پھر میں ہدایت پاگیا
مصنف
ڈاکٹر سید محمد تیجانی سماوی
مترجم
حجۃ الاسلام مولانا روشن علی صاحب نجفی
مقدمہ
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدالله الذی هدانا الی سوآء الطریق والصلواة والسلام علی محمد وآله الذین المبشرین للجنّة والمنذرین من النّار الحریق واللعن الدائم علی اعدائهم الذین للجحیم حقیق امابعد
رحمت حق بہانہ می جوید کے بمصداق توفیق الہی کسی کے باپ کی میراث نہیں ہے خدا کس پر اور کب اپنی توفیق شامل کردے کچھ کہا نہیں جاسکتا اور یہ بالکل صحیح ہے کہ" الذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا " خلوص وتحقیق کی شرط ہونے کے ساتھ غیر متعصب ہونا بھی ضروری ہے ورنہ آدمی منزل مقصود تک نہیں پہونچ سکتا ۔
بہت پرانی بات نہیں ہے ۔ اللہ کی دنیا میں ہر جگہ کچھ نہ کچھ حق پسند ہوتے ہیں آپ نے سنا ہوگا کچھ مدت پہلے علامہ شیخ محمد مرعی الحلبی شیعہ ہوچکے تھے ار پھر انھوں نے اپنے بھائی شیخ احمد اطاکی کو بھی شیعہ کیا وادی کشمیر میں جناب مولانا خادم حسین صاحب نے تشیع اختیار کیا اور بڑی لگن سے خدمت کی اور کررہے ہیں ۔ ماضی قریب میں جناب سعید الرحمان صاحب مستبصر ہو کراسی راہ میں شہید ہوچکے ہیں اسی طرح برصغیر ہند وپاک کے مشہور عالم
جناب سید شاہد زعیم فاطمی طاب ثراہ تھے اور ان کے علاوہ دیگر بہت سے افراد ہیں جنکا تذکرہ باعث طول ہوگا ۔
علامہ سید احمد التیجانی بھی انھیں خوش قسمت لوگوں میں ہیں جنھوں نے ذاتی تحقیق سے مذہب حق اختیار کیا ہے ، یوں تو مستبصر ہونے کے بعد سبھوں نے کتابیں لکھی ہیں اور ان کا اردو میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے ۔مثلا "میں کیوں شیعہ ہوا ؟" تلاش منزل ""تذکره اهلبیت " وغیرہ مگر علامہ تیجانی کی کتاب حسن بیان ،لطافت استدلال عم تعصب ،تحقیق وتفتیش کا بہترین مجموعہ ہے اس کا فارسی میں " آنگاہ کہ ہدایت شدم" کے نام سے ترجمہ ہوچکا ہے ۔
محترم جناب انصاریان صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ"ثم اهتدیت " کا اردو ترجمہ ہوجاتا تو بہتر تھا ۔میرے مشاغل اجازت تو نہیں دیے رہے تھے ۔لیکن اپنی بخشش کا ذریعہ سمجھ کر نہ جانے کس طرح میں نے وقت نکال کر اس کو مکمل کیا ۔
آپ کتاب پڑھیں گے تو میری بات کی صداقت کا احساس کریں گے ۔آخر میں اپنے محترم قارئین سے خواہش ہے کہ غلطیوں کی نشاندھی ضرور کردیں تاکہ دوسرے ایڈیشن کو اس سے بہتر طریقہ سے پیش کیاجاسکے ۔
روشن علی ۔ قم المقدسہ
انتساب
اس ناچیز خدمت کو
ثامن الائمہ حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام
کے
نام معنون کرتا ہوں
مترجم
میری زندگی کے مختصر لمحات
میری یادوں کی کڑیوں میں یہ بات ابھی تک بہت اچھی طرح سے محفوظ ہے کہ میری عمر یہی کوئی دس 10 سال کی رہی ہوگی ۔جب ماہ مبارک رمضان میں میرے والد ماجد مجھے نماز تراویح کے لئے محلہ کی مسجد میں اپنے ساتھ لے گئے اور مجھے نمازیوں کی صف میں کھڑا کردیا فطری بات ہے لوگوں کو یہ دیکھ کربہت تعجب ہو ۔ چند دنوں سے یہ بات بھی سمجھ گیا تھا کہ میرے معلم نے کچھ اس طرح کے انتظامات کررکھے ہیں جس سے دو یا تین راتیں جماعت کے ساتھ نماز تراویح بھی پڑھ لوں ۔ویسے میری عادت یہ بن گئی تھی کہ محلہ کے ہم سن بچوں کو نماز جماعت پڑھا تا تھا ۔ اور اس انتظار میں رہا کرتا تھا کہ امام جماعت قرآن کے نصف آخر (یعنی سورہ مریم )تک پہونچے ۔
چونکہ میرے اباجا نی جنت مکانی کی دلی آرزو تھی کہ مدرسہ کے علاوہ گھر میں بھی راتوں کو بعض اوقات میں قرآن کی تعلیم حاصل کیا کروں جن میں مسجد جامع کے امام اقامت پذیر ہوئے تھے ۔ یہ امام جماعت نابینا تھے اور میرے رشتہ دار بھی تھے ۔ اور حافظ قرآن تھے ۔ اور میں نے اس سن وسال میں نصف قرآن حفظ کرلیا تھا جب عموما بچے غم دوراں اور غم جاناں سے بے فکر ہو کر زندگی کا سرمایہ کھیل کود کو سمجھتے ہیں ۔اس لئے میرے معلم نے اپنے فضل واجتہاد کا سکہ بٹھانے کیلئے مجھے منتخب کیا اور مجھے تلاوت کے رکوع وغیرہ نہ صرف بتائے بلکہ باربار پوچھ کر ذہن نشین بھی کرادیئے ۔۔۔۔۔اور پھر جب میں نماز جماعت وتلاوت کے امتحان میں اپنے والد ومعلم کی توقع سے کہیں زیادہ ممتاز نمبروں سے کامیاب ہوگیا تو لوگ مجھے پیار کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے اور میری تعریف کے ساتھ معلم کو شکریہ اور ابا جانی کوتبریک وتہنیت پیش کرنے لگے ۔اور سب یک زبان ہو کر کہہ رہے تھے ۔ یہ سب (شیخ صاحب کی برکتیں ہیں )
پھر کچھ دنوں میں میں نے بڑی ہنسی خوشی کے دن گزارے اور وہ مسرت آفریں لمحات میرے ذہن پر چھائے رہے ۔ کیونکہ میری زندگی کا یہ ایسا مسرت آگیں زمانہ تھا جس سے میں دوچار ہوا تھا جس کو بھلانے پر میں قادر نہیں تھا ۔
میری شہرت وکامیابی کا ڈنکا میرے محلہ سے نکل کر پورے شہر میں بج رہا تھا ۔ اور رمضان المبارک کی ان متبرک راتوں نے میری زندگی پر ایسا مذہبی چھاپ لگایا جس کے نشانات آج تک باقی ہیں کیونکہ جب بھی شاہراہ سے کوچے گلیاں سڑکیں نکل کر مجھے راستوں کے چکر میں الجھانا چاہتی ہیں ایک غیر مرئی طاقت مجھے کھینچ کر پھر شاہراہ پر پہونچا دیتی ہے اور جب کبھی مجھے اپنی شخصیت کے ضعف وناتوانی اور زندگی کے بے مائیگی کا احساس ہونے لگتاہے ۔میری یہی ((ماضی کی یادیں )) اعلی روحانی درجات تک مجھے بلند کردیتی ہیں اور میرے ضمیر میں ایسا شعلہ ایمان روشن کردیتی ہیں جس سے زندگی کی ذمہ داریوں کے سنبھالنے کا جذبہ پھر ابھرآتا ہے ۔
یہ وہی مسئولیت وذمہ داری کا بوجھ ہے جس کو میرے والد نے میرے کاندھے پر ڈالا تھا یا یوں کہوں کہ اس کھلنڈرے پن کے زمانہ میں امام جماعت کابار جو میرے معلم نے میرے اوپر ڈالا تھا مجھے برابر ان کا احساس رہتا ہے ۔کہ جس مقام تک میں پہونچنا چاہتا تھا وہاں تک نہ پہونچنے میں میری کمی ہے ۔یا کم از کم جس منزل کا خواب ان بزرگوں نے دیکھا تھا اس تک نہ پہونچے میں میری انپی کوتاہی ہے ۔
اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنا بچپنا اور جوانی نسبتا بہت اچھی گزاری اس میں لہو اور عبث کا عنصر بھی تھا لیکن زیادہ تر تقلید اور اطلاع کا جذبہ غالب تھا ۔پرور دگار کی عنایت مجھے اپنے حفظ وامان میں لئے ہوئے تھی ۔ اپنے بھائیوں میں سب سے زیادہ متین اور خاموش گناہوں میں نہ ڈوبنے والا تھا ۔
یہ بھی ذکر تا چلوں کہ میری زندگی بنانے میں میری والدہ مرحومہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔آنکھ کھولتے ہی نماز وطہارت کی طرح مجھے قرآن کریم کے چھوٹے چھوٹے سورے یاد کرائے ۔ بڑا بیٹا ہونے کے ناطے ضرورت سے زیادہ میرا خیال رکھتی تھیں حالانکہ اسی گھر میں ان کی ایک سوٹ مدتوں پہلے سےرہتی تھیں ان کی اولادیں میری والدہ مرحومہ کے ہم سن تھیں لیکن مرحومہ میری تعلیم وتربیت کرکے خود تسلی دے لیتی تھیں گویا کہ اپنی سوت اور شوہر کے لڑکوں سے مقابلہ کررہی ہوں ۔
میرا نام تیجانی رکھنے کی علت یہ ہوئی کہ سماوی خاندان میں اس لفظ کی بڑی اہمیت تھی ۔ قصہ دراصل یہ ہے کہ جب الجزائر کی واپسی میں الشیخ سید احمد التیجانی کے لڑکے شہر قفصہ میں "دار السماوی " کے مہمان ہوئے اسی وقت سے شہر کی اکثریت نے اس طریقہ کو قبول کرلیا خصوصا علمی اور مالدار گھرانوں کے تمام افراد اسی طریقہ تیجانیہ کے حلقہ بگوش ہوگئے ۔ اور سماوی فیملی تو پوری کی پوری اسی طریقہ تیجانیہ پر کاربند ہوگئی اسی لئے میری والدہ مرحومہ نے میرانام تیجانی رکھ دیا ۔ اور اپنے اسی نام کی وجہ سے میں "دارالسماوی " میں محبوب ہوگیا ۔ جس میں بیس 20 سے زیادہ خاندان آباد تھے اور یہاں سے باہر بھی میری شہرت ان تمام لوگوں میں ہوگئی ۔جنکو طریقہ تیجانیہ سے محبت وعقیدت تھی اور یہی وجہ ہے کہ جس ماہ مبارک کی راتوں کامیں نے تذکرہ کیا ہے تمام نمازی میرے سرکابوسہ لیتے تھے ۔ اور تاتھوں کو چومتے ہوئے کہتے جاتے تھے ۔"یہ سب الشیخ احمد التیجانی " کی برکتوں کا فیض ہے " اورسب لوگ میرے والد ماجد کو مبارک باد بھی پیش کررہے تھے ۔
ایک بات کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے کہ" طریقہ تیجانیہ " مغرب الجزائر ٹیونس ،لیبیا ،سوڈان ،مصر میں بہت ہی مشہور ہے اور اس کے ماننے والے ایک حد تک متعصب بھی ہیں ۔ یہ لوگ دوسرے اولیائے کرام کی زیارت نہیں کرتے ۔اور ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جتنے بھی اولیاء اللہ ہیں سب نے ایک دوسرے سے سلسلہ وار اخذ علوم ہے صرف الشیخ احمد التیجانی ایسے ولی ہیں جنھوں نے براہ راست رسول خدا سے اخذ کیا ہے ۔
حالانکہ شیخ کا زمانہ نبوت سے تیرہ سو 1300 سال کے بعد کا ہے ۔نیز یہ لوگ روایت کرتے ہیں کہ الشیخ احمد التیجانی بیان کرتے تھے کہ رسول خدا عالم بیداری میں میرے پاس تشریف لائے تھے نہ کہ عالم خواب میں یہ اوریہ بھی کہتے ہیں وہ مکمل نماز جس کو ان کے شیخ نے تالیف کیا ہے وہ چالیس40
ختم قرآن سے افضل ہے ۔
ہم دائرہ اختصار سے خارج نہ ہوجائیں اس لئے تیجانیہ طریقہ ےک ذکر کو یہیں پرختم کرتے ہیں ۔ اور انشااللہ اسی کتاب میں کسی دوسری جگہ اس کا پھر ذکر کروں گا ۔
میں بھی دوسرے جوانوں کی طرح انھیں عقائد کو سینہ سےلگائے بچپنے کی دہلیز سے نکل کر جوانی کی منزل میں داخل ہوا ۔اورالحمداللہ ہم سب مسلمان ہیں اور اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں ۔
اور مدینہ منورہ ےک امام حضرت مالک بن انس کے مذہب کی پیروی کرتے ہیں البتہ اس میں التیجانیہ ،القادریہ ،الرحمانیہ ، السلامیہ، العیاویہ ، سلسلے موجود ہیں اور ہر ایک کے ماننے والے بھی ہیں اور ختم قرآن رسم ختنہ ،کا میابی ایفائے نذر وغیرہ کے سلسلے میں جو محفلیں یارت جگے ہوتے ہوتے ہیں ان میں ہر سلسلے کے قصائد ،اذکار ،اوراد پڑھے جاتے ہیں ان صوفی سلسلوں نے دینی شعائر اور اولیائے کرام وصالحین کے احترام کی بقاء میں بہت ہی اہم رول ادا کئے ہیں ۔
مکہ مکرّمہ میں" عربک اینڈ اسلامک تحقیقاتی کمیٹی " کی پہلی منعقد ہونے والی کانفرس می بطور مندوب شرکت کرنے کے لئے تیونس کی قومی تحقیقاتی کمیٹی " نے جمہوریہ تیونس " کے ان چھ شخصوں کے ساتھ میرے نام کی بھی منظوری دے دی جو مکہ کانفرس میں بحیث نمائندہ شرکت کے لئے جارہے تھے ۔ اس وقت میری عمر صرف سولہ 16 سال کی تھی اس لئے میں پورے وفد میں اپنے کو سب سے چھوٹا اور معمولی ثقافت والا سمجھ رہا تھا ۔ کیونکہ اس وفد کے ممبروں میں دو تومدارس کے مدیر تھے تیسرا دارالسلطنت میں استاد تھا ۔چوتھا صحافی تھا البتہ پانچویں کا نام تو میں نہیں جانتا ۔لیکن اتنا جانتا ہوں کہ اس وقت کے وزیر تربیت کا کوئی قریبی رشتہ دارتھا ۔
ہمارا سفر غیر مستقیم تھا ۔قفصہ سے روانہ ہوکر پہلے تو ہم یونان کے دار السلطنت (اثینا)(1) پہونچے تین دن تک ہمارا وہاں قیام رہا وہاں سے عمان (حکومت اردن کا دار السلطنت )پہونچے یہاں ہم نے چاردن تک قیام کیا ۔وہاں سے ہم سعودیہ پہونچے جہاں ہم کانفرس میں شرکت کے ساتھ مناسک حج وعمرہ بھی بجا لائے گویا ہم خرما ہم ثواب ہوئے ۔
بیت اللہ الحرام میں پہلی مرتبہ داخل ہوتے ہوئے میرا شعور ناقابل تصور تھا دل کی دھڑکنوں کا عالم یہ تھا کہ جیسے ہڈیوں کو توڑ کر دل اس " بیت عتیق" کو اپنے آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے جس کا مدتوں سے خواب دیکھتا رہا تھا۔ آنسوؤں کا وہ سیلاب امڈ ا تھا جس کے رکنے کا تو سوال ہی نہیں ،میں اپنے وجود کو اس میں ڈوبتا ہوا محسوس کررہا تھا ۔ اپنی قوت متخیلہ کا اسیر تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ جیسے ملائکہ مجھے اٹھا ئے حاجیوں کے اوپر سے کعبہ کی چھت پر لےگئے اور وہاں پہونچ کر میں تلبیہ پڑھ رہاں ہوں ۔
"لبیک اللّهم لبیک " یہ تیرا بندہ تیری بارگاہ میں آیا ہے ۔
--------------
(1)اینتھیس (ATHENS)
حجاج کرام کا تلبیہ سن کرمیں اس نتیجے پر پہونچا کہ ان بیچاروں نے اپنی عمریں گزاردیں ۔ حج کی تیاری کرتے رہے ۔اسباب اکٹھا کرتےرہے مال جمع کرتے رہے ۔تب کہیں یہاں پہونچے لیکن میں تو بغیر کسی تیاری کے دفعتا یہاں آگیا مجھے اپنے باپ یاد آرہے تھے اور کہتے جاتے تھے ۔" اے بیٹا تم کو مبارک ہو مشیت الہی یہی تھی کہ تم اس کمسنی میں حج سے شرفیاب ہو ۔ تم سیدی احمد التیجانی کے بیٹے ہو بیت اللہ میرے لئے دعا کرنا کہ خدا میری توبہ قبول کرلے اورمجھے (بھی حج کی تو فیق دے ۔
اسی لئے مجھے یہ گمان ہوا کہ رب کعبہ نے مجھے آوازدی ہے اس کی مخصوص عنایت نے مجھے اپنے دامن میں پناہدی ہے اور اس مقام تک مجھے پہونچا دیا جہاں تک پہونچا دیا جہاں تک پہونچنے کی حسرت وتمنا میں ان گنت لوگ موت کی آغوش میں سر رکھ کرابدی نیند سوگئے ہیں ۔لہذا بھلا مجھ سے زیادہ تلبیہ کہنے کا حق کس کو ہے ؟ میری شیفتگی اور والہانہ پن کا عالم یہ تھا کہ نمازوطواف وسعی میں دل وجان سے مشغول ہونے کے ساتھ بے تحاشا آب زمزم بھی پی رہا تھا جبل نور جبل رحمت کی طرف پہونچنے میں لوگ ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے اسی طرح جبل نور پر جو غار حرا ہے اس کے لئے بھی یہی کوشش تھی ۔چنانچہ عشق الہی میں سرشار میں بھی پہونچا اور صرف ایک سو ڈانی جوان کے علاوہ مجھ سے پہلے کوئی نہیں پہونچ سکا ۔پہونچتے ہی میں لوٹنے لگا اور اس طرح جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں لوٹ رہا ہوں اور ان کے انفاس قدسیہ کا استشمام کررہا ہوں ۔ہائے وہ تصورات اور وہ یادیں جنھوں نے میرے دل ودماغ پر اتنا گہرا اثر چھوڑا ہے جس کا محو ہونا نقوش حجری کے مٹ جانے سے زیادہ مشکل ہے ۔
خدا کا ایک خاص کرم یہ بھی تھا کہ وفود کے تمام لوگ جو مجھ سے ملتے تھے محبت کرنے لگتے تھے اور خط وکتابت کے لئے میرا پتہ مجھ سے لکھ لیتے تھے ۔ بلکہ خود میرے بعثہ(1) کے لوگ جب ترتیب سفر کے لئے تیونس کے دارالسلطنت میں پہلی مرتبہ ملے تھے تو مجھے ذلیل نظروں سے دیکھ رہے تھے اور میں نے اس بات کو تاڑ
--------------
(1):- بعثہ عربی میں اس کو کہتے ہیں جو لوگ حکومت کی طرف سے وفد کی شکل میں کہیں بھیجے جائیں ۔
لیا تھا ۔لیکن جب سادھ لی تھی کیونکہ مجھے پہلے ہی سے معلوم تھا کہ شمال والے جنوب والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔اور ان کو پسماندہ خیال کرتے ہیں ۔ مگر اثنائے سفر کا نفرنس ،اور حج میں ان کے نظریات کافی بدل گئے تھے اور اب وہ لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے تھے کیونکہ اسلامی دنیائے سے آئے ہوئے مختلف وفود کے سامنے میں نے ان کے چہرے روشن کردیئے تھے ۔ اپنے حافظہ کے بھروسے پر یاد کئے اشعار قصائد اور مختلف مقابلوں میں جیتے ہوئے میرے انعامات نے ٹیونسی وفد کی عزت بچالی تھی ۔
سعودیہ میں ہمارے قیام کی مدت 25دن تھی ان دنوں میں ہم علماء سے ملتے رہے ان کی تقریریں سنتے رہے اور میں بذات خود بعض وہابی عقیدوں سے بہت زیادہ متاثر ہو چکا تھا ۔ اور یہ میری دلی آرزو ھتی کہ کاش سارے مسلمان وہابی ہوتے اس مختصر سی مدت میں میں نے یہ باور کرلیا تھا کہ خداوند عالم نے "بیت الحرام " کی حفاظت کے لئے اس فرقہ کو منتخب کیا ہے اس لئے یہ لوگ سب سے زیادہ اعلم سب سے زیادہ پاک وپاکیزہ ہیں روئے ارض پر ان کا کوئی مثیل ونظیر نہیں ہے ۔ خدانے ان کو سیال سونا دے کر مالدار بنادیا ہے ۔تاکہ یہ لوگ ضیوف الرحمان (یعنی حجاج کرام )کی خدمت کرسکیں ۔
*
فریضہ حج کی ادایئگی کے بعد جب میں سعودی لباس پہنے ہوئے سر پر عقال باندھے ہوئے اپنے وطن مالوف پہنچا تو میرا بہت ہی شاندار استقبال کیاگیا ۔ اس استقبال کا اہتمام خود اباجانی نے کیا تھا ۔ پورا سٹیشن لوگوں س چھلک رہا تھار کھوے سے کھوا چھل رہاتھا۔ مجمع کے آگے آگے ڈھول ودف لئے ہوئ الطریقہ العیساویہ کے شیخ اور شیخ التیجانیہ شیخ القادریہ تھے ۔۔۔۔۔۔پھر یہ مجمع مجھے اپنے ساتھ لے کر شہر کی سڑکوں پر نعرہ تکبیر اور لا الہ الااللہ کے نعرے لگاتا ہوا چلا جب کسی مسجد سے یہ مجمع گزرتا تھا تو تھوڑی دیر کے لئے اس کے دروازے پر مجھے کھڑا کر دیا جاتا تھا اور چاروں طرف سے لوگ مجھے بوسہ دینے کے لئے ٹوٹ پڑتے تھے ۔خصوصا بڈھے تو مجھے چومتے تھے اور بیت اللہ کی زیارت اور قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وقوف کے شوق میں ڈاڑھیں مار مار کر روتے تھے ۔ ان حضرات نے
اپنی زندگی میں اتنا کم سن نہ قفصہ نہ غیر قفصہ کہیں بھی نہیں دیکھا تھا ۔
اس وقت میں اپنی زندگی کے سعید ترین ایام گزار رہاتھا ۔شہر کے شریف اور بڑے لوگ ہمارے گھرمبارک باد ی ،سلام ودعا کے لئے آئے تھے ۔ بہت سے خوش عقیدہ حضرات میرے والد کی موجودگی میں مجھ سے دعا کرنے اور فاتحہ پڑھنے کی خواہش بھی کر دیتے تھے جس سے کبھی تو مجھے شرمندگی ہوتی تھی اورکبھی میری ہمت بڑھتی تھی اور میری والدہ مرحومہ کا عالم یہ تھا کہ جب بھی زائر ین گھر سے جاتے تھے وہ فورا حاسدوں کے شر سے بچانے والے اور شیاطین کے کید کو دور کرنے والے تعویذات میرے گلے میں ڈالدیتی تھیں اور بخورات جلادیتی تھیں تاکہ میں ہر قسم کے شر سے محفوظ رہوں ۔اللہ رے ماں کی محبت ۔
اباجانی جنت مکانی مسلسل تین راتوں تک مرزارات تیجانیہ پر چڑھاوے چڑھاتے رہے اور روزانہ ایک دنبہ ذبح کرکے لوگوں کو کھلاتے تھے ۔اور لوگوں کا عالم یہ تھا کہ چھوٹی سی چھوٹی باتوں کے بارے میں بڑی دلچسپی سے سوال کرتے تھے اور میں زیادہ تر سعودیوں کی تعریف میں رطب اللسان رہتا تھا اور بتاتا تھا کہ ان لوگوں نے نشر اسلام اور مسلمانوں کی نصرت وحمایت کےلئے کیا کیا کارنامے انجام دیئے ہیں ۔
شہر والوں نے میرا لقب "الحاج" رکھ دیا دیا تھا ۔ جب بھی اس لفظ کا استعمال کیا جاتا تھا ۔فورا لوگوں کے ذہنوں میں میرا تصور بھرتا تھا ۔اس کے بعد تو میری شہرت دن دونی رات چوگنی بڑھتی گئی ۔مخصوصا دینی کمیٹوں وغیرہ میں جیسے اخوان المسلمین اور اسی قسم کی دیگر جماعتیں ہیں ۔
اور پھر میرایہ وطیرہ ہوگیا کہ کوچہ کوچہ گلیوں گلیوں خصوصا مسجدوں میں جاکر ضریح کا بوسہ دینے لکڑیوں کو چومنے سے لوگوں کو روکنے لگا ۔ اور اپنی ساری کوشش اس بات پر صرف کرتا تھا کہ لوگوں کو قانع کردوں کہ یہ باتیں شرک ہیں رفتہ رفتہ جب اس میں کامیابی ہونے لگی تو جمعہ کے دن امام کے خطبہ سے پہلے مسجدوں میں دینی دروس بھی کہنے لگا ۔ اور پھر میں "جامع ابی یعقوب "اور جامع کبیر" دونوں میں وقتا فوقتا جانے لگا ۔کیونکہ نمازجمعہ دونوں میں ہوتی تھی ۔ اوریکشنبہ کو جو دروس کہتا تھا اس
میں اس کالج کے لڑکے بھی بکثرت شریک ہوتے تھے جس میں ٹیکنا لوجی اور اقتصادیات کے درس کہا کرتا تھا چونکہ میں نے ان کے ذہنوں سے ان پر دوں کو ہٹادیا کرتا تھا جو ملحد قسم کے فلسفی اور مادی وکمیونسٹ اساتذہ ڈال دیا کرتے تھے اس لئے وہ متعجب ہونے کے ساتھ ساتھ میرے احترام کے قائل ہوگئے تھے اور مجھ سے محبت کرنے لگے تھے ۔ چنانچہ یہ طلاب بڑی بے چینی س ان دروس کا انتظار کرتے تھے اور کچھ تومیرے گھر پر بھی آتے تھے کیونکہ میں نے خود بھی بعض دینی کتابوں کو خرید کر باقاعدہ مطالعہ شروع کردیا تھا تاکہ مختلف پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات دے سکوں جس سال میں حج سے مشرف ہوا تھا نصف دین (شادی )تو حاصل ہی کرلیا تھا کیونکہ والد ہ مرحومہ کو اپنے مرنے سے پہلے میری شادی کردینے کی خواہش بہت زیادہ تھی ۔ میری والدہ ہی نے اپنے شوہر کی تمام اولاد کی تعلیم وتربیت کی تھی اور سب کی دھوم دھام سے شادی رچائی تھی اس لئے ان کی دلی آرزو میرے بھی دولھا بننے کی تھی ۔چنانچہ خداوند عالم نے انکی مراد پوری کردی کہ میں نے ان کے حکم کے مطابق ایسی الھڑ دوشیزہ سے شادی کی رضامندی دیدی جس کو پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا ۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ میرے دونوں بڑے بیٹوں کی ولادت بھی ان کی زندگی میں ہوگئی اور انھوں نے دنیا کو اس عالم میں چھوڑا ہے کہ مجھ سے راضی تھیں ۔ جیسا کہ دوسال قبل اباجانی بھی دا غ مفارقت دے چکے تھے ۔ لیکن للہ الحمد کہ مرنے سے دوسال قبل حج بیت اللہ سے بھی مشرف ہوچکے تھے ۔" اور توبہ نصوح "بھی کرچکے تھے ۔
اسرائیل سے شکست کھانے کے بعد جب مسلمانوں اور خصوصا عربوں کے حصہ میں جو ذلت ورسوائی آئی اور عرب پوری دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ گئے تھے کہ طوفان کی طرح ایک جوان قائد انقلاب بنکر اٹھا جو صرف اسلام کی بات کرتا تھا لوگوں کو مسجدوں میں نماز پڑھاتا تھا اور جس نے لیبیا کے گلے سے غلامی کی زنجروں کو کاٹ دینے کے بعد قدس کی آزادی کا نعرہ دیا تھا ۔ عربی اور اسلامی ممالک کے اکثر نواجوانوں کی طرح میرے دل میں بھی اس جوان سے ملاقات کا شدید جذبہ تھا ۔مزید اطلاع کی حرض نے ہم کو ایک ثقافتی دورہ پر مجبو کیا کہ لیبیا کو قریب سے
جاکر دیکھیں ۔چنانچہ ہم نے چالیس تعلیم یافتہ اور مثقف حضرات پر مشتمل ایک وفد انقلاب کے اوائل ہی میں منظم کر لیا اور لیبیا کی زیارت کے لئے روانہ ہوگئے ۔اورجب وہاں سے پلٹے ہیں تو سب ہی کے دلوں میں امت عربیہ اور مسلمہ کے تابناک مستقبل کے چراغ روشن تھے ۔ ان گزشتہ سالوں میں بعض دوستوں کے محبت بھرےخطوط آتے رہے جنھوں نے دوستوں کی ملاقات کے شوق کو تیز تر کردیا ۔اور پھر آخر کار چند دوستوں کے شدید اصرار پر جو اس سفر میں میرے ہمرکاب رہنا چاہتے تھے میں نے رخت سفر باندھ ہی لیا ۔اور ایک لمبے سفر کا پروگرام بنا ڈالا جو تین مہینوں کے شب وروز پر مشتمل تھا ۔اور طے ہوگیا کہ گرمیوں کی چھٹیاں بھی نذر سفر کردی جائیں اسی لئے تین ماہ کا سفر ہوگیا ۔ہمارا پروگرام یہ تھا کہ خشکی کے راستہ سے لیبیا پہونچا جائے وہاں سے مصر وہاں سے سمندری راستہ سے لبنان چلاجائے پھر سوریہ و اردن ہوتے ہوئے سعودیہ میں پڑاو ڈالا جائے سعودیہ کو پروگرام میں دومقصد کی وجہ سے شامل کیا تھا ایک تو عمرہ کرنا مقصود تھا اور دوسرے وہابیت کے نئے عہدوپیمان باندھنے تھے ۔ جس کی میں نے نوجوان طلباء اور مساجد میں آنے والے مسلمانوں اور "اخوان المسلمین " میں بھر پور ترویج کی تھی ۔
*
میرے شہر سے میری شہرت آس پاس کے دوسرے شہروں تک پہونچنے لگی کیونکہ جب کوئی مسافر نماز جمعہ میں شریک ہوتا تومیرے دروس میں بھی شرکت کرتا تھا ۔ اور واپس جا کر لوگوں کو بتاتا تھا ۔ ہوتے ہوتے یہ خبر "عاصمۃ الجرید" کے شہر توزر کے مشہور صوفی مسلک کے سربراہ شیخ اسماعیل ہادفی تک بھی پہونچ گئی ۔ یہ توزر کے مشہور شاعر ابو القاسم شابانی کا مولد بھی ہے ۔شیخ اسماعیل ہادفی کے مرید تمام ٹیونس کے شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔بلکہ ٹیونس کے باہر فرانس وجرمنی تک منتشر ہیں ۔الشیخ اسماعیل ہادفی کے وہ وکلاء جو شہر قفصہ میں رہتے تھے انھوں نے مجھے بڑے لمبے چوڑے خطوط لکھے جن مین میرے ان مساعی جمیلہ کاشکریہ ادا کیا گیا تھا جو میں نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمات کے لئے انجام دئیے تھے ۔اور مجھے یہ بھی بتا یا گیا تھا جو ان چیزوں سے ذرہ برابر تقرب
الہی حاصل نہیں ہوسکتا جب تک یہ امور کسی شیخ عارف کے تحت نظر نہ ہوں ۔نیز ان کے یہاں ایک مشہور حدیث ہے اس کی طرف مجھے متوجہ بھی کیا گیا تھا حدیث کا مفہوم یہ ہے "جس کا کوئی شیخ الطریقت نہ ہو اس کا شیخ شیطان ہوتا ہے"انھیں خطوط میں مجھے الشیخ اسماعیل ہادفی کی زیارت کی دعوت بھی دی گئی تھی اور یہ تاکید کی گئی تھی کہ تمہارے لئے ایک شیخ کا ہونا ضروری ہے ورنہ تمہارے پاس نصف علم ناقص ہے مجھے یہ بھی بشارت دی گئی تھی کہ صاحب الزمان (ان لوگوں کی مراد شیخ اسماعیل ہادفی ہے ) نے مجھے تمام لوگوں کے درمیان خاص الخاص قراردیا ہے ۔
اس خوشخبری سے میں جھوم اٹھا ۔خداوند عالم کی اس مخصوص عنایت پر میرا دل بھر آیا ،اور خوشی کے مارے میری آنکھوں نے ساون کا سماں پیش کردیا ۔اور میرے دامن نے ان موتیوں کو اپنے سینے میں چھپا لیا کیونکہ خداوند عالم مسلسل بلند سے بلند تر مقام تک مجھے پہونچا رہا تھا کیونکہ میں نے اپنے ماضی کو سیدی الھادی الحفیان کے نقش قدم کا پیرو بنا تھا اس لئے کہ وہ شیخ وصوفی تھے ۔ ان کی بہت سی کرامتیں اور خوارق عادات چیزیں زبان زد خاص وعام تھیں ۔ اسی لئے (یعنی ان کی پیروی کی وجہ سے ) میں ان کا عزیز ترین دوست تھا اسی طرح میں سیدی صالح سائح او رسیدی جیلانی وغیرہ کا پابند رہا جو معاصرین میں خود صاحب طریقت تھے ۔چنانچہ میں سیدی اسماعیل کی ملاقات کا بڑی بے چینی سے انتظار کرنے لگا (آخر خدا خدا کرکے میری قسمت کا ستارہ چمکا اور ملاقات کی گھڑی آپہونچی ) چنانچہ جب میں الشیخ کے گھر میں داخل ہوا تو بڑی حرص وحسرت سے لوگوں کے چہروں کو پہچاننے کی کوشش کرتارہا ۔ پوری مجلس مریدوں سے کھچا کھچ بھری تھی جس میں ایسے ایسے مشائخ بھی تھے جو بہت ہی سفید قسم کے لباس پہنے تھے ۔مراسم سلام وتحیت کے بعد شیخ اسماعیل نے قدوم میمنت لزوم فرمایا ان کے آتے ہوی پورا مجمع ادب واحترام سے کھڑا ہوگیا اور لوگ ان کے دست مبارک کو بوسہ دینے لگے وکیل نے مجھے ٹہوکا دیا وہ شیخ صاحب ہیں ۔ لیکن میں نے خاص اشتیاق کا اظہار نہیں کیا کیونکہ میں جو چیزیں دیکھیں تھیں میں ان کے علاوہ کا منتظر تھا ۔میں نے تو شیخ کے مریدوں اور وکلاء سے ان کے معجزات وکرامات سنکر ایک عجیب وغریب خیالی تصویر بنالی تھی اور شیخ صاحب کی یہ تصویر اس سے کہیں
مختلف تھی اسی لئے کسی اشتیاق کا اظہار نہ کرنا مطابق فطرت تھا ، میں نے ایک عادی قسم کے بوڑھے کودیکھا جس میں نہ وقار ہے ،نہ رعب ودبدبہ ،گفتگوکے دوران وکیل نے مجھے ان کے سامنے پیش کیا انھوں نے مرحبا کہہ کر داہنی طرف بٹھالیا پھر میرے لئے کھانا لایا گیا ۔ کھانے پینے کے بعد دوبارہ وکیل نے شیخ سے میرا تعارف کرایا تاکہ عہد وپیمان لیا جاسکے ۔اس کے بعد لوگ مجھ سے گلے مل کر مبارکباد دینے لگے اور ان کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ لوگ میرے بارے میں خاصی معلومات رکھتے ہیں اور اسی خوش فہمی نے مجھ میں یہ جراءت پیدا کردی کہ سوال کرنیوالوں کے جو جوابات شیخ دے رہے تھے ان جوابات پر اعتراض کروں اور اپنی رائے کو قران وسنت سے ثابت کروں ۔لیکن میرے اس دخل درمعقولات کو بعض حضرات نے شدت سے ناپسند کیا اور حضرت شیخ کی موجودگی میں اس کو بے ادبی سمجھا گیا ۔کیونکہ وہ لوگ اس بات کے عادی تھے کہ شیخ کی موجودگی میں کوئی بھی شیخ کی اجازت کے بغیر زبان نہیں کھول سکتا ۔شیخ نے حاضریں کی اس بدمزگی کو محسوس کر لیا لہذا بڑی ذہانت سے افسردگی کے بادل کو یہ اعلان کرکے دور کردیا کہ جس کی ابتدا محرقہ (جلانے والی )ہوگی اس کی انتہا مشرقہ (روشن وتابناک) ہوگی ۔ حاضرین نے سمجھا کہ یہ شیخ کی طرف سے لقب ہے ۔اور میرےمستقبل کے تابناک ہونے کی ضمانت ہے بس پھر کیا تھا سب ہی بطیب خاطر تبریک وتہنیت پیش کرنے لگے ۔مگر شیخ الطریقت بہت ہی ذہین وتجر بہ کار تھے ۔اس لئے بعض عرفاء کا قصہ سنانے لگے ۔ تاکہ میں پھر کہیں بیجا مداخلت نہ کربیٹھوں کہ ان بزرگوار کی مجلس میں بعض علماء بھی آکر بیٹھ گئے تو عارف نے کہا: پہلے جاکر غسل کرو چنانچہ وہ مولانا غسل کرکے آئے اور مجلس میں بیٹھنا ہی چاہتے تھے کہ کہ عارف نے کہا جاؤ پھر سے غسل کرکے آؤ ! وہ مولانا دوبارہ غسل کرنے گئے تو اپنے حساب سے بہت اچھا غسل کیا یہ سوچ کر کہ شاید پہلے میں کوئی کمی رہ گئی ہو اس کے بعد اگر مجلس میں بیٹھنے لگے تو شیخ عارف باللہ نے جھڑکا اور فرمایا پھر ے غسل کرکے آو ! وہ مولانا صاحب رونے لگے اورکہنے لگے : سیدی میں نے اپنے علم واپنے عمل کے مطابق غسل کیا اب اس سے آگے مجھے کچھ نہیں معلوم بجز اس کے کہ
خدا آپ کے ذریعہ کچھ کشف کردے اس وقت عارف نے کہا : اچھا اب بیٹھو !
میں سمجھ گیا کہ اس قصہ سے میں ہی مقصود ہوں اور میں ہی کیا حاضرین بھی سمجھ گئے چنانچہ جب شیخ استراحت فرمانے کے لئے چلے گئے تو ان لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور مجھے ملامت کرنے لگے جناب شیخ کی موجودگی میں ان کا احترام اور خاموشی ضروری ہے ورنہ تمہارے سارے اعمال اکارت ہوجائیں گے ۔ کیا تم نے قرآن کا یہ قول نہیں پڑھا :
"یاایها الذین آمنوا لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجهروا له بالقول کجهر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون "( پ 26 س 49 حجرات آیت 2)
اے ایمان والو! (بولنے میں )تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کیا کرو اور جس طرح تم آپس میں زور (زور ) سے بولا کرتے ہو ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو ) کہ تمہارا کیا کرایا سب اکارت ہوجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
میں نے اپنی حیثیت پہچان لی اور پھر تمام اوامر ونصائح کو پابندی سے بجا لانے لگا اور اس وجہ سے شیخ نے مجھے اپنے سے اور زیادہ قریب کرلیا ۔ میں ان کے پاس تین دن رہا اس دوران میں نے متعدد سوالات بھی کئے کچھ تو امتحانا اور کچھ استعلاما ۔ شیخ اس بات کو سمجھتے تھے اور کہہ دیتے تھے قرآن بھی کا ظاہر اور ہے باطن اور ! قرآن کے سات سات باطن ہیں ۔خدا نے اس کے خزانے میرے اوپر کھول دیئے ہیں اور مخصوص چیزوں پر مجھے مطلع کردیا ہے اور صالحین وعارفین کا سلسلہ سند ہے اور مجھ سے ابو الحسن شاذلی تک مفصل ہے ان سے چند اولیاء کے واسطہ سے یہ سلسلہ حضرت علی کرم اللہ وجہ تک پہنچتا ہے ۔
ایک بات بھول نہ جاوں جو حلقات ذکر قائم کئے جاتے ہیں وہ سب روحانی ہوتے تھے کیونکہ جلسہ کا آغاز شیخ تلاوت قرآن مجید سے تجوید کےساتھ کرتے تھے تلاوت کے بعد کسی قصیدہ کا مطلع پڑھ دیتے اور پھروہ مرید حضرات جن کو قصائد واذکار کا یاد ہوتے تھے شیخ کے بعد پڑھتے تھے
ان قصیدوں میں زیادہ تر دنیا کی مذمت اور آخرت کی طرف رغبت دلائی جاتی تھی ۔ اس میں زہد ،ورع کا تذکرہ ہوتا تھا ، اس کے بعد شیخ کی داہنی طرف جو مرید بیٹھا ہوتا تھا ،وہ قرآن کی تلاوت کا اعادہ کرتا تھا اورجب وہ"صدق الله العظیم" کہتا تھا تو شیخ کسی نئے قصیدہ کا مطلع شروع کردئیے تھے اور پھر سب مل کر اس کو پڑھتے تھے ۔ اسی طرح نوبت بہ نوبت تمام حاضرین پڑھتے تھے ، وہ ایک ہی آیت پڑھیں اورپھر سب کو حال آنے لگتا تھا اور جھومنے لگتے تھے ، ایک ایک شعر پر جھومتے تھے اور پھر شیخ کھڑے ہوجاتے تھے ان کے ساتھ ہی پورا مجمع کھڑا ہوجاتا تھا ۔
اور سب ایک دائرہ قطب میں ہوجاتے تھے ۔ اور اس دائرہ کا قطب شیخ ہوتے تھے ۔اور پھر صدر کے نام سے ابتداء کرکے آہ ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔آہ کہنا شروع کردیتے تھے اور شیخ بیج میں گھومتے رہتے تھے ۔
ہر مرتبہ ایک کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے اور ہوتے ہوتے جب محفل رنگ پرآجاتی تھی تو عاشقانہ اشعار ڈھول پیٹ پیٹ کر پڑھے جاتے تھے اوربعضوں کی وہ اچھل کود شروع ہوجاتی تھی جیسے یہ پاگل ہے اور ایک منظم نغمہ کےساتھ آوازیں بلند ہونے لگتی تھیں ۔ اورجب سب تھک جاتے تھے تو پھر پہلا جیسا سکوت وھدؤ طاری ہوجاتا تھا ۔لیکن یہ سکوت شیخ کے اختتامی قصیدہ پر ہوتا اور پھر تمام لوگ شیخ کے سر وکندھوں کو باری باری بوسہ دے کربیٹھ جاتے تھے ۔میں بعض حلقات میں شریک ہواہوں ان کی نقل تو میں نے کی لیکن میں اس پر مطمئن نہیں تھا کیونکہ یہ چیزمیرے اس عقیدہ کے خلاف تھی جو بچپن سے میرے ذہن میں راسخ تھا ۔ یعنی شرک "عدم شرک" اور عدم توسل" بغیراللہ ۔چنانچہ میں روتے روتے زمین پر گر پڑا ۔متحیر تھا اور ان دونوں متناقض عقیدوں میں میرا ذہن کام نہیں کررہا تھا (یعنی ) ایک طرف تو صوفیت کا بحر ذخار تھا جس کی پوری فضا روحانی تھی جس میں انسان کی گہرا ئیوں میں خوف ،زہد تقرب الی اللہ کا شعور پیدا ہوتا ہے البتہ یہ خدا کے صالح اور عارف بندوں کے وساطت سے ہوتا ہے ۔اور دوسری طرف وہابیت کا وہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جس کی پوری فضا میں ہر جگہ کفر ہی کفر ہے ۔
جس نے یہ بتایا ہے کہ یہ ساری چیزیں شرک ہیں اور خدا شرک کو کبھی نہیں معاف کرتا ۔اورجب محمد رسول اللہ کسی کو نفع نہیں پہونچا سکتے اور نہ بارگاہ ایزدی میں ان کو وسیلہ بنایا جاسکتا ہے ۔تو پھر ان اولیاء ،صالحین کی کیا قدر وقیمت ہے ؟
شیخ کی طرف سے جدید منصب پر فائز ہوجانے کے باوجود ۔۔۔۔کیونکہ شیخ نے مجھے قفصہ میں اپنا وکیل بنادیا تھا۔۔۔۔۔۔میں اندر ونی طور پر کلیہ مطمئن نہیں تھا اگر چہ یمن کبھی تو صوفیت کی طرف مائل ہوجاتا تھا اور ہمیشہ اس کا احساس رہتا تھا کہ میں صوفیت کا احترام کرتاہوں اولیاء اللہ اور صالحین کی ہیت میرے رگ وریشہ میں سمائی ہے لیکن پھر خود ہی تردید کردیتا تھا کہ خدا فرماتا ہے"ولا تدع مع الله الها آخر لا اله الّا هو " (1)
اور خدا کے سوا کسی اور معبود کی پرستش نہ کرنا ۔اس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں "
اور جب کوئی مجھ سے کہتا تھا خدا کا ارشاد ہے :
یا ایها الذین آمنوا اتقوالله وابتغوا الیه الوسیله (2)
اے ایماندارو ! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کے تقرب کے ذریعہ (وسیلہ ) کی جستجو میں رہو ۔ تو میں فورا رد کردیتا تھا کہ وسیلہ سے مراد عمل صالح ہے جیسا کہ سعودی علماء نے مجھے سکھایا تھا ۔ خلاصہ یہ کہ اس زمانہ میں مضطرب اورپریشان فکر رہتا تھا۔ کبھی کبھی میرے گھر بعض مرید حضرات آجاتے تھے تو ہم شب بیداری کرتے تھے اور عمارۃ قائم کرتے تھے ((یعنی ایسے حلقہ قائم کرتے تھے جس میں عاشقانہ اشعار کے ساتھ اسم الصدر کاذکر کیا جاتا تھا))
شب بیداریوں میں ہمارے حلقوم سے جو بے ہنگم آوازیں نکلتی تھیں ان سے ہمسایوں کو اذیت ہوتی مگروہ علی الاعلان ہم سے اس کا اظہار نہیں کرتے تھے البتہ ہماری بیوی سے اپنی عورتوں
--------------
(1):- پارہ نمبر20 سورہ28(قصقص)آیت 88
(2):- پارہ نمبر 6 سورہ 5 (مائدہ)آیت 35
کے ذریعے شکایت کرتے تھے ۔ جب مجھے ان حالات کا علم ہوا تو شریک ہونے والے لوگوں سے میں نے کہا یہ حلقات ذکر آپ میں سے کسی کے گھر ہوا کریں تو بہتر ہے کیونکہ میں تقریبا تین ماہ کے لئے ملک سے باہر جانے والا ہوں یہ کہہ کر میں نے مریدوں سے معذرت کرلی ۔۔۔۔اس کے بعد اہل وعیال ،اقارب رشتہ داروں کو خدا حافظ کہہ کر اپنے خدا پر بھروسہ کر کے نکل کھڑا ہوا ۔۔۔۔لا اشرک به شیئا
کامیاب سفر
لیبیا کے دار لسلطنت "طرابلس"میں صرف اتنی دیر قیام کیا کہ مصری سفارت خانہ جاکر کنانہ کے داخلہ کے لئے ویزا حاصل کرسکوں ۔اتفاق کی بات ہے وہاں پر کچھ دوستوں سے ملاقات ہوگئی جنھوں نے میرا کافی ہاتھ بٹایا خدا ان کا بھلا کرے ۔
قاہرہ کاراستہ کافی تھکادینے والا ہے ۔تین دن رات کا مسلسل سفرہے ۔ہم نے ایک ٹیکسی کرایہ پر لی جس میں ایک میں تھا اور چار مصری تھے ۔ جو لیبیا میں کام کرتے تھے ۔ لیکن اس وقت وہ لوگ اپنے وطن واپس جارہے تھے راستہ کاٹنے کے لئے میں نے ان لوگوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کردیا ۔اور کبھی کبھی تلاوت قرآن بھی کرتا تھا ۔اس لئے وہ چاروں مجھ سے کافی مانوس ہوگئے بلکہ صحیح لفظ یہ ہے کہ مجھ سے محبت کرنے لگے اور سب ہی نے مجھے اپنے یہاں اترنے کی دعوت دی لیکن میں نے ان میں سے احمد کو پسند کیا اور اس کی دعوت قبول کرلی کیونکہ ایک تو فطری طور سے میرا دل اسکی طرف مائل تھا ۔ دوسرے اس کے تقوی وپرہیز گاری سے بھی متاثر ہوگیا تھا ۔
چنانچہ احمد نے اپنی حسب حیثیت میر بڑی خاطر مدارات کی اور میزبانی کا حق ادا کیا خدا اس کو جزائے خیر دے ۔میں نے بیس 20 دن قاہرہ میں گزارے ۔اس دوران میں نے شہنشاہ موسیقی فریدا الاطرش سے ان کے اس گھر میں ملاقات کی جو نیل کے کنارے پر بنایا گیا تھا ۔ میں جب ٹیونس میں تھا تو مصری اخباروں میں "جو ہمارے یہاں باقاعدہ بکتے تھے " فریدالاطرش کے اخلاق وتواضع کےبارے میں کچھ پڑھ چکا تھا۔ اور اسی زمانہ میں اسکو
پسند کرتا تھا لہذا فطری بات ہے کہ قاہرہ پہنچ کر میں اس سے ضرور ملاقات کرتا ۔ لیکن یہ میری بد قسمتی تھی کہ صرف بیس منٹ کی ملاقات ہوسکی کیونکہ جب میں پہونچا تو وہ گھر سے ہوائی اڈہ کے لئے نکل رہے تھے ان کو لبنا ن جانا تھا ۔
دوسری عظیم شخصیت جس سے قاہر ہ کے دوران ملاقات کی وہ دنیا کے مشہور ترین قاری قرآن جناب شیخ عبدالباسط محمد عبدالصمد تھے ۔ان کو میں دل وجان سے پسندکرتا تھا ۔خوش قسمتی سے تین دن ان کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ۔ اور اس دوران ان کے رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی کافی ملاقاتیں رہیں ۔ اور متعہ وموضوعات زیر بحث آئے ان لوگوں کو میری جراءت وصراحت لہجہ اور کثرت اطلاع پر بہت تعجب تھا ۔ کیونکہ جب کبھی غنا کا موضوع چھڑگیا تو میں نے ان کو بتایا کہ میں طریقہ تیجانیہ اور مدنیہ دونوں سے متعلق ہوں ۔اور اگر انہوں نے اپنے کو ترقی پسند ثابت کرنے کے لئے "مغرب کا تذکرہ نکالا تومیں نے گرمیوں کی تعطیلات میں مغربی ممالک میں گزارے ہوئے دنوں کو دہرانا شروع کردیا اور پیرس ،لندن ، بلجیک ،ہالینڈ، اٹلی ، اسپین کے قصّے سنانے شروع کردئیے وار اگر کبھی حج کا ذکر نکل آیا تو میں نے بتا یا کہ میں بھی حج کرچکا ہوں ۔اور اس وقت عمرہ کے لئے جارہا ہوں اور اسی کے ساتھ ان کو ایسے ایسے مقامات بتائے مثلا ، غار حرا، غار ثور ع ،مذبح اسماعیل وغیرہ جس کو یہ لوگ تو کیاوہ لوگ بھی نہیں جانتے جو سات سات مرتبہ حج کرچکے ہیں اور اگر بھولے سے ان لوگوں نے علوم واکتشافات واختراعات کاذکر کردیا توپھر کیاتھا نئی نئی اصطلاحیں ،ارقام ،اعداد وشمار ان کو بتانا شروع کردیئے تو وہ مبہوت ہوکے رہ گئے ۔اور اگر سیاست کا موضوع زیر بحث آگیا تومیں نے اپنے نظریات پیش کرکے ان کو دم بخود بنادیا اور جب میں نے ان سے کہا :خدا ناصر پر ((جو اپنے دور کا صلاح الدین ایوبی تھا)) اپنی رحمت نازل کرے جس نے ہنسنا تو درکنار اپنے اوپر مسکرہٹ کو بھی حرام قراردے لیا تھا اورجب ان قریبی لوگوں نے ملامت کی کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ رسول اکرم (ص) کی
سیرت یہ رہی ہے کہ ہر ایک سے مسکرکر ملتے تھے ؟ توجواب دیا :تم لوگ مجھ سے مسکراہٹ کا مطالبہ کیوں کرتے ہو؟حالانکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مسجد الاقصی دشمنوں کے قبضہ میں ہے ۔نہیں نہیں خدا کی قسم میں اس وقت تک مسکراؤں گا بھی نہیں جب تک مسجد اقصی کو آزاد نہ کرالوں یا اس کے لئے جان نہ دیدوں ۔
قیام قاہرہ کے دوران جلسے بھی منعقد ہوتے تھے ۔ اور میں بھی تقریریں کرتا تھا ، میری تقریروں میں جامعہ ازہر کے شیوخ بھی شرکت کرتے تھے ۔ اور اپنی تقریروں میں میں آیات اور احادیث کی تلاوت کرتا تھا اور میرے پاس جو براہین قاطعہ اور دلائل ساطعہ تھے جب ان کو پیش کرتا تھا ۔تو عوام توخیر عوام ہوتے ہیں ازہر کے شیوخ بہت متاثر ہوتے تھے اور مجھ سے پوچھتے تھے آپ کس یونیورسٹی کے سند یافتہ ہیں؟ تو میں بہت فخر سے کہا کرتا تھا "جامعۃ الزیتونیۃ " کا فارغ تحصیل ہوں ۔ یہ جامعہ (یونیورسٹی ) ازھر یونیورسٹی سے پہلے کا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی اضافہ کردیتا تھا کہ جن فاطمیین نے جامعہ ازہر بنایا تھا وہ شہر مھدیہ سے ٹیونس چلے گئے تھے ۔
اس طرح جامعہ ازہر کے بہت سے علماء وافاضل سے میں متعارف ہوگیا اور ان حضرات نے بعض کتابیں بھی مجھے بطورتحفہ مرحمت فرمائی تھیں ۔ایک دن امور ازھر کے ذمہ داروں میں سے ایک ذمہ دار کے کتب خانہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حکومت مصر کے انقلابی کمیٹی کا ایک ممبر وہاں آیا اور اس نے کہا : (کتب خانہ کے مالک کو مخاطب کرتے ہوئے) قاہرہ کی ریلوے لائن کے سلسلے میں مصری کمپنیوں میں سے سب سے بڑی کمپنی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کا اجتماع ہورہا ہے اس میں آپ کی شرکت ضروری ہے ۔(درحقیقت جنگ حزیزاں (جون) کے موقع جو توڑ پھوڑ اور تخریبی کاروائی ہوئی تھی اس مسئلہ پر غور کرنے کے لئے یہ اجتماع تھا ) مالک کتب خانہ نے مجھ سے کہا : تمہارے بغیر میں ہرگز نہ جاؤں گا ۔ لہذا تم بھی میرے ساتھ چلو ۔چنانچہ میں بھی گیا اور وہاں ڈائس پر ازہری عالم اور الاب شنودہ کے درمیان مجھے بٹھایا گیا ۔ پھر مجھ سے خواہش کی گئی کہ میں بھی اس جلسہ میں ایک تقریر کروں ! چونکہ میں مسجدوں اور ثقافتی کمیٹیوں میں تقریر وں کا عادی تھا
اس لئے میرے لئے کوئی مشکل بات نہیں تھی میں نے لوگوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایک تقریر کی ۔
اس پوری فصل میں جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اس میں اہم ترین بات یہ ہے کہ مجھے احساس ہونے لگا تھا اور اس قسم کا غرور ہوگیا تھا اور مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میں بھی ایک بڑا عالم ہوں اور یہ احساس کیوں نہ ہوتا جب کہ ازہر شریف کے علماء نے اس کی گواہی بھی دی تھی اور بعض نے تویہاں تک کہہ دیا تھا :تمہاری اصلی جگہ ازہر ہے اور ان سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ حضرت رسول خدا (ص) نے مجھے اپنے تبرکات کے زیارت کی اجازت مرحمت فرمادی تھی ۔قصہ اس طرح ہے کہ قاہرہ میں حضرت سیدنا الحسین (ع) کی مسجد ہے اس کے مدیر نےمجھ سے کہا : رسول اللہ نے مجھے خواب میں بتایا ہے کہ تمام تبرکات کی تم زیارت کرادوں !چنانچہ وہ مجھے اکیلا لے کر گیا اور جس حجرہ کو اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں کھول سکتا تھا اس نے اس کو کھولا اور مجھے اندر داخل کرنے کے بعد پھر اندر سے دروازہ کو مقفل کردیا پھر تبرکات کا صندوق کھول کر رسول خدا (ص) کی قمیص دکھائی ۔ میں نے اس کو چوما اس کے بعد دیگر تبرکات دکھائے ۔میں وہاں سے آنحضرت کی عنایت کو سوچتا ہوا رو تا باہر آیا کہ حضور نے میری ذات پر کتنا کرم فرمایا ہے ۔ اور اس بات پر مجھے زیادہ تعجب تھا کہ اس مدیر نے نقدی صورت میں مجھ سے کوئی نذرانہ نہیں طلب کیا ۔بلکہ نہ لینے پر مصر رہا ۔ جب میں نے بہت کچھ اصرار کیا اور تضرع وزاری کی توبہت ہی معمولی سی رقم لی اور اس نے مجھےتہنیت پیش کی کہ تم حضرت رسول اکرم (ص) کے نزدیک مقبول لوگوں میں ہو ۔
اس واقعہ سے میں بہت زیادہ متاثر ہوگیا تھا اور کئی راتیں میں نےیہ سوچتے سوچتے آنکھوں میں کاٹ دیں کہ وہابیوں کا یہ عقیدہ :رسول خدا بھی دوسرے مردوں کی طرح مرگئے ! غلط معلوم ہونے لگا اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ عقیدہ محض بکواس ہے ۔جب خدا کی راہ میں قتل ہونے والا شہید زندہ ہے اور خدا اس کو رزق دیتا ہے تو جو سیدالاولین والآخرین ہو وہ کیسے زندہ نہ ہوگا ۔؟
میرے اس شعور و عقیدہ کو بچپنے کی تعلیم نے مزید تقویت پہونچائی مجھے زمانہ ماضی میں صوفیوں کی تعلیم جو دی گئی تھی اس میں بتایا گیا تھا کہ صوفیوں کے اولیاء وشیوخ کو خداوند نے یہ صلاحیت اس لئے دی ہے کہ انھوں نے خدا کی بے انتہا عبادت کی تھی ۔نیز کیا حدیث قدسی میں یہ نہیں ہے ؟" میرے بندے تو میری عبادت کر میں تجھے اپنا جیسا بنادوں گا کہ تو جو کہو گے وہ چیز فورا ہوجائے گی "۔
یہ میری اندرونی کشمکش مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔مختصر یہ کہ قیام قاہرہ کے آخری دنوں میں حقیر نے تمام مساجد کی زیارت کی اورسب میں نماز یں پڑھیں ۔امام مالک کی مسجد سے لیکر امام ابو حنیفہ کی مسجد تک امام شافعی مسجد سے لے کر احمد بن حنبل کی مسجد تک پھر سیدہ زینب (س) اور سیدنا حسین (ع) کی مسجدوں میں بھی نمازیں پڑھیں اور" زاویة التیجانیة" کی زیارت سے مشرف ہوا ۔ اس سلسلہ میں بھی بڑی لمبی چوڑی حکایتیں ہیں جن کا بیان کرنا سبب طول ہوگا ۔اور میں مختصر کا ارادہ کرچکا ہوں ۔
ایک مصری شپ (پانی کا جہاز) کے اندر جو بیروت جارہاتھا ۔اور جس میں پہلے ہی سے میں نے اپنی جگہ کا ریزرویشن کرالیا تھا ۔ اسی حساب سے اسی دن میں اسکندر یہ سے روانہ ہوگیا میں نے اپنے بستر پر لیٹے لیٹے محسوس کیا کہ جسمانی اور فکری دونوں اعتبار سے بہت ہی خستہ ہوں لہذا تھوڑی دیر سوگیا ۔کشتی کو سمندر میں چلتے ہوئے دو تین گھنٹے ہوئے تھے ۔سوتے میں اپنے بغل والے شخص کو کسی سے گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا : معلوم ہوتا ہے یہ بھائی صاحب بہت تھکے ہیں ! میں نے ذرا آنکھ کھول کر کہا :جی قاہرہ سے اسکندریہ تک کا سفر نے انچر پنچر ڈھیلے کردیئے ہیں ۔چونکہ مجھے حسب وعدہ بہت ہی سویرے پہونچنا تھا اس لئے رات کو سوبھی نہیں سکا ۔اس شخص کےلب ولہجہ سے میں انے اندازہ لگا لیا کہ یہ شخص مصری نہیں ہے۔ میری بکواس کرنے کی عادت نے مجھے اس بات پر آمادہ کردیا کہ اس کو اپنا تعارف کرادوں اور اس کے بارے میں بھی معلومات حاصل کروں اس نے بتایا کہ وہ عراقی ہے اس کا نام منعم ہے ۔ بغداد یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے ۔قاہرہ گیا تھا تکہ ۔پی ایچ ڈی کے تھیسس "جامعۃ ازہر میں پیش کرے ۔
پھر ہم میں گفتگو چھڑگئی ہم نے مصر کے بارے میں "عالم اسلام "کے موضوع پر "عالم عرب " کے سلسلے میں "عربوں کی شکست یہودیوں کی فتح کےبارے میں گفتگو کی اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ "بات میں بات نکلتی چلی آتی ہے" میں انے اپنی گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ شکست کا اصلی سبب مسلمانوں اور عربوں کا چھوٹی چھوٹی حکومتوں اور مختلف مذہبوں میں بٹ جانا ہے
مسلمانوں کی دنیا میں اتنی بڑی اکثریت ہونے کےباوجود ان کے دشمنوں کی نظریں میں ان کی کوئی قدر قمیت نہیں ہے ۔
زیادہ تر گفتگو مصر اور اہل مصر کے بارے میں ہوئی ۔شکست کے اسباب پرہم دونوں متفق تھے ۔میں نے اتنی بات کا اور اضافہ کیا کہ استعمار نے ہم کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہےتاکہ ہم پر حکومت کرسکے ۔اور ہماری نکیل اس کے ہاتھ میں رہے ۔ میں اس کا بہت شدید مخالف ہوں ۔ ہم آج بھی مالکی اور حنفی میں بٹے ہوۓ ہیں ۔ چنانچہ میں نے اس کو اپنا ایک واقعہ بتایا کہ قیام قاہرہ کے دوران میں نے ایک مرتبہ مسجد ابی حنیفہ میں جاکر عصر کی نماز جماعت سے ادا کی لیکن نماز ختم ہوتے ہی جو شخص میرے پہلو میں کھڑا تھا مجھ پر برس پڑا ۔ اور تہدید آمیز لہجہ میں کہنے لگا" تم نے نماز میں ہاتھ کیوں نہیں باندھے ؟ میں نے بہت ادب واحترام سے عرض کیا " مالکی حضرات ہاتھ کھول کر نماز پڑھتے ہیں اور میں مالکی ہوں ۔اس نے اسی غصہ کی حالت میں کہا تو مالک کی مسجد میں جاؤ اور وہاں نماز پڑھو ۔چنانچہ میں وہاں سے بہت رنجیدہ وارغصہ میں چلا آیا او رمجھے شدید حیرت ہوئی ۔
اتنے میں عراقی استاد زیرلب مسکراتے ہوئے بولے : (دوسری مثال میری ہے کہ )میں شیعہ ہوں ۔ اتنا سنتے ہی میں آگ بگولا ہوگیا ۔اور بغیر کسی پاس ولحاظ کے میں نے کہا " اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ شیعہ ہیں تو آپ سے میں بات ہی نہ کرتا ۔انھوں نے کہا آخر کیوں ؟ میں نے کہا آپ لوگ مسلمان نہیں ہیں ۔آپ لوگ علی ابن ابی طالب کی عبادت کرتےہیں ۔البتہ جو اعتدال پسند ہیں وہ عبادت تو خدا کی کرتے ہیں مگر محمد مصطفی کی رسالت پر ایمان نہیں رکھتے اور جبریئل کوسب وشتم کرتے ہیں رسالت علی کے حوالہ کرنے کے بجائے محمد کے حوالہ کردیا ۔اور اسی قسم کی بہت سی باتیں میں نے ذکر کیں ۔ اور اس پوری گفتگو کے دوران میرا ہمسفر تو تبسم زیر لب کرتا تھا اور کبھی"لاحول ولا قوة الا بالله " کہتا تھا اور جب میں انے اپنی گفتگو ختم کرلی ۔ تو اس نے مجھ سے کہا: کیا تم مدرس ہو؟ تم بچوں کو پڑھاتے
ہو؟ میں نے کہا ہاں ! اس نے کہا "جب استادوں کا یہ حال ہے تو عوام کو ملامت کرنا فضول ہے ۔
کیونکہ عوام تو کالانعام ہوتے ہیں ان کو کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا!
میں نے کہا " آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ کیا مقصد ہے آپ کا؟
انھوں نے فورا کہا" معاف کیجئے گا ذرایہ تو بتائیے یہ جھوٹے ادعات آپ کہاں سے حاصل کئے ؟
میں نے کہا" تاریخ سے اور جو تمام لوگوں کے نزدیک مشہور ہے ان باتوں سے !
انھوں نے کہا" لوگوں کو خیر جانے دیجئے جناب عالی نے تاریخ کی کون سی کتاب پڑھی ہے ؟
میں نے کہا" میں نے بعض کتابوں کے نام گنوانے شروع کردیئے مثلا"فجر الاسلام""ضحی الاسلام" ظهر الاسلام" احد امین وغیرہ کی کتابون کے نام لئے ۔
وہ " بھلا احمد امین کی باتین شیعوں پر کیسے حجت ہوجائیں گی ؟ یہ کہہ کر انھوں نے اضافہ کیا دیکھئے عد ل وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ شیعوں کے اصلی مشہور مصادر سے اثبات کیجئیے !
میں" جو بات خاص وعام ہی کے نزدیک مشہور ومعروف ہو اس کی تحقیق کی کیا ضرورت ہے؟
وہ " سنئے جب احمد امین نے پہلی مرتبہ عراق کی زیارت کی تھی تو نجف اشرف میں جن اساتذہ نے ان سے ملاقات کی تھی ان میں ایک میں بھی تھا اور جب ہم لوگوں نے ان کو سرزنش کی کہ آپ نے شیعوں کے بارے میں کیسے کیسے خرافات تحریر کردیئے ہیں؟ تو انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کیل کہ : میں آپ حضرات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا اور اس سے پہلے کبھی کسی شیعہ سے ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی اس لئے معذرت چاہتا ہوں
اس پر ہم لوگوں نے کہا " عذرگناہ بدترازگناہ والی مثال آپ پر صادق آتی ہے ۔جب آپ کو ہمارے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا تو ایسی باتیں آپ نے کیوں تحریر کیں ؟ اس کے بعد ہمارے ہم سفر نے مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا" برادر ! جب ہم قرآن کریم سے یہود ونصاری کی غلطی ثابت کرتے ہیں تو قرآن اگر چہ ہمارے لئے حجت بالغہ ہے لیکن جب وہ لوگ اس کو نہیں مانتے تو اس سے ان کے خلاف دلیل نہیں لائی جاسکتی ۔لیکن اگر ان کی کتابوں جس پر وہ عقیدہ رکھتے ہیں ان کے مذہب کا بطلان کیا جائے تو یہ دلیل محکم ومضبوط ہوگی ۔ اور قرآن نے یہی کیاہے اسی لئے قرآن سے استدلال کرتےہیں ۔یعنی انھیں کتابوں سے ان کی غلطی ثابت کرو "بقول شخصی میاں کی جوتی میاں کا سرتب توبات صحیح ہے ورنہ نہیں !
ایک پیاسے کو شیریں پانی پی کر جیسے سکون ملتا ہے اسی طرح اپنے ہم سفر کی تقریر کا اثر میرے اوپر ہوا اور اب میں نے اپنے اندر یہ محسوس کیا کہ میں"ناقد حاقد"( کینہ پرور نقاد )نہیں رہا بلکہ"باحث فاقد" (گمشدہ شی کا متلاشی) کی حیثیت اختیار کرلی ہے ۔کیونکہ اس شخص کی منطق سلیم اور حجت قوی کو میری عقل نے تسلیم کرلیا تھا ۔اور اگر میں تھوڑی انکساری برتوں اورکان دھر کے اس کی بات سنوں تویہ کوئی بری بات نہیں ہے ۔
چنانچہ میں نے رفیق سفر سے کہا " اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ محمد (ص) کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں "! اس نے کہا " نہ صرف میں بلکہ پوری دنیائے شیعیت کا یہی عقیدہے ، میرے بھائی ! شیعہ بھائیوں کےبارے میں ایسی بدگمانی نہ کرو"ان بعض الظن اثم " بعض بدگمانی گناہوتی ہے "اتنا کہہ کر مزید یہ بھی کہا " اگر آپ سردست حقیقت کے متلاشی اور حق کے جویاں ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر دل سے یقین کرناچاہتے ہیں تو میں آپ کو عراق کی زیارت اور وہاں کے علمائے شیعہ اور عوام سے ملاقات کی دعوت دیتا ہوں ۔ اس کے بعد مخالفین اور مطلب پرستوں کے جھوٹ کا پلندہ
کھل جائے گا ۔"
میں نے کہا" میری تویہ دلی تمنا تھی کہ کبھی عراق کی زیارت کروں اور وہاں کے مشہور آثار قدیمہ کو دیکھوں جن کو عباسی خلفاء چھوڑگئے ہیں مخصوصا ہارون رشید کے اسلامی آثار ۔۔۔لیکن اس سلسلے میں چند مجبوریاں میرے پیروں کی بیڑیاں بنی ہین پہلی بات تویہ ہے کہ میرے اقتصادی حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔بڑی زحمتوں سے میں نے جوڑ جمع کرے اپنے عمرہ کا انتظام کیا ہے ۔دوسری مجبوری یہ ہ کہ میرا پاسپورٹ اس قسم کا ہے جس پر عراق کی حکومت ویزا نہیں دے گی ۔ورنہ ضرور آتا ۔"
رفیق سفر" جب میں نے آپ کو عراق کی دعوت دی ہے تو بیروت سے بغداد آنے جانے کا پورا خرچہ میں برداشت کروں گا ۔ اور بغداد میں آپ ہمارے مہمان ہونگے ۔اب رہا پاسپورٹ والا مسئلہ تو اس کو خدا پر چھوڑتے ہیں جب خدا چاہے گا تو آپ بغیر پاسپورٹ کے بھی عراق کی زیارت کرسکتے ہیں ۔ویسے ہم بیروت پہونچتے ہی عرق کے ویزا کی کوشش کریں گے ۔"
میں " اپنے رفیق سفر کی اس پیش کش کو سن کر بہت خوش ہوگیا اور اس سے وعدہ کرلیا کہ انشااللہ کل میں آپ کو اس کا جواب دوں گا ۔۔۔۔۔۔
سونے کے کمرے سے نکل کر جہاز کے عرشہ پر جاکر میں تازہ ہوا کھانے لگا اور اس وقت تک میں ایک نئی فکر سے دوچار ہوچکا تھا ۔سمندر میں جہاں حد نظر تک پانی ہی پانی دکھائی دے رہا تھا ۔ میری عقل چکر لگارہی تھی ۔ میں اپنے اس خدا کی حمد وتسبیح میں مشغول تھا جس نے اس وسیع کائنات کو خلق فرمایا ہے اور اس جگہ تک پہنچنے پر اس کا شکر کررہا تھا اوریہ دعا بھی کررہا تھا ! خدایا ! مجھے شر اور اہل شر سے محفوظ رکھ ۔ خطا ولغزش سے میری حفاظت فرما۔ میری قوت فکر کے سامنے جیسے فلم دکھائی جارہی ہو اور ایک ایک کرکے تمام واقعات پردہ فلم کی طرح میرے حافظہ کے پردہ فلم پر آنے لگے ۔بچپنے میں جس نازونعم س پلا تھا ،زندگی میں جو واقعات پیش آئے تھے سب ایک ایک کرکے گزرنےلگے اور میں ایک شاندار مستقبل کاخواب دیکھنے لگا ۔اور مجھے یہ احساس ہونے لگا جیسے خدا اور رسول (ص) کی مخصوص عنایتیں مجھے اپنے گھیرے میں لئے ہیں پھر میں
مصر کی طرف متوجہ ہو ا جس کے ساحل کا کبھی کبھی کوئی حصہ یہاں سے نظرآجاتا تھا اور دل ہی دل مین مصر کو وداع کہنے لگا ۔اس مصر کو جس کی یادوں میں سے ابھی تک عزیزترین یاد " رسول کی قمیص تھی جس کا بوسہ لیا تھا " مجھے اب بھی ستارہی ہے ۔ اس کے بعد میرے ذہن میں اس نئے شیعہ دوست کا کلام آنے لگا ۔جس نے میرے بچپنے کے خواب کی تعبیر کو پورا کرنے کا وعدہ کرکے میرے دامن کو خوشیوں سے بھر دیا تھا ۔۔۔عراق کی زیارت ۔۔اور ان شہروں کی زیارت کرنا چاہتا تھا ۔جن کو میرے ذہن نے تخلیق کیا تھا ۔کہ ہارون کی حکومت نے اس طرح بنایا ہوگا ۔ اور مامون کی حکومت نے اس طرح بنایا ہوگا وہی مامون جو "دارالحکمۃ " کا موسس تھا جس میں مغرب سے مختلف علوم حاصل کرنے والے طلاب آیا کرتے تھے اور اس وقت اسلامی تہذیب اپنے پورے شباب پر تھی ۔اس کے ساتھ عراق ،قطب ربانی شیخ صمدانی سیدی عبدالقادر جیلانی " کا شہر ہے جن کا شہرہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں ہے ۔ ان جن کا طریقہ گاؤں گاؤں میں پہونچا ہواہے جس کی ہمت تمام ہمتوں سے بلند وبرتر ہے ۔میرے خواب کی تعبیر کے لئے یہ پروردگار کی طرف سے جدید عنایت تھی میں ابھی ابھی خیالات میں ڈوباہوا تھا اور امیدوں وتصورات کے سمندر میں پیر رہا تھا کہ کھانے کی گھنٹی نے مجھے ہوشیار کردیا ۔اور میں بھی ہوٹل کی طرف روانہ ہوگیا ۔ اور جیسا کہ ہر مجمع ہویں ہوتا ہے لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑ رہے تھے ۔اور ہر شخص دوسرے پر پہلے داخل ہوناچاہتاتھا ۔شوروغل کا یہ عالم تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اتنے میں میں نے دیکھا کہ میرا شیعہ رفیق سفر میرے کپڑے پکڑ کر اپنی طرف نرمی کے ساتھ پیچھے کی طرف کھینچ رہاتھا ۔ اور کہہ رہا ہے : برادر !بلاوجہ اپنے کو مت تھکاؤ ۔ہم لوگ بعد میں بڑے آرام سے کھالیں گے ۔یہ شور شرابہ بھی ختم ہوچکا ہوگا ۔میں تو ہر جگہ تم کو تلاش کرتا پھرا اچھا یہ بتاؤ تم نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے کہا نہیں ! اس نے کہا" تو آؤ پہلے نماز پڑھ لیں پھر آکر کھانا کھائیں گے ۔ اس وقت تک یہ بھیڑ اور شورغل سب ہی ختم ہوچکا ہوگا ۔ہو لوگ آرام سے کھاسکیں گے !
میں سے اس کی رائے پسند کی اور ہم دونوں ایک خالی جگہ پہونچے وضو کے بعد میں نے اسی
کو آگے بڑھا دیا کہ یہی امامت جماعت کرے اور میں دیکھتا ہوں کیسی نماز پڑھتا ہے ۔اپنی نماز میں دوبارہ پڑھ لوں گا اور جوں ہی اس نے اقامت کے بعد قراءت ودعا پڑھی مجھے اپنی رائے بدلنی پڑی ۔کیونکہ کہ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھاجیسے میں صحابہ کرام میں سے کسی کے پیچھے پڑھ رہاہوں جن کے بارے میں کتابوں میں پڑھتا رہا ہوں اور ان کے ورع ،تقوی کےف بارے میں پڑھتا رہا ہوں نماز ختم کرکے اس نے ایسی ایسی لمبی دعائیں پڑھیں جن کو اس سے پہلے نہ میں نے اپنے ملک میں سناتھا اور نہ دیگران ممالک میں جہاں کا میں سفر کرچکا تھا ۔ اور جب میں سنتا تھا کہ یہ شخص محمد وآل محمد پر درود پڑھ رہا ہے اور جس کے وہ حضرات اہل ہیں اس سے ثنا کررہا ہے تومیرے دل کو بڑا سکون ملتا تھا اور مطمئن ہوجاتا تھا ۔
نماز کے بعد میں نے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے اور یہ دعا کرتے سنا کہ خدا میری بصیرت کھول دے اور مجھے عطا کرے ۔
نماز کے بعد جب ہم ہوٹل پہونچے تو وہ خالی ہوچکا تھا جب تک میں نہیں بیٹھ گیا میرا رفیق نہیں بیٹھا ۔ہمارے لئے کھانے کی دو پلیٹیں لائی گئیں ۔ہم نے دیکھا کہ اس نے اپنی پلیٹ میرے سامنے رکھدی اور میری اٹھا کر اپنے سامنے رکھ لی کیونکہ میری پلیٹ میں گوشت کم تھا ۔ اور مجھ سے اس طرح کھانے کے لئے اصرار کرنے لگا جیسے میں اس کا مہمان ہوں اور کھانے پینے دستر خوان کے ایسے ایسے لطیف قصے سنائے کہ جن کو میرے کانوں نے کبھی سناہی نہیں تھا ۔
مجھے اس کا اخلاق بہت پسند آیا ۔پھر ہم نے نماز عشا پڑھی اور اس نے ایسی دعائیں پڑھیں کہ میں اپنے گریہ کو ضبط نہ کرسکا ۔میں نے خدا سے دعا کی کہ میرا گمان اس کے بارے میں بدل جائے کیونکہ بعض ظنون گناہ ہیں لیکن کون جانتا ہے ؟
اس کے بعد میں سوگیا لیکن خواب میں بھی عراق اور الف لیلۃ کو دیکھتا رہا صبح میری آنکھ اس وقت کھلی جب وہ مجھے صبح کے لئے اٹھا رہا تھا ۔ نماز صبح پڑھ کر ہم دونوں خدا کی ان رحمتوں کا ذکر کرنے لگے جو اس نے مسلمانوں کو دی ہیں ۔۔۔۔دوبارہ میں پھر سوگیا اور جب میری آنکھ کھلی تو
میں نے دیکھا وہ اپنے بستر پر بیٹھا ہوا تسبیح پڑھ رہا ہے ۔یہ دیکھ کر میرا نفس بہت مرتاح ہوا میرا دل مطمئن ہوگیا اورم یں نے خدا کی بارگاہ میں استغفار کیا ۔
ہم ہوٹل میں کھانا کھاہی رہے تھے کہ سائرن کی آواز کے بعد یہ اطلاع دی گئی کہ لبنانی ساحل کے قریب ہمار ا شپ ( پانی کا جہاز) پہنچ چکا ہے ۔ اور کچھ دیر کے بعد ہم بیروت کی بندرگاہ پر ہونگے دوگھنٹہ کے بعد اس نے مجھ سے سوال کیا ۔کیا تم نے غور کرلیا اور کسی فیصلہ پر پہونچے ؟ میں نے کہا" اگر ویزا مل جائے تو پھرکوئی مانع نہیں ہے "۔ اور میں نے اسکی دعوت کا شکریہ ادا کیا ۔
بیروت اتر کر ہم نے وہ رات وہیں گزاردی ۔اس کے بعد بیروت سے دمشق کے لئے روانہ ہوگئے ۔وہاں پہونچتے ہی ہم نے سفارت خانہ عراق کارخ کیا اور ناقابل تصور حد تک جلدی میں مجھے ویزا مل گیا ۔جب ہم وہاں سے نکلے تو وہ ہم کو مبارک باد دے رہا تھا اور خدا کی اس اعانت پر اس کی حمد کررہا تھا ۔
پھر ہم دمشق سے بغداد کے لئے نجف (اشرف ) کے بسوں کی ایک عالمی کمپنی کیایرکنڈیشن لمبی بس میں سوار ہو کر روانہ ہوئے ۔جب بغداد پہونچے ہیں تو درجہ حرارت 40ڈگری تھا ۔بس سے اتر تے ہی فورا ہم منطقہ "جمال: کے ایک خوبصورت محلہ میں واقع اپنے دوست کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے پورا مکان ہی ایرکنڈیشن تھا اسی لئے وہاں پہونچتے ہی سکون کا احساس ہوا ۔ میرا دوست ایک جھا بڑجھلا قسم کی وسیع قمیص لے کر میرے پاس آیا ۔جس کو وہاں کی زبان میں (دشداشہ) کہتے ہیں ۔
پھر دستر خوان پر قسم قسم کے میوہ جات اورکھانے لگادئیے گئے ۔میرے دوست کے گھر والے مجھے آکر بڑے ادب واحترام سے سلام کرنے لگے ۔ان کے والد کا یہ عالم تھا کہ مجھ سے اس طرح معانقہ کررہے تھے جیسے مجھے پہلے سے جانتے ہوں ۔ البتہ ان کی والدہ سیاہ عبا اوڑھے دروازے پر آکر کھڑی ہوگئیں اور سلام کیا ۔مرحبا کہا میرے دوست نے اپنی والدہ کی طرف سے معذرت کرلی چونکہ ہمارے یہاں مردوں سے مصافحہ ہے اس لئے میری والدہ ہاتھ نہیں ملاسکتیں مجھے اس پر بہت تعجب ہوا اور میں نے اپنے دل میں کہا جن لوگوں کو ہم متہم کرتے ہیں کہ یہ دین سے خارج ہیں ۔یہ لوگ ہم سے زیادہ دین کے پابند ہیں ۔اور پہلے بھی سفر میں جو دن اپنے دوست کے ساتھ گزارے تھے میں نے بلندی اخلاق ،عزت نفس ، کرامت ،شہامت کو محسوس کرلیا تھا ایسی تواضع وپرہیز گاری جس کا میں نے کبھی مشاہدہ ہی نہیں کیا تھا اور مجھے یہ احساس ہوگیا کہ ان لوگوں میں میری حیثیت مہمان کی نہیں بلکہ گھر کے ایک فرد جیسی ہے اور گویا اپنے ہی گھر میں ہوں
رات کو ہم سب چھت پرسونے کے لئے گئے جہاں سب کے سونے کے بستر الگ الگ بچھائے تھے ۔میں کافی دیر تک جاگتا رہا اور ہیجانی عالم میں یہ جملے ادا کررہا تھا : میں جاگ رہا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں ؟ کیا واقعی میں بغداد میں سیدی عبدالقادر جیلانی کے پڑوس میں ہوں ؟
میری بڑابڑاہٹ کو سنکر میرے دوست نے ہنستے ہوئے مجھ سے پوچھا ٹیونس والے عبدالقادر جیلانی کےبارے میں کیا کہتے ہیں ؟ پس پھر کیا تھا میں نے تمام وہ کرامات جوہمارے یہاں مشہور ہیں ایک ایک کرکے بیان کرنا شروع کردیا ۔ اور بتایا کہ قطب الدائرۃ ہیں جس طرح محمد مصطفی سیدالانبیاء ہیں اسی طرح وہ سید الاولیاء ہیں جنکے قدم تمام اولیاء کی گردنوں پر ہیں ۔آپ فرمایا کرتے تھے ۔ لوگ خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرتے ہیں اور خانہ کعبہ میرے خیمہ کا طواف کرتا ہے ۔
میں نے اپنے دوست کو یہ کہہ کر قانع کرناچا ہا کہ شیخ عبدالقادر اپنے بعض مریدوں اور چاہنے والوں کے پاس جسم ظاہری میں آتے ہیں ان کی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں ۔ ان کی مصیبتوں اور پریشانیوں کو دور کرتے ہیں ۔ اور اس وقت میں "وہابی عقیدہ (جس سے بہت متاثر تھا)کو بھول گیا تھا یا بھلا دیا تھا کہ یہ ساری باتیں شرک باللہ ہیں اورجب میں نے محسوس کیا کہ میرے دوست کو ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے تو میں نے اپنے نفس کو مطمئن کرنے کے لئے اس سے پو چھا "آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ باتیں صحیح نہیں ہیں ؟
میرے دوست نے ہنستے ہوئے کہا " سفر کرکے تھک گئے ہو سوجاؤ ذرا آرام کرلو! کل انشا اللہ شیخ عبدالقادر کی زیارت کو چلیں گے ۔۔۔اس خبر کو سن کر میرا دل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگا ۔ اور میرا دل چاہ رہا تھا کاش اسی وقت صبح ہوجائے ۔ لیکن نیند کاغلبہ ہوچکا تھا اور پھر میں سویا تو سورج نکلنے کے بعد ہی اٹھا ۔میری نماز صبح بھی قضا ہوگئی تھی ۔ میرے دوست نے بتایا کہ اس نے کئی بار مجھے بیدار کرنے کی کوشش کی مگر بیکار۔ اس لئے اس نے چھوڑ دیا تاکہ میں آرام کرلوں
ناشتہ کے بعد ہی ہم لوگ :باب الشیخ" کے لئے روانہ ہوگئے ۔ اور میری آنکھوں نے اس متبرک مقام کی زیارات کی جس کی تمنا نہ جانے کب سے میرے دل میں کروٹیں لے رہی تھی ۔میں دوڑ نے لگا ۔جیسے کسی کے دید کا مشتاق ہو اور اس بیتابی سے داخل ہوا ۔ جیسے کسی کی گود میں اپنے کو گرادوں گا ۔ جدھر میں جاتا تھا میرا دوست سایہ کی طرح ساتھ ساتھ رہتا تھا ۔ آخر زائرین کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں کود پڑا ۔جو قبر شیخ کی زیارت کے لئے اس طرح ٹوٹے پڑرہے تھے جیسے حاجی لوگ بیت اللہ الحرام پر گرتے ہیں ،کچھ لوگ ہاتھوں میں حلوا لے کر پھینک رہے تھے اور زائرین اس کو اٹھانے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرتے تھے میں بھی دوڑکر دوٹکڑے اٹھالئے ۔ایک تو برکت کے لئے وہیں فورا کھا گیا ۔اور دوسرا یادگار کے عنوان پر اپنی جیب میں محفوظ کرلیا ۔ وہاں نماز پڑھی جسب مقدور دعاپڑھی ،پانی اسطرح پیا جیسے آب زم زم پی رہا ہوں ۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ آپ اتنی دیر میرا انتظار کیجئے کہ میں اپنے ٹیونی دوستوں کو اسی جگہ سے خرید ے ہوئے ان لفالفوں پر خط لکھ دوں جن پر مقام شیخ عبدالقادر کے سبز گنبد کی تصویر ہے تاکہ اپنے دوستوں پر یہ بات ثابت کرسکوں اور رشتہ داروں پر بھی کہ میری بلند ہمتی دیکھئے جس نے مجھے وہاں پہونچا دیا ۔جہاں یہ لوگ نہیں پہونچ پائے ۔
یہاں فرصت پاکر ہم لوگوں نے ایک قومی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھایا ۔یہ ہوٹل بغداد کے عین وسط میں واقع تھا ۔اس کے بعد میرے دوست نے کرایہ کی ٹیکسی لی اور ہم لوگ کاظمین پہونچے اس لفظ کی معرفت اسی وقت ہوگئی تھی جب میرا دوست ٹیکسی ڈرائیور سے گفتگو کرتے ہوئے اس لفظ کو تکرار کرتاتھا ۔ابھی ہم ٹیکسی سے اتر کر تھوڑی دور چلے ہونگے کہ لوگوں کی بہت بڑی جمعیت جس میں مرد عورتیں بچے سب شامل تھے اسی طرف جارہے تھے جدھر ہم لوگ رواں دواں تھے یہ لوگ کچھ
سامان بھی اٹھا ئے ہوئے تھے اس منظر کو دیکھتے ہی مجھے حج کا منظر یاد آگیا ۔ ابھی تک مجھے منزل مقصود کا پتہ نہیں تھا ۔ اتنے میں کچھ سونے کے قبے اور منارے دکھائی دیئے جو آنکھوں کو چکا چوند کررہے تھے ۔مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ شیعوں کی مسجد ہے کیونکہ میں پہلے سے جانتا تھا ۔کہ یہ لوگ اپنی مسجدوں کو سونے چاندی س ملمع کرتے ہیں جو اسلام میں حرام ہے اس خیال کر آتے ہی میرا جی چاہا کہ میں جانے سے انکار کردوں ۔لیکن اپنے دوست کی دل شکنی کا خیال کرتے ہوئے غیر اختیار ی طور پر ساتھ ساتھ چلاہی گیا ۔
پہلے دروازے سے داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا بوڑھے بوڑھے سن سفید ڈاڑھی والے دروازوں کو مس کررہے ہیں اور بوسہ دے رہے ہیں لیکن ایک کافی بڑے سائن بورڈ کو دیکھ کر مجھے ذرا تسلی ہوئی جس پر لکھا تھا( بے حجاب عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے ) ار اسی کےساتھ امام علی کی ایک حدیث بھی لکھی تھی ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب عورتیں نیم عریاں لباس پہنیں گی ۔۔۔۔۔ ہم ایک جگہ پہونچے میرا دوست تو اذن دخول پڑھنے لگا اور میں دروازے کو دیکھ دیکھ کر متعجب ہوتا رہا جس پر سونے کے بہترین نقوش تھے اور پورے دروازے پر قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ اذن دخول پڑھ کر جب میرا دوست اندر داخل ہونے لگا تومیں اس کے پیچھے لگ لیا اور میرے ذہن میں بار بار بعض کتابوں کی چند سطریں آرہی تھیں جن میں شیعوں کے کفر کا فتوی دیا گیا ہے ۔میں نے داخل مقام میں ایسے نقش ونگار دیکھے جن کا کبھی تصور بھی نہیں کرسکا تھا اور جب میں نے اپنے کو ایک غیرمانوس وغیر معروف ماحول میں پایا تو دہشت زدہ رہ گیا ۔ اور وقتا فوقتا میں بڑی نفرت سے ان لوگوں کو دیکھ لیتا تھا جو ضریح کا طواف کررہے ہیں ۔ رودھو رہے ہیں ضریح کو چوم رہے ہیں اس کی لکڑیوں کو بوسے دے رہے ہیں ۔ اور بعض تو ضریح کے پاس نماز پڑھ رہے ہیں ۔ فورا ہی میرے ذہن میں رسولخدا کی حدیث آگئی ۔خدا یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے انھوں نے اولیاء خدا کی فبروں کو مسجد بنا لیا ۔اور میں اپنے اس دوست سے بھی دور ہوگیا جو داخل ہوتے ہی بے تحاشا رونے لگا ۔ پھر میں اس کو نماز پرھتا چھوڑ کر اس لکھے ہوئے زیارت نامہ کے قریب پہونچا جو ضریح پر لٹکا ہوا
تھا ۔ میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا ۔ لیکن اس میں ایسے عجیب وغریب اسماء تھے جن کو میں جانتا ہیں نہیں تھا اس لئے زیادہ حصہ میری سمجھ میں نہیں آیا ۔میں نے گوشہ میں کھڑے ہوکر فاتحہ پڑھی اور کہا خدا وندا ! اگر یہ مسلمان میں سے ہے تو اس پر رحم فرما اور تو سب کی حقیقت حال کو جاننے والا ہے ۔اتنے میں میرا دوست میرے قریب آکر میرے کان میں بولا اگر تمہاری کوئی حاجت ہے تو یہاں پرخدا سے سوال کرو پوری ہوجائے گی کیونکہ ہم لوگ ان کو باب الحوائج کہتے ہیں ۔ میں نے اپنے دوست کے قول کوسنی ان سنی کردی ۔ خدا مجھے معاف کردے ۔ میں تو ان بوڑھوں کو دیکھ رہا تھا جن کے نہ منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت ،سن سفید سی لمبی لمبی داڑھیاں سروں پرسیاہ وسفید عمامے پیشانیوں پرسجدوں کے نشانات ،ان کے جسموں سے خوشبو کی لپٹیں آرہی تھیں ۔تیز تیز نظر رکھنے والے کہ ان میں سے جب بھی کوئی داخل ہوتا تو داڑھیں مار مار کر رونے لگتا تھا ۔اس چیز نے مجھے اپنے دل ودماغ سے یہ سوال کرنے پر آمادہ کردیا ۔ کیایہ سارے آنسو جھوٹے ہیں ؟ کیا یہ عمر رسیدہ لوگ سب ہی غلطی پر ہیں ۔؟ان چیزوں کا مشاہدہ کرکے میں حیران وپریشان وہاں سے نکالا ۔جبکہ میرا دوست پشت کی طرف سے چلتا ہوا نکلا کہ کہیں اس کی پشت صاحب قبر کی طرف نہ ہو جائے یہ ادب واحترام کا بنا پر تھا ۔میں نے پوچھا : یہ کس کا مقبرہ ہے ؟"
دوست:-" الامام موسی کاظم (ع)۔
میں :-" یہ امام موسی کاظم کون ہے؟"
دوست:-" سبحان اللہ تم برادران اہل سنت نے مغز کو چھوڑ کر چھلکے سے وابستگی اختیار کرلی ہے ۔ "
میں:-" (غصہ اور ناراضگی کے ساتھ) یہ کیسے آپ نے کہہ دیا کہ ہم نے چھلکے سے تمسک کیا ہے اور مغز کو چھوڑ دیا ہے ؟"
دوست:-" (مجھے دلاسہ دلاتے ہوئ) برادر آپ جب عراق آئے ہیں برابر عبدالقادر جیلانی کا ذکر کررہے ہیں آخر یہ عبدالقادر جیلانی کون ہے؟ جس کا آپ اتنا احترام کرتے ہیں ؟"
میں :-"( فورا فخر سے ) یہ ذریت رسول سے ہیں اگر رسول خدا کے بعد کوئی نبی ہوتا تو یہی ہوتے !"
دوست:-" برادر ! کیا اسلامی تاریخ سے آپ کو واقفیت ہے؟
میں :-" بغیر کسی تامل وتردد کے ۔جی ہاں ہے ! حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کے بارے میں میری معلومات صفر کے برابر ہیں کیونکہ میرے استاتذہ اور مدرسین اس کو پڑھنے سے روکتے تھے اور کہتے تھے " اسلامی تاریخ ایک سیاہ وتاریک تاریخ ہے ۔ اس کے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ بطور مثال عرض کروں ۔میرے بلاغت کے استاد امام علی (ع) کی کتاب نہج البلاغہ کا خطبہ شقشقیہ پڑھا رہے تھے ۔اس خطبہ کوپڑھنے میری طرح اور لڑکے بھی متحیر ہوگئے آخر میں نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا ۔کیا یہ واقعی الامام علی کا کلام ہے ؟
استاد نے کہا:-" قطعا بھلا علی کے علاوہ ایسی بلاغت کسی کو نصیب ہوسکتی ہے؟ اگر یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا کلام نہ ہوتا تو علمائے مسلمین جیسے الشیخ محمد عبدہ مفتی الدیار المصریہ قسم کے لوگ اس کی شرح میں اتنا اہتمام نہ کرتے" ۔
میں :-" اس وقت میں نے کہا الامام علی (علیہ السلام) ابو بکر وعمر کو غاصب خلافت کہہ کر متھم کررہے ہیں" ۔ یہ سن کر استاد کو غصہ آگیا اور مجھے زور سے ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر دوبارہ تم نے ایسے سوالات کئے تونکال دوں گا ۔پھر استاد نے اتنا اور اضافہ فرمایا :- میں بلاغت پڑھانے آیا ہوں تاریخ کا درس نہیں دے رہا ہوں ۔ ہم کو آج اس تاریخ سے کیا سروکار جس کے صفحات مسلمانوں کی خونی جنگوں اور فتنوں سے بھرے پڑے ہیں ۔ خدا نے جس طرح ہماری تلواروں کو مسلمانوں کے خون سے پاک وپاکیزہ رکھا ہے اسی طرح ہمارا فریضہ ہے کہ اپنی زبان کو سب وشتم سےپاک رکھیں ۔استاد کی اس دلیل سے میں قانع نہیں ہوا بلکہ اس پر غصہ آیا کہ ہم کو بے معنی بلاغت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ میں نے اسلامی تاریخ پڑھنے کا کئی مرتبہ ارادہ کیا ۔لیکن مصادر وامکانات کی کمی راستہ کا روڑ ابنی رہی ۔ اور ہم نے اپنے علماء واستاتذہ میں بھی کسی کو نہ دیکھا جو تاریخ کا اہتمام کرتا ہو یا اس سے دلچسپی رکھتا ہو یا گویا سبھوں نے اس کو طاق نسیان پر رکھنے اور مطالعہ نہ کرنے پر اجتماع کر رکھا ہے ۔ اسی لئے آپ کو کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا جس کے پاس تاریخ کی کوئی کامل کتاب ہو۔
بارے میں پوچھا جواب سے مجھے اندازہ ہو کہ وہ کوئی ڈاکٹر ہے جو عنقریب آنے والا ہے اسی اثناء میں میرے دوست نے کہا:" میں آپ کو یہاں پر اس لئے لایا ہوں کہ آپ کا تعارف ایک ڈاکٹر سے کرادوں جو تاریخ کا سب سے بڑا ماہر ہے ۔ اور بغداد یونیورسٹی میں تاریخ کا پروفیسر ہے اور اس نے عبدالقادر جیلانی پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے شاید وہ آپ کے لئۓ مفید ہو کیونکہ میں تاریخ کا اکسپرٹ نہیں ہوں ۔
ہم لوگوں نے وہاں کچھ ٹھنڈا پیا اتنے میں وہ ڈاکٹر بھی آگیا ۔میرا دوست اس کے احترام میں کھڑا ہوگیا ۔اور اس کو سلام کرکے مجھے اس کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا : ان کو کچھ عبدالقادر جیلانی کےبارے میں بتائیے اور ہم سے اجازت لے کر کسی کام سے چلا گیا ۔ڈاکٹر نے میرے لئے ٹھنڈا منگوایا اور مجھ سے میرے نام ،شہر ،پیشہ ،وغیرہ کے بارے میں پوچھنے لگا ۔اسی طرح اس نے مجھ سے کہا ٹیونس میں عبدالقادر جیلانی کے بارے میں جو چیزیں مشہور ہیں ۔مجھے بھی ان کےبارے بتائیے۔
میں نے اس سلسلہ میں ڈاکٹر سےبہت سارے واقعات بتائے ۔یہاں تک کہ میں نے بتایا ہماری طرف مشہور ہے شب معراج جب جبرائیل آگے بڑھنے سے ڈرگئے کہ کہیں جل نہ جاؤں توجناب عبدالقادر نے رسول خدا کو اپنے کندھے پرسوار کر لیا ۔ اور رسول اللہ نے فرمایا : میرے قدم تیر گردن پر اور تیرے قدم قیامت تک اولیاء کی گردنوں پر ہوں گے ۔
ڈاکٹر میرا کلام سن کر بہت ہنسا ۔اب مجھے یہ نہیں معلوم ان حکایات کو سنکر ہنسا یا اس ٹیونسی استاد پر ہنسا جو اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔ اولیاء اور صالحین کے بارے میں تھوڑی دیر مناقشہ کرنے کے بعد ڈاکٹر بولا:- میں نے سات سات تک تحقیق وجستجو کی اور اس درمیان میں متعدد ممالک کا سفر کیا ۔مثلا پاکستان ، ترکی ، مصر ، بریطانیہ ،اور تمام ان مقامات پر گیا ۔ جہاں ایسے محفوظات تھے عبدالقادر جیلانی کی طرف منسوب تھے ۔ان محفوظات کو دیکھا ان کی تصویریں حاصل کیں ۔ لیکن کہیں سے یہ بات نہیں ثابت ہوتا کہ عبدالقادر سلالہ رسول سے تھے ۔ زیادہ سے زیادہ ان کے اولاد واحفاد کی جو جو اشعار منسوب ہیں ان میں ایک شخص نے کہا ہے : میرے جد رسول اللہ تھے ۔ اور اس کو رسول کی اس حدیث
پر حمل کیا گیا ہے ۔ کہ آنحضرت نے فرما یا " میں ہر متقی کا جد ہوں ۔ جیسا کہ بعض علماء کا یہی خیال بھی ہے ۔اور جوبات میرے نزدیک ثابت ہے وہ یہ ہے کہ عبدالقادر ایرانی النسل تھے ۔ عرب نہیں تھے ۔ ایران کے ایک شہر جیلان (گیلان) میں پیدا ہوئے تھے ۔ اور اسی لئے جیلانی کہا جاتا ہے پھر یہ بغداد آگئے تھے وہیں تعلیم حاصل کی اور ایسے وقت میں مدرس ہوئے جب اخلاقی برائیاں عروج پرتھیں ۔
جیلانی ایک زاہد قسم کے آدمی تھے لہذا لوگ ان سے محبت کرنے لگے ان کے مرنے کے بعد لوگوں نے " الطریقۃ القادریہ" کی بنیاد رکھی جو انھیں کی طرف منسوب ہے جیسا کہ ہر صوفی کےماننے والے ایسا ہی کرتے ہیں پھر اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ واقعہ ہے کہ عربوں کی حالت اس سلسلہ میں بہت افسوسناک ہے ۔
اس سے میری رگ وہابیت پھڑک اٹھی ۔میں نے ڈاکٹر سے کہا " اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ بھی وہابی الفکر ہیں ۔ آخر وہ لوگ بھی تو یہی کہتے ہیں جو آپ فرمارہے ہیں کہ کوئی ولی وغیرہ نہیں ہے ۔
ڈاکٹر : جن نہیں! میں وہابی نہیں ہوں ۔مسلمانوں میں افسوسناک بیماری یہ ہے کہ یا تو حد افراط پر ہیں ۔ یا حد تفریط پر یاتو وہ ہر اس خرافات تک کو مان لیں گے جس پرنہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور یا ہر چیز کو جھٹلانے پر تل جائیں گے ۔چاہے وہ انبیاء کے معجزات ہی ہوں ۔ بلکہ اپنے نبی کے معجزات اور حدیثوں کا صرف اس لئے انکار بیٹھے ہیں کہ ان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہیں یا جو من گھڑت عقیدہ ان کا ہے اس عقیدہ کے خلاف ہے ۔کچھ لوگ مشرق کی کہتے ہیں تو کچھ مغرب کی ۔
صوفی لوگ کہتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر کا ایک ہی وقت میں بغداد اور ٹیونس دو نوں جگہ پہونچنا ممکن ہے وہ ایک ہی وقت میں ٹیونس کے مریض کو شفا دےسکتے ہیں اور عین اسی وقت دجلہ سے ڈوبے والے کو نکال سکتے ہیں یہ افراط ہے ۔۔۔وہابی ۔۔۔۔ صوفیوں کے بلکل بر خلاف ۔۔۔ہر چیز کو جھٹلاتے ہیں ۔ انتہا یہ ہے کہ اگر کوئی بنی کو وسیلہ بنائے تو اس کو بھی مشرک کہتے ہیں یہ تفریط ہے ۔ برادر نہ یہ درست ہے ۔نہ وہ ۔بلکہ جیسا کہ خدا نے کہا ہے :
وکذلک جعلنا کم امة وسطا لتکونوا شيهدا علی الناس (پ 3 س 2 بقره آیت 143)
ترجمہ:( اور جس طرح تمہاری قبلہ کے بارے میں ہدایت کی )- اسی طرح تم کو عادل امت بنایا تاکہ لوگوں کے مقابلہ میں تم گواہ بنو۔ اور رسول (محمد) تمہارے مقابلہ میں گواہ بنیں ۔۔۔۔ ہم کو اس طرح ہونا چاہیے ۔ ڈاکٹر کا کلام مجھے بہت پسند آیا میں نے اس کاشکریہ ادا کیا ۔ او رجو کچھ اس نے کہا تھا اس پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر نے اپنا بیگ کھول کر عبدالقادر جیلانی کےبارے میں اپنی لکھی ہوئی ایک کتاب مجھے بطور ہدیہ پیش کی ۔ اور کھانے کی دعوت دی ۔ لیکن میں نے معذرت کرلی ۔پھر ہم لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے کبھی ٹیونس کےبارے میں کبھی شمال افریقہ کے بارے میں یہاں تک کہ ہمارا دوست واپس آیا اور ہم لوگ رات کو گھر پہونچے ۔پورا دن زیارتوں او ربحث ومباحثہ میں گزار دیا تھا مجھے تھکن کا احساس ہورہا تھا ۔ لہذا لیٹے ہی سوگیا ۔
علی الصباح اٹھ کر نمازپڑھی ۔اور اس کتاب کا مطالعہ شروع کردیا ۔ عبدالقادر کے زندگی سے متعلق تھی ۔ میرا دوست اس وقت اٹھا جب میں آدھی کتاب پڑھ چکا تھا ۔اور وقتا فوقتا تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد نا شتہ کے لئے آتارہا ۔لیکن جب تک میں نے کتاب ختم نہیں کرلی ناشتہ کے لئے نہیں اٹھا اس نے گویا مجھے بانھ دیا تھا اور مجھے شک ہوگیا تھا مگر شک زیادہ تر نہیں رہا ۔عراق سے نکلتے نکلتے شک دور ہوچکا تھا ۔
تین دن تک اپنے دوست کے یہاں مستقل آرام کرتا رہا اریہ ان لوگوں کےبارے سوچتا رہا جن کا میں نے انکشاف کیا تھا گویا یہ لوگ چاند پر رہنے والے تھے (اگر ایسا نہیں تھا تو) ان کے بارے میں لوگوں نے صرف رسواکن اور غلط پروپیگنڈے کیوں کئے تھے ؟ ا ن کی معرفت کے بغیر ان کو کیوں ناپسند کرتارہا ۔اور کیوں ان کی طرف سے کینہ رکھتا تھا؟ شایدان سب پروپیگنڈوں کا نتیجہ ہو ۔جو مسلسل ان کے خلاف کئے جاتے تھے کہ یہ لوگ علی کی پرستش کرتے ہیں ۔ اور اپنے ائمہ کو خدا کا مرتبہ دتے ہیں اور کہتے ہیں خدا ان کے اماموں میں حلول کئے ہوئے ہے یہ لوگ خدا کے بجائے پتھر (سجدہ گاہ) کو سجدہ کرتے ہیں ۔ یہ لوگ قبر رسول پر صرف اس لئے آتے ہیں ۔ ۔۔۔جیسا کہ میرے باپ حج کی واپسی پر بیان کیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔کہ قبر مطہر پر غلاظت وگندگی ڈالیں اسی لئے سعودیوں نے گرفتار کرکے ان کو قتل کرنے کا حکم دے دیا ۔۔۔اوریہ لوگ ۔۔۔اور یہ لوگ ۔۔۔جو جی چاہے ان کے بارے میں کہے کوئی روک ٹوک نہیں ہے ۔
ذرا سوچیے مسلمان ان چیزوں کو سن کر شیعوں سے کیسے کینہ نہ رکھے گا ۔ اور ان کو کیوں کر دشمن نہ رکھے گا ۔بلکہ ان سے قتال پر کیوں آمادہ نہ ہوگا ۔
لیکن میں (اپنے ان تجربات کے بعد) کیوں کر ان پروپیگنڈوں کا یقین کرلوں ۔میں نے جو کچھ بھی دیکھا ہے یا سنا ہے یہ آنکھوں دیکھا اور اپنے کانوں سنا ہے ۔اب تو ان کے درمیان رہتے ہوئے ایک ہفتہ سے زیادہ ہوگیا ۔میں نے ان کی ہر بات عقل ومنطق کے مطابق پائی ۔ان کی باتیں عقلوں میں اتر جاتی ہیں ۔ بلکہ سچ پوچھئے تو ان کی عبادتیں ،نمازیں ،اخلاق علماء کا احترام مجھے اتنا پسند آیا کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش میں بھی ان کی طرح کا ہوجاتا ۔ میں خود اپنے سے پوچھتاہوں کیا یہ لوگ واقعی رسول اکرم
کوناپسند کرتے ہیں ؟ میں جب بھی حضور کا نام لیتا ہوں ۔۔۔۔۔اور زیادہ تر ان لوگوں کا امتحان لینے کے لئے ایسا کرتا ہوں۔۔۔۔۔تو یہ لوگ دل وجان اور پورے خلوص کے ساتھ زور سے کہتے ہیں ۔"اللهم صلی علی محمد وآل محمد " پہلے میں یہ بھی سوچتا تھا کہ کہیں یہ لوگ منافقت نہ برتتے ہوں ۔لیکن جب میں نے ان کی کتابوں کو پڑھا توپتہ چلا کہ یہ لوگ شخصیت رسول (ص) کی اس قدر احترام ،تقدس، تزیہ کرے قائل ہیں جس کا عشر عشیر ہماری کتابوں میں نہیں ہے تومیری ساری بد گمانی دور ہوگئی ۔ یہ لوگ تورسول اکرم کو قبل از بعثت بھی اور بعد از بعثت بھی معصوم مانتے ہیں اور ہم اہلسنت والجماعت صرف تبلیغ قرآن کے سلسلہ میں معصوم مانتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کواپنا جیسا خطا کار انسان مانتے ہیں بلکہ ہم تو آنحضرت کو خطاکار اوربعض صحابہ کو خطا سے مبرا سمجھتے ہیں ہمارے پاس اس کی بہت سی مثالیں ہیں حالانکہ شیعہ حضرات کسی بھی قیمت پر رسول کی غلطی اور دوسروں کی تصویب کو تسلیم ہی نہیں کرتے پھر ان تمام باتوں کے باوجود میں کیسے مان لوں کہ شیعہ رسول (ص) کو ناپسند کرتے ہیں ؟
یہ کیسے ممکن ہے ایک دن میں نے اپنے دوست سے درج ذیل گفتگو کی اور اس کو قسم دلادی کہ بالکل صاف صاف بات کرو گفتگو یہ تھی ۔
میں :- " کیا آپ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ وکرم اللہ وجہہ کو نبی مانتے ہیں ؟ کیونکہ آپ لوگوں میں سے جو بھی ان کا تذکرہ کرتا ہے"علیه السلام " ضرور لگا دیتا ہے "۔
دوست:-" نہیں نہیں ! ہم لوگ جب امیر المومنین یا کسی امام کا تذکرہ کرتے ہیں تو علھم السلام کہتے ہیں ۔لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہے کہ وہ حضرات انبیاء ہیں ۔ یہ حضرات ذریت رسول کااور آنحضرت کی عترت ہیں ۔ جن پر خدانے قرآن میں صلواۃ وسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے ۔اس لئے ہم لوگ" علیهم الصلاة والسلام " بھی کہتے ہیں "۔
میں :- "برادر ہم لوگ صرف رسول اللہ اورآپ سے پہلے والے انبیاء پر صلاۃ وسلام کے قائل ہیں اس میں حضرت علی اور ان کی اولاد رضی اللہ عنھم کا کوئی دخل نہیں ہے "۔
میں :-" میں آپ سے خواہش کرتاہوں کہ آپ مزید مطالعہ کیجئے تاکہ حقیقت واضح ہوجائے ۔"
میں :-"میرے دوست میں کون سی کتاب پڑھوں ؟ کیا آپ نے مجھ سے نہیں فرمایا تھا کہ احمد امین کی کتابیں شیعوں پر حجت نہیں ہیں ۔ تو پھر اسی طرح شیعوں کی کتابیں ہمارے لئے حجت نہیں ہیں ۔ اورنہ ہم ان پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ کیاآپ نے نہیں کہا تھا ، عیسائیوں کی طرح جو کتابیں معتمد ہیں ۔ان میں حضرت عیسی کا قول تحریر ہے کہ :" میں خدا کا بیٹا ہوں "جب کہ قرآن کہتا ہے ۔۔۔اور قرآن اصدق القائلین ہے ۔۔۔حضرت عیسی کی زبانی نقل کرتے ہوئے : میں نے تو ان سے صرف وہی کہا تھا جس کا تو نے حکم دیا تھا کہ اس خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا (سب ہی کا) رب ہے ۔
دوست :- جی ہاں ! میں نے کہا تھا اور آپ سے بھی جس کا مطالبہ کرتاہوں وہ یہی ہے کہ آپ عقل منطق کو استعمال کریں اورقرآن کریم اور سنت صحیحہ سے استدلال کریں جب گفتگو کسی مسلمان سےہو ۔لیکن اگر گفتگو کسی یہودی یا عیسائی سے ہو تو استدلال قرآن سے نہیں کیا جائے گا ۔
میں :-" میں کس کتاب سے حقیقت کا پتہ لگاؤں کیوں کہ ہر مؤلف ،ہر فرقہ ،ہر مذہب کا دعوی ہے کہ وہی حق پر ہے باقی سب باطل پر ہیں ۔"
دوست:-" میں بہت ہی بدیہی وحسی دلیل پیش کرتا ہوں ، مسلمان اختلاف مذاہب وتشتت فرق کے باوجود اس دلیل پر متفق ہیں مگر آپ نہیں جانتے یہ تعجب ہے ۔آپ دعا کیجئے :ربّ زدنی علما "اچھا یہ بتائیے کیا آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟"
"ان الله وملائکته یصلون علی النبی یا ایها الذین آمنوا صلو اعلیه وسلموا تسلیما (پ 22 س 33 (احزاب) آیت 56)
اسمیں شک نہیں کہ خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر (اور ان کی آل ) پر دوردو بھیجتے ہیں ۔ تو اے ایماندارو! تم بھی درود بھیجتے رہو اور برابر سلام کرتے رہو :۔۔۔۔۔۔ کی تفسیر پڑھی ہے ؟
شیعہ وسنی تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اصحاب کرام رسول اللہ کے پاس آکر بولے : ہم کو معلوم ہوگیا کہ آپ پر کیوں سلام بھیجیں ؟ لیکن یہ نہیں معلوم کیونکر درود بھیجیں تو آنحضرت نے فرمایا اس طرح کہو:
"اللهم صل علی محمد وآل محمد کمام صلیت علی ابراهیم وآل ابراهیم فی العالمین انک حمید مجید "
اور دیکھ میرے اوپر کھبی دم بریرہ درود نہ بھیجنا ! اصحاب نے پوچھا سرکار یہ دم کٹی درود کیا ہے ؟ فرمایا :اللھم صلی علی محمد " کہہ کر چپ ہوجانا (سنو) خدا کامل ہے کامل ہی کو قبول کرتا ہے ان تمام اسباب کی وجہ سے صحابہ اور تابعین سب نے رسول خدا کے حکم کو پہچان لیا اور وہ سب مکمل درود بھیجا کرتے تھے اسی لئے امام شافعی نے اہل بیت کے لئے فرمایا ہے
یا آل بیت رسول الله حبکم + فرض من الله فی القرآن انزله
کفاکم من عظیم القدر انکم+ من لم یصل علیکم لا صلاة له
اے اہل بیت رسول تمہاری محبت تواس قرآن میں واجب کی گئی ہے جس کو خدا نے نازل فرمایا ہے ۔تمہاری جلالت قدر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ جو تم پر (نماز میں )درود نہ بھیجے اس کی نماز ،نماز ہی نہیں ہے ۔
میرے دوست کا کلام میرے کانوں میں رس گھول رہا تھا اوردل میں اتر تا جارہا تھا اور میرا نفس اس کو قبول کرنے پر آمادہ تھا ۔سابقا میں نے یہ بات کسی کتاب میں پڑھی تھی ۔مگر اس وقت زور دینے کے باوجود کتاب کانام یا د نہیں آرہا تھا میں نے اتنا مان لیا کہ ہم لوگ بھی جب رسول پر درود بھیجتے ہیں تو آل واصحاب سب ہی پر بھیجتے ہیں ۔ لیکن شیعوں کی طرح صرف حضرت علی کے ذکر پر علیہ السلام نہیں کہتے میرے دوست نے مجھ سے پوچھا ۔بخاری کےبارے میں کیاخیال ہے" ؟ وہ سنی تھے یا شیعہ ؟
میں :- اہل سنت والجماعت کےبڑے جلیل القدر امام تھے ۔خدا کی کتاب کے بعد ان کی کتاب تمام کتابوں سے زیادہ صحیح ہے ۔میرے اتنا کہنے پرمیرا دوست اٹھا اور اپنی لائبریری سے صحیح بخاری نکال
لایا ۔اور بخاری کھول کر جس صفحہ کو تلاش کر رہا تھا ۔ تلاش کرکے مجھے دیا اور کہا پڑھو ! میں نے پڑھنا شروع کیا : مجھ سےفلان بن فلان نے بیان کیا اور اس سے علی نے الخ میری آنکھوں کو یقین نہیں آرہا تھا اور اتنا تعجب ہوا کہ مجھے شبہ ہونے لگا یہ واقعی صحیح بخاری نہیں ہے؟ میں بے چینی کے ساتھ صفحہ اور کور کو دیکھنے لگا جب میرے دوست کو احساس ہو ا کہ مجھے شک ہے تو اس نے مجھ سے کتاب لے کر کیا دوسرا صفحہ نکال کر دیا ۔ اس میں تھا کہ مجھ سے علی ابن الحسین (علیھما السلام )نے بیان کیا ۔ اس کو دیکھنے کے بعد میں نے کہا سبحان اللہ ! میرا دوست (شاید میرے اس جملہ سے قانع ہو کر مجھے تنہا چھوڑ کرچلا گیا ۔اور میں سوچنے لگا ۔ بار بار ان صفحات کو الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا اورپڑھتا رہا اور یہ تلاش کرتارہا کہ یہ کتاب کہاں چھپی ہے ؟ دیکھا تو مصر کی شرکۃ الحلبی واولادہ کی مطبوعہ ہے اور وہیں سے نشر کی گئی ہے ۔
خدایا ! میں کب تک مکابرہ کروں ۔کب تک دشمنی کروں اس نے تو ہماری کتاب بخاری سے حسی دلیل پیش کردی اور امام بخاری قطعا شیعہ نہیں تھے ۔یہ تو سنیوں کے امام اور بہت بڑے محدث تھے کیا میں حقیقت تسلیم کرلوں یعنی ان کی طرح علی علیہ السلام کہنے لگوں لیکن مجھے ڈر لگتا ہے کہیں اس حقیقت کے ماننے پر کئی اور حقیقتوں کو نہ ماننا پڑے ۔مجھے اس حقیقت کا اعتراف پسند نہیں ہے ۔میں اپنے دوست سے دومرتبہ شکست کھا چکا ہوں ۔ایک تو عبد لقادر جیلانی کی قداست کوچھوڑ کر مجھے اعتراف کرنا پڑھا تھا کہ (امام موسی الکاظم) ان سے اولی ہیں ۔ اور یہ بھی تسلیم کرلیا تھا کہ علی کے ساتھ علیہ السلام جائز ہے ۔ لیکن اس مرتبہ شکست نہیں کھاناچاہتا ۔ارے میں وہی تو ہوں جو کچھ دنوں پہلے مصر میں مانا ہوا عالم تھا اپنے اوپر فخر کرتا تھا ،ازہر شریف کے علماء میری تعریف کرتے تھکتے نہیں تھے ۔ اور آج میں اپنے کو مغلوب ،شکست خوردہ محسوس کررہا ہوں ۔ وہ بھی کن لوگوں کے سامنے !جن کو ہمیشہ غلطی پر سمجھا کرتا تھا ۔ میں لفظ "شیعہ" کو گالی سمجھتا تھاے ۔
(درحقیقت )یہ تکبر در حب ذات ہے ،یہ انانیت ،عصبیت ،لجوج پن ہے ۔ خداوندا! مجھے رشد کا الہام کردے ! میری (حقیقت کے قبول کرنے پر) مدد فرما چاہے وہ تلخ ہو ! پروردگارا ! میر ی بصارت وبصیرت کو کھول دے ،صراط مستقیم تک میری ہدایت فرما ، مجھے ان لوگوں میں سے قراردے جو باتوں
کو سن کر اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں ۔خدایا! مجھے حق دکھادے مجھے حق کی پیروی کی توفیق مرحمت کردے ۔میری نظر میں باطل کو باطل قراردیدے مجھے اس سے بچنے کی توفیقات عطافرما ۔
میرا دوست جب گھر واپس آیاتو میں اپنے دعائیہ کلمات کی تکرار کررہا تھا ۔اس نے مسکرا تے ہوے کہا : خدا ہم کو ،تم کو ، تمام مسلمانوں ہدایت دے وارخدا نے کہا ہے : جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتا ہے ہم ان کو اپنے راستہ کی ضرورہدایت کرتےہیں اور خدا تو احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے " اس آیت میں جہاد سے مراد حقیقت تک پہونچنے کے لئے علمی بحث ومباحثہ کرنا ہے ۔جو شخص حق کا متلاشی ہوتا ہے خدا اس کو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔
ایک رات میرے دوست نے مجھے بتایا کال انشااللہ نجف چلیں گے ۔میں نے پوچھا نجف کیا ہے ؟ اس نے کہا وہاں حوزہ علمیہ ہے اور امام علی ابن ابیطالب کا مرقد (مطہر ) ہے مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا کہ حضرت علی کی قبر مشہور کیسے ہوئے ؟ کیونکہ ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ سیدنا علی کی قبر معروف کا کہیں وجود نہیں ہے ۔
ہم لوگ ایک عمومی گاڑی پر سوار ہو کر کوفہ پہونچے وہاں ہم اتر گئے ۔مسجد کوفہ جو ایک اسلامی آثار قدیمہ میں سے ہے اس کی زیات کی ۔میرا دوست تاریخی چیزوں کو دکھاتا رہا ہے ۔مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کی زیارت کرائی ۔اورمختصرا ان کی شہادت کا ذکر کیا ۔اور مجھے اس محراب میں بھی لے کیا جس میں حضرت علی (علیہ السلام) کو شہید کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد ہم نے امام علی (علیہ السلام) کا وہ مکان بھی دیکھا ۔جس میں آپ اپنے دونوں بیٹوں سیدنا حسن وسیدنا حسین (علیھما السلام) کےساتھ رہا کرتے تھے ۔ اس مکان میں ایک کنواں بھی ہے جس کے پانی سے یہ لوگ وضو بھی کرتے تھے اور اسی کے پانی کو پیتے تھے ۔ میں نے وہاں ایسی روحانیت محسوس کی کہ اتنی دیر کے لئے دنیا ومافیھا کو فراموش کربیٹھا ۔اور میں امام علی (علیہ السلام) کے زہد میں ڈو ب گیا کہ آپ امیرالمومنین اور چوتھے خلیفہ راشد ہو کر بھی ایسی معمولی زندگی بسر کرتے تھے ۔
یہ بات لائق توجہ ہے ہ وہاں کے لوگ بڑے بامروت ومتواضع ہیں ۔ہم لوگ جدھر سے گزر جاتے تھے لوگ احتراما کھڑے ہوجاتے تھے ۔ اور ہم کو سلام کرتے تھے میرا دوست ان میں اکثر کو پہچانتا بھی تھا ۔ معہد کوفہ کے مدیر نے ہماری دعوت کی وہاں ہماری ملاقات اس
کے بچوں سے ہوئی اور وہ رات اسی کے پاس ہم لوگوں نے بڑی راحت وارام سے بسر کی مجھے تویہ محسوس ہورہا تھا۔ جیسے اپنے قبیلہ وخاندان میں ہوں ۔ وہ لوگ اہل سنت والجماعت کا ذکر کرتے تو کہتے :ہمارے سنی بھائی ! ہم ان کی گفتگو سے جب مانوس ہوگئے تو ہم نے بطور امتحان بعض سوالات بھی کئے کہ دیکھیں یہ لوگ کہاں تک سچے ہیں ؟
اس کے بعد ہم نجف کے لئے روانہ ہوگئے جو کوفہ سے دس کیلومیٹر کے فاصلہ پر ہے وہاں پہونچتے ہی مجھے بغداد کی مسجد الکاظمیہ کی یاد تازہ ہوگئی کہ سنہری منارے جن کے بیچ میں خالص سونے کا گنبد تھا ۔شیعہ زائرین کی حسب عادت ہم نے بھی اذن دخول پڑھ کر حرم امام علی میں قدم رکھا ۔یہاں مجھے (حضرت امام)موسی الکاظم کی مسجد جامع سے زیادہ تعجب خیز چیزیں دکھائی دی ۔ اپنی عادت کے مطابق میں نے فاتحہ پڑھی لیکن یہ شک بہر حال رہا ۔ کہ آیا اس قبر میں الامام علی (ع) کا جسم ہے ؟ میں نے اپنے کو قانع کرنا چاہا ۔لیکن کہاں کوفہ کا وہ سادہ سا مکان جس میں امام رہتے تھے اور کہاں یہ ! میں نے اپنے دل میں کہا حاشا وکلا جب کہ پوری دنیا کے مسلمان فاقوں سے مررہے ہوں تو کیا علی (ع) اس سونے چاندی پر راضی ہوسکتے ہیں ؟ خصوصا جب کہ راستہ میں فقرا ہاتھ پھیلائے گزرنے والوں سے بھیک مانگ رہے تھے ۔میری زبان حال کہہ رہی تھی ۔ اے شیعو! تم غلطی پر ہو کم از کم اس غلطی کا تو اعتراف کر ہی لو رسول اکرم نے حضرت علی کو تمام قبروں کو برابر کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔پھر آخر یہ سونے وچاندی سے لدی ہوئی قبریں ! اگر یہ شرک باللہ نہ بھی ہوں تو کم ازکم ایسی فاش غلطی ضرور ہے جس کو اسلام معاف نہیں کرسکتا ۔
میرے دوست نے ایک خشک مٹی کر ٹکڑے (سجدہ گا ہ) کی طرف ہاتھ بڑھا تے ہوئے مجھ سے پوچھا کیا تم بھی نماز پڑھناچاہتے ہو؟ میں نے تیزی سے جواب دیا۔ہم لوگ قبور کے ارد گرد نماز نہیں پڑھا کرتے دوست نے کہا اچھا تو پھر اتنی دیر انتظار کرو کہ میں دورکعت نماز پڑھ کر آجاؤں ۔اس کے انتظار میں ضریح پر جوچیزیں ٹنگی ہوئی تھیں ان کو پڑھنے لگا اور سنہری جالیوں کے بیچ س اندر کی چیزوں کو دیکھنے لگا ۔ جس کے اندر دنیا کے سکوں کے ڈھیر پڑھے ہوئے تھے
درہم ،ریال ،دینا ر لیرہ سب ہی کچھ یہ وہ تدرائے تھے ۔جو زائرین ضریح کے اندر ڈال دیا کرتے تھے تاکہ روضہ کے متعلق جو امور خیر انجام دئیے جائیں ۔ ان میں یہ بھی شریک ہوجائیں ۔وہ سکے اتنے زیادہ تھے کہ میرا خیال ہے مہینوں میں جمع ہوئے ہونگے لیکن میرے دوست نے مجھے بتایا کہ ذمہ دار حضرات روزانہ نماز عشاء کے بعدان سکوں کو نکال لیتے ہیں یہ صرف ایک دن میں ڈالے گئے سکے ہیں ۔
میں اپنے دوست کے پیچھے پیچھے مدہوش ہوکر نکلا گویا میری تمنا یہ رہی ہو کہ کاش اس میں تھوڑا سا مجھے بھی مل جاتا ۔ یا فقراء ومساکین پر تقسیم کردیا جاتا ۔ کیونکہ فقراء ومساکین کی تعداد بھی الی ماشااللہ تھی ۔روضہ کے چاروں طرف جو دیوار کھینچی ہوئی ہے ۔ روضہ سے نکل کر میں ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔ کہیں پر نمازجماعت ہورہی تھی ۔ اور ایک دو نہیں کئی کئی اور کہیں پر کوئی خطیب تقریر کررہا تھا اور لوگ بیٹھے سن رہے تھے خطیب بڑے اونچے منبر پر تھا ۔ اتنے میں کچھ لوگوں کے رونے کی آوازیں بھی آنے لگیں ۔ کچھ سسک سسک کر رورہے تھے کچھ زورزور سے اور اپنے سینہ پر ہاتھ ماررہے تھے ۔میں نے چاہا کہ اپنے دوست سے پوچھوں کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ رو رہے ہیں ۔ اور سروسینہ کوٹ رہے ہیں کہ اتنے میں ہمارے قریب ایک جنازہ گزرا بعض لوگوں کو دیکھا و صحن سے پتھرا اکھاڑ رہے ہیں اور اس میں میت کو رکھ رہے ہیں ۔ اس وقت میرا خیان یہ ہوا کہ اس عزیز میت پر یہ لوگ رورہے ہونگے
میرا دوست حرم کے ایک گوشہ میں بنی ہوئی ایک ایسی مسجد میں لے گیا ۔جہاں پوری مسجد میں سجادہ بچھا ہوا تھا اور اس کے محراب مین بہت ہی جلی اورعمدہ خط سے قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں ۔ میری نظر ان چند بچوں پر جاکر جم گئی جو عمامہ لگائے محراب کے قریب مشغول مباحثہ تھے ، اور ہر ایک کے ہاتھ میں کتاب تھی ۔اس بہترین منظر کو دیکھ کر میں بہت خوش ہوا ۔ میں نے ابھی تک ایسے شیوخ نہیں دیکھے تھے جن کی عمریں تیرہ 13 سال سے لیکر سولہ 16 تک تھیں ۔ اس لباس نے ان کے جمال وخوبصورتی میں چار چاند لگادیئے تھے ۔ بس یہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ چاند کے ٹکڑے ہیں ۔ میرے دوست نے ان سے " السید" کے بارے میں پوچھا ۔انھوں نے بتایا وہ نماز جماعت پڑھانے گئے ہیں ۔ میں نہیں سمجھا کہ جس "السید کے بارے میں میرے دوست نے پوچھا ہے وہ کون ہے؟ البتہ اتنا ضرور سمجھ گیا تھا کہ وہ کوئی عالم دین ہیں ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس سے مراد "السید الخوئی" ہیں جو فی الحال زعیم الحوزۃ العلمیہ " ہیں ۔ شیعوں کے یہاں السید " صرف انھیں کو کہا جاتا ہے ۔جو خاندان رسالت سے ہوں اور السید خواہ عالم ہو یا طالب علم سیاہ عمامہ باندھتا ہے جب کہ دوسرے علماء سفید عمامہ باندھتے ہیں اورالشیخ سے مخاطب کئے جاتے ہیں ۔ وہاں کچھ اور اشراف لوگ ہیں جو عالم تو نہیں ہیں ۔ مگر شریف ہیں وہ لوگ سبز عمامہ باندھتے ہیں ۔
میرے دوست نے مجھ سے کہا کہ ۔آپ یہاں تشریف رکھئے میں ذرا سید سے ملاقات کرلوں ان طلاب نے مجھے مرحبا کہا اور تقریبا نصف دائرہ کی صورت میں بیٹھ گئے ۔ اور میں ان کے چہروں کو دیکھ رہا تھا ۔ اور یہ محسوس کررہا تھا کہ یہ گناہوں سے پاک ہیں ان کی سریت اور ان کا طبع بہت شفاف ہے ۔اتنے میں میرے ذہن میں رسول اکرم کی
حدیث یادآگئی ۔ ہر انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔لیکن اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنادیتے ہیں یا عیسائی بنادیتے ہیں یا مجوسی بنادیتے ہیں ۔ میں نے اپنے دل میں کہا" یا اس کو شیعہ بنادیتے ہیں ۔
ان طلاب نے مجھ سے پوچھا آپ کہاں کے رہنےو الے ہیں ۔؟ میں نے کہا ٹیونس کا ! انھوں نے پو چھا کیا آپ کے یہاں بھی حوزات علمیہ ہیں ؟ عرض کیا یونیورسٹیاں اور مدارس ہیں ۔ اس کے بعد تو چاروں طرف سے سوالات کی بوچھار ہونے لگی ۔ اور ہر سوال مرکزی اور مشکل تھا ۔ یمں ان بے چاروں کو کیا بتاتا جن کا عقیدہ یہ ہے کے پورے عالم اسلام میں حوزات علمیہ ہیں ۔ جن میں فقہ واصو الدین والشریعہ اور تفسیر پڑھائی جاتی ہے ۔ان کو یہ نہیں معلوم کہ عالم اسلام میں او رہمارے ملکوں میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مدارس قرآنیہ کے بدلے بچوں کے لئے باغیچے بنوادئیے گئے ہیں جن کی نگرانی نصرانی راہبات کے سپرد ہے اب کیا می ان سے کہہ دیتا کہ آپ لوگ ہمارے بہ نسبت بہت پسماندہ ہیں ؟
ایک نے انھیں میں سے پوچھا ٹیونس میں کون سا مذہب رائج ہے ؟ میں نے کہا مالکی ! میں نے دیکھا کہ بعض ہنسنے لگے ۔ لیکن میں نے کوئی توجہ نہیں کی ان میں نے ایک نے کہا: آپ لوگ مذہب جعفری کو بھی جانتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں یہ کون سانیا نام ہے ؟ نہیں ہم لوگ مذاہب اربعہ ۔۔۔حنفی ،مالکی، شافعی ، حنبلی ۔۔۔۔۔ کے علاوہ کسی اور مذہب کو نہیں جانتے اور جو مذہب ان چاروں کے علاوہ ہوگا وہ یقینا غیراسلامی ہوگا ۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا: معاف کیجئے گا مدہب جعفری ہی خالص اسلام ہے ۔کیا آپ نہیں جانتے ابو حنیفہ امام جعفر صادق کے شاگرد تھے ؟ اور اسی سلسلے میں ابو حنیفہ نے کہا" لولا السنتان لهلک النعمان" اگر دوسال (جو امام جعفر صادق کی شاگردی میں گزارے )نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہوجاتا ۔ میں یہ سن کر خاموش ہوگیا ۔اور کوئی جواب نہیں دیا ۔
ان لوگوں نے ایسی بات کہہ دی جس کو میں آج سے پہلے سنا ہی نہ تھا لیکن میں نے خدا کی حمد کی کہ ان کے امام ۔۔۔۔جعفر صادق ۔۔۔امام مالک کے استاد نہیں تھے ۔لہذا میں نے کہا ہم لوگ مالکی ہیں ۔ حنفی نہیں ہیں ۔ اس جوان نے کہا چاروں مذاہب والے بعض نے بعض سے تعلیم حاصل کی ہے ۔احمد بن حنبل امام شافعی سے تحصیل کیا ہے اور امام شافعی نے امام مالک سے ،امام مالک نے امام ابو حنیفہ سے اور امام ابو حنیفہ نے امام جعفر صادق سے سب کچھ اخذ کیا ہے ! اسی طرح سب کے سب جعفربن محمد کے شاگرد ہیں ۔ امام جعفر صادق پہلے آدمی ہیں ۔ جنھوں نے اپنے جد کی مسجد (مسجد النبی ) میں جامعہ اسلامیہ (اسلامی یونیورسٹی) کی بنیاد ڈالی اور چار ہزار سے زیادہ محدث وفقیہ نے آپ سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔مجھے اس بچے کے حافظہ پر بہت تعجب ہوا ۔یہ جو باتیں کہہ رہا تھا ۔اس طرح کہہ رہاتھا ۔جیسے ہم لوگ قرآن کے سوروں کو یاد کرکے فرفرسناتے ہیں اور اس وقت تومیری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے بعض تاریخی مصادر کے حوالوں کو جلدوں ابواب وفصول کے ساتھ بیان کرنا شروع کردیا ۔اس نے اس طرح میرے ساتھ گفتگو شروع کردی جیسے کوئی استاد اپنے طالب علم سے کرتا ہے ۔ میں نے اس کے سامنے اپنی کمزوری کا اچھی طر ح احساس کرلیا تھا ۔ اور اس وقت میری تمنا کہ کاش اپنے دوست کے ساتھ میں بھی چلا گیا ہوتا ۔ ان بچوں میں نہ پھنسا ہوتا ان میں سے جس نے بھی فقہ یا تاریخ کے بارے میں جو سوال پوچھا وہ ایسا ہی تھا کہ میں جواب نہیں دے سکا ۔ایک نے پوچھا آئمہ میں سے کس کی تقلید کرتے ہیں؟ میں نے کہا امام مالک کی ! اس نے کہا :آ پ اس میت کی تقلید کیونکر کرتے ہیں جس میں اور آپ میں چودہ صدی کا فاصلہ ہے؟ اگر آپ ان سے اس وقت کے جدید مسائل کےبارے میں پوچھیں تو کیا جواب دے سکیں گے ؟ میں نے تھوڑی دیر سوچا اس کے بعد کہا تمہارے امام جعفر صادق کو مرے ہوئے بھی چودہ سال گزر چکے ہیں آپ لوگ کس کی تقلید کرتے ہیں ؟ تمام بچوں نے فورا جواب دیا : ہم لوگ السید الخوئی کی تقلید کرتے ہیں ۔ وہی اس وقت ہمارے
قائد اور مرجع ہیں ! میں یہ نہ سمجھ پایا کہ الخوئی اعلم ہیں یا (امام) جعفر الصادق (ع)؟
مختصر یہ کہ میں ان بچوں کے ساتھ موضوع بدلنے کی فکر میں تھا ۔ میں ان سے ایسا سوال کرناچاہتا تھا جس سے وہ میرا مسئلہ بھول جائیں ۔ چنانچہ میں نے ان سے نجف کی آبادی کے بارے میں پوچھا اوریہ پوچھا کہ نجف وبغداد میں کتنا فاصلہ ہے؟ کیاآپ لوگوں نے عراق کے علاوہ کوئی اور ملک بھی دیکھا ہے؟ وہ جیسے جواب دیتے تھے میں فورا دوسرا سوال کردیتا تھا میرا مقصد ان کو الجھائے رکھنا تھا تاکہ یہ مجھ سے سوالات نہ کرسکیں ۔کیونکہ میں نے احساس کرلیا تھا ۔کہ میں ان بچوں کے مقابلہ میں کمزور ہوں لیکن ان کے سامنے تو اعتراف کرنہیں سکتا تھا اگر چہ دل میں معترف تھا کیونکہ وہ عزت وبزرگی وعلم جو مصر میں مجھے حاصل ہوا تھا ۔وہ بخاربن کر یہاں اڑگیا ۔خصوصا ان بچوں سے ملنے کے بعد کہنے والے کی اس حکمت کو پہچان گیا جس نے کہا ہے
فقل لمن یدعی فی العلم فلسفة
عرفت شیئا وغابت عنک اشیاء
ترجمہ :-اس شخص سے کہہ دو جو علم میں فلسفہ بگھارتا ہو کہ تم نے ایک ہی چیز کو پہچانا ہے اور بہت سی چیزیں تم سے غائب ہوگئیں ہیں " اور میں نے یہ طے کرلیا ان بچوں کو عقل ازہر کے ان بوڑھوں سے زیادہ ہے جن سے میرا مقابلہ ہوا تھا ۔ اور ان بزرگوں سے بھی زیادہ ہے جن کی معرفت مجھےٹیونس میں حاصل ہوئی تھی۔
اتنے السید الخوئی تشریف لائے اور ان کے ساتھ علماء کی ایک جماعت تھی جن کے چہرے سے ہیبت وقار ظاہر ہورہا تھا ۔ سارے طلاب تعظیم کے لئے کھڑے ہوگئے انھیں کے ساتھ میں بھی کھڑا ہوگیا ۔اور سب آگے بڑھ بڑھ کر السید الخوئی کا ہا تھ چومنے لگے لیکن میں اپنی جگہ پر میخ کی طرح قائم رہا ۔ سید کے بیٹھتے ہی سب بیٹھ گئے ۔ سید خوئی نے ہر ایک کو مخاطب کرکے مساکم اللہ بالخیر کہنا شروع کردیا ۔جس سے وہ کہتے تھے وہ بھی جواب
میں یہی کہتا تھا ۔ یہا تک کہ میرا نمبر آیا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا ۔اس کےبعد میرے دو ست نے سید خوئی سے آہستہ آہستہ میری طرف اشارہ کرکے کہا ۔ اور مجھ سے کہا آپ سید کے قریب آجائے ۔ سید نے مجھے اپنے داہنی طرف بٹھایا ۔سلام ودعا کے بعد میرے دوست نے مجھ سے کہا ۔ سید سے بتاؤ کہ ٹیونس میں تم شیعوں کے بارے میں کیا سنتے رہے ہو ؟ میں نے کہا برادر جو قصے کہانیاں وہاں سنتے رہے ہیں ۔ وہی ہمارے لئے کافی ہیں میرے نزدیک سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ میں یہ معلوم کروں کہ شیعہ کیا کہتے ہیں ؟ میں کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ جوابات بالکل صریح ہوں لیکن میرے دوست نے اصرار کرنا شروع کردیا کہ پہلے آپ سید کوبتا ئیے کہ آپ کا عقیدہ شیعوں کےبارے میں کیا ہے ؟
میں :-"ہمارے نزدیک شیعہ اسلام کے لئے یہودو نصاری سے زیادہ سخت نقصان دہ ہیں ۔ کیونکہ یہود ونصاری خدا کی عبادت کرتے ہیں ۔ جناب موسی کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں لیکن شیعہ ( جیسا کہ ان کےبارے میں سنا جاتا ہے) علی کی عبادت کرتے ہیں اور انھیں کی تقدیس بیان کرتے ہیں ۔ ہاں شیعوں میں ایک فرقہ جو خدا کی عباد کرتا ہے لیکن وہ بھی حضرت علی کو حضرت رسول کی جگہ جانتے ہیں ۔ پھر میں نے جبرئیل کا قصہ بتایا کہ شیعوں کی بنا پر انھوں نے کتنی بڑی خیانت کی کہ رسالت علی تک پہونچانے کے بجائے محمد کی پہونچا گئے ۔ سید خوئی نے تھوڑی دیر سرجھکا یا اور دیکھتے ہوئے کہا ہو گواہی دیتے ہیں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (ص) اللہ کے رسو ل ہیں ۔ خدا ان پر اور ان کے پا ک پاکیزہ آل پر رحمت نازل کرے اور (حضرت) علی اللہ کے ایک بندے ہیں ۔ اس کے بعد دوسرے بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اورمیری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے ۔دیکھو غلط پروپیگنڈے کس طرح لوگوں کو غلط راستہ پر ڈال دیتے ہیں اور یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے میں نے دوسروں سے اس سے بھی زیادہ سنا ہے ۔" لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم" اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے فرمایا
سید : کیا آپ نے قرآن پڑھا ہے ؟
میں :- دس سال کی عمر میں آدھا قرآن حفظ کرلیا تھا ۔
سید :- کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلامی فرقے اپنے مذہبی اختلاف کے باوجود کریم پر متفق ہیں ؟ جو قرآن ہمارے پاس موجود ہے ۔ وہی قرآن آپ حضرات کے پاس بھی موجود ہے ۔
میں :- جی ہاں ! اس بات کوجانتا ہوں ۔
سید :- پھر کیا آپ نے خداوندعالم کایہ قول نہیں پڑھا"وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل " (پ 4 س 3 (آل عمران) آیت 144) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تو صرف رسول ہیں (خدا نہیں ہیں ) ان سے پہلے اور بھی بہتر ے پیغمبر گزرچکے ہیں ۔۔۔ اسی طرح خدا کا یہ قول" محمد رسو ل الله والذین معه اشداء علی الکفار (پ 26 س 48 (فتح) آیت 29) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)خد کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر بڑے سخت ہیں اسی طرح خدا کای قول :ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبین (پ 22 س 23(احزاب) آیت 40) ۔(لوگو) محمد تمہارے مردوں میں سے (حقیقتا )کسی کے باپ نہیں ہیں ۔ بلکہ اللہ کے رسول اورآخری نبی ہیں ۔
میں :- جی ہاں ! میں ان آیات کو بخوبی جانتا ہوں ۔
سید:- پھر اس میں علی کو نبوت کا کہاں ذکر ہے ؟جب ہمارا قرآن محمد کو رسول اللہ کہتا ہے توہمارے اوپر یہ الزام کہاں سے لگا دیاگیا ؟ میں خاموش ہوگیا ۔میرے پاس کوئی جواب بھی نہیں تھا ۔سید نے پھر کہنا شروع کیا رہی جبریئل کی خیانت والی بات تو حاشا للہ (واستغفراللہ) یہ تو پہلے الزام سے بھی بد تر ہے ۔کیونکہ خدا نے جب جبرئیل کو آنحضرت کے پاس بھیجا ہے تو محمد کی عمر چالیس سال تھی اورعلی کا بچپنا تھا۔حضرت علی کی عمر چھ سال رہی ہوگی ۔ پس کیا جبرئیل بوڑھے اور بچے میں فرق نہیں کرسکتے تھے ؟
سید خوئی کی اس منطقی دلیل پر میں کافی دیرخاموش رہا ۔اور ان کی دلیلوں کےبارے میں
سرجھکائے ہوئے غور کرتارہا اور اس گفتگو کی چاشنی محسوس کرتارہا ۔جو میرے دل کی گہرائیوں میں اتر گئی تھی ۔ اور جس نے میری آنکھوں سے پردہ اٹھادیا تھا می اپنے دل میں کہہ رہا تھا اس منطق کو کون نہ مانے گا ؟
سید :- سید نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا میں آپ کوبتا نا چاہتا ہوں ۔ تمام اسلامی فرقوں میں صرف اور صرف ایک فرقہ شیعہ ہے جو انبیاء اور ائمہ کی عصمت کا قائل ہے ۔ جب ہمارے آئمہ جو ہماری طرح کے بشر ہیں ۔وہ معصوم ہیں تو پھر جبرئیل جو ملک مقرب اورخدا نے ان کو روح الامین کہا ہے بھلا وہ کیسے خطا کار ہوسکتے ہیں ؟
میں :- پھر ان پروپگنڈوں کا مدرک کیا ہے ؟
سید :- جو اسلام دشمن عناصر ہیں اور مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کرناچاہتے ہیں ایک کو دوسرے سےلڑانا چاہتے ہیں یہ انھیں لوگوں کی کارستانیاں ہیں ۔ ورنہ مسلمان سب آپس میں بھائی بھائی ہیں خواہ سنی ہوں یا شیعہ کیونکہ سب ہی ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں کوئی مشرک نہیں ہے سب کا قرآن ایک ہے نبی ایک ہے قبلہ ایک ہے ۔شیعہ وسنی میں صرف فقہی اختلافات ہیں جیسے خود اہل سنت میں ہیں کہ مالک ابو حنیفہ کے مخالف ہیں اور وہ شافعی کے و ھکذا ۔
میں :- اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ لوگوں کےبارے میں جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ محض افتراء ہیں ۔
سید:- آپ الحمداللہ عقلمند ہیں ۔تجربہ کار ہیں ۔ شیعہ شہروں کو دیکھا ہے ۔متوسط طبقوں میں گھومے بھی ہیں ۔ کیا آپ نے اس قسم کے خرافات اپنی آنکھوں سے دیکھی یا کسی شیعہ سے سنی ہیں ؟
میں :- جی نہیں ! نہ میں نے دیکھا ہے نہ سنا ہے میں خدا کی حمد کرتا ہوں کہ اس نے شپ میں استاد منعم سے میری ملاقات کرادی یہی میرے عراق آنے کا سبب بنے ہیں ۔ اور یہاں میں نے بہت سی چیزوں کو پہچانا ہے جن کومیں جانتا بھی نہیں تھا ۔
یہ سن کر میرا دوست منعم زور سے ہنسا وار بولا انھیں چیزوں میں سے حضرت علی کی قبر کا وجود بھی ہے ۔ میں نے اشارہ سے روکا اور کہنے لگا ۔میں نے یہاں آکر بہت کچھ سیکھا ۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان بچوں سے بھی سیکھا اورمیری تمنا ہے کا ش مجھے مہلت ملتی کہ اس طرح کے حوزہ علمیہ میں میں بھی تعلیم حاصل کرتا ۔
سید :- اھلاوسہلا ! اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو حوزہ آپ کی ذمہ داری لیتا ہے اور میں آپ کا خادم ہوں ۔اس پیش کش کو تمام حاضرین نے پسند کیا ۔خصوصا میرے دوست منعم کا چہرہ تو خوشی کے مارے دمک رہا تھا ۔
میں :- لیکن میں شادی شدہ ہوں بیوی کے علاوہ ودوبچے بھی ہیں ۔
سید :- میں آپ کے تمام لوزمات کا متکفل ہوتاہوں گھر ،تنخواہ اور جس کی بھی ضرورت ہو ۔اہم چیز یہ ہے کہ آپ تعلیم حاصل کریں ۔ میں نے تھوڑی دیرغور کرنے کے بعد اپنے دل میں کہا یہ بات غیر معقول ہے کہ پانچ سال مدرس رہ کر میں پھر طالب علم بنوں اور اتنی جلدی میں فیصلہ کرنا بھی آسان نہیں ہے ۔
میں نے سید خوئی کی اس پیشکش پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔اور عرض کیا کہ عمرہ سے واپسی کے بعد اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کروں گا ۔ ۔سردست تومجھے کتابوں کی شدید ضرورت ہے اس پر سید خوئی نے حکم دیا ان کو کتابیں دے دی جائیں اس حکم پر کچھ علماء اٹھے اور کچھ الماریوں کو کھولا اور پلک جھپکتے ہی میرے سامنے کتابوں کا انبار تھا ۔کچھ نہیں تو ساٹھ ستر دورے رہے ہوں گے ۔ ہر شخص ایک دورہ لے آیا اور سید خوئی نے فرمایا ۔یہ میری طرف سے ہدیہ ہے ! میں نے دیکھاکہ اتنی زیادہ کتابوں کا ہمراہ لے جانا بہت ہی مشکل ہے خصوصا جب کہ میں سعودیہ جارہا ہوں ۔اور سعودی حضرات کیس قسم کی کتاب اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیتے کہ کہیں ان کے عقائد کے خلاف باتیں لوگوں تک پہونچ جائیں ۔ لیکن میں نے ان کتابوں کے بارےمیں تفریط سے کام لینا چاہا" میں نے تو اپنی زندگی میں ایسی کتابیں نہیں دیکھی تھیں "
لہذا میں نے دوست منعم اور حاضرین سے کہا میرا راستہ کافی طویل ہے ۔دمشق واردن سے ہوتے ہوئے سعودیہ جانا ہے واپسی میں لمبا سفر ہے میں مصر ولیبیا ہوتا ہوا ٹیونس پہونچوں گا وزن کی زیاد تی کے علاوہ اکثر حکومتیں اپنے ملک میں کتابیں داخل ہونے دیتیں ۔ اس پر سید خوئی نے کہا : آپ اپنا ایڈریس ہم کو دیتے جائیے ہم آپ کے پتہ پر بھیجوا دیں گے ۔ یہ رائے مجھے بہت پسندآئی ۔چنانچہ میں انے اپنا شخصی کارڈ جس پر ٹیونس کا پتہ تھا ۔ ان کے حوالہ کردیا ۔اور شکریہ ادا کیا ۔جب رخصت ہوکر چلنے کے لئے کھڑا ہوا تو وہ بھی کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں آپ کے لئے سلامتی کی دعاکرتا ہوں ۔ آپ جب میرے جد کی قبر پر پہونچیں تو میرا سلام کہہ دیں ۔ اس جملہ سے تمام حاضرین متاثر ہوگئے اور میں بھی بہت متاثر ہوا ۔میں نے دیکھا ان کی آنکھیں ڈبڈبا آئی ہیں یہ دیکھ کر میں نے کہا ناممکن ہے کہ یہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ناممکن ہے کہ یہ جھوٹے ہوں ۔ ان کی ہیبت ، عظمت ،تواضع بتارہی تھی کہ واقعا یہ شریف خاندان سے ہیں ۔ پھر میں بے اختیار ہوکر معانقہ کرنے کے بجائے ان کے ہاتھوں کو چومنے لگا ۔ میرےکھڑے ہوتے ہی سب لوگ کھڑے ہوگئے اور مجھے سلام کرنے لگے ۔وہ بچے جو مجھ سے مجادلہ کررہے تھے ۔ کچھ ان میں سے میرے ساتھ ہوگئے ۔ اور مجھ سے خط وکتابت کے لئے میرا ایڈریس مانگنے لگے جومیں نے دےدیا ۔
سید خوئی کی مجلس میں جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے ایک کی دعوت پر ہم کو پھر کوفہ جانا پڑا اور یہ صاحب منعم کے دوست ابو شبر تھے ۔ہم ان کے گھر اترے اور چند مثقف (اپٹوڈیٹ) نوجوانوں کے ساتھ ساری رات ہم لوگوں نے باتوں میں کاٹ دی ۔ ان نوجوانوں میں کچھ سید محمد باقر الصدر کے شاگرد بھی تھے انھوں نے مجھ سے کہا کہ آپ سید صدر سے بھی ملاقات کریں ۔ اور انھوں نے اطمینان دلایا کہ اگلے دن ہم ملاقات کرادیں گے ۔ میرے دوست منعم کو بھی یہ تجویز بہت پسند آئی ۔لیکن ان کو اس کا بہت افسوس تھا کہ کہ کسی ضروری کا م کی وجہ سے جو بغداد میں درپیش ہے وہ ہمارے ساتھ باقرالصدر کے یہاں نہ جاسکیں گے ۔ آخر کار ہم لوگ اس
بات پر متفق ہوگئے کہ جب تک منعم بغداد سے واپس نہ آجائیں ہم سب ان کے انتظار میں تین چار دن ابو شبر ہی کے مکان میں قیام کریں ۔چنانچہ منعم نماز صبح کے بعد روانہ ہوگئے ۔ اور ہم لوگ سونے کے لئے چلے گئے ۔
یہ واقعہ ہے کہ جب طلاب کے ساتھ میں رات بھرجاگا تھا ۔ ان سے کافی استفادہ کیا اور مجھے اس پر کافی تعجب ہوا کہ حوزہ میں آخر کتنے مختلف قسم کے علوم فنون پڑھائے جاتے ہیں ۔ کیونکہ یہ طلاب علوم اسلامی مثلا فقہ ، شریعت ، توحید ، کے علاوہ اقتصادیات ، علم الاجتماع ،علم سیاست ،تاریخ ،لغات علوم فلک اور نہ جانے کیا کیا پڑھا کرتے تھے ۔
سید ابو شبر کےساتھ میں سید محمد باقر الصدر ےکے گھر کی طرف روانہ ہوا ۔راستہ میں انھوں نے مجھے مشہور علماء اور تقلید وغیرہ کے بارے میں بتانا شروع کیا ۔جب سید محمد باقر الصدر کے گھر میں داخل ہوئے دیکھا کہ پورا گھر طلاب علوم دین سے بھرا ہوا ہے زیادہ تر ان میں عمامہ پوش نوجوان تھے ۔ سید محمد باقرالصدر ہمارے احترام میں کھڑے ہوگئے اور سلام کیا ۔سبھوں نے مجھے آگے بڑھادیا ۔ سید محمد صدر نے میری بہت خاطر مدارات کی اپنے بغل میں بیٹھنے کی جگہ دی ، ٹیونس الجزائر اور وہاں کے مشہور علماء کےبارےمیں مجھ سے سوالات کرنےلگے جیسے الخضر حسین ، الطاہر بن عاشور وغیرہ وغیرہ ، مجھے ان کی گفتگو بہت پسند آئی ۔ اس ہیبت واحترام کے باوجود ان کے چہرے سے عیاں تھا اور جس کا اظہار حاضرین سے ہورہا تھا میں نے اپنے لئے کوئی زحمت نہیں محسوس کی ۔مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے میں ان کو پہلے سے جانتا ہوں ۔ اس جلسہ سے مجھے کافی فائدہ ہوا ۔کیونکہ طلاب کے سوالات اور سید کے جوابات دونوں کو سن رہاتھا اور اس وقت مجھے زندہ علماء کی تقلید کی قدروقیمت کا صحیح اندازہ ہوا جو بڑی وضاحت کے ساتھ اور ڈائریکٹ تمام اعتراضات کے جوابات دیتے ہیں ۔ اور مجھے یقین ہوگیا کہ شیعہ بھی مسلمان ہی جو صرف خدا کی عبادت کرتے ہیں ۔ اور محمد(ص) کی رسالت کو مانتے ہیں کیونکہ کبھی کبھی مجھے شک ہوتا تھا اور شیطان میرے دل میں وسوسہ پیدا کرتا تھا کہ میں نے جو کچھ دیکھا ہے کہیں صرف ایک ڈرامہ نہ ہو۔ جس کو یہ لوگ تقیہ کہتے ہیں ۔۔یعنی جوعقیدہ رکھتے ہیں اس کے برخلاف اظہار کرتے ہیں ۔۔۔۔لیکن یہ شک بہت جلد زائل ہوگیا اور وسوسے ختم ہوگئے کیونکہ یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ جتنے بھی لوگوں کو میں نے دیکھا اور سنا ہے (اور ان کی تعداد ہزاروں میں ہے) وہ سب کے سب محض
ڈرامہ پیش کرتے ہوں ، اورآخر اس ڈرامہ کی ضرورت کیا ہے ؟ میں ایسا کون سا آدمی ہوں ؟ ان کی نظروں میں میری کیا اہمیت کیوں ہونے لگی کہ یہ میری خاطر تقیہ کرنے لگیں ؟ اور پھر ان کی قدیم کتابیں جو صدیوں پہلے لکھی گئی ہیں ۔ یا نئی کتابیں جو مہینوں پہلے چھپ چکی ہیں سب ہی میں وحدانیت خدا اور ثنائے رسالت ہے جیسا کہ ان کتابوں کے مقدموں میں خود میں نے پڑھا تھا ۔ (پھر ان سب کو کیوں کر تقیہ پر محمول کروں ؟) اور اس وقت میں سید باقر الصدر کے مکان میں ہوں جو عراق وخارج عراق میں مشہور ترین مرجع ہیں جب بھی ان کی زبان پر نام محمد (ص) آتا ہے تمام حاضرین بیک زبان زور سے کہتے ہیں : اللھم صلی علی محمد وآل محمد ۔
جب نماز کا وقت آیا تو سب لوگ مسجد میں گئے جو سید کر گھر کے پہلو میں تھی ۔ وہاں سید صدر نے نماز ظہرین باجماعت پڑھائی ۔اور مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے میں صحابہ کرام کے درمیان زندگی کیونکہ ظہر وعصر کے بیچ میں ایک نمازی نے ایسی دعا پڑھی کہ میں جھوم اٹھا اس کی آواز میں جادو تھا ۔ دعا ختم ہونے کے بعد سب نے کہا " اللھم صلی علی محمد وآل محمد " پوری دعا میں خدا کی حمد وثنا تھی پھر محمد وآل محمد کی تعریف ودرود کا ذکر تھا ۔
سید صدر نماز کے بعد محراب میں بیٹھ گئے اور لوگوں نے چپکے چپکے اور زور زور سے مسائل پوچھنے شروع کردیئے وہ چپکے سے پوچھے گئے سوال کا جواب آہستہ سے اور زور سے پوچھنے گئے سوال کا جواب زور سے دیتے تھے ۔ سائل کو جب جو اب مل جاتا تھا تو سید کا ہاتھ چوم کر چلا جاتا تھا ۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے پاس ایسا جید عالم ہے جو ان کی مشکلات کو حل کرتا ہے اور انھیں جیسی زندگی بسر کرتا ہے ۔
آخر ہم سید صدر کی بزم وصحبت سے واپس آئے اور اسکی یادآج بھی ہمارے دل میں کسک پید اکرتی ہے ۔سید صدر نے ہمارے ساتھ جو عنایت ومہربانی اور میزبانی فرمائی تھی اس نے قبیلہ خاندان کیا مجھے اپنے اہل عیال کو بھلا دیا تھا مجھے ان کے حسن اخلاق ،تواضع ،عمدہ معاملہ کی وجہ سے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ اگر ایک ماہ ان کے ساتھ رہ گیا تو شیعہ ہوجاؤں گا
وہ جب بھی مجھے دیکھتے تھے مسکراتے تھے اور خود ابتدا بہ سلام کرتے تھے ۔ مجھ سے کہتے تھے کسی چیز کی کمی تو نہیں ہے؟ ان چاردنوں میں صرف سونے کے علاوہ ہر وقت ان کے ساتھ رہتا تھا ۔ان سے ملنے والوں اور ہر طرف سے آنے والے علماء کا تانتا بندھا رہتا تھا ۔ میں نے وہاں سعودیوں کو دیکھا جب کہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ حجاز میں بھی شیعہ ہوں گے ۔ اسی طرح بحرین ،قطر ،امارات ،لبنان ، سوریہ ،ایران ،افغانستان ، ترکی ،افریقہ ہر جگہ کے علماء آتے تھے اور سید بذات خود ان سے گفتگو فرماتے تھے۔ ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے اورجب وہ جاتے تھے تو خوش وخرم ہوکر جاتے تھے میں یہاں ایک واقعہ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ اور اس میں سید کا فیصلہ سنانا چاہتا ہوں اور اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کاذکر ضروری بھی تاکہ مسلمانوں کو احساس ہو کہ حکم خدا کو کھو کر انھوں نے کتنا بڑا نقصان اٹھایا ہے ۔
سید صدر کے پاس چار آدمی آئے میرا خیال ہے کہ و ہ سب عراقی تھے کیونکہ ان کا لہجہ چغلی کھارہا تھا ۔ ان میں سے ایک نے اپنے جد(دادا) سے مکان بطور میراث حاصل کیا تھا ۔اور اس مکان کو دوسرے کے ہاتھ بیج ڈالا تھا ۔ خریدار بھی موجود تھا ،بیچنے کے ایک سال بعد دو بھائی آئے اور انھوں نے ثابت کیا کہ میت کے شرعی وارث ہم ہیں لہذا مکان ہمارا ہے ۔چاروں سید کے سامنے بیٹھ گئے اور ہر ایک نے اپنے اپنے کاغذات اور دلائل پیش کئے ۔ سید صدر نے سارے کاغذات پڑھنے کے بعد ان سے گفتگو کی اور پھر چند منٹوں میں فیصلہ دے دیا کہ خریدار کو مکان میں حق تصرف ہے اور مکان اسی کا ہے اور بیچنے والے سے کہا تم نے مکان کی جو قیمت لی ہے وہ ان دونوں بھائیوں کو ان کے حصے کے برابر واپس کردو۔ اور پھر سب سید کا ہاتھ چوم کر روانہ ہوگئے اور آپس میں معانقہ کرنے لگے یہ دیکھ کر میں دہشت زدہ ہوگیا ۔مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔میں نے ابو شبر سے پوچھا کیا جھگڑا ختم ہوگیا ؟ اس نے کہا " ہاں ! سب نے اپنا حق لے لیا ۔میں نے کہا ۔ سبحان اللہ ! اتنی آسانی سے اتنے مختصر وقت میں
اتنا بڑا جھگڑا ختم ہوگیا ۔ ہمارے یہاں تو کم سے کم دس سال لگ جائے اور اس میں کوئی نہ کوئی مرجاتا ۔ اور پھر یہ چکر ان کی نسلوں میں چلتا ۔ اور محکمہ اور وکیلوں کو جو رقم دی جاتی وہ مکان کی قیمت سے زیادہ نہ بھی ہوتی تو اس مدت میں مکان کے برابر رقم ضرور خرچ ہوجاتی ۔اور پھر محکمہ ابتدائی (کچہری ) سے لے کر محکمہ استئناف(ہائی کورٹ) تک اور پھر جزا وسزا تک زمانہ گزر جاتا اور کمر توڑ اخراجات ،رشوتوں ،خستگی و پریشانیوں کے بعد انجام میں آپس میں عداوت ودشمنی قبیلوں میں بغض وعناد پیدا ہوتا ۔ ابو شبر نے بتایا ہمارے یہاں بھی یہی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ہے ! میں نے پوچھا وہ کیسے ؟ انھوں نے کہا اگر لوگوں نے اپنے مقدمات گورنمنٹ کی عدالت میں پیش کردئیے تو پھر ان کا بھی یہی حشر ہوتا ہے ۔ لیکن جولوگ دینی مرجع کی تقلید کرتے ہیں اور اسلامی احکام کی پابندی کرتے ہیں وہ اپنے جھگڑے صرف مراجع کرام کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ وہ حضرات منٹوں میں فیصلہ کردیتے ہیں ۔جیسا کہ تم نے ابھی دیکھا ۔اور عقلمند قوم کے لئے بھلا اللہ سے بہتر کون حکم کرسکتا ہے ؟ سید صدر نے تو ان سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا ۔لیکن اگر یہ حکومتی عدالتوں میں جاتے تو وہ لوگ ان کے سروں کو بھی ننگا کردیتے (یعنی جسم سے کپڑے اتار لیتے ) اس تعبیر ومحاورہ پر مجھے خوب ہنسی آئی کیونکہ یہ محاورہ ہمارے یہاں بھی آج تک بولا جاتا ہے میں نے کہا سبحان اللہ ! میں اب تک اس جھٹلاتا رہا ۔اور اگر میں نے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا ہوتا تو کبھی بھی باور نہ کرتا ۔ابو شبر نے کہا ۔برادر آپ اسکی تکذیب نہ کریں یہ تو بہت معمولی سا واقعہ ہے دوسرے واقعات جو بہت زیادہ الجھے ہوتے ہیں ۔ جن میں خون بہتاہے ایسے واقعات کا یہ مراجع چند گھنٹوں کے اندر فیصلہ کردیا کرتے ہیں ۔ میں نے تعجب سے کہا: اس کا مطلب یہ ہوا کہ عراق میں دومتوازی حکومتیں ہیں ؟ انھوں نے کہا نہیں نہیں حکومت تو صرف ایک ہی ہے لیکن وہ شیعہ حضرات جو مراجع کی تقلید کرتے ہیں ۔ ان کا حکومت سے کوئی واسطہ نہیں ہے کیونکہ اس وقت کی حکومت بعثی ہے اسلامی حکومت نہیں ہے اس لئے شیعہ حضرات یہاں سکونت کی وجہ سے شہری حقوق ،شخصی حقوق ، ٹیکس ،وغیرہ میں حکومت وقت ہی کے پابند ہیں ۔ لہذا اگر کسی غیر شیعہ سے
کوئی جھگڑا ہوجائے تویہ بھی مجبورا اپنا معاملہ گورنمنٹ ہی کی عدالتوں میں پیش کرتے ہیں ۔ کیونکہ غیر شیعہ مسلمان عالم دین کو قاضی بنانے پر راضی نہیں ہوتا لیکن اگر دونوں شیعہ ہوں تو پھر مراجع فیصلہ کرتے ہیں جیسے اگر دونوں غیرشیعہ ہوں تو حتما حکومت کے فیصلہ کو مانتے ہیں ۔ ہمارے یہاں دینی مرجع جو حکم دے دے وہ تمام شیعوں پر نافذ ہوگا ۔ اس لئے جن جگھڑوں کا فیصلہ مرجع کرتا ہے وہ اسی وقت ختم ہوجاتے ہیں ۔جبکہ حکومت کے فیصلے مہینوں کیا سالوں طول پکڑجاتے ہیں ۔یہ ایسی بات تھی جو میرے دل سے چپک گئی کہ ان لوگوں میں احکام الہی پر رضا مندی کا شعور ہے اور خدا کے اس قول کا مطلب سمجھ میں آگیا :
"ومن لم یحکم بما انزالله فاولیک هم الکافرون ومن لم یحکم بما انزالله فاولیک هم الظالمون ومن لم یحکم بما انزالله فااوالیک هم الفاسقون (پ 6 س 5(مائده ) آیت 44،45،47)
ترجمہ :- اور (سمجھ لو) بو شخص خدا کی نازل کی ہوئی (کتاب) کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں ۔۔۔۔اور جو شخص خدا کی نازل کی ہوئی (کتاب ) کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں ۔ اور جو شخص خدا کی نازل کی ہوئی (کتاب) کے موافق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بدکار ہیں ۔۔۔۔اسی طرح میرے دل مین ان ظالموں کے لئے نفرت وکینہ پیدا ہوگیا ۔ جو خدا کے مبنی بر انصاف "احکام کے بدلے بشری "مبنی بر ظلم " احکام کو اجرا کرتے ہیں ۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ بڑی بے شرمی وبے حیائی کے ساتھ احکام الہی کامذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں خدائی احکام وحشی وبربری ہیں ۔کیونکہ ان میں اجرائے حدود ہوتا ہے چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے ، زانی کو رجم کردیا جاتا ہے ۔قاتل کو قتل کردیا جاتا ہے ۔ بھلا سوچئے تو یہ اجنبی نظریات کہاں سے آئے ؟ ظاہر ہے یہ سب مغرب کی دین ہے اور اس دشمنا ن اسلام کی طرف سے پھیلائے گئے ہیں ۔جن پر اسلامی قوانین کی روسے قتل کا حکم نافذ ہوچکا تھا ۔کیونکہ یہ سب چور ،خائن ،زانی ،مجرم ،قاتل ہیں کاش ان پر احکام الہی نافذ ہوگئے ہوئے تو آج ہم سکون وچین سے سوتے ۔
سید صدر اور میرے درمیان اس دوران مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی اور میں ان سے ہر اس چھوٹی بڑی بات کے بارے میں سوال کرتا تھا ۔ جس کو میرے دوستوں نے شیعوں کے عقائد کے بارے میں مجھ سے بیان کئے تھے اور یہ کہ شیعہ صحابہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ۔اور اپنے ائمہ کےبارے میں کیا نظریات رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر وہ چیزیں جو ان کے عقائد کے خلاف تھیں ۔ ان کو نمک مرچ لگا کر مجھ سے بیان کرتے تھے میں نے ایک ایک کرکے سید صدر سے سب کے بارے میں پوچھا ۔
چنانچہ میں نے ان سے امام علی کےبارے میں پوچھا ۔کہ آپ لوگ آذان میں ان کی ولایت کی گواہی کیوں دیتے ہیں ؟
سید صدر:- حضرت امیر المومنین علی (ع) خدا کے ان بندوں میں تھے جن کو خدا نے منتخب کیا تھا اور ان کو شرف بخشا تھا کہ انبیاء کے بعد مسلسل کار ہائے رسالت کو انجام دیں اور وہی بندے انبیاء کے اوصیاء رہیں ۔ ہر نبی کا ایک وصی تھا اور حضرت علی رسول خدا کے وصی تھے ۔ خدا ورسول کی بیان کردہ فضیلتوں کی بنا پر ہم حضرت علی کو تمام صحابہ پر فضیلت دیتے ہیں ۔اور اس موضوع پر قرآن وحدیث سے نقلی دلیلوں کے ساتھ ہم عقلی دلیلیں بھی رکھتے ہیں اور ان دلیلوں میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ جہاں ہمارے اعتبار سے صحیح ومتواتر ہیں اہل سنت والجماعت کے طریقوں سے بھی صحیح ومتواتر ہیں ۔ہمارے علماء نے اس موضوع پر بہت کتابیں لکھی ہیں اور چونکہ اموی حکومت نے اس حقیقت کو چھپائے اور علی وآل علی سے جنگ کرکے ،ان کو قتل وغارت کرکے ،انتہا یہ ہے کہ مسلمانوں کے منبروں سے حضرت علی (ع) پر لعنت ۔سب وشتم کراکے اور لوگوں کو اس پر زور وزبردستی سے آمادہ کرکے حضرت علی کانام ونشان مٹا دینا چاہا تھا ۔ اس لئے ان کے شیعہ ان کے ماننے والے والوں نے اذان میں اعلان کرنا شروع کردیا وہ ولی اللہ ہیں اور کسی بھی مسلمان کے لئے ولی اللہ کو سب وشتم کرناجائز نہیں ہے یہ کام صرف ظالم حکومت کے ارادوں کو ناکام بنانے کے لئے کیاگیا تھا ۔
تاکہ عزت خد ا اس کے رسول اور مومنین ہی کے لئے رہے اور تاکہ یہ ایک تاریخی کارنامہ بن جائے جس سے مسلمان نسلا بعد نسل اس بات کا احساس کرتے ہیں کہ علی حق پر تھے اور ان کے دشمن باطل پر تھے ۔
ہمارے فقہا نے شہادت ثالثی (یعنی علی ولی اللہ ) کومستحب کہا ہے نہ کہ واجب کہا ہے ۔ ار نہ اقامت کا جزء کہا ہے ۔ اگر موذن یا اقامت کہنے والا جزء کی نیت سے کہے تو اس کی اذان واقامت باطل ہے اور عبادت و معاملات میں مستحبات توالی مااللہ میں ۔ جن کا شمار بھی ممکن نہیں ہے ۔ اگر کوئی ان کو بجالاتا ہے تو ثواب ملےگا نہیں بجالاتا ہے تو کوئی عقاب نہیں ہے ۔ مثلا مستحب ہے کہ"اشهد ان لا اله الا الله وان محمد رسول الله ک ے بعد اشهد ان الجنة حق وان النار حق وان الله یبعث من فی القبور کہے :
میں :- ہمارے علماءنے ہم کو بتایا ہے کہ افضل خلفاء بالتحقیق سیدنا ابو بکر الصدیق ہیں اس کے بعد سیدنا عمر فاروقہ یں ۔اس کے بعد سیدنا عثمان اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنھم اجمعین ہیں ۔؟
سید صدر:- تھوڑی دیر خاموشی رہنے کے بعد بولے :ہر ایک کے منہ میں زبان ہے جس کا جو جی چاہیے کہہ سکتا ہے لیکن ادلہ شرعیہ سے ثابت کرنا مشکل ہے ۔اس کے علاوہ اہل سنت کے معتبر کتابوں میں جو لکھا ہے یہ قول اس کے صریحی طور سے مخالف ہے کیونکہ ان کی کتابوں میں ہے افضل الناس ابو بکر ہیں اس کے بعد عثمان ان میں حضرت علی کا نام بھی نہیں ہے ان کو تو بازاری لوگوں میں شمار کیا گیا ہے ۔حضرت علی کا نام تو متاخرین علماء نے خلفائے راشدین کے نام کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔
میں:- اس کے بعد میں نے اس سے سجدہ گاہ کےبارے میں پوچھا جس کو یہ حضرات "التربۃ الحسینۃ کہتے ہیں ۔
سید صدر:- سب سےپہلی بات تو یہ معلوم ہونی چاہئے کہ ہم"مٹی پر سجدہ کرتے ہیں مٹی کو سجد نہیں کرتے
جیسا کہ بعض لوگ جو شیعوں کوبدنام کرتے ہیں اس قسم کی شہرت دیتے ہیں ۔سجدہ صرف خداوند عالم ہی کےلئے ہوتا ہے اور شیعہ سنی سب کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ سب سے افضل زمین پر سجدہ کرنا ہے یا جو چیزیں زمین سے اگتی ہوں ان پر سجدہ کرنا ہے بشرطیکہ کھائی نہ جاتی ہوں ۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز پرسجدہ جائز نہیں ہے ۔ رسول اسلام مٹی کا فرش بنالیتے تھے یہ کبھی مٹی اور گھاس پوس کی سجدہ گاہ بنا لیتے م تھے ۔اور اس پر سجدہ فراتے تھے ۔یہی تعلیم اصحاب کو بھی دی وہ لوگ بھی زمین پر یا سنگریزوں پر سجدہ کرتے تھے ۔ کپڑے کے گوشہ پرسجدہ کرنے سےمنع فرماتے تھے ۔ہمارے یہاں یہ چیزیں بدیہیات میں سے ہے امام زین العابدین نے اپنے باپ کی قبر سے تھوڑی سی مٹی اٹھالی تھی ۔ اور اسی پرسجدہ کرتے تھے کیونکہ وہ طیب وطاہر مٹی تھی ۔اس پر سید الشہدا کا خون بہاتھا ۔ یہی سیرت آج تک شیعوں میں جاری ہے ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ خاک شفا کرے علاوہ کسی مٹی پرسجدہ جائز ہی نہیں ہے ۔ بلکہ ہم کہتے ہیں ہرپاک مٹی اور پاک پتھر پر سجدہ جائز ہے ۔جیسے چٹائی اور اس سجاد ے پرجائز ہے جو کھجور کی پتیوں سے بنائے گئے ہوں ۔
میں :- سیدنا الحسین (رض) کا ذکر آجانے کی وجہ سے میں نے کہا :- شیعہ کیوں روتے ہیں ؟ اور کیوں منہ پر طمانچہ مارتے ہیں ؟ اور اتنا اپنے کو مارتے ہیں کہ خون بہتے لگتا ہے ۔یہ تو اسلام میں حرام ہے کیونکہ رسول اکرم کا ارشاد ہے :جو منہ پر طمانچہ مارے اور گریباں چاک کرے جاہلیت کے دعوے کرے کوہ ہم میں سے نہیں ہے !
سید صدر:- حدیث تو صحیح ہے لیکن امام حسین (ع) کے ماتم پر منطبق نہیں ہوتی کیونکہ جوخون حسین کا انتقام لینے کا اعلان کرے حسین کے راستہ پر چلے،وہ جاہلیت کا دعوی نہیں کرسکتا اس کے علاوہ شیعہ انسان ہیں ان میں عالم بھی ہیں اور جاہل بھی ہیں ۔ان کے بھی احساسات ہیں ۔ جب امام حسین اور ان کے اہل وعیال ،اصحاب وانصار کے قتل ، ہتک حرمت ، اسیری کا تذکرہ سنتے ہیں تو ان کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں ۔ اس پر وہ لائق اجر ہیں کیونکہ ان کی نیتیں سب فی سبیل اللہ ہیں ۔
اور خدا اپنے بندوں کی ان نیتوں پرجزادیتا ہے ۔ خود میں نے چند ہفتے قبل مصری حکومت کی رسمی تقریروں کو جو جمال عبدالناصر کی موت پر نشر کی گئی تھیں ۔سنا ہے اس میں کہا گیا تھا کہ جب جمال عبدالناصر کی موت کی خبر نشر ہوئی ہے تو آٹھ آدمیوں نے خود کشی کرلی تھی ۔ کچھ نے اپنے کو چھت کے اوپر سے گرادیا تھا ۔ کچھ لوگ ریل کے نیچے آکر کٹ گئے تھے ۔ وغیرہ وغیرہ زخمی اور دیوار ہوجانے والے اس کے علاوہ تھے ۔ اس قسم کے واقعات بہت ہیں ۔ جو صاحبان عواطف( جذباتی حضرات) کو درپیش آتے ہیں ۔ تو جب مسلمان جمال الدین عبدالناصر کی موت پر اپنے کو ہلاک کرسکتے ہیں ۔حالانکہ جمال عبدالناصر کی موت طبعی وفطری تھی ۔ تو کیا ہم شیعوں کویہ حق نہیں ہے کہ ہم اہل سنت کے بارے میں حکم لگائیں کہ وہ امام حسین پر گریہ کرنے کے سلسلے میں غلطی پر ہیں ۔ کیونکہ انھوں نے امام حسین کے عاشور کے مصائب ہی سننے میں زندگی کاٹ دی ہے ۔ اورآج تک مصائب ہی کی زندگی بسرکرتے چلے آرہے ہیں ۔ امام حسین پر تو خود رسول خدا روئے ہیں ۔ اور ان کے رونے پرجبرائیل رونے لگے ہیں تو کیا رسول کو غلط کہا جاسکتا ہے ؟
میں :- شیعہ حضرات اپنے اولیاء کے قبور پر سونے چاندی کے نقش ونگار کیوں بناتے ہیں ۔ جب کہ اسلام نے حرام قرار دیا ہے ؟
سید صدر:-یہ بات شیعوں ہی کے لئے مخصوص نہیں ہے اور نہ حرام ہے برادران اہلسنت کی مسجدیں خواہ وہ عراق میں ہوں یا مصرمیں یا ترکی میں میں یا کسی اور اسلامی ملک یمں ہر جگہ ان میں سونے چاندی کے نقش ونگار بنائے جاتے ہیں ۔ اسی طرح مدینہ میں مسجد رسول بھی ہے مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ پر ہر سال ایسا غلاف چڑھاتے ہیں ۔ جس پر سونے سے نقش ونگار اورآیات کندہ ہوتی ہیں اور کروڑوں درہم خرچ ہوتا ہے یہ بات شیعوں ہی کے لئے مخصوص نہیں ہے ۔
(این گناہی است کہ در شہر شما نیز کنند)
میں :- سعودی علماء کہتے ہیں ۔قبروں کا مس کرنا صالحین سے دعا کرنا ان سے حصول برکت کرنا
یہ سب شرک آپ کی کیا رائے ہے ؟
سید صدر:- اگر قبروں کو اس نیت سے مس کرنا (چومنا) اور صالحین سے یہ سمجھ کر دعا کرنا کہ یہ نفع وضرر پہونچاتے ہیں تب تو یہ شرک ہے اس میں دورائے نہیں ہیں ۔ مسلمان موحد ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ صرف خدا ہی نفع وضرر پہونچاتا ہے ۔ مسلمان اولیاء یا ائمہ (علیھم السلام )سے دعا اس لئے کرتا ہے کہ یہ حضرات خدا کی بارگاہ میں اس کے لئے وسیلہ بن جائیں ۔ اور یہ شرک نہیں ہے ۔اور اس بات پر تمام مسلمان چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی رسول خدا کے زمانہ سےآج تک متفق ہیں ۔ سوائے وہابیوں کے یعنی سعودی علماء کے جن کا آپ نے ذکر کیا ۔اور جو اپنے جدید مذہب سے جو اسی صدی کی پیداوار ہے ۔مسلمانوں کے اجماع کی مخالفت کرتے ہیں ۔ ان لوگوں نے اپنے اعتقادات کے ذریعے سارے مسلمانوں میں فتنہ کا بیچ بودیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قراردیدیا ہے ۔ان کا خون مباح قراردیدیا ۔ یہی وہ لوگ ہیں ۔جو بوڑھے جاجیوں کو صرف اس حکم پر اندھا دھند پیٹتے ہیں کہ وہ بیچارے جوش عقیدت میں کہتے ہیں : السلام علیک یا رسول اللہ" آنحضرت کی ضریح مقدس کو چومنے نہیں دیتے ۔ان لوگوں نے ہمارے علماء سے کئی مناظرے بھی کئے لیکن سب میں اپنی ہٹ دھرمی پر باقی رہے ۔
جناب سید شرف الدین ۔۔جو ایک شیعہ عالم تھے ۔۔۔جب عبدالعزیز آل سعود کے زمانہ میں حج سے مشرف ہوئے تو عید الاضحی کی تہنیت کے سلسلہ میں حسب معمول قصر ملک میں جن علماء کو دعوت دی گئی ان میں یہ بھی تھے ۔ جب ان کی باری آئی اور شاہ عبدالعزیز سے مصافحہ کیا تو شاہ کو ایک تحفہ پیش کیا ۔۔۔ وہ تحفہ قرآن تھا جو کھال کے غلاف کے اندر تھا۔۔۔۔۔ بادشاہ نے لے کر فورا احتراما اپنے سرپر رکھا اور چوما ۔ جناب سید شرف الدین نے اسی وقت کہا : اے بادشاہ !آپ اس جلد کو کیون چوم رہے ہیں ؟ اور اس کا کیوں احترام کررہے ہیں یہ تو بکری کی کھال ہے ؟ بادشاہ نے کہا :- میرا ارادہ اس قرآن کا ہے جو اس
جلد(کھال) کے اندر ہے میں اس غلاف کی تعظیم نہیں کررہا ہوں ! سید شرف الدین نے فرمایا:احسنت ایها الملک" ہم لوگ بھی جب حجرہ نبوی کی کھڑکی یا دروازے کو چومتے ہیں تو ہمارا مقصد کھڑکی یا دروازے کا احترام نہیں ہوتا ۔کیونکہ ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوہے کا ہے نہ نفع پہونچا سکتا ہے نہ ضرر ! ہم ان لکڑیوں اور اس لوہے کے پیچھے جوذات ہے اس کی یعنی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم کرتے ہیں ۔ جیسے غلاف کے احترام سے آپ کا مقصد قرآن کا احترام ہوتاہے ۔ اتنا کہنا تھا کہ سارے حاضرین نے خوش ہوکر نعرہ تکبیر بلند کی اور سب نے یک زبان ہو کر کہا :تم نے سچ کہا ! بادشاہ اس وقت مجبور ہوگیا اور اس نے حکم دیا کہ تمام حجاج کرام رسو لخدا (ص) کے آثار کو تبرک کے طور پر بوسہ دے سکتے ہیں ۔ یہاں تک کہ جب اس کے بعد دوسرا بادشاہ آیا تو اس نے پہلے والا طریقہ رائج کردیا ۔
قصہ لوگوں کے مشرک ہوجانے کا نہیں ہے ،قصہ سیاسی ہے جس کابنیادی مقصد مسلمانوں کی مخالفت ان کو قتل کرنا ہے ۔ تاکہ اس راستہ سے ان کا ملک ان کی سلطنت مضبوط ہوجائے ان لوگوں نے امت محمدیہ کے ساتھ جوکچھ بھی کیا ہے اس کا سب سے بڑا گواہ تاریخ ہے ۔
میں :- پھر میں نے صوفیت کے بارے میں پوچھا ۔
سید صدر:-نے مختصرا جواب دیا : اس میں کچھ پہلو اچھے ہیں اور کچھ اچھے نہیں ہیں ۔ اچھے پہلو! مثلا تربیت نفس ،نفس کو سخت زندگی کا عادی بنانا لذت دنیا سے کنارہ کشی، عالم ارواح کی طرف بلند پروازی وغیرہ ۔برے پہلو! گوشہ نشینی ،حقیقی زندگی سے فرار ،چند لفظی اعداد کے اندر ذکر خدا کو محدود کر دینا وغیرہ وغیرہ ۔اور اسلام (جیسا کہ سب ہی جانتے ہیں ) اچھے پہلوؤں کو قبول کرتا ہے ۔سلبی چیزوں کو ناپسند کرتا ہے ۔مجھے کہنے دیجئے کہ اسلام کے تمام مبادی اور تعلیمات ایجابی ہیں ۔ سلبی نہیں ہیں !
اس میں شک نہیں کہ سید محمد باقر الصد ر کے جوابات واضح اور قانع کرنے والے تھے ۔لیکن مجھ جیسا شخص جس نے اپنی عمر کے 25 سال تقدیس واحترام صحابہ کے ماحول میں گزارے ہوں خصوصا جس کے رگ وپے میں ان خلفائے راشدین کی محبت وعظمت سرایت کرچکی ہو جن کی سنت سے تمسک کرنے اور جن کے راستہ پر چلنے کی رسول خدا نے تاکید کردی ہو ۔ اور ان خلفاء میں بھی سرفہرست سیدنا ابو بکر وسیدنا عمرالفاروق ہوں ۔ اس کے دل ودماغ میں سید صدر کی باتیں کیسے اثرانداز ہوتیں ؟ میں نے جب سے عراق کی زمین پر قدم رکھا ہے سیدنا ابو بکر وعمر کانام سننے کے لئے میرے کان ترس گئے ہیں ۔ البتہ ان کے بدلے ایسے عجیب وغریب نام اور امور سننے میں آتے رہے ہیں ۔ جن سے میں بالکل ہی ناواقف ہوں ۔(مثلا)بارہ اماموں کے نام ۔ اور یہ دعوی کہ امام علی کے لئے رسول اللہ نے مرنے سے پہلے نص کردی تھی ۔(وغیرہ وغیرہ) بھلا میں اس بات کو کیونکر مان سکتا ہوں کہ تمام مسلمان یعنی صحابہ کرام جو رسول اللہ کے بعد خیرالبشر تھے وہ سب کے سب کیسے امام علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف متفق ہوگئے تھے ۔؟ حالانکہ ہم کو تو گہوارہ ہی سے یہ سیکھا یا جاتا ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنھم امام علی کا احترام کرتے تھے ۔ ان کے حق پہچانتے تے ۔کیونکہ آپ فاطمہ الزہرا (س) کے شوہر حسن وحسین (ع) کے باپ تھے ۔ باب مدینۃ العلم تھے ۔ جیسے کہ خود سیدنا علی علیہ السلام ابو بکر صدیق کے حق کو پہچانتے تھے جو سب سے پہلے مسلمان ،رسول اللہ کے غار کے ساتھی تھے جیسا کہ خود قران نے ذکر کیا ہے ۔رسول خدا نے اپنے مرض الموت میں نماز کی امامت بھی صدیق کے حوالہ کردی تھی ۔ اور فرمایا تھا : میں اگر کسی کو خلیل بناتا تو وہ ابو بکر ہوتے اور انھیں اسباب کی بنا پر مسلمانوں نے ان کو اپن خلیفہ چن لیا تھا ۔
اسی طرح امام علی سیدنا عمر کے حق کو بھی پہچانتے تھے جن کے ذریعہ خدا نے اسلام کو عزت بخشی ۔اور رسول اکرم نے ان کا نام فاروق (حق وباطل میں فرق کرنے والا) رکھا ۔ اسی طرح حضرت امام علی سیدنا عثمان کے حق کو بھی پہچانتے تھے جن سے ملائکہ رحمان حیا کرتے تھے ۔ اور جنھوں نے جیش العسرہ کوسازوسامان سے آراستہ کیا تھا ۔ جن کا نام رسول اللہ نے ذوالنورین رکھا تھا آخر یہ ہمارے شیعہ بھائی ان باتوں سے کیونکر جاہل ہیں ؟ یا پھر یہ لوگ تجاہل عارفانہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ایسے عام آدمی خیال کرتے ہیں جن کو خواہشات اور طمع دنیا حق کی پیروی سے باز رکھ سکتی ہے اور یہ لوگ رسول خدا کی وفات کے بعد ان کی نافرمانی کرنے لگتے ہیں ۔حالانکہ یہ وہی لوگ تو ہیں جو رسول کے احکام کی تعمیل میں ایک دوسرے پر سبقت لےجانے کی کوشش کیا کرتے تھے ۔ عزت اسلام ونصرت حق کی خاطر اپنے آباء اولاد ،خاندان تک کو قتل کردیا کرتے تھے ۔ انھیں میں ایسے بھی تھے جو رسول کی اطاعت کے لئے اپنے باپ اور بیٹے کو قتل کریتے تھے ۔ناممکن ہے کہ طمع دنیا ( حصول تخت خلافت) ان کو دھوکہ دے سکے اور یہ رسول کے بعد ان کی باتوں کو پس پشت ڈالدیں ۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ نہیں نہیں ناممکن ہے ۔ انھیں تصورات وخیالات کی بنا پر میں شیعوں کی ہر بات نہیں مانتا تھا ۔اگر چہ بہت سی باتوں پر میں قانع ہوچکا تھا ۔میں شک وحیرت میں پڑگیا ۔شک تو اس وجہ سے جو علمائے شیعہ نے میری عقل میں ڈال دیا تھا کیونکہ ان کا کلام معقول ومنطقی ہوتا ہے ۔ اور جس حیرت میں میں ڈوب گیا وہ یہ تھی کہ میرے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ صحابہ کرام (رض) کیا اس بد اخلاقی کے درجہ تک گر سکتے ہیں کہ ہماری طرح کے عادی انسان بن جائیں گے کہ نہ تو رسالت ان پر صیقل کرسکے اور نہ ہدایت محمدی ان کو مہذب بنا سکی ؟ اہم بات تو یہ ہے کہ یہی شک وحیرت کمزوری کی ابتدا اور اس بات کے اعتراف کا سبب بن گئی کہ دال میں کالا ضرور ہے جس کی تحقیق حقیقت تک پہونچنے کے لئے ضروری ہے ۔
ہمار دوست منعم آگیا تھا اور ہم لوگ عازم کربلا ہوگئے ۔وہاں پر ہم نے سیدنا الحسین کی محنتوں کا اندازہ اس طرح لگا یا جس طرح شیعہ لگاتے ہیں ۔ وہا ں جاکر ہم کو پتہ چلا کہ سیدنا الحسین مرے نہیں ہیں ان کی ضریح کے ارد گررد لوگوں کاہجوم اور پروانوں کی طرح گرنا ،تڑپ تڑپ کر رونا یہ سب ایسی باتیں تھیں کہ ہم نے اس کا مثل دیکھا ہی نہیں تھا ۔معلوم یہ ہوتا تھا ۔ کہ جیسے حسین ابھی شہید ہوے ہیں ۔ میں نے خطبیبوں کو دیکھا منبروں سے حادثہ کربلا کو نوحہ وزاری کے ساتھ ان طرح بیان کر رہے تھے کہ سننے والا اپنے دل پر قابو رکھ ہی نہیں سکتا تھا ۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے پر مجبور تھا ۔ اور پھر میں بھی رونے لگا بے تحاشا رونے لگا ۔ عنان صبر ہاتھوں سے چھوٹ گئی انپے نفس کو آزاد کردیا کہ دل بھر کر رولے ۔ اور جب میں چپ ہو تو مجھے ایسی روحانی راحت ملی ہے کہ جس سے میں اس کے قبل تک نا آشنا تھا ۔گویا پہلے میں حسین کے دشمنوں کی صف میں تھا اور اب دفعۃ ان کے ان اصحاب وانصار میں شامل ہوگیا جو اپنی جان فدا کرنے پر تیار تھے ۔ خطیب حر کا قصہ بیان کررہا تھا۔ یہ بھی پہلے ان فوجی سرداروں میں تھے جو حسین (ع) سے جنگ کے لئے آئے تھے لیکن (عاشورکے دن) میدان جنگ میں شاخ نخل کی طرح کانپ رہے تھے اور جب ان کے کسی ساتھی نے پوچھا ۔کیا تم موت سے ڈر رہے ہو؟ تو حر(رح) نے کہا نہیں خدا کی قسم نہیں ۔ بلکہ میں اپنے کو جنت ودوزخ کے بیچ میں پارہا ہوں یہ کہہ کر گھوڑے کر ایز لگائی اور حسین(ع) کی خدمت میں پہونچ کر کہنے لگے ۔فرزند رسول کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟۔۔۔۔اتنا سنتے ہی میں زمین پر گر کر بچھاڑ کھانے لگا گویا میں حر ہوں اور حسین سے کہہ رہا ہوں فرزند رسول(ع) کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ فرزند رسول مجھے معاف کردیجئے ۔خطیب کی آواز بہت اثر انگیز تھی ۔لوگ ڈھاڑھیں مار مار کر رونے لگے ۔ اسی وقت میرا دوست میری چیخ کی آواز سن کر متوجہ ہو ا اور روتاہوا مجھ پر جھک پڑا اور مجھے سینے سے اس طرح چمٹالیا ۔جیسے ماں بچہ کو چمٹا لیتی ہے اور بار بار کہہ رہا تھا یا حسین یا حسین (ع) وہ چند لمحے ایسے تھے جس میں میں حقیقی گریہ کا مطلب میری سمجھ میں آیا ۔ اور میں نے محسوس کیا جیسے میرے آنسوؤں نے میرے قلب اور اندر سےمیرے پورے جسم کو دھودیا ۔
اور رسول کی اس حدیث کا مطلب سمجھا! جو میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو بہت کم ہنستے زیادہ تر روتے !
تمام دن میں دل گرفتہ رہا ۔میرے دوست نے بہت ہی تسلی وتشفی دی بعض مرطبات کھانے کو لا کردئیے مگر سب بیکار ۔میری اشتہاء ختم ہوچکی تھی ۔ میں انے اپنے دوست سے کہا ۔ مقتل حسین کا قصہ مجھ کو سناؤ کیونکہ واقعات کربلا کے بارے میں نہ زیادہ نہ کم مجھے کچھ بھی معلوم نہیں تھا صرف اتنا جانتا تھا کہ جب ہمارے بزرگ اس کا ذکر کرتے تھے تو کہتے تھے ۔جن دشمنان اسلام ومنافقین نے سید نا عمر ،سیدنا عثمان کو قتل کیا اور سیدنا علی کو شہید کیا انھیں نے سیدنا (امام ) حسین کو بھی شہید کرڈالا۔اس سے زیادہ ہم کو کچھ بھی نہیں معلوم تھا ۔ بلکہ ہم تو عاشورا کے دن کو ایک اسلامی عید کے عنوان ے مناتے تھے ۔اس دن زکاۃ نکالی جاتی ہے قسم قسم کےکھانے پکائے جاتے ہیں ۔اشتہاء بڑھانے والی غذائیں تیارکی جاتی ہیں ۔ چھوٹے بڑوں کے پاس عیدی مانگنے جاتے ہیں ۔ تاکہ اس عیدی سے کھانے پینے اور کھیلنے کی چیزیں خریدی جاسکیں ۔
یہ صحیح ہے کہ بعض دیہاتوں میں کچھ تقلیدی اور رسمی امور پائے جاتے تھے مثلا وہ (عاشورکو) آگ روشن کرتے تھے ۔اس دن کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔نہ شادی بیاہ کی رسم انجام دیتے تھے ۔ نہ خوشی مناتے تھے ۔ لیکن ہم لوگ اس کو"عادت ورسم" کہہ کر ٹال دیا کرتے تھے ۔ ہمارے علماء عاشورا کے فضائل میں اس دن رحمتوں وبرکتوں کے بارے میں حدیثیں سنایا کرتے تھے ۔یہ بھی ایک عجیب بات ہے ۔
یہاں (حرم امام حسین ع) سے ہم لوگ حسین (ع) بھائی (جناب ) عباس کی ضریح کی زیارت کے لئے گئے مجھے تو خیر نہیں معلوم تھا کہ یہ کون ہیں؟ لیکن میرے دوست نے ان کی شجاعت وبہادری کا قصہ سنایا تھا ۔ متعدد وعلماء وافاضل سے بھی ہم نے ملاقات کی مگر مجھے کسی کا نام یاد نہیں ہے ۔ ہاں بعض کے القاب یاد ہیں ۔ جیسے بحرالعلوم السید الحکیم ،کاشف الغطاء ،آل یسین طباطبائی ، فیروز آبادی ،اسد حیدر وغیرہ ۔
اور حق یہ ہے کہ یہ بڑے تقوی والے علماء ہیں ۔ ان کے چہرے پر رعب وجلال ہے ۔ شیعہ ان کا بہت احترام کرتے ہیں ۔اپنے مال کا خمس ا ن کو لاکر دیتے ہیں ۔ اور یہ علماء انھیں رقوم س حوزات علمیہ کی ادارت کرتے ہیں ۔ مدارس بنواتے ہیں ۔ چھاپہ خانے لگواتے ہیں ،ہر اسلامی ملک سے آنے والے طالب علموں کا خرچ اسی سے دیتے ہیں ، یہ لوگ خود مستقل ہوتے ہیں حکام وقت سے دور یا نزدیک کا کوئی رابطہ نہیں رکھتے یہ ہمارے علماء کی طرح نہیں ہیں کہ جو فتوی تو فتوی گفتگو بھی اس حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں کرتے جو ان کوتنخواہ دیتی ہے اور جب چاہتی ہے تقرر کرتی ہے ۔اور جب چاہتی ہے معزول کردیتی ہے ۔
میرے لئے تویہ نئی دنیا تھی جس کا (کولمبس کی طرح) میں نے پتہ لگا یا خدانے میرے لئے انکشاف کردیا تھا ۔ اس دنیا سے نفرت کے بعد میں مانوس ہوچکا تھا ۔ عداوت کے بعد اس سے محبت کرنے لگاتھا ۔ اس دنیا نے مجھے نئے نئے افکار دیئے تھے ۔میرے دل میں اطلاع ۔ بحث ،تلاش ،جستجو کی محبت پیدا کردی تھی ۔تاکہ اپنی گمشدہ حقیقت کو پالوں جس نے میرے خیالات میں اس وقت ہلچل پیدا کردی تھی جب میں نے یہ حدیث پڑھتی تھی کہ بنی اسرائیل اکہتر 71 فرقوں میں بٹ گئے تھے اور نصاری 72 بہتر میں میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہوجائےگی ۔ایک کے علاوہ سب ہی جہنمی ہوں گے ۔
ادیان متعددہ کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے کو بر حق اور دوسرے کا باطل پر سمجھتا ہے ۔لیکن جب میں اس حدیث کو پڑھتا ہوں تو متحیر ہوجاتا ہوں ۔ میرا تبحر صرف حدیث پر نہیں ہے بلکہ ان مسلمانوں پر بھی ہے جو اس حدیث کو پڑھتے ہیں ، اپنے خطبوں میں تکرار کرتے ہیں ہیں اور بغیر کسی تحلیل کے گزر جاتے ہیں اور مدلول حدیث سے بحث ہی نہیں کرتے جس سے فرقہ "ناجیہ" کا پتہ چل سکے ۔
تعجب خیز بات یہ ہے کہ ہر فرقہ دعوی کرتا ہے کہ صرف وہی "فرقہ ناجیہ " ہے حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں یا رسول اللہ ؟ فرمایا ! وہ لوگ مراد ہیں جو اسی راستہ پر ہوں گے جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں اب آپ ہی بتا ئیے کیا کوئی ایسا فرقہ ہے جو کتاب وسنت سے متمسک ہو؟
یا کوئی ایسا اسلامی فرقہ ہے جو اس کے علاوہ کسی اور چیز کا مدعی ہو؟ اگر امام مالک یا ابو حنیفہ یا امام شافعی یا احمد بن حنبل سے پوچھا جائے تو کیا ان میں سے کوئی قرآن صحیحہ سے تمسک کے علاوہ کچھ اور کہہ سکتا ہے ۔؟
یہ تو سنیو ک فرق ہی اب انہی ک ساتہ اگر شیعہ فرقو کو جن کو می ہمیشہ فاسد العقیدہ اور منحرف سمجہا کرتا تہا بہی شامل کرلیا جائ تو یہ حضرات بہی مدعی ہی کہ ہم بہی قرآن اور سنت صحیحہ س متمسک ہی جو اہل بیت طاہرین س منقول ہ اور ان کا کہنا ہ گہر وال گہر کی بات زیادہ بہتر جانت ہی تو ایسی صورت می کیا یہ سب ک سب حق پر ہوسکت ہی ؟ ناممکن ہ کیونکہ حدیث شریف صرف ایک کو حق پر بتاتی ہ ہا سب ہی کا حق پر ہونا اس وقت ممکن ہ جب حدیث جعلی وجہوی مان لی جائ اور یہ اس لئ ناممکن ہ کہ حدیث سنی وشیعہ دونو ک یہا متواتر ہ یا یہ مان لیا جائ کہ حدیث کا نہ کوئی مدلول ہ نہ کوئی مطلب ؟ لیکن استغفراللہ جو رسول اپنی طرف س کچہ کہتاہی نہ ہو جس کی تمام حدیثی حکمت وعبرت ہو وہ کوئی ایسی بات کیونکر کہہ سکتا ہ جس ک مدلول ومعنی ہی نہ ہو اس لئ ہمار سامن اس بات ک علاوہ کوئی چارہ نہی ہ کہ ہم یہ تسلیم کرلی کہ صرف ایک ہی فرقہ جتنی ہ اور حق پر ہ باقی سب باطل پر ہی یہ حدیث جس طرح حیرت می ال دیتی ہ اسی طرح نجات چاہن وال کو تلاش حق پر مجبور کردیتی ہ یہی وجہ ہ کہ شیعو س ملاقات ک بعد میر اوپر حیرتو کا پہا و پا اور اندرونی طور س می مذبذب ہوگیا ہوسکتا ہ انہی کی بات حق ہو ممکن ہ کہ یہی سچ کہت ہو ؟ لہذا می خود ہی کیو نہ تحقیق کرالو تاکہ دودہ کا دودہ پانی پانی جدا ہوجائ اور خود اسلام ن اپن قرآن وسنت ک ذریعہ حکم دیا ہ کہ بحث وفحص ،تفتیش وتحقیق س کام لیا جائ قرآن کا ارشاد ہ ے "والذین جاهدوا فینا لنهدینم سبلنا " (پ 21 س 29 (عنکبوت) آیت آخری)اور جن لوگو ن ہماری راہ می جہاد کیا انہی ہم ضرور اپنی راہ کی ہدایت کری گ دوسری جگہ ارشاد ہ : الذین یستمعون القول فیتبعون احسنه اولئک الذین هداهم الله
والئک هم اولوالالباب (پ 23 س 39 (الزمر ) آیت 18)
ترجمہ:- جو لوگ بات کو جی لگا کر سنتے ہیں اور پھر ان میں سے اچھی بات پر عمل کرتے ہیں یہی لوگ وہ ہیں ۔جن کی خدا نے ہدایت کی اور یہی عقلمند ہیں ۔۔۔۔ خود رسول اکرم (ص) نے فرماایا :-" اپنے دین کے بارےمیں اس طرح بحث کر کہ لوگ تم کو دیوانہ کہنے لگیں "۔ لہذا بحث و فحص ہر مکلف پر شرعی واجب ہے ۔
اس عہد وپیمان اور سچے ارادے کے ساتھ عراق کےاپنے شیعہ دوستوں سے رخصت ہوا ان سے معانقہ کرکے رخصت ہوتے ہوئے مجھے بہت افسوس ہورہا تھا ۔کیونکہ میں نے بھی ان سے محبت کی تھی ۔اور انھوں نے بھی دل سے مجھے چاہا تھا ۔ میں ایسے عزیز دوستوں کو چھوڑ رہا تھا جنھوں نے میرے ساتھ خلوص کا برتاؤ کیا میرے لئے اپنے وقت کی قربانی دی کسی اور وجہ سے نہیں "جیسا کہ خود انھوں نے کہا ہم کسی خوف یا لالچ سے ایسا نہیں کررہے ہیں بلکہ صرف رضائے خدا کے لئے! کیونکہ حدیث میں ہے : اگر خدا تیری وجہ سے ایک شخص کو ہدایت کردے تو وہ پوری دنیا سے بہتر ہے ۔"
شیعوں کے وطن اور ان کے ائمہ کے عتبات عالیات کے شہر عراق سے بیس دن قیام کرکے وداع ہورہا تھا ۔ اور یہ بیس دن اس طرح گزرگئے جیسے کوئی لذیذ خواب دیکھنے والے کی تمنا ہوکہ خواب پورا کئے بغیر بیدار نہ ہو ۔ عراق کو مختصر سی مدت کے بعد چھوڑا جس پر افسوس رہا ۔ عراق میں ان قلوب کو چھوڑا جو محبت اہل بیت پر دھڑکتے ہیں ۔اور وہاں سے بیت اللہ الحرام وقبر سیدالاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وعلی آلہ الطیبن والطاہرین کی زیارت کے ارادہ سے حجاز کے لئے روانہ ہوگیا ۔
جدہ پہونچ کر میں اپنے دوست بشیر سے ملا جو میرے آنے سے بیحد خوش ہوگیا تھا ۔ فورا اپنےگھر لےگیا اور میرا بہت اکرام کیا : فرصت کے اوقات میں ہم کو اپنی گاڑی سے تفریح گاہوں ،مزارات وغیرہ گھماتا تھا ۔ ہم دونوں ایک ساتھ عمرہ کرنے گئے اور چند دن (دنیا ومافیھا کو بھول کر) صرف عبادت وتقوی میں غرق رہے ۔ میں نےاپنے دوست سے عراق چلے جانے کی وجہ سے جو ملاقات میں تاخیر ہوگئی تھی ۔ اس کی معذرت چاہی اور انکشاف جدید یا فتح کا تذکرہ بھی کیا ۔ اس نے بہت کھلے دل سے سب کچھ سنا ۔اور اس کو کچھ حالات پر اطلاع بھی تھی ۔ چنانچہ اس نے مجھ سے کہا : میں نے سنا ہے کہ آج کل (بھی) ان میں بہت بڑے بڑے علماء ہیں اور جو باتیں وہ کہتے ہیں ان کے یہاں ہیں ۔ بس ان متعدد فرقے ہیں جو کافر ومنحرف ہیں ۔ہر سال حج کے زمانہ میں میں ہمارے لئے مشکلات پیدا کردیتے ہیں میں نے پوچھا :- وہ کون سے مشکلات ہیں جو یہ لوگ پیدا کردیتے ہیں ۔ ؟ اس نےکہا : قبروں کے ارد گرد نمازیں پڑھتے ہیں ۔ بقیع میں گروہ درگروہ داخل ہوتے ہیں ۔روتے پیٹتے ہیں اپنی جیبوں میں پتھر کے ٹکڑے رکھے رہتے ہیں اس پر سجدہ کرتے ہیں اور جب سید نا حمزہ کی قبر پر پہونچتے ہیں تو سروسینہ پیٹتے ہیں ۔ایسا غل غپاڑہ مچاتے ہیں جیسے اسی وقت وہ مرتے ہیں ۔ انھیں تمام باتوں کی وجہ سے سعودی حکومت نے ان کے مزاروں میں داخلہ پر پابندی لگادی تھی !
میں نے مسکراتے ہوئے کہا کیا اسی لئے آپ لوگ ان کو اسلام سے منحرف کہتے ہیں ؟ اس نے کہا یہ اور اس کے علاوہ بھی ! یہ آتے تو زیارت رسول کے لئے ہیں لیکن رسول کی زیارت کے بجائے کھڑے ہو کر عمر وابو بکر کو گالیاں دیتے ہیں ان پر لعنت کرتے ہیں ۔ بعض تو ایسے (بے ہودہ )ہوتے ہیں جو ابو بکر وعمر کی قبروں پر غلاظت ونجاست ڈال دیتے ہیں ۔۔۔۔ اس سے مجھے اپنے والد ماجد کی بات
یادآگئی کہ جب وہ حج سے پلٹے تھے ۔ تو انھوں نے بھی یہی بات کہی تھی ۔ لیکن انھوں نے کہا تھا کہ
نبی کی قبر پر گندگی ڈال دیتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ میرے والد نے خود اپنی آنکھوں سے تو دیکھا نہیں تھا صرف سنا تھا ۔کیونکہ ان کا بیان اس طرح تھا : ہم نے سعودی سپاہیوں کو دیکھا کہ وہ بعض حاجیوں کو لاٹھی سے ماررہے ہیں ۔جب ہم لوگ نے اس پر اعتراض کیا کہ یہ حجاج بیت اللہ کی توہین ہے !
تو انھوں نے کہا ارے یہ مسلمان نہیں ہیں ۔یہ شیعہ ہیں جو غلاظتوں کو لے کر آئے تھے کہ قبر رسول پر ڈال دیں ! اس پر ہم لوگوں نے بھی ان پر لعنت کی اور ان پر تھوکا !
اوراب میں اپنے اس ساتھی سے جو سعودی ہے " مدینہ منورہ" میں پیدا ہوا ہے یہ سن رہاہوں کہ یہ لوگ قبر رسول کی زیارت کرنے آتے ہیں اور غلاضتوں کو ابو بکر وعمر کی قبروں پر ڈالتے ہیں ۔مجھے دونوں روایتوں میں شک ہے کیونکہ میں نے خود حج کیا ہے اور دیکھا ہے کہ وہ حجرہ مبارکہ جس میں رسول مقبول اور ابو بکر وعمر کی قبریں ہیں وہ ہر وقت مقفل رہتا ہے کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس حجرہ کے قریب جاکر اس کے دروازے یا کھڑکیوں کو بوسہ دے لے ۔چہ جائیکہ اس میں کچھ ڈال دے اور اور اولا تو اس لئے ناممکن ہے کہ اس حجرہ میں نہ تو سوراخ ہے اور نہ روشندان ہے ۔کہ جس سے کوئی چیز پھینکی جا سکے ۔ثانیا ایسے سخت قسم کے فوجیوں کا پہرہ ہر دروازے پررہتا ہے ۔جو نگرانی وحفاظت میں ماہر ہوتے ہیں ان کے ہاتھوں میں کوڑے ہوتے ہیں جس سے وہ لوگ ہر اس شخص کی پٹائی کردیتے ہیں جو دروازہ یا جالیوں کے قریب ہونا چاہیئے یا حجرہ کے اندر دیکھنا چاہے ۔ میرا گمان غالب یہ ہے کہ سعودی سپاہیوں میں جو لوگ شیعوں کو کافر سمجھتے ہیں ۔ انھوں نے شیعوں پریہ افتراء وبہتان لگایا ہے تاکہ شیعوں کو مارنے کا جواز پیدا ہوسکے یا کم از کم مسلمانوں کو ان سے جنگ پر آمادہ کیاجاسکے یا اتنا فائدہ تو ہوگا ہی کہ جب شیعوں کو مارا جائے گا تو لوگ خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہیں گے ۔ کوئی اعتراض نہیں کرسکے گا ۔ اور یہ لوگ جب اپنے اپنے ملکوں کو واپس جائیں گے تو شیعوں کے خلاف زبردست پروپیگنڈہ ہوجائے گا ۔کہ یہ لوگ رسول اللہ (ص) سے بغض رکھتے ہیں ۔آنحضرت (ص) کی قبر پر غلاظت ڈالتے ہیں اسی طرح ایک تیر سے دوشکار ہوجائے گا ۔
اس کی مثال ایسی ہے کہ مجھے ایک بہت ہی معتبرہ اور ثقہ فاضل نے بیان کیا : ہم لوگ خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے کہ ایک نوجوان کو اژدھام کی وجہ سے گرمی چڑھ گئی اس کو اچھو لگ گیا اور اس نے قے کردیا بس پھر کیا تھا حجر اسود کے حفاظت کرنے والے سپاہی اس پر ٹوٹ پڑے اور اتنا مارا کہ وہ ادھ مرا ہوگیا ۔ پھر اسے نکال دیا اور اس پر الزام لگا یا یہ نجاست لے کر آیا تھا کہ خانہ کعبہ پر مل دے ۔اس پر چند گواہ مہیا کرلئے اور اس بیچارے کو اسی دن قتل کردیا گیا ۔
میرے ذہن میں یہ خیالات فلمی تصویروں کی طرح گزر تے رہے اور کافی دیرتک میں اپنے سعودی دوست کے بارے میں سوچتا رہا کہ اس کے خیالات شیعوں کے بارے میں کیسے ہیں ؟ باربار اس کے یہ جملے : یہ لوگ گریہ وبکا کرتے ہیں ۔ منہ پر طمانچے مارتے ہیں پتھر پرسجدہ کرتے ہیں ۔ قبروں کے آس پاس نمازیں پڑھتے ہیں الخ باربار میرے ذہن میں آتے تھے اور میں نے اپنے آپ سے پوچھا کیا صرف ان باتوں سے کلمہ گو کو کافر قراردیا جاسکتا ہے ؟ یہ لوگ تو اقرار شہادتین کے ساتھ نماز بھی پڑھتے ہیں ۔ زکات بھی دیتے ہیں ، روزہ بھی رکھتے ہیں ،حج بھی کرتے ہیں ، امر بالمعروف ونہیں ازمنکر بھی کرتے ہیں ۔کیا ان باتوں کے باوجود یہ کافر ہیں ۔؟
میں اپنے دوست سے نہ دشمنی مول لینا چاہتا تھا اور نہ ایسی بحث کرنا چاہتا تھا ۔جس کا کوئی فائدہ نہ ہو اس لئے یہ کہہ کر : خداہم کو اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دے اور ان دشمنان دین پر خدا کی مارپڑے جو اسلام اور مسلمانوں کی جڑ کھودنے میں لگے رہتے ہیں ۔ !خاموش ہوگیا ۔ اس کے بعد اس عمرہ کے دوران اور جب بھی مکہ مکرمہ کی زیارت سے مشرف ہوتا( حالانکہ اس وقت بہت تھوڑے عمرہ کرنے والے طواف کرتے ہوتے تھے ) یہ معمول بنایا تھا کہ نماز پڑھ کے اپنے پورے وجود کے ساتھ گڑا گڑا کر خدا سے دعا کرتا تھا کہ میری بصیرت کھول دے اور حق وحقیقت کی طرف میری ہدایت فرمادے مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر میں نے اس آیت مبارکہ کو سامنے رکھ کر :"وجاهدو فی سبیل الله حق جهاده هو اجتباکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملة ابیکم ابراهیم هو سما کم المسلمین من قبل وفی هذا
لیکون الرسول شهیدا علیکم وتکونوا شهدا علی الناس فاقیموا الصلواة واتو الزکاة واعتصموا بالله هو مولا کم فنعم المولی ونعم النصیر (پ 17 س 22 (الحج آیت 78)
ترجمہ:- اور جو جہاد کرنے کا حق ہے خدا کی راہ میں (اس طرح )جہاد کرو۔ اسی نے تم کو برگزیدہ کیا ۔ اور امور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی ۔تمہارے باپ ابراہیم کے مذہب کو (تمہارا مذہب بنادیا ہے ) اسی خدا نے تمہارے پہلے ہی سے مسلمان (فرمانبردر بندے ) نام رکھا اور اس قرآن میں (بھی ) تو جہاد کرو تاکہ رسول تمہارے مقابلے میں گواہ نہیں اور تم توگوں کے مقابلہ میں گواہ بنو ۔اور تم پابندی سے نماز پڑھا کرو اور زکواۃ دیتے رہو اور خدا ہی کو مضبوط پکڑو وہی تمہارا سرپرست ہے اور کیا اچھا مددگار ہے ۔ کہنا شروع کیا ۔اور سیدنا ابراہیم یا اپنے باپ ابراہیم (جیسا کہ قرآن نے کہا ہے ) سے مناجات کرنے لگا : اے ہمارے باپ ،اے وہ ذات گرامی جس نے ہمارا نام مسلمان رکھا ہے ۔دیکھئے تو آپ کی اولادوں میں آپ کے بعد کتنا اختلاف ہوگیا ۔ کچھ عیسائی ۔کچھ مسلمان ہوگئے ۔پھر یہودیوں میں اختلاف ہوا وہ 71 فرقوں میں بٹ گئے ،عیسائی 72 فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور مسلمان تہتر فرقہ ہوگئے ۔اور سب کے سب گمراہ ہیں جیسا کہ آپ کے بیٹے محمد نے خبر دی ہے صرف لے دے کے ایک فرقہ آپ کے مذہب پر باقی رہ گیا ہے ۔
یہ اختلاف وتفرقہ کیا سنت الہی ہے جو اس نے اپنے بندوں میں جاری کیا ہے ؟ جیسے کہ قدریہ فرقہ کہتا ہے کہ خود خدا نے ہر شخص کے لئے معین کردیا ہے کہ وہ یہودی یا عیسائی ہوجائے یا مسلمان ہوجائے یا ملحد ہوجائے یا مشرک ہوجائے ۔۔۔یا یہ اختلاف وتفرقہ محبت دنیا اور تعلیمات الہی سے دوری کا نتیجہ ہے ؟ کیونکہ جب بندوں نے خدا کو فراموش کردیا تو خدا نے بندوں کو بھلا دیا ۔میری عقل قضا وقدر کی تصدیق پر تیار نہیں ہے کہ خود خدا ہی نے انسان کے انجام کو حتمی بنادیا ہے (بندے اس کو بدل نہیں سکتے ) میرا عقیدہ ویقین کہتا ہے
کہ خدا نے ہم کو پیدا کرکے ہدایت بخشی ، اچھے برے کی تمیز مرحمت فرمائی پھر انبیا ء ورسولوں کو بھیج کر ہمارے مشکلات کو حل کیا جو باتیں ہمارے لئے مبہم تھیں انبیاء نے ان کی وضاحت کردی ، حق وباطل کو پہچنوادیا ۔لیکن انسان کو زندگانی دنیا اور اس کی زیبائش نے انانیت وتکبر نے ،جہالت ونادانی نے عناد سرکشی نے ظلم وطغیان نے حق سے پھرادیا ،شیطان کا تابع بناکر رحمان سے دور کردیا ۔اس کو غیر جگہ پر پہونچا دیا ، اسی بات کو خدا بہت ہی اچھے اور مختصر پیرایہ میں اس طرح کہتا ہے :
ان الله لا یظلم الناس شیئا ولکن الناس انفسهم یظلمون(پ 11 (یونس ) آیه 44)
ترجمہ:- خدا تو بندوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا ۔لیکن یہ بندے خودہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں ۔
اے بابا ابراہیم ! یہودونصاری جنھوں نے آپسی دشمنی کی بنا پر بینہ آنے کے بعد بھی حق کی مخالفت کی ہے وہ اتنی زیادہ ملامت کے مستحق نہیں ہیں ۔ جتنی یہ امت مسلمہ جس کو خدا نے آپ کے بیٹے محمد کے ذریعے تاریکیوں سے نکال کر نور میں لے آیا ،جس کی خیر امت قراردیا ،اسی امت نے شدید اختلاف کے بیج بوئے ۔ تفرقہ اندازی کی ایک نے دوسرے کو کافر قرار دیا ۔ حالانکہ رسول اللہ نے پہلے ہی ڈرایا تھا ۔ پہلے ہی سے متنبہ کردیا تھا ۔ اور بڑی سختی سے فرمایا تھا ۔ کسی مسلمان کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی کوچھوڑ دے ،آخر اس امت کو کیا ہوگیا ہے جن کے درمیان پھوٹ پڑگئی ہے جو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ہے جو چھوٹی چھوٹی حکومتوں میں بٹ گئی ہے ۔ ایک دوسرے کوچھوڑ ے رہتے ہیں ۔۔۔ اے بابا ابراہیم ! اس امت کو کیا ہوگیا ہے جو کبھی خیرالامم تھی ۔ شرق وغرب اس کے زیرنگیں تھے جسنے پوری دنیا کو ہدایت ،علوم ،معرفت تہذیب وتمدن بخشا تھا ۔ آج وہ سب سے کم سب سے ذلیل ہوگئی ہے ۔اس کی زمین غصب کر لی گئی اس کے افراد کو ان کے وطن سے دیس نکال دے دیا گیا ہے ان کی مسجد اقصی مٹھی بھر صہیونیوں کے
قبضہ میں ہے ۔ وہ اس کو آزاد بھی نہیں کراسکتے ۔اگر آپ مسلمانوں کے شہروں کو دیکھیں تو ہر جگہ فقر فاقہ بھکمری فقیری ،ویران زمینیں ،مہلک امراض بدخلقی ،کج فکری ،ظلم وستم ،گندگی حشرات الارض صرف بیت الخلاء لے لیجئے یورپ میں کیسے ہیں اور ہمارے یہاں کیسے ہیں ؟ اگر مسافر یورپ کے کسی بیت الخلاء میں جاتا ہے تو سب کے سب صاف وشفاف شیشہ کی طرح چمکتے ہوے بہترین قسم کی خوشبو لیکن ہمارے یہاں کے بیت الخلاء ،معاذاللہ ان کی کثافت ،نجاست ،گندگی ،بدبو کی وجہ سے مسافر قدم نہیں رکھ سکتا ۔حالانکہ ہم وہ ہیں کہ جس کو اسلام نے بتایا ہے ۔نظافت جزو ایمان ہے " گندگی جزو شیطان ہے ، کیا ایمان یورپ میں اور شیطان ہمارے یہاں منتقل ہوگیا ہے ؟ آخر مسلمان اپنے عقیدے کے اظہار سے کیوں ڈرتے ہیں ؟ حد یہ ہے کہ اپنے ملکوں میں اظہار نہیں کرسکتے ۔مسلمان کو اپنے اوپر بھی اختیار نہیں ،چہرہ پر اختیار نہیں ہے ۔ وہ داڑھی نہیں رکھ سکتا ۔اسلامی لباس نہیں پہن سکتا ،لیکن فاسق علی الاعلان شراب پی سکتا ہے ،زنا کرسکتا ہے ،آبرو ریزی ہتک عزت کرسکتا ہے ۔اور مسلمان اس کو روک نہیں سکتا ۔بلکہ امر بمعروف ونہی از منکر نہیں کرسکتا ۔مجھے لوگوں نے یہاں تک بتایا کہ بعض اسلامی ملکوں میں جیسے مصرو مغرب (وغیرہ )باپ اپنی بیٹی کو شدت فقرہ احتیاج کی بنا پر حرام کاری کرے لئے مجبور کرتاہے
فلا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم
خدایا ! تو نے اس امت سے کیوں دوری اختیار کر لی ! تو نے کیوں اس امت کو اندھیرے میں ڈبوڈیا تا ہوا چھوڑدیا؟ نہیں نہیں ۔خدا یا میں تیری جناب میں استغفار کرتا ہوں ۔تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں (بلکہ )یہ امت ہی تجھ سے دورہوگئی اسی نے شیطان کا راستہ اختیار کرلیا ۔تو نے تو اپنی کتاب میں خودہی کہا ہے : ومن یعش عن ذکر الرحمان نقیض له شیطانا فهو له قرین (پ 25 س 43(الزخرف) آیت 36)
ترجمہ:- اور جو شخص خدا کی یاد سے اندھا بنتا ہے ہم (گویا خود) اس کے لئے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو ہوی اس کا (ہر دم کا )ساتھی ہے
وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیه فلن یضرالله شیئا وسیجزی الله الشاکرین (پ 4 س 3 (آل عمران)آیت 144)
ترجمہ:- اور محمد تو صرف رسول ہیں (خدا نہیں ہیں ) ان سے پہلے اور بھی بہتر ے پیغمبر گزرچکے ہیں ۔پھر کیا اگر (محمد) اپنی موت سے مرجائیں یا مار ڈالے جائیں تو تم پاؤں (اپنے کفر کی طرف) پلٹ جاؤ گے؟ اور جو الٹے پاؤں پھرے گا (بھی )تو سمجھ لوکہ ) ہرگز خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑے گا اور عنقریب خدا کا شکر کرنے والوں کو اچھا بدلہ دےگا ۔
اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ امت مسلمہ جس پستی ،رسوائی فقیری تک پہونچ گئی ہے یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ صراط مستقیم سےبھٹک چکی ہے ۔اور اس میں بھی شک نہیں ہے کہ مٹھی بھر لوگ یا ایک فرقہ پوری امت کے زاویہ فکرو مسیر کو نہیں بدل سکتا رسول خدا نے پہلے ہی فرمایا تھا ۔ تم لوگ امر بمعروف ونہی ازمنکر کرتے رہنا ورنہ خدا تمہارے اوپر تمہارے بروں کو مسلط کردے گا ۔تو تمہارے نیکوں کی دعائیں بھی مستجاب نہ ہوں گی ! پالنے والے تو نے جو نازل کیا ہے ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں تیرے رسول کی پیروی کرتے ہیں ۔ لہذا ہم کو شاہدین میں شمار کرے میرے معبود ہدایت کے بعد ہمارے دلوں کوکج نہ کر ہم پر اپنی رحمت نازل فرما تو بڑا ہی بخشش کرنے والا ہے ۔خدایا ہم نے خود ہی اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہم کو معاف نہ کیا ہم پر رحم نہ کیا تویقینا ہم گھاٹے میں رہیں گے ۔
اپنے دوست بشیر کا خط اس کے رشتہ دار کے نام لے کر میں نے مدینہ منورہ کاسفر کیا تاکہ جب تک مدینہ میں رہوں بشیر کے رشتہ دارہی کے پاس قیام کروں ۔میری روانگی سے پہلے بشیر نے ٹیلفون سے بھی بات کرلی تھی ۔مدینہ پہونچتے ہی میرے میزبان نے مرحبا اور اپنے گھر لے گیا ۔سامان وغیرہ رکھنے کے بعد میں نے سب سے پہلے دیار رسول میں پہونچ کردربار رسول میں حاضری دی ۔لیکن حاضری سے پہلے غسل کیا ۔سب سے اچھا اور پاک وپاکیزہ لباس پہنا
خوشبو لگائی پھر بیتابانہ چلا ۔لیکن زمانہ حج کے اعتبار سے زائرین کی کافی کمی تھی ۔ اس لئے بہت ہی آرام سے رسول اللہ و ابو بکر وعمر کی قبور کے سامنے کھڑا ہوگیا ۔حج کے موقع پر یہ شرف نہیں حاصل کرسکا تھا کیونکہ اژدھام بہت تھا اور میں نے بلاوجہ یہ کوشش کی تھی کہ بطور تبرک کسی جالی کو بوسہ دے سکوں ۔میرے ارادہ کو تاڑتے ہی وہاں پر کھڑے ہوئے سپا ہی نے مجھے زور سے ڈانٹا وہاں ہر ہر دروازہ پر سپاہی رہتا ہے ۔ اور جب دعا اور دوستو کے سلام کو پہونچانے میں مجھے وہاں کچھ دیر کھڑا رہنا پڑا تو سپاہی نے حکم دیا کہ واپس جاؤ ۔میں نے چاہا بھی کہ ان میں سے کسی ایک سے بات کروں مگر بے فائدہ !
میں وہاں سے واپس آکر روضہ مطہرہ میں اس جگہ بیٹھ گیا جہاں بیٹھ کر قرآن پڑھا کرتا تھا اور لحن سے قرآن پڑھنے لگا ۔ اورباربار تکرار کرتا تھا ۔مجھے یہ خیال ہوتا تھا کہ جیسے رسول اللہ میری تلاوت کوسماعت فرمارہے ہیں تلاوت کرتے کرتے میں سوچنے لگا ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ دوسے مردوں کی طرح رسول خدا بھی مردہ ہوں ؟ اگر ایسا ہے تو ہم اپنی نمازوں میں مخاطب کرتے ہوئے کیوں کہتے ہیں" السلام علیک ایها النبی ورحمة الله وبرکاته " (اے نبی آپ پر خدا کیا سلام اور اس کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ) اور جب تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ سیدنا خضر علیہ السلام زندہ ہیں اور سلام کرنے والوں کو جواب دیتے ہیں ۔بلکہ صوفی طریقوں کے جملہ مشائخ کا حتمی عقیدہ ہے کہ شیخ احمد تیجانی یا عبدالقادر جیلانی ان کے پاس جاگتے میں (خواب میں نہیں) ظاہر بظاہر آتے ہیں ۔ تو پھر ہم رسول خدا (ص) کے بارے میں اس قسم کی کرامت کے سلسلے میں کیوں بخل کرتے ہیں ؟حالانکہ آنحضرت (ص) علی الاطلاق افضل الخلق ہیں ۔لیکن پھر یہ سوچ کر سکون ہوا کہ تمام مسلمان ایسا نہیں کہتے صرف وہابیوں کا عقیدہ ہے ۔جن سے میں اب متنفر ہونے لگا تھا ۔ ایک تو اسی وجہ سے اور دوسرے بہت سے اسباب کی وجہ سے ۔ منجملہ ان کے وہ سختی بھی ہے جس کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہے کہ جو مومنین ان کے عقیدہ کے خلاف ہیں ان پر کس قدر شدت وسختی کرتے ہیں (آپ سوچ بھی نہیں سکتے )۔
ایک مرتبہ میں بقیع کی زیارت کے لئے وہاں کھڑے ہو کر ارواح اہل بیت (ع) کے لئے ترحم کی دعا
کررہا تھا ۔اور میرے قریب ہی ایک بہت ہی بوڑھا شخص رورہا تھا ۔اس کے رونے سے میں سمجھ گیا ۔یہ شیعہ ہے اس کے بعد وہ روبقبلہ ہو کر نماز پڑھنے لگا ۔ اور وہ جیسے ہی سجدہ میں گیا ۔ میں نے ایک فوجی کو دیکھا جو (تقریبا)دوڑ تا ہوا آیا شاید وہ دیرسے اس بوڑھے کے حراکات وسکنات کی نگرانی کررہا تھا ۔اور آتے ہی زور سے ٹھوکر ماری کہ بڈھا الٹ گیا اور چند منٹ تک وہ ہوش وحواس ہی کھو بیٹھا تھا اور فوجی جوتوں ،گھونسوں ،لاتوں سے ایک طرف اسی کی پٹائی کررہا تھا اور دوسری طرف گالیوں کی بوچھار کررہا تھا ۔یہ دیکھ کر مجھ سے ضبط نہ ہوسکا اور مجھے خیال ہوا کہ شاید بڈھا مرچکا یمں نے فوجی سے کہا : ارے کیوں مار رہے ہو یہ نماز پڑھ رہا تھا ۔ تم یہ حرام کام کیوں کررہے ہو؟ فوجی نے مجھے بی لتاڑ پلائی اور دھمکی دی کہ اگر خاموش نہ رہے تو تمہاری بھی یہی گت بنادوں گا اور جب میں نے اس کی آنکھوں میں شرارے دیکھے تو الگ ہوگیا ۔ اور اپنے اوپر سخت غصہ آرہا تھا کہ مظلوم کی مدد بی نہیں کرسکتا ۔ اور سعودیوں پر بھی غصہ آرہا تھا کہ بغیر کسی روک ٹوک کے جس کے ساتھ جو بی چاتا ہے برتاؤ کرتے ہیں ۔کوئی ایسا نہیں ہاے جو انکو اس روک سکے ؟ کچھ زائرین بھی وہاں تھے جو اس منظر کو دیکھ رہے تھے ۔بعض نے کہا "لاحول ولا قوة الا بالله " اور بعض نے کہا یہ بڈھا نے کہا یہ بڈھا اسی کا مستحق تھا ۔ یہ قبور کے پاس نماز پڑھ رہا تھا اور یہ حرام ہے یہ سن کر میں اپنے کو قابو میں نہ رکھ سکا اور پھٹ پڑا کہ : کس نے کہا کہ قبروں کے پاس نماز حرام ہے ؟ اس نے کہا رسول اللہ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے ۔میں نے بغیر کچھ سوچھے کہہ دیا کہ تم لوگ رسول خدا پر الزام لگاتے ہو ! پھر میں ڈرا کہیں یہ سب مجھے نہ چمٹ جا ئیں یا اس فوجی کو آوازیں دیدیں اور وہ میرا حال بھی بڈھے جیسا کردے لہذا بہت نرمی سے بولا اگر رسول اللہ نے منع کیا ہے تو لاکھوں آدمی کیوں مخالفت کرتے ہیں؟ کیونکہ حجاج زائرین فعل حرام کا ارتکاب کرتے ہیں؟ کیونکہ قبر رسول وابوبکر وعمر کے آس پاس مسجد نبوی میں نمازیں پڑھتے ہیں ؟ اور پورے اسلامی ممالک کی مسجدوں میں نماز پڑتھے ہیں اور اگر مان بھی لیاجائے قبروں کے پاس نماز حرام ہے تو کیا اتنی شدت سے روکنا چاہیے یا نرمی سے؟مجھے آپ اجازت دیں تو اس اعرابی کا قصہ سناؤں جس نے رسول اللہ کی مسجد میں پیشاب کردیا تھا ۔خود رسول واصحاب رسول کی موجودگی میں بلا کسی شرم وحیا کے
اس نے موت دیا ۔ اورجب بعض حضرات ننگی تلوار لیکر اٹھے کہ اس کو قتل کردیں تو رسول اللہ نے روک دیا اور فرمایا ۔اس کو چھوڑ دو اس پر سختی نہ کرو ۔جہاں اس نے پیشاب کیا وہاں ایک ڈول پانی بہا دو تم کو آسانی کے لئے پیدا کیاگیا ہے ۔ نہ یہ کہ سختی کرنے کے لئے ۔لوگوں کوخوش رکھنے کے لئے نہ کہ نفرت دلانے کے لئے ۔پھر تمام صحابہ نے حکم رسول کی پابندی کی اور رسول خدا نے اعرابی کوپکار کر اپنے پاس بٹھایا ۔مرحبا کہا بہت نرمی اور لطف ومدارات سے گفتگو فرمائی اور اس کو سمجھایا ۔یہ خدا کا گھر ہے اس کو نجس نہیں کرنا چاہیے ۔اخلاق رسول کو دیکھ کر اعرابی مسلمان ہوگیا ۔ اور پھر ہمیشہ مسجد میں اچھے اور پاک لباس میں آتا تھا ۔خدا وند عالم نے کتنی سچی بات اپنے رسول سے کہی ہے " ولوکنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک (پ 4 س 3(آل عمران) آیت 159)
ترجمہ:- تم اگر بد مزاج اور سخت دل ہوئے تب تو یہ لوگ (خدا جانے کب کے ) تمہارے گرد سے تتر بتر ہوگئے ہوتے ! قصہ سننے کے بعد بعض موجود حضرات بہت متاثر ہوئے اور ایک شخص مجھے الگ لے جا کر پوچھنے لگا ۔ : آپ کہاں کے رہنے والے ہیں ؟ میں نے کہا :ٹیونس کا اس نے مجھے سلام کیا ۔ اور کہا :- برادر ! تم کو خدا کا واسطہ اپنی جان کی حفاظت کرو ۔یہاں اس قسم کی بات ہرگز نہ کرو میں تم کو قربۃ الی اللہ نصیحت کرتا ہوں ۔آپ نے ان لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے بغض وکینہ پیداکرلیا ہے ۔ یہ لوگ جو اپنے کو حرمین کا نگران سمجھتے ہیں اور حاجیوں کے ساتھ ایسی سختی کا برتاؤ کرتے ہیں کسی میں یہ جراءت نہیں ہے جو اپنی رائے جو کا اظہار کرسکے یا ایسی روایات بیان کرسکے جو ان کی روایتوں کے موافق نہ ہو یا ایسے عقیدہ کا اظہار کرسکے جو ان کے عقیدے کے مخالف ہو۔
میں نے اپنے نئے دوست کے گھر واپس آگیا جن کا نام بھی نہیں جانتا تھا ۔ وہ رات کا کھانا لے کر آئے اور میرے سامنے بیٹھ گئے کھانا شروع کرنے سے پہلے ہی انھوں نے مجھ سے پوچھا کہا ں کہاں گئے تھے ؟ میں نے شروع سے لے کرآخر تک اپنا پورا قصہ بیان کردیا اور بڑے واضح لفظوں میں کہہ دیا ۔بھائی اب مجھے وہابیت سے نفرت ہونے لگی ہے اور شیعیت کی طرف میلان بڑھتا جارہا ہے ۔اتنا سنتے ہی ان کے چہرہ کا رنگ بد ل گیا اور مجھ سے کہنے لگے ۔ خبردار اب
اس قسم کی گفتگو دوبارہ نہ کرنا ۔اتنا کہہ کر مجھے چھوڑ کر چلے گئے ۔میں انتظار کرتے کرتے تھک گیا سوگیا ۔علی الصباح مسجد نبوی کی اذان سے قبل میں بیدار ہوا تو دیکھا کھانا اسی طرح اپنی جگہ رکھا ہوا ہے جس سے میں سمجھا کہ میرا میزبان پھر پلٹ کر نہیں آیا ۔ اب میں اس کے بارے میں مشکوک ہوگیا اور مجھے خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں وہ سی آئی ڈی کا آدمی نہ ہو ۔ لہذا میں فورا اٹھا اور مکان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر نکل کھڑا ہوا ۔ دن بھر تو حرم نبوی میں رہا زیارت کرتا تھا نمازیں پڑھتا تھا ۔صرف قضائے حاجت اور وضو کے لئے باہر نکلتا تھا ۔نماز عصر کے بعد ایک خطیب کو سنا جو نمازیوں کو وعظ کررہاتھا ۔ میں بھی ادھر ہی چلا گیا ۔ بعض موجودلوگوں سے پتہ چلا کہ یہ مدینہ کا قاضی ہے میں نے بڑی توجہ سے سنا وہ شخص بعض آیتوں کی تفسیر بیان کررہا تھا ۔ درس ختم کرکے جب وہ جانے لگا تومیں نے روک کر پوچھا ۔ سیدی !آیہ تطہیر سے مراد کون لوگ ہیں ؟ اس نے فورا کہا ! ازواج مطہرات جن کے ذکر سے آیت کی ابتدا ء ہوئی ہے : یا نساء النبی لستن الخ ۔ میں نے کہا :شیعہ علماء تو صرف پنجتن پاک کے لئے مخصوص کہتے ہیں ۔ فطری بات ہے کہ میں نے پراعتراض کیا کہ آیت میں ابتدا یا نساء النبی (اے نبی کی بیویو) سے ہوئی ہے انھوں نے کہا: جہاں تک رسول کی عورتوں سے خطاب تھا ۔ تمام صیغے جمع مونث کے لائے گئے ۔مثلا :لستن ۔۔۔ان اتقیتن ،فلا تخضعن ۔۔قلن ۔۔ قرن۔۔ بیوتکن ۔۔۔ لاتبرجن ۔۔ اقمن ۔۔۔ آتین۔۔۔۔ اطعن ۔وغیرہ اور جب ان کی بات ختم اہل بیت کا ذکر آیا تو صیغہ بھی بدل گیا ۔۔لیذھب عنکم ویطہرکم " کہا گیا ۔ میری بات سنکر اس نے چشمہ اٹھا کر دیکھتے ہوئے کہا: خبردار ان زہریلے افکار سے ہوشیار ہوجاؤ ۔شیعہ کلام خدا کی من مانی تفسیر کرتے ہیں ۔ حضرت علی اور ان کی ذریت کے بارے میں ان کے پاس ایسی ایسی آیتیں ہیں ۔ جس کو ہم لوگ نہیں جانتے ان کے پاس مخصوص قرآن ہے جس کو یہ مصحف فاطمہ " کہتے ہیں میں تم کو ہوشیار کرتا ہوں کہیں ان کے چنگل میں نہ پھنس جاؤ ۔
میں نے کہا سیدی ! اس کی تو آپ فکر نہ کریں ان کے بارے میں مجھے بہت کچھ معلوم ہیں تو حقیقت جاننا چاہتا تھا ۔ قاضی نے کہا : تم کہا ں کے رہنے والے ہو؟ عرض کیا ٹیونس کا ۔
تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے کہا :- التیجانی ! یہ سن کر قاضی بڑے فخر سے ہنسا اور بولا ! کیا تم جانتے ہو احمد التیجانی کون تھا؟ میں نے کہا:- ہاں وہ شیخ الطریقہ تھے ۔قاضی نے کہا ! وہ فرانسیسی استعمار کا ایجینٹ تھا ۔ الجزائر اور ٹیونس میں فرانس کے قد م صرف اسی کی وجہ سے جمے تھے ۔ اگر تم کبھی پیرس جاؤ تو قومی لائبیریری "ضرور دیکھنا اور وہاں قاموس فرنسی کاخود مطالعہ کرنا باب (1) کے اندر تم پڑھوگے کہ فرانس نے "وسام الشرف" (فرانس کا سب سے بڑا تمغہ)احمد التیجانی کو اس کے ان خدمات کے صلہ میں جو اس نے فرانس کے لئے انجام دیئے تھے ۔دیا تھا ۔ اور وہ خدمات ایسے تھے جن کا قیاس بھی نہیں کیا جاسکتا مجھے اس کے قول سے تعجب ہوا ۔بہر حال شکریہ ادا کرکے میں ان سے رخصت ہو کر چلا آیا ۔مدینہ میں پورے ایک ہفتہ قیام کیا تاکہ چالیس نمازیں پڑھ لوں ۔اور تمام زیارتیں بھی کرلوں مدینہ کے دوران قیام میں بہت باریک بینی سے کام لیتا رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہابیت سے نفرت بڑھتی گئی مدینہ منورہ سے کوچ کرکے اردن پہنچا وہاں اپنے دوستوں سے ملاقات کی جن سے زمانہ حج تعارف ہوا تھا اور جس کی طرف میں پہلے اشارہ کرچکا ہوں ۔
ان لوگوں کے پاس تین دن رہا ۔یہ لوگ شیعوں سے کینہ ہم لوگوں سے زیادہ رکھتے ہیں وہی روایات وہی پڑوپیگنڈے جو ٹیونس میں تھے ۔ یہاں بھی تھے ۔ جس سے بھی میں نے پوچھا تم کسی دلیل سے شیعوں کو دشمن رکھتے ہو؟ سب ہی نے سنی سنائی باتیں دہرادیں دلیل نام کی چیز کسی کے پاس نہیں تھی ۔ اور نہ ان میں سے کسی نے شیعوں کی کتابیں پڑھی تھیں ۔ نہ شیعوں سے نشست وبرخاست کی تھی ۔ حد یہ ہے کہ اپنی زندگی میں کسی شیعہ سے ملاقات تک نہیں کی تھی ۔
اردن سے سوریہ آیا ۔ دمشق میں جامع اموی" کو دیکھا اس کے پہلو میں مرقد سر امام حسین ہے اس کی زیارت کی ۔صلاح الدین ایوبی ، اور سیدہ زینب کے ضریح کی زیارت سے مشرف ہوا ۔ بیروت سے ڈائریکٹ طرابلس گیا ۔ سمندری سفر پورے چاردن جاری رہا ان چار دنوں یمں جسمانی اور فکری دونوں سکون ملا ۔ پورے سفر کی ریل میرے ذہن میں چلتی رہی اور اس کا انجام یہ ہوا کہ بیک وقت میرے دل میں شیعوں کی طرف جھکاؤ اور میلان جتنا بڑھا ۔وہابیت سے دوری ونفرت بھی اتنی ہوتی گئی ۔
الحمد للہ ان کی دسیسہ کاریوں کو میں نے پہچان لیا ۔خدا نے جو فضل وانعام مجھ پر فرمایا ۔اور جو عنایت ومہربانی فرمائی اس پر اس کی حمد کی اور اس سے دعا کی مجھے راہ حق کی ہدایت کرے ۔
آخر سرزمین وطن پر پہنچا ۔ سب سے زیادہ بے چینی خاندان اہل عیال دوستوں سے ملنے کی تھی ۔شکر خدا سب بخیر وعافیت تھے ۔م
گھر میں داخل ہوتے ہیں مجھے معلوم ہوا کہ میری عدم موجودگی میں بہت سی کتابیں آئی ہیں ۔ میں فورا سمجھ گیا کہا ں سے آئی ہیں ۔ اورجب ان بنڈلوں کو کھولا تو پورا گھر کتابوں سے بھر گیا ۔ اس سے ان لوگوں کا احترام اور ان سے محبت مزید بڑھ گئی ۔جو وعدہ خلافی نہیں کرتے اور میں نے دیکھا کہ مجھے وہاں جنتی کتابیں بطور تحفہ پیش کی گئی تھیں ۔ان کی کئی گنا کتابیں میرے گھر بھیجی گئی ہیں ۔
میری خوشی کی انتہا نہ رہی ایک کمرہ میں جس کا نام میں نے کتب خانہ رکھا ۔ تمام کتابوں کو ترتیب سے رکھا ۔اور چند دن آرام کئے چونکہ درسی سال کی ابتدا ہورہی تھی ۔اس لئے ایک ٹائم ٹیبل تیار کیا ۔جس میں تین دن مسلسل پڑھانے کے اور چار دن آرام کے ہر ہفتہ میں رکھا ۔
اس کے بعد کتابوں کے مطالعہ میں جٹ گیا ۔چنانچہ"عقایدالامامیه " "اصل الشیعه واصولها" کو پڑھنے کے بعد میری ضمیر کو بہت سکون ملا ۔کیونکہ خود میرا ضمیر بھی انھیں عقائد کو پسند کرتا تھا جو شیعوں کے تھے اس کے بعد ،سید شرف الدین الموسوی کی کتاب "المراجعات" پڑھی ابھی چند ہی صفحاپ پڑھے تھے کہ کتاب کی کشش نے پڑھنےپر مجبور کردیا ۔ اور پھر یہ عام ہوگیا کہ کسی شدید مجبوری کے بغیر میں کتاب چھوڑتا ہی نہیں تھا ۔کبھی کبھی تو کالج میں بھی اپنے ساتھ لئے چلا جاتا تھا شیعہ عالم کی صاف گوئی وصراحت اور سنی عالم کی مشکلات کو حل کردینے نے مجھے دہشت زدہ کردیا تھا کتاب کی صورت مین میری آرزو مجھے مل گئی ۔کیونکہ یہ کتاب عام دھرے پر نہیں لکھی گئی تھی ۔ کہ مولف کا جو جی چاہے کسی مناقشہ ومعارضہ کے بغیر لکھ دے ۔ بلکہ "المراجعات "دومختلف مذہب (شیعہ وسنی ) کے دو زبر دست عالموں کے درمیان گفتگو ۔۔۔خط وکتابت کی صورت میں ۔۔۔ہوئی تھی جس میں ہر چھوٹی وبڑی چیز کا دونوں ایک دوسر ے سےمحاسبہ کرتے تھے ۔ اور پوری بحث کا دارومدار مسلمانوں کے دو بنیادی مدارک پر تھے ۔۔۔۔ یعنی قرآن کریم اور سنت صحیحہ ۔۔۔اس پوری بحث کو اس میں جمع کردیا گیا تھا ۔ پس وہ کتاب کیا تھی گویا جو یائے حقیقت کو منزل تک پہنچانے والی تھی ۔ یہ کتاب بہت ہی مفید ہے اور میرے اورپر اس کا بہت بڑا احسان ہے
اس کتاب کوپڑھتے پڑھتے جب میں اس منزل پر پہونچا کہ صحابہ احکام (اوامر) رسول کی پابندی نہیں
کرتے تھے تو میں مبہوت ہوگیا ۔ مولف نے اس کی مثالیں دی ہیں ان میں ایک تو روزپنچشنبہ کی مصیبت کا حادثہ ۔۔۔۔ اس سے واقعہ قرطاس مراد ہے ۔۔۔۔ کیونکہ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سیدنا عمر ابن الخطاب حکم رسول پر اعتراض کرسکتے ہیں اور ان کی طرف (معاذاللہ) ہذیان کی نسبت دے سکتے ہیں ۔ شروع میں تو مجھے یہی گمان ہوا کہ یہ شیعوں کی روایت ہے ۔لیکن میری حیرت و دہشت کی اس وقت انتہا نہیں رہی جب میں نے یہ دیکھا کہ شیعہ عالم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالہ سے نقل کررہا ہے میں نے اپنے دل میں کہا اگر یہ روایت واقعا صحیح بخاری میں ہے تو پھر اس میں ایک رائے ہوگی میں نے فورا ٹیونس کا سفر کیا اور وہاں سے صحیح بخاری ،صحیح مسلم، مسند امام احمد ۔صحیح ترمذی ، موطا امام مالک ۔انکے علاوہ دوسری مشہور کتابوں کو خریدا میں نے گھر آنے کا بھی انتظار نہیں کیا ۔ٹیونس سے قفصہ تک کا راستہ بھر بخاری کوالٹ پلٹ کر واقعہ قرطاس تلاش کرتا رہا ۔ اگر چہ میری دلی تمنا تھی کہ وہ نہ ملے مگر میری بد قسمتی کہ وہ عبارت مل گئی اور میں نے اس کو کئی مرتبہ پڑھا جیسا شرف الدین نے لکھا تھا وہی تھا ۔ میں نے چاہا سرے سے اصل واقعہ ہی کوجھٹلادیا جائے کیونکہ سیدنا عمر ایسا اقدام نہیں کرسکتے لیکن جو باتیں صحاح میں ہیں ان کا کیونکر انکار کیا جاسکتا ہے ۔ اور صحاح بھی اہل سنت کی ۔ اسکے بارے میں ہم لوگ چوں بھی نہیں کرسکتے اور جسکی صحت کی گواہی پر مہر تصدیق ثبت ہے ۔ صحاح میں شک کرنا بعض کو جھٹلا دینے کا مطلب سارے معتقدات کو چھوڑ دینا ہے ۔اگر شیعہ عالم اپنی کتابوں سے نقل کرتا تو میں قیامت تک تسلیم نہ کرتا لیکن اس نے اہل سنت کی صحاح سے نقل کیا ہے جس میں خدشہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ہم نے خود یہ طے کر رکھا ہے کہ قرآن کے بعد سب سے صحیح کتاب بخاری ہے اس لئے اس کو ماننا پڑے گا ۔ ورنہ پھر صحاح میں شک کرنا پڑے گا اور صحاح میں شک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس احکام میں سب سے کوئی ایسی چیزیں نہیں ہے جس پر ہم بروسہ کرسکیں کیونکہ کتاب خدا میں جو آئے ہیں وہ مجمل طور سے ہیں ۔ صحاح کے انکار نہ کرسکنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہم لوگ عہد رسالت سے بہت بعد میں آئے ہیں دینی احکام "ابا من جد" جو بھی ہم کو وراثت میں ملے ہیں انھیں صحاح کے وساطت سے ملے ہیں لہذا ان کتابوں کو نہ چھوڑا جاسکتا ہے ۔نہ جھٹلا یا جاسکتا ہے اس مشکل بحث میں داخل ہوتے ہی میں نے اپنے نفس سے یہ عہد لیا تھا کہ صرف انھیں صحیح
حدیثوں پر بھروسہ کرونگا جو شیعہ سنی دونوں کے یہاں متفق علیہ ہوگی اور ان تمام حدیثوں کو چھوڑ دوں گا ۔جن کو صرف سنی یا شیعوں نے لکھا ہوگا ۔ اس معتدل طریقہ پر عمل کرکے میں جذباتی اثرانگیزیوں سے دور رہ سکوں گا اور مذہبی وقومی یا وطنی تعصبات سے محفوظ رہ سکوں گا اور اسی کے ساتھ شک پر عمل نہیں کروں گا ۔تاکہ حبل یقین یعنی صراط مستقیم تک پہونچ سکوں ۔
تمام بحثوں میں سب سے امہم بحث (جس کو "سنگ بنیاد " کہا جائے ) اصحاب کی زندگی ان کے عقائد کردار کی بحث ہے جو انسان کو حقیقت تک پہنچادیتی ہے کیونکہ ہر چیز کے لئے یہی حضرات ستون ہیں ۔ انھیں سے ہم نے دین لیا ہے تاریکیوں میں احکام خدا کی معرفت کے لئے انھیں کے نور سے روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ چونکہ علمائے ماسبق صرف انھیں حضرات پر اکتفا کرتے تھے لہذا ان کے بارے میں ان کی سیرت کے بارے میں کافی بحث وتمحیص سے کام لیا ہے ۔ اور متعدد کتابیں تالیف فرمائی ہیں ۔مثلا" اسدالغابہ فی تمیز الصحابہ " "الاصابہ فی معرفۃ الصحابہ "" میزان الاعتدال" اور نہ جانے کتنی کتابیں ہیں جن میں زندگانی صحابہ کو نقد وتحلیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔۔۔ لیکن سب اہل سنت کے مخصوص نظریہ کے مطابق لکھی گئی ہیں ۔
اس لئے ان میں یہ اشکال ہے کہ پہلے والے علماء نہ صرف یہ کہ تاریخ وسیرت کی کتابین عباسی اور اموی حکّام کے حسب منشاء لکھاکرتے تھے جن کی اہل بیت سے دشمنی طشت ازبام ہے بلکہ جو بھی اموی وعباسی حکمرانوں کے نقش قدم پر چلتا تھا یہ علمائے کرام صرف انھیں کے چشم وابرو کے اشارے پر رقص کرتے تھے اس لئے صرف انھیں کے اقوال کو حجت سمجھ لینا اور دوسرے ان علماء کے اقوال کو
کو کوڑے دان میں ڈال دینا انصاف سے بعید نہیں ہے ۔ جنھیں صرف ولائے اہل بیت کے جرم میں حکومتوں نے قتل کردیا ۔ملک بد کردیا ۔ان پر مصائب کے پہاڑ توڑ دیئے ۔ان کی زندگی اجیرن بنادی ۔ان ظالم ومنحرف حکومتوں کے خلاف انقلاب کا مرکز بھی یہی علماء تھے ۔ ان تمام چیزوں میں بنیادی چیز "صحابہ " تھے ۔کیونکہ یہی وہ لوگ تھے جب رسول اکرم نے قیامت تک گمراہی سے بچانے والی تحریر لکھنی چاہی تو اختلاف کربیٹھے ۔یہی حضرات ہیں جنھوں نے امت اسلامیہ کو فضیلت سے محروم کردیا اور گمراہی کے راستہ پر ڈال دیا کہ آج امت ٹکڑیوں میں بٹ گئی ۔کئی حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ اختلافات پھوٹ پڑے ۔امت کمزور ہوگئی ۔ اسلام کا رعب ودبدبہ مخالفین کے دلوں سے جاتارہا ۔
یہی تھے جنھوں نے خلافت میں اڑنگے لگائے ۔کچھ لوگ حکومت حاصل کر لینے میں کامیاب ہوگئے کچھ لوگ مد مقابل بن کر ابھرے ۔جس کے نتیجے میں شیعہ علی اور شیعہ معاویہ میں امت تقسیم ہوگئی ۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے کتاب خدا اور حدیث رسول کی تفسیر میں اختلاف ڈال دیا جس کے نتیجہ میں متعدد فرقے پیدا ہوگئے ۔مختلف کلامی وفکری مدارس وجود میں آگئے ،مختلف فلسفے ظاہر ہوگئے جن کا سرچشمہ سیاسی اسباب تھے ۔ اور حصول تخت وتاج تھا ۔
اگر صحابہ نہ ہوتے تو نہ مسلمان تقسیم ہوتے نہ آپس میں اختلاف ہوتا جتنے بھی اختلافات ہوئے ہیں یا ہونگے ان کی بازگشت صحابہ کے اختلاف کی طرف ہے ۔حالانکہ سب کا خدا ایک ہے ،قرآن ایک ،رسول ایک قبلہ ایک ، اور سب ہی ان چیزوں پر متفق ہیں ۔ لیکن رسول کے انتقال کے بعد سب سے پہلا اختلاف سقیفہ بنی ساعدہ میں رونما ہوا جو آج تک جاری ہے ۔اور (عقیدت صحابہ کی برکت سے)الی ماشا اللہ باقی رہے گا میں نے علمائے شیعہ سے گفتگو کرکے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ان کے یہاں صحابہ کی تین قسمیں ہیں ۔
وہ نیک صحابہ جنھوں نے خدا ورسول کی کما حقہ معرفت حاصل کی اور موت پر بیعت کی ،رسول کے سچے صحابی رہے قولا وعملا رسول کے بعد بھی نہیں بدلے بلکہ اپنے عہد پر باقی رہے اور یہی
وہ اصحاب ہیں جن کی خدانے اپنی کتاب میں متعدد جگہ تعریف وتوصیف کی ہے اور رسول نےبھی بکثرت ومواقع پر ان کی مدح سرائی کی ہے شیعہ ان اصحاب کاذکر بڑے احترام وتقدیس سے کرتے ہیں اور جس طرح اہل سنت احترام وتقدیس کرتے ہیں رضی اللہ کہتے ہیں شیعہ بھی یہی سب کہتے اور کرتے ہیں ۔
ان اصحاب کی ہے جو اسلام لائے اور رسول کی پیروی کی خواہ خوف سے خواہ شوق سے مگر کی ، یہ لوگ رسول پر احسان جتاتے تھے کہ ہم ایمان لائے اور بعض اوقات رسول کو اذیت بھی پہونچاتے تھے ۔آنحضرت کے اوامر ونواہی کی بجا آوری نہیں کرتے تھے ۔بلکہ نصوص صریحہ کے مقابلہ میں اپنی رائ کی اہمیت دیتے تھے ۔یہاں تک کہ کبھی تو قرآن نے ان کی توبیخ کی اور کبھی ان کی تہدید کی اور بہت سی آیتوں میں ان کو رسوا بھی کیا ۔ رسول نے بھی بہت سی حدیثوں میں ڈرایا دھمکایا ہے ۔شیعہ ان اصحاب کا ذکر ان کے افعال کے ساتھ کرتے ہیں ۔نہ کوئی احترام کرتے ہیں نہ تقدیس ۔
ان منافقین کی ہے جو رسول کے ساتھ ان کو نقصان پہونچانے کی فکر میں رہتے تھے یہ بظاہر تو مسلمان تھے مگر درپردہ وہ کافر تھے ۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کو ضرر پہونچانے کے لئے رسول کے قریب رہتے تھے ۔خدا نے پورا سورہ منافقون ان کےبارے میں میں نازل کیا ہے ۔ بہت سی جگہوں پر ان کا ذکر ہے ۔ ان کو جہنم کے سب سے نچلے طبقہ کی دھمکی دی گئی ہے رسول نے بھی ان کاذکر کیا ہے ۔ان سے بچنے کے لئے کہا ہے ۔بعض اصحاب کو منافقین کےنام بھی بتادیے تھے ۔اور ان کی علامتیں بھی یہ قسم اصحاب کی ایسی ہے کہ شیعہ وسنی دونوں ان پر لعنت کرتے ہیں اور ان سے براءت کرتے ہیں ۔ ایک اور قسم بھی ہے وہ بھی اگرچہ صحابہ ہیں لیکن قرابت رسول خلقی ،نفسی ،فضائل ،خدا ورسول کی طرف سے دی ہوئی خصوصیات کی بنا پر سب سے الگ تھلگ ہیں ان کے برابر کا کوئی نہیں ہے اور نہ ان کے درجہ تک کوئی پہونچ سکتا ہے اور یہ وہ اہلبیت ہیں جن سے خدا نے رجس کو دور کردیا ہے اور پاک وپاکیزہ بنادیا ہے(1)
--------------
(1):- پ 22 س 33 (احزاب )آیت 33
ان کے اوپر درود بھیجنا ویسا ہی واجب ہے جیسا کہ رسول پر ان کے لئے خمس قراردیا گیا ہے (1) ۔اجر رسالت کے عنوان پر ہر مسلمان پر ان کی مودت واجب قراردی گئی ہے (2) ۔ یہی اولوالامر ہیں جن کی اطاعت واجب قراردی گئی ہے (3) ۔ یہی راسخون فی العلم ہیں جو تاویل قرآن او ر محکم ومتشابہ کا علم رکھتے ہیں (4) ۔ یہی اہل ذکر ہیں جن کو رسول نے حدیث ثقلین میں قران کا ساتھی قراردیا ہے اور دونوں سے تمسک کو واجب قراردیا ہے (5) ۔ انھیں کو سفنیہ نوح جیسا قرار دیا گیا ہے ۔جو اس پر سوار ہوا نجات پاگیا اورجو الگ رہا ڈوب گیا (6) ۔ صحابہ اہل بیت کی قدر پہچانتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں شیعہ انھیں اہل بیت کی پیروی کرتے ہیں اور ان کو جملہ صحابہ سے افضل مانتے ہیں اور اس پر نصوص صریحہ پیش کرتے ہیں ۔۔۔لیکن اہل سنت والجماعت اہل بیت کی عظمت وتفضیل واحترام کے قائل ہونے کے باوجود اصحاب کی اس تقسیم کو قبول نہیں کرتے اور نہ اصحاب میں سے کسی کو منافق سمجھتے ہیں ۔بلکہ تمام صحابہ ان کے نزدیک رسول خدا کے بعد افضل الخلائق ہیں اور اگر وہ کسی تقسیم کو مانتے بھی ہیں تو سابق الاسلام ہوئے اور اسلام مین مصائب برداشت کرنے کے اعتبار سے ہے ۔چنانچہ سب سے افضل خلفائے راشدین اس کے بعد عشرہ مبشرہ کے باقی چھ 6 افراد ہیں اسی لئے جب وہ نبی اورآل نبی پر دورود بھیجتے ہیں تو بلا استثناء تمام صحابہ پر درود بھیحتے ہیں یہ باتیں میں خود سنی ہونے کی وجہ سے اور علمائے کرام اہل سنت سے سن کر جانتا ہوں ۔اور وہ تقسیم میں نے علمائے شیعہ سے سنی ہے ۔اوریہی چیز باعث نبی کہ میں پہلے صحابہ کے بارے میں ایک عمیق بحث کرلوں اور اپنے خدا سے یہ عہد کرلیا ہے کہ مجھے جذباتی نہ بنائے تاکہ حزبی نہ کہلاؤں اور دونوں طرف کی بات سن کر احسن کی پیروی کر سکوں ۔
--------------
(1):- پ 9 س 10 (انفال) آیت 41
(2):- پ 25س (شوری) آیت 23
(3):- پ س (نساء) آیت 59
(4):- پ س (آل عمران) آیت 7
(5):- کنزالعمال ج 1 ص 44 ۔مسند احمد ج 5 ص 188 پر حدیث ثقلین کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔
(6):- مستدرک حاکم ج 3 ص 151 تلخیص الذہبی ،الصواعق المحرقہ ابن حجر ص 147 و 234
اور اس سلسلہ میں ود چیزوں کو اپنا مرجع قراردیا ہے ۔
1:- بالکل سیدھا اور منطقی قاعدہ :- یعنی قرآن کی تفسیر اورسنت نبوی کے سلسلہ میں صرف اسی بات پر اعتماد وبھروسہ کروں گا ۔جس پر دونوں فریقین (شیعہ وسنی )متفق ہوں ۔
2:- عقل :- خدانے انسان کو جو نعمتیں دی ہیں ان میں سب سے بڑی نعمت عقل ہے کیونکہ اسی عقل کی وجہ سے انسان کو اپنی تمام مخلوقات سے افضل قراردیا ہے ۔آپ نے خود ہی دیکھا ہوگیا خدا جب اپنے بندوں کے خلاف حجت لاتا ہے تو ان کو عقل کی دعوت دیتا ہے ۔"افلا یعقلون ،افلا یفقہون ، افلا یتدبرون ، افلا یبصرون "وغیرہ وغیرہ ۔
میرا سلام یہ ہے کہ خدا اس کے ملائکہ " اس کی کتابوں اس کے رسولوں پر ایمان رکھتاہوں ۔اور گواہی دیتاہوں کہ محمد اللہ کے رسول اور بندے ہیں ۔ اور خدا کا پسندیدہ دین صرف اسلام ہے ۔ اس سلسلہ میں کسی صحابی پر اعتماد نہیں کرتا چاہے اس کی رسو ل سے کتنی ہی قرابت ہو ۔ اور چاہے اس کی منزلت کتنی ہی بلند ہو ۔میں نہ اموی ہوں نہ عباسی ،نہ فاطمی ،نہ سنی ہوں نہ شیعہ مجھے نہ ابو بکر سے نہ عمر سے نہ عثمان سے نہ علی سے نہ کسی اور سے عداوت ہے نہ دشمنی انتہا یہ ہے مسلمان ہونے کے بعد سے مجھے سیدنا حمزہ کے قاتل وحشی سے بھی کوئی دشمنی نہیں ہے کیونکہ اسلام سابقہ چیزوں کو ختم کردیتا ہے اور رسول اسلام نے وحشی کو معاف کردیا تھا ۔ میں تلاش حقیقت کے لئے اور اپنے تمام سابق خیالات کوچھوڑ کر خدا کے سہارے اس بحث "صحابہ کا موقف"کو شروع کرتا ہوں ۔
اجمالی طور سے واقعہ یہ ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ اپنے چودہ اصحاب کے ساتھ عمرہ کرنے کے ارادہ سے روانہ ہوئے لیکن آپ نے ہر ایک کو حکم دیدیا کہ تلواریں نیام میں رکھیں
ذوالحلیفہ ۔۔۔مکہ سے قریب ایک جگہ ۔۔۔پہنچ کر آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھا ،اونٹوں پر خون کے ٹھپے اور گلے میں جوتیوں کے ہار پہنا ئے تا کہ قریش کو یقین ہوجائے کہ آپ زائر بن کر صرف عمرہ کرنے آئے ہیں ۔جنگ کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن کہیں قریش کا غرور خاک میں نہ مل جائے اور عربوں میں یہ خبر نہ پھیل جائے کہ محمد نے زبردستی مکہ میں داخل ہوکر قریش کی شان وشوکت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔غرور خاک میں ملا دیا ہے ، اس ڈر سے سہیل بن عمر و بن عبدود العامری کی سرکردگی میں محمد کے پاس ایک وفد بھیجا اور ان سے خواہش کی کہ آپ اس سال یوں ہی مدینہ واپس چلے جائیں ۔آیندہ سال ہم تین دن کے لئے مکہ کو حالی کردیں گے آپ اس وقت عمرہ بجا لائیں اور اسی کے ساتھ دیگر سخت وغیر منصفانہ شرطیں بھی رکھیں جن کو حسب وحی الہی رسول اللہ نے قبول فرمایا ۔
لیکن بعض اصحاب کو رسول خدا کا یہ اقدام ذرہ برابر آنکھوں نہ سبھایا اور انھوں نے بڑی شدت کے ساتھ مخالفت کی چنانچہ عمر بن خطاب نے رسول خدا کے پاس آتے ہی درشت لہجہ میں پوچھا ۔کیا تم نبی برحق نہیں ہو؟ آنحضرت نے فرمایا : ہوں عمر نے پھر کہا : کیا ہم لوگ حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟ آنحضرت نے فرمایا : یہ بھی صحیح ہے عمر نے کہا: پھر ہم اپنے دین کے بارے میں ایسی ذلت نہیں گوارا کرسکتے !آنحضرت نے کہا:- (سنو! ) میں خدا کا رسول ہوں میں خدا کی معصیت نہیں کرسکتا جب کہ وہی میرا مددگار ہے ۔عمر بولے :- کیا آپ ہم لوگوں سے نہیں کہا کرتے تھے کہ ہم عنقریب خانہ کعبہ جاکر اس کا طواف کریں گے ؟ رسول اللہ (ص) نےکہا:- لیکن کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سال مکہ آکر طواف کریں گے ؟ عمر بولے نہیں یہ تو نہیں کہا تھا اس پر رسول خدا (ص) نے فرمایا :- تم یقینا آؤگے اور طواف کروگے !
اس کے بعد عمر ابو بکر کے پاس آئے اور کہا : اے ابوبکر کیا یہ شخص واقعی خدا کا رسول نہیں ہے ؟ ابو بکر نے کہا :-ہاں واقعی رسول ہیں ۔ پھر عمر نے وہی سوالات جو رسول خدا (ص) سے کئے تھے ابوبکر کے سامنے بھی دہرائے اورابو بکرنے وہی جوابات دیئے جو رسول (ص) نے دیئے تھے ۔پھر کہا:- اےشخص یہ خدا
کے رسول ہیں اور اپنے خدا کی معصیت نہیں کرسکتے اور خدا ان کا مددگار ہے ۔لہذا تم مضبوطی سے ان کا دامن پکڑ و جب رسول صلح کے معاہدہ سے فارغ ہوچکے تو اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ جاکر قربانی کرو اور سروں کو منڈاؤ (راوی کہتا ہے ) خدا کی قسم ان میں سے کوئی بھی نہیں اٹھا حالانکہ آپ نے تین مرتبہ حکم دیا ۔جب کسی نے آپ کی بات نہیں سنی تو آپ اٹھ کراپنے خیمہ میں چلے گئے پھر وہاں سے نکل کر کسی سے کوئی بات کئے بغیر اپنی طرف سے اونٹ کو ذبح کیا ۔اور حجام کو بلا کر سرمنڈوایا جب اصحاب نے یہ دیکھا تو اٹھے قربانی کی ۔ اور ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے ۔یہاں تک کہ قریب تھا بعض بعض کو قتل کردیں گے(1) ۔
یہ صلح حدیبیہ کا مختصر واقعہ ہے جس پر شیعہ وسنی دونوں متفق ہیں اور اس کو مورخین اور اصحاب سیر نے لکھا ہے جیسے طبری ، ابن اثیر ، ابن سعد وغیرہ ،نے مثلا بخاری ومسلم نے بھی لکھا ہے ۔
مجھے یہاں پر توقف کرنا پڑتا ہے ۔کیونکہ میرے لئے محال ہے کہ میں ایسا کوئی واقعہ پڑھوں اور اس سے متاثر نہ ہوں اور نہ اس پر تعجب کروں کہ آخر یہ کیسے صحابہ تھے جو اپنے نبی کے سامنے ایسی جسارت کررہے تھے ۔ کیا اس واقعہ کےبعد دنیا کا کوئی باشعور آدمی یہ ماننے کے لئے تیار ہوگا ۔ کہ اصحاب رسول خدا کے ہر حکم کو بجالانے کے لئے دل وجان سے تیار رہتے تھے ۔؟ اور بجالاتے تھے ؟ یہ واقعہ ان کی پوری طرح تکذیب کرتا ہے اور ان کے جھوٹے دعووں کی قلعی کھول دیتا ہے کیا کوئی عقلمند اس بات کا تصور کرسکتا ہے کہ نبی کے سامنے ایسی جسارت معمولی بات ہے ؟ یا ایسی جسارت کرنے والے معذور ہیں ؟ یا ان کی جراءت قابل قبول ہے ؟ خود خدا وند عالم کا ارشاد ہے:" فلا وربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینهم ثم لایجدوا فی انفسهم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلمیا (پ 5 س 4 (نساء) آیت 65)
--------------
(1):- اس واقعہ کو اصحاب سیروتاریخ کے علاوہ بخاری نے اپنی صحیح کے اندر کتاب الشروط فی الجہاد ج 2 ص 122 پر اور مسلم نے اپنی صحیح مین بات صلح حدیبیہ میں تحریر کیا ہے ۔
ترجمہ :- (پس اے رسول) تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ اس وقت تک سچے مومن نہ ہوں گے جب تک اپنے باہمی جھگڑوں میں تم کو اپنا حاکم نہ بنائیں (پھر یہی نہیں بلکہ ) جو کچھ تم فیصلہ کردو اس سے کسی طرح تنگدل بھی نہ ہوں ۔بلکہ خوش خوش اس کو مان لیں ۔۔۔۔۔ کیا عمر بن خطاب یہاں تسلیم ہوئے ؟اور رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کو تنگدل نہیں پایا ؟ یا حکم رسول میں ان کی تردد نہیں تھا ؟ خصوصا یہ کہنا :- کیا واقعی آپ خدا کے رسول نہیں ہیں ؟ کیا آپ ہم سے کہا نہیں کرتے تھے ؟ الخ اور پھر رسولخدا (ص) نےجو کافی وشافی جوابات دیئے کیا اس کو تسلیم کرلیا ؟ اس پر قانع ومطمئن ہوگئے ؟ ہرگز نہیں اگر مطمئن ہوگئے ہوتے تو وہی سوالات ابو بکر سے جاکر نہ پوچھتے ؟ اور پھر کیا ابوبکر کے جواب سے مطمئن ہوگئے ؟ تو بہ کیجئے خدا جانے اگر یہ رسول یا ابو بکر کے جواب سے مطمئن ہوگئے تھے تو پھر کیوں کہا کرتے تھے ؟ میں نے اس کے لئے بہت سے اعمال کئے ! اب تو خدا اور اس کا رسول ہی جانتا ہے کہ عمر نے کیا کیا اعمال کئے ہیں ؟ اور پھر اس کے علاوہ باقی لوگوں نے کیوں نافرمانی کی ؟ جب رسول خدا نے تین تین مرتبہ کہا تم لوگ اٹھو قربانی کرو اور سرمنڈاو ! لیکن کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی رسول بار بار کہتے رہے مگر ہر آواز "صدا بصحرا "ثابت ہوئی "۔
سبحان اللہ! مجھے کسی طرح یقین نہیں آرہا تھا ۔کیا صحابہ کی بد تمیزی اورجسارت اس حد تک رسول کے ساتھ ہوسکتی ہے؟اگر یہ واقعہ صرف شیعہ کتابوں میں ہوتا تو میں فورا کہہ دیتا یہ صحابہ کرام پر افترا ہے لیکن یہ تو ا تنا مشہور واقعہ ہے اور اتنا صحیح قصہ ہے کہ سنی شیعہ محدثین نے لکھا ہے چونکہ میں طے کر چکا ہوں جس چیز پر سنی وشیعہ دونوں متفق ہوں گے اسی کو قبول کرو ں گا ۔ ان اصحاب کی طرف سے کونسا عذر تراشوں ؟ جو بعثت سے لے کر صلح حدیبیہ تک بیس سال رسول اللہ کے قریب رہے ہیں جنھوں نے معجزات ، وانوار نبوت اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ قرآن نے دن رات ان کو ادب سکھایا ہے کہ رسول کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں ، کیسی گفتگو کریں ۔ یہاں تک کہ خدا نے دھمکی دے دی کہ اگر میرے رسول کی آواز پر آواز بلند کروگے تم تمہارے سارے اعمال اکارت کردوں گا ۔
مجھے تو باربا یہ خیال آتا ہے کہ یہ عمر بن خطاب ہی تھے ۔ جنھوں نے تمام لوگوں کو ورغلا یا تھا نہ یہ جسارت کرتے اور نہ لوگوں کو جسارت ہوتی کہ حکم رسول کی سنی ان سنی کردیں ۔ خود ان کا تردد اور نافرمانی اور متعدد مواقع پر یہ کہنا کہ میں (اس فعل کی وجہ سے ) برابر نمازیں پڑھتا رہا ، روزے رکھتا رہا صدقے کرتارہا ، غلام آزاد کرتا رہا اپنے اس کلام کی وجہ سے جو میں نے ۔۔۔۔۔ اس سلسلہ میں پورا واقعہ ان سے منقول ہے (1) ۔ ہم کو خود اس بات کا یقین اس لئے ہوتا ہے کہ خود عمر کو بھی اس کا احساس تھا کہ یہ قصہ ویسے تو بہت عجیب وغریب ہے مگر حقیقت ہے
بطور اختصار اس قصہ کی حقیقت یہ ہے کہ رسول خدا کی وفات سے تین دن پہلے تمام اصحاب کرام آنحضرت کے گھر میں جمع تھے ۔آپ نے ان سے کہا میرے لئے کتف (2) ۔ (پوست یا ہڈی) اور دوات لے آؤ تاکہ تم لوگوں کے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جو تم کو گمراہی سے بچاسکے لیکن اصحاب میں پھوٹ پڑگئی بعض نے صریحی طور پر اظہار نافرمانی کرتے ہوئے آپ پر ہذیان کا الزام لگا یا رسول خدا کو بہت غصہ آیا ۔آپ نے بغیر کچھ لکھے ہوئے سب کو اپنے گھر سے نکال دیا ، لیجئے اس کی قصہ کی تفصیل پرھئیے
--------------
(1):- السیرۃ الحلبیہ بات صلح الحدیبیہ ج 2 ص 706
(2):- کتف درحقیقت انسان وحیوان کے کندھے میں ایک چوڑی ہڈی ہوتی ہے ۔کاغذ کی کمی کی بنا پر پہلے اسی پر لکھا جاتا تھا ۔ چنانچہ مجمع البحرین مادہ کتف میں ہے ۔عظم عریض یکون فی اصل کتف الحیوان من الناس والدواب کانوا یکتبون فیہ لقلۃ القراطیس عندھم ومنہ ایتونی بکتف ودواۃ اکتب کتابا " مترجم
ابن عباس کہتے ہیں :- روزپنچشنبہ ! کیا روز پنچشنبہ اسی دن رسول اللہ (ص) کا درد شدید ہوگیا تھا ۔ اور آپ نے فرمایا : لاؤ تم لوگوں کے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس سے تم لوگ بعد میں گمراہ نہ ہوسکو اس پر عمر نے کہا : رسول اللہ پر مرض کی شدت ہے تمہارے پاس قرآن موجود ہی ہے ہمارے لئے بس اللہ کی کتاب کافی ہے (کسی مزید تحریر کی ضرورت نہیں ہے ) اس بات پر اس وقت کے موجود لوگوں میں اختلاف ہوگیا ۔ اور وہ لوگ آپس میں لڑ پڑے ۔کچھ یہ کہہ رہے تھے قلم ودوات دیدو تاکہ نبی ایسی تحریر لکھدیں جس سے بعد میں گمراہ نہ ہو ا جاسکے اور کچھ لوگ وہی کہہ رہے تھے جو عمر نےکہا تھا ۔جب رسول خدا کے پاس توتو میں میں اور شور وغل زیادہ بڑھ گیا ۔ تو آپ نے فرمایا : میرے پاس سے چلے جاؤ ۔ابن عباس کہا کرتے تھے : سب سے بڑی مصیبت وہی تھی کہ ان کے اختلاف وشوروغل نے رسول خدا کوکچھ لکھنے نہ دیا(1)
یہ حادثہ صحیح ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اس کو شیعہ علماء اور ان کے محدثین نے اپنی کتابون میں اسی طرح نقل کیا ہاے جس طرح اہلسنت کے علماء ومحدثین ومورخین نے نقل کیا ہے ۔ اوریہی بات مجھے اپنے معاہدہ کے مطابق مان لینے پر مجبور کررہی ہے ۔یہاں پر حضرت عمر نے رسول اللہ کے ساتھ جو برتاؤ کیا ہے اس کو دیکھ کرمیں دنگ رہ جاتا ہوں ۔بھلا آپ سوچئے تو آخر معاملہ کیا ہے؟ امت کو گمراہی سے بچانے کا معاملہ ہے اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ اس تحریر میں کوئی ایسی نئی بات ضرور ہوتی جس سے مسلمانوں کا تمام شک وشبہ دور ہوجاتا ۔
شیعوں کی اس بات کو جانے دیجئے کہ :- رسول اللہ خلافت کے لئے حضرت علی (ع) کا نام لکھنا چاہتے تھے ۔اور عمر نے اس بات کو تاڑلیا ۔لہذا انہوں نے تحریر نہیں لکھنے دی ۔۔۔۔ کیونکہ شاید شیعہ حضرات ہم کو اپنی بات سے مطمئن نہ کرسکیں ۔کیونکہ ہم تو شروع ہی سے اس کو نہیں مانتے لیکن اس
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 2 باب قول المریض :قوموا عنی ۔ صحیح مسلم ج 5 ص 75 آخر کتاب الوصیہ ۔مسند امام احمد ج ا ص 355 وج 5 ص 116 ۔تاریخ طبری ج 3 ص 193 ، تاریخ ابن اثیر ج 2 ص 320
تکلیف دہ واقعہ کی جس نے رسول کو غضبناک کردیا ۔ یہاں تک کہ آپ نے سب کو اپنے گھر سے بھگا دیا ۔ اور ابن عباس اس کو سوچ سوچ کر اتنا روتے تھے کہ کنکریاں بھیگ جاتی تھیں ۔ کیا اہل سنت کوئی معقول تفسیر کرسکتے ہیں ؟ اور کیا اہل سنت کی اس تاویل کو کوئی بیوقوف سے بیوقوف آدمی بھی تسلیم کرلے گا کہ عمر نے رسول خدا کے مرض کی شدت کا احساس کرلیا تھا ۔لہذا ان کو آنحضرت پر رحم آیا ۔اور منع کرنے سے مقصد یہ تھا کہ رسول کو آرام مل جائے "
علماء کے قبول کرنے کا سوال ہی نہیں ہوتا ۔ میں نے متعدد مرتبہ کوشش کی کہ حضرت عمر کے لئے کوئی عذر تلاش کرسکوں لیکن واقعہ اتنا سنگین ہے کہ کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہے ۔ بلکہ اگر معاذاللہ ہذیان کی جگہ شدت تکلیف " کی لفظ رکھ دی جائے جب بھی عمر کے اس قول کی کوئی معقول تاویل کا تلاش جوئے لانے سے کم نہیں ہے " کہ تمہارے پاس قرآن ہے اور ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے " کیا عمر رسول اللہ سے زیادہ جانتے تھے ؟ کہ رسول تو قرآن کے ہوتے ہوئے تحریر کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں مگر عمر کے نزدیک اب تحریر کی ضرورت نہیں ہے ۔ یا پھر رسول کی ذہانت عمر کے مقابل میں صفر تھی؟ یا پھر حضرت عمر یہ کہہ کر لوگوں میں اختلاف وتفرقہ اندازی کرنا چاہتے تھے ۔ استغفراللہ ۔
اس کے علاوہ اگر اہل سنت کی تاویل صحیح مان لی جائے تو کیا رسول خدا پر عمر کی حسن نیت پوشیدہ تھی؟ اور اگر ایسا تھا تو رسول خدا کو عمر کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا نہ ناراض ہو کر سب کو اپنے گھر سے بھگادیں؟
کیا میں پوچھ سکتاہوں کہ جب رسول خدا نے سب کو اپنے گھر سے نکال دیا تو لوگ چپ چاپ کیوں چلے آئے ؟ یہاں پر رسول کی فرمانبرداری کیوں کی ؟ یہ کیوں نہیں کہا کہ رسول ہذیان بک رہے ہیں ؟ وجہ بالکل واضح ہے کیونکہ رسولخدا کو تحریر نہ لکھنے پر ور غلا کراپنے مقصد میں کامیاب ہوچکے تھے ۔ اس لئے اب رسول کے گھر میں ٹھہرنے سے کوئی فائدہ تو تھا نہیں کیونکہ شوروغل کرکے اور اختلاف پیدا کرکے یہ اپنے مقصد کامیاب میں کامیاب ہوچکے تھے ۔کچھ لوگ کہتے تھے رسول خدا کی مانگ پوری کردو تاکہ وہ تحریر لکھ دیں اور کچھ لوگ وہی کہہ رہے تھے ۔جو عمر نے کہا تھا کہ رسول تو پاگل ہوچکے ہیں (معاذاللہ)
اور معاملہ اتنا سیدھا سادہ نہیں تھا جو صرف عمر کی ذات سے متعلق ہوتا کیونکہ اگر یہ ثابت ہوتی
تو( شاید ) رسول خدا کو چپ کروائیے اور مطمئن کردیتے کہ میں وحی کے بغیر گفتگو نہیں کیا کرتا ۔اور ہدایت امت کے بارے میں (یعنی جو بات نبوت سے متعلق ہو اس میں ) تو ہذیان کا سوال ہی نہیں اٹھتا (ورنہ پورا دین قابل اطمینان نہ رہے گا مترجم)بلکہ مسئلہ کچھ اور تھا اور کافی لوگ اس پر پہلے ہی سے تیار تھے اسی لئے جان بوجھ کر رسول خدا کے حضور میں ہلڑ ہنگامہ مچایا اور خدا کے اس فرمان کو بھول گئے یا جان کر بھلا دیا ۔ "یا ایها الذین آمنوا لا ترفعو اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجهروا له بالقول کجهر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون (پ 26 س 49 (الحجرات)آیه 2)
ترجمہ:- اے ایماندا رو!(بولنے میں) تم اپنی آواز یں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کیا کرو اور جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے زور زور سے باتیں کرتے ہو ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہار کیا کرایا سب اکارت ہوجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
اور قلم وقرطاس کے قضیہ میں آواز اونچی کرنے کا مسئلہ نہیں ہے یہاں تو اس کے ساتھ ساتھ (العیاذ باللہ)آنحضرت پر ہذیان کا الزام بھی لگایا گیا ہے ۔ اور پھر اتنا شوروغل ہوا ہے کہ حضور کے سامنے تو تو ،میں میں ، کی نوبت آگئی ۔
میرا عقیدہ یہ ہے کہ اکثر یت عمر کے ساتھ تھی اس لئے رسول اللہ نے سوچا کہ اب تحریر لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ آنحضرت جانتے تھے کہ اب یہ لوگ نہ میری تحریر کا احترام کریں گے اور نہ ہی امتثال امر کریں گے اس لئے کہ جب یہ لوگ "رفع اصوات " کے سلسلہ میں خدا کی نافرمانی کررہے ہیں تو پھر میرے احکام کی کہاں سے اطاعت کریں گے ؟
حکمت رسول کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اب ان کے لئے کوئی تحریر نہ لکھیں کیونکہ جب ان کی زندگی میں اس کے بارے میں جھگڑا کررہے ہیں تو مرنے کے بعد کیا عمل کریں گے ۔ اور اعتراض کرنے والے کہیں گے ۔ یہ تو پاگل پن میں کہی ہوئی بات کو پاگل پنے میں لکھ ڈالا ہے اس کی کیا اہمیت ہے اور ہوسکتا ہے کہ مرض الموت میں جو احکام آپ نے نافذ فرمائے ہیں اس میں بھی لوگ شک کرنے لگیں ۔اس لئے اب نہ لکھنا بہتر ہے ۔
استغفراللہ ربی واتوب الیہ " رسول ارکرم کے سامنے اس قسم کی گفتگو پر میں تو بہ کرتا ہوں
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اپنے نفس کو کیسےمطمئن کروں آزادی ضمیر کا سودا کیسے کروں آخر میں اپنے کس طرح سمجھاوں کہ عمر کی یہ حرکت قابل عفو ہوسکتی ہے جبکہ اصحاب اور جو حضرات اس وقت موجود تھے وہ اس واقعہ کو یاد کرکے اتنا رویا کرتے تھے کہ کنکریاں بھیگ جایا کرتی تھیں ۔ اور اس دن کو مسلمانوں کی سب سے بڑی مصیبت کہا کرتے تھے ۔۔۔اسی لئے میں نے تمام تاویلات کو چھوڑ دیا اور میں نے تو چاہا تھا کہ اصل واقعہ ہی کا انکار کردوں اور اس کو جھٹلادوں لیکن صحاح نے نہ صرف یہ کہ اس کو لکھا ہے بلکہ تصحیح بھی کی ہے پھر میں کیا کرسکتاہوں ۔
میرا تو جی چاہتا ہے کہ اس واقعہ کے سلسلہ میں شیعوں کی رائے کو تسلیم کرلوں کیونکہ ان کی تعلیل منطقی ہے ۔ اور اس کے متعدد قرائن بھی ہیں مجھے اب تک یاد ہے کہ جب میں نے سید محمد باقر الصدر سے پوچھا آپ کے خیال کے مطابق حضرت رسول امام علی کی خلافت کے بارے میں تحریر کرنا چاہتے تھے آخر تمام صحابہ کے درمیان سیدنا عمر ہی نے اس بات کو کیوں کر سمجھ لیا یہ تو ان کی ذہانت کی دلیل ہے ؟
اس پر سید صدر نےکہا : صرف عمر ہی نے مقصد رسول کو نہیں سمجھا تھابلکہ اکثر حاضرین نے وہی سمجھا جو عمر نے سمجھا تھا ۔ اس لئے کہ رسول خدا اس سے پہلے بھی فرما چکے تھے کہ میں تمہارے درمیان ثقلین چھوڑ کر جارہا ہوں ایک خدا کی کتاب دوسرے میری عترت واہلبیت جب تک تم لوگ ان دونوں سے تمسک رکھو گے میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ۔ اب مرض الموت میں (تقریبا یہی) فرمایا : لاؤ ایک تحریر لکھ دوں تاکہ اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوسکو ۔ تو تمام حاضرین بزم اور انھیں میں عمر نے بھی یہی سمجھا کہ رسول اللہ نے غدیر خم میں جو بات کہی تھی ۔ اسی کی تاکید تحریری طو رپر کرنا چاہتے ہیں ۔ کہ تم لوگ کتاب خدا اور عترت سے تمسک کرو ۔ اور سید عترت حضرت علی تھے تو گویا دوسرے لفظوں میں اس طرح فرمایا : قرآن وعلی سے تمسک کرو اور اس قسم کی گفتگو دیگر مناسب موقع پر بھی فرماچکے تھے ۔ اور چونکہ قریش کی اکثریت حضرت علی کو ناپسند کرتی تھی ۔ ایک تو اس وجہ سے کہ آپ عمر میں چھوٹے تھے دوسرے اس وجہ سے کہ آپ نے ان کے تکبر کو خاک میں ملایا تھا ان کی ناک رگڑ دی تھی ان کے بہادروں
کو تہہ تیغ کیا تھا ۔مگر اس کے باوجود یہ لوگ رسولخدا (ص) کے خلاف اتنی بڑی جسارت نہیں کرسکتے تھے جتنی صلح حدیبیہ کے موقع پر اور عبداللہ بن ابی منافق کی نماز جنازہ پڑھانے پر کرچکے تھے یا اس قسم کے دیگر مواقع پر اس کا اظہار کرچکے تھے جس کو تاریخ نے اپنے دامن میں محفوظ رکھا ہے ۔یہ واقعہ بھی انھیں قسم کے واقعات میں سے ہے " کہ اس میں بھی جسارت ہے مگر صلح حدیبیہ کے مقابلہ والی نہیں ہے ۔اور اس بد تمیزی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض حاضرین نے بھی جسارت سے کام لینا شروع کردیا اور سی لئے آنحضرت کے پاس شوروغل ہوا ۔
عمر کی بات مقصود حدیث کی پوری مخالفت کررہی ہے کیونکہ یہ کہنا ۔تمہارے پاس قران ہے اور اللہ کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے " صریحی طور سے اس حکم کی مخالفت ہے ۔جس میں کتاب خدا اور عترت رسول دونوں سے تمسک کو کہا گیا تھا عمر کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب بس ہے اور وہی ہمارے لئے کافی ہے ۔ہم کو عترت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔۔اس کے علاوہ اس واقعہ کی اس سے بہتر کوئی معقول توجیہ نہیں ہوسکتی ۔ البتہ اگر کسی کا مطلب صرف اطاعت خدا ہو اطاعت رسول نہ ہو تو اس کی بات الگ ہے ۔مگر یہ بھی غلط ہے اور غیر معقول ہے ۔
میں اگر اندھی تقلید چھوڑ دوں اور جانب داری سے کام نہ لوں اورعقل سلیم وفکر آزاد کو حاکم قراردوں تو اسی تو جیہ کو قبول کرونگا ۔کیونکہ یہ بات اس سے کہیں زیادہ آسان ہے کہ عمر پر یہ اتہام لگا یا جائے کہ عمر پہلے وہ شخص ہیں جنھوں نے حسبنا کتاب اللہ " کہہ کر سنت نبوی کو چھوڑا ہے ۔
اور اگر کوئی حاکم سنت نبوی کو یہ کہہ کر چھوڑ دے کہ اس میں تناقضات بہت ہیں تو اس کو مجرم نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس نے تو مسلمانوں کی تاریخ میں گزرے ہوئے واقعات کی پیروی ہے اس کے علاوہ اس حادثہ اور امت مسلمہ کی ہدایت سے محرومی کاذمہ دار میں صرف عمر ہی کو نہیں مانتا بلکہ اسکے تمام وہ صحابہ جو عمر کے موافق تھے اور جنھوں نے حکم رسول کی مخالفت کی تھی سب ہی ذمہ دار ہیں اور برابر کے شریک ہیں ۔
مجھے ان لوگوں پر بہت تعجب ہوتا ہے جو اس عظیم حادثہ کو پڑھ کر گزر جاتے ہیں جیسے کچھ ہو اہی
نہ ہو حالانکہ بقول ابن عباس کے سب سے بڑی مصیبت یہی تھی ۔اور اس سے بھی زیادہ ان لوگوں پر تعجب ہوتاہے جو صحابی کے بچانے میں ایڑی چوٹی کا زورلگادیتے ہیں ۔ اوراس کی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کے درپہ رہتے ہیں ۔ چاہے اسلام ورسول اسلام کی بے حرمتی وغلطی ثابت ہوجائے مگر صحابی کی عصمت محفوظ رہے ۔
آخر ہو کو حقیقت سے فرار کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر حق ہماری خواہشات کے مطابق نہیں ہے تو اس کو ملیامٹ کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں ؟ آخر ہو کیوں نہ تسلیم کرلیں کہ صحابہ ہماری ہی طرح کے انسان تھے ان کے یہاں بھی خواہشات ۔میلانات ۔اغراض کا جود ایسے ہی تھا جیسے ہمارے یہاں ہوتا ہے وہ بھی غلطی کرتے ہیں جیسے ہم سے غلطی ہوتی ہے ۔
ہمارا تعجب اس وقت دور ہوجاتا ہے جب ہم قرآن میں گزشتہ انبیاء کے قصے پڑھتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے معجزات دیکھنے کے باوجود ان کے قوم قبیلہ والے ان کی دشمنی سے بازنہیں آتے :ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ هدیتنا وهب لنا من لدنک رحمة انک انت الوهاب"
اور اب میں شیعوں کے موقف کو سمجھنے لگا کہ واقعہ قرطاس کے بعد مسلمانوں کی زندگی میں ہونے والے بہت سے ناقابل برداشت واقعات کی ذمہ داری کیوں خلیفہ ثانی کے سرتھوپتے ہیں ۔ کیونکہ انھیں کی وجہ سے امت مسلمہ اس کتاب ہدایت سے محروم ہوگئی جس کو رسول اپنے مرض الموت میں لکھنا چاہتے تھے اور مجھے یہ اعتراف کرلینے میں کوئی باک نہیں ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں ہے کہ جو عقلمند حق کے ذریعہ لوگوں کو پہچانتا ہے وہ اصحاب کے لئے عذر تلاش کرنے کی کوشش کریگا ۔ لیکن جو لوگ لوگوں کے ذریعہ حق کوپہچاننے کے عادی ہیں ہم ان سے گفتگو بھی نہیں کرنا چاہتے ۔
اس کا اجمالی قصہ یہ ہے کہ آنحضرت نے اپنے انتقال سے صرف دو دن پہلے روم سے جنگ کرنے کے لئے ایک لشکر تیار کیا اور اس کا سردار اسامہ بن زید حارثہ کو بنایا ۔ اسامہ کی عمر اس وقت 18 سال تھی اور اسامہ کی ماتحتی میں بڑے بڑے انصار اور مہاجرین کو قراردیا ۔ جیسے ابوبکر ، عمر ، ابو عبیدہ ۔ظاہر ہے کہ اس پر لوگوں کو اعتراض ہونا چاہیے تھا ۔ اور کچھ لوگوں نے اعتراض بھی کیا کہ ہمارے اوپر ایسے نوجوان کو کیونکر سردار بنایا جاسکتا ہے جس کے چہرے پر ابھی ڈاڑھی بھی نہیں ہے اور یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے اس سے پہلے اسامہ کے باپ زید کی سرداری پر اعتراض کیا تھا ۔ اسامہ کے بارے میں ان لوگوں نے ضرورت سے زیادہ نقد وتبصرہ کیا تھا ۔ یہاں تک کہ آنحضرت کو شدید غصہ آگیا تھا ۔ آپ دوآدمیوں کا سہارا لے کر اس طرح نکلے تھے کہ آپ کے قدم زمین پر خط دیتے ہوئے جارہے تھے ۔بیماری کی وجہ سے آپ بہت خستہ تھے (میرے ماں باپ حضور پر فدا ہوجائیں) آتے ہی آپ منبر پرگئے حمد وثنا ئے الہی کے بعد فرمایا :
"ایھا الناس" ! یہ کیا بات ہے جو اسامہ کی سرداری کےبارے میں میں سن رہا ہوں ۔اگر تم میری اس بات پر اعتراض کررہے ہو کہ میں نے اسامہ کو کیوں لشکر کا سردار بنایا ۔(تویہ کوئی نئی بات نہیں ) تو اس سے پہلے میرے اوپر زید کو سردار بنانے میں اعتراض کرچکے ہو ۔خدا کی قسم زید سرداری کا مستحق تھا اور اس کا بیٹا (اسامہ) بھی اس کے بعد سرداری وامارت کا لائق وسزاوار ہے(1) ۔
--------------
(1)::- طبقاب ابن سعد ج 2 ص 190 ۔تاریخ ابن اثیر ج 2 ص 210 ۔السیرۃ الحلبیہ ج 3 ص 207 ۔طبری ج 3 ص 226
اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جلدی کوچ کرنے کے لئے آمادہ کرنا شروع کردیا کبھی فرماتے"جهزوا جیش اسامة " اسامہ کے لشکر کو تیار کرو اور جاؤ ! کبھی فرماتے"انفذوا جیش اسامة " اسامہ کے لشکر کو (جلدی) روانہ کرو ۔کبھی فرماتے :ارسلوا بعث اسامۃ " اسامہ کے ساتھ لوگوں کو (جلدی ) بھیجو! ان جملوں کی باربار تکرار کرتے رہے ۔لیکن ہر مرتبہ لوگ ٹال مٹول کرتے رہے اور مدینہ کے کنا رے جاکر پڑاؤ ڈال دیا ۔ مگر یہ لوگ جانے والے نہیں تھے ۔
اس قسم کی بات مجھے یہ پوچھنے پر مجبور کرتی ہے :آخر رسول (ص) کے ساتھ اتنی بڑی جسارت کی ہمت کیسے ہوئی؟ وہ رسول اکرم جو مومنین کے لئے رؤفورح یم ہے ۔اس کے حق میں یہ کیسی نافرمانی ؟ میں تو کیا کوئی بھی آدمی اس سرکشی وجراءت کی معقول تاویل نہیں کرسکتا ۔
میں نے خدا کے حضور میں عہد کیا ہے کہ انصاف سےکام لوں گا اپنے مذہب کے لئے تعصب نہ برتوں گا ۔ اور ناحق اس کے لئے کسی وزن کا قائل نہیں ہوں گا ۔اور جیسا کہ کہا جاتا ہے یہاں پر حق تلخ ہے اور آنحضرت نے فرمایا بھی ہے : حق بات کہو چاہے وہ تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اور حق بات کہو چاہے وہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔اور اس واقعہ میں حق بات یہ ہے کہ جن صحابہ نے بھی اسامہ کو سردار بنائے جانے پر آنحضرت پر اعتراض کیا تھا انھوں نے حکم الہی کی مخالفت کے ساتھ ان صریح نصوص کی مخالفت کی ہے جو نہ قابل شک ہیں اور نہ قابل تاویل ۔اورنہ ہی اس سلسلہ میں کوئی عذر پیش کیا جاسکتا ہے ۔سوائے اس "عذر بارد" کے جو کرامت امت صحابہ اور سلف صالح کے نام پر بعض حضرات نے پیش کیا ہے لیکن کوئی بھی عاقل وآزاد اس قسم کے اعذار کو قبول نہیں کرسکتا ۔ ہاں جن کو حدیث فہمی کا شعور نہ وہ یا عقل سے پیدل ہوں یا مذہبی تعصب نے ان کو اس حد تک اندھا بنادیا ہو کہ جو واجب الاطاعت فرض واور واجب الترک نہیں میں فرق نہ کرسکتے ہوں ۔ان کی بات الگ ہے ۔میں نے بہت کوشش کی
کہ کوئی عذر ان صحابہ کے لئے تلاش کرسکوں لیکن میری عقل میں کوئی ایسی بات نہیں آئی ۔ البتہ اہل سنت نے ان اصحاب کے لئے یہ عذر تلاش کیا ہے : وہ لوگ مشایخ قریش اور بزرگان قریش میں سے تھے سابق الاسلام تھے اور اسامہ ایک الہڑ نوجوان تھے ۔عزت اسلام کی فیصلہ کن جنگوں میں سے کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔ جیسے بد ر،احد ، حنین وغیرہ اور نہ ہی کسی قسم کی سابقیت تھی بلکہ رسول خدا نے ان کو لشکر کا سردار بنایا تھا تو یہ بہت ہی کم سن تھے ۔ اور انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ جب بوڑھے ، بزرگ حضرات موجود ہوں تو لوگ جوانوں کی اطاعت پر تیار نہیں ہوتے اسی لئے اصحاب نے پیغمبر اسلام پر اعتراض کیا تھا ۔تاکہ اسامہ کی جگہ پر کسی بزرگ صحابی کو سرداری مرحمت فرادیں ۔۔۔۔ لیکن اس عذر کا مدرک نہ کوئی دلیل عقلی ہے ۔اور نہ شرعی اور نہ کوئی اس بات کو مان سکتا ہے جس نے قرآن پڑھا ہو اور اس کے احکام کو سمجھاہو کیونکہ قرآن کا اعلان ہے:
"وما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاکم عنه فانتهواه (پ 28 س 59 (الحشر) آیت 7)
ترجمہ:- رسول جو حکم دیں اس کو لے لو (مان لو) اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ "۔ دوسری جگہ ارشاد ہے :-" وما کان لمومن ولامومنة اذا قضی الله ورسوله امر ان یکون لهم الخیرة من امرهم ومن یعص الله ورسوله فقد ضل ضلا مبینا (پ 23 س 33 (الاحزاب )ایت 36)
ترجمہ:- نہ کسی مومن کو اور نہ کسی مومنہ کویہ حق ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کیس کام کا حکم دیں تو ان کو اپنے اس کام ( کے کرنے نہ کرنے)کا اختیار ہوا ور (یاد رہے کہ جس شخص نے خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ یقینا کھلم کھلا گمراہی میں مبتلا ہوچکا ۔ان نصوص صریحہ کے بعد بھلا کون سا عذر باقی ہے جس کو عقلا قبول کرسکیں ؟ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ یمں ان لوگوں کے بارے یمں کہوں جنھوں نے رسول اللہ کو غضبناک کیا ۔ اور وہ جانتے تھے کہ رسول کی ناراضگی سے خدا ناراض ہوجاتا ہے ۔ رسو ل پر ہذیان کا الزام لگا یا ان کے سامنے تھے کہ تو تو ، میں میں ، شوروغل ،اختلاف کا مظاہرہ کیا ۔ جب کہ آپ مریض بھی تھے ۔انتہا یہ ہوگئی کہ خلق عظیم پر فائز پیغمبر نے ان لوگوں کو اپنے کمرے سے نکال دیا ۔کیا یہ سب باتیں کم ہیں ؟ اور بجائے اس کے یہ
لوگ ہدایت کی طرف پلٹتے اور خدا سے اپنے افعال پر توبہ واستغفار کرتے اور تعلیم قرآن کے مطابق رسول کی خدمت میں عرض کرتے کہ حضور ہمارے لئۓ استغفار فرمادیں ۔ یہ سب کرنے کے بجائے "مٹی اور گیلی کردی" یہ ہمارے یہاں کا عوامی محارہ ہے ۔مزید سرکشی کی اور جوان پررؤف ورحیم تھا ۔ اسی سے جسارت کی اس کے حق کا پاس ولحاظ بھی نہ کیا ۔ نہ اسکا احترام کیا ۔ بلکہ ہذیان کی نسبت کا زخم ابھی مندمل بھی نہیں ہو پایا تھا ۔کہ ٹھیک دودن کے بعد اسامہ کی سرداری پر اعتراض کر بیٹھے اور آنحضرت کو مجبور کردیا کہ دوآدمیوں کے سہارے گھر سے نکل کرآگئے ۔شدت مرض کیوجہ سے قدم اٹھ نہیں رہے تھے آتے ہی منبر پر جاکر قسم کھا کر یقین دلایا کہ اسامہ سرداری کے لائق ہے اور اسی کے ساتھ رسول (ص) نے ہم کو یہ بھی بتا دیا کہ یہ وہی لوگ ہیں ۔جنھوں نے زید کی سرداری پر بھی اعتراض کیا تھا ۔ آپ ہم کو تعلیم دے رہے تھے کہ یہ پہلا سابقہ نہیں ہے متعدد مواقع پر یہ لوگ ایسا کرچکے ہیں اور یہ لوگ ان میں سے نہیں ہیں کہ جو خدا اور رسول کے فیصلہ کے بعد تنگی نہیں محسوس کرتے اور سرتسلیم خم کرلیا کرتے ہیں ۔ بلکہ یہ دشمنوں میں اور ان مخالفوں میں ہیں جو نقد ومعارضہ اپنا حق سمجھتے ہیں چاہے اس سے خدا ورسول کی مخالفت ہی لازم آتی ہو۔
ان کی صریح نافرمانی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے رسول کے غصہ کو دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ آنحضرت نے اپنے ہاتھوں سے علم باندھا اور لوگو کو عجلت سے راونگی کا حکم دیا ۔لیکن پھر بھی یہ لوگ ٹال مٹول کرتے رہے اور نہ جانا تھا نہ گئے ۔ یہاں تک کہ آنحضرت کی شہادت ہوجاتی ہے اور اپ اپنے دل میں یہ داغ لے کرگئے کہ میری امت نافرمان ہے اور اس احساس کے ساتھ دنیا سے سدھارے کہ کہیں یہ لوگ الٹے پیر پھر نہ پلٹ جائیں اور جھنم کے کندے نہ بن جائیں او ر ان میں سے تھوڑے ہی نجات پانے والے ہیں ۔
اگر ہم اس قصہ کو گہری نظر سے دیکھیں تو ہم کو معلوم ہوجائے گا کہ اس کے روح رواں خلیفہ ثانی تھے ۔کیونکہ یہی حضرت وفات حضرت رسول کے بعد ابو بکر کے پاس آئے اور کہنے لگے اسامہ کو ہٹا کر کسی دوسرے کو سردار بنادو اس پر ابو بکر نے کہا: اے خطاب کے بچے تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے ! تو مجھے مشورہ
دیتا ہے کہ جس کو رسول سردار بناگئے تھے میں اس کو معزول کردوں ؟(1) ۔
آخر عمر نے اس بات کو کیوں نہ سمجھا جس کو ابو بکر نے سمجھ لیا ؟ یا اس میں کوئی اور راز ہے جو مورخین سے پوشیدہ رہ گیا ہے ؟ یا خود مورخین نے عمر کی عزت وآبرو کو بچانے کے لئے ان کا نام چھپا لیا ہے؟ جیسا کہ ان مورخین کی عادت ہے اور جیسا کہ (انھوں نے (یھجر) کی لفظ کو بدل کر"غلبة الوجع " کی لفظ رکھ دی ہے ۔
مجھے ان صحابہ پر تعجب ہے جنھوں نے پنچشنبہ کے دن رسول کو ناراض کیا اور ہذیان کی نسبت دی ۔اور حسبنا کتاب اللہ کہا ۔ حالانکہ قرآن کہتا ہے: قل ان کنتم تحبون الله فاتبعوانی یحببکم الله" ترجمہ:- اے رسول ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو (تو ) خدا تم کو دوست رکھے گا ۔
گویا یہ اصحاب کتاب خدا کو اس سے زیادہ جانتے تھے۔ جس پر یہ کتاب نازل ہوئی تھی ۔واقعہ قرطاس کے صرف دو دن بعد اور وفات سے صرف دودن پہلے رسول کو غضبناک کردیتے ہیں ۔ اور اسامہ کو سردار بنانے پر اعتراض کرنے لگتے ہیں ۔رسول کی اطاعت نہیں کرتے ۔اگر واقعہ قرطاس میں آپ مریض تھے بستر پر پڑے تھے ۔ تو دوسرے میں مجبور کردیا کہ سر پر عصا بہ باندھے دوآدمیوں پر ٹیک لگا کر اس طرح چلتے ہوئے آئے کہ آنحضرت کے پیر زمین پر خط دیتے جاتے تھے ۔آتے ہی منبر پر جاکر مکمل خطبہ دیا جس میں حمد وثنا ئے الہی فرمائی تاکہ ان لوگوں کو بتادیں میں ہذیان نہیں بکتا ۔ پھر ان کو بتایا کہ تمہارا اعتراض مجھے معلوم ہے ۔پھر اس قصہ کا ذکر کیا جو چار سال پہلے پیش آیاتھا کیا اس پوری گفتگو کےبعد بھی کوئی عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ آپ ہذیان بک رہے ہیں ۔یا بیماری کا غلبہ ہے کہ آپ کو احساس ہی نہیں ہے کہ کیا فرما رہے ہیں ؟
سبحانک اللھم وبحمدک : یہ لوگ کتنے جری ہوگئے تھے کہ کبھی رسول کو معاہدہ صلح کو جسے آپ نے مضبوطی سے باندھا تھا "
--------------
(1):- الطبقات الکبری ابن سعد ج 2 ص 190 ۔تاریخ الطبری ج 3 ص 226
اس کی یہ لوگ زبردست مخالفت کررہے ہیں کبھی رسول قربانی وسرمنڈاونے کا حکم دے رہے ہیں اور یہ لوگ شدت کے ساتھ مخالفت کررہے ہیں ۔ایک مرتبہ نہیں تین مرتبہ حکم دیا مگر کسی نے لبیک نہیں کہا ۔ اور رسول سے کہہ رہے ہیں : خدا نے آپ کو منافقین پر نماز پڑھنے سے روکا ہے اے خدا ! گویا یہ لوگ تیرے رسول کو وہ چیزیں تعلیم دے رہے ہیں جو تو اپنے ر سول پر نازل کرچکا ہے حالانکہ تو نے اپنے قرآن میں کہا ہے " وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیهم (پ 14 س 16 (النمل )آیه 44)
ترجمہ:- اورتمہارے پاس قرآن کیا ہے تاکہ جواحکام لوگوں کے لئے نازل کئے گئے ہیں تم ان سے صاف صاف بیان کردو۔
اور تو ہی نے فرمایا:- انا انزلنا الیک الکتاب با لحق لتحکم بین الناس بما اراک الله( پ 5 س 4(نساء)آیت 105) ترجمہ:- اے رسول ہم نے آپ پر بر حق کتاب اسلئے نازل کی ہے کہ جس طرح خدا نے تمہاری ہدایت کی ہے اسی طرح لوگوں کے درمیان فیصلہ کردو ۔ اور معبود تونے ہی فرمایا ہے اور تیرا قول حق ہے ۔ : کما ارسلنا الیکم رسولا منکم یتلوا علیکم ایاتنا ویزکیکم ویعلمکم الکتاب والحکمة ویعلمکم ما لم تکونوا تعلمون(پ 2 س2 (البقرة ) آیت 151)
ترجمہ:-جیسا کہ ہم نے تمہارے درمیان تم میں سے ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے اور تمہارےنفس کو پاکیزہ کرے اور تمہیں کتاب (قرآن ) اور عقل کی باتیں سکھائے اور تم کو وہ باتیں بتائے جن کی تمہیں (پہلے سے ) خبر بھی نہ تھی ۔
کتنا تعجب ہے ان لوگوں پر جو اپنے کو اونچا سمجھتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود تو حکم رسول کا امتثال نہیں کرتے کبھی رسول پر ہذیان کا اتہام لگاتے ہیں ۔اور بہت ہی بے شرمی وبے ادبی کے ساتھ ان کی موجودگی میں لڑتے جھگڑتے ہیں ۔ شوروغل کرتے ہیں ۔ اور کبھی زید بن حارثہ کی سرداری پر اعتراض کرتے ہیں اور تو کبھی اسامہ بن زید کی سرداری پر لعن وطعن کرتے ہیں ۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے کسی بھی جویائے حقیقت کے لئے یہ فیصلہ کر لینا بہت آسان ہے کہ حق شیعوں کے ساتھ ہے کیونکہ جب وہ لوگ
علامات استفہام لگا لگا کراصحاب کے کرتوتوں کےبارے میں ایک ایک کرکے سوال کرتے ہیں اور ان کے احترام پر ناک بھول چڑھاتے ہیں اور وہ اپنی محبت ومودت کو صرف رسول وآل رسول کے لئے مخصوص کرتے ہیں تو ہم ان کا جواب نہیں دے پاتے ۔
میں نے تو اختصار کے لئے صرف چار پانچ مقامات مخالفت کے دکھائے ہیں اور محض بعنوان مثال ۔لیکن علمائے شیعہ نے ان تمام مقامات کا احصاء کیا ہے جہاں پر صحابہ نے نصوص صریحہ کی مخالفت کی ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ انھوں نے صرف انھیں چیزوں کو پیش کیا ہے جس کو علمائے اہل سنت نے اپنی صحاح ومسانید میں درج کیا ہے ۔
خود میں جب بعض واقعات کا مطالعہ کرتا ہوں کہ بعض اصحاب نے رسو ل خدا کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا تھا ۔ تو متحیر ومدہوش ہوجاتا ہوں ۔صرف ان اصحاب کی جسارت وبدتمیزی پر ہی نہیں بلکہ عمائے اہلسنت والجماعت کے اس رویہ پر اور زیادہ تعجب کرتاہوں جنھوں نے ہمیشہ عوام کو اس دھوکہ میں رکھا کہ اصحاب برابر حق پر ثابت قدم رہے تھے ان کے بارے میں کسی بھی قسم کا نقد وتبصرہ حرام وگناہ ہے ان لوگوں نے اپنے اس اقدام کی وجہ سے طالب حق کو کبھی حقیقت تک پہونچنے ہی نہیں دیا وہ ہمیشہ فکری تناقضات کے بھنور میں چکر کھاتا رہا ۔میں گذشتہ واقعات کے علاوہ بعض اور مثالیں پیش کرتاہوں جس سے صحابہ کی حقیقت عریاں ہوکر سامنے آجائے گی اسطرح شیعوں کا موقف سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
صحیح بخاری ج 4 ص 47 کےکتاب الادب با ب :الصبر علی الاذی ار قول خدا انما یوفی الصابرون اجرهم " کے سلسلہ میں ہے اعمش کہتے ہیں ۔ میں نے شقیق کو کہتے ہوئے سنا کر عبداللہ کہہ رہے تھے ۔رسول خدا نے ایک قسم ایسی کھائی جیسے لوگ کھایا کرتے ہیں ۔ تو ایک انصاری نے کہا : واللہ یہ قسم خدا کے لئے نہیں ہے ۔ میں نے کہا اس بات کو رسول خدا سے ذکر کروں گا ۔ چنانچہ میں آنحضرت کے پاس اس وقت پہونچا ۔جب آپ اپنے اصحاب کے جمگھٹے میں تھے ۔میں نے آپ کے کان میں یہ بات کہی تو آپ کوبہت ناگوار ہوا چہرہ کارنگ بدل گیا اورآپ غضب میں بھر گئے آپ کی حالت
دیکھ کر میں نے اپنے دل میں کہا کاش میں نے آنحضرت کو خبر ہی نہ دی ہوتی ۔ اس کےبعد آنحضرت نے فرمایا ۔موسی کو اس سے بھی زیادہ اذیت دی گئی تھی ہی کہہ کر آپ نے صبرفرمایا ۔۔۔ اسی طرح بخاری کے کتاب الادب باب التبسم والضحک میں ہے : انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں رسول خدا کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ کے اوپر ایک نجرانی چادر تھی جس کے کنارے موٹے تھے اتنے میں ایک بد عرب ملا اور اس نے بہت زور سے نبی کی چادر پکڑ کر گھیسٹا میں نے دیکھا کہ زور سے کھینچنے کی وجہ سے رسول اللہ کے کندھوں کے کناروں پر اس کا نشان پڑگیا تھا ۔چادر کھینچ کر بدو نےکہا : اے محمد خدا کا مال جو تمہارے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دو ۔ رسول اس کی طرف مڑکر ہنسنے لگے ۔ اور حکم دیا ا س کو کچھ دیے دیا جائے ۔
اسی طرح کتاب الادب میں بخاری نے باب:من لم یواجه الناس بالعتاب " میں ایک روایت حضرت عائشہ سے نقل کی ہے فرماتی ہیں : رسول اللہ نے خود کوئی چیز بنائی اور لوگوں کو استعمال کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کے استعمال سے اعراض کیا ۔ اور رسول کو اس کی اطلاع ہوگئی تو آپ نے ایک خطبہ دیا جس میں حمد وثنا ئے الہی کے بعد فرمایا : آخر لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جس کو میں نے بنایا ہے اس سے پرہیز کرتے ہیں واللہ میں خدا کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور سب سے زیادہ ڈرتا ہوں ۔
جو شخص بھی اس روایت کو غور سے پڑھے گا ۔ وہ خود سمجھ لے گا کہ اصحاب اپنے رسول سے اونچا خیال کرتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ رسول تو غلطی کرسکتے ہیں مگر خطا نہیں کرسکتے ۔ بلکہ اسی چیز نے بعض مورخین کو اس بات پر امادہ کیا کہ وہ صحابہ کے ہر فعل کو صحیح سمجھتے ہیں چاہیے وہ افعال فعل رسول کے مخالف ہی ہوں ۔اور بعض صحابہ کے بارے میں کھلم کھلا یہ اظہار کرتے ہیں کہ ان کا علم وتقوی رسول اللہ سے کہیں زیادہ تھا ۔جیسا کہ (تقریبا) مورخین کا اجماع کہے کہ بد ر کے قیدیوں کے بارے میں رسول خدا (ص) نے غلطی کی تھی ۔ اور عمر کی رائے بالکل صحیح تھی ۔ اور اس سلسلہ میں جھوٹی روایتیں نقل کرتے ہیں ۔مثلا آنحضرت نے فرمایا :- اگر خدا ہم کو کسی مصیبت میں مبتلا کردے تو اس سے
عمربن الخطاب کے علاوہ کوئی نجات حاصل نہیں کرسکتا ۔ اور یہ لوگ زبان حال سے کہتے ہیں ۔ اگر عمر نہ ہوتے تو نبی ہلاک ہوجاتے (العیاذ باللہ) خدا اس فاسد عقیدہ سےبچائے جس سے بد تر کوئی عقیدہ نہیں ہوسکتا ۔میں قسم کھا کرکہتا ہوں جس کا بھی یہ عقیدہ ہو وہ اسلام سے اتنا دور ہے جتنا مشرق اور مغرب سے ہے ۔اس پر واجب ہے کہ اپنا علاج کرائے یا اپنے دل سے شیطان کو بھگائے قران کا اعلان ہے : افرایت من اتخذ الهه واضله الله علی علم وختم علی سمعه وقلبه وجعل علی بصرغشاو ة فمن یهدیه من بعد الله افلا تذکرون (پ 25 س 45(الجاثیه ) آیت 22 )
ترجمہ:- بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے اپنے نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور (اسکی حالت ) سمجھ بو جھ کر خدانے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر علامت مقرر کردیہے (کہ ایمان نہ لائے گا) اور اسکی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے ۔ پھر خدا کے بعد اس کی ہدایت کون کرسکتا ہے تو کیا تم لوگ (اتنا بھی) غور نہیں کرتے ۔ صدق اللہ العلی العظیم ۔
میں اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ رسول خدا خواہشات کی پیروی کرتے تھے اور میلان نفس کی بنا پر حق سے عدول کرجاتے تھے ۔ اور خدا کے لئے قسم نہیں کھاتے تھے ۔بلکہ اپنی خواہش وجذبات میں بہہ جاتے تھے ۔ اور جو لوگ رسول خدا کی بنائی ہوئی چیزوں سے اس نے پرہیز کرتے تھے ۔ کہ وہ لوگ رسول سے زیادہ متقی اور رسول سے زیادہ عالم ہیں یہ تمام لوگ مسلمانوں کے نزدیک کسی بھی احترام کے لائق نہیں چہ جائیکہ ایسے لوگوں کو ملائکہ کی جگہ سمجھائے اور ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ رسول خدا کےبعد پوری کا ئنات میں سب سے افضل یہی لوگ ہیں ۔ اور مسلمانوں کو ان کی پیروی اور سیرت پر اس لئے چلنے کی دعوت دی جائے کہ یہ اصحاب رسول ہیں ۔اور اہل سنت و الجماعت کے یہاں یہی سب سے بڑا تضاد ہے کہ وہ محمد وآل محمد پر جب درود بھیجتے ہیں تو ان کے ساتھ سارے صحابہ کو بھی شامل کردیتے ہیں (کہاں آل محمد اور کہاں صحابہ ؟ (دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے) اور جب خداوند عالم آل محمد کی قدر ومنزلت کو جانتا ہے اور لوگوں کی گردنوں کو جھکانے
کے لئے اور ان کی قدر منزلت کا اظہار کرنے کےلئے سب ہی کو حکم دیتا ہے کہ رسول کے ساتھ ان کے اہلبیت طاہرین پر بھی درود بھیجا کریں تو بھلا ہم کو کہاں سے حق پہونچتا ہے کہ اصحاب کو آل محمد سے بڑھادیں یا اصحاب کو ان کے (اہل بیت طاہرین) برابر قراردیدیں ۔اہلبیت تو ہو ہیں ۔جن کو خدا نے عالمین پر فضیلت دی ہے ۔
مجھے اجازت دیجئے کہ میں یہ نتیجہ اخذ کروں کہ اموی اور عباسی لوگ چونکہ اہل بیت کے فضل و منزلت کو جانتے تھے اس لئے انھوں نے اہل بیت نبی کو ملک بدر کیا ۔ دیس نکالا دیا ۔ ان کو ان کے پیروکاروں کو ان کے چاہنے والوں کو قتل کردیا ۔ خود خدا کسی مسلمان کی نماز اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اہلبیت پر درود نہ بھیج لے تو اہلبیت سے دشمنی رکھنے والے ،ان سے منحرف ہونے والے کیا جواز پیش کریں گے ۔؟
چونکہ اہل بیت کی فضیلت چھپائی نہیں جاسکتی تھی ۔ اس لئے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے ان لوگوں یعنی امویوں اور عباسیوں نے صحابہ کو بھی اہلبیت سے ملحق کردیا اور کہنے لگے صحابہ اور اہلبیت فضیلت میں برابر ہیں ۔کیونکہ انھیں امویوں اور عباسیوں کے بعض بزرگوں ہی نے رسول کی صحبت یافتہ اور تابعین میں سے کچھ ناقص العقول افراد (بیوقوفوں )کو خرید لیا تھا۔ تاکہ وہ لوگ فضائل صحابہ میں جھوٹی ومن گڑھت روایات نقل کیا کریں ۔ خصوصا ان اصحاب کے لئے جو سریر آرائے خالفت ہوئے ہیں اور یہی لوگ براہ راست امویوں اور عباسیوں کو تخت خلافت تک پہونچانے والے اور مسلمانوں کی گردنوں پر حکومت کرنے کا سبب بنے ہیں ۔میری باتوں کی گواہ خود تاریخ ہے کیونکہ یہی حضرت عمر جو اپنے گورنروں کا محاسبہ کرنے میں بہت مشہور تھے ار معمولی سے شبہہ کی بنا پر معزول کردیا کرتے تھے ۔ معاویہ کے ساتھ اتنی نرمی برتتے تھے کہ جس کا حساب نہیں ۔ معاویہ سے کبھی محاسبہ نہیں کرتے تھے۔ معاویہ کو ابو بکر نے اپنی حکومت میں گورنر معین کیا تھا ۔حضرت عمر نے اپنے پورے دورخلافت میں معاویہ کو اس کی جگہ پر برقرار رکھا اور کبھی معاویہ پر اعتراض تک نہیں کیا ۔انتہا یہ ہے کہ اظہار ناراضگی یا ملامت تک نہیں کی حالانکہ بکثرت لوگوں کی شکایت کی مگر عمر اس کا ن سے سنکر اس کان سے اڑادیتے
تھے ۔لوگو آآکر کہتے تھے ۔معاویہ سونے اور ریشم کا لباس پہنتا ہے اور رسول خدا نے اس کو مردوں پر حرام قرار دیا تھا ۔ تو عمر صرف یہ کہہ کرٹال دیتے تھے: چھوڑ دو و ہ عرب کا کسری ہے ۔"
معاویہ بیس سال تک بلکہ اس سے بھی زیادہ حکومت کرتا رہا کسی کی مجال نہیں تھی جو اس پر اعتراض کرتا یا سا کو معزول کرتا ۔ اور جب عثمان خلیفہ ہوئے (تب تو پوچھنا ہی کیا ہے سیال بھئے کوتوال" والی مثال صادق آتی ہے مترجم) تو انھوں نے چند دیگر ولایات کو معاویہ کے زیر حکومت کردیا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاویہ بھر پور اسلامی ثروت کا مالک بن بٹھا لشکر کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کر لیا ۔ عرب کے جتنے اورباش بد معاش تھے سب کو اپنے اردگرد اکٹھا کرلیا ۔ تاکہ وقت ضرورت امام امت کے خلاف انقلاب برپا کیا جاسکے اور کذب وزور ، جبر وتشدد ،طاقت وقوت کے بل بوتے پر حکومت پر قبضہ کیا جا سکے اور مسلمانوں کی گردنوں پر بلا شرکت غیر حکومت کی جاسکے اور مرنے سے پہلے اپنے فاسق وشراب خوار ،زنا کا ، عیاش بیٹے یزید کے لئے زبردستی لوگوں سے بیعت لے سکے ۔بیعت یزید کا بھی ایک تفصیلی قصہ ہے جس کو اس کتاب میں بیان کرنا مقصود نہیں ہے ۔ میرا مقصد یہ ہے کہ آپ ان صحابہ کے نفسیات کو سمجھ لیں جو تخت خلافت پر (ناحق ) قابض ہوئے تھے ۔ اور جنھوں نے بنی امیہ کی حکومت کا راستہ ہموار کیا تھا ۔ ایک مفروضہ کی بنا پر قریش کویہ بات پسند نہیں ہے کہ نبوت وخلافت دونوں بنی ہاشم ہی میں رہے(1) ۔حکومت بنی امیہ کا حق کیا بلکہ اس پر واجب تھا کہ جن لوگوں نے اس کی حکومت کے لئے راستہ ہموار کیا تھا ان کا شکریہ ادا کر ے اور کم سے کم شکریہ یہ تھا کہ کچھ راویوں کو خرید لیا جائے جو ان کے آقا ومولی کے فضائل میں جعلی حدیثیں بیان کریں جن کی شہرت قریہ قریہ ،دیہات دیہات ہوجائے اور اسی کے ساتھ ان کے آقاؤں کو ان کے دشمنوں پر فضیلت بھی حاصل ہوجائے ۔یعنی اہلبیت پر فضیلت حاصل ہوجائے ایسی فضیلت کی روایتیں جعل کی گئی ہیں کہ پناہ بخدا حالانکہ خدا شاہد ہے اگر ان روایات کو عقلی ومنطقی وشرعی دلیلوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو هباءا منثورا " نظر آئیں گی ۔
--------------
(1):- خلافت وملوکیت مودودی ،یوم الاسلام احمد امین ۔
اور کوئی آدمی ان کے ذکر کری ہمت بھی نہ کرے گا البتہ جس کے دماغ میں بھوسا بھرا ہویا تناقضات پر ایمان رکھتا ہو تو بات ہی اور ہے ۔میں بطور مثال (نہ بخاطر حصر) چند چیزوں کا ذکر کرتا ہوں ۔بچپنے سے عدالت عمر کی شہرت سنتے آئے ہیں اوریہ بات اتنی مشہور ہے کہ لوگ کہتے ہیں ۔ اے عمر تم عد ل کرتے کرتے سوگئے بعضوں نے یہ کہہ دیا کہ حضرت عمر کو قبر کے اندر سیدھا قیام کی صورت میں دفن کیاگیا تاکہ کہیں ان کے مرنے سے عد ل نہ مرجائے ، زبان زد خاص وعام ہے کہ عدالت عمر کے بارے میں جو چاہے بیان کریں کوئی حرج نہیں ہے ۔۔۔۔ لیکن صحیح تاریخ کا کہنا ہے کہے سنہ 20 ھ میں حضرت عمر نے جب لوگوں میں عطایا کی رسم جاری کی تو نہ سنت رسول کی پیروی کی اور نہ اس ک پرواہ کی ۔کیونکہ رسول اکرم نے تمام مسلمانوں میں عطا کے سلسلے میں مساوات قائم کی تھی ۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دی تھی ۔ خود ابو بکر اپنے دورخلافت میں رسول اکرم کی پیروی کرتے رہے ۔ لیکن حضرت عمر نے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا انھوں نے سابقین کو دوسروں پر فوقیت دی ۔ اور قریش کے مہاجرین کو دوسرے مہاجرین پر فضیلت دی اور تمام مہاجرین کو (خواہ قریشی یا غیر قریشی )تمام انصار پرمقدم کیا ۔ عرب کو تمام غیر عربوں پر ترجیح دی ۔آقا کو غلام پر (1) ۔ قبیلہ مضر کو قبیلہ ربیعہ پر اسطرح فوقیت دی کہ مضر کو تین سو اور ربیعہ کے دو سو معین کیا (2) ۔قبلیہ اوس کو قبیلہ خزرج پر مقدم کیا (3) ۔اے عقل والو مجھے بتاؤ یہ تفضل کون سی عدالت ہے؟اسی طرح حضرت عمر کے علم کا بڑا شہرہ سنا کر تے تھے یہاں تک کہ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ تمام صحابہ میں سب سے زیادہ عالم عمر ہیں ۔ اوربعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ قرآن میں بہت سی آیتیں موجود ہیں ۔ کہ جب رسول اکرم اور عمر بن الخطاب میں اختلاف رائے ہوتا تو قرانی آیات حضرت عمر کی تایید کرتی ہوئی اترتی تھی ۔۔۔۔لیکن صحیح تاریخ کہتی ہے کہ حضرت عمر نزول قرآن پہلے تو در کنار نزول قرآن کےبعد بھی قرآن کی موافقت
--------------
(1):- شرح ابن ابی الحدید ج 8 ص 111
(2):- تاریخ یعقوبی ج 2 ص 106
(3):- فتوح البلدان ص 437
نہیں کرتے تھے ۔ چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ عمر کے زمانہ خلافت میں کسی صحابی نے عمر سے پوچھا :- اےامیر المومنین مین رات کو مجنب ہوگیا اور مجھے پانی نہ مل سکا تو میں کیا کروں ؟ عمر نے فورا کہا : نماز چھوڑ دو مت پڑھو ! لیکن عمار یاسر جو اس وقت جو اس وقت موجود تھے انھوں نے کہا ایسے موقع پر تیمم کرلیتے لیکن حضرت عمر مطمئن نہیں ہوئے اور عمار سے کہا : تم کو ہم اسی کا م کی رائے دیتے ہیں جو تم نے اپنے لئے کیا ہے(1) بھلا مجھے بتاؤ قرآن میں موجود آیت تیمم کا علم حضرت عمر کو کہا ں تھا ؟ عمر کا سنت نبوی کے بارے میں علم کیا ہوا ؟ آخر رسول نے جس طرح وضو کرنا سکھایا تھا تیمم کرنا بھی تو بتایا تھا اور (مدعی سست گواہ چست کے بمصداق)خود حضرت عمر متعدد واقعات کےبارے میں کہتے ہیں میں عالم نہیں ہوں ۔131
بلکہ یہاں تک فرمایا :ہر آدمی عمر سے زیادہ علم فقہ جانتا ہے ۔یہاں تک کہ گھر میں بیٹھنے والی عورتیں بھی زیادہ جانتی ہیں ۔ خود عمر نے متعدد مرتبہ کہا :"لو لا علی لهلک عمر " اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔
بے چارے مرتے مرتے مرگئے ۔لیکن کلالۃ کا حکم نہیں جانتے تھے اسی لئے زندگی میں کلالۃ کے متعدد ومختلف احکام بیا ن کرگئے جیسا کہ تاریخ شاہد ہے (مگر ہمارے علمائے کرام اسی پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں کہ حضرت عمر کو (اعلم الصحابہ ثابت کریں) اے صا حبان بصیرت حضرت عمر کا علم کیا ہوا ؟۔اسی طرح ہم حضرت عمر کی طاقت وقوت وشجاعت کے بارے میں بہت کچھ سنا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ یہ بات کہی گئی کہ عمر کے اسلام لانے سے قریش خوفزدہ ہوگئے اور مسلمانوں کی شان وشوکت بڑھ گئی ۔یہ بھی کہا گیا خدا نے اسلام کی عزت عمر بن خطاب سے بڑھائی ہے ۔ بعضوں نے تو مبالغہ آرائی کی حد کردی کہ جب تک عمر اسلام نہیں لائے رسول علی الاعلان اسلام کی طرف لوگوں کو دعوت نہیں دے سکتے تھے ۔لیکن تاریخ ان باتوں کی تردید کرتی ہے ۔تاریخ میں عمر کی کوئی شجاعت وبہادری نہیں ملتی ۔تاریخ یہ نہیں جانتی کہ عمر نے کسی مشہور کو کیا کسی معمولی آدمی کو بھی مقابلہ میں قتل کیا ہو یا بدر ،احد ، خندق ۔جیسی جنگوں میں کسی بہادر سےنبرد آزمائی کی ہو ۔ بلکہ تاریخ اس کے بر خلاف بیان کرتی ہے کہ معرکہ احد کے بھگوڑوں میں عمر بھی تھے ۔ اسی طرح حنین میں بھاگنے والوں کی فہرست مین ان
--------------
(1):-صحیح بخاری ج 1 ص 52
کا بھی نام نامی ہے ۔رسول خدا نے ان کو خیبر فتح کرنے کے لئے بھیجا ۔اور آپ شکست کھا کر واپس آگئے ۔جتنی جنگوں میں آپ شریک ہوئے سب میں محکوم رہے کبھی سرداری نصیب نہیں ہوئی ۔رسول کی زندگی میں آخری لشکر جو اسامہ بن زید کی سرکردگی میں بھیجا گیا اس میں بھی آپ محکوم ہی تھے ۔ حالانکہ اسامہ محض 18 سال کے جوان تھے ۔
صاحبان عقل خدا کے لئے آپ ہی فیصلہ کیجئے ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیسی شجاعت کیسی بہادری ؟
اسی طرح عمر بن خطاب کے تقوی وپرہیز گاری ،خوف خدا میں گریہ وزاری کےبارے میں بہت کچھ سنا کرتے تھے ۔ بات یہاں تک مشہور ہے کہ عمر بن خطاب اپنے نفس کا محاسبہ اتنا کرتے تھے کہ وہ اس بات سے لرزہ براندام ہوجاتے تھے کہ خدا نخواستہ اگر عراق میں کوئی خچر راستہ ک ناہمواری کی بنا پر ٹھوکر کھا جائے تو اس کی جوابدہی مجھے کرنی ہوگی کہ راستہ کیوں نا ہموار تھا ؟(حالانکہ موصوف مدینہ میں قیام فرماتے تھے ) لیکن تاریخ کا بیان ہے کہ ایسا کچھ بھی نہ تھا بلکہ اس کے بر عکس آپ" فظا غلیظا " واقع ہوئے تھے ۔نہ رتی برابر خوف خدا تھا اور نہ ذرہ برابر ورع ۔ تند مزاجی کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی نے قرآن مجید کی کسی آیت کے بارے سوال کر لیا تو مارے درّوں کے اس کو خونم خون کردیتے تھے ۔ آ پ کی تند مزاجی سے لوگ اتنا خائف رہتے تھے کہ محض آپ کو دیکھ کر عورتوں کا حمل ساقط ہوجاتا تھا ۔ جب رسول اکرم کا انتقال ہوا تو آپ ننگی تلوار لے کر مدینہ کی گلیوں میں گھوم رہے تھے اور لوگوں کو دھمکی دے رہے تھے کہ : جس نے کہا محمد مرگئے اس دن اس کی گردن اڑادوں گا(1) ۔ اور قسمیں کھا کھا کر لوگوں کو یقین دلا رہے تھے کہ محمد مرے نہیں ہیں وہ تو جنا ب موسی کی طرح اپنے خدا سے مناجات کرنے گئے ہیں ۔ آخر یہاں آپ کو خوف خدا کیوں نہیں آیا؟اسی طرح جب حضرت فاطمہ کا گھر جلانے گئے تو کہا جو لوگ گھر میں ہیں ۔ اگر وہ نکل کر بیعت ابو بکر نہیں کرتے تو اس گھر میں آگ لگادوں گا (2) ۔
--------------
(1):- تاریخ طبری ۔وابن اثیر
(2):- الامامہ والسیاسۃ
لوگوں نے کہا ارے اس میں بی بی فاطمہ ہیں کہا :- ہوا کریں ۔ اس موقع پر آپ کو خوف خدا کیوں نہیں آیا ؟ کتاب خدا اور سنت رسول کی پرواہ نہیں کرتے تھے آپ کی جسارت کا عالم یہ تھا کہ اپنے دور خلافت میں متعدد ایسے احکام جاری فرمائے ۔جو قرآن کے نصوص صریحہ اور سنت نبی کے کھلم کھلا مخالف تھے(1) ۔
اے خدا کے نیک بندو! ان تلخ واقعات کے باوجود وہ ورع وتقوی کہاں ہے جس کا اتنا زیادہ ڈھنڈھورا پیٹا جاتا ہے ؟
میں نے صرف عمر کی مثا ل اس لئے دی کہ یہ بہت مشہور صحابی ہیں اور بہت ہی اختصار کے ساتھ لکھا ہے کیونکہ طول دینا مقصود نہیں ہے اگر میں تفصیل سے لکھنے لگوں تو کئی کتابیں میں لکھ سکتاہوں لیکن میرا مقصد حصر کرنا نہیں ہے بلکہ بطور مثال بیان کرنا ہے ۔
اور یہی مختصر سی تحریر صحابہ کی نفسیات سمجھنے کے لئے کافی ہے اور اس سے علمائے اہلسنت کا تنا قض بھی سامنے آجاتا ہے کیونکہ ایک طرف تو لوگوں کو اصحاب کےبارے میں نقد وتبصرہ کرنے بلکہ شک کرنے سے روکتے ہیں اور دوسری طرف ایسی ایسی روایات تحریر کرتے ہیں جس سے شک کا پیدا ہونا فطری بات ہے کاش علمائے اہلسنت نے اس قسم کی روایات ہی کو ذکر نہ کیا ہوت جس سے عظمت صحابہ مجروح ہوتی ہے ۔ ان کی عدالت مخدوش ہوجاتی ہے اگر ایسی روایات نہ لکھی گئی ہوتیں تو ہم کبھی شک میں مبتلا نہ ہوتے ۔مجھے اب تک نجف اشرف کے عالم جناب اسد حیدر صاحب مولف کتاب" الامام الصادق والمذاھب الاربعۃ" کی ملاقات یاد ہے کہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے شیعہ وسنی کے بارے میں باتیں کررہے تھے ۔انھوں نے مجھ سے اپنے والد کا قصہ بیان کیا " کہ میرے کی ملاقات حج میں ایک ٹیونسی عالم سے ہوئی جو "الزیتونیہ یونیورسٹی" کے علماء میں سے تھے ۔ اور یہ واقعہ تقریبا پچاس سال پہلے کا ہے ۔ اسد حیدر صاحب اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں : میرے والد اور ٹیونسی عالم میں حضرت علی کی امامت کے سلسلہ میں گفتگو ہورہی تھی ۔ اور میرے والد حضرت علی کے استحقاق پر دلیلیں پیش کررہے تھے ۔چنانچہ انھوں نے
--------------
(1):-النص والاجتھاد ملاحظہ فرمائیے جس میں مع حوالہ کے تفصیل موجود ہے اور حوالے بھی ایسے ہیں جو تمام اسلامی فرقوں میں مقبول ہیں ۔
چار یا پانچ دلیلیں پیش کیں اور ٹیونسی عالم بڑے غور سے سن رہا تھا ۔جب میرے والد کی بات ختم ہوگئی تو ٹیونسی عالم نے پوچھا کچھ اوربھی دلیلیں ہیں یا بس اتنی ہی ؟ والد نے کہا بس یہی دلیلیں ہیں ۔ ٹیونسی عالم نے کہا اپنی تسبیح نکالو اور شمار کرنا شروع کردو پھر اس نے حضرت علی کی امامت پر سو ایسی دلیلیں پیش کیں جن کو میرے والد نہیں جانتے تھے ۔ شیخ اسد حید نے بیان جاری رکھتے ہوئے کہا :- اہلسنت والجماعت صرف اپنی کتابوں میں لکھی ہوئی دلیلوں کو پڑھ لیتے تو ہمارے ہم عقیدہ ہوجاتے اور آپسی اختلاف بہت پہلے ختم ہوجاتا ۔انتھی ۔
میں اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں اگر انسان اندھی تقلید چھوڑ دے اور تعصب کو بالائے طاق رکھ کر صرف دلیل کا تابع ہوجائے تو اسد حیدر والی بات حق ہے اس سے مفر کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔
سب سے پہلے تو میں یہ عرض کروں کہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں متعدد مواقع پر رسول اکرم کے ان اصحاب کی مدح سرائی فرمائی ہے جنھوں نے رسول سے محبت کی ان کی پیروی کی اور بغیر کسی لالچ یا معاوضہ یا استکبار واستقلال کے ان کی اطاعت کی اور یہ اطاعت محض خدا اور رسول کی خوشنودی کے لئے کی یہی وہ اصحاب ہیں جن سے خدا بھی راضی ہے اور یہ لوگ بھی اپنے خدا سے خوش ہیں ۔ اصحاب کی اس قسم کو مسلمانوں نے ان کے کردار وافعال کے ذریعہ پہچانا ہے اور پہچان کران سے دل کھول کر محبت کی ہے ان عظمت کے قائل ہیں ۔ جب اس قسم کے اصحاب کاذکر آتا ہے مسلمان فورا رضی اللہ عنھم کہتے ہیں ۔ اور میری بحث بھی ان اصحاب سے نہیں ہے کیونکہ یہ حضرات سنی وشیعہ سب ہی کی نظر میں قابل احترام ہیں ۔ اسی طرح میری بحث کا تعلق ان اصحاب سے بھی نہیں ہے جن کا نفاق طشت ازبام ہے ۔اور سنی وشیعہ ہر ایک کی نظر میں قابل لعنت ہیں ۔
بلکہ میں صرف ان اصحاب کے بارے میں بحث کروں گا جن کے بارےمیں مسلمانوں کے اندر اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور خود قرآن نے بھی بعض مواقع پر ان کی باقاعدہ تو بیخ وتہدید کی ہے اور پیغمبر اسلام نے بھی منا سب مواقع پر ان کی توبیخ کی ہے ۔ اور لوگوں کو ان کے بارےمیں ڈرایا ہے ۔ جی ہاں ! سنی وشیعہ کے درمیان زبردست اختلاف ایسے ہی اصحاب کےبارے میں ہے کیونکہ شیعہ ان حضرات کے اقوال وافعال سب ہی کو قابل نقد وتبصرہ سمجھتے ہی نہیں بلکہ نقد وتبصرہ کرتے بھی ہیں ۔ اوران کی عدالت کے بارے میں شک رکھتے ہیں جبکہ اہل سنت والجماعت ان کی تمام مخالفتوں اور رو گردانیوں اورجسارتوں کے باوجود ان کا ضرورت سے زیادہ احترام کرتے ہیں ۔ میں انھیں اصحاب کے
بارے میں اپنی بحث کو اس لئے محدود کرنا چاہتا ہوں تاکہ پوری حقیقت نہ سہی تھوڑی ہی حقیقت کھل کر سامنے آجائے ۔
میں یہ بات صرف اس لئے کہہ رہا ہوں تاکہ کوئی صاحب یہ نہ کہہ دیں کہ میں نے ان آیات سے چشم پوشی کرلی ہے جو مدح صحابہ پر دلالت کرتی ہیں اور محض ان آیات کو پیش کیا ہے جن سے قدح صحابہ ثابت ہوتی ہے ۔بلکہ میں نے بحث کے درمیان ان آیات کو پیش کیا ہے جو بظاہر مدح پر دلالت کرتی ہیں لیکن ان سے ہی نتیجہ نکالا ہے کہ ان سے قدح ثابت ہوتی ہے یا ایسی آیتوں کو پیش کیا ہے جن سے بظاہر قدح ثابت ہوتی ہے لیکن ان سے مدح ثابت ہوتی ہے ۔
اور اس سلسلہ میں گزشتہ تین سالوں کی طرح بہت زیادہ محنت ومشقت نہیں کروں گا بلکہ بطور مثال بعض آیتوں کو ذکر کروں گا ایک تو اس لئے کہ یہی طریقہ معمول ہے اور دوسرے اس وجہ سے کہ میں اختصار سے کام لینا چاہتاہوں ۔ ہاں جو لوگ مزید اطلاع حاصل کرنا چاہیں وہ بحث ومباحثہ کریں ۔حوالوں کو دیکھیں جیسا کہ میں نے کیا ہے تاکہ حقیقت تک رسائی ،عرق جبین وفکری تگ ودو کے بعد حاصل ہوجیسا کہ خدا ہر ایک سے یہی چاہتا بھی ہے کہ خود محنت کرکے نتیجہ تک پہونچو! اور وجدا ن کا بھی یہی تقاضا ہے کیونکہ جو شخص زحمت بسیار کے بعد ہدایت تک پہونچے گا ۔ اس آندھیاں اس کے موقوف سے ہٹا نہیں سکتیں ۔ اور ظاہر سی بات ہے جو ہدایت زحمت کشی کے بعد حاصل ہوتی ہے وہ جذبات کے رو میں بہہ کر حاصل ہونے والی ہدایت سے بدرجہا بہتر ہوتی ہے ۔خدا اپنے نبی کی مدح کرتے ہوئے کہت ہے" ووجدک صالا فهدی " (1) یعنی ہم نے تم کو پایا کہ حق کے لئے جستجو کرتے ہو تو اس لئے حق تک تمہاری ہدایت کردی ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے ۔ والذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا (2) جن لوگوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا انھیں ہم ضرور اپنی راہ کی ہدایت کریں گے ۔
--------------
(1):-پ 30 س 93 (والضحی )آیت 7
(2):- پ 21 س 29 (العنکبوت) آیت 69
ارشاد خداوند عالم ہے:-" وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افائن مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیه فلن یضرالله شیئا وسیجزی الله الشاکرین (1)
ترجمہ:- اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو صرف رسول ہیں (خدا نہیں ہے) ان سے پہلے اور بھی بہت سے پیغمبر گز رچکے ہیں پھر کیا اگر (محمد) اپنی موت سے مرجائیں یا مار ڈالے جائیں تو تم الٹے پاؤں (اپنے کفر کی طرف) پلٹ جاؤ گے ؟ اور جو الٹے پاؤں پھرے گا ( بھی) تو (سمجھ لو کہ) ہرگز خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ پایگا وار عنقریب خدا کا شکر کرنے والوں کو اچھا بدلہ دے گا ۔
یہ آیہ مبارکہ صریحی طور پر اس بات کو بتاتی کہ اصحاب ،وفات رسول کے بعد فورا الٹے پاؤں پھر جائیں گے صرف کچھ لوگ ہوں گے جو ثابت قدم رہیں گے جن کی تعبیرات خدانے شاکرین" کے لفظ سے کی ہے کہ یہ لوگ ثابت قدم رہیں گے اور شاکرین کی تعداد بہت ہی کم ہے جیسا کہ ارشاد ہے:-" وقلیل من عبادی الشکور (2) " اور میرے بندوں میں سے شکر کرنے والے (بندے ) تھوڑے سے ہیں ۔
اور خود پیغمبر اسلام کی وہ حدیثین جو اس انقلاب کی تفسیر کرنے والی ہیں ان کی بھی دلالت اسی بات پر ہے کہ زیادہ تر لوگ مرتد ہوجائیں گے ۔بعض روایات کو آگے چل کرمیں خود بھی نقل کروں گا اورجب خدا نے اس آیت میں مرتد ہونے والوں کے عقاب کاذکر نہیں کیا ہے صرف ثابت قدم رہنے والوں کی تعریف کی ہے اور ان کی جزا کا وعدہ کیا ہے تو ہمیں بھی اس چکر میں نہیں پڑنا ہے کہ ان کا عذاب
--------------
(1):- پ 4 س 3(آل عمران) آیت 144
(2):-پ 12 س 34(سباء) آیت 13
کیسا ہوگا ۔ لیکن اتنی بات بہر حال معلوم ہے کہ یہ لوگ ثواب ومغفرت کےبہر حال مستحق نہیں ہیں ۔ جیسا کہ مرسل اعظم نے خود متعدد مقامات پر اس کو بیان کردیا ہے اور انشااللہ بعض سے ہم بھی بحث کرینگے ۔
احترام صحابہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس آیت کی تفسیر میں یہ کہنا کہ اس سے مراد طلیحہ ، سیحاح ،۔ اور اسود العینی ہیں اس لئے غلط ہے کہ یہ لوگ رسول کی زندگی میں ہی مرتد ہوگئے تھے اور ادعائے نبوت کیا تھا اور پیغمبر نے ان سے جنگ کی تھی ۔ اور آنحضرت غالب ہوئے تھے ۔ اور آیت وفات رسول کے بعد مرتد ہونے والوں کا ذکر رہی ہے اسی طرح اس آیت سے مراد متعدد اسباب کی بنا پر مالک بن نویرہ اور ان کے پیروکار نہیں ہوسکتے جنھوں نے ابو بکر کو زکواۃ دینے سے انکار کردیا تھا ۔کیونکہ یہ لوگ زکواۃ کے منکر نہیں تھے ۔بلکہ ابو بکر کو دینے میں مردد تھے کہ جب تک حقیقت حال واضح نہ ہوجائے اس وقت تک ہم زکات نہ دیں گے ۔ اور ان کے تردد کی وجہ بھی معقول تھی ۔کیونکہ یہ لوگ رسول اللہ کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک تھے ۔اور غدیر خم میں جب رسول اکرم نے حضرت علی کی خلافت کے لئے نص کردی تو ان لوگوں نے حضرت علی کی بیعت کرلی تھی ۔ ۔۔بیعت تو ابو بکر نے بھی کی تھی ۔۔۔ اب دفعۃ مدینہ سے آدمی رسول خدا کی موت کی خبر کے ساتھ ابو بکر کےنام پر وصولی زکات کا پیغام لے کر جب پہونچا تو ان کو تردد ہونا ہی چاہے کہ ہم نے بیعت علی کی کی تھی ۔یہ ابو بکر بیچ میں کہاں سے آکو دے؟تاریخ میں عظمت صحابہ مجروح نہ جائے اس لئے اس واقعہ کی گہرائی میں جانا مناسب نہیں سمجھا اس کے علاوہ مالک اور ان کے تمام ساتھی مسلمان تھے ۔جس کی گواہی خود عمر و ابو بکر نے بھی دی تھی اور اصحاب کی ایک جماعت نے بھی گواہی دی تھی جنھوں نے خالد کے اس فعل پر ۔۔یعنی مالک کے قتل پر ۔۔۔۔سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا ۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ ابو بکر نے مالک بن نویرہ کے بھائی متمم سے معافی مانگنے کے ساتھ بیت المال سے مالک کی دیت بھی متمم کو ادا کی ۔اگر مالک مرتد ہوگئے ہوتے تو ان کا قتل واجب تھا اور بیت المال سے دیت بھی نہیں دی جاسکتی تھی ۔ اور نہ ان کے بھائی سے معذرت جائز تھی ۔پس ثابت ہوا کہ اس آیت سے مراد مالک اور ان کے ساتھی نہیں ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ مرتد نہیں تھے ۔ اورآیت مرتدوں کا ذکر کررہی ہے ۔
لہذا معلوم ہوا کہ آیت انقلاب کے مصداق صرف وہ صحابہ ہیں ۔جو مدینہ میں آنحضرت ےک ساتھ زندگی بسر کرتے تھے ۔ اورآپ کی وفات کے بعد ہی بلافاصلہ مرتد ہوگئے ۔ پیغمبر کی حدیثیں اس مطلب کو اتنی وضاحت سے بیان کرتی ہیں ۔ کہ کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔عنقریب ہم ان کو بیان کریں گے ۔اور خود تاریخ بھی بہترین شاہد ہے کہ وفات مرسل اعظم کے بعد کون لوگ تھے جو مرتد ہوگئے تھے ۔اور بھلا کون ہے جو صحابہ کی آپسی چپقلش سے واقفیت نہیں رکھتا ؟ صرف چند اصحاب ایسے تھے جو ان باتوں سے مبرا تھے ۔ورنہ سب ہی ایک حمام میں ننگے تھے ۔
ارشاد پروردگار عالم ہے:-" یا ایها الذین آمنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل الله اثاقلتم الی الارض ارضیتم بالحیواة الدنیا من الآخرة فما متاع الحیواة الدنیا فی الآخرة الا قلیل الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما ویستبدل قوما غیرکم ولا تضروه شیئا والله علی کل شئ قدیر (1) "۔
ترجمہ:-اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے جس تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لئے )نکلو تو تم لدھڑ ہو کے زمین کی طرف پڑتے ہو کیا تم آخرت کے بہ نسبت دنیا کی (چند روزہ ) زندگی کو پسند کرتے ہو تو(سمجھ لو کہ) دنیاوی زندگی کا سازوسامان آخرت کے (عیش وآرام کے )مقابلے میں بہت ہی تھوڑا ہے اگر اب بھی نکلو گے تو خدا تم پر دردناک عذاب نازل فرمائے گا (اور خدا کچھ مجبور تو ہے نہیں) تمہارے بدلے کسی اور قوم کو لےآئے گا ۔اور تم اس کو کچھ بگاڑ نہیں پاؤ گے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔
یہ آیت صریح طور سے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صحابہ جہاد میں سستی برتتے تھے اور
--------------
(1):- پ 10 س 9(التوبہ)آیت 28-29
عیش دنیا کی طرف مائل تھے ۔ حالانکہ ان کو معلوم تھا ۔ دنیا ھی لذتیں مختصر سی پونچی ہیں ۔یہاں تک کہ خدا نے ان کو دردناک عذاب کی دھمکی دی اور کہہ دیا کہ تمہارے بدلے سچے اور ایماندار مومنین کولائےگا ان لوگوں کے بدلے میں دوسرے لوگوں کے لانے کی دھمکی کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے جس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ صحابہ نے ایک مرتبہ نہیں متعدد مرتبہ جہاد سے پہلو تہی کرنے کی کوشش کی ہے چنانچہ ایک دوسری آیت میں آیا ہے :-" وان تتولو ا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم (1) ۔"اگر تم (خدا کے حکم سے )منہ پھیرو گے تو خدا( تمہارے سوا) دوسروں کو بدل دےگا ۔اور وہ تمہارے ایسے نہ ہوں گے ۔
اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:" یا ایها الذین آمنوا من یرتد عن دینه فسوف یاتی الله بقوم یحبهم ویحبونه اذلة علی المومنین اعزة علی الکافرین یجاهدون فی سبیل الله ولا یخافون لومة لائم ذالک فضل الله یوتیه من یشاء والله واسع علیم (2)۔
ترجمہ:- اے ایماندارو! تم میں سے کوئی انپے دین سے پھر جائے گا تو ( کچھ پرواہ نہیں پھر جائے ) عنقریب ہی خدا ایسے لوگوں کو ظاہر کردے گا جنھیں خدا دوست رکھتا ہوگا ۔ اور وہ اس کو دوست رکھتے ہوں گے ایمانداروں کے ساتھ منکر اور کافروں کے ساتھ کڑے ۔خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے ہوں گے کواور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کچھ پراوہ نہ کریں گے ۔ یہ خدا کا فضل وکرم ہے ۔جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا توبڑی گنجائش والا اور واقف کار ہے ۔
اگر ہم ان تمام آیات کو تلاش کریں جو اس مطلب پر دلالت اور بڑی وضاحت کے ساتھ اس تقسیم کی تائید کرتی ہیں جس کے شیعہ قائل ہیں خصوصا صحابہ کے اس قسم کے بارے میں تو اس کے لئے ایک مخصوص کتاب کی ضرورت ہو کی قرآن مجید نے اسی بات کو بڑے بلیغ انداز میں اور بہت مختصر لفظوں میں بیان کیا ہے :
--------------
(1):- پ 26 س 47 (محمد) آیت 38
(2):- پ 6 س 5( مائدہ) آیت 54
ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر ویامرون باالمعروف وینهون عن المنکر واولئک هم المفلحون ولا تکونوا کا الذین تفرقوا واختلفوا من بعد ما جاءهم البینات واولیئک لهم عذاب عظیم یوم تبیض وجوه وتسود وجوه فامّا الذین اسودت وجوههم اکفرتم بعد ایمانکم فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون واما الذین ابیعت وجوههم ففی رحمة الله هم فیها خالدون (1) ۔
ترجمہ:-اور تم میں سے ایک گروہ (ایسے لوگوں کا بھی ) تو ہونا چاہئے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائیں اور اچھے کام کا حکم دیں ۔ اور برے کاموں سے روکیں اور ایسے ہی لوگ (آخرت میں) اپنی دلی مراد پائیں گے اور تم کہیں ان لوگوں کے ایسے ہن ہوجانا جو آپس میں پھوٹ ڈال کر بیٹھ رہے اور روشن دلیلیں آنے کے بعد بھی ایک منہ ایک زبان نہ رہے ایسے ہی لوگوں کے واسطے بڑا (بھاری) عذاب ہے (اس دن سے ڈرو)جس دن کچھ لوگوں کے چہرے تو سفید نورانی ہوں گے اورکچھ (لوگوں ) کےچہرے سیاہ ۔پس جن لوگوں کے منہ میں کالک ہوگی ( ان سے کہا جائے گا ) بائیں کیوں؟ تم تو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے ۔ اچھا تو(لواب) اپنے کفر کی سزا میں عذاب (مزے ) چکھو اورجن کے چہرے پر نور برستا ہوگا وہ تو خدا کی رحمت (بہشت ) میں ہوں گے اور اسی میں سدا ہیں (بسیں )گے ۔
ہر حقیقت کا متلا شی اس بات کو سمجھتا ہے کہ یہ آیت اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے ان کو تہدید کررہی ہیں کہ کہ خبردار روشن دلیلوں کے آجانے کے بعد تفرقہ اندازی اور اختلاف سے بچنا ورنہ عذاب عظیم کے مستحق ہوگے ۔ اور یہ آیتیں اصحاب کو دوقسموں پر بانٹ رہی ہیں ۔ ایک قسم ان اصحاب کی ہوگی جو قیامت میں روشن رواٹھیں گے اور یہ وہی شاکر بندے ہوں گے جو رحمت الہی کے مستحق ہوں گے اورکچھ اصحاب سیا ہ رواٹھیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے انھیں کے لئے خدانے عذاب عظیم کی دھمکی دی ہے ۔
ہر اسلامی تاریخ کا طالب علم جانتا ہے کہ رسول اکرم کے بعد صحابہ میں زبردست اختلاف ہوگیا تھا اور
--------------
(1):- پ 4 س 3(آل عمران)آیت 104،105،106
یہ لوگ آپ میں ایک دوسرے کے شدید مخالف تھے ۔ فتنہ کی آگ بھڑک اٹھی تھی ۔ اور نوبت قتال وجدال کی پہنچ گئی تھی ۔جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی ذلت ورسوائی ہوئی اور دشمنان اسلام کو خوب موقع ملا اس آیت کینہ تو تاویل ممکن ہے ۔اور نہ ذہن میں فورا آجانے والے معانی سے کسی اورطرف پلٹا نا ممکن ہے ۔
ارشاد خداوند عالم ہے:- أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ (1)
ترجمہ:- کیا (ایمانداروں کے لئے )ابھی تک اس کا وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد اور قرآن کے لئے جو خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے ۔ ان کے دل نرم ہوں ۔ اور وہ ان لوگوں کے سے نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتاب (توریت وانجیل ) دی گئی تھی تو (جب ) ایک زمانہ دراز ہوگیا تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے بہتیرے بدکار ہیں ۔
سیوطی نے در منثور میں لکھا جب اصحاب رسول مدینہ آئے تو سختیون کے بعد ان کو اچھی زندگی نصیب ہوئی ۔ لہذا بعض ان چیزوں سے جن کے یہ عادی تھے ان سے سستی برتنے لگے ۔ تو ان پر خدا کی طرف سے پھٹکار پڑی اور یہ آیت(الم یان للذین امنوا) بطور عتاب نازل ہوئی ۔ ایک دوسری روایت میں آنحضرت سے منقول ہے کہ نزول قرآن کے سترہ 17 سال بعد خدا نے مہاجرین کے دلوں کی سستی پریہ ایہ نازل کی ۔الم یان الخ ۔
ذرا سوچئے جب بقول اہل سنت والجماعت صحابہ خیر الخلق بعد رسول اللہ ہیں ۔ اور ان کا دل سترہ سا
-------------
(1):- پ 27 س57(حدید)آیت 16
تک نرم نہیں ہوا ۔ اورذکر خدا وقرآن کے لئے ان کے دلوں میں نرمی نہیں پیدا ہوئی ۔ یہاں تک کہ خدا نے اس قسی القلبی پر جو فسوق تک منجر ہوتی ہے ۔ اصحاب کو باقاعدہ ڈانٹ پلائی اورشدید عتاب کیا ۔ تو وہ سردار ان قریش جو ہجرت کے ساتویں سال فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے ۔ اگر ان کے دل نہیں نرم ہوئے تو جائے ملامت نہیں ہے ۔
بطور نمونہ مشتے از خردارے " یہ چند مثالیں میں نے قرآن مجید سے پیش کی ہیں ۔جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سارے صحابہ عدول نہیں تھے ۔ یہ تو صرف اہل سنت والجماعت کا پروپیگنڈہ ہے کہ تمام صحابہ عدول ہیں ۔
اور اگر کہیں ہو احادیث رسول میں تلاش کرنے لگیں تو دس گنا مثالیں مل جائیں گی لیکن اختصار کے پیش نظر میں چند حدیثوں کو ذکر کروں گا ۔ اگر کسی کو مزید اطلاع درکار ہو تو وہ خود احادیث کے اخبار سے ایسی بکثرت مثالیں تلاش کرسکتا ہے ۔
(2)
اصحاب کے بارے میں رسول(ص) کا نظریہ
رسو ل خدا (ص) فرماتے ہیں :- میں کھڑا ہوں گا کہ دفعۃ میرے سامنے لوگوں کا ایک گروہ ہوگا ۔اور جب میں ان لوگوں کو اچھی طرح پہچان لوں گا ۔ تو میرے اور ان لوگوں کے درمیان سے ایک شخص نکل کر کہے گا آؤ ! میں پو چھوں گا ان کو کہاں لیجارہے ہو؟ وہ کہے گا جہنم میں ! میں پوچھوں گا ا ن کی کیا خطا ہے ؟ وہ کہے گا ۔ آپ کے بعدیہ لوگ مرتد ہوگئے تھے ، پچھلے پاؤں (اپنے دین کی طرف پلٹ گئے تھے ) میں دیکھوں گا کہ سائے چند مختصر لوگوں کے جوآزاد جانور کی طرح پھر رہے ہوں گے ۔ سب ہی کو جہنم کی طرف لیجایا جائے گا(1) ۔
رسول اکرم کا ا رشاد ہے :- میں تم میں سے پہلے حوض پر ہوں کا جو میرے پاس سے گزریگا وہ سیراب ہوکر جائیگا ۔اور جو پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا ۔ وہیں حوض پر میرے پاس کچھ لوگ آئیں گے جن کو میں پہچانتا ہوں گا ۔ اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے ۔ پھر میرے اور ان کے درمیان ایک حائل پیدا کردیا جائے گا ۔ میں کہوں گا (ارے یہ تو) میرے اصحاب ہیں ! پھر جواب میں کہا جائے گا آپ کو نہیں معلوم انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا کیا ہے تومیں کہوں گا وائے ہو وائے ان لوگوں پر جنھوں نے میرے بعد (دین میں تغیر وتبدل کردیا ہے(2) ۔
--------------
(1)-(2):- صحیح بخاری ج 4 ص94 ص 156 وج 2 ص32 ۔صحیح مسلم ج 7 ص 66 حدیث الحوض
جو بھی شخص ان حدیثوں کو غور سے پڑھے گا ۔ جس کو علمائے اہل سنت نے اپنی صحاح اورمسانید میں لکھا ہے اس کو اس میں کوئی شک نہیں رہے گا کہ اکثر صحابہ نے یہ تبدیلی کردی ہے بلکہ آنحضرت کے بعد اکثر مرتد ہوگئے ہیں سوائے ان مختصر لوگوں کے جو آزاد جانوروں کی طرح پھر رہے ہوں گے ان احادیث کو کسی بھی طرح صحابہ کی تیسری قسم یعنی منافقین پر حمل کرنا درست ہی نہیں ہے کیونکہ روایت میں ہے حضور کہیں گے یہ میرے اصحاب ہیں ! بلکہ یہ حدیثیں درحقیقت ان آیتوں کی تفسیر ونکی مصداق ہیں جن کو ہم پہلے بیان کرچکے کہ آیت نے صراحۃ کہا ہے یہ لوگ مرتد وہوجائیں گے اور ان کو عذاب عظیم کی دھمکی بھی دی گئی ہے ۔
رسول خدا (ص) نے فرمایا :- میں تم سے پہلے جاؤں گا ۔ اور تم سب پر گواہ ہوں ۔ خدا کی قسم میں اس وقت بھی اپنی حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی (یا زمین کی )کنجایاں دی گئی ہیں ۔ اور میں خدا کی قسم اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے ۔ لیکن میں اس سے ضرور ڈرتا ہوں کہ تم میرے بعد دنیا طلبی میں ایک دوسرے پر سبقت کرنے لگوگے (1) رسول خدا نے بہت سچ فرما یا تھا آپ کے بعد صحابہ دنیا کی طرف اتنے راغب ہوگئے تھے کہ نیا م سے تلواریں نکل آئی تھیں ۔ خوب خوب آپس میں لڑے ، ایک نے دوسرے کو کافر کہا ۔بعض مشہور ترین صحابہ سونے وچاندی کا ذخیرہ جمع کرنے پر لگ گئے ۔ مورخین کہتے ہیں ۔مثلا مسعودی نے مروج الذہب میں اور طبری وغیرہ نے لکھا ہے کہ صرف زبیر کے پاس پچاس ہزار دینا ،ایک ہزار گھوڑے ، ایک ہزار غلام ، بصرہ ،کوفہ ،مصر وغیرہ میں بہت زیادہ کاشت کی زمینیں تھیں (2) ۔اسی طرح طلحہ کا عالم یہ تھا کہ صرف عراق کی زمین سے اتنا غلہ پیدا ہوتا تھا کہ روز انہ ایک ہزار دینار کے برابر کا غلہ ہوتاتھا ۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ کا ہوتا تھا (3)
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 4 ص 100،101
(2)-(3):- مروج الذہب مسعودی ج 2 ص 241
عبدالرحمان بن عوف کے پاس سوگھوڑے ایک ہزار اونٹ ایک ہزار دینا ر ،دس ہزار بھیڑ بکریاں تھیں ان کے مرنے کے بعد ترکہ کا اٹھواں حصہ بیویوں کا حق ہوتا ہے اس آٹھویں حصہ کو چار بیویوں پر تقسیم کیاگیا تو ہر بیوی کے حصہ میں چوراسی چوراسی ہڑآ ئے تھے ۔(3)
اور سیٹھ عثمان نے اپنے مرنے کے بعد ڈیڑلاکھ دینا چھوڑا ۔جانوروں ،قابل کاشت زمینوں اور غیر قابل کاشت زمینوں کا تو شمار ہی ممکن نہیں ہے ۔زید بن ثابت نے سونے چاندی کی اتنی بڑی بڑی اینٹیں چھوڑی تھیں جن کو کلہاڑی سے کاٹنا پڑتا تھا ۔ کا ٹتے کاٹتے لوگوں کے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے تھے ۔یہ علاوہ ان اموال اور قابل کا شت زمینوں کے ہے جن کی قیمت ایک لاکھ دینار تھی ۔(2)
دنیا پرستی کی یہ چند مثالیں ہیں ۔ تاریخ میں تو اس کے شواہد بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن ہم سردست اس کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے ۔ اپنی بات کے ثبوت میں ہم اسی قدر کافی سمجھتے ہیں اور اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر دنیا پرست تھے ۔
٭٭٭٭٭
--------------
(1)-(2):- مروج الذہب مسعودی ج 2 ص 341
(3)
صحابہ کے بارے میں صحابہ کے نظریات
جناب اوب سعید خدری کا بیان ہے :جناب رسو ل خدا نماز عید الفطر یا عیدالاضحی کے لئےجب بھی نکلتے تھے تو پہلے نماز پڑھاتے تھے پھر ان لوگوں کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوجاتے تھے اورلوگ بیٹھے ہی رہتے تھے ۔ اور وعظ ونصیحت فرماتے تھے ۔امرونہی کرتے تھے ۔ اگر کسی بحث کو قطع کرنا چاہتے تھے یا کسی چیز کے لئے حکم دینا چاہتے تھے تو حکم دیتے تھے پھر واپس تشریف لاتے تھے ۔ابو سعید کہتے ہیں یہی صورت آنحضرت کے بعد بھی رہی لیکن ایک مرتبہ جب مروان مدینہ کا گورنرتھا میں بھی اس کے ساتھ عیدالاضحی یا عیدالفطر کی نماز کے لئے چلا جب ہم لوگ مصلی (نماز پڑھنے کی جگہ) پر پہونچے تو دیکھا کہ کثیرین صلت نے ایک منبر بنا رکھا ہے اور مروان نماز سے پہلے ممبر پر جانا چاہتا تھا کہ میں نے اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچا لیکن اس نے کھینچ کراپنے کو چھڑا لیا اور منبر پر جاکر نماز سے پہلے خطبہ دیا ۔میں نے مروان سے کہا ۔ خدا کی قسم تم (طریقہ رسول کو) بدل دیا مروان نے کہا :- ابو سعید جو تم جانتے ہو وہ دور چلا گیا ۔ میں نے کہا ۔ خدا کی قسم جو میں جانتا ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو نہیں جانتا ۔اس پر مروان نے کہا ۔نماز کے بعد لوگ ہمارے لئے بٹیھے رہیں گے اس لئے میں نے خطبہ کو مقدم کردیا(1) ۔
میں نے ان اسباب کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی جس کی بنا پر انصار سنت رسول کو بدل دیا کرتے
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 1 ص 122 کتاب العیدین باب الخروج الی المصلی بغیر منبر
تھے آخر میں اس نتجہ پر پہونچا کہ تمام اموی حضرات جن میں اکثریت صحابہ رسول کی تھی اور ان سب (اموی حضرات) کے راس ورئیس معاویہ بن ابی سفیان تھے جن کو اہل سنت والجماعت کا تب وحی کہتے ہیں ۔لوگوں کو آمادہ ہی نہیں بلکہ مجبور کیا کرتے تھے کہ لوگ تمام مسجدوں کے منبروں سے حضرت علی ابن ابی طالب پر لعن اور سب وشتم کیا کریں جیسا کہ مورخین نے لکھا بھی ہے ار صحیح مسلم میں باب فضائل علی ابن ابی طالب میں ایسا ہی لکھا ہے اور معاویہ نے اپنے تمام گورنروں کو یہ احکام جاری کر دئیے تھے علی پر لعنت کرنے کو ہر خطیب اپنے منبر سے اپنا فریضہ قرار دے لئے اور جب صحابہ نے اس کو ناپسند کیا تو معاویہ نے ان کو قتل کرنے اور ان کے گھر بار کو جلانے کا حکم دیدیا ۔مشہور ترین صحابی جنا ب حجر بن عدی اون ان اصحاب کو معاویہ نے صرف اس جرم میں قتل کرادیا ۔ اور بعضوں کوزندہ دفن کرادیا کہ انھوں نے حضرت علی پر لعنت کرنے سے انکار کردیا تھا ۔
مولانا مودودی اپنی کتاب "خلافت وملوکیت " میں حسن بصری کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں ۔ چار باتیں معاویہ میں ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی ہوتی تو معاویہ کی ہلاکت کے لئے کافی ہوتی ۔اور وہ یہ ہیں ۔
1:- صحابہ کے ہوتے ہوئے کسی سے مشورہ کئے بغیر حکومت پر قبضہ کرنا ۔
2:- اپنے بعد شرابی کبابی بیٹے یزید کو خلیفہ نامزد کرنا جو ریشمی لباس پہنتا اور طنبور بجایا کرتا تھا ۔
3:- زیاد کو اپنا بھائی قراردے دینا ۔حالانکہ رسول کی حدیث ہے "الولد للفراش وللعاھر الجھر "( لڑکا شوہر کا ہے زانی کے لئے پتھر ہے )۔
4:- حجر واصحاب حجر کو قتل کرنا ۔ وائے ہو معاویہ پر حجر کے قتل پر وائے ہو وائے معاویہ پر حجر واصحاب حجر کے قتل کرنے پر(1) ۔
بعض ایماندار صحابہ نماز کے بعد مسجد سے فورا چلے جاتے تھے تاکہ ان کو وہ خطبہ نہ سننا پڑے جو علی واہلبیت کی لعنت پر ختم ہوتا تھا جب بنی امیہ کو اس کا احساس ہوا کہ لوگ نماز کے بعداسی لئے
--------------
(1):- خلافت وملوکیت ص 106
چلے جاتے ہیں تو انھون نے سنت رسول کو بدل دیا اور خطبہ کو نماز کے مقدم کردیا تاکہ لوگ مجبورا سنیں ۔ اسی طرح پورا ایک دوران صحابہ کو گزر گیا جو اپنے ذلیل وپست مقاصد کے لئے ۔اپنے چھپے ہوئے کینہ کا بدلہ لینے کے لئے سنت رسول تو درکنار احکام الہی کو بدل دیا کرتے تھے اور ایسے شخص پر لعنت بھیجتے تھے جس کو خدا نے پاک وپاکیزہ قرار دیا ہے جس پر درود وسلام اسی طرح واجب قرار دیا ہے جس طرح اپنے رسول پر جس کی محبت ومودت اس نے اور اس کے رسول نے واجب قراردیا ہے ۔ نبی اکرم فرماتے ہیں ۔ علی کی محبت ایمان اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے(1) ۔
لیکن یہ صحابہ سنت رسول بدلتے رہے ۔اس میں تغیر وتبدل کرتے رہے اور زبان حال سے کہتے رہے ۔ہم نے آپ کی بات سنی وار نافرمانی کی ۔علی سے محبت کرنے ان پر درود بھیجنے اور ان کی اطاعت کرنے کے بجائے ساٹھ(60) سال تک ان پر سب و شتم کرتے رہے ۔منبروں سے لعنت کرتے رہے ۔ اگر موسی کرے اصحاب نے مشورہ کرکے ہاروں کو قتل کردینا چاہا تھا تو اصحاب محمد نے محمد کے ہارون کو قتل کردیا ۔اس کی اولاد کو اس کے شیعوں کو پتھروں کے نیچے سے نکال نکال کر قتل کیا ،ان کو دیس نکالادیا دفتروں سے ان کے نام کاٹ دیئے گئے ۔ لوگوں پر بندی لگادی گئی کہ ان کے نام پر نام نہ رکھیں ۔ اتنے ہی اکتفا نہیں کیا ۔ ان سے خلوص رکھنے والے صحابہ کو مجبور کرکرے ان پر لعنت کرائی ۔اور ظلم وجور سے قتل بھی کیا ۔
خدا کی قسم جب میں اپنی صحاح کو پڑھتاہوں اور اس میں یہ پڑھتا ہوں کہ رسول اکرم اپنے بھائی اور ابن عم علی سے بہت محبت کرتے تھے، علی کو تمام صحابہ پر مقدم کرتے تھے ۔ علی کے بارے میں فرمایا اے علی تمہاری نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسی سے تھی فرق اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا(2) -
--------------
(1):-صحیح مسلم ج 1 ص 61
(2):- صحیح بخاری ج 2 ص 305 صحیح مسلم ج 2 ص 360 :مستدرک الحاکم ج 3 ص 109
اور علی سے فرمایا :- اے علی تم مجھ سے ہو میں تم سے ہوں(1) ۔ ایک جگہ فرمایا "- علی کی محبت ایمان اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے(2) ۔ ایک اور جگہ فرمایا :- میں شہر علم ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں(3) ۔ ایک جگہ اور فرمایا :- میرے بعد علی ہر مومن کے ولی (آقا ومولی) ہیں(4) ۔ ایک اور جگہ فرمایا : جس کا میں مولی ہوں اس کے علی مولی ہیں ۔خدا وند جو علی کو دوست رکھے تو بھی اس کو دوست رکھ اورجو علی کو دشمن رکھے تو بھی اس کو دشمن رکھ" ۔۔۔۔ تو مبہوت ومتحیر رہ جاتا ہوں اور اگر میں صرف ان فضائل کو ذکر کروں جن کو نبی نے علی کے لئے فرمایا ہے اور ہمارے علماء ن ےان کو صحیح سمجھ کر ارو صحیح ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے تو اس کے لئے مستقل ایک کتاب کی ضرورت ہے پھر آپ تھوڑی دیر کے لئے سوچئے کہ کیا صحابہ ان تمام نصوص سے جاہل تھے ؟ اور اگر جانتے تھے تو منبروں سے کیونکر لعنت کرتے تھے ؟ اورکیوں علی وآل علی کے دشمن تھے ؟ اور کیسے ان سے جنگ کرتے تھے اور قتل کر تے تھے ۔؟
میں بلا وجہ ان لوگو کے لئے مجوز تلاش کرتا ہوں ۔سوائے حب دنیا ،طلب دنیا ،نفاق ،ارتداد ،الٹے پاؤں جاہلیت کی طرف پلٹ جانے کے اور کوئی معقول توجیہ ہو ہی نہیں سکتی کہ یہ لوگ کیوں سنت نبی کو بل دیئے تھے ۔ اسی طرح میری یہ کوشش بھی رائگان ہوگئی کہ میں اس الزام کو معمولی اصحاب کے سرتھوپ کر اور منافقین کے سرمنڈھ کر اکابر وافاضل صحابہ کو بچالےجاؤ ں لیکن بڑے افسوس کے ساتھ مجھے اس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ یہ سب کا رستانیاں انھیں حضرات کی تھیں کیونکہ سب سے پہلے بیت فاطمہ کو تمام ان لوگوں سمیت جو اس میں ہیں جلادینے کی دھمکی عمربن الخطاب ہی نے دی تھی اور سب سے پہلے جنھوں نے علی سے جنگ کی ہے وہ
--------------
(1):-صحیح بخاری ج 2 ص 76 ،صحیح ترمذی ج 5 ص 300 سنن ابن ماجہ ج 1 ص 44
(2):- صحیح مسلم جن 1ص 61 ،سنن النسائی ج 6 ص 117 صحیح ترمذی ج 8ص306
(3):- صحیح ترمذی ج5ص 201 مستدرک الحاکم ج3 ص126
(4):- مسند امام احمد ج5 ص25 ،مستدرک الحاکم ج2 ص124، صحیح ترمذی ج5ص296
(5):-صحیح مسلم ج 2 362 ، مستدرک الحاکم ج3 ص109 ،مسندامام احمد ج4 ص281
طلحہ وزبیر ، ام المومنین عائشہ بنت ابو بکر ،معاویہ بن ابو سفیان ، عمرو عاص وغیرہ کے ہی لوگ تھے ۔
مجھے سب سے زیادہ تعجب اس بات پر ہے کہ آخر علمائے اہل سنت والجماعت نے کس طرح تمام صحابہ کے عادل ہونے پر اجماع کرلیا ہے اور سب ہی کے آگے رضی اللہ عنہ کا دم چھلّہ لگاتے ہیں بلکہ سب ہی پر بغیر استثناء کے درود وسلام بھیجتے ہیں اور بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا " العن یزید ولا تزید " (صرف یزید پر لعنت کرو باقی سب کو چھوڑو) بھلا ان بدعتوں سے یزید کو کیا واسطہ ہے جن کو نہ عقل تسلیم کرتی ہے نہ دین قبول کرتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں میرا تعجب ختم ہونے والا نہیں ہے اور ہر آزاد فکر ومفکر وعاقل شخص میرا ساتھ دے گا ۔
میں اہلسنت والجماعت سے خواہش کرتاہوں کہ اگر وہ واقعا سنت رسول کے پیرو ہیں ۔ تو قرآن وسنت نےجس کے فسق وارتداد وکفر کا حکم دیا ہے وہ بھی انصاف کے ساتھ اس کے فسق وارتداد کا حکم دیں ۔ کیونکہ رسول اعظم نے فرمایا ہے ۔ جس نے علی پر سب وشتم کیا اس نے مجھ پر سب وشتم کیا اور جس نے مجھ پر سب وشتم کیا ، اس نے خدا پر سب وشتم کیا اور جس نے خدا پر سب وشتم کیا خدا اس کو منہ کے بھل جہنم میں ڈال دے گا(1) ۔
یہ تو اس شخص کی سزا ہے جو حضرت علی پر سب وشتم کرے اب آپ خود فیصلہ کیجئے جو حضرت علی پر لعنت کرے ان سے قتال ومحاربہ کرے اس کا کیا حشر ہوگا ؟ آخر علمائے اہل سنت ان حقائق سے کیوں غافل ہیں ؟ کیا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں؟رب اعوذ بک من همزات الشیاطین واعوذ بک رب ان یحضرون"
--------------
(1):- مستدرک الحاکم ج 3 ص 121 ۔خصائص نسائی ص 24 ، مسند امام احمد ج 6 ص 33 ،مناقب خوارزمی ص 81 ، الریاض النفرۃ ، طبری ج 2 ص 219 ،تاریخ سیوطی ص 73
انس بن مالک کا بیان ہے : مرسل اعظم (ص) کے زمانہ میں جو چیزیں رائج تھیں ان میں سب سے پہلی چیز نماز ہے جن میں نے نہیں پہچان سکا ۔ انس کہتے ہیں ۔ جن چیزوں کو تم لوگوں نے ضائع کردیا کیا اس میں سے نماز نہیں کہ کہ جس تم نے ضائع کردیا ہے ، زہری کہتے ہیں :- دمشق میں انس بن مالک کے پاس گیا تو دیکھا وہ رو رہے ہیں ! میں نے پوچھا آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کہنے لگے : اپنی زندگی میں میں نے اسی نماز کی معرفت حاصل کی تھی اور وہ بھی برباد کردی گئی(1) ۔
کسی صاحب کو یہ شبہ نہ ہوجائے کہ مسلمانوں کی آپسی جنگوں اور فتنوں کے بعد تابعین نے تبدیلی کی ہے ۔ اس لئے میں یہ بتادیناچاہتا ہوں کہ سنت رسول میں جس نے سب سے پہلے تبدیلی کی ہے وہ مسلمانوں کے خلیفہ عثمان بن عفان اور ام المومنین عائشہ ہیں ۔ چنانچہ بخاری ومسلم دونوں میں ہے : منی میں مرسل اعظم(ص) نے دورکعت نماز پڑھی تھی ۔ آپ کے بعد ابو بکر اور ان کے بعد عمر بھی دو ہی رکعت پڑھتے رہے اور خو عثمان بھی اپنی خلافت کے ابتدائی ادوار میں دو ہی رکعت پڑھتے رہے پھر اس کے بعد چار رکعت پڑھنے لگے(2) ۔ صحیح مسلم میں یہ بھی ہے : زہری کہتے ہیں : میں نے عروہ سے پوچھا کیا بات ہے عائشہ سفر میں بھی چاررکعت پرھتی ہیں ؟ انھوں نے عثمان کی طرح تاویل کر لی ہے(3) ۔
حضرت عمر بھی سنن نبویہ کی نصوص صریحہ کے مقابلہ میں اجتھاد کرتے تھے اور تاویل کرتے تھے بلکہ وہ تو قرآن مجید کے نصوص صریحہ کے مقابلہ میں بھی اپنی رائے کے مطابق حکم دیتے تھے ۔ مثلا عمر کا مشہور مقولہ ہے : دومتعہ(متعۃ النساء اور متعۃ الحج) رسول خدا کے زمانہ میں رائج تھے ۔ لیکن میں ان سے روکتاہوں
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 1 ص 74
(2):- بخاری ج 2 ص 154 ،مسلم ج 1 ص 260
(3):- مسلم ج 2 ص 143 کتاب صلواۃ المسافرین
اور (اگر کوئی میری مخالفت کرے گا ) تو اس کو سزا دوگا ۔ اسی طرح حضرت عمر نے اس صحابی کو نماز پڑھنے سے روگ دیا جو رات کو مجنب ہوگیا تھا ۔ اور غسل کے لئے پانی اس کو نہیں ملا تھا ۔ حالانکہ قرآن کا حکم ہے :" فان لم تجدوا ماءا فتیمموا صعیدا طیبا " اگر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی پر تیمم کر لیا کرو ۔۔۔۔۔ مگر نماز کو نہ چھوڑو ،
بخاری نے (اگر مجنب کو اپنی ذات کے لئے خطرہ ہو) کے باب میں روایت کی ہے کہ راوی کہتا ہے: میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : ایک مرتبہ میں عبداللہ اور ابو موسی کے پاس تھا کہ ابو موسی نے کہا : اے ابا عبدالرحمان اگر کوئی مجنب ہوجائے اور غسل کے لئے پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟ عبداللہ (ابا عبدالرحمان ) نے کہا جب تک پانی نہ ملے نماز تر ک کردے ۔ اس پر ابو موسی نے کہا پھر عمار کے قول کو کیا کروگے کہ آنحضرت نے فرمایا تھا: عمار بس یہ کافی ہے ۔عبداللہ نے کہا: مگر عمر اس بات سے مطمئن نہیں ہوپائے تھے اس پر ابو موسی نے کہا: خیر عمار کے قول کو جانے دو اس آیۃ(ان لم تجدوا الخ) کے بارے میں کیا کہوگے ؟ یہ با ت سن کر عبداللہ کوئی جواب تو نہیں دے سکے مگر اتنا کہا : اگر پانی نہ ملنے کی صورت میں ہم تیمم کی اجازت دیدیں تو خطرہ یہ ہے کہ اگر کسی کو سردی محسوس ہورہی ہے تو وہ بھی پانی چھوڑ کر تیمم کرلیا کرے گا اس پر میں نے شقیق سے کہا : تو پھر اسی وجہ سے عبداللہ نے کراہت کی تھی ؟ کہا :- ہاں !(1) ۔
انس بن مالک کہتے ہیں : رسول اکرم نے انصار سے فرمایا :- میرے بعد تم لوگ زبردست مالداری دیکھو گے ۔مگر اس پر اس وقت تک صبر کرنا جب تک حوض (کوثر) پر خدا اور اس کے رسول سے ملاقات نہ کرلو ۔انس کہتے ہیں لیکن ہم لوگ صبر نہ کرپائے (2) ۔
--------------
(1):- بخاری ج 1 ص 54
(2):- بخاری ج 2 ص 125
أَلا إِنَّ أَوْلِيَاء اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ (٦٢) الَّذِينَ آمَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ (٦٣) لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَياةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ لاَ تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (٦٤)(پ 11 س 10(یونس (آیت 62،63،64)
ترجمہ:- آگاہ رہو اس میں کئی شک نہیں کہ دوستان خدا پر (قیامت میں )نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ وہ آزردہ خاطر ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (خدا سے )ڈرتے تھے ان ہی لوگوں کیلئے دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی ) خوشخبری ہے خدا کی باتوں میں ادل بدل نہیں ہوا کرتا یہی تو بڑی کامیابی ہے ۔"
دوسری جگہ ارشاد فرما تا ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ (٣٠) نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ (٣١) نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (٣٢) (پ 24 س 41 (فصلت) آیت 30، 32،31)
صدق اللہ ع العلی العظیم
ترجمہ:-جن لوگوں نے (سچے دل سے )کہا کہ ہمارا پروردگار تو (بس )خدا ہے پھر وہ اسی پر قائم رہے ان پر موت کے وقت (رحمت کے)فرشتے نازل ہوں گے (اور کہیں گے ) کہ کچھ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور جس بہشت کا تم سے وعدہ کیاگیا تھا ۔ اس کی خوشیاں مناؤ ، ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اورآخرت میں بھی (رفیق ) ہیں ۔ اور جس چیز کو بھی تمہارا جی چاہے بہشت میں تمہارے واسطے موجود ہے اور جو چیز کروگے وہاں تمہارے لئے حاضر ہوگی (یہ)بخشنے والے مہربان (خدا ) کی طرف سے (تمہاری )مہمانی ہے ۔
اب آپ فیصلہ کیجئے خدا کے اس وعدے کے بعد ابوبکر وعمر کی تمنا یہ کیوں ہے کہ کاش بشر نہ ہوتے ؟ حالانکہ خدا نے بشر کو اپنی مخلوقات پر فضیلت دی ہے اور جب عام مومن جو اپنی زندگی سیدھی طرح سے گزارنا ہے تو مرتے وقت اس پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور اس کو جنت میں اس کی خوشخبری دیتے
ہیں ۔اور وہ پھر نہ عذاب سے ڈرتا ہے اور نہ جوکچھ دنیا میں اپنے پیچھے چھوڑ آیا ہے اس پر رنجیدہ ہوتا ہے آخرت کی زندگی سے پہلے ہی اس کو زندگا نی دنیا ہی میں بشارت دیدی جاتی ہے تو پھر ان بزرگ صحابہ کو کیا ہوگیا ہے جو رسول کے بعد خیر خلق ہیں ( جیسا کہ ہم کو بچپنے سے یہی تعلیم دی جاتی ہے) کہ یہ تمنا کرتے ہیں : کا ش ہم پاخانہ ہوتے ، ہم مینگنی ہوتے ، بال ہوتے ، بھوسا ہوتے (سب کچھ ہوتے مگر انسان نہ ہوتے )اگر ملائکہ نے ان کو بشارت جنت دے دی ہوتی تو یہ عذاب خدا سے بچنے کے لئے زمین پر واقع ہونے والے پہاڑ وں کے برابر سونا راہ خدا میں صدقہ دے کر عذاب خدا سے بچنے کی تمنا نہ کرتے ۔
ایک اور جگہ ارشاد خدا ہے" وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الأَرْضِ لاَفْتَدَتْ بِهِ وَأَسَرُّواْ النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ الْعَذَابَ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ " (1) ۔
ترجمہ:- اور (دنیا) جس جس نے (ہماری نافرمانی کرکے) ظلم کیا ہے(قیامت کے دن) اگر تمام خزانے جو زمین میں ہیں اسے مل جائیں تو اپنےگناہ کے بدلہ ضرور فدیہ دے نکلے اور جب وہ لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو اظہار ندامت کریں گے اور ان میں باہم انصاف کے ساتھ حکم کیا جائےگا اور ان پر (ذرہ برابر )ظلم نہ کیا جائےگا ۔
ایک دوسری جہ ارشاد ہوتا ہے:" وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِن سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُون " (2) ۔
ترجمہ:- اور اگر نافرمانوں کے پاس روئے زمین کی پوری کا ئنات مل جائے بلکہ اس کے ساتھ اتنی ہی اور بھی ہوتو قیامت کے دن یہ لوگ یقینا سخت عذاب کا فدیہ دے نکلیں (اور اپنا چھٹکارا کرانا چاہیں ) اور(اس وقت) ان کے سامنے خدا کی طرف سے وہ بات پیش آئےگی جس کا انھیں وہم وگمان بھی نہ تھا اور جو بد کردار یاں ان لوگوں نے کی تھیں (وہ سب ) ان کے سامنے کھل جائیں گی اور جس (عذاب )پر یہ لوگ قہقہے لگاتے تھے وہ انھیں گھیرلے گا ۔
--------------
(1):- (پ 11 س10 (یونس )آیت 54
(2):- پ 24س 29(زمر) آیت ، 47،48
میں نے اپنے پورے دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں کہ یہ آیتیں صحابہ کبار جیسے ابو بکر وعمر کو شامل نہ ہوں لیکن جب ان نصوص کو پڑھتاہوں تو ان اصحاب کے رسو ل اللہ سے زبردست قسم کے تعلقات اور پھر ان روابط کے باوجود آنحضرت (ص) کے احکام سے انحراف اور انتہا یہ ہے کہ آنحضرت کے آخری عمر میں ان کی ایسی نافرمانی جس سے حضور کو غصہ آجائے اور ان لوگوں کو اپنے گھر سے باہر نکال دیں ۔ ان (دونوں ) کو سوچتا ہوں تو بہت دیر تک مجھ پر سکوت طاری ہوجاتا ہے اور میری نظروں کے سامنے فلم کی طرح وہ تمام واقعات یکے بعد دیگرے آنے لگتے ہیں جو رسول خدا کے بعد پیش آئے جیسے ان کی لخت جگر فاطمہ زہرا کو ان لوگوں نے اذیت دی ان کی توہین کی حالانکہ خود حضور فرماگئے تھے ۔ فاطمہ میرے دل کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا(1) ۔
جناب فاطمہ نے ابو بکر وعمر سے فرمایا :-
میں تم دونوں کو خدا کی قسم دیتی ہوں کیا تم نے رسولخدا(ص) کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ؟ فاطمہ کی خوشنودی میری خوشنودی ہے اور فاطمہ کی ناراضگی میری ناراضگی ہے جس نے میری بیٹی فاطمہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے فاطمہ کو راضی رکھا ،اور جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا دونوں نے کہا: ہاں ! ہم نے رسول اللہ سے سنا ہے تب جناب فاطمہ نے فرمایا : میں خدا اور اس کے ملائکہ کو گواہ بناتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے ناراض کیا اور مجھے راضی نہیں کیا اور جب میں رسول خدا سے ملاقات کروں گی تو تم دونوں کی ضرور شکایت کروں گی(2) ۔
خیر اس روایت کو چھوڑئیے جس سے دل زخمی ہوجاتے ہیں ۔ ابن قتیبہ جو علمائے اہل سنت میں سے تھے اور بہت سے فنون میں بے مثال تھے ۔ تفسیر ،حدیث ،لغت نحو ، تاریخ وغیرہ میں ان کی بہت ہی اہم تالیفات ہوسکتا ہے یہ بھی شیعہ رہے ہوں کیونکہ ایک مرتبہ ایک شخص کو میں نے تاریخ الخلفاء
--------------
(1):- بخاری ج 2 ص 206 باب مناقب قرابۃ رسول اللہ
(2):- فدک فی التاریخ ص 92
دکھائی تو اس نے بر جستہ کہا: یہ تو شیعہ تھے ، اورہمارے علماء جب کسی سوال کا جواب نہیں دے پاتے تو ان کے پاس آخری حیلہ یہی رہتا ہے کہ اس کتاب کا مصنف شیعہ ہے چنانچہ ان کے نزدیک طبری شیعہ ہے ، امام نسائی ۔۔۔جنھوں نے حضرت علی کے خصائص میں کتاب لکھی ۔۔۔شیعہ تھے ، ابن قتیبہ بھی شیعہ تھے ، موجودہ ڈاکٹر طہ حسین مصری نے جب اپنی شہرہ افاق کتاب "الفتنۃ الکبری " لکھی اور اس میں حدیث غدیر کا ذکر کیا اور دیگر حقائق کا اعتراف کیا تو یہ بھی شیعہ ہوگئے ۔
واقعہ یہ کہ ان میں کوئی بھی شیعہ نہیں تھا ۔لیکن ہمارے علماء کی عادت ہے جب کبھی شیعوں کاذکر کرتے ہیں ۔ تو ان کو شیعوں میں کوئی اچھائی نہیں نظر آتی صرف برائی کا تذکرہ کرتے ہیں ۔اور اپنا سارا زور علمی صحابہ کی عدالت پر صرف کرتے ہیں ،اور کسی نہ کسی طرح ان کو عادل ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں ۔
لیکن اگر کسی نے حضرت علی کے فضائل کا ذکر کردیا وار یہ اعتراف کر لیا کہ بڑے بڑے صحابہ سے بھی غلطی ہوئی ہے تو فورا اس پر تشیع کا الزام لگادیتے ہیں ۔ صرف اتنی سی بات کافی ہے کہ اگر آپ کسی کے سامنے نبی کریم کاذکر کرکے صلی اللہ علیہ وآلہ کہہ دیجئے یا حضرت علی کا نام لے کر علیہ السلام کہہ دیجئے تو وہ فورا کہہ دے گا تم شیعہ ہو ۔اسی بنیاد پر ایک دن میں اپنے ایک (سنی ) عالم سے بات کرتے ہوئے بولا : آپ کی رائے بخاری کے بارے میں کیا ہے ؟ فرمایا: ارے وہ تو ائمہ حدیث میں سے ہیں ان کی کتاب قرآن کےبعد سب سے زیادہ صحیح ہے اور اس پر ہمارے تمام علماء کا اجماع ہے ، میں نے کہا ، وہ تو شیعہ تھے ۔ تو اس پر وہ عالم میرا مذاق اڑانے کے انداز میں بہت زور سے ٹھٹھا مار کے ہنسے اور بولے : حاشا کلا، بھلا امام بخاری شیعہ ہوں گے ؟ میں نے عرض کیا ابھی آپ نے فرمایا کہ حضرت علی کا نام لے کر علیہ السلام کہے وہ شیعہ ہے ۔ بولے ہاں ! ہاں یہ تو واقعہ ہے ! تب میں نے ان کو اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے سب کو بخاری میں متعدد مقامات دکھائے جہاں حضرت علی کے بعد علیہ السلام اور حضرت فاطمہ کے بعد علیھا السلام اور حسن وحسین ابن علی کے بعد علیھما السلام لکھا تھا(1)
--------------
(1):- بخاری ج 1 ص 127 ،130 اور ج 2 ص 126،205
تو یہ دیکھ کر مبہوت ہوگئے ،اور چپ ہوگئے کوئی جواب نہ دے سکے ۔
اب میں پھر اسی روایت کی طرف آتا ہوں جس میں ابن قتیبہ لے لکھا ہے کہ جناب فاطمہ ابو بکر و عمر پر بہت غضبناک تھیں ۔ ہوسکتا ہے آپ کو شک ہو ۔لیکن میں کم از کم بخاری کے بارے میں شک نہیں کرسکتا جو ہمارے یہاں قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب ہے اور ہم نے اپنے لئے لازم قرار دے لیا ہے یہ واقعا صحیح ہے اور شیعوں کو حق ہے کہ اس کتاب سے ہم کو ملزم قرار دیں جس طرح خود ہم نے اپنے کو ملزم قراردے لیا ہے اور عقلمند لوگوں کے لئے انصاف کا طریقہ بھی یہی ہے لیجئے بخاری کا باب مناقب قرابۃ رسول اللہ مطالعہ فرمائیے اس میں ہے : فاطمہ میرے دل کا ایک ٹکڑا ہے جس نے فاطمہ کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ۔ اور باب غزوہ ، خیبر میں ہے عائشہ بیان کرتی ہیں فاطمہ بنت النبی (علیھا السلام) نے ابو بکر کے پاس آدمی بھیجا کہ رسول خدا کی میراث مجھے دو ۔لیکن ابو بکر نے اس میں سے ایک حبہ بھی دینے سے انکار کردیا ۔تو فاطمہ اس وجہ سے غضبناک ہوگئیں ۔ اور ان کا بائیکاٹ کردیا ۔ مرتے دم تک ان سے بات نہیں کی ۔۔۔۔۔۔
دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے بخاری نے اس واقعہ کو اختصار کے ساتھ اور ابن قتیبہ نے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور دونوں کا نتیجہ یہ ہے : رسول اللہ فاطمہ کی ناراضگی سے ناراض ہوتے تھے اور فاطمہ کی خوشی سے خوش ہوتے تھے اور فاطمہ مرگییں مگر ابو بکر سے راضی نہیں ہوئیں ۔۔۔۔۔
اب اگر بخاری یہ کہتےہیں : فاطمہ ابو بکر پر ناراضگی کے عالم میں مری ہیں اور مرنے دم تک بات نہیں کی تو اس کا بھی مطلب وہی ہے جو ابن قتیبہ نے لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور بقول جناب بخاری ۔۔۔"؛ کتاب الاستئذان باب من ناجی بین الناس۔۔۔۔۔ جب فاطمہ تمام دنیا کی عورتوں کی سردار ہیں اور پوری امت مسلمہ میں اکیلی وہ عورت ہیں جو آیت تطہیر کی رو سے معصومہ ہیں تو ان کا غضبناک ہونا کسی ناحق بات پر تو ہو ہی نہیں سکتا ۔اسی لئے خدا اور رسول فاطمہ کے غضبناک ہونے سے غضبناک ہوجاتے ہیں اور اسی لئے ابو بکر نے بھی کہا تھا : اے فاطمہ میں خدا اورآپ کی ناراضگی سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں ۔ یہ کہہ کر ابو بکر باآواز بلند رونے لگے اور قریب تھا کہ ان کی روح جسم سے مفارقت کرجائے مگر فاطمہ یہی کہتی رہیں ۔ خدا کی قسم میں ہر نماز کے
بعد تم دونوں کے لئے بد دعا کرتی رہوں گی ۔ اس واقعہ کے بعد ابو بکر روتے ہوئے نکلے اور کہتے جاتے تھے " مجھے تمہاری بیعت کی ضرورت نہیں ہے ۔ مجھ سے اپنی (اپنی )بیعت توڑ دو(1) ۔
ویسے تم ہمارے بہت سے مورخین وعلماء نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عطیہ ،میراث ،سہم القرباء کے سلسلے میں جناب فاطمہ (س) نے ابو بکر سے نزاع کی لیکن ابو بکر نے آپ کا دعوی رد کردیا اور آپ مرتے دم تک ابو بکر سے ناراض رہیں ۔ ۔۔۔ لیکن یہ حضرات اس قسم کے واقعات کو پڑھ کر اس طرح گزر جاتے ہیں ۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور اس قسم کے واقعات پر جن سے قریب سے یا دور سے صحابہ کی بزرگی پر دھبہ آتا ہو" اپنی حسب عادت زبان ہی نہیں کھولتے ۔۔۔۔ اس سلسلہ میں سب سے عجیب بات میں نے ایک بزرگوار کی پڑھی جو واقعہ کو ذرا تفصیل سے تحریر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : میں نہیں تسلیم کرسکتا کہ جناب فاطمہ نے ناحق چیز کا مطالبہ کیا ہو جیسے کہ میں یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ ابو بکر نے فاطمہ کے جائز حق کو روک دیا ہو۔۔۔۔۔۔ اس سفسطہ سے اس عالم کو شاید یہ خیال پیدا ہوا ہو کہ اس نے مسئلہ کو حل کردیا اور بحث کرنے والوں کو قانع کردیا ۔ حالانکہ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی کہے : میں تسلیم نہیں کرسکتا کہ قرآن ناحق بات کہے جیسے کہ میں یہ بات تسلیم نہیں کرسکتا کہ بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی کی ہو ۔۔۔۔ ہمارے لئے سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہمارے علماء ایسی بات کہتے ہیں ہیں جس کو وہ خود نہیں سمجھتے وار یہ نقیضین پر عقیدہ رکھتے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ جناب فاطمہ نے دعوی کیا اور ابو بکر نے اس کو رد کردیا ۔اب یا تو (معاذاللہ) جناب فاطمہ جھوٹی تھیں یا پھر ابو بکر ظالم تھے یہاں کوئی تیسری صورت حال نہیں ہے جیسا کہ ہمارے بعض علماء کہنا چاہتے ہیں ۔اور چونکہ عقلی ونقلی دلیلوں سے ثابت ہے کہ سیدہ عالمیان جھوٹی نہیں ہوسکتیں کیونکہ ان کے باپ کی صحیح حدیث ہے فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اس کو اذیت پہونچائی اس نے مجھ کو اذیت پہونچائی اور واضح سی بات ہے کہ رسول کی طرف سے یہ سند کسی جھوٹے کو نہیں دی جاسکتی ہے ۔پس یہ حدیث تو بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ نہ جناب فاطمہ جھوٹ بول سکتی ہیں اور نہ کسی دیگر بری چیز کا ارتکاب
-------------
(1):- الامامۃ والسیاسۃ (لابن قتیبہ )ج 1 ص 20
کرسکتی ہیں ،جس طرح آیت تطہیر ان کی عصمت پر دلیل ہے(1) ۔جو حضرت عائشہ کی گواہی کی بنا پر وفاطمہ ا ن کے شوہر ان کے بچوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ لہذا اس کے علاوہ کوئی چار ہ نہیں ہے کہ صاحبان عقل اس بات کو تسلیم کرلیں کہ وہ معصومہ مظلومہ تھیں ،فاطمہ کا جھوٹا ہونا انھیں لوگوں کے لئے ممکن ہے جو یہ دھمکی دے سکتے ہوں کہ اگر بیعت سے انکار کرنے والے فاطمہ کے گھر سے نہ نکلے تو ہم فاطمہ کے گھر کوآگ لگادیں گے(2) ۔
انھیں تمام اسباب کی بنا پر جناب فاطمہ نے ابو بکر وعمر کو اپنے گھرمیں اجازت مانگنے پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی اور جب حضرت علی ان دونوں کو گھر میں لائے تو جناب فاطمہ نے اپنا منہ دیوار کی طرف کرلیا ۔ اور ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا(3) ۔
جناب فاطمہ کی وصیت کے مطابق ان کو راتوں رات دفن کیا گیا تاکہ ان میں سے کوئی جنازہ میں شریک نہ ہوجائے(4) ۔
اور بنت رسول کی قبر آج تک لوگوں کے لئے مجہول ہے ۔میں اپنے علماء سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ ان حقائق پر کیوں خاموش ہیں ؟ کیوں اس کے بارے میں بحث نہیں کرتے ؟ بلکہ اس کا ذکر تک نہیں کرتے ؟ اور ہمارے سامنے صحابہ کو ملائکہ بنا کر پیش کرتے ہیں کہ وہ لوگ نہ گناہ کرتے تھے اور نہ ان سے غلطی ہوتی تھی آخر ایسا کیوں ہے ؟
جب میں کسی عالم سے پوچھتا ہوں :خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان بن عفان ذی النورین کو کیسے قتل کردیاگیا ؟ تو صرف یہ جواب ملتا ہے کہ مصریوں ۔۔۔ جو سب کافر تھے ۔۔۔۔نے آکر قتل کردیا صرف دو جملوں میں بات تمام کردی جاتی تھی ۔ لیکن جب مجھے فرصت ملی اورمیں نے تاریخ کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ عثمان کے قاتل نمبر ایک کے اصحاب تھے اور ان میں بھی سب سے آگے ام المومنین عائشہ تھیں جو چلا چلا کر لوگوں کو عثمان کے قتل پر ورغلاتی تھیں ۔اور ان کے خون کو مباح بتاتی تھیں اور کہتی تھی ۔:-
--------------
(1):- صحیح مسلم ج 7 ص 112 ،120
(2)-(3):- تاریخ الخلفاء ج 1 ص 20
(4):- صحیح بخاری ج 3 ص 39
" اقتلوا نعثلا فقد کفر" نعثل کو قتل کردو یہ کافر ہوگیا ہے(1) ۔۔۔نعثل ایک یہودی تھا عثمان کی ڈاڑھی اس کی ڈاڑھی سے بہت مشابہ تھی اس لئے عائشہ عثمان کو نعثل کہا کرتی تھیں ، مترجم۔۔۔ اسی طرح طلحہ ،زبیر ،محمد ابن ابی بکر ،وغیرہ جیسے مشہور صحابی نے عثمان کا محاصرہ کرلیا تھا اور ان کے اوپر پانی بند کردیا تھا تاکہ مجبور ہوکر خلافت سے مستعفی ہوجائیں ۔مورخین کا بیان ہے کہ یہی صحابہ کرام تھے جنھوں نے عثمان کے لاشہ کو مسلمانوں کے مقبرہ میں دفن نہیں ہونے دیا ۔ اور ان کو غسل وکفن کے بغیر حش کوکب میں دفن کیاگیا ۔ سجان اللہ ہم کو تو یہ بتایا جاتا کہ عثمان کے قاتل مسلمان ہی نہ تھے اور ان کو مظلوم قتل کیاگیا ہے ۔جناب فاطمہ اور ابوبکر کی طرح یہ دوسرا قصہ ہے کہ باتو عثمان مظلوم تھے تو پھر جتنے صحابہ نے ان کو قتل کیا یا ان کے قتل میں شریک رہے وہ سب کے سب مجرم ہیں کہ کیونکہ انھیں نے خلیفہ کو ظلما وعدوانا قتل کیا اور ان کے جنازے کے پیچھے پیچھے جنازے پر پتھر مارتے ہوئے لے گئے ۔ زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی ان کی توہین کی ۔۔۔اور یا پھر یہ تمام صحابہ حق پر تھے جنھوں نے عثمان کو قتل کیا ۔کیونکہ عثمان نے اسلام مخالف بہت سے اعمال کا ارتکاب کیا تھا ۔ جیسا کہ تاریخوں میں ہے دونوں میں سے ایک کو باطل ماننا ہوگا ۔یہاں کوئی تیسری صورت نہیں ہے ہاں یہ اور بات ہے ہ ہم تاریخ ہی کو جھٹلا دیں اور اور لوگوں کو دھوکہ دیں کہ جن مصریوں نے عثمان کو قتل کیا تھا وہ کافر تھے بہر حال دونوں صورتوں " خواہ عثمان کو مظلوم مانیں یا مجرم " میں الصحابۃ کلھم عدول" سارے صحابہ عادل ہیں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے یا تو یہ مانئے کہ عثمان عادل نہیں تھے یا یہ مانئے کہ ان کے قاتل عادل نہیں تھے ۔ دونوں ہی صحابہ اس طرح ہم اہل سنت کا دعوی تو باطل ہوجاتا ہے البتہ شیعوں کا دعوی ثابت ہوجاتا ہے کہ بعض صحابہ عادل تھے بعض عادل نہیں تھے ۔
اسی طرح میں جنگ جمل کے بارے میں سوال کرتاہوں جس کے شعلے ام المومنین عائشہ نے بھڑکائۓ تھے اور خودہی لشکر کی قیادت کررہی تھیں ۔آخر جب ان کو خدانے حکم دیا تھا کہ :
--------------
(1):- تاریخ طبری ج 4 ص 407 ،تاریخ ابن اثیر ج3 ص 206 ،لسان العرب ج14 ص 193 ، تاج العروس ج 8 ص 141 ،العقد الفرید ج 4 ص 290
وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاهلیة الاولی (پ 22 س 33 (الاحزاب ) آیة 32)
ترجمہ :-اور اپنے گھروں میں نچلی بیٹھی رہو اور اگلے زمانہ جاہلیت کی طرح انپے بناؤ سنگار نہ دکھاتی پھرو ! انپے گھروں میں بیٹھی رہو تو ام المومنین عائشہ کیوں نکلی ؟ اسی طرح دوسرا سوال کرتا ہوں کہ ام المومنین نے حضرت علی کے خلاف کس دلیل کی بنا پر جنگ کی ؟ جبکہ حضرت علی تمام مومنین ومومنات کے ولی تھے ۔ لیکن حسب معمول ہمارے علماء بڑی سادگی سے جواب دیدیتے ہیں کہ ام المومنین حضرت علی سے دشمنی رکھتی تھیں کیونکہ "واقعہ افک " میں حضرت علی نے ( بشرطیکہ یہ صحیح ہو) رسول خدا کو مشورہ دیا تھا کہ انکو طلاق دے دیجئے ہمارے علماء ہم کو اس طرح مطمئن کرنا چاہتے ہیں چونکہ :واقعہ افک " میں حضرت علی نے (بشرطیکہ یہ صحیح ہو ) طلاق کا مشورہ دیا تھا اس لئے ام المومنین نے مخالفت کی تھی مگر آپ سوچئے تو کیا صرف اتنی سی بات پر حضرت عائشہ کے لئے جائز تھا کہ حکم قرآن کی مخالفت کریں ؟ اور وہ پردہ جو رسول نے ان پر ڈال رکھا تھا اس کو چاک کردیں ؟ اور اونٹ کی سواری کریں جب کہ رسول نے پہلے ہی روک دیا اور ان کو ڈرادیا تھا کہ حواب کے کتے بھونکیں گے (2) ۔ اور بی بی عائشہ اتنی لمبی مسافت طے کریں یعنی مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سےبصرہ جائیں ،بے گناہ لوگوں کو قتل کریں ؟ حضرت علی اورجن صحابہ نے علی کی بیعت کی تھی ان سے جنگ کریں ؟ اور ہزاروں مسلمان قتل کئے جائیں جیسا کہ مورخین نے لکھا ہے (3) - ان سب جرائم کا ارتکاب صرف اس لئے جائز ہے کہ ام المومنین حضرت علی کو نہیں چاہتی تھی ۔اس لئے کہ حضرت علی نے طلاق کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن نبی نے طلاق تو نہیں دیا ۔ پھر اتنی نفرت کیوں؟ مورخین نے دشمنی کے وہ وہ واقعات تحریر کئے جن کی تفسیر ممکن ہی نہیں ہے (مثلا) جب آپ مکہ سے واپس آرہی تھیں تو لوگوں نے بتایا عثمان قتل کردیئے گئے اس خبر کو سن کر آپ پھولے نہیں سمارہی تھیں ۔لیکن جب لوگوں نے یہ خبر دی کہ مدینہ والوں نے علی کی بیعت کرلی تھی اس کو سنتے ہی آپ آگ بگولہ ہوگئیں اور فرمانے لگیں : مجھے یہ بات پسندتھی کہ علی
--------------
(1):- الامامۃ والسیاسۃ
(2):- طبری ،ابن اثیر مدائنی وغیرہ جنھوں نے سنہ 36 ھ کے حالات تحریر کئے ہیں ۔
کو خلافت ملنے سے پہلے آسمان پھٹ پڑتا اور فورا حکم دیا کہ مجھے واپس لےچلو ۔اور آتے ہیں حضرت علی کے خلاف آتش فتنہ بھڑکا دی ،وہ علی بقول مورخین جن کا نام لینا بھی پسند نیں کرتی تھیں ۔ کیا ام المومنین نے رسول خدا کایہ قول نہیں سنا تھا : علی کی محبت ایمان اور علی سے بغض رکھنا نفاق ہے (1) ۔اور اسی لئے بعض اصحاب کا یہ قول مشہور ہے کہ ہم منافقین کو حضرت علی سے بعض رکھنے سے پہچان لیا کرتے تھے ۔۔۔ اور کیا ام المومنین نے رسول اسلام کا یہ قول نہیں سنا تھا : جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں ۔۔۔۔ حتما سب کچھ سنا تھا لیکن نہ وہ علی کو چاہتی تھیں نہ ان کا نام لینا پسند کرتی تھیں بلکہ جب علی کے مرنے کی خبر سنی ہے تو فورا سجد ہ شکر کیا ہے (2) ان باتوں کوجانے دیجیئے میں ام المومنین عائشہ کی تاریخ سے بحث نہیں کررہا ہوں میں تو صرف یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ بہت سے صحابہ نے مبادی اسلام کی مخالفت کی ہے اور رسول خدا کے احکام کی نافرمانی کرتے رہے ہیں ۔ رہا ام المومنین کا فتنہ تو اس سلسلہ میں صرف ایک ایسی دلیل کافی ہے جس پر تمام مورخین نے اجماع کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب ام المومنین عائشہ کا گزر چشمہ حواب سے ہوا تو وہاں کے کتوں نے بھونکنا شروع کیا اس پر بی بی کو رسول خدا کی تحذیر یادآئی اور یہ یاد آیا کہ پیغمبر نے کہا تھا اسے عائشہ کہیں وہ اونٹ والی تمہیں نہ ہو ۔یہ یاد آتے ہی عائشہ رونے لگیں اور کہنے لگیں مجھے واپس کرو ،مجھے واپس کرو ،لیکن طلحہ وزبیر نے پچاس آدمی کو دے دلا کر تیارکر لیا اور ان سبھوں نے آکر عائشہ کے سامنے اللہ کی جھوٹی قسم کھائی کہ یہ چشمہ حواب نہیں ہے بس پھر کیا تھا عائشہ نے اپنا سفر جاری رکھا اور بصرہ آگئیں ،مورخین کا بیان ہے کہ اسلام میں یہ سب سے پہلی جھوٹی گواہی ہے (3) اے مسلمانو! اے روشن عقل رکھنے والو ، اس مشکل کا حل بتاؤ 1 کیا یہ وہی بزرگ صحابہ ہیں جن کو ہم رسول کے بعد سب سے بہتر مانتے ہیں اورجن کی عدالت کے ہم قائل ہیں جو جھوٹی گواہی دیتے ہیں حالانکہ جھوٹی گواہی کو رسول خدا نے ان گنا ہان کبیرہ میں شمار کیا ہے جو انسان کو جہنم میں پہونچا دیتے ہیں
--------------
(1):- صحیح مسلم ج 1 ص 48
(2):- طبری ، ابن اثیر ، الفتنۃ الکبری ، تمام وہ مورخین جنھوں نے سنہ 40 ھجری کے حالات لکھے ہیں
(3):- طبری ، ابن اثیر ، مدائنی اور دیگر وہ مورخین جنھوں سنہ 36 ھ کے حالات لکھے ہیں ،
وہی سوال پھر دہرانا پڑتا ہے اور ہمیشہ دہراتا ہوگا کہ کون حق پر ہے ؟ اور کون باطل پر ؟ یا تو عائشہ اور ان کے ہمنوا وطلحہ وزبیر اور ان کے ساتھی سب ظالم اور باطل پر ہیں اور یا پھر علی اور ان کے ساتھی ظالم اور باطل پر ہیں ۔ یہاں کوئی تیسرا احتمال نہیں ہے ۔ منصف مزاج اور حق کا متلاشی علی کی حقانیت کو تسلیم کرے گا ۔کیونکہ بقول مرسل کوچھوڑ دےگا کیونکہ انھیں لوگوں نےآتش فتنہ بھڑکائی تھی اور اس کو بجھانے کی کوشش بھی نہیں کی یہاں تک کہ اس نے ہر رطب ویابس کو جلا کر راکھ کردیا اور اس کے آثار آج تک باقی ہیں ۔
مزید بحث اور اپنے اطمینان قلب کے لئے عرض کرتا ہوں کہ بخاری کے کتاب الفتن اور باب الفتنۃ التی تموج کموج البحر" میں تحیریر ہے : جب طلحہ وزبیر وعایشہبصرہ پہونچے تو حضرت عل ی نے عمار یاسر اور اپنے بیٹے حس کو بھیجا یہ دونوں کوفہ آئے اور منبر پر گئے حسن بن علی منبر کے سب سے اونچے زینہ پر تھے اور عمار حسن سے ایک زینہ نیچے تھے ۔ ہم لوگ دونوں کی باتیں سننے کے لئۓ جمع ہوئے تو میں نے عمار کو یہ کہتے ہوئے سنا : عائشہ بصرہ گئی ہیں ۔ خدا کی قسم وہ دنیا وآخرت میں تمہارے نبی کی بیوی ہیں لیکن خدانے تمہارا امتحان لینا چاہا ہے کہ تم خدا کی اطاعت کرتے ہوں یا عائشہ کی(1) ۔
اسی طرح بخاری کےف" کتاب الشروط باب ما جا ء فی بیوت ازواج النبی " میں ہے : رسول خدا خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور عائشہ کے مسکن کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : یہیں فتنہ ہے یہیں فتنہ ہے یہیں فتنہ ہے ، فتنہ یہاں سے شیطان کی سینگ کی طرح نکلے گا (2) ۔اسی طرح امام بخاری نے اپنی صحیح میں عائشہ کا رسول کے ساتھ بد تمیز ی سے پیش آنا جس پر ابو بکر کا اتنا عائشہ کو مارنا کہ عائشہ کے جسم سےخون بہنے لگا ۔ اور عائشہ کا رسول کے خلاف مظاہرہ کرنا جس پر خدا کی طرف سے طلا ق کی دھمکی کا ملنا اوریہ دھمکی دینا کہ خدا تم سے بہتری بیوی نبی کودے گا اور اسی قسم کی عجیب وغریب عائشہ کے لئے نقل کیا ان قصوں کو دہرا نا کتاب کو طول دینا ہے ۔
-------------
(1):- بخاری ج 4 ص161
(2):- بخاری ج 2 ص 128
ان تمام باتوں کے باوجود میں یہ پوچھتا ہوں کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک صرف عائشہ ہی کا کیوں اتنا احترام واکرام ہے ؟ کیا اس لئے کہ یہ نبی کی بیوی تھیں ؟ تو نبی کی بیویاں تو اور بھی تھیں ،بلکہ عائشہ سے افضل بھی تھیں جیسا کہ خود نبی نے فرمایا ہے ۔(1) تو عائشہ میں کیا خصوصیت ہے ؟ یاان کا احترام اس لئے زیادہ ہے یہ ابو بکر کی بیٹی تھیں ؟ یا اس لئے ان کا احترام زیادہ ہے کہ رسول خدا نے حضرت علی کے لئے جو وصیت کی تھی اس کو کالعدم بنانے میں سب سے اہم رول ان کا ہے ؟ جیسا کہ روایت میں ہے جب عائشہ کے سامنے ذکر آیا کہ نبی نے علی کے لئے وصیت کی تھی تو آپ جھٹ سے بولیں یہ کسی نے کہا ؟ رسول میرے سینہ پر تکیہ لگائے لیٹے تھے مجھ سے طشت مانگا میں طشت کے جھکی اور نبی کا انتقال ہوگیا ۔ مجھے پتہ بھی نہیں چلا پس علی کے لئے کیسے وصیت کردی(2) ۔
یا پھر ان کا احترام اس لئے زیادہ ہے کہ انھوں نے حضرت علی سے ایسی جنگ کی جس میں نرمی کی گنجائش نہ تھی ۔ اور ان کے بعد ان کی اولاد سے لڑیں انتہا یہ کردی کہ جب امام حسن کا جنازہ چلا تو آپ نے روکا اور یہ کہاجس کو میں میں دوست رکھے خدا اس کو دوست رکھے گا ۔ اور جو ان سے بغض رکھےگا خدا اس سے بغض رکھے گا ۔ یا ایک جگہ اور فرمایا تھا:- جوان سے جنگ کرے میں اس سے جنگ کروں گا جو ان سے صلح کرےگا ۔ میں اس سے صلح کروں گا ۔ الخ ان تمام حدیثوں کو ام المومنین بھول گئی تھیں یا تجاہل عارفانہ سے کام لے رہی تھیں ؟ اور اس میں کوئی تعجب نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ حضرت علی کے بارے میں تو اس سے کئی گنا زیادہ سنا تھا لیکن نبی کی ممانعت کے باوجود حضرت علی سے جنگ کرکے رہیں اور لوگوں کو ان کے خلاف اکسا ہی کے مانا ، ان کے فضائل کا انکار کرکے رہیں ۔۔۔ دراصل یہ جوہ تھی جس کی بنا پر بنی امیہ نے ان سے محبت کا اظہار کیا ، اور ان کو اس درجہ تک پہونچا دیا جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہے اور ان کے فضائل میں ایسی ایسی (جعلی )روایات نقل کیں جس سے کتابیں بھرگئیں ،شہروں شہروں ،دیہاتوں دیہاتوں ان کا چرچا ہوگیا
--------------
(1):- ترمذی ، استیعاب در حالات صفیہ ، اصابۃ حالات صفیہ ام المومنین
(2):- بخاری ج 3 ص 68 باب مرض النبی ووفاتہ
اور آخر کار ان کو امت اسلامیہ کا مرجع اکبر کیونکہ آدھا دین تو صرف تنہا عائشہ کے پاس تھا ،
اور شاید دوسرا دین ابو ہریرہ کے پاس تھا ،جس نے بنی امیہ کے حسب منشاء خوب خوب روایات جعل کی تھیں اسی لئے انھوں نے ابو ہریرہ کواپنا مقرب بنالیا ، مدینہ کی گورنری ابوہریرہ کے حوالہ کودی، ابو ہریرہ کے لئے "قصرعقیق" بنوایا گیا ، جب کہ یہ بیچارے ایک مفلس قلاش آدمی تھے ان کو راویہ الاسلام کا لقب دیا گیا ، اسی طرح بنی امیہ کے پاس ایک نیا پورا دین آگیا ۔۔۔آدھا عائشہ کے ذریعہ آدھا ابو ہریرہ کے ذریعہ ۔۔۔جس میں کتاب خدا اور سنت رسول نام کی صرف وہ چیزیں تھیں جن کو یہ لوگ پسند کرتے تھے ، اور جس کے ذریعہ ان کی سلطنت مضبوط ہوسکتی تھی ظاہر ہے کہ یہ دین تناقضات وخرافات کا مجموعہ ہوگا ۔ اور اس طرح حقائق کو ختم کرکرے ان کی جگہ تاریکیوں کو دیدی گئی اور بنی امیہ نے لوگوں کو اسی نئے دن پر چلانا شروع کردیا اوراسی پر لوگوں کو ابھارا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین خدا ایک مضحکہ خیز چیزیں کے رہ گیا ۔ جس کی کوئی قدروقیمت ہی نہ رہی اور لوگ معاویہ سے اتنا ڈرنے لگے جتنا خدا سے نہیں ڈرتے تھے ۔
ہم جب اپنے علماء سے پوچھتے ہیں کہ علی ابن ابی طالب جنکی بیعت مہاجرین وانصار نے کی تھی ان سے معاویہ کا جنگ کرنا کیسا ہے ؟ اور جنگ بھی ایسی کہ جس نے مسلمانوں کو شیعہ ،سنی دوفرقے میں بانٹ دیا ار اسلام میں اس کی وجہ سے ایسا رخنہ پڑگیا جو آج تک نہ بھر سکا ، تو وہ لوگ بڑی سادگی سےحسب عادت جواب دیتے ہیں : علی ومعاویہ دونوں ہی بڑے جلیل القدر صحابی ہیں دونوں نے اجتہاد کیا علی کا اجتہاد مطابق واقع تھا لہذا ان کو دو اجر ملے گا لیکن معاویہ نے اپنے اجتہاد میں غلطی کی اس لئے ان کو صرف ایک اجر ملے گا ۔ہمارے لئے جائز نہیں ہے کہ ان کے حق میں یا ان کے بر خلاف کچھ کہیں ، خود خدا وند عالم کا ارشاد ہے ،تلک امة قد خلت لها ما کسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون(پ 1 س 2 (البقرة)آیت 132)
ترجمہ:- (اے یہودیو) وہ لوگ تھے جو چل بسے جو انھوں نے کمایا ان کے آگے آیا اور جو تم کماؤ گے تمہارے آگے آئیگا اور جو کچھ وہ کرتے تھے اس کی پوچھ گچھ تم سے نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔
افسو س کی بات یہی ہے کہ ہمارے علماء کے جوابات اسی قسم کے ہوتے ہیں جو سفسطہ ہوتے ہیں ۔جن کو نہ عقل قبول کرتی ہے نہ دین نہ شریعت ۔۔ میرے معبود میں رائ کی غلطی ،خواہش کی لغزش ،شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتاہوں ۔
بھلا وہ کون سی عقل سلیم ہے جو معاویہ کے اس اجتہاد پر اس کے لئے اجر کی قائل ہوگی جس کی بنا پر اس نے امام المسلمین سے جنگ کی بے گناہ مومنین کو قتل کیا ، ایسے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا جس کا شمار صرف خدا ہی کرسکتا ہے ،مورخین کے نزدیک مشہور ہے کہ معاویہ اپنے دشمنوں کو قتل کرنے کے لئے اور ان کو راستہ سے ہٹانے کے لئے اپنے مشہور طریقہ پر عمل کرتا تھا یعنی زہر آلود شہد کھلا دیتا تھا اورکہا کرتا تھا :خدا کا لشکر تو شہد میں ہے ۔
نہ معلوم یہ لوگ کیسے اس کو مجتہد مانتے ہیں اور اس کو اجر دینے کے لئے تیار ہیں حالانکہ "باغی گروہ" کا سردار تھا چنانچہ مشہور حدیث میں جس کو تمام محدثین نے لکھا ہے " آیا ہے : افسوس عمار یاسر پر ہے جس کو ایک باغی گروہ قتل کرےگا ۔ ۔۔اور معاویہ واس کے اصحاب نے جناب عمار کو قتل کیا ہے اس کو کیونکر مجتہد کہتے ہیں جس نے حجر بن عدی اور اس کے اصحاب کر بڑی بے دردی سے قتل کیا اور صحرائے شام میں" مرج عذرا" میں دفن کردیا کیونکہ ان لوگوں نے حضرت علیج پر لعنت کرنے سے انکار کردیا تھا ۔۔۔۔۔ جس شخص نے سردار جوانان جنت امام حسن کو زہر دے کر قتل کرادیا کیسے اس کو عادل صحابی مانتے ہیں ؟ جس شخص نے امت مسلمہ سےجبرو زبر دستی سےپہلے تو اپنے لئے پھراپنے بد کار بیٹے یزید کے لئے بیعت لی جس نے شوری کے نظام کو بدل کر قیصر کی حکومت قائم کی(1)
جس نے لوگوں کو حضرت علی اور ان کے اہل بیت پر منبروں سے لعنت کرنے کیلئے مجبور کیا اور جن لوگوں نے انکار کیا ان کو قتل کردیا اور یہ لعنت ایسی سنت بن گئی جس پر جوان بوڑھے ہوگئے بچے جوان ہوگئے ،بھلا ایسے شخص کو کیوں کر مجتھد کہا جاسکتا ہے؟ اور اس کو مستحق اجبر قرار دیا جاسکتا ہے؟
--------------
(1):- خلافت وملوکیت (مودودی )یوم الاسلام (احمد امین)
لا حول ولا قوة الا با الله
پھر یہی سوال اٹھتا کہے کہ دونوں میں سے کون حق پر تھا اور کون باطل پر تھا ؟ یا تو علی اور ان کے شیعہ ظالم تھے اور باطل پر تھے اوریا معاویہ اور اس کے ساتھی ظالم تھے اور باطل پر تھے ۔ حالانکہ رسول اللہ نے سب چیز واضح کردیا تھا ۔جو بھی ہو ہر صورت میں تمام صحابہ کی عدالت بہر حال ثابت نہیں ہوتی ۔اور نہ یہ منطق عقل سلیم پر پوری اترتی ہے ،ہر ہر چیز کی متعدد مثالیں ہیں جن کو خدا کے علاوہ کوئی احصاء نہیں کرسکتا ۔
اگر میں تفصیل میں جاؤں اور ہر واقعہ کے بارے میں ہر پہلو سے بحث کروں تو کئی ضخامت جلدوں کی ضرورت ہوگی ۔ مگر چونکہ میں نے اختصار کا ارادہ کرلیا ہے اور اس بحث میں صرف بعض مثالوں پر اکتفاء کی ہے ۔ اور یہ الحمداللہ ہماری قوم کے مزعومات کو باطل کرنے کے لئے کافی ہے ہماری قوم کا عالم یہ ہے کہ مدتوں سے ہماری فکروں کو جامد بنادیا ہے اوریہ پابندی لگادی ہے کہ میں حدیث سمجھنے کی کوشش نہ کروں ۔ عقل وشریعت کے معیار پر تاریخی واقعات کی تحلیل نہ کروں ۔ جب کہ قرآن کریم اور سنت رسول ہم کو میزان عقل پر تولنے کا حکم دیتی ہے ۔
اس لئے میں نے طے کر لیا ہے کہ میں سرکشی کروں گا اور تعصب کے جس غلاف میں مجھے لیٹا گیاہے ، اس سے باہر نکلوں گا ۔ ب یس سال سے جن بیڑیوں میں مجھے جکڑا گیا ہے اس سے آزادی حاصل کرکے رہوں گا ۔ میری زبان حال ان سے کہہ رہی ہے ۔ اے کاش میری قوم یہ جان لیتی کہ میرے خدانے مجھے کیوں بخش یدا اور میرا اکرام کیوں کیا ۔کاش میری قوم بھی اس نئی دنیا کا انکشاف کر لیتی جس کی وہ جہالت کے باوجود شدت سے مخالفت کرتی ہے ۔
٭٭٭٭٭
تین مہینے تک میں بہت پریشان رہا ۔ عالم یہ تھا کہ خواب میں بھی افکار مجھے پریشان کرے ۔مختلف قسم کے وہم وگمان افکار ووسواس میں گھرا رہتا تھا ۔ خصوصا بعض اصحاب سے تو مجھے اپنی جان کا خوف تھا ۔ کیونکہ تاریخی واقعات جو مجھے بتائے گئے ہو حیرتناک حد تک ڈراونے تھے ۔ اس لئے کہ پوری زندگی مجھے جو تربیت دی گئی تھی وہ اولیاء اللہ اور اس کے نیک بندوں کا احترام کرنا تھا ورنہ اگر کوئی ان کے حق میں بے ادبی کردے یا جسارت کردے چاہے ان کی عدم موجود گی میں یا ان کے مرنے کے بعد بھی تو وہ لوگ بے ادبی کرنے والوں کو ضرور سزا دیتے تھے ۔اس لئے میں بہت ڈرتا تھا ۔ چنانچہ حیاۃ الحیوان (1) الکبری میں خود میں نے پڑھا تھا کہ ایک شخص عمر بن الخطاب کو گالیاں دیا کرتا تھا ،قافلہ والے اس کو روکتے تھے مگرو وہ نہیں مانتا تھا آخر ایک دن وہ پیشاب کررہا تھا کہ بہت ہی زہریلے سانپ نے اس کو ڈس لیا اور وہ وہیں کا وہیں مرگیا ۔پھر لوگوں نے اس کے لئے قبر کھول دی تو دیکھا وہاں بھی کا لا زہریلا ناگ موجود ہے ۔ پھر لوگوں نے دوسری قبر کھودی وہاں بھی وہ ناگ تھا ایسا کئی مرتبہ ہوا تو بعض عارفین نے کہا اس کو جہاں چاہے دفن کرو اگر تم پوری زمین بھی کھود ڈالو گے تو ہر جگہ یہ کالا سانپ ملے گا ۔ کیونکہ خدا اس کو آخرت سے پہلے دنیا میں عذاب دینا چاہتا ہے اس لئے کہ اس نے سیدنا عمر کو گالیاں دی تھیں ۔اس لئے میں خوفزدہ اور متحیر ہوکر اس مشکل بحث میں پڑنے سے کتراتا تھا خصوصا جب کہ میں نے "الزیتونیۃ یونیورسٹی" کی ایک فرع میں پڑھا تھا " افضل الخلفاء علی التحقیق سیدنا ابو بکر ہیں اس کے بعد حضرت عمر فاروق ہیں جو حق اور باطل میں فرق کرتے تھے ۔ اس کے بعد سیدنا عثمان بن عفان
--------------
(1):- یہ واقعہ الاسود السالخ کے حالات میں دمیری نے حیات الحیوان کے اندر لکھا ہے ۔
ذوالنورین ہیں جن سے ملائکہ رحمان بھی شرماتے تھے ۔ اس کے بعد سیدنا علی باب مدینۃ علی نبی ہیں ان چاروں کے بعد عشرہ مبشرہ کے باقی چھ 6 افراد طلحہ ، زبیر ، سعد ، عبدالرحمان ،ابی عبیدہ ہیں ، اس کےبعد تمام صحابہ کانمبر آتا ہے ۔ہمارے علماء زیادہ تر اس آیت سے استدلا ل ہم کو سکھاتے ہیں :" لانفرق بین احد میں رسلہ " کہ تمام صحابہ کو ایک آنکھ سے دیکھنا چاہیے کسی پر کوئی اعتراض نہین کرنا چاہے ۔
اسی لئے میں کئی مرتبہ ڈرا اور کئی مرتبہ استغفار پڑھا ۔ اس بحث کو ختم کرنا چاہا کیونکہ اس سے صحابہ کے بارے میں شک ہونے لگتا ہے اور اس کانتیجہ اپنے دین میں شک کرتا ہوتا ہے ۔لیکن اس تمام مدت میں اپنے علماء سے بات کرنے پر مجھےبہت سے ایسے تناقضات ملے جن کو عقل قبول نہیں کرتی اور علماء نے مجھے ڈرانا شروع کردیا اگر صحابہ کے بارے میں میں ایسی ہی بحث کرتا رہا تو خدا اپنی نعمت مجھ سے سلب کر لے گا ۔ اور مجھے ہلاک کردےگا لیکن ان تمام دشمنیوں اور تکذیب کے بعد بھی تلاش حقیقت کو خواہش نے ہر مرتبہ مجھے نئی طرح سے بحث کرنے پر ابھارا اور میں نے اپنے اندر ایک ایسی قوت پارہا تھا جو مجھے بحث جاری رکھنے پر مجبور کر رہی تھی۔
٭٭٭٭٭
میں نے اپنے ایک عالم سے کہا :- جب معاویہ بے گناہوں کو قتل کرکے ،لوگوں کی عزت آبرو لوٹ کرکے آپ کے نزدیک مجتہد ہے ۔ اور ایک اجر کا مستحق ہے اور یزید فرزند رسول کو قتل کرکے مدینہ کو اپنے لشکر کے لئے مباح کرکے خطا کار مجتہد ہوسکتا ہے اور ایک اجر کا مستحق ہے یہاں تک کہ آپ میں سے بعض نے یہاں تک کہدیا : حسین تو اپنے نانا کی تلوار سے قتل کئےگئے ۔ اس سے صرف فعل یزید کو جائز کرنا مقصود ہے تو پھر اگر میں اجتہاد کروں اور بعض صحابہ کے بارف میں مشکوک ہوجاؤں اور بعض کے بارے میں مشکوک نہ ہوں تو اگر میرا اجتہاد صحیح ہے تو مجھے بھی دو اجر اور غلط ہے تو ایک اجر تو ملنا ہی چاہیے جب کہ میرے اجتہاد کا قیاس معاویہ ویزید کے افعال پر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ قاتل اولاد پیغمبر ہیں اور میں تو صرف شک وعدم شک کی بحث میں ہوں اس کے علاوہ بعض صحابہ میں عیب نکالنے کا مطلب ان پر سب وشتم اور لعن کرنا نہیں ہے بلکہ میرا مقصد تمام گمراہ فرقوں میں نجات پانے والے فرقہ کی تلاش ہے ۔اور یہ صرف میرا ہی فریضہ نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کا فریضہ ہے تو آخر ایسا کرنے پر میں کیوں گردن زنی کے قابل ہوں ؟ اور خدا دلوں کے بھید سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ میرا ارادہ کیا ہے ؟
مولانا :- اے بیٹا ! باب اجتھاد مدتوں پہلے بند ہوچکا ہے ۔
میں :- کس نے بند کیاہے ؟
مولانا :-ائمہ اربعہ نے (یعنی امام ابو حنیفہ ، مالک ، شافعی ، احمد بن حنبل نے )
میں :- (بڑی بے باکی سے ) اگر خدا اور رسول اور خلفائے راشدین (جن کی پیروی کا حکم دیاگیا ہے ) نے نہیں بند کیا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ جیسے ان لوگوں نے اجتہاد کیا تھا میں بھی اجتہاد
کروں گا ۔
مولانا:- جب تک تم کو سترہ 17 علوم میں مہارت نہ جائے اجتہاد کرہی نہیں سکتے ان میں اہم علوم مثلا یہ ہیں ۔ تفسیر ،لغت ، نحو،صرف ، بلاغت ، حدیث ،تاریخ وغیرہ وغیرہ ،۔
میں :- نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا :- میں اس لئے اجتہاد کرنا نہیں چاہتا کہ لوگوں کو قرآن وسنت کے احکام بتاؤں یا اسلام کے اندر میں بھی کوئی صاحب مذہب بن جاؤں ۔ہر گز نہیں ! میں تو صرف حق وباطل کو پہچاننے اور یہ سمجھنے کے لئے کہ حضرت علی حق پر تھے یہ حضرت معاویہ ؟! اجتہاد کرنا چاہتا ہوں ۔ اور اس کے لئے 17 علوم میں مہارت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ دونوں کی زندگی کا مطالعہ اور یہ دیکھنا کہ کس نے کیا کیا ہے ؟حقیقت کو پہچاننے کے لئے کافی ہے ۔
مولانا:- تم کو ان کی کیا ضرورت ہے ؟ تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم والا تسئلون عما کانوا یعملون (پ 1 سورہ بقرہ آیت 134)
ترجمہ:- (اے یہودیو)وہ لوگ تھ جو چل بسے جو انھوں نے کیا ان کے آگے آیا اور جو تم کروگے وہ تمہارے آگے آئے گا ۔اور وہ جوکچھ بھی کرتے تھے اس کی پوچھ گچھ تم سے (تو )نہیں ہوگی ۔
میں :- آپ تسئلون کی (ت) کو پیش پڑھ رہے یا زبر ؟
مولانا :- میں پیش پڑھ رہا ہوں( تسئلون)
میں :- شکر خدا کا ۔ آگر آپ زبر پڑھتے تو بحث کی گنجائش ہی نہیں تھی ۔۔۔۔ زبر سے مطلب ہوگا کہ تم کوسوال کرنے کا حق نہیں ہے ۔۔۔ہاں پیش پڑھنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے افعال کا سوال ہم سے نہیں کیا جائے گا ۔ اوریہ ایسا ہی ہے جیسے ایک اور جگہ ارشاد ہے ۔ہر انسان اپنے اعمال کا گروی ہوگا ۔ یا مثلا انسان کو اتنا ہی ملے گا جتنی وہ کوشش کرے گا ۔ قرآن نے ہم کو امم سابقہ کے حالات معلوم کرنے پر ابھارا ہے اور کہا ہے کہ ہم اس
سے عبرت حاصل کریں اسی لئے خدا نے فرعون ،ہامان ،نمرود ،قارون ،کا جہاں قصہ بیان کیا ہے وہیں انبیائے سابقین کا بھی ذکر کیا ہے ۔ یہ تسلی وتشفی کے لئے ذکر نہیں کیا ہے بلکہ حق وباطل کی معرفت کے لئے ان واقعات کو بیان کیاگیا ہے ۔اب رہی آپ کی یہ بات کہ مجھے بحث سے کیا فائدہ ؟ تو عرض ہے کہ مجھے اس سے فائدہ ہے ۔ اولا تو اس لئے کہ ولی خدا کو پہچان کر اس سے محبت کروں اور دشمن خدا کو پہچان کر اس سے دشمنی کروں ۔ اور قرآن یہی بات چاہتا ہے ۔بلکہ اس کو واجب قراردیتا ہے ۔اور دوسرا اہم فائدہ یہ ہے کہ مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ میں اس کی عبادت کس طرح کروں؟ اور جو فرائض اس نے واجب کئے ہیں ان کو کس طرح ادا کروں تاکہ اس کے ارادہ ومنشاء کے مطابق ہو۔ نہ یہ کہ میں فرائض کو اسطرح ادا کروں جس طرح ابو حنیفہ یادوسرے مجتہدین چاہتے ہیں ۔ کیونکہ امام مالک نماز میں بسم اللہ کو مکروہ سمجھتے ہیں ۔ حالانہ ابو حنیفہ واجب جانتے ہیں اور دوسرے لوگ بغیر بسم اللہ کے نماز ہی باطل سمجھتے ہیں ۔اور چونکہ نماز دین کا ستو ن ہے اور تمام (فرعی ) اعمال کی مقبولیت کا دارومدار نماز پر ہے اس لئے میں نہیں چاہتا کہ میری نماز باطل ہو ۔اسی طرح مثلا شیعہ کہتے ہیں : وضو میں پیروں کا مسح کرنا واجب ہے اور اہل سنت کہتے ہیں پیروں کا دھونا واجب ہے ۔ اور قرآنی آیت اسطرح ہے : وامسحوا برؤو سکم وارجلکم "یہ صریحی طور سے مسح کو بتا تی ہے ۔ مولانا اب آپ ہی بتائیے ایک عقلمند مسلمان بغیر بحث ودلیل کے کس ایک کو قبول کرے اور دوسرے کو رد کردے؟
مولانا:- تم یہ بھی کرسکتے ہو تمام مذاہب سے اچھی اچھی باتیں لے لو کیونکہ یہ سب ہی اسلامی فرقے ہیں اور سب ہی کا مدرک رسول ہیں ۔
میں :- مجھے ڈر ہے کہیں میں اس آیت کا مصداق نہ بن جاؤں:"أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ"(پ 25 س 45 (الجاثیه ) آیت 23)
ترجمہ :- بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور (اس کی حالت) سمجھ بو جھ کر خدانے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے ایور اس کے کان اور دل پر علامت مقرر کر دی ہے ۔( کہ یہ ایمان نہ لائےگا )اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے پھر خدا کے بعد اس کی ہدایت کون کرسکتا ہے تو کیا تم لوگ (اتنا بھی)غور نہیں کرتے ؟۔
مولانا! جب تک ایک شی کو ایک مذہب حلال اور دوسرا حرام کرتا رہے گا اس وقت تک میں یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ سارے کے سارے مذہب حق ہیں ۔ کیونکہ یہ محال ہے کہ ایک ہی شئ ایک ہی وقت میں حلال بھی ہو اور حرام بھی ہو ۔جب کہ رسول کے احکام میں کوئی تناقض نہیں تھا۔ کیونکہ وہ سب وحی قرآنی کے مطابق تھے: ولو کان من عند غیرالله لوجدوا فیه اختلافا کثیرا (پ 5س4 (نساء)آیت 82)
اگر یہ (قرآن ) غیر خدا کے پاس سے (آیا ) ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پاتے ۔ اور چونکہ مذاہب اربعہ میں بہت اختلاف سے اس لئے یہ نہ خدا کی طرف سے ہے نہ رسول کی طرف سے ہے ،کیونکہ رسول قرآن کے خلاف نہیں کہہ سکتے ،
مولانا:- نے جب محسوس کیا کہ میرا کلام منطقی ہے اورمیری دلیلیں مضبوط ہیں تو بولے : میاں میں تم کو قربۃ الی اللہ ایک نصیحت کرتاہوں ۔تم چاہے جس چیز میں شک کرنا لیکن (خبردار)خلفائے راشدین کےبارے میں کبھی شک نہ کرنا ۔کیونکہ یہ چاروں اسلام کے ستون ہیں اور اگر ان میں سے ایک ستون بھی گر گیا تو عمارت گر جائے گی ۔۔
میں :- مولانا ! استغفراللہ اگر یہ چاروں ستون ہیں تو پھر رسول خدا (ص) کہاں گئے ؟
مولانا:- وہ تو خود ہی عمارت ہیں ۔ پورا سلام تو حضور ہی ہیں ۔
میں مولانا کی اس تحلیل سے مسکرایا اور بولا دوبارہ استغفراللہ کہتا ہوں ۔ مولانا آپ بغیر سوچے فرما دیتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان چاروں کے بغیر رسول خدا بذات خود کچھ بھی نہیں ہیں ۔ حالانکہ خدا کہتا ہے :
"هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً "(پ 26 س 48(الفتح) آیت 28)
ترجمہ:-یہ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب رکھے اور گواہی کے لئے بس خدا کا فی ہے۔
خدا نے صرف محمد کو رسول بنا کر بھیجا ان کی رسالت میں ان چاروں میں سے کسی ایک کو نہیں شریک قراردیا اور نہ ان کے علاوہ کسی دوسرے کو شریک قراردیا ۔اسی سلسلہ میں خدا فرماتا ہے:" كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُواْ تَعْلَمُونَ "(پ2 س2(بقره)آیت 151)
ترجمہ:- (مسلمانو!یہ احسان بھی ویسا ہی ہے) جیسے ہم نے تم میں تم ہی کا ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیتین پڑھ کر سنائے اورتمہارے نفس کو پاکیزہ کرے اور تمہیں کتاب (قرآن ) اور عقل کی باتیں سکھائے جن کی تمہیں (پہلے سے) خبر نہ تھی ۔"
مولانا :-ہم نے اپنے بزرگوں اور ائمہ سے یہی سکھا تھا ۔اور ہم لوگ اپنے زمانہ میں نہ علماء سے مناقشہ کرتے تھے اور نہ ہی مجادلہ کرتے تھے جس طرح آج کی آپ لوگوں کی طرح کی نئی نسل کرتی ہے ،آپ لوگ ہر چیز میں شک کرنے لگے حدیہ ہے کہ اب دین میں بھی شک کرنے لگے ۔اب قیامت کے آثار ہیں ۔ کیونک رسول نے فرمایا ہے ۔قیامت برے لوگوں ہی کی وجہ سے آئےگی ۔
میں :-مولانا! آپ مجھے خوفزدہ کررہےہیں ۔میں خود دین میں شک کروں یا دوسرے کو مبتلا کروں اس سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں ، میں اس خدائے واحد پر ایمان لایا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس کے ملائکہ اس کی نازل کردہ کتابوں ،بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان رکھتاہوں ۔ میں خدا کے بندے اور اس کے رسول سیدنا محمد پر ایمان رکھتا ہوں ، اور یہ تسلیم کرتاہوں کہ وہ انبیاء ومرسلین میں سب سے افضل تھے اور میں ایک مسلمان ہوں،
پھر آپ مجھ پر کیوں اتہام لگارہے ہیں ؟
مولانا :- میں تو تم پر اس سے بھی بڑا الزام لگاتا ہوں ۔ تم سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کے بارے میں شک کرتے ہو حالانکہ رسول خدا نے فرمایا ہے : اگر میری پوری امت کے ایمان کو ابو بکر کے ایمان سے تولا جائے تو ایمان ابو بکر کا پلہ بھاری ہوگا ۔اور سیدنا عمر کے بارے میں فرمایا ہے : میری امت میرے اوپر پیش کی گئی تو وہ ایسی قمیص پہنی تھی جو سینہ تک بھی نہیں پہنچ پارہی تھی پھر میرے سامنے عمر کو پیش کیا گیا ان کی قمیص زمین کو خط دے رہی تھی لوگوں نےکہا حضور آپ نے اس کی کیا تاویل فرمائی ؟ فرمایا : دین ! اور تم آج چودھویں صدی ہجری میں آئے ہو ۔عدالت صحابہ میں شک کرتے ہو۔ خصوصا ابو بکر وعمر کی عدالت میں کیا تم نہیں جانتے اہل عراق سب کے سب اہل شقاق ہیں ۔ اہل کفر ونفاق ہیں ؟
میں :- میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں اس شخص کے بارے میں کیاکہوں جو ادعائے علم کرتا ہے اور گناہوں پر فخر کرتا ہے ۔ اب وہ احسن طریقہ جدال سے جھوٹ ،افتراء اور ایسے لوگوں کے سامنے جو آنکھ بند کرکے دین کو پسند کرتے ہیں جھوٹے جھوٹے الزامات لگانے لگا ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ لوگوں کی آنکھیں سرخ ہوگئیں ۔ اوربعضوں کے گردن کی رگیں پھول گئیں ، اور میں نے ان کے چہروں سے شرکاہ کا اندازہ کرلیا ۔ لہذا فورا دوڑ کر گیا اور امام مالک کی کتاب "موطاء" اور صحیح بخاری اٹھا لا یا ۔اور عرض کیا مولانا صاحب مجھے جس چیز نے ابو بکر کے بارے میں شک پر ابھارا وہ خود رسول خدا کی ذات ہے ۔ لیجئے موطا پڑھیئے ۔ مالک نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے احد کے شہیدوں کے لئے فرمایا : میں ان لوگوں کی گواہی دیتاہوں ! اس پر ابو بکر صدیق نے کہا : اے رسو اللہ(ص) کہ ہم ان کے بھائی نہیں ہیں ہم بھی اسی طرح اسلام لائے جیسے وہ لائے تھے ہم نے بھی اسی طرح جہاد کیا ۔جس طرح انھوں نے جہاد کیا تھا ۔رسول خدا نے فرمایا : ہاں! لیکن مجھے نہیں معلوم کہ تم لوگ میرے بعد کیا احداث (ایجاد بدعت) کروگے ۔ اس پر ابو بکر روئے پھر اور روئے اور کہا (کیا ) ہم آپ کے بعد
باقی رہیں گے(1) ۔
اس کے بعد میں نے صحیح بخاری کھولی اس میں ہے : عمر بن خطاب حفصہ کے پاس آئے حفصہ کے پاس اسماء بنت عمیس بھی موجود تھی عمر نے اسماء کو دیکھ کر پوچھا یہ کون ہے ؟ حفصہ نےکہا اسماء بنت عمیس ! عمر نے کہا یہی حبشہ ہے یہی بحریہ ہے ۔ اسماء نے کہا :ہاں ! اس پر عمر بولے : ہماری ہجرت تم سے پہلے ہے اس لئے ہم رسول خدا سےبہ نسبت تمہارے زیادہ احق ہیں ! اسماء کو یہ سن کر غصہ آگیا اور بولیں: ہر گز نہیں خدا کی قسم ایسا ہیں ہوسکتا ۔تم رسول اللہ کے ساتھ تھے ،آپ تمہارے بھوکوں کو کھانا کھلاتے تھے ۔جاہلوں کو وعظ کرتے تھے اور ہم لوگو ایسی (جگہ )یا زمین میں تھے جو اجنبیوں کی اور دشمنوں کی تھی ۔حبشہ میں ہم نے جو کچھ کیا ہو خدا اور اس کے رسول کے لئے کیا خدا کی قسم ہم لوگ جب بھی کھانا کھا تے یا پانی پیتے تھے رسول خدا کا ذکر ضرور کرتے تھے ،ہم کو اذیت پہونچتی تھی ۔ہم ہر وقت خوفزدہ رہتے تھے ۔(لہذا تم لوگ ہمارے برابر کیسے ہوسکتے ہو؟ ) میں اس واقعہ کا ذکر رسول سے ضرور کروں گی ۔ خدا کی قسم ان سے پوچھو ں گی نہ جھوٹ بولوں گی نہ (کمی )و زیادتی کروں گی ۔ پھر جب رسول خدا آئے تو اسماء نے کہا یا رسول اللہ عمر نے یہ کہا تھا آنحضرت نے پوچھا تم نے کیا کیا ؟ اسماء نےکہا میں نے یہ یہ کہا ! آنحضرت نے فرمایا : تم سے زیادہ وہ حق نہیں ہے ۔ ان کے اوران کے ساتھیوں کی صرف ایک ہجرت ہر اور تم اہل سفینہ کی دو دو ہجرت ہے ۔اسماء بیان کرتی ہیں( اس واقعہ کے بعد) ابو موسی اور دیگر اصحاب سفینہ برابر میرے پاس آتے تھے اور اس حدیث کے بارے میں پوچھتے تھے ۔ دنیا میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جو ان لوگوں کے دلوں کو اس حدیث سے زیادہ فرجت بخشی ہو ہور نہ ہی کوئی چیز ان کے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم تھی(2)
--------------
(1):- موطاء امام مالک ج 1 ص 307 المغازی للواقدی ص 310
(2):- صحیح بخاری ج 3 ص 287 باب غزوہ خیبر "
جب شیخ(مولانا ) نے اور ان کے ساتھ لوگوں نے اس کو پڑھا تو ان کے چہرے بدل گئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ، اور یہ سب اس کا انتظار کرنے لگے کہ دیکھیں مغلوب مولانا صاحب کیا جواب دیتے ہیں لیکن مولانا نے بڑے تعجب سے پلکوں کو اٹھا کر دیکھا اور فرمایا : رب زدنی علما (خدا یا میرے علم میں اضافہ کر)
میں :- جب سب سے پہلے خود رسول اللہ نے ابو بکر کے بارے میں شک کیا اورابو بکر کیلئے گواہی نہیں دی ،اس لئے کہ حضور کو معلوم نہیں تھا کہ یہ لوگ آنحضرت کے بعد کیا کیا کریں گے ؟اور جب خود رسول خدا(ص) نے اسماء بنت عمیس پر عمر بن خطاب کی فضیلت کو قبول نہیں کیا ،بلکہ اسماء کو عمر پر فضیلت نہ دوں ،اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں حدیثیں تمام ان حدیثوں سے متعارض ہیں جو ابو بکر وعمر کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں بلکہ یہ دونوں حدیثیں واقع سے بہت قریب ہیں اور سمجھ میں آنے والی ہیں بہ نسبت فرضی حدیثوں کے جو فضائل میں آئی ہیں بلکہ یہ دونوں تمام فضائل والی حدیثوں کو باطل کردیتی ہیں ، حاضرین نے کہا یہ کیسے؟
میں :-رسول خدا(ص) نے ابو بکر کی گواہی نہیں دی اور فرمایا :نہ معلوم میرے بعد تم کیا کیا کروگے ؟ اور یہ بات معقول ہے اور قرآن نے اس کا اثبات کیا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ ان لوگوں نے رسول کے بعد بہت سی تبدیلی کردی ۔ اسی لئے ابوبکر روئے تھے کیونکہ انھوں نے تبدیلی بھی کی تھی اور حضرت فاطمہ کو غضبناک بھی کیا تھا (جیسا کہ گزرچکا ) اور اسی تبدیلی کی وجہ سے مرنے کے پہلے بہت پشیمان تھے اور یہ تمنا کرتے تھے کہ کا ش میں بشر نہ ہوتا ۔
اب رہی ایمان ابو بکر والی حدیث کہ تمام امت سے اس کاوزن زیادہ تھا تو یہ باطل بھی ہے اور عقل میں نہ آنے والی بھی ہے اس لئے کہ جو شخص چالیس سال تک مشرک رہا ہو ، بتوں کی پرستش کرتا رہا ہو وہ پوری امت محمدی کے ایمان سے زیادہ ایمان رکھتا ہو ناممکن ہے ۔کیونکہ امت محمدی کے اندر اولیاء اللہ شہدا اور وہ ائمہ بھی ہیں جنھوں نے اپنی پوری عمریں جہاد فی
سبیل اللہ میں گزاردیں پھر ابو بکر اس حدیث کے مصداق کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اگر واقعا یہی مصداق ہوتے تو عمر کے آخری حصہ میں یہ تمنا نہ کرتے کہ کاش میں بشر نہ ہوتا ۔ اگر ان کا ایمان پوری امت سے زیادہ ہوتا تو سیدۃ النساء فاطمہ بنت رسول ان پر غضبناک نہ ہوتیں اور ہر نماز کے بعد ابو بکر پر بد دعا نہ کرتیں ۔
مولانا صاحب تو چپ رہے کچھ بولے ہی نہیں لیکن بعض موجود لوگوں نے کہا :خدا کی قسم اس حدیث نے ہم کو شک میں ڈال دیا ۔ اس وقت مولانا صاحب بولے
مولانا:- آپ یہی چاہتے تھے نا !؟ آپ نے سب کوشک میں مبتلا کردیا ۔میرے جواب دینے کے بجائے انھیں میں سے ایک بول اٹھا :جی نہیں ! حق انھیں کے ساتھ ہے ہم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی کتاب مکمل نہیں پڑھی ہو لوگ تو آپ حضرات کی اندھی تقلید کرتے تھے جو کہتے تھے ۔بے چون وچرا مان لیتے تھے ۔اب ہم پر حقیقت ظاہر ہوئی کہ حاجی جو کہہ رہے ہیں وہی صحیح ہے اب ہمارا فریضہ ہے کہ پڑھیں اور بحث کریں بعض اور حاضرین نے بھی اس شخص کی تائید کی اور درحقیقت یہ حق وصداقت کی فتح تھی یہ جبر وقہر کا غلبہ نہیں تھا البتہ عقل ودلیل وبرہان کی کامیابی تھی اگر تم سچے ہوتو اپنی دلیل پیش کرو!
اس واقعہ نے میری ہمت بڑھا دی او ر میں نے بحث کے دروازوں کو پاٹوں پاٹ کھول اور دیا اور بسم اللہ وبا للہ وعلی ملۃ رسول اللہ کہہ کر اس میں کود پڑا ۔پروردگار عالم سے ہدایت وتوفیق کی امید رکھتے ہوئے کیونکہ اس نے وعدہ کیا ہے جو حق کو تلاش کرے گا ۔ وہ اس کی ہدایت کرے گا اور خدا وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔
بڑی دقت کے ساتھ مسلسل تین سال تک میں بحث وتحقیق کرتارہا کیونکہ جو پڑھتا تھا اس کو دہراتا تھا ۔اور بعض اوقات تو بار بار ایک کتاب کوپہلے صفحہ سے آخری صفحہ تک پڑھتا تھا ۔
چنانچہ میں نے علامہ شرف الدین الموسوی کی "المراجعات"پڑھی اور کئ کئی بار پڑھا اس کتاب نے میرے سامنے ایسے نئے آفاق کھول دیئے جو میری ہدایت کاسبب بنے اور میرے دل میں
پیش کش کوئی بھی چیز سات صدی تک ائمہ اہلبیت کی پیروی سے نہیں ہٹا سکی ،حالانکہ ان سات صدیوں میں شیعوں کو دربدر کیا گیا ۔ دفتر عطا سے ان کے نام کاٹ دیئے ان کوچن چن کر جبال وکوہ میں تلاش کرکے قتل کیاگیا ان کے خلاف ایسے ایسے جھوٹے پروپیگنڈے کئے گئے جس سے لوگ ان سے نفرت کرنے لگے اور اس کے آثار آج بھی شیعوں میں باقی ہیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ائمہ اہلبیت کوچھوڑ کر کسی اور کی پیروی نہیں کی ۔
لیکن ان تمام مصائب کا بڑے صبر وسکون وثبات قدم سے مقابلہ کرتے ہوئے شیعوں نے حق کا دامن نہیں چھوڑا اور نہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ کی ،میں آج بھی اپنے بڑے سےبڑے عالم کو چلینج کرتاہوں کہ وہ شیعہ علماء کے پاس بیٹھ کر ان سے بحث کرے تو شیعہ ہوئے بغیر واپس نہیں ہوگا ۔
اس خدا کا شکر ہے جس نے ہماری اس بات کی ہدایت کی اور اگر خدا ہدایت نہ کرتا تو ہدایت ناممکن تھی ۔خدا کی حمد اور ا س کا شکر ہے کہ اس نے فرقہ ناجیہ تک میری رہبری کردی جس کی مدتوں سے تلاش تھی اور اب مجھے یقین ہے کہ حضرت علی واہل بیت سے تمسک عروۃ الوثقی سے تمسک ہے اور احادیث رسول بھی بکثرت اس پر موجود ہیں اور مسلمانوں نے ان پر اجماع کیا ہے اور جو بھی گوش شنوا رکھتا ہوگا صرف عقل ہی اس کے لئے بہترین دلیل ہے ، علی الاطلاق حضرت علی تمام صحابہ سے اعلم اورسب سے زیاد ہ شجاع تھے اور امت کا اس پر اجماع ہے ۔ صرف یہی اجماع حضرت علی کے مستحق خلافت ہونے پر مضبوط دلیل ہے ۔خدا وند عالم کا ارشاد ہے:-" وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكاً قَالُوَاْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ"(پ 2 س2 (بقره) آیت 247)
ترجمہ:- اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ بیشک خدا نے تمہاری درخواست کے مطابق
طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے تب کہنے لگے ۔اس کی حکومت ہو پر کیوں کر ہوسکتی ہے ۔ حالانکہ سلطنت کے حقدار اس سے زیادہ تو ہم ہیں ۔ کیونکہ اسے تو مال کے اعتبار سے بھی فارغ البالی تک نصیب نہیں (نبی نے کہا)خدا نے اسے تم پر فضیلت دی ہے اور (مال میں نہ سہی )علم اور جسم کا پھیلاؤ تو اسی خدا نے زیادہ فرمایا ہے اور خدا اپنا ملک جسے چاہے دے اور خدا بڑا گنجائش والا ہے اور واقف کارہے ۔اور رسول نے فرمایا : ان علیا منی وانا منہ وھو ولی کل مومن بعدی(3) ۔یقینا علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔ اور علی میرے بعد تمام مومنین کے ولی ہیں ۔ زمخشری نے چند اشعار حضرت علی کے لئے کہے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیے ۔
کثر الشک ولاختلاف وکل ----- یدعی انّه الصراط السوی
فتمسک بلا اله الا الله----- وحبی لاحمد وعلی
فاز کلب یحب اصحاب الکهف ----کیف اشقی بحب آل علی
اختلاف اور شک بہت زیادہ ہوگیا ہے اور ہر شخص یہی دعوی کرتا ہے کہ وہ سیدھے راستہ پر ہے لہذا میں نے لا الہ الا اللہ سے تمسک کیا اور احمد وعلی کی محبت سے ، اصحاب کہف کا کتا ان سے محبت کرنے کی وجہ سے کامیاب ہوگیا۔ پھر بھلا میں آل علی سے محبت کرکے کیوں نہ کامیاب ہوجاؤں
ہاں الحمدللہ میں نے بدل پالیا ۔ اور رسول خدا کے بعد امیر المومنین سید الوصین ،قائد الغر المحجلین اسداللہ الغالب الامام علی ابن ابی طالب اور سیدی شباب الجنۃ ریحانتی الرسول ، ابی محمد الحسن الزکی اور الامام ابی عبداللہ الحسین اور بضعۃ المصطفی ،سلالۃ النبوۃ وام الائمہ ،معدن الرسالہ ،جن کے غضب پر موقوف ہو غضب رب العزت سیدۃ النساء العالمین فاطمۃ الزہراء کی پیروی کرنے لگا ۔
امام مالک کے بدلے استاذ الائمہ معلم الامہ الامام جعفر الصادق علیہ السلام کواختیار کر لیا امام حسین کی ذریت
--------------
(1):- صحیح ترمذی ج 5 ص 296 ،خصائص نسائی ص 87 ع،مستدرک الحاکم ج 3 ص 110
سے نو معصومین جو ائمہ المسلمین ہیں اور اولیاء اللہ الصالحین ہیں ان سے تمسک کرنے لگا ۔
الٹےپاؤں کفر کی طرف پلٹ جانے والے صحابہ جیسے معاویہ ،عمر وعاص ،مغیرہ بن شعبہ ،ابی ہریرہ عکرمہ ،کعب الاحبار ، کے بدلے ان صحابہ کو اختیار کرلیا جنھوں نے پیغمبر سے کئے ہوئے معاہدے کو توڑا نہیں ۔ جیسے عمار یاسر ، سلمان فارسی ، ابو ذر غفاری ،مقدادبن الاسود ،خزیمہ بن ثابت ،ذوالشہادتین ابی بن کعب وغیرہ اور اس بابصیرت افروز تبدیلی پر خدا کی حمد وثنا کرتا ہوں ۔
اور اپنی قوم کے ان علما کے عوض جنھوں نے ہماری عقلوں کو جامد کردیا اور جن کی اکثریت نے ہرزمانہ میں حکام وسلاطین کی جی حضوری کی ،ان شیعہ علماء کو اختیار کیا جنھوں نے کبھی اجتھاد کادروازہ بند نہیں کیا اور نہ کبھی دینی معاملات میں سستی دکھائی ۔اورنہ کبھی ظالم وجابر امراء وسلاطین کی چوکھٹ پر جب سائی کی ۔
ہاں متعصب وپتھر جیسے سخت افکار :جو تناقضات پر عقیدہ رکھتے ہوں" کے بدلے آزاد روشن کھلے ذہن ودماغ والے ،افکار کو اختیار کرلیا جو حجت ودلیل وبرہان پر ایمان رکھتے ہیں اور جیسا کہ آج کل کہا جاتا ہے ہم نے اپنے ذہن پر تیس 30 سال کرے پڑے ہوئے گرد دوغبار کو دورکرکے اپنے دماغ کو دھوڈالا یعنی بنی امیہ کی گمراہیوں کے بدلے میں معصومین پر عقیدہ رکھ کر اپنی باقی زندگی کو پاک کر لیا ۔ خداوند محمد وآل محمد کی ملت پر زندہ رکھ اور ان کی سنت پر موت دے انھیں کے ساتھ میرا حشر کر کیونکہ تیرے نبی کا قول ہے : انسان جس کو دوست رکھتا ہے اسی کے ساتھ محشور ہوتا ہے ۔۔شیعہ ہوکر میں اپنی اصل کی طرف پلٹ آیا ۔کیونکہ میرے باپ اورچچا شجرہ نسب کے اعتبار سے بتایا کرتے تھے کہ ہم ان سادات میں ہیں جوعباسی حکومت کی ناقابل برداشت سختیوں سے مجبور ہوکر عراق سے فرار کرکے شمالی افریقہ میں پنا ہ گزیں ہوگئے تھے ۔ اورآج تک ہمارے آثار وہاں باقی ہیں اور شمال افریقہ مین ہم جیسے بہت ہسے ہیں جو اشراف کہلاتے ہیں کیوں کہ وہ نسل سادات سے ہیں لیکن وہ لوگ بنی امیہ وبنی عباس کی بدعتوں میں سرگرداں ہوگئے ۔ اور اب ان کے پاس سوائے اس احترام کے جو لوگوں کے دلوں میں اب تک موجود ہے ۔کچھ نہیں ۔ خدا کی حمد ہدایت دینے پر ہے ۔ شیعہ ہونے پر ہے اور بصارت وبصیرت کے حق پر ہونے پر ہے ۔
جن اسباب کی بنا پر میں شیعہ ہوا ہوں وہ تو بہت ہیں ، اس مختصر سے رسالہ میں ان سب کے تحریر کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ صرف بعض اسباب کاذکر کرتاہوں ۔
چونکہ اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے میں نے قسم کھالی تھی کہ انھیں چیزوں پر اعتماد کروں گا جو فریقین (سنی وشیعہ)کے نزدیک معتمد ہوں اور جس کو کسی ایک فرقہ نے لکھا ہے اس کو چھوڑ دوں گا ۔اسی اصول پر میں نے ابو بکر اور علی میں سے کس کو کس پر فضیلت ہے " کے مسئلہ پر بحث کی اور یہ کہ خلافت علی کے لئے نص موجود ہے جیسا کہ شیعہ حضرات کا دعوی ہے یا خلافت کا مسئلہ انتخاب وشوری پر موقوف ہےجیسا کہ اہل سنت والجماعت کا دعوی ہے ۔
جو یائے حق اگر اپنے کو تمام تعصبات سے الگ کرکے صرف حقیقت کو تلاش کریگا تو اس کو حضرت علی کی خلافت پر نص مل جائے گی ،جیسے نبی کریم کا ارشاد ہے " من کنت مولاہ فعلی مولاہ " جب آنحضرت حجۃ الوداع سے واپس آرہے تھے تو اس حدیث کو ارشاد فرمایا تھا اور اس ارشاد کے بعد یا باقاعدہ مبارکبادی کی رسم ادا کی گئی اورخود ابو بکر وعمر نے حضرت علی کو ان الفاظ سے تہنیت پیش کی :- ابو طالب کے فرزند مبارک ہو مبارک تم تمام مومنین ومومنات کے مولا ہوگئے(1)
--------------
(1):- مسند احمد بن حنبل ج 4 ص 281 ، سر العالمین للغزالی ص 12 ،تذکرۃ الخواص (ابن جوزی) ص 29 ،الریاض النضرہ (طبری )ج 2 ص 169، کنز العمال ج 6 ص 397 ، البدایۃ والنھایہ (ابن کثیر) ج 5 ص 212 ،تاریخ ابن عساکر ج 2 ص 50 ،تفسیر رازی ج 2 ص 63 ،الحاوی للفتاوی (سیوطی ) ج 1 ص 112
اس حدیث پر سنی شیعہ سب کاا جماع ہے اس بحث میں میں صرف اہل سنت کی کتابوں کا حوالہ دے رہا ہوں وہ بھی سب نہیں بلکہ جتنا میں نے ذکر کیا ہے اس کا کئی گنا چھوڑدیا ہے اگر کوئی مزید تفصیل چاہتا ہے تو وہ علامہ امینی کی"الغدیر" کا مطالعہ کرے جس کی اب تک 13 جلدیں چھپ چکی ہیں ۔ اس کتاب میں مصنف نے صرف ان راویوں کا ذکر کیا ہے جو اہل سنت والجماعت کے یہاں ثابت ہیں ۔ اب رہی یہ بات کہ سقیفہ میں ابو بکر کے انتخاب پر اجماع ہوگیا تھا اور اس کے بعد مسجد میں ان کی بیعت کی گئی تو یہ صرف دعوی ہی دعوی ہے اس پر دلیل نہیں ہے ۔ کیونکہ جب حضرت علی ،حضرت عباس ، تمام بنی ہاشم ، اسامہ بن زید ، سلمان فارسی ، ابو ذر غفاری ، مقداد بن اسود ، عمار یاسر، حذیفہ یمانی ، خزیمہ بن ثابت ، ابو بریدہ الاسلمی ، البراء بن عازب ،ابی ابن کعب ، سہل بن حنیف ،سعد بن عبادہ ، ابو ایوب انصاری ،جابر بن عبداللہ انصاری ،خالد بن سعید اور ان کے علاوہ بہت سے صحابہ نے بیعت سے انکار کیا(1) ۔ تو خدا کے بندو! اب اجماع کہاں رہا؟ حالانکہ اگر صرف حضرت علی ہی بیعت نہ کرتے تو یہی بات اجماع پر طعن کے لئے کافی تھی ۔ کیونکہ بالفرض اگر رسول اکرم کی طرف سے علی کے لئے نص نہیں تھی تو خلافت کے تنہا کنڈیٹ تو بہر حال وہ تھے ۔
حضرت ابو بکر کی بیعت کسی مشورہ کے ہوئی ہے بلکہ لوگ متوجہ ہی نہیں تھے خصوصا اہل حل وعقد کو پتہ ہی نہیں چلا کہ بیعت ہوگئی جیسا کہ علمائے مسلمین کہتے ہیں کیونکہ لوگ تو رسول کی تجہیز وتکفین میں مشغول تھے ، صورت حال یہ ہوئی کہ مدینہ والوں کو دفعۃ اپنے نبی کے مرنے کی اطلاع ہوئی اور وہ
--------------
(1):-طبری ،ابن اثیر ، تاریخ الخلفاء ، تاریخ الخمیس ، استیعاب ، بلکہ جن لوگوں نے بھی ابو بکر کی بیعت کا ذکر کیا ہے ۔
لوگ ابھی رونے پیٹنے ہی میں تھے ، کہ لوگوں سے زبردستی بیعت لے لی گئی(1) ۔ اور اس زبردستی کا ثبوت اس واقعہ سے بھی ملتا ہے کہ لوگوں نے حضرت فاطمہ کے گھر کو جلا دینے کی دھمکی بھی دی کہ بیعت نہ کرنے والے نہ نکلے تو ہم اس گھر کو آگ لگا دیں گے ۔۔۔ پھرآپ ہی بتائیے ایسی صورت میں یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے کہ ابو بکر کی بیعت لوگوں کے مشورہ اور اجماع سے ہوئی ہے ؟
خود حضرت عمر کا فرمان ہے : ابو بکر کی بیعت بغیر سوچے سمجھے عمل میں آگئی ہے خدا نے مسلمانوں کو اس کے شر سے بچالیا اب اگر کوئی ایسا کرے تو اس کو قتل کردو ۔ (دوسری روایت میں ہے ) جو اس قسم کی بیعت کے لئے دعوت دے اس کو قتل کردو ! پس معلوم ہوا کہ نہ تو ابو بکر کی بیعت (صحیح )ہوئی ہے اور نہ لوگوں کی جنھوں نے ان کی بیعت کی ہے(2)
اسی بیعت کے لئے حضرت علی فرماتے ہیں: خدا کی قسم ابو قحافہ کے بیٹے (ابو بکر) نے زبردستی کھینچ تان کر خلافت کی قمیص پہنی ہے حالانکہ ابو بکر جانتے ہیں خلافت کیلئے میں ایسا ہی ہوں جیسے وہ لوہا جس کے چاروں طرف چکی کا پاٹ گھومتا رہتا ہے ،مجھ سے سیلاب (علم )جاری ہوتا ہے اور میرے بلندی (مرتبہ )تک پرندے پرواز نہیں کرسکتے(3)
قبلیہ ،انصار ےک سردار سعد بن عبادہ بیان کرتے ہیں : سقیفہ کے دن ابو بکر وعمر نے انصار پر ہجوم کرلیا ۔ میں نے بڑی کوشش کی ان کو خلافت سے روک دوں اور دور رکھوں لیکن مریض ہونے کی وجہ سے میں ان کا مقابلہ نہ کرسکا ! اورج ب انصار نے ابو بکر کی بیعت کرلی تو سعد نے کہا : خدا کی قسم میں کبھی تمہاری بیعت نہ کرو ں گا ،یہاں تک کہ میرے ترکش میں جتنے تیر ہیں سب تم پر نہ چلادوں اور اپنے نیزوں کی انیوں کو تمہارے خون سے خضاب نہ کردوں اور جب تک میرے ہاتھوں کی طاقت باقی ہے اس وقت تک تم تلوار سے حملہ نہ کروں اور اپنے خاندان وقبیلے کے ساتھ تم سے جنگ نہ کروں خدا کی قسم اگر انسانوں کے ساتھ جن بھی تمہارے شریک ہوجائیں تب بھی تمہاری بیعت نہ کروں گا یہاں تک کہ اپنے خدا کے سامنے پیش ہوں
--------------
(1):- تاریخ الخلفاء (ابن قتیبہ )ج 1 ص 81
(2):صحیح بخاری ج 4 ص 127
(3):- شرح نہج البلاغہ (محمد عبدہ) ج 1 ص 34 خطبہ شقشقیہ
چنانچہ جناب سعد نہ تو ان کی جماعت میں شریک ہوتے تھے نہ ان کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے ۔نہ ان کے ساتھ حج کرتے تھے (یہ بھی احتمال عبارت ہے کہ نہ ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے مترجم) اور سعد کو کچھ مددگار مل گئے ہوتے تو ان سے جنگ سے پیچھے نہ ہٹتے اور اگر کوئی ان سے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے پر بیعت کرتا تو یہ باقاعدہ جنگ کرتے جناب سعد اپنے اسی حال پر باقی رہے یہاں تک کہ شام میں زمانہ ،خلافت عمر میں وفات پائی(1)
٭ جب خود بقول عمر "جنھوں نے اس بیعت کے ارکان مضبوط کئے تھے "یہ ایک ناگہانی بیعت تھی ۔جس کے شر سے خدا نے مسلمانوں کو بچالیا ۔اور اس بیعت کی وجہ سے مسلمانوں کا کیا حال ہوگیا ۔
٭ جب یہ خلافت بقول حضرت علی جو اس کے شرعی مالک تھے " تقمص تھی یعنی ابوبکر نے اپنے جسم پر اس قمیص کو کھینچ تان کر فٹ کرلیا تھا ۔
٭جب یہ خلافت بقول سعد بن عبادہ جنھوں نے مرتے دم تک ان لوگوں کے ساتھ جمعہ وجماعت چھوڑ دی تھی " ظلم تھی ۔
٭ جب یہ خلا فت کی بیعت غیر شرعی تھی کیونکہ اکابر صحابہ اورخصوصا نبی کے چچا نے اس سے کنارہ کشی کی تھی ، تو پھر ابو بکر کی خلافت کی صحت پر کون سی دلیل ہے ؟ ۔۔۔۔ صحیح جواب تو یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔۔۔۔ لہذا اس سلسلہ میں شیعوں ہی کا قول درست ہے کیونکہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک بھی حضرت علی کی خلافت پر نص موجود ہے ۔ البتہ انھوں نے صحابہ کی عزت وآبرو بچانے کے لئے اس نص کی تاویل کی ہے ۔ اس لئے انصاف پسند عادل شخص کے لئے نص کو قبول کرنیکے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے خصوصا اگر اس واقعہ کے متعلقات کا علم ہوجائے(2)
--------------
(1):- تاریخ الخلفاء ،ج 1 ص 171
(2):- ملاحظہ فرمائیے ۔ السقیفہ والخلافۃ (عبدالفتاح ) سقیفہ (محمد رضا مظفر )
فریقین کےیہاں یہ موضوع بھی متفق علیہ ہے ! اگر چہ کوئی منصف وعاقل ا س کا اعتراف نہ بھی کرے کہ ابو بکر نے جناب سیدہ پر ظلم کیا ہے ۔ تب بھی ابو بکر کی غلطی مانے بغیر چارہ نہیں ہے ۔ کیونکہ جوشخص بھی اس المناک داستان کو پڑھیگا۔ اس کو علم الیقین ہوگا کہ ابو بکر نے جان بوجھ کر جناب زہرا کو اذیت دی ہے اور ان کوجھٹلا یا ہے ۔ تاکہ معصومہ حدیث غدیر وغیرہ سے اپنے شوہر کے استحقاق خلافت پر استدلال نہ کرسکیں ۔(کیونکہ اگر آج ابوبکر فدک میں جناب معصومہ کوسچا مان لیتے تو کل شوہر کی خلافت کے دعوی پر بھی سچا ماننا پڑتا اس لئے جان بوجھ کر بنت رسول کو جھوٹا کہا گیا ہے مترجم )
اور اس بات پر بہت سے قرائن بھی موجود ہیں ۔ مثلا مورخین نے لکھا ہے ۔جناب فاطمہ خود انصار کی مجلسوں میں جاکر اپنے ابن عم کی نصرت وبیعت کے لئے لوگوں کو بلاتی تھیں اور لوگ کہدیا کرتے تھے ۔ بنت رسول اب تو ہم نے اس شخص (ابو بکر )کی بیعت کر لی ہے اگر آپ کے شوہر ابو بکر سے پہلے ہمارے پاس آجاتے تو ہم علی کےعلاوہ کسی کی بیعت نہ کرتے ،اور حضرت علی فرماتے تھے ، کیا میں رسول (ص) کے جنازہ کو گھر میں چھوڑ دیتا ۔کفن ودفن نہ کرتا؟ لوگوں سے اپنی سلطنت وحکومت کی خواہش کرتا ؟ اورجناب فاطمہ ان لوگوں کے جواب میں کہتی تھیں: ابو الحسن نے وہی کیا جو ان کو کرنا چاہیے تھا ! ان لوگوں نے جو کچھ کیا ان سے خدا سمجھے گا(1) ۔
اگر ابو بکر نے یہ سب غلطی یا اشتباہ کی وجہ سے کیا ہوتا تو جناب فاطمہ سمجھا کر مطمئن کردیتیں ۔ لیکن وہ اتنا ناراض تھیں کہ مرتے مرتے مرگیئں مگر ان دونوں سے بات بھی نہیں کی کیونکہ ابو بکر نے ہر مرتبہ آپ کے دعوی کو رد کردیا تھا ۔ نہ آپ کی نہ حضرت علی (ع) کی کسی کی بھی گواہی قبول نہیں کی ان تمام باتوں کی وجہ سے جناب معصومہ اتنا ناراض تھیں کہ اپنے شوہر کو وصیت کردیا تھا ۔ مجھے رات کو چپکے سے دفن کردینا اور ان لوگوں کو میرے جنازے پر نہ آنے دینا(2) ۔
اب جب کہ بات رات کو دفن کرنے کی آگئی ہے تو عرض کرتا چلوں کہ میں جب بھی مدینہ گیا تو بڑی
--------------
(1):- تاریخ الخلفا(ابن قتیبہ)ج 1 ص 19 ،۔شرح نہج البلاغہ (معتزلی )بیعت ابی بکر
(2):- بخاری ج 2 ص 26 ،مسلم ج 2 ص 72" باب لا نورث ما ترکنا ہ صدقۃ "
کوشش اس بات کے لئے کی کہ کچھ حقیقتوں کا پتہ چلا سکوں ،چنانچہ میں نے درج ذیل نتائج کا انکشاف کیا ہے ملاحظہ فرمائیے :
(1):- جناب فاطمہ کی قبر مجہول ہے کوئی نہیں جانتا کہاں ہے؟ بعض کا خیال ہے "حجرہ نبویہ میں ہے " بعض کا نظریہ ہے کہ حجرہ نبی کےمقابلہ میں جو آپ کا گھر تھا ۔ اسی میں دفن ہیں کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جنت البقیع " میں اہل بیت کی قبروں کے بیچ میں ہے لیکن صحیح جگہ کی تشخیص یہ لوگ بھی نہیں کرسکے ۔۔۔ اس سے میں اس نتیجہ پر پہونچا کہ جناب فاطمہ کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کی ہر نسل یہ سوال کرے آخر کیا بات ہے کہ جناب فاطمہ نے اپنے شوہر کو وصیت کی کہ ان کو رات کی تاریکی میں چپکے سے دفن کردیا جائے اور ان لوگوں میں سے کوئی آپ کے جنازے پر نہ آئے ! اس طرح ممکن ہے کہ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے مسلمان کو بعض چونکا دینے والے حقائق کا پتہ چل جائے ۔
(2):- دوسرا نتیجہ میں نے یہ نکالا کہ عثّمان بن عفان کے قبر کی زیارت کرنے والے کو کافی مسافت طے کرنے کے بعد بقیع کےآخر میں ایک دیوار کے نیچے جا کر قبر ملتی ہے اس کے بر خلاف اغلب صحابہ بقیع میں داخل ہونے کے بعد ہی ان کی قبریں مل جاتی ہیں ۔ یہاں تک کہ مالک بن انس جو تبع تابعین سے ہیں ۔ اور ایک مشہور مذہب (مالکی) کے سربراہ ہیں ان کی قبر ازواج رسول کے قریب ہی ہے اور اس سے مورخین کی یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ عثمان کو" حش کوکب" میں دفن کیا گیا ہے ۔ حش کوکب یہودیوں کی زمین ہے جب مسلمانوں نے عثمان کو بقیع رسول میں دفن نہیں ہونے دیا تو ان کے ورثا نے مجبورا حش کوکب میں دفن کیا ۔( پہونچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا )
پھر معاویہ تخت خلافت پر بیٹھا تو اس نے یہودیوں سے اس زمین کوخرید کر بقیع میں شامل کردیا تاکہ عثمان کی قبر بھی بقیع میں کہی جانے لگی ۔جو شخص بھی بقیع کی زیارت کرے گا اسپر یہ حقیقت واضح ہوجائیگی ۔
مجھے تو سب سے زیادہ تعجب اس پر ہے کہ جناب رسولخدا سے ملحق ہونے والی سب سے پہلی شخصیت جناب فاطمہ کی ہے کیونکہ سب سے زیادہ فاصلہ جو بتایا جاتا ہے وہ چھ مہینہ کا ہے لیکن وہ اپنے باپ کے پہلو میں دفن نہیں ہوسکیں پس جب جناب فاطمہ اپنے باپ کے پہلو میں دفن نہ ہوسکیں حالانکہ آپ نے وصیت کردی تھی کہ
مجھے چپکے سے دفن کردیا جائے تو اگر امام حسن انپے جد کے پہلو میں دفن نہ ہوسکیں تو تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ جب امام حسین اپنے بھائی امام حسن (ع) کا جنازہ لے کر آئے کہ پہلوئے رسول میں دفن کر دیا جائے تو ام المومنین عائشہ اس کو روکنے کے لئے خچر پر سوار ہوکر آئیں اورچیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں : میرے گھر میں اس کو دفن نہ کرو جس کو میں دوست نہیں رکھتی اس منع کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی امیہ اور بنی ہاشم صف باندھ کر کھڑے ہوگئے اور ایک دوسرے پر حملے کیلئے آمادہ ہوگئے ۔ لیکن امام حسین (ع) نے وصیت کردی تھی کہ میرے سلسلہ میں ذرہ برابر بھی خون نہ بہایا جائے اسی موقع پر ابن عباس نے اپنے مشہور اشعار کہے
تجمّلت تبعّلت ولو عشت تفیلت ----- لک التسع من الثمن وفی الکل تصرفت
تم اونٹ پر بیٹھ چکی ہو (جنگی جمل کی طرف اشارہ ہے ) اور(آج ) خچر پر بیٹھی ہو (امام حسن کا جنازہ روکنے کے لئے عائشہ خچر پر بیٹھ کر آئی تھیں ) اگر تم زندہ رہ گئیں تو ہاتھی پر بھی بیٹھوگی ۔ تمہارا حصہ تو 1/8 میں سے 1/9 ہے مگر تم نے پورے میں تصرف کرلیا(1) خوفناک حقائق میں سے ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے اس گھر میں بیوی کا حصہ ہے پھر پورے گھرپر عائشہ کو کیا حق تھا کہ وہ منع کرتیں ؟اورجب نبی کا کوئی وارث ہی نہیں ہوتا جیسا کہ ابو بکر نے کہا اور اسی بنیاد پر جناب فاطمہ کا حق نہیں دیا تو پھر ابو بکر کی بیٹی کو نبی کی میراث کیسے مل رہی ہے ؟ کیا قرآن میں ایسی کوئی آیت ہے جو یہ بتاتی ہو کہ بیٹی کو میراث نہیں ملتی مگر بیوی کو ملتی ہے ؟ یا سیاست نے ہر چیز کو الٹ پلٹ دیا تھا بیٹی کو کچھ نہ دے کر بیوی کو سب کچھ دیدیا گیا ؟بعض مورخین نے یہاں پر ایک دلچسپ قصہ لکھا ہے اور چونکہ وہ میراث سے متعلق ہے اس لئے اس کا ذکر کر دینا مناسب ہے ۔ابن ابی الحدید معتزلی نہج البلاغہ کی شرح میں فرماتے ہیں :
--------------
(1):- شوہر کے ترکہ میں بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے جب شوہر صاحب اولاد ہو اور رسول خدا کی نو بیویاں تھیں تو ترکہ جو آٹھواں حصہ ملتا اس میں تمام بیویاں شریک ہوتیں یعنی آٹھویں حصہ کا ہر ایک کو 1/9 ملتا تو عائشہ کا حق صرف 1/9 ہے مگر انھوں نے پورے قبضہ جمالیا (مترجم)
حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں عائشہ وحفصہ عثمان کے پاس آئیں وار ان سے کہا رسول خدا کی میراث ہم دونوں میں تقسیم کردیجئے ۔عثمان ٹیک لگائے بیٹھے تھے یہ سنتے ہی ٹھیک سے بیٹھ گئے اور عائشہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولے : اور یہ جو بیٹھی ہیں دونوں ایک اعرابی کو لے کر آئیں جو اپنے پیشاب سے طہارت کرتاہے اور تم دونوں نے گواہی دی کہ رسول خدا نے فرمایا : ہم گروہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے ! اب اگر واقعا رسول کسی کو وارث نہیں بناتے (یعنی رسول کا کوئی وارث نہیں ہوتا )تو تم دونوں رسول کے بعد کیا مانگنے آئی ہو؟ اگر رسول کا وارث ہوتا تو تم لوگوں نے فاطمہ کو ان کے حق سے کیوں روکا ، عائشہ اپنا سامنہ لے کر رہ گئیں اور وہاں سے غصّہ کی حالت میں نکلیں ۔اور فرمایا نعثل کو قتل کردو یہ تو کافر ہوگیا ہے ۔ (1)
میرے شیعہ ہونے اور آباء اجدا کے مذہب کوچھوڑ نے کا ایک سبب حضرت علی (ع) اور ابوبکر کے درمیان عقلی ونقلی دلیلوں سے موازنہ کرنا ہے ۔ میں اس سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ میں صرف اسی اجماع کو قابل بھروسہ سمجھتا ہوں جس پر سنی و شیعہ دونوں متفق ہوں ۔ اس اعتبار سے جب میں نے فریقین کی کتابوں کی کھنگا لا تویہ دیکھا کہ صرف علی بن ابیطالب کی خلافت پر اجماع ہے سنی وشیعہ دونوں ان مصادر کی بنا پر جو دونوں کے یہاں ہیں حضرت علی کی امامت پر متفق ہیں اور حضرت ابو بکر کی خلافت کو صرف سنی مسلمان ہی تسلیم کرتے ہیں حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں حضرت عمر کا قول ہم پہلے نقل کرآئے ہیں ۔
بہت سے حضرت علی کے فضائل ومناقب جسکو شیعہ ذکر کرتے ہیں ان کی سند ہے ان کا حقیقی وجود ہے ۔
--------------
(1):- شرح اب ابی الحدید ج 6 ص 22 ۔222
اور اہل سنت کی معتبر کتابوں سے ثابت ہے اور اتنے زیادہ طریقوں سے ثابت ہے کہ شک کی وہاں تک رسائی ہی نہیں ہے ۔حضرت علی کے فضائل کو صحابہ کی ایک جم غفیر نے نقل کیا ہے ۔ احمد بن حنبل تو کہتے ہیں ۔ جتنے فضائل حضرت علی کے آئے ہیں کسی صحابی کے لئے نہیں آئے ہیں(1) قاضی اسماعیل نسائی ،ابو علی نیشا پوری کہتے ہیں ، جتنی اچھی سندوں کے ساتھ حضرت علی کے مناقب وارد ہوئے ہیں کسی بھی صحابی کے لئے نہیں وارد ہوئے ہیں(2) ۔
آپ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ بنی امیہ نے مشرق سے لے کر مغرب تک کے لوگوں کو حضرت پر لعنت کرنے ان پر سب وشتم کرنے ، ان کی فضیلت کاذکر نہ کرنے پر مجبور کر رکھا تھا ۔ حدیہ تھی کہ کسی کو اجازت نہ تھی کہ علی نام رکھے ۔لیکن ان تمام باتوں کے باوجود حضرت علی کے اتنے فضائل ومناقب مذکور ہیں ، اسی لئے امام شافعی کہتے ہیں ،مجھے اس شخص پر بہت زیادہ تعجب ہے جس کے فضائل دشمنوں نے حسد کی وجہ سے دوستوں نے خوف کی وجہ سے چھپائے لیکن پھر بھی اتنے زیادہ فضائل مذکور ہیں جن سے مشرق ومغرب پر ہیں ،
اسی طرح میں نے حضرت ابو بکر کے سلسلہ میں بھی فریقین کی کتابوں کو چھان مارا لیکن خود اہل سنت والجماعت جو حضرت ابو بکر کو حضرت علی پر ترجیح دیتے ہیں ان کے یہاں بھی حضرت علی کے فضائل کے برابر فضیلت والی حدیثیں نہیں ملیں ۔ اس کے علاوہ ابو بکر کے فضائل کی جو روایتیں موجود بھی ہیں اور تاریخی کتابوں میں یا تو ان کی بیٹی عائشہ سے ہیں جس کا موقف حضرت علی کےساتھ کیا تھا ؟ دنیا جانتی ہے اس لئے انھوں نے اپنے باپ کو اونچا ثابت کرنے کے لئے اپنی زندگی صرف کردی اورفرضی روایتوں سے فضیلت ثابت کرنی چاہی ہے اور یا ابو بکر کی فضیلت کی روایات عبداللہ بن عمر سے منقول ہیں یہ حضرت بھی حضرت علی کے جانی دشمنوں میں تھے ان کا عالم یہ تھا کہ ساری دنیا نے حضرت علی کی بیعت کر لی تھیں مگر آپ نے حضرت
-------------
(1):- المستدرک علی الصحیحین (حاکم) ج 3 ص 107 مناقب (خوارزمی)ص 3، 19 تاریخ الخلفاء ص 168 ،الصواعق المحرقہ لابن حجر الہیثمی ص 72 ،تاریخ ابن عساکر ج2 ص 63 ،شواہد التنزیل (حسکانی) ج1 ص 19
(2):- الریاض النضرۃ (طبری)ج 2 ص 282 ، صواعق محرقہ (ابن حجر )ص 118
علی کی بیعت نہیں کی ۔۔۔۔ اس کے بر خلاف آپ نے یزید ملعون کی بیعت اس کے ہاتھوں پر نہیں پاؤں پکڑ کے کی ہے تفصیل کے لئے تاریخی کتابیں پڑھئے (مترجم) ۔۔۔۔ اور آپ (عبداللہ بن عمر) فرمایا کرتے تھے رسول خدا کے بعد افضل الناس ابوبکر تھے ، ان کے بعد عمر ان کے بعد عثمان تھے اس کے بعد کسی کو فضیلت نہیں ہے سب ہی برابر کے ہیں(1)
آپ نے توجہ فرمائی اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت علی بازاری لوگوں کے برابر تھے حضرت علی کے لئے نہ کوئی فضل تھا ، نہ فضیلت ! آخر یہ عبداللہ کس دنیا میں رہتے تھے ان کو تو ان حقائق کا پتہ ہی نہیں جن کو اعلام امت اور ائمہ امت ائمہ امت نے تحریر کیا ہے کہ حسن سندوں کے ساتھ جتنی فضیلت کی روایات علی کے لئے ہیں کسی صحابی کے لئے نہیں ہیں ۔ کیا عبداللہ بن عمر نے حضرت علی کی ایک بھی فضیلت نہیں سنی تھی ؟ اجی سنی بھی تھی اور یاد بھی تھی لیکن سیاست کی دنیا عجیب ہوتی ہے ۔(خرد کا نام جنوں رکھ دیا کا خرد+ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے )
عائشہ وعبداللہ بن عمر کے علاوہ جن لوگوں نے ابو بکر کی فضیلت بیان کی ہے ان کے اسمائے گرامی پرھئے ! عمرو بن العاص ،ابو ہریرہ ،عروۃ ،عکرمہ ، وغیرہ ہیں ، اور تاریخ کا بیان ہے کہ یہ سب حضرت علی کے دشمن تھے اور ان سے کبھی تو ہتھیاروں سے جنگ کرتے تھے کبھی دسیسہ کاری سے ،اوریہ بھی نہ ہو تو حضرت علی کے دشمنوں کے لئے فرضی حدیثیں جعل کیا کرتے تھے ،امام احمد بن حنبل کہتے ہیں حضرت علی کے بہت زیادہ دشمن تھے دشمنوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح علی میں کوئی عیب تلاش کرلیں مگر ناکامیاب رہے تو یہ لوگ حضرت علی کے اس دشمن کے پاس آگئے جس نے حضرت علی سے حرب وقتال کیا تھا اور اپنی مکاریوں کی بنا پر اس کی تعریفیں کرنے لگے ،(2) ۔لیکن خدا کا اعلان ہے : انهم یکیدون کیدا واکید کیدا فمهل الکافرین امهلهم رویدا (3) بیشک یہ کفار اپنی تدبیر کررہے ہیں اور میں اپنی تد بیر کررہا ہوں اس لئے کافروں کو مہلت دو پس ان کو تھوڑی
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 2 ص 202
(2):- فتح الباری شرح صحیح بخاری ج 7 ص 83 تاریخ الخلفاء (سیوطی ) ص 199 صواعق المحرقہ (ابن حجر)ص 125
(3):- پ 30 س 87 آیت 15،16،17
سی مہلت دو ۔
یقینا پروردگار عالم کا معجزہ ہے کہ مسلسل چھ سوسال حضرت علی اورآل علی کی مخالف حکومت کے بعد بھی حضرت علی کے فضائل موجود ہیں ، میں چھ سوسال کہہ رہا ہوں کہ بنی عباس بھی بغض حسد، ظلم قتل اہل بیت کے سلسلہ میں اپنے اسلاف بنی امیہ سے کم نہیں تھے ، بلکہ دو ہاتھ آگے ہی تھے ،ابو فراس ہمدانی ان کےمیں کہتا ہے
ما نال منهم بنو حرب وان عظمت تلک الجرائر الادون نیلکم
کم غدرة لکم فی الدین واضحة وکم دم لرسول الله عندکم
انتم له شیعة فیما ترون وفی اظفار کم من بنیه الطاهرین
(ترجمہ):- بنی امیہ نے آل محمد (ص) کو بہت ستایا ان پر مظالم کے پہاڑ توڑ ے ، اے بنی عباس ! بنی امیہ کے مظالم آل محمد پر چاہے جتنے زیادہ ہوں تم سے پھر بھی کم ہیں ،تم نے دین کے بارے میں ان کے ساتھ کتنی ہی مرتبہ صاف صاف غداری کی ۔تمہارے بہائے ہوئے کتنے خون کا قصاص رسول خدا کے پاس ہے ۔ بظاہر تم اپنے کو آل محمد کا شیعہ کہتے ہو لیکن محمد کی اولاد طاہرین کا خون تمہارے ناخنوں میں اب تک ہے ۔۔۔۔ ان تمام تاریکیوں کے باوجود جب ایسی حدیثیں علی کی فضیلت میں ہیں تویہ صرف خدا کا کرم ہے اور اس کی حجت بالغہ ہے ۔
ابو بکر باوجودیکہ خلیفہ اول تھے ، اور اتنا اثر ونفوذ رکھتے تھے اور اموی سلاطین باوجود دیکہ ابو بکر ،عمر، عثمان کے حق ہیں روایت کرنے والوں کا منہ موتیوں سے بھردیتے تھے ان کے لئے مخصوص عطیہ ورشوت معین کی جاچکی تھی اور اس کے باوجود کہ ابوبکر کے لئے فضائل ومناقب کی جعلی حدیثوں کی بھر مار کر دی گئی تھی ۔ اور ان سے تاریخ کے صفحات سیاہ کردیئے گئے تھے ۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود "حضرت علی کی شان میں واقعی فضیلت کی جو احادیث ہیں ان کا عشر عشیر بھی ابو بکر کے لئے نہیں ہے اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ملاحظہ فرمائیے کیا ابو بکر کی شان میں نقل کی جانی والی روایات کی اگر تحریر کی جائے تو تاریخ نے جوان کے تنا قضات لکھے ہیں ان کے ساتھ یہ روایات جمع ہی نہیں ہوسکتیں اور نہ عقل وشرع ان کو قبول کرسکتی ہے
حدیث" لوزن ایمان ابی بکر بایمان امتی لرجح ایمان ابی بکر " کے سلسلہ میں حقیر پہلے بھی بحث کرچکا ہے لیکن مزید سنئے ۔
٭ اگر رسول خدا کو معلوم ہوتا کہ ابوبکر کاایمان اس وجہ کا ہے تو اسامہ بن زید کی سرکردگی میں ابو بکر کو قرار نہ دیتے ،
٭اگر رسولخدا کو معلوم ہوتا کہ ابو بکر کا ایمان اس درجہ کا ہے تو ابوبکر کے لئے گواہی دینے سے انکار نہ کرتے بلکہ جس طرح شہدائے احد کیلئے گواہی دی تھی ان کے لئے بھی گواہی دیتے اور یہ نہ فرماتے کہ مجھے نہیں معلوم میرے بعد تم کیا کیا کروگے ؟ جس پر ابو بکر بہت روئے تھے(1) ۔
٭اگررسول خدا کو معلوم ہوتاکہ ابو بکر کا ایمان اس درجہ کا ہے تو علی کو بھیج کر ان سے سورہ براءت کی تبلیغ کوروک نہ دیتے(2)
٭ اگر رسول خدا کو معلوم ہوتا کہ ابو بکر کا ایمان اس درجہ کا ہے توخیبر میں علم دینے کے لئے نہ فرماتے : کل میں ایسے شخص کو علم دوں گا جو خدا ورسول کو دوست رکھتا ہوگا اور خدا اور رسول اس کو دوست رکھتے ہوں گے کرار ہوگا غیر فرار ہوگا خدا نے اس کے دل کا امتحان لے لیا ہوگا اس کے بعد حضرت علی کو علم دیا ابوبکر کو نہیں دیا(3) بلکہ اگر خدا کو معلوم ہوتا کہ ابو بکر کا ایمان اس درجہ کا ہے یا یہ کہ ابو بکر کا ایمان پوری امت محمد کے ایمان سے زیادہ ہے تو جس وقت انھوں نے نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند کی تھی خدا ان کے اعمال کے حبط کردیئے جانے کی دھمکی نہ دیتا(4) ۔
٭ اگرعلی اور ان کے پیرو کار وں کو معلوم ہوتا کہ ابو بکر کا ایمان اس درجہ کا ہے تو یہ لوگ کبھی بھی ابو بکر کی بیعت سے انکار نہ کرتے
٭ اگر فاطمہ کو ایمان ابو بکر کا وزن معلوم ہوتا تو غضبناک نہ ہوتیں ان سے بات چیت نہ بند کرتیں ان کے سلام کاجواب دیتیں ان کے لئے ہر نماز کے بعد بدعا نہ کرتیں ، ان کو اپنے جنازہ
-------------
(1):- موطاء امام مالک ج 1 ص 307 مغازی واقدی ص 310
(2):- مسند احمد ج 4 ص 339 ، مسند احمد ج 2 ص 319مستدرک حاکم ج 3 ص 51
(3):- صحیح مسلم باب فضائل علی ابن ابی طالب
(4):- بخاری ج 4 ص 184
شریک نہ ہونے دینے کی وصیت کی(1)
٭ خودابو بکر کو اپنے ایمان کی اس بلندی کا علم ہوتا تو چاہے فاطمہ کے گھر میں لوگ جنگ ہی کرنے کے لئے اکٹھا ہوئے ہوتے اور دروازہ بند کر لئے ہوتے جب بھی یہ فاطمہ کے گھر کو کھلوانے کی کوشش نہ کرتے ، فجاوۃ السلمی کو آگ میں جلایا نہ ہوتا ، سقیفہ میں قلادۃ بیعت عمر یا ابو عبیدہ کے گردن میں ڈال دیا ہوتا(2) ۔ اور اگر ابو بکر کا ایمان اتنا وزنی ہوتا جو پوری امت کے ایمان پر بھاری ہوتا تو اپنی عمر کےآخری لمحات میں فاطمہ کے ساتھ جو اقدامات کئے ہیں ان پر فجاءۃ السلمی کے جلانے پر اور خلافت کا عہدہ سنبھالنے پر نادم وپشیمان نہ ہوتے اسی طرح یہ تمنا نہ کرتے کا ش میں مینگنی ہوتا ، کاش میں بال ہوتا ، کاش میں بشر نہ ہوتا ، شوچئے کیا ایسے شخص کا ایمان پوری امت اسلامیہ کے برابر ہوسکتا ہے ؟ نہیں ! چہ جائیکہ پوری ملت اسلامیہ پر بھاری ہو۔ اب آئیے اس حدیث کو لیجئے ۔"لو کنت متخذ خلیلا لاتخذت ابابکر خلیلا " اگرمیں کسی کو خلیل بنا تا تو ابو بکر ہی کو خلیل بناتا ۔۔۔۔۔ یہ بھی پہلی حدیث کی طرح بوگس ہے ۔ ہجرت سے پہلے مکہ میں جب "مواخاۃ صغری" رسول نے قراردی ہے اور ہجرت کے بعد مدینہ میں جب آنحضرت نے انصار ومہاجرین میں مواخات قراردی ہے جس کو "مواخاۃ کبری" کہا جاتا ہے ، اس دونوں میں ابو بکر کہاں چلے گئے تھے ؟ رسول خدا نے ان کو کیوں اپنا بھائی نہیں بنایا ؟ دونوں موقعوں پر رسول اکرم نے حضرت علی ہی کو کیوں اپنا بھائی قراردیا ؟ اور فرمایا : اے علی تم دنیا وآخرت میں میرے بھائی ہو (3) ۔ ابو بکر کو کیوں محروم قرار دیا ؟ نہ آخرت کا بھائی نہ آخرت کا خلیل کچھ بھی تو نہ بنایا ۔ میں اس بحث کو طول نہیں دینا چاہتا ۔ بس انھیں دوحدیثوں پر اکتفا کرتاہوں جو کتب اہل سنت والجماعت میں موجود ہیں ۔ رہے شیعہ تو وہ ان حدیثوں کو بالکل مانتے ہی نہیں
--------------
(1):- الامامۃ والسیاسۃ ج 1 ص 14 ،رسائل الحاحظ ص 301 ،اعلام النساء ج 3 ص 1215
(2):- تاریخ طبری ج 4 ص 52، الامامۃ والسیاسۃ ج 1 ص 181 ،تاریخ مسعودی ج 1 ص 414
(3):- تذکرۃ الخواص (ابن جوزی) ص 23 تاریخ دمشق (ابن عساکر) ج 1 ص107 ،المناقب (خوارزمی) ص 7 ،فصول المہمہ(ابن صباغ) ص 21
اور بہت مضبوط دلیلیں پیش کرتے ہیں کہ یہ حدیثیں ابو بکر کے مرنے کے بعد وضع کی گئی ہیں
یہ تو فضائل کا قصہ ہے اب اگر ہم فریقین کی کتابوں میں حضرت علی کی برائیوں کی تلاش کریں تو سعی بسیار کے بعد بھی ایک برائی بھی آپ کو نہ ملے گی ۔ البتہ حضرت علی (ع) کے علاوہ دوسروں کی برائیوں کی بھرمار آپ کو اہل سنت کی صحاح ،کتب سیر ، کتب تاریخ میں ملے گی ۔
اس طرح فریقین کا اجماع صرف حضرت علی (ع) کے لئے مخصوص ہے جیسا کہ تاریخ بھی کہتی ہے کہ صحیح بیعت صرف حضرت علی (ع) کے لئے ہوئی ہے ۔کیونکہ علی بیعت لینے سے انکار کررہے تھے مہاجرین وانصار نے اصرار کرکے بیعت کی ہے چند انگلیوں پر گنے جانے والے افراد نے بیعت نہیں کی تو آپ نے ان کو بیعت پر مجبور بھی نہیں کیا حالانکہ بقول عمر ابو بکر بیعت ناگہانی تھی ،خدا نے مسلمانوں کو اس کے شر سے بچالیا ۔۔۔ابو بکر نے اپنی بیعت نہ کرنے والوں کو قتل کرادیا بیعت پر مجبور کیا مترجم ۔۔۔۔۔ اور عمر کی خلافت اس وصیت کے پیش نظر تھی جو ابو بکر نے عمر کیلئے کی تھی ، اور عثمان کی بیعت تو ایک تاریخی مضحکہ خیزی تھی ،کیونکہ عمر نے چھ آدمیوں کو خلافت کا کنڈیڈیٹ اپنی طرف سے معین کرکے ان کے لئے لازم قرار دیدیا تھا ، کہ یہ چھ حضرات اپنے میں کسی ایک کو خلیفہ منتخب کرلیں ۔ اگر چار کی رائے ایک طرف ہو اور دو کی ایک طرف تو دو کو قتل کردو اور اگر تین تین ہوں تو جس تین کے ساتھ عبدالرحمن بن عوف ہوں اس کی بات مان لو اور اگر ایک معین وقت گزرجائے اور یہ لوگ کسی پر اتفاق نہ کر پائیں تو ان چھ کےچھ کو قتل کردو ۔ یہ قصہ طویل بھی ہے اور عجیب بھی ۔
مختصر یہ ہے کہ عبدالرحمان بن عوف نے حضرت علی کو منتخب کیا اور ان سے کہا شرط یہ ہے کہ آپ مسلمانوں میں حکم خدا وسنت رسول وسیرت شیخین (ابو بکر وعمر) کے مطابق حکم کریں گے ۔ حضرت علی نےسیرت شیخین کی شرط کو قبول نہیں کیا ۔ مگر عثمان نے قبول کرلیا اس لئے وہ خلیفہ بنادیئے گئے ۔ حضرت علی شوری سے باہر چلے گئے ۔ اورآپ کو نتیجہ پہلے ہی سے معلوم تھا ۔آپ نے اس کاذکر اپنے مشہور خطبہ شقشقیہ میں بھی کیا ہے ۔
حضرت علی کے بعد معاویہ تخت خلافت پر بیٹھے انھوں نے خلافت کو ملوکیت سےبدل دیا ۔
جس پر بنی امیہ یکے بعد دیگرے حکومت کرتے رہے ،بنی امیہ کے بعد خلافت کی گیند بنی عباس کے پالے میں چلی گئی ۔اس کے بعد پھرخلیفہ وہ شخص ہوتا تھا جس کو موجودہ خلیفہ نامزد کر جائے ۔ یا جو طاقت وقہر وغلبہ سے سلطنت چھین لے ۔ اور پھر اسلامی تاریخ میں صحیح (1) بیعت کا وجود ہی ختم ہوگیا ۔ یہاں تک کہ کمال اتاترک ،نے خلافت اسلامیہ کےتابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی اور اس پورے دورمیں صحیح بیعت صرف علی (ع) کے لئے ہی ہوئی تھی ۔
--------------
(1):- صحیح بیعت سے مراد وہ بیعت ہے جو ناگہانی نہ ہو اور لوگ خود بخود بیعت کریں کسی کو مجبور نہ کیا جائے
(4)
احادیث حضرت علی (ع) کی اطاعت کو واجب بتاتی ہیں
جن حدیثوں نے میری گردن پکڑ کر حضرت علی کی اقتدا پر مجبو رکردیا وہ وہی حدیثیں ہیں جن کو علمائے اہل سنت نے اپنی صحاح میں نقل کیا ہے ۔ اور ان کے صحیح ہونے کی تاکید کی ہے اور شیعوں کے یہاں تو الی ماشااللہ احادیث ہیں جو حضرت علی کے لئے نص ہیں ۔ لیکن میں اپنی عادت کے مطابق صرف انھیں احادیث پر اعتماد کروں گا ۔ ۔اور انھیں سے استدلال کروں گا جو فریقین کے یہاں متفق علیھا ہوں ، انھیں سے چند یہ ہیں
(1) :- "حدیث مدینہ " " انا مدینة العلم وعلی بابها " (1)
رسول خدا(ص) کے بعد تشخیص قیادت کے سلسلے میں یہ حدیث ہی کافی ہے کیونکہ جاہل کے مقابلہ میں عالم کی اتباع کی جاتی ہے خود ارشاد رب العزت ہے"قل هل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون(پ 23 س 39 (زمر) آیت 9) ۔اے رسو ل تم پوچھو تو بھلا کہیں جاننے والے اور نہ جاننے والے لوگ برابر ہوسکتے ہیں ؟ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے" قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ قُلِ اللّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لاَّ يَهِدِّيَ إِلاَّ أَن يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (پ 11 س10 (یونس) آیت 35) ۔ تو جو شخص دین کی راہ دکھاتا ہے کیا وہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کے حکم کی پیروی کی جائے یا وہ شخص جو دوسرے کی ہدایت تو درکنار ( خود جب تک دوسرا اس کو راہ رنہ دکھائے نہیں پاتا ) تو تم کو کیا ہوگیا ہے تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟
ظاہر سی بات ہے عالم ہدایت کرتا ہے اور جاہل ہدایت کی جاتی ہے ، جاہل دوسروں سے کہیں زیادہ ہدایت کا محتاج ہوا کرتا ہے ۔
--------------
(1):- مستدرک حاکم ج 3 ص 127 ،تاریخ ابن کثیر ج 7 ص 258 ، مناقب (احمد بن حنبل )
اس سلسلے میں تاریخ کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت علی(ع) مطلقا تمام صحابہ سے زیادہ عالم تھے اور اصحاب امہات المسائل میں حضرت علی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے ، لیکن حضرت علی نے کسی صحابی کی طرف کبھی بھی رجوع نہیں فرمایا اس کے برخلاف ابو بکر کہا کر تے تھے"لا ابقانی الله لمعضلة لیس لها ابو الحسن " (خدانے مجھے کسی ایسی مشکل کے لئے زندہ نہ رکھے جس کے (حل )کیلئے حضرت علی نہ ہوں ) اور عمر بار بار کہتے تھے :لولا علی لهلک عمر" اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔حبر الامۃ ابن عباس کہا کرتے تھے ۔ میرا اور تمام اصحاب محمد کا علم حضرت علی کے علم کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے جیسے سات سمندروں کے مقابلہ میں ایک قطرہ(2) خود حضرت علی فرمایا کرتے تھے ۔ میرے مرنے سے پہلے (جو چاہو) مجھ سے پوچھ لو ۔ خدا کی قسم اگر تم قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے بارے میں پوچھو گے تو اس کو بھی بتا دوں گا ۔ مجھ سے قرآن کے بارے میں پوچھو ۔خدا کی قسم قرآن کی کوئی ایسی آیت نہیں ہے جس کو میں نہ جانتا ہوں کہ یہ رات میں اتری ہے یا دن میں پہاڑ پر اتری یا ہموار زمین پر(3) ۔اور ادھر ابوبکر کا یہ عالم تھا کہ جب ان سے "ابّ" کے معنی پوچھے گئے جو اس آیت میں ہے ۔وفاکهة وابّا متاعا لکم ولانعامکم (پ 30 س80 (عبس) آیت 20،21،22) ۔اور میو ے اورچارا (یہ سب کچھ )تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لئے (بنایا) تو اس کے جواب میں کہنے لگے ۔ کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرےگا اور کون سی زمین مجھے اٹھا ئےگی اگر میں کہوں کہ کتاب خدا میں ایسی آیت ہے جس کے معنی میں نہیں جانتا ۔۔۔اور عمر کہتے تھے ،: عمر سے زیادہ ہر شخص فقہ جانتا ہے انتہا یہ ہے کہ پردہ میں بیٹھنے والیاں بھی ،" حضرت عمر سے ایک آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو عمر نے پہلے تو اس کو ڈانٹا پھر درہ لے کر اس پر پل پڑے اور اتنا مارا کہ وہ لہو لہان ہوگیا کہنے لگے ایسی چیزوں کے بارےمیں نہ پوچھا کرو کہ اگر ظاہر ہوجائیں تو تم کو برا لگے(4) ۔
--------------
(1):- استیعاب ج 3 ص 39 ،مناقب (خوارزمی )ص 48، ریاض النفرۃ ج 2 ص 124
(2):- حوالہ سابق
(3):- الریاض النفرۃ (محب الدین) ج 2 ص 198 ، تاریخ الخلفاء (سیوطی) ص 124 ،اتقان ج 2 ص 219 ،فتح الباری ج 8 ص 485 ،تہذیب ج 7 ص 328
(4):- سنن دارمی ج 1 ص 54 ،تفسیر ابن کثیر ج 4 ص 232 ،در منثور ج 6 ص111
بے چارے سائل نے کلالۃ کے معنی پوچھ لئے تھے ۔
طبری نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت عمر کہتے تھے ۔ اگر مجھے "کلالۃ " کے معنی معلوم ہوتے تو یہ بات میرے نزدیک شام کے قصروں سے زیادہ محبوب تھی ۔۔۔ ابن ماجہ نے بی سنن میں عمر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ موصوف فرماتے تھے : تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر رسول اللہ (ص) نے ان کو بیان کردیا ہوتا تو مجھے دنیا وما فیھا سے زیادہ سے محبوب ہوتیں " کلالۃ ، ربا ، خلافت ،
سبحان اللہ ! ناممکن ہے کہ رسول خدا نے ان چیزوں کو بیان نہ کیا ہو ۔
اے علی تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی بس یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا !
اس حدیث سے حضرت علی کی وزارت (ولایت) وصیات ،خلافت صریحی طور سے ثابت ہوتی ہے جیسا کہ صاحبان عقل کے نزدیک یہ بات مخفی نہیں ہے ۔ جب جناب موسی میقات رب کے لئے گئے تھے تو ان کی عدم موجودگی میں جناب ہارون آپ کے وزیر ،وصی ،خلیفہ تھے یہی چیز حضرت علی کیلئے بھی ثابت ہے ، اس حدیث سے دو باتیں اور بھی ثابت ہوتی ہیں ۔
(1):- حضرت ہارون کی طرح حضرت علی(ع) حضرت رسول (ص) کی تمام خصوصیات کے نبوت کے علاوہ حامل تھے ۔
(2):- حضرت علی(ع) رسولخدا (ص) کے علاوہ آپ کے تمام اصحاب سے افضل وبرتر تھے ۔
جس لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ابو بکر ،عمر ،عثمان اس شخص پر فضیلت رکھتے ہیں ،جس کو رسول خدانے اپنے بعد مومنین کا ولی بنا یا ہے ،ان لوگوں کے خیال باطل کو باطل کرنے کے لئے صرف یہ حدیث اکیلی ہی کافی ہے ۔اور جن لوگوں نے صحابہ کا بھرم رکھنے کے لئے سا حدیث میں لفظ "مولی" کی تاویل کی ہے اس سے مراد "محب اور ناصر" ہے ان کی تاویل بے اعتبار ہے کیونکہ جس اصلی معنی کا رسول نے ارادہ کیا تھا اس معنی سے اس کو موڑنا ہے ۔کیونکہ شدید گرمی میں جب رسول خدا نے کھڑے ہوکر فرمایا ۔ کیا تم لوگ گواہی نہیں دیتے ہو کہ میں مومنین کے نفوس پر مومنین سے زیادہ اولویت رکھتا ہوں ،تو سب نے کہا بیشک یا رسول اللہ ! تب آپ نے فرمایا " من کنت مولاہ الخ " یعنی جس کا میں مولا ہوں اس کے علی بھی مولا ہیں ،خدا یا جو علی کو دوست رکھے تو بھی اس کو دوست رکھ ۔ اور جو علی سے دشمنی رکھےتو بھ اس کو دوشمن رکھ ، جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد کر جو علی کی مدد نہ کرے تو بھی اس کی مدد نہ کر "جدھر علی مڑیں اسی طرف حق کو موڑدیے !
یہ نص صریح ہے کہ حضور حضرت علی کو اپنی امت پر خلیفہ بنارہے ہیں ، ہر عقلمند اسی مطلب کو قبول کریگا اور دور از کار تاویلوں کوترک کرےگا ۔ رسول کا احترام صحابہ کے احترام سے کہیں زیادہ ہے اس لئے کہ اگر یہ مان لیاجائے کہ صرف یہ بتانے کے لئے کہ علی ناصر ہیں اور محب ہیں آنحضرت نے چلچلاتی دوپہر میں جس کی گرمی ناقابل برداشت تھی صرف اتنا کہنے کیلئے اکٹھا کیا تھا تو یہ رسول کامذاق اڑانا ہے ان کو (معاذاللہ) احمق ثابت کرتا ہے اس کے علاوہ جو محفل مبارکباد منعقد کی گئی تھی اس کی کیا تاویل کی جائیگی ؟ بھلا اتنی سی بات کیلئے ایسی محفل تبریک کی کیا ضرورت تھی ؟ جس میں سب سے پہلے امہات المومنین نے مبارک باد پیش کی پھر ابو بکر وعمر آکر بولے ،۔مبارک ہو مبارک ابوطالب کے فرزند تم تمام مومنین ومومنات کےمولا ہوگئے آگر خلافت وامامت مراد نہ ہوتی تو رسول یہ سب نہ کرتے نہ محفل سجتی نہ مبارک باد پیش کی جاتی ؟
واقعہ اور تاریخ دونوں تاویل کرنے والوں کو جھٹلاتے ہیں ارشاد خدا ہے ۔وان فریقا منهم لیکتمون الحق وهم یعلمون (پ 3 س 2 (بقره ) آیت 146) اور ان میں ایسے بھی ہیں جو دیدہ ودانستہ حق بات کو چھپاتے ہیں ۔
"علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ،میری طرف سے اس کی تبلیغ میرے یا علی کے علاوہ کوئی اور نہیں کرسکتا "
یہ حدیث بھی ایسی ہے جس میں صاحب رسالت نے وضاحت کردی کہ میری طرف سے پہونچانے کی اہلیت صرف علی کے اندر ہے ، رسول نےحج اکبر کے موقعہ پر ابو بکر کو سورہ برائت دیکر بھیج دیا تھا پھر جبرئیل کے آنے کے بعدآنحضرت نے حضرت علی کو بھیج کر یہ کام ان کے سپرد کردیا اور ابوبکر کو واپس بلالیا اس وقت فرمایا تھا" لا یودی عنی الا اناوعلی " اور ابو بکر روتے ہوئے واپس آئے تھے ۔ اور آکر پوچھا یا رسول اللہ کیا میرے بارےمیں کچھ نازل ہوا ہے ؟ تو فرمایا خدانے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یا خود پہونچاوں یا پھر علی پہونچا ئیں اسی طرح ایک دوسرے مناسب موقع پر فرمایا : اے علی تم میرے بعد امت جن چیزوں میں اختلاف کرے گی اس کو بیان کرنے والے ہو(2) ۔
جب رسول خدا کی طرف سے صرف حضرت علی تبلیغ کرسکترے ہیں اور اختلاف امت کی وہی ر سول کے بعد وضاحت کرسکتے ہیں تو جن لوگوں کو"اب" یا"کلالة" کے معنی تک نہ معلوم ہوں ان کے ان کو حضرت علی پر کیوں کر مقدم کرسکتے ہیں ؟ خدا کی قسم یہ وہ مصیبت ہے جس میں امہ مسلمہ گرفتار ہے اور اسی لئے یہ امت ان فرائض کو نہیں پورا کر سکتی جس کو خدا نے اس کے سپرد کیا تھا ، اس میں خدا یا رسول یا علی کی کوتاہی ہیں ہے بلکہ اس میں سراسر ان لوگوں کی خطا وکوتاہی ہے جنھوں نے نافرمانی کی اور دین الہی میں تبدیلی کردی ، ارشاد خدا ہے :
--------------
(1):-سنن ابن ماجہ ج 1 ص 44 ،خصائص النسائی ص 20 ،صحیح الترمذی ج 5 ص 300 ،جامع الاصول (ابن کثیر ) ج 9 ص 471 ،الجامع الصغیر (سیوطی) ج 2 ص 56
(2):- تاریخ دمشق (ابن عساکر) ج 2 ص 488، کنوز الحقائق (مناوی) 203 ،کنز العمال ج 5 ،ص 33
واذا قیل لهم تعالوا الی ما انزل الله والی الرسول قالوا حسبنا ما وجدنا علیه آباءنا اولوکان آباءهم لا یعلمون شیئا ولا یهتدون (پ 7 س 5 (مائده ) آیت 104)
ترجمہ :- اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو(قرآن) خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ (اور جو کچھ کہیں اس کو سنو اور مانو) تو کہتے ہیں کہ ہم نے جس (رنگ) میں اپنے باپ دادا کو پایا وہی ہمارے لئے کافی ہے (کیا یہ لوگ لکیر کے فقیر ہی رہیں گے ) اگر چہ ان کے باپ دادا (چاہے ) کچھ نہ جانتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں ۔
(5):- "حدیث الدّار یوم الانذار" " رسولخدا(ص) نے حضرت علی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :" ان هذا اخی ووصیی وخلیفتی فاسمعوا له واطیعو" (1)
یہ (علی) میرا بھائی ہے اور میرا وصی ہے اور میرے جانشین ہے لہذا اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو!
یہ حدیث بھی ان صحیح حدیثوں میں سے ہے جس کو موخین نے ابتدا ئے بعثت میں لکھا ہے اور رسول خدا (ص) کے معجزات میں شمار کیا ہے ،لیکن برا ہوسیاست کا جس نے حقائق بدل دیئے اور واقعات کو ملیامٹ کردیا اور یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں ہے کیونکہ وہ تو تاریک دورتھا ،آج عصر نور میں بھی یہی حرکت کی جارہی ہے ،محمد حسین ہیکل نے اپنی کتاب حیات محمدی میں اس حدیث کو مکمل طور سے لکھا ہے ملاحظہ فرمائیے ،"طبع اول سنہ 1354 ھ کا صفحہ 104 لیکن اس کتاب کا جب دوسرا ایڈیشن اور اس کے بعد والے ایڈیشنز چھپتے ہیں تو اس میں(وصی ،خلیفتی من بعدی) کا لفظ حذف کردیا جاتا ہے اسی طرح تفسیر طبری کے ج 19 ص 121 سے "وصیتی وخلیفتی "
--------------
(1):- تاریخ طبری ج 2 ص 219 ،تاریخ ابن اثیر ج 2 ص 62 ،السیرۃ الحلبیہ ج 1 ص 311 ،شواہد التنزیل ج 1 ص 371 کنزل العمال ص 15 ،تاریخ ابن عساکر ج 1 ص 85 ،تفسیر الخازن (علاء الدین ) ج 3 ص 371 حیات محمد (ہیکل )چاپ اول باب وانذر عشیرتک الاقربین
کو کاٹ کر ا س کی جگہ ان ھذا اخی وکذا کذا لکھا دیا جاتا ہے ،مگر ان تحریف کرنے والوں کو پتہ نہیں ہے کہ طبری نے اپنی تاریخ کے ج 2 ص 219 پر پوری حدیث لکھی ہے دیکھئے یہ لوگ کس طرح تحریف کرتے ہیں اور یہ نور خدا کو بجھانا چاہتے ہیں مگر واللہ متم نورہ ۔۔۔۔۔ اس بحث کے درمیان حقیقت حال کے واضح ہوجانے کے لئے میں نے (حیات محمد) کا پہلا ایڈیشن ڈھونڈ ھنا شروع کیا اور سعی بسیار وزحمت کثیر وخرچ کثیر کے بعد بمصداق جویندہ یا بندہ " وہ نسخہ مجھے مل ہی گیا ۔اور اہم بات یہ ہے کہ واقعا یہ تحریف ہے اور اس سے میرے اس یقین کو مزید تقویت ملی ہے اہل سوء کی ساری کوشش اس بات کے لئے ہے کہ وہ سچے واقعات اور ثابت حقائق کو مٹادیں تاکہ ان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کوئی قوی دلیل نہ پہونچ سکے ،
لیکن منصف مزاج حق کامتلاشی جب اس قسم کی تحریفات کو دیکھے گا تو ان سے اور دور ہوجائے گا اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ یہ لوگ معجزہ کرنے دسیسہ کاری کرنے ،حقائق کو بدلنے کیلئے ہر قیمت دینے کو تیار ہیں ۔ اور انھوں نے ایسے قلم خرید لئے ہیں اور ان کے لئے القاب اور اسناد کی بھر مار اسی طرح کردی ہے جس طرح مال ودولت سے ان کو چھکا دیا ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اہل قلم ان صحابہ کی آبرو بچانے کے لئے جو رسول کے بعد الٹے پاؤں پھر گئے تھے ۔ اور جنھوں نے حق کو باطل سے بدل دیا تھا ۔ ہر طرح دفاع کریں چاہے شیعوں کو گالی دینا پڑے ان کوکافر کہنا پڑے" كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَيَّنَّا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ" پ 1 س 2 (بقره ) آیت 118
ترجمہ :- اسی طرح انھیں کی سی باتیں وہ لوگ بھی کرچکے ہیں جو ان سے پہلے تھے ۔ ان سب کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کو تو اپنی نشانیاں صاف طورسے دکھاچکے ۔
"وہ صحیح حدیثیں جو اہل بیت کی اتباع کو واجب بتاتی ہیں "
(1):-" حدیث ثقلین" رسول خدا (ص ) کا ارشاد ہے" یا ایها النا س ! انی ترکت فیکم ماان اخذتم به لن تضلو کتاب الله وعترتی اهلبیتی " لوگو میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں کہ اگر تم نے ان سے تمسک کیا تو گمراہ نہ ہوگے اور وہ خدا کی کتاب اور میری عترت (یعنی ) میرے اہل بیت ہیں اور اس طرح بھی فرمایا" یوشک ان یاتی رسول ربی وانی تارک فیکم الثقلین اولهما کتاب الله فیه الهدی والنور واهلبیتی اذکر کم الله اهلبیتی اذکر کم الله اهلبیتی (1) ۔
قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور یمں لبیک کہوں ، میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزوں کوچھوڑ رہاہوں پہلی چیز قرآن ہے جس میں ہدایت ونور ہے اور( دوسری چیز) میرے اہلبیت ہیں الخ۔
اس حدیث میں پہلے ہم خوب غوروفکر کرتے ہیں جس کو صحاح اہل سنت والجماعت میں ذکر کیا ہے تو ہم کو پتہ چلتا ہے کہ صرف شیعہ حضرات ہی ثقلین (قرآن وعترت ) کی پیروی کرتے ہیں اور اہل سنت حضرت عمر کی اتباع "حسبنا کتاب اللہ" میں کرتے ہیں کاش کتاب اللہ ہی پر عمل کرتے اور اس کی تاویل اپنی خواہشات کے مطابق نہ کرتے ،جب خود حضرت عمر کتاب اللہ میں کلالۃ اورآیت تمیم کا مطلب نہیں جانتے تھے بلکہ مزید دیگر احکام کو نہیں جانتے تھے تو جو لوگ ان کے بعد دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اوربغیر کسی اجتہاد کےبا لنصوص قرآنیہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کرکے عمر کی تقلید کرتے ہیں وہ بے چارے قرآن کو کیا سمجھیں گے ؟
--------------
(1):- صحیح مسلم باب فضائل علی ج 5 ص 122 صحیح ترمذی ج 5 ص 328 ،مستدرک الحاکم ج 2 ص 148 ،مسند امام احمد بن حنبل ج 3 ص 17
فطری بات ہے کہ اہل سنت اپنے یہاں کی روایت" ترکت فیکم کتا ب الله وسنتی " میں تم میں دوچیزیں چھوڑرہا ہوں قرآن اور اپنی سنت " سے ہماری رد کرنے کی کوشش کریں گے ۔ لیکن یہ حدیث اگر صحیح ہے (اگرچہ باعتبار معنی درست ہے) تو حدیث سابق میں جو لفظ عترت آئی ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ عترت کی طرف رجوع کرو تاکہ وہ میری سنت بیان کریں ، یا یہ ہے کہ جب رجوع کرو گے تو وہ حضرات صحیح احادیث بیان کریں گے کیونکہ وہ کذب سے مبراہیں اور خدا نے آیت تطہیر کے ذریعہ ان کی عصمت پر مہر کردی ہے ، دوسرے یہ بھی احتمال ہے کہ وہ حضرات معانی ومقاصد کو بیان کریں گے کیونکہ تنہا قرآن ہدایت کیلئے کافی نہیں ہے ،کیونکہ کتنے ہی گمراہ فرقے ہیں کہ وہ بھی قرآن سے استدلال کرتے ہیں ، جیسا کہ یہ بات رسول خدا سے بھی اس وقت مروی ہے جب آپ نے فرمایا : بہت سے قرآن کی تلاوت کرنے والے ایسے ہیں بھی ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے ، قرآن تو خاموش ہے اس میں جتنے احتمال چاہو پیدا کرو ۔ قرآن میں محکم متشابہ بھی ہے جس کا علم صرف راسخون فی العلم ہی کو ہے اس لئے تعبیر قرآنی کی بنا پر انھیں کی طرف قرآن فہمی کیلئے رجوع کرنا ہوگا یا تعبیر نبوی کی بنا پر اہلبیت کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ۔ (راسخون فی العلم سے مراد اہل بیت ہیں مترجم) اس لئے شیعہ حضرات تمام چیزوں میں ائمہ معصومین ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اجتہاد کرتے ہیں اوراجتہاد صرف وہاں کرتے ہیں جہاں معصوم کی نص موجود نہ ہو ۔اور ہم لوگ (سنی ) خواہ تفسیر قرآن ہو یا اثبات سنت کا مسئلہ ہویا تفسیر کا مقصد ہو سب ہی میں صحابہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور صحابہ کے حالات ان کے کردار ،ان کے استنباط ،ان کا اپنی رائے سے اجتہاد ( اور وہ بھی نصوص صریحہ کے مقابلہ میں ) ان سب کا علم آپ کو ہے ہی قرآنی نصوص کے مقابلہ میں صحابہ کے سینکڑوں ذاتی اجتہاد ہیں اس لئے ان کی طرف رجوع کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے ۔ جب بھی ہم اپنے علماء سے پوچھتے ہیں آپ کس کی سنت کی پیروی کرتے ہیں ؟ تو فورا جواب دیتے ہیں رسول خدا کی سنت کی لیکن یہ حقیقت کے خلاف ہے اس لئے کہ اہل سنت نے خود رسول اللہ سے روایت کی ہے کہ پیغمبر نے فرمایا : تمہارے اوپر واجب ہے کہ میری سنت کی پیروی کرو میرے بعد والے
--------------
(1):- صحیح مسلم ، نسائی ، ابن مابہ ، ابی داوؤد وغیرہ نے اس مشہور حدیث کے اپنے اپنے یہاں لکھا ہے
خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرو اس پر بہت مضبوطی سے عمل کرو ۔ لہذا جس سنت پر یہ حضرات عمل کرتے ہیں وہ سنت رسول نہیں بلکہ وہ زیادہ تر سنت خلفاء ہے بلکہ سنت رسول بھی خلفاء ہی کے حوالہ سے منقول ہے (تو در حقیقت وہ بھی سنت خلفاء ہی ہے)(اور اگر سنت رسول فرض بھی کر لیا جائے تو بقول اہلسنت سنت رسول ہے ہی نہیں تو پھر پیروی کیسی )کیونکہ اہلسنت کی صحاح میں روایت ہے کہ رسول خدا نے لوگوں کی اپنی سنت نقل کرنے سے روک دیا تھا ، کہ کہیں وہ قرآن سے خلط ملط نہ ہوجائے اور ابو بکر وعمر اپنی خلافت کے اوائل میں اس پر سختی سے کاربند بھی تھے ۔ تو سنت منقول ہی نہ ہوسکی ،تو اس کی پیروی کیسی ؟ لہذاترکت فیکم سنتی (1) :- رہی کہاں جو حجت ہوتی ۔ اس بحث میں جو مثالیں میں نے ذکر کی ہیں (جو نہیں ذکر کی ہیں ان کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے ) وہی اس حدیث کے بطلان کے لئے کافی ہیں کیونکہ سنت خلفاء (ابو بکر وعمر وعثمان ) سنت رسول کی ضد ہے جیسا کہ آپ نے خود ہی محسوس کرلیا ہوگا ۔رسول خدا کے انتقال کے بعد ہی سب سے پہلی حدیث (یا سیرت خلیفہ) جو پیش کی گئی اور جس کو اہل سنت والجماعت اور مورخین سبھی نے لکھا ہے وہ :نحن معاشر الانبیاء لانورث ما ترکناہ صدقۃ " والی حدیث ہے ، جس سے ابو بکر نے استدلال کیا تھا ، اور جناب فاطمہ نے اس حدیث کی تکذیب کی تھی اور اس کو باطل قرار دیا تھا ، اور ابو بکر کے مقابلہ میں احتجاج کرتے ہوئے فرمایا تھا ،میرے باپ کسی بھی طرح قرآن کے خلاف کہہ ہی نہیں سکتے جب کہ قرآن یہ کہتاہے:- یوصیکم الله فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثین " (2) ۔
خدا تمہاری اولاد کے حق میں تم سے وصیت کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے ۔ اوریہ آیت سب کے لئے ہے انبیاء یا غیر انبیاء تو میرے باپ اس کے خلاف کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ اسی طرح جناب فاطمہ نے اس آیت سے بھی " وورث سلیمان داوؤد (پ 19 س 27 (نمل)اول علم وحکمت جائداد منقولہ
----------
(1):-کتاب اللہ وعترتی تو ہے لیکن سنتی کی لفظ صحاح ستہ میں سے کسی میں نہیں آیا ہے اس حدیث کو لفظ سنتی کے ساتھ مالک ابن انس اپنی کتاب موطاء ،میں تحریر کیا ہے مرسل نقل کیا ہے مسند کرکے نہیں لکھا ہے طبری وابن ہشام وغیرہ نے مالک ہی سے لیا ہے اور مالک کی طرح مرسل نقل کیا ہے ۔
(2):- پ 4 س4 (نساء)آیت 11
وغیر منقولہ سے میں) سلیمان داؤد کے وارث ہوئے ! استدلال فرمایا ، اور اس آیت سےبھی احتجاج کیا :فهب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب واجعله رب رضیا (پ 16 س 19 (مریم)آیت 65) ترجمہ :- پس تو اپنی گوبارگاہ سے مجھے ایک جانشین (فرزند) عطا فرما جو میری اور یعقوب کی نسل کی میراث کا مالک ہو اوراے میرے پرورد دگار اس کو اپنا پسنددیدہ بنا ۔
دوسرا حادثہ بھی ابو بکر کا ہے جو ان سے قریب ترین شخص تھا وہ حادثہ اسی کے ساتھ پیش آیا یہ واقعہ ابو بکر کی ابتدا ئے خلافت میں پیش آیا تھا اور مورخین اہل سنت نے اس کو لکھا ہے واقعہ یہ تھا کہ کچھ لوگوں نے زکات دینے سے انکار کردیا تھا ابو بکر کافیصلہ تھا کہ ان سے جنگ کرکے ان کو قتل کیا جائے لیکن عمر اسکے مخالف تھے ، وہ کہتے تھے ان سے قتال نہ کرو میں نے خود رسولخدا کو فرماتے ہوئے سنا ہے ، مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہ کہیں اور جو اس کو کہے اس کا مال اس کا خون محفوظ ہے اس کا حساب اللہ پر ہے ۔
مسلم نے اپنی صحیح میں لکھا ہے ، رسول اللہ نے جب خیبر میں علم علی کے حوالہ کیا تو علی نے پوچھا میں ان لوگوں سےکسی چیز پر قتال کروں ؟آنحضرت نے فرمایا :- جب تک لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہ کہیں اور جب اس کا اقرار کرلیں تو تمہارے لئے ان کا خون بہانا ،اور مال لوٹنا نا جائز ہے مگر یہ کہ وہ حق ہو اور اس کا حساب خدا کے اوپر ہے(1) ۔ لیکن ابوبکر اس حدیث سے قانع نہیں ہوئے اور کہنے لگے ۔خدا کی قسم جو نمازوزکات میں فرق ڈالے گا میں اس سے جنگ کروں گا ،اس لئے کہ زکات حق المال ہے ،اس طرح کہا تھا : خدا کی قسم لوگ رسول اللہ کو جو دیا کرتے تھے اگر کسی نے اس میں سے ایک اونٹ باندھنے کی رسی بھی نہ دی تو میں اس سے جنگ کروں گا ۔ابو بکر کی اس بات سے عمرقانع ہوگئے اور فرمایا :میں نے ابوبکر کو اس پر مصر دیکھا یہاں تک کہ خدا نے میرے لئے بھی شرح صدر کردیا ،مجھے معلوم نہیں کہ جو لوگ خدا کی مخالفت کررہے ہوں خدا کس طرح ان کا شرح صدر کردیتا ہے ؟ چونکہ قرآن میں خدا نے اس آیت کے ذریعہ مسلمانوں سے قتال حرام قراردیا ہے ،آیت یہ ہے
--------------
(1):- صحیح مسلم ج 8 ص51 کتاب الایمان
" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُواْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيراً"پ 5 (نساء )آیت 94) ترجمہ:- اے ایماندارو جب تم خدا کی راہ میں (جہاد کرنے کو) سفر کرو تو(کسی کے قتل کرنے میں جلدی نہ کرو بلکہ ) اچھی طرح چانچ لیا کرو اور جو شخص (اظہار اسلام کی غرض سے) تمہیں سلام کرے تو تم بے سوچے سمجھے نہ کہدیا کرو کہ تو ایماندار نہیں ہے (اس سے تو ظاہر ہوتاہے ) کہ تم(فقط) دنیاوی اثاثہ کی تمنا رکھتے ہو ( کہ اسی بہانہ قتل کرکے لوٹ لو اور یہ نہیں سمجھتے کہ اگر یہی ہے ) تو خدا کے یہاں بہت سی غنمیتیں ہیں ( مسلمانو) پہلے تم خود بھی تو ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا کہ (بے کھٹکے مسلمان ہوگئے )غرض خوب چھان بین کرلیا کرو بیشک خدا تمہارے ہر کام سے خبردار ہے ۔۔۔۔ اس لئے مسلمانوں سے قتال کے جواز کے لئے یہ تاویل کی گئی ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے ابو بکر کو زکات دینے سے انکار کیا تھا وہ وجوب زکات کے منکر نہیں تھے ،بلکہ اس لئے دیر کی تھی کہ معاملہ واضح ہوجائے ۔ شیعہ حضرات کہتے ہیں زکات نہ دینے والے لوگوں میں سے کچھ لوگوں میں سے کچھ لوگ رسول خدا کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک تھے ، انھوں نے حضرت علی کی خلافت پر نص کو سماعت کیا تھا ، اس لئے جب (خلاف توقع ) ابو بکر کے خلیفہ ہونے کی خبر پہونچی تویہ لوگ بھونچکا رہ گئے اور زکات میں ذرا تاخیر کی تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے لیکن ابوبکر نے ان کو قتل کرنے کا بھونچکارہ گئے اور زکات میں ذرا تاخیر کی تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے ، لیکن ابوبکر نے ان کو قتل کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ بات دب جائے اور میں چونکہ نہ شیعوں کے قول سے استدلا کرتا ہوں نہ اجتجاج اس لئے اس قصہ کو ان لوگوں کے لئے چھوڑ دیتا ہوں جو اس میں دقت نظر سے تحقیق کرنا چاہیں ۔لیکن اتنی بات ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ آنحضرت کے زمانہ میں ثعلبہ نےآکر کہا خدا کے رسول (ص) میرے لیے دعا کردیں کہ خدا مجھے مالدار کردے اور بہت اصرار کیا اللہ سے معاہدہ کیا کہ وہ صدقہ دیا کرے گا بہر حال پیغمبر نے اس کے لئے دعا کی اور وہ اتنا مالدار ہوگیا کہ اطراف مدینہ مین اس کے اونٹوں ، بھیڑوں کی گنجائش نہ رہی تو وہ مدینہ سے دورچلا گیا اور نماز جمعہ میں حاضر ی بھی نہیں دے پاتا تھا ، پھر جب پیغمبر اسلام نے زکات کی وصول تحصیل کرنے والوں کو اس کے پاس زکات کے لئے بھیجا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ تو جزیہ
یا مثل جزیہ ہے اور زکات نہیں دی لیکن رسول خدا نے نہ تو اس سے قتال کیا نہ حکم قتال ، ویا ،،،، البتہ قرآن کی آیت آئی :" وَمِنْهُم مَّنْ عَاهَدَ اللّهَ لَئِنْ آتَانَا مِن فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ فَلَمَّا آتَاهُم مِّن فَضْلِهِ بَخِلُواْ بِهِ وَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعْرِضُونَ" (پ 10 س 9 (توبه ) آیت 75 ،76)
ترجمہ:- اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو خدا سے قول وقرار کرچکے تھے کہ اگر اپنے فضل وکرم سے (کچھ مال ) دے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کرینگے اور نیکو کار بندے ہوجائیں گے تو جب خدا نے اپنے فضل وکرم سے انھیں عطا فرمایا تو لگے اس میں بخل کرنے اور کتراکے منہ پھیرنے ! ۔۔۔۔۔نزول آیت کے بعد ثعلبہ روتا ہوا خدمت رسول میں آیا کہا میری زکات قبول کرلیں تو رسول خدا نے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔اب اگر ابو بکر وعمر سنت رسول کی پیروی کرتے ہیں تو یہ مخالفت کیسی؟ اور محض زکات نہ دینے پر بیگناہ مسلمانوں کا خون بہانا کیسا ؟ ابو بکر کی طرف سے عذر پیش کرنے والے اور ان کے غلط فعل کی تاویل کرنے والے زکات حق مال ہے اس کے روک لینے پر قتل کرنا جائز ہے ثعلبہ کے قصہ کے بعد کیا تاویل کرینگے ؟
اس نے بھی جزیہ سمجھ کر روک لیا تھا لیکن رسول نے قتال کا حکم نہیں دیا ثعلبہ کے قصہ نے نہ ابو بکر کیلئے تاویل کی گنجائش چھوڑی ہے اور نہ ان کے ماننے والوں کیلئے ۔
اور کون جانتا ہے کہ ابو بکر نے عمر کو اس طرح مطمئن نہ کیا ہوگا کہ زکات نہ دینے والوں کا قتل اس لئے ضروری ہے کہ وہ غدیر والے واقعہ کو پیش کرکے عذر کررہے ہیں کہیں تمام اسلامی شہروں میں یہ بات پھیل نہ جائے بس اسی کے بعد خدا نے عمر کے لئے بھی شرح صدر کردیا کہ ان کا قتل کرنا جائز ہے کیونکہ یہی عمر ہیں جب انکار بیعت کرنے والے بیت فاطمہ میں جاکر بیٹھ رہے تو انھوں نے دھمکی دی اگر نکل کر بیعت ابوبکر نہیں کرتے تو میں اس گھر میں آگ لگادوں گا ۔
تیسرا حادثہ جو ابو بکر کی ابتدا ئے خلافت میں پیش آیا ۔ اور عمر وابوبکر میں اختلاف رائے پیدا ہوا اور ابو بکر نے نصوص قرآنی ونصوص نبوی من مانی تاویل کی وہ خالد بن ولید کا قصہ ہے جنھوں نے مالک بن نویرہ کو تڑپا تڑپا کے قتل کیا اور اسی رات مالک کی بیوی سے ارتکاب زنا کیا ۔ حضرت عمر نے خالد سے کہا : اے دشمن خدا تونے ایک مسلمان کو قتل کیا پھر اس کی بیوی سے زنا کیا ۔خدا کی قسم میں تجھے پتھروں سے رجم کروں گا (یعنی پتھر مار
مار ڈالوں گا )(1) ۔
لیکن ابو بکر نے خالد کا دفاع کیا اور کہا : اے عمر اس کو چھوڑدو اس نے تاویل کی اور اس تاویل میں غلطی کی اب خالد کے بارے میں اپنی زبان بند رکھو!
یہ ایک اور رسوائی ہے اور وہ بھی ایک اتنے بڑے صحابی کے لئے جس کا ہم احترام وتقدس سے ذکر کرتے ہیں جس کا لقب "سیف اللہ" ہے اور مصیبت یہ ہے کہ تاریخ نے اس کو بھی اپنے دامن میں محفوظ رکھا ہے ۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ خالد بن ولید جیسے صحابی کے بارے میں کیا کہوں جس نے ایک ایسے جلیل القدر صحابی کو جو بنی یربوع کا سردار فتوت ،کرم وشجاعت میں ضرب المثل تھا یعنی مالک بن نویرۃ اس کو قتل کردیا مورخین کا بیان ہے کہ خالد نے مالک بن نویرہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ غداری کی کیونکہ جب ان لوگوں نے ہتھیار رکھ دیئے اور نماز جماعت پڑھی تو دفعۃ خالد کے ساتھیوں نے ان کو رسیوں میں جکڑ دیا ۔ ان قیدیوں میں لیلی بنت المنھال مالک کی بیوی بھی تھی اور وہ عرب کی خوبصورت ترین عورتوں میں تھی ،کہا جاتا ہے اس سے زیادہ خوبصورت عورت دیکھی نہیں گئی ۔ خالداس کو دیکھتے ہی بے چین ہوگیا ۔مالک نے خالد سے کہا کہ تم ہمیں ابوبکر کے پاس بھیج دو ! وہ جو چاہیں گے میرے حق میں فیصلہ کرینگے ، عبداللہ بن عمر اور ابو قتادہ انصاری نے بھی خالد سے شدید اصرار کیا کہ مالک کو ابو بکر کے پاس بھیج دو لیکن خالد نے کسی کی نہ سنی اور بولے :- اگر میں اس کو قتل نہ کروں تو خدا مجھے معاف نہ کرے! اس وقت مالک اپنی بیوی کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا اسی نے مجھے قتل کرایا ۔ خالد نے حکم دیا اور مالک کے سروتن میں جدائی ڈال دی گئی ۔خالد نے مالک کی بیوی لیلی کو اپنے قبضہ میں کیا اور اسی رات اس سے منہ کالا کیا (2) -
--------------
(1):- تاریخ طبری ج 3 ص280، تاریخ ابی الفداء ج 1 ص 110، الاصابۃ فی معرفۃ الصحابہ ج 3 ص 236
(2):- تاریخ ابی الفداء ج ص 158 ،تاریخ یعقوبی ج 2 ص 110 ،تاریخ اب السخہ بر حاشیہ کامل ج 11 ص 114 وفیات الاعیان ج 6 ص 14
میں صحابہ کرام کے بارے میں کیا کہوں جو خواہشات نفس کی تکلمیل کیلئے بے گناہ مسلمانوں کوقتل کرتے ہیں ،محرفات الہی کو مباح قرار دیتے ہیں ، فروج کو اپنے لئے حلال کرلیتے ہیں حالانکہ خدا نے حرام قرار دیا ہے ۔ اسلام کےاندر جس عورت کا شوہر مرجائے وہ عد پورا کئے بغیر نہیں کرسکتی لیکن خالد کا خدا خواہش نفس تھی ، اس کی نظر میں مالک اور ان کے ساتھیوں کو تڑپا تڑپا کر ظلما وعدوانا قتل کرنا پھر وعدہ کا خیال کے ، بغیر مالک کی بیوی سے زنا کرنا کوئی بات ہی تھی ۔ عبداللہ بن عمر نے گواہی دی کہ یہ لوگ مسلمان ہیں مگر خالد کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہ تھی ابو قتادہ انصاری خالد کے ان افعال قبیحہ پر شدید غضبناک ہوگئے اور فورا مدینہ واپس چلے آئے ،اور قسم کھائی کہ اس لشکر میں رہ کرجنگ نہ کروں گا جس کا سردار خالد ہو(1) ۔
اس سلسلہ میں استاد محمد حسین ہیکل اپنی کتاب "الصدیق ابو بکر" میں عمر کی رائے ودلیل اس معاملہ میں " کے زیر عنوان جو اعتراف ہے وہی لئے کافی ہے ۔ چنانچہ ہیکل تحریر کرتے ہیں :
لیکن عمر ۔۔۔جو کاٹ دار عدل کی مثال تھے ۔۔۔۔ کی رائے یہ تھی کہ خالد نے ایک مسلمان پر تعدی کی ہے اور انقضائے وعدہ کے پہلے اس کی بیوی سے منہ کالا کیا ہے اس لئے کسی بھی لشکر کی سرداری کے لائق نہیں ہے ۔ اس کا ہٹا نا ضروری ہے تاکہ وہ دوبارہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھا سکے جس سے امور مسلمین فاسد ہوجائیں اور عربوں کے درمیان مسلمانوں کی وقعت گھٹ جائے اور مالک کی بیوی لیلی کے ساتھ جو اس نے زنا کیا ہے اس پر سزا دیئے بغیر اس کو چھوڑا نہ جائے !!!!!
اگر یہ بات مال لی جائے کہ خالد نے مالک کے سلسلہ میں تاویل کرنے میں غلطی کی ،اگر چہ حضرت عمر اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے " تو لیلی کے ساتھ جو منہ کالا کیا اس پر حد کا جاری کیاجانا ضروری تھا ۔ یہ عذر نہیں پیش کیا جاسکتا کہ وہ " سیف اللہ" تھے اور ایسے قائد تھے کہ جدھر کا رخ کرتے تھے نصرت وکامیابی ان کے ہمرکاب ہوتی تھی کیونکہ اگر یہ عذر قابل قبول ہوجائے تو پھر خالد وامثال خالد کے لئے کھلی چھوٹ ہوجائے گی ، اور مسلمانوں کے لئے بد ترین مثال قائم ہوجائے گی ۔ اسی لئے عمر برابر سزا
--------------
(1):- تاریخ طبری ج 2 ص 280 ،تاریخ یعقوبی ج ص 110 ، تاریخ ابی الفداء ،اصابہ ج 3 ص 326
دئے جانے پر اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ ابو بکر نےخالد کو بلا کر تو بیخ کی(1) ۔
کیا میں اس استاد ہیکل اور ان جیسے دوسرے علما ء جو کرامت صحابہ بچانے کے لئے چالاکی سے کا م لیتے ہیں سے پوچھ سکتا ہوں ،کہ ابو بکر نے خالد پر حد کیوں جاری نہیں کی ؟ اورجب بقول ہیکل صاحب عمر العدل الصارم تھے تو صرف لشکر کی قیادت ہی سے الگ کرنے پر کیوں اصرارتھا " حد شرعی جاری کرنے پر کیوں نہ اصرار کیا ؟ کیا ان لوگوں نے قرآن کا احترام کرکے حدود جاری کیں؟ استغفراللہ ! یہ تو سیاست ہے اور ابھی آپ سیاست کو کیا سمجھیں یہ تو حقائق کو بدل دیتی ہے عجیب چیز کو خلق کرتی ہے ۔ آیات قرآنی کو دیوار پر ماردیتی ہے ۔
کیا میں اپنے علمائے کرام سے سوال کرسکتاہوں کہو انھوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے ایک شریف عورت نے چوری کی ۔ اسامہ اس کی سفارش کرنے کے لئے رسولخدا (ص) کے پاس گئے ، سفارش کرتے ہی رسول خدا برس پڑے اور غصہ میں فرمایا تجھ پر وائے ہو کیا حد الہی کے سلسلہ میں سفارش کرنے آئے ہو؟ اگر فاطمہ نے بھی سفارش بھی چوری کی ہوتی تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا ! تم سے پہلے والے اسی لئے ہلاک ہوئے کہ جب شریف چوری کرتا تھا تو چھوڑ دیتے تھے اورجب کوئی کمزور چوری کرتا تھا تو اس پر حد جاری کرتے تھے ۔ پھر اس واقعہ کے بعد بےگناہ مسلمانوں کے قتل پر اور اسی رات ان کی بیویوں سے ہمبستری کرنے پرکیوں صحابہ کرام خاموش رہتے تھے ؟ حالانکہ شوہر کے مرنے سے بیوی پر غم کے پہاڑ ٹوٹ جاتے ہیں ۔ پھر بھی اس کو نہ بخشنا کون سی شرافت ہے اسی کو کہتے ہین "مرے پر سو درے" کاش یہ علماء صحابہ کے ان اقدامات سے شرم وحیا محسوس کرکے ہی خاموش رہتے ، لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جھوٹی باتیں بنا کر خالد کے جھوٹے فضائل ومحاسن بیان کرکے خالد کو سیف اللہ کالقب دیکر اس کے فعل کے جواز کے لئے چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں ۔
میرا ایک دوستمزا ق کرنے اور مطلب کو دوسری طرف لیجانے میں ماہر تھا اس نے مجھے ایک مرتبہ دہشت زدہ کردیا قصہ یہ ہوا کہ میں اپنے زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ خالد کے فضائل بیان کر
-------------
(1):- "الصدیق ابو بکر"(ہیکل) ص 151
رہا تھا ، میں نے بیان کرتے کرتے کہا خالد ہی سیف الله لمسلول (خدا کی کھینجی ہوئی تلوار) ہیں اس نے بر جستہ کہا : جی نہیں وہ سیف الشیطان المشلول ہیں( شیطان کی کند تلوار ہیں) اس وقت مجھے یہ بات بہت عجیب لگی ، لیکن جب بحث کے بعد خدا نے میری بصیرت کھول دی اور تخت خلافت پر زبردستی بیٹھنے والوں کی قدروقیمت مجھے معلوم ہوگئی اور اس کی تحقیق ہوگئی کہ یہی لوگ احکام الہی کو بدلنے والے حدود الہی کو معطل کرنے والے تھے تو میرا تعجب دور ہوگیا ۔خود رسول اکرم (ص) کے زمانہ میں خالد کا ایک قصہ مشہور ہے ، رسول اسلام نے خالد کو بنی خذیمہ کی طرف دعوت اسلام کے لئے بھیجا لیکن ان سے قتال کرنے کو نہیں فرمایا : بنی خزیمہ اچھی طرح سے اسلمنا نہیں کہہ پائے صبانا صبانا کہتے رہے ( ہم اسلام کی طرف مائل ہیں ) خالد نے ان کو قتل کرنا اور گرفتار کرنا شروع کردیا قیدیوں کو ساتھیوں کے حوالہ کرکے حکم دیدیا کہ ان کو قتل کردو ۔ لیکن بعض نے قتل کرنے سے انکار کردیا کہ یہ لوگ مسلمان ہوچکے ہیں اب ان کا قتل جائز نہیں ہے ۔جب یہ لوگ واپس آئے تو رسول خدا سے پورا قصہ بتایا تو آنحضرت نے دومرتبہ فرمایا : پالنے والے خالد نے جو کچھ کیا ہے میں اس سے بری ہوں (1) ۔ اس کے بعد حضرت علی کو کافی مال دیکر بنی خزیمہ کے پاس بھیجا آپ نے مقتولین کی دیت ادا کی جو مال تباہ ہوگیا تھا اس کا عوض دیا انتہا یہ ہے کہ کتے کی بھی قیمت ادا کی اور رسول خدا رو بقبلہ ہاتھویں کو اٹھا کر کھڑے ہوئے ہاتھوں کو اتنا بلند کیا کہ بغل کے نیجپے کا حصہ دکھائی دینے لگا اور فرمایا :" خدا یا میں خالد کے اقدام سے بری ہوں اس جملہ کو تین مرتبہ فرمایا (2) ۔کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اب اصحاب کی عدالت کہاں گئی ؟ جب خالد بن ولید جو ہمارے بزرگ ترین صحابہ میں شمار ہوتے ہیں اور ہم ان کو سیف اللہ کہتے ہیں تو کیا خدا کی تلوار اس لئے ہے کہ اسے بے گناہوں اور مسلمانوں کے اوپر اٹھایا جائے ، اسمیں صریحی طور سے تناقض ہے کیونکہ ایک طرف توخد ا قتل نفس سے روکتا ہے فحشاء ومنکر ،بغی کے ارتکاب سے منع کرتا ہے لیکن (دوسری طرف )حضرت خالد جو سیف اللہ ہیں وہ بغاوت کرکے مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں ان کے خو ن ومال کو رائگان کردیتے
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 4 ص باب اذا قضی الحاکم بجور فہو رد
(2):- سیرۃ ابن ہشام ج 4 ص 53 طبقات ابن سعد اسد الغایۃ ج 3 ص 102
ہیں ،عورتوں وبچوں کو قیدی بنالتے ہیں ۔۔۔ یقینا یہ خدا پر بہتان ہے ۔ پروردگار تو اس سے بلند وبرتر ہے ۔ معبود تو نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل نہیں پیدا کیا یہ تو کافروں کا خیال ہے ۔ ابو بکر جو خلیفۃ المسلمین تھے ان کے لئے یہ کیسے جائز ہوگیا کہ اتنے بڑے بڑے جرائم کو سن کو خاموش رہیں ؟ یہی نہیں بلکہ عمر کو آمادہ کریں کہ خالد کے خلاف زبان کو روک لو کیا واقعا ابو بکر اس پر قانع ہوگئے تھے کہ خالد نے تاویل میں غلطی کی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہر مجرم ہتک حرمت کرکے تاویل کرلیا کریگا ۔
لیکن میں کسی قیمت پر یہ نہیں مان سکتا کہ ابو بکر خالد کے معاملہ میں تاویل کے قائل تھے ۔ خالد وہ شخص ہے جس کو عمر نے (دشمن خدا کے لقب سے نوزا ،۔اور عمر کی رائے تھی کہ خالد کو قتل کرنا واجب ہے کیونکہ اس نے ایک مسلمان کو بے گناہ قتل کیا ہے یا پھر اس کو رجم کیا جانا ضروری ہے کیونکہ اس نے مالک کی بیوی لیلی سے زنا کیا ہے لیکن ان میں سے کچھ بھی نہ ہو ا بلکہ خالد نے عمر کے مقابلہ میں میدان جیت لیا تھا ۔ کیونکہ ان سےباتوں کے باوجود ابو بکر خالد کے حمایتی بن گئے اور ابو بکر دوسروں کے بہ نسبت خالد کی حقیقت سے زیادہ واقف تھے ۔۔۔۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس رسوا کن واقعہ کے بعد پھر ابو بکر نے خالد کو یمامہ بھیج یدا وہاں پہونچ کر خالد کو پھر فتح نصیب ہوئی اور وہاں بھی خالد نے ایک عورت سے منہ کالا کیا ، جیسے لیلی سے کیا تھا ۔ اور ابھی نہ تو مسلمانوں کا خون خشک ہوپایا تھا نہ مسیلمہ کے پیروکار وں کا کہ خالد نے پھر یہی گل کھلا یا اس مرتبہ ابوبکر نے خالد کو اس سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کی جتنی لیلی کے مسئلہ میں کرچکے تھے(1)
ظاہر سی بات ہے کہ یہ دوسری عورت بھی شوہر دار ہی تھی جس کے شوہر کو قتل کرکے خالد نے اس کے ساتھ منہ کالا کیا تھا جس طرح مالک کی زوجہ لیلی سے کرچکے تھے ، ورنہ ابوبکر اس مرتبہ اتنی زیادہ ڈانٹ ڈپٹ نہ کرتے ،
اس کے علاوہ مورخین نے اس خط کی عبارت بھی نقل کی ہے جو ابو بکر نے خالد کو لکھا تھا اس میں تھا اے ام خالد کے بیٹے تو برابر عورتوں سے منہ کالا کرتا ہے حالانکہ تیرے گھر کے سامنے بارہ سو مسلمانوں کا خون
--------------
(1):- "الصدیق ابوبکر" ص 151 اور اس کے بعد
ابھی خشک بھی نہیں ہوپایا (1) ۔خالد نے جب خط پڑھا توکہا یہ اسی اعسر(بنیہتے) (2) کا کام ہے ،یعنی عمربن خطاب کا ان تمام اسباب کی بنا پر میں اس قسم کے اصحاب سے نفرت کرنے لگا ، اور ان کے ان پیروکاروں سے بھی نفرت کرنے لگا جو ہر صحابی کے نام کے آگے رضی اللہ عنہ لگاتے ہیں اور ان (علماء) سے بھی نفرت کرنے لگا جو بڑی دلیری کے ساتھ ایسے اصحاب کا دفاع کرتے ہیں ، اور نصوص کی تاویل کرتے ہیں اورابو بکر ، عمر ، عثمان ، خالد بن ولید ، معاویہ ، عمر وعاص جیسے لوگوں کے افعال کو صحیح ثابت کنے کیلئے جعلی روایات نقل کرتے ہیں ۔۔۔۔ پالنے والے میں توبہ واستغفار کرتاہوں ،معبود میں ان لوگوں سے بیزاری اختیار کرتاہوں اور ان کے ان تمام اقوال وافعال سے بیزاری اختیار کرتا ہوں ، جن کے ذریعے انھوں نے تیرے احکام کی مخالفت کی تیرے حرمات کو مباح کیا ، اورتیرے حدود سے تجاوز کرگئے ، اور ان کے جان بوجھ کر پیروکاروں ،ماننے والوں ،محبت کرنے والوں سےبھی نفرت کرتاہوں ، میرے مالک پہلے جب میں جاہل تھا تو ان سے محبت کرتا تھا تو میری غلطی کو معاف کردے حالانکہ تیرے رسول نے کہہ دیا ہے ۔جاہل اپنے جہالت کی وجہ سے معذور نہیں سمجھا جا یئگا ۔خداوندا! ہمارے بزرگوں نے ہم کو راستہ سے بھٹکا دیا تھا ۔ حقیقت کو ہم سے مخفی کردیا تھا پچھلے پاؤں کفر کی طرف پلٹ جانے والے صحابہ کو تیرے رسول کے بعد افضل الحق بتارکھا تھا ، اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے آباء واجداد امویوں اور ان کے بعد عباسیوں کی دھوکہ دہی کے شکار ہوگئے تھے ، پروردگار ان کو ہم کو بخش دے تو رازہائے سربستہ اور دل میں چھپی باتوں تک سے واقف ہے ہمارے بزرگ ان صحابہ کا جو احترام واکرام کرتے تھے اور ان سے جو محبت کرتے تھے وہ اس حسن نیت کی بنا پر تھا کہ یہ لوگ تیرے رسول کے انصار اور تیرے رسول کے چاہنے والے تھے ، اے میرے آقا ! تو خوب جانتا ہے کہ ہمارے آباء واجداد اور ہم عترت طاہرہ یعنی ان ائمہ سے محبت کرتے ہیں جن سے تونے اذھاب رجس کیا ہے اور ان کو پاک کرنے کی طرح پاک کردیا ہے جن کے سید وسردار سید المسلمین ، امیرالمومنین ، قائد الغراء المحجلین ،امام المتقین حضرت علی ابن ابیطالب ہیں
--------------
(1):- تاریخ طبری ج 2 ص 254 ، تاریخ خمیس ج 3 ص 243
(2):- بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا
خداوند ا مجھے انھیں ائمہ معصومین کے شیعوں میں ، اور ان کی جہل ولایت سے تمسک کرنے والوں میں ، ان کے راستہ پر چلنے والوں میں سے قرار دے اور ان لوگوں میں سے قرار دے جو ان کی کشتی پر سوار ہونے والے ہیں ، اور ان کے عروۃ الوثقی سے متمسک رہنے والے ہیں اور ان کے عتبات عالیات میں داخل ہونے والے ہیں ، ان کی محبت ومودت کے راستہ پرچلنے والے ہیں ، اور ان کے اقوال واعمال کرنے والے ہیں ۔ان کے فضل وبخشش کاشکریہ ادا کرنے والے ہیں ۔
خدا وندا مجھے انھیں کے زمرے میں محشور کر۔ کیونکہ تیرے نبی (صلواتک علیہ وعلی آلہ) نے فرمایا ہے : انسان جس کو دوست رکھتا ہے اسی کے ساتھ محشور ہوگا ۔
رسول خدا نے فرمایا : " میرے اہل بیت کی مثال تمہارے درمیان میں کشتی نوح کی طرح ہے قوم نوح میں جو اس پر سوار ہوا نجات پاگیا جو الگ رہا وہ ڈوب گیا ۔
دوسری حدیث میں اس طرح ہے :" انما مثل اھل بیتی فیکم مثل باب حطۃ فی بنی اسرائیل من دخلہ غفرلہ(2)
میرے اہل بیت کی مثال تمہارے درمیان میں ایسی ہی ہے جیسے بنی اسرائیل میں باب حطّہ کی جواب اس میں داخل ہوا ہو بخشا گیا ۔
ابن حجر نے صواعق محرقہ میں اس حدیث کو لکھ کر فرمایا ہے کہ کشتی سے اس لئے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو ان سے محبت رکھے اور ان کی عظمت کرے خدا کی نعمت کا شکریہ ادا کرے اور علمائے اہلبیت کی ہدایت
--------------
(1):- مستدرک ج 3 ص 151 ،تلخیص الذہبی ، ینابیع المودۃ ص 30 ، 37 صواعق محرقہ ص 184 ،224 ،تاریخ الخلفاء جامع صغیر ،اسعاف الراغبین ،
(2):- مجمع الزوائد (الہیثمی ) ج 9 ص 168
پر عمل کرے وہ مخالفتوں کی ظلمتوں سے نجات پاجائے گا ۔ اورجو ان کی مخالفت کرے گا وہ کفران نعمت کے سمندر میں ڈوب جائے گا ۔ اور طغیان کے جنگلوں میں ہلاک ہوجائے گا ۔ اورباب حطہ سے تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے اس باب میں تواضع کے ساتھ داخل ہونے کو سبب مغفرت قراردیا ہے ، باب حطہ سے مراد یا تو باب اریحا " ہےیا بیت المقدس ہے ۔ اور اس امت کے لئے اہلبیت کی محبت کو سبب مغفرت قراردیا ہے ۔
کاش میں ابن حجر سے پوچھتا کہ کیا آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو سفینہ پر سوار ہوئے اور دروازے میں داخل ہوئے ، اور علماء کی ہدایت پر عمل پیرا ہوئے یا ان لوگوں میں سے ہیں جو کہتے کچھ میں کرتے کچھ ہیں ۔ اور عقیدہ کچھ رکھتے ہیں اور کام کچھ کرتے ہیں ، اور ایسے تو بہت سے نابینا وظالم علماء ہیں کہ جب میں ان سے سوال کرتا اور احتجاج کرتاہوں تو فورا جواب دیتے ہیں ہم اہل بیت سے اور حضرت علی سے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ ہم اہل بیت کا احترام کرتے ہیں کوئی ایسا نہیں ہے جو اہل بیت کے فضائل کا انکار کرتاہو۔
جی ہاں ! وہ زبان سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتی اور یا پھر یہ حضرات احترام وتقدیر تو اہل بیت کا کرتے ہیں لیکن اقتداوتقلید دشمنان اہل بیت وقاتلان اہل بیت ومخالفین اہلبیت کی کرتے ہیں ۔ اوریا پھر یہ لوگ اہل بیت کو جانتے ہی نہیں کیونکہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ اہل بیت کون ہیں ؟ تویہ فورا جواب دیتے ہیں کہ وہ ازواج پیغمبر ہیں جن خدا نے رجس کو دور کردیا ہے ، اورا س پہیلی کو میرے لئے ایک شخص نے حل کردیا جب میں نے اس سے یہی سوال پوچھا تو اس نے کہا: اہل سنت والجماعت سب کے سب اہل بیت کی اقتدا کرتے ہیں ، مجھے اس کے کہنے پر بہت تعجب ہوا میں نے کہا بھائی یہ کیسے ؟ اس نے کہا :رسول خدا نے فرمایا ہے نصف دین تو تم حمیرا (عائشہ ) سے حاصل کرو لہذا ہم نے نصف دین اہل بیت (یعنی عائشہ) سے حاصل کیا ! دیکھا آپ نے یہ اہل بیت کسکو سمجھتے ہیں ؟ اسی بنیاد پر ان کے اس کلام کو ہم اہل بیت کا احترام کرتے ہیں " اس مطلب پر حمل کرنا چاہئیے لیکن اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ بارہ اماموں کو جانتے ہیں ؟ تو وہ سوائے حضرت علی
امام حسن ، امام حسین کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے ، اور امامت حسنین(ع) کی بھی نہیں مانتے ہیں ، یہ تو صرف معاویہ بن ابی سفیان جیسے لوگوں کا احترام کرتے ہیں جیسے عمروعاص ، حالانکہ معاویہ وہ شخص ہے جس نے امام حسن کو زہر سے شہید کرایا ہے اور یہ لوگ اس کو " کاتب الوحی " کہتے ہیں ۔
درحقیقت یہی تناقض ہے یہی خلط وتلبیس ہے اسی کو حق کو باطل میں مخلوط کردینا کہتے ہیں روشنی کو تاریکی کے غلاف میں بند کردینا ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مومن کے دل میں شیطان ورحمان دونوں کی محبت جمع ہوجائے ؟ خداوند عالم کا ارشاد ہے:" لَا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءهُمْ أَوْ أَبْنَاءهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ "(پ 28 س 58 (مجادله ) آیت 22)
ترجمہ:-جو لوگ خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ پاؤگے ۔اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ (کیوں نہ ) ہوں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں خدا نے ایمان کو ثابت کردیا ہے اور خاص اپنے نور سے ان کی تائید کی ہے اور ان کو ( بہشت کے ) ان( ہرے بھرے)باغوں میں داخل کریگا جس کے کے نیچے نہریں جاری ہیں ،(اور وہ ) ہمیشہ اس میں رہیں گے ، خدا ان سے راضی اور وہ خدا سے خوش سے خوشی ، یہی خدا کا گروہ ہے سن رکھو کہ خدا ہی کے گروہ کے لوگ دلی مراد پائیں گے
دوسری جگہ ارشاد ہوتاہے:" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاء تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءكُم مِّنَ الْحَقِّ " (پ28 س 60 (ممتحنه)آیت 1)
ترجمہ:- اے ایماندارو! اگر تم جہاد کرنے میں میری راہ میں اور میری خوشنودی کی تمنا میں (گھر سے ) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم ان کے پاس دوستی کا پیغام بھیجتے ہو اور جو (دین)
حق تمہارے پاس آیا اس سے وہ لوگ انکار کرتے ہیں
ترجمہ:-جس کو یہ بات پسند ہو کہ میری جیسی زندگی بسر کرے اور میری موت مرے اور اس جنت عدن میں رہے جس کو میرے رب نے لگایا ہے تومیرے بعد علی اور ان کے دوستوں کے دوست رکھے اور میرے اہل بیت کی پیروی کرےکیونکہ وہ میری طینت سے خلق کئے گئے ہیں اور میرا ہی علم وفہم ان کو عطا کیا گیا ہے ۔ میری امت کے جو ان کے فضل کا انکار کرتے ہیں اور مجھ سے رشتہ داری کو قطع کرتے ہیں ان پر ویل ہو اور ان کو میری شفاعت خدا نصیب نہ کرے ۔
یہ حدیث بھی ان صریحی حدیثوں کی طرح ہے جس میں تاویل کی گنجائش نہیں ہے اور مسلمان کو مجبور کرتی ہے بلکہ اس کی ساری دلیلوں کو کاٹ دیتی ہے جب کوئی علی کو دوست نہیں رکھے گا اور عترت رسول کی پیروی نہیں کرے گا تو رسول کی شفاعت سے محروم ر ہے گا ۔
میں یہاں پر ایک بات کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ جب میں نے یہ بحث شروع کی تو ابتدا میں اس حدیث کی صحت میں مجھے شک تھا کیونکہ اس حدیث میں علی اور اہل بیت کی مخالفت کرنے والے کو ایسی تہدید و دھمکی دی گئی ہے کہ میں اس کے بعد ابن حجر عسقلانی کا یہ قول پڑھا میں عرض کرتا ہوں اس حدیث کے روایوں میں یحی بن یعلی المحاربی ہے جو لغو اور بیکار آدمی ہے ! تو مسئلہ آسان ہوگیا اور میرے ذہن میں جو بعض
--------------
(1):- مستدرک ج 3 ص 128 الجامع الکبیر (طبرانی )اصابۃ (ابن حجر عسقلانی )کنز العمال ج 6 ص 155 ،ینابیع المودۃ ص 149 ،حلیۃ الاولیاء ج 1 ص 86 تاریخ ابن عساکر ج 2 ص 95
باتیں اس حدیث کے متعلق تھیں وہ سب رفع ہوگئیں ،کیونکہ میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہی یحی بن یعلی المحاربی ہی اس حدیث کا گڑھنے والا ہے اور یہ ثقہ نہیں ہے ۔ لیکن خدا کی مرضی تھی کہ مجھے پوری حقیقت پر مطلع کردے چنانچہ ایک روز میں " ابراہیم الجہیان " کے مقالات میں "عقائدی مناقشات"(1) پڑھ رہا تھا اس وقت حقیقت واضح ہوگئی ۔
قصہ یہ ہوا کہ اس میں لکھا تھا یحیی بن یعلی المحاربی ان معتبر ترین لوگوں میں تھے جن پر بخاری ومسلم نے اعتماد کیا ہے چنانچہ میں بخاری ومسلم کو الٹ پلٹ کر پڑھنے لگا تودیکھا کہ بخاری نے سیری جلد کے ص 31 پر غزوہ حدیبیہ کےباب میں منجملہ حدیثوں کے ایک یہ بھی لکھی ہے اور مسلم نے پانچویں جلد ص 119 پر باب الحدود کے اندر اس کا ذکر کیا ہے اور ذہبی ۔۔جو اس سلسلہ میں بہت سخت تھے ۔۔۔نے ان کے مراسیل کی توثیق کی ہے اور دیگر ائمہ جرح وتعدیل نے بھی اس کا شمار(ثقات) میں کیا ہے اور شیخان (بخاری ومسلم) نے اس سے احتجاج واستدلال بھی کیا ہے تو پھر آخر اس فریب کاری دھوکہ وہی اورحقائق کو بدلنے اور ایسے شخص کے بارے میں طعن کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جبکہ اہل صحاح نے اس سے استلال کیا ہے کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں ہے کہ اس نے اظہار حقیقت کردیا ہے یعنی اہل بیت کی اقتدا کے وجوب کاذکر کردیا ہے ، اسی لئے ابن حجر اس کی تضعیف وتوہین پر اتر آئے حالانکہ ابن حجر کے ذہن سے یہ بات نکل گئی کہ ان کے علاوہ بھی بڑے زبردست قسم کے علما ء ہیں جوان کی ہر چھوٹی بڑی لغزش کا حساب رکھیں گے اور ان کی جہالت وتعصب کے پردے کو چاک کرکے رہیں گے کیونکہ وہ لوگ نور نبوت سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور اہلبیت کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں ،
اس کے بعد میں اس بات کو جان گیا کہ ہمارے علماء کی پوری کوشش حقیقت کو چھپانے کی ہوتی ہے تاکہ ان کے پیرومرشد اصحاب کرام اور خلفاء کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے اسی لئے یہ لوگ کبھی تو صحیح حدیثوں کی تاویل کرتے ہیں اور ان کو دوسرے معانی پر حمل کرتے ہیں اس کی مثال یہ ہے کہ حدیث من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ " میں مولی کے معنی کو اولی کے بجائے محب وناصر کے معنی میں کردیتے ہیں
--------------
(1):- مناقشات عقائدیۃ فی مقالات ابراہیم الجہبان ص 29
علمائے اہل سنت اس حدیث کی صحت کے قائل ہیں مگر مولی کے معنی میں تاویل کرنا واجب جانتے ہیں ک مولی سے مراد محب اور ناصری ہیں اور یہ تاویل صرف ابو بکر ،عمر عثمان کی خلافت کو صحیح ثابت کرنے کیلئے کرتے ہیں اگر یہ تاویل نہ کریں تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ سب سے اولی ثابت ہوں گے بلکہ اس میں دیگر خرابیوں کے علاوہ سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ تمام ان اصحاب کا مع الذکر کے فاسق ہونا لازم آتا ہے جنھوں نے ابو بکر کی بیعت کی تھی ،یہ ان علمائے اہل سنت والجماعت کا قول ہے جو ٹیونس میں رہتے ہیں اور جب میں نے ان سے کہا کہ رسول خدا نے خطبہ اور حدیث سے پہلے جب اصحاب سے پوچھ لیا کہ کیا میں تمہاری نفسوں پر تم سے زیادہ اولی نہیں ہوں اور سب نے کہا : ہاں 1 تب اس کے بعد نبی کا یہ حدیث بیان کرنا قرینہ ہے مولی بمعنی اولی بالتصرف کے ہے تو ان لوگوں نے جواب دیا یہ اضافہ شیعوں نے کیا ہے پھر جب میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ بات عقل میں آتی ہے کہ لاکھوں آدمیوں کو شدید گرمی میں روک کر صرف اتنا بتانا مقصود تھا کہ جس کا میں محب وناصر ہوں علی بھی اس کے محب وناصر ہیں ؟ تو وہ لوگ لاجواب ہوگئے اورخاموش ہوگئے ۔
اور کبھی ان تمام حدیثوں کو جھوٹی کہتے ہیں ان کے مذہب کے خلاف ہوں ۔ چاہے ان کی صحاح ومسانید میں وہ حدیثیں موجود بھی ہوں ، اس کی مثال یہ حدیث ہے ،: الخلفاء من بعدی اثناعشر کلھم من قریش " میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے اوروہ سب کے سب قریش سے ہوں گے ۔ اور ایک روایت میں ہے (کلھم من بنی ہاشم )وہ سب کے سب بنی ہاشم سے ہوں گے اس حدیث کو بخاری ومسلم کے ساتھ تمام اہل سنت والجماعت کے صحاح والوں نے نقل کیا ہے لیکن اس کے باجود یہ یہ لوگ اس کو جھٹلا تے ہیں اور ان بارہ اماموں کو نہیں مانتے جو اہل بیت سے ہیں جن کو شیعہ امام مانتے ہیں ۔بلکہ اہل سنت حضرات اس میں کہ چاروں خلفائے راشدین کو شمار کرتے ہیں اور کچھ لوگ خلفائے راشدین کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز کو بھی شمار کرتے ہیں تو اس طرح تعداد پانچ ہوجاتی ہے اور پھر ٹہر جاتے ہیں آگے نہیں بڑھتے اور معاویہ ،یزید ،مروان بن الحکم ، مروان کی اولاد کو خلفائے راشدین میں شمار نہین کرتے اور یہ صحیح کرتے کرتے ہیں لیکن 12 کی تعداد پوری نہیں ہوپاتی ۔بلکہ ایک پہیلی ہو کر رہ جاتی ہے
اور ایسی پہیلی جس کا حل نہیں ہے مگر یہ کہ شیعوں والی بات مال لیں ۔اور کبھی حدیث کا آدھا حصہ یا 2/3 حصہ ہی حذف کردیتے ہیں تاکہ اس کو بدلا جاسکے اور اس کی مثال یہ حدیث ہے" ان هذا اخی ووصیی وخلیفتی من بعدی فاسعمواله واطیعوا! " اس حدیث کو آنحضرت نے حضرت علی کی گردن پکڑ کر فرمایا تھا ، اس حدیث کو طبری نے اپنی تاریخ میں ۔ ابن اثیر نے اپنی کامل میں لکھا ہے اسی طرح کنزل العمال میں مسند احمد بن حنبل میں بھی ہے ، سیرۃ حلبیہ اور ابن عساکر میں بھی ہے لیکن طبری کی جو تفسیر چھپی ہے اس کی ج 19 ص 121 میں پوری حدیث نہیں لکھی ہے بلکہ اس کے نام معانی کو حذف کردیا ہے اور اس کی جگہان هذا اخی و کذا کذا !! تحریر ہے حالانکہ یہ لوگ اس سے غافل ہیں کہ طبری نے اپنی تاریخ میں اس حدیث کو مکمل لکھا ہے ملاحظہ فرمائیے ج 2 ص 319 ۔۔ 321 یہ ہے علی امانت ؟ شاید اس بیچارے عالم کو کوئی حیلہ ہاتھ نہیں آیا جس سے حدیث کوجھٹلاسکے اوریہ حدیث رسول خدا کے بعد حضرت علی خلافت پر نص ہے اس لئے اس نے نصوص کوچھپا نے کی کوشش کی اور اس کو کذا وکذا سے بدل دیا اس بیچارے کو یہ خیال ہوا کہ اگر اس نے اپنی آنکھ بند کرلی تو سورج کی روشنی بھی چھپ جائے گی یا اس نے یہ سوچا کہ کذاکذا لکھ کر قارئین کو قانع کردےگا نہیں نہین ایسا نہیں ہوسکتا ۔
اور کبھی ثقہ ترین روایوں کو مشکوک بنا نے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں کیونکہ ان راویوں نے ایسی حدیثیں نقل کی ہیں جو ان لوگوں کی من پسند نہیں ہیں ۔جیسے ان لوگوں نے یحیی بن یعلی المحاربی کو مطعون قراردیا ہے حالانکہ وہ ان معتبر روایوں میں ہے جس سے بخاری ومسلم نے اپنی اپنی صحیح میں احتجاج کیا ہے ۔ لیکن ابن حجر عسقلانی ن ےاس کے بارے میں خدشہ کیا ہے اور کہا ہے یہ ایک واہیات آدمی قابل اعتماد نہیں ہے کیونکہ اس نے حدیث "موالات " کو نقل کیا ہے جس میں جس میں رسول خدا نے اپنے تمام اصحاب کو یہ حکم دیا ہے کہ میرے بعد سب کے سب حضرت علی اور اہل بیت سے موالات کریں ۔ لیکن یہ حدیث ابن حجر اور ان کے ہم خیال لوگوں کو پسند نہیں آئی جس کا مقصد حقائق کو مٹانا ہے حالانکہ معاویہ نے حقائق کو چھپانے کے لئے اپنے تمام سونے چاندی کے ڈھیر کو صرف کردیا تھا ، لیکن ناکامیاب رہا تھا
تو پھر بیچارے ابن حجر راویوں میں خدشہ کرکے کیونکر چھپا سکتے ہیں ؟ معاویہ کے پاس تو حول وطول سلطنت وطاقت جاہ ومرتبہ سب کچھ تھا مگر وہ بری طرح ناکامیاب ہوگیا اور زمانہ نے اس کو تاریخ کے دبیز پردوں میں چھپا دیا ۔البتہ حضرت علی (ع) کا نور مرور ایام کےساتھ روشن سے روشن تر ہوتا گیا ۔ تو ابن حجر جیسے لوگوں کیلئے بھلا کہاں ممکن ہے کہ معتبر راویوں کے ساتھ میں خدشہ پیدا کرکے اہلبیت کی حقیقت کو مشکوک بنادیں ؟ نورخدا کا بجھا دینا ناممکن بات ہے ۔
اور کبھی حدیث کو پہلے ایڈیشن میں چھاپتے ہیں اور( پھر جب غلطی پر متنبہ ہوتے ہیں تو ) دوسرے ایڈیشنوں میں بغیر کسی اشارہ کے اس لئے حذف کیا جارہا ہے حذف کرتے ہیں لیکن تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں لوگ اس کو تلاش کرہی لیتے ہیں ۔ اس کی مثال محمد حسین ہیکل کی کتاب "حیات محمد (ص)" کا پہلا ایڈیشن ہے اس کے ص 104 پر وانذر عشیرتک الاقربین " کے ضمن میں مورخین کی طرح قصہ تحریر کرکے آخر میں لکھتے ہیں ۔: رسول خدا نے فرمایا " یہ میرا بھائی ہے تمہارے درمیان میرا خلیفہ ووصی ہے ۔۔۔۔۔!لیکن بعد والے ایڈیشنوں میں بغیر کسی اشارہ قریب یا بعید کے حدیث کے اس فقرہ کو حذف کردیا ۔اگر چہ محمد جواد مغنیہ نے ۔۔۔اور وہی اس کے ذمہ دار بھی ہیں ۔۔۔ اپنی کتاب"الشیعة فی المیزان" میں اس حادثہ کو نقل کیا ہے اور فرمایا ہے کہ محمد حسین ہیکل نے اس فقرہ کو یعنی یہ میرا بھائی تمہارے درمیان میرا وصی وخلیفہ ہے ) ہزاروں گنیاں لیکر حذف کردیا ہے اور چونکہ ہیکل نے نہ تو اس خبر کی تکذیب کی ہے اور نہ ہی اس جملہ کوحذف کرنے کی کوئی علت بیان کی ہے اس لئے اس سے شیخ محمد جواد مغنیہ کی وسیع اطلاع اور سچائی کی تصدیق ہوتی ہے ۔
اس کے علاوہ میں ان جیسے لوگوں کیلئے ہوں جو تھوڑی سی پونجی کی خاطر آیات الہی کو بیچ ڈالتے ہیں :خدا سے ڈرو سچی بات کہو ،اور خدا کے اس فرمان کو یاد رکھو" إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَـئِكَ يَلعَنُهُمُ اللّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ "(پ 2 س 2(بقره ) آیت 159) ۔ترجمہ:- بیشک جو لوگ (ہماری) ان روشن دلیلوں اور ہدایتوں کو جنھیں ہم نے نازل کیا ہے اس کے بعد چھپاتے ہیں ، جب کہ ہم کتاب (توریت ) میں لوگوں کے سامنے
صاف صاف بیان کرچکے تو یہی لوگ ہیں جن پر خدا بھی لعنت کرتاہے اور لعنت کرنے بھی لعنت کرتے ہیں اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے" إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً أُولَـئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلاَّ النَّارَ وَلاَ يُكَلِّمُهُمُ اللّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ"(پ 2 س 2(بقره)آیت 174) بیشک جو لوگ ان باتوں کو جو خدا نے کتاب میں نازل کی ہیں چھپاتے اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت (دنیوی نفع) لے لیتے ہیں یہ لوگ بس انگاروں سے اپنے پیٹ بھرتے ہیں اور قیامت کے دن ان سے بات تک تو کرےگا نہیں اورنہ انھیں (گناہوں سے) پاک کرے گا اور انھیں کے لئے دردناک عذاب ہے ! بس کیا یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں توبہ کریں گے ؟ اور حق کا اعتراف کرینگے ؟ اگر یہ لوگ ایسا کریں تو ہوسکتا ہے وقت گزر جانے سے پہلے خدا ان کی توبہ قبول کرلے ۔
بحث وتمحیص کے بعد یہ بات میرے اوپر بھی ثابت ہوچکی ہے اور میں اپنے دعوی پر مضبوط دلیل رکھتا ہوں کا ش یہ لوگ ان صحابہ کو بچانے کی کوشش نہ کرتے جو الٹے پاؤں کفر کی طرف چلے گئے تھے ، اسی غلطی کی وجہ سے ان کے اقوال میں تناقض ہے اور ان کی باتیں تاریخ سے متناقض ہیں ا ے کاش یہ لوگ حق ہی کی پیروی کرتے خواہ وہ کتنا ہی کڑوا ہوتا اگر وہ ایسا کرتے تو خود ان کو بھی راحت نصیب ہوتی اور دوسروں ک و بھی زحمت نہ ہوتی اور اس متفرق امت کو متحد کرنے میں ایک کار نمایاں انجام دیتے ، جب صحابہ اولین احادیث نبویہ کے نقل کرنے میں غیر ثقہ ہوں ، اور جوچیزیں ان کی خواہشات کے مطابق نہ ہوں ان کو باطل قراردیدیں خصوصا اگرو ہ حدیثیں وفات رسول کے وقت کی وصیتیں ہوں چنانچہ آپ ملاحظہ فرمائیں بخاری و مسلم دونوں نے لکھا ہے " رسول خدا نے مرتے وقت تین چیزوں کی وصیت فرمائی تھی ۔
(1):- مشرکین کو جزیرہ العرب سے نکال دو (2):- وفود کی اسی طرح آنے کی اجازت دو جس طرح میں اجازت دیتا تھا ۔ روای صاحب فرماتے ہیں ، تیسری چیز میں بھول گیا(1) ۔۔۔ تو کیا یہ بات عقل میں آنے
--------------
(1):- بخاری ج 1 ص 121 ،باب جوائز الوفد من کتاب الجہاد والسیر ، صحیح مسلم ج 5 ص 75 کتاب الوصیہ
والی ہے کہ جو صحابہ موجود تھے اور انھوں نے رسول کی تینوں وصیتیں سنی تھیں وہ صرف تیسری ہی وصیت کو بھول گئے ؟ حالانکہ یہ لوگ صرف ایک مرتبہ سنکر لمبے لمبے قصیدے یاد کرلیتے تھے اس کو نہیں بھولتے تھے توکیسے مان لیا جائے کہ اس کو بھول گئے ؟ ہر گز نہیں یہ بھولے نہیں تھے (اور نہ اتنا بھولے تھے ) بلکہ سیاست نے ان کو بھلا دینے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔۔ اصحاب کے مضحکہ خیز چیزیہ بھی ہے اور یقینا پہلی وصیت حضرت علی کے خلیفہ بنانے کی تھی جس کو راوی نے بھلا دیا ہے ۔
حالانکہ جویائے حق کو چھپانے کے باوجود وصیت کی خوشبو پہونچ ہی جاتی ہے چنانچہ بخاری نے کتاب الوصایا اور مسلم نے کتاب الوصیہ میں نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ عائشہ کے سامنے ذکر کیا گیا کہ نبی نے علی کے لئے وصیت فرمائی تھی(1) (آپ نے دیکھا اگر وصیت نہیں تھی تو عائشہ کے سامنے اس کا ذکر کیسے ہوا ؟ مترجم) آپ خود ہی ملاحظہ فرمائیے کہ خدا اپنے نور کو کس طرح ظاہر کرتا ہے چاہے ظالم کتنا چھپائیں ، میں اپنی بات کی طرف پھر پلٹتا ہوں ، کہ جب ایسے ایسے صحابہ رسول اکرم کی وصیت نقل کرنے میں غیر معتبر ہیں تو بے چارے تابعین وتبع تابعین کی کیا ملامت کیجائے ۔
اور جب ام المومنین عائشہ ذکر علی کو برداشت نہیں کرسکتی تھیں اور نہ ہی کسی قیمت پر حضرت علی کاذکر خیر پسند کرتی تھیں جیسا کہ ابن سعد نے اپنی طبقات میں(2) اور بخاری نے اپنی صحیح میں ۔۔۔باب مرض النبی ووفاتہ میں ۔۔۔۔ تحریر کیا ہے اور جب ام المومنین عائشہ حضرت علی کی موت کی خبر سن کر سجدہ شکر ادا کرتی ہوں تو پھر ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ حضرت علی کیلئے وصیت رسول کا ذکر کریں گی ؟ ام المومنین عائشہ کیلئے ہر خاص وعام جانتا ہے کہ یہ حضرت علی سے بغض رکھتی تھیں اون ان سے عداوت رکھتی تھیں (نہ صرف حضرت علی سے )بلکہ علی واولاد علی (ع) اور اہل بیت مصطفی سےبہت زیادہ عداوت رکھتی تھیں ۔۔۔
لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم
--------------
(1):- صحیح بخاری ج 3 ص 68 باب مرض النبی ووفاتہ ،صحیح مسلم ج 2 ص 14 کتاب الوصیہ
(2):- طبقات ابن سعد ، القسم الثانی من الجزاف ص 29
اس تحقیق و تفتیش کرے دوران میں اس نتیجہ پر پہونچا کہ امت مسلمہ پر سب سے بڑی مصیبت جو پڑی ، وہ اصحاب کرام کا نصوص صریحہ کے مقابلہ میں اجتھاد کرنا ہے " اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حدود خدا پائمال ہوئے سنت رسول (ص) مٹ گئی صحابہ کے بعد پیدا ہونے والے ائمہ اور علما صحابہ کے اجتہاد پر قیاس کرنے لگے اور انتہا یہ ہوگئی کہ بعض اوقات اگر صحابہ کا فعل سنت نبوی بلکہ نص قرآنی سے ٹکرا گیا تو یہ لوگ اصحاب کے فعل کو حجت مانتے تھے اور سنت رسول ونص قرآنی کوچھوڑ دیتے تھے ،آپ اس کو مبالغہ نہ سمجھیں اسی کتاب میں عرض کرچکا ہوں کہ قرآن میں تمیم کے لئے نص صریح موجود ہونے اور سنت رسول مین اس کے ثابت ہونے کے باوجود اصحاب نے خود رائی سے کام لیا اور کہدیا کہ اگر پانی نہ ملے تو نماز چھوڑ دو اور عبداللہ بن عمر نے اس اجتہاد کو صحیح ثابت کرنے کیلئے ایک علت بیان کردی جس کو ہم اسی کتاب میں کسی دوسری جگہ ذکر کرچکے ہیں
اصحاب میں میں جس نے سب سے پہلے باب اجتہاد کو پاٹوں پاٹ کھولا ہے وہ خلیفہ ثانی ہیں جنھوں نے وفات رسول کے بعد قرآنی نصوص کے مقابلہ میں اپنی رائے استعمال فرمائی ہے چنانچہ قرآن نے مستحقین زکات کی آٹھ قسموں میں ایک قسم مولفۃ القلوب کی رکھی ہے لیکن حضرت عمر نے مولفۃ القلوب کا حصہ یہ کہہ کر ختم کردیا کہ ہم کو تمہاری ضرورت نہیں ہے "
اور نصوص نبوی کے مقابلہ میں اجتہاد اتنے زیادہ کئے ہیں کہ ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ حضرت تو خود پیغمبر (ص) کی زندگی میں کئی مرتبہ آپ ہی سے ٹکرائے گئے تھے صلح حدیبیہ اور مرض الموت میں قلم ودوات کا نہ دینا اورحسبنا کتاب اللہ کہدینے کا تذکرہ میں اسی کتاب میں کرچکا ہوں ۔ لیکن یہاں پر ایک دوسرا واقعہ نقل کرنا چاہتا ہوں ، اور شاید اس سے عمر کی نفسیات کا مزید اندازہ ہوسکے کہ اس شخص نے جیسے طے کر رکھا تھا ، کہ سر کار رسالت سے مجادلہ ،معارضہ ،مناقشہ ضرور کروں گا ۔ واقعہ یہ ہے کہ رسولخدا (ص) نے ابو ہریرہ کو یہ کہہ کر
بھیجا کہ تمہاری ملاقات جس شخص سے ہو اور اس کو دیکھو کہ (زبان سے )لا الہ الا اللہ کہہ رہا ہو اور دل سے اس کا یقین بھی رکھتا ہو تو تم اس کو جنت کی بشارت دیدو ۔ ابو ہریرہ نکلے اور (اتفاق سے )عمر سے ملاقات ہوگئی ۔ عمر نے پورا واقعہ سن کر ان کو روکا کہ یہ نہ کرو اور اتنی دھنائی کی کہ ابو ہریرہ چوتڑوں کے بھل زمین پر گر پڑے اور پھر روتے ہوئے رسول خدا(ص) کی خدمت میں پہونچے اور پورا ماجرا سنایا ۔رسول (ص) نے عمر سے کہا تم نے یہ کیوں کیا ؟ عمر نے کہا " کیا آپ نے اس کو بھیجا تھا کہ جو شخص دل سے یقین رکھتے ہوئے زبان سے لا الہ الا اللہ کہے اس کویہ جنت کی بشارت دیدے ؟ رسول (ص) نے فرمایا : ہاں ! عمر نے کہا ایسا مت کیجئے مجھے ڈر ہے لوگ صرف لا الہ الا اللہ ہی پر بھروسہ کرنے لگے گے ! اور حضرت عمر کے صاحبزادے کو یہ خطرہ تھا کہیں لوگ تمیم پر بھروسہ نہ کرلیں اس لئے وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے : احتلام کے بعد پانی نہ ملے تو نماز چھوڑ دیا کرو ۔۔کاش یہ لوگ نصوص کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتے اپنے عظیم اجتہاد سے اس کو بد لنے کی کوشش نہ کرتے جس کے نتیجہ میں شریعت کو مٹادیا ،حرمات الہی کو بیکار کردیا ، امت مسلمہ کو متعدد مذاہب ،مخلتف آراء اور فرقوں میں بانٹ دیا ۔
عمر کی متعدد مقامات پر رسول اور سنت رسول کی مخالفت کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ رسول کو معصوم نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک عادی انسان سمجھتے تھے جو کبھی غلطی کرتا ہے اور کبھی حق تک پہونچ جاتا ہے اور یہیں سے اہل سنت والجماعت کے علماء کا یہ عقیدہ ہوگیا کہ رسول اللہ صرف تبلیغ قرآن میں معصوم تھے اس کے علاوہ دیگر امور میں دیگر انسانوں کی طرح خطا کرتے تھے اور اس عقیدہ پر دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے کئی مرتبہ ان کی رائے کی غلطی کی اصلاح کی ۔
جب رسول (ص) کا یہ عالم تھا ۔۔۔جیسا کہ بعض جاہل لوگ روایت کرتے ہیں ۔۔۔کہ آپ اپنے گھرمیں چت لیٹے ہوئے تھے ۔ اور شیطان کی بانسری سن ر ہے تھے اور عورتیں دف بجارہی تھیں اور شیطان کھیل رہا تھا کہ اتنے میں عمر گھر میں داخل ہوئے (ان کو دیکھتے ہی ) شیطان بھاگا اور جلدی جلدی عورتوں نے دفوں کو اپنے اپنے چوتڑوں کے نیچے چھپالیا ، تو رسول خدا نے فرمایا : اے عمر جب شیطان تم کو دیکھتا ہے کہ تم ایک گھاٹی سے جارہے ہو تو وہ دوسری گھاٹی سے راستہ طے کرتا ہے تو پھر اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے
کہ دین کے معاملات میں عمر اپنی ذاتی رائے رکھتے ہوں اور اپنے کو اس قابل سمجھتے ہوں کہ سیاسی امور میں بلکہ دینی امور میں بھی رسول خدا سے معارضہ کرسکیں جیسا کہ ابو ہریرہ کا واقعہ شاہد ہے ۔
نصوص کے مقابلہ میں ذاتی رائے کے استعمال کرنے اور اجتہاد کرنے کے نظر یہ سے صحابہ کے اندر ایک مخصوص جماعت پیدا ہوگئی تھی جس کی قیادت عمربن خطاب کرتے تھے ۔ اور یہی وہ جماعت تھی جس نے واقعہ قرطاس پر حضرت عمر کی بھرپور تائید کی تھی ،حالانکہ عمر کی رائے نص صریح کے مقابلہ میں تھی ، اور اسی سے ہم یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہیں کہ اس جماعت نے نص غدیر کو ایک سیکند کے لئے بھی قبول نہیں کیا تھا ، جس میں رسول خدا نے حضرت علی (ع) کو خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے نامزد کیا تھا ، اور یہ لوگ موقعہ کی تلاش میں تھے چنانچہ وفات نبی کے بعد یہ موقعہ ان کو مل گیا اور سقیفہ کے اندر ابو بکر کا انتخاب اسی نظریہ اجتہاد کا نتیجہ تھا ۔ اورجب ان کی حکومت مضبوط ہوگئی اورخلافت کے سلسلہ میں لوگوں نے رسول کے نصوص کو فراموش کردیا ان لوگوں نے ہر چیز میں اجتہاد کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ کتاب خدا بھی ان کے زد سےنہ بچ سکی اور انھوں نے حدود الہی کو معطل کرنا احکام الہی کو مبدل کرنا شروع کردیا ، اسی کے نتیجہ میں حضرت علی (ع) کا حق غصب کرلینے کے بعد جناب فاطمہ (س) کا تکلیف دہ مسئلہ پیش آیا اور اس کے بعد مانعین زکات کا مسئلہ درپیش ہوا یہ سب نصوص کے مقابلہ میں اجتھاد کا نتیجہ تھا ۔ اور پھر عمر کی خلافت اسی اجتہاد کاحتمی نتیجہ تھی ، کیونکہ ابو بکر نے اپنی ذاتی رائے استعمال کرکے اس شوری کو بھی ختم کردیا جس کے سہارے اپنی خلافت کی صحت پر استدلال کرتے تھے ، اورجب جب عمر تخت خلافت پر بیٹھے تو انھوں نے مٹی کو اور بھی گیلا کردیا جس چیز کو خدا اور رسول (ص) نے حرام(1) قراردیا تھا انھوں نے اس کو حلال کردیا اور جس کو خدا اور رسول نے حلال قراردیا تھا اس کو حرام کردیا(2)
اور جب حضرت عثمان کا دور آیا تو انھوں نے حدکردی اور اپنے سے پہلے والوں سے چار قد م آگے
--------------
(1):- جیسے ایک ہی وقت میں تین طلاق کا جائز کردینا ملاحظہ وہ صحیح مسلم باب الطلاق الثلاث ،سنن ابی داود ج 1ص 344
(2):- جیسے متعہ الحج اور متعۃ النساء کو حرام کردینا ملاحظہ ہو صحیح مسلم کتاب الحج ،صحیح بخاری کتاب الحج باب التمتع
ہی چلے گئے ،سیاسی ودینی زندگی میں انھوں نے اجتہاد ات کے وہ کرشمے دکھائے کہ ان کے خلاف عام بغاوت ہوگئی اور اس اجتہاد کی قمیت زندگی دے کرچکائی
اور پھر جب حضرت علی (ع) کا دور آیا تو لوگوں کو سنت رسول کی طرف اور قرآن کی طرف پلٹانے میں بڑی زحمتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ آپ نے چاہا کہ ان بد عتوں کوختم کردیا جائے جو دین میں داخل کر دی گئی ہیں ، لیکن بعض لوگوں نے چیخنا شروع کردیا "واسنۃ عمراہ" (ہائے عمر کی سنت ختم کی جارہی ہے) مجھے یقین ہے اور میرا عقیدہ ہے کہ جن لوگوں نے حضرت علی کی مخالفت کی اور ان سے امادہ پیکار ہوئے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ لوگوں کو صحیح راستہ پر لانا چاہتے تھے اور ان نصوص صحیحہ کا پیرو بنانا چاہتے تھے اور ایک چوتھائی صدی تک دین میں جن بدعتوں کا اضافہ کیاگیا تھا اور جو اجتہادات کئے گئے تھے ان کا خاتمہ کردینا چاہتے تھے ا س لئے لوگوں نے مخالفت شروع کردی، کیونکہ لوگوں نے عموما اور دنیا پرستوں نے خصوصا اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس لئے یہ لوگ مال خدا کو ذاتی جائداد بنانے اور اللہ کے بندوں کوغلام بنانے سونے چاندی کاڈھیر لگانے کمزوروں کے معمولی حقوق تک نہ دینے کے عادی ہوچکے تھے ،
ہم نے یہ دیکھا کہ مستکبرین ہر زمانہ میں خود رائی کی طرف مائل تھے اور اس کیلئے ڈنکا پیٹتے تھے تاکہ ہر طریقہ سے اپنا الو سیدھا کریں ۔لیکن نصوص ۔۔۔خواہ وہ قرآنی ہوں یا رسول کی ہوں ۔۔۔۔ ان کے اور ان کے مقاصد کے درمیان پہاڑ بن کر حائل ہوجاتے تھے ۔
اس کے علاوہ ہر عصر ومصر میں ایسے اجتھاد کے انصار ومددگار بھی پیدا ہوجاتے ہیں بلکہ مستضعفین بھی ایسے اجتہاد کو پسند کرتے ہیں ، کیونکہ اس میں سہولت وآسانی ہے اور نص میں پابندی وعدم حریت ہوتی ہے اس لئے سیاسی حضرات اس کو "حکم ثیو قراطی"یعنی خدائی حکم کہتے ہیں اور اجتہاد میں کسی قسم کی قید وبند نہیں ہوتی اسمیں حریت ہوتی ہے اس لئے اس کو "حکم دیمقراطی" یعنی جمہوری کہتے ہیں ۔ پس سقیفہ میں جمع ہونے والےحضرات نے "حکومت ثیوقراطیہ " کو جس کی بنیاد رسول اسلام نے نصوص قرآنی پر رکھی تھی ، حکومت دیمقراطیہ سے بدل دیا ،جس میں پبلک جس کو مناسب سمجھے اس کو قائد چن لے حالانکہ صحابہ کلمہ
دیمقراطیہ کو تو جانتے ہی نہ تھے کیونکہ یہ عربی نہیں ہے اس کی جکہ نظام شوری کو جانتے وپہچانتے تھے(1) ۔ آج جو لوگ نصی خلافت کو نہیں مانتے وہ نظام دیمقراطی کے علمبردار ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں سب سے پہلے اسلام نے اس نظام کو جاری کیا ہے ۔ یہی لوگ اجتہاد وتجدید کے نعرے لگاتے ہیں اور یہ لوگ بڑی حد تک مغربی نظام سے قریب ہیں ، اسی لئے مغربی حکومتیں ان لوگوں کی بڑی تعریفیں کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ درحقیقت یہی لوگ ترقی پسند مسلمان ہیں ۔
لیکن شیعہ حضرات حکومت ثیوقراطیہ کے قائل ہیں ( یعنی خدائی حکومت کے) اور یہ لوگ نص کے مقابلے میں اجتہاد کو قبول نہیں کرتے ۔ یہ لوگ حکومت ا لہی اور حکومت شورائی میں فرق کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک شوری کا نصوص سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اجتہاد وشوری صرف ان مقامات پر قابل قبول ہے جہاں پر قرآن یا رسول کی نص موجود نہ ہو ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جس خدا نے محمد (ص) کو رسول بنا کر بھیجا اسی نے ان کو حکم دیا "وشاورھم فی الامر "(پ 4 س 3 (آل عمران) آیت 159) اور ان سے (حسب دستور سابق)کا م کاج میں مشورہ کرلیا کرو۔۔۔۔لیکن جہاں تک قیادت بشر (امامت وخلافت )کا سوال ہے اس میں خدا کا حکم ہے" وربکم یخلق ما یشاء ویختار ما کان لهم الخیرة "( پ 20س 28 (قصص) آیت 68) اور تمہار پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور( جسے چاہتا ہے ) منتخب کرتا ہے اور یہ انتخاب لوگوں کے اختیار میں نہیں ہے ۔ پس شیعہ چونکہ رسول خدا کے بعد حضرت علی کی امامت کے قائل ہیں اس لئے وہ نص سے تمسک کرتے ہیں اور اگر وہ صحابہ پر طعن کرتے ہیں تو صرف صحابہ پر جنھوں نے نص کو چھوڑ کر ذاتی رائے پر عمل کرنا شروع کردیا ، اور اس طرح حکم خدا اور رسول کو ضائع وبرباد کردیا اور اسلام میں اتنا بڑا شگاف پیدا کردیا جو آج تک پر نہ ہوسکا ۔ اور اسی لئے مغربی حکومتیں اور ان کے مفکرین شیعوں کو ناپسند کرتے ہیں اور ان کو متعصب ورجعت پسند کہتے ہیں ۔ کیونکہ شیعہ قرآن کی طرف رجوع کرنا چاہتے ہیں جو قرآن چور کے ہاتھ کاٹنے کا زانی کو رجم کرنے کا جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیتا ہے اور یہ ساری باتیں ان کی نظر میں
--------------
(1):-ویسے واقعہ یہ ہے کہ جمہوری نظام پر بھی انتخاب نہیں کیا گیا کیونکہ جن لوگوں نے ابوبکر کو چنا تھا وہ کسی بھی طرح عوام کے نمائندے نہ تھے
جنگی پن اور بربریت ہیں ۔
اس بحث کے درمیان میں بات کو اچھی طرح سمجھ گیا ، کہ دوسری صدی ہجری سے اجتہاد کا دروازہ سنیوں نے کیوں بند کردیا اس لئے کہ اسی اختہاد نے امت مسلمہ کو مصائب ،پریشانیوں ،ایسی خونی جنگوں میں مبتلا کردیا جس نے ہر خشک وتر کو تباہ کردیا ، اسی اجتہاد نے اس خیر امت کو ایسی پست قوم میں مبتلا کردیا ۔ جس میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے ۔جس پر قبائل نظام کی حکمرانی ہے جو اسلام سے پھر جاہلیت کیطرف پلٹ چکی ہے ۔البتہ شیعوں کے یہاں جب تک نصوص موجود ہیں اجتہاد کادروازہ بھی کھلا ہے کسی کو ان نصو ص میں تبدیلی کاحق نہیں ہے اور اس سلسلہ میں شیعوں کی سب سے زیادہ مدد ان بارہ اماموں نے کی ہے جو اپنے جد (رسول خدا ) کے علوم کے وارث تھے کیونکہ ان تمام ائمہ کی روش ایک تھی ،اور ان کہنا تھا : دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس میں خدا نے حکم نہ دیا ہو اور رسول نے اس کو بیان نہ کیا ہو (یعنی ان کے یہاں ذاتی راۓ کی گنجائش نہیں ہے)۔اور میں اس بات کو بی سمجھ گیا کہ جب اہل سنت والجماعت نے ان اصحاب کی اقتدا ء کی جو ایسے مجتہد تھے ۔ کہ جنھوں نے احادیث نبوی کو قلمبند کرنے سے روک دیا تھا ۔ تو غیاب نصوص کی صورت میں یہ لوگ رائے ،قیاس ، استصحاب پر عمل کرنے کیلئے مجبور ہوگئے ۔اور ان تمام باتوں سے یہ بھی سمجھ گیا کہ شیعہ علی بن ابی طالب ہی سے وابستہ رہے جو باب مدینۃ العلم تھے " اورجو لوگوں سے کہا کرتے تھے ۔ مجھ سے ہر چیز کے بارے میں پوچھ سکتے ہوکیونکہ رسول خدا نے مجھے علم کے ہزار بات تعلیم کردیئے ہیں اور ایک ایک باب سے ہزار ہزار بات میرے اوپر کھل گئے ہیں(1) ۔اور غیر شیعہ معاویہ ابن ابی سفیان سے چپک گئے جس کوسنت نبوی کا علم ہی نہیں تھا اگر تھا بھی تو بہت ہی کم ۔ اور یہی معاویہ جو باغی گروہ کا لیڈر تھا حضرت علی (ع) کی وفات کے بعد مومنین کا امیر بن بیٹھا اور دین خدا میں اپنی رائے پر اتنا زیادہ عمل کیا کہ اس کے پیشرو اس سے کہیں پیچھے رہ گئے اور اہلسنت حضرات فرماتے ہیں معاویہ کاتب وحی تھا ۔ اور علمائے مجتہدین میں سے تھا میری سمجھ میں بات نہیں آئی کہ جس نے امام حسن سید شباب اہل الجنہ کو
--------------
(1):- تاریخ دمشق ج 2 ص484 حالات حضرت علی ،مقتل الحسین (خوارزمی )ج 1 ص 38 ،الغدیر (امینی)ج 3 ص 120
زہر سے قتل کرایا ہو یہ لوگ اس کو کیونکر مجتہد مانتے ہیں ؟ شاید اس کا بھی جواب یہ لوگ دیں کہ یہ بھی اس کا اجتہاد تھا اس نے اجتہاد کیا مگر اس میں غلطی ہوگئی ۔۔۔۔
نہ معلوم یہ لوگ اس شخص کو کیونکر مجتہد کہتے ہیں جس نے امت سے ظلم وجبر کے ذریعہ اپنے لئے پھر اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کیلئے بیعت لی اور نظام شوری کو شہنشاہی میں بدل دیا ؟ جس شخص نے لوگوں کو حضرت علی اور ذریت مصطفی پر منبروں سے لعنت کرنے پر مجبور کیا ہو اور یہ سنت سئیہ ساٹھ سال تک جاری رکھی ہو اس کو یہ لوگ کیونکر مجتہد تسلیم کرکے ایک اجر کا مستحق قراردیتے ہیں ؟ اور اس کو کاتب الوحی کس طرح کہتے ہیں؟ ۔۔۔کیونکہ رسول اللہ پر 23 سال تک وحی نازل ہوتی رہی اس 23 سال میں 11 سال تک معاویہ مشرک رہا اور رسول خدا فتح مکہ کےبعد مکہ میں اقامت پذیر نہیں ہوئے اور معاویہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوا اس کے بعد کوئی ایسی روایت مجھے نہیں ملی کہ معاویہ نے مدینہ میں سکونت کی ہو پھر معاویہ کسی طرح کاتب وحی ہوگیا؟ لا حول ولا قوة الا با الله العلی العظیم
میں وہی پرانا سوال پھر دہراتاہوں کہ دونوں میں سے کون حق پر تھا اور کون باطل پر تھے ۔ اوریا پھر معاویہ اور اس کے پیروکار ظالم تھے اور باطل پر تھے حالانکہ رسول خدا نے دودھ کا دودھ پانی کا پانی الگ کردیا تھا ، اگرچہ بعض سنی جو مدعی سنت ہیں اس میں کج بحثی کرتے ہیں اور مجھ پر بحث کے دوران اور معاویہ کا دفاع کرنے والے حضرات سے گفت وشنید کرنے کے بعد یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ معاویہ اور اس کے پیروکار سنت رسول کے بہر حال پیرو نہیں تھے خصوصا اگر کوئی ان کے حالات پر مطلع ہوجائے تو اسے بھی اس کا یقین ہوجائے گا کیونکہ یہ لوگ شیعیان علی سے بغض رکھتے ہیں،۔ عاشور ہ کے دن عید مناتے ہیں ، جن اصحاب نے رسول خدا کو ان کی زندگی میں اذیت پہونچا کران کی زندگی اجیرن کردی تھی ، ان کا دفاع کرتے ہیں ان کی غلطیوں کو سراہتے ہیں ، ان کے اعمال کوجائز قراردیتے کی کوشش کرتے ہیں ۔
بھائی یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ حضرت علی اور اہلبیت کو بھی دوست رکھیں اور ان کے دشمنوں اور قاتلوں کو رضی اللہ بھی کہتے رہیں ؟ کیایہ ہوسکتا ہے کہ آپ خدا اور رسول کو بھی دوست رکھیں اورجو لوگ
خدا اور رسول (ص) کے احکام کوبدل دیتے ہیں اور احکام الہی میں اپنی رائے سے اجتہاد وتاویل کرتے ہیں انکا بھی دفاع کریں ؟
جو شخص رسول اللہ کا احترام نہ کریں بلکہ ان پر ہذیان کا اتہام لگائے آپ لوگ کیسے اس کا احترام کرتےہیں ؟ جو لوگوں کو اموی یا عباسی حکومت نے اپنے سیاسی اغراض کے پیش نظر امام بنایا ہو اس کی تو آپ لوگ تقلید کرتے ہیں ؟ اور جن کے اسماء(1) ۔ اور تعداد (2) تک کو رسول اللہ نے معین کرکے بتادیا ہو ان کو آپ چھوڑ دیتے ہیں ؟ آخر یہ کون سی عقلمندی ہے ؟ جو شخص نبی کی صحیح معرفت نہ رکھتا ہو اس کی تو تقلید کیجائے اورجو باب مدینۃ العلم ہو اور بمنزلئ ہارون ہوا سکو چھوڑ دیا جائے
--------------
(1):-صحیح بخاری ج 4 ص 164 ،مسلم ص 119 فی باب الناس تبع لقریش
(2):- ینا بیع المودۃ
میں نے تاریخ میں بہت ڈھونڈ ھا لیکن مجھے صرف اتنا ملا کہ جس سال معاویہ تخت حکومت پر بیٹھا سب نے مشفق ہو کر اس سال کا نام" عام الجماعت " رکھ دیا ۔واقعہ یہ ہے کہ عثمان کے قتل کئے جاسے کے بعد امت دوحصوں میں بٹ گئی (1) شیعیان علی (2) پیروان معاویہ اور جب حضرت علی شہید کردیئے گئے اور معاویہ نے امام حسن صلح کرلی اور معاویہ امیر المومنین بن گیا تو اس سال کا نام " عام الجماعۃ " رکھا گیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہل سنت والجماعت وہ جماعت ہے جو سنت معاویہ کی پیروی کرتی ہے اور معاویہ پر اجتماع کرتی ، اس کا مطلب رسول اللہ کی پیروی کرنے والی جماعت نہیں اسلئے ماننا پڑیگا کہ اہلبیت رسول ہی اپنے جد کی سنت کوسب سے زیادہ جاننے والے ہیں نہ یہ طلقاء ! اس لئے کہ گھر والے ہی گھر کی بات کو زیادہ جانتے ہیں اور مکہ والے ہی مکہ کی گھاٹیوں کو سب سے زیادہ جانتے ہیں ، لیکن ہم نے ائمہ اثنا عشر کی مخالفت کی جن کے رسول خدا نے نص کردی تھی ، اور بارہ اماموں کے دشمنوں کی ہم نے پیروی شروع کردی ۔
اور اس حدیث کے اعتراف کے باوجود جس میں رسول خدا نے بارہ12 خلیفہ کاذکر فرمایا ہے اور کہا ہے یہ سب کے سب قریش سے ہوں گے ۔ہم جب بھی خلفاء کا شمار کرتے ہیں ۔ چوتھے خلیفہ پرآکر ٹھہر جاتے ہیں ۔ اور شاید معاویہ نے ہم لوگوں کانام جو اہل سنت والجماعت رکھا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ حضرت علی وار اہل بیت کے لئے اس نے جو لعنت کی سنت جاری کی ہے اس پر لوگ مجتمع ہوجائیں اور معاویہ کی یہ سنت 60 سال تک جاری رہی عمربن عبدالعزیز کے علاوہ کوئی اس کو ختم نہیں کرسکا اسی لئے بعض مورخین کا بیان ہے کہ عبدالعزیز اگر چہ خود بھی اموی تھا لیکن بنی امیہ نے اس کے قتل کا پلان آپسی مشورہ سے تیار کرلیا تھا ، کیونکہ (اس نے سنت (یعنی حضرت علی پر لعنت ) کو ختم کردیا تھا
اے میرے خاندان والو! اے میرے گھر والو ہم کو تعصب چھوڑ کر حق کو تلاش کرنا چاہیئے ۔کیونکہ ہم بنی عباس کے بھینٹ چڑھائے ہوئے ہیں ہم بزرگوں کے جمود فکری کے شکار ہوئے ہیں ہم تو معاویہ ،عمر وعاص ،مغیرہ بن شعبہ جیسے چالاک ومکار لوگوں کی مکاری وچالبازی کے شکار ہوئے ہیں ۔۔۔ اپنی حقیقی اسلامی تاریخ کو تلاش کرو تاکہ روشن حقائق تک ہماری رسائی ہوسکے ۔خدا اس کا دہرا اجر دےگا ۔ہوسکتا ہے تمہارے ہی ذریعہ سے خدا ورسول اسلام کے بعد مصائب میں گرفتار امت مسلمہ کے افتراق کو اتفاق سے بدل دے یہ امت 73 فرقوں میں بٹ چکی ہے ممکن ہے تمہاری وجہ سے پھر ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردے ۔
آؤ آؤ ہم سب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور اتباع اہلبیت کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوکر امت مسلمہ کو متحد کرسکیں ۔ اہل بیت رسول وہ ہیں جن کی اتباع کا حکم رسول خدا نے ہم کو دیا ہے اور فرمایا ہے ، اہل بیت سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے ۔ اور ان سے پیچھے بھی نہ رہ جانا ورنہ ہلاکت تمہار ا مقدر بن جائے گی ۔ ان کو تعلیم دینے کی کوشش نہ کرنا یہ تم سب سے زیادہ عالم ہیں(1)
اگر ہم ایسا کریں گے تو خدا اپنی ناراضگی اور اپنے غضب کو ہم سے اٹھالے گا ۔اور خوف کے بعد ہمارے لئے امن قرار دے گا اور ہم کو زمین پر متمکن بنادےگا اور ہم کو زمین پر خلیفہ بنادےگا اور ہمارے لئے اپنے ولی الامام المھدی (عج) کو ظاہر کردے گا۔ جن کیلئے رسول اللہ (ص) نے ہم سے وعدہ کیا ہے ، وہ ظاہر ہو کر دنیا کو عدل ،انصاف سے اسی طرح پر کردیں گے جس طرح ہو پہلے ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ۔ اور انھیں کے ذریعہ پوری زمین میں خدا اپنے نور کو مکمل کرےگا ۔
--------------
(1):- الدر المنثور (سیوطی) ج 2 ص 60 اسد الغابہ ج 3 ص 127 الصوعق المحرقہ (ابن حجر) ص 148،226 ،ینا بیع المودۃ ص 41 و355 کنز العمال ج 1ص 168 مجمع الزوائد ج 9 ص 163
یہ تبدیلی میری روحانی سعادت کا سبب بنی کیونکہ میں نے نئے مذہب کے انکشاف یا اسلام حقیقی تک رسائی کی وجہ سے ضمیر کی راحت ودل کی فرحت کا احساس کیا اور خوشبو ں نے مجھے گھیر لیا اور خدا کی نعمت ہدایت ورشاد سے سرشار ہوگیا اور اب میرے دل میں جو خیالات تھے ان کے چھپانے پر میں کسی طرح قادر نہیں تھا ۔ چنانچہ میں نے اپنے دل میں کہا بمفاد آیۃ "واما بنعمۃ ربک فحدث " اپنے دل کی بات کا لوگوں سے بیان کرنا ضروری ہے اور یہ نعمت ایمان توبہت بڑی نعمت ہے دنیا وآخرت میں نعمت کبری کہلانے کی یہی مستحق ہے نیز حق بات نہ کہنے والا گونگا شیطان ہے اور حق کےبعد تو گمراہی کے سواکچھ نہیں ہے ان سب باتوں کو سوچتے ہوئے اظہار کرنا ضروری سمجھا اور جس بات نس اس حقیقت کو نشر کرنے کیلئے میرے شعور کو مزید یقین وپختگی بخشی وہ اہل سنت والجماعت کی اہل بیت سے دور تھی ، میں نے سوچا ہوسکتا ہے تاریخ نے ان کے ذہنوں پر جو حال بچھا رکھا ہے وہ پردہ اٹھ جائے اوریہ لوگ بھی حق کی پیروی کنے لگیں یہ میری شخصی وذاتی رائے تھی ۔"کذالک کنتم من قبل فمن الله علیکم "(پ 5 س 4 (نساء ) آیة 94 ) ( مسلمانو) پہلے تم خود بھی تو ایسے ہی تھے پھر خدانے تم پر احسان کیا (کہ تم بے کھٹکے مسلمان ہوگئے )
چنانچہ معہد میں جو چاراساتذہ میرے ساتھ کام کرتے تھے میں نے ان کو دعوت دی ، ان میں سے دوتو دینی تربیت دیتے تھے ، اور تیسرا زبان عربی کا استاد تھا اور چوتھا اسلامی فلسفہ کا استاد تھا اور یہ چاروں قفصہ کے نہیں تھے ، بلکہ ٹیونس ،جمال سوسہ کے رہنے والے تھے میں نے ان لوگوں سے کہا آپ لوگ اس عظیم موضوع پر مجھ سے بحث کیجئے میں نے انپر ہی ظاہر کیا تھا کہ میں بعض چیزوں کو سمجھ نہیں پایا ہوں اور اس سلسلہ میں بہت مضطرب وپریشان ہوں اس لئے آپ حضرات میری رہنمائی فرمائیں ۔سب نے
وعدہ کرلیا کہ چھٹی کےبعد میرے گھر پر آئیں گے میں نے ان کو کتاب "المراجعات"پڑھنے کو دیا کہ اس کتاب کا مولف عجیب وغریب باتوں کا دعوی کرتا ہے ان میں سے تین نے تو کتاب کو بہت پسند کیا ۔ لیکن چوتھے نے چارپانچ نشستوں کے بعد یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کرلی ، مغرب چاند پر کمند ڈال رہا ہے اورآپ لوگ ابھی تک خلافت اسلامیہ کےچکر میں الجھے ہیں ۔
ہم نے ایک ماہ کے اندر ابھی کتاب ختم بھی نہیں کی تھی کہ وہ تینوں شیعہ ہوگئے ، اس سلسلہ میں میں نے بھی حقیقت تک پہونچنے میں ان کی بڑی مدد کی کیونکہ دوران تحقیق میری معلومات کا فی وسیع ہوگئی تھیں اور میں ہدایت کامزہ چکھ چکا تھا ، اس کے بعد میں نے عادت بنائی کہ ہر مرتبہ قفصہ کے دوستوں میں سے اور مسجد میں دروس کہنے کہ وجہ سے لوگ مجھ سے رابطہ رکھتے تھے ان میں سے صوفیت کے رشتہ کی بنا پر جن لوگوں سے تعلقات استوار تھے ان میں سے اور بعض ان شاگردوں میں سے جو ہمہ وقت مجھ سے اتصال رکھتے تھے ،ان میں سے کسی نہ کسی ایک کو بلاتا رہتا تھا اور تبلیغ کرتا رہتا تھااور ابھی ایک سال ہی گزر ا تھا کہ ہماری تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ۔ ہم اہلبیت کو اور ان کے دوستوں کو دوست رکھتے تھے ، اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھتے تھے عیدوں میں خوشی مناتے تھے اور عاشورہ کو غم مناتے تھے مجلس کرتے تھے ، جب میں نے قفصہ میں پہلی مرتبہ محفل عید غدیر منعقد کی تو اسی کی مناسبت سے سب سے پہلا خط اپنے شیعہ ہوجانے کا السید الخوئی اور السید محمد باقر الصدر کو تحریر کیا اور میرا معاملہ خاص وعام کے نزدیک مشہور ہوچکا تھا کہ میں شیعہ ہوگیا ہوں ، اور آل رسول کے تشیع کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہوں اور پھر اسی کے ساتھ ساتھ میرے خلاف اتہامات والزمات کا سلسلہ بڑے زور وشور سے شروع ہوگیا ۔ مثلا میں اسرائیل کا جاسوس ہوں میرا کام ہی یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے دین کے معاملہ میں مشکوک بنادوں ،یا مثلا میں صحابہ کو گالیاں دیتا ہوں یا میں بہت بڑا فتنہ پرداز ہوں وغیرہ وغیرہ ۔
دارالسلطنت ٹیونس میں میں نے اپنے دوستوں راشد الغنوشی اور بعد الفتاح مورو سے اتصال پیدا کیا ان دونوں سے بڑی سخت بحث ہوئی ۔ ایک دن عبدالفتاح کے گھر بات کرتے ہوئے میں نے کہا مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے اوپر اپنی کتابوں کا پڑھنا ،تاریخوں کا مطالعہ کرنا واجب ہے
اور میں نے بطور مثال کہا جیسے بخاری میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کو نہ عقل قبول کرتی ہے نہ دین قبول کرتا ہے بس اتنا کہنا تھا کہ دونوں بھڑک اٹھے ،آپ کون ہیں بخاری پر تنقید کرنے والے ؟ اس کے بعد میں نے بہت کوشش کی کہ ان کو قانع کرکے پھر سے بحث کا سلسلہ شروع کروں لیکن ان لوگوں نے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کرلی : اگر تم شیعہ ہوگئے ہو تو ہم تو کسی قیمت پر شیعہ نہ ہوں گے ہمارے پاس اس سے زیادہ اہم کام ہیں ، ہم کو اس حکومت کا مقابلہ کرنا ہے جو اسلام پر عمل نہیں کرتی میں نے کہا اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ جب اقتدار تمہارے ہاتھ میں آجائے گا اور تم خود اسلام کی حقیقت کو نہ پہچانتے ہوگے تو اس سے بھی زیادہ کروگے ،مختصر یہ کہ ملاقات کا خاتمہ نفرت پر ہوا ۔
اس کے بعد تو ہمارے خلاف شدید قسم کے پروپیگنڈے شروع ہوگئے اور اس میں اخوان المسلمین کے وہ لوگ بھی شریک ہوگئے جو اسلامی تحریک کے رخ کو نہیں پہچانتے تھے چنانچہ متوسط قسم کے طبقہ میں انھوں نے میرے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ یہ شخص حکومت کا ایجینٹ ہے اور مسلمانوں کو ان کے دین میں مشکوک بنانا چاہتا ہے تاکہ مسلمان جو حکومت کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں اس سے غافل ہوجائیں ۔
اخوان المسلمین میں کام کرنے والے جوان اور صوفیت کاپرچار کرنے والے بوڑھے رفتہ رفتہ ہم سے الگ ہوگئے اورہم خود اپنے شہروں میں قبیلہ میں ، رشتہ داروں میں ، دوستوں میں اجنبی ہوکر رہ گئے اور یہ زمانہ بڑا سخت ہمارے اوپر گزرا ،لیکن خداوند عالم نے ہم کو ان کے بدلے میں ان سے اچھے لوگ دیدئیے چنانچہ دوسرے دوسرے شہروں سے جوان آنے لگے اور مجھ سے حقیقت کےبارے میں سوال کرنےلگے اور میں اپنی حد بھر انتہا سے زیادہ کوشش کرکے ان کم مطمئن کرنے کی کوشش کرتا رہا چنانچہ دارالسلطنت قیراوان ،سوسہ ، سید بو زید کے بہت سے جوان شیعہ ہوگئے اور میں اپنی گرمیوں کی تعطیلات منانے کیلئے عراق جاتے ہوئے یورپ سے بھی گزرا جہاں اپنے بعض دوستوں سے ملاقات کی جو فرانس یا ہا لینڈ میں تھے اور ان سے جب اس موضوع پر بات کی توہ لوگ بھی شیعہ ہوگئے ،الحمد لله علی ذلک
جب میں نے نجف اشرف جاکر سید محمد باقر الصدر کے گھر میں ان سے ملاقات کی اور اس جگہ کچھ دیگر علماء
بھی تھے تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور سید صدر نے مجھے آگے بڑھا کر سب سے متعارف کرانا شروع کیا کہ یہ ٹیونس میں تشیع کے بیج ہیں اور اسی کے ساتھ انھوں نے بتایا کہ جب ان کا پہلا خط عید غدیر کی محفل کے سلسلے میں میرے پاس آیا تو میں اتنا متاثر ہو ا کہ بیساختہ میری آنکھوں سےآنسو بہنے لگے تب میں نے ان سے شکایت کی کہ میرے خلاف پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں اور مجھے گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑگئی ہے اور یہ باتیں اب میرے برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہیں !
اس وقت سید نے اپنے کلام کے درمیان فرمایا : بھائی یہ زحمتیں تو تم کو برداشت کرنی ہوگی کیونکہ اہل بیت کا راستہ بہت دشوار وسخت ہے ایک شخص نے پیغمبر (ص) کے پاس آکر کہا میں آپ کو دوست رکھتا ہوں تو آنحضرت نے فرمایا " تم کو کثرت ابتلاء کی بشارت دیتا ہوں ،پھر اس نے کہا میں آپ کے ابن عم علی ابن ابی طالب(ع) سے بھی محبت کرتاہون تو رسول(ص) نے کہا" میں تجھ کو کثرت اعداء کی بشارت دیتاہوں ، پھر اس نے کہا ! میں حسن وحسین کوبھی دوست رکھتا ہوں تو فرمایا " پھر فقر اور کثرت بلاء کے لئے تیار ہوجاؤ ، ہم نے دعوت حق کے سلسلہ میں کیا پیش کیا ہے ؟ امام حسین علیہ السلام کو دیکھو انھوں نے دعوت حق کی قیمت اپنی ، اپنے اہل وعیال کی، ذریت وخاندان کی ، اصحاب وانصار کی قربانی پیش کرکے ادا کی ہے اور مرور زمانہ کے ساتھ شیعوں ن ےجو قربانیاں دی ہیں ،اور آج تک دیتے چلے آرہے ہیں ان کے مقابلہ میں ہم نے کیا کیا ؟ برادر اس قسم کی پریشانیوں اور راہ حق میں قربانی کی مشقت کاتحمل کرو ، اگر تمہارے ذریعہ سے ای آدمی ہدایت یافتہ ہوجائے تویہ تمہارے لئے دنیا ومافیھا سے بہتر ہے ،
اسی طرح سید نے مجھے نصیحت کی کہ گوشہ نشینی اختیار نہ کرو اورحکم دیا کہ برادران اہل سنت کے قریب رہو چاہے وہ تم سے کتنے ہی دور ہونے کی کوشش کریں تم ان سے قربت اختیار کرو ۔ نیز مجھے حکم دیا کہ ان کے ساتھ نماز جماعت پڑھوں تا کہ قطع تعلق نہ ہونے پائے کیونکہ یہ لوگ اپنے بزرگوں اور واہیات تاریخ کے قربان گاہ پر بھینٹ چرھادیے گئے ہیں ۔ اور لوگ جس سے واقف نہیں ہوتے اس کے دشمن تو ہوتے ہی ہیں
اسی طرح تقریبا السید الخوئی نے بھی مجھے نصیحت فرمائی اور سید محمد علی طباطبائی الحکیم نے بھی اسی قسم کی نصیحت کی اور برابر اپنے متعدد خطوط میں اس قسم کی نصیحتیں تحریر کرتے رہے جس کا اثر ہمارے نئے شیعہ بھائیوں پر بہت ہوا ، اس کے بعد مختلف مواقع پر نجف اشرف اور علمائے نجف کی زیارت سے مشرف ہوتا رہا اور میں نے اپنی جگہ طے کر لیا تھا کہ ہرقیمت پر ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں نجف اشرف میں گزارا کرونگا اور سید محم باقر الصدر کے دروس میں شرکت کیا کروں گا کیونکہ اس کے دروس سے میں سے کافی استفادہ کیاتھا ۔اسی طرح یہ بھی طے کر لیا تھا کہ بارہ اماموں کی زیارت بھی کروں گا چنانچہ خدانے میری تمنا پوری کردی ،یہاں تک کہ میں امام رضا کی زیارت سے بھی مشرف ہوا جن کامزار ایران کے ایک شہر مشہد میں ہے جو روس کی سرحدوں سے قریب ہے وہاں بھی میں نے بڑے علماء سے ملاقات کی اور استفادہ کیا ، سید خوئی جن کی میں تقلید کرتاہوں انھوں نے خمس وزکاۃ میں تصرف کا وکالتنامہ بھی دیا تاکہ اس سے شیعہ ہونے والے مسلمانوں کی کتابوں وغیرہ سے مدد کرتا رہوں اور میں نے ایک عظیم کتابخانہ بنا یا جس میں وہ اہم کتابیں بہر حال جمع کردیں جن کی ضرورت بحث کے وقت ہوتی ہے اس میں سنی وشیعہ دونوں کی کتابیں موجود ہیں اس کا نام " مکتبۃ اہل البیت (ع)" ہے اس سے بہت لوگوں نے استفادہ کیا ہے ،خداوند عالم نے میری خوشی کو دگنا اور میری سعادت کو اس وقت دگنا کردیا جب تقریبا پندرہ سال پہلے میں نے شہر قفصہ کے حاکم سے خواہش کی کہ جس سڑک پر میں رہتا ہوں اس کا نام " شارع الاما م علی " رکھ دیا جائے اور اس نے قبول کرلیا لہذا میں اس کا شکر گزار ہوں یہ حاکم حضرت علی طرف بہت جھکاؤ رکھتا ہے میں نے اس کو بطور تحفہ "المراجعات" بھی دی ۔خدا اس کو جزائے خیر دے اور اس کی تمنا پوری کرے لیکن بعض حاسدوں نے ا س بورڈ کو ہٹاناچاہا مگر خدانے ان کو ناکامیاب بنادیا ، اور اب دنیا کے ہر گوشہ سے میرے پاس جوخطوط آتے ہیں ان کے پتہ پر "شارع امام علی" لکھا ہوتا ہے اس مبارک نام سے ہمارے قدیم شہر کو بہت برکت عطا کی ، ائمہ معصومین او رعلمائے نجف کی نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے دیگر مسلمان بھائیوں سے عمدا قربت پیدا کرتا ہوں ، انھیں کے ساتھ جماعت پرھتا ہوں جس سے کھینچاؤ میں کافی کمی آگئی ہے اور جوانوں کو اپنی نماز وضو ،عقائد کے سلسلہ میں جب وہ سوال کر تے ہیں تو کافی حد تک مطمئن کردیتا ہوں ۔
جنوب ٹیونس کے کسی دیہات میں ایک شادی میں چند عورتیں آپس میں گفتگو کررہی تھیں کہ فلاں شخص کی بیوی جس کا یہ نام ہے وہ ۔۔۔۔۔اور ان عورتوں کے بیچ میں ایک بیٹھی ہوئی بوڑھی عورت ان کی گفتگو سن رہی تھی کہ فلاں کے ساتھ فلاں کی لڑکی کی شادی ہوگئی تو اس کو بہت تعجب ہوا ۔ عورتوں نے اس بوڑھی عورت سے پوچھا کہ تم کو اس پر تعجب کیوں ہورہا ہے؟ اس نے کہا میں نے دونوں کو دودھ پلایا ہے وہ آپس میں بہن بھائی ہیں ، پس پھر کیا تھا عورتوں نے اپنے اپنے شوہروں سے ذکر کیا اور جب مردوں نے تحقیق کی تو بات صحیح ثابت ہوئی ،لڑکی کے والد نے بھی اعتراف کیا اور لڑکے کے والد نے بھی کہا کہ اس بڑھیا نے دودھ پلایا ہے پھر تو دونوں قبیلوں میں قیامت آگئی اور وہ لاٹھی چلی کہ خدا کی پناہ ہر ایک دوسرے پر الزام لگارہا تھا کہ اس حادثہ کا سبب دوسرا ہے ، اور اب ان پر قیامت آئےگی خدا کا قہر نازل ہوگا ، مشکل اور اس لئے بھی بڑھ گئی تھی کہ شادی کو دس سال ہوچکے تھے اور تین بچے بھی پیدا ہوچکے تھے آخر ان کا کیا ہوگا ۔ عورت تو سنتے ہی اپنے باپ کے گھر بھاگ گئی۔ اور کھانا پینا چھوڑ دیا ،خودکشی پر آمادہ ہوگئی کیونکہ وہ یہ صدمہ نہیں برداشت کرسکی کہ اس نے اپنے بھائی سے شادی کرلی اور اس سے بچے بھی پیدا ہوگئے اور اس کو ذرہ برابر خبربھی نہ تھی مارپیٹ میں دونوں طرف کے لوگ زخمی ہوگئے خدا خدا کرکے ایک شیخ قبیلہ کے بیج بچاؤ کرنے پر لڑائی ختم ہوئی اور اس شیخ نے دونوں کو نصیحت کی کہ اس سلسلہ میں علماء سے رجو ع کرو ہوسکتا ہے وہ لوگ کوئی ایسا فتوی دیدیں جس سے مسئلہ کا حل مل جائے ۔ اب یہ لوگ آس پاس کے بڑے بڑے شہروں میں جا جا کر علماء سے سوال کرتے لیکن جب بھی کسی عالم سے ملاقات کرکے پورا قصہ سناتے تو وہ فورا شادی کو حرام کہہ دیتا اور میاں بیوی میں علیحدگی کرانے کا حکم دیتا کہ ان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے سے جدا کر دو ، ایک غلام آزاد کرو ۔ دومہینے کا مسلسل روزہ رکھو اسی قسم کے دیگر فتاوی سے پالا پڑتا ،
ہوتے ہوتے یہ لوگ قفصہ بھی پہونچے وہاں کے علما نے بھی وہی جواب دیا کیونکہ مالکی فرقہ کے یہاں ایک قطرہ دودھ پینے سے نشر حرمت ہوجاتی ہے اس لئے کہ امام مالک کا فتوی یہی ہے کیونکہ امام مالک دودھ کا قیاس شراب پر کرتے ہیں جیسے اگر کوئی چیز ایسی ہو کہ اس کے زیادہ مقدار استعمال کرنے سے نشہ پیدا ہوجاتا ہو تو اس چیز کی قلیل مقدار بھی حرام ہوجائےگی ، لہذا ایک قطرہ دودھ بھی نشر حرمت کا سبب ہوگا لیکن یہاں پر ایک شخص نے ان لوگون کو تنہائی میں چپکے سے میرا پتہ بتایا اور کہا: اس معاملہ میں تم لوگ تیجانی سے سوال کرو وہ ہرمذہب کو بہت اچھی طرح جانتا ہے میں نے خود دیکھا ہے کہ اس نے ان علماء سے کئی مرتبہ بحث ومناظرہ کیا اور ہر مرتبہ سب کو شکست دے دی۔
یہ باتیں مجھے شوہر نے اسو وقت بتائیں جب میں نے ان لوگوں کو اپنے کتب خانہ میں لے گیا اور انھوں نے پورا واقعہ شروع سے آخر تک تفصیل کے ساتھ مجھے بتایا اور اس نے کہا مولانا : میری بیوی خود کشی پر آمادہ ہے میرے بچے آوارہ ہورہے ہیں ، میرے پاس اس قضیہ کا کوئی حل نہیں ہے ، لوگوں نے آپ کا پتہ بتایا اور یہاں آکر جب میں نے اتنی کتابیں دیکھیں تو خوش ہوگیا کہ میرا مسئلہ حل ہوجائے گا کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں اتنی کتابیں کہیں نہیں دیکھیں۔
میں نے پہلے تو قہو ہ پیش کیا پھر پوچھا کہ تمہاری بیوی نے کتنی مرتبہ اس عورت کا دودھ پیا تھا اس نے کہا یہ تو میں نہیں جانتا لیکن میری بیوی نے دو یا تین مرتبہ دودھ پیا ہے اور اس کے باپ نے بھی یہی بتایا ہے کہ وہ دو تین مرتبہ اپنی بیٹی کو اس بڑھیا کے پاس دودھ پلانے کیلئے لےگیا تھا ، اس پر میں نے کہا اگر یہ بات صحیح ہے تو شادی درست ہے ۔ وہ بیچارہ دوڑ کر میرے قدموں پر گر پڑا کبھی میرا سر چومتا کبھی میرا ہاتھ چومتا اور کہتا جات خدا آپ کو نیکی عطا کرے آپ نے میرے لئے سکو ن کا دروازہ کھول دیااور پھر جلدی سے اٹھ کر بھاگا نہ مجھ سے سوال کیا وار نہ قہوہ ہی ختم کیا اور نہ مجھ سے دلیل پوچھی جانے کے لئے اجازت لی تاکہ جلدی سے اپنی بیوی اور بچوں اور قبیلہ والوں کو یہ خبر سنائے ،
لیکن وہ دوسرے دن ساتھ آدمیوں کو لے کر میرے پاس آیا اور سب کو میرے سامنے کرتے ہوئے ہر ایک کا تعارف کرانے لگا ۔یہ میرے والد ہیں ، یہ میری زوجہ کے والد ہیں ، یہ دیہات کے سردار ہیں ۔ یہ امام جمعہ
جماعت ہیں ۔ یہ دینی مرشد ہیں ، یہ شیخ عشیرہ ہیں ، یہ مدیر مدرسہ ہیں یہ سب کے سب میرے پاس رضاعت کے مسئلہ کے سلسلہ میں آئے تھے کہ آپ نے اس کو کیونکر حل فرمایا ؟ میں سب کو کتب خانہ میں لیکر آیا اور مجھے امید تھی کہ یہ سب مجھ سے جھگڑا کرینگے ، میں نے سب کو قہوہ پیش کیا اور مرحبا کہا : ان لوگوں نے کہا ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں کہ جب رضاعت کو قرآن نے حرام کیا ہے تو آپ نے کیسے اس کو حلال کردیا؟ اور رسول نے فرمایا ہے : جو چیزیں نسب سے حرام ہوتی ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتی ہیں اور امام مالک نے بھی حرام قراردیا ہے !
میں :- میرے بزرگ آپ آٹھ آدمی ہیں اور میں اکیلا ہوں اگر میں سب سے بحث کروں تو شاید سب کو قانع نہ کرپاؤں اور سارا وقت بحث ومناظرہ کے نذر ہوجائے اس لئے آپ اپنے میں سے ایک کو منتخب کرلیں وہ مجھ سے مناظرہ کرے اورآپ سب حکم ہوجائیں ،آپ کا فیصلہ دونوں کو تسلیم کرنا ہوگا ۔ سب نے میری تجویز پسند کیا اور مرشد دینی کا انتخاب اس لئے ہوا کہ وہ سب سے زیادہ اعلم واقدر (قدرت رکھتے)ہیں۔
مرشد:- جس چیز کو خدا ورسول وائمہ نے حرام قراردیا ہے آپ نے کس دلیل سے اسکو حلال قراردیا ہے ؟
میں :- اعوذ باللہ ! بھلا میں ایسا کرسکتا ہوں ؟ قصہ یہ ہے کہ خدانے رضاعت کی آیت کومجمل اتارا ہے اس کی تفصیل نہیں بیان کی ہے بلکہ تفصیل رسول کے حوالہ کردی ہے اور انھوں نے کیف وکم کے ساتھ مقصد کو واضح کردیا ہے ۔
مرشد:- امام مالک ایک قطرہ سےبھی نشر حرمت کے قائل ہیں ۔
میں :- جی ہاں ! میں جانتا ہوں لیکن امام مالک تمام مسلمانوں کیلئے حجت نہیں ہیں ورنہ آپ دوسرےائمہ کو کیا کہیں گے ؟
مرشد :- خدا ان تمام ائمہ سے راضی اور ان کو بھی راضی کرے یہ سب کے سب رسول خدا کی بات کہتے ہیں
میں :- آپ خد ا کے سامنے کون سی حجت پیش کریں گے اس بات پر کہ آپ امام مالک کی تقلید کرتے ہیں اور ان کی رائے نص رسول کے خلاف ہوتی ہے ؟
مرشد:- انھوں نے حیرت سے کہا سبحان اللہ !
میں یہ نہیں مان سکتا کہ امام مالک جو امام دارالہجرہ ہیں وہ نصوص نبویہ کی مخالفت کرتے ہیں حاضرین کو بھی تعجب ہوا تھا اور انھوں نے میری اس جراءت کو بہت ہی عجیب وغریب سمجھا کیونکہ مجھ سے پہلے کسی نے ایسا ریمارک امام مالک پر نہیں کیا تھا میں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کیا امام مالک کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے؟
مرشد:- مرشد نے کہا نہیں !
میں :- میں نے کہا کیا ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے ؟
مرشد:- کہا ! نہیں بلکہ وہ تبع تابعین میں سے ہیں ۔
میں :- میں نے پھر کہا حضرت علی اور امام مالک میں کون زیادہ قریب ہے ؟
مرشد:- حضرت علی کیونکہ وخلفائے راشدین میں سے ہیں !حاضرین یمں سے ایک صاحب بولے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ باب مدینۃ العلم ہیں ، میں نے کہا :پھر آپ نے باب مدینۃ العلم کو چھوڑ کر ایسے شخص کی تقلید کیوں کی جواز صحابہ میں سے ہے نہ تابعین میں سے بلکہ جس کی ولادت فتنہ کے بعد ار لشکر یزید کے ذریعہ مدینۃ رسول کے تاراج ہونے کے بعد ہوئی ہے یزید کے لشکر والوں نے جو کچھ کرنا تھا کیا ،بہترین صحابہ کو قتل کردیا ، ہتک حرمت الہی کی خود ساختہ بدعت جاری کرکے سنت رسول کو بدل دیا ، اب آپ خود ہی سوچئے ان تمام حالات کے بعد ان ائمہ سے انسان کیونکر مطمئن ہوسکتا ہے ۔جو ظالم حکومت کے منظور نظر تھے اور حکومت کی مرضی ےک مطابق فتوی دیا کرتے تھے ۔
ایک شخص:- اتنے میں ایک شخص بولا : میں نے سنا ہے آپ شیعہ ہوگئے ہیں اور حضرت علی کی عبادت کرتے ہیں ؟ اتنا سنتے ہی اس کے بغل میں بیٹھے ہوئے آدمی نے اس کو ایسا گھونسا مارا جس سے اس کو کافی تکلیف پہنچی اور کہاچپ ہوجا ؤ تم کو شرم نہیں آتی کہ ایسے فاضل شخص کے بارے میں ایسی بات کرتے ہو، میں نے بہت سے علما ء کو دیکھا ہے لیکن ابی تک میں نے کسی عالم کے پاس اتنا بڑا کتابخانہ نہیں دیکھا ، یہ شخص جو بات بھی کہہ رہا ہے بہت اعتماد وبھروسے اور اطمینان سے کہہ رہا ہے ۔میں :- میں نے فورا اس کو جواب دیا جی ہاں ! یہ صحیح ہے کہ میں شیعہ ہوں ،لیکن شیعہ حضرت علی کی پرستش نہیں کرتے بلکہ وہ امام مالک کے عوض حضرت علی کی تقلید کرتے ہیں جنکو آپ لوگ بھی باب مدینۃ العلم
کہتے ہیں ۔
مرشد:- کیاحضرعلی ایک عورت سے دوبچوں کی رضاعت کےبعد دونوں کی آپس میں شادی کو حلال کہتے ہیں ؟
میں :- نہیں ایسا تو نہیں کہتے لیکن وہ فرماتے ہیں : جب رضاعت پندرہ مرتبہ ہوا ہو اور بچہ ہر مرتبہ سیر ہوکر پئے اور پندرہ مرتبہ متواتر پئے درمیان میں کسی دوسری عورت کا دودھ نہ پئے تو حرام ہے ۔ پھر اتنا دودھ پیئے کہ اس سے گوشت وپوست اگ آیئں اتنا کہتے ہی زوجہ کے باپ کا چہرہ کھل اٹھا اور اس نے فورا کہا : الحمداللہ!
میری بیٹی نے تو صرف دو یاتین مرتبہ دودھ پیا ہے اور حضرت علی کے اس قول سے ہم ہلاکت سے بچ سکتے ہیں ان کا قول ہمارے لئے رحمت ہے ہم تو مایوس ہوچکے تھے ۔
مرشد:- اس پر دلیل پیش کیجئے تاکہ ہم مطمئن ہوسکیں ،میں نے السید الخوئی کی منھاج الصالحین پیس کردی اس نے خود باب رضاعت سب کو پڑھ کر سنا یا وہ لوگ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے خصوصا شوہر تو بہت ہی خوش تھا ۔ کیونکہ اس کو دڑ تھا کہ شاید میرے پاس کوئی ایسی دلیل نہ ہو جو ان کو مطمئن کرسکے ، ان لوگوں نے مجھ سے عاریتا کتاب مانگی تاکہ دیہات والوں کے سامنے حجت پیش کرسکیں میں نے کتاب دیدیا اور وہ لوگ مجھ سے رخصت ہوکر دعا دیتے ہوئے اور معذرت کرتے ہوئے چلے گئے میرے گھر سے نکلتے ہی میرا ایک دشمن ان لوگوں سے ملا اور ان لوگوں کو لیکر بعض علماۓ سوء کے پاس چلا گیا ،بس پھر کیا تھا ، سبھوں نے ان لوگوں کوڈرانا شروع کردیا کہ میں اسرائیل کا ایجنٹ ہوں اور منھاج الصالحین گمراہ کن کتاب ہے ،اہل عراق سب اہل کفر ونفاق ہیں ، شیعہ مجوسی ہیں یہ لوگ بہنوں سے نکاح جائز سمجھتے ہیں اس لئے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے جو میں نے نکاح کو جائز قرار دیا ہے اسی قسم کے پروپیگنڈے کرنے لگے اور ان لوگوں کواتنا ڈرایا کہ دوپھر پلٹ گئے اور مطمئن ہوجانے کے بعد منقلب ہوگئے اور شوہر کو مجبور یا کہ قفصہ کے ابتدائی عدالت کے محمکہ طلاق میں اس قضیہ کو پیش کرے پھر رئیس محمکہ نے کہا آپ لوگ دار السلطنت جائیں اور مفتی الجمہوریہ سے ملیں تاکہ وہ مسئلہ کا حل تلاش کریں ،چنانچہ شوہر ٹیونس گیا اور ایک ماہ وہاں
قیام پذیر رہا تب مفتی صاحب سے ملاقات ہو پائی اور شروع سے لے کر آخر تک اس نے پورا قصہ مفتی صاحب کو سنا ڈالا ، مفتی صاحب نے پو چھا وہ کون سے علما ء جنھوں نے اس شادی کو حلال بتایا ہے اور صحیح کہا ہے ،شوہر نے کہا سب نے ہی حرام بتایا ہے صرف ایک شخص تیجانی سماوی ہے جوحلال کہتا ہے مفتی صاحب نے میرا نام لکھ لیا اور شوہر سے کہا : تم واپس جاؤ میں عنقریب قفصہ کے رئیس محکمہ کو خط لکھوں گا ۔
پھر مفتی الجمہوریہ کاخط آیا اور شوہر کے وکیل کومطلع کیاگیا اس وکیل نے شوہر کو مطلع کردیا کہ مفتی جمہوریہ نے اس شادی کو حرام قراردے دیا ہے ،یہ سارا قصہ مجھ سے شوہر آکر بتایا جو بہت کمزور ہوچکا تھا تھکن کے آثار اس کے چہرے سے ظاہر تھے اس نے مجھ سے بہت معذرت کی کہ میری وجہ سے آپ کوبڑی پریشانی ہوئی ۔ میں نے اس کے جذبات کو سمجھ کر اس کا شکریہ ادا کیا اور مجھے بہت زیادہ تعجب ہوا کہ مفتی جمہوریہ نے اس عقد کو باطل کردیا ، میں نے شوہر سے کہاتم مجھے وہ خط لاکر دو جو مفتی جمہوریہ نے محکہمہ کو لکھا ہے تاکہ میں ٹیونس کے اخباروں میں اس کو شائع کراؤں اور لوگوں کو بتاؤں کہ مفتی الجمہوریہ اسلامی مذاہب سے ناواقف ہے اور رضاعت کے بارے میں علماء کا کیا فقہی اختلاف ہے اس کو وہ نہیں جانتا لیکن شوہر نے کہا مجھے تو پورے حالات معلوم ہوسکتے خط کا لانا تو بہت دشوار ہے یہ کہہ کر وہ میرے پاس سے چلا گیا ۔
چند دنوں بعد رئیس محکمہ کا ایک حکم میرے پاس آیا کہ تم وہ کتابیں اور دلیلیں لیکر میرے پاس حاضر ہو اور ثابت کرو کہ وہ شادی کیون کر باطل نہیں ہے؟ میں نے پہلے ہی سے چند مدارک جمع کررکھے تھے اور ہر کتاب میں رضاعت کی بحث کے اندر ایک نشانی رکھ دی تھی تاکہ میں آسانی ہوچنانچہ میں تاریخ معین پر ٹھیک وقت پر عدالت پہنچ گیا ۔ کاتب الرئیس نے میرا استقبال کیا کاور مجھے رئیس کے کمرہ میں پہونچادیا دفعۃ میں نے وہاں محمکمہ ابتدائیہ کے رئیس ،محکمہ ناحیہ ےک رئیس ،جمہور کے وکیل کو دیکھا اور ان کے ساتھ تین ارکار کو دیکھا سب کے سب قضاوت کے مخصوص لباس میں تھے معلوم یہ ہورہا تھا جیسے یہ لوگ کسی قانونی جلسہ میں شرکت کیلئے آئے ہو ۔اور پھر میری نظر کمرے کے آخر میں پڑی تو دیکھا ایک گوشہ
میں شوہر بھی بیٹھا ہوا ہے ۔ میں نے پہنچتے ہی سب پر سلام کیا سب ہی میری طرف بڑی ترچھی نظروں سے دیکھ رہے تھے بلکہ حقارت کی نظر سے دیکھ رہے تھے جب میں بیٹھ گیا تورئیس نے بڑے سخت لہجہ یمں مجھ سے کہا : کیا تم تیجانی سماوی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں !
رئیس:- کیا تم نے اس شادی کے مسئلہ میں جواز کا فتوی دیا ہے ؟
میں :- میں مفتی نہیں ہوں لیکن ائمہ نے اور علما ئے مسلمین نے اس شادی کی حلیت وصحت کا فتوی دیا ہے
رئیس:- اسی لئے ہم نے آپ کو بلایا ہے اور آپ اس وقت ملزم ہیں اگر آپ نے اپنے دعوی کو دلیل سےثابت نہ کیا تو ہم آپ کو قید کردیں گے اور آپ یہاں سے سیدھے قید خانہ جائیں گے اس وقت میں سمجھا کہ سردست تو میں ملزم کے کٹہرے میں ہوں اس وجہ سے نہیں کہ میں نے ایک قضیہ میں فتوی دیا ہے بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ تھی کہ بعض علمائے سو ء نے ان احکام سے چغل خوری کی تھی کہ میں صاحب فتنہ ہوں صحابہ کو گالیاں دیتاہوں ۔ شیعیت کی ترویج کرتاہوں اور رئیس محکمہ نے ان سے کہہ دیا تھا کہ اگر دو گواہ اس کے خلاف پیش کردو تو میں اس کو جیل میں سڑادوں گا اسی کے ساتھ ساتھ اخوان المسلمین والوں نے اس فتوی کو حضرت عثمان کا کرتا بنایا لیا تھا ۔اور ہر خاص وعام تک یہ خبر پہونچادی تھی کہ میں بھائی بہن کے نکاح کو جائز سمجھتاہوں ،اور شیعوں کا یہی عقیدہ ہے یہ باتیں مجھے پہلے سے معلوم تھی کہ لیکن جب رئیس محکمہ نے مجھے قید کی دھمکی دی تو مجھے یقین ہوگیا اور اب میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ میں چلینچ کرکے بہادری کے ساتھ اپنا دفاع کروں ،۔میں :- چنانچہ میں نے کہا: کیا میں بغیر کسی خوف کے صراحت کے سا تھ گفتگو کرسکتاہوں ؟
رئیس:- ہاں تم گفتگو کرسکتے ہو کیونکہ تمہارا کوئی وکیل نہیں ہے ،
میں سب سے پہلے تو میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں میں نے اپنے کو بعنوان مفتی نہیں پیش کیا ہے ۔لڑکی کا یہ شوہر آپ کے سامنے موجود ہے آپ اس سے پوچھ سکتے ہیں ۔یہی شخص میرے پاس آیا میرے دروازے کوکھٹکھٹایا مجھ سے سوال کیا اس لئے میرا فریضہ تھا جو میں جانتا ہوں اس کو بتادوں میں نے اس سے پہلے ہی پوچھا تھا کہ کتنی مرتبہ دودھ پیا ہے ؟ اس نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی نے صرف دو ،تین
مرتبہ دودھ پیا ہے تب میں نے اس کو اسلام کا مسئلہ بتادیا ۔
رئیس :- اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اسلام کو جانتے ہیں اور ہم لوگ جاہل ہیں ،۔
میں :- استغفراللہ! میرایہ مطلب نہیں ہے چونکہ یہاں کا ہر شخص امام مالک کا فتوی جانتا ہے اس کے آگے کچھ نہیں اور میں نے چونکہ تمام مذاھب کو کھنگا لاہے اس لئے اس مشکل کا حل مجھے مل گیا ۔
رئیس : آپ حل کہاں سے ملا؟
میں :- جناب عالی ہر چیز سے پہلے کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں ؟
میں :-مذاہب اسلامیہ کے بارے میں جناب کا کیا خیال ہے ؟
رئیس:- سب کے سب صحیح ہیں اور سب رسول خدا سے تمسک کرتے ہیں ان کے اختلاف بھی رحمت ہے ،
میں :- پھر توآپ اس بیچارے پر رحم کیجئے (شوہر کی طرف اشارہ تھا) کیونکہ دوماہ سے زیادہ ہوگیا یہ اپنے بیوی بچوں سےجد ا ہے او ربعض اسلامی مذہب میں اس کا حل موجود ہے ۔
رئیس:- (غصہ سے)دلیل پیش کرو ۔ہم نے تم کو اپنا دفاع کرنے کی اجازت دی تھی تم دوسروں کی وکالت کرنے لگے ،میں نے اپنے بیگ سے سید خوئی کی"منهاج الصالحین " نکالی اور کہا یہ مذہب اہلبیت ہے اور اس میں قطعی دلیل موجود ہے اس نے میری باٹ کاٹتے ہوئے کہا : اہلبیت کے مذبہت کوچھوڑو نہ ہم اس کو جانتے ہیں نہ اس پر ہمارا عقیدہ ہے ۔
مجھے پہلے ہی سے اس کی توقع تھی اس لئے اہل سنت کے مدارک ومصادر بھی لیکر آیا تھا ، اور اپنی استعداد کے مطابق اس کی ترتیب بھی دی تھی پہلے درجہ میں بخاری کورکھا تھا پھر صحیح مسلم اس بعد محمود شلتوت کی کتاب" الفتاوی " اور پھر ابن رشد کی"هدایت المجتهد ونهایة المقتصد" رکھی تھی تفسیر میں اب جوزی کی تزاد المسیر فی علم التفسیر اور دیگر اہلسنت کے مصادر تھے جب رئیس نے السید الخوئی کی کتاب دیکھنے سے انکار کردیا تو میں نے پوچھا آپ کس کتب پر بروسہ کریں گے ؟
رئیس:-بخاری ! میں نے بخاری نکال کر معین صفحہ کو کھول کر کہا لیجئے بسم اللہ پڑھئے !
رئیس :-نہیں نہیں تم ہی پڑھو! میں نے پڑھنا شروع کیا : فلاں نے فلاں اور انھوں نے ام المومنین عائشہ سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتی ہیں : رسول خدا نے انتقال کیالیکن پانچ رضعات یا اس سے زیادہ پر نشر حرمت کیا تھا ۔
رئیس نے مجھ سے کتا ب لیکر خود پڑھا پھراپنے پہلو میں بیٹھے وکیل جمہوریہ کودیا اس نے پڑھ کر اپنے بعد والے کو دیا ۔انتی دیرمیں میں صحیح مسلم نکال چکا تھا ، اور اسی حدیث کو اس میں بھی دکھایا اسے بعد شیخ ازہر کی کتاب الفتاوی کھولی انھوں نے مسئلہ رضاعت میں ائمہ کے اختلافات کاذکر کا ہے کہ بعض علماء کا نظریہ یہ ہے کہ پندرہ مرتبہ پینے نے نشرحرمت ہوتی ہے اوربعض نےکہا ہے کہ سات مرتبہ سے نشرحرمت ہوجاتی ہے بعض نے پانچ سے اوپر کہا ہے سوائے امام مالک کے کہ جنہوں نے نص کی مخالفت کی ہے ۔ اور ایک قطرہ کو بھی ناشر حرمت مانا ہے اس کے بعد شیخ شلتوت فرماتے ہیں : میں بیچ والے قول کو مانتاہوں یعنی سات مرتبہ یا اس سے زیادہ پیے ،جب رئیس محمکہ ان تمام اقوال پر مطلع ہوا تو بولا :- بس کافی ہے اس کے بعد شوہر سے کہا ابھی جاؤ اوراپنی بیوی کے والد(خسر) کو لاؤ تاکہ وہ میرے سامنے گواہی دے کہ اس سے دویاتین مرتبہ ہی پیاہے اور ہوسکتا ہے تم آج ہی اپنی بیوی کو گھر لے جاؤ ۔
بے چارہ شوہر تو خوشی کے مارے اڑاجارہا تھا ،وکیل جمہوریہ اورباقی ارکان نے اپنے اپنے مشاغل کا حوالہ دے کر معذرت چاہتے ہوے جانے کی اجازت مانگی اور رئیس نے سب کو اجازت دیدی ۔ پھر جب تنہائی ہوئی تو میری طرف معذرت چاہتے ہوئے متوجہ ہوا اور کہنے لگا : استاد مجھے معاف کردو لوگوں نے آپ کے بارے میں مجھے غلطی میں مبتلا کردیا تھا ، اور آپ کے بارے میں عجیب عجیب باتیں کہی تھیں ۔ اب مجھے پتہ چلا کہ وہ سب آپ سے حسد کرتے ہیں اور وہ لوگ مغرض ہیں شرپسند ہیں ،
خوشی کے مارے میرا دل اڑنے لگا کہ اتنی جلدی اتنی بڑی تبدیلی ! میں نے کہا شکر خدا ہے کہ اس نے میری کامیابی آپ کے ہاتھوں میں معین کی رئیس نے کہا میں نے سنا ہے کہ اپ کے پاس بڑا کتابخانہ ہے؟ کا میں دمیری کی "حیاۃ الحیوان الکبری"موجود ہے ؟
میں :- جی ہاں موجود ہے ۔
رئیس :- کیا آپ مجھے چند دنوں کے لئے بطو ر عاریت اس کو دے سکتے ہیں ؟ میں سال سے اس کتاب کی تلاش میں ہوں ،
میں :-جی ہاں! آپ جب چاہیں میں پیش کردوں ۔
رئیس:- کیا آپ کے پاس اتنا وقت ہے کہ کبھی میں آپ کے مکتبہ میں آکر آپ سے گفتگو کرسکوں اور استفادہ کرسکوں ؟
میں :-استغفراللہ! میں آپ سے استفادہ کروں گا آپ آزروئے سن وقدرومنزلت مجھ سے کہیں بلند ہیں میرے پاس ہفتہ میں چار دن فرصت ہی فرصت ہے میں آپ کے چشم وابروکے اشارہ پر کام کروں کا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر ہفتہ میں شنبہ کے دن اجتماع طے پایا ،کیونکہ اس دن رئیس کے پاس محکمہ کے جلسے نہیں ہوتے اس کے بعد مجھ سے کہا کہ میرے پاس بخاری ،مسلم، کتاب الفتاوی چھوڑ جائیے تاکہ میں عین عبارت نقل کرسکوں ،اس کے بعد بذات خود مجھے اپنے دفتر کر دروازے تک رخصت کرنے کیلئے آئے اور میں نے خدا کی اس دی ہوئی کامیابی ہر اس کی حمد کرتاہوا چلا حالانکہ جب میں داخل ہوا تھا تو خوفزدہ تھا ،مجھے جیل کی دھمکی دی گئی تھی اور جب نکلا ہوں تو رئیس محمکہ میرا جگری دوست بن چکا تھا میرا احترام کرنے لگا تھا ،میرے ساتھ نشست وبرخاست کرنا چاہتا تھا تاکہ مجھ سے استفادہ کرے یہ صرف اہلبیت کے راستہ پرچلنے کی برکت ہے جو بھی اہل بیت (ع) سے متمسک ہو وہ کبھی ناکامیاب نہیں ہوا اور جس نے ان کی پناہ حاصل کرنی چاہی وہ مامون ہوگیا ۔
لڑکی کے شوہر نے اپنے دیہات میں پورا قصہ نقل کردیا اور پھر تو آس پاس کے تمام دیہاتوں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی بیوی اپنے شوہر کے گھر گئی اور قصہ شادی کے جواز پر تمام ہوا ۔ اور لوگ میرے بارے میں کہنے لگے یہ شخص سب سے بڑا عالم ہے حتی مفتی الجمہوریہ سے بھی زیادہ عالم ہے پھر ایک دن شوہر ایک لمبی سی کار لے کر میرے گھر آیا اور مجھے اور میرے اہل وعیال سب
کو اپنے دیہات چلنے کی دعوت دی کہ اہل قریہ آپ کی آمد کے منتظر ہیں اور استقبال کے لئے تیار ہیں اور خوشی منانے کے لئے تین بچھڑے کاٹیں گے ۔لیکن قفصہ میں اپنی مشغولیت کی وجہ سے میں نے معذرت کر لی اور کہا انشااللہ آؤں گا ۔
رئیس محکمہ نے بھی اپنے دوستوں سے پورا قصہ نقل کیا اور یہ بات مشہور ہوگئی اور خدا نے مکاروں کی مکاری ختم کردی پھر بعض لوگ معذرت کیلئے آئے ،کچھ لوگ ان میں شیعہ ہوگئے یہ تو خدا کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے وہ عظیم فضل والا ہے ،
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین وصلی الله علی سیدنا محمد و آله الطیبین الطاهرین
تما م شد شب سہ شنبہ 8 بجے شب بتاریخ 29 جنوری سنہ 1990 ء مطابق 2 رجب المرجب سنہ 1410ھ
قم المقدسہ
فہرست
مقدمہ 2
انتساب. 4
میری زندگی کے مختصر لمحات. 5
کچھ اپنے نام کے بارے میں. 7
حج بیت اللہ 9
کامیاب سفر 21
مصر میں. 22
شپ کی ملاقات. 27
عراق کی پہلی زیارت. 35
(جناب )عبدالقادر جیلانی (حضرت امام) موسی الکاظم (علیہ السلام) 37
شکوک وسوالات. 44
نحف کا سفر 50
علماء سےملاقات. 53
سید باقر الصدر سے ملاقات. 63
حیرت وشک. 74
سفر حجاز 81
ابتدائے تحقیق. 94
گہری تحقیق کا آغاز 97
"اصحاب " 98
شیعوں اور سنیوں کی نظر میں. 98
1:- پہلی قسم:- 99
2:- دوسری قسم:- 100
3:- تیسری قسم:- 100
1:- صحابہ اور صلح حدیبیہ 102
2:- اصحاب اور یوم خمیس (روز پنچشنبہ ) 106
3:- اصحاب اور لشکر اسامہ 113
(1) 129
اصحاب کے بارے میں قرآن کا نظریہ 129
1:- آیت انقلاب. 131
2:- آیت جہاد 133
3:- آیت خشوع. 136
(2) 138
اصحاب کے بارے میں رسول(ص) کا نظریہ 138
1:- حدیث حوض.. 138
2:- حدیث دنیا طلبی 139
(3) 141
صحابہ کے بارے میں صحابہ کے نظریات. 141
1:- سنت رسول کے بدلنے پر خود صحابہ کی گواہی 141
2:- صحابہ نے نماز تک بدل دی. 146
3:- صحابہ کی اپنے خلاف گواہی 147
تبدیلی کاآغاز 164
ایک مولانا سے گفتگو 166
اسباب تشیع 178
(1):- خلافت پر نص.. 178
2:-فاطمہ کا ابو بکر سے اختلاف.. 181
3:- علی کی پیروی اولی ہے.. 185
(4) 193
احادیث حضرت علی (ع) کی اطاعت کو واجب بتاتی ہیں. 193
(1) :- "حدیث مدینہ " 193
(2):- "حدیث منزلت " " یا علی انت منی بمنزلة هارون من موسی الا انه لا نبی بعدی " 195
(3):- "حدیث غدیر" " من کنت مولاه فهذا علی مولاه اللهم وآل من والاه وعاد من عاداه وانصر من نصره واخذل من خذله وادر الحق معه حیث مادار :!" 195
(4)"حدیث تبلیغ""علی منی وانا منه ولا یودی عنی الا انا او علی(1) ۔ 197
(5):- "حدیث الدّار یوم الانذار" " رسولخدا(ص) نے حضرت علی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :" 198
(2) "حدیث سفینۃ " "انما مثل اهل بیتی اهلبتی فیکم مثل سفینة نوح فی قومه من رکبها نجی ومن تخلف عنها غرق "(1) 212
(3)" حدیث سرور" " قال رسول الله : من سرّه ان یحیا حیاتی ویموت مماتی ویسکن جنة عدن غرسها ربی فلیوال علیا من بعدی والیول ولیه ولیقتدر باهل بیتی من بعدی فانهم عترتی خلقوا من طینتی ورزقوا فهمی وعلمی فویل للکمکذبین بفضلهم من امتی القاطعین فیهم صلتی الا انا لهم الله سقاعتی(1) " 215
نصوص کے مقابلہ میں اجتہاد 222
اہل سنت والجماعت کی اصطلاح کا موجد؟ 230
مناظرہ کی دعوت. 232
حق کی جیت. 237