاح المتعہ،ح1405، ح121 7.


۲. ابن رشد اندلسی کتاب بدایة المجتہد میں لکھتا ہے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری نے کہا: پیغمبر(ص)کے زمانےسے لیکر ابوبکر اور خود عمر کے دور خلافت کے نصف مدت تک ہم متعہ کیا کرتے تھے ، جسے عمر نے ممنوع قرار دیا(1)

۳. کتاب" موطا" مالک و" سنن کبرا" بیہقی نے عروة بن زبیرسے نقل کیا ہے کہ:خولہ بنت حکیم نامی عورت نے عمر کے پاس آکر خبر دی کہ ایک مسلمان خاتون بنام ربیعہ بنت امیہ نے متعہ کیا ہے ؛ تو اس نے کہا: اگر پہلے سے اس کام سے نہی کی گئی ہوتی تو  آج اسے سنگسار کرتا، لیکن اب کے بعد میں اس سے روکتا ہوں(2) ان کی ایک اور مشکل یہ ہے کہ جوروایت پیغمبر (ص)کے زمانے میں نسخ ہونے پر حکایت کرتی ہیں ؛ خود ایک دوسرے کے نقیض ہیں. کچھ کہتی ہیں جنگ خیبر میں نسخ ہوئی ہے کچھ فتح مکہ کے دن ، کچھ جنگ تبوک میں ، کچھ کہتی ہیں جنگ اوطاس میں نسخ ہوئی ہے لہذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری روایتیں جعلی ہیں. صاحب المنار لکھتا ہے کہ میں نے کہ میں نے اس کتاب کی تیسری اور چوتھی جلد میں تصریح کی ساتھ بیان کیا تھا کہ متعہ عمر کے زمانے میں ممنوع قرار دیا ہے ؛ لیکن بعد میں کچھ رواتیں ملی ہیں کہ جو دلالت کرتی ہیں کہ یہ خود پیغمبر(ص) کے زمانے میں منسوخ ہوچکی تھی اس لئے میں استغفار کرتا ہوں(3) یہ بہت ہی تعصب آمیز والی بات ہے کیونکہ ان ضد و نقیض والی روایات کے مقابلے میں صریح روایتیں ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ عمر کے زمانے میں منسوخ ہوا ہے نہ پیغمبر اکرم (ص)کے زمانے میں ؛ پس نہ عذر خواہی کی ضرورت ہے اور نہ استغفار کی درج بالادلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پہلی بات حقیقت پر مبنی تھی نہ دوسری بات اور یہ بھی معلوم ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) کی رحلت کے بعد نہ عمر کو اور نہ اہلبیت کو جوآپ کے حقیقی جانشین ہیں اختیار حاصل ہے کہ زمان پیغمبر کے احکامات کو منسوخ کرے کوقنکہ آپ کے بعد وحی کا دروازہ بند ہوچکا ہو. بعض نے عمر کے اس حکم کو اجتہاد پر حمل کیا ہے ؛ یہ خود قابل تعجب بات ہے کیونکہ نص کے مقابلے میں اجتہاد اسلام کی نگاہ میں بہت بڑا جرم ہے

--------------

(1):- بدایة المجتہد کتاب النکاح.

(2):- الغدیر ، ج۶، ص 210.

(3):- تفسیر المنار جلد پنجم صفحہ 16.


اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ فقھای اہل سنت کے ایک گروہ نے احکام ازدواج سےمربوط آیت  کو متعہ والی آیت کا ناسخ قرار دیا ہے،گویا انہوں نے ازدواج موقت کو اصلا ازدواج نہیں سمجھے ہیں جبکہ یہ مسلماً ازدواج کی دوسری قسم ہے .

اس قسم کی شادی ، اجتماعی ضرورت ہے ازدواج موقت ایک اجتماعی ضرورت ہے یہ ایک قانون کلی اور عمومی ہے کہ اگر انسانکے طبیعی غریزے کو صحیح اور جائز طریقے سے پورا نہ کرے تو وہ انحرافی اور ناجائز راہوں کی تلاش کرنے لگتا ہے ، کیوں کہ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ طبیعی غریزے کو ختم نہیں کرسکتے اگر بالفرض کوئی اسے ختم کرے تو یہ عاقلانہ کام نہیں ہوگا، کیونکہ یہ طبیعی قانون کے ساتھ جنگ تصور کیا جائے گا. پس صحیح اور معقول زرائع  سے اس تشنگی کا سیراب کرنا اور زندگی کو دوام دینا ہی عاقلانہ کام ہوگا .

اور یہ بھی ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جنسی غریزہ انسان کے دیگر تمام غریزے سے قوی تر ہے یہاں تک کہ اسے بعض روان شناس اس جنسی غریزہ کو انسان کی اصلی ترین غریزہ جانتے ہیں

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان کیلئے خاص عمر میں دائمی شادی کرنے کے شرائط اور مواقع فراہم نہیں ہوتا، یا شادی شدہ افراد اہل وعیال سے دور و دراز علاقوں اور ملکوں میں نوکری یا تجارت کی خاطر سفر کرنا پڑتا ہے اور اس غریزے کی پیاس بجھانا بھی ضروری ہوتا ہے تو ایسی صورت میں کیا کرے ؟! کیا اس غریزہ کو سرکوب کرکے رہبانیت کی طرف ترغیب دلائے جائیں، یا ناجائز اور غیرشرعی راہوں کو اپنائیں ، یا تیسرا راستہ جو قرآن وسنت کے مطابق بھی ہے اور کم خرج بھی ہے اور آسانی سے کربھی سکتے ہیں ؛ اپنائیں؟! یقیناً یہ راستہ معقول ترین راستہ ہوگا(1)

--------------

(1):- تفسیر نمونہ، ج 3، ص: 343


روایات

پہلی روایت:سَأَلَ أَبُو حَنِیفَةَ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ النُّعْمَانِ صَاحِبَ الطَّاقِ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا جَعْفَرٍ مَا تَقُولُ فِی الْمُتْعَةِ أَ تَزْعُمُ أَنَّهَا حَلَالٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْمُرَ نِسَاءَكَ أَنْ يُسْتَمْتَعْنَ وَ يَكْتَسِبْنَ عَلَيْكَ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَعْفَرٍ لَيْسَ كُلُّ الصِّنَاعَاتِ يُرْغَبُ فِیهَا وَ إِنْ كَانَتْ حَلَالًا وَ لِلنَّاسِ أَقْدَارٌ وَ مَرَاتِبُ يَرْفَعُونَ أَقْدَارَهُمْ وَ لَكِنْ مَا تَقُولُ يَا أَبَا حَنِیفَةَ فِی النَّبِیذِ أَ تَزْعُمُ أَنَّهُ حَلَالٌ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُقْعِدَ نِسَاءَكَ فِی الْحَوَانِیتِ نَبَّاذَاتٍ فَيَكْتَسِبْنَ عَلَيْكَ.

  ابو حنیفہ نے محمد بن نعمان صاحب طاق ابو جعفر(ع) سے سوال کیا : اے اباجعفر متعہ کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے ؟ تو اس نے کہا : حلال ہے تو ابو حنیفہ نے کہا: پھر کیوں اپنی خواتین کو متعہ کرنے نہیں دیتے تاکہ اس سے منفعت کسب کرسکیں؟! تو ابوجعفر (ع)نے کہا ہر جائز چیز کی طرف رغبت کرنا ضروری نہیں ہے اے ابوحنیفہ نبیذ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا : حلال ہے تو ابو جعفر نےکہا : اپنی خواتین کو ہوٹلوں میں نبیذ پلانے کیلئے کیوں نہیں جانے دیتے تاکہ اس کے ذریعے پیسہ کمائے؟

دوسری روایت:فَقَالَ أَبُو حَنِیفَةَ وَاحِدَةٌ بِوَاحِدَةٍ ...ثُمَّ قَالَ لَهُ يَا أَبَا جَعْفَرٍ إِنَّ الْآيَةَ الَّتِی فِی سَأَلَ سَائِلٌ تَنْطِقُ بِتَحْرِیمِ الْمُتْعَةِ وَ الرِّوَايَةَ عَنِ النَّبِيِّ ص قَدْ جَاءَتْ بِنَسْخِهَا فَقَالَ لَهُ أَبُو جَعْفَرٍ يَا أَبَا حَنِیفَةَ إِنَّ سُورَةَ سَأَلَ سَائِلٌ مَكِّيَّةٌ وَ آيَةُ الْمُتْعَةِ مَدَنِيَّةٌ وَ رِوَايَتَكَ شَاذَّةٌ رَدِيَّةٌ فَقَالَ لَهُ أَبُو حَنِیفَةَ وَ آيَةُ الْمِیرَاثِ أَيْضاً تَنْطِقُ بِنَسْخِ الْمُتْعَةِ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ قَدْ ثَبَتَ النِّكَاحُ بِغَيْرِ مِیرَاثٍ قَالَ أَبُو حَنِیفَةَ مِنْ أَيْنَ قُلْتَ ذَاكَ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ لَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ تُوُفِّيَ عَنْهَا مَا تَقُولُ فِیهَا قَالَ لَا تَرِثُ مِنْهُ قَالَ فَقَدْ ثَبَتَ النِّكَاحُ بِغَيْرِ مِیرَاثٍ ثُمَّ افْتَرَقَا (1)

--------------

(1):-  الکافی ، ج5 ، ابواب المتعة ، ص : 448.


ابو حنیفہ نے کہا ایک کے بدلے ایک... پھر اس نے کہا اے ابوجعفر آیة سئل سائل بتاتی ہے کہ متعہ کرنا حرام ہے اور پیغمبر اکرم (ص)سے بھی روایت ہے کہ یہ آیہ ناسخ ہے. تو ابوجعفر نے کہا اے ابوحنیفہ سال سائل والی آیة مکی ہے اور آیة متعہ مدنی .پس تیری روایت شاذ اور ردی ہے ،  اس نے کہا آیة میراث بھی متعہ کو منسوخ کرتی ہے ، ابو جعفر نے کہا گاہے نکاح بغیر میراث کے بھی ممکن ہے. ابو حنیفہ نے کہا: تو یہ کہاں سے کہہ رہا ہے.؟ اگر کوئی مسلمان کسی اہل کتاب عورت سے شادی کرے پھر وہ مرجائے تو اس کے بارے میں تو کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا وہ عورت  اس شخص سے کوئی میراث نہیں پائے گی.

تیسری روایت:مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی عَنْ عَبْدِ الله بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ يَتَزَوَّجُ الْمُتْعَةَ قَالَ تَقُولُ يَا أَمَةَ الله أَتَزَوَّجُكِ كَذَا وَ كَذَا يَوْماً بِكَذَا وَ كَذَا دِرْهَماً فَإِذَا مَضَتْ تِلْكَ الْأَيَّامُ كَانَ طَلَاقُهَا فِی شَرْطِهَا وَ لَا عِدَّةَ لَهَا عَلَيْكَ (1)

ابن ابی عمیر نے ہشام بن سالم سے نقل کی ہے کہ :میں نے کہا متعہ والا نکاح کیسے پڑھا جائے گا تو انہوں نے کہا: تو کہے گا اے کنیز خدامیں تیرے ساتھ اتنے دنوں کیلئے اور اتنے مہرمیں نکاح کرنا چاہتا ہوں کیا تو راضی ہے ؟ اگر راضی ہوجائے تو جب وہ ایام گذر جائے تو اس کی طلاق ہوجائے گی اور اس کیلئے تم پرکوئی عدہ نہیں ہے البتہ یہ یائسہ عورت کیلئے ہے ورنہ غیر یائسہ کیلئے عدہ ہے .

چوتھی روایت:عَنْ زُرَارَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع مَا عِدَّةُ الْمُتْعَةِ إِذَا مَاتَ عَنْهَا الَّذِی تَمَتَّعَ بِهَا قَالَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَ عَشْراً قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا زُرَارَةُ كُلُّ نِكَاحٍ إِذَا مَاتَ عَنْهَا الزَّوْجُ فَعَلَی الْمَرْأَةِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً أَوْ عَلَی أَيِّ وَجْهٍ كَانَ النِّكَاحُ مِنْهُ مُتْعَةً أَوْ تَزْوِیجاً أَوْ مِلْكَ يَمِینٍ فَالْعِدَّةُ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَ عَشْراً وَ عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَ الْأَمَةُ الْمُطَلَّقَةُ عَلَيْهَا نِصْفُ مَا عَلَی الْحُرَّةِ وَ كَذَلِكَ الْمُتْعَةُ عَلَيْهَا مِثْلُ مَا عَلَی الْأَمَةِ (2)

--------------

(1):-  الکافی، ج 5، باب شروط المتعة  ،ص : 455.

(2):- من لایحضرہ الفقیہ،ج 3 ،ص 465.


زرارہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امام باقر (ع)سے سوال کیا کہ متعہ کی عدہ کیا ہےجب اس کا شوہر مر جائے .تو امام نے فرمایا ۴مہینہ ۱۰ دن پھر فرمایا: اے زرارہ سارا نکاح جب شوہر مرجائے تو اس کی بیوی پر خواہ وہ آزاد ہو یا کنیز ہو اور نکاح بھی جس قسم کا ہو خواہ متعہ ہو یا دائمی ہو یا ملک یمین ہو یعنی اپنی کنیزکواپنی زوجیت میں لائی گئی ہو ،ہر ایک پر ۴مہینہ ۱۰ دن عدہ پوری کرنا واجب ہے اور اگر طلاق ہوجائے تو ۳مہینہ عدہ پوری کرنا واجب ہے اور اگر طلاق شدہ کنیز ہو تو آزاد عورت کا نصف عدہ پوری کرنا واجب ہے اور متعہ میں بھی کنیز کے برابر عدہ پوری کرنا ضروری ہے.

پانچویں روایت:عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِی رِيَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الله بْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ إِلَّا رَحْمَةً رَحِمَ الله بِهَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ص وَ لَوْ لَا نَهْيُهُ عَنْهَا مَا احْتَاجَ إِلَی الزِّنَاءِ إِلَّا شَقِی (1) راوی کہتا ہے کہ میں نےابن عباس سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ متعہ بہت بڑی نعمت تھی جس کے ذریعے امّت محمدی پر اللہ تعالیٰ نے اپنا کرم کیا تھا اور اگر (عمر) اس سے منع نہ کرتا توشقی انسان کےسوا کوئی بھی زنا کا مرتکب نہ ہوتا. ساتویں روایت:فَإِنَّهُ ص رُوِيَ عَنْهُ مُتَوَاتِراً أَنَّهُ رَخَّصَ الصَّحَابَةَ فِی الْمُتْعَةِ وَ اسْتَمْتَعُوا فِی زَمَانِهِ. وَ أَيْضاً أَفْتَی بِإِبَاحَتِهَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عَلِيٌّ (ع)(2) رسول گرامی اسلام (ص)سے تواتر کے ساتھ روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے صحابہ کو متعہ کرنے کی اجازت دی ہوئی تھی اورا نہوں نے نے بھی آپ ہی کے زمانے میں متعہ کئے. اسی طرح امیر المؤمنین(ع) نے بھی متعہ کے مباح ہونے پر فتویٰ دیا تھا.

خالد بن مہاجر بن خالد مخزمی  ایک شخص کے پاس بیٹھا تھا کوئی آکر متعہ کے بارے میں سوال کیا تو خالد نے کہا جائز اور مباح ہے ابن ابی عمر ہ انصاری نے کہا آہستہ بولو! اتنی آسانی سے فتویٰ دیتے ہو؟

خالد نے کہا : خدا کی قسم ، اس کام کو ہم نے پرہیزکار اور متقی پیشواؤں کے دور میں انجام دئے ہیں(3)

--------------

(1):- الطرائف فی معرفة مذاہب الطوائف،ج2 ،نہی عمر عن المتعة ، ص 457.

(2):- نہج الحق و کشف الصدق،فی النکاح و فیہ مسائل،  ص : 521.

(3):- صحیح مسلم،ج۳،ص۱۹۸،باب نکاح المتعہ؛ السنن کبری،ج۷،ص۲۰۵.


عموماً متعہ پر کئے جانے والے اشکالات

1: کبھی کہتے ہیں کہ متعہ اور فحشاء میں کیا فرق ہے ؟ دونوں کچھ پیسےکے مقابلے میں جسم فروشی ہے. درحقیقت فحشا پر نکاح کا ایک نقاب ہے فرق صرف اتنا ہے کہ فقط ایک جملہ صیغہ اس میں اجرا ہوتا ہے.

جواب:یہ لوگ ازدواج کے مفہوم سے بھی واقف نہیں ہے کیونکہ متعہ میں صرف ایک جملہ نکاح پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ ازدواج دائمی کی طرح اس میں بھی شرائط موجود ہیں جیسے یہ عورت اس مدت میں کسی اور شخص کے ساتھ  رابطہ پیدا نہیں کرسکتی اور جب مدت ختم ہوجائے تو کم از کم ۴۵ دن عدہ پوری کرنا واجب ہے اگرچہ مختلف وسائل کے ذریعے حاملہ ہونے سے روک تھام کیا ہوا. اگر اس نکاح سے بچہ ہوجائے تو اولاد کا سارا حکم اس پر لاگو ہوگا جبکہ فحشا کے ذریعے پیدا ہونے والابچہ ان حقوق سے محروم ہے ہاں صرف میاں اور بیوی متعہ میں ایک دوسرے سے ارث نہیں لے سکتے. اسی طرح اور بعض شرائط میں تھوڑی بہت فرق ہے اور یہ تھوڑی بہت فرق اس ازدواج کو فحشاء کی صف میں نہیں لاسکتا بعض کہتے ہیں:فحشاء کی طرح ازدواج موقت بھی سبب بنتا ہے کہ بے سرپرست بچوں کو معاشرے کے حوالہ کرے

جواب: نامشروع طریقے سے پیداشدہ بچے اور متعہ سے پیدا شدہ بچے میں فرق ہے متعہ سے پیداشدہ بچہ ماں باپ کا ہے  جبکہ نامشروع بچہ  والدین کا نہیں ہے.

راسل اور ازدواج موقت‏

انگلستان کے معروف دانشور بنام راسل اپنی کتاب زنا شویی اور اخلاق میں لکھتا ہے کہ جنسی مشکلات کے پیش نظر جوانوں کو ایک جدید طرز کے ازدواجی زندگی میں منسلک ہوجاناچاہئےجس میں شرائط آسان اور مناسب ہو: جیسے طرفین کی رضایت کے ساتھ بچہ دار ہونے نہ دے ، ایک دوسرے سے جدائی آسان طریقے سے ہوجائے ، اور طلاق کے بعد کوئی بھی ایک دوسرے سے حق نفقہ نہ


رکھتا ہو.اگر قانونی طور پرایسا ممکن ہوجائے تو میری نظر میں جوانوں کی بڑی خدمت ہوگی کیونکہ اس طریقے سے بہت سے طالب علم جو اپنی کالج اور یونیورسٹی زندگی میں مناسب لڑکی سے متعہ کرے اور فحشاء اور منکرات سے محفوظ رہ سکیں گے(1)

آپ نے ملاحظہ کیا کہ راسل کا یہ نظریہ کم وبیش ازدواج موقت کا نظریہ ہے جسے قرآن اور سنت نے پیش کیا ہے .کہ بچہ دار ہونے سے اگر روکنا چاہے تو کوئی مانع نہیں ، ایک دوسرے سے الگ ہونا بھی بہت آسان ہے اور نان ونفقہ بھی واجب نہیں ہے .

صحیح بخاری: ابن عباس سے متعہ کے بارے میں سوال کیا تو کہا: رسول اللہ (ص)نے متعہ کی اجازت دی ہے: کنا  فی جیش فاتانا رسول اللہفقال انه قد اذن لکم ان تستمتعوا فاستمتعوا .(2) یعنی ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم لشکر رسول اللہ(ص) میں تھے کہ آپ تشریف لائے اور فرمایا : تمہیں متعہ  کرنے کی اجازت دیتا ہوں پس تم متعہ کریں.

ثانیاً صراحت کیساتھ روایات ناہیہ بھی موجود ہے جن میں سے ایک امیرالمؤمنین (ع) کا فرمان ہے: لولا انّ عمر نھا عن المتعة ما زنی الّا شقی اگر عمر متعہ سے لوگوں کو نہ روکتا تو سوائے شقی لوگوں کے کوئی زنا کا مرتکب نہ ہوتا. (3)

--------------

(1):-  کتاب زناشویی و اخلاق ص189 و 190.

(2):- صحیح بخاری باب نکاح المتعہ، ح 1405، تفسیر ابن کثیر ، ص 285.

(3):-  درالمنثور ، ج2، ص 140،سور ہ  نساء 24.


حج تمتع عثمان کے دور میں

عن مروان بن الحکم قال شهدت عثمان و علیا وعثمان ینهی عن المتعة و ان یجمع بینهما فلما رای علیا اهلّ بهما اهلّ بهما لبیک بعمرة و حجة قال ما کنت لادع سنة النبی لقول احد. (1) بخاری اور مسلم نے مروان بن حکم سے یوں نقل کئے ہیں : عثمان بن عفان کو دیکھا کہ حج تمتع سے لوگوں کو روک رہا تھا. لیکن علی ابن ابیطالب نے جب اسے روکتے ہوئے دیکھا تو عمرہ اور حج کیلئے احرام باندھ لئے اور کہا:میں  کبھی بھی قانون الہی اور سنت پیغمبر(ص)کو ایک آدمی کے منع کرنے پر نہیں چھوڑسکتا

قال عمر ثلاث کن علی عهد رسول الله(ص)  وانا محرمهن و معاقب علیهن : متعة الحج، متعة النساء وحیّ علی خیر العمل فی الاذان .(2)

عمرنے کہا رسول اللہ(ص) کے زمانے میں تین چیزیں رائج تھیں لیکن میں انہیں ممنوع قرار دیتا ہوں اور انجام دینے والوں کو سزا دوں گا، وہ متعہ حج ، متعہ نساء اور اذان میں حی علی خیر العمل کا جملہ.

سنن ابن ماجہ : حضرت عمر نے کہا : مجھے معلوم ہے کہ پیغمبر (ص)اور ان کے اصحاب نے حج تمتع انجام دئے ہیں لیکن مجھے وہ اچھا نہیں لگتا کہ حاجی اس دوران اپنی بیوی سے ہمبستری کرکے سر سے پانی ٹپکتے ہوئے عبادت میں شامل ہوجائے(3)

 اس حدیث پر آپ غور کریں کہ حلال محمد(ص) کوحرام میں تبدیل کر رہا ہے .

سنن نسائی: ابن عباس کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر کو یہ کہتے ہوئے سنا: خدا کی قسم میں ضرور متعہ حج انجام دینے کی لوگوں کو اجازت نہیں دونگا اگرچہ مجھے معلوم ہے کہ متعہ حج  قران میں وارد ہوا ہے اور پیغمبر اکرم(ص) نے بھی اسے انجام دئے ہیں(4)

--------------

(1):- صحیح بخاری ، باب التمتع والقران والافراد، ح 1563، صحیح مسلم، باب جواز التمتع، ح1223.

(2):- موطا امام مالک بن انس.ج ۶۰، ص۲۲۳، سنن نسائی ، اور شرح سیوطی،ص۱۵۳.

(3):- سنن ابن ماجہ ،ج۲، ص ۹۹۲، ح ۲۹۷۹. سنن نسائی،ج۶۵، ص ۲۵۱.

(4):- سنن نسائی، ج۶۵، ص ۳۵۱.


مسلسل متعہ کرنے والی عورت کیلئے عدہ

سوال:کیا اس عورت کیلئے عدہ ہے جو مسلسل مختلف مردوں کے ساتھ متعہ کرتی ہے؟

جواب: تمام مجتہدین کا اتفاق ہے کہ اگر وہ عورت یائسہ ( بھانج) نہ  ہو تو اسے عدت پوری کرنی چاہئے. (امام. صافی،فاضل، نوری، سیستانی، مکارم،...)

سوال: اگر معلوم ہوجائے کہ متعہ والی عورت دیگر اجنبی مردوں کے ساتھ بھی رابطہ رکھی ہوئی ہے تو کیا حکم ہے؟

جواب : وہ عورت گناہگار ہے اور مرد کو چاہئے کہ اس سے جدا ہو اور بقیہ مدت اسے بخش دے .

متعہ  کرنامعیوب کیوں؟

سوال:اگر متعہ جائز ہے تو کیوں ہمارے اسلامی معاشرے میں اسے معیوب سمجھے جاتے ہیں ؟

جواب: ہمارے متدین اسلامی معاشرے میں اسے کوئی معیوب نہیں سمجھے جاتے ہیں .کیونکہ دین مبین اسلام نے اس کاحکم دیا ہے آیات بھی اور روایات بھی اسے جائز اور حلال قرار دیتے ہیں تو ہم اسے معیوب کیوں کر سمجھ سکتے ہیں ؟ ہاں اگر اسے قانونی اور رسمی طور پر اجرا کرنا چاہے تو اس کیلئے پہلے زمینہ سازی کرنا ضروری ہے ورنہ شہوت پرست لوگ اپنی ہوس رانی کی خاطر آداب ورسوم ، شرعی اور عرفی حدود سے تجاوز کریں گے اس طرح معاشرے میں ایک غلط پروپیگنڈا شروع ہوگا اور سوء استفادہ کرنے والوں کو موقع ملے گا. لذا اگر کوئی اسے معیو ب سمجھے جاتے ہیں تو ان فرصت طلب افراد کی غلط رویوں کی وجہ سے ہے نہ خود متعہ کی وجہ سے مثال: اگر کوئی سفر حج پر جاتے وقت مواد مخدر کی سمگلینگ کرے اور پکڑے جائے تو اسے اس کی سزا دی جائے گی نہ لوگوں کو سفر حج سے روکے جائیں گے.کلی طور پر ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ متعہ کا مسئلہ کئی لحاظ سے مشکلات سے دوچار ہے :

     ہمارا معاشرہ فرہنگی اعتبار سے ابھی تک اس حکم الہی کو قبول اور اجراء کرنے سے قاصر ہے.


     بہداشت اور قانونی طور پر کوئی خاص سسٹم ابھی تک وجود میں نہیں آیا ہے.

     حقوقی لحاظ سے سوء استفادہ کرنے والوں کی روک تھام کرنے کا مناسب بندوبست نہیں ہوا ہے .

اس مشکل کے حل کیلئے فرہنگی اور اجتماعی طور پر کوشش کرنا چاہئے تاکہ ہمارے جوانوں کو شیطانی چال اور ناجائز وغیرشرعی تعلقات اور ہوس رانی سے روکا جاسکے.

متعہ الحج اور متعہ  النساء کو عمر نے حرام قرار دیا ہے

سوال : متعۃ الحج اور متعۃ النسا ء کہ جنہیں حضرت عمر نے حرام قرار دیا،سے کیا مراد ہے ؟

     متعۃ الحج سے مراد یہ ہے: جو بھی حاجی مکہ سے دور  و دراز علاقے اور ممالک سے حج کے غرض سے آتے ہیں تو ان کا وظیفہ یہ ہے کہ بعض اعمال حج انجام دینے کے بعد آزاد ہوجاتا ہے اور جب ۸ ذالحجہ کا دن آتا ہے تو دوبارہ اعمال حج انجام دینے لگتا ہے اور ان دو اعمال کے درمیانی وقفے میں دور و دراز ممالک سے آئے ہوئے حجاج کو یہ اجازت ہے کہ دنیوی نعمتوں سے لذت اور فائدہ اٹھائیں اس عمرہ اور حج کے درمیانی وقفے میں جو لذت اٹھاتے ہیں اسے متعۃ الحج کہا جاتا ہے .اور حج تمتع کے اعمال یہ ہیں:

     کسی بھی میقات سے احرام باندھنا   طواف کعبہ انجام دینا .     دورکعت نماز طواف پڑھنا.  صفا اور مروا کے درمیان سعی کرنا .  تقصیر کرنا یعنی بال چھوٹا کرنا(1)

ان اعمال کو ایک دو گھنٹے میں  انجام دینے کے بعد احرام سے خارج ہوجاتے ہیں اور ہر وہ چیز جو احرام کی وجہ سے اس پر حرام ہوچکی تھیں اب وہ سب چیزیں اس پر حلال ہوجاتی ہیں اور وہ ہر قسم کی مشروع لذات بھی اٹھا سکتے ہیں. اگر چاہے تو اس دوران کسی عورت سے عقد کرلے یا اگر اپنی بیوی اپنے ساتھ ہو تو اس کے ساتھ ہمبستری کرسکتے ہیں

---------------

(1):-  صحیح مسلم، کتاب الحج باب جواز التمتع، ح1225


 یہاں تک کہ ۸ ذالحجہ کا دن آجائے اس دن دوبارہ احرام باندھ لیں گے اور حج تمتع کے اعمال شروع کریں گے حضرت عمر نے اس درمیانی وقفے کو ختم کرتے ہوئے حکم لگایا کہ کسی کو بھی اس دوران حالت احرام سے نکلنے کی اجازت نہیں .

     متعۃ النساء یا متعہ نکاح سے مراد یہ ہے کہ کوئی بیوہ عورت موقتا  ً کسی مرد کے ساتھ شادی کرنا چاہے یا مرد کسی عورت کو کچھ مدت کے لئے اپنے عقد میں لینا چاہے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اسے بھی حضرت عمر نے حرام قرار دیا.

معاویہ کے دور میں حج تمتع

 سعد بن ابی وقاص کہتا ہے کی ہم حج تمتع اس وقت انجام دیتے تھے جبکہ معاویہ ابھی تک خدای عرش کے بارے میں کافر تھا.(1)

بالآخرہ خلیفہ دوم کا یہ دستور ختم ہوا: امیر المؤمنین  اور بعض دیگر مسلمانوں کی کوششوں سے حج تمتع اسی طرح انجام دینے لگے جس طرح زمان پیغمبر  میں انجام دئے جاتے تھے.اور بالآخر فقہائی اھل تسنن بھی عمر کے فتویٰ کے خلاف فتویٰی دینے لگے:

شافعی والے کہتے ہیں : شخص مخیر ہے حج افراد یا تمتع یا قران انجام دے افضل افراد ہے اس کے بعد تمعت افضل ہے(2)

مالکی والے کہتے ہیں: افضل افراد ہے اس کے بعد قران ہے.(ہمان)

حنبلی کہتے ہیں: افضل تمتع ہے اسے بعد افراد.(ہمان)

حنفی والے کہتے ہیں: قران افضل ہے اس کے بعد تمتع.(ہمان)

--------------

(1):-  الفقہ علی المذاہب الاربعہ،ج1، کتاب الحج.

(2):- نوبختی، فرق الشیعہ ، ص۸۵.


نتیجہ بحث:

تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسلام ایک کامل اور جاویدانہ دین ہے. جو انسان کی ضروریات کو پورا کرتا ہے. اور ہر ایک احکام مصالح اور مفاسد کے تابع ہیں. یہ عقد موقت بھی انہی ضروریات  بشری میں سے ایک اہم ضرورت ہے. چنانچہ دوآدمی اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہم سفر بن جاتے ہیں اور خواہ و نا خواہ ایک دوسرے کی ناموس پر نظر پڑتی ہے ایسے مواقع پر اپنے نابالغ بچیوں کے ساتھ نکاح کرلے تاکہ محرمیت پیدا ہوجائے. اور  یہ معصیت اور گناہ سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے.

اسی طرح بعض موقع پر زنا اور لواط یا حتیٰ بیماری سے بچنے کیلئے عقد موقت بھی ضروری ہے. مثلاً کالج یونیورسٹیوں میں جوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی جنسی غریزہ کو پورا کرنے کیلئے مشروع اور جائز طریقہ عقد موقت ہے کیونکہ عقد دائم کیلئے ذمینہ فراہم نہیں اسی طرح اگر کوئی اکیلا کسی دوسرے ملک میں ملازمت یا مزدوری کے غرض سے جاتا ہء وہاں عقد دائم کیلئے مناسے نہیں تو اس ضرورت کو پورا کرنے کا واحد راستہ عقد موقت ہے.

ثانیاً اگر بیامبر (ص)کے زمانے میں عقد موقت کی ضرورت پڑتی تھی تو کیا اس دور میں اس کی ضرورت نہیں پڑے گی؟ اگر کوئی عورت بیوہ ہوجائے اور دوبارہ عقد دائم بھی ممکن نہ ہو مثلاً کوئی مرد تیار نہ ہو تو کیا عقد موقت ہی اس کا حل نہیں؟


دسویں فصل:

 تقیہ کے بارے میں شکوک اور شبہات

آئمہ طاہرین (ع)کے زمانے میں دوسرے مکاتب فکر کے لوگوں کی طرف سے شیعوں پر مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا کرنے لگے؛ ان میں سے ایک تقیہ ہے .

سب سے پہلا اشکال اور شبہہ پیدا کرنے والا سلیمان بن جریر ابدی ہے جو فرقہ جریرہ کا رہبر ہے وہ  امام صادق(ع)کا ہم عصر ہے .اس کا کہنا ہے کہ شیعوں کے امام جب کسی خطا کے مرتکب ہوتے تھے تو تقیہ کو راہ فرار کے طور پر مطرح کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تقیہ کے طور پر انجام دیا گیا ہے(1) یہ اشکال اس کے بعد مختلف کلامی اور تفسیری کتابوں میں اہل سنت کی جانب سے کرنے لگے بعد میں شیعہ بڑے عالم دین سید شریف مرتضی معروف بہ علم الہدی (۳۵۵ ـ۴۳۶)ق نے ان شبہات اور اشکالات کا جواب  دیا ہے(2) فخر رازی(۵۴۴ ـ ۶۰۶ ہ ) صاحب تفسیر کبیرنے « مفاتیح الغیب» میں  سلیمان ابن جریر کے  تقیہ کے بارے میں اس شبہہ کوتکرار کیا ہے، جس کا جواب  خواجہ نصیر الدین طوسی۵۷۹ـ ۶۵۲ق) نےدیا ہے(3)

شبہات کی تقسیم بندی

وہ شبہات جوتقیہ سے  مربوط ہے وہ تین بخش میں تقسیم کرسکتے ہیں :

وہ شبہات جو مربوط ہے  تشریع تقیہ سے

وہ شبہات جو امام معصوم(ع) کے تقیہ سے مربوط ہے 

وہ شبہات او ر تہمتیں جوشیعوں کے  تقیہ سے مربوط ہیں:

--------------

(1):-  شیخ انصاری، رسائل ، ج۱،ص ۲۹۰، ۳۱۰.

(2):- المحصل ، ص ۱۸۲. 

(3):- محمود، یزدی؛ اندیشہ کلامی شیخ طوسی، ص ۲۷۹.


تشریع تقیہ سے مربوط شبہات کی تفصیل:

تقیہ اور جھوٹ :

ابن تیمیہ اس شبہہ کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تقیہ ایک قسم کی جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنا ایک قبیح اور بری چیز ہے اور خدا تعالیٰ بری چیز کو حرام قرار دیا ہے ، پس تقیہ بھی خدا کے نزدیک قبیح اور بری چیز ہے .اور جائز نہیں ہے .اس اشکال کیلئے دو جواب دئے جاتے ہیں:

۱. اگر تقیہ جھوٹ ہے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہوں پر کیوں تقیہ کرنے والوں کی مدح سرائی کی ہے ؟!:جیسے آلعمران کی آیہ نمبر ۲۸ میں فرمایا :الّا ان تتقوا من ه م، اورسورہ نحل کی  آیہ۱۰۶ میں فرمایا :الا من اکر ه و قلب ه مطمئن بالایمان.

اللہ تعالیٰ نے صرف تقیہ کرنے کو جائز قرار نہیں دیا بلکہ مجبوری کے وقت تقیہ کرنے کا باقاعدہ حکم دیا ہے اور تقیہ کرنے کا شوق دلایا ہے .

دوسرا جواب یہ ہے کہ کیا جب کافروں کی طرف سے مجبور کیا جائے اور تقیہ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ  بھی نہ ہو تو وہاں کیا جھوٹ بولنا صحیح نہیں ہے ؟ کیونکہ ہر جگہ جھوٹ بولنا برا نہیں ہے جیسے اگر کسی دو مسلمان بھائیوں کے درمیان الفت اور محبت پیدا کرنے اور خون و خرابہ سے بچنے کیلئے جھوٹ بولنا جائز ہے ، کیونکہ اگر سچ بولے تو جھگڑا فساد میں اضافہ ہوسکتا ہے

لیکن اس اشکال کا جواب یوں  دیا جاسکتا ہے کہ : یہ اشکال دومقدمہ (صغری اور کبری) سے تشکیل پایا ہے صغری میں کہا کہ تقیہ ایک قسم کا جھوٹ ہے یہ صغری ہر مصداق اور مورد میں صحیح نہیں ہے کیونکہ تقیہ اخفائی یعنی واقعیت کے بیان کرنے سے سکوت اختیار کرنے کو کوئی جھوٹ نہیں کہتا بلکہ یہ صرف تقیہ اظہاری میں صدق آسکتا ہے وہ بھی توریہ نہ کرنے کی صورت میں .

پس تقیہ کے کچھ خاص مورد ہے جہاں تقیہ کا مصداق کذب اور جھوٹ ہے.


لیکن کبری ٰ یعنی جھوٹ بولنا قبیح اور برا ہے ؛ یہاں کہیں گے کہ جھوٹ ہر جگہ برا نہیں ہے .کیونکہ مختلف عناوین کو حسن و قبح کی کسوٹی پر ناپا جاتا ہے تو ممکن ہے درج ذیل تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت پائی جائے :

۱.یا وہ عنوان حسن و قبح کیلئے  علت تامہ ہے .جیسے حسن عدالت اور قبح ظلم.انہیں حسن و قبح ذاتی کہا جاتا ہے .

۲.یا وہ عنوان جو خود بخود حسن و قبح کا تقاضا کرتا ہو ، بشرطیکہ کوئی اور عنوان جو اس تقاضے کو تبدیل نہ کرے ،اس پر صدق نہ آئے .جیسے کسی یتیم پر مارنا خود بخود قبیح ہے لیکن اگر ادب سکھانے کا عنوان اس پر صدق آجائے تو یہ قباحت  کی حالت سے نکل آتی ہے .ایسے حسن و قبح کو عرضی کہتے ہیں.

۳.یا وہ عنوان جو حسن و قبح کے لحاظ سے متساوی الطرفین ہو .اور حسن و قبح سے متصف ہونے کیلئے مختلف شرائط کی ضرورت ہے جیسے کسی پر مارنا اگر ادب سکھانے کیلئے ہو تو حسن ہے اور اگر اپنا غم و غصہ اتارنے کیلئے مارے تو قبیح ہےلیکن اگر کسی بےجان چیز پر مارے تو  نہ حسن ہے اور نہ قبیح ہے .

اور یہاں ہم اس وقت جھوٹ بولنے کو قبیح مانیں گے کہ پہلا عنوان اس پر صدق آتا ہو جب کہ ایسا نہیں ہے .اور عقلا نے بھی اسے  دوسری قسم میں شمار کئے ہیں کہ جب بھی کوئی زیادہ مہمتر مصلحت  کے ساتھ تزاحم  ہو تو اس کی قباحت دور ہوجاتی ہے ، جیسے : ایک گروہ کا خون خرابہ ہونے سے بچانے کیلئے جھوٹ بولنے کو ہر عاقل شخص جائز سمجھتا ہے.

اسی لئے ہم دیکھتے ہیں  کہ قرآن او ر   پیغمبر اسلام نے عماربن یاسر کے تقیہ کرتے ہوئے جھوٹ بولنے اور کفار کے شر سے اپنی جان بچانے کومورد تائید قرار دیا ہے . 


شیخ طوسی کا جواب

تقیہ جھوٹ نہیں ہے  کیونکہ  ، الکذب ضد الصدق و ہو الاخبار عن الشیء لا علی ما ہو بہ. یعنی جھوٹ  سچائی کی ضد ہے اور جھوٹ سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کی خبر دے، جس کی کوئی حقیقت  نہ ہو .

پس جھوٹ کا دو رکن ہے :

الف: کسی واقعے کے بارے میں خبر دینا .

ب: اس خبر کا واقعیت کے مطابق نہ ہونا.

جبکہ تقیہ کے تین رکن ہیں :

الف:حق بات کا چھپانا.

 ب: مخالفین کے ساتھ موافقت کا اظہار کرنا .

 ج: اور یہ دونوں رکن اس لئے ہو کہ دشمن کے شر سے اپنی جان یا مال کو حفاظت کرے .

 لہذا پہلی بات تو یہ ہے کہ جھوٹ  اخباری ہے اور تقیہ دشمن کو برحق ظاہر کرنا ہے .دوسری بات یہ ہے کہ جھوٹ میں یہ ضروری نہیں ہے کہ جو بات دل میں چھپا رکھا ہے وہ بھی حق ہو، جبکہ تقیہ میں یہ شرط ہے کہ جو بات دل میں چھپا رکھا ہے وہ حق ہو .

اگر کسی نے اشکال کیا  کہ جھوٹ تقیہ سے اعم ہے .تو ہم جواب دیں گے کہ بالفرض تقیہ کرنے والا خبر دینے کی نیت کرے     بلکہ تعریض کی نیت کرے(1)

--------------

(1):- .   ہمان ،  ص  ۲۸۰.  


تقیہ یعنی منافقت!

ممکن ہے کوئی یہ  ادعا کرے کہ جو مکر اورفریب منافق لوگ کرتے ہیں ، تقیہ  بھی اسی کی ایک قسم ہے. کیونکہ منافق دوسروں کو دھوکہ دینے کیلئے زبان پر ایسی چیزکا اظہار کرتے ہیں جس کے برخلاف دل میں چھپا رکھا ہو .

شیخ طوسی اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتےہیں کہ مخادع  اس شخص کو کہا جاتا ہے جو دل میں موجود بات کے برخلاف زبان پر اظہار کرے  تاکہ جس چیز سے وہ ڈرتا ہے اس سے وہ محفوظ رہے .اسی لئے منافق کو مخادع کہا جاتا ہے کیونکہ وہ زبان کے ذریعے اسلام  کاکلمہ پڑھ کر کفر کے حکم لگنے سے فرار کرکے اپنی جان بچاتا ہے اگر چہ منافق مؤمن کو ظاہراً زبان کے ذریعے دھوکہ دیتا ہے ، لیکن حقیقت میں وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے .

یہ  درست ہے کہ تقیہ میں بھی باطن کے خلاف بات کا اظہار ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی جان بچاتا ہے ؛ لیکن یہ دونوں ( تقیہ اور نفاق) اصولاًباہم مختلف اور متفاوت ہے .اور دونوں قابل جمع بھی نہیں.

امام صادق(ع) اس مختصر حدیث میں  مؤمن ہونے کا دعوا کرنے اور ایسے موارد میں تقیہ کے دامن پکڑنے والوں کو شدید طور پر ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:و ایّم اﷲ لو دعیتم لتنصرونا لقلتم لا نفعل انّما نتقی و لکانت التقیه احبّ الیکم من آبائکم و امّهاتکم ، ولو قد قام القائم ما احتاج الی مسائلکم عن ذالک و لا قام فی کثیر منکم حدّ النفاق .(1)

یعنی خدا کی قسم ! اگر تمہیں ہماری مدد کیلئے بلائے جائیں تو  کہہ دینگے ہر گز انجام نہیں دیں گے،کیونکہ ہم تقیہ کی حالت میں ہیں  .تمہارے والدین کا تقیہ کرنا تمہارے نزدیک  زیادہ محبوب ہے ، اور جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور ہماری حکومت تشکیل دے گا ، تو خدا کی قسم بغیر سوال کئے ، منافقین کو سزا دینا شروع کریگا جنہوں نے تمہارا حق مارا ہے

--------------

(1):- .      وسائل الشیعہ، ج ۲ ، باب ۲۵.


یہ حدیث بتا تی ہے کہ امام(ع)  اپنے بعض نادان دوست کے بے موقع تقیہ کرنے کی وجہ سے غم و غصہ کا اظہار فرما تے ہوئے نفاق اور تقیہ کے درمیان حد فاصل کو واضح فرمارہے ہیں .

اپنے مقدس اہداف کی ترقی کی خاطر پردہ پوشی کرنے اور چھپانے کا نام تقیہ ہے اور جائز ہے .اجتماعی اور الٰہی اہداف کی حفاظت کی خاطر اپنا ذاتی اہداف کو فدا کرنے کا نام تقیہ ہے .اس کے برخلاف اگر کوئی اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعی اور قومی مفاد کو قربان کرے تو وہ منافق کہلائے گا.

ایک اور حدیث میں امام (ع)سے منقول ہے :جب بھی انسان ایمان کا اظہار کرے ،لیکن بعد میں عملی میدان میں اس کے برخلاف عمل کرے تو وہ مؤمن  کی صفات سے خارج ہے  اور اگراظہار خلاف ایسے موارد میں کیا جائے جہاں تقیہ جائز نہیں  ہے تو اس کا عذر قابل قبول نہیں ہے: لانّ للتقیه مواضع من ازالها  عن مواضعها لم تستقم له (1)

کیونکہ تقیہ کے بھی کچھ حدود ہیں جو بھی اس سے باہر قدم رکھے تو وہ معذور نہیں ہوگا .اور حدیث کے آکر میں فرمایا : تقیہ وہاں جایز ہے جہاں دین اور ایمان میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو .

کمیت شاعر کہ جو مجاہدوں کی صف میں شمار ہوتا ہے کہ اپنے ذوق شاعری سے استفادہ کرتے ہوئے بنی عباس کے دور خلافت میں اس طاغوتی نظام کے خلاف قیام کیا اور  مکتب اہل بیتکی حمایت کی ایک دن امام موسیٰ ابن جعفر(ع) کی خدمت میں پہنچا ، دیکھا کہ  امام کا چہرہ بگڑا ہواہے .

--------------

(1):- .      ہمان ، ج ۶ ، باب ۲۵.


 جب وجہ پوچھی   توشدید اور اعتراض آمیز لہجے میں  فرمایا :کیا تونے بنی امیہ کے بارے میں یہ شعرپڑھا ہے ؟!

فالان صرت ا لی امّة    و الامم  لها الی مصائر

یعنی ابھی تو میں خاندان  بنی امیہ کی طرف  متوجہ ہوا ہوں اور ان کا کام میری طرف متوجہ ہورہا ہے

کمیت کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا: مولا !اس شعر کو میں نے پڑھا ہے لیکن خدا کی قسم میں اپنے ایمان پر باقی ہوں اور آپ خاندان اہل بیت سے محبت رکھتا ہوں اور آپ کے دوستداروں سے بھی محبت رکھتا ہوں اور اسی  لئےآپ کے دشمنوں سے بیزار ہوں؛ لیکن اسے میں نے تقیۃً  پڑھا ہے

امام(ع) نے فرمایا:اگر ایسا ہو تو تقیہ ہر خلاف  کاروں کیلئے قانونی اور شرعی مجوز ملے گا .اور شراب خوری بھی تقیہ کے تحت جائز ہوجائے گا .اور بنی عباس کی حکومت کا دفاع کرنا بھی جائز ہوجائے گا. اس قسم کے تقیہ سے تملّق ،چاپلوسی اور ظالموں کی ثنا خوانی کا بازار گرم اور پر رونق ہوجائے گا.اور نفاق ومنافقت بھی رائج ہوجائے گا(1)

تقیہ،  جہادکے متنافی

اشکال  یہ ہے : اگر تقیہ کے قائل ہوجائیں تو اسلام میں جہاد کا نظریہ ختم ہونا چاہئے جبکہ اس جہاد کی خاطر مسلمانوں کی جان و مال ضائع ہوجاتی ہیں(2)

--------------

(1):- مکارم شیرازی؛ تقیہ سپری عمیقتر، ص ۷۰.   

(2):- قفاری ؛ اصول مذہب الشیعہ، ج۲، ص ۸۰۷.


جواب: اسلامی احکام جب بھی جانی یا مالی ضرر اور نقصان سے دوچار اور روبرو ہوجاتا ہے تو دو قسم میں تقسیم ہوجاتا ہے :

1.  وہ احکامات جن کا اجراء کرنا  کسی جانی ضرر یا نقصان  سے دوچار نہیں ہوتا ، جیسے نماز کا واجب ہونا ، جس میں نہ مالی ضرر ہے اور نہ جانی ضرر .

2.  وہ احکامات جن کا اجرا کرنا ، جانی یا مالی طورپر ضرر یا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جیسے زکوۃ  اور خمس  کا ادا  کرنا ، راہ خدا میں جہاد کرنا وغیرہ .

تقیہ کا حکم صرف پہلی قسم سے مربوط ہے کہ بعض موارد میں ان احکام کو بطور حکم ثانوی اٹھایا جاتا ہے .لیکن دوسری قسم سے تقیہ کا کوئی رابطہ نہیں ہے .اور جہاد کا حکم بھی دوسری قسم میں سے ہے ، کہ جب بھی شرائط محقق ہوجائے تو جہاد  بھی واجب ہوجاتا ہے .اگرچہ بہت زیادہ جانی یامالی نقصان بھی کیوں نہ اٹھانی پڑے.

تقیہ اور آیات تبلیغ کے درمیان  تعارض

آلوسی کہتا ہے کہ تقیہ ان دو آیات کے ساتھ تعارض پیدا کرتا ہے کہ جن میں پیغمبر اکرم (ص) کو تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے(1)

۱. يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِی الْقَوْمَ الْكَافِرِینَ (2)

--------------

(1):-   ابوالفضل آلوسی؛ روح المعانی،ج ۳، ص ۱۲۵.

(2):- مائدہ۶۷.


 اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے.

اس آیہ مبارکہ  میں اپنے حبیب کو تبلیغ کا حکم دے رہا ہے اگر چہ خوف  اور ڈر ہی کیوں نہ ہو.

۲. الَّذِینَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ الل ه وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا الل ه وَكَفَی بِالل ه حَسِیبًا (1) یعنی وہ لوگ ا للہ کے پیغام کو پہنچاتے ہیں اور دل میں اس کا خوف رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ،اوراللہ حساب کرنے کے لئے کافی ہے  .

اس آیہ شریفہ میں خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرنا ایک بہترین صفت قرار دیتے ہوئے سراہا گیا ہے .

اسی طرح اللہ  تعالیٰ کے احکامات کو چھپانے کی مذمت میں بھی آیات نازل ہوئی ہیں ، جیسا کہ فرمایا:إِنَّ الَّذِینَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ الل ه مِنَ الْكِتَابِ وَ يَشْترَُونَ بِهِ ثمََنًا قَلِیلاً  أُوْلَئكَ مَا يَأْکلُُونَ فىِ بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ الل ه يَوْمَ الْقِيَمَةِ وَ لَا يُزَكِّیهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ. (2)

جو لوگ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب کے احکام کو چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور خدا روز قیامت ان سے بات بھی نہ کرے گااور نہ انہیں پاکیزہ قرار دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے  .

--------------

(1):- احزاب ۳۹.

(2):- بقرہ ۱۷۴.


اس اشکال کیلئے یوں جواب دے سکتے ہیں ؛ تبلیغ کبھی اصول دین سے مربوط ہے اور کبھی فروع دین سے اور جب بھی تبلیغ اصول دین سے مربوط ہو اور تبلیغ نہ کرنا باعث بنے کہ لوگ دین سے آشنائی پیدا نہ کرے اور لوگوں کی دین سے آشنائی اسی تبلیغ پر منحصر ہو تو یہاں تقیہ حرام ہے اور دائرہ تقیہ کو توڑ کر تبلیغ میں مصروف ہونا چاہئے ، اگرچہ تقیہ ضرر جانی یا مالی کا سبب کیوں نہ بنے ؛ کیونکہ آیات مذکورہ اور داخلی اور خارجی قرینے سے پتہ چلتا ہے کہ تقیہ اسی نوع میں سے ہے یہاں تقیہ بے مورد ہے .

 لیکن اگر تقیہ فروع دین سے مربوط ہو تو یہاں تبلیغ اور جانی ومالی نقصانات کا مقائسہ کرے گا کہ کس میں زیادہ مصلحت پائی جاتی ہے ؟ اور کون سا زیادہ مہم ہے ؟اگر جان یا مال بچانا تبلیغ سے زیادہ مہم ہو تو وہاں تقیہ کرتے ہوئے تبلیغ کو ترک کرنا واجب ہے مثال کے طور پر ایک  کم اہمیت والا فقہی فتویٰ دے کر کسی فقیہ  یا عالم دین کی جان پچانا.

تقیہ اور ذ لّت مؤمن

اشکال :وہابی لوگ کہتے ہیں کہ تقیہ مؤمن کی ذلت کا باعث ہے خداتعالیٰ نے ہر اس چیز کو جو باعث ذلت ہو ،اسے شریعت میں حرام قرار دیا ہے اور تقیہ بھی انہی میں سے ایک ہے.(1)

جواب:اس جملے کاصغریٰ مورد اشکال ہے کیونکہ یہ بات قابل قبول نہیں کہ اگر تقیہ کو اپنے صحیح اور جائز موارد میں بروی کار لایا جائے تو موجب ذلت نہیں ہوسکتا کیونکہ دشمن کے سامنے ایک اہم مصلحت کی خاطر حق بات کرنے سے  سکوت اختیار کرنا یا حق کے خلاف اظہار کرنا نہ  ذلت کا سبب  ہے اور نہ مذمت کاباعث

چنانچہ عمار ابن یاسر نے ایسا کیا تو قرآن  کریم نے بھی اس کی مدح سرائی  شروع کی .

--------------

(1):- .      موسی موسوی؛ الشیعہ و التصحیح ، ص ۶۷.


تقیہ ،ما نع امر بہ معروف

اشکال یہ ہے کہ تقیہ انسان کو امربہ معروف اور نہی از منکر کرنے سے روکتی ہے کبھی جان کا خوف دلا کر تو کبھی مال یا مقام کا .جب کہ یہ دونوں (امر اور نہی ) واجبات اسلام میں سے ہے .اس مطلب کی تائید میں فرمایا : افضل الجہاد کلمة حق عند سلطان جائر. ظالم و جابر حکمران کے سامنے حق بات کا اظہار کرنا  بہترین جہاد  ہے .

اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے :

۱ـ امر بہ معروف و نہی از منکر بہ صورت مطلق جائز  نہیں بلکہ اس کیلئے بھی کچھ شرائط و معیارہے  کہ اگر یہ  شرائط اور معیار موجود ہوں تو  واجب ہے ..ورنہ  اس کا واجب ہونا ساقط ہوجائے گا .

من  جملہ شرائط امر بہ معروف و نہی از منکر  میں سے یہ ہیں :انکار کرنے میں کوئی ایسا مفسدہ موجود نہ ہو جو اس سے بھی کسی بڑے  جرم ،جیسے قتل و غارت میں مبتلا ہو جائے ایسی صورت میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ امر بہ معروف و نہی از منکر کرنا جائز نہیں ہے

۲ـ  وہ روایات جو ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کا اظہار کرنے کو ممدوح قرار دیتی ہیں ، وہ خبر واحد ہیں جو ادلہ عقلی کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی یعنی تعارض کے موقع پر دلیل عقلی مقدم ہو گا ،اس سے  دفع ضرر اور حفظ جان مراد ہے(1)

تقیہ امام معصوم(ع)سےمربوط شبہات

اشکال کرنے والا اس مرحلے میں تقیہ کے شرعی جواز کو فی الجملہ قبول کرتا ہے ، کہ بعض موارد میں مؤمنین کیلئے تقیہ کرنا جائز ہے لیکن دینی رہنماؤں جیسے امام معصوم(ع) کیلئے تقیہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اگر دین کے رہنما تقیہ کرے تو درج ذیل اشکالات وارد ہوسکتے ہیں :

--------------

(1):- .      دکتر محمود یزدی؛ اندیشہ ہای کلامی شیخ طوسی، ص ۲۸۹.


 تقیہ اور امام(ع) کا بیان شریعت

شیعہ عقیدے کے مطابق امام معصوم کے وجود مبارک کوشریعت اسلام کے بیان کیلئے  خلق کیا گیا ہے لیکن اگر یہ حضرات تقیہ کرنے لگے تو بہت سارے احکام رہ جائیں گےاور مسلمانوں تک نہیں پہنچ پائیں گے. اور ان کی بعثت کا فلسفہ  بھی ناقص ہو گا. اسی سلسلے میں اہل سنت کے ایک عالم نے اشکال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ نے علی(ع) کو  اظہار حق کی خاطر منصوب کیا ہے تو تقیہ کیا معنی  رکھتا  ہے ؟!

اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ امامان معصوم نے بہترین انداز میں اپنے وظیفے پر عمل کئے ہیں لیکن ہمارے مسلمان بھائیوں نے  ان کے فرامین کو قبول نہیں کیا .

. چنانچہ حضرت علی(ع) کے بارے میں منقول ہے آپ ۲۵ سال خانہ نشین ہوئے تو قرآں مجید کی جمع آوری ، آیات کی شان نزول ، معارف اسلامی کی توضیح اور تشریح کرنے میں مصروف ہوگئے اور ان مطالب کو اونٹوں پر لاد کر مسجد میں مسلمانوں کے درمیان لے گئے تاکہ ان معارف سے لوگ استفادہ کریں  ؛ لیکن خلیفہ وقت نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا .(1)

جب امام نے یہ حالت دیکھی تو خاص شاگردوں کی تربیت اور ان کو اسلامی احکامات اور دوسرے معارف کا تعلیم دیتے ہوئے اپنا شرعی وظیفہ انجام دینے لگے ؛ لیکن یہ ہماری کوتاہی تھی کہ ہم نے ان کے فرامین کو پس پشت ڈالا اور اس پر عمل نہیں کیا .

امام کیلئے تقیہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں:

1.  معتزلہ والے کہتے ہیں کہ امام کیلئے تقیہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ امام کا قول ، پیغمبر اسلام(ص) کے قول کی طرح حجت ہے .

2.  امامیہ  والے کہتے ہیں کہ اگر تقیہ کے واجب ہونے کے اسباب نہ ہو،کوئی اور مانع بھی موجود نہ ہو تو امام تقیہ کرسکتے ہیں شیخ طوسی کے ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام تقیہ کرسکتے ہیں بشرطیکہ شرائط موجود ہو .

--------------

(1):- .      محمد باقر حجتی؛ تاریخ قرآن کریم، ص ۳۸۷.


امام کیلئے تقیہ جائز ہونے کے  شرائط

     شرعی وظیفوں  پر عمل پیرا ہونا اور احکام کی معرفت حاصل کرنا اگر فقط امام پر منحصر نہ ہو جیسے امام کا منصوص ہونا فقط امام کے قول پر منحصر نہیں ہے بلکہ قول پیغمبر (ص) اور عقل سلیم کے ذریعے سے بھی مکلف جان سکتا ہے تو  ایسی صورت میں امام تقیہ کرسکتے ہیں

      اس صورت میں امام تقیہ کرسکتے ہیں کہ آپ کا تقیہ کرنا حق تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ بنے اورساتھ ہی شرائط بھی پوری ہو.

     جن موارد میں امام تقیہ کررہے ہیں وہاں ہمارے پاس واضح دلیل موجود ہوکہ معلوم ہوجائے کہ امام حالت تقیہ میں حکم دے رہے ہیں .

اس بنا پر اگر احکام کی معرفت امام میں منحصر نہ ہو ، یا امام کا تقیہ کرنا حق تک جانے میں رکاوٹ نہ ہو اور کوئی ایسی ٹھوس دلیل بھی نہ ہو جو امام کا تقیہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتی ہو اور ساتھ ہی اگر معلوم ہو کہ امام حالت تقیہ میں ہو تو کوئی حرج نہیں کہ  امام تقیہ کرسکتے ہیں(1)

 تقیہ، فرمان امام(ع) پر عدم اعتماد کاباعث

شیعہ مخالف لوگوں کا کہنا ہے  کہ اگر ہمارے آئمہ معصومینوسیع پیمانے پر تقیہ لگے تو یہ احتمال ساری روایات جو ان حضرات سے ہم تک پہنچی ہیں ،میں پائی جاتی ہے کہ ہر روایت تقیہ کرکے بیان کئے  ہوں .اس صورت میں کسی ایک روایت پر بھی ہم عمل نہیں کرسکتے .کیونکہ کوئی بھی روایت قابل اعتماد نہیں ہوسکتی. اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہمارے آئمہ معصومین کا تقیہ کرنا کسی قواعد و ضوابط کےبغیر ہو تو یہ اشکال وارد ہے .

--------------

(1):- .      محمود یزدی؛ اندیشہ ہای کلامی شیخ طوسی، ص۳۳۳.


لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ تقیہ کرنے کیلئے خواہ وہ تقیہ کرنے والا امام ہو یا عوام ہو یا خواص ہو ، خاص شرائط ہیں اگر وہ شرائط نہ ہو تو تقیہ کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے .اور جب اماموں کے تقیہ کے علل و اسباب اگر ان کو معلوم ہوجائے تو یہ اشکال بھی باقی نہیں رہے گا .

تقیہ اور علم امام  (ع)

علم امام کے بارے میں شیعہ متکلمین کےدرمیان دو نظریے پائے جاتے ہیں :اور یہ اختلاف بھی روایات میں  اختلاف  ہونے کی وجہ سے پیدا ہوگئے ہیں .

پہلا نظریہ : قدیم شیعہ متکلمین جیسے ، سید مرتضی وغیرہ معتقد ہیں کہ امام تمام احکامات اور معارف اسلامی کا علم رکھتےہیں لیکن مختلف حادثات اور بعض واقعات جیسے اپنی رحلت  کب ہوگی؟ یا دوسروں کی موت کب واقع ہوگی ؟و...بصورت موجبہ جزئیہ ہے نہ موجبہ کلیہ .

دوسرا نظریہ : علم امام(ع) دونوں صورتوں میں یعنی تمام احکامات دین اور اتفاقی حادثات کے بارے میں بصورت موجبہ کلیہ علم رکھتے ہیں(1)

بہ ہر حال دونوں نظریہ کا اس بات پر اتفاق ہے  کہ علم امام(ع)احکام اور معارف اسلامی کے بارے میں  بصورت موجبہ ہے .  وہ شبہات جو تقیہ اور علم امام سے مربوط ہے وہ بعض کے نزدیک دونوں مبنا میں ممکن ہے  اور بعض کے نزدیک صرف دوسرے مبنی میں ممکن ہے

پہلا اشکال: تقیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ  آئمہ تمام فقہی احکام اور اسلامی معارف کا علم نہیں رکھتے ہیں اور اس کی توجیہ کرنےاور روایات میں موجود اختلاف کو ختم کرنے کیلئے تقیہ کا سہارا لیتے ہیں.

--------------

(1):- .      کلینی ؛ اصول کافی، ج۱ ، ص ۳۷۶


اس اشکال کو سلیمان ابن جریر زیدی نے مطرح کیا ہے ،جوعصر آئمہمیں زندگی کرتا تھا .وہ کہتا ہے کہ رافضیوں کے امام نے اپنے پیروکاروں کیلئے دو عقیدہ بیان کئے ہیں جس کی موجودگی میں کوئی بھی مخالف ان کے ساتھ بحث و مباحثہ میں نہیں جیت سکتا.

پہلا عقیدہ  بداء ہے .

دوسرا عقیدہ تقیہ ہے.

شیعیان اپنے  اماموں سے  مختلف مواقع پر سوال کرتے تھے اور وہ جواب دیاکرتے تھے اور شیعہ لوگ ان روایات اور احادیث کو یاد رکھتے  اور لکھتے تھے ،لیکن ان کے امام ، چونکہ کئی کئی مہینے  یا سال گذرجاتے لیکن ان سے مسئلہ پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ؛ جس کی وجہ سے وہ پہلے دئے ہوئے جوابات بھی بھول جاتے تھے کیونکہ اپنے دئے گئے جوابات کو یاد نہیں رکھتے تھے اس لئے ایک ہی سوال کے مختلف اور متضاد جوابات دئے جاتے تھے .اورشیعہ جب اپنے اماموں پر ان اختلافات کے بارے میں اشکال کرتےتھے تو توجیہ کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہمارے جوابات تقیۃً بیان ہوئے ہیں .اور ہم جو چاہیں اور جب چاہیں جواب دے سکتے ہیں  .کیونکہ یہ ہمارا حق ہے. اور ہم جانتے ہیں کہ کیا چیز تمہارے مفاد میں ہے اور تمہاری بقا اور سالمیت کس چیز میں ہے .اور تمھارے دشمن کب تم سے دست بردار ہونگے .

سلیمان آگے بیان کرتا ہے : پس جب ایسا عقیدہ ایجاد ہوجائے تو کوئی بھی ان کے اماموں پر  جھوٹے ہونے کا الزام نہیں لگا سکتا اور کبھی بھی ان کے حق اور باطل میں شناخت نہیں کرسکتا. اور انہی تناقض گوئی کی وجہ سے بعض شیعیان ابو جعفر امام باقر(ع) کی امامت کا انکار کرنے لگے(1)

--------------

(1):- ۱.    نوبختی؛  فرق الشیعہ ،  ص  ۸۵ ـ۸۷.


پس معلوم ہوا کہ دونوں مبنی کے مطابق شیعوں کے اماموں کے علم پر یہ اشکال وارد ہے  .

جواب :

 امامیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ ان کے امامان معصوم تمام  احکام اور معارف الٰہی کے بارے میں کلی علم رکھتےہیں اس بات پر متقن دلیل بھی بیان کیا گیا ہے لیکن ممکن ہے وہ دلائل برادران اہل سنت کیلئے قابل قبول نہ ہو.

چنانچہ شیخ طوسی نے اپنی روایت کی کتاب تہذیب الاحکام  کو انہی اختلافات کی وضاحت اور جواب کے طور پر لکھی ہے

علامہ شعرانی اور علامہ قزوینی یہ دو شیعہ دانشورکا بھی یہی عقیدہ ہے کہ  شیعوں کے امام تقیہ نہیں کرتے تھے بلکہ تقیہ کرنے کا اپنے ماننے والوں کو حکم دیتے تھے

علامہ شعرانی کہتے ہیں : آئمہ  تقیہ نہیں کرتے تھے بلکہ صرف  امر بہ معروف کیا کرتے تھے کیونکہ امامان تمام واقعیات سے باخبر تھے :  اذا شائوا  ان یعلموا علموا.کے مالک تھے  ہمارے لئے تو تقیہ کرنا صدق آتا ہے لیکن آئمہ کیلئے صدق نہیں آتا کیونکہ وہ لوگ تمام عالم اسرار سے واقف ہیں

علامہ قزوینی فرماتے ہیں :آئمہ تقیہ نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ عالم تھے اور تمام اوقات اور وفات کی کیفیت اور نوعیت سے باخبرتھے اس لئے ٖٖٖصرف ہمیں تقیہ کا حکم دیتے تھے(1)

اس  شبہ کا جواب

اولا: علم امام کے دوسرے مبنا پر یہ اشکال  ہے  نہ پہلے مبنا پر ، کیونکہ ممکن ہے جو پہلےمبنا  کا قائل ہے  وہ کہے  امام اپنی موت اور مرنے کے وقت اور کیفیت سے آگاہ نہیں تھے ، اس لئے جان کے خوف سے تقیہ کرتے تھے

--------------

(1):- .  مجلہ نور علم، ش ۵۰ ـ ۵۱، ص ۲۴ ـ ۲۵.


ثانیاً : امام کا تقیہ کرنا اپنی جان کے خوف سے نہیں بلکہ ممکن ہے اپنے اصحاب اور چاہنے والوں کی جان کے خوف سے ہوں ؛ یا اہل سنت کے ساتھ مدارات اور اتحاد کی خاطر تقیہ کئے ہوں. دوسرے لفظوں میں اگر کہیں کہ تقیہ کبھی بھی جان یا مال کے خوف کے ساتھ مختص نہیں ہے

ثالثاً: جو لوگ دوسرے مبنا کے قائل ہیں ممکن ہے کہہ دیں کہ امام اپنی موت کے وقت اور کیفیت کا علم رکھتے تھے اور ساتھ ہی جان کا خوف بھی کھاتے اور تقیہ کے ذریعے اپنی جان بچانا چاہتے تھے

ان دو شیعہ عالم دین پر جو اشکال وارد ہے یہ ہے ، کہ اگر آپ آئمہ کے تقیہ کا انکار کرتے ہیں تو ان تمام روایتوں کا کیا جواب دیں گے کہ جن میں خود آئمہ طاہرین  تقیہ کے بہت سے فضائل بیان فرماتے ہیں  اور ان روایتوں کا کیا کروگے جو امام کے تقیہ کرنے کو ثابت کرتی ہیں؟!

تقیہ اور عصمت

احکام اسلام کی تبلیغ اور ترویج میں ایک عام دین دارشخص سے بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی بات کو خدا اور رسول کی طرف نسبت دے دے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ امام تقیہ کرتے ہوئے ایک ناحق بات کو خدا کی طرف نسبت دے ؟!یہ حقیقت میں امام کے دین اور عصمت پر لعن کرنے کے مترادف ہے !(1)

جواب یہ ہے کہ اگر ہم تقیہ کی مشروعیت کو آیات کے ذریعے ثابت مانتے ہیں چنانچہ اہل سنت بھی اسے مانتے ہیں ، کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تقیہ کو حکم کلی قرار دیا ہے.

--------------

(1):- محسن امین، عاملی؛  نقض الوشیعہ ، ص ۱۷۹.


ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ امام (ع) نے بہ عنوان حکم اولی اس بات کو خدا کی طرف نسبت دی ہے ؛ لیکن بعنوان حکم ثانوی کسی بات کو خدا کی طرف نسبت دینے میں کوئی اشکال نہیں ہے .جیسے خود اللہ تعالیٰٰ نے قرآن مجید میں مجبور شخص کیلئے  مردار کھانے کوبحکم ثانوی ، جائز قرار دیا ہے

ثانیاً: شیعہ اپنے اماموں کوصرف راوی کی حیثیت سے قبول نہیں کرتے بلکہ  انہیں خودشارعین میں سے مانتے ہیں .جو اپنے صلاح دید کے مطابق حکم جاری کرتےہیں .

 بجائےتقیہ؛ خاموشی کیوں اختیار نہیں کرتے؟

اشکال: تقیہ کے موقع پر امام بطور تقیہ جواب دینے کی بجائے خاموشی کیوں اختیار نہیں کرتے ؟!

جواب :

اولا: امام معصوم(ع) نےبعض موارد میں سکوت بھی اختیار کئے ہیں اور کبھی طفرہ بھی کئے ہیں اورکبھی  سوال اور جواب  کو جابجا بھی کئے ہیں .

ثانیا:سکوت خود تعریف تقیہ کے مطابق ایک قسم کاتقیہ ہے کہ جسے تقیہ کتمانیہ کہا گیاہے .

ثالثا: کبھی ممکن ہے کہ خاموش رہنا ، زیادہ  مسئلہ کو خراب کرے جیسے اگر سوال کرنے والا حکومت کا جاسوس ہو تو اس کو گمراہ کرنے کیلئے تقیةً جواب دینا ہی  زیادہ فائدہ مند ہے(1)

رابعا: کبھی امام کے تقیہ کرنے کے علل اور اسباب کو مد نظر رکھتے ہوئے واقعیت کے خلاف اظہار کرنا ضروری ہوجاتا ہے جیسے اپنے چاہنے والوں کی جان بچانے کی خاطر اپنے عزیز کو دشمنوں کے درمیان چھوڑنا اور یہ صرف اور صرف واقعیت کے خلاف اظہار کرکے ہی ممکن ہے

--------------

(1):- فخر رازی؛ محصل افکار المتقدمین من الفلاسفہ والمتکلمین،ص ۱۸۲.


.اور کبھی دوستوں کی جان بچانے کیلئے اہل سنت کے فتوی کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے چنانچہ امام موسیٰ کاظم(ع)نے علی ابن یقطین  کو اہل سنت کے طریقے سے وضو کرنے کا حکم دیا  گیا(1)

تقیہ کی بجائے توریہ کیوں نہیں کرتے ؟!

شبہ: امام(ع)موارد تقیہ  میں توریہ کرسکتے ہیں، تو توریہ کیوں نہیں کرتے ؟ تاکہ جھوٹ بولنے میں مرتکب نہ ہو(2)

اس شبہہ کا جواب:

اولاً:تقیہ کے  موارد میں توریہ کرنا خود ایک قسم کا تقیہ ہے

ثانیاً: ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر امام کیلئے ہر جگہ توریہ کرنے کا امکان ہوتا تو ایسا ضرور کرتے .

ثالثاً:بعض جگہوں پر امام کیلئے توریہ کرنا ممکن نہیں ہوتا اور اظہار خلاف پر ناچار ہوجاتےہیں.

تقیہ اور دین کا  دفاع

شبہہ:اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کے نیک بندوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ، اللہ تعالیٰٰ کے دین کی حفاظت کرنا ہے .اگر چہ اس راہ میں قسم قسم کی اذیتیں اور صعوبتیں برداشت کرنا پڑے .اور اہل بیت پیغمبر بالخصوص ان ذمہ داری کو نبھانے کیلئے زیادہ حقدار ہیں(3)

جواب:آئمہ طاہرین نے جب بھی اصل دین کیلئے کوئی خطر محسوس کیا اور اپنے تقیہ کرنے کو اسلام پر کوئی مشکل وقت آنے کا سبب پایا تو تقیہ کو ترک کرتے ہوئے دین کی حفاظت کرنے میں مصروف ہوگئے

--------------

(1):- ہمان ،  ص  ۱۹۳.

(2):- وسائل شیعہ، ج۱، ص  ۲۱۳.

(3):- ابوالقاسم، آلوسی؛ روح المعانی،ج۳، ص۱۴۴.


.اور اس راہ میں اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کیا .جس کا بہترین نمونہ سالار شہیدان اباعبداللہ (ع) کا دین مبین اسلام کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کے علاوہ اپنے عزیزوں کی جانوں کا بھی نذرانہ دینے سے دریغ نہیں کیا لیکن کبھی ان کا تقیہ نہ کرنا اسلام پر ضرر پہنچنے ، مسلمانوں کا گروہوں میں بٹنے ، اسلام دشمن طاقتوں کے کامیاب ہونے  کا سبب بنتا تو ؛ وہ لوگ ضرور تقیہ کرتے تھے ..چنانچہ اگر علی(ع) رحلت پیغمبر (ص) کے بعد تقیہ نہ کرتے اور مسلحانہ جنگ کرنے پر اترآتے تو  اصل اسلام  خطرے میں پڑ جاتا اور جو ابھی ابھی مسلمان ہو چکے تھے ، دوبارہ کفر کی طرف پلٹ جاتے .کیونکہ امام کو اگرچہ ظاہری فتح حاصل ہوجاتی ؛ لیکن لوگ کہتے کہ انہوں نے پیغمبر کے جانے کے بعد ان کی امّت پر مسلحانہ حملہ کرکے لوگوں کو اسلام سے متنفر کیا .

پس معلوم ہوا کہ آئمہ طاہرین  کا تقیہ کرنا ضرور بہ ضرور اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر تھا.

تقیہ« سلونی قبل ان تفقدونی» کے منافی

امام علی(ع) فرماتے ہیں : مجھ سے پوچھو قبل اس کے کہ میں تمھارے درمیان سے اٹھ جاؤں ، اور تم مجھے پانہ سکو

 اس روایت میں سوال کرنے کا حکم فرمارہے ہیں ، جس کا لازمہ یہ ہے کہ جو کچھ آپ بطور  جواب فرمائیں گے  ، اسے قبول کرنا ہم پر واجب ہوگا؛ اور امام کا تقیہ کرنے کا لازمہ یہ ہے کہ بعض سوال کا امام جواب نہیں دیں گے. 

جواب : یہ کلام امیر المومنین (ع) نے اس وقت فرمایا ، کہ جب آپ برسر حکومت تھے  ؛ جس وقت تقیہ کے  سارے علل و اسباب مفقود تھے .یعنی تقیہ کرنے کی ضرورت نہ تھی.اور جو بھی سوال آپ سے کیا جاتا  ،اس کا جواب تقیہ کے بغیر  کاملاً دئے جاسکتے تھے البتہ اس سنہرے موقع سے لوگوں نے استفادہ نہیں کیا .لیکن ہمارے دیگر آئمہ طاہرین کو اتنی کم مدت  کابھی موقع نہیں ملا. یہی وجہ ہے کہ بقیہ اماموں سے ایسا جملہ صادر نہیں ہوا اگرچہ شیعہ اور سنی سوال کرنے والوں  کو احکام بیان کرنے میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کی .امام سجاد(ع)سے روایت  ہے کہ ہم پر لازم نہیں ہے کہ ہمارے شیعوں کے ہر سوال کا جواب دیدیں .اگر ہم چاہیں تو جواب دیں گے ، اور اگر نہ چاہیں تو گریز کریں گے(1)

--------------

(1):- وسائل الشیعہ، ج ۱۸، ص۴۳.


تقیہ  اور  شجاعت

اس  شبہہ کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے سارے امام انسانیت کے اعلاترین کمال اور فضائل کے مرتبے پر فائز ہیں یعنی ہر کمال اور صفات بطور اتم ان میں پائے جاتے ہیں اور شجاعت بھی کمالات  انسانی میں سے ایک ہے . 

لیکن تقیہ اور واقعیت کے خلاف اظہار کرنا بہت سارے مواقع پر جانی خوف کی وجہ سے ہے

اس کے علاوہ اس سخن کا مضمون یہ ہے کہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰٰ نے ایسے رہنما اور امام بھیجے ہیں، جو اپنی جان کی خوف کی وجہ سے پوری زندگی حالت تقیہ میں گذاری(1)

جواب: اولاً شجاعت اور تہور میں فرق ہے شجاعت حد اعتدال اور درمیانی راہ  ہے لیکن تہور افراط  اور بزدلی ، تفریط ہے .اور شجاعت کا یہ معنی نہیں کہ بغیر کسی حساب کتاب کے اپنے کو خطرے میں ڈالدے بلکہ جب بھی کوئی زیادہ اہم مصلحت خطرے میں ہو تو اسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں .

ثانیاً: ہمارے لئے یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ تقیہ کے سارے موارد میں خوف اور ترس ہی علت تامہ ہو ، بلکہ اور بھی علل و اسباب پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے تقیہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں .جیسے اپنے ماننے والوں کی جان بچانے کی خاطر ، کبھی دوسرے مسلمانوں کے ساتھ محبت اور مودت ایجاد کرنے کی  خاطر تقیہ کرتے ہیں جن کا ترس اور خوف سےکوئی رابطہ نہیں ہے .

ثالثا ً: امام کا خوف اپنی جان کی خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ دین مقدس اسلام کے مصالح اور مفاد کے مد نظرامام خائف ہیں ، کہ ایسا نہ ہو ، دین کی مصلحتوں کو کوئی ٹھیس پہنچے .جیسا کہ امام حسین (ع) نے ایسا ہی کیا .

اب اس اشکال یا بہتان کا جواب کہ  آئمہ طاہرین نے اپنی آخری عمر تک تقیہ کیا ہے ؛ یہ ہے:

--------------

(1):- کمال جوادی؛ ایرادات و شبہات علیہ شیعیان در ہند و پاکستان.


اولا ً : یہ بالکل بیہودہ بات   ہے اور تاریخ کے حقائق سے بہت دور ہے .کیونکہ ہم آئمہ طاہرین کی زندگی میں دیکھتےہیں کہ بہت سارے موارد میں انہوں نے  ظالم و جابر حکمرانوں کے ساتھ بہادرانہ طور پر جنگ و جہاد کئے ہیں چنانچہ امام موسیٰ کاظم (ع)نے اس وقت ، کہ جب ہارون نے چاہا کہ باغ فدک آپ کو واپس کریں ،  ہارون الرشید کے کارندوں کے سامنے برملا عباسی حکومت کے نامشروع اور ناجائز ہونے کا اعلان فرمایا ، اور مملکت اسلامی کے حدود کو مشخص کیا .

ثانیا ً : ہدایت بشر ی صرف معارف اسلامی کا برملا بیان کرنے پر منحصر نہیں ہے ، بلکہ بعض اہم اور مؤثر افراد تک اپنی بات کو منتقل کرنا بھی کافی اور باعث بنتا تھا کہ سارے لوگوں تک آپ کا پیغام پہنچ جائیں.

تقیہ اور تحلیل حرام و تحریم حلال

شبہہ یہ ہے کہ اگر اس بات کو قبول کرلے کہ امام بعض فقہی مسائل کا جواب بطو رتقیہ دیں گے تو  مسلماً ایسے موارد میں حکم واقعی  (حرمت) کی بجائے (حلیت ) کا حکم لگے گا اور یہ سبب بنے گا شریعت میں تحلیل حرام  اور تحریم حلال کا، یعنی حرام حلال میں بدل جائے گا اورحلال حرام میں(1)

اس شبہہ کا جواب  یہ ہے کہ شیعوں کے نزدیک تقیہ سے مراد ؛اضطراری حالات میں بعنوان حکم ثانوی ،آیات اور روایات معصوم کی پیروی کرنا ہے .

تقیہ کا حکم بھی دوسرے احکام جیسے  اضطرار، اکراہ ، رفع  ضرر اور  حرج کی طرح ہے ، کہ ایک معین وقت کیلئے حکم اولی کو تعطیل  کرکے اس کی جگہ   تقیہ والا حکم لگایا جاتا ہے .اور ان جیسے احکام ثانوی فقہ اہلسنت  میں بھی ہر جگہ موجود ہے .

تقیہ ا یک حکم اختصاصی  ہے  یا عمومی؟

--------------

(1):- احسان الہی ظہیر؛ السنّہ والشیعہ، ص ۱۳۶.


اس حصے میں درج ذیل مسائل کی بررسی کرنے کی ضرورت ہے :

1.  قانون تقیہ پر اعتقاد رکھنا کیا صرف شیعہ امامیہ کے ساتھ مختص ہے یا دوسرے مکاتب فکر بھی اس کے قائل ہیں ؟اور اسے ایک الہی قانون کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں ؟!

2.  کیا تقیہ کوئی ایسا حکم ہے جو ہرجگہ اور ہرحال میں جائز ہے یا اس کے لئے بھی خاص زمان یا مکان اور دیگر اسباب کا خیال رکھنا واجب ہے ؟

3.  کیا حکم تقیہ ،متعلّق کے اعتبار سے  عام ہے یا نہیں ؟ بطوری کہ سارےلوگ  ایک خاص شرائط میں اس پر عمل کرسکتے ہیں ؟  یا بعض لوگ بطور استثنا ہر عام و خاص شرائط کے بغیر  بھی تقیہ کرسکتے ہیں ؟جیسے : پیغمبر و امام(ع)؟

جواب: دو احتمال ہیں :

۱ـ تقیہ یک حکم ثانوی عام  ہے کہ سارے لوگ جس سے استفادہ کرسکتے ہیں .

۲ـ پیغمبران تقیہ سے مستثنی ہیں کیونکہ عقلی طور پر مانع موجود  ہے شیخ طوسی اور اکثر مسلمانوں نے دوسرے  احتمال  کو قبول کئے ہیں کہ پیغمبر کیلئے  تقیہ جائز نہیں ہے .کیونکہ اس کی شناخت اور علم اور رسائی صرف اور صرف  پیغمبر  کے پاس ہے 

اور صرف  پیغمبر  اور ان کے فرامین کے ذریعے شریعت کی شناخت اور علم ممکن ہے .پس جب پیغمبر  کیلئے تقیہ جائز ہو جائے تو ہمیں کوئی اور راستہ باقی نہیں رہتا جس کے ذریعے اپنی تکلیف اور شرعی وظیفہ کو پہچان لیں اور اس پر عمل کریں(1) اسی لئے فرماتے ہیں :فلا یجوز علی الانبیاء قبائح و لا التقیة فی اخبارهم لا نّه یؤدی الی التشکیک (2)

--------------

(1):- محمود یزدی؛ اندیشہ ہای کلامی شیخ طوسی،ص ۳۲۸.

(2):- التبیان ، ج۷ ، ص  ۲۵۹. 


 یعنی انبیا کیلئے نہ عمل قبیح جائز ہے اور نہ اپنی احادیث بیان کرنے میں تقیہ جائز ہے.کیونکہ تقیہ آپ کے فرامین میں شکوک و شبہات پیدا ہونے کا باعث بنتا ہے. اور جب کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم پیغمبر (ص) کی ہربات کی تصدیق کریں .اور اگر پیغمبر (ص) کے اعمال ، شرعی وظیفے کو ہمارے لئے بیان نہ کرے اور ہمیں حالت شک میں ڈال دے ؛ تو یہ ارسال رسل کی حکمت کے خلاف ہے پس پیغمبر (ص) کے لئے جائز نہیں کہ تقیہ کی وجہ سے ہماری تکالیف کو بیان نہ کرے .

شیخ طوسیپر اشکال : اگر ہم اس بات کے قائل ہوجائیں کہ پیغمبر(ص) کیلئے تقیہ جائز نہیں ہے تو حضرت ابراہیم  (ع)کا نمرود کے سامنے بتائی گئی ساری باتوں کیلئے کیا تاویل کریں گے  کہ بتوں کو آنحضرت ہی نے توڑ کر بڑے بت کی طرف نسبت دی ؟!اگر اس نسبت دینے کو تقیہ نہ مانے تو کیا توجیہ  ہوسکتی ہے ؟!

شیخ طوسی کاجواب:

آپ نے دو توجیہ کئے ہیں :

۱. بل فعلہ کو«ان کانوا ینطقون» کے ساتھ مقید کئے ہیں یعنی اگریہ بت بات کرتاہے تو  ان بتوں کوتوڑنے والا سب سے بڑا بت ہے .جب کہ معلوم ہے کہ بت بات نہیں کرسکتا.

۲. حضرت ابراہیم(ع) چاہتے تھے کہ نمرود کے چیلوں کو یہ بتا دے کہ اگر تم لوگ ایسا عقیدہ رکھتے ہو تو یہ حالت ہوگی پس آپ کا یہ فرمانا:« بل فعله کبیرهم» الزام کے سوا کچھ نہیں اور« انی سقیم» سے مراد یہ کہ تمھارے گمراہ ہونے کی وجہ سے روحی طور  سخت پریشانی میں مبتلا ہوں.

اسی طرح حضرت یوسف(ع) کا:« انّکم لسارقون» کہنا بھی تقیہ ہی تھا ، ورنہ جھوٹ قاموس نبوت سے دور ہے(1)

تمام انبیاءالہی کے فرامین میں توریہ شامل ہے اور توریہ ہونا کوئی مشکل کا سبب نہیں بنتا .اور توریہ بھی ایک قسم کا تقیہ ہے .ثانیا ً  انبیاء الہی کے فرامین احکام شرعی بیان کرنے کے مقام میں نہیں ہے .

--------------

(1):- .   ہمان ، ص ۲۶۰.


کیوں کسی نے تقیہ کیا  اور کسی نے نہیں کیا ؟!

یہ سوال ہمیشہ سے لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتا رہتا ہے کہ کیوں بعض آئمہ اور ان کے چاہنے والوں نے تقیہ کیا اور خاموش رہے ؟! لیکن بعض آئمہ نے تقیہ کو سرے سے مٹادئے اور اپنی جان تک کی بازی لگائی ؟!

اور وہ لوگ جو مجاہدین اسلام کی تاریخ ، خصوصا ً معاویہ کی ذلت بار حکومت کے دور کا مطالعہ کرتے تو ان کو معلوم ہوتا ،کہ تاریخ بشریت کا سب سے بڑا شجاع انسان یعنی امیر المؤمنین(ع) کا چہرہ مبارک نقاب پوش  ہوکر رہ گیا جب یہ ساری باتیں سامنے آتی ہیں تو یہ سوال ذہنوں میں اٹھتا ہے کہ کیوں پیغمبر (ص) اور علی(ع)  کے باوفا دوستوں کے دو چہرے کاملاً ایک دوسرے سے مختلف نظر آتا ہے :

 ایک گروہ : جو اپنے زمانے کے ظالم و جابر حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کا مقابلہ کرنے پر اتر آتے ہیں ؛ جیسے میثم تمار ، حجر بن عدی، عبداللہ و... اسی طرح باقی آئمہ کے بعض  چاہنے والوں نے دشمن اور حاکم وقت کے قید خانوں میں اپنی زندگیاں رنج و آالام میں گذارتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کئے .اور وحشتناک جلادوں  کا خوف نہیں کھائے ، اور عوام کو فریب دینے والے مکار اور جبار حاکموں کا نقاب اتار کر ان کا اصلی چہرہ لوگوں کے سامنے واضح کردئے .

اور دوسرا گروہ : باقی آئمہ طاہرین کے ماننے والوں اور دوستوں میں بہت سارے ، جیسے علی ابن یقطین بڑی  احتیاط کے ساتھ ہارون الرشید کے وزیراور مشیر بن کر رہے !

جواب : اس اشکال کا جواب امامیہ مجتھدین اور فقہا  دے چکے ہیں : کہ کبھی تقیہ کو ترک کرتے ہوئے واضح طور پر ما فی الضمیر کو بیان کرنا اور  اپنی جان کا نذرانہ دینا واجب عینی ہوجاتا ہے ؛ اور کبھی تقیہ کو ترک کرنا مستحب ہوجاتا ہے اور اس دوسری صورت میں  تقیہ کرنے والے نے نہ کوئی خلاف کام کیا ہے ، نہ ان کے مد مقابل والے نے تقیہ کو پس پشت ڈال کر فداکاری اور جان نثاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، جام شہادت نوش کرکے کوئی خلاف کام کیاہے


اسی دلیل کی بنا پر  میثم تمار ،  حجر بن عدی اوررشید ہجری  جیسے عظیم اور شجاع لوگوں  کو ہمارے اماموں نے بہت سراہا ہے ، اور اسلام میں ان کا بہت بڑا مقام ہے . 

ان  کی مثال ان لوگوں کی سی ہے ، جنہوں نے اپنے حقوق سے ہاتھ اٹھائے ہیں اور معاشرے میں موجود غریب اور نادار اور محروم لوگوں کی حمایت کرتے ہوئے ان پر خرچ کیا ہو ، اور خود کو محروم کیا ہو.اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی یہ فداکاری اور محروفیت کو قبول کرنا ؛ سوائے بعض موارد میں ،واجب تو نہیں تھا کیونکہ جو چیز واجب ہے وہ عدالت  ہے نہ ایثار .لیکن ان کا یہ کام اسلام اور اہل اسلام کی نگاہ میں بہت قیمتی اور محترم کام  شمار ہوتا ہے .اور یہ احسان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ احسان کرنے والا عواطف انسانی کی آخرین منزل  کو طے کرچکا ہے .جو دوسروں کو آرام و راحت میں دیکھنے کیلئے اپنے کو محروم کرنے کو اختیار کرے

پس تقیہ کو ترک کرتے ہوئے اپنی جانوں کو دوسرے مسلمانوں اور مؤمنوں کا آرام اور راحت کی خاطر فدا کرنا بھی ایسا ہی ہے .اور یہ اس وقت تک ممکن ہے ، جب تک تقیہ کرنا وجوب کی حد تک نہ پہنچا ہو اور یہ پہلاراستہ ہے .

دوسرا راستہ یہ ہے کہ لوگ موقعیت اور محیط کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں اگر پست محیط میں زندگی کر رہے ہوں ، جیسے معاویہ کی حکومت کا دور ہے ؛اس کی سوء تبلیغ اور اس کے ریزہ خواروں اور مزدوروں اور بعض دین فروشوں کی جھوٹی تبلیغات کی وجہ سے اسلام کے حقائق اور معارف  معاشرے میں سے بالکل محو ہوچکا تھا .اور لوگ اسلامی اصولوں سے بالکل بے خبر تھے .اور امیر المؤمنین (ع)کا انسان ساز مکتب بھی اپنی تمام تر خصوصیات کے باوجود ، سنسر کر دئے گئے ، اور پردہ سکوت کے پیچھے چلا گیا .اور اس ظلمانی پردے کو چاک کرکے اسلامی معاشرے کو تشکیل دینے  کیلئے عظیم قربانی کی ضرورت تھی .ایسے مواقع پر افشاگری ضروری تھا ، اگرچہ جان بھی دینا کیوں نہ پڑے .

حجر بن عدی  اور ان کے دوستوں کے بارے میں کہ جنہوں نے معاویہ کےدور میں مہر سکوت کو توڑ کر علی (ع)کی محبت کا اظہار کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمائی ؛اور ان کی  طوفانی شہادت اور شہامت اس قدر مؤثر تھا کہ  پورے مکہ اور مدینہ کے علاوہ عراق میں بھی لوگوں میں انقلاب برپا کیا ؛ جسے معاویہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا


امام حسین(ع) نے ایک پروگرام میں ، معاویہ کے غیراسلامی کردار کو لوگوں پر واضح کرتے ہوئے  یوں بیان فرمایا :الست قاتل حجر بن عدی اخا کنده ؛ والمصلین العابدین الذین کانوا ینکرون الظلم و یستعظمون البدع و لا یخافون فی الله لومة لائم !

اے معاویہ ! کیا تو وہی شخص نہیں ، جس نے قبیلہ کندہ کےعظیم انسان (حجر بن عدی) کو نماز گزاروں کے ایک گروہ کے ساتھ بے دردی سے شہید کیا ؟ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ ظلم اور ستم کے خلاف مبارزہ کرتے اور بدعتوں اور خلاف شرع کاموں سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے، اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کی کوئی پروا نہیں  کرتے تھے   ؟!.(1)

شیعوں کے تقیہ سے مربوط شبہات ، تہمتیں:

تقیہ شیعوں کی  بدعت

شبہہ پیدا کرنے والے کا کہنا ہے کہ :تقیہ شیعوں کی بدعت ہے جو اپنے فاسد عقیدے کو چھپانے کی خاطر  کرتے ہیں(2)

اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ اس نے بدعت کے معنی میں اشتباہ کیا ہے جب کہ مفردات راغب نے بدعت کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے :البدعة هی ادخال ما لیس من الدین فی الدین (3) بدعت سے مراد یہ ہے کہ جوچیز دین میں نہیں، اسے دین میں داخل  کرے .اور گذشتہ مباحث سے معلوم ہوا کہ تقیہ دین کی ضروریات میں سے ہے کیونکہ قرآن  اور احادیث آئمہمیں واضح طور پر بیان ہوا ہے  کہ تقیہ کو اہل تشیع اور اہل سنت دونوں مانتے ہیں اور اس کے شرعی ہونے کو بھی مانتے ہیں لذا ، تقیہ نہ بدعت ہے اور نہ شیعوں کا اختراع  ،کہ جس کے ذریعے اپنا عقیدہ چھپائے ،

--------------

(1):-  مکارم شیرازی؛ تقیہ مبارزہ عمیقتر، ص ۱۰۷.

(2):- فہرست ایرادات و شبہات علیہ شیعیان در ہند و پاکستان، ص ۳۶.

(3):- راغب اصفہانی ؛ مفردات، بدع.


بلکہ یہ اللہ اور رسول کا  حکم ہے گذشتہ مباحث سے معلوم ہوا کہ تقیہ  دین کاحصہ ہے کیونکہ وہ آیات  جن کو شیعہ حضرات  اسلام کا بپاکنندہ  جانتے ہیں،ان کی مشروعیت  کو ثابت کرچکے ہیں اور  اہل سنت نے بھی ان کی مشروع ہونے کا فی الجملہ اعتراف کیا ہے. اس بنا پر ، نہ تقیہ بدعت  ہے اور نہ شیعوں کا اپنا عقیدہ چھپانے کیلئے اختراع  ہے

 تقیہ، مکتب تشیع کا  اصول دین ؟!

بعض لوگوں کا اپنے مخالفین کے خلاف  مہم چلانے اور ان کو ہرانے کیلئے جو خطرناک اور وحشنتاک راستہ اختیار کرتے ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کو متہم کرنا ہے اور ایسی تہمتیں  لگاتے ہیں ، جن سے وہ لوگ مبریٰ ہیں اگرچہ عیوب کا ذکر کرنا معیوب  نہیں  ہے .ان لوگوں میں سے ایک ابن تیمیہ ہے ؛ جو کہتا ہے کہ شیعہ تقیہ کو اصول دین میں سے شمار کرتے ہیں جبکہ کسی ایک شیعہ بچے سے بھی پوچھ لے تو وہ بتائے گا : اصول دین پانچ ہیں :

اول : توحید. دوم :عدل سوم: نبوت چہارم:امامت پنجم : معاد.لیکن وہ اپنی  کتاب منہاج السنہ  میں لکھتا ہے : رافضی لوگ اسے اپنا اصول دین میں  شمار کرتے ہیں .ایسی باتیں یا تہمتیں لگانے کی  دو ہی وجہ ہوسکتی ہیں: 

۱. یا وہ شیعہ عقائد سے بالکل بے خبر ہے ؛ کہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ مذہب تشیع کا اتنا آسان مسئلہ ؛ جسے سات سالہ بچہ بھی جانتا  ہو ، ابن تیمیہ اس سے بے خبر ہو .کیونکہ ہمارے ہاں کوئی چھٹا اصل بنام تقیہ موجود نہیں ہے .

۲. یا ابن تیمیہ اپنی ہوا وہوس کا اسیر ہوکر شیعوں کو متہم کرنے پر تلا ہوا ہے وہ چاہتا ہے کہ اس طریقے سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرےاوراسلام اور مسلمین کی قوت اور شان و شکوکت کو متزلزل کرے .اس قسم کی بیہودہ باتیں ایسے لوگوں کی دل خوشی کا سبب بن سکتے ہیں ، جو کسی بھی راستے سے شیعیان علی ابن ابی طالب  کی شان شوکت کو دنیا والوں کے سامنے گھٹائے اور لوگون کو مکتب حقہ سے دور رکھے(1)

--------------

(1):- .  عباس موسوی؛ پاسخ و شبہاتی پیرامون مکتب تشیع، ص۱۰۲. 


جب کہ خود اہل سنت بھی تقیہ کے قائل ہیں اور ان کے علماء کا اتفاق اور اجماع بھی ہے ، کہ تقیہ ضرورت کے وقت جائز ہے .چنانچہ ابن منذر لکھتا ہے:اجمعوا علی من اکره علی الکفر حتی خشی علی نفسه القتل فکفر و قلبه مطمئن بالایمان انه لا یحکم علیه بالکفر (2)

اس بات پر اجماع  ہے کہ اگر کوئی کفر کے اظہار کرنے پر مجبور ہو جائے  ، اور جان کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں ضرور اظہار کفرکرے .جبکہ اس کا دل ایمان سے پر ہو ، تو اس پر کفر کا فتویٰ نہیں لگ سکتا .یا وہ کفر کے زمرے میں داخل نہیں ہوسکتا .

ابن بطال کہتا ہے : واجمعوا علی من اکره علی الکفر واختار القتل انه اعظم اجرا عنداﷲ !یعنی علماء کا  اجماع  ہے کہ اگر کوئی مسلمان کفر پر مجبور ہوجائے ، لیکن  جان دینے کو ترجیح دے دے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰٰ کے نزدیک بہت بڑا اجر اور ثواب ہے

خوداہل سنت تقیہ کے جائز ہونے کو قبول کرتے ہیں لیکن جس معنی ٰ میں شیعہ قائل ہیں ، اسے نہیں مانتے .یعنی ان کے نزدیک تقیہ ، رخصت یا اجازت ہے ، لیکن شیعوں کے نزدیک ، ارکان دین میں سے ایک رکن ہے جیسے نماز. اور بعد میں امام صادق(ع)کی روایت کو نقل کرتے ہیں، جو پیغمبر اسلام سے منسوب ہے قال الصادق(ع): لو قلت لہ تارک التقیہ کتارک الصلوة اس کے بعد کہتےہیں کہ شیعہ صرف اس بات پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں :لا دین لمن لا تقیة له (1)

--------------

(1):- دکترناصر بن عبداللہ؛ اصول مذہب شیعہ،ج ۲، ص ۸۰۷.

(2):-    ہمان


تقیہ، زوال دین کا موجب ؟!

کہا جاتا ہے کہ تقیہ زوال دین اور احکام کی نابودی کا موجب بنتا ہے لہذا تقیہ پر عمل نہیں کرنا چاہئے .اور اس  کو جائز نہیں سمجھنا چاہئے

جواب: تقیہ ، احکام پنجگانہ میں  تقسیم کیا گیا ہے :یعنی:واجب ،     حرام ،      مستحب ،      مکروہ ،        مباح.

حرام تقیہ، دین میں فساد اور ارکان اسلام کے متزلزل ہونے کا سبب بنتا ہے .

  بہ الفاظ دیگر جوبھی اسلام کی نگاہ میں جان، مال  ، عزت، ناموس وغیرہ کی حفاظت سے زیادہ مہم ہو تو وہاں تقیہ کرنا جائز نہیں ہے ، بلکہ حرام ہے .اور  شارع اقدس نے بھی یہی حکم دیا ہے .کیونکہ عقل حکم لگاتی ہے کہ جب بھی کوئی اہم اور مہم کے درمیان تعارض ہوجائے تو اہم کو مقدم رکھاجائے ، اور اگر تقیہ بھی موجب فساد یا ارکان اسلام میں متزلزل ہونے کا سبب بنتا ہے تو وہاں تقیہ کرنا جائز نہیں ہے

 آئمہ طاہرین  سے کئی روایات ہم تک پہنچی ہے کہ جو اس بات کی تائید کرتی ہیں ؛ اور بتاتی ہیں کہ بعض اوقات تقیہ کرنا حرام ہے

 امام صادق (ع)فرمود:فکل شیئ  یعمل المؤمن بینهم لمکان التقیة مما لا یؤدی الی الفساد فی الدین فانّه جائز. (1) امام نے فرمایا: ہر وہ کام جو مؤمن تقیہ کے طور پر انجام دیتے ہیں ؛اور دین کیلئے کوئی ضرر یا نقصان بھی نہ ہو ،اور کوئی فساد کا باعث  بھی نہ ہو ؛ تو جائز ہے .

--------------

(1):- وسائل الشیعہ ، ج۶، باب۲۵، ص۴۶۹.


امام صادق (ع)کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تقیہ بطور مطلق حرام نہیں ہے بلکہ وہ تقیہ حرام ہے جو زوال دین کا سبب بنتا ہو

لیکن وہ تقیہ واجب  یا مباح یا مستحب ہے جو زوال دین کا سبب نہیں بنتا .  اس کا مکتب تشیع قائل ہے

امام کی پیروی  اور تقیہ کے درمیان تناقض

اس شبہہ کو یوں بیان کیا ہے کہ شیعہ  آئمہ کی پیروی کرنے کا ادعا کرتے ہیں جبکہ آئمہ طاہرین نے تقیہ کرنا چھوڑ دئے ہیں ؛ جس کا نمونہ علی (ع)نے  ابوبکر کی بیعت کی ، اور امام حسین (ع)نے یزید کے خلاف جہاد  کیا(2)

اس شبہہ کا جواب :

اولاً :شیعہ نظریے کے مطابق تقیہ ایسے احکام میں سے نہیں کہ ہر حالت میں جائز ہو ، بلکہ اسے انجام دینے  کیلئے تقیہ اور حق کا اظہار کرنے  کے درمیان مصلحت سنجی کرناضروری ہے کہ تقیہ کرنے میں زیادہ مصلحت ہے یا تقیہ کو ترک کرنے میں زیادہ مصلحت ہے ؟ آئمہ طاہرین  بھی مصلحت سنجی کرتے اور عمل کرتے تھے. جیسا کہ اوپر کی دونوں مثالوں میں تقیہ کو ترک کرنے میں زیادہ مصلحت پائی جاتی ہے لہذا دونوں اماموں نے تقیہ کو ترک کیا اگر امام حسین (ع)تقیہ کرتے تو اپنے جد امجد (ص) کا دین نہیں بچتا

ثانیا: شیعہ سارے اماموں کی پیروی کرنےکو واجب سمجھتے ہیں اور ہمارے سارے آئمہ نے بعض جگہوں پر تقیہ کئے  ہیں اور بعض جگہوں پر تقیہ کو ترک کئے ہیں بلکہ اس سے بھی بالا تر کہ بعض مقامات پر تقیہ کرنے کا حکم دئے ہیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی زندگی میں کتنی سخت دشواریاں پیش آتی تھیں.

-------------

(2):- موسی موسوی؛ الشیعہ والتصحیح، ص۶۹.


ثالثاً: تقیہ کے  بہت سے موارد ، جہاں خود آئمہ نے تقیہ کرنے کو مشروع قرار دئے ہیں ، جن کا  تذکرہ گذرچکا .

رابعاً: شبہہ پیدا کرنے والا خود اعتراف کررہا ہے کہ حضرت علی(ع)نے فقط چھ ماہ  بیعت کرنے سے انکار کیا پھر بعد میں بیعت  کرلی .یہ خود دلیل ہے سیرہ حضرت علی(ع) میں بھی تقیہ ہے

تقیہ اورفتوائے امام(ع)کی تشخیص

اس کے بعد کہ قائل ہوگئے کہ آئمہ بھی تقیہ کرتے تھے ؛ درج ذیل سوالات ، اس مطلب کی ضمن میں کہ اگر امام حالت تقیہ میں کوئی فتویٰ دیدے، تو کیسے پہچانیں گے کہ تقیہ کی حالت میں فتویٰ دے رہے ہیں یا عام حالت میں ؟!

جواب:

اس کی پہچان تین طریقوں سے ممکن ہے :

1.  امام کا فتوی ایسے دلیل کے ساتھ بیان ہوجو حالت تقیہ پر دلالت کرتی ہو

2.  فتوی دینے سے پہلے کوئی قرینہ موجود ہو ، جو اس بات پر دلالت کرے کہ حالت تقیہ میں امام نےفتوی دیا ہے .

3.  امام(ع) قرینہ اور دلیل کو فتوی صادر کرنے کے بعد ،بیان کرے کہ حالت تقیہ میں مجھ سے یہ فتوی صادر ہوا ہے

 تقیہ اورشیعوں کا اضطراب!

تقیہ  یعنی جبن و اضطراب کادوسرا  نام ہے ،اور شجاعت اور بہادری کے خلاف ہے جس کی وجہ سے اپنےقول و فعل میں، اورظاہر و باطن میں اختلاف کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے .اور یہ صفت ، رزائل اخلاقی کے آثار میں سے ہے اور اس  کی سخت مذمت ہوئی  ہے؛ لہذا خود امام حسین(ع)نے  کلمہ حق کی راہ میں تقیہ کے حدود کو توڑ کر شہادت کیلئے اپنے آپ کو تیار کیا(1)

--------------

(1):- .   دکتر علی سالوس؛ جامعہ قطربین الشیعہ و السنہ،ص۹۲.


جواب: اگرشیعوں میں  نفسیاتی طور پر جبن، اضطراب اور خوف پایا جاتا توظالم بادشاہوں کے ساتھ ساز باز کرتے ، اور کوئی جنگ یا جہاد کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی یہ لوگ بھی درباری ملاؤں کی طرح اپنے اپنے دور کے خلیفوں کے ہاں عزیز ہوتے .اور تقیہ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی.

اس سے بڑھ کر کیا کوئی شجاعت اور بہادری ہے کہ جس دن اسلام کی رہبری اور امامت کا انتخاب ہونے والاتھا ؛ اس دن لوگوں نے انحرافی راستہ اپناتے ہوئے نااہل افراد کو مسندخلافت پر بٹھادئے اس دن سے لیکر اب تک شیعوں کا اور شیعوں کے رہنماؤں کا یہی نعرہ اور شعار رہا ہے کہ ہر طاغوتی طاقتوں کے ساتھ ٹکرانا ہے اور مظلوموں کی حمایت کرنا ہے اور اسلام سے بےگانہ افراد کی سازشوں کو فاش کرنا ہے .

اگرچہ شیعہ مبنای تقیہ پر حرکت کرتے ہیں ؛ لیکن جہاں بھی اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ ظالم اور جابر کے خلاف آواز اٹھانا ہے ؛ وہاں شیعوں نے ثابت کردیا ہے کہ اسلام اور مسلمین اور مظلوموں کی حمایت میں اپنا خون اور اپنے عزیزوں کی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کیا.

شیعوں کا آئیڈیل یہ ہے کہ اسلام ہمیشہ عظمت اور جلالت کے مسند پرقائم رہے اور امّت اسلامی کے دل اور جان میں اسلام ی عظمت اور عزت باقی رہے .

اور یہ بھی مسلمان یاد رکھے ! کہ تاریخ بشریت کا بہترین انقلاب ؛ شیعہ انقلاب  رہا ہے اور دنیا کے پاک اور شفاف ترین انقلابات ، جو منافقت ،  دھوکہ بازی ، مکر و فریب  اور طمع و لالچ سے پاک رہے ؛ وہ شیعہ انقلابات ہیں

ہاں ان انقلابات میں مسلمان عوام اور حکومتوں کی عظمت اور عزت مجسم ہوچکی تھی .اور طاغوتی قوتوں کےمقابلے میں اس مکتب کے ماننے والوں کو عزت  ملی اور شیعہ، طاغوتی طاقوتوں اور حکومتوں  کو برکات اور خیرات  کا مظہر  ماننا تو درکنار ، بلکہ ان کے ساتھ ساز باز کرنے  سے پر ہیز کرتے تھے .ہم کچھ انقلابات کا ذکر کریں گے ، جن کو آئمہ طاہرین  نے سراہتے ہوئے ان کی کامیابی کے لئے دعا کی ہیں .کیونکہ کسی بھی قوم کی زندگی اور رمز بقا  انہی انقلابات میں ہے جن میں سے بعض  یہ ہیں:


o   زید ابن علی کا انقلاب

o   محمد بن عبداللہ  کا  حجازمیں انقلاب

o   ابراہیم بن عبداللہ کا  بصرہ میں انقلاب

o   محمد بن ابراہیم و ابو السرایاکا انقلاب

o   محمد دیباج فرزند امام جعفر صادق(ع)کا انقلاب

o   علی ابن محمد فرزند امام جعفر صادق(ع)کا انقلاب

اسی طرح دسیوں اور انقلابات ہیں ، کہ جن کی وجہ سے عوام میں انقلاب اورشعور پید اہوگئی ہے اور پوری قوم کی ضمیر اور وجدان کو جگایا ہے(1)

امامان معصوم ان انقلابات کو مبارک اور خیر وبرکت کا باعث سمجھتے تھے .اور ان سپہ سالاروں کی تشویق کرتے تھے  .راوی کہتا ہے :فَدَخَلْنَا عَلَی الصَّادِقِ ع وَ دَفَعْنَا إِلَيْهِ الْكِتَابَ فَقَرَأَ وَ بَكَی ثُمَّ قَالَ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ عِنْدَ الله أَحْتَسِبُ عَمِّی إِنَّهُ كَانَ نِعْمَ الْعَمُّ إِنَّ عَمِّی كَانَ رَجُلًا لِدُنْيَانَا وَ آخِرَتِنَا مَضَی وَ الله عَمِّی شَهِیداً كَشُهَدَاءَ اسْتُشْهِدُوا مَعَ رَسُولِ الله وَ عَلِيٍّ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ صَلَوَاتُ الله عَلَيْهِمْ (2) جب امام صادق(ع)  کو زیدابن علی کی  شہادت  کی خبر ملی تو کلمہ استرجاع کے بعد فرمایا :میرے چچا واقعاً بہترین اور عزیز ترین چچا ہیں اور ہمارے لئے دنیا اور آخرت دونوں میں چاہنے  والے ہیں خدا کی قسم ! میرے چچا ایسے شہید ہوئے ہیں ، جیسے رسول خدا (ص) ، علی اور حسین   کےرکاب میں شہید ہوچکے ہوں .خدا کی قسم ! وہ شہید کی موت مرے ہیں .

--------------

(1):- علی عباس موسوی؛ پاسخ شبہاتی پیرامون مکتب تشیع ، ص۹۷.

(2):- بحارالانوار   ، ج 46،ص 175   باب 11- احوال اولادہ و ازواجہ


ایسے کلمات آئمہ معصومین (ع)سے صادر ہوئے ہیں ، اور یہ بہت دقیق تعبیر یں ہیں کہ جو شیعہ تفکر کی عکاسی کرتی ہیں  کہ ہر ظالم و جابر حکمران  کو غاصب مانتے تھے .اور ہر حاکم ، شیعہ کو اپنے لئے سب سے بڑا  خطر ہ جانتا تھا  .

ہم زیادہ دور نہیں جاتے ، بلکہ اسی بیسویں صدی کا انقلاب اسلامی ایران  پر نظر کریں ؛ کیسا عظیم انقلاب تھا ؟! کہ ساری دنیا کے ظالم وجابر ؛ کافر ہو یا مسلمان ؛طاغوتی قوتیں  سب مل کر اسلامی جمہوری ایران پر حملہ آور ہوئے ؛ اگرچہ  ظاہراً ایران اور عراق کے درمیان جنگ تھی ، لیکن حقیقت میں اسلام اور کفر کے درمیان جنگ تھی کیونکہ عالم کفر نے دیکھا کہ  اگر کوئی  آئین  یا مکتب  ، ان کیلئے خطرناک ہے  ، تو وہ اسلام ناب محمدی (ص) اور اس کے پیروی کرنے والے ہیں

 اسی لئے باطل طاقتیں اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ ، اسلام ناب محمدی(ص) کے علمبردار یعنی خمینی بت شکن اور ان کے انقلاب کو سرکوب کرنے پر اتر آئے ، لیکن اللہ تعالیٰٰ نے ان  کو ذلیل و خوار کیا اور جمہوری اسلامی ایران کی  ایک فٹ زمین بھی  چھین نہ سکے، جبکہ صدام نے مغرورانہ انداز میں کہا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر تہران  میں وارد ہونگے اور ظہرانہ تہران میں جشن مناتے ہوئے کھائیں گے .

 آج پوری دنیا میں اگر اسلام کا کوئی وقار اور عزت نظر آتا  ہے تو انقلاب اسلامی کی وجہ سے  ہے

آئیں اس انقلاب سے بھی نزدیکتر دیکھتے ہیں کہ مکتب اہل بیت  کے پیروکاروں نے کس طرح حقیقی اسلام کے دشمنوں کے ساتھ بہادرانہ طور پر مقابلہ کیا اور دشمن کے سارے غرور کو خاک میں ملاتے ہوئے ، شکست فاش دیا ؟! میرا مقصد ؛ شیعیان لبنان (حزب اللہ اور ان کے عظیم لیڈر ، سید حسن نصراللہ ) ہیں جو کردار خمینی بت شکن  نے امریکا اور اسرائیل کے مقابلے میں دنیا کے مستضعفوں کی حاکمیت قائم کرنے میں ادا کیا ، وہی کردار سید حسن نصراللہ نے جنایت کار اور خون خوار اسرائیل کے ساتھ  ادا کیا .


مناسب ہے کہ اس بارے میں کچھ تفصیل بیان کروں ،تاکہ دنیا کے انصاف پسند لوگوں کو یہ معلوم ہو سکے کہ تقیہ کے دائرے کو توڑ کر دشمن کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کرنے والا کون تھا ؟!

رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی نے ایک تحقیر آمیز انداز میں  اسرائیل کی حیثیت کو دنیا کے سامنے واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا : کہ اگر دنیا کے سارے مسلمان متحد ہوکر ایک  ایک گلاس پانی پھینک دیں تو اسرائیل اس صفحی ہستی سے محو ہوجائے گا دنیا کے بہت سارے دانشوروں اور روشن فکروں نے اس بات کا مزاق اڑایا تھا ،  لیکن حزب اللہ لبنان کی تجربات اور مہارت نے یہ بات دنیا کے اوپر واضح کردیا کہ اسرائیل کی حکومت ہزارون ایٹمی میزائیلوں اور بموں اور جدید ترین ہتھیاروں کے رکھنے کے باوجود بھی ایک باایمان اور مختصر گروہ کے سامنے بے بس ہوکر  اپنے گٹھنے ٹیک دینے پر مجبور ہوگئے .اور شیشے کے درودیوار والے محل اور بنگلوں میں رہنے والے چھوٹے چھوٹے فلسطینی بچوں کے غلیل کی زد میں آکر پریشان اور بیچین نظر آتےہیں.

آج پوری دنیا میں خمینی بت شکن  کے افکار اور نظریات پھیل چکے ہیں ؛ جس کا مصداق اور نمونہ اتم ، سید حسن نصر اللہ اور حزب اللہ لبنان کی شکل میں نظرآتا ہے .اور آپ کے اس فرمان کی ترجمانی کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ نے کہا:والله انّ هی( اسرائیل) اوهن من بیت العنکبوت؛ خدا کی قسم یہ اسرائیل مکڑی کی جال سے بھی زیادہ نازک اور کمزور ہے یہ کہہ کر امام خمینی  کے اس جملے( اسرائیل کو اس صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہئے )  کی صحیح ترجمانی کی .

ہاں ! سید حسن نصر اللہ کیلئے یہی باعث فخر تھی کہ رہبر  معظم  و مرجع عالی قدر حضرت آیة اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بازؤں کا بوسہ لیتے ہوئے ، دنیا پر واضح کررہے تھے کہ میں امام زمان (عج) کے نائب برحق کےشاگردوں میں سے ایک ادنی شاگرد  ہوں. اس مرد مجاہد نے لبنان کے سارے بسنے والوں کو ؛ خواہ وہ مسلمان  ہویا غیر مسلمان ، شہادت طلبی کا ایسا درس دیا کہ سارے مرد ،عورت ، چھوٹے بڑے نے ان  کی باتوں پر لبیک کہہ کرکلمہ لاالٰہ الا اللہ کی سربلندی کے لئے شہادت  کی موت کو خوشی سے گلے لگائے یہی حزب اللہ کی جیت کی اصل وجہ تھی .اور  یہ  ثابت کردیا کہ مکتب اہل بیت(ع) کے ماننے والا ہی رہبری کے لائق ہے


آج پورے دنیا والوں  نے یہ محسوس کرلیا ہے ، خصوصاً جوانوں  نے ، کہ حزب اللہ ، شیعہ ہے ، اور ان کی مکتب حقہ کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے لگے  ہیں ، جس کا نتیجہ یہ  نکلا ہے کہ حقیقی اسلام  کی شناخت کیلئے دروازہ کھل گیا ہے  .

نیو یورک ٹائمز نے لکھا ہے کہ : سید حسن نصر اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ کرکے اپنی اور اپنی ٹیم کی شخصیت اور وقار کو حد سے زیادہ بلند و بالا کیا ہے اور جو چیز صفحہ تاریخ سے مٹادینے کے قابل ہیں،  وہ  مصر کا صدر جمال عبد الناصر کا یہودیوں کو سمندر میں پھینک دینے کا خالی اور کھوکھلا دعوا  اور صدام کا آدھا اسرائیل کو جلانے کا  جھوٹا ادعی تھا ؛ ان دنوں صدام کے بڑے بڑے پوسٹرز پاکستان کے مختلف شہرو ں  میں روڈوں پر بکنے لگے اور صدام کو صلاح الدین ایوبی کا لقب دینے لگے .لیکن اس نے اسرائیل کے اوپر حملہ کرنے کی بجائے کویت پر حملہ کر کے مسلمانوں کا مال اور خزانہ لوٹ کر سب سے بڑا  ڈاکو بن گیا .

لیکن ان کے مقابلے میں دیکھ لو  کہ  سید حسن نصر اللہ،۴۶ سالہ ایک روحانیت کے لباس میں محاذ جنگ پر ایک فوجی جرنیل کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا کمانڈ کرتے ہوئے نظر آتا ہے .

یہ اخبار مزید لکھتا ہے کہ : وہ مشرق وسطی کا قدرتمند ترین  انسان ہے .یہ بات عرب ممالک کے کسی ایک وزیر اعظم کے مشیر  نے اس وقت کہی  کہ جب سید حسن نصراللہ ٹی وی پر خطاب کررہے تھے .پھر وہ ایک سرد آہ بھر کر کہتا ہے : حسن نصراللہ ہی تمام عرب ممالک کے رہبر ہیں .کیونکہ وہ جو جو وعدہ کرتا ہے اسے ضرور پورا کرتے ہیں .

خود اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے اعلان کردیا تھا کہ ۳۳ روزہ جنگ میں ۱۲۰ اسرائیلی فوج  کو قتل اور ۴۰۰ کوشدید  زخمی  کردئے ، جن میں سے بھی اکثر مرنے کے قریب تھے .اسی طرح ۵۰ یہودی دیھاتی  بھی حزب اللہ کے میزائلوں کی زد میں آکر مرے ، اور ۲۵۰۰ افراد زخمی تھے .حز ب اللہ نے یہ کر دکھایا کہ اس مختصر مدت میں ۱۲۰ میر کاوا ٹینک ، ۳۰ زرہی ، ۲  آپاچی ہیلی کوپٹر  کو منہدم کردیا .

غربی سیاستمداروں ، وایٹ ہاوس کے حکمران لوگ ، شروع میں حزب اللہ کی اس مقاومت اور مقابلے کو بہت ہی ناچیز اور کم سمجھ رہے تھے ،اور ان کا یہ تصور تھا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر حزب اللہ پسپا ہوجائے گا ، اور اسرائیل کے سامنے گٹھنے ٹیکنے پر


مجبور ہوجائے گا .یہی وجہ تھی کہ پہلے دو ہفتے تک تو نہ اقوام متحدہ کی جانب سے اور نہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ،اور نہ   کوئی سازمان کنفرانس اسلامی  عرب لیگ کی جانب سے اعتراض ہوا ، نہ اس جنگ کو روکنے کی بات ہوئی ؛ صرف یہ لوگ تماشا دیکھتے رہے ، اس سے بڑھ کر تعجب کی بات یہ تھی کہ ایک دفعہ بھی اسرائیل کی ان جنایات اور غانا میں بچوں اور عورتوں کے قتل عام کرنے پر ، ایک احتجاجی جلسہ بھی عرب لیگ میں منعقد نہیں ہوا  !!.

جب امریکہ کی وزیر خارجہ مس کونڈولارائس  سے جنگ بندی کیلئے تلاش کرنے کی اپیل کی؛ تاکہ لبنان  خون خرابہ میں تبدیل نہ ہو ؛ تو اس نے بڑی نزاکت کے ساتھ کہا تھا :کوئی بات نہیں ، بچہ جننے کیلئے اس کی ماں کو درد زہ برداشت کرنا پڑتا ہے ، اسی

طرح ہم اس کرہ زمین پر  ایک جدید مشرق وسطی کے وجود میں لانے کیلئے کوشان ہے ، جس کا وجود میں آنے کیلئے کوئی ایک ملک(لبنان) خون خرابہ میں تبدیل ہوجائے ، اور یہ ایک طبیعی چیز ہے !!

اس بیان کے جواب میں سید حسن نصراللہ نے مناسب اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا : ہم بھی اس ناجائز طریقے سے وجود میں آنے والے بچے کو دنیا میں قدم رکھتے ہی گلا  دبا کر ماردیں گے .

تیسرے ہفتے میں دہیمی دہیمی الفاظ میں بعض ممالک کے رہنماؤں اور سیاسی لیڈروں کے منہ کھلنے لگیں .اقوام متحدہ کے اٹارنی جنریل  ، جیسے طولانی خواب سے بیدار ہوا ہو، سمجھنے لگے کہ لبنان میں کوئی  معمولی حادثہ رونما ہوا ہے ،

تیسرے ہفتے کے آخر میں جب حزب اللہ ، اسرائیل کے چار بحری کشتیوں کو منہدم کرنے میں کامیاب ہوئے ، اور اسرائیل اپنے کسی بھی ایک ہدف کو پہنچ نہیں پایا ؛ تو امریکہ ؛ جو کسی بھی صورت میں شورای امنیت کا جلسہ تشکیل دینے کیلئے حاضر نہ تھا ، ایک دم وہ جنگ بندی کرنے کی خاطر اتفاق رای کے ساتھ شق نمبر ۱۷۰۱ کے مطابق ، میدان میں اتر آیا ؛ کیونکہ اسرائیل نے امریکہ اور دوسرے ممالک کی طرف سے دئے ہوئے تمام تر جدید میزائل ، بمب اور دوسرے سنگین اسلحے سے لیس  ہونے کے باوجود ؛ حزب اللہ کے سامنے اپنے گٹھنے ٹیک دیا تھا، اور مزید سیاسی امداد کیلئے ہاتھ پھیلا رہا تھا اس ضرورت کو امریکہ ، قطعنامہ کے ذریعے جبران کرنا چاہتا تھا . 


مکتب اہل بیت (ع)کے ماننے والوں کے یہ سارے انقلابات ، شیعوں کی شجاعت ، دلیری اور بہادری کو ثابت کرتی ہیں .اور یہ سارے انقلابات ، اپنی ذاتی مفاد کی خاطر نہیں تھیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کو حاکم بنانا اور ظلم و ستم کو ختم کرنا مقصود تھا

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہےکہ بعض مسلم ممالک کے مفتی حضرات ؛ جیسے سعودی عرب کے مفتی بن  جبرین ، اور مصر کے درباری ملا ، طنطاوی ، نے فتویٰ دئے تھے  کہ حزب اللہ کا مدد کرنا، حتی ان کے لئےدعا کرنا بھی جائز نہیں ہے ، بلکہ حرام ہے ؛ کیونکہ وہ لوگ شیعہ ہیں اسی طرح سعودی حکومت ن بھی اسرائیل کے جنگی طیاروں کولبنان پر حملہ کرنے کیلئے  پیٹرول (فیول)  دیتی رہی.

اور جب مسلمانوں کی طرف سے یہ لوگ  پریشر میں آئے تو اپنی  غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی ملت اور قوم کے سامنے معافی مانگنے پر مجبور ہو گئے اور مفتی بن جبرین نے اپنے ویب سایٹ پر غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگا ، اور کہا: جو کچھ مجھ سے پہلے نقل ہوئی ہے وہ میرا قدیم اور پرانا نظریہ تھا ؛ ابھی میرا جدید نظریہ یہ ہے کہ یہ حزب اللہ ، وہی حزب اللہ ہیں  جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے .اور ہم انہیں دوست رکھتے ہیں اور ان کیلئے دعا بھی کرتے ہیں .اور  طنطاوی نے بھی جب  جامعة الازہر کے اساتذہ نے ان کے اوپر اعتراض کئے تو ان  کے سامنےکہا: جو کچھ میں نے پہلے بتایا تھا وہ میرا اپنا ذاتی نظریہ نہیں تھا بلکہ حکومت کی طرف سے کہلوایا گیا تھا اور میرا  ذاتی نظریہ ان کے بارے میں یہ ہے کہ  حزب اللہ کے مجاہدین، اس وقت اسلام ، مسلمین اور عرب امّت  کی عزت اور کرامت کے لئے اسرائیل کے ساتھ لڑ رہے ہیں  ،لہذا ان کی حمایت کرنا ضروری ہے آج کے دور میں سارے عرب ممالک میں محبوب ترین اسلامی شخصیت ، سید حسن نصراللہ  کو ٹہھرایا جاتا ہے اور ہر بچہ ، جو پیداہوتا ہے ؛ اس کا نام حسن نصراللہ رکھ رہے ہیں یہ بہت دلچسپ بات تھی کہ اس سال جب ماہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور لوگ روزہ رکھنے لگے ؛ مصر میں بہترین اور اعلی درجے کے خرما یا کھجور کا نام حسن نصراللہ رکھا گیا ؛تا کہ روزہ دار ، افطاری کے وقت حسن نصراللہ کو دعائیں دیں  اور خراب کھجور کا نام بش اور بلر رکھا گیا.


یہ وہ تاریخی حقائق ہیں ، جن سے کوئی بھی اہل انصاف انکار نہیں کرسکتا اور ان حقیقتوں سے لوگ جب آشنا ہوجاتے ہیں تو خود بخود مذہب حقہ کی طرف مائل ہوجاتے ہیں ، بشرطیکہ درباری ملاؤں کی طرف سے مسلمانوں کوکوئی رکاوٹ   درپیش   نہ ہو.

اب ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کوئی ایک نمونہ پیش کریں جو آپ کے کسی سیاسی یا مذہبی رہنما نے ایسا کوئی انقلاب برپا کیا ہو ، اور اپنی شجاعت کا ثبوت دیا ہو، تاکہ ہم بھی ان کی پیروی کریں ؟!اور ہمیں یقین ہے کہ وہ لوگ نہ اسلام سے پہلے اور نہ اسلام  کے بعد ، کوئی ایسی جوانمردی نہیں دکھا سکتے کیونکہ انہیں اپنی جوان مردی دکھانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی ؛ جو ہمیشہ  ظالم و جابر حکمرانوں کے کوڑوں اور تلواروں سے ہمیشہ محفوظ رہے ہیں .کیونکہ وہ لوگ ہمیشہ حاکموں کے ہم پیالہ بنتے رہے ہیں اوران کی ہرقسم کے ظلم وستم کی تائید کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے تقیہ کا موضوع  ہی منتفی ہوجاتا ہے

اگر شیعہ علما بھی ان کی طرح حکومت وقت کی حمایت کرتے اور ان کے ہاں میں ہاں ملاتے رہتے تو ان کو بھی کبھی  تقیہ کی ضرورت پیش نہ آتی .بلکہ ان کیلئے تقیہ جائز بھی نہ ہوتا ، کیونکہ تقیہ جان اور مکتب کی حفاظت کی خاطر کیا جاتا ہے ، اور جب ان کی طرف سے جان اور مال کی حفاظت کی گارنٹی مل جاتی تو ، تقیہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی

تقیہ کافروں سے کیا جاتا ہے نہ مسلمانوں سے

اشکال کرتے ہیں کہ تقیہ کافروں سے کیا جاتا ہے نہ مسلمانوں سے کیونکہ قرآن مجید میں تقیہ کا حکم کافروں سے کرنے کا ہے نہ مسلمانوں سے چنانچہ فرمایا:لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِینَ أَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِینَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّهِ فِی شَيْءٍ إِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللّهُ نَفْسَهُ وَإِلَی اللّهِ الْمَصِیرُ. (1)

خبردار صاحبانِ ایمان !مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے. اور یہ تقیہ ابتدای اسلام میں تھا ، لیکن شیعہ حضرات ، اہل حدیث سے تقیہ کرتے ہیں .

--------------

(1):- سورہ مبارکہ آلعمران/۲۸.


پہلاجواب:یہ شیعیان حیدر کرار(ع) کی  مظلومیت تھی کہ جو مسلمانوں سے بھی تقیہ کرنے اور اپنا عقیدہ چھپانے  پر مجبور ہوگئے اور یہ نام نہاد مسلمانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے اعمال اور کردار اور عقیدے پر نظر ثانی کرے  ؛ کہ جو کافروں والا کام اوربرتاؤ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتا ہو ، کیونکہ اگر تقیہ کرنے کی وجہ اور علت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ نتیجہ ایک نکلتا ہے ، اور وہ دشمن کی شر سے دین، جان اور مال کی حفاظت کرنا ہے

دوسرا  جواب: ظاہر آیہ اس بات پر لالت  کرتی ہے کہ تقیہ ان کافروں سے کرنا جائز ہے جو تعداد یا طاقت کے لحاظ سے مسلمان سے زیادہ قوی ہو

لیکن شافعی مذہب کے مطابق اسلامی مختلف مکاتب فکر سے تقیہ کرنا جائز ہے کیونکہ شافعی کے نزدیک مجوز تقیہ ، خطر ہے ، خواہ یہ خطر کافروں سے ہو یا مسلمانوں سے ہو ؛ کہ شیعہ ،مسلمانوں کے ہاتھوں بہت سی سختیوں اور مشکلات  کو تحمل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور یہ مظلومیت ،شہادت علی ابن ابی طالب(ع)کے بعد سے شروع ہوئی .ان دوران میں بنی امیہ کے کارندوں نے شیعہ مرد عورت ، چھوٹے بڑے ، حتی شیعوں کے کھیتوں اور حیوانات پر بھی رحم نہیں کیا .آخر کار انہیں بھی آگ لگادی   گئی.

جب معاویہ  اریکہ قدرت پر بیٹھا تو شیعیان علی(ع)کو سخت  سے سخت قسم کی اذیتیں پہنچانا شروع کیا اور ان کے اوپر زندگی  تنگ کردی .اور اس نے اپنےایک کارندے کو خط لکھا : میں علی اور اولاد  علی کے فضائل بیان کرنے والوں سے اپنی ذمہ بری کرتا ہوں ، یعنی انہیں  نابود کروں گا .

یہی خط تھا کہ جس کی وجہ سے ان کے نماز جماعت اور جمعے کے خطیبوں نے علی پر ممبروں سے  لعن  طعن کرتے ہوئے ان سے اظہار برائت کرنے لگے ، یہ  دور،کوفہ والوں پر بہت سخت گذری ، کیونکہ  اکثر کوفہ والے  علی کے ماننے والے تھے معاویہ نے زیاد بن سمیہ کو کوفہ اور بصرہ کی حکومت سپرد کی ، یہ ملعون شیعوں کو خوب جانتا تھا ، ایک ایک کرکے انہیں شہیدکرنا ، ہاتھ پیر ، کان اور زبان کاٹنا  ،  آنکھیں نکالنا اور شہر بدر کرنا شروع کیا .


اس کے بعد ایک اور خط مختلف علاقوں میں باٹنا شروع کیا ؛ جس میں اپنے کارندوں اور حکومت والوں کو حکم دیا گیاکہ شیعوں کی کوئی گواہی قبول نہ کریں .سب سے زیادہ دشواری اور سختی عراق ، خصوصاً کوفہ والوں پر کی جاتی تھی ؛ کیونکہ وہ لوگ اکثر شیعیان علی ابن ابی طالب  تھے .اگر یہ لوگ کسی معتبر شخص کے گھر چلا جائے تو  ان کے غلاموں اور کنیزوں سے بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا تھا ؛ کیونکہ ان کے اوپر اعتماد نہیں کرسکتے تھے  .اور انہیں قسم دلاتے تھے کہ ان  اسرار کو فاش نہیں  کریں گے اور  یہ حالت امام حسن مجتبی (ع) کے دور تک باقی رہی ، امام مجتبی (ع)کی شہادت کے بعد امام حسین (ع)پر زندگی اور تنگ کردی.

عبدالملک مروان کی حکومت شروع ہوتے اور حجاج بن یوسف کے بر سر اقتدار آتے ہی ، دشمنان امیر المؤمنین(ع) ہر جگہ پھیل گئے اور علی(ع) کے دشمنوں کی شان میں احادیث جعل کرنے  ، اور علی (ع)کی شان میں گستاخی کرنے لگے.اور یہ جسارت اس قدر عروج پر تھا کہ  عبدالملک بن قریب  جو  اصمعی کا دادا تھا  ؛ عبدالملک سے مخاطب ہوکر کہنے لگا : اے امیر ! میرے والدین نے مجھے عاق کردیا ہے اور سزا کے طور پر میرا نام علی رکھا ہے میرا کوئی مددگار  نہیں  ، سواے امیر کے اس وقت حجاج بن یوسف ہنسنے لگا اور کہا: جس سے تو متوسل ہوا ہے ؛ اس کی وجہ سے تمھیں فلان جگہ کی حکومت دونگا(1)

امام باقر(ع)شیعوں کی مظلومیت اور بنی امیہ کے مظالم کے بارے میں فرماتے ہیں : یہ  سختی اور شدت معاویہ کے زمانے اور  امام مجتبی(ع)  کی شہادت کے بعد اس قدر تھی کہ  ہمارے شیعوں کو کسی بھی بہانے شہید کئے جاتے ، ہاتھ پیر کاٹتے اور جو بھی ہماری محبت کا اظہار کرتے تھے ، سب کو قید کرلیتے تھے اور ان کے اموال کو غارت کرتے تھے .  اور گھروں کو آگ لگائے جاتے تھے ،یہ دشواری اور سختی اس وقت تک باقی رہی کہ عبید اللہ جو امام حسین(ع) کا قاتل ہے  کے زمانے میں حجاج بن یوسف اقتدار پر آیا تو سب کو  گرفتار کرکے مختلف تہمتیں لگا کر شہید کئے گئے .اور اگر کسی پر یہ گمان پیدا ہوجائے ، کہ شیعہ ہے ، تو اسے قتل کیا جاتا تھا(2)

--------------

(1):- عباس موسوی؛ پاسخ و شبہاتی پیرامون مکتب تشیع،ص۸۶.  

(2):- ابن ابی الحدید؛ شرح او، ج ۱۱ ص۴۴.


یہ تو بنی امیہ کا دور تھا اور بنی عباس کا دور تو اس سے بھی زیادہ سخت  دور، اہل بیت کے ماننے والوں پر آیا چنانچہ شاعر نے علی(ع)کے ماننے والوں کی زبانی یہ آرزو کی ہے  ، کہ اے کاش ، بنی امیہ کا دور واپس پلٹ آتا !: 

فیالیت جور بنی مروان دام لنا    و کان عدل بنی العباس فی النار

اےکاش ! بنی امیہ کا ظلم و ستم ابھی تک باقی رہتا اور بنی عباس کا عدل و انصاف جہنم کی آگ میں .

جب منصور سن  ۱۵۸ھ  میں عازم حج ہوا کہ وہ  اس کی زندگی کا آخری سال  تھا ؛ ریطہ جو اپنے بھائی سفاح کی بیٹی اور اپنے بیٹے کی بیوی (بہو) تھی ، اسے  اپنے  پاس  بلا کر سارے خزانے کی چابی اس کا حوالہ کیا ، اور اسے قسم دلائی کہ اس کے خزانے کو کسی کیلئے بھی نہیں کھولے گی.اور کوئی ایک بھی اس کے راز سے باخبر نہ ہو،حتی اس کا بیٹا محمد بھی ، لیکن جب اس کی موت کی خبر ملی تو محمد اور اس کی بیوی جا کر خزانے کا دروازہ کھولا ، بہت ہی وسیع اور عریض کمروں میں پہنچے ، جن میں علی(ع) کے ماننے والوں کے کھوپڑیاں  اور جسم کے ٹکڑے اور لاشیں ملیں .اور ہر ایک کے کانوں میں کوئی چیز لٹکی ہوئی تھی کہ جس پر اس کا نام اور نسب مرقوم تھا ان میں جوان ، نوجوان اوربوڑھے سب شامل تھےالا لعنة الله علی القوم الظالمین!. محمد نے جب یہ منظر دیکھا تو  وہ مضطرب ہو ا اور اس نے حکم دیا کہ ان تمام لاشوں کو گودال کھود کر اس  میں دفن کئے جائیں(1)

بنی عباس کے بادشاہوں نے علی (ع)کے فضائل بیان کرنےوالے شاعروں کی زبان کاٹی ، اور ان کو زندہ درگور کئے اور جو پہلے مر چکے تھے ان کو قبروں سے نکال کرجسموں کو جلادئے گئے ان سب کا صرف ایک ہی  جرم  تھا ؛ اوروہ محبت علی(ع) کے سوا کچھ اورنہ تھا شیعیان آفریقا ،معاذ ابن بادیس کے دور میں سنہ ۴۰۷ ھ میں سب کو شہید کئےگئے ، اور حلب کے شیعوں کو بھی اسی طرح بے دردی سے شہید کئے گئے .ای اہل انصاف!خود بتائیں کہ ان تمام سختیوں ، قید وبند کی صعوبتوں اور قتل و غارت ، کے مقابلے میں اس  مظلوم گروہ نے اگر تقیہ کر کے اپنی جان بچانے کی کوشش کی ،  تو کیا انہوں نے کوئی جرم کیا؟!!

اور یہ بتائیں کہ کون سا گروہ یا فرقہ ہے ؛ جس نے شیعوں کی طرح اتنی سختیوں کو برداشت کیا ہو ؟!!

--------------

(1):- عباس موسوی؛ پاسخ و شبہاتی پیرامون مکتب تشیع،ص۸۷.


تتمہ

وہ لوگ خود قابل مذمت ہیں

پہلے عرض کر چکا کہ تقیہ کہاں واجب ہے؟ کہاں مستحب ہے ؟ اور کہاں حرام ہے؟اور کہاں مکروہ و مباح ؟یہاں ہم بطور خلاصہ ان موارد کو بیان کریں گے تا کہ مکمل طور پر واضح ہو سکے :

تقیہ کا واجب  ہونا :تقیہ کرنا اس وقت واجب ہوجاتا ہے کہ بغیر کسی فائدے کے ، اپنی جان خطرے میں پڑجائے .

تقیہ کا مباح ہونا:تقیہ اس صورت میں مباح ہوجاتا ہے کہ اس کا ترک کرنا ایک قسم کا دفاع اور حق کی تقویت کا باعث ہو. ایسے مواقع پر انسان فداکاری کرکے اپنی جان بھی دے سکتا ہے ،اسی طرح اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حق سے دست بردار ہوکر اپنی جان بچائے .

تقیہ کا حرام ہونا: اس صورت میں تقیہ کرنا حرام ہوجاتا ہے کہ اگر تقیہ کرنا، باطل کی ترویج، گمراہی کا سبب، اور ظلم وستم کی تقویت کا باعث بنتا ہو.ایسے موقعوں پر جان کی پروا نہیں کرنا چاہئے اور تقیہ کو ترک کرنا چاہئے .اور ہر قسم کی خطرات اور مشکلات کو تحمل کرنا چاہئے .

ان بیانات سے واضح ہوا کہ تقیہ کی حقیقت کیا ہے اور شیعوں کا عقلی اور منطقی نظریہ سے بھی واقف ہوجاتا ہے ، اس ضمن میں اگر کوئی تقیہ کی وجہ سے ملامت اور مذمت کرنے کے لائق ہے تو وہ تقیہ کرنے پر مجبور کرنے والے ہیں ، کہ کیوں آخر اپنی کم علمی کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کے جان و مال کے درپے ہوگئے ہو؟ او ر تقیہ کرنے پر ان کو مجبور کرتے ہو؟!!پس وہ  لوگ خود قابل مذمت ہیں ، نہ یہ لوگ.کیونکہ تاریخ کے اوراق یہ بتاتے ہیں کہ معاویہ نے جب  حکومت اسلامی کی باگ  دوڑ مسلمانوں کی رضایت کے بغیر سنبھال لی تو اس کی خودخواہی اس قدر بڑھ گئی کہ جسطرح چاہے اور جو چاہے ، اسلامی احکام کے ساتھ کھیلتا تھا ، اور کسی سے بھی خوف نہیں کھاتے ، حتی خدا سے بھی !! خصوصاً شیعیان علی ابن ابیطالب  کا پیچھا کرتے تھے ، ان کو جہاں بھی ملے ، قتل کیا کرتے تھے  ، یہاں تک کہ اگر کسی پر یہ شبہہ پیدا ہوجائے کہ یہ شیعہ ہے تو اسے بھی نہیں


 چھوڑتا تھا بنی امیہ اور بنی مروان  نے بھی اسی راہ  کو انتخاب کیا اور ادامہ رکھا .بنی عباس کی نوبت آئی  تو انہوں نے بھی بنی امیہ کے مظالم اور جنایات کو نہ صرف تکرار کیا بلکہ ظلم وستم کا ایک اور باب کھولا ، جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا.

ایسے میں شیعہ تقیہ کرنے کے سوا کیا  کچھ کر سکتے تھے؟یہی وجہ تھی کہ کبھی اپنا عقیدہ چھپاتے اور کبھی اپنے  عقیدے کو ظاہر کرتے تھے.جس طریقے سے حق اور حقیقت کا دفاع ہوسکتا تھا اور ضلالت اور گمراہی کو دور کرسکتا تھا ایسے موارد میں شیعہ اپنا عقیدہ  نہیں چھپاتے تھے ، تاکہ لوگوں پراتمام حجت ہوجائے .اورحقانیت لوگوں پر مخفی نہ رہ جائے .اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ  ہماری بہت ساری ہستیاں اپنے دور میں تقیہ کو کلی طور پر پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی جانوں کو راہ خدا میں قربان کئے، اور ظالموں کے قربان گاہوں اور پھانسی کے پھندوں تک جانے کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھنے لگے  تاریخ  کبھی بھی مجعذراء (شام کی ایک دیھات کانام ہے) کے شہداء کو فراموش نہیں کرے گی.یہ لوگ چودہ  افرادتھے جو بزرگان شیعہ میں سے تھے ، جن کا سربراہ وہی صحابی رسول تھے جو زہد و تقوی  اور عبادت کی وجہ سےجسم نحیف ہوچکے تھے.اور وہ کون تھا ؟ وہ عظیم نامور حجر بن عدی کندی تھا ، شام کو فتح کرنے والی فوج کے سپہ سالاروں میں سے تھے لیکن معاویہ نے ان چودہ افراد کو سخت  اذیتیں دے کر شہید کیا اور اس کے بعد کہا: میں نےجس جس کو بھی قتل کیا ، اس کی وجہ جانتا ہوں ؛سوائے حجر بن عدی کے ، کہ اس کا کیا جرم تھا ؟!ابن زیاد بن ابیہ جو بدکارعورت سمیہ کا بیٹا تھا ؛ شراب فروش ابی مریم کی گواہی کی بناپر معاویہ نے اسے اپنا بھائی  کہہ کر اپنے باپ کی طرف منسوب کیا ؛ اسی  زیادنے حکم دیا کہ رشید حجری کو علی(ع) کی محبت اور دوستی کے جرم میں ، ان کے ہاتھ پیر اور زبان کاٹ دئے جائیں .اور ایک درخت کے ٹہنی کے سولی پر چڑھائے گئے.ابن زیاد جو اسی زنازادہ کا بیٹا تھا ، نے علی کے دوستدار میثم تمار کو مار پیٹ کے بعد اسے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں اور زبان کو کاٹ کر تین دن تک کچھور کے اس سوکھے ٹہنی پر لٹکائے رکھا، جس کی جب سے مولا نے پیشن گوئی کی تھی اس وقت سے اس تنے کو پانی دیتا رہا تھا ، اور تین دن بعد اسے بے دردی سے شہیدکیا گیا .

--------------

(1):- شیعہ می پرسد، ص ۲۹۰.


اے اہل انصاف! اب خودبتائیں کہ ظلم و ستم کے ان تمام واقعات  میں کون زیادہ قابل مذمت ہے ؟! کیاوہ گروہ جسے تقیہ کرنے اور اپناعقیدہ چھپانے پر مجبور کیا گیا ہو یا وہ گروہ جو اپنے دوسرے مسلمانوں کو تقیہ کرنے اور عقیدہ چھپانے پر مجبور کرتے ہوں؟!دوسرے لفظوں میں مظلوموں کا گروہ قابل مذمت ہے یا ظالوں کا گروہ ؟!

ہر عاقل اور باانصاف انسان کہے گا : یقیناً دوسرا گروہ ہی قابل مذمت ہے.

آقای کاشف الغطاء دوسروں کو تقیہ کرنے پر مجبور کرنے والوں سے سوال کرتے ہیں اور جواب دیتے ہیں : کیا رسول خدا  کے صحابی عمر بن حمق خزاعی اور عبد الرحمن ابن حسانبی ، زیاد کے ہاتھوں قس الناطف  میں زندہ  درگورکئے جانے کو فراموش کرسکتے ہیں؟!!

کیا میثم تمار ، رشید ہجری اور عبداللہ بن یقطرجیسی ہستیوں کو ابن زیادہ نے جس طرح بے دردی سے سولی پر چڑا کر شہید کیا  ؛ قابل فراموش ہے؟!

ان جیسے اور سینکڑوں علی (ع)کے ماننے والے تاریخ میں  ملیں گے جنہوں نے اپنی پیاری جانوں کو اللہ کی راہ میں فنا کرنے سے دریغ نہیں کیا .کیونکہ یہ لوگ جانتے تھے کہ تقیہ کہاں استعمال کرنا ہے اور کہاں ترک کرنا ہے .یہ لوگ بعض مواقع میں تقیہ کو اپنے آپ پر حرام سمجھتے  تھے.کیونکہ اگر یہ لوگ ان موارد میں تقیہ کرتے تو حق اور حقیقت بالکل ختم ہوجاتا .

آقای کاشف الغطاء فرماتے ہیں:میں معاویہ سے یہی پوچھوں گا کہ حجر بن عدی کا کیا قصور تھا اور اس کا کیا جرم تھا ؟ سوای علی کی محبت اور مودت کے ، جس سے  اس کا دل  لبریز تھا .اس نے تقیہ کو کنار رکھتے ہوئے بنی امیہ کا اسلام سے کوئی رابطہ نہ ہونے کو لوگوں پر آشکار کردیا تھا. ہاں اس کا اگر کوئی گناہ تھا تو وہ حق بات کا اظہار کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتا تھا اور یہی اس کا مقدس  اور اہم ہدف تھا ،  جس کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دینے سے دریغ نہیں  کیا(1)

---------------

(1):- این است آئین ما، ص ۳۶۸.


ابن اثیر لکھتا ہے کہ حجر بن عدی کے دو دوست کو پکڑ کرشام میں معاویہ کے پاس روانہ  کیا گیا ؛ معاویہ نے ایک سے سوال کیا : علی کے بارے میں کیا کہتے ہو؟!

اس نے کہا: وہی ، جو تو کہتا ہے .

معاویہ نے کہا: میں ان سے اور ان کے دین سے کہ جس کی وہ پیروی کرتا ہے، اور اس خدا سے کہ جس کی وہ پرستش کرتا ہے ،   بیزار ہوں .

وہ شخص خاموش رہا.اس مجلس میں موجود بعض لوگوں نے ان کی سفارش کی، اور معاویہ نے بھی ان کی سفارش قبول کرلی .اور اسے آزاد کردیا لیکن اسے شہر بدر کرکے موصل میں بھیجا گیا .

معاویہ نے دوسرے سے سوال  کیا :تو  علی کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو ، نہ پوچھے توتمھارے لئےبہتر ہے .

معاویہ نے کہا: خدا کی قسم تمہیں  جواب دئے بغیر نہیں چھوڑوں گا .

اس مرد مجاہد نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں علی بن ابیطالب(ع) ان لوگوں میں سے تھے جو اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرتے تھے اور حق بات کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے تھے ، عدل اور عدالت  کے قیام کے لئے کوشان تھے،علی(ع) ان میں سے تھے جو لوگوں کی دادو فریاد سنتے تھے ،... اس طرح وہ فضائل علی بیان کرتے گئے اور لوگ انہیں داد دیتے گئے .یہاں تک کہ معاویہ نے کہا : تو نے اپنےآپ کو ہلاکت میں ڈالا

اس محب علی (ع)نے کہا:بلکہ میں نے تجھے بھی ہلاک کیا، یعنی لوگوں کے سامنے تجھے بھی ذلیل و خوارکیا.

معاویہ نے حکم دیا کہ اس شخص کو زیاد بن ابیہ کے پاس واپس بھیج دو، تاکہ وہ اسے بدترین حالت میں قتل کرے !

زیاد بن ابیہ ملعون نے بھی اس محب علی کو زندہ درگور کیا .


اگر یہ لوگ تقیہ کرتےتو لوگوں تک علی(ع) کے فضائل بیان نہ ہوتے ، اور دین اسلام معاویہ ، یزیداور ابن زیاد والا دین بن کر  رہ جاتا.یعنی ایسا دین ؛ جو ہر قسم کے رزائل ، جیسے مکرو فریب ، خیانت ومنافقت،ظلم و بربریت ،... کا منبع ہو .اور یہ دین کہاں اور وہ دین جو تمام فضلیتوں کامنبع ہو، کہ جسے رسول اسلام (ص)نے لایا اور علی اور اولاد علی نے بچایا اور ان کے دوستداروں نے قیامت  تک  کیلئے حفاظت کی ؛ کہاں؟!!!

ہاں یہ لوگ راہ حق اور فضیلت میں شہید ہونے والے ہیں جن میں سے ایک گروہ شہدائے طف ہیں ، جن کا سپہ سالار حسین ہیں ، جنہوں نے کبھی بھی ظلم وستم کو برداشت نہیں کیا ، بلکہ ظالموں کے مقابلے  میں بڑی شجاعت اور شہامت کے ساتھ جنگ کیں ، اور تقیہ کو اپنے اوپر حرام قرار دیا ہوا تھا.

اب ان کے مقابلے میں بعض علی(ع) کے ماننے والے تقیہ کرنے پر مجبور تھے ، کیونکہ شرائط،اوضاع واحوال اور محیط  فرق کرتا تھا.بعض جگہوں پرمباح ، یا جائز سمجھتے تھے اور بعض جگہوں پر واجب یا حرام یا مکروہ.

اب ہم مسلمانوں سےیہی کہیں گے کہ آپ لوگ دوسرے مسلمانوں کو تقیہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ شیعہ تقیہ کیوں کرتے ہیں ؟آپ کوئی ایسا کام نہ کریں ، کہ دوسرے مسلمان تقیہ کرنے پر مجبور ہوجائیں .

ان لوگوں کو کیا غم ؟!

چالیس ہجری سے لیکر اب تک شیعہ اور ان کے اماموں نے رنج و الم، اذیت اورآزارمیں زندگی کیں.کسی نے  زندگی کا بیشتر حصہ قید خانوں میں گذاری ، کسی کو تیر اور تلوار سے شہید کیا گیا، تو کسی کو زہر دیکر شہید کیا گیا .ان مظالم کی وجہ سے تقیہ کرنے پر بھی مجبور ہوجاتےتھے.

لیکن دوسرے لوگ معاویہ کی برکت سے سلسلہ بنی امیہ کے طویل و عریض دسترخوان پر  لطف اندوز ہوتے رہے ، اس کے علاوہ مسلمانوں کے بیت المال میں سے جوائز اور انعامات سے بھی مالامال ہوتے رہے ،اور بنی عباس کے دور میں بھی یہ برکتوں والا دسترخوان ان کیلئے بچھے رہے .یہی وجہ تھی کہ ان نام نہاد اور ظالم وجابر لوگوں کو بھی اولی الامر اور واجب الاطاعة سمجھتے رہے


 .اس طرح  یزید پلید ، ولید ملعون اور حجاج خونخوار کو بھی خلفائے راشدین میں شامل کرتے رہے .

خدایا !ان کی عقل کو کیا ہوگیا ہے ؟ یہ لوگ دوست کوبھی رضی اللہ اور دشمن کو بھی رضی اللہ. علی (ع)کوبھی خلیفہ اور معاویہ کوبھی خلیفہ مانتے ہیں، جب کہ ان دونوں میں سے ایک برحق ہوسکتا ہے اگر کہے کہ ان کے درمیان سیاسی اختلاف تھا ؛ تو سب سے زیادہ طولانی جنگ مسلمانوں کے درمیان ہوئی ، جنگ صفین ہے ، جس میں سینکڑون مسلمان مارے گئے. اور جہاں مسلمانوں کاقتل عام ہورہاہو؛ اسے معمولی یا سیاسی اختلاف سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا.اسی طرح یزید کو بھی رضی اللہ اور حسین کو بھی رضی اللہ ، عمر بن عبدالعزیز کو بھی رضی اللہ اور متوکل عباسی اور معتصم کو بھی رضی اللہ؟!!یعنی دونوں طرف کو واجب الاطاعت سمجھتے ہیں. یہ کہاں کا انصاف اور قانون ہے ؟ اور کون سا عاقلانہ کام ہے ؟ 

جای سؤال یہاں ہے کہ کیا یہ لوگ بھی کوئی رنج و الم دیکھیں گے ؟!

لیکن اس بارے میں امامیہ کا کیا عقیدہ ہے؟ ذرا سن لیں : شیعہ اسے اپنا امام اور خلیفہ رسول مانتے ہیں جواللہ اور رسول کی جانب سے معین ہوا ہو ، نہ لوگوں کے ووٹ سے.اس سلسلے میں بہت لمبی بحث ہے ، جس کیلئے ایک نئی کتاب کی ضرورت ہے .

خلاصہ کلام یہ ہے کہ شیعہ ہر کس وناکس کو خلیفہ رسول نہیں مانتے؛ بلکہ ایسے شخص کو خلیفہ رسول مانتے ہیں ، جو خود رسول (ص) کی طرح معصوم ہو. ہم کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے ہم تقیہ کے قائل ہیں ،لیکن ہم پر اعتراض کرنے والے ہمیشہ حاکم وقت  کی چاپلوسی کرنے میں مصروف ہیں.اور آپ کوئی ایک مورد  دکھائیں ، کہ جس میں اپنے کوئی رہبر یا عالم ،ظالم و جابر خلیفے یا حاکم کو نہی از منکر کرتے ہوئے اسے ناراض کیا ہو؟!

اس کے باوجود کہ آپ کے بہت سے علما جو درباری اور تنخواہ دار تھے ، جب بنی امیہ کا حاکم ولید ، بقول آپ کے،امیرالمؤمنین مستی اور نشے  کی حالت میں مسجد میں نماز جماعت کراتا ہے اور محراب عبادت کو شراب کی بدبو سے آلودہ کرتا ہے اور صبح کی نمازچار رکعت پڑھ  لیتا ہے ، جب لوگ کانافوسی کرنے لگتے ہیں تو وہ پیچھے مڑ کر کہتا ہے : اگر کم ہوا تو اور چار رکعت پڑھا دوں؟!کوئی بھی حالت تقیہ سے نکل کر اسے روکنے یا نہی از منکر کرنے والا نہیں ہوتا


اگرعلی(ع)کے ہزاروں شیعوں کا حجاج بن یوسف خونخوارتمہاری نگاہوں میں اولوالامر ہے ، کے ساتھ گفتگو سننا چاہتے ہو  تومعلوم ہوجائے گا کہ کن کن ہستیوں نے اس ظالم و جابر کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ؟!

بڑے بڑے دانشوروں جیسے شہید اول محمد بن مکی عاملیؓ ، کو پہلے تلوار سے شہید کیا گیا ،پھر لاش کو  سولی پر لٹکا رکھا ، پھر اسے دمشق کے قلعے میں لے جاکرجلایا گیا.

اسی طرح شہید ثانی زین الدین بن علی عاملیؓ کوشہیدکیا گیا.

قاضی نوراللہ شوستری جوشہید ثالث کے نام سے معروف ہے ، اسے  ہندوستان میں شہید کیا گیا.

سید نصر اللہ حائری جو نادرباد شاہ  کا سفیر تھا ،  جوصرف اور صرف شیعہ ہونے کی وجہ سے شہید کیا گیا(1)   اور صدام نے دس لاکھ سے زیادہ شیعوں کا قتل عام کیا  اور بہت  سے لوگوں  کا پورا گھرانہ تباہ کیا .

ان تمام مظالم ، جرم ، قتل وغارت گری کے باوجود یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ شیعہ تقیہ کیوں کرتے ہیں ؟!جب کہ اس سے پہلے اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ شیعوں کو تقیہ کرنے پر مجبورکیوں کرتے ہیں.

تقلید کی حقیقت کیا ہے؟

اس سوال کے جواب میں علامہ عقیل غروی  مدظلہ فرماتے ہیں: تقلید  ایک فطری اور عقلی مسئلہ ہے  اور یہ نظام ولایت کی بنیاد  اور اس کا حصہ ہے۔ جس طرح اپنے نفس کو بچانے کے لئے علم و عمل کی ضرورت ہے۔ اور یہ علم دو قسم کے ہیں: یا خود  اپنے  پاس مکمل  موجود ہو  یعنی خود مجتہد ہو یا کسی علم والے کی رہنمائی  اور علم سے استفادہ کرے۔ ایک مثال کے ذریعے سمجھارہے ہیں : ایک شخص کے پاس روشنی ہےلیکن اپنے پاس کوئی روشنی نہیں اب راستہ بھی طے کرنا ضروری ہے  اگر  یہ ضد ہے کہ اس کی روشنی میں نیں جانا  ہے تو نجات مشکل ہے ۔

---------------

(1):- .  محب الاسلام؛ شیعہ می پرسد، ج۲، ص ۲۹۳.


تقلید بھی عقلوں پر پابندی لگانے کا نام نہیں ہے  بلکہ ماہر کار(مجتہد) کی رائے پر عمل کرنے کا نام ہے  اس سے معلوم ہوا تقلید علم  کی ہے جہل کی نہیں ۔اور اگر علم کو چھوڑ کر جہالت کی تقلید کرنے کی وجہ سے امّت  اسلامی ۷۳ فرقے میں بٹ گئی۔ اگر علی ؑ کی تقلید کرتے تو  یہ نوبت نہیں آتی۔تقلید ختم نبوت  کی برکات میں سے ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کھول رکھاہے خدا کی حکومت لیکن  خود سامنے نہیں آسکتا اس لئے انبیاءبھیجے اور یہ بھی حکمت الہی میں نہیں تھا کہ نبی ہمیشہ رہے اس لئے امامت کا سلسلہ جاری کیا اور یہ بھی مصلحت میں نہیں تھا کہ امامت بھی ہمیشہ حاضر رہے  لہذا مجتہدین کی طرف ہماری راہنمائی  کرتے ہوئے امام  حسن العسکری ؑ نے فرمایا:

مَنْ كَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ صَائِناً لِنَفْسِهِ، حَافِظاً لِدِینِهِ، مُخَالِفاً لِهَوَاهُ، مُطِیعاً لِأَمْرِ مَوْلَاهُ فَلِلْعَوَامِّ أَنْ يُقَلِّدُوهُ (1)

یعنی مجتہدین میں سے جو بھی اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو، اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو، ہوائے نفس کی مخالفت کرتا ہواور اپنے مولا کی پیروی کرتا ہوتو عوام پر فرض ہے ہے ایسےفقیہ اور مجتہد کی تقیلد کرے۔اگر کوئی یہ کہہ دے کہ میں امام زمانہ ؑ کی تقلید یا بیعت کرتا ہوں تو  اس میں یہ صلاحیت اور تیاری  موجود ہونی چاہئے جو فقہاء اور صاحب علم ہی کی تقلید کے ذریعے پیدا ہوتی ہے

ہمارے دشمنوں کو ہماری قیادت اور مرجعیت سے  حسد ہے ۔ ہماری قیادتوں کی مثال دنیا کو نصیب نہیں ہے ۔ اس قیادت پر ہمیں ناز کرنا چاہئے جو آفاقی قیادت ہے ۔ جس طرح اللہ کی حکومت سرحدوں میں محدود نہیں اسی طرح مرجعیت بھی سرحدوں میں محدود نہیں ۔ ایک متدین اور متعہد شیعہ  دنیا کے جس کونے میں بھی ہو وہ سب  ایک رہبر کی تقلید کرتے ہیں۔

--------------

(1):-  ۔  التفسیر المنسوب الی الامام الحسن العسکری علیہ السلام ؛ ؛ ص300


ایسا نظام  دنیا میں کسی بھی فرقے کے لئے نصیب نہیں ہے۔ اسی طرح ہمارا پرچم یعنی علم ِحضرت عباس بھی سرحدوں میں قید نہیں ہے دنیا کے ہر ملک میں مؤمن کے گھروں اور امام بارگاہوں پر لہرا یا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں کوئی پاکستان کا جھنڈا ہندوستان میں یا ہندوستان کا جھنڈا چین میں لہرا نہیں سکتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے غازی شہنشاہ کی حکومت پوری دنیا پر قائم ہے  اور حسین کی حکومت  انسانیت کے دلوں پر قائم  ہے ۔

 آخر میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہوں کہ اللہ پاک ہم سب کو راہ مستقیم پرثابت قدم رکھے اور جو بھی ہدایت کے طلب گار ہیں انہیں ہدایت کے راستے پر گامزن فرما آمین .                             (   تمت بالخیر)


فہرست منابع

1.  القرآن الکریم

2.  ابن ابی الحدید؛ شرح  نہج البلاغہ

3.  ابن الاثیر؛ اسد الغابة

4.  ابن تیمیہ؛   منہاج السنہ النبویہ فی نقض الشیعہ و القدریہ  ، مکتبہ الخیاط، بیروت.

5.  ابن حزم ؛ المُحَلَّی بِالآثَارِ، مکتبة الشاملہ نرم افزار.

6.  ابن شبة؛ تاریخ مدینہ دمشق،

7.  ابن عبد ربہ الاندلسی؛ العقد الفرید

8.  ابن عربی،   تحقیق : محمد عبد القادر عطا؛ احکام القرآن؛ ناشر : دار الفکر للطباعة والنشر.

9.  ابن کثیر، اسماعیل بن عمرو؛ تفسیر القرآن العظیم،تحقیق: محمد حسین شمس الدین، دار الکتب العلمیة، منشورات: بیروت، 1419.  

10. ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی الدمشقی ؛ تفسیر القرآن العظیم،دار طیبة للنشر والتوزیع الطبعة : الثانیة 1420ہـ - 1999 م مجمع الملک فہد لطباعة المصحف الشریف.

11. ابو القاسم ،راغب الاصفہانی،؛ مفردات غریب القرآن

12. ابو بکر احمد بن الحسین بن علی البیہقی السنن الکبری وفی ذیلہ الجوہر النقی ، ،الناشر : مجلس دائرة المعارف النظامیة الکائنة فی الہند ببلدة حیدر آباد.

13. ابو بکر محمد بن الطیب بن جعفر بن القاسم ابو بکر الباقلانی؛کتاب تمہید الاوائل وتلخیص الدلائل، مؤسسة الکتب الثقافیة  بیروت الطبعة الاولی ، 1987


14. ابو حاتم محمد بن حبان البستی؛ اکمجروحین، تحقیق : محمود ابراہیم زاید،دار الوعی حلب.

15. ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب النسائی ؛سنن النَسائی؛ موقع وزارة الاوقاف المصریة.

16. ابو نعیم احمد بن عبد اللہ الاصبہانی ؛ حیلة الاولیاءوطبقات الاصفیاء دار الکتاب العربی  بیروت،1405.

17. ابوالقاسم، آلوسی؛ روح المعانی،

18. ابوعبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، سنن ابن ماجہ، موقع وزارة الاوقاف المصریة.

19. ابوعبداللہ الحاکم نیشاپوری، معرفة علوم الحدیث ،

20. ابی جعفر محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ ، الصدوقالقمی ،جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیةنقم المقدسةالمتوفی 381 ہصححہ وعلق علیہ علی اکبر الغفاری.

21. احسان الٰہی ، ظہیر ؛  السنہ و الشیعہ. پاکستان.

22. احمد بن حنبل ابو عبداللہ الشیبانی؛مسند الامام احمد بن حنبل الناشر مؤسسة قرطبة  القاہرة.

23. احمد بن علی بن حجر ابو الفضل العسقلانی الشافعی ؛فتح الباری شرح صحیح البخاری،دار المعرفة - بیروت ، 1379.

24. احمد بن علی بن حجر ابو الفضل العسقلانی الشافعی، تہذیب التہذیب،دار الفکر  بیروت، الطبعة الاولی ، 1404  1984.

25. احمد بن علی بن حجر ابو الفضل العسقلانی الشافعی؛ لسان المیزان مؤسسة الاعلمی للمطبوعات - بیروت الطبعة الثالثة ، 1406 - 1986 دائرة المعرف النظامیة  الہند.

26. الاسلام کلینی، الکافی، 8 جلد، دار الکتب الاسلامیة تہران، 1365 ہجری شمسی

27. الاصابة

28. اعلام النبلاء 1: 425.ـ در مصنف عبد الرزاق


29. آلوسی سید محمود، ابوالفضل؛ روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم، دارالکتب العلمیہ - بیروت، چاپ اول، 1415 ق.

30. الامام الشہید زید بن علی بن الحسین ابن علی بن ابی طالب علیہم السلام ؛ مسند الامام زید منشورات دار مکتبة الحیاة بیروت لبنان.

31. امینی، عبد الحسین؛   الغدیر  ، چ۲، تہران، ۱۳۳۶.

32. بدایة المجتہد کتاب النکاح.

33. البدایہ و النہایہ ،

34. بیہقی؛نیشاپوری؛ مناقب الشافعی ؛

35. پیشوائی، مہدی؛ سیرہ پیشوایان، مؤسسہ امام صادق، قم، ۱۳۷۶.

36. تالتقیہ فی رحاب العلمین(شیخ انصاری و امام خمینی) ، الامانةالعامہ للمؤتمر، ۱۳۷۳.

37. تدوین السنة الشریفہ،

38. ثامر ہاشم العمیدی ؛   تقیہ از دیدگاہ مذاہب وفرقہ ہای اسلامی غیر شیعی، مترجم سید محمد صادق عارف، آستان رضوی، مشھد، ۱۳۷۷.

39. جعفر سبحانی ، تنقیح المقال فی علم الرجال، قم

40. جعفر سبحانی؛ مع الشیعہ الامامیہ فی عقائدہم، حوزہ علمیہ قم.

41. الحاکم ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن محمد الحافظ ؛المستدرک علی الصحیحین ،۷محرم۳۷۳ہ

42. حجتی، محمد باقر؛ تاریخ قرآن کریم، نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۶۰.

43. حر عاملی، محمد بن الحسن؛ وسائل الشیعہ، اسلامیہ،تہران،۱۳۸۷ہ


44. حسن بن علی علیہ السلام، امام یازدہم، التفسیر المنسوب الی الامام الحسن العسکری علیہ السلام، 1جلد، مدرسة الامام المہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف - ایران ؛ قم، چاپ: اول، 1409 ق.

45. حیاة فاطمة الزہراء؛ باقر شریف قرشی:

46. خطیب بغدادی، تقیید العلم

47. داوود؛ ترجمہ الطرائف،چ۲، نوید اسلام، قم ، ۱۳۷۴ش.

48. درالمنثور

49. دکتر علی سالوس؛ جامعہ قطربین الشیعہ و السنہ

50. دکتر محمود یزدی؛ اندیشہ ہای کلامی شیخ طوسی

51. دکترناصر بن عبداللہ؛ اصول مذہب شیعہ

52. روضة الواعظین و بصیرة المتعظین، 

53. زناشویی و اخلاق

54. سالوس، علی؛ بین الشیعہ و السنہ  ، دار الاعتصام،قاہرہ.موسسہ الہادی؛

55. السید الخمینی؛تحریر الوسیلہ،

56. السید عبدالحسین شرف الدین ( قدس سرہ )؛ الفصول المہمة فی تالیف الامة،تحقیق وتعلیق : العلامة الشیخ حسین الراضی

57. سید علی بن موسی بن طاوس ؛  الطرائف،  چاپخانہ خیام قم، 1400 ہجری قمری

58. السید محمد صادق الروحانی; فقہ الصادق (ع)،ناشر مؤسسة دار الکتاب قم،1412.

59. سیوطی ؛  الاشباہ و النظایر فی قواعد و فروع الفقہ الشافعی؛

60. السیوطی؛سیر اعلام النبلاء (تاریخ خلفاء)


61. شیخ الطائفة ابی جعفر محمد بن الحسن الطوسی ؛التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد حبیب قصیر العاملی،موقع الجامعة الاسلامیة.

62. شیخ انصاری، مرتضی؛ رسائل و مکاسب،جامع المدرسین، ۱۳۷۵.

63. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 4 جلد، انتشارات جامعہ مدرسین قم، 1413 ہجری قمری

64. الشیخ عبد علی بن جمعة العروسی الحویزی قدس سرہ المتوفی سنة 1112 ؛تفسیر نور الثقلین.

65. شیخ مفید;تصحیح اعتقادات الامامیة  (413(تحقیق : حسین درگاہی چ۲  ناشر : دار المفید، بیروت ، لبنان 1414.

66. شیعہ می پرسد،

67. صحیح مسلم، باب من فضائل علی ابن ابیطالب،

68. الصدوق ابی جعفر محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ القمی المتوفی سنة 381؛منلایحضرہالفقیہ،

69. طبری ابو جعفر محمد بن جریر ؛جامع البیان فی تفسیر القرآن، دار المعرفہ: بیروت: 1412 ق.

70. عبد الرحمن الجزیری، الفقہ علی المذاہب الاربعة

71. عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز ؛جموع فتاوی بن باز، کتاب الحج والعمرہ،الرئاسة العامة للبحوث العلمیة والافتاء.

72. عبد اللہ بن قدامہ; المغنی، م620، چ، جدید,ناشر دار الکتاب العربی ، بیروت ، لبنان.

73. عبدالحمید الصائب ، تاریخ الاسلام الثقافی، والسیاسی،

74. عروسی ،حویزی عبد علی بن جمعہ ؛ تفسیر نور الثقلین، انتشارات اسماعیلیان، قم ، 1415 ق.

75. العلامة الحسن بن یوسف المطہر الحلی ؛ نہج الحق و کشف الصدق، سلسلة الکتب المؤلفة فی رد الشبہات (119)،مرکز الابحاث العقائدیة.

76. علامہ عسکری ، معالم المدرستین ،

77. علامہ مجلسی، بحار الانوار، 110 جلد، مؤسسة الوفاء بیروت - لبنان، 1404 ہجری قمری


78. علوی، عادل؛ التقیہ بین الاعلام، مؤسسہ اسلامیہ  ، قم، ۱۴۱۵.

79. علی تہرانی؛ تقیہ در اسلام ، انتشارات طباطبائی، ۱۳۵۲.

80. علی عباس موسوی؛ پاسخ شبہاتی پیرامون مکتب تشیع

81. علی عطائی، پرسش وپاسخ در مدینہ منورہ،

82. عیدروس بن احمد السقاف العلوی المعروف بابن رویش الاندونیسی؛ شواہد التنزیل لمن خص بالتفضیل.

83. غزالی ؛ احیاء علوم الدین ،

84. غفاری ؛  اصول مذہب الشیعہ الامامیہ،   ۱۴۱۵.

85. فخر رازی ؛ المحصول ،تحقیق : دکتور طہ جابر فیاض ,الثانیة, مؤسسة الرسالة ، بیروت، 1412, 

86. فخر رازی؛ محصل افکار المتقدمین من الفلاسفہ والمتکلمین،

87. کاشف الغطاء، محمد حسین؛  این است آئین ما ، انتشارات سعدی، تبریز، ۱۳۴۷.

88. کمال جوادی؛  فہرست ایرادات و شبہات علیہ شیعیان در ہند و پاکستان،

89. مالک بن انس الموطا،المحقق : محمد مصطفی الاعظمی،الناشر : مؤسسة زاید بن سلطان آل نہیان،الطبعة : الاولی 1425ہـ - 2004م

90. مالک بن انس ؛ المدونة  الکبری،مطبعة  السعادة،دار احیاء التراث، بیروت ، لبنان.

91. مجلہ نور علم، ش ۵۰ ـ ۵۱، ص ۲۴ ـ ۲۵.

92. محب السلام؛   شیعہ می پرسد  ، بی نا ، تہران، ۱۳۹۸.

93. محسن امین، عاملی؛  نقض الوشیعہ ،

94. محمد باقر حجتی؛ تاریخ قرآن کریم،


95. محمد بن احمد بن ابی بکر بن فرح القرطبی ابو عبد اللہ تفسیر القرطبی الجامع لاحکام القرآن.

96. محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز الذہبی ابو عبد اللہ،تذکرة الحفاظ،

97. محمد بن اسماعیل، بخاری؛ صحیح بخاری، دارالطباعة العامرہ استانبول، دارالفکر ، ۱۴۰۱ہ

98. محمد بن جریر الطبری ابو جعفر؛ تاریخ الطبری تاریخ الامم والملوک، دار الکتب العلمیة، بیروت الطبعة الاولی ، 1407

99. محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، ابو جعفر الطبری، تفسیر جامع البیان فی تاویل القرآن المحقق : احمد محمد شاکر، مؤسسة الرسالة.

100.       محمد بن حبان بن احمد ابو حاتم التمیمی البستی؛ ثقات ابن حبان

101.       محمد بن سعد بن منیع ابو عبداللہ البصری الزہریالناشر : دار صادر  بیروت؛الطبقات الکبری،

102.       محمد بن عیسی بن سَورة بن موسی بن الضحاک، الترمذی، ابو عیسی، سنن الترمذی؛  موقع وزارة الاوقاف المصریة.

103.       محمد خلیل ہراس؛شرح العقیدة الواسطیة لشیخ الاسلام ابن تیمیة،الطبعة : الاولی،الرئاسة العامة لادارات البحوث العلمیة والافتاء والدعوة والارشاد،تاریخ النشر : 1413ہـ - 1992م

104.       محمود ابوریة ؛ اضواء علی السنة المحمدیہ ،

105.       مکارم شیرازی ؛ الشّیَعةُ شبہات و ردود،آثار اعتقادی ،عربی

106.       مکارم شیرازی،ناصر؛  تقیہ سپری برای مبارزہ عمیقتر ، مطبوعاتی صدف، قم،

107.       مکارم شیرازی و دوستان؛تفسیر نمونہ، تقیید العلم

108.       موسوی، موسیٰ؛  الشیعہ و التصحیح  ، طبع لوس انجلوس ، ۱۹۸۷.

109.       نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی؛ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد،الناشر : دار الفکر، بیروت - 1412 ہـ

110.       یاقوت بن عبد اللہ الحموی ابو عبد اللہ ؛معجم البلدان ،الناشر : دار الفکر ، بیروت.


111.       یزدی،محمود ؛ اندیشہ ہای کلامی شیخ طوسی،دانشگاہ رضویہ،۱۳۷۸.

112.       یعقوبی، ابن الواضح؛ تاریخ یعقوبی ، مکتبہ المرتضویہ، عراق، النجف.

113.       یوسف بن الزکی عبدالرحمن ابو الحجاج المزی ؛ تہذیب الکمال مؤسسة الرسالة ، بیروت، الطبعة الاولی ، 1400  1980.


فہرست

مقدمہ 2

انسان اگر کسی جو جلائے تو شقی لیکن خدا کسی کو جلائے تو 3

پہلی فصل: عدم تحریف قرآن. 5

قرآن  ہرقسم کی  تحریف سے پاک اورمنزّہ 5

عدم تحریف پرعقلی و نقلی دلیلیں. 8

قرآن : 8

عقل: 8

روایات: 9

تحریف معنوی کا  امکان. 10

عبدالحسین یا عبداللہ؟!! 12


دوسری فصل:منع  حدیث. 15

حدیث ،پیغمبر اسلام (ص)کے دور میں. 15

ممنوعیت، غیر شرعی ہونے پر دلیل: 15

۱. اسلامی ثقافت میں تعلیم و تعلّم  کی اہمیت 15

۲.پیغمبر(ص)کاحدیث کی نشرو اشاعت کا اہتمام کرنا 16

روایت: 16

حدیث  ،صحابہ اور تابعین کے دور  میں. 18

پہلا خلیفہ اور منع حدیث. 18

دوسرا خلیفہ اور منع حدیث. 19

حضرت عمر کی تقریر 20

قرطاس وقلم لانے سے انکار 21

تیسرا خلیفہ  اور حدیث کی ممانعت. 21


معاویہ  اور حدیث کی ممانعت. 22

معاویہ کی توجیہات: 23

امّت میں  اختلافات کا روک تھام 23

حدیث ، قرآن کے ساتھ مخلوط ہوجاتی 25

جمع آوری احادیث کےمراحل. 25

صحاح اور سنن میں فرق. 27

حدیث کی کچھ اصطلاحات. 27

تیسری فصل:مسلمانوں میں اختلافات کے اسباب. 28

مسلمانوں کی گمراہی کا سبب  کون؟ 28

مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے  والے کون؟ 29

یامحمد یا علی کہنا شرک؟!! 33

اشکال: 35


جواب: 35

صحابہ کون؟ 36

۱.رسول اللہ کو صرف ایک بار دیکھا ہو 36

۲.ایک مدت تک آپ کے ساتھ رہا ہو 36

۳.ایک سال آپ کے ساتھ رہا ہو 36

شیعہ کیوں صحابہ کومعیار حق نہیں مانتے  ؟ 37

لعن بر صحابہ کہاں تک جائز ہے؟ 38

اولاً شیعہ کبھی بھی اہل بہشت پر لعن نہیں کرتے. 39

وہابی: معاویہ نے کب علی پر لعن کیا؟ 39

بعض اصحاب منافق!! 40

عثمان کے قاتل بھی صحابہ تھے 41

بعض اصحاب پرا ہل سنت بھی لعن کرتے ہیں. 43


بعض صحابہ پر حد جاری کرنا 43

عدالت صحابہ‏ 45

پہلا نظریہ: سارے صحابی باتقویٰ اور عادل تھے 45

دوسرا نظریہ:اصحاب میں منافق اور ناصالح افراد بھی تھے 46

دلیل. 46

سارےصحابیوں کو عادل ماننے کی دلیل. 48

علی (ع) کی مظلومیت. 55

صحابہ تین قسم کے ہیں. 56

زہرا کی مظلومیت. 57

فاطمہ زہرا(س) کے گھر پر صحابہ کا حملہ منابع اہل سنت میں. 57

چوتھی فصل: مٹی پر سجدہ 60

شیعوں کے ہاں مہر یا سجدہ گاہ کا استعمال کرنے کی فقہی دلیل کیا ہے؟ 60


مکالمہ 60

وضو کے طریقے میں اختلاف.. 62

اشکال: شیعہ ہاتھ کھول کر نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ 62

تراویح کیا ہے؟ 63

الصَّلاةُ خَیرٌ مِنَ النَّوم 64

تشہد ثلاثہ  کی حقیقت کیا ہے ؟ 65

پانچویں فصل. 69

شفاعت اور  توسل. 69

فہل کان النبی یعقوب (ع)مشرکاً؟ 69

فہل یدعو القرآن الکریم الکفار والمنافقین للشرک؟ 70

آئمہ (ع)سےخارق العادہ افعال کی درخواست کرنا شرک.. 71

سیّد شرف الدین کی حاضرجوابی! 73


آئمہ(ع) کے توسط سے الہی افعال کا انجام پانا 74

قبور آئمہؑ کی زیارت شرک لیکن ابن تیمیہ کی زیارت؟ 76

زیارت پیغمبر(ص)کیلئےسفر کرنا گناہ 78

بت پرستوں اور شیعوں میں شباہت. 78

مُردوں سے کسی چیز کا مانگنا ؟ 83

جواب: 84

آیات: 84

روایات : 85

صحیح مسلم اور صحیح بخاری: 85

احمد بن حنبل: 85

جلال الدین سیوطی: 86

ابن ابی شیبہ (بخاری کا استاد) 86


قبور کی  زیارت: 86

1.                    قرآن کریم: 86

2.                    روایات: 87

3.                    صحابہ کی سیرت: 87

4.                    عقل: 88

اہل سنت بھی قبر سے تبرک.. 88

قبور کی تعمیر اور ان پر گنبد بنانا 89

مناظرہ: 92

قبور پر چراٖغ جلانا 93

چھٹی فصل: 95

بحث امامت اور خلافت. 95

امامت کی حقیقت شیعہ اور اہل سنت کی نظر میں. 96


امامت کو اصول دین میں کیوں شمار کیا جاتا ہے ؟ 96

امامت کی خصوصیات. 96

اشکال : کیوں ان خصوصیات کی تعداد میں اختلاف  ہے؟ 97

اثبات امامت کی راہیں اور رکاوٹیں. 98

اہل سنت کے ہاں چار قول ہیں: 98

لزوم امامت پر دلائل. 100

اہل سنت علی ؑکو خلیفہ بلا فصل کیوں نہیں مانتے؟ 101

جانشین پیغمبر (ص)کو صحابہ نے کیوں منصب خلافت سے دور رکھا؟ 104

شیعہ جواب دیتے ہیں: 104

اگر خلفاء برحق نہیں تھے تو علی ؑنے خاموشی کیوں اختیار کی؟ 105

عصمت امام پر دلیل. 110

کس بنیاد پر اہل بیت  (ع)معصوم؟ ایک مختصر مناظرہ 112


شیعہ اہل بیتؑ کو معصوم مانتے ہیں. 113

عصمت. 113

ولایت علی پر دلیلیں. 114

اہل بیت (ع)کون؟ 116

خلیفہ کا تعیّن. 117

مولود کعبہ ہوتے ہوئے بھی فضائل علی چھپاتے کیوں؟ 119

حدیث منزلت محکم ترین اثر 120

کیا ولایت علیؑ سے انکارممکن؟! 120

خلیفہ دوم نے غدیرکے دن بیعت کی لیکن... 120

ابوبکر کو صدیق ، عمر کو فاروق کا لقب کس نے دیا؟ 121

خلفاء اور علیؑ کے درمیان اچھے روابط 121

عمر اور ام کلثوم کی شادی کی داستان. 122


فضائل علیؑ ممنوع لیکن ان کی شان میں گستاخی آزاد 123

ذہبی اور فضائل علی(ع) 125

کیوں  اماموں کے نام قرآن میں نہیں آئے.. 127

حدیث عشرہ مبشرہ کی حقیقت. 128

صحابہ کا ایک دوسرے پر لعن کرنا 129

اشکال : وعدہ قرآن کے برخلاف دشمنان اہل بیت یعنی بنی امیہ ہزاروں موجود ہیں!! 130

ساتویں فصل. 136

عزاداری سید الشہداء سے مربوط اشکالات. 136

یہ مراسم عزاداری کیوں؟ 136

لوگ کالے کپڑے کیوں پہنتے ہیں؟ 136

لوگ کیوں آدھی رات تک سینہ زنی اور ماتم کرتے ہیں ؟ 136

کیوں اس قدر آنسو بہاتے ہیں؟ 136


پہلا سوال: ہم نے 1361 سالہ حادثہ کربلا کو کیوں زندہ رکھا؟ 137

دوسرا سوال :حادثہ عاشورا صرف سینہ زنی، کالے کپڑےاور... 137

تیسرا سوال: لوگ کیوں آدھی رات تک سینہ زنی اور ماتم کرتے ہیں ؟ 139

چوتھا سوال:امام کے مخالفین پر لعن کیوں؟ 140

سوال: داستان کربلا اسلام کی ترویج اور سعادت کا باعث ؟ 143

انسانی زندگی پرعزاداری کا اثر 144

اپنے  رسول کے نواسے کو بے دردی سے شہید کیا گیا؟!! 147

اشکال: قرآن میں خشک و تر موجود ہے تو واقعہ کربلا  اس میں کیوں درج نہیں ؟ 147

امام سجاد کا گریہ کیا صبر کے خلاف نہیں؟ 149

آٹھویں فصل: 152

امام زمان (ع) سے مربوط اشکالات. 152

اشکال : امام غائب کا کیا فائدہ ؟ 156


جواب: 156

فلسفہ غیبت امام زمان کیا ہے ؟ 156

اشکال: اتنی طولانی عمر کیسے ممکن ہے؟ 157

اشکال : غیبت امام قاعدہ لطف کے منافی 157

مہدویت کے موضوع پر اہم کتابیں: 158

رجعت سے کیا مراد ہے اور کیا یہ ممکن ہے؟ 158

نویں فصل : مشروعیت متعہ 160

قرآن میں متعہ  کا حکم 160

کیا آیۃ میں قرینے موجود ہیں جو ازدواج موقت "متعہ" پر دلالت کرتے ہیں ؟ 161

کیا یہ آیة منسوخ نہیں ہوئی ہے؟ 162

روایات. 168

عموماً متعہ پر کئے جانے والے اشکالات. 171


راسل اور ازدواج موقت‏. 171

حج تمتع عثمان کے دور میں. 173

مسلسل متعہ کرنے والی عورت کیلئے عدہ 174

متعہ  کرنامعیوب کیوں؟ 174

متعہ الحج اور متعہ  النساء کو عمر نے حرام قرار دیا ہے.. 175

معاویہ کے دور میں حج تمتع 176

نتیجہ بحث: 177

دسویں فصل: 178

تقیہ کے بارے میں شکوک اور شبہات. 178

شبہات کی تقسیم بندی. 178

تشریع تقیہ سے مربوط شبہات کی تفصیل: 179

تقیہ اور جھوٹ : 179


شیخ طوسی کا جواب. 181

تقیہ یعنی منافقت! 182

تقیہ،  جہادکے متنافی 184

تقیہ اور آیات تبلیغ کے درمیان  تعارض.. 185

تقیہ اور ذ لّت مؤمن. 187

تقیہ ،ما نع امر بہ معروف.. 188

تقیہ امام معصوم(ع)سےمربوط شبہات. 188

تقیہ اور امام(ع) کا بیان شریعت. 189

امام کیلئے تقیہ جائز ہونے کے  شرائط 190

تقیہ، فرمان امام(ع) پر عدم اعتماد کاباعث. 190

تقیہ اور علم امام  (ع) 191

پہلا عقیدہ  بداء ہے 192


دوسرا عقیدہ تقیہ ہے. 192

جواب : 193

اس  شبہ کا جواب. 193

تقیہ اور عصمت. 194

بجائےتقیہ؛ خاموشی کیوں اختیار نہیں کرتے؟ 195

جواب : 195

تقیہ کی بجائے توریہ کیوں نہیں کرتے ؟! 196

اس شبہہ کا جواب: 196

تقیہ اور دین کا  دفاع. 196

تقیہ « سلونی قبل ان تفقدونی» کے منافی 197

تقیہ  اور  شجاعت. 198

تقیہ اور تحلیل حرام و تحریم حلال. 199


جواب: دو احتمال ہیں : 200

شیخ طوسی کاجواب: 201

کیوں کسی نے تقیہ کیا  اور کسی نے نہیں کیا ؟! 202

تقیہ شیعوں کی  بدعت. 204

تقیہ، مکتب تشیع کا  اصول دین ؟! 205

تقیہ، زوال دین کا موجب ؟! 207

حرام تقیہ، دین میں فساد اور ارکان اسلام کے متزلزل ہونے کا سبب بنتا ہے 207

امام کی پیروی  اور تقیہ کے درمیان تناقض.. 208

اس شبہہ کا جواب : 208

تقیہ اورفتوائے امام(ع)کی تشخیص.. 209

جواب: 209

تقیہ اورشیعوں کا اضطراب! 209


تتمہ 221

وہ لوگ خود قابل مذمت ہیں. 221

تقلید کی حقیقت کیا ہے؟ 227

فہرست منابع 230