اسلام اور خاندانی روابط
(حقوق و فرائض )
ت ا لیف
غلام مرتضیٰ انصاری پاروی
الحمد لله رب العالمين والصلوة و السلام عليٰ اشرف الانبياء والمرسلين ولعنة الله عليٰ اعدائهم اجمعين
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ توفیق نصیب ہوئی کہ خاندان کے اخلاق وفرائض کے عنوان سے ایک کتاب تدوین کرکے خاندانی اور معاشرتی مبتلا بہ چیدہ چیدہ مسائل اوران کا حل بیان کروں یہ مختصر کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے
پہلا حصہ کلیات اور پانچ فصلوں پر مشتمل ہےکلیات میں حقوق کا مفہوم اور اس کے ماخذ کے ساتھ خاندان کی تعریف ، اس کی ضرورت،اداب اور اصول پہلی فصل میں والدین پر بچوّں کی ذمہ داریاں اور اولاد کی تربیت (پیدائش سے پہلے اور پیدائش کے بعد) کے مختلف مراحل کو موزون مثالوں اور واقعات کے ساتھ بیان کیا گیا ہےدوسری فصل میں میاں بیوی کے متقابل حقوق اور فرائض کو اورتیسری فصل میں خاندانی اخلاق اور اس کا اثر، خاندانی خوش بختی کے اصول اور بداخلاقی کا سنگین نتیجہ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہےچوتھی فصل میں خاندان کے متعلق معصومین ؑ کے فرامین اور سفارشات پانچویں فصل میں خاندانی اختلافات اور ان کا علاج اور اس کے ساتھ ان خوبیوں کو بیان کیا گیا ہے جنہیں خواتین اپنے شوہر میں دیکھنا پسند کرتی ہیں،دوسرے حصے میں عورت کا مقام اور ان کے حقوق کو تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کیا گیا ہےپہلی فصل میں مختلف ممالک اور معاشرے خصوصا دور جاہلیت میں عورت کی حیثیت اور مرتبہ کو بیان کرکے ان کا اسلامی معاشرے میں عورت کو دی گئی حیثیت اور مرتبہ سے موازنہ کیا گیا ہےدوسری فصل میں اسلام میں عورت کو مختلف زاویے ( ماں، بیوی، بیٹی ) سے دی ہوئی قدرو منزلت، اجتماعی روابط و ضوابط، اصول اور حدود تیسری فصل میں خواتین کے اجتماعی،ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی حقوق کو مختلف زاویے سے بیان کیا گیا ہےچوتھی ٖفصل میں خواتین کی اسلامی ازادی اورمغربی ازادی میں فرق کو بیان کیا گیا ہےانشاء اللہ یہ کتاب اردو زبان میں ایک منفرد اور مفید کتاب ثابت ہوگیخدا وند اس معمولی سی کاوش کو اپنی بارگاہ میں چہاردہ معصومین (ع)کے صدقے میں قبول فرمائے امین
غلام مرتضیٰ انصاری پاروی یکم ربیع الثانی۱۴۳۵ہ
کلیات
حقوق سے مراد ان قواعد اور اصول کا مجموعہ ہے جن کا خیال ایک معاشرہ یا خاندان کے افراد ایک دوسرے سے روابط کے دوران کرتے ہیں اور انہیں قواعد کے مطابق ہر ایک کے اختیارات اور ازادی کو معین کیا جاتاہے(1)
انسان ایک معاشرتی حیوان ہے جو ہمیشہ ایک دوسرے کا محتاج ہے،اجتماعی اور خاندانی زندگی اس وقت ممکن ہے کہ معاشرہ یا خاندان پر ایک جامع قانون حاکم ہو، ورنہ ہر کوئی اپنی مرضی سے چلے گا، جس کا نتیجہ خاندان اورمعاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہوجائےگااس لئے ہر ایک پر لازم ہے کہ ان قوانین کا احترام کریںانہی قوانین کو علمی اصطلاح میں حقوق کہتے ہیںجس کا مقصد لوگوں کی مکمل ازادی کے لئے حدود کا تعین کرناہےجن کا خیال کرنے سے اجتماعی اور خاندانی زندگی محفوظ ہوسکتی ہےعورت بھی خاندان کا ایک اہم رکن ہے بلکہ یہ کہنا نامناسب نہ ہوگا کہ وہ خاندان کا محورہے، ان کے حقوق بھی اسلامی معاشرے میں بہت اہم ہیں،جن کا خیال کرنا باپ، شوہر اور اولاد پر فرض ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خاندان کے وجود میں انے کی بنیاد تولید نسل کا انگیزہ ہے،کہ اس طریقے سے انسان اپنے وجود کی بقا کو محفوظ کرتا ہےکچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عورتوں میں طبیعی طور پر ماں بننے کا شوق پایا جاتاہے اور یہی انگیزہ اسے خاندان کی تشکیل پر ابھارتا ہے
ٹھیک ہے کہ یہ انگیزے اور رجحان اسباب تو بن سکتے ہیں لیکن علت تامہ نہیں،کیونکہ بہت سے خاندان ایسے ہیں جن میں اولاد نہیں ہوتی یا زندہ نہیں رہتی،پھر بھی مرد اور عورت دونوں میں ایک دوسرے کے لئے عشق و محبت پائی جاتی ہےاور کبھی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے طلاق نہیں دی جاتی ہےاس سے معلوم ہوتا ہے کہ شادی کرنے اور خاندان تشکیل دینے کے اور بھی علل و اسباب ہیں چنانچہ پیغمبراسلام ﷺ فرماتے ہیں:جس نے شادی کرلی اس نے ادھا دین بچا لیا(2)
--------------
(1):- باقر عاملی ؛حقوق خانوادہ ،ص201
(2):- مجلسی،محمد تقی؛ روضةالمتقین،ج8،ص38
کیونکہ شادی جوانوں کو لغزش، انحرافات،بے عفتی اور برائی سے بچاتی ہےپس ان مشکلات کا حل قران مجید میں موجود ہے کہ انسان کی فطرت اور طبیعت میں جفت خواہی اور جنسی خواہشات ڈال دیا جس کے نتیجے میں خاندان وجود میں ایامیاں بیوی ایسے دو عنصر ہیں جو جب تک ایک دوسرے کو نہیں چاہتے اور تعاون نہیں کرتے، دونوں ناقص ہیںیہ دونوں مل کر ایک دوسرے کی زندگی کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیںیہ نہ صرف دو فزیکل یا جسمانی رابطہ اور تولید نسل ہے کہ جو خوشیوں کا باعث ہےاور نہ صرف ظاہری اور مادی امور، جو میاں بیوی کو ایک دوسرے کے نزدیک کرے اس میں ایک ظریف نکتہ چھپا ہوا ہے کہ وہ روحی اور جسمی احتیاج ہے کہ خالق کائنات نے تمام جانداروں کوایک دوسرے کا محتاج خلق کیا ہےقران کی رو سے خلقت انسان ابتدا ہی سے جفت جفت وجود میں ائی ہےاور ہر ایک اپنی فطرت کے مطابق اپنی جفت اور ہمسر کی تلاش میں رہتاہےاور دونوں اپنے خاص طوروطریقے سے فطری وظیفہ کو انجام دیتے ہیں نتیجتا ایک دوسرے کو کامل کر تے ہیںقران کہہ رہا ہےوَخَلَقْنَاكُمْ ازْوَاجًا کہ ہم نے تمہیں جفت جفت پیدا کیا(1) وَمِنْ ايَاتِهِ انْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ انفُسِكُمْ ازْوَاجًا لِّتَسْكُنُواالَيْهَا وَجَعَلَ َ يْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً انَّ فِي ذَلِكَ لَايَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (2) "یہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ تمہارے لئے اپنی جنس میں سے ہمسر خلق کیا تاکہ سکون اور ارام کا سبب بنے اور تمہارے درمیان دوستی اور محبت ایجاد کی" اور فرمایا:
وَاللهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ ازْوَاجًا(3) "یعنی خد ا نے تمہیں مٹی سے پید ا کی ا پھر نطفہ سے ا ور پھر جفت جفت قر ا ر دی ا "
انسان کو چونکہ اپنے اپ سے زیادہ محبت ہے اس لئے چاہتا ہے کہ جتنا ہوسکے زندگی کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرے اور بہتر زندگی گزارنے کے لئے ان وسائل سے فائدہ اٹھائے، لیکن جس طرح بچہ بغیر ماں باپ کے اپنی زندگی کو جاری نہیں رکھ سکتا اور اکیلا زندگی کے تمام مسائل کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اسی
--------------
(1):- ورہ نبأ8(2):- سورہ روم21(3):- فاطر11
وجہ سے وہ خاندانی اور اجتماعی طور پر زندگی گزارنے کو ترجیح دیتا ہےایک دوسرے کی مدد کرتا ہے،اور اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق مسئولیت اور ذمہ داری کو قبول کر لیتا ہےایک شخص زمینداری کرتا ہے تو دوسرا مستری کا کام،ایک دفتر میں کام کرتا ہے تو دوسرا ہسپتال میں، اور جب اجتماعی زندگی کا دارومدار ایک دوسرے کے تعاون پر ہے تو ذمہ داریاں بھی متعین ہوتی ہیںاس طرح معاشرے میں قوانین نافذ ہوتے ہیں تاکہ معاشرے میں افراط و تفریط پیدا نہ ہو
بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ قانون کا ماخذ عقل ہے کہ ہماری عقل لوگوں کے اچھے اور برے اعمال میں تشخیص دے سکتی ہے یہی وجہ ہے عقل کہتی ہے کہ برائیوں سے روکنا اور اچھائیوں کی طرف رغبت پیدا کرناچاہئےبعض کہتے ہیں کہ قانون خالق کائنات کی طرف سے عالم بشریت کے لئے بنایاگیا ہے جسے انبیاء کے ذریعے لوگوں پر نافذ کیاگیا ہےان دونوں نظریات کے ماننے والوں نے اپنےاپنے دعوے کوثابت کرنے کے لئے مختلف دلائل پیش کئے ہیںہمارا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حقوق کا سرچشمہ وہی اسلامی قوانین ہیں جسے خدا تعالیٰ نے نبیوں کے ذریعے خود تعیّن کیا ہےکیونکہ خدا کی ذات ہے جو انسانی افعال کے مصالح اور مفاسد سے زیادہ ا گاہ ہےاور ان قوانین کو دریافت کرنے کے لئے مکتب تشیع کے مطابق چار منبع اور سرچشمہ ہیں:
قران مجید میں حقوق کے بارے میں تقریبا پانچ سو ایات ذکر ہوئی ہیں،جنہیں ایات الاحکام کہا جاتا ہےقران ایک ایسی کتاب ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہےیہ راہ ہدایت تک پہنچنے کے لئے محکم ذریعہ ہے،جو بھی اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجرملے گا،اور جس نے بھی اس کتاب کے مطابق فیصلہ کیا اس نے عدل سے کام لیا اور جس نے بھی اس کتاب کی طرف کسی کی راہنمائی کی تو گویا اس نے صراط مستقیم کی طرف بلایا
ممکن ہے یہ پانچ سو ایات قوانین زندگی کی تمام جزئیات پر تو دلالت نہیں کرتی،کیونکہ جیسے احکام نماز,روزہ,حج,جھاد اور خمس وکی بہت سی جزئیات پائی جاتی ہیں اور ان جزئیات کو بیان کرنا سنت کا کام ہےہاں البتہ ان جزئیات کا بیان انہی ایات کی تفسیر ہوسکتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ انبیاء(ع) اپنی طرف سے بیان کرتے ہوں،چنانچہ قران مجید گواہی د ے رہا ہے:
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَی انْ هُوَ الَّا وَحْيٌ يُوحَی(1)
"اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے"اس طرح شیعہ عقیدے کے مطابق سنت سے مراد گفتار و رفتار و تقریر معصوم(ع) ہے
اصطلاح میں اجماع سے مراد یہ ہے کہ تمام اسلامی دانشوروں کا کسی شرعی حکم پر اتفاق نظر اور وحدت عقیدہ ہولیکن اہل سنت کے نزدیک اجماع؛ قران و سنت سے ہٹ کر ایک مستقل اصل ہے یعنی امت کا اجماع اور اہل حلّ و عقد بھی اسلامی قانون کا سرچشمہ ہےاس لئے اگر کتاب اور سنت سے کسی حکم پر دلیل نہ ملے لیکن علماء کا اتفاق رائے معلوم ہو جائے تو اسی اجماع پر بنا رکھ کر فقیہ فتوی دیتا ہےلیکن شیعوں کے نزدیک اجماع، کتاب و سنت سے ہٹ کر کوئی اور مستقل اصل نیںب، بلکہ معتقد ہیں کہ یہ اجماع، رائے معصوم کی شمولیت پر دلالت کرتا ہوقاعدۂ لطف کا تقاضایہ ہے کہ اگر مجتہدین کسی غلط حکم پر متّفق ہو جائیں تو امام پرلازم ہے کہ وہ اس میں اختلاف ڈالدے اور اجتماع کرنے سے بچائے
اہل سنت کہتے ہیں کہ رائے،اجتہاد اور قیاس وہی عقلی تشخیص ہے جو قوانین اسلامی کا ایک الگ سرچشمہ ہے
--------------
(1):- النجم4،۳
اخبارئین کہتے ہیں چونکہ عقل ناقص اور خطاکار ہے اسلئے لوگوں کے لئے عقل حلال اور حرام کا تعین نہیں کر سکتیہاں صرف یہ کہ عقل کومددگار کہہ سکتے ہیں لیکن مجتہدین فرماتے ہیں عقل اور شریعت کے درمیان ایک مستحکم اور نہ ٹوٹنے والا رابطہ ہے، اور کہا جاتاہے:
کلّما حکم به العقل حکم به الشرع و کلّما حکم به الشرع حکم به العقل
وَ اكْبَرُ حُقُوقِ اللهِ عَلَيْكَ مَا اوْجَبَهُ لِنَفْسِهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَی مِنْ حَقِّهِ- الَّذِي هُوَ اصْلُ الْحُقُوقِ وَ مِنْهُ تَفَرَّعَ- ثُمَّ مَا اوْجَبَهُ عَلَيْكَ لِنَفْسِكَ مِنْ قَرْنِكَ الَی قَدَمِكَ عَلَی اخْتِلَافِ جَوَارِحِك(1)
امام سجاد(ع) منشأحقوق کے بارے میں فرماتے ہیں کہ بندوں کے تمام حقوق کا سرچشمہ وہی حقوق اللہ ہیں اور باقی حقوق اسی کی شاخیں ہیں اگر سارے حقوق کو ایک درخت شمار کرلے تو اس درخت کی جڑ حق اللہ ہےاور باقی لوگوں کے حقوق اس کی شاخیں اور پتے ہیں(2)
اس بات کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح انسانوں پر ایک دوسرے کے حقوق ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ہیں کیونکہ خداوندانسان کا مالک حقیقی ہے جسے حق تصرف حاصل ہے جس کی اجازت کے بغیر ہم کسی دوسرے کے حقوق میں تصرف نہیں کر سکتےیہی وجہ ہے کہ تمام حقوق خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اخلاقی ہو یا فقہی، حق الٰہی کے تابع ہیںپس انسان کبھی بھی اپنے لئے کسی حق کا خدا سے مطالبہ نہیں کرسکتا کیونکہ جب کسی چیز کا مالک ہی نہیں تو کس حق کا مطالبہ کرے گا ؟
--------------
(1):- بحار الانوار ، ج71،باب 1 جوامع الحقوق ص 2
(2):- محمد تقی مصباح یزدی؛ نظریہ حقوقی اسلام،ص211
یہاں تک کہ ہم اپنے اعضائے بدن پر تصرف نہیں کرسکتےمگر یہ کہ خدا نے ہمارے لئے جائز قرار دیا ہوکیونکہ یہ سب خدا کی دین اور عطا ہےاگر ہم ان حقوق خدا کو درک کرلیں گے تو اپنی ذمہ داریوں کوبھی ہر مرحلے میں پہچان سکیں گےاس بحث سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر قسم کے حقوق خواہ وہ حقوق والدین ہوں یا حقوق اولاد یا بیوی کے حقوق، سب کچھ خدا کی طرف سے عطا کردہ حقوق ہیں اور خدا ہی کا حکم ہے کہ ان حقوق کا خیال کریںتاکہ قیامت کے دن ہمیں جزا دی جائے
خاندان ایک اجتماعی گروہ کا نام ہے جس کا مقصد لوگوں کی روحی اور ذہنی سلامتی کو برقرار رکھاح ہے
تاریخ بشریت کی ابتدا سے لے کر اج تک اس روئے زمین پر مرد اور عورت دونوں نے خاندان کو تشکیل دے کرایک دوسرے کیساتھ زندگی گزارتے ہوئے پیار و محبت کیساتھ اپنی اولاد کی پرورش کی ہےاور اس دنیا سے اپنا رخت سفر باندھ لیا ہےاور تمام مصلحنہ جہاں جیسے انبیاء الٰہی کی یہی کوشش رہی ہے کہ خاندان کا نظام اتنا پائیدار اور مستحکم کریں کہ کوئی بھی اسے متلاشی اور درہم برہم نہ کرسکے
مختلف نظریوں اورزاویوں سے خاندان کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں،جن میں سے بعض سطحی ہیں اور بعض عمیقیعنی جس قدر ہماری معرفت اور شناخت خاندان کی نسبت زیادہ ہوگی اتنا ہی اس مقدس اجتماع میں ہم رونق پیدا کر سکیں گے اور ناپائیداری کا خاتمہ کرسکیں گےجیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خاندانی تشکیل کا واحد سبب جنسی خواہشات ہیں کہ مرد اور عورت صرف اسی سلسلے میں پابندہیں کہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال کریںاس کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری نہیں ہےحالانکہ اسلام میں اس کی بنیاد اس سے کہیں اہم چیز پر استوار ہےجس کی معرفت اور پہچان بہت ضروری ہےتاکہ مرد اور عورت دونوں اس اہم اصول سے منحرف نہ ہوں
مرد اور عورت کی سعادت اور خوشیاں اسی میں ہے کہ الٰہی سنت کے دائرے میں رہیں اور سطحی جذبات سے متأثر نہ ہوںدونوں کو جان لینا چاہئے کہ اب ایک جان دو قالب ہوگئے ہیں اور ہونے والی اولاد دونوں کےجگر کے ٹکڑے ہیںامام صادق (ع)سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام (ص)نے ازدواجی زندگی کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
عَنْ ابِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ص مَا بُنِيَ بِنَاءٌ فِي الْاسْلَامِ احَبُّ الَ ی اللهِ تَعَالَ ی مِنَ التَّزْوِيجِ (1)
یعنی اسلامی نقطہ نگاہ سے ازدواج کی بنیاد سے بڑھ کر زیادہ پسندیدہ بنیاد نہیں ڈالی گئی کیونکہ ازدواج کی بنیاد عشق و محبت کی بنیاد ہےاور اگر اسلامی معیاروں کے مطابق ہو تو یہ خاندان کبھی دربدر نیںل ہوگا
اور فرمایا: وہ بدترین شخص ہے جو غیر شادی شدہ مر جائے،اس کی پوری رات کی عبادت سے شادی شدہ کی دو رکعت نماز بہتر ہےاس با مقصد خاندان کی تشکیل دینے سے پہلے ضروری ہے کہ نیک اور با سیرت بیوی کا انتخاب ہوکیونکہ پوری زندگی اور انے والی نسلوں کی پرورش انہی کے ہاتھوں میں ہےاسی لئے بیوی کے انتخاب کرنے کا ایک معیار اس کی خاندان کی اصالت ہےیعنی نہ صرف بیوی کا ایمان اور اخلاق دیکھا جائے بلکہ ان کے خاندان کو بھی مد نظر رکھا جائےکیونکہ خاندان کی صفات از طریق وراثت اولاد میں منتقل ہوتی ہیںاس لئے حقیقی، با تقوی اور پسندیدہ صفات جیسے شجاعت و کرامت کے مالک خاندان میں شادی کرنا چاہئےیہی وجہ ہے کہ پیغمبر(ص)نے فرمایا:
اخْتَارُوا لِنُطَفِكُمْ فَانَّ الْخَالَ احَدُ الضَّجِيعَيْنِ (2)
--------------
(1):- روضةالمتقین ج8،ص82امن لا یحضرہ، ج۳، ص۳۸۳
(2):- مستدرک الوسائل ج14، ص۱۷۴
یعنی ہمسر کے انتخاب میں خاندانی اصالت کا خیال رکھنا، کیونکہ اقرباء اور رشتہ دار تمہاری اولاد کی صفات میں تیرا شریک ہیںاسی طرح کم ذات خاندان میں شادی کرنے سےروکتے ہوئے فرمایا:
قَالَ لِلنَّاسِ ايَّاكُمْ وَ خَضْرَاءَ الدِّمَنِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ وَ مَا خَضْرَاءُ الدِّمَنِ قَالَ الْمَرْاةُ الْحَسْنَاءُ فِي مَنْبِتِ السَّوْءِ (1)
لوگو! تم لوگ خضراء دمن سے بچو کسی نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! خضراء دمن سے کیا مراد ہے؟! تو فرمایا: وہ خوبصورت عورت جو برے گھر اور ماحول میں پلی ہو
قران مجید نے متعدد بار خاندانی امور،ارکان، احکام،اخلاق اور اس کی حفاظت کے بارے میں ارشاد فرمایا: میاں بیوی پاکدامن ہوں اور نامحرم کیساتھ ہنسی مذاق نہ کریں کیونکہ خواتین کی کرامت، شرافت اور عزت نامحرم لوگوں کی صحبت سے دوری اختیار کرنے میں ہےاسی طرح خاندان کی چار دیواری اورمعاشرے کی عفت اور حرمت کے تجاوز کرنے والوں کو ڈرایا گیا ہےخلاصہ یہ کہ قران کریم میں انے والے بچےّ کی ذہنی اور روانی صحت سے بحث کی گئی ہےجیسا کہ ارشاد ہوا:
يَا ايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لِيَسْتَاذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ ايْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِن قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طَوَّافُونَ عَلَيْكُم بَعْضُكُمْ عَلَی بَعْضٍ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمُ الْايَاتِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ وَاذَا بَلَغَ الْاطْفَالُ مِنكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاذِنُوا كَمَا اسْتَاذَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ ايَاتِهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ(2)
--------------
(1):- من لا یحضرہ الفقیہ ، ج۳، ۳۹۱
(2):- سورہ نور، ۵۹ ۵۸
اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں خاندانی مسائل کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا: "اے ایمان والو! ضروری ہے تمہاری کنیزیں اور وہ بچےّ جو ابھی حدّبلوغ کو نہیں پہنچے ہیں،تین اوقات میں تم سے اجازت لے کرکمرے میں داخل ہوا کریں:
فجر کی نماز سے پہلے، دوپہر کو جب تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد، یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں، اس کے بعد ایک دوسرے کے پاس بار بار انے میں نہ تم پر کوئی حرج ہے اور نہ ان پراللہ تعالیٰ اس طرح تمہارے لئے نشانیاں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور اللہ بڑا دانا،حکمت والاہے"اور جب تمہارے بچےّ بلوغ کو پہنچ جائیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اجازت لیا کریںجس طرح پہلے (ان سے بڑے ) لوگ اجازت لیا کرتے تھےان ایات سے درج ذیل نکات حاصل ہوتے ہیں:
1. جب بیوی کیساتھ خلوت میں بیٹھنے لگو تو بچوّں کو بغیر اجازت اندر انے سے منع کریں
2. کبھی بھی ماں باپ نازک لباس(sleeping dress ) میں بچوّں کے پاس نہ جائیںنہ باپ کو حق پہنچتا ہے کہ نامناسب لباس پہن کر بچوّں کے سامنے ائے اور نہ ماں کوتاکہ معمولی سا بھی تحریک امیز منظر اولادوں کے سامنے پیدا نہ ہو
امام صادق(ع) سے منقول ہے:
لا یجامع الرجل امرئته وفی البیت صبی فانّ ذالک یورث الزنا (1)
یعنی کسی شخص کو حق نہیں ہے کہ وہ ایسے کمرے میں بیوی کیساتھ ہمبستری کرے جس میں بچہ بیدار ہو، کیونکہ یہ منظر بچےّ کے لئے فساد اور فحشاء کی طرف انحراف کا باعث بنتا ہے:
قَالَ رَسُولُ اللهِ ص وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ انَّ رَجُلًا غَشِيَ امْرَاتَهُ وَ فِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ مُسْتَيْقِظٌ يَرَاهُمَا وَ يَسْمَعُ كَلَامَهُمَا وَ نَفَسَهُمَا مَا افْلَحَ ابَدا اذَا كَانَ غُلَاما كَانَ زَانِيا اوْ جَارِيَةً كَانَتْ زَانِيَة (2)
---------------
(1):- وسائل الشیعہ ،ج14،ص94
(2):- الکافی ، ج۵، ص۵۰۰
امام صادق (ع)پیغمبر اسلام ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ؛ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرے اور اس کمرے میں کوئی بچہ جاگ رہا ہو اور ان دونوں کو دیکھ رہا ہو اور ان دونوں کی اواز اور سانسوں کوسن رہا ہو، تو وہ پیدا ہونے والا کبھی نیک انسان نہیں ہوگا، اگر وہ بچہ ہو تو زانی ہوگا اور اگر بچی ہو تو زانیہ ہوگی
خاندان تشکیل دینے کے تین اصول
یہ چیز اللہ تعالیٰٰ نےانسان کی فطرت میں پوشیدہ رکھی ہےاور یہ ضرورت ہم دوسرے جانداروں میں بھی مشاہدہ کر سکتے ہیںانسان اگر تنہائی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائے تو زیادہ غمگین اورفکر مند ہوجاتا ہےاسی لئے اپنے ہم نوع کے عطوفت و محبت کے سانچے میں اپنے اپ کو ڈالتا ہےخدا تعالیٰٰ نے تشکیل خاندان سے پہلے میاں بیوی کے درمیان کچھ یوں محبت اور مودت ایجاد کی ہے کہ جس کے بغیردونوں کو سکون نہیں ملتایہی محبت ہے جس کی وجہ سے مرد اور عورت ازدواجی زندگی میں داخل ہونے کے لئے قدم اٹھاتے ہیں
ایک شخص نے حضرت رسول خدا(ص) کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ(ص)! اس ازدواجی کام نے مجھے تعجب میں ڈال دیا ہے کہ ایک اجنبی مرد اور اجنبی عورت ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں ہیں، جیسے ہی عقد ازدواج میں داخل ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کے لئے انتہائی محبت اور پیارکرنے لگتے ہیںرسول خدا(ص)نے فرمایا: ازدواجی امور کی بنیاد کو خدا نے انسانی فطرت میں رکھاہے جس کی ضرورت کو اپنے اندرشدت سے احساس کرتے ہیں، اس کے بعد یہ ایہ شریفہ تلاوت فرمائی:
وَمِنْ ايَاتِهِ انْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ انفُسِكُمْ ازْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا الَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً انَّ فِي ذَلِكَ لَايَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ(1)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیاہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اورپھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبانِ فکر کئےہ بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہںِ چنانچہ شیخ صدوق روایت کرتے ہیں:
عَنِ النَّبِيِّ انَّهُ قَالَ مِنْ سُنَّتِي التَّزْوِيجُ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي (2)
یہ عشق و محبت خدا تعالیٰٰ کی عظیم عنایت ہے کہ جس پر رسول خدا(ص)نے فخر کرتے ہوئے فرمایا:نکاح میری سنت ہے جو بھی اس سنت سے منہ پھیرے گا وہ مجھ میں سے نہیں ہوگا قران مجید نے بھی اس کام کی طرف شوق دلاتے ہوئے فرمایا:
وَانكِحُوا الْايَامَی مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَامَائِكُمْ ان يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللهُ مِن فَضْلِهِ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ(3)
اور اپنے غیر شادی شدہ ازاد افراد اور اپنے غلاموں اور کنیزوں میں سے باصلاحیت افراد کے نکاح کا اہتمام کرو کہ اگر وہ فقیر بھی ہوں گے تو خدا اپنے فضل وکرم سے انہیں مالدار بنا دے گا کہ خدا بڑی وسعت والا اور صاحب علم ہے
علامہ طباطبائی(رح) فرماتے ہیں: فالنساء هن الرکن الاول و العامل الجوهري للاجتماع الانساني (4)
--------------
(1):- روم ۲۱
(2):- مستدرک الوسائل، ج۱۴، ص۱۵۲
(3):- نور 32
(4):- المیزان ،ج4،ص223
خواتین خاندانی اجتماع کی تشکیل اوراستحکام کی اصلی اور واقعی سنگ بنیاد ہیں، اس عظیم جاذبہ کو خدا نے عورت کے وجود میں قرار دیا ہے اور اسے ارام و سکون کا باعث قرار دیا ہے اور اس رکن اصلی کی حفاظت اور حراست کو مردوں کے ذمہ لگایا ہے،کیونکہ خدا نے مرد میں وہ توانائی اور قدرت پیدا کی ہے جس کے ذریعے وہ اس کی حفاظت کر سکتاہےقران مجید کہہ رہاہے:
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَی بَعْضٍ وَبِمَا انفَقُوا مِنْ امْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللهُ(1)
مرد عورتوں کے حاکم اور محافظ ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خدا نے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انھوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیرموجودگی میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے
اس ایہ شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہےاور ازدواجی زندگی میں مادی ضرورتوں کو پورا کرنا بھی مردوں کے ذمہ لگایااور ناموس کی حفاظت اور دفاع بھی مرد پر واجب کردیا،جس کے لئے وہ اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتا
سب جانتے ہیں کہ ایک کامیاب زندگی وہ ہے جس میں میاں بیوی دونوں ایک دوسرے پر راضی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں اپنے اپ کو برابر کے شریک جانتے ہوںاور یہ رؤوف ورحیم اللہ کی انسانوں پر بہت بڑی مہربانی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان وہ محبت ڈال دی جس کی وجہ سے دونوں میں فداکاری کا جذبہ موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں میاں بیوی ان اسباب سے پرہیز کرتے ہیں جو ان میں جدائی کا باعث ہوںاور دونوں کی یہی خواہش رہتی ہے کہ اس رشتے کی بنیادیں مستحکم تر ہوں، اور ایہ شریفہ(وجعل بینکم مودة و رحمة) کا مصداق بنیں
--------------
(1):- نساء 34
مفسرین نے درج ذیل احتمالات ذکر کئے ہیں:
الف: مودت یعنی ازدواجی زندگی کے اغاز میں ایک دوسرے سے مرتبط ہونے کا شوق، لیکن ممکن ہے زندگی کو دوام بخشنے یا اخر تک پہنچانے میں دونوں میں سے کوئی ایک ناتواں اور ضعیف ہو جائےاور دوسرے کی خدمت کرنے پر قادر نہ ہو اس طرح رحمت بھی مودت کی جانشین بنے گییہ دونوں اس قدر ایک دوسرے سے عشق و محبت رکھتے ہیں کہ اگر کوئی اور اکر اس ناتواں کی مدد کرے تو اس مدد گار کا بھی احترام کرنے لگتے ہیںاور یہ دونوں ایک دوسرے کی خاطر اپنے اپ کو اب و اتش میں ڈال دیتے ہیں تاکہ دوسرا ارام و راحت میں رہےجبکہ اس وقت نہ خواہشات جنسی اور شہوانی درکار ہیں اور نہ کوئی جوانی کےمسائلاس ضعف اور ناتواںی کے دور میں فقط ایک دوسرے کی حفاظت اور نگہداری ان کے لئے زیادہ اہم ہے
ب:رحمت:مودت بڑوں سے ہوتی ہے جو ایک دوسرے کی خدمت کرسکے لیکن رحمت چھوٹوں کیساتھ مربوط ہے کہ جو رحمت کے سائے میں پرورش پاتےہیںچنانچہ رسول خدا(ص)نے فرمایا:
وَ ارْحَمُوا صِغَارَكُمْ (1)
تم اپنے چھوٹوں پر رحم کرومودت غالبا دو طرفہ ہوتی ہے لیکن رحمت یک طرفہلیکن کسی بھی معاشرہ، اجتماع یا خاندان کی بقاء متقابل خدمات پر منحصر ہے جو مودت ہی سے ممکن ہے نہ محبت سے(2)
--------------
(1):-وس ائل الشيعة ،ج 10 ،ص313
(2):- تفسیر نمونہ،ج16،ص391
پہلی فصل
والدین پر بچوّں کی ذمہ داریاں
قال اللہ تعالی:
وَاعْلَمُوا انَّمَا امْوَالُكُمْ وَاوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ وَانَّ اللهَ عِندَهُ اجْرٌ عَظِيمٌ(1)
اور جان لو یہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموال ازمائش ہیں اور خدا کے پاس اجر عظیم ہے
انَّمَا امْوَالُكُمْ وَ اوْلَادُكمُْ فِتْنَةٌ وَ اللهُ عِندَهُ اجْرٌ عَظِيم(2)
تمہارے اموال اور تمہاری اولاد بس ازمائش ہیں اور اللہ کے ہاں ہی اجر عظیم ہے
كلمه" فتنه" کا معنی ازمایش اور امتحان میں مبتلا ہونا ہے اور یہاں اموال اور اولاد جو دنیاوی زندگی کی جذاب زینتوں میں سے ہیں؛کے ذریعے انسان کو امتحان میں مبتلا کررہا ہے کیونکہ نفس انسان ان دونوں کی طرف اس قدر دلچسپی رکھتا ہے کہ ان کی خاطر اخرت کو بھی بھول جاتا ہے اسی طرح دوسری جگہ فرمایا:
"الْمالُ وَ الْبَنُونَ زِينَةُ الْحَياةِ الدُّنْيا"(3)
یعنی مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں
قال رسول الله: انهم ثمرة القلوب وقرة الاعین (4)
--------------
(1):- انفال28
(2):- التغابن ۱۵
(3):- کہف ۴۶
(4):- بحار الانوار،ج 104،97
رسول اللہ (ص)نے فرمایا: اولاد دلوں کا ثمرہ ہے اور انکھوں کی ٹھنڈکاور فرمایا:انّ لکل شجرة ثمرة وثمرةالقلب الولد (1)
ہر درخت کا پھل ہوتا ہے اور دل کا پھل اولاد ہے
رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ انَّهُ قَالَ بِئْسَ الشَّيْءُ الْوَلَدُ انْ عَاشَ كَدَّنِي وَ انْ مَاتَ هَدَّنِي فَبَلَغَ ذَلِكَ زَيْنَ الْعَابِدِينَ ع فَقَالَ كَذَبَ وَ اللهِ نِعْمَ الشَّيْءُ الْوَلَدُ انْ عَاشَ فَدَعَّاءٌ حَاضِرٌ وَ انْ مَاتَ فَشَفِيعٌ سَابِقٌ (2)
اولاد کی اتنی فضیلت کے باوجود ایک دن حسن بصری نے کہا: اولاد کتنی بری چیز ہے!اگر وہ زندہ رہے تو مجھے زحمت میں ڈالتی ہے اور اگر مرجائے تو مجھے غمگین کرجاتی ہےامام سجاد(ع) نے یہ سنا تو فرمایا: خدا کی قسم اس نے جھوٹ بولا ہے بہترین چیز اولاد ہے اگر یہ زندہ رہے تو چلتی پھرتی دعا ہے، اور اگر مر جائے تو شفاعت کرنے والا ہےیہی وجہ ہے کہ روایت میں ملتا ہے کہ حضور (ص)نے فرمایا: سقط شدہ بچےّ سے جب قیامت کے دن کہا جائے گا کہ بہشت میں داخل ہوجاؤتو وہ کہے گا:حتی یدخل ابوای قبلی (3) خدایا جب تک میرے والدین داخل نہیں ہونگے تب تک میں داخل نہیں ہونگا
یہی وجہ ہے رسول خدا ﷺ نے فرمایا:
--------------
(1):- میزان الحکمة،28608
(2):- مستدرک الوسائل،ج15،ص112
(3):- ہمان،ص96
عَنِ النَّبِيِّ ص قَالَ تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اطْفَالُ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَ عَرْضِ الْخَلَائِقِ لِلْحِسَابِ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَ ی لِجَبْرَئِيلَ ع اذْهَبْ بِهَؤُلَاءِ الَ ی الْجَنَّةِ فَيَقِفُونَ عَلَ ی ابْوَابِ الْجَنَّةِ وَ يَسْالُونَ عَنْ ابَائِهِمْ وَ امَّهَاتِهِمْ فَتَقُولُ لَهُمُ الْخَزَنَةُ ابَاؤُكُمْ وَ امَّهَاتُكُمْ لَيْسُوا كَامْثَالِكُمْ لَهُمْ ذُنُوبٌ وَ سَيِّئَاتٌ يُطَالَبُونَ بِهَا فَيَصِيحُونَ صَيْحَةً بَاكِينَ فَيَقُولُ اللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَ ی يَا جَبْرَئِيلُ مَا هَذِهِ الصَّيْحَةُ فَيَقُولُ اللهُمَّ انْتَ اعْلَمُ هَؤُلَاءِ اطْفَالُ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُونَ لَا نَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّ ی يَدْخُلَ ابَاؤُنَا وَ امَّهَاتُنَا فَيَقُولُ اللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَ ی يَا جَبْرَئِيلُ- تَخَلَّلِ الْجَمْعَ وَ خُذْ بِيَدِ ابَائِهِمْ وَ امَّهَاتِهِمْ فَادْخِلْهُمْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي (1)
اپ نے فرمایا: قیامت کے دن مؤمنین کے بچےّ اہل محشر کے سامنے حساب دینے ائیں گے اللہ تعالیٰٰ جرةئیل ؑ سے کہے گا ان کو جنت میں لے جاؤ تو وہ بچےّ جنت کے دروازے پر کہیں گے: کہاں ہیں ہمارے والدین؟ ان سے کہاجائے گا: تمہارے لئے خزانہ بہشت ہے لیکن تمہارے والدین تمہاری طرح نہیں تھے، ان کے بہت سارے گناہ تھے جن کا ان سے حساب طلب کیا جائے گاجب یہ سنیں گے تو وہ سب چیخنے اور چلانے لگیں گے اللہ تعالیٰٰ جبرئیل سے اس کی وجہ پوچھے گا تو جبرئیل جواب دے گا: یا اللہ! توہی بہترجانتا ہے یہ مؤمنین کے بچےّ ہیں جو کہتے ہیں کہ جب تک ان کے والدین بھی جنت میں داخل نہیں ہوتے اس وقت تک یہ بچےّ بھی جنت میں داخل نہیں ہونگے اس وقت اللہ تعالیٰٰ کہے گا: اے جبرئیل ان کے والدین کو ان اہل محشر میں سے نکالیں تاکہ میری رحمت کے طفیل میں ان کے بچےّ ان کے ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل ہوجائیں
---------------
(1):-مستدرك الوس ائل و مستنبط المس ائل ؛ ج2 ؛ ص389
عَنِ النَّبِيِّ ص انَّهُ قَالَ خَمْسَةٌ فِي قُبُورِهِمْ وَ ثَوَابُهُمْ يَجْرِي الَ ی دِيوَانِهِمْ مَنْ غَرَسَ نَخْلًا وَ مَنْ حَفَرَ بِئْرا وَ مَنْ بَنَ ی لِلهِ مَسْجِدا وَ مَنْ كَتَبَ مُصْحَفا وَ مَنْ خَلَّفَ ابْنا صَالِحا (1)
رسول خداﷺ سے روایت ہے کہ پانچ ادمی ایسے ہیں کہ مرنے کے بعد ان کا ثواب ان کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے:ایک وہ جس نے درخت بویا،دوسرا وہ جس نے پانی کا کنواں کھودا، تیسرا جس نے مسجد بنائی، چوتھا وہ جس نے قران لکھا، پانچواں جس نے فرزند صالح چھوڑا
تربیت اولاد کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیںہر مکتب اور مذہب انسانی تربیت کی ضرورت کو درک کرتے ہیں اگر اختلاف ہے تو روش اور طریقے میں ہےتربیت کی اہمیت کو پیغمبر اسلام (ص)یوں فرماتے ہیں:
وَ كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْانْصَارِيُّ يَدُورُ فِي سِكَكِ الْانْصَارِ بِالْمَدِينَةِ وَ هُوَ يَقُولُ عَلِيٌّ خَيْرُ الْبَشَرِ فَمَنْ ابَ ی فَقَدْ كَفَرَ يَا مَعَاشِرَ الْانْصَارِ ادِّبُوا اوْلَادَكُمْ عَلَ ی حُبِّ عَلِيٍّ فَمَنْ ابَ ی فَانْظُرُوا فِي شَانِ امِّهِ (2)
جابر بن عبداللہ انصاریؒ مدینے میں انصار کے کانوںمیں یہ کہتے ہوئے گھوم رہے تھے: علی(ع) سب سے بہتر اور نیک انسان ہیںپس جس نے بھی ان سے منہ پھیرا وہ کافر ہوگیا اے انصارو! تم لوگ اپنے بچوّں کومحبت علیؑ کی تربیت دو،اگر ان میں سے کوئی قبول نہیں کرتا ہے تواس کی ماں کو دیکھو کہ وہ کیسی عورت ہے ایک اور حدیث میں فرمایا: اپنی اولادوں کو تین چیزوں کی تربیت دو: اپنے نبی(ص) اور اس کی ال پاک(ع) کی محبت ان کے دلوں میں پیدا کریں اور قران مجید کی تعلیم دیں
--------------
(1):- جامع الاخبار(للشعيري ) ؛ ص105
(2):-من ل ا یحضره الفقیه ،ج۳، ص ۴۹۳
رَوَ ی فُضَيْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْاعْوَرُ عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع انَّهُ قَالَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ الَّا عَلَ ی الْفِطْرَةِ فَابَوَاهُ اللَّذَانِ يُهَوِّدَانِهِ وَ يُنَصِّرَانِهِ وَ يُمَجِّسَانِه (1)
امام صادق (ع) نےپیغمبر اسلام (ص)سے روایت کی ہے کہ اپ نے فرمایا:دنیا میں انے والا ہربچہ فطرت (توحید) پر پیداہوتا ہےلیکن اس کے والدین یا اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں
اسی لئے اسلام نے بچےّ کے دنیا میں انے سے پہلے سے تربیت کرنے کا حکم دیا:
اپ(ص)نے فرمایا: اپنے نطفوں کے لئے مناسب اور پاکدامن رحم تلاش کروپہلے ذکر کرچکا کہ خاندانی صفات بھی قانون وراثت کے مطابق اولادوں میں منتقل ہوتی ہیں خواہ وہ صفات اچھی ہو یا بریاسی لئے حضرت زہرا (س)کی شہادت کے بعد امیرالمؤمنین(ع) نے نئی شادی کرنا چاہی تو اپنے بھائی عقیل سے کہا کہ کسی شجاع خاندان میں رشتہ تلاش کروتاکہ ابوالفضل جیسے شجاع اور با وفا فرزند عطا ہوں
رُوِيَ عَنْ ابِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اوْصَ ی رَسُولُ اللهِ ص عَلِيَّ بْنَ ابِي طَالِبٍ ع فَقَالَ يَا عَلِيُّ اذَا دَخَلَتِ الْعَرُوسُ بَيْتَكَ فَاخْلَعْ خُفَّيْهَا حِينَ تَجْلِسُ وَ اغْسِلْ رِجْلَيْهَا وَ صُبَّ الْمَاءَ مِنْ بَابِ دَارِكَ الَ ی اقْصَ ی دَارِكَ فَانَّكَ اذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ اخْرَجَ اللهُ مِنْ بَيْتِكَ سَبْعِينَ الْفَ لَوْنٍ مِنَ الْفَقْرِ وَ ادْخَلَ فِيهِ سَبْعِينَ الْفَ لَوْنٍ مِنَ الْبَرَكَةَ وَ انْزَلَ عَلَيْهِ سَبْعِينَ رَحْمَةً وَ تَامَنَ الْعَرُوسُ مِنَ الْجُنُونِ وَ الْجُذَامِ وَ الْبَرَصِ انْ يُصِيبَهَا مَا دَامَتْ فِي تِلْكَ الدَّارِ (2)
---------------
(1):- من لایحضرہ الفقیہ،ج۲، ص۴۹
(2):- من لایحضرہ الفقیہ ،ج۳،ص ۵۵۱
ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے علی ابن ابی طالب (ع) کونصیحت کی اور فرمایا: یا علی ! جب دلہن اپ کے گھر میں داخل ہوجائے تو اس کا جوتا اتارکر اس کے پاؤں دھلائیں اور اس پانی کو گھر کے چاروں کونوں میں چھڑکائیں جب اپ ایسا کروگے تو خدا تعالیٰٰ ستر قسم کے فقر اور مفلسی کو اپ کے گھر سے دور کرے گا، اور ستر قسم کی برکات کو نازل کرے گا، اور دلہن بھی جب تک تیرے گھر میں ہوگی ؛دیوانگی، جزام او ر برص کی بیماری سے محفوظ رہےگی
وَ امْنَعِ الْعَرُوسَ فِي اسْبُوعِهَا مِنَ الْالْبَانِ وَ الْخَلِّ وَ الْكُزْبُرَةِ وَ التُّفَّاحِ الْحَامِضِ مِنْ هَذِهِ الْارْبَعَةِ الْاشْيَاءِ فَقَالَ عَلِيٌّ ع يَا رَسُولَ اللهِ وَ لِايِّ شَيْءٍ امْنَعُهَا هَذِهِ الْاشْيَاءَ الْارْبَعَةَ قَالَ لِانَّ الرَّحِمَ تَعْقَمُ وَ تَبْرُدُ مِنْ هَذِهِ الْارْبَعَةِ الْاشْيَاءِ عَنِ الْوَلَدِ وَ لَحَصِيرٌ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنِ امْرَاةٍ لَا تَلِدُ فَقَالَ عَلِيٌّ ع يَا رَسُولَ اللهِ مَا بَالُ الْخَلِّ تَمْنَعُ مِنْهُ قَالَ اذَا حَاضَتْ عَلَ ی الْخَلِّ لَمْ تَطْهُرْ ابَدا بِتَمَامٍ وَ الْكُزْبُرَةُ تُثِيرُ الْحَيْضَ فِي بَطْنِهَا وَ تُشَدِّدُ عَلَيْهَا الْوِلَادَةَ وَ التُّفَّاحُ الْحَامِضُ يَقْطَعُ حَيْضَهَا فَيَصِيرُ دَاءً عَلَيْهَا (1)
دلہن کو پہلے ہفتے میں دودھ، سرکہ،دھنیا اور ترش سیب کھانے سے منع کریں امیر المؤمنین(ع) نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ کس لئے ان چار چیزوں کے کھانےسے اسے منع کروں؟! تو فرمایا: ان چار چیزوں کے کھانے سے اس کی بچہ دانی ٹھنڈی اور بانجھ ہوجاتی ہے،اور گھر کے کونے میں محصور ہوکر رہنا بانجھ عورت سے بہتر ہےپھر امیرالمؤمنین(ع)نے سوال کیا: یا رسول اللہﷺ !سرکہ یا ترشی سے کیوں روکا جائے؟ تو فرمایا: اگر ترشی پر حیض اجائے تو کبھی حیض سے پاک نہیں ہوگیاور پودینہ تو حیض کو عورت کے پیٹ میں پھیلاتی ہےاور بچہ جننے میں سختی پیدا کرتا ہےاور ترش سیب حیض کو بند کردیتا ہے، جو عورت کے لئے بیماری کی شکل اختیار کرلیتا ہے
--------------
(1):- من لایحضرہ الفقیہ ،ج۳،ص ۵۵۱
اپ(ص)نے حضرت علی (ع)سےمخاطب ہوکر ایک طویل خطبہ دیا جس کا پہلا حصہ اوپر کے دو عناوین میں بیان ہوا اور بقیہ حصہ مندرجہ ذیل عناوین میں تقسیم کر کے بیان کیا گیا ہے چنانچہ ان اداب کا خیال کا سختی سے حکم دیا گیا ہے:
یا علی !یاد کرلو مجھ سے میری وصیت کو جس طرح میں نے اسے اپنے بھائی جبرائیل سے یاد کیا ہے
ثُمَّ قَالَ يَا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَاتَكَ فِي اوَّلِ الشَّهْرِ وَ وَسَطِهِ وَ اخِرِهِ فَانَّ الْجُنُونَ وَ الْجُذَامَ وَ الْخَبَلَ لَيُسْرِعُ الَيْهَا وَ الَ ی وَلَدِهَا (1)
اے علی(ع)! مہینے کی پہلی،درمیانی اور اخری تاریخ کو اپنی بیوی کیساتھ مباشرت نہ کرو کیونکہ ان ایام میں ٹھہرا ہوا بچّہ پاگل، جزام اور ناقص الاعضاء پیدا ہوگا
يَا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَاتَكَ بَعْدَ الظُّهْرِ فَانَّهُ انْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ يَكُونُ احْوَلَ وَ الشَّيْطَانُ يَفْرَحُ بِالْحَوَلِ فِي الْانْسَانِ (2)
اے علی(ع)! ظہرین کے بعد ہمبستری نہ کرو کیونکہ اس سے اگر حمل ٹھہرے تو وہ نامرد ہوگا اور شیطان انسانوں میں نامرد پیدا ہونے سے بہت خوش ہوتا ہے
---------------
(1):- مکارم الاخلاق،ص129
(2):- من لا یحضرہ الفقیہ،ج۳، ص۵۵۱
يَا عَلِيُّ لَا تَتَكَلَّمْ عِنْدَ الْجِمَاعِ فَانَّهُ انْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَدٌ لَا يُؤْمَنُ انْ يَكُونَ اخْرَسَ
اے علی(ع) ! ہمبستری کرتے وقت باتیں نہ کرو اگر اس دوران بیٹا پیدا ہوجائے تو وہ گونگا ہوگا
وَ لَا يَنْظُرَنَّ احَدٌ الَ ی فَرْجِ امْرَاتِهِ وَ لْيَغُضَّ بَصَرَهُ عِنْدَ الْجِمَاعِ فَانَّ النَّظَرَ الَ ی الْفَرْجِ يُورِثُ الْعَمَ ی فِي الْوَلَدِ (1)
اے علی ! مباشرت کرتے وقت شرم گاہ کو نہ دیکھو اس دوران اگر حمل ٹھہر جائے تو وہ اندھا پیدا ہوگا
يَا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَاتَكَ بِشَهْوَةِ امْرَاةِ غَيْرِكَ فَانِّي اخْشَی انْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَدٌ انْ يَكُونَ مُخَنَّثا اوْ مُؤَنَّثا مُخَبَّلًا
اے علی! اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرتے وقت کسی اور نامحرم کا خیال نہ انے پائےمجھے خوف ہے کہ اگر اس موقع پر کوئی بچہ حمل ٹھہر جائے تو وہ خنیٰس پیدا ہوگا اور اگر بچی ہو تو وہ بانجھ ہوگی
يَا عَلِيُّ مَنْ كَانَ جُنُبا فِي الْفِرَاشِ مَعَ امْرَاتِهِ فَلَا يَقْرَا الْقُرْانَ فَانِّي اخْشَ ی انْ تَنْزِلَ عَلَيْهِمَا نَارٌ مِنَ السَّمَاءِ فَتُحْرِقَهُمَا قَالَ مُصَنِّفُ هَذَا الْكِتَابِ رَحِمَهُ اللهُ يَعْنِي بِهِ قِرَاءَةَ الْعَزَائِمِ دُونَ غَيْرِهَن (2)
--------------
(1):- من لا یحضرہ الفقیہ،ج۳، ص۵۵۱
(2):- من لا یحضرہ الفقیہ،ج۳، ص۵۵۱
اے علی! بیوی کے ساتھ مباشرت کرنے کے بعد حالت جنب میں قران کی تلاوت نہ کرے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ ان دونوں پر اسمان سے اگ برسے، اس کتاب کے مصنف فرماتے ہیں اس سے مراد صرف واجب سجدے والے سورے ہیں(1)
يَا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَاتَكَ الَّا وَ مَعَكَ خِرْقَةٌ وَ مَعَ اهْلِكَ خِرْقَةٌ وَ لَا تَمْسَحَا بِخِرْقَةٍ وَاحِدَةٍ فَتَقَعَ الشَّهْوَةُ عَلَ ی الشَّهْوَةِ فَانَّ ذَلِكَ يُعْقِبُ الْعَدَاوَةَ بَيْنَكُمَا ثُمَّ يُؤَدِّيكُمَا الَ ی الْفُرْقَةِ وَ الطَّلَاقِ (2)
اے علی! بیوی کے ساتھ مباشرت کرتے وقت الگ الگ تولیہ رکھیںایک ہی تولیہ سے صاف نہ کریں کیونکہ ایک شہوت دوسری شہوت پر واقع ہوجاتی ہے جو میاں بیوی کے درمیان دشمنی پیدا کرتا ہے اور بالاخر جدائی اور طلاق کا سبب بنتا ہے
یا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَاتَكَ مِن قِيَامٍ فَانَّ ذَلِكَ مِنْ فِعْلِ الْحَمِيرِ فَانْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَدٌ كَانَ بَوَّالًا فِي الْفِرَاشِ كَالْحَمِيرِ الْبَوَّالَةِ فِي كُلِّ مَكَانٍ (3)
اے علی! کھڑے ہوکر مباشرت نہ کرنا کیونکہ یہ گدھے کی عادت ہے ایسی صورت میں اگر بچہ ٹھہر جائے تو وہ بستر میں پیشاب کرنے کی عادت میں مبتلا ہوجائے گا
--------------
(1):- من لا یحضرہ الفقیہ،ج۳، ص۵۵۱
(2):- من لا یحضرہ الفقیہ،ج۳، ص۵۵۱
(3):- من لا یحضرہ الفقیہ،ج۳، ص۵۵۱
يَا عَلِيُّ لَا تُجَامِعِ امْرَاتَكَ فِي لَيْلَةِ الْاضْحَ ی فَانَّهُ انْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا وَلَدٌ يَكُونُ لَهُ سِتُّ اصَابِعَ اوْ ارْبَعُ (1)
اے علی ! عید الضحیٰ کی رات کو مباشرت کریں تو اگر بچہ ٹھہر جائے تو اس کی چھ یا چار انگلیاں ہوگی
امام حسن مجتبی(ع) فرماتے ہیں:اگر ارام، سکون اور اطمنان قلب وغیر مضطرب حالت میں مباشرت کرے تو پیدا ہونے والا بچہ ماں باپ کی شکل میں پیدا ہوگا، لیکن اگر مضطرب حالت میں ہو تو ماموں اور ننھیال کی شکل و صورت میں پیدا ہوگا(2)
جب ایک عورت نے پیغمبر(ص)کی خدمت میں اکر عدالت الٰہی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: کہ میں خدا کو عادل نہیں مانتی کیونکہ اس نے ہمیں نابینا بیٹا دیا،میرے بیٹے اور میرےشوہر کا کیا قصور تھا؟اپ(ص)نے کچھ فکر کرنے کے بعد فریایا: کیا تیرا شوہر تیرے پاس اتے وقت نشے کی حالت میں تو نہیں تھا؟ تو اس نے کہا: ہاں ایسا ہی تھا کہ اس نے شراب کے نشے میں تھاتو اس وقت فرمایا: بس تم اپنے اپ پر ملامت کروکیونکہ نشے کی حالت میں مباشرت کا یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ بچہ اندھا پیدا ہوتا ہےیہ تو جسمانی تأثیر ہے
روحانی تأثیر کے بارے میں امام صادق(ع) فرماتے ہیں:
قَالَ رَسُولُ اللهِ ص وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ انَّ رَجُلًا غَشِيَ امْرَاتَهُ وَ فِي الْبَيْتِ صَبِيٌّ مُسْتَيْقِظٌ يَرَاهُمَا وَ يَسْمَعُ كَلَامَهُمَا وَ نَفَسَهُمَا مَا افْلَحَ ابَدا انْ كَانَ غُلَاما كَانَ زَانِيا اوْ جَارِيَةً كَانَتْ زَانِيَة (3)
--------------
(1):- بحارالانوار
(2):- وسائل الشیعہ ج۲۰، ص۱۳۳،الکافی ،ج۵، ص۵۰۰
(3):- طبرسی، مکارم الاخلاق،ص۲۰۴
اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کیساتھ مباشرت کرے اور اس کمرے میں چھوٹا بچہ جاگ رہا ہو اور انہیں دیکھ رہا ہو اور ان کی باتوں اور سانسوں کو سن رہا ہو تو کبھی بھی وہ نیک اولاد نہیں ہوگی، اگر بچہ ہو تو وہ زانی ہوگا اور اگر وہ بچی ہو تو وہ زانیہ ہوگی
یعنی اعتقاد اور فکری لحاظ سے یک سو ہواور ایمان و عمل کے لحاظ سے برابر اور مساوی ہو ایک شخص نے امام حسن(ع) سے اپنی بیٹی کے رشتے کے بارے میں رائے مانگی تو اپ نے فرمایا:
جَاءَ رَجُلٌ الَ ی الْحَسَنِ ع يَسْتَشِيرُهُ فِي تَزْوِيجِ ابْنَتِهِ فَقَالَ زَوِّجْهَا مِنْ رَجُلٍ تَقِيٍّ فَانَّهُ انْ احَبَّهَا اكْرَمَهَا وَ انْ ابْغَضَهَا لَمْ يَظْلِمْهَا (1)
اس کی شادی کسی پرہیزگار شخص کیساتھ کرو اگر وہ تیری بیٹی کو چاہتا ہے تو اس کا احترام کریگا، اور اگر پسند نہیں کرتا ہے تو تیری بیٹی پر ظلم نہیں کریگا
اپ نے فرمایا: اپنے نطفوں کے لئے مناسب اور پاکدامن رحم تلاش کرو کیونکہ خاندانی صفات بھی قانون وراثت کے مطابق اولادوں میں منتقل ہوتی ہیں خواہ وہ صفات اچھی ہو یا بری خصوصا ماں کی خصوصیات کیونکہ بچےّ کا پورا وجود ماں کے بدن کا حصہ ہے،حاملہ ماں جو چیز بھی کھاتی ہے اسی کا شیرہ بچےّ کے لئے دودھ کی شکل میں میسر ہوتا ہے اگر ماں اچھی اور پاک غذا کھائے تو بچےّ پر بھی اچھا اثر پڑے گا اور اگر ماں ناپاک اور حرام غذا کھائے تو بچےّ پر بھی اس کا برا اثر ضرور پڑے گا جس طرح جسمانی اثرماں سے بچےّ میں منتقل ہوتی ہے اسی طرح روحانی اثرات جیسے ایمان، عمل، پرہیزگاری، اہل بیت کی محبت اور مودت، نماز اور روزہ کے پابند ہونا وغیرہ اگر یہ خوبیاں بچےّ میں موجود ہوں تو اس ماں کے لئے دعا ئیں دینا چاہئے چنانچہ روایت میں ہے:
--------------
(1):- منلايحضرهالفقيه، ج3 ،ص493،باب تاديب الولد و امتحانه
وَ كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْانْصَارِيُّ يَدُورُ فِي سِكَكِ الْانْصَارِ بِالْمَدِينَةِ وَ هُوَ يَقُولُ عَلِيٌّ خَيْرُ الْبَشَرِ فَمَنْ ابَ ی فَقَدْ كَفَرَ يَا مَعَاشِرَ الْانْصَارِ ادِّبُوا اوْلَادَكُمْ عَلَ ی حُبِّ عَلِيٍّ فَمَنْ ابَ ی فَانْظُرُوا فِي شَانِ امِّهِ (1)
جابر بن عبداللہ انصاری مدینہ میں سارے انصارے کے ٹھکانوں کا چکر لگاتے اور فرماتے تھے علی خیر البشر ہیں اور جس نے بھی ان سے روگردانی کی وہ کافر ہوا،اے انصارو! اپنی اولاد میں محبت علی(ع) پیدا کریں اور جس نے بھی محبت سے انکار کیا تو اس کی ماں کا جائزہ لو
اسی لئے حضرت زہرا (س)کی شہادت کے بعد امیرالمؤمنین نے نئی شادی کرنا چاہی تو اپنے بھائی عقیل سے کہا کہ کسی شجاع خاندان میں رشتہ تلاش کروتاکہ ابوالفضل(ع) جیسے شجاع اور با وفا فرزند عطا ہوں
پیدائش کے بعد
امام حسن(ع) جب متولد ہوئے تو پیغمبر اسلام(ص)نے ان کے کانوں میں اذان واقامت پڑھیاور علی (ع)سے فرمایا:
يَا عَلِيُّ اذَا وُلِدَ لَكَ غُلَامٌ اوْ جَارِيَةٌ فَاذِّنْ فِي اذُنِهِ الْيُمْنَ ی وَ اقِمْ فِي الْيُسْرَ ی فَانَّهُ لَا يَضُرُّهُ الشَّيْطَانُ ابَدا (2)
اے علی ! اگر تمہیں بیٹا یا بیٹی عطا ہو تو ان کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہو تاکہ اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکےاور فرمایا:
من ساء خلقه فَاذِّنْوه فِي اذُنِهِ (3)
اگر بچہ روئے یا بد خلق ہوجائے تو اس کے کانوں میں اذان کہو
--------------
(1):- تحف العقول،ص16
(2):- محاسن برقی ج2،ص424
(3):- مجمع البحرین، ص 590
اور یہ عمل سائنسی طور پر بھی ثابت ہوچکا ہے کہ نوزائدہ بچہ نہ صرف پیدا ہوتے ہی ہماری باتوں کو سمجھ سکتا ہے بلکہ ماں کے پیٹ میں بھی وہ متوجہ ہوتا ہے اور اپنے ذہن میں حفظ کرلیتا ہےماں کے دل کی دھڑکن جو بچےّ کے لئے دنا میں انے کے بعد ارام کا سبب بنتی ہےجب ماں گود میں اٹھاتی ہے اور خصوصا بائیں طرف، توروتا بچہ خاموش ہوجاتا ہےاسی لئے اگر ماں حاملگی کے دوران قران سنا یا پڑھا کرے تو بچےّ میں بھی وہی تأثیر پیدا ہوگی اور اگر گانے وغیرہ سنے تو بھی اس کی بہت ساری مثالیں دی جاسکتی ہیں:
قم مقدس میں ایک قرانی جلسہ میں جب سید محمد حسین طباطبائی کے والد محترم سے سؤال کیا گیا کہ اپ کے خیال میں کیا سبب بنا کہ محمد حسین پانچ سال میں حافظ کلّ قران بنا؟
توکہا: جب یہ اپنی ما ں کے پیٹ میں تھا تو اس وقت وہ قران کی زیادہ تلاوت کیا کرتی تھی
گذشتہ علمائے کرام کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان میں بھی ایسے ہی واقعات ملتے ہیں، ان میں سے ایک سید رضی اور سید مرتضی کا واقعہ ہےخود سید مرتضی (رح)فرماتے ہیں: جب اپنے استاد محترم شیخ مفید (رح) کے درس میں حاضر ہوا تو ایسا لگ رہا تھا کہ یہ دروس پہلے سے ہی پڑھے ہوئے ہیںجب اپنی مادر گرامی کے پاس اکر یہ ماجرا بیان کیا تو وہ کچھ تأمل کے بعد کہنے لگیں: درست ہے جب اپ گہوارے میں تھے اس وقت اپ کے والد گرامی یہ دروس اپنے شاگردوں کو دیا کرتے تھے یہی ماں تھی کہ جب ان کو بیٹے کے مجتہد ہونے کی خبر دی گئی تو کہا: اس میں تعجب کی بات نہیں کیونکہ میں نے کبھی بھی انہیں بغیر وضو کے دودھ نہیں پلایا اور یہی ماں جناب شیخ مفید (رح) کی خواب کی تعبیر تھی، جنہوں نے حضرت فاطمہ(س) کوخواب میں دیکھا تھا کہ اپ حسن و حسین (ع) کے ہاتھوں کو پکڑ کے اپ کے پاس لاتی ہیں اور فرماتی ہیں: اے شیخ میرے ان دو بیٹوں کو دینی تعلیم دوجب خواب سے بیدار ہوئے تو بڑی پریشان حالت میں، کہ میں اور حسنین کو تعلیم؟!!!
جب صبح ہوئی تو سید رضیؓ اور مرتضیؓ کے ہاتھوں کو اسی طرح سے جیسے خواب میں دیکھا تھا، ان کی مادر گرامی پکڑ کے لاتی ہیں اور کہتی ہیں: جناب شیخ ! اپ میرے ان دو بیٹوں کو فقہ کی تعلیم دیں
ایک عالم کہتا ہے کہ ایک یہودی نے مجھ سے کہاکہ مجھے اسلام کی تعلیم دو تاکہ میں مسلمان ہوجاؤںمیں نے وجہ دریافت کی تو کہنے لگا کہ مجھے بچپنے سے ہی اسلام سے بہت لگاؤ ہے اور اسلام کا بہت بڑا شیدائی ہوںاور جب بھی اذان کی اواز اتی ہے تو سکون ملتا ہے اور جب تک اذان تمام نہ ہو، اذان کے احترام میں کھڑا رہتا ہوںمیں نے اس کی ماں سے وجہ دریافت کی تو اس کی ماں نے کہا: درست ہے جب میرا بیٹا اس دنیا میں ایا تو ہمارے ہمسائے میں ایک مسلمان مولانا رہتا تھا جس نے اسکے کانوں میں اذان و اقامت پڑھی تھی(1)
بچےّ کی شخصیت بنانے میں ماں کے دودھ کی بڑی تاثیر ہےاسی لئے امام المتقین ؑنے فرمایا:
فانظروا من ترضع اولادکم انّ الولد یشبّ عليه (2)
دیکھ لو کون تمہاری اولادوں کو دودھ پلارہی ہے؟ کیونکہ بچےّ کی پرورش اسی پر منحصر ہے
قَالَ يَا امَّ اسْحَاقَ لَا تُرْضِعِيهِ مِنْ ثَدْيٍ وَاحِدٍ وَ ارْضِعِيهِ مِنْ كِلَيْهِمَا يَكُونُ احَدُهُمَا طَعَاما وَ الْاخَرُ شَرَابا (3)
امام صادق(ع) فرماتے ہیں: اے ام اسحاق بچےّ کو دونوں پستانوں سے دودھ دیا کرو کیونکہ ایک چھاتی کا دودھ روٹی اور دوسری چھاتی کا دودھ پانی کا کام دیتا ہے
نفسیاتی ماہرین معتقد ہیں کہ بچوّں کی زندگی میں کھیل کود کا بڑا کردار ہے وہ کھیلوں کے دوران زندگی کی نشیب و فراز،احساسات اور عواطف کو سیکھتے اور تجربہ حاصل کرتے ہیں ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے بچےّ اہستہ اہستہ کھیل کی دنیا سے حقیقی دنیا کی طرف اتے ہیں:
--------------
(1):- وسائل،ج21،ص453
(2):-وس ائل،ج21،ص453(3):- الك افي،ج6، ب اب ت اديب الولد، ص : 46
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ الْغُلَامُ يَلْعَبُ سَبْعَ سِنِينَ وَ يَتَعَلَّمُ الْكِتَابَ سَبْعَ سِنِينَ وَ يَتَعَلَّمُ الْحَلَالَ وَ الْحَرَامَ سَبْعَ سِنِينَ (1)
امام صادق (ع)نے فرمایا: بچہ سات سال تک کھیل کود میں مشغول رہے،اس کے بعد سات سال اسےلکھنا پڑھنا سکھاؤ اور اس کے بعد سات سال زندگی کے قواعد و مقررات جیسے حلال و حرام سکھاؤ
اسی طرح دوسری حدیث میں فرمایا:
دَعِ ابْنَكَ يَلْعَبْ سَبْعَ سِنِينَ وَ يُؤَدَّبْ سَبْعَ سِنِينَ وَ الْزِمْهُ نَفْسَكَ سَبْعَ سِنِينَ فَانْ افْلَحَ وَ الَّا فَانَّهُ مِمَّنْ لَا خَيْرَ فِيهِ (2)
امام صادق (ع) فرمایا: اپنے بیٹے کو سات سال تک ازاد چھوڑ دو تاکہ وہ کھیلے کودے، دوسرے سات سال اسے ادب سکھاؤ پھر تیسرے سات سال اسے اپنے ساتھ ساتھ کاموں میں لگادو اگر وہ اچھا انسان بن جائے تو ٹھیک ورنہ وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جن میں کوئی اچھائی موجود نہیں
قَالَ سَمِعْتُ الْعَبْدَ الصَّالِحَ ع يَقُولُ تُسْتَحَبُّ عَرَامَةُ الصَّبِيِّ فِي صِغَرِهِ لِيَكُونَ حَلِيما فِي كِبَرِهِ ثُمَّ قَالَ مَا يَنْبَغِي انْ يَكُونَ الَّا هَكَذَا (3)
راوی کہتا ہے کہ میں نے امام موسی کاظم (ع)کوفرماتے ہوئے سنا:اپنے بچوّں کو بچپنے میں اچھلنے کودنے کا موقع دو تاکہ بڑے ہوکر حلیم (اور خوش خلق)بن جائیں، اس کے بعد فرمایا: اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں درج ذیل روایات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہراء(س) کس قدر بچوّں کی نفسیاتی مہارت کے ساتھ تربیت کرتی تھی کہ حسن مجتبیٰ (ع)کو اچھالتی ہوئی ایسا شعر کہہ رہی تھی کہ جو بچےّ کی انے والی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت مؤثر ہوسکتا ہے:
--------------
(1):-منل ايحضره الفقيه،ج3،ص492، ب اب ت اديب الولد و امتح انه
(2):-الك افي،ج 6،ص 51،ب اب التفرس في الغل ام و م ا يستدل به
(3):- بحار،ج100، ص197
اشبه اباك يا حسن و اخلع عن الحَّقَ الرَّسَنَ
وَ اعْبُدْ الها ذالمِنَنِ و لا تُوال ذالاحَنٍ
اے میرے بیٹے حسن ! اپنے بابا علی(ع) جیسا بن کرظلم کی رسی کو حق کی گردن سے اتار دو مہربان خدا کی عبادت کرو اور بغض و کینہ دل میں رکھنے والے افراد سے دوستی نہ کرو اس کے بعد امام حسین (ع) کو ہاتھوں میں اٹھاتی اور فرماتی:
انتَ شَبيهّ بَابي لَستَ شبيها بِعَليٍّ
میرے بیٹے حسین ! تو میرے بابا رسول اللہﷺ سے شباہت رکھتے ہو نہ تیرے بابا علی(ع) سے یہ باتیں علی (ع)سن کر مسکرا رہے تھے
اگر بچوّں کو لقمہ حرام کھلائیں گے تو فرزند کبھی صالح نہیں ہوگاکیونکہ حرام لقمہ کا بہت برا اثر پڑتا ہے جس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، چنانچہ امام حسین(ع)نے عاشور کے دن کئی مرتبہ فوج اشقیا کو نصیحت کی لیکن انہوں نے نہیں سنی تو امام نے فرمایا:
قد ملئت بطونکم من الحرام
تمہارے پیٹ لقمہ حرام سے بھر چکے ہیں جس کی وجہ سے تم پر حق بات اثر نہیں کرتیپس جو ماں باپ اپنے بچوّں کو لقمہ حرام کھلائیں وہ بچوّں کی اصلاح کی امید نہ رکھیں
قَالَ الصادق: انَّ رَسُولَ اللهِ ص بَلَغَهُ انَّ رَجُلًا مِنَ الْانْصَارِ تُوُفِّيَ وَ لَهُ صِبْيَةٌ صِغَارٌ وَ لَيْسَ لَهُ مَبِيتُ لَيْلَةٍ تَرَكَهُمْ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَ قَدْ كَانَ لَهُ سِتَّةٌ مِنَ الرَّقِيقِ لَيْسَ لَهُ غَيْرُهُمْ وَ انَّهُ اعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ مَا صَنَعْتُمْ بِهِ قَالُوا دَفَنَّاهُ فَقَالَ امَا انِّي لَوْ عَلِمْتُهُ مَا تَرَكْتُكُمْ تَدْفِنُونَهُ مَعَ اهْلِ الْاسْلَامِ تَرَكَ وُلْدَهُ صِغَارا يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ (1)
امام صادق(ع) سے مروی ہے کہ اصحاب پیغمبر(ص) میں سے ایک نے مرتے وقت زیادہ ثواب کمانے کی نیت سے اپنا سارا مال فقراء میں تقسیم کروایااور اپنے چھوٹے چھوٹے بچوّں کو بالکل خالی ہاتھ چھوڑ دیا، جو لوگوں سے بیگ مانگنے پر مجبور ہوگئے جب یہ خبر رسول خدا (ص) تک پہنچی تو اپ سخت ناراض ہوگئے اور پوچھا: اس کے جنازے کیساتھ کیا کیا؟ لوگوں نے کہا قبرستان میں دفن کیا گیاپیغمبر(ص)نےفرمایا: اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے نہ دیتاکیونکہ اس نے اپنے بچوّں کو دوسروں کا دست نگر بنا دیا
بچوّں کو جب بھی کوئی نصیحت کرنی ہو تو میرے بیٹے کہہ کر بلاؤقران بچوّں کی تربیت اور نصیحت پر بہت زور دیتا ہے ائمہ(ع) کی سیرت میں بھی ہمیں یہی چیز ملتی ہےایک دن امام حسین(ع) نماز کے دوران پیغمبر اسلام(ص)کے کندھوں پرسوار ہوئے تو رسول خدا(ص)نے انہیں نیچے اتاراجب دوسرے سجدے میں گئے تو دوبارہ سوار ہوئےیہ منظر ایک یہودی دیکھ رہا تھا،کہنے لگا اپ اپنے بچوّں سے اتنی محبت کرتے ہیں ؟ ہم اتنی محبت نہیں کرتےتو اپ(ص)نے فرمایا: اگر تم خدا اور اسکے رسول پر ایمان لے اتے تو تم بھی اپنے بچوّں سے اسی طرح محبت کرتے، اس شخص نے متأثر ہوکر اسلام قبول کیا(2)
--------------
(1):- بحار،ج10، ص 83
(2):- شرح ابن ابی الحدید،ج11،ص19
ایک مرتبہ اپ کا گزر ایسی جگہ سے ہوا جہاں بچےّ کھیل کود میں مشغول تھے اور ایک روٹی ان کے پاس تھی اسے کھانے میں مصروف تھے امام کو بھی دعوت دی، امام نے ان کی دعوت قبول کرلی اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا شروع کیا پھر سارے بچوّں کو اپنے گھر لے گئے اور ان کو کھانا کھلایا اور لباس بھی دیا پھر فرمایا:
ان بچوّں کی فضیلت مجھ سے زیادہ ہے کیونکہ انہوں نے اپنا سب کچھ میرے لئے حاضر کئے،کہ ان کے پاس ایک روٹی کے علاوہ کچھ نہ تھا لیکن میں نے جو بھی کھلایا،اس کے علاوہ میرے پاس اور بھی موجود ہے(1)
امام زین العابدین (ع)نے ایک بار نماز جلدی جلدی پڑھ لی لوگوں نے سوال کیا مولا ایسا کیوں کیا؟ تو فرمایا: کیونکہ صفوں میں بچےّ بھی نماز پڑھ رہے تھے جن کا خیال کرتے ہوئے نماز جلدی جلدی تمام کی
اس طرح ایک اور روایت میں ہے کہ امیر المؤمنین (ع)نے ایک یتیم بچےّ کو غمگین حالت میں دیکھا تو ان کو خوش کرنے کے لئے اس کیساتھ پیار سے باتیں کرنے لگے، لیکن یتیمی کی یتیم پر اداسی کی وجہ سے کوئی اثر نہیں ہوا تو امیر المومنین اپنے گٹھنہ ٹیک کر بھیڑ کی اوازیں نکالنے لگے تو تب جا کر یتیم بچہ مسکرانے لگا، جب کسی نے دیکھا توکہنے لگا مولا ! یہ اپ کے لئے مناسب نہیں ہے کہ حکومت اسلامی کاایک سربراہ چوپائیوں کی اوازیں نکالے! تو میرے مولا نے فرمایا: کوئی بات نہیں اس کے بدلے میں ایک یتیم کو میں نے خوش کیا
--------------
(1):-مستدرك الوس ائل،ج2،ص474، ب اب استحب اب مسح ر اس اليتيم ترحم
پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: بہترین گھر وہ ہے جہاں یتیموں کی پرورش اور دیکھ بھال ہوتی ہو اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیموں کی اہانت ہوتی ہومزید فرمایا:
انَّهُ قَالَ انَا وَ كَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ وَ اشَارَ بِاصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَ الْوُسْطَ ی (1) وَ مَنْ مَسَحَ يَدَهُ بِرَاسِ يَتِيمٍ رِفْقا بِهِ جَعَلَ اللهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ تَحْتَ يَدِهِ قَصْرا اوْسَعَ مِنَ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا وَ فِيهَا مَا تَشْتَهِي الْانْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاعْيُنُ وَ هُمْ فِيهَا خَالِدُون (2)
اور جو بھی یتیموں کی تعلیم و تربیت اور سرپرستی کرے گا وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ان دو انگلیوں کی مانند ہوگااور جو بھی کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے گا تو خدا تعالیٰٰ اس کے لئے ہربال کے بدلے جو اس کے ہاتھوں سے چھوئے، بہشت میں ایک محل عطا کرے گا جو اس دنیا و مافیھا سے بھی بڑا ہوگا اور اس قصر میں وہ چیزیں ہونگی جنہیں نہ کسی نے چکھا ہوگا اور نہ کسی انکھ نے دیکھا ہوگا اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے
اسی طرح امام حسن مجتبی (ع)ایک دن دوش نبی پر سوار تھے کوئی اکر کہنے لگا: اے حسن مجتبی (ع)!کتنی خوبصورت اپ کی سواری ہے؟ تو رسول اللہ نے فرمایا: اسے نہ کہو کہ تیری سواری کتنی اچھی ہے بلکہ مجھ سے کہو کہ تیرا شہسوار کتنا اچھا ہے؟! صرف وہ فخر نہیں کرتا کہ اس نے دوش نبوت پر پاؤں رکھا ہے،بلکہ میں بھی فخر کرتا ہوں کہ وہ میرے دوش پر سوار ہے
اسلام اس بات پر بہت توجہ دیتا ہے کہ بچوّں کو پیار و محبت دیا کریںرسول خدا(ص) ایک دن اپنے بچوّں کو زانو پر اٹھایا پیار ومحبت کیساتھ بوسہ دے رہے تھے اتنے میں دورجاہلیت کے کسی بڑے خاندان کا ادمی وہاں پہنچا اور کہامیرے دس بیٹے ہیں
--------------
(1):-بح ار ال انو ار،ج 8،ص179، الجنة و نعيمه ا رزقن ا الله
(2):- بحار،ج10، ص84
لیکن اج تک میں نے کسی ایک کو بھی ایک بار بوسہ نہیں دیاہےیہ سن کر اپ(ص) سخت ناراض ہوگئےاور غصّے سے چہرہ مبارک سرخ ہوگیااور فرمایا:من لایَرحَم لا یُرحَم جس نے دوسروں پر رحم نہیں کیا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا اور تیرے دل سے رحم نکل گیا ہے تو میں کیا کروں؟!ایک دفعہ جب اپ سجدے میں گئے تو حسن مجتبی(ع) کندھوں پر سوار ہوئے،جب اصحاب نے سجدے کو طول دینے کی وجہ پوچھی تو اپ نے فرمایا:حسن میرے کندھے پر سوار ہوئے تھے اور میں انہیں اتارنا نہیں چاہتا تھا، جب تک خود اپنی مرضی سے نہ اتر اتے(1)
اگر ماں باپ بچوّں کا احترام نہ کریں تو وہ ان کے قریب نہیں جائیں گے اورنہ ان کی باتیں سنیں گےاگر ہم چاہیں کہ ہمارے بچےّ ہماری بات مانیں اور ہم نصیحت کریں تو ضروری ہے کہ بچوّں کے لئے احترام کے قائل ہوں اور ان سے مشورت مانگیں،ان کی باتوں کو بھی اہمیت دیں ہمارے لئے قران مجید میں نمونہ عمل موجود ہے کہ حضرت ابراہیم (ع)جو سو سالہ بزرگ ہوتے ہوئے بھی تیرہ سالہ بچےّ سے مشورہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بیٹا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے خدا کی راہ میں قربان کر رہا ہوں، اس میں تیری کیا رائے ہے؟!
تمام ماہر نفسیات معتقد ہیں کہ بچےّ ماں باپ کی مہر ومحبت کا شدیدمشتاق ہیں والدین کو چاہئے کہ ان کے ساتھ ارتباط پیدا کریں اور ان کی ضروریات پوری کریں روحانی سکون پہنچائیں اور گود میں اٹھا کر،کبھی زانو پر بٹھا کر، کبھی ہدیہ دے کر، کچھ اوقات ان کے ساتھ گزار کر، سینہ پر سوار کرکے، اور کبھی مہر و محبت سے پر باتیں کرکے ان کے ساتھ محبت کا اظہار کریں، جس سے ان کی سوچ اور فکر کی تربیت ہوتی ہے
--------------
(1):-میز ان الحکمة،ج10،ص70
جناب فاطمہ (س)بھی اپنی اولاد کے ساتھ زیادہ اظہار محبت کیا کرتی تھی یہاں تک کہ اپ کی رحلت نزدیک تھی تو حضرت علی ؑکے لئے وصیت فرماتی ہیں کہ میرے بچوّں کے لئے کوئی ایسی ماں تلاش کرو جو ان سے محبت کرتی ہوںتاکہ میری اولاد ماں کی محبت سے محروم نہ ہوں (1)
فاطمہ(س) نے اپنی اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰٰ کے ساتھ معاملہ کیا جب پیغمبر اکرم ﷺ نے اپ کو امام حسین (ع)کی شہادت کی خبر دی اور واقعہ کربلا کی تشریح کی تو جناب فاطمہ (س) نے کلمہ استرجاع کا ورد کیا اور روتے ہوئے فرمایا:« يا ابه ! سلّمت و رضيت و توكلت علي الله » بابا جان مجھے قبول ہے اور میں اس پر راضی ہوں اور اللہ تعالیٰٰ پر توکل کرتی ہوں اور یہ مسلمات میں سے ہے کہ جو اپنی ساری محبت کو اللہ تعالیٰٰ کی رضایت کی خاطر نذر کرے تو اللہ تعالیٰٰ بھی ان کی محبت کو اپنی محبت اور ان کی ناراضگی کو اپنی ناراضگی قرار دے گاچنانچہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا:
ان الله يغضب لغضبها
تَقُولُ لِوَلَدَيْهَا ايْنَ ابُوكُمَا الَّذِي كَانَ يُكْرِمُكُمَا وَ يَحْمِلُكُمَا مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ ايْنَ ابُوكُمَا الَّذِي كَانَ اشَدَّ النَّاسِ شَفَقَةً عَلَيْكُمَا فَلَا يَدَعُكُمَا تَمْشِيَانِ عَلَ ی الْارْضِ وَ لَا ارَاهُ يَفْتَحُ هَذَا الْبَابَ ابَدا وَ لَا يَحْمِلُكُمَا عَلَ ی عَاتِقِهِ كَمَا لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ بِكُمَا (2)
رسول گرامی کی رحلت کے بعد ، حضرت زہرا (س) اپنے بچوّں کو نانا کا پیار و محبت سے محروم ہونے پر کبھی کبھی حزن اور اندوہ کیساتھ یوں مخاطب کرتی تھیں: کہاں گئے اپ کے نانا جو تم لوگوں سے بہت پیار کرتے،اپنے دوش پر سوار کراتے،اور ہمیشہ اپنے گود میں اٹھاتے تھے؟ہائے افسوس میں انہیں تم لوگوں کواپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے کبھی نہیں دیکھ پاؤں گی
--------------
(1):-من اقب ابن شهر اشوب ، ص362
(2):- بحارالانوار ، ج 43 ، ص181
قَالَ رَسُولُ اللهِ ص اذَا نَظَرَ الْوَالِدُ الَ ی وَلَدِهِ فَسَرَّهُ كَانَ لِلْوَالِدِ عِتْقُ نَسَمَةٍ قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ وَ انْ نَظَرَ سِتِّينَ وَ ثَلَاثَمِائَةِ نَظْرَةٍ قَالَ اللهُ اكْبَرُ (1)
رسول اکرم (ص) نے فرمایا کہ وہ باپ جو اپنی اولاد کو مہر و محبت کی نگاہ سے دیکھے اور اسے محبت کیساتھ نصیحت کرے اور اسے خوش کرے تو اللہ تعالیٰٰ اسے ایک غلام ازاد کرنے کا ثواب عطا کرتا ہے
اغلب کسان کہ پردہ حرمت دریدہ اند در کوکی محبت مادر ندیدہ اند
زیادہ تر وہی بچے گھریلو حالات کا خیال نہیں رکھتے جنہیں بچپنے میں ماں کی محبت نصیب نہیں ہوئی ہو
ایک جوان کہتا ہے کہ میرے والدین گھر میں مجھے کوئی اہمیت نہیں دیتے تھےاگر میں کوئی بات کرتا تو ٹوک دیتے تھے مجھے کسی بھی گھریلو کام میں شامل نہیں کرتے تھےاگر کوئی کام کروں تو اسے اہمیت نہیں دیتے تھے اور دوسروں کے سامنے حتی میرے دوستوں کے سامنے میری تحقیر اور توہین کرتے تھے اس وجہ سے میں احساس کمتری کا شکار ہوتا اور حقارت اور ذلّت کا احساس کرنے لگاںاور اپنے اپ کو گھر میں فالتو فرد سمجھنے لگاراب جبکہ میں بڑا ہوگیا ہوں پھر بھی دوستوں میں کوئی بات کرنے کی جرأت نہیںاگر کوئی بات کروں تو بھی گھنٹوں بیٹھ کر اس پر سوچتا ہوں کہ جو کچھ کہا تھا کیا غلط تو نہیں تھا اس میں میرے والدین کی تقصیر ہے کہ انہوں نے یوں میری تربیت کی:
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ دَعِ ابْنَكَ يَلْعَبُ سَبْعَ سِنِينَ وَ الْزِمْهُ نَفْسَكَ سَبْعا فَانْ افْلَحَ وَ الَّا فَانَّهُ مِمَّنْ لَا خَيْرَ فِيهِ (2)
--------------
(1):-مستدرك الوس ائل،ج15 ،ص169 ، ب اب جملة من حقوق ال اول اد
(2):- وسائل الشیعہ ج ۱۵ ، ص ۱۹۴، الکافی ،ج۶، ص۴۶
اسی لئے امام باقر ؑنے فرمایا:بچےّ کو پہلے سات سال بادشاہوں کی طرح، دوسرے سات سال غلاموں کی طرح اور تیسرے سات سال وزیروں کی طرح اپنے کاموں میں اسے بھی شامل کرو اور ان سے بھی مشورہ لیا کرواگر بچےّ احساس حقارت کرنے لگیں تو نہ وہ تعلیمی میدان میں اگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ دوسرے ترقیاتی کاموں میں
ایک بچی کہتی ہے کہ:میری ماں ہمیشہ مجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتی تھیایک دفعہ امتحانات میں کم نمبر انے کی وجہ سے میری خالہ کے سامنے توہین کرنا شروع کیا تو انہوں نے میری ماں سے کہا: بہن !اس کی توہین نہ کرو مزید خراب ہوجائے گیماں نے کہا یہ ایسی ہی ہےمیری خالہ نے ماں سے اجازت لے کر مجھے امتحانات تک اپنے گھر لے گئیمیری خالہ زاد بہن مہری میری ہمکلاس تھیاس کے ساتھ امتحان کی تیاری شروع کی تو مہری حسب سابق first اور میں third ائیجس پر مجھے خود یقین نہیں ارہا تھا
والدین کو چاہئے کہ اپنے بچےّ کے اندر کیا صلاحیت اور استعداد موجود ہے، اس پر توجہ دیںاگر وہ تعلیم میں کمزور ہے تو اپ اسے مجبور نہ کریں، بلکہ دیکھ لیں کہ کس شعبے میں وہ مہارت حاصل کرنے کی قابلیت رکھتا ہے
بہزاد نامی ایک شخص تھاجو ایران کا بہت بڑا نامور نقّاش تھا یہ کلاس میں نہ خود پڑھتا تھا اور نہ دوسروں کو پڑھنے دیتا تھالیکن شکل سے پڑھا لکھا اور ہنر مند نظر اتا تھاایک دن ایک ماہرنفسیات نے اسے اپنے پاس بلایا اور اسے نصیحت کرنا چاہابہزاد نے خاموشی کے ساتھ اس کی نصیحت سننے کیساتھ ساتھ زمین پر ایک مرغے کی تصویر بنائی جو درخت پر بیٹھا ہے جب اس ماہرنفسیات نے یہ دیکھا تو سمجھ گیا کہ اس لڑکے میں بہت بڑی صلاحیت موجود ہےاس کے والد کو بلایا اور کہا یہ نقاشی میں بہت مہارت رکھتا ہےاس شعبے سے ان کو لگاؤ اوردلچسپی ہےاسے نقاشی کی کلاس میں بھیج دوانہوں نے ایسا ہی کیا جو بعد میں بڑا نامور اور معروف نقاش ایران کے نام سے پوری دنار میں مشہور ہوا(1)
--------------
(1):- جعفر سبحانی؛رمزپیروزی مردان بزرگ،ص11
اگر اپ کا بچہ تعلیمی میدان میں کمزور ہو تو اپ اس کی تحقیر نہ کریں کیونکہ خدا تعالیٰٰ نے ہر کسی کو ایک جیسا ذہن عطا نہیں کیا ہےممکن ہے ایک شخص کند ذہن ہو یا تند ذہنایسی صورت میں تشویق کریں تاکہ بیشتر اپنے فیلڈ میں مزید ترقی کرسیںو
ایک شخص کہتا ہے کہ میرا ایک دوست مداری تھا کہ جو مختلف شہروں میں لوگوں کو مختلف کرتب دکھاتا پھرتا تھامیں اس پر حیران تھا کہ کس طرح وحشی حیوانات (شیر،ببر،ہاتھی،کتا، ریچھ وغیرہ)اس کے تابع ہوتے ہیں؟ ایک دن میں نے اس پر تحقیق شروع کی تو معلوم ہواکہ وہ ہر حیوان کو معمولی سا کرتب دکھانے پر اسے گوشت کی چند بوٹیاں کھلاتا ہے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اس کی تشویق کرتا ہےاسی تشویق کا نتیجہ تھا کہ جنگلی اور وحشی جانوریں بھی اپنے مالک کی ہر بات ماننے کے لئے تیاردکھائی دیتے ہیں
انَّ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ كَانَا يَكْتُبَانِ فَقَالَ الْحَسَنُ لِلْحُسَيْنِ خَطِّي احْسَنُ مِنْ خَطِّكَ وَ قَالَ الْحُسَيْنُ لَا بَلْ خَطِّي احْسَنُ مِنْ خَطِّكَ فَقَالَا لِفَاطِمَةَ احْكُمِي بَيْنَنَا فَكَرِهَتْ فَاطِمَةُ انْ تُؤْذِيَ احَدَهُمَا فَقَالَتْ لَهُمَا سَلَا ابَاكُمَا فَسَالَاهُ فَكَرِهَ انْ يُؤْذِيَ احَدَهُمَا فَقَالَ سَلَا جَدَّكُمَا رَسُولَ اللهِ ص فَقَالَ ص لَا احْكُمُ بَيْنَكُمَا حَتَّی اسْالَ جَبْرَئِيلَ فَلَمَّا جَاءَ جَبْرَئِيلُ قَالَ لَا احْكُمُ بَيْنَهُمَا وَ لَكِنَّ اسْرَافِيلَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمَا فَقَالَ اسْرَافِيلُ لَا احْكُمُ بَيْنَهُمَا وَ لَكِنَّ اسْالُ اللهَ انْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمَا فَسَالَ اللهَ تَعَالَی ذَلِكَ فَقَالَ تَعَالَی لَا احْكُمُ بَيْنَهُمَا وَ لَكِنَّ امَّهُمَا فَاطِمَةَ تَحْكُمُ بَيْنَهُمَا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ احْكُمُ [احْكُمْ] بَيْنَهُمَا يَا رَبِّ وَ كَانَتْ لَهَا قِلَادَةٌ فَقَالَتْ لَهُمَا انَا انْثُرُ بَيْنَكُمَا جَوَاهِرَ هَذِهِ الْقِلَادَةِ فَمَنْ
اخَذَ منهما [مِنْهَا] اكْثَرَ فَخَطُّهُ احْسَنُ فَنَثَرَتْهَا وَ كَانَ جَبْرَئِيلُ وَقْتَئِذٍ عِنْدَ قَائِمَةِ الْعَرْشِ فَامَرَهُ اللهُ تَعَالَی انْ يَهْبِطَ الَی الْارْضِ وَ يُنَصِّفَ الْجَوَاهِرَ بَيْنَهُمَا كَيْلَا يَتَاذَّی احَدُهُمَا فَفَعَلَ ذَلِكَ جَبْرَئِيلُ اكْرَاما لَهُمَا وَ تَعْظِيما(1)
امام حسن اور امام حسین(ع) بچپنے میں اکثر علوم وفنون اور معارف اسلامی میں مقابلہ کرتے تھےایک دن دونوں نے خوشخطی کا مقابلہ کیا اورمادر گرامی سے عرض کیا اپؑ بتائیں کہ ہم دونوں میں سے کس کی لکھائی اچھی ہے؟
جناب فاطمہ ؑنہیں چاہتی تھیں کہ کسی ایک کا دل دکھائے، فرمایا:اپ دونوں اپنے بابا کو دکھائیںجب دونوں نے عرض کیا :بابا اپ فیصلہ کریں تو امیرالمؤمنینؑ بھی نہیں چاہتے تھے کہ کسی ایک کا دل دکھائے فرمایا:اپنے نانا جان کو دکھائیں پیغمبر(ص)کے پاس تشریف لائے اور کہا:نانا جان! یہ بتائیں ہم دونوں میں سے کس کی لکھائی اچھی ہے؟
فرمایا: میرے پیارو ! میں جبرئیل سے کہوں گا کہ وہ فیصلہ کرےجبرئیل نے کہا:میں فیصلہ نہیں کروں گا بلکہ میں اسرافیل سے کہوں گا کہ وہ فیصلہ کرے انہوں نے فرمایا:میں فیصلہ نہیں کروں گا میں اللہ تعالیٰ سے فیصلہ چاہوں گا
اسرافیل نے عرض کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ایا کہ میں فیصلہ نہیں کروں گا بلکہ ان کی مادر گرامی فاطمہؑ اس کا فیصلہ کریں گی
جناب فاطمہؑ نے عرض کیا : اے پروردگار تو ہی فیصلہ کر یہ کہہ کر اپناگردن بند جس میں سات موتیاں پروئی ہوئی تھیں کھولا اور فرمایا: بیٹے!میں ان موتیوں کو فرش پر بکھیر دیتی ہوں اور اپ دونوں میں سے جو بھی زیادہ دانے اٹھائیں گے ،انہی کی لکھائی اچھی ہوگیاس وقت جبرئیل امین ؑ عرش الٰہی کے زیر سایہ کھڑے تھے ،اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :فورا روئے زمین پر جائیں اور ایک موتی کو دو حصہ کریں تاکہ ان دونوں شہزادوں میں سے کوئی بھی ناراض نہ ہوں اور جبرئیل امینؑ نے بھی ان کی تعظیم اور تکریم کی خاطر ایسا ہی کیا اور جب فاطمہؑ نے دانے فرش پر گرادیں تو دونوں نے ساڑھے تین ساڑھے تین دانے اٹھالئے
--------------
(1):- بحار الانوار،ج۴۳،ص۳۰۹
نتیجہ مساوی نکلا،دونوں راضی ہوگئےاخر جواب تو وہی نکلا جو بابا اور نانا نے دیا تھااور ہم نہیں چاہتے تھے کہ اپ کا یہ دانہ توڑ دیںتو مادر گرامی نے فرمایا: اسے تم نے نہیں توڑا بلکہ خدا کے حکم سے جبرئیل امین ؑنے دوبرابر حصہ کیااور جسے خدا نے توڑا ہو وہ اس جیسے لاکھ دانے سے بہتر ہے
نعمان بن بشیر کہتا ہے کہ ایک دن میرے والد نے مجھے ایک تحفہ دیا،لیکن دوسرے بھائیوں کو نہیں دیا تو میری ماں(عمرہ بنت رواحہ )نے میرے باپ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: میں اس برتاؤ پر راضی نہیں ہوں جب تک تیرے اس عمل کی رسول خدا (ص) تائید نہ کریںمیرے باپ نے عاجزانہ طور پر ماجرابیان کیا:تو اپﷺ نے فرمایا: کیا سب کو دیدیے؟ کہا نہیںتو اپﷺ نے فرمایا: پس خدا سے ڈرواور اولادوں کیساتھ مساوات و برابری سے پیش اؤمیں اس ظالمانہ رفتار پر گواہی نہیں دیتا(1)
امیر المؤمنین(ع) فرماتے ہیں کہ ایک دن پیغمبر اسلام(ص)میرے گھر پر ارام فرمارہے تھے، امام حسن (ع)نے پانی مانگا اپ اٹھے اور کچھ دودھ لے کر ائے اور امام حسن (ع)کو پیش کیا،امام حسین (ع)نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کاسہ خود لے کر پینا چاہا پیغمبر اسلام (ص)نے امام حسن(ع) کی حمایت کی اور امام حسین(ع) کو نہیں دیایہ منظر حضرت زہرا(س) دیکھ رہی تھیں،کہنے لگیں: یا رسول اللہ(ص)!کیا حسن(ع)سے زیادہ محبت ہے؟تو فرمایا:نہیں بلکہ اس لئے حسن(ع) کا دفاع کررہا ہوں کہ اس نے پہلے پانی مانگا تھامیں نے اس کی نوبت کا خیال کیا ہے
--------------
(1):- بحار الانوار ،ج23،ص273
ایک شخص رسول خداﷺ کی خدمت میں اپنے دو بچوّں کیساتھ حاضر ہوا،ایک بچےّ کو پیار کیا دوسرے سے کوئی محبت کا اظہار نہیں کیا تو اپ نے فرمایا: یوں اپنے بچوّں میں غیر عادلانہ رفتار نہ کرو،بلکہ ان کے ساتھ اسی طرح مساوات اوربرابری کا رویہ اختیار کرو جس طرح دوسرے تمہارے ساتھ رویہ اختیار کرنا چاہتے ہیں(1)
بیٹے کے حقوق کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:
وَ امَّا حَقُّ وَلَدِكَ فَانْ تَعْلَمَ انَّهُ مِنْكَ وَ مُضَافٌ الَيْكَ فِي عَاجِلِ الدُّنْيَا بِخَيْرِهِ وَ شَرِّهِ وَ انَّكَ مَسْئُولٌ عَمَّا وَلِيتَهُ مِنْ حُسْنِ الْادَبِ وَ الدَّلَالَةِ عَلَ ی رَبِّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ الْمَعُونَةِ عَلَ ی طَاعَتِهِ فَاعْمَلْ فِي امْرِهِ عَمَلَ مَنْ يَعْلَمُ انَّهُ مُثَابٌ عَلَ ی الْاحْسَانِ الَيْهِ مُعَاقَبٌ عَلَ ی الْاسَاءَةِ الَيْه (2)
یعنی بیٹے کا حق باپ پر یہ ہے کہ وہ اسے اپنی اولاد سمجھے اور اس دنیا میں اس کی نیکی اور بدی کو تمہاری طرف نسبت دی جائے گی،اور تم ہی اس کا ولی ہوگا، اور تم پر لازم ہے کہ اسے با ادب بناؤ اسے اصول دین کا سبق سکھاؤ اور خدا کی اطاعت اور بندگی کی راہ پر لگاؤ اور اس سلسلے میں اس کی مدد کرو تاکہ خدا کے نزدیک تم سرخ رو ہو سکے اور اجر پا سکو، اگر ان امور میں سستی کی تو تم نے عذاب الہٰی کو اپنے لئے امادہ کیا ہے، پس ضروری ہے کہ اسے کچھ اس طرح تربیت دو کہ تیرے مرنے کے بعد جب لوگ اسے دیکھیں تو تمہیں اچھے نام سے یاد کریں، اور تم بھی خداکے سامنے جواب دہ ہو اور اجر وثواب پا سکو
شیخ شوشتری(رض) جو اپنے زمانے کے نامور عرفاء میں سے تھے 80 سال کی عمر میں 283ھ میں وفات پاچکے ہیں، کہتے ہیں: میں تین سال کا تھا کہ دیکھا میرے ماموں محمد بن سواد رات کے وقت نماز شب میں مصروف ہیںمجھ سے کہا بیٹا کیا اپنے خدا کو یاد نہیں کروگے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے؟ میں نے کہا: کیسے اسے یاد کروں؟ تو جواب دیا جب سونے کا وقت ائے تو 3بار دل سے کہو:
--------------
(1):- بحار الانوار ،ج23،ص113
(2):-منل ايحضره الفقيه ج2 ، ص 621 ، حقوق اسل امی،ص ۱۵۶
(خدا میرے ساتھ ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے اور میں اس کے حضور میں ہوں)
کچھ راتیں گزر گئیں پھر مجھ سے کہا اس جملے کو سوتے وقت 7 مرتبہ پڑھ لیا کرومیں نے ایسا کیا تو اس ذکر کی لذت اور مٹھاس کو میں محسوس کرنے لگاایک سال کے بعد مجھ سے کہا اسے اپنی پوری زندگی پڑھا کرویہی ذکر تمیںس دنیا و اخرت دونوںمیں سرخ رو کریگااس طرح میرے پورے وجود میں بچپنے میں ہی خدا پر ایمان مضبوط ہوگیا تھا(1)
حضرت ایةاللہ شیخ جعفر کاشف الغطاء(رح) اپنے بچےّ کی تربیت کرنے کے لئے ایک مؤثر طریقہ اپناتے ہیں، وہ یہ ہے: اپ چاہتے ہیں کہ اپ کا بیٹا بھی سحر خیزی اور نماز شب کا عادی ہوجائےاور اخر عمر تک اس عمل کو انجام دیتا رہےایک رات اذان صبح سے پہلے بیٹے کے بستر کے قریب ائے اور بالکل ارام سے اسے بیدار کرنے لگے اور کہا عزیزم !اٹھو حرم مولا علی (ع)چلیں
بیٹے نے کہا:بابا اپ جائیں میں بعد میں اؤں گا کہا نہیں بیٹا میں منتظر رہوں گابیٹا اٹھا اور حرم کی طرف وضو کرکے روانہ ہوئےایک فقیرحرم مطہر کے سامنے بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہا تھا
اس وقت ایةاللہ کاشف الغطاء (رح) نے کہا: بیٹا ! یہ شخص کس لئے یہاں بیٹاا ہے؟
کہا: بھیک مانگنے کے لئے
کہا:اسے کتنے درہم ملتے ہونگے؟
بیٹا:شاید کچھ رقم ملتی ہوگی اور واپس جاتا ہوگا
کیا یقینا اسے دینار ملتا ہوگا؟
بیٹا:البتہ یقینا تو پیش بینی نہیں کرسکتا لیکن کچھ نہ کچھ تو ضرور ملتا ہوگا یا ممکن ہے خالی ہاتھ بھی جاتا ہوگا
--------------
(1):- الگوہای تربیت کودکان ونوجوانان،ص49
یہاں جس نکتے کی طرف اپ بچےّ کو متوجہ کرانا چاہتے تھے ٹھیک اسی جگہ پر اگئے اوراپنا مطلب کے لئے زمینہ فراہم ہوگیااور فرمایا: بیٹا دیکھ یہ گدا گر کمانے کے لئے سویرے سویرے یہاں اتا ہے جبکہ اسے سوفیصد یقین تونہیں پھر بھی اتنی جلدی نیند سے بیدار ہوکر اتا ہے؛ لیکن تیںر تو اس ثواب پر پورا پورا یقین ہے کہ جو خدا تعالیٰٰ نے سحر خیزی کے لئے معین کیا ہے اور ائمہ طاہرین (ع)کے فرامین پر بھی یقین رکھتے ہو، پس کیوں سستی کرتے ہو؟!!
اس خوبصورت تمثیل نے اتنا اثر کیا کہ بیٹے نے زندگی کے اخری لمحات تک نماز شب کو ترک نہیں کیا(1)
ہمیں بھی یہی درس ملتا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہںد کہ ہمارے بچےّ بھی سحر خیز ہوں تو پہلے ہم خود اس پر عمل پیرا ہوںچنانچہ رسول اللہ(ص)کے پاس ایک ماں اپنے بیٹے کو لے ائی کہ اسے نصیحت کریں کہ وہ خرما نہ کھائےکیونکہ حکیموں نے اس کے لئے منع کیا ہےیا رسول اللہ (ص) اسے نبوت کی مبارک زبان سے سمجھائیں ممکن ہے وہ باز اجائےاپ نے فرمایا:بہت اچھا اج اسے لے جائیں کل لے ائیںدوسرے دن جب ائی تو بڑی نرمی سے نصیحت کی: بیٹا ماں کی باتوں کو سنا کرو اور کھجور کھانے سے پرہیز کرو تاکہ تمہاری بیماری ٹھیک ہوجائے اور بعد میں تم زیادہ کھجور کھا سکواور زیادہ کھیل کود کر سکواور خوش وخرم زندگی بسر کرسکو اور تمہاری ماں بھی تم پر راضی ہوسکےبچےّ نے اپ(ص) کی باتوں کو قبول کرلیا اور کہا: اب بات سمجھ میں ائی کہ کیوں کھجور نہ کھاؤںاب میں دلیل سمجھ گیا جب باتیں ختم ہوئیں تو ماں نے تشکر بھرے لہجے میں کہا:یا رسول اللہ (ص)یہی باتیں کل بھی تو اپ بتا سکتے تھے
فرمایا: کیونکہ کل میں خود کھجور کھا چکا تھا اچھی بات اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب خود اس پر عمل کرو(2)
--------------
(1):- الگوہای تربیت کودکان ونوجوانان ،ص208
(2):- الگوہای تربیت کودکان ونوجوانان ،ص316
امام خمینی ؒ کی بیٹی نقل کرتی ہے کہ امام خمینی(رح) بچوّں پر بہت مہربان تھےہم گھر میں بڑے مہر ومحبت کیساتھ رہتے تھے لیکن ہم جب کوئی برا کام کرتے تو سختی سے منع کرتے تھےعملی طور پر ہمیں سمجھادیا گیا تھا کہ کوئی کام ان کی مرضی کے خلاف نہیں کریں گےہم بھی فروعی کاموں میں ازاد لیکن اصولی کاموں میں سخت پابند تھےہم میں سے کسی کی مجال نہیں تھی کہ مخالفت کرےہمیشہ ہمیں پابند رکھتے تھے کہ کوئی گناہ نہ کریں اوراداب اسلامی کی پابندی کریںاس کے علاوہ ہم جتنا شوروغل مچائیں کچھ نہیں کہتے تھے اور نہ کوئی اعتراض کرتےہاں اگر کسی پڑوسی کی طرف سے کوئی شکایت اتی تو سختی سے اعتراض کرتے تھےہم گھر کے صحن میں کھیل کود میں مصروف ہوتے تھےنماز کے وقت بھی اگر کھیلتے تو کبھی نہیں کہتے،بچو اذان کا وقت ہوگیا ہے اؤ وضو کریں نماز پڑھیںبلکہ خود اذان سے ادھا گھنٹہ پہلے مصلّی پر کھڑے ہو جاتے تھے اوراپ کو دیکھ کر ہم بھی نماز کے لئے تیار ہوجاتےاور جب بھی ہمیں کسی کام سے روکتے تھے زندگی بھر میں وہ کام انہیں انجام دیتے ہوئے ہم نے نہیں دیکھا،حجاب اور پردے کے بارے میں سخت حساس تھے، اور گھر میں کوئی بھی غیر اخلاقی باتیں جیسے غیبت،جھوٹ،کسی بڑے کی بے احترامی یا کسی مسلمان کی توہین نہیں کرنے دیتے تھے اپ معتقد تھے کہ بچےّ ازادانہ کھیل کود کریںفرماتے تھے اگر بچےّ شرارت نہ کریں تو وہ بیمار ہیں ان کا علاج کرنا چاہئے
اپ کے بیٹے سید احمد خمینی(رح) سے جب انٹرویو لیا گیا تو فرمایا: میری بیوی گھریلو عادت کے مطابق بچی کو میٹھی اور گہری نیند سے نماز صبح کے لئے اٹھایا کرتی تھیجب امام خمینیؓ کو یہ معلوم ہوا تو پیغام بھیجا کہ: اسلام کی مٹھاس کو بچےّ کے لئے تلخ نہ کرو! یہ بات اس قدر مؤثر تھی کہ میری بیٹی اس دن کے بعد خود تاکید کرتی تھی کہ انہیں نماز صبح کے لئے ضرور جگایا کریں اس وقت میں نے لااکراہ فی الدین کو سمجھا(1)
--------------
(1):- خاطرات فریدہ خانم مصطفوی ،پابہ پای افتاب،100
والدین کو چاہئے کہ ان پر سختی نہ کریں اور مستحبات پر مجبور نہ کریں، کیونکہ اس کا نتیجہ منفی ہوگا جیسا کہ اس مسیحی کا قصہ مشہور ہے کہ مسلمان بھائی نے اسے صبح سے لے کر رات تک مسجد میں قید رکھا،دوسرے دن جب اسے جگانے گیا تو اس نے کہا: بھائی مجھے بال بچےّ بھی پالنا ہے تم کسی اور بے کار ادمی کو تلاش کرو اس طرح وہ دوبارہ مسیحیت کی طرف چلاگیا
ایک جوان کہتا ہے کہ ہمارے والد صاحب ہم تمام بہن بھائیوں کو نماز شب کے لئے جگایا کرتے تھےمیں بہت چھوٹا تھا نیند سے اٹھنا میرے لئے سخت ہوتاتھا، جب مجھے اواز دیتے تھے، حسن اٹھوتو میں بستر میں لیٹ کر ہی زور سے ولا الضالین کہتا تھا(1)
یہ بھی واضح ہے کہ بچوّں کے لئے سب سے نزدیک ترین عملی نمونہ اس کے والدین ہیں، بچوّں کو زبان سے نصیحت کرنے، زبانی تعلیم دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنے والدین کی رفتار سے وہ ادب سیکھتے ہیں اور یہی بہترین روش تعلیم بھی ہے:
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع انَّهُ قَالَ كُونُوا دُعَاةَ النَّاسِ بِاعْمَالِكُمْ وَ لَا تَكُونُوا دُعَاةً بِالْسِنَتِكُم (2)
امام صادق نے فرمایا:لوگو! تم ،لوگوں کو اپنے کردار کے ذریعے نیکی کی طرف دعوت دو نہ کہ زبانی
شاعر کہتا ہے:اولاد بداخلاق ہو یا خوش اخلاق،یہ استاد اور معلم کے سکھانے اور تربیت دینے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ ماں کی تربیت گاہ سے اسے ورثے میں ملا ہےاور یہ بھی معلوم ہے کہ اچھی اولاد کی تربیت نادان ماں کے لئے ممکن نہیں اسی طرح عورت اگر پاک دامن اور خوش خلق ہو تو یہ تاریک راتوں میں چمکنے والے درخشان ستاروں کی مانند ہے فرزندان ملت کی خوش بختی اور سعادت ایسی باشعور ماؤں کے ہاتھ میں ہے
--------------
(1):- قصص العلما،ص185
(2):-بح ار ال انو ار 5 ،ص198 ب اب 7- الهد اية و ال اضل ال و التوفيق
کودک ہر انچہ دارد از اغوش مادر است زشتخوی باشد و گر نیک محضر است
در دفتر معلم و اموزگار نیست ان تربیت کہ زادہ دامان مادر است
فرزند خوب، مادر نادان نپرورد این نکتہ نزد مردم دانا مقرّر است
زن چون عفیف باشد و دانا و نیکخوی در تیرگی جہل چو تابندہ اختر است
در دست مادرانِ خردمندِ و باہنر خوشبختی و سعادت ابناء کشور
والدین کا بچوّں کے لئے نمونہ بننے کے لئے صرف برے کاموں سے بچنا کافی نہیں ہے بلکہ اچھے اور نیک کاموں کو انجام دینا بھی ضروری ہے کیونکہ نیک کاموں کے بہت سارے نمونے اور مصداق ہیں،جیسے نماز پڑھنا کہ اگر ہم جلدی جلدی پڑھیں تو ہمارے بچےّ بھی جلدی جلدی پڑھیں گےاور اگر ہم اہستہ اہستہ پڑھیں تو وہ بھی اہستہ پڑھیں گے اسی طرح ہم صرف اپنی مشکلات کی دوری کے لئے دعا کرتے ہیں یا دوسروں کے لئے بھی دعا کرتے ہیں اس میں بھی نمونہ بن سکتے ہیں چنانچہ روایت ہے:
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ اخِيهِ الْحَسَنِ قَالَ رَايْتُ امِّي فَاطِمَةَ ع قَامَتْ فِي مِحْرَابِهَا لَيْلَةَ جُمُعَتِهَا فَلَمْ تَزَلْ رَاكِعَةً سَاجِدَةً حَتَّ ی اتَّضَحَ عَمُودُ الصُّبْحِ وَ سَمِعْتُهَا تَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ تُسَمِّيهِمْ وَ تُكْثِرُ الدُّعَاءَ لَهُمْ وَ لَا تَدْعُو لِنَفْسِهَا بِشَيْءٍ فَقُلْتُ لَهَا يَا امَّاهْ لِمَ لَا تَدْعُوِنَّ لِنَفْسِكِ كَمَا تَدْعُوِنَّ لِغَيْرِكِ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ الْجَارُ ثُمَّ الدَّارُ (1)
امام حسن(ع) فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ شب جمعہ کو میں نے اپنی مادر گرامی کو دیکھا کہ محراب عبادت میں اپ کھڑی ہیں مسلسل نمازیں پڑھی جارہی ہیں یہاں تک کہ صبح کا وقت اگیا اپ مؤمنین مردوں اور عورتوں کے حق میں نام لے لے کر دعا مانگتی رہیں لیکن اپنے لئے کوئی دعا نہیں مانگںا میں نے عرض کیا مادر گرامی !اپ نے کیوں اپنے لئے دعا نہیں مانگںک؟ تو میری ماں نے کہا: بیٹا پہلے پڑوسی پھر اہل خانہ
--------------
(1):-وس ائل الشيعة، 7،ص112، ب اب استحب اب اختي ار ال انس ان الدع
یہ ایک درس اور نمونہ ہے ہمارے لئے جو امام حسن مجتبیٰ (ع)کے ذریعے جناب فاطمہ(س) ہمیں دے رہی ہیں اور ہمیں بھی چاہئے کہ اپنی اولاد کے لئے ایسا درس دیں جو اپنی دعاؤں میں دوسرے مؤمنین کو بھی یاد کریں تاکہ لاکھوں گنازیادہ ثواب زیادہ ملے
چنانچہ روایت میں ہے کہ اگر کوئی اپنے کسی مؤمن بہن اور بھائی کے لئے ان کی غیر موجودگی میں دعا کرے، اس کے لئے پہلے اسمان سے ندا ائے گی کہ اے بندہ خدا اس کے عوض میں اللہ تعالیٰٰ نے تمہیں ایک لاکھ کے برابر اجر عطا کیا، دوسرے اسمان سے اواز ائے گی دو برابر اجر عطا کیا ، تیسرے اسمان سے ندا ائے گی تین لاکھ کےبرابر اسی طرح ساتویں اسمان سے ندا ائے گی سات لاکھ کے برابر اجر عطا کیا
ابوسفیان کا بیٹا معاویہ نے 41ھ میں مسند خلافت پر انے کے بعد یہ ٹھان لی کہ علی (ع)کو لوگوں کے سامنے منفورترین ادمی کے طور پر تعارف کرائے اس مکروہ ہدف کے حصول کے لئے علی (ع)کے دوستوں کو تلوار اور نیزوں کے ذریعے فضائل علی (ع)بیان کرنے سے منع کیا گیا، دوسری طرف علی (ع)کے دشمنوں کو بیت المال میں سے جی بھر کے مال و زر دیا گیا تاکہ اپ کے خلاف پیغمبر(ص) کی طرف سے احادیث گڑم لیںاس کے علاوہ پورے عالم اسلام میں یہ حکم جاری کردیا گیاکہ نمازجمعہ کے بعد ہر مسجد سے ان پر لعن کیا جائےیہ عملی بھی ہوا اور بچےّ باتوں باتوں میں اپ پر لعن کرنے لگےعمر بن عبد العزیز جو اموی خلفاء میں سے ہے،بچپن میں دوسرے بچوّں کے ساتھ علی(ع) پر لعن کر رہا تھا اس وقت وہاں سے اس کے استاد جو ایک مؤمن اور صالح انسان تھے کا گزر ہواوہاں سے تو خاموش نکل گیا،لیکن جب مدرسہ کا وقت ہوا اور عمر ایا تو استاد نماز میں مشغول ہوا نماز کو طول دینا شروع کیا، عمر سمجھ گیا کہ نماز تو صرف بہانہ ہے
عمر نے پوچھا:حضرت استاد کیا میں ناراضگی کی علت دریافت کر سکتا ہوں؟
تو استاد نے کہا: بیٹا کیا اج تم نے علی پر لعن کاا؟
کہا: ہاں
کب سے تمہیں معلوم ہوا کی اہل بدر پر خدا غضبناک ہوا ہے؟ جبکہ ان پر خدا راضی ہےکیا علی اہل بدر میں سے نہیں تھے؟
کہا: کیا بدر اور اہل بدر کے لئے ان کے صالح اعمال کے سوا کوئی اور چیزباعث افتخار ہے؟
عمر نے کہا:میں اپ کے ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ اج کے بعد زندگی بھر ان پرلعن نہیں کرونگا کئی سال اسی طرح گزر گئےایک دن اس کا والد جو حاکم مدینہ تھا نماز جمعہ کا خطبہ فصیح وبلیغ انداز میں دے رہا تھالیکن جب علی پر لعن کرنے کا وقت ایا تو اس کی زبان میں لکنت پیدا ہوئی جس سے عمر کو بہت تعجب ہوا
کہا:بابا جان! میں نہیں جانتا کہ کیوں کر اپ کی فصاحت وبلاغت ادھر اکر ماند پڑ گئی اور زبان بند ہوگئی ؟!
کہا:میرے بیٹے! اس پر تم متوجہ ہوا؟!
بیٹے نے کہا:جی ہاں
باپ نے کہا:میرے بیٹے صرف تمہیں اتنا بتادوں کہ اگر اس مردالٰہی (علی(ع)) کے فضائل میں سے جتنا میں جانتا ہوں ان لوگوں کو پتہ چل جائے تو یہ سب ان کی اولادوں کے پروانے بن جائیں گے اور ہمارے پیچھے کوئی نہیں ائیں گے
جب عمر بن عبدالعزیز نے یہ سنا تو اپنے استاد کی نصیحت پربھی یقین ہوگیااس وقت اس نے یہ عدں کرلیا کہ اگر کبھی برسر اقتدار ایا تو ضرور اس نازیبا عمل کو روک دوں گا اور جب 99ھ میں یہ برسر اقتدار ایا تو سب سے پہلا کام یہی کیا کہ علی ؑپر لعن طعن کو ممنوع قرار دیا اس لعن کے بدلےانّ الله یأمر بالعدل والاحسان کی تلاوت کرنے کا حکم دیا
روایت میں ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا: افسوس ہواخری زمانے کی اولادوں پر کہ ان کے والدین انہیں دینی تعلیم نہیں دیں گے، کسی نے سوال کیا اپ کی مراد مشرک والدین ہے ؟ فرمایا: نہیں، بلکہ میری مراد مؤمن والدین ہیں جو اپنے بچوّں کو دینی تعلیم نہیں دلائیں گے اور اگر بچےّ کوئی چیز سیکھنا چاہیں تو منع کریں گے اور دنیا کی معمولی چیز انہیں دے کر اپنے اوپر راضی رہیں گے، میں ایسے والدین سے بیزار ہوں
پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا: جب استاد بچےّ کو تعلیم دیتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہلاتا ہے تو اس وقت خدا وند اس بچےّ اور اس کے والدین اور معلّم کو اتش جہنم سے رہائی کا پروانہ عطا کرتا ہے(1) امام صادق (ع)نے رسول خداﷺسے روایت کی ہے: ایک دن حضرت عیسی ٰ(ع) ایک قبر کے قریب سے گزرے اس صاحب قبر پر عذاب ہورہا تھا دوسرے سال جب وہاں سے گزرے تو عذاب ٹل چکا تھا
وحی ائی اس کے بیٹے نے ایک راستے کی مرمت کی اور ایک یتیم کو پناہ دی، اس نیک عمل کی وجہ سے اسے عذاب سے نجات مل گئی
عبد الرحمن سلمی نے امام حسین(ع) کے بیٹے کو سورۂ حمد یاد کرایا تو امام نے معلم کی قدر دانی کرتے ہوئے اسےکچھ جواہرات ، اورکپڑے دیے تو وہاں پر موجود لوگوں نے تعجب کیساتھ کہا: اتنا زیادہ انعام؟!تو امامؑ نے فرمایا: کہاں یہ مالی انعام اس معلم کی عطا (تعلیم)کے برابر ہوسکتا ہے؟(2)
سکندر اپنے استاد کا بہت زیادہ احترام کرتا تھا، جب اس سے وجہ پوچھی تو کہا: میرےباپ نے مجھے عالم ملکوت سے زمین پر لایا اور استاد نے زمین سے اٹھا کراسمان پر لے گیا(3)
--------------
(1):- جامع احادیث شیعہ،ج15،ص9 (2):- مستدرک الوسائل،ج1،ص290
(3):- کشکول شیخ بہائی،ص27
امام سجاد (ع)فرماتے ہیں: تیرے استاد کا تجھ پر یہ حق ہے کی تو اسے محترم سمجھے اور مجالس میں اس کا احترام کرے اس کی باتیں غور سے سنے اور ان پر توجہ دے اپنی اواز ان کی اواز سے زیادہ اونچی نہ کرے اور اگر کوئی شخص ان سے کچھ پوچھے تو تم جواب نہ دے اور لوگوں کو اس سے استفادہ کرنے دے اس کے پاس کسی کی غیبت نہ کرے اور جب کوئی تیرے سامنے اس کی برائی کرے توتم اس کا دفاع کرے، تم ان کے عیوب پر پردہ ڈالے اور ان کی اچھائیاں ظاہر کرے ان کے دشمنوں کے ساتھ مل کر نہ بیٹھے اور ان کے دوستوں سے دشمنی کا اغاز نہ کرے اگر تو ا یسا کرے گا تو خدا تعالیٰٰ کے فرشتے گواہی دینگے کہ تم نے ان کی جانب توجہ دی ہے اور تم نے علم لوگوں کی توجہ مبذ ول کرانے کے لئے نہیں بلکہ خدا کے لئے حاصل کیا ہےاور شاگردوں کا حق تجھ پر یہ ہے کہ تم یہ جان لے کہ خدا تعالیٰٰ نے تجھے جو علم بخشا ہے اور اس کی جو راہیں تجھ پر کھولی ہیں اس کے سلسلے میں تجھے ان کا سرپرست قرار دیا ہے لہذا اگر تو انہیں اچھی طرح پڑھائے اور نہ انہیں ڈرائے اور نہ ہی ان پر غضبناک ہو تو خدا تعالیٰٰ اپنے فضل سے تیرا علم بڑھائے گا اور اگر تو لوگوں کو اپنے علم سے دور رکھے اور جب وہ تجھ سے اس کی خواہش کریں تو انہیں ڈرائے او ران پر غضبناک ہو تو عین مناسب ہوگا کہ خدا تعالیٰٰ تجھ سے علم کی روشنی چھین لے اور لوگوں کے دلوں میں تیری حیثیت گھٹادے(1)
یہ ایک ستم رسیدہ بچی کا خط ہے جواس نے اپنے باپ کے ظلم وستم سے دل برداشتہ ہوکر گھر سے فرار ہونے سے پہلے لکھا تھا:بابا یہ پہاہ اور اخری خط ہے جسے غور سے پڑھ لو تو شاید اپ کا ضمیر جو مردہ ہوچکا ہے بیدا ر ہوجائے اور سمجھ لو کہ کس قدر خود خواہ اور پست فطرت انسان ہو!بابا میں تم سے متنفر ہوں دوبارہ تیرا منحوس چہرہ نہیں دیکھوں گی، تم اس قابل نہیں کہ تمہیں باپ کہہ کر پکاروںبلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ تو باپ ہونے کے لئے کبھی پیدا نہیں ہواتم ایک پلید اور کثیف بلا ہوتم نے مجھے بچپن سے لے کر اب تک ساری چیزوں سے محروم رکھا،
--------------
(1):- مکارم الاخلاق،ص484
میری پیاری ماں کو طلاق دیکر خوشی اور نشاط کا دروازہ مجھ پر بند کردیاجبکہ میرے لئے میری ماں کے علاوہ کوئی نہ تھا ایک بیٹی کے لئے ماں سے بڑھ کر اور کون دل سوز ہوسکتا ہے؟ میں کبھی بھی اس دن کو فراموش نہیں کروں گی جس دن تم نے میری ماں کو طلاق دی اور وہ مجھے اخری بار اپنی اغوش میں لے کرگرم انسؤں سے میرے چہرے کو تر کرکے چلی گئی اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں چلی گئی وہ زندہ ہے یا مردہ؟لیکن اس دن جب تم نے مجھے اواز دی بیٹی میں تیرے لئے خوش خبری لایا ہوں، کہ تیری ماں مر گئی ہےیہ کہہ کر قہقہہ لگانا شروع کیا اس دن ماں سے ملنے کی امید بالکل ختم ہوگئی اور جب میں اپنی ماں کی جدائی میں رونے لگی تو تم نے مجھے ٹھوکر ماری اور میں بیہوش ہوگئی اور میں نہ جان سکی کہ میں کہاں کھڑی ہوں؟!بابا کیا مجھے ماں کی جدائی میں رونے کا بھی حق نہ تھا؟ ارے بابا !اب میں وہ نو سالہ نہیں رہی اب میں تمہارا اس وحشی رویے کو برداشت اور تحمل نہیں کرسکتی یہ رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے ہیں جب کہ تم اور تمہاری بیوی ابھی تک فلم ہال سے گھر واپس نہیں لوٹے کل صبح میں اس جہنم سے ہمیشہ کے لئے نکل جاؤں گیاور دنیا والوں کو بتادوں گی کہ ایسے ظالم،بے رحم اور سنگدل باپ بھی دنیا میں موجود ہیں مگر لوگوں کو یقین نہیں ائے گا(1)
حسن بن سعید کہتاہے کہ خدا نے ہمارے دوستوں میں سے ایک دوست کو بیٹی عطا کی تو وہ بہت افسردہ حالت میں امام صادق (ع) کی خدمت میں ایاامام(ع)نے فرمایا:کیوں غمگین ہو؟اگر خداتعالیٰٰ تجھ پر وحی نازل کرے اور کہے کہ میں تمہارے بارے میں فیصلہ کروں یا تم فیصلہ کروگے؟ تو تم کیا جواب دوگے؟اس نے عرض کیا: میں کہوں گا بار خدایا! جو تو انتخاب کرے وہی میرے لئے ٹھیک ہےامامؑ نے قران کی اس ایہ کی تلاوت فرمائی جس میں حضرت خضر(ع) کی داستان ذکر ہوئی ہے، کہ حضرت خضر (ع) نے ایک لڑکے کو پکڑ کر مارڈالا جس پر حضرت موسی (ع)نے سخت اعتراض کیا تھا،جس کی علت یوں بتائی:فَارَدْنَا ان يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً وَاقْرَبَ رُحْمًا (2)
--------------
(1):- الگوئی تربیت کودکان و نوجوانان،ص248
(2):- الکہف،81
"تو میں نے چاہا کہ ان کا پروردگار انہیں اس کے بدلے ایسا فرزند دیدے جو پاکیزگی اور صلئہ رحم میں بھی اس سے بہترہو"
خدا تعالیٰٰ نے اس بیٹے کے بدلے میں انہیں ایک بیٹی عطا کی جس کی نسل سے (70)ستّر پیغمبران الٰہی وجود میں ائے(1)
دوران جاہلیت میں بچیوں کی ولادت پر ماں باپ بہت غمگین ہوجاتے تھےایک دن امیر اسحاق بن محمد کو خبر ملی کہ ان کے ہاں بیٹی ہوئی ہے،تو وہ بہت غمگین ہوگیا اور کھانا پینا بھی چھوڑ دیابہلول عاقل نے جب یہ خبر سنی تو کہا: اے امیر! کیا خدا نے سالم اور بے عیب ونقص بیٹی عطا کی اس لےں تم غمگین ہوگئے ہو؟!کیا تمہارا دل چاہتا تھا کہ مجھ جیسا ایک پاگل بچہ تجھے عطا ہوجاتا؟!اسحاق بے اختیار ان حکیمانہ باتوں کو سن کرمسکرانے لگا اور خواب غفلت سے بیدار ہوا(2)
رسول خدا(ص)نے فرمایا:جو بھی بازار جائے اور کوئی تحفہ اپنے گھر والوں کے لئے خریدے تو ایسا ہے کہ مستحق افراد میں صدقہ دیا ہواس تحفہ کو تقسیم کرتے وقت بیٹیوں کو بیٹوں پر مقدم رکھےکیونکہ جو بھی اپنی بیٹی کو خوش کرے تو ایسا ہے جیسے اولاد اسماعیل(ع) میں سے ایک غلام ازاد کیا ہواور اگر بچےّ کو خوش کیا تو خوف خدا میں گریہ کرنے کا ثواب ہےاور جو بھی خوف خدا میں روئے وہ بہشتی ہے(3)
--------------
(1):- سفينة البح ار،ج1،ص108
(2):- مجموعہ قصص و حکایات بہلول عاقل
(3):- اثار الصادقین،ج15،ص310
اسی لئے بیٹے سے زیادہ بیٹی کو اسلام نے توجہ کا مرکز قرار دیا ہے:شاعر کہتا ہے:
بیٹا ہوسکتا نہیں بیٹی سے خدمت میں سوا ہے یہ تاریخ کے صفحات پہ اب تک لکھا
بیٹوں نے زر کے لئے باپ کا کاٹا ہے گلا ہاتھ سے بیٹی کے چھوٹا نہیں دامان وفا
پھوڑدیں بیٹوں نے جب شاہجہاں کی انکھیں بیٹی ہی بن گئی اس سوختہ جاں کی انکھیں
ہوئی سو بار جہاں میں یہ حقیقت روشن بیٹی کردیتی ہے ماں باپ کی تربت روشن
کون کہتا ہے کہ بے وزن وبہا ہے بیٹی ادمیت کے لئے حق کی عطا ہے بیٹی
کیا خبر کتنے نبیوں کی دعا ہے بیٹی شمع اغوش رسول دوسرا ہے بیٹی
جس کے دامن میں یہ غنچہ ہو اسی سے پوچھو
قیمت اس گل کی رسول عربیﷺ سے پوچھو
بیٹی کیا چیز ہے یہ قلب نبی سے پوچھو جذبہء الفت شاہ مدنی سے پوچھو
فاطمہ اور نہ خاتون جنان کہتے تھے اپنی بیٹی کو نبی پیار سے ماں کہتے تھے(1)
اللہ تعالیٰٰٰ نے انسانوں بلکہ ہر ذی روح کے لئے دنیا میں ماں باپ سے زیادہ مہربان اور دلسوز مولمق کو وجود نہیں بخشا خصوصا بنی نوع انسان کے لئے ماں باپ کی محبت اور شفقت جو خدا تعالیٰٰٰ نے ان کے دلوں میں ڈالی ہے، ناقابل بیان ہے، یعنی اسے بیان کرنے سے زبان قاصر ہے اب چونکہ یہ اپنی اولاد کے لئے اپنا ارام وسکون کھو بیٹھتے ہیں ؛ تو اس کے مقابلے میں اولاد پر بھی(هل جزاء الاحسان الّا الاحسان) کے مطابق خدا وند حکیم نے ان کا احترام واجب قرار دیاہے بلکہ اپنی عبادت اور بندگی کا حکم دینے کے فورا بعد والدین پر احسان کرنے کا حکم دیاہے
--------------
(1):- کتاب والفجر،ص۱۴۰
اس بارے میں رسول گرامی اسلام ﷺ سے روایت ہے:
قَالَ رَسُولُ اللهِ ص مَا مِنْ رَجُلٍ يَنْظُرُ الَ ی وَالِدَيْهِ نَظَرَ رَحْمَةٍ الَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةً مَبْرُورَةً قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ وَ انْ نَظَرَ الَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ قَالَ وَ انْ نَظَرَ الَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ الْفِ مَرَّةٍ (1)
ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے والدین کے چہرے پر مہربان اور احسان کے ساتھ نظررحمت کرے گا، اس کے لئے خدا تعالیٰٰٰ ہر ایک نگاہ کے بدلے ایک مقبول حج لکھ دیتا ہے کسی نے سوال کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر دن میں سو مرتبہ نظر کرے تب بھی؟! تو اپ ﷺ نے فرمایا: اگر ایک لاکھ مرتبہ دیکھے تو بھی ایک لاکھ حج مقبول اس کے لئے لکھ دیگا
وَ امَّا حَقُّ ابِيكَ فَانْ تَعْلَمَ انَّهُ اصْلُكَ فَانَّكَ لَوْلَاهُ لَمْ تَكُنْ فَمَهْمَا رَايْتَ مِنْ نَفْسِكَ مَا يُعْجِبُكَ فَاعْلَمْ انَّ ابَاكَ اصْلُ النِّعْمَةِ عَلَيْكَ فِيهِ فَاحْمَدِ اللهَ وَ اشْكُرْهُ عَلَ ی قَدْرِ ذَلِكَ وَ لَا قُوَّةَ الَّا بِالله (2)
اولاد پر باپ کا حق یہ ہےکہ جان لو وہ تمہاری اصل اور جڑ ہے اور تم اس کی فرع اورشاخ اگر وہ نہ ہوتے تو تم بھی نہ ہوتے اور خدا کی تھک پر نعمتوں کے موجب وہ تھے، اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کرو
--------------
(1):-مستدرك الوس ائل،ج 15 ، ص 204 جملة من حقوق الو الدين
(2):-منل ايحضره الفقيه،ج2 ، ص621ب اب الحقوق ،ص 618
اور کوئی بھی طاقت خدا کی طاقت سے زیادہ نہیں ہے اور یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ہر انسان یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کے مہربان باپ نے اسے بہت ساری مشکلات اور سختیوں سے نجات دلائی ہے اور محفوظ رکھا ہے، ہمارے بچپنے کازمانہ لیجئے کہ ہماری جسمانی طور پر پرورش کرنے کے لئےہمارے والدین دن رات زحمتیں اٹھاتےہیں اور اپنا سکون اور چین کھو دیتے ہیںاسی لئے ہمیں چاہئے کہ خدا کی عبادت اور شکر گزاری کے بعد والدین کی شکر گزاری بھی ضرور کریںلیکن حدیث شریف کی روشنی میں پھر بھی کما حقّہ ان کا شکر ادا نہیں کرسکتے:
عَنْ حَنَانِ بْنِ سَدِيرٍ عَنْ ابِيهِ قَالَ قُلْتُ لِابِي جَعْفَرٍ ع هَلْ يَجْزِي الْوَلَدُ وَالِدَهُ فَقَالَ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ الَّا فِي خَصْلَتَيْنِ انْ يَكُونَ الْوَالِدُ مَمْلُوكا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ اوْ يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَيَقْضِيَهُ عَنْه (1)
حنان بن سدیر نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ امام محمد باقر (ع) سے سوال کیا کہ کیا بیٹا اپنے باپ کا حق ادا کرسکتا ہے یا نہیں؟! تو فرمایا: صرف دو صورتوں میں ممکن ہے: پہلا یہ کہ اگر باپ کسی کا غلام ہو اور اسے بیٹا خرید کر ازاد کردے، یا اگر باپ کسی کا مقروض ہو اور بیٹا اس کا قرض ادا کرے
قران مجید کی ایتوں کے علاوہ روایات اسلامی میں بھی ماں باپ کے حقوق اور احترام کا تاکید کے ساتھ حکم دیا ہے، اور ساتھ ہی احترام کرنے کا ثواب اور اثر اوراحترام نہ کرنے کا گناہ اور برا اثر بھی جگہ جگہ ملتا ہے:
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ قَالَ انَّ يُوسُفَ لَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ الشَّيْخُ يَعْقُوبُ دَخَلَهُ عِزُّ الْمُلْكِ فَلَمْ يَنْزِلْ الَيْهِ فَهَبَطَ جَبْرَئِيلُ فَقَالَ يَا يُوسُفُ ابْسُطْ رَاحَتَكَ فَخَرَجَ مِنْهَا نُورٌ سَاطِعٌ فَصَارَ فِي جَوِّ السَّمَاءِ فَقَالَ يُوسُفُ يَا جَبْرَئِيلُ مَا هَذَا النُّورُ الَّذِي خَرَجَ مِنْ رَاحَتِي فَقَالَ نُزِعَتِ النُّبُوَّةُ مِنْ عَقِبِكَ عُقُوبَةً لِمَا لَمْ تَنْزِلْ الَ ی الشَّيْخِ يَعْقُوبَ فَلَا يَكُونُ مِنْ عَقِبِكَ نَبِيٌّ (2)
---------------
(1):- بحار الانوار ، ج ۱۷، ص ۶۶
(2):-الك افي ، ج 2 ، ص 311
چنانچہ امام صادق(ع) سے منقول ہے کہ جب حضرت یعقوب (ع) مصر میں وارد ہوئے تو حضرت یوسف (ع)بھی بہت سارے لوگوں کے ساتھ ان کے استقبال کے لئے نکلے جب نزدیک ہوئے تو مرتبہ و جلالت شہنشاہی سبب بنی کہ اپ سواری سے نیچے نہیں اترے(اگرچہ یہ بعید نظر اتا ہے کہ خدا کا نبی ایسا کرے ! بہرحال روایت کے صحیح ہونے یا نہ ہونے میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے) تو جبرئیل امین (ع)نے کہا: اے یوسفؑ! ہاتھ کھولیےاور جب یوسفؑ نے اپنی مٹھی کھولی تو اس میں سے ایک نور اسمان کی طرف رہا ہونے لگاتو حضرت یوسف(ع)نے سوال کیا :جبرئیل یہ کیا ہے؟! جبرئیل نے کہا: یہ نبوت کا نور تھا کہ تیری نسل سے خارج ہوگیااور یہ اس لئے تیری نسل سے خارج ہوگیا کہ تم اپنے باپ کے احترام میں سواری سے نیچے نہیں اترےاسی لئے سلسلہ نبوت اپ کے بھائی کے صلب سے جاری ہوا پیغمبر اسلام ﷺ کے ایک قریبی رشتہ دار نے سوال کیا: میرے ماں باپ فوت ہوچکے ہیں اور ان کا میرے اوپر حق ہے کیسے اسے اتاروں؟ تو فرمایا: ان کے لئے نماز پڑھو، مغفرت طلب کرو، اور ان کی وصیت پر عمل کرو، اور ان کے دوستوں کا احترام کرو، اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک رکھو،اور فرمایا: ماں کا حق باپ کےحقوق سے دوگنا زیادہ ہے(1)
فریضہ است زحق بر تو احترام پدر پس از خداو پیمبر بُوَد مقام پدر
اگر چہ حرمت مادر نگاہ باید داشت بحکم شرع بود واجب احترام پدر
وَ امَّا حَقُّ امِّكَ فَانْ تَعْلَمَ انَّهَا حَمَلَتْكَ حَيْثُ لَا يَحْتَمِلُ احَدٌ احَدا وَ اعْطَتْكَ مِنْ ثَمَرَةِ قَلْبِهَا مَا لَا يُعْطِي احَدٌ احَدا وَ وَقَتْكَ بِجَمِيعِ جَوَارِحِهَا وَ لَمْ تُبَالِ انْ تَجُوعَ وَ تُطْعِمَكَ وَ تَعْطَشَ وَ تَسْقِيَكَ وَ تَعْرَ ی وَ تَكْسُوَكَ وَ تَضْحَ ی وَ تُظِلَّكَ وَ تَهْجُرَ النَّوْمَ لِاجْلِكَ وَ وَقَتْكَ الْحَرَّ وَ الْبَرْدَ لِتَكُونَ لَهَا فَانَّكَ لَا تُطِيقُ شُكْرَهَا الَّا بِعَوْنِ اللهِ وَ تَوْفِيقِه (2)
--------------
(1):-ترجمه رس الة الحقوق،ص۱۳۹
(2):-منل ايحضره الفقيه ، ج2 ، ب اب الحقوق ص621
تیری ماں کا حق تجھ پر یہ ہے کہ تو جان لے کہ وہ تجھے اٹھاتی رہی کہ کوئی بھی کسی کو اس طرح نہیں اٹھاتااور اپنےدل کا پھل کھلاتی رہی کہ اج تک کسی نے کسی کو نہیں کھلایااور وہ اپنی پوری طاقت اور پورے وجود کے ساتھ تمہاری حفاظت کرتی رہیاور اپنی بھوک اور پیاس کی پروانہیں کی لیکن تجھے وہ سیر اور سیراب کرتی رہیاور خود برہنہ رہی لیکن تیرے لباس کا بندوبست کرتی رہی اور خود کو دھوپ میں اورتجھے اپنی محبت کےسایہ میں رکھتی رہی،اور خود اپنی رات کی نیند اور ارام کی پروا نہیں لیکن تمہاری نیند اور ارام وسکون کا خیال ورتمہیں گرمی اور سردی سے بچاتی رہی، تاکہ تو اس کا بن کے رہے، پس تم کسی بھی صورت میں اس کی شکرگزاری نہیں کرسکتےہو مگر یہ کہ خدا تجھے اس کی توفیق دے
امام سجاد(ع)کے کلام میں باپ کے حقوق پر ماں کے حقوق کو مقدم کیا گیاہے، شاید اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ بیٹے کی شخصیت سازی میں ماں کا زیادہ کردار ہوتا ہےاور وہ زیادہ زحمتیں اور مشقتیں برداشت کرتی ہےاور یہ دین مبین اسلام کا طرّہ امتیاز ہے وگرنہ دوسرے مکاتب فکر اور ادیان والے اتنی عظمت اور احترام کے قائل نہیں ہیں
عورت کو ماں کی حیثیت سے جو حقوق اسلام نے دیا ہے وہ مغربی دنیا میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا وہاں جب بچہ قانونی طور پر حد بلوغ کو پہنچتا ہے تو گھر چھوڑ جاتا ہےاور ماں باپ سے بالکل الگ زندگی گزارنے کی فکر میں رہتا ہےاور ایسا رویہ گھریلو ماحول کو بالکل بے مہر و محبت ماحول میں تبدیل کر دیتا ہےکئی کئی سال گزرجاتے ہیں لیکن اولاد اپنے والدین کو دیکھنے اور ملنے بھی نہیں اتی اور حکومت بھی مجبور ہو جاتی ہے کہ ایسے والدین کو بوڑھوں کے گھر (old house)منتقل کریں
افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بیگانوں کی اندھی تقلید نے اسلامی معاشرے میں بھی یہ حالت وکیفیت پیدا کردی ہےجہاں والدین گھر کے چشم و چراغ ہیں وہاں اہستہ اہستہ انہیں گھر سے دور اور الگ کرتے جارہے ہیںاور بوڑھوں کے گھر بھیجنا شروع کر دیا ہے
قران مجید نے اس غلط ثقافت پر مہر بطلان لگادی ہے اور ماں باپ کے حقوق کے بارے میں سختی سے تاکید کی ہے یہاں تک کہ اپنی عبادت کا حکم دینے کیساتھ ساتھ ماں باپ پر احسان اور نیکی کرنے کا حکم دیا ہےیعنی اللہ کی عبادت کے فورا بعد والدین کے حقوق کا خیال کرنے کا حکم دیا گیا ہےان حقوق کو ہم چند قسموں میں بیان کریں گے
متعدد ایات میں یکتا پرستی کی طرف دعوت کیساتھ ساتھ ماں باپ پر احسان کرنے کا بھی حکم ایا ہے:
وَاعْبُدُوا اللهَ وَلا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ احْسَانًا(1)
خدا کی عبادت کرو اور اس کیساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھرھاؤ اور والدین کیساتھ احسان کرودوسری جگہ فرمایا:
قُلْ تَعَالَوْا اتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ الا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ احْسَانًا (2)
کہہ دیجئے کہ اؤ ہم تمہیں بتائیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا حرام کیا ہےخبردار کسی کو اس کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا
وَاذْ اخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي اسْرَائِيلَ لا تَعْبُدُونَ الا اللهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ احْسَانا وَذِي الْقُرْبَی وَالْيَتَامَی وَالْمَسَاكِينِ(3)
"اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خبردار خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ قرابتداروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا"
اور احسان سے مراد کچھ محدود چیزیں نہیں بلکہ سب نیک اور شائستہ کام مراد ہیں جو انسان کسی دوسرے کے لئے انجام دیتا ہےاولاد پر والدین کا بہت بڑا حق ہے
قَالَ قُلْتُ لِابِي عَبْدِ اللهِ ع ايُّ الْاعْمَالِ افْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا وَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ وَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ (4)
--------------
(1):- نساء ۳۶
(2):- انعام ۱۵۱
(3):- بقرہ ۸۳
(4):-وس ائل الشيعة ،ج 15، ص 19
راوی کہتا ہے کہ میں نے امام صادق (ع)سے سوال کیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ تو امام نے فرمایا:نماز کا اول وقت پر پڑھنا، والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور خدا کی راہ میں جہاد کرنا
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ عَنِ الرِّضَا ع فِي كِتَابِهِ الَ ی الْمَامُونِ قَالَ وَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ وَاجِبٌ وَ انْ كَانَا مُشْرِكَيْنِ وَ لَا طَاعَةَ لَهُمَا فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ وَ لَا لِغَيْرِهِمَا فَانَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ (1)
فضل بن شاذان ؓ امام رضا (ع)سے روایت کرتے ہیں کہ اپ نے مامون کو خط لکھا جس میں والدین کی اطاعت کو واجب قرار دیا، اگرچہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہو ؛ سوائےمعصیت خدا کے کیونکہ معصیت الہٰی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے
عَنْ ابِي جَعْفَرٍ ع قَالَ ثَلَاثٌ لَمْ يَجْعَلِ اللهُ لِاحَدٍ فِيهِنَّ رُخْصَةً ادَاءُ الْامَانَةِ الَ ی الْبَرِّ وَ الْفَاجِرِ وَ الْوَفَاءُ بِالْعَهْدِ لِلْبَرِّ وَ الْفَاجِرِ وَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ بَرَّيْنِ كَانَا اوْ فَاجِرَيْنِ (2)
امام صادق (ع)سے روایت ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن میں خدا نے کسی کے لئے بھی رخصت نہیں دی ہے:
1. امانت کا واپس کرنا اگرچہ انسان فاسق ہو یا نیک ہو 2. وعدہ وفا کرنا خواہ اچھا انسان ہو یا برا
3. والدین کے ساتھ احسان کرنا، خواہ اچھے ہوں یا برے ہوں
خصوصا ماں کا حق اولاد کے اوپر زیادہ ہے جیسا کہ امام صادق(ع) فرماتے ہیں: ایک شخص رسول خدا (ص)کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں ایک ایسا جوان ہوں جو خدا کی راہ میں جہاد کرنے کی خواہش رکھتا ہوں لیکن میری ماں اس کام کی طرف ہرگز مائل نہیںرسول اکرم(ص) نے فرمایا: واپس جاؤ اور اپنی ماں کے پاس رہو اس خدا کی قسم جس نے مجھے حق پر مبعوث فرمایا ہے ایک رات ماں کی خدمت کرنا خدا کی راہ میں ایک سال جہاد کرنے سے بہتر ہے(3)
--------------
(1):-وس ائل الشيعة ، ج 16 ، ص 155
(2):-وس ائل الشيعة ، ج 21 ، ص490
(3):- جامع السعادات،ج2،ص261
امام صادق(ع)فرماتے ہیں: ایک دن رسول اکرم(ص) ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کی اپ کی رضاعی بہن وارد ہوئیںانحضرت (ص) نے ان کی شایان شان عزت کی اور انہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور ان کے لئے کپڑا بچھا دیا تاکہ اس پر بیٹھیں اور بعد میں ان سے گفتگو میں مشغول ہوگئےکچھ دیر بعد وہ چلی گئیں اور تھوڑی ہی دیر بعد ان کا بھائی جو انحضرت کا رضاعی بھائی تھا حاضر خدمت ہوا لیکن انحضرت (ص)نے اس کے لئے ویسی تعظیم انجام نہ دیحاضرین میں سے ایک نے پوچھا کہ یا رسول اللہ(ص) ! اس فرق کی کیا وجہ تھی حالانکہ یہ شخص مرد ہےاپ (ص)نے فرمایا: اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لڑکی اپنے باپ اور ماں کا زیادہ احترام کرتی ہے(1)
قَالَ ص اذَا كُنْتَ فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فَانْ دَعَاكَ وَالِدُكَ فَلَا تَقْطَعْهَا وَ انْ دَعَتْكَ وَالِدَتُكَ فَاقْطَعْهَا (2)
اگر ماں اواز دے اورتم مستحب نماز پڑھ رہے ہو تونماز توڑ کر ان کا جواب دو لیکن اگر والد اواز دے تو نماز کی حالت میں جواب نہیں دے سکتے
ایک اور روایت میں فرمایا:
عَنِ الْمُعَلَّ ی بْنِ خُنَيْسٍ عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَ سَالَ النَّبِيَّ ص عَنْ بِرِّ الْوَالِدَيْنِ فَقَالَ ابْرَرْ امَّكَ ابْرَرْ امَّكَ ابْرَرْ امَّكَ ابْرَرْ ابَاكَ ابْرَرْ ابَاكَ ابْرَرْ ابَاكَ وَ بَدَا بِالْامِّ قَبْلَ الْابِ (3)
--------------
(1):- جامع السعادات، ج2،ص260
(2):-مستدرك الوس ائل 15،ص 181،ب اب استحب اب الزي ادة في بر ال ام
(3):-وس ائل الشيعة ، ج21 ، ص491
معلی بن خنیسؓ امام صادق (ع)سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول خدا ﷺ کی خدمت میں ایا اور والدین کے ساتھ نیکی کرنے کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا: ماں کے ساتھ نیکی کرو ؛ چوتھی مرتبہ کہا باپ کے ساتھ نیکی کرو:
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ جَاءَ رَجُلٌ الَ ی النَّبِيِّ ص فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ ابَرُّ قَالَ امَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ امَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ امَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ابَاكَ (1)
چنانچہ ایک جوان پیغمبر اسلام(ص) کی خدمت میں ایا اور عرض کیا:یا رسول اللہ (ص)میری ضعیفہ ماں ہے جو حرکت نہیں کرسکتیمیں اسے اپنے دوش پر اٹھا کر ادھر ادھر لے جاتا ہوں، اسے خود اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا ہوں اور جو بھی میری ماں مجھ سے تقاضا کرے اسے پورا کرتا ہوں اسے خوش رکھتا ہوں کیا میں نے میرے لئے ان کی اٹھائی ہوئی زحمتوں کا ازالہ اور حق اداکیا یا نہیں؟ رسول خدا(ص) اس جوان کےحسن سلوک پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا: افرین ہو تجھ پر، لیکن پھر بھی ماں کی زحمتوں کا ازالہ نہیں کرسکتے، کیونکہ وہ تجھے نو ماہ بڑی مشقتوں کیساتھ پیٹ میں اٹھائی رہی اور جب تم دنیا میں ائے تو ان کے پستانوں سے خوراک حاصل کرتے رہےاور وہ تجھے اپنی اغوش میں لے کر ادھر ادھر پھراتی رہی اور ہمیشہ تیری مدد کرتی رہی اور ہر قسم کی اذیت و ازار سے تیںے بچاتی رہی، اس کا دامن تیری ارام گاہ تھی اور وہ تیری رکھوالیماں دن رات اس شوق اور ارزو کیساتھ تیری پرورش کرتی رہی کہ تو پلے بڑے اور قدرت مند ہو تاکہ تو اچھی زندگی گزارسکے، لیکن تو! اگرچہ ماں کی اس قدر خوش اسلوبی کیساتھ خدمت کرتے رہے ہو لیکن اس امید اور ارزو کے بغیر! اسلئے تم ماں کی زحمتوں کا ازالہ اور حق ادا نہیں کرسکتے(2)
اس طرح کائنات میں اللہ تعالیٰٰ نےانسانوں کے لئے ایک مہربان اور دلسوز ہستی کو خلق کیا ہے وہ ماں کی ذات ہے، جن کی توصیف کرنے سے ہماری زبان قاصرہےلہذا میں صرف شاعر اہلبیبؑ جناب رضا سرسوی کےان اشعار کو [پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے] کے عنوان سےنقل کروں گا، جنہیں امام زین العابدین ؑ کے کلام مبارک سے لئے گئے ہیں:
--------------
(1):-الك افي ج۲، ص 159 ب اب البر ب الو الدين ،ص157
(2):- الگوہای تربیت کودکان،ص67
موت کی اغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں
تب کہیں جا کر سکون تھوڑا سا پا جاتی ہے ماں
فکر میں بچوّں کی کچھ اس طرح گھل جاتی ماں
نوجوان ہوتے ہوئے بوڑھی نظر اتی ہے ماں
اوڑھتی ہے غربتوں کا خود تو بوسیدہ کفن چاہتوں کا پیرہن بچوّں کو پہناتی ہے ماں
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہےماں
جانے کتنی برف سی راتوں میں ایسا بھی ہوا
بچہ تو چھاتی پہ ہے، گیلے پہ سوجاتی ہے ماں
اپنے پہلو میں لٹا کر اور طوطے کی طرح 14,5,12,1, ہم کو رٹواتی ہے ماں
گھر سے جب بھی دور جاتاہے کوئی نور نظر
ہاتھ میں قران لے کر درپہ اجاتی ہے ماں
دے کے بچوّں کوضمانت میں رضائے پاک کی
پیچھے پیچھے سرجھکائے دور تک جاتی ہے ماں
کامپتی اواز سے کہتی ہے بیٹا الوداع سامنا جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں
لوٹ کے جب بھی سفر سے گھرمیں اجاتےہیں ہم
ڈال کے بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں
وقت اخر ہے اگر پردیس میں نور نظر اپنی دونوں پُتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں
پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے؟
کوئی ان بچوّں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں
شکریہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا
مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں
سال بھر میں یا کبھی ہفتے میں جمعرات کو زندگی بھر کا صلہ ایک فاتحہ پاتی ہے ما ں
بعد مرنے کے بھی بیٹے کی خدمت کے لئے روپ بیٹی کا بدل کر گھر میں اجاتی ہے ماں
گرجوان بیٹی ہو گھر میں اور کوئی رشتہ نہ ہو
ایک نئے احساس کی سولی پہ چڑھ جاتی ہے ماں
شمر کے خنجر سے یا سوکھے گلے سے پوچھ لو
ماں ادھر منہ سے نکلتا ہے ادھر اتی ہے ماں
مادر! ہستی ام بہ امید دعای توست فردا کلید باغ بہشتم رضای توست
فارسی ادب کے بڑے نامورشاعر شہریار لکھتے ہیں : اے میری ماں !میرا وجوداج تیری دعاؤں کا امید وار ہے اور کل جنت کی چابی میرے لئے تیری رضاہے
اولاد اپنے والدین کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہیںجیسے والدین کا کردار ہوگا وہی اولاد میں بھی منتقل ہوگا اس مطلب کو شاعر نے اپنے اشعار میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے
ای پدر، ای مادر، من بہ رفتارِ شما می نگرم عمل و کارِ شما، الگوی رفتارِ من است
من چنان می شوم اخر، کہ شما می خواہید وضعِ من، بستہ بہ رفتارِ شماست
ای پدر، ای مادر، من در ائینہ ی سیمای شما انچہ اندَر دلتان می گذرد می خوانم
بہتر انست کہ با ہم، ہمہ صادق باشیم تا نگیرد دلِ من رنگ و ریا
من ہم انسانم و لغزش دارم با زبان خوشِ خود ذہنِ من اگاہ کنید
تا کہ دیگر نکنم کارِ خطا ای پدر، ای مادر، با کسی ہیچ قیاسَم نکنید
وضع من، وضعیتِ انان نیست ای پدر، ای مادر، احتیاجم ہمہ پوشاک و غذا تنہا نیست
من بہ امنیت خاطر، زِغذا محتاجم دلِ پاکِ من، از این عاطفہ لبریز کنید
شاعر کہتا ہے کہ اے میرے بابا ایے میری ماں! تمھاری رفتار پر میری نظر ہےتمھارا کام اور عمل میرے لئے نموہ عمل ہے میں ویسا بنوں گا جیسے تم چاہتے ہو،لیکن میرا پورا وجود تم سے وابستہ ہےاے میرے بابا اے میری ماں!میں ہمیشہ تمھارے ائینے میں دیکھتا ہوں، جو باتیں تمھارے دلوں میں اتی ہیں،میں اسے پڑھتا ہوں،اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ صادقانہ زندگی گزاریں تاکہ میرے دل میں ریا کاری رنگ نہ پکڑے؛کیونکہ میں بھی انسان ہوں اور خطا کا پتلہ ہوں،اپنی میٹحی زبان سے مجھے کچھ نصیحت کیجئےتاکہ میں پھر سے خطا نہ کروںمیری ضرورت صرف کھانا پینا نہیں بلکہ میرے روح اور دل کو عطوفت اور مہربانی کی غذاسے لبریز کریں
این حدیث از مصطفی اندر مقام مادر است ای پسر جنّت نہان در زیر گامِ مادر است
تا توانی از پی تکریم او کن جدّ و جہد احترام ہر کسی از احترام مادر است
مادر دانا کند فرزند دانا تربیت ہر کہ بر ہر جا رسد از اہتمام مادر است
افکند کی در خطر بہر کسی جانرا کسی این گذشت و این فداکاری، مرامِ مادر است
او نہال ارزو را باغبانی می کند ہستی ما حاصل رنج مُدامِ مادر است
شاعر کہتاہے کہ حدیث رسول میں ماں کا مقام یہ ہے کہ جنت ان کے قدموں کے نیچے ہے بس جتنا ہوسکے ان کا احترام اور ان کی عزت کرنے کی کوشش کرو اگر تم نے ماں کا احترام کیا تو سمجھ لو پوری انسانیت کا احترام کیا ہےماہر ماں ہی ماہر اولاد کی تربیت کرسکتی ہے یہی وجہ ہے جو بھی کسی خاص مقام تک اگر پہنچا ہے تو یہ اس کی ماں کی تربیت کی مرہون منت ہے
کون کسی کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے ؟یہ فداکاری اور جان نثاری صرف اور صرف ماں ہی دکھا سکتی ہےماں ہے جو اپنی نہال ارزوکی نشونما کے لئے باغبانی کرتی ہے اسی لئے ہماری ہستی اور ہمارا وجود ماں کے رنج و غم کا نتیجہ ہے
دوسری فصل
میاں بیوی کے حقوق اور ذمہ داریاں
راحت مرد از وجود زن است خاصہ ان زن کہ مہربان باشد
ہمسر خوب و مہربان و عفیف بہترین نعمت جہان باشد
انسان کا سکون اورراحت عورت کے وجود سے ہے خصوصا اگر عورت مہربان اور با وفا ہو،کونکہ نیک،مہربان اور پاکدامن بیوی دنیا کی تمام نعمتوں میں سے بہترین نعمت ہے
اسلام حجاب اور پردہ کو کلی سے تشبیہ دیتا ہے کہ جب تک کلی کلی ہے اس وقت تک کوئی اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا، لیکن جب کلی کھل کر پھول بن جاتی ہے تو اسے فوری طور پر توڑدیتا ہےممکن ہے کچھ دن اسے احترام کے ساتھ سنبھال کر رکھےلیکن کچھ دیر کے بعد جب مرجھا جائے تو اسےکچرے میں ڈال دیتا ہے یہی مثال ہے کہ جب تک عورت پردے میں ہے اس کی طرف کوئی بری نگاہ بھی نہیں کرتا اور ہاتھ نہیں بڑھاتا لیکن جب وہ اپناپردہ یا حجاب اتاردیتی ہے اور پردے سے باہر اتی ہے تو مختلف ہاتھ اس کی طرف بڑھنے لگتےہیں،اور اپنا ہوس پورا ہونے تک اسے جھوٹی عشق و محبت کا اظہار کرتے رہتےہیں اس کے بعد اسے ردی کاغذ کی طرح کچرے میں ڈال دیتے ہیں
یہی وجہ ہے اسلام حجاب اور پردہ کو عورت کی زیبایی ،عفت و پاکدامنی کا محافظ جانتا ہے اس پھل کی طرح جب تک وہ اپنے چھلکے کے اندر ہےبہت دیر تک تر و تازہ رہتا ہے لیکن جب چھلکا اتاردے تو اس کی طراوت اور تازگی ختم ہوجاتی ہے ،بلکہ چھلکا اتار کر پھل میہمان کے سامنے رکھنا میہمان کی توہین سمجھی جاتی ہے ،جیسے سیب کا چھلکا اتار کر میہمان کے سامنے رکھنا اس سے معلوم ہوا جس طرح چھلکا پھل کی سلامتی کا ضامن ہے اسی طرح حجاب اور پردہ بھی عورت کی سلامتی کا ضامن ہے
میاں بیوی کے درمیان حسن ارتباط کی برقراری کے لئے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال کریں
اس سلسلے میں پیغمبر اکرم(ص)نے فرمایا:
فَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقٌّ وَ لَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقٌّ وَ مِنْ حَقِّكُمْ عَلَيْهِنَّ انْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ وَ لَا يَعْصِينَكُمْ فِي مَعْرُوفٍ فَاذَا فَعَلْنَ ذَلِكَ فَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَ لَا تَضْرِبُوهُن (1)
لوگو! عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں اور تمہارے اوپر ان کے کچھ حقوق ہیںتمہارے حقوق یہ ہیں: وہ بیگانہ اور نامحرموں کیساتھ ناجائز تعلقات پیدا نہ کریںاور جہاں تمہاری اطاعت ان پر واجب ہے اس سے گریز نہ کریں تو اس کے بدلے میں انہیں ان کی شاان کے مطابق لباس،نان ونفقہ اور دیگر اخراجات فراہم کرنا تمہارے ذمہ ہیں
مذکورہ حدیث میں بعض حقوق کی طرف اشارہ ہوا ہے ایسا نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ خود کو یک طرفہ حقوق کا طلبگار اور بیوی کو مقروض سمجھ بیٹھیں،بلکہ دونوں کے حقوق متبادل اور متقابل ہیںاور متقابل حقوق کے قائل ہونا ہی مہر و محبت بھری زندگی کے لئے مناسب مواقع فراہم کرتاہے
خداوند مہربان نے اطاعت گزار عورت کو نہ صرف دنیا میں پر سکون زندگی کی شکل میں اجر اور ثواب کا مستحق قرار دیابلکہ قیامت کے دن اس کے بدلے میں عورت کی مغفرت اور بخشش کا بھی بندوبست کیا ہے
--------------
(1):- شیخ صدوق؛ الخصال ، ج۲،ص۴۸۷
قَالَ الصادق: انَّ رَجُلًا مِنَ الْانْصَارِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ص خَرَجَ فِي بَعْضِ حَوَائِجِهِ فَعَهِدَ الَ ی امْرَاتِهِ عَهْدا انْ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا حَتَّ ی يَقْدَمَ وَ انَّ ابَاهَا مَرِضَ فَبَعَثَتِ الْمَرْاةُ الَ ی رَسُولِ اللهِ ص فَقَالَتْ انَّ زَوْجِي خَرَجَ وَ عَهِدَ الَيَّ انْ لَا اخْرُجَ مِنْ بَيْتِي حَتَّ ی يَقْدَمَ وَ انَّ ابِي مَرِضَ ا فَتَامُرُنِي انْ اعُودَهُ فَقَالَ لَا اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ وَ اطِيعِي زَوْجَكِ قَالَ فَمَاتَ فَبَعَثَتْ الَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ انَّ ابِي قَدْ مَاتَ ا فَتَامُرُنِي انْ اصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَا اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ وَ اطِيعِي زَوْجَكِ قَالَ فَدُفِنَ الرَّجُلُ فَبَعَثَ الَيْهَا رَسُولُ اللهِ ص انَّ اللهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَ ی قَدْ غَفَرَ لَكِ وَ لِابِيكِ بِطَاعَتِكِ لِزَوْجِكِ (1)
چنانچہ امام صادق(ع) سے روایت ہے: ایک صحابی کسی کام سے سفر میں نکلتے وقت اپنی بیوی سے کہہ کر گیا کہ جب تک میں واپس نہ لوٹوں تو گھر سے باہر قدم نہ رکھنا اس فرمانبردار بیوی نے بھی اس کی اطاعت میں کوتاہی نہیں کی اتفاقا انہی ایام میں اس عورت کا باپ بیمار ہوگیا، تو اس خاتون نے گھر میں سے کسی کو پیغمبر(ص) کی خدمت میں بھیجا اگر اجازت ہو تو اپنے بیمار باپ کی عیادت کے لئے چلی جاؤں، پیغمبر اسلام(ص)نے فرمایا:اپنے گھر سے نہ نکلو اور اپنے شوہر کی اطاعت کروکچھ دن بعد اس کا باپ اس دار فانی سے چل بسااس خاتون نے پھر اپ سے باپ کی تشییع جنازے میں شرکت کی اجازت مانگی،تو پھر فرمایا:نہیں گھر سے نہ نکلو اپنے شوہر کی اطاعت کرواور جب اس کا باپ دفن ہوا تو خود پیغمبر(ص)نے اس مؤمنہ کی طرف پیغام بیجا : خدا نے تمہاری اس اطاعت کے بدلے میں تمہیں اور تمہارے باپ دونوں کو بخش دیا ہے
رسول اسلام(ص) نے بیوی کے لئے چاردیواری کے اندر والا کام انتخاب کرتے ہوئے فرمایا:
حَقُّ الرَّجُلِ عَلَ ی الْمَرْاةِ انَارَةُ السِّرَاجِ وَ اصْلَاحُ الطَّعَامِ وَ انْ تَسْتَقْبِلَهُ عِنْدَ بَابِ بَيْتِهَا فَتُرَحِّبَ وَ انْ تُقَدِّمَ الَيْهِ الطَّسْتَ وَ الْمِنْدِيلَ وَ انْ تُوَضِّئَهُ وَ انْ لَا تَمْنَعَهُ نَفْسَهَا الَّا مِنْ عِلَّةٍ (2)
--------------
(1):- مستدرک الوسائل،ج۱۴، ص۲۵۸
(2):-مك ارم ال اخل اق، ص 214 ، في حق الزوج علی المر اة
شوہر کے لئے ارام و سکون پہنچانے کے ساتھ ساتھ گھریلو کاموں مثلا صفائی، کھانا پکانا، کپڑے اور برتن دھونا، اچھی غذا تیار کرنا،اور جب شوہر گھر میں داخل ہو تو سب سے پہلے تمہارا اس کے استقبال کے لئے دروازے پر جانا اور خوش امدید کہنابیوی کی ذمہ داریوں میں سے ہے جنہیں ادا کرنے سے دونوں کی زندگی پر لطف اور پائیدار ہوسکے گیاور اپس میں پیار و محبت بڑھ جائے گااور اپس کی محبت کو قران نے خدا تعالیٰٰ کا عظیم معجزہ کہا ہے:
وَمِنْ ايَاتِهِ انْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ انفُسِكُمْ ازْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا الَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً انَّ فِي ذَلِكَ لَايَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ(1)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیاہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اورپھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبانِ فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں اپ کی اس محبت امیز رفتار سے شوہر پر بڑا اثر پڑیگا اور وہ کبھی بھی اپ کی یہ محبت امیز باتیں اور ادائیں نہیں بھولے گا
رسول اللہ (ص)نے فرمایا:
ايُّمَا امْرَاةٍ اذَتْ زَوْجَهَا بِلِسَانِهَا لَمْ يَقْبَلِ اللهُ مِنْهَا صَرْفا وَ لَا عَدْلًا وَ لَا حَسَنَةً مِنْ عَمَلِهَا حَتَّ ی تُرْضِيَه (2)
--------------
(1):- روم ۲۱
(2):- وسائل الشیعہ ،ج ۲۰، ص ۲۱۱، من لایحضرہ ج۴، ص ۱۳
ہر وہ عورت جو زبان کے ذریعے اپنے شوہر کو اذیت و ازار پہنچاتی ہے تو خدا اس سے نہ کوئی صدقہ نہ کوئی حسنہ اور نہ کوئی کفارہ قبول کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کا شوہر راضی ہوجائےاس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر شوہر راضی نہ ہوتو اس عورت کا صدقہ خیرات بھی قبول نہیں ہےامام محمد باقر(ع) نے اپنے جد گرامی امیرالمؤمنین (ع)سے نقل کیا ہے:اپ نے فرمایا: میں اور جناب فاطمہ(س) ایک دن اپ کے حضور(ص) پہنچے تو دیکھا اپ سخت گریہ کررہے تھے،میں نے وجہ پوچھی، تو فرمایا: یا علی(ع) جس رات معراج پر گیا تو اپنی امت کی عورتوں پر مختلف قسم کے سخت عذاب کا مشاہدہ کیا جسے دیکھ کر سخت پریشان ہوں اور رو رہا ہوںپھر فرمایا:
وَ امَّا الْمُعَلَّقَةُ بِلِسَانِهَا فَانَّهَا كَانَتْ تُؤْذِي زَوْجَهَا وَ امَّا الْمُعَلَّقَةُ بِرِجْلَيْهَا فَانَّهَا كَانَتْ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا بِغَيْرِ اذْنِ زَوْجِهَا (1)
دیکھا کہ عورتوں کے ایک گروہ کو زبانوں کیساتھ لٹکایا ہوا ہے جو اپنے شوہر کو زبان درازی کے ذریعے تنگ کیا کرتی تھیںدوسرے گروہ کو دیکھا کہ جنہیں پیروں کیساتھ لٹکایا ہوا تھا، وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلتی تھیں
ایک اور روایت میں فرمایا:
قَالَ رَسُولُ اللهِ ايُّمَا امْرَاةٍ خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا بِغَيْرِ اذْنِ زَوْجِهَا فَلَا نَفَقَةَ لَهَا حَتَّ ی تَرْجِعَ (2)
اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلے تو واپس پلٹنے تک اس کا نان ونفقہ شوہر پر واجب نہیں ہےان روایات سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ خواتین اپنے شوہر کی اجازت اور رضایت کو ہر کام سے پہلے معلوم کریںاور شوہر کا حق ہے کہ اگر مصلحت جانتا ہو اجازت دیدے ورنہ اجازت نہ دےیہی وجہ ہے حضور ﷺنے فرمایا: تمام حقوق سے زیادہ شوہر کے حقوق اہم ہیںاور جس نے اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کیے اس نے خدا کی صحیح بندگی اور اطاعت نہیں کی(3)
--------------
(1):- وسائل الشیعہ ، ج۲۰، ص ۲۱۳
(2):- کافی ،ج۵، ص۵۱۴
(3):- کافی ،ج5،ص508 ، مکارم اخلاق،ص215
پھر فرمایا:
وَ لَوْ امَرْتُ احَدا انْ يَسْجُدَ لِاحَدٍ لَامَرْتُ الْمَرْاةَ انْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا (1)
غیر خدا کو اگر سجدہ کرناجائز ہوتا تو میں حکم دیتا کہ عورت اپنے شوہر کو سجدہ کرے
شارع اقدس نے اس عورت کو بدترین عورت قرار دیا ہے جو اپنے شوہر پر مسلط ہو، بغض و کینہ رکھتی ہو،برے اعمال کی پرواہ نہ کرتی ہو،شوہر کی غیر موجودگی میں بناؤ سنگھار کرکے دوسروں کے سامنے اتی ہو، اور جب شوہر اتا ہے تو پردہ دار بن جا تی ہو اور شوہر کی بات نہ مانتی ہو(2)
چونکہ مرد طبیعتا تنوّع جنسی کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے تو عورت کو بھی چاہئے کہ جتنا ہوسکے مرد کی اس خواہش کو پوری کرےاور یہ اس کا اہم ترین وظیفہ ہےمتعدد روایات اس بات کی طرف ہماری توجّہ دلاتی ہیں رسول اللہ (ص)نے فرمایا:
الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ الطَّبْرِسِيُّ عن النَّبِيِّ ص قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَاةٍ انْ تَنَامَ حَتَّ ی تَعْرِضَ نَفْسَهَا عَلَ ی زَوْجِهَا تَخْلَعَ ثِيَابَهَا وَ تَدْخُلَ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ فَتُلْزِقَ جِلْدَهَا بِجِلْدِهِ فَاذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ فَقَدْ عَرَضَتْ (3)
یعنی عورت کو چاہئے کہ جب وہ سونے لگے تو اپنے شوہر کے ساتھ لباس اتار کر سوئے،اور اپنے جسم کو شوہر کے جسم سے مس کرکے سوئے
امام باقر (ع)نے فرمایا:
--------------
(1):- مستدرک الوسائل،ج۱۴، ص۲۴۶
(2):- نقش دین در خانوادہ، ج۱، ص۳۵۵
(3):- وسائل الشیعہ ،ج ۲۰، ص۱۷۶
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ ابِي جَعْفَرٍ ع قَالَ جَاءَتِ امْرَاةٌ الَی رَسُولِ اللهِ ص فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی الْمَرْاةِ فَقَالَ لَهَا تُطِيعُهُ وَ لَا تَعْصِيهِ وَ لَا تَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِهَا شَيْئا الَّا بِاذْنِهِ وَ لَا تَصُومُ تَطَوُّعا الَّا بِاذْنِهِ وَ لَا تَمْنَعُهُ نَفْسَهَا وَ انْ كَانَتْ عَلَی ظَهْرِ قَتَبٍ وَ لَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا الَّا بِاذْنِهِ فَانْ خَرَجَتْ بِغَيْرِ اذْنِهِ لَعَنَتْهَا مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ وَ مَلَائِكَةُ الْارْضِ وَ مَلَائِكَةُ الْغَضَبِ وَ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ حَتَّی تَرْجِعَ الَی بَيْتِه(1)
ایک عورت رسول خدا (ص) کی خدمت میں ائی اور عرض کی شوہر کے متعلق ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟ تو رسول خدا(ص)نے جواب دیا کہ خود کو ان کے لئے ہمیشہ تارر رکھو خواہ سواری پر بھی کیوں نہ ہویہ وہ دستورات ہیں جن پرعمل پیرا ہونا مرد اور عورت دونوں پر لازم ہے
اسلامی نقطۂ نگاہ سے بہترین عورت وہ ہے جو سب سے زیادہ شوہر کی اطاعت کرے اور اس سے عشق و محبت اور امادگی کا اظہار کرےلیکن اس کے مقابلے میں وہ عورت جو اپنے شوہر کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے سے انکار کرے تو اسے بدترین عورت سمجھا گیا ہےاسی لئے رسول خدا(ص)نے فرمایا:خیر نسائکم العفیفة و الغلیمة بہترین عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کی نسبت زیادہ شہوت پرست ہو لیکن نامحرموں کی نسبت عفیف اور پاکدامن(2)
عن ابِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ ابُو جَعْفَرٍ ع خَيْرُ النِّسَاءِ مَنِ الَّتِي اذَا دَخَلَتْ مَعَ زَوْجِهَا فَخَلَعَتِ الدِّرْعَ خَلَعَتْ مَعَهُ الْحَيَاءَ وَ اذَا لَبِسَتِ الدِّرْعَ لَبِسْتَ مَعَهُ الْحَيَاءَ(3)
امام باقر(ع) نے فرمایا: بہترین اور شائستہ ترین عورت وہ ہے جو خلوت میں شوہر کیساتھ ملے تو لباس کے ساتھ ساتھ شرم و حیا کو بھی دور پھینکے اور پوری محبت اور پیار کیساتھ اپنے شوہر کی جنسی خواہشات کو پورا کرے اور جب لباس پہن لے تو شرم و حیا کا لباس بھی زیب تن کرےاور اپنے شوہر کے سامنے جرأت اور جسارت سے باز ائے
--------------
(1):-من ل ا يحضره الفقيه ج3 ، ب اب حق الزوج علی المر اة، ص : 438 (2):- وس ائل ،ج14،ص 15
(3):- تہذیب الاحکام،ج۷،ص۳۹۹
امام صادق(ع) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ص)نے فرمایا:
الْمَرْاةُ يَدْعُوهَا زَوْجُهَا لِبَعْضِ الْحَاجَةِ فَلَا تَزَالُ تُسَوِّفُهُ حَتَّی يَنْعُسَ زَوْجُهَا فَيَنَامَ فَتِلْكَ لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهَا حَتَّی يَسْتَيْقِظَ زَوْجُهَا(1)
یعنی وہ عورت جسے اس کا شوہر جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے کہے اور وہ بہانے بناتی رہے یہاں تک کہ اس کا شوہر سو جائے تو صبح اس کے جاگنے تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہیں گے
رسول خدا(ص)نے اس عورت کو بہترین اور شائستہ ترین عورت قرار دیا ہے جسے دیکھ کر اس کا شوہر خوش ہوجائےپس مسکراہٹ کے ساتھ شوہر کا استقبال کیا کرو، جو زندگی میں محبت کے پھول اگانے کا سبب بنتا ہےاور پھول کو دیکھ کر ہر کوئی خوش ہوتا ہےٍ:
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ فِي رِسَالَةِ امِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع الَی الْحَسَنِ فَانَّ الْمَرْاةَ رَيْحَانَةٌ
امام صادق رماتے ہیں کہ حضرت علی(ع) نے فرمایا: عورت پھول کی مانند ہے(2) ، اسے چاہئے کہ ہمیشہ پھول کی طرح کھلتی رہےاور خاندانی گلستان میں خوشیوں کا باعث بنےدینی اور دنیاوی کاموں میں شوہر کی معاون بنےامام صادق (ع)نے فرمایا:
ثَلَاثَةٌ لِلْمُؤْمِنِ فِيهِنَّ رَاحَةٌ دَارٌ وَاسِعَةٌ تُوَارِي عَوْرَتَهُ وَ سُوءَ حَالِهِ مِنَ النَّاسِ وَ امْرَاةٌ صَالِحَةٌ تُعِينُهُ عَلَی امْرِ الدُّنْيَا وَ الْاخِرَةِ وَ ابْنَةٌ اوْ اخْتٌ يُخْرِجُهَا مِنْ مَنْزِلِهِ بِمَوْتٍ اوْ بِتَزْوِيج(3)
یعنی تین چیزوں میں مؤمن کے لئے سکون اور راحت ہے ان میں سے ایک وہ شائستہ عورت ہے جو اس کے دینی اور دنیاوی امور میں مددگار ثابت ہو کیونکہ عورت اگر چاہے تو مرد کے لئے دینی اور دنیاوی امور میں بہترین شوق دلانے والی بن سکتی ہےیہاں تک کہ مستحبات کی انجام دہی اور مکروہات کے ترک کرنے میں بھیچنانچہ روایت ہے:
--------------
(1):-روضة المتقین،ج8،ص376 من ل ا یحضره،ج۳،ص۴۴۲(2):- من ل ا یحضره الفقیه،ج3،ص556ک افی ج۵، ص۵۱۰
(3):-ک افی ،ج5،ص328 الخص ال،ج1،ثل اثة للمؤمن فيهن ر احة،ص : 159
سَالَ عَلِيّا كَيْفَ وَجَدْتَ اهْلَكَ قَالَ نِعْمَ الْعَوْنُ عَلَی طَاعَةِ اللهِ وَ سَالَ فَاطِمَةَ فَقَالَتْ خَيْرُ بَعْلٍ فَقَالَ اللهُمَّ اجْمَعْ شَمْلَهُمَا وَ الِّفْ بَيْنَ قُلُوبِهِمَا وَ اجْعَلْهُمَا وَ ذُرِّيَّتَهُمَا مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ وَ ارْزُقْهُمَا ذُرِّيَّةً طَاهِرَةً طَيِّبَةً مُبَارَكَةً وَ اجْعَلْ فِي ذُرِّيَّتِهِمَا الْبَرَكَةَ وَ اجْعَلْهُمْ ائِمَّةً يَهْدُونَ بِامْرِكَ الَی طَاعَتِكَ وَ يَامُرُونَ بِمَا يُرْضِيكَوَ قَالَ جَزَاكِ اللهُ خَيْرا(1)
حضرت زہرا(س)کی شادی کے بعد پیغمبر (ص)نے علی(ع)سے پوچھا: یا علی؛ فاطمہ(س) کو کیسا پایا؟ تو جواب دیا: فاطمہ(س) کو خدا کی فرمان برداری میں بہترین مددگار پایا، اسی طرح فاطمہ(س) نے بھی یہی جواب دیا کہ علی کو بہترین شوہر پایااس کے بعد رسول گرامی نے دعا کی، اے اللہ !ان دونوں کے امور کو ایک دوسرے کے موافق قرار دے، ان دونوں کے دلوں میں الفت پیدا کر، ان کو اور ان کی اولادوں کو جنت النعیم کا وارث قرار دے،اور ان دونوں کو پاک اور طیب اولاد عطا کر، اور ان کی ذریت پاک میں برکت نازل کرے، اور ان کو ایسا امام قرار دے جو تیرے حکم کے مطابق تیری بندگی کی طرف ہدایت پالیں اور یہ لوگ تیری رضایت کے مطابق حکم کریں پھر فرمایا: اے فاطمہ(س) اللہ تعالی تجھے جزا ئے خیر دےاور جب بیوی ایسی ہو تو اولاد بھی حسنینؑ اور زینب و کلثوم (ع)جیسی ہوتی ہےہم اور اپ علی(ع) اور فاطمہ(س) جیسے تو نہیں بن سکتے لیکن ان کی پیروی کرنے کی کوشش کرکے معاشرے کو اچھی اور صالح اولاد تو دے سکتے ہیںاس عظیم مقصدکے لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنی اولاد کو اصول وفروع دین کی تعلیم دیںاور مذہبی عبادات ورسوم جیسے نماز، روزہ، انفاق، تلاوت، نماز جماعت اور مذہبی مراسم، جلسے جلوس میں شرکت کرنے پر تأکید کریں
یہ بھی عورتوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال و دولت اور اسرار کی امین ہوںپیغمبر اسلام(ص)نے فرمایا: خدا تعالیٰٰ فرماتا ہے کہ میں جب بھی کسی مسلمان کو دنیا اور اخرت کی خوبیاں عطا کرنا چاہتا ہوں تو اسے چار چیزیں عطا کرتا ہوں:
--------------
(1):- بحار، ج43،ص117
1. ایسی زبان جو ذکر الٰہی میں مصروف رہتی ہو
2. قلب خاشع جو ہمیشہ متوجہ ہو
3. صبور بدن جو مصیبت کے موقع پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرے
4. با ایمان بیوی اس بارے میں فرمایا:
مَا اعْطِيَ احَدٌ شَيْئا خَيْرٌ لَهُ مِنِ امْرَاةٍ صَالِحَةٍ اذَا رَاهَا سَرَّتْهُ وَ اذَا اقْسَمَ عَلَيْهَا ابَرَّتْهُ وَ اذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ فِي نَفْسِهَا وَ مَالِه
اورایسی با ایمان اور با عفت بیوی جسے دیکھ کر شوہر خوش ہو اور جب وہ کہیں چلاجائے تو اس کی مال و دولت کی حفاظت کرے(1)
اسی طرح خاندانی خامیوں پر بھی امانت کے طور پر پردہ ڈالےایسی خاتون کبھی بیجا اور بے مورد اور فضول خرچ نہیں کرتیبلکہ وہ زندگی کے وسائل کو بڑی دقّت سے خرچ کرتی ہےکھانا پکانے اور کھلانے میں بھی فضول خرچی سے پرہیزکرتی ہےایک امانت دار خاتون کی کہانی ہے جس نے امانت داری کی مثال قائم کی:
اصمعی نامی شخص کہتا ہے کہ میں نے بیابان میں ایک خیمہ دیکھا جس سے ایک بہت ہی خوبصورت خاتون نکلی گویا وہ چاند کا ایک ٹکڑا تھا، مہمانی کی رسم ادا کرتے ہوئے مجھے خوش امدید کہا، میں گھوڑے سے اترا اور ایک گلاس پانی مانگا تو اس نے مجھ سے کہا: میں اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر پانی نہیں پلا سکتیان کی اجازت کے بغیر ان کی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگاتی، اور ان سے اجازت بھی نہیں مانگی ہے کہ مہمان کے لئے مہمان نوازی کروںہاں اپنے لئے بقدر ضرورت پانی پینے کی اجازت مانگی تھی کہ میں خود پیاسی تھی تو اپنا حصہ پی چکی ہوںاور ابھی میں پیاسی نہیں ہوں ورنہ اپنا حصّہ تمہیں ضرور پلاتیہاں دودھ کا شربت ہے جو میری غذا ہے وہ تمہیں دوں گییہ کہہ کر دودھ والا برتن میرے سامنے رکھ دیا
--------------
(1):-ک افی ،ج ۵ ،ص 327 ارش اد القلوب الی الصو اب ،ج1،ص183
اصمعی کہتا ہے کہ میں اس خاتون کی عقل مند، پیاری اور مدلل باتوں کو سن کر حیران رہ گیااسی دوران ایک عربی سیاہ چہرے والا وہاں پہنچا اور مجھے خوش امدید کہا یہ عورت اس کی طرف دوڑی اور اس کی پیشانی سے پسینہ پوناے ، اور اس طرح اپنے شوہر کی خدمت کرنے لگی کہ کوئی لونڈی بھی اپنے اقا کی یوں خدمت نہیں کرتی دوسرے دن جب میں وہاں سے نکلنے لگاتو میں نے اس عورت سے کہا: بڑی تعجب کی بات ہے کہ تیری جیسی حسین و جمیل عورت اپنے بد شکل شوہر جیسے کی خدمت گزاری کرےتو اس خاتون نے کہا: میں نے پیغمبر اسلام (ص) کی ایک حدیث سنی ہے جس میں پیغمبر(ص)نے فرمایا: ایمان کے دو حصّہ ہیں جن میں سے ایک حصہ صبر ہے دوسرا حصہ شکر ہے، اور خدا نے مجھے خوبصورتی دی ہے اس پر میں شکر کرتی ہوں اور میرا شوہر جو بدشکل ہے اس پر میں صبر کرتی ہوںیہاں تک کہ میرا ایمان سالم اور محفوظ رہےاصمعی کہتا ہے اس خاتون کی مدلل باتوں سے بہت متأثر ہوا اور عفّت اور پارسائی میں اس سے بڑھ کر کسی عورت کو نہیں دیکھا(1)
عَنِ الصَّادِقِ عَنْ ابَائِهِ ع قَالَ حُسْنُ الْبِشْرِ لِلنَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ- وَ التَّقْدِيرُ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ- وَ المَرْاةُ الصَّالِحَةُ احَدُ الْكَاسِبَيْن(2)
امام صادق (ع)اپنے اباء و اجداد سے روایت فرماتے ہیں کہ خوش خلقی اور چہرے پر مسکراہٹ نصف عقل ہے امدنی اور خرچ میں مطابقت ادھی معیشت ہے اور نیک اور شائستہ بیوی بھی کمانے والوں میں سے ایک ہےیعنی عورتوں کے وظائف اور ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری اپنی خواہشات اور فرمائشات میں تعدیل پیدا کرنا ہےیعنی جتنی شوہر کی امدنی ہوگی اس سے زیادہ خرچ کرنے سے گریز کرے
قَالَ النَّبِيُّ ايُّمَا امْرَاةٍ لَمْ تَرْفُقْ بِزَوْجِهَا وَ حَمَلَتْهُ عَلَی مَا لَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ وَ مَا لَا يُطِيقُ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهَا حَسَنَةٌ وَ تَلْقَی اللهَ وَ هُوَ عَلَيْهَا غَضْبَان(3)
--------------
(1):- ریاحین الشریعہ،ج4(2):- بحار الانوار ،ج73 ،ص : 58
(3):- مکارم اخلاق،ص214
اس بارے میں پیغمبر اسلام(ص)نے فرمایا: اگر کوئی عورت اپنے شوہر کیساتھ محبت نہ کرے اور زندگی گزارنے میں شوہر پر ستم کرے اور اس سے بہت سخت کاموں کا مطالبہ کرے اور اسے سختی میں ڈال دے اور اس کی زندگی اجیرن بنا دے تو ایسی عورتیں اگرچہ نیک کام بھی انجام دیں تو خداوند ان کی نیکیاں قبول نہیں کریگااور قیامت کے دن خدا تعالیٰٰ ان سے ناراضگی کی حالت میں ملاقات کریگاایک عقل مند اور با سلیقہ عورت خاندان کی خوش بختی کا باعث بنتی ہےحفاظت کرنے والے کی اہمیت کمانے والے سے کم نہیں ہےکیونکہ درامد کی حفاظت، درامد کی تلاش کی طرح ہےحضرت زہرا(س)نے امیرالمؤمنین (ع)سے کہا: میرے بابا نے مجھ سے کہا: کبھی علی (ع)سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کرناہاں اگر خود لے ائیں تو کوئی بات نہیں(1)
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ مِنْ بَرَكَةِ الْمَرْاةِ خِفَّةُ مَئُونَتِهَا (وَ تَيْسِيرُ وَلَدِهَا ) وَ مِنْ شُؤْمِهَا شِدَّةُ مَئُونَتِهَا وَ تَعْسِيرُ وَلَدِهَا(2)
امام صادق (ع)نے فرمایا: (بابرکت بیوی وہ ہے جو کم خرچ ہو اور بچہ اسانی سے جنم دیتی ہواس کے مقابلے میں اگر پُر خرچ ہو اور بچہ سختی سے جنم دیتی ہو تو یہ اس کی بدقسمتی ہوگیپس خواتین کو چاہئے کہ جس قدر ممکن ہو سکے زیادہ با برکت بننے کی کوشش کریںالبتہ بیجا تنگ نظری اور احمقانہ کم خرچی ابرو ریزی، بے عزتی اور بیماری کا موجب بنتی ہےگویا تنگ نظری اور قناعت میں فرق ہےبات امدنی اور خرچ کا تناسب ہے نہ کنجوسی کیکنجوس شخص بخل کی وجہ سے خاندان والوں اور اپنے لئے بھی خرچ نہیں کرتا اور خود کو سختی میں ڈالتا ہے
--------------
(1):- بحار،ج43،ص31
(2):-وس ائل الشيعة ، ج20، ص112
امَّا حَقُّ رَعِيَّتِكَ بِمِلْكِ النِّكَاحِ فَانْ تَعْلَمَ انَّ اللهَ جَعَلَهَا سَكَنا وَ مُسْتَرَاحا وَ انْسا وَ وَاقِيَةً وَ كَذَلِكَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا يَجِبُ انْ يَحْمَدَ اللهَ عَلَی صَاحِبِهِ وَ يَعْلَمَ انَّ ذَلِكَ نِعْمَةٌ مِنْهُ عَلَيْهِ وَ وَجَبَ انْ يُحْسِنَ صُحْبَةَ نِعْمَةِ اللهِ وَ يُكْرِمَهَا وَ يَرْفَقَ بِهَا وَ انْ كَانَ حَقُّكَ عَلَيْهَا اغْلَظَ وَ طَاعَتُكَ بِهَا الْزَمَ فِيمَا احَبَّتْ وَ كَرِهَتْ (مَا لَمْ تَكُنْ) مَعْصِيَةً فَانَّ لَهَا حَقَّ الرَّحْمَةِ وَ الْمُؤَانَسَةِ وَ مَوْضِعَ السُّكُونِ الَيْهَا قَضَاءَ اللَّذَّةِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْ قَضَائِهَا وَ ذَلِكَ عَظِيمٌ وَ لَا قُوَّةَ الَّا بِاللَّه(1)
امام سجاد (ع)نے فرمایا: وہ رعیت جو نکاح کے ذریعے تیرے اختیار میں ائی ہے جو تیری بیوی ہے، جان لو اس کا حق تجھ پر یہ ہے کہ خداتعالیٰٰ نےاسےتمہارے لئے ارام و سکون کا سبب بنایا اور غمخوار اور محافظ بنایا اور اسی وجہ سے دونوں پر ضروری قرار دیا ہے کہ ایک دوسرے کے شکر گزار بنیں اور یہ بھی جان لے کہ یہ خدا کی طرف سے تمہارے لئےایک بہت بڑی نعمت ہےاور انسان پر لازم ہے کہ وہ خدا کی دی ہوئی نعمت کی حفاظت کرے اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرےاور اس کا احترام کرے، اگرچہ مرد کا حق بیوی پر زیادہ اور مرد کی فرمانبرداری بھی واجب تر ہے، کہ بیوی شوہر کی رضایت کا ہر حالت میں خیال رکھےمگر یہ کہ جہاںشوہر اسے گناہ کی طرف مجبور کرے، وہاں اس کی اطاعت واجب نہیں ہےبلکہ وہاں اس کی مخالفت کرنی چاہئے اس لئے کہ بیوی رحم، پیار، محبت اور حق سکونت کی زیادہ حقدار ہےکہ تم ان کے وسیلے سے لذّت اٹھانے پرمجبور ہواور یہ خدا کا بہت بڑاحکم ہے
اسلامی روایات کے مطابق عورت خدا کی امانت ہے جسے مردوں کے سپرد کیا گیا ہے اس کیساتھ معمولی بے توجہی اور خطا امانت الٰہی میں خیانت شمار ہوگیلذکا خدا کی امانت اورنعمت عظمی کی حفاظت کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں تاکہ اللہ تعالیٰٰ کی بارگاہ میں مورد عذاب قرار نہ پائیں:
--------------
(1):-حقوق اسل امی، ص۱۲۹ مستدرك الوس ائل، ج11 ، ص160
وَ امَّا حَقُّ الزَّوْجَةِ فَانْ تَعْلَمَ انَّ اللهَ عَزَّ وَ جَلَّ جَعَلَهَا لَكَ سَكَنا وَ انْسا فَتَعْلَمَ انَّ ذَلِكَ نِعْمَةٌ مِنَ اللهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْكَ فَتُكْرِمَهَا وَ تَرْفُقَ بِهَا وَ انْ كَانَ حَقُّكَ عَلَيْهَا اوْجَبَ فَانَّ لَهَا عَلَيْكَ انْ تَرْحَمَهَا لِانَّهَا اسِيرُكَ وَ تُطْعِمَهَا وَ تَكْسُوَهَا وَ اذَا جَهِلَتْ عَفَوْتَ عَنْهَا(1)
رسول گرامی(ص)نے جب اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہ(س) کو علی(ع) کے گھر بھیجا تو اپنے داماد علی ابن ابیطالب (ع)کو نصیحت کی: یا علی! میری بیٹی تیرے پاس امانت ہےیہ بات تاریخ میں بھی ثابت ہےاس کے علاوہ خود علی(ع) کے بیانات سے بھی ثابت ہےجیسا کہ جب اپ فاطمہ(س)کو دفن کررہے تھے تو رسول خدا(ص)کے ہاتھوں میں اس ستم دیدہ امانت کو تحویل دیتے ہوئے فریاد کررہے تھے:
انَّا لِلهِ وَ انَّا الَيْهِ راجِعُونَ- لَقَدِ اسْتُرْجِعَتِ الْوَدِيعَةُ وَ اخِذَتِ الرَّهِينَةُ وَ اخْتُلِسَتِ الزَّهْرَاءُ فَمَا اقْبَحَ الْخَضْرَاءَ وَ الْغَبْرَاءَ يَا رَسُولَ اللهِ امَّا حُزْنِي فَسَرْمَد(2)
اے پیغمبر اعظم(ص)! فاطمہ ؛ خدا کی امانت تھی، جسے اپ نے میرے حوالے کردیا تھا واپس لوٹا رہاہوں، فاطمہ زہراء کو لے جایا گیا، یا رسول اللَّہ! یہ نیلا اسمان اور زمین میری نظر میں غبار الود اور تاریک ہوگئے!! میرا غم اور اندوہ ابدی ہوگیا! میں اج کے بعد ہمیشہ غمگین رہوں گااور یہ انکھیں کبھی نہیں سوئیں گیرسول خدا(ص)نے فرمایا: ہر عورت اپنے شوہر کے نفع اور نقصان کی برابر مالکہ تو نہیں لیکن یہ بات جان لو کہ یہ اپنے شوہروں کے پاس خدا کی امانت ہیں اس لئے مرد حق نہیں رکھتا کہ انہیں کوئی ضرر یا نقصان پہنچائے اور ان کے حقوق کو پامال کرے(3)
جب رسول خدا(ص) سے عورت کے حقوق کے بارے میں سوال کیا گیا تو اپ (ص)نے فرمایا:
--------------
(1):-منل ايحضره الفقيه ،ج 2،ص621
(2):-نهج البل اغة،خ193 ام الي المفيد،ص282، المجلس الث الث و الثل اثون
(3):-مستدرک الوس ائل،ج2،ص551
فَمَا لِلنِّسَاءِ عَلَی الرِّجَالِ قَالَ رَسُولُ اللهِ ص اخْبَرَنِي اخِي جَبْرَئِيلُ وَ لَمْ يَزَلْ يُوصِينِي بِالنِّسَاءِ حَتَّی ظَنَنْتُ انْ لَا يَحِلَّ لِزَوْجِهَا انْ يَقُولَ لَهَا افٍّ يَا مُحَمَّدُ اتَّقُوا اللهَ عَزَّ وَ جَلَّ فِي النِّسَاءِ فَانَّهُنَّ عَوَانٍ بَيْنَ ايْدِيكُمْ اخَذْتُمُوهُنَّ عَلَی امَانَاتِ اللهِ عَزَّ وَ جَلَّ(1)
میرے بھائی جبرئیل(ع) نے خدا کی طرف سے اس قدر عورتوں کے حقوق کے بارے میں سفارش کی کہ میں گمان کرنے لگا کہ ان کے لئے اف کہنا بھی جائز نہ ہواور مجھ سے کہا اے محمدﷺ! خدا سے ڈرو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش او،کیونکہ عورتیں ہمارے حکم کی تابع ہیں اور ہم نے امانت الٰہی کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہےاور ان کی جان اور ناموس پر مسلط ہو ئے ہیںان کے حق میں نیکی کے علاوہ کوئی کام نہ کروپیغمبر اسلام (ص)کا یہ فرمان خواتین عالم کے حقوق کی حمایت کا اعلان ہےاور انہیں وائے کہنے سے بھی منع کرناایسا ہے جس کی مثال اور کسی انسانی معاشرے میں نہیں پائی جاتی
اسحاق بن عمار کہتا ہے کہ میں نےامام صادق(ع) کی خدمت میں عرض کیا کہ عورتوں کاحق مردوں کے ذمہ کیا ہے؟ تو فرمایا: انہیں کھانا دو، لباس پہناؤ اور اگر کوئی جرم کی مرتکب ہوجائے تو انہیں معاف کردو(2)
کیونکہ اگر بیوی نہ ہو تو انسان کی زندگی بھی اجیرن ہو کر رہ جاتی ہے، بیوی کی محبت ہے جو شوہر کو اپنی ضروریات زندگی کے حصول کے لئے تلاش کرنے پر امادہ کرتی ہے انہی مطالب کو شاعر نے بہترین انداز میں بیان کیا ہے:
پھول کو رنگ تو سبزے کو مہک دی اس نے گوش احساس کو پائل کی کھنک دی اس نے
روشنی شمع کو تاروں کو چمک دی اس نے دامن فکر کو صندل کی مہک دی اس نے
بڑھ گئی اور بھی انسان کے چمن کی خوشبو جب سے تہذیب میں ائی ہے دولہن کی خوشبو(3)
--------------
(1):- مستدرک الوسائل،ج۱۴، ص۲۵۲
(2):- وسائل الشیعہ ج15،ص223
(3):- ڈاکٹر پیام اعظمی؛ والفجر،ص۱۲۴
حضرت ہود پیغمبر (ع) کی بیوی بہت بداخلاق تھی اور اپ کو بہت تنگ کرتی تھی پھر بھی اپؑ اس کے لئے دعائیں کرتے تھےوجہ پوچھی تو فرمایا: خدا تعالیٰٰ کسی بھی مؤمن کو خلق نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کا کوئی نہ کوئی دشمن ضرور ہوتا ہے جو اسے ہمیشہ اذیت اور ازار پہنچاتا رہتا ہے، اور میری دشمن میری اپنی بیوی ہےاور اپنا دشمن اپنے کنٹرول میں رکھنا بہتر ہے اس سے کہ میں اس کے کنٹرول اور اختیار میں گرفتارہوجاؤں(1) رسول اللہ (ص)نے فرمایا:
الَا وَ مَنْ صَبَرَ عَلَی خُلُقِ امْرَاةٍ سَيِّئَةِ الْخُلُقِ وَ احْتَسَبَ فِي ذَلِكَ الْاجْرَ اعْطَاهُ اللهُ ثَوَابَ الشَّاكِرِين(2)
یعنی جو بھی مرد اپنی بداخلاق بیوی کی بداخلاقی رضایت خدا کی خاطر برداشت کرے تو اسے خداوند شاکرین کا ثواب عنایت کرتا ہے
قال الامام الباقر: مَنِ احْتَمَلَ مِنِ امْرَاتِهِ وَ لَوْ كَلِمَةً وَاحِدَةً اعْتَقَ اللهُ رَقَبَتَهُ مِنَ النَّارِ وَ اوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ وَ كَتَبَ لَهُ مِائَتَيْ الْفِ حَسَنَةٍ وَ مَحَا عَنْهُ مِائَتَيْ الْفِ سَيِّئَةٍ وَ رَفَعَ لَهُ مِائَتَيْ الْفِ دَرَجَةٍ وَ كَتَبَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ عَلَی بَدَنِهِ عِبَادَةَ سَنَة(3)
امام باقر(ع)فرماتے ہیں کہ جو بھی اپنی بد اخلاق بیوی کی اذیت اور ازار کو برداشت کرے اور صبر کا مظاہرہ کرے تو قیامت کے دن اسے خداوند عالم جہنم کی اگ سے نجات دلائے گا اور بہشت اس پر واجب کردے گااور اس کے نامہ اعمال میں دولاکھ نیکیاں لکھ دیگا اور دولاکھ برائیوں کو مٹادے گااور دولاکھ درجے اس کےبلند کرے گا اور اس کے بدن پر موجود ہربال کے برابر ایک سا ل کی عبادت کا ثواب لکھ دے گا
--------------
(1):- سفینہ البحار، باب زوج
(2):- من لا یحضرہ الفقیہ،ج۴، ص۱۵
(3):-مك ارم ال اخل اق،في حق المر اة علی الزوج، ص 216
امام صادق(ع) نے فرمایا:حرّمت الجّنة علی الدیّوث (1)
دیّوث پر بہشت حرام ہےدیّوث اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی بیوی یا ناموس کی دوسروں کیساتھ امیزش پر راضی ہو تاکہ اس ناجائز طریقے سےدولت کمائے امام باقر (ع)نے فرمایا: کچھ اسیروں کو پیغمبر(ص) کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو اپ نے سوائے ایک کے باقی سب کو قتل کرنے کا حکم دیااس مرد نے کہا: صرف مجھے کیوں ازاد کیا؟
اپ نے فرمایا:جبرئیل امین نے مجھے خدا کی طرف سے خبر دی ہے کہ تمہارے اندر پانچ خصوصیات موجود ہیں جو خدا اور رسول کو پسند ہے: تم غیرتمند،سخاوت مند,خوش خلق،سچے اور شجاع انسان ہوجب اس شخص نے یہ فرمان سنا تو مسلمان ہوا اور اسلام کو پسندیدہ دین چن لیا اور حضور(ص) کے ساتھ ساتھ لڑتے ہوئے بدرجۂ شہادت فائز ہوا
والدین کو چاہئے کہ بچوں کے درمیان عدالت اور مساوات کے ساتھ اپنا رویہ اختیار کرے ہر ایک سے برابر محبت کا اظہار کرے ورنہ ان کے درمیان سوء ظن اور بدگمانی پیدا ہونگے،جو دوسرے کے ساتھ بغض ،کینہ ،حسد اور دشمنی کا سبب بنے گاجس طرح حضرت یوسف کے ساتھ ان کے بھائیوں نے کیاور اپنے والد گرامی پر سوء ظن کرنے اور کہنےلگے:
قالوا لَيُوسُفُ وَ اخُوهُ احَبُّ ال ی ابينا مِنّا انَّ ابانَا لَف ی ضَلالٍ مُبين (2)
" یوسف اور ان کا بھائی باپ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہیں جبکہ ہم زیادہ محنت اور زحمت اٹھاتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے والد"یعقوب نبی" گمراہ ہوگئے ہیں"کہ اپ حضرت یوسف سے ان کاکردار اور ایمان اور اطاعت کی وجہ سے زیادہ محبت کرتے تھے جس کے نتیجے میں حضرت یوسف کنویں میں ڈالے گئے
--------------
(1):-مك ارم ال اخل اق،في حق المر اة علی الزوج، ص 216
(2):-يوسف، ايه 8
امام حسین(ع)نےاپنےباباعلی(ع)سےانہوں نے رسول خدا(ص)سےروایت کی ہے کہ اپ نے فرمایا: جس شخص کو بھی اس دنیا میں چار چیزیں عطا ہوئیں سمجھ لینا کہ دنیا اور اخرت کی ساری نیکیاں اسے عطا ہو ئی ہیں:
1. تقو یٰ اور پرہیز گاری جو اسے حرا م چیز وں سے بچائے
2. اچھا اخلاق کہ اس کے ساتھ لوگوں میں پرسکون اور باعزت زندگی گزارے
3. صبر اور بردباری جسکے ذریعے لوگوں کی نادانی کو دور کرلے
4. نیک اور شائستہ بیوی جواس کے لئے دین اور دنیا دونوں میں مددگار ثابت ہو
شوہر پر بیوی کےحقوق بہت زیادہ ہیںان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:
اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں میں انسان کے ذمے کچھ حقوق واجب کردیے ہیں جنہیں اسلام کے علا وہ کسی دین یا مذہب نے نہیں بتایاگذشتہ مذاہب میں عورتوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوتا رہاگذشتہ مذاہب میں جہاں عورت کو انسان نہیں سمجھتے تھے وہاں اسلا م نے انکی عزت اور احترام کو واجب قرار دیتے ہوئے فر مایا:
يَا ايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لا يَحِلُّ لَكُمْ ان تَرِثُوا النِّسَاء كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا اتَيْتُمُوهُنَّ الا ان يَاتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَان كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَی ان تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا(1)
اے ایمان والو تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جبرا عورتوں کے وارث بن جاؤ اور خبردار انہیں منع بھی نہ کرو کہ جو کچھ ان کو دے دیا ہے اس کا کچھ حصہّ لے لو مگر یہ کہ وہ واضح طور پر بدکاری کریں اور ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرو اب اگر تم انہیں ناپسند بھی کرتے ہو تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور خدا اسی میں خیر کثیر قرار دے
--------------
(1):- سورہ نساء ۱۹
عَنْ شِهَابِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ قُلْتُ لِابِي عَبْدِ اللهِ ع مَا حَقُّ الْمَرْاةِ عَلَ ی زَوْجِهَا قَالَ يَسُدُّ جَوْعَتَهَا وَ يَسْتُرُ عَوْرَتَهَا وَ لَا يُقَبِّحُ لَهَا وَجْها فَاذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَ اللهِ ادَّ ی الَيْهَا حَقَّهَا (1)
شاسب بن عبدریہ سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق(ع) سے جب پوچھا کہ مردوں پر عورتوں کے کیا حقوق ہیں؟ تو اپؑ نے فرمایا: ان کی بھوک کو دور کرو لباس پہناؤ اور بکھرے ہوئے چہرے کیساتھ پیش نہ ائے، جب ایسا کیا تو خدا کی قسم ان کا حق ادا ہوگیایعنی روٹی کپڑا اور مکان کے علاوہ خوش روئی اور اخلاق سے پیش انا بھی عورتوں کے حقوق میں سے ہےاس سے پتہ چلتا ہے کہ محبت و مہربانی سے پیش انا بھی ان کا حق ہےورنہ اذیت وازار اور گالی گلوچ تو سب پرحرام ہےرسول اللہ(ص)نے فرمایا: المسلم من سلم الناس من لسانه و یده
یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے لوگ محفوظ رہیںاور فرمایا:
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ص اوْصَانِي جَبْرَئِيلُ ع بِالْمَرْاةِ حَتَّی ظَنَنْتُ انَّهُ لَا يَنْبَغِي طَلَاقُهَا الَّا مِنْ فَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ(2)
عورتوں کےحقوق کےبارے میں مجھے جبرائیل نے اس قدر تاکید کی کہ میں گمان کرنے لگا کہ طلاق دینا حرام ہے مگر یہ کہ وہ فاحشہ ہو
قران نے ان کی رہائش کامسئلہ بھی حل کر تے ہو ئے فرمایا:
اسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَان كُنَّ اولَاتِ حَمْلٍ فَانفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّی يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَانْ ارْضَعْنَ لَكُمْ فَاتُوهُنَّ اجُورَهُنَّ وَاتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَان تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ اخْرَی(3)
--------------
(1):-ک افی ،ج5،ص511، وس ائل الشيعة، ج21، ص513، 2- ب اب مقد ار نفقة الزوجة
(2):-الك افي،ج 5،ص 512، ب اب حق المر اة علی الزوج
(3):- سورہ طلاق ۶
اور ان مطلقات کو سکونت دو جیسی طاقت تم رکھتے ہو اور انہیں اذیت مت دو کہ اس طرح ان پر تنگی کرو اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک انفاق کرو جب تک وضع حمل نہ ہوجائےپھر اگر وہ تمہارے بچوّں کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو اور اسے اپس میں نیکی کے ساتھ طے کرو اور اگر اپس میں کشمکش ہوجائے تو دوسری عورت کو دودھ پلانے کا موقع دو
قران مجید اعراب جاہلیت کے بر خلاف کہ جو نہ صرف خواتین کو نان و نفقہ نہیں دیتے تھے بلکہ بھوک اور پیاس کے خوف سے انہیں زندہ درگور کیا کرتے تھے، حکم دیتا ہے کہ عورت کو نان و نفقہ دیا کرو:
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَی بَعْضٍ وَبِمَا انفَقُوا مِنْ امْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللهُ وَاللاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَانْ اطَعْنَكُمْ فَلا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلا انَّ اللهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا(1)
مرد عورتوں کے حاکم اور نگران ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خدا نے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انھوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے اور جن عورتوں کی نافرمانی کا خطرہ ہے انہیں نصیحت کرو، انہیں خواب گاہ میں الگ کرو اور مارو اور پھر اطاعت کرنے لگیں تو کوئی زیادتی کی راہ تلاش نہ کرو کہ خدا بہت بلندتر اور بزرگ ہے
وَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ص مَا مِنْ عَبْدٍ يَكْسِبُ ثُمَّ يُنْفِقُ عَلَی عِيَالِهِ الَّا اعْطَاهُ اللهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ يُنْفِقُهُ عَلَی عِيَالِهِ سَبْعُمِائَةِ ضِعْف(2)
--------------
(1):- نساء ۳۴
(2):-مك ارم ال اخل اق، في حق المر اة علی الزوج،ص 216
رسول اللہﷺ نے فرمایا: نہیں ہے کوئی مشقت برداشت کرکے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے والا مگر یہ کہ خدا وندمتعال ایک ایک درہم یا روپے کے بدلے میں اسے سات سوگنا زیادہ عطا کرتا ہے
قران مجید حکم دیتا ہے:وَ اتُوا النِّساءَ صَدُقاتِهِنَّ نِحْلَةً فَانْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسا فَكُلُوهُ هَنيئا مَريئا (1) عورتوں کو ان کا مہر عطا کردو پھر اگر وہ خوشی خوشی تمہیں دینا چاہیں تو شوق سے کھالو
ابَانِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ قُلْتُ لِابِي عَبْدِ اللهِ ع فِي رَجُلٍ يَتَزَوَّجُ امْرَاةً وَ لَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقا قَالَ لَا شَيْءَ لَهَا مِنَ الصَّدَاقِ فَانْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا مَهْرُ نِسَائِهَا(2)
راوی نے امام صادق (ع)سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو ایک عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے لیکن اس کے لئے کوئی مہر معین نہیں کرتا،تو فرمایا: اس کے لئے کوئی مہر دینا واجب نہیں ہے ہاں اگر دخول کیا ہے تو مہرمثل دینا واجب ہے
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ قُلْتُ لِابِي عَبْدِ اللهِ ع لِايِّ عِلَّةٍ صَارَ الْمِيرَاثُ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْانْثَيَيْنِ قَالَ لِمَا يُجْعَلُ لَهَا مِنَ الصَّدَاقِ(3)
امام ششم سے سوال کیا گیا:کیوں مرد کو ارث عورتوں کی نسبت زیادہ ملتا ہے ؟ تو امام نے فرمایا: کیونکہ مردوں پر عورت کے لئے مہر واجب قرار دیا ہے
--------------
(1):- نساء ۴
(2):-وس ائل الشيعة ، ج 21، ص 269
(3):-تهذيب ال احك ام،ج9، ص 398
سَالْتُ ابَا عَبْدِ اللهِ ع عَنِ الصَّدَاقِ هَلْ لَهُ وَقْتٌ قَالَ لَا ثُمَّ قَالَ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ ص اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اوقِيَّةً وَ نَشّا وَ النَّشُّ نِصْفُ الْاوقِيَّةِ وَ الْاوقِيَّةُ ارْبَعُونَ دِرْهَما فَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ (1) ا م ا م ص ا دق(ع) سے م ہ ر کے ب ا رے میں سو ا ل کی ا ا س کے ا د ا کرنے ک ا وقت معین ہے؟فرم ا ی ا : نہیں پھر فرم ا ی ا : رسول پ ا ک (ص) کی زوجہ ک ا م ہ ر ب ا رہ ا وقیہ(تیل وزن کرنے ک ا ا یک پیم ا نہ) ا ور ا یک نش ہے ا ور ا یک نش( ہ ر چیز ک ا ا دھ ا حصہ) ا یک ا وقیہ ک ا نصف ہے ا ور ا یک ا وقیہ چ ا لیس درہم ہے، کل پ ا نچ سو درہم بنت ا ہے
انَّ الصَّادِقَ ع قَالَ انَّمَا صَارَ الصَّدَاقُ عَلَی الرَّجُلِ دُونَ الْمَرْاةِ وَ انْ كَانَ فِعْلُهُمَا وَاحِدا فَانَّ الرَّجُلَ اذَا قَضَی حَاجَتَهُ مِنْهَا قَامَ عَنْهَا وَلَمْ يَنْتَظِرْ فَرَاغَهَا فَصَارَالصَّدَاقُ عَلَيْهِ دُونَهَا لِذَلِكَ (2) ا م ا م ص ا دق(ع)نے فرم ا ی ا : م ہ ر مرد کے ا وپر و ا جب کی ا گی ا جبکہ می ا ں ا ور بیوی دونوں ک ا ک ا م بھی ا یک ا ور لذت بھی دونوں ا ٹھ ا تے ہیں؛ ا س کی وجہ یہ ہے کہ شوہر ا پنی خو ا ہش پوری کرنے کے بعد ب ا لکل ف ا رغ ہوج ا ت ا ہے لیکن عورت بچےّ کی ذمہ د ا ری میں مصروف ہوج ا تی ہے ا س لئے مرد پرمہر و ا جب کی ا ہے
فَقَالَ ابُو جَعْفَرٍ الجواد : الْحَمْدُ لِلّهِ اقْرَارا بِنِعْمَتِهِ وَ لَا الَهَ الَّا اللهُ اخْلَاصا لِوَحْدَانِيَّتِهِ وَ صَلَّی اللهُ عَلَی مُحَمَّدٍ سَيِّدِ بَرِيَّتِهِ وَ الْاصْفِيَاءِ مِنْ عِتْرَتِهِ امَّا بَعْدُ فَقَدْ كَانَ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَی الْانَامِ انْ اغْنَاهُمْ بِالْحَلَالِ عَنِ الْحَرَامِ وَ قَالَ سُبْحَانَهُ وَ انْكِحُوا الْايامی مِنْكُمْ وَ الصَّالِحِينَ مِنْ عِبادِكُمْ وَ امائِكُمْ انْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ اللهُ واسِعٌ عَلِيمٌ ثُمَّ انَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ مُوسَی يَخْطُبُ امَّ الْفَضْلِ بِنْتَ عَبْدِ اللهِ الْمَامُونِ وَ قَدْ بَذَلَ لَهَا مِنَ الصَّدَاقِ مَهْرَ جَدَّتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ع وَ هُوَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ جِيَادا(3)
--------------
(1):- بحارالانوار،ج 22 ، ص 205
(2):- بحارالانوار ، ج 100 ص 350
(3):- بحارالانوار، ج 50، ص 76
پورا خطبے کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ تمام مطالب دوسری روایات میں بیان ہوچکے ہیںامام جواد (ع)نےعبد اللہ مامون کی بیٹی ام الفضل کے ساتھ نکاح کیا اور اس کے لئے وہی مہر معین کیا جو رسول خدا ﷺ کی بیٹی فاطمہ زہرا (س)کیلئے معین کیاگیا تھا ؛ یعنی پانچ سو درہم
قَالَ عَلِيٌّ ع فِي قَوْلِهِ تَعَالَی وَ اتُوا النِّساءَ صَدُقاتِهِنَّ نِحْلَةً اعْطُوهُنَّ الصَّدَاقَ الَّذِي اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ فُرُوجَهُنَّ فَمَنْ ظَلَمَ الْمَرْاةَ صَدَاقَهَا الَّذِي اسْتَحَلَّ بِهِ فَرْجَهَا فَقَدِ اسْتَبَاحَ فَرْجَهَا زِنًا(1)
امیر المؤمنین(ع) نے اس ایہء شریفہ کے ذیل میں فرمایا: عورتوں کو ان کا مہر دیا کرو، کیونکہ اس مہر کے ذریعے تمہارے لئے لذت حاصل کرنے کی اجازت ملی ہے اور جس نے بھی عورتوں پر ظلم کرکے ان کا مہر ادا نہیں کیا کہ جس کی وجہ سے ان کی شرم گاہیں اس کے لئے حلال ہوگئی تھیں ؛ اگر ان کے ساتھ ہمبستری کرے تو وہ زنا شمار ہوگا
--------------
(1):- بحارالانوار، ج 100 ، ص352
تیسری فصل
خاندان میں اخلاق کا کردار
یہ دین مقدّس اسلام کی خصوصیات میں سے ہے کہ خاندانی نظام پر زیادہ توجّہ دی جاتی ہےاج باپ بیٹے کے درمیان اور میاں بیوی کے درمیان اچھے تعلقات پیدا کرنے کے لئے شادی اور خاندان کا تشکیل دیناکس قدر اہم ہے،اس کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہےاور جس خاندان میں بھی اچھے روابط اور تعلقات ہوں وہ خاندان ہی پائیدار اور مستحکم نظر اتا ہے، اور خاندان ہر شخص کی کامیابی اور سعادت کے لئے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے یہاں سے ہی انسان کی کامیابی اور اندرونی استعدادوں کا پھلنا پھولنا شروع ہوجاتا ہےاگر میاں بیوی کے درمیان محبت اور دوستی پائی جائے تو وہ معاشرے کے لئے مفید اور لائق فرزند دے سکتے ہیں بلکہ سب سے زیادہ ماں باپ اس فرزند صالح اور با استعداد سے بہرہ مند ہوتے ہیں
گھریلو کاموں میں مدد کرنے کا ثواب
اگر میاں بیوی گھریلو معاملات میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں تو اپس میں مہربانی اور احسان کا جذبہ پیدا ہوگا اور خدا تعالیٰٰ نے بھی ایسا کرنے والوں پر احسان کرتے ہوئے اتنا ثواب لکھ دیا ہے کہ جسے سن کر انسان کو اپنی عاقبت بخیری کی امید پیدا ہوجاتی ہے جیسا کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا:عَنْ عَلِيٍّ ع قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ص وَ فَاطِمَةُ جَالِسَةٌ عِنْدَ الْقِدْرِ وَ انَا انَقِّي الْعَدَسَ قَالَ يَا ابَا الْحَسَنِ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ اسْمَعْ مِنِّي وَ مَا اقُولُ الَّا مِنْ امْرِ رَبِّي مَا مِنْ رَجُلٍ يُعِينُ امْرَاتَهُ فِي بَيْتِهَا الَّا كَانَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ عَلَ ی بَدَنِهِ عِبَادَةُ سَنَةٍ صِيَامٍ نَهَارُهَا وَ قِيَامٍ لَيْلُهَا وَ اعْطَاهُ اللهُ مِنَ الثَّوَابِ مِثْلَ مَا اعْطَاهُ الصَّابِرِينَ دَاوُدَ النَّبِيِّ وَ يَعْقُوبَ وَ عِيسَ ی
چنانچہ جامع الاخبار سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جو امیرالمؤمنین (ع)سے مروی ہے کہ ایک دن میں گھر میں فاطمہ زہرا(س) کے ساتھ بیٹھ کر عدس (دال)صاف کررہا تھا، اتنے میں رسول خدا ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: اے ابالحسن، میں نے جواب دیا:
لبیک یا رسول اللہﷺ! تو اپ نے فرمایا: اے علی مجھ سے وہ باتیں سن لو، میں خدا کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرتا: جو شخص اپنی بیوی کا اس کے گھر میں ہاتھ بٹائے اور مدد کرے تو خدا تعالیٰٰ اسے بدن پر موجود ہر بال کے بدلے میں ایک سال کی عبادت جو دن کو روزہ اور رات کو نماز میں مشغول رہنے اور اسے صابرین جیسے حضرت داود، یعقوب، اور عیسیٰ(ع) کا ثواب عطا کرے گا
يَا عَلِيُّ مَنْ كَانَ فِي خِدْمَةِ الْعِيَالِ فِي الْبَيْتِ وَ لَمْ يَانَفْ كَتَبَ اللهُ اسْمَهُ فِي دِيوَانِ الشُّهَدَاءِ وَ كَتَبَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ ثَوَابَ الْفِ شَهِيدٍ وَ كَتَبَ لَهُ بِكُلِّ قَدَمٍ ثَوَابَ حِجَّةٍ وَ عُمْرَةٍ وَ اعْطَاهُ اللهُ بِكُلِّ عِرْقٍ فِي جَسَدِهِ مَدِينَةً فِي الْجَنَّةِ
یا علی !جو گھر میں اپنے عیال کی خدمت کرتے ہوئے کراہت محسوس نہیں کرتا خدااس کا نام شہدا ئے اسلام کے دفتر میں لکھ دیگا اور اسے ہر دن اور ہر رات ہزار شہید کا ثواب دیا جائے گا،اور ہر قدم پر ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب بھی لکھ دیا جائے گا، اور جسم پر موجود ہر ہر جوڑ کے بدلے میں ایک ایک شہر جنت میں عطا کرے گا
يَا عَلِيُّ سَاعَةٌ فِي خِدْمَةِ الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ الْفِ سَنَةٍ وَ الْفِ حِجَّةٍ وَ الْفِ عُمْرَةٍ وَ خَيْرٌ مِنْ عِتْقِ الْفِ رَقَبَةٍ وَ الْفِ غَزْوَةٍ وَ الْفِ مَرِيضٍ عَادَهُ وَ الْفِ جُمُعَةٍ وَ الْفِ جَنَازَةٍ وَ الْفِ جَائِعٍ يُشْبِعُهُمْ وَ الْفِ عَارٍ يَكْسُوهُمْ وَ الْفِ فَرَسٍ يُوَجِّهُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ الْفِ دِينَارٍ يَتَصَدَّقُ بِهَا عَلَی الْمَسَاكِينِ وَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ انْ يَقْرَا التَّوْرَاةَ وَ الْانْجِيلَ وَ الزَّبُورَ وَ الْفُرْقَانَ وَ مِنْ الْفِ اسِيرٍ اسَرَ فَاعْتَقَهُمْ وَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ الْفِ بَدَنَةٍ يُعْطِي لِلْمَسَاكِينِ وَ لَا يَخْرُجُ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّی يَرَی مَكَانَهُ مِنَ الْجَنَّةِ
اے علی! ایک گھنٹہ گھر میں خدمت کرنا ہزار سال عبادت، ہزار حج،ہزار عمرہ اور ہزار غلام کو ازاد اور ہزار بیماروں کی عیادت،ہزار جنازے میں شرکت، ہزار بھوکے افراد کو سیر،ہزار ننگے لوگوں کو لباس پہنانے ، ہزار گھوڑے راہ خدا میں جہاد کرنے کے لئے دینے، ہزار درہم سونا راہ خدا میں غریبوں کو صدقہ دینے، قران و انجیل اور تورات کی تلاوت کرنے ، ہزار اسیروں کو
ازاد کرنے، ہزار بھیڑ بکریان مساکین پر خرچ کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور اس شخص کو اس وقت تک موت نہیں ائے گی جب تک وہ اس دنیامیں ہی جنت میں اپنا مقام نہ دیکھ لے
يَا عَلِيُّ مَنْ لَمْ يَانَفْ مِنْ خِدْمَةِ الْعِيَالِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لِلْكَبَائِرِ وَ يُطْفِي غَضَبَ الرَّبِّ وَ مُهُورُ الْحُورِ الْعِينِ وَ تَزِيدُ فِي الْحَسَنَاتِ وَ الدَّرَجَاتِ يَا عَلِيُّ لَا يَخْدُمُ الْعِيَالَ الَّا صِدِّيقٌ اوْ شَهِيدٌ اوْ رَجُلٌ يُرِيدُ اللهُ بِهِ خَيْرَ الدُّنْيَا وَ الْاخِرَةِ(1)
یا علی! جو بھی اپنے عیال کی خدمت کرتے ہوئے شرم محسوس نہ کرے تو یہ اس کی گناہوں کے لئے کفارہ ہے ، اور خدا کے غیظ وغضب کو ٹال دیتا ہے، اور یہ جنت کی حوروں کا مہر ہےدرجات اور حسنات میں اضافہ کرتا ہے، یا علی ! اہل وعیال کی خدمت کوئی نہیں کرتا، سوائے سچے، شہید یا وہ شخص جس کے لئے خدا نے دنیا اور اخرت دونوں میں خیر کا ارادہ کیا ہو
جس طرح شوہر کو اپنی بیوی کا ہاتھ بٹانے کا اتنا ثواب ہے اسی طرح بیوی کو بھی اپنے شوہر کی خدمت کے متعلق بڑا ثواب ذکر ہو ا ہے اس بارے میں امام کا فرمان ہے:
قَالَ ع الِامْرَاةُ الصَّالِحَةُ خَيْرٌ مِنْ الْفِ رَجُلٍ غَيْرِ صَالِحٍ وَ ايُّمَا امْرَاةٍ خَدَمَتْ زَوْجَهَا سَبْعَةَ ايَّامٍ اغْلَقَ اللهُ عَنْهَا سَبْعَةَ ابْوَابِ النَّارِ وَ فَتَحَ لَهَا ثَمَانِيَةَ ابْوَابِ الْجَنَّةِ تَدْخُلُ مِنْ ايِّهَا شَاءَتْ(2)
امام (ع)نے فرمایا ایک اچھی عورت ہزار برے لوگوں سے بہتر ہےجب کوئی عورت اپنے شوہر کی سات دن خدمت کرے تو خدا تعالیٰٰ جہنّم کے سات دروازے اس پر بند کردیتا ہے اور بہشت کے سارے دروازے کھول دیتا ہے کہ جس دروازے سے چاہے داخل ہوسکتی ہےمزید فرمایا:
--------------
(1):-بح ار ال انو ار ،ج101 ، ص132، ب اب فضل خدمة العي ال
(2):- وسائل الشیعہ ،ج۲۰، ص۱۷۲
یہ خدمت بہترین عبادت ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح و صفائی،گھریلو مشکلات پر صبر و تحمّل اور خاندان کی بھلائی،میاں بیوی کے درمیان پیار و محبت اور اولاد کی صحیح تربیت جیسی ذمہ داری کا نبھانا بہت مشکل کام ہےخواتین جو اپنے سر لیتی ہیں تو خدا تعالیٰٰ نے بھی انہیں کتنا عظیم اجر دیا کہ بہشت میں جوار فاطمہ زہرا(س) کو ان کے نصیب میں لکھ دیااور جہنم کو ان پر حرام قرار دیا
امام صادق(ع)سے روایت ہے کہ رسول خدا(ص)نے فرمایا:
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع انَّ رَسُولَ اللهِ ص قَالَ ايُّمَا امْرَاةٍ رَفَعَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا شَيْئا مِنْ مَوْضِعٍ الَی مَوْضِعٍ تُرِيدُ بِهِ صَلَاحا نَظَرَ اللهُ الَيْهَا وَ مَنْ نَظَرَ اللهُ الَيْهِ لَمْ يُعَذِّبْهُ فَقَالَت(1)
جب بھی عورت اپنے شوہر کے گھر میں ایک چیز کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دے تاکہ گھرمیں نظم و ضبط اور سلیقہ پیدا ہو, تو خداتعالیٰ اسے نظر رحمت سے دیکھتا ہے اور جس پر نظر رحمت پڑے اس پر کوئی عذاب نہیں ہوگا(2)
وَ قَالَ ع: مَا مِنِ امْرَاةٍ تَسْقِي زَوْجَهَا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ الَّا كَانَ خَيْرا لَهَا مِنْ عِبَادَةِ سَنَةٍ صِيَامِ نَهَارِهَا وَ قِيَامِ لَيْلِهَا وَ يَبْنِي اللهُ لَهَا بِكُلِّ شَرْبَةٍ تَسْقِي زَوْجَهَا مَدِينَةً فِي الْجَنَّةِ وَ غَفَرَ لَهَا سِتِّينَ خَطِيئَةً(3)
امام صادق(ع) نے فرمایا: جو بھی عورت اپنے شوہر کو ایک گلاس پانی پلائے تو اس کا ثواب ایک سال کی عبادت (دن کو روزہ اور رات بھرنماز میں گزاری ہو)سے زیادہ ہےاس کے علاوہ خدا تعالیٰ اسے بہشت میں ایک شہر عطا کریگا اور ساٹھ گناہوں کو معاف کریگا
--------------
(1):- وس ائل الشيعة، ج 21 ، ص 451 ب اب خدمة المر اة زوجه ا
(2):- الگوہای تربیت کودکان،ص67
(3):- وسائل الشیعہ ،ج ۲۰، ص1۷۲
رسول خدا(ص) نے فرمایا:طوبی لامراةٍ رضی عنها زوجها (1) یعنی اس عورت کے لئے مبارک ہو جس پر اس کا شوہر راضی ہوکیونکہ شوہر کی رضایت اس کی عظمت اور مرتبہ میں مزید اضافہ کرتی ہے
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ اذَا صَلَّتِ الْمَرْاةُ خَمْسَهَا وَ صَامَتْ شَهْرَهَا وَ حَجَّتْ بَيْتَ رَبِّهَا وَ اطَاعَتْ زَوْجَهَا وَ عَرَفَتْ حَقَّ عَلِيٍّ فَلْتَدْخُلْ مِنْ ايِّ ابْوَابِ الْجِنَانِ شَاءَتْ(2)
امام صادق(ع) کا فرمان ہے: ہر وہ عورت جو ہمیشہ یومیہ نمازیں پڑھتی ہو اور رمضان کا روزہ رکھتی ہو اورعلیؑ کی ولایت پر ایمان رکھتی ہواور انہیں خلیفہء رسول (ص)جانتی ہواور اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرتی ہو، بہشت کے جس دروازے سے داخل ہونا چاہے داخل ہو سکتی ہے"
یہ حدیث بڑی تاکید کیساتھ عورت کو خاندانی مسائل، بچوّں کی تربیت اور شوہر کے حقوق کا پاس رکھنے کی ترغیب دلاتی ہےاور اطاعت گزار بیوی کے لئے بہترین ثواب کا وعدہ کرتی ہے اور جو عورت اپنے شوہر کی ناراضگی کا سبب بنے اور خاندانی ذمہ داریاں ادا کرنے میں سستی کرے اس کے لئے عذاب جہنم ہےلہذا بہترین بیوی وہی ہے جو شوہر کی مطیع ہو،بچوّں کی صحیح تربیت کرتی ہو اور خاندان میں خوشی کا باعث بنتی ہو
قَالَ ع: ثَلَاثٌ مِنَ النِّسَاءِ يَرْفَعُ اللهُ عَنْهُنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ وَ يَكُونُ مَحْشَرُهُنَّ مَعَ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ص امْرَاةٌ صَبَرَتْ عَلَی غَيْرَ زَوْجِهَا وَ امْرَاةٌ صَبَرَتْ عَلَی سُوءِ خُلُقِ زَوْجِهَا وَ امْرَاةٌ وَهَبَتْ صَدَاقَهَا لِزَوْجِهَا يُعْطِي اللهُ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ ثَوَابَ الْفِ شَهِيدٍ وَ يَكْتُبُ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عِبَادَةَ سَنَةٍ(3)
--------------
(1):- بحار ،ج 103،ص246
(2):- وسائل ،ج۲۰، ص۱۵۹
(3):- وسائل الشیعہ ،ج۲۱، ص۲۸۵
امام صادق(ع) نے فرمایا: عورتوں کے تین گروہ کو عالم برزخ میں فشار اور عذاب قبر نہیں ہوگااور قیامت کے دن حضرت فاطمہ(س) کیساتھ محشور ہونگی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ہزار شہید اور ایک سال کی عبادت کا ثواب عنایت کریگا:
< وہ عورت جس کا ایمان اس قدر قوی ہو کہ شوہر کی دوسری شادی سے اسے کوئی دکھ یا تکلیف نہ پہنچے اور شوہر کیساتھ پیار و محبت میں کمی نہ ائے
< وہ عورت جو اپنے بداخلاق شوہر کی بداخلاقی پر صبر کرے اور اپنے وظیفہ پر عمل کرنے میں کوتاہی نہ کرے
< وہ عورت جو اپنا مہریہ اپنے شوہر کو بخش دے
اس حدیث میں عورتوں کے صبر و تحملّ اور بردباری کو بہت سراہا گیا ہےفاطمہ زہرا(س) کی ہم نشینی کے علاوہ عذاب قبر سے بھی رہائی ملی اور مجاہدین فی سبیل اللہ کا ثواب بھی انہیں عطا ہواان خدمت گزار خواتین کا اجر و ثواب کو مختلف صورتوں میں بیان کیا گیا ہے
امام باقر (ع)نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
لَا شَفِيعَ لِلْمَرْاةِ انْجَحُ عِنْدَ رَبِّهَا مِنْ رِضَا زَوْجِهَا الْحَدِيثَ(1)
عورت کے لئے شوہر کی رضایت سے بڑھ کر کوئی شفاعت نہیںپس وہ خواتین خوش قسمت ہیں جو اسلامی اصولوں کے مطابق اپنے شوہرسے عشق و محبت کرتی ہیں اور ان کی رضایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں
عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ الْبَاقِرَ ع يَقُولُ لَمَّا مَاتَتْ فَاطِمَةُ ع قَامَ عَلَيْهَا امِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع وَ قَالَ اللهُمَّ انِّي رَاضٍ عَنِ ابْنَةِ نَبِيِّكَ اللهُمَّ انَّهَا قَدْ اوحِشَتْ فَانِسْهَا اللهُمَّ انَّهَا قَدْ هُجِرَتْ فَصِلْهَا اللهُمَّ انَّهَا قَدْ ظُلِمَتْ فَاحْكُمْ لَهَا وَ انْتَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ(2)
--------------
(1):- وسائل الشیعہ ، ج۲۰، ص۲۲۲
(2):-بح ار ال انو ار،ج103، ص256 مستدرك الوس ائل ،ج 2 ،ص 341
جابر بن جعفی سے روایت ہے کہ میں نے امام باقرؑ سے سناہے کہ اپ نے فرمایا:امیرالمؤمنین(ع) نے فاطمہ زہراء(س) کی شہادت کے بعد جنازے کیساتھ کھڑے ہوکر فرمایا:
یا اللہ: یہ تیرے نبی کی بیٹی فاطمہ(س) ہیں میں ان پر اپنی رضایت کا اعلان کرتا ہوں اے میرے اللہ تو اسے وحشت قبرکے عذاب سے محفوظ فرمااے اللہ! ان پر لوگوں نے ظلم کئے ہیں تو خود فاطمہ(س) اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کر
ان تمام مطالب سے جو درس ملتا ہے وہ یہ ہے کی خواتین کے لئے شوہر کی رضایت اور شفاعت بلندی درجات کا باعث ہےجہاں فاطمہ(س) خود شفیعہ محشر ہونے کے باوجود اپنے شوہر کی رضایت طلب کررہی ہںج تو وہاں ہماری ماں بہنوں کو بھی چاہئیے کہ اپنے اپنے شوہر کی رضایت کو ملحوظ نظر رکھیں تاکہ عاقبت بخیر ہو
اسلامی معاشرے میں خواتین کو بڑا مقام حاصل ہے،جن کی روایتوں میں بہت ہی توصیف کی گئی ہے اور ثواب میں بھی مردوں کے برابر کے شریک ہیں:
فَقَالَتْ امُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللهِ ص ذَهَبَ الرِّجَالُ بِكُلِّ خَيْرٍ فَايُّ شَيْءٍ لِلنِّسَاءِ الْمَسَاكِينِ فَقَالَ ع بَلَی اذَا حَمَلَتِ الْمَرْاةُ كَانَتْ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْمُجَاهِدِ بِنَفْسِهِ وَ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ فَاذَا وَضَعَتْ كَانَ لَهَا مِنَ الْاجْرِ مَا لَا يَدْرِي احَدٌ مَا هُوَ لِعِظَمِهِ فَاذَا ارْضَعَتْ كَانَ لَهَا بِكُلِّ مَصَّةٍ كَعِدْلِ عِتْقِ مُحَرَّرٍ مِنْ وُلْدِ اسْمَاعِيلَ فَاذَا فَرَغَتْ مِنْ رَضَاعِهِ ضَرَبَ مَلَكٌ كَرِيمٌ عَلَی جَنْبِهَا وَ قَالَ اسْتَانِفِي الْعَمَلَ فَقَدْ غُفِرَ لَكِ(1)
ام المؤمنین حضرت امّ سلمہ(س) نے ایک دن رسول خدا(ص)سے عرض کیا: یا رسول اللہ(ص)! مرد حضرات تمام نیکیاں بجا لاتے ہیں اور سارا ثواب کماتے ہیں لیکن ہم بیچاری عورتوں کے لئے بھی کوئی ثواب ہے؟ تو فرمایا:ہاں جب عورت حاملہ ہوجاتی ہے تو اس کے لئے دن کو روزہ رکھنے اور رات کو عبادتوں میں گزارنے کا ثواب اور اپنی جان و مال کیساتھ راہ خدا میں جہاد کرنے والے مجاھد کا
--------------
(1):- وسائل الشیعہ ،ج۲۱، ص۴۵۱
ثواب دیا جائے گااور جب بچّہ جنم دیگی تو اسے اتنا ثواب عطا کریگا کہ کوئی بھی شمار کرنے والا شمار نہیں کرسکتااور جب اپنے بچےّ کو دودھ پلانے لگے گی تو بچےّ کے ایک ایک گھونٹ لینے کے بدلے اولاد بنی اسرائیل میں سے ایک غلام،خدا کی راہ میں ازاد کرنے کا ثواب عطا کرے گااور جب دو سال پورے ہوجائیں اور دودھ پلاناچھوڑدے تو ایک فرشتہ اتا ہے اور اس عورت کے شانوںپر افرین کہتے ہوئے تھپیس مارتا ہے اور خوش خبری دیتا ہے کہ اے کنیز خدا:تیرے سارے گناہ معاف ہوچکے اب اچھے اور شائستہ عمل اور کردار کے ساتھ تو نئی زندگی شروع کر
دیندار خواتین چاہتی ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو اسلامی قوانین کے مطابق ادا کریں اور چونکہ حضرت زہرا(س) ان کے لئے ایک بہترین نمونہ عمل ہیں، اس لئے اپ کی سیرت اور کردار کو ان کے لئے بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ لَوْ لَا انَّ اللهَ خَلَقَ امِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ع لَمْ يَكُنْ لِفَاطِمَةَ ع كُفْوٌ عَلَی ظَهْرِ الْارْضِ ادَمُ فَمَنْ دُونَهُ(1) ا م ا م جعفر ص ا دق نے فرم ا ی ا : میری نظر میں ف ا طمہ (س) ک ا مرتبہ ا س قدر بلند و ب ا ل ا ہے کہ ا گر علی (ع) نہ ہوتے تو ا س روئے زمین پرحضرت ا دم (ع) کے زم ا نے سے قی ا مت تک ف ا طمہ (س) کے ق ا بل کوئی ہمسر نہ ملت ا
لولا علیّ لم یکن لفاطمة کفو(2)
ان تمام عظمتوں کے باوجود فاطمہ (س)گھر کا سارا کام خود کرتی تھیںجیسا کہ امام صادق (ع)فرماتے ہیں:میرے جدّ گرامی علی(ع) نے رسول خدا(ص)کے فرمان کے مطابق گھریلو کام کو فاطمہ کیساتھ تقسیم کیا کہ اپ باہر کا کام کریں گے اور فاطمہ(س) چاردیواری کے اندر کام کریں گی:
--------------
(1):- تہذیب الاحکام،ج۷، ص۴۷۰
(2): اثارالصادقین،ج16،ص419
كَانَ عَلِيٌّ ع يَسْتَقِي وَ يَحْتَطِبُ وَ كَانَتْ فَاطِمَةُ ع تَطْحَنُ وَ تَعْجِنُ وَ تَخْبِزُ وَ تَرْقَع
یعنی امیر المؤمنین (ع)پانی اور لکڑی کا بندوبست کرتے تھے اور میری جدّہ گرامی اٹا پیستی،خمیر بناتی، روٹی پکاتی اور کپڑے دھوتی تھیں(1)
ایک دن جب رسول گرامی اسلام(ص) فاطمہ(س)کے گھر اپ کے دیدار کے لئے تشریف لائے،فاطمہ(س) کو دیکھ کر اپ کی انکھیں پرنم ہوگئیں کہ فاطمہ(س)اونی لباس میں ملبوس علی (ع)کے گھر میں چکّی بھی پیس رہی ہیں اور ساتھ ہی امام حسین (ع)کو دودھ بھی پلارہی ہیںجب اتنی مشقت کی حالت میں دیکھا تو اشکبار انکھوں کے ساتھ فرمایا: میری جان فاطمہ(س)! دنیا میں ایسی سختیاں جھیل لیں تاکہ قیامت کے دن اجر وثواب کے زیادہ مستحق ہوجاؤاور اس راہ میں صبر و تحمّل کو ہاتھ سے جانے نہ دوفاطمہ(س) نے عرض کیا بابا جان! میں خدا کا ہر حال میں شکر ادا کرتی ہوں اور کسی وقت بھی خدا کی ذات کو فراموش نہیں کرونگیاس وقت وحی نازل ہوئی: ولسوف یعطیک ربّک فترضی (2) یعنی اے رسول! کیااپنی بیٹی کو اتنی سختیوں میں دیکھ کر زیادہ غمگین ہوگئے اوراپ کی انکھوں میں انسو اگئے؟ ہم انہیں اس کا بدلہ ضرور دینگےاور شفاعت کا پرچم اپ اور اپ کی بیٹی فاطمہ (س)کو عطا کریں گے اور ان کی عظمت اور مرتبہ کو اتنا بلند کرینگے کہ اپ راضی ہوجائیں گےشیبہ نے اس واقعے کو کچھ اضافات کیساتھ حضرت سلمانؓ سے یوں نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب میں علی (ع) کے دولت سرا میں داخل ہواتو فاطمہ(س) کو دیکھا کہ چکّی پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے ہیںمیں نے کہا:اے بنت رسول! کیوں فضّہ سے مدد نہیں لیتیں؟ تو فرمایا: ایک دن فضّہ کام کرتی ہے اور ایک دن میںاور اج میری باری ہے اور ان کی استراحت کا دن ہےیہ واقعہ میں نے علی (ع)کو سنایاتو بہت روئے اور فاطمہ (س)کی خدمت میں تشریف لے گئےپھر کچھ لمحہ کے بعد مسکراتے ہوئے باہر ائےپیغمبر اسلام(ص) نے خوشی کی
--------------
(1):- سفینة،ج2،ص195، الکافی ج۸،ص ۱۶۵
(2):- سورہ ضحی ۵
وجہ پوچھی تو علی (ع)نے فرمایا: جب میں گھر میں گیا تو دیکھا کہ فاطمہ سورہی ہیں اور حسین(ع) ان کے سینہ پر سورہے ہیں اور چکّی خود بخود چل رہی ہےپیغمبر (ص)نے مسکرا کے کہا: اے علی!فرشتے محمد وال محمد (ص)سے محبت رکھتے ہیں جو چکّی چلارہے ہیں(1)
فاطمہ علی(ع) کے گھر میں بہت کام کرتی تھیں بچوّں کی پرورش کرتی مشکلات کو برداشت کرتی بیشتر اوقات بھوکی رہتی لیکن کبھی بھی علی (ع)سے شکایت نہیں کیایک دن امام حسن و حسین(ع) اپنے نانا سے کہنے لگے نانا جان ہم بھوکے ہیں ائیں اور ماں زہرا (س)سے کہیں کہ ہمیں کھانا دیں :
قَالَ رَسُولُ اللهِ ص مَا لِي ارَ ی وَجْهَكِ اصْفَرَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ الْجُوعُ فَقَالَ ص اللهُمَّ مُشْبِعَ الْجَوْعَةِ وَ دَافِعَ الضَّيْعَةِ اشْبِعْ فَاطِمَةَ بِنْتَ! (2)
پیغمبر اسلام(ص)نے جب اپنی بیٹی کو دیکھا توفرمایا: کیوں چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا ہے؟ عرض کیا: اے رسول خدا(ص) بھوک کی وجہ سےاس وقت اپ(ص)نے فاطمہ(س) کے حق میں دعا کی،خدایا ان کی بھوک اور پیاس کو رفع فرما
عزیزو!یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ علی(ع) کی امدنی اتنی کم نہ تھی کہ گھر میں اتنی پریشانی اٹھانی پڑتی تھی، بلکہ یہ لوگ ہمیشہ مال دولت کو راہ خدا میں ایثارکرتے تھےچنانچہ مولا نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:
میں چاہتا ہوں کہ میں غریب ترین شخص کی طرح زندگی گزاروں
جہاں فاطمہ(س) اپنا سارا مال راہ خدا میں دیتی ہیں وہاں اپنا حق دوسروں سے لینے میں بھی کوتاہی نہیں کرتیںجب بعض اصحاب رسول نے فدک غصب کیا تو اپؑ نے خطبہ دیا، جس میں دنیا کی تمام خواتیں کے لئے اپنے حقوق کا دفاع اور حفاظت کرنے کا
--------------
(1):- جلاء العیون،ج1 ،ص137
(2):- الکافی ،ج۵، ص۵۲۸
درس موجود ہےاپؑ نے فرمایا: کیا تم نے یہ گمان کیا ہے کہ مجھے اپنے بابا کی وراثت نہیں ملے گی؟کیا دور جاہلیّت کا حکم دوبارہ جاری کرنے لگے ہو کہ اس دور میں خواتین کو کچھ نہیں ملتا تھا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ میں رسول خدا(ص)کی بیٹی ہوں ؟ اے مسلمانو! یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مجھے اپنے بابا کی وراثت سے محروم کیا جائے؟! اے ابی قحافہ کے بیٹے! کیا اللہ کی کتاب میں یہی لکھا ہے کہ تو اپنے باپ کا ارث لےلے اور میں اپنے باپ کا ارث نہ لوں؟! تو نے خدا پر بہت بڑی تہمت لگائی ہے اور ایک نئی چیز لے ائے ہوکیوں قران کے خلاف عمل کرتے ہو اور اسے پس پشت ڈالتے ہو؟!قران تو کہہ رہا ہے:
وورث سلیمان داودا(1)
سلیمان داود(ع)کے وارث بنےاور زکریا (ع)نے فرمایا:
يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ الِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا(2)
پروردگارا! مجھے اپنی طرف سے بیٹا عطا کر جو میرا اور ال یعقوب کا وارث بنے
وَالَّذِينَ امَنُوا مِن بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَاوْلَئِكَ مِنكُمْ وَاوْلُوا الارْحَامِ بَعْضُهُمْ اوْلَی بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللّهِ انَّ اللهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ(3)
اور جو لوگ بعد میں ایمان لے ائے اور ہجرت کی اور اپ کے ساتھ جہاد کیا وہ بھی تم میں سے ہیں اور قرابت دار کتاب خدا میں سب اپس میں ایک دوسرے سے زیادہ اوّلیت اور قربت رکھتے ہیں بیشک اللہ ہر شے کا بہترین جاننے والا ہےاورجو لوگ بعد میں ایمان لے ائے اللہ کی کتاب میں خونی رشتہ دارایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں
--------------
(1):- نمل 16
(2):- مریم 6
(3):- انفال75
يُوصِيكُمُ اللهُ فِي اوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الانثَيَيْنِ فَان كُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَان كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلابَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ ان كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَان لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ ابَوَاهُ فَلامِّهِ الثُّلُثُ فَان كَانَ لَهُ اخْوَةٌ فَلامِّهِ السُّدُسُ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا اوْ دَيْنٍ ابَاؤُكُمْ وَابناؤُكُمْ لا تَدْرُونَ ايُّهُمْ اقْرَبُ لَكُمْ نَفْعا فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ انَّ اللهَ كَانَ عَلِيما حَكِيمًا(1)
اللہ تمہاری اولادکے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہےاب اگر لڑکیاں دو سے زیادہ ہیں تو انہیں تمام ترکہ کا دو تہائی حصہ ملے گا اور اگر ایک ہی ہے تو اسے ادھا اور مرنے والے کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے ان وصیتوں کے بعد جو کہ مرنے والے نے کی ہیں یا ان قرضوں کے بعد جو اس کے ذمہ ہیں، یہ تمہارے ہی ماں باپ اور اولاد ہیں مگرتیںکُ نہیں معلوم کہ تمہارے حق میں زیادہ منفعت رساں کون ہےیہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ صاحب علم بھی ہے اور صاحب حکمت بھی:
كُتِبَ عَلَيْكُمْ اذَا حَضَرَ احَدَكُمُ الْمَوْتُ ان تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالاقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِينَ (2)
اگر موت کے وقت کچھ مال چھوڑے جارہے ہوتو اسے چاہئے کہ والدین اور رشتہ داروں کے لئے مناسب طور پر وصیت کرےمتقی لوگوں پر یہ ایک حق ہےاور تم یہ گمان کرتے ہو کہ مجھے میرے بابا کا کوئی ارث نہیں ملے گا اور میرے بابا کیساتھ میرا کوئی تعلّق نہیں ؟ کیاخدا نے تجھ پر کوئی خاص ایة نازل کی ہے جسے میرے بابا اور میرے شوہر نہیں جانتے؟!کیا تم ان سے زیادہ قران کے خاص وعام سے واقف تر ہو؟ اگر ایسا نہیں ہے تو تم غارت گر ہو، یہ اونٹ لے جاؤ اپنے ساتھ، میں خداوند حکیم کی بارگاہ میں قیامت کے دن ملاقات کروں گیوہ دن کتنا اچھا وعدہ گاہ ہوگا اور محمد(ص)کتنے عظیم عدالت خواہ ہونگےاس دن باطل راستے پر چلنے والے نقصان، پریشانیاں اور ندامت اٹھائیں گے،ہر وعدہ کے لئے ایک وعدہ گاہ ہے اور ہر اچھائی کے لئے اپنی جگہ معیّن ہے اور بہت جلد تم جان لوگے کہ ذلّت امیز عذاب کس کے اوپر نازل ہوگا،جو ہمیشہ کے لئے عذاب سرا ہوگا(3)
--------------
(1):- نساء 11
(2):- بقرہ180
(3):- ملکہ اسلام فاطمہ،چ2،ص36
اپ فرماتی ہیں:خیارکم الینکم مناکبه واکرمهم لنسائهم (1) یعنی تم میں بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کیساتھ سب سے زیادہ نرم مزاجی اور خوش خلقی کے ساتھ پیش اتا ہو، اور سب سے زیادہ ارزشمند وہ ہے جو اپنی شریک حیات پر زیادہ مہربان اور بخشنے والا ہو
قَالَ النَّبِيُّ ص: مَنْ سَرَّهُ انْ يَلْقَی اللهَ طَاهِرا مُطَهَّرا فَلْيَلْقَهُ بِزَوْجَةٍ وَ مَنْ تَرَكَ التَّزْوِيجَ مَخَافَةَ الْعَيْلَةِ فَقَدْ اسَاءَ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّ وَ جَلَّ(2)
رسول اسلام(ص)نے فرمایا:جو بھی اللہ تعالیٰ سے پاک و پاکیزہ حالت میں ملاقات کرنا چاہتا ہےتو اسے چاہئے کہ اپنے لئے بیوی تلاش کرے اور جو بھی تنگ دستی کے خوف سے شادی کرنا چھوڑدے تو حقیقت میں وہ خدا تعالیٰ پر بدظن اور بد گمان ہواواضح ہے کہ انسانی زندگی میں بیوی جیسی نعمت کا ہونا انحرافات سے دوری اور معنوی پاکیزگی کا باعث ہے وہ شخص جو مرنے کے بعد ابدی سعادت اور حیات جاودانی کا خواہان ہے تو جان لے کہ ایک اچھی اور پاک دامن بیوی ہی اسے یہ مقام دلاسکتی ہے
--------------
(1):- فاطمہ نور الٰہی،چ1،ص153، دلائل الامامہ،ص۱
(2):- من لایحضرہ الفقیہ،ج3،ص ۳۸۵
خاندانی خوش بختی کے کچھ اصو ل
امیرالمؤمنین(ع)نے اپنی اخری وصیت میں اپنے بیٹے حسن اور حسین (ع)کو نزدیک بلا کر فرمایا:
اوصیکم بتقوی الله ونظم امرکم(نهج البلاغه)
تقوائے الٰہی اختیار کرو اور اپنے معاملات میں نظم و ضبط پیدا کروروایواں میں جسے تقدیر المعیشہ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ جس کی زندگی میں نظم وضبط موجود ہے وہ بہت ساری مشکلات سے دور رہے گا اور جس کی زندگی میں نظم وضبط نہ ہو تو گویا اس نےاپنی ساری توانائی ضائع کردی بعض اوقات تو لوگوں کے گھروں میں کئی کئی نوکر اور خدمت گزار اور زندگی کے دیگر بہت سارے وسائل ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے گھر کا نظام نہیں چلاسکتے اور اوضاع خراب ہونے کی شکایت کرنے لگتے ہیں
خواتین کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت معاشی فکر کا حامل ہونا ہے، کہ وہ جان لے کہ زندگی کی ضروریات کیا ہیں اور خاندانی امور اور اپنے اوقات کو کیسے منظم کرنا ہےاگر گھر والی ایسی نہ ہو تو اپ جتنا بھی کمائیں کوئی فائدہ نہیں ہےبہت سے گھر والوں کی مشکل امدنی نہیں بلکہ استعمال میں بےنظمی ہےجس طرح بڑی تعداد میں فوج موجود ہوں لیکن بدنظم ہوں تو ایک مختصر مگر منظم گروہ کے مقابلے میں اس کی شکست یقینی ہےامام صادق(ع) فرماتے ہیں: مسلمانوں کو تین چیزوں کے سوا کوئی اور اصلاح نہیں کرسکتی:
۱ دین سے اگاہی
۲ مصیبت اور سختیوں کے وقت صبر واستقامت
۳ زندگی میں نظم و ضبط
ان کلمات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کے ہر شعبےمیں خواہ معاشی زندگی ہویامعاشرتی، سیاسی ہو یا سماجی،نظم وضبط بہت ضروری ہے
اجتماعی زندگی، اعتماد اور خوش گمانی کا محتاج ہے اگرچہ مسلمانوں کے بارے میں خوش گمان ہونا ضروری ہے کہ قران کا فرمان ہے:
يَا ايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ انَّ بَعْضَ الظَّنِّ اثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ايُحِبُّ احَدُكُمْ ان يَاكُلَ لَحْمَ اخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللهَ انَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ(1)
"اے ایمان والو!بہت سی بدگمانیوں سے بچوبعض بدگمانیاں یقینا گناہ ہیں اور ایک دوسرے کےعیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم اسے برا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بیشک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے"
ایک مشترک اور خاندانی زندگی میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا اور حسن ظن رکھنا چاہئے
وَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ص مَا مِنْ عَبْدٍ يَكْسِبُ ثُمَّ يُنْفِقُ عَلَی عِيَالِهِ الَّا اعْطَاهُ اللهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ يُنْفِقُهُ عَلَی عِيَالِهِ سَبْعُ مِائَةِ ضِعْف(2)
پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں: جو شخص اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اس کے سارے نیک اعمال اس سے جدا ہونگے جس طرح سانپ اپنے خول سے الگ ہوتا ہے اور اس کے بدن پر موجود ہر بال کے بدلے میں ایک ہزار گناہ لکھا جاتا ہے
وَ قَالَ ع: مَنْ قَذَفَ امْرَاتَهُ بِالزِّنَا نَزَلَتْ عَلَيْهِ اللَّعْنَةُ وَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَ لَا عَدْلٌ(3)
فرماتے ہیں: جوشخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے، اس پر خدا کی لعنت ہے اور اس سے نہ ایک درہم قبول ہوتی ہے اور نہ ایک حسنہ
--------------
(1):- حجرات ۱۲
(2):-مك ارم ال اخل اق ، ب اب في حق المر اة علی الزوج ،ص : 216
(3):- بحارالانوار، ج100، ص249
اسلام پاکیزگی اور زیبائی کا دین ہے اس لئے نظافت اور پاکیزگی کی بہت زیادہ تاکید ہوتی ہےامام صادق(ع)نے فرمایا:
قَالَ مِنْ اخْلَاقِ الْانْبِيَاءِ التَّنَظُّفُ وَ التَّطَيُّب(1)
اس حدیث میں انبیائےالٰہی کی چارخصوصیات بیان ہوئی ہیں ان میں سے دو پاکیزگی کا خیال رکھنااور خوشبو کا استعمال کرنانظافت اور پاکیزگی پیغمبروں کے اخلاق میں سے ہےاپنے بدن اور لباس سے بدبو کو پانی کے ذریعے دورکرلو، کیونکہ خداوند گندے لوگوں سے بیزار ہے(2)
پیغمبر(ص)نے فرمایا: جیسا بھی لباس پہن لے،اسے پاک اور صاف رکھو(3)
پاکیزگی کو اہمیت دینا اسلام کے معجزوں میں شمار ہوتا ہےاسلام نے اپنے اہم ترین احکام جیسے نماز وغیرہ کے لئے پاکیزگی اور طانرت شرط رکھی ہےاسی لئے واجب غسل اور واجب وضو کے علاوہ مستحب وضو اور مستحب غسل کا بھی مختلف اوقات میں بڑی تاکید اور تشویق کیساتھ حکم دیا ہےان کے علاوہ ہفتے میں ایک بار ناخن کا تراشنا داڑھی کا اصلاح کرنا روزانہ کئی بار کلّی کرنا،ناک میں پانی ڈالنا اور مسواک کرنا بھی بہت اہم سمجھاےجاتےہیںامام موسی کاظم(ع) فرماتے ہیں: کھانے کے بعد خلال کرو تاکہ کھانے کے زرّات دانتوں کے درمیان باقی نہ رہ جائےخلال ایک قسم کی صفائی ہے اور صفائی ایمان کا جز ہے اور جو صاحب ایمان ہو اسے بہشت میں داخل کردیتا ہے(4)
اسی طرح عورتیں بھی اپنے شوہر کو اسی طرح صاف ستھرا دیکھنا چاہتی ہیں جس طرح شوہر اسے صاف ستھری دیکھنا چاہتا ہے
--------------
(1):- وسائل الشیعہ ،ج۲۰، ص۲۴۶
(2):- لئالی الاخبار،ج4، ص18
(3):- مکارم الاخلاق، ص41
(4):- لئا لی الاخبار،ج2،ص322
اگر کوئی گھر میں اکیلا زندگی گزارتا ہوتووہ ازاد ہے گھر میں جہاں بھی جس طرح بھی سوئے، کھائے، پڑھے، لباس پہنے یا نہ پہنے خاموش رہے یا شور مچائے کوئی مشکل نہیں لیکن اس گھر میں اس کے علاوہ کوئی اور بھی رہنے لگے تو اس کی ازادی بھی محدود ہوتیاس کے بعد وہ پہلے کی طرح شور نہیں مچاسکتا، بلکہ اس پر لازم ہے دوسرے کا خیال رکھےخواہ وہ دوسرا شخص اس کی بیوی ہو یا بچہ ہو یا کوئی اورشوہر اپنے اپ کو بیوی بچوّں کا مالک نہ سمجھے بلکہ ہر ایک کے جزبات کا خیال رکھے
ہمیں ہر کسی کیساتھ خصوصا اہل خانہ کیساتھ اچھی اور پیاری گفتگو کرنی چاہئےپیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: بدترین شخص وہ ہے جس کی بد کلامی اور گالی گلوچ کی وجہ سے اس کے قریب کوئی نہ ائے(1) امام سجاد(ع) فرماتے ہیں: اچھی اور بھلی گفتگو رزق و روزی اور عزّت بڑھاتی ہے، انسان کو دوسروں کے نزدیک محبوب اور بہشتی بناتی ہے(2)
میاں بیوی کے درمیان کدورت اور دشمنی پیدا ہونے کا ایک خطرناک ذریعہ اپنے اپ کو دوسروں کیساتھ موازنہ کرنا ہےجب دوسروں کی زندگی کی ظاہری کیفیت اپنے سے بالاتر دیکھتی ہے تو اپنے شوہر کو پست اور دوسروں کو اپنے شوہر سے بہتر تصوّر کرنے لگتی ہےاور شوہر بھی اسے اپنی بات نہیں منوا سکتاایسے موقع پر بیوی کو چاہئے کہ جلدی فیصلہ نہ کرےہر کسی میں بہت ساری خوبیوں کیساتھ ساتھ خامیاں بھی ضرور پائی جاتی ہیںاور کوئی بھی ہرعیب و نقص سے خالی نہیں ہوتااور یہ بھی سمجھ لے کہ شیطان ہمیں اس طرح ورغلارہا ہے
--------------
(1):- بحار،ج 16،ص281
(2):- دارالسلامِ،ج3،ص426
پس ہمیں اپنی قسمت اور تقدیر پر راضی رہنا ہوگا
چنانچہ پیغمبر اسلام(ص)نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں اگر کوئی انہیں اپنے اندر جمع کرلے تو اسے دنیا اور اخرت کی بھلائی مل جاتی ہے:
< اپنی قسمت پر راضی اور خوش رہنا
< مصیبت اوربلا کے موقع پر صبر کرنا
< ارام اور سختی کے دوران دعا کرنا(1)
ان خصوصیات کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنے سے کمتر لوگوں پر نظر رکھنا چاہئے تاکہ زیادہ امیدوار اور مطمئن رہیںاور خدا کی نعمتوں پر شکرگزار رہیںاگر خدا نے سلامتی دی ہے،دین دیا ہے،اچھا اخلاق دیا ہے اور اچھی بیوی دی ہے تو پھر ان پر شکر کرنا اور افتخار کرنا چاہئےچنانچہ حضرت سلمان فارسی(رض) فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے مجھے نصیحت کی:
< اپنے سے کمتر پر نظر رکھو
< فقیروں اور مسکینوں سے محبت کرو
< حق بات کہو اگرچہ تلخ ہی کیوں نہ ہو
< اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھو
< کبھی بھی دوسروں سے کوئی چیز نہ مانگو
< لاحول ولا قوّة الّا باللہ زیادہ پڑھا کرو، جو بہشتی خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے(2)
--------------
(1):- اصل کافی ج4،ص352
(2):- وسائل الشیعہ ج6،ص309
عقل اور احساس انسان کے اندر مسائل کے سمجھنے اور درک کرنے کےدو اہم ذریعےہیںلیکن اکثر لوگوں میں عقل کی نسبت احساسات کی تأثیر زیادہ پائی جاتی ہےاس احساس کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے جس سے خاندان میں صلاح مشورے،باہمی تفاہم اور محبت زیادبڑھ جاتی ہےبعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بیوی سے ایسی باتیں کر بیٹھتا ہے کہ وہ احساس کمتری یا حقارت کا شکار ہوجاتی ہےشوہر کو ایسی باتوں سے احتیاط کرنا چاہئے
میاں بیوی دونوں ازدواج کی حقیقت اور سعادت و خوش بختی سے اگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کی بنیاد ایک دوسرے کے ساتھ عشق و محبت سے رہنے پر استوار ہےاور عشق و محبت پیدا کرنے کا اہم ترین عامل ایک دوسرے کو غمخواری اور ہمدردی کا احساس دلانا ہے زندگی کی تلخیوں اور سختیوں میں بھی اسی طرح ایک دوسرے کو شریک سمجھیں جس طرح خوشیوں میں شریک سمجھتے ہیںاس وقت احساس ہوگا کہ زندگی کس قدر شیرین اور ہم اہنگ ہےایک دوسرے کی مدد کریں اور شوہر یہ نہ کہیں کہ یہ تیرا کام ہے میرا کام نہیں اور میرے ذمے صرف گھر سے باہر کا کام ہے لیکن دوسری طرف سے ایسا بھی نہ ہو کہ اگر شوہر گھریلو کاموں میں بیوی کی مدد کرنا شروع کرے تو وہ اس کی محبت کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے دوسرے دن اس سے جارڑو لگوانا شروع کرے
اگر خدانخواستہ خاندان میں کوئی مشکل پیش ائے خواہ بیوی کی طرف سے ہو یا شوہر کی طرف سے،دونوں کو حوصلے سے اس مشکل کا مقابلہ کرکے حل کرنا چاہئےاور کسی بھی وقت مایوس اور ناامید نہیں ہونا چاہئےاور نہ یہ سوچنے لگیں کہ ہماری خوشبختی اور سعادتیں ختم ہوگئیں نہیں ایسا نہیںمشکلات اور سختیاں ابتدائی دنوں میں بھاری محسوس کرنے لگیں گے لیکن زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سختیاں بھی ختم ہوجائیں گی
اگر بیوی بداخلاق ہو یا اس میں اور کوئی عیب موجود ہو تو شور وشرابہ کرنے کے بجائے وسعت فکر و نظر سے اس کا حل تلاش کرےاور صبر سے کام لے جو انسان کی راہ سعادت میں بہت ہی مؤثر ہےلہذا خداتعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو خوش خبری سناتے ہوئے فرمایا:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الامَوَالِ وَالانفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ اذَا اصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا انَّا لِلّهِ وَانَّا الَيْهِ رَاجِعونَ(1)
"اور ہم تمہیں کچھ خوف، بھوک اور مال و جان اور ثمرات (کے نقصانات)سے ضرور ازمائیں گےاوران صبر کرنے والوں کو خوش خبری دیجئےجو مصیبت میں مبتلا ہونے کی صورت میں کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے"
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ الصَّبْرُ مِنَ الْايمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّاسِ مِنَ الْجَسَدِ فَاذَا ذَهَبَ الرَّاسُ ذَهَبَ الْجَسَدُ كَذَلِكَ اذَا ذَهَبَ الصَّبْرُ ذَهَبَ الْايمَانُ(1)
امام صادق (ع)نے فرمایا: صبر کا ایمان کے ساتھ وہی رابطہ ہے جس طرح سر کا بدن سے ہےجس طرح سرکے بغیر بدن باقی اور سلامت نہیں رہ سکتااسی طرح صبر کے بغیر ایمان بھی باقی نہیں رہ سکتا جی ہاں صبر کا پھل میٹھاہوتاہےاور اپنے اپ کو صبر کی تلقین کرے تاکہ اس کا ثواب پالےسورۂ العصر میں تو تاکید کیساتھ فرمایا: کہ صبر کی تلقین کرنے والے کے سوا سب خسارے میں ہیں
پیغمبراسلام(ص)نےفرمایا:قَالَ رَسُولُ اللهِ ص احْسَنُ النَّاسِ ايمَانا احْسَنُهُمْ خُلُقا وَ الْطَفُهُمْ بِاهْلِهِ وَ انَا الْطَفُكُمْ بِاهْلِي (1)
--------------
(1):- بقرہ ۱۵۵-۱۵۶
(2):- الکافی ،ج۲، ص۸۹
(3):- وسائل الشیعہ ،ج۱۲، ص۱۵۳
"بہترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق بہترین ہو اور اپنے گھر والوں کیساتھ زیادہ مہربان تر ہو اور میں تم میں سے سب سے زیادہ اپنے اہل وعیال کیساتھ زیادہ مہربان تر ہوں
پھر فرمایا: قیامت کے دن اعمال کے محاسبہ کے وقت ترازو کے پلڑے میں اخلاق سے بہتر کوئی شیئ نہیں ڈالی جا سکتی
انَّ رَسُولَ اللهِ ص خَرَجَ فِي جِنَازَةِ سَعْدٍ وَ قَدْ شَيَّعَهُ سَبْعُونَ الْفَ مَلَكٍ انَّمَا كَانَ مِنْ زَعَارَّةٍ فِي خُلُقِهِ عَلَی اهْلِهِ فَقَالَتْ امُّ سَعْدٍ هَنِيئا لَكَ يَا سَعْدُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ ص يَا امَّ سَعْدٍ لَا تَحْتِمِي عَلَی اللهِ(1)
سعد بن معاذ ؓ جو رسول(ص)کا خاص صحابی تھاجب ان کا انتقال ہوا تو رسول خدا(ص)کے حکم سے اسے غسل و کفن دیااور خود بھی ان کی تشییع جنازے میں ننگے سرننگے پیر اور بغیر عبا کے شریک ہوئے کبھی دائیں طرف کندھا دیتے تو کبھی بائیں طرفاور اپنے ہی دست مبارک سے اسے قبر میں اتارا اور قبر کو محکم طور پر تیار کیا اور برابر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کچھ دنوں کے بعد سعد کا بدن سڑ جائے گا لیکن بندہ جو کام بھی کرے محکم اور مضبوط ہواس وقت سعد کی ماں نے اواز دی:اے سعد! تیںَ جنّت مبارک ہوپیغمبر اسلام (ص)نے سختی سے فرمایا:اے سعد کی ماں! خاموش رہو اور خدا پر اتنی جرأت نہ کرابھی سعد فشار قبر میں مبتلا ہےقبرستان سے واپس اتے وقت اصحاب نے سوال کیا: یا رسول اللہ(ص): اج سعد کے جنازے میں بالکل انوکھا کام کیا جیسا کبھی کسی کے جنازے کیساتھ نہیں کیا تھاتو فرمایا: میں ننگے سر اور ننگے پیر اس لئے تھا کہ ملائکہ بھی سر اور پا برہنہ ان کے جنازے میں شریک تھےجبرئیل امین(ع) ستّر ہزار فرشتوں کیساتھ شریک تھےتو میں نے بھی ان کی اقتدا کرتے ہوئے نعلین(جوتے) اور ردا اتاری
اصحاب نے کہا: اپ کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف سے کندھا دیتے تھے،تو اپ نے فرمایا: میرا ہاتھ جبرئیل (ع)کے ہاتھ میں تھا، جس طرف وہ جاتے تھے اسی طرف میں بھی جاتا تھا
--------------
(1):- الکافی ،ج۲، ص۲۳۶
اصحاب نے کہا: اپ نے خود نماز جنازہ پڑھائی اور میت کو قبر میں اتارا اس کے باوجود اپ نے فرمایا: سعد فشار قبر میں مبتلا ہے!
تو پیغمبر اکرم(ص)نے فرمایا: ہاں، یہ اپنے خاندان کیساتھ بداخلاقی سے پیش اتا تھا
اس سے معلوم ہوا کہ بداخلاقی فشار قبر کا باعث ہے
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ انَّ النَّبِيَّ صَلَّی عَلَی سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لَقَدْ وَافَی مِنَ الْمَلَائِكَةِ سَبْعُونَ الْفا وَ فِيهِمْ جَبْرَئِيلُ ع يُصَلُّونَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ يَا جَبْرَئِيلُ بِمَا يَسْتَحِقُّ صَلَاتَكُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بِقِرَاءَتِهِ قُلْ هُوَ اللهُ احَدٌ قَائِما وَ قَاعِدا وَ رَاكِبا وَ مَاشِيا وَ ذَاهِبا وَ جَائِيا(1)
امام صادق ؑ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺنے سعد کا نماز جنازہ پڑھائی جس میں ۷۰ہزار فرشتوں نےبھی شرکت کی رسول خداﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے جبرئیل سے پوچھا کہ اس میں کونسی خوبی تھی جس کی وجہ سے ملائکہ نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی ؟ جبرئیل نے فرمایا :وہ ہمیشہ اور ہر حال میں خواہ وہ اٹھاہو یا بیٹھاہو ،پیدل ہو یا سوار، ارہا ہو یا جا رہا ہو ؛ سورہ اخلاص کی تلاوت کیاکرتےتھے
جو شخص اپنے بیوی بچوّں کے بارے میں سخت غصّہ دکھانے کو اپنی جوان مردی سمجھتا ہے تو وہ سخت غلط فہمی میں مبتلاہے
پیغمبر اسلام (ص)نے فرمایا:بدترین شخص وہ ہے جس کی بد اخلاقی کی وجہ سے لوگ ڈر کے مارے اس کا احترام کرنے لگیں
گھر کوئی جیل خانہ تو نہیں کہ جہاں غصّہ دکھائے اور گھر کے افراد کو ڈرائے اوردھمکائے بلکہ گھر صلح و صفا عشق و وفا اور فداکاری کا گہوارہ ہے جہاں انسان کے جسم و روح کی پرورش ہوتی ہے
--------------
(1):- الکافی ج۲، ص۶۲۲
اقوام روزگار بہ اخلاق زندہ اند قومی کہ گشت فاقد اخلاق مردنی است
مکررّ، امتحان کردم، کہ بہر زندگی کردن بِہ است از تندی و اشفتگی، نرمی و ارامی
بہ دوزخ بُرد مرد را خوی زشت کہ اخلاق نیک امدہ است از بہشت
درخت دوستی بنشان کہ کام دل ببار ارد نہال دشمنی برکن کہ رنج بیشمار ارد
چوتھی فصل
خاندان کے متعلق معصومین کی سفارش
امام سجاد(ع) نے فرمایا: خدا تعالیٰ سب سے زیادہ اس شخص پر راضی ہوگا جو اپنے اہل وعیال پر سب سے زیادہ خرچ کرتاہے
عَنْ ابِي الْحَسَنِ الرِّضَا ع قَالَ الَّذِي يَطْلُبُ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَزَّ وَ جَلَّ مَا يَكُفُّ بِهِ عِيَالَهُ اعْظَمُ اجْرا مِنَ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَ جَلَّ(1) ا م ا م رض ا (ع) سے منقول ہے کہ جو شخص ا پنے ا ہل وعی ا ل کی خ ا طر خد ا کی دی ہوئی نعمتوں سے کسب کرت ا ہے تو ا س کے لئے ا س مج ا ہد سے زی ا دہ ثو ا ب دی ا ج ا ئے گ ا ،جو ر ا ہ خد ا میں جہ ا د کرتے ہیں ا پ سے ہی منقول ہے:
عن ابِي الْحَسَنِ ع قَالَ يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ انْ يُوَسِّعَ عَلَی عِيَالِهِ كَيْلَا يَتَمَنَّوْا مَوْتَه(2)
یعنی جسےبھی خدا تعالیٰ کی نعمتوں پر دست رسی حاصل ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، تاکہ وہ لوگ اس کی موت کی تمنا نہ کریںامام صادق(ع) نے فرمایا: مؤمن خدا تعالیٰ کے اداب پرعمل کرتا ہے جب بھی خدا تعالیٰ اسے نعمت اور رزق میں وسعت عطا کرتاہے تو وہ بھی اپنے اقرباء پر زیادہ خرچ کرتاہےاور جب خداوند متعال نعمت کو روکتا ہے تو وہ بھی رک جاتا ہے(3) اورفرمایا: جو میانہ روی اختیار کرے گا میں اس کی ضمانت دونگا کہ وہ کبھی مفلس نہیں ہوگا
ایک شخص نے امام باقر(ع) سے عرض کیا، مولا !میرا ایک باغ ہے جس کی سالانہ امدنی تین ہزار دینار ہےجس میں سے دو ہزار دینار اہل و عیال پر خرچ کرتا ہوں ایک ہزار فقرسوں میں صدقہ دیتا ہوں
--------------
(1):- الکافی ،ج۵، ص۸۸
(2):- الکافی ، ج۴ ، ص۱۱
(3):- الکافی ، ج۴ ، ص 259
امام ؑنے فرمایا:اگر دوہزاردینار سے اہل و عیال کا خرچہ پورا ہوتا ہے تو بہت اچھا ہےکیونکہ تم اپنی اخرت کے لئے وہی کام کر رہے ہو جو تمہارے مرنے اور وصیت کرنے کے بعد وارثوں نے کرنا تھاتم اپنی زندگی میں اس سے نفع حاصل کر رہے ہو(1)
امام زین العابدین (ع)نے فرمایا: مرد کو چاہئے کہ اندازے سے خرچ کرے اور زیادہ تر اپنی اخرت کے لئے بھیجا کرے جو ان نعمتوں کا دوام اور کثرت کے لئے زیادہ مناسب اور روز قیامت کے لئے زیادہ مفید ہے
امام صادق(ع)نے فرمایا: میانہ روی ایسی چیز ہے جسے خداتعالیٰ بہت دوست رکھتا ہےاور اسراف ایسی چیز ہے جس سے خداتعالیٰ نفرت کرتا ہے، اسراف کھجور کا ایک دانہ یا بچا ہوا پانی ہی کیوں نہ ہو(2)
قَالَ امِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع اطْرِفُوا اهَالِيَكُمْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ بِشَيْءٍ مِنَ الْفَاكِهَةِ كَيْ يَفْرَحُوا بِالْجُمُعَةِ(3)
امیر المؤمنین(ع)نے فرمایا: اپنے اہل و عیال کے لئے ہر جمعہ کوئی نہ کوئی تازہ پھل کھلایا کرو تاکہ جمعہ کے دن خوش رہو
امام صادق (ع)نے فرمایا:من حسن برّه باهله زاد الله في عمره جوبھی اپنے خاندان کیساتھ نیکی کرے گا خداتعالیٰ اس کی زندگی میں برکت عطا کریگااس کے مقابلے میں پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:وَ قَالَ مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ ضَيَّعَ مَنْ يَعُولُ ع (4) لعنتی ہے لعنتی ہے وہ شخص جو اپنے اقرباء کے حقوق دینے میں کوتاہی کرتا ہے
--------------
(1):- الکافی ، ج۴،ص257
(2):- الکافی ،ج25، ص249 ۲۵۰
(3):- بحار، ج101،ص 73
(4):- من لایحضرہ ،ج۳، ص ۵۵۵
قال علی: لِبَعْضِ اصْحَابِهِ لَا تَجْعَلَنَّ اكْثَرَ شُغُلِكَ بِاهْلِكَ وَ وُلْدِكَ فَانْ يَكُنْ اهْلُكَ وَ وُلْدُكَ اوْلِيَاءَ اللهِ فَانَّ اللهَ لَا يُضِيعُ اوْلِيَاءَهُ وَ انْ يَكُونُوا اعْدَاءَ اللهِ فَمَا هَمُّكَ وَ شُغُلُكَ بِاعْدَاءِ اللهِ(1)
اپ نے اپنے بعض اصحاب سے مخاطب ہو کر فرمایا: اپنے بیوی بچوّں کی خاطر اپنے اپ کو زیادہ زحمت میں نہ ڈالو، اگر وہ لوگ خدا کے صالح بندوں میں سے ہوں تو خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ضائع نہیں کرتا اور اگر وہ خدا کے دشمنوں میں سے ہوں تو کیوں خدا کے دشمنوں کی خاطر خود کو ہلاکت میں ڈالتے ہو؟ پس ایسا نہ ہو کہ ان کی خاطر ہم خدا اور دین خدا کو فراموش کر بیٹھںو اور حلال حرام کا خیال کئے بغیر ان کو کھلائیں اور پلائیں
خاندان کی بنیاد،عشق و محبت پر رکھنی چاہئے کیونکہ محبت کا اظہار میاں بیوی کے درمیان ارام و سکون کا باعث بنتاہےجس کا نتیجہ دونوں کی سعادت اور خوش بختی کی صورت میں نکلتاہےاورمحبت کی پہلی شرط ایک دوسرے کی روش اور سوچ کی شناخت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو پہچان لیں کہ کن چیزوں سے خوش ہوتے ہیں اور کن چیزوں سے ناراضبیوی کومعلوم ہو کہ اس کا شوہرکس وقت تھکا ہوتا ہے اور کس وقت اس کے ساتھ گفتگو کرنا ہےاور یہ ایسے امور ہیں جو ہرشخص میں مختلف ہوتےہیں معیار محبت یہ نہیں ہے کہ کسی بھی وقت غصہ میں نہ ائے بلکہ اگر گھر کا کوئی فرد غیر اخلاقی کام کربیٹھتا ہے تو سربراہ کو چاہئے کہ اپنی ناراضگی کا احساس دلائے اور نصیحت کرےہاں جب محبت زیادہ ہوجاتی ہے جسے عشق سے تعبیر کیا جاتا ہے غصّہ کرنے میں مانع بنتی ہےلیکن کبھی بھی میاں بیوی ایک دوسرے سے ایسی گہری اور عمیق محبت کا انتظارنہ رکھے
میاں بیوی کے درمیان حد اعتدال میں محبت ہو تو کافی ہےبہر حال جس قدر یہ محبت قیمتی ہے اسی قدر اس کی حفاظت کرنا بھی قیمتی ہے
--------------
(1):- بحار ج ۱۰۱، ص ۷۳
پس ہمیشہ میاں بیوی کو اس محبت کی مراقبت اور حفاظت کرنی چاہئے، ایسا نہ ہو کہ گھر کی اندرونی اور بیرونی مشکلات ہمیں اس قدر مشغول کردے کہ صفا اور وفا سے دور ہوجائیں لذا دونوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے درمیان پیار و محبت، صلح و صفا اور مہرو وفا کاسماں پیداکریں
کلام معصوم(ع) میں محبت کے عوامل
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ مَنْ احَبَّ لِلهِ وَ ابْغَضَ لِلهِ وَ اعْطَی لِلهِ فَهُوَ مِمَّنْ كَمَلَ ايمَانُهُ(1)
امام صادق(ع) فرماتے ہیں جو بھی خدا کی خاطر کسی سے محبت کرے یا دشمنی کرے اور خدا ہی کی خاطرکسی کو کچھ دیدے تو وہ ان افراد میں سے ہوگا جن کا ایمان کامل ہوگیا ہو
امام باقر(ع)نے فرمایا: اگر توجاننا چاہتاہے کہ تیرے اندر کوئی خوبی موجود ہے یا نہیں تو اپنے دل کی طرف نگاہ کرو، اگر اہل اطاعت اور خدا کے فرمان برداروں سے محبت اور اہل معصیت سے نفرت موجودہے تو سمجھ لینا کہ تو اہل خیر ہو اور تجھ میں خوبی موجود ہے
ایک دوسرے کو ہاتھ ملانا، مصافحہ کرنا اور خوش امدید کہنا محبت میں اضافے کا سبب ہے:
قَالَ رَسُولُ اللهِ:تَصَافَحُوا فَانَّ الْمُصَافَحَةَ تَزِيدُ فِي الْمَوَدَّةِ(2)
چنانچہ رسول خدا(ص)نے فرمایا:لوگو!ایک دوسرے کیساتھ مصافحہ کروکیونکہ مصافحہ محبت میں اضافہ کرتا ہے
--------------
(1):- الکافی ،ج۲، ص۱۲۴
(2):- مستدرک الوسائل،ج۹، ص۵۷
امیرالمؤمنین (ع)نےفرمایا :من حسن ظنّه بالناس حاز منهم المحبة (1)
جو بھی لوگوں پر حسن ظن رکھتا ہے ان کی محبت کو اپنے لئے مخصوص کرتا ہےیعنی دوسروں کا دل جیت لیتا ہے
امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا: لوگوں کے ہاتھوں میں موجود مال و متاع سے بے رغبت ہو کر خود کو ہر دل عزیز بناؤ(2)
جب ایک شخص پیغمبر اسلام (ص) کی خدمت میں ایا اور عرض کیا:یا رسول اللہ (ص)! کیا کروں کہ لوگ مجھ سے محبت کریں؟ اپ نے فرمایا: لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور ان کے مال و متاع پر نظر نہ جماؤاور طمع ولالچ نہ کر،تو تم ہر دل عزیز ہو جاؤ گے(3) جیسا کہ شاعر نے کہا:
ہر کہ را با طمع سرو کار است گر عزیز جہان بود خوار است
لالچی انسان کی نگاہ پوری دنیا کی نعمتوں سے بھی پر نہیں ہوتی جیسا کہ کنواں شبنم کے قطرے سے پر نہیں ہوتا
دیدہ ی اہل طمع بہ نعمت دنیا پر نشود ہمچنانکہ چاہ بہ شبنم
حضرت علی(ع) نے فرمایا:
السخاء يكسب المحبة و يزين الاخلاق يمحص الذنوب و يجلب محبة القلوب (4)
--------------
(1):- غرر الحکم،ص۲۵۳
(2):- دار السلام ،ص413
(3):- سفینة البحار،باب سجد
(4):- غرر الحکم،ص۳۷۸
یعنی سخاوت باعث محبت اوراخلاق کی زینت ہے، جو گناہوں کو پاک کرتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے
رُوِيَ انَّ اللهَ اوْحَی الَی مُوسَی ع انْ لَا تَقْتُلِ السَّامِرِيَّ فَانَّهُ سَخِيٌّ(1)
خدا تعالیٰ نے حضرت موسی(ع) پر وحی نازل کی کہ سامری کو قتل نہ کرو،کیونکہ وہ سخاوت مند ہےاور اگر یہی سخاوت مندی ایک مسلمان یا مؤمن میں ہوتو کتنی بڑی فضیلت ہے
امام صادق(ع) نے فرمایا:اے معلّی اپنے بھائیوں کی خدمت کرکے ان کی محبت اور دوستی حاصل کرو،کیونکہ خدا تعالیٰ نے محبت کو بخشش میں اور دشمنی کو عدم بخشش میں چھپا رکھا ہے(2)
--------------
(1):- وسائل الشیعہ ،ج۹، ص۱۸
(2):- وسائل الشیعہ ، ص 421
پانچویں فصل
خاندانی اختلافات اور ان کا علاج
جس طرح مختلف معاشرے اورممالک ایک جیسے نہیں ہوتے اسی طرح سب خاندان کے افراد بھی ایک جیسے نہیں ہوسکتےبعض اوقات اختلافات اور مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیںاور دونوں میاں بیوی ایک دوسرے پرغم و غصہ نکالنا شروع کرتے ہیںاس طرح گلے شکوے سے اپنے سینوں کو خالی کرکے اپنے کو ہلکا کرتے ہیںکبھی کبھی یہ گلے شکوے بھی مفید ثابت ہوتے ہیںاگر اظہار کا موقع نہ ملے تو شعلے کی مانند انسان کو اندر سے جلاتے ہیںحقیقت بھی یہی ہے کہ جب میاں بیوی ایک دوسرے کی کمزوریوں اور خامیوں کو درک کرلیتے ہیں تو ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیںلہذا گلے شکوے کو چھپانا مسئلہ کا حل نہیں ہے،بلکہ ان پر پردہ ڈالنا مشکلات میں مزید اضافے کاباعث بنتا ہےلیکن دونوں کو احتیاط کرنا چاہئے کہ ان اعتراضات اور گلے شکوے کو انتقام جوئی اور جھگڑا فساد کی بنیاد قرار نہ دیںبلکہ ان کو باہمی تفاہم اور عشق و محبت کی ایجاد کے لئے زمینہ قرار دیںکیونکہ زندگی کی لطافت اور خوشی ،صلح و صفا میں ہے نہ جنگ و جدل اور فسادمیںیہاں دونوں کو جان لینا چاہئے کہ ازدواجی زندگی کی بنیاد پیار و محبت اور ایثار و قربانی کا جذبہ ہے
خواتین کو جاننا چاہئے کہ اگر مردوں کا جہاد محاذوں پر لڑنا اور دشمن پر حملہ اور ہونا اوردشمن کے تیروں کو اپنے سینوں پر لینا ہے تو خواتین کا جہاد جتنا ممکن ہو سکے اپنے شوہر کی خدمت کرنا اور بچوّں کی تربیت کرنا ہے امام موسی کاظم (ع)نے فرمایا:
جِهَادُ الْمَرْاةِ حُسْنُ التَّبَعُّل(1)
عورت کا جہاد اچھی شوہر داری ہے
--------------
(1):- تفسیر المیزان،ج4،ص373،الکافی ،ج۶، ص۹
جب اسماء بنت یزید کو مدینہ کی عورتوں نے اپنا نمائندہ بنا کرپیغمبر اسلام(ص)کے پاس بھیجا اور اس نے عرض کی: یا نبی اللہ ! خدا نے اپ کو مقام نبوت پر فائز کیا ہم اپ پر ایمان لے ائیں، اور ہم گھروں میں بیٹھ کر اپنے شوہروں کی خدمت اور بچوّں کی دیکھ بھال کرتی ہیں جبکہ مرد لوگ نماز جماعت میں شریک ہوتے ہیں، بیماروں کی عیادت کے لئے جاتے ہیں،تشییع جنازہ میں شرکت کرتے ہیں،جھاد میں حصہ لیتے ہیں، مراسم حج کی ادائیگی کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر ثواب کماتے ہیں اور ہم بیچاری عورتیں مردوں کی غیر موجودگی میں ان کے اموال کی حفاظت،بچوّں کی تربیت، گھر کی صفائی اور کپڑے دھونے میں مصروف رہتی ہیں،کیا ہم بھی ان کے ثواب میں برابر کی شریک ہیں ؟ پیغمبر اسلام (ص)نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کرکے فرمایا:کیاتم لوگوں نے کبھی دینی مسائل اور مشکلات میں کسی خاتون کی زبان سے اس سے بہتر کوئی گفتگوسنی ہے؟
اصحاب نے عرص کیا یا نبی اللہ(ص)! اس قدر فصیح و بلیغ گفتگو اج تک کسی خاتون سے نہیں سنی تھیاس کے بعد پیغمبر(ص)نے فرمایا: جاؤ خواتین سے کہہ دو، کہ اگر تم اپنے شوہروں کے ساتھ حسن سلوک کروگی اور اپنی ذمہ داری اچھی طرح انجام دوگی اور اپنے شوہروں کو خوش رکھنے کی کوشش کریں گی تو ان کے تمام اجر اور ثواب میں تم بھی برابر کی شریک ہونگی
یہ سن کر اسماء بنت یزید اللہ اکبر اور لاالہ الا اللہ کا نعرہ بلند کرتی ہوئی پیغمبر اسلام(ص) کی خدمت سے اٹھی اور مدینہ کی عورتوں کو یہ خوش خبری سنادی(1)
اس حقیقت کی طرف مرد اور عورت دونوں کو توجہ کرنی چاہئے کہ عورتوں کے وجود میں جنگی، سیاسی، اور ورزشی میدانوں میں بہادری نہیں پائی جاتی بلکہ انہیں اسلام نے ریحانۂ زندگی یعنی زندگی کی خوشبو کا لقب دیا ہےجس میں خوبصورت پھولوں کی طرح لطافت اور طراوت پائی جاتی ہےاور اس لطافت اور طراوت کو ظالم ہاتھوں میں نہیں دیا جاسکتاکیونکہ پھول کی جگہ گلدستہ،گلدان اور انس و محبت والی محفلیں ہواکرتی ہیں
--------------
(1):- تفسیر المیزان،ج4،ص373،الکافی ،ج۶، ص۹
امیر المؤمنین(ع)نے فرمایا:
فَانَّ الْمَرْاةَ رَيْحَانَةٌ وَ لَيْسَتْ بِقَهْرَمَانَةٍ(1)
بیشک عورت گلزار زندگی کا پھول ہے نہ پہلوانلیکن یاد رکھو کہ مرد حضرات اپنی جسمانی قدرت اور طاقت کے زور پر کبھی بھی اس گلستان خلقت کے پھولوں کوجنہیں ما ں،بہن،بیٹی اور شریک حیات کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں، جوطراوت اور شادابی کیساتھ کھلا کرتی ہیں ؛اپنے مکہ، طمانچہ اور ٹھوکر کا نشانہ نہ بنائیںدین مقدس اسلام مردوں کو اپنی ناموس خصوصا شریک حیات کے بارے میں خبردار کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو اس لطیف اور نازک شریک حیات کو جوتیری زندگی کی خوشی،سکون اور ارام کا باعث ہے، ضائع کرے:قَالَ رَسُولُ اللهِ ص انَّمَا الْمَرْاةُ لُعْبَةٌ مَنِ اتَّخَذَهَا فَلَا يُضَيِّعْهَا (2) پیغمبر اسلام(ص)نے فرمایا عورت گھر میں خوشی کا سبب ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی اسے اپنے تحویل میں لے لے اور اسے ضائع کردے
گھریلو اختلافات کا طولانی ہونا ایک سخت بیماری ہے جو خاندان کے جسم پر لاحق ہوتی ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا اور علاج کرنا بہت ضروری ہے
1. پہلا علاج تو یہ ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے وظائف کو سمجھے اور ان پر عمل کرے
2. دوسرا علاج توقّعات کو کم کرنا ہے حقیقی اکسیر اوردوا یہی ہے اور یہ شرطیہ علاج ہےصرف ایک دفعہ ازمانا شرط ہے
3. تیسرا علاج اپنی نفسانی خواہشات، خودخواہی ، غرور اور خودپسندی کے خلاف قیام کرنا ہے جس سے نہ صرف اختلافات ختم ہوسکتے ہیں بلکہ موجودہ اختلافات صلح و صفائی میں بدل سکتے ہیں
--------------
(1):- بحار الانوار،ج۷۴، ص۲۱۵
(2):- بحار الانوار،ج۷۴، ص۲۱۵
4. چوتھا علاج ایک دوسرے کے اعتراضات اور اشکالات کو سننا اور موافقت اور مفاہمت کے لئے قدم اٹھاناچنانچہ قران مجید مردوں کو نصیحت کرتاہے کہ طبیب اور حکیم کی طرح علاج اور معالجہ کریںاور گھریلو ماحول میں جزّابیت، طراوت اور شادابی کو برقرار رکھیں
قران مجید کہہ رہا ہے کہ اگر بیوی نے نافرمانی شروع کی تو فورا مارنا پیٹنا شروع نہ کریں بلکہ پہلے مرحلے میں وعظ و نصیحت کرکے اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کریں اور اگر پھر بھی نہ مانے تو دوسرا راستہ اختیار کریںیعنی ایک ساتھ سونا چھوڑدیںاور پھر بھی بات نہ مانے تو مار کر اسے مہار کرلولیکن گھریلو اور خاندانی زندگی میں بہترین قاعدہ یہ ہے کہ شوہر مظہر احسان ہو بہترین انسان وہ ہے کہ اگر عورت خطا اور نافرمانی کی مرتکب ہو جائے تو اسے معاف کرتے ہوئے اس کی اصلاح شروع کرےاور راہ اصلاح اس سے دوری اختیار کرنا نہیں جو محبت اور اشتی کی راہوں کو بند کرتا ہوبلکہ صحیح راستہ وہی ہے جو محبت اور اشتی کی راہوں کو کھول دے
قُلْتُ لِابِي عَبْدِ اللهِ ع مَا حَقُّ الْمَرْاةِ عَلَ ی زَوْجِهَا الَّذِي اذَا فَعَلَهُ كَانَ مُحْسِنا قَالَ يُشْبِعُهَا وَ يَكْسُوهَا وَ انْ جَهِلَتْ غَفَرَ لَهَا (1)
کسی نے امام صادق(ع) سے سوال کیا کہ بیوی کا مرد پر کیا حق ہے جسے اگر وہ ادا کرے تو مظہر احسان بن جائے؟ امام نے فرمایا: اسے کھانا دے بدن ڈھانپنے کے لئے کپڑا دے اور اگر کوئی جہالت یا نافرمانی کرے تو اسے معاف کردے
اوپر ایہ شریفہ میں تیسرے مرحلہ پر مارنے کا حکم ایا ہے،لیکن مارنے کی کوئی حد بھی مقرر کی ہے یا نہیں؟یہ تو اپ جانتے ہیں کہ جس چیز کی اطاعت کرنا عورت پر واجب ہے وہ فقط مباشرت اور ہمبستری کے لئے تیار رہنا ہے کہ شوہر جب بھی اس چیز کا تقاضا کرے عورت تیار رہے اور انکار نہ کرےباقی کوئی کام بھی اس کے ذمہ نہیں ہے یہاں تک کہ بچےّ کو دودھ پلانا بھیاور شوہر کو حق نہیں پہنچتا کہ اسے جامڑو لگانے، کپڑے دہلانے اور کھانا پکانے پر مجبور کرے بلکہ یہ وہ کام ہیں جو باہمی تفاہم اور رضامندی سے انجام دیے جائیںورنہ شوہر کو ان کاموں میں مار پیٹ کرکے اپنی بات منوانا تو دور کی بات،مواخذہ تک کرنا
--------------
(1):- وسائل الشیعہ ،ج ۲۱، ص۵۱۱
جائز نہیں ہےمرد کو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ بیوی کنیز اور نوکرانی کی حیثیت سے گھر نہیں لائی گئی ہے بلکہ بحیثیت ہمسرلائی گئی ہے
دوسرا سوال یہ ہے کہ مار پیٹ کی حد کیا ہے اس کاجواب یہ ہے کہ یہاں بھی مرد مارپیٹ کے حدود کو معین نہیں کرسکتا بلکہ اسلام نے اس کی مقدار اور حدود کو معین کیا ہےاس قسم کی مار پیٹ کو ہم تنبیہ بدنی کے بجائے نوازش اور پیار سے تشبیہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا
اس سلسلے میں قران مجید میں ایک بہت دلچسپ اور سبق اموز داستان موجودہے جوحضرت ایوبؑ اور ان کی زوجہ محترمہ کا قصہ ہے: حضرت ایوب(ع) طویل عرصے تک بیمار رہے اپ کا اللہ اور اپنی زوجہ کے سوا کوئی اور سہارا نہ رہاوہ خادمہ سخت پریشان تھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیطان ملعون نے اکر کہا: اگر ایوب مجھ سے شفاء طلب کرے تو میں کوئی ایسا کام کروں گا کہ ایوب ٹھیک ہوجائےجب یہ کنیز خدا اپنے شوہر کے پاس ائی اور اس بات کا اظہار کیا تو حضرت ایوب(ع) سخت ناراض ہوئے اور قسم کھائی کہ اگر میں ٹھیک ہوجاؤں تو تجھے سو کوڑے ماروں گاحالانکہ اپ کی مہربان بیوی کے علاوہ کوئی اور دیکھ بھال کرنے والا نہ تھااور جب اپ بیماری سے شفایاب ہوگئے تو خدا نے انہیں دستور دیا:
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ انَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ انَّهُ اوَّابٌ(1)
اور ایوب(ع) تم اپنے ہاتھوں میں سینکوں کا مٹھا لے کر اس سے مارو اور قسم کی خلاف ورزی نہ کرو - ہم نے ایوب (ع)کو صابر پایا ہے- وہ بہترین بندہ اور ہماری طرف رجوع کرنے والا ہےصبر ایوب (ع) دنیا میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے اور روایات کی بنا پر انہوں نے واقعا صبر کیا ہےاموال سب ضائع ہوگئے اولاد سب تلف ہوگئیاپنے جسم میں بھی طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوگئیں لیکن مسلسل صبر کرتے رہےاور کبھی فریاد نہ کیاس واقعہ سے ہمیں جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی ایسا موقع ائے تو ہاتھ اٹھانے سے پہلے یہ سوچ کراسے معاف کرے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہمیں معاف کریگا
------------
(1):- سورہ ص ۴۴
رسول اللہ(ص)نے فرمایا: مَنْ اضَرَّ بِامْرَاةٍ حَتَّ ی تَفْتَدِيَ مِنْهُ نَفْسَهَا لَمْ يَرْضَ اللهُ لَهُ بِعُقُوبَةٍ دُونَ النَّارِ لِانَّ الهَ يَغْضَبُ لِلْمَرْاةِ كَمَا يَغْضَبُ لِلْيَتِيم (1)
ہر وہ شخص جو اپنی بیوی کو اس قدر اذیت و اذار دے کہ وہ اپنے حق مہر سے دست بردار ہونے پر مجبور ہوجائے تو خدا تعالی اس کے لئے اتش جہنم سے کم عذاب پر راضی نہیں ہوگاکیونکہ خداوند عورت کی خاطر اسی طرح غضبناک ہوتا ہے جس طرح یتیم کی خاطر غضبناک ہوتا ہے
بس ہمیں چاہئے کہ اپنی اخرت کی فکر کریںثانیا مرد اپنی مردانگی دکھاتے ہوئے اسے کچھ اضافی چیز دیکر ازاد کرے تاکہ اپنا وقار اور تشخّص برقرار رکھ سکےچنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ حضرت سلیمان (ع)نے دیکھا کہ ایک چڑا چڑیا سے کہہ رہا ہے کہ اگرتوچاہے تو میں تخت سلیمان (ع)کوتیرے قدموں میں نچھاور کردوںجب یہ باتیں حضرت سلیمان(ص) نے سنی تو فرمایا: کیا تجھ میں اتنی ہمّت ہے؟ توچڑے نے کہا یا نبی اللہ! اتنی ہمت تو کہاںلیکن مادہ کے سامنے نر کو اپنا وقار برقرار رکھنا چاہئے
قَالَ رَسُولُ اللهِ ا يَضْرِبُ احَدُكُمُ الْمَرْاةَ ثُمَّ يَظَلُّ مُعَانِقَهَا ؟(2)
پیغمبر اسلام (ص)نے فرمایا کیسے بیوی کو ان ہاتھوں سے بانہوں میں لیتے ہو جن سے ان پر تشدد کرتے ہو؟! اور کیا تم میں سے کوئی ہے جو بیوی کو مارے اور پھراسے گلے لگائے؟!
بہت ہی غیر منصفانہ رویّہ ہے کہ شخص اپنے ہاتھوں کو اپنی شریک حیات کے اوپر کبھی غیض و غضب اور مار پیٹ کا ذریعہ بنائے اورکبھی انہی ہاتھوں سے اپنی جنسی خواہشات پوری کرنےکیلئے اسے بانہوں میں لے!
--------------
(1):- وسائل الشیعہ ،ج۲۲ ص ۲۸۲
(2):- وسائل الشیعہ ،ج ۲۰ص ۱۶۷
مارنا پیٹنا بڑا گناہ ہے کیونکہ مارنے کا ہمیں حق نہیں ہے، اور مارنے کی صورت میں شریعت نے دیت واجب کردیا ہےجس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
1. شوہر کے مارنے کی وجہ سے بیوی کے چہرے پر صرف خراش اجائے تو ایک اونٹ دیت واجب ہے
2. اگر خون بھی جاری ہوا تو دو اونٹ واجب ہیں
3. اگر بیوی کا چہرہ مارنے کی وجہ سے کالا ہوجائے تو چھ مثقال سونا واجب ہے
4. اگر چہرہ سوجھ جائے تو تین مثقال سونا واجب ہے
5. اگر صرف سرخ ہوگیاتو ڈیڑھ مثقال سونا واجب ہےہاں یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ان دیات کے ساتھ قصاص لینے کا بھی حق رکھتی ہے
کس قدر نادان اور جاہل ہیں وہ لوگ جو اپنی شریک حیات کومارتے اور گالی دیتے ہیںایسے شوہر پر تعجب کرتے ہوئے رسول اسلام(ص) نے فرمایا:
انِّي اتَعَجَّبُ مِمَّنْ يَضْرِبُ امْرَاتَهُ وَ هُوَ بِالضَّرْبِ اوْلَی مِنْهَا لَا تَضْرِبُوا نِسَاءَكُمْ بِالْخَشَبِ فَانَّ فِيهِ الْقِصَاصَ وَ لَكِنِ اضْرِبُوهُنَّ بِالْجُوعِ وَ الْعُرْيِ حَتَّی تُرِيحُوا [تَرْبَحُوا] فِي الدُّنْيَا وَ الْاخِرَة(1)
میں اس شخص پر تعجب کرتا ہوں جو اپنی بیوی کو مارتاہے جبکہ وہ خود زیادہ سزا کا مستحق ہےہاں مسلمانو!اپنی بیویوں کو لاٹھی سے نہ مارنا اگر ان کو تنبیہ کرنے پر مجبور ہوجائے تو انہیں بھوکے اور ننگے رکھ کر تنبیہ کرویہ طریقہ دنیا اور اخرت دونوں میں تیرے فائدے میں ہے
--------------
(1):- بحار،ج ۱۰۰، ص۲۴۹
اور یہ حدیث اس ایہ شریفہ کی تفسیرہے جس میں فرمایا:
وَ الَّاتی تخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَ اهْجُرُوهُنَّ فی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوهُنَّ فَانْ اطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيهْنَّ سَبِيلا انَّ اللهَ كانَ عَلِيًّا كَبِيرًا(1)
اور جن عورتوں کی سرکشی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اگر باز نہ ائیں تو خواب گاہ الگ کردو(اور پھر بھی باز نہ ائیں تو )انہیں مارو، پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں تو ان کے خلاف بہانہ تلاش نہ کرو کہ خدا بلنداور بزرگ ہے
کیونکہ یہ گھریلو ارام وسکو ن اور زندگی میں رونق کا سبب بنتا ہے، لہذا لوگوں کو چاہئے کہ معقول اور مشروع طریقے سے رزق و روزی کے لئے کوشش اور تلاش کریںاور گھر والوں کی ضروریات پوری کریں
عورت مرد کو اپنا نگہبان اور محافظ سمجھتی ہے لہذا محافظ کو قوی اور مضبوط ہونا چاہئے
عورت چاہتی ہے کہ اس کا شوہر ہر کام میں دوسرے مردوں سے کمزور نہ رہےخواہ دینی امور میں ہو یا دنیاوی امور میں اگر غیرت نہ ہو تو وہ شخص یقینا سست ہوگاحدیث میں ملتا ہے کہ جس میں غیرت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں
--------------
(1):- نساء ۳۴
بیوی چاہتی ہے کہ اس کا شوہر خود مستقل زندگی گزارے اور کسی پر محتاج نہ ہو، تاکہ دوسرے کی منّت و سماجت نہ کرنا پڑے
یہ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے لیکن بیوی کی زیادہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر معاشرے میں معزز ہو اور اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھتی ہے
عورت کبھی نہیں چاہتی کہ اس کا شوہر خاموش طبیعت ہو کیونکہ خاموش بیٹھنے سے عورت کو سخت تکلیف ہوتی ہے لہذا وہ چاہتی ہے کہ اس کے ساتھ نرم لہجے میں میٹھی میٹھی باتیں کرتا رہے
یہ بات ہر انسان کی طبیعت میں اللہ تعالیٰ نے ودیعت کی ہے کہ وہ صفائی کو پسند کرتا ہے اور گندگی اور غلاظت سے نفرت کرتا ہےاس بارے میں بہت سی روایات موجود ہیں: النضافة من الایمانصفائی نصف ایمان ہے عورت بھی اپنے شوہر کو پاک و صاف دیکھنا پسند کرتی ہے، لہذا مردوں کو چاہئے کہ اپنی داڑھی اور بالوں کی اصلاح کرتے رہیںخوشبو استعمال کریںسیرت پیغمبر(ص)میں بھی ہمیں یہی درس ملتاہے
عورت چاہتی ہے کہ اگر وہ کوئی کام کرے تو اسے شوہر سراہاے اور اس سے غافل نہ رہےاگر بچےّ گھر میں بد نظمی پیداکریں تو ان کی اصلاح کرےاور منظّم کرے
یہ ساری صفات میں اہم ترین صفت ہے اگر ایمان ہے تو سب کچھ ہے اور اگر ایمان نہ ہو تو کچھ بھی نہیںکیونکہ یہی ایمان ہے جو تمام خوبیوں اور اچھائیوں کی بنیاد ہےلہذا خدا تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ ہمیں بھی ایمان اور اخلاق کے زیور سے اراستہ اور مزیّن فرما امین یا رب العالمین
دوسرا حصہ
خواتین کا مقام اور حقوق
پہلی فصل
عورت تاریخ کی نگاہ میں
اصل موضوع "عورتوں کے حقوق اسلام کی نگاہ میں" پر گفتگو کرنے سے پہلے اسلام سے قبل عورتوں کی حالت اور موقعیت کا مختصر مطالعہ ضروری ہے تاکہ بہتر سمجھ سکے کہ پیغمبر اسلام(ص)نے کتنی زحمتیں برداشت کرکے ان کی چھینی ہوئی حیثیت اور حقوق دوبارہ انہیں دلادئے ہیں
قدیم ترین زمانے میں مختلف ممالک میں کلی طور پرلوگ عورتوں پر حکومت کرتے تھے کیونکہ ہر معاشرے میں مخصوص اداب اور رسوم حاکم تھے جو دینی اور قانونی نہ تھے ان اداب و رسوم میں عورت کی کوئی حیثیت نہ تھی بلکہ جانوروں کی طرح ان کی دیکھ بارل ہوتی تھیجس طرح بیڑس بکریوں کو گوشت کی خاطر یا فروخت کے لئے پالتے تھے اسی طرح عورتوں کو بھی پیسہ کمانے یا جنسی خواہشات کو پورا کروانے کے لئے وسیلہ کے طور پر سنبھال کر رکھتے تھےیہاں تک کہ اگر قحط پڑجائے تو ذبح کرکے عورتوں کا گوشت کھایا کرتے تھےعورت صرف شوہر کے گھر میں نہیں بلکہ اپنے باپ کے گھر میں بھی مظلوم تھیکسی چیز پر انہیں اختیار نہیں تھا حتی شوہر کا انتخاب بھی باپ کی مرضی سے ہوتا تھااور حقیقت میں باپ اور شوہر کے درمیان ایک قسم کا معاملہ تھا اگر گھر کا رئیس، باپ ہو یا بھائی یا شوہر،جسے چاہے اسے بخش دیتا یا فروخت کردیتا، یا فقط عیاشی کے عنوان سے نسل بڑھانے اور خدمت گزاری کے لئے کسی اور کو عاریہ دیتا اور ان سے اجارہ لیتا تھاہم یہاں چند ممالک اور انسانی معاشرے میں عورتوں کی حیثیت کا جائزہ لیں گے:
یونان اور روم کو متمدن ممالک اور پیش رفتہ معاشرہ تصور کرتے ہیں لیکن وہاں پر بھی خواتین کی زبون حالی اتنی تھی کہ انہیں شیطان کی نسل اور نجس سمجھی جاتی تںیزاسپرٹی نامی ایک شخص کہتا ہے: (عورت ایک بلند بال اور کوتاہ فکر حیوان ہے)یہ مقولہ اس قدر مشہور ہوگیا کہ ادبیات عرب میں ضرب المثل کے طور پر استعمال ہونے لگاالمرئة حیوان طویل الشعر وقصیر الفکریونان والے جب بھی عورت کے بچہ دینے سے مایوس ہوجاتے تو اسے موت کے گھاٹ اتاردیتے تھے ان کے ہاں یہ ضرب الامثال موجود ہیں:
o تین شر: طوفان، اگ اور عورت
o شادی نہ کرو اگر کرلی تو بیوی کو حاکم نہ نباؤ
o عورت کو جھوٹ اور کتے کو ہڈی کے ذریعے راضی کرو
o اچھی اور بری بیوی دونوں کو کوڑے کی ضرورت ہے
o شوہر کی خوش بختی یا بد بختی اس کی بیوی ہے
o شریر بیوی سے ہوشیار رہو اور اچھی بیوی پر اعتماد نہ کرو
o شادی کرنا ایک بلا ہے، جس کے لئے لوگ دعاکرتے ہیں(1)
o عورت اور گائے کو اپنے ہی شہر یا گاؤں سے انتخاب کرو
o خوبصورت عورت کا مسکرانا شوہر کے بٹوے کا رونا ہے o تین چیزیں قانون سے بالاتر ہیں: عورت، خچر،اور سور
--------------
(1):- بہشت خانوادہ، ص ۳۳۵
o خوک بکرے سے زیادہ مزاحم ہے اور عورت ان دونوں سے بھی زیادہ
o شیطان کو بھی خبر نہیں کہ عورت خنجر کو کہاں تیز کرتی ہے
o اگر ساری عمر بیوی کو اپنے دوش پر اٹھاتے رہو اور ایک لمحہ کے لئے اسے زمین پر رکھو تو کہے گی: میں تھک گئی ہوں
< عورت ایک بلا ہے اور ہرگھر میں یہ بلا ہوناضروری ہے
< گھوڑا،تلوار اور بیوی کسی سے وفا نہیں کرتیں
< عورت اور اژدھا دونوں مٹی کے اندر ہی اچھے ہیں
< عورت کا خدا اس کا شوہر ہے
< عورت جیل خانہ ہے اور شوہر اس کا قیدی
< بیوی ایک، خدا ایک عورت اور خدا میں دو خصوصیات مشترک ہیں:1.اللہ اپنا شریک پسند نہیں کرتا اور عورت بھی2. اللہ زندگی اور موت دینے والا ہے اور عورت بھی
روم والے اگرچہ قوانین اور حقوق میں بڑی ترقی کرچکے لیکن عورتوں کے بارے میں عام لوگوں کا خشونت امیز رویے اورسر سخت نظریہ تھاان کا یہ عقیدہ تھا کہ چونکہ عورت میں روح انسانی نیںے پائی جاتی لہذا روز قیامت دوبارہ محشور ہونے کے لائق نہیں ہےاور وہ مکمل طور پر شیطان اور مختلف روحوں کا مظہر ہےاسلئے اسے ہنسنے اور بات کرنے کا حق نہیںرومی عورت کو مال تجارت شمار کرتے تھے اسلئے جب بھی گھر کا سردار یا مالک مرجاتا تو عورتوں کو وراثت کے طور پر تقسیم کرتے تھے(1)
--------------
(1):- حقوق زن در اسلام و جہان،ص9
o عورت کوصرف رونا اتا ہے تاکہ وہ جھوٹ بول سکے
o بہترین عورتیں بھی شیطان کی الہ کار ہیں
o اگر بوڑھی عورت کو دھوکہ دے سکے تو سمجھ لو شیطان تیرے جال میں پھنس گیا
o عورت صرف اپنی عمر اور ان چیزوں کو چھپاتی ہے جنہیں نہیں جانتی
o عورت اور بکری کو جلد ہی گھر میں بند کردینا چاہئے، ورنہ وہ بھیڑیے کی شکار ہونگی
قرون وسطی میں بھی عورت کو اجتماعی حقوق حاصل نہ تھےبلکہ وہ ایک بردہ اور کنیز کی حیثیت سے زندگی گزارتی تھیعورت کو عامل فساد اور منفور خدا تصور کرتے تھے اور معتقد تھے کہ ادم کو بھشت سے نکالنے کا سبب بھی ییم عورت تھی
جب قرون وسطی میں ایک کشیش سے پوچھا گیا:کیا اس گھر میں داخل ہوسکتا ہے جس میں نامحرم عورت موجود ہو؟ جواب دیا ہرگز ہرگزحتی محرم بھی داخل ہوجائے، تب بھی حرام ہے اگرچہ نگاہ نہ بھی کرے(1)
حضرت مسیح(ع)نے بھی عورت کے بغیر زندگی گزاری ہے اگر کوئی حقیقی مسیح بننا چاہتے ہیں تو کبھی بھی شادی نہ کرےیہی وجہ ہے کہ مسیحی پادری(روحانی پاپ) زندگی بھر شادی نہیں کرتےدلیل یہ ہے کہ شادی کرنا خدا کو ناراض کرنے کا سبب ہے کیونکہ ایک ہی دل میں خدا کی محبت اور عورت کی محبت جمع نہیں ہوسکتیاور شادی شدہ روح القدس کا حامل نہیں ہوسکتا
روس کی ثقافت میں بھی عورت کو ایک حیوان سے زیادہ نہیں سمجھتے تھےان کی کہاوتیں کچھ یوں ہیں:
--------------
(1):- علی شریعتی؛ فاطمہ فاطمہ است،ص 59
O:-نہ چوزے کو مرغی کہہ سکتے ہیں اور نہ عورت کو انسانo:-جب بچی کی ولادت ہوتی ہے تو چار دیواریں رونے لگتی ہیں
o:-عورت سایہ کی مانند ہے اگر اس کے پیچھے دوڑیں تو وہ باتگ جاتی ہےاور اگر اس سے دور با گیں گے تو وہ پیچھے پیچھے انے لگتی ہے
o جس نے جوان بیوہ عورت سے شادی نہیں کی اس نے بدبختی نہیں دیکھی ہے
o عورت کے بال لمبے ہیں اور عقل پیچیدہ ہے
o اگر اپ چاہتے ہیں کہ کوئی خبر پوری دنیا تک پھیل جائے تو بیوی کو سناؤ
o خوبصورت عورت انکھوں کے لئے جنت ہے، روح کے لئے جہنم اور جیب کے لئے برزخ ہے
o ازادی نیک عورت کو بھی فاسد کرتی ہے
o عورت صرف دو دن پیاری ہے: جس دن تیرے گھر پہلی مرتبہ قدم رکھے اور جس دن اسے دفن کردے
o اپنی بیوی کو اپنی جان سے زیادہ پیار کرو، لیکن اسے ڈرانے میں بھی کسی قسم کی کوتاہی نہ کرو
o جتنا اسے زیادہ مارو گے اتنی ہی اچھی غذا کھاؤ گے
o عورت ایک ہی وقت ۷۷ چیزوں کے بارے میں سوچتی ہے
o عورت بےجا شکایت کرتی ہے، عمدا جھوٹ بولتی ہے، اشکارا روتی ہے اور چھپ چھپ کے خوشی مناتی ہے
o عورت کے رونے اور کتے کے لنگڑانے سے دھوکہ نہ کھائیں
o اگر شوہر اپنی خوبصورت بیوی کو دن میں تین بار نہ ماریں تو وہ چھت سے بھی اوپر جانے لگتی ہے
o عاقل انسان عورت کے رونے میں پانی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتا
o عورت کو ہتھوڑی کے ساتھ مارو اور سونے کے پانی سے علاج کرو(1)
--------------
(1):- بہشت خانوادہ، ص ۳۲۹
فرانس یورپی ممالک میں تمدن کا گہوارہ کے نام سے مشہور ہےان ممالک میں عورت کی حیثیت کا صرف اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب بھی عورت شوہر سے جدا ہوجائے یا طلاق دیا جائے تو اسے زرّہ برابر اپنے بچوّں پر حق حاصل نہیںیہ کہاں کا انصاف ہے ماں کی عطوفت کو پس پشت ڈال کرایک سادہ ترین اورطبیعی ترین حق جو ماں اور اولاد کے درمیان رابطہ قائم کرنا ہے، ماں کو حاصل نہ ہو کہ وہ اپنے لخت جگر سے مل سکے جبکہ یہ حق تو حیوانوں میں بھی پایا جاتا ہےدرحقیقت یہ تمدن نہیں بلکہ توحّش یا وحشت گری ہے
موجودہ تورات میں عورت کوموت سے زیادہ تلخ معرفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ عورت کمال انسانی تک نہیں پہنچ سکتی یہودی جو اپنے اپ کو بہترین اور پاک ترین قوم کہلاتے ہیں، معتقد ہیں کہ نہ عورتوں کی گواہی، نذر،قسم، قبول ہےاور نہ ارث کی مستحق(1)
o عورت مردوں کے لئے صابن کی حیثیت رکھتی ہے
o اگر کوئی مرد بہت زیادہ بوڑھا ہوجائے تو یہ اس کی بیوی کی وجہ سے ہے
o بدشکل عورت عشق کی بہترین دوا ہے
o عورت کا انتخاب کرنا اور ہندوانہ کا انتخاب کرنا بہت مشکل ہے
o ہمیشہ پرہیزگاری کا دم بھرنے والی عورت پر اعتماد نہ کرو
--------------
(1):- محمد تقی سجادی؛سیری کوتاہ در زندگانی فاطمہ ،ص23
o عورت شر بھی ہے اورضرورت بھی
o بیوی یعنی بندر خرابی کا خود شوہر مسؤل ہے
o عورت کے پاس زبان کے علاوہ کوئی اور اسلحہ نہیں ہے
o بدشکل عورت درد دل ہے اور خوبصورت عورت دردسر
o عورت دس سالگی میں فرشتہ، پندرہ سالگی میں طاہرہ، چالیس سالگی میں ابلیس اس کے بعد عفریتہ (چالاک ) ہے
o جسے عورت سے پیار نہیں اس نے سورنی کے پستان سے دودھ پیا ہے
o کتا ہمیشہ قابل اعتماد ہے اور عورت پہلی فرصت ملنے تک
o عورت تیرے سامنے مسکراتی ے اور پیٹھ پیچھے تیرا گلہ کاٹتی ہے
o بیوی سے کہو :بہت خوبصورت ہو، تاکہ وہ خوشی سے دیوانی ہو جائے
o عورت جس قدر اپنی شکل وصورت میں زیادہ دقت کرتی ہے اسی قدر وہ گھر یلو زندگی سے ازاد ہوتی ہے
o عورت کی مثال کشتی کے بادنما کی ہے کہ ہوا کا رخ جس طرف پھرجائے اسی طرف یہ بھی پھر جاتی ہے
o عورت کی نصیحت کوئی اہم تو نہیں لیکن اگر کسی نے نہیں سنی تو وہ انسان پاگل ہے
o عورت جب چاہے خوب روتی ہے اور جب چاہے خوب ہنستی ہے
o اگرچہ عورت کے پاس منطقی دلیل نہیں ہے لیکن گھر میں اس کی بات ہی حرف اخر ہے
o اگر تم نے اپنی بیوی کوخچر بنایا تو وہ تمہیں گائے بنادے گی
o اچھی بیوی، اچھے شوہر کی مرہون منت ہے
o بیوہ عورت سے شادی نہ کرو، مگر یہ کہ اس کے پہلے شوہر کو پھانسی دی گئی ہو
o جس نے بھی چار بچوں والی بیوہ عورت سے شادی کی، اس نے چار چوروں سے شادی کی ہے
o بدصورت عورت والے شوہر کو محافظ یا قلعہ کی ضرورت نہیں
o بیٹے کو گھر میں اور بیوی کو بسترمیں نصیحت کرو
o جس طرح گندم کے دانے توے پر پھولتے ہیں اسی طرح عورت گھر کا راز فاش کر کےپھولتی ہے
o اگر کوئی شخص کسی عورت پر دیوانہ ہوجائے تو دیکھتے رہنا وہ عورت ہی اسے عاقل بنا دے گی
o عورت جب منہ سے انکار کر رہی ہوتی ہے تو انکھوں سے وہ ہاں کر رہی ہوتی ہے
o عورت کی زبان ایک ایسی تلوار ہے جسے کبھی زنگ نہیں لگتا
o جوشخص اپنی بیوی کو مارتاہے تو وہ تین دن بھوکا رہتاہے
o اندھیری رات، عشق اور عورت انسان کودھوکے میں ڈال دیتی ہیں
o جس کی باوفا اورمہربان بیوی ہو وہ دولت مند انسان ہے
o جب تک گندم کو گودام میں اور عورت کو قبر میں نہ اتارے اعتماد نہ کرو
o جب خدا تعالیٰ کسی پر اپنا غضب نازل کرنا چاہتا ہے تو اس کا نکاح کسی کی اکلوتی بیٹی سے کراتا ہے
o جہاں عورت کی حکومت ہے وہاں شیطان اس کی اطاعت کے لئے تیار ہے
o عورت شکل سے فرشتہ ، دل سے سانپ اورعقل کے لحاظ سے گدھی ہوتی ہے
o جوشخص مال دار عورت سے شادی کرے گا وہ اس کا غلام ہوگا
o جب ایک عورت مرجاتی ہے تو ایک فساد یا فتنہ ختم ہوجاتا ہے
o بوڑھا مرد اگر جوان لڑکی سے شادی کرے تو اس کی موت خوشی اور قہقہ میں بدل جاتی ہے
o عورت کے، ہاں اور نہ کرنے کے درمیان ایک سوئی کے برابر بھی فاصلہ نہیں ہوتا
o عورت کا منہ کبھی بند نہیں ہوتا
o شیطان کو ایک مرد گمراہ کرنے کے لئے دس گھنٹے کی ضرورت ہے لیکن عورت کو دس مرد گمراہ کے لئے ایک گھنٹہ درکار ہے
o عورت جب رورہی ہوتی ہے وہ چھپ کر ہنس رہی ہوتی ہے(1)
ہندو مذہب کے پیروکار معتقد ہیں کہ عورت کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتیاور کوئی روح ان میں نہیں پائی جاتی، اسلئے جب بھی شوہر مرجاتا تار تو اسی کے ساتھ بیوی کو بھی جلاتے تھےاور شوہر پر تشریفاتی طور پر قربان کرتے تھےاس سنت کا نام ستی (sati) ہے گذشتہ ایک قرن تک یہ سنت جاری رہیاور اب بھی بعض متعصب ہندو اس سنت کو انجام دیتے ہیں
o عورت کو تعلیم دینا بندر کے ہاتھوں خنجر دینے کے مترادف ہے
o عورت کے بغیر گھر شیطان رہنے کی جگہ ہے
o عورت کا گھر میں داخل ہونا خوش بختی کی ابتدا ہے
--------------
(1):- بہشت خانوادہ،ص۳۲۱
o عورت شوہر کی عدم موجودگی میں روتی رہتی ہے اور زمین پانی کے نہ ہونے پر روتی رہتی ہے
o ہزار ادمی ایک بات پر متفق ہو سکتے ہیں لیکن دو بہنوں کا اتفاق ہونا محال ہے
o مرد کوشہوت سے دلچسپی ہے اور عورت کو مرد سے
o بیوی اور بٹوا سخت طریقے سے باندھ کر اپنے ساتھ لے کر جاؤ
o خوبصورت عورت سب کی ہے اور بدشکل عورت اپنے شوہر کی
o اچھی عورت وہ ہے جو گھر میں رہے یا قبر میں رہے
o ادمی پہاڑ کی مانند ہے اور عورت اہرم کی مانند
اسلام سے پہلے عصر جاہلیت میں عورت نہ فقط ابتدائی حقوق (روٹی، کپڑا اور مکان) سے محروم تھی بلکہ ہر حیوانوں سے پست تر اور بدتر شمار ہوتی تھی اور اشیائے فروخت کے طور پر بازار میں خرید و فروخت ہوتی تھیبعض وجوہات جیسے فقر و تنگدستی اور جنگوں میں شکست کے موقع پر اسیرہونے کے خوف سے موت کے گھاٹ اتاری جاتی تھیاور لوگ ویسے بھی عورت کے وجود کو اپنے لئے ننگ وعارسمجھتے ہوئے زندہ درگور کرتے تھے
بیٹی کا زندہ درگور کرناعرب میں عام رواج بن گیا تھا بعض لوگ بچیوں کے پیدا ہوتے ہی سر قلم کرتے تھے تو بعض لوگ پہاڑی کے اوپر سے پھینک دیتے تھےتو بعض لوگ پانی میں پھینک دیتے تھے تو بعض لوگ زندہ درگور کرتے تھے
جب بھی عورت بچہ جنم دیتی تو ایک طرف گڑھا تیار اور دوسری طرف بچےّ کا لباس تیار رکھا جاتا اوراگر بچی ہوتو گڑھے میں ڈال دیتے اوراگر بچّہ ہو تو اسے فاخرانہ لباس پہناتے تھےداستان قیس قساوت اور سنگدلی کامنہ بولتا ثبوت ہےیہ شخص پیغمبر اسلام(ص) پر ایمان لانے کے بعد رو رہا تھا پیغمبر اسلام (ص)نے وجہ دریافت کی تو کہا:یا رسول اللہ(ص) اس بات پر افسوس کر رہا ہوں اے کاش!دعوت اسلام کچھ سال پہلے ہم تک پہنچ جاتی تو
میں اپنی بچیوں کو زندہ درگور نہ کرتا! یا رسول اللہ (ص) میں اپنے ہاتھوں سے تیرہ بچیوں کو زندہ درگور کرچکا ہوںتیرہویں بچی جو میرے کہیں سفر کے دوران پیدا ہوئی تھی میری بیوی نے مجھ سے چھپا کر اپنے کسی عزیز کے ہاں رکھ دی تھی اور مجھ سے کہنے لگی بچی جو دنیا میں ائی تھی وہ مر گئی میں نےبھی اس کی بات پر اطمنان کر لی، کچھ سال گزرنے کے بعد میں کسی سفر سے جب واپس گھر پہنچا تو دیکھا گھر میں بہت ہی لاڈلی اور خوبصورت بچی ہےاپنی بیوی سے کہا یہ لڑکی کون ہے؟ اس نے تردد کے ساتھ جواب دیا یہ تمہاری بیٹی ہے تو میں اسے فورا گھسیٹ گھسیٹ کر محلے سے دور لے جارہاتھا اور میری بیٹی زار زار رورہی تھی اور کہہ رہی تھی:بابا میں کبھی اپ سے کچھ نہیں مانگوں گی اور نہ اپ کے دسترخوان پر بیٹھوں گی اور نہ کبھی اپ سے لباس مانگوں گی
لیکن مجھے رحم نہ ایا اور اسےبھی دفن کردیا
جب رسول گرامی(ص)نے یہ ماجرا سنا تو انکھوں میں انسو ائے اور فرمانے لگے:
من لا یَرحم لا یُرحم جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا اور فرمایا: اے قیس ! تمہارے لئے برا دن انے والا ہےقیس نے کہا مولا ابھی میں اس گناہ کی سنگینی کو کم کرنے کے لئے کیا کرسکتا ہوں ؟ اس وقت رسول اللہ(ص)نے فرمایا:
اعتق عن کلّ مولودةٍ نسمةً
یعنی اسی تعداد میں کہ تم نے زندہ درگور کیا ہے، کنیزوں کو ازاد کرو(1)
--------------
(1):- حقوق زن در اسلام،ص15
جزیرة العرب میں ناجائز شادیاں
بیگناہ بچیوں کی دردمندانہ موت اور قتل کے نتیجے میں عورتوں کی تعداد کم ہوتی گئیاور بیوی کے بغیر لوگوں کے لئے زندگی گزارنا ناممکن تھا،جس کا انجام یہ ہوا کہ عورتیں کرایہ پر دینے لگےیہ عورت کی بیچارگی کی انتہا تھی کہ چوپائیوں کی طرح کرائے پر دی جاتی تھی! عبداللہ بن جدعان اور عبداللہ بن ابی مکہ اور یثرب میں اپنی کنیزوں کو کرایہ پر دےکر بہت بڑے مالدار بن گئےاور یہ بھی رسم تھی اگر مقروض قرض نہ چکا سکا تو قرض دینے والا اس کی بیٹی یا بیوی کو لے کر زنا پر مجبور کرتا اور زنا کے پیسے سے اپنا قرض واپس لیتا تھایہ رسوائی (مساعات ) کے نام سے مشہور تھیاس کے علاوہ بھی مختلف قسم کے نامشروع اور ذلّت امیز نکاح رائج تھےجن میں سے کچھ یہ ہیں:
یہ نکاح شرم اور ترین نکاح ہےاگر کوئی شخص کسی شجاع،دلیر،خوبصورت اورنامور شخص کا ہمشکل فرزند کا خواہاں ہو تو بغیر کسی شرم و حیا کے اپنی بیوی کو اسی صفت کے مالک فرد کے پاس بھیج دیتا تھااور جب حاملہ ہو اور زنا زادہ پیدا ہو جائے تورسم ورواج کے مطابق اسی شوہر کا سمجھا جاتا تھا!
یہ نکاح اجتماعی اور گروہی نکاح کہلاتا ہے تقریبا دس افراد پر مشتمل ایک گروہ ایک دوسرے کی رضایت کے ساتھ ایک عورت کیساتھ ہمبستری کرتے تھےاگر بچہ پیدا ہوجائے تو وہ عورت اپنی مرضی سے کسی ایسے شخص کی طرف نسبت دیتی جو زیادہ خرچہ دیتا رہا ہولیکن اگر کوئی بچی پیدا ہوجائے تو اعلان نہیں کرتیکیونکہ کوئی بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھاعمروبن عاص جس
نے جنگ صفین میں حکمیت ایجاد کرکے خلافت کو علی (ع)سے لے کر معاویہ کے لئے برقراررکھا،اسی اجتماعی نکاح سے پیدا ہوا تھا، اس کی ماں لیلی نے اسے عاص بن وائل کی طرف منسوب کیاجبکہ ابو سفیان اپنے اخری دم تک یہ ادعا کرتا رہا کہ عمرو میرا بیٹا تھا لیکن عاص بن وائل لیلی کو زیادہ پیسہ دیتا تھا اس لئے اسے بعنوان باپ انتخاب کیا
یعنی اپنی بیوی دوسرےکےپاس اور اس کی بیوی اپنے پاس لاناجو ایک خاص جملے کیساتھ مبادلہ کیا جاتا تھا
انزل الیّ عن امرائتک و انزل لک عن امرائتی
یہ بھی رائج تھا کہ اگر کوئی شخص مر جائے تو اس کی بیوی کوبھی ارث کے طور پر بڑا بیٹا اپنی تحویل میں لے لیتا تھااگر سوتیلی ماں ہو اور جوان و خوبصورت ہوتو اس سے استمتاع بھی کرلیتا تھا یا کسی اور کو دےدیتا اور اس کا مہر لے لیتا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کس قدر بےبس اورمظلوم تھی کہ ایسی نکاح کوتسلیم کرنے کے سوا اور کچھ نہ کر سکتی تھیاسلام نے اس قسم کے نکاح کرنے سے سختی کیساتھ منع کرتے ہوئے فرمایا:
وَلا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ ابَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاء الا مَا قَدْ سَلَفَ انَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاء سَبِيلا.(1)
اور ان کیساتھ تم نکاح نہ کرو جن سے تمہارے اباء و اجداد نے کیا ہےبیشک کھلی ہوئی برائی اور پروردگار کا غضب اور بدترین راستہ ہے
عرب کے ثروتمند لوگ اپنے مال و ثروت کو بڑھانے کے لئے کنیزوں کو خریدتے یا جسم فروش عورتوں کو ایک قرارداد کے مطابق اکٹھی کرتے اور انہیں اہل فن وادب، موسیقار اور عشوہ گرکے ہاں بیجتے تاکہ بیشتر پیسےکما سکیں اور ان میں سے ہر ایک کے
--------------
(1):- سورہ نساء ۲۲
لئے الگ گھر مہیا کرکے اس کے دروازے پر ایک خاص قسم کا جنڈےا کھڑا کرتے جو اس بات کی دلیل تھی کہ ہر کوئی داخل ہوکر اپنی جنسی خواہشات کو پوری کرسکتا ہےایسی عورتیں قینات کے نام سے مشہور تھیں
خدن لغت میں دوست یا معشوقہ کو کہا جاتا ہے کہ مرد اپنی معشوقہ کیساتھ محرمانہ رابطہ پیدا کرکےزناکا مرتکب ہوتا تھا عرف جاہلی میں اسے رسمی اور قانونی قرار دیا گیا تھاجبکہ قران مجید نے اس قسم کے روابط سے منع کرتے ہو ئے فرمایا:
مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلا مُتَّخِذَاتِ اخْدَانٍ(2)
یعنی ان کنیزوں کے ساتھ شادی کرو جوپاکدامن ہوں نہ کہ کھلم کھلا زنا کار ہوں اور نہ چوری چھپے دوستی کرنے والی ہوں
یہ نکاح مبادلی ہے یعنی اپنی بیوی کے مہر میں اپنی بیٹی دوسرے کو دینایہ معاملہ بھی دو مردوں کے درمیان ہوتا تھا، یہاں بھی بے چاری عورت اپنی مرضی کی مالک نہیں تھی(2)
--------------
(1):- سورہ نساء ۲۵
(2):- حقوق زن در اسلام و جہان،ص37
دوسری فصل
اسلام میں عورت کی قدر و منزلت
جب تمام انسانی معاشرے مختلف قسم کے انحرافات میں گرے ہوئے تھے، بعض معاشرہ یا سوسایٹیزکثرت شہوت کی وجہ سے عورت کو اپنا معبود بناچکے تھے تو بعض معاشرہ غفلت کی وجہ سے عورت کو بے ارادہ حیوان سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ عورت روح انسانی سےخالی ہے لہذا قابل تقدیر نہیں ہےاور یہ مظلوم عورت بھی جہالت اور نادانی اور ناچاری کی وجہ سے خاموش رہتی
ایسے موقع پر پیغمبر اسلام(ص)،رحمة للعالمین بن کر خدا کی طرف سے مبعوث ہوئے اور ان تمام غلط اور نا جائز رسومات اور انسان کی ناجائز تجاوزات کو ختم کرکے اپ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا کہ عورت کو اپنا حق اور مرد کو اپنا حق دےکر ظلم و ستم اور بے انصافی کا خاتمہ کیا
پوری دنیا میں اسلام وہ اولین مکتب ہے جو مرد اورعورت کے لئے برابرحقوق کاقائل ہوااور عورت کو حق مالکیت اور استقلال عطا کیا کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرسکے نہ صرف حق دیا بلکہ اس سےبھی بالا تر کہ مرد سے بھی زیادہ عورت کا احترام اور اس کی قدر و منزلت کا قائل ہوااور فرمایا:مرد کوعورت پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے خدا کے نزدیک سب برابر ہیں فضیلت اور برتری کا معیار صرف تقوائے الٰہی ہے جیسا کہ قران کریم نے فرمایا:
يَايهُّا النَّاسُ انَّا خَلَقْنَاكمُ مِّن ذَكَرٍ وَ انث ی وَ جَعَلْنَاكمُْ شُعُوبًا وَ قَبَائلَ لِتَعَارَفُوا انَّ اكْرَمَكمُْ عِندَ اللهِ اتْقَئكُمْ انَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ" (1) اےانسانو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دئے ہیں تاکہ اپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے"
--------------
(1):- الحجرات13
اس ایہ شریفہ سے اس فاسد عقیدہ کا بھی قلع قمع ہوجاتا ہے جس کے بعض معاشرہ قائل تھے کہ عورت قیامت کے دن بہشت میں داخل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس میں روح انسانی نہیں پائی جاتی اور وہی انسان کو بہشت سے نکالنے والی ہےوہ شیطان کی نسل ہے جسے صرف مرد کے وجود کے لئے مقدمہ کے طور پر خدا نے خلق کیا ہے
دوسری ایة میں ارشاد فرمایا:
خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا(1)
"عورت بھی مرد کا ہم جنس اور بدن کا حصہ ہے"اور فرمایا:
احِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ الَی نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَانتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ(2)
"تمہارے لئے ماہ رمضان کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہےعورت تمہارے لئے عیوب کو چھپانے کے لئے لباس ہے جس طرح تم ان کے لئے عیوب کو چھپانے کا وسیلہ ہے"
اس لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیںجب عورت کو کسی چیز کا مالک نہیں سمجھتا تھا اس وقت فرمایا:
وَلا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَی بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاء نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْن(3)
"اور خبردار جو خدا نے بعض افراد کو بعض سے کچھ زیادہ دیا ہے اس کی تمنّا اور ارزو نہ کرنا مردوں کے لئے وہ حصہّ ہے جو انہوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے ئے وہ حصہ ہے جو انہوں نے کمایا ہے"
جب عورت کو اجتماعی امور میں شریک ہونے کا حق نہیں دیا جارہا تھا اس وقت اسلام نےعورت کو بھی مرد کے برابر ان
--------------
(1):- الزمر ۶
(2):- البقرہ ۱۸۷
(3):- النساء ۳۲
اجتماعی امور میں شریک ٹہھراتے ہوئے فرمایا :
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ اوْلِيَاء بَعْضٍ يَامُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ(1)
"مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں اپس میں سب ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں کہ یہ سب ایک دوسرے کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں"
اس طرح متعدد ایات اور روایات میں عورت کی قدر ومنزلت کو کبھی بیٹی کی حیثیت سے تو کبھی ماں کی، کبھی بیوی کی حیثیت سے تو کبھی ناموس اسلام کی،دنیا پر واضح کردیا ہے کیونکہ ہر انسان کے لئے ناموس کی زندگی میں یہ تین یا چار مرحلہ ضرور اتا ہےیعنی ایک خاتون کسی کی ماں ہے تو کسی کی بیٹیاور کسی کی بہن ہے تو کسی کی بیوی ہوا کرتی ہے
اسلام نے بھی ان تمام مراحل کا خاص خیال رکھتے ہوئے عورت کی شخصیت کو اجاگر کیا ہےہم ان مراحل کو سلسلہ وار بیان کریں گے، تاکہ عورتوں کے حقوق کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اور اس میں کوتاہی نہ ہونے پائے
پیغمبر اسلام(ص) ہمیشہ عورتوں کیساتھ مہر و محبت اور پیار کرنے کی سفارش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حُبِّبَتْ الَيَّ النِّسَاءُ وَ الطِّيبُ وَ جُعِلَتْ فِي الصَّلَاةِ قُرَّةُ عَيْنِي(2)
"میں دنیا میں تین چیزوں سے زیادہ محبت کرتا ہوں:عطر،عورت اور نماز کہ جو میری انکھوں کی روشنائی ہے"
یاد رہے اپ(ص) کا یہ فرمانا شہوت وغرائز جنسی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اپ ایسے فرامیں کے ذریعےعورت کی قدر و منزلت اور شخصیت کو اجاگر کرنا چاہتےہیںکیونکہ اس عرب جاہلیت کے دور میں عورتوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھیہر قسم کے حقوق سے محروم تھیان کے کسی اچھے عمل کو بھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے لیکن جب اسلام کا ظہور ہوا جس نے
--------------
(1):- توبہ ۷۱
(2):- وسائل الشیعہ ، ج۸، ص۱۱۶
نیکی میں مرد اور عورت کو برابر مقام عطا کیامؤمنہ عورت کے بارے میں امام صادق (ع)نےفرمایا:
المراة الصالحة خیر من الف رجل غیر صالحٍ(1)
"ایک پاک دامن عورت ہزار غیر پاک دامن مرد سے بہتر ہے"
اسی طرح ان سے محبت کرنے کو ایمان کی نشانی بتاتے ہوئے فرمایا:
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ مَا اظُنُّ رَجُلًا يَزْدَادُ فِي الْايمَانِ خَيْرا الَّا ازْدَادَ حُبّا لِلنِّسَاءِ(2)
“میرا گمان ہے کہ کسی کا ایمان میں اضافہ نہیں ہوتا مگر اسی مقدار میں عورت سے محبت میں اضافہ ہو جائے” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جتنا ایمان میں اضافہ ہوگااتنی عورت سے محبت ہوگی
اسلام کی نگاہ میں ماں کا مرتبہ بہت بلند ہے خدا تعالیٰ کے بعد دوسرا مرتبہ ماں کو حاصل ہےچنانچہ رسول خدا(ص)سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں: بہر بن حکیم نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے:
جَاءَ رَجُلٌ الَی النَّبِيِّ ص فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ ابَرُّ قَالَ امَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ امَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ امَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ابَاكَ(3)
راوی کہتا ہے کہ تین مرتبہ میں نے سوال کیا کس کیساتھ نیکی کروں ؟ تو اپ نے فرمایا: ماں کیساتھ نیکی کرو، اور چوتھی بار جب پوچھا تو فرمایا: باپ کیساتھ نیکی کرو
یعنی جب سوال ہوا کہ سارے خلائق میں کون سب سے زیادہ نیکی اور حسن معاشرت کا مستحق ہے؟ تو فرمایا: ماں ماں ماں اور چوتھی مرتبہ فرمایا: باپ
--------------
(1):- وسائل الشیعہ ،ج14،123
(2):- الکافی ،ج۵، ص۳۲۰
(3):- الکافی ،ج۲، ص ۱۵۹
اور مزید فرمایاالجنة تحت اقدام الامهات ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے
اور فرمایا:اذا دعاک ابواک، فاجب امّک (1)
جب ماں باپ دونوں ایک ساتھ تیںئ بلائیں تو ماں کو مقدّم رکھواور یہ سب ماں کی اپنے گھر والوں پر جان نثاری اور خدمت کا نتیجہ ہے چنانچہ شاعر نے اس مطلب کو اس طرح اپنے اشعار میں سمیٹا ہے:
عمر ایثار کی راہوں میں بسر کرتی ہے خار کو پھول تو ذروں کو گہر کرتی ہے
یعنی ارائش ہر شام و سحر کرتی ہے یہ وہ ہستی ہے جو ویرانے کو گھر کرتی ہے
کتنے صحرا کو بنا ڈالا ہے جنت اس نے کردیا فرد کو دودن میں جماعت اس نے(2)
بغیر مقدمہ کے احادیث اور ان کا ترجمہ بیان کرتا چلوں جنہیں پڑھ کر ہر مسلمان اپنے اندر خوشی اورمسرت کا احساس کرنے لگتا ہے کہ واقعا ہم ایسے رہبر اسلام کے پیروکار ہیں جن سے فقط مہر ومحبت،شفقت، احسان اور نیکی کا درس ملتا ہےبیٹی کی شأن میں فرماتے ہیں:
قَالَ رَسُولُ اللهِ ص خَيْرُ اوْلَادِكُمُ الْبَنَاتُ و یمن المراة ان یکون بکرها جاریة(3)
یعنی بہترین اولاد بیٹی ہے اور عورت کی خوش قدمی کی علامت یہ ہے کہ پہلا فرزند بیٹی ہواسی طرح امام صادق نے فرمایا:
عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ الْبَنَاتُ حَسَنَاتٌ وَ الْبَنُونَ نِعْمَةٌ فَالْحَسَنَاتُ يُثَابُ عَلَيْهَا وَ النِّعْمَةُ يُسْالُ عَنْهَا(4)
"بیٹیاں حسنہ ہیں اور بیٹے نعمت ہیں،حسنات پر ثواب دیاجاتاہے اور نعمتوں پر حساب لیا جاتا ہے"
---------------
(1):- الکافی ،ج۲، ص ۱۵۹
(2):- ڈاکٹر پیام اعظمی، والفجر، تنظیم المکاتب، لکھنؤ،ہندوستان،۱۹۹۸
(3):- مستدرک الوسائل،ج2،ص 615614
(4):- وسائل الشیعہ ،جج15،ص104، من لایحضر،ج۳، ص۴۸۱
ابن عباس پیغمبر اسلام (ص)سے نقل کرتے ہیں کہ اپﷺ نے فرمایا؛ وہ شخص جس کے ہاں لڑکی ہو اورکبھی اس کی اہانت نہ کی ہو اور بیٹے کو اس بیٹی پر ترجیح نہ دی ہو تو خداوند اسے بہشت میں جگہ عطا کریگا
اور فرمایا: کوئی شخص بازار سے بچوّں کے لئے کوئی چیز خریدے اور گھر میں ائے تو سب سے پہلے بچی کو دیدو بعد میں بچےّ کوجس باپ نے بچیوں کو خوش کیا تو اسے خوف خدا میں رونے کا ثواب عطا کریگا، یعنی قرب الٰہی حاصل ہوگا(1)
رسول گرامی اسلام(ص)نے فرمایا:جس شخص نے بھی تین بیٹیوں یا تین بہنوں کا خرچہ برداشت کیا تو اس پر بہشت واجب ہے(2)
جب امیرالمؤمنین (ع)حضرت فاطمہ(س) کی خواسگاوری کے لئے تشریف لائے توباوجود اس کے کہ قران مجید نے صریحتا پیغمبر(ص) کو مؤمنین کی جان ومال میں تصرف کرنے کی مکمل طور پر اجازت دی ہے،فاطمہ(س) کی عظمت کی خاطر اپ سے مشورہ کے لئے تشریف لاتے ہیں اور رضایت طلب کرنے کے بعد ہی علی(ع) کو ہاں میں جواب دیتے ہیںجس سے دور جاہلیت میں زندگی گزارنے والوں پر واضح ہوجاتا ہے کہ عورتوں کو ان کا حق کس طرح دیا جاتا ہےاور یہ بھی بتا دیا جاتا ہےکہ مشترک زندگی کا اغاز اور ازدواج کے لئے اولین شرط لڑکی کی رضایت ہےجس کے بغیر والدین اپنی بیٹی کو شوہر کے ہاں نہیں بھیج سکتے
جس قدر قدیم دور میں حتیٰ موجودہ دور میں بھی زیادہ تر ظلم وستم بیویوں پر ہوتا تھا اور ہوتا ہے اسی قدر اسلام نے بھی ان سے متعلق شدید ترین دستورات اور مجازات بھی وضع کیا ہے جو دین مقدس اسلام کی طرف سے بیویوں پر خاص عنایت ہےچنانچہ قران مجید نے حکم دیا:
--------------
(1):- محمد خاتم پیغمبران،ج1،ص183
(2):- ائین ہمسر داری،ص504
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ(1) ، هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَانتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ(2)
یعنی عورتوں کیساتھ نیکی او مہربانی کیا کرو، وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہوپیغمبر اسلام(ص)نے فرمایا:
اقربکم منّی مجلسا یوم القیامةخیرکم لاهله(3)
قیامت کےدن میرے نزدیک تم میں سے سب سے قریب وہ ہو گا جواپنےعیال پر زیادہ مہربان ہوگااور فرمایا:من اخلاق الانبیاء حبّ النساء (4) یعنی عورت سے محبت اخلاق انبیا (ع) میں سے ہے
احسن الناس ایماناالطفم باهله وانا الطفکم باهلي یعنی ایمان کے لحاظ سے بہترین شخص وہی ہے جو اپنی اہلیہ کی نسبت زیادہ مہربان ہومیمونہ ہمسر پیغمبر اسلام(ص) فرماتی ہیں:میں نے رسول خدا (ص)سے سنا کہ اپ(ص) فرماتے تھے میری امّت میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کیساتھ بہترین سلوک کرے اور بہترین عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کیساتھ بہترین گفتار و کردار ادا کرے اور جب بھی کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسے ہر دن اور رات ہزار شہیدوں کا ثواب ملتا ہےاور جو شخص اپنی بیوی کیساتھ نیک سلوک کرے تو اسے بھی ہر دن سو شہیدوں کا ثواب ملتاہےعمر نے سوال کیا: یا رسول اللہ (ص)مرد اور عورت میں اتنا فرق کیوں؟ تو اپ نے فرمایا:جان لو خدا کے نزدیک عورتوں کا اجر مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہےخدا کی قسم شوہر کا اپنی بیوی پر ستم کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہےاے لوگو! دو ضعیفوں کی نسبت خدا کا خوف کرو: ایک یتیم دوسری بیویخدا تعالیٰ قیامت کے دن تم سے پوچھے گا جو بھی ان دونوں کیساتھ نیکی کریگا،رحمت الٰہی اسے نصیب ہوگی اور جو بھی ان دونوں کیساتھ برائی کرے گا خدا کا غیظ و غضب اس پر نازل ہوگا(5)
--------------
(1):- نساء،۱۹
(2):- نساء ۱۸۷
(3):- فروع کافی ،ج 5،ص320
(4):- فروع کافی ،ج5،ص320
(5):- سیری در زندگانی حضرت زہرا،37
اگے فرماتے ہیں:
خيركم خيركم لاهله و انا خيركم لاهلي ما اكرم النّساء الّا كريم و لا اهانهنّ الّا لئيم(1)
یعنی کریم النفس ہے وہ انسان جو عورتوں کا احترام کرے اور پست فطرت ہے وہ انسان جو ان کی اہانت کرے
فرمایا: مجھے جبرئیل نے عورتوں کے بارے میں اتنی سفارش کی کہ میں نے گمان کیا کہ ان کے لئے "اف" تک کہنا بھی جائز نہیں ہوگاجبرئیل نے کہا: یا محمد ﷺ! عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰٰ سے ڈروکیونکہ وہ لوگ تمہارے ہاتھوں کنیزیں ہیں جنہیں تم نے خدا تعالیٰٰ کی طرف سے بطور امانت تحویل میں لئے ہیں خدا کے کلام کے ذریعے اور محمد ابن عبد اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے ذریعے ان کو اپنی زوجیت میں لئے ہیں پس تم پر ان کے لئے کچھ حقوق ہیں جن کے ذریعے تم ان کے نفوس پر مالک بنے ہواور تمہارے ساتھ زندگی گزارتی ہیں پس ان پر رحم کیا کرو اور ان کے حقوق دیا کروپیغمبر اسلام (ص)بستر احتضار پر ارام فرما رہے ہیں اور اہم ترین اور حساس ترین مطالب کو مختصر اور سلیس الفاظ میں اپنی امت کے لئے بیان فرما رہے ہیں: من جملہ عورتوں کے بارے میں ان کے شوہروں سے مخاطب ہوکر فرما رہے ہیں:
اللهَ اللهَ فِي النِّسَاءِ وَ فِيمَا مَلَكَتْ ايْمَانُكُمْ فَانَّ اخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ نَبِيُّكُمْ ع انْ قَالَ اوصِيكُمْ بِالضَّعِيفَيْنِ النِّسَاءِ وَ مَا مَلَكَتْ ايْمَانُكُم(2)
دوسری جگہ فرمایا:الله الله في النساء انهن عوان بين ايکديکم اخذتموهن بامانة الله قال ها حتي تلجلج لسانه و انقطع کلامه (3)
عورتوں کے بارے میں خدا کو فراموش نہیں کرنا ان کیساتھ نیکی کرو،ان کے حقوق ادا کرو،ظلم نہ کرو یہ تمہارے گھروں میں زندگی گزاررہی ہیں اور تمہاری ہی کفالت میں ہیںاور خدا کیساتھ تو نے وعدہ کیا ہے کہ ان کیساتھ نیکی،عدالت،مہرومحبت سے پیش
--------------
(1):-نهج الفص احة (مجموعه كلم ات قص ار حضرت رسول اكرم ،ص472
(2):-الك افي،ج۷،ص51،ب اب صدق ات النبي و ف اطمة و ال ائمة
(3):- تحف العقول،ص۳۰
ائیں گے کیونکہ فرمان خداوندی بھی ہے کہ ان وعدوں کو نہ بھلاؤیہ کلمات زبان مبارک پر جاری رکھتے ہوئے اپ کی روح مبارک بدن عنصری سے پرواز کر گیا اور ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئےانا لله وانا الیه راجعون امیر المؤمنین (ع)نے بھی پیغمبر اسلام ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئےاپنی اخری وصیت میں عورت کے بارے میں سفارش کی:
قَالَ ع اللهَ اللهَ فِي النِّسَاءِ وَ فِيمَا مَلَكَتْ ايْمَانُكُمْ فَانَّ اخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ نَبِيُّكُمْ انْ قَالَ اوصِيكُمْ بِالضَّعِيفَيْنِ النِّسَاءِ وَ مَا مَلَكَتْ ايْمَانُكُمْ(1)
" اللہ اللہ عورتوں اور کنیزوں اور غلاموں کے بارے میں خدا کو فراموش نہ کروان کے ساتھ نیکی کرنا کیونکہ تمارے نبی پاک ﷺ نے اپنی اخری وصیت میں یہی تاکید کی تھی کہ دوضعیفوں (عورت اور غلام ) کا خیال رکھا جائے"
اپ ہی دوسری جگہ فرماتے ہیں:
فَانَّ الْمَرْاةَ رَيْحَانَةٌ وَ لَيْسَتْ بِقَهْرَمَانَة(2)
"عورت پھول ہے نہ پہلوان" پس اس کیساتھ پھولوں کی سی رفتار کیا کرو"
جہاں خواتین کے لئے کام کرنا مناسب نہیں
اگرچہ اسلام نے عورت کو مکمل ازادی دی ہے وہ کمانا چاہے تو کما سکتی ہے،یا تجارت کرنا چاہے تو تجارت کر سکتی ہےلیکن انہی کی مصلحت کے پیش نظر ان کو کچھ جگہوں پر کام کرنے سے منع کیا گیا ہے:
o جہاں کام اور اشتغال کی وجہ سے خواتین کی شرافت اور کرامت زیر سؤال چلی جائے
o جہاں کام اور اشتغال کی وجہ سے خواتین کی سرپرستی اور سب سے بڑی مسؤلیت مادری پر انچ پڑے
o جہاں شوہر اسے جانے کی اجازت نہ دے
--------------
(1):- مستدرک الوسائل ،ج۱۴، ص ۲۵۴
(2):- نہج البلاغہ نامہ 31
o جہاں کام اور اشتغال کا ماحول خواتین کے لئے مناسب اور مفید نہ ہو
o ایسا بھاری کام جو ان کی جسمانی سلامتی کے لئے خطرہ ہو
o اگر خود عورت کے لئے مالی ضرورت نہ ہو تو کام کرنا مناسب نہیں
امام خمینی (رح)نے فرمایا: البتہ دفتروں میں کام کرنا ممنوع نہیں اس شرط کیساتھ کہ حجاب اسلامی کا خیال رکھا جائے
دین مقدس اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان اجتماعی روابط کے لئے شرط رکھی ہے کہ کسی قسم کی ہیجان انگیزی پیدا نہ ہواگر وہ ہر قسم کی جنسی میلانات سے دور ہو کر اپنی عفت و کرامت اور تقویٰ کی حفاظت کرتے ہوئے اجتماع میں فعالیت کرسکتی ہے تو دین اسلام مانع نہیں بن سکتا
1. روابط اجتماعی میں حجاب کا خیال واجب ہے
نامحرموں پر نگاہ کرنا حرام ہے قران مجید نے بھی سختی سے منع کرتےہوئے فرمایا:
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ ابْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ ازْكَ ی لَهُمْ انَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ ابْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ (1)
"اپ مؤمنین سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو بچا کر رکھیں یہ ان کے لئے پاکیزگی کا باعث ہے اللہ کو ان کے اعمال کا یقینا خوب علم ہے اور مؤمنہ عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو بچائے رکھیں"
--------------
(1):- نور ۳۰۳۱
پیغمبر اسلام (ص)نے فرمایا:وَ النَّظَرَ فَانَّهَا سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ ابْلِيس (1)
"حرام نگاہ شیطانی تیروں میں سے زہر الود تیر ہے"
کیونکہ یہی نگاہ جنسی غریزہ کو بیدار کرنے کا سبب بنتی ہےچنانچہ اس کی مثال سورہ یوسف میں ملتی ہے:
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ ارْسَلَتْ الَيْهِنَّ وَاعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَا وَاتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَايْنَهُ اكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ ايْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّهِ مَا هَذَا بَشَرًا انْ هَذَا الا مَلَكٌ كَرِيمٌ (2)
" جب زلیخا نے مصر کی عورتوں کی ملامت اور مذمت سنی تو انہیں دعوت دی اور ایک عظیم محفل سجائی، ہر ایک کے لئے ایک ایک تکیہ گاہ بھی فراہم کیا ساتھ ہی ہر ایک کے ہاتھ میں چھری بھی تھما دی اور پھل بھیاس کے بعد حضرت یوسف (ع)کو سجھا کر اس مجلس میں انے کا حکم دیاجب مصری عورتوں نے یوسف (ع)کو دیکھا تو اپ کاحسن وجمال دیکھ کر حیرانگی کے عالم میں تکبیر کہنے لگیں اور ترنج (پھل) کے بجائے اپنے ہاتھوں کو زخمی کردیا اور کہنے لگیں:تبارک اللہ ! یہ انسان نہیں بلکہ یہ حسین وجمیل فرشتہ ہے"جو چیز اس ایہ شریفہ میں حیران کن ہے وہ مصری عورتوں کا حضرت یوسف (ع)کو دیکھ کر اپنے ہاتھوں کو زخمی کرناہےاور ایک ہی نظر سے اپنے کنٹرول سے باہر ہوکر انسانی روح وروانی سلامت سے ہاتھ دھو بیٹھیں اس وقت زلیخا بھی فاتحانہ انداز میں مصری خواتین سے کہنے لگی:
قالَتْ فَذلِكُنَّ الَّذي لُمْتُنَّني فيهِ وَ لَقَدْ اوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ
یہ ہے وہ غلام جس کی محبت میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں
2. خواتین اپنی زینتوں کو روابط اجتماعی میں نامحرموں سے چھپائے رکھیں:
وَ لا يُبْدينَ زينَتَهُنَّ الا ما ظَهَرَ مِنْها وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَل ی جُيُوبِهِن (3)
--------------
(1):- نہج الفصاحہ3115
(2):- یوسف ۳۱
(3):- نور ۳۱
کیونکہ یہ زینتیں اور زیورات بھی نامحرموں کو عورت کی طرف جلب کرنے کا سبب بنتی ہیں اور تلذذ ایجاد کرتی ہیں اس لئے حرام قراردیا گیااسی لئے فقہاء و مجتہدین کا فتوی ہے کہ عورت کا چررہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ سارا بدن زینت ہے جس کا نامحرموں کے سامنے ظاہر کرنا حرام ہے
3. بات کرنے کا اہنگ ہیجان انگیز نہ ہو چنانچہ قران کا حکم ہے:
فلاتخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبه مرض (1)
اگاہ ہوجاؤ مردوں کے ساتھ نرم اور نازک لہجے میں بات نہ کروکہیں ایسا نہ ہو کہ بیمار دل والے تیری طمع میں نہ پڑجائیں
4. نامحرموں کیساتھ ہنسی مذاق نہ کرو
پیغمبر اسلام(ص)نے فرمایا:
مَنْ فَاكَهَ امْرَاةً لَا يَمْلِكُهَا حُبِسَ بِكُلِّ كَلِمَةٍ كَلَّمَهَا فِي الدُّنْيَا الْفَ عَامٍ فِي النَّار(2)
جس نے نامحرم عورت کیساتھ مذاق کیا خداوند اسے ہر ایک کلمے کے مقابلے میں ہزارسال جہنم میں قید کریگا
5. عورتیں تنگ اور نازک لباس نہ پہنیں
اور مغربی تہذیب کی یلغار کے لئے زمینہ فراہم نہ کریں اور حق یہ ہے کہ ایک مسلمان خاتون اپنی حقیقی اور خدائی حیثیت اور شخصیت کو ان محرمات سے دور رہ کر برقرار رکھے اور اجتماعی و خاندانی بقا کی تلاش کرتی رہےاب ہمیں خود مطالعہ کرنا چاہئے کہ کون سی عورت جو حجاب اسلامی کی پابند ہے،بے عفتی اور ہتک عزت کا شکار ہوتی ہے یا بے پردہ عورت؟ کون سی عورت جنسی فساد میں مبتلا اور غیروں کے ہوا وہوس کا شکار ہوتی ہے؟ یقینا بے پردہ عورت ہی ان مصیبتوں میں مبتلا ہوتی ہےاسی لئے اسلام نے حجاب پر زور دیکر عورتوں کی شخصیت،حرمت اور عزت بچانے کا اہتمام کیا ہے
---------------
(1):- احزاب ۳۲
(2):- ثواب الاعمال و عقاب الاعمال النص 283 عقاب مجمع عقوبات الاعمال ، ص : 280
گذشتہ مباحث اور انے والے مباحث سے کلی طور پر جو نتیجہ نکالا گیاہے، ان کو ضرب الامثال کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے اور اخر میں نتیجہ نکالیں گے کہ اسلام نے جو مرتبہ اور منزلت عورت کو دی ہے وہ کسی اور معاشرہ یا مکتب اور مذہب نے نہیں دی ہے چنانچہ اسلام کہتا ہے:
o عورت شوہر کے ہاتھوں خدا کی امانت ہے
o عورت میاں کے لئے اور شوہر بیوی کے لئے لباس ہے
o عورت ریحانہ یعنی پھول ہے نہ پہلوان
o عورت وہ بچھو ہے جس کے کاٹنے میں بھی لذت ملتی ہے
o عورت ایک ایسی بلا ہے جس سے فرار بھی ممکن نہیں
o عورت ٹیڑی ہڈی کی طرح ہے جسے سیدھی کرنا چاہے تو وہ ٹوٹ جاتی ہے
o وہ عورت اچھی ہے جو رفتار میں مغرور، بخیل اور ڈرپوک ہو
o فقط عقل مند عورتوں سے مشورہ کرو
o مرد کی بیجا غیرت دکھانے سے عورت برائی کی طرف جاتی ہے
< ان ضرب المثالوں میں سے بعض حقائق پر مشتمل ہیں لیکن بعض بے ہودہ ہیں
< ان ضرب المثال میں سے بعض قابل تخصیص ہیں
< بعض مثالوں جیسے عورت منفور ترین مخلوق وکو اس وقت کے یورپی ممالک قبول نہیں کرتے ہیں، بلکہ یہ یورپی انقلاب سے پہلے کی بات ہے
< ان مثالوں میں اکثر تناقض پایا جاتا ہے
< اکثر مثالوں کو دین مبین اسلام قبول نہیں کرتا
< کوئی بھی ضرب المثل اسلامی ضرب المثل (امانت الٰہی) کی عظمت کو نہیں پہنچتا
لیکن بعض دفعہ ناشناس مسلمان بھی عورت کو اس قدر ان کے مقام اور مرتبہ سے گراکر حیوانوں کے صف میں شمار کرنے لگتے ہیں
چنانچہ ابوہریرہ کہتا ہے:«يقطع الصلاة المراة و الحمار و الكلب» (1)
کہ اگر نماز گزار کے سامنے سے عورت،گدھا اور کتا گذرے تو اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہےاگے کہتا ہے :
و الظُعن يمرُّون بين يديه: المراة و الحمار و البعير(2)
اگر سامنے کوئی چیز رکھے تو عورت،گدھا،اور اونٹ کے گذرنے سے نماز نہیں ٹوٹتیایک اور جگہ کہا:
يقطع الصلاة الكلب الاسود و الحمار و المراة(3)
عورت،گدھا اور کالا کتا گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہےچنانچہ جناب عائشہ نے کہا:
جعلتمونا بمنزلة الكلب و الحمار»(4)
ہمیں تم لوگوں نےگدھا اور کتے کے لائن میں کھڑی کی؟!
----------------
(1):-صحيح مسلم 1: 145 ـ المحلی 4: 8
(2):-السنن الكبری 3: ۱۶۶ و 3554 ـ مصنف ابن ابي شيبه 1: 315
(3):-المحلی 4: 11
(4):-مصنف ابن ابی شيبه 1: 315
عکرمہ نے کہا:عورت،کتا اور گدھا کے علاوہ یہودی،نصرانی اور مجوسی کے گذرنے سے بھی نماز ٹوٹ جاتی ہے
عن عكرمة يقطع الصلاة الكلب و المراة و الخنزير و الحمار و اليهودی و النصرانی و المجوسی(1)
یہ مثالیں اس لئے نقل کی گئی ہیں تا کہ ان سے عبرت حاصل کریں :
وَتِلْكَ الْامْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ(2)
--------------
(1):- ہمان
(2):- سورہ حشر، ۲۱
تیسری فصل
خواتین کے حقوق
قران مجید نے مرد وعورت کو ابتدائی خلقت سے لے کر بہشت میں سکونت اختیار کرنے تک برابر اور یکسان قرار دیا ہے اور مؤمنہ عورتوں کو عالم بشریت کے لئے بعنوان نمونہ پیش کیا ہے: حضرت اسیہ(س) (فرعون کی بیوی) اور حضرت مریم(س) کو تمام مؤمنین کے لئے نمونہ قرار دیا قران نے رحمت،مودت اور محبت کو زوجیت کا فلسفہ قرار دیا اور والدین کیساتھ احسان کرنے کو خدا کی عبادت کرنے کے برابر سمجھا اجتماعی امور میں بھی عورتوں کی مشارکت کو یاد کرتے ہوئے ملکۂ سبا کا عاقلانہ فیصلہ اور حضرت شعیب(ع) کی بیٹیوں کی کہانی کو بیان کیا ہےجس میں ان کی شرم وحیا کو ان کی نیک رفتار و کردار کی نشانی کے طور پر دنیا کے لئے پیش کیا ہے
اسلام نے خواتین کو مکمل طور پر اپنے حقوق دیے ہیں جیسے حق حیات،حق تعلیم وتعلم،حق مالکیت،حق ازادی، حق انتخاب، حق معاملہ وتجارت،حق تصرف،حق نفقہ،حق ارث ومہر و
اسلام نے مردوں سے زیادہ خواتین کے حقوق کا انتظام کیا ہے
اسلامی جمہوری ایران کے قانون اساسی میں عورت کے حقوق کو یوں مشخص کیا گیا ہے:
o عورتوں کے مادی اور معنوی حقوق کا احیاء اور ان کی شخصیت کو رشدونکھار پیدا کرنے کے لئے مناسب زمینہ فراہم کرنا
o ماؤں کی حمایت،خصوصا حاملگی اور بچوّں کی حضانت کے دوران ان کا خاص خیال رکھنااور بچوّں کی سرپرستی کے حوالے سے مشکلات کا دفع کرنا
o خاندان کی بقا کے لئے صالح عدالت گاہ کا انعقاد کرنا
o بیواؤں اور عمر رسیدہ عورتوں اور بے سرپرستوں کے لئے انشورنس کا قیام
امام خمینی(رح) امریکی لاس انجلس ٹائمزمفسر کو 1357ش میں یوں انٹرویو دے رہے ہیں:
س: عورتوں کے اجتماعی مسائل جیسے، یونیورسٹیز میں کام کرنا اورتعلیم حاصل کرنا اپکے نزدیک کیسا ہے؟
اپ نے جواب دیا: خواتین، اسلامی معاشرے میں ازاد ہیںاور انہیں یونیورسٹیز یا دوسرے سرکاری اداروں میں کام کرنے سے کبھی نہیں روکا گیا، جس چیز سے روکا جاسکتا ہے وہ اخلاقی مفاسد ہیں جو مرد اور عورت دونوں پر حرام ہیں(1)
اسلام نے نہ صرف عورتوں کو کام کرنے سےنہیں روکا بلکہ بعض مقام پر ان کی موجودگی کو واجب کفائی قراردیا ہےجیسے ڈاکٹرنی اور جراح عورت کا ہسپتال میں ہونا،اسی طرح استانی کا بچیوں کے سکول میں ہونا، خواتین کے لئے درزی عورت کا ہونا یا ایسے موارد جہاں خود عورتوں کے ساتھ لین دین ہو، وہاں خواتین کی فعالیت اور موجودگی کو اسلام واجب کفائی سمجھتا ہے
فرہنگ اسلام میں جیسے تعلیم و تربیت، ہنر وغیرہ کے حصول میں بھی خواتین کو ازادی دی گئی ہےخصوصاتعلیم وتربیت کے میدان میں تو اسلام نے اسی صراحت کیساتھ عورتوں پر بھی حصول تعلیم کو واجب قرار دیا ہے جس طرح مردوں پر واجب قرار دیا ہےقال:قَالَ النَّبِيُّ ص طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَی كُلِّ مُسْلِمٍ وَ مُسْلِمَةٍ ايْ عِلْمِ التَّقْوَی وَ الْيَقِينِ (2) اسلام نے اس مسئلہ پر اس قدر زور دیا ہے کہ شوہربھی بیوی کو تعلیم وتعلم سے نہیں روک سکتا اگرچہ دوسرے موارد میں
--------------
(1):- صحیفہ نور،ج4،ص39
(2):-محجة البیض اء،ج1،ص18
شوہر کی اجازت کے بغیر وہ گھر سے نہیں نکل سکتیچناچہ فقہاء نے بھی فتوے دیے ہیں:یحرم علی الزوج منع الزوجة من الخروج للتعلم (1) حرام ہے مرد پر کہ وہ بیوی کو علم سیکھنے کے لئے گھرسے باہر جانے نہ دے
اسلام نے مرد وعورت دونوں کو ان کے جو مشترکہ سیاسی حقوق دلائےہیں،ان میں سے کچھ حقوق یہ ہیں:حق بیعت، حق انتخاب، حق شراکت، حق رائے دہی، حق دفاع وغیرہ
اسلام نے چودہ سو سال پہلے خواتین کی سیاسی مسئولیت اور استقلال کا اعلان کیا ہے اور اجازت دی ہے کہ اپنی تقدیر بدلنے،ملکی سالمیت کو معین کرنے،رہبریت کا انتخاب کرنے کے لئے پیغمبر اسلام(ص)کی بیعت کرےاور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ابتداے اسلام میں خواتین نے پیغمبر اسلام (ص)کے ہاتھوں بیعت کی ہیں چنانچہ قران فرمارہاہے:
يَا ايُّهَا النَّبِيُّ اذَا جَاءكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَی ان لَّا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ اوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ ايْدِيهِنَّ وَارْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللهَ انَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ(2) "پیغمبر اگرایمان لانے والی عورتیں اپ کے پاس اس امر پر بیعت کرنے کے لئے ائیں کہ کسی کو خدا کا شریک نہیں بنائیں گیاور چوری نہیں کریں گیزنا نہیں کریں گیاولاد کو قتل نہیں کریں گیاور اپنے ہاتھ پاؤں کے سامنے سے کوئی بہتان (لڑکا) لے کر نہیں ائیں گیاور کسی نیکی میں اپ کی مخالفت نہیں کریں گیتو اپ ان سے بیعت کا معاملہ کر لیں اور ان کے حق میں استغفار کریں کہ خد ابڑا بخشنے والا اور مہربان ہے"یعنی پیغمبر اسلام(ص) خدا کی طرف سے مأمور تھے کہ مردوں کیساتھ ساتھ عورتوں سے بھی بیعت لیں
--------------
(1):- جواہر الکلام،کتاب النکاح
(2):- الممتحنہ ۱۲
پیغمبر گرامی(ص) کی وفات کے بعد خلافت علی(ع) کی بیعت لینے میں فاطمہؑ کی دن رات کوشش اور مہاجرین و انصار کے دروازوں پر حسنین (ع) کے ہاتھوں کو تھام کر جانا اپ کی سیاسی فعالیت کی عکاسی کرتا ہے
واقعہ فدک میں اپ کی حق طلبی اور مقام ولایت کی حمایت میں مصیبتیں برداشت کرنا، یہاں تک کہ اپ کا محسن شہید ہونا اور اپ کا مجروح ہونا اور شاادت پانایہ سب اپ کی سیاسی فعالیت کی علامات ہیں
اپنی سیاسی بصیرت اور علم وحکمت کے ذریعے ایک مفصّل خطبہ مسجد نبوی میں ابوبکر ، عمر اور دیگر مہاجرین و انصار کی موجودگی میں دینا کہ جس سے مسجد کی در ودیوار بھی ہلنے لگیاپ کی معاشرے میں سیاسی فعالیت کی نشاندہی کرتی ہے
اگر مختصر جملے میں کہنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں: اسلامی حکومت و خلافت کے مسئلے کو لوگوں کے سامنے بیان کرنے والی اپؑ ہی کی ذات مبارکہ تھیں
اسی طرح جنگ صفین ، نہروان اور جمل میں بھی امام حسن اور امام علی(ع) کی شکل میں اپ کا کردار نمایاں ہوتا ہے
کربلا میں سید شہداءؑ کی شکل میں اپ ہی کا فاتحانہ کردار نظر اتا ہےکوفہ و شام میں دیکھ لو حضرت زینبؑ کی صورت میں اپ کا حکیمانہ نقش نظراتا ہے خود پیغمبر اسلام (ص)کی سیرت میں بھی اپ کا کردار متجلّی ہورہا ہے، پیغمبر اسلام(ص) فرماتے ہیں:فاطمة امّ ابیہاماں سے مراد جنم دینے والی نہیں بلکہ خاندان رسالت کی جڑ،اساس اور محور اصلی فاطمہ(س) کی ذات ہے
جب کفار قریش پیغمبر اسلام (ص) کو بے اولاد ہونے کا طعنہ دیتے تھے تو اپ کی غمگین اور اداس دل کی تسلی کی خاطر خداوند متعال نے اپ کو فاطمہ(س) کی شکل میں کوثر عطا کیا جن کے ذریعے پیغمبر اسلام (ص) کی اولاد تا قیامت باقی رہیں
حدیث کساء نے تو اپ کی محوریت پر چار چاند لگا دی ہے جب سوال ہوا: یہ پنجتن کون لوگ ہیں؟ تو جواب ایا:
هم فاطمة و ابوها وبعلها وبنوها
اسی طرح فاطمہ زہرا(س) کی چاہنے والی خواتین نے بھی اپ کی پیروی کرتے ہوئے ولایت فقیہ کی حکومت کے قیام اور اہلبیت
اطہار(ع) کے فرامین کو معاشرے میں عام کرنے کے لئے بڑا اہم کردار ادا کیا ہےجنہوں نے اپنے عزیزوں اور جگر پاروں کو میدان جنگ میں بیجنے سے کبھی گریز نہیں کیا، کیونکہ انہوں نے درسگاہ حضرت زہرا (س)سے سبق حاصل کیا تھا اور جس نے بھی اپ کی پیروی کی کامیاب ہوا
انقلاب اسلامی ایران میں دیکھ لیں، خمینی بت شکن(رح) کی شکل میں اپ کا کردار نظر اتا ہے کیونکہ جس نے سب سے پہلے ولایت اور رہبری کی حمایت کی وہ فاطمہ (س)کی ذات تھیںاور امام خمینی کا بھی یہی نعرہ تھا کہ ولایت فقیہ اور اہل بیت کی حکومت قائم ہونی چاہئے اور بفضل الٰہی قائم ہوئیخدا تعالیٰ اس انقلاب کو انقلاب امام زمان(عج) سے ملا دے اور ہم سب کو ان کے اعوان و انصار میں شمار فرما یےاور انہی کی رکاب میں شہادت نصیب فرمایےامین
امام خمینی فرماتے ہیں: خواتین کو بھی چاہئے کہ ملک کی اور اپنی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ادا کریںاسلامی قوانین مرد وعورت دونوں کے مفاد میں ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ خواتین بھی انسانیت کے عظیم مرتبہ پر فائزہوںاپ فرماتے ہیں:خواتین ہمارے انقلاب اور تحریک کی رہنما ہیں اور ہم ان کے ساتھ ساتھ ہیںاور میں خواتین کی رہبری کو قبول کرتا ہوں(1)
رہبر معظم حضرت ایةاللہ خامنہ ای(مدظلہ) فرماتے ہیں: ایرانی قوم اور انقلاب اسلامی کی ازادی اور کامیابی میں خواتین کا نمایاں کردار ہےاگر خواتین شریک نہ ہوتیں تو انقلاب اسلامی اس قدر کامیاب نہ ہوتا، یا اصلا کامیاب نہ ہوتا یا بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا(2)
--------------
(1):- صحیفہ نور،ج6،ص85
(2):- روزنامہ قدس، 27 شھریور 1371ش
اسلام نے جس قدر مردوں کو اپنی دولت اور ثروت میں حق تصرف اور مالک ہونے کی مکمل اجازت دی ہے اسی طرح خواتین کو بھی اجازت دی ہےچنانچہ قران مجید میں صراحتا فرمایا ہے:
لِلرِّجالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَ لِلنِّساءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْن(1)
شوہر یا کسی اورکوحق تصرف نہیں اور نہ یہ لوگ عورت کو اپنے مال میں تصرف کرنے سے روک سکتے ہیں:
لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ(2)
کیونکہ ملکیت ایک مستقل حق ہے اور ہرمرد وعورت اپنے اموال پر خودحق تصرف رکھتا ہےعورت بھی مشروع اور جائزتجارت اور کسب وکار میں مردوں کی طرح ازاد ہےحتی بعض شعبوں میں جو ان کی استعداد کے لئے مناسب ہیںاور بہتر شرائط بھی موجود ہیں وہاں ان کا ہونا زیادہ بہتر ہے
امام خمینی فرماتے ہیں کہ ملک سازی میں ہماری خواتین کا بڑا کردار رہا ہےجب شاہ ایران کو نکال دیا گیا تو اپنی تقریر میں فرمایا: اے ایران کے خواتین و حضرات!اؤ ہم سب مل کر اس کھنڈر میں تبدیل شدہ ملک کو دوبارہ تعمیر کرتے ہیںجس طرح اپ خواتین،انقلاب اسلامی میں حصہ دار تیںر اسی طرح اس خرابہ کی تعمیر میں بھی حصہ دار بنیں اور مردوں کا ہاتھ بٹائیں(3)
--------------
(1):- نساء ۳۱
(2):- بقرہ ۲۸۶
(3):- صحیفہ نور،ج 11،254
خواتین کی اقتصادی اور مالی حقوق میں سے ایک، حق ارث ہے کہ ظہور اسلام سےقبل دنار کے اکثر ممالک میں عورت اس حق سے محروم تھی حتی عرب جاہلیت میں تو انہیں ارث کے طور پر اپس میں تقسیم کیاکرتے تھے، اسلام نے اکر دور جاہلیت کی ان غلط رسومات کو توڑ کر انہیں باقاعدہ وارث کے طور پرمتعارف کرایاچنانچہ قران مجید کا ارشاد ہے:
لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالاقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاء نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالاقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا(1)
"اور جو مال ماں باپ اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں اس میں مردوں کا ایک حصہ اور (ایسا ہی) جو مال ماں باپ اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں اس میں تھوڑا ہو یا بہت، عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے، یہ حصہ ایک طے شدہ امر ہے"
لیکن بعض اسلام دشمن عناصر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام عورت کو مرد کی نسبت کم ارث دیتا ہےاور یہ اسلام ہے جس نے مرد اور عورت کے حقوق میں مساوات اور برابری کو نظراندازکیا ہے
تو ہم جواب دینگے کہ انہوں نے صرف ایک زاویہ سے نگاہ کی ہےاگردوسرے زاویے سے بھی دیکھتے تو وہ خود سمجھ جاتے کہ خواتین کا جو حصہ نسبتا مردوں سے کم ہے پھر بھی زیادہ ہے! کیونکہ مرد کو جو ارث ملتا ہے وہ خود بیوی بچوّں پر خرچ کرنے کے لئے ہوتا ہےلیکن جو ارث عورت کو ملتا ہے وہ خرچ کرنے کے لئے نہیں بلکہ جمع کرنے کے لئے ہےکیونکہ اسلام نے ان کا نان و نفقہ مردوں کے ذمہ لگا دیا ہےدوسرے الفاظ میں عورتوں کو جو ارث ملتا ہے وہ ان کا جیب خرچ ہےاب اعتراض کرنے والے خود بتائیں کہ کس کا حق اور حصہ زیادہ ہے؟!
--------------
(1):- نساء ۷
چوتھی فصل
اسلام کی نگاہ میں خواتین کی ازادی
جب عورت قبیلہ کے سردار،باپ،بھائی یا دوسرے لوگوں کے ظالمانہ ارادے کے ما تحت ہوتی تھی اور ہر قسم کے حقوق سے بھی محروم تھی، اسلام نے اسے ازادی جیسی نعمت عطا کیاس طرح ہمسر کا انتخاب کرنے، اپنے مال و دولت خرچ کرنے اور اظہار خیال کرنے میں استقلال اور ازادی عطا کی،تاکہ ان کی قدروقیمت پہچان سکےپھر بھی اسلام دشمن عناصر کہتے ہیں: کبھی اسلام نے انہیں مکمل ازادی نہیں دی ہےجیسے شادی کرنے میں باپ یا دادا کی رضایت کو لازمی ٹھہرا کر لڑکیوں کی خودمختاری سلب کی ہےٹھیک ہے اسلام نے باپ یا دادا کی رضایت کو لازمی ٹھہرایا لیکن اس کی حکمت عملی اور فلسفہ پر نگاہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس میں بھی خود لڑکی کے فائدے کا لحاظ رکھا گیاہےکیونکہ لڑکے اور لڑکیاں اپنی جوانی کے دور میں احساسات اور شاعرانہ تخیّلات اور میٹھی خوابوں میں مست ہوتے ہیں،انہیں اس دوران،زندگی کی نشیب وفراز، تلخ یا مٹھاس کا خاص احساس نہیں ہوتا احساسات اور جذبات میں اکر انہیں نفع و نقصان ایک ہی نظر انے لگتا ہےاب اس حالت میں ایک دلسوز، مہربان اور تجربہ کار نگاہ کی ضرورت ہے جو اپنی تجربات کی روشنی میں لڑکی یا لڑکے کی منفعت اور مصلحت کے تحت قدم اٹھائےاگرچہ روایات مختلف ہیں: بعض روایات میں باپ یا دادا کی اجازت کو ضروری سمجھا گیا ہے جیسے: امام صادق (ع)فرماتے ہیں:
عَنِ ابْنِ ابِي يَعْفُورٍ عَنْ ابِي عَبْدِ اللهِ ع قَالَ: لَا تَزَوَّجُ ذَوَاتُ الْابَاءِ مِنَ الْابْكَارِ الَّا بِاذْنِ ابَائِهِنَّ.(1)
امام(ع) نے فرمایا کہ ان باکرہ لڑکیوں سے شادی ان کے اباء و اجداد کی اجازت کے بغیرنہ کرولیکن بعض روایات اس کے برعکس ہیں: امام صادق(ع) سے ہی مروی ہے:
قَالَ ابُو عَبْدِ اللهِ ع لَا بَاسَ بِتَزْوِيجِ الْبِكْرِ اذَا رَضِيَتْ مِنْ غَيْرِ اذْنِ ابِيهَا(2)
--------------
(1):- من لایحضرالفقیہ ،ج3، ص395
(2):- التھذیب،ج5
فرمایا:باکرہ لڑکیوں سے ان کے اباءواجداد کی اجازت بغیر شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں ان دونوں روایات کو اگر جمع کریں تو باپ کی رضایت اور موافقت کو لڑکے یا لڑکی کی رضایت کےساتھ شامل کرکے عقد پڑھ سکتا ہے
تیسری روایت میں ایک شخص نے امام (ع)سے اپنی بیٹی کی شادی کے بارے میں سوال کیا تو امام (ع)نے جواب دیا:
عَنْ صَفْوَانَ قَالَ: اسْتَشَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ ع فِي تَزْوِيجِ ابْنَتِهِ لِابْنِ اخِيهِ فَقَالَ افْعَلْ وَ يَكُونَ ذَلِكَ بِرِضَاهَا فَانَ لَهَا فِي نَفْسِهَا نَصِيبا(1)
فرمایا:تم اسی لڑکے کو اپنی بیٹی کے لئے انتخاب کر جسے تیری لڑکی پسند کرے،اور لڑکی کی مرضی کے خلاف دوسرے کی زوجیت میں نہ دو
ان فرامین کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام میں عورتوں پر کوئی جبر اور قید و بند نہیں بلکہ دین مقدس اسلام نے ان کی مرضی کو ہرچیز پر مقدّم رکھتے ہوئے انہیں مکمل ازادی عطا کی ہے
اسلام میں عورت کی ازادی اور حریت کے پیش نظر اسلامی ممالک میں خواتین کا، ازادی کا نعرہ بلند کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ ہم ان خواتین سے سوال کرتے ہیں کہ: کس حق کے حصول کے لئے نعرہ بلند کرتی ہیں جو تم سے چھین چکا ہے؟ کونسا مشکل ہے جسے اسلام نے حل نہیں کیا ہے؟اگر مسلمان عورتوں کا مقصد یہ ہے کہ انہیں شریک حیات کا انتخاب کا حق نہیں ملا ہے تو اسلام نے ابتداء ہی سے یہ حق عطا کیاہےچنانچہ حضرت خدیجہ(س) کی سوانح حیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جسے شریک حیات انتخاب کرنے کا حق بھی دیا گیا اور اپنے اموال میں پورا پورا تصرف کرنے کا حق بھیاپؑ اسلام میں پہلی خاتون ہیں جنہوں نے اپنے رشتے کے لئے پیغام بھیجااگر مسلمان عورتوں کا مقصد حق طلب العلم فریضة علی کلّ مسلم ومسلمة تعلیم و تعلّم کا مطالبہ ہے تو اسلام نے نہ صرف یہ حق انہیں عطا کیا ہے بلکہ، ان پر بھی واجب قرار دیا ہے
--------------
(1):-عو الي اللئ الي ،ج3،ب اب النك اح ،ص : 280
اگر مسلمان عورتوں کا مقصد قانون اسلامی میں مرد و عورت میں برابری ہے تو اسلام نے یہ حق تمام انسانی گروہوں،خواہ وہ حبشی ہوں یا قرشی، خواہ وہ مرد ہو یا عورت،سب کو برابر اور مساوی دیا ہےاسلام کے اس پیغام کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
اور اگر مسلمان خواتین کا غوغا اور شور وشرابہ کرنے کا مقصد ایک ابرو مندانہ زندگی گزارنا ہے جہاں کوئی اجنبی اس کی طمع نہ کرے، اور ایک شرافت مندانہ خاندان کی تشلب دینا ہے جو بے بندوبار افراد کے شر سے محفوظ رہے تو اسلام نے بہترین طریقے سے اس ماحول کو عورتوں کے لئے فراہم کیا ہے،جو کسی اور مکتب نے فراہم نہیں کیا ہے
لیکن اگر ان کا مقصد بے عفّتی،شہوت رانی،اخلاقی حدود کو پامال کرنا،بے پردہ ہو کر گھر سے نکلنا،محرم نا محرم کی تمیز کئے بغیر لوگوں میں مغربی طرز پر رہن سہن رکھنا ہو اور خاندانی اشیانے کو ویران کرکے نسلوں کو خراب اور بے سرپرست قراردینا ہے تو ہم قبول کرتے ہیں کہ اسلام نے ایسی ازادی عورت کو نہیں دی ہےیہ ازادی تو اسلام میں مردوں کے لئے بھی نہیں دی گئی
اس قسم کی ننگین ازادی کے حصول کے لئے پارلیمنٹ، اسمبلی اور دوسرے سرکاری ادارے بنانے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ کافی ہے کہ شرم وحیا کے پردے کو اتار پھینک دے تاکہ مکمل طور پر بدن برہنہ اور عریان ہو جائےبجائے اس کے کہ ابھی سینہ اور ٹانگین عریان ہیں، اور اس طرح بجاے اس کے کہ رات کی تاریکی میں نامحرموں کے ساتھ رقص اور جنسی خواہشات پوری کرے، اعلانیہ طور پر دن کو ایسا کرے!!!(1)
اس دن کی مناسبت سے 262 1358ش کو خواتین کو اپنے پیغام میں یوں مخاطب ہوا:افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کی خواتین تاریخ بشریت میں دو مرحلے میں مظلوم واقع ہوئی ہیں:
--------------
(1):- حقوق زن در اسلام وجہاں ،ص160
1دور جاہلیت میں کہ جس کی تفصیل گزر گئیاور اسلام نے ان پر بڑا احسان کرکے انہیں اس مظلومیت سے نکالا، کہ جہاں عورت حیوان بلکہ اس سے بھی پست تر سمجھی جاتی تھی
2شاہ سابق رضا شاہ اور ان کے بیٹے کے دور میں ایران میں عورت مظلوم واقع ہوئیاس نعرے کیساتھ کہ عورت کو ازادی دلائیں گے، عورت کو اپنی شرافت اور عزت والی حیثیت سے گرائی گئی اور ان کی ازادی کو ازادی ہی کے نام سے ان سے چھینی گئی
شاہ ایران نے جوان لڑکے اور لڑکیوں کو فاسد کیااور عورت کو ایک کھلونا بنایا حالانکہ عورت نیک اور صالح افراد کی مربّی ہوا کرتی ہےکسی بھی ملک کی سعادت یا شقاوت عورت ہی کے وجود سے وابستہ ہےان باپ بیٹے (شاہ سابق ولاحق) نے خصوصا بیٹے نے جس قدر خواتین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اس قدر مردوں پر نہیں توڑےجوانوں کے لئے فحشاء اور منکرات کے مراکز بنائے گئےازادی اور تمدن کے نام سے مرد و عورت کی ازادی ان سے چھین لی گئی(1)
ہمیں چاہئے کہ اسلام کے حقیقی احکام کو بیان کرتے ہوئے عورتوں کے حقوق اور منزلت عوام پر واضح کریں اور مختلف شخصیات کی غیر اسلامی نظریے اور افکار کو بیان کرنے کی ضرورت نہیںالبتہ مسئلہ بہت ہی پیچیدہ ہے اگر تاریخ کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے خواتین پر دو طریقوں سے ظلم ہوا ہے:
1قدرت مند افراد کی طرف سے، کیونکہ ہر لحاظ سے معاشرہ میں کچھ لوگ طاقتور ہوا کرتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کی خاطر معاشرے میں موجود خواتین کی طرف دستدرازی کرتےہیں، اس لحاظ سے معاشرہ مغربی ہونے یا مشرقی ہونے میں کوئی فرق نہیںاسلامی معاشروں میں بھی ایسی ہی وضعیت پائی جاتی ہے
2عورت کو مال و دولت کے طور پر استعمال کرتے تھےچنانچہ تفصیلی گفتگو گزر گئی اج بھی عورت کے حقوق کے دفاع
-------------
(1):- فاطمہ گل واژہ افرینش،ص67
کے نام پر پہلے سے زیادہ ان پر ظلم ہورہا ہےیورپی ممالک میں جو عورت کے حقوق کا نعرہ لگاتے ہیں اور ان کے لئے قانون وضع کرتے ہیںتو یہ سب کچھ اسلئے ہے کہ عورت کو کارخانوں،ملوں اور دفتروں میں ملازمت دے کر بداخلاقی کی جڑوں کو پھیلایا جائےاور ازادی کا مطلب اس طرح ذہن نشین کرایا جائے کہ زیادہ سے زیادہ عورت اپنی جسمانی نمائش کرےاس کا منہ بولتا ثبوت اپ کو ہر سال مغربی بلکہ مشر قی دنیا میں بھی خوبصورتی کےمقابلے کی شکل میں ملے گا کہ کونسی عورت زیادہ خوبصورت ہے؟ تاکہ دنیا میں سب سے خوبصورت خاتون کہلا سکے
اس طرح ازادی کے نام سے نامشروع اور ناجائز طریقے سے عورتوں اور مردوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعلقات پیدا کرنے کے لئے زمینہ فراہم کرتےہیںجوان لڑکیاں کالجوں اوریونیورسٹز میں اپنے لئے بوائے فرینڈ انتخاب کرتی ہیں،لڑکی کے والدین بھی اس چیز کو معیوب نہیں سمجھتے یہاں تک کہ لڑکی اپنے گھر پر اس بوائے فرینڈ کو ساتھ لاتی ہےاور ماں باپ سے ملاتی ہے اور ماں باپ بھی فاخرانہ انداز میں کہتے ہیں یہ لڑکا ہماری بیٹی کا دوست ہے
اور جان لو یہ سب مغربی فرہنگ ہماری طرف منتقل ہورہی ہےایسے میں ہمیں چاہئے کہ اسلامی افکارلوگوں تک پہنچائے اور بتادے کہ یہ ازادی نہیں بلکہ نفسانی خواہشات کی غلامی ہےاصل ازادی جو دین مقدس اسلام نے عورتوں کو عطا کی ہے وہ یہ ہے کہ ان کو ایسے مطلوب مواقع فراہم کئے جائیں جہاں پر وہ اپنی پوشیدہ استعداد اور صلاحیتوں کو اجاگر کرسکیں تاکہ وہ لوگ بھی مردوں کی طرح کمال انسانیت کے مرتبہ پر فائز ہوں
اسلام نے جس دن عورتوں کے بارے میں خطاب کیا اور اپنی تعالیم اور مطالب کو دنیا کے سامنے پیش کیا تو عورت کو ان دونوں قسم کے مظالم سے نجات مل گئی
اسلام نے عورت پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دی ہے،بلکہ حکم دیا کہ اس سے گھریلوکام بھی نہ لے اور انہیں برا بلا بھی نہ کہےواقعا جاہل معاشرے کے لئے یہ بات قابل تعجب ہے کہ کیوں مردوں کو یہ حق حاصل نہیں؟
اسلام نے قطعی طور پر ان ناجائز نظریہ کو کہ( عورت کو صرف مردوں کے ارام وسکون کے لئے پیدا کیا ہے) باطل قرار دیا اور کہا میاں بیوی کے درمیان حقوق دوطرفہ ہیںجسے باہمی تفاہم اور محبت کیساتھ ادا کریں اسلام نے میاں بیوی کے وظائف کے حدود کو بھی معین کیا ہے جو کاملا مرد و عورت کی طبیعت کے عین مطابق ہے
لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مغرب والوں کی غلط پروپیگنڈوں کی وجہ سے ان اسلامی حدود کاخیال کرنا مسلمان خواتین بھی اپنے لئے ننگ وعارسمجھتی ہیںیہاں تک کہ اخباروں، میگزین اور سنیما گروں اور مجالس ومحافل میں چادر کوکالا کفن کے طور پر تشہیر کرنے لگیڈ ہیںاور بے حجاب اور بے پردہ عورتوں کو متمدن اور ترقی یافتہ سمجھنے لگیو ہیںاسی طرح نیم عریانی کو ازادی کا نام دینے لگیم ہیں ان کے غلط پروپیگنڈے اس قدر مؤثر ہیں کہ عورتیں واقعا حجاب اور چادر کو اپنے لئے اہانت اور عار سمجھنے لگین ہیں جبکہ یہ چادر ان کےلئے موتی کے لئے صدف کی مانند ہے
رہبر معظم انقلاب حضرت ایة اللہ العظمی خامنہ ای(مدظلہ العالی)نے اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے: کہ جب اپ بعنوان صدر بیرون ملک کے دورے پر افریقہ میں پہنچے تو مختلف ممالک کے اخباری نمائندے اپ سے انٹرویو لینے لگے جن میں ایک بے پردہ نوجوان لڑکی بھی تھی اسے کہا گیا کہ دوپٹہ کو صحیح طور پر سر پر رکھےیہ بات ان کے لئے بہت گراں گزریجب مجھ سے خواتین کے بارے میں سوال ہورہاتھا تو یہ خاتون اپنی جگہ سے اٹھی اور مجھ سے دو سوال کی اور رونا شروع کیا اس کی احساسات کو اس قدر ٹھیس لگی تھی کہ کہنے لگی: کیوں اپ نے حکم دیا کہ دوپٹہ سر پر رکھوں؟یہ عورت اسے حقیقتا اپنے لئے بے عزتی اور اہانت سمجھ بٹھی تھیواقعا اگر یہ ان کیساتھ اہانت تھی تو یہ اس پر ظلم ہوالیکن یہ دنیا میں رائج غلط فرہنگ ہے جو عورتوں اور مردوں کے ذہنوں پر سوار ہوچکا ہے(1)
--------------
(1):- حجاب و ازادی،ص24
جبکہ اسلام کا حجاب کو ضروری قرار دینے کا مقصد یہ تھا کہ یہ مسلمان خواتین کی حرمت اور شخصیت کا پاسبان اور محافظ بنے جو اجنبی لوگوں کی مزاحمتوں سے اسے دور رکھے
جب اسلام نے عورت کی شخصیت اور حرمت کو قیمتی گوہر سے تعبیر کیا تو اس کی حفاظت کا انتظام بھی ضروری سمجھااس لئے عورت کو حجاب میں مستور کیا کیونکہ تکوینی اور پیدائشی طور پر عورت میں کشش اور جاذبہ پایا جاتاہےاگر حجاب اور پردہ نہ ہوتو طمع کاروں کا شکار بن سکتی ہےجس طرح بادام اور اخروٹ کے مغز کی حفاظت کے لئے مناسب چھلکے خدا نے خلق کئے اور جواہرات کو سمندر کی تہہ میں رکھا، اسی طرح عورت کو پردے میں رکھ کر تجاوزگروں سے دور رکھنا مقصود تھا
اج اس جدید اور متمدن دور میں خواتین پرظلم و ستم بھی جدید طریقے سے ہورہا ہےجھوٹے نعرے اور دھوکہ کے ذریعے ڈیموکریسی اور خواتین کی ازادی اورحقوق کے نام پر عورتوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیںمختلف ممالک خصوصا یورپی ممالک میں عورت کو اپنا سرمایہ اور مال و دولت کی خرید وفروخت کے لئے پبلسٹی کا وسیلہ قرار دیتے ہیںسوپر مارکٹوں دفتروں، بینکوں، دکانوں، میں عورتوں کو اسی لئے رکھی جاتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں اور خریداروں کو اپنی طرف مائل کرسکیں اور اس طرح شہوت رانی، فحشا اور فلموں میں لا کر زیادہ سے زیادہ روپیہ کمانے کا وسیلہ بنا سکیں اس طرح خاندان کو جو ہر انسان کی تشخص برقرار رکھنے کا ایک شرافت مندانہ وسیلہ تھا، درہم برہم کردیا گیایہاں نمونے کے طور پر کچھ نام نہادترقی یافتہ اور متمدن ممالک کا تذکرہ کریں گے:
اعداد وشمار کے مطابق روس میں پچاس فی صدناجائز بچےّ پیدا ہوتے ہیںعورتیں اپنے بچوّں سے نفرت کرنے لگتی ہیں1980 کے اعداد وشمار کے مطابق ساٹھ ہزارعورتیں شراب کا نشہ کرتی ہیں1990ع کے اعداد وشمار کے مطابق سالانہ تین لاکھ سے پانچ لاکھ خواتین جنسی تجاوزات کا شکار ہوتی ہیں
کچھ سال پہلے کے اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں تین لاکھ لڑکیاں جو اٹھارہ سال سے کم عمر والی ہیں اور ہر تیسری عورت، تجاوز کا شکار ہوتی ہےاور ناجائزجنسی ملاپ کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر ہزاروں عورتیں اور مرد ہر سال لقمۂ اجل بنتے ہیںاس طرح چند سالوں کے دوران اٹھارہ ملین بچے سقط کرکے قتل کردیے گئے(1)
انگلستان نے اعلان کیا کہ ہر ہفتہ پچاس حاملہ لڑکیاں جو چودہ سال سے کمتر عمر والی ہیں،حمل گرادیتی ہیں ایک اعلامیہ کے مطابق ہر تیسری شوہر دار خاتون نے اجنبی مرد کیساتھ دوستی قائم کی ہوئی ہے
جاپان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو پانچ لاکھ فاحشہ عورتوں کی وجہ سے بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہےاقوام متحدہ نے گزارش دی ہے کہ سالانہ دنیا کی اسّی ملین خواتین نہ چاہتے ہوئے حاملہ ہوتی ہیں(2)
ہفتہ وار مجلہ اشپیگل یکم جولائی 1985ع کی ایک گزارش کےمطابق دلالوں کے ذریعے تھائلینڈ کے فقیر دیہاتوں سے دوشیزہ جوان لڑکیوں کو ظاہرا خدمت گزاری لیکن درحقیقت فاحشہ گری کے لئے ایک ہزار مارک میں فروخت کی جاتی ہیں جو بنکاک اور ہانگ کانگ،جاپان اور جرمن کے نائٹ کلبز میں لائی جاتی ہیں بنکاک پولیس کے ایک اعداد وشمار کے مطابق تھائلینڈ سے سولہ ہزار عورتیں اور لڑکیاں دوسرے ممالک میں صادر ہوتی ہیںان میں سے مغربی جرمنی میں تین ہزار درامد ہوتی ہیںجہاں پر قانونی طور پر
--------------
(1):- اخبار جمہوری اسلامی831364
(2):- فقہ و حقوق، ج3، ص18
ایجنسیاں پائی جاتی ہیں جن کا کام فاحشہ عورتوں اور لڑکیوں کو ملک میں وارد کرنا ہےبہت سے لوگ ان ایجنسیوں کے ہاں رجوع کرتے ہیں اور لڑکیوں یا عورتوں کو خریدنے کے بعد انہیں بازاروں میں بیجتے ہیں، تاکہ بدن فروشی کرکے مالک کا اقتصاد بحال کیاجائے
صرف مغربی جرمنی میں دوہزار کمپنیاں موجود ہیں جو عورتوں اور لڑکیوں کو خریداروں کے لئے فراہم کرتی ہیںاور پانچ ہزار سے بارہ ہزار تک عورتیں اور لڑکیاں تیار رکھتی ہیںہر مہینہ میں تین ہزار کے قریب عوتوں اور لڑکیوں کا معاملہ ہوتا ہے(1)
افسوس کا مقام ہے کہ اج بھی ازادی کے نام سے عورتوں کی یہ درد ناک حالت باقی ہے اور خود عورتیں بھی اسے ازادی سمجھ کر بہت خوش ہیں
خداتعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ جناب زینب (س) کی لٹی ہوئی چادر کا واسطہ ہماری ماں بہنوں اور بیٹیوں کو اپنی چادر اور پردے کی حفاظت کرنے کی توفیق اور باپ بیٹوں اور بھائیوں کو غیرت ناموس عطا فرما
امین یا ربّ العالمین
--------------
(1):- حجاب و ازادی، ص137
فہرست منابع
قران کریم
1. ابن ابی الحدید؛شرح نہج البلاغہ،مؤسسہ اسماعیلیاں،قم
2. ابن ابی جمہور، محمد بن زین الدین عوالی اللئالی العزیزیة فی الاحادیث الدینیة ،دار سید الشہداء للنشر،
3. ابن شعبہ، حسن بن علی- جنتی، احمد، قرن 4 تحف العقول / ترجمہ جنتی ناشر: مؤسسہ امیر کبیرتہران
4. ابن ہشام؛ سیرة النبی،صیدا مکتبہ عصریہ، بیروت 1419ھ
5. ابی محمد الحسین؛ التہذیب فی فقہ الامام الشافعی،دارالکتب العلمیہ، بیروت
6. احمدی ؛حبیب اللہ ؛ فاطمہ الگوی زندگی، چ1،قم، 1374ش
7. انجمن اولیاء مربیان؛ مجموعہ مقالات، انجمن ہای کشور، تہران، 1373ش
8. اثار الصادقین،
9. استانہ حضرت معصومہ ؛ فرہنگ کوثر، ش54،سال6،1382ش
10. بہاء الدین خرمشاہی- مسعود انصاری ؛پیام پیامبر,ناشرمنفرد,تہران سال1376
11. بھشتی؛ڈاکٹر احمد ؛ خانوادہ در قران، چ2، دفتر تبلیغات، قم، 1377ش
12. پایندہ، ابو القاسم نہج الفصاحة( مجموعہ کلمات قصار حضرت رسولﷺ)، ناشر دنیای دانش 1363
13. توسیر کانی ؛محمد بن احمد ؛ لئالی الاخبار، مکتبہ محمدیہ، قم، 1300
14. جمعی ازنویسندگان؛شخصیت و حقوق زن در اسلام،جشنوارہ شیخ طوسی،قم،1383
15. حر عاملی؛ وسائل الشیعہ ، مؤسسہ ال البیت، قم،1414ھ
16. ڈاکٹر پیام اعظمی، والفجر، تنظیم المکاتب، لکھنؤ،ہندوستان،۱۹۹۸
17. رضی الدین حسن بن فضل ؛ طبرسی، مکارم الاخلاق، انتشارات شریف رضی قم، 1412
18. سپہری ؛محمد؛ ترجمہ و شرح رسالۃ الحقوق، انتشارات دارالعلم،قم ۱۳۸۰ھ
19. سجادی ؛محمد تقی ؛ سیری کوتاہ درزندگی فاطمہ، انتشارات نبوی، 1374ش
20. سید ابن طاؤس م۶۶۴، ؛اقبال الاقبال، دارالکتب الاسلامیہ،تہران،۱۳۶۷ھ
21. سیدظفر حسن امروھوی؛ تحفۃ الابرار ترجمہ جامع الاخبار،ظفرشمیم پبلیکیشنز ٹرسٹ،ناظم اباد۲ ،کراچی
22. شعیری، محمد بن محمد، جامع الاخبار(للشعیری)، مطبعة حیدریة - نجف، چاپ: اول، بی تا
23. شیخ صدوق محمد بن علی ؛ الخصال، جامعہ مدرسین، قم ۱۴۰۳ھ
24. شیخ صدوق محمد بن علی ؛ من لایحضرہ الفقیہ،بیروت، 1413ھ
25. شیخ طوسی م۴۶۰ھ؛تہذیب الاحکام،دارالکتب الاسلامیہ،تہران،۱۳۶۵
26. شیخ کلینی ؛ یعقوب؛ کافی و فروع کافی ، دارالمکتبہ اسلامیہ،چ3، 1388ھ
27. شیرازی ؛ناصر مکارم ؛ تفسیر نمونہ، قم
28. صادق احسان بخش؛ نقش دین در خانوادہ، چ2، رشت، 1374ش
29. طباطبائی؛ محمد حسین ؛ تفسیر المیزان، جامعہ مدرسین، قم
30. طبرسی؛ رضی الدین ؛ مکارم الاخلاق، منشورات شریف رضی، 1392ھ
31. عبداللہ شبّر ؛ جلاء العیون، مطبعة الحیدریہ، نجف، 1374ھ
32. علی اکبر رشاد؛ دانشنامہ امام علی، فرہنگ اندیشہ اسلامی، تہران، 1380ش
33. علی ثقفی ؛ فاطمہ نور الٰہی،انتشارات ہادی، چ1،1377ش
34. علی شریعتی؛ فاطمہ فاطمہ است، حسینیہ ارشاد، تہران،1350ش
35. فیض کاشانی،محمد محسن؛محجة البیضاء،ترجمہ اسداللہ ناصح،تہران،۱۳۴۶
36. فیض کاشانی؛ وافی، مکتبہ امیرالمؤمنین، اصفہان،115ھ
37. قربانی؛ زین العابدین؛ اسلام و حقوق بشر، نشر فرہنگ اسلامی، 1367ش
38. قزوینی ؛سید کاظم ؛ فاطمہ ولادت تا شہادت، نشر مرتضی 2375ھ
39. کمرہ ای ؛میرزا خلیل ؛ ملکہ اسلام فاطمہ الزہراء ، مؤلف، 1348ش
40. گروہی؛ فقہ و حقوق، جشنوارہ شیخ طوسی، قم،1379ش
41. مجلسی ؛محمد تقی ؛ روضة المتقین؛ بنیاد فرہنگ اسلامی، نیشاپور
42. مجلسی؛ محمد باقر ؛ بحار الانوار، مؤسسہ الوفاء، بیروت لبنان، 1403ھ
43. مجموعہ سخنرانی ؛ حجاب وازادی، سازمان تبلیغات اسلامی
44. مجموعہ قصص و حکایات بہلول عاقل
45. محلاتی ؛ذبیح اللہ؛ ریاحین الشریعہ، دار الکتب اسلامیہ،تہران، 1349
46. محمد حسین نجفی؛ جواہر الکلام، مکتبہ اسلامیہ، تہران،1395ھ
47. مصباح یزدی؛محمدتقی ؛نظریہ حقوق اسلام، مؤسسہ اموزش امام خمینی،قم،1380
48. مصطفوی؛ سید جواد؛ بہشت خانوادہ، دارالفکر، قم، ۱۳۷۷ش
49. مؤسسہ؛ محمد خاتم پیغمبران؛مؤسسہ حسینیہ ارشاد، تہران، 1347ش
50. ناصری؛علی اکبر؛ حقوق اسلامی، شرکت سہامی طبع کتاب، تہران، ۱۳۸۴ھ
51. نجفی یزدی ؛ سید محمد ؛ اخلاق و معاشرت، سازمان تبلیغات اسلامی،قم 1373
52. نراقی،محمد مھدی؛جامع السعادات، ترجمہ کریم فیض ،قائم ال محمد،قم،۱۳۸۸
53. نوری، حسین بن محمد تقی، مستدرک الوسائل ،ج 28، مؤسسة ال البیت ؑ ،قم،چ۱، 1408ق
54. نوری ؛یحی ؛ حقوق زن در اسلام و جہاں،مؤسسہ فراہانی، گیلان، 1343ش
55. نوری طبرسی ؛ میرزا حسین ؛مستدرک الوسائل، مؤسسہ ال البیت،1408ھ
56. واحد خواہران؛ فاطمہ گل واژۂ افرینش، دفتر تبلیغات اسلامیقم، 1368ش
فہرست
کلیات. 3
حقوق کیا ہیں؟ 3
پیدائش حقوق کی وجوہات: 4
حقوق کے ماخذ 5
1:-قران مجید 5
2:-سنت. 6
3:-اجماع. 6
4:-عقل. 6
خاندان کی تعریف.. 8
خاندان کی ضرورت. 9
تشکیل خاندان کے اداب. 10
خاندان تشکیل دینے کے تین اصول. 12
شوہر اور بیوی کا باہمی عشق و محبت. 12
خاندان میں مرد کا احساس ذمہ داری. 13
دوام زندگی اور اس کی حفاظت. 14
ایہ شریفہ میں مودت سے کیا مراد ہے ؟ 15
پہلی فصل. 16
والدین پر بچوّں کی ذمہ داریاں. 16
اولاد کی تعریف.. 16
اولاد صالح باقیات الصالحات ہیں. 19
تربیت اولاد کے لئے زمینہ سازی. 19
پیدائش سے پہلے 20
اولاد کے لئےباایمان ماں کاانتخاب. 20
دلہن باعث خیر و برکت. 20
دلہن کچھ چیزوں سے پرہیز کرے.. 21
اداب مباشرت. 22
مہینے کی تاریخوں کا خیال رکھے: 22
بعد از ظہر مباشرت ممنوع: 22
مباشرت کے وقت باتیں کرنا ممنوع. 23
شرم گاہ کو دیکھنا ممنوع: 23
اجنبی عورت کا خیال ممنوع. 23
جنابت کی حالت میں قران پڑھنا ممنوع. 23
میاں بیوی الگ تولیہ رکھے: 24
کھڑے ہوکر مباشرت ممنوع. 24
شب ضحی کو مباشرت نہ کرو 25
مضطرب حالت میں نہ ہو 25
ہم فکراور ہم خیال بیوی. 26
بچےّ کے لئے باایمان ماں کاانتخاب. 26
پیدائش کے بعد 27
کانوں میں اذان واقامت. 27
دودھ کی تأثیر 29
بچےّ اور کھیل کی ضرورت. 29
پاک اور حلال غذا کی تأثیر 31
بچےّ کی کفالت. 32
بچوّں کا احترام 32
امام حسن مجتبیٰ(ع)اور بچوّں کا احترام 33
امام زین العابدین (ع)اور بچوّں کا احترام 33
علی (ع)اور یتیم بچےّ 33
ایک یتیم کی کفالت کاثواب. 34
بچوّں سے محبت. 34
بچوّں کو ا حترام کی یقین دہانی 35
بچوّں سے مہرومحبت کا اظہار 35
فاطمہ(س) کا بچوّں سے اظہار محبت. 36
بچوّں سے اظہار محبت کا ثواب. 37
بچوّں کی تحقیر، ضد بازی کا سبب. 37
بچوّں کی مختلف استعدادوں پر توجہ 38
تشویق کرنے کا حیرت انگیز نتیجہ 39
بچوّں کے درمیان عادلانہ قضاوت. 39
بچوّں کے درمیان مساوات. 41
والدین نظم و حقوق کا خیال رکھیں. 41
بچےّ کو خدا شناسی کا درس دیں. 42
کاشف الغطا اور بیٹے کی تربیت. 43
امام خمینی اور بچوّں کی تربیت. 45
بچوّں کومستحبات پر مجبور نہ کریں. 46
بچوّں کی تربتت اور والدین کی رفتار 46
بچوّں کےحضور میں دعا مانگیں. 47
بچوّں کی تربیت میں معلم کا کردار 48
دینی تعلیم دینا واجب. 49
بچوّں کو تعلیم دینے کا ثواب. 50
سوال کیا پروردگارا!کیا ماجراہے؟ 50
امام حسین(ع) اور معلم کی قدردانی 50
والدین سے زیادہ استاد کا حق. 50
والدین کی ظلم وستم اور فراری بچےّ 51
اولاد صالح خدا کی بہترین نعمت. 52
بیٹی کی عظمت. 53
بچوّں پر والدین کے حقوق. 54
والدین کا چہرہ دیکھنا عبادت. 55
بچوّں پر باپ کے حقوق. 55
باپ کا احترام واجب. 56
بچوّں پر ماں کے حقوق. 57
حق احسان. 59
احسان کرنابہترین عبادت. 59
کافروالدین پربھی احسان! 60
اسلام ماں باپ سے نیکی کو فضیلت اور برتری کا معیار قرار دیتا ہے.. 61
پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے؟ 63
ماں کی دعا اور اس کی منزلت. 64
ماں اولاد کی خوشبختی کی ضامن. 64
ماں کا مقام اور ان کا احرام 65
ماں کے قدموں تلے جنت ہے.. 65
دوسری فصل. 67
میاں بیوی کے حقوق اور ذمہ داریاں. 67
نیک سیرت عورت. 67
شوہر کے حقوق اوربیوی کی ذمہ داریاں. 68
شوہر کی اطاعت باعث مغفرت. 68
ارام و سکون فراہم کرنا 69
شوہر کی رضایت کا خیال رکھنا 70
بدترین عورت. 72
جنسی خواہشات پوری کرنا 72
بہترین عورت. 73
خوشیاں لانے والی 74
امانت داری. 75
قناعت پسندی. 77
بابرکت بیوی. 78
بیوی کے حقوق اورشوہر کی ذمہ داریاں. 79
امانت الٰہی کی حفاظت. 79
عورت کےحقوق اورخدا کی سفارش. 80
عفو در گزر بیوی کا حق. 81
بداخلاق بیوی اور صبور شوہر 82
یہ مرد جہنمی ہے.. 83
خاندانی صمیمیت میں محبت کا کردار 83
دنیااوراخرت کی بھلائی چار چیزوں میں. 84
اچھے اخلاق اور کردار سے پیش انا 84
حق سکونت یا مکان. 85
حق نفقہ 86
نفقہ دینے کا ثواب. 86
حق مہر 87
مہر دینا واجب. 87
مرد کو دو عورت کےبرابر میراث کیوں ؟ 87
مہر کب اور کتنا دینا واجب ہے ؟ 88
مہر مرد پر کیوں؟ 88
خطبہ نکاح. 88
اگرمہر ادا نہ کرےتو 89
تیسری فصل. 90
خاندان میں اخلاق کا کردار 90
گھریلو کاموں میں مدد کرنے کا ثواب. 90
الف:بدن کے ہربال کے بدلے ایک سال کی عبادت. 90
ب:ہزار شہید کا ثواب. 91
ج:ایک گھنٹہ کی مدد ہزاروں حج،عمرہ،جہادسےبہتر 91
گھر میں مدد،گناہ کبیرہ کا کفارہ 92
شوہر کی خدمت کرنے کاثواب. 92
ایک برتن کا جابجا کرنے کا ثواب. 93
ایک گلاس پانی اور سال کی عبادت! 93
بہشت کے کس دروازے سے؟ 94
تین گروہ فاطمہ(س) کیساتھ محشور 94
شوہر کی رضایت بہترین شفاعت. 95
ثواب میں مردوں کے برابر 96
فاطمہ(س) خواتین عالم کے لئے نمونہ 97
فاطمہ(س) کاگھر میں کام کرنا 97
پیغمبر(ص) کا اپنی بیٹی کا دیدار کرنا 98
فاطمہ(س) اور خاندانی حقوق کا دفاع. 99
کلام فاطمہ(س) میں خاندانی رفتار 102
بیوی کیساتھ اچھا برتاؤ 102
خاندانی خوش بختی کے کچھ اصو ل. 103
نظم و ضبط 103
اعتماد کرو تہمت سے بچو 104
پاکیزگی اور خوبصورتی 105
ایک دوسرے کا خیال رکھنا 106
اچھی گفتگو کرنا 106
انسان لالچی نہ ہو 106
عزت کا احساس دلانا 108
غمخواری کا احساس دلانا 108
ہرگز ناامید نہ ہونا 108
خوش اخلاق ہی خوش قسمت. 109
سعد بن معاذ اور بداخلاقی کا نتیجہ 110
سعد بن معاذ کو یہ شرف کیسے ملا؟ 111
اچھے اخلاق کا مالک بنو 111
اخلاق کی اہمیت اشعار کے ائینے میں. 112
حسن خلق کے اثار و فواید 112
بدخلق کا انجام 112
دوستی کے فوائد 112
چوتھی فصل. 113
خاندان کے متعلق معصومین کی سفارش. 113
خاندان پر خرچ کرو 113
پہلے گھر والے پھر دوسرے.. 113
اسراف نہ کرو 114
روز جمعہ کا پھل. 114
خاندان کیساتھ نیکی اورلمبی عمر 114
خاندان اور اخرت کی بربادی. 115
محبت خاندان کی کامیابی کا راز 115
کلام معصوم(ع) میں محبت کے عوامل. 116
ایمان محبت کا محور 116
خوش امدید کہنا اور استقبال کرنا 116
حسن ظن رکھنا 117
بے نیازی کا اظہار کرنا 117
سخاوت کرنا 117
پانچویں فصل. 119
خاندانی اختلافات اور ان کا علاج. 119
خاندانی اختلافات. 119
خاندانی اختلافات کا علاج. 121
جہنمی مرد 124
مارنا اور گالی دینا جہالت. 125
شوہر میں بیوی کی پسندیدہ خصوصیات. 126
مال و دولت. 126
قدرت اور توانائی 126
باغیرت ہو 126
مستقل زندگی گزارے.. 127
معاشرے میں معززہو 127
نرم مزاج ہو 127
صاف ستھرا رہے.. 127
خوش سلیقہ ہو 128
مؤمن ہو 128
دوسرا حصہ 129
خواتین کا مقام اور حقوق. 129
پہلی فصل. 130
عورت تاریخ کی نگاہ میں. 130
تاریخ بشریت میں عورت کا مرتبہ 130
ابتدائی دورمیں عورت کی حیثیت. 130
یونان میں عورت کی حیثیت. 131
اٹلی میں عورت کی حیثیت. 131
ایران باستان میں عورت کی حیثیت. 132
روم میں عورت کی حیثیت. 132
کہاوتیں: 133
قرون وسطی میں عورت کا مقام 133
روس میں عورت کی حیثیت. 133
مغربی دنیا میں عورت کی حیثیت. 135
کہاوتیں: 135
انگلستان میں عورت کی حیثیت. 136
چین میں عورت کی حیثیت. 137
جاپان میں عورت کی حیثیت. 137
جرمنی میں عورت کی حیثیت. 137
ہندوستان میں عورت کی حیثیت. 138
کہاوتیں: 138
عصر جاہلیت میں عورت کی حیثیت. 139
جزیرة العرب میں ناجائز شادیاں. 141
مساعات. 141
نکاح الاستیضاع. 141
نکاح الرہط 141
نکاح البدل. 142
نکاح المقت. 142
نکاح الجمع 142
نکاح الخدن. 143
نکاح الشغار 143
دوسری فصل. 144
اسلام میں عورت کی قدر و منزلت. 144
اسلام میں عورت کا مقام 146
اسلام کی نگاہ میں ماں کا مرتبہ 147
اسلام کی نظر میں بیٹی کا مرتبہ 148
اسلام میں بیوی کا مرتبہ 149
اجتماعی روابط کے حدود 153
جہاں مرد اور عورت پر رعایت واجب. 153
اسلام میں ضرب الامثال. 156
کچھ نکات: 156
تیسری فصل. 159
خواتین کے حقوق. 159
خواتین کے اجتماعی حقوق. 159
عورتوں کے حقوق اورامام خمینی 159
امام خمینی کا امریکی خبر نگار کو انٹرویو 160
متخصص عورت اور واجب کفائی 160
خواتین کے ثقافتی حقوق. 160
خواتین کے سیاسی حقوق. 161
حق بیعت. 161
فاطمہ(س) محافظ ولایت. 162
امام خمینی اورخواتین کےسیاسی مسائل. 163
خواتین کے اقتصادی حقوق. 164
ملک سازی میں عورتوں کا کردار 164
حق ارث. 165
چوتھی فصل. 166
اسلام کی نگاہ میں خواتین کی ازادی. 166
مسلمان خواتین کی ازادی سے کیا مراد ؟ 167
امام خمینی اور یوم خواتین. 168
رہبر معظم سید علی خامنہ ای (مد ظلہ) اور یوم خواتین. 171
مغربی ازادی کا تلخ تجربہ 172
روس. 172
امریکہ 173
انگلستان. 173
جاپان. 173
تھائلینڈ 173
مغربی جرمنی 174
فہرست منابع 175