بسم اﷲ الرحمن الرحیم
دین حق
مذہبِ اہلِ بیت(ع)
تالیف
آیت اﷲ عبدالحسین شرف الدین موسوی قدس سرہ
ناشر
تبلیغات ایمانی ہند
کتاب دین حق، مذہب اہل بیت(ع)
تالیف آیت اﷲ عبدالحسین شرف الدین(رح)
کتابت سید جعفر صادق
ناشر تبلیغات ایمانی ھند 159ـنجفی ہاؤس۔ نشان پاڑہ روڈ بمبئی 9
تعداد 5000
صفحات 640
اشاعت کاسال اگست 1987ء
شہرہ آفاق کتاب ” المراجعات “ کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں لبنان اور ایران سے کئی مرتبہ چھپ چکی ہے۔ اردو کا ترجمہ بھی اب تک تقریبا تین دفعہ چھپ چکا ہے۔
شیعہ سنی اختلاف پر اب تک بے انتہاء کتابیں چھپ چکی ہیں لیکن اس موضوع پر تحریر کی جانے والی کتب میں سے یہ کتاب اپنےمنفرد انداز و خصوصیات کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ اس کتاب کے دونوں فریقین جن کے درمیان یہ خط وکتابت انجام پائی ہے ، ہر قسم کے بغض و کینہ اور قوی تعصبات سے پاک ہیں، دونوں میں اسلامی مقاصد و مصالح کے حصول کا جذبہ بطور کامل موجود ہے۔ امت مسلمہ پر گزرنے والی روئیداد سے آشنا ہوتے ہوئے عالم
اسلام کے زبردست حامی ہیں۔ ان دونوں کا مقصد ہرگز شیعہ سنی بحث کو چھیڑنا اور اس کے نتیجہ میں امت کی صفوف میں اخلافات اور تفرقہ کے مواقع فراہم کرنا نہیں بلکہ نہایت ہی شائستہ ماحول میں ” مذہبِ اہلبیت(ع)“ کو سمجھنا اور اس سلسلہ میں موجود مغرض اور متعصب و جاہل افراد کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہے، ” مذہبِ اہل بیت(ع)“ پر سے پڑے ہوئے ان پردوں کو ہٹانا ہے جنھیں تنگ نظر اور منفعت پرست افراد نے ڈال کر امتِ مسلمہ کو اس مکتب عظیم سے دور کیا ہے۔
سنی و شیعہ دونوں ہی عالم دین، اسلامی روح سے سرشار نظر آتے ہیں۔ حق پرستی کا جوہر کتاب کے مختلف حصوں میں بکثرت قابلِ مشاہدہ ہے۔ پھر دونوں ہی اپنے اپنے مکتبہ فکر میں صف اول کے علماء میں سے ہیں، اور اپنے زمانہ میں حرفِ آخر شمار کیے جاتے تھے۔ اہل سنت کے محترم عالم جناب شیخ سلیم البشری ہیں جو اہلسنت والجماعت کی بین الاقوامی مرکزی علمی درسگاہ جامعة الازہر کے شیخ اور سربراہ ہیں۔ دوسری طرف حضرت آیت اﷲ سید شرف الدین الموسوی ہیں جو اس زمانے میں شیعوں کے سب سے بڑے علمی مرکز نجف اشرف میں صف اول کے اساتید میں شمار ہوتے تھے۔
مناظرہ کی اکثر کتب میں جدال و خطابہ کا رنگ غالب ںظر آتا ہے جب کہ اس کتاب کے امتیازات میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں پر اکثر علمی و برھانی روشِ استدلال کو اختیار کیا گیا ہے۔ آیت اﷲ مرحوم کا استدلال مضبوط اور مستحکم ادلہ پر استوار نظر آتا ہے۔ مسئلہ کے اختلافی و حساس ہونے کے باوجود، ادب و متقابل احترام کے دائرہ میں رہتے ہوئے نہایت شستہ زبان استعمال کی گئی ہے۔
پھر کچھ ایسے مسائل اور موضوعات بھی مختلف مناسبتوں سے زیر بحث آئے ہیں جو کلام یا دوسری کتابوں میں کمتر پائے جاتے ہیں۔ مثلا تاریخ اسلام میں شیعوں کا حصہ۔ شیعہ اصحاب روایت کی علمی خدمات اور ان کا سنی کتب و مصادر میں تذکرہ، ایسے موضوعات ہیں جن میں کم از کم اردو زبان میں بہت کم لکھا اور بولا گیا ہے۔
ان تمام خصوصیات اور بہت سی دوسری خوبیوں نے اس کتاب کی افادیت و اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ کردیا ہے جس کی وجہ سے یہ کتاب کلام کی علمی کتب میں شمار کی جاتی ہے۔
ہم نے اسے طباعت کے زیور سے از سر نو آراستہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے کہ حق کے متلاشیوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکے گی۔
ناشر
عالیجناب شیخ سلیم البشری
( عالم اہل سنت کے مختصر حالات زندگی)
جناب شیخ سلیم البشری جو مالکی مسلک رکھتے تھے سنہ1248ھ مطابق سنہ1832ء میں ضلع سجیزہ کے محلہ بشر میں پیدا ہوئے اور جامعہ الازہر ( قاہرہ، مصر) میں تعلیم حاصل کی۔
بعد میں دو مرتبہ اس عظیم الشان درسگاہ کے انچارج بھی قرار پائے۔ ایک دفعہ سنہ1317ھ مطابق سنہ1900ء سے سنہ1320ھ مطابق سنہ1904ھ تک اور دوسری دفعہ سنہ1327ھ مطابق سنہ1905ء سے سنہ 1335ھ مطابق سنہ1916ء تک۔
آپ ہی کے زمانہ میں جامعہ الازہر میں تدریس کے فرائض انجام دینے کے خواہشمند حضرات کے لیے امتحان کی بنیاد رکھی گئی جس میں بکثرت اہل علم نے شرکت کی۔
آپ نے جامعہ الازہر کو پورے نظم و ضبط کے ساتھ چلایا اور انچارج
ہونے کی حیثیت سے جو ذمہ داریاں آپ پر عائد تھیں انھیں درس و تدریس میں حائل نہ ہونے دیا ( بلکہ شیخ الجامعہ ہونے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو درس بھی دیتے رہے)
آپ کی قلمی نگارشات بہت ہیں جن کا زیادہ حصہ قدیم علماء کی کتابوں پر حاشیہ اور گفتار مقدم کے عنوان سے ہے۔ مثلا :
ادب کے موضوع پر : حاشة تحفة الطلاب لشرح رسالة الآداب
توحید کے موضوع پر :حاشية علی رسالة الشيخ علی
علم نحو کے موضوع پر : الاستئناس فی بيان الاعلام و اسماء الاحباس جس میں نحوی مطالب پر بحث کی گئی ہے اور یہ ( اتنی اعلی درجہ کی کتاب ہے کہ) جامعة الازہر میں درس و تدریس کے سلسلہ میں اس کتاب پر بہت زیادہ اعتماد کیا گیا ہے۔
جناب شیخ سلیم البشری نے سنہ1335ھ مطابق سنہ 1916ء میں وفات پائی (1)
--------------
1:- حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو کتاب “ الازہر فی 12 عاما” صفحہ 53
عالی جناب آقائے سید عبدالحسین شرف الدین موسوی ( علیہ الرحمہ)
کے مختصر حالات زندگی
( ممتاز شیعہ عالم) جناب علامہ سید عبدالحسین شرف الدین موسوی علیہ الرحمہ کاظمین( عراق) میں سنہ1290ھ مطابق سنہ1872ء میں پیدا ہوئے۔ کاظمین اور نجف اشرف میں تعلیم حاصل کی اور اس زمانے کے انتہائی بلند مرتبہ عالم دین جناب آقائے شیخ کاظم الخراسانی ( صاحب کفایہ) سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔
عراق کی سرزمین پر فرانس کی سامراجی حکومت کے خلاف انقلابی اقدامات آپ ہی کے زمانہ میں شروع ہوئے جن میں آپ مثبت حصہ لیا۔ جس کی پاداش میں آپ کے اس نہایت قیمتی کتب خانہ کو جلا دیا گیا جو اسلامی علوم و معارف کا خزینہ تھا۔ اس میں آپ کے نہایت بیش قیمت مخطوطات بھی نذر آتش کردیے گئے اور آپ کو گرفتار کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔
اس موقع پر آپ نے مناسب سمجھا کہ اپنی آواز کو تمام اسلامی ممالک تک پہنچانے کے لیے سفر کریں، چنانچہ آپ دمشق تشریف لے گئے اور وہاں سے فلسطین اور مصر کا سفر کیا۔
اور مصر ہی میں اس زمانہ کے شیخ الازھر جناب شیخ سلیم البشری سے آپ کے مسلسل مذاکرات ہوئے اور ان ہی مذاکرات کے نتیجے میں یہ کتاب ترتیب پائی۔
مولانائے موصوف نے متعدد موضوعات پر نہایت قیمتی کتابیں تحریر فرمائی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :
1ـ المرجعات 2ـ الفصول المهمه 3_ اجوبه مسائل جار الله 4_ الکلمه الغراء فی تفضيل الزهراء. 5_ المجالس الفاخره 6_ النص والاجتهاد. 7_ فلسبه الميساق والولايه 8_ ابوهريره بغيه الراغبين 9_ المسائل الفقهيه 10_ ثبت الاثبات فی سلسله الرواه 11_ الی المجمع العلمی العربی بدمشق.12_ رسائل و مسائل 13_ رساله کلاميه.....
اور ان کے علاوہ وہ بکثرت تالیفات جنھیں دشمنان دین و ادب نے نذر آتش کردیا۔
آپ نے اس کے ساتھ بہت سے دینی و اجتماعی منصوبے بھی شروع کیے تھے جن کے ذکر کا موقع نہیں۔
آقائے شرف الدین موسوی نے سنہ1377ھ مطابق سنہ1957ء میں رحلت فرمائی۔
کتاب ہذا سے متعلق علمائے اعلام کے مکتوبات
آقائے محترم و استاد مکرم آقائے شرف الدین عبدالحسین صاحب قبلہ دام مجدہ
قبلہ محترم !
میں نے آپ کی کتاب “ المراجعات” کا مطالعہ کیا اور اسے ایک ایسی کتاب پایا جو روشن و محکم دلائل و براہین سے مالال مال ہے۔ پروردگار عالم آپ کو پوری قوم کی طرف سے جزائے خیر دے کہ آپ نے حکمت و دانائی اور فیصلہ کن انداز اختیار فرمایا ہے۔
اگر کوچھ دشواریاں اور مشکلات سدِ راہ نہ ہوتیں تو اب تک میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دست بوسی کا شرف حاصل کرچکا ہوتا لیکن امید ہے کہ بہت جلد میں آپ کے چہرہ انور کی زیارت کی سعادت حاصل کرسکوں گا۔
میں نے ( آپ کی کتاب پرھنے کے بعد) اپنا سابق مذہب حنفی ترک
کردیا اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے مذہب کو اختیار کر لیا ہے۔
آپ سے التماس ہے کہ کوئی ایسی کتاب میرے لیے بھیجیں جس سے میں اس مذہب کے احکام ومعارف سے پوری طرح واقف ہوسکوں۔
والسلام
محمد ناجی غفری(18 صفر سنہ 1370ھ)
بخدمت عالیجناب آقائے سید عبدالحسین شرف الدین صاحب دام مجدہ
سلام علیکم : مزاج شریف !
جناب محترم شرف الدین صاحب ! آپ تو میرے مہربان و پاسبان، میرے رشد اور راہ حق و صراطِ مستقیم تک پہنچنے کا سب سے بڑا وسیلہ ثابت ہوئے۔ میں حضرت محمد و آل محمد علیہم السلام کے وسیلہ سے پروردگار عالم کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہوں کہ آپ کا سایہ مومنین کے سروں پر تا دیر سلامت رکھے کیوںکہ ان کی سعادت و خیر خواہی آپ کی ذاتِ والا صفات سے وابستہ ہے۔
میں خداوند عالم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے آج تک نہ آپ جیسا کوئی عالم ملا، نہ میں نے آپ جیسی صفات رکھنے والے کسی عالم کے بارے میں سنا۔ آپ اپنے جد اعلیٰ حضرت رسولِ خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ و سلم کی شریعتِ مقدسہ کی طرف سے دفاع کررہے ہیں اور وہ منحرف و گمراہ لوگ جو حق پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں ان کی سازشوں کو طشت ازبام کر رہے ہیں اور ان کے سامنے ایسی محکم دلیلیں اور روشن برہان قائم کر رہے ہیں جن کا نہ تو کوئی جواب سے سکتے ہیں۔ نہ ان دالائل
سے انکار کی ہمت کرسکتے ہیں( اور گو ایسی روشن دلیلوں کے بعد بھی) جو لوگ مذہبِ حق کو قبول نہ کریں اور حق وباطل میں امتیاز نہ کریں ان کے لیے بدبختی اور عذاب یقینی ہے۔ پروردگار عالم آپ کو جزائے خیر دے ( کہ آپ نے حق کو آشکار کیا)
والسلام
محمد ناجی غفری۔ 15 ربیع الثانی سنہ1370ھ
بخدمت جناب آقائے سید عبدالحسین شرف الدین موسوی دام مجدہ
سلام علیکم!
جناب محترم !
میں آپ کی ذاتِ والا صفات پر فخر کرتا ہوں۔ میرا دل بلکہ میرے تمام اعضاء و جوارح آپ کی عظمت کے تصور سے مالا مال ہیں اور دنیا بھر کے اہل علم کے درمیان آپ کے فضل و شرف کا بھر پورا اعتراف کرتے ہیں۔
کیوںکہ آپ نے اپنے قلم مبارک سے بہت سی اقوام و ملل کو حیات نو بخشی اور ضلالت و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر انھیں ہدایت کی روشنی سے منور کیا اور یہ وہ حقیقت ہے جس کا انکار کرنے والا یا تو اپنی جہالت کے سبب انکار کرے گا یا طبیعت کی سرکشی اور عناد کی بناء پر۔
اور دارالسلطنت میں میں نے جناب۔۔۔۔۔ سے ملاقات کی اور ان سے مذاکرات بھی کیے۔
وہ حضرت ۔۔۔۔(1) ۔۔۔۔ بہت بڑے قاضی کے منصب پر فائز ہیں ( اور بہت زیادہ اثر و رسوخ کے مالک بھی ہیں) میں نے ان سے بحث و مباحثہ کیا تو بحمدہ تعالی وہ پوری طرح سے مذہب حق کی طرف مائل ہوگئے ہیں۔
چنانچہ آپ کی کتاب “ المراجعات” میں نے ان کی خدمت میں پیش کر دی ہے جسے انھوں نے پڑھا اور آپ کے حیرت انگیز دلائل نے انھیں تعجب و مسرت کے دوراہے پر پہنچا دیا۔
کیونکہ آپ نے اپنے علم کے بحر ذخائر اور قلم کے شاہکار سے ان کے لیے اس امر کو ممتاز و نمایاں کردیا کہ دونوں راستوں میں سے حق و صداقت کا راستہ کون سا ہے۔
والسلام ۔ آپ کا مخلص
محمد ناجی غفری۔ 17 محرم سنہ1373ھ
مجاہد ملت حجہ الاسلام علامہ سید عبدالحسین شرف الدین دامت برکاتہ کے نام۔۔۔۔
سلام علیکم و رحمتہ اﷲ و برکاتہ!
آپ کی مساعی جمیلہ کو شرق غربِ عالم میں جو پذیرائی اور مقبولت و محبوبیت
--------------
1:- بعض خصوصی مصالح کی بناء پر اس جگہ قاضی مذکور کا نام اور ان سے متعلق متعدد باتیں جو خط کے اندر موجود تھیں اس کتاب کی طباعت کے موقع پر حذف کردی گئی ہیں۔
حاصل ہوئی ہے وہ لائق تعجب ہرگز نہیں ہے کیونکہ آپ راہِ خدا کے ایک ایسے مجاہد اور حق کا ایسا دفاع کرنے والے ہیں جو عنفوانِ حیات سے مسلسل خدمتِ دین اور نصرتِ شریعت سید المرسلین صلی اﷲ علیہ و آلہ و سلم کے خوگر ہیں۔
آپ کو دین کی خدمت کرتے ہوئے نہ کسی قسم کی تکان محسوس ہوتی ہے نہ پریشانی۔ نہ اضطراب نہ تردد( بلکہ جہاد مسلسل کو آپ نے اپنی زندگی کا شعار بنا رکھا ہے اور پروردگار عالم کا وعدہ ہے کہ ) :
ووالذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا
( اور جو لوگ ہماری راہوں میں جہاد کرتے ہیں ان کے لیے ہم راہوں کو نمایاں کر دیتے ہیں) اور یقینا ان مجاہدین کو صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے۔
اور مجھے اس دن انتہائی مسرت ہوئی جب حلب ( شام ) کے شیخ محمد۔۔۔۔ کا مجھے خط موصول ہوا۔
مکتوب نمبر 1
میرا سلام ہو شریف النفس عالم بزرگ جناب عبدالحسین شرف الدین موسوی اور ان پر خدا کی رحمت و برکت ہو۔
جناب عالی ، میں زمانہ گزشتہ میں شیعوں کے اندرونی مسائل سے با خبر نہیں تھا اور نہ مجھے ان کے سلوک و رفتار کی خبر تھی ۔ کیوںکہ میری نہ کسی کے ساتھ نشست و برخاست تھی اور نہ ان کے عوام الناس کے اندرونی حالات کا میں نے جائزہ لیا تھا۔ مجھے یہ شوق تو تھا کہ میں ان کے بزرگان کی تقریر سنوں لیکن عالم پبلک سےمیں ہمیشہ دور رہا نہ ان کے افکار اور آراء سے بحث کی اور نہ ان کے نظرایات میں مداخلت کی۔
البتہ جب خداوند عالم نے مجھے یہ توفیق عطا کی کہ میں آپ کے علوم و معارف کے سمندر کے کنارے پہنچوں اور ساغرِ لبریز سے اپنی پیاس بجھاؤں تو بحمد اﷲ آپ نے نہایت شیرین پانی سے مجھے سیراب کیا۔ میری علمی تشنگی کو دور کیا اور علوم الہی کے شہر حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اور باب مدینہ علم حضرت علی مرتضی علیہ السلام جو آپ کے اجداد کرام تھے ان کے معارف سے مجھے اس طرح سیراب کیا کہ اس سے زیادہ شیرین جام کسی پیاسے کو نہ ملا ہوگا اور نہ کسی بیمار کو ایسی شفا ملی ہوگی جیسی شفا مجھے آپ کے بحرِ ذخار سے ملی۔
میں لوگوں سے سنتا رہتا تھا کہ آپ شیعہ حضرات اپنے سنی بھائیوں سے ملنا پسند نہیں کرتے ان سے اجتناب کرتے ہیں، تنہائی کو پسند کرتے ہیں اور ہمیشہ گوشہ نیشینی اختیار کیے رہتے ہیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔اور اسی قسم کی باتیں میں سنا کرتا تھا۔
لیکن جب میں آپ کو دیکھا تو پتہ چلا کہ آپ انتہائی لطیف اور پاکیزہ مزاج کے انسان ہیں۔ بحث و مباحثہ کی گہرائی تک اترتے ہیں، تبادلہ خیالات کے آزرو مند رہتے ہیں، مناظرہ میں انتہائی قوی اور بہادر ہیں، آپ کی گفتگو بہت پاکیزہ، آپ کا سلوک بہت شریفانہ ، آپ سے تعلق لائق تشکر اور آپ سے گفتگو بہایت لائق تحسین ہے۔ اس لیے اب میری رائے یہ ہے کہ شیعہ حضرات محفل کی خوشبو اور ادب و تہذیب کی آرزوں کا مرکز ہیں۔
جناب عالی ! اب جبکہ میں آپ کے اوقیانوسِ علم کے ساحل پر کھڑا ہوں آپ سے اجازت طلب کرتا ہوں کہ مجھے اس کی گہرائیوں تک اترنے کا اور
جواہر تلاش کرنے کا موقع عطا فرمائیے۔ تو اگر آپ نے مجھے اجازت دی تو میں ان باریکیوں اور الجھنوں کو آپ کی خدمت میں پیش کروں گا جو مدت دراز سے میرے سینہ میں موجزن ہیں اور اگر آپ نے اجازت نہ عطا فرمائی تو بھی آپ مختار کل ہیں کیونکہ میں جن باتوں کو پوچھنا چاہتا ہوں ان میں نہ تو کسی لغزش کا طلب گار ہوں نہ کسی بات کا پردہ فاش کرنا چاہتا ہوں ۔ نہ فتنہ انگیزی میرا مقصود ہے اور نہ اس سلسلہ میں کوئی برا ارادہ رکھتا ہوں بلکہ ایک تلاش گمشدہ کی طرح میں اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتا ہوں اور حقیقت کو پہچاننا چاہتا ہوں۔ کیونکہ حق اگر واضح ہوجائے تو انسان کو اسی کی پیروی کرنا چاہئیے اور اگر حق واضح نہ بھی ہوسکا تو میں شاعر کے اس شعر پر عمل پیرا رہوں گا کہ :
نحن بما عندنا و انت بما عندک
راض والرای مختلف
“ اگر چہ ہماری رائیں مختلف ہیں لیکن آپ اپنے نظریہ پر خوش رہیں ہم اپنے مسلک پر راضی رہیں ۔ ”
اگر آپ نے بحث کی اجازت دے دی تو میں صرف دو مسائل پر آپ سے رائے طلب کروں گا۔
نمبر 1 ۔ آپ کے مذہب میں امامت کی اصول اور فروعی حیثیت ۔
اور نمبر 2 ۔ وہ عمومی امامت جو حضرت رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی کے طور پر کسی کو حاصل ہوتی ہے۔
میں اپنے ہر خط کے اختتام پر دستخط کی جگہ “ س” لکھا کروں گا اور آپ اپنے دستخط کی جگہ “ ش” لکھ دیا کیجیے گا۔ آخر میں اپنی ممکنہ لغزشوں سے معذرت چاہتا ہوں۔
جوابِ مکتوب
عالیجناب شیخ الاسلام دام مجدہ
اسلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ
آپ کا مکتوب گرامی موصول ہوا۔ آپ نے خط کی شکل میں وہ نعمتِ فراواں بھیجی اور میرے لیے ایسے نفیس خیالات کا اظہار کیا جن کا حق ادا کرنے سے زبان قاصر ہے اور جس کے شکریے سے میں زندگی بھر عاجز ہوں۔
آپ نے اپنی آرزؤوں کو مجھ سے وابستہ کیا اور بلند توقعات قائم کیں جبکہ آپ کی ذات لوگوں کی امیدوں کا مرکز اور ان کے افکار و نظریات کی پناہ گاہ ہے جہاں لوگوں کی امیدیں آپ سے وابستہ رہتی ہیں اور وہ آپ کے وسیع و عریض دہلیز پر اتر کر آپ کے علم سے فیضیاب ہوتے ہیں، آپ کے فضل و شرف کی بارش سے سیراب ہوتے ہیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ میں بھی اپنی امیدوں میں کامیاب ہوں گا اور جو تمنائیں میں نے وابستہ کر رکھی ہیں وہ قوی ثابت ہوں گی۔
آپ نے گفتگو کی اجازت چاہی ہے جبکہ آپ صاحب اختیار ہیں جیسا حکم فرمائیں جس بات کے بارے میں چاہیں دریافت کریں۔ جس طرح چاہیں ارشاد فرمائیں آپ صاحب فضل بھی ہیں آپ کی گفتگو فیصلہ کن بھی ہوگی اور انشاء اﷲ آپ جو حکم فرمائیں گے وہ عدل کے مطابق ہوگا۔
والسلام
مکتوب نمبر2
مولانائے محترم ! تسلیمات زاکیات!!
اس کی وجہ آپ بتاسکتے ہیں کہ آخر آپ لوگ بھی وہی مذہب کیوں نہیں اختیار کر لیتے جو جمہور مسلمین کا مذہب ہے؟
جمہور مسلمین کا مذہب یہ ہے کہ وہ اصول دین اور عقائد میں اشاعرہ کے ہم خیال ہیں اور فروع دین میں ائمہ اربعہ امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل میں سے کسی ایک کے مقلد ہیں۔ آپ بھی اصولِ دین میں اشاعرہ کا مسلک اختیار فرمائیں اور فروعِ دین فرائض و عبادات میں مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک کے پابند ہوجائیے، چاہے امام ابو حنیفہ کی تقلید کیجیے یا امام شافعی کی یا امام مالک کی ایا احمد بن حنبل کی ۔ کیونکہ یہی مذہب ایک ایسا مذہب ہے کہ
سلف صالحین بھی اسی کے پابند رہے اور اسی کو بہتر و افضل سمجھتے رہے۔ نیز ہر زمانہ اور ہر خطہء ارض کے جملہ مسلمانوں کا مذہب بھی یہی رہا اور سب کے سب ان ائمہ اربعہ کی عدالت ، اجتہاد، زہد و ورع ، تقدس و پرہیز گاری، پاکیزہ نفسی، حسنِ سیرت اور علمی و عملی جلالتِ قدر پر ابتدا سے لے کر آج تک بیک دل و زبان متفق رہے ہیں۔
یہ بھی غور فرمائیے کہ اس زمانے میں ہم لوگوں کے لیے اتحاد و اتفاق کس قدر ضروری ہے۔ دشمنانِ اسلام ، ہم مسلمانوں کے خلاف محاذ قائم کیے ہوئے ہیں، ایذا رسانی پر کمر باندھ لی ہے دل و دماغ اور زبان کی ساری طاقتیں ہمارے خلاف استعمال کررہے ہیں۔
ہم لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور فرقہ بندی سے اپنے خلاف دشمنوں کی مدد کررہے ہیں۔ لہذا ایسی حالت میں ہم لوگوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ ایک مرکز پر جمع ہوجائیں۔ ایک نقطہ پر سمٹ آئیں اور یہ اتفاق و اتحاد جب ہی ہوسکتا ہے کہ ہمارا مسلک و مذہب بھی ایک ہو، آپ لوگ بھی اس مذہب کو اختیار کر لیں جسے عامة المسلمین اختیار کیے ہوئے ہیںِ۔
کیا میرا رائے سے آپ کو اختلاف ہے ؟ خدا کرے اس پراگندگی
اور فرقہ واریت سے نجات کی راہ نکلے اور ہم لوگوں کے متحد ہوجانے ی سبیل پیدا ہو۔
س
جواب مکتوب
مکرمی تسلیم !
گرامی نامہ ملا۔ عرض یہ ہےکہ ہم جو اصولِ دین میں اشاعرہ کے ہم خیال نہیں اور فروع دین میں اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید نہیں کرتے تو یہ کسی تعصب یا فرقہ پرستی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ شرعی دلیلیں ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ہم مذہب اہلبیت(ع) ہی کو اختیار کریں۔ یہی وجہ ہے جو ہم جمہور سے الگ ہو کر اصول و فروع دین میں بس ارشاداتِ ائمہ طاہرین(ع) ہی کے پابند ہیں۔ کیونکہ ادلہِ و براہین کا یہی فیصلہ ہے اور سنتِ نبوی کی پابندی بھی بس اسی صورت سے ہوسکتی ہے اگر دلیلیں ہمیں ذرا بھی مخالفت اہل بیت(ع) کی اجازت دیں یا ان کے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کی پابندی میں تقربِ الہی ممکن ہوتا تو ہم ضرور جہمور ہی کی روش پر چلتے تاکہ باہمی رشتہء اخوت اچھی طرح استوار رہے لیکن مجبوری یہ ہے کہ قطعی اور محکم دلیلیں سنگِ راہ بنی ہوئی ہیں اور کسی طرح مذہب اہلبیت(ع) چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔
اس کے علاوہ چاروں مذاہب کو کسی قسم کی ترجیح بھی تو نہیں۔ ان مذاہب کی پابندی کا واجب ولازم ہونا تو اور چیز ہے، ان کے بہتر اور قابل ترجیح ہونے پر جمہور کوئی دلیل بھی پیش نہیں کرسکتے۔ ہم نے تو جمہور مسلمین کے ادلا کو پوری تحقیق سے دیکھا۔ ہمیں تو ایک دلیل بھی ایسی نہ ملی جو ان ائمہ اربعہ کی تقلید و پیروی کو واجب بتاتی ہو۔ بس لے دے کے یہی ایک چیز ملی ہے جسے آپ نے بھی ذکر کیا ہے یعنی یہ کہ وہ مجتہد و عادل اور بڑے جلیل القدر علماء تھے لیکن یہ سوچنے کی بات ہے کہ اجتہاد ، امانت، عدالت، جلالتِ علمی، یہ ان ہی چاروں پزرگوں کے ساتھ مختص تو نہیں، انھیں میں منحصر تو نہیں لہذا معین طور پر فقط ان ہی کی پیروی اور ان ہی کے مذاہب میں سے کسی نہ کسی ایک کا پابند ہو رہنا واجب ہوجائے گا؟ اور میرا یہ دعوی ہے کہ مسلمانوں میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ نکلے گا جو یہ کہہ سکے یہ چاروں ائمہ اہلسنت ائمہ علیہم السلام سے علم یا عمل کسی ایک چیز میں بڑھ کر تھے۔ ہمارے ائمہ تو اہل بیت طاہرین(ع) ہیں۔ جو سفینہ نجات ہیں۔ امتِ اسلام کے لیے بابِ حطہ ہیں۔ ستارہ ہدایت ہیں اور ثقل پیغمبر(ص) ہیں۔ امت میں رسول(ص) کی چھوڑی ہوئی نشانی ہیں۔ جن کے متعلق رسول(ص) کا یہ ارشاد ہے کہ
“ دیکھو ان سے آگے نہ بڑھنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور نہ انھیں پیچھے کردینا
ورنہ تب بھی ہلاک ہوجاؤ گے اور انھیں سکھانا
پڑھانا نہیں ، یہ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔”
لیکن کیا کہا جائے کہ رسول (ص) کے مرنے کے بعد سیاست نےکیا کیا کرشمے دکھائے اور کیا سلوک کیا گیا اہلبیت(ع) کے ساتھ؟
آپ کے اس جملہ نے کہ سلفِ صالحین بھی اسی مسلک پرگامزن رہے اور انھوں نے اسیی کو معتدل و معتبر مذہب سمجھا، مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ شاید آپ نہیں جانتے کہ مسلمانوں میں تقریبا آدھی تعداد شیعوں کی ہے اور شیعیان آل محمد(ص) کے سلف و خلف اس زمانے کے شیعہ ہوں یا اس زمانے کے پہلی صدی ہجری سے لے کر اس چودھویں صدی تک مذہب اہلبیت(ع) کے پابند ہیں۔ شیعہ مسلک اہلبیت(ع) کی اتباع عہدِ امیرالمومنین(ع) اور جناب سیدہ(س) سے کررہے ہیں جب کہ نہ اشعری کا وجود تھا اور نہ ائمہ اربعہ میں سے کوئی عالم وجود میں آیا تھا۔
اس کے علاوہ زمانہ پیغمبر(ص) سے قریب زمانہ کے مسلمان خواہ شیعہ ہوں یا سنی انھوں نے ان مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک کو اختیار ہی نہیں کیا۔ ان میں سے کسی ایک کے پابند ہی نہیں ہوئے اور ان مذاہب کو وہ اختیار بھی کرتے تو کیسے جب کہ ان مذاہب کا اس زمانے میں وجود بھی نہ تھا۔ اشعری( اصول دین میں آپ لوگ جن کے پیرو ہیں) سنہ270ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ320ھ میں انتقال کیا۔ ظاہر ہے کہ سنہ270ھ کے قبل کے مسلمان عقائد میں اشعری کیسے کہے جاسکتے ہیں۔ احمد بن حنبل سنہ164ھ
میں پیدا ہوئے اور سنہ241ھ میں انتقال کیا۔ شافعی سنہ150ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ204ھ میں انتقال کیا۔ امام مالک سنہ95ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ 169ھ میں انتقال کیا۔ امام ابو حنیفہ سنہ 80 ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ150ھ میں انتقال کیا۔
خدا کے لیے انصاف تو فرمائیے کہ جب اصول دین میں آپ کے پیشوا اشعری سنہ270ھ میں پیدا ہوں اور فروع دین میں آپ کے ائمہ اربعہ ابتداء زمانہ اسلام سے اتنے زمانہ کے بعد عالمِ وجود میں آئیں ، پھر اس سے پہلے کے مسلمانوں کے متعلق ، یہ کہنا کیونکر روا ہے کہ وہ بھی ان ہی مذاہب اربعہ کے پابند تھے اور ان کا مذہب بھی وہی تھا جو آج کل جمہور مسلمین کا ہے۔
ہم شیعیان اہلبیت(ع) تو ائمہ اہلبیت(ع) کے پیرو ہیں اور آپ لوگ یعنی جمہور مسلمین ، اہلبیت(ع) کو چھوڑ کر صحابہ اور تابعین صحابہ کے پیرو ہیں۔ تو دورِ اول کے بعد کے تمام مسلمانوں پر ان مذاہب میں سے کسی نہ کسی ایک کو اختیار کرلینا۔ کسی نہ کسی ایک کا پابند ہو رہنا واجب کیونکر ہوگیا اور ان چاروں مذاہب سے پیشتر جو مذاہب رائج تھے ان میں کیا خامی تھی کہ ان سے کنارہ کشی کر لی گئی اور آپ کے ان مذاہب میں جو بہت بعد میں عالمِ وجود میں آئے ایسی کیا خوبی تھی کہ اہلبیت(ع) سے روگردانی کی گئی جو ہم پایہ کتابِ الہی کشتی نجات اور معدن رسالت ہیں۔
یہ بھی غور طلب امر ہے کہ اجتہاد کا دروازہ اب کیوں بند ہوگیا جب کہ ابتدائے زمانہء اسلام میں پاٹوں پاٹ کھلا ہوا تھا۔ ہاں اب اگر اپنے کو
بالکل عاجز قرار دے لیا جائے یہ طے کر لیا جائے کہ ہم اجتہاد کرنا بھی چاہیں تو اب ہم سے نہیں ہوسکتا۔ ہم اس شرف سے محروم ہی رہیں گے تو یہ دوسری بات ہے ورنہ کون شخص اس کا قائل ہونا پسند کرسکتا ہے کہ خداواند عالم نے حضرت خاتم المرسلین(ص) کو بہترین شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا اور تمام کتب سماویہ سے افضل و اشرف کتاب قرآن مجید نازل کی۔ دین کو مکمل اور اپنی نعمتوں کو تمام کیا اور آںحضرت(ص) کو آئیند و گزشتہ باتیں بتا کر بھیجا تو وہ صرف اس لیے کہ یہی ائمہ اربعہ شریعت کے مالک و مختار ہو رہیں۔ انھیں سے پوچھے ، انھیں سے معلوم کرے ، ان کو چھوڑ کر دوسرے ذریعے سے حاصل کرنا چاہے خود جدوجہد کرکے معلوم کرنا چاہے تو نہ معلوم کرسکے۔ مختصر یہ کہ پوری شریعتِ اسلامیہ قرآنِ مجید، سنتِ رسول(ص) تمام دلائل و بینات سمیت ان کی جاگیر ہوجائے، ملکیتِ خاص بن جائے، ان کے حکم و رائے کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی رائے پر عمل کرنے کی کسی کو اجازت ہی نہ ہو۔
کیا یہی ائمہ اربعہ وارثِ نبوت تھے یا انھیں پر خداوند عالم نے ائمہ و اوصیاء کا سلسلہ ختم کیا، کیا انھیں کو آیندہ و گزشتہ کے علوم ودیعت کیے اور کیا بس انھیں کو وہ صلاحیتیں ملیں جو دینا بھر میں کسی اور کو نہیں ملیں، میرے خیال میں کوئی مسلمان بھی اس کا قائل نہ ملے گا۔
آپ نے جس اہم امر کی طرف ہمیں متوجہ کیا ہے یعنی یہ کہ فرقہ واریت ختم کی جائے اور تمام مسلمان شیعہ سنی ایک ہوجائیں تو بسم اﷲ یہ بہت مستحسن
اقدام ہے لیکن میرا خیال یہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کا ہونا بس اسی پر موقوف و منحصر نہیں کہ شیعہ اپنا مذہب چھوڑ دیں یا اہلسنت اپنے مذہب سے الگ ہوجائیں اور خاص کر شیعوں سے یہ کہنا کہ وہ اپنا مذہب چھوڑ دیں ترجیح بلا مرجح ہے بلکہ در حقیقت مرجح کو ترجیح دینا ہے۔ ہاں یہ پراگندگی تب ہی دور ہوسکتی ہے اور اتحاد و اتفاق جب ہی پیدا ہوسکتا ہے جب آپ مذہب اہلبیت(ع) کو بھی مذہب سمجھیں اور اس کو بھی ان چاروں مذہبوں میں سے کسی ایک جیسا قرار دیں تاکہ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، شیعہ کو بھی ان ہی نظروں سے دیکھیں جن نظروں سے آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔اگر آپ جائزہ لیں تو خود مذاہب اہلسنت میں جتنے اختلاف موجود ہیں وہ شیعہ سنی اختلافات سے کم نہیں ۔ لہذا صرف غریب شیعوں پر عتاب کیوں کیا جاتا ہے کہ وہ اہلسنت کے برخلاف ہیں۔ حضرات اہلسنت کو بھ شیعوں کی مخالفت پر سرزنش کیوں نہیں کی جاتی۔ بلکہ خود اہلسنت میں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں کوئی حنفی ہے کوئی شافعی، کوئی مالکی ہے کوئی حنبلی تو انھیں اختلاف سے منع کیوں نہیں کیا جاتا لہذا جب ملتِ اسلامیہ میں چار مذہب ہوسکتے ہیں۔ چار مذہب ہونے پر کوئی لب کشائی نہیں کرتا تو پانچ ہونے میں کیا قیامت ہے؟ کس عقل میں یہ بات آسکتی ہے کہ چار مذاہب تک ہونے میں کوئی خرابی نہیں، چار مذہبوں میں بٹ کر مسلمان متحد رہ سکتے ہیں اتحاد و اتفاق باقی رہ سکتا ہے لیکن اگر چار سے برھ کر پانچ ہوجائیں تو اتحاد رخصت ہوجائے گا۔ جمعیت اسلام پراگندہ و منتشر ہوجائے گی۔
آپ نے ہم شیعوں کو مذہبی وحدت کی طرف جو دعوت دی ہے کاش کہ آپ یہی دعوت مذاہب اربعہ کے دیتے یہ دعوت آپ کے لیے بھی آسان تھی اور ان کے لیے بھی یہ ہمیں کو مخصوص کر کے دعوت کیوں دی گئی ؟
کیا آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اہلبیت(ع) کی اتباع و پیروی میں اتحاد رخصت ، رشتہء اخوت منقطع ، اہلبیت(ع) کی پیروی کرنے والوں کا دیگر مسلمانوں سے کوئی واسطہ نہیں، کوئی رابطہ نہیں اور اہلبیت(ع) کو چھوڑ کر جس کی بھی پیروی کی جائے جسے بھی امام بنا لیا جائے دل ملے رہیں گے۔ عزائم ایک رہیں گے چاہے مذاہب مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ رائیں ایک دوسرے کے برخلاف ہی کیوں نہ ہوں، خواہشیں ایک دوسرے سے متضاد ہی کیوں نہ ہوں۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کا بھی یہ خیال نہ ہوگا اور نہ آپ کو رسول(ص) کے اہلبیت(ع) سے اتنی پرخاش ہوگی آپ تو دوستدار قرابت داران پیغمبر(ص) ہیں۔
ش
مکتوب نمبر 3
مولانائے محترم تسلیم !
آپ کا مفصل گرامی نامہ ملا۔ اس میں شک نہیں کہ آپ نے وصول و فروعِ دین دونوں میں جمہور کے مذہب کی پیروی واجب نہ ہونے کو بہت تفصیل سے بیان کیا۔ اجتہاد کا دروازہ ہنوز کھلے رہنے کو بھی تشفی بخش طور پر ثابت کیا۔ آپ نے گرامی نامہ میں ان دونوں مسئلوں پر ایسے ناقابل رد دلائل و براہین اکھٹا کردیئے ہیں کہ انکار یا تامل کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اب تو میں بھی آپ کا ہم خیال ہوں کہ یقینا جہمور کے مسالک کا اتباع کوئی ضروری نہیں نیز یہ کہ اجتہاد کا دروازہ اب بھی کھلا ہوا ہے۔
میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ لوگ بھی وہی مذہب کیوں اختیار نہیں کر لیتے جو جمہور مسلمین کا مسلک ہے۔ تو آپ نے یہ فرمایا کہ اس کے سبب ادلہ
شرعیہ ہیں۔ آپ کو چاہیے تھا کہ اس چیز کو ذرا تفصیل سے بیان کرتے بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ کلام مجید یا احادیث نبوی(ص) سے ایسی قطعی دلیلیں پیش کریں جن سے یہ معلوم ہو کہ ائمہ اہل بیت(ع) ہی کی پیروی واجب و لازم ہے نہ کہ ان کے غیر کی۔
س
جواب مکتوب
مکرمی تسلیم !
آپ بحمدہ زیرک و دانا ہیں اسی لیے میں نے بجائے شرح و بسط کے اشارتا کچھ باتیں ذکر کر دی تھیں۔ توضیح کی ایسی کوئی ضرورت نہیں معلوم ہوتی تھی میرا خیال ہے کہ آپ کو ائمہ اہل بیت(ع) کے متعلق کسی قسم کا تردد نہ ہوگا۔ نہ ان کو ان کے غیروں پر ترجیح دینے میں کسی قسم کا پس و پیش ہونا چاہیے ۔ اہلبیت(ع) کی ذوات مقدسہ گمنام ہستیاں نہیں۔ ان کی عظمت و جلالت اظہر من الشمس ہے۔
ان کا کوئی ہمسر ہوا نہ نظیر، انھوں نے پیغمبر(ص) سے تمام علوم سیکھے، اور دین و دنیا دونوں کے احکام حاصل کیے، اسی وجہ سے پیغمبر(ص) نے انھیں قرآن کا مثل ، صاحبانِ عقل و بصیرت کے لیے ہادی و پیشوا اور نفاق کے کی بخشش یقینی ہوگئی۔ عروہ وثقی ( مضبوط رسی) فرمایا جو کبھی ٹوٹے گی نہیں۔
اور حضرت امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں۔
“ تم کہاں جارہے ہو؟ کدھر بھٹک رہے ہو ؟ حالانکہ علم ہدایت نصب ہیں، نشانیاں واضح ہیں، منارے کھڑے ہیں۔ تمہاری یہ سرگردانی کہاں پہنچائے گی تمہیں، بلکہ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم بھٹک کیسے رہے ہو حالانکہ تمہارے درمیان اہلِ بیت(ع) پیغمبر(ص) موجود ہیں جو حق کی زمام ہیں، دین کے جھنڈے ہیں، سچائی کی زبان ہیں لہذا انھیں بھی قرآن کی طرح اچھی منزل پر رکھو اور تحصیل علم کے لیے ان کی خدمت میں پہنچو، جس طرح پیاسے اور تھکے ہارے چوپائے نہر کے کنارے پہنچتے ہیں، اے لوگو ! یہ یاد رکھو یہ ارشادِ پیغمبر(ص) ہے کہ ہم میں(1) سے کسی شخص کو اگر موت آجائے تو ظاہری حیثیت سے وہ مرجائے گا لیکن در حقیقت زندہ ہوگا اور یوں اس کا جسم خاک میں مل جائے گا لیکن واقعا خاک میں نہ ملے گا لہذا تم جو باتیں جانتے نہیں ہو اس کے متعلق لب کشائی نہ کرو کیونکہ زیادہ تر وہی باتین حق ہیں جن کا تم انکار کرتے ہو۔ معانی مانگو اس سے جس پر تم غلبہ نہیں پاسکتے اور وہ میں ہوں ۔ کیا میں نے تمھارے درمیان
--------------
1:-کیونکہ ان کی روح عالم ظہور میں کارفرما ہے۔ دنیا کو منور بنائے ہوئے ہے جیسا کہ شیخ محمد عبدہ مفتی دیار مصر وغیرہ نے کہا ہے۔
ثقل اکبر( یعنی قرآن) پر عمل نہیں کیا ؟ اور تم میں ثقلِ اصغر ( یعنی اپنے دونوں جگر گوشے حسن(ع) و حسین(ع) ) چھوڑنے والا نہیں ہوں؟ کیا میں نے تمہارے درمیان ایمان کا جھنڈا نہیں گاڑا؟”
نیز حضرت امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں :
“ اپنے نبی(ص) کے اہل بیت(ع)(1) پر نظر رکھو، ان کی پہچان کا پورا دھیان رہے، ان کے نقشِ قدم پر چلتے رہو، یہ تمہیں راہِ راست سے الگ نہ کریں گے اور نہ ہلاکت میں دالیں گے، اگر وہ ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر چل کھڑے ہوں تو تم بھی چل پڑو۔ ان سے آگے نہ بڑھ جانا کہ گمراہ ہوجاؤ اور نہ پیچھے رہ جانا کہ ہلاکت میں پڑ جاؤ۔”
ایک مرتبہ آپ(ع) نے اہلبیت(ع) کا ذکر فرماتے ہوئے کہا:
“ وہ علم کی زندگی ہیں(2) ( ان کے دم سے علم زندہ ہے) جہالت کے لیے (پیام) موت ہیں۔ ان کے عمل کو دیکھ کر تم ان کے علم کا اندازہ کر سکو گے ، ان کے ظاہر کو دیکھ کر ان کے باطن کا اندازہ تمہاری سمجھ میں آجائے گا۔ ان کے سکوت سے تم سمجھو گے کہ ان کا کلام کس قدر جچاتلا ہوگا۔ نہ تو وہ حق کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ ان کے مابین حق میں اختلاف ہوتا ہے۔ وہ اسلام
--------------
1:-نہج البلاغہ، جلد اول، صفحہ 179 خطبہ93
2:-نہج البلاغہ، جلد2، صفحہ259، خطبہ234
کے ستون ہیں، مضبوط سہارا ہیں۔ ان ہی کے ذریعے حق اپنی منزل پر ہنچا۔ باطل کو زوال ہوا اور باطل کی زبان جڑ سے کٹ گئی انھوں نے دین کو حاصل کیا۔ اس پر عمل کرنے اور ذہن نشین کرنے کے لیے صرف سننے سنانے کے لیے نہیں کیونکہ علم کے راوی تو بہت ہیں لیکن علم پر عمل کرنے والے، علم کا حق ادا کرنے والے بہت کم ہیں۔”
ایک دوسرے خطبہ میں آپ(ع) فرماتے ہیں :
“ پیغمبر(ص) کی عترت(1) عترتوں میں بہترین عترت ہے۔ آپ کا گھرانا تمام گھرانوں سے بہتر گھرانا ہے، آپ کا شجرہ بہترین شجرہ ہے۔ حرم کی چار دیواری میں وہ روئیدہ ہوا۔ اوج بزرگی تک بلند ہوا۔ اس درخت کی شاخین دراز اور پھل اس کے ناممکن الحصول ہیں۔”
نیز حضرت امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں:
“ ہم(2) ہی پیغمبر(ص) کی نشانیاں ہیں، ہم ہی اصحاب ہیں، ہم ہی خزینہ دار ہیں، ہم ہی دروازے ہیں، گھروں میں دروازے ہی سے آیا جاتا ہے۔جو شخص دروازے سے نہ آئے اسے چور کہا جاتا ہے۔ ”
آگے چل کر آپ اہل بیت(ع) کی توصیف فرماتے ہیں :
“ انھیں کی شان میں کلامِ مجید کی بہترین آیتیں نازل ہوئیں یہی
--------------
1:-نہج البلاغہ، جلد اول، صفحہ 175، خطبہ 190
2:-نہج البلاغہ، جلد 1، صفحہ 58، خطبہ 150
اہل بیت(ع) خدا کے خزانے ہیں۔ اگر بولیں گے تو سچ بولیں گے، اور اگر خاموش رہیں گے تو ان پر سبقت نہ کی جا سکے گی۔”
ایک اور خطبہ میں آپ فرماتے ہیں :
“ سمجھ(1) رکھو تم ہدایت کو اس وقت تک جان نہیں سکتے جب تک تم یہ نہ جان لو کہ کون راہِ ہدایت سے منحرف ہے۔ کتابِ خدا کے عہد و پیمان پر عمل نہیں کرسکتے جب تک تم یہ نہ معلوم کر لو کہ کس کس نے عہد شکنی کی۔ قرآن سے اس وقت تک متسک نہیں ہوسکتے جب تک قرآن چھوڑ دینے والوں کو پہچان نہ لو۔ لہذا اس کو قرآن والوں سے پوچھو ، اہل بیت(ع) سے دریافت کرو وہ علم کی زندگی ہیں جہالت کے لیے موت ہیں۔ اہل بیت(ع) ہی ایسے ہیں کہ ان کے حکم سے تمہیں پتہ چلے گا کہ کتنا علم رکھتے ہیں۔ ان کی خاموشی سے تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ کس قدر متین اور جچی تلی گفتگو کرنے والے ہیں۔ ان کے ظاہر کو دیکھ کر تمہیں ان کے باطن کا اندازہ ہوگا۔ نہ تو وہ دین کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ دین میں ان کے مابین کوئی اختلاف ہوتا ہے۔ پس گویا دین ان کے درمیان شاہد بھی ہے، صادق بھی، خاموش بھی ہے گویا بھی۔”
اس موضوع پر بکثرت ارشادات آپ کے موجود ہیں چنانچہ ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا :
“ ہم ہی سے تم نے تاریکیوں میں ہدایت پائی۔ ہمارے ہی ذریعہ
--------------
1:-نہج البلاغہ، جلد2، صفحہ73، خطبہ 14
بلندیوں پر فائز ہوئے۔ ہماری ہی وجہ سے تاریکیوں سے نکلے بہرے ہوجائیں وہ کان جو سنیں اور سن کر یاد نہ رکھیں(1) ۔”
ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا :
“ اے(2) لوگو! روشنی حاصل کرو اس شخص کے چراغ کی لو سے جو تمہیں نصیحت کرنے والا بھی ہے اور خود بھی مطابق نصیحت عمل کرنے والا ہے اور پانی بھر لو اس پاک و صاف چشمہ سے جس کا پانی نتھرا ہوا ہے۔”
ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا :
“ ہم شجرہ نبوت(3) (ص) ہیں۔ ہم منزل رسالت ہیں، ہم ملائکہ کی جائے آمدو رفت ہیں، علم کے خازن ہیں، حکمتوں کے سرچشمہ ہیں، ہمارے مددگار اور دوست منتظرِ رحمت اور ہمارے دشمن ہم سے کینہ رکھنے والے خدا کے قہر و غضب کے منتظر ہیں۔”
ایک موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا :
“ کہاں(4) گئے وہ جو ہم سے سرکشی کر کے ہم پر کذب و افترا کر کے ہمارے
--------------
1 ـ نہج البلاغہ، جلد 1، صفحہ33، خطبہ3
2 ـ نہج البلاغہ، جلداول، خطبہ301
3 ـ نہج البلاغہ، جلد اول، صفحہ214 خطبہ 105 ابن عباس کا قول ہے کہ ہم اہل بیت(ع) شجرہ نبوت ہیں، ملائکہ کی جائے آمدو رفت ہیں۔ رسالت کے گھرانے والے ہیں، رحمت کے گھر والے ہیں، علم کے معدن ہیں، ان کے اس فقرہ کو محققین علماء اہلسنت نے نقل کیا ہے۔ چنانچہ صواعق محرقہ صفحہ 143 پر بھی منقول ہے۔
4 ـ نہج البلاغہ، جلد 2، صفحہ36
مقابلے میں اپنے کو راسخون فی العلم بتاتے تھے آئیں اور دیکھیں کہ ہم کو خدا نے رفعت بخشی انھیں پست کیا، ہمیں مالا مال کردیا انھیں محروم رکھا، ہمیں اپنی رحمت میں رکھا انھیں نکال باہر کیا ہم سے ہدایت چاہی جاتی ہے، ہم سے آنکھوں میں نور لیا جاتا ہے ، یقینا ائمہ قریش ہی سے جو ہاشم کی نسل سے ہوں گے امامت بنی ہاشم کے سوا کسی کے لیے لائق و سزاوار ہی نہیں اور نہ بنی ہاشم کے علاوہ کسی کو حکومت زیب دے سکتی ہے ۔۔۔۔”
اسی سلسلہ میں آپ نے اپنے مخالفین سے فرمایا :
“ ۔۔۔۔ انھوں نے دنیا کو اختیار کیا اور آخرت کو پیچھے کردیا۔ پاک و صاف چشمے کو چھوڑ کر گدلے پانی سے سیراب ہوئے۔ ”اسی طرح آخرِ خطبہ تک عنوان کلام ہے۔
آپ ہی کا یہ قول بھی ہے کہ :
“ تم میں(1) سے جو شخص اپنے بستر پر مرے اور وہ اپنے پروردگار اپنے رسول(ص) اور اہلبیت(ع) رسول(ص) کے حقوق کو پہچانتا ہوا مرے تو شہید مرے گا۔ اس کا اجر خدا کے ذمہ ہوگا اور جس نیک کام( جہاد فی سبیل اﷲ) کی نیت رکھتا تھا اس کی بھی جزا پائے گا۔ اور اس کی نیت اس کی تلوار کشی کی قائم مقام ہوجائے گی۔”
ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا:
“ ہم(2) ہی شرفاء ہیں ہمارے بزرگ بزرگانِ انبیاء ہیں ہماری
--------------
1 ـ نہج البلاغہ، جلد2، صفحہ156، خطبہ85
2 ـ صواعق محرقہ، صفحہ142
جماعت خدا کی جماعت ہے اور باغی گروہ شیطان کی جماعت ہے۔ جو شخص ہمیں اور ہمارے دشمن کو برابر رکھے وہ ہم سے نہیں۔”
امام حسن(ع) نے ایک موقع پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا :
“ ہمارے بارے میں خدا سے ڈرو کیونکہ ہم تمھارے امیر و حاکم ہیں(1) ۔”
امام زین العابدین علیہ السلام جب اس آیت کی تلاوت فرماتے :
“ اے لوگو ! خدا سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاؤ۔”
تو آپ دیر تک خدا سے دعا فرماتے جس میں صادقین کے درجے سے ملحق ہونے اور اندراج عالیہ کی خواستگاری فرماتے، مصائب و شدائد کا ذکر کرتے اور ائمہ دین خانوادہ رسالت(ص) کو چھوڑ دینے والے بدعتی لوگوں نے جن چیزوں کی دین کی طرف نسبت دے رکھی ہے اس کا تذکرہ کرتے پھر فرماتے :
“ اور کچھ لوگ ہمیں ہمارے درجے سے گھٹانے پر اتر آئے۔ کلام مجید کی متشابہ آیتوں سے کام نکالنے لگے۔ انھوں نے ان آیتوں کی من مانی تاویلیں کیں اور ہمارے متعلق جو کچھ ارشاداتِ پیغمبر(ص) ہیں ان کو متہم قرار دے دیا۔”
اسی سلسلہ میں آپ فرماتے : “ اے پالنے والے ! اس امت کی نافرمانی کی کس سے فریاد کی جائے حالت یہ ہے کہ اس ملت کی نشانیاں خاک میں مل گئیں اور امت
--------------
1 ـ صواعق محرقہ، صفحہ134
نے فرقہ پرستی اور اختلاف کو اپنا دین بنالیا۔ایک دوسرے کو کافر بتانے لگے۔ حالانکہ خداوند عالم کا ارشاد ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو فرقہ فرقہ ہوگئے اور اختلافات میں پڑگئے۔ بعد اس کے کہ ان کے پاس روشن نشانیاں آچکی تھیں لہذا حجت پہنچانے اور حکم کی تاویل میں سوا ان کے جو ہم پلہ کتاب الہی ہیں ابنائے ائمہ ہدایت ہیں، تاریکیوں کے روشن چراغ ہیں، جن کے ذریعہ خدا نے بندوں پر اپنی حجت قائم کی اور اپنی مخلوق کو بغیر اپنی حجت کے نہیں چھوڑا کون بھروسہ کے قابل ہوسکتا ہے۔ تم انھیں پہچاننا اور پانا چاہو تو شجرہ مبارکہ کی شاخ اور ان پاک و پاکیزہ ذوات کے بقیہ افراد پاؤ گے جن سے خدا نے ہر گندگی کو دور رکھا اور ان کی طہارت کی تکمیل کی۔ انھیں تمام آفتوں سے بری رکھا اور کلام مجید میں ان کی محبت واجب کی۔(1)
یہ امام(ع) کی اصل عبارت کا ترجمہ ہے ۔ غور سے ملاحظہ فرمائیے ۔ یہ عبارت اور امیرالمومنین(ع) کے جتنے فقرے ہم نے ذکر کیے یہ نمایاں طور پر مذہب شیعہ کو پیش کرتے ہیں۔ ایسے ہی متواتر اقوال دیگر ائمہ کرام کے ہمارے صحاح میں موجود ہیں۔
ش
--------------
1 ـ صواعق محرقہ، تفسیر آیتواعتصموا ----الخ فصل اول، باب 11، صفحہ90
مکتوب نمبر4
مولانا ئے محترم !
کلام مجید یا حدیثِ نبوی(ص) سے کوئی ایسی دلیل پیش کیجیے جسے سے معلوم ہو کہ ائمہ اہل بیت(ع) ہی کی پیروی واجب ہے۔ قرآن و حدیث کے ماسوا چیزوں کو رہنے دیجیے۔ کیونکہ آپ کے ائمہ کا کلام مخالفین کے لیے حجت نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے کلام سے استدالال اس مسئلہ پر دور کا مستلزم ہے۔ آپ ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ ائمہ اہلبیت(ع) ہی کی پیروی واجب ہے اور آپ دلیل میں انھیں ائمہ اہلبیت(ع) کا قول پیش کرتے ہیں جن کی پیروی سی محل بحث ہے۔
س
جواب مکتوب
آپ نے غور نہیں کیا ۔ ہم نے حدیث سے ابتدا ہی میں ثبوت پیش کردیا تھا۔ اپنے مکتوب میں یہ لکھتے ہوئے کہ بس ائمہ اہلبیت(ع) ہی کی پیروی ہم پر واجب ہے نہ کسی غیر کی۔ ہم نے حدیث اشارتا ذکر کردی تھی۔ ہم نے یہ لکھا تھا کہ پیغمبر(ص) نے انھیں کتاب خدا کے مقارن صاحبانِ عقل کے لیے مقتدی، نجات کا سفینہ، امت کے لیے امان قرار دیا ہے، باب حطہ فرمایا۔ تو میری یہ عبارت انھیں مضامین کی احادیث کی طرف اشارہ تھی جو کہ اکثر و بیشتر کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔ ہم نے یہ بھی لکھ دیا تھا کہ آپ ماشاء اﷲ ان لوگوں میں ہیں جن کے لیے اشارہ ہی کافی ہے، تصریح کی ضرورت نہیں۔ لہذا جب ہمارے ائمہ کی اطاعت و پیروی کے متعلق اتنی کثرت سے احادیث موجود ہیں تو اب ان کے اقوال مخالفین کے مقابلہ میں بطور استدالال پیش کیے جاسکتے ہیں اور کسی طرح دور لازم نہیں آتا ۔ ہم نے اقوال پیغمبر(ص) کی طرف ابتداء میں اشارہ جو کیا تھا ان کی تفصیل بھی کیے دیتے ہیں۔ پیغمبر(ص) نے صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا :
ببانگ دہل اعلان فرمایا :
“يا ايها الناس انی تارک --------الخ ”
“ اے لوگو! میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم انھیں اختیار کیے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ ایک کتابِ خدا دوسرے میرے اہل بیت(ع)(1) ۔”
یہ بھی ارشاد فرمایا :
“ میں نے تم میں ایسی چیزیں چھوڑیں کہ اگر تم ان سے محبت کرو تو کبھی گمراہ نہ ہو۔ ایک کتابِ خدا جو ایک رسی ہے آسمان سے زمین تک کھینچی ہوئی، دوسرے میرے عترت و اہلبیت(ع)۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوضِ کوثر پر پہنچیں۔ دیکھنا میرے بعد تم ان سے کیونکر پیش آتے ہو(2) ۔”
یہ بھی آپ(ص) نے فرمایا کہ:
“ میں تم میں اپنے دو جانشین چھوڑے جاتا ہوں، ایک کتابِ خدا جو ایک دراز رسی ہے آسمان سے لے کر زمین تک۔ دوسرے میری عترت و اہل بیت(ع)۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچیں(3) ۔”
--------------
1 ـ ترمذی و نسائی نے جناب جابر سے روایت کی ہے اور ان دونوں سے ملا متقی نے کنزالعمال جلد اول صفحہ44۔ باب اعتصام الکتاب والسنہ کے شروع میں نقل کیا ہے۔
2 ـ ترمذی نے زید ابن ارقم سے روایت کی ہے کنزالعمال جلد اول صفحہ 44 پر بھی موجود ہے۔
3 ـ امام احمد نے زید ابن ثابت سے دو صحیح طریقوں سے اس کی روایت کی ہے پہلے مسند صفحہ 183۔184 جلد 5، کے بالکل آخر میں طبرانی نے بھی معجم کبیر میں زید بن ثابت سے روایت کیا ہے کنزالعمال جلد اول صفحہ 44 پر بھی موجود ہے۔
یہ بھی آپ(ص) نے فرمایا کہ :
“ میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔ کتاب خدا اور میرے اہل بیت(ع)۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے۔ یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچیں(1) ۔”
یہ بھی آپ(ص) نے فرمایا کہ :
“ قریب ہے میں بلایا جاؤں اور مجھے جانا پڑے۔ میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ ایک خدائے بزرگ و برتر کی کتاب دوسرے میری عترت۔ کتابِ خدا تو ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک دراز ہے اور میری عترت میرے اہل بیت(ع) ہیں۔(2) اور خداوندِ عالم لطیف و خبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر پہنچیں۔ پس دیکھو میرے بعد تمہارا سلوک ان کے ساتھ کیسا رہتا ہے(3) ۔”
--------------
1 ـ امام حاکم مستدرک جلد 3 صفحہ 148 پر اس کو درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین یعنی مسلم و بخاری کے شرائط کے لحاظ سے بھی صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اس کو درج نہیں کیا۔
2 ـ امام احمد نے اس حدیث کو ابو سعید خدری سے دو طریقوں سے روایت کیا ہے ایک جلد 3 صفحہ 17 پر دوسرے صفحہ 26 جلد 3 پر۔ این ابی شیبہ یعلی اور ابن سعد نے ابو سعید خدری سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔ کنزالعمال جلد اول صفحہ 47 پر بھی موجود ہے۔
3 ـ امام حاکم نے اس حدیث کو مستدرک جلد3 صفحہ 109 پر مرفوعا نقل کیا ہے اور نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ حدیث مسلم وبخاری کے معیار پر بھی صحیح ہے لیکن ان دونوں نے درج نہیں کیا پھر اسی جلد3 صفحہ533 پر دوسرے طریقے سے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن بخاری و مسلم نے ذکر نہیں کیا علامہ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اس کو باقی رکھا ہے اور اس کے صحیح ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
اور جب حضرت(ص) حجِ آخری سے پلٹے اور مقام غدیر خم پر پہنچے تو آپ(ص) نے ارشاد فرمایا :
“ مجھے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ جلد ہی میری طلبی ہوگی اور مجھے جانا پڑے گا۔ میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں جن میں ایک دوسرے سے بڑا ہے۔ کتاب خدا ، دوسرے میرے اہل بیت(ع) دیکھو خیال رکھنا کہ ان کے ساتھ تم کس طرح پیش آتے ہو۔ یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے۔ یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچیں۔”
پھر آپ(ص) نے کہا کہ خدائے قوی و توانا میرا مولا وآقا ہے اور میں ہر مومن کا مولا ہوں۔ پھر آپ(ص) نے حضرت علی(ع) کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا کہ :
“ میں جس کا مولا ہوں یہ علی(ع) بھی اس کے مولا ہیں میرے بعد خداوندا ! دوست رکھ اس کو جو ان کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو ان کو دشمن رکھے(1) ۔”
---------------
1ـ طبرانی نے اس حدیث کو درج کیا ہے جیسا کہ علامہ نبھانی کی اربعین فی الاربعین اور علامہ سیوطی کی احیاء المیت میں مذکور ہے آپ ناواقف نہ ہوں گے کہ آںحضرت(ص) کا اس دن کا خطبہ صرف اسی فقرہ پر ختم نہیں تھا کیونکہ صرف اتنا کہنے پر خطبہ کا لفظ صادق نہیں آتا۔ لیکن سیاست نے بیشتر محدثین کی زبانیں بند کردیں اور لکھنے والوں کے قلم روک دیے مگر باوجود اس کے صرف یہ ایک فقرہ اس سمندر کا یہ ایک قطرہ بہت کافی ہے۔
عبداﷲ بن اخطب سے روایت ہے کہ رسول(ص) نے مقام جحفہ پر خطبہ ارشاد فرمایا جس میں کہا :
“ کیا میں تم پر تم سے زیادہ اختیار نہیں رکھتا ؟”
لوگوں نے کہا بے شک یا رسول اﷲ(ص)۔ آپ(ص) نے اس پر ارشاد فرمایا :
“ میں تم سے دو چیزوں کے متعلق پوچھوں گا۔ ایک کتابِ خدا دوسرے میرے اہل بیت(ع)۔”
احادیثِ صحیحہ جن کا قطعی فیصلہ یہ ہے کہ بس ثقلین( اہل بیت(ع) و قرآن کی پیروی واجب ہے) معمولی درجہ کی حدیثیں نہیں بلکہ متواتر حدیثیں ہیں اور بیس سے اوپر صحابیوں سے بکثرت طریقوں سے مروی ہیں۔ اہلبیت(ع) کی پیروی کو واجب بتانے کے لیے ایک مرتبہ نہیں بار ہا اور متعدد مواقع پر پیغمبر(ص) نے علی الاعلان کھلے لفظوں میں فرمایا۔ کبھی غدیر خم میں اعلان کیا جیسا ابھی بیان کرچکا ہوں۔ حج آخری کے موقع پر عرفہ کے دن اعلان کیا کبھی طائف سے واپسی کے موقع پر اعلان کیا۔ ایک مرتبہ مدینہ میں بر سرِمنبر اعلان کیا پھر دوسری مرتبہ جب آپ بسترِ مرگ پر حجرہ میں تھے اور آپ(ص) کا حجرہ صحابیوں سے بھرا ہوا تھا۔ آپ(ص) نے ارشاد فرمایا :
“ اے لوگو! عنقریب تم سے رخصت ہونے والا ہوں۔ میں پہلے ہی تم سے سب کچھ کہہ سن چکا ہوں۔ پھر کہے دیتا ہوں کہ میں تم میں دو چیزیں چھورے جاتا ہوں۔ اپنے پروردگار کی کتاب اور اپنی عترت و اہلبیت(ع)۔”
پھر آپ(ص) نے حضرت علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور ارشاد فرمایا کہ :
“ دیکھو یہ علی(ع) ہیں یہ قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن ان کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے۔ یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچیں(1) ۔”
رسالت ماب(ص) کی اس وصیت پر جمہور مسلمین کے سربرآوردہ افراد کی ایک جماعت نے اقرار و اعتراف کیا ہے۔ یہاں تک کہ ابن حجر نے اپنی کتاب میں حدیث ثقلین درج کر کے لکھا ہے کہ حدیث تمسک بکثرت طریقوں سے مروی ہے اورع بیس سے زیادہ صحابیوں نے اس کی روایت کی ہے۔ پھر آگے چل کر کہتے ہیں کہ یہاں ایک شبہ ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حدیث بکثرت طریقوں سے مروی ہے مگر کہیں یہ ہے کہ آپ(ص) نے حجہ الوداع کے موقع پر عرفات میں فرمایا۔ کہیں یہ ہے کہ مدینہ میں جب آپ بسترِ بیماری پر تھے تب ارشاد فرمایا۔ اور حجرہ اصحاب سے بھرا ہوا تھا۔ کہیں یہ ہے کہ غدیر خم میں فرمایا۔ کہیں یہ ہے کہ جب آپ(ص) طائف سے واپس ہوئے ہیں تو دوران خطبہ آپ(ص) نے فرمایا۔
لیکن یہ شبہ درست نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آںحضرت(ص) نے کلام اﷲ اور اہل بیت(ع) کی عظمت و جلالت کا لحاظ کرتے ہوئے اور لوگوں کو ان کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دلانے کے لیے ان تمام مواقع پر اس حدیث کو بتکرار ارشاد فرمایا ہو، تاکہ اگر پہلے سے کسی کے کانوں میں یہ بات نہ پڑی ہو تو اب پڑجائے۔ پہلے کسی نے نہ سنا ہو تو اب سن لے۔(2) اور جب اہلبیت طاہرین(ع)
--------------
1 ـ ملاحظہ فرمائیے۔ علامہ ابن حجر کی صواعق محرقہ باب 9 فصل 2 کی آخری سطریں۔
2 ـ دیکھے صواعق محرقہ، صفحہ89 باب 11 فصل اول۔
خدا اور رسول(ص) کے نزدیک قرآن کے ہم پلہ و ہم وزن ہیں، تو جو قرآن کی شان ہے وہی ان کی بھی شان ہوگی جس طرح قرآن کا اتباع و اطاعت ہر مسلم پر فرض ہے اس طرح اہلبیت(ع) کی اطاعت بھی ہر ایک پر واجب ولازم ہے لہذا ان ان کی اطاعت اور ان کے مذہب و مسلک کی پابندی سے مفر ہی نہیں۔ مجبور ہے انسان کہ بس انھیں کا اتباع کرے کیونکہ کوئی مسلمان یہ نہیں پسند کرتا کہ کتابِ خدا کو چھوڑ کر کسی اور کتاب کو کسی اور چیز کو اس کے بدلے میں اپنا دستور العمل بنائے۔ تو جب کتابِ خدا کے بدلے میں کسی دوسری چیز کو اختیار کرنا مسلمانوں کے لیے ناممکن ہے تو کتاب خدا کے ہم پلہ و ہم درجہ جو ہستیاں ہیں ان سے روگردانی کر کے دوسرے اشخاص کی پیروی بھی اس کی نظر میں درست نہ ہوگی۔
اس کے علاوہ سرورکائنات کا یہ ارشاد کہ :
" إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِه لَنْ تَضِلُّوا كِتَاب اللَّهِ وَ عِتْرَتِي”
“ میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ ایک کتاب خدا دوسرے میری عترت۔”
اس کا صریحی مطلب یہ ہے کہ جن نے ان دونوں کو ایک ساتھ اختیار نہ کیا، دونوں کی ایک ساتھ اطاعت نہ کی وہ گمراہ ہوگا۔ اس مطلب کی تائید اس حدیث ثقلین سے بھی ہوتی ہے جس کی طبرانی نے روایت کی ہے۔ جس میں
آنحضرت(ص) کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ :
“ دیکھو ان دونوں سے آگے نہ بڑھ جانا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے۔ اور نہ پیچھے رہ جانا ورنہ تب بھی ہلاک ہوجاؤ گے اور انھیں کچھ سکھانا پڑھانا نہیں کیونکہ یہ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔”
ابن حجر فرماتے ہیں کہ سرورکائنات کا یہ کہنا کہ :
“ تم ان سے آگے نہ بڑھنا ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور نہ ان سے پیچھے رہ جانا ورنہ تب بھی ہلاک ہوجاؤگے اور انھیں کچھ سکھانا پڑھانا نہیں کہ یہ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔”
اس امر کی دلیل ہے کہ اہل بیت(ع) کے جو افراد مراتب عالیہ اور درجات دینیہ پر فائز ہوئے انھیں اپنے ماسوا تمام لوگوں پر تفوق و برتری حاصل تھی۔(1)
--------------
1 ـ دیکھیے صواعق محرقہ صفحہ129 باب وصیة النبی(ص) پھر پوچھیے ذرا علامہ ابن حجر سے کہ جب آپ اقرار فرماتے ہیں۔ اس کا اعتراف ہے آپ کو تو ھر اشعری کو اہلبیت(ع) پر کیوں مقدم کیا گیااہلبیت(ع) کو چھوڑ کر اسول اشعری کا مسلک کیوں اختیار کیا گیا۔ فروع دین میں تنہا اربعہ ابو حنیفہ مالک، شافعی، حنبل کو اہل بیت(ع) پر کیوں ترجیح دی گئی ہے؟ حدیث میں عمران بن حطان جیسے خوارج کیوں مقدم رکھے گئے۔ تفسیر میں مقاتل بن سلیمان جو فرقہ مرجیہ سے تھا، جسمانیت خدا کا قائل تھا کیوں اہل بیت(ع) پر مقدم سمجھا گیا۔ دیگر علوم میں غیروں کو اہل بیت(ع) کے مقابلہ میں کیوں ترجیح دی گئی۔ رسول(ص) کی جانشینی و نیابت میں برادر رسول ولی پیغمبرجس کے متعلق رسول فرماچکے تھے کہ “ ادائے قرض میری جانب سے علی ہی کرسکتے ہیں۔” کیوں پیچھے کردیئے گئے۔ ان کوچھوڑ کر دوسرے کیوں خلیفہ بنالیے گئے۔ کس درجہ سے قابل ترجیح سمجھے گئے جن لوگوں نے دینی معاملات و امور شریعت میں اہل بیت(ع) سے رو گردانی کی اور ان کے مخالفین ک نقش قدم پر چلے انھوں نے حدیث ثقلین اور اس جیسی دیگر حدیثوں پر جب میں اتباع اہل بیت(ع) کا حکم دیا گیا ہے کہاں اور کیونکر عمل کیا اور وہ یہ دعوی کیونکر کرسکتے ہیں کہ ہم اہل بیت(ع) سے تمسک کرنے والے ہیں۔ سفینہ اہل بیت(ع) پر ہیں۔ ان کے باب حطہ میں داخل ہیں۔
نیز ایک اور بات جو ہر مسلم کو قہرا اہل بیت(ع) کا پیرو بناتی ہے اور مجبور کرتی ہے کہ دینی معاملات میں بس ان ہی کی پیروی کی جائے۔ سرورکائنات کی یہ مشہور حدیث ہے :
“ آگاہ ہو اے لوگو ! تم میں میرے اہل بیت(ع) کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے نوح(ع) کا سفینہ ۔ کہ جو شخص اس پر سلوار ہوا اس نے نجات پائی اور جس نے گریز کیا وہ ہلاک ہو گیا۔(1) ”
نیز آںحضرت(ص) کا یہ ارشاد :
“ تمہارے درمیان میرے اہلبیت(ع) کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے بنی اسرائیل کے لیے باب حطہ کو جو شخص اس میں داخل ہوا وہ بخش دیا گیا۔(2) ”
--------------
[1] ـ امام حاکم نے مستدرک جلد3 صفحہ 151 پر بسلسلہ اسناد جناب ابوذر سے روایت کی ہے۔
2 ـ طبرانی نے اوسط میں ابوسعید سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔ نیز علامہ نبھانی کی کتاب اربعین کے صفحہ 216 پر بھی موجود ہے۔
نیز آںحضرت(ص) کا یہ قول کہ :
“ ستارے زمین کے باشندوں کے لیے غرقابی سے امان ہیں اور میرے اہل بیت(ع) میری امت کے لیے دینی معلومات میں اختلاف کے وقت امان ہیں پس اگرمیرے اہلبیت(ع) کی مخالفت کوئی گروہ عرب کرے گا( یعنی احکامِ الہی میں) تو وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوکر ابلیس کی جماعت بن جائے گا۔(1) ”
ملاحظہ فرمائیے ۔ ان روایات کے بعد کیا گنجائش باقی رہتی ہے اور اہل بیت(ع) کی پیروی کرنے اور ان کی مخالفت سے باز رہنے کے سوا اور کیا چارہ کار رہتا ہے۔ رسول(ص) نے اس حدیث میں جیسے صاف اور صریحی الفاظ میں اس امر کی واضح فرمایا ہے میں تو نہیں جانتا کہ کسی اور زبان میں اس سے بھی زیادہ وضاحت ممکن ہے۔
یہاں اہلبیت(ع) سے مراد مجموع اہلبیت(ع) میں حیث المجموع ہیں یعنی جملہ اہلبیت(ع) سب کے سب علی سبیل الاستغراق مقصود ہیں۔ اس لیے کہ یہ منزلت صرف انھیں کے لیے ہے جو خدا کی حجت اور اس کی طرف سے درجہ امامت پر فائز ہیں۔ جیسا کہ عقل بھی کہتی ہے اور احادیث بھی بتاتی ہیں چنانچہ جمہور مسلمین کے علماء اعلام نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ صواعقِ محرقہ
--------------
1 ـ امام حاکم نے مستدرک جلد3 صفحہ 149 پر ابن عباس سے روایت کی ہے اور دریافت کرنے کے بعد لکھا ہے، یہ حدیث صحیح ہے مگر شیخین نے درج نہیں کیا۔
میں علامہ ابن حجر مکی تحریر فرماتے ہیں:
“ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ غالبا اہلبیت(ع) جنھیں رسول(ص) نے امان فرمایا ہے ان سے مراد علمائے اہلبیت(ع) ہیں اس لیے کہ انھیں سے ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے جیسے ستاروں سے لوگ ہدایت پاتے ہیں اور جو ہمارے درمیان سے اگر ہٹ جائیں تو روئے زمین کے باشندوں کو آیات الہی کا سامنا ہو جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔”
ابن حجر کہتے ہیں :
“ کہ یہ اس وقت ہوگا جب مہدی تشریف لائیں گے جیسا کہ احادیث میں بھی ہے کہ حضرت عیسی(ع) ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور انھیں کے زمانے میں دجال بھی قتل کیا جائے گا اور اس کے بعد پے در پے خدا کی نشانیاں ظہور میں آتی رہیں گی(1) ۔”
دوسرے مقام پر ابن حجر لکھتے ہیں:
“ سرورکائنات(ص) سے پوچھا گیا کہ اہل بیت(ع) کے بعد لوگوں کی زندگی کیسے بسر ہوگی؟ آپ نے فرمایا ۔ ان کی زندگی بس ایسی ہی ہوگی جیسے اس گدھے کی زندگی جس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہو(2) ۔”
--------------
1 ـ ملاحظہ فرمائیے۔ صواعق محرقہ، باب 11، صفحہ 91 پر ساتویں آیت کی تفسیر۔
2 ـ ملاحظہ فرمائیے۔ صواعق محرقہ، صفحہ 143۔ اب ہم علامہ ابن حجر سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب علمائے اہلبیت علیہم السلام کی یہ منزلت ہے تو آپ لوگ کدھر جائیں گے۔
آپ اس سے بھی واقف ہوں گے کہ سرورکائنات نے اہلبیت(ع) کو سفینہ نوح(ع) سے جو تشبیہ دی ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ جس نے اہلبیت(ع) کا مسلک اختیار کیا، اصول و فروغ میں ائمہ اہلبیت(ع) کی پیروی اور اتباع کیا وہ عذاب جہنم سے محفوظ رہا اور جس نے ان سے گریز کیا اس کا حشر وہی ہوگا جو سفینہ نوح(ع) سے گریز کرنے والے کا ہوا جو جان بچانے کے لیے پہاڑ پر چڑھ گیا تھا۔ بس فرق یہ ہوگا کہ سفینہ نوح سے گریز کرنے والا پانی میں ڈاوبا اور اہلبیت(ع) سے کنارہ کشی کرنے والا جہنم کی آگ میں غرق ہوا۔
اور سرورکائنات(ص) نے اہلبیت(ع) کو باب حطہ سے تشبیہ دی ہے تو اس میں وجہ تشبیہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے منجملہ اور بہت سے مظاہر کے جہاں اس کے جاہ و جبروت حکم و فرمان کے آگے بندوں کی عاجزی اور سرِ نیاز خم کرنے کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ باب حطہ کو بھی ایک مظہر قرار دیا تھا اور اسی وجہ سے اسے ذریعہ مغفرت بنایا تھا۔ اسی طرح خداوندِ عالم نے امت اسلام کے لیے اہل بیت(ع) پیغمبر(ص) کے اتباع و اطاعت کو اپنے جاہ و جبروت کے آگے بندوں کی خاکساری و عاجزی اور اپنے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کے مظاہر میں سے ایک مظہر قرار دیا۔ اسی وجہ سے اتباع اہلبیت(ع) سبب مغفرت ہے۔
ابن حجر نے(1) اس پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ چنانچہ اس قسم کی احادیث
--------------
1 ـ صواعق محرقہ، باب 11 صفحہ 91 تفسیر آیہ ہفتم۔
ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ :
“ آںحضرت(ص) نے ان اہلبیت(ع) کو سفینہ سے جو تشبیہ دی ہے تو وہ وجہ تشبیہ یہ ہے کہ جو ان سے محبت رکھے گا اور ان کو معزز و محترم قرار دے گا اور ان کے علماء کی ہدایت سے مستفید ہوگا وہ مخالفت کی تاریکیوں سے نجات پائے گا اور جو ان سے تخلف کرےگا وہ کفران نعمت کے سمندر میں غرق ہوا اور طغیان و سرکشی کے بیابانوں میں ہلاک ہوا۔”
اس کے بعد لکھتے ہیں کہ :
“ باب حطہ سے جو جو تشبیہ دی ہے تو اس میں وجہ تشبیہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے باب حطہ میں خاکساری و عاجزی کے ساتھ استغفار کرتے ہوئے داخل ہونے کو بنی اسرائیل کے لیے سبب مغفرت قرار دیا تھا اور اسی طرح امت اسلام کے لیے اہلبیت(ع) پیغمبر(ص) کی مودت و محبت کو ذریعہ بخشش قرار دیا ہے(1) ۔”
--------------
1 ـ آپ ان کی یہ عبارت دیکھیے اور انصاف فرمائیے کہ علامہ ابن حجر نے پھر فروع دین و عقائد فقہ کے اصول و قواعد میں ائمہ طاہرین(ع) کی رہبری کیوں نہ قابل قبول سمجھی ان کے ارشادات پر کیوں نہیں عمل کیا؟ کتاب و سنت، علم الاخلاق ، سلوک و آداب میں ان سے استغفار کیوں نہ کیا؟ کس بنا پر ان سے روگردانی کی اور کفران نعمت کے سمندر میں اپنے کو ڈبو دیا اور طغیان و سرکشی کے صحراؤں میں ہلاک ہوئے۔ انھوں نے ہم شیعوں کے متعلق جو تہمت تراشیان کی ہیں اور بر بھلا کہا ہے خدا انھیں معاف کرے۔
غرضیکہ ان اہل بیت علیہم السلام کے اتباع و اطاعت کے واجب و لازم ہونے کے متعلق بکثرت صحیح اور متواتر حدیثیں ہیں۔ خصوصا بطریق اہلبیت طاہرین(ع) تو بے شمار متواتر حدیثیں مروی ہیں۔ اگر آپ کی تھکن کا خیال نہ ہوتا تو انھیں شرح وبسط سے ذکر کرتے لیکن جو کچھ لکھ چکے ہیں وہی بہت کافی ہے۔
ش
مکتوب نمبر5
آپ میری تھکن کا خیال نہ کیجیئے، مزید تشریح فرمائیے۔ خوبی قسمت سے آپ سے استفادہ کا موقع ملا ہے میں ہمہ تن متوجہ ہوں، آپ کے حکیمانہ استدلال نے دل میں فرحت اور طبیعت میں شگفتگی پیدا کردی ہے۔
س
جوابِ مکتوب
آپ کی اس توجہ اور انہماک کا شکریہ بہتر ہے تعمیل حکم میں کچھ اور روشنی ڈالتا ہوں۔
طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام رافعی نے اپنے مسند میں بسسلسلہ اسناد ابن عباس سے روایت کہ ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا(ص) نے فرمایا :
“ وہ شخص جسے یہ پسند ہو کہ میرا جینا جئے اور میری موت مرے اور باغ عدن میں ساکن ہو وہ علی(ع) کو میرے بعد اپنا حاکم بنائے اور میرے بعد میرے اہلبیت(ع) کی پیروی کرے کیونکہ وہ میری عترت ہیں اور میری طینت سے پیدا ہوئے ہیں اور انھیں میرا فہم، میرا علم عطا ہوا ہے ۔ ہلاکت ہو اس کے لیے جو ان کے فضل و شرف کو جھٹلائے۔ اور ان کو مجھ سے جو قرابت ہے اس کا خیال نہ کرے۔ خدا ایسے لوگوں کو میری شفاعت نصیب نہ کرے(1) ۔”
مطیر ہارودی، ابن جریر، ابن شاہین اور ابن مندہ ، ابن اسحاق کے واسطہ سے زیاد بن مطرف سے روایت کرتے ہیں۔ زیاد کہتے ہیں کہ :
“ میں نے خود رسول اﷲ(ص) کو یہ کہتے سنا کہ جو شخص یہ چاہتا ہو
--------------
1 ـ ٹھیک ان ہی الفاظ میں یہ حدیث کنز العمال جلد 6 صفحہ 217 پر موجود ہے۔ منتخب کنزالعمال میں بھی یہ حدیث باقی رکھی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے منتخب کنزالعمال بر حاشیہ مسند احمد بن حنبل جلد5، صفحہ 94 البتہ اس میں صرف اتنا ہے کہ انھیں میرا فہم دیا گیا ہے علم کا لفظ نہیں۔ غائبا یہ کاتب کی غلطی ہے۔ حافظ ابو نعیم نے بھی اس حدیث کی اپنے حلیہ مٰیں روایت کی ہے اور ان سے علامہ معتزلہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد ثانی صفحہ45 طبع مصر رپ نقل کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے بھی ایسی ہی حدیث ابو عبداﷲ سے اپنی مسند اور مناقب علی(ع) دونوں کتابوں میں نقل ہے۔
کہ میرا جینا جیئے اور میری موت مرے اور اس جنت میں داخل ہو جس کا وعدہ مجھ سے میرے پروردگار نے کیا ہے یعنی جنتِ خلد وہ علی(ع) کو اور علی کے بعد ان کی اولاد کو اپنا حاکم بنائے کیونکہ وہ ہرگز ہدایت کے دروازے سے تمہیں باہر کرنے والے نہیں اور نہ گمراہی کے دروازے میں پہنچانے والے ہیں(1) ۔”
اسی طرح زید بن ارقم سے مروی ہے کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ :
“ جو شخص میرا جینا چاہتا ہو اور میری موت مرنا چاہتا ہو اور جنتِ خلد میں رہنا چاہتا ہو جس کا خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ علی(ع) کو اپنا حاکم بنائے کیونکہ وہ ہدایت سے تمہیں باہر نہ کریں گے اور نہ گمراہی میں تمہیں لے جائیں گے(2) ۔”
-------------
1 ـ کنزالعمال جلد6 صفحہ 155 منتخب کنزالعمال بر حاشیہ مسند احمد بن حنبل جلد5 صفحہ 32 علامہ ابن حجر عسقلانی نے بھی مختصرا اس حدیث کو اپنی کتاب اصابہ میں زیاد کے حالات میں لکھا ہے اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اس حدیث کے سلسلہ رواة میں یحی بن یعلی محاربی سے اور ضعیف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابن حجر عسقلانی کا یہ لکھنا بڑا ہی تعجب خیز ہے کیونکہ ابن یعلی محاربی بالاتفاق ثقہ مانے گئے ہیں خود امام بخاری نے صحیح بخاری میں غزوہ حدیبیہ کے تذکرہ میں ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ امام مسلم نے کتاب الحدید میں ان سے روایت کی ہے۔ علامہ ذہبی نے ان کا ثقہ ہونا میزان الاعتدال میں بطور مسلمات ذکر کیا ہے۔ اور علامہ قیسرانی وغیرہ نے ۔ انھیں ان لوگوں میں شمار کیا ہے جن سے مسلم و بخاری نے حدیثین لی ہیں۔
2 ـ امام حاکم نے مستدرک جلد2 صفحہ 128 پر اس حدیث کو لکھا ہے اور حدیث لکھنے کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر شیخین یعنی مسلم و بخاری نے درج نہیں کیا۔ طبرانی نے کبیر میں اور ابو نعیم نے بھی فضائل صحابہ میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ کنزالعمال جلد6 صفحہ 155۔ اور منتخب کنزالعمال بر حاشیہ مسند جلد 5 صفحہ 34 پر بھی موجود ہے۔
جناب عمار یاسر(1) سے مروی ہے کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا :
“ میں ہر اس شخص کو جو مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی وصیت کرتا ہوں علی(ع) کی ولایت کے متعلق جو انھیں دوست رکھے گا وہ مجھے دوست رکھے گا اور جو مجھے دوست رکھے گا وہ خدا کو دوست رکھے گا اور جو علی(ع) سے محبت کرےگا وہ مجھ سے محبت کرے گا اور جو مجھ سے محبت کرے گا وہ خدا سے محبت کرے گا اور جو علی(ع) سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض رکھے گا اور جو مجھ سے بغض رکھے گا وہ خدا سے بغض رکھے گا۔”
جناب ثار سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ آںحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا:
“ جو مجھ پر ایمان لایا اور جس نے میری تصدیق کی وہ علی بن ابی طالب(ع) کو دوست رکھے۔ ان کو دوست رکھنا مجھے دوست رکھنا ہے اور مجھے دوست رکھنا خدا کو دوست رکھنا ہے(2) ۔”
ایک مرتبہ حضرت سرور کائنات(ص) نے خطبہ فرمایا جس میں کہا :
“ اے لوگو! فضل و شرف اور منزلت و ولایت خدا کے رسول(ص) کی ذریت کے لیے ہے لہذا تم لوگ باطل میں نہ پڑجانا(3) ۔”
--------------
1 ـ طبرانی نے کبیر میں ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں اس حدیث کو نقل کیا ہے کنز العمال جلد6 صفحہ154 پر بھی موجود ہے۔
2 ـ طبرانی نے اس حدیث کو کبیر میں درج کیا ہے۔ کنزالعمال جلد6 صفحہ155 پر بھی موجود ہے۔ منتخب کنزالعمال میں بھی ہے۔
3 ـ ابو شیخ نے ایک طولانی حدیث میں اسے نقل کیا ہے اور ان سے تفسیر آیہ مودت کے ضمن میں ابن حجر نے صواعق محرقہ صفحہ105 پر نقل کیا ہے۔
آںحضرت(ص) نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ:
“ میری امت کے ہادی ہر دور میں میرے اہلبیت(ع) کے عادل افراد ہوں گے جو اس دین اسلام سے گمراہوں کی تحریف ،اہل باطل کی تہمت تراشی اور جاہلوں کی تاویل کا ازالہ کرتے رہیں گے۔ آگاہ ہو کہ تمھارے ائمہ خدا کے حضور میں تمھارے نمایندہ ہیں۔ لہذا سوچ سمجھ لینا کہ کسے اپنا نمایندہ بنا کر بھیجو گے(1) ۔”
یہ بھی آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ:
“ دیکھو ان سے آگے نہ بڑھنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور نہ پیچھے رہ جانا ور نہ ہلاک ہوجاؤگے اور انھیں سکھانا پڑھانا نہیں کہ یہ تم سے خود زیادہ جانتے ہیں(2) ۔”
یہ بھی ارشاد فرمایا کہ :
“ میرے اہلبیت(ع) کو ایسا سمجھو جیسا سر بدن کے لیے اور آنکھیں سر کے لیے ہیں اور سر آنکھوں ہی کے ذریعے راہ پاتا ہے(3) ۔”
--------------
1 ـ ملا نے اپنی سیرت میں یہ حدیث درج کی ہے جیسا کہآيت وقفو ه م ان ه م مسئولون کی تفسیر میں ابن حجرمکی نے صواعق محرقہ صفحہ90 پر تحریر کیا ہے۔
2 ـ طبرانی نے حدیث ثقلین میں اسے لکھا ہے اور ان سے علامہ ابن حجر نے آیت آيت وقفو ه م ان ه م مسئولون کی تفسیر میں صواعق محرقہ باب11 صفحہ79 پر نقل کیا ہے۔
3 ـ ارباب سنن و احادیث کی ایک جماعت نے جناب ابوذر سے بسلسلہ اسناد اس حدیث کی روایت کی ہے اور صبان نے اپنی کتاب اسعاف الراغبین میں شیخ یوسف نبہانی نےشرف النبوہ صفحہ34 میں نقل کیا ہے اور بھی بہت سے ثقہ علماء نے اسے لکھا ہے یہ حدیث نص صریح ہے کہ بس اہلبیت(ع) ہی کو اپنا امیر وحاکم سمجھا جائے انہیں کے ذریعہ حق تک ہدایت جاسکتی ہے۔
یہ بھی ارشاد فرمایا کہ :
“ ہم اہل بیت(ع) کی محبت کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ جو شخص خدا سے ملاقی ہو اور ہمیں دوست بھی رکھتا ہو خداوند عالم اسے ہماری شفاعت کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا۔ قسم ہے اس معبود برحق کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کسی بندے کو اس کا عمل اس وقت تک فائدہ نہ پہنچائے گا، جب تک وہ ہمارے حقوق نہ پہچانتا ہو(1) ۔”
یہ بھی آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ :
“ آل محمد(ص) کی معرفت عذاب جہنم سے رہائی اور ان کی محبت پل صراط سے گزر جانے کا پروانہ اور ان کی ولایت عذاب سے امان ہے(2) ۔”
--------------
1 ـ طبرانی نے اس حدیث کو اوسط میں درج کیا اور علامہ سیوطی نے احیاء المیت میں علامہ نبہانی نے اربعین الاربعین میں اور علامہ ابن حجر نے صواعق محرقہ میں اسے نقل کیا ہے۔ ذرا رسول(ص) کے اس جملہ کو اچھی طرح سوچیے کہ کسی بندے کو اس کا عمل اس وقت تک فائدہ نہ پہنچائے گا جب تک وہ ہمارے حقوق کو نہ پہچانتا ہو۔ اور خدا را مجھے بتائیے کہ وہ حق کون سا جسے خداوندعالم نے اعمال کی صحت کے لیے شرط قرار دیا۔کیا وہ حق یہ نہیں ہے کہ حضرات اہل بیت(ع) کی اتباع و پیروی کی جائے۔ ان کے احکام پر سر تسلیم خم کیا جائے اور ان کے ذریعہ خدا تک پہنچا جائے اور سوا نبوت و خلافت کے وہ کون سا حق ہوسکتا ہے جس کے اثرات اتنے ہمہ گیر ہوں۔ لیکن ہمارا ساتھ تو ایسی قوم سے ہے جو تامل و فکر سے کام نہیں لیتی ۔انا ﷲ و انا الي ه راجعون ۔
2 ـ شفاء قاضی عباس صفحہ7 قسم ثانی مطبوعہ آستانہ سنہ1238ھ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں معرفت سے مراد محض ان کے نام و ذات اور ان کے قرابتداران رسول(ص) سے ہونے کو جان لینا نہیں کیونکہ یہ تو ابو لہب و ابوجہل بھی جانتے تھے بلکہ معرفت سے مراد یہ ہے کہ بعد رسول(ص) انھیں ولی اﷲ سمجھا جائے بنا بر ارشاد پیغمبر(ص) “ومن مات ولم يعرف امام زمانه مات ميتة جاهليه “ جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کیے بغیر مرگیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ حضرات اہلبیت(ع) کی محبت و ولایت سے جس کا یہاں ذکر ہے وہ محبت و ولایت مراد ہے جو صاحبان حق ائمہ حق کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ سچے اور حقیقی ائمہ کے ساتھ جو محبت و ولایت لازم و واجب ہے وہی محبت اہل بیت(ع) سے ہونا چاہیے۔
یہ بھی آپ(ص) نے فرمایا کہ:
“ قیامت کے دن موقف حساب سے کسی شخص کے پیر نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی عمر کن باتوں میں گزاری۔ اپنے جسم کو کس کام میں لائے۔ مال کو کن امور میں صرف کیا اور کہاں سے حاصل کیا۔ نیز اس سے ہم اہلبیت(ع) کی محبت کے متعلق سوال کیا جائے گا(1) ۔”
یہ بھی ارشاد فرمایا کہ :“ اگر کوئی شخص رکن و مقام کے درمیان اپنے دونوں قدم جمائے عمر بھ نماز پڑھتا رہے اور روزہ رکھتا رہے مگر آل محمد(ص) سے وہ بغض رکھتا ہو تو وہ جہنم ہی میں جائے گا(2) ۔”
--------------
1 ـ اگر حضرات اہل بیت(ع) خداوند عالم کی جانب سے اس منصب پر فائز نہ ہوتے جو مستوجب اطاعت و اتباع ہے تو ان کی محبت کو اتنی اہمیت کبھی حاصل نہ ہوتی۔ اس حدیث کو طبرانی نے ابن عباس سے روایت کیا ہے اور ان سے علامہ سیوطی نے احیاء المیت میں اور نبہانی نے اپنی اربعین میں نیز اور بھی متعدد علمائے اعلام نے نقل کیا ہے۔
2 ـ اس حدیث کو طبرانی اور امام حاکم نے روایت کیا ہے جیسا کہ علامہ نبہانی کی اربعین اور علامہ سیوطی کی احیاء المیت میں مذکور ہے۔ یہ حدیث سابق والی حدیث “قسم سے اس ذات برحق کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کسی بندے کو اس کا عمل اس وقت تک فائدہ نہ پہنچائے گا جب تک وہ ہمارے حقوق کو پہچانتا نہ ہو۔” کی نظیر ہے ۔ اںصاف فرمائیے کہ آل محمد(ص) سے دشمنی خدا و رسول(ص) سے دشمنی نہ ہوتی تو ان کے دشمن کے اعمال رائگان کیوں جاتے اور اگر یہ حضرات جانشین و قائم مقامِ پیغمبر(ص) نہ ہوتے تو یہ منزلت انھیں کیسے حاصل ہوسکتی تھی۔ امام حاکم اور ابن جبان نے اپنی احادیث کی کتابوں میں ( جیسا کہ علامہ نبہانی کی اربعین اور سیوطی کی احیاء المیت میں مذکور ہے) ابوسعید سے روایت کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو شخص بھی ہم اہلبیت(ع) سے بغض رکھے گا وہ جہنم میں جائے گا اور طبرانی نے (جیسا کہ بنہانی کی اربعین اور سیوطی کی احیاء المیت میں مزکور ہے ) امام حسن(ع) سے روایت کی ہے۔ امام حسن(ع) نے معاویہ بن خدیج سے فرماچکے ہیں کہ جو شخص ہم سے بغض رکھے گا یا ہم سے حسد کرے گا قیامت کے دن حوض کوثر سے آتشین کوڑوں کے ذریعہ بھگایا جائے گا۔” ایک مرتبہ آںحضرت(ع) نے خطبہ فرمایا ۔ اے لوگو جس شخص نےہم اہلبیت(ع) سے بغض رکھا خداوند عالم قیامت کے دن اسے دین یہود پر محشور کرےگا۔ طبرانی نے اس حدیث کی اوسط میں روایت کی ہے
یہ بھی ارشاد فرمایا کہ :
“ جوشخص محبت آل محمد(ص) پر مرے گا وہ شہید مرےگا۔ دیکھو جو محبتِ آل محمد(ص) پر مرے گا وہ مغفور مرے گا۔ سارے گناہ اس کے بخش دیے جائیں گے۔ دیکھو جو محبتِ آل محمد(ص) پر مرے گا گویا وہ اپنے تمام گناہوں سے توبہ کر کے مرا، دیکھو جو محبتِ آل محمد(ص) پر مرا وہ مومن اور کامل الایمان مرے گا۔ دیکھو جو محبتِ آل محمد(ص) پر مرا
ملک الموت اسے جنت کی بشارت دیں گے۔ پھر منکر و نکیر جنت کی خوشخبری دیں گے۔ دیکھو جو محبت اہل بیت(ع) پر مرا جنت میں یوں سنوار کر لے جایا جائے گا جیسے دلہن اپنے خاوند کے گھر لے جائی جاتی ہے۔ دیکھو جو محبت اہل بیت(ع) پر مرا اس کے لیے قبر میں دو دروازے جنت کے کھول دیے جائیں گے۔ دیکھو جو محبت اہلبیت(ع) پر مر اس کی قبر کو اﷲ زیارت گاہ ملائکہ رحمت بنادے گا۔ دیکھو جو محبت آل محمد(ص) پر مرا وہ سنت و جماعت پر مرے گا۔ دیکھو جو بغض آلِ محمد(ص) پر مرا وہ قیامت کے دن یوں آئے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا “ یہ رحمت خدا سے مایوس ہے”۔”
غرضیکہ آخر خطبہ تک آپ(ع) نے اسی کی توضیح فرمائی ہے۔ یہ خطبہ حضرت(ص) کا خطبہ عصما(1) کے نام سے مشہور ہے اور تمام محققین علماء اہلسنت نے اپنی کتابوں میں اس خطبہ کو درج کیا ہے۔ اس خطبہ میں آںحضرت(ص) نے بہتوں کی تمناؤں پر پانی پھیر دیا تھا ان احادیث کے کل مضامین متواتر ہیں خصوصا بطریق اہلبیت(ع) تو اور زیادہ آںحضرت(ص) نےآل محمد(ص) کے اس قدر فضائل جو بیان کیے۔ ان کی محبت کی اتنی تاکید جو کی۔ ان کی ولایت کو بکرات و مرات اٹھتے بیٹھتے بیان جو کیا وہ کیا صرف اس وجہ سے کہ یہ حضرات آپ(ص) کے عزیز و قرابت دار تھے؟ اس بنا پر تو رسول(ص) کی شان عوام کی شان سے بھی پست ہوجاتی ہے، بلکہ رسول(ص) نے اتنا اہتمام صرف
--------------
1 ـ امام ثعلبی نے اس حدیث کو اپنی تفسیر کبیر میں آیت مودت کی تفسیر میں جریر بن عبداﷲ بجلی سے روایت کیا ہے اور علامہ زمخشری ن بطور مسلمات اس حدیث کو اپنی تفسیر میں درج کیا ہے۔
اس لیے کیا کہ یہ حضرات خدا کی مکمل حجت تھے ، اس کی شریعت کے سرچشمہ تھے اور امر و نہی میں رسول (ص) کے قائم مقام تھے اور رسول(ص) کی ہدایت و تبلیغ سے اثر پذیر ہونے کا بہت ہی روشن اور واضح نمونہ تھے۔ لہذا جو ان سے اسی حیثیت سے کہ یہ حجت خدا ہیں، جانشین رسول(ص) ہیں اور رسول اسلام کا مکمل ترین نمونہ ہیں محبت کرے گا وہ خدا کی محبت بھی رکھنے والا ہے اور رسول(ص) کی بھی۔ اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ خدا سے بھی بغض رکھنے والا ہے اور رسول(ص) کے بھی۔ آںحضرت(ص) فرماچکے ہیں کہ ہم سے بس وہی محبت رکھے گا جو مومن و پرہیزگار ہے اور وہی بغض رکھے گا جو منافق و بدبخت(1) ہے۔ اسی وجہ سے فرزدق نے ان حضرات کی شان میں کہا ہے۔
من معشر حبهم دين و بغضهم کفرو قربهم منجی و معتصم
ان عد اهل التقی کانوا ائمتهم او قيل من خير اهل الارض قيلهم
“ یہ امام زین العابدین(ع) اس جماعت سے ہیں جن کی محبت دین اور جن کی دشمنی کفر ہے۔ اور جن سے نزدیکی ذریعہ نجات اور جائے پناہ ہے۔ اگر پرہیزگار لوگ شمار کیے جائیں تو یہ اہل بیت(ع) ان کے امام و پیشوا ہوں گے یا اگر یہ سوال کیا جائے کہ بہترین اہل ارض کون ہے ، تو یہی جواب ملے گا کہ یہ اہل بیت(ع) نبی(ص) ہیں۔”
اور امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :
“ میں اور میری پاکیزہ نسل اور میری نیکو کار عترت بچپن میں تمام لوگوں سے زیادہ حلیم اور بڑے ہوکر سب سے زیادہ علم والے ہیں اور ہمارے ذریعہ سے خدا جھوٹ کو زائل کرے گا۔ ہمارے ذریعہ
--------------
1 ـ صواعق محرقہ باب11۔
سے خونخوار بھیڑیوں کے دانت توڑے گا۔ ہمارے ذریعہ تمھیں رہائی دلائے گا اور تمھاری گردنوں کی رسی جدا کرے گا۔ خدا ہم سے ابتدا کرتا ہے اور ہم پر ختم(1) ۔”
لہذا ہم نے جو آلِ محمد(ص) کو ان کے اغیار پر ترجیح دی اور مقدم سمجھا تو اس لیے کہ خداوندِ عالم نے انہیں سب پر مقدم رکھا اور ہر ایک پر ترجیح دی یہاں تک کہ نماز میں ان پر درود بھیجنا تمام بندوں پر واجب قرار دیا گیا۔ اگر کوئی پوری نماز پڑھ ڈالے اور ان پر درود نہ بھیجے تو اس کی نماز صحیح ہی نہیں ہوسکتی خواہ وہ کیسا ہی صاحب فضل کیوں نہ ہو، بلکہ ہر نماز گزار کے لیے ضروری ہے کہ اس طرح نماز پڑھے کہ نماز میں ان پر درود بھیجے جس طرح کلمہ شہادتین کا ادا کرنا ضروری ہے بغیر تشہد کے نماز نہیں اسی طرح بغیر درود کے صحیح نہیں۔ اہل بیت علیہم السلام کی یہ وہ منزلت ہے ، یہ وہ درجہ و مرتبہ ہے جس کے سامنے تمام امت کی گردنیں خم ہوگئیں اور آپ نے جن اماموں کا ذکر کیا ہے ان کی نگاہیں بھی اہل بیت(ع) کے علوئے مرتبت کے آگے خیرہ ہوگئیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں
يا اهل بيت رسول اﷲ حسبکم فرض من اﷲ فی القرآن انزله
کفاکم من عظيم الفضل انکم من لم يصل عليکم لاصلاة له
“ اے اہل بیت(ع) رسول(ص) خدا آپ لوگوں کی محبت خداوند عالم نے اپنے نازل کردہ قرآن میں فرض بتائی ہے۔ آپ کی بزرگی و بلندی فضل و شرف کے لیے بس یہی کافی ہے کہ جو نماز میں آپ پر درود
-------------
[1] ـ عبدالغنی بن سعید نے ایضاع الاشکال میں اس روایت کو درج کیا ہے۔ کنزالعمال جلد 6 صفحہ 296 پر بھی موجود ہے۔
نہ بھیجے اس کی نماز ، نماز ہی نہیں۔”
یہ چند دلیلین جو اہلِ بیت(ع) پیغمبر(ص) کی اطاعت واتباع اور ان کے قدم بہ قدم چلنے کو واجب بتاتی ہیں احادیثِ نبوی(ص) سے پیش کر کے ختم کرتا ہوں یہی آپ کے لیے کافی ہوں گے۔ قرآن مجید میں بے شمار محکم آیتیں ہیں ان کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ بس اہل بیت(ع) ہی کی پیروی واجب و لازم ہے۔ آپ جو کہ خود صاحب فہم و بصیرت ہیں اور ذکی اور ذہین ہیں اس لیے میں اشارہ کیے دیتا ہوں آپ کلام مجید کا مطالعہ فرمائیں آسانی سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا۔
ش
مکتوب نمبر6
آپ کا مکتوب گرامی پاکر شرف یاب ہوا۔ آپ کی قوت تحریر، زور بیان علمی تبحر اور محققانہ شان کا میں قائل ہوگیا۔ آپ نے تو کوئی گوشہ باقی نہیں رکھا اور تحقیقات کے خزانے آنکھوں کے سامنے کردیے۔
جب میں نے آپ کے استدلال پر غور و فکر کیا اور آپ کے ادلہ و برہین پر گہری نگاہ کی تو میں عجیب تردد کے عالم میں پڑگیا ۔ میں آپ کے ادلہ پر نظر
کرتا ہوں تو انھیں بالکل ناقابل رد دیکھتا ہوں جتنے ثبوت آپ نے پیش کیے ہیں ان کو دیکھتا ہوں تو سوا تسلیم کرنے کے کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ جب ائمہ اہل بیت(ع) کے متعلق سوچتا ہوں تو خدا و رسول(ص) کے نزدیک ان کی وہ منزلت معلوم ہوتی ہے کہ سوا عاجزی و خاکساری سے سر جھکا دینے کے کوئی چارہ نہیں اور جب جمہور مسلمین اور سواد اعظم پر نظر کرتا ہوں تو ان کا طرز عمل ادلہ کے مفہوم کے بالکل برعکس ہے۔ ادلہ بتاتے ہیں کہ بس ان ہی کی پیروی واجب ہے اور جمہور ہرکس و ناکس کی پیروی کرنے پر تیار لیکن اہل بیت(ع) کی پیروی پر آمادہ نہیں۔ میں عجیب کش مکش میں مبتلا ہوں گویا دو نفسوں کی کھینچا تانی میں پڑگیا ہوں۔ ایک نفس کہتا ہے کہ ادلہ کی پیروی کی جائے اور دوسرا کہتا ہے کہ اکثریت اور سواد اعظم کی روش پر چلنا چاہیے۔ ایک نفس نے تو اپنے کو آپ کے حوالے کردیا ہے اور آپ کے ہاتھ سے جانے واالا نہیں لیکن دوسرا جو ہے وہ اپنے عناد کی وجہ سے آپ کے ہاتھ میں جانے پر تیار نہیں اور نافرمانی پر تلا ہوا ہے۔
آپ کتابِ خدا سے کچھ اور ایسی قطعی دلیلیں پیش کرتے جو یہ سرکش نفس بھی قابو میں آجاتا۔ اور رائے عامہ کی متابعت کی دھن دماغ سے نکلتی۔
س
آپ بحمدہ ان لوگوں میں سے ہیں جو کلام مجید پر گہری نظر رکھتے ہیں اور
اس کے رموز و اسرار ظاہر و باطن سے واقف ہیں آپ خود غور فرمائیے کہ کیا اور کسی کے متعلق بھی ایسی واضح آیتیں نازل ہوئیں جیسی کہ اہل بیت(ع) طاہرین(ع) کی شان میں نازل ہوئیں۔ کیا کلام مجید کی محکم آیتوں نے سوا اہل بیت(ع) کے کسی اور کی طہارت و پاکیزگی کا حکم لگایا(1) ۔”
اہل بیت(ع) کے لیے جیسی آیتِ تطہیر نازل ہوئی کیا دنیا بھر کے لوگوں میں سے کسی ایک کے لیے نازل ہوئی(2) ۔؟
کیا قرآن مجید نے اہل بیت(ع) کے علاوہ کسی اور کی محبت و مودت واجب ہونے کو بتایا ہے(3) ؟
کیا آیہ مباہلہ اہلبیت(ع) کے علاوہ کسی اور کے متعلق لے کر جبرائیل(ع) نازل ہوئے(4) ؟
--------------
1 ـ جیسا کہ آیت تطہیر ان سے ہر رجس و گندگی دور ہونے کو بتاتی ہے۔
2 ـ ہرگز نہیں۔ اہلبیت(ع) کی یہ وہ فضیلت و شرف ہے جس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔
3 ـ ہرگز نہیں، بلکہ صرف انھیں کے ساتھ یہ فضیلت مخصوص ہے۔ خداوند کریم نے بس انھیں کی محبت فرض قرار دی ہے اور اس مخصوص فضیلت سے ان کو ہر کہہ ومہ پر شرف بخشا چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہہ دو اے رسول(ص) کہ ہم تم سے اپنی رسالت کا کوئی اجر نہیں طلب کرتے سوا اپنے قرابتداروں کی محبت کے اور جو شخص نیکی حاصل کرےگا( یعنی ان سے محبت رکھے گا) ہم اس کے لیے اس کی خوبی میں اضافہ کریںگے۔ بے شک اﷲ (محبت رکھنے والوں کو) برا بخشنے والا ہے ( اور ان کی محبت کا برا قدر دان ہے) تفسیر ثعلبی میں ابن عباس سے روایت ہے کہ نیکی سے آل محمد(ص) کی دوستی مراد ہے اور علامہ زمخشری صاحب کشاف نے سدی سے یہی روایت کی ہے دیکھیے تفسیر کشاف جلد3، صفحہ 68 مطبوعہ مصر۔
4 ـ آیہ مباہلہ بھی بس انھیں کے متعلق بالخصوص نازل ہوئی چنانچہ ارشاد خداوند عالم ہے ۔ کہہ دو اے رسول(ص) کہ ( اچھا میدن میں آؤ) ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ۔
کیا اہل بیت(ع) کے علاوہ سورہ ہل اتی کسی اور کی شان میں قصیدہ مدحیہ بن کر نازل ہوا(1) ؟
کیا اہل بیت(ع) ہی خدا کی وہ رسی نہیں جن کے متعلق خدا نے فرمایا ہے؟
“ وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَميعاً وَ لا تَفَرَّقُوا”( آل عمران، 103)
“ تم سب خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور پراگندہ نہ ہو(2) ”
کیا اہل بیت(ع) ہی وہ صادقین نہیں ہیں جن کے متعلق خدا فرماتا ہے:
--------------
1 ـ پورا سورہ ہل اتی اہلبیت(ع) کی مدح اور ان کے دشمنوں کی مذمت میں نازل ہوا ہے۔
2 ـ امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں بسلسلہ اسناد ابان بن تغلب سے انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں کہ ہم وہ خدا کی رسی ہیں جن کے متعلق خدا نے فرمایا ہے کہ خدا کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو اور پراگندہ نہ ہو۔ ابن حجر مکی نے فصل اول باب 11 صواعق محرقہ مین دو آیتیں اکھٹا کی ہیں جو اہل بیت(ع) کے متعلق نازل ہوئیں چنانچہ اس آیت کو ان آیات میں شمار کیا ہے اور انھوں نے بھی ثعلبی سے نقل کر کے امام جعفر صادق علیہ السلام کا قول ذکر کیا ہے “ رشفتہ الصادی” میں امام شافعی کے یہ اشعار مذکور ہیں۔
ولما رايت الناس قد ذهبت بهم مذاهبهم فی ابحر الغی والجهل
رکبت علی اسم اﷲ فی سفن النجا وهم اهل بيت المصطفی خاتم الرسل
وامسکت حبل اﷲ وهو ولاؤهم کما قد امرنا بالتمسک بالحبل
جب میں نے دیکھا کہ اہل بیت(ع) کے بارےمیں لوگوں کو ان کے مذہب گمراہی و جہالت کے سمندر میں لے جارہے ہیں تو میں خدا کا نام لے کر سفینہ نجات پر سوار ہوگیا یعنی حضرت محمد مصطفی خاتم المرسلین(ص) کے اہل بیت کے ساتھ ہوگیا اور میں نے خدا کی رسی جو ان اہل بیت(ع) کی محبت واطاعت ہے مضبوطی سے پکڑ لی۔ جیسا کہ ہمیں حکم بھی دیا گیا ہے کہ خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو۔
“وَ كُونُوا مَعَ الصَّادِقينَ ”(1) (توبہ، 119)
کیا ہل بیت(ع) ہی وہ خدا کی راہ نہیں جس کے متعلق خدا نے فرمایا ہے:
“وَ أَنَّ هذا صِراطي مُسْتَقيماً فَاتَّبِعُوهُ ”(2) (آل عمران، 153 )
کیا اہل بیت(ع) ہی خدا کا وہ واحد راستہ نہیں جس کےمتعلق خدا نے امتِ اسلام کو حکم دیا :
“وَ لا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبيلِهِ ” (آل عمران، 153 )
اہلبیت (ع) کو چھوڑ کر دوسری راہیں نہ اختیار کرو کہ اصلی راستہ ہی سے جدا ہوجاؤ۔
کیا اہل بیت(ع) ہی وہ اولی الامر نہیں جن کے متعلق خدا نے فرمایا ہے:
“يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا أَطيعُوا اللَّهَ وَ أَطيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ” ( النساء، 59 )
“ اے ایماندارو! اطاعت کرو خدا کی اور اس کے رسول(ص) اور تم میں سے جو اولی الامر ہیں(3) ۔”
--------------
1 ـ صادقین سے مراد یہاں حضرت رسول خدا(ص) اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام ہیں جیسا کہ ہماری صحیح اور متواتر حدیثیں بتاتی ہیں ہمارے علاوہ حضرات اہل سنت کے یہاں بھی حدیثیں موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ صادقین سے مراد یہی حضرات ہیں جیسا کہ حافظ ابونعیم اور موفق ابن احمد نے روایت کی ہے اور ان سے ابن حجر سے صواعق محرقہ باب 11 صفحہ20 پر نقل کیا ہے۔
2 ـ امام محمد باقر و جعفرصادق علیہم السلام فرماتے ہیں کہ صراط مستقیم سے مراد امام ہے اور ( لا تتبعوا السبیل دوسری راہیں نہ اختیار کرو) سے مقصود یہ ہے کہ گمراہ کرنے والے اماموں کی پیروی نہ کرو کہ اصلی راستہ ( یعنی ہم سے ) تم جدا ہوجاؤ۔
[1] ـ ثقہ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی نے بسند صحیح بریدہ عجلی سے روایت کی ہے بریدہ کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد باقر (ع) سے قول خدادندِ عالم “أَطيعُوا اللَّهَ وَ أَطيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ” کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے جواب میں یہ آیت پڑھی۔“ النساء : 51 أَ لَمْ تَرَ إِلَى الَّذينَ أُوتُوا نَصيباً مِنَ الْكِتابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوتِ وَ يَقُولُونَ لِلَّذينَ كَفَرُوا هؤُلاءِ أَهْدى مِنَ الَّذينَ آمَنُوا سَبيلاً ” کیا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنھیں تھوڑا بہت کتاب کا علم ملا ہے وہ شیطان اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کفر اختیار کرنے والوں کو کہتے ہیں کہ یہ ایمان لانے والوں سے زیادہ راہ راست پر ہیں یہ گمراہی اور ضلالت کے اماموں اور جہنم کی طرف لے جانے والوں کےمتعلق کہتے ہیں کہ آل محمد(ص) سے زیادہ راہ ہدایت پانے والے ہیں۔“ أُولئِكَ الَّذينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَ مَنْ يَلْعَنِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ نَصيراً ” یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤگے۔
کیا اہلبیت(ع) ہی وہ صاحبان ذکر نہیں جن کے متعلق خدا نے فرمایا ہے :
“فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ ”
“ اگر تم نہیں جانتے تو صاحبان ذکر سے پوچھو (1) ۔”
کیا اہل بیت(ع) ہی وہ مومنین نہیں جن کے متعلق خدا کا ارشاد ہے:
“وَ مَنْ يُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدى وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبيلِ الْمُؤْمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلَّى وَ نُصْلِهِ جَهَنَّمَ” ( النساء، 115)
“ جو شخص ہدایت کا راستہ واضح ہوجانے کے بعد رسول(ص) کی مخالفت
--------------
1 ـ امام ثقلبی نے اپنی تفسیر میں جناب جابر سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو امیرالمومنین(ع) نے فرمایا کہ ہم ہی وہ اہل ذکر ہیں یہی جملہ ائمہ طاہرین(ع) سے منقول ہے علامہ بحرینی نے بیس سے زیادہ حدیثیں 35 باب میں درج کی ہیں سب کا مضمون یہی ہے۔
کرے گا اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر دوسری راہ چلے گا ہم اس کو اس کی روگردانی کا مزا چکھائیں گے(1) ۔”
کیا اہل بیت(ع) ہی وہ ہادی نہیں جن کے متعلق فرمایا ہے:
“إِنَّما أَنْتَ مُنْذِرٌ وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هادٍ ” (الرعد، 7)
“ اے رسول(ص) تم ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے(2) ۔”
اور کیا اہلبیت(ع) ہی وہ لوگ نہیں جن پر خدا نے اپنی نعمتیں نازل کیں اور جن کے متعلق خداواند عالم سے سورہ فاتحہ میں ارشاد فرمایا ہے:
“اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقيمَ صِراطَ الَّذينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ” ( فاتحه، 6-7)
--------------
1 ـ ابن مردویہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ مشاقہ( مخالفت) رسول(ص) سے مراد یہاں علی(ع) کی شان میں اختلاف کرنا ہے اور من بعدما تبین لہ الہدی میں ہدی کا جو لفظ ہے اس سے مراد شان امیرالمومنین(ع) ہے یعنی امیرالمومنین(ع) کی شان و جلالت واضح ہونے کے بعد جو اس میں چون وچرا کرے۔ عیاشی نے بھی اپنی تفسیر میں اسی مضمون کی حدیث درج کی ہے ۔ ائمہ طاہرین(ع) سے بکثرت صحیح اور متواتر حدیثیں مروی ہیں جو بتاتی ہیں کہ سبیل مومنین سے مراد انہیں ائمہ طاہرین(ع) کا مسلک ہے۔
2 ـ ثعلبی نے اس آیت کی تفسیر میں جناب ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول(ص) نے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا کہ میں ڈرانے والا ہوں اور علی(ع) ہادی ہیں اور اے علی(ع) ! تمہارے ہی ذریعے ہدایت پانے والے ہدایت پائیں گے۔ اس مضمون کی متعدد حدیثیں مفسرین ، محدثین نے جناب ابن عباس سے روایت کی ہیں۔ محمد بن مسلم سے مروی ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا ہر امام اپنے زمانے کا ہادی ہے اور امام محمد باقر(ع) نے فرمایا ہے اس آیت کی تفسیر میں کی منذر سے مراد رسول(ص) اور ہادی سے مراد حضرت علی(ع) ہیں پھر آپ نے فرمایا کہ قسم بخدا یہ بات اب تک ہم میں چلی آرہی ہے۔
“ خداوند ہمیں راہ راست کی ہدایت کر ان لوگوں کی راہ جن پر تونے اپنی نعمتیں نازل فرمائیں(1) ۔”
اور دوسری جگہ فرمایا ہے:
“ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقينَ وَ الشُّهَداءِ وَ الصَّالِحينَ ” ( نساء ، 69)
“ اور وہ مومنین بندے ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے اپنی نعمت نازل کی ہے(2) ۔”
کیا خداوند عالم نے انھیں کے لیے ولایت عامہ نہیں قرار دی اور رسول(ص) کے بعد ولایت کا انحصار انھیں میں نہیں کردیا ۔ پڑھیے یہ آیت :
“إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ ” (المائدة،55 )
“ اے لوگو! تمہارا ولی خدا ہے اور اس کا رسول(ص) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ، جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں(3) ۔”
--------------
1ـ ثعلبی اپنی تفسیر میں بسلسلہ تفسیر سورہ فاتحہ ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ صراطِ مستقیم سے مراد محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) کا راستہ ہے اور وکیع بن جراح سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے انھوں نے سفیان ثوری سے انھوں نے سدی سے انھوں نے اسباط و مجاہد سے اور انھوں نے جناب ابن عباس سے روایت کی ہے کہ “اهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقيمَ ” کا مطلب یہ ہے کہ تم کہو اے معبود محمد وآل محمد(ص) کی محبت کی طرف ہماری رہنمائی کر۔
2ـ کوئی شبہ نہیں کہ ائمہ علیہم السلام سید و سردار ہیں جملہ صدیقین و شہداء و صالحین کے۔
3 ـ تمام مفسرین کا اجماع و اتفاق ہے جیسا کہ علامہ قوشجی نے شرح تجرید مین اس کا اعتراف کیا ہے ( اور یہ علامہ قوشجی اشاعرہ کے ائمہ سے ہیں) کہ یہ آیت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی جب آپ نے نماز میں بحالت رکوع انگوٹھی خیرات کی تھی۔ امام نسائی نے بھی اپنی صحیح میں عبداﷲ بن سلام سے روایت کی ہے کہ یہ آیت امیرالمومنین علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی اسی طرح صاحب المجمع بن الصحاح الستہ نے بھی سورہ مائدہ کی تفسیر میں اس آیت کے امیرالمومنین(ع) کی شان مین نازل ہونے کی روایت کی ہے ثعلبی نے بھی اپنی تفسیر میں اس آیت کے امیرالمومنین (ع) کی شان میں نازل ہونے کی روایت کی ہے۔
اور کیا خدا نے مغفرت کو مختص نہیں کردیا صرف ان لوگوں کے ساتھ جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور عمل صالح کریں اور ساتھ ساتھ ولایتِ آلِ محمد(ص) کی طرف ہدایت یاب بھی ہوں جیسا کہ خود خداوند عالم نے فرمایا ہے:
“وَ إِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى” ( طہ، 82)
“ بے شک میں بخشنے والا ہوں اس کو جو توبہ کرے ایمان لائے اور عمل صالح کرے پھر ہدایت یاب بھی ہو(1) ۔”
--------------
1 ـ ابن حجر نے صواعق محرقہ فصل اول باب 11 میں لکھا ہے ان کی اصل عبارت کا ترجمہ یہ ہے : آٹھویں آیت میں اﷲ تعالی فرماتا ہے : بے شک میں بخشنے والا ہوں اس کو جو توبہ کرے ، ایمان لائے اور عمل صالح کرے اور ساتھ ساتھ ہدایت یاب بھی ہو” ثابت نباتی کہتے ہیں کہ یعنی ولایت اہل بیت(ع) کی طرف ہدایت یاب ہو۔ امام محمد باقر(ع) و جعفرصادق(ع) سے بھی یہی مضمون مروی ہے۔ اس کے بعد ابن حجر نے امام محمد باقر(ع) کے اس قول کا بھی ذکر کیا ہے جو آپ نے حارث بن یحی سے فرمایا تھا کہ اے حارث ، کیا دیکھتے نہیں کہ خداوند عالم نے کیونکر شرط قرار دی ہے کہ انسان کو توبہ ایمان و عمل صالح اس وقت تک نفع بخش نہیں جب تک ہماری ولایت کی طرف راہ نہ پائے پھر آپ نے اپنی اسناد سے حضرت امیرالمومنین(ع) سے دریافت فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص توبہ بھی کرے ایمان بھی لائے عمل صالح بھی کرے مگر ہماری ولایت کی طرف ہدایت یافتہ نہ ہو اور ہمارے حق کو پہچانتا نہ ہو تو کوئی چیز بھی اس کے لیے فائدہ بخش نہ ہوگی۔ حافظ ابونعیم نے بھی عون بن ابی جعفر سے انھوں نے اپنے باپ سے انھوں نے حضرت علی(ع) سے اسی مضمون کی روایت کی ہے۔ امام حاکم نے امام محمد باقر(ع) وجعفر صادق(ع) ثابت بنائی انس بن مالک ان حضرات میں سے ہر شخص سے اس مضمون کی حدیث روایت کی ہے۔
کیا انھیں کی ولایت وہ امانت نہیں جس کے متعلق خداوند عالم کا ارشاد ہے(1) :
“إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمانَةَ عَلَى السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ الْجِبالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَها وَ أَشْفَقْنَ مِنْها وَ حَمَلَهَا الْإِنْسانُ إِنَّهُ كانَ ظَلُوماً جَهُولاً ” (احزاب، 72 )
“ ہم نے امانت کو آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں پر پیش کیا سب نے اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے خائف ہوئے اور انسان نے اٹھالیا اور وہ تو ظالم و جاہل ہی ہے۔”
کیا اہل بیت علیہم السلام ہی صلح و سلامتی نہیں جس میں داخل ہونے کا خداوند عالم نے حکم دیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے :
“يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَ لا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطانِ ” (البقرة : 208)
“ اے لوگو! سب کے سب سلامتی میں داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو(2) ”
--------------
1 ـ دیکھیے اس آیت کے معنی جو تفسیر صافی اور تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں بیان کیے گئے ہیں۔ نیز ابن بابویہ نے امام محمد باقر علیہ السلام و امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے اور علامہ بحرینی نے اس آیت کی تفسیر میں کتاب غایتہ المرام باب 115 میں حضرات اہلسنت کی حدیثیں درج کی ہیں اسے بھی ملاحظہ فرمائیے۔
2 ـ علامہ بحرینی نے کتاب غایتہ المرام کے باب 224 میں بارہ صحیح حدیثیں اس آیت کے ولایت امیرالمومنین (ع9 وائمہ طاہرین(ع) کے بارے میں نازل ہونے کے متعلق لکھی ہیں اور باب 223 میں لکھا ہے کہ اصفہانی اموی نے امیرالمومنین(ع) سے متعدد طریق سے اس کی روایت کی ہے۔
کیا اہل بیت(ع) ہی وہ نعمتِ خداوند عالم نہیں جس کے متعلق ارشاد الہی ہے :
“ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعيمِ ” ( التکاثر، 8)
“ قیامت کے دن ضرور بالضرور تم سے اس نعمت کا سوال کیا جائے گا(1) ۔”
کیا حضرت سرورکائنات(ص) کو اسی نعمت کے پہنچانے کا تاکیدی حکم نہیں ہوا؟ اور اتنی سختی نہیں کی گئی جو دھمکی سے مشابہ تھی؟ جیسا کہ آیت کا اندازہ بتاتا ہے:
“يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ” (مائدہ، 67)
“ اے رسول(ص) پہنچا دو اس چیز کو جو تم پر تمھارے پروردگار کی جانب سے نازل ہوئی اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گویا تم نے کار رسالت انجام ہی نہیں دیا ۔ تم ڈرو نہیں خدا تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا(2) ۔”
--------------
1 ـ علامہ بحرینی نے غایتہ المرام باب اڑتالیس میں 3 حدیثیں حضرات اہلسنت کے طریقوں سے لکھی ہیں جن سے مستفاد ہوتا ہے کہ نعیم سے مراد یہاں ولایت حضرت سرورکائنات(ص) اور امیرالمومنین(ع) اور ائمہ طاہرین علیہم السلام ہے جس سے خداوند عالم نے بندوں کو سر فراز کیا اور باب 49 میں شیعوں کی 12 صحیح حدیثیں اسی مضمون کی درج کی ہیں۔
2 ـ ایک دو نہیں بکثرت محدثین جیسے امام واحدی و غیرہ نے اپنی کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وارد ہوئی ہیں اور درحقیقت ان حضرات کی ولایت ہے بھی ایسی ہی اہمیت کی حامل کیونکہ ان کی ولایت ان چیزوں میں سے ہے جن کی تبلیغ کے لیے خداوند عالم نے انبیاء مبعوث کیے۔ انباء و اوصیاء کے ذریعے اپنی حجتیں قائم کیں ، جیسا کہ آیہ :
“وَ سْئَلْ مَنْ أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ (1) مِنْ رُسُلِنا ”( زخرف، 45)
“ ہمارے ان رسولوں سے پوچھو جنھیں ہم نے تم سے پیشتر بھیجا تھا۔”
کی تفسیر میں علماء نے صراحت فرمائی ہے بلکہ ان کی ولایت تو وہ مہتم باشان امر ہے جس کا خداوند عالم نے روزِ الست ارواح خلق سے عہد وپیمان لیا، جیسا کہ :
“وَ إِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَني آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ أَشْهَدَهُمْ عَلى أَنْفُسِهِمْ أَ لَسْتُ بِرَبِّكُمْ قالُوا بَلى (2) ”( اعراف، 172)
“ اور اے رسول(ص) وہ وقت بھی یاد دلاؤ جب تمھارے پروردگار نے آدم(ع) کی اولاد سے یعنی پشتوں سے باہر نکال کر ان کی اولاد سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرالیا۔ پوچھا کہ کیا میں تمھارا پروردگار نہیں ہوں۔ تو سب کے سب بولے ۔ہاں۔”
کی تفسیر بتاتی ہے۔ انھیں ذواتِ مقدسہ سے وسیلہ حاصل کر کے آدم(ع) نے وہ کلمات سیکھے جن کے ذریعے ان کی توبہ قبول ہوئی(3) ۔
یہی وہ حضرات ہیں جن کی وجہ سے خداوند عالم نے امت سے اپنا عذاب دور رکھا۔(4)
--------------
1 ـ حلیتہ الاولیاء ، ابونعیم اصفہانی، تفسیر ثعلبی، تفسیر نیشاپوری۔
2 ـ فردوس الاخبار، علامہ دیلمی باب 14، صفحہ 304۔
3 ـ تفسیر در منثور جلد1، صفحہ61، کنزالعمال، جلد1، صفحہ234، ینابیع المودہ، صفحہ79۔
4ـ صواعق محرقہ، تفسیر آیہ “وما کان اﷲ ليعذب ه م الخ”
یہ زمین والوں کے لیے جائے پناہ اور خدا تک پہنچنے کا ذریعہ و وسیلہ ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن سے حسد کیا گیا اور خداوند عالم نے ان کے بارے میں فرمایا : “أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلى ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ (1) ” (نساء، 54)
“ یہ لوگ کیوں جل رہے ہیں ہمارے ان مخصوص لوگوں سے جن کے دامن میں ہم نے اپنے فضل سے نعمتیں بھر دی ہیں۔”یہی وہ علم میں راسخ حضرات ہیں جن کے متعلق خداوند عالم نے فرمایا :“وَ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا (2) ” ( آل عمران، 7)
“ علم میں گڑے ہوئے سمائے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔”یہی وہ اعراف کے رجال ہیں جن کے متعلق خداوند عالم کا ارشاد ہے: “ وَ عَلَى الْأَعْرافِ رِجالٌ يَعْرِفُونَ كُلاًّ بِسيماهُمْ (3) ”( الاعراف، 46)
--------------
1 ـ صواعق محرقہ، باب 11، آیت6۔
2 ـ ثقتہ الاسلام علامہ کلینی نے امام جعفر صادق(ع) سے روایت کی ہے “ ہم ہی وہ لوگ ہیں جن کی اطاعت خدا نے فرض کی۔ ہم ہی راسخون فی العلم ہیں، ہم ہی وہ لوگ ہیں جن سے حسد کیا گیا۔ ” جناب شیخ نے بھی تہذیب میں امام جعفر صادق(ع) سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔
3ـ ینابیع المودة صفحہ 83، روح البیان جلد1 ، صفحہ 723، ابن عباس سے مروی ہے کہ اعراف صراط سے ایک بلند جگہ ہے جس پر عباس، حمزہ، علی، اور جعفر ذوالجناحین ہوں گے، وہ اپنے دوستداروں کو ان کے روشن چہروں سے اور اپنے دشمنوں کو ان کے سیاہ چہروں سے پہچان لیں گے۔ امام حاکم نےبسلسلہ اسناد حضرت علی(ع) سے روایت کی ہے کہ ہم بروز قیامت جنت ونار کے درمیان کھڑے ہوں گے جس نے ہماری مدد کی ہوگی اسے ہم پہچان کر جنت میں اور جس نے دشمن رکھا ہوگا اسے جہنم میں داخل کریںگے اسی مضمون کی وہ حدیث کی تاکید کرتی ہے جو دار قطنی نے روایت کی ہے( ملاحظہ ہو صواعق محرقہ باب نہم) حضرت علی(ع) نے ان چھ آدمیوں سے جنھیں حضرت عمر نے اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنے کے لیے صاحبان شوری قرار دیا تھا ایک طولانی گفتگو میں کہا میں تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں میرے سوا کوئی بھی ایسا ہے جس کے بارے میں پیغمبر(ص) نے فرمایا اےعلی(ع) تم بروز قیامت قسیم نار و جنت ہوگے لوگوں نے کہا نہیں آپ کے سوا اور کسی کے متعلق رسول(ص) نے ایسا نہیں فرمایا۔ علامہ ابن حجر ( اس حدیث کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے جیساکہ عنترہ نے امام رضا(ع) سے روایت کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا اے علی (ع) تم قسیم نار وجنت ہو تم جنت سے کہو گے یہ تیرے لیے ہے اور یہ میرے لیے۔ علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ سماک نے دریافت کی ہے کہ ابوبکر نے حضرت علی(ع) سے کہا میں نے پیغمبر(ص) کو ارشاد فرماتے سنا ہے “ پل صراط سے بس وہی گزرے گا جسے علی(ع) نے پروانہ راہداری دیا ہو۔”
“ اعراف پر ایسے مرد ہوں گے جو ہر شخص کو بہشتی ہو یا جہنمی اس کی پیشانی سے پہچان لیں گے۔”
یہی وہ رجال صدق ہیں جن کے متعلق ارشاد ہوا :
“ رِجالٌ صَدَقُوا ما عاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَ ما بَدَّلُوا تَبْديلاً ” ( احزاب، 23)
“ ایمانداروں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ خدا سے انھوں نے جان نثاری کا جو عہد کیا تھا اسے پورا کردکھایا۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جو مر کر اپنا وقت پورا کر گئے اور ان میں سے بعض حکم خدا کے منتظر بیٹھے ہیں اور ان لوگوں نے اپنی بات ذرا بھی نہیں بدلی(1) ۔”
--------------
1 ـ علامہ ابن حجر نے صواعق محرقہ ، باب 9 میں تحریر کیا ہے کہ حضرت امیرالمومنین(ع) منبر کوفہ پر تشریف رکھتے تھے کہ کسی نے اس آیت کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا یہ آیت میرے اور میرے چچا حمزہ اور چچازاد بھائی عبیدہ بن حارث کے متعلق نازل ہوئی۔ عبیدہ تو بروز بدر واصل بحق ہوئے۔ چچا حمزہ احد میں شہید ہوئے رہ گیا میں سو میں اس بدبخت ترین مردم کا انتظار کررہا ہوں جو میری ڈاڑھی کو میرے سر کے خون سے خضاب آلود کرےگا۔ میرے حبیب محمد مصطفی(ص) مجھے بتا گئے ہیں۔ امام حاکم نے بھی اس مضمون کی حضرت علی(ع) سے روایت کی ہے۔
یہی وہ رجال تسبیح ہیں جن کے بارے مین خداوند عالم نے ارشاد فرمایا :
“يُسَبِّحُ لَهُ فيها بِالْغُدُوِّ (1) وَ الْآصالِ رِجالٌ لا تُلْهيهِمْ تِجارَةٌ وَ لا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَ إِقامِ الصَّلاةِ وَ إيتاءِ الزَّكاةِ يَخافُونَ يَوْماً تَتَقَلَّبُ فيهِ الْقُلُوبُ وَ الْأَبْصارُ ” ( نور، 36 ۔37)
“ ان گھروں میں خداوند عالم کی تسبیح کیا کرتے ہیں صبح و شام ایسے مرد جنھیں خرید و فروخت خدا کے ذکر اور نماز قائم کرنے ، زکوة ادا
--------------
1 ـ مجاہد و یعقوب بن سفیان نے ابن عباس سے آیت “وَ إِذا رَأَوْا تِجارَةً أَوْ لَهْواً انْفَضُّوا إِلَيْها وَ تَرَكُوكَ قائِماً ” (جمعہ،11) “ اور جب وہ کسی تجارت یا کھیل تماشے کو دیکھ پاتے ہیں تو اس طرف دوڑ پڑتے ہیں اور تمہیں کھڑا چھوڑ جاتے ہیں” کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ وحیہ کلثوم سامان تجارت لے کر جمعہ کے دن پلٹے اور مدینہ سے باہر آکر ٹکے اور طبل بچایا تاکہ لوگوں کو ان کی آمد کی اطلاع ہوجائے طبل کی آواز سن کر سب کے سب دوڑ پڑے اور رسول اﷲ(ص) کو منبر پر خطبہ پڑھتے چھوڑ دیا” صرف حضرت علی(ع) حسن(ع) و حسین(ع) ابوذر و مقداد رہ گئے۔ پیغمبر(ص) نے ارشاد فرمایا خداوند عالم نے آج کے دن میری اس مسجد کی طرف نگاہ کی اگر یہ چند نفر نہ ہوتے تو پورا مدینہ آگ سے پھونک دیا جاتا اور ان لوگوں پر اسی طرح پتھر برسائے جاتے جیسا کہ قوم لوط پر برسائے گئے اور جو لوگ پیغمبر(ص) کے پاس مسجد میں باقی رہ گئے ان کے بارے میں خداوند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی“يُسَبِّحُ لَهُ فيها بِالْغُدُوِّ وَ الْآصالِ ۔۔الخ”
کرنے سے غافل نہیں کرتی وہ لوگ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن میں دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔”
انھیں کا گھر وہ گھر تھا جس کا ذکر خداوند عالم نے ان شاندار الفاظ میں فرمایا :
“ في بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فيهَا اسْمُهُ ”( نور، 36)
“ وہ قندیل ایسے گھروں میں روشن ہے جس کی نسبت خدا نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے جن میں صبح و شام وہ لوگ اس کی تسبیح کیا کرتے ہیں(1) ۔”
خداوند عالم نے آیتِ نور میں انھیں کے مشکوة(2) کو اپنے نور کی مثال قرار دیا ہے اور اس کے تو زمین و آسمان میں بلند تر نمونے ہیں۔ وہ بڑی قوت و حکمت والا ہے یہی سبقت کرنے والے یہی مقربان بارگاہ(3) یہی صدیقین(4) یہ شہداء و صالحین ہیں۔
--------------
1 ـ ثعلبی نے اس آیت کی تفسیر میں انس بن مالک و بریدہ سے روایت کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے آیت فی بیوت الخ کی تلاوت فرمائی تو حضرت ابوبکر نے کھڑے ہو کر علی(ع) و فاطمہ(س) کے گھر کی طرف اشارہ کر کے پوچھا یا رسول اﷲ(ص) یہ گھر بھی ان گھروں میں سے ہے ؟ پیغمبر(ص) نے فرمایا ہاں بلکہ ان سے بہتر گھروں میں ہے۔
2 ـ اشارہ ہے آیت مثل نورہ کمشکوة ۔۔۔۔الخ کی طرف جس کے متعلق حسن بصری اور ابو الحسن مغازلی شافعی سے روایت ہے کہ مشکوة سے مراد حضرت فاطمہ(س) مصباح سے حسنین(ع) اور شجرہ مبارکہ سے حضرت ابراہیم(ع) شرقی و غربی نہ ہونے سے حضرت فاطمہ(س) کا یہودی و نصرانی نہ ہونا یکاد زیتہا سے ان کی کثرت علم اور نور علی(ع) نور سے ایک امام کے بعد دوسرا امام یھدی اﷲ نورہ سے ان کی اولاد کی محبت مراد ہے۔
3 ـ دیلمی نے جناب عائشہ اور طبرانی ابن مردویہ ن جناب ابن عباس سے روایت کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا سبقت کرنے والے تین ہوئے موسی کی طرف سبقت کرنے والے ۔ یوشع بن نون۔ عیسی کی طرف یاسین اور میری طرف علی بن ابی طالب(ع) ۔ صواعق محرقہ باب9 فصل 2۔
4 ـ ابن نجار نے جناب ابن عباس سے روایت کی ہےکہ پیغمبر(ص) نے ارشاد فرمایا صدیقین تین ہیں۔ حبیب نجار مومن آل یاسین۔دوسرے حزقیل مومن آل فرعون، تیسرے علی بن ابی طالب(ع) اور یہ علی سب سے افضل ہیں۔
انھیں کے متعلق اور انھیں کے دوستوں کے بارے میں خداوند عالم نے ارشاد فرمایا:
“وَ مِمَّنْ خَلَقْنا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَ بِهِ يَعْدِلُونَ ”( اعراف، 181)
“ اور ہماری مخلوقات میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دین حق کی ہدیت کرتے ہیں اور حق ہی حق اںصاف بھی کرتے ہیں(1) ۔”
انھیں کی جماعت اور دشمنوں کی جماعت کے متعلق ارشاد ہوا:
“لا يَسْتَوي أَصْحابُ النَّارِ وَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفائِزُونَ ” ( حشر، 20)
“ جہنم والے اور جنت والے دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ جنت والے ہی تو کامیاب ورستگار ہیں(2) ۔”
نیز انھیں حضرات کے دوستوں اور دشمنوں کے متعلق یہ بھی ارشاد ہوا:
--------------
1 ـ زاذان نے حضرت علی(ع) سے روایت کی ہے کہ عنقریب اس امت کے تہتر (73) فرقے ہوں گے ان میں سے بہتر(72) جہنمی اور ایک جنتی۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں خداوند عالم نے فرمایا و ممن خلقنا ۔۔ ۔ الخ اور یہ لوگ ہم ہیں اور ہمارے شیعہ ہیں ۔کتاب علامہ ابن مردویہ صفحہ276۔
2 ـ شیخ طوسی نے اپنی آمالی میں نہ اسناد صحیح امیرالمومنین(ع) سے روایت کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے اس آیت کی تلاوت فرماکر کہا اصحاب نار وہ ہیں جو علی(ع) کی ولایت کو ناپسند کریں اور عہد توڑیں اور میرے بعد ان سے جنگ کریں جناب صدوق نے بھی حضرت علی(ع) سے اسی مضمون کی روایت کی ہے او علامہ اہلسنت وموفق بن احمد نے جناب جابر سے روایت کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے ارشاد فرمایا قسم بخدا یہ(علی(ع)) اور ان کے شیعہ ہی قیامت کے دن رستگار ہیں۔
“أَمْ نَجْعَلُ الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ كَالْمُفْسِدينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقينَ كَالْفُجَّارِ ”( ص، 28)
“ کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل صالح کیا ان لوگوں جیسا قرار دین گے جو زمین میں فساد پھیلانے والے ہیں یا ہم نیکوکار و پرہیز گار بندوں کو بدکاروں جیسا قرار دیں گے(1) ۔”
انھیں دونوں جماعتوں کے متعلق ارشاد خداوندِ عالم ہوا :
“أَمْ حَسِبَ الَّذينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ سَواءً مَحْياهُمْ وَ مَماتُهُمْ ساءَ ما يَحْكُمُونَ ” (جاثیه، 21)
“ جو لوگ برے کام کیا کرتے ہیں کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام بھی کرتے رہے اور ان سب کا جینا مرنا ایک سا ہوگا۔ یہ لوگ کیا برے حکم لگاتے ہیں(2) ۔”
انھیں کے متعلق اور ان کے شیعوں کے متعلق خداوند عالم کا ارشاد ہے:
“ إِنَّ الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ
--------------
1 ـ ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ آیت جناب علی(ع) اور حمزہ اور عبیدہ بن الحارث کے حق میں نازل ہوئی ہے، پس اس آیت میں وہ لوگ کہ کرتے ہیں برائیاں عتبہ اور شیبہ اور ولید ہیں اور وہ لوگ کہ ایمان لائے ہیں اور اچھے کام کرتے ہیں وہ جناب علی(ع) اور حمزہ اور عبیدہ ہیں۔
2 ـ صواعق محرقہ، باب 9، فصل اول۔
خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ” (البینہ، 7)
“ بہ تحقیق وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کیا وہی بہترین خلائق ہیں(1) ۔”
انھیں کے متعلق اور انھیں کے دشمنوں کے متعلق خداوند عالم نے ارشاد فرمایا:
“هذانِ خَصْمانِ اخْتَصَمُوا في رَبِّهِمْ فَالَّذينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيابٌ مِنْ نارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَميمُ ” ( حج، 19)
“ یہ دونوں مومن وکافر دو فریق ہیں جو آپس میں اپنے پرورگار کے بارے میں لڑتے ہیں پس جو لوگ کہ کافر ہیں ان کے لیے یہ آتشین لباس قطع کیا جائے گا اور ان کے سروں پہ کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔”
انھیں کے بارے میں اور انھیں کے دشمنوں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی :
“ أَ فَمَنْ كانَ مُؤْمِناً كَمَنْ كانَ فاسِقاً لا يَسْتَوُونَ
--------------
1 ـ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری پارہ 3 صفحہ16 میں بسلسلہ تفسیر سورہ حج باسناد صحیحہ حضرت علی(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا میں سب سے پہلے خداوند عالم کے حضور بروز قیامت اپنا جھگڑا پیش کروں گا۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ قیس نے کہا یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنھیں نے بدر کے روز جنگ کی وہ جناب حمزہ، اور علی(ع) اور عبیدہ بن الحارث اور عتبہ ، شیبہ اور ولید ہیں امام بخاری نے اس پرجناب ابوذر سے روایت کی ہے جناب ابوذر قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یہ آیت جناب حمزہ اور علی(ع) اور عبیدہ بن الحارث اور عتبہ و شیبہ اور ولید کے حق نازل ہوئی۔
أَمَّا الَّذينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلاً بِما كانُوا يَعْمَلُونَ وَ أَمَّا الَّذينَ فَسَقُوا فَمَأْواهُمُ النَّارُ كُلَّما أَرادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْها أُعيدُوا فيها وَ قيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذابَ النَّارِ الَّذي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ (1) ” ( سجدہ، 18،19،20)
“ بھلا وہ شخص جو ایمان والا ہو فاسق جیسا ہوسکتا ہے ؟ ( ہرگز نہیں) دونوں برابر نہیں ہوسکتے پس وہ لوگ جوکہ ایمان لائے اور عمل صالح کیا ان کے لیے جنات ماوی ہیں وہاں وہ فروکش ہوں گے یہ صلہ ہے ان کے اعمال خیر کا اور جولوگ فاسق ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے جب وہ اس میں سے نکلنا چاہیں گے دوبارہ اسی جہنم میں پلٹا دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اس آتش جہنم کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔”
انھیں حضرات کے متعلق اور ان لوگوں کے بارے میں جنھوں نے ان سے حاجیوں
--------------
1 ـ یہ آیت بہ اتفاق مفسرین و محدثین حضرت امیرالمومنین(ع) اور ولید عتبہ بن ابی معیط کے متعلق نازل ہوئی۔ امام واحدی نے کتاب اسباب النزول میں سعید بن جبیر سے انھوں نے جناب ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ولید بن عتبہ بن ابی معیط نے حضرت امیرالمومنین(ع) سے کہا میرا نیزہ تمھارے نیزے سے کہیں زیادہ تیز اور میری زبان تمھاری زبان سے کہیں زیادہ چلتی ہوئی اور لشکر میری وجہ سے کہیں زیادہ بھرا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت تمھارے۔ اس پر حضرت علی(ع) نے فرمایا خاموش بھی رہ کر تو فاسق کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اسی واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی افمن کان مومنا کمن فاسقا ۔ اس آیت میں مومن سے مراد حضرت علی(ع) اور فاسق سے مراد ولید بن عتبہ ہے۔
کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی آباد کاری کی بدولت فخر و مباہات کی تھی خداوند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی۔
“أَ جَعَلْتُمْ سِقايَةَ الْحاجِّ وَ عِمارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَ جاهَدَ في سَبيلِ اللَّهِ لا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَ اللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمينَ (1) ”( توبه، 19)
“ کیا تم لوگوں نے حاجیوں کی سقائی اور خانہ کعبہ کی آبادی کو اس شخص کے ہمسر بنا دیا ہے جو خدا کے اور روز آخرت پر ایمان لایا اور خدا کی راہ میں جہاد کیا۔ خدا کے نزدیک تو یہ لوگ برابر نہیں اور خداوندِ عالم ظالم لوگوں کی ہدایت نہیں کرتا۔”
انھیں حضرات کے ابتلا و آزمائش میں بہ عمدگی پورے اترنے اور شدائد و مصائب ہنسی خوشی جھیل جانے پر خداوندِ عالم نے ارشاد فرمایا :
--------------
1 ـ یہ آیت حضرت علی(ع) اور جناب عباس اور طلحہ بن شیبہ کی شان میں نازل ہوئی۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ ان لوگوں نے باہم فخر کیا طلحہ نے کہا تھا خانہ کعبہ کا میں متولی ہوں اس کی کنجیاں میرے پاس رہتی ہیں۔ عباس نے کہا میں زمزم کا متولی ہوں اور سقائی میرے ہاتھوں مین ہے۔ حضرت علی(ع) نے کہا کہ میری سمجھ نہیں آتا کہ تم دونوں کیا کہہ رہے ہو میں نے چھ مہینے لوگوں سے پہلے نماز پڑھی ہے اور میں خدا کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ علامہ واحدی نے کتاب اسباب النزول میں یہ روایت حسن بصری شبسی وغیرہ سے نقل کی ہے اور ابن سیرین و مرہ حمدانی سے منقول ہے کہ حضرت علی(ع) نے جناب عباس سے کہا آپ ہجرت نہیں کرتے؟ آپ رسول(ص) کے پاس نہ جائیے گا۔ جناب عباس نے کہا مجھے حاجیوں کی سقائی کا شرف پہلے سے حاصل ہے کیا یہ ہجرت کےشرف سے بڑھا ہوا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
“ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْري نَفْسَهُ ابْتِغاءَ مَرْضاتِ اللَّهِ وَ اللَّهُ رَؤُفٌ بِالْعِبادِ (1) ” ( بقره، 207)
“ لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو خدا کی خوشنودی کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتے ہیں اور خدا اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔”
نیز یہ بھی ارشاد فرمایا :
“ إِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنينَ أَنْفُسَهُمْ وَ أَمْوالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقاتِلُونَ في سَبيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَ يُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْراةِ وَ الْإِنْجيلِ وَ الْقُرْآنِ وَ مَنْ أَوْفى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ
--------------
1 ـ امام حاکم نے مستدرک جلد3 صفحہ4 پر جناب ابن عباس سے روایت کی ہے کہ قال شری علی نفسہ لیس ثوب النبی الحدیث۔ جناب ابن عباس نے کہا حضرت علی(ع) نے اپنا نفس فروخت کیا اور پیغمبر (ص) کی چادر اوڑھی ۔ امام حاکم نے تصریح کی ہے کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کے معیار و شرائط پربھی صحیح ہے لیکن ان دونوں نے لکھا نہیں۔ ذہبی ایسے متشدد بزرگ نے بھی تلخیص مستدرک میں اس کی صحت کا اعتراف کیا ہے۔ امام حاکم نے اسی صفحہ پر امام زین العابدین(ع) سے یہ روایت بھی کی ہے کہ پہلے وہ شخص جنھوں نے اپنے نفس کو خوشنودی خدا کے لیے بیچا وہ علی بن ابی طالب(ع) ہیں جب کہ وہ شب ہجرت پیغمبر(ص) کے بستر پر سورہے۔ پھر امام حاکم نے اس موقع پر حضرت علی(ع) نے جو اشعار فرمائے تھے وہ اشعار نقل کیے ہیں جن کا پہلا شعر یہ ہے
وقيت بنفسی خير من وطا الحصا ومن طاف بالبيت العتيق و بالحجر
میں نے جان پر کھیل کر اس بزرگ کی حفاظت کی جو ان تمام لوگوں میں جو سرزمین بطحا پر چلے درجنوں نے خانہ کعبہ اور حجر اسود کا طواف کیا بہتر و افضل ہیں۔”
الَّذي بايَعْتُمْ بِهِ وَ ذلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظيمُ التَّائِبُونَ الْعابِدُونَ الْحامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ النَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنينَ ” (توبہ، 111۔112)
“ اس میں تو شک نہیں کہ خدا نے مومنین سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات پر خرید لیے ہیں کہ ( ان کی قیمت) ان کے لیے بہشت ہے( اسی وجہ سے) یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو ( کفار کو) مارتے ہیں اور (خود بھی) مارے جاتے ہیں ( یہ ) پکا وعدہ ہے ( جس کا پورا کرنا ) خدا پر لازم ہے ( اور ایسا پکا ہے کہ) توریت اور انجیل اور قرآن (سب) میں ( لکھا ہوا) ہے اور اپنے عہد کا پورا کرنے والا خدا سے بڑھ کر اور کون ہے تو تم اپنی ( خرید) فروخت سے جو تم نے خدا سے کی ہے خوشیاں مناؤ یہی تو بڑی کامیابی ہے ( یہ لوگ ) توبہ کرنے والے عبادت گزار ( خدا کی ) حمد و ثنا کرنے والے ( اس کی راہ میں) سفر کرنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیک کام کا حکم کرنے والے اور برے کام سے روکنے والے اور خدا کی ( مقرر کی ہوئی) حدوں کے اوپر نگاہ رکھنے والے ہیں اور ( اے رسول(ص)ان ) مومنین کو ( بہشت کی ) خوشخبری دے دو۔”
نیز ارشاد فرمایا :
“الَّذينَ يُنْفِقُونَ أَمْوالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَ النَّهارِ سِرًّا
وَ عَلانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لا هُمْ يَحْزَنُونَ (1) ” ( بقرہ، 274)
“ جو لوگ کہ اپنے مالوں کو رات اور دن میں ظاہر بہ ظاہر اور چھپا کر ( راہ خدا میں ) خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کا صلہ ہے ان کے پروردگار کے نزدیک ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ اندوہ گین ہوں گے۔”
انھیں نے صدق دل سے پیغمبر(ص) کی سچائی کی تصدیق کی اور خداوندِ عالم نے ان کی اس تصدیق کی ان الفاظ میں گواہی دی :
“ وَ الَّذي جاءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ (2) بِهِ أُولئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ” (زمر، 33)
“ اور یاد رکھو کہ جو رسول(ص) سچی بات لے کر آئے ہیں اور جس نے
--------------
1 ـ جملہ محدثین و مفسرین نے بسلسلہ اسناد جناب ابن عباس سے روایت کی ہے کہ یہ آیت حضرت علی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ آپ کے پاس چار درہم تھے آپ نے ایک درہم شب میں ایک دن میں ، ایک چھپا کر، ایک ظاہر بظاہر راہ خدا میں صدقہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ تفسیروحیدی ص16، تفسیر معالم التنزیل ص135، تفسیر بیضاوی،جلد 1، ص125 تفسیر نیشاپوری، ص278 تفسیر کبیر رازی، جلد2، ص528 تفسیر روح المعانی جلد1، صفحہ 495 وغیرہ۔
2 ـالَّذي جاءَ بِالصِّدْقِ سے مراد پیغمبر(ص) صدق بہ سے مراد امیرالمومنین(ع) ہیں۔ جیسا کہ امام محمد باقر(ع) و جعفر صادق(ع) و موسی کاظم(ع) و امام رضا(ع) اور عبداﷲ بن عباس ، ابن حذیفہ ، عبداﷲ بن حسن ، زید شہید و غیر ہم نے تصریح کی ہے۔ خود امیرالمومنین(ع) اس آیت کے ذریعہ احتجاج فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی اور میں مراد ہوں۔ ابن مغازلی نے بھی اپنی مناقب میں مجاہد سے اس مضمون کی روایت کی ہے اور حافظ ابن مردویہ اور حافظ ابو نعیم نے بھی۔
ان کی تصدیق کی یہی لوگ تو پرہیز گار ہیں۔”
پس یہی حضرات حضرت رسول خدا(ص) کی مخلص جماعت اور آپ کے قریبی رشتہ دار ہیں جنھیں خداوند عالم نے اپنی بہترین رعایت اور بلندترین توجہ کے ساتھ مخصوص فرمایا اور ارشاد فرمایا :
“وَ أَنْذِرْ عَشيرَتَكَ الْأَقْرَبينَ ” ( شعراء، 214)
“ اے پیغمبر(ص) اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو خدا کا خوف دلاؤ۔”
یہی پیغمبر(ص) کے اولی الارحام ہیں اور اولی الارحام بعض بعض سے مقدم و اولیٰ ہیں کتاب الہی میں یہ پیغمبر(ص) کے قریبی رشتہ دار اور قریبی رشتہ دار بھلائی کے زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔ یہی بروز قیامت پیغمبر(ص) کے درجے میں ہوں گے اور جنتِ نعیم میں آپ کے ساتھ ساتھ ہوں گے جس پر دلیل خداوند عالم کا یہ قول ہے۔
“وَ الَّذينَ آمَنُوا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإيمانٍ أَلْحَقْنا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ ما أَلَتْناهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ (1) ” (طور، 21)
“ جو لوگ کہ ایمان لائے اور ان کی ذریت نے بھی ایمان لا کر اتباع کیا تو ہم ان کی ذریت کو بھی انھٰیں سے ملحق کردیں گے اور ان کے اعمال میں سے رتی برابر کمی نہ کریں گے۔”
یہی وہ حق دار حضرات ہیں جن کے حق کی ادائیگی کا قرآن نے ان الفاظ
--------------
1 ـ امام حاکم نے مستدرک جلد2 صفحہ468 پر بسلسلہ تفسیر سور طور ابن عباس سے اس آیت کے متعلق روایت کی ہےابن عباس نے کہا کہ خداوند کریم مومن کی ذریت کو بھی جنت کے اسی درجے میں رکھے گا جس میں وہ مومن ہوگا اگرچہ بلحاظ اعمال کمتر ہو پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور کہا کہ وما التناہم کا مطلب یہ ہے کہ وما نقصناھم یعنی ہم کوئی کمی نہ کریں گے۔
میں حکم سنایا :
“ وَ آتِ ذَا الْقُرْبى حَقَّهُ (1) ” ( اسراء، 26)
“ صاحبان قرابت کو ان کا حق دے دو۔”
یہی وہ صاحبان خمس ہیں کہ جب تک ان کو خمس نہ پہنچا دیا جائے انسان بری الذمہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ارشاد الہی ہے:
“ وَ اعْلَمُوا أَنَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِي الْقُرْبى (2) ” ( انفال، 41)
“ سمجھ رکھو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ خدا کا ہے اور رسول(ص) کا اور رسول(ص) کے قرابت داروں کا۔”
یہی وہ صاحبان فئی ہیں جن کے متعلق خداوند عالم نے ارشاد فرمایا:
“ما أَفاءَ اللَّهُ عَلى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرى فَلِلَّهِ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِي الْقُرْبى ” ( حشر، 7)
خداوندِ عالم نے دیہات والوں سے جو مال بطور خالصہ بلا حرب و ضرب رسول(ص) کو دلوایا ہے وہ اﷲ کے لیے ہے اور رسول(ص) کے لیے اور صاحبان قرابت کے لیے اور یہی وہ اہل بیت(ع) ہیں جن سے آیہ “إِنَّما يُريدُ اللَّهُ
--------------
1 ـ مفسرین نے لکھا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آںحضرت(ص) نے جبرائیل(ع) سے پوچھا ، قرابت والے کون ہیں اور ان کا حق کیا ہے۔ جواب دیا فاطمہ(س) کو فدک دے دیجیے کہ یہ انھیں کا حق ہے اور جو کچھ فدک میں خدا و رسول(ص) کا حق ہے وہ بھی انھیں کے حوالے کر دیجیے پس رسول خدا(ص) نے جناب فاطمہ(س) کو بلا کر وثیقہ لکھ کر فدک ان کے حوالے کردیا۔تفسیر در منثور جلد4، صفحہ177، وغیرہ۔
2 ـ تفسیر روح المعانی جلد 3 صفحہ 637، تفسیر نیشاپوری، جلد10، صفحہ15 وغیرہ۔
لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهيراً ” ( احزاب، 33) خطاب کیا گیا۔
یہی وہ آل یسین ہیں جن پر خداوند عالم سلام بھیجا اور ارشاد ہوا : سلام(1) علیٰ آل یسین۔ یہی وہ آل محمد(ص) ہیں جن پر درود و سلام بھیجنا خداوند عالم نے بندوں پر فرض قرار دیا اور ارشاد ہوا :
“ إِنَّ اللَّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْليماً ” ( احزاب، 56)
“ تحقیق کہ خداوند عالم اور ملائکہ نبی(ص) پر درود بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو تم بھی درود و سلام بھیجا کرو۔”
لوگوں نے پیغمبر(ص) سے پوچھا یا رسول اﷲ(ص) ہم آپ پر سلام کیونکر کریں یہ تو ہمیں معلوم ہے لیکن یہ ارشاد ہو کہ درود آپ کی آل پر کیونکر بھیجا جائے تو آپ نے ارشاد
--------------
1 ـ علامہ ابن حجر نے صواعق محرقہ باب 11 میں بسلسلہ ان آیات کے جو اہل بیت(ع) کی شان میں نازل ہوئیں تیسری آیت یہ بھی لکھی ہے اور لکھا ہے کہ مفسرین کی ایک جماعت نے جناب ابن عباس سے روایت کی ہے کہ یہاں آیت میں مراد سلام علی آل محمد ( آل محمد پر سلام ہو) علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ کلبی نے بھی ایسا ہی کہا ہے اور فخرالدین رازی نے لکھا ہے کہ پیغمبر(ص) کےاہل بیت(ع) پانچ چیزوں میں پیغمبر(ص) کے برابر حصہ دار ہیں۔ سلام میں خداوند عالم نے پیغمبر(ص) سے کہا السلام علیک ایہا النبی اور اہل بیت (ع) کے لیے کہا سلام علی آل یسین دوسرے تشہد مین درود بھیجے جاتے ہیں تیسرے طہارت میں پیغمبر(ص) سے فرمایا طہ اے طیب و طاہر اور اہل بیت(ع) کے لیے آیت تطہیر نازل ہوئی چوتھے صدقہ حرام ہونے میں پانچویں محبت میں رسول کے لیے فرمایا :فاتبعونی يحببکم اﷲ اور اہل بیت(ع) کے لیے ارشاد فرمایا:قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى (شوری، 23)
فرمایا یوں کیا کرو :
“الل ه م صل علی محمد و علی آل محمد”
لہذا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان حضرات پر درود بھیجنا پیغمبر(ص) پر درود بھجنے کا جزو ہے جب تک آپ کی آل(ع) کو بھی شامل کر کے درود نہ بھیجا جائے تب تک پیغمبر(ص) پر درود پورا نہ ہوگا اسی وجہ سے علماء و محققین نے اس آیت کو بھی ان آیات میں شمار کیا ہے جو اہل بیت(ع) کی شان میں نازل ہوئیں۔ چنانچہ علامہ ابن حجر مکی نے بھی صواعق محرقہ باب 11 میں اس آیت کو منجملہ ان آیات کے شمار کیا ہے جو اہل بیت(ع) کی شان میں نازل ہوئیں۔ پس یہی منتخب و برگزیدہ بندگان الہی ہیں بحکم خدا نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ یہی وارثان کتاب خدا ہیں جن کے بارے میں خداوندِ عالم نے فرمایا ہے:
“ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَ مِنْهُمْ سابِقٌ بِالْخَيْراتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبيرُ (1) ۔” ( فاطر، 32)
--------------
1 ـ ثقتہ الاسلام کلینی علیہ الرحمہ نے بہ سند صحیح سالم سے روایت کی ہے کہ سالم کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد باقر(ع) سے اس آیت ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا آیت میں سابق بالخیرات ( نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والا) سے مراد امام اور مقتصد ( میانہ رو) سے مراد امام کی معرفت رکھنے والا اور ظالم لنفسہ ( اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والا) سے مقصود وہ ہے جو امام سے بے گانہ و نا آشناہو ۔ اسی مضمون کی روایت کلینی نے امام جعفر صادق(ع) امام موسی کاظم(ع) اور امام رضا علیہ السلام سے بھی کی ہے۔ علمائے اہلسنت میں حافظ ابن مردویہ نے اس حدیث کی روایت امیرالمومنین(ع) سے کی ہے۔
“ پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جنھیں ہم نے اپنے بندوں میں منتخب کیا ہے، پس لوگوں میں بعض تو ایسے ہیں جو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں ( اور یہ وہ لوگ ہیں جو امام کی معرفت نہیں رکھتے) اور بعض میانہ رو ہیں ( یعنی دوستدارن ائمہ) اور بعض نیکیوں کی طرف بحکم خدا سبقت کرنے والے ہیں( یعنی امام ) اور یہ بہت بڑا فضل ہے۔”
اہل بیت طاہرین(ع) کی شان میں نازل شدہ اتنی ہی آیات بیان کرنے پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔
جناب ابن عباس فرمایا کرتے تھے کہ تنہا حضرت عی(ع) کی شان میں تین سو آیتیں(1) نازل ہوئیں اور ابن عباس کے علاوہ دوسرے لوگوں کا بیان ہے کہ ایک چوتھائی قرآن اہل بیت(ع) کے متعلق نازل ہوا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اہلبیت(ع) اور قرآن ایک جڑکی دوشاخین ہیں جو کبھی جدا نہیں ہوسکتیں۔ ہم انہیں چند آیتوں پر بس کرتے ہیں۔ انھیں میں غور فرمائیے آپ پر حقیقت و امر واقع بخوبی واضح ہوجائے گا۔
ش
--------------
1 ـ جیسا کہ ابن عساکر نے ابن عباس سے روایت کی ہے ملاحظہ ہو صواعق محرقہ باب 9، فصل 3 صفحہ2۔
مکتوب نمبر7
جناب مولانائے محترم ! تسلیم
گرامی نامہ سبب عزت افزائی ہوا۔ سبحان اﷲ آپ کے زور بیان قوتِ تحریر کی داد نہیں دی جاسکتی۔ آپ نے جتنی باتیں تحریر فرمائیں ان میں کسی کا مجال تکلم نہیں جو کچھ آپ نے لکھا صحیح لکھا البتہ ایک کھٹک دل میں رہی جاتی ہے۔ اعتراض کرنے والے کہہ سکتے ہیں کہ وہ لوگ جنھوں نے اہل بیت(ع) کے متعلق ان آیات کے نازل ہونے کی روایت کی ہے وہ شیعہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور شیعوں کی روایت کردہ حدیثیں حضرات اہل سنت کے لیے حجت نہیں۔ براہ کرم اس اعتراض کا دفعیہ فرمائیے۔
س
جواب مکتوب
محترمی تسلیم!
آپ نے جو اعتراض پیش کیا وہ درست نہیں۔ اعتراض کے دونوں ٹکڑے غلط ہیں۔ یہ بھی کہ جنھوں نے ان آیات کے شانِ نزول کےمتعلق روایت کیا ہے وہ شیعہ تھے اور یہ بھی کہ شیعوں کی روایت کردہ حدیثیں حضرات اہل سنت کے لیے حجت نہیں۔ اعتراض کا پہلا حصہ تو یوں درست نہیں کہ ان آیات کے شانِ نزول کے متعلق صرف شیعوں ہی نے روایت نہیں کی بلکہ معتبر و موثق علماء اہل سنت نے بھی روایتیں کی ہیں ۔ ان کی سنن اور مسانید اٹھا کر دیکھیے آپ کو نظر آئے گا کہ انھوں نے ان روایتوں کو شیعوں سے کہیں زیادہ طریقوں سے ذکر کیا ہے۔ اگر شیعہ علماء نے کسی آیت کے متعلق چار طریقوں سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل بیت(ع) کی شان میں نازل ہوئی تو حضرات اہل سنت نے دس طریقوں سے روایت کی ہے۔
رہ گیا اعتراض کا دوسرا ٹکڑا کہ شیعوں کی روایت کردہ حدیثیں اہلسنت کے لیے حجت نہیں تو یہ اور بھی غلط ہے جیسا کہ علماء اہلسنت کی کتب حدیث گواہ ہیں حضرات اہل سنت کے طریق و اسناد میں ایک دو نہیں بکثرت شیعہ راوی ملتے ہیں۔ اور شیعہ بھی کوئی معمولی نہیں بلکہ نامی گرامی ، جن کی شیعیت سے دنیا واقف ہے۔وہ شیعہ جنھیں برا کہا جاتاہے، گمراہ سمجھا جاتا ہے ، رافضی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ انھیں شیعوں کی روایتیں آپ کے صحاح ستہ میں بھی موجود ہیں اور ان کے علاوہ دیگر حدیث کی کتابوں میں بھی۔ خود امام بخاری کے شیوخ میں بہت سے ایسے شیعوں کے نام ملتے ہیں
جنھیں رافضی مخالف وغیرہ کہا جاتا ہے مگر پھر بھی امام بخاری نے ان سے استفادہ کیا ، ان سے روایتیں لیں۔ امام بخاری نے بھی ان کی روایت کردہ حدیثیں اپنی صحیح میں درج کی ہیں اور دیگر اصحاب نے بھی۔ ان تمام حقائق کے باوجود یہ کہنا کس طرح درست ہوسکتا ہے کہ شیعوں کی روایت حضرات اہلسنت کے لیے حجت نہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ اعتراض کرنے والوں کو حقیقت کا علم ہی نہیں۔ اگر معترضین اس حقیقت کو ذہن نشین کر لیں کہ شیعہ اہلبیت(ع) کے پیرو انھیں کے اصولوں کے پابند اور ان کے اوصاف و محاسن کو پرتو ہیں اندازہ ہو کہ وہ کس قدر اعتماد و اعتبار کے لائق ہیں لیکن ناواقف نے ایک اشتباہ کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے کس قدر لائق ماتم ہے یہ امر کہ محمد بن یعقوب کلینی ایسے بزرگ جنھیں دنیا ثقتہ الاسلام کے لقب سے یاد کرتی ہے محمد بن علی بن بابویہ القمی جو مسلمانوں کے صدوق کہے جاتے ہیں، محمد بن حسن طوسی جنھیں شیخ الامہ کہا جاتا ہے محض شیعیت کے جرم میں معترضین کے نزدیک اعتبار کے قابل نہ سمجھے جائیں اور ان کی پاکیزہ صفات جو علوم آلِ محمد(ص) کا خزینہ ہیں حقارت کی نظر سے دیکھی جائیں ایسے بزرگوں کے متعلق شک وشبہ سے کام لیا جائے جو جامع علوم و کمالات تھے۔ روئے زمین پر قطب و ابدال کی حیثیت رکھتے تھے جنھوں نے خدا و رسول(ص) کی اطاعت احکامِ الہی کی تبلیغ و اشاعت مسلمانوں کی خیر خواہی و رہبری میں اپنی عمریں تمام کردیں۔
معمولی سے معمولی شخص واقف ہے کہ یہ مقدس حضرات جھوٹ کو کتنا بڑا گناہ سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنی ہزاروں کتابوں میں جھوٹوں پر لعنت کی ہے اور صراحت کی ہے کہ حدیثِ پیغمبر(ص) میں جھوٹ بولنا ہلاکت و عذاب دائمی کا سبب ہے حدیث میں جھوٹ بولنا تو اتنا بڑا گناہ سمجھا ہے ان لوگوں نے کہ روزہ توڑ دینے
والی چیزوں میں قرار دیا ہے۔ اگر کوئی شخص ماہِ رمضان میں عمدا جھوٹی حدیث بیان کرے تو ان حضرات کا فتوی ہے کہ اس شخص کا روزہ باطل ہوگیا۔ اس پر روزہ کی قضا بھی لازم ہے اور کفارہ بھی دینا ضروری ہے جس طرح دیگر مفطرات کا حکم ہے بعینہ جھوٹی حدیث بیان کرنے کا بھی۔ جب کذب کو وہ ایسا امر عظیم سمجھتے ہیں تو خدا را انصاف سے فرمائیے کہ خود ایسے حضرات کے متعلق جو صالحین و ابرار عابد شب زندہ دار ہوں ایسا وہم و گمان بھی کیا جاسکتا ہے؟
ہائے ہائے ! شیعیانِ آل محمد(ص) اہل بیت(ع) کے پیرو متہم سمجھے جائیں اور ان کی بیان کی ہوئی حدیثوں پر کذب و افترا کا شک وشبہ کیا جائے۔ ان کے اقوال ٹھکرا دینے کے قابل سمجھے جائیں اور خارجی ناصبی خدا کو مجسم ماننے والے افراد کی حدیثیں سر آنکھوں پر رکھی جائیں۔ وہ جو کچھ بیان کریں آمنا و صدقنا کہہ کر تسلیم کر لیا جائے اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ سمجھی جائے۔ یہ تو کھلی ہوئی نا انصافی صریحی جفا پروری ہے۔ خدا محفوظ رکھے۔
ش
مکتوب نمبر8
حضرت مولانائے محترم ! تسلیم!
آپ کا تازہ مکتوب موصول ہوا۔ آپ کی تحریر اتنی متین، دلائل سے پر اور حقائق سے لبریز تھی کہ میرے لیے چارہ کار ہی نہیں سوا اس کے کہ جو کچھ آپ نے تحریر فرمایا ہے ایک ایک لفظ تسلیم کرلوں۔ البتہ جو آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرات اہل سنت نے بکثرت شیعہ راویوں سے روایتیں لی ہیں، اسے آپ نے بہت مجمل رکھا۔ آپ کو ذرا تفصیل سے کام لینا چاہیے تھا۔ مناسب تھا کہ آپ ان شیعہ راویوں کے نام بھی تحریر فرماتے نیز ان کی شیعیت کے متعلق حضرات اہل سنت کا اقرار بھی ذکر کرتے۔ امید ہے کہ آپ میرا مقصد سمجھے گئے ہوں گے۔
س
جوابِ مکتوب
محترمی سلام مسنون!
بہتر ہے میں مختصرا حروفِ تہجی کی ترتیب سے ان شیعہ راویوں کے اسمائے گرامی تحریر کرتا ہوں جن کی روایت کردہ حدیثیں آپ کے یہاں صحاح و دیگر سنن و مسانید میں موجود ہیں۔
علامہ ذہبی ان کے حالات میں لکھتے ہیں :
“ ابان بن تغلب کوفہ کے رہنے والے تھے اور بڑے کٹر شیعہ ہیں لیکن صدوق ہیں۔ ہمیں ان کی سچائی سے غرض ہے ان کی بدعت کا بار ان کے سر ہے احمد بن حنبل ، ابو حاتم اور ابن معین نے انھیں موثق قرار دیا ہے۔ ابن عدی نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ بڑے غالی شیعہ تھے۔ ان سے امام مسلم او ابو داؤد و ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ نے حدیثیں روایت کی ہیں آپ کا انتقال سنہ141ھ میں ہوا۔
علامہ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔
ان کی حدیثیں صحیح بخاری ، مسلم دونوں میں موجود ہیں۔ ان کی پیدائش سنہ50ھ اور انتقال سنہ95ھ یا سنہ96ھ میں حجاج کے مرنے کے چار مہینے کے بعد ہوا۔
ان سے ابوذرعہ و ابو حاتم نے روایت کی اور ان کی بیان کی ہوئی حدیث سے اپنے مسلک پر دلیل پیش کی ہے حالانکہ ابوزرعہ و ابو حاتم نے ان کی شیعیت کی صراحت بھی کی ہے۔ علامہ ذہبی نے ابوحاتم کا یہ فقرہ احمد بن مفضل کے متعلق نقل کیا ہے کہ احمد بن مفضل رؤساء شیعہ میں سے تھے اور صدوق تھے ان کی روایت کردہ حدیثیں سنن ابی داؤد ، سنن نسائی دونوں میں موجود ہیں۔
امام بخاری کے شیخ ہیں۔ بخاری و ترمذی دونوں نے ان کی حدیث سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے جیسا کہ علامہ ذہبی نے تحریر کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے یہ بھی ان کے متعلق لکھا ہے کہ یحی و احمد نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔ اور بخاری نے انھیں صدوق کہا ہے۔ امام بخاری نے متعدد جگہ صحیح بخاری میں بلاواسطہ ان کی حدیثیں ذکر کی ہیں۔
ان کی کنیت ابو اسرائیل ہے اور اسی کے ساتھ مشہور بھی ہیں۔ علامہ ذہبی نے ان کا تذکرہ میزان الاعتدال میں ان الفاظ میں کیا ہے۔ کہ بڑے متعصب شیعہ اور ان لوگوں میں سے تھے جو عثمان کو کافر کہتے ہیں اور بھی بہت
کچھ ان کے متعلق لکھا ہے لیکن ان سب کے باوجود ترمذی نے اور دیگر اصحابِ سنن نے ان سے روایت کی ہے۔ ابوحاتم نے ان کی حدیثوں کو حسن کہا ہے۔ ابوزرعہ نے کہا ہے کہ صدوق ہیں اگر چہ خیالات غالیانہ تھے امام احمد نے کہا ہے کہ ان کی حدیثیں درج کرنے کے قابل ہیں۔ ابن معین نے ثقہ کہا۔ فلاس نے کہا یہ جھوٹ بولنے والوں میں نہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ترمذی میں موجود ہیں۔ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔
ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھا ہے کہ صدوق ہیں اور شیعہ ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جن سے صحاح ستہ میں حدیثیں لی گئی ہیں۔ ان کی حدیث بخاری اور مسلم میں موجود ہے۔ سنہ 174ھ میں بغداد میں انتقال کیا۔
صاحب بن عباد کے نام مشہور ہیں ابو داؤد و ترمذی نے ان سے روایتیں لی ہیں۔ جیسا کہ امام ذہبی نے میزان میں صراحت کی ہے نیز یہ بھی لکھا ہے کہ بڑے با کمال ادیب اور شیعہ تھے۔ ان کی شیعیت میں کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا اور شیعیت ہی کی وجہ سے سلطنت بویہہہ کی وزارت عظمی پر فائز ہوئے۔ یہ پہلے وہ شخص ہیں جو صاحب کے لقب سے ملقب ہوئے اس لیے کہ یہ موید الدولہ بن بویہ کے جوانی کے زمانہ سے مصاحب رہے اور
موید الدولہ ہی نے ان کا نام صاحب رکھا اور برابر سی نام سے پکارے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ اسی نام سے مشہور ہوگئے اور ان کے بعد جو شخص وزارت کے درجہ پر آیا وہ بھی صاحب ہی کے نام سے پکارا گیا۔ یہ پہلے موید الدولہ کے وزیر رہے اس کے مرنے پر اس کے بھائی فخر الدولہ نے بھی انھیں وزارت عظمی پر برقرار رکھا۔ جب ان کا انتقال ہوا ( 24 صفر سنہ385ھ میں 95 برس کی عمر میں) تو شہر رے کے دروازے بند ہوگئے اور تمام لوگ ان کے مکان پر آکر جنازہ کا انتظار کرنے لگے خود بادشاہ فخرالدولہ اور وزراء، و سروران فوج جنازہ میں ساتھ ساتھ تھے۔ یہ بڑے جلیل القدر عالم اور گرانقدر کتب و رسائل کے مصنف شخص تھے۔
علامہ ذہبی نے ان کے حالات میں لکھا ہے کہ متہم بالتشیع ہیں اور حسین بن واقد مروزی سے اس کی بھی روایت کی ہے کہ انھوں نے ابوبکر و عمر کو سب و شتم کرتے سنا تھا مگر ان سب کے باوجود ثوری ابوبکر بن عباس و غیرہ نے ان سے حدیثیں لیں اور امام مسلم و ترمذی و ابوداؤد ، ابن ماجہ، نسائی صاحبانِ صحاح نے ان کی حدیثیں اپنے مسلک کی تائید میں درج کی ہیں۔ امام احمد نے انھیں ثقہ، ابن عدی نے صدوق کہا ہے۔ یحی بن سعید کا قول ہے کہ میں نے ہر ایک کو دیکھا کہ وہ سدی کو اچھا ہی کہتا ہے اور سبھی نے اس سے حدیثیں لی ہیں سنہ127ھ میں انتقال کیا ہے۔
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے حالات میں لکھا ہے کہ ابن عدی ان کے متعلق کہتے تھے کہ شیعیت میں بہت زیادہ غلو رکھنے کی وجہ سے لوگ انھیں ناپسند کرتے تھے اور عبدان بیان کرتے تھے کہ ہناد اور ابن شیبہ ہمارا اسماعیل کے پاس جانا پسند نہیں کرتے تھے اور کیا کرتے تم لوگ اس فاسق کے پاس جاکر کیا کرتے ہو جو بزرگوں کو سب وشتم کیا کرتاہے۔ ان سب کے باوجود ابن خزیمہ، ابو عرویہ اور بہت سے لوگوں نے ان سے حدیث کا استفادہ کیا اور یہ اس طبقہ کے شیخ تھے جیسے ابوداؤد و ترمذی وغیرہ۔ ان سب حضرات نے ان سے حدیث لی اور اپنے اپنے صحیح میں درج کی۔ ابوحاتم نے انھیں صدوق کہا ہے۔ نسائی نے کہا ہے کہ کوئی مضائقہ نہیں ان سے حدیث لینے میں۔ سنہ245ھ میں انتقال کیا۔ بعض لوگ انھیں سدی کا نواسہ بتاتے ہیں۔
ابن معین نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ یہ عثمان کوسب وشتم کیا کرتے تھے۔ بعض عثمانیوں نے سن لیا۔ انھوں نے اسے تیر مارا جس سے ان کا پیر ٹوٹ گیا۔ ابوداؤد نے ان کے متعلق کہا کہ یہ رافضی ہیں۔ ابوبکر و عمر کو سب وشتم کیا کرتے تھے مگر ان سب کے باوجود احمد و ابن نمیر نے ان سے
تحصیل حدیث کی۔ امام احمد نے ان کے متعلق کہا کہ تلید شیعہ ہیں مگر ان سے حدیث لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ صحیح ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
جو ابوحمزہ ثمالی کے نام سے مشہور ہیں ان کی شیعیت اظہر من الشمس ہے۔ ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ام ہانی بنت ابی طالب کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ذہبی نے ان کے رافضی ہونے کی صراحت کی ہے۔ امام محمد باقر(ع) کے عقیدت مندوں میں تھے ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
علامہ ذہبی نے ان کے حالات میں لکھا ہے کہ یہ علماء شیعہ میں سے تھے۔ نیز سفیان سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے جابر کو کہتے سنا۔ علم پیغمبر(ص) سے علی(ع) کی طرف منتقل ہوا اور علی(ع) سے حسن(ع) کی طرف۔ ایک امام سے دوسرے امام تک منتقل ہو کر امام جعفر صادق(ع) تک پہنچا
یہ امام جعفر صادق(ع) کے زمانہ میں تھے اور آپ نے بکثرت حدیثیں حاصل کیں چنانچہ خود جابر کہا کرتے تھے کہ میرے پاس ستر ہزار حدیثیں امام محمد باقر(ع) کی روایت کردہ ہیں۔ جابر جب امام محمد باقر(ع) سے کوئی حدیث روایت کر کے بیان کرتے تھے تو کہتے مجھ سے وصی الانبیاء نے بیان کیا۔ علامہ ذہبی نے میزان میں زائدہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جابر رافضی ہیں۔ سب و شتم کیا کرتے ہیں، ان سے امام ابو داؤد وترمذی ، نسائی نے حدیثیں روایت کی ہیں۔ سفیان ثوری نے انھیں حدیث میں بہت محتاط کہا ہے۔ شیعہ نے صدوق قرار دیا ہے۔ وکیع نے ثقہ کہا ہے سنہ 127ھ میں انتقال کیا۔
علامہ ابن قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال کا تذکرہ کرتے ہوئے بڑی حمدو ثنا کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ جریر اہل رے کے عالم اور صدوق ہیں اور ان کے اقوال سے کتابوں میں استدلال کیا جاتا ہے اور ان کے ثقہ ہونے پر جملہ محدثین کا اجماع و اتفاق ہے۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہیں سنہ178ھ میں انتقال کیا۔
امام ابوداؤد نے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ صدوق ہیں اور شیعہ ہیں۔ ابن عدی نے انھیں صالح اور شیعہ لکھا ہے۔ ابن معین نے ثقہ، امام احمد نے صالح الحدیث فرمایا ہے۔ صحیح ترمذی و سنن نسائی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
سنہ 167ھ میں انتقال کیا۔
علامہ ابن قتیبہ نے معارف صفحہ 206 میں انھیں مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے ابن سعد نے ان کی شیعیت اور ثقہ ہونے کی تصریح کی ہے۔ ابن عدی ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ شیعہ ہیں ۔ میں توقع کرتا ہوں کہ ان کوئی حرج نہیں اور ان کے حدیثیں قابل انکار نہیں اور میرے نزدیک اس قابل ہیں کہ ان کی حدیثیں قبول کی جائیں۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں انھیں راہد علمائے شیعہ میں سے لکھا ہے ان کی حدیثیں صحیح مسلم و نسائی میں موجود ہیں سنہ179ھ میں انتقال کیا۔
میزان الاعتدلال میں ہے کہ ان کے متعلق ابو حاتم کا یہ فقرہ ہے کہ صالح الحدیث اور شرفا الشیعہ سے ہیں۔ جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ابوحاتم رازی، ابو احمد زبیری، ابن عدی ، یحی بن معین ، امام نسائی وغیرہ نے ان کی شیعیت کی تصریح بھی کی ہے اور ان کے ثقہ ہونے کا بھی اقرار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے انھیں صدوق لکھا ہے۔ امام نسائی نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔
صحابی و حواری امیرالمومنین(ع) ، ابن قتیبہ نے مشاہیر شیعہ میں پہلے ان کا ہی نام لکھا ہے۔ ذہبی نے لکھا ہے کہ یہ کبار علماء تابعین سے تھے اور ابن حبان انھیں بہت غالی شیعہ کہا کرتے تھے۔ جمہور اہلسنت انھیں اسی شیعیت کی وجہ سے بہت دشمن رکھتے تھے مگر باوجود اس کے ان کے علم و فضل اور ثقہ ہونے سے کسی کو انکار نہیں۔ سنن ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ وابو داؤد میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ65ھ میں انتقال کیا۔
کوفہ کو رہنے والے اور تابعی ہیں۔ ابن قتیبہ نے معارف میں شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہییر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ ان سے جملہ اربابِ صحاح ستہ نے بلا تردد روایتیں لی ہیں۔ سنہ 119ھ میں انتقال کیا۔
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں یہ اجلہ علماء میں سے ہیں اور ان میں شیعیت کی بدعت موجود تھی۔ نماز جمعہ میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ ظالم حکام پر خروج جائز جانتے تھے۔ عثمان پر ترس نہیں کھاتے تھے۔ ابن سعد نے طبقات جلد6 میں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ثقہ ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ہیں اور یہ شیعہ تھے۔ ابن قتیبہ نے بھی ان کی شیعیت کی تصریح کی ہے۔ صحیح مسلم اور دیگر سنن میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ100 ھ میں پیدا اور سنہ199ھ
میں انتقال کیا۔
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ115ھ میں انتقال کیا۔
صاحب منتہی المقال و غیرہ نے انھیں علماء شیعہ میں سے لکھا ہے اور ہر ایک نے انھیں ثقہ و معتمد سمجھا ہے۔ و امام موسی کاظم(ع) کے اصحاب میں سے ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ترمذی اور دیگر سنن میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
مشہور ترین صحابی امام محمد باقر(ع) و امام جعفر صادق(ع) ۔ سنن ابی داؤد و غیرہ میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
امام بخاری کے شیخ الحدیث ہیں۔ علامہ ابن سعد نے طبقات جلد6 صفحہ283 میں اور امام ابو داؤد نے انھیں شیعہ اور صدوق لکھا ہے۔ امام بخاری و مسلم دونوں
نے ان کی حدیثیں اپنی صحیح میں درج کی ہیں اور بھی دیگر اصحاب سنن نے ان کی شیعیت سے واقف ہوتے ہوئے ان کی حدیثوں سے کام لیا ہے۔
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے حالات میں لکھتے ہیں کہ یہ ثقات تابعین مین سے ہیں اور ان میں تشیع تھا۔ اس کے بعد ذہبی نے بہت سے علماء و محدثین کے اقوال ان کے ثقہ ہونے کے متعلق نقل کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں موجود ہیں۔ سنہ124ھ میں انتقال کیا۔
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے اور علامہ ذہبی نے انھیں عابد ، ثقہ اور صدوق لکھا ہے اور ان کے ثقہ و صدوق ہونے کے متعلق دیگر بہت سے علماء کے اقوال نقل کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح مسلم میں موجود ہیں۔
ابن سعد نے طبقات جلد6 صفحہ203 میں ابن قتیبہ نے معارف صفحہ156
علامہ شہرستانی نے ملل و نحل جلد2 صفحہ27 میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے علامہ ذہبی نے انھیں ثقات تابعین میں لکھا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم دونوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
علامہ شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں اور علامہ ابن سعد نے طبقات جلد6 صفحہ 234 میں ان کی شدت تشیع کی کیفیت ذکر کی ہے۔ ان کی حدیثیں جامع ترمذی میں موجود ہیں۔ سنہ137ھ میں انتقال کیا۔
علامہ ذہبی نے علماء محدثین کے اقوال ان کے تشیع کے متعلق درج کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح ترمذی میں موجود ہیں۔
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ کوفہ کے قاضی تھے اور مشہور صدوق ہیں۔ امام نسائی نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ ان میں کوئی خرابی نہ تھی۔ جو زجانی نے کہا ہے کہ یہ بڑے غالی اور شیعیت میں حد سے بڑے ہوئے تھے۔ صحیح بخاری و مسلم دونوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
یحی بن معین سے ان کے متعلق پوچھا گیا کہ سعید بن خیثم شیعہ ہیں آپ ان کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ انھوں نے کہا شیعہ ہوں گے مگر ہیں ثقہ جامع ترمذی و سنن نسائی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
رے کے قاضی تھے۔ ان کی شیعیت کی علماء نے صراحت کی ہے مگر ارباب صحاح نے ان سے حدیثیں لی ہیں۔ چنانچہ جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
علامہ قتیبہ نے معارف صفحہ 206 میں، علامہ شہرستانی نے ملل و نحل جلد2 صفحہ27 میں ان کو مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے۔ جملہ ارباب صحاح ستہ نے ان کی حدیثوں سے کام لیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں سنہ 121ھ میں انتقال کیا۔
شیعیان عراق کے بزرگ ترینِ فرد اور مرجع مومنین بزرگ تھے۔ انتقام خون حسین(ع) لینے والوں کے راس و رئیس اور قائد بھی تھے۔ جملہ ارباب سیر و تاریخ نے ان کے علم و فضل زہد و ورع عبادت کا فراخ دلی سے تذکرہ کیا ہے
جنگِ صفین میں امیرالمومنین(ع) کے ہمراہ تھے۔ دشمنان اہل بیت(ع) کو گمراہ سمجھتے تھے ان کی حدیثیں صحیح مسلم و صحیح بخاری دونوں میں موجود ہیں۔
ابنِ قتیبہ نے اپنی کتاب معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے ان کی حدیثوں سے اربابِ صحاح نے بھی کام جلیا ہے اور دیگر محدثین بے بھی صحیح بخاری و مسلم دوںوں میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ 143ھ میں انتقال کیا۔
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق ابن حبان کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ بڑے غالی رافضی تھے اور ابن عدی نے ان کے متعلق یہ کہا ہے کہ ان کی حدیثیں عمدہ ہیں۔ صحیح مسلم، سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
یہ بزرگان شیعہ سے ایک جلیل القدر فرد اور کبار محدثین میں نامور بزرگ ہیں بہت سے محققین علماء اہل سنت مثلا ابن قتیبہ نے اپنی معارف میں اور علامہ شہرستانی نے اپنی ملل ونحل میں اور دیگر حضرات نے ان کی شیعہ ہونے کی صراحت کی ہے۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں جوزجانی کا یہ فقرہ نقل کیا ہے کہ باشندگان کوفہ میں سے ایک جماعت ایسی تھی کہ لوگ ان کے عقائد و مذہب کو ناپسند سمجھتے تھے۔ مگر وہی حضرات محدثین کوفہ کے راس و رئیس تھے
مثلا ابو اسحاق منصور زبید یامی اور اعمش اور انھیں جیسے دیگر حضرات کو ان کے سچے ہونے کی وجہ سے ان کی حدیثوں کو لوگوں نے سر آنکھوں پر رکھا جو زجانی کا یہ فقرہ جس قدر رکیک اور ان کے تعصب کا مظہر ہے پوشیدہ نہیں۔ ناصبی لوگوں نے ان بزرگوں کے مذہب و عقائد کو جو پسند نہیں کیا تو محض اس جرم کی وجہ سے کہ یہ حضرات اہل بیت(ع) کی محبت دل میں رکھ کر ان کے دامن سے متمسک ہوکر اجر رسالت پیغمبر(ص) ادا کرتے تھے۔ ناصبی افراد نے ان کی حدیثوں کو سر آنکھوں پر جو رکھا تو محض اس وجہ سے نہیں کہ یہ حضرات سچے تھے بلکہ اس لیے کہ بغیر ان کی طرف رجوع کیے ہوئے کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اگر ایسے حضرات کی حدیثیں یہ ناصبی لوگ ٹھکرا دیتے تو پیغمبر(ص) کی ساری حدیثیں ہوا ہوجاتیں۔ سنن و آثار پیغمبر(ص) کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ جیسا کہ خود علامہ ذہبی نے ابان بن تغلب کے تذکرہ کے سلسلہ میں اعتراف کیا ہے۔
اعمش کے چند عجیب و غریب نوادر ہیں جو ان کی جلالت و قدر کا ظاہر کرتے ہیں چنانچہ علامہ ابن خلکان ان کے حالات میں یہ واقعہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے ان کے پاس اپنا قاصد بھیجا کہ عثمان کے فضائل اور علی(ع) کی برائیاں مجھے لکھ بھیجو۔ اعمش نے ہشام کا خط لے کر بکری کے منہ میں دے دیا اور وہ اس خط کو چبا گئی اور قاصد سے کہا جا کر ہشام سے کہہ دینا کہ تمہارے خط کا یہی جواب ہے۔ قاصد نے کہا کہ ہشام نے قسم کھائی تھی کہ اگر میں تمہارا جواب لے کر نہ گیا تو مجھے قتل کر ڈالے گا۔ قاصد نے اعمش کے اعزہ و احباب سے بھی سفارش کرائی۔ جب سب نے اصرار کیا تو انھوں نے جواب میں لکھا۔
“ اگر دنیا بھر کے لوگوں کے فضائل عثمان کو حاصل ہوجائیں اور
دنیا بھر کے لوگوں کی برائیاں علی(ع) میں اکٹھا ہوجائیں تو تمہیں کیا ؟تم اپنے آپ کو دیکھا کرو۔”
علامہ بن عبدالبر نے ان کا ایک واقعہ یہ نقل کیا ہے کہ فضل بن موسی بیان کرتے تھے کہ امام ابو حنیفہ کے ہمراہ اعمش کی عیادت کو گیا ابو حنیفہ نے کہا اے ابو محمد (اعمش) اگر تمہارے بارِ خاطر نہ ہوتا تو میں جتنی بار تمہاری عیادت کو آتا ہوں اس سے زیادہ آتا۔ اعمش نے کہا کہ خدا کی قسم جب تم اپنے گھر میں ہوتے ہو تو بھی میرے لیے بارگراں ہوتے ہو جب میرے پاس ہوگے تو میرا کیا حال ہوگا؟
ایک اور ان کا واقعہ شریک بن عبداﷲ قاضی کی زبانی ہے۔ شریک کہتے ہیں کہ میں اعمش کے مرض الموت میں ان کے پاس حاضر تھا کہ اتنے میں ابن شبرمہ اور ابن ابی لیلیٰ اور امام ابوحنیفہ ان کی عیادت کو آئے۔ لوگوں نے ان کی مزاج پرسی کی، انھوں نے انتہائی کمزوری و نقاہت کا ذکر کیا۔ اپنی خطاؤں پر اپنی ہراسانی ظاہر کی اور کچھ آب دیدہ سے ہوگئے۔ امام ابو حنیفہ مڑے اور انھوں نے فرمایا : اے ابو محمد! خدا سے ڈریے اور اپنے اوپر ترس کھائیے۔ آپ حضرت علی(ع) کے متعلق ایسی حدیثیں بیان کرتے تھے اگر آپ ان سے توبہ کرلیتے تو آپ کے لیے اچھا ہوتا۔ اعمش نے کہا۔ تم میرے ایسے شخص کے لیے ایسی بات کہتے ہو اور خوب سخت و سست سنایا۔ مختصر یہ کہ اعمش بڑے ثقہ و معتمد عالم و فاضل بزرگ تھے۔ ان کے صدق و عدالت تقوی و پرہیزگاری پر سب کا اتفاق ہے۔ جملہ ارباب صحاح و غیرہ نے ان کی روایت کردہ حدیثوں سے کام لیا ہے۔
صحیح بخاری ، صحیح مسلم سب ہی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ61 ھ میں پیدا ہوئے۔ سنہ148ھ میں انتقال کیا۔
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں ذکر کیا ہے۔ میزان الاعتدال علامہ ذہبی میں بہ ذیل حالاتِ شریک مذکور ہے۔ عبداﷲ بن ادریس خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ شریک شیعہ ہیں۔ اسی میزان میں یہ بھی ہے کہ ابو داؤد درہاوی روایت کرتے ہیں کہ ہم نے شریک کو کہتے سنا کہ :
“ علی خير البشر فمن ابی فقد کفر ”
“ علی(ع) تمام خلائق میں سب سے بہتر ہیں جس نے اس کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔”
مطلب یہ ہے کہ حضرت علی(ع) بعد رسول اﷲ(ص) سب سے بہتر ہیں۔ شریک منجملہ ان حضرات کے ہیں جنھوں نے امیرالمومنین(ع) کے نص خلافت کی حدیثیں روایت کی ہیں چنانچہ میزان الاعتدال میں ایک مرفوع حدیث ابوہریرہ سے ہے:۔
“لکل نبی وصی و وارث وان عليا وصيی و وارثی”
“ ارشاد فرمایا پیغمبر(ص) نے کہ ہر نبی کا وصی و وارث ہوا کرتا ہے اور علی(ع) میرے وصی و وارث ہیں۔”
یہ شریک امیرالمومنین(ع) کے فضائل و مناقب کی نشر و اشاعت میں بڑے مستعد و سرگرم اور آپ کے فضائل و مناقب بیان کر کے بنوامیہ کو خوب زچ کیا کرتے تھے۔
مورخ ابن خلکان نے اپنی کتاب و فیات الاعیان میں بسلسلہ حالاتِ شریک کتاب درة الغواص سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ:
“ ایک اموی شخص شریک کی صحبت میں اٹھا بیٹھا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ شریک نے حضرت علی(ع) کے فضائل بیان کیے۔ اس پر اموی نے کہا : “ نعم الرجل علی” اچھے شخص تھے علی(ع)۔” اس پر شریک کو غصہ آگیا اور بگڑ کر کہنے لگے کہ کیا علی(ع) کے لیے بس یہی کہہ دینا کافی ہے؟ نعم الرجل” اچھے شخص تھے۔” اس سے زیادہ کچھ اور نہیں کہنے کو؟۔”
شریک کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کسی کو بھی س میں ذرہ برابر شک و شبہ نہیں رہے گا کہ یہ دوستدارانِ اہلبیت(ع) میں سے تھے اور علماء اہلبیت(ع) سے بکثرت حدیثیں انھوں نے روایت کی ہیں۔ عبداﷲ بن مبارک ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ سفیان سے زیادہ حدیث کے عالم ہیں اور دشمنانِ علی(ع) کے سخت ترین دشمن تھے اور انھیں بہت برا کہا کرتے۔ ایک مرتبہ عبدالسلام بن حزب نے شریک سے پوچھا کہ اپنے ایک بھائی کی عیادت کو چلتے ہو؟
پوچھا کون؟ عبدالسلام نے کہا مالک بن مغول۔ شریک نے کہا جو شخص علی(ع) و عمار کو عیب لگائے وہ میرا بھائی نہیں۔
ایک مرتبہ شریک کے سامنے معاویہ کا تذکرہ ہوا۔ لوگوں نے کہا معاویہ بڑے حلیم تھے۔ شریک نے کہا۔ جو شخص حق سے اعراض کرے اور علی(ع) سے جنگ کرے وہ حلیم ہرگز نہیں۔ انھیں شریک نے ہی یہ حدیث پیغمبر(ص) روایت کی ہے:
“ اذا رايتم معايه علی منبر فاقتلوه”
“ جب تم میرے پر معاویہ کو دیکھنا قتل کر ڈالنا”
مختصر یہ کہ ان کا شیعہ ہونا اظہر من الشمس ہے مگر باوجود اس کے علامہ ذہبی نے انھیں حافظ و صدوق اور یکے از ائمہ کہا ہے اور ابن معین کا ان کے متعلق کے خاتمہ پر لکھا ہے کہ یہ منجملہ خزینہ داران علم تھے۔ ان سے اسحاق ارزق نے نو ہزار حدیثیں حاصل کیں۔ امام مسلم اور دیگر ارباب صحاح نے بھی ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدالال کیا ہے اور اپنے صحاح نے بھی ان کی روایتیں لی ہیں۔ خراسان یا بخارا میں سنہ95ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ177ھ میں انتقال کیا۔
محققین اہلِ سنت مثلا ابن قتیبہ نے معارف میں، شہرستانی نے ملل ونحل میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے ان کی حدیثیں صحیح بخاری و صحیح مسلم و دیگر صحاح میں موجود ہیں۔ سنہ83ھ میں پیدا ہوئے سنہ 160ھ میں انتقال ہوا۔
ابن قتیبہ نے ( معارف صفحہ206) میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ابنِ سعد طبقات جلد6 صفحہ154 میں ان کے متعلق لکھتے ہیں:
“ یہ کوفہ کے اصحاب خطط سے مقرر تھے اور حضرت علی(ع) کے
صحابی تھے۔ یہ صعصعہ اور ان کے بھائی زید اور سیحان جنگِ جمل میں حضرت علی(ع) کے ساتھ تھے۔ سیحان کے ہاتھ پہلے لشکر کا علم تھا، وہ قتل ہوگئے تو صعصعہ نے علم ہاتھوں میں لے لیا۔ صعصعہ نے حضرت علی(ع) اور عبداﷲ ابن عباس سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ یہ بڑے معتمد و موثق شخص تھے۔ مگر ان کی حدیثیں کم ہیں۔”
علامہ ابن عبدالبر استیعاب “ میں ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عہد پیغمبر میں اسلام لائے مگر فصیح و بلیغ مقرر، زیرک و دانا، دیانت دار ، عالم و فاضل انسان تھے۔ حضرت علی(ع) کے صحابیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
یحٰی ابن معین ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ صعصعہ ، زید اور سیحان فرزندانِ صوحان سب کے سب خطیب تھے۔ زید و سیحان جنگ جمل میں شہید ہوئے عہد خلافت حضرت عمر میں ایک مشکل قضیہ در پیش ہوا، حضرت عمر نے لوگوں سے دریافت کیا۔ صعصعہ جو کم سن نوجوان تھے اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک پر مغز و مدلل تقریر کی جس میں تمام شک وشبہ دور کر دیا اور جو صحیح جواب تھا اسے بیان کیا۔ سب نے ان کے قول کو تسلیم کیا اور انھیں کی رائے اختیار کی غرض کہ بنی صحان سردارانِ عرب اور مرکز فضل و حسب تھے۔
علامہ ابن قتیبہ نے بھی اپنی کتاب معارف صفحہ 138 میں شہرہ آفاق معززین و شرفا اور مصاحبین سلطان کے سلسلہ میں ان کا ذکر کیا ہے۔ زید بن صوحان کے فضائل میں پیغمبر(ص) کی ایک حدیث بھی درج کی ہے۔
علامہ عسقلانی اصابہ قسم ثالث میں صعصعہ بن صوحان کا ذکر کرتے
ہوئے لکھتے ہیں جکہ انھوں نے حضرت عثمان اور حضرت علی(ع) سے روایتیں کیں۔ حضرت علی(ع) کی معیت میں جنگِ صفین میں شریک ہوئے۔ بڑے فصیح و بلیغ خطیب تھے معاویہ کے ساتھ ان کے بڑے معرکے ہوئے ہیں۔ شعبی ان کے متعلق کہا کرتے کہ میں نے ان سے خطب کی تعلیم حاصل کی۔
علائی نے حالات زیاد میں ذکر کیا ہے کہ مغیرہ نے بحکم معاویہ انھیں کوفہ سے جلا وطن کر کے جزیرہ یا بحرین کی طرف بھیج دیا۔ بعض کہتے ہیں جزیرہ ابن کافان میں بھیجے گئے اور وہیں انتقال کیا۔ جس طرح جناب ابوذر نے زبذہ میں جلا وطن ہو کر انتقال کیاہ۔
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں انھیں ثقہ ، معروف ، مشہور و معروف موثق لکھا ہے نیز ان کے ثقہ ہونے کے متعلق علامہ ابن سعد اور نسائی کے اقوال ذکر کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں سنن نسائی میں موجود ہیں۔
ان کا شیعہ و مخلص اہلِ بیت(ع) ہونا دنیا جانتی ہے ملاحظہ ہو اصابہ جلد 2 صفحہ 242۔ جملہ اربابِ صحاح ستہ نے ان کی حدیثیں سر آنکھوں پر لی ہیں۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم سبھی میں موجود ہیں۔ پچانوے(95) برس کی عمر میں سنہ99ھ میں شہر بصرہ میں انتقال کیا۔ یہ وہی ابوالاسود دؤلی ہیں جنھوں نے امیرالمومنین(ع) سے تعلیم حاصل کر کے علم نحو کی بنیاد رکھی اور دنیائے عربیت میں موجدِ علم نحو کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔
غزوہ احد کے سال پیدا ہوئے۔ علامہ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں اول درجہ کے غالی شیعوں میں شمار کیا ہے نیز ذکر کیا ہے کہ مختار کے علمدار لشکر اور مختار کے آخری وقت تک رفیق تھے۔
علامہ ابن عبدالبر ، استیعاب میں ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ کوفہ میں وارد ہوئے اور حضرت علی(ع) کے ساتھ ہر معرکہ میں شریک رہے۔ جب حضرت علی(ع) شہید ہوگئے تو یہ مکہ چلے گئے۔ بڑے عالم و فاضل زیرک و دانا فصیح و بلیغ حاضر جواب تھے۔ حضرت علی(ع) کے پیرو خاص تھے۔ بعد موت امیرالمومنین(ع) یہ ابو طفیل ایک مرتبہ معاویہ کے پاس پہنچے، معاویہ نے پوچھا تم اپنے دوست ابوالحسن (علی(ع)) کی وفات پر کتنے رنجیدہ ہو؟ انھوں نے کہا ( اتنا ہی جتنا مادر موسی(ع) ، موسی(ع) کے انتقال پر رنجیدہ تھیں خداوندا میری اس کوتاہی کو معاف کرنا ( یعنی امیرالمومنین(ع) سزاوار تھے کہ ان کا غم اس سے بھی زیادہ کیا جائے)
معاویہ نے ان سے پوچھا۔ عثمان کا محاصرہ کرنے والوں میں تم بھی تھے؟ انھوں نے کہا۔ محاصرہ کرنے والوں میں نہیں تھا البتہ میں ان کے قریب ضرور موجود تھا۔ معاویہ نے پوچھا ۔ تم نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ ابوطفیل نے پوچھا اور تم؟ تم نے کیوں مدد سے جان چرائی؟ تم تو شام میں تھے اور شام والے سب کے سب تمھارے تابع تھے۔
معاویہ نے کہا : میرا خونِ عثمان کا انتقام لینا کیا ان کی مدد نہ تھی؟ ابو طفیل نے کہا: تمھاری مثال تو ایسی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
“ میری موت کے بعد مجھ پر ٹسوے بہاتے ہو اور میری زندگی میں تم نے ذرہ برابر میری مدد نہ کی۔”
صحیح مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
دار قطنی نے شیعہ اور صدوق لکھا ہے۔ ابن حبان نے کہا ہے کہ یہ رفض کے مبلغ تھے۔ ابن خزیمہ ان کے متعلق کہا کرتے کہ ہم سے حدیث بیان کی عباد بن یعقوب نے جو روایت میں ثقہ اور مذہب میں متہم ( یعنی شیعہ ) تھے۔
انھیں عباد نے روایت کی ہے کہ ابن مسعود مشہور صحابی پیغمبر(ص) آیت “و کفی اﷲ المومنين القتال ” کو یوں پڑھا کرتے تھے “و کفی اﷲ المومنين القتال بعلی ” نیز یہ حدیث بھی کہ ”اذا رائيتم معاوي ه علی منبری فاقتلو ه ” “جب معاویہ کو میرے منبر پر دیکھنا تو قتل کر ڈالنا۔”
یہ عباد کہا کرتے تھے کہ جو شخص نماز میں دشمنان آل محمد(ص) پر تبرا نہ بھیجا کرے گا وہ انھیں کے ساتھ محشور ہوگا۔ یہ بھی انھیں کا قول ہے کہ خداوند عالم اس سے کہیں زیادہ اںصاف کرنے والا ہے کہ وہ طلحہ و زبیر کو جنت میں داخل کرے جنھوں نے علی(ع) کی بیعت کرنے کے بعد پھر ان سے جنگ کی۔
صالح جزرة کا بیان ہے کہ عباد ، عثمان کو سب و شتم کیا کرتے تھے ان سب باتوں کے باوجود بخاری، ترمذی ، ابن ماجہ وغیرہ میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ250ھ میں انتقال کیا۔
علامہ ابن قتیبہ نے انھیں مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے ۔ صحیح بخاری میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ابن سعد اپنی طبقات جلد6 صفحہ 86 پر ان کے متعلق لکھتے ہیں ۔ بڑے ثقہ، فقیہہ، کثیر الحدیث اور شیعہ تھے۔ ان کی حدیثیں کل صحاح ستہ میں موجود ہیں۔
امام مسلم و ابوداؤد بغوی وغیرہ کے استاد ہیں۔ ابن حاتم نے انھیں صدوق اور شیعہ لکھا ہے۔ صالح بن محمد بن جزرہ نے ان کے متعلق کہا کہ بڑے غالی شیعہ تھے۔ ان کی حدیثیں صحیح مسلم، سنن ابی داؤد میں موجود ہیں۔
ابن قتیبہ نے انھیں شیعہ لکھا ہے۔ ابن عدی نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ تشیع میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔ ابو یعلی نے عبداﷲ بن لہیعہ سے روایت
کی ہے اور انھوں نے بسلسلہ اسناد عبداﷲ بن عمر سے کہ رسالت ماب(ص) نے مرض موت میں فرمایا : میرے بھائی کو بلا دو۔ لوگوں نے ابوبکر کو بلادیا۔ آںحضرت(ص) نے منہ پھیر لیا۔ پھر فرمایا کہ میرے بھائی کو بلاؤ۔ لوگوں نے اب کی عثمان کو بلا دیا اس مرتبہ بھی آپ(ص) نے منہ پھیر لیا۔ پھر علی(ع) بلائے گئے۔ آپ نے انھیں اپنی چادر میں لے لیا اور ان پر جھک گئے۔ جب علی(ع) چادر سے باہر آئے تو لوگوں نے پوچھا ۔ رسول(ص) سے کیا باتیں کیں۔ علی(ع) نے بتایا کہ آںحضرت(ص) نے مجھے ایک ہزار باب علم کے تعلیم کیے کہ ہر باب سے ایک ہزار باب منکشف ہوتےہیں۔
ان کی حدیثیں جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد وغیرہ میں موجود ہیں۔ سنہ 174ھ میں انتقال کیا۔
ترمذی نے ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیاہے ۔ جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ابن عدی نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ “ احترق بالتشیع” شیعیت میں بھن گئے تھے۔ صالح جزرہ نے کہا کہ یہ عثمان کو برا کہتے تھے۔ امام ابو داؤد نے ذکر کیا ہے کہ عبدالرحمن نے صحابہ کی مذمت میں ایک کتاب لکھی تھی۔ بڑے برے آدمی تھے۔ ان سب کے باوجود عباس دوری امام بغوی و نسائی نے ان سے حدیثیں روایت کیں ، سنن نسائی میں ان کی
حدیثیں موجود ہیں۔ علامہ ذہبی نے ابن معین کےمتعلق لکھا ہے کہ وہ انھیں ثقہ کہا کرتے تھے۔
یہ اکابر و عمائد شیعہ اور سلف صالحین سے تھے ۔ ابنی قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے مورخ ابن اثیر نے تاریخ کامل جلد6 صفحہ130 میں سنہ211ھ کے حوادث کے سلسلہ میں ان کی وفات کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
“ اسی سنہ211ھ کے آخر میں عبدالرزاق بن ہمام نے وفات پائی یہ امام احمد کے ساتذہ میں سے تھے اور شیعہ تھے۔”
ملا متقی صاحب کنزالعمال نے حدیث 5994 کے سلسلہ میں ان کا ذکر کیا اور ان کی شیعیت کی صراحت کی ہے۔ ( کنزالعمال جلد6 صفحہ391)
علامہ ذہبی میزان میں ان کے متعلق لکھتے ہیں:
“ عبدالرزاق بن نافع یکے از علمائے اعلام و ثقات تھے بہت سی کتابیں لکھیں۔ جامع کبیر تصنیف کی۔ یہ خزانہ علوم تھے۔ علم کی تحصیل کے لیے لوگ دور دراز سے سفر کر کے ان کے پاس آتے مثلا امام احمد و اسحاق ، یحی ، ذھلی ، رمادی وغیرہ جملہ حفاظِ حدیث و ائمہ علم نے ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے۔ طیالسی سے منقول ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ابن معین بیان کرتے تھے کہ میں نے عبدالرزاق کی زبان سے ایسی باتیں سنن جن سے مجھے ان کے شیعہ ہونے کا
یقین ہوگیا۔ میں نے عبدالرزاق سے پوچھا کہ تمھارے اساتذہ جن سے تم نے پڑھا ہے وہ تو سب کے سب سنی تھے معمر، مالک، ابن جریح، سفیان، اوزاعی وغیرہ، پھر تم شیعہ کیسے ہوگئے؟ انھوں نے جواب دیا کہ جعفر بن سلیمان ہمارے یہاں آئے تھے ہم نے انھیں عالم و فاضل اور بڑا نیک سیرت پایا ، انھیں سے متاثر ہوکر میں نے یہ مذہب اختیار کیا۔”
عبدالرزاق کی اس گفتگو سے نکلتا ہے کہ وہ جعفر ضبعی کی وجہ سے شیعہ ہوئے مگر لطف یہ ہے کہ محمد بن ابی بکر مقدمی کا خیال یہ ہے کہ خود جعفر ضبعی عبدالرزاق کی وجہ سے شیعہ ہوئے۔ محمد بن ابی بکر ، عبدالرزاق پر بد دعا کرتے تھے کہ جعفر ضبعی ایسے لوگوں کو اس نے شیعہ کردیا۔
ابن معین جن کا قول ہم نے اوپر ذکر کیا باوجودیکہ عبدالرزاق کی شیعیت سے بخوبی آگاہ تھے لیکن انھوں نے بہت زیادہ ان کی حدیثوں سے استفادہ کیا۔
احمد بن خیثمہ بیان کرتے تھے کہ ابن معین سے کسی نے کہا کہ امام احمد تو کہتے ہیں کہ عبیداﷲ بن موسی عبدالرزاق کی حدیثوں کو ان کی شیعیت کی وجہ سے مردود سمجھتے تھے تو ابن معین نے کہا ، خدا کی قسم عبدالرزاق ، عبیداﷲ بن موسی سے سور درجہ اونچے ہیں اور میں نے عبیدااﷲ بن موسی کی حدیثوں سے کئی گنا زیادہ حدیثیں عبدالرزاق سے سنی ہیں۔ ( میزان الاعتدال)
ابو صالح محمد بن اسماعیل ضراری کا بیان ہے کہ ہم لوگ شہر صنعا میں عبدالرزاق کے پاس تحصیل علم حدیث میں منہمک تھے ہمیں خبر ملی کہ امام احمد اور ابن معین نے عبدالرزاق کی حدیثوں کو شیعہ ہونے کی وجہ سے متروک قرار دے دیا ہے ہمیں اس خبر سے بڑا صدمہ ہوا کہ ساری محنت اکارت گئی
پھر ہم حاجیوں کے ہمراہ مکہ آئے وہاں ابن معین سے ملاقات ہوئی ہم نے ان سے دریافت کیا۔ انھوں نے کہا اگر عبدالرزاق مرتد بھی ہوجائیں تو ( وہ اتنے ثقہ ہیں کہ ) ہم ان کی حدیثوں کو متروک نہیں قرار دے سکتے۔( میزان الاعتدال تذکرہ عبدالرزاق)
ابن عدی ، عبدالرزاق کے متعلق لکھتے ہیں کہ انھوں نے فضائل ( اہلبیت(ع)) میں ایسی حدیثیں بیان کی ہیں جس کی تائید کسی دوسرے(1) نے نہیں کی۔ اور
--------------
1 ـ ابن عدی کا یہ کہنا سوا ان کے تعصب کے اور کیا سمجھا جائے عبدالرزاق نے فضائل اہلبیت(ع) کی جو حدیثیں روایت کی ہیں انصاف پسند علماء اہل سنت نے اس کی تائید بھی کی ہے اور اسے صحیح حدیثوں میں شمار کیا ہے ۔ ہاں خارجی و ناصبی دشمنان اہلبیت(ع) نے البتہ مخالفت کی ہے ۔ منجملہ ان حدیثوں کے ایک وہ حدہث ہے جو احمد بن ازہر جو باتفاق حجت ہیں نے روایت کی ہے کہ مجھ سے عبدالرزاق نے بیان کیا ان سے معمر نے ان سے زہری نے ان سے عبیداﷲ نے ان سے ابن عباس نے کہ پیغمبر(ص) نے حضرت علی(ع) کی طرف نگاہ اٹھا کر کہا تم دنیا میں بھی سردار ہو اور آخرت میں بھی جس نے تمھیں دوست رکھا اس نے مجھے دوست رکھا اور جس نے تم سے دشمنی کی اس نے مجھ دشمنی کی۔ تمھیں دوست رکھنے والا خدا کو دوست رکھنے والا اور تمھیں دشمن رکھنے والا دشمن رکھنے والا اور عذاب جہنم ہے تمہارے دشمن کے لیے۔ امام حاکم مستدرک جلد3 صفحہ 128 پر اس کی درج کر کے لکھتے ہیں کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کے معیار پر بھی صحیح ہے مگر ان دونوں نے اپنی صحیحین میں درج نہیں کیا دوسری حدیث ہے جو عبدالرزاق نے بسلسلہ اسناد ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جناب سیدہ نے رسالت ماب(ص) سے عرض کی بابا جان آپ(ص) نے مجھے غریب و نادار شخص سے بیاہا آںحضرت(ص) نے فرمایا کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ خداوند کریم نے باشندگان زمین کی طرف نظر کی ان میں سے صرف دو شخصوں کو منتخب کیا ایک کو تمھارا باپ بنایا دوسرے کو تمھارا شوہر۔ اس حدیث کو امام حاکم نے بسلسلہ اسناد ابوہریرہ سے بھی روایت کیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو مستدرک جلد3 صفحہ129۔
اہل بیت(ع) کے دشمنوں کے معائب(1) میں منکر حدیثیں بیان کی ہیں۔ لوگوں نے انھیں شیعہ لکھا ہے۔
مختصر یہ کہ باوجود عبدالرزاق کے کھلم کھلا شیعہ ہونے کے علماء اہل سنت نے انتہائی جلیل القدر عالم محدث اور بے حد ثقہ و معتبر سمجھا ہے، امام احمد سے کسی نے پوچھا عبدالرزاق سے بڑھ کر بھی آپ کو بہتر حدیث والا ملا؟ انھوں نے جواب دیا۔ نہیں ان سے بہتر کوئی نہیں۔
علامہ قیسرانی اپنی کتاب جمع بین رجال الصحین میں بسلسلہ حالات عبدالرزاق امام احمد کا قول نقل کرتے ہیں کہ جب لوگ پیغمبر(ص) کی کسی حدیث میں اختلاف کریں تو عبدالرزاق جو کہیں وہ صحیح ہے۔ ان کی جلالت قدر کا اسی سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ علامہ ابن خلسکان عبدالرزاق کے پاس ( ملاحظہ ہو وفیات الاعیان ) ان سے اپنے زمانہ کے ائمہ اسلام نے حدیثیں روایت کیں جیسے سفیان بن عینیہ ، احمد بن حنبل، یحی بن معین وغیرہ ان کی حدیثیں جملہ صحاح ستہ میں موجود ہیں سنہ126ے میں پیدا ہوئے اور سنہ211ھ میں انتقال کیا۔ امام جعفر صادق(ع) سے امام محمد تقی (ع) تک کا زمانہ پایا۔
--------------
1 ـ دشمناں اہل بیت(ع) کے متعلق عبدالرزاق کی بیاں کردہ حدیثیں معاویہ اور ان کے پیروؤں ہی نزدیک منکر ہوسکتی ہیں مثلا یہ حدیث جو عبدالرزاق نے بسلسلہ اسناد مرفوعا روایت کی کہ“اذا رائيتم معاويه علی منبری فاقتلوه” جب معاویہ کو میرے منبر پر دیکھنا قتل کردینا۔
یہ زرارہ ، جمران و بکیر و عبدالرحمن و غیرہ کے بھائی ہیں۔ یہ سب کے سب بزرگان شیعہ سے ہیں اور انھوں نے خدمت شریعت کر کے بڑے درجے حاصل کیے۔ ان بھائیوں نے اولاد بھی بڑی صالح و مبارک پائی۔ باپ کی طرح بیٹوں نے بھی مذہب حقہ کی ترویج و اشاعت میں بڑا حصہ لیا عبدالملک کے متعلق علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں۔ ابو وائل وغیرہ کا بیان ہے کہ ابو حاتم نے انھیں صالح الحدیث کہا ہے دوسروں نے صدوق او رافضی کہا۔
ابن قیسرانی، کتاب جمع بین الرجال الصحیحین میں ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عبدالملک بن اعین حمران کوفی کے بھائی ہیں اور شیعہ تھے۔
بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
عصر امام جعفر صادق(ع) میں انتقال کیا۔ امام نے ان کے لیے دعا کی اور یہ بھی روایت میں ملتا ہے کہ امام نے اپنے اصحاب کے ساتھ ان کی قبر کی زیارت کی۔
امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں۔ ابن قتیبہ نے اپنی کتاب معارف صفحہ177 میں اصحاب حدیث میں ان کا ذکر اور ان کی شیعیت کی تصریح کی ہے پھر مشاہیر شیعہ کے ضمن میں بھی ان کا ذکر کیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو معارف صفحہ279)
علامہ ابن سعد نے طبقات جلد6 صفحہ139 پر ان کے حالات لکھے ہیں
اور ان کے شیعہ ہونے کی صراحت کی ہے۔ ابن اثیر نے تاریخ کامل میں بسلسلہ واقعات سنہ213ھ ان کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عبیداﷲ بن موسی عبسی فقیہ۔ یہ شیعہ تھے اور امام بخاری کے شیخ ہیں۔ ان کی صحیح میں علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھا ہے۔ عبیداﷲ بن موسی بخاری کے شیخ ہیں اور فی نفسہ ثقہ ہیں لیکن یہ شیعہ اور مذہب اہلسنت سے منحرف تھے۔ ابوحاتم و ابن معین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ احمد بن عبداﷲ عجلی ان کے متعلق کہتے ہیں کہ عبیداﷲ بن موسی بڑے عالم قرآن و صاحب معرفت تھے میں نے انھیں کبھی سر بلند کیے ہوئے یا ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔
انھیں علامہ ذہبی نے مطر بن میمون کے حالات کے ضمن میں بھی عبیداﷲ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ثقہ اور شیعہ تھے۔ ابن معین عبیداﷲ بن موسی اور عبدالرزاق سے حدیث کا استفادہ کرتے، یہ جانتے ہوئے کہ یہ دونوں شیعہ مسلک کے ہیں ان کی حدیثیں بخاری و مسلم اور سبھی صحاح میں موجود ہیں۔
سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ابن معین نے انھیں غالی شیعہ لکھا ہے۔ دار قطنی ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ غالی رافضی ہیں اور ثقہ ہیں۔
علامہ ذہبی ان کے حالات میں لکھتے ہیں کہ یہ شیعوں کے عالم صادق ان کے قاضی اور ان کی مسجد کے امام ہیں۔ اگر انھیں جیسے دوسرے شیعہ بھی ہوا کریں
تو شیعوں کی برائیاں بہت کم ہوجائیں۔ دار قطنی، احمد بن حنبل ، احمد عجلی ، احمد نسائی، سبھی انھیں ثقہ جانتے تھے۔ ان کی حمد حدیثیں صحیح مسلم و بخاری میں موجود ہیں۔
بڑی مشہور شخصیت کے بزرگ ہیں۔ علامہ ذہبی سالم مرادی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عطیہ شیعہ تھے۔
ابن قتیبہ نےعطیہ سعد کے پوتے حسین بن حسن ابن عطیہ کے حالات کے ضمن میں لکھا ہے کہ یہ عطیہ حجاج کے زمانہ میں فقیہ تھے اور شیعہ تھے۔ پھر بسلسلہ تذکرہ مشاہیر شیعہ بھی ان کا تذکرہ کیا ہے۔
علامہ ابن سعد نے ان کے جو حالات لکھے ہیں اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شیعیت میں کتنے راسخ و ثابت قدم بزرگ تھے۔ ان کے باپ سعد بن جنادہ امیرالمومنین (ع) کے اصحاب میں سے تھے۔ امیرالمومنین(ع) کوفہ میں تھے۔ سعد حضرت کی خدمت میں آئے۔ عرض کیا : امیرالمومنین(ع) ! میرے یہاں فرزند پیدا ہوا ہے اس کا نام رکھ دیجیے۔
آپ نے فرمایا: یہ عطیہ خداوندی ہے۔ چنانچہ عطیہ نام رکھ دیا گیا۔ ابن سعد یہ بھی لکھتے ہیں کہ :
“ عطیہ نے ابن اشعث کی ہمراہی میں حجاج پر خروج کیا جب ابن اشعث کو شکست ہوئی تو عطیہ فارس بھاگ گئے۔ حجاج نے فارس کے حاکم محمد بن قاسم ثقفی کو لکھا کہ عطیہ کو بلا کر کہو کہ علی(ع) پر تبرا کریں ورنہ تم انھیں چار سو کوڑے مارو۔ سر اور ڈاڑھی مونڈ ڈالو۔ محمد بن قاسم نے بلاکر حجاج کا یہ خط سنایا
انھوں نے انکار کیا تو اس نے انھیں چار سو کوڑے مارے اور سر اور ڈاڑھی مونڈ ڈالی۔ جب قتیبہ والی خراسان ہوا تو عطیہ اس کے پاس پہنچے اور برابر خراسان ہی میں رہے۔ پھر جب عمر بن ہیبرہ عراق کا گورنر ہوا تو انھوں نے عمر کو خط لکھا اور عراق آنے کی اجازت مانگی۔ اس کی اجازت پر یہ کوفہ آئے اور برابر کوفہ میں رہے۔ یہاں تک کہ سنہ111ھ میں وہیں انتقال کیا۔ یہ بڑے ثقہ بزرگ ہیں اور ان کی حدیثیں بڑی پاکیزہ ہیں۔ ( طبقات ابن سعد جلد 6 صفحہ212 )”
عطیہ نے بڑی پاکیزہ نسل پائی۔ ان کی اولاد سب کے سب شیعہ تھے اور بڑے عالم و فاضل صاحب عزو شرف اور ممتاز شخصیتوں کے مالک جیسے حسین بن حسن بن عطیہ و محمد بن سعد بن محمد بن حسن بن عطیہ وغیرہ۔ عطیہ کی حدیثیں سنن ابی داؤد و ترمذی میں موجود ہیں۔
میزان الاعتدال میں بسلسلہ حالات علماء ابو حاتم کو یہ قول مذکور ہے کہ یہ خالص شیعوں میں سے تھے۔ امام ابوداؤد و ترمذی نے ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدالال کیا ہے۔ ابن معین نے ثقہ کہا ہے ابو حاتم و ابو زرعہ نے ان میں کوئی خرابی نہیں سمجھی۔
ان کی حدیثیں سنن ابی دادؤد و جامع ترمذی میں موجود ہیں۔ یہ شاعر بھی تھے۔ امیرالمومنین(ع) کی مدح میں بڑے معرکہ کے قصیدے اور حضرت سید الشہداء کے مرثیے لکھے ہیں۔
یہ مخصوص محبان اہل بیت(ع) سے تھے۔ علامہ شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہیر شیعہ کے زمرہ میں لکھا ہے۔ یہ علقمہ کبار محدثین میں سے تھے۔ یہ اور ان کے بھائی ابی امیرالمومنین(ع) کے صحابی ہیں۔ جنگ صفین میں حضرت کے ہمرکاب تھے۔ ابی جنھیں کثرت عبادت کی وجہ سے “ ابی الصلاة” نماز والے ابی کہا جاتا تھا۔ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔ علمقمہ نے بھی بڑے کار ہائے نمایاں انجام دیے۔ دشمنوں کو خوب تہ تیغ کیا۔ ان کی ٹانگ زخمی ہوگئی۔ یہ مدت العمر معاویہ کے سرگرم مخالف رہے۔
علقمہ کی عدالت و جلالت قدر حضرات اہل سنت کے نزدیک باوجود ان کی شیعیت کے مسلم الثبوت حیثیت رکھتی ہے۔ ارباب صحاح ستہ نے ان کی حدیثوں سے احتجاج کیا ہے۔ صحیح بخاری جو صحیح مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ62ھ میں کوفہ میں انتقال کیا۔
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھا ہے۔ احمد بن حنبل انھیں صالح الحدیث اور جلیل القدر شیعہ بیان کرتے تھے۔ ابنِ معین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ اصحاب سنن نے ان سے روایت کی ہے۔
امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں۔ ابی قتیبہ نےمعارف میں انھیں
مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے۔ میزان الاعتدال میں ان کے حالات میں ہے کہ ساٹھ برس تک ان کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ ایک دن روزہ سے رہتے دوسرے دن بحالتِ افطار۔ قیسرانی نے کتاب جمع بین رجال الصحیحین میں ان کا ذکر کیا ہے بخاری نے اپنی صحیح میں ان سے بارہ حدیثیں روایت کی ہیں۔ 96 برس کی عمر میں سنہ230ھ میں انتقال کیا۔
احمد عجلی نے انھیں شیعہ اور رافضی لکھا ہے مگر باوجود ان کے شیعہ رافضی ہونے کے علماء تابعین نے ان سے استفادہ کیا۔ یہ بصرہ کے فقہا میں سے تھے اور ایسے جلیل القدر و علم و فضل میں ممتاز کہ جب حسن بصری کا انتقال ہوا تو بصرہ والوں نے ان سے کہا کہ آپ حسن بصری کی جگہ پر تشریف فرما ہوں۔ اس زمانہ میں بصرہ کے اندر کوئی کوئی شیعہ ہوا کرتا۔
قیسرانی نے اپنی کتاب جمع بین رجال الصحیحین میں ان کا ذکر کیا ہے۔ سنہ 131ھ میں انتقال کیا۔
حسن بن صالح کے بھائی ہیں۔ حسن کے حالات میں ہم قدرے ان کا ذکر کر چکے ہیں۔ صحیح مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ51ھ میں انتقال کیا۔
ابن حبان نے انھیں شیعہ لکھا ہے۔ ابن معین و دار قطنی نے انھیں ثقہ
قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم نے ان کی حدیثوں میں کوئی مضائقہ نہٰیں سمجھا ۔ ابو زرعہ نے کہا ہے کہ میرے نزدیک صدوق ہیں۔
امام احمد کا ارشاد ہے کہ میں تو انھیں صدیق ہی سمجھتا ہوں۔ اصحاب سنن نے ان کی حدیثیں درج کی ہیں۔ ہارون رشید کے زمانہ میں سنہ184ھ میں انتقال کیا۔
یہ بہت سے محدثین کے شیخ ہیں۔ ابن سعد نے طبقات جلد6 صفحہ273 پر ان کا تذکرہ کیا اور لکھا ہے کہ بڑے شیعہ تھے۔ سنن ابی داؤد و جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ترمذی و نسائی اور دیگر محدثین کے شیخ ہیں۔ علامہ ذہبی نے عالم نسائی کا قول نقل کیا ہے کہ علی ابن منذر خالص شیعہ اور ثقہ ہیں۔ ابن حاتم نے انھیں صدوق و ثقہ لکھا ہے۔ امام نسائی گواہی دیتے ہیں کہ علی بن منذر خالص شیعہ تھے۔ پھر ان کی حدیثوں کی روایت قابل اعتنا نہیں اور شیعہ راویوں سے محدثین اہل سنت نے روایت لی ہے کس حد تک لائق ماتم ذہنیت ہے۔ سنہ 256ھ میں انتقال کیا۔
امام احمد کے اساتذہ میں ہے ہیں۔ امام ابوداؤد نے انھیں ٹھوس
شیعہ لکھا ہے۔ ابن حبان کا قول ہے کہ علی بن ہاشم غالی شیعہ تھے ۔ جعفر ابن ابان کہتے ہیں کہ میں نے ابن نمیر کو کہتے سنا۔ علی بن ہاشم شیعیت میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔
بخاری فرماتے ہیں کہ علی بن ہاشم اور ان کے باپ دونوں اپنے مذہب میں بڑے غالی تھے۔ اسی وجہ سے بخاری نے ان کی حدیثیں صحیح میں درج نہیں کیں لیکن باقی پانچ ارباب صحاح نے ان کی حدیثیں اپنی صحاح میں درج کی ہیں اور ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر احتجاج کیا ہے۔
ابن معین وغیرہ نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ ابو داؤد نے اثبات میں شمار کیا۔ ابورزعہ نے صدوق کہا۔ امام نسائی نے ان میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا۔ سنہ181ھ میں انتقال کیا۔
سلیمان نے انھیں رافضی شمار کیا ہے اور باوجود ان کے رافضی ہونے کے صحٰیح مسلم و سنن ابی داؤد وسنن نسائی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ان کی کنیت ابو معاویہ تھی۔ یہ جلیل القدر شیعہ تھے۔ محبت اہلبیت(ع) کے جرم میں انھیں بڑی اذیتیں دی گئیں۔ بشیر بن مروان نے شیعیت کے جرم میں ان کے دونوں پیر کاٹ ڈالے۔ بہت سے محدثین کے استاد ہیں جنھوں نے ان سے حدیث کا استفادہ کیا اور ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیا۔ امام احمد ، ابن معین، ابو حاتم، اور بہت سے لوگوں نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے
بخاری کو چھوڑ کر باقی سبھی ارباب صحاح نے ان کی حدیثیں اپنے صحاح میں درج کی ہیں۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق تمام مذکورہ باتیں نقل کی ہیں اور ان کے شیعہ اور ثقہ ہونے کی صراحت کی ہے نیز یہ کہ ان کے متعلق کسی نے بھی لب کشائی نہیں کی اور نہ ان کے ثقہ ہونے میں کلام کیا سوا عقیلی کے۔ سنہ133ھ میں انتقال کیا۔
ابن قتیبہ نے معارف میں، علامہ شہرستانی نے ملل و نحل میں، ان کی شخصیت کے تصریح کی ہے۔ یہ بزرگ کوفہ کے انھیں جلیل القدر محدثین مین سے ہیں جن کے مسلک کو دشمنان اہل بیت نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ انھوں نے جمہور کی روش کو چھوڑ کر اہل بیت(ع) کی اتباع و پیروی کو بہتر سمجھا اور ہر دینی مسئلہ میں۔ اہل بیت(ع) کی طرف رجوع کرنے میں انھوں نے نجات سمجھی۔ اسی وجہ سے تو جوزجانی کا یہ فقرہ ہے:
“ کوفہ کے کچھ ایسے افراد تھے کہ باوجودیکہ لوگ ان کے عقائد و خیالات کو پسند نہیں کرتے تھے مگر فن حدیث میں وہ مرجع انام اور محدثین کوفہ کے راس و رئیس تھے۔ جیسے ابواسحٰق ، منصور، زبید یامی، اعمش وغیرہ لوگوں نے ان افراد کی سچائی و دیانتداری کی وجہ سے ان کی بیان کردہ حدیثوں کو سر آنکھوں پر رکھا اور جو حدیثیں ان لوگوں نے مرسلا بیان کیں ان میں توقف کیا۔”
ابو اسحٰق کی مرسلا بیان کی ہوئی حدیثوں میں ناصبی ذہنیت والوں نے
توقف جو کیا انھیں میں سے ایک حدیث یہ ہے:
“ قال رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله: مثل عليّ كشجرة أنا أصلها، و عليّ فرعها، و الحسن و الحسين ثمرها، و الشيعة ورقها”
“ علی(ع) کی مثال درخت جیسی ہے۔ میں اس درخت کی جڑ ہوں ، علی (ع) اس کی شاخ ہیں حسن(ع) و حسین(ع) اس کے پھل ہیں اور شیعہ اس درخت کے پتے ہیں۔”
ان کی حدیثوں سے جملہ ارباب صحاح نے احتجاج کیا ہے۔ بخاری و مسلم اور دیگر کتب صحاح سبھی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ :کان يقال ل ه عوف الصدق ” انہیں لوگ سچائی والے عوف کہتے ہیں۔ جعفر بن سلیمان انھیں شیعہ اور بندار انھیں رافضی بیان کرتے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و صحیح مسلم میں بھی ہیں اور دیگر کتب صحاح میں بھی۔
کنیت آپ کی ابونعیم تھی یہ بخاری کے شیوخ میں سے ہیں۔ محققین
اہلسنت مثلا ابن قتیبہ وغیرہ نے انھیں شیعہ لکھا ہے۔ علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں :
“الفضل بن دکين ابونعيم حافظ حجة الا انه يتشيع”
“ فضل بن دکین جن کی کنیت ابونعیم تھی یہ حدیث کے حافظ اور حجت ہیں، مگر یہ کہ شیعہ تھے۔”
ان کی شیعیت میں کسی کو تامل کی گنجائش نہیں۔ ان سے جملہ ارباب صحاح احتجاج کرتے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور دیگر صحاح سبھی میں موجود ہیں۔ سنہ210ھ زمانہ حکومتِ معتصم میں انتقال کیا۔
علامہ ابن سعد طبقات جلد6 صفحہ 279 پر ان کے متعلق لکھتے ہیں:
“و کان ثق ه مامونا کثيرالحديث ، حجة ”
“ یہ بھروسہ کے لائق ہر طرح قابل اطمینان ، بہت زیادہ حدیثوں کے راوی اور حجت ہیں۔”
علامہ ذہبی ان کے متعلق میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں کہ یہ مشہور و معروف شیعہ ہیں۔
سفیان بن عینیہ ، ابن معین، ابن عدی وغیرہ جملہ ائمہ حدیث نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ ہیثم بن جمیل نے ان کے متعلق کہا ہے کہ فضیل بن مرزوق ، بلحاظ زہد و فضل یکے از ائمہ ہدایت تھے۔ صحیح مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
عبداﷲ بن احمد نے اپنے والد امام احمد حنبل سے فطر کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا :
“ثقة صالح الحديث ، حديثة حديث رجل کيس الا ان ه يتشيع ۔”
“ فطر ثقہ ہیں، صالح الحدیث ہیں۔ ان کی حدیثیں زیرک و دانا لوگوں جیسی ہیں لیکن یہ کہ وہ شیعہ تھے۔”
ابن معین کا قول ہے کہ فطر بن خلیفہ ، ثقہ اور شیعہ ہیں۔ صحٰیح بخاری و سنن اربعہ میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ253ھ میں انتقال کیا۔
امام بخاری کے شیخ ہیں۔ ابن سعد طبقات جلد6 صفحہ 272 پر ان کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں کہ
“ ابو غسان ثقہ اور صدوق اور بڑے شیدید قسم کے شیعہ تھے”
علامہ ذہبی نے بھی ان کی عدالت و جلالت قدر پر روشنی ڈالی ہے اور وضاحت کی ہے کہ انھوں نے مذہب تشیع اپنے استاد حسن صالح سے حاصل کیا۔ اور ابن معین کہا کرتے کہ کوفہ میں ابو غسان جیسا ٹھوس آدمی نہیں ۔ ابوحاتم بھی ان کے متعلق یہی رائے رکھتے تھے۔ امام بخاری نے
بلاواسطہ ان سے متعدد حدیثیں روایت کی ہیں ۔ بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ 219ھ میں انتقال کیا۔
جو ابو معاویہ ضریر تمیمی کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔ علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
“ یہ بڑے ثقہ، ٹھوس اور یکے از ائمہ اعلام تھے۔ میری دانست میں کسی نے بھی ان کے متعلق کوئی ایسی بات نہیں کہی جو ان کی شان کے منافی ہو۔”
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ان کی حدیثوں سے بخاری و مسلم دونوں نے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے ۔ ان کے متعلق مشہور ہے کہ بڑے غالی شیعہ تھے۔ ان کی حدیثوں سے جملہ ارباب صحاح ستہ نے احتجاج کیا ہے اور سبھی صحاح میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ112ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ195ھ میں انتقال کیا۔
یہ بزرگ حفاظ و محدثین کے امام اور سینکڑوں کتابوں کے مصنف ہیں تحصیل علم کی خاطر ملک ملک کے سفر کیے اور دو ہزار شیوخ حدیث سے احادیث کا استفادہ کیا۔ ان کے زمانہ کے مرجع انام علمائے اعلام جیسے صعلو کی امام ابن فورک اور دیگر جمیع ائمہ اعلام انھیں اپنے سے مقدم و بہتر سمجھتے تھے اور آپ کے علم وفضل کا لحاظ رکھتے تھے ۔ معزز و محترم ہونے کے معترف اور بے شک و شبہ امام سمجھتے تھے۔ ان کے بعد کے جتنے محدثین ہوئے وہ سب آپ کے
خواں علم کے زلہ خوار ہیں۔ بزرگ اکابر شیعہ اور شریعت مصطفوی کے حافظوں میں سے تھے۔ جیسا کہ علامہ ذہبی کی تذکرة الحفاظ میں صراحت موجود ہے نیز میزان الاعتدال میں بھی بسلسلہ حالات امامِ موصوف تصریح ہے ۔ سنہ 321ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ405ھ میں انتقال کیا۔
ان کا پورا خاندان شیعہ تھا۔ ان کے خاندان والوں کی تصانیف دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ حضرات شیعیت میں کتنے راسخ اور ثابت قدم تھے۔ محمد بن عبیداﷲ کو ابن عدی نے کوفہ کے سربرآوردہ شیعوں میں شمار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال علامہ ذہبی۔
ترمذی و دیگر اصحاب سنن نے ان کی حدیثیں اپنے صحاح میں درج کی ہیں۔ طبرانی نے اپنی معجم کبیر میں بسلسلہ اسناد محمد بن عبیداﷲ سے اور انھوں نے اپنے باپ دادا کی وساطت سے حضرت پیغمبر خدا(ص) کی یہ حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت(ص) سے حضرت علی(ع) سے ارشاد فرمایا :
“ کہ سب سے پہلے ہم اور تم اور حسن(ع) و حسین(ع) جنت میں جائیں گے ہمارے پیچھے ہم لوگوں کی اولاد رہے گی اور ہم لوگوں کے شیعہ ہمارے دائیں اور بائیں رہیں گے۔”
ابن قتیبہ نے اپنی معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ابن سعد نے اپنی طبقات جلد6 صفحہ271 پر ان کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
“ کہ یہ ثقہ ، صدوق اور اکثر الحدیث ہیں۔ یہ شیعہ تھے۔ بعض علماء ان کی حدیثوں سے احتجاج نہیں کرتے ۔”
علامہ ذہبی نے انھیں میزان میں کئی جگھوں پر صدوق اور شیعہ لکھا ہے۔ امام احمد نے ان کے متعلق فرمایا کہ ان کی حدیثیں پاکیزہ ہیں اور یہ شیعہ ہیں۔
امام ابو داؤد نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ بڑے سخت و شدید شیعہ تھے۔ حدیث و معرفت والے ہیں اور حمزہ سے انھوں نے علم قرآن حاصل کیا۔ ابن معین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ امام احمد و نسائی نے ان کی حدیثوں میں کوئی مضائقہ نہیں دیکھا۔ ان کی حدیثوں صحیح بخاری و مسلم اور دیگر صحاح میں موجود ہیں۔
یہ امام جعفر صادق(ع) کے سربرآودہ اصحاب میں سے تھے۔ شیخ الطائفہ ابو جعفر طوسی نے اپنی کتاب رجال الشیعہ میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ حسن بن حسین بن داؤد نے ثقہ لوگوں کے سلسلہ میں ان کا ذکر کیا ہے۔
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں بکثرت جلیل القدر محدثین اہلسنت کے اقوال ان کے ثقہ ہونے کے متعلق نقل کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح مسلم میں موجود ہیں۔
ابو حاتم نے ان کے شیعہ اور ترمذی نے ان کے ثقہ ہونے کی صراحت کی صراحت کی ہے( میزان الاعتدال علامہ ذہبی) ان کی حدیثیں صحیح مسلم و دیگر سنن
میں موجود ہیں۔
یہ بزرگ علمائے امامیہ کے نزدیک بھی بڑے معزز و محترم اور علمائے اہلسنت کے نزدیک بھی بڑے ثقہ، عظیم المرتبت اور جلیل القدر میں انے کے والد عمار حق پروری، حق کوشی کا بہترین نمونہ تھے۔ شیعیت کے جرم میں دشمنانِ آل محمد(ص) نے ان کے پیر قطع کردیے تھے۔ بیٹا وہی، قدم بہ قدم ہو جو باپ کے۔ معاویہ بھی اپنے باپ کی مکمل شیبہ تھے۔ امام جعفر صادق(ع) و موسیٰ کاظم(ع) کی صحبت میں رہے اور آپ کے علوم کے حامل ہوئے۔ آپ کی حدیثیں صحیح مسلم میں موجود ہیں۔
ذہبی نے میزان الاعتدال میں انھیں صدوق و شیعہ لکھا ہے۔ نیز یہ کہ بخاری و مسلم اور ابو داؤد نے ان کی حدیثٰیں اپنے صحاح میں درج کی ہیں۔ ابن خلسکان نے وفسیات الاعیان میں امام علی رضا(ع) کے موالی میں انھیں ذکر کیا ہے صحیح مسلم میں ان کی حدثیں موجود ہیں۔ سنہ200ھ میں بغداد میں انتقال فرمایا۔ ان کی قبر زیارت گاہ عوام خواص ہے۔ سری سقطی مشہور مشہور صونی ان کے تلامذہ میں سے تھے۔
امام محمد باقر(ع) و امام جعفر صادق(ع) کے اصحاب سے تھے۔ جیسا کہ صاحبِ
منتہی المقال نے وضاحت کی ہے۔ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ یہ وہی منصور ہیں جن کے متعلق جوزجانی کا یہ فقرہ ہے کہ
“ کوفہ کچھ ایسے افراد تھے کہ لوگ ان کے عقائد کو ناپسند سمجھتے تھے مگر ان کی بیان کردہ حدیثوں کو ان کی غیر معمولی صداقت ودیانت کی وجہ سے آنکھوں پر رکھا جیسے ابو اسحاق، منصور ، زبیدیامی اور اعمش وغیرہ۔۔۔۔”
جملہ ارباب صحاح و سنن نے ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے صحیح بخاری و مسلم سب ہی میں ان کی حدیثوں موجود ہیں۔
کوفہ کے مشہور شیعوں میں سے تھے۔ ان کی حدیثیں صحیح مسلم و بخاری میں موجود ہیں۔
ان کی کنیت ابو محمد تھی۔ عقیلی نے انھیں غالی رافضیوں میں شمار کیا ہے ان سے سفیان نے حضرت علی(ع) اور ابوبکر کے متعلق دریافت کیا تو جواب دیا کہ علی(ع) مجھ کو بہت زیادہ محبوب ہیں۔
موسیٰ نے بسلسلہ اسناد جناب ام سلمہ زوجہ پیغمبر(ص) سے روایت کی ہے کہ جناب ام سلمہ(رض) فرمایا کرتیں کہ علی(ع) حق جپر ہے جو علی(ع) کی پیروی کرے گا وہی حق پر ہوگا۔ اور جس نے علی(ع) کو چھوڑا اس نے حق کو چھوڑا۔
موسیٰ نے فضائل اہبیت(ع) میں بہت سی صحیح حدیثیں روایت کی ہیں جو عقیلی
پر شاق گزریں اور انھیں غالی رافضیوں میں قرار دیا۔
ابن معین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ امام ابی داؤد اور دیگر اصحابِ سنن نے ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے۔ ان کی حدیثیں سنن میں موجود ہیں۔
عقیلی ان کے متعلق کہتے ہیں کہ رفض میں بہت غلو سے کام لیتے تھے بخاری فرماتے ہیں کہ لوگ ان کے متعلق لب کشائی کرتے ہیں۔ ( ان کی شیعیت کی وجہ سے) ان سب کے باوجود محدثین علماء نے ان سے استفادہ کیا اور ان کی حدیثوں سے کام لیا۔ ان کی حدیثیں جامع ترمذی میں موجود ہیں۔
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ صالح الحدیث ہیں۔
امام احمد و ابن معین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ ابو داؤد فرماتے ہیں کہ یہ شیعیت کی طرف مائل تھے۔
نسائی نے فرمایا کہ ان میں کوئی مضائقہ نہیں۔
مسلم و دیگر اصحاب سنن نے ان کی حدیثیں اپنے صحاح میں درج کی ہیں۔
ذہبی ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ فی نفسہ صدوق ہیں لیکن سخت قسم کے رافضی ہیں۔ ابن معین ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ بڑے غالی شیعہ تھے۔ صحیح مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ابن معین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے اس اقرار کے ساتھ کہ وہ رافضی تھے امام احمد نے ان کی حدیثوں میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا ۔ ان کی حدیثیں سنن ابی داؤد ، سنن نسائی میں موجود ہیں۔ یہ ہاشم مشہور شیعہ گھرانے کے فرد تھے جیسا کہ علی بن ہاشم، کے حالات میں ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔
امیرالمومنین(ع) کے صحابی ہیں۔ امام احمد ان کی حدیثوں میں کوئی مضائقہ نہیں تصور فرماتے۔ شہرستانی نے ملل ونحل میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے ان کا شیعہ ہونا مسلمات سے ہے۔ سنن اربعہ میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ ان کی
حدیثیں صحیح ترمذی وغیرہ میں موجود ہیں۔
انھیں ظفری دمشقی بھی کہتے ہیں۔ امام بخاری کے شیخ ہیں۔ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے۔ ذہبی نے انھیں امام ، خطیب ، محدث، عالم، صدوق، بہت زیادہ حدیثوں کا راوی لکھا ہے بخاری نے صحیح میں بہت سی حدیثیں ان سے بلاواسطہ روایت کی ہیں۔ سنہ153ھ میں پیدا ہوئے۔ سنہ245ھ میں انتقال کیا۔
ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔امام احمد اور ان کے ہمعصر علما کے استاد ہیں۔ ذہبی نے انھیں حفاظ اور یکے از علمائے اعلام لکھا ہے۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم اور باقی سبھی صحاح میں موجود ہیں۔
ان کی کنیت ابوسفیان تھی۔ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں قرار دیا ہے۔
ابن مدینی نے بھی تہذیب میں ان کی شیعیت کی صراحت کی ہے مروان بن معاویہ ان کےشیعہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں کرتے۔ ان کی حدیثوں سے
جملہ ارباب صحاح ستہ نے احتجاج کیا ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ سبھی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
یہ امیرالمومنین(ع) کے صحابی ہیں۔ علامہ ابن سعد نے طبقات جلد6 صفحہ206 میں انھیں شیعہ لکھا ہے۔ نیز یہ کہ یہ شیعیت میں غلو کیا کرتے تھے اور محدثین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے اور انھوں نے بہت سی حدیثیں روایت کی ہیں۔
ذہبی نے انھیں صدوق اور ثقہ لکھا ہے ۔ ان کی حدیثیں صحیح مسلم و دیگر سنن میں موجود ہیں۔
ان کی کنیت ابوسعید تھی اپنے زمانہ کے محدث ہیں۔ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ جملہ ارباب صحاح ستہ نے ان کی حدیثوں سے احتجاج کیا ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم اور سبھی صحاح میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔
ابن فضیل ان کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ یہ کبار علماء شیعہ سے ہیں
ذہبی نے بھی لکھا ہے کہ یہ کوفہ کے مشہور علماء میں سے ہیں۔ مگر لوگوں نے ان سے تعصب برتا جس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بسلسلہ اسناد ابوبرزہ یا ابو بردہ سے روایت کی ہے کہ :
“ ہم لوگ پیغمبر(ص) کے ساتھ تھے کہ پیغمبر(ص) نے گانے کی آواز سنی پتہ چلا کہ معاویہ اور عمرو بن العاص گارہے ہیں۔ اس پر پیغمبر(ص) نے بد دعا فرمائی کہ خداوندا! دونوں کو فتنہ میں اچھی طرح مبتلا کر اور آتش جہنم کی طرف بلا۔”
صحیح مسلم و سنن اربعہ میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ نوے (90) برس کی عمر میں سنہ136ھ میں انتقال کیا۔
ذہبی نے انھیں شدید سخت شیعہ لکھا ہے۔ جوزجانی نے ان کے متعلق بیان کیا ہے کہ یہ مختار کے علمدار لشکر تھے۔ امام احمد انھیں ثقہ قرار دیتے ہیں۔ شہرستانی نے بھی ملل و نحل میں شیعہ لکھا ہے۔
ابن قتیبہ نے معارف میں غالی ، رافضی ذکر کیا ہے۔ ان کی حدیثیں جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد اور دیگر سنن و مسانید میں موجود ہیں۔ علامہ ابن سعد نے طبقات جلد6 صفحہ 159 پر انھیں شدید التشیع شیعہ لکھا ہے نیز کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مختار کے سپاہیوں کے افسر تھے۔ مختار نے انھیں عبداﷲ بن زبیر کی طرف آٹھ سوسپاہیوں کے ساتھ روانہ کیا تاکہ ابن زبیر سے جنگ کر کے محمد ابن حنفیہ کو ان کی قید سے نکال لیں۔ ابن زبیر نے محمد ابن حنفیہ اور بنی ہاشم کو محصور کر رکھا تھا اور لکڑیاں اکٹھی کی تھیں کہ
انھیں جلا ڈالیں کیونکہ ان لوگوں نے ابن زبیر کی بیعت سے انکار گیا تھا۔ ابو عبداﷲ جدلی نے پہیچ کر ان حضرت کو رہا کیا۔
یہ سنیکڑوں میں سے چند نام نے درج کیے ہیں۔ یہ لوگ علوم اسلام کے خزینہ دار ہیں۔ ان سے آثار نبوی(ص) محفوظ ہوئے اور ان پر صحاح وسنن ومسانید کامدار رہا ہے۔
ہم نے آپ کو خواہش کے مطابق ان کے متعلق علمائے اہلسنت کی توثیق اور ان سے احتجاج کو بھی ذکر کیا۔ اس سے آپ رائے میں ضرور تبدیلی ہوگی کہ اہل سنت رجال شیعہ سے احتجاج نہیں کرتے۔ اگر شیعوں کی حدیثیں صرف ان کے تشیع کے تشیع کے جرم میں رد کردی جائیں تو جیسا کہ ذہبی نے میزان میں ابان بن تغلب کے ذکر میں کہا ہے۔ کل آثارِ نبوی ضائع و برباد ہوجائیں۔
ان کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے شیعہ ہیں جن سے اہل سنت نے احتجاج کیا ہے اور وہ ان سے بھی سند کے اعتبار سے اور کثرتِ حدیث سے زیادہ کشادہ دامن اور علم کے اعتبار سے زیادہ وسیع النظر تھے اور زمانے کے لحاظ سے ان سے بھی مقدم تھے اور ان سے بھی زیادہ ان کے قدم تشیع میں راسخ تھے اصحاب رسول(ص) میں بڑی تعداد رجال شیعہ کی ہے جنھیں ہم نے فصول مہمہ کے آخر میں بیان کیا ہے تابعین میں ایسے حافظ و صدوق و ثقہ شیعہ ہیں جو محبت اہلبیت(ع) کی قربانی پر بھینٹ چڑھتے رہے۔ جنھیں جلا وطن کیا گیا۔ سزائیں دی گئیں۔ قتل کیا گیا۔ سولیاں دی گئیں۔ اور جو علوم و فنون کے موسس و موجد ہوئے۔ یہ صدوق و دیانت ورع و تقوی زہد و عبادت و اخلاص کے روشن سنارے تھے۔ اور ان سے دین الہی کو لامتناہی فائدے پہنچے۔ اور ان کی خدمات کی برکتوں سے اسلام کا بحر بے کنار آج بھی موجزن ہے۔
ش
مکتوب نمبر9
تسلیم !
میں نے آپ ایسا تازہ دم سریع الخاطر و زود فکر نہیں دیکھا اور نہ میرے کانوں نے آپ سے زیادہ صاحب بصیرتِ شخص کا ذکر سنا۔ آپ کی نرم گفتاری، شیریں بیانی قابل داد ہے۔ آپ کےکل مکاتیب میں آپ کو شیوا بیانی دامن دل کو کھینچتی ہے۔ آپ دل و دماغ ، ہوش و حواس پر چھا جاتے ہیں۔ آپ کی مدلل و سنجیدہ تحریر نے گردنیں جھکادیں اور ضلالت کو حق کے سامنے سرنگوں کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ سنی کے لیے کوئی مانع نہیں ہے کہ اپنے شیعہ بھائی سے احتجاج کرے جبکہ شیعہ معتبر ہو۔ لاریب اس موضوع میں آپ کی رائے حق و صداقت پر مبنی ہے منکر کی رائے عناد و تنگ ولی ہے۔
ہم کل آیات الہی پر ایمان لائے اور ان اکثر آیات الہی پر بھی ایمان لائے جن میں سے اکثر کو آپ نے ذکر کیا ہے جو امیرالمومنین(ع) اور ائمہ اہل بیت(ع) کے فضل و شرف پر دلالت کرتی ہیں۔ اﷲ ہی جانے کہ اہل قبلہ نے ائمہ اہل بیت(ع) سے کیوں بے اعتنائی کی؟ اور اصول وفروع میں ان کے مسلک سے دورہے اور اختلافی مسائل میں ان کے پیرو نہ ہوئے ۔ علمائے امت نے اہل بیت(ع) کا افکار و خیالات سے بحث نہ کی بلکہ بجائے ان کی تقلید کے ان سے معارضہ کرتے رہے اور ان کی مخالفت کی پروانہ کی اور سلف سے لے کر خلف تک عوام امت، غیر اہلبیت(ع) کے آستانوں پر نظر آئے۔ لہذا کلام مجید کی آیتیں اور صحیح اور مسلم الثبوت حدیثیں اگر ائمہ اہلبیت(ع) اطاعت و پیروی کے واجب و فرض ہونے کے متعلق نص صریح ہوتیں تو جمہور اہل سنت کو پیروی اہلبیت(ع) کے سوا چارہ کارہی نہ ہوتا۔ اور ائمہ اہلبیت(ع) کو چھوڑ کر وہ کسی کو اپنا مقتدا پیشوا بنانا پسندی ہی نہیں کرتے لیکن وہ آیات الہی اور احادیث پیغمبر(ع) کو سمجھتے نہٰیں۔ وہ ان آیات اور ان احادیث کو جن میں اہل بیت(ع) کے شرف وکمال کو بیان کیا گیا ہے، صرف مدح و ثنا سمجھے اور یہ کہ ان سے محبت رکھنا اور ان کی عزت و تعظیم کرنا واجب ہے ان کے نزدیک ان آیات و احادیث کا ماحصل یہ ہے کہ اہل بیت(ع) سے مودت و محبت و اخلاص واجب ہے اور ان کا احترام کرنا ضروری ہے۔ اگر آیات قرآن مجید و احادیثِ پیغمبر(ص) میں تصریح ہوتی کہ بس ائمہ اہلبیت(ع) ہی کی پیروی فرض ہے تو اہلِ قبلہ علمائے اہلبیت سے انحراف نہ کرتے۔ اور نہ بجائے ان کے کسی دوسرے کی طرف رجوع کرتے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اگلے بزرگ زیادہ صحیح سمجھنے والے تھے اور کتاب الہی واحادیث پیغمبر(ص) کا مطلب آج کل کے لوگوں سے بہتر سمجھتے تھے۔
س
جواب مکتوب
اس ناچیز سے آپ کے حسنِ ظن کا شکریہ۔ آپ کے لطف وعنایات کے سامنے میرا دل جھکا جاتا ہے اور آپ کی مہربانی و حق جوئی کی بیبت مجھ پر مسلط ہے لیکن میں آپ سے یہ گزارش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ آپ اپنے مکتوب پر نظر ثانی کریں جس میں آپ لکھا ہے کہ اہل قبلہ نے اہل بیت(ع) سے عدول کیا۔ یہ لفظ زیادہ وسیع استعمال ہوگیا۔ اہل قبلہ تو شیعہ بھی ہیں انھوں نے ابتدا سے آج تک اصول و فروع کسی چیز میں اہل بیت کے مسلک سے انحراف نہیں کیا۔ شیعہ تو مسلک اہل بیت(ع) پر عمل واجب سمجھتے ہیں۔ اہل بیت(ع) سے عدول رؤسا ملت نے کیا جب کہ نص کے ہوتے ہوئے صاف صاف تصریح خلافت و امامت کے متعلق ہوتے ہوئے امیرالمومنین(ع) کو حق خلافت سے محروم کیا گیا اور اصول و فروع میں اہل بیت(ع) کو چھوڑ کر دوسرے مرکز بنائے گئے اور کتاب وسنت کی مصالح کے لحاظ سے تاولیں کی گئیں۔ امامت ائمہ سے عدول کرنا ہی سبب ہوا کر فروع میں بھی ان سے علیحدگی اختیار کی جائے۔
قطع نظر کیجیے ان ںصوص و ادلہ سے جن سے اہل بیت(ع) سے تمسک کرنا وا جب ثابت ہوتا ہے صرف اہلبیت(ع) کے علم و عمل اور تقوی کو دیکھیے۔ امام اشعری اور ائمہ اربعہ کے مقابلہ میں ان کی کیا کمی پائی گئی کہ اطاعت و اتباع کے معاملہ میں اہل بیت(ع) پیچھے کردیے گئے۔ اور یہ افراد قابل ترجیح سمجھے گئے۔ کون سامحکمہ اںصاف ہے جو یہ فیصلہ کرے کہ اہل بیت(ع) سے تمسک کرنے والے ان کی ہدایات پر چلنے والے گمراہ ہیں۔ اہل سنت کے لیے ایسا فیصلہ ناممکن معلوم ہوتا ہے۔
ش
مکتوب نمبر10
واقعہ یہ ہے کہ پیروانِ اہلبیت(ع) کو از روئے عدل و اںصاف گمراہی کہا ہی نہیں جاسکتا اور نہ ائمہ اہلبیت(ع) دیگر ائمہ سے لائق پیروی و اقتدا ہونے میں کسی طرح کم تھے۔ جس طرح اربعہ میں سے کسی امام کی تقلید کر کے انسان بری الذمہ ہوسکتا ہے اسی طرح ائمہ اہلبیت(ع) کی پیروی کرکے بھی۔
بلکہ یہاں تک کہا جاسکتا ہے کہ ائمہ اہلبیت(ع) بہ نسبت ائمہ اربعہ وغیرہ کے اتباع و پیروی کے زیادہ سزاوار ہیں۔ اس لیے ائمہ اثنا عشر کا مسلک و مذہب اصول و فروع سب میں ایک ہے ان میں باہم کوئی اختلاف نہیں۔ سب کی نگاہ ایک ہی مرکز پر کرکوز ہوئی اور اسی پر سب کے سب متفق رہے۔ برخلاف ائمہ اربعہ وغیرہ کے کہ ان کا باہمی اختلاف دنیا جانتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ بارہ شخص غور و فکر کر کے ایک نتیجہ پر پہنچیں ایک رائے قائم کریں اور اکیلا شخص دوسری
رائے قائم کرے تو بارہ(12) کے متفقہ فتوی کے مقابلہ میں سے اس ایک اور اکیلے کا فتوی کوئی وزن نہ رکھے گا۔
اس میں کسی منصف مزاج کو عذر ہونا چاہیے۔
ہاں ایک بات ہے ناصبی خیال کے آگ آپ لوگوں کے مذہب کو مذہب اہلبیت( ع) ماننے میں تامل کرتے ہیں۔ میں آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ آگے چل کر اس پر روشی ڈالیں کہ مذہب تشیع مذہب اہلبیت(ع) ہی ہے انھیں حضرات سے ماخوذ ہے ۔ فی الحال میری گزارش ہے کہ آپ لوگ حضرت علی(ع) کی امامت و خلافت پر جن نصوص کے مدعی ہیں وہ نصوص صاف صاف ذکر فرمائیں۔
س
باب دوم
امامت عامہ یعنی خلافتِ پیغمبر(ص)
اگر سرورِ کائنات (ص) کے حالاتِ زندگی کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے۔ دولتِ اسلامیہ کی بنیاد قائم کرنے۔ احکام مقرر کرنے ، اصول و قواعد بنانے۔ دستور مرتب کرنے، سلطنت کے انتظام اںصرام غرض جملہ حالات میں ہر پہلو سے آپ کی سیرت کا جائزہ لیا جائے تو حضرت امیرالمومنین(ع) رسالت ماب(ص) کے ہر معاملہ میں بوجھ بٹانے والے ، دشمنون کے مقابلہ میں پشت پناہ آپ کے علوم کا گنجینہ ، آپ کے علم و حکمت کے وارث ، آپ کی زندگی میں آپ کے ولی عہد اور آپ کے بعد آپ کے جانشین، اور آپ کے تمام امور کے ممالک و مختار نظر آئیں گے۔
اول یوم بعثت سے پیغمبر(ص) کی رحلت کے وقت تک سفر میں، حضر میں
اٹھتے بیٹھے ، آپ کے افعال ، آپ کے اقوال کی چھان بین کی جائے۔ تو حضرت علی(ع) کی خلافت کے متعلق بکثرت صاف و تصریح حد تواتر تک پہنچے ہوئے واضح نصوص ملیں گے۔ آںحضرت(ص) نے ہر محل پر اپنی رفتار و گفتار ، کردار اور ہر ممکن ذریعہ سے اپنی جانشینی کے مسئلہ کی وضاحت کردی تاکہ کسی کے لیے تامل کی گنجائش نہ رہ جائے ۔
پہلا واقعہ دعوت ذوالعشیرہ ہی کا لے لیجیے جو اسلام کے ظاہر ہونے کے قبل مکہ میں پیش آیا جب آیہ
“ وَ أَنْذِرْ عَشيرَتَكَ الْأَقْرَبينَ ” ( شعراء، 214)
نازل ہوا اور رسول(ص) مامور ہوئے کہ خاص خاص رشتہ داروں کو بلا کر دعوتِ اسلام دیں۔ تو حضرت سرورکائنات نے تمام بنی ہاشم کو جو کم بیش چالیس نفر تھے جس میں آپ کے چچا ابو طالب ، حمزہ ، عباس اور ابولہب بھی تھے اپنے چچا ابو طالب کے گھر میں دعوت دی۔ دعوت کے بعد آپ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ تمام کتبِ احادیث و سیر و تواریخ میں موجود ہے۔ اسی خطبہ میں آپ نے فرمایا :
“ فَقَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي وَ اللَّهِ مَا أَعْلَمُ شَابّاً فِي الْعَرَبِ جَاءَ قَوْمَهُ بِأَفْضَلَ مِمَّا جِئْتُكُمْ بِهِ، إِنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ، وَ قَدْ أَمَرَنِي اللَّهُ (عَزَّ وَ جَلَّ) أَنْ أَدْعُوَكُمْ إِلَيْهِ، فَأَيُّكُمْ يُؤْمِنُ بِي وَ يُؤَازِرُنِي عَلَى أَمْرِي، فَيَكُونَ أَخِي وَ وَصِيِّي وَ وَزِيرِي وَ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي مِنْ بَعْدِي قَالَ: فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ، وَ أَحْجَمُوا عَنْهَا جَمِيعاً.
قَالَ: فَقُمْتُ وَ إِنِّي لَأَحْدَثُهُمْ سِنّاً، وَ أَرْمَصُهُمْ عَيْناً، وَ أَعَْمُهُمْ بَطْناً، وَ أَحْمَشُهُمْ سَاقَا. فَقُلْتُ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَكُونُ وَزِيرَكَ عَلَى مَا بَعَثَكَ اللَّهُ بِهِ. قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا أَخِي وَ وَصِيِّي وَ وَزِيرِي وَ خَلِيفَتِي فِيكُمْ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَ أَطِيعُوا.قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ يَضْحَكُونَ، وَ يَقُولُونَ لِأَبِي طَالِبٍ: قَدْ أَمَرَكَ أَنْ تَسْمَعَ لِابْنِكَ وَ تُطِيعَ.”
“ فرزندانِ عبدالمطلب ! جتنی بہتر شے( یعنی اسلام ) میں تمھارے پاس لے کر آیا ہوں میں تو نہیں جانتا کہ عرب کا کوئی نوجوان اس سے بہتر چیز اپنی قوم کے پاس لایا ہو۔ میں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی لے کر آیا ہوں اور خداوند عالم نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف دعوت دوں۔ اب بتاؤ تم میں کون ایسا ہے جو اس کام میں میرا بوجھ بٹائے تاکہ تمھارے درمیان میرا بھائی وصی اور خلیفہ ہو؟ تو علی(ع) کے سوا سب خاموش رہے۔ حضرت علی(ع) جو اس وقت بہت ہی کم سن ننھے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا : یا رسول اﷲ(ص) ! میں آپ کا بوجھ بٹاؤں گا۔ رسول اﷲ(ص) نے آپ کی گردن پر ہاتھ رکھا اور پورے مجمع کو دکھا کر ارشاد فرمایا: کہ یہ میرا بھائی بنے میرا وصی ہے اور تم میں میرا جانشین ہے۔ اس کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا۔ یہ سن کر لوگ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے کہ یہ محمد(ص) آپ کو حکم دے
رہے ہیں کہ آپ اپنے بیٹے کی بات سنین اور ان کی اطاعت کریں۔”
پیغمبر(ص) کے اس خطبہ کو بعینہ انہی الفاظ میں اکثر علمائے کبار و اجلہ محدثین نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ جیسے ان اسحاق ، ابن جریر، ابنِ ابی حاتم ، ابن مردویہ ، ابونعیم اور امام بیہقی نے اپنے سنن اور دلائل دونوں مٰیں ثعلبی اور طبری نے اپنی اپنی عظیم الشان تفسیروں میں سورہ شعراء کی تفسیر کے ذیل میں نیز علامہ طبری نے اپنی تاریخ طبری کی دوسری جلد صفحہ217 میں بھی مختلف طریقوں سے اس کو لکھا ہے اور علامہ ابن اثیر جزری نے تاریخ کامل کی دوسری جلد صفحہ22 میں بطور مسلمات ذکر کیا ہے۔
مورخ ابو الفداء نے اپنی تاریخ کی پہلی جلد صفحہ116 میں سب سے پہلے اسلام لانے والے کے ذکر میں درج کیا ہے۔ امام ابوجعفر اسکافی معتزلی نے اپنی کتاب نقض عثمانیہ میں اس حدیث کی صحت کی صراحت کرتے ہوئے لکھا ہے( شرح نہج البلاغہ جلد3 صفحہ263) علامہ حلبی نے آںحضرت(ص) اور اصحاب کے دار ارقم میں روپوش ہونے کے واقعہ کے ضمن میں بیان کیا ہے(1) (سیرت حلبیہ ج، صفحہ381) ان کے علاوہ تھوڑے بہت لفظی تغیر کےساتھ مگر مفہوم و معنی
--------------
1 ـ ملاحظہ فرمائیے صفحہ 381 جلد اول سیرة حلبیہ۔ ابن تیمیہ نے اس حدیث کو جھٹلانے اور غلط ثابت کرنے کی جو کوششیں کی ہیں۔ اپنی مشہور عصبیت کی وجہ سے وہ در خور اعتنا نہیں اس حدیث کو مصر کے سوشلسٹ ادیب محمد حسین ہیکل نے بھی لکھا ہے ملاحظہ فرمائیے ان کے رسالہ سیاست شمارہ نمبر2751 صفحہ 5 جپر عمود ثانی جو 12 ذیقعد سنہ1350ھ میں شائع ہوا۔ انھوں نے کافی تفصیل سے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور شمارہ نمبر2685 صفحہ 6 پر عمود رابع میں انھوں نے اس حدیث کو صحیح مسلم، مسند امام احمد اور عبداﷲ بن احمد کی زیارات مسند اور ابن حجر ہیثمی کی جمع الفوائد، ابن قتیبہ کی عیون الاخبار، احمد بن عبدربہ قرطبی کی عقد الفرید، علامہ جاحظ کے رسالہ بنی ہاشم، امام ثعلبی کی تفسیر ، مذکورہ بالا تمام کتب سے نقل کیا ہے۔ مزید برآں جرجس انکلیزی سے اپنی کتاب مقالہ فی الاسلام مٰیں بھی اس حدیث کو درج کیا ہے جس کا بروتستانت کے ملحد نےعربی میں ترجمہ کیا ہے جس نے اپنا نام ہاشم عربی رکھا ہے۔ اس حدیث کی ہمہ گیر شہرت کی وجہ سے متعدد مورخین فرنگ نے فرانسیسی ، جرمنی، انگریزی تاریخوں میں اس کو ذکر کیا ہے اور ٹامنس کارلائل نے اپنی کتاب ابطال میں مختصر کر کے لکھا ہے۔
کے لحاظ سے بالکل ایک ہی مضمون ۔ بہتیرے اعیان اہل سنت اور ائمہ احادیث نے اپنی اپنی کتابوں میں اس واقعہ کو تحریر کیا ہے جیسے علامہ طحاوی اور ضیاء مقدسی نے مختارہ ،سعید بن منصور نے سنن میں تحریر کیا ہے۔
سب سے قطع نظر امام احمد نے اپنی مسند جلد اول صفحہ 159 پر حضرت علی (ع) سے روایت کی ہے ۔ پھر اسی جلد کے صفحہ331 پر ابن عباس سے بڑی عظیم الشان حدیث اس مضمون کی روایت کی ہے، جس میں حضرت علی(ع) کی دس ایسی خصوصیتیں مذکور ہیں جن کی وجہ سے حضرت علی(ع) اپنے تمام ماسوا سے ممتاز نظر آتے ہیں۔ اسی جلیل الشان حدیث کو امام نسائی نے بھی اپنی کتاب خصائص صفحہ 60پر ابن عباس سے روایت کر کے لکھا ہے اور امام حاکم نے صحیح مستدرک
جلد3 صفحہ 132 پر اور علامہ ذہبی نے تلخیص مستدرک میں اس حدیث کی صحت کا اعتراف کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔
کنزالعمال جلد6 ملاحظہ فرمائیے(1) ۔ اس میں بھی یہ واقعہ بہت تفصیل سے موجود ہے۔ منتخب کنزالعمال کو دیکھیے جو مسند احمد بن حنبل کے حاشیہ پر طبع ہوا ہے۔ حاشیہ مسند جلد5 صفحہ 41 تا صفحہ42 پر اس واقعہ کا ذکر موجود ہے اور پوری تفصیل کے ساتھ۔
میرے خیال میں یہی ایک واقعہ جسے تمام علماء محدثین ومورخین بالاتفاق اپنی کتابوں میں لکھتے آئے ہیں حضرت علی(ع) کی امامت و خلافت کا بین ثبوت اور صریحی دلیل ہے۔ کسی دوسری دلیل کی ضرورت ہی نہیں۔
ش
--------------
1 ـ ملاحظہ فرمائیے کنزالعمال صفحہ 392 حدیث نمبر6008 جو ابن جریر سے منقول ہے صفحہ 396 پر حدیث 6045 جو امام احمد کی مسند نیز ضیاء مقدسی کی مختارہ ، طحاوی و ابن جریر کی صحیح سے منقول ہے صفحہ 397 پر حدیث 6056 جو ابن اسحق ، ابن جریر ، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، اور ابو نعیم نیز بیہقی کی شعب الایمان اور دلائل سے منقول ہے صفحہ 401 پر حدیث 6102 جو ابن مردویہ سے منقول ہے صفحہ 408 پر حدیث 6155 جو امام احمد کی مسند اور ابن جریر اور صیاء مقدسی کی مختارہ سے منقول ہے۔ کنزالعمال میں یہ حدیث اور بھی مقامات پر مذکور ہے۔ شرح نہج البلاغہ جلد3 صفحہ 255 پر یہ طولانی حدیث بہت تفصیل سے مذکور ہے۔
مکتوب نمبر11
تسلیم زاکیات!
آپ کا مخالف اس حدیث کی سند کو معتبر نہیں سمجھتا نہ کسی طرح اس حدیث کو صحیح سمجھنے پر تیار ہے کیونکہ شیخین یعنی بخاری و مسلم نے اس حدیث کو نہیں لکھا۔ نیز شیخین کے علاوہ دیگر اصحاب صحاح نے بھی نہیں لکھا ۔ میرا تو یہ خیال ہے کہ یہ حدیث معتبر و معتمد راویاں اہلسنت سے مروی ہی نہیں ہوئی اور غالبا آپ بھی بطریق اہل سنت اسے صحیح نہ سمجھتے ہوں گے۔
س
جواب مکتوب
اگر میرے نزدیک اس حدیث کی صحت خود بطریق اہلسنت ثابت نہ ہوتی تو میں اس محل پر اس کا ذکر ہی نہیں کرتا۔ مزید برآں اس حدیث کی صحت تو ایسی اظہر من الشمس ہے کہ ابن جریر اور امام ابو جعفر اسکافی نے اس حدیث کو بطور مسلمات ذکر کیا ہے(1) ۔ اور کبار محققین اہل سنت نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث کی صحت کا مختصرا آپ اسی سے اندازہ کر لیجیے کہ اصحاب صحاح جن ثقہ اور معتبر راویوں کی روایتوں سے استدلال کرتے ہیں اور آنکھ بند کرکے بڑی خوشی سے جن کی روایتوں کو لے لیتے ہیں انھیں معتبر و ثقہ راویوں کے طریقوں سے اس حدیث کی صحت ثابت ہے۔ اس حدیث کی روایت انھیں معتبر و موثق اشخاص نے کی ہے جن کی روایت کردہ حدیثیں صحاح میں موجود ہیں۔
--------------
1 ـ ملاحظہ فرمائیے کنزالعمال جلد6 صفحہ 396 پر حدیث 6045 جہاں آپ کو معلوم ہوگا کہ ابن جریر نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ حاشیہ مسند احمد حنبل جلد5 صفحہ73 پر منتخب کنزالعمال میں بھی آپ کو معلوم ہوگا کہ ابن جریر نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام ابو جعفر اسکافی نے تو اس حدیث کو بڑی پختگی کے ساتھ صحیح قرار دیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے ان کی کتاب نقض عثمانیہ شرح نہج البلاغہ جلد3، صفحہ363
مسند احمد بن حنبل جلد اول صفحہ 111 ملاحظہ کیجیے۔ انھوں نے اس حدیث کو(1) اسود بن عامر سے انھوں نے شریک(2) سے انھوں نے اعمش(3) سے انھوں نے منہال(4) سے انھوں نے عباد(5) بن عبداﷲ اسدی سے انھوں نے حضرت علی(ع) سے مرفوعا روایت کرکے لکھا ہے۔ اس سلسلہ اسناد کے کل کے کل راوی مخالف
--------------
1 ـ امام بخاری و مسلم دونوں نے اس کی حدیث سے احتجاج کیا ہے ۔ شعبہ نے امام بخاری و امام مسلم دونوں کی صحت میں اسود سے روایت کر کے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے امام بخاری کو ان سے روایت کرتے ہوئے اور زہیر بن معاویہ اور حماد بن سلمہ نے امام مسلم کو ان سے روایت کرتے ہوئے سنا۔ صحیح بخاری میں محمد بن حاتم بزیع کی ان سے روایت کی ہوئی حدیث موجود ہے اور صحیح مسلم میں ہارون بن عبداﷲ اور ناقد اور ابن ابی شیبہ اور ابو زہیر کی ان سے روایت کردہ حدیثیں موجود ہیں۔
2 ـ امام مسلم نے ان حدیثوں سے اپنے صحیح مسلم میں احتجاج کیا ہے جیسا کہ ہم نے صفحہ134 رپ ان کا تذکرہ کے ضمن میں وضاحت کی ہے۔
3 ـ ان سے امام بخاری و مسلم دونوں نے اپنے اپنے صحیح میں احتجاج کیا ہے جیسا کہ ہم نے صفحہ134 پر وضاحت کی ہے۔
4ـ امام بخاری نے ان سے احتجاج کیا ہے ملاحظہ ہو صفحہ166۔
5 ـ ان کا سلسلہ نسب یہ ہے عباد بن عبداﷲ بن زہیر بن عوام قرشی اسدی۔ ان سے بخاری و مسلم دونوں نے اپنے اپنے صحیح میں احتجاج کیا ہے۔ انھوں نے ابوبکر کی دونوں صاحبزادیوں عائشہ اور اسماء سے حدیثیں سنیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان سے ابی ملیکہ اور محمد بن جعفر بن زہیر اور ہشام و عروہ کی روایت کردہ حدیثیں موجود ہیں۔
کے نزدیک حجہ ہیں اور یہ تمام کے تمام رجال صحابہ ہیں۔ چنانچہ علامہ قیسرانی نے اپنی کتاب الجمع بین رجال الصحیحین میں ان کا ذکر کیا ہے۔ لہذا اس حدیث کو صحیح ماننے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں۔ اس کے علاوہ یہ حدیث صرف اسی طریقہ وسلسلہ اسناد سے نہیں بلکہ اور بھی ب شمار طریقوں سے مروی ہے اور ہر طریقہ دوسرے طریقہ کا موید ہے۔
اور شیخین یعنی بخاری و مسلم نے اس لیے اس روایت کو اپنی کتاب میں جگہ نہیں دی کہ یہ روایت مسئلہ خلافت میں ان کی ہمنوائی نہیں کرتی تھی ان ک منشاء کے خلاف تھی اسی وجہ سے انھوں نے اس حدیث نیز دیگر بہتیری ایسی حدیثوں سے جو امیر المومنین(ع) کی خلافت پر صریحی ںص تھیں گریز کیا اور اپنی کتاب میں درج نہ کیا۔ وہ ڈرتے تھے کہ یہ شیعوں کے لیے اسلحہ کا کام دیں گی لہذا انھوں نے جان بوجھ کر اس کو پوشیدہ رکھا۔
بخاری و مسلم ہی نہیں بلکہ بہتیرے شیوخ اہل سنت کا وتیرہ یہی تھا۔ اس قسم کی ہر چیز کو وہ چھپانا ہی بہتر سمجھتے تھے۔ ان کا یہ کتمان کوئی اچنبھے کی بات نہیں بلکہ ان کی یہ پرانی اور مشہور عادت ہے چنانچہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں علماء سے نقل بھی کیا ہے، امام بخاری نے بھی اس مطلب میں ایک خاص باب قرار دیا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری(1) حصہ اول کے کتاب العلم میں انھوں نے یہ عنوان قائم کیا ہے :
“باب من خص بالعلم قوما دون قوم ۔”
--------------
1 ـ صفحہ51۔
“ باب بیان میں اس کےجو ایک قوم کو مخصوص کر کے علم تعلیم کرے اور دوسرے کو نہیں۔”
امیرالمومنین(ع) کےمتعلق امام بخاری کو روش اور آپ کے ساتھ نیز جملہ اہل بیت(ع) کے ساتھ ان کے سلوک سے جو واقف ہے اور یہ جانتا ہے کہ ان کا قلم امیرالمومنین (ع) واہل بیت(ع) کی شان میں ارشادات و نصوص پیغمبر(ص) کے بیان سے گریزاں رہتا ہے اور ان کے خصائص و فضائل بیان کرتے وقت ان کے دوات کی روشنائی خشک ہوجاتی ہے۔ اس لیے امام بخاری کی اس حدیث یا اس جیسی دیگر حدیثوں کے ذکر نہ کرنے پر تعجب نہ ہونا چاہیے۔
ش
مکتوب نمبر12
حدیث کی صحت کا اقرار
چونکہ دعوت عشیرہ والی حدیث حدِ تواتر کو نہیں پہنچتی اس لیے اس سے استدلال صحیح نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مخصوص قسم کی خلافت ثابت ہوتی ہے۔
آپ کے ارشاد کے بموجب میں نے مسند احمد بن حنبل جلد اول کے صفحہ 111 پر اس حدیث کو دیکھا جن رجال سے یہ حدیث مروی ہے ان کی چھان بین کی۔ آپ کے کہنے کےمطابق وہ سب کے سب ثقات اہل سنت نکلے ۔ پھر میں نے اس حدیث کے دوسرے تمام طریق کو بغائر نظر مطالعہ کیا۔ بے شمار و بے اندازہ طریقے نظر آئے۔ ہر طریقہ دوسرے طریقہ کا موئد ہے۔ مجھے ماننا پڑا کہ یقینا یہ
حدیث پایہ ثبوت کو پہنچی ہوئی ہے۔ اس کے ثابت و مسلم ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
البتہ ایک بات ہے آپ لوگ اثبات امامت میں اس حدیث صحیح سے استدلال کرتے ہیں جو متواتر بھی ہو کیونکہ امامت آپ کے نزدیک اصول دین سے ہے اور یہ حدیث جو آپ نے پیش فرمائی ہے اس کے متعلق یہ کہنا غیر ممکن ہے کہ یہ تواتر تک پہنچی ہوئی اور جب حد تواتر تک پہنچی ہوئی نہیں ہے۔ تو اس سے آپ لوگ استدلال بھی نہیں کرسکتے ۔
یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث صرف یہ بتاتی ہے کہ حضرت علی(ع) رسول(ص) کے جانشین تو تھے مگر خاص کر اہلبیت (ع) پیغمبر(ص) میں جانشین تھے۔ لہذا تمام مسلمانوں کا خلیفہ ہونا کہاں ثابت ہوتا ہے ؟ اس حدیث سے خلافت عامہ کہاں ثابت ہوتی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہوگئی تھی اس لیے کہ آںحضرت(ص) نے اس حدیث کے مفاد کی طرف کبھی توجہ نہ کی اسی وجہ سے صحابہ کو خلفاء ثلاثہ کی بیعت میں کوئی مانع نہ نظر آیا۔
س
حضرات اہلسنت امامت کے اثبات میں ہر حدیث صحیح سے استدلال
کرتے ہیں خواہ کرتے ہیں خواہ وہ متواتر ہو یا غیر متواتر ۔ لہذا خود حضرات اہلسنت جس چیز کو حجہ سمجھتے ہیں ہم اسی چیز کو ان پر بطور حجت پیش کرتے ہیں۔ جس چیز کو وہ خود مانتے ہیں ہم اسی سے انھیں قائل کرتے ہیں۔
رہ گیا یہ کہ ہم جو اس حدیث سے امامت پر استدلال کرتے ہیں تو اسکی وجہ ظاہر ہے کیونکہ یہ حدیث ہم لوگوں کے طریق سے صرف صحیح ہی نہیں بلکہ حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہے۔
یہ دعوی کرنا کہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت علی(ع) خاص کر اہلبیت(ع) میں جانشین پیغمبر(ص) تھے مہمل ہے کیونکہ جو شخص اہل بیت(ع) رسول(ص) میں حضرت علی(ع) کو جانشین رسول(ص) سمجھتا ہے وہ عامہ مسلمین میں بھی جانشین سمجھتا ہے اور جو عامہ مسلمین میں جانشین رسول(ص) نہیں مانتا وہ اہل بیت(ع) میں بھی نہیں مانتا۔ آج تک بس یہ دو ہی قسم کے لوگ نظر آئے۔ آپ نے یہ فرق کہاں سے پیدا کیا جس کا آج تک کوئی قائل نہیں ۔ یہ تو عجیب قسم کا فیصلہ ہے جو اجماع مسلمین کے خلاف ہے۔
یہ کہنا کہ یہ حدیث منسوخ ہوچکی تھی یہ بھی غلط ہے کیونکہ اس کا منسوخ ہونا عقلا و شرعا دونوں جہتوں سے محال ہے کیونکہ وقت آنے کے پہلے ہی کسی حکم کا منسوخ ہونا۔ بداہتا باطل ہے۔ اس کے علاوہ اس حدیث کو منسوخ کرنے والی آپ کے خیال کی بنا پر زیادہ سے زیادہ ایک چیز نکلتی ہے اور
وہ یہ کہ رسول اﷲ(ص) نے مفادِ حدیث کی طرف پھر توجہ نہ کی، پھر اعادہ نہ کیا۔ مگر یہ بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ رسول(ص) نے مفاد حدیث سے کبھی بے توجہی نہیں کی۔ بلکہ اس حدیث کے ارشاد فرمانے کے بعد بھی وضاحت کرتے رہے۔ کھلے لفظوں میں، بھرے مجمع میں، سفر میں، حضر میں، ہر موقع ہر محل ہر صراحتہ اعلان فرماتے رہے۔
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آپ صرف دعوت عشیرہ ہی کے موقع پر حضرت علی(ع) کو اپنا جانشین فرما کے رہ گئے پھر کبھی اس کی وضاحت نہیں کی تب بھی یہ کیسے معلوم کہ رسول(ص) نے بعد میں مفاد حدیث ؟؟؟؟؟ کیا آگے چل کر آپ کا خیال بدل گیا اپنے قول سے پلٹ گیا۔
“ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَ ما تَهْوَى الْأَنْفُسُ وَ لَقَدْ جاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدى”(نجم، 23)
“ وہ صرف گمان اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ ان کے پروردگار کا جانب سے ہدایت آچکی ہے۔”
ش
مکتوب نمبر13
میں نے ان ںصوص کے آستانے پر اپنی پیشانی جھکا دی۔ کچھ اور مزید ثبوت۔ خدا آپ کا بھلا کرے۔
س
جوابِ مکتوب
دعوت ذوالعشیرہ والی حدیث کے علاوہ یہ دوسری حدیث ملاحظہ ملاحظہ کیجیے جسے امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند کی پہلی جلد صفحہ 330 پر ، امام نسائی نے
اپنی کتاب خصائص علویہ کے صفحہ 6 پر ، امام حاکم نے اپنے صحیح مستدرک کی تیسری جلد کے صفحہ 123 پر ، علامہ ذہبی نے اپنی تلخیص مستدرک میں اس حدیث کی صحت کا اعتراف کرتے ہوئے نیز دیگر ارباب حدیث نے ایسے طریقوں سے جن کی صحت پر اہل سنت کا اجماع و اتفاق ہے نقل کیا ہے۔
عمروہ بن میمون سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ان کے پاس 9 سرداران قابل آئے۔ انھوں نے ابن عباس سے کہا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ اٹھ چلیے یا اپنے پاس کے بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہٹا کر ہم سے تخلیہ میں گفتگو کیجیے۔
ابن عباس نے کہا ۔ میں آپ لوگوں کے ساتھ خود ہی چلا چلتا ہوں۔ ابن عباس کی بینائی چشم اس وقت باقی تھی۔ ابن عباس نے ان سے کہا:
“ کہیے کیا کہنا ہے؟”
گفتگو ہونے لگی ۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کیا گفتگو ہوئی۔ ابن عباس وہاں سے دامن جھٹکتے ہوئے آئے ۔ کہنے لگے:
“ وائے ہو۔ یہ لوگ ایسےشخص کے متعلق بدکلامی کرتے ہیں جس کی دس سے زیادہ ایسی فضیلتیں ہیں جو کسی دوسرے کو نصیب نہیں۔ یہ لوگ بدکلامی کرتے ہیں ایسے شخص کے متعلق جس کے بارے میں رسول(ص) نے فرمایا :
“ لأبعثنّ رجلا لا يخزيه اللّه أبدا، يحبّ اللّه و رسوله، و يحبّه اللّه و رسوله»، فاستشرف لها من استشرف فقال: «أين عليّ؟»، فجاء و هو أرمد لا يكاد أن يبصر، فنفث في عينيه،
ثمّ هزّ الراية ثلاثة، فأعطاها إيّاه، فجاء عليّ بصفيّة بنت حيي. قال ابن عباس: ثمّ بعث رسول اللّه (صلّى اللّه عليه و آله و سلّم) فلانا بسورة التوبة، فبعث عليّا خلفه، فأخذها منه، و قال: «لا يذهب بها إلّا رجل منّي و أنا منه»، قال ابن عباس: و قال النبيّ لبني عمّه: «أيّكم يواليني في الدنيا و الآخرة»، قال:- و عليّ جالس معه- فأبوا، فقال عليّ: أنا أوالئك في الدنيا و الآخرة، فقال لعليّ: «أنت وليّي في الدنيا و الآخرة». قال ابن عباس: و كان عليّ أوّل من آمن من الناس بعد خديجة. قال: و أخذ رسول اللّه (صلّى اللّه عليه و آله و سلّم) ثوبه فوضعه على عليّ و فاطمة و حسن و حسين، و قال:إِنَّمٰا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً . قال: و شرى عليّ نفسه فلبس ثوب النبيّ، ثمّ نام مكانه، و كان المشركون يرمونه [إلى أن قال:] و خرج رسول اللّه في غزوة تبوك، و خرج الناس معه،
فقال له عليّ: أخرج معك؟ فقال (صلّى اللّه عليه و آله و سلّم): «لا»، فبكى عليّ، فقال له رسول اللّه (صلّى اللّه عليه و آله و سلّم): «أما ترضى أن تكون منّي بمنزلة هارون من موسى إلّا أنّه لا نبي بعدي، إنّه لا ينبغي أن أذهب إلّا و أنت خليفتي». و قال له رسول اللّه: «أنت وليّ كلّ مؤمن بعدي و مؤمنة». قال ابن عباس: و سدّ رسول اللّه أبواب المسجد غير باب عليّ، فكانيدخل المسجد جنبا و هو طريقه ليس له طريق غيره، و قال رسول اللّه (صلّى اللّه عليه و آله و سلّم): «من كنت مولاه فإنّ مولاه عليّ.» الحديث.”
“ میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جسے خدا کبھی ناکام نہ کرے گا۔ وہ شخص خدا و رسول(ص) کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول(ص) اسے دوست رکھتے ہیں۔کس کس کے دل میں اس فضیلت کی تمنا پیدا نہ ہوئی مگر رسول(ص) نے ایک کی تمنا خاک میں ملا دی اور صبح ہوئی تو دریافت فرمایا کہ علی(ع) کہاں ہیں؟ حضرت علی(ع) تشریف لائے حالانکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ دیکھ نہیں پاتے تھے۔ رسول(ص) نے ان کی آنکھیں پھونکیں ، پھر تین مرتبہ علم کو حرکت دی اور حضرت علی(ع) کے ہاتھوں میں تھما دیا۔ حضرت علی(ع) جنگ فتح کر کے مرحب کو مار کر اور اس کی بہن صفیہ کو لے کر خدمت رسول(ص) میں پہنچے ۔ پھر
رسول اﷲ(ص) نے ایک بزرگ کو سورہ توبہ دے کر روانہ کیا۔ ان کے بعد پیچھے فورا ہی حضرت علی(ع) کو روانہ کیا اور حضرت علی(ع) نے راستہ ہی میں ان سے سورہ لے لیا کیونکہ رسول(ص) کا حکم تھا کہ یہ سورہ بس وہی شخص پہنچا سکتا ہے جو مجھ سے ہے اورمیں اس سے ہوں۔ اور رسول(ص) نے اپنے رشتہ داروں، قرابت مندوں سےکہا کہ تم میں کون ایسا ہے جو دنیا و آخرت میں میرا ساتھ دے۔ میرے کام آئے۔ حضرت علی(ع) نے کہا میں اس خدمت کو انجام دوں گا۔ میں دین و دنیا میں آپ کی خدمت کروں گا۔ آپ(ص) نے فرمایا ۔ اے علی(ع) ! دین و دنیا دونوں میں تم ہی میرے ولی ہو۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اﷲ(ص) نے حضرت علی(ع) کو بٹھا کے پھر لوگوں سے اپنی بات دہرائی اور پوچھا کہ تم میں کون شخص ہے جو میرا مددگار ہو دنیا میں اور آخرت میں۔ سب نے انکار کیا صرف ایک حضرت علی(ع) ہی تھے جنھوں نے کہا کہ میں آپ کی مدد و نصرت کروں گا دین و دنیا دونوں میں یا رسول اﷲ(ص) رسول اﷲ(ص) نے فرمایا کہ علی(ع) تم ہی میرے ولی ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ علی(ع) پہلے وہ شخص ہیں جو جناب خدیجہ کے بعد رسول(ص) پر ایمان لائے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اﷲ(ص) نے اپنی ردا لی اور اسے علی(ع) وفاطمہ(س) و حسن(ع) و حسین(ع) کو اوڑھایا اور اس آیت کی تلاوت کی :
“ إِنَّمٰا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً.”
“ اے اہل بیت(ع) ! خدا بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر برائی اور گندگی کو اس طرح دور رکھے جیسا کہ دور رکھنا چاہیئے۔”
ابن عباس کہتے ہیں : اور علی(ع) ہی نے اپنی جان راہ خدا میں فروخت کی اور رسول اﷲ(ص) کی چادر اوڑھ کر رسول(ص) کی جگہ پر سورہے۔ در آںحالیکہ مشرکین پتھر برسارہے تھے۔
اسی سلسلہ کلام میں ابن عباس کہتے ہیں: کہ پیغمبر جنگ تبوک کے ارادے سے نکلے۔ لوگ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ حضرت علی(ع) نے پوچھا: یا رسول اﷲ(ص) ! میں بمرکاب رہوں گا؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، تم نہیں رہوگے۔ اس پر حضرت علی(ع) آبدیدہ ہوگئے تو آپ نے فرمایا : کہ یا علی (ع) ! تم اسے پسند نہیں کرتے کہ تم میرے لیے وسیے ہی یو جیسے موسی(ع) کے لیے ہارون تھے۔ البتہ میرے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہے۔ جنگ میں میرا جانا بس اسی صورت میں ممکن ہے کہ میں تمھیں اپنا قائم مقام چھوڑ کے جاؤں۔
نیز حضرت سرورِ کائنات(ص) نے حضرت علی(ع) سے فرمایا: کہ اے علی(ع) ! میرے بعد تم ہر مومن و مومنہ کے ولی ہو۔ ابن عباس کہتے ہیں: کہ رسول اﷲ(ص) نے مسجد کی طرف سب کے دروازے بند کرادیے بس صرف علی(ع) کا دروازہ کھلا رکھا اور حضرت علی(ع) جنب کی حالت میں بھی مسجد
سے گزر جاتے تھے۔ وہی ایک راستہ تھا دوسرا کوئی راستہ ہی نہ تھا۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اﷲ (ص) نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ: میں جس کا مولا ہوں علی(ع) اس کے مولا ہیں۔”
اس حدیث میں من کنت مولاہ کو امام حاکم نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگر چہ شیخین بخاری و مسلم نے اس نہج سے ذکر نہیں کیا۔
علامہ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اس حدیث کو نقل کیا ہے اور نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
اس عظیم الشان حدیث میں امیرالمومنین(ع) کے ولی عہد رسول(ص) اور بعد رحلت سرورِ کائنات خلیفہ و جانشین ہونے کے بعد جو قطعی دلائل اور روشن براہین ہیں وہ آپ کی نگاہوں سے مخفی نہ ہوں گے۔ ملاحظہ فرماتے ہیں آپ اندازہ پیغمبر(ص) کا کہ حضرت علی(ع) کو دینا و آخرت میں اپنا ولی قرار دیتے ہیں۔ اپنے تمام رشتے داروں، قرابت داروں میں بس علی(ع) ہی کو اس اہم منصب کے لیے منتخب فرماتے ہیں۔ دوسرے موقع پر حضرت علی(ع) کو وہ منزلت و خصوصیت عطا فرماتے ہیں جو جناب ہارون کو جناب موسی(ع) سے تھی۔ جتنے مراتب و خصوصیات جناب ہارون کو جناب موسی(ع) سے حاصل تھے۔ وہ سب کے سب حضرت علی(ع) کو مرحمت فرمائے جاتے ہیں سوائے درجہ نبوت کے ۔ نبوت کو مستثنی کرنا دلیل ہے کہ نبوت کو چھوڑ کر جتنے خصوصیات
جناب ہارون کو حاصل تھے وہ ایک ایک کر کے حضرت علی(ع) کی ذات میں مجتمع تھے۔
آپ اس سے بھی بے خبر نہ ہوں گے کہ جناب ہارون کو منجملہ دیگر خصوصیات کے سب سے بڑی خصوصیت جو جناب موسی(ع) سے تھی وہ یہ کہ جناب ہارون جناب موسی(ع) کے وزیر تھے۔ آپ کے قوت بازو تھے۔ آپ کے شریک معاملہ تھے اور آپ کی غیبت میں آپ کے قائم مقام ، جانشین و خلیفہ ہوا کرتے اور جس طرح جناب موسی(ع) کی اطاعت تمام امتِ پر فرض تھی اسی طرح جناب ہارون کی اطاعت بھی تمام امت پر واجب و لازم تھی اس کے ثبوت میں یہ آیات ملاحظہ فرمایئے:
خداوند عالم نے جناب موسی(ع) کی دعا کلام مجید میں نقل فرمائی ۔ جناب موسی نے دعا کی تھی۔
“وَ اجْعَل لىِّ وَزِيرًا مِّنْ أَهْلىِ هَارُونَ أَخِى اشْدُدْ بِهِ أَزْرِى وَ أَشْرِكْهُ فىِ أَمْرِى”
“ معبود میرے گھر والوں میں سے ہارون کو میرا وزیر بنا ان سے میری کمر مضبوط کر اور انھیں میرے کارِ نبوت میں شریک بنا۔”
دوسرے موقع پر جناب موسی (ع) کا قول خداوند عالم نے قرآن میں نقل کیا ہے:
“اخْلُفْني في قَوْمي وَ أَصْلِحْ وَ لا تَتَّبِعْ سَبيلَ الْمُفْسِدينَ” ( اعراف، 142)
“ اے ہارون تم میری امت میں میرے جانشین رہو،
بھلائی ہی پیش نظر رہے اور فساد کرنے والوں کی پیروی نہ کرنا۔”
تیسری جگہ ارشادِ خداوند عالم ہے:
“ قالَ قَدْ أُوتيتَ سُؤْلَكَ يا مُوسى” (طہ، 36)
“ اے موسی(ع) ! تمھاری التجائیں منظور کی گئیں۔”
لہذا جس طرح جناب ہارون جناب موسی(ع) کے وزیر تھے، قوتِ بازو تھے ، شریک کارِ رسالت تھے، خلیفہ و جانشین تھے اسی طرح امیرالمومنین(ع) بھی ارشاد پیغمبر(ص) کی بنا پر پیغمبر(ص) کے وزیر تھے، امت میں پیغمبر(ص) کے جانشین تھے، کار رسالت میں شریک تھے( زیادہ سے زیادہ یہ کہ سب باتیں بر سبیل نبوت نہ تھیں بلکہ بلحاظ خلافت حاصل تھیں) اور تمام امت سے افضل تھے اور آںحضرت(ص) کی حیات و موت دونوں حالتوں میں بہ نسبت تمام امت کے آپ سے زیادہ خصوصیت رکھنے والے تھے اور جس طرح جناب موسی(ع) کی امت پر جناب ہارون کی اطاعت فرض تھی اسی طرح تمام امت اسلامیہ پر حضرت علی(ع) کی اطاعت بھی لازم تھی۔
ہر سننے والا حدیث منزلت کو سن کر یہی سمجھتا ہے اور سننے کے بعد اس کے ذہن میں یہی باتیں آتی ہیں اور انھیں باتوں کے مقصود ہونے میں کسی قسم کا شک نہیں ہوتا۔ خود رسول اﷲ(ص) نے بھی اچھی طرح وضاحت فرمادی اور سکی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رکھی۔ آپ کا یہ فرمانا کہ :
“ان ه لا ينبغی ان اذهب الا و انت خليفتی ”
“ میرا قدم باہر نکالنا مناسب نہیں جب تک تمھیں اپنی جگہ پر قائم مقام نہ چھوڑ جاؤں”
صریح ںص ہے کہ حضرت علی(ع) ہی خلیفہ رسول تھے۔ بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر روشن وضاحت ہے اس امر کی کہ اگر آںحضرت علی(ع) کو اپنا خلیفہ بنائے بغیر چلے جاتے تو نا مناسب فعل کے مرتکب ہوتے۔
رسول (ص) کا یہ ارشاد کہ میرے لیے یہ مناسب ہی نہیں کہ بغیر تمھیں اپنا خلیفہ بنائے ہوئے چلا جاؤں یہ بتاتا ہے کہ رسول اﷲ(ص) مامور تھے۔ آپ کو حکم دیا تھا خداوند عالم نے کہ علی(ع) کو اپنا خلیفہ بنا جانا جیسا کہ آیہ بلغ کی تفسیر دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے:
“ يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ ” ( مائدہ ، 67)
“ اے رسول(ص) ! پہنچا دو تم اس حکم کو جو تم پر نازل کیا گیا۔ اگر تم نے نہیں پہنچایا تو گویا تم نے کارِ رسالت انجام ہی نہیں دیا۔”
آیت کے ٹکڑوں کو خوب اچھی طرح دیکھیےيا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ کے بعد یہ دوسرا ٹکڑاوَ إِنْ لَمْ قیامت کا ٹکڑا ہے۔ آیت کے اس ٹکڑے کو حدیث رسول(ص) کے اس جملہ کے ساتھان ه لا ينبغی ان اذهب الا و انت خليفتی سے ملائیے تو معلوم ہوگا کہ یہ دونوں فقرے ایک ہی مطلب کی ترجمانی کرتے ہیں۔ آیت بھی یہی کہتی ہے کہ اگر علی(ع) کو خلیفہ نہیں بنایا تو گویا کار رسالت ہی انجام نہیں دیا اور رسول(ص) بھی اقرار کرتے ہیں کہ میرا بغیر تمھیں خلیفہ بنائے ہوئے جانا مناسب ہی نہیں۔
ابن عباس کی اس حدیث میں رسول(ص) کا یہ فقرہ بھی بھولیے گا نہیں کہ : اے علی(ع) تم میرےبعد ہر مومن کے ولی ہو۔ یہ نص صریحی
ہے ۔ کہ رسول(ص) کے بعد امت کے مالک و مختار آپ ہی تھے۔ آپ ہی رسول(ص) کے مقرر کردہ حاکم و امیر تھے۔ اور امتِ اسلام مین رسول(ص) کے قائم مقام تھے جیسا کہ کمیت (رح) نے کہا ہے :
و نعم ولی الامر بعد وليه
و منتجع التقوی و نعم المودب
“ رسول(ص) کے بعد آپ بہترین مالک و مختارِ امور تھے اور تقوی اور بہترین ادب سکھانے والے تھے۔”
ش
حدیث منزلت صحیح بھی ہے اور مشہور بھی لیکن مدقق آمدی کو ( جو اصول میں استاد الاساتیذ تھے) اس حدیث کے اسناد میں شک ہے اور وہ اس کے طرق میں شک و شبہ کرتے ہیں ۔ آپ کے مخالفین آمدی کی رائے کو درست سمجھیں تو آپ انھیں کیونکر قائل کریں گے؟
س
جواب مکتوب
آمدی یہ شک کر کے خود اپنے نفس پر ظلم کے مرتکب ہوئے کیونکہ حدیث منزلت تمام احادیث سے صحیح تر اور تمام روایات سے زیادہ پایہ ثبوت کو پہنچی ہوئی ہے۔
سوائے آمدی کے آج تک اس کے اسناد میں کسی کو شک نہ ہوا ۔ نہ اس کے ثابت و مسلم الثبوت ہونے میں کسی کو لب کشائی کی جرائت ہوئی ۔ علامہ ذہبی جیسے متعصب تک نے تلخیص مستدرک میں اس کے صحت کی صراحت کی ہے۔(1) اور ابن حجر ایسے دشمن تشیع شخص نے صواعق محرقہ کے صفحہ29 پر اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس کی صحت کے متعلق ان ائمہ حدیث کے
اقوال درج کیے ہیں جو فن حدیث میں حضرات اہل سنت کے ملجا و ماوی سمجھے جاتے ہیں(2) ۔ اور یہ حدیث ایسی ہی ثابت و ناقابل انکار نہ ہوتی تو امام بخاری ایسا شخص کبھی اپنی صحیح بخاری میں ذکر نہ کرتا۔
امام بخاری کی تو یہ حالت ہے کہ امیرالمومنین(ع) یا اہلبیت(ع) کے فضائل و خصائص کسی حدیث میں دیکھ لیتے ہیں تو اس کو یوں اڑا جاتے ہیں جیسے رسول(ص) نے فرمایا ہی نہ ہو۔ تو جب امام بخاری تک مجبور ہوگئے اور صحیح بخاری میں درج کر کے رہے تو اب اس کے متعلق شک وشبہ کرنا زبردستی ہے۔
-------------
1:-آپ اس سے پہلے صفحہ194 پر ملاحظہ فرماچکے ہیں کہ علامہ ذہبی نے خود اس حدیث کی صحت کی تصریح کی ہے۔
2:-صواعق محرقہ، صفحہ29۔
معاویہ جو دشمنان امیرالمومنین(ع) اور آپ سے بغاوت کرنے والوں کے سرغنہ تھے۔ جنھوں نے امیرالمومنین(ع) سے جنگ کی ۔ بالائے منبر آپ کو گالیاں دیں۔ لوگوں کو سب وشتم کرنے پر مجبور کیا لیکن باوجود اتنی بد ترین عداوت کے وہ بھی اس حدیث منزلت سے انکار نہ کرسکے اور نہ سعد بن ابی وقاص کو جھٹلانے کی انھیں ہمت ہوئی۔
چنانچہ صحیح مسلم میں یہ روایت موجود ہے کہ:
“ جب سعد بن ابی وقاص معاویہ کے پاس(1) آئے اور معاویہ نے ان سے فرمائش کی کہ منبر پر جاکر امیر المومنین(ع) پر لعنت کریں۔۔۔۔۔۔ اور انھوں نے انکار کیا تو معاویہ نے پوچھا کہ آخر وجہ انکار کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ رسول(ص) نے علی(ع) کے متعلق تین باتیں ایسی کہی ہیں کہ جب تک وہ باتیں یاد رہیں گی میں ہرگز انھیں سب وشتم نہیں کرسکتا۔ اگر ان تین باتوں سے ایک بات بھی مجھے نصیب ہوتی تو وہ سرخ اونٹوں کی قطار سے زیادہ میرے لیے محبوب ہوتی ۔ میں نے خود رسول اﷲ(ص) کو علی(ع) سے کہتے سنا ہے جب کہ آپ کسی غزوہ میں تشریف لے جارہے تھے اور حضرت علی(ع) کو اپنی جگہ چھوڑے جارہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی منزلت ہے جو موسی (ع) سے ہارون کو تھی۔ سوائے اس کے کہ باب نبوت
--------------
1 ـ صحیح مسلم، جلد2، صفحہ 324 باب فضائل علی(ع)
میرے بعد بند ہے(1) ۔”
معاویہ کے لی بہت آسان تھا کہ جھٹلا دیتے سعد کو ، کہہ دیتے ک نہیں ، رسول(ص) نے ایسا فرمایا ہی نہیں ہے۔لیکن یہ حدیث ان کے نزدیک بھی اس قدر ثابت و مسلم تھی کہ اس کے متعلق چوں چرا کی گنجائش ہی نہیں پائی۔ انھوں نے بہتری اسی میں دیکھی کہ خاموش ہوجائیں۔ سعد کو مجبور نہ کریں۔
اس سے بڑھ کر مزے کی بات سناؤں آپ کو۔ معاویہ نے خود اس حدیث منزلت کی روایت کی ہے۔ ابن حجر صواعق محرقہ میں تحریر فرماتے ہیں:
“ امام احمد حنبل نے روایت کی ہے کہ کسی شخص نے معاویہ سے ایک مسئلہ دریافت کیا۔ معاویہ نے کہا کہ اسے علی(ع) سے پوچھو۔ اس شخص نے کہا(2) آپ کا جواب مجھے علی(ع) کے جواب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ معاویہ نے جھڑک کر کہا کہ یہ بدترین بات تمھارے منہ سے سن رہا ہوں۔ تم اس شخص سے کراہت ظاہر کررہے ہو جسے رسول اﷲ(ص) نے علم یوں بھرایا ہے جس طرح طائر اپنے بچے کو دانہ بھراتا ہے۔ اور جس کے متعلق
--------------
1 ـ امام حاکم نے بھی اس حدیث کو مستدرک جلد2، صفحہ109 پر درج کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کے شرائط کے معیار پر بھی صحیح اور علامہ ذہبی نےبھی تلخیص مستدرک میں اس حدیث کو درج کیا ہے اور اعتراف کیا ہے کہ یہ حدیث امام مسلم کے معیار پر صحیح ہے۔
2 ـ صواعق محرقہ باب 11 صفحہ 107
یہ ارشاد و فرمایا کہ تمھیں مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو موسی(ع) سے ہارون کو تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہے۔ اور حضرت عمر کو جب کسی معاملہ میں پیچیدگی در پیش آتی تھی تو انھیں کی طرف رجوع کرتے(1) ۔۔۔۔الخ ”
مختصر یہ کہ حدیثِ منزلت اتنی ثابت و مسلم ہے جس کے ثبوت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔ تمام مسلمان خواہ وہ کسی فرقہ یا جماعت سے تعلق رکھتے ہوں اس حدیث کی صحت پر اجماع و اتفاق کیے بیٹھے ہیں۔
اس حدیث منزلت کو صاحب الجمع الصحاح الستہ نے باب مناقب علی میں اور صاحب الجمع بین الصحیحین نے باب فضائل اور غزوہ تبوک کے تذکرہ میں ذکر کیا ہے۔
صحیح بخاری میں غزوہ تبوک(2) کے سلسلہ میں موجود ہے۔
صحیح مسلم میں فضائل علی(ع) کے ضمن(3) میں مذکورہ ہے۔
سنن ابن ماجہ(4) میں اصحاب نبی(ص) کے فضائل کے ضمن میں موجود ہے۔
--------------
1 ـ علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ معاویہ نے اس شخص سے یہ بھی کہا کہ کہاں سے چلے جاؤ۔ خدا تمھارے پیروں کو استوار نہ کرے اور اس شخص کا نام دفتر سے کاٹ دیا اور بھی بہت سی باتیں علامہ ابن حجر نے صواعق محرقہ صفحہ107 پر نقل کی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ علامہ احمد بن حنبل کے علاوہ محدثین کی ایک اچھی خاصی جماعت نے بسلسلہ اسناد معاویہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔ امام احمد ہی تنہا معاویہ سے روایت کرنے والے نہیں۔
2 ـ جلد 3 ص58
3 ـ جلد 2 ص323
4 ـ جلد اول ص28، جلد 3 ص109 اس کے علاوہ اور بھی مقامات پر امام مذکور نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے جیسا کہ چھان بین کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔
مستدرک امام حاکم میں(1) باب فضائل کے تحت موجود ہے۔
اور امام احمد(2) نے اپنی مسند میں سعد کی روایت سے بکثرت طریق سے روایت کی ہے نیز اسی مسند میں امام موصوف نے مندرجہ ذیل حضرات میں سے ہر بزرگ کی حدیث میں ذکر کیا ہے۔
ابن عباس(3) ، اسماء بن عمیس(4) ، ابوسعید خدری(5) ، معاویہ بن ابی سفیان(6) اور دیگر صحابہ کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے۔
طبرانی نے اسماء بنت عمنیس ، ام سلہ، جیش بن جنادہ، ابن عمر، ابن عباس ، جابر بن سمرہ، زید بن ارقم، براء بن عازب اور علی بن ابی طالب(ع)(7) وغیرہ ہم سے ہر ہر شخص کی حدیث میں روایت کی ہے۔
بزار(8) نے اپنی مستدرک میں روایت کی ہے۔
--------------
1 ـ مسند احمد جلد اول ص173، ص175، 177، 179، 182، 185۔
2 ـ مسند ج 1، ص231۔
3 ـ مسند ج 6 ، ص469، ص438
4 ـ مسند ج3، ص32
5 ـ جیسا کہ ہم نے اس کتاب کے شروع میں صواعق محرقہ باب 11 ص 108 سے نقل کیا ہے۔
6 ـ صواعق محرقہ باب9 سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں بسلسلہ حالات امیرالمومنین(ع) نقل کیا ہے کہ طبرانی نے اس حدیث کو ان تمام اشخاص سے نقل کیا ہے سیوطی نے ایک نام اسماء بنت عمیس اور زیادہ کرے کے لکھا ہے۔
7 ـ تاریخ الخلفاء ص65 حالات امیرالمومنین(ع)۔
8 ـ کنز العمال جلد6 ص152، کی حدیث 2504۔
ترمذی نے اپنی صحیح میں ابو سعید خدری کی حدیث میں لکھا ہے۔
ابن عبدالبر نے استیعاب میں بسلسلہ حالات امیرالمومنین(ع) اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ خود ان کے الفاظ ہیں :
“ وهو من اثبت الآثار و اصحها ، رواه عن النبی سعد بن ابی وقاص”
“ یہ حدیث تمام احادیث پیغمبر(ص) میں سب سے زیادہ ثابت و مسلم اور ہر ایک سے صحیح تر ہے، اس حدیث کو سعد بن ابی وقاص نے پیغمبر(ص) سے روایت کیا ہے۔”
پھر فرماتے ہیں کہ:
“ سعد کی حدیث بکثرت طریقوں سے مروی ہے جسے ابن ابی خیثمہ و غیرہ نے لکھا ہے۔”
آگے جل کر تحریر فرماتے ہیں :
“ اس حدیث کی روایت ابن عباس نے کی ہے، ابو سعید خدری نے کی ہے ، ام سلمہ (رض) نے کی ہے، اسماء بنت عمیس نے کی ہے۔ جابر بن عبداﷲ نے کی۔ ان کے علاوہ ایک پوری جماعت اصحاب ہے جس نے اس حدیث کی روایت کی ہے۔ جن کے ذکر میں طول ہوگا۔”
علماء محدثین اور اہل سیر و اخبار نے جس جس نے غزوہ تبوک کا ذکر کیا ہے انھوں نے اس حدیث کو بھی ضرور لکھا ہے اور جس جس نےحضرت علی(ع) کے حالات و سوانح مرتب کیے ہیں خواہ وہ کسی فرقہ و جماعت کے ہوں متقدمین و متاخرین سب نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔
اور مناقب اہل بیت(ع) و فضائل صحابہ میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں سبھی میں یہ حدیث موجود ہے۔ مختصر یہ کہ حدیثِ منزلت وہ حدیث ہے کہ خلف و سلف سب کے نزدیک ثابت و محقق ہے کسی نے اس کی صحت میں شک نہیں کیا۔
لہذا جب اس کی اہمیت کی حالت یہ ہے تو آمدی کو اس کے اسناد میں شک ہوتو ہوا کرے ان کے شک سے کیا ہوتا ہے ۔ علم حدیث میں انھیں دخل ہی کیا حاصل تھا؟ طرق و اسناد کے متعلق ان کا حکم لگانا تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے عوام کا حکم لگانا۔ جنھیں کسی بات کے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ۔ بات یہ ہے کہ جیسا آپ نے کہا کہ اصول میں انھیں تبحر حاصل تھا تو اسی تبحر نے انھیں اس دلدل میں پھنسایا ۔ انھوں نے دیکھا کہ بمقتضائے اصول یہ حدیث نص صریح ہے۔ امیرالمومنین(ع) کی خلافت پر اصول کے بموجب حضرت علی(ع) خلیفہ ماننے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہتا۔ مفر کی صورت نہیں لہذا راہ فراریوں نکالی جائے کہ اس حدیث کے اسناد ہی مشکوک قرار دے دیے جائیں کہ اس طرح شاید اس حدیث کے نہ ماننے اور حضرت علی(ع) کو خلیفہ رسول(ص) نہ تسلیم کرنے کی سبیل پیدا ہو۔
ش
مکتوب نمبر15
اس حدیثِ منزلت کے ثبوت میں جو کچھ آپ نے فرمایا بالکل صحیح ذکر کیا ہے اس کے مسلم الثبوت ہونے میں مطلقا شک و شبہ کی گنجائش نہیں آمدی نے اس حدیث میں ایسی ٹھوکر کھائی جس سے ان بھرم کھل گیا ۔معلوم ہو گیا کہ انھیں علم حدیث سے دور کا بھی لگاؤ نہیں تھا۔میں نے ان کے قول کو ذکر کر کے ناحق آپ کو ان کے رد کی زحمت دی۔ معافی کا خواہاں ہوں۔
مجھے خیال ہوتا ہے کہ آمدی کے علاوہ آپ کے دیگر مخالفین اس حدیث
کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ س حدیث منزلت میں عموم نہیں بلکہ یہ اپنے مورد کے ساتھ مخصوص ہے۔ یعنی رسول(ص) کا حضرت علی(ع) کو اپنا جانشین اور اپنی وفات کے بعد تمام مسلمانون میں اپنا خلیفہ بنانا مقصود نہیں تھا بلکہ صرف غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ سے جتنے دن آپ (ص) غائب رہے اتنے دن ہی آپ کو جانشین بنانا مقصود تھا۔ جیسا کہ سیاق حدیث سے پتہ چلتا ہے۔ اس لیے کہ یہ حدیث آپ نے اس موقع پر فرمائی ہے ۔ جب آپ عازم سفر ہوئے اور حضرت علی(ع) کو مدینہ میں اپنا قائم مقام بنا کر جانے لگے اور اس پر حضرت علی(ع) نے عرض کیا :
“یا رسول اﷲ(ص) آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جاتے ہیں؟”
تورسول(ص) نے کہا:
“ کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمھیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسی(ع) سے ہارون کو تھی؟ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”
و یا رسول (ص) یہ کہنا چاہتے تھے کہ جس طرح کوہ طور پر جانے کے وقت جناب ہارون جناب موسی(ع) کے جانشین تھے اسی طرح غزوہ تبوک پر جانے کے وقت تم میرے جانشین ہو۔ لہذا مقصود پیغمبر(ص) کا یہ نکلا کہ میں جتنے دن غزوہ تبوک میں مشغول رہوں تم مسلمانوں میں میرے جانشین ہو جس طرح جناب موسی کی غیبت اور مناجات کے دنوں میں جناب ہارون جانشین موسی(ع) تھے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو اگر عام مان بھی
لیا جائے تب بھی یہ حدیث حجت نہیں کیونکہ یہ حدیث مخصوص ہے اور وہ عام جس کی تخصیص کردی جائے وہ باقی میں حجت نہیں ہوسکتا۔
س
جواب مکتوب
مخالفین کا یہ کہنا کہ حدیث منزلت میں عموم نہیں پایا جاتا۔ اسے ہم اہلِ زبان اور عرب والوں کے عرف کے فیصلہ پر چھوڑتے ہیں۔ وہ جو کہیں وہی ہم بھی کہتے ہیں۔ آپ خود حجت عرب میں اپنا جواب نہیں رکھتے ۔ آپ کی بات نہ رد کی جاسکتی ہے نہ آپ کے فیصلہ میں چون و چرا کی گنجائش ہے۔ آپ خود فرمائیں آپ کیا کہتے ہیں؟
آپ اپنی قوم ( عرب) کے متعلق فرمائیے کیا انھیں بھی اس کے عموم میں شک ہوا ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ ناممکن ہے کہ آپ جیسا ماہر زبان اسم جنس مضاف کے عموم اور اپنے تمام مصادیق کو شامل ہونے میں شک کرے۔
اگر آپ مجھ سے فرمائیں کہ منحتکم انصافی۔ میں نے تمھیں انصاف بخشا۔ تو کیا آپ کا یہ اںصاف بعض امور سے متعلق ہوگا اور بعض امور سے نہیں۔ ایک معاملہ میں میرے ساتھ انصاف کیجیے گا اور دوسرے معاملہ میں نا انصافی فرمائیے گا؟ یا انصاف عام اور اپنے تمام مصادیق کو شامل ہوگا۔ خدا نہ کرے کہ آپ اسے عام ہونے کے علاوہ اور کچھ سمجھیں اور سوائے استغراق کے کچھ سمجھ میں آئے ۔ فرض کیجیے کہ
خلیفہ المسلمین اگر اپنے حاکم و افسر سے کہیں کہ میں نے لوگوں پر اپنی جگہ تمھیں بادشاہ بنایا مجھے جو منزلت حاصل ہوئی ہے وہ تمہاری منزلت قرار دی یا رعایا میں جو منصب میرا ہے وہ تمھارا منصب مقرر کیا ، یا میں نے اپنا ملک تمھارے حوالہ کیا تو کیا یہ سنکر عموم کے علاوہ اور کوئی چیز سمجھ میں آئے گی اور اگر دعوی کرنے والا تخصیص کا دعوی کرے یہ کہے کہ صرف بعض حالات میں معاملات میں اقتدار و اختیار دیا گیا ہے بعض میں نہیں تو کیا وہ شخص مخالف اور نافرمان نہ سمجھا جائے گا۔ اور اگر وہ اپنے کسی وزیر سے فرمائیں کہ میرے زمانہ سلطنت میں تمھاری وہی منزلت رہے گی جو عمر کی منزلت تھی ابوبکر کےزمانہ میں بجز اس کے کہ تم صحابی نہیں ہو تو یہ فقرہ بلحاظ عرف منازل و مراتب کےساتھ مخصوص ہوگا یا عام سمجھا جائےگا۔ میرا تو یہی خیال ہے کہ آپ عام ہی سمجھیں گے اور مجھے تو یقین ہے کہ آپ بھی اس حدیث میں عموم ہی کے قائل ہوں گے۔ جس طرح مذکورہ بالا مثالوں میں عرف و لغت کے قاعدہ پر سوائے عموم ماننے کےکوئی دوسری صورت نہیں۔
خصوصا استثنا نبوت کےبعد تو اور بھی عموم اچھی طرح واضح ہوجاتا ہےکیونکہ جب رسول نے صرف نبوت کو مستثنی کیا تو ثابت ہوا کہ سوائے درجہ نبوت کے اور جتنے منازل تھے جناب ہارون کے وہ سب حضرت علی(ع) کو حاصل ہوئے کوئی ایک نہیں چھوٹا۔ ورنہ رسول(ص) صرف نبوت ہی کو مستثنی نہ فرماتے بلکہ جہاں نبوت کو مستثنی کیا وہاں دوسری باتوں کا بھی استثنا فرماتے۔ آپ خود عرف ہیں۔ عربوں میں رہتے ہیں آپ خود سوچیے عربوں سے پوچھیے کہ انکا کیا فیصلہ ہےاس کےمتلعق ؟
مخالت کا یہ کہنا کہ یہ حدیث مورد کے ساتھ مخصوص ہے دو وجہوں سے
غلط ہےپہلی وجہ یہ ہےکہ حدیث فی نفسہ عام ہے جیسا اوپر میں بیان کرچکا ہوں لہذا اس کا مورد اگر اسے ہم خاص تسلیم بھی کر لیں اس کو عام ہونے سے مانع نہیں ہوسکتا۔کیوںکہ مورد وارد کا مخصوص نہیں ہوا کرتا جیسا کہ طے شدہ مسئلہ ہے۔
دیکھیے اگر آپ کسی جنب شخص کو آیت الکرسی چھوتے ہوئے دیکھیں۔ اور آپ اس سے کہیں کہ محدث ( جس میں جنب غیر جنب سب شامل ہیں) کو آیات قرآن چھونا جائز نہیں تو آپ کا یہ اشارہ مورد کے ساتھ مخصوص ہوگا یا آپ کا یہ کہنا عام ہوگا اور تمام آیات قرآن اور ہر محدث کو شامل ہوگا۔ خواہ وہ محدث جنب ہو یا غیر جنب ۔ آیت الکرسی کو چھوئے یا دیگر آیات کو۔ میں تو خیال نہیں کرتا کہ کوئی شخص بھی یہ کہے گا کہ یہ حکم صرف جنب کے ساتھ مختص ہے۔ہر محدث کو شامل نہیں اور صرف آیت الکرسی ہی چھونے کی ممانعت ہے دیگر آیات کی نہیں ۔ اگر معالج مریض کو کھجور کھاتے ہوئے دیکھے اور اسے میٹھا کھانے کو منع کرے تو کیا طبیب کی میٹھے سے ممانعت عرف عام میں مورد کے ساتھ مخصوص سمجھی جائے گی۔ صرف کھجور سےممانعت سمجھی جائے گی یا یہ ممانعت عام ہوگی ۔ اور ہر میٹھے کو شامل ہوگی؟
میرا تو خیال یہ ہےکہ کوئی بھی اس کا قائل نہ ملے گا جو یہ کہے کہ یہ ممانعت مخصوص ہے مورد کے ساتھ، صرف کھجور سے مریض کو روکا گیا ہے یہ تو وہ ہی کہے گا جسے اصول سے کوئی لگاؤ نہ ہو۔ زبان کے قواعد سے بالکل بے بہرہ ہو۔ فہم عربی سے دور ہو اور ہم لوگوں کی دنیا سے اجنبی ہو۔ لہذا جس طرح ان مثالوں میں مورد کے خاص ہونے کی وجہ سے حکم خاص نہیں اسی طرح
حدیثِ منزلت کا مورد اگر چہ خاص ہے یعنی آپ نے غزوہ تبوک میں جاتے وقت فرمایا ، لیکن حکم عام ہی ہے ۔ حدیث منزلت اور ان مثالوں میں کوئی فرق نہیں۔
دوسری وجہ بطلان یہ ہے کہ یہ کہنا ہی غلط ہے کہ حدیث کا مورد خاص ہےکیونکہ رسول(ص) نے صرف غزوہ تبوک ہی کے موقع پر حضرت علی(ع) کو مدینہ میں اپنا جانشین بناتے ہوئے نہیں فرمایا کہ تمھیں مجھ سے وہی منزلت حاصل ہے جو موسی(ع) سے ہارون کو تھی تاکہ مخالف کا یہ کہنا صحیح ہوکہ صرف غزوہ تبوک ہی کے موقع پر حضرت علی(ع) کو منزلت ہارونی حاصل ہوئی اور آپ رسول(ص) کے جانشین ہوئے بلکہ آپ نے اس حدیث کو بارہا مختلف مواقع پر ارشاد فرمایا ہے چنانچہ ہمارے یہاں ائمہ طاہرین(ع) سے بکثرت صحیح اور متواتر احادیث مروی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول(ص) نے اور دوسرے مواقع پر بھی اس حدیث کو فرمایا ہے۔ تحقیق کے جویا ہماری کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ حضرات اہلسنت کے سنن بھی اس کے موئد و شاہد ہیں جیسا کہ ان کی تلاش و جستجو سے معلوم ہوسکتا ہے لہذا معترض کا یہ کہنا کہ سیاق حدیث دلیل ہے صرف اس کے غزوہ تبوک کے ساتھ مختص ہونے کی۔ بالکل ہی غلط اور نا قابل اعتنا ہے۔
رہ گیا یہ کہنا کہ وہ عام جن کی تخصیص کردی جائے وہ باقی میں حجت نہیں۔ بالکل مہمل لغو اور صریحی طور پر باطل ہے۔ اور خاص کر اس حدیث کے متعلق جو ہماری آپ کی موضوع بحث ہے ایسا خیال تو محض زبردستی ہے۔
ش
مکتوب نمبر16
آپ نے یہ تو فرمایا کہ رسول اﷲ(ص) نے صرف غزوہ تبوک ہی نہیں بلکہ اور بھی متعدد مواقع پر یہ حدیث ارشاد فرمائی لیکن آپ نے ان متعدد مواقع کی تصریح نہیں کی۔
بڑی عنایت ہوگی ان موارد کی بھی تفصیل فرمائیے۔ غزوہ تبوک کے علاوہ اور کب آںحضرت(ص) نے ایسا ارشاد فرمایا۔
س
جوابِ مکتوب
ان مواقع میں سے ایک وہ موقع ہے جب آںحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے ام سلیم(1) سے فرمایا تھا ۔ ام سلیم سب سے پہلے اسلام لانے والوں
--------------
1 ـ یہ ملحان بن خالد انصاری کی بیٹی اور حرام بن ملحان کی بہن تھیں۔ ان کے باپ اور بھائی دونوں رسول اﷲ(ص) کی حمایت میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ یہ بڑی صاحب ِ فضیلت اور زیرک و دانا خاتون تھیں۔ رسول اﷲ(ص) سے بہت سی حدیثیں روایت کی ہیں اور ان سے انس ابن عباس، زید بن ثابت ، ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور دوسرے لوگون نے حدیثیں روایت کی ہیں اور سابقین میں ان کا شمار ہے۔ اسلام کی طرف دعوت دینے والو میں سے ایک یہ بھی تھیں۔ زمانہ جاہلیت میں مالک بن نضر کی زوجیت میں تھیں۔ مالک سے انس بن مالک پیدا ہوئے۔ جب اسلام آیا تو انھوں نے سبقت کی۔ اسلام قبول کیا اور اپنےشوہر سے بھی کہا لیکن اس نے اسلام لانے سے انکار کیا تو انھوں نے قطع تعلق کرلیا۔ شوہر غضبناک ہو کر شام کی طرف چلا گیا اور وہیں بحالت کفر مرگیا انھوں نے اپنے بیٹے انس کو جب کہ وہ صرف دس سال کے تھے رسول اﷲ(ص) کی خدمت گزاری پر مائل کیا رسول (ص) نے بھی ان کے خیال سےقبول کیا۔ اسی وجہ سے انس کہا کرتے تھے کہ خدا جزائے خیر دے میری والدہ کو انھوں نے میری اچھی سرپرستی کی ، انھیں کے ہاتھوں ابو طلحہ اںصاری اسلام لائے ابو طلحہ نے جب کہ اسلام نہ لائے تھے ان سے شادی کی خواہش کی انھوں نے مسلمان ہونے کی شرط لگائی۔ ابو طلحہ نے اسلام قبول کیا اور ان کا اسلام لانا ہی مہر ہوا۔ یہ ام سلیم آںحضرت(ص) کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئی تھیں جنگ احد میں ان کے ہاتھ میں خنجر تھا کہ جو کہ مشرک ان کے پاس آئے اس سے ہلاک کردیں۔ تاریخ اسلام میں تمام عورتوں سے زیادہ اسلام کی خڈمت گزار حامی محافظ مشکلات میں ثابت قدم یہی خاتون تھیں انھیں کو بس یہ شرف حاصل تھا کہ رسول(ص) ان سے ملنے ان کے گھر جاتے ۔ یہ معظمہ اہل بیت کی معرفت رکھنے والی اور ان کے حقوق کو پہچاننے والی خاتون تھیں۔
میں سے تھیں۔ اور بڑی زیرک و دانا خاتون تھیں۔ سابقیت اسلام ، خلوص و خیر خواہی اور شدائد میں ثابت قدمی کی وجہ سے ان کی رسول(ص) کے نزدیک بڑی منزلت تھی۔ آںحضرت(ص) ان کی ملاقات کو جاتے ، ان کے گھر میں بیٹھ کر ان سے گفتگو کرتے۔ آپ نے ایک دن ان سے ارشاد فرمایا :
“ اے ام سلیم! علی (ع) کا گوشت میرے گوشت سے ہے، ان کا خون میرے خون سے ہے اور انھیں وہی منزلت حاصل ہے جو موسی سے ہارون کو تھی۔(1) ”
یہ بالکل ظاہر ہے کہ رسول اﷲ (ص) نے یہ حدیث کسی خاص جذبہ کے ماتحت نہیں فرمائی بلکہ برجستہ طور پر سلسلہ کلام میں یہ جملے زبانِ مبارک سے ادا ہوئے جس سے مقصود صرف یہ تھا کہ میرے ولی عہد اور میرے جانشین
--------------
1 ـ ام سلیم کی یہ حدیث کنزالعمال جلد 6 صفحہ154 میں موجود ہے بلکہ منتخب کنزالعمال میں بھی مذکور ہے۔ چنانچہ مسند احمد بن حنبل جلد5 صفحہ 31 کے حاشیہ کی آخری سطر ملاحظہ ہو۔ بعینہ انھیں الفاظ میں یہ حدیث موجود ہے۔
کی منزلت سے لوگ آگاہ ہوجائیں۔ اتمام حجت ہوجائے۔ احکام الہی کے پہنچانے میں تاخیر نہ ہو۔ لہذا اس حدیث کو صرف غزوہ تبوک کے موقع سے مخصوص کر دینا ، حضرت علی(ع) کو صرف غزوہ تبوک کے موقع پر جانشین رسولص) تسلیم کرنا صریحی ظلم ہے۔
اسی جیسی حدیث دختر حمزہ کے قضیہ میں بھی آںحضرت (ص) نے ارشاد فرمائی ۔ جبکہ حضرت امیرالمومنین(ع) جناب جعفر اور زید میں اختلاف پیدا ہوا۔ تو آںحضرت (ص) نے ارشاد فرمایا :
“ اے علی(ع) تم کو مجھ سے وہی منزلت حاصل ہے جو موسی(ع) سے ہارون کو تھی۔(1) ”
اسی طرح یہ حدیث اس دن آںحضرت(ص) نے ارشاد فرمائی جبکہ ابوبکر و عمر اور ابو عبیدہ بن الجراح رسول(ص) کی خدمت میں بیٹھے تھے اور رسول (ص) حضرت علی(ع) پر تکیہ کیے تھے۔ آںحضرت (ص) نے اپنا ہاتھ حضرت علی(ع) کے کاندھے پر رکھا اور ارشاد فرمایا :
“ اے علی(ع) ! تم مومنین میں سب سے پہلے ایمان لانے والے ہو اور سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہو اور تم کو مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو موسی(ع) سے ہارون کو تھی(2) ۔”
پہلی مواخات جو ہجرت کے قبل مکہ میں صرف مہاجرین کے درمیان رسول(ص) نے قائم کی تھی۔ اس دن بھی رسول(ص) نے یہ حدیث ارشاد فرمائی۔
--------------
1 ـ خصائص علویہ امام نسائی صفحہ19۔
2 ـ حسن بن بدر حاکم نے باب کنیت میں اور شیرازی نے باب الالقاب میں لکھا ہے ۔ ابن نجار نے بھی ذکر کیاہے اور کنزالعمال جلد6 کے ایک ہی صفحہ 395 پر دو جگہ موجود ہے۔ حدیث 6029، 6032۔
نیز دوسری مواخات جو مدینہ میں ہجرت کے پانچ مہینہ بعد رسول (ص) نے انصار و مہاجرین کے درمیان قائم کی دونوں موقعوں پر آپ نے حضرت علی(ع) کو اپنےلیے منتخب کیا اور اپنا بھائی بنا کر سب پر فوقیت بخشی اور ارشاد فرمایا کہ :
“ وَ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي”
“ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے ہارون کے لیے موسی(ع) تھے سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا(1) ۔”
واقعہ مواخات کے متعلق بطریق ائم طاہرین(ع) ایک دو نہیں متواتر حدیثیں ہیں۔ ائمہ طاہرین(ع) کےعلاوہ غیروں کی روایتوں کو دیکھنا ہو تو پہلی مواخات کے متعلق صرف ایک زید بن ابی اوفی ہی کی حدیث کے لے لیجیے جسے امام احمد بن
--------------
1 ـ علامہ بن عبدالبر نے استیعاب میں بسلسلہ حالات امیرالمومنین(ع) لکھا ہے کہ رسول(ص) نے مہاجرین میں مواخات قرار دی پھر دوبارہ مہاجرین و انصار میں مواخات فرمائی اور دونوں موقعوں پر امیرالمومنین(ع) سے فرمایا کہ تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔ ابن عبدالبر کہتے کہ رسول(ص) نے اپنے اور علی(ع) کے درمیان مواخات فرمائی۔ پوری تفصیل کتب سرو اخبار میں موجود ہے۔ سیرہ حلبیہ جلد دوم ص26 پر مواخات اول کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے اور مواخات ثانیہ کی تفصیل بھی اسی سیرة حلبیہ ج2 کے ص120 پر موجود ہے۔ آپ کو نظر یہ آئے گا کہ سول اﷲ(ص) نے دونوں موقعوں پر علی(ع) کو اپنا بھائی بنا کر سب پر فضیلت عطا کی۔ سیرہ و حلانیہ مین بھی مواخات اولی و ثانیہ کی تفصیل وہی ہے جو سیرہ حلبیہ میں ہے۔ انھوں نے تصریح کی ہے کہ دوسری مواخات ہجرت کے پانچ ماہ بعد ہوئی۔
حنبل نے کتاب مناقب علی(ع) میں، ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں بغوی(1) و طبرانی نے اپنی معجم میں، بارودی نے اپنی کتاب معرفہ میں اور ابن عدی(2) و غیرہ نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔
حدیث بہت طولانی ہے اور پوری کیفیت مواخات پر مشتمل ہے آخر کی عبارت یہ ہے کہ :
“ فَقَالَ قَالَ عَلِيٌّ لَقَدْ ذَهَبَ رُوحِي وَ انْقَطَعَ ظَهْرِي حِينَ رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ بِأَصْحَابِكَ مَا فَعَلْتَ غَيْرِي فَإِنْ كَانَ هَذَا مِنْ سَخَطٍ عَلَيَّ فَلَكَ الْعُتْبَى وَ الْكَرَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص وَ الَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا اخْتَرْتُكَ إِلَّا لِنَفْسِي فَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَ أَنْتَ أَخِي وَ وَزِيرِي وَ وَارِثِي قَالَ قَالَ وَ مَا أَرِثُ مِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا وَرَّثَ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلَكَ كِتَابَ اللَّهِ وَ سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ وَ أَنْتَ مَعِي فِي قَصْرِي فِي الْجَنَّةِ مَعَ ابْنَتِي فَاطِمَةَ وَ أَنْتَ أَخِي
--------------
1 ـ امام احمد و ابن عساکر سے بکثرت معتبر وموثق علماء نے نقل کیا ہے من جملہ ان کے علامہ متقی ہندی بھی ہیں۔ انھوں نے کنزالعمال میں دو جگہ یہ حدیث درج کی ہے ایک کنزالعمال جلد5 ص40 پر پھر جلد6 ص390 پر باب مناقب علی (ع) میں امام احمد سے نقل کر کے لکھا ہے۔
2 ـ ان تمام ائمہ اہل سنت سے ایک جماعت ثقات نے یہ حدیث نقل کی ہے ۔ منجملہ ان کے ایک علامہ متقی ہندی ملاحظہ ہو کنزالعمال جلد5 صٰفحہ41 حدیث 919۔
وَ رَفِيقِي ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ ص إِخْواناً عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ.”
“ امیر المومنین(ع) نے رسول اﷲ(ص) سے کہا : یا رسول اﷲ(ص) میری تو جان نکل گئی، کمر شکستہ ہوگئی ۔ یہ دیکھ کر کہ آپ نے اصحاب میں تو مواخات قائم کی، ایک کو دوسرے کا بھائی بنایا مگر مجھے چھوڑ دیا ۔ مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا۔ اگر یہ کسی ناراضگی و خفگی کی وجہ سے ہے تو آپ مالک و مختار ہیں ۔ آپ ہی عفو فرمائیں گے او آپ ہی عزت بخشیں گے۔ رسول(ص) نے فرمایا : قسم ہے اس معبود کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں نے تمھیں خاص اپنے لیے اٹھا رکھا ہے۔ تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے موسی (ع) کے لیے ہارون تھے سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ تم میرے بھائی ہو، میرے وارث ہو۔ امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ میں آپ کا کس چیز کا وارث ہوں گا؟ آپ نے فرمایا : کہ اسی چیز کے جس کے انبیاء وارث ہوئے یعنی کتاب خدا، سنت نبی(ص)۔ اور تم میرے ساتھ جنت میرے قصر میں رہوگے۔ میری پارہ جگر فاطمہ(س) کے ساتھ ۔ تم میرے بھائی ہو، میرے رفیق کار ہو۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:إِخْواناً عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ”
اور دوسرے مواخات کے سلسلہ میں صرف اسی ایک حدیث کو لے لیجیے جو طبرانی نے اپنی معجم کبیر میں ابن عباس سے روایت کی ہے :
“ رسول اﷲ(ص) نے امیرالمومنین(ع) سے فرمایا کہ کیا تم ناراض ہوگئے کہ
میں نے مہاجرین و اںصار کے درمیان تو مواخات کی اور تم کو ان میں سے کسی کا بھائی نہ بنایا۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم کو مجھ وہی نسبت حاصل ہے جو موسی(ع) سے ہارون کو تھی۔”(1)
--------------
1 ـ ملاحظہ ہو کنزالعمال بر حاشیہ مسند احمد بن حنبل جلد5 ص31 پیغمبر(ص) کے اس فقرہ میں کہ “ کیا تم مجھ سے ناراض ہوگئے؟” جو پیار و محبت ، دلدہی اور پدرانہ شفقت و ناز برداری مترشح ہے وہ مخفی نہیں۔ اگر آپ فرمائیں کہ جب پہلی مرتبہ رسول (ص) علی(ع) کو اپنے لیے مخصوص کرچکے تھے تو دوسری مواخات کے موقع پر تمام اصحاب میں مواخات کرنے اور علی(ع) کو کسی کا بھائی نہ جانے سے علی(ع) کو تردد اور شک و شبہ نہ کرنا چاہیے تھا۔ اس مرتبہ ان کو مطمئن رہنا چاہیے تھا کہ جس طرح رسول(ص) نےپہلی مرتبہ تجھے اپنے لیے مخصوص کر رکھا اس مرتبہ بھی رسول(ص) کا ایسا ہی ارادہ ہے۔ آخر حضرت علی(ع) کو شبہ کیوں ہوا؟ اور آپ نے دوسری مواخات کو بھی پہلی مواخات پر قیاس کیوں نہ کیا۔ تو میں عرض کروں گا۔ دوسری مواخات کو پہلی مواخات پر قیاس کیا ہی نہ جاسکتا تھا اس لیے کہ پہلی مواخات خاص کر مہاجرین کے درمیان ہوئی تھی بر خلاف دوسری مواخات کے کہ وہ مہاجرین و اںصار کے درمیان ہوئی تھی ۔ دوسری مواخات میں مہاجر کا بھائی اںصاری کو بنایا گیا تھا اور انصاری کا بھائی مہاجر کو۔ اس مرتبہ چونکہ پیغمبر(ص) اور علی(ع) دونوں کے دونوں مہاجر تھے لہذا قیاس یہ کہتا ہے کہ اب کی مرتبہ دونوں بھائی بھائی نہ ہوں گے۔ لہذا حضرت علی(ع) نے دوسرے لوگوں کے دیکھتے ہوئے قیاس کیا ک اب کی مرتبہ میرا بھائی کوئی اںصاری ہی ہوگا جس طرح ہر مہاجر کا بھائی انصاری مقرر کیا گیا ہے۔ اور جب رسول(ص) نے کسی اںصاری کو کو علی(ع) کا بھائی نہ بنایا تو علی(ع) کو اضطراب ہوا مگر خدا و رسول(ص) دونوں اس مرتبہ حضرت علی(ع) کو ہر ایک پر فضیلت ہی دینا چاہتے تھے اور قیاس کے برخلاف اس مرتبہ بھی رسول(ص) نے اپنا بھائی علی(ع) ہی کو بنایا۔
مکتوب نمبر17
ہم آپ کے اس جملہ کا کہ رسول اﷲ (ص) علی(ع) و ہارون(ع) کو فرقدین ( دوستارے ہیں جو ایک ساتھ رہتے ہیں) سے تشبیہ دیتے تھے مطلب نہیں سمجھے۔
س
جواب مکتوب
رسول اﷲ(ص) کی سیرت کا مطالعہ فرمائیے تو آپ کو نظر آئے گا کہ پیغمبر(ص) جناب ہارون(ع) اور امیرالمومنین(ع) کو آسمان کے فرقدین اور دونوں آنکھوں سے مثال دیا کرتے تھے۔ دونوں اپنی اپنی امت میں ایک جیسے تھے ۔ کسی کو کسی پر
امتیارز نہیں حاصل تھا۔
ملاحظہ فرمائیے کہ رسول اﷲ(ص) نے علی(ع) کے جگر گوشوں کے نام ہارون کے فرزندوں کے نام جیسے رکھے۔ حسن(ع) و حسین(ع) و محسن(ع) اور ارشاد فرمایا کہ :
“ میں نے یہ نام فرزندان ہارون شبر وشبیر و مبشر کے نام پر رکھے۔”
رسول اﷲ(ص) کا مقصد یہ تھا کہ دونوں ہارونوں میں مشہابت گہری ہو جائے اور وجہ مشابہت تمام حالات ومنازل میں عام ہو کے رہے۔
محض اس وجہ سوے رسول(ص) نے علی(ع) کو اپنا بھائی بنایا اور دوسروں پر ترجیح دی۔ غرض یہ تھی کہ دونوں کو اپنے بھائی کے نزدیک جو منزلت حاصل ہے وہ بالکل ایک رہے دونوں کی منزلوں میں مشابہت پوری پوری ہوجائے اور یہ تمنا بھی تھی کہ دونوں کے درمیان کوئی بھی وجہ فرق نہ رہے۔ رسول(ص) نے اپنے اصحاب میں دو مرتبہ بھائی چارہ قائم کیا پہلی مرتبہ ابوبکر و عمر بھائی بھائی ہوئے۔ عثمان و عبدالرحمن بن عوف بھائی بھائی مقرر کیے گئے دوسری مرتبہ ابوبکر و خارجہ بن زید میں بھائی چارہ ہوا۔ عمرو عتبان بن مالک میں بھائی چارہ ہوا۔ لیکن امیرالمومنین(ع) دونوں مرتبہ رسول(ص) کے بھائی بنے۔
اس مسئلہ میں تو اتنے محکم نصوص صحیح طریقوں سے ابن عباس ، ابن عمر، زید بن ارقم، زید بن ابی اوفیٰ، انس بن مالک، حذیفہ بن یمان ، مخدوج بن
یزید، عمر بن خطاب، براء بن عازب، علی بن ابی طالب(ع) سے وارد ہیں۔
کہ سب کو لکھنا مشکل ہے۔
پیغمبر(ص) نے امیرالمومنین(ع) سے فرمایا :
“«أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ». ”
“ تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔”(1)
ابھی اوپر آپ یہ حدیث ملاحظہ فرماچکے ہیں:
“ فأخذ برقبت علی و قال: انّ هذا أخي و وصيي و خليفتي فيكم فاسمعوا له و أطيعوا ”
“ پیغمبر(ص) نے علی(ع) کے سر پر ہاتھ رکھ فرمایا : یہ میرا بھائی ہے، میرا وصی ہے ۔ تم میں میرا جانشین ہے۔ اس کی بات سننا ، اس کی اطاعت کرنا۔”
ایک دن پیغمبر(ص) اصحاب کے پاس تشریف لائے ۔ آںحضرت کے چہرے کا رنگ کھلا ہوا تھا۔ عبدالرحمن بن عوف نے اس خوشی کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا :
“ بِشَارَةٌ أَتَتْنِي مِنْ رَبِّي فی أَخِي وَ ابْنِ عَمِّي وَ ابْنَتِي
--------------
1 ـ امام حاکم نے مستدرک ج3 س14 پر دو صحیح طریقوں سے جو شیخین بخاری ومسلم کے معیار پر صحیح ہے درج کیا ہے۔ علامہ زہبی نے تلخیص مستدرک میں اس کی صحت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے۔ علامہ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ صفحہ73 پر ترمذی سے نقل کیا ہے۔ اہل سیر و اخبار میں سے جس نے واقعہ مواخات کا ذکر کیا ہے ؟؟؟ نے بطور مسلمات ذکر کیا ہے۔
بِأَنَّ اللَّهَ زَوَّجَ عَلِيّاً بِفَاطِمَةَ ”
“ میرے پرودگار کی جانب سے میرے بھائی میرے چچا کے بیٹے اور میری جگر پارہ فاطمہ(س) کے متعلق خوشخبری آئی ہے کہ خود خداوند عالم نے علی(ع) کا عقد فاطمہ(س) سے کردیا ۔”(1)
جب جناب سیدہ امیرالمومنین(ع) کے گھر آئیں تو آںحضرت(ص) سے ام ایمن سے کہا کہ میرے بھائی کو بلاؤ
ام ایمن نے کہا کہ : علی(ع) آپ کے بھائی بھی ہیں اور آپ ان سے اپنی بیٹی بھی بیاہتے ہیں۔
آپ نے فرمایا: “ہاں اے ام ایمن ایسا ہی ہے۔”
ام ایمن ، امیرالمومنین(ع) کو بلا لائیں۔”(2)
نہ جانے کتنی مرتبہ آںحضرت(ص) نے امیرالمومنین(ع) کے بھائی ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ:
“ یہ علی(ع) میرے بھائی ہیں۔ میرے چچا کے بیٹے ہیں، میرے داماد ہیں، میرے بچوں کے باپ ہیں(3) ۔”
--------------
1 ـ ابوبکر خوارزمی نے اس کی روایت کی ہے۔ ملاحظہ ہو صواعق محرقہ ص103۔
2 ـ مستدرک ج3 ، ص159 علامہ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اس حدیث کی صحت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے ۔ علامہ ابن حجر نے صواعق باب 11 میں نقل کیا ہے۔ ان کے علاوہ جس جس نے جناب سیدہ کی شادی کا تذکرہ کیا ہے ہر ایک نے اس حدیث کو بھی ضرور ذکر کیا ہے۔
3 ـ شیرازی نے کتاب الالقاب میں اس کی روایت کی ہے۔ ابن نجار نے ابن عمر سے اس کی روایت کی ہے اور علامہ متقی ہندی نے کنزالعمال نیز منتخب کنزالعمال بر حاشیہ مسند احمد جلد5 ص34 پر نقل کیا ہے۔
ایک مرتبہ امیر المومنین علیہ السلام سے دورانِ گفتگو فرمایا :
“ أَنْتَ أَخِي وَ صَاحِبِي ”
“ تم میرے بھائی ہو میرے ساتھی ہو۔”(1)
دوسری مرتبہ دورانِ گفتگو فرمایا :
“ أَنْتَ أَخِي وَ صَاحِبِي وَ رَفِيقِي فِي الْجنةِ.”
“ تم میرے بھائی ہو میرے ساتھی ہو اور جنت میں میرے رفیق ہو۔”(2)
ایک معاملہ میں جناب جعفر و زید اور امیرالمومنین(ع) کے درمیان اختلاف پیدا ہوا تو آپ نے امیرالمومنین(ع) سے خطاب کر کے فرمایا :
“و اما انت يا علی فاخی و ابو ولدی و منی الیَ ۔”
“ لیکن تم اے علی(ع) میرے بھائی ہو، میرے بچوں کے باپ ہو ، مجھ سے ہو اور مجھ تک ہو(3) ۔”
ایک دن آپ نے امیرالمومنین(ع) سے فرمایا کہ :
“ تم میرے بھائی ہو، میرے وزیر ہو، تم ہی میرے
--------------
1 ـ ابن عبدالبر نے استیعاب میں بسلسلہ حالات امیرالمومنین(ع) بسلسلہ اسناد ابن عباس اس حدیث کی روایت کی ہے۔
2 ـ خطیب نے اس حدیث کی روایت کی ہے کنزالعمال جلد6 ص402 پر نمبر6105 یہی حدیث ہے۔
3 ـ امام حاکم نے مستدرک جلد3 ص214 پر یہ حدیث نقل کی جو امام مسلم کی شرائط صحت پر صحیح ہے۔
دین ادا کرو گے۔ میرے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرو گے، مجھے فارغ الذمہ کروگے(1) ۔”
جب آن حضرت(ص) کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے لوگون سے کہا کہ میرے بھائی کو بلاو۔(2)
لوگوں نے امیرالمومنین(ع) کو بلایا۔ آپ نے امیرالمومنین(ع) سے فرمایا :
“ میرے قریب آؤ۔”
امیرالمومنین(ع) قریب ہوئے ۔ رسول(ص) کا سر زانو پر رکھے رہے اور رسول(ص) آپ سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ آںحضرت(ص) کی روح نے جسم سے مفارقت کی اور آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ جنت کے دروازے پر لکھاہوا ہے:
“ لا إله إلّا اللّه، محمّد رسول اللّه، عليّ أخو رسول اللّه ”
“ کوئی معبود نہیں سوا اﷲ کے محمد(ص) خدا کے رسول ہیں اور علی(ع) رسول کے بھائی ہیں(3) ۔”
--------------
1 ـ طبرانی نے معجم کبیر میں ابن عمر سے اس حدیث کی روایت کی ہے اور علامہ متقی ہندی نے کنزالعمال نیز منتخب کنزالعمال میں اسے نقل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ مسند احمد حنبل جلد5 ص34۔
2 ـ طبقات بن سعد جلد2 قسم ثانی اور کنزالعمال جلد4 ص55۔
3 ـ طبرانی نے اس حدیث کو اوسط میں خطیب نے کتاب المتفق والمفترق میں لکھا ہے اور علامہ متقی ہندی نے کنزالعمال و منتخب کنزالعمال میں نقل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ مسند احمد حنبل جلد5 ص35۔
شب ہجرت جب امیرالمومنین(ع) بستر رسول(ص) پر آرام فرمارہے تھے خداوندِ عالم نے جبریل و میکائیل پر وحی نازل فرمائی کہ میں نے تمھیں بھائی بھائی بنایا ہے اور تم میں سے ایک کی عمر دوسرے سے زیادہ طولانی کی ہے۔ تم میں سے کون اپنی زندگی دوسرے کو دینے پر آمادہ ہے۔ دونوں نے عذر کیا زندگی دینا گوارا نہ کیا۔ تو خداوند عالم نے وحی فرمائی کہ تم دونوں علی جیسے کیوں نہیں ہوجاتے۔ دیکھو میں نے علی(ع) و محمد(ص) کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور علی(ع) بستر رسول(ص) پر سو کر اپنی جان فدا کررہے ہیں اور اپنی زندگی ہلاکت میں ڈال کر رسول(ص) کی زندگی کی حفاظت کررہے ہیں۔ تم دونوں زمین پر جاؤ اور علی(ع) کو ان کے دشمنوں سے بچاؤ۔
دونوں ملک اترے جبریل سرہانے ،م میکائیل پائینی کھرے ہوئے جبریل کہتے جاتے کہ :
“ مبارک ہو، مبارک ہو، کون آپ کا مثیل ہوسکے گا ۔ اے علی ابن ابی طالب(ع) ۔ اﷲ کے سبب ملائکہ پر فخر و مباہات کررہا ہے۔”
اور اسی موقع پر خداوند عالم نے ی آیت نازل فرمائی کہ :
“ لوگوں میں کچھ ایسے بھی بندے ہیں جو اپنے نفس کو راہ خدا میں بیچ ڈالتے ہیں(1) ۔”
--------------
1 ـ اصحاب سنن نے اپنے اپنے مسانید میں اس حدیث کو درج کیا ہے نیز امام فخرالدین رازی نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں ذکر کیا ہے ملاحظہ ہو تفسیر کبیر ج2 صفحہ 179 تفسیر سورہ بقرہ نیز ملاحظہ ہو اسد الغابہ جلد4 ص25۔
امیرالمومنین(ع) فرمایا کرتے :
“ میں خدا کا بندہ ہوں، میں رسول(ص) کا بھائی ہوں۔ میں صدیق اکبر ہوں۔ میرے علاوہ ایسا کہنے والا جھوٹا ہے(1) ۔”
امیرالمومنین(ع) نے فرمایا :
“ قسم بخدا میں رسول(ص) کا بھائی ہوں، ان کا ولی عہد ہوں، فرزند عم ہوں، ان کے علوم کا وارث ہوں، مجھ سے زیادہ کون حقدار ہے اس کا(2) ۔”
شوریٰ والے دن آپ نے عثمان و عبدالرحمن بن عوف، سعد اور زبیر سے خطاب کر کے فرمایا تھا کہ :
“ میں تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم میں میرے علاوہ کوئی ایسا ہے جسے رسول(ص) نے اپنا بھائی بنایا ہو۔ اس دن جس دن مسلمانون میں بھائی چارہ کیا تھا۔”
لوگوں نے کہا : نہیں، آپ کے علاوہ کوئی نہیں(3) ۔
--------------
1 ـ امام نسائی نے خصائص علویہ میں امام حاکم نے مستدرک جلد3 ص112 کے شروع میں ابن ابی شیبہ و ابن عاصم نے السنہ میں درج کیا ہے اور علامہ متقی ہندی نے کنزالعمال و منتخب کنزالعمال میں نقل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو منتخب کنزالعمال بر حاشیہ مسند احمد بن حںبل جلد5 ص40۔
2 ـ ملاحظہ فرمائیے مستدرک جلد3 ص126 علامہ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اس حدیث کی صحت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے۔
3 ـ علامہ ابن عبدالبر نے بسلسلہ حالات امیرالمومنین(ع) استیعاب میں اس حدیث کی روایت کی ہے اور بھی اکثر علمائے اعلام نے لکھا ہے۔
جنگ بدر میں جب امیرالمومنین(ع) ولید کےمقابلے کو نکلے تو اس نے پوچھا : کون ہو تم ؟
امیرالمومنین(ع) نے فرمایا :
“ میں خدا کا بندہ ہوں، اس کے رسول(ص) کا بھائی ہوں(1) ۔”
امیرالمومنین(ع) نے ایک دن عمر بن خطاب سے ان کے زمانہ خلافت میں پوچھا کہ :
“ یہ فرمائیے(2) اگر بنی اسرائیل کی کوئی قوم آپ کے پاس آئے اور ان میں کوئی شخص آپ سے کہے کہ میں موسی(ع) کے چچا کا فرزند ہوں، تو کیا آپ اسے اس کے ساتھیوں پر کچھ ترجیح دیں گے؟”
انھوں نے کہا : “ ہاں ” امیرالمومنین(ع) نے فرمایا :
“ تو سنیے میں خدا کی قسم ! رسول(ص) کا بھائی ہوں۔ ان کے چچا کا بیٹا ہوں۔”
حضرت عمر نے ردا کاندھے سے اتار کر بچھائی اور بولے:
“ خدا کی قسم ! آپ اس جگہ کے علاوہ اور کہیں نہیں بیٹھ سکتے جب تک ہم لوگ جدا نہ ہوں ۔”
امیرالمومنین(ع) اس ردا پر تشریف فرما ہوئے اور اس وقت تک کہ لوگ متفرق ہوئےعمر سامنے بیٹھے رہے۔ یہ رسول اﷲ(ص) کے بھائی اور فرزندِ عم ہونے
--------------
1 ـ ابن سعد نے اپنی کتاب طبقات جلد2 قسم اول ص15 بسلسلہ تذکرہ غزوہ بدر ذکر کیا ہے۔
2 ـ دار قطنی نے اس کی روایت کی ہے ملاحظہ ہو صواعق محرقہ باب 11 ص107۔
کی تعظیم تھی ۔ سرجھکانا تھا۔
میرا قلم کہاں سے کہاں بہک گیا ۔ ذکر اس کا تھا کہ رسول(ص) نے تمام صحابہ کے دروازے بند کرادیے اور حضرت علی(ع) کو دروازہ مسجد کی طرف کھلا چھوڑ دیا۔ صحابہ کے دروازے اس لیے بند کرادیے کہ مسجد کے اندر بحالت جنب جانا جائز نہیں ۔لیکن جس طرح ہارون کے لیے بحالت جنب ہوتے ہوئے بھی مسجد سے ہوکر گزرنا جائز تھا اسی طرح حضرت علی(ع) کے لیے بھی رسول(ص) نے جائز و مباح قرار دیا۔ لہذا یہ بھی ثبوت ہے کہ دونوں حضرات باکل ایک جیسے تھے اور ہر حیثیت اور ہر جہت سے ایک دوسرے کے نظیر تھے پوری پوری مشابہت تھی دونوں بزرگواروں میں۔ ابن عباس فرماتے ہیں :
“ رسول اﷲ(ص) نے مسجد کی طرف کھلتے ہوئے سب کے دروازے بند کرادیے صرف حضرت علی(ع9 کا دروازہ کھلا رکھا۔ حضرت علی(ع) حالت جنب میں بھی مسجد سے ہوکر گزرتے۔ کیونکہ وہی ایک راہ تھی کوئی دوسرا راستہ تھا ہی نہیں(1) ۔”
عمر بن خطاب سے ایک حدیث صحیح مروی ہے جو مسلم و بخاری کے معیار پر بھی صحیح ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
“ رسول(ص) نے علی(ع) کو تین چیزیں ایسی مرحمت فرمائیں کہ اگر ان
--------------
1ـ یہ بہت طولانی حدیث ہے جس میں امیرالمومنین(ع) کی دس(10) خصوصیات مذکور ہیں پوری حدیث بر صفحہ 193 تا صفحہ199 بیان کی جاچکی ہے۔
میں سے ایک بھی مجھے ملی ہوتی تو سرخ اونٹوں کی قطار سے بڑھ کر ہوتی۔ ایک یہ کہ علی(ع) کی زوجہ فاطمہ(س) ایسی دختر رسول(ص) ہوئیں دوسرے مسجد میں رسول(ص) کے ساتھ ان کی سکونت اور رسول(ص) کے لیے جو امور مسجد میں جائز تھے ان کے لیے بھی مباح ہونا۔ تیسرے جنگ خیبر میں علم ملن(1) ۔”
ایک دن سعد بن مالک نے ایک حدیث صحیح بیان کی جس میں امیرالمومنین(ع) کی بعض خصوصیات کا ذکر تھا اسی میں فرماتے ہیں کہ :
“ رسول اﷲ(ص) نے اپنی مسجد سے جہاں اور سب کو ہٹایا وہاں اپنے چچا عباس کو بھی۔ اس پر عباس نے کہا : کہ ہمیں تو آپ ہٹا رہے ہیں اور علی(ع) کو رہنے دیتے ہیں؟ رسول(ص) نے فرمایا : کہ میں نے اپنی طرف سے نہ سب کو ہٹایا نہ علی(ع) کو رکھا۔ بلکہ خدا نے ایسا کیا ہے(2) ۔”
زید بن ارقم کہتے ہیں :
“ چند اصحاب کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے۔ رسول(ص)
--------------
1 ـ مستدرک جلد3 ص125 نیز ابو یعلیٰ نے بھی اس حدیث کی روایت کی ہے ملاحظہ ہو صواعق محرقہ فصل 2 باب9 ص76 تقریبا انھیں الفاظ و معنی میں امام احمد بن حنبل نے عبداﷲ بن عمر کی حدیث میں ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو مسند ج2 ص 29 حضرت عمر اور عبداﷲ بن عمر دونوں میں سے ہر ایک سے کئی اشخاص نے مختلف اسناد سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔
2 ـ مستدرک ج3 ،ص117 یہ حدیث صحاح سنن سے ہے اور متعدد و ثقات و اعلام اہلسنت نے اس حدیث کی روایت کی ہے۔
نے حکم دیا کہ تم سب اپنےاپنے دروازے بند کر دو۔ صرف علی(ع) کا دروازہ کھلا رہے۔ لوگوں نے اس پر چہ میگوئیاں شروع کیں تو رسول(ص) نے خطبہ ارشاد فرمایا :
بعد حمد و ثنائے الہی کے ارشاد ہوا کہ یہ دروازے بند کرا دوں اور علی(ع) کا دروازہ کھلا رہنے دوں۔ اس پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہے حالانکہ قسم بخدا میں نے اپنی طرف سے لوگوں کے دروازے بند نہیں کیے اور نہ اپنی خواہش سے علی(ع) کا دروازہ کھلا رکھا ۔ مجھے حکم دیا گیا میں نے حکم کی پابندی کی(1) ۔”
طبرانی نے معجم کبیر میں ابن عباس سے روایتکی ہے، وہ کہتے ہیں کہ :
“ رسول اﷲ(ص) اس دن کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنی طرف سے تم لوگوں کو مسجد سے نہیں ہٹایا۔ نہ اپنے جی سے علی(ع) کو باقی رکھا۔ بلکہ خود خداوند عالم سے ایسا کیا ہے۔میں تو بندہ وہوں اور حکم کا تابع ، جو مجھے حکم دیا گیا وہ میں نے کیا۔ میں تو وحی ہی کی پابندی کرتا ہوں(2) ۔”
رسول اﷲ(ص) نے ارشاد فرمایا کہ “ اے علی(ع) ! سوا میرے اور تمھارے کسی اور کے لیے جائز نہیں کہ حالتِ جنابت میں مسجد میں رہے(3) ۔”
--------------
1 ـ مسند احمد بن حنبل جلد4 صفحہ 369 و کنزالعمال بر حاشیہ مسند جلد5 ، صفحہ 29۔
2 ـ منتخب کنزالعمال بر حاشیہ مسند جلد5 صفحہ29۔
3 ـ ترمذی نے اس حدیث کو اپنے صحیح میں روایت کیا اور ان سے متقی ہندی نے کنزالعمال ، منتخب کنزالعمال برحاشیہ مسند جلد5 صفحہ29 پر نقل کیا ہے۔ بزاز نے اس حدیث کو سعد سے روایت کیا ہے۔ ملاحظہ ہو صواعق محرقہ باب 9 فصل 2 صفحہ 73۔
سعد بن ابی وقاص ، براء بن عازب ، ابن عباس ، ابن عمر، حذیفہ بن اسید غفاری ان میں سے ہر ایک سے مروی ہے کہ :
“ رسول اﷲ(ص) مسجد میں آئے اور ارشاد فرمایا : کہ خدا نے مجھ پر وحی نازل فرمائی ہے کہ میں طاہر مسجد بناؤں جس میں صرف میں اور میرے بھائی علی(ع) رہیں(1) ۔”
اس مکتوب میں گنجائش ہی نہیں کہ ہم بکثرت ان صریحی و ثابت نصوص کو درج کریں جو اس باب میں ابن عباس ، ابو سعید خدری، زید بن ارقم، قبیلہ خثعم سے ایک صحابی پیغمبر(ص)، اسماء بنت عمیس ، ام سلمہ ، حذیفہ بن اسید، سعد بن ابی وقاص ، براء بن عازب، علی بن ابی طالب(ع)، عمر، عبداﷲ بن عمر، ابوذر، ابوالطفیل، بریدہ اسلمی ابی رافع غلامِ رسول اﷲ(ص)، اور جابر بن عبداﷲ ایسے کبار صحابہ میں سے ہرہر بزرگ سے مروی ہیں۔
رسول اﷲ (ص) کی مشہور دعاؤں میں یہ ہے آپ نے دعا فرمائی تھی :
“ میرے معبود! میرے بھائی موسی(ع) نے تجھ سے سوال کیا تھا
---------------
1 ـ ان سب سے روایت کرکے محمد خطیب ، فقیہہ شافعی معروف بہ ابن مغازلی نے اپنی کتاب مناقب میں مختلف واسطوں سے لکھا ہے اور علامہ بلخی نے ینابیع المودة باب 17 میں نقل کیا ہے۔
میرے سینہ کو کشادہ کردے اور میرے معاملہ کو سہل بنادے زبان کی گرہ کھول دیے کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے اہل سے ہارون میرے بھائی کو میرا وزیر بنا۔ ان کے ذریعہ میری کمر کو مضبوط کر اور انھیں میرا شریک کار بنا، تو تونے اے معبود! ان پر وحی نازل فرمائی کہ عنقریب میں تمھارے بھائی ہارون کے ذریعہ تمھارے بازوؤں کو قوی کردوں گا اور تم دونوں کے لیے غلبہ قرار دوں گا اے معبود! میں تیرا بندہ اور تیرا رسول محمد(ص) ہوں، میرے سینہ کو کشادہ کر میرے معاملہ کو آسان بنا اور میرے اہل سے علی(ع) میرے بھائی کو میرا وزیر قرار دے(1) ۔”
اسی جیسی ایک حدیث بزار نے روایت کی ہے۔
“ رسول اﷲ(ص) نے علی (ع) کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ارشاد فرمایا کہ : موسی(ع) نے خدا سے سوال کیا تھا کہ ہارون کی مدد و معیت میں مسجد کو پاک بنائیں اور میں نے اپنے پروردگار سے سوال کیا ہے کہ تمھاری مدد اور تمھاری معیت میں مسجد کو پاکیزہ کروں۔ پھر آپ نے ابوبکر کو کہلا بھیجا کہ اپنا دروازہ بند کرو۔ اس پر انھوں نے“ انا ﷲ و انا الیه
--------------
1 ـ امام ابو اسحاق ثعلبی نے بسلسلہ تفسیر آیہ انما ولیکم جناب ابوذر غفاری سے اپنی تفسیر کبیر میں روایت کی ہے اور صاحب ینابیع المودة نے مسند احمد سے نقل کیا ہے۔
راجعون ” پڑھا اور کہا سمعا و طاعتا ۔ پھر عمر کو حکم دیا۔ پھر عباس کو ایسا ہی حکم فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا : کہ میں نے اپنے جی سے تم لوگوں کے دروازے بند نہیں کرائے اور علی کا دروازہ کھلا نہیں چھوڑا بلکہ خدا نے ایسا کیا ہے(1) ۔”
حضرت علی(ع) کے جناب ہارون سے تمام حالات اور جمیع منازل میں پورے پورے مشابہ ہونے کے لیے غالبا اتنی حدیثیں جو ذکر کی گئی کافی ہوں گی۔
ش
--------------
1 ـ کنزالعمال جلد6 صفحہ408 حدیث 6156۔
مکتوب نمبر18
خدا آپ کا بھلا کرے آپ کی دلیلیں کتنی واضح اور روشن ہیں بڑا کرم ہوگا بقیہ ںصوص بھی تحریر فرمائیں۔
س
ابو داؤد طیالسی کی روایت کو لیجیے ( جیسا کہ استیعاب میں بسلسلہ حالاتِ امیرالمومنین(ع) مذکور ہے) ابن عباس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ :
“ رسول(ص) نے امیرالمومنین(ع) سے فرمایا : کہ تم میرے بعد ہر مومن کے ولی ہو۔”(1)
--------------
1 ـ ابو داؤد و دیگر اہل سنت نے اس حدیث کو ابو عوانہ وضاح بن عبداﷲ یغکری سے انھوں نے ابو بلج یحی بن سلیم فراری سے انھوں نے عمر بن میمون اودی سے انھوں نے ابن عباس سے مرفوعا روایت کیا ہے اس سلسلہ اسناد کے کل رجال حجت ہیں مسلم اور بخاری دونوں نے اپنے صحیح میں ان رجال میں سے ہر ایک کو حجت سمجھا ہے اور ان سے مروی حدیثیں درج کی ہیں سوا یحی بن سلیم کے کہ ان کی روایت ان دونوں نے نہیں لکھی لیکن جرح و تعدیل کے مجتہدین نے یحی بن سلیم کی وثاقت کی تصریح کردی ہے۔ یہ خدا کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے بزرگ تھے۔ علامہ ذہبی نے ان کے حالات لکھتے ہوئے میزان الاعتدال میں ابن معین نسائی دار قطنی محمد بن سعد ابی حاتم و غیرہ کا یحی بن سلیم کو ثقہ سمجھنا نقل کیا ہے۔
اسی جیسی ایک صحیح حدیث عمران بن حصین سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ :
“ رسول اﷲ(ص) نے ایک لشکر روانہ کیا اور امیرالمومنین(ع) کو افسر مقرر کیا۔ مال خمس جو ہاتھ آیا اس سے ایک کنیز امیرالمومنین(ع) نے اپنے لیے علیحدہ کر لی۔ لوگوں کو یہ بات کھلی اور چار شخصوں نے باہم طے کیا کہ رسول اﷲ(ص) کی خدمت میں شکایت کی جائے۔ جب رسول اﷲ(ص) کی خدمت میں وہ پہنچے تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا : یا رسول اﷲ(ص) ! آپ علی(ع) کو نہیں دیکھتے ؟ انھوں نے ایسا ایسا کیا رسول(ص) نے اس سے منہ پھیر لیا۔ تب دوسرا کھڑا ہوا اس نے بھی ایسے ہی کلمات کہے۔ اس سے بھی رسول(ص) نے منہ پھیر لیا تب تیسرا کھڑا ہوا اس نے بھی اپنے دو ساتھیوں کی طرح شکایت کی۔ اس سے بھی رسول(ص) نے منہ پھیر لیا تب چوتھا کھڑا ہوا اور
اگلے ساتھیوں کی طرح اس نے بھی شکایت کی تو اس وقت رسول اﷲ(ص) ان سب کی طرف متوجہ ہوئے اور چہرے سے آثار غضب نمایاں تھے۔ آںحضرت(ص) نے فرمایا : تم علی(ع) کے متعلق چاہتے کیا ہو؟ علی (ع) مجھ سے ہے اور میں علی(ع) سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں(1) ۔”
ایسی ہی ایک روایت ابوہریرہ سے مروی ہے جس کی اصل عبارت مسند احمد بن حنبل ج5 صفحہ 356 پر موجود ہے۔
“ بریدہ کہتے ہیں کہ رسول(ص) نے دو رسالے یمن کی جانب روانہ کیے ایک پر حضرت علی(ع) کو افسر بنایا دوسرے پر خالد بن ولید کو اور ارشاد فرمایا کہ جب تم دونوں مل جاؤ تو دونوں کے افسر علی(ع) ہی ہوں گے۔ اور جب تک الگ رہو تو ہر ایک اپنے
--------------
1 ـ بہت سے اصحاب سنن نے اس روایت کو درج کیا ہے۔ امام نسائی نے خصائص علویہ میں احمد بن حنبل نے بسلسلہ حدیث عمران صفحہ438 جلد رابع مسند میں امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ 11 پر علامہ ذہبی نے تلخیص مستدرک میں بشرائط مسلم اس کی صحت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے ابن ابی شیبہ نے اس کی روایت کی ہے۔ ابن جریر نے اس کی روایت کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ جیسا کہ علامہ متقی ہندی نے ان دونوں سے نقل کر کے کنزالعمال جلد6 شروع صفحہ 400 پر لکھا ہے نیز ترمذی نے بھی اس حدیث کی قوی اسناد سے روایت کی ہے جیسا کہ علامہ عسقلانی نے اصابہ میں بسلسلہ حالات امیرالمومنین(ع) ذکر کیا ہے اور ان سے علامہ معتزلہ ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد2 صفحہ450 پر نقل کیا ہے نیز لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام احمد نے مسند میں ایک جگہ نہیں متعدد و مقامات پر تحریر کیا ہے۔
اپنے دستہ کا افسر رہے گا۔(1) بریدہ کہتے ہیں کہ : اہل یمن کے بنی زبیدہ سے ہماری مڈبیھڑ ہوئی اور گھمسان کا رن پڑا۔ آخر مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ ہم نے جنگ آزماؤں کو موت کے گھاٹ اتارا اور ان کی عورتوں بچوں کو قید کر لیا۔ حضرت علی(ع) انھیں قیدیوں میں سے ایک عورت کو اپنے لیے الگ کر لیا۔ بریدہ کہتے ہیں : کہ خالد نے ایک نامہ میرے ہاتھوں رسول(ص) کی خدمت میں بھیجا۔ جس میں واقعہ کی رسول(ص) کو خبر دی تھی۔ میں نے خدمت میں پہنچ کر وہ نامہ پیش کیا۔ خط جب پرھا گیا تو غیظ و غضب کے آثار رسول(ص) کے چہرے پر نمایاں ہوٹے میں نے عرض کی : میں معافی کا خواستگار ہوں آپ نے مجھے ایک شخص کے ہمراہ بھیجا اور مجھے اس کی اطاعت کا حکم دیا
--------------
1 ـ رسول اﷲ(ص) نے حضرت علی(ع) پر کبھی کسی کو افسر نہیں مقرر کیا بلکہ حضرت علی(ع) ہی ہمیشہ افسر ہوا کیے۔ اور ہر معرکہ میں علم لشکر آپ ہی کے ہاتھوں میں رہا بر خلاف غیروں کے ۔ ابوبکر و عمر اسامہ کی ماتحتی میں رکھے گئے۔ اس پر تمام مورخین متفق ہیں۔ نیز یہ دونوں بزرگوار غزوہ ذات السلاسل میں عمرو عاص کے ماتحت بنائے گئے ان دونوں حضرات کا اس غزوہ میں اپنے افسر عمرو عاص کے ساتھ ایک مشہور قضیہ بھی ہے جسے امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ 43 پرلکھا ہے اور علامہ ذہبی نے اس کی صحت کا اعتراف کرتے ہوئے تلخیص مستدرک میں درج کیا ہے لیکن حضرت علی (ع) نہ تو کسی کی ماتحتی میں رہے نہ محکوم بنے۔ بجز سرورِ کائنات کے۔ رسول کی بعثت سے وفات تک۔
میں نے اس کی فرمانبرداری کی۔ رسول(ص) نے فرمایا : خبردار علی(ع) کے متعلق کچھ کہنا سننا نہیں۔ علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی (ع) سے ہوں اور علی(ع) میرے بعد تم لوگوں کے ولی ہیں(1) ۔ ”
--------------
1 ـ یہ تو وہ روایت ہے جسے امام احمد نے مسند جلد5 کے صفحہ 356 پر بطریق عبداﷲ بن بریدہ لکھا ہے۔ دوسری جگہ مسند ج5 صفحہ 347 پر سعید بن جبیر سے روایت کی ہے انھوں نے ابن عباس سے انھوں نے ابن بریدہ سے ۔بریدہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی(ع) کے ساتھ جنگ یمن میں شریک تھا۔ حضرت علی(ع) درشتی سے پیش آتے تھے میں جب واپس پلٹا تو رسول(ص) کی خدمت میں اس کا ذکر کیا اور حضرت کی تنقصت کی ۔ میں نے دیکھا کہ رسول(ص) کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ رسول(ص) نے پوچھا : اے بریدہ کیا میں تمام مومنین کی جانوں کا مالک نہیں؟ بریدہ نے کہا: بے شک یا رسول اﷲ(ص) ۔ آپ نے فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں علی(ع) بھی اس کے مولا ہیں۔ امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ 10 پر اس حدیث کولکھا جہے ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے محدثین نے اس حدیث کی روایت کی ہے۔ یہ حدیثیں جو درج کی گئیں ہمارے مقصود پر بین دلیل ہیں کیونکہ رسول(ص) کا جملہ الست اولیٰ بالمومنین من انفسہم کو مقدم فرمانا قرینہ غالب ہے کہ اس حدیث میں مولیٰ سے مراد اولی ہے جیسا کہ بظاہر عبارت سے معلوم ہوتا ہے۔ اسی جیسی ایک حدیث اور ہے جسے بہت سے محدثین نے بیان کیا ہے۔ من جملہ ان کے امام احمد نے مسند ج3 صفحہ 483 پر عمرو بن شاس اسلمی سے اس حدیث کی روایت کی ہے۔یہ حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے تھے۔ عمرو بن شاس کہتے ہیں کہ میں حضرت علی(ع) کے ساتھ یمن گیا۔ سفر میں حضرت علی(ع) درشتی سے پیش آئے میں دل میں بہت برہم ہوا جب رسول کی خدمت میں واپس آیا تو میں نے مسجد میں ان کی شکایت کی ۔ رسول(ص) کو بھی اس کی خبر ہوئی دوسرے دن صبح کو جب میں مسجد میں آیا تو رسول اﷲ(ص) حلقہ اصحاب میں تشریف فرما تھے میں سامنے آیا تو مجھے کڑی نگاہ سے دیکھنے لگے جب میں بیٹھ گیا تو فرمایا : اے عمرو تم نے مجھے بڑی تکلیف پہنچائی۔ میں نے عرض کی کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ کی تکلیف کا باعث ہوں۔ آپ نے فرمایا : کہ ہاں تم میری ایذا رسانی کے باعث ہوئے ۔ یاد رکھو جس نے علی(ع) کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت دی۔
اور امام نسائی نے خصائص علویہ میں یہ عبارت لکھی ہے :“ اے بریدہ ! مجھے علی(ع) کا دشمن بنانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں اور وہ میرے بعد تم لوگوں کے ولی ہیں۔”
اور ابن حریر کی عبارت یہ ہے :
“ بریدہ کہتے ہیں کہ دفعتا رسول(ص) کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ آںحضرت(ص) نے فرمایا : کہ میں جس کا ولی ہوں علی(ع) اس کے ولی ہیں۔ یہ سن کر میرے دل میں جو کچھ برے خیالات امیرالمومنین(ع) کی طرف سے قائم ہوگئے تھے دور ہوگئے اور میں نےطے کر لیا کہ آج سے پھر برائی کے ساتھ یاد نہ کروں گا(1) ۔”
طبرانی نے اس حدیث کو ذرا تفصیل سے درج کیا ہے ان کی روایت میں ہے کہ :
“ بریدہ جب یمن سے واپس آئے اور مسجد میں پہنچے تو رسول(ص) کے حجرے کے دروازے پر ایک جماعت لوگوں کی موجود تھی لوگ
--------------
1 ـ جیسا کہ علامہ متقی ہندی نے کنزالعمال ج6 صفحہ 398 پر نقل کیا ہے۔نیز منتخب کنزالعمال میں بھی نقل کیا ۔
انھیں دیکھ کر ان کی طرف بڑھے۔ سلام و مزاج پرسی کرنے اور یمن کے حالات دریافت کرنے لگے کہ کیا خبر لے کے آئے بریدہ نے کہا : اچھی ہی خبر ہے۔ خدا نے مسلمانوں کو فتح بخشی، لوگوں نے پوچھا کہ آنا کیسے ہوا، میں نے کہا کہ مال خمس سے علی(ع) نے ایک کنیز لے لی ہے۔ میں اسی کی رسول(ص) کو خبر کرنے آیا ہوں لوگوں نے کہا سناؤ سناؤ رسول(ص) کو تاکہ علی(ع) رسول(ص) کی نظروں سے گریں۔ آںحضرت(ص) دروازے کے عقب سے لوگوں کی یہ گفتگو سن رہے تھے۔ آپ غیظ و غضب کی حالت میں برآمد ہوئے اور ارشاد فرمایا : کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ علی(ع) کی برائی کرتے ہیں۔ جس نے علی(ع) کو غضب ناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا جو علی(ع) سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا ۔ علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں۔ میری طینت سے علی(ع) کی خلقت ہوئی اور میں جناب ابراہیم(ع) کی طینت سے خلق ہوا اور میں جناب ابراہیم(ع) سے بہتر ہوں(1) ۔”
-----------
1 ـ چونکہ حضرت سرورکائنات(ص) نے فرمایا تھا کہ علی(ع) میری طینت سے مخلوق ہوئے اور آںحضرت(ص) بدیہی طور پر علی(ع) سے افضل ہیں تو اب آںحضرت(ص) کے اس جملہ سے کہ میں ابراہیم(ع) کی طینت سے خلق ہوا یہ وہم پیدا ہوتا تھا کہ ابراہیم(ع) حضرت سرورکائنات (ص) سے افضل ہیں اور یہ قطعی طور پر مخالف واقع ہے۔ آںحضرت(ص) تو تمام انبیاء و مرسلین(ع) کے خاتم اور سب سے افضل و اشرف ہیں اس لیے آپ نے اس وہم کو دور کرنے کے لیے یہ فرمایا کہ میں ابراہیم(ع) سے افضل ہوں۔
“اے بریدہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ علی(ع) کا حصہ اس کنیز سے بہت زیادہ ہے جو انھوں نے لی ہے اورمیرے بعد وہی تم لوگوں کے ولی ہیں(1) ۔”
یہ حدیث ایسی عظیم الشان حدیث ہے جس کے متعلق شک کیا ہی نہیں جاسکتا۔ بریدہ سے بکثرت طرق سے مروی ہے اور جمیع طرق معتبر و مستند ہیں۔
اسی جیسی ایک اور عظیم الشان حدیث حاکم نے ابن عباس سے روایت کی ہے ۔ جس میں امیرالمومنین(ع) کے دس مختص فضائل ذکر کیے ہیں :
“ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول(ص) نے علی (ع) سے فرمایا : تم میرے بعد ہر مومن کے ولی ہو(2) ۔”
--------------
1 ـ بن حجر نے اس حدیث کو طبرانی سے صواعق محرقہ باب11 میں نقل کیا ہے لیکن جب اس جملے پر پہنچے اما علمت ان لعلی اکثر من الجاریہ ” کیا تم نہیں جانتے کہ علی (ع) کا حصہ اس کنیز سے زیادہ ہے ان کا قلم رک گیا اور ان کے نفس نے گوارا نہ کیا کہ جملہ پورا لکھیں انھوں نے الیٰ آخر الحدیث لکھ کر عبارت ختم کر دی ہے۔ ابن حجر جیسے متعصب اشخاص سے اس قسم کی باتین تعجب خیز نہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم لوگوں کو عصبیت سے محفوظ رکھا۔
2 ـ امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ 134 کے شروع میں اس حدیث کو لکھا ہے ۔ نیز علامہ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اس حدیث کی صحت کا اعتراف کرتے ہوئے درج کیا ہے۔ امام نسائی نے خصائص علویہ ص6 پر لکھا ہے اور امام احمد نے مسند ج1 ص331 پر تحریر کیا ہے ہم پوری حدیث ص193 تا ص199 پر درج کرچکے ہیں۔
اسی طرح ایک اور حدیث ہے جس میں رسول اﷲ(ص) کا یہ قول مذکورہ ہے کہ :
“ اے علی(ع) میں نے تمہارے بارے میں خداوند عالم سے پانچ چیزوں کا سوال کیا۔ چار تو خدا نے مرحمت فرمائیں اور ایک نہیں عطا فرمائی ۔ جو باتیں خدا نے مرحمت فرمائیں ان سے ایک یہ کہ تم میرے بعد مومنین کے ولی ہو(1) ۔”
اسی طرح وہ حدیث ہے جو ابن سکن سے وہب بن حمزہ نے روایت کی ہے ( ملاحظہ ہو اصابہ تذکرہ وہب) وہب کہتے ہیں:
“ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی(ع) کے ساتھ سفر کیا ۔ سفر کے ایام میں حضرت علی(ع) کی طرف سے درشتی و سختی دیکھی تو میں نے دل میں تہیہ کیا کہ جب مدینہ پلٹوں گا تو رسول(ص) سے اس کی شکایت کروں گا۔ جب واپس ہوا تو میں نے رسول(ص) سے علی(ع) کی شکایت کی۔ رسول(ص) نے فرمایا : ایسی باتیں علی(ع) کے متعلق کبھی نہ کہنا کیونکہ وہی میرے بعد تم لوگوں کے ولی ہیں۔”
طبرانی نے بھی معجم کبیر میں وہب سے یہ روایت نقل کی ہے مگر اس میں یہ عبارت ہے کہ :
“ یہ بات علی(ع) کے لیے نہ کہو وہ میرے بعد تمام لوگوں سے زیادہ تم پر اختیار رکھتے ہیں(2) ۔”
--------------
1 ـ یہ حدیث کنزالعمال جلد6 صفحہ 396 پر موجود ہے نمبر حدیث 1048۔
2 ـ کنزالعمال ج6 صفحہ 155 حدیث 2589۔
ابن ابی عاصم نے امیرالمومنین(ع) سے مرفوعا روایت کی ہے :
“ رسول (ص) نے ارشاد فرمایا کہ کیا میں لوگوں پر ان سے زیادہ اختیار و اقتدار نہیں رکھتا؟ لوگوں نے کہا بے شک آںحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا کہ : میں جس جس کا ولی ہوں، علی(ع) اس کے ولی ہی(1) ۔”
امیرالمومنین(ع) کی ولایت کے متعلق ائمہ طاہرین(ع) سے متواتر صحیح حدیثیں منقول ہیں۔ اتنا جو لکھا گیا ہے یہی امید ہے کافی ہو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آیتانما ولیکم اﷲ بھی ہمارے قول کی تائید کرتی ہے۔
ش
--------------
1 ـ متقی ہندی نے ابن ابی عاصم سے اس حدیث کو نقل کیا ہے ملاحظہ ہو ص397 جلد 6 کنزالعمال۔
مکتوب نمبر19
لفظ ولی، مددگار، دوست ، محب ، داماد ، پیرو، حلیف ، ہمسایہ اور ہر اس شخص پر بولا جاتا ہے جوکسی کے معاملات کا نگراں و مختار کل ہو۔ یہ اتنے معنوں میں مشترک ہے۔ لہذا آپ نے جتنی حدیثیں ذکر فرمائی ہیں غالبا ان تمام حدیثوں میں مراد ی ہے کہ علی(ع) میرے بعد تمھارے مددگار ہیں یا دوست ہیں یا محب ہیں۔
لہذا ان احادیث سے اور اس لفظ ولی سے آپ(ع) کی خلافت کہا ں ثابت ہوتی ہے؟
س
آپ نے لفظ ولی کے جتنے معانی درج کیے ہیں ان میں ایک یہ بھی
آپ نے تحریر فرمایا کہ جوکسی کےمعاملات کا نگراں ومختار کل ہو اسے بھی ولی کہتے ہیں تو ان تمام احادیث میں لفظ ولی سے یہی معنی مراد ہیں اور لفظ ولی کے سننے سےیہی معنی متبادر الی الذہن بھی ہوتے ہیں۔ جیسا ہم لوگوں کے اس قول میں “ ولی القاصر ابوہ وجدہ لابیہ ، ثم وصی احد ہما ثم الحاکم الشرعی”
“ شخص قاصر کا ولی اس کا باپ ہے پھر اس کا دادا اور ان دونوں کے نہ ہونے پر ان کا وصی اور سب کی غیر موجودگی میں حاکم شرعی۔”
تو یہاں لفظ ولی سے مراد یہی ہے کہ شخص قاصر کےیہی لوگ نگران و مختار ہیں اس کے معاملات میں انہی کو تصرف کا اختیار ہے۔
مذکورہ بالا احادیث میں ایسے واضح قرائن بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر(ص) نے لفظ ولی بول کر نگران و مختار ہی مراد لیا ہے جیسا کی صاحبانِ عقل و ادراک سے مخفی نہیں کیونکہ رسول(ص) کا فرمانا کہ :
“ یہ علی(ع) میرے بعد تم لوگوں کے ولی ہیں۔”
بین ثبوت ہے کہ یہاں لفظ ولی سے مقصود بس یہی معنی ہیں کوئی دوسرا نہیں کیونکہ وھو ولیکم بعدی ۔ یہی علی(ع) میرے بعد تمھارے ولی ہیں، اس کا مطلب تو یہی ہوا کو میرے بعد علی(ع) کے سوا تمھارا اور کوئی ولی نہیں۔ لہذا قطعی طور پر ان احادٰیث میں ولی سے یہی معنی سمجھنے پڑیں گے کسی اور معنی کی گنجائش ہی نہیں نکل سکتی۔ اس لیے کہ نصرت، محبت ، دوستی وغیرہ یہ کسی فرد خاص میں تو منحصر نہیں۔ تمام مومنین و مومنات ایک دوسرے کے دوست اور محب ہیں۔ ہم جو معنی
مراد لیتے ہیں یعنی نگران و مختارر کل اگر یہ مقصود نہ ہو اور آپ کے کہنے کی بنا پر دوست یا محب مقصود ہے تو پھر آخر رسول(ص) اس شد ومد سے حضرت علی(ع) کو ولی بنا کر ان کو کون سا امتیازی درجہ دینا چاہتے تھے یا کون سی فضیلت علی(ع) کو مل جاتی ہے اگر لفظ ولی سے مراد مددگار، دوست اور محب ہی کے مقصود ہیں تو ان احادیث کے ذریعہ حضرت علی(ع) کی ولایت کا اعلان کر کے کسی ڈھکی چھپی ہوئی بات کو رسول(ص) نمایاں کرنا چاہتے تھے؟
رسول(ص) کی شان کہیں اجل و ارفع ہے اس سے کہ باکل بدیہی اور ظاہری چیز کے واضح کرنے کے لیے اتنا اہتمام فرمائیں۔ آںحضرت(ص) کی حکمت ِ بالغہ، اندازِ عصمت، شان خاتمیت ان مہل خیالات و اوہام سے کہیں بزرگ برتر ہے علاوہ اس کے کہ ان احادیث میں تصریح ہے کہ علی بعد رسول(ص) لوگوں کے ولی ہیں، بعد رسول(ص) کی قید کو دیکھتے ہوئے کوئی چارہ کار ہی نہیں سوا اس کے کہ ولی کے معنی وہی لیے جائیں جو ہم لیتے ہیں یعنی نگران و مختار کل۔ورنہ رسول(ص) کا یہ قید لگانا مہمل ہوجاتا ہے۔
کیا حضرت علی(ع) رسول(ص) کی زندگی میں مسلمانوں کے محب ومددگار نہ تھے؟ کیا آپ کو کسی لمحہ بھی مسلمانوں کی نصرت سے منہ موڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ حضرت علی(ع) تو جب سے آغوش رسالت میں پل کر اور کنارِ تربیت پیغمبر(ص) میں پرورش پاکر نکلے اس وقت سے رسول(ص) کی رحلت کے وقت تک مسلمانوں کے ناصر رہے۔ مسلمانوں کے دوست و محب رہے ۔لہذا یہ کہنا کیونکہ صحیح ہوسکتا ہے کہ رسول(ص) کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد علی(ع) مسلمانوں کے ناصر و مددگار ہیں۔ دوست اور محب ہیں۔
ہم جو لفظ ولی سے معنی سمجھتے ہیں اسی کے واقعا مقصود مراد ہونے
پرمن جملہ اور قرائن کے ایک وہی حدیث کافی ہے جو امام احد بن حنبل نےمسند جلد5 صفحہ 347 پر بطریق صحیح روایت کی ہے۔ بریدہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ :
“ میں حضرت علی(ع) کےساتھ یمن کی جنگ میں شریک تھا حضرت علی(ع) کچھ سختی سے پیش آتے تھے۔ میں جب رسول(ص) کی خدمت میں پہنچا تو اس کا ذکر کیا اور حضرت علی(ع) کی کچھ تنقصت کی میں نے دیکھا کہ رسول(ص) کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ اے بریدہ الست اولیٰ بالمومنین من انفسہم کیا میں مومنین سے بڑھ کر ان پر اختیار نہیں رکھتا ۔ میں نے کہا بے شک یا رسول اﷲ(ص) ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یاد رکھو : جس جس کا میں مولی ہوں علی(ع) اس کے مولی ہیں۔”
اس حدیث کو امام حاکم نے مستدرک ج2 صفحہ 120 پر درج کیا ہے اور امام مسلم کے نزدیک جو شرائط صحت ہیں ان کے لحاظ سے صحیح قرار دیا ہے۔ نیز علامہ ذہبی نے بھی تلخیص میں اسے درج کیا ہے اور بشرائط مسلم اس کی صحت کا اعتراف کیا ہے۔
رسول(ص) کا جملہ الست اولی بالمومنین من انفسہم کو مقدم کرنا پہلے یہ اقرار لے لینا کہ کیا میں تم سے زیادہ اولی نہیں ہوں بین دلیل ہے کہ لفظ ولی سے مقصود وہی معنی ہیں جو ہم سمھتے ہیں کوئی دوسرا نہیں۔
ان احادیث پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو خود بخود مطلب واضح ہوجائے گا اور ہمارے قول میں کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے گا۔
ش
مکتوب نمبر20
واقعی آپ بڑی قوتِ استدلال کے مالک ہیں۔کوئی نبرد آزما آپ کے مقابلہ میں میدان بحث میں جم نہیں سکتا۔ مجھے یقین ہے کہ تمام احادیث اسی مطلب پر دلالت کرتی ہیں جو آپ نے بیان کیا اگر صحابہ ( کے مسلک) کو صحیح سمجھنے کی مجبوری نہ ہوتی تو میں آپ کے فیصلہ پر سرتسلیم خم کردیتا لیکن مجبوری یہ ہے کہ ہم صحابہ کے مسلک سے اںحراف نہیں کرسکتے اور نہ ان کے سمجھے ہوئے معنی و مطلب کے علاوہ کوئی دوسرا معنی سمجھ سکتے ہیں لہذا خواہ مخواہ حدیث کو س کی ظاہری معنی سے پھیرنا ہی پڑے گا۔ ظاہری معنی چھوڑ کر کوئی معنی مراد لینا ہی ہوگا تاکہ سلف صالحین کا دامن ہاتھ سے جانے نہ پائے اور ان کے جادہ سے اپنے قدم نہ ہٹیں ۔ آپ نے سابق مکتوب میں جس آیت محکمہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ کہ یہ بھی ہمارے قول کی موئد ہے آپ نے اس کی تصریح نہیں فرمائی براہ کرم لکھیے کہ وہ کون سی آیت ہے۔
س
جوابِ مکتوب
وہ آیہ محکمہ کلامِ مجید کی سورہ مائدہ کی یہ آیت ہے :
“ إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ وَ مَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغالِبُونَ” (مائدہ ، 55۔ 56)
“ بے شک تمھارا ولی خدا ہے اس کا رسول(ص) ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوة دیتے ہیں در آںحالیکہ وہ رکوع میں ہوتے ہیں۔ جو شخص خدا اور اس کے رسول(ص) اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے اپنا ولی سمجھے گا تو یہ سمجھ رکھو کہ خدا کی جمعیت ہی غالب رہنے والی ہے۔”
اس آیت کےامیرالمومنین(ع) کی شان میں نازل ہونے کے متعلق ائمہ طاہرین(ع) سے متواتر صحیح احادیث موجود ہیں۔ ائمہ طاہرین(ع) سے قطع نظر دیگر طریقوں سے جتنی روایتیں اس آیت کے سلسلہ میں پائی جاتی ہیں اور جو شان نزول آیت کے متعلق نص صریح ہیں ان میں ایک ابن اسلام ہی کی حدیث کو لے لیجیے جو رسول(ص) سے مرفوعا مری ہے ملاحظہ ہو صحیح نسائی یا کتاب الجمع بین الصحاح ستہ بسلسلہ تفسیر سورہ مائدہ اسی جیسی ایک حدیث ابن عباس سے مروی ہے اور ایک حدیث امیرالمومنین(ع) سے۔ ابن عباس کی حدیث امام واحدی کی کتاب اسباب النزول میں بسلسلہ تفسیر آیت انما موجود ہے
جسے کتاب متفق میں علامہ خطیب نے بھی درج کیا ہے۔ امیرالمومنین(ع) کی حدیث بسند ابن مردویہ اور مسند ابو الشیخ میں موجود ہے کنزالعمال جلد5 صفحہ 405 پر بھی آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔
علاوہ اس کے اس آیت کا امیرالمومنین(ع) کی شان میں نازل ہونا ایسا مسلم ہے جس سے انکار ہی نہیں کیا جاسکتا۔ تمام مفسرین اجماع کیے بیٹھے ہیں اور مفسرین کے اس اجماع کو سینکڑوں علمائے اعلام اہلسنت نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے منجملہ ان کے علامہ قوشجی نے شرح تجرید کے مبحث امامت میں اس اجماع کا ذکر کیا ہے۔
غایة المرام باب 18 میں 24 حدیثیں بطریق جمہور مذکور ہیں جو شان نزول کے متعلق ہماری موئد ہیں۔ ایک تو اختصار ملحوظ ہے ، دوسرے یہ مسئلہ آفتاب سے بھ زیادہ واضح ہے ورنہ ہم وہ تمام صحیح احادیث اکٹھا کردیتے جو اس آیت کے حضرت علی(ع) کی شان مین نازل ہونے کے متلعق مروی ہیں لیکن یہ تو وہ نا قابل انکار حقیقت ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔
پھر بھی ہم اس مکتوب کو جمہور کی حدیث سے خالی نہیں رکھنا چاہتے صرف ایک امام ابواسحق احمد بن محمد بن ابراہیم نیشاپوری ثلعبی کی تفسیر کا حوالہ دے دیتے ہیں۔
امام مذکور اپنی تفسیر میں اس آیت پر پہنچ کر بسلسلہ اسناد جناب ابوذر کی ایک حدیث درج فرماتے ہیں ۔ جناب ابوذر فرماتے ہیں کہ :
“ میں نے خود اپنے کانوں سے رسول اﷲ(ص) کو کہتے سنا ( اگر میں غلط کہتا ہوں تو میرے دونوں کان بہرے ہوجائیں) اور میں نے اپنی ان آنکھوں سے رسول(ص) کو دیکھا ( ورنہ میری دونوں آنکھیں
کور ہو جائیں) رسول(ص) فرماتے تھے کہ علی(ع) نیکو کاروں کے قائد کافروں کے قاتل ہیں۔ جو علی(ع) کی مدد کرے گا وہ نصرت یافتہ ہوگا اور جو علی(ع) کا ساتھ نہ دے گا اس کی مدد نہ کی جائے گی۔ میں نے ایک دن رسول(ص) کے ساتھ نماز پڑھی ایک سائل نے مسجد میں آکر سوال کیا کسی نے کچھ نہ دیا۔ حضرت علی(ع) حالتِ رکوع میں تھے۔ آپ نے اپنی انگلی کی طرف اشارہ کیا جس میں انگوٹھی پہنے ہوئے تھے ۔ سائل بڑھا اور اس نے انگوٹھی اتار لی ۔ اس پر رسول اﷲ(ص) نے خدا کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر دعا مانگی ۔ عرض کیا میرے معبود ! میرے بھائی موسی نے تجھ سے سوال کیا تھا ( کہا تھا کہ اے میرے معبود ! میرے سینہ کو کشادہ فرما میرے معاملہ کو سہل بنا، میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے اہل میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا۔ ان کے ذریعہ میری کمر مضبوط کر اسے میرا شریک کار قرار دے تاکہ ہم دونوں زیادہ تیری تسبیح کریں اور بہت زیادہ ذکر کریں تو ہماری حالت کو بخوبی دیکھنے والا ہے تو خداوندا تو نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ تمھاری تمنائیں پوری کی گئیں) اے میرے معبود! میں تیرا نبی(ص) ہوں میرے سینہ کو بھی کشادہ فرما میرے معاملہ کو سہل کر اور میرے اہل سے علی(ع) کو میرا وزیر بنا اس کے ذریعہ میری کمر کو مضبوط کر۔۔۔ جناب ابوذر فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم رسول(ص) کا کلام پورا بھی نہ ہونے پایا تھا کہ جبرئیل امین اس آیت انما کو لے کر نازل ہوئے ” جز این نیست کہ تمھارا
حاکم و مختار خدا ہے اور اس کا رسول(ص) اور وہ لوگ جو ایمان لائے جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں جو شخص خدا اور رسول (ص) اور ایمان لانے والوں سے وابستہ ہوگا تو کوئی شبہ نہیں کہ خدا کی جمعیت ہی غلبہ پانے والی ہے۔”
آپ سے مخفی نہیں کہ اس جگہ ولی سے مراد ولی بالتصرف ہی ہے جیسے ہم لوگوں کے اس قول میں کہ فلاں ولی القاصر ہے، ولی سے مقصود اولیٰ بالتصرف ہے۔ اہل فقہ نے تصریح کردی ہے کہ ہر وہ شخص جو کسی کے معاملات میں متصرف و مختار ہو وہ اس کا ولی ہے لہذا اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ جو تمھارے امور کے مالک و مختار ہیں اور تم سے زیادہ تمھارے امور میں تصرف کا حق رکھتے ہیں وہ خداوند عالم ہے اور اس کا رسول(ص) اور علی(ع) کیونکہ حضرت علی(ع) ہی کی ذات بس ایک ایسی ذات ہے جس میں آیت کے مذکورہ بالا صفات مجتمع تھے۔ ایمان، نماز کو قائم کرنا اور بحالتِ رکوع زکوة دینا اور آپ ہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
خداوند عالم نے اس آیت میں اپنے لیے، اپنے رسول(ص) کے لیے اپنے ولی کے لیے ایک ہی ساتھ ولایت ثابت کی ہے، ایک ہی ذیل میں جس طرح خود ولی ہے اسی طرح بغیر کسی فرق کے اپنے رسول(ص) اور اپنے ولی کو بھی لوگوں کا ولی فرمایا ۔ یہ ظاہر ہے کہ خداوند عالم کی ولایت عام ہے لہذا نبی(ص) اور ولی کی ولایت جیسی عام ہونا چاہیے، وہ جن معنوں میں ولی ہے اور جس حیثیت کی ولایت اسے حاصل ہے ٹھیک انھیں معنوں میں اور اسی حیثیت سے امیرالمومنین(ع) کو بھی ولایت حاصل ہونی چاہیے۔
اور یہاں تو یہ ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ ولی نصیر یا محب وغیرہ مراد
لیا جائے ورنہ حصر کی کوئی وجہ باقی نہ رہے گی۔ جب ولی کے معنی مددگار یا دوست ہی کے لیے جائیں تو پھر اس کا انحصار صرف تین فردوں میں کیونکر صحیح ہوگا۔ کیا بس خدا اور رسول(ص) اور علی(ع) ہی مومنین کے دوست ہیں اور مددگار ہیں۔ دوسرا کوئی نہیں ؟ حالانکہ خود خداوند عالم نے فرمایا ہے کہ : مومنین ایک دوسرے کے اولیاء ہیں، دوست ہیں، مددگار ہیں میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ دنیا میں جتنی بدیہی چیزیں ہیں انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے یعنی آیہ مبارکہ میں ولی سے مراد اولیٰ بالتصرف ہونا نہ کہ محب ، دوست، نصیر وغیرہ ۔
ش
مکتوب نمبر21
آپ کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ لفظ “ الذین آمنوا ” جمع ہے اور امیرالمومنین(ع) شخص واحد ہیں لہذا جمع کا اطلاق مفرد پر کیونکر صحیح ہے؟
س
جواب مکتوب
اہل عرب عموما جمع بول کر مفرد مراد لیا کرتے ہیں اس سے ایک خاص نکتہ ملحوظ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ ایسا کرتے ہیں۔
اس کے ثبوت میں سورہ آل عمران کی یہ آیت پڑھیے :
“ الَّذينَ قالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا
لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزادَهُمْ إيماناً وَ قالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَ نِعْمَ الْوَكيلُ”( آل عمران، 173)
“ وہ لوگ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمھارے خلاف ایکا کر لیا ہے، تم ڈرو ان سے مگر ان کے ایمان میں اور اضافہ ہی ہوا، انھوں نے کہا کہ خدا ہمارے لیے کافی ہے اور وہی بہترین وکیل ہے۔”
آیت میں ہے کہ لوگوں نے کہا ۔ ناس کا لفظ استعمال کیا گیا ہے حالانکہ تمام مفسرین و محدثین و اہل اخبار کا اجماع ہے کہ کہنے والا فقط ایک تھا نعیم بن مسعود اشجعی ۔ خداوند عالم نے صرف ایک نعیم بن مسعود پر جو مفرد ہے لفظ ناس کا اطلاق کیا ہے جو جماعت کے لیے بولا جاتا ہے ۔ ایسا کیوں کیا گیا۔ ان لوگوں کی عظمت و جلالت ظاہر کرنے کے لیے جنھوں نے نعیم بن مسعود کی باتوں پر توجہ نہ کی اور اس کے ڈرانے سے ڈرے نہیں۔ واقعہ یہ تھا کہ ابوسفیان نے نعیم بن مسعود کو دس اونٹ اس شرط پر دیے کہ مسلمانوں کو خوفزدہ کرے اور مشرکین سے خوف دلائے اور اس نے ایسا ہی کیا تو نعیم نے اس دن جو باتیں کہی تھیں انھیں میں سے یہ جملہ بھی تھا۔ لوگوں نے تمھارے خلاف ایکا کر لیا ہے ۔ تم ڈرو ان سے، اس کے ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر مسلمان جنب میں جانے سے گھبرا گئے لیکن پیغمبر(ص) 70 سواروں کو لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ اور صحیح و سالم واپس آئے۔ اس موقع پر یہ آیت ان ستر مسلمانوں کی مدح میں نازل ہوئی جو رسول(ص) کے ہمراہ گئے اور ڈرانے والے کے کہنے سے ڈرے نہیں خداوند عالم نے یہاں مفرد ( یعنی نعیم بن مسعود) پر ناس کا لفظ جو بولا
تو عجیب پاکیزہ نکتہ ہے اس میں۔ کیونکہ اس ستر کی تعریف جو رسول(ص) کے ہمراہ گئے یہ کہہ کر کرنا کہ وہ لوگوں کے کہنے اور ڈرانے سے نہیں ڈرے کہیں بلیغ تر ہے بہ نسبت اس کے کہ اگر یہ کہا جاتا کہ وہ ایک شخص کے ڈرانے سے نہیں ڈرے ( کیونکہ ایک شخص کا خوف دلانا اتنا خوف کا باعث نہیں ہوتا جتنا ایک جماعت کا ڈرانا خوف کا باعث ہوتا ہے۔)
اس جیسی بہت سی مثالیں آپ کو کلام مجید، احادیثِ پیغمبر(ص) اور کلام عرب میں ملیں گی۔ کلام مجید ہی میں ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے :
“يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَنْ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ”( مائدہ ، 11)
“ اے لوگو! جو ایمان لائے خدا کے اس نعمت و احسان کو یاد کرو جب ایک قوم نے ارادہ کیا کہ تمھاری طرف برائی کا ہاتھ بڑھائے تو خداوند عالم نے اس کے ہاتھ کو تم سے روک دیا۔”
اس آیت میں قوم کا لفظ وارد ہوا ہے ۔ قوم نے برائی کا ہاتھ بڑھایا حالانکہ ہاتھ بڑھانے والا صرف ایک شخص تھا۔ قبیلہ محارب سے جس کا نام غورث تھا۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ بنی نضیر کا ایک شخص عمرو بن جحاش تھا جس نے کسی قضیہ میں جس کا مفسرین و محدثین اہل اخبار نے بھی ذکر کیا ہے تلوار کھیچ لی تھی اور چاہتا تھا کہ رسول(ص) کو قتل کر ڈالے ، مگر خدا نے آپ کی حفاظت کی۔ ابن ہشام نے اپنی سیرة کی جلد3 میں اسے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر لکھا ہے۔ تو خداوند عالم نے اس
ایک اکیلے شخص کے لیے جو مفرد ہے لفظ قوم استعمال کیا جو جماعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس مقصود رسول(ص) کی سلامتی میں جو نعمت الہی تھی اس کی عظمت و جلالت جتانا تھا۔
اس طرح یہ آیہ مباہلہ میں خداوند عالم نے لفظ ابناء ، نساء اور انفس کے الفاظ جو حقیقتا عموم کے لیے ہیں حسنین(ع) و فاطمہ(س) و حضرت علی علیہم السلام کےلیے خاص کر استعمال کیے ہیں۔ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ الفاظ صرف انہی حضرات کے لیے استعمال ہوئے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ان کی عظمت شان و جلالتِ قدر کا اظہار مقصود تھا اور بھی بہت سے نظائر ہیں بے شمار و بے حساب۔ یہ چند مثالیں بطور دلیل نقل کر دی گئیں کہ جمع کا لفظ مفرد پر بھی بول سکتے ہیں، جبکہ کوئی خاص غرض کوئی مخصوص نکتہ پیش نظرہو۔
علامہ طبری تفسیر مجمع البیان میں اس آیت کی تفسیر لکھتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ اس آیت میں امیرالمومنین(ع) کے لیے جمع کا لفظ استعمال کرنے میں قدرت کو نکتہ یہ ملحوظ تھا کہ آپ کی بزرگی ظاہر کرے۔ عظمت و جلالت بیان کرے۔ اہل لغت بطور تعظیم جمع بول کر واحد مراد لیا کرتے ہیں اور یہ ان کی بہت مشہور عادت ہے۔ اس پر کسی دلیل کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
علامہ ذمخشری نے تفسیر کشاف میں ایک دوسرا نکتہ ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں :
“ اگر تم یہ کہو اس آیت کا حضرت علی(ع) کی شان میں نازل ہونا کیسے صحیح ہے حالانکہ لفظ جمع استعمال ہوا ہے تو میں کہوں گا کہ گو یہ آیت شخص واحد ہی کے متعلق ہے مگر لفظ جمع اس لیے لایا گیا ہے تاکہ دوسروں کو بھی ان کے جیسا کرنے کی رغبت پیدا ہو۔ وہ بھی ایسی جزا پائیں جیسی علی(ع) کو ملی۔
ایک تو وجہ یہ تھی ، دوسری وجہ یہ تھی کہ خداوند عالم متنبہ کرنا چاہتا تھا کہ دیکھو مومنین کی خصلت ایسی ہونی چاہیے نیکی و احسان کرنے اور نادار و صاحبان احتیاج کی تلاش و جستجو میں اس درجہ آرزو مند ہونا چاہیے کہ اگر وہ نماز کی حالت میں بھی ہوں تو اسے نماز سے فراغت پر نہ اٹھا سکیں ۔ بلکہ نماز ہی کی حالت میں بجالائیں۔”
میرے ذہن میں ایک بہت ہی لطیف و باریک نکتہ آیا وہ یہ کہ خداوند عالم نے مفرد لفظ چھوڑ کر جمع کا لفظ جو استعمال فرمایا تو اکثر لوگوں پر اس کا بڑا فضل و کرم ہوا بڑی عنایت ہوئی خداوند عالم کی کیونکہ دشمنان علی(ع) اور اعداء بنی ہاشم اور تمام منافقین اور حسد وکینہ رکھنے والے اس آیت کو بصیغہ مفرد سننا برداشت کیسے کرتے وہ تو اس طمع میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے کہ ممکن ہے کہ کسی دن ںصیبا یاوری کرے اور رسول کی آنکھ بند ہونے کے بعد ہم حاکم بن جائیں ۔ جب ان کو یہ پتہ چل جاتا کہ خداوند عالم نےحکومت بس تین ہی ذاتوں میں منحصر کردی، خدا و رسول(ص) اور علی(ع) ہی بس
حاکم ہیں۔ تو وہ مایوس ہو کر نہ معلوم کیا کیا آفتیں برپا کرتے اور اسلام کو کن کن خطرات کا سامنا کرنا پڑتا۔ ان کے فتنہ و فساد ہی کے خوف سے آیت میں باوجود علی(ع) کے شخص واحد ہونے کے جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ۔ پھر بعد میں رفتہ رفتہ مختلف پیرایہ میں متعدد مقامات پر تصریح ہوتی رہی اور ولایت امیرالمومنین(ع) بہت سے دلوں پر شاق تھی اس لیے فورا ہی کھلم کھلا اعلان نہیں کردیا گیا۔
اگر اس آیت میں مخصوص عبارت لا کر مفرد کا استعمال کر کے آپ کی ولایت کا اعلان کردیا جاتا تو لوگ کا نوں میں انگلیاں دے لیتے او سرکشی پر اڑ جاتے۔ یہی انداز حکیمانہ قرآن مجید کی ان تمام آیات میں جاری و ساری ہے جو اہل بیت(ع) کی شان میں نازل ہوئیں۔ ہم نے اپنی کتاب سبیل المومنین میں اس کی با قاعدہ توضیح کی ہے۔ محکم ادلہ و براہین ذکر کیے ہیں۔
ش
مکتوب نمبر22
یہاں آیت دلالت کرتی ہے کہ ولی سے دوست یا اسی جیسے معنی مراد ہیں
خدا آپ کا بھلا کرے ۔ آپ نے میرے شکوک دور کردیے۔ شبہات کے بادل چھٹ گئے۔ حقیقت نکھر گئی۔ البتہ ایک کھٹک رہی جاتی ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آیت اس موقع کی ہے جہاں خداوند عالم نے کافرین کو دوست بنانے سے منع کیا ہے۔ جیسا کہ قبل و بعد کی آیات سے پتہ چلتا ہے ۔ لہذا سلسلہ آیت قرینہ ہے کہ اس جگہ ولی سے مراد دوست یا محب یا مددگار کے ہیں ۔ اس کا آپ کیا جواب دیں گے؟
س
جوابِ مکتوب
سیاق آیت سے اس قسم کی معنی نہیں نکلتے
اس کا جواب یہ ہے کہ مطالعہ سے آسانی سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ آیت اپنے ماقبل کی ان آیتوں سے جن میں کفار کو دوست بنانے سے نہی کی گئی ہے کوئی تعلق نہیں رکھتی اس سلسلہ سے اسے کوئی واسطہ نہیں بلکہ یہ امیرالمومنین(ع) کی مدح و ثنا میں نازل ہوئی ہے کیونکہ اس میں مرتدین کو آپ کی شجاعت سے خوف دلایا گیا ہے۔ آپ کے سطوت و غلبہ کی دھمکی دی گئی ہے اور من جملہ ان آیات کے ہے جن میں امیرالمومنین(ع) کے سزاوارِ امامت و خلافت ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہےاس لیے کہ اس آیت کے پہلے بالکل ہی متصل جو آیت ہے یعنی :
“يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكافِرينَ يُجاهِدُونَ في سَبيلِ اللَّهِ وَ لا يَخافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتيهِ مَنْ يَشاءُ وَ اللَّهُ واسِعٌ عَليمٌ ” (مائده، 54)
“ اے ایمان والو جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھرا ( وہ یاد رکھے) کی جلد ہی خدا ایک ایسی قوم کو لائے گا جسے خدا بھی محبوب رکھتا ہے اور وہ لوگ بھی خدا کو محبوب رکھتے ہیں
مومنین کے آگے منکسر مزاج و خکسار ہیں ۔ کافروں کے مقابلہ میں قوت و طاقت والے ہیں۔ خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتے یہ خدا کا فضل و کرم ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے توازتا ہے اور خدا بہت و سیع علم رکھنے والا ہے۔”
یہ آیت خاص کر امیرالمومنین(ع) کی شان میں نازل ہوئی جس میں آپ اور آپ کے اصحاب کی ہیبت و شجاعت سے خوف دلایا گیا ہے جیسا کہ خود امیرالمومنین(ع) نے جنگ جمل میں اس کی صراحت کی ہے نیز امام محمد باقر(ع) و جعفر صادق(ع) نے بھی تصریح فرمائی ہے ۔ ثعلبی نے بھی اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے اور صاحب مجمع البیان نے جناب عمار، حذیفہ، ابن عباس ان تمام بزرگوں سے مروی روایات ذکر کی ہیں۔
مختصر یہ کہ ہم شیعوں کے یہاں اس آیت کا امیرالمومنین(ع) کی شان میں نازل ہونا اجماعی مسئلہ ہے اور ائمہ طاہرین(ع) سے بکثرت صحیح اور حدِتواتر تک پہنچی ہوئی روایات بھی مروی ہیں لہذا اس بنا پر یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ پہلی آیت سے خداوند عالم نے پہلے ولایت امیرالمومنین(ع) کا اشارة ذکر فرمایا ۔ آپ کی امامت کا مجمل لفظوں میں ذکر کیا اور اس کے بعد آیت انما نازل فرما کر سابقہ اجمال کی تفصیل فرمادی۔ اس اشارہ کو واضح کردیا۔ لہذا یہ کہنا کیونکر صحیح ہے کہ یہ آیت انما ان آیتوں کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے جن میں کفار کو دوست بنانے کی نہی کی گئی ہے۔
علاوہ اس کے سروکائنات(ص) نے اپنے اہل بیت(ع) کو بمنزلہ قرآن قرار دیا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ :
“ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے”
لہذا اہل بیت(ع) ہم پلہ کتاب الہی ہیں اور انھیں سےحقیقت و واقعیت کا پتہ چل سکتا ہے ۔ کلام مجید اور اس کی آیتوں کے متعلق ان کے اقوال جتنے معتبر ہوں گے کسی اور کے نہیں۔ حضرات اہل بیت(ع) نے برابر اسی آیت سے اپنی حقیقت پر استدلال کیا۔ اسی کو بطور حجت پیش کیا۔ انھوں نے ولی کو وہی تفسیر فرمائی ہے جو ہم نے بیان کیا لہذا ان حضرات کے اقوال کے سامنے سیاق کو کوئی وزن نہیں دیا جاسکتا۔ اور اگر سیاق کلام کو ہم تسلیم بھی کرلیں کہ وہ ان کی نصوص و تصریحات کے معارض ہے تو ایک تو نص کے مقابلہ میں ظاہر کا وزن ہی کیا دوسرے یہ کہ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ سیاق کے مقابلہ میں ادلہ کو ترجیح حاصل ہے۔ دلیلوں کے مقابلے میں سیاق کو کوئی حقیقت نہیں اسی وجہ سے اگر کسی موقع پر سیاق اور دلیل کے درمیان تعارض پیدا ہوجاتا ہے تو سیاق کے مدلول پر عمل نہیں کیا جاتا بلکہ اسے چھوڑ کر دلیل کے حکم کی پابندی کی جاتی ہے اور اس کا راز یہ ہے کہ جس موقع پر سیاق آیت اور دلیل میں تعارض پیدا ہوتا ہے تو اس آیت کی اسی سیاق اور اسی سلسلہ کلام میں نازل ہونے کا وثوق نہیں ہوتا ۔ یقینی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ آیت اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ کیونکہ اس سے کسی کو بھی انکار
نہیں ہے کہ کلام مجید جمع کرتے وقت آیتوں کی وہی ترتیب نہیں رکھی گئی جس ترتیب سے وہ نازل ہوئیں۔ کلام مجید کا مطالعہ کیجیے۔ آپ کو بہت سی آیتیں ملیں گی جو نظم آیات سے کوئی رابطہ نہیں رکھتیں۔ ان آیات میں سے کچھ بیان کیا گیا ہے اور اس کی ماقبل کی آیات کا سلسلہ بیان کچھ اور ہے جیسے آیہ تطہیر ہی کو لیجیے جس کا پنجتن پاک کی شان میں نازل ہونا ثابت و مسلم ہے ، مخصوص ہے بس انھیں خمسہ نجباء سے لیکن ذیل میں واقع ہوئی ہے تذکرہ ازواج پیغمبر(ص) کے۔ خلاصہ کلام یہ کہ اس آیہ انما سے ایسے معنی کا مراد و مقصود ہونا جو مفہوم سیاق کے مغائر ہے اس سے نہ تو کلام مجید کی شان اعجاز پر کوئی حرف آتا ہے اور نہ اس کی بلاغت میں کوئی کمی پیدا ہوتی ہے چونکہ قطعی دلیلیں موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ انما ولیکم اﷲ سے مراد اولیٰ بالتصرف ہی ہے نہ کہ غیر ۔ لہذا کوئی چارہ کار ہی نہیں سوائے اس کے کہ اس آیت کو سیاق کے مخالف مفہوم پر حمل کیا جائے اور ولی سے مراد اولی بالتصرف لیا جائے نہ کہ دوست یا محب۔
ش
مکتوب نمبر23
مراد آیت میں تاویل ضروری ہے تاکہ سلف پر آنچ نہ آئے
اگر درمیان میں خلفائے راشدین کی خلافت نہ ہوتی جس کے صحیح ہونے پر ہم لوگ ایمان لائے بیٹھے ہیں تو ہماری بھی وہی رائے ہوتی جو آپ کی رائے ہے اور آیت کے معنی وہی سمجھتے جو آپ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان ہر بزرگواروں کی خلافت میں شک و شبہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں لہذا بچنے کی صرف یہی صورت ہے کہ اس آیت کی ہم تاویل کردیں۔ تاکہ ہم ان خلفاء کو بھی صحیح و درست سمجھیں اور ان لوگوں کو بھی جنھوں نے بیعت کر کے ان کو خلیفہ تسلیم کیا۔
س
جوابِ مکتوب
سلف کا احترام مستلزم نہیں کہ آیت کے معنی میں تاویل کی جائے ۔ تاویل ہو بھی کیا جاسکتی ہے
خلافت خلفائے راشدین ہی کے متعلق تو بحث ہے۔ اسی پر تو گفتگو ہورہی ہے۔ لہذا ادلہ کے مقابلہ میں ان کی خلافت کو لانا کتنی مضحکہ خیز بات ہے۔
دوسرے یہ کہ ان خلفاء کو اور ان کی بیعت کرنے والوں کو صحت و درستی پر سمجھنے کے لیے یہ کب ضروری ہے کہ آپ ادلہ میں تاویل کرنے لگیں آپ ان کو معذور سمجھ سکتے ہیں۔ اگر ضرورت ہوئی تو ہم آئندہ اس پر روشنی ڈالیں گے۔
ہم نے جن نصوص کا ذکر کیا ہے یا دیگر نصوص جن کے ذکر کی کوئی نوبت نہیں آئی ہے جیسے نص غدیر یا نصوص وصیت۔ آپ ان کی تاویل کر بھی کیا سکتے ہیں؟ خصوصا ان نصوص کو جب بے شمار ایسی احادیث بھی موئد ہوں جو بجائے خود نصوص صریحہ سے کم وزن نہیں رکھتیں۔
نصوص صریحہ کو الگ رکھیے صرف انھیں احادیث پر اگر انصاف سے کام لیتے ہوئے غور کیجیے تو صرف انھیں احادیث ہی کو آپ قطعی دلیلیں اور بین ثبوت پائیں گے۔ جنھیں سوا تسلیم کرنے کے کوئی چارہ کار نظر نہ آئے گا آپ کو۔
ش
مکتوب نمبر 24
آپ نے جن احادیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ بھی نصوص کی موئد ہیں آپ ن ان کی تفصیل نہیں فرمائی۔ براہ کرم اس کی بھی تشریح فرمائیں۔
س
جوابِ مکتوب
ان نصوص کی موئد صرف چالیس حدیثین ہم اس مقام پر ذکر کرتے ہیں امید ہے کہ یہی آپ کے لیے کافی ہوں گی۔
1ـ سروکائنات(ص) نے حضرت علی(ع) کی گردن پر ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا :
“ هذا إِمَامُ الْبَرَرَةِ وَ قَاتِلُ الْفَجَرَةِ
مَنْصُورٌ مَنْ نَصَرَهُ مَخْذُولٌ مَنْ خَذَلَهُ ”
“ یہ علی(ع) نیکو کاروں کے امام اور فاجروں کو قتل کرنے والے ہیں جس نے ان کی مدد کی وہ کامیاب ہوا اور جس نے ان کی مدد سے منہ موڑا اس کی بھی مدد نہ کی جائے گی۔”
یہ کہتے کہتے آپ کی آواز بلند ہوگئی۔”
امام حاکم اس حدیث کو مستدرک(1) ج2 صفحہ 129 پر جناب جابر سے مروی احادیث کے ذیل میں درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
“ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن نخاری و مسلم نے درج نہیں کیا۔”
2ـآنحضرت(ص) نے فرمایا :
“ أُوحِيَ إِلَيَّ فی عَلِي ثلاث سَيِّدُ المسلمين وَ إِمَامُ الْمُتَّقِينَ وَ قَائِدُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ”
“ علی(ع) کے متعلق مجھے تین باتیں بذریعہ وحی بتائی
--------------
1ـ کنزالعمال میں بھی یہ حدیث موجود ہے ملاحظہ ہو حدیث نمبر2527 صفحہ 153 جلد 6 ۔ نیز ثعلبی نے اپنی تفسیر کبیر میں بلسلہ تفسیر آیت ولایت جناب ابوذر کی حدیثوں کے سلسلہ میں اس حدیث کو لکھا ہے۔
گئی ہیں۔ علی(ع) مسلمانوں کے سردار ہیں، متقین کے امام ہیں اور روشن جبین نمازیوں کے قائد ہیں۔”
اس حدیث کو امام حاکم مستدرک ج 3 صفحہ 138 پر درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
“ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن بخاری و مسلم نے ذکر نہیں کیا(1) ۔”
3ـ علی(ع) کے متعلق مجھے بذریعہ وحی بتایا گیا کہ وہ مسلمانوں کے سردار ، متقین کے ولی اور روشن پیشانی والوں کے قائد ہیں۔”(2)
اس حدیث کو ابن نجار اور بہت سے ارباب سنن نے ذکر کیا ہے۔
4ـ آںحضرت(ص) نے علی(ع) سے فرمایا :
“ مَرْحَباً بِسَيِّدِ الْمُسْلِمِينَ وَ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ ”
اس حدیث کو حلیتہ الاولیاء میں ابن نعیم نے درج کیا ہے۔(3)
--------------
1ـبارودی ، ابن قانع ، ابونعیم نے اس حدیث کو درج کیا ہے۔ کنزالعمال جلد6 صفحہ 151 پر بھی موجود ہے۔ حدیث 2628 ملاحظہ ہو۔
2ـکنزالعمال جلد6 صفحہ157 حدیث 263۔
3ـ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ ج 2 صفحہ 450 پر اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔ کنز العمال میں بھی یہ حدیث موجود ہے ملاحظہ ہو حدیث 2627 کنزالعمال جلد6 صفحہ 157۔
“ اول من يدخل من هذا الباب إمام المتّقين، وسيد المسلمين، و يعسوب الدين و خاتم الوصيين وقائد الغُرّ المحجَّلين ”
“ پہلا وہ شخص جو اس دروازے سے داخل ہوگا وہ متقین کا امام ۔ مسلمین کا سردار، اور دین کا امیراور وصییوں کا خاتم اور رشن پیشانی والوں کا قائد ہے۔”
سب سے پہلے حضرت علی(ع) آئے رسول(ص) نے دیکھا ۔ تو آپ کا چہرہ کھل گیا۔ دوڑ کر علی(ع) کو گلے سے لگا لیا اور آپ کی پیشانی کا پسینہ پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے :
“ تم میری طرف سے حقوق ادا کرو گے، تم میرا پیام لوگوں تک پہنچاؤ گے اور میرے بعد جب اختلافات پیدا ہوں گے تو تم ہی راہ حق واضح کرو گے۔”(1)
“إن اللّه عهد إلى في علي أنّه راية الهدى و إمام أوليائي و نور من أطاعني و هو الكلمة التي ألزمتها المتقين”
--------------
1ـ حلیتہ الاولیاء ابونعیم اصفہانی و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد2 صفحہ 450
“ علی(ع) کے متعلق مجھے خداوند عالم نے جتادیا ہے کہ وہ علم ہدایت ہیں، میرے دوستوں کے امام ہیں اور میری اطاعت کرنے والوں کے لیے نور ہیں علی(ع) ہی وہ کلمہ ہیں جسے میں نے متقین کے لیے لازم کر دیا ہے۔”(1)
آپ دیکھتے ہیں کہ مذکورہ بالا حدیثوں حضرت علی(ع) کی امامت کے متعلق کتنی صاف اور صریحی نصوص ہیں آپ کی اطاعت و فرمانبرداری واجب و لازم ہونے کے روشن ثبوت ہیں۔
7ـ“إِنَّ هَذَا أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي وَ هَذَا أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ هَذَا الصَّدِّيُقِ الْأَكْبَرُ، وَ هَذَا فَارُوقُ هَذِهِ الْأُمَّةِ يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ وَ هَذَا يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِين
“یہ علی(ع) پہلے وہ شخص ہیں جو مجھ پر ایمان لائے ۔ قیامت کے دن سب سے پہلے یہی مجھ سے مصافحہ کریں گے۔ یہی صدیق اکبر ہیں، یہی اس امت کے فاروق ہیں جو حق کو باطل سے جدا کریں گے۔ یہی مومنین کے سردار ہیں۔”(2)
--------------
1ـ حلیتہ الاولیاء ابونعیم اصفہانی و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد2 صفحہ 449۔
2ـ معجم کبیر طبرانی سنن بیہقی کامل، ابن عدی و کنز العمال جلد6 صفحہ 156 حدیث2608۔
8ـ “يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَ لَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَداً قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ هَذَا عَلِيٌ فَأَحِبُّوهُ بِحُبِّي وَ أَكْرِمُوهُ بِكَرَامَتِي فَإِنَّ جَبْرَئِيلَ ع أَمَرَنِي بِالَّذِي قُلْتُ لَكُمْ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَ عَلَا.”
“ اے گروہ اںصار میں تمھیں ایسی چیز نہ بتادوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہو۔ دیکھو یہی علی(ع) وہ ہیں تم مجھے جس طرح محبوب رکھتے ہو انھیں بھی محبوب رکھنا، میری جیسی عزت کرتے ہو ان کی بھی عزت کرنا یہ بات میں اپنے دل سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ امین وحی جبرئیل(ع) خدا کی طرف سے یہ حکم لے کر ؤئے ہیں۔”(1)
--------------
1ـ معجم کبیر طبرانی ، کنزالعمال جلد6 صفحہ 157 حدیث 2625 علامہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد2 صفحہ 450 پر درج کیا ہےملاحظہ فرمائیے کہ پیغمبر(ص) نے ان کے گمراہ ہونے کو شرط کیا ہے علی(ع) کے تمسک سے ۔ جب تک علی (ع) کا دامن پکڑے رہیں گے تب تک گمراہ نہ ہوں گے۔ اس کا صریحی مطلب یہ ہوا کہ جس نے علی(ع) سے تمسک نہ کیا وہ ضرور گمراہ ہوگا۔ نیز یہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ پیغمبر(ص) حکم دیتے ہیں کہ علی(ع) کے ساتھ بعینہ ویسی محبت کرو جیسی خود میرے ساتھ کرتے ہو اور ویسی ہی عزت کرو جیسی میری عزت کرتے ہو۔ یہ بات اس شخص کے لیے ہوسکتی ہے جو آپ(ص) کا ولیعہد ہو اور آپ کے بعد مالک و مختار اور فرمانبروا ہو ۔ جب آپ آںحضرت(ص) کے اس جملہ پر کہ “ میں نے جو کچھ کہا ہے اس کا حکم جبرئیل خدا کے یہاں سے لے کر آئے تھے۔” خود غور فرمائیں گے تو حقیقت اچھی طرح منکشف ہوجائے گی۔
9ـ “ أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا- فَمَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ”
“ میں شہر علم ہوں، علی(ع) اس کا دروازہ ہیں، جو شخص علم حاصل کرنا چاہیے وہ دروازے سے آئے۔”(1)
--------------
1ـ طبرانی نے کبیر میں ابن عباس سے اس حدیث کی روایت کی ہے، جیسا کہ سیوطی کی جامع صغیر صفحہ 107 پر مذکور ہے اور امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ 227 پر باب مناقب علی(ع) میں دو صحیح سندوں سے اس حدیث کی روایت کی ہے ایک عبدا ﷲ بن عباس سے جو دو صحیح طریقوں سے ہے دوسری جابر بن عبداﷲ انصاری سے ۔ اس کے طریق کی صحت پر انھوں نے قطعی دلیلیں قائم کی کی ہیں۔ امام احمد بن صدیق مغربی وارد قاہر نے ایک مستقل عظیم الشان کتاب خاص کر اس حدیث کی صحت ثابت کرنے کے لیے تحریر فرمائی ہے۔ کتاب کا نام فتح الملک العلی بصحت حدیث ثابت مدینہ العلم علی ہے۔ یہ کتاب 1345ھ میں مطبع الاسلامیہ مصر میں طبع ہوچکی ہے۔ تشگان علوم کو چاہیے کہ اس کتاب کو ضرور ملاحظہ فرمائیں کہ علوم کثیرہ پر مشتمل ہے ناصبی حضرات اس مشہور ومعروف حدیث کو متعلق جوہر خاص و عام کے ورد زبان ہے، ہر شہری و دیہاتی اس کا جانتا ہے جو بکواس کرتے ہیں اس کا کوئی وزن نہیں ہے۔ ہم نے ان کے اعتراضات کے غائر نظر سے دیکھا سوا زبردستی اور کٹھ حجتی ہمیں اور کوئی بات نظر نہ آئی سوائے اس کے کہ انھوں نے رکیک اعتراضات کر کے تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک دلیل بھی تو ٹھکانے کی نہیں ذکر کی۔ جیسا کہ حافظ صلاح الدین علائی نے علامہ ذہبی وغیرہ کے قول در بطلان حدیث ان مدینہ العلم کو نقل کرنے کے بعد تصریح کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے ایک بات بھی درست نہیں پیش کی جو قادح ہو اس حدیث کی صحت میں سوا وضعیت کے دعوی کے۔
10ـ “أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا.”
“ میں حکمت کا گھر ہوں، علی(ع) اس کا دروازہ ہیں۔”(1)
11ـ“ عَلِيٌّ بَابُ عِلْمِي وَ مُبَيِّنٌ لِأُمَّتِي مِنْ بَعْدِي مَا أُرْسِلْتُ بِهِ حُبُّهُ إِيمَانٌ وَ بُغْضُهُ نِفَاقٌ ”
“ علی(ع) میرے علم کا دروازہ ہیں اور میں جن چیزوں کو لے کر مبعوث ہوا، میرے بعد یہی ان چیزوں کو میری امت سے بیان کریں گے۔ ان کی محبت ایمان اور ان کا بغض نفاق ہے۔”(2)
--------------
1ـ اس حدیث کو امام ترمذی نے اپنی جامع ترمذی میں درج کیا ہے نیز ابن جریر نے بھی لکھا ہے اور ترمذی و ابن جریر، بہتر علمائے اعلام نے نقل کیا ہے مثلا علامہ متقی ہندی ملاحظہ ہو کنز العمال جلد6 صفحہ 401 نیز علامہ متقی لکھتے ہیں کہ ابن جریر نے کہا ہے کہ اس حدیث کو اسناد ہمارے یہاں صحیح ہیں اور ترمذی سے جلال الدین سیوطی نے جامع الجوامع صغیر کے حرف ہمزہ میں نقل کیا ہے۔ ملاحظہ فرمایئے جامع صغیر صفحہ170 جلد اول۔
2ـ دیلمی نے جناب ابوذر سے اس کی روایت کی ہے جیسا کہ کنزالعمال جلد6 صفحہ 156 پر ہے۔
12ـ “أَنْتَ تُبَيِّنُ لِأُمَّتِي مَا اخْتَلَفُوا فِيهِ بَعْدِي.”
“ اے علی(ع) میرے بعد جب میری امت اختلاف میں مبتلا ہوگی تو تم ہی راہ حق واضح کرو گے۔”
اس حدیث کو امام حاکم نے مستدرک(1) ج3 صفحہ 122 پر درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ :
“ یہ حدیث مسلم و بخاری دونوں کےبنائے ہوئے معیار پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے ذکر نہیں کیا۔”
ان احادیث پر غور کرنے کے بعد یہ حقیقت باکل واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت علی(ع) کی رسول(ص) کے نزدیک وہی منزلت جو خود رسول(ص) کی خدا کے نزدیک تھی۔ جو بات قدرت نے رسول(ص) کے متعلق فرمائی بعینہ ویسی بات رسول(ص) نے حضرت علی(ع) کے متعلق۔ قدرت کا ارشاد ہوا :
“وَ ما أَنْزَلْنا عَلَيْكَ الْكِتابَ إِلاَّ لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فيهِ وَ هُدىً وَ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ”(النحل، 64 )
“ میں نے تم پر جو کتاب نازل کی وہ صرف اس لیے کہ لوگ جس مسئلہ میں اختلاف کریں تم راہِ حق واضح کر دو گے اور یہ کلام مجید وجہ
--------------
1ـ دیلمی میں انس سے روایت کی ہے جیسا کہ کنزالعمال جلد6 صفحہ 156 پر مذکور ہے۔
ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔”
اور رسول(ص) نے حضرت علی(ع) کے متعلق فرمایا :
“ تم میری امت کے اختلاف میں مبتلا ہونے کے وقت راہِ حق واضح کرو گے۔”
13ـ ابن سماک نے حضرت ابوبکر سے مرفوعا روایت کی ہے :
“علي مني بمنزلتي من ربي ”
“ علی(ع) کو مجھ سے وہی منزلت حاصل ہے جو مجھے خدا کی بارگاہ میں حاصل ہے۔”(1)
14ـ دار قطنی نے افراد میں ابن عباس سے مرفوعا روایت کی ہے :
“علِی بن ابِی طالِب بَابِ حِطَّةٍ مَنْ دَخَلَ من ه كَانَ مُؤْمِناً وَ مَنْ خَرَجَ مِنْهُ كَانَ كَافِراً ”
15ـ آںحضرت(ص) نے حج آخری میں مقامِ عرفات پر فرمایا :
“عَلِيٌ مِنِّي وَ أَنَا من عليّ ، ولَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ.”
“ علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں۔ اور
--------------
1ـ صواعق محرقہ ، باب 11، صفحہ106۔
2ـ کنزالعمال ج6 صفحہ 153 حدیث 2528۔
کار رسالت کی ادائیگی یا تو میں کروں گا یا علی(ع)۔”(1)
یہ قول معزز پیغامبر(ص) کا جو قوت والا ہے خدا کے نزدیک جسے منزلت حاصل ہے۔
--------------
1ـ ابن ماجہ نے سنن ابن ماجہ صفحہ92 جلد اول باب فضائل الصحابہ میں اس کی روایت کی ہے۔ ترمذی اور نسائی نے اپنی صحیح میں نیز کنزالعمال جلد6 صفحہ153 حدیث 2530 ۔ امام احمد نے مسند جلد4 صفحہ 164 پر حبشی بن جنادہ کی حدیث سے متعدد طریقوں سے اس حدیث کی روایت کی ہے اور سب کے سب طریقے صحیح ہیں۔ مختصرا یہ سمجھ لیجیے کہ انھوں نے اس حدیث کو یحی بن آدم سے انھوں نے اسرائیل بن یونس سے انھوں نے اپنے دادا ابو اسحق سبیعی سے انھوں نے نے حبشی سے روایت کیا ہے اور یہ کل کے کل بخاری و مسلم کے نزدیک حجت ہیں اور ان دوںوں نے ان سب سے اپنے اپنے صحیح استدلال کیا ہے ۔ مسند احمد میں اس حدیث کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث آںحضرت(ص) سے حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمائی جس کے بعدآپ اس دار فانی میں بہت تھوڑے دنوں زندہ رہے۔ اس کے قبل آپ نے ابوبکر کو سورہ برائت کی دس آیتیں دے کر بھیجا تھا کہ وہ اہل مکہ کو جاکر پڑھ کر سنا دیں۔ پھر آپ نے حضرت علی(ع) کو بلایا ( جیسا کہ امام احمد نے مسند جلد اول صفحہ 151 پر روایات کی ہے) اور فرمایا کہ جلد جاکر ابوبکر سے ملو جہاں بھی ان سے ملاقات ہو ان سے نوشتہ لے لو اور خود لے کر اہل مکہ کی طرف جاؤ اور پڑھ کر سناؤ۔ حضرت علی(ع) مقام جحفہ پر ان سے ملے اور ان سے وہ نوشتہ لے لیا اور حضرت ابوبکر رسول(ص) کی خدمت میں پلٹ آئے اور آکر کہا کہ یا رسول اﷲ(ص) کیا میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے۔ آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ نہیں۔ لیکن جبرئیل آئے اور انھوں نے کہا کہ تم اپنی طرف سے اپنے امور کی انجام دہی یا تو خود کرو یا وہ جو تم سے ہو اور دوسری حدیث میں ہے ( جسے امام احمد نے مسند ج اول صفحہ150 پر امیرالمومنین(ع) سے روایت کیا ہے) کہ رسول اﷲ(ص) نے جب حضرت علی(ع) کو سورة برائت پہنچانے کے لیے روانہ کیا تو فرمایا کہ اے علی(ع) کوئی چارہ کار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل کو ہدایت بخشے گا
خدا را آپ ہی فرمائیں ان احادیث سے کون سی راہ فرار آپ نکال سکتے ہیں۔ ایسے صحیح احادیث اور صریحی ںصوص کے مقابل مین آپ کیا فرماسکیں گے ۔ اگر آپ اس وقت کا تصور فرمائیں اور حکیمِ اسلام کی اس گہری حکمت کو سوچیں کہ آپ ایسے موقع پر یعنی فریضہ حج بجالاتے ہوئے مقامِ عرفات پر لاکھوں مسلمانوں کے ہجوم میں یہ اعلان فرماتے ہیں تو آپ پر حقیقت اچھی طرح روشن ہوجائے۔ رسول(ص) کے الفاظ دیکھیے کتنے مختصر ہیں لیکن یہ مختصر الفاظ کتنے جلیل القدر معانی و مطالب کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہیں چند الفاظ میں آپ نے مطالب کے دفتر سمودیے : “و لَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ ”
اس جملہ کے بعد اب کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی ۔ سوا علی(ع) کے کسی شخص کے لیے اس بات کی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں نکلتی کہ وہ کارِ رسالت سے کسی چیز کی ادائیگی کرسکے، فریضہ تبلیغ میں رسول(ص) کا ہاتھ بٹاسکے اور ہو بھی کیسے سکتا ہے ۔ علی(ع) کے سوا کسی اور میں گنجائش نکل بھی کیسے سکتی ہے اس لیے کہ نبی کے امور یا تو خود نبی سے انجام پاتے ہیں یا پھر اس کے وصی کے ذریعہ انجام پائیں گے۔ نبی کا قائم نبی کا جانشین اور ولیعہد ہی ہوسکتا ہے۔
16ـ “ من أطاعني فقد أطاع اللّه عزّ و جلّ، و من عصاني فقد عصى اللّه، و من أطاع عليّا فقد أطاعني، و من عصى عليّا فقد عصاني”
اس حدیث کو امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ 121 پر درج کیا ہے اور علامہ ذہبی نے تلخیص مستدرک میں ذکر کیا اور ان دونوں نے تصریح کی ہے کہ یہ حدیث بخاری و مسلم دونوں کے معیار پر صحیح ہے۔
17ـ “ يا علی مَنْ فَارَقَنِي فَقَدْ فَارَقَ اللَّهَ
وَ مَنْ فَارَقَکَ فَقَدْ فَارَقَنِي”
اس حدیث کو امام حاکم مستدرک ج3 صفحہ 124 پر درج کر کے لکھتے ہیں کہ :
18ـ ام سلمہ(رض) کی حدیث میں ہے:
“وَ مَنْ سَبَ عَلِيّاً ع فَقَدْ سَبَّنِي.”
حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ 121 پر اسے درج کیا اور مسلم و بخاری دونوں کے معیار پر صحیح قرار دیا ہے۔ علامہ ذہبی نے تلخیص مستدرک میں اس کی صحت کی صراحت کرتے ہوئے درج کیا ہے۔ نیز امام احمد نے ام سلمہ سے یہ حدیث مسند ج6 صفحہ 323 پر اور نسائی نے خصائص علویہ صفحہ17 پر نقل کیا ہے۔ نیز دیگر اجلہ علماء محدیثین نے اس کی روایت کی ہے اسی جیسا رسول کاوہ قول بھی ہے جو عمرو بن شاس(1) کی حدیث میں منقول ہے :
“مَنْ آذَى عَلِيّاً فَقَدْ آذَانِي ”
--------------
1ـ عمرو بن شاس کی حدیث صفحہ 247 کے حاشیہ پر گزر چکی ہے۔
19ـ “مَنْ أَحَبَ عَلِيّاً فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَ مَنْ أَبْغَضَ عَلِيّاً فَقَدْ أَبْغَضَنِي ”
“ جس نے علی(ع) کو محبوب رکھا اس نے مجھے محبوب رکھا اور جس نے علی(ع) سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔”
امام حاکم نے اس حدیث کو مستدرک ج3 صفحہ 130 پر درج کیا اور بشرائط شیخین اسے صحیح قرار دیا ہے۔ نیز علامہ ذہبی نے تلخیص مستدرک میں مذکورہ بالا معیار پر اس کی صحت کا اعتراف کرتے ہوئے درج کیا ہے۔اسی جیسا خود حضرت علی(ع) کا قول(1) ہے۔ آپ فرماتے تھے :
“ قسم ہے اس ذات کی جس نے زمین سے دانہ کو روئیدہ کیا اور ہو چلائی۔ رسول(ص) مجھ سے قول و قرار فرماچکے ہیں کہ مجھے وہی دوست رکھے گا جو
--------------
1ـ صحیح مسلم کتاب ایمان صفحہ 46 جلد اول ابن عبدالبر نے استعیاب میں بسلسلہ حالات امیرالمومنین(ع) اس حدیث کے مضمون کو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے م18 پر بریدہ کی حدیث درج کی جاچکی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے ۔ آںحضرت کا یہ قول حد تواتر کو پہنچ چکا ہے “ اللہم وآل من والاہ و عاد من عاداہ “ جیسا کہ صاحب فتاوی حامدیہ نے انے رسالہ موسومہ بہ صلوة الفاخرہ فی الاحادیث المتواترہ میں اعتراف کیا ہے۔
مومن ہوگا، وہی دشمن رکھے گا جو منافق ہوگا۔”
20ـ “ يا عَلِيِّ أَنْتَ سَيِّدٌ فِي الدُّنْيَا وَ سَيِّدٌ فِي الْآخِرَةِ حبيبک َحبِيبِي وَ حَبِيبِي حَبِيبُ اللَّهِ وَ عَدُوُّكَ عَدُوِّي وَ عَدُوِّي عَدُوُّ اللَّهِ وَالويْل لِمَنْ أَبْغَضَكَ مِنْ بَعْدِي.”
“ تم دنیا میں بھی سید و سردار ہو اور آخرت میں بھی، تمھیں دوست رکھنے والا مجھے دوست رکھنے والا ہے اور مجھے دوست رکھنے والا خدا کو دوست رکھنے والا ہے، اور تمھارا دشمن میرا دشمن ہے اور میرا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ ہلاکت و تباہی نصیب ہو اسے جو میرے بعد تم سے بغض رکھے۔”
اس حدیث کو امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ 128 پر درج کیا ہے اور بشرائط شیخین صحیح قرار دیا ہے۔(1)
--------------
1ـ امام حاکم نے اس حدیث کو بطریق ازہر عبدالرزاق سے انھوں نے زہری سے انھوں نے عبیداﷲ بن عبداﷲ سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔ سب کے سب اشخاص حجت ہیں۔ اسی وجہ سے امام حاکم نے اس حدیث کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے ابو عبداﷲ قرشی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے احمد بن یحی حلوانی سے سنا وہ کہتے تھے کہ جب ابو الازہر صنعا سے آئے اور اہل بغداد سے اس حدیث کا ذکر کیا تو یحی بن معین نے اس کا انکار کیا ۔ جب ان کے نشست کا دن ہوا تو انھوں نے صحبت میں کہا کہ وہ کذاب نیشاپوری کہاں ہے جو عبدالرزاق سے اس حدیث کو بیان کرتا ہے۔ یہ سن کر ابو الازہر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ وہ میں ہوں ان کے اٹھنے اور یہ کہنے پر یحی بن معین ہنس پڑے ۔ پھر ان کو اپنے قریب بلایا اور اپنے سے نزدیک کیا۔ پھر ابو الازہر سے پوچھا کہ عبدالرزاق نے تم سے یہ حدیث کیونکر بیان کی حالانکہ تمھارے سوا کسی اور سے انھوں نے یہ حدیث نہیں بیان کی۔ ابوالازہر بولے سنیے میں صنعا میں پہنچا معلوم ہوا کہ عبدالرزاق موجود نہیں وہ ایک دور کے قریہ میں فروکش ہیں۔ میں ان کے پاس پہنچا میں بیمار بھی تھا۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے مجھ سے خراسان کی بابت دریافت کیا میں نے حالات بیان کیے ان سے حدیثیں لکھیں ۔ پھر ان کے ساتھ صنعاء واپس ہوا۔جب میں رخصت ہونے لگا تو عبدالرزاق نے کہا کہ تمھارا حق مجھ پر واجب ہے۔ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جس کو تمھارے سوا کسی اور نے مجھ سے نہیں سنا یہ کہہ کر انھوں نے قسم بخدا یہ حدیث بیان فرمائی۔ یہ سن کر یحی ابن معین نے ان کی تصدیق کی اور پھر معافی چاہی ، معذرت کی۔ علامہ ذہبی نے تلخیص میں اس حدیث کے رواة کے ثقہ ہونے کا اعتراف کیا ہے اور ابو الازہر کے ثقہ ہونے کی خاص کر صراحت کی ہے اور پھر باوجود ان سب باتوں کے انھوں نے اس حدیث کی صحت میں شک کیا مگر سوائے ہٹ دھرمی اور کٹھ حجتی کے کوئی ایسی بات نہیں پیش کی جو اس حدیث میں قادح ہو۔ رہ گیا یہ کہ عبدالرزاق اس حدیث کو کیوں چھپاتے تھے اس کی وجہ ظاہر ہے انھوں نے ظالمین کے سطوت و قہرو غلبہ کے خوف سے ایسا کیا جیسا کہ سعید بن جبیر نے ان کی طرف دیکھا اور کہا کہ تم بڑے بے خوف و بے پروا معلوم ہوتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔درج نہیں کیا ہے
21ـ “يا علي طوبى لمن أحبك و صدق عليك، و ويل لمن أبغضك و كذب عليك.”
امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ 135 پر درج کیا ہے اور درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ :
22ـ“ مَنْ أَراد أَنْ يَحْيَا حَيَاتِي وَ يَمُوتَ مَمَاتِي وَ يَسکن جَنَّةَ الخلد الَّتِي
وَعَدَنِي رَبِّي فَلْيَتَوَلَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ع فَإِنَّهُ لَا يُخْرِجُكُمْ مِنَ ْهُدَى وَ لَا يُدْخِلُكُمْ فِي ضَلَالَةٍ.”
23ـ “أوصي من آمن بي و صدّقني بولاية عليّ ابن ابی طالب، فمن تولّاه فقد تولّاني، و من تولّاني فقد تولّى اللّه، و من أحبّه فقد أحبّني، و من أحبّني فقد أحبّ اللّه، و من أبغضه فقد أبغضني و من أبغضني فقد أبغض اللّه عز وجل.”
--------------
1ـ دیکھیے یہی کتاب صفحہ72، 75۔
24ـ“مَنْ سَرَّهُ ان يَحْيَى حياتى، وَ يَمُوتَ مماتى وَ يَسْكُنَ جُنَّةَ عَدْنٍ غَرَسَهَا ربى فَلْيُوَالِ عَلِيّاً مِنْ بعدى، وَ لْيُوَالِ وَلِيَّهُ، وَ لْيَقْتَدِ بالائمة مِنْ بعدى، فانهم عترتى خُلِقُوا مِنْ طينتى رُزِقُوا فَهْماً وَ عِلْماً، وَ وَيْلٌ لِلْمُكَذِّبِينَ بفضلهم مِنْ امتى الْقَاطِعِينَ فِيهِمْ صلتى لَا انالَهُمُ اللَّهُ شفاعتى. ”
--------------
1ـ دیکھیے یہی کتاب صفحہ 76۔
25ـ “مَنْ أَحَبَ أَنْ يَحْيَا حَيَاتِي وَ يَمُوتَ مِيتَتِي وَ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ الَّتِي وَعَدَنِي رَبِّي، وَ هِيَ جَنَّةُ الْخُلْدِ قَضِيباً غَرَسَهُ بِيَدِهِ، فَلْيَتَوَلَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَ ذُرِّيَّتَهُ مِنْ بَعْدِهِ فَإِنَّهُمْ لَنْ يُخْرِجُوهُمْ مِنْ بَابِ هُدًى وَ لَنْ يُدْخِلُوهَا فِي بَابِ ضَلَالَةٍ.”
--------------
1ـ دیکھیے صفحہ 74۔
26ـ “يَا عَمَّارُ إِذَا رَأَيْتَ عَلِيّاً سَلَكَ وَادِياً وَ سَلَكَ النَّاسُ وَادِياً غَيْرَهُ فَاسْلُكْ مَعَ عَلِيٍّ وَ دَعِ النَّاسَ فَإِنَّهُ لَنْ يَدُلَّكَ عَلَى رَدًى وَ لَنْ يُخْرِجَكَ مِنْ هُدًى ”
27ـ “كَفِّي وَ كَفُ عَلِيٍّ فِي الْعَدْلِ سَوَاءٌ.”
28ـ“يا فاطم ه أما ترضين أنّ اللّه اطّلع إلى أهل الأرض فاختار رجلين، أحدهما أبوك، و الآخر بعلك.”
--------------
1ـ دیلمی نے عمار و ابو ایوب سے اس کی روایت کی ہے۔ جیسا کہ کنزالعمال جلد6 صفحہ156 پر مذکور ہے۔
2ـ کنزالعمال جلد6 صفحہ 153 حدیث 2539۔
29ـ “أَنَا الْمُنْذِرُ وَ عَلِيٌّ الْهَادِي يَا عَلِيُّ بِكَ يَهْتَدِي الْمُهْتَدُونَ مِنْ بَعْدِي.”
30ـ“ يا على لا يحلّ لاحد يجنب في هذا المسجد غيرى و غيرك. ”
اسی جیسی طبرانی کی حدیث ام سلمہ(رض) سے اور بزار(4) سے منقول ہے۔ انھوں نے سعد سے روایت کی ہے۔ سعد
--------------
1ـ مستدرک ج3 صفحہ129 اور بھی بکثرت اصحاب سنن نے اس حدیث کی روایت کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔
2ـ دیلمی نے ابن عباس کی حدیثوں میں اس کو لکھا ہے ۔ کنزالعمال جلد6 صفحہ 150 پر بھی موجود ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث 2631۔
3ـ دیکھیے م 17 وہاں ہم نے اس حدیث پر جو حاشیہ لکھا ہے اسے ضرور ملاحظہ فرمائیں اور اس موقع پر جو حدیثیں ذکر کی ہیں ان پر بھی غائر نگاہ ڈالیں۔
4ـ ابن حجر نے صواعق محرقہ میں اس حدیث کو لکھا ہے ملاحظہ ہو صواعق محرقہ باب 9۔
کہتے ہیں کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا :
“لا يحل لأحد أن يجنب في هذا المسجد إلّا أنا و عليّ .”
31ـ“أَنَا وَ هَذَا يعنی عليا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.”
خطیب نے انس کی حدیث(1) سے اس کو نقل کیا ہے۔ قابل غور یہ ہے کہ امیرالمومنین(ع) نبی کی طرح کیونکر حجت تھے۔
آپ کا بعینہ نبی کی طرح حجت ہونا تو اسی وقت صحیح ہوسکتا ہے جبکہ آپ رسول(ص) کے ولی عہد ہوں اور آپ کے بعد امور کے مالک و مختار ہوں۔
32ـ “مكتوب على باب الجنّة: لا إله إلّا اللّه، محمّد رسول اللّه، عليّ أخو رسول اللّه ”
“ جنت کے دروازے پر لکھا ہوا ہے۔ معبود حقیقی بس اﷲ ہی ہے اور محمد مصفطی(ص) خدا کے
--------------
1ـ کنزالعمال حدیث 2632 جلد6 صفحہ 157۔
رسول(ص) ہیں اور علی(ع) رسول(ص) کے بھائی ہیں۔”(1)
33ـ “مكتوب على ساق العرش: لا إله الّا اللّه محمّد رسول اللّه أيّدته بعليّ و نصرته بعلی.”
24ـ “من أراد أن ينظر إلى نوح في عزمه و إلى آدم في علمه و إلى إبراهيم في حلمه و إلى موسى في فطنته و إلى عيسى في زهده فلينظر إلى علي بن أبي طالب ”
“ جو شخص یہ چاہے کہ نوح(ع) کو ان کے محکم ارادہ میں، آدم(ع) کو ان کے علم میں، ابراہیم(ع) کو ان کے حلم میں ، موسیٰ(ع) کو ان کی تیزی ذہانت میں، عیسیٰ(ع)
--------------
1ـ طبرانی نے واسطہ میں، خطیب نے المتفق میں درج کیا ہے جیسا کہ کنزالعمال جلد6 صفحہ 159 پر مذکورہ ہے ہم اسے صفحہ 233 پر ذکر کرچکے اور ایک مفید حاشیہ بھی تحریر کیا ہے۔
2ـ طبرانی نے کبیر میں اور ابن عساکر نے ابوالحمراء سے مرفوعا اس کی روایت کی ہے ملاحظہ ہو کنزالعمال جلد6 صفحہ158۔
اس حدیث کو بیہقی نے اپنے صحیح میں اور امام احمد بن حنبل نے مسند میں درج کیا ہے۔(1)
35ـ “يَا عَلِيُّ إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى مَثَلًا أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَ أَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَتْ لَهُ.”
--------------
1ـ شرح نہج البلاغہ جلد2 صفحہ 149 امام رازی نے بھی اپنی تفسیر کبیر صفحہ 288 جلد 2 میں اس حدیث کو بسلسلہ تفسیر آیہ مباہلہ درج کیا ہے اور موافق و مخالف دونوں کے نزدیک بطور مسلمات ہونا لکھا ہے۔ ابن بطہ نے ابن عباس کی حدیث سے اس کی روایت کی ے جیسا کہ احمد بن محمد بن حسنی مغربی وارد قاہرہ کی کتاب فتح الملک بصحت حدیث باب مدینہ العلم علی(ع) کے صفحہ 24 پر مذکور ہے۔ منجملہ ان اشخاص کے جنھوں نے اعتراف و اقرار کیا ہے کہ علی(ع) تمام انبیاء(ع) کے اسرار کے جامع تھے محی الدین ابن عربی ہیں جیسا کہ عارف شعرانی نے کتاب الیواقیت والجواہر صفحہ 72 مبحث 32 میں ابن عربی سے نقل کیا ہے۔
36ـ“ السُّبَّقُ ثَلَاثَةٌ فَالسَّابِقُ إِلَى مُوسَى يُوشَعُ بْنُ نُونٍ وَ السَّابِقُ إِلَى عِيسَى صَاحِبُ يَاسِينَ وَ السَّابِقُ إِلَى مُحَمَّدٍ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ع. ”
37ـ“ الصِّدِّيقُونَ ثَلَاثَةٌ حَبِيبٌ النَّجَّارُ مُؤْمِنُ آلِ يس الَّذِي قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ وَ حِزْقِيلُ مُؤْمِنُ آلِ فِرْعَوْنَ الَّذِي قَالَ أَ تَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ [ع] الثَّالِثُ وَ هُوَ أَفْضَلُهُمْ. ”
--------------
1ـ مستدرک ج3 ، صفحہ122۔
2ـ طبرانی و ابن مردویہ نے ابن عباس سے اس حدیث کی روایت کی ہے کہ اور دیلمی نے جناب عائشہ سے ۔ یہ حدیث بہت مشہور حدیثون میں سے ہے۔
38ـ “إن الامّة ستغدر بك بعدي، و أنت تعيش على ملّتي، و تقتل على سنّتي. من أحبّك أحبني و من أبغضك أبغضني، و أن هذه ستخضب من هذا- يعني لحيته من رأسه-. ”
--------------
1ـ ابو نعیم و ابن عساکر نے وبو یعلی سے مرفوعا اس حدیث کی روایت کی ہے اور ابن نجار نے ابن عباس سے مرفوعا اس کی روایت کی ہے ملاحظہ ہو حدیث نمبر30، 31، باب 9 فصل 2 صواعق محرقہ صفحہ74، 75،
اور امیرالمومنین(ع) سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ :
ابن عباس سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ :
39ـ “إِنَ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا الْقَوْمُ فیهم ابو بکر و عمر ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا هُوَ قَالَ لَا قَالَ عُمَرُ أَنَا هُوَ قَالَ لَا وَ لَكِنْ هُوَ خَاصِفُ
--------------
1ـ مستدرک جلد3 صفحہ147 علامہ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اس کی صحت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے۔
2_ـ یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیث ابن عباس ان دونوں حدیثوں کو امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ140 پر درج کیا ہے۔ نیز ان دونوں کو علامہ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں بیان کیا ہے اور تصریح کی ہے کہ دونوں حدیثیں بخاری و مسلم کے معیار پر صحیح ہیں۔
النَّعْلِ يَعْنِي عَلِيّاً ”
“ تم میں ایک شخص وہ بھی ہے جو قرآن کی تاویل کے متعلق اسی طرح قتال کرے گا جس طرح میں نے اس کی تنزیل کے متعلق قتال کیا ہے لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے۔ ان میں ابوبکر و عمر بھی تھے۔ ابوبکر نے پوچھا وہ شخص میں ہوں یا رسول اﷲ(ص)؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ عمر نے پوچھا : میں ہوں یا رسول اﷲ(ص) ؟ آپ نے فرمایا : نہیں لیکن “ وہ جوتیوں کا ٹانکنے والا۔” یعنی حضرت علی(ع)۔ جو اس وقت آپ کی نعلین مبارک درست رکرہے تھے۔”
ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اﷲ(ص) کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ہم حضرت علی(ع) کے پاس آئے اور یہ خوشخبری سنائی تو حضرت علی(ع) اپنے کام میں اسی طرح مشغول رہے، گردن بھی نہ اٹھائی۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ پیغمبر(ص) سے پہلے ہی سن چکے تھے۔”(1)
--------------
1ـ امام حاکم نے اس حدیث پر مستدرک ج3 صفحہ 122 پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث بشرائط شیخین صحیح ہے مگر ان دونوں نے اس کا ذکر نہیں کیا علامہ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اس حدیث کو لکھا ہے اور اعتراف کیا ہے کہ یہ حدیث بشرائط شیخین صحیح ہے، امام احمد نے مسند جلد3 صفحہ 82، 32 پر ابوسعید کی حدیث سے درج کیا ہے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں، سعید بن منصور انے اپنی سنن میں ابونعیم نے اپنے حلیتہ میں ابویعلیٰ نے اپنے سنن درج کیا ہے۔ کنزالعمال جلد6 صفحہ155 پر بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ملاحظہ ہو حدیث نمبر2585۔
اسی جیسی ایک حدیث ابو ایوب انصاری کی بھی ہے۔ خلافت عمر کے باب میں جس میں وہ فرماتے ہیں(1) کہ :
“ رسول اﷲ(ص) نے حضرت علی(ع) کو بیعت توڑنے والوں ، جادہ اعتدال سے باہر نکل جانے والوں اور دین سے خارج ہونے والوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے۔”
ایک حدیث جناب عمار سے منقول ہے جس میں یہ جملہ ہے :
“يا على ستقاتلك الفئة الباغية و انت على الحقّ فمن لم ينصرك يومئذ فليس منّي”
جناب ابوذر کے حدیث ہے جس میں یہ جملہ ہے :
“وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ فِيكُمْ رَجُلًا
--------------
1ـ امام حاکم نے اس حدیث کو دو طریقوں سے لکھا ہے ، مستدرک جلد3 صفحہ 139 و 141۔
يُقَاتِلُ النَّاسَ مِن بعدِی عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ الْمُشْرِكِينَ عَلَى تَنْزِيلِهِ”
اور محمد بن عبداﷲ بن ابی رافع نے اپنے دادا سے روایت کی ہے۔ ابو رافع کہتے ہیں کہ : آںحضرت(ص) نے فرمایا :
“يَا أَبَا رَافِعٍ سَيَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يُقَاتِلُونَ عَلِيّاً حَقٌّ عَلَى اللَّهِ جِهَادُهُمْ فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ جِهَادَهُمْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ”
--------------
1ـ دیلمی نے اس کی روایت کی ہے جیسا کہ کنزالعمال جلد6 صفحہ155 پر ہے۔
اخضر انصاری کی حدیث ہے جس میں رسول(ص) نے فرمایا :
“ انا اقاتل علی تنزيل القرآن، و علی يقاتل علی تاويله”
40ـ “يَا عَلِيُ أَخْصِمُكَ بِالنُّبُوَّةِ وَ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي وَ تَخْصِمُ النَّاسَ بِسَبْعٍ أَنْتَ أَوَّلُهُمْ إِيمَاناً بِاللَّهِ وَ أَوْفَاهُمْ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَقْوَمُهُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ وَ أَقْسَمُهُمْ بِالسَّوِيَّةِ وَ أَعْدَلُهُمْ فِي الرَّعِيَّةِ وَ أَبْصَرُهُمْ فِي الْقَضِيَّةِ وَ أَعْظَمُهُمْ
--------------
1ـ طبرانی نے کبیر میں اس کی روایت کی ہے جیسا کہ کنزالعمال جلد6 صفحہ155 پر مذکور ہے۔
2ـ یہ ابن ابی الاخضر ہیں ابن سکن نے ان کا ذکر کیا ہے اور ان سے اس حدیث کی بطریق حارث بن حصیرہ عن جابر الجعفی عن الامام الباقر عن ابیہ الامام زین العابدین عن الاخضر عن النبی(ص) روایت کی ہے ابن سکن کہتے ہیں کہ اخضر صحابہ میں مشہور نہیں اور ان کی حدیث کے اسناد میں تاویل و نظر ہے۔ یہ تمام باتیں عسقلانی نے حالاتِ اخضر میں اصابہ کے اندرلکھی ہیں اور دار قطنی نے افراد میں اس حدیث کو لکھا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کے تنہا راوی جابر جعفی ہیں اور دار قطنی ہیں۔
عِنْدَ اللَّهِ مَزِيَّةً.”
اور ابو سعید خدری سے مروی ہے۔ ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ : آںحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا :
“يا عليّ لك سبع خصال لا يحاجّك فيهنّ أحد يوم القيامة: أنت أوّل المؤمنين باللّه إيمانا، و أوفاهم بعهد اللّه، و أقومهم بأمر اللّه، و أرأفهم بالرعيّة، و أعلمهم بالقضية، و أعظمهم مزية. ”
--------------
1ـ ابو نعیم نے معاذ کی حدیث سے اس کی روایت کی ہے اور اس کے بعد والی حدیث یعنی حدیث ابو سعید کو حلیہ میں درج کیا ہے اور یہ دونوں حدیثیں کنزالعمال جلد6 صفحہ156 پر موجود ہیں۔
کہاں تک لکھا جائے یہ چالیس حدیثیں درج کی گئی ہیں ۔ ان جیسی بے حد و حساب حدیثیں سنن و صحاح میں موجود ہیں۔ سب کے سب اجتماعی طور پر ایک ہی مطلب پر دلالت کرتی ہیں، ان سب کا ماحصل بس ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت امیرالمومنین(ع) بعد رسول(ص) اس امت میں ثانی رسول(ص) تھے۔ اس امت پر بعد رسول(ص) انھیں وہی حکومت و اقتدار حاصل ہے جو خود رسول(ص) کو اپنی زندگی میں حاصل تھا۔ یہ وہ حدیثیں ہیں جو معنا متواتر ہیں، ایک ہی مقصود ہے سب کا اگرچہ لفظا متواتر نہیں۔ الفاظ بدلے ہوئے ہیں یہی آپ کے لیے مکمل حجت ہوں گی۔
ش
مکتوب نمبر25
احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ حضرت علی(ع) کی شان میں جتنی آیتیں اور حدیثیں وارد ہوئی ہیں اتنی کسی اور صحابی پیغمبر(ص) کے متعلق نہیں(1) ۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ کتاب الہی کی آیات جتنی حضرت علی(ع) کے متعلق نازل ہوئیں اتنی کسی اور کے متعلق نہیں(2) ۔ پھر دوسری مرتبہ فرمایا(3) : حضرت علی(ع) کی شان میں تین سو آیتیں نازل
--------------
1ـ مستدرک صفحہ107
2ـ ابن عساکر اور دیگر ارباب سنن نے اس کی روایت کی ہے۔
3ـ ابن عساکر نے اس کی روایت کی ہے۔
ہوئیں۔ تیسری مرتبہ فرمایا(1) :
جس جس مقام پر خداوند عالم نے یا ایہاالذین آمنوا فرمایا وہاں راس و رئیس حضرت علی(ع) ہی ہیں۔ خدا وند عالم نے اکثر و بیشتر مقامات پر اصحاب پیغمبر(ص) پر عتاب فرمایا مگر حضرت علی(ع) کا ذکر ہمیشہ اچھائی سے کیا۔
عبداﷲ بن عیاش بن ابی ربیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی(ع) کو علم میں پوری پوری گہرائی حاصل تھی۔ آپ سب سے پہلے اسلام لائے۔ اور رسول اﷲ(ص) کی دامادی کا شرف آپ ہی کو حاصل ہوا۔ احادیث سمجھنے کی مکمل صلاحیت آپ ہی میں تھی۔ میدان جنگ میں بہادری و شجاعت حاصل تھی۔ بذل و عطا(2) میں نظیر نہیں رکھتے تھے۔
امام احمد بن حنبل سے علی(ع) و معاویہ(3) کے متعلق پوچھا گیا تو جواب دیا :
--------------
1ـ طبرانی اور ابن ابی حاتم اور دیگر اصحاب سنن نے اس حدیث کو لکھا ہے۔ ابن حجر مکی نے اسے اور اس حدیث کے قبل جو تین حدیثیں ہیں ان سب کو فصل 3 باب 9 صفحہ 76 پر صواعق محرقہ میں نقل کیا ہے۔
2ـ ابن عیاش سے اہل اخبار و اصحاب سنن نے نقل کیا ہے صواعق محرقہ میں بھی موجود ہے۔
3ـ سلفی نے طیوریات میں اس کی روایت کی ہے۔ اور علامہ ابن حجر نے صواعق محرقہ میں نقل کیا ہے۔
قاضی اسماعیل، امام نسائی اور ابو علی نیشاپوری(1) وغیرہ نے کہا ہے کہ جس قدر صحیح اور عمدہ اسناد سے حضرت علی(ع) کی شان میں حدیثیں مروی ہیں کسی صحابی کے بارے میں نہیں۔
ان سب باتوں میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ ہم بھی سب مانتے ہیں، کلام یہ ہے کہ رسول خدا(ص) نے آپ کو اپنا خلیفہ کب بنایا؟ یہ احادیث و سنن جو آپ نے ذکر فرمائے بیشک صحیح ہیں اور ہماری معتبر کتابوں میں موجود ہیں لیکن یہ آپ کی خلافت و امامت پر صریحی نصوص تو نہیں۔ یہ تو آپ کے خصائص پر مشتمل ہیں۔ آپ کے فضائل و کمالات کی جامع ہیں۔
ہم خود کہتے ہیں کہ آپ کے فضائل بے حدو حساب ہیں دفتروں میں نہیں سماسکتے۔ ہم یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ امیرالمومنین(ع) ان تمام فضائل و مناقب کے اہل تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ کے سزاوار تھے۔ یہ بھی درست ہے کہ ان احادیث و سنن میں آپ کے مستحقِ خلافت ہونے کی طرف اشارے بھی موجود ہیں لیکن مستحق خلافت ہونے سے یہ کب لازم آتا ہے کہ رسول(ص) نے آپ کو اپنا خلیفہ و جانشین بنا دیا۔
س
--------------
1ـ جیسا کہ ان حضرات سے مشہور ہے اور علامہ ابن حجر نے صواعق محرقہ باب 9 فصل ثانی صفحہ 72 پر نقل کیا ہے۔
جوابِ مکتوب
آپ ایسے بافہم ، صائب نظر ، کلام کے محل و موقع سے واقف ، مطالب و معانی سے با خبر ، رسول خدا(ص) اور آپ کی حکمت بالغہ اور نبوت خاتمہ کی معرفت رکھنے والے، آںحضرت(ص) کی رفتار و گفتار کی قدر و منزلت جاننے والے جس کا ایمان ہو اس پر کہ رسول(ص) کی ہر جنبش لب و زبان ترجمان وحی ہوتی تھی ایسے شخص سے ان سنن، احادیث کے معانی و مطالب پوشیدہ تو نہیں رہنے چاہیں اور لوازم عقلی و عرفی مخفی تو نہیں ہوں گے ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ان حدیثوں کے فرمانے سے رسول(ص) کا جو مقصد تھا جس مطلوب کو پیش نظر رکھ کر آپ نے یہ ارشادات فرمائے اسے آپ سمجھ ہی نہ سکے ہوں۔
آپ جو عرب کے نزدیک مسلم الثبوت حیثیت رکھتے ہیں اس سے بے خبر تو نہ ہوں گے کہ ان سنن و احادیث سے حضرت علی(ع) کا وہ درجہ و مرتبہ ثابت ہوتا ہے جو سوا جانشین پیغمبر(ص) کسی کا ہو ہی نہیں سکتا۔ ممکن ہی نہیں کہ خدا یا اس کا رسول(ص) یہ مدارج و مراتب اپنے خلیفہ و جانشین کے علاوہ کسی اور کو بخش دیں اگر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ ان احادیث میں حضرت علی(ع) کو صاف صاف الفاظ میں خلیفہ و جانشین نہیں فرمایا گیا تب بھی ان احادیث کا نتیجہ وہی نکلتا ہے۔
آںحضرت(ص) کی ذاتِ گرامی بلند و برتر ہے اس سے کہ آپ مدارج رفیعہ بجز اپنے وصی و جانشین کے کسی اور کو مرحمت فرمائیں۔ علاوہ اس کے ک اگر آپ ان تمام احادیث کو جو خاص کر حضرت علی(ع) کی شان میں وارد ہوئیں گہری نظر سے دیکھیں تو در انصاف کی نظر سے ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ وہ سب کی سب سوا معدودے چند کے صریحی طور پر آپ کی امامت ثابت کرتی ہیں۔ یا تو صاف صاف ان میں اعلان ہے آپ کی امامت و خلافت کا جیسے وہ احادیث جو ہم گزشتہ مکتوبات کے جواب میں عرض کرچکے ہیں۔ یا اگر صراحتا آپ کی امامت کا اعلان نہیں مگر لازمتا نتیجہ کاران احادیث کا آپ کی امامت ہی نکلتی ہے جیسے وہ حدیثیں جو مکتوب نمبر4 پر بیان ہوئیں اور جیسے رسول(ص) کی یہ حدیث :
“عَلِيٌ مَعَ الْقُرْآنِ وَ الْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ.”(1)
-------------
1ـ امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ24 پر یہ حدیث درج کی ہے اور علامہ ذہبی نے بھی تلخیض مستدرک میں اسی مذکورہ بالا صفحہ پر یہ حدیث لکھی ہے دونوں حضرات نے صحیح ہونے کی صراحت کی ہے یہ حدیث منجملہ احادیث مشہورہ ہے اور واقعہ بھی یہ ہے کہ حدیث ثقلین کو دیکھتے ہوئے علی و قرآن کے لازم و ملزوم ہونے سے کون انکار کرسکتا ہے ہم ابتداء میں صفحہ 59 تا صفحہ 66 حدیث ثقلین پر روشنی ڈال چکے ہیں۔
مکتوب نمبر26
اگر فضائل ہی پر امامت و خلافت کی بنا ہے تو بہت سی حدیثین خلفاء ثلاثہ نیز وہ مہاجرین و اںصار جو اول ایمان لائے تھے ان کی شان میں بھی وارد ہوئی ہیں اگر ان روایات کو مقابلہ میں پیش کیا جائے تو آپ کیا فرمائیں گے؟
س
جوابِ مکتوب
سابقین و مہاجرین و انصار کے فضل و شرف سے ہمیں انکار نہیں۔ بے شک ان کے بہت سے فضائل ہیں، بے حد و حساب ، کلام مجید
میں بہت سی آیتیں ان کی مدح میں نازل ہوئیں اور صحیح حدیثیں بھی بکثرت ہیں ہم نے ان تمام احادیث و آیات پر جو ان بزرگوں میں ملتی ہیں، اچھی طرح غور و فکر کی مگر ہمیں تو کوئی ایسی چیز بھی نہ ملی جو ان ںصوص کی معارض ہوسکتی جو حضرت علی(ع) کی شان میں موجود ہیں اور نہ ان آیات و احادیث سے مہاجرین و اںصار کی کوئی ایسی خصوصیت ثابت ہوئی جو حضرت علی(ع) کی کسی خصوصیت کے معارض ہوتی۔ مقابلہ و معارضہ کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے ۔ بحث تو امامت و خلافت کی ہے۔ حضرت علی(ع) کے متعلق بے شمار آیات و احادیث موجود ہیں جن سے آپ کا مستحق و سزاوارِ امامت ہونا مترشح ہوتا ہے اور مہاجرین و اںصار کے متعلق جو آیات و احادیث ہیں وہ ان کے فضل و شرف کو ضرور ظاہر کرتی ہیں مگر ان کے مستحق امامت و خلافت ہونے کا وہم و گمان بھی نہیں پیدا ہوتا ۔
ہمارے مخالفین صحابہ کے فضائل میں کچھ ایسی حدیثیں ضرور روایت کرتے ہیں جن کا ہمارے یہاں کوئی وجود نہیں۔ فقط تنِ تنہا ہمارے مخالفین ہی اس کے راوی ہیں تو ایسی حدیثوں کو ہمارے مقابلہ میں پیش کرنا دعوی بلا دلیل ہے۔ جس کی توقع کٹھ حجتی اور ہٹ دھرمی کرنے والے ہی سے ہوسکتی ہے۔ ایسی روایتیں جو صرف مخالف کے نزدیک معتبر ہوں ہمارے یہاں ان کا کوئی وجود نہ ہو ہمارے نزدیک قابلِ اعتبار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے یہاں پائی جاتی ہیں آپ کے یہاں نہیں ۔ جیسے غدیر یا اس جیسی دیگر حدیثیں کہ ان کے بیان سے آپ کے یہاں کی کتابیں بھی بھری پڑی ہیں۔
علاوہ اس کے ہم نے اس پہلو کو بھی نہ چھوڑا ، ہم نے ان حدیثوں کو بھی چھان بین کی جو مہاجرین و اںصار کے فضائل پر مشتمل ہیں، اور جسے فقط آپ ہی لوگوں نے درج کیا ہے۔ ہمارے یہاں ان کا وجود نہیں مگر باجود تلاش و جستجو کے بھی کوئی ایسی حدیث نہ ملی جو ان احادیث کی معارض ہوسکتی جو امیرالمومنین(ع) کے متعلق وارد ہوئیں۔ معارض تو معارض ہمیں کوئی حدیث بھی ایسی نہیں ملی جس سے ان حضرات کے استحقاق امامت و خلافت کا ذہن میں خطور تک پیدا ہوتا یہی وجہ سے کہ آج تک آپ میں سے کسی شخص نے بھی خلفائے ثلاثہ کی خلافت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ان روایات سے کام نہیں لیا۔ ان روایات کی طرف کسی نے توجہ بھی نہ کی۔
ش
مکتوب نمبر27
حدیثِ غدیر کی بابت استفسار
آپ نے بار بار حدیث غدیر کا ذکر کیا۔ اگر حدیث غدیر بطریق اہلسنت مروی ہو تو تحریر فرمائیے ہم بھی ذرا غور کریں۔
س
جواب مکتوب
طبرانی نے اور ان کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی ایسے سلسلہ اسناد سے جس کی صحت پر محدثین کا اتفاق و اجماع(1) ہے زید بن ارقم سے روایت
--------------
1ـ اس حدیث کے صحیح ہونے کی اکثر علمائے اسلام نے تصریح کی ہے یہاں تک کہ خود علامہ ابن حجر نے اس کی صحت کا اعتراف کیا ہے۔ ملاحظہ ہو صواعق محرقہ باب اول فصل خاص صفحہ25۔
کی ہے۔ زید بن ارقم کہتے ہیں کہ حضرت سرور کائنات(ص) نے غدیر خم میں ارشاد فرمایا:
“ أيها الناس يوشك أن أدعي فأجيب و إني مسئول و إنكم مسئولون فما ذا أنتم قائلون قالوا نشهد أنك قد بلغت و جاهدت و نصحت فجزاك الله خيرا فقال أ ليس تشهدون أن لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله و أن جنته حق و أن ناره حق و أن الموت حق و أن البعث حق بعد الموتوَ أَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لا رَيْبَ فِيها وَ
أَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ قالوا بلى نشهد بذلك قال اللهماشهد ثم قال يا أيها الناس إن الله مولاي و أنا مولى المؤمنين و أنا أولى بهم من أنفسهم فمن كنت مولاه فهذا مولاه يعني عليا اللهم وال من والاه و عاد من عاداه”
--------------
1ـ پہلے حضرت سرور کائنات نے اپنی وفات کے دن قریب آنے کی خبر سنائی ۔ اس سے یہ مقصود تھی کہ وقت آگیا ہے کہ اپنے بعد کے لیے خلیفہ معین کردیا جائے اب دیر کرنے کا محل نہیں کیونکہ اندیشہ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ معاملہ خلافت کو اچھی طرح استوار کرنے کے پہلے پیام مرگ آپہنچے۔
-------------
1ـ چونکہ حضرت سرورکائنات(ص) کا اپنے بھائی کو اپنا ولیعہد مقرر کرنا اہل نفاق و بغض و حسد پر بہت گراں تھا آپ نے چاہا کہ قبل اعلان خلافت عذر معذرت کردی جائے۔ غرض یہ تھی کہ ان کا دل نہ میلا ہو نیزان کے شور و شغب اور چراغ پا ہوجانے کا اندیشہ بھی تھا اس لیے آپ نے فرمایا کہ انی مسئول مجھ سے پوچھا جائے گا۔ یہ جملہ اسی لیے آپ نے فرمایا تھا کہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ پیغمبر(ص) مامور ہیں اور آپ سے پوچھا جائے گا کہ تم نے میرے اس حکم کو انجام دیا یا نہیں لہذا اس حکم کو ملتوی کرنے کی اب راہ ہی نہیں امام واحدی نے اپنی کتاب اسباب النزول میں بسلسلہ اسناد ابو سعید خدری سے روایت کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ آیة بلغ یوم غدیر خم نازل ہوئی حضرت علی(ع) کے بارے میں۔
2ـ غالبا آںحضرت(ص) نے وانکم مسئولون اور تم سے بھی پوچھا جائے گا فرماکر اشارہ فرمایا ہے اس مطلب کی طرف جس کی دیلمی وغیرہ نے ( جیسا کہ صواعق محرقہ میں ہے) ابو سعید سے روایت کی ہے ابو سعید کہتے ہیں کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا قول باری تعالیٰ وقفوہم انھم مسئولون ٹھہراؤ انھیں ان سے پوچھا جائے گا میں مقصود یہ ہے کہ ان سے ولایت امیرالمومنین(ع) واہلبیت(ع) کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ امام واحدی فرماتے ہیں کہ انھم مسئولون سے غرض تہدید ہے دھمکانا ہےان لوگوں کو جو ولی و وصی پیغمبر(ص) کے مخالف ہیں۔
زندہ ہونا حق ہے اور قیامت آکر رہے گی۔ کوئی شک و شبہ نہیں اس کے آنے میں اور یہ کہ خداوند عالم تمام قبروں سے مردوں کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا لوگوں نے کہا ہاں ہم گواہی دیتے ہیں اس(1) کی آںحضرت(ص) نے فرمایا
--------------
1ـ اس خطبہ کو ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیے جو شخص بھی اس خطبہ کو گہری نظر سے دیکھے اور فکر و تامل سے کام لے اس پر یہ حقیقت اچھی طرح منکشف ہوجائے گی کہ ولایت امیرالمومنین(ع) اصول دین سے ہے جیسا کہ شیعوں کا مسلک ہے کیونکہ حضرت سرورکائنات(ص) پہلے پوچھتے ہیں کہ کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ کوئی معبود نہیں سوائے معبود حقیقی کے اور محمد خدا(ص) کے بندے ہیں اور اس کے رسول(ص) ہیں اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں اور خدا قبر سے مردوں کو نکالے گا۔ ان امور کے اقرار و اعتقاد کا سوال کرنے کے بعد ہی آپ نے ولایت کا تذکرہ فرمایا تاکہ ہر شخص سمجھ لے کہ اس کی بھی اہمیت ویسی ہی ہے جیسی مذکورہ بالا امور کی جب کے قائل و معتقد ہونے کے متعلق پیغمبر(ص) نے ابھی سوال کیا تھا۔ یہ بات ایسی واضح و ظاہر ہے کہ ہر وہ شخص جو اسلوب کلام اور مقصود کلام سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے سمجھ سکتا ہے۔
: خداوندا تو بھی گواہ رہنا۔ پھر آپ نے فرمایا ، اے لوگو ! خداوندِ عالم میرا مولیٰ ہے اور میں تمام مومنین کا مولیٰ ہوں اور میں ان کی جانوں پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہوں۔(1) تو یاد رکھنا کہ جس جس کا میں مولیٰ و آقا ہوں۔ یہ یعنی علی(ع) بھی اس کے مولیٰ و آقا ہیں۔ خداوندا تو دوست رکھ اسے جو انھیں دوست رکھے اور دشمن رکھ اسے جو انھیں دشمن رکھے پھر آپ نے فرمایا : اے لوگو! میں تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں اور تم بھی حوض کوثر پر آنے والے ہو۔ وہ ایسا حوض ہے جس کی چوڑان بصری سے صنعا تک کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ ہے۔ اس میں چاندی کے اتنے پیالے ہیں جتنے آسمان پر ستارے جب تم حوض کوثر پر میرے پاس پہنچو گے تو میں اس وقت تم سے ثقلین کے متعلق پوچھوں گا کہ میرے بعد تم نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ ثقل اکبر کتاب الہی ہے جس کا ایک کنارا خدا کے ہاتھوں میں ہے دوسرا تمھارے ہاتھوں میں لہذا مضبوطی سے پکڑے رہنا، گمراہ نہ ہونا نہ اس میں
--------------
1 ـ رسولص(ص) کا یہ فقرہ وانا اولیٰ لفظی قرینہ ہے کہ مولیٰ سے مراد اولیٰ ہے لہذا مطلب یہ ہوگا کہ خداوند عالم مجھ سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے اور میں مومنین پر ان سے بڑھ کر قدرت و اختیار رکھتا ہوں اور میں جس جس کے نفس پر اس سے زیادہ اختیار رکھتا ہوں۔ علی(ع) بھی اس پر اس سے زیادہ اختیار رکھتے ہیں۔
تغیر و تبدل کرنا، دوسرے میرے عترت واہلبیت(ع) ہیں۔ ان کے متعلق خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ روز قیامت میرے پاس حوض کوثر پر پہنچیں۔”(1)
اور امام حاکم نے مستدرک کے باب مناقب(2) علی(ع) میں زید بن ارقم سے ایک حدیث دو طریقوں سے درج کی ہے اور ان دونوں طریقوں کو مسلم و بخاری کے شرائط و معیار پر صحیح قرار دیا ہے۔
امام بخاری و امام مسلم نے کسی روایت کی صحت کے لیے جو شرائط قرار دیے وہ تمام شرائط اس حدیث میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ:
--------------
1ـ یہ زید بن ارقم سے روایت کردہ حدیث کی اصل عبارت ہے جو طبرانی ، ابن جریر اور حکیم و امام ترمذی نے اپنی حدیث کی کتابوں میں لکھی ہے۔ علامہ ابن حجر نے بھی اس حدیث کو طبرانی سے نقل کیا ہے اور اس کی صحت کو مسلمات میں قرار دیا ہے ملاحظہ فرمائیے صواعق صفحہ25۔
2ـ صفحہ 109 جلد3
“أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ مَوْلَايَ وَ أَنَا مَوْلَى کل الْمُؤْمِنِين ثم اَخَذ بِيَد عَلِی(ع) فَقَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا ولَيهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاه”
یہ پوری طولانی حدیث امام حاکم نے درج کی ہے اور علامہ ذہبی نے بھی تلخیص میں اس کو درج کیا ہے۔ اسی حدیث کو امام حاکم نے زید بن ارقم کے حالات(1) لکھتے ہوئے دوبارہ لکھا ہے اور اس کے صحیح ہونے کی وضاحت بھی کردی ہے ۔ علامہ ذہبی باوجود اپنے تشدد کے انھوں نے بھی تلخیص مستدرک کے اسی باب میں اس کو درج کیا ہے اور اس کے
--------------
1ـ جلد3 صفحہ 533
صحیح ہونے کی صراحت کی ہے۔
اور امام احمد نے زید بن ارقم سے دریافت کر کے یہ حدیث لکھی ہے وہ فرماتے ہیں کہ :
“ الستم تعلمون اولستم تشهدون اني أَوْلى بکل مومن من نفسه قالوا: بلى، قال:فمن كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه و عاد من عاداه”
امام نسائی زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں۔ زید بن ارقم فرماتے
--------------
2ـ مسند جلد14 صفحہ372۔
ہیں(1) کہ رسول(ص) حج آخر سے فارغ ہوکر پلٹے اور مقام غدیر خم پر اترے ، وہاں آپ نے کجادوں کا منبر تیار کرایا جس پر جا کر ارشاد فرمایا :
“كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ فَأَجَبْتُ، أَنِّي تاَرك فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِّي فِيهِمَا فَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، ثُمَّ قَالَ:إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ مَوْلَايَ وَ أَنَا مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ» ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَنْ كُنْتُ وَلِيُّهُ فَهَذَا وَلِيُّهُ، .... ”
--------------
1ـ خصائص نسائی صفحہ21 جس موقع پر امام نسائی نے پیغمبر(ص) کا یہ ارشاد لکھا ہے :مَنْ كُنْتُ وَلِيُّهُ فَهَذَا وَلِيُّهُ ۔
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے زید سے پوچھا(1) کہ آپ نے خود رسول(ص) کو ایسا فرماتے ہوئے سنا ؟ زید نے جواب دیا : مجمع میں جتنے لوگ موجود تھے سب رسول(ص) کو اپنی آںکھوں سے دیکھ رہے تھے اور اپنے کانوں سے آپ کا الفاظ سن رہے تھے۔
--------------
1ـ ابوالطفیل کا یہ سوال امت کے تعجب کا ظاہر کرتا ہے کہ باوجودیکہ امت اسلام غدیر کے دن امیرالمومنین(ع) کے متعلق پیغمبر(ص) کے ان ارشادات کو روایت کرتی ہے جمہور مسلمین بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے غدیر خم میں بالائے منبر علی(ع) کو مولیٰ فرمایا مگر باوجود ان احادیث کی روایت کے جمہور مسلمین نے علی(ع) کے ہاتھوں میں زمام حکومت نہ جانے دی اور دوسروں کو خلیفہ مقرر کر لیا اور گویا ابوالطفیل کو شک پیدا ہوا کہ امت اسلام ان احادیث کو جو روایت کرتی ہے تو واقعا یہ حدیثینں صحیح بھی ہیں یا یونہی وضع کر لی گئی ہیں اسی وجہ سے انھوں نے زید سے اس حدیث کو سن کر دریافت کیا کہ آیا آپ نے خود رسول(ص) سے یہ حدیث سنی ہے جیسے متحیر و متعجب حیران و سرگشتہ اور شک و شبہ میں مبتلا انسان جسے واقعیت و حقیقت کا پتہ چلانا دشوار ہوتا ہے سوال کرتا ہے اسی طرح ابوالطفیل نے سوال کیا تو زید نے جواب دیا کہ اس دم باوجود اس اژدھام اور انبوہ خلائق کے مجمع میں کوئی متنفس بھی ایسا نہ تھا جس نے رسول(ص) کو اپی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو اور اپنے کانوں سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو۔ زید کے جواب کو سننے کے بعد ابوالطفیل کو پتہ چلا کہ بات ٹھیک ہے اور ایسا ہی ہے جیساکہ کمیت نے کہا ہے ۔ کمیت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
وَ يَوْمَ الدَّوْحِ دَوْحِ غَدِيرِ خُمٍ |
أَبَانَ لَنَا الْوَلَايَةَ لَوْ أُطِيعَا |
غدیر خم کے میدان میں حضرت سرورکائنات(ص) نے آپ کی خلافت کا اعلان کیا۔ کاش پیغمبر(ص) کی بات مانی جاتی
وَ لَكِنَّ الرِّجَالَ تَبَايَعُوهَا |
فَلَمْ أَرَ مِثْلَهَا أَمْراً شَنِيعاً |
لیکن لوگوں نے اس خلافت کو بذریعہ بیعت طے کیا۔ میں نے ایسی اہم بات پر بیعت ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔
وَ لَمْ أَرَ مِثْلَ ذَاكَ الْيَوْمِ يَوْماً |
وَ لَمْ أَرَ مِثْلَهُ حَقّاً أُضِيعَا |
نہ تو غدیر کے جیسا اہم دن میں نے دیکھا اور نہ ایسا حق کبھی ضائع ہوتے دیکھا۔
امام مسلم نے بھی اس حدیث کو باب فضائل امیرالمومنین(ع) میں زید بن ارقم سے متعدد(1) طریقوں سے نقل کیا لیکن انھوں نے عبارت مختصر اور قطع و برید کر کے لکھی ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں( این گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند)
امام احمد نے براء بن عازب کی حدیث دو طریقوں سے لکھی ہے۔
براء بن عازب(2) کہتے ہیں کہ :
“ الستم تعلمون اني أَوْلى بالمومنين من انفسهم قالوا: بلى، قال: الستم تعلمون اني أَوْلى بکل مومن
--------------
1ـ صفحہ 325 ج2
2ـ مسند ج 1 صفحہ 281
من نفسه قالوا: بلى قال: فاخذ بيد علی، فقال : فمن كنت مولاه فعلي مولاه”
براء بن عازب کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عمر، حضرت علی(ع) کی ملاقات کو آئے اور کہا:
امام نسائی عائشہ بنت سعد(1) سے روایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ :
“ أيّها الناس! إنّي وليّكم.قالوا: صدقت يا رسول اللّه. ثمّ رفع بيد عليّ عليه السلام فقال:هذا وليّي، و يؤدّي عنّي
--------------
1ـ خصائص نسائی صفحہ 4 و صفحہ25۔
ديني، و أنا موال من والاه، و معاد من عاداه.”
انھیں سعد(1) سے یہ حدیث بھی مروی ہے ۔ سعد کہتے ہیں کہ “
“يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ وَلِيُّكُمْ قَالُوا اللَّهُ وَ رَسُولُهُ ثم اخذ بيد علی فاقامه، ثم قال من کان اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وليه فهذا وليه، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاه”
--------------
1ـ خصائص نسائی صفحہ25۔
واقعہ غدیر کے متعلق بے حدو حساب حدیثیں موجود ہیں اور وہ سب کی سب صریحی نصوص ہیں اس بارے میں کہ حضرت علی(ع) ـآپ کے ولی عہد تھے اور آپ کے بعد آپ کے جملہ امور کے مالک و مختار بھی آپ ہی تھے جیسا کہ فضل بن عباس ابن ابی لہب کا ایک شعر بھی ہے
و كان ولىّ العهد بعد محمّد |
علىّ و في كلّ المواطن صاحبه(1) |
ش
--------------
1ـ خصائص نسائی صفحہ21 جس موقع پر امام نسائی نے پیغمبر(ص) کا یہ ارشاد لکھا ہے من کنت ولیہ فہذا ولیہ۔__
مکتوب نمبر28
بالاتفاق تمام حضرات شیعہ مسئلہ خلافت میں جن احادیث سے استدلال کرتے ہیں ان احادیث کا متواتر ہونا بھی ضروری سمجھتے ہیں ۔ بس ان ہی حدیثوں سے کام لیتے ہیں جو حدِ تواتر پر پہنچی ہوئی ہوں کیونکہ امامت حضرات شیعہ کے یہاں اصول دین سے ہے۔
لہذا آپ اس حدیث غدیر سے کیوں استدلال فرمارہے ہیں؟ کیونکہ اگر یہ حدیث حضرات اہل سنت کے یہاں صحیح طریقوں سے ثابت و مسلم بھی ہے تو متواتر قطعا نہیں۔
س
جوابِ مکتوب
حدیثِ غدیر کا تواتر اور اس کی غیر معمولی اہمیت
ہم جن وجوہ سے اس حدیث کو استدلال میں پیش کرتے ہیں وہ م 12 پر تفصیلا ہم بیان کرچکے ہیں براہ کرم ایک نظر پھر دیکھ جائیے۔
اس کے علاوہ حدیث غدیر کا متواتر ہونا تو ایسا یقینی امر ہے جس مین کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔ اس کے توتر پر انسانی فطرت گواہ ہے فطرت کے اصول شاہد ہیں جس طرح دنیا کے اور بہت سےعظیم ترین تاریخی واقعے جو اپنے مخصوص حالات و کیفیات کی وجہ سے نسلا بعد نسل تازہ رہے ہر زمانہ و ہر دور میں لوگوں کی زبان پر جن کا تذکرہ رہا اسی طرح بالکل واقعہ غدیر خم ہے جس میں بانی اسلام نے انتہائی اہتمام فرمایا جس کی اہمیت جتلانے کے لیے غیر معمولی سازو سامان کیا۔ مختلف ملکوں ، دور و دراز مقامات کے لاکھوں آدمیوں کے مجمع میں دوپہر کا وقت ، گرمی کی شدت، عرب کا بیابان تپتی زمین جہاں ببول کے درکتوں کے علاوہ کسی درخت کا سایہ بھی نہیں۔ ایسے مقام پر آپ منزل فرماتے ہیں۔ پیچھے آنے والوں کا انتظار فرماتے ہیں۔ آگے چلے جانے والوں کو الٹے پیروں واپس بلاتے ہیں جب سب اکٹھا ہولیتے ہیں تو کجادوں کا منبر تیار کیا جاتا ہے۔ آپ بالائے منبر تشریف لے جاتے ہیں۔ جمع مین بے چینی ہے۔ ایک اضطراب ہے سبب کھلتا نہیں کہ آخر یہ بے منزل کی منزل کیسی؟ یہ اتنی تیاری کس
مقصد کے لیے؟ مگر راز کھلتا نہیں، سب کی آنکھیں رسول(ص) کے چہرے پر جمی ہوئی ہیں، سب کے کان آپ کی آواز پر لگے ہوئے، رسول(ص) منبر پر پہنچ کر فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرماتے ہیں ۔ اس کے بعد سارے مجمع سے اپنے مالک و مختار ہونے کا اقرار لیتے ہیں۔ تمام مجمع سے آواز بلند ہوتی ہے۔ کہ بے شک آپ ہماری جانوں پر ہم سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتے ہیں۔ اس اقرار لینے کے بعد آپ حضرت علی(ع) کو منبر پر اپنے برابر کھڑا کرتے ہیں۔ تمام مجمع کو دکھا کرفرماتے ہیں کہ جس جس کامیں مولیٰ ہوں اس کے یہ مولیٰ ہیں ۔ یہ سارا اہتمام اور اتنے عظیم الشان مجمع میں رسول(ص) کے اس اعلان سے مقصود صرف یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ علی(ع) کے جانشین ہونے سے واقف ہوجائیں اور اپنے اپنے مقام پر پہنچ کر ہر شخص دوسروں کو اس کی خبر دے تاکہ وہ سپیدہ سحر کی طرح بحرو بر میں پھیل جائے۔
لہذا جو واقعہ اتنی اہمیت کا حامل ہو، جس میں اتنا اہتمام کیا جائے تو کیا اسے اخبار احاد میں شمار کیا جائے گا؟ ایسے واقعہ کے متعلق یہ بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایک دو آدمی اس کے راوی ہیں۔ اس واقعہ کی خبر تو یوں دنیا میں پھیلی ہوگی جیسے طلوع آفتاب کے وقت آفتاب کی کرنیں چپہ چپہ کو منور کر دیتی ہیں۔ خشکی و تری دونوں میں اجالا پھیل جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث غدیر سرچشمہ عنایات الہی ہے۔ نمونہ ہے اس کے لطف و کرم کا۔ سموکر نازل فرمایا ۔ وہ کلام مجید جس کی تلاوت صبح و شام اہلِ اسلام جسے خلوت و جلوت میں اپنے اوراد و وظائف ہیں، نمازوں میں، منبروں پر، مناروں پر پڑھتے ہیں۔
“يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ”
--------------
1ـ اس آیت کا بروز غدیر خم ولایت امیرالمومنین(ع) کے متعلق نازل ہونا شیعوں کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ اس باب میں جو روایتیں ائمہ طاہرین(ع) سے مروی ہیں وہ متواتر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حضرات اہل سنت کی روایتوں سے اس کا ثبوت چاہتے ہیں۔ تو ملاحظہ فرمائیے وہ حدیث جو امام واحدی نے سورہ مائدہ کی اس تفسیر میں کتاب اسباب النزول صفحہ150 پر دو معتبر طریقوں سے روایت کی ہے۔ عطیہ جناب ابوسعید خدری صحابی پیغمبر(ص) سے ناقل ہیں کہ یہ آیت یا ایہا الرسول بلغ بروز غدیر خم علی بن ابی طالب کےمتعلق نازل ہوئی اسی مضمون کی حدیث حافظ ابونعیم نے اپنی کتاب نزول القرآن میں سندوں سے روایت کی ہے ایک ابوسعید سے دوسرے ابو رافع سے نیز علامہ حموینی شافعی نے اپنی کتاب فرائد السمطین میں متعدد طریق سے روایت کیا ہے۔ ابو اسحاق ثعلبی نے بھی اپنی تفسیر کبیر میں اس آیت کے متعلق اسی مضمون کی حدیث درج کی ہے۔ مزید برآں قابل غور ہے یہ امر کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ہی نماز رائج ہوچکی تھی، زکوة فرض ہوچکی تھی، روزے رکھے جارہے تھ، ہر سال حج بھی کیا جاتا تھا۔ شریعت کے احکام مدون ہوچکے تھے۔ اب سوائے پیغمبر(ص) کی جانشینی کے اعلان کے کون سی بات ایسی باقی بچ رہی تھی۔ جس کے لیے خداوند عالم کی تاکید اتنے شدید پیمانہ پر ہوئی اور اتنے سخت و شدید الفاظ استعمال کیے گیے جو دھمکی سے مشابہ تھےوَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ ۔ اگر تم نے اے رسول(ص) یہ بات لوگوں تک نہ پہنچائی تو تم نے کار رسالت انجام ہی نہ دیا۔ اور خلافت کے سوائے کون سی ایسی بات ہوسکتی ہے جس کے اظہار سے پیغمبر(ص) اتنے ہراساں تھے فتنہ و فساد کا اندیشہ لاحق تھا قلبِ پیغمبر(ص) کو اور اس کے اعلان کے بعد پیغمبر(ص) خداوند عالم کی حمایت و حفاظت کے محتاج تھے۔
اور جب رسول(ص) نے وہ پیغام پہنچا دیا ۔ بھرے مجمع میں علی(ع) کے امام اور اپنے جانشین ہونے کا اعلان کردیا ۔ تو خداوند عالم آیت نازل فرمائی:
“الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتي وَ رَضيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ ديناً ”(1) ( المائدة : 3)
جو شخص بھی ان آیا ت کا مطالعہ کرے ، غور و فکر سے کام لے تو خداوند عالم کی ان عنایات ومنت ہائے بے پایان پر سرجھکا کر رہے گا۔
جبکہ توجہ الہی اس مسئلہ پر اس حد تک تھی تو تعجب نہیں ہے رسول(ص) کے سامنے یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کے ساتھ آیا ہو اس لیے کہ جب آںحضرت(ص)
--------------
1ـ ہمارے یہاں کی صحیح حدیثیں روز غدیر اس آیت کے نازل ہونے کے متعلق ائمہ طاہرین(ع) کے اسناد سے متواتر ہیں اگر چہ بخاری نے زمانہ نزول یوم عرفہ لکھا ہے مگر گھر والے گھر کی بات سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔
کی وفات کا وقت پہنچا اور آپ کو اندازہ ہوگیا کہ اب زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے تو آںحضرت(ص) نے بحکم خدا طے کیا کہ حج اکبر کے موقع پر بھرے مجمع میں علی(ع) کی ولایت و جانشینی کا اعلان کردیا جائے۔ گو اس سے پہلے آپ ہر موقع و محل پر اعلان فرماچکے تھے۔ اول اول جب اعلان رسالت فرمایا تھا اسی وقت علی(ع) کی جانشینی کا اعلان بھی کردیا تھا۔ اس کے بعد جب بھی موقع ملا اعلان فرماتے رہے جیسا کہ ہم گزشتہ اوراق میں بیان کر چکے ہیں لیکن ان اعلانات کو آپ نے کافی نہیں سمجھا۔ آپ نے منادی کرادی کہ ہم اس سال حج آخری کرنے والے ہیں۔
رسول(ص) کے اس اعلان سے ظاہر ہے جو قدرتا نتیجہ مرتب ہوا ہوگا۔ ہر گوشہ سے مسلمان سمٹ کر آگئے کہ رسول(ص) کےساتھ اس عبادت میں شرکت کا ثواب حاصل کریں۔ رسول(ص) ایک لاکھ سے زیادہ(1) مسلمان کے ہمراہ مدینہ سے نکلے ۔ جب عرفات کا دن آیا تو آپ نے تمام مسلمانوں سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا:
--------------
1ـ زینی و حلان نے ( باب حجة الوداع ) میں لکھا ہے کہ حضرت کے ساتھ مدینے سے ایک لاکھ چوبیس ہزار آدمی نکلے ۔ اس سے زیادہ تعداد بھی بتائی جاتی ہے۔ یہ شمار ان لوگوں کا ہے جو مدینہ سے حضرت کے ساتھ ہوگئے تھے اور ان کا شمار جنھوں نے حضرت کے ساتھ حج کیا اس سے بھی زیادہ ہے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حج سے پلٹنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی اور ان سب نے حدیث غدیر سنی۔
اور جب آپ ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کےہمراہ حج کر کے پلٹے اور وادی خم میں پہنچے اور روح الامین آیہ بلغ لے کر آپ کی خدمت میں نازل ہوئے، آپ وہاں اتر پڑے ، منزل فرمائی، جولوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ آپہنچے اور جو آگے بڑھ گئے تھے وہ لوٹ آئے۔ جب سب اکٹھا ہوئے آپ نے نماز جماعت پڑھائی پھر بالائے منبر جاکر خطبہ ارشاد فرمایا اور صاف صاف کھلے لفظوں میں حضرت علی(ع) کی جانشینی و خلافت کا اعلان فرمایا ۔ جس کی قدرے تفصیل آپ سن چکے ہیں اور آپ کے اس اعلان کو مجمع کے تمام مسلمانوں نے بھی سنا جو ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے اور مختلف مقامات کے رہنے والے تھے۔
لہذا خداوندِ عالم کا وہ طریقہ جو اس کی مخلوقات میں جاری و ساری ہے جس میں کبھی تغیر و تبدل نہیں ہوتا اس کا تقاضہ یہی ہے کہ حدیث غدیر متواتر ہی ہو خواہ نقل میں کیسے ہی موانع ہوں۔ مزید برآں اتمہ طاہرین(ع) نے بڑے حکیمانہ انداز سے اس کی نشر و اشاعت فرمائی۔
حدیث غدیر کے متواتر ہونے کا اندازہ آپ ایک اسی واقعہ سے کیجیے کہ جب امیرالمومنین(ع) نے اپنے زمانہ خلافت میں کوفہ کے میدان رحبہ میں لوگوں کو جمع کیا اور ارشاد فرمایا کہ :
--------------
1ـ ملاحظہ ہو م24 جہاں ہم نے یہ حدیث حوالہ کے ساتھ درج کی ۔ اس حدیث پر جو تبصرہ ہم نے کیا ہے وہ خاص طور پر قابل غور ہے۔
امیرالمومنین(ع) کی بیعت سنہ35ھ میں ہوئی اور واقعہ غدیر سنہ10 ھ میں پیش آیا۔ ان دونوں کی درمیانی مدت کم سے کم پچیس (25) برس ہوتی ہے اور اسی پچیس برس میں عمواس کا طاعون بھی آیا اور بہت سی لڑائیاں اور فتوحات بھی خلفاء ثلاثہ کے زمانہ میں پیش آئیں۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس اتنی طولانی مدت میں جو ایک جوتھائی صدی کے برابر تھی جس میں نہ جانے کتنی لڑائیاں ہوئیں، کتنے فتنہ و فساد اور تباہ کاریوں کا سامنا ہوا اور طاعونِ عمواس کی وبا پھیلی ۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ واقعہ غدیر میں شریک اشخاص اپنی موت مرچکے ہوں گے۔ کتنے نوجوان شوق جہاد میں میدان کارزار کام آئے ہوں گے۔ مرنے والوں کی بہ نسبت زندہ رہنے والوں کی کتنی مختصر تعداد ہوگی اور جو زندہ بھی رہے ہوں گے۔ وہ ایک جگہ تو ہوں گے نہیں۔ متفرق مقامات پر منتشر ہوں گے۔ کوئی کہیں ہوگا کوئی کہیں ( کیونکہ رحبہ میں تو وہی لوگ آئے ہوں گے جو امیرالمومنین(ع) کے ہمراہ عراق میں موجود تھے) باوجود ان سب باتوں کے امیرالمومنین(ع) کے کہنے پر 30 صحابی اٹھ کھڑے ہوئے جن صرف 12 تو بدری تھے اور ان سب نے گواہی دی کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے رسول(ص) کو منبر پر دیکھا اور اپنے کانوں سے رسول(ص) کو یہ حدیث ارشاد فرماتے سنا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واقعہ غدیر کے شاہد صرف یہی تیس(30) صحابی نہ رہے ہوں بلکہ ان کے علاوہ اور بھی کچھ افراد اس مجمع میں موجود ہوں۔ مگر وہ اپنے بغض و کینہ کی وجہ سے نہ اٹھے نہ گواہی دی جیسے انس بن مالک(1)
--------------
1ـ حضرت امیرالمومنین(ع) نے انس سے فرمایا کیوں ؟ تم بھی دیگر اصحاب پیغمبر(ص) کی طرح بروز غدیر پیغمبر(ص) کے ارشادات جو تم نے سنے ہیں کھڑے ہو کر کیوں نہیں اس اسکی گواہی دیتے؟ انھوں نے کہا حضور میں بڈھا ہوگیا ہوں پوری طرح یاد بھی نہیں رہا۔ امیرالمومنین(ع) نے فرمایا : اگر تم نے یہ جھوٹ بولا ہے تو خدا تمھیں ایسا سپید داغ لگا دے جس کو عمامہ بھی چھپاسکے۔ انس ابھی اٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ ان کا چہرہ برص کی وجہ سے سپید ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد انس کہا کرتے تھے اصابتنی دعوة العبد الصالح ۔ نیک بندے ( امیرالمومنین) کی بد دعا مجھے لگ گئی۔ یہ پورا واقعہ ابن قتیبہ نے معارف صفحہ194 پر درج کی اہے اما احمد نے مسند جلد1 صفحہ19 پر جو روایت درج کی ہے اس سے بھی اس واقعہ پر روشنی پڑتی ہے۔ اس روایت کے الفاظ ہیں: فقاموا الا ثلاثہ لم یقوموا فاصابتہم دعوتہ ۔ امیرالمومنین(ع) کے فرمانے پر تمام صحابہ نے اٹھ کر گواہی دی۔ تین شخص نہ اٹھے وہ آپ کے بد دعا کا شکار ہوئے۔
وغیرہ ۔ جس کے نتیجہ میں وہ بد دعائے امیرالمومنین(ع) کا شکار ہوئے۔ غرضیکہ باوجود ان سب باتوں کے 30 صحابی اٹھ کھڑے ہوئے اور گواہی دی اگر امیرالمومنین(ع) کو موقع ملتا کہ آپ اس محل پر رحبہ کے دن ہر بقید حیات مرد و زن ، ہر صنف کے اصحاب کو اکٹھا کر سکتے ۔ اور ان کو ویسی ہی قسم دیکر گواہی طلب کرتے جیسی آپ نے رحبہ میں قسم دے کر گواہی مانگی تھی تو نامعلوم ایسے کتنے تیس گواہی دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے۔ یہ خیال تو رحبہ کے دن کے متعلق ہے جو واقعہ غدیر کے پچیس برس گزرنے کے بعد ہوا۔
اب ذرا سوچیے کہ اگر امیرالمومنین(ع) کو ایسا موقع سرزمین حجاز پر ملتا اور واقعہ غدیر کو اتنی مدت نہ گزری ہوتی جتنی رحبہ
کے دن تک گزر چکی تھی اور آپ اسی طرح قسم دے کر لوگوں سے گواہی طلب کرتے تو اس صورت میں کتنے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے اور گواہی دیتے۔
آپ اسی پر اچھی طرح غور کریں تو اسی ایک واقعہ کو حدیث غدیر کے تواتر کی قوی ترین دلیل پائیں گے۔ واقعہ رحبہ کے متعلق جو روایات کتب احادیث وسنن میں موجود ہیں انھیں بھی ذرا دیکھیے۔
چنانچہ امام احمد نے مسند جلد4 صفحہ370 پر زید بن ارقم کی حدیث ابوطفیل سے روایت کر کے لکھی ہے، ابوطفیل فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین(ع) نے رحبہ میں لوگوں کو جمع کر کے ارشاد فرمایا :
آپ کے اس قسم دینے پر 30 افراد اٹھ کھڑے ہوئے۔ امام احمد کہتے ہیں کہ ابونعیم کا بیان ہے کہ بہت سے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اس موقع پر چشم دید گواہی دی۔ جب رسول(ص) نے حضرت علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کر خطاب کیا تھا کہ:
ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں رحبہ سے نکلا اور میرے دل میں بڑا خلجان
تھا( آخر جمہور مسلمین نے اس حدیث پر کیوں عمل نہیں کیا ) میں زید بن ارقم کی خدمت میں پہنچا اور ان سے رحبہ کا واقعہ بیان کیا کہ حضرت علی(ع) کو میں نے ایسا ایسا کہتے سنا۔ زید بن ارقم نے جواب میں کہا کہ :
میں کہتا ہوں کہ زید بن ارقم کی گواہی کو رحبہ میں امیرالمومنین(ع) کے بیان کے ساتھ ملایا جائے تو اس حدیث کے 32 گواہ ہوجاتے ہیں۔ ایک امیرالمومنین(ع) دوسرے زید بن ارقم اور وہ 30 صحابی جنھوں نے رحبہ میں گواہی دی تھی۔
امام احمد نے مسند جلد1 صفحہ 119 پر حضرت علی(ع) کی حدیث عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت کر کے لکھی ہے۔ عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ :
“من كنت مولاه فهذا علي مولاه”کہتے سنا ہو اٹھ کھڑے جہو اور گواہی دے اور وہی شخص اٹھے جس نے اپنی آنکھوں سے رسول(ص) کو دیکھا ہو اور اپنے کانوں سے کہتے سنا ہو۔”
عبد الرحمن کہتے ہیں کہ:
اسی صفحہ کے آخر میں امام مذکور نے دوسرے طریقے سے اسی روایت کو لکھا ہے جس میں ہے کہ :
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ :
اگر آپ حضرت علی(ع) اور زید ابن ارقم کو بھی ان بارہ(12) بدری اصحاب کے ساتھ ملا لیں تو چودہ(14) بدری اصحاب ہوجاتے ہیں۔ واقعہ رحبہ کے متعلق جو حدیثیں اور روایات کتب احادیث وسنن میں موجود ہیں ان پر غور فرمائیے توآپ کو اندازہ ہوگا کہ اس واقعہ میں امیرالمومنین(ع) کی کیا حکمت
فضائل جس میں یہ بھی ہے کہ آںحضرت(ص) نے آپ کو اپنا جانشین بنایا اور یومِ غدیر آپ کی خلافت کا اعلان فرمایا۔ ان سب باتوں کی گواہی پر مشتمل ہے شیعہ ہر سال ایسا کرتے ہیں، ان کا وتیرہ بن چکا ہے ۔ شیعوں کے خطباء و مقررین کا دستور ہے ک وہ ہر شہر میں ہر مقام پر ہر اپنی تقریر میں حدیث غدیر کو بہترین اسلوب اور بہت ہی عمدہ پیرایہ میں بیان کرتے ہیں، ان کی کوئی تقریر حدیث غدیر کے تذکرہ سے خالی نہیں ہوتی۔ اسی طرح قدیم شعراء اور نئے دور کے شعراء کی بھی یہ عادت ہمیشہ رہی کہ وہ اپنے قصائد میں واقعہ غدیر کو نظم کرتے آئے ہیں۔(1)
لہذا شیعوں کے یہاں جس حدیث کو اتنی اہمیت حاصل ہو اس کے بطریق اہل بیت(ع) و شیعیانِ اہلبیت(ع) متواتر ہونے میں تو کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ انھوں نے اس حدیث کو بعینہ اس کے الفاظ میں محفوظ رکھنے میں جتنی احتیاط کی اور اس کے تحفظ و انضباط نشرو اشاعت میں جتنی کدو کاوش سے کام لیا وہ انتہا درجہ کو پہنچی ہوئی تھی۔
آپ شیعہ کتب احادیث ملاحظہ فرمائیں ۔ ان میں یہ حدیث بے شمار طرق و
--------------
1ـ جناب کمیت ابن زید کے کچھ اشعار ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں جن کا ایک شعر یہ تھا:
وَ يَوْمَ الدَّوْحِ دَوْحِ غَدِيرِ خُمٍ |
أَبَانَ لَنَا الْوَلَايَةَ لَوْ أُطِيعَا |
غدیر خم کے میدان میں حضرت سرورکائنات(ص) نے آپ کی خلافت کا اعلان کیا۔ کاش پیغمبر(ص) کی بات مانی جاتی)
مشہور شاعر ابوتمام نے اپنے قصیدہ میں کہا ( یہ اشعار اس کے دیوان میں موجود ہیں)
و يوم الغدير استوضح الحق أهله |
بفيها و ما فيها حجاب و لا ستر |
|
(الی آخر کلام) |
اسناد سے مروی ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس کی زحمت گوارا فرمائیں تو شیعوں کے نزدیک اس حدیث کا متواتر ہونا روزِ روشن کی طرح واضح وجائے۔
بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ بلحاظ اصولِ فطرت حضراتِ اہلسنت کے یہاں بھی اس حدیث کے متواتر ہونے میں کوئی شک نہیں۔ صاحب فتاوائے حامدیہ ایسا متعصب شخص مگر انھوں نے بھی اپنی کتاب الصلاة الفاخر فی الاحادیث المتواترہ میں اس حدیث کے متواتر ہونے کا صاف صاف اقرار کیا ہے۔
علامہ سیوطی اور انھیں جیسے دیگر حافظانِ حدیث نے بھی اس کے تواتر کی تصریح کی ہے۔
علامہ جریر طبری جن کی تفسیر مشہور ہے اور تاریخ بھی اور احمد بن محمد ابن سعید بن عقدہ اور محمد بن احمد بن عثمان ذہبی نے تو اس حدیث کو اتنا اہم سمجھا کہ مستقل کتابیں مخصوص حدیث غدیر پر لکھیں اور ان تمام طریقوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی جن طریقوں سے یہ حدیث مروی ہے۔
علامہ طبری نے اپنی کتاب میں پچھتر(75) طریقوں سے اور ابن عقدہ نے اپنی کتاب میں ایک سو پانچ(1) طریقوں سے اس حدیث کو لکھا ہے۔
--------------
1ـ صاحب غایةالمرام نے اپنی کتاب کے سولہویں باب صفحہ 89 پر تصریح کی ہے کہ ابن جریر نے حدیچ غدیر کی 95 طریقوں سے روایت کی ہے اور اس کے لیے انھون نے ایک مستقل کتاب الولایہ تصنیف کی اسی طرح ابن عقدہ نے بھی حدیث غدیر کے موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی اور اس میں ایک سو پانچ طریقوں سے اس حدیث کی روایتیں درج کیں اور علامہ احمد بن محمد بن صدیق مغربی نے صراحت کی ہے کہ ذہبی اور ابن عقدہ دونوں نے اس حدیث غدیر پر مستقل کتابیں لکھیں، ملاحظہ ہو علامہ موصوف کی کتاب فتح الملک العلی بصحت حدیث باب مدینة العلم علی کا خطبہ۔
علامہ ذہبی ایسے متعصب شخص نے بھی اکثر و بیشتر طرق کو صحیح قرار دیا ہے۔(1)
غایة المرام کے سولہویں باب میں 89 حدیثیں بطریق اہل سنت مذکور ہیں جس میں واقعہ غدیر کا ذکر ہے اور لطف یہ ہے کہ یہ 89 حدیثیں ان روایتوں کے علاوہ ہیں جو ترمذی ، نسائی، طبرانی، بزار، ابو یعلی نیز اور بہت سے علماء احادیث نے ذکر کی ہیں۔
اور علامہ سیوطی نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں بضمن حالات امیرالمومنین(ع) اس حدیث کو ترمذی سے نقل کیا ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ :
اس کے بعد لکھتے ہیں کہ : “ بزار نے ابن عباس و عمارہ اور بریدہ سے روایت کیا ۔۔۔۔۔الخ”
--------------
1ـ علامہ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ باب اول فصل پنجم میں اس کی وضاحت کی ہے۔
2ـ مسند جلد اول کے صفحہ 121 پر ابن عباس کی حدیث سے بھی اس کی روایت کی ہے نیز مسند جلد4 صفحہ 201 پر براء عازب کی حدیث سے بھی روایت کی ہے۔
اس حدیث کے بیش از بیش معروف و مشہور ہونے پر منجملہ اور ادلہ کے ایک وہ روایت بھی ہے جو امام احمد نے اپنی مسند میں ریاح بن حارث(1) سے دو طریقوں سے روایت کی ہے۔ ریاح کہتے ہیں کہ :
ریاح کہتے ہیں کہ :
منجملہ ان ادلہ کے جو اس حدیث غدیر کے تواتر پر دال ہیں ایک وہ حدیث بھی ہے جو اسحاق ثعلبی نے اپنی تفسیر میں بسلسلہ تفسیر سورہ معارج دو معتبر سندوں سے ذکر کی ہے کہ :
--------------
1ـ دیکھیے مسند جلد5 صفحہ419
وہ ابھی اپنے مرکب تک پہنچنے بھی نہ پایا تھا کہ خداوند عالم نے اسے اپنے
عذاب میں مبتلا کیا۔ ایک پتھر آسمان سے اس کی کھوپڑی پر گرا جو سر کو توڑتا ہوا اسفل سے نکل گیا اور اس نے وہیں جان دیے دی اور اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔: ( یہاں تک اصل عبارت کو ترجمہ تھا۔)(1)
اور بہت سےعلمائے اہلسنت نے اس حدیث کو بطور مسلمات ذکر کیا ہے۔(2)
ش
--------------
1ـ ثعلبی سے ایک جماعت نے علماء اہل سنت کی جیسے علامہ شلنجی نے نور الابصار صفحہ171 پر احوال امیرالمومنین(ع) میں لکھا ہے۔
2ـ حلبی نے سیرہ حلبیہ صفحہ 374 جلد3 میں احوال حجة الوداع میں لکھا ہے۔
مکتوب نمبر29
چونکہ ہم مجبور ہیں کہ صحابہ کو صحیح سمجھیں لہذا اس حدیث کی تاویل کرنا ضروری ہے۔ تاویل کے علاوہ ہمارے لیے کوئی چارہ کار ہی نہیں خواہ یہ حدیث متواتر ہو یا غیر متواتر۔ اسی وجہ سے حضرات اہل سنت کہتے ہیں کہ لفظ مولیٰ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے چنانچہ خود قرآن میں بھی یہ لفظ کئی معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ کبھی تو اولیٰ کے معنوں میں جیسے خداوند عالم کا یہ قول جو اس نے کفار سے خطاب کر کے فرمایا ہے :
“مَأْواكُمُ النَّارُ هِيَ مَوْلاكُمْ ” (حدید، 15 )
“ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذينَ آمَنُوا وَ أَنَّ الْكافِرينَ لا مَوْلى لَهُمْ ” (محمد : 11 )
اور کبھی وارث کے معنوں میں جیسے خداوند عالم کا قول :
“وَ لِكُلٍّ جَعَلْنا مَوالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوالِدانِ وَ الْأَقْرَبُونَ ” (النساء : 33 )
کبھی بمعنی جماعت استعمال ہوا ہے۔ جیسے ارشاد خداوند عالم ہے:
“ وَ إِنِّي خِفْتُ الْمَوالِيَ ” (مریم، 5 )
کبھی دوست کے معنوں میں جیسے قول باری تعالی :
“يَوْمَ لا يُغْني مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئاً ” (الدخان : 41 )
حضرات اہل سنت کہتے ہیں کہ یہی معنی مراد پیغمبر(ص) ہونے پر یہ قرینہ ہے کہ جب حضرت علی(ع) یمن تشریف لے کگئے تھے اور مسلمانوں کی ایک جمعیت آپ کے ساتھ تھی اور کچھ لوگوں کو آپ کی سخت گیری سے تکلیف پہنچی انھوں نے رسول(ص) کی خدمت میں پہنچ کر آپ کی شکایت کی اور آپ کی برائیاں کیں۔ اسی سبب سے آںحضرت نے غدیر خم میں آپ کی مدح و ثناء بیان کرنے میں اتنا اہتمام کیا۔ آپ کے فضائل و محامد بیان فرمائیے۔ اس سے غرض یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت علی(ع) کی جلالت قدر معلوم ہوجائے اور جو ان کے دشمن ہیں ان کی آنکھیں کھل جائیں۔ اس کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ آںحضرت(ص) نے اپنی تقریر میں حضرت علی(ع) کا ذکر خصوصیت سے کیا اور فرمایا کہ جس کا میں مولیٰ ہوں علی(ع) اس کے ولی ہیں۔ اہلبیت(ع) کا ذکر عام طور پر کیا کہ میں تم میں دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ ایک کتاب خدا اور دوسرے میرے عترت و اہلبیت(ع)۔ گویا یہ مسلمانوں سے رسول اﷲ(ص) کی چلتے چلاتے وصیت تھی کی علی(ع) کےساتھ سلوک کرنے میں خصوصیت کے ساتھ میرے حقوق کی حفاظت کا خیال رہے اور اہل بیت(ع) کے متعلق جن سلوک کی عام وصیت تھی۔
حضرات اہل سنت کہتے ہیں کہ اس بناء پر حدیث سے نہ تو یہ ثابت ہے کہ حضرت نے آپ کو اپنا جانشین بنایا اور نہ آپ کے امام ہونے پر یہ حدیث
دلالت کرتی ہے۔
س
جوابِ مکتوب
حدیث غدیر کی تاویل ممکن نہیں
مجھے یقین ہے کہ آپ نے جو کچھ فرمایا اس سے خود بھی مطمئن نہیں اور نہ آپ کا میلان ہے اس طرف ، آپ کو آںحضرت کی حکمت بالغہ، شانِ عصمت اور حیثیتِ خاتمیت کا پورا اندازہ ہے، آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ حضرت ختمی مرتبت(ص) تمام اہل حکمت کے سید و سردار اور تمام نبیوں کے خاتم تھے۔ آپ اپنی خواہش نفسانی سے کبھی تکلم فرماتے ہی نہ تھے ۔ جو کچھ فرماتے وہ ترجمانی ہوتی تھی وحی ربانی کی۔ خداوند عالم نے آپ کو تعلیم دے کر دنیا میں بھیجا تھا۔
سوچیے تو اگر غیر مسلم فسلفی آپ سے واقعہ غدیر کے متعلق پوچھے اور کہے کہ آخر یہ رسول(ص) نے ان لاکھوں مسلمانوں کو غدیر خم میں پہنچ کر سفر جاری رکھنے سے کیوں روک دیا۔ کس لیے ان کو چلچلاتی دوپہر میں تپتی زمین پر ٹھہرایا اور یہ اتنا اہتمام کس مقصد کے لیے تھا کہ جو آگے بڑھ گئے تھے ان کو واپس بلایا اور جو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظار کیا اور آخر یہ کس لیے چٹیل میدان میں انھیں منزل کرنے پر مجبور کیا جہاں پانی تھا نہ سبزہ، پتھریلی زمین تھی۔ ٹھیک ایسی جگہ پہنچ کر جہاں راہیں بدلتی تھیں، لوگ جدا ہونے والے تھے۔ آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا تاکہ حاضرین غیر حاضر
اشخاص کو پہنچادیں اور آخر یہ ضرورت کون سی آپڑی تھی کہ آپ نے سلسلہ تقریر میں اپنے وقت رحلت قریب ہونے کی خبر دی ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا :
وہ بات کونسی تھی جس کے متعلق رسول(ص) سے پوچھا جانے والا تھا کہ آپ نے اسے پہنچایا یا نہیں اور امت سے بازپرس کی جانے والی تھی کہ رسول(ص) کی اس بات میں اطاعت کی گئی یا نہیں؟
رسول(ص) کے یہ سوال کرنے کی وجہ کیا تھی کہ کیا تم لوگ گواہی نہیں دیتے کہ بس معبود حقیقی وہی خداوند عالم ہے اور محمد(ص) اس کے بندے اور رسول(ص) ہیں اور جنت حق ہے، جہنم حق ہے موت برحق ہے اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا حق ہے۔ قیامت آنے والی ہے اس کےمتعلق کوئی شبہ نہیں اور خداوند عالم قبروں کے تمام مردوں کو زندہ کرے گا۔
لوگوں نے کہا: بے شک یا رسول اﷲ(ص) ! ہم اس کی گواہی دیتے ہیں اور یہ آخر کس لیے رسول(ص) نے فورا علی(ع) کا ہاتھ پکڑا اور اتنا اونچا کیا کہ سپیدی بغل نمایاں ہوئی اور ارشاد فرمایا:
اوریہ تفسیر فرمانے کے بعد آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ :
اور آخر کس وجہ سے اہل بیت(ع) اور کتاب الہی کو ہم پلہ قرار دیا آپ نے؟ اور صاحب عقل و فہم کے لیے روز قیامت تک انھیں مبتدا اور پیشوا کیوں فرمایا ؟ کس چیز کے لیے حکیمِ اسلام اتنا زبردست اہتمام فرمارہے تھے وہ کونسی مہم تھی جس کے لیے اتنی پیش بندی کی ضرورت لاحق ہوئی وہ کون سی غرض تھی جس کی تکمیل آپ کو لوگوں کے بھرے مجمع میں مدنظر تھی۔ وہ بات کیا تھی جس کے پہنچانے کا خداوند عالم کی جانب سے اتنا تاکیدی حکم ہوا او آیت اتری کہ :
یہ اتنی شدید تاکید اور دھمکی سے ملتا جلتا حکم دینے کی خدا کو ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ وہ بات کیا تھی جس کے پہنچانے میں رسول(ص) ڈر رہے تھے کہ کہیں فتنہ نہ کھڑا ہوجائے اور اس کے بیان کرنے میں منافقین کی ایذا رسانیوں سے بچنے کے لیے خدا کی حفاظت و حمایت کے ضرورت مند ہورہے تھے۔ اگر یہ سوالات آپ سے کیے جائیں تو کیا آپ اتنی عقل اور سمجھ رکھتے ہوئے یہی جواب دیں گے کہ ان تمام باتوں سے خدا و رسول(ص) کی غرض صرف یہ ظاہر کرنا تھا کہ علی(ع) مسلمانوں کے مددگار اور دوست ہیں۔ میرا تو یہی خیال ہے کہ آپ یہ جواب دینا کبھی بھی پسند نہ کریں گے۔ مجھے وہم و گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ آپ اس قسم کی باتیں اس حکیم مطلق، رب الارباب کے لیے جائز سمجھیں گے۔ نہ حکیم اسلام خاتم النبیین(ص) کے لیے۔ آپ سے بعید ہے کہ آپ رسول(ص) کے لیے یہ جائز و مناسب قرار دیں کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اور پوری پوری کوشش ایسی چیز واضح کرنے میں صرف کر دیں جو خود روشن اور واضح ہو۔ جس کی وضاحت کی کوئی ضرورت ہی نہ ہو یا ایسے عمل کی وضاحت فرمائیں جسے وجدان و عقل سلیم واضح سمجھیں۔ مجھے تو کوئی شک نہیں کہ آپ یقینا پیغمبر(ص) کے اقوال و افعال کو اس سے بلند و برتر سمجھتے ہوں گے کہ ار باب عقل اس کو معیوب سمجھیں یا فلاسفہ و صاحبان حکمت نکتہ چینی کریں۔
کوئی شبہ نہیں کہ آپ رسول(ص) کے قول و فعل کی قدر ومنزلت سے واقف ہیں۔ آپ معرفت رکھتے ہیں کہ رسول(ص) کے افعال و اقوال کس قدر حکمت سے لبریز اور شان عصمت کے حامل ہوتے ہیں۔ خداوندِ عالم جس کے متعلق فرمائے :
“إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ
مَكِينمُّطَاعٍ ثمََّ أَمِينٍ وَ مَا صَاحِبُكمُ بِمَجْنُون ”
وہ واضح باتوں کی وضاحت اور بدیہی چیزوں کے بیان کرنے کے لیے اتنا اہتمام کرے گا اور ان اظہر من الشمس چیزوں کو واضح کرنے کے لیے ایسا سازو سامان فراہم کرے گا۔ ایسی بے تکی و بے ربط پیش بندیاں کرے گا۔ خدا و رسول(ص) کی ذات ان مہملات سے کہیں پاک وصاف اور بزرگ و برتر ہے۔
آپ یقینا یہ جانتے ہوں گے کہ اس چلچلاتی دوپہر میں، اس موقع و محل کے مناسب اور غدیر کے دن کے افعال اقوال کے لائق و سزاوار یہی بات تھی کہ آپ اپنی ذمہ داری پوری کردیں اور اپنے بعد کے لیے جانشین معین فرمائیں۔
آںحضرت(ص) کا انداز گفتگو جچے تلے الفاظ، واضح عبارت بھی یہی کہتی ہے اور عقلی دلیلوں سے بھی اسی بات کا قطع و یقین ہوتا ہے کہ آںحضرت(ص) کا مقصد اس دن یہی تھا کہ حضرت علی(ع) کو اپنا ولیعہد اور اپنے بعد جانشین و قائم مقام کر جائیں۔
لہذا یہ حدیث ان تمام قرائن کے ساتھ جسے الفاظ حدیث اپنے دامن میں لیے ہوئے ہیں، امیرالمومنین(ع) کی خلافت و امامت کے متعلق صریحی نص ہے کسی تاویل کی گنجائش نہیں اور نہ اس معنی کو چھوڑ کر دوسرے معنی مراد لینے کی گنجائش نکلتی ہے۔ یہ تو ایسی واضح چیز ہے کہ کسی دلیل کی ضرورت ہی
نہیں بشرطیکہ انسان چشم بینا اور گوش شنوا رکھے۔
اور آپ حضرات اہل سنت جس قرینہ کا ذکر فرماتے ہیں وہ بہت ہی رکیک اور بالکل ہی غلط بیانی ہے۔ اس لیے کہ آںحضرت(ص) نےعلی(ع) کو دو مرتبہ یمن کی جانب بھیجا پہلی مرتبہ سنہ8 ھ میں اس مرتبہ لوگوں نے امیرالمومنین (ع) کے
متعلق تہمت تراشی کی اور مدینہ واپس آکر رسول(ص) کی خدمت میں شکایتیں کیں جو رسول(ص) کو بہت ناگوار گزریں۔(1) یہاں تک کہ غیظ و غضب کے آثار آپ کے چہرے سے نمایاں ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھر کسی کو جسارت ایسا کرنے کہ نہ ہوئی۔
اور دوسری مرتبہ سنہ10ھ میں گئے۔ اس مرتبہ آپ نے حضرت علی(ع) کو علم لشکر دیا اور سر پر عمامہ باندھا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ روانہ ہو اور ادِھر اُدھر توجہ نہ کرنا۔ حضرت علی(ع) روانہ ہوئے وہاں پہنچ کر رسول(ص) کے امور انجام دیے اور وہاں سے مکہ پہنچ کر حجة الوداع میں رسولص) کے ساتھ ہوگئے۔ اس مرتبہ نہ تو کسی کینہ ور کو کینہ ظاہر کرنے کی نوبت آئی نہ کسی دشمن کو دشمنی کرنے کا موقع ملا۔ لہذا یہ کہنا کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ رسول(ص9 نےغدیر خم میں جو کچھ کہا اس کا سبب وہی علی(ع) پر اعتراض کرنے والے ہیں یا آںحضرت(ص) نے دشمنان و مخالفین امیرالمومنین(ع) کی رد میں ایسا کیا۔
علاوہ اس کے محض علی(ع) کی مخالفت و دشمنی تو ایسی چیز نہیں ہوسکتی کہ اس کے سبب رسول(ص) علی(ع) کی مدح و ثنا کرنے کے لیے اتنا اہتمام فرمائیں۔ تپتی زمین پر جلتی دھوپ میں مسلمانوں کو بٹھا کے پالانوں کا منبر تیار کرا کے اس شد ومد سے علی(ع) کےفضائل بیان کریں۔ ہاں معاذ اﷲ رسول(ص) کو اگر اپنے افعال و
--------------
1ـ ملاحظہ کیجیے صفحہ244 تا صفحہ 250۔
اقوال ، اپنے قصد و ارادہ میں اس قدر ہرزہ کار سمجھ لیا
جائے تو یہ دوسری بات ہے۔ آپ کی شانِ حکیمانہ اور انداز عصمت ان مزخرفات و مہملات سے کہیں پاک و صاف ہے۔ خداوند عالم تو اپنے رسول(ص) کےمتعلق فرماتا ہے:
“ إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَ لَا بِقَوْلِ كاَهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِين”
لہذا حدیث کے بیان کا کوئی سبب بھی ہو الفاظ سے جو معنی فورا زہن میں آتے ہیں وہی مراد ہوں گے اور اسباب پر اعتنا نہ کی جائے گی۔
اس حدیث غدیر میں اہل بیت(ع) کا جو ذکر ہوا تو یہ ہمارے ہی بیان کیے ہوئے معنی کا موئد ہے۔ ہم نے جو کچھ سمجھا ہے اسی کی تائید ہوتی ہے کیونکہ رسول(ص) نے اس حدیث میں اہل بیت(ع) کو قرآن مجید کا ہم پلہ قرار دیا ہے اور ارباب عقل کے لیے نمونہ ہدایت فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ م“ میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم مضبوطی سے تھامے رکھو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ ایک کتاب خدا، دوسرے عترت و اہلبیت(ع)۔ آپ نے ایسا
اس لیے کیا اور اس وجہ سے فرمایا کہ امت والے جان لیں، سمجھ لیں کہ رسول(ص) کی آنکھ بند ہونے کے بعد بس ان ہی دو چیزوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے، یہی دونوں بھروسہ کے لائق ہیں۔ ائمہ اہلبیت(ع) کی اطاعت و اتباع واجب ولازم ہونے کا آپ اسی سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ آںحضرت(ص) نے انھیں کتابِ خدا کے برابر قرار دیا ہے۔ کتاب خدا جس کے پاس باطل کا گزر تک نہیں اس کا پم پلہ انھیں فرمایا ہے لہذا جس طرح کتاب الہی کو چھوڑ کر کسی دوسری کتاب کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں ہوسکتا۔ بعینہ اسی طرح ائمہ اہلبیت(ع) کو چھوڑ کر ان کے مختلف کسی امام کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔ اور آںحضرت(ص) کا یہ فرمانا کہ یہ دونوں کبھی ختم نہ ہوں گے یا کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر پہنچیں۔ دلیل ہے اور واضح دلیل ہے کہ آںحضرت(ص) کے بعد زمین ان ائمہ اہل بیت(ع) سے خالی نہیں ہوسکتی ۔ ان میں کا کوئی نہ کوئی فرد ہر زمانہ اور ہر وقت میں ضرور موجود رہے گا۔ جو ہم پلہ کتاب الہی کا ہوگا۔
اگر آپ اس حدیث پر اچھی طرح غور و تدبر فرمائیں تو یہ حقیقت آپ پر منکشف ہوگی کہ آںحضرت(ص) نے یہ ارشاد فرما کر خلافت کو ائمہ طاہرین (ع) ہی میں منحصر کردیا ہے ۔ ان کے علاوہ کی گنجائش ہی نہیں نکلتی۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جسے امام احمد نے اپنی مسند جلد5 صفحہ132 پر زید بن ثابت سے روایت کی ہے۔ زید بن ثابت کہتے ہیں:
آپ بے خبر نہ ہوں گے کہ عترت کی اتباع کو واجب ولازم کرنا بعینہ امیرالمومنین(ع) کی اطاعت و اتباع کو واجب کرنا ہے۔ اس لیے کہ آپ راس و رئیس اہلبیت(ع) تھے لہذا حدیثِ غدیر ہو یا اس جیسی دیگر حدیثیں سب کی سب حضرت علی(ع) ہی کی امامت و خلافت کی ںصوص صریحہ ہیں۔ سب سے آپ ہی کی امامت ثابت ہوتی ہے۔ جو حدیثیں اہلبیت(ع) کے متعلق ہیں جن میں اہلبیت(ع) کی اطاعت و اتباع کو واجب فرمایا ہے رسول(ص) کی ان حدیثوں سے آپ کی امامت یوں ثابت ہوتی ہے کہ آپ راس و رئیس تھے عترت و اہلبیت(ع) کے۔ وہ اہلبیت(ع) جن کی منزلت خدا و رسول(ص) کے نزدیک کلام الہی جیسی تھی اور جو روایتیں خود امیرالمومنین(ع) کے متعلق وارد ہوئی ہیں ان سے بلحاظ آپ کی گراں قدر شخصیت اور جلالت و عظمت کے آپ کی امامت ثابت ہوتی ہے اور یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ ہر اس شخص کے ولی تھے جس کے رسول اﷲ(ص) ولی تھے۔
فقط و السلام
ش
مکتوب نمبر30
حق کا بول بالا
آپ ایسے نرم لب ولہجہ میں اپنا مطلب بیان کرنے والا میں نے نہیں پایا اور نہ آپ کا زور استدلال کسی میں دیکھا ۔ آپ نے جن قرائن کا ذکر کیا ان پر غور کرنے سے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جو کچھ آپ فرماتے ہیں وہی ٹھیک ہے۔ شک و شبہات کے بادل چھٹ گئے اور یقین کے چہرے سے شکوک کے پردے اٹھ گئے۔ اب ہمیں کوئی تردید باقی نہ رہا کہ یقینا حدیث غدیر میں لفظ ولی و مولیٰ سے مراد اولی بالتصرف ہے ، نہ کہ کچھ اور۔ کیونکہ اگر اس لفظ سے ناصر یا محب وغیرہ مقصود ہوتے تو پھر حارث کو عذاب کا سوال کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی لہذا لفظ مولیٰ کے متعلق آپ کی جو
رائے ہے وہی پایہء تحقیق کو پہنچتی ہے اور وہی درست ہے۔
اچھا ایسا کیوں نہیں کہ آپ بھی اس حدیث کی تفسیر میں وہی مسلک اختیار کریں جو ہمارے بعض علماء مثلا علامہ ابن حجر مکی نے اپنی کتاب صواعق محرقہ میں اور علامہ حلبی نے سیرتِ حلبیہ میں اس حدیث کی تفسیر میں اختیار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت علی(ع) اولیٰ بالامامت تھے۔ آپ ہی کے لیے امامت زیبا تھی۔ لیکن مقصود نتیجہ کا رد مالِ کار ہے یعنی رسول(ص) کا مقصد یہ تھا کہ جب خلفاء ثلاثہ کا دور گزر جائے گا اور حضرت علی(ع) کو لوگ اپنا امام منتخب کریں گے تو اس وقت صرف حضرت علی(ع) ہی اولیٰ بالامامت ہوں گے۔ اگر یہ معنی نہ لیے جائیں تو خرابی یہ لازم آتی ہے کہ آنحضرت(ص) کی موجودگی ہی میں حضرت علی(ع) کا امام ہونا لازم آتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ آںحضرت (ص) کے حینِ حیات آپ کے امام ہونے کے کوئی معنی نہیں ۔ لہذا مقصود پیغمبر(ص) یہ تھا کہ جب مرگ آپ کی بیعت کریں، آپ کو خلیفہ منتخب کریں، آپ کی امامت پر اجماع کریں اجماع کریں اس وقت آپ ہی اولیٰ بالامامت ہیں۔
اگر یہ معنی لیے جائیں تو خلفاء ثلاثہ کی خلافت معرض خطر میں نہیں پڑتی۔ اگر یہ معنی لیے جائیں تو سلف صالحین جو حضرت علی(ع) کو چوتھا خلیفہ مانتے ہیں ان کے دامن پر کوئی دھبہ نہیں آتا اور آپ جو ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ثابت ہوجائے گا۔
س
جواب مکتوب
آپ نے فرمایا کہ ہم آپ کے کہنے سے یہ مان لیں کہ حدیثِ غدیر
میں حضرت علی(ع) کو جو اولیٰ کہا گیا ہے اس سے یہ مطلب ہے کہ حضرت علی(ع) اس وقت اولیٰ بالامامت تھے جب مسلمان آپ کو امامت کے لیے منتخب کر لیں اور آپ کی بیعت کریں۔ لہذا آپ کے قول کی بنا پر حضرت علی(ع) کا اولیٰ ہونا جس کا اعلان رسول(ص) نے بروز غدیر کیا تھا باعتبار مال و نتیجہ کے تھا۔ حضرت علی(ع) زمانہء آیندہ میں اولیٰ بالامامت تھے، فی الحال نہیں۔ جس وقت رسول(ص) نے فرمایا تھا اس وقت نہیں۔ دوسرے الفاظ میں آپ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی(ع) بالقوہ اولی بالامامت تھے، بالفعل نہیں تاکہ یہ حدیث آپ کے پہلے تین خلفاء کی خلافت کے منافی نہ ہو۔ بہت اچھا ، بہتر ہے ، مگر ہم آپ کو عدل و انصاف کا واسطہ دیتے ہیں آپ سے بقسم پوچھتے ہیں کہ آپ اپنے قول پر جمے رہیں گے۔ اس سے ہٹیں گے تو نہیں؟ تاکہ ہم بھی آپ کے قدم بہ قدم چلیں، آپ ہی کی روش اختیار کریں۔
اور کیا آپ راضی ہیں اس پر کہ یہ سہرا آپ ہی کے سر باندھا جائے یا اس قول کی آپ کی طرف نسبت دی جائے کہ ہم بھی آپ کے ہم خیال و ہمنوا ہوجائیں۔
مجھے تو یقین ہے اور کامل یقین ہے کہ نہ تو آپ اس معنی پر جمے رہیں گے اور نہ اس پر راضی ہوں گے۔ ہمیں تو یقینی طور پر علم ہے اس کا کہ آپ خود ان لوگوں پر تعجب کرتے ہوں گے جو اس معنی کے مراد ہونے کا احتمال پیدا کرتے ہیں حالانکہ نہ تو الفاظ حدیث اس معنی کو بتاتے ہیں نہ حدیث سن کر کسی سننے والے کے ذہن مین یہ معنی آتے ہیں اور نہ یہ معنی حکیم اسلام کی حکمت و بلاغت سے لگاؤ رکھتا ہے نہ غدیر کےدن حضرت (ص) کے غیر معمولی افعال و اقوال سے اس معنی کو کوئی مناسبت ہے اور نہ ان
قطعی قرائن سے جن کا ہم نے سابق میں ذکر کیا کوئی ربط ہے اور نہ حارث بن نعمان فہری کے سمجھے ہوئے معنی سے کوئی تعلق ہے ۔ علاوہ اس کے آپ کا یہ کہنا کہ حضرت علی(ع) اولی بالامامت جو تھے وہ باعتبار نتیجہ و مال کار کے تھے یہ عموم حدیث سے مرتبط ہی نہیں، الفاظِ حدیث بتاتے ہیں کہ حضرت علی(ع) ہر اس شخص کے مولی تھے جس کے رسول(ص) مولیٰ تھے اور آپ کے قول کی بنا پر صرف اپنے ہی زمانہ خلافت کے لوگوں کے مولیٰ ثابت ہوتے ہیں لہذا آپ کے قول کی بنا پر نہ تو حضرت علی(ع) خلفاء ثلاثہ کے مولیٰ ہوئے اور نہ ان لوگوں میں سے کسی ایک کے مولیٰ ہوئے جو زمانہء خلافت خلفاء ثلاثہ میں انتقال کرگئے اور یہ صریحی طور پر ارشاد رسول(ص) کے مغائر ہے ۔ رسول(ص) نے تو ان لوگوں سے پوچھا تھا ۔ کیا میں مومنین سے اولی نہیں؟ لوگوں نے کہا تھا۔ بے شک ۔ آپ ہم سب کے مولیٰ ہیں۔ اس پر آںحضرت(ص) نے فرمایا تھا تو میں جس جس کا ( فردا فردا) مولی تھا علی(ع) اس کے مولیٰ ہیں۔ بغیر کسی استثناء کے آپ نے حضرت علی(ع) کو ہر ہر شخص کا مولیٰ قرار دیا۔ لطف یہ ہے کہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر(1) نے روز غدیر جب رسول(ص) کا یہ ارشاد سنا تو امیر المومنین(ع) سے کہا تھا:
ان دونوں بزرگواروں نے تصریح کردی ہے کہ حضرت علی(ع) ہر مومن ومومنہ
--------------
1ـ جیسا کہ دار قطنی کی روایت ہے ۔ ملاحظہ ہو صواعق محرقہ صفحہ26 باب اول فصل خامس ان کے علاوہ بکثرت محدثین نے اپنے اپنے طرق و اسناد سے اس کی روایت کی ہے امام احمد نے اس قول کو بسلسلہ احادیث براء بن عازب مسند جلد4 صفحہ 285 پر درج کیا ہے صفحہ 272 پر سابقا ہم ذکر کرچکے ہیں۔
کے ولی تھے۔ علی سبیل الاستغراق کوئی فرد مستثنی نہ تھا۔
ایک مرتبہ حضرت عمر(1) سے کہا گیا کہ آپ حضرت علی(ع) کے ساتھ ایسا مخصوص برباؤ کرتے ہیں جیسا کہ صحابی پیغمبر(ص) کے ساتھ نہیں کرتے۔ حضرت عمر نے جواب دیا ۔ یہ میرے مولیٰ ہیں۔
حضرت عمر کا صریحی اقرار ہے کہ آپ ان کے مولیٰ تھے۔ حالانکہ اس وقت نہ تو لوگوں نے آپ کو خلافت کے لیے منتخب کیا
تھا اور نہ آپ کی بیعت ہی کی تھی۔ لہذا قطعی طور پر ثابت ہوا کہ حضرت علی(ع) حالا مولی تھے جس وقت پیغمبر(ص) نے خدا کے حکم سے برسر منبر اس کا اعلان کیا اس وقت سے مولی ہوگئے۔
دو اعرابی کسی نزاعی مسئلہ میں حضرت عمر کے پاس فیصلہ کے لیے آئے۔ حضرت عمر نے حضرت علی(ع) سے کہا کہ آپ فیصلہ کریں۔ ان میں سے ایک سے کہا : یہ ہمارا چکائیں گے؟ حضرت عمر نے لپک(2) کر اس اعرابی کی گردن پکڑ لی اور کہنے لگے:
اس بارے میں بہت سی روایات و احادیث موجود ہیں۔
آپ اس سے بھی بے خبر نہ ہوں گے کہ علامہ ابن حجر مکی اور ان کے ہم خیالوں کی اپج جو انھوں نے حدیث غدیرمیں نکالی ہے صحیح سمجھ لی جائے
--------------
1ـ جیسا کہ وار قطنی کی روایت ہے۔ ملاحظہ ہو صواعق محرقہ ص26
2ـ دار قطنی نے اس واقعہ کی روایت کی ہے۔ ملاحظہ ہو صواعق محرقہ باب 11 فصل اول۔
تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ معاذ اﷲ پیغمبر(ص) کا غدیر کے دن ہر قول و فعل بیہودہ و مہمل سمجھا جائے ، رسول(ص) ہرزہ کار سمجھے جائیں۔ کیونکہ علامہ ابن حجر کی اس نرالی منطق کی بنا پر غدیر کے دن اس سارے ساز و سامان ، غیر معمولی اہتمام کا مقصد ہی کچھ نہیں نکلتا۔ سوا اس کے کہ رسول(ص) یہ بیان کرنا چاہتے تھے کہ علی(ع) کی جب لوگ بیعت
کرلیں تب یہ اولیٰ بالامامت ہوں گے اور یہ معنی تو ایسے ہیں کہ سمجھ والے تو سمجھ والے، ناسمجھ بھی ہنس دیں گے۔ اس معنی کے بنا پر امیرالمومنین(ع) کو اعتبار ہی کیا حاصل ہوا۔ دوسروں کے مقابلہ میں آپ کی خصوصیت ہی کیا ثابت ہوئی۔ اس لیے کہ جس کی بیعت ہوجاتی امامت کے لیے جس کو بھی مسلمان منتخب کر لیتے۔ اولی بالامامت ہوتا ۔ اس معنی سے تو حضرت علی(ع) اور آپ کے ماسوا تمام صحابہ سب ہی برابر ہوئے۔ اگر آپ کی نرالی منطق درست سمجھ لی جائے تو یوم غدیر رسول(ص) نے چلچلاتی دھوپ
میں تپتی زمین پر لاکھوں مسلمانوں کو روک کر اتنا زبردست اہتمام فرماکر کون سی اہم بات فرمائی ، بمقابلہ دیگر اصحاب کون سی مخصوص فضیلت حضرت علی(ع) کی بیان کی۔
علامہ ابن حجر وغیرہ کا یہ کہنا کہ حضرت علی(ع) کا اولی بالامامت ہونا مالا اگر نہ مانا جائے تو اس صورت میں حضرت علی(ع) کا رسول(ص) کے جیتے جی امام ہونا لازم آگے گا۔ تو یہ نرالی فریب دہی ہے۔ اور انبیاء وخلفاء و ملوک و امراء کا جو دستور ہمیشہ سے چلا آرہا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی زندگی ہی میں اپنا جانشین مقرر کرتے آئے اس سے غفلت شعاری اور تغافل کیسی ہے حدیث “ انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ” جس مطلب پر دلالت کرتی ہے اس سے عمدا نا واقفیت کا اظہار اور دعوتِ غشیرہ کے موقع پر آںحضرت(ص) نے جو فرمایا تھا۔“ فاسمعوا لہ و اطیعوا”
ان کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا یا اسی جیسے دیگر ارشادات پیغمبر(ص) کو بھلا دینا ہے۔
علاوہ اس کے اگر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ علی(ع) کا اولیٰ بالامامت ہونا غیر ممکن ہے کیونکہ رسول(ص) کی زندگی ہی میں ان
کا امام ہونا لازم آئے گا تو کم سے کم رسول(ص) کی آنکھ بند ہونے کے بعد سے تو حضرت علی(ع) ہی کو اولیٰ بالامامت ہونا چاہیے۔بیچ میں فاصلہ تو نہ ہونا چاہیے جیسا کہ طے شدہ مسئلہ ہے۔ علمائے معانی و بیان کا بنایا ہوا قاعدہ ہے کہ جب کسی حقیقی معنی پر عمل کرنا دشوار ہوتو مجازی معنوں میں جو معنی قریب ترین ہو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ لہذا من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ ۔ میں لفظ مولیٰ کو اگر اس کے حقیقی معنی اولی بالامامت پر حمل کرنا دشوار سمجھتے ہیں کیونکہ نبی کی زندگی میں امام لازم آئے گا تو اس کے یہ معنی سمجھیے کہ رسول(ص) کی آنکھ بند ہوتے ہی بغیر کسی فصل کے یہ اولیٰ بالامامت ہیں۔
رہ گیا یہ کہ مولیٰ سے اولیٰ بالامامت اگر مالا مراد لیا جائے تو سلف صالحین کا احترام باقی رہے گا اور حالا اولیٰ بالامامت سمجھا جائے تو نہیں۔ تو یہ بالکل ہی غلط ہے ۔ مولیٰ سے اولیٰ بالامامت حالا مراد لینے پر بھی سلف صالحین کے دامن پر کوئی دھبہ نہیں آسکتا ان کا احترام تاویل کے بغیر بھی باقی رہتا ہے۔ جیسا ہم آئندہ اگر ضرورت پیش آئی تو اس کی وضاحت کریں گے۔
ش
مکتوب نمبر31
شیعوں کے سلسلہ سے ںصوص کی خواہش
جب سلف صالحین کا احترام محفوظ ہے تو آپ نے حضرت علی(ع) کی امامت کے متعلق جتنی حدیثیں ذکر فرمائیں خواہ حدیث غدیر ہو یا ددیگر احادیث تو کوئی حرج نہیں اور ہمیں ان میں خواہ مخواہ تاویل کی بھی ضرورت نہیں۔ شاید آپ کے یہاں اس مسئلہ سے متعلق اور بھی حدیثیں ہیں۔ جن سے اہلسنت بے خبر ہیں۔ بڑی مہربانی ہوگی آپ اپنے یہاں کی ان احادیث کو بھی ذکر فرمائیے تاکہ ہمیں بھی واقفیت حاصل ہو۔
س
جوابِ مکتوب
ہاں ہمارے یہاں اور بھی بہت سی صریحی نصوص امامت و خلافتِ امیرالمومنین(ع) کے متعلق کتب احادیث میں موجود ہیں جن کی اہلسنت کو خبر نہیں۔ وہ تمام کی تمام حدیثیں صحیح ہیں، بطریق اہلبیت طاہرین(ع) مروی ہیں۔ ہم چالیس(40) حدیثیں آپ کو سناتے ہیں:
1ـ جناب صدوق محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ قمی نے اپنی کتاب اکمال الدین و اتمام النعمہ میں عبدالرحمن بن سمرہ سے اسناد کر کے آںحضرت(ص) سے ایک حدیث درج فرمائی ہے
2ـ جنابِ صدوق نے اپنی اسی کتاب اکمال میں، ابن عباس سے روایت کی ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ :
3ـ اسی کتاب اکمال میں بسلسلہ اسناد امام جعفر صادق(ع) اور انھوں نے اپنے آباء طاہرین علیہم السلام سے روایت کی ہے کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا :
4ـ اسی اکمال میں جناب صدوق نے بسلسلہ اسناد امام جعفر صادق(ع) سے اور انھوں نے اپنے آبا و اجداد طاہرین(ع) سے روایت کی ہے کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ :
5ـ اسی اکمال میں جناب صدوق بسلسلہ اسناد اصبغ بن نباتہ سے روایت کرتے ہیں۔ اصبغ کہتے ہیں کہ :
6ـ اسی اکمال میں جناب صدوق بسلسلہ اسناد امام رضا(ع) سے اور وہ اپنے آباء طاہرین(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ :
7ـ اسی اکمال میں جناب صدوق بسلسلہ اسناد امام رضا(ع) سے اور وہ اپنے آباء طاہرین(ع) سے روایت کرتے ہیں :
8ـ اسی اکمال میں امام حسن عسکری(ع) سے مروی ایک حدیث جناب صدوق نے لکھی ہے ۔ امام حسن عسکری(ع) نے اپنے آباء طاہرین(ع) روایت کی ہے کہ :
9ـ اسی اکمال میں بسلسلہ اسناد جناب سلمان فرماتے ہیں کہ :
10ـ اسی اکمال میں جناب صدوق بسلسلہ اسناد جناب سلمان سے روایت کرتے ہیں۔ ایک طولانی حدیث ہے جس کا ٹکڑا یہ ہے کہ :
11ـ جناب صدوق نے اسی اکمال میں ایک طولانی حدیث درج کی ہے جس میں ذکر ہے کہ :
12ـ اسی اکمال میں جناب صدوق نے عبداﷲ بن جعفر، امام حسن(ع) ، امام حسین(ع) ، عبداﷲ بن عباس، عمر بن ابی سلمہ، اسامہ بن زید سلمان ، ابوذر ، اور مقداد مندرجہ بالا حضرات میں سے ہر بزرگ سے روایت کی ہے۔ ان میں سے ہر شخص کا بیان ہے کہ :
13ـ اسی کمال میں جناب صدوق نے اصبغ بن نباتہ سے روایت کی ہے انھوں نے ابن عباس سے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ:
14ـ اسی اکمال میں جناب صدوق نے غبایہ بن ربعی سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ :
15ـ اسی اکمال میں جناب صدوق نے امام جعفر صادق(ع) سے انھوں نے اپنے آباء طاہرین (ع) سے روایت کی ہے کہ :
16ـ اسی اکمال میں جناب صدوق نے امیرالمومنین(ع) سے روایت کی ہے امیرالمومنین (ع) فرماتے ہیں کہ :
17ـ جناب صدوق نے امالی میں امام جعفر صادق(ع) سے روایت کی ہے جسے انھوں نے اپنے آباء طاہرین(ع) سے مرفوعا بیان کیا کہ :
18ـ اسی امالی میں جناب صدوق امیرالمومنین(ع) سے بسلسلہ اسناد روایت
کرتے ہیں کہ :
19ـ اسی امالی میں جناب صدوق ، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ :
20ـ اسی امالی میں جناب صدوق ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ:
21ـ اسی امالی میں جناب صدوق نے بسلسلہ اسناد جناب ابی ذر سے روایت کی ہے۔ جناب ابوذر فرماتے ہیں :
22ـ اسی امالی میں جناب صدوق جابر بن عبداﷲ انصاری ےس روایت کرتے ہیں کہ :
23ـ اسی امالی میں بسلسلہ اسناد ابن عباس سے روایت ہے کہ :
24ـ اسی امالی میں جناب صدوق نے بسلسلہ اسناد ابن عباس سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں :
25ـ اسی امالی میں جناب صدوق نے بسلسلہ اسناد امیرالمومنین(ع) سے روایت کی ہے :
26ـ جناب صدوق نے اسی امالی میں امیرالمومنین(ع) سے روایت کر کے ایک حدیث لکھی ہے:
27ـ اسی امالی میں جناب صدوق بسلسلہ اسناد ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ :
28ـ اسی امالی میں جناب صدوق نے ایک طولانی حدیث جناب ام سلمہ سے روایت کی ہے جس میں آںحضرت(ص) نے ام سلمہ سے فرمایا : کہ
29ـ اسی امالی میں بسلسلہ اسناد سلمان فارسی سے روایت ہے جناب سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ :
30ـ اسی امالی میں جناب صدوق نے بسلسلہ اسناد زید بن ارقم سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ :
31ـ اسی امالی میں جناب صدوق نے ابن عباس سے روایت کی ہے جس میں ہے کہ :
32ـ اسی امالی میں جناب صدوق ابن عباس سے روایت کی ہے کہ:
33ـ اسی امالی میں جناب صدوق نے امام جعفر صادق(ع) سے اور انھوں نے اپنے آباء طاہرین(ع) سے روایت کی ہے کہ:
34ـ اسی امالی میں جناب صدوق نے بسلسلہ اسناد امام رضا(ع) سے انھوں نے اپنے آباء طاہرین(ع) سے روایت کی ہےکہ:
35ـ جناب شیخ الطائفہ ابو جعفرر محمد بن حسن طوسی نے اپنی امالی میں بسلسلہ اسناد جناب عمار یاسر سے روایت کی ہے، جنابِ عمار فرماتے ہیں کہ:
36ـ جناب شٰیخ نے اپنی اسی امالی میں بسلسلہ اسناد امیرالمومنین(ع) سے روایت کی ہے :
37ـ جناب صدوق نے کتاب ںصوص علی الائمہ، میں بسلسلہ اسناد امام حسن بن علی(ع) سے روایت کہ ہے:
38ـ جناب صدوق نے کتاب نصوص میں بسلسلہ اسناد عمران بن حصین سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ :
39ـ اسی کتاب ںصوص میں بسلسلہ اسناد امیرالمومنین(ع) سے ایک حدیث مذکور ہے کہ :
40ـ اسی کتاب ںصوص میں بسلسلہ اسناد امام حسین(ع) سے ایک حدیث مروی ہے۔ امام مظلوم فرماتے ہیں کہ:
ش
--------------
1ـ ہم نے چالیس (40) کی تعداد میں اس لیے حدیثیں بیان کی ہیں کہ ہماری کتب احادیث میں امیرالمومنین(ع) علی بن ابی طالب(ع) ، عبداﷲ بن عباس، عبداﷲ بن مسعود، عبداﷲ بن عمر، ابو سعید خدری، ابو دردا، ابو ہریرہ ، انس بن مالک ، معاذ بن جبل وغیرہ بزرگوں میں سے ہر ہر شخص سے یہ حدیث بکثرت طریقوں سے مروی ہے کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا : جس نے چالیس حدیثیں امر دین کے متعلق میری امت میں یاد کیں خدا اسے بروزِ قیامت فقہاء علماء کے گروہ میں اٹھائے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ خدا اسے فقیہ و عالم کی حیثیت سے اٹھائے گا ۔ ابو درداء کی روایت میں ہے کہ میں بروز حشر اس کا شفیع و گواہ رہوں گا۔ ابن مسعود کی روایت میں ہے کہ میں اس سے کہوں گے کہ جنت کے جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہو جاؤ، ابن عمر کی روایت میں ہے اسے زمرہ علماء مین شامل کیا جائے گا اور اسے شہداء کے زمرہ میں مبعوث کیا جائے گا۔ اور ہمارے لیے ان چالیس حدیثوں کے حفظ کے لیے رسول(ص) کا یہ قول کافی ہے خدا اس شخص کے چہرے کو شاداب رکھے جو میری بات سنے اور محفوظ رکھے اور جس طرح سنا ہے اسی طرح اسے پہنچا دے۔ آپ کا یہ قول بھی کافی ہے جن لوگوں نے سنا ہے وہ ان لوگوں کو پہنچائیں جو موجود نہیں ہیں۔
مکتوب نمبر32
شیعوں کی حدیثیں حجت نہیں اگر یہ حدیثیں صحیح ہیں تو اہلسنت نے کیوں نہیں ان کی روایت کی ،مزید نصوص ذکر فرمائیں
یہ نصوص جو آپ نے ذکرفرمایئے یہ حضرات اہل سنت کے یہاں ثابت نہیں ۔لہذا ان پر حجت بھی نہیں ہوسکتے
اگر ان حضرات اہلسنت کے یہاں نصوص ثابت ہیں تو انھوں نے کیوں ذکر کیا ۔ لہذا وہی اگلا سلسلہ آپ جاری رکھیے یعنی موضوع پر حضرات اہلسنت کے یہاں جو احادیث موجود ہیں انھیں بیان فرمائیے۔
س
جواب مکتوب
ہم نے ان ںصوص کو اس لیے بیان کیا کہ آپ بھی واقف ہوجائیں اور آپ نے خود ہی خواہش ظاہر کی تھی۔
آپ پر حجت قائم کرنے کے لیے وہی حدیثیں کافی ہیں جنھیں ہم نے گزشتہ اوراق میں خود آپ کے صحاح سے بیان کیا ہے۔
رہ گیا یہ کہ ان نصوص کو اہل سنت نے کیوں نہیں ذکر کیا تو اسے آپ کیا پوچھتے ہیں۔ یہ تو آل محمد(ص) سے پر خاش اور ان کی طرف سے دل میں کینہ رکھنے والے دورِ اول کےارباب تسلط و اقتدار کی پرانی عادت ہے۔ جنھوں نے فضائل اہلبیت(ع) پر پردہ ڈالنے اور ان کے نور کو بجھانے کے لیے کوئی کوشش اٹھا نہ رکھی۔ سلطنت کے خزانے لٹا دیے، اپنی تونائیاں صرف کردیں اور ہر ہر شخص کو لالچ دے کر، ڈرا دھمکا کر آیا وہ کیا کہ اہل بیت(ع) کے مناقب و فضائل مخصوص کو چھپائے، جھتلائے۔ اس مقصد کے لیے درہم و دینار سے کام لیا گیا۔ بڑے بڑے وظیفے مقرر کیے گئے۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا اور جو ان ترکیبوں سے قابو میں نہیں آیا اسے کوڑوں تلواروں سے زیر کیا گیا۔
یہ فرعون خصلت ، نمرود سرشت افراد فضائل اہلبیت(ع) کی تکذیب کرنے والوں کو تو قربت بخشے، مقرب بارگاہ بناتے اور تصدیق کرنے والوں کو گھر سے بے گھر کرتے۔ جلا وطن کرتے، ان کے مال و اسباب کو لوٹ لیتے یا قتل کر دیتے۔
آپ سے یہ حقیقت مخفی نہ ہوگی کہ امامت و خلافت کے متعلق نصوص و ارشادات پیغمبر(ص) ایسی چیز تھی جس سے غاصب و ظالم سلاطین بے حد خطرہ محسوس کرتے تھے۔ ہر وقت انھیں خدشہ رہتا تھا کہ یہ حدیثیں کہیں ہمارا تختہ نہ الٹ دیں۔ بنیاد سلطنت ن ڈھادیں لہذا ان صریحی نصوص و احادیث کا ان سلاطین جور اور ان کے ہوا خواہوں سے بچ رہنا اور متعدد اسناد و طرق مختلف سے ہم تک پہنچ جانا راستی و سچائی کا ایک کرشمہ اور حق و صداقت کا بہت بڑا معجزہ ہے کیونکہ اس وقت کی حالت یہ تھی کہ جو لوگ حقوق اہلبیت(ع) کا غصب کیے بیٹھے تھے اور ان کے مدارج و مراتب کے چھینے ہوئے تھے جس پر خداوندِ عالم نے ان اہلبیت علیہم السلام کو فائز کیا تھا۔ ان کا وتیرہ یہ تھا کہ محبت اہلیت(ع) کا جس پر الزام قائم ہو جاتا اسے درناک و بدترین عذاب میں مبتلا کرتے، اس کی ڈاڑھی مونڈ دیتے اور بازاروں میں تشہیر کرتے تھے۔ اسے ذلیل وخوار کرتے اور جملہ حقوق سے محروم کردیتے ۔ یہاں تک کہ اس کے لیے حکام کی عدالت کا دروازہ(1) بھی بند ہوجاتا اور سماج میں رسائی بھی ناممکن ہوجاتی اگر کوئی شخص اچھائی کے ساتھ علی(ع) کا ذکر کرتا تو حکومت اس سے بری الذمہ ہوجاتی۔ آفتیں اس پر ٹوٹ پڑتیں۔ اس کا مال آپس میں
بانٹ لیا جاتا اور اس کی گردن مار دی جاتی۔ نہ معلوم کتنی زبانیں انھوں نے گدیوں سے کھینچ لیں۔ محض اس جرم میں کہ انھوں نے فضائل علی(ع) بیان کیے ۔ کتنی آنکھیں ضائع
--------------
1ـ ملاحظہ فرمائیے شرح نہج البلاغہ جلد3 صفحہ 15 علامہ ابن ابی الحدید معتزلی نے ایک مختصر سا تذکرہ ان مظالم کا کیا ہے جو دورِ اموی و عباسی میں اہل بیت(ع) و شیعیان اہلبیت پر روا رکھے جاتے تھے
کردیں اس قصور میں کہ علی(ع) کو احترام کی نظروں سے دیکھا ، کتنے ہاتھ کاٹ ڈالے اس پاداش میں کہ علی(ع) کی کسی فضیلت و منقبت کی طرف اشارہ کیا۔ کتنے پیر گھسیٹے گئے۔ اس خطا پر کہ وہ علی(ع) کی طرف چلے تھے ۔ علی(ع) کے دوستوں کے نہ جانے کتنے گھر جلا ڈالے گئے ۔ ان کے باغ اور کھیتیاں لوٹ لی گئیں اور درختوں پر انھیں سولی بھی دے دی گئی یا ان کو گھر سے بے گھر کر کے نکال باہر کیا گیا۔ نا معلوم طریقوں سے ایذا پہنچائی گئی۔
اس وقت حاملین حدیث و حافظین آثار کی ایک بہت بڑی جماعت ایسی تھی جو خدا کو چھوڑ کر ان جابر بادشاہوں اور ان کے افسروں کی پرستش کرتے تھے۔ ان کی خوشامد اور چاپلوسی میں کسی بات سے دریغ نہ کرتے تھے۔ حدیثوں میں الٹ پھیر کردینا۔ عبارت کچھ سے کچھ کردینا۔ ضعیف کو قوی اور قوی کو ضعیف کر کے پیش کرنے میں انھیں کوئی باک ہی نہ تھا جیسے ہم آجکل اپنے زمانے میں حکومت کے پٹھو اور تنخواہ دار علماء اور قاضیوں کو دیکھتے ہیں کہ حکام کو راضی کرنے کے لیے کتنی انتھک کوشیشیں کرتے ہیں ان کی حکومت چاہیے عادل ہو یا جابر، احکام ان کے صحیح ہوں یا غلط ، مگر ہر معاملہ میں ان کی تائید ہی کریں گے ۔ حاکم کو جب بھی اپنے حاکم کی موافقت میں یا حکومت کے مخالف افراد کا قلع قمع کرنے کے لیے فتوی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ علماء فورا ایسے فتوے صادر کردیتے ہیں جو ان حکام کی خواہش کے عین مطابق اور ان کی سیاسی اغراض کے لیے مفید و ضروری ہوتے ہیں۔ چاہیے ان کے فتوے قرآن و حدیث کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کے فتوے کی وجہ سے اجماع امت۔ شکست و ریخت ہی کیوں نہ ہوجائے ۔ اجماع کی صریحی مخالفت ہی کیوں نہ ہوتی ہو۔ لیکن انھیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔انھیں تو
غرض ہوتی ہے منصب و عہدہ کی۔ ڈرتے ہیں کہ کہیں حکام ناراض ہوکر معزول نہ کر دیں۔ یا یہ لالچ ہوتا ہے کہ خوش ہو کر ہمیں منصب عطا کر دیں گے۔
آج کل کے علماء اور اس زمانے کے علماء میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آج کل کے علماء حکومت کی نگاہ میں کوئی وزن نہیں رکھتے لیکن اس زمانہ کے علماء کی حالت جداگانہ تھی۔ سلاطین خود ان کے محتاج ہوا کرتے تھے کیونکہ اس وقت کے سلاطین علماء کو آلہ ء کار بنا کر گویا خدا و رسول(ص) سے جنگ کرتے تھے۔
اسی وجہ سے یہ علماء سلاطین اور ان کے اعلیٰ عہداروں کے نزدیک بڑی قدر و منزلت رکھتے تھے اور ہر فرمائش ان کی پوری کی جاتی تھی جس کے نتیجہ میں یہ خود شاہانہ جاہ و جلال اور دولت و امارت کے مالک ہوتے ان کی یہ حالت تھی کہ وہ صحیح حدیثیں جس میں علی(ع) یا اہل بیت(ع) کی کوئی فضیلت مذکور ہوتی ان میں تعصب سے کام لیتے۔ بڑی سختی سے ان کی تردید کرتے پایہء اعتبار سے گرانے میں پوری طاقت سے کام لیتے۔ اس حدیث کے راویوں کو رافضی قرار دیتے۔( اور رافضی ہونا ان کے نزدیک بدترین جرم تھا۔)
نہ ان کا طرز عمل ان تمام احادیث کے متعلق تھا جو حضرت علی(ع) کی شان میں وارد ہوئی ہیں خصوصا وہ حدیثیں جن سے شیعیان علی(ع) تمسک کرتے ۔ ان حدیثوں سے تو اور بھی کد تھی انھیں۔
ان علماء کے کچھ ممتاز و با اثر افراد ہر قریہ و ہر شہر میں ہوتے جو ان کا پرپیگنڈا کیا کرتے ۔کچھ دنیا دار طلبا ہوتے جو ان کے فتاوے ان کے اقوال و آراء کی ترویج کرتے۔
کچھ ریا کار عابد و زاہد ہوتے کچھ رؤسائے قوم، شیوخ قبائل ہوتے ۔ جب یہ اشخاص ان صحیح احادیث کی رد میں ان علماء کے اقوال سنتے تو انھیں کو حجت بنا لیتے اور عوام جاہل پبلک میں خوب ان اقوال کی ترویج کرتے اور ہر شہر میں اس کی اشاعت کرتے اور اصول دین میں ایک اصل بنادیتے۔
اسی زمانہ اور اسی مقام پر کچھ ایسے علماء احادیث بھی تھے جنھوں نے خوف و ہراس سے مجبور ہوکر وہ حدیثیں ہی بیان کرنا چھوڑ دیں جو امیرالمومنین(ع) اور اہل بیت(ع) کے فضائل میں پائی جاتی تھیں۔ ان غریبوں کی حالت یہ تھی کہ جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ یہ لوگ جو علی(ع) و اہل بیت(ع) کی شان میں وارد صحیح حدیث کی رد کررہے ہیں آپ کا کیا خیال ہے ان کے متعلق ۔ ان احادیث کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ تو وہ ڈرتے تھے کہ اگر صحیح بات کہہ دیتے ہیں تو آفت نہ ٹوٹ پڑے، مجبورا وہ حقیقت ظاہر نہ کر پاتے اور نجات اسی میں دیکھتے کہ معارض اقوال بیان کردیے جائیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں یہ سرکاری علماء درپے ایذا رسانی نہ ہوجائیں۔
سلاطین اور ان کے عہدیداروں نے حکم دے رکھا تھا کہ امیرالمومنین(ع) پر لعنت کریں۔ اس بارے میں بڑی سختی سے کام لیتے ۔ علی(ع) کی برائی اور مذمت کرنے کے لیے ہر ممکن ذریعہ سے لوگوں کو آمادہ کرتے۔ مال و دولت دے کر ، طرح طرح کے وعدے کر کے ، ڈرا دھمکا کر اور ان سب سے بھی قابو نہ پاتے تو فوج کشی کر کے اپنے مکتوبات میں امیرالمومنین(ع) کی ایسی تصویر کشی کرتے جسے پڑھ کر ہر شخص نفرت و بیزاری کرنے لگے۔
مجلسوں میں امیرالمومنین(ع) کے متعلق ایسی باتیں بیان کرتے کہ کانوں کو ان کے تذکرے سے اذیت ہونے لگے۔ مبزوں پر لعنت بھیجنا ، عیدین اور جمعہ کے
سنن و مستحبات میں سے قرار دے لیا تھا۔
اگر یہ حقیقت نہ ہوتی کہ
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
خدا کا نور نہ بجھتا ہے اور نہ اولیاء خدا کے فضائل مخفی رہتے ہیں۔ تو امیرالمومنین(ع) کی خلافت و امامت اور فضائل کے متعلق کوئی صحیح و صریح حدیث ہم تک پہنچتی ہی نہیں، نہ بطریق اہل سنت، نہ بطریق شیعہ۔ اہل سنت بھلا کا ہے کو اسی حدیث بیان کرنے لگے جو ان کی ساختہ عمارت ہی کو متزلزل کردے اور شیعہ گلے پر چھری اور دہنوں پر قفل لگے ہونے کی وجہ سے بیان کرنے ہی سے مجبور تھے۔
مگر خدا کا یہ کرشمہ ہے، حقانیت و صداقت کا معجزہ ہے۔ باوجودیکہ دشمنوں نے فضائل کو چھپانے اور مٹانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا، مگر حق کا بول بالا ہو کے رہا۔ مجھے تو قسم بخدا حیرت ہے کہ خلاقِ عالم نے بندہ خاص اپنے رسول(ص) کے بھائی علی بن ابی طالب(ع) کو کیا فضیلت بخشی تھی کہ لاکھوں پردوں میں سے بھی جس کی روشنی پھوٹ کر رہی ، گہری تاریکیوں میں بھی جس کا اجالا ہوکے رہا۔
امیرالمومنین(ع) کی خلافت و امامت کے متعلق جو قطعی دلیلیں آپ نے سماعت فرمائیں۔ مزید برآں آپ حدیث وراثت ہی کو لے لیجیے جو بجائے خود بہت بڑی دلیل ہے۔
ش
مکتوب نمبر33
حدیث وراثت کو بطریق اہل سنت تحریر فرمائیے؟
س
جوابِ مکتوب
علی(ع) وارثِ پیغمبرصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
کوئی شبہ نہیں کہ آںحضرت(ص) نے حضرت علی(ع) کو اپنے علم و حکمت کا اسی طرح وارث بنایا جس طرح دیگر انبیاء کرام نے اپنے اوصیاء کو بنایا۔ چنانچہ خود آںحضرت (ص) کے ارشادات ہیں :
“ أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا- فَمَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ.”
“ أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا.”
“ عَلِيٌّ بَابُ عِلْمِي وَ مُبَيِّنٌ لِأُمَّتِي مَا أُرْسِلْتُ بِهِ مِنْ بَعْدِي حُبُّهُ إِيمَانٌ وَ بُغْضُهُ نِفَاقٌ ”
زید بن ابی اوفیٰ کی حدیث میں ہے۔(2) :
“ وَ أَنْتَ أَخِي وَ وَارِثِي قَالَ وَ مَا أَرِثُ مِنْكَ ؟ قَالَ مَا وَرَّثَتِ الْأَنْبِيَاءُ مِنْ قَبْلِي ”
--------------
1ـ اس حدیث کو نیز اس کے بعد کی دو حدیثوں کو ہم م 24 میں درج کر چکے ہیں۔ نیز صفحہ 282 کی حدیث نمبر9 ، 10، 11 بھی ملحوظ رہے اور وہاں جو ہم ن حاشیہ لکھا ہے اس کا بھی خیال رہے
2ـ ہم اس حدیث کا م16 پر ذکر کرچکے ہیں۔
بریدہ کی حدیث میں صاف صاف تصریح ہے کہ وارث پیغمبر(ص) علی(ع) ہی ہیں۔(1)
دعوتِ عشیرہ کے موقع پر جو کچھ رسول(ص) نے فرمایا تھا اسی پر غور کیجیے وہی آپ کی تسلی کے لیے کافی ہوگا۔ اسی وجہ سے حضرت علی(ع) رسول(ص) کی زندگی میں فرمایا کرتے تھے کہ:
ایک مرتبہ امیرالمومنین(ع) سے پوچھا گیا کہ چچا کے رہتے ہوئے آپ رسول(ص) کے وارث کیونکر ہوگئے؟ آپ نے فرمایا کہ :
--------------
1ـ اس کو م 24 میں ملاحظہ فرمائیے
2ـ یہ کلمہ بعینہ انھیں الفاظ میں امیرالمومنین(ع) سے ثابت ہے جسے امام حاکم نے مستدرک ج2 صفحہ12 صحیح اسناد سے ذکر کیا ہے اور بخاری و مسلم دونوں کے معیار پر صحیح قرار دیا ہے۔ علامہ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اس کی صحت کا اعتراف کیا ہے۔
امام حاکم نے مستدرک ج 3 صفحہ 135 پر ایک روایت در ؟؟ اور علامہ ذہبی نے بھی تلخیص مستدرک میں اسے نقل کیا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو صحت کا قطع و یقین ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ قثم بن عباس
--------------
1ـ یہ حدیث ثابت و مشہور ہے۔ ضیا مقدسی نے مختارہ میں ابن جریر نے تہذیب ؟؟؟ کیا ہے کنزالعمال جلد6 ص408 پر بھی موجود ہے۔ امام نسائی نے خصائص ؟؟ ہے ابن ابی الحدید نے اپنی شرح جلد3 ص255 پر طبری نے بھی اس کو ؟؟ مسند احمد ج1 ص159 پر ملتے جلتے لفظوں میں یہ حدیث موجود ہے۔
نے پوچھا ؟
قثم نے جواب دیا :
و فہم کو دیکھتے ہوئے بہت ، مناسب جواب ہے اور ان کو سمجھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ یہی جواب دیا جاسکتا ہے ورنہ واقعی وحقیقی جواب تو یہ ہے کہ خداوند عالم نے روئے زمین کے باشندوں پر ایک نظر ڈال کر محمد مصطفی(ص) کو منتخب کیا اور انھیں خاتم النبیین(ص) بنایا۔ پھر دوسری مرتبہ زمین پر نگاہ کی اور حضرت علی(ع) کو منتخب کیا اور اپنے رسول(ص) پر وحی فرمائی کہ علی(ع) کو اپنا وارث اور وصی مقرر کردیں۔
--------------
1-۔۔۔۔۔۔۔
امام حاکم مستدرک ج3 صفحہ125 پر قثم والی اس حدیث کو جسے ابھی ابھی آپ نے سنا ۔ بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ:
اسماعیل بن اسحاق فرماتے ہیں کہ :
میں کہتا ہوں کہ وراثتِ امیرالمومنین(ع) کے متعلق متواتر حدیثیں موجود ہیں۔ خصوصا بطریق اہلبیت(ع) تو بہت ہی زیادہ ۔اگر اںصاف سے کام لیا جائے تو حضرت علی(ع) کا وصی رسول(ص) ہونا ہی اس مسئلہ میں قطعی فیصلہ کن ہے۔
ش
مکتوب نمبر34
بحثِ وصیت
ہم اہلسنت کو معلوم نہیں کہ رسول(ص) نے امیرالمومنین(ع) کو کب وصی بنایا، نہ اس کےمتعلق ارشادات و تصریحات پیغمبر(ص) کا علم ہے مہربانی ہوگی اس کی وضاحت فرمائیے۔
س
جوابِ مکتوب
امیرالمومنین(ع) کے وصی پیغمبر(ص) ہونے کے
متعلق پیغمبر صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات
امیرالمومنین(ع) کے وصی پیغمبر(ص) ہونے کے متعلق اہل بیت (ع) سے صریحی
اور متواتر نصوص موجود ہیں۔ اگر اہل بیت(ع) سے قطع نظر کر کے بطریق اغیار آپ نصِ پیغمبر(ص) کے متلاشی ہیں تو مکتوب نمبر10 پر ایک نظر پھر کر لیں جس میں رسول(ص) کی حدیث میں نے ذکر کی ہے کہ آںحضرت (ص) نےامیرالمومنین(ع) کی گردن پر ہاتھ رکھ کر ارشادا فرمایا کہ :
“ هَذَا أَخِي وَ وَصِيِّي وَ خَلِيفَتِي فِيكُمْ فَاسْمَعُوا لَهُ وَ أَطِيعُوا ”
اور محمد بن حمید رازی سے، سلمہ ابرش سے ، انھوں نے ابن ابی اسحاق سے ، انھوں نے شریک سے، انھوں نے ابوربیعہ ایادی سے، انھوں نے بریدہ سے اور بریدہ نے رسول اﷲ(ص) سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا :
“ لِكُلِ نَبِيٍ وَصِيٌ وَوَارِث وَ إِنَّ وَصِيِّي وَوَارِثِی عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ”
--------------
1ـ اس حدیث کو امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں بسلسلہ حالات شریک ذکر کیا ہے اور شریک کو جھٹلایا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ شریک نے اس کو کسی سے نہیں سنا۔ محمد بن حمید رازی کے متعلق کیا ہے کہ وہ معتبر نہیں۔ علامہ ذہبی کا جواب یہ ہی کہ امام احمد بن حنبل امام بغوی ، امام طبری اور ضمن جرح و تعدیل کے امام ابن معین وغیرہ نے محمد بن حمید کو ثقہ سمجھا ہے اور ان سے حدیثیں بھی ہیں اس لحاظ سے محمد بن حمید مذکورہ بالا علمائے احادیث کے شیخ اور معتمد ہیں چنانہ عالامہ ذہبی نے بھی محمد بن حمید کے تذکرہ میں اس چیز کو لکھا ہے۔ محمد بن حمید پر تشیع یا رفض کا الزام کبھی لگایا نہیں گیا۔ یہ محمد بن حمید علامہ ذہبی کے بزرگوں میں سے ہیں لہذا محض اس حدیث میں ان کو جھوٹا بتانا کیونکر روا ہوسکتا ہے۔
اور طبرانی نے معجم کبیر میں بسلسلہ اسناد جناب سلمان فارسی سے روایت کی ہے۔ سلمان کہتے ہیں کہ:
ارشاد فرمایا پیغمبر(ص) نے کہ:
“إن وصيّي و موضع سري و خير من أترك بعدي ينجز عدتي و يقضي ديني علي بن أبي طالب.”
یہ حدیث نص صریح ہے کہ حضرت علی (ع) وصی رسول(ص) تھے اور صریح ہے کہ آپ بعدِ رسول(ص) افضلِ خلائق تھے۔ غور سے دیکھا جائے تو اس حدیث سے آپ کی خلافت و امامت بھی ثابت ہوتی ہے۔
--------------
1ـ یہ حدیث بعینہ انھیں اسناد کے ساتھ کنزالعمال جلد6 صفحہ154 پر موجود ہے اور منتخب کنزالعمال میں بھی حاشیہ مسند پر چھپائے موجود ہے۔ ملاحظہ ہو مسند ج5، صفحہ32۔
ابو نعیم نے حلیة الاولیاء میں انس سے روایت کی ہے کہ :
“ يا أنس أول من يدخل عليك من هذا الباب إمام المتقين و سيد المسلمين و يعسوب الدين و خاتم الوصيين و قائد الغر المحجلين قال أنس فجاء علي فقام إليه مستبشرا فاعتنقه فقال له أنت تؤدي عني و تسمعهم صوتي و تبين لهم ما اختلفوا فيه بعدي ”
طبرانی نے معجم الکبیر میں بسلسلہ اسناد ابو ایوب انصاری سے روایت کی ہے کہ آںحضرت (ص) نے اپنی پارہ جگر جناب سیدہ (س) سے فرمایا :
--------------
1ـ شرح نہج البلاغہ جلد دوم صفحہ45 ، ہم صفحہ 279 پر بھی ذکر کرچکے ہیں۔
غور فرمائیے کہ کس طرح خداوند عالم نے حضرت خاتم النبیین(ص) کو منتخب کرنے کے بعد تمام روئے زمین کے باشندوں میں
حضرت علی(ع) کو منتخب فرمایا ۔ اور یہ بھی ملاحظہ کیجیے کہ خداوند عالم نے جس طرح نبی کا انتخاب فرمایا، ٹھیک اسی طرح وصی نبی کو بھی منتخب فرمایا۔
یہ بھی دیکھیے کہ کیونکر خداوند عالم نے اپنے پیغمبر(ص) پر وحی فرمائی کہ ان سے اپنی بیٹی بیاہ دو اور انھیں اپنا وصی بناؤ۔
یہ بھی سوچیے کہ آںحضرت(ص) کے قبل دیگر انبیاء کے خلفاء و جانشین کیا ان کے اوصیاء کے علاوہ اور بھی کوئی ہوئے اور کیا خدا کے منتخب کیے ہوئے خاتم النبیین(ص) کے وصی کے موخر کردینا اور غیروں کو اس پر مقدم کرنا جائز ہے؟ اور کیا کسی شخص کے لیے سزاوار ہے کہ ان حکمران بن بیٹھے ۔ خود خلیفہ بن جائے اور وصی رسول(ص) کو عوام اور رعایا جیسا بنا دے اور کیا عقلا ممکن ہے کہ زبردستی مسندِ خلافت پر بیٹھ جانے والے شخص کی پیروی ایسے شخص کے لیے واجب ہو جسے خدا نے نبی(ص)
--------------
1ـ یہ حدیث بعینہ انھیں الفاظ و انھیں اسناد کےساتھ کنزالعمال کی حدیث 2541 ہے ملاحظہ ہو جلد6 صفحہ 153 ۔ منتخب کنزالعمال میں بھی مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو منتخب کنزالعمال بر حاشیہ مسند احمد جلد5 صفحہ31
کی طرح منتخب کیا ہو۔ بھلا یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ خدا اور رسول(ص) تو اور کسی کو منتخب کریں اور ہم ان کے انتخاب کو ٹھکرا کر کسی دوسرے کو منتخب کر لیں۔
“ وَ ما كانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لا مُؤْمِنَةٍ- إِذا قَضَى اللَّهُ وَ رَسُولُهُ أَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ”
بے شمار حدیثیں اس مضمون کی کتب احادیث میں پائی جاتی ہیں کہ اہل نفاق و حسد کو جب یہ معلوم ہوا کہ رسول(ص) اپنی بیٹی علی(ع) سے بیاہنے والے ہیں ( جو در حقیقت فخرِ مریم اور سیدہ نساء جنت ہیں) تو انھیں حضرت علی(ع) سے بہت بڑا حسد پیدا ہوا اور اس معاملہ کو انھوں نے بہت عظیم سمجھا۔ خصوصا ان لوگوں کے جلنے کو تو کچھ نہ پوچھیے جو رسول(ص) کی خدمت
میں خواستگاری کر کے کورا جواب پاچکے تھے۔”(1)
--------------
1ـ ابن ابی حاتم نے انس سے روایت کی ہے انس کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر و عمر رسول(ص) کی خدمت میں آئے اور جناب سیدہ(س) کے لیے خواستگاری کی۔ رسالت ماب(ص) نے سکوت فرمایا کوئی جواب نہ دیا۔ وہاں سے وہ دونوں حضرت علی(ع) کے پاس پہنچے یہ کہنے کے لیے کہ ہم لوگوں نے خواستگاری کی مگر رسول(ص) نے کوئی جواب نہ دیا۔ اب آپ درخواست کیجیے۔ ابن ابی حاتم کی اس روایت کو بہت سے نامور علماءئے اہل سنت نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر نے صواعق باب 11 کے شروع میں نقل کیا ہے۔ اسی موقع پر امام احمد نے بھی اسی جیسی حدیث نقل کی ہے۔ جسے انھوں نے انس سے روایت کی ہے اور اسی صواعق محرقہ باب11 میں ابو داؤد سجستانی کی روایت کردہ حدیث منقول ہے کہ حضرت ابوبکر نے جناب رسالت ماب(ص) کی خدمت میں سیدہ(ع) کی خواستگاری کی آپ نے منہ پھیر لیا۔ پھر عمر نے خواستگاری کی اس مرتبہ بھی آںحضرت (ص) نے منہ پھیر لیا۔ پھر یہ دونوں حضرات علی(ع) کے پاس تشریف لائے اور کہا اب آپ خواستگاری کیجیے۔ اور حضرت علی(ع) سے منقول ہے کہ ابوبکر و عمر نے رسول سے سندہ کی خواستگاری کی آںحضرت(ص) نے انکار فرمایا۔ حضرت عمر نے حضرت علی(ع) سے کہا اب آپ خواستگاری کیجیے آپ ہی کو یہ شرف حاصل ہوگا ابن جریر نے اس حدیث کی روایت کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے اور دولابی نے بھی ذریت طاہرہ (ع) میں اس کی روایت کی ہے۔ کنزالعمال میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ملاحظہ ہو حدیث 6007 صفحہ 392 جلد 6۔
ان جلنے والوں نے سوچا کہ سیدہ(س) کا علی(ع) سے منسوب ہونا علی(ع) کے لیے ایسا شرف و امتیاز کا باعث ہوگا کہ پھر علی(ع) کے مقابلہ میں کوئی آہنی نہ سکے گا۔ لہذا انھوں نے ریشہ دوانیاں شروع کیں۔ بڑی بڑی تدبیریں کیں ۔ اپنے گھر کی عورتوں کی جناب سیدہ(س) کی خدمت میں اس غرض سے بھیجا کہ انھیں حضرت علی(ع) کی طرف سے متنفر بنایا جائے۔ ان کے دل میں نفرت پیدا کی جائے۔ ان کی عورتوں نے اور جو باتیں کیں اس میں ایک بات یہ بھی کہی تھی علی(ع) تو فقیر ہیں کچھ پاس رکھتے ہی نہیں ، لیکن جناب سیدہ(س) ان عورتوں کے مکرو فریب میں نہ آئیں اور آپ اس سے بھی با خبر تھیں کہ ان عورتوں کی زبان سے کن لوگوں کی دلی ترجمانی ہورہی ہے۔ باوجود حقیقیت حال سے با خبر ہونے کے جناب سیدہ نے ان عورتوں سے کچھ کہا نہیں ۔ جب عقد انجام پاگیا ، خدا ورسول(ص) کا مقصد پورا ہوگیا۔ اس وقت جنابِ سیدہ(س) نے ضرورت سمجھی کہ اب علی(ع) کے
فضائل ظاہر کرنے کو موقع ہے تاکہ آپ کے دشمن و بدخواہ ذلیل و خوار ہوں آپ نے آںحضرت(ص) سے عرض کی:
"بابا جان آپ نے مجھے فقیر ونادار شیخص سے بیاہ دیا "
اس موقع پر آنحضرت (ص) یہ کلمات ارشاد فرمائے جو ابھی آپ نے سنے
وإذا أرادالله نشرفضيلة
طويت اتاح لهالسان حسود
خطیب نے اپنی کتاب متفق میں معتبر اسناد سے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ:
امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ 129 پر باب مناقب امیرالمومنین(ع) میں
--------------
1ـ یہ حدیث بعینہ انھیں الفاظ اور اسی سند کے ساتھ کنزالعمال جلد6 صفحہ 291 پر موجود ہے۔ ملاحظہ ہو حدیث 9592 ۔ صاحب کنزالعمال نے اس حدیث کے اسناد کے حسن ہونے کی تصریح بھی کی ہے۔
سریج بن یونس سے ، انھوں نے حفص ابار سے، انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابو صالح سے انھوں نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ:
اور ابن عباس سے روایت ہے کہ آںحضرت نے فرمایا :
--------------
1ـ یہ حدیث ٹھیک انھیں الفاظ اور اسی سلسلہ سند سے کنز العمال جلد6 صفحہ154 پر موجود ہے ۔ منتخب کنزالعمال میں بھی موجود ہے ملاحظہ ہو حاشیہ مسند ص39 جلد5 سطر اول۔ علامہ ابی حدید معتزلی نے بھی ؟؟؟؟؟؟ مسند احمد سے نقل کیا ہے۔
اس کے بعد آںحضرت(ص) کا طرز عمل یہ رہا کہ جب جناب سیدہ(س) کو دنیوی پریشانیاں لاحق ہوتی تھیں تو آپ خدا و رسول(ص) کی اس نعمت و رحمت کو یاد دلاتے کہ تمھارا عقد ایسے شخص سے کیا گیا جو امت میں سب سے زیادہ اشرف و افضل ہے۔ یہ اس لیے تاکہ جناب سیدہ (س) کا دل چھوٹا نہ ہو، زمانہ کی نیرنگوں اور تکلیفوں سے دل تنگ نہ ہوں۔ اس کے ثبوت میں وہی روایت آپ کے لیے کافی ہے جسے امام احمد نے مسند جلد5 صفحہ 26 پر درج کیا ہے۔ معقل بن یسار کی حدیث ہے کہ :
اس باب میں بے شمار حدیثیں موجود ہیں مکتوب میں اتنی گنجائش نہیں کہ سب ذکر کی جائیں۔
ش
مکتوب نمبر 35
اہلسنت و جماعت حضرت علی(ع) کے وصی رسول(ص) ہونے کو نہیں مانتے وہ اس حدیث سے استدالال کرتے ہیں جسے بخاری نے صحیح بخاری میں اسود سے روایت کیا ہے ۔ اسود کہتے ہیں کہ :
---------------
1ـ اس حدیث کو امام بخاری نے صحیح بخاری جلد2 صفحہ کتاب الوصایا میں نیز صحیح بخاری جلد3 صفحہ64 باب مرض النبی و وفات میں درج کیا ہے امام مسلم نے صحیح مسلم میں کتاب الوصایا میں نقل کیا ہے۔
نیز امام بخاری نے صحیح بخاری میں متعدد طریقوں سے اس روایت کو لکھا ہے کہ :
--------------
1ـ آپ بے خبر نہ ہوں گے کہ شیخین نے اس حدیث میں رسول(ص) کے علی(ع) سے وصیت نہ فرمانے کی جو روایت کی ہے وہ بے قصد و ارادہ ایسا کر گئے اگر متوجہ ہوتے تو شاید اس حدیث کو لکھتے ہی نہیں۔ اس لیے کہ جن لوگوں نے جناب عائشہ سے یہ ذکر چھیڑا تھا کہ رسول(ص) نے علی(ع) کو وصی بنایا وہ امت سے خارج نہیں تھے بلکہ وہ صحابہ میں سے تھے جنھیں ام المومنین کے سامنے ایسی بات کے انکشاف کی جرائت پیدا ہوئی جو ام المومنین کی ناگواری کا باعث تھی اور اس عہد کی سیاست کے خلاف تھی اسی وجہ سے جناب عائشہ ان لوگوں کی یہ حدیث ( جن میں حضرت علی(ع) کے وصی بنائے جانے کا ذکر تھا )سن کر بڑے شش و پنچ میں پڑگئیں اور ان کی رد میں مہمل و رکیک باتیں کہنے لگیں۔ امام نسائی نے سنن نسائی جلد6 صفحہ 241 میں اس حدیث پر جو حاشیہ تحریر فرمایا ہے اس میں لکھتے ہیں کہ یہ بات مخفی نہ ہوگی کہ جناب عائشہ کا ارشاد اس سے مانع نہیں کہ آںحضرت وصی بنا چکے ہوں نیز ان کا ارشاد اس کا بھی مقتضی نہیں کہ رسول(ص) دفعتا انتقال فرماگئے ہوں اور آپ کو وصیت کرنے کا موقع ہی نہ ملا ہو اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ پیغمبر(ص) بیمار ہونے سے پہلے ہی با خبر تھے کہ اب زندگی کےدن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ اس عبارت پر غور فرمائیے ۔ کس قدر سنجیدہ و متین عبارت ہے حقیقت بالکل منکشف ہو جاتی ہے۔
صحیح مسلم میں جناب عائشہ سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ :
اور صحیحین(3) میں طلحہ بن مصرف سے روایت ہے کہ :
--------------
1ـ جناب عائشہ کا قول مات بین حافتیی و ذاقنتی نیز مات بین سحری و ںحری یہ دونوں صحیح بخاری کے باب مرض النبی و وفات میں موجود ہیں نیز جناب عائشہ کا یہ قول نزل بہ و راسہ علی فخذی رسول(ص) کا سر میرے زانو پر تھا کہ ملک الموت قبض روح کو آئے ۔ باب آخر ماتکلم بہ رسول کے آخری الفاظ کے باب میں موجود ہے ۔ جو باب مرض النبی و وفات کے فورا ہی بعد مذکور ہے۔
2ـ ملاحظہ فرمائیے صحیح مسلم کتاب الوصیہ جلد2 صفحہ14۔
3ـ ملاحظہ فرمائیے صحیح مسلم و صحیح بخاری دونوں کی کتاب الوصایا
چونکہ آپ نے جو حدیثیں ذکر کی ہیں ان سے یہ حدیثیں زیادہ صحیح ہیں کیونکہ بخاری و سلم دونوں میں موجود ہیں لہذا انھیں حدیثوں کو مقدم سمجھا جائے گا اور انھیں پر اعتماد کیا جائے گا۔
س
جوابِ مکتوب
پیغمبر(ص) کا حضرت علی(ع) سے وصیت فرمانا ایسی بات ہے جس سے انکار ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آںحضرت(ص) نے حضرت علی(ع) سے وصیت فرمائی تھی ۔ قول و قرار فرمایا تھا( بعد اس کے کہ آپ انھیں اپنے علم و حکمت کا وارث(1) بنا چکے تھے) کہ حضرت علی(ع) ہی آپ کو غسل دیں۔(2) تجہیز و تکفین کریں۔ آںحضرت(ص) کے دیون ادا کریں ۔ رسول(ص) کے کیے ہوئے وعدوں
--------------
1ـ ملاحظہ فرمائیے صفحہ 400 تا 405 ۔ وہاں آپ کو اچھی طرح وضاحت نطر آئے گی حضرت سرورکائنات(ص) نے امیرالمومنین(ع) کو اپنے علم وحکمت کا وارث بنایا
2ـ ابن سعد نے طبقات ابن سعدف جلد2 قسم ثانی ص61 پر امیرالمومنین(ع) سے روایت کی ہے امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں کہ رسول(ص) نے وصیت فرمائی کہ سوائے میرے انھیں کوئی غسل نہ دے اور ابو الشیخ اور ابن نجار نے امیرالمومنین(ع) سے روایت کی ہے ( ملاحظہ ہو کنزل العمال جلد4 ص54) کہ رسول(ص) نے مجھ سے وصیت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے سات مشکوں سے غسل دینا۔ ابن سعد نے طبقات جلد2 قسم 2 صفحہ 63
پر عبدالواحد بن ابی عوانہ سے روایت کی ہے کہ رسالت ماب(ص) نے بحالت مرض موت فرمایا کہ اے علی(ع) جب میں مرجاؤں تو تم مجھے غسل دینا عبدالواحد کہتے ہیں کہ حضرت علی(ع) نے ارشاد فرمایا کہ : میں نے رسول(ص) کو غسل دیا، میں جس حصہ جس کو غسل کے ارادے سے اٹھاتا تھا وہ میری متابعت کرتا تھا۔ امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ55 پر اور علامہ ذہبی نے تلخیص مستدرک میں بسلسلہ اسناد امیرالمومنین(ع) سے روایت کی ہے اور دونوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول(ص) کو غسل دیا اور مردوں سے جو بات دیکھنے میں آتی ہے منتطر تھا کہ رسول(ص) سے بھی ظہور پذیر ہوتی ہے کہ نہیں۔ میں نے ایک بات بھی نہ دیکھی ۔ رسول(ص) زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں مجسم خوشبو رہے۔ اس حدیث کو سعید بن منصور نے اپنے سنن میں، مروزی نے اپنی کتاب جنائزہ میں، ابو داوؤد نے مراسلہ میں ابن منیع اور ابن ابی شیبہ نے سنن میں درج کیا ہے اور کنزالعمال جلد4 ص55 پر بھی
موجود ہے۔ جناب ابن عباس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ علی(ع) کو چار باتیں ایسی حاصل ہیں جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوئیں۔علی (ع) پہلے وہ شخص ہیں جنھوں نے رسول(ص) کے ساتھ نماز پڑھی ۔ علی(ع) ہر معرکہ میں علمدار پیغمبر(ص) رہے، علی(ع) ہی رسول(ص) کے پاس اس دن ثابت قدم رہے جب کہ ہر شخص رسول(ص) کو چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اور علی(ع) ہی وہ ہیں جنھوں نے رسول(ص) کو غسل دیا اور قبر میں لٹایا ، اس روایت کو ابن عبدالبر نے استیعاب میں بسلسلہ حالات امیرالمومنین(ع) اور حاکم نے مستدرک جلد3 ص18؟؟؟ پر درج کیا ہے۔ ابو سعید خدری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسالت ماب(ص) نے ارشاد فرمایا : “ اے علی(ع) تم ہی مجھے غسل دو گے اور میرے دیون ادا کروگے اور قبر میں مجھے دفن کرو گے۔ ” ملاحظہ ہو کنز العمال ج6 ص55 حضرت عمر سے ایک حدیث مروی ہے جس میں رسول(ص) نے علی(ع) سے فرمایا : تم ہی مجھے غسل دینے والے ہو، مجھے دفن کرنے والے ہو۔ کنزالعمال جلد6 ص293 و منتخب کنزالعمال بر حاشیہ مسند امام احمد جلد5 ص54 حضرت علی(ع) سے مروی ہے : آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول(ص) کو یہ کہتے سنا خدا نے مجھے ( علی میں) پانچ چیزیں ایسی عطا کیں جو مجھ سے پیشتر انبیاء کو کسی میں عطا نہیں ہوئیں پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ میرے دیون ادا کریں گے اور مجھے دفن کریں گے۔ کنزالعمال جلد6 ص403 جب رسول(ص9 کا جنازہ تیار ہوا اور لوگوں نے نماز جنازہ پڑھنا چاہی تو حضرت علی(ع) نے کہا کہ رسول(ص) کی نماز میں کوئی شخص امام نہ ہوگا۔ وہ تم تمھارے امام ہیں زندگی میں بھی اور مرنے پر بھی لہذا لوگ تھوڑی تھوڑی دیر بعد آتے اور صف بہ صف نماز پڑھتے لیکن امامت کسی نے نہ کی وہ لوگ تکبیر کہتے اور حضرت علی(ع) جنازہ رسول(ص) کے مقابل کھرے ہوکر فرماتے : سلام ہو آپ پر اے پیغمبر(ص) خدا اور رحمت ہو اﷲ کی۔ خداوند ا ہم گواہی دیتے ہیں کہ جو کچھ تو نے نازل کیا وہ رسول(ص) نے ہم تک پہنچایا ۔ امت کی پوری خیر خواہی کی۔ تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ تونے ان کے دین کو قوت بخشی اور ان کے کلمہ کو پورا کیا۔ خداوندا پس ہمیں قرار دے ان لوگوں میں جو پیغمبر(ص) پر تیرے نازل کیے ہوئے احکام کی پیروی کرتے ہیں اور رسول(ص) کے اٹھ جانے کے بعد ہی ثابت قدم رکھ اور ہمیں ہمارے رسول(ص) سے ملا۔ حضرت علی(ع) یہ فرماتے اور لوگ آمین آمین کہتے اسی طرح مردوں نےنماز پڑھی پھر عورتوں نے پھر بچوں نے ۔ یہ کل مضمون بعینہ انہی الفاظ میں جو ہم نے ذکر کیا ابن سعد نے اپنی طبقات میں پیغمبر(ص) کے غسل کےبیان میں ذکر کیا ہے ۔ رسول(ص) کےجنازے پر سب سے پہلے بنی ہاشم آئے۔ پھر مہاجرین پھر انصار ، پھر دوسرے لوگ اور سب سے پہلے حضرت علی(ع) اور جناب عباس نے نماز پڑھی یہ دونوں حضرات ایک صف میں کھڑے ہوئے اور پانچ تکبیریں کہیں۔
کو پورا کریں۔ رسول(ص) کی ذمہ داریاں اپنے سر لیں۔(1) اور رسول(ص) کے مرنے کے بعد
--------------
1ـ ان سب مذکورہ بالا امور کے متعلق ائمہ طاہرین (ع) سے متواتر حدیثیں موجود ہیں۔ اہلبیت(ع) سے قطع نظر غیروں میں طبرانی نے معجم کبیر میں ابن عمر سے ابو یعلی نے اپنی مسند میں حضرت علی(ع) سے جو روایت کی ہے تو ملاحظہ فرمائیے طبرانی کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ اے علی(ع) تم میرے بھائی، میرے وزیر، میرے دیون ادا کروگے، میرے وعدوں کو پورا کرو گے اور میری ذمہ داریوں سے مجھے سبکدوش بناؤگے ملاحظہ ہو کنزالعمال جلد6 ص155 پر ابن عمر سے اسناد کر کے یہ حدیث مذکور ہے اور جلد6 صفحہ 404 پر حضرت علی(ع) کی طرف اسناد کر کے مذکورہ ہے۔ اسی جگہ علامہ بوصیری سے منقول ہے کہ اس حدیث کے کل راوی ثقہ ہیں۔ ابن مردویہ و دیلمی نے جناب سلمان فارسی سے روایت کی ہے ملاحظہ ہو کنزالعمال جلد6 صفحہ 155 کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا : علی(ع) میرے وعدوں کو پورا کریں گے اور میرے دیون ادا کریں گے اسی مضمون کی حدیث انس سے بزار نے روایت کی ہے۔ ملاحظہ ہو کنزالعمال جلد6 ص153 امام احمد بن حنبل نے مسند جلد4 صفحہ 164 پر حبشی بن جنادة سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول(ص) کو کہتے سنا : میرے دیون سوائے میرے یا علی(ع) کے کوئی اور میرے اور ادا نہیں کرسکتا اور ابن مردویہ نے امیرالمومنین(ع) سے روایت کی ہے ملاحظہ ہو کنزالعمال جلد6 ص104 کہ جب آیہ وانذر نازل ہوا تو آںحضرت (ص) نے فرمایا : علی(ع) میرے دیوان ادا کریں گے میرے وعدوں میں کو پورا کریں گے۔ سعد سے روایت ہے کہ میں نے یوم حجفہ رسول(ص) کو کہتے سنا۔: آپ نے حضرت علی(ع) کا ہاتھ پکڑا اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ بعد حمد و ثنائے الہی کے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تمھارا ولی ہوں۔ لوگوں نے کہا بے شک یا رسول اﷲ(ص) ، پھر آپ نے حضرت علی(ع) کا ہاتھ اٹھا کر فرمایا یہ میرے ولی ہیں اور یہی میری جانب سے میرے دیون ادا کریں گے۔ اس حدیث کو آپ صفحہ 332 پر ملاحظہ فرماچکے ہیں۔ عبدالرزاق نے اپنی جامع میں معمر سے انھوں نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ علی(ع) نے رسول(ص) کے بعد چند امور انجام دیے جن دیے جن میں زیادہ تر رسول(ص) کے کیے ہوئے وعدے ننھے جنھیں آپ نے پورا کیا۔ میرا خیال ہے کہ انھوں نے پانچ لاکھ درہم کہے تھے۔ عبدالرزاق سے پوچھا گیا کہ کیا رسول(ص) نے علی(ع) کو اس کے متعلق وصیت بھی کی تھی انھوں نے جواب دیا کہ ہاں مجھے کوئی شک نہیں اس میں کہ رسول(ص) نے ضرور علی(ع) سے اس کی بابت وصیت کی تھی اور اگر رسول(ص) وصیت نہ فرما گئے ہوتے تو لوگ علی(ع) کو رسول(ص) کے دیون نہ ادا کرنے دیتے۔ اس حدیث کو صاحب کنزالعمال نے جلد4 ص60 پر درج کیا ہے ملاحظہ ہو حدیث نمبر1170۔
جب لوگوں میں اختلاف پیدا ہو تو احکام الہی اور امورِ شریعت واضح کردیں اور آپ امت سے فرماچکے تھے کہ : “ یہ علی(ع) ہی تمھارے ولی(1) ہیں میرے بعد(2) اور میرے بھائی(3) ہیں، میرے نواسوں کے باپ ہیں(4) ۔ میرے وزیر(5) ہیں۔
--------------
1ـ بکثرت صریحی نصوص موجود ہیں کہ آںحضرت (ص) نے امیرالمومنین(ع) سے وصیت فرمائی تھی کہ آپ کے انتقال کے بعد امت میں کسی مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو تو اس کی وضاحت کریں ۔ ملاحظہ ہو صفحہ 283 پر حدیث نمبر11 ، نمبر12 اس کے علاوہ اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جن میں سے بعض ہم نے ذکر کی ہیں اور بعض کو شہرت کی حیثیت سے ذکر کرنا ضروری نہ سمجھا ۔
2ـ گزشہ صفحات میں بیشتر مقامات پر اس پر روشنی ڈالی جاچکی ہے۔
3ـ رسول(ص) اور حضرت علی(ع) میں مواخات کا قائم ہونا متواتر احادیث سےثابت ہے ہم نے اس پر کافی ثبوت فراہم کردیے ہیں اس مسئلہ میں۔
4ـ امیرالمومنین (ع) کا فرزندان رسول(ص) کا باپ ہونا وجدانی طور پر واضح ہے۔ حضرت سرور کائنات(ص) نے امیرالمومنین(ع) سے فرمایا کہ تم میرے بھائی ہو، میرے نور چشموں کے باپ ہو۔ تم میری سنت کی حمایت میں جہاد کروگے، اس حدیث کو ابویعلی نے اپنی مسند میں درج کیا ہے ملاحظہ ہو کنزالعمال جلد6 صفحہ 404 اور اس کے رواة سب کے سب معتبر ہیں جیسا کہ علامہ بوصیری نے تصریح کی ہے ۔ امام احمد نے بھی اس حدیث کو مناقب میں درج کیا ہے جیسا کہ صواعق محرقہ ص75 باب فصل ثانی سے پتہ چلتا ہے اور آںحضرت(ص) نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ خداوند عالم نے ہر نبی کی ذریت کو اس کے سلب میں ودیعت فرمایا اور میری ذریت کو سلب علی(ع) میں قرار دیا۔ اس حدیث کو طبرانی نےمعجم کبیر میں جناب جابر سے اور خطیب نے اپنی تاریخ میں ابن عباس سے روایت کیا ہے اور کنزالعمال جلد6 ص155 پر موجود ہے ۔ آںحضرت (ص) نے یہ بھی فرمایا کہ ہر دختری اولاد اپنے قبیلہ و خاندان کی طرف منسوب ہوتی ہے سوائے فرزندان فاطمہ(س) کے ۔ کہ میں ان کا ولی ہوں۔ میں ہی ان کا بزرگ خاندان ہوں، میں ہی ان کا باپ ہوں۔ اس حدیث کو طبرانی نے جناب سیدہ سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث ان احادیث میں سے ایک ہے جسے ابن حجر نے صواعق باب 11 ص112 پر نقل کیا ہے۔ اسی حدیث کو طبرانی نے ابن عمر سے بھی روایت کیا ہے جیسا کہ اسی صفحہ پر مذکور ہے۔ اسی جیسی حدیث مستدرک جلد2 صفحہ 164 پر جناب جابر سے روایت کی ہے اور لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر شیخین نے اپنے صحیحین میں درج نہیں کیا ۔ ایک اور حدیث امام حاکم نے مستدرک میں اور ذہبی نے تلخیص مستدرک میں لکھی ہے اور شیخین کے معیار پر اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اس حدیث میں ہے کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ مگر اے علی(ع) تم میرے نور چشمون کے باپ ہو،مجھ سے ہو، مجھ تک ہو اور بھی بہیتری صحیح حدیثیں ہیں ۔
5- حضرت علی(ع) کے وزیر ہونے کے متعلق منجملہ اور ارشادات کے ایک حدیث انت منی بمنزلة ہارون من موسی” ہی کافی ہوگی۔ جیسا کہ ہم م 10 اور م 13 پر توضیح کرچکے ہیں۔ نیز دعوت عشیرہ کے موقع پر جو آںحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا تھا اسی کو لے لیجیے ۔فَأَيُّكُمْ يُوَازِرُنِي عَلَى أَمْرِي هَذَا فقال علیُ أَنَا يَا رَسولَ اللَّهِ أَكُونُ وَزِيرَكَ عَلَيْهِ ” رسول(ع) نے مجمع سے پوچھا تھا کہ تم میں کون شخص ایسا ہے جو کارِ رسالت میں میرا بوجھ بٹائے ۔ جب سب خاموش رہے تو حضرت علی(ع) اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا : میں آپ کا بوجھ بٹانے والا ہوں گا۔ اور اس حدیث کو بھی آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں خدا بھلا کرے امام بوصیری کا کیا اچھے اشعار کہے ہیں۔ اپنے قصیدہ میں فرماتے ہیں :لم يزده کشف الغطاء يقينا بل هو الشمس ما عليه الغطاء “ پردے اٹھنے کے بعد بھی آپ کے یقین میں اضافہ کی گنجائش نہ تھی بلکہ آپ تو آفتاب ہیں جس پر کوئی پردہ نہیں۔
--------------
1ـ تمام امت اسلامیہ کا اتفاق ہے کہ کلام مجید میں ایک ایسی آیت ہے جس پر سوائے امیرالمومنین(ع) کے کسی نے عمل نہیں کیا ۔ نہ آپ کے بعد قیامت تک کوئی اس پر عمل کرسکے گا اور وہ سورہ مجادلہ کی آیت نجوی ہے ۔ اس پر دوست و دشمن ہر ایک بہ لفظ و زبان متفق ہے اور اس کے متعلق شیخین کے معیار پر صحیح صریحی احادیث موجود ہیں جسے امت اسلام کا ہر نیک و بد فرد جانتا ہے ۔ ملاحہ ہو مستدرک جلد2 ص482 اور اسی صفحہ پر علامہ ذہبی کی تلخیص مستدرک اور دیکھیے تفسیر ثعلبی ، طبری ، سیوطی ، زمخشری، رازی وغیرہ کی تفاسیر آگے چل کر آپ ام سلمہ اورعبداﷲ بن عمر کی حدیث ملاحظہ فرمائیں گے جس میں وفات سے چند لمحہ پیشتر آںحضرت(ص) اور امیرالمومنین(ع) کی سرگوشی کا ذکر ہے۔ وہیں آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا۔ کہ طائف میں بھی ایسا ہی موقع پیش آیا تھا اور رسول(ص) نے ارشاد فرمایا تھا کہ میں نے اپنے جی سے علی(ع) سے سرگوشی نہیں کی بلکہ خدا نے خود ایسا کیا ہے اسی کے حکم سے میں نے ان سے سرگوشی کی وہیں ہم اس کی طرف بھی اشادہ کریں گے کہ ، آںحضرت(ص) اور امیرالمومنین(ع) نے جناب عائشہ کے متعلق بھی سرگوشی کی۔
2ـ امیرالمومنین (ع) کے ولی ہونے کے متعلق آںحضرت(ص) کا یہ قول کافی ہے جو ابن عباس کی حدیث میں مذکور ہے جسے ہم گزشتہ صفحات میں ذکر کرچکے ہیں : “ اے علی(ع) تم دنیا و آخرت میں میرے ولی ہو” اس کے علاوہ یہ تو ایسی واضح چیز ہے جس کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں۔
3ـ م 13 میں اس کے متعلق نصوص ذکر کیے جاچکے ہیں۔
امت کے لیے امان اور سفینہ نجات(4) ہیں ان کی اطاعت بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح میری اطاعت فرض ہے، ان کی نافرمانی اسی طرح باعث ہلاکت ہے جس طرح میری نافرمانی(5) ، علی(ع) کی پیروی میری پیروی ہے اور ان سے جدائی مجھ جدائی ہے۔”
( جیسا کہ صفحہ 288 کی سترھویں حدیث سے ثابت ہوتا ہے) علی(ع) سے جو صلح رکھے اس سے رسول(ص) کی بھی صلح ہے اور جس نے علی(ع) سے جنگ کی اس سے رسول(ص) بھی برسرجنگ(6) ہیں۔ جس نے علی سے موالات کی رسول(ص) بھی اس کے ولی ہیں،
--------------
1ـ ملاحظہ ہو صفحہ 282 میں حدیث نمبر9 اور اس پر جو حاشیہ ہم نے سپرد قلم کیا ہے وہ بھی دیکھیے۔
2ـ ملاحظہ فرمائیے صفحہ 283 میں حدیث 10۔
3ـ ملاحظہ ہو صفحہ 285 میں حدیث 14۔
4ـ جیسا کی ان احادیث کا فیصلہ ہے جو ہم نے صفحہ 67 تا صفحہ 68 پر بیان کیں۔
5ـ جیساکہ صفحہ 288 کی حدیث 16 سے معلوم ہوتا ہے۔
6ـ امام احمد نے مسند ج2 صفحہ 442 پر ابوہریرہ سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے علی (ع) و فاطمہ(س) ، حسن (ع) و حسین(ع) کی طرف نظر کر کے ارشاد فرمایا : میں برسر جنگ ہوں اس سے جو تم سے جنگ کرے اور میری بھی صلح ہے اس سے جو تم سے صلح رکھے۔” اور جس دن آپ نے ان حضرات کو اپنی چادر اڑھائی تھی اس دن کے متعلق بھی حدیث صحیح میں ہے کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا تھا، أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَهُمْ وَ سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَهُمْوَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاهُم چنانچہ علامہ حجر مکی نے فضائل اہلبیت(ع) میں پہلی آیت جو لکھی ہے اس کی تفسیر میں اس حدیث کو لکھا ہے ۔ رسول(ص) کا یہ قول تو کافی مشہور ہوچکا ہے : “حَرْبُ علی حَرْبِي وَ حَرْبِي حَرْبُ اللَّهِ وَ سِلْمُهُ سِلمِی ” علی(ع) کی جنگ میری جنگ ہے اور علی(ع) کی صلح میری صلح ہے۔
اور جس نے علی(ع) کو دشمن رکھا رسول(ص) بھی اس کے دشمن ہیں(1) ۔ جس نے علی (ع) کو دوست رکھا۔
اس نے خدا اور خدا کے رسول(ص) کو دوست رکھا۔ جس نے علی(ع) سے بغض رکھا اس نے خدا اور اس کے رسول(ص) سے بغض رکھا(2) جس نے علی(ع) سے
--------------
1ـ ملاحظہ فرمائیے ہمارے صفحہ 291 پر حدیث نمبر20 کے ، علاوہ اس کے رسول(ص) کا یہ ارشاد“ُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاه” (خداوندا تو دوست رکھ اس کو جو علی(ع) کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس کو جو علی(ع) کو دشمن رکھے) جو حد تواتر تک پہنچا ہوا ہے یہی کافی ہے نیز مکتوب نمبر18 پر بریدہ کی حدیث ملاحظہ فرماچکے ہیں جس میں آںحضرت(ص) کا یہ قول ہے کہ جس نے علی(ع) سے جدائی اختیار کی اس نے مجھ سے جدائی اختیار کی ہے ۔ یہ حدیث بھی حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہے“لَا يُحِبُّهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَ لَا يُبْغِضُهُ إِلَّا مُنَافِقٌوَ اللَّهِ إِنَّهُ لَعَهِدَ النَّبِيُ الْأُمِّي” علی(ع) کو مومن ہی دوست رکھے گا اور علی(ع) کا دشمن منافق ہی ہوگا۔ یہ قول و قرار ہے نبی (ص) امی کا۔
2ـ جیسا کہ م 24 پر بیان کی ہوئی حدیث نمبر9، 20، 21 سے ثابت ہوتا ہے۔
موالات رکھی اس نے خدا اور رسول(ص) سے موالات رکھی اور جس نے علی سے عداوت رکھی اس نے خدا و رسول(ص) سے عداوت رکھی(1) ۔ جس نے علی(ع) کو اذیت دی اس نے خدا و رسول(ص) کو اذیت دی(2) ۔ جس نے علی(ع) کو سب وشتم کیا اس نے خدا و رسول(ص) کو سب و شتم کیا(3) ۔ علی(ع) نیکوکاروں کے اما م، بدکاروں کے قتل کرنے والے ہیں ۔ جس نے علی (ع) کی مدد کی وہ منصور ہوا، جس نے علی(ع) کی مدد سے گریز کیا ذلیل و خوار ہوا۔(4) ، علی(ع) مسلمانوں کے سردار ،متقین کے امام، روشن پیشانی والوں کو جنت تک لے جانے والے ہیں(5) ۔ علی (ع) ہدایت کا علم ہیں، اولیائے خدا کے امام ہیں، نور ہیں، فرمانبردارانِ الہی کے لیے ، اور وہ کلمہ ہیں جسے خدا نے متقین پر لازم کیا ہے۔(6)
--------------
1ـ صفحہ 294 کی حدیث نمبر23 سے اس کی وضاحت ہوتی ہے نیز رسول(ص) کا یہ ارشاد“ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاه” ہی کافی ہے اس کے ثبوت کے لیے۔
2ـ اس کے ثبوت کے لیے عمرو بن شاس والی حدیث سن چکے ہیں جس میں رسول(ص) نے فرمایا کہ جس نے علی(ع) کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی” عمرو بن شاس کی حدیث کو امام احمد نے مسند ج3 صفحہ473 پر امام حاکم نے مستدرک ج3 صفحہ124 پر ذہبی نے تلخیص مستدرک میں اسی صفحہ پر اس حدیث کی صحت کا اعتراف کرتے ہوئے ذکر کیا ہے ۔ نیز بخاری نے تاریخ میں ابن سعد نے طبقات میں ابن ابی شیبہ نے اپنے مسند میں طبرانی نے معجم کبیر میں بھی اس کی روایت کی ہے۔ کنزالعمال ج6 صفحہ 400 پر بھی موجود ہے۔
3ـ جیسا کہ صفحہ 289 میں اٹھارہویں حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
4ـ جیسا کہ صفحہ 277 کی پہلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
5ـ ملاحظہ فرمائیے صفحہ 277 پر حدیث نمبر2َ ، 3، 4، 5۔
6ـ صفحہ 277 پر چھٹی حدیث ملاحظہ کیجیے۔
یہی علی(ع) صدیق اکبر ہیں، اس امت کے فاروق ہیں، مومنین کے سردار ہیں(1) ، یہ بمنزلہ فرقانِ عظیم اور ذکر حکیم کے ہیں(2) ۔ علی (ع) رسول(ص) کے لیے ایسے ہیں جیسے موسی(ع) کے لیے ہارون تھے۔(3)
علی(ع) کو رسول(ص) سے وہی منزلت حاصل ہے جو منزلت رسول(ص) کو خدا سے ہے(4) ۔ علی(ع) رسول(ص) کے لیے ایسے ہیں جیسے بدن کے لیے سر(5) ، علی (ع) مثلِ نفس رسول(ص) کے ہیں(6) ۔ خداوندِ عالم نے تمام روئے زمین کے باشندوں پر نظر ڈالی اور رسول(ص) و علی(ع) کو منتخب کیا(7) ۔ رسول(ص) کا ایک یہی ارشاد لے لیجیے جو آپ نے حجة الوداع کے موقع پر یوم عرفات فرمایا تھا کہ میرے فرائض کی ادائگی علی(ع) ہی کرسکتے ہیں۔(8)
--------------
1ـ جیسا کہ صفحہ 280 کی حدیث نمبر7 سے واضح ہوتا ہے۔
2ـ مکتوب نمبر 4 میں آپ صحیح حدیثیں اس کے ثبوت میں سن چکے ہیں ان احادیث کے دیکھنے کے بعد صاحب بصیرت کے لیے تو پھر کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ صفحہ 315 پر یہ حدیث بھی ذکر کی گئی “إِنَّ عَلِيّاً مَعَ الْقُرْآنِ، وَ الْقُرْآنَ مَعَ عَلِيٍّ، لَا يَفْتَرِقَان” علی(ع) قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ہے یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے ۔
3ـ جیسا کہ م 13، 14، 15، 16، اور 17 تک ہماری تحریر سےوضاحت ہوتی ہے۔
4ـ جیسا کہ صفحہ285 کی تیرہویں حدییث سے ثابت ہوتا ہے۔
5ـ صفحہ 316 پر حدیث “عَلِيٌّ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ رَأْسِي مِنْ بَدَنِي.” ذکر کی جاچکی ہے۔
6ـ جیسا کہ آیت مباہلہ بتاتی ہے نیز عبدالرحمن بن عوف کی حدیث جسے ہم نے صفحہ 316 کے آخر میں درج کیا ہے۔
7ـ جیسا کہ ہم صفحہ 409 تا صفحہ 410 پر اس کے متعلق صریحی احادیث ذکر کرچکے ہیں۔
8ـ ملاحظہ ہو صفحہ 285 پر حدیث نمبر15 اور اس حدیث پر جو ہم نے حاشیہ تحریر کیا ہے وہ بھی دیکھیے۔
اس کے علاوہ بکثرت ایسی خصوصیات سے پیغمبرف(ص) نے امیرالمومنین(ع) کو سرفراز کیا جو صرف وصی ہی کے لیے زیب دیتی ہیں اور قائم مقام پیغمبر ہی کے لیے مناسب ہیں۔
لہذا ان خصوصیات اور مخصوص فضائل و کمالات کے بعد امیرالمومنین(ع) کے وصی پیغمبر(ص) ہونے سے انکار کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے کتنی حدیثوں کو جھتلایا جائے گا اور کہاں تک جھٹلایا جاسکتا ہے۔
حضرات اہل سنت جو امیرالمومنین (ع) کے وصی پیغمبر(ص) ہونے سے انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر امیرالمومنین(ع)ٰ کو وصی رسول(ص) تسلیم کر لیا جائے تو پھر خلفائے ثلاثہ کی خلافت باطل ہوجاتی ہے۔
اور بخاری وغیرہ نے طلحہ بن مصرف والی حدیث جو ذکر کی ہے جس میں ہے ک میں نے عبداﷲ بن ابی اوفیٰ سے پوچھا کہ کیا رسول(ص) نے وصیت فرمائی؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں ۔ میں نے کہا: رسول(ص) لوگوں پر تو وصیت کرنا واجب کریں اور خود وصیت نہ کریں ۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ آںحضرت(ص) نے کتابِ خدا کے متعلق وصیت فرمائی۔ یہ حدیث ہمارے لیے حجت نہیں اور نہ ہمارے جواب میں پیش کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ ہم لوگوں کے یہاں یہ ثابت نہیں۔ مزید برآں یہ تو سیاست کی کارسازیاں تھیں۔ حکومت کے جبر و تشدد کا نتیجہ ہے۔ ان سب باتوں سے قطع نظر سچی بات تو یہ ہے کہ امیرالمومنین(ع) کے وصی پیغمبر(ص) ہونے کے متعلق ائمہ طاہرین(ع) سے صحیح و متواتر حدیثیں موجود ہیں لہذا ان حدیثوں کی معارض حدیثیں رد کردی جائینگی ۔
اس کے علاوہ امیرالمومنین(ع) کا وصی پیغمبر(ص) ہونا تو ایسا اظہر من الشمس ہے جس پر دلیل و برہان پیش کرنے کی ضروت ہی نہیں۔ خود عقل(1) بتاتی ہے ۔ وجدان
--------------
1ـ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ رسول(ص) اپنی امت کو تو وصیت کا حکم دیں اتنی سختی فرمائیں اور خود وصیت نہ کریں در آنحالیکہ اوروں کی نسبت پیغمبر(ص) کا وصیت فرمانا زیادہ ضروری تھا کیونکہ کسی اور مرنے والے نے نہ تو ایسا ترکہ چھوڑا جیسا رسول(ص) نے چھوڑا اور نہ ایسے ایتام چھوڑے جیسے رسول(ص) نے چھوڑے نہ کسی اور کے متروکات نہ ورثہ نگران کار و سرپرست کے ایسے محتاج ہوئے جیسا رسول(ص) کی چھوڑی ہوئی چیزیں کسی منتظم و نگران کی محتاج تھیں۔ یا
رسول(ص) کے چھوڑے ہوئے ایتام سرپرست کے ضرورت مند تھے پناہ بخدا رسول(ص) بھلا اپنے قیمتی ترکہ یعنی شریعت الہیہ ، احکام الہی کو یونہی چھوڑ جائیں اور اپنے ایتام یعنی تمام روئے زمین کے باشندوں کو یونہی بے سہارا چھوڑ دیں کہ وہ ٹھوکریں کھاتے پھرین اور اپنی خواہشوں کے مطابق چلتے پھرتے رہیں اور ایسا نگران و منتظم نہ چھوڑیں جس کے ذریعہ بندوں پر خدا کی حجت تمام ہو۔ علاوہ اس کے وجدان بھی یہی کہتا ہے کہ رسول(ص) نے علی(ع) کو اپنا وصی ضرور مقرر کیا کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول(ص) نے علی(ع) کو اپنے غسل و حنوط و کفن و دفن کا حکم دیا ۔ دیون کی ادائگی ذمہ داریوں سے بری الذمہ بنانے اور اختلاف کے وقت حق کی وضاحت کرنے کی تاکید کی ، نیز لوگوں کو بھی با خبر کردیا کہ ہمارے بعد علی(ع) تمھارے ولی ہیں ۔ اس کے علاوہ اور خصوصیات امیرالمومنین(ع) کے بھی ان کے گوش گزار کردیے جنھیں ہم اس کے شروع میں اشارتا ذکر کرچکے ہیں لہذا ہمارا وجدان بتاتا ہے کہ یقینا رسول(ص) نے حضرت علی(ع) کو اپنا وصی فرمایا ہوگا اور بغیر وصی بنائے دنیا سے نہیں اٹھے۔
دلالت کرتا ہے کہ یقینا رسول(ص) نے امیرالمومنین(ع) کو اپنا وصی مقرر فرمایا۔
اور بخاری نے ابن ابی اوفیٰ سے یہ جو روایت کی ہے کہ آںحضرت(ص) نے کتاب خدا کے متعلق وصیت فرمائی تو یہ درست ہے مگر رسول(ص) کا پورا ارشاد نہیں ذکر کیا گیا۔ کیونکہ رسول(ص) نے جہاں کتاب خدا کے متعلق وصیت فرمائی وہاں اہل بیت(ع) سے تمسک کرنے کا بھی حکم دیا۔ ایک ساتھ دونوں سے تمسک کی
تاکید کی اور امت سے فرمایا تھا کہ خداوندعالم کی دونوں رسیوں کو مضبوطی سے تھامے رہنا اور ڈرا دیا تھا کہ اگر دونوں سے تمسک نہ کروگے تو گمراہ ہوجاؤ گے اور یہ بھی امت کے جتادیا تھا کہ قرآن و اہلبیت(ع) کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں۔
اس باب میں بکثرت متواتر حدیثیں ائمہ طاہرین(ع) سے مروی ہیں اہلبیت طاہرین(ع) کے علاوہ اغیار کی روایت ہوئی متعدد حدیثیں ہم گزشتہ اوراق میں ذکر کرچکے ہیں۔ ش
مکتوب نمبر36
افضل ازواج
یہ آخر آپ جناب عائشہ ام المومنین جو افضل ازواج نبی(ص) ہیں ان سے کیوں روگردان ہیں کہ آپ نے ان کی حدیث کو پس پشت ڈال دیا؟ گویا کچھ حقیقت ہی نہیں اس کی ۔ حالانکہ انھیں کا قول فیصلہ کن ہے ۔ جو وہ فیصلہ فرمادیں وہی مبنی بر انصاف ہوگا۔ پھر بھی آپ کی جو رائے ہو اس اعراض کی وجہ بتائیے کہ ہم بھی سوچیں سمجھے۔ س
جوابِ مکتوب
جناب عائشہ افضل ازواج نبی(ص) نہ تھیں
جناب عائشہ کا افضل ازواج نبی(ص) ہوناتسلیم کے قابل نہیں۔ جناب عائشہ افضل ازواج نبی(ص) ہوبھی کیونکر سکتی ہیں، ان کی رد میں خود ان سے صحیح حدیث مروی ہے۔ جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ :
--------------
1ـ یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیث بہت مشہور صحیح احادیث میں سے ہے ملاحظہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جو میں نے ابھی عرض کیے یہ دونوں حدیثیں موجود ہیں قریب قریب انھیں الفاظ کے ساتھ بخاری و مسلم نے بھی اپنی صحیحین میں ان دونوں حدیثوں کو ذکر کیا ہے۔
جناب عائشہ سے یہ حدیث بھی مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ :“ رسول اﷲ(ص) جب تک خدیجہ کا ذکر نہ کر لیتے اور ان کی خوب مدح و ثناء نہ فرما لیتے گھر سے جاتے نہیں ۔ ایک دن آپ نے حسب دستور خدیجہ کا ذکر فرمایا تو مجھے بڑی غیرت معلوم ہوئی میں نے
لہذا ازواج رسول(ص) میں سب سے افضل و اشرف جناب خدیجہ الکبری ہیں جو اس امت کی صدیقہ ہیں جو سب سے پہلے ایمان لائیں جنھوں نے سب سے پہلے کتاب خدا کی تصدیق کی، رسول(ص) سے ہمدردی کی ، رسول(ص) پر وحی
نازل ہوئی تھی کہ جناب خدیجہ کو بشارت(1) دے دیں کہ ان کے لیے جنت میں جواہرات کا گھر ہے۔ رسول(ص) نے صاف لفظوں میں صراحت فرمادی تھی کہ جناب خدیجہ سب سے افضل و اشرف ہیں چنانچہ آپ نے فرمایا:
آںحضرت(ص) نے یہ بھی ارشاد فرمایا :
اسی طرح اور بہت سی صریحی حدیثیں پیغمبر(ص) کی ہیں جو جملہ احادیث نبوی(ص) اور ارشادات پیغمبر(ص) میں صحیح تر اور ثابت تر ہیں۔(2)
اس کے علاوہ ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جناب خدیجہ کے علاوہ دیگر ازواج پیغمبر(ص) سے بھی جناب عائشہ کو افضل کہنا درست نہیں۔ صحیح حدیثیں ، معتبر روایات و اخبار بتاتے ہیں کہ جناب عائشہ کو دیگر ازواج پر کوئی فضیلت نہ تھی جیسا کہ صاحبان نظر و ارباب عقل سے پوشیدہ نہیں۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ جناب عائشہ نے اپنے کو نمقابلہ دیگر ازواج پیغمبر افضل و اشرف خیال کیا مگر رسول(ص) نےے تردید کر دی جیسا کہ جناب صیغہ بنت حی کے واقعہ سے پتہ چلتا ہے۔
--------------
1ـ جیسا کہ امام بخاری نے صحیح بخاری جلد3 صفحہ175 باب غیرة النساء اواخر کتاب النکاح میں روایت کی ہے
2ـ ہم نے اپنی کتاب کلمہ غراء میں اسے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
رہ گیا یہ کہ وصیت پیغمبر(ص) کے متعلق جو حدیث وہ بیان کرتی ہیں اسے ہم کیوں نہیں مانتے تو مختصر یہ سمجھ لیجیے کہ ان کی حدیث حجت نہیں۔ اب کیوں نہیں حجت ہے؟ کن اسباب کے پیش نظر ہم ان کی حدیث کو قابل اعتبا نہیں سمجھتے اسے نہ پوچھیے تو بہتر ہے۔
ش
--------------
1ـ ترمذی نے بطریق کنانہ مولی ام المومنین صفیہ سے روایت کی ہے اس حدیث کی اور ابن عبدالبر نے حالات صفیہ کے ذیل میں استیعاب میں اس حدیث کو بیان کیا ہے۔ اور ابن حجر عسقلانی نے بھی اپنی اصابہ میں ضمن حالات جناب صفیہ اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔ نیز شیخ رشید رضا نے اپنے جریدہ شمارہ نمبر 10 صفحہ 589 پر ذکر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اور بہت سے حضرات نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
مکتوب نمبر 37
آپ ان لوگوں میں ہیں جو نہ کسی کو دھوکا دیتے ہیں نہ مکرو فریب سے کام لیتے ہیں اور نہ ان لوگوں میں سےہیں جو دل میں کچھ اور زبان سے کچھ کہتے ہیں آپ براہ کرم تفصیل فرمائیے ۔ یہ بہت ضروری ہے ، میں حق کا طلبگار ہوں لہذا بجز تشریح و تفصیل آپ کے لیے کوئی چارہ نہیں۔
س
جواب مکتوب
حضرت عائشہ سے اعراض کے وجوہ
آپ تفصیل پر مجھے مجبور کر رہے ہیں حالانکہ تشریح و تفصیل آپ کے لیے
چندان ضروری نہ تھی کیونکہ آپ بے خبر نہیں کہ سب عائشہ ہی کا کیا دھرا ہے
ع اے باد صبا این ہمہ آوردہ تست۔(1)
انھیں کی وجہ سے ہم لوگوں کو یہ دن دیکھنے میں آئے ۔ انھیں نے امیرالمومنین(ع) کے وصی پیغمبر(ص) ہونے کو نسیا منسیا کیا۔ دنیا سے چھپایا کسی کو خبر نہ ہونے دی اور اگر کسی دوسرے ذریعہ سے پتہ چل بھی گیا تو غلط ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ صاف و صریح ارشادات پیغمبر(ص) واضح نصوص کو محو کرنے مٹانے کے لیے اپنی پوری توانائیاں صرف کردیں۔ جتنی آفتیں ٹوٹیں انھیں کی وجہ سے ۔ اہل بیت(ع) پر جتنی مصیبتیں نازل ہوئیں آپ ہی کی بدولت ، سارے فتنہ و فساد ، ہر بلا و مصیبت کی جڑ یہی ہیں جنھوں نے امیرالمومنین(ص) سے جنگ کرنے کے لیے شہر بہ شہر دورہ کیا اور آپ کی خلافت چھیننے اور تخت سلطنت الٹنے کی فکر میں لشکر لے کر حملہ آور ہوئیں۔ جو کچھ ہوا اس کا کیا ذکر کروں آپ اچھے ہی خیالات رکھیے ۔ حقیقت کا سوال نہ کیجیے۔ لہذا امیرالمومنین(ع) کے وصی پیغمبر(ص) نہ ہونے پر جناب عائشہ کے قول سے استدلال کرنا ( وہ عائشہ جوسخت ترین دشمن امیرالمومنین(ع) تھیں) ہٹ دھرمی ہے جس کی کسی منصف مزاج سے توقع نہیں۔علی(ع) پر عائشہ کی طرف سے ایک مصیبت نازل نہیں ہوئی نہ معلوم انھوں نے کتنی آفتیں ڈھائی ہیں۔ امیرالمومنین(ع) کی وصایت سے انکار کہیں کم ہے۔ جنگ جمل اصغر(2) اور جنگ جمل اکبر سے جس میں دل کی حالت آئینہ ہوگئی
--------------
1ـ جیساکہ صحیح حدیثوں کافیصلہ ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے صحیح بخاری کتاب الجہاد والسیر ص125 جلد2 ب ماجاء فی بیوت ازواج النبی(ص)۔
2ـ جنگ جملِ اصغر کا واقعہ بصرہ میں 25 ربیع الثانی سنہ36ھ کو امیرالمومنین(ع) کے وارد بصرہ ہونے کے قبل پیش آیا تھا۔ امیرالمومنین(ع) ابھی پہنچنے نہ پائے تھے کہ جناب عائشہ بصرہ پر حملہ کر بیٹھیں ۔ ان کے ساتھ طلحہ و زبیر بھی تھے۔ اس وقت بصرہ کے حاکم عثمان بن حنیف اںصاری تھے۔ اس جنگ میں چار شیعیان امیرالمومنین(ع) مسجد کے اندر شہید ہوئے اور ستر طرفداران عائشہ قتل ہوئے عثمان بن حنیف گرفتار کر لیے گئے۔ یہ بڑے جلیل القدر صحابی پیغمبر(ص) تھے لوگوں نے چاہا کہ انھیں بھی قتل کر ڈالیں مگر ڈرے کے کہیں ان کے بھائی اور انصار ان کا انتقام لینے پر نہ تل جائیں۔ اس لیے قتل تو نہ کیا صرف داڑھی مونچھ ، بھنووں اور سر کے بال مونڈ ڈالے، رد و کوب کیا کچھ دن قید میں رکھ کر بصرہ سے نکال دیا۔ حکیم بن جبلہ جوصاحب بصرہ ، زیرک و دانا بزرگ تھے۔ حضرت عائشہ کے مقابلہ کے لیے اپنے قبیلہ بنو عبدالقیس کی معیت میں کمر بستہ ہوئے۔ ان کے ساتھ قبیلہ ربیعہ کی بھی ایک جماعت ہوگئی۔ جنگ ہوئی مگر سب ایک ایک کر کے شہید ہو۔ حکیم کے ساتھ ان کے فرزند اشرف اور ان کے بھائی رعل بھی شہید ہوئے۔ اور بصرہ فتح ہوگیا۔ پھر امیرالمومنین(ع) تشریف لائے تو اپنے لشکر کو لے کر صف آرائیں اور اس مرتبہ جنگ جمل اکبر پیش آئی ۔ ان دونوں جنگوں کی پوری تفصیل تاریخ کامل و طبری اور دیگر کتب سیر و اخبار میں موجود ہے۔
پوشیدہ عداوت آشکار
ہوگئی۔ امیرالمومنین(ع) سے برسرپیکار ہونے سے قبل جو دلی عناد تھا آپ کو یا لڑائیوں کے بعد جو پیچ و تاب غم و غصہ امیرالمومنین(ع) کی طرف مرتے دم تک رہا حتی کہ آپ نے امیرالمومنین(ع) کی خبر انتقال سن کر سجدہ شکر کیا۔(1) اور خوشی کے اشعار پڑھے ان سب باتوں کا نمونہ آپ نے اس جنگ میں پیش کردیا تھا۔ اگر آپ فرمائیں تو میں انھیں کی روایت کردہ حدیثوں سے
--------------
1ـ جیسا کہ ثقہ راویاں حدیث و ارباب تاریخ نے ذکر کیا جیسے علامہ ابو الفرج اصفہانی کہ انھوں نے بھی اپنی کتاب مقاتل الطالبین میں بسلسلہ احوال امیرالمومنین(ع) بیان کیا ہے۔
چند نمونے پیش کروں جن سے آپ کو اندازہ ہو کہ وہ امیرالمومنین(ع) کی عداووت میں کس انتہا کو پہنچی ہوئی تھیں ۔ سنیے : جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ :
جس شخص نے اس حدیث کو جناب عائشہ سے روایت کیا ہے یعنی عبیداﷲ بن عبداﷲ بن عتبہ بن مسعود۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے عبداﷲ بن عباس سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم جانتے ہو وہ دوسرا شخص کون تھا۔ جس کا نام عائشہ نے نہیں لیا۔ کہا : نہیں ۔ کہا : وہ علی(ع) ہیں۔
پھر عبداﷲ بن عباس نے کہا:
---------------
1ـ جیسا کہ اس حدیث میں ہے جو بخاری نے صحیح بخاری جلد2 صفحہ 62 باب مرض النبی و وفات میں روایت کی ہے۔
2ـ یہ کلمہ خاص کر یعنی ابن عباس کا فقرہ عائشة لا تظیب لہ نفس بخیر بخاری نہیں لکھا بلکہ صرف اوپر والی عبارت لکھ کر چھوڑ دیا ہے جیسا کہ الفاظ حدیث میں کتر بیونت کی پرانی عادت ہے لیکن بے شمار اصحاب سنن جہاں اس حدیث کو لکھا ہے وہاں ابن عباس کا یہ فقرہ بھی ضرور لکھا ہے جیسے علامہ ابن سعد کو انھوں نے طبقات ابن سعد جلد2 قسم ثانی ص29 پر اس حدیث کو بسلسلہ اسناد درج کیا ہے اور سلسلہ اسناد کے کل کے کل رجال حجت ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ جب جناب عائشہ کو امیرالمومنین(ع) کی کوئی خوبی گوارا نہ تھی اور وہ ان لوگوں تک کےساتھ علی(ع) کا نام لینا پسند نہ کرتی تھیں جو رسول(ص) کے ساتھ ایک قدم چلے تو وہ علی(ع) کے وصی رسول(ص) ہونے کو بیان کرنا کیسے پسند کرسکتی تھیں جو تمام خوبیوں کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند جلد6 صفحہ113 پر جناب عائشہ کی ایک حدیث عطاء بن یسار سے نقل کی ہے۔ عطا بن یسار کہتے ہیں کہ :
اﷲ اکبر! عمار کو گالیاں دینے سے جناب عائشہ تو منع کریں ۔ رسول(ص) کے صرف اس قول کی بنا پر کہ عمار کو اگر دو چیزوں میں اختیار دیا جائے تو وہ وہی اختیار کریں گے جو بہتر و افضل ہو۔ اور علی(ع) کے متعلق ناسزا کلمات کہنے سے نہیں منع کرتیں ۔ وہ علی(ع) جو رسول(ص) کے بھائی ہیں، رسول(ص) کے ولی ہیں، رسول(ص) کے لیے ایسے ہیں جیسے جناب ہارون (ع) موسی(ع) کے یے تھے۔ رسول(ص) کے ہمدم و ہمراز ہیں۔ امت رسول(ص) میں سب سے جچاتلا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ شہر علم پیغمبر(ص) کے دروازہ ہیں اور وہ ہیں جن کو خدا و رسول(ص) دوست رکھتے ہیں اور وہ بھی خدا و رسول(ص) کو دوست رکھتے ہیں
جو تمام مسلمانوں میں سب سے پہلے اسلام لائے ، جنھوں نے سب سے پہلے ایمان قبول کیا، جو سب سے زیادہ علم کے
مالک تھے ، جن کے فضائل بے حساب ہیں۔ افسوس ، معلوم ہوتا ہے کہ جیسے جناب عائشہ جانتی ہی نہ تھیں کہ علی(ع) کو خدا کے یہاں کیا منزلت حاصل ہے، رسول(ص) کے دل میں علی(ع) کی کیا جگہ ہے؟ اسلام میں کیا درجہ ہے ان کا، اسلام کی راہ میں کتنی سختیاں جھیلی ہیں انھوں نے ، کتنی آزمائشوں میں ثابت قدم رہے اور غالبا جناب عائشہ نے نہ تو امیرالمومنین(ع) کی شان میں نازل و وارد کلام مجید کی آیتیں سنیں نہ احادیث پیغمبر(ص) سے کہ کم سے کم عمار کے برابر تو رکھتیں جس طرح عمار کو گالیاں دینے سے منع کیا علی(ع) کے متعلق بھی منع فرماتیں، جناب عائشہ کے اس جملہ پر کہ
جب غور کرتا ہوں تو میری حیرت کا ٹھکانا نہیں رہتا ، سمجھ میں نہیں آتا کہ میں ان کے اس جملہ کے کس کس گوشے پر تبصرہ کروں، ان کا یہ فقرہ مختلف جہتوں سے قابل بحث ہے۔
خدا کے لیے مجھے کوئی سمجھادے کہ آںحضرت(ص) کا اس طرح انتقال فرمانا جیسا کہ جناب عائشہ بیاں کرتی ہیں یہ کیونکر دلیل ہے کہ آپ نے وصیت نہ فرمائی ، اس طرح انتقال کرنے سے یہ کب لازم آتاہے کہ آپ بے وصیت کیے ہیں انتقال کر گئے۔ کیا جناب عائشہ کی رائے میں وصیت اسی وقت صحیح ہوسکتی ہے جب دم نکل رہا ہو ورنہ نہیں ۔ میرے خیال میں اس کا تو دنیا کے پردے پر کوئی
بھی قائل نظر نہ آئے گا۔ حقیقت کو جھٹلانے والا جو دلیل بھی پیش کرے وہ ٹک نہیں سکتا ۔ خداوند عالم نے اپنی محکم کتاب میں رسول(ص) کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا ہے۔
“ كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْراً الْوَصِيَّةُ ” ( بقرہ، 180)
تو کیا جناب عائشہ کے خیال میں رسول(ص) کتاب خدا کے مخالف عمل کرتے تھے اس کے احکام سے بے رخی برتتے تھے۔ پناہ بخدا جناب عائشہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ رسول(ص) قدم بہ قدم قرآن کی پیروی کرتے ہیں۔ ہر فعل و ہر عمل مطابق کلام الہی ہے ۔ کلام مجید کے اوامر و نواہی کی پابندی میں سب سے پیش پیش رہے۔ کلام مجید کی جملہ باتوں پر عمل کرنے میں درجہ انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔ یقینا جناب عائشہ نے رسول(ص) کو یہ(1) ارشاد فرماتے بھی سنا ہوگا:
اس قسم کے دیگر ارشادات پیغمبر(ص) بھی جناب عائشہ نے ضرور سنے ہوں گے
--------------
1ـ جیسا کہ اس حدیث میں ہے جو بخاری نے صحیح بخاری جلد2 صفحہ 83 کتاب الوصایا کے شروع میں اور مسلم نے صحیح مسلم جلد1 ص10 کتاب الوصیہ میں روایت کی ہے۔
کیونکہ دینا جانتی ہے کہ وصیت کے متعلق آںحضرت(ص) نے بڑے سخت احکام دیے ہیں اور یہ نہ تو آںحضرت(ص) کےلیے جائز ہے اور نہ جملہ انبیاء میں سے کسی نبی کے لیے جائز رہا ہے کہ لوگوں کو تو کسی چیز کا حکم دیں اور خود اس حکم کی پابندی نہ کریں یا دوسروں کو تو کسی بات سے منع کریں مگر خود انھیں اس سے پرہیز نہ رہے۔ غیر ممکن ہے محال ہے کہ کسی نبی کسی رسول(ص) سے ایسے بات کبھی بھی سرزد ہوئی ہو اور امام مسلم وغیرہ نے جناب عائشہ سے یہ حدیث جو روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے نہ کوئی دینار چھوڑا ،نہ درہم ، نہ بکری نہ اونٹ نہ کسی چیز کے متعلق وصیت فرمائی ۔ یہ بھی پہلی ہی حدیث کی طرح قابل قبول نہیں علاوہ اس کے اگر جناب عائشہ کا یہ مقصد ہے کہ آپ نے قطعی طور پر ایک چیز بھی نہ چھوڑی اور آپ ہر وصیت کیے جانے کے لائق چیز سے بالکل خالی ہاتھ تھے تو بھی صحیح نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ دنیا کی فضولیات چھوڑ کر نہیں مرے جیسا کہ دنیا والے چھوڑ کر مرتے ہیں۔
اس لیے کہ آںحضرت(ص) تو دنیا بھر کے لوگوں سے زیادہ زاہد و پرہیزگار تھے آںحضرت(ص) نے جس وقت دنیا سے انتقال کیا
اس(1) وقت آپ کے ذمہ کچھ قرضے
-------------
1ـ معمر قتادہ سے روایت کر کے بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی(ع) نے بعد وفات رسول(ص) چند باتیں انجام دیں جن میں زیادہ تر وعدے تھے جسے امیرالمومنین(ع) نے بعد پیغمبر(ص) پورا کیا۔ میرا خیال ہے کہ قتادہ نے پانچ لاکھ درہم کہے تھے جو علی(ع) نے رسول(ص) کی جانب سے ادا کیے ملاحظہ فرمائیے ۔ کنزالعمال ج4 ص6۔
تھے، کچھ کیے ہوئے وعدے تھے، کچھ لوگوں کی امانتیں تھیں۔ جن کے متعلق آپ کا وصیت کر جانا ضروری تھا۔ آپ نے اپنے بعد بس اتنا مال چھوڑا جس سے آپ کے دیون ادا ہو جائیں۔ آپ نے جن لوگوں سے وعدے کر رکھا تھا ۔ وہ وعدے پورے ہوجائیں اور ان دونوں باتوں سے جو کچھ فاضل بچ رہے وہ آپ کی وارث جناب سیدہ(س) کے ملے جیسا کہ جناب سیدہ(س) کے مطالبہ میراث پیغمبر(ص) سے ثابت ہوتا ہے۔(1)
علاوہ اس کے رسول اﷲ(ص) نے ایسی قابلِ وصیت چیزیں اپنے بعد چھوڑیں جیسی دنیا سے کسی اٹھنے والے نہیں چھوڑیں۔ آپ اسی کو لے لیجیے کہ آپ نے دین خدا کو چھوڑا جس کی ابھی ابتدا ابتدا تھی۔ بالکل تازہ تازہ تھا۔ اور یہ بہ نسبت طلا، نقرہ، مکان و جائداد ، کھیتی و مویشی کے زیادہ وصی کا محتاج و ضرورتمند تھا اور آپ کی پوری امت، امت کے ایتام بھی، بیوائیں بھی بہت زیادہ جبور و مضطر تھے۔ بے حد ضرورت مند و محتاج تھے کہ رسول(ص) کا کوئی نہ کوئی وصی ضرور ہو جو آپ کی جگہ پر ان کے امورع کا نگران ہو، ان کے دینی و دنیوی حالات کا مدبر و منتطم ہو۔ خدا کے رسول(ص) کے لیے یہ بات ناممکن تھی، محال تھی کہ وہ دینِ خدا کو ( جو ابھی گہوارہ میں تھا) خواہشوں کے حوالے کرجاتے یا اپنی شریعت کی حفاظت کے لیے خیالات و آراء پر بھروسہ کر لیتے اور اپنا وصی مقرر نہ کر جاتے جسے آپ دین و دنیا کے امور کی نگرانی کے لیے وصیت کرجاتے اور جو آپ کا ایسا
--------------
1ـ جیسا کہ بخاری نے صحیح بخاری جلد3 ص30 پر باب غزوہ خیبر کے آخر میں بیان کیا اور امام مسلم نے قول پیغمبر(ص) لا نورث ما ترکناہ صدقہ کے ضمن میں لکھا ہے ملاحظہ ہو صحیح مسلم جلد2 ص72 کتاب الجہاد۔
قائم مقام ہوتا جس پر پورا پورا بھروسہ کیا جاسکتا۔ رسول(ص) سے بعید ہے آپ اپنے ایتام ( یعنی تمام روئے زمین کے باشندوں کو) مثل اس بکری کے چھوڑ جائیں جو جاڑے کی رات میں ادھر ادھر ماری ماری پھرے اور اس کا کوئی حفاظت کرنے والا چرواہا نہ ہو اور پناہ بخدا کہ رسول(ص) وصیت نہ کرجائیں حالانکہ اس وصیت کے متعلق ان پر وحی نازل ہوچکی تھی اورع آپ اپنی امت کو وصیت کرنے کا حکم دے چکے تھے۔ سختی سے تاکید کر چکے تھے۔ لہذا وصیت سے انکار کرنے والوں پر عقل کان ہی نہیں دھرتی۔ چاہیے انکار کرنے والے بڑی شخصیت کے مالک ہی کیوں نہ ہوں۔ یقینا رسول اﷲ(ص) نے ابتدائے دعوت اسلام میں جب مکہ میں ابھی اسلام چھی طرح ظاہر بھی نہیں ہوا تھا یعنی دعوت عشیرہ کے موقع پر امیرالمومنین (ع) کو اپنا وصی مقرر فرمایا۔ جیسا کہ ہم مکتوب نمبر10 پر مفصلا بیان کرچکے ہیں۔
اس کے بعد بھی تکرار آپ کو وصی فرماتے رہے اور جب موقع ملا یکے بعد دیگرے اپنے ان ارشادات کے ذریعے جس کا ذکر ہم سابق میں کر چکے ہیں وصیت پر تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ جب رسول(ص) کے انتقال کا وقت آیا تو آپ نے ارادہ کیا کہ ہم اب تک علی(ع) کے متعلق لفظی طور پر جن باتوں کی تاکید کرتے رہے ہیں قولا جو کچھ ان کے متعلق کہا کیے اب بصورت تحریر وصیت نامہ بھی علی(ع) کو لکھ دیں تاکہ اب تک جو کچھ کہا یا بیان کیا اس کی تاکید و توثیق ہوجائے۔ قلم سے لکھ کر قطعی طور پر طے کروں اس مرحلہ کو۔ اسی وجہ سے ، آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ:
رسول(ص) کا یہ جملہ سن کر لوگ آپس میں جھگڑنے لگے ۔ حالانکہ رسول(ص) کی خدمت
میں جھگڑنا کہاں تک مناسب ہے۔ بعض کہنے لگے کہ رسول اﷲ(ص) معاذ اﷲ ہذیان بک رہے ہیں۔ جب رسول(ص) نے یہ سنا تو آپ نےیقین کر لیا کہ ان کے اس فقرے کے بعد وصیت نامہ لکھنا بیکار ہے۔ تحریر کا کوئی اثر نہ ہوگا ، سوائے اس کے کہ اور فتنہ بڑھ جائے آپ نے ان سے فرمایا کہ :
اور آپ زبانی طور پر اب تک جو کچھ کہہ سکتے تھے اسی پر اکتفا کیا پھر بھی آپ نے چلتے چلاتے لوگوں کو تین باتوں کی وصیت فرمائی۔
ایک تویہ کہ علی (ع) کو اپنا ولی مقرر کردیں، دوسرے یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال باہر کریں اور جس طرح آپ وفد بھیجا کیے وہ بھی وفد بھیجتے رہیں۔
لیکن اس زمانے کی سیاست اور حکومت محدثین کو کب اجازت دے سکتی تھی کہ وہ وصیت کے پہلے جز کو بیان کرتے۔ لہذا محدثین نے بات نہ بنائی کہ پہلی بات ہم بھول گئے۔
امام بخاری نے اس حدیث کے آخر میں جس میں رسول(ص) کا قلم دوات مانگنا اور لوگوں کا کہنا کہ رسول(ص) ہذیان بک رہے ہیں مذکور ہے۔ لکھتے ہیں۔
یہ لکھ کر کہتے ہیں :“ اور تیسری بات میں بھول گیا۔”
اسی طرح امام مسلم نے بھی اپنے صحیح میں اور جملہ ارباب سنن و مسانید
نے ایسا ہی لکھا ہے۔ ہر ایک تیسری بات کو بھول گیا۔ کسی کو بھی یاد نہ رہا۔
رہ گیا ام المومنین کا یہ دعوی کرنا کہ رسول(ص) کا جب وصال ہوا تو آپ ان کے سینہ پر تھے۔ یہ معارض ہے ان احادیث کے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے ایسی حالت میں انتقال فرمایا جب آپ اپنے بھائی ، اپنے وصی علی ابن ابی طالب(ع) کے آغوش میں تھے جیسا کہ ائمہ طاہرین(ع) سے مروی متواتر احادیث کا فیصلہ ہے۔ نیز حضرات اہل سنت کی کتب احادیث میں بھی صحیح حدیثیں موجود ہیں جو یہی بتلاتی ہیں۔ اگر آپ تلاش و جستجو کی زحمت گوارا فرمائٰیے تو آپ کو پتہ چلے۔
ش
مکتوب نمبر38
حضرت عائشہ اپنی حدیثوں میں جذبات سے کام نہ لیتی تھیں
جناب عائشہ اور ان کی صریحی حدیث ( کہ رسول(ص) بغیر وصیت کیے دنیا سے اٹھ گئے) کے متعلق آپ نے جو کچھ فرمایا اس کا محور دو باتیں ہیں اور انھیں دوباتوں کے گرد آپ کا کلام دائر ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ جناب عائشہ چونکہ امیرالمومنین(ع) سے برگشتہ تھیں اس لیے وہ امیرالمومنین(ع) کےوصی پیغمبر(ص) ہونے سے سوائے انکار کے کر بھی کیا سکتی تھی ۔ اس کے خلاف کی ان سے توقع ہی نہیں رکھنی چاہیے اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی سیرہ پر نظر کرنے سے یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوتی ہے کہ وہ رسول اﷲ(ص) سے حدیث روایت کرنے میں طبعی میلان کی پرواہ نہیں کرتی تھیں اور نہ اپنی خواہش اور ذاتی غرض ملحوظ رکھتیں لہذا انھوں نے رسول(ص)
سے جتنی باتیں نقل کیں ان میں ان پر اتہام نہیں لگایا جاسکتا۔ ہو حدیثیں خواہ ان اشخاص سے متعلق ہوں جنھیں آپ محبوب رکھتی ہیں یا ان افراد سے متعلق ہوں جن سے آپ کو عداوت تھی دونوں آپ کے نزدیک یکساں تھے۔ پناہ بخدا کہ جناب عائشہ ایسی ہی ہستی پر غرض غالب ہو اور وہ حق کے مقابلہ میں اپنی غرض کو ترجیح دینے کے لیے رسول(ص) کی طرف نسبت دے کر خلاف واقع باتیں کرنے لگیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ عقل جناب عائشہ کی روایت کردہ حدیث کی سچائی نا ممکن سمجھتی ہے کیونکہ اس حدیث کا مفہوم ناممکن و محال ہے۔ حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول(ص) بغیر وصیت کیے انتقال فرماگئے اور رسول(ص) کا بغیر وصیت کیے انتقال فرمانا محال ہے کیونکہ رسول(ص) کے لیے کسی طرح جائز نہیں ہوسکتا کہ وہ دین خدا کو جو ابھی ابتدائی منزل میں تھا اور بندگانِ خڈا جو پرانی فطرت ( یعنی کفر و شرک) سے نکل کر نئی فطرت اسلام میں تازہ تازہ آئے تھے کہ یونہی چھوڑ دیں اور بغیر اپنا وصی مقرر کیے اور ان کے امور کے متعلق تاکیدی طور پر وصیت کیے دینا سے رخصت ہوجائیں۔
اس بات کا جواب یہ ہے کہ رسول(ص) کے لیے ایسی بات کا جائز نا جائز ہونا یہ موقوف ہے حسن و قبح کے عقلی ہونے پر اور اہل سنت اس کے قائل نہیں ۔ کیونکہ حضرات اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ عقل نہ تو کسی چیز کے حسن ہونے کو فیصلہ کرسکتی ہے اور نہ کسی چیز کے قبیح ہونے کا۔ بلکہ تمام
افعال میں حسن و قبح کا فیصلہ کرنے والی فقط شرع ہے۔ شرع جس چیز کو حسن بتائے وہی حسن ہے چاہیے وہ عقل کے نزدیک قبیح ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح شرع جس چیز و قبیح کہے وہ قبیح ہی ہے ، چاہیے عقل کے نزدیک وہ حسن ہی کیون نہ ہو۔ بہر حال عقل کو کسی قسم کا دخل نہیں۔
اور آپ نے اپنے مکتوب کے آخر میں جو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جناب عائشہ کا یہ دعوی کہ رسول(ص) نے میرے سینے پر دم توڑا یہ معارض ہے دوسری ایسی حدیثوں کے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول(ص) نے امیرالمومنین(ع) کی آغوش میں رحلت فرمائی تو اس کے متعلق کہنا یہ ہے کہ ہم ایک حدیث بھی بطریق اہلسنت ایسی نہیں پاتے جو جناب عائشہ کی حدیث سے معارض ہو۔ ہاں اگر آپ کے علم میں کوئی ایسی حدیث ہو جن کے راوی و ناقل حضرات اہلسنت ہوں اور وہ جناب عائشہ کی حدیث کے معارض ہو تو براہ کرم تحریر فرمائیے۔
س
جواب مکتوب
حضرت عائشہ کا روایتِ احادیث میں جذبات سے مجبور ہونا
آپ نے پہلی بات کے جواب میں فرمایا ہے کہ جناب عائشہ کی سیرت سے یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوتی ہے کہ وہ رسول(ص) کی حدیث بیان فرمانے میں اپنے طبعی میلان کی پرواہ نہیں کرتی تھیں اور اپنی ذاتی اغراض کا کوئی
خیال نہیں فرماتی تھیں۔ میری درخواست ہے آپ سے کہ ذرا چند لمحوں کے لیے تقلید اور جنبہ داری سے الگ ہو کر پھر ایک نظر ان کی سیرت پر ڈالیں ، ذرا چھان بین کیجیے کہ وہ جسے محبوب رکھتی تھیں اس کے بارے میں ان کا کیا خیال تھا اور جس سے انھیں عداوت تھی اس کے ساتھ ان کی کیا روش تھی؟ وہاں آپ کو ان کا طبعی میلان بہت واضح اور بہت روشن نظر آئے گا۔
جناب عثمان کے ساتھ قولا اورفعلا ان کا(1) جو طرز رہا اور حضرت علی(ع) جناب سیدہ(س) ، حسنین(ع) کے ساتھ در پردہ اور کھلم کھلا جو ان کا برتاؤ رہا اور دیگر ازواج رسول(ص) ، امہات المومنین کے ساتھ جو سلوک رہا ۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ رسول(ص) کے ساتھ جس طرح سے وہ پیش آیا کیں اسے نہ بھولیے گا۔ وہاں آپ کو ان کی طبعی میلان اور غرض عریاں طور پر نظر آئے گی۔
مثال کے طور پر آپ جناب ماریہ والے واقعہ کو لے لیجیے ۔ جب فریبی چالباز افراد نے جناب ماریہ اور ان کے فرزند جناب ابراہیم ک متعلق تہمت تراشی کی تو انھیں جناب عائشہ نے اپنے میلان طبیعت سے مجبور ہو کر اتہام رکھنے والوں کی تاکید کی۔ وہ تو کہیے کہ خداوندِ عالم جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت میں ڈالتا ہے۔ جناب عائشہ کی کوششیں بار آوردہ نہ
ہوسکیں اور خداوند عالم نے جناب ماریہ اور
--------------
1ـ ملاحظہ فرمائیے شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی جلد3 ص77، 487 اور ص497 آپ کو پتہ چلے گا کہ جناب عائشہ کا کیا سلوک تھا؟ حضرت عثمان اور امیرالمومنین(ع) و جناب سیدہ(ع) کے ساتھ۔
ابراہیم دونوں کو بری قرار دیا اور امیرالمومنین(ع) کے ذریعہ دشمنوں کے مظالم سے محفوظ رکھا اور کلام مجید میں خداوند عالم نے ان کافرون کی تردید کردی۔(1)
اگر آپ مزید سننا چاہتے ہیں تو وہ واقعہ یاد کیجیے جب جناب عائشہ نے رسول اﷲ(ص) سے کہا(2) تھا کہ :
اس میں بھی کا طبعی میلان اور ذاتی جذبہ کار فرماتھا ۔ غرض یہ تھی کہ آںحضرت(ص) جناب زینب کے پاس نہ جائیں، نہ شہد نوش فرمائیں۔ لہذا جب ایسی رکیک غرض جناب عائشہ کے لیے قسم کی باتیں جائز قرار دے سکتی ہے تو امیرالمومنین(ع) کےوصی پیغمبر(ص) ہونے سے ان کا انکار کیونکر بعید ہوگا؟ اور ان کے انکار پر آپ کیونکر کان دھرسکتے ہیں۔
وہ واقعہ یاد کیجیے کہ جب اسماء بنت نعمان دلہن بنا کر رسول(ص) کی خدمت میں پیش کی گئیں تو جناب عائشہ نے انھیں(3) پٹی پڑھائی کہ رسول اﷲ(ص)
--------------
1ـ اس المناک سرگزشت کی تفصیل دیکھنا ہو تو ملاحظہ فرمائیے مستدرک امام حاکم جلد4 ص29 و تلخیص مستدرک علامہ ذہبی
2ـ ملاحظہ فرمائیے صحیح بخاری کی روایت بسلسلہ تفسیر سورہ تحریم جلد3 ص 136 اسی محل پر متعدد حدیثیں عمر سے مروی ہیں جن میں ہے کہ وہ دو عورتیں جنھوں نے پیغمبر(ص) سے سرکشی کی وہ عائشہ اور حفصہ تھیں نیز اسی جگہ ایک طولانی حدیث ہے ان تمام احادیث میں یہی مضمون ہے۔
3ـ جیسا کہ اس حدیث میں ہے جو امام حاکم نےمستدرک ج3 ص27 میں بسلسلہ حالات اسماء لکھے ہیں نیز ابن سعد سے طبقات جلد2 ص104 میں اسماء کے حالات میں درج کیا ہے یہ واقعہ بہت مشہور ہے علامہ ابن عبدالبر نے استیعاب میں ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں نیز انب جریر نے اس کی روایت کی ہے۔
اس عورت سے بہت خوش ہوتے ہیں جو رسول(ص) کے پاس آنے پر اعوذ باﷲ منک ( خدا مجھے آپ سے بچائے) کہے ۔ یہ واقعہ طبعی میلان کا نتیجہ تھا اور اس سے جناب عائشہ کی غرض یہ تھی کہ رسول اﷲ(ص) کو اس تازہ عروس سے متنفر کردیں اور اس غریب کو آپ کی نظروں سے گرادیں۔ جناب عائشہ اپنی غرض کی دھن میں اس قسم کی حدیثیں بخوبی جائز سمجھتی تھیں چاہے وہ غرض ذلیل و رکیک بلکہ حرام ہی کیوں نہ ہو۔
رسول اﷲ(ص) نے ایک مرتبہ جناب عائشہ سے ایک عورت کے متعلق کچھ باتیں دریافت کرنے کا کہا۔ جناب عائشہ نے اپنی غرض کے خیال سے رسول(ص) کو غلط سلط باتیں(1) بتادیں۔ صحیح حالات کا علم ہی نہیں ہونے دیا۔
ایک مرتبہ اپنے باپ کے سامنے رسول(ص) سے جھگڑ پڑیں۔ اس کا سبب بھی وہی میلان طبیعت ، ذاتی جذبات و اغراض تھے اور رسول(ص) سے بولیں کہ اںصاف سے کام لیجیے(2) ۔ جس پر جناب ابوبکر نے ایک طمانچہ ان کے اتنے زور سے مارا کہ ان کے کپڑوں تک خون بہہ کر آیا۔
ایک مرتبہ رسول(ص) سے بگڑ گئیں اور غصہ سے بولیں:
اس جیسی بہت سی مثالیں آپ کو ملیں گی۔ اس مختصر سے مکتوب میں کہاں تک
--------------
1ـ ملاحظہ فرمائیے کنزالعمال جلد6 ص294 طبقات ابن سعد جلد8 ص115۔
2ـ کنزالعمال جلد7 ص116 احیاء العلوم امام غزالی جلد2 ص35 کتاب آداب النکاح نیز امام غزالی کی کتاب کاشفہ القلوب باب 94 ص238۔
3ـ جیسا کہ علامہ غزالی نے مذکورہ بالا باتوں میں ذکر کیا ہے۔
بیان کی جائیں۔ ہم نے جتنا ذکر کردیا یہی ہمارے مطلب کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔
آپ نے دوسری بات کے جواب میں فرمایا ہے کہ اہل سنت حسن و قبح کے عقلی ہونے کے قائل نہیں تو مجھے یقین نہیں آتا کہ آپ بھی ایسا مہمل عقیدہ رکھتے ہوں گے۔ ایسی رکیک بات کے قائل ہوں گے۔ یہ تو بالکل سوفسطائیوں جیسا عقیدہ ہے جو محسوس ہونے واہے حقائق تک کے منکر ہیں۔ دیکھیے بعض افعال تو وہ ہیں جن کی اچھائی اور خوبی کو ہم یقنی طور پر جانتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس کام کےکرنے پر ہمیں اچھی جزا ملے گی، لوگ ہماری تعریف کریں گے جیسے احسان ، عدل ، اںصاف اور
بعض افعال وہ ہیں جن کی برائی کا ہمیں یقین ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس کام کے کرنے پر ہم سزا کے مستحق ہوں گے اور لوگ مذمت کریں گے جیسے بدسلوکی ، ظلم ، حسد وغیرہ ہر با عقل شخص جانتا ہے کہ احسان و عدل کا اچھا ہونا اور ظلم و جور کا برا ہونا خود عقل بتاتی ہے خود عقل فیصلہ کن ہے اور جس طرح صاحبان عقل اس کا یقین رکھتے ہیں کہ ایک نصف ہے دو کا۔ اسی طرح ان کے اس یقین سے حسن و قبح کے عقلی ہونے کا یقین بھی کم نہیں۔
عقل ہمیشہ احسان کرنے والے اور ہمیشہ برائی کرنے والے کے فرق کو محسوس کرتی ہی۔ پہلے کو اچھا کہتی ہے اور دوسرے کو برا۔ محسن کو مستحق مدح و جزا اور بد معاملہ کو مستحق مذمت و قصاص قرار دیتی ہے جو عقل کے اس فیصلہ کو نہ مانے وہ ہٹی ہے۔
اور اگر حسن و قبح عقلی نہ ہوں، شرعی مان لیے جائیں ، شریعت ہی کو معیار قرار دے لیا جائے کہ شریعت جس کو حسن بتائے وہی حسن ہے، اور شریعت جس کو قبیح بتائے وہی قبیح ہے ،عقل کو اس میں کوئی دخل نہیں نہ عقل کا فیصلہ قابل اعتنا ہے تو چاہیے تھا کہ وہ لوگ جو شریعت کے مانتے ہی نہیں شریعت کے قائل ہی نہیں ، وہ نہ کسی چیز کو حسن سمجھیں نہ کسی چیز کو قبیح جیسے لامذہب دہریے حضرات جو مذہب کے دشمن ہیں، شریعت کے منکر ہیں چاہیے تھا کہ ان کے نزدیک نہ کوئی چیز اچھی ہو نہ بری۔ مگر باوجود منکر دین و شریعت ہونے کے وہ بھی احسان و عدل کو اچھا ہی سمجھتے ہیں اور اس کے کرنے والے کو مستحق مدح و ثناء لائق انعام و اکرام جانتے ہیں اور اسی طرح ظلم و سرکشی کے قبیح ہونے میں بھی انھیں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور ظلم وسرکشی کرنے والے کو پاداش میں قصاص کا سزاوار قرار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا یہ فیصلہ حسن کو حسن سمجھنا ، قبیح کو قبیح جاننا ہی کی بنا پر ہے اور کسی چیز کی وجہ سے نہیں۔ لہذا آپ ان لوگوں کی باتوں پر توجہ ہی نہ کیجیے جو عقل کے مقابلہ میں ہٹ دھرمی سے کام لیں وجدان کے جھٹلائیں اور جسے ہر صحیح الدماغ مانتا اور جانتا ہے اس سے انکار کریں اور جس فطرت پر خدا نے انھیں پیدا کیا ہے اس فطرت کے فیصلہ کے خلاف فیصلہ صادر کریں۔
خداوند عالم نے جس طرح حس و شعور کے ذریعہ اشیاء کے ذریعہ اشیاء کا معلوم کرنا بندوں کی فطرت میں داخل کیا ہے اسی طرح اکثر حقائق کو عقل کے ذریعہ جاننا بھی فطری قرار دیا ہے لہذا خود ہماری فطرت مقتضی ہے کہ ہم عدل کی اچھائی کو ظلم وجور کی برائی کو عقل سے جانیں جس طرح ذائقہ سے شہد کی مٹھاس اور ایلوے کا کڑواپن جانتے ہیں۔ جیسے قوتِ شامہ
کے ذریعہ مشک کی خوشبو اور مردار کی بدبو سنونگھتے ہیں۔ ہاتھ سے چھو کر چکناپن اور کھردارپن معلوم کرتے ہیں۔ آنکھ سے دیکھ کرخوبصورت و بدصورت میں فرق کرتے ہیں۔ کانوں سے سن کر گدھوں کی آواز اور بانسری کی آواز میں تمیز کرتے ہیں۔ اسی طرح عقل کے ذریعہ نیکی ، انصاف کی اچھائی ، ظلم و ایذا رسانی کی برائی معلوم کرتے ہیں۔ یہ ہماری وہ فطرت و خلقت ہے جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے خدا کی خلق میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں۔
اشاعرہ چاہتے تھے کہ شرع پر ایمان رکھنے اور اس کے حکم کو تسلیم کرنے میں ہم انتہا کو پہنچ جائیں لہذا انھوں نے عقل کے فیصلہ ہی سے انکار کر دیا : اور کہنے لگے کہ بس جس بات کو شریعت کہے وہی قابل تسلیم اور اگر شریعت نہ کہے تو نا قابل تسلیم اور دنیا بھر میں جو عقلی قاعدہ جاری و ساری ہے بلکہ جس بات کو عقل کہے گی اس بات کو شرع بھی کہے گی اسے فراموش کر بیٹھے اور اس کا خیال ہی نہ رہا کہ اس رائے کو اختیار کر کے خود اپنے کو الجھن میں مبتلا کر لیا۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ بس جس چیز کو مذہب اچھا کہے وہی اچھا ہے اور جسے مذہب برا کہے وہی برا ہے تو پھر مذہب کی پابندی اور شریعت کے احکام پر عمل کرنے کا وجوب کیونکر ثابت ہوگا۔ کوئی پوچھے کہ مذہب کو ماننا اور مذہب کےاحکام پر عمل کرنا کیوں اچھا ہے؟ اور نہ ماننا اور نہ عمل کرنا کیوں برا ہے؟ اس کے جواب میں اگر آپ کہیں کہ مذہب اچھا کہتا ہے اور مذہب برا بتاتا ہے تو یہ کھلا ہوا دور و تسلسل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر عقل مجبور بنانے والی اور سرتسلیم خم کرا دینے والی نہ ہوتی تو منقولات کے ذریعہ استدلال دعوی بلا دلیل ہی ہوتا بلکہ اگر عقل نہ ہوتی تو نہ کوئی خدا کی عبادت کرنے والا ہوتا نہ اس کی تمام مخلوقات میں کوئی اس کی معرفت حاصل کرپاتا۔ تفصیلی بحث ہمارے علماء کی تصنیفات
میں آپ کو نظر آئے گی جو انھوں نے اس موضوع پر تحریر فرمائے ہیں۔
اور جناب عائشہ کا یہ دعوی کہ رسول(ص) نے اس حالت میں انتقال کیا جب وہ میرے سینے پر تھے ۔ یہ معارض ہے ان صحیح و متواتر احادیث کے جو ائمہ طاہرین(ع) سے مروی ہیں۔
ائمہ طاہرین(ع) کے علاوہ غیروں کی حدیث اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو ملاحظہ فرمائیے طبقات ابن سعد(1) جلد2 قسم ثانی صفحہ51 اور کنزالعمال جلد4 صفحہ55 جن میں بسلسلہ اسناد امیرالمومنین (ع) سے روایت کی گئی ہے:
ابو نعیم نے اپنےحلیہ میں ، احمد فرضی نے اپنے نسخہ میں نیز بہت سے صاحبان سنن نے امیرالمومنین(ع) سے روایت کی ہے، آپ فرماتے ہیں:
--------------
1ـ طبقات ابن سعد جلد2 قسم ثانی ص51 اور کنزالعمال جلد4 ص55 حدیث 1107
حضرت عمر کی یہ حالت تھی کہ جب آپ سے رسول(ص) کے آخری حالاتِ زندگی وغیرہ کے متعلق پوچھا جاتا تو بس یہی کہتے کہ علی(ع) سے جا کر پوچھ کیونکہ انھیں کے ہاتھوں تمام امور انجام پائے چنانچہ جناب جابر بن عبداﷲ انصاری سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے حضرت عمر سے پوچھا کہ رسول(ص) کا آخری کلام کیا تھا؟ حضرت عمر نے ( حسب دستور) جواب دیا:
کعب نے علی (ع) سے آکر پوچھا، حضرت علی(ع) نے فرمایا کہ :
کعب نے یہ سن کر کہا کہ تمام انبیاء کی آخری وصیت یہی ہوا کی۔ اسی کی تاکید پر وہ مامور ہوئے اور اسی پر وہ رسول بنا کر بھیجے گئے۔
کعب نے پھر حضرت عمر سے پوچھا کہ غسل کس نے دیا؟ آپ نے جواب دیا کہ:
کعب نے پھر آکر امیرالمومنین(ع) سے دریافت کیا۔ تو آپ نے جواب دیا کہ :
جناب عبداﷲ ابن عباس سے پوچھا گیا کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ کیا
--------------
1ـ کنزالعمال جلد6 ص392حدیث 6009
2ـطبقات ابن سعد جلد2 قسم ثانی ص50 اور کنزالعمال جلد4 ص55
رسول اﷲ(ص) نے اس طرح انتقال فرمایا کہ آپ کا سر کسی کی آغوش میں تھا؟
جناب عبداﷲ بن عباس نے کہا: ہاں! رسول(ص) نے جب انتقال کیا تو آپ حضرت علی(ع) کے سینے پر تکیہ کیے ہوئے تھے۔
اس پر ان سے کہا گیا کہ :
جناب عباس نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ :
اور ابن سعد نے بسلسلہ اسناد امام زین العابدین(ع)(2) سے روایت کی ہے :
--------------
1ـ طبقات ابن سعد جلد2 قسم ثانی ص55
2ـ طبقات ابن سعد جلد2 قسم ثانی ص55
3ـ طبقات ابن سعد جلد2 قسم ثانی ص55
امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں :
اسی جیسے آپ کے وہ فقرات ہیں جو آپ نے جناب سیدہ(س) کو دفن کر کے کہے(2) :
--------------
1ـ نہج البلاغہ جلد2 ص196 و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد2 ص561
2ـ نہج البلاغہ جلد2 ص207 و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد2 ص590
اور جناب ام سلمہ سے یہ حدیث مروی ہے ۔ آپ فرماتی ہیں :
اور جناب عبداﷲ بن عمر(2) سے مروی ہے کہ رسالت ماب(ص) نے جب آپ
--------------
1ـ اس حدیث کا امام حاکم مستدرک جلد3 ص139 پر روایت کر کے لکھے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر بخاری و مسلم نے درج نہیں کیا۔ میں کہتا ہوں اس حدیث کی صحت کا علامہ ذہبی نے بھی اعتراف کیا ہے چنانچہ انھوں نے تلخیص مستدرک میں بھی اس حدیث کو لکھا ہے ۔ ابن ابی شیبہ نے بھی سنن میں اس کی روایت کی ہے۔ کنزالعمال جلد6 ص46 پر بھی موجود ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث 6096۔
2ـ جیسا کہ اس حدیث میں ہے جو ابو یعلیٰ نے کامل بن طلحہ سے انھوں نے حی بن عبدمغافری سے انھوں نے عبدالرحمن حبلی سے انھوں نے عبداﷲ بن عمرو سے مرفوعا روایت کی ہے نیز ابو نعیم نے اپنے حلیہ میں اور ابو احمد فرضی نے اپنے نسخہ میں روایت کی ہے جیسا کہ کنزالعمال جلد2 ص392 پر مذکور ہے اور طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کی ہے کہ غزوہ طائف میں رسول(ص) کھڑے ہوئے اور کچھ دیر تک حضرت علی(ع) سے چپکے چپکے باتیں کرتے رہے، اس کے بعد تشریف لے گئے۔ اس پر حضرت ابوبکر نے رسول(ص) سے کہا کہ آج تو آپ علی(ع) سے بہت طولانی سرگوشی کرتے رہے ۔ پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ میں نے سرگوشی نہیں کی بلکہ خداوند عالم نے کی ہے کنزالعمال میں بھی یہ حدیث موجود ہے ملاحظہ ہو جلد6 صفحہ 399 حدیث نمبر75، 60 ۔ حضرت سرورکائنات(ص) عموما تنہائی میں حضرت علی(ع) سے باتیں کیا کرتے ۔ ایک دن پیغمبر(ص) اور امیرالمومنین(ع) تنہا بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ عائشہ آپہنچیں اور حضرت علی(ع) سے کہنے لگیں کہ اے علی(ع) تو دنوں میں مجھے ایک دن ملتا ہے ( پیغمبر(ص) کی نوبیویاں تھیں اس لحاظ سے نو دن میں ایک دن پیغمبر(ص) جناب عائشہ کے یہاں آرام فرماتے) کیا تم مجھے میرے دن میں بھی چین سے نہ رہنے دوگے۔ یہ سن کر سرورکائنات(ص) کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا ملاحظہ ہو شرح نہج البلاغہ حمیدی جلد2 ص78
بستر مرگ پر تھے فرمایا کہ میرے بھائی کو بلااؤ۔ ابو بکر سامنے آئے۔تو آپ نے منہ پھیر لیا ۔ پھر آپ نے کہا کہ میرے بھائی کو بلاؤ۔ حضرت عمر سامنے آئے تو آںحضرت(ص) نے منہ پھیرلیا ۔ کوئی بڑھ کر حضرت علی(ع) کو بلایا ۔ جب علی(ع) آئے تو آپ انھیں اپنی چادر میں لے لیا اور آپ پر جھک کر باتیں کرنے لگے۔ حضرت علی(ع) باہر آئے تو ان سے پوچھا گیا کہ رسول(ص) کیا کہہ رہے تھے آپ سے ؟
آپ نے کہا : رسول(ص) نے مجھے ہزار باب علم کے تعلیم کیے اور ہر باب سے ہزار باب مجھ پر کھل گئے۔
آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہی باتیں مناسب حال انبیاء ہیں اور جناب عائشہ جو کچھ فرماتی ہیں وہ تو ہوس پرستوں کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔
اگر کوئی چرواہا اس طرح مرے کہ اس کا سر اس کی بیوی کے سینہ پر ہو یا ٹھڈی اور ناف کے درمیان یا بیوی کی ران پر ہو اور وہ اپنے مویشی کی حفاظت و نگہداشت کی وصیت بیوی کو نہ کرے تو یقینا وہ زیاں کار اور تباہ و برباد کرنے والا ہوگا۔
خدا معاف کرے جناب عائشہ کو کاش ( جب انھوں نے یہی تہیہ کر لیا
تھا کہ یہ فضیلت علی(ع) کے لیے نہ ہونے پائے تو ) اپنے باپ کی طرف اس کو منسوب کرتے ہوئے یہ بیان کرتیں کہ میرے باپ کے سینے پر رسول(ص) کا دم نکلا لیکن اپنے باپ کی طرف وہ اس کی نسبت دے بھی کیسے سکتی تھیں کیونکہ انھیں تو رسول(ص) نے خود اسامہ کا ماتحت بنا کر لشکر کے ساتھ روانہ کیا تھا جو مدینہ کے باہر جا کر پڑاؤ کیے ہوئے تھا۔
بہر حال جناب عائشہ کا یہ کہنا کہ رسول(ص) نے ان کی گود میں دم توڑا صرف جناب عائشہ ہی کی طرف منسوب ہے فقط وہی اس کی بیان کرنے والی ہیں اور یہ قول کہ رسول(ص) نے علی(ع) کی گود میں دم توڑا بکثرت لوگوں کی طرف منسوب ہے۔ بہت سے بیان کرنے والے ہیں۔ جیسے حضرت علی(ع)، عبداﷲ بن عباس، عبداﷲ بن عمر، شبی ، امام زین العابدین(ع)، اور جملہ ائمہ طاہرین(ع) لہذا یہ قول اپنی سند کے لحاظ سے بھی قابل ترجیح ہے اور رسول اﷲ(ص) کی شان کے بھی زیادہ مناسب ہے۔
جناب عائشہ کی حدیث اتنے حضرات کی احادیث سے معارض ہے اگر ان حضرات سے قطع نظر صرف جناب ام سلمہ ہی کی حدیث سے معارض ہوتی تو اس صورت میں بھی متعدد وجوہ سے جناب ام سلمہ ہی کا قول قابل قبول ہوتا انھیں کی حدیث کو ترجیح دی جاتی۔
ش
مکتوب نمبر 39
جناب ام سلمہ کی حدیث کو ترجیح کیوں کر۔۔۔۔۔؟
آپ نے جناب ام سلمہ کی حدیث کو ترجیح دینے میں جو کچھ کہا اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ اس کے دعویدار ہیں کہ بہت سی وجہوں سے جناب ام سلمہ کی حدیث قابل ترجیح ہے۔ تو براہ کرم وہ بہت سی وجہیں بھی ذکر کردیجیے کوئی وجہ چھوڑیے گا نہیں۔ کیونکہ یہ بحث و مباحثہ اور افادہ و استفادہ کا محل ہے۔
س
جواب مکتوب
جناب ام سلمہ کی حدیث کے مقدم و ارجح ہونے کے اسباب
جناب ام سلمہ(1) کے کج ہو جانے پر قرآن نے ںص نہیں کی۔ انھیں کلام مجید میں توبہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ نبی(ص) سے سرکشی کرنے پر کلام مجید میں ان کے متعلق کوئی آیت نہیں اتری نہ انھوں نے بعد رسول(ص) ، رسول(ص) کے وصی(2) سے سرکشی کی، نہ ان کے مقابلہ میں رسول(ص) کی مدد کرنے کے لیے خدا کو جبرئیل(ع)
--------------
1ـ اشادہ ہے خداوند عالم کے قول “إِنْ تَتُوبا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُما” کی طرف
2ـ وصی رسول(ص) سے سرکشی یوں کہ ان کے وصی رسول(ص) ہونے سے انکار کیا اور حضرت سرورکائنات(ص) کے بعد جتنے دن جیتی رہیں حضرت علی(ع) کی طرف سے انتہائی عداوت دل میں لیے رہیں۔ رسول(ص) کے ساتھ ان کی سرکشی اور خداوند عالم کا اپنے رسول(ص) کی مدد کے لیے آمادہ ہونا تو اس پر خود یہ آیت دلالت کرتی ہے “وَ إِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ وَ جِبْريلُ وَ صالِحُ الْمُؤْمِنينَ وَ الْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذلِكَ ظَهيرٌ ” اگر تم دونوں یعنی عائشہ و حفصہ رسول(ص) سے سرکشی کرو گی تو سمجھ لو رسول(ص) کا خدا مددگار ہے اور جبریل اور صالح المومنین اور اس کے بعد ملائکہ بھی پشت پناہ ہیں۔
امین کو اور صالح المومنین کو اور ملائکہ کو آمادہ ہونا پڑا۔ نہ انھیں خدا نے طلاق کی دھمکی دی نہ ان کو اس سے ڈرایا گیا کہ تمھارے بدلہ میں تم سے بہتر زوجہ(1) کو
ملے گی نہ انھیں زوجہ نوح(ع) و زنِ لوط(ع)(2) سے مثال دی گئی انھوں نے کبھی ایسا نہ کیا کہ رسول(ص) پر ایسی چیز حرام کر دی ہو جو خدا نے رسول(ص) کے لیے جائز کی تھی(3) ۔ رسول اﷲ(ص) نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ فرماتے ہوئے ان کے گھر کی طرف اشارہ نہیں کیا کہ ھا ھنا الفتنہ ” یہیں فتنہ ہے جہاں شیطان کا سینگ ابھرتا نظر آرہا ہے۔(4)
جناب ام سلمہ کے آداب ایسے نہیں تھے کہ رسول(ص) نماز پڑھ رہے ہوں
--------------
1ـ یہ فقرہ اور اس کے قبل کا جملہ اشارہ ہے قول خداوند عالم کی طرف “عَسى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْواجاً خَيْراً مِنْكُنَّ مُسْلِماتٍ مُؤْمِناتٍ ”
2ـ اشارہ ہے طرف آیہ “ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِلَّذينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَ امْرَأَتَ لُوطٍ ” کے ۔
3ـ اشارہ ہے طرف آیہ “يا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغي مَرْضاتَ أَزْواجِكَ ”
4ـ اس حدیث کو بخاری نے باب ما جاء فی بیوت ازواج النبی کتاب الجہاد والسیر صحیح بخاری جلد2 ص125 پر درج کیا ہے اور صحیح مسلم کی عبارت یہ “خَرَجَ النَّبِيُّ ص مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ رَأْسُ الْكُفْرِ مِنْ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ .” ملاحظہ ہو صحیح مسلم جلد2 صفحہ503۔
اور وہ آپ کی جائے سجدہ پر پیر پھیلائے ہوئے ہوں اور رسول(ص) کے سجدے کرتے وقت بھی پیر نہ سمیٹیں(1) جب رسول(ص) پیر کو دبائیں تو وہ سمیٹ لیں، پھر جب رسول(ص) سجدے کر کے کھڑے ہوجائیں تو دوبارہ پھر اسی طرح پیر پھیلا دیں اور اس طرح پوری نماز میں یہی حرکت کرتی رہیں۔
جناب ام سلمہ جناب عثمان کی دشمن نہیں ہوئیں نہ آپ کی جان لینے پر تلیں نہ نعثل کہہ کر پکارا نہ یہ کہا کہ اس نعثل کو قتل کر ڈالو۔ یہ کافر ہوگیا ہے(2) ۔ جناب ام سلمہ اپنے گھر سے نہیں نکلیں جس میں رہنے کی خدا نے تاکید کی تھی۔(3)
--------------
1ـ صحیح بخاری جلد1 صفحہ 143 باب ما یجوز من العمل فی الصلوة۔
2ـ جناب عائشہ کا قولا و فعلا حضرت عثمان کے خلاف جذبہء تنفر اظہار عداوت و بغض و عناد اور ان کا کہنا کہ اس نعثل کو قتل کر ڈالو یہ کافر ہوگیا ہے۔ ایسی مشہور بات ہے جس کے ذکر سے تاریخ کی کوئی کتاب جس میں عہد حضرت عثمان کے حالات و حوادث کا ذکر ہے خالی نہ ملے گی صرف تاریخ ابن جریر طبری و تاریخ کامل ابن اثیر جزری کو لے لیجیے بے کم و کاست حالات پوری تفصیل سے آپ کو معلوم ہوں گے۔ حضرت عائشہ کے زمانہ کے لوگوں نے حضرت عائشہ کی عثان دشمنی پر انھیں سرزنش بھی کی منہ پر برا بھلا کہا۔ چنانچہ تاریخ کامل ابن اثیر جزری صفحہ 80 جلد3 واقعہ جمل کے حالات میں
(بقیہ صفحہ قبل) یہ اشعار موجود ہیں۔
فمنك البداة و منك الغير |
و منك الرياح و منك المطر |
|
و أنت أمرت بقتل الإمام |
و قلت لنا انّه قد كفر |
آپ ہی سے ان فسادات کی ابتدا ہوئی آپ ہی رنگ بدلتی رہیں آپ ہی سے ہوائیں چلیں آپ ہی سے بارش ہوئی آپ ہی نے خلیفہ کے قتل کا حکم دیا۔ آپ ہی نے ہم سے کہا کہ وہ کافر ہوگئے ہیں۔
3ـ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے “وَ قَرْنَ في بُيُوتِكُنَّ وَ لا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجاهِلِيَّةِ الْأُولى ” اپنے گھروں میں رہو اور اگلی جاہلیت کی طرح بنو ٹھنو نہیں۔ وہ اونٹ جس پر سوار ہو کر جناب عائشہ فوج کی کمان کرنے نکلیں اس کا نام عسکر تھا۔ یعلی ابن فیہہ وہ اونٹ لے کر عائشہ کے پاس پہنچا وہ اونٹ بڑے ڈیل ڈول کا تھا جب جناب نے دیکھا تو بہت خوش ہوئیں جب معلوم ہوا کہ اس اونٹ کا نام عسکر ہے تو پیروں تلے زمین نکل گئی انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا اور کہا اسے واپس لے جاؤ اس اونٹ کی مجھے ضرورت نہیں اور بیان کیا عائشہ نے کہ حضرت سرورکائنات(ص) نے یہ نام ان سے ذکر کیا تھا اور اس پر سوار ہونے سے منع بھی فرمایا تھا۔ لوگوں نے اس اونٹ کے جھول اتار کر دوسرے جھول پہنادیے اور آکر کہا کہ آپ کے لیے اس اونٹ سے بھی بڑا اور طاقت ور اونٹ ہمیں ہاتھ لگ گیا۔ جناب عائشہ اس مرتبہ راضی ہوگئیں۔ اس واقعہ کو اکثر اہل سیر و اخبار نے ذکر کیا تھا۔ ملاحظہ فرمائیے شرح نہج البلاغہ جلد2 صفحہ 80۔
جناب ام سلمہ نے اونٹ پر سوار ہو کر فوج کی کمان کبھی نہیں کی اور وہ جو کبھی وادی میں لے جارہا ہو کبھی پہاڑ پر چڑھ رہا ہو۔ یہاں تک کہ چشمہء حواب کے کتے بھونکنے لگے ہوں جس سے رسول(ص) نے پہلے ہی ڈرا دیا(1) تھا مگر ڈری نہیں اور نہ اس لشکر گراں کی قیادت کرنے سے باز رہیں
--------------
1ـ اس بارے میں بہت مشہور حدیث ہے اور وہ حدیث نبوت کے علامات اور اسلام کی روشن نشانیوں میں سے ہے ۔ اس حدیث کو مختصر کر کے امام احمد نے اپنی مسند ج6 صفحہ52، 97 میں ذکر کیا۔ نیز اسی طرح مختصر کر کے امام حاکم نے مستدرک جلد3 صفحہ 120 پر درج کیا ہے نیز علامہ ذہبی نے بھی اس کی صحت کا اعتراف کیا ہے اور خود تلخیص مستدرک میں نقل کیا ہے۔
جسے امام کے مقابلے میں جمع کیا تھا۔
لہذا جناب عائشہ کا قول کہ رسول اﷲ(ص) نے میرے سینے پر دم توڑا، ان کے اس قول سے مرتبط سمجھیے کہ رسول اﷲ()ص نے حبشیوں کو دیکھا وہ مسجد میں ہتھیاروں سے کھیل رہے ہیں آپ نے عائشہ سے کہا کہ کیا تم ان کا تماشہ دیکھنا چاہتی ہو؟
وہ بولیں : ہاں۔
عائشہ کہتی ہیں کہ اس پر رسول(ص) نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا کہ میرا رخسارہ رسول(ص) کے رخسارہ پر تھا اور رسول(ص) فرماتے تھے ہاں! ہاں! اے بنی ارفدہ۔
مطلب یہ تھا کہ وہ اور سرگرمی سے اپنا کھیل دکھائیں تاکہ عائشہ خوش ہوں۔ جناب عائشہ کہتی ہیں کہ جب میں تھک گئی تو آپ نے پوچھا کہ بس۔؟
میں نے کہا : “ہاں!” تو آپ نے فرمایا : اچھا جاؤ۔(1)
چاہے ان کے اس قول سے مرتبط کیجیے:
جناب عائشہ کہتی ہیں کہ :
--------------
1ـ صحیح بخاری جلد اول صفحہ 116 کتاب العیدین و صحیح مسلم جلد اول صفحہ 327 مسند احمد ج6 صفحہ57۔
اور چاہے تو ان کے اس قول سے مرتبط سمجھیے کہ :
یا ان کے اس قول سے مرتبط سمجھیے کہ :
یا ان کے اس قول سے مرتبط سمجھیے کہ :
--------------
1ـ بخاری و مسلم و امام احمد نے اس حدیث کی انھیں صفحات و ابواب میں روایت کی ہے جو ہم اس کے اوپر کے حاشیے میں بیان کرچکے ۔
2ـ مسند احمد جلد6 صفحہ57۔
3ـ ابن ابی شیبہ نے اس کی روایت کی ہے اور یہ حدیث کنزالعمال میں بھی موجود ہے ملاحظہ ہو حدیث نمبر1017 جلد7۔
اسی طرح اور بہت سی حدیثیں جناب عائشہ نے بیان فرمائی ہیں جن میں اپنی مدح سرائی کی ہے اور اپنے خصوصیات کی لمبی چوڑی فہرست گنائی ہے وہ سب اسی جیسی ہیں لیکن جناب ام سلمہ تو وہ یہی کافی سمجھتی تھیں کہ وہ اپنے ولی اور پیغمبر(ص) کے وصی سے موالات رکھیں، آپ صائب الرائے اور کامل عقل وفہم غیر متزلزل دین رکھنے والی معظمہ تھیں، آپ نے جنگ حدیبیہ کے موقع پر رسول(ص) کو جو مشورہ دیا تھا وہ بین ثبوت ہے کہ آپ کتنی عقلمند ، کتنی صائب نظر و صائب رائے اور بلند مرتبہ خاتوں تھیں۔
--------------
1ـ اس پر اتفاق و اجماع ہے کہ رسول(ص) کے انتقال کے وقت حضرت علی(ع) موجود تھے وہی تیمارداری کرتے تھے لہذا حضرت عائشہ کا یہ کہنا کیونکر صحیح ہے کہ جس وقت رسول(ص) کا انتقال ہوا کوئی رسول(ص) کے پاس موجود نہ تھا سوا جناب عائشہ کے اور ملک کے۔ علی(ع) کہاں تھے، عباس کہاں تھے ، جناب فاطمہ(س) اور صفیہ رسول خدا(ص) کی پھوپھی کہاں تھیں؟ رسول(ص)کی دوسری بیویاں کہاں تھیں ؟ بنی ہاشم سب کے سب کہاں تھے؟ اور کیونکر انھوں نے رسول(ص) کو تن و تنہا عائشہ کے پاس چھوڑ دیا تھا۔ پھر یہ بات مخفی نہ رہی کہ مریم میں ان ساتویں باتوں میں سے ایک بھی نہیں پائی جاتی ہے جو جناب عائشہ نے ذکر کیں لہذا ان کا یہ کہنا کیونکر صحیح ہے کہ صرف جناب مریم میں ان سات باتوں میں سے ایک بات پائی جاتی ہے ان کا جناب مریم کو مستثنیٰ کرنا کیونکر صحیح ہے۔
مکتوب نمبر40
اجماع و خلافت
آپ نے جتنی باتیں کہیں مان بھی لی جائیں کہ امیرالمومنین(ع) وصی پیغمبر(ص) تھے اور آپ کے بارےمیں صریحی نصوص موجود ہیں تو آپ اس کو کیا کریں گے کہ امت نے حضرت ابوبکر کی بیعت پر اتفاق کر لیا۔ انھیں اجماعی طور پر خلیفہ تسلیم کرلیا اور امت کا اجماع قطعی حجت ہے کیونکہ رسول(ص) خود ارشاد فرماچکے ہیں:
“لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى خَطَإٍ.”
نیز یہ بھی فرمایا :“لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ ”
اس کا آپ کے پاس کیا جواب ہے ؟
س
جواب مکتوب
اجماع ہوا ہی نہیں
ہم یہ کہیں گے کہ رسالت ماب(ص) نے یہ جو فرمایا ہے کہ میری امت کبھی خطا پر اجماع نہ کرے گی اور گمراہی پر کبھی اجماع نہ کرے گی اس کا مطلب یہ ہے کہ جس امر کو امت والے باہم رائے مشورہ کر کے اپنی پسند و اختیار سے اتفاق آراء سے طے کر لیں اس میں خطا و گمراہی نہ ہوگی۔ حدیثوں کو دیکھنے سے یہی مطلب سمجھ میں آتا ہے اور کوئی دوسرا مطلب سمجھ میں نہیں آتا لیکن وہ امر جس کوامت کے صرف چند نفر طے کر لیں اور اس پر تل جائیں اور اس پر اہل حل وعقد کووہ مجبور بنالیں تو اس کی صحت پر کوئی دلیل نہیں۔
سقیفہ کی بیعت باہمی مشورہ سے نہیں ہوئی۔ اس کے کرتا دھرتا تو حضرت عم اور ابو عبیدہ اور چند گنتی کے لوگ تھے۔ انھیں دو چار آدمیوں نے یہ طے کیا اور ناگہانی طور پر ارباب حل و عقد پر یہ چیز پیش کی۔ اس وقت کی نزاکت حالات نے مساعدت کی اور جو وہ چاہتے تھے ہوگیا۔ خود حضرت ابوبکر نے صاف صاف لفظوں میں اقرار کیا ہے کہ میری بیعت باہمی مشورہ سے نہیں ہوئی۔ نہ غور و فکر کر کے سوچ سمجھ کے ہوئی۔
چنانچہ اپنی خلافت کے شروع میں بطور معذرت خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو کہا کہ :
حضرت عمر نے بھی بھرے مجمع میں اس کی گواہی دی چنانچہ اپنے آخری زمانہء خلافت میں جمعہ کے دن منبر رسول(ص) پر انھوں نے کہا۔ ان کا یہ خطبہ بہت مشہور ہے امام بخاری نے بھی اپنی صحیح(2) بخاری میں نقل کیا ہے بطور ثبوت میں خود حضرت عمر کے اصل الفاظ پیش کرتا ہوں۔
“ثمّ انه بلغني ان قائلا منكم يقول: و اللّه لو مات عمر بايعت فلانا، فلا يغترن امرؤ أن يقول: انما كانت بيعة أبى بكر فلتة و تمت، ألا و انها قد كانت كذلك و لكن وقى اللّه شرها ( الی ان قال) من بايع رجلا عن غير مشورة من المسلمين فلا يتابع هو و لا الذي بايعه، تغرة ان إِنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَ اجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَ خَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَ الزُّبَيْرُ وَ مَنْ مَعَهُمَا”
--------------
1ـ حضرت ابوبکر کے اس خطبہ کو ابوبکر احمد بن عبدالعزیز جوہری نے اپنی کتاب سقیفہ میں درج کیا ہے ان سے ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص122 پر نقل کیا ہے۔
2ـ ملاحظہ فرمائیے باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت جلد4 صفحہ 119 ۔ اس خطبہ کو دیگر محدثین نے بھی نقل کیا ہے۔ ابن جریر طبری نے تاریخ طبری میں بسلسلہ حوادث سنہ11ھ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول صفحہ 122 پر ذکر کیا ہے۔
اسی سلسلہ تقریر میں کہا :
--------------
1ـ اس کے کہنے والے زبیر تھے انھوں نے یہ کہا تھا کہ اگر عمر مرگئے تو میں علی(ع) کی بیعت کروں گا کیونکہ ابوبکر کی بیعت بھی اس طرح ناگہانی طور پر ہوئی تھی مگر پایہ تکمیل کو پہنچ گئی حضرت عمر نے جو سنا تو بہت برہم ہوئے اور یہ خطبہ انھوں نے فرمایا ۔ بخاری کے اکثر شارحیں نے اس واقعہ کی تصریح کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے شرح قسطلانی صفحہ 252 جلد11 جس میں بلاذری سے انھوں نے اس کی روایت کی ہے اور تصریح کی ہے کہ یہ روایت شیخین کے معیار پر صحیح الاسناد ہے
2ـ میں کہتا ہوں کہ حضرت عمر کے عدل کا بہت ڈھندورا پیٹا جاتا ہے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ جس بات کی تکلیف دوسروں کو دی جائے اپنے لیے بھی گوارا سمجھی جانی چاہیے جس طرح بیعت کے متعلق حضرت عمر نے دوسروں کو یہ حکم دیا ہے کہ جماعت سے الگ ہوکر اگر کوئی شخص کسی کی بیعت کرے تو ان دونوں کو چھانٹ دیا جائے اور ان میں سے کسی کا امام نہ بنایا جائے نہ وہ بیعت کرنے والا اور نہ وہ بیعت کیا جانے والا۔ تو کاش یہی حکم حضرت عمر اپنے لیے اور اپنے ساتھی حضرت ابوبکر کے لیے بھی رکھتے۔
آگے چل کر آپ نے فرمایا :
اس کے بعد آپ نے سقیفہ کے اندر جو اختلافات رونما ہوئے جو آوازیں بلند ہوئیں جس کی وجہ سے اسلام میں تفرقہ پڑ جانے کا خوف تھا ان کی طرف اشارہ کیا اور یہ کہ ہم نے اس موقع پر ابوبکر کی بیعت کر لی۔
روایات کی بنا پر یہ بات بالکل بدیہی طور پر معلوم ہوتی ہے کہ اہلِ بیت رسالت(ع) کا ایک فرد بھی سقیفہ کے اندر موجود نہ تھا بلکہ سب کے سب حضرات علی(ع) کے گھر میں اکٹھا تھے اور ان کے ساتھ ساتھ جناب سلمان، ابوذر، مقداد، عمار، زبیر، خزیمہ بن ثابت، ابی بن کعب، براء بن عاذب، خالد بن سعید بن عاص اموی اور بھی ان کے جیسے بہت سے لوگ تھے۔
تو جب یہ سب کے سب بیعت کے موقع پر موجود ہی نہ تھے جب رسول(ص) کے کل اہل بیت(ع) کنارہ کش رہے جن کی حیثیت امت کے درمیان ایسی
ہے جیسے بدن میں سر اور چہرے پر آنکھیں جو ثقل پیغمبر(ص) تھے۔ خزانہء پیغمبر(ص) تھے، کتاب خدا کے ہم پلہ تھے، امت کی نجات کا سفینہ تھے، امت کے لیے باب حطہ تھے، گمراہی و ضلالت سے جائے امان تھے، علم ہدایت(1) تھے۔ ( جیسا کہ ہم گزشتہ اوراق میں ذکر کرچکے ہیں) تو پھر اجماع کہاں سے ہوگیا؟
بخاری و مسلم نے اپنے اپنے صحیح(2) میں اور بکثرت محققین ، علماء محدثین نے اس کی ثبوت اکٹھا کیے کہ حضرت علی(ع) بیعت سے کنارہ کش ہی رہے آپ نے بیعت ہی نہ کی اور نہ مصالحت ہی فرمائی۔ ہاں جب سیدہ کا انتقال ہوگیا چھ مہینہ بعد وقت کی نزاکت اور ملت اسلامیہ کی خیر خواہی نے آپ کو مجبور کیا تو آپ نے مصالحت کر لی۔ اس کےثبوت میں خود جناب عائشہ سے ایک حدیث مروی ہے جس میں جناب عائشہ نے صاف صاف تصریح کی ہے کہ جناب سیدہ(س) ابوبکر سے ناراض ہوگئیں اور رسول(ص) کے بعد مرتے دم تک ان سے گفتگو نہ کی اور جب حضرت علی(ع) نے ان لوگوں سے مصالحت فرمائی تو یہ بھی کہہ دیا کہ ان لوگوں نے میرے حق خلافت کو غصب کر کے زبردستی کی ہے حدیث میں صرف مصالحت کا ذکر ہے ۔ اس کی کوئی تشریح نہیں کی کہ آپ نے صلح کرتے وقت ان کی بیعت بھی کر لی تھی۔ آپ نے ابوبکر سے خطاب
--------------
1ـ ملاحظہ فرمائیے پھر سے ص49 سے ص115 تک آپ کو اندازہ ہوگا کہ اہل بیت علیہم السلام کی کیا شان تھی؟
2ـ ملاحظہ فرمائیے صحیح بخاری جلد3 صفحہ 39 اواخر باب غزوہ خیبر اور صحیح مسلم جلد2 کتاب الجہاد والسیر صفحہ 72 باب قول النبی : لا نورث ما ترکناہ صدقہ۔
کر کے جو ارشاد فرمایا تھا اس میں کس قدر مکمل اور بے پناہ احتجاج فرمایا تھا آپ نے۔” اگر تم نے رسول(ص) سے رشتہ ظاہر کر کے مخالفین کو قائل کیا تو تمھارا غیر یعنی میں رسول(ص) سے زیادہ قرابت رکھتا ہوں۔ رسول(ص) سے مجھ کو زیادہ حق پہنچتا ہے اور اگر رائے مشورہ کر کے تم امت کے معاملات کے مالک بن بیٹھے تو یہ رائے مشورہ کیسا جبکہ رائے مشورہ دینے والے ہی غائب تھے۔”(1)
--------------
1ـ یہ دونوں اشعار نہج البلاغہ میں موجود ہیں۔ علامہ ابن ابی الحدید ان دونوں شعرون کی تفسیر میں شرح نہج البلاغہ جلد4 صفحہ319 میں لکھتے ہیں کہ ان دونوں شعرون میں امیرالمومنین(ع) کا خطاب اصل میں ابوبکر سے ہے اس لیے کہ ابوبکر نے اںصار کے مقابلہ میں یہ دلیل قائم کی تھی کہ :“نحن عترة رسول الله ص و بيضته التي تفقأت عنه ”ہم آںحضرت کی قوم کے لوگ ہیں اور وہ انڈا ہے جو انھیں میں سے پھوٹا ہے ( یعنی قریشی ہیں) اور جب حضرت ابوبکر کی بیعت سقیفہ میں ہوگئی تو اب لوگوں کے سامنے یہ دلیل پیش کرنے لگے کہ ہماری تو بیعت ہوچکی اور اہ حل و عقد نے ہماری بیعت کی اسی پر امیرالمومنین(ع) نے ابوبکر سے کہا کہ آپ نے اںصار کے مقابلہ میں یہ جو دلیل پیش کی کہ ہم رسول کے قوم و قبیلہ والے ہیں اور وہ انڈا ہے جو انھیں میں سے پھوٹا ہے تو آپ کا غیر یعنی میں بلحاظ رشتہ و قرابت آپ سے کہیں زیادہ قریب تر ہوں رسول(ص) سے ۔ اگر آپ ہیں تو قوم و قبیلہ سے ہیں اور میں تو رسول(ص) کا حقیقی چچا زاد بھائی ہوں اور آپ یہ دلیل جو پیش کرتے ہیں کہ لوگوں نے ہمیں منتخب کیا ہے اور جماعت اسلام ہمیں خلیفہ بنانے پر راضی ہوگئی تو ایک بڑی جماعت سقیفہ سے غائب تھی ۔ بہت سے لوگ شریک ہی نہ ہوئے لہذا کس طرح آپ کی خلافت درست ہے شیخ محمد عبدہ مفتی و یار مصر یہ جنھوں نے اپنے حواشی نہج البلاغہ پر تحریر کیے ہیں انھوں نے بھی امیرالمومنین(ع) کے ان دونوں شعروں پر ابن ابی الحدید کی عبارت سے ملتا جلتا حاشیہ تحریر کیا ہے۔
ایسی ہی دلیل ایک مرتبہ جناب عباس نے بمقابلہ ابوبکر پیش کی تھی۔ جبکہ ایک مرتبہ خلافت کی بات چیت ان دونوں کے درمیان چھڑی تو جناب عباس نے فرمایا:
تو جب پیغمبر(ص) کے چچا پیغمبر(ص) کے باپ کے بھائی یہ حضرات فرمائیں رسول(ص) کے چچا زاد بھائی رسول(ص) کے ولی اور بھائی اورجملہ قرابتدارانِ رسول(ص) اس سے بے تعلقی ظاہر کریں تو اجماع کہاں سے ہوگیا؟
ش
مکتوب نمبر 41
اختلافات ختم ہونے کے بعد اجماع منعقد ہوگیا
اہل سنت اس سے انکار نہیں کرتے کہ بیعت مشورہ سے نہیں ہوئی وہ تسلیم کرتے ہیں کہ بالکل ناگہانی اور دفعتہ ہوئی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس موقع پر اںصار نے مخالفت کی اور سعد کو خلیفہ بنانا چاہا تھا اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ اس بیعت کے بنی ہاشم بھی مخالف تھے اور مہاجرین و اںصار میں بنی ہاشم کے طرفدار تھے انھوں مخالفت کی اور سب حضرت علی(ع) ہی کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ امر خلافت آخر میں حضرت ابوبکر کے لیے پایہء تکمیل کو پہنچ گیا اور آخر کار سب نے انھیں
امام بنانا پسند کر لیا۔ لہذا جب سب نے امام بنانا پسند کر لیا تو وہ نزاع یک قلم برطرف ہوگئی۔ اختلافات ایک ساتھ دور ہوگئے اور سب نے جناب ابوبکر کو بوجھ بٹانے ، خیرخواہی کرنے پر اتفاق کر لیا۔ لہذا جس سے حضرت ابوبکر نے جنگ کی سب نے اس سے جنگ کی اور جس سے ابوبکر نے صلح کی سب نے اس سے صلح کی اور ان کے اوامر و نواہی اور احکامات کو جاری کیا اور کسی نے بھی انکی اطاعت سے گریز نہیں کیا لہذا اس بنا پر اجماع مکمل ہوگیا اور بیعت خلافت صحیح ٹھہری ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے مسلمانوں کو جب کہ ان میں پرا گندگی پھیل چکی تھی ایک نقطہ پراکٹھا کیا اور ان کے دلوں کو جب باہمی نفرت و بیزاری پیدا ہوچکی تھی ملا دیا۔
س
جواب مکتوب
مسلمانوں کو حضرت ابوبکر کا بوجھ بٹانے اور ظاہر و باطن میں ان کی خیر خواہی پر اتفاق کر لینا اور چیز ہے اور اجماع کے ذریعہ عقدِ خلافت کا صحیح ہونا دوسری چیز ہے۔ ان دونوں میں نہ تو عقلی تلازم ہے نہ شرعی ۔ کیونکہ امیرالمومنین(ع) اور آپ کی اولاد میں جو ائمہ طاہرین(ع) ہوئے ان کا جو طرز عمل شاہان اسلام کے ساتھ رہا وہ دنیا کو معلوم ہے انھوں نے ہمیشہ کٹھن وقتوں مٰیں ان کی مدد کی اور یہی ہم لوگوں کا بھی مسلک ہے۔
آپ نے جو کچھ کہا ہے اس کے جواب میں میں اس کی تفصیل عرض کرتا ہوں۔
ائمہ طاہرین علیہم السلام کا نظریہ یہ رہا کہ امتِ اسلام کو سربلندی اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک ایک ایسی سلطنت نہ ہو جو مسلمانوں کی شیرازہ بندی کرے ، ان کے اختلافات و پراگندگی کو دور کرے ، سرحدوں کی حفاظت کرے، مسلمانوں کے حالات پر کڑی نظر رکھے اور یہ سلطنت اسی وقت استوار ہوسکتی ہے جب خود رعایا اپنی جان و مال سے اس کا بوجھ بٹائے حکومت سے تعاون کرے اگر زمامِ سلطنت کا حاکم شرعی ( یعنی رسول اﷲ(ص) کے صحیح جانشین و نائب) کے ہاتھ میں رہنا ممکن ہو تو بس وہی فرمان روا ہوگا کوئی دوسرا نہیں اور یہ متعذر ہو اور مسلمانوں پر حاکم شرعی کے علاوہ کوئی دوسرا مسلط ہوجائے تو اس صورت میں امت اسلام پر واجب ہے کہ ہر ایسے معاملہ میں جس میں اسلام کی عزت و شوکت سرحدوں کی حفاظت ، ملک کا امن و امان منحصر ہو، بادشاہ سے تعاون کرے۔ مسلمانوں میں افتراق نہ پیدا کر ۔ اس سے ٹکرا کر مسلمانوں کے شیرازہ کو منتشر نہ کردے ۔ بلکہ امت پر یہاں تک واجب ہے کہ اس بادشاہ سے اس طرح پیش آئے جس طرح خلفاء برحق سے اسے پیش آنا چاہیے ۔ زمین کا خراج و لگان ادا کرے چوپایوں کی زکوة دے نیز اس قسم کی چیزیں جو بادشاہ نے خراج ولگان کے طور پر لوگوں سے حاصل کی ہوں مسلمانوں کے لیے اس کا لینا بھی جائز ہے ۔خرید و فروخت کے ذریعہ انعام و بخشش کے طور پر یا اور جو صورتیں پانے کی ہوں۔
یہی طرز عمل امیرالمومنین(ع) کا رہا اور آپ کی نسل سے جو ائمہ طاہرین(ع) ہوئے ان کا مسلک بھی یہی رہا۔ حضرت سرورکائنات(ص) نے فرمایا کہ :
لوگوں نے پوچھا یا رسول اﷲ(ص) اگر ہم میں سے کوئی شخص اس زمانے میں رہے تو کیا حکم ہے آپ کا ؟ آںحضرت (ص) نے فرمایا کہ :
جناب ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ :
سلمہ جعفی نے رسول اﷲ(ص) کی خدمت میں سوال کیا کہ یا حضرت کیا حکم ہے آپ کا اگر ہم پر ایسا شخص حاکم بن بیٹھے جو اپنے حقوق تو ہم سے وصول کرے لیکن ہمارے حقوق ہمیں نہ دے ۔ سرورکائنات(ص) نے فرمایا :
حذیفہ بن یمان سے ایک حدیث مروی ہے جس میں آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ :
--------------
1ـ صحیح مسلم جلد2 صفحہ118 میں یہ حدیث موجود ہے اور دیگر اصحاب صحاح و سنن نے بھی اس کی روایت کی ہے۔
2ـ صحیح مسلم جلد4 میں یہ حدیث موجود ہے اور مشہور احادیث میں ہے۔
3ـ صحیح مسلم و دیگر صحاح میں ہے۔
حذیفہ نے پوچھا یا حضرت اگر میں نے ایسا دور پایا تو میں کیا کروں گا؟
آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ :
ایسا ہی آںحضرت(ص) نے ام سلمہ کی ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ :
فتعرفون و تنکرون فمن عرف بریء ، و من انکر سلم”(2)
لوگوں نے پوچھا کہ ہم ان سے برسرپیکار ہوں؟ رسول(ص) نے کہا :
اس بارے میں بہت سی متواتر اور صحیح حدیثیں ہیں۔ خصوصا بطریق ائمہ طاہرین(ع) تو بہت زیادہ ۔ یہی وجہ تھی کہ باوجودیکہ ۔ائمہ طاہرین(ع) کی حالت
--------------
1ـ مسلم نے جلد2 صفحہ120 میں اسے لکھا ہے اور اکثر اصحاب سنن نے اسے روایت کیا ہے۔
2ـ صحیح مسلم جلد2 صفحہ122 میں یہ حدیث ہے۔ حدیث کی مراد یہ ہے کہ جس نے منکر کا جانا اور منکر اس پر مشتبہ نہیں ہوا تو اس کے گناہ سے برائت کی صورت یہ ہے کہ اس کے منکر (بدی ) کو وہ اپنے یا زبان سے دفع کرے۔ اور کچھ نہ کرسکتا ہو تو دل ہی دل میں اسے برا کہے۔
اس جیسی ہورہی تھی جس کے گلے میں ہڈی پھنسی ہوئی ہو اور آنکھوں میں خس و خاشاک پڑے
ہوں ، دم گھٹ رہا ہو، آنکھیں جل رہی ہوں مگر وہ صبر کیے برداشت کرتے رہے ۔ ان کا صبر کرنا محض اسی وجہ سے تھا کہ پیغمبر(ص) انھیں مخصوص طریقے پر حکم دےگیے تھے، تاکید کرگئے تھے کہ دیکھو اس نوبت پر بھی پہنچ کر اف نہ کرنا۔ رسول(ص) انھیں حکم دے گئے تھے کہ دیکھو جتنی اذیتیں بھی تمھیں پہنچائی جائیں مگر تم صبر کرنا تاکہ امت والوں کا بھلا ہو، ان کی شوکت محٰفوظ رہے، اس وجہ سے یہ لوگ انتہائی تلخی کے باوجود حکام وقت کو ہدایت کے راستے دکھاتے رہے تاکہ اپنی ذمہ داری کو پورا کریں اور رسول(ص) سے کیے ہوئے وعدے کو نافذ کریں۔
اسی وجہ سے امیرالمومنین(ع) نے خلفاء ثلاثہ میں سے ہر ایک کے ساتھ سچے دل سے خیر خواہی کی۔ ہمیشہ ان کو مشورہ دیتے رہے۔ زمانہء خلافتِ ثلاثہ میں امیرالمومنین(ع) کے حالات و طرز عمل کا جائزہ لیجیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ امیرالمومنین(ع) نے اپنے حق سے نا امید ہو کر ، جانشینی رسول(ص) سے مایوس ہو کر آپ نے مصالحانہ روش رکھی اور شاہان وقت سے صلح و آشتی کو اپنا وتیرہ بنایا۔ آپ دیکھتے تھے کہ مسند رسول(ص) غیروں کے قبضہ میں حالانکہ رسول(ص) آپ کے حوالہ کر گئے تھے۔ مگر پھر بھی آپ ان سے آمادہ پیکار نہ ہوئے۔ اپنا حق لینے پر کمر بستہ نہ ہوئے۔ صرف اسی لیے تاکہ امت کا بھلا ہو۔ دین پر آںچ نہ آئے ۔ آغاز سے قطع نظر کر کے آپ نے انجام کو ترجیح دی۔ اس کے لیے آپ کو جو مشقتیں جھیلنی پڑیں جن ہولناک مرحلوں سے گزرنا پڑا کسی اور کو یہ باتیں پیش نہ آئیں۔ آپ کے روش پر دو اسیے گراں بوجھ تھے جو آپ کو تھکائے دے رہے تھے ۔ ایک جانب
خلافتِ رسولذ(ص) تمام ںصوص و تاکیداتِ پیغمبر(ص) کےساتھ دل کو خون کردینے والی آواز اور جگر چاک چاک کردینے والی کراہ کےساتھ آپ سے فریاد کررہی تھی آپ کو بے چین بنائے دے رہی تھی دوسری طرف فتنہ و فساد کے اٹھتے ہوئے طوفان سہمائے دے رہے تھے۔ جزیروں کے ہاتھ سے نکل جانے عرب میں انقلاب عظیم برپا ہونے اور اسلام کے بخ وبن سے اکھڑ جانے کا اندیشہ تھا مدینہ واطراف مدینہ کے عرب منافقین جو بڑے سرگرم سازشی تھے ان کی طرف سے فتنہ و فساد کا بڑا خطرہ لاحق تھا کیونکہ رسول(ص) کی آںکھ بند ہونے کے بعد ان کا اثر بہت بڑھتا جاتا تھا۔ اور مسلمانوں کی حالت بالکل اس بھیڑ بکری جیسی تھی جو جاڑے کی تاریک راتوں میں بھیڑیوں اور درندوں کے درمیان بھٹکتی پھرے۔
مسیلمہ کذاب ، طلیحہ بن خویلد اور سجاح بنت حرث ایسے جھوٹے مدعیاں نبوت پیدا ہوچکے تھے اور ان کے ماننے والے اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کی تباہی و بربادی پر تلے ہوئے تھے۔ قیصر و کسری وغیرہ تاک میں تھے۔ غرض اور بھی بہت سے دشمن عناصر جو محمد و آل محمد(ص) اور پیروان محمد(ص) کے خون کے پیاسے تھے اور کلمہ اسلام سے خار کھاتے تھے بڑا غم و غصہ اور شدید بغض و عناد رکھتے تھے وہ اس فکر میں تھے کہ کسی طرح اس کی بنیاد منہدم ہوجائے۔ اور جڑ اکھڑ جائے۔ اور اس کے لیے بڑی تیزی و سرگرمی ان میں پیدا ہوچکی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہماری آرزوئیں بر آئیں۔ رسول(ص) کے اٹھ جانے سے موقع ہاتھ آیا۔ لہذا اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور قبل اس کے کہ ملتِ اسلامیہ کے امور میں نظم پیدا ہو، حالات استوار ہوں اس مہلت سے چوکنا نہ چاہیے۔
اب آپ اندازہ فرمائیں کہ امیرالمومنین(ع) کے قدم ان خطروں کے درمیان تھے۔ ایک طرف حق مٹ رہا تھا، خلافت ہاتھوں سے جارہی تھی دوسری طرف اسلام کے تباہ و برباد ہوجانے ، رسول(ص) کی ساری محنت مٹی میں مل جانے کا خوف تھا لذا فطری و طبعی طور پر امیرالمومنین(ع) کے لیے بس یہی راہ نکلتی تھی کہ اسلام کی زندگی کے لیے اپنے حق کو قربان کردیں۔ عام مسلمانوں کی بھلائی کی خاطر اپنی محرومی گوارا کر لیں لہذا اس نزاع کا ختم ہونا اور ابوبکر اور آپ کے درمیان جو اختلافات تھے ان کا برطرف ہوجانا( جسے آپ اجماع کے ثبوت میں پیش کر رہے ہیں) وہ صرف دین اسلام کی تباہی اور مسلمانوں کی بربادی کے خوف کہ وجہ سے آپ نے ، آپ کے تمام گھر والوں نے ، مہاجرین و اںصار میں جتنی آپ کے طرفدار تھے سب نے صبر کیا اور اپنی بربادی دیکھا کیے مگر اف تک نہ کی۔
رسول(ص) کے بعد امیرالمومنین(ع) کے مرتے دم تک کی تقریریں ، خطبے، گفتگوئیں، بین ثبوت ہیں اس کا اور اس کے متعلق ائمہ طاہرین علیہم السلام سے متواتر حدیثیں موجود ہیں۔
لیکن اںصار کے سردار سعد بن عبادہ(1) نے تو حضرت ابوبکر و عمر سے آخر
--------------
1ـ سعد بن عبادہ کی کنیت ابو ثابت تھی۔ یہ اصحاب بیعت عقبی سے تھے ۔ جنگ بدر نیز دوسری بہت سی لڑائیوں میں شریک رہے۔ یہ قبیلہ خزرج کے سردار اور نقیب تھے تمام اںصار کے سرکردہ اور ان میں مشہور صاحب جود و کرم تھے۔ ان کے جس کلام کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے وہ تمام کتب سیر و تواریخ میں موجود ہے۔ ابن قتیبہ نے کتاب الامامہ والسیاست میں، ابن جریر طبری نے تاریخ طبری میں ابن اثیر خدری نے تاریخ کامل میں جوہری نے کتاب السقیفہ میں نیز اور بہت سے محققین علماء اہل سنت نے اپنے مصنفات کے اندر درج کیا ہے۔
تک مصالحت ہی نہ کی۔ ان میں اور شیخین میں کبھی میل ہی نہ ہوا۔ عید کے موقع پر نہ جمعہ کی نماز میں کسی جماعت میں بھی ان دونوں حضرات کے شریک نہ ہوئے انھوں نے کبھی ان دونوں حضرات کی باتوں پر کان نہ دھرا اور نہ ان کے اوامرو نواہی کا اثر ان کے دل پر ہوا۔ بالاخر مقام حوران میں بعہد خلافت عمر اچانک طور پر قتل کر ڈالے گئے اور مشہور کیا گیا کہ جن نے مار ڈالا۔
انھوں نے سقیفہ کے دن اور اس کے بعد بھی جو باتیں کہیں ان کا ذکر ضروری معلوم نہیں ہوتا۔ سعد بن عبادہ کے اصحاب حباب(1) بن منذر وغیرہ دیگر اںصار انھوں نے بھی خوشی خوشی بیعت نہیں کی۔ بلکہ ان سے زبردستی بیعت لی گئی اور وہ جبر و تشدد کے آگے سرجھکانے پر مجبور ہوگئے لہذا تلوار کی باڑھ سے ڈرا کر یا گھر میں آگ(2) لگا کر زبانیں خاموش کردی جائیں۔ مجمع کوہمنوا بنا لیا جائے
--------------
1 ـ حباب بھی منجملہ سرداران وشجاعان انصار سے تھے ۔جنگ بدرواحد میں شریک رہ چکے تھے بڑھے فضائل وکمالات کے بزرگ تھے ۔
2ـ عمر کا خضرت علی(ع) کو دھمکی دینا کہ ہم آپ کا گھر جلا دیں گے بہ تواتر قطعی ثابت ہے ابن قتیبہ نے کتاب الامامت ولسیاست کے شروع میں ۔ طبری نے اپنی تاریخ میں دو جگہ بسلسلہ حوادث سنہ 11ھ اور ابن عبد ربہ نے کتاب عقد الفرید جلد2 تذکرہ سقیفہ میں جوہری نے کتاب سقیفہ میں بیان کیا ہے ،جیسا کہ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی کی جلد اول صفحہ 134 میں مذکور ہے مسعودی نے مروج الذہب میں عروہ بن زبیر نے اپنے بھائی عبداﷲ بن زبیر کی طرف سے جنھوں نے بنی ہاشم کے گھروں کو جلانا چاہا تھا معذرت میں بیان کیا تھا کہ اگر میرے بھائی عبداﷲ نے بیعت نہ کرنے کی وجہ سے بنی ہاشم کا گھرانا جلانا چاہا تو اس سے ملتا جلتا واقعہ پہلے بھی پیش آچکا ہے جب خود عمر ابن خطاب نے علی(ع) کے بیعت نہ کرنے کی وجہ سے سیدہ (س) کا گھر پھونگ دینا چاہا۔ شہرستانی نے ملل ونحل میں ذکر کیا۔ ابومخنف نے سقیفہ کے حالات میں مخصوص ایک کتاب لکھی ہے اس میں بہت تفصیل سے آتش زنی کا ذکر کیا ہے اس کے تواتر و ہمہ گیری شہرت کے ثبوت میں مختصرا یہ سمجھ لیجیے کہ شاعر نیل حافظ ابراہیم نے اپنے مشہور و معروف قصیدہ عمریہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔
و قولة لعليّ قالها عمر |
أكرم بسامعها، أعظم بملقيها |
|
حرقت دارك، لا ابقي عليها بها |
إن لم تبايع،وبنت المصطفى فيها |
ماکان غير ابی حفص بقائلها امام فارس عدنان و حاميها
اور ایک بات جو علی(ع) سے عمر نے کہی اس بات کا سننے والا کس قدر معزز و محترم تھا اور کہنے والا کس قدر عظیم القدر تھا اگر تم نے بیعت نہ کی تو میں تمھارا گھر جلا کے رہوں گا۔ یہ جانتے ہوئے کہ رسول(ص) کی دختر بھی اسی گھر میں ہے۔ مگر میں اس کی وجہ سے ذرہ برابر پر رحم نہ کروں گا۔! ابوحفص عمر ہی اس بات کے کہنے والے ہیں کوئی اور نہیں انھوں نے یہ بات پورے خطہ عرب کے شہسوار اور شجاع یعنی حضرت علی(ع) کے روبرو کہی۔”تو اجماع کے لیے ابوبکر و عمر کا یہ سلوک رہا ہمارے امام کے ساتھ ۔ہمارے نزدیک وہ اجماع قابل حجت ہوتا ہے جو رائے امام کا کاشف ہو۔ یہاں رائے امام کا کاشف ہونا تو درکنار جیسا اجماع ہوا اور امام کو جس طرح مجبور کیا گیا وہ آپ سن چکے لہذا ایسے اجماع کو آپ بطور دلیل کیونکر پیش کرسکتے ہیں؟
تو کیا ایسی بیعت واقعی ہوگی؟ اور ایسا اجماع اس اجماع کا مصداق ہوگا جس کے متعلق رسول(ص) نے فرمایا تھا
کہ :
“لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى خَطَإٍ.”
خدا کے لیے ہمیں بتائیے۔ آپ ہی انصاف کیجیے۔
ش
مکتوب نمبر 42
اہل فہم و بصیرت اور صاحبان نظر وفکر صحابہ کو رسول(ص) کی مخالفت سے پاک سمجھتے ہیں ۔ صحابہ اور پیغمبر(ص) کے احکام کی خلاف ورزی کریں؟ اس کو وہ تصور بھی نہیں کرسکتے سوا اطاعت و فرمانبرداری اور احکام کی بجا آوری کے کوئی اور بات ان سے
ممکن ہی نہ تھی لہذا یہ محال ہے ناممکن ہے کہ وہ حضرت علی(ع) کی امامت کے متعلق صریحی اعلان پیغمبر(ص) کا سنیں اور پھر ان سے روگردانیی کریں نہ پہلی خلیفہ بنائیں نہ دوسری مرتبہ نہ تیسری مرتبہ ۔ بلکہ چوتھی مرتبہ بنا ڈالیں ۔ لہذا دو ہی صورتیں ہیں یا تو یہ کہیے کہ صحابہ جادہ صحت سے منحرف ہوگئے تھے جو انھوں نے باوجود نصوص پیغمبر(ص) سننے کے حضرت علی(ع) کو امام نہ بنایا۔ یا پھر نصوص انھوں نے سنے ہی نہیں کیونکہ یہ دونوں باتیں ایک ساتھ جمع ہو ہی نہیں سکتیں کہ ںصوص بھی سنیں اور سننے کے باوجود
آںحضرت (ص) کے حکم کے خلاف ورزی کر کے جادہ صحت پر برقرار رہیں۔ لہذا آپ سے ممکن ہوتو دونوں باتیں جمع فرمائیے ان کا نصوص پیغبر(ص) کا سننا بھی اور سننے کے باوجود حضرت علی(ع) سے منحرف ہو کر جادہ صحت پر برقرار رہنا بھی۔
س
جواب مکتوب
اکثر صحابہ کی سیرت کے مطالعہ سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ وہ ںصوص پرتب ہی عمل پیرا ہوتے تھے اور انھیں احکام پیغمبر(ص) پر عمل کرتے تھے جب وہ صرف دین کے متعلق ہوتے تھے اور اخروی امور سے مختص ہوتے ۔ جیسے حکم پیغمبر(ص) کا کہ ماہ رمضان میں روزے رکھنے واجب ہیں، نہ کسی اور مہینے میں۔ قبلہ رخ ہونا نماز کی حالت میں ضروری ہے ، نہ کہ دیگر حالات میں بھی ۔ یا پیغمبر(ص) کا حکم کہ دن میں اتنی نمازیں واجب ہیں اور رات میں اتنی ۔ ہر نماز کی اتنی رکعتیں ہیں اور نماز کا طریقہ یہ ہے یا پیغمبر(ص) کا حکم کہ خٰانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرنا چاہیے ۔ غرض اسی جیسے اور دیگر ارشادات و احکام پیغمبر(ص) جو خالص اخروی نفع سے مختص ہوا کرتے ، ان کی تو وہ اطاعت کرتے لیکن پیغمبر(ص) کے وہ ارشادات جن کا تعلق سیاست سے ہوا کرتا جیسے حکام و افسران کا تقرر ، سلطنت کو قوانین و قواعد کی ترتیب و تدوین ، امور مملکت کا نظم و انتظام ، فوجی بھرتی، لشکر کی روانگی وغیرہ جیسے امور ، ایسے امور میں وہ پیغمبر(ص) کے اقوال و ارشادات کی تعمیل ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ نہ جملہ حالات میں مطابق حکم پیغمبر(ص) کام کرنے کے پابندرہنا چاہتے تھے ۔ بلکہ اپنی سوچ سمجھ کو بھی دخل دیتے تھے اور اپنی نظر وفکر اور اجتہاد کے لیے بھی گنجائش
باقی رکھتے ۔ لہذا جب بھی انھوں نے دیکھا کہ مخالفتِ رسول(ص) میں ہماری قدر و منزلت بڑھے گی یا ہماری حکومت کو نفع پہنچے گا انھوں نے فورا رسول(ص) کے حکم کو پس پشت ڈالا اور وہی کیا جس سے ان کی شان دوبالا ہو یا حکومت کو فائدہ پہنچے غالبا وہ اسی طرح رسول(ص) کو خوشش کرنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کی امید کرتے تھے۔
انھیں یہ ظن غالب پیدا ہوچکا تھا کہ عرب والے علی(ع) کے سامنے سر نہ جھکائیں گے اور رسول(ص) نے ان کی خلافت کا جو اعلان کیا ہے تو وہ رسول(ص) کی بات بھی نہ مانیں گے کیونکہ علی(ع) نے راہِ خدا میں انھیں اچھی طرح تہ تیغ کیا ہے اور خدا کا بول بالا کرنے کے لیے اپنی تلوار سے ان کے خون کی ندیاں بہائی ہیں۔ حق کی مدد کرنے میں ان سے ہمیشہ برسربیکار رہے یہاں تک کہ سرکش و ضدی کافروں کی تمام کوششیں رائیگاں ہوئیں اورخدا کو حکم غالب ہوکے رہا۔ لہذا ان حالات میں جب تک عرب والوں پر تشدد نہ برتا جائے وہ علی(ع) کی اطاعت ہی نہ کریں گے اور جب تک طاقت کا استعمال نہ کیا جائے ںص پیغمبر(ص) کے آگے سر ہی نہ جھکائیں گے۔
اہل عرب کی عادت و فطرت میں یہ بات داخل تھی کہ اگر ان کا کوئی شخص قتل کردیا جاتا تو جب تک اس کا انتقام نہ لے لیتے چین سے نہ بیٹھتے ۔ زمانہ پیغمبر(ص) میں اسلام نے نہ معلوم کتنے کافروں کا خون بہایا ۔ ان سب کا انتقام وہ حضرت علی(ع) سے لینے کی فکر میں تھے کیونکہ رسول(ص) کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد آپ کے خاندان میں سوا حضرت علی(ع) کے کوئ شٰخص ایسا تھا ہی نہیں جس سے ان تمام جانوں کا بدلہ لیا جاسکتا۔ کیونکہ وہ خاندان کے سب سے بہتر فرد اور ممتاز ہستی سے انتقام لیا کرتے تھے
اور حضرت علی(ع) کا بنی ہاشم میں سب سے بہتر بھی تھے اور بعد رسول(ص) بے نزاع و اختلاف افضل وممتاز بھی تھے۔ اسی وجہ سے اہل عرب آپ کے متعلق زمانہ کی گردشوں کےمنتظر رہے۔ تمام امور الٹ پلٹ کردیے ۔ آپ سے اور آپ کی اولاد سے پوری پوری کاوشیں دل میں رکھیں ، آفتیں ڈھائیں اور جو کچھ ہوا وہ ساری دنیا جانتی ہے۔
نیز قریش کو بالخصوص اور اہل عرب کو بالعموم حضرت علی(ع) کی طرف سے ایک اور بات کا بھی بڑا غم و غصہ تھا اور وہ یہ کہ آپ دشمنان خدا کو سختی سے کچل ڈالتے اور جو شخص حدود الہی سے تجاوز کرتا۔ حرمت خداوندی برباد کرتا اسے آپ دردناک سزا دیتے تھے ۔ عرب والے یہ بھی ڈرتے تھے کہ اگر علی(ع) حاکم ہوگئے تو اچھے کاموں کا بڑی سختی سے حکم دیں گے اور بری باتوں سے روکنے میں پورا پورا تشدد کام میں لائیں گے۔
ان کو یہ بھی خطرہ تھا کہ وہ رعایا میں کوئی امتیاز روانہ رکھیں گے ہر ایک سے عادلانہ سلوک کریں گے۔ ہر معاملہ میں سب کو برابر سمجھیں گے۔ ان سے کسی بات کی طمع ہی نہیں رکھی جاسکتی اور نہ کسی کی دال گلے گی۔ قوت و طاقت والے ان کے نزدیک ضعیف وذلیل رہیں گے جب تک وہ ان سے حق نہ وصول کر لیں اور حقیر و ناتواں ان کے نزدیک قوی و عزیز ہوں گے جب تک ان کا حق نہ دلوا دیں۔
لہذا ایسے شخص کے آگے عرب والے کیونکر سرجھکان پسند کرتے۔ وہ عرب والے جو کفر و نفاق میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے بڑے سرگرم منافق تھے۔
نیز ایک وجہ یہ بھی تھی کہ قریش اور کل عرب حضرت علی(ع) سے انتہائی حسد رکھتے تھے ۔ دل میں جلتے رہتے تھے۔ خداوند عالم نے امیرالمومنین(ع) کو
جو غیر معمولی شرف بخشا تھا باین طور کہ امیر المومنین(ع) علم و عمل میں ( خدا و رسول (ص) کے نزدیک ) اس درجہ پر فائز تھے جس تک بڑے بڑے نہ پہنچ سکے بڑے نام و نمود والے محروم رہے، اپنے مخصوص کمالات و خصوصیات کی وجہ سے خدا و رسول(ص) کے نزدیک آپ کو وہ منزلت حاصل ہوئی جس کے لیے ہر دل میں تمنائیں کروٹیں لے رہی تھیں۔ اسی وجہ سے حسد کے بچھو منافقین کے دلوں میں رینگنے لگے اور کل فاسقین و ناکثین و قاسطین و فارقین تل گئے کہ ہم عہد و پیمان توڑ کے رہیں گے۔ لہذا جو کچھ نصوص پیغمبر(ص) نے ارشاد فرمائے تھے سب کو انھوں نے پس پشت ڈال دیا اور یوں بھلا بیٹھے جیسے رسول(ص) نے کبھی کہا ہی نہ ہو۔
فکان ماکان مما لست اذکره فظن خيرا ولا تسال عن الخبر
نہ ہم سمجھے نہ آپ آئے کہیں سے پسینہ پونچھنے اپنی جبین سے
نیز یہ بھی ایک وجہ تھی کہ قریش اور جملہ عرب دل سے چاہتے تھے کہ خلافت ہمارے قبیلوں میں گھومتی پھرتی رہے۔ اس کی بڑی طمع انھیں تھی لہذا انھوں نے یہ نیت کر لی کہ رسول(ص) نے علی(ع) کی خلافت کے لیے جتنے عہد و پیمان کیے ہیں سب توڑ دیے جائیں ۔ محکم ارادہ کرلیا۔ کمر باندھ لی کہ علی(ع) کی خلافت کے جتنے قول و قرار ہوئے ہیں سب کو شکست و ریخت کر کے رہیں گے لہذا انھوں نے باہم اتفاق کر لیا کہ تمام نصوصِ پیغمبر(ص) فراموش
کردیے جائیں، ایکا کر لیا کہ بھولے سے بھی کبھی ان ںصوص کو یاد نہ کریں گے آپس میں طے کر لیا کہ ہم خلافت کو نبی(ص) کے مقرر کردہ جانشین اور معین کردہ ولیعہد کے ہاتھ میں جانے ہی نہ دیں گے۔
لہذا انھوں نے خلافت کو اختیار و انتخاب پر موقوف کیا۔ الیکشن کے ذریعہ خلیفہ مقرر کرنا طے کیا تاکہ جتنے قبائل ہیں ان میں سے ہر قبیلہ کو خلافت پانے کی امید رہے ہر شہسوار اسپ خلافت پر سواری کرسکے چاہے کچھ دنوں بعد ہی سہی۔
اگر وہ لوگ نصوص پیغمبر(ص) کی پیروی کیے ہوتے ، رسول(ص) کا حکم مانتے اور رسول(ص) کے بعد حضرت علی(ع) کو مقدم سمجھتے تو اہلبیت(ع) سے کبھی خلافت باہر جاتی ہی نہیں کیونکہ رسول(ص) غدیر خم اور دیگر مواقع پر انھیں کتاب خدا کے لازم و ملزوم بناچکے تھے۔ قیامت کے دن تک ارباب عقل وہوش کے لیے نمونہ عمل فرمایا تھا۔ لہذا اہل بیت(ع) سے خلافت نکلتی ہی نہیں اور عرب یہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ خلافت ایک ہی گھر میں منحصر رہے خصوصا ان کا برداشت کرنا اس وجہ سے اور زیادہ مشکل تھا کہ جملہ قبائل کےدل میں خلافت کی ہوس تھی اور ہرخاندان اس کا آرزو مند تھا۔
نیز ہر وہ شخص جس نے ابتدائے عہد اسلام میں قریش و عرب کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ عربوں نے ہاشمی نبوت کے آگے سر نہ جھکایا۔ سرورکائنات(ص) ( بنی ہاشم کے چشم و چراغ تھے) کی نبوت اس وقت تک تسلیم نہ کی جب تک ان کی رگ رگ توڑ نہ دی گئی۔ جب تک کلہ قوت ان کی زائل نہ ہوگئی اور سارا کس بل نہ نکل گیا۔ تو وہ یہ کیونکر پسند کرسکتے ہیں کہ نبوت و خلافت دونوں کی دونوں بنی ہاشم ہی میں منحصر
رہیں۔ خود حضرت عمر نے ایک مرتبہ عبداﷲ بن عباس سے بسلسلہ گفتگو کہا تھا کہ عرب والوں نے ناپسند کیا کہ تمھیں میں نبوت بھی رہے اور تمھیں میں خلافت بھی۔(1)
سلف صالحین جو تھے ان کا بس یہی نہ چل سکا کہ مجبور کر کے ان لوگوں کو نص کا پابند بنائیں ، وہ قادر ہی نہ ہوسکے کہ زبردستی حکم رسول(ص) پر ان سے عمل کرا کے رہیں۔ وہ ڈرتے تھے کہ اگر ان سے مقاومت کی جاتی ہے تو کہیں یہ برگشتہ نہ ہوجائیں ۔ یہ بھی خوف تھا کہ اگر ان حالات میں اختلافات رہے تو برے نتائج نہ رونما ہوں۔ رسول(ص) کی آنکھ بند ہوتے ہی دلوں کا کھوٹ آشکار ہوچکا تھا۔ رسول(ص) کی عدم موجودگی کے باعث منافقین کی شوکت اور زور پکڑ رہی تھی۔ کافروں کے نفوس سرکش ہوچکے تھے اور ارکان دین میں تزلزل پیدا ہوچکا تھا۔ مسلمانوں کے دل شکستہ تھے اور بعد رسول(ص) ان کی حالت بالکل اس بھیڑ بکری کی طرح ہورہی تھی جو جاڑے کی تاریک راتوں میں بھیڑیوں اور وحشی درندوں کے درمیان بٹھکتی پھرے ۔ عرب کی اکثر جماعتیں مرتد ہوچکی تھیں۔ دوسرے لوگ بھی مرتد ہوجانے کا تہیہ کررہے تھے۔ لہذا ان حالات میں امیرالمومنین(ع) ڈرے کہ اگر میں لوگوں کے امور اپنے ہاتھ میں لینے کی جدوجہد کرتا ہوں تو بڑی تباہی پھیلے گی۔مسلمانوں کے دل کی وہ حالت منافقین کا بڑھتا ہوا وہ زور، مارے غیظ و غضب کے انگلیاں چبا رہے تھے، مرتد ہونے والوں کا وہ عالم، کافروں کا وہ اٹھتا ہوا طوفان، انصار مہاجرین کی مخالفت پر کمر بستہ “ منا امیر و
--------------
1ـ علامہ ابن الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد3 صفحہ 107 پر ایک واقعہ کے ضمن میں نقل کیا ہے نیز علامہ ابن اثیر جوزی نے تاریخ کامل جلد 24 پر حضرت عمر کے حالات کے آخر میں ذکر کیا ہے۔
منکم وزیر۔۔” ہم میں سے ایک امیر ہو اور تم میں سے ایک وزیر۔” کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ہٹ کر ایک طرف ہوچکے تھے وغیرہ وغیرہ ۔ لہذا دین کی بہبودی کے خیال نے مجبور کیا امیرالمومنین(ع) کو کہ وہ مطالبہ خلافت سے دستبردار ہو جائیں اور تمام معاملات سے کنارہ کش رہیں کیونکہ آپ کو اچھی طرح یقین تھا کہ ان حالات میں اگر طلب خلافت کرتا ہوں تو امت کےلیے بڑا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ دین پر بڑی تباہی آئے گی۔ لہذا آپ نے اسلام کو ترجیح دی عامہ المسلمین کی بھلائی کو مقدم رکھا اور انجام کو آغاز سے بہتر سمجھتے ہوئے طاقت کے ذریعہ سے مطالبہ خلافت سے باز رہے۔
آپ کا طرز عمل دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ آپ کس قدر بالغ نظر صاحب الرائے تھے کیا بے پناہ علم رکھتے تھے۔ کس قدر دل وسیع تھا آپ کا اور عامة المسلمین کی بھلائی کا کس قدر خیال تھا آپ کو اور کسی کو بھلا یہ بات کب نصیب ہوئی۔
حضرت خانہ نشین ہوگئے اور بیعت نہ کرنا تھی نہ کی ،اگرچہ آپ کے گلے میں رسی باندھ کر آپ کو گھر سے نکالا بھی گیا۔ یہ طریق کار آپ نے اختیار فرمایا اپنے اپنے حق کی حفاظت کے لیے اور ان لوگوں پر خاموش احتجاج فرماتے ہوئے جنھوں نے آپ سے روگردانی کی اور غیر مستحق ہاتھوں میں زمام خلافت رہنے دینا گوارا کیا اگر بیعت کر لیتے تو وہ بات نہ ہوتی ۔ لوگوں پر حجت نہ قائم ہوتی۔ آپ نے وہ طرز عمل اختیار کیا جس سے دین پر آنچ بھی نہ آنے پائی اور آپ کا حق خلافت بھی محفوظ رہا۔
رہ گئے خلفاء ثلاثہ اور ان کے ہوا خواہ تو انھوں نے بھی ان تمام نصوص کی جو خلافت امیرالمومنین(ع) کے متعلق تھے تاویلیں کیں، معانی بدلے
اور ایسا کرنے میں وہی اسباب کار فرما تھے جو ہم ابھی بیان کرچکے ہیں اور ان سے ایسا ہونا کوئی تعجب خیز بھی نہیں کیونکہ ہم ابھی آپ سے ذکر کرچکے ہیں کہ سیاست ، ملکی حکام کا تقرر و قوانین سلطنت کی ترتیب و تدوین، امور مملکت کے نظم و انتظام کے متعلق پیغمبر(ص) کے جو احکام و فرامین تھے ان کی تاویل کرنے اور اپنے اجتہاد سے کام لینے کے وہ کتنے خوگر تھے غالبا وہ خلافت کو مذہبی چیز سمجھتے ہی نہ تھے اسی وجہ سے مسئلہ خلافت میں رسول(ص) کی مخالفت سے ان کے نزدیک اہمیت نہ رکھتی تھی۔
جب تمام امور خاطر خواہ انجام پاگئے ، جو وہ چاہتے تھے وہ ہوگیا، تو انھوں نے بڑی دور اندیشی کو کام میں لاکر ان نصوص کو محو کرنا شروع کیا اور جو شخص بھی بھولے سے ان نصوص کا ذکر کرتا یا اشارہ کرتا تو اس پر تشدد کرنے لگتے۔
اور جب نظامِ سلطنت کی حفاظت ، دین اسلام کی اشاعت ملکوں پر فتح یابی دولت و طاقت پر تسلط و اقتداران کو میسر ہوا اور باوجود ان تمام باتوں کے حاصل ہونے کے وہ ہوا وہوس میں مبتلا نہ ہوئے عیش و عشرت میں نہ پڑے تو انھیں بڑا فروغ ہوا۔ بہت قدر بڑھ گئی۔ لوگ ان سے حسنِ ظن رکھنے لگے۔ دلوں میں ان کی محبت پیدا ہوتی گئی اور لوگوں نے بھی ان کی روش پر ان ںصوص کو بھلانا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ فراموش کرنے لگے۔
ان کے بعد بنی امیہ کے ہاتھوں میں زمام حکومت آئی۔ ان کی غرضِ اصلی تو تھی ہی یہی کہ کسی طرح اہلبیت(ع) نیست و نابود ہوں۔ ان کا باکل ہی قلع قمع کردیا جائے۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے نصوص کو
نسیا منسیا کردینے کے لیے کیا کچھ نہ کیا ہوگا۔
مگر باوجود ان سب باتوں کے ہم تک صریحی نصوص اور صحیح سنن و احادیث پہنچ کےرہے ۔ انھیں میں اگر غور کیا جائے ، انصاف سے کام لیا جائے تو وہی کافی ہیں۔
ش
مکتوب نمبر43
وہ مقامات جہاں صحابہ نے ارشادات پیغمبر(ص) کی مخالفت کی
آپ کا نوازش نامہ موصول ہوا۔ میں جس امر کو مستبعد سمجھتا تھا آپ نے معجزانہ طور پر ممکن ثابت کر دکھایا اور ایسا واضح نقشہ کھینچ کر دکھا دیا کہ میں دہشت میں پڑ گیا۔ میں تو یہ سمھتا تھا کہ ثابت ہی نہ کر پائیں گے کاش آپ ان مواقع کی طرف اشارہ بھی فرمادیتے جہاں صحابہ نے نصوص پیغمبر(ص) کی خلاف ورزی کی۔ رسول(ص) کی بات نہ مانی تاکہ حقیقت اچھی طرح منکشف ہوجاتی اور ہدایت کا رستہ بخوبی واضح ہوجاتا۔
س
جواب مکتوب
واقعہ قرطاس
وہ مواقع جہاں ارشاداتِ پیغمبر(ص) کی مخالفت کی گئی، نصوص پیغمبر(ص) پر عمل نہ کیا گیا بے شمار ہیں۔ منجملہ ان کے پنجشنبہ کے دن والا حادثہ عظمیٰ ملاحظہ فرمائیے جو مشہور ترین قضیوں اور سخت مصیبتوں میں سے ایک ہے۔ جسے ارباب صحاح اور کل اصحاب سنن نے بیان کیا ہے اور تمام اہل سیر و مورخین نے نقل کیا ہے ، صرف بخاری کی روایت آپ کے لیے کافی ہوگی۔
امام بخاری(1) بسلسلہ اسناد عبیداﷲ بن عبداﷲ بن عتبہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں۔ انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے ، ابن عباس کہتے ہیں:
-------------
1ـ صحیح بخاری پارہ 4 صفحہ 5 باب قول المریض تو صواعنی
لوگ تھے ان میں اختلاف ہوگیا آپس میں جھگڑنے لگے۔ بعض کہتے تھے کہ قلم و دوات رسول(ص) کے قریب کر دو کہ رسول(ص) ایسا نوشتہ لکھ دیں کہ پھر تم کبھی گمراہ نہ ہو اور بعض حضرت عمر کی ہم نوائی کر رہے تھے۔ جب تکرار اور چپقلش زیادہ بڑھی تو رسول(ص) نے فرمایا کہ تم میرے پاس سے اٹھ جاؤ”
ابن عباس کہتے ہیں کہ:
یہ حدیث وہ ہے کہ اس کے موجود ہونے اور صحت میں کسی قسم کا شک وشبہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ امام بخاری نے اپنے صحیح بخاری میں ایک جگہ نہیں متعدد جگہوں پر ذکر کیا ہے۔(1)
امام مسلم نے صحیح مسلم باب الوصایا کے آخر میں درج کیا ہے۔(2) امام احمد نے اپنے مسند میں ابن عباس سے اس(3) حدیث کی روایت کی ہے۔ نیز جملہ اصحاب صحاح و ارباب سنن نے اس حدیث کو درج کیا ہے مگر ان سب نے الفاظ میں تصرف کر دیا ہے۔ مفہوم و معنی تو ایک ہی رکھا ہے مگر الفاظ بدل دیے ہیں کیونکہ اصلی الفاظ حضرت عمر کے یہ تھے :
“ ان النبي يهجر”
--------------
1ـ صحیح بخاری پارہ اول صفحہ 42 کتاب العلم نیز اور دیگر مقامات۔
2ـ صحیح مسلم جلد2 صفحہ14
3ـ مسند جلد 1 صفحہ 325
لیکن محدثین نے بجائے اس کے یہ بیان کیا کہ رسول(ص) پر درد کا غلبہ ہے۔ یہ اس لیے تاکہ عبارت تہذیب کے پیرائے میں رہے اور حضرت عمر کے اس جملہ سے رسول(ص) کی جو اہانت ہوتی تھی اس میں کمی ہوجائے۔ میرے اس بیان پر وہ روایت شاہد ہے جسے ابوبکر احمد بن عبدالعزیز جوہری نے کتاب السقیفہ میں بسلسلہ اسناد جناب ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ ( شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی جلد2 صفحہ20)
ابن عباس فرماتے ہیں کہ :
اس حدیث سے آپ کو صراحتا یہ بات معلوم ہوگی کہ حضرت عمر نے رسول(ص)
کو جو جواب دیا تھا اس کے اصل الفاظ محدثین نے ذکر نہیں کیے ہیں بلکہ اس کا مطلب و مفہوم بیان کیا۔ اس کا ثبوت اس سے بھی مل سکتا ہے کہ محدثین نے دوسرے موقع پر جہاں جواب دینے والے کا نام ذکر نہیں کیا وہاں جواب کے اصل الفاظ بیان کردیے ہیں۔ چنانچہ امام بخاری صحیح بخاری بارہ 1 صفحہ118 کتاب الجہاد والسیر کے باب جوائز الوفد میں روایت کرتے ہیں کہ :
--------------
1ـ تیسری بات جسے فرموش کرد دیا گیا وہی بات تھی جسے پیغمبر(ص) وقت انتقال نوشتہ کی صورت میں لکھ جانا چاہتے تھے تاکہ امت والے گمراہی سے محفوظ رہیں۔ یعنی امیرالمومنین(ع) کی خلافت ۔ لیکن سیاسی شاطروں نے محدثین کو مجبور کیا کہ وہ اس چیز کو جانتے اور سمجھتے ہوئے بھول جائیں جیسا کہ مفتی حنفیہ نے صراحت کی ہے۔
اس حدیث کو امام مسلم نے بھی صحیح مسلم کتاب الوصیت کے آخر میں درج کیا ہے۔ امام احمد نے اپنے مسند میں منجملہ احادیث ابن عباس نقل کیا ہے نیز تمام محدثین نے اس کی روایت کی ہے۔(1)
امام مسلم نے صحیح مسلم کے کتاب الوصیت میں بواسطہ سعید بن جبیر، ابن عباس سے ایک دوسرے طریقہ سے روایت کی ہے۔ ابن عباس کہتے تھے:
پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوئے اور رخساروں پر یوں بہتے دیکھے گئے جیسے موتی کی لڑی ہو۔ اس کے بعد ابن عباس نے کہا کہ :
صحاح ستہ میں اس مصیبت کے ماحول پر نظر دوڑائیے تو آپ کو معلوم
--------------
1ـ صحٰیح مسلم جلد2 صفحہ222
2ـ اس حدیث کو انھیں الفاظ میں امام احمد نے مسند ج1 صفحہ355 پر روایت کیا ہے ان کے علاوہ اور بھی اجلہ علمائے اہل سنت نے نقل کیا ہے۔
ہوگا کہ پہلا وہ شخص جس نے اس دن آواز بلند کی کہ رسول(ص) ہذیان بک رہے ہیں وہ حضرت عمر تھے انھیں نے سب سے پہلے رسول(ص) کے متعلق یہ جملہ کہا۔ ان کے بعد حاضرین میں جو ہم خیال افراد موجود تھے انھوں نے حضرت عمر کی ہم نوائی کی۔ آپ ابن عباس کا یہ فقرہ پہلی حدیث(1) میں سن چکے ہیں۔
یعنی وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ رسول(ص) ہذہان بک رہے ہیں۔
ایک دوسری روایت میں ہے جو طبرانی نے اوسط میں حضرت عمر(2) سے روایت کی ہے۔ حضرت عمر فرماتے تھے کہ :
حضرت عمر کہتے کہ :
--------------
1ـ جسے بخاری نے عبیداﷲ بن عتبہ بن مسعود سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے اور امام مسلم وغیرہ نے جس کی روایت کی ہے۔
2ـ کنزالعمال جلد2 صفحہ138
تو گردن پر سوار رہتی ہو۔ اس پر رسول(ص) نے فرمایا : کہ عورتوں کو جانے دو یہ تم سے تو بہتر ہی ہیں۔”
آپ ملاحظہ فرماتے ہیں کہ یہاں صحابہ نے ارشاد پیغمبر(ص) کو نہیں مانا۔ اگر مانے ہوتے تو گمراہی سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتے ۔ کاش صحابہ یہی کرتے کہ رسول(ص) کی بات ٹال جاتے نہ مانتے لیکن رسول(ص) کو یہ سوکھا جواب تو نہ دیتے کہ “ حسبنا کتاب اﷲ” ہمارے لیے کتاب خدا کافی ہے۔” اس فقرہ سے تو دھوکہ ہوتا کہ معاذ اﷲ جیسے رسول(ص) جانتے ہی نہ تھے کہ کتاب خدا مسلمانوں کے لیے کیا حیثیت رکھتی ہے؟ یامعاذ اﷲ یہ صحابہ کتاب خدا کے خواص و فوائد رسول(ص) سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس کے رموز و اسرار سے زیادہ واقف ہیں۔ کاش اس پر ہی اکتفا کر لیتے ۔ اسی حد پر آکر باز رہ جاتے صرف یہی کہ “ حسبنا کتاب اﷲ” کتاب خدا ہمیں کافی ہے۔ یہ کہہ کر کہ رسول(ص) ہذیان بک رہے ہیں رسول(ص) کو صدمہء ناگہانی تو نہ پہنچاتے۔ رسول(ص) چند گھڑی کے مہمان تھے آپ کا دم واپسین تھا ایسی حالت میں یہ ایذار رسانی کہاں تک مناسب تھی؟ کیسی بات کہہ کر رسول(ص) کو رخصت کر رہےتھے۔
اور گویا معلوم ہوتا ہے کہ ( جس طرح انھوں نے کتاب خدا کو کافی سمجھتے ہوئے رسول(ص) کے ارشاد کو ٹھکرا دیا اسی طرح) انھوں نے کتاب خدا کافی کا ببانگ دہ یہ اعلان بھی نہیں سنا کہ رسول(ص) جو کچھ تمھیں دے دیں اس کو لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔
اور ان کے یہ کہنے سے کہ رسول(ص) ہذیان بک رہے ہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے خدا کا یہ ارشاد پڑھا ہی نہیں :
“إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ
مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثمََّ أَمِين وَ مَا صَاحِبُكمُ بِمَجْنُون ”
نیز یہ ارشاد الہی :
“إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيموَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُون وَ لَا بِقَوْلِ كاَهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُون تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِين“
“ بے شک یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا پیغام ہے اور یہ کسی شاعر کی تک بندی نہیں۔ تم لوگ تو بہت کم ایمان لاتے ہو اور کسی کاہن کی خیالی بات ہے تم لوگ تو بہت کم غور کرتے ہو سارے جہاں کے پروردگار کا نازل کیا ہوا کلام ہے۔”
“مَا ضَلَّ صَاحِبُكمُْ وَ مَا غَوَى وَ مَا يَنطِقُ عَنِ الهَْوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى”
نیز اسی طرح کی اور دوسری واضح اور روشن آیتیں کلام مجید کی جن میں صاف صاف تصریح ہے کہ ہر مہمل و بے ہودہ بات کہنے سے رسول(ص) پا ک وپاکیزہ ہیں جیسے انھوں نے کبھی پڑھی ہی نہیں۔
علاوہ اس کے خود تنہا اور فقط عقل بھی رسول(ص) سے مہمل اور بے ہودہ باتوں کا صادر ہونا محال و ناممکن سمجھتی ہے لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ صحابہ اچھی طرح جانتے تھے کہ رسول (ص) خلافت کی بات کو اور پکی کردینا چاہتے ہیں۔ آپ نے ابھی تک حضرت علی(ع) خلیفہ و جانشین ہونے کے متعلق جتنے اعلانات کیے ہیں ان کی مزید تاکید مقصود ہے لہذا ایسی بات کہہ کر رسول(ص) کی بات ہی کاٹ دی جیسا کہ خود حضرت عمر نے اپنی زبان سے اس کا اقرار و اعتراف کیا ہے۔ اس موقع پر جب ان
میں اور عبداﷲ بن عباس کے درمیان خلافت کے مسئلہ پر گفتگو چھڑ گئی تھی ۔(1)
اگر آپ رسول(ص) کے اس قول پر کہ میرے پاس قلم دوات لاؤ تاکہ میں ایسا نوشتہ لکھ جاؤں کہ اس بعد ہرگز تم گمراہ نہ ہو” اور حدیث ثقلین میں رسول(ص) کے اس فقرہ پر کہ :
--------------
1ـ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی جلد3 صفحہ140
اور یہ کہ رسول(ص) نے حالتِ مرض میں کاغذ و دوات جو مانگا تھا وہ اسی لیے تاکہ حدیثِ ثقلین میں جو چیز امت کے لیے واجب بتائی تھی اس کی تفصیل تحریر فرمادیں۔ تحریری طور پر لکھ دیں۔ اب رہ گئی یہ بات کہ رسول(ص) نے ان لوگوں کے اختلافات کی پر واہ نہ کرتے ہوئے نوشتہ لکھ کرکیوں نہیں دیا، لکھنے کا ارادہ کیوں ملتوی کر دیا؟
اس کا سبب وہی فقرہ تھا حضرت عمر اور ان کے ہوا خواہوں کا جسے بول کر ان لوگوں نے رسول(ص) کو دکھ پہنچایا تھا۔ یہی فقرہ سن کر رسول(ص) نے ارادہ بدل دیا نہ لکھا وہ نوشتہ ۔ کیونکہ اتنے سخت جملہ کے بعد نوشتہ لکھنے کا کوئی فائدہ ہی نہ تھا سوا اس کے کہ اور فتنہ و فساد برپا ہوتا۔ اور اختلافات اور بڑھتے ۔ رسول(ص) کے لکھنے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہوتا کیونکہ اب اگر رسول(ص) لکھتے بھی تو آپ کے نوشتہ کے متعلق لوگ کہتے کہ اس نوشتہ میں بھی تو رسول(ص) نے بذیان ہی تحریر فرمایا ہے۔ جس طرحٰ یہ کہنے پر کہ “ میرے پاس دوات کاغذ لاؤ میں ایسا نوشتہ لکھ جاؤں کہ اس کے بعد پھر کبھی گمراہ نہ ہو۔” لوگ
جھگڑنے لگے۔ ان میں تکرار ہونے لگی اور رسول(ص) کی آںکھوں کے سامنے خوب شور و غل مچا۔ اور رسول(ص) اس وقت کچھ نہ کرسکے ۔ صرف اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ ۔ اور اگر رسول(ص) بھی اڑجاتے اپنی بات پر ، نوشتہ لکھ کر رہتے تو انھیں اور بھی ضد ہوجاتی اور زیادہ سختی سے کہتے کہ رسول(ص) نے جو کچھ لکھا وہ ہذیان ہے اور ان کے چٹے بٹے رسول(ص) کے لکھے ہوئے کو ہذیان ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی
کا زور لگا دیتے ۔ اپنی کتابوں میں لکھتے ، تاریخوں میں بیان کرتے، غرض رسول(ص) کے نوشتہ کی دھجیاں اڑا دیتے ، تاکہ اس سے کوئی کام لے ہی نہ سکے۔
اسی وجہ سے حکیم اسلام کی حکمت بالغہ نے چاہا کہ اب نوشتہ کا ارادہ ہی ترک کردیا جائے۔ تاکہ رسول(ص) کے منہ آنے والے اور ان کے حوالی موالی آپ کی نبوت میں طعن کا دروازہ نہ کھول دیں ۔ خدا کی پناہ۔
اور رسول(ص) یہ جانتے تھے کہ علی(ع) اور علی(ع) کے دوستدار اس نوشتہ کے مضمون پر بہر حال عمل کریں گے۔ میں چاہے لکھوں چاہے نہ لکھوں اور ان کے علاوہ جو ہیں وہ اگر میں لکھ بھی جاؤں تب بھی نہ مانیں گے نہ اس پر عمل کریں گے لہذا ان حالات میں حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ آپ اس کا خیال ترک کردیں۔ کیونکہ سوالِ کاغذ و دوات پر ایسا جانکاہ جواب پانے کے بعد بھی نوشتہ لکھنے کا کوئی اثر ہی پیدا نہ ہوگا ۔ سوا فتنہ و فساد کے۔
ش
مکتوب نمبر44
واقعہ قرطاس پر عذر و معذرت
شاید آںحضرت(ص) نے جس وقت قلم و دوات لانے کا حکم دیا تھا آپ کوئی چیز لکھنا چاہتے ہی نہ تھے بلکہ آپ محض آزمانا چاہتے تھے اور کچھ مقصود نہ تھا اور صحابہ کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی مگر حضرت عمر سمجھ گئے کہ رسول(ص) در حقیقت ہم لوگوں کو جانچنا چاہتے ہیں لہذا انھوں نے قلم و دوات لانے سے صحابہ کو روک دیا۔ لہذا اس بنا پر حضرت عمر کی ممانعت منجملہ آپ کی توفیقات ربانیہ کے سمجھنا چاہیے اور آپ کی مخصوص کرامات سے شمار کرنا چاہیے۔
بعض علمائے اعلام نے یہی جواب دیا ہے لیکن انصاف یہ ہے کہ رسول(ص)
کا فرمانا : لن تضلوا بعدی” میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ ” اس جواب کو بننے نہیں دیتا۔ کیونکہ یہ فقرہ حکم پیغمبر(ص) کا دوسرا جواب ہے ۔ مطلب یہ کہ اگر تم کاغذ و دوات لاؤ گے اور میں تمھارے لیے وہ نوشتہ لکھ دوں گا تو اس کے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو گے اور یہ امر مخفی نہیں کہ اس قسم کی خبر بیان کرنا محض امتحان و اختیار کے لیے یہ، یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے جس سے کلام انبیاء کا پاک ہونا واجب و لازم ہے ۔ خاص کر اس موقع پر جہاں قلم و دوات کا لانا بہتر تھا یہ نسبت نہ لانے کے۔
علاوہ اسکے یہ جواب اور بھی کئی وجہوں سے محل تامل ہے لہذا یہ جواب تو صحیح نہیں کچھ اور عذر پیش کرنا چاہیے ۔زیادہ سے زیادہ جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسول(ص) نے کاغذ و دوات لانے کا جو حکم دیا تو یہ حکم انتہائی ضروری و لازمی نہ تھا کہ اس کے متعلق مزید وضاحت چاہی نہ جاسکتی ، دوبارہ پوچھا ہی نہ جاسکتا تھا۔ بلکہ یہ حکم مشورہ کاحکم تھا اور ایسا برابر ہوا کہ صحابہ رسول(ص) کے بعض احکام میں دوبارہ پوچھ لیا کرتے تھے۔ مزید استصواب کیا کرتے تھے خصوصا حضرت عمر تو اور زیادہ ، کیونکہ انھیں اپنے متعلق یہ یقین تھا کہ وہ مصالح و بہتری پہچاننے میں موفق للصواب ہیں۔ میرا ظن و تخمین غلط نہیں ہوتا ۔ خدا کی جانب سے ان پر الہام بھی ہوا کرتا تھا۔ حضرت عمر نے چاہا کہ رسول(ص) کو زحمت نہ اٹھائی پڑے۔ کیونکہ رسول(ص) پہلے ہی بہت سے تعب میں تھے اگر لکھنے کے لیے اٹھتے بیٹھتے تو تعب اور زیادہ بڑھ جاتا۔ اسی لیے آپ نے یہ فقرہ کہا۔ آپ کی رائے یہ تھی کہ دوات کاغذ نہ لانا ہی بہتر ہے۔ حضرت عمر یہ بھی ڈرتے تھے کہ رسول(ص) کہیں ایسی باتیں نہ لکھ ڈالیں جو کرنے سے لوگ عاجز ہیں۔ رسول(ص) کے لکھنے کو پورا نہ کرسکیں
اور اس سبب سے مستحق عقوبت ٹھہریں کیونکہ رسول(ص) جو کچھ لکھ جاتے وہ تو بہر حال مںصوص اور قطعی ہوتا۔ اجتہاد کی گنجائش اس میں نہ ہوتی یا شاید حضرت عمر کو منافقین کی جانب سے خوف محسوس ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منافقین رسول(ص) کے نوشتہ پر معترض ہوں۔ اس کی قدح کریں کیونکہ وہ نوشتہ مرض کی حالت میں لکھا ہوا ہوتا اور اس وجہ سے بڑے فتنہ و فساد کا باعث ہوتا اس لیے حضرت عمر نے کہا کہ : حسبنا کتاب اﷲ۔” ہمارے لیے کتابِ خدا کافی ہے۔” کیونکہ خود خداوند عالم نے فرمایا ہے :
“ما فَرَّطْنا فِي الْكِتابِ مِنْ شَيْءٍ ”
نیز یہ بھی ارشاد ہوا :
“ِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دينَكُم ”
غالبا حضرت عمر کو اپنے طور پر اطمینان تھا کہ امت تو گمراہ ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ خداوند عالم دین کو کامل اور امت پر اپنی نعمت کا اتمام کرچکا ہے لہذا جب امت کی گمراہی کا خوف ہی نہ تھا ۔ تو اب نوشتہ لکھنے کی ضرورت ہی کیا تھا۔
یہ ان لوگوں کے جوابات ہیں اور یہ جس قدر رکیک ہیں وہ آپ سے پوشیدہ نہیں کیونکہ رسول(ص) کا یہ فقرہ “ لا تضلوا بعدی” تاکہ تم گمراہ نہ ہو بتاتا ہے کہ آپ کا حکم ، حکم قطعی ، حکمِ لازمی تھا۔ کیونکہ ایسے امر میں جو ضلالت سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہو قدرت رکھتے ہوئے ہر ممکن جد وجہد کرنا بیشک و شبہ واجب و لازم ہے ۔ نیز آںحضرت (ص) پر اس فقرہ کا ناگوار گزرنا اور حضرت
عمر وغیرہ کے اس جملہ کا برا ماننا اور ان لوگوں کے تعمیل حکم نہ کرنے پر آپ(ص) کا ارشاد فرمانا کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ یہ بھی دلیل ہے کہ آپ نے دوات و کاغذ لانے کا جو حکم دیا وہ حکم واجب ولازم تھا۔ بغرض مشورہ آپ نے نہیں فرمایا تھا۔
اگر کوئی کہے کہ نوشتہ لکھنا اگر ایسا ہی واجب و لازم تھا تو محض چند لوگوں کی مخالفت سے آپ نے نوشتہ لکھنے کا ارادہ ترک کیوں کر دیا جس طرح کافرین آپ کی تبلیغ اسلام کے مخالف تھے مگر پھر بھی آپ تبلیغ سے باز نہ رہے اسی طرح اگر کچھ لوگ کاغذ و دوات لانے کے مخالف تھے تو آپ نے ان کی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نوشتہ لکھ کر کیوں نہیں دیا، تو میں کہوں گا کہ آپ کا یہ کہنا ٹھیک بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوشتہ کا لکھنا رسول(ص) پر واجب نہیں تھا لیکن رسول(ص) پر لکھنا واجب نہ ہونے سے کب ضروری ہے کہ ان لوگوں پر رسول(ص) کا حکم ماننا اور کاغذ و دوات کا لانا بھی واجب نہ تھا ۔ ہوسکتا ہے کہ نوشتہ کا لکھنا رسول(ص) پر واجب نہ رہا ہو مگر ان لوگوں پر دوات و کاغذ کا لانا واجب و لازم ہو جبکہ رسول(ص) نے لانے کا حکم دیا تھا اور اس کا فائدہ بھی بتایا تھا کہ گمراہی سے ہمیشہ کے لیے بے خوف ہوجاؤ گے اور ہمیشہ راہ ہدایت پر باقی رہو گے کیونکہ فی الواقع امر کا وجوب مامور سے متعلق ہوتا ہے نہ کہ آمر سے خصوصا جبکہ امر کا فائدہ مامور کو پہنچتا ہو لہذا بحث یہاں یہ ہے کہ ان لوگوں پر امر کا بجالانا واجب تھا یا نہیں ۔ رسول(ص) نے ان لوگوں کو کاغذ و دوات کا جو حکم دیا تھا تو کاغذ و دوات کا لانا ان لوگوں پر لازم تھا یا نہیں۔ محل بحث یہ نہیں کہ رسول(ص) پر لکھنا واجب تھا یا نہیں؟
علاوہ برین یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لکھنا رسول(ص) پر بھی واجب تھا لیکن لوگوں کی مخالفت اور رسول(ص) کا کہا نہ ماننے اور یہ کہنے سے کہ رسول(ص) ہذیان بک رہے ہیں۔ رسول(ص) سے وجوب ساقط ہوگیا ہو۔ کیونکہ رسول(ص) اب سمجھتے بھی تو سوا فتنہ و فساد کے لکھنے کا اور کوئی فائدہ نہ ہوتا ۔ لہذا جو چیز باعث فساد ہو جس سے فتنہ برپا ہوجانے کا ڈر ہو اس کا کرنا رسول(ص) پر واجب کیسے ہوگا؟
بعض حضرات نے یہ عذر بھی بیان کیا ہے کہ حضرت عمر حدیث کا ملطب نہ سمجھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ وہ نوشتہ امت کے ہر فرد کے لیے گمراہی سے بچنے کا ایسا ذریعہ کیونکر ہوگا کہ قطعی طور پر کوئی گمراہ ہی نہ ہوسکے بلکہ حضرت عمر ، رسول(ص) کے اس جملہ سے کہ لا تضلوا ۔” تم گمراہ نہ ہوگے” یہ مطلب سمجھے کہ تم سب کے سب کل کے کل گمراہی پر مجتمع نہ ہوگے اور نوشتہ لکھنے کے بعد کسی ایک فرد میں بھی گمراہی سرایت نہ کرے گی اور حضرت عمر یہ پہلے ہی جانتے تھے کہ امت کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی اسی وجہ سے آپ نے نوشتہ کو بیکار سمجھے اور یہ خیال کیا کہ رسول(ص) کا نوشتہ لکھنے سے مقصود صرف مزید احتیاط ہے اور کچھ نہیں کیونکہ آپ مجسم رحمت واقع ہوئے ہیں اس لیے آپ کا رحم و کرم چاہتا ہے کہ جہاں تک ہوسکے ان کے گمراہی سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر کردی جائیں۔ یہی سمجھ کر حضرت عمر نے آپ کو وہ جواب دیا۔ یہ طے کر کے کہ یہ رسول(ص) کا حکم واجبی حکم نہیں بلکہ رحم وکرم کی وجہ سے ایسا فرمارہے ہیں۔ حضرت عمر کی اس تیزی اور جلد بازی کی معذرت میں یہی باتیں بیان کی گئی ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ اگر ںظر غائر سے دیکھا جائے تو یہ سب کے سب رکیک و مہمل ہیں کیونکہ رسول(ص) کا یہ فقرہ لا تضلوا بعدی۔” تاکہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہو ، خود بتاتا ہے کہ امر ایجابی تھا نہ کہ کچھ اور۔
اور رسول(ص) کا ان لوگوں پر غضب ناک ہونا ان سے رنجیدہ ہونا، یہ دلیل ہے کہ صحابہ نے ایک امر واجب کو ترک کیا لہذا سب سے بہتر یہ جواب ہے کہ یہ واقعہ در حقیقت ان صحابہ کی سیرت کے نا مناسب تھا اور ان کی شان سے بعید تھا۔ یہ ایک لغزش تھی جو ہوگئی اور ناگہانی بات تھی جو پیش آئی ۔
س
جواب مکتوب
عذر و معذرت صحیح نہیں
آپ کے جیسے اہل علم کے لیے یہی زیبا ہے کہ حق بات کہیں اور درست بات زبان سے نکالیں۔
واقعہ قرطاس کے متعلق آپ کے علمء اعلام کی تاویلات و اعذار جن کی آپ نے اپنے مکتوب میں تردید کی ہے تو ان تاویلات و اعذار کی تردید میں اور بہت سے گوشے باقی رہ گئے ہی۔ جی چاہتا ہے کہ انھیں بھی عرض کر دوں تاکہ اس مسئلے میں خود آپ ہی فیصلہ فرمائیں۔
پہلا جواب یہ دیا گیا ہے کہ رسول(ص) نے جس وقت قلم و دوات لانے کا حکم دیا تھا تو شاید کچھ لکھنے کا آپ کا ارادہ نہ تھا ۔ بلکہ محض آزمانا مقصود تھا آپ کو۔ اور کچھ نہیں۔
آپ نے اس جواب کی رد میں جو کچھ فرمایا ہے اس کے علاوہ میں کہتا ہوں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آںحضرت(ص) کا دمِ واپسین تھا۔ حالتِ احتضار طاری تھی جیسا کہ حدیث سے صراحت ہوئی ہے۔ لہذا وہ وقت
اختبار و امتحان کا نہ تھا بلکہ اعذار و انذار کا تھا۔ ہر امر ضروری کے لیے وصیت کرجانے کا وقت تھا اور امت کے ساتھ پوری بھلائی کرنے کا موقع تھا۔ جو شخص دم توڑ رہا ہو بھلا دل لگی اور مذاق سے اسے کیا واسطہ ،اسے تو خود اپنی پڑی ہوتی ہے، اہم امور پر اسکی توجہ رہتی ہے۔ اپنے تعلق والوں کی مہمات میں اس کا دھیاں ہوتا ہے۔ خصوصا جب وہ دم توڑنے والا بنی ہو نیز جب اس نے بحالت صحت اپنے پورے عرصہ حیات میں اختبار نہ لیا تو وقت اختضار کیا اختبار و امتحان لیتا۔
علاوہ اس کے شور غل کرنے چیخ وپکار مچانے پر ان لوگوںسے رسول(ص) کا کہنا کہ : “ قوموا عنی” میرے پاس سے اٹھ جاؤ” صاف صاف بتاتا ہے کہ رسول(ص) کو ان لوگوں سے صدمہ پہنچا ۔ آپ رنجیدہ ہوئے ۔ اگر نوشتہ لکھنے سے روکنے والے ہی جادہ ثواب پر ہوتے تو ان کے روکنے کو رسول(ص) پسند فرماتے، مسرت کا اظہار فرماتے۔
اگر آپ حدیث کے گردو پیش پر نظر ڈالیے ، خصوصا ان لوگوں کے فقرے پر غور فرمائیے کہ ہجر رسول اﷲ ” رسول اﷲ(ص) ہذیان بک رہے ہیں۔” تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت عمر اور ان کے تمام ہوا خواہ جانتے تھے کہ رسول(ص) ایسی بات لکھنا چاہتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں ۔ اسی وجہ سے ایسا فقرہ کہہ کر ناگہانی صدمہ پہنچایا گیا رسول(ص) کو اور آپ(ص) کے حضور میں انتہا سے زیادہ شور و غل مچایا گیا۔ اختلافات خوب اچھالے گئے۔ جناب ابن عباس کا اس واقعہ کو یاد کر کے شدت سے گریہ کرنا اور اس واقعہ کو مصیبت شمار کرنا یہ بھی اس جواب کے باطل ہونے کی بڑی قوی دلیل ہے۔
معذرت کرنے والے کہتے ہیں کہ حضرت عمر مصالح کے پہچاننے میں
موفق للصواب تھے اور خدا کی جانب سے آپ پر الہام ہوا کرتا تھا۔ یہ معذرت اسی ہے کہ اس پر توجہ ہی نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ کہنے سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ میں راستی و درستی حضرت عمر کی طرف تھی نہ کہ رسول(ص) کی طرف ۔ نیز یہ کہ حضرت عمر کا اس دن کا الہام اس دن کی وحی جو رسول(ص) پر امین وحی لے کر نازل ہوئے زیادہ سچ تھا۔ بعض علماء نے حضرت عمر کی طرف سے یہ معذرت کی ہے کہ حضرت عمر رسول(ص) کی تکلیف کم کرنا چاہتے تھے ۔بیماری کی حالت میں رسول(ص) لکھنے کی زحمت کرتے تو آپ کا تعب اور بڑھ جاتا۔ اسی تعب کے بڑھنے کے خوف سے حضرت عمر نے ایسا فقرہ کہا۔
مگر آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نوشتہ لکھنے میں رسول(ص) کے دل کو زیادہ راحت ہوتی۔ آپ کا دل زیادہ ٹھنڈا ، آنکھیں زیادہ خنک اور امت کی گمراہی سے آپ زیادہ بے خوف ہوجاتے۔ رسول(ص) کی فرمائش قلم و دوات کے متعلق تھی کسی کو حضرت کی تجویز کے خلاف قدم اٹھانا صحیح نہ تھا۔
“وَ ما كانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لا مُؤْمِنَةٍ إِذا قَضَى اللَّهُ وَ رَسُولُهُ أَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ”
علاوہ اس کے حضرت عمر اور ان کے ہواخواہوں کا مخالفت کرنا ، اس اہم ترین مقصد میں رکاوٹ ڈالنا اور رسول(ص) کی نظروں کے سامنے شور و غل مچانا ، جھگڑا فساد کرنا یہ زیادہ شاق تھا، زیادہ گران تھا رسول(ص) پر بہ نسبت
ایسا نوشتہ لکھنے کے جس سے امت ہمیشہ کےلیے گمراہی سے محفوظ ہو جاتی۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ حضرت عمر سے رسول(ص) کی اتنی زحمت تو دیکھی نہ گئی کہ آپ بیماری کی حالت میں نوشتہ تحریر فرمائیں مگر ایسا کرنے میں انھیں کوئی تامل نہ ہوا کہ رسول(ص) قلم و دوات مانگیں اور وہ تکرار لگیں۔ ہذیان بک رہے ہیں۔” کہہ کر ناگہانی صدمہ پہنچائیں۔ لکھنے میں اگر زحمت بھی ہوتی رسول(ص) کو تو کیا اس دلی صدمہ سے بڑھ کر ہوتی؟
لوگوں نے حضرت عمر کی طرف سے معذرت کا ، بڑی نادر بات کہ گئی۔ غور تو فرمائیے کہ جب رسول(ص) کو خود حکم دیں کہ قلم و دوات لاؤ، تو قلم ودوات کا نہ لانا بہتر ہوگا۔ کیونکر ہوگا ۔ کیا حضرت عمر یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ رسول(ص) ایسی چیز کا حکم دیا کرتے ہیں جس چیز کا ترک کرنا ہی زیادہ مناسب ہے۔
اس سے بڑھ کر حیرت خیز ان لوگوں کا یہ قول ہے کہ حضرت عمر ڈرے کہ رسول(ص) کہیں اسی باتیں نہ لکھ جائیں جس کے کرنے سے لوگ عاجز رہیں اور نہ کرنے پر سزا وار عقوبت ٹھہریں۔
غور فرمائیے کہ رسول(ص) کے یہ کہنے کے بعد “ تاکہ تم گمراہ نہ ہو۔” حضرت عمر کا ڈرنا کہاں تک بجا تھا ۔ کیا حضرت عمر رسول(ص) سے زیادہ انجام سے باخبر رسول(ص) سے زیاہ محتاط اور امت پر بہ نسبت رسول(ص) کے زیادہ مہربان تھے؟ کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا، کون بھلا یہ ماننے پر تیار ہوسکے گا؟
یہ بھی لوگوں نے حضرت عمر کی طرف سے معذرت پیش کی ہے کہ حضرت عمر کو منافقین کی طرف سے اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں حالت مرض میں نوشتہ تحریر ہونے کی وجہ سے اس نوشتہ کی صحت میں قدح نہ کریں مگر
آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بھی غلط ہے۔ رسول(ص) کے لا ضلوا کہنے کے بعد اس اندیشہ کی کوئی وجہ ہی نہ تھی کیونکہ رسول(ص) جب خود وضاحت فرمادیں کہ میرا نوشتہ گمراہی سے محفوظ رہنے کا سبب ہوگا پھر منافقین کی قدح کی وجہ سے وہ نوشتہ باعث فتنہ و فساد کیونکر ہوجائے گا۔
اگر حضرت عمر منافقین ہی سے ڈرتے تھے ۔ ان کو یہی اندیشہ تھا کہ منافقین نوشتہ کی صحت میں قدح نہ کریں تو خود منافقین کے لیے انھوں نے قدح کا تخم کیوں بویا؟ رسول(ص) کی بات کا جواب دے کر، لکھنے سے روک کر،“ ہذیان بک رہے ہیں” کہہ کر منافقین کے لیے راہ کیوں پیدا کر دی؟
حضرت عمر کے ہواخواہ ان کے فقرہ“ حسبنا کتاب اﷲ” کی تفسیر میں یہ جو کہتے ہیں کہ خود خداوند کریم نے ارشاد فرمایا ہے:
نیز ارشاد الہی :
تویہ درست نہیں اور نہ خداوند عالم کے ارشاد سے حضرت عمر کے فقرہ کی تائید ہوتی ہے کیونکہ آیت سے یہ تو نہیں نکلتا کہ امت گمراہی سے ہمیشہ کے محفوظ بھی ہوگئی ہے نہ یہ آیتیں ہدایت خلق کی ضامن ہیں۔ پھر ان دونوں آیتوں پر بھروسہ کر کے نوشتہ رسول(ص) سے بے پرواہی کیونکر جائز ہوگی؟ اگر قرآن کا وجود ہی گمراہی سے محفوظ رہنے کا موجب ہوتا تو یہ گمراہی کیوں ہوتی ؟ اتنی پراگندگی کیون ہوتی؟ جس کے دور ہونے کی وجہ سے قریب قریب مایوسی ہوچکی ہے۔
حضرت عمر کی طرف سے آخری جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت عمر
ارشادِ رسول(ص) کا مطلب نہیں سمجھے ، ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ وہ نوشتہ امت کے ہرہر فرد کے لیے گمراہی سے بچنے کا ذریعہ ہوگا بلکہ حضرت عمر، رسول(ص) کے اس جملہ سے کہ لا تضلوا بعدی” تم میرے بعد گمراہ نہ ہوگے۔” یہ سمجھے کہ رسول(ص) کا نوشتہ گمراہی پر مجتمع نہ ہونے کا سبب ہوگا۔ اس نوشتہ کا فائدہ یہ ہوگا کہ امت والے گمراہی پر متفق و متحد نہ ہوں گے اور حضرت عمر یہ پہلے ہی سے جانتے تھے کہ امت والے کبھی گمراہی پر مجتمع ہی نہ ہوں گے چاہے نوشتہ لکھا جائے یا نہ لکھا جائے۔ اسی وجہ سے آپ نے اس موقع پر ایسا جواب دیا اور نوشتہ لکھنے سے مانع ہوئے۔ اس کی تردید میں آپ نے جو کچھ کہا وہ تو کہا ہی ہے میں عرض کرتا ہوں کہ حضرت عمر اس قدر ناسمجھ نہ تھے اور نہ یہ حدیث جس کا مطلب سب پر واضح و روشن تھا کہ ان کی سمجھ میں نہ آسکی کیونکہ قولِ رسول(ص) سے ہر شہری اور دیہاتی کی سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ اگر رسول(ص) وہ نوشتہ لکھ دیتے تو ہر فرد کے لیے گمراہی سے محفوظ رہنے کی علتِ تامہ ہوتا وہ نوشتہ یہی معنی یہی مفہوم اس حدیث سے ساری دنیا کی سمجھ میں آتے ہیں۔
حضرت عمر بھی یقینی طور پر جانتے تھے کہ رسول(ص) کو امت کی طرف سے گمراہی پر مجتمع ہونے کا خطرہ نہیں کیونکہ حضرت عمر رسول(ص) کا یہ ارشاد سنتے رہتے تھے کہ :
ہمیشہ میر امت سے ایک جماعت حق کی حمایتی ہوگی ۔ نیز حضرت عمر نے خداوند عالم کا یہ ارشاد بھی سنا تھا:
اسی طرح کی اور بہت سی کلام مجید کی واضح آیتیں اور احادیث پیغمبر(ص) میں سے صریحی حدیثیں حضرت عمر اس بارے میں سن چکے تھے کہ امت کل کی کل کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی لہذا اس کا دھیان بھی نہیں ہوسکتا کہ باوجود یہ سب سننے کے جب رسول(ص) نے قلم و دوات طلب کیے تو حضرت عمر یا دوسرے لوگوں کے ذہن میں خطور ہوا ہوگا کہ رسول(ص) اپنی امت کے گمراہی پر مجتمع ہونے کا خوف رکھتے ہیں۔ جبھی قلم و دوات طلب کر رہے ہیں۔ حضرت عمر کے مناسب حال تو یہ ہے کہ وہ بھی اس حدیث سےوہی سمجھیں جو دینا سمجھ رہی ہے نہ کہ ایسی بات سمجھیں جس کی آیاتِ کلام مجید بھی نفی کریں اور صحیح حدیثیں بھی۔
علاوہ اس کے رسالت ماب(ص) کا اظہار ناگواری کرنا اور میرے پاس سے اٹھ جاؤ فرمانا یہ بھی دلیل ہے کہ جس بات کو ان لوگوں نے ترک کردیا ہے واجب تھی ۔ قلم و دوات جو رسول(ص) نے مانگی تھی وہ لانا ضروری تھی۔ انھیں نہ لاکر انھوں نے ترک واجب کیا۔
اچھا مان لیا میں نے کہ حضرت عمر نے رسول(ص) کی مخالفت جو کی اور آپ کے پاس قلم و دوات لانے جو نہ دیا وہ غلط فہمی کی وجہ سے تھا۔ رسول(ص) کی بات ان کی سمجھ میں نہ آسکی اس وجہ سے ایسا ہوا۔ ایسی حالت میں رسول(ص) کو کیا چاہیے تھا۔ ایسے وقت میں رسول(ص) کو تو چاہیے تھا کہ آپ ان کے شکوک و شبہات زائل کردیں۔ اچھی طرح اپنا مقصد واضح فرمادیں بلکہ رسول(ص) کے لیے
اس کی بھی گنجائش تھی کہ ان کو جس بات کاحکم دیا تھا اس پر مجبور فرماتے لیکن رسول(ص) نے یہ سب کچھ نہیں کیا بلکہ اپنے پاس سے اٹھا دیا ۔ قوموا عنی۔ ” تم میرے پاس سے اٹھ جاؤ” معلوم ہوا کہ رسول(ص) جانتے تھے کہ حضرت عمر کی مخالفت غلط فہمی کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور جذبہ کے ماتحت وہ ایسا کہہ رہے تھے اسی لیے آپ نے پاس سے دور ہوجانے کا حکم دیا۔
جناب ابن عباس کا گریہ فرمانا ، نالہ و فریاد کرنا اس دن کو یاد کر کے یہ بھی ہمارے بیان کا پورا پورا موید ہے۔ صاف تو یہ ہے کہ یہ ( حضرت عمر کی لائی ہوئی) وہ زبردست مصیبت ہے جس میں کسی عذر کی گنجائش ہی نہیں ۔ اگر آپ کے کہنے کی بنا پر اس واقعہ اندوہناک کو صحابہ کی ایک لغزش ان کی ایک فرد گزاشت کہہ کر ختم کر دیا جائے تو بات آسان تھی اگر چہ محض یہ ایک واقعہ ہی زمانے بھر کو ہلاک کردینے والا کمر کو شکستہ کردینے والا ہے۔
ش
مکتوب نمبر45
عذر و معذرت کے لغو ہونے کا اعتراف بقیہ مورد کے متعلق استفتاء
آپ نے معذرت کرنے والوں کی تمام رائیں کاٹ دیں اور ان پر تمام راستے بند کردیے اور ان کے اور ان کے اغراض کے درمیان دیوار کھڑی کردی۔ جو کچھ آپ نے بیان فرمایا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہی۔ آپ انا سلسلہ بیان جاری رکھیے اور ان تمام مواقع کا ذکر فرمائیے جہاں صحابہ نے ںصوص پر عمل نہ کیا اور من مانی تاویلیں کیں۔
س
جواب مکتوب
جیش اسامہ
آپ کا حکم ہے کہ میں وہ سارے موارد بیان کروں جہاں صحابہ نے اطاعتِ قول پیغمبر(ص) پر اپنی رائے کو مقدم سمجھا۔
اچھا تو لشکر اسامہ کا واقعہ ملاحظہ فرمائیے ۔ لشکر اسامہ رسول(ص) کی زندگی کا آخری لشکر تھا جسے آپ نے روم کی طرف لڑنے کو بھیجا تھا۔ اس لشکر کی روانگی میں آپ نے اہتمام عظیم فرمایا تھا اور تمام صحابہ کو تیاری کا حکم دیا تھا مسلمانوں کے ارادوں کو مضبوط اور ان کی ہمتوں کو بڑھانے کے لیے لشکر کے سازو سامان کی فراہمی آپ نے خود بنفس نفیس فرمائی۔
مہاجرین و اںصار کے سر برآوردہ افراد جیسے حضرت ابوبکر(1) وعمر ابو عبیدہ،
--------------
1ـ جملہ اہل سیر ومورخین کا اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر بھی اس لشکر میں تھے۔ ملاحظہ ہو طبقات ابن سعد ، تاریخ طبری و تاریخ کامل ، سیرت سلانیہ وغیرہ، علامہ حلبی وغیرہ نے اسی جیش اسامہ کے ذکر کے سلسلہ میں بڑے مزے کا ایک واقعہ بھی ذکر کیا ہے۔ خلیفہ مہدی جب بصرہ آیا تو اس نے ایاس بن معاویہ کو جو اس وقت بہت کم سن تھے اور جن کی ذہانت و فراست بطور ضرب المثل مشہور ہے امامت کرتے اور چار سو بوڑے علماء فقہاء کو ان کے پیچھے نماز پڑھتے دیکھا ۔مہدی نے کہا خدا ان داڑھی والوں کو غارت کرے کیا اتنے لوگوں میں کوئی اس قابل نہیں ہے کہ آگے بڑھ کر نماز پڑھا دے پھر مہدی خود ایاس کی طرف بڑھا صاحبزادے کیا سن ہے تمھارا ؟ ایاس نے جواب دیا حضور میرا سن اس وقت وہی ہے خدا حضور کو زندہ سلامت رکھے جو اسامہ بن زید کا اس وقت تھا جب رسول(ص) خدا نے انھیں لشکر کا افسر مقرر کیا تھا جس میں حضرت عمر بھی اور حضرت ابوبکر بھی۔ مہدی نے کہا آگے بڑھو خدا تمہیں برکت دے ( بے شک تم امامت کے مستحق ہو) علامہ حلبی لکھتے ہیں اس وقت اسامہ کا سن سترہ سال کا تھا۔
سعد ابن ابی وقاص ، وغیرہ میں سے کوئی بھی فرد ایسا نہ بچا جسے فوج میں رسول(ص) نے رکھا(1) ہو۔ یہ سنہ11ھ ماہ صفر 26 تاریخ کا واقعہ ہے جب صبح ہوئی 27 تاریخ آئی تو آپ نے اسامہ کو طلب کیا اور فرمایا کہ :
جب 28 صفر ہوئی تو رسول(ص) کا مرض موت نمایاں ہوا۔ تپ آگئی، سرکا درد بڑھ گیا۔ جب 29 تاریخ ہوئی اور آپ نے
ملاحظہ فرمایا کہ لوگ جانے میں تساہل کر رہے ہیں تو آپ باہر تشریف لائے۔ مسلمانوں کی حمیت کو جنبش میں لانے اور ارادوں کو پختہ بنانے کے لیے آپ نے اپنے ہاتھ سے لشکر کا علم درست کر کے
--------------
1ـ حضرت عمر اسامہ سے کہا کرتے تھے کہ پیغمبر(ص) نے جب انتقال کیا تو تم میرے افسر تھے ۔ اس جملہ کابکثرت مورخین مثلا علامہ حلبی و غیرہ نے ذکر کیا ہے۔
2ـ ابنی شام میں موتہ جہاں جناب جعفر طیار اور زید بن حارث شہید ہوئے تھے کے قریب ایک جگہ ہے۔
اسامہ کو بخشا اور ارشاد فرمایا کہ خدا کا نام لے کر چل کھڑے ہو اور راہِ خدا میں جہاد کرو اور تمام کافروں سے جنگ کرنا۔
اسامہ رسول(ص) کا علم لے کر چلے، علم کو بریدہ کے حوالے کیا۔ مدینہ کے باہر پہنچ کر لشکر سمیت قیام کیا۔ وہاں پہنچ کر مسلمانوں میں پھر سستی پیدا ہوئی ، اور وہاں سے آگے نہ بڑھے۔ باوجودیکہ صحابہ نے ارشادات پیغمبر(ص) سنے۔ جلد روانہ ہونے کا آپ (ص) نے جس قدر سختی کے ساتھ صاف صاف لفظوں میں تاکیدی حکم دیا تھا وہ سنا ۔ جیسے رسول(ص) کا یہ فقرہ : “ صبح سویرے ابنی پڑ چڑھائی کر دو” اور رسول(ص) کا یہ جملہ :“ جلد روانہ ہونا کہ وہاں خبر پہنچنے سے پہلے پہنچ جاؤ۔” غرض اسی طرح اور بہت سے تاکیدی احکام لشکر کی روانگی کے موقع پر دیے تھے مگر صحابہ نےکسی حکم پر عمل نہیں کیا۔ رسول(ص) کی ایک بات بھی نہیں مانی۔ صحابہ میں سے بعض لوگوں نے اسامہ کو افسر مقرر کرنے پر اعتراض بھی کیا جس طرح سابق میں اسامہ کے باپ زید کو افسر مقرر کرنے پر وہ اعتراض کرچکے تھے۔ اور بہت کچھ باتیں اسامہ کے متعلق لوگوں نے کہیں حد سے زیادہ برا بھلا کہا۔ حالانکہ انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خود رسول(ص) نے افسر مقرر کیا ہے۔ اسامہ رسول(ص) کو یہ کہتے بھی سنا کہ :
اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی کہ رسول(ص) باوجود بخار میں ہونے کے اپنے ہاتھ سے علم لشکر درست کر کے اسامہ کے ہاتھ میں دے رہے ہیں مگر باوجود یہ سب دیکھنے اور سننے کے وہ اسامہ کے سردار مقرر کیے جانے پر اعتراض کرنے سے باز نہ رہے ۔ آخر کار ان کے اعتراض و طعنہ زنی سے رسول(ص) شدید غم وغصہ میں اسی بخار کی حالت میں سر پر پٹی باندھے ، چادر اوڑھے باہر تشریف لائے۔ یہ سنیچر
10 ربیع الاول انتقال سے صرف دو یوم پیشتر کا واقعہ ہے۔ آپ منبر پر گئے حمد و ثنائے الہی کے بعد ارشاد فرمایا ( تمام مورخین نے اجتماعی طور پر رسول(ص) کے اس خطبہ کو نقل کیا ہے اور تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ رسول(ص) نے اس دن یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا)
اس کے بعد آںحضرت(ص) نے مسلمانوں کو جلد روانہ ہونے کے جوش دلایا صحابہ آپ سے رخصت ہونے لگے اور لشکر گاہ کی طرف روانہ ہونے شروع ہوئے آںحضرت (ص) انھیں جلد روانگی پر برانگیختہ کرتے رہے ۔ اس کے بعد آپ کے مرض میں شدت پیدا ہو چلی مگر آپ شدتِ مرض میں یہی فرماتے رہے :
یہی جملے برابر دہراتے رہے۔ مگر ادھر لشکر والے سستی ہی برتتے رہے جب 12 ربیع الاول کی صبح ہوئی تو اسامہ لشکر گاہ سے رسول(ص) کی خدمت میں پہنچے رسول(ص) نے فورا روانگی کا انھیں حکم دیا۔ ارشاد فرمایا :
اسامہ نے رسول(ص) کو رخصت کیا اور لشکر گاہ کی طرف واپس ہوئے پھر پلٹے اور ان کے ساتھ حضرت عمر اور ابو عبیدہ تھے۔ یہ لوگ رسول(ص) کے پاس جاپہنچے۔ اس وقت آںحضرت(ص) کا دمِ واپسین تھا۔ اسی دن آپ نے دنیا سے
انتقال کیا۔ رسول(ص) کے انتقال کے بعد علم سمیت لشکر بھی مدینہ واپس آگیا۔
جب حضرت ابوبکر خلیفہ ہوگئے تو اس وقت بھی لوگوں نے چاہا کہ لشکر کی روانگی ملتوی کردی جائے اس کے متعلق حضرت ابوبکر سے لوگوں نے گفتگو بھی کی اور بڑا شدید اصرار کیا باوجودیکہ وہ اپنی آنکھوں سے لشکر کی روانگی میں رسول(ص) کا اہتمام دیکھ چکے تھے۔ جلد جانے کے متعلق فورا لشکر روانہ ہونے کے لیے مسلسل پیغمبر(ص) جو تاکیدیں کیا کیے اسے بھی سنتے رہے۔ خود بنفس نفیس پیغمبر(ص) کا لشکر کا سازو سامان فراہم کرنا ،بحالت تپ اپنے ہاتھ سے علم لشکرسنوار کر اسامہ کے ہاتھ میں دینا۔ یہ سب ان کی آنکھوں کے سامنے کی بات تھی مگر ان کی انتہائی کوشش یہی رہی کہ کسی طرح لشکر کی روانگی روک دی جائے۔ اگر حضرت ابوبکر نہ ہوتے تو لشکر بلا لینے اور رایت لشکر کھول دینے پردہ سب تک چکے تھے ۔ مگر خود حضرت ابوبکر نے نکار کر دیا۔
جب ان لوگوں نے دیکھا کہ لشکر بھیجنے پر ابوبکر تلے بیٹھے ہیں تو حضرت عمر، ابوبکر کے پاس آئے اور بزبان اںصار ان سے درخواست کی کہ اسامہ کو معزول کر کے کسی اور کو افسر مقرر کیا جائے۔ حالانکہ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اسی اسامہ کی افسری پر اعتراض کرنے کا حشر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔ وہ آںحضرت(ص) کا غیظ و غضب اور اسی وجہ سے بخار ، شدید تکلیف میں سر پر پٹی باندھے چادر اوڑھے ہوئے گھر سے باہر آنا، لڑ کھڑاتی چال ڈگمگاتے قدم، صدمہ کی وجہ سے سنبھلا نہیں جاتا۔ آپ کا منبر پر جانا، ٹھنڈی سانسیں بھرنا اور فرمانا کہ :
--------------
1ـ جملہ اہل سیر و مورخین جنھوں نے معرکہ اسامہ کا اپنی تالیفات میں ذکر کیا ہے انھوں نے اسامہ کے افسر بنائے جانے پر صحابہ کے اعتراض اور پیغمبر(ص) کی غضب ناکی اور بحالت تپ مسجد میں تشریف لانے اور خطبہ فرمانے کا ذکر بھی کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو طبقات ابن سعد ، سیرت حلبیہ ، سیرت وحلانی وغیرہ۔
2ـ ملاحظہ ہو سیرت حلبیہ و سیرت دحلانی اور تاریخ طبری بر ذیل واقعات سنہ11 ھ اور دیگر کتب تاریخ و سیر۔
3ـ اسامہ اس جنگ میں ہر طرح کامیاب و مںصور رہے اور پیغمبر(ص) نے جو ہدایتیں فرمائی تھیں سب عمل میں لائے ۔ اپنے باپ کے قاتل کو قتل کیا اور اس جنگ میں ایک مسلمان بھی مقتول نہ ہوا۔
جب لشکر روانہ ہوا تو تین ہزار سپاہی اسامہ لے کر چلے جس میں ایک ہزار سوار تھے۔ ایک اچھی خاصی تعداد صحابہ کی جنھیں خود رسول(ص) نے فوج میں رکھا تھا اسامہ کے ساتھ جانے کا تاکیدی حکم دیا تھا لشکر کے ہمراہ نہ جانا تھا نہ گئی ۔ حالانکہ رسالتماب(ص) نے بڑی تاکیدسے پیہم فرمایا تھا ( جیسا کہ علامہ شہرستانی کتاب الملل و النحل مقدمہ چہارم میں رقمطراز ہیں۔)
آپ سمجھ سکتے ہیں صحابہ نے ابتداء رسول(ص) کی زندگی میں جانے میں تساہلی برتی اور آخر میں رسول(ص) کے بعد جب آخر کار لشکر روانہ ہوا بھی تو لشکر کے ہمراہ جانے سے گریر کیا۔ فوج کے ساتھ نہ گئے۔ اسی لیے تاکہ سیاست کے ستوں استوار کرلیں انھوں نے حکم رسول(ص) کی تعمیل پر سیاست کو ترجیح دی ، امور مملکت کا انتظام و اںصرام مقدم رکھا ۔ رسول(ص) کے تاکیدی احکام پسِ پشت ڈالے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہماری سستی اور کاہلی کی بنا پر لشکر کے
ساتھ نہ جانے کی وجہ سے لشکر کی روانگی ملتوی نہیں ہوگی۔ لشکر تو بہر حال جائے گا چاہے ہم جائیں یا نہ جائیں۔ لیکن
اگر ہم محاذ جنگ پر رسول(ص) کے انتقال کے قبل ہی چلے جاتے ہیں تو ہمارے آتے آتے خلافت کا مسئلہ طے ہوچکا ہوگا اور اب تک خلافت کے لیے دل میں جو تمنائیں پرورش پا رہی تھیں ان کا خون ہوجائے گ۔ ساری امیدیں خاک میں مل جائیںگی اور ہمیشہ کے لیے خلافت سے محروم ہوجائیں گے۔
حضور سرورکائنات(ص) چاہتے تھے کہ مدینہ ان لوگوں سے خالی ہوجائے تاکہ ان کی عدم موجودگی میں امیر المومنین(ع) کی خلافت کے لیے کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔
اور سکون و اطمینان کےساتھ بغیر کسی اختلاف و نزاع کے امیرالمومنین(ع) تخت خلافت پر متمکن ہوجائیں جب یہ صحابہ جنگ سے پلٹیں گے اور یہاں خلافت کا معاملہ طے ہوچکا ہوگا۔ بیعت ہوچکی ہوگی تو پھر نزاع و اختلاف کا انھیں کوئی موقع ہی باقی رہے گا۔
اسامہ کو جب وہ 17 برس(1) کے سن کے تھے افسر مقرر کرنے میں آپ کی یہ مصلحت تھی کہ بعض لوگوں کی گردن ذرا جھنجھوڑ دی جائے ۔ متمرد و سرکش ہسیتوں کو ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دیا جائے نیز اگر اس سے ملتا جلتا واقعہ پیش آئے آپ کسی شخص کو امیر مقرر فرمائیں جوسن میں بڑے بوڑھے صحابیوں سے کم ہوتو بڑائی کے لینے والوں کی طرف سے کسی نزاع کا خدشہ باقی نہ رہے۔ لیکن یہ صحابہ رسول(ص) کی تدبیروں کو سمجھ گئے لہذا انھوں نے اسامہ کے افسر مقرر کرنے پر اعتراضات کرنا شروع کیے۔ رسول(ص) پر طعن کرنے لگے ، ان کے ماتحت بن کر جانے میں سستی کو راہ دی۔ رسول(ص) کے حکم سے مجبور ہوکر چلے بھی تو مدینہ کے باہر جاکر ٹھہر گئے۔ وہاں سے کسی طرح آگے بڑھنا منظور نہ کیا۔ یہاں تک کہ پیغمبر(ص) نے انتقال کیا۔ اب انھیں کوئی کھٹکا باقی نہ تھا۔ پہلی کوشش تو ان کی یہ ہوئی کہ اسامہ کو معزول کر کے کسی اور کو افسر مقرر کیا جائے ۔ پھر
بہت سے لوگ لشکر کے ساتھ نہ گئیے جیسا آپ سن چکے۔
یہ پانچ باتیں اس سریہ اسامہ میں پیش آئیں جن میں صحابہ نے سیاسی امور میں اپنی رائے کو مقدم رکھا اور نصوص پیغمبر(ص) پر عمل کرنے سے سیاسی اغراض میں
--------------
1ـ زیادہ ترمورخین نے 17 برس ہی کی عمر لکھی ہے ، بعض نے 18 برس بعض نے 19 برس بعض نے 20 بیس برس لکھی ہے۔ 20 برس سے زیادہ کی عمر کا کوئی قائل نہیں۔
اپنے اجتہاد کو بہتر جانتے ہوئے صریحی احکام پیغمبر(ص) کی کھلی مخالفت کر کے کے حکم کو ٹھکرا دیا:
1 ـ رسول اﷲ(ص) نے اسامہ کی ماتحتی میں محاذ جنگ پر روانہ ہونے کا حکم دیا لیکن نہ گئے۔
2 ـ سیاسی امور میں اپنی رائے و اجتہاد کو تعمیل حکمِ پیغمبر(ص) سے بہتر جانا۔
3 ـ اسامہ کی افسری پر طعن کیا۔
4ـ رسول(ص) کے انتقال کے بعد کوشش کی کہ لشکر کی روانگی ہی ملتوی کردی جائے۔
5 ـ جب اس میں ناکامی ہوئی تو اسامہ کو معزول کر دینے کےلیے سازشیں کیں۔
ش
مکتوب نمبر46
سریہ اسامہ میں صحابہ کے نہ جانے کی معذرت
یہ صحیح ہے کہ حضرت سرورکائنات(ص) نے صحابہ کو محاذِ جنگ پر جلد روانہ ہونے کی بڑی تاکید کی جیسا کہ آپ نے ذکر فرمایا ہے۔ نیز آپ نے سختی بھی فرمائی چنانچہ آپ نے اسامہ سے فرمایا تھا کہ صبح سویرے ہی اہل انبی پر چڑھائی کر دو۔ آپ نے شام تک کہ مہلت بھی نہ دی نیز آپ نے اسامہ سے فرمایا کہ جلد جاؤ اور سوائے جلد جانے کے آپ کسی بات پر راضی نہ ہوئے لیکن اس کے بعد فورا ہی رسول(ص) کی حالت اتنی سقیم ہوئی کہ امید باقی نہ رہی ۔ اسی وجہ سے صحابہ کے دل ایسی حالت میں رسول(ص) کو چھوڑ کر جانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ وہ مدینہ کے باہر ٹھہر کر انتظار کرتے رہے کہ کیا صورت پیش آتی ہے۔ چونکہ صحابہ کو رسول(ص) کا بڑا خیال تھا ۔ بہت تعلق خاطر
تھا اسی وجہ سے ان سے ایسی فروگذاشت ہوئی۔ ان کے سستی کرنے اور روانگی میں درنگ کرنے سے مقصد کچھ اور نہ تھا۔ دو باتوں میں صرف ایک بات تھی ۔ یا رسول(ص) کو تندرست دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوں یا اگر رسول(ص) کا انتقال ہو جائے تو آپ کی تجہیز و تکفین میں شرکت کا شرف حاصل کریں اور رسول(ص) کے بعد ان کا جو حاکم مقرر ہو اس کے لیے راہ کو ہموار بنائیں۔ لہذا اس انتظار و توقف میں وہ معذور تھے اور ان کی کوئی خطا نہیں۔
رہ گیا اسامہ کی افسری پر ان طعنہ زن ہونا در آںحالیکہ وہ اس بارے میں رسول(ص) کے صریحی احاکم سن چکے تھے۔ قولا و فعلا رسول(ص) کے اہتمام و تاکید کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے تو اس کی وجہ صرف یہ تھے کہ کچھ صحابہ اور ادھیڑ عمر کے کچھ بوڑھے تھے اور اسامہ بہت کم سن ۔ تو ادھیڑ عمر کے لوگوں اور بوڑھوں کے دل کو یہ بات کسی طرح گوارا نہیں ہوسکتی کہ وہ نوجوان کی اطاعت گزاری کریں فطری و طبعی طور پر نوجوان کا حکم ماننے پر وہ کبھی تیار نہیں ہوسکتے۔ لہذا انھوں نے اسامہ کی ماتحتی کو جو ناپسند کیا تو یہ ان کی بدعت نہ تھی بلکہ اقتضائے طبیعت بشری مقتضائے فطرت انسانی انھوں نے ایسا کیا۔
رسول(ص) کے انتقال کےبعد انھوں نے اسامہ کو معزول کرنے کا جو مطالبہ کیا تو اس کے عذر میں بعض علماء نےفرمایا ہے کہ ان لوگوں نے یہ سوچا کہ حضرت ابوبکر بھی اسامہ کی معزولی کو معتبر سمجھتے ہیں ہماری موافقت کریںگے۔ کیونکہ ( بنابر ان کے خیال کے) مصلحت اسی کی مقتضی ہے۔
مگر اںصاف تو یہ ہے کہ اسامہ کو معزول کرنے کا جو انھوں نے مطالبہ کیا تھا ان کے اس مطالبہ کی کوئی معقول وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی در آںحالیکہ رسول(ص) اسی بات پر پہلے کس قدر غیظ و غضب کا اظہار فرماچکے تھے۔ جن
لوگوں نے اسامہ کی سرداری پر اعتراج کیا تھا ان پر کتنا برہم ہوئے تھے کہ بخار کی حالت میں آپ سر پر پڑی باندھے ہوئے چادر اوڑھے ہوئے باہر آئے خطبہ فرمایا اور خطبہ میں کافی زجر و توبیخ کی لہذا اس کے بعد بھی ان کے معذور ہونے کی وجہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔
لشکر کی روانگی کو روک دینے کی جو انھوں نے کوشش کی۔ حضرت ابوبکر سے اس کے لیے اصرار جو کیا باوجودیکہ لشکر کی روانگی کے لیے رسول(ص) کی بے چینی انتہائی اہتمام دیکھ چکے تھے تاکیدی احکام سن چکے تھے تو وہ پایہ تخت اسلامیہ کی حفاظت و احتیاط کے مدںظر تھا۔ ڈرتے تھے کہ جب مدینہ سے روانہ ہو جائے گا تو فوجی طالقت یہاں موجود نہ رہےگی تو کہیں مشرکین ہلہ نہ بول دیں۔ رسول(ص) کی آنکھ بند ہوتے ہی نفاق آشکار ہوچکا تھا ۔یہود و نصاری کے دل قوی ہوگئے تھے ۔ عرب کی متعدد ٹولیاں مرتد ہوچکی تھیں اور بعض جماعتیں زکوة دینے سے انکار کر چکی تھیں، انھیں سب باتوں کو پیش نظر رکھ کر صحابہ نے حضرت ابوبکر سے خواہش ظاہر کی کی آپ اسامہ کو سفر سے روک دیں لیکن حضرت ابوبکر نے انکار کر دیا اور کہا :
حضرت ابوبکر کے متعلق ہمارے علمائ نے یہی بیان کیا ہے۔ رہ گئے ان کے علاوہ اصحاب تو انھوں نے لشکر کو واپس بلا لینے کا جو اردہ ظاہر کیا تو اس میں ان کا عذر ظاہر ہے وہ صرف اسلام کی بہبودی کی خاطر ایسا چاہتے تھے ۔ حضرت ابوبکر و عمر وغیرہ۔ لشکر اسامہ کے ساتھ جو نہ گئے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ انتظام
مملکت میں مصروف تھے۔ مملکت اسلامی کی بنیادیں مضبوط کرنا حکومت کو قوی بنانا، حکومت کی حفاظت مدنظر تھی۔ جس کےبغیر نہ تو دین محفوظ رہ سکتا ہے نہ دین والے۔
آپ نے شہرستانی کی ملل و نحل سےجو حدیث نقل کی ہے وہ مرسل ہے بسلسلہ اسناد مذکور نہیں اور علامہ حلبی و سید دحلانی نے اپنی سیرتوں میں کہا ہے کہ سریہء اسامہ کے موقع پر رسول(ص) نے کوئی حدیث ہی ارشاد نہیں فرمائی ۔ اگر بطریق اہلسنت کوئی حدیث آپ کے پیش نظر ہو تو بیان فرمائیے؟
س
جواب مکتوب
آپ نے یہ تسلیم کیا کہ لشکر اسامہ کے ساتھ جانے میں صحابہ نے تاخیر کی اور باوجودیکہ رسول(ص) جلد روانہ ہونے کا حکم دے چکے تھے ، وہ مدینہ کے باہر جاکر ٹھہر گئے۔ اور آگے جانے میں سستی کرنے لگے۔
آپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ صحابہ باوجودیکہ اسامہ کی افسری کے متعلق صریحی احکام پیغمبر(ص) سن چکے تھے اور اپنی آنکھوں سے رسول(ص) کا اہتمام بھی دیکھ چکے تھے لیکن پھر بھی انھوں نے اسامہ کے افسر مقرر کیے جانے پر اعتراض کیا۔
آپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ صحابہ نے حضرت ابوبکر سے خواہش کی کہ سامہ کو معزل کرید جائے۔ در آنحالیکہ وہ اسامہ کی افسری پر اعتراض کرنے کا حشر دیکھ چکے تھے کہ رسول(ص) کس قدر برہم ہوئے اور اسی کی وجہ سے بخار کی حالت میں سر پر پٹی باندھے چادر اوڑھے باہر تشریف لائے۔ اور خطبہ فرمایا ۔ جس میں کافی زجر و توبیخ کی اور اسی خطبہ میں اس کا بھی اعلان کیا کہ اسامہ افسر مقرر
کیے جانے کے یقینا لائق ہے۔
آپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعد رسول(ص) صحابہ نے حضرت ابوبکر سے خواہش کی کہ رسلو(ص) جو لشکر میدان جنگ کی طرف روانہ کر رہے تھے اس کی روانگی روک دی جائے۔ آپ کو یہ بی تسلیم ہے کہ جب لشکر روانہ ہوا تو بہت سے صحابہ جنھیں خود رسول(ص) نے اسامہ کی ماتحتی میں رکھ کر جانے کا حکم دیا تھا وہ لشکر کے ساتھ نہ گئے۔
آپ نے یہ تمام باتیں تسلیم کیں جس طرح مورخین و محدثین، اربابِ سیر اس کے معترف ہیں ۔ آپ نے یہ بھی اعتراف کیا اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ اس میں معذور تھے۔ آپ کے بیان کا خلاصہ یہ ے کہ انھوں نے ان تمام امور میں اپنے خیال و فکر کی بنا پر اسلام کی مصلحت کو مقدم رکھا۔ حکمِ پیغمبر(ص) کی وجہ سے جو فریضہ ان پر عائد ہوتا تھا اس کی پرواہ نہ کی۔ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں اس کے سوائے ہم نے کیا کہا؟
موضوع کلام ہمارا آپ کا تو یہی ہے کہ صحابہ رسول(ص) کا ہر ہر حکم بجا لاتے تھے یا نہیں۔ پہلے آپ کہتے تھے کہ صحابہ نے رسول(ص) ہر حکم کی پابندی کی اور میں یہ کہتا تھا کہ ہر حکم کی پابندی نہیں کی۔ اب آپ کا اعتراف کرنا کہ ان ( مذکورہ ) احکام پیغمبر(ص) کی انھوں نے اطاعت نہ کی ہمارے ہی قول کی تائید ہے، ہمارا ہی کہا ثابت ہوتا ہے۔ اب رہ گیا یہ کہ صحابہ معذور تھے یاہ نہیں۔ ان احکام کی تعمیل نہ کرنے میں ان کا عذر صحیح تھا یا غلط ، اس سے بحث ہی نہیں یہ موضوع بحث سے خارج ہے۔
جس طرح آپ کو یہ تسلیم ہے کہ صحابہ نے سریہء اسامہ کے معاملہ میں حکم پیغمبر(ص) پس پشت رکھا اور اپنے خیال میں اسلام کے لیے جو مفید سمجھتے تھے اس
کو ترجیح دی۔ اسی طرح آپ یہ کیوں نہیں تسلیم کر لیتے کہ امیرالمومنین(ع) کی خلافت و جانشینی کے متعلقل جس قدر ارشاداتِ رسول(ص) تھے، جتنی تصریحات تھیں پیغمبر(ص) کی غدیر خم کے موقع پر، غزوہ تبوک میں جانے کے وقت وغیرہ وغیرہ اس کو بھی صحابہ نے ٹھکرا دیا اور ان کی نظر میں خلافت کا جو اہتمام اسلام کے لیے مفید تھا اس کو مقدم رکھا۔ حکم پیغمبر(ص) کا ماننا ضروری نہ جانا اور اپنے نظریہ خلافت کو اسلام کے لیے بہتر سمجھا۔
اسامہ کے افسر مقرر کیے جانے پر معترضین نے جو اعتراض کیا تھا ان کی جانب سے معذرت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ہے کہ انھوں نے اس لیے اعتراض کیا کہ اسامہ کم سن تھے صحابہ کچھ ادھیڑ کچھ بوڑھے تھے اور ادھیڑ اور بوڑھے لوگوں کے نفوس کسی نوجوان کی ماتحتی و تابعداری سے عادتا گریزاں ہوتے ہیں۔ ان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ کسی نوجوان کے تابعدار نہ بنیں۔ تو یہی بات آپ ان لوگوں کے متعلق کیوں نہیں کہتے جنھوں نے امیرالمومنین(ع) کی خلافت کے متعلق ںصوص پیغمبر(ص) کو ٹھکرا دیا۔ اس لیے کہ علی(ع) کم سن تھے نو جوان تھے اور وہ لوگ ادھیڑ اور کہن سال بوڑھے تھے۔ انھوںنے بعینہ اسی طرح بوقت وفات سول(ص) علی(ع) کو کم سن سمجھا ، خلافت اور سرداری فوج میں تو زمین و آسمان کا فرق ہے۔لیل و نہار کا تفرقہ ہے۔ جب صرف ایک جنگ کے موقع پر صحابہ کی فطرتیں ایک کم سن کی ماتحتی و تابعداری قبول نہ کرسکتی تھیں تو زندگی بھر کے لیے دینی معاملات میں ایک نوجوان کی اطاعت و فربانبرداری کیسے گوارا کرسکتی تھیں۔
علاوہ اس کے جو آپ نے فرمایا ہے کہ بوڑھوں کی فطرت کسی نوجوان کی تابعداری گوارا نہیں کرسکتی تو اگر آپ نے مطلقا یہ فرمایا ہے یہ مطلب ہے
آپ کا کہ جو بھی بوڑھا ہو وہ نوجوان کی اطاعت پر تیار نہیں ہوسکتا۔ تو قطعا صحیح نہیں کیونکہ کامل الایمان ضعیف و کہن سال مومنین کے نفوس نوجوان کی تابعداری سے جس کی تابعداری بعینہ خدا و رسول(ص) کی تابعداری ہو کبھی گریز نہیں کرتے۔
جیش اسامہ سے تخلف کرنے والوں کے متعلق وہ جو فقرہ تھا جسے علامہ شہرستانی نے بطور مسلمات مرسلا تحریر کیا ہے یعنی :“لعن اللّه من تخلّف عن جيش ”“ خدا لعنت کرے اس پر جو جیش اسامہ سے تخلف کرے۔” تو مرسل ہی نہیں بلکہ بسلسلہ اسناد بھی یہ حدیث کتب احادیث والسیر میں مذکور ہے چنانچہ علامہ جوہری نے کتاب السقیفہ میں اس حدیث کو درج کیا ہے ۔ میں انھیں کی عبارت نقل کیے دیتا ہوں:
“قال أبو بكر و حدثنا أحمد بن إسحاق بن صالح عن أحمد بن سيار عن سعيد بن كثير الأنصاري عن رجاله عن عبد الله بن عبد الرحمن أن رسول الله ص في مرض موته أمر أسامة بن زيد بن حارثة على جيش فيه جلة المهاجرين و الأنصار منهم أبو بكر و عمر و أبو عبيدة بن الجراح و عبد الرحمن بن عوف و طلحة و الزبير و أمره أن يغير على مؤتة حيث قتل أبوه زيد و أن يغزو وادي فلسطين فتثاقل أسامة و تثاقل الجيش بتثاقله و جعل رسول الله ص في مرضه يثقل و يخف و يؤكد القول في
تنفيذ ذلك البعث حتى قال له أسامة بأبي أنت و أمي أ تأذن لي أن أمكث أياما حتى يشفيك الله تعالى فقال اخرج و سر على بركة الله فقال يا رسول الله إن أنا خرجت و أنت على هذه الحال خرجت و في قلبي قرحة منك فقال سر على النصر و العافية فقال يا رسول الله إني أكره أن أسأل عنك الركبان فقال انفذ لما أمرتك به ثم أغمي على رسول الله ص و قام أسامة فتجهز للخروج فلما أفاق رسول الله ص سأل عن أسامة و البعث فأخبر أنهم يتجهزون فجعل يقول انفذوا بعث أسامة لعن الله من تخلف عنه و كرر ذلك فخرج أسامة و اللواء على رأسه و الصحابة بين يديه حتى إذا كان بالجرف نزل و معه أبو بكر و عمر و أكثر المهاجرين و من الأنصار أسيد بن حضير و بشير بن سعد و غيرهم من الوجوه فجاءه رسول أم أيمن يقول له ادخل فإن رسول الله يموت فقام من فوره فدخل المدينة و اللواء معه فجاء به حتى ركزه بباب رسول الله و رسول الله قد مات في تلك الساعة انتهی بعين لفظه”
یہاں تک حدیث کی اصل عبارت تھی۔ اس حدیث کو مورخین کی ایک جماعت نے بھی نقل کیا ہے۔ چنانچہ ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد2 صفحہ 20 پر بھی اس حدیث کو تحریر فرمایا ہے۔
ش
مکتوب نمبر47
سریہ اسامہ کے متعلق ہم لوگ طولانی گفتگو میں پڑ گئے جیسا کہ واقعہ قرطاس میں اچھا خاصہ طول ہوگیا تھا۔ اچھا اب دیگر موارد کا ذکر فرمائیے۔
س
جواب مکتوب
پیغمبر(ص) کا حکم مارق ( دین سے نکل جانے والے) کو قتل کر ڈالو
اچھا وہ روایت ملاحظہ فرمائیے ۔جسے علمائے اعلام اور محدثین اسلام
نے لکھا ہے ۔ امام احمد بن حنبل کے لفظوں میں مسند جلد3 صفحہ 15 پر ابو سعید خدری کی حدیث درج کی ہے :
ابویعلیٰ نے اپنے مسند میں انس سے روایت کی ( جیسا کہ ابن حجر عسقلانی کی اصابہ میں بسلسلہ تذکرہ ذی الثدیہ مذکور ہے) :
ش
مکتوب نمبر48
غالبا حضرت ابوبکر اور عمر دونوں یہ سمجھے کہ رسول(ص) اس شخص کو قتل کرنے کا جو امر فرمارہے ہیں وہ امر استحبابی ہے وجوبی نہیں اور اسی وجہ سے وہ دونوں حضرات قتل کرنے سے باز رہے۔ یا انھوں نے یہ خیال کیا کہ اس کا قتل کرنا ہے تو واجب لیکن واجب کفائی ہے اسی وجہ سے ان دونوں نے یہ سوچ کر ہم نہیں قتل کرتے تو دوسرے لوگ تو قتل ہی کر ڈالیں گے اس کو قتل نہ کیا کیونکہ ایسے اور لوگ بھی تھے جو اس فریضہ کا انجام دے سکتے تھے۔
اور حضرت ابوبکر و عمر جب بغیر قتل کیے پلٹ آئے تو ان کو اس بات کا بھی اندیشہ نہ تھا کہ اس کے بھاگ جانے کی وجہ سے حکم پیغمبر(ص) فوت ہو جائے گا کیونکہ ان حضرات نے اس شخص کو حقیقت حال سے مطلع تو نہیں کیا تھا۔
س
جواب مکتوب
امر حقیقتا وجوب ہی کے لیے ہوتا ہے اور سوائے وجوب کے ذہن میں اور کچھ نہیں آتا لہذا اس کا استحباب پر حمل کرنا جب ہی صحیح ہوسکتا ہے جب کوئی قرینہ بھی موجود ہو اور یہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں ہے جس سے پتہ چلتا کہ یہ حکم استحابی ہے ۔ بلکہ یہاں تو ایسے قرائن موجود ہیں جو تاکیدی طور پربتاتے ہیں کہ یہاں معنی حقیقی مراد ہے۔ یعنی وجوب مقصود ہے نہ کہ کچھ اور لذا آپ ان احادیث کو ایک گہری نظر سے ملاحظہ فرمائیں آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی درست ہے۔ منجملہ اور قرائن کے رسول(ص) کے اس فقرہ پر غور کیجیے:
نیز رسول اﷲ(ص) کا یہ جملہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ :
اس قسم کے جملوں کے بعد بھی کوئی شک باقی رہ جاتا ہے کہ رسول(ص) کا حکم، حکم وجوبی تھا کہ استحابی ۔ایسی عبارت تو وجوب اور تاکید شدید ہی کے لیے
استعال کی جاتی ہے۔
اگر آپ مسند احمد میں اس حدیث کو ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ رول(ص) نے یہ حکم خاص کر حضرت ابوبکر کو دیا تھا۔ ان کے قتل نہ کرنے پر پھر مخصوص طور پر حضرت عمر کو حکم دیا۔ لہذا جو حکم مخصوص کر کے دیاجائے تو واجب کفائی کیونکر ہو جائے گا؟
علاوہ اس کے حدیث سے اس امر کی بھی صراحت ہوتی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر نے اس شخص کے قتل کو جو ناپسند کیا وہ اسی وجہ سے کہ وہ بہت خضوع و خشوع سے نماز پڑھ رہا تھا۔ فقط یہی وجہ تھی اور کوئی سبب قتل سے باز رہنے کا نہ تھا۔ لہذا نبی(ص) تو بحالت نماز اس کو قتل کرنے کا حکم دینا پسند کریں اور حضرت ابوبکر و عمر کو ناگوار ہو اس کو قتل نہ کرکے تعمیل حکم پیغمبر(ص) کو مقدم نہ سمجھیں۔
پس یہ واقعہ بھی منجملہ ان شواہد کے ہے جن سے ثبوت ملتا ہے کہ یہ حضرات حکم پیغمبر(ص) بجالانے سے اپنی رائے پر عمل کرنا زیادہ بہتر سمجھتے تھے ۔ حکمِ پیغمبر(ص) کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہ تھی۔بس جو کچھ تھا ان کا اجتہاد ، ان کی رائے تھی۔
ش
مکتوب نمبر49
آپ بقیہ موارد بیان فرمائیے ۔ کوئی مورد چھوڑیے نہیں کہ مجھے دوبارہ آپ سے التجا کرنی پڑے ۔ طول ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
س
جواب مکتوب
مقامات جہاں صحابہ نے حکمِ پیغمبر(ص) پر عمل نہ کیا
بہت بہتر، منجملہ ان مواقع کے جہاں صحابہ نے حکم پیغمبر(ص) کی مخالفت کی تو سنیے : صلح حدیبیہ میں مخالفت کی۔ جنگ حنین میں مخالفت کی ۔ جنگِ
حنیں میں مال غنیمت جو ہاتھ آیا اس کی تقسیم کے وقت مخالفت کی، جنگِ بدر کے قیدیوں سے جب فدیہ لیا گیا۔ غزوہ تبوک میں جب سامانِ رسد ختم ہوگیا۔ اور فاقہ کی نوبت آئی اور پیغمبر(ص) نے بعض اونٹوں کے نحر کرنے کا حکم دیا اس وقت مخالفت کی۔ جنگِ احد کے دن احد کی گھاٹیوں میں جو حرکتیں سرزد ہوئیں وہ بھی سراسر حکم پیغمبر(ص) کی مخالفت تھی۔
ابوہریرہ والے دن جب آںحضرت(ص) نے خوشخبری دی تھی ہراس شخص کو جو خدا سے موحد بن کر ملاقات کرے ، منافق کی میت پر نماز پڑھنے کے روز۔
خمس و زکوة کی دونوں آیتوں میں۔ تہرے طلاق کی آیت میں تاویل کر کے مخالفت حکم پیغمبر(ص) کی گئی۔ نوافل شہر رمضان کےمتعلق جو احادیث پیغمبر (ص) وارد ہیں ان میں کیفیتا و کمیتا تاویل کر کے مخالفت حکم پیغمبر(ص) ک گئی۔ کیفیت اذان جو پیغمبر(ص) سے منقول ہے اس میں تغیر کر کے حکم پیغمبر(ص) کی مخالفت کی گئی۔
نماز جنازہ میں پیغمبر(ص) نے جتنی تکبیریں کا حکم دیا تھا ان کی تعداد میں کمی بیشی کر کے حکم پیغمبر(ص) کی مخالفت کی گئی۔
غرض کہاں تک ذکر کیا جائے بکثرت موارد ہیں جہاں حکم پیغمبر(ص) کی صریحی مخالفت کی گئی۔ جیسے حاطب بن بلتعہ والے معاملہ معارضہ کرنا۔ مقام ابرہیم(ع) میں رسول(ص) سے جو باتیں ظہور پذیر ہوئیں ان پر لب کشائی اور جیسے مسلمانوں کے گھر کو مسجد میں ملا لینا۔
ابوخراش بزلی کے دنبہ کے بارے میں یمینوں کے خلاف فیصلہ کرنا اور جیسے نصر بن حجاج سلمیٰ کو جلاوطن کرنا۔ جعدہ بن سلیم پر حد
جاری کرنا۔(1) چرا گاہوں پر لگان کو لگانا۔
کیفیت ترتیب جزیہ، شوری کے ذریعہ خلافت کے مسئلہ کے طے کرنا مخصوص طریقے سے رات کو گھومنا، لوگوں کے بھید لینا، ان کی جاسوسی کرنا ، میراث میں عول و تعصیب ، اس کے علاوہ اور بے شمار موارد ہیں جہاں صحابہ نے حکم پیغمبر(ص) کو ٹھکرا دیا۔ زبرستی سے کام لیا، مصالح عامہ کو پیش نظر رکھا۔
ہم نے اپنی کتاب سبیل المومنین میں ایک مستقل باب اس کی نذر کیا ہے۔
اس کے علاوہ اور بھی کچھ ایسے نصوص ہیں( نصوص خلافت و امامت کے علاوہ ) جو خاص کر امیرالمومنین(ع) اور اہل بہت طاہرین(ص) کے متعلق وارد ہوئے اور ان ںصوص پر صحابہ نے عمل نہیں کیا بلکہ ان کی مخالفت کی ۔ ضد پر عمل کیا جیسا کہ تلاش و تجسس سے پتہ چلتا ہے۔
ظاہر ہے کہ جب صحابہ نے ان ںصوص پر عمل نہیں کیا جو خلافت کے متعلق تھے بلکہ ان نصوص کی من مانی تاویلین کیں تو ان ںصوص میں انھوں نے تاویلیں کیں اپنی رائے اجتہاد پر عمل کرنا اطاعت پیغمبر(ص) کرنے اور حکم پیغمبر(ص) ماننے سے بہتر سمجھا اسی طرح ان نصوص میں بھی اپنی رائے کو ترجیح دی۔
ش
--------------
1ـ ملاحظہ فرمائیے طبقات ابن سعد میں حالات حضرت عمر جس سے آپ کا معلوم ہوگا۔ کہ حضرت عمر نے جعدہ پر جب کسی نے اس کے جرم کی گواہی بھی نہ دی اور سوائے ورقہ کے کوئی اس کے جرم کا مدعی ہی تھا حد جاری فرمادی تھی اس پر کسی نے اشعار بھی کہے جو ابن سعد نے لکھے ہیں۔
مکتوب نمبر 50
صحابہ کا مصلحت کو مقدم سمجھنا
کوئی با فہم و بصیرت اس میں شک نہیں کرسکتا کہ صحابہ نے ان تمام موارد میں صریحی احکام پیغمبر(ص) کی جو خلافت کی اور اپنی رائے واجتہاد کو بہتر سمجھا تو اس میں ان کی نیت خراب نہ تھی بلکہ مصلحت عامہ کے خیال سے انھوں نے ایسا کیا۔ کیونکہ ان تمام موارد میں ان کا مقصود یہ رہا کہ امت کی جس میں بھلائی زیادہ ہو اور ملت اسلام کے لیے جو زیادہ بہتر ہو، شوکتِ اسلام جس سے زیادہ بڑھے وہ کرنا چاہیے۔ لہذا انھوں نے جو کچھ کیا اس میں ان پر کوئی جرم عائد نہیں ہوتا۔ خواہ وہ احکام پیغمبر(ص) نہ بجالائے ہوں۔ یا ان میں تاویل کے مرتکب ہوئے ہوں۔ بہر حال ان سے کوئی مواخذہ کیا جاسکتا۔
ہم نے آپ کو زحمت دی تھی کہ ان تمام موارد کا ذکر فرمائیے جہاں صحابہ نے پیغمبر(ص) کی مخالفت کی اپنی خود رائی سے کام لیا۔ آپ نے جواب میں بہت کچھ موارد ذکر فرمائے ۔ اسی سلسلہ میں فرماتے ہیں حضرت علی(ع) اوراہلبیت طاہرین(ع) کے متعلق نصوص خلافت کے علاوہ کچھ اور بھی اسی طرح پیغمبر(ص) نے فرمائے اور جس طرح صحابہ نے ںصوص خلافت کو ٹھکرادیا اسی طرح ان نصوص کو بھی نہ مانا۔ کاش آپ ان ںصوص کا بھی تفصیلا ذکر فرماتے۔
س
جواب مکتوب
موضوع بحث سے باہر ہوجانا
آپ نے تسلیم کیا مذکوزہ بالا موارد میں صحابہ نے پیغمبر(ص) کے نصوص کی مخالفت کی۔ ہمارے کل بیانات کی آپ نےتصدیق کی فالحمد ﷲ۔ رہ گیا آپ کا یہ کہنا کہ ایسا کرنے میں ان کی نیت اچھی تھی اور انھوں نے مصلحت عامہ کو مقدم سمجھا ۔ وہ ہمیشہ امت کی بھلائی اور ملت کی بہتری اور شوکت اسلام کی ترقی کے خواہشمند رہے۔ یہ تو سب محل بحث سے خارج ہے اس سے آپ بھی انکار نہیں کرسکتے۔
آپ نے دریافت کیا تھا کہ صحابہ نے کبِ حکم پیغمبر(ص) نہ مانا اور اپنے اجتہاد و رائے پر چلنا بہتر سمجھا۔ ہم نے وہ مقامات ذکر کردیے اور آپ نے مان بھی لیا
اب رہ گیا یہ کہ انھوں نے کن وجوہ سے حکم پیغمبر(ص) نہ مانا۔ حکم پیغمبر(ص) نہ ماننے میں ان کی نیت اچھی تھی کہ بری اس کا کوئی سوال نہیں۔
مکتوب گرامی کی آخری سطروں میں خواہش کی ہے کہ میں ان نصوص کا تفصیلی ذکر کروں جو خصوصیت سے امیرالمومنین(ص) کے متعلق وارد ہوئے ہیں اور جو ان ںصوص کے علاوہ ہیں جو خلافت سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ اس زمانہ میں امام سنن ہیں۔ تمام سنن واحادیث کے جامع ہیں۔ احادیث وسنن کی تلاش و تحقیق میں آپ نے بڑی محنتیں کی ہیں لہذا کسی کو یہ وہم وگمان بھی نہیں اور نہ کسی کو یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ وہ میرے اشارے کو آپ سے زیادہ سمجھتا ہے۔
تسنن میں آپ کا مد مقابل کوئی ہوسکتا ہے؟ آپ کا کوئی جواب بن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی نے سچ کہا ہے:
“ وکم سائل عن امره وهو عالم”
آپ یقینا جانتے ہوں گے کہ بہتر سے صحابہ حضرت علی(ع) سے بغض رکھتی تھے آپ کے دشمن تھے۔ انھوں نے حضرت علی(ع) سے جدائی اختیار کی آپ کو ذیتیں دیں، سب و شتم کیا۔ آپ پر ظلم کیا، آپ کے حریف بنے۔ آپ سے جنگ کی ۔ خود آپ پر اور آپ کے اہل بیت(ع) پر تلوار چلائی ، جیسا کہ اس زمانے کے بزرگوں کے حالات دیکھنے سے بدیہی طور پر معلوم ہوتا ہے۔
حالانکہ رسول اﷲ نے فرمایا تھا:
نیز آںحضرت(ص) نے فرمایا :
یہ بھی آپ نے فرمایا:
ہم نے اان احادیث و سنن میں سے بہت کچھ ابتدائی خطوط میں ذکر کیے اور جنہیں ذکر کیے وہ بے حد وحساب ہیں۔ ان لوگوں میں سے جن کی نگاہ سنن و احادیث میں بہت وسیع ہے اور ان کی معانی و مطالب بھی پوری طرح جانتے ہیں آپ ہی انصاف سے فرمائیں کہ ان احادیث و سنن میں کوئی ایسی حدیث بھی ملی جو امیرالمومنین(ع) کی مخالفت و عداوت اور آپ نے جنگ کرنے کی اجازت دیتی ہو۔ آپ کی ایذا رسانی، آپ سے بغض و عداوت جائز قرار دیتی ہو۔ آپ کی بیخ کنی، مظالم کے پہاڑ ڈھانے ،بسر منبر آپ کو برا بھلا کہنے کو مناسب بتاتی ہو اور مناسب ہی نہیں بلکہ جمعہ اور عید کے دونوں خطبوں کے لیے سنت قرار دیتی ہوں ہرگز نہیں اور قطعا نہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ ان باتوں کے مرتکب ہوئے انھوں نے ان احادیث کے باوجود ان کے بکثرت اور بتواتر ہونے کے ذرہ برابر پرواہ نہیں کی۔ ان احادیث میں سے کوئی حدیث بھی سیاسی اغراض پوری کرنے میں ان کے لیے مانع نہ ہوسکی۔
وہ لوگ جانتے تھے کہ حضرت علی(ع) رسول(ص) کے بھائی ہیں، آپ کے ولی ہیں، وارث ہیں، ہمراز ہیں، آپ کی عترت کے سرگروہ ہیں آپ کی امت کے ہارون میں۔ آپ کی پارہ جگر کے کفو ہیں۔ آپ کی ذریت کے باپ ہیں اور ان تمام لوگوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں۔ سب سے زیادہ خالص الایمان، سب سے زیادہ علم رکھنے والے۔ سب سے زیادہ عمل کرنے والے سب سے بڑھ کر بردباد، سب سے زیادہ یقین میں پختہ ، سب
سے بڑھ کر اسلام کی خاطر مشقت جھیلنے والے، بلاؤں میں سب سے زیادہ عمدگی سے ثابت قدم رہنے والے، سب سے زیادہ فضائل و مناقب کے مالک اسلام کے سب سے زیادہ حامی، اور ان سب سے زیادہ رسول(ص) سے قرا بت رکھنے والے ہیں۔ رفتا، گفتار، اخلاق و عادات تمام باتوں میں سب سے زیادہ رسول(ص) سے مشانہ ہیں۔ قول و فعل اور خاموشی میں سب سے زیادہ بہتر و افضل ہیں۔
لیکن ذاتی اغراض ہی ان لوگوں کے لیے سب کچھ تھے۔ ہر دلیل پر مقدم تھے۔ لہذا اس کے بعد اگر وہ حدیث غدیر کو نہ مانیں اور ٹھکرا دیں اور اپنی رائے کو مقدم سمجھیں تو کون سا تعجب ہے۔ حدیث غدیر تو ان بے شمار احادیث میں سے فقط ایک حدیث ہے جسے ان لوگوں نے قابل تاویل سمجھا ، واجب العمل نہ جانا اور اپنی رائے و اجتہاد کو ترجیح دی ۔ اپنے مصالح کو مقدم جانا۔ حالانکہ رسول(ص) کہہ چکے تھے کہ :
نیز یہ بھی فرمایا تھا کہ :
ش
مکتوب نمبر51
حضرت علی(ع) نے بروزِ سقیفہ اپنی خلافت و جانشینی کی احادیث سے احتجاج کیوں نہ فرمایا؟
حق بخوبی واضح ہوگیا۔ خدا کا شکر ہے ۔البتہ ایک بات رہ گئی جس سے ذرا اشتباہ باقی رہتا ہے ، میں اس کا ذکر کرتا ہوں تاکہ آپ اس کی نقاب کشائی بھی فرمائیں اور اس کا راز ظاہر فرمائیں اور وہ یہ ہے کہ حضرت علی(ع) نے سقیفہ کے دن حضرت ابوبکر اور ان کی بیعت کرنے والوں کے آگے اپنی خلافت و وصایت کے متعلق کوئی نص بھی پیش نہیں کی۔ آپ بتاسکتے ہیں کہ کیوں؟
س
جواب مکتوب
احتجاج نہ کرنے وجوہ
ساری دنیا جانتی ہے کہ نہ تو حضرت علی (ع) سقیفہ میں موجود تھے اور نہ آپ کے ماننے والوں میں کوئی ایک تھی تھا۔ خواہ وہ بنی ہاشم سے ہوں یا غیر بنی ہاشم کوئی بھی نہ تو بیعت کے وقت موجود تھا اور نہ سقیفہ کے اندر ہی گیا وہ تو بالکل الگ تھلگ تھے اور آںحضرت(ص) کی رحلت کی وجہ سے ان پر جو سخت ترین مصیبت نازل ہوئی تھی اسی میں مبتلا تھے۔ آںحضرت(ص) کے غسل و کفن کی فکر میں پڑے تھے۔ اس وقت انھیں کسی اور بات کے دھیاں بھی نہ تھا۔ یہاں تک کہ جب سقیفہ والوں نے اپنا کام کرلیا تو اب انھوں نے بیعت کو پختہ کرنے کا تہیہ کیا اور خلافت کی گرہ کو اچھی طرح مضبوط کرنے پر کمر بستہ ہوئے اور ہر وہ فعل و قول جس سے ان کی بیعت کمزوہ ہوسکتی یا ان کے عقد خلافت کو خدشہ لاحق ہوتا یا عوام میں تشویش و اضطراب پیدا ہوتا ۔ اس کے روکنے اس پر پہرہ بٹھانے کے لیے ایکا کر لیا۔
تو امیرالمومنین(ع) کو سقیفہ اور بیعت ابی بکر اور بیعت کرنے والوں سے تعلق ہی کیا تھا تاکہ ان پر آپ احتجاج فرماتے اور وہ بھی جب کہ بیعت ہو جانے کےبعد حکومت کے کرتا دھرتا پوری احتیاطی تدابیر کام میں لارہے تھے اور ارباب قوت و اقتدار اعلانیہ جبر و تشدد برت رہے تھے۔
آپ ہی فرمائیے آج کل اگر کوئی شخص حکومت سے ٹکر لینا چاہے، سلطنت
کا تختہ الٹنے پر آمادہ ہوتو کیا اس کے لیے آسان ہے اور کیا ارباب حکومت اس کو اس کے حال پر چھوڑ دینا گوارا کریں گے۔ ہر گز نہیں اور قطعا نہیں۔ اسی طرح اس زمانہ کا آجل کے زمانہ سے اندازہ کیجیے۔
اس کے علاوہ امیرالمومنین(ع) سمجھ رہے تھے کہ اب اگر میں احتجاج بھی کرتا ہوں تو سوا فتنہ و فساد کے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا اور اس نازک وقت میں حق تلفی آپ کو گوارا تھی لیکن یہ کسی طرح منظور نہ تھا کہ فتنہ وفساد برپا ہو کیونکہ امیرالمومنین(ع) اسلام پر آنچ آنے دینا نہیں چاہتے تھے نہ کلمہ توحید کی بربادی آپ کو گوارہ تھی جیسا کہ ہم گزشتہ اوراق میں بیان کرچکے ہیں کہ آپ ان دنوں ایسے شدید ترین مشکلات سے دوچار تھے کہ کسی شخص کو بھی ان مصائب و مشکلات کا سامنا نہ ہوا ہوگا۔
آپ کاندھوں پر دوبار گراں تھے۔ ایک طرف تو خلافت تمام نصوص وصایائے پیغمبر(ص) دل کو خون کر دینے والی آواز اور جگر کو چاک چاک کردینے والی کراہ کے ساتھ آپ سے فریاد ہی تھی آپ کو بے چین بنائے دیتی تھی دوسری طرف فتنہ و فساد کے اٹھتے ہوئے طوفان متاثر کررہے تھے جزیروں کے ہاتھ سے نکل جانے عرب میں انقلاب عظیم برپا ہونے اور اسلام کے بیخ و بن سے اکھڑ جانے کا اندیشہ تھا۔ مدینہ اور آس پاس کے منافقین جو بڑے سرگرم سازشی تھے ان کی طرف سےفتنہ و فساد برپا ہونے کا بڑا خطرہ لاحق تھا کیونکہ رسول(ص) کی آنکھ بند ہونے کے بعد ان کا اثر بہت بڑھتا جاتا تھا اور مسلمانوں کی حالت باکل اس بھیڑ بکری جیسی ہو رہی تھی جو جاڑے کی تاریک راتوں میں بھیڑیوں اور وحشی درندوں میں بھٹکت پھرے۔
مسیلمہ کذاب، طلیحہ بن خویلد ، سجاح بنت حارث ایسے جھوٹے
مدعیاں نبوت پیدا ہوچکے تھے اور ان کے ماننے والے اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کی تباہی و بربادی پر تلے ہوئے تھے۔ قیصر و کسری وغیرہ تاک میں تھے ۔ غرض اور بہت سے دشمن عناصر جو محمد و آل محمد(ص) اور پیرواں محمد(ص) کے خون کے پیاسے تھے ملت اسلام کی طرف سے خار دل میں رکھتے تھے۔ بڑا غم و غصہ اور شدید بغض و عناد رکھتے تھے ، وہ اس فکر میں تھے کہ کسی طرح اس کی بنیاد منہدم ہوجائے اور جڑ اکھڑ جائے اور اس کے لیے بڑی تیزی اور سر گرمی ان میں پیدا ہوچکی تھی۔
وہ سمجھتے تھے کہ ہماری آرزوئیں بر آئیں رسول(ص) کے اٹھ جانے سے موقع ہاتھ آیا، لہذا اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئیے اور قبل اس کے کہ ملت اسلامیہ کے امور میں نظم پیدا ہو، حالات استوار ہوں اس مہلت سے چوکنا چاہئیے۔
اب حضرت علی(ع) ان دو خطروں کے درمیان کھڑے تھے ایک طرف حق چھین رہا تھا ، خلافت ہاتھوں سے جا رہی تھی ۔ دوسری طرف اسلام کے تباہ و برباد ہوجانے اور رسول(ص) کی ساری محنت مٹی میں جانے کا خوف تھا لہذا فطری و طبعی طور پر امیرالمومنین(ع) کے لیے بس یہی راہ نکلتی تھی کہ مسلمانوں کی زندگی کے لیے اپنے حق کو قبربان کردیں لیکن آپ نے اپنے حق خلافت کو محفوظ رکھنے اور انحراف کرنے والوں سے احتجاج کرنے کے لیے ایک ایسی صورت اختیار کی جس سے مسلمانوں میں اختلاف و افتراق نہ پیدا ہو اور کوئی فتنہ ایسا نہ اٹھ کھڑا ہو کہ دشمن موقع غنیمت سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ لہذا آپ خانہ نشین ہوگئے اور جب لوگوں نے مجبور کر کے آپ کو گھر سے نکالا۔ بغیر لڑے بھڑے گھر سے باہر نکلے۔ اگر آپ جلد بازی
سے کام لیتے تو آپ کی حجت پوری نہ ہوتی اور نہ شیعیان امیرالمومنین(ع) کے لیے کوئی ثبوت نمایاں ہوتا۔ آپ نے اپنے طرز سے دین کو بھی حفاظت کی اور اپنے حق خلافت کو بھی محفوظ رکھا۔
اور جب آپ نے دیکھا کہ اسلام کی حفاظت و دشمنوں کی دشمنی کا جواب موجود حالات کے اندر صلح و آشتی پر موقوف ہے تو خود مصالحت کی راہ نکالی اور امت کے امن و امان ، ملت کی حفاظت اور دین کو عزیز رکھتے ہوئے انجام کو آغاز سے بہتر سمجھتے ہوئے شرعا و عقلا اس وقت جو فریضہ عائد ہوتا تھا کہ جو زیادہ اہمیت کا حامل ہو اسے مقدم رکھا جائے۔ آپ نے حکام وقت سے صلح کر لی کیونکہ اس وقت کے حالات تلوار اٹھانے یا حجت و تکرار کرنے کے متحمل نہ تھے۔
ایسا بھی نہیں کہ آپ نے بالکل احتجاج ہی نہ فرمایا ہو۔ باوجود ان تمام باتوں کے آپ، آپ کے فرزند ، آپ کے حلقہ بگوش علماء آپ کے وصی ہونے پر اور آپ کے وصایت و جانشینی کے متعلق جو صریحی ارشادات پیغمبر(ص) ہیں ان کی تبلیغ و اشاعت میں بڑی حکمت سے کام لیا کیے۔ جیسا کہ تلاش و تجسس سے پتہ چلتا ہے ۔
ش
مکتوب نمبر52
حضرت علی(ع) نے کب احتجاج فرمایا؟
امام نے کب احتجاج فرمایا۔ آپ کے آل و اولاد ، آپ کے دوستداروں نے کن مواقع پر احتجاج کیا۔ ہمیں بھی بتائیے۔
س
جواب مکتوب
حضرت علی (ع) اور آپ کے شیعہ کا احتجاج
امام نے ان نصوص اور ارشاداتِ پیغمبر(ص) کی نشرو اشاعت میں جو پیغمبر(ص)
نے آپ کی وصایت و خلافت کے متعلق فرمائے تھے بڑی دل جمعی سے کام کیا۔ چونکہ اسلام کی حفاظت جان سے بڑھ کر عزیز تھی اور مسلمان کے شیرازہ کا بکھر ناکسی طرح منظور تھا۔ اس لیے آپ نصوص کا تذکرہ کر کے اپنے دشمنوں سے جھگڑا مول نہیں لیا۔ چنانچہ آپ نے اپنے سکوت اختیار کرنے اور ان نازک حالات میں اپنے حق کا مطالبہ نہ کرنے کی معذرت بھی بغض مواقع پر فرمائی ہے چنانچہ فرماتے ہیں۔
آپ نے نصوص کی نشر و اشاعت میں ایسے طریقے اختیار کیے جن سے حکمت کا پورا پورا مظاہر ہوا۔ یاد کیجیے ۔ رحبہ والا روز جس دن آپ اپنے زمانہ خلافت میں لوگوں کو کوفہ کے میدان میں جمع کیا تاکہ غدیر کی یاد دلائی جائے۔ آپ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا:
تو آپ کے یہ کہنے پر تیس صحابی اٹھ کھڑے ہوئے جن میں بارہ تو ایسے تھے جو جنگ بدر میں شریک رہ چکے تھے۔ ان سب نے حدیث غدیر کی گواہی دی جسے انھوں نے خود اپنے کانوں سے رسول(ص) کو ارشاد فرماتے سنا تھا۔
اس ناگفتہ بہ آشوب زمانے میں جب کہ حضرت عثمان کے قتل اور بصرہ و
شام میں فتنہ و فساد جاری رہنے کی وجہ سے فضا خراب تھی۔ زیادہ سے زیادہ امیرالمومنین(ع) یہی کرسکتے تھے اور یہی آپ نے کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ انتہائی ممکن صورت جو اس وقت احتجاج کرنے کی ہوسکتی تھی حکمت کے تمام پہلو سنبھالے ہوئے وہ یہی تھی۔ کون اندازہ کرسکتا ہے۔ امیرالمومنین(ع) کے محیرالعقول حکیمانہ طرز عمل کا کہ جب دنیا حدیث غدیر کو بھولتی جارہی تھی اور قریب تھا کہ کسی دماغ میں اس کی یاد بھی باقی نہ رہے آپ نے بھرے مجمع سے اس کو گواہی دلوا کر اسے حیات تازہ بخشی اور رحبہ کے میدان میں مسلمانوں کے سامنے غدیر خم کے موقع پر رسول(ص) کے اہتمام کی تصویر کشی کر کے وہ منظرہ یاد دلا دیا جب رسول(ص) نے ایک لاکھ بیس ہزار مسلمانوں کے درمیان بالائے منبر حضرت علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور پورے مجمع کو دکھا کر پہنچوا کر ارشاد فرمایا تھا کہ یہی علی(ع) میرے ولی ہیں۔ اسی واقعہ کے بعد حدیث غدیر احادیث متواترہ کا بہترین مصداق بن گئی۔
آپ غور فرمائیں حکیم اسلام کے طرز عمل پر کہ آپ نے بھرے مجمع میں انتہائی اہتمام و انتظام فرما کر صاف صاف لفظوں میں اس کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد غور کیجیے رحبہ کے دن امیرالمومنین(ع) کے حکمت سے لبریز طرز عمل پر دونوں واقعے کسی قدر ملتے جلتے اور ایک دوسرے پر پوری پوری مشابہت رکھتے ہیں وہاں پیغمبر(ص) نے مجمع کو قسم دے کر پوچھا کہ :
جب سارے مجمع نے اقرار کیا تو آپ نے فرمایا کہ :
وہی روش امیرالمومنین(ع) یہاں بھی اختیار کرتے ہیں ۔ رحبہ میں مسلمان سے جن میں ہر خطہ ملک اور ہر قسم و قبیلہ کے افراد جمع تھے فرماتے ہیں اور قسم دیتے ہیں کہ جس جس نے غدیر کے میدان میں رسول(ص) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اور اپنے کانوں سے ارشاد فرماتے سنا ہو وہ اٹھے اور اٹھ کر گواہی دے۔
جس قدر حالات اجازت دےسکتے تھے امیرالمومنین(ع) نے اپنا حق جتلانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔ ساتھ ہی ساتھ سکون و سلامت روی کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا جسے آپ بہر حال مقدم سمجھتے تھے۔
اپنی خلافت و وصایت سے لوگوں کو مطلع کرنے اور اشاداتِ پیغمبر(ص) جو آپ کی خلافت و امامت کے متعلق تھے اس کے نشر و اشاعت میں یہی طرز عمل امیرالمومنین(ع) کا ہمیشہ رہا چونکہ ناواقف و لا علمی افراد کو واقف کار بنانے کے لیے آپ ایسی ہی صورتیں اختیار فرماتے جو نہ تو کسی ہنگامے کا سبب ہو نہ ان سے بیزاری پیدا ہونے کا احتمال ہو۔
آپ ملاحظہ فرمائیے ۔ دعوت ذوالعشیرہ سے متعلق امیرالمومنین(ع) کی حدیث جسے تمام محدثین نے مرویاتِ امیرالمومنین(ع) کے ذیل میں درج کیا ہے۔ یہ حدیث طولانی اور بہت ہی مہتم بالشان حدیث ہے، ابتداء عہد اسلام سے آج تک اسے اعلام نبوت اور آیات اسلام میں سے شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ حدیث حضرت سرور کائنات کے زبردست معجزہ نبوت یعنی تھوڑے کھانے سے بڑی تعداد میں لوگوں کو شکم سیر کردینے کے واقعہ پر مشتمل ہے۔ اسی طرح حدیث کے آخر میں ہے کہ حضرت امیرالمومنین(ع) کی گردن پر ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا :
اس کے علاوہ اور بھی بے شمار حدیثین ہیں جن کی امیرالمومنین(ع) روایت فرماتے لوگوں سے بیان کرتے رہے، آپ نے پورے طور پر ثقہ اور مستند افراد میں ان احادیث کی اشاعت کی اس پر پر آشوب زمانہ اور نازک حالات میں زیادہ سے زیادہ امیرالمومنین(ع) کے لیے یہی گنجائش تھی کہ آپ پیغمبر(ص) کے ان اقوال کا تذکرہ فرمائیں ، ان حدیثوں کی روایت فرمائیں اور اس طرح اپنے حقدار خلافت ہونے کو ابنائے زمانہ کے کانوں تک پہنچائیں اور امیرالمومنین(ع) نے اسے اٹھانہ رکھا ۔ جتنی حالات نے اجازت دی اتنی اشاعت فرماتے رہے۔
شوریٰ کے دن آپ نے مخالفین کے لیے عذر کی کون سی گنجائش باقی رہنے دی۔ خدا کا خوف دلانے میں کون سی بات اٹھا رکھی۔ اپنے جس قدر
خصوصیات و کمالات تھے ایک ایک کر کے گنائے، اپنے تمام فضائل و مناقب یاد دلا کر اپنے حقدار خلافت ہونے کو ظاہر کیا۔ ہر طرح ان ر احتجاج فرمایا :
پھر جب آپ خود سریر آرائے حکومت ہوئے تو برابر اپنی مظلومیت کا اطہار فرمایا کیے۔ شروع ہی سے مستحق خلافت ہونے کا ثابت کیا۔ ابتدا میں خلافت سےمحروم رکھے جانے پر آپ کو جو صدمہ ہوا ، اذیتیں پہنچیں ، بالائے منبر آپ نے اس کا شکوہ کیا، یہاں تک آپ نے فرمایا:
اس پورے خطبہ (شقشقیہ ) کے آخر تک آپ نے اسی کا ماتم کیا۔
نہ جانے کتنی مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا ہوگا:
“ثُمَّ قَالُوا: أَلَا إِنَّ فِي الْحَقِ أَنْ تَأْخُذَهُ وَ فِي الْحَقِ أَنْ تتركه ”
کسی کہنے والے نے امیرالمومنین(ع) سے کہا کہ:
آپ نے فرمایا :
نیز آپ نے ایک موقع پر فرمایا :
ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا :
“لَنَا حَقٌ فَإِنْ أُعْطِينَاهُ وَ إِلَّا رَكِبْنَا أَعْجَازَ الْإِبِلِ وَ إِنْ طَالَ السُّرَى”(1)
ایک خط جو آپ نے اپنے(2) بھائی عقیل کو لکھا ۔ اس میں فرماتے ہیں :
“ بدلہ لینے والے ہماری طرف سے قریش کو بدلہ دیں انھوں نے میرا قطع رحم کیا اور میرے بھائی کی قوت و سطوت مجھ سے چھین لی۔”
امیرالمومنین (ع) نے بارہا فرمایا:(3)
ایک مرتبہ آپ نے فرمایا(4) :
--------------
1ـ نہج البلاغہ۔
2ـ نہج البلاغہ جز 3 صفحہ 67 چھتیسواں مکتوب۔
3ـ نہج البلاغہ جز اول خطبہ 35 صفحہ 68۔
4ـ نہج البلاغہ جز ثانی صفحہ 36
مکتوب نمبر53
سلسلہ بیان کو مکمل کرنے کے لیے میری التجا ہے کہ آپ امیرالمومنین(ع) و جناب سیدہ(س) کے ماسوائے دیگر حضرات کے احتجاج ذکر فرمائیے۔
س
جواب مکتوب
عبداﷲ بن عباس کا احتجاج
میں آپ کی توجہ اس گفتگو کی طرف مبذول کرتا ہوں جو ابن عباس اور حضرت عمر کے درمیان ہوئی۔ ایک طولانی گفتگو کے دوران میں جب حضرت عمر نے یہ فقرہ کہا کہ :
ابن عباس کہتے ہیں کہ :
حضرت عمر نے کہا:
ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے کہا :
حضرت عمر نے کہا:
ابن عباس کہتے ہیں : تب میں نے کہا:
“ذلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا ما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمالَهُمْ”
تیسری گفتگو میں حضرت عمر نے کہا:
اس پر ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے کہا :
--------------
1ـ شرح نہج البلاغہ جلد3 صفحہ165۔
آگے چل کر ابن عباس نے کہا:
ابن عباس کہتے ہیں کہ :
ابن عباس کہتے ہیں:
بنی ہاشم کے اکثر افراد نے اسی طرح مختلف مواقع پر احتجاج کیا یہاں تک کہ امام حسن(ع) ، ابوبکر کے پاس جبکہ وہ منبر رسول(ص) پر بیٹھے تھے پہنچے اور کہا:
ایسا ہی واقعہ امام حسین(ع) کا حضرت عمر کے ساتھ پیش آیا، وہ بھی منبر پر ایک مرتبہ بیٹھے تھے کہ امام حسین (ع) پہنچے اور آپ نے ان سے اتر آنے کو کہا۔
شیعی کتابوں میں بنی ہاشم اور بنی ہاشم کے طرفدار صحابہ و تابعین صحابہ کے بے شمار احتجاج موجود ہیں۔ آپ ان کی کتابوں میں ملاحظہ فرمائیے۔ صرف علامہ طبرسی کی کتاب الاحتجاج میں خالد بن سعید عاص اموی(1) ، سلمان فارسی، ابوذر غفاری، عمار یاسر، بریدہ اسلمی، ابوالہیثم ابن تیہاں و سہل و عثمان فرزندان حنیف، خزیمہ بن ثابت دوالشہادتیں، ابی ابن کعب ، ابو ایوب اںصاری وغیرہ میں سے ہر شخص کے احتجاج مذکور ہیں ۔ وہی کافی ہوں گے ۔
--------------
1ـ منجملہ ان لوگوں کے جنھوں نے ابوبکر کی خلافت نہ مانی خالدبن سعید بھی ہیں۔ تین مہینے تک انھیں انکار رہا۔ طبقات ابن سعد جلد4 ص70 ابن سعد نے لکھا ہے کہ جب ابوبکر نے شام کی طرف لشکر روانہ کیا تو انھیں خالد کو سردار مقرر کیا اور علم لشکر لے کر ان کے گھر پر آئے۔ اس پر عمر نے کہا تھا کہ تم خالد کو افسری دیتے ہو اور ان کے جو خیالات ہیں وہ تمھیں اچھی طرح معلوم ہیں۔ حضرت عمر اتنا یچھے پڑے کہ آخر ابوبکر نے آدمی بھیج کر علم واپس منگایا ۔ خالد نے واپس کردیا اور کہا تمھارے افسر بنانے سے تو پہلے مجھے خوشی ہوئی تھی نہ اب معزول کرنے سے مجھے رنج ہوا۔ حضرت ابوبکر نے ان کے گھر آکر عذر و معذرت کی اور کہا کہ عمر کو میرا آنا معذرت کرنا معلوم نہ ہونے پائے ۔ جس جس نے شام کی طرف لشکر کی روانگی کا ذکر کیا ہے اس واقعہ کی طرف ضرور اشارہ کیاہے۔ یہ واقعہ مشہور واقعات میں سے ہے۔
اہل بیت طاہرین(ع) اور ان کے دوستدارن کے حالات کی چھا ن بین کیجیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ احتجاج کا جب بھی موقع ملا انھوں نے ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ مختلف طریقوں سے احتجاج فرمایا کیے۔ صاف صاف لفظوں میں ، کبھی اشارتا ، کبھی سختی سے ، کبھی نرمی سے، کبھی دوران تقریر میں، کبھی بصورت تحریر، کبھی نثر میں کبھی نظم میں، جیسا موقع ہوا اور نازک حالات نے جس صورت سے اجازت دی غافل نہیں رہے۔
یہی وجہ تھی کہ احتجاج کرنے والے نے بطور احتجاج و استدلال امیرالمومنین(ع) کے وصی پیغمبر(ص) ہونے کا اکثر و بیشتر ذکر کیا جیسا کہ جستجو سے پتہ چلتا ہے۔
ش
مکتوب نمبر54
کن لوگوں نے آپ کے وصی ہونے کا ذکر کیا اور کب احتجاج کیا؟ شاید وہی ایک مرتبہ جب جناب عائشہ کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا مگر جناب عائشہ نے تردید کر دی تھی جیسا کہ ہم قبل میں بیان کرچکے ہیں۔
س
جواب مکتوب
خود امیرالمومنین(ع) نے بر سر منبر ذکر فرمایا ۔ ہم اصل عبارت صفحات ماسبق پر نقل کر چکے ہیں۔ نیز جس جس نے دعوت عشیرہ والی حدیث جس میں امیرالمومنین(ع) کے وصی پیغمبر(ص) ہونے کی صاف صاف تصریح کی ہے روایت کی ہے اس نے امیرالمومنین(ع) ہی کی طرف اس حدیث کی نسبت دی ہے ۔ تمام اسناد آپ ہی تک
منتہی ہوئے ہیں۔ آپ ہی سے سب نے سنا اور آپ ہے سے سب نے روای تکی ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ جتنے اشخاص نے اس حدیث کی امیرالمومنین(ع) سے روایت کی سب سے آپ نے اپنے وصی ہونے کا ذکر فرمایا۔ ہم اس حدیث کو گزشتہ صفحات پر ذکر کرچکے ہیں۔
امیرالمومنین(ع) کی شہادت کے بعد امام حسن مجتبی(ع) نے جو خطبہ ارشاد فرمایا اس میں آپ نے فرمایا تھا:
بریدہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول(ص) کو کہتے سنا:
“ ہر نبی کے لیے وصی اور وارث ہوا کرتا ہے اور میرے وصی و وارث علی بن ابی طالب (ع) ہیں”
جناب جابر بن یزید جعفی جب امام محمد باقر(ع) سے کوئی حدیث روایت کرتے تو کہتے کہ مجھ سے وصی الاوصیاء وصیوں کے وصی نے بیان کیا ( ملاحظہ ہو میزان الاعتدال ، علامہ ذہبی ، حالات جابر)
ام خیر بنت حریش بارقیہ نے جنگ صفیں کے موقع پر ایک تقریر کی(1) کی جس میں انھوں نے اہل کوفہ کو معاویہ سے جنگ کرنے پر ابھارا تھا۔ اس تقریر میں انھوں نے یہ بھی کہا تھا:
اسی طرح کی پوری تقریر ان کی تھی۔
--------------
1ـ بلاغات النساء، ص41
یہ تو سلف صالحین کا ذکر تھا جنھوں نے اپنے اپنے خطبوں میں اپنی حدیثوں میں وصیت کا تذکرہ کر کے اس کو مستحکم کای۔ اگر ان کے حالات کا جائزہ لیجیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ وصی کا لفظ امیرالمومنین(ع) کے لیے یوں استعمال کرتے تھے جیسے مسمیات کے لیے اسماء کا استعمال ہوتا ہے ۔ آپ کا نام ہی پڑگیا تھا وصی۔حد تویہ ہے کہ صاحب تاج العروس جلد 10 ص392 لغت تاج العروس میں لفظ وصی کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“ الوَصِيُ، كغَنِيٍ: لَقَبُ عليٍّ”
اشعار میں اس قدر کثرت سے آپ کے لیے لفظ وصی کا استعمال کیا گیا ہے کہ کوئی حساب ہی نہیں۔ ہم صرف چند شعر اپنے مقصد کی توضیح میں ذکر کیے دیتے ہیں۔
عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب کہتے ہیں۔
وَصِيُ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ دُونِ أَهْلِهِ وَ فَارِسُهُ إِنْ قِيلَ: هَلْ مِنْ مُنَازِلِ
مغیرہ بن حارث بن عبد المطلب نے جنگ صفین میں چند شعر کہے تھے جس میں اہ عراق کو معاویہ سے جنگ پر ابھارا تھا۔ اس میں ایک شعر یہ بھی تھا ۔
هذا وصي رسول اللّه قائدكم و صهره و كتاب اللّه قد نشرا
و منا علي ذاك صاحب خيبر و صاحب بدر يوم سالت كتائبه
وصي النبي المصطفى و ابن عمه فمن ذا يدانيه و من ذا يقاربه
ابو الہیثم بن تیہان صحابی پیغمبر(ص) نے ( جو جنگ بدر میں بھی شریک رہ چکے ہیں ) جنگ جمل کے موقع جپر چند شعر کہے تھے۔ ان میں یہ شعر بھی تھا۔
إن الوصي إمامنا و ولينا برح الخفاء و باحت الأسرار.
خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین نے ( یہ بھی جنگ بدر میں شریک رہ چکے ہیں۔) جنگ جمل کے موقع جپر چند شعر کہیے ، ان میں ایک شعر یہ تھا۔
يا وصي النبي قد أجلت الحرب الأعادي و سارت الأظعان
انھیں کے یہ اشعار بھی ہیں۔
أعايش خلى عن على و عيبه بما ليس فيه يا والدة
وصى رسول اللَّه من دون اهله و انت على ما كان من ذاك شاهدة
عبداﷲ بن بدیل بن و رقاء خزاعی نے جنگِ جمل مین یہ شعر کہا تھا۔یہ بزرگ بہادرترین صحابہ میں سے تھے ۔ یہ اور ان کے بھائی عبدالرحمن جنگ صفین میں شہید ہوئے۔
يا قوم للخطة العظمى التي حدثت حرب الوصي و ما للحرب من آسي
خود امیرالمومنین(ع) نے جنگِ صفین کے موقع پر یہ شعر فرمایا :
ما كان يرضى أحمد لو أخبرا أن يقرنوا وصيه و الأبترا
جزیر بن عبداﷲ بجلی صحابی نے چند اشعار شرجیل بن سمط کو تحریر کر کے بھیجے تھے اس میں امیرالمومنین(ع) کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں :
وَصِيُ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ دُونِ أَهْلِهِ وَ فَارِسُهُ الْأُولَى بِهِ يَضْرِبُ الْمَثَلْ.
عمر بن حارثہ اںصاری نے چند شعر محمد بن امیرالمومنین(ع) ( جو محمد بن حنفیہ
کے نام سے مشہور ہیں) کی مدح میں کہے تھے ۔ ان میں ایک شعر یہ بھی ہے۔:
سمي النبي و شبه الوصي و رايته لونها العندم
جب قتل عثمان کے بعد لوگوں نے حضرت علی(ع) کی بیعت کی اس موقع پر عبدالرحمن بن جمیل نے ی شعر کہےتھے:
لعمري لقد بايعتم ذا حفيظة على الدين معروف العفاف موفقا
عليا وصي المصطفى و ابن عمه و أول من صلى أخا الدين و التقى.
قبیلہ ازد کے ایک شخص نے جنگ جمل میں یہ شعر کہے تھے:
هذا علي و هو الوصي آخاه يوم النجوة النبي
و قال هذا بعدي الولي وعاه واع و نسي الشقي.
جنگ جمل میں بنی ضبہ کا ایک نوجوان جو جناب عائشہ کی طرف سے جنگ میں شریک تھا صف سے نکلا اور یہ اشعادربطور رجز پڑھے:
نَحْنُ بَنُو ضَبَّةَ أَعْدَاءُ عَلِيٍ ذَاكَ الَّذِي يُعْرَفُ قِدْماً بِالْوَصِيِ
وَ فَارِسِ الْخَيْلِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِ مَا أَنَا عَنْ فَضْلِ عَلِيٍّ بِالْعَمِيِ
لكننی أفعى ابْنَ عَفَّانَ التَّقِيَ
أَيَّةُ حَرْبٍ أُضْرِمَتْ نِيرَانُهَا وَ كُسِرَتْ يَوْمَ الْوَغَى مُرَّانُهَا
قُلْ لِلْوَصِيِّ أَقْبَلَتْ قَحْطَانُهَا فَادْعُ بِهَا تَكْفِيكَهَا هَمْدَانُهَا
هُمُ بَنُوهَا وَ هُمُ إِخْوَانُهَا.
زیاد بن لبید انصاری نے جو امیرالمومنین(ع) کے اصحاب سے ہیں جنگ ِ جمل میں یہ شعر کہے تھے:
كيف ترى الأنصار في يوم الكلب إنا أناس لا نبالي من عطب
و لا نبالي في الوصي من غضب و إنما الأنصار جد لا لعب
هذا علي و ابن عبد المطلب ننصره اليوم على من قد كذب
من يكسب البغي فبئس ما اكتسب
حجربن عدی کندی نے بھی اسی دن یہ شعر کہے تھے :
يا ربنا سلم لنا عليا سلم لنا المبارك المضيا
المؤمن الموحد التقيا لا خطل الرأي و لا غويا
بل هاديا موفقا مهديا و احفظه ربي و احفظ النبيا
فيه فقد كان له وليا ثم ارتضاه بعده وصيا.
عمر بن احجیہ نے جنگ جمل کے دن امام حسن(ع) کے خطبہ کی تعریف و توصیف میں جو آپ نے ابن زبیر کے خطبہ کے بعد فرمایا تھا چند شعر پڑھے۔ ایک شعریہ ہے :
و أبى اللّه أن يقوم بما قا م به ابن الوصيّ و ابن النجيب
زجر بن قیس جعفی نے بھی جنگ جمل کے موقع پر یہ شعر کہا تھا :
أضربكم حتى تقروا لعلي خير قريش كلها بعد النبي
اضربکم حتی تقرروا لعلی خير قريش کلها بعد النبی
من زانه الله و سماه الوصي
انھیں زجر نے جنگِ صفین کے موقع پر یہ اشعار کہے تھے:
فصلى الإله على أحمد رسول المليك تمام النعم
و صلى على الطهر من بعده خليفتنا القائم المدعم
عليا عنيت وصي النبي يجالد عنه غواة الأمم
اشعث بن قیس کندی کہتا ہے:
أتانا الرسول رسول الإمام فسر بمقدمه المسلمونا
رسول الوصي وصي النبي له السبق و الفضل في المؤمنينا.
نیز یہ اشعار بھی اسی اشعث کے ہیں :
أَتَانَا الرَّسُولُ رَسُولُ الْوَصِيِ عَلِيٌّ الْمُهَذَّبُ مِنْ هَاشِمٍ
وَزِيرُ النَّبِيِّ وَ ذُو صِهْرِهِ وَ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ فِي الْعَالَمِ
نعمان بن عجلان زرقی اںصاری نے جنگ صفین میں یہ اشعار کہے :
كيف التفرق و الوصي إمامنا لا كيف إلا حيرة و تخاذلا
و ذروا معاوية الغوي و تابعوا دين الوصي لتحمدوه آجلا
عبدالرحمن بن ذؤیب اسلمی نے چند اشعار کہے جن میں معاویہ کو عراق کی نوجون کی دھمکی دی تھی۔
يَقُودُهُمُ الْوَصِيُ إِلَيْكَ حَتَّى يَرُدَّكَ عَنْ عَوَائِكَ وَ ارْتِيَابِ
“ ان سواروں کے لے کر وصی رسول(ص) تم پر چڑھائی کریںگے۔ یہاں تک کہ تم گمراہی اور اس اشتباہی کیفیت سے پلٹ آؤ۔”
عبداﷲ بن ابی سفیان بن حارث(1) بن عبدالمطلب کہتے ہیں :
و انّ ولىّ الامر بعد محمّد علىّ و في كلّ المواطن صاحبه
وصىّ رسول اللَّه حقّا و جاره و اوّل من صلّى و من لان جانبه
خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین کہتے ہیں:
--------------
1ـ یہ تمام اشعار کتب سیر و تواریخ خصوصا وہ کتابیں جو جنگ جمل و صفین پر لکھی گئی ہیں میں موجود ہیں علامہ ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد اول میں یہ تمام اشعار اکٹھا کر دیے ہیں اور ان اشعار کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ایسے اشعار جن میں حضرت کو وصی کہہ کر مراد لیا گیا بے شمار ہیں ہم نے یہاں صرف وہ اشعار درج کیے ہیں جو بالخصوص جنگ جمل و صفین کے موقع پر کہے گئے۔
وصي رسول الله من دون أهله و فارسه مذ كان في سالف الزمن
و أول من صلى من الناس كلهم سوى خيرة النسوان و الله ذو منن
زفربن حذیفہ اسدی کہتے ہیں(1) :
فحوطوا عليا و احفظوه فإنه وصي و في الإسلام أول أول.
ابوالاسود دولی کہتے ہیں :
أحبّ محمّدا حبّا شديدا و عبّاسا و حمزة و الوصيّا
نعمان(2) بن عجلان جو اںصار کے شاعر ہیں اور ان کے سرداروں مٰیں سے ایک سردار تھے ایک قصیدہ میں کہتے ہیں جس میں انھوں نے عمرو عاص سے خطاب کیا :
--------------
1ـ زفر کا یہ شعر اور اس کے قبل حزیمہ کے دونوں شعر امام اسکافی نے اپنی کتاب نقض عثمانہ میں ذکر کیا ہے اور اسے ابن ابی الحدید نے شرح النہج البلاغہ جلد3 صفحہ458 پر نقل کیا ہے۔
2ـ شرح نہج البلاغہ جلد3 صفحہ 13 و استیعاب حالات نعمان۔
و كان هوانا في عليّ و أنّه لأهل لها يا عمرو من حيث لا تدري
فذاك بعون الله يدعو إلى الهدى و ينهى عن الفحشاء و البغي و النكر
وصي النبي المصطفى و ابن عمه و قاتل فرسان الضلالة و الكفر
اور گمراہی و کفر کے سواروں کو قتل کرنے والے ہیں۔
فضل بن عباس نے چند اشعار کہے تھے ان میں یہ دو شعر(1) بھی تھے۔
ألا انّ خير النّاس بعد نبيّهم وصيّ النّبيّ المصطفى عند ذي الذّكر
و أوّل من صلّى و صنو نبيّه و أوّل من أردى الغواة لدى بدر
حسان(2) بن ثابت نے چند اشعار کہے تھے جن میں بزبان اںصار امیرالمومنین(ع)
--------------
1ـ تاریخ کامل جلد3 ص24
2ـ اس شعر کو زبیر بن بکار نے موفقیات میں درج کیا ہے اور اس سے ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد2 صفحہ 5 پر نقل کیا ہے۔
کی مدح سرائی کی ہے:
حفظت رسول الله فينا و عهده إليك و من أولى به منك من و من
أ لست أخاه في الهدى و وصيه و أعلم منهم بالكتاب و بالسنن
کسی شاعر نے امام حسن(ع) سے خطاب کر کے کہا ہے :
يا اجل الانام يا ابن الوصی انت سبط النبی وابن علی
ام سنان بنت خیثمہ بن خرشہ مذحجیہ(1) نے چند اشعار حضرت علی(ع) کو مخاطب کر کے کہے جن میں آپ کی مدح کی تھی:
قد كنت بعد محمد خلفا لنا أوصى إليك بنا فكنت وفيا
یہ چند اشعار ہیں جنھیں جلدی میں لکھ سکا اور جتنی گنجائش ہوسکی
--------------
1ـ بلاغات النساء
اس مکتوب میں ان اشعار کی جو امیرالمومنین(ع) کے زمانہ میں اس مضمون کے کہے گے اگر عہد امیرالمومنین(ع) کے بعد کے اشعار جمع کرنے بیٹھیں جن میں آپ کو وصی کہہ کر خطاب کیا گیا ہے تو ایک ضخیم کتاب مرتب ہوجائے اور پھر بھی اشعار اکٹھا نہ ہوسکیں۔ سب اشعار لکھنے میں تھک بھی جائیں گے اور اصل بحث سے بھی ہٹ جائیں گے اس لیے صرف مشاہیر کے کچھ اشعار پر ہم اکتفا کرتے ہیں ۔ انھیں چند اشعار کو اس مضمون کے تمام اشعار کا نمونہ سمجھ لیجیے۔
کمیت ابن زید اپنے قصیدہ ہاشمیہ میں کہتے ہیں(1) :
والوصی الذی امال التجوبی به عرش امه لانهدام
--------------
1ـ علامہ شیخ محمد محمود الرافعی جنھوں نے کمیت کے اشعار کی شرح لکھی ہے اس شعر کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وصی سے مراد علی کرم اﷲ وجہ ہیں کیونکہ پیغمبر خدا(ص) نے آپ کو وصی مقرر فرمایا چنانچہ ابن بریدہ سے روایت ہے کہ پیغمبر(ص) نے ارشاد فرمایا ہر نبی کے لیے وصی ہوا کرتا ہے اور علی(ع) میرے وصی و وارث ہیں اور امام ترمذی نے پیغمبر(ص) سے روایت کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا : من کنت مولاہ فہذا علی (ع) مولاہ اور امام بخاری نے سعد سے روایت کی ہے کہ جب پیغمبر(ص) غزوہ تبوک میں جانے لگے اور مدینہ میں علی(ع) کو اپنا خلیفہ بنایا تو علی(ع) نے کہا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں۔ آںحضرت(ص) نے فرمایا اے علی(ع) کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمھیں مجھ سے وہی منزلت حاصل ہے جو ہارون (ع) کو موسی(ع) سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ یہ لکھنے کے بعد علامہ رافعی لکھتے ہیں کہ حضرت علی(ع) کو وصی رسول(ص)کہنا اکثر و بیشتر کی زبان پر چڑھا ہوا تھا اور اس کے ثبوت میں انھوں نے مشہور شاعر کثیر عزہ کا شعر نقل کیا ہے ۔ جو ہم انھی صفحات پر درج کررہے ہیں۔
کثیر بن عبدالرحمن بن الاسود بن عامر الخزاعی جو کثیر عزة کے نام سے مشہور ہیں کہتے ہیں:
وصي النبي المصطفى و ابن عمه و فكاك أغلال و قاضي مغارم.
ابو تمام طائی اپنے قصیدہ رائیہ میں کہتے ہیں :
ومن قبله احلفتم لوصيه بداهيه دهياء ليس لها قدر
فجئتم بها بکرا عوانا ولم يکن لها قبلها مثلا عوان ولا بکر
أخوه إذا عد الفخار و صهره فلا مثله أخ و لا مثله صهر
و شد به أزر النبي محمد كما شد من موسى بهارونه الأزر
دعبل بن علی خزاعی حضرت مظلوم کربلا(ع) کو مرثیہ کہتے ہوئے کہتے ہیں :
رأس ابن بنت محمد و وصيّه للرجال على قناة يرفع
ابوالطیب متنبی کو جب لوگوں نے بر بھلا کہا کہ تم ایرے غیرے کی مدح کرتے ہو اور حضرت علی(ع) کی مدح میں تم نے کبھی ایک شعر بھی نہیں کہا تو وہ کہتا ہے :
و تركت مدحي للوصيّ تعمّدا إذ كان نورا مستطيلا شاملا
و إذا استطال الشيء قام بنفسه و صفات نور الشمس تذهب باطلا
یہی متنبی ابوالقاسم طاہر بن الحسین بن طاہر علوی کی مدح لکھتے ہوئے کہتا ہے جیسا کہ اس کے دیوان میں موجود ہے:
هو ابن رسول اللّه و ابن وصيه وشبههما شبهت بعد التجارب
میں نے ان کو ان بزرگوں سے جو تشبیہ دی ہے تو بہت کچھ تجربوں کے بعد آراء پرکھ کے یوں ہی نہیں ۔ اس جیسے بہت سے اشعار ہیں جس کی نہ کوئی انتہا ہے نہ مد وحساب۔
ش
مکتوب نمبر55
ہم نے سابق کے کسی مکتوب میں آپ سے عرض کیا تھا کہ بعض متعصب اشخاص آپ کے مذہب کے متعلق یہ کہتے پھرتے ہین کہ آپ کا مذہب ائمہ اہل بیت(ع) سے کوئی تعلق نہیں رکھتا نہ ان کی طرف آپ کے مذہب کو منسوب کرنا صحیح ہے ۔ آپ سے اس پر بھی روشنی ڈالنے کا وعدہ تھا۔ اب وقت آگیا ہے آپ وعدہ ایفا فرمائیے۔ ان متعصبین کی بکواس کا جواب دیجیے۔
س
جواب مکتوب
مذہب شیعہ کا اہلبیت(ع) سے ماخوذ ہونا
ارباب فہم و بصیرت بدیہی طور پر جانتے ہیں کہ فرشتہ شیعہ کا سلف سے لے کر خلف تک ابتدا آج کے دن تک اصول دین ، فروع دین ہر ایک میں بس ائمہ اہل بیت(ع) ہی کی طرف رجوع رہا۔ اصول و فروع اور قرآن وحدیث سے جتنے مطالب مستفاد ہوتے ہیں یا قرآن و حدیث جتنے علوم تعلق رکھتے ہیں غرض ہر چیز میں ان کی رائے کے تابع ہے۔ ان کلی چیزوں میں صرف ائمہ طاہرین(ع) پر انھوں نے بھروسہ کیا۔ انھیں کی طرف رجوع کیا۔
مذہب اہلبیت(ع) ہی کے قاعدوں سے وہ خدا کی عبادت کرتے ہیں اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اس مذہب کے علاوہ کوئی رہ ہی نظر نظر نہیں آتی اور نہ اس مذہب کو چھوڑ کر اس کے بدلہ میں کسی اور مذہب کو اختیار کرنا انھیں گوارا ہوگا۔
ہر ایک امام کے زمانے میں امیرالمومنین(ع) کے عہد میں ، امام حسن(ع) کے عہد میں، امام حسین(ع) کے عہد میں، امام محمد باقر(ع) و جعفر صادق(ع) کے عہد میں، امام موسی کاظم(ع) و امام علی رضا(ع) کے عہد میں، امام محمد تقی(ع) وعلی نقی(ع) کے عہد میں، امام حسن عسکری(ع) کے عہد میں ، غرض جس امام کا بھی عہد آیا ان گنت ثقات شیعہ حافظان حدیث ، بے شمار صاحب ورع و ضبط و اتفاق نے جن کی تعداد و تواتر سے بھی بڑھ کر تھی اپنے اپنے زمانے کے امام کی صحبت میں
بیٹھ کر ان سے استفادہ کر کے ان اصول و فروع کو حاصل کیا اور انھوں نے اپنے بعد کے لوگوں سے بیان کیا۔ اسی طرح ہر زمانہ اور ہر نسل میں یہ اصول و فروع نقل ہوتے رہے یہاں تک کہ ہم تک پہنچے لہذا ہم بھی اسی مسلک پر ہیں جو ائمہ اہل بیت(ع) کا مسلک رہا کیونکہ ہم نے ان کے مذہب کی ایک ایک چیز جزئی جزئی باتیں اپنے آباء و اجداد سے حاصل کیں، انھوں نے اپنے آباء و اجدادسے حاصل کیں اسی طرح شروع سے یہ سلسلہ جاری رہا ۔ ہر نسل و ہر عہد میں جو دور بھی آیا وہ اپنے اگلے برزگوں سے حاصل کرتا ہوا آیا ۔ آج ہم شمار کرنے بیٹھیں کہ سلفِ شیعہ میں کتنے افراد ائمہ طاہرین(ع) کی صحبت سے فیضیاب ہوئے ، ان سے احکام دین کو سنا ، ان سے استفادہ کیا۔ تو ظاہر ہے کہ شمار کرنا سہل نہیں کس کے بس کی بات ہے کہ ان کا احصار کرسکے۔ اس کا اندازہ لگانا ہوتو آپ ان بے شمار کتابوں سے لگائیے جو ائمہ طاہرین(ع) کے ارشادات و افادات سے استفادہ کر کے لکھی ہیں، ائمہ طاہرین(ع) سے معلوم کر کے ان سے سن کر تحریر کی ہیں۔ یہ کتابیں کیا ہیں۔ ائمہ طاہرین(ع) کے علوم کا دفتر، ان کی حکومتوں کا سرچشمہ ہیں جو ائمہ طاہرین(ع) کے عہد میں ضبط تحریر میں لائی گئیں اور ان کے بعد شیعوں کا مرجع قرار پائیں۔
اسی سے آپ کو مذہب اہلبیت(ع) اور دیگر مذاہب مسلمین میں فرق و امتیاز معلوم ہوجائے گا ۔ ہم کو تو نہیں معلوم کہ ائمہ اربعہ کے مقلدین میں سے کسی ایک نے بھی ان ائمہ کے عہد میں کوئی کتاب تالیف کی ہو۔ ان ائمہ کے مقلدین نے کتابیں لکھیں اور بے شمار لکھیں لیکن اس وقت لکھیں جب ان کا زمانہ ختم ہوگیا انھیں دنیا سے رخصت ہوئے مدتیں گزر گئیں اور تقلید انھیں چاروں ائمہ میں منحصر سمجھ لی گئی۔ یہ لے کر لیا گیا کہ فروع دین میں بس انھیں چاروں اماموں میں سے کسی نہ کسی ایک کی تقلید ضروری ہے۔
اپنے طبقہ کے لوگوں میں انھیں اس وقت کوئی امتیاز ہی نہ حاصل تھا۔ اسی وجہ سے انکے زمانہ میں کسی شخص کو یہ خیال بھی پیدا نہ ہوا کہ ان کے فتاویٰ اسی طرح اکٹھا کرنے کی زحمت اٹھائے ۔ جس طرح شیعوں نے اپنے ائمہ معصومین(ع) کے اقوال فتاوی جمع کرنے کا اہتمام کیا۔
شیعہ تو اول یوم ہی سے دینی امور میں سوائے ائمہ طاہرین(ع) کے کسی اور کی طرف رجوع کرنا جائز ہی نہیں سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے بس انھیں کے آستانے پر معتکف رہے۔ امور دین کے حاصل کرنے کے لیے بس انھیں سے لو لگائی ۔ یہی وجہ تھی جو انھوں نے ائمہ طاہرین(ع) سے سنی ہوئی ہر بات اور ان کے لب و زبان سے نکلے ہوئے ہر لفظ کو مدون کرنے کے لیے پوری طاقت صرف کی، تمام توانائیاں کام میں لائے ۔ اس لیے تاکہ یہ علم کا خزانہ ائمہ کے ارشادات محفوظ ہوجائیں۔ جن کے متعلق ان کا اعتقاد تھا کہ بس یہی عنداﷲ صحیح ہیں اور ان کے ماسوا سب باطل۔ آپ صرف انھیں کتابوں سے اندازہ لگائیں جو شیعوں نے امام جعفر صادق(ع) کے زمانے میں لکھیں ۔ جو صرف علم اصول کی ان چار سو کتابوں سے بھی دگنی چوگنی تعداد میں ہیں۔ جیسا کہ آپ جلد ہی اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں گے۔ رہ گئے آپ کے ائمہ اربعہ تو ان ائمہ میں سے کسی ایک امام کو بھی کسی ایک شخص کی نظروں میں نہ تو وہ وقعت حاصل ہوئی نہ کسی کے دل میں ان کی عزت پیدا ہوئی جو وقعت و عزت ائمہ اہلبیت علیہم السلام کی شیعوں کے نزدیک رہی۔ بلکہ سچ پوچھیے تو آج یہ ائمہ اربعہ جس عزت کی نظروں سے دیکھے جاتے ہیں جو درجہ انھیں ان کے مرنے کے بعد دیا جارہا ہے خود ان کے جیتے جی انھیں یہ عزت حاصل نہ ہوسکی جیسا کہ علامہ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں وضاحت کی ہے اور دیگر علمائے
اعلام نے بھی ان کے قول کو تسلیم کیا ہے اس کے باوجود بھی ہمیں اس میں کوئی شبہ نہیں ہ ان ائمہ اربعہ کا وہی مذہب رہا ہوگا جو آج ان کے پیرووں کا ہے اور جس مذہب پر نسلا بعد نسلِ عملدر آمد ہوتا آرہا ہے اور اس مذہب کو پیروانِ ائمہ اربعہ نے اپنی کتابوں میں مدون کرلیا ۔ کیونکہ پیروان ائمہ اربعہ اپنے ائمہ کے مذہب کی پوری پوری معرفت رکھتے تھے جیسا کہ شیعہ حضرات اپنے ائمہ طاہرین(ع) کے مذہب سےاچھی طرح واقف ہیں۔ جس مذہب پر عمل پیرا ہو کر خدا کی عبادت کرتے ہیں اور سوائے تقرب الہی کے اور کسی کا تقرب ان کے مدِ نظر نہیں۔
تصنیف و تالیف کی ابتداء شیعوں سے ہوئی
چھان بین کرنے والے بدیہی طور پر جانتے ہیں کہ علوم کی تدوین میں حضرات شیعہ سب پر گوئے سقبت لے گئے۔ علوم مدون کرنے میں سب سے تقدم حاصل رہا۔ کیونکہ دور اول میں سوائے امیرالمومنین(ع) اور شیعیان امیرالمومنین(ع) کے تدوین علوم کو کسی کو خیال بھی پیدا نہ ہوا اور اس کا راز یہ ہے کہ ابتداء صحابہ اسی میں الجھے رہے کہ علم کو کتابی صورت میں لانا ، علم لکھنا جائز بھی ہے یا نہیں؟ صحابہ کے درمیان شدید اختلاف تھا۔ کوئی جائز بتاتا تھا کوئی ناجائز ۔ چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی نے مقدمہ فتح الباری وغیرہ میں تحریر کیا ہے کہ خود حضرت عمر اس کو ناپسند کرتے تھے اور حضرت عمر کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت بھی ان کی ہم کو خیال تھی۔ انھیں یہ خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ کہیں حدیث لکھنے میں خلط ملط نہ ہوجائے۔ مگر حضرت علی(ع) اور آپ کے
فرزند امام حسن مجتبی(ع) اور صحابہ کی ایک خاص تعداد نے اسے جائز قرار دیا پہلے زمانہ تو یہی کشاکش رہی ایک جماعت جائز کہتی تھی دوسری ناجائز بتاتی تھی دوسرے دور میں جب تابعین کا زمانہ آخر تھا تو اس وقت اختلافات بر طرف ہوئے اور سب کا اجماع ہوگیا کہ لکھنا جائز ہے ۔ اس وقت ابن جریح نے مکہ میں مجاہد اور عطاء ( تابعین) سے استفادہ کر کے آثار میں اپنی کتاب تالیف کی۔امام غزالی ان کی اس کتاب کے متعلق فرماتے تھے کہ : پہلی کتاب جو اسلام میں لکھی گئی لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ پہلی کتاب ہے جسے غیر شیعہ مسلم نے لکھا ہے۔ ابن جریح کے بعد معتمر بن راشد صنعانی نے یمن میں اپنی کتاب تالیف کی۔ تیسرا البر امام مالک کی موطاء کا ہے۔
مقدمہ فتح الباری میں ہے کہ ربیع بن صبیح پہلے وہ بزرگ ہیں جنھوں نے علوم جمع کیے اور یہ زمانہ تابعین کے آخر میں گزرے ہیں۔بہر حال چاہے ربیع ابن صبیح پہلے مولف ہوں یا ابن جریح ی تو یقینی اور اجماعی بات ہے کہ عصر اول میں شیعوں کے علاوہ مسلمانوں کی کوئی تا لیف نہیں مگر حضرت علی(ع) اور آپ کے شیعہ کو تو عصر اول ہی میں اس کا خیال پیدا ہوا ۔ انھوں نے دورِ اول ہی میں تالیف کا کام شروع کردیا۔ کتاب جسے امیرالمومنین(ع) نے مدون کیا وہ قرآن مجید ہے۔
حضرت علی(ع) جب رسول(ص) کے دفن و کفن سے فارغ ہوئے تو آپ نے یہ عہد کیا کہ جب تک قرآن جمع نہ کرلیں گے کوئی کام نہ کریں گے۔ چنانچہ آپ نے موافق نزول کلام مجید جمع فرمایا اور ساتھ ساتھ اس کی طرف بھی اشارہ کرتے گئے کہ کون آیت خاص ہے کون عام کون مطلق ہے کون مقید، کون محکم ہے کون متشابہ، ناسخ کون ہے منسوخ کون، عزائم کون ہیں رخص کون۔ سنن سے متعلق کون سی آیتیں ہیں۔ آداب سے متعلق کون۔ اسباب نزول کی بھی
آپ نے تصریح کی ۔ نیز جو آیتیں کسی جہت سے مشکل تھیں ان کی وضاحت بھی کی ۔
ابن سیرین کہا کرتے کہ اگر حضرت علی(ع) کا جمع کیا ہوا قرآن مل جاتا تو تمام علم اسی میں مل(1) جاتا۔
اور بھی صحابہ نے قرآن جمع کرنے کی کوشش کی لیکن موافق نزول جمع کرنا ان سے ممکن نہ ہوسکا اور نہ مذکورہ بالا رموز وہ لکھ سکے ۔ اس بنا پر امیرالمومنین(ع) کی جمع و ترتیب ، تفسیر سے زیادہ مشابہ تھی اور جب آپ قرآن کے جمع سے فارغ ہوچکے تو آپ نے جناب سیدہ(س) کی تسکین و تسلی اور پدر بزرگوار کا غم غلط کرنے کے لیے ایک کتاب تالیف فرمائی جو جناب سدہ(س) کی اولاد طاہرین(ع) میں مصحف فاطمہ(س) کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں امیرالمومنین(ع) نے امثال حکمت کی باتیں ، مواعظ ، نصائح ، اخبار اور نوادر جمع کیے تھے۔
اس کے بعد آپ نے ایک کتاب دیات میں تالیف کی ۔ اس کا نام صحیفہ رکھا۔ چنانچہ ابن سعد نے اپنی کتاب جو جامع کے نام سے مشہور ہے کے آخر مین امیرالمومنین(ع) کی طرف منسوب کر کے اس صحیفہ کا حوالہ دیا ہے۔ اور اس سے روایتیں کی ہیں ۔ منجملہ ان روایات کے جو بخاری و مسلم نے اس صحیفہ سے لی ہیں وہ حدیث ہے جو انھوں نے اعمش سے روایت کی ہے اور اعمش نے ابراہیم تیمی سے انھوں نے اپنے باپ سے کی ہے وہ کہتے تھے کہ :
--------------
1ـ طبقات ابن سعد جلد2 قسم 2 صفحہ18 صواعق محرقہ بن حجر مکی ریاض النصرہ جلد2 صفحہ168
شیعوں کی ایک خاصی تعداد نے بھی امیرالمومنین(ع) کی پیروی کی اور آپ کے عہد میں کتابیں تالیف کیں۔ منجملہ ان کے جناب سلمان فارسی اور ابوذر غفاری ہیں۔ جیسا کہ علامہ ابن شہر آشوب نے تحریر فرمایا ہے:
اور دوسرے لوگ منجملہ شیعیانِ امیرالمومنین(ع) کے ابو رافع آزاد کردہ غلام رسول اﷲ(ص) ہیں امیرالمومنین (ع) کے عہد میں بیت المال کے نگران بھی رہے۔ یہ امیرالمومنین(ع) کے مخصوص موالیوں میں سے تھے اور آپ کی قدر ومنزلت کی معرفت رکھتے تھے ۔ انھوں نے ایک کتاب سنن و قضایا میں لکھی ہے جسے انھوں نے صرف امیرالمومنین(ع) کی حدیثوں سے ترتیب دیا تھا۔ یہ کتاب ہمارے اسلاف کے نزدیک انتہائی عظمت و احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی تھی اور ہمارے اسلاف نے اپنے اپنےطرق و اسناد سے اس کی روایت کی ہے۔”
انھیں میں سے علی بن ابی رافع ہیں( اصابہ میں ان کے حالات میں لکھا ہے کہ یہ عہد رسالتماب(ص) میں پیدا ہوئے اور رسول اﷲ(ص) ہی نے ان کا نام علی رکھا انکی ایک کتاب فنون فقہ میں ہے جسے انھوں نے موافق مذہب
اہل بیت(ع) تحریر کیا ہے۔ اہل بیت علیہم السلام اس کتاب کی بڑی تعظیم کرتے تھے اور اپنے شیعوں کو اسی کتاب کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت فرماتے ۔
موسی بن عبداﷲ بن حسن فرماتے ہیں کہ :
صاحب روضات الجنات نے خیال کیا ہے کہ یہ فقہ کی پہلی کتاب ہے جو شیعوں میں لکھی گئی لیکن انھیں غلط فہمی ہوئی۔
منجملہ ان مصنفین شیعہ کے عبیداﷲ بن ابی رافع ہیں جو امیرالمومنین(ع) کے کاتب اور آپ کے مخصوص موالیوں میں سے تھے ۔ انھوں نے رسول اﷲ(ص) سے حدیثیں سنین۔ انھیں سے رسول اﷲ(ص) کی یہ حدیث مروی ہے جو آںحضرت (ص) نے جناب جعفر طیار کے متعلق فرمایا کہ :
“ اشبهت خلقی و خلقی.”
اس حدیث کی ایک جماعت نے عبیداﷲ بن ابی رافع سے روایت کی ہے ۔ منجملہ ان کے امام احمد بن حنبل نے بھی اپنی مسند میں نقل کیا ہے ۔ ابن حجر عسقلانی نے اصابہ قسم اول میں عبیداﷲ اسلم کے عنوان سے ان کے حالات لکھے ہیں کیونکہ ان کے باپ ابو رافع کا نام اسلم تھا۔
انھیں عبیداﷲ نے ایک کتاب تالیف کی جس میں امیرالمومنین(ع) کے ان تمام صحابیوں کا تذکرہ کیا ہے جو جنگ صفین میں امیرالمومنین(ع) کےساتھ شریک تھے۔ ابن حجر نے اپنی اصابہ میں اکثر و بیشتر اس سے نقل کیا ہے انھیں
مٰیں سے ربیعہ بن سمیع ہیں انھوں نے چوپایوں کی زکوة کے متعلق حضرت امیرالمومنین(ع) کی حدیثوں سے ایک کتاب تالیف کی۔ انھیں میں سے ایک عبیداﷲ بن حر فارسی ہیں جن کی ایک کتاب حدیث میں لمعہ ہے جو انھوں نے امیرالمومنین(ع) کی حدیثوں سے جمع کی۔
انھیں میں سے اصبغ بن نباتہ صحابی امیرالمومنین(ع) ہیں یہ اصبغ ابن نباتہ تو بس امیرالمومنین(ع) ہی کے ہورہے تھے۔انھیں نے امیرالمومنین(ع) سے اس عہد نامہ کی روایت کی ہے جو امیرالمومنین(ع) نے مالک اشتر کو تحریر فرمایا ۔ نیز اس وصیت نامہ کی جو آپ نے اپنے فرزند محمد کے لیے لکھا تھا۔ ہمارے رواة نے ان دونوں عہد نامہ و وصیت کی ان ہی اصبغ بن نباتہ سے بہ سلسلہ اسناد صحیحہ روایت کی ہے۔
انھیں میں سے سلیم بن قیس ہلالی صحابی امیرالمومنین(ع) ہیں ۔ انھوننے امیرالمومنین (ع) اور جناب سلمان فارسی سے روایتیں کیں۔ انھوں نے امامت پر ایک کتاب لکھی جس کا ذکر امام محمد ابراہیم نعمانی نے اپنی کتاب غنیہ میں کیا ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
اس سے پہلے طبقہ میں ہمارے سلف صالحین میں سے جتنے حضرات صاحبِ تالیف ہوئے ان کے حالات اگر آپ دیکھنا چاہیں تو آپ ہمارے علماء کی وہ فہرستیں ملاحظہ فرمائیں اور وہ کتابیں دیکھیں جو انھوں نے رجال کے تذکرہ میں لکھی ہیں۔
دوسرے طبقہ یعنی دورِ تابعین میں شیعوں میں جو صاحبان تالیف گزرے ہیں ان کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں ہوسکتا ۔ خصوصا اس رسالہ میں اتنی گنجائش کہاں کہ سب کا تذکرہ ہو۔ ان مصنفین کے حالات اور ان کے اسانید کا تفصیلی بیان دیکھنے کے لیے ہمارے علماء کی فہرستیں اور فن رجال کی کتابوں کا مطالعہ کیاجائے۔(1)
اس طبقہ کے مصنفین کے زمانہ میں اہل بیت(ع) کے نور سے دنیا منور ہو رہی تھی۔ پہلے تو ظالمون کے ظلم کے بادل اس نور کو ڈھانکے ہوئے تھے لیکن کربلا کے دردناک المیہ نے دشمنان آل محمد(ص) کو پوری طرح رسوا کیا اور ارباب بصیرت کی نگاہوں سے ان کا وقار رخصت ہوگیا ۔ اب ہر دل میں یہ سوال کانٹا بن کر کھٹکنے لگا۔ ہر سوچنے والے دماغ میں یہ فکر پیدا ہوئی کہ رسول(ص) کی آنکھ بند ہوتے ہی اہل بیت(ع) پر مصائب کے پہاڑ کیوں ٹوٹ پڑے ۔ آخر مصائب کے اسباب کیا ہوئے۔ ہر شخص کو کھوج پیدا ہوئی۔ اسباب ایسے مخفی تو تھے نہیں کہ سمجھ میں نہ آتے۔ دنیا جان گئی کہ ان مصائب کی تخم ریزی کیونکر ہوئی
کیونکریہ پودا پروان چڑھا ۔ کن لوگوں نے اس کی آبیاری کی۔ اس حقیقت کے انکشاف کے بعد با عزت مسلمان کمر بستہ ہوئے کہ اہل بیت(ع) کی حیثیت و منزلت
--------------
1ـ جیسے فہرست نجاشی کتاب متہی المقال ، کتاب نہج المقال وغیرہ
پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔ نیز یہ کہ ان کے خونِ ںاحق کا بدلہ لیا جائے ۔ انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ فطری طور پر مظلوم کا ساتھ دیتی ہے اور ظالم سے نفرت کرتی ہے۔ کربلا کے خونین واقعہ نے مسلمانوں کی آنکھوں پر پڑے ہوئے پردے اٹھا دیے اب وہ ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ امام علی بن الحسین(ع) زین العابدین(ع) کی اطاعت کا دل میں جذبہ پیدا ہوا اور اصول وفروع دین، قرآن و حدیث اور جملہ فنون اسلام میں انھیں کے در پر جبہ سائی اختیار کر کے ان تمام چیزوں میں انھیں کی طرف رجوع کرنا طے کیا۔ امام زین العابدین(ع) کے بعد امام محمد باقر(ع) سے وابستگی اختیار کی۔ ان دو اماموں یعنی امام زین العابدین(ع) و امام محمد باقر(ع) کے اصحاب ہزرا ہا تھے ، ان کے تعداد کا اندازہ کرنا ممکن نہیں لیکن ایسے افراد جن کے اسماء اور حالات تذکرہ کی کتابوں میں مدون ہوسکے وہ تقریبا چار ہزار حضرات جلیل القدر ارباب علم اصحاب ہیں۔ ان حضرات کی تصنیفات کم و بیش دس ہزار تک ہوئیں ۔ ہمارے محدثیں نے ہر دور میں صحیح اسناد سے ان سے روایتں کیں ان میں اکثر ایسے خوش نصیب افراد بھی تھے جنھوں نے امام زین العابدین (ع) و امام محمد باقر(ع9 کا بھی زمانہ پایا۔ اور امام جعفر صادق(ع) کی خدمت میں بھی باریاب ہوئے۔
چنانچہ منجلہ ان کے ابوسعید ابان بن تغلب بن رباح الجریری مشہور قاری و فقیہ و محدث و مفسر اور اصول و لغوی ہیں۔ یہ ثقہ ترین لوگوں میں سے ہیں تین اماموں سے ملاقات کا شرف انھیں حاصل ہوا اور تینوں اماموں سے بکثرت علوم کی انھوں نےروایت کی ۔ مختصرا اسی سے اندازہ کرلیجیے کہ انھوں نے صرف امام جعفر صادق(ع) سے تیس (30) ہزار حدیثیں روایت کی ہیں۔ جیسا کہ منتہی المقال میں علامہ میرزا محمد نے بسلسلہ حالات ابان تحریر فرمایا ۔ انھیں ائمہ کی خدمت میں
بڑا تقرب اور مخصوص منزلت حاصل تھی۔
امام محمد باقر(ع) نے ابان سے فرمایا تھا کہ :
اور امام جعفر صادق(ع) نے ان سے فرمایا تھا کہ :
یہ ابان جب مدینہ آئے تو حلقے ٹوٹ کر ان کے گرد آجاتے اور مسجد نبوی(ص) میں پیغمبر(ص) جہاں بیٹھا کرتے تھے وہ جگہ ان کے لیے خالی کردی جاتی ۔
امام جعفر صادق(ع) نے ابان بن عثمان سے فرمایا کہ:
جب یہ ابان امام (ع) کی خدمت میں آتے تو امام جعفر صادق(ع) ان سے معانقہ فرماتے مصالحہ کرتے اور مسندان کے لیے بچھا نے کا حکم دیتے اور پوری طرح متوجہ ہو کر ہمکلام ہوتے ۔ جب امام نے ان کے نتقال کی خبر سنی تو فرمایا :
ان کی وفات سنہ141ھ میں ہوئی۔
ابان نے انس بن مالک ، اعمش ، محمد بن منکدر، سماک بن حزب ، ابراہیم نخعی ، فضیل بن عمرو، اور حکم سے بھی روایتیں لی ہیں۔ ان کی حدیثوں سے احتجاج کیا ہے جیسا کہ ہم صفحات ماسبق میں ذکر کرچکے ہیں۔ صرف بخاری نے البتہ ان سے روایت نہیں کی۔ ان کے روایت نہ کرنے سے کوئی نقصان بھی نہیں۔ امام بخاری کی حالت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ ائمہ اہل بیت(ع) امام جعفر صادق(ع) ، امام موسی کاظم(ع)، امام رضا(ع)، امام محمد تقی(ع)، و علی نقی(ع)، حسن عسکری(ع) کے ساتھ ان کے سلوک کا نمونہ موجود ہے۔ انھوں نے ان ائمہ اہل بیت(ع) میں سے کسی ایک امام کی حدیث بھی صحیح بخاری میں درج نہیں کی۔کسی امام کی حدیث کو اس قابل نہیں سمجھا ۔ حد تو یہ ہے کہ نواسہ رسول(ص) امام حسن مجتبی(ع) جو سید سردار جوانان اہل جنت ہٰیں ان کی حدیثیں بھی نہیں لیں۔ ہاں حدیث درج کس کی ہے۔ مروان بن حکم ایسے طرید رسول(ص) کی، عمر بن حطان ایسے سرغنہ خوارج کی عکرمہ بربری وغیرہ ایسے لوگوں کی ۔
ابان کی کئی مفید تصانیف ہیں منجملہ ان کے ایک کتاب ہے جو غرائب قرآن کی تفسیر میں انھوں نے لکھی ۔ اس میں کلام مجید کی آیتوں کےشواہد میں بکثرت عرب کے اشعار درج کیے ہیں۔
ان کے بعد زمانہ میں عبدالرحمن بن محمد ازدی کوفی گزرے ہیں۔ انھوں نے ابان بن تغلب ، محمد بن سائب کلبی اور ابن روق عطیہ بن حارث کی کتابوں کو جمع کر کے ایک کتاب کی شکل دی۔ جن جن مسئلوں میں ان حضرات نے اختلاف کیا ہے اسے بھی لکھا اور جن جن مسئلوں میں یہ سب متفق رہے اس کی بھی وضاحت کی۔
ہمارے اصحاب نے ان دونوں کتابوں سے معتبر اسناد اور مختلف طریقوں سے روایتیں کیں۔ انھیں ابان کی ایک کتاب الفضائل ہے ایک کتاب صفین ہے اصول میں بھی ایک کتاب انھوں نے لکھی جو فرقہ امامیہ کے نزدیک مسلم طور پر احکام شرعیہ میں مانی جاتی ہے ۔ تفصیل دیکھنا ہو تو رجال کی کتابیں ملاحظہ فرمائیے۔
منجملہ ان کے ایک بزرگ ابوحمزہ ثمالی ہیں۔ یہ ہمارے سلف صالحین کے ثقات و علمائے اعلام میں سے ایک بزرگ ہیں۔ انھوں نے امام جعفر صادق(ع) و محمد باقر(ع) و زین العابدین(ع) سے تحصیل علم کی اور بس انہی کے ہو رہے۔ ائمہ طاہرین(ع) کی بارگاہ میں انھیں بڑا تقرب حاصل تھا۔ خود امام جعفر صادق(ع) نے ان کی مدح و ثنا فرمائی ہے ۔ چنانچہ امام کا قول ہے کہ:
ان کی ایک کتاب تفسیر القرآن ہے۔(1) علامہ طبری نے اپنی تفسیر مجمع البیان میں اکثر جگہ اس تفسیر سے نقل کیا ہے۔ انھیں کی کتاب النوادر کتاب الزہد اور رسالہ حقوق بھی ہے۔ انھوں نے ان کتابوں کو امام زین العابدین(ع) سے روایت کیا ہے۔ انھوں نے انس اور شعبی سے بھی روایتیں کی ہیں اور ان سے وکیع، ابو نعیم اور اس طبقہ کی ایک جماعت کے شیعہ و سنی دونوں نے حدیثیں بیان کیں۔
--------------
1ـ ملاحظہ فرمائیے تفسیر مجمع البیان آیت ِقُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى کی تفسیر کے سلسلہ میں اس کتاب سے نقل کیا گیا ہے۔
ان کا ذکر بھی ہم صفحات ماسبق میں کرچکے ہیں۔
چند نامور اصحاب ایسے ہیں جنھوں نے امام زین العابدین(ع) کا زمانہ تو نہ پایا لیکن امام محمد باقر(ع) و جعفر صادق(ع) کی خدمت میں باریابی سےشرف یاب ہوئے منجملہ ان کے ابوالقاسم برید بن معاویہ عجلی ، ابوبصیر الاصغر لیث بن مراد بختری مرادی، ابوالحسن زراراہ بن اعین، ابو جعفر محمد بن مسلم بن ریاح کوفی طائفی ثقفی ہیں۔ ان کے علاوہ ایک پوری جماعت ہے۔ اتنی گنجائش نہیں کہ سب کاذکر کیا جائے ۔ البتہ یہ چار حضرات بڑے جلیل القدر اور عظیم ترین شخصیت کے مالک ہیں۔ یہاں تک کہ خود امام جعفر صادق(ع) نے ان حضرات کے تذکرہ کے ضمن میں فرمایا کہ :
ایک اور موقع پر فرمایا کہ :
ایک اور موقو پر فرمایا :
امام جعفر صادق(ع) نے بشر المخبتین بالجنہ کی تلاوت فرمائی اور اس کے بعد ان چاروں حضرات کا ذکر کیا۔
ایک اور طولانی گفتگو میں ان کا ذکر فرماتے ہوئے امام نے کہا :
اس کے علاوہ بے شمار ارشادات امام(ص) ہیں جن سے ان کا فضل و شرف کرامت ولایت پوری طرح ثابت و محقق ہے ۔ افسوس کہ اتنی گنجائش نہیں کہ مفصلا بیان کیا جائے ۔ باجود انکی اس اہمیت و جلالت قدر کے دشمنان اہل بیت(ع) نے ان پر بڑی بڑی تہمتیں رکھیں جیسا کہ ہم اپنی کتاب مختصر الکلام فی مولفی الشیعہ سن صدر الاسلام میں بیان کرچکے ہیں۔
دشمنوں کی تہمت تراشیوں سے ان کی وقعت و علوئے منزلت میں فرق نہیں پڑتا اور نہ ان کی جلالت قدر پر کوئی آنچ آتی ہے اور نہ اس وقعت میں کمی پیدا ہوتی ہے جو انھیں خدا اور رسول(ص)کے نزدیک حاصل ہے۔ جس طرح انبیاء سے حسد کرنے والوں سے حسد کر کے انبیاء کا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ برعکس ان کی علوئے مرتبت ہی کے باعث ہوئے اور بجائے اس کے کہ وہ حسد کرنے والے ان انبیاء کی شریعتوں پر کچھ اثر انداز ہوتے وہ اور دین کی اشاعت اورہمہ گیر مقبولیت کا سبب بن گئے۔
امام جعفر صادق(ع) کے عہد میں علم بیش از بیش پھیل چکا تھا اور چار جانب
سے شیعیان محمد و آل محمد(ص) امام(ع) کی خدمت میں پہنچ رہے تھے۔ امام(ع) پوری خندہ جبینی سے پیش آتے، بڑی توجہ فرماتے ، ان کو استوار بنانے میں آتے نے کوئی کوشش اٹھا نہ رکھی اور علم کے رموز ، حکمت کی باریکیوں ، حقائق امور سے آگاہ بنانے میں کوئی دقیقہ فرد گزاشت نہیں کیا۔ جیسا کہ علامہ شہرستانی ملل و نحل میں امام کا ذکر فرماتے ہوئے ۔ رقمطر از ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
اس کے بعد لکھتے ہیں:
اسی سلسلہ میں علامہ شہرستانی لکھتے ہیں کہ:
اسی طرح کی پوری عبارت ہے ان کی ۔ سچ تویہ ہے کہ حق ، اںصاف پسند اورمعاند دونوں کی زبان پر آکر رہتا ہے۔
امام جعفر صادق(ع) کے بے شمار اصحاب ہمہ گیر شہرت کے مالک ہوئے۔ وہ
سب کے سب ائمہ ہدایت ، تاریکیوں کے چراغ، علم کے دریا اور ہدایت کے نجوم تھے۔ جن اصحاب کے نام اور حالات تذکرہ کی کتابوں میں مدون ہوسکے ان کی تعداد چار ہزار تک پہنچتی ہے۔ اس میں عراق کے رہنے والے تھے اور حجاز و فارس و شام کے بھی۔
یہ چاروں اصحاب بڑی مشہور مصنفات والے ہیں۔ ان کی مصنفات فرقہ امامیہ میں انتہائی شہرت رکھتی ہیں۔ منجملہ ان مصنفات کے صرف اصول میں چار سوکتابیں ہیں۔ جیسا کہ ہم سابق میں بیان کرچکے ہیں کہ یہ چار سو تصانیف چار سو مصنفین کی ہیں جو امام جعفر صادق(ع) کے عہد میں انھیں کے فتاوی جمع کر کے لکھی گئیں اور امام کے بعد انھیں پر عمل کا دارو مدار رہا۔ تک بعض علمائے اعلاء نے سہولت کے لیے ان کا خلاصہ کر ڈالا ۔ ان میں چار کتابیں بہت عمدگی سے مراتب ہوئیں اور اصول و فروع میں شیعوں کا مرجع قرار پائیں ۔ صدر اول سے لے کر آج کے دن تک ۔ وہ چار کتابیں یہ ہیں۔ کافی، تہذیب ، استبصار ، من لایحضرہ الفقیہہ۔
یہ چاروں کتابیں متواتر ہیں اور ان کا صحیح ہونا قطعی و یقینی ہے۔ ان چاروں میں “کافی ” مقدم عظیم تر اور بہت خوبیوں کی جامع انتہائی ٹھوس کتاب ہے اس میں سولہ ہزار ایک سو ننانوے حدیثیں درج ہیں جو تعداد میں کل صحاح ستہ کی حدیثوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ جیسا کہ شہید ثانی نے ذکری میں تحریر فرمایا ہے نیز اور علمائے اعلام نے وضاحت کی ہے۔
ہشام بن حکم جو امام جعفر صادق(ع) و امام موسی کاظم(ع) کے اصحاب میں سے تھے انھوں نے بکثرت کتابیں تالیف کیں۔ ان میں انیس(19) کافی مشہور ہوئیں یہ تمام بڑی کتابیں بڑی نادر اور بہت ہی مفید تصانیف ہیں۔ اور متعدد فنون میں
لکھی گئی ہیں۔ اصولی، فروع، توحید ، فلسفہ عقلیہ میں زنادقہ ، ملحدین ، نیچری، قدریہ ، جبریہ، امیرالمومنین(ع) اور اہل بیت(ع) کے متعلق غلو کرنے والے خوارج، نواصب، حضرت علی(ع) وصی پیغمبر(ص) ہونے سے انکار کرنے والے ، آپ کو موخر رکھنے والے ، آپ سے جنگ کرنے والے اور وہ لوگ جو مفضول کی تقدیم افضل پر جائز سمجھتے ہیں ان سب کی رد میں لکھی گئی ہیں۔
یہ ہشام قرن ثانی کے لوگوں میں بڑے پایہ کے بزرگ اور علم کلام حکمت الہیہ اور جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ میں سب سے بڑھ کر عالم تھے۔ فقہ و حدیث میں امتیازی درجہ رکھتے تھے۔ تفسیر اور جملہ علوم و فنون میں انھیں تقدم حاصل تھا۔ یہ ہشام ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے امامت پر بحث کی اور مناظرہ کر کے مذہب کی تبلیغ کی۔ انھوں نے امام جعفر صادق(ع) و امام موسی کاظم(ع) سے روایت کی ۔ ان حضرات کے نزدیک ان کی بڑی منزلت تھی۔ ان کی مدح و ثناء میں زبان امامت سے ایسے الفاظ صرف ہوئے ہیں کہ ان کے علوئے مرتبت کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ شروع شروع میں یہ فرقہ جہمیہ سے تعلق رکھتے تھے۔پھر امام جعفر صادق(ع) کی خدمت میں باریابی کا شرف حاصل ہوا اور آپ کی ہدایت سے معرفت و بصیرت کے حامل ہوئے۔ آپ کے بعد امام موسی کاظم(ع) کا زمانہ پایا اور آپ کےتمام صحابیوں میں فائق و ممتاز ہوئے۔
دشمنوں نے جو نور خدا کے بجھانے کی دن رات کوشش میں مصروف رہتے ہیں اہل بیت(ع) سے حسد و دشمنی رکھنے کی نباء پر انھیں طرح طرح متہم کرنے کی سعی کی ۔ جسمیت ِ خدا کا قائل بتایا ہے مگر ان کے مذہب سے جس قدر ہم شیعہ واقف ہوسکتے ہیں، ہمارے مخالفین نہیں۔ ہمارے پیش نظر انکے اقوال و افعال ہیں۔ ہمارے مذہب کے تائید میں ان کی گرانقدر مصنفات ہیں جن کا
ہم اشارة ذکر کرچکے ہیں۔ لہذا ممکن ہی نہیں کہ غیروں کو جو ان کے مذہب و مشرب سے دور کا بھی واسطہ نہٰیں رکھتے ان کے اقوال کا علم ہو اور ہم لا علم رہیں۔ ہمیں کچھ پتہ نہ ہو حالانکہ یہ ہمارے سلف صالحین اور سابقین میں سے ہیں۔
علاوہ اس کے شہرستانی نے ملل و نحل میں جو عبارت ان کی طرف منسوب کر کے نقل کی ہے اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ جسمانیت کے قائل تھے۔
مٰیں اصل عبارت نقل کیے دیتا ہوں۔
علامہ شہرستانی لکھتے ہیں:
مزید برآن اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ ان کے اس جملہ سے ان کی قائل جسمانیت الہی ہونا ثابت ہوتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ قبل میں جب تک انھیں معرفت نہ حاصل ہوئی تھی۔ امام(ع) کی خدمت میں باریاب نہ ہوئے تھے، وہ ایسا ہی عقیدہ رکھتے ہوں کیونکہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ابتداءا جہمیہ مسلک پر تھے ۔ پھر ہدایتِ آل محمد(ص) سے انھیں بصیرت حاصل ہوئی اور ائمہ طاہرین(ع) کے مخصوص و نامور افراد میں سے ہوئے۔ ہمارے سلف و خلف دونوں میں سے کسی فرد نے بھی کوئی ایسی بات ان میں نہیں پائی جن کا دشمن ان پر اتہام رکھتے ہیں جس طرح دشمن نے زرارہ بن اعین، محمد بن مسلم ، مومن طاق اور ان جیسے بزرگوں پر طرح طرح کی تہمتیں باندھیں، غلط سلط باتیں ان کی طرف منسوب کر کے بیان کیں اور ہمیں ان کے متعلق کوئی بات بھی خلاف نہ معلوم ہوسکی۔ اسی ہشام کے متعلق بھی دشمنوں نے افترا پردازیاں کیں اور غلط اتہامات رکھے مگر ہمیں کوئی بات ان میں ڈھونڈے سےبھی نہ ملی باوجودیکہ ہم نے اپنی تمام توانائیاں ان حضرات کے حالات کی چھان بین میں صرف کردیں۔ مگر کوئی چیز قابل اعتراض نظر نہ آئی۔ یہ سب دشمنوں کی سرکشی وعداوت اور بہتان تراشیاں ہیں۔
“وَ لا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ”(ابراہیم: 42)
علامہ شہرستانی نے ایک اور الزام ہشام پر لگایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہشام الوہیت امیرالمومنین(ع) کے قائل تھے۔ یہ الزام ایسا ہے جسے سن کر زن پسر مردہ بھی ہنس دے۔ ہشام کو بھلا ان خرافات و مہملات سے کیا نسبت ۔ ان کی طرف ایسی رکیک باتوں کی نسبت دینا حد درجہ کی نادانی ہے۔
توحید کے متعلق ایک طرف ان کا وہ کلام جو حلول سے خدا کو ببانگ دہل پاک و پاکیزہ اور جاہلوں کی باتوں سے بلند و برتر ظاہر کرے دوسری طرف امامت اور امیرالمومنین(ع) کے وصی پیغمبر(ص) ہونے کے متعلق ان کے وہ خیالات جس سے واضح طور پر معلوم ہو کہ رسول(ص) علی(ع) سے افضل تھے اور علی(ع) کی امت و رعیت میں سے ایک فرد تھے اور خدا کے ان بندوں میں سے ایک تھے جن پر ظلم و جبر دکیا گیا۔ جو اپنے مخلوق کی حفاظت سے عاجز رہے۔ بیم وہراس کے مارے دشمن کے آگے جھکنے پر مجبور ہوئے اور جن کا نہ کوئی معین تھا نہ ناصر ۔ ان دونوں باتوں کے بعد پھر ی اتہام رکھنا کہ ہشام علی(ع) کی خدائی کے قائل تھے کہاں تک قابل توجہ ہے۔
کہاں تو علامہ شہرستانی خود گواہی دیں کہ ہشام اصول مذہب میں بڑے گہرے تھے اور وہ ان الزامات سے بری تھے جو دشمن ان پر لگاتے ہیں۔
اس کے بعد ان کی طرف ان معاملات کی نسبت بھی دیتے ہیں کہ وہ حضرت علی(ع) کی الوہیت کے قائل تھے۔ کیا شہرستانی کے کلام میں یہ تناقض نہیں ہے؟ اور ہشام ایسے عظیم المرتبت ، صاحب فضل و شرف بزرگ کی طرف ان مہملات کا منسوب کرنا مناسب ہے؟ کون منصف مزاج اسے تسلیم کرے گا، لیکن واقعہ تو یہ ہے کہ مخالفین اہل بیت(ع) اور پیروان اہل بیت(ع) سے حسد رکھنے اور ان پر ہر ظلم روا سمجھنے کی جہت سے سوائے بہتان تراشیوں اور افترا پردازیوں کے کسی بات کو پسند ہی نہیں کرسکتے۔
امام موسی کاظم(ع) ، علی رضا(ع)، محمد تقی(ع)، علی نقی(ع)، حسن عسکری علیہم السلام کے زمانہ میں تصنیف و تالیف کا سلسلہ بہت وسیع ہوچکا تھا۔ بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ ہر ہر شہر میں ائمہ طاہرین(ع) اور اصحاب ائمہ معصومین(ع) سے روایت کرنے
والے پھیل چکے تھے۔ انھوں نے علم کی اشاعت پر کمر باندھی اور علم کی تدویں میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ علوم و معارف جمع کرنے میں اپنی ساری صلاحیتوں سے کام لیا۔
محقق علیہ الرحمہ معتبر میں فرماتے ہیں کہ “
“ امام محمد تقی(ع) کے تلامذہ میں بڑے نامور افاضل گزرے جیسے حسن بن سعید اور ان کے بھائی حسن، احمد بن محمد بن ابی نصر بزنطی ، احمد بن محمد بن خالد برقی، شاذان ، ابوالفضل العمی، ایوب بن نوح ، احمدبن محمد بن عیسیٰ وغیرہ جن کی فہرست بہت طولانی ہے۔”
محقق فرماتے ہیں کہ :
“ ان حضرات کی کتابیں آج علماء میں نقل ہوتی چلی آرہی ہیں ان کتابوں کے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ کس قدر بے پایاں علوم کے حامل تھے یہ حضرات۔۔۔۔۔ الخ”
میں کہتا ہوں کہ آپ صرف برقی کی کتابوں کو لیجیے ۔ تنہا ان کی سو کتابیں ہیں۔ بزنطی کی ایک کتاب بڑی عظیم الشان کتاب ہے جو جامع کے نام کسے مشہور ہے۔ حسین بن سعید کی تیس مصنفات ہیں۔
امام جعفر صادق(ع) کی اولاد سے چھ اماموں کے جتنے تلامذہ گزرے اور انھوں نے جتنی کتابیں تالیف کیں ان کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ رجال کے حالات میں جو کتابیں اور فہرستیں ہیں ان میں ان چند حضرات کے حالات ملاحظہ فرمائیے محمد بن سنان، علی بن مہزیار، حسن بن محبوب، حسن بن محمد بن سماعہ، صفوان بن یحی، علی بن یقطین ، علی بن فضال ، عبدالرحمن بن نجران، فضل بن شاذان، ( جن کی دو سو مصنفات ہیں) محمد بن مسعود عیاشی، ( جن کی مصنفات ( دو سو
سے بھی زیادہ ہیں) محمد بن عمیر ، احمد بن محمد بن عیسیٰ( انھوں نے امام جعفر صادق(ع) کے سو اصحاب سے حدیثوں کو سنا اور بیان کیا) محمد بن علی بن محبوب ، طلحہ بن زید ، عمار بن موسی ساباطی، علی بن نعمان ، حسین بن عبداﷲ، احمد بن عبداﷲ بن مہروان جو ابن خانہ کے نام سے مشہور ہیں۔ صدقہ بن منذر قمی، عبداﷲ بن علی بن حلبی، جنھوں نے اپنی تالیف امام جعفر صادق(ع) کی خدمت میں پیش کی اور امام نے اس کی صحت فرمائی اور بنظر استحسان دیکھا اور فرمایا کہ :
ابوعمرو طیب ، عبداﷲ بن سعید جنھوں نے اپنی کتاب امام رضا(ع) کی خدمت میں پیش کی۔ یونس بن عبدالرحمن جنھوں نے اپنی تالیف امام حسن عسکری(ع) کے ملاحظہ میں پیش کی۔
اگر شیعیان آل محمد(ص) کے اگلے بزرگوں اور اسلافِ صالحین کے حالات ڈھونڈ کر معلوم کیے جائیں اور پتہ چلایا جائے کہ امام حسین(ع) کی نسل سے بقیہ نو اماموں میں سے ہر امام کے کتنے کتنے صحابی تھے اور ہر امام(ع) کے عہد میں کتنے صحابیوں نے کتنی کتنی کتابیں لکھیں اور حساب لگایا جائے کہ وہ لوگ کتنے ہزار تھے جنھوں نے ان کتابوں کے مضامین دوسروں سے بیان کیے اور اصول و فروع دین کے متعلق جو آل محمد(ص) کی حدیثیں تھیں ان کے حامل بنے۔ پھر اس پر غور کیا جائے کہ یہ علوم ایک جماعت سے دوسری جماعت میں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں نو اماموں کے زمانے سے نسلا بعد نسل منتقل ہوتے آئے تب اندازہ ہوگا۔ اس وقت آنکھیں کھلیں گی کہ ائمہ اہل بیت(ع) کا مذہب کس قدر متواتر ہے پھر کوئی شک نہ رہے گا۔ کہ ہم اصول و فروع دین میں جس طریقہ پر طاعت الہی کرتے ہیں وہ طریقہ
آل پیغمبر(ص) سے حاصل کیا ہوا اہل بیت(ع) رسول(ص) سے ماخوذ ہے۔ اس میں نہ کسی شک کی گنجائش ہوگی نہ شبہ کی۔ ہاں ہٹ دھرمی اور خواہ مخواہ کا بغض رکھنے والے یا انتہائی جاہل و کودن انسان شک کرے تو بات دوسری ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم لوگوں کی اس طریقے کی طرف ہدایت کی اگر خداوند عالم ہمیں ہدایت نہ کرتا تو ہم خود ہدایت حاصل نہیں کرسکتے تھے۔
ش
مکتوب نمبر56
میں گواہی دیتا ہوں کہ اصول و فروع میں آپ اسی مسلک پر ہیں جس پر اہل بیت(ع)پیغمبر(ص) تھے۔ آپ نے اس چیز کو واضح کر کے بخوبی روشن کردیا اور ڈھکی چھپی باتیں ہویدا کر دیں۔ شک کرنا نا اںصافی ہے اور شک و شبہ میں ڈالنا گمراہ بنانا ہے۔ میں نے آپ کے مذہب کو اچھی طرح دیکھا بھالا مجھے شروع سے آخر تک پسندیدہ ہی نظر آیا۔ میں پہلے جبکہ آپ کے ذریعے حقائق تک نہیں پہنچا تھا، آپ لوگوں کے متعلق بڑی غلط فہمی میں مبتلا تھا کیونکہ اب تک میرے کانوں میں بہتان باندھنے والوں اور افترا پردازوں ہی کی آوازیں پہنچائی گئیں۔ جب خدا نے مجھے آپ تک پہنچایا تو میں آپ کے ذریعے ہدایت کے جھنڈے کے نیچے آگیا اور تاریکیوں کے چراغ تک پہنچ گیا اور آپ کے پاس سے میں فلاح یافتہ اور رستگار ہو کر واپس ہوا۔ خدا نے آپ کے ذیعے کتنی گرانقدر نعمت مجھ پر نازل کی۔ میں کیا عرض کروں کہ آپ نے کتنے بڑا احسان مجھ پر فرمایا۔
س
جواب مکتوب
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ قلمرو دین و دانش کے تاجدار ہیں۔ آپ نے شہاب سے زیادہ تابانی دکھائی۔ اور محیط بحث و نظر کے بے بہا گوہر غلطان نکال لائے۔ بتحقیق باریک نگاہی کو آپ نے پایہ معراج تک پہنچا دیا ۔ حقائق کی تہوں میں آپ کی نگاہ پہنچی نہ تھی۔ نہ قومی جذبات نے آپ کا دامن کھینچا اور نہ شخصی اغراض نے آپ کی راہ روکی۔ اختلاف نظر نے آپ کو برہم نہ کیا۔ آپ تو پہاڑ سے بھی زیادہ قوت برداشت رکھتے ہیں۔ آپ کے دل کی وسعت لا محدود ہے۔ حق بے نقاب ہوگیا۔ صبح چشم بینا کے لیے درخشان ہوگئی۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے اپنے دین کی طرف رہنمائی کی اور موفق فرمایا کہ اس کے راستے پر قوم لگ گئی۔
ش
حضرت علی علیہ السلام کو پہچانو ان کی لسان حکمت سے
مولائے کونین جب جنگ نہروان سے فارغ ہو کر کوفہ تشریف لائے تو ایک فصیح و بلیغ خطبہ دیا جس کا کچھ اقتباس دیا جاتا ہے:
--------------
1ـ یعسوب : سر گروہ
2ـ “ يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ كُونُوا مَعَ الصَّادِقينَ ” اے ایمان والو اﷲ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ( سورہ توبہ۔119)
میں ہی صالح المومنین ہوں اور میں ہی دنیا و آخرت میں خدا کی طرف سے پکارنے والا ہوں۔
میں ہی مصداق لافتی ، ابن الفتی اور اخو الفتی ہوں۔ اور میں ہی ممدوح “ ھل اتی” ہوں۔
میں ہی وجہ اﷲ اور جنب(1) اﷲ ہوں اورمیں ہی شانِ خدا ہوں ۔ میرے پاس سب علم گزشتہ اور آیندہ ہے تا روز قیامت میرے سوا امت میں کوئی اس کا مدعی ہو نہیں سکتا۔
اﷲ تعالی نے میرے قلب کو روشن اورمیرے عمل کو پسند فرمایا ہے۔ اﷲ تعالی نے مجھ کو حکمت عطا کی ہے اور اسی سے پرورش کیا ہے۔
جب سے میں پیدا ہوا ہوں ۔ چشمِ زدن کے لیے شرک کا مرتکب نہیں ہوا اور جب سے دنیا میں آیا ہوں کبھی خوف نہیں کھایا۔ میں نے ہی صنادید ( بڑے بڑے سردار) عرب اور ان کے شہسوار کو قتل کیا ہے اور ان کے سرکشوں اور بہادروں کو فنا کیا ہے۔
اے لوگو ! پوچھو مجھ سے علمِ مخزون الہی کی بابت اور اس کی اس حکمت کی بابت جو مجھ میں ذخیرہ کی گئی ہے۔
اللهم صل علی محمد وآل محمد
( کوکب دری ص70 سے 72)
--------------
1ـ جنب اﷲ : اﷲ کا پہلو یعنی اﷲ کے قریب ہونا۔
فہرست
پیش لفظ 3
عالیجناب شیخ سلیم البشری. 6
( عالم اہل سنت کے مختصر حالات زندگی) 6
عالی جناب آقائے سید عبدالحسین شرف الدین موسوی ( علیہ الرحمہ) 8
کے مختصر حالات زندگی 8
کتاب ہذا سے متعلق علمائے اعلام کے مکتوبات. 10
شام کے ایک معزز عالم دین. 10
علامہ شیخ محمد ناجی غفری کا مکتوب گرامی 10
ان ہی عالم دین کا دوسرا مکتوب گرامی 11
مولانائے موصوف کا تیسرا مکتوب گرامی 12
حجہ الاسلام علامہ شیخ محمد حسین المظفر 13
کا مکتوب گرامی 13
مکتوب نمبر 1 15
مناظرہ کی اجازت. 16
جوابِ مکتوب. 18
مناظرہ کی اجازت. 18
مکتوب نمبر2 19
شیعہ بھی حضرات اہلسنت کا مسلک کیوں نہیں اختیار کر لیتے؟ 19
اتحاد و اتفاق کی ضرورت. 20
اتحاد جہور اہلسنت کا مذہب اختیار کرنے ہی سے ہوسکتا ہے۔ 20
جواب مکتوب. 21
شرعی دلیلیں مجبور کرتی ہیں کہ مذہب اہلبیت(ع) کو اختیار کیا جائے.. 21
جمہور اہلسنت کا مسلک اختیار کرنے کی کوئی دلیل نہیں ملتی 22
پہلے زمانہ کے لوگ جہمور کے مذہب کو جانتے ہی نہ تھے 23
اجتہاد کا دروازہ اب بھی کھلا ہوا ہے.. 24
اتحاد کی آسان صورت یہ ہے کہ مذہب اہلبیت(ع) کو معتبر سمجھا جائے.. 25
مکتوب نمبر 3. 28
جواب مکتوب. 29
اتباعِ اہلبیت(ع) کے وجوب پر ایک ہلکی سی روشنی 29
امیرالمومنین(ع) کا دعوت دینا مذہب اہلبیت(ع) کی طرف.. 30
امام زین العابدین(ع) کا ارشادِ گرامی 36
مکتوب نمبر4 38
کلام مجید یا احادیثِ پیغمبر(ص) سے دلیل کی خواہش. 38
جواب مکتوب. 39
ہماری تحریر پر غور نہیں کیا گیا 39
حدیثِ ثقلین. 39
حدیثِ ثقلین کا متواتر ہونا 43
جن نے اہلبیت(ع) سے تمسک نہ کیا اس کا گمراہ ہونا 45
اہلبیت(ع) کی مثال سفینہ نوح(ع) اور باب حطہ کی ہے اور وہ اختلاف فی الدین سے بچانے والے ہیں. 47
اہل بیت(ع) سے کون مراد ہیں ؟ 48
اہلبیت(ع) کو سفینہ نوح(ع) اور باب حطہ سے کیوں تشبیہ دی گئی 50
مکتوب نمبر5 53
مزید نصوص کی خواہش. 53
جوابِ مکتوب. 53
نصوص کا مختصر سا تذکرہ 53
مکتوب نمبر6 65
ہماری تحریر پر اظہار پسندیدگی 65
حیرت و دہشت کہ مذکورہ احادیث اور جمہور کی روش کو ایک کیونکر کیا جائے؟ 65
کلام مجید سے ادلہ کی خواہش. 66
جواب مکتوب. 66
کلام مجید سے دلائل. 66
مکتوب نمبر7. 96
جواب مکتوب. 97
مکتوب نمبر8 100
جوابِ مکتوب. 101
ا : ابان بن تغلب بن رباح قاری کوفی 101
ابراہیم بن یزید بن عمرو بن اسود بن عمرو نخعی کوفی 101
احمد بن مفضل ابن کوفی حفری. 102
اسماعیل بن ابان. 102
اسماعیل بن خلیفہ ملائی کوفی 102
اسماعیل ابن زکریا خلقانی کوفی 103
اسماعیل بن عباد بن عباس طالقانی 103
اسماعیل بن عبدالرحمن بن ابی کریمہ مشہور مفسر 104
جو سدی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں. 104
اسماعیل بن موسی فزاری کوفی 105
ت : 105
تلید بن سلیمان کوفی 105
ث : 106
ثابت بن دینار 106
ثوبر بن ابی فاختہ 106
ج : 106
جابر بن یزید جعفی کوفی 106
جریر بن عبدالحمید جنبی کوفی 107
جعفر بن زیاد احمر کوفی 107
جعفر بن سلیمان ضبعی بصری. 108
جمیع بن عمیرہ بن ثعلبہ کوفی تیمی 108
ح : 108
حارث بن حصیرہ کوفی 108
حارث بن عبداﷲ ہمدانی 109
حبیب بن ابی ثابت اسدی. 109
حسن بن حیَ 109
حکم بن عتیبہ کوفی 110
حماد بن عیسیٰ 110
حمران بن اعین. 110
خ : 110
خالد بن مخلد قطوانی کوفی 110
ز : 111
زبید بن حارث بن عبدالکریم کوفی 111
زید بن الحباب کوفی تمیمی 111
س : 111
سالم بن ابی الجعد اشجعی کوفی 111
سالم بن ابی حفصہ عجلی کوفی 112
سعد بن طریف الاسکاف حنظلی کوفی 112
سعید بن اشوع. 112
سعید بن خیثم 113
سلمہ بن الفضل الابرش. 113
سلمہ بن کمیل بن حصین حضرمی 113
سلیمان بن صرد خزاعی کوفی 113
سلیمان بن طرخان تیمی بصری. 114
سلیمان بن قرم بن معاذضبی کوفی 114
سلیمان بن مہران کاہلی کوفی مشہور بہ اعمش. 114
ش : 117
قاضی شریک بن عبداﷲ بن سنان بن انس نخعی کوفی 117
شعبہ بن حجاج عتکی 119
ص : 119
صعصعہ بن صوحان بن حجر بن حارث عبدی. 119
ظ : 121
ظالم بن عمرو بن سفیان ابو الاسود دؤلی 121
ع : 122
ابو الطفیل عامر بن وائلہ بن عبداﷲ بن عمرو اللیثی 122
عباد بن یعقوب الاسدی. 123
ابو عبدالرحمن بن داؤد ہمدانی کوفی 124
عبداﷲ بن شداد 124
عبداﷲ بن عمر مشہور بہ مشکدانہ 124
عبداﷲ بن لہیعہ قاضی و عالمِ مصر 124
عبداﷲ بن میمون قداح صحابی امام جعفر صادق(ع) 125
ابو محمد عبدالرحمن بن صالح ازدی. 125
عبدالرزاق بن ہمام بن نافع حمیری. 126
عبدالملک بن اعین. 130
عبداﷲ بن عیسی کوفی 130
ابوالیقطان عثمان بن عمیر ثقفی کوفی بجلی 131
عدی بن ثابت کوفی 131
عطیہ بن سعد بن جنادہ عوفی 132
علاء بن صالح تیمی کوفی 133
علقمہ بن قیس بن عبداﷲ نخعی 134
علی بن بدیمہ 134
ابو الحسن علی بن جوہری بغدادی. 134
علی بن زید بن عبداﷲ تیمی بصری. 135
علی بن صالح 135
ابویحیٰ علی بن غراب فزاری کوفی 135
ابوالحسن علی بن قادم خزاعی کوفی 136
علی بن منذر طرائفی 136
ابوالحسن علی بن ہاشم بن برید کوفی 136
عمار بن زریق کوفی 137
عمار بن معاویہ 137
ابواسحٰق عمرو بن عبداﷲ ہمدانی کوفی 138
ابو سہل عوف ابن ابی جمیلہ البصری. 139
ف : 139
فضل بن دکین. 139
ابو عبدالرحمن فضیل بن مرزوق. 140
فطر بن خلیفہ حناط کوفی 141
م : 141
ابوغسان مالک بن اسماعیل بن زیاد بن درہم کوفی 141
محمد بن خازم 142
محمد بن عبداﷲ نیشاپوری مشہور بہ امام حاکم 142
محمد بن عبیداﷲ بن ابی رافع مدنی 143
ابوعبدالرحمن محمد بن فضیل بن غزوان کوفی 143
محمد بن مسلم بن طائفی 144
محمد بن موسیٰ بن عبداﷲ الفطری المدنی 144
معاویہ بن عمار دہنی بجلی کوفی 145
معروف بن خربوذ کرخی 145
منصور بن المعتمر بن عبداﷲ بن ربیعہ کوفی 145
مہنال بن عمرو تابعی 146
موسیٰ بن قیس حضرمی 146
ن : 147
ابو داؤد نفیع بن حارث نخعی کوفی 147
نوح بن قیس بن رباح الحدانی 147
ھ : 148
ہارون بن سعد عجلی کوفی 148
ابو علی ہاشم بن برید کوفی 148
ہیبرہ بن بریم حمیری. 148
ابوالمقدام ہشام بن زیاد بصری. 148
ابوالولید ہشام بن عمار بن نصیر بن میسرہ 149
ہیشم بن بشیر بن قاسم بن دینار سلمی واسطی 149
و : 149
وکیع بن جراح بن ملیح بن عدی. 149
ی : 150
یحیٰ بن جزار عرفی کوفی 150
یحیٰ بن سعید قطان. 150
یزید بن ابی زیاد کوفی 150
ابو عبداﷲ جدلی 151
مکتوب نمبر9 153
جواب مکتوب. 155
مکتوب نمبر10 156
باب دوم 158
امامت عامہ یعنی خلافتِ پیغمبر(ص) 158
جوابِ مکتوب. 158
دعوت عشیرہ کے موقع پر پیغمبر(ص) کا خلافت امیرالمومنین(ع) پر ںص فرمایا 159
پیغمبر(ص) کی اس نص کا تذکرہ کن کن کتابوں میں موجود ہے.. 161
مکتوب نمبر11 164
حدیث مذکورہ بالا کی سند میں تردد 164
جواب مکتوب. 165
نص کا ثبوت. 165
نص سے کیوں اعراض کیا؟ 167
مکتوب نمبر12 169
حدیث کی صحت کا اقرار 169
یہ حدیث منسوخ ہوگئی تھی 170
جواب مکتوب. 170
اس حدیث سے استدلال کرنے کی وجہ 170
مخصوص خلافت کو کوئی بھی قائل نہیں. 171
حدیث کا منسوخ ہونا ناممکن ہے.. 171
مکتوب نمبر13. 173
جوابِ مکتوب. 173
حضرت علی(ع) کی دس(10) ایسی فضیلتیں جس میں کی کوئی ایک بھی کسی دوسرے کو حاصل نہیں اور جس سے آپ(ع) کی خلافت کی صراحت ہورہی ہے۔ 173
اس حدیث سے ثبوت خلافت امیرالمومنین(ع) 179
مکتوب نمبر 14 184
جواب مکتوب. 184
حدیثِ منزلت صحیح ترین حدیث ہے.. 184
اس کی صحت پر دلائل بھی موجود ہیں. 185
وہ علمائے اہل سنت جنھوں نے اس حدیث کی روایت کی ہے.. 185
آمدی کے شک کرنے کی وجہ 191
مکتوب نمبر15 192
سندِ حدیث کی صحت کا اقرار 192
عموم حدیث منزلت میں شک. 192
اس حدیث کے حجت ہونے میں شک. 193
جواب مکتوب. 194
عرب کے اہل زبان عموم حدیث کے قائل ہیں. 194
اس کا ثبوت کہ حدیث کسی مورد کے ساتھ مخصوص نہیں. 195
اس قول کی تردید کہ یہ حدیث حجت نہیں. 197
مکتوب نمبر16 198
حدیث منزلت و مقامات. 198
جوابِ مکتوب. 199
من جملہ مقاماتِ حدیثِ منزلت ملاقاتِ ام سلیم ہے.. 199
مکتوب نمبر17. 206
جواب مکتوب. 206
یومِ شبر و شبیر و مبشر 207
یوم مواخات. 207
سد ابواب. 215
مکتوب نمبر18 221
جوابِ مکتوب. 221
مکتوب نمبر19 231
جواب مکتوب. 231
مکتوب نمبر20 235
جوابِ مکتوب. 236
مکتوب نمبر21 241
جواب مکتوب. 241
علامہ زمخشری کا نکتہ 244
ایک اور لطیف نکتہ 245
مکتوب نمبر22 247
یہاں آیت دلالت کرتی ہے کہ ولی سے دوست یا اسی جیسے معنی مراد ہیں. 247
جوابِ مکتوب. 248
سیاق آیت سے اس قسم کی معنی نہیں نکلتے 248
سیاقِ آیت ادلہ کے قابلہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا 250
مکتوب نمبر23. 252
مراد آیت میں تاویل ضروری ہے تاکہ سلف پر آنچ نہ آئے.. 252
جوابِ مکتوب. 253
سلف کا احترام مستلزم نہیں کہ آیت کے معنی میں تاویل کی جائے ۔ تاویل ہو بھی کیا جاسکتی ہے.. 253
مکتوب نمبر 24 254
جوابِ مکتوب. 255
مکتوب نمبر25 290
امیرالمومنین(ع) کے فضائل کا اعتراف.. 290
فضائل مستلزم خلافت نہیں۔ 292
جوابِ مکتوب. 293
امیرالمومنین(ع) کے فضائل سے آپ کی خلافت پر استدلال. 293
مکتوب نمبر26 295
صحابہ کے فضائل کی حدیثوں سے معارضہ 295
جوابِ مکتوب. 295
دعوائے معارضہ کی رد 295
مکتوب نمبر27. 298
حدیثِ غدیر کی بابت استفسار 298
جواب مکتوب. 298
مکتوب نمبر28 312
جوابِ مکتوب. 313
حدیثِ غدیر کا تواتر اور اس کی غیر معمولی اہمیت. 313
مکتوب نمبر29 331
حدیثِ غدیر کی تاویل پر قرینہ 333
جوابِ مکتوب. 334
حدیث غدیر کی تاویل ممکن نہیں. 334
مکتوب نمبر30 343
حق کا بول بالا 343
جواب مکتوب. 344
مکتوب نمبر31 350
شیعوں کے سلسلہ سے ںصوص کی خواہش. 350
جوابِ مکتوب. 351
مکتوب نمبر32 367
شیعوں کی حدیثیں حجت نہیں اگر یہ حدیثیں صحیح ہیں تو اہلسنت نے کیوں نہیں ان کی روایت کی ،مزید نصوص ذکر فرمائیں 367
جواب مکتوب. 368
مکتوب نمبر33. 374
جوابِ مکتوب. 374
علی(ع) وارثِ پیغمبرصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم 374
مکتوب نمبر34 380
بحثِ وصیت. 380
جوابِ مکتوب. 380
امیرالمومنین(ع) کے وصی پیغمبر(ص) ہونے کے 380
متعلق پیغمبر صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات. 380
مکتوب نمبر 35 390
جوابِ مکتوب. 393
مکتوب نمبر36 407
افضل ازواج. 407
جوابِ مکتوب. 408
جناب عائشہ افضل ازواج نبی(ص) نہ تھیں. 408
جناب خدیجہ تمام ازواج میں افضل ہیں. 409
مکتوب نمبر 37. 412
جواب مکتوب. 412
حضرت عائشہ سے اعراض کے وجوہ 412
عقل بتاتی ہے کہ پیغمبر(ص) نے یقینا وصیت فرمائی 419
حضرت عائشہ کا دعویٰ معارض ہے دیگر احادیث سے 423
مکتوب نمبر38 424
حضرت عائشہ اپنی حدیثوں میں جذبات سے کام نہ لیتی تھیں. 424
حسن و قبح اہل سنت کے یہاں عقلی نہیں شرعی ہیں. 425
دعویٰ عائشہ کے معارض کوئی حدیث نہیں. 426
جواب مکتوب. 426
حضرت عائشہ کا روایتِ احادیث میں جذبات سے مجبور ہونا 426
حسن و قبح کے عقلی ہونے کا ثبوت. 430
صحیح حدیثیں مخالف ہیں دعوی عائشہ کے 433
ام سلمہ کی حدیث مقدم ہے حضرت عائشہ پر 440
مکتوب نمبر 39 441
جناب ام سلمہ کی حدیث کو ترجیح کیوں کر۔۔۔۔۔؟ 441
جواب مکتوب. 442
جناب ام سلمہ کی حدیث کے مقدم و ارجح ہونے کے اسباب. 442
مکتوب نمبر40 449
اجماع و خلافت. 449
جواب مکتوب. 450
اجماع ہوا ہی نہیں. 450
مکتوب نمبر 41 457
اختلافات ختم ہونے کے بعد اجماع منعقد ہوگیا 457
جواب مکتوب. 458
مکتوب نمبر 42 467
جواب مکتوب. 468
مکتوب نمبر43. 477
وہ مقامات جہاں صحابہ نے ارشادات پیغمبر(ص) کی مخالفت کی 477
جواب مکتوب. 478
واقعہ قرطاس. 478
پیغمبر(ص) نے زبردستی نوشتہ لکھ کر کیوں نہیں ڈالا 487
مکتوب نمبر44 489
واقعہ قرطاس پر عذر و معذرت. 489
جواب مکتوب. 494
عذر و معذرت صحیح نہیں. 494
مکتوب نمبر45 502
عذر و معذرت کے لغو ہونے کا اعتراف بقیہ مورد کے متعلق استفتاء 502
جواب مکتوب. 503
جیش اسامہ 503
مکتوب نمبر46 512
سریہ اسامہ میں صحابہ کے نہ جانے کی معذرت. 512
جواب مکتوب. 515
مکتوب نمبر47. 522
جواب مکتوب. 522
پیغمبر(ص) کا حکم مارق ( دین سے نکل جانے والے) کو قتل کر ڈالو 522
مکتوب نمبر48 526
جواب مکتوب. 527
مکتوب نمبر49 529
جواب مکتوب. 529
مقامات جہاں صحابہ نے حکمِ پیغمبر(ص) پر عمل نہ کیا 529
مکتوب نمبر 50. 532
صحابہ کا مصلحت کو مقدم سمجھنا 532
باقی موارد کی تصریح پر اصرار 533
جواب مکتوب. 533
موضوع بحث سے باہر ہوجانا 533
مکتوب نمبر51 540
حضرت علی(ع) نے بروزِ سقیفہ اپنی خلافت و جانشینی کی احادیث سے احتجاج کیوں نہ فرمایا؟ 540
جواب مکتوب. 541
احتجاج نہ کرنے وجوہ 541
مکتوب نمبر52 545
حضرت علی(ع) نے کب احتجاج فرمایا؟ 545
جواب مکتوب. 545
حضرت علی (ع) اور آپ کے شیعہ کا احتجاج. 545
مکتوب نمبر53. 553
جواب مکتوب. 553
عبداﷲ بن عباس کا احتجاج. 553
مکتوب نمبر54 560
جواب مکتوب. 560
مکتوب نمبر55 578
جواب مکتوب. 579
مذہب شیعہ کا اہلبیت(ع) سے ماخوذ ہونا 579
تصنیف و تالیف کی ابتداء شیعوں سے ہوئی 582
مکتوب نمبر56 605
جواب مکتوب. 606
حضرت علی علیہ السلام کو پہچانو ان کی لسان حکمت سے 607