آداب واخلاق	 (تفسیر سورہ حجرات)
گروہ بندی تفسیر قرآن
مصنف حجت الاسلام محسن قرائتی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404

آداب واخلاق

(تفسیر سورہ حجرات)

مُفَسِّر

آیت اللّٰہ محسن قرائتی(دام برکاتہ)

ترجمہ

سید نسیم حیدر زیدی


بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم


فہرست

انتساب 10

مقدمہ 11

عرض مترجم 13

سورئہ حجرات کا مختصر تعارف 15

نکات: 17

آیت نمبر 1 18

نکات: 18

پیغامات: 19

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سبقت اور پیش قدمی کی چند مثالیں: 21

رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پیچھے رہ جانے اور مخالفت کی چند مثالیں: 24

تقویٰ اور پرہیز گاری کے بارے میں ایک بحث: 26

تقویٰ میں مؤثر عوامل: 27

کیا تقویٰ محدودیت ہے؟ 28

بدحجابی یا بے حجابی مندرجہ ذیل مسائل کو ایجاد کرتی ہے۔ 29

آیت نمبر 2 31

نکات: 31

پیغامات: 34


مقام نبوت ہمارے لیے مسئولیت آور ہے۔ 34

نمونے: 35

اسلامی مقدسات: 36

مقدسات: 37

اولیاء الٰہی کا احترام: 41

اعمال کا حبط اور ضایع ہونا: 43

حبط اعمال روایات کی روشنی میں: 44

آیت نمبر 3 49

نکات: 49

پیغامات: 50

گفتگو کے آداب: 51

عمل کے چند نمونے: 53

اجر خداوندی کا امتیاز: 54

آیت نمبر 5اور 5 56

نکات: 56

پیغامات: 57

آیت نمبر 6 60

نکات: 60

پیغامات: 61


فسق کیا ہے اور فاسق کون ہے؟ 63

فاسق سے رابطہ رکھنا: 66

''تحقیق'' معاشرتی بیماریوں کا علاج: 66

ایک ناگوار اورتلخ واقعہ: 67

دِقَّت اور احتیاط سے کام کرنا 68

اسلا م میں خبر کی اہمیت 69

تحقیق کا طریقہ کار 71

جھوٹ: 74

آیت نمبر 7 اور 8 76

نکات: 76

پیغامات: 79

ایمان اور علم کا تعلق: 82

آیت نمبر 9 83

نکات: 83

پیغامات: 84

نمونے: 88

عدالت: 89

مکتب انبیاء میں عدالت کی اہمیت 91


اعتقادی اور فطری عدالت کا زمینہ 92

عدل کی وسعت: 93

نمونے: 95

آیت نمبر 10 98

پیغامات: 99

اخوت و برادری: 100

برادری کے حقوق: 104

بہترین بھائی: 106

صلح و آشتی قرآن کی روشنی میں: 106

صلح آشتی کی اہمیت: 107

صلح و آشتی کے موانع: 109

قرآن میں نزول رحمت کے چند عوامل: 110

روایات میں نزول رحمت کے عوامل: 111

آیت نمبر 11 113

نکات: 113

پیغامات: 114


دوسروں کا مذاق اڑانا اور استہزاء کرنا: 116

مذاق اڑانے کی وجوہات: 116

نا چاہتے ہوئے تحقیر کرنا: 118

تمسخر اور مذاق اُڑانے کے مراتب: 119

مذاق اڑانے کا انجام: 119

یاد داشت: 120

آیت نمبر 12 122

نکات: 122

پیغامات: 124

سوء ظن کی اقسام: 126

غیبت کسے کہتے ہیں؟ 129

غیبت روایات کی روشنی میں: 130

غیبت کا ازالہ: 132

وہ مقامات جہاں غیبت کرنا جائز ہے: 133

غیبت کے خطرات: 134

غیبت کی اقسام: 135

غیبت کے آثار: 136

(الف) اخلاقی اور اجتماعی آثار۔ 136


(ب)أُخروی آثار۔ 137

غیبت کی وجوہات: 137

غیبت سننا: 139

غیبت ترک کرنے کے طریقے: 140

یاد آوری: 140

آیت نمبر 13 142

نکات: 142

پیغامات: 143

آیت نمبر 15 144

نکات: 144

پیغامات: 145

اسلام اور ایمان میں فرق: 146

1۔ گہرائی کا فرق۔ 146

2۔ محرک میں فرق: 146

3-عمل میں فرق: 146

5۔ اجتماعی اور سیاسی مسائل میں فرق: 147

5۔ رتبے میں فرق: 147

آیت نمبر 15 148


پیغامات: 148

بخیل اور بزدل کا ایمان حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا ہے۔ 149

حقیقی مومن کی پہچان: 149

ایمان میں استقامت و پائیداری: 152

ایمان میں استقامت اور پائیداری کے عوامل: 153

آیت نمبر 16 154

نکات: 154

پیغامات: 155

آیت نمبر 17 156

نکات: 156

پیغامات: 157

آیت نمبر 18 158

پیغامات: 158


انتساب

میں اپنی اس ناچیز خدمت کو قرآن کے سب سے پہلے مفسر حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے پاک و پاکیزہ اہل بیت ٪ کی خدمت اقدس میںپیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں۔

نسیم حیدر زیدی


مقدمہ

الحمد للّٰه ربّ العٰالمین و صلّی اللّٰه علی سیّدنا ونبیّنا محمّد و اهل بیته الطاهرین

ایک طرف نئی نسل کا قرآن کی طرف رحجان اور دوسری طرف قرآن کی تفسیر سے آگاہی کی ضرورت نے لوگوں کی بڑی تعداد کو تفسیر قرآن کے مطالعہ کی ترغیب دی ہے جیسا کہ مکمل قرآن کی تفسیر کو خریدنے کیلئے ایک اچھی خاصی رقم درکار ہوتی ہے اور پھر اس کے مطالعہ کے لیے بھی کافی حوصلہ چاہیے۔ بعض اکابرین نے قرآن کے کچھ حصوں کی الگ سے تفسیر کی ہے۔ میں نے بھی تفسیر نور (جو انشاء اللہ بارہ جلدوں میں پیش کی جائے گی) کے علاوہ قرآن سے لگاؤ رکھنے والے افراد کی دسترس کیلئے ضروری سمجھا کہ بعض سوروں کی الگ سے تفسیر پیش کی جائے تاکہ کم ازکم وہ افراد جو مکمل تفسیر کے مطالعہ سے محروم ہیں اس کے کچھ حصے کا ہی مطالعہ کرسکیں۔

لہٰذا اسی سلسلے میں تفسیر سورئہ یوسف ''یوسف قرآن'' کے نام سے جیبی سائز میں الگ سے چھپ چکی ہے اور اب سورئہ حجرات جو اس سلسلے کی دوسری کڑی ہے لوگوں کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

اس توفیق الٰہی پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں، اور اپنے مددگار حجج الاسلام، جناب کلباسی و جناب مشیری اور جناب جعفری۔ صاحبان کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس تفسیر کی تخلیق میں کافی وقت صرف کیا۔


جیسا کہ زمین کا جو حصہ بھی روشن و عیاں ہے وہ سورج کے طفیل ہے اور وہ جگہ جو تاریک ہے خود زمین کی وجہ سے ہے، بالکل اسی طرح میری اس کتاب میںجہاں بھی روشنی ہے وہ قرآن ، انبیاء ، اوصیاء ، شہداء اور علماء کی ہدایت و رہنمائی کے طفیل ہے اور جہاں ابہام، تاریکی، نقائص اور کمی بیشی ہے اُسے میری فکر کا نتیجہ سمجھئے گا۔

آخر میںاللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں خدایا! قرآن کو ہماری فکر، بیان، عمل، قلب، قبر، قیامت، سیاست، اقتصاد، اجتماع، نسل، عزت و ناموس اور تاریخ کا نور قرار دے۔

''محسن قرآئتی''


عرض مترجم

سورہ حجرات کا موضوع مسلمانوں کو ان آداب کی تعلیم دیتا ہے جو صاحبان ایمان کی شایان شان ہیں ۔ابتدائی پانچ آیتوں میں ان کو وہ ادب سکھایاگیا ہے جو انھیں اللہ تعالی اور ان کے رسول کے سلسلے میں ملحوظ رکھنا چاہیے ۔ پھر یہ ھدایت دی گئی ہے کہ ہر خبر پر یقین کر لینا ارع اس پر کوئی کاروائی کر گذرنا مناسب نہیں ہے اگر کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی اطلاع ملے تو غور سے دیکھنا چاہیے کہ خبر ملنے کا ذریعہ قابل اعتماد ہے یا نہیں ،قابل اعتماد نہ ہو تو اس پر کاروائی کرنے سے پہلے تحقیق کر لینی چاہیے کہ خبر صحیح ہے یا نہیں۔

پھر مسلمانوں کو ان برائیوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فساد برپا کرتی ہے اورجنکی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔اس کے بعد ان قومی اور نسلی امتیازات پر ضرب لگائی گئی ہے جو دنیا میں عالم گیر فسادات کے موجب بنتے ہیں ۔آخر میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اصل چیز ایمان کا زبانی دعوی نہیں بلکہ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کو ماننا ،عملاً فرمانبردار اور مطیع بن کر رہنا اور خلوص کے ساتھ اللہ کی راہ میں اپنی جان ومال کی قربانی پیش کردینا ہے ۔

یوں تو قرآن کی تفسیر کے سلسلے میں انتہائی قابل قدر کام ہوا اور مسلسل ہو رہا ہے لیکن دور حاضر میں ایران کے مشہور عالم دین اور مفسر قرآن آیت اللہ الحاج شیخ محسن


قرائتی (دام برکاتہ) کا اندازاپنی مثال آپ ہے جنھوں نے اس سورہ کی تفسیر انتہائی سادہ، شیرین اور دلکش انداز میں کی ہے۔جسکی اہمیت وضرورت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اردودان حضرات کے لئے حقیر نے اسے ادارہ التنزیل ،، کی فرمائش پراردو کے قالب میں ڈالنے کا کام انجام دیا،قارئین سے امید ہے کہ وہ اپنی مفید آراء اور نظریات سے مطلع فرمائیں گے۔آخر میں ،میں ان تمام حضرات کا شکر گزار ہوںجنھوں نے اس کتاب کی نشرواشاعت میں کسی بھی قسم کا تعاون فرمایا ۔امید ہے کہ خدااس ناچیز کوشش کو اپنی بارگاہ میں مقبول ومنظور فرمائے۔آمین یا رب العالمین

سید نسیم حیدر زیدی

قم المقدسہ


سورئہ حجرات کا مختصر تعارف

یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوا، اس کی اٹھارہ آیات ہیں(1) ۔ اور سورئہ ''حجرات'' یا سورہ ''آداب و اخلاق'' کے نام سے مشہور ہے۔

حجرات ''حجرة''(2) کی جمع ہے اِس سورہ میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حجرات کا ذکر ہونے کی وجہ سے اِسے ''سورئہ حجرات'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ (جو انتہائی سادہ مٹی اور کھجور کی لکڑی اور شاخوں سے بنے ہوتے تھے)

قرآن مجید کی تین سورتیں (مائدہ، حجرات، ممتحنة) ایسی ہیں جو حکومتی اور اجتماعی مسائل پر مشتمل ہیں۔ ان تینوں سورتوں کا آغاز''یَا ایُّهَا الَّذِیْنَ أَمَنُوا'' کے جملہ سے ہوتا ہے۔(3)

اس سورئہ میں''یَا ایُّهَا الَّذِیْنَ أَمَنُوا'' کے جملے کی تکرار ایک صحیح اسلامی معاشرے کی آئینہ دار ہے۔

٭اس سورئہ میں کچھ ایسے مسائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو کسی دوسرے سورئہ میں بیان نہیں کیے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ جبکہبسم الله… سمیت اس کی آیات 19 ہیں (2)۔کمرہ (3)۔ سورئہ مائدہ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے(یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا َوْفُوا بِالْعُقُودِط) (اے ایمان والو اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ سورئہ ممتحنہ کا آغاز اس طرح ہوتا( یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ َوْلِیَائَ) (اے ایماندارو اگر تم جہاد کرنے میری راہ میں اور میری خوشنودی کی تمنا میں (گھر سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو) اور اس سورئہ میں پڑھتے ہیں کہ اے ایمان والو، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔


(1)۔ اس سورئہ میں رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سبقت اور پیش قدمی کی ممانعت، ان سے گفتگو کرنے کا سلیقہ، بتایا گیا ہے اور بے ادب افراد کی سرزنش کی گئی ہے۔

(2)۔ تمسخر، برے نام رکھنا، سوئے ظن، تجسس اور غیبت جیسے برائیاں جو اسلامی معاشرے کے لیے حرام ہیں اِس سورئہ میں اُن سے روکا گیا ہے۔

(3)۔ اخوت و برادری، صلح و آشتی ظلم کے خلاف اتحاد، عدل و انصاف، مشکوک افراد سے ملنے والی خبر کی تحقیق نیز فضیلت و برتری کے ایسے معیار کے تعین کا حکم دیا گیا ہے جو ایک اسلامی معاشرہ کے لیے ضروری ہے۔

(5)۔ اسلامی معاشرہ میں مسلمانوں سے مومنوں کے درجات مشخص کرنے کا معیار، تقویٰ اور پرہیز گاری کو قرار دیا گیا ہے۔ ایمان سے محبت اور کفر وفسق و فجور سے نفرت و بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے عدل و انصاف کو اسلامی معاشرہ کا محور قرار دیا گیا ہے۔

(5)۔ اس سورئہ میں اسلامی معاشرہ کو اللہ تعالیٰ کا احسان کہا گیا ہے جو ایک ایسے رسول کا عاشق ہے جس کے وسیلہ سے اس کی ہدایت ہوئی ہے۔ اور یہ معاشرہ ہرگز اپنے ایمان کو اللہ اور اس کے رسول پر احسان نہیں سمجھتا ہے۔

(6)۔ اس سورئہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے کے تمام افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اتباع کریں اور ہرگز اس بات کی توقع نہ رکھیں کہ رسول ان کے تابع ہو۔


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o

شروع کرتا ہوں ، اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

نکات:

یہ سورئہ بھی دوسرے تمام سورؤں کی طرح اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع ہوا ہے اس لیے کہ حدیث میں ہے: ''جو کام بھی اللہ تعالیٰ کے نام کے بغیر شروع کیا جائے وہ ناتمام رہ جاتا ہے۔

بلاشک انسان ہر کام کے آغاز میں رحمت الٰہی کا محتاج ہے اور یہ احتیاج'' بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم'' کے جملہ سے برطرف ہوجاتی ہے۔

ہر کام کی ابتداء میں'' بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم'' کہنا اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس سے محبت، اس کی یاد اس پر توکل نیز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ ہر کام کو اس کی رِضا کے مطابق انجام دینا چاہتے ہیں۔


آیت نمبر 1

یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ اﷲِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اﷲَ ِنَّ اﷲَ سَمِیع عَلِیم-

ترجمہ:

اے ایمان والو اللہ اور اُس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ اور اللہ سے ڈرو۔بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

نکات:

O یہ آیت بہت سی خطاؤں اور لغزشوں سے انسان کو بچالیتی ہے اس لیے کہ بعض اوقات انسان اکثریت سے متاثر ہو کر ان کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے ظاہری اور مادّی مظاہر کا شکار ہوجاتا ہے۔ اپنی ناقص اندازہ گیری سے جدید اور نئی چیزوں کی طرف رغبت کرنے لگتا ہے ۔ جذباتی اور جلد بازی کے فیصلے،فکری آزادی، انسان کو بہت کچھ کہنے، لکھنے اور ایسے ارادے کرنے پر مجبور کردیتی ہے جس سے انسان نادانستہ طور پر اس بات سے بھی غافل ہوجاتا ہے کہ وہ خدا اور رسول کی بیان کی ہوئی حدود سے تجاوز کرچکا ہے جیسا کہ ایک گروہ کو عبادت گزاری کے خیال، اصولی اورانقلابی ہونے کے خیال نیز زاہد اور سادہ زیستی کے خیال نے خدا اور رسول سے بھی آگے بڑھنے پر آمادہ کردیا ہے۔

جیسا کہ کہاوت ہے ۔ مدعی سست گواہ چست۔


O یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کو فرشتہ صفات ہونا چاہیے۔ اور فرشتوں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے-( لا یسبقونه بالقول و هم بامره یعملون) (1) وہ کلام خدا پر سبقت نہیں کرتے اور فقط اس کے امر کے مطابق عمل کرتے ہیں۔

O قرآن نے سبقت اور پیش قدمی کے موارد کو بیان نہیں کیا ہے تاکہ ہر قسم کی پیش قدمی کو روکا جاسکے چاہے اس کا تعلق عقائد، علم، سیاست، مالیات یا پھر گفتار اورکردار سے ہو۔

O بعض اصحاب نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مقطوع النسل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ اس سبب انہیں عورت کی ضرورت ہی پیش نہ آئے اور وہ ہر وقت اسلام کی خدمت کے لئے حاضر رہیں۔ حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں اس برے کام سے سختی سے روک دیا۔

Oجو شخص خدا اور رسول صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سبقت کرتا ہے وہ اسلام کے نظام میں خلل اور معاشرتی بد نظمی کا سبب ہے۔ گویا قانون اور نظام الٰہی کو کھیل تماشہ سمجھ کر اس میں اپنی مرضی چلانا چاہتا ہے۔

پیغامات:

1۔ احکامات پر عمل درآمد کرنے کے لیے سب سے پہلے مخاطب کو نفسیاتی اور فکری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ انبیائ، آیت 27


طور پر آمادہ کیا جائے۔''یا ایُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا'' یہ جملہ مخاطب کی شخصیت کا اعتراف، اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کے عمل کی انجام دہی کا سبب ہے۔

2۔ جس طرح اللہ اور اس کے رسول پر سبقت اور پیش قدمی کی ممانعت ایک ایسا حکم ہے جس میں مومنین کو مخاطب کے ساتھ پیش آنے کے آداب سکھائے ہیں اِسی طرح یہ آیت بھی اپنے مخاطبین کے ساتھ خطاب کے آداب کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے ''مخاطب ہے''۔''یا ایُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا…''

3۔ ایسا ذوق و شوق عادات، رسم و رواج، اور بہت سے ایسے قوانین جنکی بنیاد نہ قرآن و سنت پر ہے اور نہ عقل و فطرت سے ان کا کوئی تعلق ہو تو یہ چیز بھی خدا اور رسول پر سبقت کرنے کے مترادف ہے۔''لا تقدموا-----''

5۔ خدا کی حلال کردہ نعمتوں کو حرام اور حرام کو حلال کرنا بھی خدا اور رسول پر سبقت کرنا ہے۔''لا تقدموا---''

5۔ ہر طرح کی بدعت، مبالغہ آرائی اور بے جا تعریف و تنقید بھی سبقت کرنا ہے''لا تقدموا---''

6۔ ہمارے علم و عمل کا سر چشمہ قرآن اور سنت کو ہونا چاہیے۔

7۔ خدا اور رسول پر سبقت کرنا تقویٰ سے دوری کی علامت ہے جیسا کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ ''سبقت نہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔

8۔ ہر آزادی، وسعت طلبی اور ترقی اہمیت کی حامل نہیں ہوتی۔''لا تقدموا---''

9۔ فریضے کی ادائیگی کے لیے ایمان اور تقویٰ کا ہونا ضروری ہے۔ (آیت میں


''آمنوا'' کے ساتھ''واتقوا '' کا بھی ذکر ہے)۔

10۔ جو چیز جملے کی خوبصورتی کا باعث ہے وہ یہ کہ امر اور نہی کو ایک ساتھ ہونا چاہیے (آیت میں نہی کا ذکر بھی ہے لا تقدموا۔ اور امر بھی ہے۔واتَّقُوا)-

11۔ حکم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حکم خدا ہے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے احترامی خدا کی بے احترامی ہے۔ اور دونوں سے سبقت لے جانے کی ممانعت ہے۔(لاتُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ اﷲِ وَرَسُولِهِ---)

12۔ عمل کے لیے تقوے کا ہونا ضروری ہے۔لا تقدموا --- و اتقوا اللّٰه-

13۔ وہ لوگ جو اپنی خواہشات یا دیگر وجوہات کی بنا پر خدا اور رسول پر سبقت کرتے ہیں۔ نہ صاحب ایمان ہیں اور نہ پرہیز گار۔

15۔اپنی تند روی اور سست روی کی توجیہ نہ کریں۔''انّ اللّٰه سمیع علیم''

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سبقت اور پیش قدمی کی چند مثالیں:

O اب ہم خدا اور رسول پر سبقت اور پیش قدمی کے چند ایسے موارد پیش کرتے ہیں جن کا ذکر تفاسیر اور روایات میں موجود ہے۔

1۔ بعض افراد نے عید قربان کے دن پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے قربانی کرلی۔ لہٰذا ان سے کہا گیا''لا تقدّموا بین یدی اللّٰه و رسوله' '' (1)

2۔ بعض لوگوں نے ماہ مبارک رمضان کا پہلا روزہ ثابت ہونے سے پہلے ہی روزہ رکھ لیا اِنہیں کہا گیا''لا تقدّموا بین یدی اللّٰه و رسوله' ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ کشاف۔ ج5، ص 350


3۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک گروہ کو کفار کے پاس اسلام کی تبلیغ کی غرض سے بھیجا۔ کفار نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھیجے ہوئے مبلغین کو قتل کردیا مگر اُن میں سے تین افراد جان بچا کر بھاگ آئے۔

راستے میں انہیں کفار کے قبیلے (بنی عامر) کے دو افراد نظر آئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے دوستوں کا انتقام لینے کے لیے انہیں قتل کردیا (جبکہ اُن دونوں کا کوئی قصور نہ تھا) قرآن کریم نے ان افراد کو اس من مانی پر تنبیہ کی۔ کہ کیوں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کے بغیر انہوں نے ایسا کیا؟''لا تقدّموا بین یدی اللّٰه و رسوله' '' (1)

5۔ امام ـ نے ایک شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ یہ دعا پڑھا کرے۔''یا مقلّب القلوب'' اس شخص نے اس دعا کو اس طرح پڑھا'' یا مقلب القلوب والابصار'' امام ـ نے فرمایا: کہ میں نے کلمہ ''ابصار'' نہیں کہا تھا قرآن مجید فرماتا ہے کہ خدا اور رسول سے سبقت نہ کرو۔''لا تقدّموا بین یدی اللّٰه و رسوله' '' (2)

5۔ قوم بنی تمیم نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اپنے لیے ایک امیر کے تعین کا مطالبہ کیا خلیفہ اول و دوم نے اپنے اپنے امیدوار کا نام پیش کیا اور اُس پر بحث و مباحثہ بھی کرتے رہے کہ ان میں سے کس کا امیدوار بہتر ہے یہ آیت نازل ہوئی۔''لا تقدّموا بین یدی اللّٰه و رسوله'، ولا ترفعوا اصواتکم '' (3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ کشاف۔ ج5، ص 350 (2)۔ کمال الدین صدوق۔ ص 201

(3)۔ صحیح بخاری، ج3، ص 123


6۔ امام ـ نے ایک شخص کو دعا کی تعلیم دی اور فرمایا کہ یہ دعا پڑھو۔''لا اِله الّا اللّٰه--- یُحْیِی ویُمِیْتُ '' سننے والے نے اپنی طرف سے اس جملے کا اضافہ کردیا۔''و یُمیت و یُحْیِی'' آپ نے فرمایا کہ تمہارا جملہ تو صحیح لیکن جو میں نے کہا ہے وہ کہو اور اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی۔''لا تقدّموا بین یدی اللّٰه و رسوله'--- ''(1)

7۔ جب بعض صحابہ کرام نے کھانا پینا اور اپنی ازواج کے ساتھ مباشرت چھوڑ دی تو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: میں کھانا کھاتا ہوں اور اپنی ازواج کے ساتھ رہتا ہوں اور یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے سرپیچی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔فَمَنْ رَغِبَ عن سنتی فلیس مِنّی-

8۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے متعہ کو حلال قرار دیا تھا مگر خلیفہ دوم نے اسے حرام قرار دے دیا یہ بھی پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سبقت کرنے کے مترادف ہے کہ جس کی آیت میں ممانعت ہے۔''لا تقدّموا بین یدی اللّٰه و رسوله' ''

9۔ سن 8 ہجری کو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ سے فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو دوران سفر بعض لوگوں نے روزہ افطار نہ کیا۔ جبکہ اس بات کو جانتے تھے کہ سفر میں ہیں اور مسافر پر روزہ نہیں ہے اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے روزہ افطار کرلیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو پیغمبر اسلام سے آگے بڑھ گئے۔''لا تقدّموا بین یدی اللّٰه و رسوله' ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ خصال صدوق، ج2، ص 62


10۔ اسلام سے پہلے بھی بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں لوگ انبیاء سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ ـ، جناب مریم کے بیٹے اور عبد خدا تھے۔ لیکن لوگوں نے انہیں خدا کہنا شروع کردیا تو قرآن نے انہیں دین میں غلو کرنے سے منع کیا ۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پیچھے رہ جانے اور مخالفت کی چند مثالیں:

O جس طرح خدا اور رسول سے سبقت کرنا منع ہے۔ اسی طرح ان کے حکم کی خلاف ورزی اور اس سے عقب نشینی بھی منع ہے جب خدا، رسول اور رسول کے جانشین برحق لوگوں کو کسی بات کا حکم دیں تو معرفت و آگاہی کے ساتھ عاشقانہ انداز میں دوسروں پر سبقت لیتے ہوئے اُن کی آواز پر لبیک کہنا چاہیے۔

جو لوگ بلانے کے وقت سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں قرآن نے ان پر شدید تنقید کی ہے'' اثَّاقَلتُم ِلَی الرض '' (1) اس سلسلہ میں چند مثالوں پر غور کریں۔

الف: پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی رحلت کے دنوں میں ایک اسامہ نامی جوان کی سپہ سالاری میں مسلم خطّے کی حفاظت اور دفاع کے لیے ایک لشکر تیار کیا اور فرمایا: جو بھی اسامہ کے لشکر میں شامل نہ ہوگا اُس پر خدا کی لعنت ہو اِس کے باوجود بعض افراد نے اس امر کی خلاف ورزی کی۔

ب: قرآن کریم نے بعض اُن افراد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جوپیغمبراسلام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ توبہ، آیت38


صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کرتے ہوئے محاذ جنگ پر نہیں گئے اور اُس امرپر بہت خوش تھے۔''فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اﷲ '' (1)

ج: جنگ اُحد میں پہلے حملے میںمسلمان کامیاب ہوگئے تھے۔ لیکن پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جن 150 آدمیوں کو پہاڑوں کے شگاف پر کھڑا کیا ہو تھا انہوں نے غنائم لوٹنے کی غرض سے پیغمبر کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنی جگہ چھوڑ دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جیتی ہوئی جنگ ہار گئے، حضرت حمزہ اور بہت سے اصحاب باوفا شہید ہوگئے۔ قرآن کریم نے جنگ اُحد کی شکست کے تین سبب بیان کیے ہیں۔ سستی، اختلاف اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کی نافرمانی۔'' حَتّٰی ِذَا فَشِلْتُم وَتَنَازَعتُم فِی الَمرِ وَعَصَیتُم '' (2)

د: نہج البلاغہ میں حضرت علی ـ نے بارہا سنگدل، ڈرپوک اور سست افراد کی شدید سرزنش کی ہے اور فرمایا ہے کہ تم لوگ بے جان لاش ہو، تم شکلوں میں مرد ہو لیکن تم میں مردانگی نہیں ہے۔(3)

اور اس طرح کی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں۔

اسی بنا پر خداوند عالم ہم سے یہ چاہتا ہے کہ نہ تجاوز کریں اور نہ پیچھے رہیں بلکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ ہم فکر اور ان کے معاون رہیں'' والّذین مَعَهُمْ---''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ توبہ ،آیت 81

(2)۔سورئہ آل عمران، 152

(3)۔ نہج البلاغہ، خ 27


تقویٰ اور پرہیز گاری کے بارے میں ایک بحث:

O ہم جملہ''واتّقوا اللّٰه'' کی مناسبت سے یہاں تقویٰ کے بارے میں چند نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

1۔ الٰہی احکامات کا ہدف یہ ہے کہ انسان میں تقویٰ اور پرہیز گاری کا جذبہ پیدا ہو۔ مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہے کہ اپنے پروردگار کی عبادت کرو شاید تم متقی اور پرہیز گار بن جاؤ۔(1) اور پھر فرمایا: تمہارے اوپر روزے اسی طرح واجب ہیں جس طرح تم سے پہلے والی امتوں پر واجب تھے۔ شاید تم متقی ہوجاؤ۔(2)

2۔ تقویٰ ہدایت قبول کرنے کا پیش خیمہ ہے۔هُدیً للمتقین ۔(3)

3۔ خداوند عالم صاحبان تقویٰ کو علم عطا کرتا ہے۔واتقوا للّٰه و یُعَلمکم اللّٰهُ- (4)

5۔ تقویٰ رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔واتقو اللّٰه لَعَلْکم تُرْحمون- (5)

5۔ تقویٰ اعمال کے قبول ہونے کا وسیلہ ہے ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ خداوند عالم فقط صاحبان تقویٰ کے اعمال قبول کرتا ہے۔انّما یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ- (6)

6۔ تقویٰ کے باعث انسان کو ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے جس کا اُسے خیال بھی نہیں ہوتا۔ویَرْزُقُه' من حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ ۔(7)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ بقرہ، آیت 21 (2)۔ سورئہ بقرہ ،آیت 183

(3)۔ سورئہ بقرہ، آیت 2 (5)۔سورئہ بقرہ، آیت 282

(5)۔ سورئہ انعام، آیت 155 (6)۔ سورئہ مائدہ، آیت 27 (7)۔ سورئہ طلاق، آیت 6


7۔ اللہ تعالیٰ نے صاحبان تقویٰ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ بے یار ومددگار نہیں رہیں گے۔وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَه' مَخْرَجًا- (1)

8۔ اللہ تعالیٰ اپنی حمایت اور غیبی امداد صاحبان تقویٰ پر نثار کردیتا ہے۔وَ اعْلَمُوا انّ اللّٰهَ مَعَ المتقینَ- (2)

9۔ تقویٰ قیامت کے خطرات سے محفوظ رہنے (3) اور عاقبت بالخیر کا ذریعہ ہے۔والعاقبة للمتقین- (4)

تقویٰ میں مؤثر عوامل:

تقویٰ کے آثار و برکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اب ہم ان عوامل کا ذکر کرتے ہیں جو متقی اور پرہیز گار بننے میں انسان کی مدد کرتے ہیں۔

1۔ مبدأ و معاد پر ایمان رکھنے سے انسان کا گناہوں کے مقابلے میں بیمہ ہوجاتا ہے۔ جس قدر اس کا ایمان قوی ہوگا، تقویٰ بھی اتنا ہی پائیدار ہوگا۔

2۔ عمومی نظارت (امر بالمعروف اور نہی از منکر) معاشرے میں تقویٰ کے رشد کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ طلاق، آیت 2

(2)۔ سورئہ توبہ آیت 36 اور 123

(3)۔ سورئہ مریم، آیت 72

(5)۔ سورئہ اعراف ، آیت 128


باعث بنتی ہے۔

3۔ خاندان کی تربیت، 5۔ لقمہ حلال کا حصول، 5۔ اپنی ذمہ داری کو دیانتداری سے ادا کرنا۔

6۔ دوستوں (بیوی، ہم پیشہ، ہمسایہ، اور ہم جماعت افراد) کے ساتھ اچھا برتاؤ۔

7۔ صحیح پیشہ کا انتخاب، (8)۔ با تقویٰ افراد کو دوست رکھنا

یہ سب ایسے عوامل ہیں جو تقویٰ میں مؤثر ہیں۔

کیا تقویٰ محدودیت ہے؟

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ تقویٰ محدودیت اور قید خانہ ہے ۔ جبکہ تقویٰ تو ایک قلعہ اور حصار ہے۔ قید خانے اور قلعے کے درمیان فرق یہ ہے کہ قید خانے کو باہر سے تالا لگایا جاتا ہے جو ایک زبردستی کی محدودیت ہے۔ جو انسان کی آزادی سے سازگار نہیں ہے لیکن قلعے کا انتخاب انسان خود کرتا ہے۔ اور پھر خود اُسے اندر سے تالا لگاتا ہے۔ تاکہ حوادث روزگار سے محفوظ رہ سکے۔ آپ خود بتائیں جب ہم پاؤں میں جوتا پہنتے ہیں تو ہم پاؤں کو محدود کرتے ہیں یا محفوظ؟ پس ہر محدودیت بری نہیں ہوتی اور ہر آزادی اہم نہیں ہوتی۔

اسی طرح ہر وسعت کی اہمیت نہیں جیسا کہ سرطان کے جراثیم جو بدن میں پھیل جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر عقب نشینی، اور پہلے والی حالت پر واپس پلٹنا برا نہیں۔ مریض ڈاکٹر کے پاس اس لیے جاتا ہے کہ وہ اسے پہلے والی حالت پر واپس لے آئے۔ اس کا


ہدف بیماری سے پہلے والی حالت کی طرف پلٹنا ہے۔ اس کا یہ واپس آنا اہمیت رکھتا ہے۔ تقویٰ امن و امان کے حصول کا نام ہے۔ جو عورتیں اور لڑکیاں آزادی کے نام پر مختلف انداز میں لوگوں کی نظروں کے سامنے جلوہ گر ہوتی ہیں اگر چند منٹ (فقط چند منٹ) کے لیے غور وفکر کریں چاہے وہ مسلمان نہ بھی ہوں تب بھی علم و عقل ان کو عفت و پاکیزگی کی دعوت دے گی۔

بدحجابی یا بے حجابی مندرجہ ذیل مسائل کو ایجاد کرتی ہے۔

1۔ لوگ بے حجاب خواتین کی نسبت سوء ظن رکھتے ہیں۔

2۔ لوگ بے حجاب خواتین کو اغوا کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔

3۔ بے پردہ خواتین کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔

5۔ نوجوان نسل کو روحی طور پر بد اندیشی اور کج فکری کی کھلی دعوت ملتی ہے۔

5۔ بے پردگی سے خواتین خود نمائی اور فضول خرچی کی طرف راغب ہوجاتی ہیں۔

6۔ بے پردگی طالب علموں کے درس و مطالعہ میں فکری تمرکز کو ختم کردیتی ہے۔

7۔ بے بضاعت افراد کو شرمندہ کرتی ہے ۔ جو اس قسم کے لباس خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

8۔ بے پردگی اقتصادی حالت کو ابتر بنادیتی ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں کام محنت سے انجام نہیں دیئے جاتے اور ہمیشہ ہوس بازی کا بازار گرم رہتا ہے۔

9۔ ایسی خواتین اور لڑکیوں کو ناکام کرنا جو اپنی شکل و صورت پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔

10۔ والدین کو حیران و پریشان رکھنا۔


11۔ بد قماش افراد کو راضی کرنا۔

12۔ منفی رقابت کا پیدا ہونا۔

13۔ گھر سے فرار کرنا۔

15۔ ناجائز اولاد کا دنیا میں آنا۔

15۔ ایڈز جیسے امراض کا پیدا ہونا۔

16۔ روحی اور نفسیاتی امراض کا زیادہ ہونا۔

17۔ سقط حمل، خودکشی، قتل وکشتار، حادثات وغیرہ جیسے مسائل کا وجود میں آنا اور یہ سب عدم تقویٰ اور بے حجابی کے مسائل ہیں۔

اسی لیے شاید قرآن میں تقویٰ کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اور امام جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر خطبہ میں تقویٰ کے مسائل بیان کرے۔

قرآن کریم کم مقدار تقویٰ پر قناعت نہیں کرتا اور فرماتا ہے:فَا تَّقُوا اللّٰه مَا اسْتَطَعتُمْ ۔(1) جہاں تک ممکن ہو تقویٰ اختیار کرو۔

ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے:وَ اتّقُوا اللّٰه حَقَّ تُقٰاتِه جس طرح تقویٰ کا حق ہے اُسی طرح اُسے اختیار کرو۔

البتہ مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جب بھی ہم کسی گناہ میں گرفتار ہوجائیں تو ہم نماز، توبہ اور اپنے پروردگار سے مدد طلب کرکے گناہوں کی دلدل سے نکل سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ تغابن، آیت 16


آیت نمبر 2

یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَرْفَعُوا َصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَتَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ َنْ تَحْبَطَ َعْمَالُکُمْ وََنْتُمْ لاَتَشْعُرُونَ -

ترجمہ:

اے ایمان والو خبردار اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا اور ان کو بلند آواز سے نہ پکارنا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو کہیں ایسا نہ ہو تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو۔

نکات:

Oپہلی آیت میدان عمل میں پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سبقت اور پیش قدمی کرنے سے منع کررہی ہے اور یہ آیت پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ گفتگو کا طریقہ بیان کررہی ہے کہ گفتگو کے دوران پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے احترام کو ملحوظ نظر رکھا جائے۔

سورئہ نور کی آیت نمبر 63 میں بھی اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نام کو اپنے ناموں کی طرح نہ پکارا کرو بلکہ مؤدبانہ انداز میں نام پکارا کرو۔

O عمل کی حفاظت خود عمل سے زیادہ اہم ہے ہمارے اعمال کبھی شروع سے ہی خراب ہوتے ہیں کیونکہ خودنمائی اور ریا کاری سے اس کا آغاز کرتے ہیں، کبھی عمل کے


دوران عُجب اور غرور اِسے ضایع کردیتا ہے۔ کبھی ہمارے اعمال آخرکار بعض دوسرے اعمال کی وجہ سے حبط ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مجید نے فرمایا: کہ جو بھی اپنے عمل کو با حفاظت ہر آفت سے بچا کر قیامت تک لائے گا اُسے دس گناہ اجر ملے گا۔۔ مَن جَاء بالحسنة۔۔۔۔ یہ نہیں فرمایاکہ جو بھی کوئی عمل انجام دے گا اُسے دس گناہ اجر ملے گا۔ کیونکہ دنیا میں عمل انجام دینے کے بعد اُسے روز قیامت حوالے کردینے کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ہر ذکر پر بہشت میں ایک درخت بہشت میں لگادیا جاتاہے۔ ایک شخص نے کہا تو پھر ہماری بہشت میں درختوں کی تعداد تو بہت زیادہ ہوگی؟ حضرت نے فرمایا: ہاں لیکن کبھی کبھی تم ایسے اعمال انجام دیتے ہو جو اِن درختوں کو جلا کر راکھ کردیتے ہیں۔ پھر آپ نے اِسی آیت کی تلاوت فرمائی۔(1)

Oقرآن کریم نے اعمال کی تباہی وبربادی کو ایک جگہ کفر و شرک کے مقابلے میں بیان کیا ہے۔ اور دوسری جگہ پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور بے ادبی سے اعمال کے ضائع ہونے کا ذکر ہے۔ پس معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور بے ادبی، کفر و شرک کے برابر ہے۔ کیونکہ دونوں کا نتیجہ اعمال کا حبط ہونا ہے۔

Oبعض اصحاب، پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور بلند آواز سے بات کرتے تھے۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس لیے کہ کہیں بلند آواز کے سبب ان کے اعمال ضائع نہ ہوجائیں خود اُن سے زیادہ بلند آواز میں بات کرتے تھے۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحار الانوار، ج8، ص 186 (2)۔ بحار الانوار، ج9، ص 332


Oپیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایک صحابی بلند آواز سے بات کرتے تھے جیسے ہی انہیں یہ پتا چلا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے بلند آواز سے بات کرنا اعمال کو ضائع کردیتا ہے تو بہت پریشان اور رنجیدہ خاطر ہوئے۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ تمہاری آواز خطاب کرتے ہوئے بلند ہوتی تھی لہٰذا تمہارا حساب دوسروں سے جدا ہے۔(1)

Oپیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے مومنین کا بلند آواز سے بات کرنا اعمال کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ اگر وہ حضرت کو نہ جانتے ہوں یا پہچان نہ سکے ہوں تو ایسے افراد کا حساب جدا ہے کیونکہ توہین کے مسئلے میں علم و آگاہی اور قصد اہانت شرط ہے۔ اگر ہم اخبار کو استعمال کریں اور یہ نہ جانتے ہوں کہ اس میں قرآنی آیات درج ہیں۔ کیونکہ نہیں جانتے اور اہانت کا قصد بھی نہیں تھا۔ تو اِسے توہین نہیں کہا جائے گا۔

Oأنْ تحبط أعْمٰالُکُمْ وَ أنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ- تمہارے اعمال نا دانستہ ضائع ہوجائیں گے۔ اس میں ایک نکتہ ہے اور وہ یہ کہ آفات اور آثارِ سوء کا واسطہ ہمارے جاننے یا نہ جاننے سے نہیں ہے۔اگر انسان شراب پی لے تو مست ہوجائے گا اگرچہ اس کے خیال میں یہ پانی تھا اگر بجلی کی تار کو ہاتھ لگائیں گے کرنٹ تو لگے گا۔ اگرچہ ہمارا خیال یہ ہو کہ بجلی نہیں ہے۔ یہ گناہوں کے آثار ہی ہیں کہ ہمیں قحط سالی، زلزلہ، عمر کا کم ہونا، اور ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے۔ چاہے انسان ان کے آثار سے بے خبر ہی کیوں نہ ہو۔ لہٰذا پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نسبت بے ادبی کرنا اعمال کی تباہی کا سبب ہے۔ اگرچہ انسان اس کے منفی آثار سے بے خبر ہی کیوں نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ تفسیر مجمع البیان


پیغامات:

1۔ لوگوں کو ادب سکھاتے وقت خود ہمیں بھی مؤدبانہ انداز میں انہیں پکارنا چاہیے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کو اس جملے''یا ایها الَّذین ئَ امنوا'' سے پکا را ہے۔

2۔ امت اسلامی کا رہبر معنوی اعتبار سے لوگوں پر حق رکھتا ہے لہٰذا اس کی رعایت کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ جب وہ گفتگو کررہا ہو تب بھی اس کی آواز سے ہماری آواز بلند نہ ہو اور اگر رہبر خاموش ہو اور ہم ان سے بات کررہے ہیں اس وقت بھی بلند آواز میں بات نہ کریں۔لا تَرْفَعُوا اصواتکم فوقَ صَوْتِ النَّبِیْ-

مقام نبوت ہمارے لیے مسئولیت آور ہے۔

3۔ کسی دوسرے کی زبان سے بزرگوں کے احترام کی تاکید کرنے کا انداز زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔ اس آیت میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ نہیں کہا کہ میری آواز سے زیادہ اپنی آواز بلند نہ کریں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ پیغمبر سے بلند آواز میں بات نہ کریں۔لا تَرْفَعُوا اصواتکم-

5۔ افراد کا مقام و منصب لوگوں کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے (ایک مومن کی رسول اللہ کی شان میں جسارت اور بے ادبی کا حساب ہی جدا ہے)۔یا ایها الذین آمنو --- أنْ تحبط اعمالکم-

5۔ کبھی انسان خود نادانستہ طور پر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لیتا ہے۔

'' َنْ تَحْبَطَ َعْمَالُکُمْ وََنْتُمْ لاَتَشْعُرُونَ ''


نمونے:

الف: رحلت کے نزدیک پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قلم و دوات کا تقاضا کیا اور فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہیں ہوسکو گے! خلیفہ دوم نے کہا پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بیماری کا غلبہ ہے لہٰذا ان کی بات کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی۔ ہمارے پاس تو قرآن ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی تحریر کی ضرورت نہیں ہے۔ شور شرابہ ہونے لگا تب حضرت نے فرمایا: سب یہاں سے چلے جاؤ اور میرے پاس شورو غُل نہ کرو۔(1)

علامہ سید شرف الدین موسوی (المراجعات کے مصنف) فرماتے ہیں۔ کہ اگرچہ آپ کو قلم اور کاغذ نہ دیا گیا اور کچھ بھی تحریر نہ ہوسکا لیکن اُس نہ لکھی گئی تحریر کو ہم پڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ تحریر لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوسکو گے۔(لَنْ تضلّوا ---) اگر ہم ذرا سی توجہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ آپ نے اس کلمے کو قرآن مجید اور اہل بیت ٪ کے بارے میں بیان کیا ہے۔ فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اگر ان سے تمسک رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوسکو گے۔ اور یہ دو چیزیں قرآن اور میرے اہل بیت ٪ ہیں۔ کیونکہ آپ نے چند مرتبہ اس کلمہ(لَنْ تضلّوا ---) کو قرآن اور اہل بیت ٪کے بارے میں استعمال کیا ہے۔ یہاں پر بھی جب یہ فرمایا کہ تمہارے لیے کچھ لکھنا چاہتا ہوں کہ جس سے تم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ صحیح مسلم ،ج3، ص 1259


گمراہ نہ ہو سکو گے اس سے مراد قرآن اور اہل بیت٪ ہی ہیں۔

ب: جب امام حسن مجتبیٰ ـ شہید ہوئے اور آپ کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پہلو میں دفن کیا جانے لگا تو حضرت عائشہ نے ایسا نہ کرنے دیا جس سے شور وغل ہوا ،آوازیں بلند ہوئیں۔ تو حضرت امام حسین ـ نے اس آیت(لا ترفعوا اصواتکم---) کی تلاوت فرما کر لوگوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا، اور فرمایا: پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا احترام بعد از رحلت اُسی طرح واجب ہے جس طرح اُن کی حیات میں تھا۔(1)

اسلامی مقدسات:

پوری دنیا میں مختلف عقاید کے تحت سب لوگ اپنے بزرگوں کا خاص احترام کرتے ہیں۔ شہروں، سڑکوں، تعلیمی اداروں، ائیر پورٹس، مدارس اور دیگر اداروں کے نام ان کے نام پر رکھتے ہیں۔ اسی طرح اسلام میں بھی بعض افراد، اوقات، مقامات، حتیٰ کہ بعض نباتات اور جمادات بھی مقدس ہیں۔

اسلام میں ان تمام چیزوں کا احترام اور تقدس کا سبب اللہ تعالیٰ سے وابستگی ہے جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب ہے اس کا احترام اور تقدس زیادہ ہے۔ پس چاہیے کہ اس خصوصی احترام کی حفاظت کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ تفسیر نمونہ


مقدسات:

1۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، تقدس کا سرچشمہ ہے۔ مشرکین جو خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں قیامت کے دن اپنے اس انحراف کا اقرار کریں گے اور اپنے خیالی معبودوں کے بارے میں کہیں گے کہ ہماری بدبختی یہی تھی کہ ہم انہیں اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھتے رہے(اذ نُسوّیکم بِربّ العٰالمین) (1)

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور ذکر کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی تقدیس اور احترام اس طرح کریں کہ جس میں کسی قسم کے عیب اور نقص کا تصور بھی نہ ہو۔ نہ فقط اس کی ذات بلکہ اسماء الٰہی بھی ہر چیز سے منزہ ہوں۔سبح اسمَ رَبِّکَ الاعلٰی- (2)

2۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب بھی ایک خاص تقدس اور احترام کی مالک ہے۔ جب قرآن مجید خود کو عظیم سمجھتا ہے۔(3) تو پھر ہمیں اُس کی تعظیم کرنی چاہیے۔ جب قرآن خود کو کریم سمجھتا ہے۔(4) تو ہمیں بھی اس کی تکریم کرنی چاہیے۔ جب قرآن خود کو مجید سمجھتا ہے۔(5) تو ہمیں بھی اس کی تمجید کرنی چاہیے۔

3۔ الٰہی رہبر، تمام انبیاء اور ان کے برحق جانشین خاص طور پر حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت ٪ ایک خاص مقام کے مالک ہیں۔ سورئہ حجرات میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ شعرائ، 98 (2)۔ اعلیٰ ،1 (3)۔ حجر، 87

(5)۔ واقعہ، 77 (5)۔ ق، 1


گفتگو کے چند آداب بیان ہوئے ہیں۔ کہ ان سے آگے نہ بڑھیں اور نہ ہی بلند آواز سے بات کریں۔

قرآن مجید نے انسان کو یہ فرمان دیا ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجیں۔(1)

البتہ ہمیں اس نکتے کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ اب جبکہ آنحضرت اس دنیا سے رحلت فرما چکے ہیں تو ایسے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت(2) ، آپ کے جانشین علمائ، عادل، فقہاء مراجع تقلید (روایات کی روشنی میں یہ بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین ہیں) کا احترام ہم پر لازم ہے۔حدیث میں ہے کہ اگر کوئی عادل فقیہ کی بات رد کردے تو گویا اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت٪ کی بات کو رد کیا ہے، اور جو ان کی بات کو رد کرے تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی بات کو رد کیا ہے۔(3) یہ احترام فقط پیغمبر سے نہیں بلکہ تمام انبیاء سے مربوط ہے۔ ان کا احترام بھی اُسی طرح ہے۔ قرآن مجید میں ہم پڑھتے ہیں کہ جس صندوق میں جناب موسیٰ ـ کو رکھ کر دریا کے حوالے کیا گیا تھا بعد میں جناب موسیٰ ـ اور آل موسیٰ کی چھوڑی ہوئی نشانیاں اس میں موجود تھیں۔ جس کی وجہ سے وہ بنی اسرائیل کی امت کے لیے آرام و سکون کا وسیلہ بن گیا اور فرشتے اُسے نقل و حمل کرتے تھے۔(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔احزاب، 56

(2)۔متعدد کتابوں میں جیسے تبرک الصحابہ از آیت اللہ احمد میانجی نے اصحاب پیغمبر کے صدھا ایسے نمونے ذکر کیے ہیں جس کے مطابق آپ کے اصحاب آپ کی زندگی اور آپ کی رحلت کے بھی آپ کا احترام کرتے تھے۔

(3)۔ بحار الانوار، ج27، ص 238 (5)۔سورئہ مبارکہ بقرہ ، آیت 258


5۔ اسلام میں والدین ایک خاص احترام کے لائق ہیں قرآن مجید میں پانچ مرتبہ توحید

کے بعد والدین کے ساتھ احسان کرنے کو کہا گیا ہے۔(1) ان کا شکر ادا کرنا دراصل اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔(2)

والدین کا احترام یہاں تک ہے کہ محبت سے فقط ان کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے اور ہمیں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ ان کی آواز سے زیادہ بلند آواز میں ان سے بات نہ کریں۔ ایسا سفر جو ان کی اذیت کا باعث ہو نہ کیا جائے کہ وہ حرام ہے اُس سفر میں نماز بھی قصر نہیں ہوگی۔ والدین کے ساتھ حمام میں نہ جائیں۔ اسی طرح سوتیلی ماں سے شادی بھی نہ کی جائے۔

5۔ اسلام میں بعض، اوقات جیسے شب قدر، بعض مقامات جیسے مسجد، بعض پتھر جیسے حجر اسود، بعض پانی جیسے آب زمزم، بعض مٹی جیسے خاک شفائ، بعض نباتات جیسے زیتون، بعض سفر جیسے سفرِ معراج، نیز علم و عبادت، جہاد اور کسی کی امداد کی خاطر پیش آنے والے سفر، بعض لباس جیسے احرام کعبہ وغیرہ مقدس ہیں۔ لہٰذا ان کا خاص احترام کیا جائے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے کہ حضرت موسیٰ ـ نے مقدس وادی کے احترام میں اپنے جوتے اتار دیئے تھے۔فاخلع نَعْلَیْک اِنّکَ بِالوادِ المقدس طُوٰی- (3) مشرک کو مسجد حرام میں داخل ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بقرہ، 83۔ نسائ، 38۔ انعام، 151۔ بنی اسرائیل، 23۔ احقاف، 15

(2)۔ لقمان، 15 (3)۔ طہ، 12


( اِنَّمٰاالْمُشْرِکُونَ نَجَس فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الحَرَام) (1)

وقت ِ عبادت زینت کی تاکید کی گئی ہے(خُذوا زینتکم عند کل مسجد) (2) مجنب کو مسجد میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔( وَلَا جُنُبًا الّا عابِرِی سبیل) (3) اسلام میں مسجد کو اس قدر بلند مقام حاصل ہے کہ حضرت ابراہیم اسماعیل ، ذکریا، مریم ، جیسے افراد مسجد کو پاک و صاف کرنے کیلئے اس کے خادم اور متولی رہے۔(طَهِرّ بیتی) (4) یہاں تک کہ حضرت مریم ـ کی والدہ نے دوران حمل یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ ایک لڑکے کی ماں بننے والی ہیں یہ نذر مان لی کی وہ ولادت کے بعد اُس فرزند کو مسجد اقصیٰ کا خادم بنائیں گی(اِنّی نذرت لَکَ ما فی بطنِی مُحَرّرًا) (5)

6۔ با ایمان انسان بھی تقدس اور کرامت کا حامل ہوتا ہے یہاں تک کہ مومن کی آبرو کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ اُسے اذیت دینا، اس کی غیبت کرنا حرام ہے۔ اس کے حقوق کا دفاع واجب ہے یہاں تک کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر کھودنا حرام ہے۔

اگر فرادیٰ نماز ایسی جگہ ادا کی جائے جہاں جماعت ہورہی ہو اور اس فرادیٰ نماز سے امام جماعت کا نا اہل ہونا ثابت ہوتا ہو تو ایسے میں فرادیٰ نماز باطل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ توبہ، 28 (2)۔ اعراف، 31 (3)۔ نسائ، 53

(5) بقرہ، 125 (5) آل عمران 35


7۔ اسلام تو بعض غیر مسلمانوں کے لیے بھی خاص احترام کا قائل ہے۔ جیسے ہی کسی قبیلے کا سردار اسلام قبول کرتا تھا تو آپ اس کے احترام کو ملحوظ نظر رکھتے، اور اسے اس قبیلے کی سرداری پر باقی رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ایسے اسیر جن کا تعلق محترم خاندان سے ہوتا تھا ان کا جداگانہ حساب ہوتا تھا، مثلاً شہر بانو (ایران کے بادشاہ کی بیٹی) اور حاتم طائی ( جو ایک مرد سخی تھا) کے فرزند جب اسیر کرلیے گئے تو ان کے ساتھ جداگانہ برتاؤ کیا گیا۔جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے کہ ہر ملت کی ثقافت میں کچھ چیزیں مقدس ہوتی ہیں جیسے۔ آئین، قومی پرچم، علمی شخصیات، انقلابی اور ہنرمند افراد وغیرہ۔ یہ تمام افراد ہر قوم و ملت کے نزدیک محترم سمجھے جاتے ہیں۔ البتہ اس سلسلے میں کجروی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ طول تاریخ میں لا اُبالی اور فریب کار افراد موجود رہے ہیں جیسے سامری جادوگر جس نے گوسالہ بنا کر اُسے جعلی تقدس کا رنگ دیا۔ اور کتنے ہی بادشاہ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے بہت سے دانشوروں اور شعراء کو خرید کر اپنی ثنا خوانی اور خود کو مقدس بنا کر پیش کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

اولیاء الٰہی کا احترام:

اولیاء خدا سب سے زیادہ احترام اور تقدس کے پابند تھے۔ ان میں سے چند نمونہ پیش خدمت ہیں۔

الف: جب تک پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زندہ رہے حضرت علی ـ نے آپ کے احترام میں خطبہ نہیں دیا۔


ب: ایک روز دوران نماز رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نگاہ سامنے والی دیوار پر پڑی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دیکھا کہ دیوار پر آب دہن (تھوک) ہے۔ آپ خاموش ہوگئے اور (قبلہ سے منحرف ہوئے بغیر) وہاں تک گئے اور وہاں درخت کی پڑی ہوئی ٹہنی سے اسے کھرچ ڈالا پھر پلٹ آئے اور نماز جاری رکھی۔

ج: حضرت امام حسین ـ نے جیسے ہی دیکھا بڑے بھائی امام حسن ـ نے ایک سو دینار سے فقیر کی مدد کی ہے آپ نے اپنے بھائی کے احترام کو پیش نظر رکھتے ہوئے 99 درہم سے فقیر کی مدد کی۔

د: امام رضا ـ جیسے ہی حضرت امام مہدی ـ کا نام سنتے تھے (جبکہ حضرت مہدی ـ کی اس وقت تک ولادت نہیں ہوئی تھی) تو آپ کے احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے۔

ھ: آیت العظمیٰ بروجردی جنکا شمار شیعوں کے بڑے مجتہدین میں سے ہوتا ہے۔ کے گھر میں ایک شخص نے یہ کہہ دیا کہ امام زمان ـ اور آیت اللہ بروجردی کی سلامتی کے لیے درود بھیجیں۔ تو یہ سن کر آپ بہت ناراض ہوئے کہ تم لوگوں نے میرے نام کو ولی عصر ـ کے نام کے ساتھ کیوں لیا ہے؟

اس لیے ہمیں توجہ رکھنی چاہیے کہ احترام و تقدس کے درجات مختلف ہیں۔ ہر شخص اور ہر چیز اپنے اپنے رتبہ کے اعتبار سے لائق احترام ہے۔


اعمال کا حبط اور ضایع ہونا:

سورئہ حجرات کی دوسری آیت میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور میں بلند آواز سے بولنے کو اعمال کی نابودی اور حبط کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ: تمہارے نیک اور اچھے اعمال کا اجر اس طرح تباہ و برباد ہوجائے گا کہ تمہیں اس کی خبر بھی نہیں ہوگی لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حبط اعمال کے بارے میں کچھ گفتگو کی جائے۔

''حبط'' لغت میں حبط کے معنی فاسد اور تباہ ہونا ہے۔ جس طرح غذائیں، دوائیاں ، سردی، گرمی، پانی اور آگ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کے اعمال بھی ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان دو مثالوں پر غور کیجئے۔

الف: اگر ایک مزدور کارخانے میں بیس سال مفید اور سود مند کام کرنے کے بعد اپنے مالک کے بیٹے کو قتل کردے، اس کا یہ قتل کرنا، اس کی بیس سالہ کارکردگی پر پانی پھیر دے گا۔ اسے حبط کہتے ہیں۔

ب: اگر ایک مزدور اپنے مالک کو بیس سال رنج و اذیت پہنچائے،لیکن ایک دن یہی مزدور اپنے مالک کے ڈوبتے ہوئے بچے کو بچالے تو اس مزدور کی یہ خدمت اس کی سابقہ بیس سالہ بری کارگردگی کو یکسر ختم کر دے گی اور یہ خدمت جو اس کی برائیوں کا ازالہ کررہی ہے اسے کفارہ کہتے ہیں۔

ان مثالوں پر توجہ دینے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ معنوی وسائل اور انسان کے اعمال ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ چند قرآنی نمونوں پر توجہ کیجئے۔


1۔ کفر و ارتداد اور لوگوں پر خدائی راستے بند کرنا، رسول خدا سے مقابلہ کرنا اعمال کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔(1)

2۔ جو لوگ ایسے اعمال انجام دیتے ہیں جو خدا کو غضبناک کرتے ہیں۔ اور ایسے اعمال سے نفرت کرتے ہیں جن میں خدا کی رضا شامل ہوتی ہے تو ان کے تمام اعمال تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔(2)

3۔ شرک و نفاق، دنیا طلبی، انبیاء کا قتل ، اور ظلم کرنے والوں کے اعمال نابود ہوجائیں گے۔(3)

5۔ منت گزاری عمل کی نابودی کا سبب ہے۔(4)

5۔ ریاکاری اور عُجب انسان کے اعمال کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔

حبط اعمال روایات کی روشنی میں:

اب ہم روایات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے اعمال ہیں جو انسان کے نیک اعمال کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔

روایات میں، اعتقادی ، عبادی، خاندانی، معاشرتی ، سیاسی اور بہت سے ایسے نفسیاتی مسائل کا ذکر کیا گیا ہے جو انسان کے نیک اعمال کی تباہی کا باعث بنتے ہیں ہم یہاں ان موارد میں سے ہر ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ محمد، آیت 25

(2)۔سورئہ محمد، 28 (3)۔ زمر، 65۔ توبہ، 68۔ ھود، 16۔ آل عمران، 25

(5)۔ بقرہ، 26


1۔ اعتقادی: آئمہ معصومین ٪ اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت ٪ سے کینہ اور دشمنی رکھنا۔(1)

2۔ عبادی: نماز کو بغیر کسی عذر کے ترک کرنا۔(2) امام ـ سے پوچھا گیا کہ ترک نماز کو گناہان کبیرہ میں سے کیوں شمار نہیں کیا گیا جبکہ یتیم کا مال کھانا گناہِ کبیرہ ہے؟ حضرت نے فرمایا: کہ کفر گناہِ کبیرہ ہے۔ جبکہ ترک نماز کفر عملی ہے۔(3)

3۔ خاندانی: امام صادق ـنے فرمایا:اگر بیوی یا شوہر ایک دوسرے سے یہ کہہ دیں کہ میں نے تمہارے اندر کوئی خوبی نہیں دیکھی۔ اور میں تم سے ناراض ہوں تو اس کے اعمال تباہ ہوجائیں گے۔(4)

5۔ معاشرتی: رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی مردے کو اس کی امانت کی حفاظت کرتے ہوئے غسل دے تو اُسے میت کے ہر بال کے بدلے میں ایک غلام کو آزاد کرنے کا اجر ملے گا اور صد درجات عطا کرے گا۔ پوچھا گیا: غسل دیتے وقت امانت کی حفاظت سے کیا مراد ہے؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اس کے پوشیدہ جسمانی اعضاء کو

چھپائے وگرنہ اس کا اجر تباہ اور دنیا و آخرت میں اس کو عزت نہیں ملے گی۔(5) (یہ تو مردہ شخص کی عزت و آبرو کا مسئلہ ہے زندہ شخص کی عزت، و آبرو تو اس سے کہیں زیادہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحار، ج28، ص 198

(2)۔ کافی، ج2، ص 385 (3)۔کافی، ج2، ص 278

(5)۔ من لا یحضر، ج3، ص 550 (5)۔ وسایل الشیعہ، ج2، ص 527

ہے)۔


سیاسی: وَمَن یّکْفُرُ بِالْاِیْمٰانِ فَقَطْ حَبِطَ عَمَلُهُ (1) جو بھی اپنے ایمان سے پھر جائے (مرتد ہوجائے) اس کے اعمال تباہ ہوجائیں گے۔

امام محمد باقر ـ اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ ایمان سے مراد علی ابن ابی طالب ـ ہیں۔ جو بھی آپ کی ولایت کا منکر ہو اس کا عمل تباہ ہے۔(2)

جی ہاں! امام معصوم کو رہبر ماننا اور ان کی اطاعت کرنا اسلام کے سیاسی مسائل کے ارکان میں سے ہے۔

6۔ نفسیاتی: امام صادق ـ نے فرمایا: جو شخص اپنے خیال اور شک کی بنیا د پر (علم یا شرعی حجت کے بغیر ) کوئی عمل انجام دے تو اس کا یہ عمل تباہ ہے۔

٭ اب تک ہم نے بعض اعمال کے منفی اثرات بیان کیے ہیں۔ اب مثبت اثرات کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں کہ انسان کس طرح اپنے اعمال کے ذریعہ اپنے برے کاموں کو چھپا سکتا ہے یا یہ کہ انہیں اچھے کاموں میںکیسے تبدیل کرسکتا ہے۔

قرآن مجید میں ایمان ، نیک عمل، تقویٰ، فقرا کی مخفی طور پر مدد کرنا، توبہ کرنا ، گناہ کبیرہ سے دوری کرنا، نماز پڑھنا، زکات دینا، قرض الحسنہ دینا ، ہجرت اور جہاد کو عفو،

گناہوں کی بخشش اور انسانی لغزشوں کی تلافی کا سبب قرار دیا ہے۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مائدہ، آیت 5

(2)۔ بحار، ج35، ص 358 (3)۔ بقرہ: 215۔ طلاق:5۔ تغابن: 9۔ تحریم:8۔ نسائ: 31۔ ہود :115۔ مائدہ:12۔ آل عمران: 195۔ فرقان: آیت 70 کی طرف رجوع کریں۔


قرآن مجید نے فرمایا: دن کے دونوں طرف نماز ادا کرو کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں۔وَ أَقِم الصَّلوٰةَ --- اِنَّ الحَسَنَاتِ یُذْهِبْنَ السَّیَّاٰتِ (1)

٭ واضح ہوچکا ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عظمت کی وجہ سے ان کے حضور بے ادبی تمام سابقہ اعمال کی تباہی کا باعثت بن سکتی ہے۔ قرآن مجید نے اس کے باوجود یہ تاکید کی ہے کہ سب لوگوں سے اچھے (مؤدبانہ) انداز میں بات کی جائے۔ لقمان ـ نے اپنے بیٹے سے کہا(وَاغضُضْ مِنْ صوتِکَ) اپنی آواز میں دھیما پن اختیار کرو۔ اس لیے کہ اس کے علاوہ غیر مناسب آواز کو گدھے کی آواز سے تشبیہ دی ہےاِنَّ أَنْکَرَ الاصوات لَصَوْتُ الحَمِیْر (2) بلند آواز میں بات کرنا (اسپیکر کا بیجا استعمال) آج کے دور میں (جدید تمدن کے دور میں) معاشرتی مشکلات میں سے ایک مشکل ہے۔ کبھی شادی کے نام پر، کبھی مجلس عزا کے نام پر، کبھی مسجد میں کبھی کھیل اور ورزش کے عنوان سے، اور کبھی خرید و فروخت کی غرض سے لوگوں کا آرام سلب کرلیا گیا ہے۔

جبکہ اسلام نے فقط چند ایسے موارد بیان کیے ہیں جہاں آواز بلند کی جاسکتی ہے، مثلاً اذان کے وقت وہ بھی مناسب انداز میں بغیر کسی اضافے یا مقدمے کے یا بیت

اللہ کے زائرین کے لیے کہ جب وہ صحرائِ مکہ میں کسی دوسرے قافلہ کو دیکھیں تو بلند آواز سے'' لبّیکَ اللّهمَ لبّیک'' کا تکرار کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ ہود، آیت 115

(2)۔ سورئہ لقمان، آیت 19


بہرحال چند استثنائی موارد کے علاوہ ہمیں بلند آواز میں گفتگو کرنے کا حق نہیں ہے۔ دوسروں سے بلند آواز میں رعب اور دبدبہ سے بات کرنا تو بہت دور کی بات ہے ۔ کیونکہ اس صورت میں بے ادبی کے علاوہ مومن کو ڈرانا ایک سخت عذاب کا پیش خیمہ ہے۔


آیت نمبر 3

ِنَّ الَّذِینَ یَغُضُّونَ َصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ ُوْلَئِکَ الَّذِینَ امْتَحَنَ اﷲُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَی لَهُمْ مَغْفِرَة وََجْر عَظِیم -

ترجمہ:

بیشک جو لوگ رسول اللہ کے سامنے اپنی آوازوں کو دھیما رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے تقویٰ کے لیے آزما لیا ہے اور انہیں کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔

نکات:

O کلمہ''غَضْ'' کے معنی اوپر سے نیچے کی طرف آنا اور آہستہ لہجہ میں بات کرنا ہے۔ جو ادب ، تواضع، وقار، آرام و نشاط کی علامت ہے۔

O قرآن مجید نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤدب افراد کے دلوں کی آزمایش کرتا ہے۔ اور یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آزمائش سے شناخت کرنا نہیں چاہتا ہے کیوں کہ وہ ہر چیز سے آگاہ ہے۔ بلکہ اس آزمائش کا مقصد یہ ہے کہ انسان مسائل کے مقابلے میں اپنی استعداد اور صحیح عکس العمل کا مظاہرہ کرے تاکہ اُسے اجر الٰہی عطا ہوسکے۔ کیونکہ جزا اور سزا کا ملنا اللہ تعالیٰ کے علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسان کے


عمل کی بنیاد پر ہے۔ یعنی اگرچہ اللہ تعالیٰ یہ علم رکھتا ہے کہ فلاں شخص آئندہ یہ گناہ کرے گا لیکن اسے سزا نہیں دیتا بلکہ پہلے اُس سے گناہ سرزد ہو تب اُسے اس کی سزا ملے گی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انسان بھی اسی روش پر چلتا ہے اور صرف اپنے علم کی بنیاد پر کسی کو اجرت نہیں دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہمیں یہ علم ہو کہ فلاں درزی میرا لباس سی دے گا تب بھی ہم اُسے اس وقت تک مزدوری نہیں دیتے جب تک کہ وہ لباس تیار نہ کردے۔

آیات و روایات میں امتحان اور آزمائش کا ذکر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسان پہلے عمل انجام دے گا اور پھر اس کے بعد سزا یا جزاء کا مستحق قرار پائے۔

البتہ یہاں امتحان کا تعلق قلب سے ہے کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ادب اور تواضع کے اظہار میں ریاکاری سے کام لیتے ہیں لیکن اندورنی طور پر تکبر اور غرور سے بھرے ہوتے ہیں۔

O اجر الٰہی کا ہمیشہ ان صفات کریم، عظیم ، کبیر، غیر ممنون (پیوستہ)نِعَمْ اجر (اچھا)کے ساتھ ذکر ہوا ہے کیونکہ اجر الٰہی اس کی رحمت اور بے نہایت لطف کے سرچشمے سے تعلق رکھتا ہے۔

پیغامات:

1۔ہمیں برے کام کرنے والوں کی مذمت اور اچھے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اس سے پہلی آیت میں ان لوگوں کی خدمت کی گئی ہے جو پیغمبر کے حضور بلند آواز میں بات کرتے تھے اس آیت میں اور بعد والی آیات میں مودّب افراد


کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔اِنَّ الّذینَ یَغُضُّون --- لهم مَغْفِرَة ۔۔۔ اگر برے کاموں پر سرزنش کی جائے تو اچھے کاموں پر حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے۔

2۔ ظاہری ادب باطنی تقویٰ کی علامت ہے ۔الّذین یَغُضُّونَ --- اِمتَحَنَ اللّٰه قُلُوبَهُمْ لِلتّقوٰی (یعنی جو دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں وہ با تقویٰ دل کے مالک ہیں)۔

3۔ اب جبکہ ہم پیغمبر اسلام کی بارگاہ میں تو نہیں ہیں لیکن حضرت کے مرقد کی زیارت کے آداب اور حضرت کے برحق جانشینوں کا ادب اپنی جگہ باقی ہے۔

5۔ عارضی اور چند لمحوں کا ادب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابھی تقویٰ کی گہرائی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

5۔ قرآن میںجہاں پر بھی کلمہ ''مغفرت'' اور ''اجر''آیا ہے، پہلے مغفرت کی بات کی گئی ہے کیونکہ جب تک ہم گناہوں سے پاک نہیں ہوں گے تب تک لطف الٰہی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ولَهُمْ مَغْفِرَة و أجر عَظِیْم-

گفتگو کے آداب:

اس آیت میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے گفتگو کے آداب بیان کیے گئے ہیں ۔اب ہم اسلام کے ان بنیادی اصول کا ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق گفتگو کے آداب سے ہے۔

1۔ گفتار کو کردار کے ساتھ ہونا چاہیے وگرنہ یہ قابل سرزنش ہے-(لِمَ تَقُولُونَ مَا


لَا تَفْعَلُونَ) (1)

2۔ گفتار کو تحقیق کے ہمراہ ہونا چاہے۔ (ہدہد نے حضرت سلیمان ـ سے کہا کہ میں تحقیق شدہ اور یقینی خبر لایا ہوں۔(بنبائٍ یقین) (2)

3۔ گفتار کو دلپسند ہونا چاہیے۔(الطّیّب مِنَ الْقَول) (3)

5۔ گفتار کو رسا اور شفاف ہوناچاہیے۔(قولاً بَلِیْغًا) (4)

5۔ گفتار کو نرم لہجے میں بیان کیا جائے۔(قولاً لَیّنًا) (5)

6۔ گفتار کا انداز بزرگوارانہ ہو۔(قولاً کریماً) (6)

7۔ گفتار کو قابل عمل ہونا چاہیے-(قولاً میسورًا) (7)

8۔ سب کے لیے اچھی بات کی جائے نہ کہ فقط خاص گروہ کے لیے-(قولاً للنّاس حُسنًا) (8)

9۔ اپنی گفتار میں بہترین انداز اور مطالب کا انتخاب کیا جائے۔(یقولوا الّتی هی احسن) (9)

10۔ گفتار میں لغویات اور باطل کی آمیزش نہ ہو۔(اجتنبوا قَوْلَ الزُّور) (10)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ صف، آیت 2 (2)۔ سورئہ نمل، آیت 22

(3)۔ سورئہ حج، 25 (5)۔ سورئہ نسائ، آیت 63

(5)۔ سورہ طہ، آیت 55 (6)۔سورئہ بنی اسرائیل ، آیت 23

(7)۔ سورئہ بنی اسرائیل، آیت 28 (8)۔ سورئہ بقرہ، 83

(9)۔ سورئہ اسرائ، آیت 53 (10)۔ سورہ حج، آیت 30


اور(عن اللغّوِ مُعْرِضون) (1)

عمل کے چند نمونے:

٭ اس آیت میں ایسے افراد کی تعریف کی گئی ہے جو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور ادب کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی آواز دھیمی رکھتے تھے۔ ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم مقرر کیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں ادب اور بے ادبی کے ذکر شدہ نمونوں میں سے دو کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

1۔ جب حضرت آدم ـ اور ان کی اہلیہ نے ممنوعہ درخت سے پھل کھالیا تب ان کی سرزنش کی گئی۔ جس پر وہ شرمندہ ہوئے، توبہ کی اور معذرت طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ یہ معذرت کرنا خود ایک ادب ہے جس کی وجہ سے آدم ـ اور ان کی اہلیہ کو نجات ملی۔

کربلا میں حضرت حر ـ نے امام حسین ـ کا ادب کیا جبکہ شروع میں وہ یزیدی لشکر میں تھے۔ لیکن نماز جماعت میں امام حسین ـ کی اقتداء میں ادا کی اور کہا کیونکہ آپ کی والدہ حضرت زہرا٭ ہیں اس لیے میں آپ کا احترام کرتا ہوں۔ شاید اُن کا یہی ادب ان کی عاقبت بالخیر کا باعث بن گیا ہو۔

2۔ ابلیس نے حضرت آدم ـ کو سجدہ نہیں کیاتو اس کی سرزنش کی گئی، توبہ اور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(10)۔ سورئہ مومنون، آیت 3


معذوت کرنے کی بجائے اُس نے بے ادبی کی اور کہا: میں اُسے سجدہ نہیں کروں گا، میں آگ سے خلق ہوا ہوں اور آگ خاک سے افضل ہے۔ درحقیقت اس نے فرمان الٰہی کو ٹھکرایا تھا اِسی بے ادبی نے اُسے ہمیشہ کے لیے لعنت و ملامت کا مستحق قرار دے دیا۔

اجر خداوندی کا امتیاز:

لوگوں کے دیئے ہوئے اجر کی مدت کم، معمولی اور سطحی ہوتی ہے اور یہ اجر احسان جتا کر دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سے نقائص پائے جاتے ہیں اس بات سے صرف نظر کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ (بیوی ، شوہر ، فرزند ،شریک ، دوست، ہمسایہ، حکومت اور) دوسرے افراد ہمارے بہت سے کاموں سے آگاہ نہیں ہوتے کہ وہ ہمیں اس کا اجر دے سکیں۔کبھی حسد کی بنا پر اور کبھی بخل کے باعث جانتے ہوئے بھی أجر نہیں دیا جاتا یا پھر کبھی غربت و ناداری آڑے آجاتی ہے جس کے باعث اجر دینے کی طاقت نہیں ہوتی۔ خدا کے علاوہ کوئی بھی انسان کے معیوب اور کم مقدار کام کو قبول نہیں کرتا۔

بعض اوقات یہ اجر ایک تالی، سیٹی، یا درود بھیجنے تک محدود ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ معمولی سا کام بھی قبول کرلیتا۔فمن یعمل مثقال ذرّةٍ خیراً یَرَه ۔ ناقص اعمال بھی مقبول ہوجاتے ہیں جیسا کہ ہم نماز کی تعقیبات میں یہ پڑھتے ہیں: اے پروردگار! اگر میری نماز کے رکوع اور سجود میں نقص رہ گیا ہو تو میری اُس ناقص نماز کو قبول فرما۔


اللہ تعالیٰ عیب کو پوشیدہ رکھتا ہے اور خوبیوں کو ظاہر کرتا ہے ۔یَا مَنْ أَظْهر الجمیل وَسَتَرَ القبیح ۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہشت جاویدان کے بدلے خرید لیا ہے۔ جب کہ دوسرے ہمارے کاموں کو فراموش کربیٹھتے ہیں۔


آیت نمبر 5اور 5

ِنَّ الَّذِینَ یُنَادُونَکَ مِنْ وَرَائِ الْحُجُرَاتِ َکْثَرُهُمْ لاَیَعْقِلُونَ-

بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان کی اکثریت کچھ نہیں سمجھتی ہے۔

وَلَوْ َنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّی تَخْرُجَ ِلَیْهِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَهُمْ وَاﷲُ غَفُور رَحِیم -

اور اگر یہ اتنا صبر کرلیتے کہ آپ نکل کر باہر آجاتے تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔

نکات:

Oاگرچہ پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حجروں کے پیچھے سے آواز دینا ایک گذشتہ واقعہ ہے لیکن ہم سب کیلئے درس ہے۔

جیسا کہ ہم تفسیر روح المعانی میں پڑھتے ہیں کہ جب ابن عباس اپنے استاد کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ تو دروازے پر دستک دیئے بغیر استاد کے باہر آنے تک کھڑے رہتے تھے۔ اور جب آپ سے کوئی اس چیز کا سبب پوچھتا تھا تو آپ قرآن کی اس آیت( وَلَو َنَّهُم صَبَرُوا حَتَّی تَخرُجَ ِلَیهِم لَکَانَ خَیرًا لَهُم) کی تلاوت فرماتے تھے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح ابن عباس اس آیت سے جو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں نازل ہوئی تھی درس لے رہے ہیں لہٰذا کوئی یہ نہ کہے کہ آج تو دنیا میں ''ابو لہب''


موجود نہیں ہے اس آیت ''تبت ید أبی لھب'' کے کیا معنی ہوں گے؟ اگرچہ آیت میں خاص شخص کا نام ہے لیکن اس کا ہدف اس شخص کی فکر اور اعمال ہیں ابو لہب ایک کافر اور بدعمل شخص تھا۔ اگر آج اس آیت کی تلاوت کی جاتی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں ''اے مسلمانوں کے خلاف سازش اور سوء قصد کرنے والوں، اے الٰہی نمائندوں کی نافرمانی کرنے والو تمہارے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور تم ہلاک ہوجاؤ۔

Oپیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حجروں کی تعداد نو تھی جو کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے تھے۔ اور ہر دروازے پر بکرے کے بالوں کا بنا ہوا پردہ آویزاں تھا۔ ہر حجرہ کی لمبائی دس ذراع (تقریباً پانچ میٹر) اور اونچائی سات سے آٹھ ذراع (تقریباً چار میٹر) تھی۔عبدالملک کے دوران حکومت میں ان حجروں کو توڑ کر مسجد میں شامل کردیا گیا تھا۔ جب ان حجروں کو توڑا گیا تو لوگوں کے گریہ و زاری کی آوازیں بلند تھیں۔ سعید بن مسیّب کا کہنا ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ یہ تمام حجرے اُسی طرح باقی رہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھ کر سادگی کا درس لیتے۔

پیغامات:

1۔لوگوں کی اجتماعی اور فردی حیثیت کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیے۔ (گلی کوچہ میں سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو آواز دینا اور پنی بات منوانا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان کی خلاف ہے)(یُنَادُونَکَ مِنْ وَرَائِ الْحُجُرَاتِ)

2۔ اگر کوئی شخص ایک مرتبہ غیر مؤدبانہ حرکت کرے تو اُسے کم عقل نہیں سمجھنا چاہیے وہ لوگ کم عقل ہیں جو ہمیشہ حجروں کے پیچھے سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو آواز دے کر آپ کے


باہر نکلنے کے منتظر رہتے تھے۔ ینادونک فعل مضارع ہے جو فعل کے استمرار پر دلالت کرتا ہے۔

3۔ کم عقل وہ لوگ ہیں جو اہانت کی غرض سے اس طرح آواز دیتے ہیں لیکن جو لوگ عادتاً یہ کام کرتے ہیں وہ اس حکم میں شامل نہیں ہیں۔(َکْثَرُهُمْ لاَیَعْقِلُونَ) (جیسا کہ کبھی کبھی والدین اپنے بچے کو ایک معمولی نام سے پکارتے ہیں ان کا مقصد ہرگز اہانت نہیں ہوتا۔ جبکہ کوئی دوسرا اگر اہانت کی غرض سے پکارے تو اس کا حکم اُن سے جدا ہے)

5۔گلی کوچہ میں چیخ و پکار اور خدائی نمائندہ کے ساتھ بے ادبی سے پیش آنا کم عقلی پر دلیل ہے۔(ینادونک لا یعقلون)

5۔ مودّب ہونا عقلمندی کی دلیل ہے(الَّذِینَ یُنَادُونَکَ ---لاَیَعْقِلُونَ) امام علی ـ سے نقل ہے جو مودّب نہیں ہے وہ عقلمند نہیں ہے۔

6۔ تربیت اور اصلاح کی ایک راہ یہ ہے کہ غیر مودّب افراد کو تنبیہ کی جائے۔(الَّذِینَ یُنَادُونَکَ ---)

7۔ اگر کسی برے عمل کی تکرار ہو تو سرزنش ضرور کرنی چاہیے۔(یُنَادُونَکَ ---لاَیَعْقِلُونَ)

8۔ دوسروں کے آرام و سکون کا خیال رکھنا چاہے۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی آرام و سکون چاہیے اور انہیں اپنے گھر کے مسائل کے لیے بھی وقت درکار ہے۔ ہر وقت ان کے مزاحم نہیں ہونا چاہیے۔( لَوْ َنَّهُمْ صَبَرُوا)


مزاحمت، بے جا توقع، اور کسی پر بے جا دباؤ ڈالنا صحیح نہیں ہے۔

9۔ صبر ادب کی نشانی ہے۔(صَبَرُوا حَتَّی تَخْرُج)

10۔ لوگوں سے ملاقات کیلئے وقت کا تعین رہبر کو کرنا ہے۔(حَتَّی تَخْرُجَ ِلَیْهِمْ)

11۔ پیغمبر اسلام نے لوگوں سے ملاقات کا وقت معین کیا ہوا تھا لہٰذا گلی میں بلند آواز سے بلانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔(حَتَّی تَخْرُجَ ِلَیْهِمْ)

12۔ بے ادب، غیر مودّب افراد کے ساتھ درگذشت اور مہربانی کے ساتھ پیش آنا چاہیے، تاکہ وہ مایوس نہ ہوں اور اپنی اصلاح کریں۔ خدا نے ایسا ہی کیا ہے۔( وَلَوْ َنَّهُمْ صَبَرُوا --- وَاﷲُ غَفُور رَحِیم )


آیت نمبر 6

یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا ِنْ جَائَ کُمْ فَاسِق بِنَبٍَ فَتَبَیَّنُوا َنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِینَ -

ترجمہ:

اے ایمان والو اگر کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے۔

نکات:

O سوال۔ اس آیت میں خبر کی تحقیق کا حکم آیا ہے۔ جبکہ اسی سورہ کی بارھویں آیت میں لوگوں کے امورمیں تجسس سے منع فرمایا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تجسس حرام ہو اور تحقیق کرنا واجب؟

جواب: کسی شخص کی فردی زندگی کے بارے میں تجسس کرنا جس کا معاشرہ سے کوئی تعلق نہ ہو حرام ہے۔ لیکن اگر انسان کے فعل کا تعلق معاشرتی زندگی سے ہو تو ایسی صورت میں تحقیق ضروری ہے۔ اس لیے کہ اگر بغیر تحقیق کے خبر لانے والے پر اعتماد کرتے ہوئے، کوئی اقدام کیا جائے تو ممکن ہے کہ پورا معاشرہ فتنہ و فساد میں مبتلا


ہوجائے۔

پیغامات:

اس آیت سے بہت سے اہم درس لیے جاسکتے ہیں ہم اُن میں سے یہاں بعض کو بیان کررہے ہیں۔

1۔ جسے بھی کوئی حکم دیں اُسے ادب و احترام سے پکاریں۔(یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا---)

2۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام صحابہ عادل نہ تھے بلکہ ا ن کے درمیان، فاسق اورمنافق بھی موجود تھے۔( ِنْ جَائَ کُمْ فَاسِق ---)

3۔ ایسے افراد کو رسوا کرنے کی کوئی ممانعت نہیں جو فتنہ و فساد کا باعث ہوں( ِنْ جَائَ کُمْ فَاسِق) (یہاں فاسق سے مراد ولید بن عتبہ ہے)

5۔ فاسق کے علاوہ لوگوں پر اعتماد کرنا اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔

5۔ ناگوار حوادث کا پیش خیمہ دو چیزیں ہیں۔ فاسق کا فتنہ و فساد پھیلانے کے لیے کوشش کرنا اور مومنین کا جلدی سے اس کی بات پریقین کرلینا۔

6۔ اگرچہ ہمیں تو اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم فاسق سے کوئی خبر لیں لیکن فاسق اس بات کی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ کوئی غلط خبر ہم تک پہنچادے۔(جائکم)

7۔ ہر خبر کے بارے میں تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اگر کوئی اہم خبر ہو تو اس کے بارے میں تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ''نبأ'' اہم اور مفید خبر کو کہتے ہیں۔

8۔سادہ لوح ہونا اور جلدی یقین کرلینا ایمان کے موافق نہیں ہے۔


(آمَنُوا---فَتَبَیَّنُوا)

9۔ تحقیق کرنے میں دیر نہ کرو۔(فَتَبَیَّنُوا) ''حرف فاء ''جلدی اقدام کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

10۔ فاسقین کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اسلامی معاشرہ میں جھوٹی خبریں پھیلا کر امن وامان کی صورت حال کو خراب کردیں لہٰذا مومنین کی ذمہ داری ہے کہ بغیر تحقیق کے ان کی کسی بات پر یقین نہ کریں۔( ِنْ جَائَ کُمْ فَتَبَیَّنُوا---)

11۔ کبھی فاسق سچی خبر بھی دیتا ہے اس لیے لازم نہیں کہ اس کی ہر خبر کو جھوٹ کہیں بلکہ اس کی دی ہوئی خبر کی تحقیق کریں۔(فَتَبَیَّنُوا)

12۔ فاسقین کی خبر کی تحقیق کرکے انہیں خبردار کریں اور انہیں اس بات کی اجازت نہ دیں کہ اسلامی معاشرہ میں اپنی مرضی سے جو جی چاہے کریں۔(فَتَبَیَّنُوا َنْ تُصِیبُوا قَوْمًا)

15۔ کسی بھی معاشرہ کو صحیح راستے پر چلانے کے لیے ضروری ہے کہ کسی واقعہ کے رونما ہونے سے پہلے اس کا حل تلاش کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں تحقیق اور پھر دوسرے مرحلے میں اقدام کیا جائے۔(فَتَبَیَّنُوا َنْ تُصِیبُوا ---)

15۔ اگر احکام الٰہی کے فلسفہ اور اسرار کو لوگوں کے لیے بیان کیا جائے تو لوگ شوق اور ولولہ کے ساتھ وظیفہ شرعی کو انجام دیتے ہیں۔ خبر فاسق کی تحقیق کا فلسفہ اور راز، اسلامی معاشرہ کو فتنہ و فساد سے بچانا بتایا گیا ہے-(فَتَبَیَّنُوا َنْ تُصِیبُوا)

16۔ فاسق کے خبر دینے کا مقصد اسلامی معاشرہ کے امن عامہ کی صورت حال کو


خراب کرنا ہے۔(َنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ )

17۔ ایک غیر تحقیق شدہ خبر کسی بھی قوم کی نابودی کا سبب بن سکتی ہے۔(َنْ تُصِیبُوا قَوْمًا)

18۔ جلد بازی اور بغیر تحقیق کے کوئی اقدام کرنا حماقت اور جہالت ہے۔( تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ )

19۔ احکام الٰہی کی پابندی انسان کو شرمندگی سے بچاتی ہے ۔ لہٰذا احکام الٰہی کی پابندی کریں تاکہ شرمندہ نہ ہوں۔(فَتَبَیَّنُوا ----- نادِمین)

20۔ جو کام سنجیدہ اور مستقل مزاجی پر مبنی نہ ہو اُس کا نتیجہ شرمندگی ہوتا ہے۔( نادِمِین)

فسق کیا ہے اور فاسق کون ہے؟

٭ اس آیت میں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ اگر فاسق کوئی اہم خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو اب یہاں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ فاسق کون ہے ؟ اور سچی خبر کو جھوٹی خبر سے پہچاننے کا معیار کیا ہے؟

٭لغت میں ''فسق'' کے معنی جدا ہونے کے ہیں۔ اور قرآن کی اصطلاح میںجو شخص راہ مستقیم سے جدا ہوجائے اُسے فاسق کہتے ہیں۔ یہ کلمہ عدالت کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے یعنی فاسق ایسے شخص کو کہتے ہیں جو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو اور توبہ نہ کرے۔


٭کلمہ ''فسق'' مختلف انداز میں ''55'' بار قرآن میں استعمال ہوا ہے من جملہ

1۔ جہاں فکری اور عقیدتی لحاظ سے انحراف پایا جاتا تھا۔ جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کے لیے آیا ہے(انّهم کانو قوماً فاسقین) (1)

2۔ کبھی یہ کلمہ منافق کے لیے استعمال ہوتا ہے۔(انّ المنافقین هم الفاسقُونَ) (2)

3۔ کبھی فاسق ایسے افراد کو کہا جاتا ہے جو انبیاء کو آزار و اذیت پہنچانتے اور ان کی نافرمانی کرتے تھے۔

جیسا کہ حضرت موسیٰ ـ کی نافرمان قوم بنی اسرائیل جو حضرت موسیٰ ـ کو ایذا پہنچاتی تھی ان کے بارے میں آیا ہے۔(قَالُوا یٰا مُوسَیٰ اِنَّا کُن ندخلها----- القوم الفاسقین) (3)

5۔ کبھی ان لوگوں کو فاس کہا گیا ہے جو خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے۔(ومن لم یحکم بما أنزل اللّٰه فاولئک هم الفاسقون) (4)

5۔ کبھی حیلہ گر افراد کو فاسق کہا گیا ہے۔(بما کانوا یفسقون) (5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ مبارکہ نمل ، آیت 12

(2)۔ سورئہ توبہ، آیت 67 (3)۔ سورئہ مائدہ، آیت 25۔ 26

(5)۔ سورئہ مائدہ، آیت 57 (5)۔سورئہ اعراف ، آیت 163


6۔ کبھی ان لوگوں کو فاسق کہا گیا ہے جو امر بمعروف اور نہی از منکر جسیے اہم وظیفہ کو ترک کردیتے ہیں۔( َنْجَیْنَا الَّذِینَ یَنْهَوْنَ عَنْ السُّوئِ وََخَذْنَا الَّذِینَ ظَلَمُوا --- بِمَا کَانُوا یَفْسُقُون) (1)

7۔ کبھی ان لوگوں کو جو مال و دولت ، عزیز و اقارب کو جہاد فی سبیل اللہ پر ترجیح دیتے ہیں۔(ِنْ کَانَ آبَاؤُکُمْ --- َحَبَّ --- وَاﷲُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ ) (2)

8۔ کبھی ایسے افراد کو فاسق کہا جاتا ہے جو شہوت رانی اور جنسی تجاوزات کا شکار ہوں ۔ جیسا کہ حضرت لوط ـکی قوم جو کھلم کھلا اس فعل کو انجام دیتی تھی ان کے لیے آیا ہے۔(رِجْزًا مِنْ السَّمَائِ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ ) (3)

9۔ کبھی حرام چیزوں سے استفادہ کو فِسق کہا گیا ہے۔(حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ الْمَیْتَةُ وَالدَّمُ---ذَلِکُمْ فِسْق ) (4)

10۔ کبھی ایسے افراد کو فاسق کہا جاتا ہے جو پاکدامن خواتین پر تہمت لگاتے ہیں۔(یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ---ُوْلَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُونَ ) (5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ اعراف، آیت 165 (2)۔ سورئہ توبہ، آیت 23

(3)۔ سورئہ مبارکہ عنکبوت، آیت 35 (5)۔ سورئہ مائدہ، آیت 3

(5)۔ سورئہ مبارکہ نور ، آیت 5


فاسق سے رابطہ رکھنا:

٭آیات و روایات مسلمانوں کو فاسق سے دوستی کرنے سے روکتی ہیں۔

امام زین العابدین ـ امام محمد باقر ـ اور امام جعفر صادق ـ سے مروی ہے کہ فاسق سے ہرگز دوستی نہ کرو اس لیے کہ وہ تمہیں روٹی کے ایک لقمہ یا اس سے بھی کمتر چیز کے عوض بیچ دے گا۔ (یعنی فاسق سے ہرگز وفا نہیں ہے)۔(1)

2۔ حضرت علی ـ سے روایت ہے کہ فاسق کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔(2)

3۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ایسے فاسق کی غیبت جائز ہے جو علنی طور پر گناہ کرتا ہو۔(3)

5۔ نیز پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ فاسق کی دعوت قبول نہ کرو۔(4)

''تحقیق'' معاشرتی بیماریوں کا علاج:

٭ تاریخ بشر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کرام ـ کا واسطہ ایسے افراد اور معاشرہ سے رہا ہے جو مختلف قسم کی اجتماعی بیماریوںمیں مبتلا تھا۔ عصر حاضر میں اس قدر علمی اور اقتصادی ترقی اور پیشرفت ہونے کے باوجود وہ تمام بیماریاں اپنی حالت پر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ کافی، ج2، ص 376 (2)۔ وسائل الشیعہ، ج27، ص 395

(3)۔ مستدرک الوسائل، ج1، ص 128 (5)۔ مَن لا یحضر، ج5، ص 3


بصورت اتم موجود ہیں۔ وہ بیماریاں درج ذیل ہیں۔

1۔ آباء و اجداد اور بزرگوں کی غلط عادات اور خرافات کی اندھا دُھند تقلید کرنا۔

2۔ جھوٹی سچی پیشگوئیوں، خوابوں، انسانوں اور افواہوں پر بغیر سوچے سمجھے عمل کرنا۔

3۔ علم نہ ہونے کی صورت میں فیصلہ کرنا، تعریف یا اعتراض کرنا، لکھنا یا کوئی بات کہنا۔ تحقیق ان تمام بیماریوں کے لیے ایک شفا بخش دوا ہے جس کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے۔

اگر ہمارے معاشرے کے لوگ ہر کام کو دقّت اور تحقیق کے ساتھ انجام دیں تو معاشرہ میں موجود ان تمام برائیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ایک ناگوار اورتلخ واقعہ:

جنگ خیبر کے بعد پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسامہ بن زید کی سربراہی میں مسلمانوں کے ایک دستہ کو اُن یہودیوں کے پاس بھیجا جو فدک کے ایک گاؤں میں آباد تھے۔ تاکہ انہیں اسلام کی دعوت دیںیا پھر کافر ذمی کے شرائط کو قبول کریں۔ مسلمانوں کا پیغام سننے کے بعد مِرداس نامی یہودی اپنے اہل و عیال اور مال کے ساتھ لا اِلہ الّااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کہنے کے بعد مسلمانوں کی طرف چلا آیا اور ایک پہاڑ کے زیر سایہ پناہ لے لی۔ اسامہ بن زید یہ سمجھا کہ وہ واقعی مسلمان نہیں ہوا بلکہ خوف کی وجہ سے


مسلمان ہوا ہے۔ لہٰذا اُسے قتل کردیا۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے قتل کی خبر سننے کے بعد شدید ناراض ہوئے اور قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی ''اے ایمان والو جب تم راہ خدا میں جہاد کے لیے سفر کرو تو پہلے تحقیق کرلو۔ اور خبردار جو اسلام کی پیش کش کرے اس سے یہ نہ کہنا کہ تو مومن نہیں ہے۔ کہ اس طرح تم زندگانی دنیا کا چند روزہ سرمایہ چاہتے ہو اور خدا کے پاس بکثرت فوائد پائے جاتے ہیں(1) ۔ (کہ وہ لوگوں کو بے جا قتل کیے بغیر تمہیں عطا کرسکتا ہے)۔

دِقَّت اور احتیاط سے کام کرنا

اسلام زندگی کے تمام شعبوں میں دِقت اور احتیاط سے کام کرنے کو ضروری سمجھتا ہے، من جملہ

1۔ اصول دین کے مرحلے میں تقلید کو منع کیا ہے۔ اور ہر ایک سے یہ چاہا ہے کہ اپنی عقل کی مددسے صحیح راہ کا انتخاب کرے۔

2۔ اُمت اسلامیہ کی رہبری اور ریاست کے لیے تمام شرائط کے ساتھ ساتھ عصمت یا عدالت کو ضروری جانا ہے۔

3۔ مرجع تقلید کی شرائط میں بھی علم و عدالت کے ساتھ ساتھ ہوا و ہوس سے دوری

اور زمان شناس ہونے کی شرط کو لازم قرار دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ، نساء 95


5۔ قاضی کیلئے علم و عدالت کے ساتھ اس بات پر زور دیا ہے کہ آسودہ زندگی گزارتا ہو تاکہ فقر وفاقہ کی وجہ سے رشوت لینے پر مجبور نہ ہو۔

5۔ تجارت اور لین دین کے معاملات سے متعلق دستاویزات اور اسناد کی تنظیم کے سلسلے میں قرآن کی سب سے بڑی آیت نازل ہوتی ہے جو سورہ بقرہ میں موجود ہے۔ اسلام حتیٰ مردوں کو دفنانے کے سلسلے میں بھی دقت اور احتیاط کاحکم دیتا ہے۔ ایک دفعہ کچھ مسلمانوں نے دیکھا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی مسلمان مردہ کی قبر نہایت ہی دِقت اور احتیاط سے بنارہے ہیں جب آپ سے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: کہ خدا کو یہ پسند ہے کہ مسلمان جو کام بھی کرے نہایت دقت اور احتیاط کے ساتھ اُسے انجام دے۔

قرآن کریم گفتگو کرنے کے متعلق فرماتا ہے کہ درست اورمنطقی بات کرو(قُولوا قُوْلًا سَدِیداً)(١)

اس اجمالی بیان کے بعد اب اسلام میں خبر کی اہمیت کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔

اسلا م میں خبر کی اہمیت

اسلام کے نکتہ نگاہ سے خبر کو خاص اہمیت حاصل ہے من جملہ۔

1۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے ''اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے

مت جانا کہ روز قیامت سماعت، بصارت اور قوتِ قلب سب کے بارے میں سوال کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ مبارکہ احزاب، آیت 70


جائے گا۔(1)

2۔ قرآن نے ان افراد پر جو بغیر سوچے سمجھے خبروں کو فوراً نشر کرتے ہیں شدید اعتراض کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ''اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی خبر آتی ہے تو فوراً نشر کردیتے ہیں حالانکہ اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صاحبانِ امر کی طرف پلٹادیتے تو ان سے استفادہ کرنے والے حقیقت حال کا علم پیدا کرلیتے۔''(2)

یعنی خبروں کو سننے کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اولی الامر کے سامنے پیش کرو اور دیکھو کہ وہ کیا کہتے ہیں، اگر وہ تصدیق کردیں تو اس کے بعد نشر کرو۔

3۔ قرآن نے ان لوگوں کے لیے جو افواہیں پھیلا کر لوگوں کو مشوش کرتے ہیں ، سخت عذاب کا وعدہ کیا ہے۔(3)

5۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے آخری حج کے دوران فرمایا: جو میری طرف سے جھوٹی خبریں نقل کرتا ہے وہ گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہے اور آئندہ اس کے گھاٹے میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ جو عمدی طور پر مجھ پرجھوٹ باندھے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جو بھی خبر مجھ سے نقل کی جائے تو اُسے قرآن اور میری سنت کی طرف پلٹاؤ اگر ان کے موافق ہو تو قبول کرلینا ورنہ رد کردینا۔(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ اسرائ، آیت 36

(2)۔ سورئہ مبارکہ نسائ، آیت 83

(3)۔ سورئہ مبارکہ احزاب، آیت 60

(5)۔ بحار الانوار، ج2، ص 225


5۔ امام جعفر صادق ـ نے اُن افراد پر لعنت کی ہے جو امام محمد باقر ـ کی طرف جھوٹی خبروں کی نسبت دیتے تھے۔ نیز فرمایا: جو خبر بھی ہماری طرف سے نقل کی جائے اگر قرآن اور ہمارے باقی اقوال سے اس کی تائید ہوجائے تو قبول کرنا ورنہ ردّ کردینا۔(1)

6۔ امام رضا ـ سے منقول ہے کہ ہمارے اقوال کی سند قرآن اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت ہے۔(2)

7۔ علوم اسلامی میں سے ایک اہم علم ''علم رجال'' ہے۔ جس کے ذریعہ راویان حدیث کے بارے میں تحقیق کی جاتی ہے اور خبر کے صحیح اور غیر صحیح ہونے کا پتہ لگایا جاتا ہے۔

تحقیق کا طریقہ کار

کسی بھی چیز کے بارے میں تحقیق اور حصول علم اس لیے ضروری ہے تاکہ کوئی بھی کام جاہلانہ اور بے خبری کے عالم میں انجام نہ پائے۔

اسلام نے جو کہ ایک جامع اور کامل دین ہے صحیح کو غیر صحیح سے پہچاننے کے مختلف راستے بیان کیے ہیں، من جملہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحار الانوار، ج2، ص 250

(2)۔ بحار الانوار، ج2، ص 250


1۔ مستند اور مورد قبول کتب کی طرف رجوع۔جیسا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی توریت و انجیل کا حوالہ دیتے تھے۔ کہ میرا نام ان میں بھی موجود ہے۔(مکتوباً عندهم فی التوراة، والانجیل) (1)

2۔ متقی اور پرہیز گار صاحبا ن علم سے سوال۔(فسئلوا اهل الذکر) (2)

3۔ دو عادل کی گواہی۔( ذوا عدلً منکم)(٣)

5۔ ذاتی طور پر صحیح اور غلط ہونے کے بارے میں تحقیق کرنا۔ جیسا کہ نجاشی نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے بارے میں کی۔

5۔ قرآئن کی جمع آوری؛ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان مختلف قرآئن (جیسے زمان و مکان کی نوعیت وغیرہ) کی وجہ سے کسی بات کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے مثال کے طور پر اگر ہم پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جاننا چاہتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہ کی۔ بت پرستی کے ماحول میں بت پرستی کے خلاف قیام کیا۔ اور آپ کا لایا ہوا کلام قرآن ہے۔ دوست اور دشمنوں کے درمیان امین اور صادق کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ صاحب حسن خلق ، عفو و درگذر کے پیکر اتم یہاں تک کہ فتح مکہ کے دن بھی درگذشت سے کام لیا۔ آپ کا لایا ہوا دین جامع، اور حق و حقانیت پر استوار و پائیدار ہے۔یہ تمام قرآئنآپ کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ مبارکہ اعراف، آیہ 157

(2)۔ سورئہ مبارکہ نحل، آیت 53۔ سورئہ مبارکہ انبیائ، آیت 7 (3)۔ سورئہ مبارکہ مائدہ، آیت 95


6۔ پہلی اور دوسری گفتگو میں موافقت پائی جائے ایک دوسرے کی ضد نہ ہو۔

7۔ اس کی بات دوسروں کی بات کے یکساں ہوں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث سے وہ چیز سمجھا ہے جو اس سے پہلے دوسرے بھی وہی بات سمجھے تھے تو وہ اپنے صحیح سمجھنے پر مطمئن ہوجاتا ہے۔

8۔ کسی خاص آدمی کو تحقیق کے لیے بھیجنا جیسا کہ امیر المومنین ـ فرماتے ہیں ''عینی بالمغرب'' جو شخص مغرب کے علاقہ میں ہے وہ میری طرف سے ناظر ہے۔ اس نے مجھے یہ خبر دی ہے۔

9۔ لوگوں کی معلومات بھی تحقیق کے لیے قابل اعتماد سند ہوسکتی ہیں۔

حضرت علی ـ نے فرمایا:'' بلَّغِنی انَّک--'' لوگوں نے مجھے یہ خبر دی ہے۔

10۔ دوسروں پر اعتماد کرنا: مثال کے طور پر اگر کسی حدیث پر علماء اور مراجع عظام نے اعتماد کرتے ہوئے اُس کے مطابق فتویٰ دیا ہو۔ یا یہ کہ لوگوں نے کسی شخص کو امام جماعت قرار دیا ہو تو اس قسم کا اعتماد بھی تحقیق کے مرحلہ میں سند کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے۔

11۔ کسی شخص کا ماضی بھی تحقیق کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ آخر میری حقانیت پر کیونکر شک کررہے ہو جبکہ میں نے تمہارے درمیان زندگی گزار ی ہے، تم نے میری زندگی کے تمام حالات دیکھے ہیں۔( فَقَد


لَبِثت منکم عُمرًا) (1)

جھوٹ:

جیسا کہ اس آیت میں ہماری بحث ''خبر'' کی تحقیق کے بارے میں ہے لہٰذا مناسب ہے کہ یہاں جھوٹ کے بارے میں بھی مختصر سی گفتگو کریں۔

٭ جھوٹ نفاق کی ایک قسم ہے اس لیے کہ انسان زبان سے ایک ایسی بات کہتا ہے جس پر وہ دل سے خود بھی یقین نہیں رکھتا ہے۔(یقولون بِأَلْسِنَتهم ما لیسَ فی قلوبِهم) (2)

٭جھوٹ کبھی ایک تہمت کی صورت اختیا ر کرلیتا ہے اس لیے کہ ایک پاکدامن کی طرف غلط نسبت دتیا ہے۔( أرادَ بِأهلِکَ سُوئ) (3)

٭جھوٹ کبھی ایک ''قسم'' کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یعنی جھوٹی قسم کھانا ہے۔(یَحْلِفُونَ بِاللّٰهِ) (4)

٭جھوٹ کبھی گریہ و زاری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ حضرت یوسف ـ کے بھائی روتے پیٹتے ہوئے حضرت یعقوب ـ کے پاس آئے کہ حضرت یوسفـ کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔(و جاؤا أباهُم عِشائ یَبکون) (5)

٭جھوٹ کا اظہار ہمیشہ زبان سے نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھی اس کا اظہار عمل سے کیا

جاتا ہے جیسا کہ حضرت یوسفـ کے بھائی حضرت یوسفـ کی قمیص خون میں تر کرکے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ مبارکہ یونس، آیہ 16 (2)۔سورئہ مبارکہ فتح، آیہ 11

(3)۔ سورئہ مبارکہ یوسف، آیت 25 (5)۔ سورئہ مبارکہ توبہ، آیت 75 (5)۔ سورہ مبارکہ یوسف: 16


لائے اور اپنی بات کو عملی جامہ کے ذریعہ بیان کیا۔( بِدَمٍ کَذِب) (1)

٭اسلام نے مذاق میں بھی جھوٹ بولنے سے منع کیا ہے۔(2)

٭جھوٹ اکثر برائیوں کی جڑ ہے۔(3)

٭جھوٹ انسان کے ایمان کا مزہ چھکنے میں رُکاوٹ(4) اور بے ایمانی کا باعث ہے۔(5)

٭امام محمد باقر ـ نے فرمایا کہ جھوٹ سے بدتر کوئی چیز نہیں ہے۔

٭جھوٹوں سے دوستی مت کرو اس لیے کہ ان کی دوستی سراب کی مانند ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ یوسف، آیت 18 (2)۔ کافی، ج2، ص 338

(3)۔کافی، ج2، ص 337 (5)۔ کافی، ج2، ص 350

(5)۔ کافی، ج3، ص 339


آیت نمبر 7 اور 8

وَاعْلَمُوا َنَّ فِیکُمْ رَسُولَ اﷲِ لَوْ یُطِیعُکُمْ فِی کَثِیرٍ مِنْ الَْمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَکِنَّ اﷲَ حَبَّبَ ِلَیْکُمْ الِْیمَانَ وَزَیَّنَهُ فِی قُلُوبِکُمْ وَکَرَّهَ ِلَیْکُمْ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ ُوْلَئِکَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (٧) فَضْلًا مِنْ اﷲِ وَنِعْمَةً وَاﷲُ عَلِیم حَکِیم(٨)

ترجمہ:

اور یاد رکھو کہ تمہارے درمیان خدا کا رسول موجود ہے یہ اگر بہت سی باتوں میں تمہاری بات مان لیتا تو تم زحمت میں پڑ جاتے لیکن خدا نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنادیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا ہے۔ اور کفر، فسق اور معصیت کو تمہارے لیے ناپسندیدہ قرار دے دیا ہے اور درحقیقت یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (7) یہ اللہ کا فضل اور اس کی نعمت ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا بھی ہے۔ اور صاحب حکمت بھی ہے۔(8)

نکات:

گزشتہ آیت میں یہ بات گذری ہے کہ ایک شخص (ولید بن عتبہ) نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور لوگوں سے آکر یہ جھوٹ کہہ دیا کہ بنی مصطلق کے لوگ ہم سے جنگ کے لیے تیار ہیں۔ لہٰذا لوگوں نے بغیر سوچے سمجھے جنگ کی تیاریاں شروع کردیں۔ اور وہ اس


بات کی بھی توقع رکھتے تھے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی حمایت کریں۔ اچانک آیت نازل ہوئی کہ خبردار پہلی بات یہ ہے کہ جب بھی فاسق خبر لائے تو پہلے اس کی تحقیق کرو پھر اقدام کرو۔ دوسری بات یہ کہ لوگوں کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تابع فرمان ہونا چاہیے نہ یہ کہ الٰہی نمائندہ فاسق کی جھوٹی خبر کے نتیجے میں لوگوں میں ابھرنے والے جذبات اور جوش و خروش کا تابع ہو۔

O ہم روایات میں اس بات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو پہچاننے کا معیار مومنین سے آپ کا رابطہ اور تعلق ہے۔ اگر صاحبان ایمان آپ کے نزدیک محبوب ہوں توآپ حق پر ہیں اور اگر گناہگار لوگ محبوب ہوں تو پھر آپ حق پر نہیں ہیں۔(1)

O روایات کی روشنی میں اسی آیت میں(حَبَّبَ الیکم الایمان) ایمان سے مراد حضرت علی ابن ابی طالبـ ہیں اور کفر، فسق اور معصیت سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اہل بیت٪ کے خلاف جنگ کی۔(2)

Oامام جعفر صادق ـ سے مروی ہے کہ رسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: جو شخص صرف کھانے پینے کی چیزوں کو خدا کی نعمت سمجھے۔ اُس کا عمل کم اور اس کا عذاب نزدیک ہے۔

O ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص نیکیوں سے محبت اور برائیوں سے نفرت کو نعمت نہ سمجھے اس نے کفران نعمت کیا ہے اس کا عمل اکارت اور اس کی ہر کوشش بے کار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔کافی، ج2، ص 126 (2)۔ کافی، ج1، ص 526


O رشد و ترقی خدا کا ایک تحفہ ہے جو انبیاء کو عطا کیا گیا ہے۔(وَ آتینا ابرَاهِیمَ رُشْدَه') (1) انبیاء کا کام بھی لوگوں کو رشد و ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔(یَا قوم اتّبِعُونَ أَهْدِیکم سَبِیلَ الرّشَاد!) (2) انبیاء کرام خود بھی ہمیشہ رشد و ترقی کی راہ کی تلاش میں رہتے تھے جیسا کہ حضرت موسیٰ ـ صحراء و بیابان میں حضرت خضر ـ کی تلاش میں جاتے ہیں۔ تاکہ رشد و ترقی کی راہ کو پالیا جائے۔(هل اتّبعک علی أنْ تُعلّمَن ممّا عُلمتُ رُشْدًا) (3) ایمان رشد و ترقی کا پیش خیمہ ہے(و لیومنوا بی لعلّهم یرشدون) (4) اس کے علاوہ کتب آسمانی کو بھی رشد و ترقی کا وسیلہ بیان کیا گیا ہے(یَهْدِی الی الرُّشد) (5) بہرحال قرآن میں رشد و ترقی سے مراد معنوی رشد و ترقی ہے اور یہ انسان کی کوتاہ فکری ہے کہ وہ فقط دنیاوی ترقی کو رشد و ترقی سمجھتا ہے۔

O اگر کسی معاشرے کی ریاست و رہبری، معصوم یا عادل شخص کے پاس نہ ہوتو وہ حاکم استبدادیت کا شکار ہوسکتا ہے۔ کہ جس میں رشد و ترقی کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا

ہے۔(وَمَا أَمَرُ فِرْعَون بِرَشید) (6) لیکن اگر حاکم وقت معصوم یا امام عادل ہو تو

معاشرہ کی رُشد و ترقی کی راہ کھلی ہوتی ہے۔(ُوْلَئِکَ هُم الرَّاشِدُونَ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ انبیائ، آیت 51 (2)۔ سورئہ مبارکہ غافر، آیت 38

(3)۔سورئہ مبارکہ کہف، آیت 66 (5)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ ، آیت 186

(5)۔ سورئہ مبارکہ جن، آیت2 (6)۔ سورئہ مبارکہ ہود، آیت 97


پیغامات:

1۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ شرمندہ نہ ہوں تو انبیاء کی طرف رجوع کریں گزشتہ آیت کے آخر میں ندامت اور شرمندگی کے بارے میں بحث تھی اور اب اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر ندامت اور شرمندگی سے بچنا چاہتے ہو تو موجود پیغمبروں کی طرف رجوع کرو۔(نادمین- واعلموا ان فیکم رسول اللّٰه)

2۔ انبیاء کرام اور رہبران الٰہی کا ہونا معاشرہ کے لیے ایک امتیاز ہے۔''فیکم رسول اللّٰه'' کہا ہے نہ''رسول الله منکم''

3۔ رہبر اور حاکم کا وجود لوگوں کی دسترسی میں ہونا چاہیے اور لوگوں کو بھی اس سے خوب استفادہ کرنا چاہیے۔(َأنَّ فِیکُمْ رَسُولَ اﷲِ)

5۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس بات کی توقع رکھنا کہ وہ لوگوں سے مشورہ لیں اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اس بات کی توقع رکھنا کہ پیغمبر لوگوں کی اطاعت کرے یہ غلط ہے۔(لَوْ یُطِیعُکُمْ --- لَعَنِتُّم---)

5۔ لوگوں کی تمام مشکلات انبیاء سے دوری اور خواہشات نفسانی کی پیروی کی وجہ سے ہیں۔(لَوْ یُطِیعُکُمْ --- لَعَنِتُّم---)

6۔ رہبر اور حاکم عصر کو مستقل مزاج ہونا چاہیے۔ اگر فتنہ و فساد ، اور لوگوں کی مختلف آراء اس کے ارادہ اور اس کی رائے پر اثر انداز ہو کر اُسے مست کردیں تو معاشرہ مختلف مشکلات سے دوچار ہوسکتا ہے۔(لَوْ یُطِیعُکُمْ لَعَنِتُّم) ہمارا دشمن بھی یہی چاہتا ہے کہ اسلامی معاشرہ کے حاکم اور رہبر کی رأی کو سست کردیا جائے جیسا کہ قرآن


میں ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔(و دّوا ما عَنْتم---) (1)

7۔ بعض موارد پر انعطاف ضروری ہے۔(فِی کَثِیرٍ مِنْ الَْمْر)

8۔ جہاں پر خدا اور رسول کا حکم معلوم نہ ہوسکے وہاں مشورہ کیا جاسکتا ہے اور لوگوں کے ہم خیال اور ہم فکر ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے (فِی کَثِیرٍ مِنْ الَْمْر) لہٰذا اس قسم کی مثال موجود ہے جہاں لوگوں سے مشورہ کرنا مشکلات کا سبب نہ بنا۔

9۔ مذہب کی طرف مائل ہونا ایک فطری عمل ہے جوخداوند عالم نے انسان کی سرشت میں رکھا ہے۔(حَبَّبَ ِلَیْکُمْ الِْیمَانَ---) (روایات میں ہے کہ حق ، اولیاء خدا، اور مومنین سے محبت کرنا خداوند متعال کے خاص لطف میں سے ہے۔

10۔ محبت ایمان سے ہے۔ لیکن جبر اور سینہ زوری ایمان نہیں ہے۔(حَبَّبَ ِلَیْکُمْ الِْیمَان ---)

11۔ ایمان دل کی زینت اور خوبصورتی کا نام ہے(و زَیّنَه فی قلوبکم) جس طرح پہاڑ، دریا، معادن، پھول، آبشاریں، اور جو کچھ زمین پر ہے سب زمین کی زینت اور خوبصورتی ہیں(اِنّا جَعَلْنَا ما علی الارض زینة لها) (بے شک انسان کے معنوی کمالات اس کی زینت اور خوبصورتی ہیں اور مادّی جلوے سب زمین کی زینت ہیں۔

12۔ تولیٰ اور تبریٰ ایک ساتھ ہونے چاہئیں۔ اگر ہمیں ایمان سے محبت ہے تو کفر و

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ مبارکہ آل عمران، آیت 118


فسق اور معصیت سے نفرت ہونی چاہیے۔(حَبَّبَ ِلَیْکُمْ الِْیمَانَ ---کَرَّهَ ِلَیْکُمْ الْکُفْر---)

13۔ دل سے انکار کرنا اور برا سمجھنا انسان کے طغیانگر اور باغی ہونے کا پیش خیمہ ہے ابتداء میں ارشاد فرمایا''الکفر'' اور پھر فرمایا:الفسوق والعصیان-

15۔ کفر انسانی فطرت سے ہٹنے کا نام ہے(حَبَّبَ ِلَیْکُمْ الِْیمَانَ ---کَرَّهَ ِلَیْکُمْ الْکُفْر---)

15۔ کفر، فِسق اور معصیت ایمان کی آفات ہیں(حَبَّبَ ِلَیْکُمْ الِْیمَانَ ---کَرَّهَ ِلَیْکُمْ الْکُفْر---)

16۔ برائیوں سے نفرت ایک فطری عمل ہے(کَرَّهَ ِلَیْکُمْ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ---) اور یہ نفرت انسان کی ترقی اور پیشرفت کے لیے اصل اساس ہے۔(ُوْلَئِکَ هُمُ الرَّاشِدُونَ )

17۔ جو لوگ کفر، فسق اور معصیت سے نفرت نہیں کرتے وہ معنوی ترقی اور پیش رفت نہیں کر پاتے(کَرَّهَ --- ُوْلَئِکَ هُمُ الرَّاشِدُونَ)

18۔ نعمتوں کا انحصار فقط مادّی چیزوںپر نہیں ہے بلکہ ایمان سے محبت اور کفر، فسق اور معصیت سے نفرت ایک بہت بڑی نعمت خداوندی ہے(حَبَّبَ---کَرَّهَ ---فَضْلًا مِنْ اﷲِ وَنِعْمَة)

19۔ ایمان کی طرف مائل ہونا بھی لطف خداوندی ہے(حَبَّبَ ِلَیْکُمْ الِْیمَانَ --


-فَضْلًا مِنْ اﷲِ وَنِعْمَة)

ایمان اور علم کا تعلق:

ایمان اور علم ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ ایمان کا درجہ علم سے بڑ اہے اس لیے کہ ایمان کا تعلق محبت سے ہے۔ جیسا کہ ولی، سردار، حاکم، بادشاہ اور سلطان جیسا نہیں ہے اور اسی طرح خمس، زکاة اور دوسری مالیات کی طرح نہیں ہے۔ اس بات کی وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ جیسا کہ ایک مومن انسان بہت سی چیزوں کا علم رکھتا ہے۔ لیکن اُن میں سے ہر ایک سے محبت نہیں کرتا ہے مثال کے طور پر پہاڑوں کی بلندی سمندروں کی گہرائی۔ گزشتہ حکومتوں کی مدت اور اسی طرح ہزاروں مسائل کا علم رکھتا ہے۔ نیز بہت سی چیزوں کی تعداد سے آگاہ ہے لیکن اُن سب سے محبت نہیں کرتا۔ لیکن جس چیز کی بنیاد خدا کے ایمان اور اعتقاد پر استوار ہے اِس سے محبت کرتا ہے اور یہ محبت اور یہ عشق خدا کی طرف سے ایک ہدیہ ہے۔ جو انسان کی فطرت میں اُسے عطا کیا گیا ہے۔ کفار درحقیقت اپنی ہٹ دھرمی سے اپنی فطرت کو تبدیل کرلیتے ہیں۔(حَبَّبَ ِلَیْکُمْ الِْیمَانَ)

جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب بات خمس اور زکاة کی آتی ہے تو اس میں ایک قسم کی قداست اور پاکیزگی پائی جاتی ہے کیونکہ اس کا تعلق خدا پر اعتقاد اس کے انتخاب اور اس کے قرب سے ہے۔ اس لیے مالیات تمام لوگ ادا تو کرتے ہیں مگر مالیات کے لینے والے سے بحث نہیں کرتے لیکن خمس و زکات ادا کرنے والے لوگ جب اپنی مرجع تقلید کو اس کی ادائیگی کرتے ہیں تو اُس سے نہایت محبت کرتے ہیں۔


آیت نمبر 9

وَِنْ طَائِفَتَانِ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ اقْتَتَلُوا فََصْلِحُوا بَیْنَهُمَا فَِنْ بَغَتْ ِحْدَاهُمَا عَلَی الُْخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِی تَبْغِی حَتَّی تَفِیئَ ِلَی َمْرِ اﷲِ فَِنْ فَائَتْ فََصْلِحُوا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وََقْسِطُوا ِنَّ اﷲَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ -

ترجمہ:

اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں جھگڑا کریں تو تم سب ان کے درمیان صلح کراؤ اس کے بعد اگر ایک، دوسرے پر ظلم کرے تو سب مل کر اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرنے والا گروہ ہے یہاں تک کہ وہ بھی حکم خدا کی طرف واپس آجائے پھر اگر پلٹ آئے تو عدل کے ساتھ اصلاح کرو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

نکات:

اس سورئہ کا آغاز آداب معاشرت سے ہوا ہے۔

الف: خدا اور رسول سے ملاقات کے آداب، ان پر سبقت نہ لینا(لا تقدموا)

ب: پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کا طریقہ (ان کے سامنے اپنی آواز کو بلند نہ کرنا)

ج: فاسق سے پیش آنے کا طریقہ اور یہ کہ اس کی دی ہوئی خبر کی تحقیق کرنا۔


د: باغی اور سرکش سے سختی کے ساتھ پیش آنا۔

ھ: مومن کے ساتھ محبت و پیار اور نرم مزاجی کے ساتھ پیش آنا (آنے والی آیات میں)

O حدیث میں ہے کہ اپنے مومن بھائی کی خواہ ظالم ہی کیوں نہ ہو مدد کرو اور اس کی مدد یہ ہے کہ اُسے ظلم نہ کرنے دو اور اگر مظلوم ہو تو اس کا حق لینے میں اس کی مدد کرو۔(1)

O مسلمانوں کو حکومت ، قدرت ، تعلیم و تربیت،اتحاد، نشرو اشاعت و تبلیغ گویا زندگی کے ہر شعبہ میں مضبوط سے مضبوط تر ہونا چاہیے ورنہ ہم آج کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں عالمی دہشت گردوں اور ظالموں سے بدلہ نہیں لے سکتے اگر ظالم اور باغی کو کیفر کردار تک پہنچانا واجب ہے تو اس کا مقدمہ یعنی اسلامی حکومت کی تشکیل بھی واجب ہے۔

پیغامات:

اس آیت سے بہت سے درس لیے جاسکتے ہیں ہم اُن میں سے چند کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

1۔ ایمان، لڑائی اورجھگڑے کے مانع نہیں ہے لیکن مومنین کے درمیان کبھی کبھار نہایت مختصر مدت کے لیے پیش آتا ہے ۔ اور دوام نہیں رکھتا اس لیے کہ کلمہ''اقْتَتلُوا''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وسائل الشیعہ، ج12، ص 212


اسی بات کی طرف اشارہ ہے اِس لیے کہ اگر اُن کے درمیان لڑائی اور جھگڑا دائمی ہوتا تو کلمہ''یقتلون'' استعمال ہوتا ۔

2۔ نصیحت کے آداب میں سے ہے کہ برائی کی نسبت براہ راست مخاطب کی طرف نہ دیں اسی لیے کہا گیا ہے کہ اے مومنین آپ لوگ ایسے نہیں ہیں''اقْتَتلُوا''

3۔ جنگ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور صرف دو گروہ تک محدود نہیں رہتی۔ اسی لیے فرمایا ہے''اقْتَتلُوا'' جمع کا صیغہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کلمہ''اقْتَتلا'' استعمال ہوتا۔

5۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہتے ہوئے مشکلات کی چارہ جوئی کرنی چاہیے اور ہرگز لاپروائی نہیں کرنی چاہیے۔

5۔ دوستی اور صلح کرانے میںجلدی کرنی چاہیے اور بغیر کسی تاخیر کے اقدام کرنا چاہیے۔کلمہ ''فاصلحوا'' میں حرف فاء جلدی اور عدم تاخیر پر دلالت کرتا ہے۔

6۔ اگر دو گرہوں میں سے ایک تجاوز اور سرکشی کرے تو سب کو فورا ًاس کے خلاف جمع ہوجانا چاہیے(فَِنْ بَغَتْ ---- فَقَاتِلُوا الَّتِی تَبْغِی)

7۔ اگر امن و آمان اورعدالت کے قیام کی خاطر باغی افراد کے قتل کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو ان کا خون مباح ہے اور انہیں قتل بھی کیا جاسکتا ہے(فَِنْ بَغَتْ -- فَقَاتِلُوا---)

8۔ تجاوز گری اور بغاوت کا سختی سے مقابلہ کرنا چاہیے (فَِنْ بَغَتْ ---


فَقَاتِلُوا)اسلامی نکتہ نظر کے مطابق سرکش اور باغی کو ہرگز مہلت اور فرصت نہیں دینی چاہیے۔

9۔ باغی کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ، ٹال مٹول، سھل انگاری اور سستی سے کام نہ لیں(فقاتلوا) میں فاء فوری انجام دینے کی طرف اشارہ ہے۔

10۔ باغی کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اس کے اہل و عیال کو ایذاء نہیں پہنچانی چاہیے بلکہ خود اس شخص کو سزا دینی چاہیے(فَقَاتِلُوا الَّتِی تَبْغِی)

11۔ باغی کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کسی قسم کی رعایت نہ کریں۔ باغی اپنا جاننے والا ہو یا غیر(فَقَاتِلُوا الَّتِی تَبْغِی)

12۔ مسلمانوں کا قیام ایک مقدس ہدف رکھتا ہے۔(حَتَّی تَفِیئَ ِلَی)

13۔ جنگ ہدف کے حصول تک جاری رہے گی۔(حَتَّی تَفِیئَ ِلَی َمْرِ اﷲ) کسی گھنٹے، دن اور مہینے کی قید نہیں ہے۔ جیسا کہ بیمار کا ڈاکٹر کے پاس معالجہ کے لیے جانا صحت یابی تک جاری رہنا چاہیے۔

15۔ باغی کو کیفر کردار تک پہنچانے میں نہ تو ذاتی، قومی، گروہی مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور نہ ہی انتقام یا خودنمائی، اور غم و غصہ کم کرنا مقصود ہوتا ہے بلکہ اس میں ایک خاص ہدف پایا جاتا ہے اور وہ باغی کا راہ راست پر آنا ہے۔(حَتَّی تَفِیئَ ِلَی َمْرِ اﷲِ)

15۔ اگر باغی سرکش راہ راست پر آنا شروع ہوجائے تو اس کے خلاف جنگ کو روک دیا جائے۔ اس لیے کہ جنگ روکنے کی یہ شرط نہیں کہ باغی صد در صد راہ


راست پر آچکا ہو(حَتَّی تَفِیئَ )

16۔ لڑائی جھگڑے کے دوران اگر یہ معلوم نہ ہوسکے کہ خطا کار اور باغی کون ہے تو پھر ایسے میں فتنہ و فساد کو ختم کرکے صلح و صفائی کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن اگر یہ پتہ چل جائے کہ باغی اور خطا کار فلاں گروہ ہے تو پھر صلح و صفائی مظلوم کا دفاع کرتے ہوئے اس انداز میں ہونی چاہیے کہ مظلوم کو اپنا حق مل جائے(فََصْلِحُوا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ)

17۔ مسلمانوں کا وظیفہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق بدل جاتا ہے کبھی اس کا وظیفہ جنگ اور کبھی صلح و صفائی ہے اس آیت میں دوبار کلمہ اصلحوا آیا ہے نیز کلمہ''قاتلوا '' بھی آیا ہے۔

18۔ دو گروہ کے درمیان صلح و صفائی کیلئے جنگ میںجتنا بھی نقصان ہو وہ باغی سے لیا جائے گا۔ ''بالعدل'' حضرت امیر المومنین ـ سے منقول ہے کہ جو امت قوی اور قدرت مند سے ضعیف اور کمزور کا حق نہ لے سکے اس کی کوئی قدر ومنزلت نہیں ہے۔(1)

19۔ جہاں بھی کوتاہیوں لغزشوں اور غضب و غرائز کی بھرمار ہو تو وہاں مسلسل وعظ و نصیحت کی ضرورت ہے۔(بِالْعَدْلِ وََقْسِطُوا --- یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ )

20۔ ایسی اصلاح قابل تعریف و تمجید ہے جس میں صاحب حق کو اپنا حق مل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ کافی، ج5، ص 56


جائے۔ ورنہ وہ زبردستی کی خاموشی ، ذلت اور رسوائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے(اصلحوا --- اقسطوا)

21۔ جہاں بھی بات مشکلات کے تحمل کی ہو۔ وہاں دیرینہ اور پرانی محبت سے فائدہ اٹھانا چاہے(ِنَّ اﷲَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ )

22۔ وہ لوگ خدا کے محبوب قرار پاتے ہیں جو عدل و انصاف سے کام لیتے ہیں ورنہ عدل و انصاف کے بغیر مدمقابل کو خاموش کردینا خدا کی محبت کا سبب نہیں ہے۔(یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ)

نمونے:

٭وہ آیت جس کی تلاوت کی وجہ سے دونوں ہاتھ کٹ گئے۔

جنگ جمل کے دوران جب جنگ کی آگ بھڑکنا ہی چاہتی تھی تو حضرت علی ـ نے انہیں جنگ شروع کرنے سے روکا۔ عائشہ کے طرفداروں نے امام ـ کے روکنے کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ تو امام علی ـ نے خدا کی بارگاہ میں اس بات کی شکایت کی کہ لوگ ان کی بات نہیں سن رہے او ان کی نافرمانی کررہے ہیں ایسے میں آپ نے قرآن ہاتھ میں لیا اور کہا کہ کون ہے جو اس آیت(وان طائفتان من المومنین---) کو لوگوں کے سامنے جاکر تلاوت کرے۔ مسلم مجاشعی نامی شخص آیا اور کہا میں لوگوں کے سامنے اس آیت کی تلاوت کروں گا۔ امام ـ نے فرمایا: کہ تیرے ہاتھ کاٹ کر تجھے شہید کردیا جائے گا تو اس نے جواب دیا''هذا قلیل فی ذاتِ اللّٰه'' یعنی خدا کی راہ میں تو یہ


کچھ بھی نہیں ہے۔ اس نے قرآن لیا اور عائشہ کے لشکر کے سامنے آکر لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دینا شروع کردی۔ تاکہ جنگ و خونریزی نہ ہو ایسے میں اس کا سیدھا ہاتھ کاٹ دیا۔ تو اس نے قرآن الٹے ہاتھ میں لیا اور جب اس کا الٹا ہاتھ کاٹ دیا تو قرآن کو دانتوں میں لے لیا اور آخر کار عایشہ کے لشکریوں نے اُسے شہید کردیا۔ حضرت علی ـ نے اُس کی شہادت کے بعد حملہ کا فرمان جاری کیا۔(1)

جی ہاں ابتداء میں قرآن کے ذریعہ تبلیغ اور اتمام حجت کرنی چاہیے اس کے بعد شجاعت اور بہادری کے ساتھ ہدف کے حصول تک آخری سانس تک لڑتے رہنا چاہیے۔

عدالت:

جیسا کہ اس آیت میں تین مرتبہ عدالت سے متعلق گفتگو موجود ہے۔(فاصلحوا بینهما بالعدل و اقسطوا انّ اللّٰه یحب المقسطین) اس لیے مناسب ہے کہ یہاں عدالت کے بارے میں مختصر سی بحث کی جائے۔

1۔ انسان کی خلقت اور پیدائش حق و عدالت کے تحت ہے۔''بالعدل قامت السّموات'' (2)

2۔ انبیاء کی بعثت کا مقصد بھی یہ تھا کہ لوگ عدل و انصاف سے کام لیں(یقوم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحار، ج32، ص 175 (2)۔ بحار، ج33، ص 593


الناس بالقسط) (1)

3۔ عدالت زندگی اور ظلم موت ہے۔''العدل حیاة والجور ممات'' (2)

5۔ ایک گھنٹہ عدالت سے کام لینا ستر سال کی ایسی عبادت سے افضل ہے کہ جس میں دن بھر روزہ اور رات کو شب بیداری کی ہو۔(3)

5۔ عادل رہبر کی دعا مستجاب ہوتی ہے۔(4)

6۔ اگر لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لیا جائے تو خدا کی طرف سے رزق و برکت میں اضافہ ہوتا ہے۔(5)

7۔ امام موسیٰ کاظم ـ سے مروی ہے کہ اگر تمام لوگ عدل سے کام لیں تو سب کے سب بے نیاز ہوجائیں گے۔(6) نیز فرمایا کہ عدالت شہد سے زیادہ شیرین ہے۔

8۔ امام موسیٰ کاظم ـ نے اس آیت(یحیی الارض بعد موتها) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: خداوند مردہ زمین کو زندگی عطا کرے گا۔ یعنی خداوند ایسے افراد کو مبعوث کرے گا کہ جو عدل و انصاف کو قائم کریں گے اور زمین عدل و انصاف کے قیام سے زندہ ہوجائے گی۔(7)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ حدید، آیت 25

(2)۔ آثار الصادقین ،ج12، ص 530 (3)۔ جامع السادات، ج2، ص 223

(5)۔وسائل الشیعہ، ج7، ص 108 (5)۔کافی، ج3، ص 569

(6)۔ کافی، ج1، ص 551 (7)۔ کافی، ج7، ص 275


9۔ حضرت فاطمہ زہرا ٭ سے منقول ہے کہ عدالت دلوں کے لیے آرام و سکون کا باعث ہے۔(1)

(جی ہاں لوگ فقر و فاقہ کے ساتھ تو زندگی گزار سکتے ہیں مگر نا انصافی اور بے عدالتی کو برداشت نہیں کرپاتے اور جلد ہی غم و غصہ کا اظہار کرنے لگتے ہیں)

مکتب انبیاء میں عدالت کی اہمیت

عام طور سے عدالت یعنی قانون کی پابندی اور بے عدالتی یعنی قانون کی خلاف ورزی کو کہتے ہیں۔ اگر کسی کی نظر میں خود قانون ہی کی کوئی اہمیت نہ ہو تو پھر وہ کس طرح اس پر عمل کرسکتا ہے۔

ایسا قانون جو خود ہم انسانوں نے بنایا ہو۔ ایسا قانون جو ہر روز تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ایسا قانون جس سے شخصی اور قومی مفادات وابستہ ہیں۔ ایسا قانون جو غیر پختہ افکار، محدود اطلاعات ، ہوا و ہوس ملک اور قوم پرستی ، خوف اور خواہشات نفسانی کا نتیجہ ہے۔

ایسا قانون جو ہر زمان و مکان کے حساب سے تبدیل ہوجاتا ہے اور ہر طاقتور اُسے اپنے حق میںبدل دیتا ہے۔ ایسا قانون کے جس کے بنانے والے خود اُس پر بہت سے اعتراض اور اس کے نقائص بیان کرتے ہیں اور وہ خود بھی اُس پر عمل نہیں کرتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ من لا یحضرہ الفقیہ، ج3، ص 567


کیا یہ قوانین انسان کو پاکیزگی اور قداست عطا کرسکتے ہیں اور معاشرہ کے لیے عزت ، شرافت فراہم کرسکتے ہیں کیا اس قسم کے قوانین کی خلاف ورزی ظلم اور بے انصافی ہے؟

لیکن وہ قوانین جو انسان کے پیدا کرنے والے کے علم و حکمت اور لطف و کمال کا نتیجہ ہیں۔ جنکا لانے والا معصوم اور خود سب سے پہلے اُن قوانین پر عمل کرنے والا ہے۔ ایسا قانون جو کسی بھی ذات ، قدرت اور گروہ سے متاثر نہیں ہے۔ ایسا قانون جو انسان کی پاکیزگی کرامت اور قدرت کا باعث ہے ایسے قانون پر عمل کرنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور اس کی خلاف ورزی ظلم اور خلاف عدالت ہے۔

اعتقادی اور فطری عدالت کا زمینہ

عقیدہ توحید میں عدل ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اس لیے کہ ہر مسلمان خداوند عالم کو عادل، ہرچیز کو منظم اور خدا کے اختیار میں سمجھتا ہے۔ اسی عقیدہ کے تحت انسان تمام انسانوں کی ابتداء خاک اور انتہا قیامت میں خداوند متعال کی عدالت میں حاضر ہونا جانتا ہے۔

ادیان الٰہی کے نکتہ نگاہ سے تمام انبیاء کرام کے آنے کا مقصد قیام عدل ہے۔ آخری امام حضرت امام زمانہ ـ کے انتظار کے عقیدہ میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ آکر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ قیامت پر یقین ایک ایسا عقیدہ


ہے جو اس بات پر استوار ہے کہ زمین کا ہر خشک و تر مکمل نظم و ضبط کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ۔ خداکی طرف سے برگزیدہ انبیاء و رسل اپنے آپ کو عادل اور عدالت کا قائم کرنے والا کہلواتے ہیں۔

جی ہاں عقائد، انسان میں عدالت کے قیام کا بہترین پیش خیمہ ہیں لیکن جو اس کائنات کو لاوارث اور بے نظم سمجھتا ہو خلقت اور مخلوق کو حادثہ کا نتیجہ سمجھتا ہو اور موت کو نیستی و نابودی تصور کرتا ہو، پوری دنیا کو بغیر ہدف کے اور عبث تصور کرتا ہو ایسے آدمی کے پاس عدالت کے قیام کے لیے کوئی مقدمہ فراہم نہیں ہے۔

جی ہاں یہ ممکن ہے کہ چند ایک روز کے لیے معاشرتی دباؤ یا جرائم اور قانونی سزاؤں سے بچنے یاپھر لوگوں کی جانب محبت اور کسب نظر کی وجہ سے خطا نہ کرے اور عارضی طور پر کچھ عرصے کے لیے عدل و انصاف سے کام لے۔ لیکن یہی شخص کیوں کہ کائنات اور موجودہ اشیاء کو عبث اور بغیر ہدف کے سمجھتا ہے اور اسی مادّی نظریے کی وجہ سے عدالت کو دل سے قبول نہیں کرتا ہے۔

عدل کی وسعت:

عدالت اسلام کا ایک ایسا بنیادی رکن ہے کہ خدا کی توحید کے بعد اصول دین میں شمار ہوتا ہے۔ جیسا کہ مرجع تقلید، امام جمعہ و جماعت، قاضی اور بیت المال کے خزانچی میں بھی عادل ہونے کی شرط ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ اسلام کے ہر قانون میں عدالت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اور ہر مرحلہ اور مسئلہ میں ہر قسم کی افراط و تفریط سے روکا گیا ہے من جملہ۔


1۔ عبادت میں عدالت۔ یہاں تک کہ احادیث کی کتب میں ایک باب بعنوان ''الاقتصاد فی العبادة'' موجود ہے جس میں اُن روایات کو بیان کیا گیا ہے جو عبادت میں میانہ روی کو بیان کرتی ہیں۔

2۔ کام کاج اور تفریح میں عدالت۔

3۔ غیض و غضب اور محبت میں عدالت۔

5۔ دوست اور دشمن دونوں کے لیے عدالت۔

5۔ ملامت و سرزنش اور تعریف و تمجید میں عدالت۔

6۔ پیداوار اور استعمال میں عدالت۔

7۔ بیت المال کی تقسیم بندی اور وصیت میں عدالت۔

8۔ اہل و عیال اور دوست احباب کے درمیان عدالت۔

9۔ قضاوت اور فیصلہ کے دوران عدالت۔

10۔ قصاص میں عدالت۔

11۔ جنگ میں عدالت۔

12۔ حیوانات کے ساتھ برتاؤ میں عدالت۔ یہاں تک کہ امام علی ـ زکات کی جمع آوری کرنے والے شخص سے یہ فرماتے ہیں کہ زکات میں ملے ہوئے جانوروں پر سواری میں بھی عدالت سے کام لینا۔(1) مثال کے طور پر اگر زکات میں چار اونٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ نہج البلاغہ، مکتوب 25


ملے اور تم دو گھنٹے سفر میں ہو تو ہر اونٹ پر آدھا گھنٹہ سوار ہونا۔ ایک اور مقام پر آپ ـفرماتے ہیں کہ اگر کوئی حاجی جلدی مکہ پہنچنے کی وجہ سے اپنے جانور کو حد سے زیادہ تھکا دے تو اس کی گواہی مسائل حقوقی میں قبول نہ کرو اس لیے کہ اس نے اپنے جانور پر ظلم کیا ہے۔(1)

بہرحال اسلام کی ہر چیز میں عدالت سے کام لیا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر مسجد میں کسی مقام پر کوئی بچہ بیٹھا ہوا ہو اور آپ اُسے اٹھا کر وہاں نماز ادا کریں تو ایسی صورت میں نماز میں اشکال ہے۔(2)

نمونے:

٭قرآن کریم نے اہل حجاز کو۔ جو اپنے کو دوسروں سے برتر اور جدا تصور کرتے تھے۔ حکم دیا کہ اُسی طرح حج ادا کرو جس طرح دوسرے لوگ حج ادا کرتے ہیں(آفیضوا من حیث افاض النّاس) (3)

جب بھی ثروت مند افراد انبیاء سے یہ چاہتے تھے کہ وہ فقراء کو اپنی بارگاہ سے نکال دیں تو یہی جواب سنتے تھے(مأ انٰا بِطَارد الّذین اٰمنوا) (4)

٭پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے آخری سفر میں تمام لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: تمام مسلمان چاہے وہ کسی بھی قوم و قبیلہ سے تعلق رکھتے ہوں برابر ہیں۔(5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔وسائل الشیعہ،کتاب الحج (2)۔ توضیح المسائل (3)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ، آیت 199

(5)۔ سورئہ مبارکہ ہود، آیت 29 (5)۔ سفینة البحار، ج2، ص 358


بعض سیاستدان اور مصلحت پسند افراد نے مولائے کائنات حضرت علی ـ سے عرض کیا کہ فقراء اور غلاموں کا حصہ ان کے حصے سے الگ کرکے قوم کے بڑے لوگوں کو زیادہ حصہ دیا جائے۔ تاکہ حکومت کی جڑیں مضبوط ہوجائیں اور وہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اور وہ معاویہ سے ملحق نہ ہوں۔ تو آپ نے فرمایا:کہ کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میں انہیں خراج (ٹیکس) ادا کروں ہرگز ایسا نہ ہوگا جس کا دل چاہے رُکے اور جس کا دل چاہے چلا جائے۔(1) نیز امام ـ ہی نے اپنی حکومت کے ابتدائی دور میں فرمایا تھا کہ مجھے سے پہلے بیت المال سے جتنا بھی پیسہ بے جا مصرف ہوا ہے۔ وہ سب واپس بیت المال میں پلٹا دیا جائے گا چاہے اس پیسے سے غلام خریدے گئے ہوں یا بطور مہر ادا کیا گیا ہو۔(2)

٭حضرت علی ـ نے فرمایا:کہ جب میں اپنے ذاتی مال کو بغیر مساوات کے تقسیم نہیں کرسکتا تو پھر خدا کے مال (بیت المال) کو کس طرح مساوات کے بغیر تقسیم کروں۔(3)

٭پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو سب سے پہلے جہنم میں جائے گا۔ وہ حاکم ہے جو عدل و انصاف سے کام نہ لے۔(4)

٭اگر کسی شخص کے زیر کفالت دس افراد ہوں اور وہ ان کے درمیان عدالت سےکام نہ لے تو وہ قیامت میں اس طرح محشور کیا جائے گا کہ اس کے ہاتھ پیر بندھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وسائل الشیعہ، ج15، ص 107 (2)۔نہج البلاغہ، خطبہ 15

(3)۔ نہج البلاغہ، خطبہ 126 (5)۔ میزان الحکمہ


ہوئے ہونگے۔(1)

یہ وہ چند نکات تھے جو مجھ جیسے طالب علم کے لیے آیت سے کشف ہوئے ہیں۔ انسان قربان جائے ایسی کتاب کے جس کے ہر کلمہ میں ایک ایسا درس پوشیدہ ہے کہ جس کی تازگی اور شادابی کو زمین و زمان کی تبدیلی نہیں چھین سکتی ہے تاکہ اور بہتر انداز سے اس کتاب کو سمجھا جاسکے آپ سے گزارش ہے کہ ایک ایسی سطر لکھیں جس کے ہر کلمہ میں صحیح، منطقی اور ایسے جاویدان نکات پوشیدہ ہوں جن سے رہتی دنیا تک استفادہ ہوتا رہے !!

٭پروردگارا: تجھے قرآن کے ہر کلمہ کا واسطہ کہ ہمیں ہدایت کے بعد لغزشوں سے دوچار نہ فرما۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) ۔ میزان الحکمہ


آیت نمبر 10

ِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ ِخْوَة فََصْلِحُوا بَیْنَ َخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا اﷲَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ-

ترجمہ:

مومنین آپس میں بالکل بھائی بھائی جیسے ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے۔

٭اس آیت میں مومنین کے رابطے کو دو بھائیوں کی مانند پیش کیا گیا ہے اور اس تعبیر میں بہت سے نکات پوشیدہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

الف: دو بھائی دشمن کے مقابلے میں ایک دوسرے کے بازو ہوتے ہیں۔

ب: دو بھائیوں کا رشتہ بہت گہرا ہوتا ہے۔

ج: آج کے دور میں آپس کے تعلق اور روابط کے لیے دوست ، ہم شہر، ہم وطن جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مگر اسلام نے اس رابطے کے اظہار کے لیے بھائی کا لفظ استعمال کیا ہے جوان سب سے زیادہ مفید اور گہرے معنی رکھتا ہے۔

د: دو بھائیوں کی دوستی باہمی ہوتی ہے۔

ھ: حدیث میں دو دینی بھائیوں کی دوستی کو دو ہاتھوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو ہاتھ دھوتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ محجة البیضائ


٭ اس آیت میں اور اس سے قبل آیت میں مجموعی طور پر کلمہ ''أصلحوا'' تین بار آیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام صلح و آشتی پر کتنی توجہ دیتا ہے۔

٭مسلمانوں کے آپس میں جھگڑنے سے تلخ حوادث رونما ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپس میں ناراضگی، سوئِ ظن، غلط پروپیگنڈا، انتقام جوئی، اور فتنہ و فساد زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا قرآن مجید نے اِن آیات میں ان جملوں ۔أصلحوا، أقسطوا، یحب المقسطین، اِخوة، اخویکم، اتّقوا، ترحمون، کے ذریعہ جنگوں سے حاصل شدہ زخموں پر مرہم رکھا ہے۔

پیغامات:

1۔ اخوت و برادری کا راز فقط ایمان میں پوشیدہ ہے ۔ (معاشی، سیاسی، نسلی، جغرافیائی اور تاریخی مسائل کے ذریعہ لوگوں میں اخوت و برادری کی روح پیدا نہیں کی جاسکتی )(انّما المومنون الاخوة)

جان گرگان و سگان از ھم جدااست

متحد جان ھای شیران خدا است

ترجمہ :بھیڑیوں اور کتوں کا اتحاد ممکن نہیں البتہ خدا کے شیروں کا اتحاد ممکن ہے۔

2۔ اخوت و برادری کی بنیاد پر ایمان ہے اور زمان و مکان ، عمر اور پیشہ کی پابند نہیں ہے۔( انّما المومنون الاخوة)

3۔ کوئی بھی اپنے آپ کو دوسرے پر برتر نہ سمجھے''اخوة'' البتہ والدین اولاد پر


برتری رکھتے ہیں لیکن بھائیوں کے درمیان مساوات ہے۔

5۔ صلح و آشتی کے لیے محبت آمیز، نفسیاتی اور تعمیری گفتگو کرنی چاہیے۔''اِخْوة فَاصلِحُوا''

5۔ صلح و آشتی کرانا ہر مسلمان پر واجب ہے اور کسی خاص گروہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔''فَاصلِحُوا''

6۔ صلح کرانے والا بھی دونوں گروہوں کا بھائی ہے۔ بَینْ أخوّیکم

7۔ صلح و آشتی کرانے میں کچھ آفات بھی ہیں لہٰذا احتیاط سے کام لینا چاہیے۔''فاصلحوا--- واتقوا'' (صلح و آشتی کرانے کی بعض آفات یہ ہیں۔ خودنمائی، توقع، ظلم و ستم اور احسان جتانا وغیرہ۔

8۔ ایسا معاشرہ جو جنگ و جدل میں مصروف ہوجائے رحمت خدا سے محروم رہتا ہے۔''فاصلحوا --- واتقوا --- ترحمون''

9۔ صلح و صفائی رحمت الٰہی کے نزول کا پیش خیمہ ہے۔''فاصلحوا --- ترحمون''

اخوت و برادری:

اسلام کے امتیازات میں سے ایک امتیاز یہ ہے کہ اصلاحات کا عمل جڑ سے شروع ہوتا ہے۔ مثال کے طو پر قرآن مجید میں ہے(انّ العزة للّٰه جمیعًا) (1) تمام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ یونس، آیت 65


عزت خدا کے لیے ہے پھر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا (کہ جب تمام عزت اللہ کے لیے ہے) پھر عزت کی خاطر ادھر ادھر کیوں جاتے ہو۔ یا پھر فرمایا:انّ القَوة للّٰه جمیعًا (1) تمام قدرت خدا کے لیے ہے۔ پھر نتیجہ کے طور پر فرمایا: کہ تو پھر ہر وقت کسی اور کے پیچھے کیوں لگے رہتے ہو؟ اس آیت میں بھی یہی فرمایا: سب مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں پھر فرمایا: تو اب جب کہ تم سب آپس میں بھائی بھائی ہو تو پھر یہ لڑائی جھگڑا کس لیے؟ پس آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ پیار ومحبت سے رہو۔ اس لیے کہ فرد اور معاشرہ کی اصلاح کے لیے پہلے فکری اور اعتقادی اصلاح ضروری ہے اُس کے بعد انسان کے کردار اور اس کی رفتار کی بات آتی ہے۔

٭ اخوت و برادری جیسے کلمات کا استعمال اسلام نے ہی کیا ہے۔ صدر اسلام میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سات سو چالیس افراد کے ہمراہ ''نخلیہ'' نامی علاقے میں موجود تھے کہ جبرائیل امین ـ نازل ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے درمیان اخوت و برادری کے رشتہ کو قائم کیا ہے۔ لہٰذا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اپنی اصحاب کے درمیان اخوت کے رشتہ کو قائم کیا اور ہر ایک کو اس کے ہم فکر کا بھائی بنادیا۔ مثلاً: ابوبکر کو عمر کا، عثمان کو عبدالرحمن کا، حمزہ کو زید بن حارث کا، ابو درداء کو بلال کا، جعفرطیار کو معاذ بن جبل کا، مقداد کو عمار کا، عائشہ کو حفصہ ، ام سلمہ کو صفیہ، اور خود پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی ـ کو اپنا بھائی بنایا۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ مبارک بقرہ، آیت 165

(2)۔ بحارا لانوار، ج38، ص 335


جنگ اُحد میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دو شہداء (عبداللہ بن عمر اور عمر بن جموع) جنکے درمیان اخوت و برادری کا عقد برقرار تھا کو ایک ہی قبر میں دفن کرنے کا حکم دیا۔(1)

٭ نسبی برادری بالآخر ایک دن ختم ہوجائے گی۔فَلَا أَنسَابَ بَیْنَهُمْ (2) لیکن دینی برادری قیامت کے دن بھی برقرار رہے گی۔اِخوانًا علی سُرُررٍ مُّتَقَابِلِیْنَ (3)

٭اخوت و برادری با ایمان عورتوں کے درمیان بھی قائم ہے چنانچہ ایک مقام پر عورتوں کے درمیان بھی اخوت و برادری کی تعبیر موجود ہے۔وَاِن کَانُوا اِخوَةً رِجَالاً و نِسآئً (4)

٭اخوت و برادری صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ دنیا کی خاطر اخوت و برادری کے رشتہ کو قائم کرے تو جو اس کی نظر میں ہے وہ اس سے محروم رہے گا۔ اس طرح کے برادر قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن نظر آئیں گے۔(5)

الَْخِلاَّئُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ ِلاَّ الْمُتَّقِینَ - (6)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ شرح ابن الحدید، ج15، ص 215؛ بحار الانوار، ج20، ص 121 (2)۔ سورئہ مبارکہ مومنون، آیت 101

(3)۔ سورئہ مبارکہ حجر، آیت 57 (5)۔ سورئہ مبارکہ نسائ، آیت 176

(5)۔ بحار، ج75، ص 167 (6)۔ سورئہ مبارکہ زخرف، آیت 67


٭برادری اور اخوت کی برقراری سے زیادہ اہم چیز برادر کے حقوق کی ادائیگی ہے۔ روایات میں ایسے شخص کی سرزنش کی گئی ہے جو اپنے برادر دینی کا خیال نہ رکھے اور اُسے بھلا دے۔ یہاں تک ملتا ہے کہ اگر تمہارے برادران دینی نے تم سے قطع تعلق کرلیا ہے تو تم ان سے تعلق برقرار رکھوصِلْ مَنْ قَطَعَک (1)

روایات میں ہے کہ جن افراد سے قدیمی اور پرانا رشتہ اخوت و برادری قائم ہو ان پر زیادہ توجہ دو اگر کوئی لغزش نظر آئے تو اُسے برداشت کرو۔ اگر تم بے عیب دوستوں (برادران) کی تلاش میں رہو گے تو دوستوں کے بغیر رہ جاؤ گے۔(2)

٭روایات میں ہے کہ جو اپنے برادر کی مشکل حل کرے گا اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ یہاں تک ملتا ہے کہ جو اپنے دینی برادر کی ایک مشکل دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک لاکھ حاجات پوری کرے گا۔(3)

٭حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: مومن ، مومن کا بھائی ہے ۔ دونوں ایک جسم کی مانند ہیں۔کہ اگر ایک حصے میں درد ہو تو دوسرا حصہ بھی اُسے محسوس کرتا ہے۔

(4) سعدی نے اس حدیث کو شعر کی صورت میں یوں بیان کیا ہے۔

بنی آدم اعضای یکدیگرند کہ در آفرینش زیک گوھرند

چو معنوی بہ درد آورد روزگار دگر عضوھا را نماند قرار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحار ، ج78، ص 71 (2)۔ میزان الحکمہ

(3)۔ میزان الحکمہ (اخوة) (5)۔ اصول کافی، ج2، ص 133


تو کز محنت دیگران بی غمی نشاید کہ نامت نھند آدمی

ترجمہ: اولاد آدم ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں کیونکہ سب خاک سے پیدا ہوئے ہیں اگر کسی پر مشکل وقت آجائے تو دوسروںکو بھی بے قرار رہنا چاہیے۔

اگر تم دوسروں کی پریشانی اور محنت سے بے اعتنائی کرو تو شاید تمہیں کوئی انسان بھی نہ کہے۔

برادری کے حقوق:

٭ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی کی گردن پر تیس حق ہیں اور اسے ان تمام حقوق کو ادا کرنا ہوگا۔(جن میں سے پچیس حقوق درج ذیل ہیں)

1۔ عفو و درگزر 2۔ راز داری

3۔ خطاؤں کو نظر انداز کردینا 5۔ عذر قبول کرنا

5۔ بد اندیشوں سے اس کا دفاع کرنا 5۔ خیر خواہی کرنا

7۔ وعدہ کے مطابق عمل کرنا 8۔ عیادت کرنا

9۔ تشییع جنازہ میں شرکت کرنا 10۔ دعوت اور تحفہ قبول کرنا

11۔ اسکے تحفے کی جزا دینا 12۔ اسکی عطا کردہ چیزوں پر شکریہ ادا کرنا

13۔ اسکی مدد کے لیے کوشش کرنا 15۔ اسکی عزت و ناموس کی حفاظت کرنا

15۔ اسکی حاجت روائی کرنا 16۔ اسکی مشکلات کو دور کرنے کے لیے سعی کرنا

17۔ اسکی گمشدہ چیز کو تلاش کرنا 18۔ اسے چھینک آئے تو اسکے لیے طلب رحمت


کرنا

19۔ اسکے سلام کا جواب دینا 20۔ اسکی بات کا احترام کرنا

21۔ اسکے لیے بہترین تحفہ کو پسند کرنا 22۔ اس کی قسم کو قبول کرنا

23۔ اسکے دوست کو دوست رکھنا اور اس سے دشمنی نہ رکھنا

25۔ مشکلات میں اُسے تنہا نہ چھوڑنا

25۔ جو اپنے لیے پسند کرے وہی اس کے لیے پسند کرے(1)

ایک اور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس آیت(اِنّما المومنون اخوة) کی تلاوت کے بعد فرمایا مسلمانوں کا خون ایک ہے اگر عام لوگ بھی کوئی عہد و پیمان کریں تو سب کو اس کا پابند ہونا چاہیے۔ مثلاً اگر ایک عام مسلمان کسی کو پناہ یا امان

دے تو دوسرے کو بھی اس کا پابند ہونا چاہیے۔ سب مشترکہ دشمن کے مقابل اکھٹے ہوجائیں۔وَهُمْ یَد علی مَن سَواهم- (2)

٭ حضرت علی ـ سے منقول ہے کہ آپ نے کمیل سے فرمایا: اے کمیل اگر تم اپنے بھائی کو دوست نہیں رکھتے تو پھر وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔(3)

انسان اپنے ایمان کامل کے ساتھ اولیاء خدا کے مدار تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

سلْمٰان مِنا اهل البیت (4) سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے۔ جس طرح کفر کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحار، ج75، ص 236 (1)۔ تفسیر قمی، ج1، ص 73

(3)۔ تحف العقول ص 171 (5)۔ بحارالانور، ج10، ص 23ا


ہمراہ ہوکر اس مدار سے خارج ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرزند نوح ـکے بارے میں حضرت نوح ـ سے فرمایا:اِنّه لَیسَ مِنْ أهلَکَ- وہ آپ کے اہل میں سے نہیں ہے۔(1)

بہترین بھائی:

٭روایات میں بہترین بھائی کی یہ نشانیاں بیان کی ہیں۔

1۔ تمہارا بہترین بھائی وہ ہے جو تمہارا غمخوار اور ہمدرد ہو یہاں تک کہ سختی سے تمہیں خدا کی اطاعت کی طرف دعوت دے۔ تمہاری مشکلوں کو حل کرے۔ خدا کی خاطر تیرا دوست بنا ہو۔ اسکا عمل تیرے لیے سرمشق ہو۔ اسکی گفتگو تیرے عمل میں اضافہ کا باعث ہو۔ تیری کوتاہیوں کو نظر انداز کرے۔ اور تجھے خواہشات نفس میں گرفتار ہونے سے بچائے۔ اور اگر تجھ میں کوئی

عیب دیکھے تو تجھے خبردار کرے۔ نماز کو اہمیت دے ۔ حیادار، امانت دار اور سچا ہو۔خوشحالی اور تنگ دستی میں تجھے نہ بھلائے۔(2)

صلح و آشتی قرآن کی روشنی میں:

ہم نے اس آیت میں پڑھا ہے کہ مومنین آپس میں بھائی ہیں لہٰذا اُن میں صلح و

آشتی کو قائم کریں اسی مناسبت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہاں صلح و آشتی کے بارے میں کچھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ مبارکہ ہود، آیہ 56

(2)۔ میزان الحکمہ


آشتی کو قائم کریں اسی مناسبت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہاں صلح و آشتی کے بارے میں کچھ مطالب بیان کرتے ہیں۔

قرآن میں اسی سلسلہ میں مختلف تعابیر آئی ہیں:

صلح ''والصُّلح خَیر'' (1) ''وأصلِحوا ذات بینکم'' (2)

2۔تالیف قلوب''فَألف بین قلوبکم'' (3)

3۔توفیق''اِن یُریدا اصلاحًا یُوَفِّق اللّٰه بینهُمٰا'' (4)

5۔ سِلم''أدخُلوا فِی السِّلم کافَّة'' (5)

مندرجہ بالا تعبیر اس بات کی نشاندہی کررہی ہیں کہ اسلام صلح و آشتی ، پیار ومحبت اور خوشگوار زندگی کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

صلح آشتی کی اہمیت:

٭مسلمانوں کی درمیان الفت اور محبت کو خداوند عالم کی نعمتوں میں شمار کیا ہے۔''کنتم أعدا فَاَلَّفَ بین قلوبکم'' (6) یاد کرو اس وقت کوکہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر خدا نے تمہارے درمیان پیار و محبت کو قائم کردیا۔ جیسا کہ قبیلہ اوس و خزرج کے درمیان ایک سو بیس سال سے جنگ و خونریزی چل رہی تھی اسلام نے ان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ نسائ، آیت 128 (2)۔سورئہ مبارکہ انفال، آیت 1

(3)۔ سورئہ مبارکہ آل عمران، آیت 103 (5)۔ سورئہ مبارکہ نسائ، آیت 35

(5)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ، آیت 208 (6)۔ سورئہ مبارکہ آل عمران، آیت 103


کے درمیان صلح کرادی۔

صلح وآشتی کرانا عزت و آبرو کی زکات اور خدا کی طرف سے رحمت اور بخش کا سبب ہے۔''ان تُصلحوا و تتّقوا فانَّ اللّٰه کان غفوراً رحیمًا'' (1) جو بھی مسلمانوں کے درمیان صلح و دوستی کا سبب بنے تو اُسے جزائے خیر ملے گی۔

''وَمَن یَشفَع شَفَاعةً حَسنةً یکن لَه نصیب منها'' (2)

٭ لوگوں کے درمیان صلح و آشتی کرانے کے لیے اسلام کے خاص احکامات ہیں من جملہ۔

1۔جھوٹ جو گناہان کبیرہ میں سے ہے اگر صلح و آشتی کرانے کے لیے بولا جائے تو اسکا کوئی گناہ نہیں ہے۔'' لَا کِذْبَ علی المُصْلح'' (3)

2۔ سرگوشی ایک شیطانی عمل ہے جو دیکھنے والوں میں شک و شبہ پیدا کرتا ہے جسکی نہی کی گئی ہے لیکن اگر یہ سرگوشی صلح و آشتی کرانے کے لیے ہو تو کوئی گناہ نہیں ہے۔''لَا خَیرَ فی کثیر من نجواهم اِلّا مَنْ أمَرَ بِصدقةٍ أو معروفٍ او اصلاح بین الناس'' (4)

3۔ اگرچہ قسم کو پورا کرنا واجب ہے لیکن اگر کوئی یہ قسم کھائے کہ وہ مسلمانوں کے درمیان صلح و آشتی کرانے کے سلسلے میں کوئی قدم نہ اٹھائے گا تو اس قسم کو توڑا جاسکتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ نسائ، آیت 129 (2)۔ سورئہ مبارکہ نسائ، آیت 85

(3)۔بحارا الانوار،ج69، ص 252 (5)۔ سورئہ مبارکہ نسائ، آیت 115


ہے۔''وَلا تجعلو اللّٰه عرضَة لایمانکم ان --- تصلحوا بین الناس'' (1)

ہم تفاسیر کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایک صحابی کی بیٹی اور ان کے داماد میں اختلاف ہوگیا۔ لڑکی کے والد نے یہ قسم کھائی کہ وہ ان کے معاملے میں دخالت نہ کریگا۔ یہ آیت نازل ہوئی کہ قسم کو نیکی و پرہیز گاری اور اصلاح کے ترک کا وسیلہ قرار مت دو۔

5۔ اگرچہ وصیت پر عمل کرنا واجب اور اس کا ترک کرنا حرام ہے لیکن اگر وصیت پر عمل کرنا لوگوں کے درمیان کینہ اور کدورت کی زیادتی کا سبب ہو تو اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ وصیت پر عمل نہ کیا جائے تاکہ لوگوں کے درمیان پیار ومحبت اور بھائی چارہ کی فضا قائم رہے۔''فَمن خَافَ مِن مُوصٍ و جُنفًا أو اِثمًا فاصلح بینهم فلا اثم علیه'' (2)

5۔ اگرچہ مسلمان کا خون محترم ہے لیکن اگر بعض افراد فتنہ، فساد کا باعث بنیں تو اسلام نے صلح و آشتی کے لیے انکے قتل کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔'' فقاتلو الّتی تبغی'' (3)

صلح و آشتی کے موانع:

قرآن و احادیث میں صلح و آشتی کے بہت سے موانع ذکر کیے گئے ہیں من جملہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ، آیت 225

(2)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ، آیت 182 (3)۔سورئہ مبارکہ حجرات، آیت 9


1۔ شیطان: قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔ادخلوا فی السّلم کافّة ولا تتّبعوا خطوات الشیطان'' (1) سب آپس میں پیار و محبت کے ساتھ رہو اور شیطان کی پیروی نہ کرو۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔انّما یُرید الشیطان أنْ یوقع بینکم العداوة والبغضائ'' (2) شیطان تمہارے درمیان کینہ و کدورت پیدا کرنا چاہتا ہے۔

2۔ مال کی چاہت اور بخل۔'' والصلح خیر و اُحضِرتِ الاَنفس الشُح'' (3) اور صلح و دوستی بہتر ہے اگرچہ لوگ حرص و لالچ اور بخل کرتے ہیں۔

3۔ غرور و تکبر بھی کبھی کبھی صلح و آشتی کے لیے مانع ہے۔

قرآن میں نزول رحمت کے چند عوامل:

٭ اگر قرآن مجید کے''لعلکم ترحمون'' کے جملوں پر نظر کریں تو نزول رحمت کے چند عوامل تک رسائی ممکن ہے۔

1۔ خدا، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آسمانی کتب کی پیروی''واطیعو اللّٰه والرسول--- '' (4) ''وهذا کتاب --- فاتبعوه--- لعلکم ترحمون'' (5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ، آیت 208 (2)۔ سورئہ مبارکہ مائدہ، آیت 91

(3)۔ سورئہ مبارکہ نسائ، آیت 128 (5)۔ سورئہ مبارکہ آل عمران، آیت 132

(5)۔سورئہ مبارکہ انعام، آیت 155


2۔ نماز کا قائم کرنا اور زکات کا ادا کرنا۔''اقیموا الصلوٰة واتو الزکاة--- لعلکم ترحمون'' (1)

3۔ مسلمانوں کے درمیان صلح و آشتی کرانا۔''فاصلحوا--- لعلکم ترحمون''

5۔ استغفار اور توبہ۔''لولا تستغفرون اللّٰه لعلکم ترحمون'' (2)

5۔ غور سے قرآن کی تلاوت سننا''واذ اقرأ القرآن فاستمعوا له --- لعلکم ترحمون'' (3)

روایات میں نزول رحمت کے عوامل:

٭ معصومین کی روایات میں بھی نزول رحمت کے عوامل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

1۔ بیمار مومن کی عیادت کرنا:''مَن عَادَ مومِنًا خاض- الرَّحمة خوضًا'' (4)

جو شخص بیمار مومن کی عیادت کے لیے جائے تو وہ شخص خدا کی مکمل رحمت کے زیر سایہ ہے۔

2۔ کمزور اور ناتوان افراد کی مدد کرنا۔''اِرحموا ضُعفائکم واطلبوا الرحمة- ---،، (5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ نور، آیت 56 (2)۔ سورئہ مبارکہ نمل، آیت 56

(3)۔ سورئہ مبارکہ اعراف، آیت 205 (5)۔ وسائل الشیعہ، ج2، ص 515 (5)۔ مستدرک، ج9، ص 55


معاشی حوالے سے کمزور افراد پر رحم کرکے خدا کی رحمت کو طلب کرو۔

3۔ روایات میں کثیر العیال افراد کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کو کہا گیا ہے خاص طور پر جن کی بیٹیاں زیادہ ہوں۔

5۔ دعاو نماز، نرمی سے پیش آنا اور اپنے برادر دینی سے مصافحہ اور معانقہ کرنا بھی نزول رحمت کے اسباب ہیں۔(1)

5۔ لوگوں کی پریشانیوں کو دور کرنا۔ وہ افراد جو اپنی پریشانیوں کے حل کے لیے تمہارے پاس آئیں خدا کی رحمت میں انکی حاجت روائی کیے بغیر واپس نہ پلٹانا۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وسائل الشیعہ، ج7، ص 31

(2)۔کافی، ج2، ص 206


آیت نمبر 11

یٰأَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لَا یَسْخَرُ قَوْم مِّنْ قَوْمٍ عَسٰی أَنْ یّکُوْنوا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَآئ مِّنْ نِسَآئٍ عَسٰی أنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّج وَلَا تَلْمِزُوْآ أَنْفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزوا بِالْأَلْقٰابِط بِئسَ الاِسْمُ الفُسُوقُ بَعْدَ الاِیْمٰانِج وَمَنْ لَّم یَتُبْ فَأُولٰئِکَ هُمُ الظّٰلِمُونَ-

ترجمہ:

اے ایمان والو! خبر دار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اُڑائے کہ شاید کہ وہ اس سے بہتر ہو اور عورتوں کی بھی کوئی جماعت دوسری جماعت کا مسخرہ نہ کرے کہ شاید وہی عورتیں ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو طعنے بھی نہ دینا اور برے برے الفاظ سے بھی یاد نہ کرنا کہ ایمان کے بعد بدکاری کا نام ہی بہت برا ہے اور جو شخص بھی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ یہی لوگ درحقیقت ظالمین ہیں۔

نکات:

O کلمہ''لَمْز'' یعنی لوگوںکے سامنے ان کی عیب جوئی کرنا ، کلمہ''همز'' کے معنی پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرنا ہے(1) اور کلمہ''تَنَابز'' کے معنی دوسروں کو برے القاب سے پکارنا ہے۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ کتاب العین (2)۔ لسان العرب


O گزشتہ آیت میں اخوت و بردری کے بارے میں بحث ہوئی اور اس آیت میں ان چیزوں کا ذکر ہے جو اخوت و برادری کے راستہ میں رکاوٹ ہیں اور اسی طرح ماقبل کی آیات میں لڑائی جھگڑے اور صلح و صفا کی بات تھی تو اس آیت میں بعض ایسے عوامل کا ذکر ہے جو لڑائی جھگڑے کاسبب بنتے ہیں جیسے مذاق اڑانا ، تحقیر کرنا اور برے القاب سے پکارناہے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی برکات میں سے ایک معاشرہ کے ماحول کو پاک و پاکیزہ بنانا اور ایک دوسرے کا مذاق اڑانے نیز ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارنے سے روکنا ہے۔

پیغامات:

1۔ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اُسے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بندگان خدا کا مذاق اڑائے ۔''یٰاایُّهٰا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لَا یَسْخَرُ''

2۔ جو شخص کسی کو لوگوں کی توہین کرنے سے روکنا چاہتا ہے تو اس کے روکنے میں توہین آمیز پہلو نہ ہو۔''یٰا ایُّهٰا الذّین امَنُولَا یَسْخَرُ قَوْم مِنْ قَوْمٍ '' یہی نہیں فرمایا:لَا تَسْخَروا کہ جس کے معنی یہ ہیں کہ تم مذاق اڑانے والے ہو۔

3۔ مذاق اڑانا، فتنہ و فساد، کینہ پروری اور دشمنی کی کنجی ہے''لا یَسْخَر قَوْم---'' برادری اور صلح و آشتی بیان کرنے کے بعد مذاق اڑانے سے منع کیا ہے۔

5۔ تبلیغ کا طریقہ کار یہ ہے کہ جہاں اہم مسئلہ بیان کرنا ہو یا مخاطبین میں ہر نوع کے افراد موجود ہوں تو وہاں مطالب کو ہر گروہ کے لیے تکرار کے ساتھ بیان کرنا


چاہیے۔قومٍ من قومٍ وَلَا نِسَاء مِنْ نِسَآئٍ-

5۔ تربیت اور وعظ و نصیحت کے دوران لوگوں میں سے فتنہ و فساد کی جڑ کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے- (عسیٰ اَنْ یکونوا خیرا ) مذاق اڑانے کی اصل وجہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھناہے۔ قرآن مجید اس معاملے کو جڑ سے ختم کرنا چاہتا ہے اس لیے فرماتا ہے: تمہیں اپنے آپ کو دوسروں سے برتر نہیں سمجھنا چاہیئے شاید کہ وہ تم سے برتر ہوں۔

6۔ ہم لوگوں کے باطن سے بے خبر ہیں اس لیے ہمیں ظاہر بین، سطحی نظر اور فقط موجودہ حالات پر نگا نہیں کرنی چاہیے۔(عسیٰ أَنْ یَکُونوا خَیْرًا---)

7۔ سب لوگ ایک جوہر سے ہیں اس لیے لوگوں کی برائی کرنا دراصل اپنی برائی کرنا ہے ۔''وَلَا تَلْمِزُو أَنْفُسکُم''

8۔ دوسروں کی عیب جوئی کرکے انہیں انتقام جوئی پر ابھارنا ہے تاکہ وہ بھی تمہارے عیب بیان کریںپس دوسروں کے عیب نقل کرنا در حقیقت اپنے عیوب کا انکشاف کرنا ہے( لَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَکُم)

9۔ مذاق اڑانا یک طرفہ نہیں ہوتا ہے ممکن ہے کہ طرف مقابل بھی دیر یا جلد آپ کا مذاق اڑانا شروع کردے۔(و لَا تَنَابَزُوا کسی کام کے دو طرفہ انجام پانے کے لیے استعمال ہوتا ہے)

10۔ اگر کسی کا مذاق اڑایا ہو یا اُسے برے نام سے پکارا ہو تو اس کے لیے توجہ کرنا ضروری ہے(من لم یَتُبْ فَأُولٰئِکَ هُمُ الظَّالِمُونَ ) البتہ یہ توبہ فقط زبانی نہ ہو


بلکہ کسی کو تحقیر کرنے کی توبہ یہ ہے کہ جس کی تحقیر کے ہے اس کی تکریم کرنا ہوگی کسی حق کے چھپانے کی توبہ یہ ہوگی کے اُس حق کو ظاہر کیا جائے(تابو و اصلحوا و بیّنوا) (1) فساد کرنے والے کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے امور میں اصلاح کرے(تَابُوا واصلحوا )

11۔ کسی کا مذاق اڑانا در حقیقت اس کے احترام پر تجاوز کرنا ہے اگر مذاق اڑانے والا توبہ نہ کرے تو وہ ظالم ہے(فَأُولٰئِکَ هُم الظَّالِمُونَ)

دوسروں کا مذاق اڑانا اور استہزاء کرنا:

O ظاہری طور پر استہزاء ایک گناہ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت وہ چند گناہوں کا مجموعہ ہے مثال کے طور پر مذاق اڑانے میں، تحقیر کرنا، ذلیل و خوار کرنا، کسی کے عیوب ظاہر کرنا، اختلاف ایجاد کرنا، غیبت کرنا، کینہ توزی، فتنہ و فساد پھیلانا، انتقام جوئی کی طرف مائل کرنا، اور طعنہ زنی جیسے گناہ پوشیدہ ہیں۔

مذاق اڑانے کی وجوہات:

1۔ کبھی مذاق اڑانے کی وجہ مال و دولت ہے قرآن مجید میں ہے''ویل لِکُلِّ هُمَزَة لُّمَزَةٍ ن الَّذِیْ جَمَعَ مٰالاً وَّعَدَّده '' (2) وائے ہو اس پر جو اُس مال و دولت کی خا طر جو اس نے جمع کر رکھی ہے پیٹھ پیچھے انسان کی برائی کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ 160

(2)۔ سورئہ مبارکہ ھمزہ 1۔2


2۔ کبھی استہزاء اور تمسخر کی وجہ علم اور مختلف ڈگریاں ہوتی ہیں قرآن مجید نے اس گروہ کے بارے میں فرمایا:'' فَرِحُوا بِمَا عِنْدَ هُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِؤُونَ '' (1) اپنے علم کی بناء پر ناز کرنے لگے ہیں اور جس چیز کی وجہ سے وہ مذاق اڑا رہے تھے اُسی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا۔

3۔ کبھی مذاق اڑانے کی وجہ جسمانی قوت و توانائی ہوتی ہے ۔ کفار کا کہنا تھا( مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةَ) (2) کون ہے جو ہم سے زیادہ قوی ہے۔

5۔ کبھی دوسروں کا مذاق اڑانے کی وجہ وہ القاب اور عناوین ہوتے ہیں جنہیں معاشرہ میں اچھا نہیں سمجھتا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کفار ان غریب لوگوں کو جو انبیاء کا ساتھ دیتے تھے حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے اور کہتے تھے:''مَا نَراکَ اتَّبَعکَ اِلّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرذِلْنَا'' (3)

ہم آپ کے پیرو کاروں میں صرف پست اور ذلیل افراد ہی دیکھ رہے ہیں۔

5۔ کبھی مذاق اڑانے کی علت تفریح ہوتی ہے۔

6۔ کبھی مال و مقام کی حرص و لالچ کی وجہ سے تنقید تمسخر کی صورت اختیار کرلیتی ہے مثال کے طور پر ایک گروہ زکوٰة کی تقسیم بندی پر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عیب جوئی کرتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ غافر 83

(2)۔ سورئہ مبارکہ فصلت 15

(3)۔ سورئہ مبارکہ ھود 27


قرآن مجید میں ارشاد ہوا:''وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَلْمِزْکَ فِی الصَّدَقاتِ فَاِنْ أُعْطُوا مِنْهٰا رَضُوا وَ اِنْ لَمْ یُعْطَوْا مِنْهٰا اِذَا هُمْ یَسْخَطُونَ'' (1) اس تنقید کی وجہ طمع اور لالچ ہے کہ اگر اسی زکوٰة میں سے تم خود ان کو دیدو تو یہ تم سے راضی ہوجائیں گے لیکن اگر انہیں نہیں دو گے تو وہ آپ سے ناراض ہوکر عیب جوئی کریں گے۔

7۔ کبھی مذاق اڑانے کی وجہ جہل و نادانی ہے۔ جیسے جناب موسی ـ نے جب گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو بنی اسرائیل کہنے لگے کیا تم مذاق اڑا رہے ہو؟ جناب موسی ـنے فرمایا:''أَعُوذُ بِاللّٰهِ أَنْ أَکُونَ مِنَ الجٰاهِلِیْنَ'' (2) خدا کی پناہ جو میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔یعنی مذاق اڑانے کی وجہ جہالت ہوتی ہے اور میں جاہل نہیں ہوں۔

نا چاہتے ہوئے تحقیر کرنا:

حضرت امام جعفر صادق ـ نے ایک صحابی سے پوچھا اپنے مال کی زکوٰة کیسے دیتے ہو؟ اس نے کہا: فقراء میرے پاس آتے ہیں اور میں انہیں دے دیتا ہوں۔

امام ـ نے فرمایا: آگاہ ہوجاؤتم نے انہیں ذلیل کیا ہے آئندہ ایسانہ کرنا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو بھی میرے دوست کو ذلیل کرے گا گویا وہ مجھ سے جنگ کے لیے آمادہ ہے۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ توبہ 58

(2)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ 67

(3)۔مستدرک الوسائل ج/9، ص 105


تمسخر اور مذاق اُڑانے کے مراتب:

O جس کا مذاق اڑایا جارہا ہو وہ جس قدر مقدس ہوگا اس سے مذاق بھی اتنا ہی خطرناک ترہوگا قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے''أ باللّٰه و آیاتِه وَ رَسُولِهِ کنتم تَسْتَهْزِؤُنَ'' (1)

کیا تم اللہ، قرآن اور رسول کا مذاق اڑا رہے ہو۔

Oپیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر سب مشرکین کو معاف کردیا سوائے ان لوگوں کے جن کا کام عیب جوئی اور مذاق اڑانا تھا۔

O حدیث میں ہے کہ مومن کو ذلیل کرنا خدا کے ساتھ اعلان جنگ کے مترادف ہے۔(2)

مذاق اڑانے کا انجام:

O آیات و روایات کی روشنی میں بری عاقبت مذاق اڑانے والوں کا انتظار کررہی ہے من جملہ:

الف: سورئہ مطففین میں ہے کہ جو لوگ دنیا میں مومنین پر ہنستے تھے، انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے روز قیامت اہل جنت انہیں

حقارت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور ان پر ہنسیں گے۔''فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا مِنَ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ توبہ 65 (2)۔ وسائل الشیعہ ج/ 12،ص270


الکُفَّارِ یَضْحَکُونَ'' (1)

ب: کبھی کبھی اڑانے والوں کو اسی دنیا میں سزا مل جاتی ہے۔'' اِنْ تسخَرُوا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرو مِنکُمْ کما تَسْخَرُونَ'' (2)

ج: قیامت کا دن مذاق اڑانے والوں کے لیے حیرت کا دن ہوگا''یَا حَسْرَةً عَلٰی العِبٰادَ مَا یَا تِیْهِمْ مِّنْ رَّسُولٍ اِلَّا کَانُوا بِه یَسْتَهْزَئُ ونَ'' (3)

د: حدیث میں ہے کہ مذاق اڑانے والے کی جان کنی نہایت سخت ہوگی۔''مَاتَ بِشَرّ مَیْتَه'' (4)

ھ: حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: اگر کوئی شخص مومنین پر طعنہ زنی کرتا ہے یا انکی بات کو رد کرتا ہے تو گویا اس نے خدا کو رد کیا ہے۔(5)

یاد داشت:

Oرسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جہاں اور بہت سے کام انجام دیئے وہاں ایک کام یہ کیا کہ لوگوں اور علاقوں کے وہ نام تبدیل کردیئے جو برے مفاہیم رکھتے تھے(6) کیوں کہ برے نام لوگوں کی تحقیر اور تمسخر کا باعث بنتے تھے۔

Oایک روز جناب عقیل ـمعاویہ کے پاس گئے تو معاویہ نے آپ کی تحقیر کی غرض

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ مطففین 35 (2)۔ سورئہ مبارکہ ہود 38

(3)۔ سورئہ مبارکہ یس 30 (5)۔ بحار الانوار ج72 ص 155

(5)۔ وسائل الشیعہ ج13، ص 270 (6)۔ اسد الغابہ ج3، ص 76، ج5 ص362


سے کہا سلام ہو اُس پر جس کا چچا ابولہب ہے جس پر قرآن نے لعنت کی ہے تو جناب

عقیل ـ نے فوراً جواب دیا سلام ہو اُس پر جس کی پھوپھی''حَمَّالة الحطب '' ہے (یعنی ابولہب کی بیوی)۔(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحارالانوار ج52، ص 112 و الغازات ج2 ص، 380


آیت نمبر 12

یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اِجْتَنِبُوا کثیراً مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثم وَّ لَا تَجَسَّسُوا وَ لَا یَغْتَبْ بَعْضُکمْ اَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أِنْ یّٰاکُلَ لَحْمَ أَخِیْهَ مَیْتًا فَکَرِهتُمُوْهُط وَاَتّقُوا اللّٰهَط اِنَّ اللّٰه تَوَّاب رَّحِیْم-

ترجمہ:

اے ایمان والو اکثر گمانوں سے اجتناب کرو کہ بعض گمان گناہ کا درجہ رکھتے ہیں اور خبردار ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کہ کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم اسے برا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بے شک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اور مہر بان ہے۔

نکات:

(1)۔ قرآن میں حسن ظن کی تاکید اور مسلمانوں کی نسبت سوء ظن سے روکا گیا ہے ۔۔ مثال کے طور پر سورئہ نور میں ارشاد ہوتا ہے''لولا اِذسَمِعتُموه ظَنَّ المومنونَ والمومنات بأَلْفِهم خیراً'' (1) کیوں بعض باتوں کے بارے میں حسن ظن نہیں رکھتے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ نور آیت 12


(2)۔ جس طرح سے اسی سورئہ کی آیت نمبر نو میں امن و امان اور لوگوں کی جان کی

حفاظت کی خاطر سرکش اور باغی سے مقابلے کے لیے تمام مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اسی طرح اس آیت نے امن و امان اور مسلمانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کی خاطر سوء ظن، تجسس اور غیبت کو حرام قرار دیا ہے۔

(3)۔ آج دنیا کے سارے حقوق دان حقوق بشر کی باتیں کرتے ہیں لیکن اسلام ایسے ہزاروں مسائل کو مورد توجہ قرار دیتا ہے جن سے یہ سب حقوق دان غافل ہیں جیسا کہ اسلام غیبت کو بھی حقوق بشر پر حملہ کرنے کے مترادف سمجھتا ہے غیبت کے علاوہ کسی بھی گناہ کو درندگی سے تشبیہ نہیں دی گئی ہے۔ ایسا سلوک تو بھیڑیا بھی بھیڑیے کے ساتھ نہیں کرتا ہے۔

وَلَیْسَ الذِّئبُ یَاکل لَحْمَ ذِئبٍ وَیَاکُلُ بَعْضُنَا بَعْضًا عَیَانًا(1)

سوال: کیوں ایک لمحہ غیبت کرنے سے کئی سال کی عبادت ضائع ہوجاتی ہے کیا یہ سزا عادالانہ ہے؟

جواب: جس طرح غیبت کرنے والا شخص ایک لمحے میں سالھا سال سے بنائی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ اور بھیڑیا بھی بھیڑیے کو نہیں کھاتا ۔ اور ہم میں سے بعض افراد بعض اوقات ایک دوسرے کا گوشت کھاتے ہیں۔


انسان کی عزت و آبرو کو ملیا میٹ کردیتا ہے۔ خداوند عالم بھی اس کی کئی سالوں کی عبادت کو ضائع کردیتا ہے اس بناء پر کئی سالوں کی عبادت کا برباد ہونا عدل کے مطابق ہے بلکہ عین عدل ہے۔

پیغامات:

1۔ ایمان ذمہ داری اور عہد وپیمان کے ہمراہ ہے جو بھی صاحب ایمان ہے اُسے چند اعمال سے دور رہنا چاہیے۔''یٰا ایُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اِجْتَنِبُوا--- '' ایمان ، سوء ظن ، لوگوں کے کاموں میں تجسس اور ان کی غیبت کے ہمراہ سازگار نہیں ہے۔

2۔ حتمی گناہوں سے بچنے کے لیے احتمالی گناہوں سے دوری کرنی چاہییے (کیونکہ اکثر گمان گناہ ہیں ہمیں ہر بدگمانی سے دوری اختیار کرنی چاہیے)(اجتنبوا --- اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْم )

3۔ کسی بھی فرد کے بارے میں اسلا م کا بنیادی اُصول یہ ہے کہ اُسے قابل اعتماد ، صحیح و سالم، کریم اور تمام عیوب سے مبرا سمجھو۔(انّ بَعْضَ الظَنِّ اِثْم )

5۔ اسلامی معاشرہ میں لوگوں کے بارے میں سوء ظن نہ رکھا جائے اُن کے امور میں تجسس نہ کیا جائے۔ اور مجالس و محافل میں ان کی آبروریزی نہ کی جائے(بَعْضَ الظَنِّ اِثْم--- لاتَجَسَّسُوا ولا یغتب )

5۔ غیبت سے روکنے کے لیے ایسے تمام راستوں کو بند کردیا جائے جو غیبت کا پیش خیمہ بنتے ہیں(غیبت کا آغاز سوء ظن سے ہوتا ہے اس کے بعد تجسس اور پھرعیوب تلاش کرنے کے بعد غیبت کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے لہٰذا قرآن نے اسی ترتیب سے


منع فرمایا ہے)اجتنبوا کثیراً مِنَ الظَّنّ --- لا تجسسوا وَلَا یغتب-

6۔ گناہ اگرچہ ظاہری طور پر خوشگوار معلوم ہوتا ہے لیکن اگر اسے باطنی اور روحانی نگاہ سے دیکھا جائے تو خباثت سے بھرپور اور قابل نفرت ہے(یأکُلَ لَحْمَ أَخِیْه مَیْتًا) (باطنی طورپر غیبت، مردار کا گوشت کھانے کے مترادف ہے کسی بھی گناہ کے لیے اس طرح کی تعبیر استعمال نہیں کی گئی ہے۔

7۔ برائی سے روکنے کے لیے جذباتی تعبیرات سے استفادہ کرنا چاہیئے۔(لَا یَغْتَبْ --- أَیُحِبُّ أَحْدُکَمْ أَنْ یَاکُلَ لَحْمَ أَخِیْهِ)

8۔ تعلیم و تربیت کے لیے مثال اور واقعات سے استفادہ کرنا چاہیے۔

9۔ تعجب ہے اُن لوگوں پر جو دوسروں کی غیبت کرتے ہیں۔(أَیُحِبُّ أَحدکَم---)

10۔ غیبت کرنا سب کے لیے حرام ہے اس میں سن و سال ، نسل اور مقام کی کوئی قید نہیں ہے۔ (کلمہ''احدکم'' میں چھوٹے بڑے ، مشہور اور گمنام، عالم اور جاہل، مرد اور عورت سب شامل ہیں)۔

11۔ صاحبان ایمان ایک دوسرے کے بھائی اور ہم خون ہیں۔(لَحْمَ أَخِیْه)

12۔ انسان کی عزت و آبرو اس کے بدن کے گوشت کی مانند اُس کے استحکام کا ذریعہ ہے۔(لَحْمَ أَخِیْهِ)

13۔ کافر کی غیبت کی جاسکتی ہے ( کیونکہ کافر، مسلمان کا بھائی نہیں ہے) ۔(لَحْمَ أَخِیْه)


15۔ جس طرح سے مردہ شخص اپنے دفاع کی قدرت نہیں رکھتا ہے اسی طرح سے وہ شخص بھی جس کی غیبت کی جارہی ہو نہ ہونے کی وجہ سے اپنے دفاع کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔(میتًا)

15۔ اگر زندہ کے بدن سے گوشت کا ٹکڑا جدا ہوجائے تو ممکن ہے کہ وہ جگہ پُر ہوجائے لیکن اگر مردہ سے گوشت کو جدا کرلیا جائے تو وہ جگہ اسی طرح خالی رہ جاتی ہے غیبت دراصل کسی کو بے آبرو کرنا ہے اور جب آبرو ہی چلی جائے تو پھر اس کا ازالہ نہیں ہوسکتا ہے۔(لَحْمَ أَخِیْه میتًا)

16۔ غیبت کرنا درندگی ہے۔(یاکل لَحْمَ أَخِیْه میتًا)

17۔ غیبت کرنا تقویٰ کے ساتھ سازگار نہیں رکھتا ہے۔( لایغتَبْ --- وَاتَّقُوا اللّٰهَ )

18۔ اسلام میں تعطل اور نااُمیدی کا کوئی تصور نہیں ہے توبہ کے ذریعہ اپنے کیئے ہوئے گناہ کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔( لایغتَبْ --- اِنّ اللّٰهَ تَوَّابُ رَحِیم)

19۔ خداوند متعال اپنی رحمت کے وسیلے سے عذر قبول کرلیتا ہے۔(تَوَّابُ رَحِیم)

سوء ظن کی اقسام:

سوئے ظن کی کئی اقسام ہیں جن میں سے بعض کی ممانعت کی گئی ہے۔

1۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظن رکھنا: حدیث میں ہے کہ اگر کوئی شخص


اخراجات کے ڈر سے شادی نہں کرتا ہے تو درحقیقت وہ خداوند عالم کے بارے سوء ظن رکھتا ہے یعنی وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر وہ تنہا رہے گا تب تو خدا اُسے رزق دینے پر قادر ہے لیکن اگر بیوی ساتھ ہوگی تو خداوند اُسے رزق دینے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس قسم کا سوء ظن رکھنا منع ہے۔

2۔ لوگوں کے بارے میں سوء ظن رکھنا: جس کی اس آیت میں ممانعت کی گئی ہے۔

3۔ اپنے بارے میں سوء ظن رکھنا: یہ قسم مورد ستائش ہے۔ انسان کو اپنے بارے میں حسن ظن نہیں رکھنا چاہیئے کہ اپنے ہرکام کو بے عیب سمجھنے لگے۔ حضرت علی ـ نے (خطبہ ہمام میں) متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: متقین کے کمالات میں سے ایک کمال یہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں سوء ظن رکھتے ہیں۔

جو لوگ اپنے آپ کو بے عیب سمجھتے ہیں دراصل ان کے علم و ایمان کا نور کم ہے اور نور کی کمی کے باعث انسان کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتا ہے مثال کے طور پر اگر آپ ٹارچ لے کر ایک ہال میں داخل ہوں تو اس سے فقط بڑی چیزیں ہی دیکھ پائیں گے لیکن اگر ٹارچ کی جگہ کوئی طاقتور لائٹ ہو تو اس وقت ماچس کا تنکا اور سگریٹ کی راکھ بھی ہال میں نظر آئے گی۔

جن لوگوں کے ایمان کا نور کم ہوتا ہے بڑے گناہوں کے علاوہ انہیں کچھ نظر نہیں آتا ہے لہٰذا کبھی وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو کسی کو قتل نہیں کیا ، ہم نے تو کسی کے گھر کی دیوار نہیں پھلانگی! وہ فقط اس قسم کے کاموں کو گناہ سمجھتے ہیں لیکن اگر ان کے ایمان کا نور زیادہ ہو تو وہ اپنی معمولی سے لغزشوں کو بھی دیکھ لیں گے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نالہ و


فریاد کریں گے۔

آئمہ معصومین ـ کی مناجات اور بے حد گریہ کی ایک وجہ ان کی معرفت اور ایمان کا نور ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے بارے میں خوش بین ہو (اور اپنے افکار و کردار کے بارے میں کسی قسم کا سوء ظن نہ رکھتا ہو) تو وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ہمیشہ اپنے پیچھے کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ کتنا راستہ طے کرچکا ہے اور پھر اُس پر غرور کرتا ہے لیکن اگر وہ سامنے کی طرف دیکھے کہ اس نے ابھی کتنا راستہ اور طے کرنا ہے تو جان لے گا کہ جو راستہ اس نے ابھی طے نہیں کیا وہ اس راستہ سے کئی گناہ زیادہ ہے جو وہ طے کرچکا ہے۔

جب ہم دیکھتے کہ قرآن پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ حکم(قل رَبِّ ذدنی عِلْمًا (1) ) دیتا ہے کہ حصول علم کے سلسلے میں کوشاں رہو اور پھر یہ حکم(شَاوِرْهُم فی الأَمْر (2) ) کہ تم لوگوں سے مشورہ کرو اور یہ حکم کہ(فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (3) ) جیسے ہی اپنے کام سے فارغ ہوجاؤ تو نئے کام کو فوراً مکمل قدرت کے ساتھ انجام دو۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کے لیے ایسے دستور دیئے ہیں تو کیا ہمیں زیب دیتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو فارغ التحصیل اور مشورہ کرنے سے بے نیاز سمجھیں۔ نیز اپنی ذمہ داری کو ختم سمجھیں اور اپنے بارے میں حسن ظن رکھیں؟ اس لیے کہ ہمیں اپنے بارے میں خوش بین اور حسن ظن نہیں رکھنا چاہیے۔ بلکہ لطف الٰہی اور لوگوں کی رفتار وکردار کے باریمیں حسن ظن رکھنا چاہیئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ طہ آیت 115 (2)۔ سورئہ مبارکہ آل عمران آیت 159 (3)۔ سورئہ مبارکہ الم نشرح آیت 7


O اس نکتہ کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ حسن ظن سے مراد سادگی ، جلدی یقین کرلینا، سطحی فکر کرنا، سازشوں اور شرارتوں سے غفلت کرنا نہیں ہے۔ اُمت مسلمہ کو بھی حسن ظن کی خاطر بیجا غفلت نہیں کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بے جا غفلت کے نتیجہ میں دشمنوں کے جال میں پھنس جائیں۔

غیبت کسے کہتے ہیں؟

O غیبت سے مراد کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کہنا کہ جس سے لوگ بے خبر ہوں اگر وہ شخص اُسے سنے تو ناراض ہو(1) ۔ لہٰذا کسی کے سامنے اُس پر تنقید کرنا ، یا ایسے عیوب بیان کرنا جن سے لوگ باخبر ہوں یا جس کی غیبت ہورہی ہے وہ سنے تو ناراض نہ ہو تو پھر یہ غیبت نہیں ہوگی۔ کسی بھی فرد کی غیبت کرنا حرام ہے وہ مرد ہو یا عورت ، چھوٹا ہو یا بڑا، آشنا ہو یا بیگانہ، استا ہو یاشاگرد، باپ ہو یا بیٹا، مردہ ہو یا زندہ۔

Oرسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: مردوں کو کچھ نہ کہو جو مرگیا ہے اس کے بارے میں اچھی باتیں کرو۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ وسائل الشیعہ ج8 ، ص600۔ 605

(1)۔ نہج الفصاحہ، جملہ 265


غیبت روایات کی روشنی میں:

Oحضرت امام جعفر صادق ـنے فرمایا: غیبت کرنے والا شخص اگر توبہ کرے جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوگا اور اگر توبہ نہ کرے تو دوزخ میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہوگا۔ (1)

Oحضرت امام علی رضا ـنے حضرت امام زین العابدین ـ سے نقل فرمایا: اگر کوئی شخص مسلمانوں کی آبروریزی سے پرہیز کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزشوں کو نظر انداز کردے گا۔ (2)

Oپیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مرد یا عورت کی غیبت کرے تو چالیس دن تک اس

کی نماز اور روزہ قبول نہیں کیا جائے گا۔(3)

Oپیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب بعض لوگوں کو اُن کا نامہ اعمال دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ ہمارے نیک اعمال کو درج کیوں نہیں کیا گیا ہے؟

اُن سے کہا جائے گا کہ خداوندعالم نہ کسی چیز کو کم کرتا ے اور نہ اُسے فراموش کرتا ہے بلکہ تمہارے نیک اعمال غیبت کرنے کی وجہ سے ضائع اور برباد ہوگئے ہیں ان کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ مستدرک ج9، ص 117

(2)۔بحار الانوار ج 72، ص 256

(3)۔ بحار الانوار ج 72، ص 258


مقابلے میں کچھ لوگ دیکھیں گے کہ ان کے نامہ اعمال میں بہت زیادہ نیک اعمال درج ہیں اور وہ یہ سوچیں گے یہ نامہ اعمال ان کا نہیں ہے۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ جس نے تمہاری غیبت کی تھی اس کے نیک اعمال تمہارے نامہ اعمال میں درج کردیئے گئے ہیں۔(1)

Oرسول خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مکہ کی طرف اپنے آخری سفر کے موقع پر فرمایا: تمہارا خون، تمہارا مال، تمہاری عزت وآبرو اسی طرح محترم ہے جس طرح یہ ذی الحجہ کا مہینہ اور ایام حج محترم ہیں(2)

O روایات میں غیبت کرنے والے کا ذکر اس شخص کے ساتھ ہوا ہے جو ہمیشہ شراب پیتا ہو۔تَحْرَمْ الجنّة عَلٰی المغتابِ ومُدْ مِن الخَمْر (3)

O روایات میں ہے کہ جو اپنے دینی بھائی کے عیوب تلاش کرے (اور انہیں دوسروں کو بتائے) تو اللہ تعالیٰ اس کے عیوب آشکار رکردے گا۔(4)

Oپیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ میں اپنے آخری خطبہ کے دوران فرمایا: اگر کوئی غیبت کرے تو اُس کا روزہ باطل ہے (5) یعنی وہ شخص روزے کے معنوی آثار اور برکات سے محروم ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحار الانوار ج 72، ص 259 (2)۔ شرح نہج البلاغہ۔ ابن ابی الحدید ج9 ، ص62

(3)۔ بحار الانوار ج72، ص260 (غیبت کرنے والے اور مسلسل شراب پینے والے پر جنت حرام ہے)

(5)۔محجة البیضاء ج5، ص252 (نقل از سنن ابی داؤد ج2، ص 568)(5)۔ محجة البیضاء ج5، ص255


Oپیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: سود کا ایک درہم چھتیس (36) زنا سے بدتر اور سب سے بڑا سود مسلمان کی عزت وآبرو سے کھیلنا ہے۔(1)

O حدیث میں ہے کہ مسجد میں نماز باجماعت کے انتظار میں بیٹھنا عبادت ہے البتہ جب تک کہ ہم غیبت نہ کررہے ہوں۔(2)

غیبت کا ازالہ:

O اگر ایسے شخص کی غبیت کی ہو جو اب دنیا سے جاچکا ہوتو اس کے ازالہ کے لیے توبہ کریں اور خدا سے عذر خواہی کریں بے شک خدا توبہ قبول کرنے والا ہے۔

لیکن اگر وہ زندہ ہو اور اس چیز کا امکان ہو کہ اگر اس سے یہ کہا جائے کہ ہم نے تمہاری غیبت کی تو وہ ناراض ہوگا تو ایسی صورت میں (بعض مراجع تقلید کے مطابق(3) ) اسے نہ بتایا جائے بلکہ اپنے اور اللہ کے درمیان توبہ کریں اور اگر غبیت سننے والوں تک رسائی ممکن ہوسکے تو ان کے سامنے اس کا ذکر خیر اور تعظیم و تکریم کے ذریعہ اپنی کی ہوئی غیبت کا ازالہ کریں اور اگر وہ شخص یہ بتانے سے کہ ہم نے تمہاری غیبت کی ہے ناراض نہ ہوتا ہو تو خود اُسی سے عذر خواہی کرنی چاہیئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحار الانوار ج72، ص 222 (2)۔ اصول کافی: ج2 ، ص357

(3)۔ میں نے حضرت آیت اللہ العظمیٰ گلپائیگانی سے سوال کیا کہ کیا کی ہوئی غیبت کی عذر خواہی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم لوگوں سے کہیں کہ ہم نے تمہاری غیبت کی ہے؟

آپ نے جواب دیا: نہیں ، اس لیے کہ اگر ہم اُن سے یہ کہیں گے کہ ہم نے تمہاری غیبت کی ہے تو وہ ناراض ہوجائے گا اور مسلمان کو ناراض کرنا خود ایک دوسرا گناہ ہے لہٰذا غیبت کا ازالہ استغفار سے کیا جائے اور ہر جگہ اس شخص سے جس کی غیبت کی گئی ہو عذر خواہی کرنا ضروری نہیں۔


Oشیخ طوسی علیہ الرحمہ نے شرح تجرید میں پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث کے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ جس کی غیبت کی گئی ہو اگر اُس نے اُسے سن لیا ہو تو اس کے ازالہ کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے پاس جائے اور رسمی طور پر اس سے عذر خواہی کرے اور اگر اُسے پتہ نہیں چلا ہے تو جب کبھی اس کا ذکر آئے تو اُس کے لیے استغفار کریں۔''اِنَّ کَفَّارَةَ الغِیْبَةِ أنْ تَسْتَغْفَِ لِمَنْ اِغْتَبتَه' کُلَّما ذَکَرْتَه'' (1)

وہ مقامات جہاں غیبت کرنا جائز ہے:

بعض مقامات پر غیبت کرنا جائز ہے ۔ وہ یہ ہیں:

1۔ مشورہ کے وقت: اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں ہم سے مشورہ کرنا چاہے تو اس کے عیب مشورہ کرنے والے کو بتا سکتے ہیں۔

2۔ باطل کو ردّ کرنے کیلئے: باطل عقیدے کو ردّ کرنے یا پھر ایسے اشخاص کی ردّ کرنے کے

لیے جو ایسے عقیدے کے مالک ہوں اس ڈر سے کہ کہیںلوگ ان کے عقائد کی پیروی نہ کرنے لگیں۔ (غیبت کرنا جائز ہے)

3۔ قاضی کے پا س مجرم کے خلاف گواہی دیتے وقت: جس طرح بے جا دعوؤں کو ردّ کرنے کے لیے حقیقت کو بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے جب بھی اس کا ذکر ہو اس کے لیے استغفار کریں۔


5۔ اس شخص کی گواہی ردّ کرنے کے لیے جو قابل اطمینان نہیں ہے۔

5۔ مظلومیت کے اظہار کے لیے، ظالم کے ظلم کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

6۔ جو شرم و حیاء کے بغیر آشکارہ طور پر گناہ کرتا ہے اس کی غیبت کی جاسکتی ہے۔

7۔ تقیہ یا بیہودہ دعوؤں کو ردّ کرنے کے لیے غیبت ہوسکتی ہے مثال کے طور پر اگر کوئی یہ کہے کہ میں مجتہد ہوں ، میں ڈاکٹر ہوں میں سید ہوں اور ہم یہ جانتے ہوں کہ وہ ان صفات کا مالک نہیں ہے تو ہمارے لیے جائز ہے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ ان صفات کا مالک نہیں ہے۔

غیبت کے خطرات:

O غیبت کرنے میں دوسرے کئی گناہ پوشیدہ ہیں۔

1۔ بدکاری کی اشاعت: لوگوں کی بدکاری کو نشر کرنا اتنا خطرناک ہے کہ فقط ان کا نشر کرنا ہی نہیں بلکہ اسے اچھا سمجھنا بھی دردناک عذاب کا باعث ہے۔(1)

2۔ مومن کو ذلیل و خوار کرنا اور حقیر سمجھنا۔

3۔ چغل خوری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔أن الّذیْنَ یُحِبُّونَ أنْ تَشِیْعُ الفٰاحِشَةُ --- لَهُمْ عَذَاب أَلِیْم (سورئہ نور آیت 19) جولوگ یہ چاہتے ہیں کہ بدکاری کا چرچا پھیل جائے ۔۔ ان کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے۔


5۔جنگ و جدال اور فتنہ و فساد برپا کرنا

5۔ ظلم و ستم اور دوسرے گناہ۔۔۔

غیبت کی اقسام:

غیبت کبھی زبان سے ،کبھی اشارے سے کبھی تحریر سے، کبھی تصویر سے، کبھی شکل و مجسمہ سے، کبھی اس کی نقل اتارنے سے اور کبھی خاموشی کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔مثال کے طور پر کہے کہ افسوس دین نے میری زبان روک رکھی ہے۔ اس جملے سے وہ سب کو سمجھانا چاہتا ہے کہ فلاں صاحب میں بہت عیب پائے جاتے ہیں۔ یا الحمد للّٰہ کہہ کر یہ کہے کہ ہم اس مسئلہ میں گرفتار نہیں ہوتے اس جملے سے وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ فلان صاحب اس مسئلے میں گرفتا ہیں۔ کبھی اپنے عیوب کے ذکر کے ذریعے یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ دوسرے میں عیب پائے جاتے ہیں مثال کے طور پر وہ یہ کہے کہ انسان ضعیف ہے ہم سب بے صبرے ہیں یعنی وہ ضعیف اور بے صبرے ہیں۔کبھی غیبت سننے کے بعد کہتے ہیں سبحان اللّٰہ ، اللّٰہ اکبر اس ذکر کے ذریعہ غیبت کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ غیبت کو جاری رکھے اور کبھی زبان سے کہتے ہیں کہ غیبت نہ کریں لیکن دلی طور پر چاہتے ہیں کہ غیبت سنیں یہ نفاق ہے۔


غیبت کے آثار:

(الف) اخلاقی اور اجتماعی آثار۔

1۔ غیبت بغض و کینہ کے پیدا ہونے، اعتماد ختم ہوجانے ، اختلاف اور فتنہ و فساد کے پھیلنے، اور معاشرہ کے لیے مفید اور کارآمد افراد کے ایک طرف ہوجانے کا سبب بنتی ہے۔

2۔ گناہ کے لیے زیادہ جرأت پیدا ہوتی ہے جیسے ہی انسان یہ سمجھ لے کہ لوگ اس کے عیب اور بدکاری سے باخبر ہوگئے ہیں اور وہ بے آبرو ہوچکا ہے تو اس میں گناہ کرنے کی جرأت زیادہ ہوجاتی ہے اور وہ گناہ نہ کرنے اور توبہ کرنے کا ارادہ ترک کردیتا ہے۔

3۔ لوگوں کے عیوب نشر کرنے سے اردگرد کا ماحول اور معاشرے کی فضا آلودہ ہوجاتی ہے اور دوسروں کی گناہ کرنے کی جرأت میں اضافہ ہوتا ہے۔

5۔ انتقام لینے کے جذبے کو تحریک ملتی ہے اس لیے کہ جیسے ہی اُسے جس کی غیبت ہوئی ہے یہ پتا چلتا ہے کہ اس کی آبرو ریزی کی گئی ہے تو وہ پھر اسی فکر میں رہتا ہے کہ اُسے کب موقع ملے اور وہ بھی غیبت کرنے والے کو بے آبرو کرے۔

5۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے آج ہمارا غیبت کرنا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ کل لوگ ہماری غیبت کریں''لَا تَغْتَبْ فَتَغْتَبْ '' (1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔غیبت نہ کرو ورنہ تمہاری غیبت بھی کی جائے گی۔ بحارالانوارج72، ص 259


جو اپنے بھائی کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ خود ہی اُس میں گرجاتا ہے۔

(ب)أُخروی آثار۔

1۔ غیبت کرنا، نیکیوں اور خوبیوں کی بربادی کا سبب ہے۔(1)

2۔ غیبت کرنا عبادات کی قبولیت میں رکاوٹ ہے۔

3۔ غیبت کرنے سے انسان ولایت الٰہی کے دائرے سے خارج ہوکر دوسرے کی ولایت کے دائرے میں چلا جاتا ہے۔(2)

غیبت کی وجوہات:

1۔ کبھی غیبت کی وجہ غیظ و غضب ہے۔بعض آسمانی کتابوں میں آیا ہے کہ (خدا فرماتا ہے اے بندے) اگر غیظ و غضب کے وقت تو مجھے یاد کرے اور اُسے نظر انداز کردے تو میں بھی غضب کے وقت تجھے یاد رکھوں گا اور غضب نہیں کروں گا۔(3)

2۔ کبھی دوسروں کے ساتھ ہم محفل ہونا غیبت کا سبب بنتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ کسی کی بدگوئی کررہے ہیں تو ان کا ہم محفل ہونے کی خاطر خود بھی غیبت کرنے لگتا ہے جب کہ وہ اس چیز سے غافل ہے کہ فقط اپنے دوستوں کی نظروں میں محبوب ہونے کے احتمال کی خاطر خدا کے فوری اور یقینی غضب کو مول لے رہا ہے نیز اس نے لوگوں کی رضا کو اللہ کی رضا پر مقدم کیا ہے جو سب سے بڑا خسارہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحار الانوار ج75، ص 257 (2)۔ اصول کافی ج3، ص 358

(3)۔محجة البیضاء ج5، ص265


3۔ کبھی غیبت کی وجہ اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنا ہوتا ہے ۔ یعنی دوسروں کو پست کرنا تاکہ اپنی بڑائی ثابت کرسکے ایسا شخص بھی لوگوں کے نزدیک محبوب ہونے کی امید پر قہر الٰہی کو مول لیتا ہے اور یہ ایک نقصان دہ معاملہ ہے۔

5۔ کبھی غیبت کی وجہ دوسروں کا مذاق اڑانا ہے وہ اس سے غافل ہوتا ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے سامنے کسی کی تحقیر کررہا ہے اللہ تعالیٰ روز قیامت سب کے سامنے اس کی تحقیر کرے گا۔

5۔ کبھی تعجب کی صورت میں غیبت کرتا ہے مثال کے طور پر وہ کہتا ہے کہ مجھے تعجب ہے کہ فلاں شخص اتنا علم اور معلومات رکھنے کے باوجود ایسا کیوں ہوگیا ہے جب کہ اُسے تعجب تو اس بات پر ہونا چاہیے کہ وہ کس طرح اس ایک جملے کے ذریعہ اپنی تمام عبادت کو تباہ و برباد کررہا ہے۔

6۔ کبھی غیبت کی وجہ حسد ہے۔

7۔ کبھی تفریحاً کسی کی غیبت کرتا ہے۔

8۔ کبھی اپنے آپ کو کسی عیب سے بری الذمہ کرکے اُسے دوسروں کی گردن پر ڈال کر غیبت کرتا ہے ۔

9۔ کبھی از راہ ہمدردی غیبت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کی طرف سے بہت پریشان ہوں جو اس مشکل میں پریشان ہے۔

البتہ غیبت کرنے کی اور بھی کئی ایک وجوہات ہیں۔


غیبت سننا:

O غیبت سننے والے کی ذمہ داری یہ ہے کہ غیبت نہ سنے اور مومن کا دفاع کرے۔ حدیث میں ہے۔''السّاکِت' شَرِیْکُ القائل'' اگر کوئی غیبت سنے اور اُس پر خاموش رہے تو وہ شریک جرم ہے۔(1)

Oپیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: جو غیبت سننے کے بعد اُسے ردّ کردے تو اللہ تعالیٰ شرّ کے ہزار در دنیا و آخرت میں اس پر بند کردے گا لیکن اگر خاموش رہا اور غیبت سنتا رہا تو جتنا گناہ غیبت کرنے والے کا تھا اتنا ہی گناہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے گا۔(2) اور اگر جس کی غیبت ہورہی تھی وہ اس کی مدد کرسکتا تھا اور مدد نہیں کی تو روز قیامت خدا اُسے ذلیل و خوار کرے گا۔(3)

اس لیے کہ اس کی خاموشی کے باعث معاشرے کے مفید اور کار آمد افراد ایک طرف ہوجائیں گے اور اُن کا کوئی دفاع نہ کرسکے گا۔

Oپیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اگر کسی مجلس میں کسی کی بدگوئی ہورہی ہو تو انہیں منع کرے اور وہاں سے سے چلا جائے۔(4)

O سورئہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 36 میں ارشاد ہے : کان، آنکھ اور دل سے روز قیامت سوال کیا جائے گا اس بنا پر ہمیں ہر بات سننے کا حق حاصل نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔غرر الحکم (2)۔ وسائل الشیعہ ج8، ص608

(3)۔ وسائل الشیعہ ج8، ص606 (5)۔کنز العمال ج2، ص 80


O ایک روایت کے مطابق غیبت کرنا کفر، سننا اور اُس پر راضی رہنے کو شرک کہا گیا ہے۔(1)

غیبت ترک کرنے کے طریقے:

1۔ غیبت کرنے کے خطرات اور اس کے منفی اثرات پر توجہ دیں (جن کے بارے گزشتہ صفحات پر بحث کی گئی ہے)

2۔ اپنے عیوب یاد رکھیں حضرت علی ـ نے فرمایا: کہ تم کس طرح لوگوں کے عیوب بیان کرتے ہو جب کہ خود اس جیسے یا اس سے بدتر گناہ کا ارتکاب کرچکے ہو اور اگر فرض کریں کہ تم میں کوئی عیب نہیں ہے تو تمہاری یہی جرأت کہ تم دوسروں کے عیوب اور بدکاری کو عام کررہے ہو ان کے عیوب سے بدتر ہے۔(2)

روایات میں ہے کہ خوش بخت ہے وہ شخص جس کے عیوب اُسے مشغول رکھتے ہیں (اور وہ اصلاح کی فکر میں رہتا ہے) اور لوگوں کے عیوب سے اُسے کوئی سروکار نہیں ہے۔(3)

یاد آوری:

غیبت کی بحث کے اختتام پر چند باتوں کی یاد آوری ضروری ہے:

1۔ غیبت کے حرام ہونے کا حکم فقط اس سورئہ یا اس آیت میں نہیں بلکہ دیگر آیات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ بحار الانوار ج72، ص 226 (2)۔ نہج البلاغہ۔خطبہ 150 (3)۔ بحار الانوار ج1، ص 191


میں بھی ہے مثلاً آیت''وَیْل لِّکُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ'' (1) وائے ہو ہر عیب جو اور بدگوئی کرنے والے پر ، اور آیت'' لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الجَهْرَ بِالسُّوْئِ '' (2) اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں کہ لوگوں کی برائیوں کو عیاں کیا جائے۔ ان آیات سے بھی غیبت کے حرام ہونے کا پتہ چلتاہے۔

2۔ اگر غیبت عیب جوئی کی وجہ سے کی جائے تو حرام ہے لیکن اگر لوگوں کے عیب اصلاح کی خاطر بیان کیے جائیں تو پھر جائز ہے چاہے جس کے عیب بیان کیے جائیں وہ راضی نہ بھی ہو۔ مثال کے طور پر اگر ڈاکٹر کو مریض کی بیماری کی تفصیلات بتائی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے چاہے مریض راضی نہ بھی ہو۔

3۔ جس شخص کی غیبت ہورہی ہے اُسے معین کریں لیکن اگر یوں کہیں کہ بعض لوگ یوں ہیں اور سننے والے اُن بعض لوگوں کو نہ پہچان سکیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

5۔ کبھی غیبت تو نہیں ہوتی ہے لیکن بات تحقیر اور بدکاری کی اشاعت تک پہنچ جاتی ہے تو یہ بھی حرام ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ مبارکہ ہمزہ آیت 1 (2)۔ سورئہ مبارکہ نساء آیت 158


آیت نمبر 13

یٰأَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَ أُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائَلَ لِتَعَارَفُوا اِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقٰکُمْ انَّ اللّٰهَ عَلِیْم خَبِیْر-

ترجمہ:

اے انسانو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تمہیں مختلف خاندانوں اور قبیلوں میں قرار دیا ہے تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بے شک تم میں خدا کے نزدیک زیادہ عزت والا وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے۔

نکات:

1۔ بعض مفسرین اس آیت کو ماقبل آیات سے مربوط سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مذاق اڑانا اور غیبت کرنا دراصل اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنا اور دوسروں کو حقیر سمجھناہے۔ اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ برتری اور عزت کا معیار تقویٰ ہے اس آیت میں تین اہم اُصولوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

مساوات کا اصول ، اسلامی معاشرہ میں ایک دوسرے کی شناخت کا اصول اور تیسرا اصول یہ کہ تقویٰ برتری کا معیار ہے اگرچہ قرآن کی دوسری آیات میں برتری کے اور بھی معیار بیان کیے گئے ہیں جیسے علم، ایمان میں سبقت، امانت داری، توانائی اور ہجرت وغیرہ۔


پیغامات:

1۔ مرد یا عورت ہونا ،فلاں قبیلے اور قوم سے ہونا باعث افتخار نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے کام ہیں(جعلنا، خَلَقْنَا)

2۔ مخلوق میں جو فرق پایا جاتا ہے اُس میں حکمت ہے یہ ایک دوسرے کی پہچان کے لیے ہے نہ فخر و مباہات کے لیے۔(لِتَعَارفُوا)

3۔ لوگوں کے نزدیک عزت وقتی اور عارضی ہے جب کہ خدا کے نزدیک عزت خاص اہمیت کی حامل ہے۔

5۔ باتقویٰ افراد کولوگوںسے توقعات نہیں رکھنی چاہئیں کیونکہ ان کی عزت و بزرگی ایک معنوی مقام ہے جو خدا کے پاس ہے- (عند اللّٰه)

5۔ قرآن مجید نسلی، گروہی، قومی قبائلی ، ملکی ، معاشی ، فکری، ثقافتی، اجتماعی اور فوجی حوالے سے برتری کے معیار کی نفی کرتے ہوئے فقط تقویٰ کو معیار قرار دیتا ہے۔(انَّ اکرمکم عنداللّٰه اتقاکم)

6۔ زیادہ کی خواہش اور اپنے آپ کو برتر دیکھنا انسانی فطرت ہے اسلام نے اس خواہش اور فطری تقاضے کے حصول کے لیے تقویٰ کے راستے کی نشاندہی کی ہے۔(انَّ اکرمکم عنداللّٰه اتقاکم)

7۔ جس نے پیدا کیا ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ نسل اور قبیلہ برتری کا معیار نہیں ہے اور لوگوں کے بنائے ہوئے برتری کے معیار لغو اور بیہودہ ہیں۔(انَّ اکرمکم--- اتقاکم--- علیم خبیر)

8۔ اپنے پرہیز گار اور متقی ہونے کا دعویٰ یا اس کا اظہار نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہم سب


کو خوب جانتا ہے۔(علیم خبیر)

آیت نمبر 15

قَالَتِ الأَعْرابُ اَمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُوْمِنُوا وَلٰکِن قُولُوا أَسْلَمْنٰا وَ لَمَّایَدْخُلِ الاِیْمٰانُ فِیْ قُلُوبِکُمْط وَ اِنْ تُطِیْعُوْا اللّٰهَ وَ رَسُولَهُ لَا یَلْتِکُمْ مِنْ أَعْمٰالِکُمْ شَیْئًاط اِنَّ اللّٰه غَفُور رَحِیم-

ترجمہ:

یہ بدّو عرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئیں ہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو بلکہ یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں کہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اور اگر تم اللہ اور رسول کی اطاعت کروگے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔ کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔

نکات:

اعراب سے مراد بادیہ نشین تھے ان میں سے کچھ صاحبان ایمان تھے اسی لیے سورئہ توبہ میں ان کی تعریف کی گئی ہے۔( وَمِنَ الأَعْرابِ مَنْ یَوْمِنُ باللّٰهِ وَالْیَوْمِ الآخر) (1) لیکن ان میں سے بعض خود کو اپنے مقام سے برتر سمجھتے اور باایمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے جب کہ عام سے مسلمان تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ مبارکہ توبہ آیت 99


پیغامات:

1۔ ہر دعوے اور نعرہ پر کان نہ دہریں-(قَالَتِ الأَعْرابُ اَمَنَّا)

2 بے جا دعوؤں کوروکیں۔(قُلْ لَّمْ تُوْمِنُوا )

3۔ سب کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے اوراپنے آپ کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں۔(قُولُوا أَسْلَمْنٰا)

5۔ اسلام لانا ایک ظاہری مرحلہ ہے۔ لیکن ایمان کا تعلق دل سے ہوتا ہے(فی قلوبکم)

5۔ کمال تک پہنچنے کا دعویٰ کرنے والوں کے ساتھ اس انداز میں بات کی جائے کہ وہ نا اُمید نہ ہوں۔(وَ لَمَّایَدْخُلِ الاِیْمٰانُ فِیْ قُلُوبِکُم)

6۔ کمال تک پہنچنے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔(وَ اِنْ تُطِیْعُوْا اللّٰهَ وَ رَسُولَهُ---)

7۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کا ذکر خدا کی اطاعت کے ساتھ آیا ہے اور یہ چیز آپ کی عصمت کی علامت ہے لہٰذا ہمیں بغیر چون و چرا آپ کی اطاعت کرنی چاہیے-(وَ اِنْ تُطِیْعُوْا اللّٰهَ وَ رَسُولَهُ )

8۔ اللہ تعالیٰ عادل ہے اور وہ انسان کے اعمال کی جزاء میں سے ایک ذرہ بھی کم نہیں کریگا۔ (صحیح تدبیر اور انتظام یہ ہے کہ کسی کا ذرہ برابر بھی حق ضائع نہ ہو)(لَا یَلْتِکُمْ مِنْ أَعْمٰالِکُمْ شَیْئًا)


اسلام اور ایمان میں فرق:

1۔ گہرائی کا فرق۔

اسلام لاناایک ظاہر عمل ہے جب کہ ایمان قلبی لگاؤ کا نام ہے۔ حضرت امام جعفر صادق ـ نے اس آیت کی مناسبت سے فرمایا:''وَ مَنْ أَحْسَنَ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً'' (1) الٰہی رنگ، اسلام ہے۔ اور اس آیت'' فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوةِ الوثقٰی '' (2) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کی مضبوط رسی کو تھامنا ہی دراصل ایمان ہے۔(3)

2۔ محرک میں فرق:

کبھی اسلام لانے میں محرک جان کی حفاظت یا مادی منافع کا حصول ہوتا ہے لیکن ایمان کا محرک ہمیشہ معنوی ہوتا ہے حضرت امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: اسلام لانے سے انسان کا خون محفوظ ہوجاتا ہے مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے حلال ہوجاتے ہیں لیکن اخروی أجر قلبی ایمان کی بنیاد پر ہے۔(4)

3-عمل میں فرق:

اسلام عمل کے بغیر ممکن ہے لیکن ایمان کے لیے عمل ضروری ہے ۔ جیسا کہ ہم حدیث میں پڑھتے ہیں۔''ألْاِیْمٰانُ اِقْرار عَمَل وَالْاِسْلامُ اِقْرار بِلَاعَمَل'' (5) اس بنا پر ایمان میں اسلام پوشیدہ ہے لیکن اسلام میں ایمان پوشیدہ نہیں ہے ۔ ایک اور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔سورئہ مبارکہ بقرہ آیت 138 (2)۔سورئہ مبارکہ بقرہ آیت 256

(3)۔ اصول کافی ج2، ص 15 (5)۔ اصول کافی ج2، ص 25

(5)۔ اصول کافی ج2، ص 25


حدیث میں اسلام کو مسجد الحرام اور ایمان کو کعبہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔(1) کعبہ مسجد الحرام کے درمیان واقع ہے لیکن مسجدالحرام کعبہ میں نہیں ہے۔

5۔ اجتماعی اور سیاسی مسائل میں فرق:

حضرت امام جعفر صادق ـ سے سوال کیا گیا کہ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟ آپ نے فرمایا: شہادتین کاکہنا ظواہر پر عمل کرنا جیسے نماز اور زکات وغیرہ یہ اسلام ہے لیکن ایمان وہ شہادت اور عمل ہے جو الٰہی رہبر کی شناخت کی بنیاد پر انجام دیا جائے۔(2)

5۔ رتبے میں فرق:

ایک حدیث میں ہے: ایمان اسلام سے ایک درجہ بالاتر ہے اور تقویٰ ایمان سے ایک درجہ بالاتر ہے اور یقین تقویٰ سے ایک درجہ بالاتر ہے اور لوگوں میں یقین سے کمیاب چیز کوئی نہیں ہے۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ اصول کافی ج2، ص 52

(2)۔ اصول کافی ج2، ص 25

(3)۔ اصول کافی ج2، ص 51


آیت نمبر 15

اِنَّمَا الْمُوْمِنُونَ الَّذِینَ ئَ امَنُوا بِاللّٰهِ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا وَجٰاهَدُوا بِأَمْوٰالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِط أُوْلٰئِکَ هُمُ الصّادِقُونَ-

ترجمہ:

صاحبان ایمان صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان لے آئے اور پھر کبھی شک وشبہ میں مبتلا نہ ہوئے اور اس کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد بھی کیا درحقیقت یہی لوگ اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہیں۔

پیغامات:

1۔ قرآن مجید، کمال اور سعادت کے معیار( اِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقٰاکم) کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نمونے بھی پیش کرتا ہے۔(اِنَّمَا الْمُوْمِنُونَ الَّذِینَ---)

2۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان اللہ تعالٰ پر ایمان لانے کے ساتھ ہے۔(آمَنُوا بِاللّٰهِ وَ رَسُولِهِ )

3۔ حقیقی ایمان کی علامت استقامت و پائیداری اور اس میں عدم تردید کا پابند ہونا ہے۔(ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا)


5۔ ایمان ایک باطنی امر ہے جس کی شناخت اس کے آثار کے ذریعہ ہوتی ہے۔(اِنَّمَا الْمُوْمِنُونَ الَّذِینَ --- جٰاهَدُوا---)

5۔ عمل کے بغیر ایمان محض ایک دعویٰ ہے۔(جٰاهَدُوا بِأَمْوٰالِهِمْ ---)

بخیل اور بزدل کا ایمان حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا ہے۔

6۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مال و جان سے راہ خدا میں جہاد کیا جائے۔(جٰاهَدُوا بِأَمْوٰالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ) ( جولوگ کچھ رقم دے کر محاذ پر جانے یا کسی اور سخت کام کے انجام دینے سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں وہ حقیقی مومن نہیں ہیں)۔

حقیقی مومن کی پہچان:

قرآن مجید میں چار آیات'' انَّما الْمُومِنُونَ'' کے جملے سے شروع ہوتی ہیں جن میں حقیقی مومن کی صفات کو بیان کیا گیاہے۔

انَّما الْمُومِنُونَ الَّذِینَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیاتُه زَادتْهُمْ اِیْمٰانًا وَعَلٰی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ- (1)

یعنی حقیقی مومن تو فقط وہی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل لرزنے لگتے ہیں اور جب ان پر آیات الٰہی کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ فقط اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ انفال آیت نمبر 2


انَّما الْمُومِنُونَ الَّذِینَ ئَ امَنُوا باللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَاِذَا کَانُوا مَعَه' عَلٰی أَمْرِ جَامِعٍ لَمْ یَذْهَبُوا حَتّٰی یَسْتَاذِنُوه ۔۔۔(1)

مومن فقط وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور جب بھی کسی اجتماعی کام کے لیے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ہوں تو اجازت لیے بغیر وہاں سے نہیں جاتے۔

3،5۔ اسی سورہ میں دوبار یہ جملہ آیا ہے ایک مرتبہ دسویں آیت میں'' انَّما الْمُومِنُونَ اخوه'' اور دوسری مرتبہ اس آیت میں۔

اگر ہم ان چار آیات کو ایک ساتھ رکھیں تو سچے اور حقیقی مومن کو پہچان سکتے ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن مجید نے ارشاد فرمایا(اولئک هُمُ الْمُومِنُونَ حَقًّا) (2) اور(اولئک هُمُ الصَّادِقُونَ) لہٰذا حقیقی مومن وہ ہیں جو ان مقامات کے حامل ہوں۔

1۔ ان کے دل یاد خدا سے دھڑکتے ہیں ( مال و مقام سے نہیں)(اذا ذُکِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قلوبهم )

2۔ وہ ہمیشہ کمال اور سعادت کی راہ پر گامزن رہتے ہیں ان کے امور میں توقف نہیں ہے۔ وہ ہر الٰہی پیغام کے پابند ، محبت کرنے والے، اور اُس پر عمل پیرا ہیں۔(وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ آیٰاتِهِ زَادَتْهُمْ اِیْمٰانا)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ نور آیت نمبر 62 (2)۔ سورئہ مبارکہ انفال آیت نمبر5، 75


البتہ بعض لوگ پتھر کی مانند رک جاتے ہیں۔(کَالحِجَارةِ) (1) بعض کی حرکت الٹی اور پیچھے کی سمت ہے۔(اَمَنُوا ثُمّ کَفَرُوا) (2) اور بعض اپنے ہی گرد چکر لگارہے ہیں۔ ان کی مثال اس جانور سے دی گئی ہے جو چکی کے گرد چکر لگارہا ہو۔(3)

3۔وہ فقط خدا پر بھروسہ کرتے ہیں ( نہ کہ مشرق و مغرب کی قراردادوں پر۔۔۔)علی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ-

5۔ اجتماعی نظام میں الٰہی رہبر کے انتخاب کے بعد اس کے فرمان کے بغیر حرکت نہیں کرتے اور اس کے وفادار رہتے ہیں۔اِذَا کَانُوا مَعَه' عَلٰی امرٍ جَامع لم یَذْهَبُوا حتّٰی یَسْتَاذِنُوه'-

5۔ وہ خود کو دوسروں سے برتر نہیں سمجھتے اور سب کو اخوت و برادری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔(انَّما الْمُومِنُونَ اِخْوَة )

6۔ وہ پائیدار ایمان کے مالک ہیں ان کا ایمان علم و عمل اور فطرت کی بنیاد پر استوار ہے میدان عمل میں وہ یقین کی منزل پر ہیں، غلط پروپیگنڈے ، زندگی کے نشیب و فراز انہیں مایوس نہیں کرتے اور نہ ہی وہ شک میں مبتلا ہوتے ہیں-( ثُمَّ لَمْ یَرْتابُوا)

7۔ جب مکتب کے دفاع کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ مال و جان سے اس کا دفاع کرتے ہیں۔(وَجٰاهَدُوا بِأَمْوٰالِهِمْ وَأَنْفُسِهِم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ آیت نمبر 75

(2)۔ سورئہ مبارکہ نساء آیت نمبر 137

(3)۔ بحار الانوار ج1، ص 208


ایمان میں استقامت و پائیداری:

خود ایمان لانے سے زیادہ اہم اس میں استقامت اور پائیداری ہے جیسا کہ قرآن مجید نے اس بات کو چند تعبیروں کے ذریعہ بیان کیا ہے۔

قَالُوا ربَّنا اللّٰهُ ثُمّ اسْتَقَامُوا (1) جن لوگوں نے ایمان میں استقامت کا مظاہرہ کیا۔

فَلَا تَمُوتُنَّ الّا و أنْتُمْ مُسْلِمُونَ (2) حضرت یعقوب ـ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ اس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک واقعی مسلمان نہ ہوجاؤ۔

اِهْدِنَا الصِّراطَ الْمُستَقِیم ۔ کے یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ''پروردگارا ہمیں صراط مستقیم پر ہمیشہ قائم رکھ''۔

و تَوَفَّنَا مع الابرار ۔ پروردگار جب مجھے موت آئے تو میں نیک اور صالح افراد میں سے ہوں۔(3)

توفّنی مُسْلِمًا- (4) پروردگارا جب مجھے موت آئے تو میں تیرے سامنے سرتسلیم خم کرنے والوں میں سے ہوں۔

فَمُسْتَقَرّ و مُسْتَوْدعُ (5) حضرت امام جعفر صادق ـنے فرمایا: اس آیت میں''فمستقر'' سے مراد پائیدار ایمان اور''مستودع'' سے مراد عاریتًا ایمان ہے(6)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ سورئہ مبارکہ فصلت( حم سجدة) آیت نمبر30 (2)۔ سورئہ مبارکہ بقرہ آیت نمبر 132

(3)۔ سورئہ مبارکہ آل عمران آیت نمبر193 (5)۔ سورئہ مبارکہ یوسف آیت نمبر 101

(5)۔ سورئہ مبارکہ انعام آیت نمبر 98 (6)۔ میزان ا لحکمہ


ایمان میں استقامت اور پائیداری کے عوامل:

چند عوامل ایمان میں استقامت اور پائیداری کا سبب بنتے ہیں۔ وہ یہ ہیں:

1۔ تقویٰ: امام جعفر صادق ـ نے فرمایا: تقویٰ ایمان کو دل میں پائیدار اور لالچ ایمان کو دل سے خارج کردیتا ہے۔(1)

2۔ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا: جو چیز ایمان پر پائیدار رہنے کے لیے ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ مومنین کو ان کے ایمان پر ثابت قدم رکھو۔(اذْ یُوْحٰی ربُّکَ اِلی المَلَائِکةِ اِنّی مَعَکُمْ فَثَبِتُوا الّذِیْنَ اَمَنُوا) (2) ایک اور مقام پر پڑھتے ہیں۔وَ رَبَطْنٰا عَلٰی قُلُوبِهِمْ (3) اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا تھا۔

3۔تاریخ سے واقفیت: تاریخ سے عبرت پکڑنا ایمان کی پائیداری کا سبب بنتاہے ۔وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ أَنْبٰائِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فَوادَکَ (4) ہم انبیاء کے اہم واقعات کو آپ کے لیے بیان کریں گے تاکہ اس کے ذریعہ آپ کو استحکام و صلابت عطا کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)۔ میزان الحکمہ

(2)۔ سورئہ مبارکہ انفال آیت نمبر 12

(3)۔ سورئہ مبارکہ کہف آیت نمبر 15

(5)۔ سورئہ مبارکہ ہود آیت نمبر 120


آیت نمبر 16

قُلْ أَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِکُمْط وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مٰا فِی السَّمَواتِ وَمَا فِیْ الأَرضط وَاللّٰهُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْم ۔

ترجمہ:

آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اپنے دین سے اللہ کو آگاہ کررہے ہو؟ حالانکہ اللہ آسمان اور زمین کی ہر شے سے باخبر ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

نکات:

1۔ ایک گروہ قسم کھانے کے بعد پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہنے لگا کہ ہم ایمان میں سچے ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبرہے۔

2۔ اولیاء اللہ کے سامنے حصول اطمینان اور اصلاح کی غرض سے اپنے عقائد کوپیش کرنا ایک پسندیدہ امر ہے۔ جیسا کہ حضرت شاہ عبدالعظیم نے امام علی نقی ـ کے سامنے اپنے عقائد کو بیان کیا تھا لیکن اگر یہ کام دکھاوے اور ریاکاری کے لیے کیا جائے (جیسا کہ اس آیت کے مخاطبین نے کیا) تو قابل شرزنش اور لائق مذمت ہے۔


پیغامات:

1۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے کسی چیز کو ظاہر کرنا درحقیقت خدا کے سامنے ظاہر کرنا ہے۔

اگرچہ اس گروہ نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے (اپنے ایمان کو) ظاہر کیا تھا لیکن قرآن نے فرمایا: أَ تُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ---

2۔ جو خدا ہر چیز سے باخبر ہو اس کے سامنے دعوے کرنا اور ظاہر کرنا مناسب نہیں ہے۔(أَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ---وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ ---)

3۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر چیز کے وجود سے آگاہ ہے بلکہ اس کی خصوصیات سے بھی باخبر ہے۔(یَعْلَمُ---بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْم-) (ممکن ہے ایک اسٹور کیپر اسٹور کی تمام اشیاء سے آگاہ ہو لیکن ان کے اجزء ترکیب اور اثرات سے بے خبر ہو۔)


آیت نمبر 17

یَمُنُّونَ عَلَیکَ أَنْ أَسْلَمُواط قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَیَّ اِسْلَا مَکُمْج بَلْ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ أَنْ هَدٰی کُمْ لِلْاِیمٰانِ اِنْ کُنْتُمْ صٰادِقِیْنَ-

ترجمہ:

یہ لوگ آپ پر احسان جتاتے ہیں کہ اسلام لے آئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان مت جتاؤ بلکہ یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ بتایا ہے اگر تم واقعاً دعوے ایمان میں سچے ہو۔

نکات:

1۔ بعض مسلمان (مانند طائفہ بنی اسد) اسلام لانے کے بعد اسے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر احسان سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم جنگ اور خونریزی کیے بغیر اسلام لائے ہیں لہٰذا آپ کو ہماری اہمیت اور قدر کا اندازہ ہونا چاہیئے کہ اس آیت نے انہیں اس عمل سے روکا ہے۔

2۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایمان کی نعمت کو اور سورہ آل عمران کی آیت نمبر 165 میں ارسال انبیاء کو اور سورہ قصص کی آیت نمبر 5 میں مستضعفین کی حکومت کو لوگوں پر احسان قرار دیا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ اہم ترین نعمات ہدایت الٰہی ، معصوم کی رہبری اور حکومت ِ برحق ہے۔


پیغامات:

1۔ اسلام کی طرف ہدایت اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اسلام قبول کرنا اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔(بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ )

2۔ اللہ تعالیٰ کو ہمارے اسلام، ایمان اور عبادت کی ضرورت نہیں ہے۔(لَا تَمُنُّوا عَلَیَّ)

3۔ سچے ایمان کی علامت اللہ تعالیٰ کا احسان مند ہونا ہے نہ کہ اس پر احسان جتانا۔(اِنْ کُنْتُمْ صٰادِقِیْنَ---لَا تَمُنُّوا --- بَلْ اللّٰهُ یَمُنُّ ) جی ہاں حقیقی مسلمان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنا مقروض نہ سمجھے۔

5۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر احسان کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ پر احسان کرنا ہے۔ (اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر احسان جتانے کا جواب اس انداز میں دیا کہ گویا خود اُس پر احسان جتایا گیا ہے۔)(یَمُنُّونَ عَلَیکَ--- بَلْ اللّٰهُ یَمُنّ---) اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرتا ہے اور اسے ہرگز یہ پسند نہیں ہے کہ اس کے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر کوئی احسان جتائے۔

5۔ تم اسلام لانے کو (اللہ اور پیغمبر پر) احسان سمجھتے ہو۔(یَمُنُّونَ عَلَیکَ أَنْ أَسْلَمُوا) جبکہ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں ہدایت کے ذریعہ بلند وبالا مقام عطا کیا ہے-(هدی کُمْ للاِیمٰان) اس نکتہ کے پیش نظر کہ ایمان کا مرحلہ اسلام سے بالاتر ہے۔

6۔ انسان کے کمال کا آخری مرحلہ حقیقی ایمان ہے(هَدٰی کُمْ لِلْاِیمٰان) فقط ظاہری اسلام نہیں کیونکہ


ظاہری طور پر تو منافق بھی اسلام کا اظہار کرتا ہے۔

آیت نمبر 18

اِنَّ اللّٰه یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِط وَاللّٰهُ بَصِیْرُ بِمَا تَعْمَلُونَ o

ترجمہ:

بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے بھی آگاہ ہے۔

پیغامات:

1۔دائرہ توحید میں معیار فضیلت ظاہری نام و نمود، احسان جتانا اور محض دعوے کرنا نہیں ہے۔ بلکہ قلبی خلوص معیار ہے اور اس معیار سے آگاہی صرف اس کی ذات سے مخصوص ہے(اِنَّ اللّٰه یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ) جی ہاں، وہ خدا جو عالم ہستی کی ہر پوشیدہ چیز کو جانتا ہے کس طرح ممکن ہے کہ ہمارے باطنی ایمان سے بے خبر ہو؟

2۔ اللہ تعالیٰ کے علم اور بصیرت پر ایمان رکھنا انسان کے تقویٰ کی ضمانت ہے۔ (اگر ہم یہ جان لیں کہ روزانہ ہماری حرکات و سکنات کی فلم بنائی جارہی ہے اور ساتھ ہی آواز بھی ریکارڈ ہورہی ہے تو پھر ہم اپنے کلمات اور حرکات پر زیادہ توجہ دیں گے)

3۔ اللہ تعالیٰ کا علم بصیرت کے ساتھ ہے یعنی اس کا علم ، اجمالی، سطحی، یک طرفہ،


قابل تردید اور وقتی نہیں ہے۔

اِنَّ اللّٰه یَعْلَمُ---وَاللّٰهُ بَصِیْر ---

امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم اور اس کار خیر میں حصہ لینے والوں اور اس کے پڑھنے

والوں کو تلاوت، تدبر ، عمل اور تبلیغ کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یاربّ العالمین۔

تمت بالخیر۔ نسیم حیدر زیدی

قم المقدسہ