معارف قرآن
گروہ بندی مفاھیم قرآن
مصنف سید حمید علم الھدی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404

معارف قرآن

ترتیب و تنظیم

سید نسیم حیدر زیدی


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o


آغازسخن

قرآن سراپا نور ہے جس کی قندیلیں گل نہیں ہوتیں، ایسا چراغ ہے جس کی لو خاموش نہیں ہوتی، ایسا دریا ہے جس میں راہ پیمائی بے راہ نہیں کرتی، ایسی کرن ہے جس کی چھوٹ مدہم نہیں پڑتی وہ ایسا حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے جس کی دلیل کمزور نہیں پڑتی ایسا کھول کر بیان کرنے والا ہے جس کے ستون منہدم نہیں کئے جاسکتے، وہ سراسر شفا ہے (کہ جس کے ہوتے ہوئے روحانی) بیماریوں کا کھٹکا نہیں وہ سرتاسر عزت و غلبہ ہے جس کے یار ومددگار شکست نہیں کھاتے، وہ سراپا حق ہے۔

یہ کتاب ان آیات پر مشتمل ہے جو اس لاثانی اور بے مثل کتاب کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔اس کتاب میں ہم نے نوجوانوں کے لیے بعض قرآنی معارف پر مختصر روشنی ڈال کر انہیں بارہ فصلوں میں بیان کیا ہے امید ہے یہ مختصر کوشش اہل ذوق کے لیے مفیدثابت ہوگی۔

سید نسیم حیدر زیدی


پہلی فصل(قرآن)


(ا) قرآن کا مثل نہیں لاسکتے

قُلْ لَئنْ اجتَمَعَتِ الْا نْسُ وَالجِنُّ عَلیٰ أَنْ یٰا تُوا بِمِثْلِ هٰذا القُرْآنِ لَا یٰاَتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ کَاْنَ بَعْضُهُم لِبَعْضٍ ظَهِیْراً -(اسراء ٨٨)

ترجمہ:

آپ کہہ دیجئے کہ اگر انسان اور جنات سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں تو بھی نہیں لاسکتے چاہے سب ایک دوسرے کے مددگار اور پشت پناہ ہی کیوں نہ ہوجائیں۔

پیغام:

اگر تمام انس وجن ہم فکر ہوجائیں تو قرآن جیسی بامعانی کتاب نہیں لاسکتے اس لیے کہ قرآن خالق کے تمام کمالات کا سر چشمہ ہے، اور جن و انس اس کی مخلوق ہیں۔

خالق اور مخلوق کا کیا مقابلہ۔

(2) دس سورے لے آؤ

أَمْ یَقُولُونَ افْتَرٰاهُ قُلْ فَاتُوا بِعَشَرِسُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَیٰاتِ----(هود ١٣)

ترجمہ:

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن بندے نے گڑھ لیا ہے تو کہہ دیجئے اس کے جیسے دس سورے گڑھ کر تم بھی لے آؤ۔


پیغام:

اس آیت سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی امانت داری کے ساتھ پیش آنا چاہیے، منکر ین کا کہنا تھا کہ قرآن بندہ کاگڑھاہوا ہے قرآن نے نہایت ہی امانتداری کے ساتھ ان کے کلام کو ویسے ہی نقل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے تو دس سورے تم بھی بنا لاؤ۔

(3) ایک سورہ لے آؤ

وَ أن کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِمّا نَزّلْنٰا عَلیٰ عَبْدِنٰا فَاتوا بسورةٍ من مثله----(بقره ٢٣)

ترجمہ:

اگر تمھیں اس کلام کے بارے میں کچھ شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسا ایک ہی سورہ لے آؤ۔

پیغام:

منکرین کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی کہ قرآن پر اعتراض کریں لیکن آج تک کوئی ایک سورہ کا جواب بھی نہ لاسکا، اگر منکرین اپنے دعوسے میں سچے ہیں تو بے ہودہ اعتراضات کے بجائے ایک سورہ اس جیسا لے آئیں۔


(4) تد بّر کرو

أَفَلَا یتدبّرونَ القرآنَ وَلَوْ کان مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوا فِیْه اختلافاً کثیراً(نساء ٨٢)

ترجمہ:

کیا یہ لوگ قرآن میں غور فکر نہیں کرتے ہیں کہ اگر وہ غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف ہوتا۔

پیغام:

انسانی زندگی میں پیش آنے والے خوشگوار اور ناخوشگوار حالات اس کے کلام، اس کی گفتگو پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن رسالتمآب (ص) کی زندگی کے نشیب و فراز قرآن کے انداز بیان اور لب و لہجہ پر اثر انداز نہ ہوسکے۔

(5) تلاوت سے پہلے

فَاذَا قَرأت القرآنَ فاستعذ باللّٰهِ من الشیطان الرَّجیم-(نساء ٨٢)

ترجمہ:

جب آپ قرآن پڑھیں تو شیطان رجیم کے مقابلے کے لیے اللہ سے پناہ طلب کریں۔


پیغام:

قرآن کی تلاوت اور اُس پر عمل ہمیں کمال اور راہِ سعادت تک پہونچاتا ہے اور شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس راہ میں رکاوٹ ڈالے ، لہٰذا تلاوت سے پہلے شیطان کے مقابلے کیلئے خدا سے پناہ طلب کریں۔

(6) غور سے سنو

وَاِذا قُرِیَٔ القرآنُ فَاسْتَمِعُوا لَه' وَانْصَتُوا لَعلّکُمْ تَرْحَمُون-(اعراف ٢٠٤)

ترجمہ:

اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو خاموش ہوکر غور سے سُنو کہ شاید تم پر رحمت نازل ہوجائے۔

پیغام:

قرآن کی تلاوت کو غور سے سننا اُس پر عمل کیلئے مقدمہ ہے، اور خاموش رہنا اس کی آیات میں تدبر کی نشانی ہے، ممکن ہے کہ سننا اور غوروفکر کرنا خدا کی رحمت کا باعث بن جائے۔


(7) مجسمہ ہدایت

شَهرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ أُنْزِلَ فِیْهِ الْقرْآن هُدیً لِلنَّاسِ وَ بَیِّنٰاتٍ مِنَ الهُدیٰ وَ الْفُرْقان----(بقره ١٨٥)

ترجمہ:

ماہ رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیں۔

پیغام:

قرآن سب کے لیے اور ہر زمانہ میں ہدایت ہے، قرآن حق و باطل کی پہچان کا معیار ہے۔

(8) نور کی طرف دعوت

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلیٰ عَبْدِهِ اٰیٰاتٍ بَیِّنَاتٍ لِیُخْرِجَکُمْ مِنَ الظُّلُمٰاتِ اِلی النُّور----(حدید ٩)

ترجمہ:

وہ ہی وہ ہے جو اپنے بندے پر کھلی ہوئی نشانیاں نازل کرتاہے ، تاکہ تمھیں تاریکیوں سے نور کی طرف نکال کر لے آئے۔


پیغام:

قرآن ہمیں تاریکیوں سے نور کی طرف نکال کر لاتاہے۔

تاریکی ، جہل، کفر، ناامیدی ہر بری صفت کی علامت ہے جبکہ نور ، علم ایمان ، امید ہر اچھی صفت کی علامت ہے۔

(9) قرآن کی عظمت

فَلَا أُقْسِمُ بِمَوٰاقِع النُّجوُم - وَ اِنَّه' لَقَسَم لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِیْم- اِنّه لَقُرآن کَرِیم - فِیْ کِتٰابٍ مَکْنُون-(واقعه ٧٥، ٧٨)

ترجمہ:

اور میں تو تاروں کی منازل کی قسم کھا کر کہتا ہوں ، اور تم جانتے ہو کہ یہ قسم بہت بڑی قسم ہے، یہ قرآن ہے جسے ایک پوشیدہ کتاب میں رکھا گیا ہے۔

پیغام:

ستاروں کی دنیا نہایت ہی حیرت انگیز اور شگفت آور ہے اس لیے خداوند عالم نے ان کی قسم کھا کر قرآن کی عظمت کو بیان کیاہے۔


(10) قرآن کی تلاوت

فَاقْرَؤا مٰا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ-(مزمل ٢٠)

ترجمہ:

بس جس قدر قرآن ممکن ہو اتنا پڑھ لو۔

پیغام:

قرآن انسانوں کی زندگی کے لیے دستور العمل ہے لہٰذا زندگی کے تمام شعبوں میں اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے اور صبح و شام تلاوت کرکے ہمیں اس سے اُنس برقرار رکھنا چاہیے۔

(11) پیغمبر اسلام کی فریاد

وَقَالَ الرَّسولُ یٰارَبّ اِنَّ قَوْمِیْ ا،تَّخَذُوا هٰذٰا الْقُرْآنَ مَهجُوراً -

ترجمہ:

اور اس دن رسول آواز دے گا کہ پروردگار اس میری قوم نے اس قرآن کو بھی نظر انداز کردیاہے۔


پیغام:

آئیے ہم سب مل کر اپنی فردی اور اجتماعی زندگی میں قرآن پر عمل کریں، تاکہ رسالتمآب(ص) کی فریاد کے دائرہ سے باہر نکل جائیں۔

قرآن انسانوں کے لیے ضابطہ حیات ہے اور محض ایک تشریفاتی کتاب نہیں ہے۔

(12) کمالِ رحمت

الرَّحْمٰن - عَلّم القُرآن - خَلَقَ الْاِنْسَانَ -(رحمن ٣-١)

ترجمہ:

وہ خدا بڑا مہربان ہے، اُس نے قرآن کی تعلیم دی ہے، انسان کو پیدا کیاہے۔

پیغام:

خدا کے کمالِ رحمت کا سب سے پہلا مظہر تعلیم قرآن ہے اس کے بعد خلقت انسان کا مرحلہ آتا ہے لہٰذا قرآن انسان پر برتری رکھتا ہے، انسان کی انسانیت قرآن کی تعلیمات سے وابستہ رہنے ہی سے باقی رہتی ہے وگرنہ وہ حیوانات سے بھی بدتر ہوجائے۔


(13) پہاڑ کا ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا

لَوْ أَنْزَلْنٰا هٰذَا الْقُرآنَ عَلیٰ جَبَلٍ لَرَأَیْتَه' خَاشِعًا مُتَصَدّعًا مِنْ خَشْیَةِ اللّٰه----(حشر ٢١)

ترجمہ:

ہم اگر اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو تم دیکھتے کہ پہاڑ خوف سے لرزاں اور ٹکڑے ٹکڑے ہوا جارہاہے۔۔۔

پیغام:

ظالموں کے دل تو پہاڑ اور پتھر سے بھی زیادہ سخت ہیں کہ باران رحمت ( آیات قرآن) کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

(14) قرآن کی دلوں پر تأثیر

اللّٰه نَزَّلَ أَحْسَنَ الحَدِیْثِ کِتٰبًا مُتَشَابِهًا مَثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُودُهُمْ و قُلُوبُهُمْ اِلی ذِکْرِ اللّٰه ----(زمر ٢٣)

ترجمہ:

اللہ نے بہترین کلام اس کتاب کی شکل میں نازل کیا ہے جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیںاور باربار دہرائی گئی ہیں کہ ان سے خوف خدا رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، اس کے بعد ان کے جسم اور دل یاد خدا کے لیے نرم ہوجاتے ہیں۔


پیغام:

کلام بشر قرآن کی حد تک انسانوں کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتا اور قرآن کریم کی دلوں پر اس طرح تاثیر اسکے نازل کرنے والے کی عظمت و جلالت کا پتہ دیتی ہے، اس لیے کہ ہر شخص کا کلام اس کے مقام و منزلت کی نشاندہی کرتاہے۔

(15) کفار کی بہانہ جوئی

وَقَالُوا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذا الْقُرآنُ عَلیٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیتینِ عَظِیْم o (زخرف ٣١)

ترجمہ:

اور یہ کہنے لگے کہ آخر یہ قرآن دونوں بستیوں (مکہ و طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیاہے۔

پیغام:

کفار اپنے بے ایمانی پر پردہ ڈالنے کیلئے مختلف باتیں بناتے رہتے تھے کبھی کہتے تھے کہ قرآن صاحبان مال ودولت پر نازل کیوں نہیں ہوا؟ کبھی کہتے تھے ہم پر نازل کیوں نہیں ہوا؟ کبھی کہتے تھے کہ آخر دفعی نازل کیوں نہ ہوا؟ وہ یہ سمجھتے تھے کہ انسان کی برتری اور فضیلت کا معیار مال و دولت ہے۔


(16) حفاظت الٰھی

اِنّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکرَوَ انّا لَه' لَحٰافِظُون- (حجر ٩)

ترجمہ:

ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

پیغام:

اس آیت میں پانچ مرتبہ اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ یہ قرآن ربّ العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اور اسے باطل کی آمیزش اور ہر طرح کی تباہی و بربادی سے محفوظ رکھنے والا وہی ہے۔

قرآن ذکر ہے یعنی خدا، انبیائ، قیامت اور ہر اُس نعمت کی یاد جو انسان کی ضرورت ہے۔

(17) بابرکت کتاب

وَ هٰذٰا کِتٰاب أَنْزَلْنٰاه مُبٰارک----(انعام ٩٢)

ترجمہ:

اور یہ کتا ب جو ہم نے نازل کی ہے بابرکت ہے۔


پیغام:

قرآن جامع ترین کتاب ہے جو عالم بشریت کے لیے ہدایت، عبرت ، رشد و ترقی، شفا اور باعث عزت ہے۔

(18) حجاب

وَ اذَا قَرَاتَ القرآنَ جَعَلْنٰا بَیْنَکَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجٰابًا مَسْتُورًا

(اسراء ٤٥)

ترجمہ:

اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمھارے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے درمیان حجاب قائم کردیتے ہیں۔

پیغام:

قیامت پر یقین نہ رکھنا انسان کے دل کو سیاہ کردیتا ہے، آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو دنیا میں غرق ہو کر روز آخرت اور خدا کو بُھلا چکے ہیں۔


(19)رحمت اور بشارت

وَ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰابَ تِبْیٰانًا لِکُلِّ شَیٍٔ وَ هُدیً وَّ رحمةً وَ بُشْریٰ لِلْمُسْلِمِینَ-(نحل ٨٩)

ترجمہ:

اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے اور یہ کتاب اطاعت گذاروں کے لیے ہدایت ، رحمت اور بشارت ہے۔

پیغام:

قرآن مجید میں تمام ابوابِ خیر وشر کا ذکر موجود ہے جو اس کی تعلیمات پر عمل کرے، یہ اس کے لئے ہدایت اور بشارت ہے اور جو اس پر عمل نہ کرے وہ ان تمام چیزوں سے محروم رہ جاتا ہے۔

(20) صاحبان تقویٰ کیلئے ہدایت

ذَلِکَ الْکِتٰابُ لَا رَیْبَ فِیْهِ هُدًی لِلّمُتَّقِیْنَ-(بقره ٢)

ترجمہ:

یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک کی گنجائش نہیں ہے، یہ صاحبان تقویٰ اور پرہیز گار لوگوں کے لیے مجسمہ ہدایت ہے۔


پیغام:

شک وشبہ میں مبتلا کرنا شیطان کا کام ہے ، اور خدا کے کلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ، قرآن سب لوگوں کی ہدایت کرتاہے ''ھدیً للنّاس''بس فرق اتنا ہے کہ پرہیز گار لوگ صحیح انتخاب کے ذریعہ اس ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ کفار اور منافقین اپنے غلط انتخاب کے ذریعہ اُس سے محروم ہوجاتے ہیں۔

(21) تصدیق کرنے والی

وَهٰذا کِتٰاب أَنْزَلْنٰاهُ مُبٰارک مُصَدِّقُ الّذی بَیْنَ یَدَیْه(انعام ٩٢)

ترجمہ:

اور یہ کتاب جو ہم نے نازل کی ہے بابرکت ہے اور اپنے پہلے والی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔

پیغام:

قرآن ایک بابرکت کتاب ہے جو انسان کیلئے ہدایت، عبرت، شفا اور باعث عزت ہے، جو تمام آسمانی کتابوں سے متفق اور ان کی تصدیق کرنے والی ہے، اور یہ چیز ان کے الٰہی اور ایک ہدف ہونے پر دلیل ہے۔


دوسری فصل(اہل بیت(علیھم السلام)


(1) ریسمان الٰہی

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا-(آل عمران ١٠٣)

ترجمہ:

اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو۔

تشریح:

حضرت علی (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ قرآن اللہ کی رسی ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: ہم اہل بیت اللہ کی رسی ہیں در حقیت قرآن اور اہل بیت (ع) جمال اور حسن الٰہی کے دو جلوے ہیں ایک کتاب کی صورت میں ہے اور دوسرا عمل کی صورت میں ۔

ہمیں قرآن اور اہل بیت سے زندگی گزارنے کے اصول سیکھنے چاہیے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوسکیں۔

(2) کمال د ین اور اتمام نعمت

ألْیَوْمَ أکْمَلْتُ لَکُمْْ دِیْنَکُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیْکُم نِعْمَتِی-(مائده ٣)

ترجمہ:

آج میں نے تمھارے لیے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔


تشریح:

شیعہ اور سنی روایات کے مطابق یہ آیت 18 ذی الحجہ کو غدیر خم کے مقام پر نازل ہوئی جہاں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت اور جانشینی کا اعلان کیا۔

اس دن کی چار خاص باتیں یہ ہیں۔

1۔ کفار کی ناامیدی - 2۔ کمال دین-3۔ اتمام نعمت-4۔ خدا کی خوشنودی

(3) ولایت

اِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اللّٰهُ وَ رَسُولُه وَالَّذِیْنَ أَمَنُواْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلوٰةَ وَ یُؤتُونَ الزَّکاةَ وَهُمْ رٰاکِعُونَ-(مائده ٥٥)

ترجمہ:

تمھارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول وہ صاحبان ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں۔

تشریح:

ایک دن ایک فقیر نے مسجد نبوی میں داخل ہونے کے بعد لوگوں سے مدد مانگی مگر کسی نے اس کی کچھ مدد نہ کی ایسے میں حضرت علی (ع) نے حالت رکوع میں اپنی انگوٹھی اُسے بخش دی اس وقت یہ آیت حضرت علی (ع) کی شان کرم کو بیان کرنے کے لئے نازل ہوئی۔

اس واقعہ کو ابن عباس، عمار یاسراور ابوذر جیسے دس صحابہ کرام نے نقل کیا ہے ، اور یہ آیت باتفاق مفسرین شیعہ و سنی حضرت علی (ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔


(4) تکمیل رسالت

یَا ایُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لم تَفْعَلْ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَه-(مائده ٦٧)

ترجمہ:

اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادین جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اور اگر آپ نے یہ نہ کیا توگویااس کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا۔

تشریح:

تمام شیعہ اور بعض سنی مفسرین اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی (ع) کی جانشینی سے متعلق ہے جس کا اعلان پیغمبر اسلام(ص) نے 18 ذی الحجہ سن دس ہجری کو حج سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر کیا۔

اہل سنت کی معتبر کتابوں ، مسند احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اس حدیث''مَنْ کُنْتُ مِوْلاه' فهذا عَلِی مَولَاه' '' کو نقل کیا ہے۔


(5) صادقین

فَقُلْ تَعٰالَوْا نَدْعُ أَبْنٰآء نَا وَ أَبْنٰآئَ کُمْْ وَنِسَآئَ نَا وَنِسَآ ئَ کُم وَ أَنْفُسَنَا وَ أَنْفُسَکُم-( آل عمران ٦١)

ترجمہ:

ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں۔

تشریح:

یہ آیت آیہ مباہلہ کے نام سے مشہور ہے۔

مباہلہ کے معنی دو مخالف گروہ کا خدا کے سامنے گڑگڑا کر ایک دوسرے پر لعنت کرنا ہے نجران کے عیسائیوں نے اپنی طرف سے کچھ لوگوں کو بھیجا جبکہ پیغمبر اسلام اپنے ساتھ علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین کے لے گئے، عیسائیوں کا گروہ ان ذوات مقدسہ کو دیکھتے ہی مباہلہ سے دستبردار ہو کر جزیہ دینے پر راضی ہوگیا۔

آیت میں ''انفسنا'' کے مصداق مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام ہیں جو پیغمبر کی جان ہیں ۔مباہلہ کا واقعہ 25 ذی الحجہ کو پیش آیا۔


(6) ایثار کا نمونہ

اِنَّمٰا نُطعِمُکُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآئً وَلَا شُکُوْرًا-( دهر ٩)

ترجمہ:

ہم صرف اللہ کی مرضی کی خاطر تمھیں کھلاتے ہیں ورنہ نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔

تشریح:

ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت علی (ع) اور جناب فاطمہ زہرا(س) نے حضرت امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کی بیماری سے صحت یابی کے لیے تین دن روزے رکھنے کی نذر کی ان کے صحت یاب ہونے کے بعد نذر پورا کرنے کیلئے تین دن روزے رکھے پہلے دن افطار کے وقت اپنا کھانا فقیر، دوسرے دن یتیم اور تیسرے دن اسیر کو دے کر خود پانی سے افطار کرلیا، خداوند عالم نے سورہ دہر کو ان کی شان میں نازل کیا ہے اور 17 آیتوں میں ان کے بلند و بالا مقام کی مدح سرائی کی ہے۔

(7) برائی سے دوری

أَلَّذِیْنَ اٰمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوآ اِیْمٰانَهُمْ بِظُلْمٍ أُوْلٰئِکَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهتَدُونَ-( انعام ٨٢)

ترجمہ:

جو لوگ ایمان لے آئے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم (شرک) سے آلودہ نہیں کیا انہی لوگوں کے لئے امن و امان ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں ۔


تشریح:

حضرت امام محمد باقر (ع) سے روایت ہے کہ یہ آیت حضرت علی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں ایک لمحے کے لیے بھی شرک نہیں برتا۔

(8) خوشنودی خدا

وَمِنَ النّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰهِط وَاللّٰهُ رَئُ وفم بِالْعِبٰادِ-( بقره ٢٠٧)

ترجمہ:

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور خدا ایسے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

تشریح:

اہل سنت کے جید عالم دین ابن ابی الحدید (وفات سن 7 ھ ق ) کا کہنا کہ مفسرین عظام اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت حضرت علی (ع) کی شان میں شب ہجرت اس وقت نازل ہوئی جب عرب کے قبائل پیغمبر اسلام کو قتل کرنے کی سازش کیے ہوئے تھے ایسے میں حضرت علی(ع) آنحضرت کے بستر پر لیٹ گئے تاکہ آپ(ص) آرام و اطمینان کے ساتھ مکہ سے نکل جائیں۔


(9) انفاق

أَلَّذِیْنَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّهَارِ سِرَّاً وعَلَانِیَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْف عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُونَ-(بقره ٢٧٤)

ترجمہ:

جو لوگ اپنے مال کو راہ خدا میں رات میں، دن میں خاموشی سے اور علی الاعلان خرچ کرتے ہیں ان کے لئے پیش پروردگار اجر بھی ہے، اور انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ آذردہ ہوں گے۔

تشریح:

تفسیر صافی ، تفسیر مجمع البیان، تفسیر قرطبی اور تفسیر فخر رازی میں ہے کہ یہ آیت حضرت علی (ع) کی شان میں نازل ہوئی آپ کے پاس چار درہم تھے، جن میں سے ایک دن میں ، ایک رات میں ایک خاموشی سے اور ایک علی الاعلان خدا کی راہ میں خرچ کردیا۔


(10) پیغمبر(ص) کے مددگار

هُوَ الّذِیْ أَیَّدَکَ یَنصُرِهِ وَ بِالْمُومِنِیْنَ-(انفال ٦٢)

ترجمہ:

اس (خدا) نے آپ(ص) کی تائید اپنی نصرت اور صاحبان ایمان کے ذریعے کی ہے۔

تشریح:

پیغمبر اسلام سے منقول ہے کہ عرش الٰہی پر یہ جملہ لکھاہے ''لا الہ اِلا اللّٰہ أنا وحدی محمد عبدی و رسولی ایدتہ بعلیٍ '' میرے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ ہی میرا کوئی شریک ہے اور محمد میرے بندے اور رسول ہیں، اور میں نے علی کے ذریعہ ان کی مدد کی ہے۔

(11) اطاعت

یَآیُّهَا الَّذِیْنَ أَمَنُوآ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَسُولَ وَأُولِی الأَمْرِ مِنْکُمْ-( نساء ٥٩)

ترجمہ:

ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمھیں میں سے ہیں۔


تشریح:

ابن عباس سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام جنگ تبوک کے لئے مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تو حضرت علی (ع) کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا اور فرمایا: '' یاعلی أنت منّی بمنزلة ھارون من موسیٰ '' اے علی تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ھارون کو موسیٰ سے تھی، اس کے بعد سور نساء کی آیت نمبر 59 نازل ہوئی۔

(12) مودَّت اہل بیت

قُلْ لَا أَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ أَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ -(شوریٰ ٢٣)

ترجمہ :

کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا سوا اسکے کہ میرے قرابتداروں سے محبت کرو۔

تشریح:

سورہ سباء کی آیت نمبر 47 کی روشنی میں (جس میں کہا گیا ہے کہ میں تم سے اجر رسالت چاہتا ہوں اس میں تمھارا ہی فائدہ ہے) یہ نتیجہ نکلتاہے کہ اہل بیت کی محبت و مودت رسالت محمد(ص) کا ایسا اجر ہے جس میں اُمت اسلامیہ ہی کا فائدہ ہے۔

شیعہ اور سنی کی اکثر روایات اس بات کی تائید کرتی ہیں۔


(13) بہترین خلائق

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحٰاتِ أُوْلٰئِکَ خَیْرُ البَرِیَّةِ (بیّنه ٧)

ترجمہ :

یشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کرتے رہے یہی لوگ بہترین خلائق ہیں۔

تشریح:

ابن عباس سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اسلام نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: آپ اور آپ کے شیعہ قیامت کے دن خیر البریّہ ہیں، خدا بھی آپ لوگوں سے راضی ہے اور آپ لوگ بھی خدا سے راضی ہیں۔

(14) محبوب خدا

یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا مَنْ یَّرتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِهِ فَسَوْفَ یَاتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّونَه-(مائده ٥٤)

ترجمہ :

اے ایمان والو تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو اس کی محبوب اور اُس سے محبت کرنے والی ہوگی۔


تشریح:

اسعد بن وقاص سے روایت ہے ، پیغمبر نے جنگ خیبر میں فرمایا: میں علم اُسے دوں گا جو خدا اور رسول کا دوستدار ہوگا اور خدا اس کے ہاتھ پر فتح دے گا اور یہ کہ کر آپ جناب علی مرتضیٰ کی طرف بڑھے اور علم ان کے ہاتھ میں دے دیا۔

(15) علم و حکمت کے پیکر اتم

یُؤتِی الحِکْمَةُ مَنْ یَشَآئُ وَمِنْ یُّوْتَ الحِکْمَةَ فَقَدْ أُوتِیَ خَیْرًا کَثِیراً ، وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّا أُولُوالْأَلْبٰابِ-(بقره ٢٦٩)

ترجمہ :

اور وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جسے حکمت عطا کردی جائے اُسے خیر کثیر عطا کردیا گیا اور اس بات کو صاحبان عقل کے علاوہ کوئی نہیں سمجھتا ہے۔

تشریح:

پیغمبر اسلام سے منقول ہے کہ جو ابراہیم(ع) کو ان کے حلم میں نوح(ع) کو ان کی حکمت میں اور یوسف(ع) کو ان کی خوبصورتی اور زیبائی میں دیکھنا چاہے، اُسے علی(ع) کی زیارت کرنی چاہیے۔


(16) خیر کثیر

اِنَّا أَعْطُیْنَاکَ الْکَوْثَر - فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ-(کوثر ١،٢)

ترجمہ :

اے رسول ہم نے تم کو کوثر عطا کیا تو تم اپنے پروردگار کی نماز پڑھا کرو اور قربانی دیا کرو۔

تشریح:

پیغمبر اسلام کے دو بیٹوں کا انتقال بچپنے میں ہی ہوگیا تھا جس کی وجہ سے کفار مکہ آپ کو ابتر ہونے کا طعنہ دیتے تھے لہٰذا خداوند عالم نے پیغمبر کو فاطمہ زہرا جیسی بیٹی عنایت کرکے اُسے کوثر کے نام سے یاد کیا اور ان کے ذریعہ پیغمبر اسلام کی نسل کو قیامت تک کے لیے باقی اور دائمی بنادیا، تاکہ پیغمبر اسلام کا نام رہتی دنیا تک باقی رہے۔

(17) ھادی

اِنَّمٰا أَنْتَ مُنْذِر وَّ لِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ-(رعد ٧)

ترجمہ :

(اے رسول) تم تو صرف (خدا سے) ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ایک ھادی اور رھبر ہے۔


تشریح:

ابن عباس سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اسلام نے فرمایا: میں ڈرانے والا ہوں اور میرے بعد علی ہدایت اور رہبری کرنے والے ہیں، اس کے بعد علی کے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا اے علی تم میرے بعد ان لوگوں کی ہدایت کرنے والے ہو جو ہدایت کے طلب گار ہیں۔

کتاب شواہد التنزیل میں 19 روایتیں اس بارے میں موجود ہیں۔

(18) صراط مستقیم

وَاللَّهُ یَدْعُوْآ اِلی دَارِالسَّلٰمِ - وَیَهدِی مَنْ یَّشَآء اِلیٰ صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ o (یونس ٢٥)

ترجمہ :

اللہ ہر ایک کو سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتاہے۔

تشریح:

ابن عباس سے مروی ہے کہ صراط مستقیم سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔


(19) حقِ طہارت

اِنَّمٰا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرُکُمْ تَطْهِیرًا-(احزاب ٣٣)

ترجمہ :

اے اہل بیت خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو (ہر طرح) کی برای سے دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

تشریح:

انس بن مالک سے مروی ہے کہ پیغمبر اسلام جب نماز صبح کے لیے مسجد تشریف لاتے تو جناب فاطمہ زہرا(س) کے گھر کے سامنے سے گذرتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کرتے اور یہ عمل چھ مہینے تک جاری رہا۔

جابر بن عبداللہ انصاری سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت گھر میں علی، فاطمہ، حسن اور حسین (علیہم السلام )کے علاوہ کوئی اور نہ تھا اور پیغمبر(ص) نے فرمایا: یہ ہیں میرے اہل بیت۔

کتاب شواہد التنزیل میں 137 روایتیں اس بارے میں موجود ہیں۔


(20) نور الھی

أَللّٰهُ نُورُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ-مَثَلُ نُورِهِ کَمِشْکَوٰةٍ فِیْهٰا مِصْبٰاح-الْمِصْبٰاحُ فِیْ زُجٰاجَةٍ أَالزُّجَاجَةُ کَأَنَّهٰا کَوْکَب، دُرِّیّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبٰارَکَةٍ زَیْتُونَةٍ لَّا شَرْ قِیَّةٍ وَّلَا غَرْبِیِّةٍ یَّکَادُ زَیْتُهَا یُضِی ئُ وَلَوْلم تَمْسَسْهُ نَار، نور عَلٰی نُوْرٍ یَهدِی اللّٰهُ لِنُورِهِ مَنْ یَشٰائُ- (نور ٣٥)

ترجمہ:

خدا تو سارے آسمان اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثل ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے جس میں ایک روشن چراغ ہو، اور چراغ ایک شیشے کی قندیل میں ہو، قندیل گویا ایک روشن ستارہ ہے (وہ چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا جائے، جو نہ پورپ کی طرف ہو اور نہ پچھم کی طرف (بلکہ بیچ وبیچ) میدان میں اسکا تیل (ایسا شفاف ہو کہ) اگرچہ آگ اُسے چھوئے بھی نہیں تاہم ایسا معلوم ہو کہ خود ہی روشن ہوجائے گا ، (غرض ایک نور نہیں بلکہ) نور علی نور ہے خدا اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔

تشریح:

جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ میں ایک دن جب مسجد میں داخل ہوا اور حضرت علی(ع) سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: مجھے تعجب ہے اُس شخص پر جو اس آیت کی تلاوت کرتا ہے مگر اس کے معانی پر غور نہیں کرتا ہے میں نے عرض کی کون سی آیت تو آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا:


مشکاة سے مراد محمد (ص) ہیں ،مصباح سے مراد میں ہوں، زجاجہ سے مراد حسن ، حسین ہیں، کوکب دری سے مراد علی ابن الحسین، شجرہ مبارکہ سے مراد محمد بن علی، زیتونہ سے مراد جعفر بن محمد ، لاشرقیہ سے مراد موسیٰ بن جعفر، لاغربیہ سے مراد علی بن موسیٰ الرضا ، یکاد زیتھا سے مراد محمد بن علی ، لم تمسہ النار سے مراد علی بن محمد، نور علی نور سے مراد حسن بن علی اور یھدی اللہ لنورہ من یشاء سے مراد حضرت مہدی ہیں۔

(21)جناب ابراہیم امیر المومنین کے شیعہ

وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِهِ لَاِبْرَاهِیْم- ( صافّات ٨٣)

ترجمہ :

اور یقینا ان ہی (نوح) کے پیروکار میں سے ابراہیم بھی تھے۔

تشریح:

حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ جب جناب ابراہیم کی خلقت ہوئی تو انھوں نے عرش الٰہی کے پاس ایک نور دیکھا ، پوچھا خدایا یہ کس کا نور ہے جواب ملا یہ نور محمد ہے پھر نور محمد کے ساتھ ایک اور نور دیکھا پوچھا یہ کس کا نور ہے، جواب ملا یہ علی کا نور ہے پھر تین نور ااور دیکھے اور اس کے بعد نو(9) نور اور دیکھے پوچھا یہ کس کے نور ہیں ؟ جواب ملا یہ تین نور فاطمہ زہرا اور حسن ، حسین کے ہیں اور نو (9) نور نو اماموں کے ہیں جو سب کے سب حسین کی نسل سے ہوں گے، تب جناب ابراہیم نے فرمایا: خدایا! مجھے امیر المومنین کے شیعوں میں سے قرار دے اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ ''ان من شیعتہ لابراھیم''


تیسری فصل(امام زمان عج)


(1) مومنین کی خوشی اور مسر ت کا دن

---یَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ المُومِنُونَ بِنَصْرِ اللّٰه---(روم ٤،٥)

ترجمہ:

اس دن صاحبان ایمان اللہ کی مدد سے خوشی منائیں گے۔

تشریح:

امام جعفر صادق ـ سے مروی ہے کہ آخری امام کے ظہور کا دن وہ دن ہے جب مؤمنین اللہ کی نصرت و امداد کے سہارے خوشی منائیں گے۔

(2) امام زمانہ علیہ السلام کے ساتھی

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسَیٰ أُمةً یَهدُوْنَ بِالْحَقّ وَ بِهِ یَعْدِلُونَ-(اعراف ١٥٩)

ترجمہ:

اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک ایسی جماعت بھی ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتی ہے اور معاملات میں حق و انصاف کے ساتھ کام کرتی ہے۔


تشریح:

حضرت امام جعفر صادق ـسے منقول ہے کہ جب قائم آل محمد ـ کعبہ سے ظہور کریں گے تو 27 افراد ان کے ساتھ ہوں گے جن میں سے 15 کا تعلق قوم حضرت موسیٰ ـ ، 7 افراد اصحاب کھف، یوشع جناب موسیٰ کے جانشین سلمان، مقداد ومالک اشتر وغیرہ یہ سب کے سب حضرت کے ساتھی ، اور آپ کی جانب سے فوج پر حُکّام ہوں گے۔

(3) آئمہ کی معرفت

مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الاٰخِرَة نَزِد لَه' فِی حَرْثِه وَ مَنْ کَانَ یُرِیْدُحَرْثَ الدُّنْیَا ---(شوریٰ ٢٠)

ترجمہ:

جو انسان آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کے لئے اضافہ کردیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی کا طلب گار ہے اسے اسی میں سے عطا کر دیتے ہیں۔

تشریح:

امام جعفر صادق ـ سے روایت ہے کہ ''حرث الاخرة''سے مراد علی ـ اور باقی آئمہ علیہم السلام کی معرفت ہے۔ اور ''حرث الدنیا'' سے مراد اُن لوگوں کی تلاش اور کوشش جن کا حضرت بقیة اللہ کی حکومت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔


(4) حق کی کامیابی کا دن

--- وَ یَمحُ اللّٰهُ البٰاطِلَ وَ یَحِقُ الحَقَّ بِکَلِمٰاتِهِ -(شوریٰ ٢٤)

ترجمہ:

اور خدا باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے کلمات کے ذریعہ ثابت اور پائیدار بنا دیتا ہے۔

تشریح:

امام صادق ـ سے منقول ہے کہ اس آیت میں کلمات سے مراد آئمہ علیہم السلام اور قائم آل محمد ـ ہیں کہ جن کے ذریعہ خدا حق کو غلبہ عطا کرے گا۔

(5) دین حق

هو الذی أَرسَلَ رَسُولَه' بِالْهُدیٰ وَ دِیْنَ الحَقّ لِیُظْهِرَه عَلیٰ الدِّیْنِ کُلِّهِ ---(فتح ٢٨)

ترجمہ:

وہی وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اُسے تمام ادیان پر غالب بنائے۔

تشریح:

امام صادق ـسے روایت ہے کہ غلبہ سے مراد امام زمانہ ـ کا ظہور ہے جو تمام ادیان پر غالب آکر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے۔


(6) اہل زمین کا دوبارہ زندہ ہونا

اِعْلَمُوا انَّ اللّٰه یُحْیِ الارض بعَدَ مَوتِهٰا --- (حدید ١٧)

ترجمہ:

یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کا زندہ کرنے والا ہے۔

تشریح:

امام جعفر صادق ـ سے مروی ہے کہ زمین کے مردہ ہونے سے مراد اہل زمین کا کفر اختیار کرنا ہے۔ خداوند عالم حضرت حجة ابن الحسن ـ کے ذریعہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر کر زمین کو زندگی عطا کریگا۔

(7) نورِ الٰہی

یُرِیدُوْنَ لِیُطْفِؤا نورَ اللّٰهِ بِأفواهِهِمْ وَاللّٰه مُثمُّ نُوْرِهِ و نَوکَرِهَ الْکٰافِرُونَ - (صف ٨)

ترجمہ:

یہ لوگو چاہتے ہیں کہ نور خدا کو پنے منہ سے بجھادیں اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے چاہے یہ بات کفار کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔


تشریح:

امام صادق ـ سے منقول ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور ولایت علی ـ کو بجھادیں لیکن خداوند عالم اُسے مکمل کرے گا اور حضرت حجة ابن الحسن ـ کے ظہور کے ذریعہ اُسے سارے جہاں پر غلبہ عطا کرے گا۔

(8) امام زمانہ علیہ السلام

الم - ذَلِکَ الکِتَابُ لارَیْبَ فَیهِ هدیً للْمُتَّقِیْنَ - اَلْذِیْنَ یومنون بِالْغَیْبِ و--- (بقره ٢)

ترجمہ:

یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے یہ صاحبان تقویٰ اور پرہیز گار لوگوں کے لئے مجسمہ ہدایت ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔

تشریح:

امام جعفر صادق ـ سے منقول ہے کہ صاحبان تقویٰ سے مراد حضرت علی ـ کے شیعہ اور غیب سے مراد امام زمانہ ـ ہیں۔


(9)اللّٰہ کا گروہ

أُوْلٰئِک حِزْبُ اللّٰهِ أَلَا اِنّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ المُفْلِحُونَ - (مجادله ٢٢)

ترجمہ

:یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں ، اور آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کا گروہ ہی نجات پانے والا ہے۔

تشریح:

جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں: پیغمبر اسلام (ص)نے فرمایا آخری امام حجة ابن الحسن العسکریـہیں۔ پھر فرمایا کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ان کی غیبت میں ثابت قدم ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں خدا فرماتا ہے۔أُوْلٰئِک حِزْبُ اللّٰه ----

(10) پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین

أَطِیْعُوا اللّٰهَ أَطِیْعُوا الرَّسُولَ وَ أوْلِی الأَمْرِ مِنْکُمْ --- (نساء ٥٩)

ترجمہ:

اللہ کی اطاعت کرو، رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں۔


تشریح:

جابر بن عبد اللہ انصاری فرماتے ہیں: میں نے رسالت مآب سے سوال کیا کہ أولی الامر سے مراد کون ہیں؟ رسالت مآب نے فرمایا: وہ میرے جانشین اور مسلمانوں کے پیشوا اور رہنما ہیں جن میں سے پہلے علی ابن ابی طالب ـ اور آخری حجة ابن الحسن العسکری ـ ہیں۔جابر نے کہا میں نے عرض کی، یارسول اللہ! کیا شیعہ حضرت مہدی ـ کی غیبت کے زمانے میں اُن سے مستفید ہوسکے گے۔ رسالت مآب نے فرمایا: یقینا اُس ذات کی قسم جس نے مجھے نبوت عطا کی ہے شیعہ مہدی کے نور ولایت سے مکمل بہرہ مند ہونگے جس طرح لوگ سورج کے فوائد سے بہرہ مند ہوتے ہیں ، چاہے وہ بادلوں کے پیچھے ہی کیوں نہ ہو۔

(11) کافروں کی سزا

--- یوم یأتی بَعْضُ آیاتِ ربّکَ لَا یَنْفَعُ نفساً اِیْمٰانُهٰا لَمْ تکُنْ آمَنتُ مِنْ قَبْل ---(انعام ١٥٨)

ترجمہ:

جس دن اسکی بعض نشانیاں آجائیں گی اس دن جو نفس پہلے سے ایمان نہیں لایا ہے ، اسکے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

تشریح:

حضرت امام جعفر صادق ـ سے منقول ہے کہ وہ دن حضرت بقیة اللہـ کے ظہور کا دن ہے۔


(12) أَولیٰاء خدا

أَلَا اِنَّ أَوْلِیٰائَ اللّٰهِ لَا خَوْف عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُونَ -(یونس ٦٢)

ترجمہ:

آگاہ ہو جاؤ کہ اولیاء خدا پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ ''محزون '' اور رنجیدہ ہوتے ہیں۔

تشریح:

امام صادق ـ سے مروی ہے آپ نے ابو بصیر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ابو بصیر حضرت بقیة اللہ ـ کے شیعہ خوش نصیب ہیں جو آپ(ع) کی غیبت میں آپ کے مطیع اور آپ کے ظہور کے منتظر ہیں ۔ اس کے بعد آپ (ع) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔أَلَا اِنَّ أَوْلِیٰائَ اللّٰه---

(13) وعدہ الٰہی

وَعَدَ اللّٰه الَّذِیْنَ أَمَنُوا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا لصَّالِحٰاتِ یَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِیْ الأَرْضِ ---(نور ٥٥)

ترجمہ:

اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا۔


تشریح:

امام جعفر صادق ـ سے منقول ہے کہ یہ آیت حضرت بقیة اللہ ـاور ان کے اصحاب کی شان میں ہے۔ جابر عبداللہ انصاری سے مروی ہے پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا: جناب موسیٰ کی طرح میرے بھی بارہ جانشین ہونگے اسکے بعد آپ نے بارہ اماموں کے نام بتائے اور فرمایا کہ حسن(عسکری)ـ کے بیٹے غیبت میں چلے جائیں گے اسکے بعد آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔وَعَدَ اللّٰه الَّذِیْنَ----

(14) ظالموں کا انجام

وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَبُونَ - (شعراء ٢٢٧)

ترجمہ:

اور عنقریب ظالمین کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹا دیئے جائینگے۔

تشریح:

رسالت مآب (ص) سے منقول ہے جو میرے دین کا پیرو ، اور میری کشتی نجات میں سوار ہونا چاہتا ہے وہ علی ابن ابی طالب ـ سے وابستہ ہوجائے انکے دشمن کو دشمن اور انکے دوست کو دوست رکھے۔ اسکے بعد آپ نے اماموں کے نام بتائے اور فرمایا میری امت کے نو پیشوا حسین ـ کی اولاد سے ہیں جنکے آخری قائم ـ ہیں۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ---


(15) زمین کے وارث

أَمَّنْ یُجِیْبُ المُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَکْشِفُ السُّوئَ وَ یجْعلکم خلفائِ الأَرْضِ - (نمل ٥٢)

ترجمہ:

بھلا وہ کون ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کو آواز دیتا ہے۔ اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم لوگوں کو زمین کا وارث بناتا ہے۔

تشریح:

امام صادق ـ سے روایت ہے کہ یہ آیت قائم آل محمد ـ کی شان میں ہے۔ ظہور کے وقت آپ مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے یہ مناجات کرینگے۔

(16) لوگوں کے پیشوا

وَنُرِیْدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ استضعَفُوا فِی الْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ أَئِمّهً وَ نَجْعَلَهُمُ الوارثین- (قصص ٥)

ترجمہ:

اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے ۔ ان پر احسان کریں اور انھیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیں۔


تشریح:

پیغمبر اسلام (ص) سے منقول ہے آپ نے جناب سلمان فارسی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے سلمان کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تمہیں اپنے بارہ جانشینوں کے نام بتاؤں۔ اور اسکے بعد بارہ اماموں کے نام بیان کئے۔ جناب سلمان فارسی کہتے ہیں کہ میں نے ان کے شوق دیدار میں بے انتہا گریہ کیا، تو پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: اے سلمان ، اُن کے ہونے سے اس آیت کی تکمیل ہوگی۔وَنُرِیْدُ أَنْ نَمُنَّ---

(17) نماز کا قیام

أَلَّذِیْنَ اِنْ مَکّنَّا هُمْ فِی الْأَرضِ أَقَامُو الصَّلوٰةَ وأتوا الزّکٰاة وَ أَمَر وا بِالْمَعْروفِ ونَهَو عَنِ الْمُنْکرِ وَ لِلّٰهِ عٰاقِبَةُ الأُمور -(حج ٤١)

ترجمہ:

یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم نے زمین میں اختیار دیا تو انھوں نے نماز قائم کی اور ذکات ادا کی اور نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا اور یہ طے ہے کہ جملہ امور کا انجام خدا کے اختیار میں ہے۔

تشریح: امام جعفر صادق ـسے منقول ہے کہ یہ آیت مہدی آخر الزمان ـاور ان کے اصحاب کی شان میں ہے جو مشرق و مغرب میں دین اسلام کا پرچم لہرا کر خرافات اور ظلم وجور کو صفحہ ہستی سے مٹا دینگے۔ اور پھر فرمایا ، ویَا مُرُونَ بالمعروف (نیکیوں کا حکم دینے ، و۔۔۔۔۔۔۔


(18)ذخیرہ الٰہی

بقیة اللّٰه خِیْر لَکُمْ اِنْ کُنْتُم مومنین-(هود ٨٦)

ترجمہ:

اللہ کی طرف کا ذخیرہ تمھارے لئے بہت بہتر ہے۔ اگر تم صاحب ایمان ہو۔

تشریح:

روایات میں امام عصر ـ کو '' بقیة اللہ '' کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ پروردگار عالم نے انہیں آخری انقلاب اور زمانہ کی واقعی اصلاح کے لیے بچا کر رکھا ہے۔ جب سر زمین مکّہ سے آپ کا ظہور ہوگا تو آپ اس آیت کی تلاوت فرما کر کہیں گے میں ہی وہ بقیة اللہ ہوں۔

(19) صالحین کی حکومت

وَلَقَدْ کتبنا فِی الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّکرَ انّ الأَرْضَ یَرِثُهٰا عبادی الصَّالِحُونَ - (انبیاء ١٠٥)

ترجمہ:

اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہونگے۔


تشریح:

رسالت مآب (ص)سے روایت ہے: کہ قیامت اُس وقت تک برپا نہیں ہوگی ، جب تک دنیا ظلم و جور سے نہ بھر جائے ۔ پھر میری ذرّیت میں سے ایک فرد قیام کرے گا اور دنیا کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ پہلے ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

(20)امام برحق

فَوَ رَبِ السَّمَائِ وَ الْأرْض اِنّه لَحَقّ مِثْلَ مَا أَنَّکُمْ تَنطِقُونَ- (ذاریات ٢٣)

ترجمہ:

آسمان اور زمین کے مالک کی قسم یہ قرآن بالکل برحق ہے جس طرح تم خود باتیں کر رہے ہو۔

تشریح:

امام سجاد ـسے منقول ہے : اس آیت میں حق سے مراد حضرت حجة ابن الحسن العسکری ـ کا ظہور ہے۔


(21) زمین کا جگمگانا

وَ أَشْرَقَتِ الأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهٰا- (زمر ٦٨)

ترجمہ:

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔

تشریح:

امام جعفر صادق ـ سے مروی ہے کہ جب قائم ـ کا ظہور ہوگا تو زمین نورِ پروردگار سے اس طرح جگمگا اٹھے گی کہ لوگ سورج کی روشنی سے بے نیاز ہوجائیں گے۔ دن رات ایک ہی معلوم ہونگے اور لوگ ہزار سال تک صحیح و سالم زندگی گزاریں گے۔


چوتھی فصل(دعا)


(1) د نیا اور آخرت میں سعادت کی دعا

رَبَّنَا أتِنا فی الدُّنیٰا حَسَنةُ وَفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّار-(سوره مبارکه بقره ٢٠١)

ترجمہ:

پروردگار ہمیں دنیا میں بھی نیکی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہم کو عذاب جہنم سے محفوظ رکھ۔

پیغام:

بعض افراد خدا سے دنیا کی سعادت چاہتے ہیں جب کہ مومنین خدا سے دنیا و آخرت دونوں کی سعادت چاہتے ہیں اور دین کا ہدف بھی یہی ہے کہ لوگوں کو دنیا و آخرت کی سعادت تک پہونچایا جائے۔

ہمیں جو تکلیف بھی پہنچتی ہے وہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے، لیکن خداوند عالم ہمیں اپنی پناہ میں لے کر اُس تکلیف کو راحت میں تبدیل کردیتا ہے۔

(2) اپنے اور اپنی اولاد کے حق میں دعا

رَبّ اجْعَلْنِی مُقِیْمَ الصَّلٰوة وَمِنْ ذُرِّیَتِیْ رَبَّنَا وتَقَبَّلْ دُعٰاء ربّنٰا اغفرلی وَلِوَالِدَیّ وَ لِلْمُؤمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُومُ الِحسَاب-(سوره مبارکه ابراهیم -٤٠-٤١)


ترجمہ:

پروردگار مجھے اور میری ذریت میں نماز قائم کرنے والے قرار دے اور پروردگار میری دعا کو قبول کرلے۔ پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین کو اُس دن بخش دینا جس دن حساب قائم ہوگا۔

پیغام:

نماز دین کی پہچان ہے ۔ نماز کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی اور معاشرہ کی زندگی کو خدا کی ہدایت اور رہنمائی کے ذریعہ کامیاب بنائیں، جب دعا کریں تو سب کیلئے دعا کریں، جیسا کہ جناب ابراہیم خلیل خدا ـنے اپنی اولاد، اپنے والدین اور تمام مومنین و مومنات کے حق میں دعا فرمائی۔ دعا کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ توحید اور معاد پر مکمل یقین رکھتا ہو۔

(3) ثابت قدمی کے لئے دعا

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَهَبْ لَنٰا مَنْ لَّدُنْکَ رَحْمَةً اِنَّکَ أَنْتَ الوَهَّابْ-(سوره مبارکه آل عمران ٨)

ترجمہ:

اے ہمارے پروردگار جب تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے تو اب ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا ہونے پائے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما کہ تو بہترین عطا کرنے والاہے ۔


پیغام:

ہدایت پانا ایک اہم أمر ہے لیکن اس سے زیادہ اہم ہدایت پر باقی رہنا ہے جس طرح ابتدائی ہدایت اس کی رحمت ہے بالکل اُس طرح ہدایت پر ثابت قدمی بھی اس کی رحمت کا جلوہ ہے۔ ہم اپنے جسم کو صحیح و سالم رکھنے کیلئے مسلسل سانس لیتے ہیں، اسی طرح اپنی روح کو صحیح و سالم رکھنے کیلئے ہمیں مسلسل خدا سے رابطہ رکھنا ہوگا تاکہ روح اپنے صحیح راستہ سے منحرف نہ ہونے پائے۔

(4)توبہ کیلئے دعا

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ وَ أَرِنَا مَنَاسِکَنا وَتُبْ عَلَیْنَاج اِنَّکَ أَنْتَ التَّوابُ الرَّحِیْم-(سوره مبارکه بقره١٢٨)

ترجمہ:

پروردگار ہم دونوں کو اپنا مسلمان اور فرمانبردارقرار دے اور ہماری اولاد میں بھی ایک فرمانبردار پیداکر، ہمیں ہمارے مناسک دکھلادے اور ہماری توبہ قبول فرما کہ تو بہترین توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔

پیغام:

ہر صاحب ایمان کو خدا سے ہدایت پر قائم رہنے کی دعا کرنی چاہیے اور اپنے ساتھ ساتھ اولاد کی ہدایت و راہنمائی کی تلاش و کوشش کے ساتھ دعا بھی کرنی چاہیے۔ حق کے سامنے سر تسلیم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ حق بات کہیں اور حق کا ساتھ دیں، ہمیں عبادت اور بندگی ،خدا کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق کرنی چاہیے خدا کی صفات سے آگاہی اس سے دعا کرنے میں تقویت کا سبب ہے۔ وہ توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔


(5) مومنین کی بخشش کیلئے دعا

رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُونَا بِالاِیْمٰانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوبِنَا غِلّاً لِّلّذینَ اٰمَنُوا رَبَّنَارَؤُف رَّحِیْم-(سوره مبارکه حشر١٠)

ترجمہ:

خدایا ہمیں معاف کردے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جنہوں نے ایمان میں ہم پر سبقت کی ہے، اور ہمارے دلوں میں صاحبان ایمان کے لئے کسی طرح کا کینہ نہ قرار دینا کہ تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔

پیغام:

بعض افراد دنیا کے مال و مقام کے حصول کی فکر میں رہتے ہیں ، اور ہمیشہ یہ آرزو کرتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ ثروت مند ہوجائیں لیکن مومنین اہل معنویت سے محبت کرتے ہیں اور ان ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے لئے طلب رحمت اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں ۔

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: مومنین مختلف جسموں کے باوجود ایک جان ہیں۔


(6) ہر کام کی اچھی ابتداء اور انتہا کے لئے دعا

رَبِّ أَدْخِلْنی مَدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِی مُخْرَجَ صِدْقٍ و اجْعَل لِی مِنْ لَدُنْکَ سُلْطٰانًا نصیراً-(سوره مبارکه اسرائ،٨٠)

ترجمہ:

پروردگار میرے ہر کام کی ابتداء و انتہا اچھی طرح اور بہترین انداز سے قرار دے اور میرے لئے ایک طاقت قرار دے دے جو میری مددگار ثابت ہو۔

پیغام:

ہرکام کی ابتدء اور انتہا نیک نیتی کے ساتھ ہونی چاہیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارا ہر کام سچائی اور رضائے الٰہی کی خاطر ہو، اگر ہم ہر کام نیک نیتی کے ساتھ انجام دیں تو ممکن ہے کہ ہمارا شمار صدیقین میں سے ہوجائے۔

(7) کافروں پر کامیابی کے لئے دعا

رَبَّنَا وَلَا تَحْمَل عَلَیْنٰآ اِصْرًا کَمٰا حَمَلْتَه عَلٰی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنٰاج رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ بِه وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنٰا وَارْحَمْنٰا أَنْتَ مَوْلٰنَا فَانْصُرْنٰا عَلٰی الْقَوْمِ الْکٰافِرِیْنَ- (سوره مبارکه بقره ٢٨٦)


ترجمہ:

خدایا ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈالنا جیسا پہلے والی اُمتوں پر ڈالا گیا ہے، پروردگار ! ہم پر وہ بار نہ ڈالنا جس کی ہم میں طاقت نہ ہو، ہمیں معاف کردینا ہمیں بخش دینا ہم پر رحم کرنا، تو ہمارا مولا اور مالک ہے، اب کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔

پیغام:

دعا کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی عجز و انکساری کا اظہار کریں اس کے بعد پروردگار کی عظمت و بزرگی کی گواہی دیں اور پھر دعا کریں۔

مومنین ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کفر پر کامیابی حاصل کرے۔

(8) صبر و استقامت کیلئے دعا

رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَیْنٰا صَبْرًا وَّثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلٰی القَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ-(سوره مبارکه بقره،٢٥٠)

ترجمہ:

خدایا ہمیں بے پناہ صبر عطا فرما ہمارے قدموں کو ثبات دے اور ہمیں کافروں کے مقابلہ میں نصرت عطا فرما۔


پیغام:

وہ لوگ ظالموں اور کافروں کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں جو جہاد بالسیف سے پہلے جہاد بالنفس کرکے مقام صبرو استقامت پر فائز ہوں اس لئے کہ اگر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تو میدان جہاد میں ثبات قدم رہنا مشکل ہے۔

خداوند عالم مومنین کی کامیابی چاہتا ہے لیکن یہ کامیابی جہاد اور مقابلہ کے بغیر ممکن نہیں ہے، باایمان مجاہد اور صابر خدا ہی سے مدد چاہتے ہیں۔

(9) متقیوں اور پرہیز گاروں کے پیشوا ہونے کی دعا

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مَنْ أَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیٰتِنٰا قُرَّةَ أَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا-(سوره مبارکه فرقان،٧٨)

ترجمہ:

خدایا ہمیں ہماری ازواج اور اولاد کی طرف سے خنکی چشم عطا فرما اور ہمیں صاحبان تقویٰ کا پیشوا بنادے۔

پیغام:

صالح بیوی اور صالح فرزند انسان کی دنیا و آخرت کی سعادت کے لئے زمین ساز ہیں۔ صالح فرزند جنت کے پھولوں میں سے ایک پھول ہے۔

دوستان خدا وہ لوگ ہیں جو خود بھی تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور صاحبان تقویٰ کے پیشوا بننے کے خواہش مند ہیں۔


(10) طلب رحمت کے لئے دعا

رَبَّنَا اٰتِنَا مِن لَّدُنْکَ رَحْمَةً وَّ هَیِّیُٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنٰا رَشَدًا-(سوره مبارکه کهف،١٠)

ترجمہ:

پروردگار ہم کو اپنی رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے کام میں کامیابی کا سامان فراہم کردے۔

پیغام:

خداکی رحمت تمام انسانوں کے شامل حال ہے مگر بعض لوگ اس رحمت کو عذاب میں تبدیل کرلیتے ہیں ، اور مومنین اس رحمت کو کمال اور سعادت تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیتے ہیں، ہمیں ایسا ہی ہونا چاہیے۔

خداوند ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ ہم کمال وسعادت کے راستہ پر گامزن رہیں اور اس سلسلے میں اس سے مدد طلب کریں، تاکہ صحیح اور درست راہ کو پالیں۔

(11) مغفرت کیلئے دعا

غُفْرانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ المَصِیْر- (سوره مبارکه بقره،٨٠)


ترجمہ:

پروردگار تیری ہی مغفرت درکار ہے اور تیری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔

پیغام:

خداوند عالم کی بخشش ہماری تربیت کیلئے زمین ساز ہے خداوند عالم ، عالم طبیعت میں خاک سے پھل اور پھول پیدا کرتاہے۔اور اسی طرح اپنی رحمت سے ہماری برائیوں کو خوبیوں میں اور ضلالت کو ہدایت میں بدل دیتا ہے۔ تمام انسانوں کو اسی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے مومنین اس کی رحمت کے زیر سایہ ہوں گے اور کفار اس کے عذاب میں گرفتار رہیں گے اور یہ وہ راستے ہیں جو خود انہوں نے انتخاب کئے ہیں۔

(12) نور ہدایت کی تکمیل کیلئے دعا

رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَاج اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَی ئٍ قَدِیْر- (سوره مبارکه تحریم،٨٠)

ترجمہ:

خدایا ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کردے اور ہمیں بخش دے کہ تو یقینا ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔


پیغام:

سیر وسلوک کا عمل کبھی نہیں روکتا ہے ، ہمیں اس سے یہی دعا کرنی چاہیے، کہ وہ اس سفر میں ہمیں روز بروزترقی عطا فرمائے ، ہم ایسی ذات سے اپنی بات کہتے ہیں اورایسی ذات سے محبت کرتے ہیںجو ہر چیز پر قدرت رکھتی ہے اور ہمیں سعادت و کمال تک پہونچا سکتی ہے۔

(13) صبر و تحمل کیلئے دعا

رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَیْنٰا صَبْراً وّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِینَ-(سوره مبارکه اعراف،٨٠)

ترجمہ:

خدایا ہم پر صبر کی بارش فرما اور ہمیں مسلمان دنیا سے اُٹھانا۔

پیغام:

صاحبان ایمان زمانے کے فرعون کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور کسی قوت اور طاقت کی پرواہ نہیں کرتے ہیں اور اس میں استقامت کے لئے ہمیشہ بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہیں، صاحبان ایمان کا قیام ظالم اور ستمگر کیلئے شکست کا پیغام لے کر آتا ہے۔

استکبار اور طاغوتی طاقتوں کے ظلم و جور کی وجہ سے صاحبان ایمان کو اپنا ہدف نہیں چھوڑنا چاہئیے۔


(14) ظالموں سے بیزاری کیلئے دعا

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنٰا مَعَ الْقَوْمِ الظَلِمِیْنَ-(سوره مبارکه اعراف،٤٧)

ترجمہ:

پروردگار ا، ہم کو ظالمیں کے ساتھ نہ قرار دینا۔

پیغام:

جب اہل جنت، دوزخ کے پاس سے گزریں گے تو یہ دعا کریں گے ، جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ قیامت میں ظالمیں کے ساتھ نہ ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ دنیا میں ظلم سے پرہیز کرے۔ اس لئے کہ ظلم وستم اہل جہنم اور شفقت و مہربانی اہل جنت کی صفت ہے۔

(15)شرح صدر کے لئے دعا

رَبِّ اشرَحْ لِیْ صَدْرِیْ- وَیسِّرْ لِی اَمْرِیْ- وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِی- یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ -

(سوره مبارکه طه،٢٥-٢٨)


ترجمہ

:پروردگار میرے سینے کو کشادہ کردے، میرے کام کو آسان کردے، اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے۔

پیغام:

جب جناب موسیٰ ـ فرعون سے نبرد آزما ہوئے تو یہ دعا فرمائی۔

فرعونیوں سے مقابلے کے لئے ہمت اور ارادہ کی پختگی درکار ہوتی ہے، انبیاء اور ان کے پیروکاروں میں ارادہ کی غیر پختگی اور بے صبری نہیں پائی جاتی ہے۔ ہمیں خدا سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں ان صفات سے آراستہ کرے تاکہ ہم انبیاء کے بتائے ہوئے، راستے پر چل کر دین کی خدمت کرسکیں۔

(16) شکر گذاری کیلئے دعا

رَبِّ اوزِعْنِیْ أَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِی أَنْعَمْتَ عَلَیّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَ أَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰاهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ-(سوره مبارکه احقاف،١٥)

ترجمہ:

پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کروں جو تونے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور ایسا نیک عمل کروں کہ تو راضی ہوجائے اور میری ذریت میں بھی صلاح و تقویٰ قرار دے۔


پیغام:

نعمت کی معرفت اور اُس پر شکر گذاری ایک ایسا بلند و بالا مقام ہے جس کے حصول کے لئے خدا سے دعا کرنی چاہیے ، خدا کی نعمتوں پر عملی شکر یہ ہے کہ ہم ہر کام خدا کی مرضی کے مطابق انجام دیں۔ والدین نے جو زحمتیں اٹھائی ہیں انہیں نہ بھلائیں اور ان کے حق میں دعا کرتے رہیں ، صالح اور نیک فرزند خدا کی ایک نعمت سے جس کے لئے ہمیں اُس سے دعا کرنی چاہیے۔

(17) فرزند صالح کے لئے دعا

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًج اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعٰآئِ- (سوره مبارکه آل عمران ،٣٨)

ترجمہ:

پروردگار مجھے اپنی طرف سے ایک پاکیزہ اولاد عطا فرما کہ تو ہر ایک کی دعا سننے والا ہے۔

پیغام:

اولاد کی اصلاح اور تربیت کی فکر ایک اہم فکر ہے ان کی صلاح وبہتری کے لئے پروگرام ترتیب دیئے جائیں اور اس سلسلے میں مکمل کوشش کے ساتھ خدا سے ہدایت اور مدد طلب کرنی چاہیے۔ نوجوان نسل کی اخلاقی اور معنوی پیش رفت ان کے اچھے مستقبل کی نوید ہے اور یہ وہ چیز ہے کہ جس سے معنویت اور انسانیت کے دشمن خوفزدہ و ہراساں ہیں۔


(18) مومنین کے لئے طلب رحمت کی دعا

رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِی مُؤمِناً وَّ لِلْمُؤمِنِیْنَ وَ الْمُؤمِنٰتٍط وَلَا تَزِدِ الظَّلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا- (سوره مبارکه نوح ،٢٨)

ترجمہ:

پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوجائیں اور تمام مومنین و مومنات کو بخش دے اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے علاوہ کسی شی میں اضافہ نہ کرنا۔

پیغام:

صاحبان ایمان رحمت اور مغفرت کو صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے والدین اپنی قوم و ملت اور تمام مومنین اور مومنات کے لئے طلب کرتے ہیں، مومنین کے لئے طلب رحمت اور ظالمین کے لئے عذاب کی دعا کرنا ہمارے اجتماعی اور معاشرتی کردار کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم مومنین کے سامنے متواضع اور ظالمین کے سامنے ثابت قدم اور استوار ہیں۔

(19) ثابت قدمی اور کفار پر کامیابی کی دعا

رَبَّنَا اغفرلَنٰا ذُنُوبَنا وَاسْرٰافَنَا فِیْ أَمْرِنٰا وَ ثَبِّتْ أَقْدَامَنٰا وَانْصُرْنٰا عَلٰی الْقَوْمِ الکافِرِیْنَ - (سوره مبارکه آل عمران،١٤٧)


ترجمہ:

خدایا ہمارے گناہوں کو بخش دے ، ہمارے امور میں زیادتیوں کو معاف فرما۔ ہمارے قدموں کو ثبات عطا فرما اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

پیغام:

اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے ہمارے گناہ بخش دے گا کیوں کہ وہ گناہوں کا بخشنے والا ہے۔ اگر ہم تقویٰ الٰہی اختیار کریں اور حق کے راستہ پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں تو ہم یقینی طور پر کافروں پر غالب آسکتے ہیں۔

(20) صالحین کے ساتھ ملحق ہونے کی دعا

رَبَّ هَبْ لِیْ حُکْمًا وَّ أَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ- (سوره مبارکه شعرائ،٨٣)

ترجمہ:

خدایا مجھے علم و حکمت عطا فرما اور مجھے صالحین کے ساتھ ملحق کردے۔

پیغام:

وہ علم قابل قدر ہے جو صالحین کے ساتھ ملحق ہونے کا پیش خیمہ ہو، وہ علم جو پرہیزگاری اور تقوٰے کے ساتھ ہو نور ہے اور انسان کوسعادت اور کمال تک پہونچاتا ہے اور وہ علم جو تقوے اور پرہیز گاری کے بغیر ہو خطرناک ہتھیار کی مانند ہے۔


(21) نیک افراد کے ساتھ محشور ہونے کی دعا

رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَ کَفِّرْ عَنَّا سَیِّاتِنٰا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ- رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مٰا وَعَدتَّنٰا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخْزِنٰا یَوْمَ القِیٰامَةِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعٰاد-(سوره مبارکه آل عمران،١٩٣-١٩٤)

ترجمہ:

پروردگار اب ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہماری برائیوں کی پردہ پوشی فرما اور ہمیں نیک بندوں کے ساتھ محشور فرما ۔پروردگار جو تو نے اپنے رسولوں سے وعدہ کیا ہے اُسے عطا فرما اور روز قیامت ہمیں رسوا نہ کرنا کہ تووعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔

پیغام:

صالحین اورانبیاء کے ساتھ محشور ہونا ایک بلند و بالا مقام ہے جس کے حصول کے لئے ہمیں کوشش کرتے ہوئے خدا سے دعا کرنی چاہیئے۔


پانچویں فصل(علم)


(1) قلم علامت علم

اِقْرائَ وَ رَبَّکَ الأَکْرَمُ- أَلَّذِی عَلَّم بِالْقَلَم-(سوره مبارکه علق ٣،٤)

ترجمہ:

پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی۔

پیغام:

انسان کا سب سے پہلا معلم خدا ہے۔ قرآن نے قلم کو تحصیل علم کے لیے ایک وسیلہ قرار دیا ہے اور تحصیل علم کے سلسلے میں استعداد کا ہونا خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ امام علی ـ سے روایت ہے ''علم دل کی زندگی اور آنکھوں کا نور ہے''۔

(2) تربیت اور تعلیم

یتلوا عَلَیْکُمْ اٰیٰاتُنٰا وَ یُزکّیکُمْ وَ یُعَلّمُکُم الْکِتٰابَ وَ الْحِکْمَة ---(سوره مبارکه بقره -١٠١)


ترجمہ:

جو تم پر ہماری آیات کی تلاوت کرتا ہے تمہیں پاک و پاکیزہ بناتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔

پیغام:

انبیاء کا پہلا فریضہ تزکیہ نفس اور پھر تعلم دینا ہے۔

انبیاء خدائے حکیم کی طرف سے کتاب حکیم لے کر آئے تاکہ لوگوں کو حکمت اور صحیح فکر کی تعلیم دیں۔

(3) وہ علم جس کے انبیاء معلم ہیں

وَ یُعَلِّمُکُمْ مٰا لَمْ تکونوا تعلمون- (سوره مبارکه بقره ١٥١)

ترجمہ:

اور تمہیں وہ سب کچھ بتاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔

پیغام:

بشر مختلف علوم جیسے فیزیک، انجینیرنگ وغیرہ حاصل کرسکتا ہے لیکن انبیاء کرام بشر کی تربیت اور اس کی عقل کی رہنمائی کے ذریعہ اُسے دنیا و آخرت کی سعادت سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔ علم تجربی ایک ایسا وسیلہ ہے جسے ہم بناتے ہیں اور انبیاء ہمیں صحیح راہ کی شناخت کراتے ہیں جس کے ذریعہ معاشرہ میں عدالت کا قیام وجود میں آتا ہے اور اس طرح ایک معاشرہ کمال و سعادت تک پہنچ جاتا ہے۔صحیح ہدف تک پہنچنے کے لیے انسان عقل اور وحی دونوں کا محتاج ہے۔


(4)اسماء حسنی کی تعلیم

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الأسْمٰائُ کُلَّهٰا ---(سوره مبارکه بقره ٣١)

ترجمہ:

اور خدا نے آدم کو تمام اسماء کی تعلیم دی۔

پیغام:

خداوند تمام کمالات کا سرچشمہ ہے اور اُس نے انسان کو تمام کمالات کے حصول کی استعداد عطا کی ہے۔

مختلف علوم اور ٹیکنالوجی میں ترقی اور پیشرفت سب خدائی جلوے ہیں جو انسان میں جلو گر ہوتے ہیں۔

(5) باعث افتخار

یرفع اللّٰهُ الَّذین اٰمَنُوا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا العِلْمَ درجات--- (سوره مبارکه مجادله ١١)

ترجمہ:

خدا صاحبان ایمان اور جن کو علم دیا گیا ہے ان کے درجات کو بلند کرنا چاہتا ہے۔


پیغام:

مال و متاع انسان کے لیے باعث افتخار نہیں بلکہ باعث افتخار و امتیاز وہ درجہ ہے جو خدا نے اُسے عطا کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ باایمان صاحبان علم کو بلند درجہ عطا فرماتا ہے ۔ علم و ایمان انسان کی پرواز کے دو وسیلہ ہیں ایمان کے بغیر علم خطرناک ہے اور اسی طرح علم کے بغیر ایمان محض تعصب ہے لیکن اگر یہ دونوں جمع ہوجائیں تو انسان درجہ کمال تک پہنچ سکتا ہے۔

(6) ثمر علم

اِنَّمٰا یَخْشٰی اللّٰه مِنْ عِبٰادِه العُلمٰائُ-(سوره مبارکه فاطر،٢٨)

ترجمہ:

اللہ سے ڈرنے والے اس کے بندوں میں صرف صاحبان معرفت ہیں۔

پیغام:

خشیت الٰہی معرفت کا ایسا بلند مقام ہے جس تک اہل علم ہی پہنچتے ہیں۔ اسرار کائنات سے آگاہی ، معرفت الٰہی کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے جو علم و آگاہی کے باوجود توحید کی معرفت نہ رکھتا ہو اس کی مثال اس درخت کی سے ہے جس میں پھل نہ ہو۔ امام علی ـ نے فرمایا: ثمر علم عبادت ہے۔


(7) قدرت علم

قالَ الَّذِی عِنْدَه عِلْم مِنَ الْکِتٰاب آنَا اتیک به قبل ان یرَتَدَّ اِلَیْکَ طرفُکَ-(سوره مبارکه نمل ٤٠)

ترجمہ:

اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہ علم تھا اس نے کہا میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے۔

پیغام:

علم قدرت کا سرچشمہ ہے اہل علم عالم طبیعت پر حکمرانی کرسکتے ہیں۔ علم کی بے پناہ قدرت کو مقدس اھداف کے حصول کے لیے کام میں لانا چاہیئے۔ جیسا کہ جناب سلیمان ـ کے زمانہ میں آصف برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس کو حاضر کرکے اس کی ہدایت کا زمینہ فراہم کردیا تھا۔

(8) مقام و منصب کی شرط

وَ زادَهُ بسطَةً فِی الْعِلْم وَالجِسْم-(سوره مبارکه بقره،٢٤٧)


ترجمہ:

اور ان کے علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے۔

پیغام:

مقام ومنصب کے لیے علمی توانائی کے ساتھ ساتھ جسمانی قوت بھی ضروری ہے گرچہ علمی توانائی اہم ہے۔

مقام و منصب کے لیے مال و مقام معیار نہیں بلکہ علم و جسم کی وسعت کے ساتھ لوگوں کی خدمت معیار ہے۔

(9) وسیلہ امتحان

فَاِذَا مَسَّ الاِنْسَانَ ضُرّ دَعَانٰا ثُمَّ اِذَا خَوَّلنه' نِعْمَةً مِنَّا قَالَ اِنَّمَا أوتیتهُ عَلٰی عِلْمٍ بَلْ هِیَ فِتْنَة ---- (سوره مبارکه زمر،٤٩)

ترجمہ:

اور پھر جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے اور اس کے بعد جب ہم نعمت دیدیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم کی زور پر دی گئی ہے ۔ حالانکہ یہ ایک آزمائش ہے۔

پیغام:

ایمان کے بغیر علم انسان کو خودبین اور متکبر بنادیتا ہے اور یہ چیز تمام انحرافات کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے اہل معرفت ہمیشہ اور ہر حال میں خوشی اور غمی کے موقع پر خدا کو یاد کرتے ہیں۔ کسب علم کی استعداد خدا کی ایک عطا ہے۔ اور علم دوسری نعمتوں کی طرح انسان کی آزمائش کا ذریعہ ہے۔


(10) کمال سے روکنے والا

قَالَ اِنَّمَا اوتیتهُ علٰی علمٍ عِنْدِی ---(سوره مبارکه قصص،٧٨)

ترجمہ:

قارون نے کہا مجھے یہ سب کچھ میرے علم کی بناء پر دیا گیا ہے۔

پیغام:

علم انسان کو شخصیت عطا کرتا ہے اور ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعہ لوگوں کی خدمت کے فرائض انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ علم فخر ومباہات کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ خدمت کا وسیلہ ہے اور علم وسیلہ تجارت بھی نہیں ہے جو لوگ علم کو کسب و تجارت کا وسیلہ قرار دیتے ہیں نہ وہ علم سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں اور نہ اکھٹا کی ہوئی دولت سے ۔ جس طرح قارون نہ علم سے فائدہ اٹھا سکا اور نہ دولت سے۔ امام علی ـ نے فرمایا: علم مال سے بہتر ہے۔ علم انبیاء کی وراثت ہے اور مال فرعون کی۔

(11)ذرائع علم

وَاللّٰهُ أَخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهٰاتِکُمْ لَا تَعْلَمُونَ شیئًا وَجَعَلَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالْأبْصٰارَ وَالأَفْئِدَةَ لَعَلّکُمْ تشکرون- (سوره مبارکه نحل، ٧٨)


ترجمہ:

اور اللہ ہی نے تمہیں شکم مادر سے اس طرح نکالا ہے کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اسی نے تمھارے لیے آنکھ،کان اور دل قرار دیتے ہیں۔

پیغام:

تحصیل علم کے لیے استعداد اور اُن وسائل کا ہونا بہت ضروری ہے جن کے ذریعہ ہم علم حاصل کرتے ہیں جیسے آنکھ کان وغیرہ۔ اور اُس نے یہ سب چیزیں ہماری درخواست سے پہلے ہی ہمیں عطا کردیں۔ اب جب کہ استعداد اور آنکھ کان وغیرہ خدا کی طرف سے عطا کردہ ہیں تو ہمیں انہیں اُس کی راہ میں استعمال کرنا چاہئیے۔

علم اور اس کے وسائل کی صورت میں دی ہوئی نعمت کا شکریہ یہ ہے کہ ہم انہیں لوگوں کی خدمت کرنے میں استعمال کریں۔

(12) صاحبان علم ہی صاحبا عقل ہیں

--- وَتِلْکَ الأَمْثَالُ نَضْرِبُهٰا لِلنَّاس وَمَا یَعْقِلْهٰا اِلّا العٰالِمُونَ---(سوره مبارکه عنکبوت،٤٣)

ترجمہ:

اور یہ مثالیں ہم تمام عالم انسانیت کے لیے بیان کررہے ہیں لیکن انہیں صاحبان علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔


پیغام:

قرآن کی مثالیں عمیق ہیں عوام الناس کے علاوہ صاحبان علم و فھم کو بھی چاہیئے کہ ان میں دقت کریں قرآن صاحبان فکر اور اہل علم کو عظمت کے ساتھ یاد کرتا ہے ہمیں اہل علم اور صاحبان فکر میں سے ہونے کی کوشش کرنی چاہیئے اہل علم ہی جانتے ہیں کہ خدا کے علاوہ کوئی بھی چیز ان کی مددگار ثابت نہیں ہوسکتی ۔

(13) نقصان دہ علم

یُعَلِّمُونَ النّاسَ السِّحْرَ----فَیَتَعَلَّمونَ مِنْهُمٰا مٰا یُفَرِّقُونَ بِه بَیْنَ الْمَرْئِ وَ زَوْجِه ---(سوره مبارکه بقره،١٠٢)

ترجمہ:

کافر شیطانین لوگوں کو جادو کی تعلیم دیتے تھے۔

پیغام:

وہ علوم جو لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سیکھے جائیں جیسے جادو وغیرہ ان کا سیکھنا ایک شیطانی کام ہے بلکہ کفر کی حد تک حرام ہے۔

علم ایک ایسا وسیلہ ہے کہ اگر اپنی صحیح راہ سے منحرف ہوجائے تو اُس سے سوء استفادہ کیا جاتا ہے نااہل آدمی کے پاس علم و ہنر کا ہونا نہ صرف مفید نہیں بلکہ معاشرے کے لیے مضر بھی ہے۔


(14) سؤال

فَسْئَلُوا أَهلَ الذّکر ان کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُون-(سوره مبارکه اعراف،٤٧)

ترجمہ:

تو تم لوگ اگر نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں سے دریافت کرو۔

پیغام:

زندگی کے اہم سوالات ان افراد سے پوچھے جائیں جو اہل علم و معرفت ہوں۔ جو خدا کے عطا کیے ہوئے خصوصی علم کے ذریعہ ہماری رہنمائی فرمائیں بہترین سوال کرنا ایک ایسافن ہے جس کے ذریعہ ہم دنیا کی خوبصورتی اور تمام علوم سے آگاہ ہوسکتے ہیں۔

(15) راسخون فی العلم

وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ یَقُولُونَ أَمَنَّا بِه کُلّ مِنْ عِنْدَ رِبِّنا وَ مَا یَذَّکَّرو اِلَّا أُولُو الأَلْبٰاب-(سوره مبارکه عمران،٧)

ترجمہ:

جو علم میں رسوخ رکھنے والے ہیں جن کا کہنا یہ ہے کہ ہم اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ سب کی سب محکم و متشابہ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے۔ اور یہ بات سوائے صاحبان عقل کے کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔


پیغام:

خداوند عالم راسخون فی العلم کی تعریف و تمجید کرتا ہے۔ راسخون فی العلم کی برجستہ اور روشن ترین مثال آئمہ معصومین ـ ہیں لیکن راہِ کمال و سعادت سب کے لیے کھلی ہوئی ہے۔

صاحبان عقل اور صاحبان علم خدا کی آیات پر یقین رکھتے ہیں مگر جن کا ایمان کمزور ہوتا ہے وہ اپنی آراء کو خدا کی آیات بات پر تحمیل کرتے ہیں۔

(16) جاننے والے اور نہ جاننے والے

قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُونَ اِنَّمَا یَتَذکَّرُ اولو الألْبٰاب-(سوره مبارکه زمر،٩)

ترجمہ:

کہہ دیجئے کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں اُن کے برابر ہوجائیں گے جو نہیں جانتے ہیں۔

پیغام:

جاہل اور عالم ظاہری طور پر برابر ہیں لیکن شخصیت کے اعتبار سے دونوں میں روشن دن اور تاریک رات جیسا فرق ہے یا خشک زمین اور صاف اور میٹھے چشمہ جیسا۔

علم ایک ایسی فضیلت ہے جس کے حصول کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیئے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: گہوراہ سے لے کر لحد تک علم حاصل کرو۔


(17) عالم بے عمل

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّورةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوهَا کَمَثَلِ الحِمَار، یَحْمِلُ أسْفَارا---(سوره مبارکه جمعه ،٥)

ترجمہ:

ان لوگوں کی مثال جن پر توریت کا بار رکھا گیا اور وہ اسے اٹھا نہ سکے اس گدھے کی مثال ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھاتے ہوئے ہو۔

پیغام:

علم صحیح عمل اور صحیح زندگی گزارنے کا ایک وسیلہ ہے۔ بے عمل شخص اس حیوان کی مانند ہے۔ جس پر وزن لاد دیا گیا اور اُس کا اُسے کوئی فائدہ نہ ہو۔

حیوان جس طرح کتابوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اُسی طرح ان کے ذریعہ نقصان بھی نہیں پہنچا سکتا تو کیا وہ انسان جو اپنے علم سے سوء استفادہ کرتا ہے حیوان سے بدتر نہیں ہے؟


(18) علم و قدرت خدمت انسان میں

رَبِّ قَدْ أَتَیتَنِی مِنَ الْمُلِ و عَلَّمْتَنِی مِنْ تَأوِیلِ الأحٰادِیْثِ --- تَوَفَّنِی مُسْلِمًا وَ أَلْحِقْنِیْ بِالصَالِحِیْنَ- (سوره مبارکه یوسف ،١٠١)

ترجمہ:

پروردگار تو نے مجھے ملک بھی عطا کیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی دیا۔ مجھے دنیا سے فرمانبردار اٹھانا اور صالحین سے ملحق کردینا۔

پیغام:

عادلانہ حکومت کے قیام کے لیے علم اہم کردار ادا کرتا ہے۔ صالحین حکومت کو رضائے الٰہی اور لوگوں کی خدمت کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں خدا سے راز و نیاز اور دعا کرتے رہنی چاہیئے۔

جو لوگ صاحب علم و قدرت ہیں انہیں دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ خدا کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

(19) معلم بزرگ

الرَّحْمٰان- عَلَّمَ القُرآنَ - خَلَقَ الْاِنْسٰانَ - عَلَّمَهُ البَیَان- (سوره مبارکه رحمن، ١-٤)


ترجمہ:

وہ خدا بڑا مہربان ہے۔ اس نے قرآن کی تعلیم دی ہے۔ انسان کو پیدا کیا ہے۔ اور اسے بیان سکھایا ہے۔

پیغام:

قرآن کی تعلیم انسان کی تخلیق سے بھی زیادہ اہم مسئلہ ہے اس لیے کہ اگر انسان کے پاس نور ہدایت نہ ہو تو وہ حیوان سے بھی بدتر ہے۔

ہم انسانوں کو چاہئیے کہ اُس عظیم معلم کے لائق اور فرمانبردار شاگرد بنیں۔

(20) علم اور تقویٰ

وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اللّٰهُ وَ اللّٰهُ بِکُلِّ شیئٍ عَلِیْمٍ- (سوره مبارکه بقره، ٢٨٢)

ترجمہ:

اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

پیغام:

پاکیزہ دل ، ذرخیز زمین کی مانند ہے جس میں علوم پروان چڑھتے ہیں خداوند تمام چیزوں کا علم رکھتا ہے وہ ہماری ہر ضرورت سے واقف ہے اور اپنے وسیع علم کی بناء پر ہمیں سعادت مند زندگی گزارنے کے اصول بتاتا ہے۔


(21)خیر فراوان

وَمَنْ یُؤتَ الحِکْمَةَ فَقَدْ أُوْتِیَ خَیْراً کثیرا-(سوره مبارکه بقره ،٢٦٩)

ترجمہ:

اور جسے حکمت عطا کردی جائے گویا اُسے خیر کثیر عطا کردیا گیا ہے۔

پیغام:

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مال و مقام باعث عزت و سربلندی ہے جب کہ قرآن نے حکمت ، معرفت اور علم کو خوبیوں کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔


چھٹی فصل(اسرار کائنات)


(1) خاک سے پیدائش

وَمِنْ اٰیٰا تِهِ أَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرٰابٍ ثُمَّ اِذَا أَنْتُمْ بَشَر تَنْتَشِرُونَ- (سورئه مبارکه روم،٢٠)

ترجمہ:

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں خاک سے پیدا کیا ہے اور اس کے بعد تم بشر کی شکل و صورت پھیل گئے ہو۔

توضیح:

تمام پھل ، سبزیاں اور دالیں جو انسان کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں سب زمیں سے اُگتی ہیں ان کے علاوہ دوسرے جن اجزاء ، کیلشیم ، سوڈیم، فولاد وغیرہ کی انسان کے بدن کو ضرورت ہوتی ہے سب زمین سے حاصل ہوتے ہیں۔

جس بات کو قرآن نے بیان کیا تھا نئی اورجدید ریسرچ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے کہ انسان کا نطفہ خاک کے اجزاء سے بنتا ہے۔

(2) جَنِین کے مراحل

ثُمَّ خَلَقْنٰا النُّطْفَةُ عَلَقَة فَخَلَقْنٰا العَلَقَة مضغة فَخَلَقنٰا المضغَةَعَظٰاماً فَکَسُونَا العِظَامَ لَحْمَا ---(سورئه مبارکه مومنون ١٤)


ترجمہ:

پھر نطفہ کو علقہ بنایا ہے اور پھر علقہ سے مضغہ پیدا کیا ہے اور پھر مضغہ سے ہڈیاں پیدا کی ہیں اور پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ہے۔

توضیح:

جنین کا پہلا مرحلہ مرد وزن کے جنسی سیل کاہے اس کے بعد نطفہ رحم زن میں علقہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور پھر اس کے بعد یہ مضغہ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور اس کے بعد اس میں ہڈیاں پیدا ہوتی ہے اورپھر اُن ہڈیوں پر گوشت چڑھتا ہے۔

اور یہ وہ مراحل ہیں جن تک آج کی سائنسی دنیا بہت زیادہ تحقیق اور جستجو کے بعد پہنچی ہے۔

(3) تاریکی میں خلقت

یَخْلُقُکُمْ فِی بُطونِ امّهٰاتِکُمْ خَلْقًا مِن بعد خَلْقٍ فی ظُلُمٰاتٍ ثلاث--- (سورئه مبارکه زمر ،٦)

ترجمہ:

وہ تم کو تمہاری ماؤں کے شکم میں تخلیق کی مختلف منزلوں سے گزارتا ہے اور یہ سب تین تاریکیوں میں ہوتا ہے۔


توضیح:

أطباء کے مطابق تین تاریکیوں سے مراد وہ پردے ہیں جن میں جنین ولادت سے پہلے کے مراحل طے کرتا ہے اور وہ تین تاریکیاں یہ ہیں:

1۔ تاریکی شکم 2۔ تاریکی رحم 3۔ تاریکی مشیمہ (بچہ دانی)

حقیقت امر یہ ہے کہ یہ خالق کائنات کا کمال تخلیق ہے ورنہ انسان کا جیسا حسین نقش ایسی تاریکیوں میں ابھار دینا اور وہ بھی قطرہ آب پر جس کے نقش کو ہمیشہ غیر مستقر اور نقش بر آب کیا جاتا ہے صرف پروردگار کا کمال ہے ۔ دنیا کا کوئی نقاش تو سوچ بھی نہیں سکتا ہے تخلیق کا کیا سوال ہے۔

(4) بڑھاپا

وَمَنْ نعمّرْه ننکِّسهُ فی الخَلْقِ أفَلا یعقلون -(سورئه مبارکه یس،٦٨)

ترجمہ:

اور ہم جسے طویل عمر دیتے ہیں تو اُسے خلقت میں بچپنے کی طرف واپس کردیتے ہیں کیا یہ لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

توضیح:

:أطباء کا کہنا ہے کہ جسم میں 50 سال کے بعد ضعف پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے مثال کے طور پر انسان کا دل ایک اندازے کے مطابق ہر سال 3 کروڑ 6لاکھ بار پھیلتا اور سکڑتا ہے اور پھر تدریجی طور پر یہ رفتار کم ہوجاتی ہے اور وہ سیل جو بدن کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں نابود ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔


(5) کشش ثِقل

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضِ کِفٰاتا- (سورئه مبارکه مرسلات، ٢٥)

ترجمہ:

کیا ہم نے زمین کو ایک جمع کرنے والا ظرف نہیں بنایا ہے۔

توضیح:

کفات کے معنی جمع کرنے اور سمیٹنے کے ہیں کہ زمین تمام چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی اور جذب کرتی ہے۔

ممکن ہے لفظ ''کفات ''(جس کے معنی جمع اور جذب کرنے کے ہیں) کا استعمال کشش ثقل کی طرف اشارہ ہو ۔ کہا جاتا ہے کہ ابوریحان بیرونی (م440ھ ق) وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے کشش ثقل کو دریافت کیا لیکن مشہور یہ ہے کہ سترویں صدی (17) عیسوی میں نیوٹن نے کشش ثقل کا انکشاف کیا تھا۔


(6) زمین کی گردش

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهٰادا- (سورئه مبارکه نبائ،٦)

ترجمہ:

کیا ہم نے زمین کو گہوار نہیں بنایا ہے۔

توضیح:

جس طرح گہوارہ حرکت کرتا ہے لیکن گہوارہ کی حرکت بچے کے لیے پریشانی اور اضطراب کا سبب نہیں ہے بالکل اسی طرح زمین بھی حرکت کرتی ہے لیکن اس کی حرکت اُس پر زندگی بسر کرنے والوں کے لیے باعث اضطراب و پریشانی نہیں ہے۔

علمی اور صنعتی ترقی اور پیش رفت کے نتیجے میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ زمین بہت تیزی سے حرکت کررہی ہے اور سائنسدانوں نے ابھی تک زمین کی 14 طرح کی حرکت کو دریافت کیا ہے۔

(7) وسعت آسمان

وَ السَّمَاء بَنیْنَاهٰا بأَییدٍ وَاِنَّ لَموسِعُونَ-(سورئه مبارکه ذاریات،٤٧)

ترجمہ:

اور آسمان کو ہم نے اپنی طاقت سے بنایا ہے اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔


توضیح:

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فضا میں (جو کروڑں کہکشاں پر مشتمل ہے) بہت تیزی سے وسعت پیدا ہورہی ہے جس کا اندازہ سیاروں کے مزید دور ہونے کی وجہ ے لگایا گیا ہے ایک اندازہ کے مطابق فضا میں ایک سیکنڈ میں 66ہزار کلومیٹر وسعت پیدا ہوتی ہے۔

(8) سیاروں کی خلقت

ثُمّ استَوی اِلی السَّماء وَهِی دُخٰان-(سورئه مبارکه فصلت ،١١)

ترجمہ:

اس کے بعد اس نے آسمان کی طرف رخ کیا جو بالکل دھواں تھا۔

توضیح:

جدید ریسرچ کے مطابق جہان مختلف گیسوں سے مل کر بنا ہے جس کا اصلی عنصر ہائیڈروجن اور باقی ہلیوم ہے گیسوں کا یہ مجموعہ بادل کی صورت اختیار کرنے کے بعد بڑے بڑے عناصر کی صورت میں تبدیل ہوگیا اور پھر آخر میں اسی مجموعہ نے کہکشاں کی صورت اختیار کرلی ہے۔ سیاروں کی خلقت کے بارے میں سائنسدانوں کے اس نظریہ کی طرف قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے۔


(9)سبز درخت سے آگ

الذی جَعَلَ لَکُم مِنَ الشَّجَرا الْأَخْضَرِ نَارا-(سورئه مبارکه یس،٨٠)

ترجمہ:

جس نے تمہارے واسطے ہرے درخت سے آگ پیدا کردی۔

توضیح:

ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ آگ تو خشک درخت سے حاصل ہوتی ہے پھر قرآن نے آگ کا منشاء سبز درخت کو کیوں قرار دیا ہے؟

قابل توجہ بات یہ ہے کہ فقط سبزدرخت ہی سورج سے کاربن کے ذخیرہ اندوزی کا کام انجام دے سکتا ہے۔ اور قرآن کی اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

(10) پہاڑوں کی حرکت

وَتَرَی الجِبٰالَ تَحسَبُهاجامدة وَهِیَ تَمُرّ مَرَّ السحاب-(سورئه مبارکه نمل،٨٨)


ترجمہ:

اور تم پہاڑوں کو دیکھ کر انہیں مضبوط اور جمے ہوئے سمجھتے ہو حالانکہ یہ بادل کی طرح اڑے اڑے پھریں گے۔

توضیح:

ظاہری طور پر پہاڑوں کی حرکت قابل مشاہدہ نہیں ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ سوچیں کہ پہاڑوں کی حرکت سے کیا مراد ہے؟

زمین حرکت کرتی ہے کیا یہی حرکت مراد ہے؟

ایٹم کے ذرات بھی حرکت کرتے ہیں اور پہاڑ ایٹم کے ذرات سے مل کر بنیں ہیں تو کیا یہ حرکت مرا د ہے؟ یا کوئی اور ؟

(11) پہاڑ

وَالجِبٰالَ أَوتادا-(سورئه مبارکه نباء ،٧)

ترجمہ:

اور کیا ہم نے پہاڑوں کی میخیں نصب نہیں کی ہیں۔

توضیح:

زمین کے اندر آتشی مواد موجود ہے جس کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہے یہ لمبے لمبے پہاڑ زمین پر اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ زمین اپنی داخلی حرارت کے سبب نہ لرزے جس طرح کھانے کی دیگ پر اینٹ وغیرہ رکھ دی جاتی ہے۔

قرآن نے ایک علمی راز کا انکشاف کرتے ہوئے پہاڑوں کو زمین کی میخیں قراردیا ہے۔


(12) ہر چیز کا جوڑا

وَمِن ْ کلّ شیٍٔ خَلَقنٰا زوجین-(سورئه مبارکه ذاریات،٤٩)

ترجمہ:

اور ہم نے ہر چیز میں سے جوڑا بنایا ہے۔

توضیح:

سائنسدانوں کے مطابق ہر چیز کا وجود ایٹم سے ہے اور ایٹم دوچیزوں یعنی الیکٹرون (منفی) اور پروٹون (مثبت) سے مل کر بنتا ہے۔

(13) ستون آسمان

أَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمَاوٰاتِ بِغَیْرٍ عَمَدٍ تَرَونَها---(سورئه مبارکه، رعد ٢)

ترجمہ:

اللہ ہی وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر کسی ایسے ستون کے جسے تم دیکھ رہے ہو بلند کردیا ہے۔


توضیح:

عمد کے معنی ستون کے ہیں۔

جدید پیشرفت سے یہ بات ثابت ہے کہ زمین فضا میں تیزی کے ساتھ حرکت کررہی ہے اور قوت جاذبہ (جو سورج اور دوسرے سیارات کے درمیان رابطہ کے طور پر موجود ہے) کی مدد سے ہر سیارہ اپنے دائرہ میں محو حرکت ہے۔

قرآن کی آیت میں (کہ آسمان غیر قابل مشاہدہ ستون پر ٹھہرا ہوا ہے) اس قوت کی طرف اشارہ ہے۔

(14) گول زمین

فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ المَشَرِقِ وَالْمَغارب---(سورئه مبارکه معارج،٤٠)

ترجمہ:

میں تمام مشرق و مغرب کے پروردگار کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔

توضیح:

آیت میں متعدد مشرق اور مغرب کا ذکر زمیں کے گول ہونے کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ زمین کا ہر نقطہ ایک گروہ کے لیے مشرق اور دوسرے گروہ کے لیے مغرب ہے سن 18 ویں صدی عیسوی میں زمین کے گول ہونے کا نظریہ پیش ہوا ہے ورنہ اس سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ زمین مسطح یا مخروطی (گاجر کی شکل کی) ہے۔


(15) پانی سے خلقت

وَجَعَلْنٰا مِنَ الْمٰائِ کلُّ شی ئٍ حیّ ---(سورئه مبارکه انبیائ٣٠)

ترجمہ:

اور ہر جاندار کو پانی سے قرار دیا ہے۔

توضیح:

اس سلسلے میں کئی احتمال موجود ہیں:

1۔ موجودات کے بدن میں کافی مقدار میں پانی پایا جاتا ہے۔

2۔ تمام جانداروں اور نباتات کی زندگی پانی سے وابستہ ہے۔

3۔ سب سے پہلی زندہ مخلوق دریا کے پانی میں وجود میں آئی ہے۔

(16) درختوں میں نظام زوجیّت

وَمِنْ کلّ الثمرات جَعل فِیها زَوْجَیْن اثنین--- (سورئه مبارکه رعد،٣)


ترجمہ:

اور (خدا وہ ہے جس نے ) زمین میں ہر پھل کا جوڑا قرار دیا ۔

توضیح:

لینہ وہ پہلا سائنسدان تھا جس نے 1707 صدی عیسوی میں درختوں میں نظام زوجیت کے نظریہ کو پیش کیا جو آج ایک ثابت شدہ عملی نظریہ کے طور پر قابل قبول ہے۔ قرآن کریم نے صدیوں پہلے درختوں میں نظام زوجیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

(17) سورج کی گردش

وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقرّلها -(سورئه مبارکه یس،٣٨)

ترجمہ:

اور آفتاب اپنے ایک مرکز پر دوڑ رہا ہے۔

توضیح:

کوپرنیک، کاپلر اور گالیلہ آفتاب کو ثابت سمجھتے تھے لیکن جدید دور میں یہ بات ثابت ہے کہ آفتاب کی تین حرکتیں ہیں:

1۔ وضعی حرکت : سورج کا اپنے گرد چکر لگانا یہ حرکت 25 روز میں ایک مرتبہ انجام پاتی ہے۔

2۔ انتقالی حرکت: یہ حرکت منظومہ شمسی کے ہمراہ ہر سیکنڈ میں 19 /5 کلومیٹر انجام پاتی ہے۔

3۔ مرکز کہکشاں کہ گرد یہ حرکت ہر سیکند میں 335 کلو میٹر کی رفتار سے ہوتی ہے۔


(18)حیوانات کی گفتگو

قالت نَمْلَة یٰا ایُّهَا النَّمْلُ أُدْخُلوا مَسَاکِنَکُم-(سورئه مبارکه نمل،١٨)

ترجمہ:

ایک چیونٹی نے آواز دی کہ چیونٹیو سب اپنے اپنے سوراخوں میں داخل ہوجاؤ۔

توضیح:

قرآن نے حیوانات کی گفتگو کے چند نمونہ پیش کیے ہیں جیسے ھُد ھُد کا جناب سلیمان سے ہم کلام ہونا اور چیونٹیو کا آپس میں گفتگو کرناو۔

انسان اتنی ترقی اور پیش رفت کے باوجود ابھی تک حیوانات کی گفتگو سمجھنے سے قاصر ہے لیکن اُمید ہے کہ بشر آئندہ جلد ہی اس راز سے پردہ اٹھا کر اس کے فوائد سے بہرہ مند ہوگا۔

(19) زمیں کے اردگرد کی فضائ

وَجَعَلْنٰا السَّمَائَ سَقْنًا مَحْفُوظَا----(سورئه مبارکه انبیائ-٣٢)

ترجمہ:

اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت کی طرح بنایا ہے۔


توضیح:

زمین کے اطراف کو کئی سو کلومیٹر تک تند وتیز ہوا کے دباؤ نے اپنے احاطہ میں لیا ہوا ہے جس کی قوت دس میٹر فولادی چادر کے برابر ہے جو نہ فقط انسان کو ان شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے جو آسمان سے زمین کی طرف آرہی ہیں اور انسان کی ہلاکت کا سبب بنی سکتی ہیں بلکہ اُن پتھروں سے بھی محفوظ رکھتی ہے جو روزانہ 50کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی طرف آرہے ہیں۔ قرآن کی یہ آیت اسی چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

(20) پودوں میں عمل لقاح

وَ أَرْسَلْنٰا الرّیاحَ لَواقح----(سورئه مبارکه حجر،٢٢)

ترجمہ:

اور ہم نے ہواؤں کو بادلوں کا بوجھ اٹھانے والا بنا کر چلایا ہے۔

توضیح:

19 ویں صدی عیسوی کے شروع میں مائیکرو سکوپ کی ایجاد سے سائنسدان اس نتیجہ پر پہنچے کہ پودوں میں تلقیح کا عمل ایک ایسے معمولی ذرہ کی بنا پر انجام پاتا ہے جسے گردہ کہتے ہیں جو حشرات یا ہواؤں کے ذریعہ سے ایک درخت سے دوسرے درخت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔

ممکن ہے کہ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہو کہ بادلوں کے درمیان عمل تلقیح ہوا کے ذریعہ ہوتاہے۔ بارش اور برف باری وغیرہ کا ہونا عمل لقاح کے بغیر انجام نہیں پاسکتا اور یہ چیز جدید تحقیقات کا نتیجہ ہے۔


(21) سورج کا تاریک ہونا

اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَاِذَا النُّجومُ انْکَدَرَتْ-(سورئه مبارکه تکویر ،١-٢)

ترجمہ:

جب چادر آفتاب کو لپیٹ دیا جائے گا ، جب تارے گر پڑیں گے۔

توضیح:

آفتاب کی سطح پر 6 ہزار اور اس کے اندر کئی لاکھ درجہ حرارت موجود ہے جو ایک ایٹمی تجزیہ و تحلیل کے ذریعہ وجود میں آتی ہے۔علماء فلکیات کا کہنا ہے کہ سورج کا وزن 000/ 000/ 000/ 000/ 000/ 000/ 000/ 000/ 000/ 2 ٹن ہے جس میں سے ہر سیکنڈ میں اس کا 40 ٹن وزن کم ہوجاتا ہے اور یہی أمر اس بات کا سبب ہے کہ سورج ایک طویل مدت کے بعد تاریک ہوجائے گا۔


ساتویں فصل(غور وفکر)


(1) بہترین انتخاب

فَبَشِّرْ عِبٰادِ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ أَحْسَنَه' --- أُولْئِک هُم ْ اُولوالأَلْبٰاب-(سورئه مبارکه زمر،١٨)

ترجمہ:

ان بندوں کو بشارت دے دیجئے جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اُس کا اتباع کرتے ہیں۔۔ یہی لوگ ہیں جو صاحبان عقل ہیں۔

پیغام:

عقلمند انسان کا کمال کردار یہ ہے کہ کشادہ دلی کے ساتھ سب کی باتیں سنتا ہے اور جو بات اچھی ہوتی ہے اُس کا اتباع کرتا ہے۔

خداوند عالم صاحبان عقل کو چند خوشخبریاں دے رہا ہے۔

(1)۔ بندگانِ خدا میں سب سے بہتر ہیں۔

(2)۔ خدا کی تعریف کے سزاوار ہیں۔

(3)۔ خداوند عالم عقل و خرد مندی کے تمغہ امتیاز سے نواز رہا ہے۔


(2) صاحبان علم اور صاحبان عقل

وتِلْکَ الْأَمْثٰالُ نَضْرِبُهٰا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلْهٰا اِلَّا الْعٰالِمُونَ-(سورئه مبارکه عنکبوت، ٤٣)

ترجمہ:

اور یہ مثالیں ہم تمام عالم انسانیت کے لیے بیان کررہے ہیں لیکن انہیں صاحبان علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتاہے۔

پیغام:

خدا کے علاوہ جس چیز پر بھی اعتماد اور بھروسہ کیا جائے وہ غیر مستحکم اور عارضی ہے۔ خداوند صاحبان علم اور صاحبان عقل کی تعریف کرتا ہے اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ زمین و آسمان کے خزانے خدا کے پاس ہیں ہمیں صرف خدا پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔اور اس بات کی کوشش کرنی چاہیئے کہ ہمارا شمار بھی صاحبان علم اور صاحبان عقل میں سے ہوجائے۔

(3) کم عقل لوگ خدا کے نزدیک

اِنَّ شَرَّ الدّوآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُمّ البُکْم الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُونَ-(سورئه مبارکه انفال، ٢٢)

ترجمہ:

اللہ کے نزدیک بدترین زمین پر چلنے والے وہ بہرے اور گونکے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔


پیغام:

انسان کی قدر و قیمت اس کی عقلمندی پر منحصر ہے اگر غوروفکر نہ کرے تو حق کو نہ پاسکے گا اور بدترین زمین پر چلنے والوں میں سے ہو جائے گا۔

ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ اُن افراد میں سے ہوں جن کی عقل کی خدا نے تعریف کی ہے حق کو قبول کریں اوراس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔

(4)صاحبان معرفت

أَلَّذِیْنَ یَذَکّرونَ اللّٰهَ قِیٰاماً و قُعُوداً و علَیٰ جُنُوبِهِمْ وَیتفکّرونَ فِی خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرض---

ترجمہ:

جو لوگ اٹھتے ،بیٹھتے ، لیٹتے ، خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان وزمین کی تخلیق میں غوروفکر کرتے ہیں۔

پیغام:

عقلمندی کی نشانیوں میں سے ایک خدا کی معرفت اور کائنات کے امور میں غوروفکر کرنا ہے۔ صاحبان عقل اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ عالم ہستی کا ذرہ ذرہ حکمت اور تدبیر پر دلالت کرتا ہے اور کوئی چیز بھی بے نظم نہیں ہے۔


(5) غورو فکر کی دعوت

قُلْ اِنّمَا أَعِظُکُم بِوٰاحِدةٍ انْ تَقُومُوا لِلّٰهِ مَثْنی وَ فُرادَی ثُمَّ تتفکّروا----(سوره مبارکه سبأ،٤٦)

ترجمہ:

پیغمبر(ص) آپ کہہ دیجئے کہ میںتمہیں صرف اس بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لیے ایک ایک دو دو کرکے اٹھو اور پھر غوروفکر کرو۔

پیغام:

غور وفکر کے ساتھ خدا کی راہ میں حرکت کریں، چاہے اس راستہ میں ہم اکیلے ہی کیوں نہ ہوں۔

(6) غور و فکر کا مقام (1)

اَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلیٰ قُلُوبٍ أقفَالُهٰا-( سورئه مبارکه محمد،٢٤)

ترجمہ:

تو کیا یہ لوگ قرآن میں ذرا بھی غور نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔


پیغام:

غور و فکر کرنے کا بہترین مقام خداوند متعال کا کلام ہے قرآن صحیح اور غلط راستہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ بدبخت اور سعادت مند افراد کے صفات کو بیان کرتے ہوئے ان کی مثالیں پیش کرتا ہے اور ان کے انجام سے آگاہ کرتا ہے تاکہ راستہ کے انتخاب میں غور وفکر سے کام لیں۔

(7)غور و فکر کا مقام (2)

أَ وَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِی أَنْفُسِهِم---- ( سورئه مبارکه روم، ٨)

ترجمہ:

کیا اُن لوگوں نے اپنے اندر فکر نہیں کی ہے ۔

پیغام:

قرآن کریم ایک مقام پر ہمیں سوچنے کی دعوت دیتا ہے اور دوسرے مقام پر نہ سوچنے پر ملامت اور سرزنش کرتا ہے۔

انسان کی خلقت اس کی ضروریات ، زمین و آسمان کے انسجام اور کائنات کے جملہ منظم امور میں غور و فکر کرنا کمال اور معرفت کا پیش خیمہ ہے۔


(8) غور و فکر کا مقام (3)

--- وَ النجومُ مُسَخّرات بأمْرِهِ انَّ فِی ذالکَ لَأیاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقَلُونَ-( سورئه مبارکه نحل،١٢)

ترجمہ:

اور ستارے بھی اس کے حکم کے تابع ہیں بے شک اس میں بھی صاحبان عقل کے لیے قدرت کی بہت سے نشانیاں پائی جاتی ہیں۔

پیغام:

ستاروں کی دنیا نہایت خوبصورت اور حیرت انگیز ہے یہاں تک کہ قرآن ستاروں کی قسم کو ایک بہت بڑی قسم سمجھتا ہے۔

ستاروں کی حیرت انگیز حرکت ، ان کا نظم ،شب وروز کی آمد و رفت، خداوند متعال کی قدرت و حکمت کا مبین ثبوت ہے جو انسان کے لیے غور وفکر کا مقام ہے۔

(9) غور و فکر کا مقام (4)

وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِیلِ وَالأَعْنٰاب --- لِآیٰاتٍ لِّقَوْمٍ یَعْقِلُون-(سورئه مبارکه نحل، ٦٧)

ترجمہ:

اور پھر خرمہ اور انگور کے پھلوں سے ۔۔۔ اس میں بھی صاحبان عقل کے لیے نشانیاں پائی جاتی ہیں۔


پیغام:

ہم روز مختلف پھلوں اور خوش ذائقہ غذاؤں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی بھوک مٹاتے ہیں اور اس کے علاوہ بدن کو جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان سے استفادہ کرتے ہوئے توانائی اور شادابی حاصل کرتے ہیں۔

جو غذائیں ہم استعمال کرتے ہیں وہ تمام زمین سے وجود میں آتی ہیں اور ان کا اس حالت میں آنا ۔ مٹی ،پانی ، ہوا اور سورج کی روشنی کے دقیق اور ظریف عمل کی وجہ سے ہے اور یہ چیز ان کے پیدا کرنے والے کی حکمت وتدبیر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

(10) غور و فکر کا مقام (5)

انَّ فِی خَلْقِ السَّمَوٰاتِ وَ الْأَرْضِ--- لایاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُون-(سورئه مبارکه بقره،١٦٤)

ترجمہ:

بے شک زمین و آسمان کی خلقت میں ۔۔۔ صاحبان عقل کے لیے اللہ کی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔

پیغام:

کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی وحدانیت کی طرف اشارہ کررہا ہے اور جو صاحبان علم و فہم ہیں وہ اسے سمجھتے ہیں۔


(11) غور و فکر کا مقام (6)

وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّة وَ رَحْمَة اِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَاٰیٰاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ-(سورئه مبارکه روم، ٢١)

ترجمہ:

اور پھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبان فکر کے لیے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔

پیغام:

غورو فکر کا ایک مقام نظام خانوادہ ہے۔ اگر نظام خانوادگی صحیح نہ ہو تو پورا معاشرہ خراب ہوسکتا ہے۔ نظام خانوادہ ایک ایسی عمارت کی طرح ہے جس کے کئی ستون ہوں۔ جن میں حجاب، عفت، ازدواج اور پیار ومحبت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اگر یہ ستون نہ ہوں عمارت نہیں ٹھہرسکتی بعض قوموں نے ٹیکنالوجی میں تو ترقی اور پیش رفت کی ہے مگر نظام خانوادگی میں انحطاط کا شکار ہونے کی وجہ سے مختلف مشکلات سے دوچار ہیں کیا ہم ایک صحیح و سالم گھرانہ کے ساتھ ٹیکنالوجی میں ترقی نہیں کرسکتے ہیں؟

(12)غور و فکر کا مقام (7)

أَفَلَمْ یَسِیْرُوا فِی الْأَرْضِ فَتَکُونَ لَهُمْ قُلُوب یَعْقِلُونَ بِها---(سورئه مبارکه حج، ٤٦)

ترجمہ :

کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں تاکہ ان کے ایسے دل ہوتے جن سے (حق باتوںکو ) سمجھتے۔


پیغام:

گذشتہ اقوام کے نشیب وفراز پر غور کرنے سے ہماری فکر شکوہ مند ہوسکتی ہے اور ان کے حالات سے راہنمائی حاصل کرکے اپنے بہتر مستقبل کے لیے قدم اٹھاسکتے ہیں۔

ہمیں چاہیئے کہ ان افراد کا جنہوں نے اپنی عمر کے قیمتی لمحات سے بھرپور استفادہ کیا اور علم و معرفت کے درجات تک پہنچ گئے ان افراد کے ساتھ موازنہ کریں جنہوں نے اپنی زندگی کو تباہ و برباد کیا ہے اس کے بعد صحیح راستہ کا انتخاب کریں۔

(13) کم عقل لوگ حق کے دشمن

تَحْسبُهُم جَمِیْعًا وَ قُلُو بُهُمْ شتّی ذالک بِأنَّهُمْ قَوْم لَا یَعْقِلُونَ-(سورئه مبارکه حشر،١٤)

ترجمہ:

تم گمان کروگے کہ سب کے سب ایک (جان) ہیں مگر ان کے دل ایک دوسرے سے بے گانہ ہیں یہ اس وجہ سے کہ یہ لوگ بے عقل ہیں۔

پیغام:

کم عقل لوگ ظاہری طور پر ایک دوسرے کے دوست دکھائی دیتے ہیں درحقیقت اُن میں سے ہر ایک اپنا فائدہ چاہتا ہے سر انجام آپس میں جھگڑنے لگتے ہیں۔

صاحبان عقل اور خدا پرست ایک دوسرے کے دوست ہیں اگر سب ایک جگہ جمع ہوجائیں تو اُن میں ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں ہوسکتا ۔


(14) دشمنان حق کا سر انجام

و قَذَفَ فِی قُلُوبِهِمْ الرُّعْبِ--- فَاعْتَبِرُوا یَا أُوْلِی الْأبْصٰار-

ترجمہ :

اور ان کے دلوں میں (مسلمانوں کا) رعب ڈال دیا ۔۔۔ اے آنکھ والو عبرت حاصل کرو۔

پیغام:

ایک اور مقام فکر یہ ہے کہ دیکھو کس طرح حق کی مخالفت کرنے والے سر توڑ حق کو مٹانے کی کوشش کرتے تھے مگر وہ خود مٹ گئے اور حق باقی رہا ہے۔

نمرود اور فرعون کس طرح اپنی شان و شوکت کے باوجود نیست ونابود ہوگئے۔ وہ کچھ ہی عرصے کے لیے قدرت کو حاصل کرسکے مگر طویل عرصہ کے لیے نابودی کا شکار ہوگئے کوئی بھی حکومت ظلم و استبداد پر استوار نہیں رہ سکتی ہے۔

دنیاوی حکمرانوں کی زندگی کے نشیب و فراز صاحبان عقل کے لیے درس عبرت ہیں۔

(15)کم عقلی پلیدگی و گندگی ہے

وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلی الَّذِیْنَ لَا یَعْقَلُونَ-(سورئه مبارکه یونس ١٠٠)


ترجمہ :

جو لوگ عقل سے کام نہیںلیتے خداوند عالم ان ہی لوگوں پر (کفر کی) گندگی ڈال دیتا ہے۔

پیغام:

عقل و خرد انسان کو نیکی کی طرف دعوت دیتی ہے جب کہ کم عقلی انسان کو گندگی کے دلدل میں پھنسا دیتی ہے۔

(16) کم عقلی کا نتیجہ

وَ قَالُوا لَو کنّا نَسْمَعُ او نعقِلُ مَا کُنَّا فِی أَصْحٰابِ السَّعیر(سورئه مبارکه ملک ،١٠)

ترجمہ :

اور کہیں گے کہ اگر ان کی بات سنتے یا سمجھتے تب تو (آج) دوزخیوں میں نہ ہوتے۔۔

پیغام:

ممکن ہے کہ کافروں کا یہ اعتراف دنیا و آخرت دونوں سے متعلق ہو اس لیے کہ دنیا کی زندگی بھی اگر خدا سے دور رہ کر گزاری جائے تو جہنم میں تبدیل ہوجاتی ہے۔


(17) کیا صاحبان عقل اور کم عقل مساوی ہیں

قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الأَعْمٰی وَالْبَصِیر أَفَلَا تَتَفَکَّرُوْنَ-(سورئه مبارکه انعام- ٥٠)

ترجمہ :

پوچھئے کہ کیا اندھے اور بینا برابر ہوسکتے ہیں آخر تم کیوں نہیں سوچتے ہو۔

پیغام:

کبھی ایک مطلب کی تاکید کے لیے اُسے سوال کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے یہ بات روشن ہے کہ صاحبان عقل اور کم عقل برابر نہیں ہیں جیسا کہ روشنی و تاریکی ، علم و جہل مساوی نہیں ہیں۔

جو چیز اہم ہے وہ یہ کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ ہمارا شمار بھی صاحبان عقل میں سے ہوںجائے۔

(18) معرفت اور آگاہی کے ساتھ

قُلْ هٰذِهِ سَبِیْلِیْ أَدْعُو اِلٰی اللّٰهِ عَلٰی بَصِیْرةٍ أَنَا وَ مَنْ اِتّبِعَنِیْ--- (سورئه مبارکه یوسف، ١٠٨)


ترجمہ :

آپ کہہ دیجئے کہ یہی میرا راستہ ہے کہ میں بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں اورمیرے ساتھ میرا اتباع کرنے والا بھی ہے۔

پیغام:

انبیاء و اوصیاء کی تبلیغ معرفت و آگاہی پر استوار ہے۔ وہ راستہ جس کی طرف انبیاء ہماری ہدایت اور رہنمائی کرتے ہیں ہم اُسے اپنے ارادہ و اختیار سے انتخاب کرتے ہیں جبکہ ستمگران اور طغیانگر افراد زبردستی لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

(19) وسوسہ شیطان

وَلَقَدْ أَضَلّ مِنْکُمْ جبلاً کَثِیْراً أَفَلَمْ تَکُونُوا تَعْقِلُوْنَ-(سورئه مبارکه یس ،٦٢)

ترجمہ :

اس شیطان نے تم میں سے بہت سی نسلوں کو گمراہ کردیا ہے تو کیا تم بھی عقل استعمال نہیں کروگے ۔

پیغام:

امام علی ـ نے فرمایا: صحیح فکر کا نتیجہ حق کی پیروی ہے۔ شیطان برائیوں کو خوبصورت بنا کر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور اس طرح وہ ہمیں فریب دیتا ہے لیکن صاحبان فکر شیطان کے فریب میں نہیں آتے وہ نیک افراد کی سیرت پر عمل کرتے ہیں اور برے لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔


(20)میدان عمل

أتَامَرُونَ النّاس بِالبِرّ وَتَنْسَونَ أَنْفُسَکُم و أَنْتُمْ تَتلونَ الْکِتٰبَ اَفَلَا تعقلونَ- (سورئه مبارکه بقره، ٤٤)

ترجمہ:

کیا تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے کو بھول جاتے ہو جب کہ کتاب خدا کی تلاوت بھی کرتے ہو کیا تمہارے پاس عقل نہیں ہے۔

پیغام:

صاحبان علم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نیک کاموں میں پیش پیش ہوں ۔ امام علی ـ سے منقول ہے کہ فکر یہ ہے کہ جو جانتے ہو اُسے بیان کرو اور جو کہہ رہے ہو اُس پر عمل کرو۔

(21) کافروں کی کم عقلی

وَمَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَروا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمٰا لا یَسْمَعُ الّا دُعٰاء وَ نِداء صُمّ بُکم عُمْی فَهُمْ لَا یَعْقِلُونَ-( سورئه مبارکه بقره،١٧١)


ترجمہ :

جو لوگ کافر ہوگئے ہیں ان کے پکارنے والے کی مثال اس شخص کی ہے جو جانوروں کو آواز دے اور جانور پکار اور آواز کے علاوہ کچھ نہ سنیں اور نہ سمجھیں۔ یہ کفار بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں انہیں عقل سے سروکار نہیں ہے۔

پیغام:

انسان عقل کی روشنی میں صحیح راستہ کو پاسکتا ہے مگر کافروں نے اپنے آپ کو اس عظیم نعمت سے محروم کیا ہوا ہے۔


آٹھویں فصل(انسان)


(1) بہترین ساخت

لَقَدْ خَلَقْنٰا الاِنْسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِیْم- ثُمَّ رَدِدْ ناه أَسْفَلَ سَافِلِیْنَ-

ترجمہ:

ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے ۔ پھر ہم نے اسے پست ترین حالت کی طرف پلٹا دیا۔

پیغام:

قادر مطلق اگر چاہتا تو انسان کو اس طرح بھی خلق کرسکتا تھا کہ فقط اچھائی کاانتخاب کرے لیکن یہ چیز انسان کی فضیلت و برتری کا باعث نہ بنتی انسان کی برتری اسی میں ہے کہ وہ خود اپنی مرضی سے صحیح راہ کا انتخاب کرے۔ انسان کے سامنے دو راہیں ہیں ایک کمال اور سعادت کی راہ اور دوسری گمراہی اور پستی کی راہ ۔

(2)خود آگاہ

بَلْ الانسانُ عَلٰی نفسه بَصِیْرة-(سوره مبارکه قیامت ،٤٠)

ترجمہ:

بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے۔


پیغام:

انسان خود آگاہی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ اپنے نفس پر مسلط ہوکر اس کے حالات سے خوب باخبر ہوسکتا ہے۔ انسان کی اس آگاہی کو علم حضوری کہتے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ بعض افراد اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں گویا وہ اپنے بارے میں کچھ ہی نہیں جانتے۔ قرآن مجید نے اس انسان کا تعرف کرایا ہے جو ابھی تک محققین اور روان شناس افراد کے لیے ناشناختہ ہے۔

(3) خود فریبی

بَلْ یُرِیْدُ الاِنْسٰانُ لِیَفْجُرَ أَمَامَهُ-(سوره مبارکه قیامت،٥)

ترجمہ:

بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے۔

پیغام:

بعض افراد دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں جبکہ بعض خود اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں غلط راہ کا انتخاب در حقیقت اپنے آپ کو دھوکہ اور فریب دینے کے مترادف ہے۔


(4) آزاد

أَیَحْسَبُ الْاِنْسٰانَ أَنْ یُتْرَکَ سُدیٰ-(سوره مبارکه قیامت،٣٦)

ترجمہ:

کیا انسان کا خیال ہے کہ اُسے اسی طرح چھوڑ دیا جائے گا۔

پیغام:

ذرا سی فکر رکھنے والا انسان کبھی بھی کام کو بغیر ہدف کے انجام نہیں دیتا ہے بلکہ کام شروع کرنے سے پہلے اس سلسلے میں مختلف پروگرام بھی ترتیب دیتا ہیں۔ تو کیا خداوندعالم جو خالق فکر ہے کسی کام کو بغیر ہدف اور مقصد کے انجام دے سکتا ہے؟ کیا انسان کی عجیب و غریب خلقت بغیر کسی ہدف کے وجود میں آئی ہے؟

یقینا انسان کی خلقت ایک بہت عظیم مقصد کے تحت وجود میں آئی ہے ہمیں چاہیئے کہ اس عظیم مقصد کو جاننے کے بعد اس کے حصول کے لیے کوشاں رہیں۔

(5) فرشتوں کے مقابل

وَاِذْ قُلْنٰا لِلْمَلاٰ ئِکَةِ اسْجُدُوا لِأٰدَمَ فَسَجَدُوا ---(سورئه مبارکه بقره -٣٤)


ترجمہ:

اور یاد کرو وہ موقع جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کے لیے سجدہ کرو۔۔۔

پیغام:

انسان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ اس مقام تک پہنچ جائے کہ جہاں فرشتے پروردگار کے حکم سے اُسے سجدہ کریں۔ فرشتے انسان کامل کے سامنے سجدہ کرتے ہیںاور ثابت قدم مومنین کے حضور حاضر ہوکر انہیں جنت کی بشارت دیتے ہیں۔

(6) خبردار

أَلَمْ أَعْهَد اِلَیْکُمْ یٰا بَنِی اٰدَمَ أنْ لَا تَعْبُدُوا الشَیْطَانَ اِنَّه' لَکُمْ عَدوّ مُبِیْنَ- (سورئه مبارکه یس، ٦٠)

ترجمہ:

اولاد آدم کیا ہم نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ خبردار شیطان کی عبادت نہ کرنا کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

پیغام:

شیطان کا وسوسہ یہ ہے کہ وہ برائی کو خوبصورت بناکر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے لیکن ایک صاحب فکر اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اُسے اپنے آپ کو اس وسوسہ شیطانی سے محفوظ رکھنا چاہیے۔

خداوند عالم نے ہمیں ، فکر سلیم او پاکیزہ نفس عطا کیا ، کیا ان تمام چیزوں کی عطا وہ عہد نہیں جو خدا نے ہم سے لیا ہے؟


(7) نقطہ ضعف کامل

انَّ الْاِنْسٰانَ خُلِقَ هَلُوعًا o وَاِذَا مَسّه الشَّرُّ جُزُوعًا o وَاِذا مَسَّهُ الخَیْرُ مَنُوعًا o (سوره مبارکه معارج،١٩-٢١)

ترجمہ:

بے شک انسان بڑا لالچی ہے۔ جب تکلیف پہنچ جاتی ہے تو فریادی بن جاتا ہے۔ اور جب مال مل جاتا ہے تو بخیل ہوجاتا ہے علاوہ نمازیوں کے۔

پیغام:

اگر انسان اپنا تزکیہ نفس نہ کرے تو اس میں حیوانی صفات پیدا ہوجاتی ہیں مشکلات میں جلد رنجیدہ اور خوشحالی میں ناشکرا ہوجاتا ہے۔ صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے۔ اور دوسروں کو آزار و اذیت پہنچانے سے رنجیدہ خاطر نہیں ہوتا۔ انسان کے نقاط ضعف کا حل خدا سے رابطہ ہے اور خدا سے رابطہ کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔

(8) امتحان

اِنَّا جَعَلْنٰا مٰا عَلٰٰی الأَرْضِ زِیْنَةً لَهٰا لَنَبْلُوَهُمْ أَیُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلا- (سوره مبارکه کهف،٧)


ترجمہ:

بے شک ہم نے روئے زمین کی ہر چیز کو زمین کی زینت قرار دے دیا ہے تاکہ ان لوگوں کا امتحان لیں کہ ان میں سے عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے۔

پیغام:

گھر، باغ وغیرہ زمین کی زینت ہیں لیکن ایک انسان کی زینت اس کا ایمان ہے دنیا کی ظاہری زینت کے حصول کی خاطر معنوی زینت کو قربان نہ کریں دنیا کی زندگی اس بات کا امتحان ہے کہ معلوم ہوجائے کہ کون ظاہری و عارضی زینت اور کون معنوی اور ابدی زینت کا انتخاب کرتا ہے۔

(9) مورد تنقید

و اِنّا اذَا أَذَقْنٰا الاِنْسٰانَ مِنَّارَحْمَةً فَرِحَ بِهٰا---(سوره مبارکه شوریٰ، ٤٨)

ترجمہ:

اور ہم جب کسی انسان کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اکڑ جاتا ہے۔


پیغام:

ہماری بعض صفات خدا کے تنقید کا نشانہ بنتی ہیں اور اس تنقید کا مقصد ہماری اصلاح کرنا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس تنقید برای اصلاح سے بہرہ مند ہوں اور اپنے اندر موجود ضعیف نقات کی اصلاح کریں تو ہمیں چاہیئے کہ ہم خوشی اور غمی میں خدا کو یاد کریں۔ اور ایسے کاموں کی انجام دہی سے پرہیز کریں جو ہمارے لیے باعث پریشانی ہوں اس لیے کہ بعض برے کاموں کی سزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے۔

(10) زندگی کے مراحل

مِنْ نُطْفَةٍ خَلَقَه' فَقَدَّرَ o ثُمَّ أَمَاتَهُ فاقبره- (سوره مبارکه عبس،١٩و ٢١)

ترجمہ:

اُسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر اس کا اندازمقرر کیا ہے ۔ پھر اُسے موت دے کر دفنا دیا۔

پیغام:

انسان کی زندگی دو مرحلوں پر مشتمل ہے:

اس کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچپنے سے لے کر بڑھاپے اور بڑھاپے سے لے کر برزخی زندگی تک کے مراحل کو طے کرے۔

اور اس کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ آزادی اور مکمل آگاہی کے ساتھ صحیح یا غلط راہ کا انتخاب کرے۔


(11) اختیار

اِنَّا هَدَیْنَاهُ السَّبِیْل اِمَّا شَاکِراً وَ اِمَّا کفوراً-(سوره مبارکه انسان ،٣)

ترجمہ:

یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دیدی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے۔

پیغام:

عقل و فطرت ہمیں راہ حق کی طرف ، خواہش نفس اور شیطان ہمیں راہ باطل کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ عقل و خردمندی سے کام لیتے ہوئے صحیح اور درست راہ کاانتخاب کریں۔

(12) انسان کا سوال

وَیَقُولُ الاِنْسٰانُ اِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَیّاً---(سورئه مبارکه مریم ، ٦٦)

ترجمہ:

اور انسان یہ کہتا ہے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو دوبارہ زندہ کرکے نکالے جائیں گے۔


پیغام:

انسان کا یہ اعتراف کہ وہ پہلے نہ تھا اور اب ہے قیامت کے قبول کرنے کے لیے کافی ہے۔

(13) غلط سوچ

أَیَحْسَبُ الْاِنْسٰانُ أَنْ لَنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ---(سوره مبارکه قیامت،٣٨)

ترجمہ:

کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے۔

پیغام:

گرمیوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ درخت خشک ہوجاتے ہیں اور پھر موسم بہار میں یہی درخت سرسبر و شاداب دکھائی دیتے ہیں کیا یہ ہماری موت اور دوبارہ زندگی کے لیے بہترین نمونہ نہیں ہیں؟

(14) جانشین

اِنّی جٰاعِل فِی الْأَرضِ خَلِیْفَة --- وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْأسمٰاء کُلَّهٰا--- (سورهمبارکه بقره،٣٠-٣١)


ترجمہ:

میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والے ہوں۔ اور خدا نے آدم کو تمام اسماء کی تعلیم دی۔

پیغام:

انسان اشرف المخلوقات بن کر خدا کا جانشین اور خلیفہ بن سکتا ہے۔ انسان کا معلم خود پروردگار ہے اور انسان کمالات الٰہی کی تجلی کا نام ہے۔

(15)شیطان انسان کا دشمن

اِنََّ الشَّیْطَانَ لَکُمْ عَدُوّ فَاتَّخِذوه عدوّا-(سوره مبارکه فاطر ، ٦)

ترجمہ:

بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تو اسے دشمن سمجھو۔

پیغام:

عقل اور فطرت انسان کو نیکی کی طرف دعوت دیتی ہے جبکہ وسوسہ شیطان اُسے برائی کی ترغیب دیتا ہے اور وسوسہ شیطان یہ ہے کہ برای کو خوبصورت بنا کر انسان کے سامنے پیش کرتاہے لہٰذا انسانوں کو چاہیئے کہ ہوشیاری سے کام لیں تاکہ ظاہری دوست اور حقیقی دشمن کے فریب سے محفوظ رہیں۔


(16) امانت دار

اِنَّا عَرَضْنٰا الأَمَانَهَ علی السَّماواتِ وَالأَرْضِ وَالْجِِبٰال---(سوره مبارکه احزاب ،٧٢)

ترجمہ:

بے شک ہم نے امانت کو آسمان ، زمین اور پہاڑ سب کے سامنے پیش کیا۔

پیغام:

کائنات کا ذرہ ذرہ خدا کی تسبیح کرتا ہے لیکن انسان معرفت اور آگاہی کے ساتھ عقل و شعور سے استفادہ کرتے ہوئے خدا کی راہ کا انتخاب کرتا ہے اور یہی چیز اس کے کمال تک پہنچنے کا سبب ہے ایسے میں انسان اگر اپنے مقام کو نہ پہچان کر حیوانی زندگی کو ترجیح دے تو کیا وہ ظالم و جابر نہ ہوجائے گا؟

(17) انسان ہوشیار ہوجاؤ

یَا ایُّهَا الْاِنْسَانُ مٰا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ الَّذِیْ خَلَقَک فَسَوّیک فَعَدَلَکَ----(سوره مبارکه انفطار ،٦-٧)


ترجمہ:

اے انسان تجھے رب کریم کے بارے میں کس شے نے دھوکہ میں رکھا ہے اس نے تجھے پیدا کیا ہے پھر برابر کرکے متوازن بنایا ہے۔

پیغام:

کیا یہ مناسب ہے کہ انسان خدا کی تمام نعمتوں کے سامنے جو اس نے بغیر کسی منت گزاری کے اس کے حوالے کی ہیں ناشکری کرے۔

(18) کائنات انسان کے لیے

وَسَخَّرَ لَکُمْ مٰا فِی السَّمَواتِ وَمٰا فِی الأَرْضِ جَمِیْعًا مِنْهُ---- (سورئه مبارکه جاثیه ،١٣)

ترجمہ:

اور اسی نے تمہارے لیے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو مسخر کردیا ہے۔

پیغام:

حیوانات اپنی جبلت کے تحت زندگی گزارتے ہیں جبکہ انسان تمام کائنات میں تصرف کرکے اُسے اپنے استعمال میں لاسکتا ہے انسان خدا کی قدرت کا جلوہ ہونے کے سبب طبیعت میں تصرف کرتا ہے جیسا کہ آج زمین کی گہرائی آسمان کی بلندی ، پہاڑوں کو چوٹی خشکی و تری سب ہی کے فائدؤں سے بہرہ مند ہے۔


(19) تلاش و کوشش کا ہدف

یٰا ایُّهٰا الاِنْسٰانُ اِنّک کَادِح اِلی ربِّکَ کَدْحًا فَمُلاقِیه-(سورئه مبارکه انشقاق ، ٦)

ترجمہ:

اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف جانے کی کوشش کرر ہا ہے تو ایک دن اس کا سامنا کرے گا۔

پیغام:

خدا کی طرف حرکت کے کیا معنی ہیں؟

کیا ہم سب کا کمال اور سعادت کی طرف حرکت کرنا اُس کمال مطلق کی طرف حرکت کرنا نہیں ہے؟ زندگی میں ہماری تمام تر کوشش کمال تک پہنچنے کے لیے ہوتی ہے جب کہ بعض افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ مال و دولت کا حصول ہی کمال تک پہنچنا ہے۔ ہم سب ایک دن خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ مومنین اس کی رحمت کے سایے میں اور کفار اس کے غضب کا شکار ہوں گے۔

(20) خطرہ سے ہوشیار

کلّا اِنَّ الاِنْسٰانَ لَیَظْغٰی أَنْ رَأهُ استغنٰی-(سوره مبارکه علق،٦)

ترجمہ:

بے شک انسان سرکشی کرتاہے کہ اپنے آپ کو بے نیاز خیال کرتا ہے۔


پیغام:

انسان کی بامقصد زندگی کا راز خدا سے رابطہ میں مضمر ہے اگر اس منبع فیض و کرم سے جدا ہوجائے تو پھر در در کی ٹھوکریں کھاتا پھرگے گا جس کا نتیجہ مختلف جرائم اور فسادات کا مرتکب ہونا ہے۔

(21)نا شکری

وَاِذَا أَنْعَمْنٰا عَلٰی الْاِنْسٰانِ أَعْرَضَ وَنٰأبجانِبه وَ اِذَا مَسَّه الشَرُ فَذُودُعٰاء عَریض- (سوره مبارکه فصلت، ٥١)

ترجمہ:

اور جب ہم انسان کو نعمت دیتے ہیں تو ہم سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اور پہلو بدل کر الگ ہوجاتا ہے اور جب برائی پہنچ جاتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔

پیام:

عارف انسان خوشحالی اور تنگ دستی میں بھی ہمیشہ خدا کی یاد میں رہتا ہے۔


نویں فصل(عورت)


(1) معنوی مساوات

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰاتِ وَ المْؤمِنِیْنَ وَالْمُؤمِنٰات--- (سوره مبارکه احزاب، ٣٥)

ترجمہ:

بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورت اور مومن مرد اور مومن عورتیں۔۔۔

پیغام:

واضح رہے کہ جہاں بھی خدا نے نیک صفات اور فضیلت و برتری کی بات کی ہے وہاں مرد اور عورت کو ایک ہی انداز سے یاد کیا ہے اس لیے کہ نیکی کا تعلق روح انسان ہے اور اُس میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں ہے۔ اس آیت میں ان دس صفات حمیدہ کا ذکر کیا ہے جو مرد اور عورت میں یکساں پائی جاتی ہیں۔

(2) خلقت میں مساوات

یٰا ایُّهَا النَّاسُ اِنّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ و أُنْثیٰ---(سوره مبارکه حجرات ، ١٣)

ترجمہ:

انسانو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔


پیغام:

تمام انسان خلقت کے اعتبار سے مساوی ہیں اور ان میں رنگ و نسل ، قوم قبیلے اور مرد اور عورت کے اعتبار سے کوئی امتیازی فرق نہیں ہے۔

انسان کی فضیلت اس کے اُس روحانی کمال سے وابستہ ہے جسے وہ اپنے ارادہ و اختیار سے حاصل کرتا ہے اور اس میں مرد اور عورت یکساں ہیں۔

(3) دورِ جاہلیت میں۔

وَ اِذَا بَشر احدُهُم بِالأُنْثیٰ ظلَّ وَجْهُهُ-(سوره مبارکه نحل، ٥٨)

ترجمہ:

اور جب خود ان میں سے کسی کو لڑکی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے۔

پیغام:

دور جاہلیت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اُن سے لڑکیوں کا وجود برداشت نہیں ہوتا تھا، قرآن کریم اس نادانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی مذمت کرتا ہے۔

لڑکا یا لڑکی ہونا خدا کی حکمت سے وابستہ ہے اور اس سلسلے میں ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔


(4) معاشرتی مسائل میں

یٰا أَیُّهَا النَّبِی اِذَا جائُ کَ المُؤمِناتُ یُبَایُعَنکَ ---(سوره مبارکه ممتحنه، ١٢)

ترجمہ:

پیغمبر (ص) اگر ایمان لانے والی عورتیں آپ کے پاس اس امر پر بیعت کرنے کے لیے آئیں۔۔۔

پیغام:

عورتیں بھی مردوں کی طرح انبیاء کی دعوت کے انتخاب میں مکمل آزاد ہیں دور جاہلیت میں عورتوں کو حق انتخاب حاصل نہ تھا اور وہ آزادانہ تھیں۔ قرآن کریم نے اس عقیدہ جاہلیت کی مخالفت کرتے ہوئے پیغمبر اسلام (ص) کی بیعت کے دوران عورتوں کو بیعت کا مستقل حق دے کر انہیں اس بات کی اجازت دی کہ وہ اجتماعی اور معاشرتی مسائل میں حصہ لے سکتی ہیں۔

(5) حجاب میں

یٰا أَیُّهَا النَّبِیْ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ وَبَناتِکَ ونِسَائُ المُؤمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَا بیبِهِنَّ ---(سورئه مبارکه احزاب، ٥٩)


ترجمہ:

اے پیغمبر آپ اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی چادر کو اپنے اوپر لٹکائے رہا کریں۔۔۔

پیغام:

حجاب پاکدامنی کی طرف ایک قدم ہے اللہ تعالیٰ نظام خانوادہ کو پسند کرتا ہے اور بے حجابی اور بے حیائی اس نظام کو تباہ و برباد کردیتی ہے اور مرد و عورت کو گناہ کی ترغیب دیتی ہے۔

اسلام مرد اور عورت کے روابط کے سلسلے میں نہ افراط اور نہ تفریط کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس سلسلے میں میانہ روی سے کام لینے کا حکم دیتا ہے۔

(6) مورد خطاب

فَقُلْنٰا یٰا اٰدَمُ اِنَّ هٰذا عَدُّو لَکَ وَلِزَوْجِکَ---فَبدَتْ لَهُمٰا سَؤاتْهُمٰا--- (سورئه مبارکه طه، ١٢٠)

ترجمہ:

تو ہم نے کہا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری زوجہ کا دشمن ہے۔۔۔پس اُن کا آگا پیچھا ظاہر ہوگیا۔۔۔


پیغام:

توریت اور انجیل نے حضرت حوا کو حضرت آدم کے فریب کھانے کا اصلی عامل قرار دیا ہے جب کہ قرآن نے دونوں سے یکساں خطاب کیا ہے اور وہی خطاب آج بھی دنیا کے تمام مردوں اور عورتوں سے ہے کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے اور چاہتا ہے کہ تم دونوں کو دنیا و آخرت کی سعادت سے محروم کردے لہٰذا ہوشیار رہو۔

(7) کافروں کے لئے مثال

ضَرَبَ اللّٰه مثلاً لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَاتَ نوحٍ وامْرتَ لوط--(سوره مبارکه تحریم، ١٠)

ترجمہ:

خدا نے کفر اختیار کرنے والوں کے لیے زوجہ نوح اور زوجہ لوط کی مثال بیان کی ہے۔

پیغام:

انسان ہدایت اور گمراہی کے راستہ کے انتخاب میں آزاد ہے اور اس مرحلہ میں مرد اور عورت کی کوئی قید نہیں ہے جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت لوط علیہم السلام کی بیویوں نے پیغمبروں کی بیویاں ہونے کے باوجود ضلالت و گمراہی کا راستہ انتخاب کیا، اللہ تعالیٰ نے یہاں جب کافر انسانوں کا تذکرہ کیا تو کافر عورتوں کی مثال پیش کی ہے اس لیے کہ ہدایت اور گمراہی کا تعلق انسان کے ارادہ سے ہے اس میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں ہے۔


(8) نمونہ عمل

رَبَّنَا اِنّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَتِیْ----(سوره مبارکه ابراهیم، ٣٧)

ترجمہ:

پروردگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو چھوڑ دیا ہے۔

پیغام:

حضرت ہاجرہـ حضرت ابراہیم ـ کے قدم بہ قدم صبر و استقامت اور اطاعت خداوندی کا پیکر اتم بنی ہوئی تھیں۔

حضرت ہاجرہـ کے صبر و استقامت نے اپنے شوہر اور بیٹے کے لیے بت شکنی اور کمال سعادت تک پہنچنے کے لیے راستہ ہموار کیا۔

حج کے بہت سے واجب اعمال حضرت ہاجرہـ کی فداکاری کی یاد میں انجام دیئے جاتے ہیں۔ یعنی نمونہ عمل کے لیے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔

(9) صاحبان ایمان کے لیے مثال

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْراَت فِرْعَوْنَ---(سوره مبارکه تحریم، ١١)

ترجمہ:

اور خدا نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی ہے۔۔۔


پیغام:

اللہ تعالیٰ نے جب صاحبان ایمان کے لیے مثال پیش کرنا چاہی تو کسی نبی کا انتخاب نہ کیا بلکہ حضرت آسیہ علیہا السلام (زن فرعون) کو نمونہ کے طور پر پیش کیا۔

ظلم و ستم کا صبر و استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنا ایک نیک صفت ہے چاہے وہ صفت مرد میں پائی جاتی ہو یا عورت میں۔

(10) خدا سے ہم کلام

وَ أَوْحَیْنَا اِلٰی اُمّ مُوْسٰی أَنْ أَرْ ضِعیه--- فَالقیه فِی الْیَمْ--- (سوره مبارکه قصص،٧)

ترجمہ:

اور ہم نے مادر موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنے بچے کو دودھ پلاؤ۔۔۔ اور اسے دریا میں ڈال دو۔

پیغام:

فرشتہ صاحبان ایمان سے ہم کلام ہوتا ہے چاہے وہ مرد ہوں یا عورت جناب موسیٰ جیسے اولی العزم نبی نیز تمام لائق اور شائستہ انسان اپنی والدہ کی تربیت کے مرہون منت ہیں۔

حضرت امام خمینی ایک مقام پر فرماتے ہیں ''قرآن بھی انسانوں کی تربیت کرتا ہے اور عورت بھی انسانوں کی تربیت کرتی ہے'' اور یہ چیز عورت کے بلند و بالا مقام و منزلت کے بیان کے لیے کافی ہے۔


(11) بہادر بہن

وَقَالَتْ لأُختِه قصّیهِ فَبَصُرَت بِه عَنْ جُنُب ---(سوره مبارکه قصص ،١١)

ترجمہ:

مادر موسیٰ نے ان کی بہن سے کہا کہ تم بھی ان کاپیچھا کرو۔۔۔

پیغام:

جناب موسی ـ کی بہن نے بے خوف و خطر اپنے وظیفہ پر عمل کیا۔

تاریخ میں عورتیں ہمیشہ ظلم و ستم کے خلاف جہاد کرتے ہوئے اپنی شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔

انہوں نے اپنے ایمان کی طاقت سے خدا کے ارادہ کو عملی کردکھایا تاکہ جناب موسی ـزندہ رہیں اور فرعون صفحہ ہستی سے مٹ جائے۔

(12) محنت کش بہنیں

وَ َجَد مِنْ دونِهِمْ امرآتین تذودان---(سورئه مبارکه قصص ، ٢٣)


ترجمہ:

اور اُن سے الگ دو عورتوں کو اور دیکھا جو جانوروں کو روکے کھڑی تھیں۔۔۔

پیغام:

عورتیں بھی مردوں کی طرح زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے کام کاج کرتی ہیں جس طرح جناب شعیب ـ کی لڑکیاں کام کرتی تھیں۔

عورتوں کے لیے کام کرنا کوئی عیب نہیں ہے البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کی عفت و پاکیزگی پر کوئی آنچ نہ آئے جیسا کہ مرد کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس طرح کام کرے کہ حرام میںمبتلا نہ ہو۔

(13) فساد پھیلانے والی

وَ رَاوَدَتْه' الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهٰا عَنْ نَفْسِهِ وَ غَلَّقَت، الأَبْوابَ---(سوره مبارکه یوسف، ٢٣)

ترجمہ:

اور اس نے ان سے اظہار محبت کیا جس کے گھر میں یوسف رہتے تھے اور دروازے بند کردیئے۔

پیغام:

فاسد انسان دوسروں کے بھی فساد کا سبب بنتا ہے اور اس میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں ہے۔ شیطان سب کو بھڑکاتا ہے مرد اور عورت دونوں ہی کو شیطان سے ہوشیار رہنا چاہیئے۔


(14) فرشتہ صفت

اذ قالت الملائکة یا مریم انَّ اللّٰه یُبَشِّرُکَ بِکَلمَةٍ مِنْه' اسمهُ المسیحُ عِیْسٰی ابْنِ مَرْیَم---(سوره مبارکه آل عمران،٤٠)

ترجمہ:

اور اُس وقت کو یاد کرو جب ملائکہ نے کہا کہ اے مریم خدا تم کو اپنے کلمہ مسیح عیسی بن مریم کی بشارت دے رہا ہے۔

پیغام:

جبرائیل فرشتہ صفت انسان سے ہم کلام ہوتا ہے چاہے وہ انسان مرد ہو جیسے انبیاء یا عورت ہو جیسے حضرت مریم ـ۔

حضرت مریم ـ جیسی پاک و پاکیزہ خاتون ہی حضرت عیسیٰ ـ جیسے عظیم بچے کی پرورش کرسکتی تھیں۔

(15) عورت اور ذمہ داری

قَالَتْ یَا ایُّهَا الْمَلَؤا أَفْتونِی فِیْ امْرِی ---(سوره مبارکه نمل ، ٣٢)

ترجمہ:

اس عورت نے کہا میرے زعماء مملکت ! میرے مسئلہ میں رائے دو۔۔۔


پیغام:

ملکہ بلقیس نہایت ذہین اور تیز بین ہونے کے باوجود اہم مسائل میں دوسروں سے بھی مشورہ کرتی تھی۔

بعض افراد نے ملکہ کو جنگ کے لیے اُبھارا مگر ملکہ نے عقلمندی سے کام لیا اور خود جناب سلیمانـ سے ملنے کے لیے چلی آئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک بلاوجہ جنگ میں ہزاروں لوگوں کی جانیں چلی جائیں۔ صحیح مدیریت ایک اچھی چیز ہے اس میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں ہے۔

(16) برگزیدہ

وَ اذ قَالَتِ المَلَائِکَةُ یٰا مَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصطفیک و طَهّرکِ وَاصطفیٰکِ عَلٰی نسائِ العٰالمین-(سوره مبارکه آل عمران ، ٤٢)

ترجمہ:

اور اُس وقت کو یاد کرو جب ملائکہ نے مریم کو آواز دی کہ خدا نے تم کو چن لیا ہے اور پاکیزہ بنادیا ہے اور عالمین کی عورتوں میں منتخب قرار دیدیا ہے۔

پیغام:

عورت ایسے بلند و بالا مقام پر پہنچ سکتی ہے کہ جہاں خدا اس کے لیے پیغام بھیجے فرشتے اُس ے ہم کلام ہوں اور آیات قرآن اس کی مدح سرائی کریں۔

کائنات میں چار برگزیدہ عورتیں ہیں۔ جناب مریم ، جناب آسیہ،جناب خدیجہ اور جناب فاطمہ زہرا علیہا السلام کہ یہ سب کی سب کائنات کی خواتین کے لیے نمونہ عمل ہیں۔

جناب مریم کا نام مریم گیارہ مرتبہ قرآن میں آیا ہے اور یہ وہ نام ہے جسے خدا نے ان کے لیے منتخب کیا ہے۔


(17) رضایت

وَالْوالِدٰاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ کامِلَیْنِ----(سوره مبارکه بقره ، ٢٣٣)

ترجمہ:

اور مائیں اپنے بچوں کو دو برس کامل دودھ پلائیں گی۔

پیغام:

والدہ بچہ کی پیدائش میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ معاشرے میں ماں کا کردار ایک اہم کردار ہے ماں کے دودھ کے قطرے بچے کی جان کے لیے حیات نو کا کام کرتے ہیں۔ ماں کا دودھ بچہ کی جسمانی نشوونما کے علاوہ مہر و محبت کا عظیم شہکار ہے۔

(18) احترام میں مساوی

وَقَضَیٰ رَبُّکَ ألّا تَعبُدُوا اِلَّا ایّاه وَ بالْوٰالِدِیْنِ اِحْسَانَا---(سورئه مبارکه اسراء ، ٢٣)

ترجمہ:

اور آپ کے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم سب اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔۔


پیغام:

جس طرح والد کے ساتھ نیکی کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح والدہ کے ساتھ بھی نیکی اور احسان کا حکم دیا گیا ہے اس لحاظ سے دونوں یکساں ہیں اور ان کے ساتھ نیکی کو خدا نے اپنی عبادت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ بچے کی پرورش اور تربیت میں ماں نہایت مشقت کا سامنا کرتی ہے اس لئے احترام اور خدمت میں اُسے باپ پر فوقیت حاصل ہے۔

(19) درجات میں مساوی

وَعَدَ اللّٰهُ المومنینَ وَالمُؤمِنَاتِ جنَّات ---(سورئه مبارکه توبه ، ٧٢)

ترجمہ:

اللہ نے مومن مرد اور مومن عورتوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے۔

پیغام:

جس طرح مرد اور عورت کمال و سعادت تک پہنچنے میں یکساں ہیں اسی طرح جنت کے حصول میں بھی اُن میں کوئی فرق نہیں ہے جو جتنے نیک اور اچھے کام انجام دے گا اتنا ہی بلند درجہ پائے گا۔

(20) پاکیزہ زندگی

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ أَوْ أنْثٰی وَهُوَ مؤمِن فَلَنُحَیِیَنَّه' حیاةً طَیّبة- (سوره مبارکه نحل،٩٧)


ترجمہ:

جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اُسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے۔

پیغام:

کمال اور سعادت تک پہنچنے کے لیے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جوچیز انسان کو کمال تک پہنچاتی ہے وہ اس کی روح ہے جو مرد اور عورت میں یکساں ہیں۔

(21) حق ملکیت

لِلرِّجٰالِ نَصِیْب مِمَّا اکتَسِبُوا وَلِلنِّسَائِ نَصِیْب مِمَّا اکتسبن ---(سوره مبارکه نسائ، ٣٢)

ترجمہ:

مردوں کے لیے وہ حصہ ہے جو انہوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے لیے وہ حصہ ہے جو انہوں نے حاصل کیا ہے۔

پیغام:

دورِ جاہلیت میں عورتوں کو حق ملکیت حاصل نہ تھا جب کہ قرآن نے عورتوں کے لیے بھی اُسی طرح حق ملکیت کو بیان کیا ہے جس طرح مردوں کے لیے۔ عورت کا حق ملکیت اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اُسے اپنی درآمدات میں اضافے اور اقتصادی اور معاشی امور میں دخالت کا حق حاصل ہے۔


دسویں فصل(راہِ زندگی)


(1) صدق نیت

وَ قُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقً- (سوره مبارکه اسراء ، ٨٠)

ترجمہ:

اور کہہ دیجئے کہ پروردگار مجھے اچھی طرح سے آبادی میں داخل کر اور بہترین انداز سے باہر نکال۔

پیغام:

اگر انسان مطالعہ کرنا، درس پڑھنا ، یا کوئی اور کام کرنا چاہتا ہے تو کامیابی کیلئے شروع سے آخر تک صدق نیت اور اخلاص کا ہونا ضروری ہے۔

کسی بھی کام میں صدق نیت یہ ہے کہ خودبینی اور ستم گری سے پرہیز کریں اور نیک اہداف کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے تلاش وکوشش کرتے رہیں اور آخر تک اُس پر قائم رہیں اور کامیابی کیلئے خدا سے دعا کرتے رہیں۔

(2) پاک و پاکیزہ نفس

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکّٰاها- وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاها- (سوره مبارکه شمس ،٩-١٠)


ترجمہ:

بے شک وہ کامیاب ہوگیا جس نے نفس کو پاکیزہ بنالیا اور وہ نامراد ہوگیا جس نے اسے آلودہ کردیا ہے۔

پیغام:

قرآن مجید نے اچھے اور برے راستہ کی نشاندہی کی ہے تاکہ ہم اپنے ارادہ و اختیار سے ان میں سے ایک کا انتخاب کریں جیسا کہ ایک انسان اگر یہ چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ صحیح و سالم اور تندرست رہے تو اس کے لیے حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ اگر وہ اُن اصولوں کی رعایت نہ کرے تو مریض ہوجائے گا، بالکل اسی طرح ہم عقل اور وحی کے بتائے ہوئے اصولوں کے ذریعہ سعادت اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں لیکن اگر ان اصولوں کی پابندی نہ کریں تو ناکام ہوجائیں گے۔

(3) صبر و استقامت

اِنَّمَا یُوٰفَّی الصّٰبِرُونَ أَجُرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ- (سوره مبارکه زمر، ١٠)

ترجمہ:

بس صبر کرنے والے ہی وہ ہیں جن کو بے حساب اجراء دیا جاتا ہے۔

پیغام:

اگر ہم کمال انسانیت اور حقیقی معرفت تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ہمیں صبر و استقامت سے کام لینا ہوگا۔ اور جس قدر ارادہ پختہ اور مضبوط ہوگا صبر و استقامت میں کمال حاصل ہوتا جائے گا۔


(4) پر اُمید

لَا تَقْنِطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ ----(سوره مبارکه زمر،٥٣)

ترجمہ:

اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔

پیغام:

اگر ہمارے دل میں چراغ امید روشن نہ ہو تو ہم ایک لمحہ کے لیے بھی آگے قدم نہیں بڑھاسکتے خدا کی رحمت کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ اپنی تمام مخلوق سے محبت کرتا ہے اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ وہ ہمارے ساتھ اور ہماری مدد کرنے والا ہے اگر ہمیں دنیا کی تمام مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہو تب بھی اُس پر امید کے سہارے آگے بڑھتے رہنا چاہیئے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سب پر غالب ہے۔

(5) نہ ظالم نہ مظلوم

لَا تَظْلِمُونَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ-


ترجمہ:

نہ ظلم کرو اور نہ ظلم سہو۔

پیغام:

یہ مختصر اور عمیق کلام قرآن کے نظریہ کی عکاسی کرتا ہے۔ بعض مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ظلم کے خلاف سکوت اختیار کرلیتے ہیں جبکہ بعض لوگ خود ظلم کرتے ہیں لیکن قرآن کے ماننے والے نہ ظلم کرتے ہیں اور نہ ظلم سہتے ہیں۔

(6) وحدت و بھائی چارگی

اِنَّمٰا الْمُوْمِنُونَ اِخْوَة-

ترجمہ:

مومنین آپس میں بالکل بھائی بھائی ہیں۔

پیغام:

وحدت ، پیار ومحبت، الفت و ہمدردی ایک معاشرے کے لیے خیمے میں ستون کی مانند ہیں۔ اگر کسی معاشرے کے افراد میں اخوت و برادری کا رشتہ قائم نہ ہو تو تمام صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ آپس میں پیار محبت کے ساتھ پیش آنا فرمان الٰہی کے ساتھ ساتھ عقل سلیم کا تقاضا بھی ہے۔لڑائی جھگڑا شیطان اور پیار ومحبت خدا کی طرف سے ہے۔


(7) تلاش و کوشش

لَیْسَ للانْسٰانَ اِلَّا مٰا سَعٰی-(سوره مبارکه نجم،٣٩)

ترجمہ:

انسان کے لیے اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے۔

پیغام:

ہماری آئندہ زندگی آج کی تلاش اور کوشش کی مرہون منت ہے۔ ہمیں محکم و استوار ارادہ کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہیے ہماری تمام تر جدوجہد نیک نیتی پر مبنی ہونی چاہیے جو ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

(8) عزت و سربلندی

مَنْ کَاْنَ یُرِیْدُ العِزَّهَ فَلِلّٰهِ العِزَّةُ جَمِیْعًا-(سوره مبارکه فاطر،١٠)

ترجمہ:

جو شخص بھی عزت کا طلبگار ہے وہ سمجھ لے کہ عزت سب پروردگار کے لیے ہے۔


پیغام:

ہمیشہ خدا کی اطاعت کریں ، اس سے محبت کریں اور زندگی کے کسی بھی مرحلہ پر اس کی یاد سے غافل نہ ہوں تاکہ اس کی عزت کے وسیلہ سے ہم بھی سربلند ہوجائیں۔

وہ تمام کمالات کا مخزن اور سرچشمہ ہے ۔ ہمیشہ اس سے رابطے میں رہیں تاکہ اس کے کمالات کے وسیلہ سے ہم بھی باکمال ہوجائیں۔

(9)وفائے عہد

أَوْفُوْا بِالْعَهدِ اِنَّ الْعَهدَ کَاْنَ مَسْئُوْلا-(سوره مبارکه اسرائ،٣٤)

ترجمہ:

اپنے عہدوں کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

پیغام:

اس بات کا عہد کریں کہ آج کے بعد جو عہد بھی کریں گے اُسے پورا کریں گے چاہے وہ عہد ہم نے خود اپنے آپ سے کیا ہو یا کسی اور سے۔


(10) اخلاق نبوی

وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ-(سوره مبارکه قلم،٤)

ترجمہ:

اور آپ بلند ترین اخلاق کے درجہ پر ہیں۔

پیغام:

ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے پیغمبر(ص) کے ماننے والے ہیں جن کے اخلاق کی خدا نے تعریف کی ہے ہمیں آپ(ص) کے اخلاق طیبہ کو اپنانے کی کوشش کرنے چاہیے۔

آپ(ص) امانت داری ، سچائی ، مہربانی عفو ودر گذشت اورعجز و انکساری کے پیکر اتم تھے۔

(11) اطمینان قلب

أَلَا بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنَّ القُلُوْبُط-(سوره مبارکه رعد،٢٨)

ترجمہ:

آگاہ ہو جاؤ کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے۔


پیغام:

پانی کا وہ قطرہ جو بخارات کی صورت میں دریا سے اٹھتا ہے ہمہ تن بادلوں ، پہاڑوں اور پھر مختلف وادیوں میں اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ دوبارہ دریا سے مل جائے تاکہ اسے قرار اور اطمینان حاصل ہوجائے۔

ہم خدا کی طرف سے آئے ہیں اور ہمیں صرف خدا ہی کی ملاقات کے بعد اطمینان حاصل ہوسکتا ہے ۔ معرفت خدا اس کی یاد کا بہترین وسیلہ ہے۔ خدا کی یاد سے بہت سی پریشانیاں دور اور مشکلات آسان ہوجاتی ہیں۔

(12)نعمت کا شکر

لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِّیْدَنَّکُمْ-

ترجمہ:

اگر تم ہمارا شکر یہ ادا کروگے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کردیں گے۔

پیغام:

ہم سب خدا کی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں اور ہر لحظہ اس کے لطف و کرم کے نیاز مند ہیں۔ خدا کی رحمتوں کے حصول کا ایک راستہ یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کی قدر دانی کریں اور اس کا شکر بجالائیں اور نعمتوں کا شکریہ ہے کہ انہیں خدا تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیں۔


(13) مشورہ

وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰی بَیْنَهُمْ-(سوره مبارکه شوریٰ،٣٨)

ترجمہ:

اور آپس کے معاملات میں مشورہ کرتے ہیں۔

پیغام:

ہم میں سے ہر ایک اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ تجربہ رکھتا ہے لیکن زندگی کے مختلف امور میں بہتر کامیابی کے لیے ہمیں دوسروں کے مشوروں اور تجربوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مشورہ کرنا ، دوسروں کا احترام کرنے کے مترداف نیز ان کی فکری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے جو ہمیں کامیابی سے نزدیک تر کردیتا ہے۔

خداوند متعال نے جنگ بدر کے سلسلے میں پیغمبر اسلام کو یہ حکم دیا کہ ان (اصحاب) سے مشورہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ دستور زندگی کے امور میں مشورہ کی اہمیت کو روشن کرتا ہے۔

(14) توکل

وَ مَنْ یَتَوکّل علیٰ اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُه'-(سوره مبارکه طلاق،٣)

ترجمہ:

اور جو خدا پر بھروسہ کرے گا خدا اس کے لیے کافی ہے۔


پیغام:

ممکن ہے کہ ہم ہر کام کی ابتداء میں شک و تردید کا شکار ہوں لیکن اگر خدا پر بھروسہ کریں تو ہم اس کی مدد سے مشکلات پر قابو پاکر اپنے مقصد تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ چیز توکل کہلاتی ہے حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جو شخص خدا پر توکل کرتا ہے وہ ہرگز شکست نہیں کھاتا۔

(15)نیکی اور اچھائی کے کاموں میں سبقت

فَاسْتَبِقُوا الخَیْرات -(سوره مبارکه بقره)

ترجمہ:

نیکی اور اچھائی کے کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لو۔

پیغام:

ہم بہت سے کاموں کے بارے میں یہ جانتے ہیں کہ وہ نیک اور اچھے ہیں مثال کے طور پر چھوٹوں کے ساتھ مہربانی اور شفقت سے پیش آنا ، دوسروں کے کام آنا، ان کی مدد کرناوغیرہ لیکن جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ یہ کہ ہم ان تمام چیزوں کو اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائیں۔

قرآن ہم سے فقط یہ نہیں چاہتا کہ نیک کام انجام دیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم نیک کام کرنے میں دوسروں پر سبقت لیںاور یہ چیز شیطان کی چاہت کے خلاف ہے جو ہمیں برائی کی طرف دعوت دیتا ہے۔


(16) محکم و استوار

اُشِدّائُ عَلیٰ الکُفَّارِ رَحْمٰاء بَیْنَهُمْ- (سوره مبارکه فتح،٢٩)

ترجمہ:

پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کی صفت یہ ہے کہ وہ کفار کے سامنے محکم و استواراور مومنین کے ساتھ مہربانی اورشفقت سے پیش آتے ہیں۔

پیغام:

ہم تمام انسانوں کے ساتھ اچھے اور نیک سلوک کے خواہاں ہیں ۔ لیکن کفار جو خدا اور روز قیامت پر یقین نہیں رکھتے اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے مکروفریب کے ذریعہ ہم پر مسلط ہوجائیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ کفار کے ساتھ سختی سے پیش آئیں تاکہ وہ ہم میں رسوخ پیدا نہ کرسکیں اور مومنین کے ساتھ نہایت مہربانی اور شفقت کے ساتھ پیش آئیں۔

(17) دوستی و رفاقت

فَاتَّقُواللّٰهَ وأَصلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ----(سوره مبارکه انفال ،١)

ترجمہ:

تم لوگ اللہ سے ڈرو اور آپس میں اصلاح کرو۔


پیغام:

تقویٰ الٰہی کا مطلب خداوند متعال کے قوانین اور اس کے احکامات کی پابندی کرنا ہے۔ اور ان ہی قوانین میں سے ایک آپس میں اصلاح کرنا اور ہر قسم کی لڑائی اور جھگڑے سے پرہیز کرنا ہے۔ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر آپس میں قریب ہوجائیں اور دوستی اور رفاقت کی فضا کو قائم رکھتے ہوئے خوشگوار زندگی بسر کریں حضرت علی ـ سے منقول ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: دوستی و رفاقت ایک سال کی نماز اور روزہ سے افضل ہے۔

(18) نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد

تَعَاوَنُوا عَلیٰ البِرِّ وَالتّقویٰ-

ترجمہ:

نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔

پیغام:

ہمیں چاہیئے کہ عمل خیر میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور ہمیشہ اچھے اور نیک کاموں میں پیش پیش رہیں۔


(19) برائی سے پرہیز

وَلَا تَعَاوَنُوا عَلیٰ الاِثْمِ وَالْعُدْوان---

ترجمہ:

ہرگز گناہ اور تعدّی پر آپس میں تعاون نہ کرنا۔

پیغام:

ظلم و ستم ، خودبینی، اور وسوسہ شیطان ہمیشہ انسان کا تعاقب کررہے ہیں اگر بعض افراد برائیوں کا شکار ہوچکے ہوں تو ہمیں ان کی نجات اور رہائی کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور کم از کم ہم خود اُن افراد میں سے نہ ہوں اور گناہ اور برائی کی جگہ سے پرہیز کریں۔

(20) خدا کے حضور

أَلَمْ یَعْلَمْ بِأنّ اللّٰه یَریٰ- (سوره مبارکه علق،١٤)

ترجمہ:

کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ دیکھ رہاہے۔


پیغام:

امام خمینی نے فرمایا :

عالم محضر خدا ہے اور محضر خدا میں گناہ نہ کریں۔

(21)عفو در گذر

وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحوا أَلَا تُحبّونَ أنْ یَغْفِر اللّٰهُ لَکُمْ-(سوره مبارکه نور،٢٢)

ترجمہ:

ہر ایک کو معاف کرنا چاہیے اور درگذر کرنا چاہیے کیا تم یہ نہیں چاہتے ہو کہ خدا تمہارے گناہوں کو بخش دے۔

پیغام:

تمام عالم خدا کی رحمت کا جلوہ ہے اس نے اپنے محبوب نبی کو بھی رحمت عالمین کے لقب سے نوازا ہے ۔ ان کی پیروی کرنے والوں کو بھی چاہیے کہ دنیا میں رحمت کا پیغام پہنچائیں۔


گیارہویں فصل(نوجوان وجوان)


(1) طلاطلم موجوں میں

أَنِ اقذِ فیه فی التَّابُوت فاقذِ فِیه فِی الْیَم --- (سورئه مبارکه طه ، ٢٤)

ترجمہ:

بچے کو صندوق میں رکھ دو اور پھر صندوق کو دریا کے حوالے کردو۔

پیغام:

ظالم اور ستمگر بچوں پر رحم نہیں کرتے اور انہیں بھی اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں لیکن اگر خدا کی مدد ساتھ ہو تو جناب موسیٰ ـ بچپنے میں ہی طلاطم موجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔

(2) لق و دق صحرا میں

رَبَّنَا اِنّیْ أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَتِیْ بِوادٍ غَیْرِ ذی زرعٍ-(سورئه مبارکه ابراهیم، ٣٧)

ترجمہ:

اے صاحبان ایمان جو ہم نے پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اسے کھاؤ اور دینے والے خدا کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔


پیغام:

جناب ابراہیم ـنے اپنی زوجہ جناب ہاجرہ اور اپنے بیٹے جناب اسماعیل ـ کو مکہ کے تپتے صحراء میں چھوڑدیا خداوند متعال نے ان کی کیا خوب میزبانی کی کہ جناب اسماعیل ـ کے قدم مبارک سے چشمہ جاری ہوگیا جو آج بھی عاشقوں کے لیے قبلہ گاہ ہے۔

(3) عہدہ نبوّت پر

قَالَ اِنّی عَبْدُ اللّٰه اتٰانِی الکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نبیاً-(سورئه مبارکه مریم، ٣٠)

ترجمہ:

بچہ نے آواز دی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اُس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔

پیغام:

اگر خدا چاہے تو بچہ گہواہ میں گفتگو کرسکتا ہے۔

نبوت میں سن وسال کی کوئی قید نہیں اسی طرح دوسری ذمہ داریوں میںبھی جیسا کہ پیغمبر اسلام(ص) نے 18 سالہ نوجوان کو لشکر اسلام کا سپاہ سالار بنایا تھا۔


(4) سختیوں میں

--- قَالَ یٰا بُشْریٰ هٰذٰا غَلَام ----(سورئه مبارکه یوسف، ١٩)

ترجمہ:

(اور وہاں ایک قافلہ آیا جس کے پانی نکالنے والے نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا تو) آواز دی ارے واہ یہ تو بچہ ہے۔۔۔

پیغام:

جو نوجوان اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں سختیاں برداشت کرتا ہے اس کا مستقبل روشن ہوتا ہے جس طرح جناب یوسف ـنے سختیاں برداشت کی، پہلے کنویں میں ڈال دیئے گئے ، پھر غلام بناکر بھیج دیئے گئے مگر ہرگز خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوئے۔

(5) آگ میں

قَالُوا حَرَّقُوهُ وَانْصَروا---قُلْنٰا یٰا نٰارُکُونِیْ بَرْداً و سَلَامًا عَلٰی اِبْراهِیْمَ -(سورئه مبارکه انبیاء ، ٦٨، ٦٩)

ترجمہ:

ان لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کو آگ میں جلادو اور اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس طرح اپنے خداؤں کی مدد کرو۔

تو ہم نے حکم دیا کے اے آگ ابراہیم کے لیے سرد ہوجا اور سلامتی کا سامان بن جا۔


پیغام:

نوجوانوں کی ایک خاصیت حق پرستی اور خرافات سے مقابلہ کرنا ہے جیسا کہ جناب ابراہیم جوانی میں بت پرستی کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے۔

نوجوان پاک و پاکیزہ دل رکھنے اور دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے دوسروں کی نسبت جلد ظلم و ستم کے خلاف کھڑے ہوکر اس راہ میں سختیاں برداشت کرتے ہیں ایسے میں خدا کی مدد ان کے ساتھ ہوتی ہے۔

(6) مورد لطف و کرم پروردگار

اِنَّهُمْ فِتْیَةً اٰمِنُوا بِرَبِّهِمْ و ذِدْنٰاهُمْ هُدیٰ-(سورئه مبارکه کهف، ١٣)

ترجمہ:

یہ چند جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اورہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا تھا۔

پیغام:

جوانوں کی ایک خاصیت، ظلم کا خاتمہ اور عدالت کا قیام ہے۔ ان کا خدا پر ایمان انہیں ظلم و ستم کے خلاف جہاد میں تقویت دیتا ہے۔

کیا ہم اصھاب کہف کی طرح باایمان اور پاک و پاکیزہ صفات کے مالک بن سکتے ہیں تاکہ مورد لطف و کرم پروردگار قرار پائیں۔


(7) مہربان

وَ اِنَّ کُنَّا لَخٰاطِئِیْنَ- قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمْ الیَوْم---(سورئه مبارکه یوسف، ٩١، ٩٢)

ترجمہ:

اور ہم سب خطا کار تھے ۔ یوسف نے کہا آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں ہے۔

پیغام:

جناب یوسف ـ کے بھائی اُن سے نیکی اور اچھائی کا درس بھی لے سکتے تھے مگر ان کی جسارت نے انہیں جناب یوسف ـ کے قتل پر آمادہ کردیا اسی غرض سے انہوں نے جناب یوسف ـ کو کنویں میں ڈال دیا۔

اور آخر کار جب جناب یوسفـ بادشاہ مصر بنے تو ان کے بھائی ان کے سامنے فریاد کرنے لگے۔ اور اپنے کیے کہ معافی مانگنے لگے یہ جناب یوسفـ کی فراخدلی تھی کہ آپ نے اُن سب کو معاف کردیا۔

(8) صاحب کردار

قَالَ رَبّ السّجْنُ اَحَبُّ الیّ مِمَّا تدعونَنی-(سورئه مبارکه یوسف، ٣٣)

ترجمہ:

یوسف نے کہا کہ پروردگار یہ قید مجھے اس کام سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ لوگ دعوت دے رہے ہیں۔


پیغام:

اگر ایک صاحب کردار نوجوان کے سامنے دو راہیں ہوں تو وہ کون سی راہ کا انتخاب کرے گا۔یقینا وہ صحیح اور درست راہ کا انتخاب کرے گا۔

(9) نافرمان

قَالَ سأوی اِلٰی جَبَلٍ یَعْمِمُنِیْ مِنَ المٰائ----(سورئه مبارکه هود، ٤٣)

ترجمہ:

اُس نے کہا کہ میں عنقریب پہاڑ پر پناہ لے لوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔

پیغام:

اگر کوئی جوان راہ انحراف اختیار کرتا ہے تو گویا اُس نے انبیاء کی نافرمانی کی ہے چاہے وہ جوان نبی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔

جوان پاک و پاکیزہ دل کا مالک ہوتا ہے۔ لہٰذا شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ناتجربہ کار جوان کو راہ صحیح سے منحرف کردے۔


(10) بت شکن

فَجَعَلهُمْ جُذاذًا اِلّا کبیراً لَهُمْ-(سورئه مبارکه انبیائ، ٥٨)

ترجمہ:

پھر ابراہیم نے ان کے بڑے کے علاوہ سب کو چور چور کردیا۔

پیغام:

جوانوں کی ایک خاص بات ان کا حق پرست ہوتاہے جیسا کہ جناب ابراہیم ـنے اپنی جوانی میں بت پرستی سے مقابلہ کرکے حق پرستی کا بول بالا کردیا۔

(11) امین اور دیانت دار

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خزٰائن الارض--- اِنّی حَفِیْظ عَلِیْم-(سورئه مبارکه یوسف ، ٥٥)

ترجمہ:

یوسف نے کہا کہ مجھے زمین کے خزانوں پر مقرر کردو کہ میں محافظ بھی ہوں اور صاحب علم بھی۔


پیغام:

امانت داری اور ذمہ داری کو صحیح ادا کرنا مدیریت کی دو شرطیں ہیں۔ ایک جوان اپنے دل کی پاکیزگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امانت دار اوراپنے ذہن کی ترو تازگی اور شادابی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین طالب علم بن سکتا ہے۔

(12) صابر

یٰا اَبَتِ اِفْعَلْ مٰا تُومَر سَتَجِدُنِی اِنْشَا اللّٰهُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ-(سورئه مبارکه صافات، ١٠٢)

ترجمہ:

بابا آپ کو جو حکم دیا جارہاہے اس پر عمل کریں ، انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

پیغام:

جناب اسماعیل ـنے جناب ابراہیم ـکے کہنے کے مطابق یہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں ذبح کررہ ہوں۔ تیار ہوگئے اس لیے کہ یہ جانتے تھے جو کچھ پروردگار کی طرف سے ہے حق ہے۔


(13) حق پرست

وَقَالَ مُوْسیٰ یٰا فِرعَوْنَ اِنّی رَسُول مِن رَبِّ العٰالَمِیْنَ- فَأَرسِلَ مَعِی بنی اسرائیل- (سورئه مبارکه اعراف، ١٠٤، ١٠٥)

ترجمہ:

اور موسیٰ نے فرعون سے کہا کہ میں رب العالمین کی طرف سے فرستادہ ہوں ۔۔۔ لہٰذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔

پیغام:

نوجوان کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ ظلم و ستم کو برداشت نہیں کرتا اور اس کے خلاف کھڑا ہوجاتاہے۔ انبیاء کرام کے اہم فرائض میں سے ایک ظلم کے خلاف قیام کرنا تھا جیسا کہ جناب ابراہیم ـ نے نمرور کے خلاف، جناب موسیٰ ـنے فرعون کے خلاف اور جناب داؤد ـ نے جالوت کے خلاف قیام کیا۔

(14) پاک و پاکیزہ

وَ مریم ابنَتَ عِمْرٰان الَّتی أَحْصَنَتْ فَرْجها فَنَفَحْنٰا فِیْهِ مِنْ روحِنٰا ---(سورئه مبارکه تحریم، ١٢)

ترجمہ:

اور مریم بنت عمران کی مثال جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔۔۔


پیغام:

اگر کوئی مرد یا عورت پاک وپاکیزہ کردار کا مالک ہو تو خدا کی رحمت ہمیشہ اس کے شامل حال رہتی ہے۔

(15) مطیع و فرمانبردار

قَالَ معاذ اللّٰه انّه ربّی أحسَنَ مثوٰی ---(سورئه مبارکه یوسف، ٢٣)

ترجمہ:

یوسف نے کہا کہ معاذ اللہ وہ میرا مالک ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔

پیغام:

جناب یوسف ـ نے خدا کی اطاعت کی لذت کو فعل حرام کی لذت پر ترجیح دی اور شیطان کے فریب میں نہ آئے اس لیے کہ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمام نوجوانوں کو برائی میں مبتلا کردے لیکن صاحب کردار جوان پاک و پاکیزگی کی دائمی لذت کو گناہ کی چند لحظے کی لذت پر ترجیح دیتا ہے۔

(16) طالب علم

قال له موسیٰ هل اتبعک عَلیٰ أن تُعَلِّمَنِ مَمَّا عُلّمْتَ رُشْدا- (سورئه مبارکه کهف، ٦٦)


ترجمہ:

موسیٰ نے اس بندے سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے اس علم میں سے کچھ تعلیم کریں جو رہنمائی کا علم آپ کو عطا ہوا ہے۔

پیغام:

ہمیں کمال تک پہنچنے کے لیے چاہیے کہ مسلسل تحصیل علم کریں۔

معارف الٰہیہ کے حصول کے لیے اپنے اساتذہ کے سامنے متواضع رہنا چاہیے اور اُن سے سیکھیں۔ وہ علم اہمیت کا حامل ہے جو رشد معنوی کے لیے پیش خیمہ ہو۔

(17) صاحب امتیاز

قَالَ اِنَّ اللّٰه اصطفاه عَلَیکُمْ و زادَه بسطَةً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ---(سورئه مبارکه بقره، ٢٤٧)

ترجمہ:

نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے۔

پیغام:

ایک جوان کو چاہیئے کہ ورزش کے ذریعہ اپنے آپ کو جسمانی لحاظ سے تندرست و توانا رکھے اور تحصیل علم کے ذریعہ آئندہ پیش آنے والی ذمہ داریوں کے لیے تیار رہے۔


(18) مبلغ الٰہِی

اِنّی وَجَهَّتُ وَجْهِنی لَلّذِی فَطَر السَّمَاواتِ وَالأرضَ---(سورئه مبارکه انعام، ٧٩)

ترجمہ:

میرا رخ تمام تر اُس خدا کی طرف ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔

پیغام:

جناب ابراہیم ـ نے سورج ، چاند اورستارہ کو دیکھا اور جب وہ غروب ہوگئے تو فرمایا کہ جو غروب ہوجائے وہ میرا خدا نہیں ہوسکتا ہے۔

اس واقعہ سے یہ درس ملتا ہے کہ جو چیز بھی فنا ہونے والی ہو اُس سے دل نہیں لگانا چاہئیے۔

(19) نیک اور محنت کش

قال اِنّی اُرِیْدُ أنْ اُنْکِحَکَ اِحْدی ابنَتَیّ---(سورئه مبارکه قصص، ٢٧)

ترجمہ:

انہوں نے کہا کہ میں ان دونوں میں سے ایک بیٹی کا عقد آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔


پیغام:

جب جناب شعیب ـ نے یہ دیکھا کہ موسی ـ ایک نیک اور محنت کش جوان ہے تو اُن سے اپنی بیٹی کے عقد کے لیے کہا۔ جناب موسی ـ نے ان کی اس فرمائش کو قبول کرتے ہوئے اپنی روزی اور شادی کا مسئلہ حل کرلیا۔

(20) ہدایت یافتہ اور گمراہ

فَتَقَبَّل مِنْ أَحْدِهِمٰا وَلَمْ یُتَقَبَّل مِنَ الاٰخر---(سورئه مبارکه مائده، ٢٧)

ترجمہ:

(جب حضرت آدم کے دونوں فرزندوں نے قربانی دی) ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نہ ہوئی۔

پیغام:

جوانی ارادوں اور فیصلوں کا دور ہوتا ہے جو شخص اپنی جوانی میں انحراف کا شکار ہوجائے وہ تباہ ہوجاتا ہے جیسا کہ قابیل نے حسد کیا اور اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرکے تاریخ بشر کا سب سے پہلا قتل کیا ہے۔

(21) فریب کار

وَجاؤا عَلٰی قمیصِهِ بدمٍ کِذْبٍ قَالَ سوّلَتْ لَکُمْ أَنْفُسَکُم أمْرٰا-(سورئه مبارکه یوسف، ١٨)


ترجمہ:

اور یوسف کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر لے آئے، یعقوب نے کہا کہ یہ بات صرف تمہارے دل نے گڑھی ہے۔

پیغام:

جھوٹ اور فریب کاری کا جلد ہی پتہ چل جاتا ہے۔

جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں کو دھوکہ دے رہا ہے در حقیقت وہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے۔


بارہویں فصل (ہمیں ایسا ہونا چاہیے)


(1)خدا اور رسول کی آواز پر لبیک

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا اِسْتَجِیْبُوْ اللّٰه وَ لِلرَّسُولِ اِذَا دَعٰاکُمْ لِمٰا یُحْیَیکُمْ--- (انفال ٢٤)

ترجمہ:

اے ایمان والو اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمھیں اس أمر کی طرف دعوت دیں جس میں تمھاری زندگی ہے۔

پیغام:

حقیقی ایمان کی پہچان خدا اور رسول کی آواز پر لبیک کہنا ہے۔ خدا اور رسول ہمیں صحیح زندگی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

(2) شکرگزار

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا کُلُوا مِنْ طَیِّبٰاتِ مٰا رَزَقْنٰا کُم وَشْکُرُوا لِلّٰهِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعبُدُونَ-(بقره ١٧٢)

ترجمہ:

اے صاحبان ایمان جو ہم نے پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اسے کھاؤ اور دینے والے خدا کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔


پیغام:

صاحبان ایمان مادّی نعمتوں سے معنوی پیشرفت کے لیے فائدہ اٹھاتے ہیں، جو شخص اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ تمام نعمتیں خداوند متعال کی طرف سے ہیں وہ کبھی بھی غرور و تکبر کا شکار نہیں ہوتا بلکہ شکر گذاروں میں سے ہوجاتاہے۔

نعمت کا شکر یہ ہے کہ مُنعِم کی راہ میں خرچ کی جائیں۔

حلال چیزیں پاک اور حرام چیزیں ناپاک ہیں۔

(3) شیطان کی اتباع سے پرہیز

یٰاایُّهَا الَّذِیْنَ أَمَنُوا أدْخُلُوا فِی السِّلْم کَافَّةَ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّیطَانِ اِنَّه' لَکُمْ عَدو مُبِیْنِ- (بقره ٢٠٨)

ترجمہ:

ایمان والو۔ تم سب مکمل طریقہ سے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطانی اقدامات کا اتباع نہ کرو کہ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔

پیغام:

صلح وآشتی کے ساتھ زندگی گذارنا ایمان کی علامت ہے ، لڑائی جھگڑا، تفرقہ اور جدائی یہ سب شیطانی کام ہیں جبکہ پیار ومحبت اور وحدت و اتحاد الٰہی عمل ہیں۔

رسالتمآب (ص)سے منقول ہے کہ مومن وہ ہے جس سے لوگوں کی جان اور مال محفوظ ہیں۔ (میزان الحکمہ ج1، ص 391)


(4)کافروں کی اطاعت سے دوری

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوا یَرُدّوکُمْ علٰی أَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلبوا خاسرین-(آل عمران ١٤٩)

ترجمہ:

اے ایمان والو اگر تم کافروں کی اطاعت کروگے تو یہ تمھیں الٹے پاؤں پلٹا لے جائیں گے، اور پھر تم ہی اُلٹے خسارہ والوں میں ہوجاؤ گے۔

پیغام:

کفر و گمراہی کا خدشہ ہمیشہ موجود ہے، صاحبان ایمان کو شیطانی وسواس سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

(5)دشمن شناس

یٰاایُّهَا الَّذِیْنَ أَمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُوْنِکُمْ لَا یٰالُونَکُم خَبَالاً قَدْ بَدَتِ البغضائُ مِنْ أَفْوٰاهِهِمْ وَمَا تُخْفٰیٰ فِیْ صُدُوْرِهم أَکْبَر- (آل عمران ١١٨)

ترجمہ:

اے ایمان والو خبردار غیروں کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ تمھیں نقصان پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہ کرینگے یہ صرف تمھاری مشقت و مصیبت کے خواہش مند ہیں۔ ان کی عداوت زبان سے بھی ظاہر ہے اور جو دل میں چھپا رکھا ہے وہ تو بہت زیادہ ہے۔


پیغام:

دشمن کو ہماری خوشحالی برداشت نہیں ہے وہ ہمیشہ ہماری مشقت اور مصیبت کا خواہشمند ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے راز دوسروں سے بیان نہ کریں۔

فتنہ و فساد، بربادی، زبردستی یہ سب دشمن کے حربے ہیں۔ ان سے نمٹنے کے لیے ہمیں ایمان ، عقلمندی اور دشمن شناسی کی ضرورت ہے۔

(6) اہل کتاب کی اطاعت سے اجتناب

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا اِنْ تُطِیْعُوا فَرِیقًا مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الکِتَابَ یَرُدَّوکُمْ بعَدَ اِیْمٰانِکُمْ کَافِرِیْن- (آل عمران ١٠٠)

ترجمہ:

ایمان والو اگر تم نے اہل کتاب کے اس گروہ کی اطاعت کرلی تو یہ تم کو ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹادیں گے۔

پیغام:

غیروں کی اطاعت اور پیروی کا نتیجہ آخرت کی بربادی ہے۔ اور کافروں کی اطاعت، کفر کا پیش خیمہ ہے، لہٰذا ہر ممکن اُن سے دور رہنا چاہیے۔

جب یہودیوں نے مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور پھوٹ ڈالنا شروع کی تو یہ آیت نازل ہوئی اور صاحبان ایمان کو گمراہ ہونے سے منع کیا کہ یہودی ہر دور میں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے لیکن تمھارا فرض ہے کہ ہوشیار رہو اور گمراہ نہ ہو۔


(7)انفاق کرنے والا

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنٰا کُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأتِی یَوْم لَا بَیع فِیْهِ وَلَا خُلَّة وَلَا شَفَاعَة--- (بقره ٢٥٤)

ترجمہ:

اے ایمان والو جو تمھیں رزق دیا گیاہے، اس میں سے راہ خد میں خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس دن نہ تجارت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش۔

پیغام:

خدا اور قیامت پر ایمان تمام امور خیریہ من جملہ انفاق کا پیش خیمہ ہے۔

حضرت علی ـسے مروی ہے کہ دنیا دوستان خدا کے لیے تجارت کی جگہ ہے جہاں وہ انفاق اور اعمال خیر کے ذریعہ اپنی آخرت کو آباد کرتے ہیں لیکن دوسرے افراد دنیا کوصرف دنیا کے لیے چاہتے ہیں۔

(8) پرہیز گار

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا اِصْبِرُوا وَصٰابِروا وَ رَابِطُوا واتَّقُواللّٰهَ لَعَلّکُم تُفْلِحُونَ- (آل عمران ٢٠٠)


ترجمہ:

اے ایمان والو صبر کرو ، صبر کی تعلیم دو، جہاد کیلئے تیاری کرو اور اللہ سے ڈرو شاید تم فلاح یافتہ اور کامیاب ہوجاؤ۔

پیغام:

امام صادق ـ سے روایت ہے کہ واجبات الٰہی کے پابند رہو، مشکلات کے سامنے صبر واستقامت سے کام لو اور اپنے پیشوا کا دفاع کرو۔

(9)صابر

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا استَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوة انَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ-(بقره ١٥٣)

ترجمہ:

اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگو کہ خد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

پیغام:

نماز خدا سے رابطہ کا بہترین وسیلہ ہے۔ صبر مشکلات پر قابو پانے کا نام ہے۔ گناہ پر صبر تقوے الٰہی ہے ، شہوت پر صبر پاکدامنی ہے، مصیبت پر صبر اطمینان اور سکون پر دلیل ہے، خدا صابرین کے ساتھ ہے خدا نیک افراد کے ساتھ ہے، خدا صاحبان تقویٰ کے ساتھ ہے، یعنی اُن سے خاص محبت کرتاہے۔


(10)عدالت خواہاں

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا کُونُوا قَوَامِیْنَ بِالقِسْط شُهدائَ لِلّٰهِ وََلَوْ علی أَنْفسِکُمْ أَوِالْوٰالِدَیْن وَالْأَقْرَبِیْنَ اَن یّکُن غَنَیًّا أَوْ فَقِیرًا فَاللّٰهِ اوُلٰی بِهِمٰا- (نساء ١٣٥)

ترجمہ:

اے ایمان والو! عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لیے گواہ بنو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقربا ہی کی خلاف کیوں نہ ہو جس کے لیے گواہی دینا ہے وہ غنی ہو یا فقیرخدا تو (تمھارے ساتھ) ان پر زیادہ مہربان ہے۔

پیغام:

انسان کو ہمیشہ اپنی ذات اور اپنے عزیز و اقارب کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے، زندگی کے ہر شعبہ میں عدل و انصاف سے کام لینا چاہیے ، انبیاء کرام کے آنے کا مقصد عدل و انصاف کو معاشرہ میں قائم کرنا تھا، سورہ مائدہ کی آٹھویں آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دشمن کے بارے میں بھی عدل و انصاف سے کام لینا چاہیے۔

امام علی ـ سے منقول ہے کہ خداوندعالم نے زمین و آسمان کو پایہ عدالت پر استوار کیا ہے۔


(11) یاد رکھنے والا

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا اذکُروا نِعْمَة اللّٰهَ عَلَیْکُمْ اِذ جٰا ئَ تْکُمُ جُنُود فَأَرْسَلْنٰا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَ جُنُودًا لَمْ تَروهٰا وَکَاْنَ اللّٰهُ بِمٰا تَعْمَلُونَ بَصِیْرا - (احزاب ٩)

ترجمہ:

اے ایمان والو! اللہ کی اُس نعمت کو یاد کرو جب کفر کے لشکر تمھارے سامنے آگئے اور ہم نے ان کے خلاف تمھاری مدد کے لیے تیز ہوا اور ایسے لشکر بھیج دیئے جن کو تم نے دیکھا بھی نہیں تھا اور اللہ تمھارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔

پیغام:

یہ آیت جنگ احزاب (جنگ خندق 5 ہجری) میں نازل ہوئی، یہ قانون الٰہی ہے کہ اگر ہم خدا کا ساتھ دیں تو وہ بھی ہماری نصرت و امداد کریگا، خدا کی ایک عظیم نعمت یہ ہے کہ اُس نے ہمیشہ اسلام اور اُمت مسلمہ کی حمایت کی ہے۔

(12)خبر فاسق کی تحقیق

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا اِنْ جٰاء کُمْ فٰاسِق بِنَبَائٍ فَتَبَیِّنُوا أَنْ تُصِیْبُوا قَوْمًا بِجَهٰالَةٍ فَتُصْبَحُوا عَلٰی فَعَلْتُمْ نٰادِمِیْنَ- (حجرات ٦)


ترجمہ:

ایمان والو اگر فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے۔

پیغام:

جو شخص خدا کا مطیع و فرمانبردار نہ ہو وہ فاسق ہے، خدا کے اس دستور کی اہمیت کا اندازہ آج کے دور میں زیادہ سے زیادہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ زیادہ تر نشر واشاعت اور روابط کے امور کی انجام دہی مستکبرین اور منافقین کے ہاتھ میں ہی ہے۔

(13) مذاق نہ اڑانے والا

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَوْم مِنْ قومً--- وَلَا تَنَابَروا بَالْأَلْقٰابِ---(حجرات ١١)

ترجمہ:

ایمان والو خبردار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑاے۔۔۔ اور آپس میں ایک دوسرے کو برے برے القاب سے بھی یاد نہ کرنا۔

پیغام:

قرآن کی بہت سی آیات معاشرتی آداب کو بیان کرتی ہیں، خداوند عالم چاہتا ہے کہ تمام مسلمان آپس میں اتحاد اور پیار ومحبت سے زندگی گزاریں، اس آیت میں اور اسی طرح دوسری آیات میں ان عوامل اور اسباب سے جو تفرقہ اور جدائی کا باعث بنتے ہیں ، روکا ہے۔


(14) اپنا محاسبہ کرنے والا

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا اتقواللّٰهَ وَلِتُنظُر نَفس ما قَدَّمَت لِغَدٍ وَاتَّقوا للّٰهُ خَبِیْر بِمٰا تَعْمَلُوْن-(حشر ١٨)

ترجمہ:

ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ یقینا تمھارے اعمال سے باخبر ہے۔

پیغام:

تقوے کے دومرحلے ہیں، پہلا مرحلہ یہ ہے کہ انسان نیک کام انجام دے اور بُرے کاموں سے پرہیز کرے، اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ انجام شدہ کاموں پر تجدید نظر کرے۔

(15) مغضوب سے دوستی نہ کرنا

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا لَا تَتَولَّوا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسوا مِنَ الاٰخِرَةِ کَمٰا یَئِسَ الکُفَّارُ مِنَ أَصْحٰابِ القُبُور- (ممتحنه ١٣)


ترجمہ:

ایمان والو خبردار اُس قوم سے ہرگز دوستی نہ کرنا جس پر خدا نے غضب نازل کیا ہے کہ وہ آخرت سے اسی طرح مایوس ہونگے جس طرح کفار قبر والوں سے مایوس ہوجاتے ہیں۔

پیغام:

جو لوگ روز آخرت پر یقین نہیں رکھتے اُن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے۔

پیغمبر اسلام (ص)سے منقول ہے جو شخص کسی قوم کی شبیہ بن جائے اس کا طور طریقہ اور چال چلن اپنالے تو اُسی قوم میں شمار کیا جائے گا۔

ہر قوم و ملت سے دوستی کے چند مرحلے ہیں:

اپنی جان اور مال سے ان کی مدد کرنا، ان کی روز بروز ترقی کا طلب گار ہونا، ان کی عادات کی پیروی کرنا۔

(16) جو کہو اُس پر عمل کرو

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مٰا لَا تَفْعَلُونَ - کَبُرَ مقتًا عِنْداللّٰهِ ان تَقُولُوا مٰا لَا تَفْعَلُونْ-(صف ٢،٣)

ترجمہ:

ایمان والو آخر وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے، اللہ کے نزدیک یہ سخت ناراضگی کا سبب ہے کہ تم وہ کہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو۔


پیغام:

خدا اُس سے ناراض ہوتا ہے جس کے قول اور فعل میں تضاد ہو۔

رسالت مآب (ص) سے منقول ہے کہ ایمان محض دعوے اور آرزو کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ایمان یہ ہے کہ دل میں خالص موجود ہو اور عمل اُس کی تائید کرے۔

امام صادق ـ سے مروی ہے کہ حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ انسان حق کو جو ظاہری طور پر اس کے لیے نقصان دہ ہے اُس باطل پر ترجیح دے جو ظاہری طور پر اس کے لیے سود مند ہے۔

(17) متقی اور مجاہد

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا هَلْ أَدُّلْکُمْ عَلٰی تجارةٍ تُنْجِیْکُمْ مِنْ عَذابٍ أَلِیْم تومنون باللّه وَ رَسُوْلِهِ وَتُجٰاهِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِأَمْوالِ کُمْ وَ أَنْفُسِکُمْ ذٰالِکُمْ خَیْر لَکُمْ اِنْ کُنْتُم تَعْلَمُونَ-(صف ١٠،١١)

ترجمہ:

اے ایمان والو کیا میں تمھیں ایک ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچالے، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور راہ خدا میں اپنے جان و مال سے جہاد کرو یہی تمھارے حق میں سب سے بہتر ہے اگر تم جاننے والے ہو۔

پیغام:

ہر معاملہ میں نفع اور نقصان کا احتمال ہوتا ہے ، لیکن اگر خدا سے معاملہ کیا جائے تو صرف نفع ہی نفع ہے، اور نفع بھی ایسا جو خدا کے مقام و منصب کے مناسب ہو۔


(18)ذکر خدا میں تعجیل

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا اِذَا نُودیَ لِلصَّلوٰةِ مِنْ یَوْمِ الجُمْعَةِ فَاسْعُوا اِلٰی ذِکْرِاللّٰهِ ----(جمعه ٩)

ترجمہ:

اے ایمان والو جب تمھیں جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو ذکر خدا کی طرف دوڑو۔۔۔

پیغام:

پیغمبر اسلام (ص) سے منقول ہے کہ نماز جمعہ فقراء و مساکین کے لیے حج ہے۔

ایک اور روایت میں آنحضرت (ص) سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ بجالاتا ہے تو اُسے خدا کی بارگاہ سے قبول شدہ حج کا ثواب ملتا ہے اورجب نماز عصر بجالاتا ہے تو پھر عمرہ کا ثواب ملتاہے۔

(19)دشمن خدا سے بیزار

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا لَا تَتَّخِذوا عَدُّوِی وعَدُّوُکُمْ أَوْلِیٰائَ تُلْقُونَ اِلَیْهِمْ بِالمَودَّةِ و قَدْ کَفَروا بِمٰا جَائَ کُمْ مِنَ الحَقَّ--- (ممتحنه ١٠)


ترجمہ:

ایمان والو خبردار میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنانا کہ تم ان کی طرف دوستی کی پیش کش کرو جبکہ انھوں نے اس حق کا انکار کردیا ہے جو تمہارے پاس آچکا ہے۔

پیغام:

جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہے وہ کفّار کے سامنے ذلت کو برداشت نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ خدا اور رسول کے دشمن مومن سے دشمنی رکھتے ہیں۔

اسلام میں دشمن شناسی ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

طاغوتی طاقتیں مختلف حربوں کے ذریعہ اپنے آپ کو حقوق بشر، آزادی اور امن وامنیت کا علمبردار کہہ کر اپنے ناپاک جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔

(20)خدا کا مددگار

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا اِن تَنْصُرو اللّٰهَ یَنْصُرْکُمْ ویُثبِّتْ أَقْدَامَکُمْ- وَالَّذِیْنَ کَفَرُوا فَتَعساً لَّهُمْ وَ أَضَل أَعْمٰالَهُمْ- (محمد ٧،٨)

ترجمہ:

ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ بھی تمھاری مدد کرے گا ، اور تمھیں ثابت قدم بنادے گا، اور جن لوگوں کفر اختیار کیا ان کے واسطے ڈگمگاہٹ ہے اور ان کے اعمال برباد ہیں۔


پیغام:

جو لوگ کفر اختیار کرتے ہیں وہ لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں اور ان کے اعمال تباہ و برباد ہوجاتے ہیں ، اس میں کوئی شخص نہیں ہے کہ خدا نے صاحبان ایمان سے نصرت کا وعدہ کیا ہے اور ان کی مدد بھی کرتا ہے، لیکن یہ سب اس بات پر مشروط ہے کہ بندہ خدا کی مدد کرے، تو خدا بھی بندے کی مدد کریگا، بندہ خدا کا ذکر کرے تو خدا بھی بندے کا ذکر کرے گا، بندہ خدا کا شکر کرے تو خدا نعمتوں میں اضافہ کرے گا۔

حق کو نابود کرنے کے لیے کفار کی کوششوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی چاہے کہ اپنے منہ سے نور خورشید کو بجھادے۔

(21)توبہ کرنے والا

یٰاایّها الَّذِیْنَ أَمَنُوا تُوبُوا اِلٰی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصُوحًا----(تحریم ٨)

ترجمہ:

ایمان والو خلوص دل کے ساتھ توبہ کرو۔

پیغام:

امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے : توبہ نصوح سے مراد ہے کہ دل بھی اُسی طرح توبہ کرے جیسے اس کا ظاہر توبہ کررہا ہے۔ رسالت مآب (ص) سے روایت ہے کہ توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اُس نے گناہ ہی نہیں کیا۔

ایک اور مقام پر پیغمبر اسلام (ص)سے مروی ہے کہ خدا کے نزدیک محبوب ترین شخص توبہ کرنے والا مرد یا عورت ہے۔

تمّت بالخیر۔ نسیم حیدر زیدی

1427 ھ ق


فہرست

آغازسخن 3

پہلی فصل(قرآن) 4

(ا) قرآن کا مثل نہیں لاسکتے 5

خالق اور مخلوق کا کیا مقابلہ۔ 5

(2) دس سورے لے آؤ 5

(3) ایک سورہ لے آؤ 6

(4) تد بّر کرو 7

(5) تلاوت سے پہلے 7

(6) غور سے سنو 8

(7) مجسمہ ہدایت 9

(8) نور کی طرف دعوت 9

(9) قرآن کی عظمت 10

(10) قرآن کی تلاوت 11

(11) پیغمبر اسلام کی فریاد 11

(12) کمالِ رحمت 12

(13) پہاڑ کا ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا 13

(14) قرآن کی دلوں پر تأثیر 13

(15) کفار کی بہانہ جوئی 14

(16) حفاظت الٰھی 15

(17) بابرکت کتاب 15


(18) حجاب 16

(19)رحمت اور بشارت 17

(20) صاحبان تقویٰ کیلئے ہدایت 17

(21) تصدیق کرنے والی 18

دوسری فصل(اہل بیت(علیھم السلام) 19

(1) ریسمان الٰہی 20

(2) کمال د ین اور اتمام نعمت 20

(3) ولایت 21

(4) تکمیل رسالت 22

(5) صادقین 23

(6) ایثار کا نمونہ 24

(7) برائی سے دوری 24

(8) خوشنودی خدا 25

(9) انفاق 26

(10) پیغمبر(ص) کے مددگار 27

(11) اطاعت 27

(12) مودَّت اہل بیت 28

(13) بہترین خلائق 29

(14) محبوب خدا 29

(15) علم و حکمت کے پیکر اتم 30

(16) خیر کثیر 31


(17) ھادی 31

(18) صراط مستقیم 32

(19) حقِ طہارت 33

(20) نور الھی 34

(21)جناب ابراہیم امیر المومنین کے شیعہ 35

تیسری فصل(امام زمان عج) 36

(1) مومنین کی خوشی اور مسر ت کا دن 37

(2) امام زمانہ علیہ السلام کے ساتھی 37

(3) آئمہ کی معرفت 38

(4) حق کی کامیابی کا دن 39

(5) دین حق 39

(6) اہل زمین کا دوبارہ زندہ ہونا 40

(7) نورِ الٰہی 40

(8) امام زمانہ علیہ السلام 41

(9)اللّٰہ کا گروہ 42

(10) پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین 42

(11) کافروں کی سزا 43

(12) أَولیٰاء خدا 44

(13) وعدہ الٰہی 44

(14) ظالموں کا انجام 45

(15) زمین کے وارث 46


(16) لوگوں کے پیشوا 46

(17) نماز کا قیام 47

(18)ذخیرہ الٰہی 48

(19) صالحین کی حکومت 48

(20)امام برحق 49

(21) زمین کا جگمگانا 50

چوتھی فصل(دعا) 51

(1) د نیا اور آخرت میں سعادت کی دعا 52

(2) اپنے اور اپنی اولاد کے حق میں دعا 52

(3) ثابت قدمی کے لئے دعا 53

(4)توبہ کیلئے دعا 54

(5) مومنین کی بخشش کیلئے دعا 55

(6) ہر کام کی اچھی ابتداء اور انتہا کے لئے دعا 56

(7) کافروں پر کامیابی کے لئے دعا 56

(8) صبر و استقامت کیلئے دعا 57

(9) متقیوں اور پرہیز گاروں کے پیشوا ہونے کی دعا 58

(10) طلب رحمت کے لئے دعا 59

(11) مغفرت کیلئے دعا 59

(12) نور ہدایت کی تکمیل کیلئے دعا 60

(13) صبر و تحمل کیلئے دعا 61

(14) ظالموں سے بیزاری کیلئے دعا 62


(15)شرح صدر کے لئے دعا 62

(16) شکر گذاری کیلئے دعا 63

(17) فرزند صالح کے لئے دعا 64

(18) مومنین کے لئے طلب رحمت کی دعا 65

(19) ثابت قدمی اور کفار پر کامیابی کی دعا 65

(20) صالحین کے ساتھ ملحق ہونے کی دعا 66

(21) نیک افراد کے ساتھ محشور ہونے کی دعا 67

پانچویں فصل(علم) 68

(1) قلم علامت علم 69

(2) تربیت اور تعلیم 69

(3) وہ علم جس کے انبیاء معلم ہیں 70

(4)اسماء حسنی کی تعلیم 71

(5) باعث افتخار 71

(6) ثمر علم 72

(7) قدرت علم 73

(8) مقام و منصب کی شرط 73

(9) وسیلہ امتحان 74

(10) کمال سے روکنے والا 75

(11)ذرائع علم 75

(12) صاحبان علم ہی صاحبا عقل ہیں 76

(13) نقصان دہ علم 77


(14) سؤال 78

(15) راسخون فی العلم 78

(16) جاننے والے اور نہ جاننے والے 79

(17) عالم بے عمل 80

(18) علم و قدرت خدمت انسان میں 81

(19) معلم بزرگ 81

(20) علم اور تقویٰ 82

(21)خیر فراوان 83

چھٹی فصل(اسرار کائنات) 84

(1) خاک سے پیدائش 85

(2) جَنِین کے مراحل 85

(3) تاریکی میں خلقت 86

(4) بڑھاپا 87

(5) کشش ثِقل 88

(6) زمین کی گردش 89

(7) وسعت آسمان 89

(8) سیاروں کی خلقت 90

(9)سبز درخت سے آگ 91

(10) پہاڑوں کی حرکت 91

(11) پہاڑ 92

(12) ہر چیز کا جوڑا 93


(13) ستون آسمان 93

(14) گول زمین 94

(15) پانی سے خلقت 95

(16) درختوں میں نظام زوجیّت 95

(17) سورج کی گردش 96

(18)حیوانات کی گفتگو 97

(19) زمیں کے اردگرد کی فضائ 97

(20) پودوں میں عمل لقاح 98

(21) سورج کا تاریک ہونا 99

ساتویں فصل(غور وفکر) 100

(1) بہترین انتخاب 101

(2) صاحبان علم اور صاحبان عقل 102

(3) کم عقل لوگ خدا کے نزدیک 102

(4)صاحبان معرفت 103

(5) غورو فکر کی دعوت 104

(6) غور و فکر کا مقام (1) 104

(7)غور و فکر کا مقام (2) 105

(8) غور و فکر کا مقام (3) 106

(9) غور و فکر کا مقام (4) 106

(10) غور و فکر کا مقام (5) 107

(11) غور و فکر کا مقام (6) 108


(12)غور و فکر کا مقام (7) 108

(13) کم عقل لوگ حق کے دشمن 109

(14) دشمنان حق کا سر انجام 110

(15)کم عقلی پلیدگی و گندگی ہے 110

(16) کم عقلی کا نتیجہ 111

(17) کیا صاحبان عقل اور کم عقل مساوی ہیں 112

(18) معرفت اور آگاہی کے ساتھ 112

(19) وسوسہ شیطان 113

(20)میدان عمل 114

(21) کافروں کی کم عقلی 114

آٹھویں فصل(انسان) 116

(1) بہترین ساخت 117

(2)خود آگاہ 117

(3) خود فریبی 118

(4) آزاد 119

(5) فرشتوں کے مقابل 119

(6) خبردار 120

(7) نقطہ ضعف کامل 121

(8) امتحان 121

(9) مورد تنقید 122

(10) زندگی کے مراحل 123


(11) اختیار 124

(12) انسان کا سوال 124

(13) غلط سوچ 125

(14) جانشین 125

(15)شیطان انسان کا دشمن 126

(16) امانت دار 127

(17) انسان ہوشیار ہوجاؤ 127

(18) کائنات انسان کے لیے 128

(19) تلاش و کوشش کا ہدف 129

(20) خطرہ سے ہوشیار 129

(21)نا شکری 130

نویں فصل(عورت) 131

(1) معنوی مساوات 132

(2) خلقت میں مساوات 132

(3) دورِ جاہلیت میں۔ 133

(4) معاشرتی مسائل میں 134

(5) حجاب میں 134

(6) مورد خطاب 135

(7) کافروں کے لئے مثال 136

(8) نمونہ عمل 137

(9) صاحبان ایمان کے لیے مثال 137


(10) خدا سے ہم کلام 138

(11) بہادر بہن 139

(12) محنت کش بہنیں 139

(13) فساد پھیلانے والی 140

(14) فرشتہ صفت 141

(15) عورت اور ذمہ داری 141

(16) برگزیدہ 142

(17) رضایت 143

(18) احترام میں مساوی 143

(19) درجات میں مساوی 144

(20) پاکیزہ زندگی 144

(21) حق ملکیت 145

دسویں فصل(راہِ زندگی) 146

(1) صدق نیت 147

(2) پاک و پاکیزہ نفس 147

(3) صبر و استقامت 148

(4) پر اُمید 149

(5) نہ ظالم نہ مظلوم 149

(6) وحدت و بھائی چارگی 150

(7) تلاش و کوشش 151

(8) عزت و سربلندی 151


(9)وفائے عہد 152

(10) اخلاق نبوی 153

(11) اطمینان قلب 153

(12)نعمت کا شکر 154

(13) مشورہ 155

(14) توکل 155

(15)نیکی اور اچھائی کے کاموں میں سبقت 156

(16) محکم و استوار 157

(17) دوستی و رفاقت 157

(18) نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد 158

(19) برائی سے پرہیز 159

(20) خدا کے حضور 159

(21)عفو در گذر 160

گیارہویں فصل(نوجوان وجوان) 161

(1) طلاطلم موجوں میں 162

(2) لق و دق صحرا میں 162

(3) عہدہ نبوّت پر 163

(4) سختیوں میں 164

(5) آگ میں 164

(6) مورد لطف و کرم پروردگار 165

(7) مہربان 166


(8) صاحب کردار 166

(9) نافرمان 167

(10) بت شکن 168

(11) امین اور دیانت دار 168

(12) صابر 169

(13) حق پرست 170

(14) پاک و پاکیزہ 170

(15) مطیع و فرمانبردار 171

(16) طالب علم 171

(17) صاحب امتیاز 172

(18) مبلغ الٰہِی 173

(19) نیک اور محنت کش 173

(20) ہدایت یافتہ اور گمراہ 174

(21) فریب کار 174

بارہویں فصل (ہمیں ایسا ہونا چاہیے) 176

(1)خدا اور رسول کی آواز پر لبیک 177

(2) شکرگزار 177

(3) شیطان کی اتباع سے پرہیز 178

(4)کافروں کی اطاعت سے دوری 179

(5)دشمن شناس 179

(6) اہل کتاب کی اطاعت سے اجتناب 180


(7)انفاق کرنے والا 181

(8) پرہیز گار 181

(9)صابر 182

(10)عدالت خواہاں 183

(11) یاد رکھنے والا 184

(12)خبر فاسق کی تحقیق 184

(13) مذاق نہ اڑانے والا 185

(14) اپنا محاسبہ کرنے والا 186

(15) مغضوب سے دوستی نہ کرنا 186

(16) جو کہو اُس پر عمل کرو 187

(17) متقی اور مجاہد 188

(18)ذکر خدا میں تعجیل 189

(19)دشمن خدا سے بیزار 189

(20)خدا کا مددگار 190

(21)توبہ کرنے والا 191